رَدِّ قادیانیت
رسائل
افادات
حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری
جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی
احتساب قادیانیت
ششم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
پیش لفظ
از حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب مدظلہ
مقدمہ احتساب قادیانیت جلد ششم
الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی ، اما بعد! مرزا غلام احمد قادیانی گو اپنی ذات میں اور اپنے علم میں کوئی بڑا آدمی نہ تھا لیکن انگریزی عملداری نے اسے اپنے وقت میں ہی اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ اس کے مکر و فریب کے پردے چاک کرنے کے لئے اس وقت کے بڑے بڑے آدمی ختم نبوت کے پرچم تلے آ جمع ہوئے حجة الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مولانا محمد علی مونگیریؒ حضرت مولانا کرم الدین دبیرؒ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ ان بڑے لوگوں کی فہرست میں قاضی محمد سلیمان منصور پوری پٹیالویؒ (١٣٤٨ھ) کا نام بھی محتاج تعارف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو قلب سلیم، عزم صمیم اور قلم مستقیم کی دولت دے رکھی تھی۔ اس کا شاہکار رحمتہ اللعالمینؐ کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے۔ آپ اسی عزم صمیم کے ساتھ قادیانیت کے مقابل صف آراء ہوئے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس کی کتاب ازالہ اوہام کا جواب دو حصوں میں رقم فرمایا۔ اب ان کی ان خدمات پر ایک صدی پوری ہورہی ہے۔ ضرورت تھی کہ ماضی کے یہ چھپے موتی پھر سے بر سر عام لائے جائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے احتساب قادیانیت کی چھٹی جلد میں مولانا مرحوم اور پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ کی تالیفات کو شائع کر کے عصر حاضر کے مسلمانوں کو بھی ان علوم اور تحقیقات سے متمتع اور آشنا ہونے کا موقع دیا ہے جو پوری امت کے لئے ”سرمہ بصیرت“ ہے جس کی اس دور میں بھی ضرورت تھی۔ راقم الحروف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس عظیم علمی خدمت پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ یہ اس عظیم علمی خدمت کا اقرار ہے جس کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ بلا کسی مسلکی امتیاز کے ختم نبوت کے ہر مجاہد اور کارکن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ میرا دل بے اختیار اس پر ہدیہ تحسین پیش کرتا ہے۔
خالد محمود عفا اللہ عنہ
طبع اول اپریل ٢٠٠٢ء ...................................... قیمت : ٢٠٠
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل و کرم، احسان و توفیق سے احتساب قادیانیت کی چھٹی جلد پیش خدمت ہے۔ پانچویں جلد جو صحائف رحمانیہ پر مشتمل تھی اس کے بعد خیال تھا کہ چھٹی جلد میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے رسائل پیش کریں گے۔ لیکن مخدوم المشائخ خانقاہ عالیہ رائے پور کی روایات کے امین، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت اقدس سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نے حضرت قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ کے رد قادیانیت پر مشتمل رشحات قلم کو فوری طور پر شائع کرنے کا حکم فرمایا۔ اس لئے اس چھٹی جلد میں ان کو شائع کیا جا رہا ہے۔ اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق سے ساتویں جلد میں حضرت مونگیریؒ کے رشحات قلم کو شائع کیا جائے گا۔ اس کی تیاری کا کام شروع ہے۔ زیر نظر احتساب قادیانیت کی چھٹی جلد میں پانچ عدد کتب و رسائل کو یکجا شائع کیا جا رہا ہے :
- ١... غایت المرام مصنفہ حضرت قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ
- ٢... تائید الاسلام ، ، ، ، ، ، ،
- ٣... مرزا قادیانی اور نبوت ، ، ، ، ، ، ،
- ٤... ختم نبوت مصنفہ جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
- ٥... ضرورت مجدد ، ، ، ، ، ،
ہر کتاب کے شروع میں اس کا تعارف دے دیا گیا ہے۔ جماعتی رفقاء اور اس عنوان پر کام کرنے والے قدر دانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلہ کی قبولیت کے لئے دعا فرمائیں۔ حق تعالیٰ اسے اپنے فضل و کرم سے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور اس سلسلہ کو جاری رکھنے کی سعادت سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین! بحرمتہ النبی الامّی الکریم!
خاکپائے حضرت منصور پوریؒ و حضرت چشتیؒ فقیر اللہ وسایا ٢٥ / ١ / ١٤٢٣ھ ٩ / ٤ / ٢٠٠٢ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
احتساب قادیانیت جلد ششم
فہرست
غایت المرام قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ٥ تائید الاسلام " " ١٥٧ مرزا قادیانی اور نبوت " " ٣٠١ ختم نبوت پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ ٣١٩ شناخت مجدد " " ٣٢٥
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
غایت المرام
قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
تعارف
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ، امابعد ! حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ علامہ دوراں محقق زماں شخصیت تھے۔ قدرت نے آپ کو دینی و دنیاوی دونوں علوم سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ آپ ریاست پٹیالہ کے سیشن جج بھی رہے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں۔ سیرت النبیؐ پر آپ کی شہرہ آفاق کتاب ”رحمۃ اللعالمین“ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی دور استبداد میں اپنی جھوٹی مسیحیت و نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔ مرزا قادیانی ملعون کی توضیح مرام‘ فتح اسلام اور ازالہ اوہام کے رد میں آپ نے اپنی گرانقدر یہ کتاب ”غایت المرام“ تصنیف فرمائی۔ اس کے سات ابواب ہیں۔ جن کی تفصیل آپ فہرست میں ملاحظہ کریں گے۔
پوری کتاب انتہائی تہذیب و متانت سے مرزا قادیانی کے دعاوی جدیدہ کے رد میں عالمانہ مباحث پر مشتمل ہے۔ پہلی بار یہ کتاب ١٨٩١ء میں شائع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ شائع ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مقام اعزاز ہے کہ ایک سو گیارہ سال بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے زمانہ حیات میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت اول کے بعد سترہ سال تک مرزا قادیانی زندہ رہا۔ لیکن جواب دینے کی اسے جرأت نہ ہوئی۔ مصنف مرحوم نے یہ کتاب لکھ کر مرزا قادیانی کے کفر پر اتمام حجت کر دیا۔ فلحمد للہ اولاً وآخراً !
فقیر اللہ وسایا ٢٥‘ ١‘ ١٤٢٣ھ ٩‘ ٤‘ ٢٠٠٢ء
٢
فہرست : غایت المرام
باب اول : دیباچہ از مصنف ١١
عرب کے مذاہب اور آپ ﷺ کا اصلاح فرمانا ١٢
مسیح علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا ١٥
انجیل متی سے مسیح علیہ السلام کے نزول کی علامات ٢١
حدیث رسول سے ٢٣
ضروری نوٹ ٢٨
باب دوم : استعارہ و مجاز ٣٠
استعارہ و مجاز کا مختصر حال ٣٢
وضع کا معنی ٣٣
حقیقت کی اقسام ٣٤
ایلیاء و یوحنا کے قصے کی صراحت ٣٥
سرسید اور مثیل یوحنا ٣٦
باب سوم : رفع عیسیٰ علیہ السلام ٣٨
باب چہارم : عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور ان کی نبوت ٤٧
باب پنجم : عیسیٰ علیہ السلام اور قانون قدرت ٥١
عزیر علیہ السلام ٥٢
اصحاب کہف ٥٧
حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کی وضاحت ٦٤
حکم و عدل ٦٦
کسر صلیب ٦٧
٣
قتل خنزیر کی وضاحت ٦٨ جزیہ اٹھا دے گا ٦٩ کثرت مال ٦٩
باب ششم : عیسیٰ علیہ السلام کا نزول و حیات ٧٤ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ نزول ٨٢
باب ہفتم : عیسیٰ بن مریم ٨٧
مماثلت کی بحث ٩٨ مثیل کا معنی ١٠١ عیسیٰ علیہ السلام اور زکوٰۃ ١٠٤ خلق و خلق کی مماثلت ١٠٧ خلاصہ کلام ١٠٧ مشابہت تام ١١٠ استعارہ کی حیثیت ١١٣ محدثیت کی حقیقت ١١٥ صفات صدیقین ١١٦ وجود ملائکہ ١١٩ دجال ١٢٣ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیاں ١٤١ قصیدہ فارسی ١٥٠
٤
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا مُّوَافِيًا لِّنِعْمَتِهٖ مُكَافِيًّا لِّمَزِيْدِهٖ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَام عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَجُنُوْدِهٖ
اما بعد۔ یہ رسالہ غایت المرام جناب مخدوم و مکرم قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان فاضل دوراں نے ١٨٩١ء میں مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان کے رسالجات متعلق دعاوی مسیحیت کا مطالعہ فرما کر تصنیف فرمایا تھا اور انہی ایام میں یہ رسالہ اسلامیہ پریس لاہور میں مولوی کرم بخش صاحب نے چھاپ کر شائع کیا تھا۔ رسالہ مذکور اس قدر مقبول ہوا۔ کہ اشاعت سے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد نایاب بن گیا۔ حتیٰ کہ مصنف مدظلہ العالی کے پاس بھی اس کی کوئی کاپی نہ رہی۔ اب اہل الصدق والدین کے حسن طلب کو دیکھ کر راقم نے اس رسالہ کی اشاعت کو ضروری سمجھا۔ امید ہے کہ اس کی اشاعت موجب خیر و برکت ہوگی۔
(ملتمس: خلیفہ ہدایت اللہ پبلشر ضلعدار نہر۔ پٹیالہ۔)
٥
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوَتِ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَعْدُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَلِقَائِكَ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّوْنَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ اَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَاِلَيْكَ اَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَاِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ o
اما بعد۔ یہ مختصر مضامین ہیں۔ جو میں نے مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیاں کے رسائل فتح اسلام وتوضیح المرام وازالۃ الاوہام کے پڑھنے اور ان پر غور وفکر کرنے کے بعد تحریر کئے ہیں۔
میرا مقصود اس تحریر سے احقاقِ حق ہے۔ اور ان دلائل کا واضح کر دینا ہے۔ جو سلف و خلف کے نزدیک مرزا قادیانی کے دعوئی جدید کے خلاف مسلمہ ہیں۔ امید ہے۔ کہ ان پر غور کیا جائے گا اور صدق وخلوص کے ساتھ صراطِ مستقیم پر چلنے کو پسند کیا جائے گا۔ وَمَا تَوْفِيْقِيْ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ .
خاکسار محمد سلیمان بن قاضی احمد شاہ صاحب دامت فیوضہ العالیٰ منصور پور ریاست پٹیالہ
دیباچہ کتاب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ o
اما بعد! یہ وہ مضامین ہیں جن کو میں نے فتح الاسلام و توضیح المرام کے شائع ہونے کے بعد لکھا تھا اور نیاز نامہ کے ذریعہ سے مرزا غلام احمد قادیانی سکنہ قادیان کی خدمت میں بھیجنا چاہتا تھا میرے ایک دوست اور مرزا قادیانی کے مرید نے مجھے نیک صلاح یہ دی۔ کہ ازالۃ الاوہام کے شائع ہونے تک میں ان مضامین کو اپنے پاس رہنے دوں۔ ازالہ چھپ گیا اور میں نے نہایت شوق کے ساتھ ایسا دل لے کر جس میں حب و بغض کا نام و نشان نہ تھا۔ اس کا پڑھنا شروع کیا۔ میں بسا اوقات تنہا بیٹھ کر اس کے مضامین پر غور کرتا اور پلنگ پر لیٹ کر اپنے خیالات کے ساتھ مجادلہ کیا کرتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں گڑگڑاتا اور سچے دل سے اس کی جناب میں ہاتھ پھیلاتا۔ جس قدر زیادہ میری دعاؤں کو طول ہوتا گیا۔ جتنا زیادہ میرا فکر سلیم اور دقیق ہوتا گیا۔ اسی قدر زیادہ مجھ پر ان رسالوں کے مضامین کی خامی معلوم ہوتی گئی۔ اس لئے مجھ کو اپنے لکھے مضامین کے شائع کرنے کی جرات ہوئی۔ ناظرین یہ میری ناچیز تحریر ہے۔ جس کو میں ادب کے ساتھ پیش کرتا ہوں اور خداوند کریم سے امید کرتا ہوں کہ اس بارہ میں ایک اور مستقل رسالہ بھی لکھ سکوں گا۔
وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب .
محمد سلیمان ولد قاضی احمد شاہ صاحب منصور پور ریاست پٹیالہ
٧
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ٥
عرب کے مذاہب اور نبی ﷺ کا ان میں اصلاح فرمانا
عرب جس میں ہادی انام رہبر کل محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔ قبل از بعثت اگرچہ اس میں اس قدر تمدنی خرابیاں بڑھ گئی تھیں کہ تمام ملک فسق و فجور، قتل و غارت، قمار و زنا، باہمی جنگ و جدل کی کالی کالی گھٹاؤں سے گھرا ہوا تھا اور ہر چہار طرف مصیبت کی مہیب اور خوفناک صورتیں دکھلائی دیتی تھیں۔ مگر مذہبی دنیا کا اس چھوٹے اور ریگستانی جزیرہ نما میں اس سے زیادہ بدتر حال تھا۔ ہبل کے سایہ میں کھڑے ہونے والے۔ ود کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑنے والے سواع کے سامنے پیشانی کو خاک آلودہ کرنے والے یغوث کو معبود جاننے والے۔ یعوق کی عبادت میں سرگرمی دکھلانے والے۔ نسر کے پنجہ کے گرفتار۔ عزّیٰ کی عزّت کے نثار۔ لات و منات کو دل و جان سے زیادہ پرستش کرنے والے۔ اساف و نائلہ کے قدموں کے چومنے اور ان پر ذبیحوں کے چڑھانے والے۔ عمجب کے جناب سے ناموری و بلندی کے حاصل کرنے والے۔ دوران طواف میں نوجوان عورتوں کا ہجوم دیکھنے والے۔ انبیاء کی تصاویر کا تصوّر باندھنے والے نامور شخصوں کو مقدّس اور پھر معبود کے درجہ تک پہنچا دینے والے۔ اپنے گذشتہ بزرگوں کی روحوں کی تعظیم میں استھان قائم کرنے والے۔ غرض بیسیوں قسم کے بت پرست موجود تھے۔ خدا کی خدائی کے منکر۔ قیود قانونی سے آزاد۔ بندش ہائے رسمی سے وابستہ۔ خواہشات طبعی کے مرید۔ لامذہبی پر نازش کرنے والے بکثرت پائے جاتے تھے۔ نام کے خدا پرست مگر لامذہبوں کے زیر دست۔ وحی اور نبوت سے انکار کرنے والے اور غیر معلوم قدرت کو اپنے وجود کا خالق ماننے والے بھی موجود
تھے۔ صابی واسمعیلی یہودی وعیسائی بھی اپنے اپنے تقدس وصدق کے دعاوی کو لئے ہوئے تشریف فرما تھے۔ توہمات باطلہ کے گرفتار۔ ارواح طیبہ وخبیثہ کے تصرفات کے قائل ۔ سحر وکہانت کے مصدق بھی عموماً سب میں جلوہ گر تھے۔ غرض مدنی ومذہبی لحاظ سے عرب دنیا بھر کی خرابیوں۔ شرارتوں ۔ بدخصلتوں‘ کمینہ عادتوں ۔ سرکشیوں ۔ تمردیوں کا ایسا کامل مجموعہ ہو گیا تھا۔ کہ گویا عالمگیر رزائل کی مجلس متحدہ میں دنیا بھر کے فسق وفجور نے اپنے اپنے چیدہ وسر برآوردہ ڈیلیگیٹ (وفود) جمع کر دیئے تھے میں خیال کرتا ہوں کہ عرب کی یہی بدترین حالت جو ابتدائے آفرینش سے کسی ملک کے حصہ کی ایسی نہ ہوئی تھی۔ اس رحمت عالم کے نزول کا باعث ہوئی اور اس رحمتہ للعالمین کی بعثت کا سبب ومحل ٹھہری۔ جس کی بشارتیں ابراہیم وداؤد وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام دیتے اور ان کی مدح کا گیت گاتے رہتے تھے۔ میں یہ بھی خیال کرتا ہوں۔ کہ عرب کی یہ مجموعی اور لا انتہا خرابیاں ہی خاتم النبیین کا مقام بعثت قرار دیئے جانے کا موجب تھیں۔ کیونکہ ان مختلف اور لاشمار مذاہب اور رسوم وعقائد وتوہمات کے بندوں کا مہذب و آزاد کر دینا تمام دنیا کے (جس میں انہی کے مذاہب کے ظل وعکس موجود تھے اور ہیں) مہذب وآزاد کر دینے کا ذریعہ و ثبوت تھا۔ وہ ہادی انام سید الرسل رحمتہ اللعالمین امی گویاں بزبان فصیح از الف آدم ومیم مسیح اپنے سے پیشتر تمام انبیاء کی بعثتوں کو اپنے میں لئے ہوئے ہدایت خلق کے لئے اٹھا اور جھوٹے مذہب اور جھوٹے عقلاء کے بندھنوں کو توڑ تاڑ کر ایک حبل المتین سے ان کے تفرق وانتشار کو مضبوط جکڑ دیا۔ انصاف کی آنکھوں کے اندھے۔ مذہبی تعصب کی پٹی باندھنے والے بھی اس کامل ہدایت و رشد اور نور کا انکار نہیں کر سکتے۔ جو عرب کے خشک پتھروں سے چمکا اور قیصروکسریٰ کے ملک کو منور اور مشرق ومغرب کو روشن کر گیا۔
اب صاحب ناقوس اکبر ہادی عالمؐ کی ہدایت کاملہ راشدہ و بالغہ وعامہ کو دیکھیے۔ کہ کس طرح پر مشرکین عرب وبت پرستان عجم کے کفر وشرک کو بیخ وبن سے اکھیڑا اور کس طرح پر اہل کتاب کی تحریفات واغلوطات کے طلسم کو توڑا ہے اور کیونکر مدنی عالم میں ارتقاءات روحانی اور انتظام ہائے قانونی سے ازسرنو حیات بخشی ہے اور کیونکر اس مقدس قانون کو جس کے ملنے پر متجلی بنی اسرائیل کو چالیس یوم کا میقات پہاڑی کے اوپر کرنا پڑا تھا اور جس کے اصل صحیفوں کو اولاً بابل و نینوا کے ظالم بادشاہوں کے دستبردوں نے پھر ثانیاً خیرہ سرشت علماء یہود کا گم کر دینا اور کچھ سے کچھ
بنا دینا چاہتا تھا۔ پاک ترمیمات و اصلاحات سے فطرت انسانی کے مطابق بنایا ہے۔ ہاں نبی ﷺ کی رسالت کے فرائض یہ تھے۔ کہ جو طریق منہاج ابراہیمی سے موافق ہوں اور جو سنت ہائے راشدہ کے تغیر و تبدل کے بغیر چلی آتی ہوں۔ ان کو اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم کر دیں اور جن میں تحریف یا افساد یا شعائر شرک و کفر مل گئے اور شامل ہو گئے ہوں۔ ان کا ابطال فرما دیں اور جن امور کا تعلق عادات و معاملات سے ہو اس کے آداب و رسوم و مکروہات وغیرہ کو ظاہر کر دیں اور رسوم فاسدہ سے نہی اور طریق ہائے صالحہ کا امر فرما دیں اور جس مسئلہ شریعت کو پہلی امتوں نے چھوڑ رکھا ہو یا انبیاء سابق نے اس کو مکمل نہ کیا ہو اس کو نہایت تر و تازگی دیکر پھر رائج فرما دیں اور اتمام کے ساتھ تکمیل کو پہنچا دیں۔ چنانچہ ہم اس جگہ پر ان چند آیات کو لکھیں گے جن کا تعلق اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے ہے۔ نصاریٰ نے اقانیم ثلثہ ۔ باپ۔ بیٹا۔ روح القدس ۔ تین ایک ۔ ایک تین ۔ کا مسئلہ کھڑا کیا۔ تو خدائے کریم نے ہمارے سید و مولا کی زبان سے پڑھوایا۔
﴾لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ﴿
(المائده: ٧٢)
﴾لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا إِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ إِلٰهٍ إِلَّا إِلٰهٌ وَاحِدٌ﴿
(آل عمران: ٧٣)
پھر یہ ثابت کرنے کے واسطے کہ یہ عقیدہ نصاریٰ کی گھڑت ہے۔ نہ عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم یوں فرمایا:
﴾قُلْ يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلٰی كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ﴿
(آل عمران : ٦٤)
اہل کتاب نے جو نیک بندوں کو بیٹا اور خداوند کریم کو باپ کہنے کی اصطلاح مقرر کی تھی اور بالآخر یوں ہی سمجھنے لگے تھے۔ ان کی تکذیب کی۔
وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصٰرَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللّٰهِ وَاحِبَّاؤُهُ
(المائده: ١٨)
ان سب نظائر پیش کردہ سے ناظرین ”منصفین“ پر ثابت ہو گیا ہو گا کہ رسول کریم
جو قرآن خدائے کریم کی جانب سے ہمارے لئے لائے اور جو ارشادات کہ آپ نے فرمائے۔ ان میں برابر اہل کتاب کے عقائد کی لغویت اور ان کے مسلمات کی غلطی آپ ظاہر فرماتے رہے اور جس قدر حصہ ان کے درمیان تحریف و تصریف تغیر و تبدل سے بچ رہا تھا اور جو نیک صفتوں کا نمونہ بچا کھچا ان میں پایا جاتا تھا ان کی تصدیق فرما کر ”مُصَدِّق لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ“ کے مصداق صحیح بنے۔
اس مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا
اب ہم دیکھنا یہ چاہتے ہیں۔ کہ اس مسئلہ میں ............ قرآن کریم اور رسول کریمؐ نے ہم کو کیا تعلیم دی۔ یہ ظاہر ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا مسئلہ اور اعتقاد کچھ اسلام کا پیدا کردہ نہیں۔ بلکہ اس کی بنیاد حضرت مسیح علیہ السلام کا وہ ارشاد و اخبار و پیشین گوئی ہے۔ جو آپ نے ظالم فریسیوں کے پنجہ میں گرفتار ہونے سے چند روز پہلے ہی یعنی جبکہ آپ کو خدائے کریم نے ان حالات آئندہ کی خبر دے دی تھی۔ جو ان ملحقہ ایام میں آپ پر صادر وارد ہونے والے تھے۔ ملاحظہ فرمائیے متی ٢٤/ ٣٠ مرقس ١٣/ ١٤ لوقا ٢٥/ ٢١ اعمال ٢/ ٢٠ یوحنا ٢٨‘ ٢٩/ ١٥۔ اور اپنے دوبارہ دنیا میں آنے کو مقامات ذیل حاشیہ میں بیان کیا تھا۔ جس میں منجملہ مصالح متعددہ کی ایک یہ بھی مصلحت تھی کہ امت مسیحی آنے والی مصیبتوں اور سختیوں سے ہراساں اور فریسیوں کے ظلم و ستم سے درماندہ ہو کر اس پاک ہدایت کو جسے حضرت مسیح علیہ السلام دنیا پر چھوڑ کر جاتے تھے۔ نہ چھوڑ بیٹھیں۔ تحریف و تصریف بھی نہ کریں اور اس امر کو یاد رکھیں کہ مسیح علیہ السلام تو خود دنیا پر تشریف لائیں گے اس لئے وہ ایسے افعال کے مرتکب نہ ہوں۔ جو ان کے روبرو ان کی ندامت وانفعال کا سبب ٹھہریں۔ غرض یہ عقیدہ اس زاہد اور مظلوم نبی علیہ السلام کی پیشین گوئی کی بناء پر عیسائیوں میں قائم ہوا۔ اور برابر ظہور نبی ﷺ تقریبا چھ سو برس تک کمال استحکام کے ساتھ عیسائیوں میں چلا آیا اور مسیح علیہ السلام کا بجسد عنصری آسمان پر سے اترنا اور بادلوں پر سے اترتے ہوئے نظر آنا۔ مسیحیوں کا نہایت مسلم عقیدہ رہا۔ اب ہم کو یہ دیکھنا چاہئے۔ کہ وہ پاک اسلام جس نے ملل متعدد کی افراط و تفریط کو دور کر کے صراط مستقیم کو قائم کیا اور ادیان سابقہ کے دروازہ تحریف کو بند کر کے ابواب تنقیح و تصحیح کو مفتوح فرمایا۔ ہم کو اس عیسائی عقیدہ میں کیا تعلیم دیتا ہے اور وہ رحمتہ للعالمینی۔
١١
جس کی پاک زندگی کی مقصود کو رب العالمین اس آیت کریمہ میں ظاہر فرماتا ہے۔ ﴿هو الذی بعث فی الامین رسولاً منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفی ضلال مبين﴾
(الجمعہ: ٢)
”خدا وہ ہے جس نے ان پڑھوں میں اپنا رسول بھیجا۔ جو ان میں سے ہے وہی ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ہے۔ ان کو پاک کرتا ہے۔ ان کو کتاب وحکمت سکھلاتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے ۔“ ہم کو اس مسیحی عقیدہ کی صحت وسقم کی نسبت کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ کیا جس طرح پر کہ مسیحیوں کے اس عقیدہ پر کہ مسیح ابن اللہ ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے اس ارشاد ربانی کو پڑھ کر سنایا ہے۔
﴿تكاد السموات يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولداً﴾
(مریم : ٩٠ ‘ ٩١)
کیا اس عقیدہ نزول مسیح کے تسلیم کر لینے میں یہی سکھایا گیا ہے۔ کہ اس سے خدا کا حتمی وعدہ ٹوٹتا ہے اور مسیح کے لئے خلع نبوت قرار دینا پڑتا ہے۔ اور مسیح کو ”نعم الثواب و حسنت مرتفقا “ کی آسائشوں سے نکال کر دارالغرور میں اتارنا لازم آتا ہے اور اس سے وہ کچھ مسیح کے لئے جائز قرار دینا پڑتا ہے جو رسول کریمؐ کے لئے با ایں علوشان نبوت جائز قرار نہیں دیا گیا؟ یا ان سب امور کا کچھ ذکر نہ کر کے اور ان سب خیالی مشکلات پر کچھ بھی نظر نہ ڈال کر اور ان سب قیاسی دقتوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کر کے وہ قادر مطلق جس کی قدرت سبب ومسبب کی محتاج نہیں ہے۔ جس کے حکم کی شان ” إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ “ سے آشکار ہے اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ خدائے کریم کے حکم سے وحی متلو وغیر متلو کے ذریعہ سے کافۂ انام اہل عالم عیسائیت و اسلام کو کھول کھول کر سنادیں کہ مسیح علیہ السلام دنیا میں ضرور آئیں گے اور آئیں گے۔ تو اس شان وشکوہ کے ساتھ آئیں گے اور ایسے زمانہ میں آئیں گے اور دنیا میں آکر یہ یہ کام کریں گے اور اتنے برس دنیا میں زندہ رہیں گے اور پھر وفات پائیں گے اور روضہ رسول میں مدفون ہونگے‘ اور قیامت کے دن آپ کے ساتھ مبعوث ہونگے‘ تو گویا وہ ایک مختصر لفظ جس کا استعمال حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی پیشین گوئی میں کیا تھا اور جس کی کیفیت مسیحیوں سے بہت کچھ نہفتہ و پوشیدہ تھی۔ اس کی شرح وتفسیر اس پاک رسولؐ نے (جس کے ارشادات کی نسبت خداوند عالم و
١٢
عالمیان فرماتا ہے۔ ”وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى“ (النجم ٣-٤) ”نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا وہ تو وحی ہے جو اسے بھیجی جاتی ہے۔“ ایسی فرمائی جس سے بڑھ کر متصور نہیں اور جس میں شائبہ شک و وہم کو دخل تک نہیں۔ لیکن آج کل جو ہم سنتے ہیں اور مختلف اشتہاروں میں دیکھتے ہیں۔ کہ موٹے موٹے حروف سے لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے۔ کہ مسیح نہ آئیں گے نہ آئیں گے۔ ہاں جس آنے والے مسیح کا انتظار ہے۔ اس کے آنے سے درحقیقت ایک ایسے شخص کا پیدا ہونا مراد ہے۔ جو اپنی ذات میں کمالات مسیحی کو لئے ہوئے ہو اور اپنے لئے مثیل کہلائے (یا یوں کہو کہ اس کا چھوٹا بھائی ہو) تو اس وقت ہمارے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چہ انجیل میں تحریف کا ہونا ممکن ہے اور ہمارے علماء رحمہم اللہ نے اس میں لفظی و معنوی تحریف اکثر مقامات میں ثابت بھی کر دی ہے۔ تو اس پیشین گوئی میں بھی تحریف و تغیر کا ہونا یا خود گھڑت پیشین گوئی کا انجیل میں شامل کیا جانا ہمارے نزدیک ممکن الوقوع اور مسلم القیاس ہے۔ لیکن کیا ہم سب مسلمانوں کے عقائد میں اسلام کے جمیع متفرق فرقوں کے عقائد میں کسی کے نزدیک یہ بھی ممکن متیقن مظنہ یا قرین قیاس یا مسلم ہے۔ کہ وہ رسول مقبول ﷺ بھی جن کو ”بلغ ما انزل الیک“ (المائدۃ: ٦٧) کا امر واجب الاذعان۔ اور اس کے ساتھ ہی ”وان لم تفعل فما بلغت رسالته“ (المائدۃ: ٦٧) کی تہدید بھی شامل ہے اور جس کی ہدایات کی نسبت رب کریم اہل کتاب کو یوں فرماتا ہے۔ ”يا اهل الكتاب قد جاء كم رسولنا يبين لكم كثيراً مما كنتم تخفون من الكتاب.“ (المائدۃ: ١٥) ہم سب مسلمانوں کو جو دل و جان سے آپؐ پر ایمان لائے اور صرف آپؐ کی ہدایت سے ہم نے قرآن کو قرآن اور خدا کو خدا سمجھا۔ مغضوب عیسائیوں کی تحریف کردہ یا تحدیث کردہ یا وضع کردہ پیشین گوئی پر ایمان لانے کے لئے فرما دیں۔ اور جو رسول خدا کو يا اهل الكتاب لم تلبسون الحق بالباطل و تكتمون الحق وانتم تعلمون. (آل عمران۔ ٧١) کہہ کر ان کو جھٹلاتے تھے۔ وہ خود تلبیس کرنے لگیں؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جن علامات و آثار کو اپنی پیشین گوئی میں بیان نہ کیا تھا۔ ان کو نبی ﷺ باوجود اصل واقعہ کے موضوع و مردود ہونے کے بیان کریں؟ اور نہایت استحکام کے ساتھ مسلمانوں کے دل میں اس عقیدہ کو جما دیں جو دراصل غلط ہے اور جس کے شعبے قدرت کے قانون کو توڑتے اور مسلمانوں کو جناب نبوت مآب میں گستاخ بناتے؟ یا ایک نبی روح اللہ کے کسر شان کا موجب ہوتے ہیں اور
بعض اوقات ہمارے معتقدات کو شرک تک پہنچا دیتے ہیں جب ہمارا سوال دل ہی دل میں اس قدر طول پکڑتا ہے تو ایمان کا جوش اور اسلام کی غیرت اور نبی ﷺ کے پاک نام سے مخلصانہ محبت فوراً ان لغویات کی تردید کرتی ہے۔ کہ خبردار رسول اللہ ﷺ کی جناب پاک میں یہ بیہودہ خیال نہ کر‘ معصوم نبی کی شان میں تہمت نہ تراش‘ چاند پر تھوکنا اپنے منہ پر تھوکنا ہے اور آفتاب پر غبار ڈالنا اپنی آنکھوں کو خاک آلود کرنا ہے۔
مگر میں کہتا ہوں۔ کہ اگر مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا جو انجیل کی تعلیم ہے اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ اس کا طلسم صرف اتنی اظہار حقیقت سے ٹوٹ سکتا تھا؟ کہ اس کے مثیل کا دنیا میں پیدا ہونا مان لیا جائے۔ تو یہ سوال پیدا ہوگا ................. کہ رسول اللہ ﷺ نے کیوں نہ عیسائیوں کے سامنے ایسا ہی کچھ بیان فرمایا اور کیوں نہ ان کو یقین دلایا کہ تم مجاز کو حقیقت سمجھتے ہو اور مسیح علیہ السلام کی دقیق تعلیم کو نہیں سمجھتے۔ جس مسیح کا تم انتظار کرتے ہو وہ تو میرے امتیوں میں سے ایک امتی ہوگا۔ جو کمالات باطنی میں مسیح کا ایسا مثیل ہو گا کہ کشفی نظر بھی مشکل سے دونوں میں فرق و امتیاز کر سکے گی۔ اور اسی لئے وہ ابن مریم کہلائے گا۔ یہ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ نے ایسا نہیں کیا اور مسیحیوں کا ستون جو ایک فقرہ سے گر سکتا تھا۔ آپؐ نے نہیں گرایا اور ان کے خیالات کی غلطی اور انجیل کی تعلیمات کی خامی اور عیسائیوں کے مفہومات کی کجی کو ظاہر نہیں فرمایا۔ تو کیا کوئی مخالف مذہب انصاف کے ساتھ اس روئیداد پر فیصلہ دے سکے گا۔ کہ مسلمانوں کے پیغمبر نے اپنے متبعین اور پیروؤں کو کامل تعلیم دی اور اپنی رسالت کا حق ادا کیا؟ نہیں نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ تو کہے گا کہ عیسائیوں کے پیغمبر نے ایک پیشین گوئی کو چیستان بنایا اور محمدیوں کے پیغمبر نے اسے اور بھی پیچیدہ کیا۔ نہ پہلے نے حق رسالت ادا کیا نہ دوسرے نے فرض تبلیغ کو نبھایا "معاذ الله من هذه الهفوات“ مسلمانو! سمجھے کہ یہی آج کل کا گھڑا ہوا مسئلہ نبی ﷺ کی نبوت کی کتنی تکذیب کرتا ہے۔
(١) اس کا یہ جواب دینا کہ وہ بغرض آزمائش خلق اللہ ایسے ایسے استعارات کا مستعمل ہونا کوئی انوکھی اور بے اصل بات نہیں۔’ ازالہ ٥٢٠ (خزائن ج٣ ص٣٧٩) بالکل لغو اور ناکافی ہے نزول مسیح ابن مریم کا مسئلہ کچھ رسول اللہ ﷺ نے ہی مسلمانوں میں شائع نہیں فرمایا۔ بلکہ مسیح ابن مریم کے متعلقہ تمام تر قصے ہیں خواہ ولادت سے متعلق ہیں۔
١٤
اور دو اولوالعزم مرسلین کو کیسا دغا باز اور ”یکے دزد باشد و دیگر پردہ دار“ کا مصداق ٹھہراتا ہے۔ تو کیا وہ نبی جو دنیا میں جمہور ناس کو ظلمت سے نور میں لانے کے لئے آیا ہے اور جس نے تمام روئے زمین کے مذاہب باطلہ کو جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقاً (بنی اسرائیل: ٨١) پڑھ کر سنایا۔ جس نے اہل کتاب کو راست بازی اور انصاف سے ملزم ٹھہرایا۔ جس نے یہود اور نصاریٰ کو ان کے افعال نامرضیہ واعمال ملعونہ پر شرمایا۔ جس نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی تعلیمات کو نفسانی تاویلات سے علیحدہ کر کے دکھلایا اب ہماری اس نئی روشنی کے زمانہ کے عالم اس نبی کی نسبت یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے بھی ہم کو دھوکہ میں رکھا اور جس ناقابل برداشت انتظار کی شدائد مسیحی اٹھا رہے تھے۔ اسی مصیبت میں شریک ہونے کا اپنی کل امت مرحومہ کو حکم دیا؟ توبہ توبہ اور اگر بالفرض وہ کہیں کہ نہیں۔ نبی ﷺ نے ہم کو مسیحیوں کی
گذشتہ سے پیوستہ: خواہ نبوت سے خواہ ان کی صلب و قتل سے خواہ ان کے رفع الی السماء سے خواہ نزول علی الارض ہے یہود و نصاریٰ کے دو بڑے گروہوں میں رب کریم نے حکم بن کر انه لقول فصل وما هو بالهزل کی شان کو دکھلایا ہے اور دونوں گروہوں کے معتقدات میں سے جو حصہ درست اور صحیح تھا اسے درست و صحیح کہا اور جو حصہ غلطی یا کفر و شرک سے بھرا ہوا تھا۔ اسے غلط یا کفر و شرک بتلایا ہے۔ پس ایسی حالت میں کہ دو فریق متنازعین کے درمیان ایک فیصلہ صادر کیا جائے۔ کون عقلمند یہ امر تجویز کر سکتا ہے؟ کہ اس فیصلہ میں اصل حقیقت اس لئے ظاہر نہیں کی گئی۔ کہ فلاں تیسرا شخص بھی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو جائے یاد رکھو قرآن مجید اور رسول کریم نے کچھ اس مسئلہ ہی میں نہیں۔ کہ فلاں تیسرا شخص بھی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔
یاد رکھو۔ قرآن مجید اور رسول کریم نے کچھ اس مسئلہ ہی میں نہیں۔ بلکہ ان تمام مسائل میں جن میں اس زمانہ کے موجودہ مذاہب کے لوگوں میں اختلاف پڑے ہوئے تھے۔ خوب کھول کھول کر فیصلے سنائے ہیں۔ خصوصاً اہل کتاب کی تو تواریخی غلطیاں تک بھی ظاہر کر دی ہیں۔ پھر معتقدات و ایمانیات میں تو فروگذاشت کیا کرنی تھی۔ کیا تم اس کو تعجب نہیں سمجھتے۔ کہ نصاریٰ کہتے تھے۔ ابن مریم دنیا پر پھر آئے گا۔ بادشاہت کرے گا۔ تلوار چلائے گا اور یہود کہتے تھا کہ وہ مر گیا کبھی مردہ بھی پھر آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دونوں کا بیان سن لیں اور یوں ارشاد کریں۔ ہاں ابن مریم ضرور آئے گا اور قوانین اسلام پر چلا چلے گا تو اب ان بیانات پر کیا سمجھا جاتا ہے۔ وہی ابن مریم جس کے بارہ میں جھگڑا اٹھایا گیا اور اگر اور ہی مراد تھا۔ تو متخاصمین کا کیا فیصلہ ہوا؟ نیز سوال از آسمان و جواب از ریسمان اور کس کو کہتے ہیں؟
١٥
غلطی کی اطلاع دی اور بتلایا مگر ہم نے اس کو نہ سمجھا اور خیال نہ کیا اور مجاز کو حقیقت سمجھ کر مسیحیوں کے ہم کیش بن گئے تو میں کہتا ہوں کہ کیوں ایسا ہوا؟ اس کا سبب بھی یہی نکلے گا کہ نبی ﷺ نے ایسے ناقص المعنی الفاظ کا استعمال کیا اور ایسا مغلق پیرایہ اختیار فرمایا اور ایسے تعقید لفظی ومعنوی کو کام میں لائے کہ خود اس عہد مبارک مشہود لہا بالخیر میں حضور کے فیضان صحبت سے مستفیض ہونے والے اور کلام معجز نظام نبویؐ کے سننے اور محفوظ رکھنے والے سب کے سب مفہوم نبوی و مقصود محمدیؐ کو صحیح صحیح سمجھ نہ سکے اور یہی نہ سمجھنے کی ارث وارثان علم نبوت کو طبقہ در طبقہ پشت در پشت آج تک ملتی رہی؟ کیوں حضرت ........... (مرزاجی) آپ کی یہی توجیہہ کہ علماء نے نہیں سمجھا اور آج تک ١٣ سو برس سے کسی کا خیال و ذہن بھی ان معانی کی جانب منتقل نہیں ہوا۔ جس کو نہایت عمدہ دلیل سمجھا۔ اور پانچوں رسالوں میں دھرایا گیا ہے۔ کس قدر ہادی برحق علیہ الصلوۃ والسلام کو مضل ومہمل گو قرار دیتی ہے؟ (معاذ اللہ) اور جو الزام کہ علماء پر نہ سمجھنے کا لگایا گیا ہے اس کے ساتھ خود نبی ﷺ پر ایک حقیقت کے بیان نہ کر سکنے کا یا دانستہ بیان نہ کرنے کا اتہام کتنا بڑا ہوا جاتا ہے؟ سوچو سوچو اور ”تواب الرحیم“ کی درگاہ میں توبہ کرو۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ناظرین کو صاف طور پر دکھلا دیں کہ مسیحیوں اور محمدیوں کا جو اعتقاد مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے پر ہے اس کی بنیاد کیا ہے اور اصل کہاں سے ہے؟
بزرگ مسلمانو! آپ ملاحظہ کریں گے کہ خدا کے دو بزرگ رسول عیسیٰ روح اللہ و محمدؐ رسول اللہ صلوات اللہ علیہم اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں؟ اور رسول اللہ کا ایک امتی اور مسیح روح اللہ کے منصب کا ایک شریک مدعی کیا کہتے ہیں؟ میں اس جگہ حدیث پاک اور انجیل پاک کو جدا جدا نقل کروں گا۔ گو انجیل کو ہم تحریف سے خالی نہیں جانتے اور اُس سے تمسک کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ مگر جس بارہ میں انجیل کا بیان حدیث پاک کے موافق ہوا اسے غلط بھی قرار نہیں دے سکتے۔ بلکہ استقرارِ معنے کے لئے کسی قدر مؤید ہی کہہ سکتے ہیں۔ اور سیماً اس مدعی کے لئے جو دونوں کے قائلین کو ملزم ٹھہراتا ہو۔ ہم دونوں سے استشہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ (پہلے انجیل کے حوالہ سے ناظرین اس مسئلہ کو سمجھیں پھر اقوال رسول اللہؐ سے اس پر غور فرمائیں۔)
١٦
انجیل متی۔ چوبیسواں باب
- ١............ اور یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد پاس آئے کہ اسے ہیکل کی
عمارتیں دکھائیں۔
- ٢............ یسوع نے کہا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں ایک پتھر
پتھر پر نہ چھوٹے گا۔ جو گرایا نہ جائے گا۔
- ٣............ جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس
آکر کہا۔ کہ یہ کب ہوگا۔ اور تیرے آنے کا اور دنیا کی اخیر ہونے کا نشان کیا ہے۔
- ٤............ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار ہو۔ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔
- ٥............ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ
کریں گے۔
- ٦............ اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبردار مت گھبرائیو کیونکہ ان سب
باتوں کا ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک اخیر نہیں ہے۔
- ٧............ کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال اور مری اور جگہ جگہ
زلزلے ہوں گے۔
- ٨............ پر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وہ تمہیں دکھ میں حوالہ کریں گے اور
میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گی۔
- ٩............ اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑائے گا اور ایک دوسرے
سے کینہ رکھے گا۔
- ١٠............ اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔
- ١١............ اور بے دینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔
- ١٢............ پھر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پائے گا۔
١٧
- ١٣.........اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جائے گی تاکہ سب قوموں پر گواہی
ہو۔ اور اس وقت آخر آئے گا۔
- ١٤.........پس جب تم ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا۔ مقدس مکان
میں کھڑے دیکھو گے۔
- ١٥.........تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔
- ١٦.........جو کوٹھے کے اوپر ہو اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔
- ١٧.........اور جو کھیت میں ہو اپنا کپڑے اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھرے۔
- ١٨.........پر اُن پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں۔
- ١٩.........سو دعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں ہار کے دن نہ ہو۔
- ٢٠.........کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہو گی جیسے دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی ہو اور
نہ کبھی ہو گی۔
- ٢١.........اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا‘ پر برگزیدوں کی خاطر
وہ دن گھٹائے جائیں گے۔
- ٢٢.........تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔
- ٢٣.........کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے
یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔
- ٢٤.........دیکھو! میں پہلے سے بھی کہہ چکا ہوں۔
- ٢٥.........پس اگر تمہیں وہ کہیں دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں
ہے۔ تو باور مت کرو۔
- ٢٦.........کیونکہ جیسی بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے۔ ویسا ہی انسان کے بیٹے کا
آنا بھی ہو گا۔
١٨
- ٢٧......... کیونکہ جہاں مردار ہے وہاں گدھ جمع ہونگے۔
- ٢٨......... اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی
نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
- ٢٩......... اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری
قومیں چھاتی پیٹیں گی۔ اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔
مرقس ١٣۔ باب ٢٢
کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور نشان و کرامتیں دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے اور ٢٦’ اس وقت انسان کے بیٹے کو بادلوں پر بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے۔ (لوقا ١٧ باب ٣٦ ۔ ٢٧ تا ٣١ آخر باب)
آخر باب
”تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں اگر تم مجھے پیار کرتے تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔“ (یوحنا ١٤ باب ٢٨ آیت)
”اور اب میں نے تمہیں اس کے واقعہ ہونے سے پیشتر کہا ہے تاکہ جب ہو جائے تم ایمان لاؤ۔“ (یوحنا ١٤ باب ٢٩ آیت)
”آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔“ (یوحنا ١٤ باب ٣٠ آیت)
حدیث رسول ﷺ
ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجال....... فقال....... ان یخرج وانا فیکم فانا حجیجہ دونکم وان یخرج ولست فیکم فکل امرء حجیج نفسہ واللہ
١٩
خليفتى على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافية كانى اشبه بعبد العزى بن قطن فمن ادرك منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف وفى رواية (فليقرا عليه بفواتح سورة الكهف فانها جوار كم من فتنته) انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يميناً وعاث شمالاً يا عباد الله فاثبتوا قلنا يارسول الله وما بثه فى الارض قال اربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر ويومه كجمعته وساتر ايامه كايا مكم قلنا يارسول الله صلى الله عليه وسلم فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم قال اقدروا له قدره قلنا يارسول الله واما اسراعه فى الارض قال كا الغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيومنون به ويستجيبون له فيامر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعا وامداده خواصر ثم ياتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شى من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعا سيب النحل ثم يدعوا رجلاً ممتلا شباباً فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه يضحك فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه مثل جمان كاللو فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الامات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرف فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم يأتى عيسى قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذالك اذا وحى الله الى عيسى انى قد اخرجت عباداً لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر اخرهم فيقول لقد كان بهذا مرة ماء ويحصر نبى الله عيسى واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خير امن مائته دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه فيرسل عليهم النغف فى قابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الله عيسى واصحابه الى
٢٠
الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبرا الا ملاء ه زهمهم ونتنهم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله وثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدرولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتى ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرّمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفى الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبيناهم كذالك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهم تحت اباطهم فيقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة. (رواه مسلم ج٢ ص ٤٠٠ تا ٤٠٢ باب ذكر الدجال)
ترجمہ :............ نواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ تمہارے اوپر دجال کے ماسوا کا خوف مجھ کو زیادہ ہے اگر دجال تم میں نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود ہوا تو تم سے پہلے میں اس کو الزام دوں گا اور تم کو اس کے شر سے بچاؤں گا اور اگر وہ نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود نہ ہوا تو ہر مرد مسلمان اپنی طرف سے اس کو الزام دے گا اور حق تعالیٰ میرا خلیفہ اور نگہبان ہے ہر مسلمان پر ۔ البتہ دجال نوجوان گھنگرالے بالوں والا ہے اس کی آنکھ میں ٹینٹ ہے گویا کہ میں اس کی مشابہت دیتا ہوں عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ (یہ ایک کافر تھا سو جو شخص کہ تم میں سے اس کو پاوے چاہئے کہ سورہ کہف کے شروع کی آیتیں اس پر پڑھے ۔ ہاں وہ شام اور عراق کے درمیان کے حصہ سے نکلے گا تو خرابی ڈالے گا دائیں اور فساد اٹھائے گا بائیں ۔ اے خدا کے بندو ایمان پر ثابت رہو اصحابؓ بولے یا رسول اللہؐ وہ زمین پر کب تک ٹھہرے گا ۔ حضورؐ نے فرمایا چالیس دن ۔ ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر اور دوسرا دن مہینہ برابر اور تیسرا دن ہفتہ برابر اور باقی دن تمہارے دنوں جیسے ۔ اصحابؓ بولے یا رسول اللہؐ وہ دن جو سال کے برابر ہوگا ہم کو ایک ہی دن کی نماز اس میں کفایت کرے گی ۔ حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں تم اندازہ کر لینا ۔ اس دن میں بقدر اس کے (یعنی جتنی دیر بعد نماز اب پڑھتے ہو) اصحاب بولے یا رسول اللہؐ اس کی شتاب روی
٢١
زمین پر کیونکر ہوگی۔ حضورؐ نے فرمایا۔ جیسے وہ مینہ جس کو ہوا پیچھے سے اڑاتی ہے۔ سو وہ ایک قوم کے پاس آئے گا۔ تو ان کو کفر کی طرف بلائے گا۔ وہ اس پر یقین لے آئیں گے اور اس کی بات مانیں گے وہ آسمان کو حکم کرے گا وہ پانی برسائے گا اور زمین کو حکم کرے گا سو وہ گھاس اور اناج جمادے گی اور شام کو ان کے مویشی آئیں گے بہ نسبت سابق کے دراز کوہان اور کشادہ تھن ہو کر اور کوکھیں خوب تن کر یعنی موٹے تازے ہو جائیں گے۔ پھر دجال دوسری قوم کے پاس آئے گا تو ان کو کفر کی طرف بلائے گا۔ تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے تو ان کی طرف سے ہٹ جائے گا اور ان پر قحط و خشکی پڑے گی۔ ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ باقی رہے گا اور دجال ویران زمین پر نکلے گا اور اس سے کہے گا کہ اے زمین اپنے خزانے نکال تو وہاں کے مال اور خزانے ظاہر ہو کر اس کے پاس جمع ہو جائیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں رانی کے گرد ہجوم کرتی ہیں۔ پھر دجال ایک جوانمرد کو بلائے گا اور اس کو تلوار سے مارے گا سو اس کو قتل کر کے دو ٹکڑے کر ڈالے گا جیسا نشانہ د وٹوک ہو جاتا ہے۔ پھر اسے بلائے گا سو وہ جوان سامنے آئے گا چہرہ دمکتا ہوا ہنستا ہوا سو دجال اسی حال میں ہو گا کہ ناگاہ حق تعالیٰ عیسیٰ ابن مریمؑ کو بھیجے گا۔ تو عیسیٰؑ اتریں گے سفید مینار پر شہر دمشق کے مشرق کی طرف زرد و رنگین جوڑا پہنے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے تو جب کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنا سر جھکائیں گے تو پسینا ٹپکے گا اور جبکہ اپنا سر اٹھائیں گے تو موتی سی بوندیں بہیں گی جس کافر کو ان کے دم کی بھاپ لگے گی۔ تو وہ مر جائے گا اور ان کا دم پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے۔ یہاں تک کہ اس کو باب ”لد“ پر پائیں گے۔ (لد اسرائیل میں گاؤں ہے) سو اس کو قتل کریں گے پھر عیسیٰ ابن مریمؑ کے پاس وہ لوگ آئیں گے۔ جن کو خدا نے دجال سے بچایا ہو گا۔ تو شفقت سے ان کے چہرہ کو سہلا دیں گے اور ان کو ان کے بہشت کے درجات کی خبر دیں گے سو اسی حال میں ہونگے کہ ناگاہ حق تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو حکم کرے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالنے ہیں کہ کسی کو ان کی لڑائی کی طاقت نہیں، سو پناہ میں لے جا میرے مسلمان بندوں کو طور کی طرف اور خدا بھیجے گا یاجوج اور ماجوج کو اور وہ ہر ایک بلندی سے نکل پڑیں گے۔ تو انکے پہلے لوگ طبرستان کے دریا گذریں گے۔ تو پی جائیں گے۔ جتنا پانی کہ اس میں ہو گا اور ان کے پچھلے لوگ جب وہاں آئیں گے تو کہیں گے کہ کبھی اس میں بھی پانی تھا۔ پھر چلیں گے یہاں تک اس پہاڑ تک پہنچیں گے جہاں ٢٢
درختوں کی کثرت ہے۔ یعنی بیت المقدس کا پہاڑ تو وہ کہیں گے البتہ ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں۔ تو اپنے تیروں کو آسمان کی طرف چلائیں گے سو خدا ان کے تیروں کو خون آلود کر کے ڈالے گا اور خدا کا پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب گھرے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک بیل کی سری افضل ہوگی ۔ سو اشرفی سے جو آج تمہارے نزدیک ہے۔ (یعنی کھانے کی نہایت تنگی ہوگی) پھر عیسیٰ نبی اللہ اور ان کے اصحاب خدا سے دعا کریں گے تو حق تعالیٰ یاجوج ماجوج پر عذاب بھیجے گا۔ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہوگا تو صبح تک مر جائیں گے۔ ایک جان کا سا مرنا، پھر عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ اور اس کے اصحاب زمین پر اتریں گے۔ تو تمام زمین پر ایک بالشت برابر جگہ ان کے سڑاند اور گندگی سے خالی نہ پائیں گے۔ پھر عیسیٰ رسول اللہ اور اس کے اصحاب خدا سے دعا کریں گے۔ تو حق تعالیٰ یاجوج ماجوج پر پرندے بھیجے گا۔ جیسے بڑی گردنیں اونٹوں کی۔ سو وہ ان کو اٹھا لے جائیں گے اور ان کو پھینک دیں گے جہاں خدا کو منظور ہوگا۔ پھر خدا ایسا پانی برسائے گا کہ کوئی گھر مٹی کا اور اون کا اس پانی سے باقی نہ رہے گا۔ سو خدا زمین کو دھو ڈالے گا۔ یہاں تک کہ زمین کو حوض یا باغ یا صاف میدان کی طرح کر دے گا۔ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل جما اور اپنی برکت کو پھیر دے تو اس دن ایک انار کو ایک گروہ کھائے گا اور اس کے چھلکے کو بنگلہ بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے اور دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو کفایت کرے گی اور دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو کفایت کرے گی اور دودھار بکری ایک جدی لوگوں کو کفایت کرے گی سو اسی حالت میں ہونگے کہ یکا یک حق تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجے گا کہ ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی تو ہر مومن اور ہر مسلم کی روح کو قبض کرلے گی اور بڑے بدذات لوگ باقی رہ جائیں گے۔ آپس میں بھڑینگے۔ گدھوں کی طرح ۔ سو ان پر قیامت قائم ہوگی۔
اگرچہ صحاح میں اس مضمون کی احادیث متعددہ ہیں۔ مگر میں نے اسی ایک حدیث پر اکتفا کیا حتیٰ کہ اس حدیث کا ذکر بھی نہیں کیا جس کو امام مسلم نے ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس میں مسلمانوں کے لشکر کا مدینہ سے نکلنے ۔ ثلث کے بھاگنے ۔ ثلث کے شہید ہونے ثلث کے فتح یاب ہونے ۔ فتح قسطنطنیہ ۔ ارادہ تقسیم اموال ۔ اطلاع خروج دجال ۔ مسلمانوں کا مدینہ میں واپس آنا ۔ پھر شام میں پہنچنا۔ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ کا اترنا مذکور ہے۔ تاہم اصحاب ایقان و
٢٣
اہل ایمان کے لئے نبی ﷺ کے ارشادات پر یقین کرنے اور شک و شبہ کو مٹانے کے واسطے یہی کافی ہے۔
ضروری نوٹ:
اس حدیث کے آدھے حصے کا ترجمہ مرزا قادیانی نے ازالہ میں بھی کیا ہے۔ مگر واہ رے شوخی طبع ۔ ترجمہ کرتے کرتے بھی کتنے پیچ پیچ ڈالے ہیں۔ ایک فقرہ کا ترجمہ کیا اور دو تین ورق غیر مربوط لکھ ڈالے پھر اسی طرح تاکہ اصل حدیث کا مطلب ناظرین کی سمجھ میں ذرا نہ آئے ۔ غرض اسی حدیث کے آدھے حصہ کے ترجمہ کو ٢٠٣ سے لے کر ٢٢٨ تک طول دیا ہے اور پھر تمام حدیث کے مضامین کی نسبت لکھا ہے کہ وہ عقل و شرع سے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔ ”لطف یہ ہے کہ اسی ضمن میں جو بعض الفاظ ایسے آگئے ہیں جن کی تاویل آپ (مرزا) کر سکتے ہیں۔ ان کی تاویل جھٹ کر کے اپنے آپ کو مصداق صحیح ان کا بنا لیا ہے۔ مثلاً زرد کپڑوں سے مراد بیمار ہونا دمشق سے مراد قادیان بتلانا۔ دم کی بھاپ سے حجۃ قاطعہ مراد لینا دو فرشتوں سے مراد علوم عقلی و نقلی بیان کرنا ۔ منارہ شرقی سے مراد اپنی مسجد کے منارہ کو ٹھہرانا اور اس کے ساتھ ایک الہامی عبارت کا جڑ دینا ”انا انزلناہ قریباً من القادیان بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٥ خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
لیکن جہاں تاویل سے بالکل ہی رہ گئے ہیں اس کا ترجمہ بھی چھوڑ دیا ہے یا چپ سادھ کر خاموشی سے کنارہ کیا ہے۔ (مثلاً عراق و شام میں دجال کا فساد ڈالنا۔ یا ایک شخص کو قتل کر کے پھر زندہ کرنا۔ حضرت عیسیٰ کا دجال کو باب ”لُد“ پر قتل کرنا۔ مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جانا۔ میوہ اور دودھ کی برکت ۔ ایک ہوا کے جھونکے سے کل ایمانداروں کا مرجانا۔) غرض اے ناظرین ازالہ میں اس حدیث کے ترجمہ کو جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے دیکھو اور جو کچھ ان کے دل پر اس حدیث کے مضامین سے گزرتی ہے اس کا اندازہ کرو۔ حدیث ایک ہے اسی حدیث کو ایک جگہ بالکل صحیح مانتے ہیں اور اپنی بشارت اس میں سے نکالتے ہیں۔ اسی کے ایک حصہ کی نسبت ایسا سکوت ہے گویا حدیث میں اس عبارت کے ہونے کا علم و خبر تک بھی نہیں۔ اسی کے ایک حصہ کی وجہ سے ایسے غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں۔ کہ رسول اللہؐ کے ایک صحابی پر وضعی حدیث بنانے کا اتہام لگانے لگتے ہیں اور چیخ اٹھتے ہیں کہ اس کا بانی مبانی نواس بن سمعانؓ ہے یہ سب کچھ لکھ کر
٢٤
جب بھول جاتے ہیں تو اسی حدیث کے مطالب سمجھنے کے واسطے حکیم نورالدین کا درخواست کرنا اور خود ملتجی بارگاہ الٰہی ہونا اور کشفی طور پر الفاظ حدیث کے معانی کا اپنے پر ظاہر ہو جانا تحریر کرتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت ! اگر اس حدیث کے مضامین عقل و شرع کے خلاف تھے اگر اس کے بانی مبانی نواس بن سمعان ہی تھے۔ اگر بخاریؒ نے اس کو موضوع سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ اگر آپ کی تحقیق میں یہ حدیث مسلم کی دوسری حدیثوں سے بھی بالکل منافی و مبائن تھی تو پھر آپ نے اپنے حکیم نورالدین کو بھی یہی جواب کیوں نہ دے دیا اور خدا نے بھی کیوں اس کے معانی آپ کو بتلائے اور یہ نہ کہہ دیا کہ اس کے مضامین تو عقل و شرع کے خلاف اور شرک سے پر اور الوہیت کے تمام اقتدار ایک دجال خبیث کو دینے والے ہیں۔ اللہ اکبر اس تحریر پر ”و بعضہ بعضا“ پر بھی لوگ خیال کرتے ہیں۔ کہ مرزا قادیانی بڑے انشاء نگار ہیں۔
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆...... اگر بہروپئے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل مطابق
اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔
- ☆...... ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی
بھی زندہ نہ بچے۔ حکومت کو چاہئیے کہ پکڑ پکڑ کر ان خبیثوں کو مار دے۔
- ☆...... عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس کا
انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
☆......☆......☆
٢٥
باب دوم:
استعارہ و مجاز
اب ہم رفع مظنہ کے لئے دوسری بحث کرتے ہیں۔ ان سب بینات و شواہد اور علامات صادقہ و اخبار صحیحہ کا جواب اگر مرزا قادیانی نے کچھ دیا ہے تو یہ کہ یہ سب کچھ استعارہ و مجاز ہیں اور تاکہ اس جواب کے قبول کرنے کے لئے نفوس راغب اور قلوب طالب ہو جائیں۔ مرزا قادیانی نے یہ تمہید بھی بیان کی ہے۔ ”خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جس میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو بہیم طبع کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے۔ صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کیا جائے جو مرزا قادیانی بتلائیں اگر قرآن کے الفاظ دہقانی ہیں تو پھر ان کا متکلم کون ٹھہرا؟ آپ تو ان سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں۔ فقط ) ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خدا تعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں۔ اور بکثرت ہیں۔ کیونکر بدشکل اور موٹے اور کریہہ معنی پسند کئے جاتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ١٤۔١٥ خزائن ج ٣ ص ٥٨)
ناظرین ............. یہ ایک ایسی تمہید ہے جو اپنی ظاہری لفظی صورت سے شیدائیان جمال قرآن کے شیفتہ کرنے کے لئے دل کش ہے۔ مگر اس کی معنوی و باطنی حالت پر نظر ڈالو۔ کہ اس سے کیا معنے پیدا ہوتے ہیں۔ کہ قرآن کے مسائل طلسم بطلیموس کے سے اشارہ ہیں اور قرآن کے دقائق رموزات اسقلیوس سے بھی کچھ بڑھ کر ہیں۔ جن کو استاد اور خاص شاگرد کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا اور قرآن کی بادشاہت میں سوا حکماء عظام کے اور کسی کو جگہ ہی نہیں مل سکتی۔ قرآن جاہلوں پر اپنا دروازہ فضل کا بند کرتا ہے اور معرفت الٰہی و عرفان کو فلسفیوں اور اعلیٰ درجہ کے نکتہ رسوں کے لئے خاص ٹھہراتا ہے۔ کیوں حضرت آپ یوں کہیں اور خدائے تبارک و تقدس یوں فرمائے۔ ”ھو الذی بعث فی الامیین رسولاً منھم یتلوا علیھم ایاتہ و یزکیھم
٢٦
ويعلمهم الکتب والحکمتہ۔“ (الجمعہ۔٢) اب بتلاؤ کہ مسلمان کسے تسلیم کریں اور کسے رد۔
﴿اَفَمَنْ يَّهْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّیْٓ اِلَّا اَنْ يُهْدٰی فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ.﴾ (یونس۔ ٣٥)
”بھلا وہ جو حق کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس کی پیروی ٹھیک ہے یا اس کی جسے خود ہی راستہ نہیں ملتا۔ جب تک کوئی اسے نہ بتلادے۔ سوچو تمہیں کیا ہو گیا اور کیسے غلط فیصلے کرتے ہو۔“
مرزا قادیانی اس فلسفہ وہمی کو اپنے پاس رکھیں اور جو حکمت پاک کہ نبی ﷺ کو سکھلائی گئی اور جو کتاب کہ دی گئی۔ اسی پر سیدھے سادھے مسلمانوں کو رہنے دیں۔ ان جاہلوں ان پڑھوں پر آپ زحمت نہ کریں اور ان کو اسرار و دقائق قرآنی وایمانی سے محروم نہ سمجھنے والے قرار دیں۔ مگر ان پر اتنا فضل ہے کہ اس کا برگزیدہ نبی انہی میں مبعوث ہوا۔ ”اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِيِّ الْاُمِّیِّ وَ اٰلِهٖ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ“ اس میں شک نہیں کہ اگر حکمت سے مراد اصول منطقیانہ کا مستحضر رکھنا اور مسلمات فلسفیانہ کا از بر کر لینا اور اسی کو سرمایہ نازش سمجھنا ”یا طلیق اللسان و بلیغ البیان“ ھونا یا طبیعیات کی تجارب و مشاہدات کا ہی عمل میں لانا ہے۔ تو صحابہ کرامؓ ان ملمع کے زیورات سے آراستہ نہ تھے۔ لیکن اگر اس سے مراد وہ روحانی ترقیاں ہیں جو برکت انفاس قدسیہ نبوی ان کو حاصل ہوئیں اور وہ اعلیٰ مدارج انسانیہ پر پہنچ گئے اور جس طرح کہ آفتاب شبنم کو اٹھا لیتا ہے رحمت کاملہ و حکمت بالغہ نے ان کو اپنے لئے چن لیا۔ تب تو حکمت والے وہی امی وہی ناخواندہ گلہ بان۔ شتر ران۔ دہقانی زندگی کے لطف اٹھانے والے۔ آزادی کے جنگلوں میں رہنے والے۔ وہ خانہ بدوش وہ بادیہ نشین ہی نکلیں گے جن کو آج مرزا قادیانی اسرار و دقائق قرآنی سے بے بہرہ قرار دیتا ہے۔
ناظرین۔ گو مرزا قادیانی نے اپنی من گھڑت تاویلات کے لئے استعارہ و مجاز کی پناہ لی ہے۔ مگر علم بیان ومعانی میں جو تعریفات استعارہ ومجاز بیان کی گئی ہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ استعارہ و مجاز بھی مرزا قادیانی کی تاویلات کو پناہ نہیں دے سکتے۔ آپ صاحبان کی آگاہی کے لئے مختصر بحث استعارہ ومجاز کی بھی لکھی جاتی ہے۔ نہ سمجھنے کے اِس لفظ پر ایک واقعہ یاد آیا۔ میں اور ایک ہندو افسر فیروز پور میں ایک ہندو سادھو کو ملنے گئے اس نے اپنا رسالہ
٢٧
اثبات تناسخ دیا جس میں ویدوں سے۔ شاستر سے۔ توریت سے۔ انجیل سے۔ قرآن سے ۔حدیث سے۔ تناسخ کا اثبات کیا تھا۔ قرآن وحدیث کی کچھ عبارتیں لکھ کر اس نے یہ بھی لکھا تھا۔ کہ قرآن وحدیث میں تو تناسخ موجود ہے۔ مگر مسلمان اس کو نہیں سمجھتے۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے جعفر طیارؓ کی حدیث سے انسان سے پرندہ ہونا ثابت کیا تھا اور لکھا تھا کہ مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔
استعارہ مجاز کا مختصر حال
واضح ہو کہ استعارہ مجاز کی ایک قسم ہے اور جب تک کہ حقیقت اور مجاز دونوں کے معنی بیان نہ کئے جائیں تنہا مجاز کے معنی سمجھنے میں اشکال ہے حقیقت وہ کلمہ ہے کہ جس معنی کے واسطے وضع کیا گیا ہو۔ اسی معنی میں وہ مستعمل بھی ہو۔ وضع کرنے میں بھی یہ قید ہے۔ کہ جس اصطلاح میں کلام کرتے ہیں۔ اسی اصطلاح میں مستعمل ہو اور دوسری اصطلاح میں نہ ہو۔ یاد رکھو کہ اصطلاحات تین ہیں۔ لغت۔ شرع۔ عرف۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر کلام اصطلاح لغت میں ہو رہی ہے۔ تب جو لفظ کہ اصطلاح لغت میں ایک خاص معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو اور وہی معنی اس وقت اس کے مراد بھی ہوں۔ تو اس کا نام حقیقت ہے۔ اس تعریف میں ہم نے استعمال ووضع کے دو لفظ بیان کئے ہیں دراصل یہی بڑے قابل غور ہیں کیونکہ اگر کوئی لفظ کسی معنوں میں نہ استعمال ہوا ہے اور نہ وضع ہوا ہے۔ تو وہ نہ مجاز ہے۔ اور نہ حقیقت۔ مثلاً ہمارا مطلب یہ ہو کہ گھوڑا لاؤ اور ہم کہیں کہ کٹورا لاؤ۔ تو گھوڑا۔ کٹورے کے معنی میں جیسا کہ حقیقت نہیں۔ اسی طرح مجاز بھی نہیں۔ علیٰ ہذا شیر کہیں اور آدمی مراد لیں۔ یہ بھی ٹھیک نہ ہوگا۔ کیونکہ آدمی کے لئے شیر کہنا موضوع نہیں ہے اور اس مثال میں اگر تم کہو کہ متکلم کے علم میں چونکہ آدمی کی شجاعت کا بیان ہے اس لئے درست ہے۔ تو یہ کہنا بھی غلط ہوگا۔ کیونکہ وضع سے ہمیشہ وضع حقیقی مراد ہوتی ہے اور وضع تاویلی کبھی بھی نہیں ہوتی اور چونکہ ہم نے اس تعریف میں یہ قید لگائی ہے کہ جس اصطلاح میں کلام کرتے ہوں اس لئے ان معانی سے احتراز ہو گیا ہے جو دوسری اصطلاح میں معنی موضوع لہ میں وہ لفظ مستعمل ہو۔ مثلاً صلوٰۃ۔ جب ہم اصطلاح شرع میں کلام کر رہے ہوں اور پھر اثنائے کلام میں صلوٰۃ کے معنی دعاء کے لیں۔ تو اس وقت یہ معنی مجاز ہونگے۔ کیونکہ یہ تو لغت کے معنی ہیں اور
٢٨
برعکس اس کے اصطلاح لغت میں صلوٰۃ بمعنی نماز حقیقت نہ کہلائیں گے۔ کیونکہ یہ تو شرع کے معنی ہیں۔ یہ تو حقیقت کی حقیقت ہے۔ مجاز وہ کلمہ ہے۔ کہ جس معنی کے واسطے وضع کیا گیا ہے۔ اس معنی میں استعمال نہ کریں۔ بلکہ سوائے اس کے دوسرے معنی میں استعمال کریں اور کوئی ایسا قرینہ قوی بھی قائم ہو۔ جس سے معلوم ہو جائے۔ کہ وہ کلمہ اس وقت معنی موضوع لہ کے غیر میں مستعمل ہوا ہے۔
اس ضمن میں وضع کے معنی بھی قابل ذکر ہیں
وضع کے معنی ہیں۔ کسی لفظ کا ایسے معنی خاص کے لئے معین کر دینا۔ جو بذات خود اس معنی کے لئے دلالت کرے۔ پس ظاہر ہے کہ بذات خود کی قید سے جو تعریف وضع میں لگائی گئی ہے مجاز نکل گیا۔ کیونکہ مجاز وہ ہے۔ جو معنی مرادی پر بواسطہ قرینہ دلالت کرتا ہے اور یہ بھی واضح رہے۔ کہ حقیقت کے معنی ثابت ہونے والی شے کے ہیں اور اس کلمہ کو جو اپنے موضوع لہ میں مستعمل ہوتا ہے۔ حقیقت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے مکان اصلی پر (یعنی اس معنی میں جس کے واسطے لفظ بنایا گیا) ثابت ہوتا ہے۔
مجاز مصدر میمی ہے اور بمعنی اسم فاعل مستعمل ہے۔ اور مجاز کے معنی گذرنے والا اور اس کلمہ کو جو اپنے موضوع میں مستعمل نہیں ہوا۔ مجاز اس لئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے مکان اصلی کو چھوڑ دیا ہے اب یہ یاد رکھو کہ حقیقت کی بھی چار قسمیں ہیں اور مجاز کی بھی چار۔
الف............ حقیقت کی قسمیں
حقیقت لغوی۔ حقیقت شرعی۔ حقیقت عرفی خاص۔ حقیقت عرفی عام۔
- ١............ حقیقت لغوی وہ ہے کہ لفظ لغت میں کسی معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو۔
- ٢............ حقیقت شرعی وہ ہے کہ لفظ شرع میں کسی معنی کے واسطے وضع کیا گیا ہو۔
- ٣............ حقیقت عرفی خاص وہ ہے کہ لفظ کو کسی خاص فرقہ نحوی۔ صرفی۔ منطقی وغیرہ
وغیرہ نے کسی معنی کے واسطے وضع کر لیا ہو۔
٢٩
٤............. حقیقت عرفی عام وہ ہے کہ لفظ کو کسی خاص فرقہ نے ہی نہیں بلکہ عام نے اس لفظ کو اس تمام معنی کے لئے مستعمل کر لیا ہو۔
ب............. ١۔ مجاز لغوی وہ ہے کہ جو لفظ اپنے موضوع کے واسطے لغت میں موضوع تھا ۔ وہی لفظ لغت میں اپنے غیر کے واسطے استعمال ہو جائے۔ یعنی کسی نئے معنے میں مستعمل ہو۔
٢............. مجاز شرعی۔ علیٰ ہذا وہ ہے۔ کہ ایک لفظ ہے۔ جو اصطلاح شرع میں ایک معنی کے لئے موضوع تھا۔ وہ اب شرع ہی میں نئے معنی میں استعمال کیا گیا۔
٣............. مجاز عرفی خاص۔ ٤....... مجاز عرفی عام...... کا بھی انہی پر قیاس کرو۔
اب ان کی مثالیں سنو۔ شیر درندہ چوپایہ کے معنی میں حقیقت لغوی ہے اور بہادر شخص کے معنی میں مجاز لغوی۔ صلوٰۃ نماز کے معنی میں حقیقت شرعی ہے اور دعاء کے معنی میں مجاز شرعی۔
فعل....... اصطلاح نحوی میں ماضی ۔ مضارع ۔ امر نہی کے معنی میں حقیقت عرفی خاص ہے اور کرنے کے معنی مجاز عرفی خاص۔
دابہ...... چوپایہ کے معنی میں حقیقت عرفی عام ہے اور انسان کے معنی میں مجاز عرفی عام اس قدر بیان کے بعد ہم مرزا قادیانی سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیح کا لفظ انجیل اور عیسیٰ بن مریم نبی اللہ وعیسیٰ بن مریم رسول اللہ کا لفظ احادیث وقرآن میں مستعمل ہوا ہے۔ اگر یہ حقیقت نہیں اور مجاز ہے؟ تو کونسا مجاز ہے۔ لغوی یا شرعی ۔ عرفی خاص یا عرفی عام۔ جب تک آپ یہ ثابت نہ کر دیں ۔ تب تک صرف ایسے دعویٰ کا قبول کرنا جو لغت اور شرع کی امان و نگرانی کو دور کر دینے والا ہے۔ نہایت دشوار ہے۔ مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمدؐ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور سلیمانؑ اور داؤدؑ وغیرہ رکھتے ہیں اور ایسا کرنے کی اجازت بھی پائی جاتی ہے تو اس سے غرض کسی کسی مسلمان کی بھی ان بزرگان خدا کا روپ دھارنا نہیں ہوتا اور جس کا نام احمدؐ ہوتا ہے وہ کبھی اپنے آپ کو عبدالمطلب کا پوتا۔ جدالحسین والحسن فداہ ابی وامّی خیال نہیں کر بیٹھتا جو موسیٰؑ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ وہ کبھی صاحب تو رات و نبی بنی اسرائیل نہیں خیال کیا جاتا۔ جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا۔ اس کو کوئی بھی پاک کنواری مریم علیہا السلام کا جایا۔ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کا چرواہا کہہ کر نہیں پکارتا۔ جو سلیمانؑ کہہ کر بولا جاتا ہے اس کو کوئی بھی ’’اے بیت المقدس کے بانی
٣٠
تجھے سلام‘‘ کہہ کر اس کے حضور میں خائف وترساں نہیں کھڑا ہوتا۔ جس کا نام داؤد ہے۔ وہ صاحب زبور نہیں بن سکتا۔
جناب مرزا قادیانی ! احادیث وقرآن میں اگر صرف عیسیٰ کا لفظ ہوتا اور کوئی قرینہ قوی ایسا ہوتا۔ جو حقیقت کو چھوڑ کر مجاز پر دلالت کرتا اور احادیث غایت درجہ کے ابہام واجمال میں پائی جاتیں اور صریح اخبار کے خلاف بھی نہ ہوتا تو اس وقت شاید آپ کا یہ منتر چل سکتا۔ لیکن احادیث میں تو عیسیٰ ابن مریم آیا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ آیا ہے۔ علم ۔ لقب۔ کنیت ۔ خطاب۔ موجود ہے اور ابھی آپ کے نزدیک یہ الفاظ حقیقت پر دال نہیں...... میں کہتا ہوں ۔ اس بحث کو جانے دو کہ اس جگہ حقیقت مراد ہے یا مجاز ۔ لیکن یہ فرمائیے۔ کہ اگر شارع کا مقصود اظہار حقیقت ہی سے ہوتا اور نبی ﷺ کو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے نزول کی خبر دینا منظور نظر عالی ہوتا۔ تو فرمائیے کہ وہ کونسے الفاظ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو استعمال کرنے واجب اور ضروری تھے؟ اور وہ استعمال نہ کئے گئے ہوں۔ اگر کوئی صاحب الفاظ حدیث کو ناکافی کہنے کی جرأت کریں۔ تو پہلے قرآن کریم کے الفاظ کو غور فرمالیں۔ کیونکہ حدیث میں تو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ نبی اللہ ورسول اللہ بھی آیا ہے اور قرآن مجید میں صرف عیسیٰ بن مریم یا عیسیٰ ہی ہے اور یہ امر مرزا قادیانی کا بھی مسلمہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں یہ لفظ بھی مستعمل ہوا ہے۔ وہاں اس سے حقیقت ہی مراد ہے۔ یعنی وہی پاک کنواری مریم صدیقہ کا جایا۔ استعارہ ومجاز کا بیان ختم کرنے سے پہلے میں ایلیا کا قصہ بھی لکھ دینا چاہتا ہوں۔
ایلیا و یوحنا کے قصے کی صراحت
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جس طرح مسلمان مسیح کے نزول من السماء کے منتظر ہیں۔ اس طرح یہود ایلیا کے ہیں۔ آنے والے ایلیا کی نسبت مسیح علیہ السلام نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ یوحنا ہے۔ اور اسی خاصیت وطبع وقوت کا لڑکا زکریا کے گھر میں پیدا ہوا تھا۔ یہود نے اس فیصلہ کو غلط سمجھا اور دو نبیوں یعنی مسیح و یوحنا کے مکذب ٹھہرے۔ مسلمان اگر مسیح کو سچا نبی جانتے ہیں۔ اگر قرآن کو جو تصدیق مسیح کرتا ہے۔ سچی کتاب جانتے ہیں ان کو لازم ہے کہ مسیح کے فیصلہ پر عمل کریں اور آنے والے مسیح سے اسی خاصیت وطبع وقوت کا شخص (جو خود مرزا قادیانی اپنے آپ کو فرماتے
٣١
ہیں) مراد لیں۔ ورنہ وہ قرآن و مسیح کے مکذب ٹھہریں گے۔ (توضیح مرام ص ٣ تا ٧ خزائن ج ٣ ص ٥٢ تا ١٥٤ ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٢٧٠ تا ٢٧١ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦ تا ٢٣٧)
پیارے ناظرین۔ دراصل مرزا قادیانی کے پاس صرف یہی ایک قصہ ہے۔ جو ان کی تمام تاویلات نفسانی کا ممد و مؤید ہے اور جس میں حقیقت سے مجاز مراد لینے کا ثبوت وہ دے سکتے ہیں۔ بیشک انجیل میں اس کو حضرت مسیح کی زبان سے نکلا ہوا فقرہ بیان کیا گیا ہے۔ آنے والا ”ایلیا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔“ اور اس سے یہی نکلتا ہے۔ جو مرزا قادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر اسی انجیل میں یہ بھی ہے۔ کہ جب خود حضرت یوحنا سے سوال کیا گیا۔ کہ آپ کون ہیں۔ آیا مسیح ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ آیا الیاس (ایلیا) ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ آیا وہ ”نبی“ ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ پھر دریافت کیا گیا۔ کہ اگر آپ نہ ایلیا ہیں۔ نہ مسیح ہیں۔ نہ وہ نبی ہیں۔ تو ہیں کون۔؟ حضرت یوحنا نے جواب دیا میں وہ ہوں جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔
اب دیکھو۔ کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیا بتلایا۔ تو انجیل ہی کا بیان ہے کہ خود یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔ چیلہ نے اپنے گرو کو بنانا چاہا۔ مگر وہ نہ بنا۔
فرمائیے۔ مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے۔ وہ سچا ہے۔ یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے۔ وہ صادق ہے نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی دونوں سچے ہیں۔ قصہ جھوٹا ہے۔ کتاب میں تحریف ہے اب مرزا قادیانی اثبات دعاوی کے لئے کوئی اور مثال پیش کریں۔ یوحنا کا ایلیا ہونا تو مرزا قادیانی کو جب مفید ہوتا۔ جب حضرت یوحنا خود اپنے آپ کو آنے والا ایلیا بتلاتے جیسا کہ آپ نے خود اپنے آپ کو ابن مریم کہا ہے۔ رسالے لکھے ہیں۔ اشتہار شائع کئے ہیں۔ یوحنا نے انکار کیا ہے۔ مسیح کی گواہی کے بعد بھی انکار کیا ہے۔ مگر آپ ہیں کہ ان کے انکار کو سنتے ہی نہیں۔ ............ اور مان نہ مان ان کو ایلیا ہی بنا رہے ہیں۔
سرسید اور مثیل یوحنا
اسی کے مطابق آپ کے ایک مرید نے بھی کر دکھلایا ہے۔ وہ اڈیٹر سرمور گزٹ کے خط میں لکھتا ہے۔ سید احمد خان بہادر کیوں مرزا قادیانی کے خلاف ہیں۔ مرزا قادیانی تو عیسیٰ ہیں اور سید صاحب یحییٰ‘ اس کے ثبوت میں اس نے کئی ورق سیاہ کر ڈالے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے۔ کہ یہی خط سر سید احمد خان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے قلم اٹھا کر۔ یہ ”فقرہ لکھ دیا بیچارے قادیانی
کو اور مجھ کو خوب مسخرا بنایا ہے۔“ مرزا قادیانی اگر حضرت یوحنا بھی آج زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی جواب دیتے جو آپ کے مرید کو سرسید (مثیل یوحنا) نے دیا ہے۔
یوحنا و ایلیا و اواگون:
مجھے حکیم نورالدین پر رہ رہ کر افسوس آتا ہے۔ وہ خود اس مسئلہ پر اپنی کتاب (فصل الخطاب ص ١١٥۔١١٦ ج ٢۔ طبع ٢) پر لکھ چکے ہیں۔ ”یوحنا اصطباغی کا ایلیا میں ہونا بالکل ہندوستاں کے مسئلہ اواگون کے ہم معنی یا اسی کا نتیجہ ہے۔“ لیکن وہی حکیم نورالدین اب مرزا کا عیسیٰ بن مریم میں ہونا یا عیسیٰ بن مریم کا مرزا میں ہونا مان رہے ہیں اور اسی یوحنا والے قصہ پر تمسک ۔ شرم شرم ۔
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆......... قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام
کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔
- ☆☆......... یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مراقی مسیحیت کے
کرشمے ہیں کہ وہ خود سے خود پیدا ہو کر مسیح ابن مریم بن گیا۔
☆......☆......☆
٣٣
باب سوم
رفع عیسیٰ علیہ السلام
مرزا قادیانی تسلیم کر چکے ہیں ”مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا۔ اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کے فرع ہے۔ (ازالہ اوہام ٢٦٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦) اسی صفحہ پر وہ اقرار کر تے ہیں۔ کہ جب جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو جائے تو پھر اسی جسم کے ساتھ واپس آنا کچھ مشکل نہیں۔“ لہذا اب ہم اس جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر جانے کا ثبوت بائبل سے جس سے مرزا قادیانی ہمیشہ تمسک کیا کرتے ہیں) پیش کرتے ہیں۔ ”جب ایلیا اور الیسع باتیں کرتے چلے جاتے تھے۔ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آ کے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیا بگولے میں ہو کر آسمان پر جاتا رہا۔“ (سلاطین دوم باب ٢ درس ١١)
مرزا قادیانی نے آسمان پر ایلیا کا جانا تسلیم کر لیا ہے مگر کہتے ہیں کہ وہ مع جسم کے نہیں گئے ان کا بیان ہے کہ اسی باب کے درس ١٢ میں ایلیا کی جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے وہ ان کا جسم ہی تو تھا۔ لیکن دراصل یہ ان کا مغالطہ ہے جو اسی کے شروع سے پڑھنے کے بعد بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے اور ”یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا۔ کہ ایلیا کو ایک بگولے میں اڑا کر آسمان کو لے جائے۔
١............. تب ایلیا الیسع کے ساتھ جلجال سے چلا۔ ٧............. اور ان کے پیچھے پچاس انبیاء زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہوئے اور وہ دونوں (ایلیا۔ الیسع) لب یردن کھڑے ہوئے
٨............. اور ایلیا نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کے پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے ادھر ادھر ہو گیا اور وہ دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہو گئے۔
٣٤
پار ہونے اور ایلیا کے آسمان پر چلے جانے کے بعد بیان ہے کہ ایلیا کی چادر گر پڑی اور الیسع اسے اٹھا کر واپس لوٹا اور دریائے یردن پر اسی چادر کو مار کر دریا سے پار اتر آیا۔
ناظرین کرام مرزا قادیانی کی وہ تاویل کہ ایلیا کے گرنے والی چادر اس کا جسم تھا۔ صحیح ہے تو کیا خود ایلیا نے بھی خود جاتے ہوئے پانی پر اپنے جسم کو لپیٹ کر مارا تھا؟ اور کیا الیسع نے بھی اپنے مرشد کی لاش کو پانی پر پھینک کر مارا تھا؟ غرض ان کی یہ تاویل فضول ہے اور سلاطین دوم کے باب٢ کے پڑھنے سے ایک جسم کے رفع کا کھلا کھلا نشان ملتا ہے۔ جولوگ احادیث سے بڑھ کر بائیبل کو مستند جانتے ہیں۔ وہ اس طرف رجوع کریں۔
رفع عیسیٰ علیہ السلام:
شیخ محی الدین بن العربی نے بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ کے معنی میں لکھا ہے کہ اس سے وہ ارتفاع مراد ہے جو انسانی ترقیات سے بالاتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے پر بحث لطیف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں۔ روح کا خاصہ حیات ہے پس جس کے ساتھ روح شامل و مباشر ہو گی۔ اس کو زندہ کر دے گی۔ اب رہی لوازم حیات وہ جسم اور وجود کی قابلیت اور استعداد پر منحصر ہیں۔ دیکھو جب سامری نے دیکھا کہ روح القدس کے گھوڑے کا جہاں قدم پڑتا ہے۔ گھاس اُگ آتی ہے۔ (جرم زمین میں گھاس ہی کے اگانے کی قابلیت تھی) تو اس نے چاندی سونے کا بچھڑا بنایا اور اس میں اس گھوڑے کے نشان قدم کی مٹی ڈال دی۔ تو وہ بچھڑے کی طرح بولنے لگا۔ روح کا خاصہ تو حیات تھا۔ اس نے حیات دے دی۔ مگر بچھڑے کی طرح ہی بولنا یہ اس صورت جسمی کی استعداد تھی جس کا نام بچھڑا رکھا گیا تھا۔ اگر وہ شیر کی صورت میں ہوتا تو ڈکارتا اور اگر اونٹ کی طرح پر ہوتا تو بلبلاتا۔ الغرض ثابت ہوا کہ گو روح کا خاصہ حیات ہے۔ مگر جسمانی قابلیت و استعداد کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔
اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھو۔ کہ ان کو تو خود روح القدس ملی تھی اور ان کا لقب بھی روح اللہ تھا جب ایسے کامل التاثیر اور مکمل القویٰ روح کے لئے جسم بھی وہ ملا جس کی جسمانی ساخت بھی دنیا بھر کے جسموں سے علیحدہ اور عجیب تھی یعنی بغیر واسطہ پیدائش ظاہرہ کے پیدا ہوئے تھے تو ضرور ہے کہ روح القدس جو عالم ملکوت میں سے تھا اپنی حب الوطنی کی
تاثیر جسم پر ڈالتا اور جسم اپنی روحانی ساخت کی وجہ سے اس تاثیر کا متاثر ہوتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام معہ جسم کے آسمان پر اٹھائے جاتے۔ مرزا قادیانی قائل ہیں۔ کہ مومنین کی روحوں کو بھی رفع حاصل ہے
(ازالہ اوہام ص ٦٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٤)
مجھے تعجب ہے کہ پھر وہ روح اللہ کی رفع کا کیوں انکار کرتے ہیں یہ ظاہر ہی ہے۔ کہ لقب نہ صرف روح کے لئے ہوتا ہے اور نہ صرف جسم کے لئے بلکہ دونوں کے لئے ہوتا ہے پس ہر ایک روشن فطرت جو لفظ روح اللہ پر زیادہ تر تدبر کر لے گا۔ اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع مع الجسم پر کچھ شبہ باقی نہ رہے گا۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ روح کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ رفع حاصل ہے۔ تو پھر روح اللہ کو اس کے اپنے جسم کے ساتھ کیوں رفع محال ہے؟ میں باور کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ لقب روح اللہ رکھنے میں بہت بڑی حکمت غامضہ الہیہ یہ بھی تھی کہ مرزائی عقیدہ کا بطلان اور عیسیٰ نبی اللہ کے رفع مع الجسم کا اثبات ہو جائے فتدبر۔
رب کریم نے فرمایا ہے۔ ”یٰا عِیْسَی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ“
(آل عمران: ٥٥)
”کہ اے عیسیٰ میں تجھے بھر پور لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔“
واضح ہو کہ اگر ان معنی سے قطع نظر کر کے مرزا قادیانی کی پیش کردہ تفسیر کو صحیح مان لیا جائے اور ”توفی“ سے وفات جسمی اور ”رفع“ سے عروج روحی مراد لی جائے۔ تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑے گی۔ ”اِنِّیْ مُتَوَفِّیْ جَسَدَکَ وَرَافِعُ رُوْحَکَ“ حالانکہ معنی بنانے کے لئے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر اور تقدیم و تاخیر مرزا قادیانی کے مذہب میں الحاد و کفر ہے۔ لیکن اگر یہ مسئلہ صرف علماء کو ڈرانے کے لئے نہیں گھڑ لیا گیا تو ضروری ہے کہ ”کاف“ مرجع دونوں صورتوں میں ایک ہی ہو۔ پس اگر ”توفی“ کا اثر جسم پر مانا جائے تو ”رفع“ کا اثر بھی جسم پر ہونا چاہئے۔ اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردہ جسم کا آسمان پر جانا تسلیم کرنا پڑے گا اور اگر ”توفی“ کا اثر روح پر تسلیم کر لیا جائے (جو غلط ہے) تو لفظ عیسیٰ کا مدلول ومسمّیٰ صرف روح کو قرار دینا ہوگا۔
لہٰذا مرزا قادیانی کو لازم ہوا کہ نہایت سیدھے سادھے معنی اختیار کریں کہ رب کریم نے حضرت عیسیٰ سے دو وعدے کئے تھے۔ ١...... متوفیک ٢...... رافعک الیٰ، ایک وعدہ تو
٣٦
”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ“ (النساء۔ ١٥٨) میں پورا کر دیا۔ دوسرا وعدہ بھی جب چاہے گا پورا کر دے گا۔ یہ معنی تو اس صورت میں ہیں۔ جب ”متوفیک“ کے معنی مارنا لئے جائیں۔ لیکن اگر ہم رب کا خوف کھا کر قرون مشہود لہا بالخیر کے مذہب وتفسیر پر نظر ڈالیں اور تفسیر بالرائے کو اپنے نفس پر کفر قرار دے لیں اور صحابہ و تابعین سے بڑھ کر قرآن مجید کے اسرار وبطون کے سمجھنے کے بودے خیال کو اپنے دل سے دور کر دیں اور عرب سے بڑھ کر لغت وادب میں واقفیت رکھنے کی بیہودہ تمنا کو بھی دماغ سے نکال ڈالیں۔ تب تو ہم نہایت سچائی سے یقین رکھتے اور ایمانداری سے اقرار کرتے ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہی دونوں وعدے مع الجسم اٹھائے جانے کے ساتھ پورے کئے گئے ہیں۔
حکیم الامت شاہ ولی اللہؒ صاحب لکھتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ تو گویا زمین پر چلنے والے فرشتہ تھے۔ رب کریم نے ان کے وجود کو صورت مثالیہ کا درجہ دے کر اوپر اٹھا لیا۔“
علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٤ ۔ ٥٧٥ میں اس آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کی تفسیر میں کہا ہے کہ سعید بن جبیرؓ اور نسائی اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے باسناد صحیح ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ کیا۔ تو وہ اس وقت ایک کوٹھے میں تھے۔ ”اور ان کے بارہ حواری بھی ان کے قریب مکان میں تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کمرے سے نکلے۔ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا۔ ”تم میں سے جو ایمان لا چکے ہو۔ ایک شخص بارہ دفعہ میرا انکار کرے گا۔ پھر فرمایا تم میں کون (پسند کرتا) ہے۔ جس پر میری شباہت ڈالی جائے اور وہ میری جگہ مقتول ہو اور میرے ساتھ میرے درجہ (بہشت میں) رہے۔ ایک نوجوان نے عرض کیا میں آپ کی جگہ جان دے سکتا ہوں۔ فرمایا تو بیٹھ جا۔ انہی الفاظ کا پھر اعادہ کیا۔ وہی نوجوان کھڑا ہو گیا۔ فرمایا تو بیٹھ جا۔ انہی الفاظ کا پھر اعادہ کیا۔ وہی نوجوان کھڑا ہو گیا۔ آپ نے فرمایا تو ہی اس قابل ہے۔ پھر اس پر آپ کی شباہت ڈالی گئی اور آپ اس گھر کے روشن دان میں سے آسمان کو اٹھائے گئے۔ یہود جو آپ کے خون کے پیاسے تھے۔ وہ آئے اور ان کے شبیہ کو پکڑ کر لے گئے۔ اس کو قتل کیا اور دار پر کھینچا۔
واضح ہو کہ اس روایت کے تمام رجال۔ صحیح کے رجال ہیں اور امام نسائی نے
ابو کریبؒ اور معاویہؓ سے بھی اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن منذر نے بھی اس قصہ کو بیان کیا ہے۔
میں اس حدیث ابن عباسؓ کی تائید میں برنباس حواری کی انجیل اور جارج سیل کے ترجمہ قرآن میں سے ”انی متوفیک ورافعک الیہ“ کی تفسیر کو بھی پیش کرسکتا ہوں۔ برنباس کا بیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک مرفوع ہے اور برنباس حواری کا معتبر ہونا مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مقبول ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے برنباس کے اس مقام کی تصحیح میں سرمہ چشم آریہ میں بہت ہی زور دیا ہے۔ ............ جو امر آنحضرت کے لئے جائز نہیں وہ مسیح کے لئے بوجہ اولیٰ جائز نہیں۔
(ازالہ اوہام ص ٢٩٠ خزائن ج ٣ ص ٢٤٨)
مندرجہ بالا فقرہ مرزا قادیانی کا ہے اور چونکہ ہم سب مسلمانوں کا دین و ایمان ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ جیسا کہ خاتم الانبیاء ہیں ویسے ہی اشرف الانبیاء ہیں۔ اس لئے یہ فقرہ ایسا مؤثر ہے۔ کہ اگر کسی مسلمان کا ذہن اس کی حقیقت تک نہ پہنچے تو اسے پھنسانے کے لئے ہزار دلیلوں سے بڑھ کر یہ ایک فقرہ کام دے گا۔
ناظرین ہم کو یہ دیکھنا چاہئے۔ کہ مرزا قادیانی کا مدعا اس فقرے سے کیا ہے؟ ہاں وہ اس سے حضرت مسیح کا ”رفع الی السماء“ نہ ہونا اور نہ ہو سکنا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے (ازالہ ٦٢٥ خزائن ص ٤٣٧ ج ٣) پر یہ آیت پیش کی ہے ”او ترقی فی السماء قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ ھَلْ كُنتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا“ اور اس کا ترجمہ یوں کیا ہے ”یعنی کفار کہتے ہیں۔ کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں کو دکھلا تب ہم ایمان لے آئیں گے ان کو کہہ دے میرا خدا اس سے پاک ہے کہ اس دار الابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھلا دے اور میں بجز اس کے اور کچھ نہیں ہوں۔ کہ ایک آدمی۔“
اس آیت کو پیش کرنے سے انہوں (مرزا) نے اپنی دلیل کو منطقی قضیہ بنالیا ہے۔ آسمان پر جانا جسم خاکی کا محال ہے۔ دعویٰ ہے۔
رسول اللہ ﷺ با وجود درخواست معجزہ کفار آسمان پر نہیں جاسکے۔
صغریٰ ............ جب رسول اللہ ﷺ نہیں جاسکے تو کوئی بھی آسمان پر نہیں جاسکتا،
کبریٰ ............ پس جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے۔
نتیجہ:
ناظرین جب میں نے اس آیت کو جو مرزا قادیانی نے پیش کی ہے اور اس ترجمہ کو جو انہوں نے تحت آیت لکھا ہے دیکھا تو مجھے دھوکے کا کچھ شک سا گزرا میں سوچتا تھا۔ کہ ترجمہ میں ”(تب ہم ایمان لے آئیں گے)“ کن الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہے اور اتنی عبارت اس دار الابتلاء میں ایسے ایسے کھلے کھلے نشان دکھائے۔“ جناب مرزا قادیانی نے کہاں سے لکھ ماری ہے کیونکہ جو الفاظ قرآن کے انہوں نے لکھے ہیں۔ ان کا ترجمہ تو یہ بالکل نہیں۔ میں نے اسی شبہ کی وجہ سے قرآن مجید کو جب کھول کر دیکھا تو آیت کو اس طرح پایا۔
﴿ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَاءِ ؕ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ ؕ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ﴾
(بنی اسرائیل. ٩٣)
”مجھے معلوم ہو گیا کہ ”او ترقی فی السماء“۔ اور ”قل سبحان ربی“ کے درمیان سے قرآن مجید کے اتنے الفاظ کو مرزا قادیانی نے دانستہ چھپا لیا ہے۔ ”وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ“ اور اس کے چھپا لینے اور سلسلہ الفاظ کو توڑ دینے کے بعد کفار کی درخواست کے مضمون کو پلٹ دیا ہے اور خداوند کریم نے جو جواب کہ ایک دوسری درخواست کا دیا ہے۔ اسی پہلی درخواست کے متعلق (جس کا جواب خود کفار کو بھی لینا منظور نہ تھا) بتلایا گیا ہے۔ اللہ اکبر میں نہیں جانتا۔ کہ ”یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ“ اور کسے کہتے ہیں؟ (یہ یہودیوں کے وصف میں ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ یہ لوگ کلمات الٰہی کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔)
بزرگ مسلمانو! اب آیت شریفہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے اور اس آیت کو سرے سے
”وقالوا لن نؤمن لك حتٰی تفجر لنا “ سے دیکھتے چلے آئیے کہ کفار نے یہ کہا تھا۔
ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین سے ایک بہتا چشمہ نہ نکالے یا تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو اور تو اس میں نہریں چلا کر بہائے یا ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرائے جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔
- ١............یا اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن لے آ۔
٣٩
- ٢...........یا تیرے لئے ایک گھر ستھرا ہو۔
- ٣...........یا تو چڑھ جائے آسمان پر اور ہم تو تیرے چڑھ جانے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔
جب تک تو ہمارے لئے ایک نوشتہ نہ اتار لائے جس کو ہم سب پڑھ لیں۔ جواب...........(اے محمدؐ) تو کہہ دے سبحان اللہ میں تو ایک بشر اور رسول ہوں۔ ناظرین...........یہ تو ظاہر ہے۔ کہ اس آیت سے کفار کی درخواستہائے معجزہ کا پتہ ملتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کیا کچھ دیکھنے کی درخواست کرتے تھے ان کی درخواستیں یا تو نبوت کے درجہ سے بہت گری ہوئی اور سفلی تھیں اور یا نبوت کے درجہ سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی اور عادت اللہ کے خلاف ان کی سفلی اور گری ہوئی درخواستیں یہ تھیں۔
- ١...........زمین سے چشمہ کا نکالنا۔
- ٢...........کھجور۔ انگور کا باغ اس میں نہریں۔
- ٣...........ستھرا محل۔
ظاہر ہے کہ نہ ان کو معجزہ کہہ سکتے ہیں اور نہ ایسا کر دکھلانے سے یہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کہ الٰہی طاقت کے سوا کوئی بشر ایسا کچھ دکھلا ہی نہیں سکتا۔ پس یہ درخواستیں تو یوں فضول ٹھہریں، درجہ نبوت سے بڑھی ہوئی باتیں یہ تھیں۔
- ١...........یا آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے۔
- ٢...........یا خدا اور فرشتوں کو ضامن لے آؤ۔
پس ساری درخواستوں میں ایک ہی ایسی درخواست تھی۔ جو منظور کی جاتی اور نبی اللہ اپنا معجزہ دکھا دیتا۔ ”یعنی آسمان پر چڑھ جانا“ لیکن چونکہ کفار کو اس طلب معجزات سے طلب حق مقصود نہ تھا اور ان کا مدعا خرق عادات کے دیکھنے سے ایمان لانا نہ تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ پیغمبر اپنے دعووں میں سچا اور اس کا خدا ہر ایک فعل پر قادر ہے۔ تو وہ یہ درخواست پیش کرنے کے بعد کہ جب تک تو آسمان پر چڑھ کر ہم کو نہ دکھلائے ۔ ہم ایمان نہ لائیں گے۔ جھٹ اس شرط سے بھی منکر ہو گئے اور صاف کہہ اٹھے کہ صرف تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے ہم کب ایمان لاتے ہیں ہم تو تب ایمان لائیں گے جب تو ہمارے نام کا نوشتہ بھی بارگاہ الٰہی سے لکھوا
٤٠
کرلے آئے اور ہم سب اس کو پڑھ بھی لیں۔
ناظرین ۔ غور تو کرو ۔ قرآن کریم تو خود بتلا رہا ہے۔ کہ کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزہ کی درخواست پر جمے نہیں رہے اور کفار نے تو یہ معجزہ چاہا تھا کہ ہر ایک کے پاس کتاب الٰہی آجائے اور محمد رسول اللہ ہر ایک کافر کو رسول صاحب کتاب بنا دیں۔ تب وہ ایمان لائیں گے۔ ان کی ایسی بیہودہ درخواست پر (جو ان کی آخری درخواست تھی) اور جس کو انہوں نے نہایت شوخ چشمی سے پیش کیا تھا۔ اور جس پر انہوں نے اس قدر زور دیا تھا کہ اس کے بغیر تو تیرے آسمان پر چڑھ جانے کے بعد بھی ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔ رسول کو یہ حکم ہوا کہ ان سے کہہ دو کہ میں خود ایک بشر اور رسول ہوں۔ یعنی دوسرے بندوں کو کیسے رسول بنا سکتا ہوں؟ اور کہاں سے یہ مجاز ہوں کہ کافروں پر کتابیں اتاروں؟ اور ان کو مہری نوشتہ دکھلاؤں اور ہر ایک کے نام کے جدا جدا فرمان جاری کرادوں۔ کہ وہ کافر اس کو پڑھ پڑھ کر اور ٹھیک یہ پہچان کر کہ ہاں خدا ہی کے پاس سے یہ لکھا ہوا نوشتہ آیا ہے ایمان لے آئے۔
بیوقوفو! تمہاری اس درخواست کے یہ معنی ہیں۔ کہ میں جو بشر ہوں خدائی طاقتیں بھی رکھتا ہوں؟ ہاں تمہاری درخواست کے یہ معنی ہیں کہ میں جو رسول ہوں دوسرے کو صاحب کتاب بھی بنا سکتا ہوں۔ حالانکہ یہ سب خدا کے کام ہیں اور خدا ایسے نقص سے بھری ہوئی باتوں سے پاک ہے کہ ناپاک روحوں کو اپنا رسول بنائے۔ یا آپ مع اپنے فرشتوں کے کفار کے پاس ضامن ہونے کو آئے۔
مرزا قادیانی دیکھیں کہ خدا نے کہاں رسول کا آسمان پر جانا محال کہا ہے۔ ...... اگر فکر سلیم اور طبع معنی رس ہو۔ تو اس آیت ہی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ضرور ان کو معجزہ دکھلا دیتے۔ اگر کفار کی صرف یہی درخواست ہوتی جس آیت سے مرزا قادیانی نے استدلال کیا تھا اور نکالا تھا کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا محال ہے اس سے تو وہ مطلب نہ نکلا۔ بلکہ اس کے برعکس ثابت ہو گیا۔ تو اب کیونکر وہی آیت حضرت مسیح علیہ السلام کے ”رفع الی السماء“ کے امتناع کو ثابت کر سکتی ہے۔ اور جب یہ حال ہے تو مرزا قادیانی کا وہ فقرہ ہی غلط ہے۔ جو عنوان مضمون پر لکھا گیا ہے اور یہی جواب ان کے لئے کافی ہے۔
علاوہ اس کے یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ منصب و رتبہ میں افضل ہونا اور شئے ہے
٤١
اور خصوصیات ذاتیہ کا افراد میں علیحدہ علیحدہ پایا جانا کچھ اور شے۔ اگر فضیلت اور اکملیت کی بنیاد خصوصیات ذاتی کے مقابل میں ڈالی جائے تو میں سچ کہتا ہوں کہ نبی ﷺ کی بزرگی و فضیلت کا دیگر انبیاء پر ثابت کرنا دشوار ہو جائے گا۔
آپ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کے احوال پر ہی غور فرمالیں۔
١ حضرت مسیح ؑ کی والدہ صدیقہ کو ١ اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی والدہ کو یہ نساء العالمین پر اصطفاء دیا گیا۔ منصب حاصل نہیں ہوا۔ ٢ حضرت مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ٢ ہمارے سید ومولیٰ اپنے والدین کے گھر۔ ٣ حضرت مسیح ؑ نے پیدا ہوتے ہی کلام ٣ لیکن ہمارے سید المرسلین سے ایسا فرمائی اور اپنی نبوت کی خبر دی۔ ثابت نہیں ہوا۔ ٤ حضرت مسیح کو احیاء موتیٰ و ابراء ٤ ہمارے حبیب خدا سے ایسی روایات اکمہ و ابرص کا معجزہ دیا گیا۔ بیان نہیں ہوئی ہیں۔ ٥ حضرت مسیح پر مائدہ آسمان سے اتارا ٥ رسول اللہ ﷺ پر نہیں۔ گیا۔
تو کیا آپ یا کوئی اور ان باتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے نبی ﷺ کی فضیلت اور بزرگی کا انکار کر سکتا ہے؟ یا شک لاسکتا ہے؟ ہاں یہ جواب معقول نہ ہوگا۔ کہیں اس سے بڑھ چڑھ کر رسول اللہ ﷺ میں یہ کمالات موجود تھے اور اس کی یوں توجیہہ اور اس کی یوں تاویل۔ کیونکہ یہ تو ہم پہلے ہی سے مانتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام دوسرے فلک تک گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ عرش بریں اور حجاب عظمت تک اور جہاں تک کہ خداوند کریم حضور کو لے گیا پہنچے۔ للہ درمن قال۔
٤٢
باب چہارم
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور ان کی نبوت کی اشکال
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ کہ استعارہ کو حقیقت سمجھنے میں سب سے بھاری مشکل در حقیقت یہی ہے جس کی وجہ سے ایک نبی کا اس کے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا اور کہنا پڑا کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہوگا۔ جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطا کئے گئے تھے اور گویا جب حضرت مسیح آئیں گے تو وہ اپنے منصب نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے؟
(ازالہ اوہام ص ٤٠۔ خزائن ج ٣ ص ١٢٣ ملخص)
اس تقریر کی ظاہری موثر ہونے کی بناء یہ ہے۔ کہ عموماً سب مسلمان نبی کا درجہ امتی سے (خواہ وہ امتی صدیق شہید حواری ہی کیوں نہ ہو) برتر و اعلیٰ مانتے ہیں۔ جب ان کے سامنے ظاہر کیا جائے گا کہ تمہارے معتقدات و مسلمات تو ایک نبی کی بزرگی کو خاک میں ملا رہے ہیں اور خدا کے ایک برگزیدہ رسول کو ” نَحْنُ رِجَالٌ وَهُمْ رِجَالٌ “ میں شامل کر رہے ہیں۔ تو مسلمان جھٹ مان جائیں گے۔ کہ ہاں غلطی ہے۔
مگر اب آپ صاحبان مرزا قادیانی کے چمکدار لفظوں کی غلطی کو معلوم کرنے کے لئے ادھر توجہ فرمائیں۔ ...... کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا غایت و منتہا کیا تھا۔ ہاں وہی جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود ظاہر فرمایا میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ (متی باب ١٥ آیت ٢٤)
مرزا قادیانی کے خود ان دونوں رسالوں فتح الاسلام و توضیح المرام میں تسلیم کیا گیا ہے۔ کہ وہ یہودیت کی خصلتوں اور ذلتوں کے مٹانے کو آیا تھا۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقصد اس پہلی زندگی میں بھی ایک امت کی ضلالتوں کو کم کرنا اور مذہب موسوی کی
٤٣
تجدید فرمانا تھا۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور جب کبھی کسی دوسرے نے ان سے استغاثہ کی درخواست کی تو یوں فرمایا کہ لڑکوں کی روٹی کتوں کو کون دیا کرتا ہے۔ (باب ١٥ آیت ٢٦۔)
غور کرو کہ جب مجدد دین موسوی ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ کسر شان نہیں۔ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مجدد دین محمدیؐ ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رتبہ گھٹ جائے گا؟ یہ تو بالکل غلط قیاس ہے۔ بلکہ جیسا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حضرت موسیٰ کلیم اللہ پر شرف حاصل ہے۔ اسی طرح ضرور ہے کہ ان کے دین متین کے مجدد ہونے سے مسیح کے رتبہ میں اور فضیلت و شرف شامل ہو جائے۔ کیونکہ مجدد دین موسوی ہونے کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے واسطے تھے۔ اور مجدد دین محمدیؐ ہونے کی صورت میں وہ اسرائیل و اسمعیل دونوں گھرانوں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں۔ نیز ان وحشی و رمیدہ چوپایوں کے واسطے بھی ہونگے۔ جن کی گردنوں نے شریعت کے جواء کو پھینک دیا ہو گا۔ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کے منصب میں تنزل ہو گیا۔ دیکھو الٹی بات کہ جب تک شریعت موسیٰ کے ماتحت رہے۔ تب تک تو ان کا نبی اللہ ہونا بھی درست اور روح اللہ ہونا بھی ٹھیک۔ لیکن جب رب کریم ان کو شریعت غرائے محمدیہؐ کے ماتحت بھیجے۔ پھر ان کا نہ نبی کہلانا درست ہے۔ نہ سابقہ نبوت میں اور ان میں کسی علاقہ کا رہنا جائز ہے؟ ”فاعتبروا یا اولی الابصار۔“
مرزا قادیانی کے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا متبع شریعت محمدیہؐ ہونا محل توقف و تعجب ہے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور نبوت کا ماحصل ہی تھا۔ کہ ایک نبی کی شریعت کے متبع رہیں۔ لیکن ادھر دیکھئے۔ کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔
(رواہ احمد ج ٣ ص ٣٨٧ و بیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنہ)
موسیٰ جو خود صاحب شریعت و حکومت تھے۔ جن پر سب سے پہلے روشن احکام کی کتاب تورات جیسی نازل ہوئی۔ جن کو ناپاک فرعونیوں سے بچا کر خدا نے آگ کے بہانہ سے بلایا اور نور نبوت کا خلعت پہنا کر واپس کیا اگر زندہ ہوتے۔ تو ان کا بھی یہ مقدور نہ تھا۔ کہ قرآن کریم کے روبرو توریت کا نام لے سکتے اور محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے سامنے اپنے
٤٤
الواح و احکام کی طرف رخ کرتے۔ اسی کے مناسب و مطابق حال وہ دو حدیثیں ہیں۔ جن میں عبداللہ بن سلامؓ جیسے راسخ الاعتقاد اور عالم صحف آسمانیہ صحابی کو دعا میں بھی زبور پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے بزرگوار کو جن کی ہیبت سے شیطان اپنی راہ چھوڑ کر چلتا ہے۔ انجیل کے دیکھنے کی اجازت نہ ہوئی۔ ہاں امت محمدیہؐ میں ہونا تو وہ شرف و فخر کا مقام ہے کہ احمد جام کہتے ہیں۔
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر قرآن مجید کے موجود ہوتے انجیل کا نام نہ لیں گے تو اس کی وجہ قرآن مجید کی تعلیم پاک کی اتمیت و اکملیت ہوگی۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل سے کوئی علاقہ نہ ہو گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انصاف اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت جو ان کے دل میں تھی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد سے واضح ہے۔ کہ علامات قیامت و آثار خروج دجال و آیات نزول خود بیان کرتے کرتے رک گئے اور یوں فرمایا (آیت ٣٠/١٤) آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ تو ایسے محبّ نبی اور ایسے محبّ رسول سے جو رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کے بھروسہ پر اپنی تعلیم کو نامکمل چھوڑتا ہے۔ کوئی دانشمند یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہی مسیح باوجود اس نبی کے ارشادات کے پائے جانے اور اس کی آخری اور کامل و مکمل آسمانی کتاب حاصل ہونے کے بدستور اپنی ادھوری تعلیم پر جما رہے؟ اس اعتقاد سے نہ تو صرف قرآن کی کامل تعلیم اور اسلام کے ناسخ و مکمل ادیان ہونے کی تکذیب ہے۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جناب میں بھی سوء ظنی و سوء ادبی ہے۔ اب رہا یہ کہ نبوت کا نام بھی لیں گے یا نہیں۔ تو ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ان کی نبوت کی ابتداء سے غایت و مقصود ہی یہ رہا ہے کہ ایک صاحب شریعت رسول کے احکام و شریعت کی تجدید کرنا اور وہ پہلے بھی حاصل تھا اور اب بھی حاصل رہا۔ علاوہ اس کے معجزہ رسول کریم ﷺ کو دیکھئے۔ کہ جو اعتراض و شکوک آج پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان کا جواب حدیث مذکورہ میں موجود ہے یعنی یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے جابجا جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام لیا ہے۔ وہاں عیسیٰ بن مریم رسول اللہ اور عیسیٰ بن مریم نبی اللہ فرمایا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باوجودیکہ وہ خلعت نبوت سے سرفراز ہونگے۔ مگر پھر مجددین محمدیہؐ بھی
٤٥
ہونگے اور یہ اس امت کے لئے نہایت شرف و فخر کا مقام ہے۔......اب اس امر کا ثبوت کہ ایک نبی باوجود نبی ہونے کے رسول اللہ ﷺ کا امتی اور شریعت محمدیہ کا مجدد و پیرو حامی بھی ہو سکتا ہے۔ میں قرآن شریف سے پیش کرتا ہوں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّ﴾ (آل عمران: ٨١) ”جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا۔ کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔“
پس جب رب کریم کل انبیاء و مرسلین سے محمد رسول اللہ پر ایمان لانے اور شریعت محمدیہ کی نصرت و تائید کرنے کا میثاق ازل میں لے چکا ہے۔ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بطور مجدد دین و حاکم عادل ہو کر آنے میں مرزا قادیانی کو کیوں انکار ہے۔ جس انکار کے ساتھ انکار نص قرآنی بھی لازم آتا ہے۔
میں اس بیان کو ختم کرتا ہوں مگر رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر جو اس بیان میں آگئی ہے ناظرین کو مکرر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ نے فرمایا ہے۔ ”لَوْ كَانَ مُوْسَى حَيًّا لَمَا وَسِعَه إِلَّا اِتِّبَاعِيْ“ (مشکوۃ ص ٣٠) تو جس طرح پر موسیٰ علیہ السلام کا زندہ نہ ہونا پایا گیا ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ کیونکہ اس میں اتباع کے لئے حیات کو شرط اور ضروری قرار دیا گیا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا متبع بننا ہم ثابت کر چکے ہیں۔
٤٦
باب پنجم
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور قانون قدرت
قانون قدرت! او منحوس اور نامبارک لفظ تو ہم کو اپنا چہرہ نہ دکھلا اور مسلمانوں کی گھر کی دیواروں سے پرے ہی اپنا سایہ رکھ۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ سانپوں کی نظر میں ایسا مغناطیس حیوانی ہے۔ کہ جس مصیبت زدہ کی آنکھیں چار ہو جائیں۔ وہ کبھی اس سے نجات نہیں پا سکتا چار آنکھیں ہوتے ہی اثر مغناطیسی سے یہ زہریلا دشمن اپنی معمول بہ کی قوت کو سلب کر دیتا ہے اور جب وہ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔ تو خون آ کر چوس لیتا ہے۔ انسان دیکھتا ہے کہ سانپ ہے اور اس کے کاٹنے کے واسطے چلا آ رہا ہے مگر اتنی سکت نہیں ہوتی۔ کہ ہاتھ اٹھائے یا پاؤں چلائے۔ اس زہریلے اثر والے لفظ قانون قدرت! میں بھی وہی جذب مغناطیسی موجود ہے۔ کہ عالم ہو فاضل ہو۔ خدا کا متقی بندہ ہو۔ سلیم الطبع ہو۔ پاک سرشت ہو۔ غرض کوئی ہو۔ جس کی نگاہ اس کی نگاہ سے لڑ گئی وہ نہایت بیکسانہ حالت میں ہو کر اپنے آپ کو اس کا طعمہ بنایا کرتا ہے اور جنبش تک نہی کیا کرتا۔
ناظرین قانون قدرت سے جو معنی لئے جاتے ہیں وہ یہ ہیں ................. کہ محدود انسانوں کے محدود تجربے جو چند بار متواتر ثابت ہو چکے ہیں۔ ان کو خدا پھر نہیں توڑ سکتا ہے۔ افسوس صد افسوس خدا کا وہ بندہ جس نے سرمہ چشم آریہ میں صرف اسی قانون قدرت کی تکذیب پر دلائل مبینہ اور براہین ساطعہ کے دفتر کے دفتر لکھ مارے تھے۔ آج وہ اس زہریلے سانپ کے مغناطیس حیوانی کا معمول بہ بن گیا ہے اور پانچ سال ہوئے جو کچھ اس نے آریوں۔ دہریوں۔ برہمو۔ دیو دھرمیوں۔ لامذہبوں وغیرہ وغیرہ کے مقابل میں جواب دیئے تھے۔ خدا کی شان آج وہی جواب اسے دیئے جاتے ہیں۔ سرمہ چشم آریہ سے بڑھ کر اس مضمون پر کیا کوئی لکھ سکتا ہے۔ میں اسی کی عبارت نقل کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی پر حجت بھی ہو سکتی ہے۔
٤٧
سرمہ چشم آریہ ص ٥٤ ۔ ٥٥ خزائن ص ١٠٣ ۔ ١٠٤ ج ٢ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں جو چیز بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خود بینی اور متکبری ہے سو وہ اس قوم کے اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے۔ کہ گویا انہی کے حصہ میں آ گئی ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس کے منہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں۔ اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نوخیزوں کے عام خیالات اسی طرف بڑھتے جاتے ہیں، یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں۔ بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑ چال چلنے کا بہت سا مادہ موجود ہے جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستثنیٰ نہیں۔ سو اس فطرت اور عادت کے جو لوگ ہیں۔ وہ ایک بڑی داڑھی والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ غرض زہر ناک ہوا کے چلنے سے کمزور لوگ بہت جلد ہلاک ہوتے ہیں۔ لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے۔ وہ ایسے خیالات کو ۔ کہ خدا تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے۔ بغایت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا ہے۔ واقعی جتنا انسان عجائبات غیر متناہیہ حضرت باری جل شانہ پر اطلاع پاتا ہے اتنا ہی غرور اور گھمنڈ اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور نئے طالب علموں کی شوخیاں اور بے راہیاں اس کے دل و دماغ سے جاتی رہتی ہیں اور مدت دراز تک ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے ابتدائی حالت کے تہہ و بالا ہوئے ہوئے خیالات کچھ کچھ رو براہ ہوتے جاتے ہیں۔ جیسے ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں۔ یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم و تجربہ نہیں، سچ ہے دریائے غیر متناہی علم و قدرت باری جل شانہ کے آگے ذرہ ناچیز انسان کیا حقیقت ہے کہ دم مارے اور اس کا علم و تجربہ کیا شئے ہے تا اس پر ناز کرے۔ ”سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔“ کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ اس سے ہونا ثابت ہے۔ وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو۔ اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہ، سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر
٤٨
سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے یہی طریق اہل حق ہے جس سے خدا تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے۔ نہ یہ کہ چند محدود باتیں۔ اس غیر محدود کو گلے کا ہار بنایا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ گویا اس نے اپنے ازلی وابدی زمانہ میں ہمیشہ اسی قدر قدرتوں میں اپنی جمیع طاقتوں کو محدود کر رکھا ہے۔ یا اسی حد پر کسی قاسر سے مجبور ہو رہا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ایسا ہی محدود القدرت ہوتا تو اس کے بندوں کے لئے بڑے ماتم اور مصیبت کی جگہ تھی۔ وہ عظیم الشان قدرتوں والا اپنی ذات میں ”لایدرک ولا“ انتہی ہے۔ کون جانتا ہے کہ پہلے کیا کیا کام کیا اور آئندہ کیا کیا کرے گا۔ ”تَعَالَی اللّٰہُ عُلُوّاً کَبِیْراً“ ایک حکیم کا قول ہے۔ کہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی گمراہی نہیں۔ کہ انسان اپنی عقل کے پیمانہ سے باری عزاسمہ کے ملک کو ناپنا چاہئے۔ یہ بیانات بہت صاف ہیں۔ جن کے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں۔ لیکن بڑے مشکل کی یہ بات ہے کہ دنیا پرست آدمی جس کی نظر مدح و ذم پر لگی ہوئی ہے۔ وہ جب ایک رائے اپنی قائم کر کے مشہور کر دیتا ہے۔ تو پھر اس رائے کا چھوڑنا خواہ کیسی ہی وجوہات بینہ مخالف رائے نکل آئیں اس پر بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر جب ایسے غلط خیالات میں چند نامی عقلاء مبتلا ہو جائیں۔ تو ادنیٰ استعداد کے آدمی ان خیالات کی تقلید کرنا اور بے سمجھے سوچے اس پر قدم مارنا اپنی عقلمندی ثابت کرنے کے لئے ایک ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ فلسفی تقلید ہمیشہ اسی طرح پھیلتی رہی ہے۔ کم استعداد لوگ جو بچوں کی سی کمزوری رکھتے ہیں۔ وہ بڑے بابا کا منہ دیکھ کر وہی باتیں کہنے لگتے ہیں۔ جو اس بزرگ کے منہ سے نکلیں۔ گو وہ واقعی ہوں یا غیر واقعی اور صحیح ہوں یا غیر صحیح ان کو اپنی سمجھ تو ہوتی ہی نہیں۔ ناچار کسی نامی صیاد کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔ واقعی جتنا انسان تقلید سے نفرت کر کے بھاگتا ہے۔ اتنا ہی تقلید میں بار بار پڑتا ہے۔“
سرمہ چشم آریہ کی عبارت ختم ہوئی اور میں نے اس عبارت کے نقل کرنے میں صرف اس قدر کام لیا ہے کہ وہ مقام انتخاب و اختیار کیا جس کا ایک ایک لفظ آجکل کے مسلمانوں کی حالت کو جو اس مسئلہ میں مرزا قادیانی پر حسن ظن کی وجہ سے ان کی ہو گئی ہے۔ ظاہر کرتا ہے۔
انسان کی کمزور طبیعت اور خداوند عزوجل کی شان کبریائی کو دیکھو۔ وہی مرزا قادیانی جو اس پر زور پر جوش تحریر کے ساتھ خدا کی ”لایدرک ولا انتہاء“ قدرتوں کا اظہار کرتا اور
٤٩
خدا تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا۔ بغایت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا تھا۔ آج وہی مسیح علیہ السلام کی پوشاک کی نسبت پوچھتا ہے
(توضیح المرام ص ٥ حاشیہ خزائن ص ٥٣ ج ٣)
”یہ پارچات از قسم پشمینہ یا ابریشم ہونگے۔ جیسے چوڑیا‘ گلبدن۔ اطلس۔ کمخواب۔ زربفت۔ دریائی یا معمولی سوتی کپڑے کی۔ جیسے نین سکھ تن زیب۔ ایک پل گلشن ململ جالی۔ خاصہ۔ ڈوریا۔ چارخانہ اور کس نے آسمان میں بنے اور کس نے سئے ہونگے اب تک کسی نے مسلمانوں یا عیسائیوں میں سے اس کا کچھ پتہ نہیں دیا۔“ اس تقریر اور پہلی تقریر کو ملا کر سب صاحبان دیکھ لیں اور موازنہ کریں کہ جس درجہ کا ایمان وایقان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر پہلی کلام سے واضح ہوتا ہے۔ کیا وہی ایمان وایقان اور اسی درجہ کی عظمت اور ادب اس پچھلی کلام سے بھی مترشح ہے؟ اگر کوئی شخص غور و تامل سے آیات الٰہی کو دیکھے اور پڑھے تو یہ بودا اور نمود کا قانون قدرت اسے جگہ جگہ ٹوٹتا ہوا نظر آئے گا۔
بائبل سے ثابت ہے کہ جب بنی اسرائیل تیہہ میں تھے چالیس سال تک ان کے کپڑے نہ پھٹے نہ پرانے ہوئے مرزا قادیانی کو مسیح کے لباس پر پھر اعتراض کیوں ہے؟
﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَى وَلَكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءً ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
(بقره. ٢٦٠)
”اور جب ابراہیم نے کہا۔ اے رب مجھ کو دکھلا تو کیونکر زندہ کرے گا مردے کو۔ خدا نے کہا۔ کیا تجھے یقین نہیں۔ حضرت ابراہیم نے کہا۔ کیوں نہیں۔ لیکن اس لئے کہ میرے دل کو تسلی ہو‘ خدا نے کہا تو چار جانور اڑتے پکڑ۔ پھر ان کو اپنے ساتھ ملا پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا پہاڑ پر پھینک پھر ان کو پکار تیرے پاس دوڑتے آئیں گے اور جان لے کہ البتہ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔“
گوشت کے ٹکڑوں کو جو مختلف پہاڑوں پر پھینک دیئے گئے ہوں۔ انسان کی آواز سنتے ہی زندہ و پرندہ جانور ہو جانا۔ قانون قدرت کے خلاف ہے؟ وہ قانون قدرت جو انسانوں کا ہے۔...... مرزا قادیانی نے جو اس کی تاویل یہ کی ہے کہ بعض حشرات الارض (بچھو) بھی ایک خاص ترکیب سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس ان طیور کا جو حضرت خلیل الرحمٰن کے دکھلانے کو
٥٠
زندہ کئے گئے۔ انہی پر قیاس کرو۔ چند وجوہ سے غلط ہے۔
- ١..........حضرت ابراہیم کا سوال یہ تھا۔ کہ بار الہا تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا؟ وہ طریق
دکھلا دے اور یہ سوال نہ تھا۔ کہ زندوں کو کیونکر پیدا کرتا ہے۔ پس یہ مثال اس کے مفید نہیں۔
- ٢..........یہ کہ حشرات الارض پر یہ قدرت کا کرشمہ دکھلایا بھی نہیں گیا۔ (کیونکہ حشرات الارض
کی تو سینکڑوں قسمیں توالد و تناسل کے بغیر پیدا بھی ہو جاتی ہیں) بلکہ چار قسم کے پرند جانوروں کو مار کر اور ان کے گوشت کا قیمہ قیمہ کر کے پھر ان کو زندہ اور پرندہ کر کے دکھلایا ہے اور ان جانوروں کے دوبارہ زندہ ہونے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے کوئی خاص ترکیب یا تدبیر بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔
- ٣..........آیت کے اختتام پر ہے۔ ”واعلم ان اللہ عزیز حکیم“ پس اگر بقول مرزا
قادیانی کے ہر ایک انسان زندہ کن مردگان ہے اور جو آدم کا بیٹا ہے وہ مردوں کو زندہ بھی کر سکتا ہے۔ تو پھر آخر آیت میں رب کریم کا اپنے عزیز وحکیم ہونے پر استدلال کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔
- ٤..........مرزا قادیانی پر افسوس ہے کہ خود تو یہاں تک یقین رکھتے ہیں۔ کہ ہر انسان مردہ کو
ایک خاص ترکیب سے زندہ کر سکتا ہے۔ لیکن با ایں ہمہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ کہ کیوں وہ الدجال کے سحر و کہانت سے بھرے ہوئے اعجوبہ نما کاموں کا ذکر کر رہے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی آپ صرف اتنے تصور پر مسلمانوں کے معتقدات کو تو پر از شرک بتاتے ہیں اور اپنے اس اعتقاد کی طرف دھیان بھی نہیں دیتے۔
﴿اَوْ كَالَّذِىْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا قَالَ اَنّٰى يُحْيِ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا
٥١
لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (بقره ٢٥٩)
”یا جیسے وہ شخص کہ ایک شہر پر گزرا جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا۔ (وہ) بولا اللہ مر جانے کے بعد اس کو کیسے زندہ کرے گا۔ پس خدا نے اس کو موت دی۔ سو برس تک مردہ رہا۔ پھر اسے اٹھا لیا اور پوچھا تو کتنی دیر (یہاں) رہا۔ بولا میں ایک دن یا دن سے کچھ کم (رہا ہوں) (خدا نے کہا) نہیں تو سو برس تک رہا ہے۔ اب اپنے کھانے اور اپنے پانی کو دیکھ لے کہ وہ سڑ نہیں گئے اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ (ہاں) ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے لئے تجھ کو نشان بنائیں۔ ہاں دیکھ ہم ہڈیوں کو کس طرح ابھارتے ہیں اور پھر کس طرح ان ہڈیوں کے اوپر گوشت کو پہناتے ہیں۔ جب اس (شخص) پر یہ کچھ ظاہر ہوا وہ بولا میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ اکبر کیسے کیسے صاف الفاظ اور واضح بیان میں یہ قصہ فرمایا ہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا ایک ویران جگہ اور بستی کو دیکھ کر احیائے موت سے تعجب و حیرت کرنا (انکار یا شک نہیں۔ یہ تو خاصان خدا سے بہت بعید ہے۔) رب کریم کا خود ان پر موت وارد کر دینا۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا سو برس تک مردہ پڑا رہنا۔ رب کریم کا ان کو دوبارہ زندہ کرنا۔ ان کی سواری کے جانور کا ان کے سامنے زندہ کرنا۔ ہڈیوں کا زمین میں سے بننا ہڈیوں پر گوشت چڑھنے کا معائنہ کرنا۔ حضرت عزیر علیہ السلام کے توشہ کی روٹی پانی وغیرہ پر سو برس کے دراز زمانہ اور زمین کی تاثیرات اور ارضی و سماوی حوادث کا اثر انداز نہ ہونا صد ہا فصلوں کی تغیرات کا اثر ایک روٹی اور پیالہ بھر پانی پر نہ ہونا وغیرہ وغیرہ امور کس قدر فلسفیوں کے قانون قدرت کو توڑ رہے ہیں۔ قانون قدرت پکارنے والوں کا جواب خود اس آیت میں موجود ہے۔ اور ”وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ“ کی حکمت معترضین کو ادب سکھلانے کے لئے درہ کا کام کر رہی ہے۔
حضرت عزیر علیہ السلام
مرزا قادیانی اس قصہ میں آ کر بالکل دست پاچہ ہو گئے ہیں۔ قرآن کے صاف اور واضح الفاظ سے انکار کرنا بھی دشوار تھا۔ اس لئے وہ کہتے ہیں۔ کہ ”دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیر بہشت میں ہی موجود تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٢٦٦ خزائن ج ٣ ص ٢٨٧)
مرزا قادیانی یا کوئی ان کا ذی فہم حواری قسم کھا کر بتلا دے کہ اس کے کیا معنی ہیں اس سے آگے چل کر کہتے ہیں۔ کہ ”اگر عزیر کو خدا نے اس طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے۔ “(ایضاً) صریحۃ الدلالت آیت کے پڑھنے کے بعد بھی یقین نہیں آتا کہ زندہ کر دیا ۔“ لکھتے ہیں۔ حالانکہ چار سطریں اوپر کی دیکھو تو ان میں حضرت عزیر کا دنیا میں آنا بھی مان چکے ہیں۔ مرزا قادیانی آیت کے متن پر پھر نظر ڈالو تاکہ ”وانظر الی العظام کیف ننشز ھا ثم نکسو ھا لحمہ“ بھی آپ کے ملاحظہ میں آجائے۔ کہ ہڈیوں کا مٹی میں سے بننا اور پھر ہڈیوں کے اوپر گوشت کا چڑھنا ان کی آنکھوں کو دکھلایا گیا تھا۔ چنانچہ ”فلما تبین لہ“ کا زور کلام ہی ثابت کر رہا ہے کہ جب حضرت عزیر علیہ السلام نے اطلاع ربانی سے یہ علم حاصل کر لیا کہ وہ سو برس کی وفات کے بعد اٹھے ہیں۔ اور پھر انہوں نے دیکھا کہ ان کا کھانہ دانہ اسی طرح پڑا ہے۔ تو ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت میں اس وقت دو امر حاصل ہو گئے تھے۔ ایک علم الیقین اور دوسرے حیرت معرفت۔ لیکن جب رب کریم نے خود ان کو ان کی آنکھوں کے سامنے مردے کا زندہ ہونا دکھلایا۔ تو اب ان کا علم الیقین عین الیقین کے درجہ کو پہنچ گیا۔ اور حضرت عزیر علیہ السلام بول اٹھے۔ ”اعلم انّ اللّٰہ علی کل شی قدیر“ مرزا قادیانی گو آپ نے اصل مطلب کو پیچ پیچ ڈال کر بہت کچھ چھپانا چاہا۔ مگر آفتاب کی شعاعوں کو گرد و غبار آڑ کہاں تک روک سکتا ہے۔ ہاں آپ کی خامی اس مسئلہ میں اس سے بھی واضح ہے کہ آپ طعام و شراب کے تغیر پذیر نہ ہونے کی کچھ بھی تاویل نہیں کر سکے۔ گدھے کے بارے میں جو تاویل کی ہے وہ بھی حیوانی سمجھ سے زیادہ نہیں۔
اصحاب کہف کے بارہ میں
”وَلَبِثُوْا فِیْ کَھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا (کہف ٢٥) اور مدت گذری ان پر اپنے کھوہ میں ٣٠٠ اور ٩ برس ۔.....٣٠٠ برس تک سوئے رہنا اور تغیرات جسمی و حوادث ارضی و سماوی و حاجات جسمانی سے ایسے پاک و صاف رہنا کہ خود ان کو ایک دن یا دن سے بھی کم کا عرصہ معلوم ہوتا قانونِ قدرت کو جو فلسفیوں کا ہے توڑ رہا ہے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی بابت ان شکوک و اعتراضات کو کہ ان کے جسم میں تغیر کیوں نہیں آتا اور وہ کیا کھاتے
٥٣
ہیں ۔ کیا پیتے ہیں اگر نہیں کھاتے ۔ تو کیونکر زندہ رہتے ہیں؟ وحی الٰہی کے پاک واعلیٰ الفاظ قاہرانہ طاقتوں سے خوب ہی کچل رہے ہیں۔ اصحاب کہف کی زیست و خواب کا حال اور بھی زیادہ قانون قدرت کو پاش پاش کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو آیات ۔
﴿وترى الشمس اذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين واذا غربت تقرضهم ذات الشمال وهم فى فجوة منه ذالك من ايات الله. من يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجدله وليا مرشد او تحسبهم ايقاظ وهم رقود ونقلّبهم ذات اليمين وذات الشمال.﴾ (كهف ١٧ ، ١٨)
”اور تو دیکھے دھوپ جب نکلتی ہے۔ ان کی کھوہ سے داہنے کو بچ کر جاتی ہے اور جب ڈوبتی ہے تو بائیں جانب کو کتراتی ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں۔ یہ ہے اللہ کی قدرتوں سے جس کو خدا راہ دکھلاوے وہی راہ پر آئے اور جس کو وہ بھلاوے۔ اس کا کوئی رفیق راہ پر لانے والا تم کو نہ ملے گا۔ اور تو سمجھے (ان کو دیکھ کر) کہ وہ جاگتے ہیں۔ حالانکہ وہ سوتے ہیں اور ہم ان کو داہنے اور بائیں کروٹ دلاتے ہیں۔“
دیکھو ہزاروں سال تک سونا اور ایسی جگہ پڑے رہنا جہاں آفتاب کی روشنی تک نہ پہنچے ان کے جسموں کا نہ گلنا نہ سڑنا نہ تغیر پذیر ہونا۔ ہاں ان کا نہ کھانا نہ پینا اور کل ظاہری اسباب حیات کے بغیر اسی عنصری عالم میں ہزاروں سال ادھر سے ادھر کروٹیں لیتے رہنا۔ کتنا کچھ دہریوں کے قانون قدرت کو توڑتا ہے اور محدثہ عقائد کو بیخ و بن سے برکندہ کرتا ہے۔
مرزا قادیانی نے اصحاب کہف کو بھی مسلم کی سو برس والی حدیث کی دلیل پر زور دیا ہے۔ لیکن یہاں آکر آپ حدیث عرض کو کیوں بھول گئے؟ اور مجمل حدیث کے ساتھ مفصل قرآن کو کس طرح رد کرنے لگے۔ کیا یہی اصول اور جگہ ٹوٹ جانا بھی آپ پسند کریں گے؟ یہاں تو آپ نے حدیث سے قرآن کو رد کردیا۔
﴿وَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ فِى الْبَحْرِ عَجَبًا﴾ (کہف ٦٣)
”اس نے دریا کی راہ لی عجب سے یہ بھی مرزا قادیانی کے قانون قدرت کے خلاف ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کے حکم سے درختوں کا حاضر ہونا ۔ طے ارض ۔ پتھروں کا بولنا
٥٤
جانوروں کا عرض داشت کرنا۔ درندوں کا اخبار ہرنی کا ایفاء وعدہ۔ حم شاہت الوجوہ پڑھ کر مٹھی بھر کنکریوں کا پھینک دینا۔ ہزاروں اعداء اللہ کی آنکھوں میں اس کا پہنچنا۔ اور ان کا بھاگ جانا۔ غرض ہزاروں معجزات و آیات جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں دہریہ کے بیان کردہ قانون قدرت کے خلاف ہیں۔ رب ذوالجلال اپنی لامحدود قدرت دکھلا رہا ہے اور جگہ جگہ فلسفیوں کے قانون قدرت کو توڑ رہا ہے۔ لیکن با ایں ہمہ اب ہم سے مرزا قادیانی دریافت کرتے ہیں۔ کہ جب چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر ایسی ہوا ہے کہ اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کیونکر اٹھائے گئے۔ یا اتارے جائیں گے؟ خلاصہ اس تمام بحث کا یہ ہے۔ کہ قانون قدرت کوئی ایسی شئے نہیں ہے۔ کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے۔ اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے۔ کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صدہا طور کا اجمال باقی ہے۔ مجموعہ قوانین قدرت ربانی خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضد نہ کریں۔ کہ ہمارے مشاہدات سے خدا تعالیٰ کا فعل ہرگز تجاوز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ صرف احمقانہ دعویٰ ہے۔ جو ہرگز ثابت نہیں کیا گیا اور نہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ ............ یہ مانا کہ کوئی شخص ٤٠٠٠٠ فٹ کی بلندی پر اپنے ارادہ سے نہ جا سکے اور زندہ نہ رہ سکے۔ لیکن کیا جس کو اللہ تعالیٰ لے جانا اور زندہ رکھنا چاہے۔ اس کے لئے بھی محال ہے؟ بائبل کو دیکھو کہ نوح علیہ السلام کی کشتی ستر ہزار فٹ کی بلندی سے بھی زیادہ اونچائی پر تھی وہ کشتی جس میں انواع حیوانات شامل تھے۔ اور وہ سب کے سب زندہ صحیح و سالم رہے۔‘‘
حکماء کا یہ بھی قول ہے۔ کہ بعض تاثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برس کے بعد ظہور میں آتی ہیں۔ جو بڑے بڑے فلسفیوں کو حیرت میں ڈالتی ہیں۔ اور پھر فلسفی لوگ ان کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ و نادم ہو کر کچھ نہ کچھ تکلفات کر کے طبعی یا ہیئت میں ان کو گھسیڑ دیتے ہیں۔ تا ان کے قانون قدرت میں فرق نہ آجائے۔ جب تک متواتر دم کے کٹنے پر دم کٹے کتے پیدا نہ ہونے لگے۔ اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے ایسی آگ نہ نکلی۔ کہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی۔ مگر لکڑی کو جلا نہ سکتی تھی۔ تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا قانون قدرت کے خلاف سمجھتے رہے۔‘‘
اب مرزا قادیانی! یہ فرمائیے کہ جب فلسفیوں کی آنکھ اس وقت ہی کھلتی ہے۔ جب کہ کوئی خارق عادت یا خلاف قانون قدرت واقعہ ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت اسے تکلفات کر کے طبعی و ہیئت میں گھسیڑ دیتے ہیں۔ تو کیا آپ بھی واقعات مندرجہ صدر مذکورہ قرآن کو طبعی یا ہیئت میں جگہ دیتے ہیں یا نہیں۔ اگر ان کے لئے کوئی مقام تجویز کر دیا گیا ہے تو پھر براہ شفقت بزرگانہ آپ ان آیات پر بھی توجہ فرمادیں گے۔
﴿وَقُلْنَا يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ o فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَ جَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ.﴾ (بقره. ٣٥. ٣٦)
”اور کہا ہم نے اے آدم پس رہو تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس سے محفوظ ہو کر جس جگہ پر چاہو اور نزدیک نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم بے انصاف ہو گے۔ پس ڈگمگایا ان کو شیطان نے اس سے پھر نکالا ان کو وہاں سے جس آرام میں تھے اور کہا ہم نے تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو تم کو زمین میں ٹھہرنا ہے اور ایک وقت تک کام چلانا ہے۔...... کہ آدم و حوا علیہما السلام جو بہشت میں تھے وہ دنیا پر کیونکر آئے چیل کی طرح چونچ کھولے پر لٹکائے یا خدا کی حکمت بالغہ کے ساتھ اور ایسی شان کے ساتھ جو اس کے نزدیک مناسب تھی اور پھر گزارش یہ ہے کہ جب آدم و حوا علیہما السلام کا آسمان پر سے دنیا پر آنا ہو چکا ہے اور فلسفیوں کا قانون فلسفیوں کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ٹوٹ چکا ہے اور اسی لئے ان پر لازم تھا اور ہے کہ اس کو طبعی یا ہیئت کے اندر جگہ دیں اور اگر اپنی کم علمی اور قصور فہم کی وجہ سے جو امر کہ واقع ہو چکا ہے۔ اس کو ثابت نہیں کر سکتے۔ تو آئندہ کے لئے اس کو ناممکن و محال تو نہ بتلائیں۔ تو کیوں حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آسمان سے دنیا پر آنے کا انکار و خلاف کیا جاتا ہے؟ ”اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ“ رب کریم نے خود فرمایا ہے اور اگر آدم بہشتی بہشت میں ہی رہے اور آدم خاکی ان کے مثیل پیدا کئے گئے تو پھر پہلے کا گناہ دوسرے پر کیوں تھوپا جاتا
ــــــــــــــــ ٥٦ ــــــــــــــــ
ہے اور ”فَتَلَقَّىٰ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ“ کے ساتھ ”فَتَابَ عَلَيْهِ“ کہہ کر کیوں احسان جتایا جاتا ہے اور اسی کو سجدہ نہ کرنے کی شامت میں شیطان کو ملعون اور آدم خاکی نیز اس کی اولاد کا دشمن کیوں بنایا جاتا ہے؟ کوئی یہ نہ کہے کہ جنت میں ہونے کا ذکر ہے آسمان پر ہونے کا ذکر کہاں ہے سو بہشت کا آسمان پر ہونا حدیث میں آیا ہے اور اس حدیث کو لائق تمسک مرزا قادیانی نے بھی سمجھا اور اس سے حلیہ مسیح لیا ہے تو صاف ثابت ہو گیا۔ کہ حضرت آدم اور ان کی زوجہ حوا دونوں عنصری اور خاکی وجود کے ساتھ (بلکہ یوں کہو کہ۔ اور طاؤس بھی اور آتشی نژاد شیطان بھی اپنے اپنے عنصری جسموں کے ساتھ) آسمان سے زمین پر اترے۔ ان کا آسمان پر زندہ رہنا بھی ثابت ہو گیا اور وجود عنصری کے ساتھ زمین پر آنا بھی۔ پس جب کہ رب کریم نے ”اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ“ کہا ہے۔ تو آدم علیہ السلام ہی کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا آنا کیوں بعید از عقل سمجھا جاتا ہے اور کیوں کہا جاتا ہے کہ ایسے ایسے خوارق کا اس ”دار البوار“ میں دکھلانا حکمت ایمان بالغیب کو توڑتا ہے۔ کیونکہ اگر یوں ہی ہوتا۔ تو کوئی نبی کبھی کوئی معجزہ نہ دکھلاتا معجزہ شق القمر جس کے اثبات میں آپ کی کتاب سرمہ چشم آریہ موجود ہے اور جس کی حدیث صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ کیا آپ کے نزدیک اس درجہ کو نہیں پہنچا کہ ایمان بالغیب کی حکمت کو توڑ دے؟ کیونکہ اس کو آپ نے بہ سہولت تسلیم کر لیا ہے دوسری آیات یہ ہیں۔
﴿اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّا اُعَذِّبُهٗ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ.﴾
(مائده ١١٢ . ١١٥)
٥٧
”جب کہا حواریوں نے اے عیسیٰ بیٹے مریم کے تیرے رب سے ہو سکتا ہے؟ کہ اتارے ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے، بولا ڈرو اللہ سے اگر تم کو یقین ہے۔ بولے ہم چاہتے ہیں۔ کہ کھاویں اس سے اور اطمینان پائیں ہمارے دل اور ہم جانیں کہ تو نے ہم کو سچ بتایا اور رہیں ہم اس پر گواہ، بولا عیسیٰ علیہ السلام مریم کا بیٹا۔ اے اللہ رب ہمارے اتار تو ہم پر ایک خوان بھرا ہوا۔ آسمان سے کہ وہ دن عید رہے۔ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کو اور ہو نشانی تیری طرف سے اور روزی دے، ہم کو اور تو ہے بہتر روزی دینے والا کہا اللہ نے میں اتاروں گا وہ خوان تم پر پھر جو کوئی تم میں ناشکری کرے اس پیچھے تو میں اس کو وہ عذاب کروں گا۔ جو نہ کروں گا کسی کو جہان میں۔“
مجسم کھانوں اور خوانوں کے آسمان سے اترنے کا ثبوت ملتا ہے۔ تو کیا کھانوں کے بھرے خوان کا اترنا ممکن اور جائز ہے۔ اور یہ امر ایمان بالغیب کی حکمت کے بھی منافی نہیں؟ اگر کوئی کہے۔ کہ ”منزلها“ آیا ہے اتاروں گا۔ شاید خدا نے وہ خوان اتارا بھی یا نہیں۔ تو میں کہتا ہوں۔ ”یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر“ میں یرید آیا ہے۔ کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ بھی پورا کیا ہے۔ یا نہیں۔ اور علیٰ ہذا آیت تطہیر میں ”انما یرید اللہ لیذهب عنکم الرجس اہل البیت و یطہر کم تطہیرا“ میں بھی ”یرید یذہب“ اور یطھر کم کہا ہے۔ پس اگر ان ارادوں کو پورا کیا ہے اور ہم سب کا ایمان ہے کہ ضرور پورا کیا ہے تو ایمان لانا چاہئے۔ کہ مُنَزِّلُهَا کو بھی پورا کیا ہے۔ کیونکہ وہ وعدہ تھا اور یہ ارادہ اور وعدہ اور ارادہ فرق بین آشکار ہے۔ وعدہ کی بابت تو اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے۔ ”اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ المِیعَاد.“ (آل عمران۔٩)…… اس جگہ اگر مرزا قادیانی اجازت دیں تو ہم بھی ادب کے ساتھ دریافت کر لیں کہ یہ خوان کھانوں کا جو اترا تھا۔ وہ کس نے پکایا تھا۔ گوشت۔ چاول۔ مصالحہ قند اور لوازم کس نے خریدے۔ کس نے پکائے۔ جن برتنوں میں وہ کھانا آیا وہ کاہے کے تھے۔ مٹی کے یا چینی تانبے کے یا کانسی کے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب انسانوں اور حیوانوں کا اجسام عنصری کے ساتھ آسمان پر
٥٨
سے اترنا ثابت ہے اور کھانوں اور خوانوں کا اترنا منصوص ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے پر کیوں خلاف نصوص قرآنیہ ونبویہ شک کیا جاتا ہے اور کیوں اہل حق کے عقائد پر سو فسطائیوں اور سیمیاویوں کے عقائد وتوہمات کو ترجیح دی جاتی ہے اور ان مثالوں پر بھی کچھ موقوف ومنحصر نہیں ہے اور بھی ایسے اجسام واشیاء ہیں۔ جن کا آسمان سے نزول یا زمین سے صعود ہوتا رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملائکہ کے بارہ میں مرزا قادیانی کا وہ فقرہ کہ ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ اسی پیش بندی کے لئے ہے۔ کہ آسمان سے ہر چیز کے اترنے کا خواہ کوئی ہو انکار کرنا چاہئے۔ تا کوئی یوں نہ کہے۔ کہ یہ کیوں مانا اور وہ کیوں نہیں مانتے ورنہ قرآن مجید کی بیسیوں آیات اس کے ابطال میں موجود ہیں۔
- ١............فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویا۔ (مریم۔١٧)
- ٢............والیہ یصعد الکلم الطیب۔ (فاطر ١٠)
- ٣............قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین لنرسل علیھم حجارۃ من طین مسومۃ عند ربک للمسرفین۔
(ذاریات ٣٢۔٣٤)
- ٤............قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق۔ (النحل ١٠٢)
- ٥............سورۃ انزلناھا وفرضنھا وانزلنا فیھا آیات بینات لعلکم تذکرون۔ (نور)
دیکھو یہ سب آیات فرشتوں کا زمین پر اور انبیاء کے پاس آنا ثابت کر رہی ہیں اور کلم طیب کے صعود کا بھی نشان دے رہی ہیں۔ اسی طرح حدیث شریف میں ہے۔ ”ینزل البلاء فیعالجھا الدعاء“ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے۔ کہ ملائکہ مردے پر اترتے ہیں۔ اور اس سے سوال کرتے ہیں۔ یا ملائکہ جان سپار شخص پر اترتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں حریر یا پارچہ کرپاس ہوتا ہے۔ تو یہ سب امور ثابت کر رہے ہیں کہ آسمان وزمین میں اور اس ملک و ملکوت میں نزول وصعود کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ ورنہ فرمائیے اگر ملک وملکوت میں کوئی علاقہ نہیں تو خود آپ کے اس شعر کے کیا معنے ہیں۔ جو اس روشن خیالی اور مشیخت کے عالم میں لکھا گیا ہے۔
اب ہم حدیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کی طرف توجہ کرتے ہیں
جب مرزا قادیانی نے دیکھا۔ کہ احادیث نبوی نہایت شرح وبسط کے ساتھ موجود ہیں اور خروج دجال ونزول عیسیٰ ؑ کی علامات و آثار اور نشان کو رسول کریمؐ نے مقامات کا نام لے لے کر ظاہر فرما دیا ہے تو کوئی ایسی مفر کی صورت نہ ملی۔ جس سے اپنے دعاویٰ پر جمے رہتے اور مسلمانوں کی نگاہوں میں بظاہر منکر احادیث بھی نہ ہونا پڑتا۔ اس لئے آپ نے امام بخاری کی صحیح کی ایک حدیث لے کر اپنی طرف سے یہ حاشیہ چڑھایا۔ ''بخاری جو فن حدیث میں ایک ناقد بصیر ہے ان تمام روایات کو معتبر نہیں سمجھتا۔ یہ خیال ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کہ بخاری جیسے جدوجہد کرنے والے کو وہ تمام روایات رطب و یابس پہنچی ہی نہیں۔ بلکہ صحیح اور قرین قیاس یہی ہے۔ کہ بخاری نے ان کو معتبر نہیں سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ دوسری حدیثیں اپنی ظاہری صورت میں امامکم منکم کی حدیث سے معارض ہیں اور یہ حدیث غایت درجہ کی صحت پر پہنچ گئی ہے اس لئے اس نے ان مخالف المفہوم حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ کر۔ اپنی صحیح کو ان سے پر نہیں کیا۔
(ازالہ ص ٤٧٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٣)
افسوس کیسا مصیبت انگیز واقعہ اور ماتم خیز سانحہ ہے۔ کہ اسلام کے نام لیوا اور اسلام کے خادم۔ بلکہ یوں کہو اسلام کے مؤید اسلام کے مجدد اب یہ رہ گئے؟ کہ سر و بن سے اس کے قطع کرنے اور کانٹے چھانٹنے کے لئے چار طرف سے تیشہ و تبر لے کر اس پر حملہ کر رہے ہیں اور اسلام کے سدرۃ المنتہیٰ پر اپنی توہمات کا پیوند چڑھا رہے ہیں بزرگ مسلمانو! آپ نے اس کو سوچا اور سمجھا بھی مطلب اس کا یہ ہے کہ بخاری کی صحیح کے سواء اور جتنی کتب حدیث ہیں خواہ صحیح ہیں ۔ خواہ مسند ۔ سب ساقط الاعتبار ہیں اور سب رطب و یابس سے پر ہیں اور ان پر اعتماد کرنا نہ قرین قیاس ہے نہ مسلم عقل افسوس صد افسوس اس ایک ہی تمہید نے رسول اللہ ﷺ کے ہزار در ہزار حدیثوں اور ارشادوں کا خون کر دیا۔ اور ہزاروں شرعی مسائل کو جن کا استنباط اور مآخذ ان حدیثوں سے تھا۔ ''نسیاً منسیا'' بنا دیا۔ لیکن ہم مرزا قادیانی سے یہ عرض کئے دیتے
ہیں ۔ کہ آپ کل مسائل اسلامی کو صرف صحیح بخاری ہی سے ثابت نہ کر سکیں گے۔ حجۃ الوداع کا قصہ اور مسلم کی حدیث جو جابرؓ سے ہے صحیح بخاری میں کہاں ہے؟ حالانکہ یہ حدیث ایسی جامع احکام اور اسرار سمجھی گئی ہے۔ کہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مسائل علماء نے اس سے نکالے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے آخری وعظ اور آخری نصیحت جو فرمائی تھی اور شہادت جو اپنی تبلیغ نبوت پر لوگوں سے لی تھی اور خدا کو گواہ بنایا تھا۔ وہ سب کچھ اسی میں ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ ”وانتم تسالون عنى فما انتم قائلون قالوا نشهد انك قد بلغت واديت ونصحت فقال باصبعه السبابة يرفعها الى السماء وينكتها الى الناس اللهم اشهد اللهم اشهد ثلث مرا“ (مسلم ج ١ ص ٣٩٧ باب حجة النبى)
برائے مہربانی آپ ثابت فرما دیں گے۔ کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو کیوں نہیں لیا۔ یہ توجیہہ جو آپ نے تراشی ہے۔ بالکل اصول کے خلاف ہے۔ اور عقل اس کے کسی حصہ پر گواہی نہیں دے سکتی۔ اگر یہ مان لیا جائے۔ کہ امام بخاریؒ ہی حامل علم نبوی تھے۔ تو صریح ان نصوص کے خلاف ہو گا جو مخفیات صحابہؓ کے بارہ میں صحاح میں ملتی ہیں۔
صحیح بخاری میں کوئی حدیث نہ ہونے سے یہ معنی تراش لینا کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو غیر صحیح سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ ایسا جھوٹ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ امام بخاری تو خود مقدمہ البخاری ص ٥ میں فرماتے ہیں۔ ”ما ادخلت فى كتابى هذا الا ماصح وتركت كثيراً من الصحاح.“ دوسری جگہ اس سے واضح تر قول موجود ہے۔ حفظت من الصحاح مائة الف حديث ومن غير الصحاح مأتى الف حالانکہ ان لاکھ صحیح حدیثوں سے کتاب میں پانچ ہزار سے بھی کم حدیثیں ہیں۔
علیٰ ہٰذا کہنا کہ کل احادیث رسولؐ امام بخاریؒ کو مل گئی تھیں۔ بالکل لغو ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر دیگر آئمہ حدیث کیوں طلب حدیث میں سرگردان ہوتے اور کیوں ابو عبداللہ حاکمؒ اور حافظ ضیاء الدینؒ المقدسی جیسے محدثین شرط شیخین پر مستدرک لکھنے بیٹھتے اور امام الائمہ بن خزیمہ وابن حبان وسیوطی و دارمی جیسے بزرگوں کی کتابیں صحیح کے لقب سے کیونکر نام پاتیں ہمارے اس قدر لکھنے پر بھی اگر مرزا قادیانی اپنے طبع زاد اصول پر قائم رہیں اور ایک حدیث کے صحیح بخاری میں نہ ہونے کی وجہ سے اس کا صحیح نہ ہونا بھی سمجھتے رہیں۔ تو براہ مہربانی وہ فرمائیں
٦١
کہ پھر کس دلیل سے آپ مسلم والی حدیث سو برس سے اور ابی داؤد کی حدیث حارث حراث سے اور ابن ماجہ کی حدیث ”لا مہدی الا عیسیٰ“ سے اور مسلم کی حدیث فوت ابن صیاد سے (وغیرہ وغیرہ) استشہاد و استمساک کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے اصول کی رو سے تو امام بخاری ان سب کو غیر صحیح وموضوع قرار دے چکے ہیں۔
خیر! ہم اس داستان غم وغصہ ورنج اندوہ کو مختصر کر کے یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بخاری کی بھی سب حدیث جو اس کی صحیح میں جمع ہیں اور اگر سب نہیں تو صرف جو اس بیان ابن مریم کے متعلق ہیں صحیح ہیں یا نہیں؟ ماسوائے اس لفظ حدیث کے جس کو آپ نے لیا ہے اور اس کے معنے کچھ کے کچھ بنائے ہیں۔ اور کوئی حدیث جو ابن مریم کے بارہ میں ہو اور خواہ بخاری میں ہی کیوں نہ ہو وہ صحیح ہو ہی نہیں سکتی؟ اگر مرزا قادیانی صحیح مان سکتے ہیں تو بخاری ہی کی حدیث یہ بھی غور طلب ہے۔ (صرف بخاری کی نہیں بلکہ متفق علیہ ہے) (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم)
﴿عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم۔﴾
”قسم ہے اس خدا کی کہ بقا میری جان کی اس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق اتریں گے تم میں بیٹے مریم کے۔“
”والذی نفسی بیدہ“ پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ جب مسلمان رسول کریم ﷺ کے ہر ایک ارشاد کو تسلیم کر لیا کرتے تھے تو قسم کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ سو اصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ السلام کے بارہ میں جو کچھ ارشاد نبوی ہوتا تھا۔ اس میں مؤمنین مخلصین کے علاوہ یہود و نصاریٰ بھی مخاطب ہوتے تھے۔ افسوس! آجکل کے مسلمان رسول کریم ﷺ کی قسمیہ کلام پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ اور معلوم ہوتا ہے۔ کہ قسم کھانے کی کیا ضرورت یہ تھی کہ ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ ١...... حکماً ٢...... عدلاً حاکم عادل ہو کر۔
رسول کریم ﷺ نے ابن مریم کی صفت ”حکماً عدلاً“ فرمائی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظاہری اقتدار وحکومت و سیاست بھی اس کو حاصل ہوگی اور اس کا جنگ اس کی فتح صرف قلمی اور کاغذی ہی نہ ہوگی اور وہ نہ کوئی زمیندار ہو گا نہ جاگیردار ۔ جو خود اپنے قیام
٦٢
وغیرہ کی اجازت کے لئے اپنے منہ سے بولی ہوئی قوم دجال کی اجازت کا محتاج ہوگا۔ بلکہ وہ تو خود صاحب حکومت و سیاست ہوگا۔ جس کے سامنے مہمات سلطنت و مقدمات خلق پیش کئے جائیں گے۔ اور جو اپنے ہر ایک کام میں عدالت وانصاف کو کام فرمائے گا۔
مرزا قادیانی نے جو ابی داؤد کی حدیث دربارہ حارث اپنے پر صادق کرلی ہے۔ اور اپنی زمینداری کو اس مطابقت کی وجہ ثبوت میں پیش کیا ہے اس کو حدیث کا یہی لفظ حکما عدلاً خوب توڑ رہا ہے اور بتلارہا ہے کہ ابن مریم اور ہے حارث اور ۔ پس مرزا قادیانی کو اگر ابن مریم بننا منظور ہے تو یہ صفت بھی پیدا کریں اور حارث بننے کی ہوس کو ترک کریں۔ اگر چہ حارث بننے میں زیادہ سہولیت ہے۔ گو سیدوں کے ساتھ ناشائستہ برتاؤ اس کی تکذیب کر رہا ہے۔
- ٣...... فیکسر الصلیب۔ پس توڑیں گے صلیب کو۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو اسی طرح توڑیں گے جس طرح ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ السلام اور محمد رسول اللہ نے بتوں کو توڑا تھا۔ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس فعل پر اعتراض کرتا ہے وہ ان اولوالعزم نبیوں پر بھی اعتراض کرتا ہے۔ ہاں صلیب کے توڑنے میں چند اسرار ہیں۔
- ١........... اس جھوٹے قصہ سے برأت ۔ جو یہود ونصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت
مصلوب ہونے کی وجہ سے گھڑ رکھا ہے اور صرف صلیب کی وجہ سے ہی یہود نے اس کا لعنتی ہونا اور نصاریٰ نے اس کا فدیہ عالم اور فرزند خدا ہونا نکال لیا۔
- ٢........... اس جھوٹے ذریعہ نجات کی تذلیل جس کو نصاریٰ اپنے فدائی عالم کی یادگار سمجھتے
ہیں۔ عیسائیو! یہ کیسی یادگار ہے جس کو خود صاحب یادگار آکر توڑے گا۔
- ٣........... شعار کفر سے نفرت
- ٤........... ابواب تحریف کا انسداد
- ٥........... خالص توحید کا استحکام۔ اور ان سب کی نظائر ہم کو مل سکتی ہے۔
رسول اللہ کا حضرت اسمعیل علیہ السلام وابراہیم علیہ السلام کی تماثیل کا ازلام کی تماثیل سے بھی پہلے محو فرمانا اساف و نائلہ وہبل کا توڑنا۔ شراب کے لئے نوخرید کردہ برتنوں کا
بھی توڑ دینا۔ پرستش غیر کے تمام مقاموں کا ویران کر دینا۔ درختوں کا کاٹ دینا۔ حضرت کلیم اللہ کا گوسالہ کو ریزہ ریزہ کرنا۔
ابوداؤد نے (باب فی الصلیب فی الثیاب ص ١١٨ ج ٢) میں حضرت عائشہؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
﴿ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يترك فى بيته شيئا فيه تصليب الا قضبه.﴾
”رسول اللہ ﷺ اگر اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز پاتے جس پر صلیب بنی ہوئی تو اسے پھاڑے یا توڑے بغیر کبھی نہ چھوڑتے۔“
اب رہا مرزا قادیانی کا یہ فرمانا۔ کہ صلیب کے توڑنے سے روحانی طور پر صلیب کو توڑنا اور صلیبی مذہب کو پاش پاش کرنا مراد ہے۔“ سو مرزا قادیانی کو واضح رہے۔ کہ روحانی طور پر تو قرآن مجید نے تثلیث اور صلیب پرستی کو خوب پاش پاش کر دیا ہے اور رسول کریم نے اس صلیبی مذہب کو براہین و دلائل الہیہ سے خوب ہی کچل دیا ہے۔ آپ یا مسیح علیہ السلام ان سے زیادہ کیا کرسکیں گے؟ اگر آپ سچے ہیں تو ایسی دلیل صلیبی مذہب کی شکست پر پیش کر کے دکھلا دیں جو قرآن مجید میں نہ ملتی ہو۔ اور وہ حجت رسول خدا نے نصاریٰ پر قائم نہ کر دی ہو۔ سچ ہے ”وَلِلّٰهِ الحجة البالغة.“
وَيَقْتُل الخنزير اور قتل کرے گا خنزیر کو
جو شخص یہ جانتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پہلی زندگی میں خنزیروں کو قتل کیا تھا (متی ٨ باب ٣٣) نیز جانتا ہے کہ ان کی تعداد تین ہزار تھی۔ اس پر افسوس کہ وہ آمد دوم میں قتل خنزیر کے فعل پر کیوں اعتراض کرتا ہے۔ ہاں ضرور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل خنزیر فرما دیں۔ جس طرح رسول کریمؐ نے اپنے عہد میں کتوں کو ایک بار اور علی مرتضیٰؓ نے دو بار قتل کرایا تھا۔ تا کہ پولوس رسول کے جھوٹے خواب کی تحقیر ہو۔ جس نے خنزیر کو صرف اس بنا پر حلال کر دیا ہے (حالانکہ توریت میں حرام ہے) کہ اس نے خواب میں اس کو کھا لیا تھا۔ تا کہ معلوم ہو جائے کہ شریعت کے سامنے کسی بزرگ کا خواب یا الہام یا مکاشفہ کوئی چیز نہیں۔ میں مرزا قادیانی سے جو صلیب کو
کسر سے اور خنزیر کو قتل سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب بقول آپ کے عہد مسیح میں سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ (توضیح ١٣ خزائن ج ٣ ص ٧٥) تو کیا مسلمان ہو کر بھی وہ صلیب پرستی اور خنزیر پروری کرتے رہیں گے؟
٥۔ ویضع الجزیۃ اور اٹھا دے گا جزیہ کو:
مرزا قادیانی نے یضع الجزیۃ کی جگہ یضع الحرب بنا دیا ہے۔
جزیہ کے موقوف کر دینے پر یہ اعتراض کہ اس سے حضرت مسیح ناسخ احکام اسلام ٹھہرتے ہیں۔ ”بالکل غلط ہے اگر حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جزیہ قبول نہ کریں گے۔ تو سیدنا محمد ﷺ کے اسی حکم کی تعمیل کی وجہ سے جو آج سے بھی تیرہ سو برس پہلے سے موجود ہے۔
٦۔ ویفیض المال اور مال کو بہائے گا۔
ویفیض المال سے لے کر آخر حدیث تک کے الفاظ کو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں سے اڑا دیا ہے۔ دیکھو (ازالہ ٢٠١ خزائن ج ٣ ص ١٩٨)
اگر ایمانداری کے ساتھ ان کو یقین ہے کہ وہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی تمام تر حدیثوں کے خود مصداق صحیح ہیں۔ تو ان الفاظ کی بھی تاویل کرتے۔ دراصل مرزا قادیانی کو ان الفاظ کی تاویل میں یہ مشکل آ پڑی۔ کہ یہاں تو نبی کا ایک صحابی اور قرآن کی ایک آیت کی تفسیر صحابی جو مرفوع فی الحکم ہے اور مسیح کے زمانہ کی ضروری اور لازمی علامت یہ سب کی سب کھلے طور پر ان کے عقیدہ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اب ان کا جواب کیونکر دیں۔ اسلئے مرزا قادیانی نے یہی بہتر سمجھا کہ مریدوں کی نگاہ سے الفاظ حدیث نبوی کو چھپا دیا جائے۔ خدائے پاک کی قسم ہے مجھے مرزا قادیانی کی تاویلات سے اتنا رنج و افسوس نہیں ہے۔ جتنا کہ ان کی اس عادت سے ہے کہ الفاظ حدیث میں سے جو کچھ منشاء کے مطابق پایا وہ لکھ دیا اور جو کچھ خلاف منشاء و عقیدہ دیکھا وہ کاٹ دیا۔ بیشک اتنی جرأت ایک سچے ایماندار سے بعید ہے۔ مرزا قادیانی نے جو ازالہ کے ایک مقام پر مال کی تاویل جواہر و معارف علوم سے کی ہے وہ سراسر غلط ہے۔
١............ کیونکہ مسلم (ج ١ ص ٣٤٦ کتاب الزکوۃ) کی ایک دوسری حدیث عن ابی ھریرۃ میں
٦٥
ہے ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض حتى يخرج الرجل زكوة ماله فلا يجد احدا يقبلها منه “ قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ مال کثرت سے ہوگا۔ اور بہت ہی ہوگا حتی کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا اور کوئی شخص اس سے زکوٰۃ نہ لے گا۔ یہاں بھی مال کا لفظ اور زکوٰۃ کا نکالنا۔ اور یفیض سب غور طلب ہیں۔
- ٢......... اگر مرزا قادیانی کی تاویل مانی جائے۔ تو اس کے یہ معنی ہونگے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے عہد میں لوگ جواہر اور معارف علوم کے حاصل کرنے سے بیزار و متنفر ہوجائیں گے اس سے چند اعتراض پیدا ہوتے ہیں۔
- ١۔ اول معارف الٰہی سے سیری اور نفرت۔
- ٢۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحبت و تعلیم کا الٹا اثر۔
- ٣۔ حدیث کے اگلے الفاظ ”حتی تکون السجدة الواحدة خير من الدنيا
ومافيها“ خود اس تاویل کا رد کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ یہ سب امور بہ بداہت باطل ہیں۔
”حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا ومافيها ثم قال ابوهريرة فاقرؤ ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته الاية.“
”حتی کہ اس کو (مال) کوئی ایک قبول نہ کرے گا۔ حتی کہ فقط ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہوگا ۔“....... روایت کر کے کہتے اگر تم چاہو (رفع شک کے لئے) یہ پڑھو آیت ’کوئی اہل کتاب نہیں ہے۔ مگر یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے وہ ان پر ایمان لائے گا۔ اس حدیث کو اگر تفکر و تدبر کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی پاک و با جلال ذات کی قسم کھاتے ہیں۔ تو کیا قسم کھانے کے بعد بھی حقیقت کو چھپائیں گے اور توریہ یا استعارہ کو اختیار کریں گے۔ دوسرے یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں مال
کی کثرت و بہتات و بے قدری کو بطور مستحکم علامت کے بیان فرمایا ہے۔ نیز اس عہد میں حرص پر طاعات کا ذکر کیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے بھی جو اس حدیث کے نیز حدیث وامامکم منکم والے کے راوی ہیں۔ قرآن مجید کی آیت سے استدلال کر کے جیسا کہ مضمون حدیث کو تقویت دے دی ویسا ہی یہ بھی ثابت کر دیا کہ آیت کے معنی اور نہیں ہو سکتے۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ کا عین روایت حدیث کے ساتھ آیت پڑھ کر سنانا۔ اور اسے دلیل قرار دینا یقین دلاتا ہے۔ کہ انہوں نے آیت کے معنی رسول اللہ ﷺ سے ہی سیکھے تھے۔ تو گویا یہ تفسیر بھی مرفوع فی الحکم ہے۔ پس باایں ہمہ وجوہ ثابت ہو گیا۔ کہ کیا قانون قدرت اور کیا قرآن کریم اور کیا حدیث پاک سب کے سب متفق ہو کر نزول عیسیٰ علیہ السلام کا اثبات کر رہے ہیں اور مومن کو قدرت لامحدود الٰہی پر ایمان لانے کے لئے تائید فرما رہے ہیں۔ ”ان فی ذالک لآیات لقوم یتفکرون“ اب میں آخر میں یہ بھی گزارش کر دیتا ہوں کہ معجزہ شق القمر اذا اقتربت الساعۃ وانشق القمر میں آپ (مرزا) نے یہ توجیہ فرمائی ہے جو عقول وافہام میں نہایت دلچسپ و پسندیدہ معلوم ہوئی ہے۔ کہ ”چونکہ رب کریم کو پہلے سے علم تھا اور وہ عالم الغیوب جانتا تھا کہ فلاں زمانہ اور فلاں ملک میں ہمارے فلاں رسول اور حبیب سے جبکہ وہ دعوت اسلام کر رہا اور سرکش بندوں کو مالک کی درگاہ کی طرف بلا رہا ہو گا کفرہ فجرہ معجزہ انشقاق قمر کے خواہاں و طالب ہونگے۔ اور چونکہ معجزات اکثر لازمہ نبوت ہوتے ہیں۔ رسول خدا بھی معجزہ دکھلانے پر مستعد ہوگا تو اس لئے خلق قمر سے پہلے قمر کے لئے اس زمانہ میں شق ہونا کفار کی درخواست اور رسول کا معجزہ سب کچھ مقدر تھا اور جب یہ حال ہے کہ جب کسی وجود کا اپنے طبعی اور خلقی خواص کا ظاہر کرنا خلاف قانون قدرت نہیں۔ تو چاند کا پھٹنا بھی خلاف نہیں۔“ تو اب میں کہتا ہوں کہ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے روز اول سے محمدؐ کے دین کی تجدید کرنا اور قرب قیامت و آخری عالم کا نشان ہونا مقدر ہو چکا ہے اور آسمان سے اترنا لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے تو نہ یہ خلاف قانون قدرت ہے نہ خلاف وعدہ نہ ان کی نبوت کی منافی ہے۔ نہ رسول اللہ ﷺ کی شان کے خلاف (جیسا کہ ہم نے ہر ایک پر جدا جدا مضمون لکھے ہیں۔) بلکہ یہ تو ایک طے شدہ اور مقدر امر کا ظہور میں آنا ہے۔ معجزہ شق قمر میں تو یہ بھی تھا کہ اس کے واقع ہونے سے پہلے اس کی خبر نہ دی گئی تھی۔ لیکن برخلاف اس کے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی خبریں تو ١٨٩١ء برس سے دی جا رہی اور ١٣٢٠ برس سے قرآن اور حدیث اسی
٦٧
عقیدہ کو سکھلا رہے ہیں۔
سورہ مریم میں ہے۔ ”ذلک عیسیٰ بن مریم قول الحق الذی فیه یمترون.“ دیکھو یہاں صاف نام موجود ہے انجیل میں ہے۔ ہمیں کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور دنیا کا آخر کا نشان کیا ہے۔٢٤/٣ باب متی۔
قول جمیل کے قادیانی مصنف نے ”جو وانه لعلم للساعة.“ کی ایک توجیہہ یہ کی ہے کہ ضمیر کی دلالت قرآن پر ہے۔ تو اس صورت میں نہ صرف مسیح کا آنا جاتا رہتا ہے۔ بلکہ انکار سے مثیل مسیح کا وجود بھی اڑتا ہے دوسری توجیہہ میں اس حدیث مسلم سے تمسک کیا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث جبرائیل علیہ السلام میں علامات قیامت بیان فرمائیں۔ تو ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ذکر نہیں کیا اور اس سے ثابت یہ کیا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دراصل علامت قیامت ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور اس حدیث میں فرما دیتے ۔...... میں اس کو سخت مغالطہ سمجھتا ہوں ۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ ایسا لائق شخص ایک حدیث میں ایک علامت کے بیان نہ ہونے سے اس کے وجود کا بھی انکار کر بیٹھے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ایسی متعدد احادیث ملیں گی۔ کہ سائل کے سوال اسلام پر رسول اللہ ﷺ نے پنج ارکان اسلام میں سے کسی حدیث میں حج کا ذکر نہیں فرمایا۔ یا زکوٰۃ کا نام لیا ۔ یا کلمہ شہادت کو بیان نہیں فرمایا۔ تو اب صاحب قول جمیل نتیجہ یہ نکالیں گے کہ حج فرض نہیں۔ یا اسلام لانے کے لئے کلمہ شہادت پڑھنے کی ضرورت نہیں ؟...... میرے خیال میں اس بیان میں جو کچھ تحریر کر چکا ہوں وہ میرے خیالات کے لحاظ سے بہت کافی ہے۔
قول جمیل کے قادیانی مصنف نے ٨٣ صفحہ پر لکھا ہے بیضاوی شریف میں یوں لکھا ہے۔ ”قیل ان الضمیر للقرآن قال فیه الاعلام بالساعة والدلالة علیها.“ ”اس نے یوں لکھا ہے ۔“ کے لفظ سے ثابت کرنا چاہا کہ گویا بیضاوی میں اس کے سوا اور کچھ اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہی نہیں مگر جو کچھ انہوں نے چھپایا ہے۔ ہم اس کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسی بیضاوی کی عبارت ذیل کو آپ دانستہ چھوڑ بھی گئے ہیں۔
”وانه ان عیسیٰ لعلم للساعة لان حدوثه او نزوله من اشراط الساعة یعلم به ولقیها او لان احیاء ه الموتىٰ یدل علىٰ قدرة الله تعالیٰ علیه وقرىٰ لعلم
علامة والذكر على تسميه ما يذكر به ذكرا وفى الحديث ينزل عيسىٰ عليه السلام بثنيه بالارض المقدست يقال لها افيق وبيده حربة بها يقتل الدجال فيأتى بيت المقدس والناس فى صلوة الصبح فتاخر الامام فيقدمه عيسىٰ يصلى خلفه على شريعت محمد ثم يقتل الخنازير ويكسر الصليب ويخرب البيع والكنائس ويقتل النصارىٰ الامن امن به“
کیوں حضرت یہ عبارت جو آپ کے نقل کردہ فقرہ سے پہلی ہے۔ کیا یہ اس بیضاوی میں درج نہیں ہے۔ جو آپ کے پاس ہے؟ یہ بھی واضح رہے کہ صرف بیضاوی میں ہی نہیں بلکہ کشاف میں بھی یہی عبارت ہے۔
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆....... ہر قادیانی کے منہ پر ایک لعنت برستی ہے جس کو اہل
نظر فوراً پہچان لیتے ہیں۔
- ☆☆....... زندیق ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کا دعویٰ
کرتا ہو مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو۔
- ☆☆....... مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆☆....... قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
باب ششم
عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وحیات
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ایک بھی ایسی آیت نہیں پائی جاتی جو مسیح کے زندہ ہونے زندہ اٹھائے جانے پر ایک ذرا بھی اشارہ کرتی ہو (ازالہ اوہام خزائن ج ٣ ص ٥٠٨) نیز لکھتے ہیں۔ ”امام بخاری صاحب اول درجہ پر ہمارے دعویٰ کے شاہد اور حامی ہیں اور مخالفوں کے لئے ہرگز ممکن نہیں۔ کہ ایک ذرا بھر بھی اپنے خیالات کی تائید میں کوئی حدیث صحیح بخاری کی پیش کرسکیں۔ سو در حقیقت صحیح بخاری سے وہ منکر ہیں نہ ہم۔
(ازالہ اوہام ص ٥٩٤ خزائن ج ٣ ص ٥٩٤)
مرزا قادیانی کے فقرات کا خلاصہ یہ ہے۔
- ١............ حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے پر ایک آیت بھی اشارہ نہیں کرتی۔
- ٢............ حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے پر ایک آیت بھی اشارہ نہیں کرتی۔
- ٣............ صحیح بخاری میں کوئی بھی حدیث نہیں ہے۔ جو حیات مسیح کو ثابت کرتی ہو۔
اب ہم ان ہی تینوں امور کو ثابت کر دکھلاتے ہیں اور امام بخاری کی ایک ہی حدیث کے ضمن میں حیات مسیح۔ نزول مسیح۔ مذہب صحابہ۔ مذہب بخاری ثابت اور واضح کر کے منصف مسلمانوں کو مرزا قادیانی کے فقرات مندرجہ بالا کے موازنہ کرنے کے لئے توجہ دلاتے ہیں۔
امام بخاری نے باب باندھا ہے۔ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ عیسیٰ بن مریم کے نزول کا باب۔ خدا ماں بیٹے پر رحمت بھیجے۔
حدثنا اسحق قال اخبرنا یعقوب بن ابراھیم قال حدثنا ابی عن صالح عن ابن شھاب ان سعید بن المسیب سمع اباھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ
عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها . ثم يقول ابى هريرةؓ فاقرؤان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بیشک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھا دیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی اور اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال ۔ متاع سے ایک سجدہ اچھا معلوم ہوگا۔ ابو ہریرہؓ فرماتے تھے۔ اگر تم نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل اس ارشاد نبوی کے ساتھ قرآن سے چاہتے ہو۔ تو یہ آیت پڑھ لو۔ ”ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ کیونکہ اس میں صاف طور پر رب کریم نے فرمایا ہے۔ کہ جتنے اہل کتاب ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پانے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔
- ١............ مرزا قادیانی دیکھیں کہ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے یا نہیں؟
- ٢............ براہ مہربانی بتلا دیں کہ امام بخاری اس حدیث کو کیوں اپنی کتاب میں لائے ہیں؟
- ٣............ وہ غور کریں کہ ”ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ قرآن مجید کی
آیت ہے یا نہیں۔ (نساء۔ ١٥٩)
- ٤............ وہ فرمائیں کہ ابو ہریرہؓ جو روایت حدیث کے وقت شکی اور ضدی طبیعت والوں کو
اس حدیث پر ایمان لانے کے لئے اس آیت کے پڑھنے کو فرماتے ہیں تو ان کا مذہب کیا تھا؟
- ٥۔ عنایت فرما کر وہ یہ بھی ظاہر کر دیں۔ کہ آپ نے کیوں اس حدیث کو دانستہ چھپا لیا
ہے اور کیوں اس آیت کو مخفی رکھ کر اس کی تفسیر صحابی کو پنہاں رکھا ہے؟
مرزا قادیانی خواہ ان امور کا جواب دیں یا نہ دیں۔ لیکن تمام مسلمانوں پر مرزا قادیانی کے وہ تینوں امور تنقیح طلب جو ان کے فقرات مندرجہ بالا سے اخذ کئے گئے ہیں بخوبی
٧١
ثابت ہو گئے اور ایک ہی حدیث متصل صحیح۔ مرفوع سے اتنی باتیں پایہ ثبوت پہنچ گئیں۔ امام بخاری کا مذہب۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بابت رسول اللہ ﷺ کا ارشاد۔ علامات زمانہ نزول، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات۔ آیت ١٥٩ کی تفسیر۔ صحابی کا مذہب۔
اب یہ امر ثابت کرنے کے لئے کہ دیگر صحابہ بھی اس آیت کے یہی معنے لیتے تھے۔ جو ابو ہریرہؓ نے لئے ہیں۔ ہم حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کو پیش کرتے ہیں۔ جس کو ابن جریر نے سعید بن جریج کے طریق سے اسناد صحیحہ کے ساتھ ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ کہ ابن عباسؓ نے انہی معنی پر جزم کر لیا تھا۔ کہ موتہ سے موت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ علیٰ ہذا یہی معنی اور مذہب ابی بن کعب صحابی نے اختیار کیا ہے۔
مرزا قادیانی فرماویں۔ کہ کیا وہ اس جگہ ایسی حدیث کو جو امام بخاری اور امام مسلم دونوں کے معتمد علیہ ہے اور جس میں ایک آیت کی تفسیر اور مذہب صحابی بھی ہے۔ قبول فرمائیں گے یا نہیں؟ ...... وہ یہ بھی فرماویں؟ کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی تفسیر کو جس کو ابن عباسؓ کی تفسیر اور ابی بن کعب کا مذہب بھی تائید کر رہے ہیں اور امام بخاریؒ کے مذہب کی بناء پر اسی پر ہے۔ کیوں قبول نہیں کرتے؟
امام جلال الدین سیوطیؒ نے جن کی نسبت مرزا قادیانی کو اقرار ہے۔ کہ وہ کشفی طور پر رسول کریم ﷺ سے احادیث کو صحیح کر لیتے تھے (ازالہ ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧) اپنی تفسیر اکلیل میں لکھا ہے۔ کہ حاکم نے ابن عباس سے اور امام احمد نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت ”ان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ“ سے حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔ ابن جریر نے ابو رجا کے طریق سے حسن کا قول یہ روایت کیا ہے کہ قبل موتہ سے موت عیسیٰ مراد ہے۔ امام حسن نے کہا کہ خدا کی قسم عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ ہیں اور آسمان پر خدا کے پاس ہیں۔ مجاہدؒ قتادہؒ کعبؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اور یہ کثرت طرق بتلا رہے ہیں کہ اس کو مستفیض و متواتر کا درجہ حاصل ہے۔
ایک ہی حدیث سے ان تینوں امور کو ثابت کرنے کے بعد میں چاہتا ہوں۔ کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں دیگر دلائل کو پیش کروں۔ قرآن مجید میں ہے۔
دوم ...... وانه لعلم للساعة. (زخرف - ٦١) تفسیر کبیر۔ کشاف۔ بیضاوی۔ معالم
٧٢
وغیرہ کل تفاسیر متفق ہیں۔ کہ ” انہ “ کی ضمیر حضرت ابن مریم علیہما السلام کے نزول و حیات کو ثابت کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس مفسر قرآن بھی یہ فرماتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی پر افسوس ہے کہ انہوں نے اس جگہ مذہب ابن عباس کو چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ وہ سب سے بڑھ کر مفسر قرآن ہیں۔
اور زیادہ تر افسوس یہ بھی ہے۔ کہ آیت میں اس تابعی کے مذہب کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے وہی مثل ” پیش طبیب ملا پیش ملا طبیب پیش ہر دو ہیچ و پیش ہیچ ہر دو “ ان پر بخوبی صادق آتی ہے۔
سوم۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ ۔ “ (آل عمران۔ ٥٥)
یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے پر نص قطعی ہے۔ مرزا قادیانی نے اسی آیت کے معنی پلٹنے کے لئے جزوں کے جزو سیاہ کر ڈالے ہیں۔ اور اپنے دعویٰ کی صداقت کی بناء پر لفظ ”متوفیک“ یا ”توفی“ پر قائم کی ہے۔ وہ نہیں غور کرتے کہ ”توفی“ کا مادہ۔ و۔ ف۔ ی۔ ہے جس کے معنی صرف پورا کرنا ہیں اور لفظ اپنے مادی معنی سے کبھی علیحدہ نہیں ہوتا۔ ”توفی“ کے معنی لغت میں مارنا اور بھر پور اٹھانا۔ کسی چیز کا تمام تر لے لینا ہیں اور ظاہر ہی ہے کہ لغوی معانی خواہ دس ہوں خواہ بیس سب کے سب حقیقی معانی ہوتے ہیں۔ پس نتیجہ یہ نکلا۔ کہ گو ”توفی“ کے معنی مارنا اور کسی چیز کا تمام تر لینا دونوں ہیں۔ لیکن فیصلہ طلب یہ ہے کہ بالجزم اس جگہ کونسے معنی لینے چاہئیں۔ اور جو معنی ”توفی“ کے لئے جائیں ان کے لئے آیت میں کونسا قرینہ صحیح ہے۔ پس واضح ہو کہ ”توفی“ کے معنی تمام تر لینے کے لئے اور مارنا کے نہ لینے کے لئے اول قرینہ تو ورافعک ہی کا ہے جو اسی آیت میں موجود ہے۔ کیونکہ اگر اس جگہ ”متوفی“ کے معنی مارنا لئے جائیں تو وہ ورافعک بیکار ہو جاتا ہے۔ رافعک الی کے معنی قرب کے لینا فضول ہیں۔ کیونکہ جو خدا کا نبی ہوتا ہے وہ مقرب خدا بھی ہوتا ہے۔ بلکہ وہ تو اوروں کو خدا سے مقرب کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ پس نبی اللہ کو یہ کہنا کہ تجھ کو ماروں گا اور عزت دوں گا اور مقرب بناؤں گا۔ بالکل فضول اور تحصیل حاصل کا وعدہ ہے۔ اور در پردہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زندگی اور نبوت کی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرب الٰہی حاصل نہ تھا۔ علیٰ ہذا رافعک الی کے معنی ”عزت کے ساتھ مارنا“ لینے بالکل پوچ ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے اور ایک مرید کے وسیلہ سے زندہ
٤٧
بھاگ آنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نہایت گمنامی سے اپنی عمر پوری کی اور معمول موت سے مر گئے۔ تو ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ کہ کیا گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور تادم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے رہنا اور معمولی طور پر (جس طرح پر کہ پردہ زمین پر فی سیکنڈ ٦٠ آدمی ہر روز مرتے ہیں) مرنا ایسی باعزت موت ہو سکتی ہے۔ جس کا وعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا اور جس کا مذکور قرآن میں فرمایا گیا ہے؟ دوسرا قرینہ جو ”توفی“ کے معنی تمام تر لینے پر ہے وہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ یقینا“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ ہے۔ ”وما قتلوہ“ اور ”ما صلبوہ“ میں قتل و صلب کی نفی لفظ یقینا کے ساتھ اور ”بل“ کا اضراب یہ سب ثابت کر رہے ہیں۔ کہ ”متوفیک“ کے معنی مارنا لینے غلط ہیں۔ مرزا قادیانی نے متوفیک میں مارنا کے معنی لینے کے لئے ابن عباس اس قول کو پیش کیا ہے۔ کہ متوفیک کے معنی ممیتک ہیں۔ ہم حضرت ابن عباسؓ کے قول کو دل و جان سے مانتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی ذرا غور سے ملاحظہ فرما دیں۔ کہ ابن عباسؓ جو ”متوفیک“ کے معنی ”ممیتک“ فرماتے ہیں۔ وہ اپنی تفسیر میں تقدیم و تاخیر کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ ”رافعک الیٰ الآن ۔ وممیتک بعد نزول علی الارض“ مگر مرزا قادیانی یہاں آ کر ایسے بگڑتے ہیں۔ کہ تقدیم و تاخیر کو الحاد قرار دے دیا ہے اور حضرت ابن عباسؓ کو جن کے مذہب و تفسیر پر اعتماد کئے ہوئے تھے۔ نعوذ باللہ در پردہ ملحد قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی کو واضح رہے کہ ابن عباسؓ کے ساتھ حضرت قتادہؓ کا بھی یہی مذہب ہے اس لئے اپنے فتویٰ میں ان کو بھی شریک حال ابن عباسؓ فرمالیں۔ باوجود اس قدر معلوم کر لینے کے اگر مرزا قادیانی یہ فرمائیں۔ کہ ابن عباسؓ کا صرف اتنا ہی مذہب مقبول ہے۔ کہ متوفیک کے معنی ممیتک ہیں اور تقدیم و تاخیر کے بارہ میں ابن عباسؓ کا مذہب مردود اور الحاد ہے۔ تو بہتر ہے کہ وہ ممیتک کے معنی ہی کا حصر کر لیں۔ کیونکہ لفظ متوفیک کی طرح لفظ ممیتک بھی عربی ہے اور غیر زبان میں اس کے ترجمہ اور مفہوم کا ہونا ضروری ہے آپ نے مان لیا ہے۔ (ازالہ ص ٦٢٤ خزائن ج ٣ ص ٦٢١) کہ ”موت اور اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا ۔ موت دینا ہی نہیں۔ بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی ہیں۔ پس جب موت و اماتت کے معنی سلانا اور بے ہوش کرنا بھی ویسے ہی حقیقت ہیں۔ جیسے کہ مارنا اور موت دینا اور بقول آپ کے لغت کی رو سے موت
کے معنی ہر قسم کی بیہوشی اور نیند بھی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ کے لفظ ممیتک کے معنی بھی یہ ہیں۔ کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے سلا کر یا بیہوش کر کے آسمان پر اٹھاؤں گا ممیتک میں خواب یا بیہوش کے معنی لینے کے لئے ہمارے پاس قرینہ یہ ہے۔ کہ ابن عباسؓ ”ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موتہ“ (تفسیر ابن عباس ص ١١١) میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کے اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں ”رفع مسیح الی السماء“ کے اور ”انہ لعلم للساعۃ“ (تفسیر ابن عباس ص ٥٢٢) میں نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہوچکے ہیں۔ اگر اس لفظ ممیتک کے معنی سواء خواب یا بیہوشی کے اور لئے جائیں گے۔ تو ہر سہ مقامات پر ان کو اور ان کے مذہب کو جھٹلانا لازم آئے گا اور ابن عباسؓ کی تردید انہیں کے قول سے لازم آئے گی۔
میں نے معنی ممیتک میں خواب یا بیہوشی کے بتلائے ہیں۔ اسی کا مؤید امام حسن بصریؒ کا مذہب بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد وفات سے منام ہے۔ یعنی اللہ نے ان کو خواب میں اٹھا لیا۔ یہاں آکر مرزا قادیانی حسن بصریؒ کی تفسیر کو بھی جن پر ”انہ لعلم للساعۃ“ میں بڑا اعتماد کیا تھا اور جس کی پاسداری کے لئے مذہب ابن عباسؓ کو ترک کردیا تھا چھوڑ دیں گے۔ پیارے مسلمانو! حضرت ابن عباسؓ اور حسن بصریؒ پر بھی کچھ موقوف نہیں۔ خدائے تبارک وتعالیٰ نے خود ہی اپنی کتاب مجید میں ”توفی“ کے لفظ کو منام وخواب کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ ”ھو الذی یتوفاکم بالیل“ (اللہ وہ ہے جو تم کو رات کو سلا دیتا ہے۔)
”متوفیک ورافعک الیّ“ کے معنی اور ان معنی کے لینے کے لئے ۔ (جو حقیقی اور لغوی ہیں) قرائن صحیح کے بیان کردینے کے بعد اب میں پیارے ناظرین کو احادیث رسول کریم کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ جو نزول اور حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کر رہی ہیں۔
امام احمدؒ نے اپنی مسند میں ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے۔
عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لقیت لیلۃ اسریٰ بی ابراہیم وموسیٰ و عیسیٰ قال فتذاکرو امر الساعۃ فردوا الامر الی ابراہیم فقال لا علم لی بھا فردو الامر الی عیسیٰ فقال امّا وجبتہا فلا یعلمہا احد الا اللہ عزوجل وفیہا عہد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا ارانی ذاب کما یذوب الرصاص الخ۔
٧٥
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ شب معراج میں حضرت ابراہیم وموسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی ۔ فیصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فیصلہ کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کا فیصلہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے ۔ کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ شمشیر برندہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یہ پگھلنے لگے گا جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥)
یہ حدیث ابن ماجہ (ص ٢٩٩ باب خروج عیسیٰ علیہ السلام) میں بھی ہے امام حسن بصریؒ سے روایت ہے۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة كذافى جامع البيان (ابن جریر طبری ص ٢٨٩ ج ٣)
رسول اللہ ﷺ نے یہود کو (جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے) فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔
حدیث میں ”لم یمت“ کا لفظ غور طلب ہے اور یہ حدیث ٹھیک ترجمہ ”وان من اھل الکتاب لیؤمنن بہ قبل موتہ“ کا ہے ابوداؤد (ج ٢ ص ١٣٣ باب خروج الدجال) کی حدیث عن ابی ہریرہؓ کے آخر میں ہے۔
يهلک الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلک المسيح الدجال فيمکث فی الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلی عليه المسلمون.
”خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کے سوا سب مذاہب کو نابود کر دے گا وہ دجال کو ماریں گے اور زمین پر چالیس سال تک رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے ۔“
حدیث میں ثم یتوفی اور فیصلی علیہ کے الفاظ تدبر طلب ہیں اور یہ سب احادیث جن کا مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں ذکر تک نہیں کیا۔ مجموعی اور انفرادی طور پر
حیات مسیح علیہ السلام کو بخوبی ثابت کر رہی ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ دیگر احادیث جو حیات مسیح علیہ السلام پر نص قطعیہ ہیں۔ ہمارے مضمون عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ذیل میں لکھی گئی ہیں۔ وہاں ملاحظہ فرمائیے اور یہ بخوبی جان لیجئے کہ وہ سب احادیث اور آیات جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر اور اثبات ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل ہیں۔ کیونکہ نزول کے لئے حیات کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً ہم یوں کہیں کہ آج سے دس روز کو مرزا قادیانی پٹیالہ آئیں گے۔ تو اس سے سمجھا جاتا ہے۔ کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور انکا آنا حیات کے ساتھ ہے۔ فتدبر۔
ناظرین پہلے اس سے کہ میں اس مضمون کو ختم کردوں۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایک اور دلیل پیش کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی (ازالہ ص ٤٤٨ خزائن ج ٣ ص ٣٣٨) پر اولیاء الرحمٰن کی انیسویں علامت میں لکھتے ہیں۔ ’’خدا ان کو موت نہیں دیتا۔ جب تک وہ کام پورا نہ ہو جائے جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں ان کی قبولیت نہ پھیل جائے۔ تب تک البتہ سفر آخرت ان کو پیش نہیں آتا۔‘‘
اس سے پہلے (ازالہ کے صفحہ ٣١٠ و ٣١١ پر خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) لکھ چکے ہیں۔ ’’گو حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کا کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ رہا۔ کہ قریب قریب ناکام رہے۔‘‘
مرزا قادیانی کے ان دونوں فقرات کے ملانے سے صاف واضح ہوتا ہے۔ کہ حضرت مسیح علیہ السلام آج تک عام سنت اللہ کے موافق جو بدو آفرینش سے لے کر چلی آئی ہے برابر زندہ ہیں۔ کیونکہ صفحہ ٤٤٠ کے فقرہ سے واضح ہے۔ کہ اولیاء الرحمٰن کے بارہ میں عادت الٰہی اور قانون قدرت اسی طرح جاری و نافذ ہے۔ کہ جب تک ان کا وہ کام پورا نہ ہو جائے۔ جس کے لئے وہ دنیا پر بھیجے گئے تھے۔ تب تک ان کو سفر آخرت پیش نہیں آتا۔ اور صفحہ ٣١٠ کے فقرہ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام آمد اول میں اور تو اور توحید ربانی کے وعظ میں بھی ناکامیاب رہے ہیں۔ وہ ہدایت بالکل نہیں کر سکے اور دینی استقامتوں کو کامل طور پر قائم نہیں فرما سکے۔ تو ثابت
٧٧
ہو گیا کہ جب تک کہ حضرت مسیح علیہ السلام نبوت کے اس عام اور گراں مایہ اور اصل فرض و مقصد اعلیٰ کو جس سے تعلیم توحید الٰہی اور ہدایت خلق مراد ہے جو ہر ایک نبی کی بعثت کا سبب رہا ہے اور جس کے لئے کل انبیاء و مرسلین دنیا پر بھیجے گئے ہیں۔ بخوبی پورا نہ کر سکیں گے۔ اس وقت تک رب کریم کی لازوال و غیر متغیر عادت وسنت کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام وفات بھی نہ پائیں گے۔
مرزا قادیانی کو اس دلیل پر ذرا زیادہ غور کرنا ضروری ہے کیونکہ اس دلیل میں کوئی آیت یا حدیث سے استدلال نہیں۔ بلکہ انہیں کے قائم کردہ اصول سے تمسک کیا گیا ہے اور انہی کے الہامی کلام سے بالہام ربانی یہ دلیل نکالی گئی ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام اور ان کا زمانہ نزول
بزرگ مسلمانو! رب کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم کو اپنے حبیب سید ولد آدمؑ فخر المرسلین، محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا کیا۔ وہ جس کے وجود باجود کی غائت ہمارا مولیٰ کریم آیت ”ویزکیهم ويعلمهم الكتاب والحكمة.“ میں بتلاتا ہے اور جس کی احادیث کے ہر لفظ کی تصدیق فرما کر ہم کو حدیث و قرآن کے یکساں قابل اتباع ہونے کا اعتقاد بطور رکن ایمان سکھلاتا ہے۔ ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما انزل الیهم“ (نحل - ٤٤)
بزرگو! ہمارے سید آقا محمد مصطفیٰ ﷺ نے جہاں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مقام نزول عیسیٰ علیہ السلام اور مہمات عیسیٰ علیہ السلام اور خروج وفتن دجال کو مفصلاً بیان فرما دیا ہے وہیں زمانہ نزول حضرت ابن مریم علیہما السلام بھی بااعلام ربانی و وحی آسمانی ہم سب مسلمانوں کو بتلا دیا ہے چنانچہ صحیح مسلم میں آیا ہے۔ (ج ٢ ص ٣٩١ کتاب الفتن واشراط الساعۃ )
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا۔ ( حلب کے قریب دو مقاموں کے نام ) پھر مدینہ سے ان کی طرف ایک لشکر نکلے گا جو ان دنوں میں تمام زمین والوں میں بہتر ہوگا۔ جب صف بندی ہوگی۔ تب نصاریٰ کہیں گے۔ تم ان مسلمانوں سے جنہوں نے
٧٨
ہمارے جورو۔لڑکے پکڑے اور لونڈی غلام بنائے ہیں۔ الگ ہو جاؤ ہم صرف ان سے لڑیں گے۔ مسلمان (لشکر مدینہ) کہیں گے بخدا ہم اپنے بھائیوں سے الگ نہ ہونگے۔ پھر لڑائی ہو گی۔ مسلمانوں کا ثلث لشکر بھاگ نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ کرے گا۔ ثلث لشکر مارا جائے گا۔ وہ خدا کے پاس سب شہیدوں میں افضل ہونگے اور ثلث لشکر کی فتح ہو گی۔ وہ عمر بھر کسی فتنے اور بلا میں نہ پڑیں گے۔ یہی قسطنطنیہ کو (جس پر نصاریٰ کا قبضہ ہو چکا ہو گا) فتح کریں گے۔ اور غنیمت کے مالوں کو بانٹ رہے ہونگے۔ اور اپنی تلواروں کو زیتونوں کے درختوں پر لٹکا دیا ہو گا۔ کہ شیطان آواز کرے گا۔ کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے بال بچوں میں آ پڑا۔ تب مسلمان وہاں سے نکلیں گے۔ حالانکہ یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ جب وہ ملک شام میں پہنچیں گے۔ تب دجال نکلے گا۔ سو جس وقت مسلمان لڑائی کے لئے مستعد ہو کر صفیں باندھتے ہونگے۔ نماز کی تیاری ہو گی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے اور مسلمانوں کے امیر بنیں گے اور جب دشمن خدا دجال ان کو دیکھے گا یوں گھلنے لگ جائے گا جیسے نمک پانی میں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں۔ تب بھی وہ گھل جائے گا۔ لیکن خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اس کو ہلاک کرے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا خون اپنے نیزہ پر سب کو دکھلا دیں گے۔“
نصاریٰ کا شہر قسطنطنیہ کو لے لینا۔ پھر مسلمانوں کا اس شہر پر فتح حاصل کرنا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد خروج دجال اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یہ سب ایسے واقعات ہیں۔ جو چپکے چپکے طے نہیں ہو سکتے۔ اللہ اکبر۔ جس روز شہر قسطنطنیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور نصاریٰ کا اس پر قبضہ ہو گا۔ اس روز عجب ہولناک مصیبتیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی اور تمام براعظموں۔ ایشیاء ۔ یورپ۔ افریقہ میں انقلاب عظیم واقعہ ہو جائے گا۔
جبکہ آج تک نہ قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضہ سے نکلا۔ نہ نصاریٰ کا پھریرا۔ اس کے قلعہ پر اڑایا گیا۔ نہ مکرر مسلمانوں نے اس کو پھر فتح کیا۔ تو آنے والا مسیح کہاں سے آ گیا؟ حدیث کے لفظ ”عیسیٰ بن مریم علیہما السلام“ بھی قابل غور ہیں۔ کہ مثیل کو ثابت کر رہے ہیں۔ یا اصیل کو؟
ابوداؤد (ج ٢ ص ١٣٢ باب امارات الملاحم) میں معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ
٧٩
بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا اور مدینہ کا خراب ہونا سبب ہے جنگ عظیم کے واقعہ ہونے کا اور جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کے فتح اور قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا۔
اس حدیث میں یہی واقعات کے تسلسل اور تلازم قابل غور ہیں اور یہ فقرہ یاد دلانے کی تو کچھ ضرورت ہی نہیں کہ خروج دجال سبب ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کا۔
ابوداؤد (ج٢ ص ١٣٢ باب تواتر ملاحم) کی حدیث میں عبداللہ بن بسرؓ سے روایت ہے کہ جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں چھ سال کا فاصلہ ہے اور دجال کا خروج ساتویں سال میں ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث صحیح تر ہے۔
اس حدیث کو اور تعین سنین کو دیکھو اور ان تمام احادیث اور پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے زمانہ نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو کیسی کیسی روشن علامات و واقعات عظیمہ کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے۔
مسلم (ج٢ ص ٣٩٢ کتاب الفتن واشراط الساعۃ) میں حضرت ابن مسعودؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس جنگ کے حالات کو یوں روایت کیا ہے۔......کہ دشمن مسلمانوں سے لڑنے کے لئے اور مسلمان ان سے لڑنے کے لئے جمع ہونگے یسیر بن جابرؓ نے پوچھا دشمن سے آپ کی مراد نصاریٰ ہیں۔ کہا ہاں! اس وقت لڑائی سخت شروع ہوگی۔ مسلمان ایک لشکر کو آگے بھیجیں گے جو مرنے کے لئے بڑھے گا اور غلبہ کے بغیر نہ لوٹے گا۔ پھر دونوں فرقے رات تک لڑیں گے۔ رات کو فوجیں لوٹ جائیں گی کسی کو غلبہ نہ ہوگا۔ جو لشکر آگے بڑھا تھا۔ وہ فنا ہو جائے گا۔ پھر دوسرے اور تیسرے دن مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے۔ مرنے یا غالب ہونے کے لئے شام تک لڑائی رہے گی اور پھر فوجیں لوٹ جائیں گی۔ کسی کو غلبہ نہ ہوگا اور وہ لشکر فنا ہو جائے گا جب چوتھا دن ہوگا۔ تو باقی ماندہ سب آگے بڑھیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی۔ کہ ویسی کسی نے نہیں دیکھی۔ یہاں تک کہ پرندہ آدمیوں کے سر پر اڑے گا اور آگے نہ بڑھے گا اور یہ کہ وہ مردہ ہو کر گریں گے (اس میں نو ایجاد توپوں وغیرہ کے جنگ کی پیشین گوئی ہے) ایک جدی لوگ جو شمار میں ١٠٠ ہونگے ان میں سے ایک بچے گا۔ ایسی حالت میں کونسی خوشی ہوگی اور کونسا ترکہ بانٹا جائے گا۔ پھر مسلمان اسی حالت میں
٨٠
ہونگے۔ کہ اور ایک بڑی آفت کی خبر سنیں گے۔ ایک پکار ان کو آئے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں میں آگیا۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس کو چھوڑ کر روانہ ہونگے اور دس سواروں کو اطلاع حاصل کے طور پر دجال کے خبر لانے کو روانہ ہونگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں ان سواروں کے اور ان کے باپوں کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ جانتا ہوں وہ اس دن ساری زمین کے بہتر سوار ہونگے۔...... کہ جب نزول عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ قریب ہوگا۔ اس وقت یثرب (مدینۃ النبیؐ) کی آبادی گھٹ جائے گی اور بیت المقدس کی آبادی کامل ہو جائے اور بڑھ جائے گی اور ان علامات کے بعد مسلمانوں کا وہ لشکر جو مدینہ سے نکلے گا اور اپنے برادران دینی باشندگان شام کو نصاریٰ کے دست ظلم سے بچانے کو آئے گا۔ وہ حلب کے قریب لڑائی کرے گا۔ لڑائی ایسی ہوگی۔ کہ ٩٩ فی صد مقتول ہونگے۔ تین روز متواتر ناکامیوں اور شہادتوں کے بعد چوتھے روز مسلمان غالب آئیں گے۔ نصاریٰ مقہور ہونگے۔ اس جنگ سے چھ سال بعد مسلمان قسطنطنیہ کو بھی نصاریٰ کے ہاتھ سے چھین لیں گے۔ جب یہ سب کچھ ہو چکے گا۔ تو جنگ عظیم سے ساتویں سال اور فتح سے چھ ماہ کامل بعد دجال کا خروج ہوگا جب دجال کے فتنے پھیل جائیں گے اور مسلمانوں کا لشکر اس کا مقابلہ کرنے کے ارادہ سے شام میں (بیت المقدس) میں اترا ہوگا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول ہوگا۔ اب ہم ان واقعات عظیمہ اور اخبار بیّنہ پر نیز مرزا قادیانی کے تمام تر دعاوی پر نظر غائر ڈالتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اپنے تینوں رسالوں فتح الاسلام توضیح المرام ۔ ازالۃ الاوہام میں یہ دعاوی ہیں۔
- ١........... حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ جو مر جاتا ہے وہ پھر دنیا میں نہیں آتا۔
- ٢........... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے مراد ان کے مثیل کا ظہور ہے اور تمام احادیث
میں استعارہ ہے۔
- ٣........... وہ مثیل حسب الہام مرزا قادیانی خود ہیں۔
کہ اگر مرزا قادیانی کے پہلے دو دعوؤں کو قبول بھی کر لیا جائے۔ اور جس قدر احادیث و آیات ہمارے پاس ان دو دعوؤں کی تردید میں موجود ہیں ان سے قطع نظر بھی کر لی جائے۔
٨١
تب بھی مرزا قادیانی وہ مسیح نہیں ہو سکتے۔ جس کے نزول کی حدیثوں میں خبر ہے۔ کیونکہ آنے والے مسیح کے نزول سے پہلے ان واقعات کا ظہور پذیر ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ اور ان تمام واقعات سے پہلے دعویٰ کرنے والا شخص جھوٹا مسیح ہے میں بزرگ مسلمانوں کی خدمت میں یہ بھی عرض کرنا مناسب جانتا ہوں کہ ان احادیث کا مرزا قادیانی کے کسی مرید نے اپنے رسالہ میں اشارۃً یا صراحۃً ذکر تک نہیں کیا۔ تاویل کرنا تو کجا، مرزا قادیانی ان احادیث کا نہ ذکر کرتے ہیں نہ تاویل۔
صحیحین میں ہے کہ مدینہ کی آبادی آباب تک پہنچ جائے گی۔ حالانکہ آج ہمارے زمانہ میں وہاں تک آبادی نہیں پہنچی۔ اور ترمذی میں ہے کہ اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہوگا۔ خدا کے فضل سے آج تک کل اسلامی شہر آباد و با رونق ہیں۔
مرزا قادیانی جو (ازالہ ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) میں مان چکے ہیں۔ کہ ”نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہو چکا ہے۔“ اور یہ کہنا کہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی حصہ بحر نہیں دیا۔ وہ مانتے ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار ویسا ہی ہے۔ جیسا وجود خلفاء و راشدین اور وجود محمد مصطفیٰ کا انکار۔ اس لئے ہم کو امید ہے۔ کہ وہ ان احادیث پر مؤمنانہ غور فرمائیں گے اور اپنی حدیث نفس سے رجوع کریں گے۔
٨٢
باب ہفتم
عیسیٰ بن مریم علیہما السلام
مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ابن مریم سے مراد غلام احمد ہے۔ اور احادیث میں استعارہ ہے۔ تمام ہندوستان میں ان کے اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعے سے مشہور ہو چکا ہے۔ مگر میں مسلمانوں کو اسی زمانہ کے ایک اور شخص کے حال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔
جو ریلوے لائن راجپورہ سے بھٹنڈہ کو جاتی ہے۔ اس کے اسٹیشن دھوری سے دو میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کھیرو علاقہ ریاست پٹیالہ کا ہے۔ اس گاؤں میں ایک شخص نور محمد نامی ہے۔ اس کا بیان ہے کہ مرزا قادیانی کا وہ موعود بیٹا جس کی بابت ان کو یہ الہام ہوا تھا۔ ”فرزند د ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء“ میں نور محمد ہوں جب اس سے کہا گیا۔ کہ وہ تو خاص مرزا قادیانی کے صلب سے ہوگا۔ جواب دیا کہ ہاں صحیح ہے۔ مگر صلب روحانی مراد ہے۔ نہ صلب جسمانی۔ پس مرزا قادیانی کا موعود بیٹا روحانی طور پر میں نور محمد ہوں۔ جب اس سے کہا گیا۔ کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ کہ مرزا قادیانی کے الہام میں یوں ہو اور تم اس کی یوں تاویل کرو۔ اس نے کہا میں تاویل نہیں کرتا۔ جس طرح پر مرزا قادیانی روحانی طور پر ابن مریم ہیں۔ نور محمد بھی اسی طرح روحانی طور پر ابن مرزا ہے۔
غالباً اس کو ان مرزا قادیانی کے بیٹے بننے کی یہ ضرورت پڑی۔ کہ بیٹا اپنے کمالات میں باپ سے بڑھا ہوا ہے۔ ورنہ یہ ایک اعتبار سے خدا کا بیٹا بھی ہے۔ کیونکہ اس کا مرشد کہ وہ بھی ریاست پٹیالہ کا باشندہ ہے۔ اپنے آپ کو خدا کہتا اور کہلاتا ہے۔ اس کے مریدوں کی تعداد ہزاروں پر ہے۔ پڑھے لکھے بھی بہت ہیں۔
اس نے ایک دفعہ اپنے مریدوں کو کہا۔ کہ آج مرزا قادیانی یہاں تشریف لائیں گے۔ سامان درست کرو۔ گاؤں سے پہلے آدھ میل تک کچے راستے میں پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔
٨٣
رات بھر دف و دہل بجتا رہا۔ مشعلیں روشن رہیں۔ ہر وقت یہی آواز تھی۔ اب آئے اب آئے۔ اس کی بیوی نے مراقب ہو کر نیم شب کے بعد کہا تم جانتے ہو۔ مرزا قادیانی کیوں نہیں آئے تمہاری ان مشعلوں کا دھواں جو سرسوں کے تیل سے روشن ہیں۔ ان کے دماغ کو اذیت دیتا ہے۔ جاؤ اسی وقت گاؤں سے روغن گھی اکٹھا کر کے لاؤ۔ گھی لایا گیا۔ مشعلیں جلائی گئیں۔ سپیدہ دم اس نے حکم دیا۔ چلو۔ لوٹ چلو۔ مرزا قادیانی آئے تھے۔ مگر واپس چلے گئے۔ لوگوں نے کہا کب آئے تھے۔ کب چلے گئے۔ ہم نے تو زیارت بھی نہ کی۔ کہا روحانی طور پر آئے تھے۔ تم آنکھوں کے اندھے ان کو نہیں دیکھ سکے۔ اس کا قول ہے۔ کہ ”انہ کان توابا۔“ میں مرزا قادیانی کا آنا ثابت ہے وہ ترجمہ کرتا ہے۔ خدا پھر آنے والا یعنی دوبارہ آنے والا ہے۔ سو مرزا قادیانی آگئے۔ اس کے بہت سے اقوال عجیب ہیں۔ موعود بیٹا ہونے کا دعویٰ اس کو چھ سال سے ہے۔
جو کچھ میں نے کہا ہے۔ وہ اس کے حقیقی بھائی اور اپنے دوست مولوی عطاء اللہ صاحب سے یا اپنے دوست منشی رحیم بخش صاحب سے سنا ہوا ہے۔
عیسٰی بن مریم علیہما السلام
اس مضمون سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس لفظ کا صحیح صحیح مدلول و مسمیٰ آیا۔ ١...... وہ شخص ہو سکتا ہے یا نہیں جس نے دنیا بھر کو اپنی محبت و غضب کی حیرت بخش جذبات سے بھر دیا؟ ٢...... جس نے توریت کی شریعت کے سامنے اپنے انجیل کے فضل کو پیش کیا۔ ٣...... جو اپنے اعلیٰ درجہ کے اعداء کے کلمات مذمہ سے ایسا ہی پاک ہے۔ جیسا کہ اپنے اعلیٰ درجہ کے نام لیواؤں کی مبالغانہ توصیفات سے بالکل ہی بری ہے۔ ٤...... وہ جس کی ماں بیت المقدس پر خدا کے نام پر چڑھائی گئی اور زکریا علیہ السلام اس کا متکفل ہوا ٥...... وہ جسکی شبیہ کو سولی چڑھا دینا یہودیوں نے اس کے لعنتی ہونے کی دلیل ٹھہرایا۔ ٦...... وہ جس کی بدار کشیدہ تصویر کو عیسائیوں نے اس کی الوہیت کا اعلیٰ نشان بتایا۔ ٧...... وہ اسرائیلیوں کا بادشاہ۔ یہودیوں کا رہبر ٨...... اور ٹھیک وہ جس کے اس قدر نشانات و علامات بیان کر دینے کے بعد بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں۔
٨٤
عیسیٰ بن مریم علیہما السلام
اگرچہ بہت سے عقلاء کے نزدیک یہ بحث ہی عجیب ہوگی۔ کہ آیا اسم (مسندالیہ) اپنے مسمیٰ پر دال ہوتا ہے یا نہیں؟ مگر ہم کیا کریں۔ زمانہ ہی ایسا آ گیا ہے جو کہتا ہے کہ لاہور کو لاہور نہیں کہتے۔ کوئین وکٹوریہ کو کوئین وکٹوریہ نہیں کہتے۔ ہندوستان کا نام ہندوستان نہیں۔ رات کو رات بولنا غلط ہے۔ اور دن کو دن خیال کر بیٹھنا حماقت ہے۔ ہم نے لفظ کی تعریف میں پڑھا ہے کہ ذہن میں کسی شے یا خیال کا جو مفہوم ہو۔ اس کے خواص۔ آثار۔ حالات۔ ایسے شرح واضح بیان کر دیئے جائیں۔ جن سے وہی چیز یا وہی خیال سمجھا جائے۔
علیٰ ہٰذا...... اشیاء کی تعریف میں دیکھا ہے کہ اس شے کے وہ خواص جو اس کے مخصص ہوں بیان کر دیئے جائیں اور اس کی جنس قریب وفصل قریب بھی بتلا دی جائے۔ تا کہ اس کے وہ خواص بھی جو اس کی حقیقت میں داخل ہیں اور جس کے سبب سے وہ اور اشیاء سے متمیز ہوتی ہے۔ اس بیان میں آجائیں۔
اگر ہم ان تعریفوں پر جو ہر ایک ایچ پیچ کی لمبی چوڑی تقریروں پر حاوی ہیں۔ اکتفا کریں اور اپنے عنوان کے اسم ”عیسیٰ بن مریم علیہما السلام“ پر نظر غائر ڈالیں۔ تو معلوم ہوگا کہ اس میں یہ سب خواص موجود ہیں۔ اور جب سے کہ یہ لفظ زبان اور نطق بیان پر آیا ہے۔ اپنے مفہوم ومدلول ومسمیٰ پر نہایت واضحیت وکاملیت کے ساتھ دال رہا ہے اور سوا اس کے اور کسی پر کبھی بھی ہرگز ہرگز اس کا اطلاق نہیں ہوا۔ اور نہ صرف ”عیسیٰ بن مریم علیہما السلام“ مرکب صورت ہی ہیں۔ بلکہ بسا اوقات صرف ”عیسیٰ اور بسا اوقات ”ابن مریم“ بھی تو اس سے واضح ہوگا۔ کہ ہمارے عنوان کے الفاظ نہ صرف بہ ہیئت مجموعی بلکہ انفرادی طور پر بھی اپنے مدلول اور مسمے کے لئے ویسے ہی کامل ہیں جیسا کہ کوئی اور اسم ہونا چاہئے۔ مثلاً آدم صفی اللہ۔ ابراہیم خلیل اللہ، محمد رسول اللہ صلواۃ اللہ علیہم اجمعین۔
اب میں اوّل قرآن مجید کی چند آیات کو پیش کرتا ہوں۔
- ١۔......... صرف عیسیٰ کی مثال۔ ولما جاء عیسیٰ بالبینات۔ (زخرف ٦٣) وغیرہ
٨٥
٢.........عیسیٰ بن مریم کی مثال۔ وقفينا على اثارهم بعيسى ابن مريم ۔ (مائدہ۔٤٦) ٣.........صرف ابن مریم کی مثال۔ ولما ضرب ابن مريم مثلا۔ (زخرف۔٥٧)وغیرہ۔ ٤.........مسیح ابن مریم کی مثال۔ قالو ان الله هو المسيح ابن مريم. (مائدہ۔٧٢)وغیرہ۔ ٥.........صرف مسیح کی مثال۔ وقالت النصارى المسيح ابن الله. (توبہ۔٣٠)وغیرہ۔
اور اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ جس طرح پر کہ قرآن مجید میں ان تمام ناموں یعنی ١.....عیسیٰ علیہ السلام ٢.....عیسیٰ بن مریم ٣.....ابن مریم ۔٤.....مسیح ابن مریم۔٥.....مسیح سے ایک ہی شخص مراد ربانی ہے جو اسرائیلی اور صاحب انجیل ہے اسی طرح احادیث پاک میں بھی ان ناموں میں سے ہر ایک نام میں مراد اسی ایک شخص سے ہے۔ اور باوجودیکہ احادیث میں ان کے نام کا ہونا ہی ان کے وجود مزکی پر دلالت کرتا ہے۔ تاہم احادیث میں ایسے کھلے کھلے نشان بھی ہیں۔ جو بتلاتے ہیں۔ کہ اس عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے سوا جس کا ذکر قران مجید میں ہے۔ احادیث میں بھی کسی دوسرے شخص سے استعارۃً یا مجازاً بھی ہرگز ہرگز مراد نہیں لی گئی ہے۔
میں ناظرین موقنین کے تدبر وغور کے لئے وہ احادیث پیش کرتا ہوں۔
دلیل ١:
ابوداؤد (ج٢ ص ١٣٥ باب خروج) کی حدیث ہے۔
عن ابى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال ليس بينى وبينه نبى يعنى عيسىٰ عليه السلام وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن رأسه يقطر و ان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ کے درمیان میں نبی کوئی نہیں اور وہ تم میں اتریں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لو۔ قد ان کا درمیانہ ہوگا رنگ سرخ و سپید اور لباس
٨٦
زردی مائل گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہو گا۔ وہ اسلام کے لئے لوگوں سے لڑیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ خدا ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر چالیس سال تک قیام کریں گے۔ پھر وفات پائیں گے۔ اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
اس حدیث میں چند امور لائق تدبر ہیں۔ اول تو اسی عیسیٰ نبی اللہ اسرائیلی ہونے کا ثبوت اس فقرہ سے لیس بینی و بینہ نبی وانہ نازل. کہ وہ عیسیٰ نبی اتریں گے جس کے بعد میرے سوا کوئی نبی نہیں ہوا۔
دوسری ......... ان کے چہرہ کی رنگت اور لباس کے رنگ کی جداگانہ تشریح جس سے مرزا قادیانی کی وہ تاویل کہ زرد رنگ سے بیمار ہونا مراد ہے غلط ٹھہرتی ہے۔
تیسری ......... اسلام کے لئے قتل و جنگ فرمانا ۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ روحانی فتح کو شکست دیتا ہے۔
چہارم ......... ان کے زمانہ میں کل مذاہب کا اسلام کے سوا نابود ہو جانا۔ مرزا قادیانی کے زمانہ سے جس کو وہ بھی کفر وظلمت کا زمانہ مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا علیحدہ اور ممتاز ہونا ثابت کر رہا ہے۔
پنجم ......... لم یتوفی کے لفظ سے حیات بالفعل ثابت ہے۔
ششم ......... یصلی علیہ المسلمون سے ثابت ہے۔ کہ ان کی آمد دوم اور ممات اسلام پر ہوگی ۔ اگر وہ عیسائیت کے لئے آتے۔ تو عیسائی ان کی نماز جنازہ پڑھتے۔
دلیل ٢:
ترمذی (ج ٢ ص ٢٠٢ ابواب المناقب ۔) میں حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے (جو صحابہؓ میں عالم ترین صحف آسمانیہ اور بنی اسرائیل میں اشرف ترین اسباط تھے۔) روایت ہے۔
مکتوب فی التوراۃ صفت محمد وعیسیٰ علیہ السلام ابن مریم یدفن معہ.
توریت میں محمد ﷺ کا وصف اور عیسیٰ بن مریم کا وصف لکھا ہوا ہے۔
توریت میں یہ بھی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام محمد رسول اللہ کے پاس دفن ہونگے۔
دلیل سوم:
"وقال ابو مودود وقد بقى فى البيت موضع قبر.
(ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ ابواب المناقب)
”ابو مودود سے روایت ہے کہ روضہ رسول اللہ ﷺ میں اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔“
اس حدیث میں بھی چند امور لائق تدبر ہیں۔
- ا............توریت میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابن مریم علیہما السلام کا وصف
ایک جگہ مذکور ہے مرزا قادیانی سادگی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کھلے طور پر توریت میں موجود ہی نہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے فرمایا ہے۔ يجدونه مكتوباً عندهم في التوراة والانجيل. (اعراف۔ ١٥٧) محمد ﷺ کا وصف توراۃ وانجیل میں لکھا ہوا موجود پاتے ہیں۔
- ٢............ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کا روضہ رسول خدا میں مدفون ہونا اور
اس سے چند امور ظاہر ہوتے ہیں۔
- الف...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات بالفعل کیونکہ جس جگہ انہوں نے بعد وفات مدفون
ہونا ہے وہ جگہ اب تک خالی ہے۔
- ب...... ایک زبردست پیشین گوئی چونکہ ارادت الٰہی میں مقدر ہو چکا ہے۔ کہ اس جگہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مدفون ہوں۔ اس لئے باوجود کوشش ہائے بلیغہ بہت سے بزرگان دین کا اس جگہ مدفون نہ ہو سکا۔ اہلبیت میں سے حضرت عائشہؓ کا باوجود اپنا گھر ہونے کے۔ امام حسنؓ کا باوجود وصیت واستحقاق کے۔ اصحاب میں سے
٨٨
حضرت عثمانؓ کا باوجود ذوالنورین اور خلیفہ ہونے کے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا۔ باوجود امیر اور عشرہ مبشرہ میں سے ہونے کے۔
ج...... نکتہ جلیلہ اور سر دقیقہ یہ ہے تا سب پر واضح ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نزول بعد رسول اور تجدید فی الاسلام کی مثال ایسی ہی ہے۔ جیسے رسول اللہ کے خلفائے راشدین کی ہے اور اسی لئے وہ حضرت شیخین رضی اللہ عنہما کی طرح روضۂ رسول خدا ﷺ میں دفن کئے جائیں گے۔
واضح ہو کہ ترمذی کی یہ حدیث جو حضرت عبداللہ بن سلامؓ تک موقوف ہے دوسرے طریق سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوع بھی ثابت ہوچکی ہے اور اس میں آپؐ یہ بھی فرمایا ہے کہ میں اور عیسیٰ علیہ السلام ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اٹھیں گے۔
(مشکوٰۃ ص٤٨٠ باب نزول عیسیٰ ابن مریم۔)
دلیل چہارم:
صحیح مسلم (ج ١ ص ٩٥ باب الاسراء برسول اللہ) میں ہے۔
عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسىٰ بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامه.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے۔ فرمائیں گے نہیں، تم ایک دوسرے کے
٨٩
امام ہو۔ خدا نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔
اس حدیث پاک میں بھی چند امور پر تدبر کرنا ضروری ہے۔
- ١۔ ایک گروہ مجاہدین کی بابت پیشین گوئی جو تاقیامت ہمیشہ رہے گا۔
- ٢۔ اس امر کا اظہار کہ آنے والا عیسیٰ نہ خود کاغذی گھوڑے دوڑانے والا ہوگا۔ اور نہ وہ
جماعت جس میں اس کا نزول ہوگا۔ ایسی ہی ہوگی۔ بلکہ وہ مجاہد فی سبیل اللہ اور ان کی جماعت قاتلین علی الحق ہونگے۔
- ٣۔ ھذہ امتہ کا لفظ ثابت کر رہا کہ آنے والا مسیح اس امت محمدیہ میں سے نہیں ہے۔
(جیسا کہ مرزا قادیانی ہیں) اور بتلا رہا ہے کہ اسرائیلی عیسیٰ علیہ السلام ہی آئیں گے اور یہی لفظ نزول رسول کے ساتھ مل کر ان کی حیات بالفعل پر بھی دلیل ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ بعد نزول اس امت میں شمار ہونگے اور وہ اس امت کے امام وقت کا اقتداء کریں گے۔
- ٤۔ صحیح مسلم کی حدیث صحیح کے مقابلہ میں لامہدی الا عیسیٰ والی بے اصل
روایت کی اصلیت بھی کھل گئی۔
دلیل پنجم :
مسلم (ج ١ ص ٩٦ باب الاسراء) کی حدیث میں جس کے راوی ابی ہریرہؓ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
رأيتني في جماعة من الانبياء فاذا موسى عليه السلام قائم يصلى فاذا هو رجل ضرب جعد كانه من رجال شنوة واذا عيسى قائم يصلى اقرب الناس به شبهاً عروة بن مسعود الثقفى.
میں نے اپنے آپ کو انبیاء کی جماعت میں کھڑے پایا۔ میں نے دیکھا کہ موسٰی
٩٠
کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ وہ تو میانہ قد گٹھے ہوئے بدن کے آدمی ہیں۔ جیسے قبیلہ شنوہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ پھر میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا وہ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ ان کے سا تھ شکل وصورت میں سب آدمیوں میں سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی (صحابی رسول) ہیں۔
میں اس حدیث میں اس مقام پر صرف یہ نتیجہ نکالنا چاہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کو (جس کو رسول اللہ ﷺ نے معراج میں دیکھا ہے) شکل وصورت حضرت عروہ بن مسعود صحابی جیسی ہے مسلم (ج٢ ص٤٠٣ باب ذکر الدجال) کی دوسری حدیث میں ہے جس کے راوی عبداللہ بن عمرو ہیں۔
یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین لا ادری اربعین یوما او اربعین شہرا او اربعین عاماً فیبعث اللہ عیسیٰ بن مریم کانہ عروہ بن مسعود فیطلبہ فیہلک۔
دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس تک ٹھہرے گا۔ راوی کا بیان ہے میں نہیں جانتا ٤٠ دن ٤٠ ماہ یا ٤٠ سال پھر خدا عیسیٰ علیہ السلام بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ تو عروہ بن مسعود جیسے ہیں۔ وہ دجال کو تلاش کر کے ہلاک کریں گے۔
اور اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آنے والا اور دجال کا قتل کرنے والا وہی ہے جو شکل وصورت میں عروہ بن مسعودؓ جیسا ہے پس ان احادیث کے ملانے سے یہ امور محقق ہو گئے کہ۔
- ١........... آنے والا مسیح وہ حضرت ابن مریم نبی اللہ علیہ السلام ہیں۔ جن کو گروہ انبیاء میں
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دیکھا تھا اور جن کی شکل وصورت عروہ بن مسعودؓ صحابی جیسی ہے۔
- ٢........... یہ ہے کہ آنے والے مسیح میں اور عیسیٰ روح اللہ میں حلیہ کا اختلاف ہرگز نہیں ہے۔
اور اسی لئے مرزا قادیانی کا یہ شعر غلط ہے۔
٩١ I have provided the transcription exactly as requested, character-for-character. If you need any more transcriptions, just let me know!
دلیل ششم:
رزین کی روایت میں ہے اور اس کے راوی حضرت امام جعفر صادق ؒ سے لے کر علی مرتضیٰ ؓ تک کل ائمہ اہل بیت نبی ہیں علیہم الصلوٰۃ والسلام رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ امت کیونکر ہلاک ہوگی۔ جس کے اول میں میں اور بیچ میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
(مشکوٰۃ ص ٥٨٣ باب ثواب ھذہ الامتہ)
اس حدیث میں مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام علیحدہ علیحدہ ثابت کئے گئے ہیں اور حضرت عیسیٰ کی جلالت شان اور رفعت ذات کو جس طرح پر دکھلایا گیا ہے۔ وہ ماہرین حدیث سے پوشیدہ نہیں۔
دلیل ہفتم:
اس دلیل میں امام بخاری کا مذہب اور یہ کہ ابن مریم کا مفہوم و معنی ان کے نزدیک کیا ہے؟ ثابت کیا جاتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جابجا یہی جال پھیلایا ہے۔ کہ ”دراصل حضرت اسمعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا۔ کہ وہ ہرگز اس بات کے قائل تھے نہ کہ سچ مچ مسیح ابن مریم آسمان سے اتر آئے گا۔ (ازالہ اوہام ص ٩٦ خزائن ج ٣ ص ١٥٣) میں روشن ضمیر مسلمانوں کے سامنے مذہب امام بخاری ظاہر کر دیتا ہوں۔ یہ یاد رکھو کہ امام بخاری کا نام محمد بن اسمعیل ہے۔ نہ کہ اسمعیل۔
واضح ہو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں کتاب الانبیاء جداگانہ لکھی ہے اور انہی انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر کتاب تک یہ طرز اختیار کی ہے۔ کہ ہر نبی کے لئے جداگانہ باب باندھا ہے اور ہر باب کو قرآن مجید کی ایک ایک آیت سے شروع کیا ہے۔ گویا ہر ایک نبی کے متعلق جو آیت قرآنی ہے۔ اس آیت کی تفسیر نبوی ایک ایک حدیث کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے۔ میں اختصار کے لئے اپنے رسالہ کو حضرت مریم علیہا السلام کے باب سے شروع کرتا ہوں۔
٩٢
باب قول اللہ:
﴿واذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا۔ ﴾
(بخاری ج١ص٤٨٨)
باب قولہ:
﴿واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللّٰہ اصطفک وطھرک واصطفک علیٰ نساء العلمین۔﴾
(بخاری ایضاً)
باب قولہ تعالیٰ:
﴿واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللّٰہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم الآیتہ۔﴾
(بخاری ایضاً)
باب قولہ:
﴿یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم الآیتہ۔﴾
(بخاری ایضاً)
باب قولہ:
﴿واذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اھلھا۔ اعتزلت۔ ﴾
(بخاری ایضاً)
باب:
﴿نزول عیسیٰ بن مریم علیھم السلام۔﴾
(بخاری ج ١ ص ٤٩٠)
ذرا غور سے دیکھئے کہ کس طرح پر ہر ایک باب میں حضرت مریم کی پیدائش سے لے کر حضرت عیسیٰ کی ولادت و نبوت و نزول کو پایہ بپایہ لکھا ہے اور باب نزول عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہما السلام لکھ کر چند امور کو ثابت فرما دیا ہے۔ اول....... یہ کہ حدیث میں جو ابن مریم کا لفظ ہے اس کا مفہوم عیسیٰ بن مریم ہے اور دوسرے...... یہ کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ہیں۔ جو نبی اللہ
٩٣
ہیں ۔ علیہ السلام کا لفظ اس پر دال ہے ۔ تیسرے ...... یہ کہ مریم وہی مریم ہیں جو اس قدر بشارات ربانی سے ممتاز ہیں ۔ اور اس پر بھی لفظ علیہما السلام دلالت کرتا ہے ۔
پھر دیکھئے کہ امام بخاریؒ کا تبحر اور دقیقہ رسی کتنی بڑھی ہوئی ہے۔ کہ اگرچہ ہر باب کو آیت قرآنی سے شروع کیا ہے مگر اس باب کو صرف نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے آغاز فرمایا ہے اور باب کے شروع پر ہی کسی آیت کو درج نہیں کیا ۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ جو حدیث نزول ”والذی نفسی بیدہ“ میں لکھنے والا ہوں ۔ اس کے آخر میں آیت قرآنی آتی ہے جس سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا استدلال ثابت ہے جو میرے (امام بخاری) استدلال سے بدرجہا قوی اور مستند تر ہے تو مجھے اپنے استدلال کو نمائش کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت نہ رہی ۔ اب میں ناظرین سے پوچھتا ہوں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم جس کا احادیث بالا میں ذکر ہے ۔ نزول رسول اللہ سے پہلے زمانہ کا ہی شخص ہے ۔ یا ١٣٠٨ ہجری کا ۔
وہ عیسیٰ بن مریم جس کی ماں کا اس کے نزول کی احادیث سے پہلے آیات قرآنی پر تمسک کر کے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ وہی نبی اللہ اسرائیلی ہے ۔ یا کوئی مرزا؟
وہ عیسیٰ جس کے نزول کو امام بخاریؒ وابو ہریرہؓ نے آیت وحدیث سے ثابت کر دکھلایا ہے یہ نبی اللہ ہے یا کوئی عامی؟ کیونکہ ہرگز نہیں ہوسکتا ہے ۔ کہ احادیث بخاری میں حضرت مریم سے مراد تو حضرت مریم ہی ہوں اور حضرت ابن مریم سے مراد حضرت ابن مریم نہ ہوں ۔
بزرگو! اگر تم ذرا غور کروگے ۔ تو حق آپ کو آفتاب نیمروز سے زیادہ تاباں نظر آئے گا اور جس قدر احادیث رسول مقبول مطاع عالم میں لکھ چکا ہوں ان سے آپ پر ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم سے کون شخص مراد ہے اور بقول مرزا قادیانی (آجکل) ان متواترات سے انکار کر کے (کون شخص) اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈال چکا ہے۔
(ازالہ ص ٥٥٦۔ خزائن ج ٣ ص ٣٩٩)
مماثلت کی بحث
مرزا قادیانی نے جہاں بہت سے دعوے کئے ہیں ۔ میں مجدد ہوں ۔ میں محدث
٩٤
ہوں۔ میں ملہم ہوں۔ میرا الہام آمیزش شیطانی سے منزہ و پاک ہے میں وہی ہوں کہ اصلاح خلق کے لئے وقت پر آیا۔ میں نذیر ہوں۔ میں ایک قسم کا نبی ہوں۔ میں خدا کے احکام جو آسمان سے میرے پاس آتے ہیں زمین پر پہنچاتا ہوں۔ میں مرسل ربانی ہوں۔ میں مامور رحمانی ہوں۔ وہاں مرزا قادیانی نے ایک یہ بھی فرمایا ہے۔ کہ میں مشابہت تام اور مماثلت شدید کی وجہ سے مسیح علیہ السلام بن مریم کا مثیل بھی ہوں۔
دراصل مثیل کا لفظ بطور مغالطہ مرزا قادیانی استعمال فرماتے ہیں۔ ورنہ ان کی تصنیف پر غور وتدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح کا مثیل کہلانا پسند نہیں کرتے۔ بلکہ یہ ہتک عزت وکسر شان سمجھتے ہیں۔ کہ کوئی شخص مرزا قادیانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہی فقط سمجھا کرے اس کا ثبوت ان عبارات ذیل سے مل سکتا ہے۔
- ١............ ”یہ تو ثابت ہے کہ اس مسیح (غلام احمد قادیانی) کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی
فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے ضروری طور پر وہ حکمت ومعرفت سکھلائی گئی ہے۔ جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی تھی۔“
(ازالہ ص ٦٤٨۔ خزائن ج ٣ ص ٤٥٠)
- ٢............ ”اگر یہ عاجز اس عمل و معجزات مسیحی کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا۔ تو خدا
تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا۔ کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ ازالہ ص ٣٠٩ (خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
(مسیح جیسے معجزات دکھلانے سے) تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا امر جو اصل مقصد ہے۔ اس کے (دیکھلانے والے کے) ہاتھ (سے) بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٠ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- ٣............ (حضرت مسیح کا نمبر) ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر
دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں...... ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے“
(ازالہ ص ٣١١ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
٩٥
مسلمان غور کریں کہ جب حضرت مسیح نے نہ ہدایت سکھلائی نہ توحید کی تعلیم دی نہ دینی استقامتوں کو دلوں میں قائم کیا۔ تو پھر وہ نبی کس بات کے تھے؟ پس در پردہ یہی مسئلہ مرزا قادیانی مریدوں کے ذہن نشین کرنا چاہتے ہیں۔
- ٤...... ”خدا تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی
فطرت میں مودع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔“
(ازالہ ص ٣٢١۔ خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
- ٥...... ”عیسیٰ کجاست تا بہ نہند پا بہ منبرم ۔
(ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ٦...... ”میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص
میرے ہاتھ سے جام پیے گا۔ جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔
(ازالہ ص خزائن ج ٣ ص ١٠٤)
یوحنا ٥ باب ٢٤ آیت میں مسیح کا یہ قول ہے ۔ کہ ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں وہ جو میرا کلام سنتا ہے اور اس پر جس نے مجھے بھیجا ہے ایمان لاتا ہے۔ ہمیشہ کی زندگی اس کی ہے۔“
یوحنا ٨ باب ٥١ آیت ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں۔ اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے تو ابد تک موت کو ہرگز نہ دیکھے گا۔“
یوحنا ١٠ باب ٢٨ آیت ”میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں۔ وے کبھی ہلاک نہ ہونگے۔“
مرزا قادیانی نے یہ فقرہ مسیح کے ان فقرات سے (اُڑا کر تعریضاً انہی پر وارد کیا۔ اور سعدی کا شعر سچ کر دکھلایا۔)
وغیرہ وغیرہ بہت سے مقامات ہیں جن میں مرزا قادیانی نے ظاہر کیا ہے۔ کہ مثیل مسیح بننے سے ان کو بہت بڑی عار ہے۔ ہاں عبارت میں بہت سے ایسے نمونہ بھی پائے جاتے ہیں۔ کہ ان کو رسول اللہؐ پر بھی گویا فضیلت حاصل ہے صحابہ اور ائمہ ہدیٰ سے بھی فضیلت رکھنے کا اقرار تو خود انہوں نے کر ہی لیا ہے۔ پس بدیں صورت میں نہیں جانتا۔ کہ آج تک انہوں نے کیوں اپنے
٩٦
آپ کو ایک ایسے شخص کا مثیل بتانے پر ہی اکتفا کی ہے جس کے فعل مکروہ اور قابل نفرت اور کھیل و لہو ولعب ہیں۔ شاید کوئی مصلحت غامضہ ہوگی۔ آئندہ چل کر یہ راز بھی کھل جائے گا۔
مثیل کا معنی:
مثیل کے معنے لغت میں مانند۔ افزوں۔ بزرگ۔ فاضل۔ نیکو۔ برگزیدہ ہیں۔ لیکن کسی مقام پر نہیں بتلایا گیا۔ کہ آپ کن معنے کے اعتبار سے مثیل بنتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام سے بزرگ و افزوں ہونے میں یا مانند ہونے میں۔ اگر مانند ہونے میں ہی مراد ہے۔ تو جس طرح کہ عیسیٰ بن مریم کا نزول قرآن وحدیث سے لیا گیا ہے۔ معلوم نہیں کہ آپ نے یہ لفظ کہاں سے لیا ہے اور بطور لغت شرعی کے کہاں سے اس کا استعمال فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی نے جو ازالۃ الاوہام میں لکھا ہے۔
”ہماری اس بات کو وہ حدیث اور بھی تائید دیتی ہے جو مثیل مصطفیٰ کی نسبت ایک پیشین گوئی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مہدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ کیونکہ اس حدیث میں ایسے لفظ ہیں جن سے بصراحت پایا جاتا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ پیشین گوئی میں اپنے ایک مثیل کی خبر دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا۔ ”یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی.“ یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا۔ اور میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام اب دیکھو کہ خلاصہ اس حدیث کا یہی ہے کہ وہ میرا مثیل ہوگا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٤٧، ١٤٨ خزائن ج ٣ ص ١٧٥)
ناظرین! ہم مثیل کے اوصاف وشرائط سے بہت کم واقف تھے اس لئے مرزا قادیانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی حدیث میں ہم کو ان اوصاف کا مصداق انہوں نے بتلایا۔ اب ہم مرزا قادیانی کی عطا کردہ کسوٹی پر ان کے دعویٰ کو بھی کس لینا مناسب سمجھتے ہیں۔ اگر بمعنائے خبر نبویؐ مثیل کے لئے خلق میں اور خلق میں مانند ہونا اور نام میں باپ کے نام میں ایک ہونا ضروری ہے۔ تو مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کس پہلو اور کس وجہ سے
٩٧
مماثلت شدید رکھتے ہیں؟ بینوا ولا تکتموا.
- ١.......... آیا خلق میں کہ وہ پاک کنواری کے بطن سے اور روح القدس کی بشارت سے پیدا
ہوئے تھے؟
- ٢.......... یا خلق میں جنہوں نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ جو ایک کوس بیگار چلے۔ اس کے ساتھ دو کوس
چل۔ جو ایک گال پر طمانچہ مارے اس کی طرف دوسرے گال بھی کردے؟
- ٣.......... یا نام میں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام تھے اور آپ غلام احمد ہیں؟
- ٤.......... یا باپ کے نام میں کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام مرزا غلام
مرتضیٰ تھا؟
اگر کسی بات میں بھی نہیں تو حسب حدیث نبویؐ ہم جرأت اور صفائی کے ساتھ عرض کر سکتے ہیں۔ کہ مرزا قادیانی میں مثیل عیسیٰ علیہ السلام بننے کے کوئی صفت نہیں اگر ہم مہدی کے بارہ میں ان حدیثوں کا بھی خیال رکھیں۔ جن میں رسول اللہؐ نے مہدی کو اپنا بیٹا فرمایا ہے۔ اور اپنے خاندان میں سے بتلایا ہے۔ جب بھی افسوس کے ساتھ جو نتیجہ ہم نکال چکے ہیں اس کی تائید بڑھ جائے گی۔
اس باب میں صرف دو امور تحقیق طلب ہیں۔
- اول...... یہ کہ کسی بزرگ کو کسی بزرگ کا مثیل کہا بھی گیا ہے یا نہیں؟
- دوم...... یہ کہ تحقیق مماثلت کے واسطے کن امور کا لازمی طور پر پایا جانا ضروری ہوتا ہے؟
مہدی علیہ السلام کی جو حدیث ازالۃ الاوہام میں لکھی گئی ہے۔ اس سے چار امور کا پایا جانا مماثلت کے لئے ثابت ہوتا ہے۔ یعنی نام۔ باپ کا نام۔ خلق۔ خلق۔ نام اور باپ کا نام ان دونوں کو تو بحث سے علیحدہ کر دینا چاہئے کیونکہ اثبات مماثلت کے وقت مرزا قادیانی ان پر ہرگز بحث نہیں کر سکتے۔ اب رہے خلق۔ خلق۔ تو جہاں تک کہ میرا خیال ہے ان دونوں میں یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں موافقت ۔ مناسبت و مشابہت ہونے کی حالت میں بھی نہ مماثلت مانی گئی
٥٨
ہے اور نہ سلف سے خلف تک لغوی یا شرعی طور پر کسی کو کسی کا مثیل قرار دیا اور پکارا گیا ہے خلق کے بارہ میں دیکھو۔ (بخاری ج ١ ص ٥٣٠ باب مناقب الحسن والحسین) صحیح بخاری میں ہے۔ كَانَ الْحَسَنَ یشبہ . مگر امام حسنؓ کو مثیل مصطفیٰ کہہ کر نہیں پکارا گیا۔ خُلق کے لحاظ سے ملاحظہ کرو اسی
صحیح میں ہے۔ ”عن عبد الرحمن بن يزيد قال سألنا حذيفة عن رجل قريب السمت والهدئ من النبى صلى الله عليه وسلم حتى نأخذ عنه قال لا اعلم احد اقرب سمتاً وهدياً ودلّاً بالنبى صلى الله عليه وسلم من ابن ام عبد.“
(بخاری ج ١ ص ٥٣١ باب مناقب عبداللہ بن مسعودؓ)
باایں ہمہ محامد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو مثیل مصطفیٰ کا خطاب نہیں دیا گیا ہے۔ خلق ، خلق دونوں کے اعتبار سے نظر کرو کہ صحیحین میں حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کی منقبت میں ارشاد نبوی موجود ہے۔ ”اشبهت خَلقی و خُلقی“ (بخاری ج ١ ص ٥٢٦ باب مناقب جعفرؓ بن ابی طالب الہاشمی) لیکن ان کو بھی مثیل مصطفیٰ سے مخاطب نہیں کیا گیا۔
اب قرآن شریف کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ دو بزرگوار بندوں اور رسولوں میں خلق، خُلق میں کیسی موافقت ظاہر کی گئی ہے اور دونوں کے لئے ایک ہی الفاظ قرآن مجید جیسی اعلیٰ بلاغت اور فصاحت والی کلام میں استعمال کئے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ امر جب تک کوئی خاص خوبی نہ ہو۔ بلاغت اور فصاحت کے خلاف ہے۔
- ١............ حضرت یحییٰ کی خبر ولادت فرشتہ سے سن کر حضرت زکریا علیہ السلام کہتے ہیں۔
﴿رَبِّ انى يكون لى غلام وكانت امراتى عاقر، وقد بلغت من الكبر عتيا۔﴾ (مریم۔٨)
- ٢............ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر ولادت فرشتہ سے سن کر حضرت مریم علیہا السلام کہتی ہیں۔
﴿قالت انى يكون لى غلم ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيّاً ﴾ (مریم۔٢٠)
- ٣............ حضرت زکریا علیہ السلام کو فرشتہ نے جواب دیا۔
٩٥
﴿قال کذالک قال ربک ھو علی ھین۔﴾
(مریم۔٩)
حضرت مریم علیہ السلام کو فرشتہ نے جواب دیا۔
﴿قال کذالک قال ربک ھو علی ھین۔﴾
(مریم۔٢١)
- ٤.......... حضرت یحییٰ علیہ السلام کو جو ارشاد الہی ہوا۔
﴿یا یحییٰ خذ الکتب بقوۃ وآتینا الحکم صبیا وحناناً من لَّدنا وزکوۃ وکان تقیا وبرا بوالدیہ ولم یکن جبارا عصیا وسلام علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا0﴾
(مریم ١١۔١٥)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو قدرت ربانی سے ماں کی گود میں کہا۔
﴿انی عبداللّٰہ اتنی الکتب وجعلنی نبیًّا وَّجَعَلَنِیْ مبارکاً این ماکنت بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیّا وبرّاً بوالدتی ولم یجعلنی جبّاراً شقیا والسلام علّی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیّاً﴾
(سورہ مریم۔٢٩۔٣٣)
دیکھئے دونوں نبیوں میں قرابت خاندانی کے علاوہ کس قدر خلقی و خلقی یگانگت پائی جاتی ہے مگر ان میں سے بھی ایک کو دوسرے کا مثیل کسی نے نہیں قرار دیا اور اس خطاب سے کوئی نہیں پکارا گیا بلکہ اس بات کا نشان ملتا ہے کہ مراتب قلبی و روحانی اور احوال وجدانی پر اگر نظر ڈالی جائے تو ان دونوں بزرگواروں میں بھی فرق بین آشکار ہوگا۔
چنانچہ حدیث میں وارد ہے اور اس کو شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے فصوص الحکم میں بھی مذکور کیا ہے کہ یحییٰ علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ تم نے تو اللہ کے غیض و غضب کو گویا فراموش ہی کر دیا۔ مسیح نے جواب دیا کہ تم نے تو اللہ کے رحم اور عفو کو گویا بھلا ہی دیا۔ اللہ اکبر۔ ایک سراپا بیم ہیں اور ایک سراپا رجاء۔
عیسیٰ علیہ السلام اور زکوٰۃ:
جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید میں ہے
١٠٠
اوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیاً۔ اس جگہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ تو ان پر تو جب تک زندہ ہیں۔ نماز وزکوٰۃ فرض ہے۔ ”آسمان پر حضرت عیسیٰ زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہونگے۔ کون لیتا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٣٦ خزائن ج ٣ ص ٣٣٣)
اس تقریر میں کچھ شوخانہ استہزاء بھی کیا گیا ہے) اس دلیل کو ہمارے بھائیوں نے وفات عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ایسا قوی ومستحکم خیال کیا ہے۔ جس کا ان کے زعم میں کوئی جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ سو یہ عقدہ یوں حل ہوتا ہے۔
- ١...........کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے ویسا ہی دینا بھی حرام ہے۔ (ترجمہ
مشکوٰۃ نواب قطب الدین) جس کی وجہ یہ کہ ان کا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔
- ٢........... زکوٰۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اہل نصاب
ہونا‘ اس سے ظاہر ہے کہ کبھی ایک کپڑے سے زیادہ دو کپڑے ان کے بدن مطہر پر نہیں دیکھنے گئے۔ اور جو کپڑا پہنتے بھی وہ بھی بسا اوقات ٹاٹ۔ کمبل کا کبھی دو وقت رات دن میں شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ کبھی دو رات ایک مقام پر قیام نہیں کیا۔ کیا ایسا شخص جس کا یہ حال ہو کہ بالشت بھر زمین سکنی یا زرعی کا مالک نہ ہو اور سیر آٹا یا دانہ جس کے پلہ میں کبھی بندھا نہ ہو۔ ٹاٹ کمبل کے سوا اس کے پاک جسم سے کوئی کپڑا چھوا نہ ہو وہ اہل نصاب ہو سکتا ہے۔
اب رہا یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ”اوصانی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سو اس کے معنی سمجھنے کے واسطے تمام قرآن شریف کو پڑھ کر ملاحظہ کیجئے۔ احکام کے نازل ہونے کی دو صورتیں ملیں گی۔ یا تو ”یایہا الذین امنوا“ کہہ کر سب کو مخاطب کیا گیا ہوگا۔ اور یا صرف رسول ہی کو ”یا یھا النبی یا ایھا الرسول. یا ایھا المزمل‘ یا ایھا المدثر.“ وغیرہ وغیرہ کہہ کر تو اس سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا۔ کہ جن احکام میں صرف جناب رسول اللہ ﷺ مخاطب ہیں۔ وہ جناب نبی امی کے لئے خاص حکم ہیں۔ اور امت پر نہ وہ فرض ہیں۔ اور نہ امت کو ان کی تعمیل ضروری؟
- ١....... وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب. (ق . ٣٩)
١٠١
- ٢ ............ يا ايها النبى اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن واحصوا العدة
(طلاق۔١)
- ٣ ............ خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاهلين
واما ينزغنك من الشيطان نزغ . فاستعذ بالله انه هو السميع العليم .
(اعراف ١٩٨، ٢٠٠)
- ٤ ............ ولا تكن من الممترين. (آل عمران . ٦٠)
- ٥ ............ فلعلك باخع نفسك. (كهف . ٦)
تو کیا ان سے ثابت کر سکتا ہے؟ کہ یہ شریعت نہیں۔ بلکہ احکام مختص بہ ذاتِ خاص ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی بھی ان کو شریعت مانتے ہیں تو ”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ“ میں بھی یہی ہے اور سیاق عبارت بھی یہی چاہتا ہے کیونکہ جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنا نبی ہونا ظاہر کیا تو اپنے ارکان شریعت کا بتلانا بھی ضروری تھا اور وہ زکوٰۃ وصلوٰۃ آپ نے بتلا دیئے اور چونکہ ”اتانی الکتب“ کہا تھا۔ اس لئے ضرور تھا کہ پہلے صاحب کتاب ہی مکلف ٹھہرے۔ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ ”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ“ میں ایک اور راز لطیف ہے۔ یعنی رد نصاریٰ جو یوں ہے کہ جب مسیح خود مکلف احکام تھے اور نماز وزکوٰۃ ان پر اور ان کی امت پر فرض کی گئی تھی تو ایسا عبادت گزار بندہ معبود یا معبود کا کوئی جزو نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھئے بیضاوی شریف میں (جس سے مریدان مرزا قادیانی نے استدلال کیا ہے) کیا لکھا ہے ”و اوصانی وامرنی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ. زکوٰۃ المال ان ملکته اوتطهیرا النفس عن الرذائل“ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ مال ہے۔ اگر وہ صاحب نصاب ہوں ورنہ نفس کو رذائل سے پاک صاف رکھتا ہے اور چونکہ ہم لکھ چکے ہیں اور بالمقابل لکھ کر دکھا چکے ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یحییٰ علیہ السلام کے لئے قریب قریب ایک ہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس لئے دیکھو کہ یحییٰ علیہ السلام کے لئے بھی والزکوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی بیضاوی کہتے ہیں۔ ”وزکوٰۃ طهارة من الذنوب او صدقة ای تصدق الله تعالیٰ به علی ابویه او مکنه
ووقف التصدق علی الناس۔“...... وواضح ہو کہ اس مقام پر زکوٰۃ کے معنے پاکیزگی لینے کے لئے یہ قرینہ بھی ہے کہ روح القدس نے حضرت مریم علیہا السلام کو کہا تھا کہ ”لاھب لک غلاماً زکیا۔“ ظاہر ہے کہ زکیا کے معنے زکوٰۃ دینے والا نہیں ہے۔ بلکہ صاحب زکوٰۃ و طہارت ہیں۔ آخر میں ہم مرزا قادیانی کو یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر زکوٰۃ کا مال دینا وہ ثابت کر دیں گے تو ہم ان کا آسمان پر زکوٰۃ کا ادا کرنا بھی ثابت کر دکھلائیں گے۔
خلق وخُلق کی مماثلت
ا۔........... جس طرح پر کسی بزرگ کو خلق اور خُلق میں رسول کریمؐ کے ساتھ مشابہت رکھنے کی وجہ سے مثیل مصطفیٰ نہیں کہا گیا۔ اسی طرح کسی بزرگ کو خلق وخُلق مسیح علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھنے کے اعتبار سے مثیل مسیح بھی نہیں کہا گیا۔
مسلم کی حدیث میں رسول خدا ﷺ کا حضرت عروہؓ کے حق میں ارشاد موجود ہے۔ کہ وہ خلق میں مسیح سے قریب تر ہیں۔..... اور مسند احمد میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد بحق علی مرتضیٰؓ پایا جاتا ہے کہ وہ عوام کے جذبات غضب ومحبت کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہت رکھتے ہیں۔..... لیکن کسی نے بھی ان اعتبارات سے ان بزرگوں کو مثیل مسیح کہہ کر نہیں پکارا۔ حق تو یہ ہے کہ اگر تحقق مماثلت کے واسطے یہی قاعدہ عام ہو۔ تو کل کو مرزا قادیانی بول اٹھیں گے۔ کہ ”تخلقوا باخلاق اللہ“ کی دلیل سے وہ مثیل خدا بھی ہیں اور ان کا کوئی حواری کہہ دے گا کہ ”ما انا الا بشر“ کی برہان سے وہ مثیل محمد بھی ہے۔ ” نعوذ بالله من هذه الهفوات.“
خلاصہ کلام:
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب تک آپ اپنی پیش کردہ حدیث رسول کریمؐ کے موافق اور ہماری پیش کردہ آیات قرآن مجید کے موافق واحادیث صحیحین کے مطابق مثیل ہونے کا ثبوت نہ
دیں گے اس وقت تک آپ کا مثیل ہونا دشوار ہے۔
میں اس جگہ دوبارہ کہتا ہوں کہ اولاً رسول اللہ ﷺ کو مثیل موسیٰ کہنے اور ثانیاً حضرت مہدی کو مثیل مصطفیٰ بتلانے میں دونوں طرح پر رسول اللہ کی عظمت و بزرگی پر سخت حملہ ہوا ہے اور دونوں پہلوؤں سے سید الرسل احمد مصطفیٰ ﷺ کی قدرت و منزلت کا تنزل کیا گیا ہے۔ جس طرح پر کہ احادیث گزشتہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ بزرگ جو نام باپ کے نام خلق، خلق میں رسول اللہ ﷺ سے ملتا جلتا ہو اور کیا وہ بزرگ جو خلقت میں نبی ﷺ سے قریب تر ہو اور کیا وہ بزرگ جو خلق خلق دونوں میں جناب نبویؐ سے مشابہت رکھتا ہو اور کیا وہ بزرگ جو اخلاق و وقار و سیرت محمدیہؐ سے قریب تر ہو غرض کسی کو بھی باوجود تحقق مدارج مختلفہ مذکورہ کسی اعتبار سے بھی مثیل مصطفیٰ نہیں پکارا گیا۔ تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے جناب رسالت مآبؐ میں نہایت سوء ادبی کی ہے اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب ان کو مثیل مسیح بننے کی ضرورت پڑی۔ تو انہوں نے چاہا کہ سنگ بنیاد دعویٰ دو ایک ایسے بزرگوں کے نام بنائے جائیں۔ جن کی عظمت و عزت ایمانی طور پر مسلمان کے دل نشین ہو۔ پس مرزا قادیانی نے محمد ﷺ کو جن کے مقام محمود و کمال تک آدم و ولد آدم کو پہنچنا نصیب نہیں ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام کا مثیل بتایا اور پھر اس امر کے اظہار کے لئے کہ ایک رسول کا مثیل ایک امتی بھی ہو سکتا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کو نبی ﷺ کا مثیل بتایا تا کہ خود مرزا قادیانی کے دعویٰ مثیل مسیح کے لئے حجت و قوت ہو۔ مگر جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو حضرت مسیح کا روحانی طور پر مثیل بنایا ہے اور حضرت مہدی کو اپنے خیال میں مصطفیٰ ﷺ کا مثیل بتایا ہے اس طرح پر کسی عبارت اور جملہ میں یہ تحریر نہیں کیا کہ موسیٰ کے مثیل رسول اللہ ﷺ کی وجہ مماثلت کیا تھی؟ اگر مرزا قادیانی نے اپنے ذہن عالی میں ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً“ (مزمل ١٥) سے مماثلت قائم کی ہے۔ تو سخت غلطی کھائی ہے یا مغالطہ دیا ہے۔
واضح ہو کہ ائمہ لغت کے نزدیک کما ارسلنا میں ”کاف“ تشبیہ نہیں۔ بلکہ
١٠٤
”صاف“ تعلیل ہے اور اس کی مثال انہوں نے ”واذكروه كماهدكم“ پیش کی ہے۔ یعنی واذكروه لاجل هدايته پس آیت مذکورہ میں بھی اس کے معنی لاجل ارسال ہوئے۔ کہ جو حرف تشبیہ ہے اور لفظ ارسلنا جو سبب تشبیہ ہے اس سے وہ وہی نتیجہ نکال سکتے ہیں جو خداوند کریم نے اس سے نکالا ہے اور فرمایا ہے کہ ”فعصى فرعون الرسول فاخذناه اخذاً وبيلاً“ (مزمل ۔ ١٦) نہ کہ اس میں اپنے قیاس کو دخل دیں اور علم معانی سے آنکھ بند کرلیں اور رسول اللہ ﷺ کو مثیل موسیٰ کا خطاب عطا فرمائیں۔ یہ بالکل واضح امر ہے۔ کہ اگر مماثلت کوئی شئے ہے تو وجہ مماثلت بھی کوئی شئے ہونی چاہئے۔ اگر محمد ﷺ اور موسیٰ کلیم اللہ میں مماثلت اتحاد شریعت و رسالت ہے۔ تب تو بموجب آیت کریمہ
”شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصَّى بِهِ نُوْحًا وَّالَّذِىْ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوْسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ.“ (الشورى ۔ ١٣)
رسول کریم ﷺ کو مثیل نوح علیہ السلام کہنا چاہئے تھا جو خدا کے پہلے رسول تھے۔ اور آیت کریمہ میں بھی نوح علیہ السلام کے بعد بلافصل رسول اللہ ﷺ کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ امر کہ شریعت محمدی وہی شریعت ہے مجاہد کی تفسیر سے کہ آیت ہذا سے ظاہر ہے کہ۔ ”اوصیناک یا محمد واياهم دينا واحداً“ اور خداوند کریم کے اس ارشاد سے ”وان هذه امتكم امة واحدة.“ سے بخوبی واضح ولائح ہے۔
جو کچھ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو مثیل نوح علیہ السلام یا مثیل ابراہیم علیہ السلام کہنے میں بیان کیا ہے دراصل اس سے مقصود یہ ہے کہ مثیل موسیٰ کا مسئلہ ہر پہلو سے غلط ثابت کیا جائے ورنہ دراصل رسول کریم کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے کہ آپ کو کسی کا مثیل بتایا جائے بات یہ ہے کہ پہلے نبی جو ہوتے رہے وہ اپنے سے پہلی شریعت میں کچھ نہ کچھ زیادہ تو کرتے رہے۔ لیکن پہلی شریعت میں سے کم کرنے یا بدل ڈالنے کا ان کو اختیار نہ ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شریعت نوح علیہ السلام پر مناسک اعمال فطرت ختنہ وغیرہ کو ایزاد کیا۔ اور موسیٰ علیہ السلام
١٠٥
شریعت ابراہیمی ﷺ پر اونٹ کو حرام کرنا‘ سبت کو واجب کرنا۔ زنا کی سزا۔ رجم وغیرہ وغیرہ کو ایزاد کیا۔ مگر نبی ﷺ پہلے شریعتوں میں ایزاد۔ تنقیص و تبدیل تینوں امور عمل میں لاتے رہے۔ تو پھر کیونکر اتحاد شریعت میں وجہ مماثلت متحقق ہو سکتی ہے۔
مشابہت تام :
اور اگر وجہ مماثلت مشابہت تام و متابعت شدید ہے تو رسول کریم کو مثیل ابراہیم علیہ السلام کہنا زیادہ تر موزوں ہوتا جیسا کہ قرآن شریف کے مقامات متعدد سے روشن و آشکار ہے۔
- ١............. إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا (بقرہ۔٦٨)
- ٢............. واتخذوا من مقام إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى (بقرہ۔١٢٥)
- ٣............. قل صَدَقَ اللَّهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا (آل عمران۔ ٩٥)
دیکھو! ان سب آیات سے پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ملت ابراہیمی پر مبعوث تھے اور یہود و نصاریٰ کی شرائع و مصالح کے مقابلہ میں شرائع حنیفیہ کو ترجیح دیتے رہے اور اس سے بڑھ کر وجہ مماثلت یہ ہونی چاہئے کہ آپ کا وجود مبارک دعائے ابراہیمی کا نتیجہ تھا اور اگر وجہ مماثلت خلق وخلق میں متحقق ہو تو صحیح بخاری کی حدیث میں ہے۔
”ورأيت ابراهيم وانا اشبه ولده“ (ابو عوانہ ج ١ ص ١٣٠)
میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔
غرض ان سب وجوہات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مثیل موسیٰ علیہ السلام کہنے میں جو غلطی کھائی ہے وہ غلطی نہیں بلکہ مغالطہ بھی ہے اور صرف آپ کی طبع معنی خیز کا نتیجہ ہے۔
اس قدر بیان مماثلت کے بعد میں پھر توضیح المرام کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان میں نہایت گہرے پیرایہ میں ایک خاص بات کا ذکر کیا گیا ہے جس تک عام ذہنوں کی رسائی محال
١٠٦
ہے ۔ یعنی یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے اور مسیح علیہ السلام میں خاصیت وقوت روحانی ثابت کرنے کے لئے حضرت مریم صدیقہ کے قصہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پیدائش کو بدل دینا چاہا ہے حضرت مریم علیہا السلام کا روح القدس کو دیکھنا اور اس کا بشارت فرزند دینا‘ ان کا تعجب کرنا روح القدس کا حضرت صدیقہ کو قدرت وحکم ربانی کو سنا کر بشارت پر ایمان دلانا ۔ نفخ روح اور پیدائش عیسیٰ کا قصہ جو قرآن میں مفصل و متعدد جگہ مذکور ہوا ہے مرزا قادیانی نے اس کو روحانی اور عرفانی مرتبہ بتایا ہے اور اس مرتبہ کے حصول کو ایک روحانی پیدائش تعبیر کیا ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب خدا کی روح اس محب کو 'نیا تولد بخشتی ہے' ( توضیح المرام ص ٢١ خزائن ج ٣ ص ٦٢ )
اس سے کیا نکلتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا نہ ہونا اور جو قصہ کہ قرآن مجید میں ان کے تولد و پیدائش کی نسبت ہے اس کا سراسر استعارہ و مجاز ہونا۔ مسلمان بیچار ے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کو نشان قدرت ربانی سمجھتے تھے وہ سمجھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا جو قصہ کہ قرآن مجید میں نہایت صاف و واضح الفاظ میں ہے وہ ہمارے بننے والے عیسیٰ علیہ السلام کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا قصہ نہیں بلکہ وہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک ایسے روحانی و عرفانی منصب کا ذکر ہے کہ اس کا وجود روحانی تولد و پیدائش سے ہوا کرتا ہے اور اس روح کو جس کو منصب حاصل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی روح سے جو نافخ لمحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اہل ایمان غور کریں ۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کو یہ منصب حاصل تھا ان کو (بقول وتحقیق مرزا قادیانی ) بطور استعارہ ابن اللہ کہنا بھی ٹھیک ہوا اور اگر کوئی ان کو اس طرح ابن اللہ یا روح القدس کو جو ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے ابن کہہ دے تو یہ شرک نہیں بلکہ پاک تثلیث ہے ( توضیح مرام ص ٢١-٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦٢ )
اب ہم اس امر پر غور کریں گے کہ ان دونوں صفحوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ ہوا کہ ۔
- اول ......... تو حضرت مریم و حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے انکار ہے۔
- دوم ......... بطور استعارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ کہنا درست ہے۔
١٠٧
سوم......... روح القدس کو ابن اللہ کہنا ٹھیک ہے۔
چہارم......... اور چونکہ یہ منصب ایک وجدانی۔ عرفانی و روحانی منصب ہے اس لئے جس کسی کو یہ منصب حاصل ہو جائے اس کو ابن اللہ کہنا درست ہے۔
پنجم......... چونکہ جناب مرزا قادیانی اور عیسیٰ علیہ السلام دونوں اس منصب میں شریک ہیں اور قوت طبع و خاصیت میں متحد ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کو ابن اللہ کہنا ٹھیک ہے۔
اسی کتاب (توضیح المرام ص ٢٧ خزائن ج ٣ ص ٦٤) ”جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“ اے اہل توحید آپ صاحبان کے لئے یہ بھی قابل غور ہے کہ جب مرزا قادیانی استعارہ کے طور پر ابن اللہ بن گئے۔ تو استعارہ کے طور پر وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے معبود بھی بن گئے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے۔ ”قــــل ان کــان لــلـرحمن ولـدٌ فَاَنَا اول العابدین.“ (زخرف۔٨١) کہہ اے اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔ آج تک تو یہ سمجھا گیا تھا کہ نہ کوئی خدا کا بیٹا ہی ہے اور نہ کوئی خدا کے سوا محمد ﷺ کا معبود ہے لیکن اب مرزا قادیانی جب خدا کے بیٹے بن گئے۔ تو وہ بگمانِ خود رسول اللہ ﷺ کے معبود بھی بن گئے۔ نعوذ باللہ۔
ششم......... اور ہر ایک ایسی تثلیث جو بندہ کی محبت کو مادہ اور خدا کی محبت کو نر اور جو ان سے تیسری چیز پیدا ہوتی ہے اس کو ابن فرض کرنے سے قائم ہوسکتی ہے وہ پاک تثلیث ہے۔
مسلمانو! بزرگو! دیکھا بھئی۔ پاک توحید کے ساتھ کیسی پاک تثلیث نکالی گئی ہے بیشک ہم اس معنی کے لحاظ سے تو مرزا قادیانی کو مجدد ہی کہہ سکتے ہیں۔
جہاں تک بڑے بڑے انگریز فلاسفروں اور پادریوں کی تحریرات ہمارے تک پہنچی ہیں۔ ہم نے ان میں دیکھا ہے کہ وہ تثلیث کی کیفیت بیان کرنے سے عاری و عاجز ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا متفقہ بیان یہ ہوتا ہے کہ تثلیث کا پاک مسئلہ جس کی بنیاد اعلیٰ درجہ کے فلسفہ پر ہے اس کی
١٠٨
کیفیت فہم انسانی سے بالاتر ہے۔ جناب مرزا قادیانی نے نصاریٰ پر نہایت احسان فرمایا۔ کہ تجدید فرما کر اس سربستہ معمہ کو کھولا اور توحید کی طرح تثلیث کو بھی پاک ٹھہرایا اور استعارہ کے وسیع میدان میں لاکر خدا کی ایک مخلوق کی خدا کے ساتھ ابن ہونے کی نسبت کو صحیح کر دیا اور اس ارشاد ربانی کو فراموش فرمادیا کہ تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ہداً ان دعوا للرحمن ولدا. (مریم۔٩٠۔٩١) رب کریم اس گندے عقیدہ کو جو سبب بعثت نبیﷺ کا بیکار ثابت کر رہا ہے مسلمانوں کے دلوں سے دور کرے اور سب کو یہ سمجھ دے کہ مثیل عیسیٰ علیہ السلام کے بننے کے دعویٰ میں اسلام کے سب سے بڑے رکن توحید کو بھی کتنا بڑا صدمہ پہنچایا گیا ہے اور کیسے کیسے معانی تراشے گئے ہیں۔
استعارہ کی حیثیت:
اسلام کے ہر ایک ایسے لفظ کا استعمال جس میں ذرا سا دوسرا پہلو اور شک کی صورت ہو منع کر دیا ہے مسلمان جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے تو ”راعنا“ کہا کرتے یعنی ہماری طرف دیکھئے‘ یہود آتے اور اسی موقعہ پر جب اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو عین کی کسرہ ذرا کھینچ کر کہتے جو ”راعینا“ ہو جاتا۔ یعنی ”اے ہمارے چرواہے۔“ اللہ تعالیٰ کو یہ ناگوار ہوا۔ کہ مسلمان ایسے لفظ کا استعمال کریں۔ جس میں بایک لہجہ رسول کی ہتک شان کی صورت نکلتی اور یہود کی مشابہت ہوتی ہو۔ اس لئے یہ حکم ہوا کہ ”یا ایہا الذین امنوا لا تقولوا راعنا وقالو انظرنا“ مسلمانوں تم راعنا کے لفظ کا استعمال ہی چھوڑ دو۔ اس کی جگہ انظرنا کہا کرو تو اب میں کہتا ہوں کہ اہل کتاب کی کتب سماویہ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ابتدا میں یہود و نصاریٰ میں بھی انسان کو ابن اللہ کہنے کی رسم بطریق استعارہ پڑی تھی۔ کہیں یعقوب علیہ السلام کو خدا کا پہلوٹھا بیٹا کہا۔ کہیں داؤد علیہ السلام کے کل لشکر والوں کو خدا کے بیٹے پکارا۔ کہیں فرمان بردار آدمیوں اور فرمانبردار عورتوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں کہا گیا۔ وہ انسان کو خدا کا بیٹا کہا کرتے اور اس سے برگزیدہ اور محبوب مراد لیتے۔ چنانچہ اس آیت میں بھی یہی واضح ہے
١٠٩
”وقالت الیہود والنصاری نحن ابناء اللہ واحبائہ“ (مائدہ۔ ١٨) کہ ابن محبوب بطور مترادف کے معنی کے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن شریعت اسلام میں جو سب کو توحید کے صافی چشمہ کا آب زلال پلانے والی تھی اس اصلاح کو بیخ و بن سے اکھاڑا اور سب اصطلاحوں اور استعاروں کو شرک خالص بتلایا اور یوں پڑھ کر سنایا۔ ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثہ۔“ اور یہی وجہ ہے کہ آیت مندرجہ متن میں ”دعو للرحمن ولدا“ کہا گیا ہے۔ تاکہ استعارہ و کنایہ و مجاز و حقیقت سب کے لئے حاوی ہو۔ پس جب اسلام نے اخلاق میں اصلاح کی ہے۔ کہ راعنا کی جگہ انظرنا کہنے کی تعلیم دی۔ تو اب مرزا قادیانی اعتقادات میں ابن اللہ بننے کے جو دعویدار بنتے ہیں اور اس کو استعارہ کی راہ سے جائز قرار دیتے ہیں وہ اسلام کو کیا سمجھے ہوئے ہیں؟ جب جناب موصوف جانتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ جس لفظ ”ابن“ کو ابتداء میں استعارہ سمجھے تھے۔ بالآخر اسی کو حقیقت سمجھنے لگ گئے اور اسی شرک کو دور کرنے اور توحید قائم کرنے کے واسطے رسول اللہ بھیجے گئے تو پھر کیوں پچھلے زمانہ کی مشرکانہ تاویلات ومجازات کی تعلیم کو مسلمانوں کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ ہاں قرآن مجید کی تعلیم پاک تو یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ کو جو صحابہ بوجہ کمال محبت و عنایت رسول کریم زید بن محمد رسول اللہ ﷺ کہہ کر پکارا کرتے تھے اور اپنے اس قول کو حقیقت بالکل نہیں سمجھتے تھے ان کو بھی منع کیا گیا اور حکم ہوا۔ ادعوھم لابائھم ھو اقسط عند اللہ۔ (احزاب۔ ٥) کہ جس کا باپ معلوم ہو اس کے اصلی باپ کا نام لے کر پکارو۔ خدا کے ہاں یہی سچی اور انصاف کی بات ہے۔
مرزا قادیانی بتلائیں کہ خدا تو استعارہ کے طور پر ایک انسان کو بھی ایک انسان کا بیٹا کہنا ناجائز قرار دے۔ اور آپ خود خدا کے بیٹے بننے کو تیار ہوں اور اس دانش پر نصاریٰ کے رد کا بھی ارادہ کریں؟
جناب مرزا قادیانی کی رائے یہ ہے کہ ”خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے۔“
(فتح الاسلام ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١١)
١١٠
مسلمانوں کو لازم ہے کہ اپنی کل شرایع واصول وارکان وقصص کو جناب مرزا کے روبرو پیش کر کے خدا کے مقصود اصلی معانی کو سمجھ لیں ورنہ جو کچھ کہ وہ آج تک سمجھے ہوئے ہیں سب غلط ہے کیونکہ ان سے مراد ہے استعارہ اور سمجھے ہوئے ہیں حقیقت۔
تاریخی واقعات کو جو دنیا کے صفحہ پر ہو چکے ہیں۔ اور بتواتر ثابت ہیں اور اس بارہ میں ہمعصروں کے چشم دید واقعات اور عینی شہادت کا سلسلہ ہمارے تک پہنچا ہے اور سینکڑوں سال تک لاکھوں کروڑوں اشخاص کا وہ ایک مسلمہ اعتقاد رہا ہے اس کو استعارہ کہہ دینا کچھ جناب مرزا قادیانی کا ہی پہلا کام نہیں ہے ”مہا بھارت“ کتاب کے مترجم بنگالی بابو نے جو دس سال سے انگریزی میں اس کتاب کا ترجمہ کر رہا ہے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کورو اور پانڈوں کی لڑائی اور پانچ بھائیوں کا ایک عورت سے بیاہ کر لینا وغیرہ وغیرہ جو قصے مہا بھارت میں مذکور ہیں یہ سب استعارات ہیں کورو سے نفس امارہ مراد ہے جو جواء کھیل کر اور ٹھگ کر دوسرے کا ملک لینا چاہتا تھا اور پانڈوں سے نفس مطمئنہ مقصود ہے جو اگرچہ ملک کا مالک بالاستحقاق ہے مگر بھولا بھالا ہے پانچ بھائیوں سے حواس خمسہ مراد ہیں۔ اور ایک جورو سے شہوت نفس مراد ہے۔ اسی طرح اس نے تمام قصوں کو استعارہ کہہ کر بدل دیا ہے۔
پس اگر بنگالی بابو سے دس سال بعد مرزا قادیانی نے واقعات کو مسلمہ استعارہ کہہ دیا تو اس میں نہ ان کی جدت طبع ہے اور نہ ایک مبصر کی نگاہ میں یہ نئی بات۔
محدثیت
”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔“
(توضیح مرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)
جواب
رئیس المحدثین شاہ ولی اللہؒ اپنی لاثانی کتاب حجۃ اللہ البالغہ ص ٢٨٣ پر۔ شعب یقین
١١١
کا ذکر کرتے کرتے فرماتے ہیں کہ شعب یقین میں سے صدیقیت و محدثیت بھی ہے اور ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ امت میں سے کوئی شخص اپنی اصل فطرت سے انبیاء کا ایسا مشابہ ہو جیسا دانا شاگرد محقق استاد کا ہوتا ہے پس اگر یہ مشابہت قوائے عقلیہ میں ہوتی ہے تو اس کا نام شہید و حواری ہوتا ہے اور ان ہی دونوں اقسام کی جانب اس آیت میں اشارہ ہے۔ ﴿والذين آمنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء﴾ (حدید-١٩) اور صدیق و محدث کے درمیان فرق یہ ہے (ج ١ ص ٥٢١ مناقب عمرؓ) صحیح بخاریؒ کی حدیث میں صاف طور پر یہ آ گیا ہے۔ ”ما كان في ما قبلكم يكلمون وفي رواية محدثون من غير ان يكونوا انبياء“۔ محدث نبی نہیں ہوتے۔ لیکن مرزا قادیانی بر خلاف حدیث صحیح اپنی طرف سے یہ مستزاد کہہ دیتے ہیں۔ کہ وہ نبی ہی ہوتا ہے اتنا بھی غور نہیں کرتے۔ کہ محدث امت محمدیہ حضرت فاروق اعظمؓ نے تو جن کی منقبت میں یہ حدیث بھی موجود ہے۔ ”لو كان بعدى نبياً لكان عمر“۔ ساری عمر میں کبھی بھی اپنے آپ کو ایک قسم کا نبی نہ کہا۔ پھر مرزا قادیانی خود محدث بن کر کس منہ سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کو ان احادیث صحیحہ کے ابطال سے بھی شرم نہیں آتی۔
صفات صدیقین
صدیق کا نفس، نفس نبی سے نہایت قریب الماخذ ہوتا ہے جیسا کہ کبریت کو آگ سے نسبت ہوتی ہے۔ پس صدیق جو کچھ نبی سے سنتا ہے اس کے نفس میں وہ نہایت شاندار ہو کر واقع ہوتا ہے اور اس کے نفس پر شہادت کا تلقی شروع ہوتا ہے اور یہ حالت ہو جاتی ہے کہ جو علم اس کو حاصل اور روشن ہو گیا ہے۔ گویا وہ خود اسی کے اندر سے ملا ہے۔ کسی کی تقلید سے نہیں۔
اور انہی معنی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے۔ ”ان ابابكر الصديق كان يسمع دوّى صوت جبريل حين كان ينزل بالوحى على النبى صلى الله عليه وسلم ۔“ (باب فضائل ابی بکر ؓمسلم ج ٢ ص ٢٧٢)
١١٤
ہاں صدیق کی شان یہ ہے کہ اس کی ذات میں محبت رسول ﷺ نہایت کاملیت کے ساتھ پیدا ہوتی ہے جس سے بڑھ کر افزونی ممکن نہیں پس صدیق اپنے نفس اپنے مال کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت کرتا اور ہر حال میں اس کی موافقت میں رہتا ہے۔ چنانچہ نبی اللہ نے حضرت ابابکر رضی اللہ عنہ کے حال سے یوں خبر دی ہے۔ اِنَّ اَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ فِیْ مَالِہٖ وَ صُحْبَتِہٖ اور نبی ﷺ نے حضرت صدیق کے حق میں یہ شہادت بھی دی ہے لو کنت ان یتخذا خلیلاً لا تخذت ابابکر خلیلاً
(مسلم ج٢ ص٢٧٢ باب فضائل ابی بکرؓ)
اگر انسانوں میں سے کسی کو خلیل بنانے کا امکان ہوتا۔ تو ابوبکر ہی حضور کا خلیل ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انوار وحی نبی ﷺ کے نفس مقدس سے صدیق کے نفس مبارک پر پے در پے اترا کرتے ہیں اور جہاں تک کہ تاثر اور تاثیر فعل اور انفعال متواتر و مکرر ہوتے رہتے ہیں۔ فنا و فداء کے مراتب حاصل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ صدیق کا کمال جو کہ اس کا غایت مقصد ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کی صحبت میں رہنے اور کلام نبوی سننے پر موقوف ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ سب سے زیادہ حاضر صحبت نبوی صدیق ہی ہو اور صدیق کی علامت میں سے یہ بھی ہے کہ تعبیر خواب میں سب سے بڑھ کر دانا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ صدیق پر ادنیٰ ادنیٰ اسباب سے امور غیبیہ کا تلقی کیا جانا مقدر ہوتا ہے اور یہی باعث ہے کہ واقعات کثیرہ میں نبی ﷺ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے تعبیر پوچھا کرتے تھے۔
محدث کی صفات
محدث وہ ہے کہ اس کا نفس عالم ملکوت کے بعض معانی کی طرف مبادرت کیا کرتا ہے پس جتنا کچھ کہ خدا نے اس کے لئے مہیا کر دیا ہوتا ہے محدث اس علم میں سے لے لیتا ہے تا کہ نبی ﷺ کی شریعت کے لئے باعث امداد اور انتظام بنی آدم میں سبب اصلاح ہو۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی نہیں اترتی۔ مگر اس کی مثال اس شخص کی سی سمجھو۔ جو خواب میں اکثر حوادث کو جو ابھی ملکوت میں جمع ہوتے ہیں ان کی وضع ایجاد ہی پر دیکھ لیتا ہے اور یہ محدث کا خاصہ ہے کہ قرآن
١١٣
اس کی رائے کے موافق اکثر حوادث میں نازل ہوا اور یہ بھی ہے کہ وہ خواب میں نبی ﷺ کو دیکھے گویا حضور نے دودھ سے خود سیر ہو کر پھر اپنا پس خوردہ محدث کو عطا کیا ہے۔
ترتیب استحقاق خلافت
صدیقؓ خلافت کے لئے سب آدمیوں سے مقدم واولیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ جو عنایت الٰہی کہ نبی کے ساتھ ہوتی ہے اور جو نصرت و تائید خاص کہ نبی کو خدا کی جانب سے ملی ہوتی ہے صدیق کا نفس بھی ان سب کا محل و مورد ہوتا ہے اور یہ حال ہو جاتا ہے کہ گویا نبی ﷺ کی روح مبارک صدیق کی زبان پر بول رہی ہے ہاں حضرت عمرؓ کے اس قول کے یہی معنی ہیں۔ جبکہ آپ لوگوں کو بیعت صدیق کے لئے بلا رہے تھے۔ تو آپ نے کہا تھا۔
﴿فان یک محمد صلی الله علیه وسلم قد مات فان الله قد جعل بین اظهرکم نوراً تهتدون به هدی الله محمداً صلی الله علیه وسلم وآن ابابکر صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم وثانی اثنین وانه اولی المسلمین بامورکم فقوموا فبایعوہ.﴾
(بخاری ج٢ ص١٠٧٢ باب استخلاف)
اور رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کے یہی معنی ہیں کہ
﴿اقتدوا بالذین من بعدی ابابکر و عمر.﴾
(ترمذی ج٢ ص٢٠٧ باب مناقب ابی بکر الصدیقؓ)
اور یہی معنی ہیں اس آیت کے۔
﴿والذی جاء بالصدق وصدق به اولئک هم المتقون.﴾
(الزمر . ٣٣)
اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے۔
﴿لقد کان فیما قبلکم محدثون فان یکن فی امتی احد فعمر.﴾
(بخاری ج١ ص٥٢١)
اور بخاری و مسلم و ترمذی کی ایک روایت میں ابن عباسؓ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ
١١٤
رسول اللہ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ محدث ہے۔
ہم افسوس کرتے ہیں کہ (فتح الاسلام ص ٢١٦ خزائن ج ٣ حاشیہ ص ١١) پر اس حدیث کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ بزرگو۔ مسلمانو۔ اس بیان سے جو شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا ہے اور ان آیات واحادیث صحیح سے جن پر شاہ صاحب مرحوم نے تمسک کیا ہے کیسا صاف اور روشن ہو گیا کہ سوائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے امت محمدیہ میں کوئی محدث نہیں۔ جیسا کہ ابوبکرؓ صدیق کے سوا بھی کوئی نہیں اور ان صفات وخواص سے جو محدث میں ہوتے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ محدث کا عہد سعادت عہد محمد رسول اللہ ﷺ میں ہی ہونا ضروری ہے کیونکہ قرآن کا اکثر حوادث میں اس کی رائے کے موافق نازل ہونا زمانہ نزول قرآن کو اور اس زمانہ میں وجود محدث کو چاہتا ہے۔ اور صدیق کے بعد مستحق تر خلافت کا ہونا بھی عہد خلافت راشدہ کے اندر ہی وجود محدث کو ثابت کرتا ہے نہ کہ چودہ سو صدی بعد کے زمانہ کو۔
وجود ملائکہ
مرزا قادیانی نے وجود ملائکہ کی نسبت یونانی خیالات فلسفیانہ تاویلات بیان کی ہیں اور تعلیم اسلام پر دساتیر ووید کی تعلیم کو ترجیح دی ہے ملائک کے فی الخارج وجود کا انکار کیا ہے اور وید و دساتیر کے مذہب کے موافق ان کو ارواح کواکب بتلایا ہے۔ ان کا چلنا۔ پھرنا زمین پر آنا محال کہا ہے۔ (توضیح مرام ص ٣٣ خزائن ج ٣ ص ٨٦٧)
وَ لَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْئَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ هٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ ط وَ جَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ط وَمِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّئَاتِ ط قَالَ يٰقَوْمِ هٰؤُلَاءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ط اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ o قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ م وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ ط قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ آوِيْ اِلٰی رُكْنٍ شَدِيْدٍ o قَالُوْا يَالُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْا اِلَيْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ ط اِنَّهُ مُصِيْبُهَا مَا
١١٥
أَصَابَهُمْ . اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ o فَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيلٍ مَّنْضُوْدٍ. ﴾ (ہود۔٧٧۔٨٢)
جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے وہ ان کے آنے سے تنگ دل ہوا اور اپنے جی میں رک گیا اور بولا آج کا دن بڑا سخت ہے اور اس کے پاس اسکی قوم بے اختیار دوڑتی آئی۔ یہ پہلے سے برے کام کرتے تھے (حضرت لوط علیہ السلام) نے کہا لوگو یہ میری بیٹیاں ہیں۔ جو تم کو ان سے پاک تر ہیں۔ تم اللہ سے ڈرو۔ اور مجھ کو میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی نیک راہ نہیں ہے (لوگوں نے) کہا تو جان چکا ہے کہ ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ دعویٰ نہیں اور تجھ کو معلوم ہے جو کچھ ہم چاہتے ہیں (لوط نے) کہا اگر مجھ کو تمہارے سامنے زور ہوتا یا میں مضبوط جگہ میں ہوتا (تو تم ایسا نہ کر سکتے) مہمان بولے اے لوط علیہ السلام ہم تیرے رب کے فرستادہ ہیں۔ یہ لوگ تجھ تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے۔ تم کچھ رات سے اپنے گھر والوں کو (اپنی عورت کے سوا) لے کر نکلو اور تم میں کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ تیری عورت پر تو وہی کچھ آئے گا جو ان پر آئے گا ہاں ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے۔ کیا صبح نزدیک نہیں؟ پس جب ہمارا حکم پہنچا ہم نے وہ بستی زیر زبر کردی۔ اور اس پر تہہ بتہہ کنکر پتھریاں برسائیں۔
قوم لوط علیہ السلام جیسے فساق فجار کا ملائکہ کو جو متمثل بہ بشر تھے دیکھنا۔ حضرت لوط علیہ السلام کا گھر گھیر لینا‘ حضرت کی پریشانی۔ فرشتوں کا نبی اللہ کو اطمینان دلانا۔ اگلی صبح تمام بستی کو خراب و تباہ کر دینا۔ کیا یہ سب کچھ ارواح کواکب کا بیان ہے۔ روح تو حیوانات کی بھی نظر نہیں آتی۔ ان غیر مادی اجرام کی روح نے تمثیل کیونکر حاصل کر لیا اور اگر فرشتے ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے (توضیح مرام خزائن ج ٣ ص ٦٧) تو یہ کون تھے۔ جو یہ سب کرشمے لوط اور قوم لوط کو دکھلا گئے؟
﴿هَلْ اَتٰكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرَاهِيْمَ . الْمُكْرَمِيْنَ﴾ (والذاریات . ٢٤)
کیا تجھ کو ابراہیم کے عزت والے مہمانوں کی خبر پہنچی ہے۔
١١٦
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا مہمان بن کر آنا۔ خلیل الرحمٰن کا ان کے لئے کھانا تیار کرنا۔ فرشتوں کا نہ کھانا۔ بیٹے کی ولادت کا وعدہ اور بشارت خدا کی طرف سے دینا کیا یہ ارواح کواکب کا کام ہے۔ جو ذرہ بھر آگے پیچھے نہیں ہوتے ہیں؟
﴿ اذ تقول للمومنين الن يكفيكم ان يمدكم ربكم بثلاثة الاف من الملائكة منزلين بلى ان تصبروا وتتقوا وياتواكم. من فورهم هذا يمددكم ربكم بخمسة الاف من الملائكة مسومين. ﴾
(آل عمران ١٢٤۔١٢٥۔)
جب تو مومنوں کو کہنے لگا کیا تم کو کفایت نہیں کہ تمہارا رب تم کو مدد بھیجے۔ تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہوں۔ البتہ اگر تم ٹھہرے رہو اور پرہیزگاری کرو اور وہ اسی دم تم پر آئیں تو مدد بھیجے تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو پلے ہوئے گھوڑے پر ہوں۔
پہلے تین ہزار فرشتوں کی تعداد کا بتلانا اور منزلین ان کی صفت لانا۔ پھر پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ امداد کا کیا جانا اور مسومین ان کی صفت بتلانا۔ کیا یہ سب ارواح کواکب ہیں۔ کیا یہی وہ ارواح ہیں۔ جن کو ذرہ بھر جنبش نہیں؟
﴿ فارسلنا عليها روحنا فتمثل لها بشراً سويا. ﴾
(مریم۔١٧)
پھر ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اس کے سامنے بھر پور مرد بن کر کھڑا ہوا۔ غور کیجئے یہاں بھی روح کواکب ہی بھیجی گئی یا روح القدس۔ پھر بھر پور مرد بن کر کون کھڑا ہوا تھا۔ اور یہ جواب بھی کس نے دیا تھا۔
﴿ قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاماً زکیا. ﴾
(مریم۔١٩)
اس نے کہا میں تیرے خدا کا فرشتہ ہوں۔ اس لئے آیا ہوں کہ تجھ کو ایک ستھرا لڑکا دے جاؤں۔ کیا یہ روح کواکب کے ہی کرشمے ہیں۔ جس کو ذرہ برابر جنبش نہیں؟
اب احادیث کی طرف رجوع کیجئے اول اس حدیث کو لیجئے جس میں ایک سائل آیا۔ اس کی صورت۔ وضع۔ لباس۔ صحابہ کو حیرت میں ڈال دینے والے تھے۔ اس نے اسلام اور ایمان
١١ /
کے متعلق سوال کئے اور چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
﴿فانہ جبرئیل علیہ السلام اتاکم لیعلمکم دینکم﴾
یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔ اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارا دین سکھلائیں۔
(بخاری ج ١ ص ١٢ باب سوال جبرائیل النبی عن الایمان۔ مسلم۔ ترمذی۔ ابی داؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ )
یاد رہے اس کے راوی بھی حضرت عمر فاروقؓ ہیں۔
دوسری حدیث...... عن ابن عباس ان النبی ﷺ قال یوم بدر هذا جبرائیل اخذ براس فرسہ علیہ اداتہ (البخاری ج ٢ ص ٥٧٠ باب شہود الملائکہ بدرا)
بدر کے دن فرمایا۔ یہ جبرائیل علیہ السلام ہے جو سلاح جنگ پہنے گھوڑا پکڑے کھڑا ہے۔
مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہو کر آنا روح کوکب کا کام ہے یا خدا تعالیٰ کے فرشتہ کا؟
جبرائیل علیہ السلام کا گھوڑے پر چڑھ کر آنا جنود فرعون کا ان کو دیکھنا۔ سامری کا خاک نعل اسپ اٹھا لینا۔ جملہ تفاسیر قرآن مجید میں موجود ہے۔
احادیث صحیحہ اور بھی اس امر میں بے شمار مل سکتی ہیں۔
امام بخاری نے ج ١ ص ٤٥٥ پر مستقل باب ذکر الملائکہ قائم فرمایا ہے۔
مثلاً دو روز تک جبرائیل علیہ السلام کا رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھوانا۔
- (ی)...... رمضان میں رسول کریم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرنا۔
- (ک)...... دحیہؓ صحابی کی شکل پر آنا۔
- (ل)...... رسول کریم کا ام المومنین عائشہؓ یا صدیق اکبرؓ سے فرمانا کہ جبرائیل ہے اور تم
کو سلام پہنچتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
سچے مسلمانوں کو لازم ہے کہ بمقابلہ ارشادات نبوی کے معتقدات مجوس کو صحیح نہ سمجھیں تاکہ وہ اس حدیث کے مصداق نہ ہو جائیں ۔ امتهوکون انتم کما تھوکت الیہود والنصاریٰ الخ۔ (کیا تم بھی یہود و نصاریٰ کی طرح بھٹک جانا چاہتے ہو ۔)
١١٨
الدجال
دجال کی بحث کا آغاز کرنے سے پہلے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ ابن صیاد کا قصہ بھی لکھ دوں۔ کیونکہ اکثر اشخاص اس قصہ میں آکر سرگرداں ہوجاتے ہیں۔
واضح ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے انبیاء علیہم السلام کی اس سنت کے مطابق جو حضرت نوح علیہ السلام کے عہد سے معمول بہا چلی آتی تھی۔ اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا اور یہ بھی فرمایا کہ دجال کے ماں باپ کے گھر میں تیس برس تک تو اولاد ہی نہ ہوگی۔ تیس برس کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ کانا‘ بڑی بڑی داڑھوں کچلیوں والا (پیدا ہونے والے) لڑکوں میں اس کی منفعت کم ہو گی۔ اس کی آنکھیں سویا کریں گی۔ اس کا دل نہ سوئے گا۔ ہاں اس کا باپ قد کا لمبا خشک گوشت ہوگا۔ اس کی ناک ایسی ہوگی جیسے چونچ‘ اس کی ماں موٹی چوڑی لمبی ہوگی۔ جس کے دونوں ہاتھ لمبے ہوں گے ابی بکرہؓ صحابی کہتے ہیں۔ ہم نے سنا کہ مدینہ کے یہود میں ایسا ہی لڑکا پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن العوامؓ مل کر گئے۔ مولود کے ماں باپ ویسے ہی تھے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔ ہم نے پوچھا تمہارے کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تیس برس تک تو ہمارے گھر میں اولاد نہیں ہوئی پھر ہمارے ایک لڑکا‘ کانا‘ بڑے دانتوں والا منفعت میں کم پیدا ہوا جن کی آنکھیں سوتی ہیں۔ اور دل نہیں سوتا۔ ابوبکرہؓ کہتے ہیں۔ ہم (یہ باتیں کرکے) نکلے وہ لڑکا بھی دھوپ میں چادر لئے پڑا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز ایسی نکل رہی تھی جو سمجھ میں نہ آئے اس نے سر کھولا اور کہا تم کیا کہتے تھے ہم نے کہا کیا تو نے ہماری بات کو سن لیا ہے؟ لڑکا بولا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔
(ترمذی ج ٢ ص ٥٠ باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد)
ناظرین یہی لڑکا ابن صیاد ہے۔
رسول کریم ﷺ نے دجال کا حلیہ دجال کے ماں باپ کا حلیہ جو ابن صیاد کی پیدائش سے پہلے فرما دیا تھا۔ جب صحابہ کرامؓ نے دیکھا کہ وہ ابن صیاد اور اس کے والدین پر ٹھیک ٹھیک مطابق ہے تو ان دلدادگان صداقت نبوی نے یقین کرلیا کہ دجال معہود یہی ہے چنانچہ اسی بناء پر حضرت عمر فاروقؓ کی قسم تھی اور اسی بناء پر حضرت ابن عمرؓ کا یہ قول ..... مَا اَشُکُّ اَنَّ الْمَسِيْحَ الدَّجَّالَ اِبْنُ صَيَّادٍ۔ ترجمہ ..... مجھے ابن صیاد کے الدجال ہونے میں کچھ شک نہیں۔
(ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٧ فی خبر ابن صیاد)
ابن صیاد کے قصہ نے اتنا طول پکڑا کہ خود رسول کریم ﷺ بھی اسے دیکھنے کے واسطے تشریف لے گئے ایک بار تشریف لے گئے ابن صیاد سو رہا تھا اور کچھ بڑبڑاتا تھا۔ رسول کریمؐ نے چاہا۔ اس کی بڑبڑاہٹ کو سن پائیں مگر اس کی ماں نے اسے اٹھا دیا ایک دفعہ آپؐ تشریف لے گئے جب ابن صیاد قریب بلوغ تھا۔ نبی ﷺ نے دو ایک سوال کئے۔ اور پھر فرمایا۔
اِخْسَا فَلَنْ تَعْدُ قَدْرَکَ ...... ترجمہ ...... دور ہو تو اپنی قدر سے نہ بڑھ سکے گا۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ باب ذکر ابن صیاد)
(رسول کریم ﷺ کی اس الہامی پیشن گوئی پر خیال کرو۔ اور ان الفاظ کے معانی سمجھو۔ کہ ابن صیاد کا اپنی زندگی بھر کوئی فتنہ بر پا نہ کر سکے۔ نیز کوئی معتد بہا عزت و شہرت نہ پا سکنے کو کیسے واضح لفظوں میں بیان کر کے خود ابن صیاد کو نیز صحابہ کو سنا دیا کہ یہ وہ دجال نہیں ہے۔ جس کے فتنہ و شر سے اعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال پڑھ کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ بلکہ یہ تو ایک ایسا شخص ہے جو نہایت کسمپرسی کے ساتھ اپنی زندگی کو پورا کرے گا۔ اور اسلام یا مسلمانوں کو ذرا بھی نقصان و مضرت نہ پہنچا سکے گا۔ اور الدجال کے سحر و کہانت کے عشر عشیر اور اس کے فتنہ و فساد کی قدر یسیر کو بھی نہ پہنچ سکے گا اس کلام کے سامعین میں حضرت ابوبکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ بھی ہیں۔
حضرت عمرؓ نے عرض کی اجازت ہے اسے قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا۔ اِنْ یَّکُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ اِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَ اِنْ لَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ اَنْ تَقْتُلَ رَجُلاً مِّنْ اَهْلِ الْعَهْدِ۔
(مشکوۃ ص ٥٤٧ باب قصہ ابن صیاد)
یعنی اگر یہ (ابن صیاد) وہی (دجال معہود) ہے۔ جب تو تو اس کا قاتل نہیں بلکہ اس کے قاتل عیسیٰ بن مریم ہیں۔ اور اگر یہ (ابن صیاد) وہ (دجال معہود) نہیں ہے تو اہل ذمہ میں سے ایک شخص کا قتل کر دینا سزاوار نہیں۔
یہ ہیں رسول کریم ﷺ کے الفاظ ۔ ان الفاظ پر اصول بلاغت و معانی سے نظر ڈالو۔ کہ مفہوم فاروقی سوال میں اور مقصود محمدی جواب میں کیا تھا؟ چونکہ ابن صیاد ان علامات میں جو دجال معہود کی نسبت رسول اللہ ﷺ بیان کر چکے تھے۔ دجال معہود کا مثیل تھا۔ اس لئے ان قرائن کے مجتمع ہو جانے سے حضرت عمر فاروقؓ نے اس کے دجال معہود ہونے کا گمان کر لیا ......... اور گمان کرتے ہی چاہا کہ چشمہ اسلام کو اس کے ناپاک فتنوں سے صاف رکھنے کے لئے اس کا کام تمام کر ڈالیں۔ اس خیال کی تصدیق اور اجازت کے لئے انہوں نے نبی ﷺ سے حکم مانگا۔ تو سبحان اللہ
١٢٠
کیا لطیف جواب دیا ہے۔ کہ اے عمرؓ کیا تو ابن صیاد کو دجال معہود سمجھ بیٹھا ہے۔ ہاں اگر یہ دجال معہود ہوتا تو پھر تیرا قتل کر سکنا اور قتل کی قدرت رکھنا (جیسا کہ اس وقت حضرت عمر فاروقؓ کو حاصل تھی) کیا معنی رکھتا ہے؟ کیونکہ دجال معہود کو تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے سوا اور کوئی قتل نہ کر سکے گا۔ اور جب یہ یقینی بات ہے اور ابن صیاد یقینا وہی نہیں تو پھر کیوں عہد نامہ کے خلاف یہودیوں کا ایک شخص قتل کیا جائے۔ اس ارشاد نبوی سے حضرت عمرؓ سمجھ گئے کہ محض حلیہ کی مماثلت و مشابہت کافی نہیں۔ اور صرف اسی بناء پر ایک ذمی کا قتل کرنا ٹھیک نہیں چنانچہ وہ چھوڑ دیا گیا۔ اور رسول کریم ﷺ نے وقتا فوقتا دجال معہود کی علامات و نشانات کی زیادہ تر توضیح فرمادی جس کو ہم لکھیں گے تو کیا ان سب مراتب کے پایہ ثبوت پہنچ جانے کے بعد بھی کوئی شخص خیال کرتا رہے گا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے؟
(جناب مرزا قادیانی اس جگہ پر بھی غور فرمائیں گے کہ اگر دجال معہود کے حلیہ میں مثیل ایک ابن صیاد تھا۔ تو عیسیٰ ابن مریم کے مثیل سیدھے بال اور گیہوں رنگ والے اکیلے ہندوستان کے ملک میں کروڑوں ہیں۔ پس نہ تو جناب کی کچھ خصوصیت ہی ہے اور نہ اثبات دعاوی کے لئے کچھ مفید ہے۔)
ابن صیاد کا قصہ ختم کرنے سے پہلے میں ناظرین کو دو نکتوں پر توجہ دلانا چاہتا ہوں اول...... سب صاحب اس فقرہ پر غور فرمائیں جو معصوم نبی کی پاک زبان سے نکلا ہوا فقرہ ہے۔ اِنْ یَّکُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ اِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ
(مشکوۃ ص ٤٧٩ باب قصہ ابن صیاد)
کہ اگر ابن صیاد کو حسب تحقیق مرزا قادیانی دجال معہود مانا جائے تو اس کا مرزا قادیانی کے زمانہ تک (جو عیسیٰ بن مریم کے لفظ سے اپنی ذات کو مراد لیتے ہیں) زندہ رہنا ضروری ولازمی امر ہے۔ اور اس طول حیات سے اس کے لئے وہ سب کچھ جائز رکھنا پڑتا ہے۔ جس کو مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے جائز نہیں رکھتے مثلاً صدیوں تک انحطاط جسمی و تغیرات دوری سے محفوظ رہنا اور علاوہ اس کے کہ مرزا قادیانی کے بہت سے دعاوی و اصول پر پانی پھیر دیتا ہے۔ دجال کا مرتبہ ان کو مسیح کے منصب سے زیادہ ماننا لازم آتا ہے۔
لیکن اگر یہ جائز ہو کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہو اور وہ بننے والے مسیح مرزا قادیانی سے تیرہ سو برس پہلے بھی مر جائے اور عیسیٰ بن مریم کے لفظ سے کلام نبوی میں مراد مرزا قادیانی ہی کی
١٢١
ذات ہو تب إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسٰى ابْنُ مَرْيَمَ کے کیا معنی ہوں گے؟
دوم ...... نتیجہ یہ ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کو جو دجال اور اس کے ماں باپ کے حلیہ میں استعمال ہوئے تھے ظاہر ہی پر محمول کیا چنانچہ بعض علامات کی مطابقت کی وجہ سے ابن صیاد کو دجال کہنے کا یہی باعث تھا۔ ہاں نہ صرف صحابہ ہی نے ان الفاظ کو ظاہر اور حقیقت پر محمول کیا۔ بلکہ خود رسول کریمؐ نے بھی اپنی پیشین گوئی کو استعارہ یا مجاز نہیں سمجھا اور لفظ دجال کو اسم جنس وغیرہ قرار نہیں دیا۔ بلکہ ٹھیک حقیقت ہی سمجھا تھا۔ رسول کریم ﷺ کا خود ابن صیاد کو دیکھنے کے واسطے تشریف لے جانا ہمارے مدعا کو خوب ثابت کر رہا ہے۔
اب (براہ مہربانی) مرزا قادیانی بتلائیں کہ انہوں نے دجال کے لفظ سے برخلاف مفہوم محمدی واصحاب محمدی کے کئی کروڑ شخصوں کو دجال کہاں سے کہہ دیا ہے؟
لطیفہ ...... پادریوں کو دجال کہنے میں ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ کہ نوح علیہ السلام سے لے کر سب نبی اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈراتے رہے ہیں۔ نوح علیہ السلام سے رسول اللہ ﷺ تک انبیاء کے اندر حضرت عیسیٰؑ بھی آگئے ہیں اگر دجال سے مراد پادریوں کا گروہ ہے تو حضرت عیسیٰؑ کا اپنی قوم کو ڈرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خود علماء قوم سے ڈرایا۔ اور اپنے پیروکاران مذہب کو خود حاملان مذہب سے خوف دلایا۔ نہیں بلکہ یہ ثابت کیا کہ ان کے مذہب میں جو کوئی شخص علم دین حاصل کرے گا وہی دجالی منصب کو پہنچ جائے گا۔ ہاں۔ (مسلم ج ٢ ص ٣٠٧ باب فضائل غفار ...... و بخاری) کی حدیث میں جس کے راوی ابی ہریرہؓ ہیں۔ یہ بھی ہے کہ ”بنی تمیم میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں“ پس اگر پادری دجال ہیں تو بنی تمیم کی ان پر سختی آج تک کیا ثابت ہوئی ہے؟
اس نتیجہ سے یہ امر بھی ثابت ہے کہ جب دجال معہود خاص ایک ہی شخص سے کلام نبوی میں مراد ہے خواہ وہ شخص مرزا قادیانی کی تحقیقات کے بموجب ابن صیاد ہو خواہ ہمارے استدلالات کی رو سے کوئی اور بہر حال وہ ایک شخص واحد ہوسکتا ہے۔ اور چونکہ اس شخص واحد نے اب تک خروج نہیں کیا اور مرزا نے بھی آج تک اپنے زمانہ کے کسی شخص واحد کو دجال کہہ کر اس کے خروج کو ثابت نہیں کیا۔ (اور نہ وہ ثابت کرسکیں گے) تو ثابت ہوا کہ خروج دجال معہود سے پہلے دعویٰ کرنے والا شخص مسیح نہیں ہوسکتا۔ دیکھو یہی اصول مسلمہ مرزا کے نزدیک بھی مسلم ہے مرزا نے لکھا۔ ”یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح
١٢٢
ہے۔ ...... جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔"
(ازالہ ص ٤٧١ خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)
ابن صیاد کا قصہ اس قدر لکھنے کے بعد اب ہم دجال کے بارہ میں ان احادیث کو لکھنا چاہتے ہیں جن میں علاوہ ان علامات ونشانات کے جن کی مطابقت ومماثلت ہو جانے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کا گمان ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر ہو گیا تھا رسول کریم ﷺ نے دجال معہود کی بہت سی ایسی علامات ونشانات کا ذکر فرمایا ہے۔ جو ابن صیاد میں نہ پائی جاتی تھیں۔ بلکہ دجال معہود کی ذات سے خاص ہیں۔ تا کہ ارباب تحقیق بتلذذ ایمانی کے ساتھ اپنی چشم بصیرت کو روشن کر سکیں۔ (ترمذی ج ٢ ص ٤٧ باب ماجاء فی من این یخرج الدجال) میں ابی بکر صدیقؓ سے روایت ہے ”دجال زمین مشرق سے نکلے گا۔ جس کا نام خراسان ہے۔ اس کے ساتھ کتنی ہی قومیں ہوں گی جن کے چہرے سپر جیسے تہ بتہ پھولے ہوئے ہیں۔“
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نہ تو ابن صیاد ہی دجال معہود تھا کیونکہ وہ عرب میں پیدا ہوا اور عرب میں ہی مرا۔ اور نہ گروہ پادریان ہے جو امریکن اور یورپین ہیں۔ دجال معہود تو خراسانی ہوگا۔ اور اس کے لشکر کا اکثر حصہ تاتاری لوگ ہوں گے (مسلم ج ٢ ص ٤٠٥ باب فی بقیہ من احادیث الدجال) میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ”اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کے تابع ہوں گے۔ ان پر سیاہ چادریں ہوں گی۔“
یہ دجال کے بقیہ لشکر کا بیان ہے۔ سیاہ چادریں قومی وردی کے طور پر استعمال کریں گے ابن صیاد یا پادریوں وغیرہ پر یہ بات کب صادق آتی ہے؟
بخاری (ج ٢ ص ١٠٥٦ باب لا یدخل الدجال المدینۃ) میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ”دجال مدینہ کو آئے گا تو فرشتوں کو پائے گا۔ کہ اس کی چوکیداری کرتے ہیں۔ سو اس کے نزدیک نہ آئے گا۔ اور انشاء اللہ مدینہ میں طاعون بھی نہ آئے گی۔“ ابن صیاد کا جنم مدینہ کا ہے۔ وہ الدجال نہیں ہو سکتا۔
بخاری (ج ٢ ص ١٠٥٦ باب ذکر الدجال ومسلم) میں حضرت انسؓ سے روایت ہے۔ ”ہر ایک نبی نے اپنی امت کو کانے بڑے جھوٹے سے ڈرایا ہے۔ خبردار ہو کہ وہ کانا ہوگا۔ اور بے شک تمہارا خدا کانا نہیں۔ اور دجال کی آنکھوں کے درمیان ۔ک۔ف۔ر۔ (کافر) لکھا ہوگا۔“ (یہ اعتراض کہ اگر اس کی پیشانی میں۔ک۔ف۔ر۔لکھا ہوگا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور عمر فاروقؓ نے ابن صیاد پر دجال معہود ہونے کا گمان کیوں کیا۔ محض ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ امر محقق یہ ہے۔ کہ
١٢٣
جب لوگ ابن صیاد کو ان علامات کی وجہ سے جن میں وہ الدجال کا مثیل تھا۔ الدجال گمان کرنے لگے۔ تو باعلام ربانی الدجال کی وہ دیگر علامات بھی بتلائی گئیں۔ جو پہلے بیان میں نہ آئی تھیں۔ اور نہ ابن صیاد میں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً اس کا زمین مشرق وارض خراسان سے نکلنا، اولاد کا نہ ہونا۔ مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہو سکنا پیشانی پر۔ک۔ف۔ر۔لکھا ہونا وغیرہ وغیرہ۔ پس یہ کوئی اشکال نہیں ہے۔)
اس حدیث میں رسول کریم ﷺ نے واضح کیا ہے کہ الدجال خدائی کا دعویدار اور الوہیت کا مدعی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے خدائے عزوجل کی نقص وعیب سے تنزیہہ اور دجال کی اس علامت بینہ ومکتوبہ سے تذلیل فرمادی۔ اور ظاہر فرما دیا کہ اس کی پیشانی پر ”کافر“ لکھا ہو گا۔ ابن صیاد نے نبوت کا خیال تو باندھا تھا لیکن خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ بعد میں مسلمان بھی ہو گیا تھا۔
صحیح مسلم (ج ٢ ص ٤٠٤۔٤٠٥ باب قصۃ الجساسۃ) میں فاطمہ بنت قیسؓ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں نے تم کو کس واسطے جمع کیا ہے۔؟ سب نے کہا اللہ اور اس کا رسول دانا تر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے تم کو خوشی سنانے یا ڈر سنانے کے لئے اکٹھا نہیں کیا۔ میں نے تو تم کو اس واسطے جمع کیا ہے کہ تمیم داریؓ ایک مرد نصرانی تھا وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا۔ اور مجھ سے ایسی بات کہی جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال مسیح کے بارہ میں کہا کرتا تھا۔ اس نے مجھے یوں کہا کہ تمیم سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ جو لخم اور جذام کی قوم سے تھے سوار ہوا۔ سمندر میں ایک مہینہ بھر تک موج ان سے کھیلتی رہی۔ (یعنی طوفان رہا) پھر وہ لوگ سمندر میں مغرب کے وقت ایک جزیرہ کو جا لگے۔ اور جہاز سے پلوار (کشتی) میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہو گئے۔ تو ان کو ایک دابہ بھاری دم موٹے بالوں والا ملا۔ کہ اس کا آغا پیچھا بالوں کے ہجوم سے دریافت نہ ہوتا تھا لوگوں نے کہا او کمبخت تو کیا ہے؟ اس نے کہا میں جاسوس ہوں۔ لوگوں نے کہا جاسوس کیا؟ اس نے کہا۔ لوگو! اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے۔ اس واسطے کہ وہ تمہاری خبر کا نہایت مشتاق ہے۔ تمیم نے کہا۔ جب اس نے مرد کا نام لیا تو ہم اس سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔ پھر ہم جلدی جلدی چل کر دیر میں جا داخل ہوئے۔ یکایک اس میں ایک بڑا دہشت ناک آدمی نظر آیا۔ ہم نے ویسی مخلوق اور ایسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا تھا اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ دونوں زانوؤں کے درمیان دونوں ٹخنوں تک لوہے سے جکڑے ہوئے ہیں ہم نے کہا کمبخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم میری خبر پر قابو پاؤ گے۔ (یعنی تم کو کچھ تو میرا حال معلوم ہو گیا۔ اور کچھ اور زیادہ معلوم ہو جائے گا۔) اب تم مجھ کو بتلاؤ
١٢٤
کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں۔ ہم سمندر کے جہاز میں سوار ہوئے تھے۔ ہم نے سمندر کو جوش میں پایا۔ اور دریائی موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں پھر ہم اس ٹاپو سے آ لگے۔ اور چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر یہاں آ داخل ہوئے پھر ہم کو ایک بھاری دم کا دابہ بہت بالوں والا ملا۔ اس کے بالوں کی کثرت سے اس کا آگا پیچھا ہم نہ جانتے تھے ہم نے اس سے کہا کمبخت تو کیا چیز ہے۔ اس نے کہا جاسوس ...... ہم نے کہا جاسوس کیا! اس نے کہا اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے۔ البتہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے سو ہم جلدی کرتے ہوئے تیرے پاس آئے۔ اور اس سے بھی ڈرے کہ کہیں بھوت پریت نہ ہو۔ پھر اس مرد نے کہا مجھ کو بیسان کے نخلستان کی خبر دو۔ ہم نے کہا تو اس کا کونسا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا میں اس کے نخلستان سے پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے؟ ہم نے کہا ہاں پھلتا ہے۔ اس نے کہا خبردار ہو عنقریب ہے کہ وہ عنقریب نہ پھلے گا۔ پھر اس نے کہا مجھ کو طبرستان کے دریا سے بتلاؤ ہم نے کہا کونسا حال اس کا پوچھتا ہے اس نے کہا اس میں پانی ہے۔ لوگوں نے کہا اس میں پانی بہت ہے اس نے کہا البتہ اس کا پانی عنقریب جاتا رہے گا اس نے کہا مجھ کو زغر کے چشمہ کی خبر دو لوگوں نے کہا کونسا حال چشمہ کا پوچھتا ہے۔ اس نے کہا اس میں پانی ہے؟ اور وہاں کے لوگ اس چشمہ کے پانی سے کھیتی کیا کرتے ہیں؟ ہم نے کہا ہاں۔ اس میں پانی بہت ہے۔ اور لوگ اس پانی سے کھیتی کیا کرتے ہیں۔ اس نے کہا مجھ کو امّیوں کے نبیؐ کی خبر دو کہ اس نے کیا کیا؟ لوگوں نے کہا وہ مکہ سے نکلا اور مدینہ میں اترا۔ اس نے کہا۔ کیا عرب اس نبیؐ سے لڑے؟ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے کہا اس نبی نے ان کے ساتھ کیونکر کیا؟ ہم نے کہا وہ اپنے گردوپیش کے عرب پر غالب ہو گیا۔ اور انہوں نے اس کی اطاعت قبول کی۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کیا یہ بات ہو چکی؟ ہم نے کہا ہاں...... اس نے کہا خبردار ہو کہ یہ بات ان کے حق میں بے شک بہتر ہے۔ کہ اس کے فرمانبردار ہوں اور میں تم کو اپنی خبر بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں۔ (آنکھ کے ممسوح ہونے کی وجہ سے مسیح ٹھہرا) اور البتہ عنقریب ہے کہ مجھ کو نکلنے کی اجازت ہو سو نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی گاؤں کو نہ چھوڑوں گا مگر یہ کہ میں اس میں اتروں گا۔ چالیس رات کے اندر۔ سوا مکہ اور طیبہ کے۔ کہ وہاں کا جانا مجھ پر حرام ہے۔ جب میں چاہوں گا کہ ان دو بستیوں میں سے کسی میں جاؤں تو میرے آگے ایک فرشتہ بڑھ آئے گا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہوگی۔ کہ مجھ کو وہاں کے جانے سے روکے گا۔ البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتہ ہوں گے۔ کہ اس کی حفاظت کرتے ہوں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے عصاء سے اپنے منبر کو ٹکور دیا۔ اور فرمایا
١٢٥
طیبہ یہی ہے۔ طیبہ یہی ہے خبردار ہو بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے چکا؟ اصحاب نے عرض کی ہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کہ مجھ کو تمیم کی بات ۔ جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال اور مکہ و مدینہ کے حال سے خبر دیا کرتا تھا۔ اچھی لگی، خبردار ہو کہ دجال دریائے شام یا دریائے یمن میں ہے، نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے۔ (پھر حضورؐ نے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا پہلے نبی ﷺ نے دریائے شام و یمن فرمایا۔ مگر فوراً اعلام ربانی سے آگاہ ہو کر مشرق کی طرف فرما دیا۔ اور اسی کو خوب ذہن نشین مردم کرنے کے لئے یہی فقرہ تین بار دہرایا اور پھر دست مبارک سے مشرق کی جانب اشارہ بھی کر دیا ترمذی میں جو صدیق اکبرؓ کی روایت سے حدیث ہے اس میں صاف طور پر ارض مشرق و خراسان مذکور ہے۔)
(جناب مرزا قسم ہے آپ کو اس ذات پاک کی جس کے الہام سے مشرف ہونے کا آپ دعویٰ کرتے ہیں۔ کہ ایک صحابی کی روایت اکتیس شخصوں کی رویت نبی ﷺ کا اس رویت اور روایت کا تصدیق کرنا۔ اور صحابہ کے بہت بڑے مجمع میں یہ کہہ کر ”تمیم کی بات مجھے اچھی لگی جو اس بات کے موافق پڑی جو میں تم کو دجال اور مکہ مدینہ کے حال سے خبر دیا کرتا تھا ۔“ اس باب کی کل احادیث پر ایک قول جامع فرما دینا ابن صیاد وغیرہ آپ کے مقررہ کردہ دجالوں کی نفی کر دینا۔ واقعات کثیرہ کا ذکر جن کی تاویلیں آج تک آپ سے بن نہیں پڑیں۔ کیا یہ سب کچھ مل کر آپ کے نزدیک، آپ کے کانشنس کے نزدیک، آپ کی قوت ایمانی کے نزدیک، کریم بخش نمازی کی روایت کے برابر بھی نہیں جس کو وہ ایک مجذوب خارج از عقل و ہوش سے بیان کرتا ہے۔ کیا کریم بخش کی سچائی رسول کریم ﷺ سے بھی زیادہ ہے؟ کیا ایک دیوانہ کی بڑ اکتیس آدمیوں کی رویت سے جو شرف یافتہ صحبت نبوی بھی ہیں زیادہ وقعت رکھتی ہے؟ کیا چند گاؤں کے رہنے والوں کی تصدیق کہ کریم بخش نمازی ہے اس کو اصول روایت میں اتنا ثقہ ثابت کر سکتی ہے کہ صحابہ کے ایک گروہ کی روایات ہیچ سمجھی جائیں۔ بینوا وتوجروا۔)
نوٹ...... مرزا کہتے ہیں کہ ”آنحضرتؐ، ابن مریم اور الدجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو۔“
(ازالہ ص ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
حالانکہ بخاری (ج١ ص ٤٥٩ باب اذا قال احدکم آمین و الملائکة فی السماء یقولون آمین) و مسلم کی حدیث عن ابن عباسؓ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں
١٢٦
”میں نے شب معراج موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا وہ گندم گوں دراز قد‘ پرگوشت ہیں۔ جیسے شنوعہ کے آدمی۔ میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا۔ وہ متوسط پیدائش۔ سرخ وسفید سیدھے بال والے ہیں میں نے مالک کو جو خازن نار ہے دیکھا‘ میں نے الدجال کو دیکھا“ یہ سب آیات ربانی کے ملاحظہ کے وقت دیکھنے میں آئے۔ ابن عباسؓ اس حدیث کی روایت کے ساتھ آیت بھی پڑھتے تھے۔ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَائِهِ۔ ”یعنی لوگو جو کچھ حضرت نے وہاں دیکھا اور معلوم کیا ہے۔ تم اس میں شک نہ کرو۔“ چونکہ یہ حدیث بخاری ومسلم کی ہے اور اس کے راوی بھی ابن عباسؓ ہیں۔ جو مفسر قرآن بھی ہیں اور انہوں نے اپنی روایت میں ایک آیت سے بھی تمسک کیا ہے۔ لہٰذا امید ہے۔ کہ مرزا اپنے ادعا سے کچھ شرم کو کام میں لاویں گے۔
ناظرین...... ان احادیث نبوی اور کلام معجز نظام مصطفوی کے ایک ایک فقرہ پر نظر ڈالو۔ اور اس الدجال کے حالات پڑھنے کے بعد تم بھی وہی پڑھو جو معمول بہ محمدؐ یہ تھا۔
اللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔
اب میں چاہتا ہوں کہ ناظرین کے سامنے (جو ابن صیاد کا تمام تر قصہ اور دجال معہود کی حدیث پڑھ آئے ہیں) مرزا قادیانی کی تحقیقات لطیف کو پیش کروں ماشاء اللہ یہ تحقیقات کشفی ہیں۔ اور توافق احادیث کا دعویٰ بھی اسی سرمایہ (ازالہ ص ٧٦ خزائن ص ١٤٠ ج ٣) پر ہے۔
- ١...... ”ہر ایک حق پوش دجال دنیا پرست۔ یک چشم۔ جو دین کی آنکھ نہیں رکھتا“
(دجال ہے)
(فتح الاسلام ص ١٤ خزائن ج ٣ ص ١٠)
اس تعریف میں مرزا کے عندیہ میں کل مسلمان جو ان کے معتقد نہیں۔ نیز روئے زمین کے کل ادیان مختلفہ کے پیرو دجال ٹھہرے۔
- ٢...... ”بااقبال قومیں دجال ہیں“
(ازالہ ص ١٤٦۔ خزائن ج ٣ ص ١٧٤)
اس تعریف میں اقبال مندی کو دجالیت کی علامت ٹھہرایا۔
- ٣...... ”صحابہ کا اس پر اجماع تھا کہ ابن صیاد دجال معہود ہے۔“
(ازالہ ص ٢٢٢ خزائن ج ٣ ص ٢١١)
- ٤...... رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی یہ رائے ظاہر کر دی کہ دجال معہود ابن صیاد ہی تھا۔
(ازالہ ٢٢٣ خزائن ج ٣ ص ٢١٠)
نیز مرزا کے یہ فقرات بھی غور طلب ہیں۔
- ١...... ”صحابہ نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہمیں اس میں اب شک نہیں کہ یہی دجال معہود
ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی آخر کار یقین کرلیا“
(ازالہ ص ٢٢٥ خزائن ج ٣ ص ٢١٣)
- ٢...... ”آنحضرت ﷺ کا اول اول یہی خیال تھا۔ کہ ابن صیاد دجال ہے مگر آخر میں یہ
رائے بدل گئی تھی“
(ازالہ ص ٦٨٩ خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
اجماع صحابہ اور رائے رسول کریم ﷺ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
- ٥...... ”عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجال معہود ہے“
(ازالہ ص ٧٣٤ خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)
کوئی نہیں پوچھتا کہ حضرت! اگر آپ کی تحقیقات میں اجماع صحابہ میں رائے رسول کریم ﷺ میں یہ قرار پا چکا تھا۔ کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے تو اب عیسائی گروہ کو بلاشبہ دجال معہود کہنے کی آپ کو جرأت کیونکر ہوئی؟
ناظرین...... اس تحقیقات پر بھی بس نہیں۔ یہ بھی تحریر کر دیا۔
- ٦...... ”آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے“
(ازالہ ص ٢٢٧ خزائن ج ٣ ص ٢٢٠)
اچھا صاحب! اگر آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے اور آپ کا یہ اصول مسلمہ بھی صحیح ہے۔ کہ
- ٧...... ”یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح
ہے جو مسیح موعود کے نام موسوم ہے۔“
(ازالہ ص ٢٢٦ خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)
اس کے یہ معنی نکلیں گے۔ کہ پھر آپ کا مسیح ہونا بھی سراسر غلط ہے۔ خصوصاً جب اس اصول کے ساتھ یہ فقرہ بھی ملا لیا جائے۔
- ٨...... ”ادھر تو ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر کل صحابہ کا اجماع ہو چکا تھا۔
(ازالہ ص ٤٢٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٣١١)
”اور ادھر نزول عیسیٰ کی پیشن گوئی پر اجماع امت نہیں ہوا۔“
(ازالہ ص ٤٢٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
نیز اس فقرہ کو بھی شامل کر لیا جائے۔
- ٩...... یہ بیان کہ ”صحابہ کرام کا دجال معہود اور مسیح بن مریم کے آخری زمانہ میں ظہور
١٢٨
فرمانے کا ایک اجمالی اعتقاد تھا کس قدر ان بزرگوں پر تہمت ہے۔“
(ازالہ ص ٢٣٩ خزائن ج ٣ ص ٢٢١)
تو یہ سب فقرات نہایت پر زور الفاظ میں ثابت کر رہے ہیں۔ کہ نہ کوئی دجال معہود آئے گا۔ اور نہ کوئی مسیح موعود نازل ہوگا۔ نہ عیسائیوں کا گروہ دجال ہی ہے نہ مرزا ہی مسیح ہیں خیر مرزا کی یہ تحقیقات اس کو مبارک ہوں۔
میری التماس یہ ہے کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ ایک کو رانہ دعویٰ ہے اور یہ کہنا کہ رسول کریم کی رائے میں بھی ابن صیاد ہی دجال معہود تھا۔ ایک ملحدانہ گفتگو ہے۔ خروج الدجال کی احادیث کے راوی مختلف حدیثوں میں جو جو اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
(١) ابوبکر الصدیق (٢) ام المومنین عائشہ صدیقہ (٣) عثمان بن ابی العاص (٤) امین الامت ابی عبیدہ بن جراح (٥) عبداللہ بن عباس (٦) عبداللہ بن عمر (٧) عبداللہ بن بسر (٨) عبداللہ بن مغفل (٩) عبداللہ بن مسعود (١٠) ابوہریرہ (١١) معاذ بن جبل (١٢) صعب بن جثامہ اللیثی (١٣) ابی سعید خدری (١٤) سعد (١٥) حذیفہ الغطفانی (١٦) اسماء بنت الصدیق (١٧) جابر بن عبداللہ (١٨) ابی بکرہ الثقفی (١٩) انس بن مالک (٢٠) فلتان بن عاصم الجرمی (٢١) محجن (٢٢) اسامہ بن زید (٢٣) سمرہ بن جندب (٢٤) مجمع بن جاریہ (٢٥) فاطمہ بنت قیس (٢٦) عمران بن حصین (٢٧) نافع بن عتبہ (٢٨) ابی ذر الغفاری (٢٩) حذیفہ بن اسید (٣٠) کیسان (٣١) عمرو بن عوف (٣٢) حذیفہ بن الیمان (٣٣) نواس بن سمعان (٣٤) ابی امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
نوٹ....... (ان روایات کو حضرت سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب التصریح بما تواتر فی نزول المسیح جمع کر دیا ہے (فقیر اللہ وسایا)
١٢٩
اب دیکھو کہ اجماع کدھر ہے کیا اتنی بڑی تعداد صحابہ کی روایتیں (جن میں سے اکثر فقہاء ومفسر واہلبیت نبوی واکثر شرف وامتیاز میں ممیز بین الاقران ہیں) اس کو متواتر کے درجہ تک نہیں پہنچاتیں؟ اور کیا اس قدر مقتدایان ملت وائمہ ہدیٰ کی روایات اجماع کو ثابت نہیں کرتیں؟ اجماع صحابہ کا تو یہ حال ہے! اور مرزا قادیانی کی تحقیقات کا یہ حال کہ کہیں کچھ ہے اور کہیں کچھ۔ اس صفحہ پر ایک معاملہ کو بہت زور دے کر غلط ثابت کیا ہے۔ دوسرے صفحہ پر اسی معاملہ کو اس سے زیادہ زور لگا کر صحیح کہہ دیا۔ (مرزا نے لکھا ہے کہ بانی مبانی اس تمام حدیث کا نواس بن سمعان ہے۔
(ازالہ اوہام ص٧٠٣ خزائن ج٣ص١٩٩ حاشیہ)
اب وہ اس لمبی فہرست کو دیکھیں اور حضرت نواس بن سمعانؓ پر جھوٹ بولنے کا اتہام دینے اور وضع حدیث کا الزام لگانے سے بچیں یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی بن صحابی ہیں۔ جماعت کثیر نے ان سے روایت کی ہے)
اجی مرزا (قادیانی)! اگر بااقبال قومیں اور حق پوش شخص اور عیسائیوں کا واعظین گروہ وغیرہ وغیرہ سب ہی دجال معہود کا لقب پانے کے مستحق ہوتے تو کیا ضرور تھا کہ رسول کریم اپنی احادیث پاک میں دجال کا بیان اس کی علامات ونشانات وحلیہ اور اس کے ساحرانہ و کاہنانہ شعبدوں اور کرشموں کا پتہ دے دے کر فرماتے اور ایک ذہنی و وہمّی شخص کے انداز میں اس قدر تکلیف گوارا فرماتے۔ یا ایک شخص میں بعض علامات دجال کے پائے جانے کی خبر پا کر اس کے دیکھنے کو معہ صحابہ تشریف لے جاتے؟ بلکہ اس وقت کی جو حق پوش بااقبال قومیں تھیں۔ مثلاً ایران میں مجوس تھے۔ جو آگ کو خدا کا نور سمجھتے تھے۔ اور زند کو خدا کی آسمانی کتاب جانتے تھے۔ اور ہمارے انبیاء کرام میں سے کسی ایک کو بھی نبی نہ سمجھتے تھے۔ جو ملت حنیفیہ کے سخت مخالف تھے۔ اور شرک کی نجاست میں چوٹی تک غرق تھے۔ یا ہند میں ہنود تھے۔ جو بدترین مشرکوں کی طرح خدا کا جامہ بشری میں جلوہ گر ہونا بھی مانتے تھے جو مظاہر قدرت کو بھی معبود گردانتے تھے۔ جو عجائبات کے سامنے سر جھکاتے ۔ پتھر کے بتوں یا آگ کے شعلوں کو وجود باری یقین کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کی طرف اشارہ فرما دیتے اور اگر عیسائی واعظین کا گروہ ہی دجال تھا تو اس وقت کے نصاریٰ کی طرف ہی ایماء کر دیتے جو حق پوشی علم گستری اقبال مندی میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھے جو حضرت عیسیٰ کی سولی پر چڑھی ہوئی تمثیل اور مریم علیہا السلام کی (گود میں بچہ کو لئے ہوئے) تمثیل کے سامنے سجدہ کیا کرتے تھے۔ جو ہر ایک نصرانی مرد کو خدا کا بیٹا اور ہر ایک نصرانی عورت کو
١٣٠
خدا کی بیٹی کہہ کر اور واقعی سمجھ کر پکارتے تھے بے شک ایسا کرنے سے امت کو عام حیرت و سرگردانی سے نجات مل جاتی اور ایک خاص گروہ یا خاص شخص سے محترز رہنے کا حکم مل جاتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا مرزا ثابت کر سکتا ہے کہ جس کو رسول کریم ﷺ نے (نصاریٰ) کو لعنتی اور گمراہ قرار دیا ان کی تثلیث کو توڑا۔ ان کے عقائد کی لغویت ظاہر کی۔ اسے ان کو دجال کہہ دینے میں کون سا امر مانع تھا؟
یہ ایک تعجب خیز امر ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے، صحف انبیاء گذشتہ سے، اجماع صحابہ سے، اجماع امت سے، تو دجال معہود ایک شخص مفہوم ہوتا ہے۔ اور مرزا کی تحقیق میں ٣٩ کروڑ (اور اب ٢٠٠٢ء میں ایک ارب چوبیس کروڑ) مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک ارب سے بھی زیادہ اشخاص دجال قرار دیئے جاتے ہیں۔ اور اس پر طرہ یہ کہ خانہ زاد مثل ”لکل دجال عیسٰی“ کی پکار بھی بلند آواز سے دے رہے ہیں۔
مرزا نے ریل کو خر دجال بتایا۔ لله درمن قال۔
تمیم داری کی حدیث پر مرزا اعتراض کرتا ہے اور ہنسی اڑاتا ہے کہ یاجوج ماجوج کا آدمی یا دجال کی جساسہ یا ابن صیاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کر لے آئیں۔“
(ازالہ ص ٥٠٥ خزائن ج ٣ ص ٣٧١)
میں کہتا ہوں اصحاب کہف کا قصہ تو واضح لفظوں میں قرآن مجید میں مرقوم ہے وہ پہاڑ اور پہاڑ کا غار بھی دنیا ہی میں ہے۔ پھر آپ ہی ان کو دکھلا دیں۔ ورنہ یہ کہاں کا منطق ہے کہ جو چیز ہم نے دیکھی نہیں۔ دنیا پر اس کا وجود بھی نہیں؟ بے شک نئی نئی معلومات کی رو سے نئے نئے انواع خلق کا معلوم ہوتے چلے جانا اس امر کی دلیل ہے کہ سب کچھ معلوم نہیں ہو چکا اگر چودھویں صدی میں کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا ہے۔ تو انیسویں صدی میں سٹینلی نے افریقہ کے نامعلوم مقامات اور اقوام کا پتہ لگایا ہے یہ نامور سیاح اب بھی اپنی تحقیقات جاری رکھنے کو ہے۔ اگر بقول مرزا معمورہ دنیا کی حقیقت بخوبی کھل گئی ہے۔ تو اب نامعلوم مقامات اور اقوام کا روز روز کہاں سے پتہ لگتا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی ...... الدجال کی سحر و کہانت کے کرشموں کے دکھلانے کی قابلیت کا یقین کرنے کے لئے سامری کا قصہ یاد فرمائیے۔
١٤١
غلطی کا امکان
اب ہم اس دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کو قول فصیح کے قادیانی مصنف نے نہایت اعلیٰ درجہ کی فلسفی دلیل ٹھہرا کر پھر اس کو مرزا پر مطابق کیا ہے۔ جو یہ ہے۔ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا۔ میں کہتا ہوں کہ رسول خدا ﷺ کی مقدس ومطہر زندگی کے حالات کو مرزا قادیانی کے حالات سے تشبیہ دینا سخت غلطی ہے۔ دشمن و دوست کی تواریخ شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پاک زندگی قبل از اظہار نبوت و بعثت بھی پاک و مقدس تھی۔ اور رسول کریم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق روحانی اور ورع و تقویٰ و صدق و صفا کا عوام وحشی عرب پر اتنا پرتو تھا کہ صغیر و کبیر غریب و امیر آنحضرتؐ کو بجائے نام لے کر پکارنے کے کبھی صادق اور کبھی امین کہہ کر پکارتے تھے اور بڑے بڑے مقدمات میں جن میں آدھا عرب ایک طرف اور آدھا ایک طرف ہوتا۔ آنحضرت ﷺ ہی کو حکم اور ثالث قرار دیتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ کی عزت اور عظمت و جلالت قدر و بلندی شان کا یہ حال تھا کہ خود گھرانے کے لوگ (جو بزرگی خویش کے بہت کم مقر ہوتے ہیں۔ چچا۔ تایا۔ دادا۔ بابا تک آنحضرت کی نگاہ میں اپنے آپ کو مؤدب و خادم ثابت کرنا چاہتے تھے۔ برخلاف اس کے مرزا قادیانی کے اس دعوٰی مماثلت سے بھی پہلے عین اس زمانہ میں جبکہ مرزا قادیانی کی براہین احمدیہ پر ملک لٹو ہوا جاتا تھا۔ اور خریداری واستفادہ کا جوش نہایت ترقی پر تھا۔ اور تحسین و آفرین کے غلغلوں کا شور بلند تھا مختلف گوشوں سے رک رک کر آنے والی آوازیں کبھی کبھی سامعین وشائقین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھیں۔ کہ دیکھنا دھوکہ میں نہ پھنسنا یہ بڑا علاف بڑا حراف و عیار ہے۔ سینکڑوں شخصوں سے ہزاروں روپیہ کھا گیا ہے اور ڈکار تک نہیں لیا۔ ایک طرف تعلیم یافتہ گروہ کہہ رہا تھا کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے سب بناوٹ اور واہیات ہے یہ سب کچھ مرزا قادیانی کے ساتھ اسی زمانہ میں ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کا دامن اعتراضوں اور بدظنیوں ملامتوں وغیرہ وغیرہ کے گردوغبار کے دھبوں سے پاک وصاف نہیں رہا تو ظاہر ہے۔ کہ ہم ان کی زندگی کو رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ اور اسی لئے جو دلیل کہ قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے لئے قائم کی۔ اس کو مرزا قادیانی کے لئے قائم نہیں رکھ سکتے پس اس سے درگزر کر کے ہم اس دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جس کو صاحب قول فصیح قادیانی نے دوسری دلیل اسی مقصد کے لئے ٹھہرایا ہے جو یہ ہے ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال
اوحی الی ولم یوحی الیہ شی او قال سانزل مثل ما انزل اللہ (انعام٩٣)
اس جگہ بھی غور کا مقام ہے۔ کہ اگر ہر ایک دعویٰ کی سچائی اور اس کا ظاہر کر دینا ہی مان لیا جائے اور سوائے اس ادّعا و اظہار کے اور کسی دلیل و برہان کی ضرورت نہ خیال کی جائے۔ اور صرف حسن ظنی کی راہ سے قائل کے قول کو خواہ وہ کتنا ہی بعید کیوں نہ ہو تسلیم کر لیا جائے یا صرف اسی لحاظ سے کسی لکھنے والے کے لکھنے پر آمنا وصدّقنا کہا جائے کہ اس میں اس کی ذاتی غرض بظاہر معلوم نہیں ہوتی۔ تو میں کہتا ہوں اور سب مانیں گے کہ جن جن اشقیاء اور ملاعنہ کو جھوٹے نبی کا خطاب دیا گیا ہے یا خدا کہنے والوں کو کافر بتلایا گیا ہے۔ اس میں ان مدعیان خدائی ومظہران نبوت پر ظلم ہوا ہے؟ اور ان پر ناحق الزام لگایا گیا ہے بے شک ہم کو ہر ایک نیک بندہ سے حسن ظنی رکھنی چاہیے لیکن ایک حد تک یعنی جہاں تک کہ اس حسن ظنی سے ہمارے معتقدات یا ہمارے مذہب کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ شاید ہمارے برادران اسلام اس سے واقف ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کتنے لوگوں نے نبوت کا کھلم کھلا دعویٰ کیا ہے۔ یا نبی کہلانے کے پہلو کو بچا کر دیگر جملہ خصائص کو اپنے میں ثابت کرنے اور اس لئے خلق خدا کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے تدبیروں کا جال بچھایا ہے۔ میں آپ کو بطور نمونہ دکھلاتا ہوں کہ کیسے کیسے ذی علم اور بڑی بڑی کتابوں کے مصنف اور اسلام کی خدمت میں جان قربان کر دینے کا دعویٰ کرنے والے اور بعض ممالک میں اسلامی سلطنتوں کی بناء ڈالنے والے مہدویت یا مجددیت کے دعویٰ میں آخر کیسی کیسی ضلالتوں اور گمراہیوں کے موجد اور مقلد ہو گزرے ہیں۔ اور اپنے اپنے وقت میں ڈنکے بجا گئے ہیں مگر آج ان فلسفیوں اور نئے نئے مذاہب وعقائد کے بانیوں کا صفحہ ارض پر نام ونشان بھی باقی نہیں۔ بلکہ وہی مسلمان اور ان کا پاک ستھرا اسلام جو ابتدائے عہد سعادت مہد رسول کریم ﷺ سے چلا آتا تھا۔ آج تک چلا آ رہا ہے۔ اور مکہ ومدینہ کے مالک ہمیشہ وہی لوگ رہے ہیں۔ جن کو ان مدعیوں کی فلسفیانہ تاویلات سے کبھی بھی تعلق خاطر نہیں ہوا۔ یہی مسلمان خدا کے بے حد فضل و رحمت سے دنیا کے تمام براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور اپنے سچے اصولوں اور اپنی سادہ زندگی کی وجہ سے بڑے بڑے فلاسفروں اور مدبروں کی حسرت وحیرت کا باعث ہو رہے ہیں۔ فللہ الحمد۔ اب ہم اس امر کے ثابت کرنے کے واسطے کہ مسلمان کہلانے والے مگر تاویل کرنے والے اور حقیقت کو مجاز بتلانے اور حدیث وقرآن کی تفسیر خودساختہ دلائل اور خودپسندی سے کرنے والے اور ان طریقوں سے اپنا نیا مذہب بنا لینے والے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ جو موسمی حشرات
١٣٣
الارض کی طرح یک بارگی پیدا ہوئے اور مر گئے ۔ یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔
- ١۔...... اسماعیلیہ
اس کا بانی عبداللہ ابن سبا شہر ہواز صوبہ خوزستان ملک فارس کا باشندہ تھا۔ یہی شخص خاندان فاطمیہ کا بانی ہے۔ اس کی اولاد سے کئی خلیفے قاہرہ، مصر وغیرہ میں فرمانروا ہو چکے ہیں۔ اس کی قوم عرب فاتحان فارس کی دلی دشمن تھی۔ اور اپنی گذشتہ سلطنت فارس کے لئے وقت کے منتظر عبداللہ نے سوچا کہ اگر اپنا دلی ارادہ دفعتاً ظاہر کردوں تو عوام الناس قابو میں نہ آئیں گے۔ اس لئے اس نے ایک جال بچھایا اور امامت کے سات نمبر قرار دیئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لے کر جعفر صادق ؒ تک ٦ امام ہوئے۔ ساتواں خلیفہ اسمعیل تھا۔ وہ کہا کرتا کہ خدا نے آسمان و زمین سات دن میں بنائے ۔ دنوں کا شمار بھی سات پر رکھا۔ سیارات بھی سات ہیں۔ اسی طرح امام بھی سات ۔ ساتویں پر امامت ختم ہو گئی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا۔ کہ حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ کا اصلی و حقیقی وارث میں ہوں۔ مغربی عرب بھی اس کے فریب میں آگئے۔ اور کہنے لگے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی پیشگوئی کی ہے کہ ٣٠٠ برس کے بعد میرا بیٹا مغرب سے ظاہر ہوگا سو وہ یہی ہے۔
اس نے اپنے مذہب کی تعلیم کے واسطے فری میسن کی طرح لاج مقرر کئے تھے جو شخص اس کے مذہب میں آتا اسے اپنی بنائی ہوئی سات ابواب کی کتاب دیتا۔ اور اس کو لاج میں تعلیم دی جاتی، ایسا لاج پہلے پہل قیروان میں پھر شہر مہدیہ میں (مصر) میں تعمیر ہوا تھا۔ ایک مورخ لکھتا ہے کہ جب لاج مصر میں تعمیر ہوا ہے اس وقت اس کے سات درجوں کی بجائے ٩ درجے مقرر کئے گئے تھے اور ہر ایک درجہ میں یوں تعلیم ہوتی تھی۔
پہلا درجہ ...... مسائل قرآن پر شکوک اور شبہات پیدا کئے جاتے اور پیچیدہ اعتراض بتلائے جاتے تاکہ طالب کی روح میں اس مذہب کے راز سننے کی طاقت اور جاننے کا شوق پیدا ہو جائے جو شبہ یا اعتراض قرآن پر کرتے تھے۔ اس کا جواب اپنے طریق پر دیتے تھے اس درجہ کی تعلیم ختم ہونے سے پہلے قسم لی جاتی تھی کہ ہم اس تعلیم سے کبھی نہ پھریں گے۔ اور اپنے معلم کی حد سے زیادہ اطاعت کریں گے۔
دوسرا درجہ ...... امامت کے معنی اور اس کی خاصیت کہ خدائی راز ہے۔
تیسرا درجہ ...... امام سات ہیں ہر ایک پر وحی آتی تھی ہر ایک امام اپنے سے پہلے امام
١٤٤
کے مسائل کا ناسخ تھا۔ اسمعیل ساتواں امام سب سے بڑا ہے۔
چوتھا درجہ...... سات پیغمبر ناطق ہیں۔ صاحب شریعت و وحی اپنے سے پہلے پیغمبر کی شریعت منسوخ کرتے رہے آدم نوح ابراہیم موسیٰ عیسیٰ محمد (علیہم السلام) اسمعیل (ان کا امام) سات پیغمبر ساکت ہیں۔ جو ان کے تابع تھے اور ان کے احکام کے پیرو شیث، سام، اسمعیل بن ابراہیم، ہارون، شمعون، پطرس، علیہم السلام، علی، محمد بن اسمعیل امام۔
پانچواں درجہ...... ہر ایک ساکت پیغمبر کے بارہ شاگرد ہوتے ہیں۔ داعی علی الخیر و مجدد مذہب ان کا رتبہ سات پیغمبروں سے کچھ کم ہوتا ہے۔ (مرزا قادیانی نے مثیل و مماثل کا مسئلہ اسی اسمعیلیہ مذہب کے ناطق و ساکت کے مسئلہ سے لیا ہے۔)
چھٹا درجہ...... مسائل شرعیہ کے اسرار یعنی احکام میں ظاہر و باطن کا فرق ہے اور اس درجہ کی تعلیم کے آخر میں یہ ہے کہ شریعت کو فلسفہ کے تابع رکھنا چاہئے۔
ساتواں درجہ...... راز الٰہی اور الہیات کی تعلیم
آٹھواں درجہ...... افعال انسانی غیر معتبر ہیں۔ اور حسن و قبح اشیاء وہمی و خیالی ہے۔
نواں درجہ...... کسی بات کا یقین نہ کرو ہر ایک شے کے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
٢......باب
اس کا نام علی محمد تھا۔ یہ شیراز کا سوداگر بچہ تھا فارسی وعربی میں کسی قدر استعداد پیدا کی پھر تکالیف بنفس و ریاضات شاقہ کے بعد موجد مذہب ہوگیا۔ پوشیدہ پوشیدہ لوگوں کو سکھلایا کرتا تھا۔ انا باب اللہ فادخلوا البیوت من ابوابھا۔ (میں خدا کا دروازہ ہوں۔ اور گھروں میں دروازہ کے راستہ سے داخل ہونا چاہئے ۔) جو لوگ اس کے مرید خاص ہوتے ان سے کہا کرتا کہ مہدی موعود میں ہوں چونکہ مہدی موعود کا ظہور مکہ سے ہوگا۔ اس لئے میں آئندہ سال کو مکہ معظمہ سے تلوار کے ساتھ نکلوں گا اور اپنے منکرین کو قتل کروں گا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ ابھی سے شنجرف و سرخی سے خطوط لکھا کرو کہ تلوار کا زمانہ قریب ہے وہ کچھ عبارت بناتا۔ اور کہتا کہ یہ کلام خدا ہے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ جب علماء اس کے کلام کی غلطیاں بتاتے تو کہتا کہ نحو نے گناہ کیا تھا اس واسطے اب تک قواعد کی زنجیر میں جکڑا ہوا تھا۔ میری شفاعت سے اس کی رستگاری ہوئی ہے۔ اب مرفوع کی جگہ مجرور یا منصوب پڑھ لو تو کچھ مضائقہ نہیں میں امام برحق ہوں میں علی و محمد کی
١٣٥
شکل پر ہوں۔ علی اور محمد جدا جدا شخص تھے۔ میں دونوں ملکر ایک بنا ہوں۔ اسی لئے نام علی محمد ہے میری بیعت پہلے محمد نے کی ہے۔ پھر علیؓ مجھ پر ایمان لایا ہے۔ میرا کلام میرا معجزہ ہے میں ایک دن میں ہزار بیت لکھ سکتا ہوں۔ یہ کیا کم معجزہ ہے؟ ایک دن مجلس علماء میں باب کو بلوایا گیا حاکم شہر نے اس سے کہا کہ آپ علماء پر وہ مذہب حق جو آپ پر نازل ہوا ہے ظاہر کریں کیونکہ جب یہ لوگ مان لیں گے۔ تب عوام الناس کا ماننا سہل ہے یہ کلام سن کر باب شیر ہو گیا اور گرج کر بولا کہ تم لوگ کس واسطے میری اطاعت نہیں کرتے اور کیوں میری اطاعت اپنے پر فرض نہیں سمجھتے پیغمبر نے تو تم کو صرف قرآن دیا یہ دیکھو میری کتاب قرآن سے زیادہ فصیح اور اچھی ہے کیا تم اسی وقت مانو گے کہ تلوار کھینچے اور خونریزی ہو؟ بہتر ہے کہ اپنے جان و مال کی حفاظت واجب جانو اور مجھ سے خلاف اور نفاق کے راہ پر مت چلو یہ سن کر علماء چپ ہو گئے حاکم شہر نے کہا کہ جو آپ نے فرمایا بجا اور درست ہے مگر بہتر ہے کہ اپنے اصول لکھ کر ان کو دیجئے تاکہ ہر شخص پڑھ کر ایمان لے آئے یہ سن کر قلم اٹھا کر اس نے چند سطریں لکھیں۔ علماء نے دیکھا تو اس میں بہت غلطیاں تھیں۔ اس وقت حاکم شہر غضب میں آیا اور کہنے لگا کہ تجھ کو دو سطریں صحیح لکھنے کا شعور نہیں اس پر یہ بے ہودہ دعویٰ کرتا ہے کہ خاتم الانبیاء پر اپنے تئیں فضیلت دیتا ہے حکم کیا ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے اور بید پڑنے لگے تب تو رونے اور استغفار کرنے لگا اور اپنی نادانی کا اظہار کیا اس کا کالا منہ کر کے مسجد میں شیخ ابوتراب کی خدمت میں لے گئے۔ وہاں جاکر اس نے اپنے فعل اور عقیدہ پر لعنت کی یہ ١٨٤٧ء میں مر گیا۔
- ٣...... ابن ہود
دعویٰ کیا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور حضرت عیسیٰ کی روحانیت مجھے مل گئی ہے۔ اور نزول عیسیٰ کی احادیث میری شان میں ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ نے اس کے ساتھ مناظرہ و مباہلہ کیا۔
- ٤...... مختار ثقفی
دعویٰ کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا مختار ہوں اور وحی مجھ پر آتی ہے۔
- ٥....... بہبود
معتمد باللہ کے عہد میں دعویٰ کیا کہ .......................... دعوت خلق کے لئے بھیجا گیا
١٤٦
ہوں کہا کرتا تھا کہ مجھے مغیبات کا علم ہے۔ مگر نبی نہیں ہوں۔
- ٦...... یحییٰ کرویہ قرمطی
مکتفی باللہ کی خلافت میں وحی کا دعویدار تھا اور اس کا چچا زاد بھائی عیسیٰ کہتا تھا کہ قرآن میں یا یھا المدثر میری شان میں ہے۔
- ٧...... ابو طاہر قرمطی
مقتدر باللہ کے عہد میں اس نے مردہ زندہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
- ٨...... ایک جماعت
مطیع باللہ کے عہد میں تناسخ کی قائل تھی ان کا سرگروہ کہتا تھا میں جبریل ہوں اور علیؓ کی روح بھی مجھ میں ہے۔ اس کی بیوی کہتی تھی فاطمہؓ کی روح مجھ میں ہے۔
- ٩...... لا
مغرب کا باشندہ تھا وہ کہتا تھا لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ حدیث میں آچکا ہے۔ میں وہی لا نبی ہوں جو رسول اللہ کے بعد ہوا ہوں۔
- ١٠...... سموئیل
یہودی نے بیت المقدس میں دعویٰ کیا کہ مسیح بن مریم میں ہوں۔ خوش بیان شیریں زبان تھا۔
- ١١...... جلال الدین اکبر بادشاہ
اس نے کہا کہ میں مجدد الف ثانی ہوں۔ ہر صدی کا مجدد شریعت میں کچھ کم و بیش کر سکتا ہے اور مجدد الف تو خود صاحب شریعت ہوتا ہے میں وہی ہوں کہ ٹھیک وقت پر آیا ہوں۔ اور اصلاح خلق میرا کام ہے۔ اس نے عبادات وغیرہ کے طریق بھی نکالے تھے۔ الہام بھی شائع کیا کرتا تھا شکر ہے کہ مرنے سے پہلے توبہ کر کے مرا۔
- ١٢...... فارس بن یحییٰ ساباطی
ٹونس میں نبوت کا دعویٰ کیا مردہ کے زندہ کرنے اور جذامی کے اچھا کرنے کو معجزہ بتلاتا تھا۔
١٤٧
- ١٣......مس فیمیل کرائسٹ (مونث مسیح)
آج کل امریکہ میں ہے وہ کہتی ہے کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔ سینکڑوں معتقد ہو گئے۔
- ١٤......ایک عورت
ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اس نے کہا لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کی حدیث میں نبی کی نفی ہے نبیہ کی کہاں ہے؟ اس لئے عورت کا نبی ہو کر آنا درست ہے۔
- ١٥......حسن بن محمد بن کیا بزرگ امید
حشاشین کا پیشوا مرید اس کی اتنی تعظیم کرتے کہ نام کی جگہ علی ذکرہ السلام کہا کرتے اور اس کے نفس کو قیامت سے تعبیر کیا کرتے وہ خود اپنے آپ کو قیامت اور امام زماں بتلایا کرتا۔ اس نے کل رسوم شرعیہ کو نیست و نابود کر دیا تھا۔ وہ کہا کرتا کہ شریعت تکمیل نفس کے لئے ہے اور قیامت سے پہلے جب میں نے سب کو کامل بنا دیا اور واصل بحق کر دیا اور میں جو قیامت تھا آ گیا۔ اب شریعت کی کیا ضرورت ہے اس کا اعتقاد تھا کہ عالم قدیم ہے اور بہشت و دوزخ معنوی ہیں اور زمانہ لامتناہی اور معاد روحانی ہے۔ ٥٦٣ ہجری میں اپنے سالے کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔ اس فرقہ کا ایران و شام میں ایسا تسلط ہو گیا تھا کہ بادشاہ اپنے وزیر سے امیر اپنے مصاحب سے شوہر اپنی بیوی سے اس کے خلاف کہتے ہوئے ڈرتا تھا۔
”پیشین گوئی“
مرزا قادیانی کا قول ہے۔ ”اکثر پیشین گوئیاں اس آیت کا مصداق ہوتی ہیں کہ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيراً وَ يَهْدِى بِهٖ كَثِيراً۔ اس وجہ سے ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیشین گوئی کے ظہور کے وقت دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیشگوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا ہو پورا ہو جائے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔“
(ازالہ ص ٤١٢ تا ٤١٤ خزائن ج ٣ ص ٣١٦۔٣١٧)
دوسری جگہ اس پہلے دعویٰ کے لئے بطور دلیل کے یہ فرماتے ہیں۔ ”ایسی کوئی وصیت
١٣٨
پیغمبر خدا ﷺ کی طرف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی کہ تم نے پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرتے رہنا۔‘‘
(ازالہ ١٤١ خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
مرزا اپنے ان اصولوں سے وہی مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ جو اس فقرہ سے ان کو منظور ہے۔ ’’خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے۔‘‘
(فتح الاسلام ص ١٥ خزائن ج ٣ ص ١١)
مرزا کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ پر سے لغت اور شرع کی امان کو اٹھا دیا جائے اور ہر شخص کو مختار کر دیا جائے۔ کہ خواہ وہ کوئی الفاظ استعمال کرے اور ان سے کچھ بھی معانی مراد لے مثلاً دریا کہے اور جنگل مراد لے‘ کوڑی کہے اور روپیہ کو اپنا مفہوم بنا لے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان نقصوں کے علاوہ جو ان کے استعارہ و مجاز کے اصول پر عائد و وارد ہوتے ہیں پیش گوئی کے یہ معنی لینے سے جو مرزا نے بتلائے ہیں بہت بڑا نقص کمالات نبوی پر بھی لاحق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیشگوئی جو حتمی اور واضح الفاظ کے ساتھ ہو۔ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ اور عالم الغیب والشہادۃ اعلام کے بغیر کسی بشر کی یہ طاقت نہیں کہ وہ پیشگوئی کر سکے پس جس پیشگوئی کا ظہور اس کے ظاہری الفاظ کے رد سے نہ ہو وہ دو صورتوں سے خالی نہ ہو گی۔
اول...... یہ کہ علام الغیوب (خدا) کے علم میں نقص ہے جو زمانہ مستقبل کے اخبار و وقائع کو احد الناس کی طرح حتمی اور یقینی الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔‘‘ اور ہمارے نزدیک یہ قطعاً باطل ہے۔
دوم...... یہ کہ جس پر وہ پیشگوئی ظاہر کی جاتی ہے اس کی استعداد علم و فہم ناقص ہے کہ وہ باوجود اعلام الٰہی اس خبر کو صاف طور پر سمجھ نہیں سکتا یا باوجود سمجھ لینے کے اس کی تفہیم سے عاجز ہے اور یہ بھی باطل ہے رب کریم خود فرماتا ہے۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (الم نشرح) رسول مقبول کی زبان وحی ترجمان کے الفاظ مبارک ہیں عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَادِیْبِیْ۔ (مرزا نے نہایت جرات کر کے یہ اصول قائم کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اپنی بیان کردہ ان پیشگوئیوں کو نہ سمجھ سکے تھے۔ مرزا کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔
(ازالہ ص ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
اپنے اس اصول پر مرزا نے یہ دلیل قائم کی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو خود مبہم و مجمل رکھا کرتا ہے لیکن افسوس کہ مرزا اپنے اس اصول و دلیل کو کریم بخش نمازی اور مجذوب کی بڑ کے سامنے
١٤٩
بالکل بھول گئے۔ اور غلام احمد قادیان کا رہنے والا عیسیٰ ہے۔‘‘ اس کی زبان سے کہلا دیا غور کرو کہ رسول اللہ ﷺ کسی نمونہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حقیقت کاملہ کو سمجھ نہ سکے تھے تو اس مجذوب کو کونسے نمونہ کے موجود ہونے کی وجہ سے یہ حقیقت موبمو منکشف ہو گئی؟ اور جس امر کو مصلحتاً خدا نے چھپایا۔ ایک مجذوب نے کیونکر اس مصلحت کو توڑا۔ ناظرین صرف یہی بیان مرزا کی خود غرضانہ تاویلات اور خبط طبعی کا کافی ثبوت ہے۔)
پس جب یہ دونوں صورتیں بداہتہ غلط و باطل ہیں اور پیشگوئی کے اس اصول سے بھی بالکل مغائر ہیں جو سبب اظہار پیشگوئی ہوتا ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا کا قائم کردہ اصول بالکل غلط ہے واضح ہو کہ پیشگوئی سے دو بہت بڑے عظیم الشان نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔
اول...... جو پیشگوئی کرتا ہے اس کی جلالت قدر اور عظمت شان اور اس کا امور غیبیہ پر مطلع اور مؤید بروح القدس ہونا ثابت ہو جایا کرتا ہے۔
دوم...... ظہور پیشگوئی کے وقت ایمانداروں کی مسرت و نصرت اور معاندین کی حیرت و ندامت و ذلت کا ثبوت بین مل جاتا ہے۔
اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ اگر پیشگوئی اپنی ظاہری صورت ہی میں جلوہ گر نہ ہو تو پیشگوئی کرنے والے اور قیافہ شناسوں رمالوں میں کچھ فرق نہیں رہتا۔ اور اسکے ظہور کے وقت مومنین کو بھی وہ مسرت اور اطمینان قلب حاصل نہیں ہوسکتا جو کلیجہ کو ٹھنڈک اور دل کو سکون دہ ہو۔ نیز معاندین کے خلاف سرکشی کی وہ تمام راہیں بھی چاروں طرف سے محصور اور بند نہیں ہوسکتیں۔ کہ پھر ان کے لئے ذرا بھی جائے قیل و قال نہ رہے۔ کیونکہ اگر پیشگوئی نے اپنی ظاہری صورت و الفاظ کے خلاف ہی ظاہر ہونا ہے تو کیا ضرور ہے کہ تاویل کرنے والے کی تاویلوں کو بھی قطعی سمجھ لیا جائے اور کیوں مخالفین ان تاویلوں کا خاکہ نہ اڑاسکیں اور اسی لئے ان کی بدگمانی و کفر کیوں پہلے سے بھی زیادہ استوار و محکم نہ ہو جائے۔
اس قدر تمہید کے بعد میں عام مسلمانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کہ وہ ایسے نبی کریم ﷺ کی امت مرحومہ ہیں جس کو علم اولین و آخرین دیا گیا تھا جس پر حقائق اشیاء اور معارف کون و فساد واسرار عالمین کھولے گئے تھے جس کی چشم جہاں بین کے سامنے سے تمام حجاب اٹھا دیئے گئے تھے جس کے دل حقائق منزل سے علم و یقین نے وجود پکڑا ہے۔ اور جس کے نور کی پیدائش کے بعد ہست و نیست کا فرمان حوادث پر جاری ہوا ہے۔ یعنی محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ، سید المرسلین، فخرالاولین
١٤٠
ولاً خرین ﷺ یہی وجہ ہے کہ حضور کے خواب بھی اکثر اپنی ظاہری صورت میں جلوہ گر ہوتے تھے۔ چہ جائیکہ پیشگوئی کے وہ الفاظ جو رب کریم خود ان کی زبان سے کہلاتا اور اس طرح پر اپنا پاک اور قدیم کلام بندوں تک پہنچاتا تھا۔
رب کریم خود فرماتا ہے۔ لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْ يَا بِالْحَقِّ لَتَدْ خُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْشَاءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَاتَخَافُوْنَ (فتح:٢٧)
”خدا نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کر دکھایا جو یہ تھا کہ انشاء اللہ تم مسجد الحرام میں امن کے ساتھ داخل ہوگئے سر منڈائے ہوئے یا بال کترائے ہوئے تم کو کسی کا ڈر نہ ہوگا۔“
اس آیت مبارکہ پر تدبر کرو اور دیکھو کہ رسول خدا ﷺ کا خواب بھی کیسے ظاہری صورت میں جلوہ گر ہوتا تھا۔ محلقین اور مقصرین کے الفاظ بھی (جس میں مرزائی دل و دماغ کا شخص بہت تاویلات کر سکتا ہے) کیسی سچی صورت میں رونما ہوئے تھے۔
پس چونکہ اس جھوٹے اصول سے جو مرزا قادیانی نے قائم کیا ہے۔ ایک تو ان کے ہوس زر مقاصد کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے عوام کے دلوں سے انبیاء کرام کی عموماً اور ہمارے شفیع امم کی خصوصاً عظمت کم ہو جاتی ہے۔ اس لئے میں چند نظائر سے پیارے مسلمانوں کو ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم کی تمام تر پیشگوئیاں ہمیشہ اپنے ظاہری الفاظ میں ظہور پذیر ہوتی رہی ہیں۔ اور صحابہ کرام اور سلف صالحین کا ایمان بھی ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کہ ہمارے رسول کریم کی پیشگوئی ظاہری صورت میں ہی نور گستر ہوئی مومنین دیکھیں اور اس ایمان کو جو ان کو رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک پر پہلے سے حاصل ہے اور بھی زیادہ مستحکم و قوی کر لیں۔ (مرزا نے یہ ثابت کرنے کے لئے پیشگوئی میں بالکل ظاہری الفاظ مراد نہیں ہوتی یہ حدیث پیش کی اسرعکن لحوقاً بی اطولکن یداً اور افتراء یہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ازواج مطہرات اپنے ہاتھوں کو ناپتی تھیں۔
(ازالہ ص ٢٠٠ خزائن ج ٣ ص ٣٠٧)
صاف ظاہر ہے کہ ”طویل الیہ“ کے معنی ”سخی“ کے ہیں۔ اور ”طول ید“ کے معنی لغت میں فزونی توانائی‘ تونگری‘ دستگاہ‘ فراخی‘ فخر کرنا‘ احسان کرنا ہیں۔ پس اطولکن یداً کے حقیقی اور لغوی معنی احسان کرنے والی اور سخاوت کرنے والی ہوئے پیش گوئی اپنے لغوی معنی میں جو ظاہری الفاظ کا مفہوم ہیں پوری ہوئی اور ازواج میں سے وہی بی بی زینب بنت جحش ام المومنین سب سے پہلے حضرت کو جاملیں جس میں احسان وسخاوت کرنے کی صفت سب سے زیادہ پائی جاتی تھی۔
١٤١
بالفرض اگر سامعین حدیث میں سے کسی نے اطولکن یدا سے یہی مراد لی ہو۔ تو ان کی مراد کا لینا نبی ﷺ کی ذات پاک پر کچھ اعتراض نہیں پیدا کر سکتا جبکہ لفظ طول کے معنی سخاوت وغیرہ موجود ہیں اسی طرح کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ رسول اللہ ﷺ کے کلام معجز نظام میں حقیقی معنی سے عدول کیا گیا ہے مرزا نے لفظ اطولکن کو طول سے سمجھا اور غلط اصول قائم کیا)
نبی کریم ﷺ کی پیشگوئیاں
- ١...... ایک شخص ایمان کے بعد مرتد ہو گیا مشرکین سے جا ملا آپ نے فرمایا اس شخص کو
زمین قبول نہ کرے گی سو ایسا ہی ہوا کہ جب وہ شخص مرا اس کو زمین میں کئی دفعہ دفن کیا گیا ہر دفعہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ یہاں تک کہ کفار نے تنگ آکر اس کو باہر ہی پڑا رہنے دیا۔
(بخاری و مسلم عن انس ج ٢ ص ٣٧٠ کتاب صفات المنافقین واحکامہم)
- ٢...... رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے مسلمانوں کی ایک جماعت بادشاہ فارس کے اس
خزانہ کو حاصل کرے گی۔ جو سفید محل میں ہے چنانچہ حضرت فاروق کی خلافت میں مسلمانوں نے کسریٰ کے سفید محل سے خزانہ نکالا۔
(مسلم عن جابر بن سمرہ مسند احمد ج ٥ ص ٨٦)
- ٣...... ایک شخص رسول خدا ﷺ کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا آپ نے اس کو
داہنے ہاتھ سے کھانے کے لئے فرمایا۔ اس نے (شرارت یا کذب سے) کہا میں کھا نہیں سکتا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”تو کھا نہ سکے“ اس فرمودہ کے بعد وہ شخص کبھی اپنا داہنا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکتا تھا۔
(عن سلمہ بن اکوع مسلم ج ٢ ص ١٧٢ باب آداب والشراب واحکامہا)
- ٤...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا آج کی رات ایک سخت ہوا چلے گی۔ جو شخص اس میں
کھڑا ہوگا۔ اس کو ضرر پہنچے گا۔ چنانچہ اسی رات ہوا چلی اور ایک شخص جو ہوا میں کھڑا ہو گیا تھا اس کو ہوا نے اٹھا کر دو پہاڑوں میں جا پھینکا۔
(بخاری و مسلم عن ابو حمید ساعدی مسند احمد ج ٥ ص ٤٢٤)
- ٥...... رسول مقبول نے فرمایا تم مصر کو فتح کرو گے۔ (یہاں غور کیجئے گا مصر سے مصر
مراد ہے فتح سے فتح۔ ایک اینٹ کی جگہ سے مراد ایک اینٹ کی جگہ جھگڑنے سے جھگڑنا۔ علیٰ ہذا اور سب پیشگوئیوں پر غور کرو۔) ابو ذر سے فرمایا تھا کہ جب تو دو شخصوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتا دیکھے تب تو وہاں سے نکل آنا ابو ذر فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا مسلمانوں نے مصر کو بھی فتح کیا اور میں
١٤٢
نے عبدالرحمن بن شرجیل اور اس کے بھائی کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے بھی دیکھا سو میں مصر سے نکل آیا۔
(مسلم عن ابی ذر)
- ٦....... حذیفہ فرماتے ہیں۔ مجھے آنحضرت ﷺ نے بارہ منافقوں کا پتہ دے کر فرمایا
تھا۔ کہ ان میں سے آٹھ دبیلہ پھوڑے کی مرض میں مریں گے۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی۔
(مسلم عن حذیفہ بن الیمان ج٢ ص٣٢٩ کتاب المنافقین واحکامہم)
- ٧....... آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی کہ انتقال شریف کے بعد زید بن ارقم اندھے ہو
جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔
(دلائل النبوۃ)
- ٨....... فاطمہ زہرہؓ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ میرے بعد میرے اہلبیت میں
سے سب سے پہلے تو مجھ کو ملے گی۔ ایسا ہی ہوا۔
(بیہقی عن ابن عباسؓ و بخاری ج٢ ص٦٣٨ باب مرض النبیؐ و وفاتہ عن عائشہؓ)
یہ غلمہ کا ترجمہ ہے۔ مرزا کا ایک حواری لکھتا ہے کہ دیکھو غلمہ بچوں کو کہتے ہیں اور بچوں سے جوان مراد لی مگر ان کو یہ معلوم نہیں غلام کے معنے سیانہ سال مرد کے ہیں اور غلمہ تیزی شہوت جماع کو کہتے ہیں اغلام اور غلمہ اور غلم اور غنیم یہ سب اس کے لغات ہیں۔)
- ٩....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا میری امت کی ہلاکت چند نوجوانان قریش کے
ہاتھ پر ہے۔
(بخاری عن ابی ہریرہؓ)
ان نوجوانوں سے مراد قاتلان حضرت عثمانؓ و حضرت مرتضیٰؓ و حضرت حسن مجتبیٰؓ و امام حسینؓ کے قاتل لوگ مثلاً یزید بن معاویہ عبدالملک بن مروان مختار ابن عبید وغیرہ وغیرہ ہیں۔ مجمع البحار میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان اشخاص کو اور ان کے اسماء کو جانتے تھے مگر خوف فتنہ سے ظاہر نہ کرتے تھے۔
- ١٠....... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تم اپنے پہلے لوگوں کی عادتوں اور طریقوں کی پیروی
کرو گے۔ بالشت بالشت۔ شبر شبر۔ و ذراع ذراع یہاں تک کہ اگر وہ سوسمار کے سوراخ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ایسا کرو گے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ (پہلوں سے مراد) یہود و نصاریٰ ہیں۔ فرمایا تو اور کون۔
(بخاری و مسلم عن ابی سعیدؓ)
یہودیوں اور عیسائیوں کی اور خصلتوں میں تو بہت لوگوں نے پیروی کی ہی تھی مگر مرزا نصاریٰ کی طرح خود ابن اللہ بن بیٹھے یہود کی طرح حضرت ابن مریم کو گالیاں دینے لگے۔ اور ان
١٤٣
کے معجزات کا انکار کر کے معجزات کو شعبدہ، مسمریزم، لہو ولعب بھی قرار دے دیا۔
- ١١...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا جب کہ امت تکبر کی چال چلے گی بادشاہ زادگان
فارس و روم ان کی خدمت کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی اخیار پر ان کے اشرار کو مسلط کر دے گا۔
(ترمذی ج ٢ ص ٥٢ ابواب الفتن باب بغیر عنوان عن ابن عمرؓ)
فارس و روم کی فتح کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کا قتل اور بنی ہاشم پر بنی امیہ کا غلبہ اس کا مصداق ہے۔
- ١٢...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد جزیرۂ عرب سے جنگ کرو گے خدا تم
کو فتح دے گا پھر الدجال کے ساتھ جنگ کرو گے خدا اس پر بھی فتح دے گا۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن نافع بن عتبہؓ)
مرزا غور کریں کہ الدجال کے ساتھ جنگ ظاہری صورت میں ویسی ہی پوری ہو گی جیسے عرب کے ساتھ جنگ ظاہری صورت میں ہوئی۔
- ١٣...... فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی۔ جو
بصرہ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔
(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٤ باب خروج النار ومسلم ج ٢ ص ٣٩٣ کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن ابی ہریرہؓ)
یہ آگ جمعہ کے دن تیسری جمادی الآخرہ ٦٥٤ھ کو ظاہر ہوئی۔ اور یکشنبہ ١٣ رجب یعنی ٥٢ دن تک رہی اس کی عجائبات و خواص کے بارہ میں بڑی ضخیم کتاب موجود ہے۔ یہ آگ لوہے پتھر کو گلا دیتی تھی۔ اور گھاس لکڑی اس میں نہ جلتا تھا اور جب تک یہ آگ رہی بصرہ میں رات کو اونٹ اس کی روشنی میں چلتے تھے۔ اور مدینہ کے لوگوں نے رات کو چراغ نہیں جلایا دن جیسی روشنی تھی۔
- ١٤...... فرمایا میری امت ایک پست زمین پر اترے گی جس کا نام وہ بصرہ رکھیں گے یہ
ایک نہر کے پاس ہو گا جس کا نام دجلہ ہو گا اس پر پل ہو گا اور شہر کے باشندے بہت ہوں گے یہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ایک شہر ہو گا آخر زمانہ میں اس شہر والوں سے لڑنے کے لئے ترک (تاتاری مغل) آئیں گے۔ ان کے منہ چوڑے چکلے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی۔ اس شہر کے کنارہ پر اتریں گے شہر والوں کے تین گروہ ہو جائیں گے ایک گروہ بیلوں کی دموں کے ساتھ نکلے گا اور جنگل میں پناہ پکڑے گا یہ فرقہ ہلاک ہو گا دوسرا فرقہ ان سے امان طلب کرے گا یہ بھی ہلاک ہو گا تیسرا فرقہ اپنی اولاد و نساء کو پس پشت رکھے گا۔ اور ترکوں سے لڑیں گے ان میں سے اکثر
١٤٤
مارے جائیں گے اور وہ شہید ہوں گے۔“ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٣ باب فی ذکر البصرہ عن ابو بکرة)
معتصم باللہ خلیفہ کے عہد میں یونہی ہوا۔
- ١٥...... فرمایا مجھے قرآن بھی دیا گیا اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل بھی۔ خبردار ہو
قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا (کھاتا پیتا مغرور) شخص اپنی چھپر کھٹ پر بیٹھا یہ کہے گا کہ تم صرف قرآن ہی کو لو اور جو اس میں حلال ہو اس کو حلال سمجھو جو حرام ہو اس کو حرام خیال کرو تحقیق یہ ہے کہ جس کو رسول اللہ ﷺ حرام کرتے ہیں وہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ خدا نے اسے حرام کیا ہے۔
(ابن ماجہ و دارمی و ابوداؤد عن مقدام بن معدی کرب مسند احمد ج ٤ ص ١٣١)
(مرزا...... اُوتِيْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ کے لفظ پر تدبر فرمائیں۔ کہ اگر وہ حدیث کو جو مثیل قرآن ہے نہیں مانتے تو بننے والے مسیح کو کیا استحقاق ہے کہ کوئی اسے مانے گا۔)
یہ پیشگوئی ١٣٠٨ ہجری میں ظاہر ہوئی۔ مرزا نے مسئلہ عرض نکالا۔ اور احادیث سے اعراض کیا۔
احادیث میں اور بہت سی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو چکی ہیں۔ یا ہونے والی ہیں یا ایک حصہ حدیث کا اپنے ظاہری لفظوں میں ظہور پذیر ہو چکا ہے اور ایک حصہ کا ظاہر ہونا ہنوز باقی ہے لیکن ان سچی عقیدت والوں کے قلب کے واسطے جو نبی معصوم پر ایمان لائے ہیں میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور شکر کرتا ہوں کہ میری کتاب کا اختتام ایک ایسے مضمون پر ہوا ہے جو ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بے شمار دلائل و شواہد نبوت میں سے ایک عمدہ دلیل ہے جو سرکشوں کی گردنوں کے توڑنے اور ہٹ دھرمیوں کے پرخچے اڑانے کے واسطے کافی و وافی ہے۔
وَلِلَّهِ الحمد حمداً کثیراً
١٤٥
قصیدہ
گفتند دشمنان حقیقت یہودہا کردیم بر صلیبش و حق گشت آشکار
زیرا کہ گفتہ بود خداوند در کتاب بر دار آن رود کہ بود لعنتی و خوار
گفتند منکران صداقت نخستین پست او خویش را نمود ز خود بر ہمہ نثار
تا عدلِ بے نیاز بجا ماند و درست تا فضل کردگار نماید ہمہ عیار
گفتند سرکشان کہ ببیداد و کرب و درد کشتیم و ہم صلیب برآورد زو دمار
یک ہفتہ پاسبانیٔ گورش نمودہ ایم تا روز محشر نشود باز کامگار
گفتند پیروان کہ بیاسود تا سہ روز در قبر ابن مریم و شد زندہ رستگار
از خاک جست روز سوم شد بآسماں دیدند زو دوازدہ اش رخ بار بار
چوں ایں خلاف صورت قصہ فرا گرفت ہر یک در اضطراب فتاد و در اضطرار
آں یک بعناد مسیح خطا بسیج کرد ایں یک ورا بخواند خدا داد اشتہار
آں مدعی کہ فتنہ کذاب دور شد چوں ریختیم خون لعینے بفرق دار
ایں فتنہ گرو معاصی ہمیشہ شست آں فدیۂ عباد علی رغم روزگار
١؎ مرزا صاحب نے ازالہ میں ایک فارسی قصیدہ لکھا ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے؎ جائیکہ از مسیح و نزولش سخن رود + گویم کہ حق نمایم و ندارند باورم قصیدہ کا جواب قصیدہ میں دیا گیا۔
از بارگاه خویش فرستاد یک رسول بخ بخ رسول کش پدر و مادر است نثار
منشور خاص حضرت حق در یمین او آیات باہرات خداوند در یسار
ہم صادق امین بلقبش کرده منکران ہم ذات پاک چشم خلائق بزرگوار
آن کعبۂ صفا و رسول حبیب رب آن حجت خدا بسوی خلق بیشمار
این هر دو را بمجالس ہائی خویش خواند فرمود چند زین سخن زشت ناگوار
ہر لحظه بر زبان شما حرف ہا رود برهیچ این گمان بدل میکنند غبار
دانید اے یہود کہ بہتان کبریاست عیسیٰ است ہمچو آدم خاکی در اعتبار
ما برکشیده ایم چو از ماء طین بشر از بے پدر مسیح دگر چیست اغترار
آن مادرش که حصهٔ پاک فطرت است در عصمتش کلام میارید زنہار
امتیاز سعادت و رحمت پدید بہر نسبت باو کنید اگر اینک استوار
ہان اے مسیحیان غلط فهم مر شما دانید آفریده بُوَد آفریدگار
بشگافد آسمان و بترقد دگر زمین ہم پارہ پارہ گشته بیفتند کوہسار
گوئید اگر کسے کہ خدا را پسر بود اے قوم ناشناس ازین شِرک شرمسار
هرگز نزیبد بمسیح و بمادرش کز بندگی خالق برتر کنند عار
ہان اے یہود معتقد مر شما ببود کآن بر صلیب کرده شد و بیوفا و خوار
ہان اے مسیحیان اسیر ہوا و اکل گوئید مر شما که نثار است او نثار
گوئید مر شما بجهنم خزیده او تا بر شما ز آتش دوزخ کشد حصار
آوخ چه کذبها که شما هر دو بسته اید بے ترس اجل و پرسش و بیخوف روز شمار
اکنون مدار حجت دین حکم کبریا این ہر دو قوم را ز چه جهل و ظن برآر
ہنگام زہق باطل و ظلمت فرا رسید وقت طلوع نور یقین است زینہار
دانید ہر دو قوم کہ حق آن رسول را بے مرگ برکشید بسوئے خویش در جوار
من گفتم آنچہ گفت مرا وحی ذوالجلال بد بخت آنکہ گفتن من میسازدش فگار
البتہ با بگفتہ من سر نہند جهان آیندہ واقعات نمایم بآشکار
شک نیست شہر قسطنطنیہ زاہل شرک گیرند پیروان من از فتح کارزار
تا قرب حشر دولتِ شان را گزند نیست این نخل را همیشه بود برگ و ثمر ببار
باز آنچنان بود کہ برین شہرِ دشمنان یا بند دست باز دران قوم شہریار
زینان یکے سپاہ باعماق رو نهند یا بر زمین دابق و او را کشد حصار
آید برون زطیبہ سپاہے ز مسلمین از ہیبت و جلال جہان کردہ تار مار
آن فوج را سپہدارے باشد آنکہ ہست نامش محمد و لقبش مہدی کبار
کوشند سخت و خونِ عزیزان رود بکار جانے نہ تا سہ روز سلامت برد سوار
چون روزِ چارمین بجہاد رو نهند ہم طبلِ سپاهِ عدو خواند الفرار
شش سال چون برین بسر آید موحدان گیرند شہر قسطنطنیہ بہ گیر و دار
تہلیل شان نعرۂ تکبیر شان کند آئینہ حالِ معنی قول دمرالدیار
آرے ہمیں سپاهِ مظفر بود کہ او بر شہر ہا نصب کند رایت وقار
بر فتح جنگ چون بسر آید بہفت ماہ دجال در جہان فگند فتنہ و شرار
ایں لشکرِ مظفر و دیں مسلمین آید بسوئے شام ہمہ برق شعلہ بار
آنگہ کند نزول نبی خدا مسیح بر چہرۂ قطرہائے عرق دُرِ شاہوار
زیں ہر دو قوم کس نبود آنکہ از یقین ایمان برو نیاورد بر قولِ استوار
اے حسرت ایں گروہِ تہی دستِ پُر فسون اے حسرت ایں گروہِ عزیزانِ روزگار
ایں مسلمِ ١؎ پاک را بہ پشیزے نمے خرند کردند از فراست خود ہیچ اعتبار
١؎ مرزا صاحب کا مصرعہ ہے۔ ایں مسیلمہ را بپشیزے نمے خرم ١٢
ہم مدعی عشق محمد شدند و ہم از مہر مسلمے بگریزند سایہ وار
گویند جان و دل برو در سر طبیب باگفته حبیب ندارند ہیچ کار
دعویٰ گوہری ست و از سبکی سرے بالای بحر تیرہ و تارند چوں غبار
اظہار نوشِ گل نمایند در سخن امّا زبان پاک ہمہ تیز نیشِ خار
غنچے اگر بہ خویش کشایند بابِ دل زیں گفتہا ہمہ برآیند شرمسار
عیسیٰ کجا و یک نفر از عامیانِ کُنج از قطرہ چکیدہ بجو جوشش آبشار
آن تخم را که ریشه دُرست است در زمین نسبت درست نیست بگل ہائے بے بہار
آن ذره را که مانده مخفی ست در تہِ سنگ چشمک زند بمہر جہاں تاب ابلہ وار
آن قطره را که در دہن افعی است جای دُور است از صدف که کند دُّرے شاہوار
با رنگ ہمچو١ گندم و با جو است راست دشوار نیست بودن٢ عیسی در ایں دیار
از برگ ریز تازگیِ بوستان مجو ہر چند پائے نخل نہند نام او بہار
آں کورے کہ کردہ سواریِ نَے درست نتواند ایں کہ راہ برد بسوئے سوار
ہادی نکوست ہادی محمد نہ غیر او گمراہ آنکہ بست دگر راہ ننگ و عار
مارا کہ زیرِ ظل محمد غنودہ ایم با نوح قادیانی و باکشتی اش چہ کار
گلزار را بگو کہ بیا ندیشہ از خزان ما یم نخل جنت و مستغنی از بہار
از آفتاب صدق منوّر حریم ماست گو شمع و ستاره شود گم ازیں دیار
کاسات وصل گر نه کشد مئے مصطفےٰ آن کیف تلخ سکر مے کِشد دمار
آں راہ تنگ کش نہ سپردست رہنما شد راه غول و بادیہ و اژدہائے غار
صد شکر آں کہ چشم بہ یثرب گشودہ ایم خورشید مکہ تافتہ از عرش کردگار
١۔ مرزا صاحب کا مصرعہ تھا۔ رنگم چوں گندم است بوالعجبی بیں است ١٢م ٢۔ مرزا صاحب کا مصرعہ حالے ہمچو کشتی نوحسم دریں دیار ١٢ یعنے بجاست تشبیہہ بایہ سلم ١٢
خمخانہ ازل کہ صبوحی کشان عشق سرشار و مستند ہمیں بادہ بسیار
محروم رخت بست ازیں خمستان کسے یا رب کشا زبان طلب چشم انتظار
چون کرم پیلہ ایں ہمہ انبار ساختہ بر خویشتن تنیدن بیہودہ در گذار
اے آنکہ چشم خفتہ تورا آستینست خوش داغ شو بتابش ہر کوکب شرار
مردانہ خیز و در کف ہمت عصا بگیر تکبیر فتح خوان بجولان ذوالفقار
بگذار شوخ چشمی و تکذیب مرسلان زین شیوہ بیہودہ بکن ترک اعتبار
اے آنکہ دل بسینہ مغرور ست و پر دانی دو نقطہ را نبود ہیچگہ قطار
اینجا بیا و شاہد روئے مصطفی نگر کام طلب براہ حبیب خدا گزار
آنسو مرو کہ نور نہفتہ است از جہاں ایں سو بیا کہ طور تجلی ست کوہسار
لاَ تُلْقُوْا خوان کہ رسول کریم ما اخبار ایں گروہ نمودست بار بار
اشعار من کہ ماء معین است در مذاق در بوستان کشت کنند کار نوبہار
و آنجا کہ نیست از اثر او نتیجہء لَا تُنْبِتُ الْکَلَاءَ و درست شورہ زار
ما کیستیم تا سخن ما افتد قبول آنجا کہ شاعر است رسول بزرگوار
گویند استعارہ نمودست ایں کمال گویند ایں مجاز بگفت است کردگار
اے دشمن حقیقت و اے والہ مجاز ١؎ بیں استعارہ بگذرو از عقل مستعار
آن چشمہ را کہ موی دغدغہ در تہ ست فاش بہر عذاب آب تنک ۔ پایہ کم مدار
آن سورہ کہ صوت و معنی است والہامش باور ہماں کُنش بہیچ دغدغی میار
الہام نیست آنکہ خلاف شریعت ست ٢؎ گر بشنوی بباد بر و دل غمیں مدار
تا بہتر و درست تر از وی بتو رسد اینست آنچہ گفت خداوند گوشدار
١؎ مرزا صاحب کا مصرعہ یہ تھا ۔ من روح خود بخود صفت رحمان بینم ١٢ ٢؎ مرزا صاحب کا مصرعہ یہ تھا ۔ گر بشنوم سروش از دغدغہ ترسم + بتلایا گیا الہام نیست ١٢
فارغ نشین زفلسفیان کلامشان عنقا بدام دانه نگردد گہے شکار
دنبال سگ بگزار که او بانگ میزند چندانکہ ماہ بر سر دنیاست نور بار
کم سنگ آنکه مے نہد از پستی نژاد یک وزن وحی ایزد و عقل خطاشعار
ہم تیرہ آنکه روزن دورے کند فراز تا شمع را بروز دهند جائے شمس بار
یا رب بلطف خویش سُوئے نگاہ کن برکشت این گروه زرحمت یکے ببار
من از محبتے کہ باسلامیان مراست از درد این گروه شدم بس نزار و زار
تا کے بود میان عزیزان ہمیں خلاف تا کے بود در امت اسلام انتشار
دریاب اے خدائے رحیم و کریم
زان پیشتر کہ دست گزند از زیان کار
محمد سلیمان منصور پوری ستمبر ١٨٩٢ء
مؤلفہ اشعار ہٰذا بلفظہ بزبان عربی از جناب الحاج مولوی محی الدین صاحب قریشی مدفیضہ
نجاهد من يجافينا بدين جديد فيه تبع الكافرينا
فصادف عهده فتن النصارى فأيد دينهم كفراً مبينا
فصدق بالصليب لكلمة الله وصار لنصر كفر المشركينا
وقال بأن مذهبه قريب لدين الكفر دون المؤمنينا
فهذا الدين دين الكاديانينا عداه الدين دين المسلمينا
فنسأل ربنا نصراً عزيزاً لدين الله دين المسلمينا
فنحن ندين دين الله حقاً
ونبغض من يحب الملحدينا
تمت بالخير
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گراں قدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے ۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے ۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تائیدِ الاسلام
قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ
فہرست : تائید الاسلام
دیباچہ طبع اول ١٦١ دیباچہ طبع دوم ١٦٩ پہلی آیت ”انی متوفیک“ کا جواب ١٧٠ دوسری آیت ”بل رفعہ اللہ“ کا جواب ١٧٧ تیسری آیت ”توفیتنی“ کا جواب ١٧٩ چوتھی آیت ”لیومنن بہ قبل موتہ“ کا جواب ١٨٥ پانچویں آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کا جواب ١٨٨ چھٹی آیت ”وما جعلناہم جسدا لا یاکلون الطعام“ کا جواب ١٩١ ساتویں آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کا جواب ١٩٣ آٹھویں آیت ”وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد“ کا جواب ١٩٥ نویں آیت ”تلک امۃ قد خلت“ کا جواب ١٩٦ دسویں آیت ”اوصانی بالصلوٰۃ ... مادمت حیا“ کا جواب ١٩٧ گیارھویں آیت ”یوم ولدت ویوم اموت“ کا جواب ١٩٩ بارھویں آیت ”ومنکم من یرد الیٰ ارذل العمر“ کا جواب ٢٠٠ تیرھویں آیت ”ولکم فی الارض مستقر“ کا جواب ٢٠١ چودھویں آیت ”ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق“ کا جواب ٢٠٤ پندرھویں آیت ”اللہ الذی خلقکم من ضعف“ کا جواب ٢٠٥ سولہویں آیت ”انما مثل الحیوۃ الدنیا“ کا جواب ٢٠٥ سترھویں آیت ”ثم انکم بعد ذالک لمیتون“ کا جواب ٢٠٦ اٹھارھویں آیت ”الم تر ان اللہ انزل من السماء“ کا جواب ٢٠٦ انیسویں آیت ”لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق“ کا جواب ٢٠٧
بیسویں آیت ”اموات غیر احیاء“ کا جواب ٢٠٨ اکیسویں آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کا جواب ٢١١ بائیسویں آیت ”فاسئلوا اھل الذکر“ کا جواب ٢١٣ تیسویں آیت ”فادخلی فی عبادی، ودخلی جنتی“ کا جواب ٢٢٠ چوبیسویں آیت ”ثم یمیتکم ثم یحییکم“ کا جواب ٢٢١ پچیسویں آیت ”کل من علیھا فان“ کا جواب ٢٢٢ چھبیسویں آیت ”ان المتقین فی جنت ونھر“ کا جواب ٢٢٣ ستائیسویں آیت ”ما اشتھت انفسھم خالدون“ کا جواب ٢٢٥ اٹھائیسویں آیت ”اینما تکونوا یدرککم الموت“ کا جواب ٢٢٥ انتیسویں آیت ”مآ اتکم الرسول فخذوہ“ کا جواب ٢٢٧ تیسویں آیت ”او ترقٰی فی السماء“ کا جواب ٢٣٠ مسیح موعود ٢٣٨ بعد الماتین کا جواب ٢٣٨ مکاشفات اولیاء ٢٤١ دجال ریل گاڑی یاجوج ماجوج ٢٤٢ چودھویں صدی ٢٤٣ الف ششم ٢٤٤ اس کے دم سے کافر مریں گے ٢٤٦ عقائد کی درستگی کرے گا ٢٤٦ نبی اللہ کی حقیقت ٢٥٠ مکاشفہ غزنوی ٢٥٢ کریم بخش مجذوب کا کشف ٢٥٣ اعداد جمل و دجال کا خروج ٢٥٧ علامات مسیح و مہدی ٢٦٣ الہام و مکاشفہ ٢٧٩ امام محمد بن عبداللہ المہدی ٢٩١ علامات مہدی ٢٩٣ احادیث مہدی ٢٩٥ نزول مسیح علیہ السلام کی احادیث ٢٩٦ خصوصیات نزول مسیح ٢٩٧ سیرت مسیح ٢٩٨ ختم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد! یہ کتاب تائید الاسلام دراصل پہلی کتاب غایت المرام کا حصہ دوم ہے۔ مرزا قادیانی ملعون نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں دجل و فریب سے تیس آیات قرآنی میں تحریف و تلبیس کر کے بزعم خود ان سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا چاہی۔ یہ کتاب دراصل انہیں تیس آیات قرآنی کے صحیح مفہوم و معانی بیان کرنے اور مرزا قادیانی کے دجل و فریب کو تار تار کرنے کے مباحث پر مشتمل ہے۔ اسی ضمن میں بے شمار دیگر مفید و مدلل مباحث بھی شامل ہیں۔ یہ کتاب ١٨٩٨ء میں مصنف مرحوم نے تحریر فرمائی اور اسی زمانہ میں شائع بھی ہو گئی۔ پہلے ایڈیشن کے صفحہ ١٦ پر آپ نے ایک پیشگوئی شائع فرمائی۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:
"(بموجب حدیث شریف) حضرت مسیح علیہ السلام مقام روحاء میں آکر حج و عمرہ (احرام باندھیں گے اور نیت) کریں گے۔ میں (مصنف) نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللہ مرزا قادیانی کے نصیب میں نہیں۔ میری اس پیشگوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔"
(احتساب جلد ہذا ص ٢٦٩)
اس کتاب کے شائع ہونے کے دس سال بعد تک مرزا قادیانی (م ١٩٠٨ء) زندہ رہا لیکن مرزا قادیانی کو حج کرنا نصیب نہ ہوا۔ مرزا قادیانی مدعی مسیحیت و نبوت نے جتنی پیشگوئیاں جس زور سے پیش کیں اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کو جھوٹا کیا۔ اس کی ایک بھی پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ لیکن اس کے مد مقابل حق تعالیٰ کی رحمت کے سہارے پر رحمت دو عالم ﷺ کے ایک امتی (مصنف) نے ایک پیشگوئی کی جو نہ صرف پوری ہوئی بلکہ مرزا قادیانی کے کذب پر مہر تصدیق ثبت کر گئی۔ یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس کتاب میں مرزا قادیانی کی طرف سے پیش کردہ وفات مسیح پر تیس آیات کے صحیح مفہوم اور مرزا قادیانی کے دجل وافتراء کو واضح کرتے ہوئے کتاب میں آیت نمبر ٢٨ کا جواب شائع نہ ہو سکا۔ غالباً کاپیاں جوڑتے ہوئے یا اشاعت دوم میں (جو ہمیں میسر آئی) یہ ہوا۔ فقیر نے نمبر ٢٨ کے جوابات لکھ کر اس میں شامل کر دیئے ہیں۔ یہ کتاب ١٨٩٨ء کی ہے۔ اب اسے ایک سو چار سال بعد شائع کرنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مقام شکر اور باعث افتخار ہے۔ فالحمدللہ اولاً وآخراً!
فقیر اللہ وسایا ٢٥ '١ '١٤٢٣ھ ٩ '٤ '٢٠٠٢ء
٤
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط
الم ہ اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ ط نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ط وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ط اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْئٌ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ ہ هُوَ الَّذِىْ يُصَوِّرُكُمْ فِى الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ج لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ہ هُوَ الَّذِىْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ج فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ ج وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِى الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ج وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ ہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ج اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ہ رَبَّنَا اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ط اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ہ ط
ترجمہ :۔ نہ خدا ہے کوئی مگر وہی زندہ دنیا کی تدبیر فرماتا ہے۔ اسی نے تجھ پر راستی اور حق کے ساتھ کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کی تصدیق کرتی ہے اسی نے قبل ازیں لوگوں کی ہدایت کے لیے توریت و انجیل اتاری اور فیصلہ نازل کیا۔ بیشک جو خدا کی نشانیوں کے منکر بنے ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اور خداوند غالب بدلہ لینے والا ہے۔ بیشک خدا سے نہ زمین میں نہ آسمان میں کوئی چیز چھپی نہیں وہی ہے جو رحم کے اندر جیسے چاہتا ہے صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ غالب حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ جس کی بعض آیتیں تو محکم ہیں جو کتاب کی اصل ہیں۔ اور بعض متشابہ ہیں۔ جن کے دل میں کجی ہے۔ وہ شبہ والی کی پیروی کرتے ہیں گمراہی پھیلانے کے لیے۔ اور تاویل و مطلب چاہنے کے واسطے۔ حالانکہ اس کی حقیقت کوئی نہیں جانتا مگر خدا۔ اور جو علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارا ان سب پر ایمان ہے۔ یہ سب کچھ پروردگار کی جانب سے ہے۔ ہاں نصیحت نہیں پاتے مگر دانشمند۔ وہ عرض کیا کرتے ہیں
٥
کہ اے پروردگار ہدایت دکھلانے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال اور ہم کو اپنے ہاں کی رحمت سے حصہ دے۔ کیونکہ تو ہی عطا کنندہ ہے۔ اے خدا تو لوگوں کو اس دن اکٹھا کرنے والا ہے جس میں کچھ شک نہیں۔ بیشک خدا کے وعدہ میں خلاف نہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (فاتحہ) وَإِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا (ابراہیم)
مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِيَّاکَ نَعْبُدُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ وَ اِيَّاکَ نَسْتَعِیْنُ
غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ (مومن) ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدِ (بروج)
تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ (آل عمران) اَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْءَ (نمل)
فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ (بقرہ) اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنِ
لَا تُدْرِكُهَا الْاَبْصَار قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ كَلِمَاتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّيْ (کہف)
اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ بِزِيْنَةٍ نِ الْكَوَاكِب (صٰفّٰت)
٦
فتصبح الارض مخضره (حج)
وَجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَالشَّمْسُ تَجْرِىْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا
(المرسلات) (یسین)
لَا اُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ (حدیث) سبحانک لا علم لنا (بقره)
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (اعراف)
فَانْتَشِرُوْا فِى الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (جمعه)
وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا (نوح) واعطی کل شی خلقه ثم هدی (طه)
وَعَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَائِر يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوَاتِ وَمَا فِى (نحل) الْاَرْضِ (جمعه)
وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِيْنَ (مومنون)
وَمَاذَرَاَ لَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبِ (رعد) اَلْوَانُهٗ (نحل)
٧
اُسی نے فرشِ زمین کو بچھا دیا ہموار اُسی نے سلکِ ثریا کو کر دیا درہم
وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ بِاَمْرِهِ (نحل)
اُسی کے غوص میں ہے تہ نشین دریا در اُسی کے شوق میں ہے آسمان گرا شبنم
وَلَهُ اَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آل عمران)
اُسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ خاکِ سیاہ ہزاروں بیش بہا گنج کیے ہے مدغم
هُوَالَّذِیْ مَدَّالْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِیَ وَاَنْهٰرًا وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ (رعد)
ہزار نسلِ بشر مٹ گئی ہے ہو ہو کر رہے پر اس کے موالید تازہ و خرم
مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَهَا ءَ اِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ (نمل)
یہ دیکھ صنعتِ صانع کہ سخت ہے نہ رقیق ولیک حسبِ ضرورت ہے نرم و مستحکم
جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّسَلَكَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا (طٰه)
اُسی کی آیتِ قدرت سے ہے نزولِ میاہ کہ اس سے سبزہ و دانہ نکلتے ہیں پیہم
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَاَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ (ق)
اسی کی آیتِ قدرت سے برق کی ہے چمک بچشمِ خوف و طمع جس کو دیکھتے ہیں ہم
وَمِنْ اٰيَاتِهِ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا (روم)
اسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ مردہ زمین حیاتِ تازہ سے باردگر ہوئی منضم
وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا (يٰسٓ)
اسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ لیل و نہار ہمیں سکھاتے ہیں طرز و طریقِ راہ و رسم
وَمِنْ اٰيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاءُ كُمْ مِّنْ فَضْلِهِ (روم)
اسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ بینِ بحار بنا دیئے ہیں جزیرے مثالِ باغِ ارم
وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا (النمل)
اسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ انسان کی لسان و لون میں نوعیں جدا جدا ہیں علم
وَمِنْ اٰيَاتِهِ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ (روم)
اسی کی آیتِ قدرت سے ہے کہ گنبدِ چرخ مثالِ سقفِ بغیر عمد رہا ہے تھم
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (لقمان)
٨
ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَ (مومنون)
اسی کے حکم سے ٹھہرے ہوئے ہیں یہ ابحار کہ موج رکھتی نہیں بڑھ کے اپنی حد سے قدم
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ ہ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِ (الرحمن)
اُسی کے امر سے تھامے ہوئے ہیں سب طائر فضا میں جسم کو اپنے بلا تردد و غم
اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنِ (ملک)
اسی کے نور تجلی سے طور ہے روشن اُسی کی بندہ نوازی سے نحل ہے ملہم
فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ (اعراف) وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ (نحل)
اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ (قصص)
اسی کی ذات مقدس کے سامنے سجدہ اسی کے اسم معظم کے واسطے ہے قسم
لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ (یونس)
وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ (حم السجده)
وہی ہے ایک خدا اور لاشریک لہ کہ ملک و حمد اسی کو ہے اور کبر و قدم
وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ
غنی و مقتدر و مالک و کریم و رحیم حلیم و موتمن وما من حدوث و قدم
سلام و مومن و قدوس و خالق و باری مہیمن و جبروتی خدیو عز و حکم
وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی (ممتحنه)
احدت اور صمد لم یلد و لم یولد ولم یکن لہ کفواً احد ہے وصف اتم
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ. اَللّٰهُ الصَّمَدُ. لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَد (اخلاص)
یہ شرک ہے کہ کہے کوئی اس کو رب النوع وہ ہے مصور اشیا و خالق عالم
سُبْحَانَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ
(الممتحنه) (الممتحنه)
شریک خلق میں اس کے نہ مادہ ہے نہ روح مشیر امر میں اس کے وزیر ہیں نہ خدم
اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ (اعراف)
اُسی کے خلق ہیں اور اس کو پا نہیں سکتے فواد سمع و بصر عقل درک لمس اور شم
لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارُ (انعام)
٩
وَفِي الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِي اَنْفُسِكُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
(والذاریات)
هُوَ الَّذِيْ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ
(ملک)
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ (ملک) إِنَّمَا اَمْرُهٗ إِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ
(یٰسٓ)
كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (انعام) إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاء
وَاِنْ مِّنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا
(مریم)
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى (النجم) وَلَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْم (صٰفّت)
وَلَهٗ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
(عمران)
وَرِزْقُكُمْ فِي السَّمَاءِ وَمَا تُوْعَدُوْنَ
(ذاریات)
وَلَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ثَبِّتْ اَقْدَامِيْ عَلَى الصِّرَاطِ تَمَسَّكُوْا بِسُنَّتِيْ الْمُسْتَقِيْمِ
(حدیث)
١٠
تیرے حبیب نے جو امیّوں کو دی تعلیم وہی ہو میرا عقیدہ نہ اس سے بیش نہ کم
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (جمعہ) اُدْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَافَّه (بقر)
رسول سید ابرار و احمد مختار نبی جہاں کے لیے رحمت اور مطاع امم
اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ
(انبیاء) بِاِذْنِ اللّٰهِ (النساء)
سراج و شاہد و داعی مبشر و منذر رسول کافۂ ناس و بادشاہ حرم
اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ
نَذِيْرًا وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ (النساء)
سِرَاجًا مُّنِيْرًا (الاحزاب) فَلَنُوَلِّيَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا (البقره)
ہماری جان پہ ہم سے سوا رؤف و رحیم حمید و حامد و مکرم مکرم و اکرم
بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَؤُفٌ رَّحِيْمٌ اِنَّکَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْم (ن القلم)
غلام کا اب و جد سے ہے مایۂ نازش ہیں اس کی ذات سے نازاں خلیل اور آدم
انا سید ولد آدم (حدیث)
درود اس پہ اور اصحاب و آل پر اس کے بھرا ہے جن کے فضائل سے مصحفِ محکم
لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ
وَيُطَهِّرَكُمْ (احزاب) . وَالْاَنْصَارِ (توبہ)
تو قبر کی متوحش جگہ میں ہو مونس تو ہولناک قیامت میں بن مراہم
اَللّٰهُمَّ انِسْ وَحْشَتِىْ فِىْ قَبْرِىْ يوم لايغنى مولى عن مولى شيئا
ولاہم ينصرون الامن رحم الله
ندائے فلسفہ میرا ایمان ہو نہ یہ طبعی جھکا ہوا ہے ادھر آج گرچہ اک عالم
وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ (انعام) كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ
١ یہ رسالہ یکم محرم الحرام ١٤١٢ ہجری کو ختم کیا جا کر چھپنے کے لیے مطبع میں بھیج دیا گیا تھا۔ چند در چند وجوہ سے چھپنے میں
٦١
وَاجْعَلْ اَفْئِدَةَ النَّاسِ تَهْوِیْ اِلَیْهِمْ لاَ تُشَدُّ الرِّحال الا الثلثة مساجد
تیری جناب میں سجدہ کہ اس سے قرب بڑھے درود تیرے نبی پر کہ اس سے ہوں مکرم
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (العلق) يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ
وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الاحزاب)
اما بعد......ناظرین والمحققین کو واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد محدثہ پر نیاز مند نے ایک مختصر رسالہ ”غایت المرام“ لکھا تھا۔ رب کریم کے محض افضال و کرم سے اس رسالہ کو قبولیت عام حاصل ہوئی۔ اور اس دوسرے رسالہ کے لیے احباب و اخوان نے نہایت شوق ظاہر کیا۔ لہٰذا ادب کے ساتھ یہ رسالہ بھی پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری نیت سے خوب آگاہ ہے۔ نہ مجھے مرزا قادیانی سے کچھ مخاصمت نہ عناد نہ ذاتی کاوش نہ رنج۔ صرف دین خالص اور اسلام پاک کی محبت (جس پر رب کریم میری حیات اور موت کرے) اور حفاظت ونصرت کے خیال نے مجھے مجبور کیا کہ اس بارہ میں جو فہم اور سمجھ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دی ہے اپنے بھائیوں کے سامنے ظاہر کروں۔ اور ان عقائد محدثہ میں جو جو غلطیاں اور مغالطے مرزا قادیانی کی تحریر سے مجھے معلوم ہوئے ہیں ناظرین کے سامنے بیان کر دوں انصاف مسلمان خود کر لیں گے۔ اور اس ناچیز خدمت کا اجر وثواب میری نیت میرے عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھ کر خود عطا فرمائے گا۔
اس مختصر رسالہ میں مرزا قادیانی کے رسالہ ”ازالہ اوہام“ کے تمام ضروری مطالب کا جواب لکھ دیا گیا ہے۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْهِ اُنِیْبُ
محمد سلیمان ولد قاضی احمد شاہ۔ منصور پور۔ علاقہ ریاست پٹیالہ ٥۔ ذی الحجہ ١٣١١ھ
١؎ زیر نظر قصیدہ کا یہ شعر اس وقت ہی لکھا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس ناچیز کی دعا قبول فرمائی اور اس کا ایک حصہ پورا بھی ہو گیا۔ یعنی ١٣١٣ ہجری میں والد بزرگوار کو حج اور زیارت مدینہ منورہ کا شرف حاصل ہوا۔ بندہ ناچیز کو اپنے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہی امید ہے اور توقع ہے کہ جس طرح یہ دعا قبول فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح یہ ناچیز عمل (کتاب تائید الاسلام) بھی درگاہ ایزدی میں درجہ قبولیت پائے گا۔ (محمد سلیمان عفی عنہ)
دیباچہ طبع دوم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَ نَسْتَعِیْنُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِى اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ ہ وَمَنْ يُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ وَ نَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَاشَرِیْكَ لَهٗ وَ نَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهُ الَّذِیْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ وَ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی نَبِيِّهٖ خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ وَ اَصْحَابِهٖ وَ بَارَکَ وَسَلَّمَ۔
اما بعد یہ رسالہ تائید الاسلام مصنفہ جناب فاضل اجل علامہ قاضی حاجی محمد سلیمان صاحب زید مجدہم العالی کا ہے جو ان کے رسالہ ”غایت المرام“ کا دوسرا حصہ ہے۔ یہ دوسرا حصہ علامہ ممدوح نے ١٨٩٨ء میں اور پہلا حصہ ١٨٩٣ء میں تحریر فرمایا تھا۔ دونوں کتابیں اس قدر مقبول ہوئیں ۔ کہ شائع ہونے سے چند ماہ کے بعد ان کی کوئی جلد بازار میں نہ رہی۔ لوگ اب تک ان کتابوں کے نہایت شائق تھے۔ اس لیے اس احقر نے اب ان کتابوں کو مکرر چھپوایا ہے۔
علامہ مصنف کی یہ ہر دو تصنیفات ایسی جامع ہیں کہ ان کے بعد ہر ایک تصنیف میں ان سے مدد لی گئی ہے اور عصائے موسیٰ کے قابل مصنف نے کشادہ دلی سے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امید ہے کہ ناظرین اس کتاب کے ملاحظہ سے نہایت خوش ہوں گے۔
احقر خلیفہ ہدایت اللہ پنشنر ضلعدار نہر ساکن پٹیالہ ریاست ( پنجاب)
١٣
قرآن شریف کی وہ تیس آیتیں جن سے مرزا قادیانی نے اپنی غلط فہمی سے مسیح
ابن مریم کی موت ثابت کی ہے اور اس غلط فہمی پر ہماری گزارشیں
١...... پہلی آیت
يَاعِيْسٰى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران ٥٥)
تیس آیتوں کا مضمون ازالہ ص ٥٩٨ خزائن ج ٣ ص ٤٢٣ سے شروع ہوا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس سب سے پہلی آیت سے وفات مسیح پر کوئی دلیل قائم نہیں کی۔ صرف آیت کا ترجمہ کر دیا ہے۔ یہ تو اَوَّلِینَ آیت مستدلہ پر آپ کا حال ہے۔
البتہ ترجمہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں۔ ”میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا۔“ اس ترجمہ پر بحث آگے آتی ہے۔
اس آیت ”اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ“ کی نسبت مرزا قادیانی نے ازالہ ص ٣٩٤ خزائن ج ٣ ص ٣٠٣ پر یہ اقرار کر لیا ہے کہ یہ آیت وعدۂ وفات ہے (یعنی دلیل و خبر وفات نہیں) مگر میں حیران ہوں کہ وعدۂ وفات دینے میں کیا مصلحت الٰہی ہو سکتی ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ ان پر موت وارد نہ ہوگی؟ حالانکہ ہر شخص خواہ مومن ہو خواہ کافر ”كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ“ کو مانتا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی۔ جب یہود نے حضرت مسیح کو پکڑ کر صلیب پر کھینچنا چاہا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ رب کریم نے یہود کے اس ارادۂ فاسد کے مقابلہ میں
١٤
حضرت مسیح علیہ السلام کا اطمینان فرمایا کہ تم صلیب پر نہیں مرو گے۔ بلکہ اپنی موت سے اے سے مرو گے۔ عزت پاؤ گے ان کافروں کے ارادۂ فاسد سے پاک صاف رہو گے۔‘‘ میرے نزدیک مرزا قادیانی کی یہ خود تراشیدہ وجہ بھی وعدۂ وفات کی مصلحت کے ظاہر کرنے میں بودی اور کمزور ہے۔ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ ”حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے۔ صلیب کی سختیوں سے ایسے قریب بہ مرگ ہو گئے کہ یہود نے مرجانے کا خیال کر لیا۔ سبت بھی قریب تھا۔ جلدی سے اتار کر دفن کر دیئے گئے۔ حضرت مسیح کے یار واحباب نے آکر ان کو نکال لیا۔ پھر وہ خفیہ زندہ رہے۔ اور اپنی موت سے مر گئے“
(ازالہ ص ٣٨٢۔٣٨١ خزائن ص٢٩٦۔٢٩٧ ج ٣ ملخص)
یہ وجہ اس لیے کمزور اور بودی ہے کہ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد پھر زندہ رہے اور مدتوں جیئے۔ تو اندریں صورت اقتضائے مقام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وعدہ نجات دیتا کہ یہود تو تجھے صلیب پر لٹکانا چاہتے اور بے عزتی کے ساتھ ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں تجھے ان کے ہاتھوں سے نجات دوں گا۔ اور تو اپنی زندگی اور عمر کا بقیہ حصہ خاموشی اور امن کے ساتھ پورا کرے گا نہ کہ برخلاف اس کے۔ کہ ایک شخص جو موت کا سامان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے اور اپنے مرنے کا یقین کر رہا ہے۔ اس کی تسلی اور تشفی ان الفاظ میں کی جائے کہ میں تجھے ماروں گا اور وفات دوں گا۔ درانحالیکہ مارنے اور وفات دینے میں ہنوز عرصہ دراز باقی ہے۔ ایسے موقعہ دل دہی اور اطمینان پر ایسے الفاظ کا استعمال دنیا کی کسی زبان میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ چہ جائے کہ رب کریم کے کلام میں ہو۔ جس کی بلاغت بدرجہ غایت پہنچی ہوئی ہے! اس سے
١؎ میں کہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی اس وجہ اور سبب وعدۂ وفات کے غلط ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو یہ تو اپنی پیدائش کے دن ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ نہ قتل کئے جائیں گے اور نہ صلیب پر لٹکائے جائیں گے۔ بلکہ سلامتی کی موت کے ساتھ اپنی انفاس حیات پوری کریں گے پڑھو یہ آیت وَسَلَامٌ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم ٣٣) پس یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی موت دوں گا ہرگز صحیح نہیں۔
٢؎ آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کے جو معنی مرزا قادیانی نے کئے ہیں اور اس معنی پر جو اعتراض ہم نے کیا ہے کہ آپ اس آیت کو حضرت مسیح کے لیے اطمینان دہ اور تسلی بخش مانتے ہیں۔ مگر آپ کا ترجمہ اس آیت کو ان کے حق میں ایک پر وحشت خبر اور پیام مرگ بتا رہا ہے اور ایک مقید و اسیر کو جو اپنی آنکھوں سے صلیب کو اپنے لیے تیار اور قوم کو اپنے قتل پر آمادہ دیکھے۔ موت فوری اور قتل ذلت کا یقین دلا رہا ہے۔ ہمارے اس اعتراض کا صحیح ہونا مرزا قادیانی نے خود تسلیم کر لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحے پر دیکھئے)
١٥
ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کا جو ترجمہ کیا ہے۔ وہی اپنی غلطی پر اندرونی شہادت رکھتا ہے اور بآواز بلند پکار رہا ہے کہ الفاظ ربانی کے ایسے معانی کرنا جس کے ایک پہلو سے اللہ تعالیٰ پر فعل عبث اور کلام بے محل کا الزام آتا ہو۔ اور دوسرے پہلو سے حضرت عیسیٰ پر غلط فہمی کا اعتراض قائم ہوتا ہو بالکل بے بصیرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کو اس کے درجہ علیا سے منزل کر دینا ہے اور مُتَوَفِّیْکَ کا ترجمہ تجھے ماروں گا کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ترجمہ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا پہلے الفاظ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جس عزت کی موت کا وعدہ تھا۔ یا تو وہ عزت جسمانی ہو سکتی ہے۔ جو بقول آپ کے حضرت مسیح کو نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ تا دم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے ہی رہے۔ گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور معمولی طور پر مرجانا جسمانی لحاظ سے با عزت موت نہیں ہو سکتی۔ ایسی کہ اس کا وعدہ بھی منجانب اللہ دیا گیا ہو۔ اور یا وہ عزت روحانی ہو سکتی ہے۔ یعنی اعلیٰ علیین میں روح کا جاگزین ہونا وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ سب امور تو انبیاء کو یقیناً حاصل ہوتے ہیں۔ اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کو سوء خاتمہ کا خوف ہو۔ یا سلب ایمان کا ڈر۔ پس اس اعتبار سے بھی یہ وعدہ ایک فعل لایعنی ہوا۔ اور جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود کی مخالفت دیکھ کر خود حضرت مسیح کو بھی اپنی صداقت اور نبوت میں شک ہو گیا تھا۔ جس کا دفعیہ خدا تعالیٰ کو کرنا پڑا کہ نہیں تو شک نہ کر۔ تو سچا ہے اور اس
”واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خدا کی طرف اٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا۔ جو مسیح پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وارد ہے۔ سو اس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا۔ چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا۔“
(ازالہ ص ٣٩٤ خزائن ج ٣ ص ٣٠٣)
مرزا قادیانی ”مسیح اک انسان تھا“ کہہ کر اپنے معنی کا نقص چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں۔ مسیح ایک رسول تھا جس کے پاس یہود کے ہاتھوں سے نجات پاجانے کا وعدہ حتمی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آ چکا تھا۔ اس لیے لازمہ نبوت تھا کہ وہ ان کمزور ہچکار بندوں کے اسباب کو بیت العنکبوت سے زیادہ کمزور خیال کرتا اور ذرا گھبراہٹ اس کے لاحق حال نہ ہوتی۔ بیشک ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کے استقلال واستقامت وصبر میں کبھی لغزش ظاہر نہیں ہوئی۔ یہود اور سلطنت کے مخالفوں کے سامنے ان کا بھروسہ خدا کریم پر تھا۔ اور اس نے اس کو بچا بھی لیا حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح کے استقامت احوال پر یہ جو اعتراض ہوتا ہے۔ وہ بھی مرزا قادیانی کے ترجمہ کی خرابی کا موجب ہے ورنہ نبی کی شان اس سے اعلیٰ وبرتر ہے۔
١٦
لیے تو عزت کے ساتھ ہمارے پاس آئے گا مُتَوَفِّیْكَ کے ترجمہ ماروں گا کی غلطی تو لفظ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح یہود کے ہاتھوں صلیب پر لٹکائے گئے (گو ان کو صلیب پر وفات پانے کا انکار ہے) اور توریت کے خاص الفاظ یہی ہیں کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا (دیکھو صلیب پر لٹک کر مر گیا توریت بھی نہیں کہتی) وہ لعنتی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کو یہود کی آنکھوں میں تطہیر حاصل نہیں ہوئی۔ حالانکہ وعدہ تطہیر کا تھا۔
اب ناظرین! یہ بھی خیال فرماویں کہ مرزا قادیانی نے ان ہر چہار فعلوں میں ترتیب طبعی کو تسلیم کرلیا ہے۔ حالانکہ ان کی بتلائی ہوئی وجہ سے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْ کو مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ پر تقدم زمانی حاصل ہے۔ کیونکہ تطہیر کے معنی ان کے نزدیک صلیب پر لٹکے ہوئے وفات نہ پانا ہے۔ جو واقعہ تصلیب سے اگلے روز ہی ان کو حاصل ہو گئی تھی۔ اور جب یہ تقدم زمانی ثابت ہوئی۔ تو پھر ان کا یہ مذہب کہ تقدیم و تاخیر الفاظ قرآنی صریح الحاد ہے۔ انہی پر لوٹ پڑے گا۔ غرض یہ ترجمہ ہی اپنی بطلان پر خود شاہد ہے۔
اس جگہ تقدیم و تاخیر الفاظ کی نسبت بھی مجھے کچھ گذارش کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ مُتَوَفِّیْكَ کے معنی مُمِیْتُكَ ہیں۔ اس پر وہی اعتراضات وارد ہوتے۔ جو اب مرزا قادیانی کے ترجمہ پر ہوئے ہیں مگر ساتھ ہی ان کا یہ مذہب بھی ہے کہ الفاظ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مرزا قادیانی اس مقام پر آ کر اس سے غضب میں بھر جاتے ہیں۔ کہ تقدیم و تاخیر الفاظ کا نام الحاد قرار دیتے ہیں اور ان کے خوش فہم مرید بھی بحق صحابی رسول۔ مفسر قرآن فقیہ فی الدین۔ برادر عمزاد نبی ابن عباسؓ اس فتویٰ الحاد پر بڑے نازاں ہورہے ہیں۔ اگر ان کو نظم قرآنی پر ذرا غور کا موقع بھی ملا ہوتا تو یہ حرف کبھی زبان پر نہ لاتے۔
امام جلال الدین سیوطیؒ نے (جس کی نسبت مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ ”وہ کشف میں رسول اللہ ﷺ سے تحقیق مسائل اور تصحیح احادیث کر لیتے تھے) ازالہ ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧ پر لکھا ہے۔
النوع الرابع والاربعون فی مقدمه ومؤخره وهو قسمان. الاول ما اشكل معناه بحسب الظاهر فلما عرف انه من باب التقديم والتاخير. اتضح. وهو جدير ان ينفرد بالتصنيف و قد تعرض السلف لذلك فی آيات فاخرج ابن
١٧
ابی حاتم عن قتادہ فی قولہ فلا تعجبک اموالھم و اولادھم انما یرید اللّٰہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا۔ قال ھذا من تقادیم الکلام یقول لا تعجبک اموالھم ولا اولادھم فی الحیوۃ الدنیا۔ انما یرید اللّٰہ لیعذبھم بھا فی الآخرۃ۔ واخرج عنہ ایضاً فی قولہ ولو لاکلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی قال ھذا من تقادیم الکلام یقول لولا کلمۃ واجل مسمی لکان لزا ما واخرج عن مجاھد فی قولہ انزل علی عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا قیما قال ھذا من التقدیم والتاخیر انزل علی عبدہ الکتب قیما و لم یجعل لہ عوجا واخرج عن قتادہ فی قولہ انی متوفیک ورافعک قال ھذا من المقدم والمؤخر الی رافعک الی و متوفیک و اخرج عن عکرمہ فی قولہ تعدلھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب قال ھذا من التقدیم والتاخیر یقول لھم یوم الحساب عذاب شدید بما نسوا واخرج ابن جریر عن ابن زید فی قولہ ولو لا فضل اللّٰہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطان الا قلیلا۔ قال ھذہ الآیۃ مقدمۃ ومؤخرۃ انما ھی اذاعوا بہ الا قلیلاً منھم ولو لا فضل اللّٰہ علیکم ورحمتہ لم ینج قلیل ولا کثیر۔ واخرج ابن عباس فی قولہ فقالوا ارنا اللّٰہ جھرۃ قال انھم اذا راو اللّٰہ فقد راؤہ انما قالوا جھرۃ ارنا اللّٰہ قال ھو مقدم وموخر قال ابن جریر یعنی ان سوالھم کان جھرۃ ومن ذالک قولہ واذ قتلتم نفساً فادار تم فیھا قال البغوی ھذہ اول القصۃ وان کان موخرا فی التلاوۃ وقال الواحدی کان الاختلاف فی القاتل قبل ذبح البقرۃ وانما أخر فی الکلام لانہ تعالیٰ لما قال ان اللّٰہ یامرکم (الآیۃ) علم المخاطبون ان البقرۃ لا تذبح الا لدلالتہ علی قاتل خفیت عینہ علیھم فلما استقر علم ھذا فی نفوسھم اتبع بقولہ واذ قتلتم نفسا فادارتم فیھا۔ فسالتم موسیٰ فقال ان اللّٰہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ ومنہ افرایت من اتخذ الٰھہ ھواہ والاصل ھواہ الھہ لان من اتخذ الھہ ھواہ غیر مذموم فقدم المفعول الثانی للعنایۃ بہ وقولہ اخرج المرعی فجعلہ غثاء احوی علی تفسیر احوی بالاخضر۔ وجعلہ نعتا للمرعی۔ ای اخرہ احوی فجعلہ غثاء و أخر رعایہ للفاصلۃ وقولہ غرابیب سود والاصل سود غرابیب لان الغرابیب الشدید السواد۔ وقولہ
١٨
فضحكت فبشر نا ها اى فبشرنا ها فضحكته...... وقدألف فيه العلامة شمس الدين ابن السائغ كتابه المقدمه فى سرالا لفاظ المقدمة الخ اتقان. (ج٢ص ٢١_٢٢)
ترجمہ...... چوالیسویں فصل۔ قرآن مجید کے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے بیان میں اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ ظاہر عبارت کے معنی کرنے مشکل ہوں۔ مگر جب یہ معلوم ہو جائے کہ یہاں تقدیم و تاخیر ہے تو معنی واضح ہو جائیں۔ یہ قسم اس قابل ہے کہ اس میں جدا گانہ تصنیف کی جائے۔ چنانچہ سلف نے بہت سی آیات میں توجہ بھی کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے قتادہؓ سے روایت کی ہے کہ آیت فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَا اَوْلَا دُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الحيوة الدنيا میں تقدیم ہے۔ یعنی لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَا اَوْلَادُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُعَذِّبَهُمْ فِى الاٰخِرَةِ ہے۔ قتادہ سے ہی مروی ہے کہ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَاَجَلٌ مُسَمًّى میں بھی تقدیم کلام ہے۔ گویا یوں ہے لَوْ لَا كَلِمَةٌ وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى لَكَانَ لِزَامًا ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِهِ الْكِتٰبَ قِيَمًا وَّلَمْ يَجْعَلْ لَّهُ عِوَجًا. ”قیما“ میں تقدیم و تاخیر ہے گویا یوں ہے انزل علی عبده الکتب قيما فلم يجعله ”عوجا“ اور قتادہ سے مروی ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ گویا یوں ہے اِنِّیْ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَمُتَوَفِّيْكَ عکرمہ سے مروی ہے کہ آیت لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی يَوْمَ الحساب عذاب شدید بمانسوا ہے۔ اور ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے کہ آیت اذجاهم امرمن لامن اوالخوف اذاعوا به ولو ردوه الى الرسول والى اولى الامرمنهم لعلمه الذين يستنبطو نه منهم ولولا فضل الله عليكم ورحمته لاتبعتم الشيطان الا قليلا میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی الا قليلا جو آیت کے آخر میں ہے۔ یہ ”اذا عوابہ“ کے متعلق ہے۔ کیونکہ اگر فضل اور رحمت الٰہی نہ ہو۔ تب تو کیا قلیل کیا کثیر کوئی بھی نہیں بچ سکتا اور ابن عباس سے مروی ہے کہ فقالو ارانا الله جهرة کی کیا ضرورت ہے۔ پس آیت اور معنی یہ ہیں انہوں نے کھلم کھلا آ کر کہا ہم کو خدا دکھلا دے۔ ابن جریر نے تصریح کر دی ہے کہ ان کا یہ سوال بہ جہر تھا علی ہذا آیت ”اذقتلتهم نفسا فالدرتم فیها“ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ اول قصہ ہے۔ گو تلاوت اور نظم و ترتیب کلام میں موخر ہے۔ واحدی نے بیان کیا کہ ”ذبح“ بقر
١٩
سے پہلے قاتل میں اختلاف تھا اور اس کے مؤخر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے بقرہ کو فرمایا تو مخالفین سمجھ گئے کہ بقر اس لیے ذبح ہوتا ہے کہ قاتل پر دلالت کرے پہلے تو یہ بات ہی ان کی سمجھ میں نہ آئی مگر جب یہ علم ان کے نفوس میں قائم ہو گیا۔ تب واذ قتلتم نفسا فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ ہی سے مروی ہے کہ اَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهُ هَوَاهُ میں تقدیم و تاخیر ہے اور اصل میں من اتخذهواه اله ہے کیونکہ نظم موجودہ کی صورت میں یہ معنی ہیں کہ جو شخص اپنے معبود کو ہی اپنی خواہش بناتا ہے اور یہ غیر مذموم ہے۔ اس جگہ مفعول ثانی کو اس پر عنایت کی راہ سے مقدم کیا ہے۔ اس آیت فجعله غثاء میں بھی تقدیم و تاخیر ہے جبکہ احوی کے معنی اخضر ہوں۔ اس کو مؤخر صرف رعایت فواصل سے کیا گیا ہے اور اس آیت ”غَرابِیب سود“ میں بھی تقدیم و تاخیر ہے اور اصل میں ”سود غرابيب“ ہے۔ کیونکہ ”غرابيب“ سخت سیاہ کو کہتے ہیں اور اس آیت فَضَحِكَتْ فبشرنٰهَا میں بھی تقدیم و تاخیر ہے یعنی فبشرنٰ ها فضحكت ہے۔ علامہ شمس الدین بن السائغ نے اس مضمون میں ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام المقدمة فی سر الالفاظ المقدمہ ہے۔
اس امام ہمام کی تحقیقات نفیسہ سے ناظرین کو معلوم ہوا ہو گا کہ حضرت ابن عباس کا یہ مذہب نہ صرف آیت متنازعہ فیہ میں یہ ہے کہ الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ جبکہ دیگر آیت میں بھی یہی مذہب ہے اور آئمہ ملت نے اس تقدیم و تاخیر کو ایسا مہتم بالشان سمجھا ہے کہ جداگانہ تصنیف اس کے لیے کی ہے اور تقدیم و تاخیر الفاظ میں جو راز دقیقہ اور بلاغت بالغہ ہے۔ اس کے انکشاف میں سعی فرمائی ہے۔
ناظرین! مرزا قادیانی کے الفاظ ترجمہ پر مکرر غور فرماویں۔ کہ اگر ان کے ترجمہ کے موافق مُتَوَفِّیْکَ سے وفات جسمی اور ”رفع“ سے عروج روحی مراد لی جائے تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑے گی۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْ جَسَدَکَ ورافع روحک. حالانکہ معنی بتانے کے لیے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر مرزا قادیانی کے مذہب میں الحاد اور کفر ہے۔
خیال کرنا چاہیے کہ اس جگہ چار فعل ہیں اور ان چاروں فعلوں کا فاعل باری تعالیٰ ہے اور ان چاروں فعلوں میں مخاطب یا عیسیٰ ہیں۔ جن پر ان افعال کا اثر مرتب ہوتا ہے۔ اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ لفظ عیسیٰ جو اسم ہے۔ یہ مسمی کے صرف جسم یا صرف روح پر دلالت کرتا ہے یا جسم و روح دونوں پر مرزا قادیانی کا مذہب بہت ہی عجیب ہے۔ وہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں ”ک“ کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف جسم مراد لیتے ہیں کیونکہ ”توفی“ کے معنی وہ روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار
٢٠
چھوڑ دینا بتلاتے ہیں اور رَافِعُكَ اِلَيَّ میں ”ک“ کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف روح عیسیٰ لیتے ہیں ۔اور مُطَهِّرُكَ اور اتَّبَعُوْكَ میں عیسیٰ کا مرجع جسم وروح دونوں کو اور اس طرح پر وہ آیت کا ترجمہ کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ جو سراسر نظم قرآنی کے خلاف اور شان کلام ربانی سے بعید ہے۔
ناظرین ! یہ بھی یاد رکھیں کہ براہین احمدیہ میں جس کو خدا کے حکم والہام سے مرزا قادیانی نے لکھا اور جس کو کشف میں حضرت سیدہ فاطمہ زہراؓ نے مرزا قادیانی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ تفسیر علی مرتضیٰؓ ہے
(براہین احمدیہ ص ٥٠٤ خزائن ج ١ ص ٥٩٩)
اس میں مرزا قادیانی نے آیت يَا عِيسَىٰ اِنِّي متوفیک کا اپنے اوپر الہام ہونا لکھا ہے اور پھر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ ”اے عیسیٰ میں تجھے پوری نعمت دوں گا۔“
(براہین احمدیہ چہار حصص ص ٥٢٠ خزائن ج ١ ص ٦٢٠)
ظاہر ہے کہ اگر ”متوفیک“ کے معنی حقیقی ”تجھے ماروں گا“ ہوتے تو الہامی کتاب اور کشفی تفسیر میں یہ ترجمہ اس کا نہ کیا جاتا ۔ مرزا قادیانی اس وقت بھی کچھ جاہل نہ تھے جو ”توفی“ کے معنی نہ جانتے ہوں۔ پس اگر یہ ترجمہ ان کے لیے جائز اور صحیح ترجمہ تھا تو حضرت مسیح کے لیے کیوں یہ ترجمہ صحیح نہیں؟ اگر مرزا قادیانی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے الہام میں تو اس وقت بھی ”متوفیک“ کے معنی ماروں گا۔“ مراد تھی مگر ترجمہ کرنے میں غلطی ہوئی تو خیر یہ بھی سہی ۔ مگر ظاہر ہے کہ براہین میں اس الہام کو چھپے ہوئے یعنی مرزا قادیانی کو خبر وفات منجانب باری تعالیٰ ملے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کو اب تک موت نہیں آئی ۔ تو اس سے واضح ہوا کہ جس طرح مرزا قادیانی کے لیے بعد از خبر وفات پندرہ سال کا عرصہ اوپر گزر جانا جائز ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح کے لیے صدیوں کا عرصہ گزر جانا بھی جائز ہے اور اس صورت میں حضرت ابن عباسؓ کا مذہب ماننا پڑے گا۔ توفی کی لغوی بحث آگے آتی ہے۔
٢...... دوسری آیت
مرزا قادیانی نے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ پیش کی ہے۔ انہوں نے اس کا ترجمہ بدیں الفاظ کیا ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“ ترجمہ کے بعد پھر لکھا ہے اس جگہ رفع سے مراد موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے ۔ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا.
(ازالہ ص ٥٩٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٣)
٢١
مرزا قادیانی نے مراد کا لفظ لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ اس جگہ مرادی ترجمہ کرتے ہیں۔ اور ترجمہ آیت میں حسب مراد خود جو چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں۔ نیز ثابت کر دیا کہ اس جگہ ”رفع“ کے لغوی معنی مرزا قادیانی کے مذہب کو دفع کر رہے ہیں۔ آیت وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ط جو حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں ہے۔ وہ نہ ان مرادی معنی پر دلالت کرتی ہے اور نہ مرزا قادیانی کے کچھ مفید ہی ہے۔ کیونکہ یہاں ”رفع“ کا لفظ مَكَانًا عَلِيًّا سے مضاف ہے اور جس کے یہ معنی ہیں کہ رب کریم نے حضرت ادریس کو رتبہ عُلِيًّا پر فائز کیا اور منصب برتر پر ممتاز فرمایا۔ ایسا ہی دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ ط یہ رسول ہیں۔ جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے اور بعض کے درجے ہم نے بلند کئے ہیں۔ اس میں ”رفع“ کو درجات کی طرف مضاف کیا ہے۔ پس واضح ہوا کہ مرزا قادیانی نے یہ مرادی معنی تو اللہ تعالیٰ کے مقصود و مطلوب کلام کے خلاف کئے ہیں۔ لہٰذا روشن ہوا کہ ”رفع“ کے معنی یہاں بھی وہی ہیں جو لغت میں ہیں اور جو ہر جگہ لیے اور سمجھے سمجھائے بولے جاتے ہیں یعنی بلند کرنا اب چونکہ یہاں ”رفع“ کا لفظ ہے۔ اور وہ اِلَیَّ کی طرف مضاف ہے تو صاف اور سیدھے معنی جن کو لغت کی امان حاصل ہے یہ ہیں کہ ہم نے عیسیٰ کو اپنی طرف اوپر اٹھا لیا۔“ اِلَیَّ کے معنی ہیں فوق۔ جہت۔ علو کی بحث (جو مسئلہ صفات کا حصہ ہے) شامل کی جاسکتی ہے۔ مگر میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ ان صفات الٰہی سے منکر نہ ہوں گے اور مسئلہ صفات میں اہل سنت والجماعۃ کا مذہب چھوڑ نہ بیٹھے ہوں گے۔
ناظرین! بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر سکتے۔ ان کو شروع تقریر میں ہی اپنے ضعف استدلال کا خود اقرار کرنا پڑا اور یہ ماننا لازمی ہوا کہ جو معنی ہم نے کئے ہیں۔ وہ مرادی معنی ہیں۔ مجھے نہایت تعجب آتا ہے کہ ”توفی“ کے لفظ پر تو مرزا قادیانی نے اتنا زور دیا ہے۔ کہ گویا تمام بحث کا لب لباب اور کل دلائل کا عطر مجموعہ یہی لفظ ہے۔ اور وہ سارا زور صرف اس بات پر ہے کہ ”توفی“ کے لغوی اور اصلی معنی وفات کے ہیں۔ مگر ”رفع“ میں آکر اس تمام جوش و خروش کو سینہ میں دبا کر چاہتے ہیں کہ اس کے لغوی اور اصلی معنی کو چھوڑ کر مرادی معنی لے لیں اور اس طرح پر آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مثل کے موافق تب اپنی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کا ترجمہ کر سکتے۔ اور بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے استدلال کرنے کے قابل ہوں۔ میں اس مقام پر زیادہ بحث اس لیے نہیں کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی بھی اس دلیل کے موقع اور مقام پر بجز مرادی معنی لکھ دینے کے اور کچھ نہیں لکھ سکے۔ آگے چل کر اس کی بحث پھر
٢٢
آئے گی تاہم میں مرزا قادیانی کے غور کے لیے اس قدر یہاں اور بھی لکھ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت وعدہ تو ہوا تھا ان الفاظ میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ اور پھر جب اس وعدہ کے ایفا کی خبر دی تو ان الفاظ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ میں دی۔ آپ نے ازالہ کے مختلف مقامات پر واضح لفظوں میں تسلیم کر لیا ہے کہ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کے معنی باعزت موت لینے کے لیے یہ قرینہ ہے کہ مُتَوَفِّیْكَ اس سے پہلے پڑا ہوا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ اگر مُتَوَفِّیْكَ اس سے پہلے نہ ہوتا۔ تو وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کے معنی باعزت موت کے لینے جائز نہ تھے۔ لیجئے جناب خبر ایفائے وعدہ میں اللہ تعالیٰ نے ان دو وعدوں کے لفظوں میں سے ایسے لفظ پر اختصار فرمایا ہے۔ جس کے معنی کو نہ حقیقتاً نہ مجازاً موت سے کچھ بھی تعلق نہیں کیا آپ اس کا راز بیان کر سکتے ہیں۔ دیکھنا۔ کہیں ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب جس کو آپ نے الحاد قرار دیا ہے وہی صحیح نہ ہو جائے کہ رَافِعُكَ اِلَیَّ اَلْاٰنَ وَمُتَوَفِّیْكَ بَعْدَ نُزُوْلِ عَلَی الْاَرْضِ۔ ناظرین! یہ مرزا قادیانی کا دوسری مستدلہ آیت میں حال ہے کہ نصوص شرعیہ کے الفاظ کو مرادی معنی کے تابع کیا جاتا ہے۔
٣......تیسری آیت
وفات عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا قادیانی نے فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ پیش کی۔ اس آیت کے ضمن میں لفظ تَوَفِّی پر نہایت پرجوش اور زور دار لفظوں میں بحث کی ہے۔ لکھا ہے۔ تَوَفِّی کے معنی اماتت اور قبض روح ہیں۔ بعض علماء نے الحاد اور تحریف سے اس جگہ تَوَفَّیْتَنِیْ ١؎ سے رَفَعْتَنِیْ مراد لیا ہے اور اس طرح ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں پس یہی تو الحاد ہے۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی
١؎ مرزا قادیانی دیکھیں کہ جب آپ نے محض ایک لفظ ”توفیتنی“ کے معنی ”رفعتنی“ لینے سے سینکڑوں سال کے مرے ہوئے ہزاروں علماء پر فتویٰ الحاد جاری کر دیا اور ان کو ملحد کہنے میں ان کے ایمان و اسلام۔ اقرار شہادتین وغیرہ کا کچھ خیال نہ کیا۔ تب آپ کو حال کے علماء سے اپنے فتوٰی تکفیر کے بارہ میں کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ جنہوں نے آپ کی تصانیف میں ہزاروں ایسے نمونہ پائے ہیں جن کو وہ۔ نیز تیرہ سو سال کے پہلے مسلمان کفر سمجھتے رہے ہیں (گو آپ کے زمانہ مجددیت نے اب ان کو تجدید اسلام کا نام عطا فرما دیا ہو) کیا مَنْ صَلّٰی صَلٰوتَنَا وَا سْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا کی حدیث کو آپ صرف اپنے بچاؤ کا حصار جانتے ہیں؟ مگر خود حملہ کرنے کے وقت حریف کو اس کی آڑ لینے بھی نہیں دیتے۔ میں مولوی محمد حسن امروہوی (قادیانی) سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنی کتاب ”تحذیر المومنین عن کفار المسلمین“ سب سے پہلے اپنے پیرومرشد کے ملاحظہ کے لیے پیش کریں۔
٢٣
معنی کا التزام کیا گیا ہے۔
(ازالہ ص ٦٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٢٤)
اب مجھے لازم ہے کہ ”توفی“ کے لفظ پر بحث کروں اور لغت نیز قرآن مجید سے اس کے معنی اماتت اور قبض روح کے سوا اور بھی ثابت کر دوں۔
پہلے لغت کی کتابوں کو لیجئے
- ١...... صحاح میں ہے اوفاہ حقہ (باب افعال سے) اور وفاہ حقہ (باب تفعیل
سے استوفاہ حقہ (باب استفعال سے اور توفاہ (باب تفعل سے جو زیر بحث ہے) سب ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ اس کا حق پورا دے دیا۔ توفاہ الله کے معنی قبض روح ہیں اور توفی کے معنی نیند
- ٢...... ایفاء گزاردن حق کسے بہ تمام۔ ویقال منہ واوفاہ حقہ. ووفاہ. استیفاء
و توفی تمام گرفتن حق و توفاہ الله ای قبض روحہ وفاہ مردن. موافاۃ رسیدن وآمدن۔ وتوافى القوم ای تتاموا.
- ٣...... قاموس میں ہے اوفی فلانا حقہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کو پورا حق دے دیا۔
جیسے وفاہ اور اوفاہ اور استوفاہ اور توفاہ کے یہی معنی ہیں۔ وفات بمعنی موت ہے۔ توفاہُ الله کے معنی قبض روح ہیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ کتب مذکورہ بالا سے ان کو کوئی ایسی مثال یا محاورہ دکھلا دیا جائے۔ جس میں لفظ ”توفی“ بمعنی قبض جسم بولا گیا ہو اب وہ ”توفاہ حقہ“ کے محاورہ پر غور کریں۔ جس سے درہم و دینار وغیرہ اجسام کا قبض کرنا ثابت ہے۔
اب تفاسیر کی طرف آئیے۔ تفسیر بیضاوی میں ہے۔ ”توفی“ کسی چیز کے پورا لینے کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی جو ”توفی“ کے معنی روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے اور کہتے تھے۔ اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں وہ ذرا اس لفظ پر خیال فرماویں۔ جو بیضاوی جیسے متبحر و ماہر نے لکھا ہے التوفی اخذا وافیا. مارنا اس کی ایک قسم ہے (اور نیند اس کی دوسری قسم) ان دونوں قسموں کا اس قول ربانی میں ذکر ہے۔ خدائے تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت پورا لیتا ہے۔ (یعنی مارتا ہے) اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں پورا لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے)
تفسیر کبیر میں ہے ”توفی“ کے معنی قبض کرنا ہے۔ اس لفظ سے عرب کے محاورات یہ ہیں وفانی فلان دراهمی. و اوفانی و توفیتها منه یعنی فلاں شخص نے میرے درہم میرے قبضہ میں دیدیئے اور میں نے اس سے پورے کر لیے۔ خیال فرمائیے۔ یہ محاورہ قبض جسم کی مثال
٢٤
ہے۔ (جس کے مرزا قادیانی منکر ہیں) جیسے یہ محاورات ہیں سلم فلان دراهمی الی و تسلمتها منه یعنی فلاں شخص نے میرے درہم مجھے سپرد کر دیئے۔ اور میں نے اس سے لے لیے اور کبھی ”توفی“ بمعنی ”استوفی“ آتا ہے جس کے معنی پورا لینے کے ہیں۔ ان دونوں معنی کے اعتبار سے کہ خود ”توفی“ کے معنی بھی قبض کرنا ہے۔ اور ”توفی“ کے معنی ”استوفی“ بھی ہیں) حضرت مسیح کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر چڑھا لے جانا ان کی ”توفی“ ہے۔ اس پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب ”توفی“ بعینہ رفع جسم ہوا۔ تو مُتَوَفِّیْکَ کے بعد رَافِعُکَ اِلَیَّ کہنا تکرار بلا فائدہ ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مُتَوَفِّیْکَ فرمانے سے صرف قبض کرنا معلوم ہوا جو ایک جنس اور عام مفہوم ہے اور اس کے تحت میں کئی انواع و اقسام پائے جاتے ہیں ١......موت (جس میں صرف روح کو قبض کرنا ہوتا ہے) ٢......جسم کو آسمان پر لے جانا (جس میں روح کی شمولیت بھی پائی جاتی ہے) ٣......نوم جس میں ایک قسم کا قبض روح ہوتا ہے۔ پس جب ”متوفیک“ فرمانے کے بعد وَرَافِعُکَ اِلَیَّ بھی فرما دیا۔ تو اس سے اس جنس کی ایک نوع کا تقرر ہوگیا۔ اور تکرار لازم نہ آیا۔“
اسی تفسیر میں آیات زیر بحث کی تفسیر میں ہے۔ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ کے معنی ہیں۔ خدا تعالیٰ تم کو رات کو سلا دیتا ہے اور تمہاری ان ارواح کو قبض کر لیتا ہے۔ جس سے تم ادراک اور تمیز کر سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ ارواح کو نیند کے ساتھ قبض کرتا ہے۔ جیسا کہ موت کے ساتھ قبض کرتا ہے۔ لغات اور تفاسیر کے بعد آپ قرآن مجید کی آیات ذیل پر غور فرمائیے۔ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰى اَجَلٌ مُّسَمًّى. (انعام ٦٠) ترجمہ:۔ خدا وہ ہے جو تم کو رات کے وقت پورا قبض کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کیا کرتے ہو۔ اس کو جانتا ہے۔ پھر تم کو دن میں اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری میعاد حیات پوری کرے۔
مرزا قادیانی جو (ازالہ کے ص ٦٠٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) پر ”توفی“ کے معنی صرف اماتت یعنی مار دینا اور روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے۔ اپنے ان معنی کو ملحوظ رکھ کر ذرا اس آیت کا ترجمہ تو کر دیں مگر یاد رکھیں کہ اگر اس شبانہ روزی موت کا آپ نے اقرار کر لیا تو آپ کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے گا۔
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰى اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى. (زمر٤٢)
٢٥
ترجمہ:۔ خدا تعالیٰ موت کے وقت جانوں کو پورا قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرتے۔ ان کی توفی نیند میں ہوتی ہے۔ یعنی نیند میں ان کو پورا قبض کر لیا جاتا ہے۔ پھر ان میں جس پر موت کا حکم لگا چکتا ہے۔ اس کو روک لیتا ہے۔ اور دوسری کو (جس کی موت کا حکم نہیں دیا) (نیند میں توفی کے بعد) ایک وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔
مرزا قادیانی کو لازم بلکہ واجب ہے کہ اس آیت میں ”توفی“ کے معنی ضرور ہی اماتت کے لیں۔ کیونکہ یہاں نفس انسانی مفعول اور خدا فاعل بھی ہے۔ لیکن اگر ان کو اس جگہ ”توفی“ کے معنی اماتت لینے میں کچھ پس و پیش ہو (جیسا کہ ازالہ ص ٣٣٢ خزائن ج ٣ ص ٢٦٩) پر اس تذبذب اور اندرونی بے چینی کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ یہ دو مؤخر الذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں۔ مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں نیند نہیں مراد لی گئی‘ تو ان کو (ازالہ ص ٦٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) لکھے ہوئے الفاظ سے ذرا شرم فرمانی چاہیے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک ”توفی“ کے معنی اماتت کا ہی التزام کیا گیا ہے۔ حوالہ کتب لغت اور نقل محاورات اور ثبوت آیات قرآنیہ کے بعد میں بہتر سمجھتا ہوں کہ (ازالہ ص ٦٠١) کے جواب میں اسی کا (صفحہ ٣٣٦) پیش کردوں۔ جس میں آپ نے ”توفی“ کے معنی اس جگہ بظاہر نیند ہونا قبول کر لیے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ ”اس جگہ ”توفی“ سے حقیقی موت نہیں۔ بلکہ مجازی موت مراد ہے“ جو نیند ہے۔ ہم کو آپ کا اس قدر اقرار بس ہے۔ کیونکہ خواہ آپ نے لفظ بظاہر کی قید لگائی یا مجاز کی۔ بہرحال آپ کا وہ دعویٰ (ازالہ ص ٩١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠٣) کہ قرآن مجید میں لفظ توفی بجز قبض اور وفات دینے کے دوسرے معنی میں مستعمل ہی نہیں ہوا غلط ثابت ہو گیا۔
لفظ توفی پر اس قدر بحث و تحقیق کے بعد اب میں مرزا قادیانی کی وجہ استدلال کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ جس سے آپ نے اس آیت کو تیسری دلیل وفات مسیح پر قرار دیا ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ سے پہلے یہ آیت ہے۔ اِذْقَالَ اللّٰهُ يَاعِيْسٰی (الخ) قَالَ ماضی کا صیغہ ہے۔ اور ’اِذ‘ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اس سے پہلے موجود ثابت ہوا یہ قصہ نزول آیت کے وقت ایک ماضی قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔ پھر جو جواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے ہے یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔
(ازالہ ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
غرض اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ مرچکے۔ اور اس مرنے کا اقرار خود ان کی
٢٦
زبان کا موجود ہے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ اور رب العالمین کے اس سوال و جواب کو زمانہ مستقبل کا سوال و جواب ثابت کر دیں اور پھر ”توفیتنی“ کے بعد معنی رَفَعْتَنِیْ اِلَی السَّمَاءِ علماء مفسرین نے لیے ہیں۔ اس کا قرینہ اسی آیت میں سے نکال دیں۔ تو کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ دلیل بھی ان کے حق میں بالکل بودی اور ضعیف ثابت ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ ”قَالَ“ کے ماضی ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ مگر یہ غلط ہے کہ ”اِذْ“ صرف ماضی کے واسطے آتا ہے۔ یا جب ماضی پر آتا ہے۔ تو اس جگہ زمان مستقبل مراد ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ دیکھو وَ لَوْ تَرٰی اِذْ فُزِعُوْا (سباء ٥١) اِذْ تَبَرَّأَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا (بقرہ ١٦٦) میں ماضی پر ”اِذْ“ آیا ہے۔ مگر وہی حال قیامت کے لیے۔ علیٰ ہذا مضارع پر بھی اِذْ آیا ہے۔ پڑھو یہ آیت وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاهِیْمُ الْقَوَاعِدَ (بقرہ ١٢٧) اور وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (آل عمران ١٢٤) مگر ہاں سنت اللہ یہ ہے کہ زمان مستقبل کے جن امور کا ہونا یقینی اور ضروری ہے۔ ان کو بصیغہ ماضی بیان کیا جایا کرتا ہے۔ جس شخص کو نظم قرآنی کے سمجھنے میں ذرا بھی مناسبت ہوگی۔ جس نے تھوڑی سی توجہ بھی قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کی ہوگی۔ وہ ہمارے بیان کی صداقت سے بخوبی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قیامت کا ذکر خصوصیت سے ایسا ذکر ہے۔ جس کو جا بجا صیغہ ماضی سے بیان کیا گیا ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح واقعات گذشتہ کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح احوال قیامت میں کسی کو مجال انکار و مقام شبہ باقی نہ رہ جائے۔ مثلاً حدیث صحیح میں آیا ہے۔ جَاءَتْ الرَّاجِفَة تَتْبَعُهَا الرَّادِفَة پہلا نفخ صور آ گیا۔ اس کے ساتھ دوسرا بھی ہے۔ قرآن میں ہے اَتٰی اَمْرُ اللّٰهِ قیامت آ گئی۔ گو ”جَاءَتْ“ اور ”اَتٰی“ صیغہ ماضی ہیں۔ مگر زمان مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ اس طرز کلام میں یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ ان امور کا واقع ہونا ذرا بھی غیر یقینی نہیں۔
اب یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پرسش و گزارش یہ سوال اور جواب زمانہ ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ یَوْمِ الدِّیْنِ کے وقوعی امر کا اخبار ہے۔ آپ قرآن مجید کی طرف توجہ فرمائیں کہ شروع قصہ مسیح ابن مریم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ
(مائدہ ١٠٩)
ترجمہ:۔ جس دن خدا تعالیٰ رسولوں کو اکٹھا کر کے فرمائے گا تم کو تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا۔ عرض کریں گے ہم کو اس کی خبر نہیں۔ تو علام الغیوب ہے۔ ”الرسل“ لانے کے بعد ایک اولوالعزم رسول کے ساتھ جو سوال و جواب ہوں گے۔ ان کی خصوصیت سے تصریح بھی فرما
٢٧
دی۔ اور اس سوال و جواب کے لکھنے سے پہلے مسئول عنہ کی قدر و منزلت دکھلانے کے واسطے ان نعمتوں عزتوں کا شمار بھی فرمایا جو حضرت عیسیٰ کو عطا کی گئی تھیں۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس ہولناک دن میں کیسے کیسے ممتاز رسولوں کو اپنی اپنی پڑی ہو گی اور مشرکین کو ان کے معبود ذرا بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے۔
پھر دیکھو کہ اس جواب وسوال کے ختم ہونے اور حضرت عیسیٰ کی بے گناہی کو تسلیم کر لینے کے بعد حضرت عیسیٰ کے الفاظ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِیْمُ ط (مائدہ ١١٨) کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے۔ قَالَ اللهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُهُمْ ط (مائدہ ١١٩) آج تو وہ دن ہے کہ صادقین کو ان کا صدق نفع پہنچائے۔ ”اب اس میں تو شک نہیں کہ هٰذَا يَوْمُ اس سوال و جواب کے دن ہی کو کہا گیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُهُمْ کا ظہور قیامت کے روز ہی ہوتا ہے لہذا مرزا قادیانی کو چاہیے کہ اب اِذْقَالَ کی کوئی اور توجیہ پیش کریں۔
اب ناظرین آیت و معنی آیت ملاحظہ فرمائیں۔ فَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَادُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَیْهِمْ (مائدہ ١١٧)
ترجمہ:۔ میں ان کی نگہبانی کرتا رہا۔ جب تک ان کے درمیان موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان کا نگہبان اور رکھوالا تھا۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دینے کے وقت اِنِّیْ مُتَوَفِّيْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ فرمایا تھا۔ ”توفی“ کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یہ ایک جنس ہے۔ جس کے تحت میں بہت انواع ہیں۔ ”رفع“ بھی اسی کی ایک نوع ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ کے لفظ سے خبر دی ہے تاکہ تعیین ہو جائے اور اس لیے جب مفسرین نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ خود اس جنس سے تعیین ایک نوع کی فرما چکا ہے۔ تو انہوں نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ کے معنی بھی مراد سبحانی و تعیین ربانی کے موافق کیے۔ جس کو مرزا قادیانی نے خود نہیں سمجھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے سب مفسرین پر الحاد اور تحریف کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ حضرت اسمیں مفسرین کا کچھ قصور نہیں اگر تحریف اسی کا نام ہے۔ تو وہ خود اس کلام پاک اور قدیم کے متکلم کی طرف سے وقوع میں آئی ہے۔ جو فتویٰ لگانا ہو اس پر لگائیے ۔ (معاذ اللہ ) میں یہ بھی کہتا ہوں کہ خارجی دلائل کو تائید میں لانے سے پہلے خود اس آیت کے اندر دلائل کی تلاش کرنے سے
٢٨
بہت کچھ ملتا ہے حضرت عیسیٰ نے یوں عرض کیا ہے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ. ”یعنی جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کا نگہبان تھا ۔“ یہ الفاظ بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے رہنے یعنی زندگی بسر کرنے کا کوئی ایسا زمانہ بھی ہے۔ جب کہ وہ اپنی امت میں موجود نہیں رہے۔ اور ان کو منصب رسالت وتبلیغ و وعظ وانذار سے کوئی علاقہ بھی نہیں رہا۔ اور کچھ شک نہیں کہ وہی زمانہ صعود بر سماء کا ہے۔
حضرت عیسیٰ کے قول مَا دُمْتُ فِيهِمْ کے معنی سمجھنے کے لیے حضرت عیسیٰ کے دوسرے قول مَا دُمْتُ حَيًّا پر بھی نظر ڈالنی چاہیے کہ پہلے قول میں آپ نے فرمایا ہے۔ ”جب تک میں ان کے درمیان رہا“ اور دوسرے قول میں ہے۔ ”جب تک میں زندہ رہوں۔“ پہلے میں ان کے درمیان رہنے کی قید اور دوسرے قول میں ”نماز وزکوٰۃ کے لیے حیات کی قید“ کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى میں حضرت عیسیٰ کو اپنی موت کا بیان کرنا تھا۔ تو اس کے لیے نہایت واضح لفظ یہ تھے کہ یوں فرماتے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ حَيًّا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ جب کہ ایسا نہیں فرمایا تو ثابت ہوا کہ آپ کی یہ تیسری مستدلہ آیت بھی آپ کے دعوٰی کا کچھ ثبوت نہیں۔ بلکہ روشن ہو گیا کہ حیات مسیح کے لیے ہماری دلیل ہے۔ ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ مرزا قادیانی نے اپنی دیگر مستدلہ آیات کی نسبت تو دلالت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ آیت دلالت کرتی ہے اور وہ آیت دلالت کرتی ۔ مگر اس تیسرے نمبر کی آیت کی نسبت یہ الفاظ لکھے تھے کہ یہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے اور جو آیت ان کے زعم میں کھلی کھلی گواہی دیتی تھی۔ اسی میں ان کا ضعف استدلال اس قدر ہے۔
٤...... چوتھی آیت
جس کا موت مسیح علیہ السلام پر دلالت کرنا مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے۔ وہ یہ ہے اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِه قَبْلَ مَوْتِه اس کی وجہ استدلال مرزا قادیانی نے اس جگہ کچھ نہیں لکھی۔ صرف یہ تحریر کیا ہے کہ اس کی تفسیر اسی رسالہ میں ہم بیان کر چکے ہیں۔
ناظرین واضح ہو کہ اس آیت میں غور طلب تین الفاظ ہیں۔ اول. ”لَيُؤْمِنَنَّ“ دوم بِه سوم ۔ قَبْلَ مَوْتِه. مرزا قادیانی نے لَيُؤْمِنَنَّ کو صیغہ ماضی بنا کر ترجمہ کیا ہے۔ اور یہ الفاظ لکھے
٢٩
ہیں کہ کوئی اہل کتاب نہیں جو اس بیان پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ (ازالہ ص ٢٧٢ خزائن ج ٣ ص ٢٩١) حالانکہ تمام روئے زمین کے علماء علم نحو کا اس قاعدے پر اتفاق ہے کہ جب مضارع پر لام تاکید اور نون ثقیلہ واقع ہوتے ہیں۔ تو فعل مضارع اس جگہ خالص مستقبل کے لیے ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا قاعدہ ہے۔ جس کو مرزا قادیانی آج تک غلط ثابت نہیں کر سکے اور نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جب یہاں آ کر نہایت دست پاچہ ہو گئے۔ تو یہ جواب بنایا ”ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لیے ایسا رہبر قرار دے دیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کئی معنی آیت کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے۔ تو پھر بھی ہم اسی قاعدہ یا نحو کو ترک نہ کریں۔ اس بدعت ١؎ کے التزام کی ہمیں حاجت ہی کیا ہے“
(مباحثہ دہلی ص ٥٣ خزائن ج ٣ ص ١٨٣)
اس جواب سے جو علمیت وقابلیت اور پھر اس پر زبان دانی اور الہام یابی کا افتخار ظاہر ہورہا ہے۔ وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آیت کی وجہ استدلال میں جب مرزا قادیانی نے حرف اِذْ اور قَالَ پر نحوی بحث کی تھی۔ اس وقت تو اس بدعت کے التزام کی ان کو حاجت تھی۔ اب کہ اس التزام سے دعویٰ ٹوٹتا ہے۔ اور بے شمار وساوس و دور از کار خیالات (جن کو بڑی آب و تاب کے ساتھ مجموعہ ادہام میں جلوہ دیا گیا ہے) ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا کی طرح اڑے جاتے ہیں۔ تو اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ کو اس التزام بدعت کی کچھ حاجت نہیں رہی۔ مگر اس لیے کہ آپ کو اس کی حاجت نہیں رہی۔ لازم نہیں آتا کہ قاعدہ نحوی کی صحت بھی باقی نہیں رہی۔
١؎ صرف ونحو کو بدعت کہنا یہی مرزا قادیانی کی بدعت ہے۔ شاہ اسماعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ ”ایضاح الحق الصریح“ میں فرماتے ہیں۔ جمع قرآن و ترتیب سور و نماز تراویح واذان اول برائے نماز جمعہ و اعراب قرآن مجید ۔ ومناظرہ اہل بدعت بدلائل نقلیہ ۔ وتصنیف کتب حدیث۔ تبین قواعد نحو۔ و تنقید رواۃ حدیث۔ واشتغال یا استنباط احکام فقہ بقدر حاجت۔ ہمہ از قبیل ملحق بالسنۃ ست کہ در قرون مشہور لہا بالخیر مروج گردیدہ ۔ و بآں تعامل بلا نکیر در آں قرون جاری شدہ۔ چنانچہ بر مہرہ فن مخفی نیست ”مرزا قادیانی دیکھیں۔ کہ قواعد نحو کو کن علوم ہمایوں کے پہلو میں جگہ دی گئی ہے پھر اس کا ملحق بالسنۃ ہونا۔ قرون مشہور لہا بالخیر میں بلا انکار احد سے مروج ہونا۔ اور تعامل کے زبردست سلسلہ میں (جس کی اوٹ آپ اکثر لیا کرتے ہیں) آ جانا یہ سب امور کس وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں۔ اور آخر فقرہ میں یہ بھی ظاہر فرما دیا ہے کہ ان سے انکار کرنے والا تاریخ اسلامی سے ناواقف محض ہے۔
٣٠
ناظرین یاد رکھیں کہ لَیُؤْمِنَنَّ خالص مستقبل کے لیے ہے۔ دوسری بحث ’بِہ‘ کی ضمیر پر ہے کہ اس کا مرجع کون ہے۔ مرزا قادیانی ’بِہ‘ کا مرجع بیان مذکورہ بالا کو بتاتے ہیں۔ دیکھو ازالہ ص ٣٧٢ خزائن ج ٣ ص ٢٩١ اور ہم حضرت عیسیٰ کو۔ لیکن بیان مذکورہ کو مرجع قرار دینے سے ہمارا کچھ حرج نہیں۔ یعنی محض بِہ کا مرجع بیان مذکورہ قرار دینے سے مرزا قادیانی کا مذہب ثابت ہونا ممکن نہیں۔ تیسری بحث قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر پر ہے۔ اور یہ بھی لَیُؤْمِنَنَّ کی طرح ضروری بحث ہے۔ کیونکہ جو کوئی قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع قرار دیا جائے گا۔ اسی کی حیات بالفعل ثابت ہو جائے گی۔ بعض مفسرین نے قَبْلَ مَوْتِہٖ کے مرجع قرار دینے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ مگر اہل سنت والجماعت کے جمہور کا مختار مذہب یہ ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی مسلمانوں کے حال پر رحم فرما کر (ازالہ ص ٣٧٢ خزائن ج ٣ ص ٢٩١) پر قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے۔ اور گو آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بڑے بڑے لمبے لمبے جملہائے معترضہ بیچ میں ڈال کر معنی کچھ کے کچھ کر گئے ہیں۔ مگر ہم اس کو لاکھ غنیمت سمجھتے ہیں کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کے مرجع میں وہ ہم سے خلاف نہیں۔
(ازالہ ص ٣٨٥ خزائن ج ٣ ص ٢٩٨)
پھر قند مکرر کے طور پر اس شہادت کو ادا کیا ہے۔ اور تسلیم کر لیا کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کا مرجع
- ١۔ ایک دوسری آیت میں ہے لِمَ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ (آل عمران ٨١)
صرف حاضر و غائب کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی اس کو بھی ماضی بنا کر ترجمہ کر دکھلائیں۔
- ٢۔ مرزا قادیانی نے بِہ کی ضمیر کا مرجع بیان مذکورہ اور قَبْلَ مَوْتِہٖ کا مرجع کتابی ہی بتایا ہے مگر معلوم نہیں کہ یوم
القیامۃ یکون علیھم شھیدا۔ میں ”یکون“ کا فاعل کس کو قرار دیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ کو ہی قرار دیں گے۔ تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ضمائر میں اس قدر بعد وانفصال تعقید کلام میں داخل ہے۔ جو فصاحت و بلاغت سے سخت مخالف ہے۔ پھر قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع کتابی کو کہنا اس لیے غلط ہے کہ اس صورت میں ”قبل موتہ“ کا جملہ کلام میں ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ لَیُؤْمِنَنَّ میں جو ایمان لانے کی خبر ہے۔ وہ خود حیات کتابی کی مقتضی ہے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ بعد از موت یقین کرنیکا نام بھی شرع میں ایمان رکھا گیا ہے۔ اور یہ بالبداہت باطل ہے۔ واضح رہے کہ شرع میں حالت نزع بھی بعد از موت میں داخل اور زمانہ حیات سے خارج ہے۔ دیکھو جب فرعون نے اپنے غرق ہونے کو یقینی معلوم کر کے امَنْتُ بِرَبِّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کہا۔ تو اس کے جواب میں اس کو یہی کہا گیا۔ والآن وقد عصیت قبل غرض مرزا قادیانی کے معنی ہر طرح سے نظم قرآنی کے خلاف ہیں۔ اگر چہ ان کے وہ معنی بھی کسی طرح سے مفید مطلب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ لَیُؤْمِنَنَّ صیغہ ماضی نہیں بن سکتا۔
٣١
عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کی تفسیر یہ ہے کہ قبل ایمانہ بموتہ، ہم کو ان معنی سے کچھ سروکار نہیں۔ ضمیر کا مرجع جس کو ہم نے قرار دیا تھا۔ اسی کو مرزا قادیانی نے تسلیم بھی کر لیا وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ اب اس تسلیم کے بعد مرزا قادیانی اور انکے تمام اعیان وانصار کے لیے محال کلی ہے کہ اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی (صراحت تو کیا) دلالت بھی ثابت کر سکیں۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائے۔
- ١....... اور نہیں کوئی اہل کتاب سے۔ مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت
اس کی کے۔ (شاہ رفیع الدینؒ)
- ٢....... اور جو فرقہ کتاب والوں میں سے ہے۔ سو اس پر یقین لاویں گے اس کی موت
سے پہلے۔ (شاہ عبدالقادرؒ)
- ٣....... و نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ۔ (شاہ ولی اللہؒ)
ان ہر سہ تراجم میں ’بہ‘ اور ’قبل موتہ‘ دونوں کی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یہی مذہب جمہور ہے۔
- ٤....... اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لاوے گا وہ قرآن کے بیان مذکورہ
بالا پر پہلے حضرت عیسیٰ کی موت کے (مرزا غلام احمد قادیانی)
یہ معنی مرزا قادیانی کے مذہب پر ہیں جو ’بہ‘ کا مرجع بیان کو اور ’موتہ‘ کا حضرت عیسیٰ کو کہتے ہیں۔
اور ان سب صورتوں میں حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔ وفات کا کیا ذکر ہے۔ اور اس آیت سے مرزا قادیانی کو استدلال کرنیکی کیا وجہ ہے؟
یاد رکھو کہ جب تک مرزا قادیانی لَیُؤْمِنَنَّ کو مفید معنی ماضی ثابت نہ کرسکیں۔ تب تک وہ اس آیت سے استدلال کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ اور وہ ثابت کرنا اس وقت تک ان پر محال ہے۔ جب کہ موجودہ علم نحو کی تمام کتابوں کو ڈبو کر اور تمام عرب اہل زبان کو دریا برد کر کے از سر نو ملک عرب آباد نہ کریں۔ اور اس میں اپنا نو ایجاد کردہ صرف ونحو جاری نہ فرمادیں۔
٥....... پانچویں آیت
مرزا قادیانی نے وفات مسیح کے ثبوت میں تحریر کی ہے۔ مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا
٣٢
رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْ كُلَانِ الطَّعَامَ۔ آیت مذکورہ کو مرزا قادیانی نے موت مسیح پر نص صریح لکھ کر بتایا ہے کہ وجہ استدلال یہ ہے کہ ”كَانَا حال کو چھوڑ کر گزشتہ کی خبر دیا کرتا ہے...... اس جگہ ”كَانَا تثنیہ“ ہے۔..... دونوں اس ایک ہی حکم میں شامل ہیں۔ یہ نہیں بیان کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکی گئیں۔ لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے۔“ اس کے بعد مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”اگر اس آیت کو مَا جَعَلْنَا هُمْ جَسَداً لَّا يَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو یقینی و قطعی نتیجہ یہ ہے کہ فی الواقع حضرت مسیح فوت ہو گئے۔“
(ازالہ ص ٦٠٣ خزائن ج ٣ ص ٤٢٦)
ناظرین! یہ غلط ہے کہ كَانَ ہمیشہ حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیا کرتا ہے۔ اگر یہی صحیح ہے۔ تو كَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ کا ترجمہ مرزا قادیانی کر کے دکھلائیں۔
اب حقیقت حال سنئے۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے دو فرقوں کی تردید و تکذیب دلائل عقلی سے فرمائی ہے۔ اور ان کے کفر کا ثبوت دیا ہے۔
- ١ ...... لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. وَقَالَ
الْمَسِيحُ يٰبَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ. (مائدہ ١٧) البتہ وہ کافر ہوئے۔ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے۔ کیونکہ مسیح نے تو خود کہا ہے۔ لوگو میرے اور اپنے خدا کی عبادت کرو۔
- ٢ ...... لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلثَة. (مائدہ۔٧٣) البتہ وہ بھی
کافر ہوئے جو خدا کو تثلیث کا ایک اقنوم کہتے ہیں۔
- ٣ ...... مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ
صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْ كُلَانِ الطَّعَامَ. (مائدہ ٧٥) اور مسیح و مریم تثلیث کے دوسرے دو اقنوم جیسا کہ ۔ رومن کیتھلک کا اعتقاد ہے بھی خدا نہیں۔ کیونکہ مسیح بن مریم تو رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی رسول ہو چکے ہیں اور اس کی ماں صحابیہ وصدیقہ ہے۔ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔
صاف ظاہر ہے کہ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کو عیسائیوں کی غلطی ثابت کرنا اور ان کے کفر پر دلیل قائم کرنا منظور تھا۔ جو مسیح ہی کو خدا قرار دیتے تھے۔ ان پر یوں دلیل قائم کی کہ مسیح خود لوگوں کو یوں کہا کرتا تھا کہ میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ اگر وہ خود خدا ہوتا۔ تو وہ یوں کہا کرتا ۔ ” لوگو میں جو تمہارا رب ہوں ۔ میری عبادت کرو۔“ لیکن جب مسیح نے خدا کی ربوبیت کا
٣٤
اقرار کیا ہے تو اس تربیت یافتہ کو رب کہنا کفر ہے۔
جو لوگ ایک خدا کو تین خدا اور تین خدا کو ایک خدا کہتے۔ اور خدا، مسیح۔ مریم کو اقانیم ثلثہ قرار دیتے تھے۔ خداوند کریم نے ان پر دلیل قائم کی کہ جب ہزاروں لاکھوں شخصوں نے ان دونوں ماں بیٹا کو لوازم بشری کے محتاج اپنی طرح پایا اور دیکھا ہے اور با ایں ہمہ پھر ان کو خدا کہنے کی جرات کی ہے۔ یہ بھی ان کا کفر ہے۔ اب ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ اس میں موت وحیات کی کیا بحث ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ سے وہ مراد ہی نہیں لی۔ تو مرزا قادیانی متکلم کے خلاف ان الفاظ سے معانی نکالنے کے کیا مجاز ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تفسیر بالرائے کا کیا حکم ہے۔؟
علاوہ اس کے مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے کہ ”حضرت مریم کے طعام نہ کھانے کی وجہ موت اور ابن مریم کے طعام نہ کھانے کی کوئی دوسری وجہ بیان نہیں کی گئی۔ صرف کانا کہا گیا ہے“ تو اس صورت میں مرزا قادیانی کا کیا حق ہے کہ جس امر کی وجہ اس آیت میں بیان نہیں ہوئی اس کو آپ خود بیان کریں۔ بلکہ اس پر جزم بھی کردیں۔ کیا ممکن نہیں کہ دو شخصوں کا ایک مشترکہ فعل سے جدا ہونا مختلف اسباب سے ہو۔ مثلاً زید اور عمرو پارسال دونوں لاہور رہتے تھے۔ زید نے تعلیم چھوڑ دی۔ اور عمرو ولایت چلا گیا۔ اس مثال میں دیکھو۔ لاہور میں رہائش دونوں کا مشترک فعل ہے۔ مگر اس سے جدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں۔
مرزا قادیانی اگر ایسے ایسے دلائل ہی آپ کے مذہب کے مؤید ہیں۔ تو اس کے مقابلہ میں کوئی شخص یہ آیت پیش کر سکتا ہے (قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ اَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا (مائدہ ١٧) اور کہہ سکتا ہے کہ نہ کبھی جَمِيعَ مَّنْ فِى الْاَرْضِ ہلاک ہوئے۔ اور نہ مسیح اور نہ ان کی مادر صدیقہ ہی کو ہلاکت نے اپنا اثر پہنچایا۔ جس طرح آج جَمِيعَ مَنْ فِي الْأَرْضِ زندہ ہیں مسیح اور اس کی ماں بھی زندہ ہے۔ اگر آپ اس کو صحیح نہیں مان سکتے۔ تو وہ آپ کا استدلال بالاولیٰ غیر صحیح اور سراپا غلط ہے۔
اس آیت کو آپ نے نص صریح کہہ کر پھر استدلال کے وقت اس کے ساتھ دوسری آیت کو ملانے اور پھر یقینی نتیجہ پر پہنچنے کی نسبت جو لکھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے
ا۔ ترجمہ یہ ہے۔ کہہ دے کونسی چیز خدا کی روک بن سکتی ہے۔ اگر وہ یہ چاہے کہ مسیح اور اس کی ماں کو نیز تمام مخلوق کو جو کل صفحہ زمین پر ہے۔ ہلاک کر دے“ اگر ہلاک کر دے۔ بتا رہا ہے کہ اب تک اللہ تعالیٰ نے ہلاک نہیں کیا۔
٣٤
نزدیک بھی یہ آیت نص صریح ”لذاتھا“ نہیں۔ اور نہ ہوسکتی ہے۔ دوسری آیت جس کو ملا کر آپ نے اس دلیل کو کامل بنایا ہے۔ اس کی بحث ذیل میں آتی ہے۔
٦...... چھٹی آیت
مرزا قادیانی نے یہ لکھی ہے وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ اور تحریر کیا ہے کہ ”درحقیقت یہی اکیلی آیت ١؎ کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا۔ تو پھر حضرت مسیح کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں۔“
(ازالۃ ص٦٠٥ خزائن ج٣ ص٤٢٦)
ناظرین! اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جسے طعام (غذا) کی حاجت نہ ہو۔ مگر آیت میں یہ کہاں ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جو فلاں مدت تک بغیر طعام کے زندہ نہ رہ سکے۔ اور جب یہ نہیں۔ تو مرزا قادیانی کے لیے یہ دلیل بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ جو شخص ان کی طرح ہر روز دو وقت کھانا نہ کھاتا ہو۔ وہ مردہ ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو فرنج قوم کے نزدیک جو دن میں آٹھ دفعہ کھاتے ہیں۔ کل ہندوستان مردہ ہے۔ اور جو جینی۔ بودھ پچاس پچاس روز کا برت رکھتے ہیں وہ مردہ درگور ہیں۔ ناظرین! آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کسی جسم کا ایک خاص مدت معین تک اکل و شرب سے جدا رہنا نہ تو اس جسم کے مردہ ہونے کی دلیل ہوسکتا ہے اور نہ اس جسم کے لوازم جسمانی سے بے نیاز ہونے کی حجت بن سکتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کے لیے یہ آیت کیا دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نے اسی موقع پر حفظ ما تقدم پر کار بند ہو کر لکھا ہے۔ ”اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف تو بغیر طعام کے زندہ ہیں۔ تو میں کہتا ہوں۔ ان کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی سو برس والی حدیث ان کو بھی مار چکی۔ (ازالہ ص٦٠٦ خزائن ج٣ ص٤٢٦) ان کو واضح رہے کہ اگر مسلم کی حدیث ان کو مار چکی ہے۔ تب بھی ہماری دلیل قائم ہے۔ قرآن مجید اس امر کا گواہ ہے کہ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔
١؎ اس فقرہ کے الفاظ درحقیقت۔ یہی اکیلی۔ کافی طور پر ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس اکیلی کے سوا مرزا قادیانی کی دیگر مستدلّہ آیات درحقیقت مسیح کی موت پر دلالت نہیں کرتیں۔ اور اگر ان کو حقیقت کے خلاف اس مسئلہ کی دلیل بتایا بھی جائے۔ تو وہ کافی طور پر دلیل نہیں کہلا سکتیں۔ ناظرین یہ کیسا صاف اقرار ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں بھی باقی ٢٩ آیتیں ان کے مذہب کی تائید پر نہیں قضی الرجل علی نفسہ یاد رکھو کہ یہی حصر کے لیے آتا ہے۔ اکیلی نے اس کو اور بھی پرزور کر دیا۔
٣٥
(کہف ٢٥) اصحاب کہف ٣٠٩ برس تک اسی معمورہ دنیا کے ایک پہاڑ میں اکل وشرب کے بغیر زندہ رہے۔ ٣٠٩ برس بعد ان کو طعام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ان میں سے ایک اس وقت طعام لینے کو پہاڑ سے نکلا۔ مرزا قادیانی غور کریں کہ جس طرح پر تحقیقات حکماء کو جن کا یہ قول ہے کہ زیادہ سے زیادہ ابن آدم ٧٠ دن تک بلا طعام کے زندہ رہ سکتا ہے۔ ٣٠٩ برس نے غلط ثابت کر دیا۔ اسی طرح مسیح کا دوہزار برس تک بغیر طعام کے زندہ رہ سکنا اور پھر اکل وشرب کی ضرورت کا محسوس کرنا ثابت ہو گیا۔ اگر آپ کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آئی تو پہلے تھوڑی سی غلط فہمی کا اقرار کیجئے۔ اور دوسری دلیل کو سماعت فرمائیے۔ شاید آپ یہ جانتے ہیں کہ طعام کا لفظ زبان شرع میں صرف نباتاتی اور زمین کی روئیدگی یا حیوانی غذا کے لیے آتا ہے اور یہی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ زبان شرع میں ان انوار وبرکات کو بھی طعام کہا گیا ہے۔ جو خواص بشر کی جسمانی اور روحانی تربیت ایسی ہی کرتے ہیں۔ جیسے دیگر ماکولات اور روئیدگی زمینی عوام کی تربیت جسمانی کا کام آتی ہیں۔ روزہ وصال کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ ایکم مثلی انی اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ
(بخاری ج٢ ص ١٠١٢، مسلم وغیرہ)
میں تمہاری طرح نہیں (کہ ماکولات میرے حیات کا ذریعہ ہوں) میں رات کاٹتا ہوں اور میرا خدا مجھ کو طعام کھلا دیتا اور سیراب کر دیتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ طعام کا لفظ موجود ہے۔ اور اس طعام کے مربی بدن ہونے کا بھی اظہار ہے۔ مگر دنیا کے ماکولات سے اس کی نوعیت بھی جداگانہ ہے۔ کیونکہ اگر طعام ربانی بھی دنیوی ماکولات میں سے ہو تو اس کے کھانے سے تو روزہ باقی نہیں رہتا آنحضرت ﷺ روزہ وصال بھی رکھا کرتے۔ اور یہ ربانی اکل وشرب بھی فرمایا کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ اگر ہر جسم طعام کا محتاج ہے۔ تو یہ ضرور نہیں کہ سب کے لیے طعام بھی یکساں ہو۔ جس طرح ایک گڈریے اور بادشاہ کے طعام میں اس دنیوی عالم میں بہت بڑا تفاوت ہوتا ہے۔ اسی طرح ضرور ہے کہ سفلی اور کثیف زندگی والوں کا طعام نوعیت میں اور ہو۔ اور علوی ولطیف زندگی والوں کا طعام اور۔ مسیح علیہ السلام نے کہا ہے۔ ’’لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں۔ بلکہ ہر ایک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے جیتا ہے‘‘
(متی ولوقا ٤ باب درس ٤)
حضرت مسیح علیہ السلام نے لکھا ہے کے لفظ سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ صحف انبیاء گزشتہ میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح پر مرقوم ہے کہ خاصان خدا کے بدن میں کلام ربانی وہی تاثیر پیدا
٣٦
کر دیتا ہے جو عوام کے جسموں میں طعام اُسی کی تائید وہ حدیث کرتی ہے۔ جس کو ابوداؤد اور امام احمد بن حنبل اور طیالسی نے روایت کیا ہے فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ. قَالَ يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ اَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ
(مشکوۃ باب علامات بین یدی الساعۃ ص ٥٤٧)
راوی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم ہی بھوک برداشت نہیں کر سکتے اس روز جبکہ طعام الدجال کے ہاتھ میں ہوگا۔ مومنین کا کیا حال ہوگا۔ فرمایا۔ جس طرح آسمان پر رہنے والوں کا طعام اور مایہ حیات اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح و تقدیس ہے۔ اسی طرح مومنین بھی سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ کا ذکر کریں گے۔ اور یہی ذکر ان کا طعام اور مایہ حیات بن جائے گا‘‘ غور سے دیکھو کہ مسیح علیہ السلام جب اپنے ارشاد میں انسان کا بلا طعام کے کلام ربانی کی برکت سے زندہ رہنا تجویز کرتے ہیں۔ تو کیا خود ان کو یہ منصب حاصل نہیں ہو سکتا۔ پھر دیکھو کہ رسول کریم ﷺ خبر دیتے ہیں کہ اہل السماء تو عموماً ذکر تسبیح و تقدیس سے زندہ رہتے ہی ہیں مگر اہل ارض میں بھی خدا تعالیٰ اس ابتلاء کے دنوں میں یہ علوی تاثیر قائم فرما دے گا۔ اب مرزا قادیانی کو واضح ہو کہ ہمارے اعتقاد میں حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور اس لیے تا نزول وہ بھی اہل السماء میں سے ہیں۔ لہٰذا ان کا طعام دنیوی طعام نہیں ہو سکتا۔ گو وہ طعام کھاتے بھی ہوں۔ لہٰذا آپ کی مستدلہ آیت آپ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہے۔
٧...... ساتویں آیت
مرزا قادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام پر یہ پیش کی ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ اس آیت کا ترجمہ مرزا قادیانی نے بدیں الفاظ کیا ہے۔ ’’محمد ﷺ صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔ جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔‘‘
(ازالہ ص ٦٠٦ خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)
ناظرین ! قابل غور یہ ہے کہ ترجمہ میں یہ الفاظ ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہیں۔ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی براہ نوازش کسی لغت کی کتاب میں یہ تو دکھلائیں کہ خَلَتْ یا خَلَا بمعنی موت زبان عرب میں آیا بھی ہے؟ آپ اس جگہ صرف اپنے دعوٰی کی تائید میں ایسے
٧٣
مصروف ہوئے ہیں کہ خواہ لغت اور محاورہ آپ کے ترجمہ کی غلطی کو صاف ظاہر کر رہا ہو۔ مگر آپ کو اس کی ذرا پرواہ نہیں اچھا صاحب۔ اگر خَلَتْ کے معنی فوت ہو جانا ہی ہیں۔ تو آپ اس آیت سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (فتح ٢٣) کا کیا ترجمہ کرتے ہیں۔ کیا یہی کہ وہ سنت الٰہی ہے۔ جو تم سے پہلے فوت ہو چکی ہے؟ اگر آپ ایسا ترجمہ کریں گے۔ تو آیت ہذا کے ساتھ ملے ہوئے الفاظ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا آپ کے اس ترجمہ کی سخت تکذیب کریں گے۔
پس جب آیت مستدلہ میں مرزا قادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے تو استدلال کی صحت کہاں رہی؟ مرزا قادیانی کے ترجمہ میں اتنے الفاظ تخمینہ زائد ہیں۔ تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا۔‘‘ حالانکہ نہ ان الفاظ کی کچھ ضرورت تھی اور نہ کسی الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہیں۔
ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ آیت کا نزول جنگ احد میں ہوا تھا۔ رسول کریم ﷺ اس جنگ میں زخمی ہو کر کش مکش کے اندر ایک غار میں گر پڑے تھے۔ شیطان نے پکار دیا کہ محمد ﷺ مارے گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر (بجز خواص اصحاب کے) بھاگ نکلا، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ احکام شریعت کی تعمیل صرف اس وقت تک کی جاتی ہے۔ جب تک نبی اپنی امت میں بہ نفس نفیس موجود رہے؟ یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ ذرا خیال کرو کہ کس قدر نبی اور رسول ہو چکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امت میں موجود ہیں یا ان کے متبعین نے اپنا دین محض اسی وجہ سے ترک کر دیا ہے؟ اور جب کسی نے بھی ایسا نہیں کیا تو کیا تم ایسا کرو گے؟ پہلے حکمت سے سمجھایا۔ پھر تنبیہ کے لیے زجر آمیز کلمات فرمائے۔ خیال کرو اس میں وفات مسیح کی کونسی دلیل ہے۔
واضح ہو کہ خَلَتْ کا مصدر خلوا ہے اور چند معنی میں مستعمل ہے۔ جدا ہونا یا تنہا ہونا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ (بقرہ ٧٦) جب ایک دوسرے کے پاس سے تنہا ہوتے ہیں ہوتے رہنا چنانچہ اس آیت میں ہے وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ. (فاطر ٢٤) کوئی امت نہیں مگر اس میں ڈرانے والا ہوا ہے۔ اور اس آیت میں ہے وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمُ سُنَنٌ (آل عمران ١٣٧) تم سے پہلے کئی دستور ہوتے رہے ہیں۔ چلے آنا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (فتح ٢٣) یہ سنت الٰہی ہے۔ جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ پس قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ’’ہوتے رہے ہیں ان سے پہلے رسول۔‘‘ یہ یاد رکھو کہ خلا اور خلت لغت میں زمانہ کی صفت کے لیے آتا ہے۔ (دیکھو قرون
٣٨
خالیہ۔ مثلاً عرب بولتے ہیں۔ خَلَتْ یا خَلَوْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ (رمضان کی فلاں تاریخ گزری) اور اہل زمانہ کے لیے مجازاً اور اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ خَلَتْ کا سیدھا اثر رسالت پر ہے نہ رسولوں کے وجود پر۔ لہٰذا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بھی بہت رسول رسالت کرچکے ہیں۔ تبلیغ احکام رسالت کرچکنا متضمن اس امر کا نہیں کہ سب کے سب مر چکے ہیں۔ گو ان میں سے اکثر مر بھی چکے ہوں۔ مثلاً (بلاشبہ) کوئی اخبار ہندوستان کے نووارد وائسرائے و گورنر جنرل لارڈ النگٹن کو مخاطب کر کے کہے کہ آپ سے پہلے بھی بہت لارڈ وائسرائی کر چکے ہیں۔ تو کیا اس سے لازم آتا ہے کہ لارڈ نارتھ بروک۔ رپن۔ ڈفرن۔ لیسڈون جو اب تک زندہ صحیح سالم ولایت میں موجود ہیں۔ یہ سب مرگئے گو ان میں سے لارڈ لٹن مر بھی گیا ہو اور لارڈ میو قتل بھی ہو چکا ہو۔
ناظرین! بلاغت قرآنی سمجھنے کے لیے یہ غور کرنا چاہیے کہ خَلَتْ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے مقتضائے مقام اور بظاہر تناسب کلام تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا قَدْ مَاتُوْ أَوْ قُتِلُوْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ (محمد ﷺ سے پہلے جتنے رسول تھے یا وہ مرگئے یا قتل ہوگئے۔ پھر اگر آپ بھی قتل ہو جائیں یا مرجائیں) مگر ایسا نہیں فرمایا وَلِلَّهِ الحجة البالغة وجہ یہ ہے کہ مفرورین پر حجت بھی قائم ہوجائے۔ اور آنحضرت سے پہلے رسولوں اور نبیوں کے زمان رسالت کے منقضی ہونے کی خبر بھی دی جائے اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر دلیل بھی قائم رہے اَيُّهَا النَّاس تَفَكَّرُوْا ۔
اس تمام بیان سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے لشکر مسلمین پر جو دلیل قائم کی ہے۔ وہ صحیح و درست ہے۔ مگر جو مطلب مرزا قادیانی ان الفاظ میں ڈھونڈھتے ہیں۔ اسے پاش پاش کرنے کے لیے عرب کا لغت اور قرآن کریم کا اسلوب شمشیر بکف کھڑے ہیں۔ تعالیٰ اللہ عن ذلک۔
٨...... آٹھویں آیت
یہ پیش کی ہے وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُوْنَ اور بہت صحیح لکھا ہے کہ اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ ”تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے نہیں بچا اور نہ آئندہ بچے گا ۔“
(ازالہ ص ٦٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢٧)
مگر ناظرین غور کریں کہ اس کو وفات مسیح سے کیا علاقہ ہے؟ اب رہی اس آیت سے
٣
مرزا قادیانی کی یہ وجہ استدلال کہ خلود کے مفہوم میں داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنا اور نفی خلود سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی حرکت موت کی طرف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے فوت ہو گیا۔ ”یہ بالکل مرزا قادیانی کے مذہب کے خلاف ہے۔ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کا نام وہی شخص لے سکتا ہے۔ جس کا یہ مذہب ہو کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر تو گئے تھے۔ مگر شیخ فانی ہو کر اور امتداد زمانہ سے ضعف ہرم وغیرہ میں آ کر پھر فوت ہو گئے۔ جب آپ کا مذہب ہی یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے۔ تو یہ آپ کے سینہ زور شاعرانہ الفاظ بھی آپ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ بسم اللہ آپ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر جانا تسلیم فرمائیے اور پھر یہ وجہ استدلال پیش کیجئے۔ وَاِذْ لَيْسَ فَلَيْسَ ۔ اب میں مرزا سے یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔ کہ کوئی ایسی حد بطور کلیہ قاعدہ کے آپ کو معلوم ہے؟ کہ جب کوئی بنی آدم اس حد کو پہنچ جائے تو وہ شیخ فانی بھی ضرور ہی ہو جائے ۔ اگر معلوم ہو تو براہ مہربانی بیان فرمائیں تا کہ درایۃً و روایۃً اس کی جانچ پڑتال کر لی جائے ۔ ناظرین خوب یاد رکھیں کہ اس کا جواب مرزا قادیانی کچھ نہیں دے سکتے اور اسی لیے نہ وہ اس آیت سے استدلال ہی کر سکتے ہیں اور نہ ان کی وجہ استدلال درست ہی ہو سکتی ہے۔
٩...... نویں آیت
وفات مسیح پر مرزا قادیانی نے یہ پیش کی ہے تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ اس آیت کا صرف ترجمہ ہی کر گئے ہیں۔ اور وجہ استدلال وغیرہ کچھ تحریر نہیں کی۔ ہاں ترجمہ میں یہ الفاظ ضرور لکھ دیتے ہیں۔ ”یعنی اس وقت سے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا“
(ازالہ ص ٦٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)
ناظرین! آپ بخوبی اور بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے یہ الفاظ ”اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں ۔“ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ غالباً ”تِلْكَ“ کا ترجمہ ہے۔ جس کا ترجمہ ہے یہ جو اسم اشارہ ہے۔ اب اگر تم اس کا مشار الیہ معلوم کرنا چاہتے ہو۔ تو قرآن شریف کھول کر دیکھ لیجئے کہ کون کونسے نام اس سے پہلے آیت میں آچکے ہیں (اس سے پہلی آیت کی تخصیص ہم نے اس لیے کر دی ہے کہ تِلْكَ اشارہ قریب کے لیے ہے)۔
ناظرین ...... دیکھیں کہ اس سے پہلی آیت یہ ہے اَمْ تَقُولُونَ اِنَّ اِبْرَاهِيمَ وَ اِسْمٰعِيلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُودًا اَوْ نَصٰرَى قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ
٤٠
ہ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللّٰهِ . وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ہ تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ .
(بقرہ ١٤٠۔١٤١)
ترجمہ :۔ تم کیا کہتے ہو۔ کہ ابراہیم اور اسمعٰیل اور اسحٰق ویعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصاریٰ تھے۔ کہہ دیجئے۔ تم زیادہ جانتے ہو یا خدا اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو شہادت کو چھپاتا ہے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک امت تھی۔ جو گذر چکی ۔ ”خَلَتْ“ کے لفظ پر بحث میں ساتویں آیت میں کر آیا ہوں۔ اعجاز قرآن ہے کہ آیت میں عیسیٰ کا نام نہیں۔
١٠...... دسویں آیت
وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَادُمْتُ حَيًّا پیش کی ہے اور پھر لکھا ہے ”اس کی تفصیل ہم اسی رسالہ میں بیان کر چکے ہیں اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لیے حضرت عیسیٰ کو وصیت کی گئی تھی۔ وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یوں ہی پڑے رہتے ہیں ۔ ”مردے جو ہوئے“ اور جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے۔“
(ازالہ ص ٦٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)
مرزا قادیانی کا یہ بیان سقم اور غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس آیت سے وفات مسیح پر مرزا قادیانی کی وجہ استدلال ازالہ میں یہ ہے کہ حضرت مسیح نے تاحیات خود صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا ادا کرنا فرائض میں شمار کیا ہے۔ اگر وہ زندہ ہیں ۔ تو ان کا زکوٰۃ دینا ثابت کرو۔ ورنہ وہ مردہ ہیں ۔ اس تقریر میں متانت مثیلیت اور وقار مہدویت کو بالائے طاق رکھ کر مرزا قادیانی نے شوخانہ استہزاء بھی کیا ہے۔ اور دریافت کیا ہے کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہوں گے ۔ اور کون لیتا ہوگا ۔
واضح ہو کہ کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے۔ ویسا ہی دینا بھی حرام ہے ...... کیونکہ انکا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔ اب رہا یہ امر کہ أَوْصَانِیْ کیوں کہا یہ بطور تعلیم ارکان شریعت کے ہے ۔ کیونکہ جب فرمایا آتَانِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا خدا نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا ۔ تو ساتھ ہی اپنی شریعت کے ارکان بھی ظاہر کر دیئے ٢ ...... زکوٰۃ سے مراد اس جگہ زکوٰۃ مال نہ ہو۔ بلکہ زکوٰۃ نفس ہو۔ قرینہ اس پر روح القدس کا حضرت مریم کو کہنا ہے لِاَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ظاہر ہے کہ اس جگہ زَكِيًّا کے معنی زکوٰۃ مال نکالنے والا نہیں ۔ بلکہ صاحب زکوٰۃ وطہارت ہیں۔
٤١
بیضاوی میں ہے۔ وَاَوْصَانِی بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ زَکٰوۃِ الْمَالِ اِنْ ملکتہ أَوْ تَطْھِیْرُ النَّفْسِ عَنِ الرَّذَائِلِ۔ زکوٰۃ سے زکوٰۃ مال مراد ہے کہ جب صاحب نصاب ہوں۔ ورنہ نفس کو رذائل سے پاک صاف رکھنا بھی زکوٰۃ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰؑ کے حق میں فرمایا ہے ”وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً۔ (مریم١٢۔١٣) ہم نے اس کو لڑکپن ہی میں حکم۔ نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی۔ یہاں لفظ زکوٰۃ خصوصیت سے بمعنی پاکیزگی ہے۔
٣.......زکوٰۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے۔ اگر مرزا قادیانی حضرت مسیح کا اس دنیا پر زکوٰۃ دینا ثابت کردیں۔ تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زکوٰۃ دینا بھی ثابت کردوں گا۔
مرزا قادیانی کی اس بیان میں دوسری غلطی یہ ہے کہ ان کو انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کی وصیت کی گئی تھی۔ ”وہ عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں۔“ اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ ان کو معنی نبوت معلوم نہیں۔ امام اعظمؒ جن کی قرآن دانی اور اسرار فہمی کی توصیف مرزا قادیانی نے (ازالہ ص ٥٣١خزائن ج٣ ص٣٨٥) میں کی ہے کا مذہب یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہر اور باطن پر یکساں ہوتا ہے۔ مگر آپ تو نبوت کو بھی ظاہر اور باطن کے لیے نہیں سمجھتے۔ ہمارے سید ومولیٰ محمد رسول اللہؐ تو جس طرح پر تمام کافہ ناس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ اسی طرح جن وملک کی طرف بھی کوئی ذوی العقول متنفس ایسا نہیں۔ خواہ وہ نبی ہو۔ یا غیر نبی۔ جس پر آپؐ کے احکام اور شرائع ومناہج کی پیروی واطاعت فرض نہ ہو۔ اور آپؐ کی رسالت کے بعد سابقہ شرائع واحکام پر چلنا حرام نہ ہو گیا ہو۔ پس جب حالت یہ ہے۔ تو آپ کا خیال کرنا کہ اب وہ انجیلی طریق پر نماز پڑھتے ہیں اور نزول کے بعد برخلاف وصیت مسلمانوں کی طرح پڑھیں گے۔ معنی رسالت کے نہ سمجھنے ہی پر محمول ہوسکتا ہے۔ مرزا قادیانی دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ (آل عمران٨١) جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے۔ جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا۔ تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔
اب سمجھ لو کہ مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰؑ کا نماز پڑھنا برخلاف وصیت نہیں۔ بلکہ موافق میثاق ازلی ہے۔ اس معنی کی طرف صحیح مسلم کی حدیث عن ابوہریرہؓ میں اشارہ ودلالت ہے کہ آنحضرتؐ نے موسیٰؑ، عیسیٰؑ، ابراہیم علیہ السلام کا امام بن کر نماز پڑھائی۔ (مسلم ج١ ص٩٦ باب الاسراء)
٤٢
تیسری غلطی اس بیان میں مرزا قادیانی کی یہ ہے کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے ہوں گے اور حضرت یحییٰ پاس پڑے رہتے ہوں گے۔ مردہ جو ہوئے ۔“ یہ غلطی بھی بوجہ انبیاء سے عدم معرفت کی وجہ سے ناشئ ہوئی ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ گو مر جانے کے بعد تکلیف احکام سے انسان سبکدوش ہو جاتا ہے۔ مگر انبیاء اللہ جن کے جسم میں عبادت الٰہی بمنزلہ روح کے ہے۔ جن کے دل میں محبت ربانی بجائے حرارت غریزی کے ہے۔ وہ مر جانے کے بعد بھی طاعات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٩٥ باب الاسراء) کی حدیث عن ابن عباسؓ میں ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی ارزق میں پہنچے تو فرمایا۔ میں نے اس وادی میں موسیٰ علیہ السلام کو کانوں میں انگلیاں دیے۔ لبیک لبیک پکارتے ۔ گذرتے دیکھا ہے۔ جب ہرشٰی میں پہنچے تو فرمایا۔ میں نے یونس علیہ السلام کو جبہ صوف (لباس احرام) پہنے ۔ اونٹنی پر سوار اس وادی سے گذرتے دیکھا ہے۔ صحیح مسلم عن ابوہریرہؓ کی حدیث میں حضرت ابراہیم وموسیٰ علیہم السلام کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام پڑے ہی نہیں رہتے۔ بلکہ وہ بھی حضرت عیسیٰ کی طرح نماز پڑھا کرتے ہیں۔
ناظرین! بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ آیت بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ کے لیے کچھ مفید نہیں اور آیت کو وفات مسیح سے ذرا تعلق نہیں۔ نیز دعویٰ اثبات وفات مسیح کے علاوہ دیگر زوائد جو مرزا قادیانی نے لکھے تھے۔ ان کا ایک حرف بھی صحیح نہیں۔
١١.......گیارہویں آیت
یہ ہے وَسَلٰمٌ عَلَیَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ”اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کئے گئے ہیں۔ حالانکہ اگر ”رفع“ اور ”نزول“ واقعات صحیحہ میں سے ہیں۔ تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ باللہ ”رفع“ اور ”نزول“ حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔“
(ازالہ ص ٦٠٨ خزائن ج ٣ ص ٤٢٨)
میں مرزا قادیانی کے ان فقرات کو بار بار حیرت اور تعجب سے دیکھتا ہوں کہ وہ اسرار دانی اور قرآن فہمی کہاں ہے۔ کیا کسی شے کا کسی جگہ مذکور نہ ہونا اس کے عدم وجود کی بھی دلیل ہوسکتی ہے۔ صحیحین بلکہ صحاح ستہ میں بیسیوں ایسی احادیث ملیں گی کہ سائل نے آکر رسول کریم ﷺ سے اسلام کا سوال کیا اور آنحضرتؐ نے بیان ارکان میں کبھی کلمہ شہادت۔ کبھی زکوٰۃ۔ کبھی حج کو بیان نہیں فرمایا۔ تو کیا مرزا قادیانی مجرد ان احادیث پر اکتفا کر کے ان ارکان اسلام کے رکن
٤٣
ہونے سے انکار کر جائیں گے؟ اگر نہیں۔ تو یہاں بھی وہی عمل کریں۔ دوم...... مرزا قادیانی کو یاد کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح کا یہ کلام اس وقت کا تھا۔ جب مریم صدیقہ ان کو جن کو گود میں لے کر قوم میں آئی۔ تو کیا ضرور ہے کہ حضرت مسیح اسی وقت اپنی زندگی کے مفصلانہ کل واقعات عظیمہ سے واقف بھی کئے گئے ہوں۔ بلکہ قرآن کریم اس امر کا شاہد صادق ہے کہ رفع کی خبر حضرت کو حالت نبوت میں دی گئی تھی۔ پڑھو۔ یَاعِیسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اور یاد کرو کہ مرزا جی نے بھی اس کو وعدۂ وفات تسلیم کر لیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سَلَامٌ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ اَمُوْتُ اسی قبیل کا جملہ ہے۔ جیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اولہ واخرہ، یا بِسْمِ اللّٰہِ اولہ واخرہ جو ابتداء سے لے کر آخر تک کی تمام حالتوں پر شامل ہے اب اگر ان فقرات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔ تو سَلَامٌ عَلَیَّ پر کیوں ہے۔ ہمارے نزدیک ”رفع“ اور ”نزول“ حضرت مسیح دونوں مورد اور محل سلام الٰہی کے ہیں اور اسی لیے دو سلامتیوں کے اندر اور وسط میں واقع ہوئے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی جو ان الفاظ کا درمیانی واقعات پر اثر انداز نہ ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کو اس امر کا ضرور جواب دینا چاہیے کہ جب بقول ان کے مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں اور ان اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد دروازہ مرگ پر پہنچ کر پھر وہ بچ رہے۔ تو کیا ان کی یہ جان بری مورد اور محل سلام الٰہی کا نہ تھی؟ کیا مسیح کا صحیح و سلامت رہنا ربانی سلامتی کے بغیر تھا؟ اگر ایسے دشمنوں کے نرغہ میں سے ایسے برصلیب کشیدہ کے سلامت رہنے کو تم سلام الٰہی تسلیم نہیں کرتے تو اور کسے کرو گے۔ لیکن اگر تسلیم کرتے ہو۔ تو بتاؤ کہ آیت میں ایسی نہایت ہی حیرت بخش جان بری اور ایسی آفت کے بعد سلامتی کا ذکر کیوں نہیں؟ میں چاہتا تھا کہ آیت کے بعض اسرار اور معارف کو یہاں درج کرتا۔ مگر مرزا قادیانی کے استدلال کا بودا ہونا۔ اسی سے ثابت ہو گیا ہے۔ ناظرین کو معلوم رہے کہ مرزا قادیانی اپنے اس بیان میں مدعی وفات مسیح ہیں۔ مدعی کا کام الزامی دلائل بیان کرنا نہیں ہوتا اور جو ایسا کرتا ہے سمجھا جاتا ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس آیت کے ضمن میں مرزا قادیانی کی ساری تقریر الزامی ہے۔
١٢...... بارہویں آیت
وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”یہ آیت بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پاوے۔ تو دن بدن ارزل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے۔
یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔“
(ازالہ ص ٦٠٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)
ناظرین کو واضح ہو کہ یہ آیت مرزا قادیانی کی تب دلیل ہے۔ جب وہ مسیح علیہ السلام کا زیادہ عمر پانا تسلیم کرلیں۔ مگر اس کے ساتھ رَفَعَ اِلَی السَّمَاءِ بھی ملا ہوا ہے۔ یہ بھی مرزا قادیانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
- ٢...... مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ وہ ایک حد قرار دیں کہ جب عمر کے فلاں سال تک
کوئی انسان پہنچے گا۔ تو وہ ضرور ہی ارذل عمر میں داخل ہو جائے گا۔ قرآن کریم تو اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک دعوت کی۔ نبوت حاصل ہونے سے پہلے کی عمر اور دعوت کے بعد طوفان آنے اور بعد از طوفان آپ کے زندہ رہنے کی عمر ان ساڑھے نو صدیوں کے علاوہ ہے۔ پھر رب کریم کا یہ کلام پاک ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ سینکڑوں سالوں کے وہ تغیرات و انقلابات (جن سے قومیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ خرابہ آباد اور آباد خرابہ بن جاتے ہیں۔ سلطنتیں بدل جاتی ہیں۔ بولیاں تبدیل ہو جاتی ہیں) بعض جسموں پر اسی طبقہ ارض کی موجودگی کی حالت میں اتنا اثر بھی نہیں ڈال سکتے۔ کہ وہ اتنا بھی معلوم کر لیں کہ اس طبقہ ارض پر اور اس حصہ ملک میں کبھی کوئی تغیر آیا بھی تھا؟ اور کسی قسم کا انقلاب ہوا بھی تھا یا نہیں؟ وہ سینکڑوں برسوں کا ممتد زمانہ اور دراز عرصہ ان کی نگاہ میں ایسا قلیل نظر آیا کرتا ہے کہ یہ خاصان خدا اسے یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ سے تعبیر کیا کرتے ہیں ١؎ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک یہ بیانات ہدایت اور نور نہیں ہیں؟ کیا انسان ضعیف البنیان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تحکم کی راہ سے یہ قرار دے کہ جو کچھ آج کل ہورہا ہے۔ رب کریم نے نہ کبھی اس سے تجاوز فرمایا ہے۔ اور نہ فرمائے گا۔ کیا ان کو لقمان ذوالنسور کا حال معلوم نہیں۔ جس کی عمر دو ہزار سال کی تھی۔ کیا ان کو عمرو معدیکرب کی تاریخ پر نظر ہے۔ جو دو سو پچاس سال کی عمر میں ایرانیوں کے بیسیوں جنگ آزما۔ عربدہ جو فیلوں کو تلوار سے کاٹ کاٹ کر پھر شہید ہوا تھا؟ کیا مرزا قادیانی کا حق ہے کہ وہ ارذل عمر کی بھی حد سنین کا تعین کر کے اپنی طرف سے خود ہی مقرر کردیں۔ اِتَّقُوْا اللّٰہَ اَيُّهَا النَّاسَ۔
١٣...... تیرھویں آیت
وَلَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ لکھ کر پھر مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے۔ ”یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہوگے۔ یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے
١؎ ان فقرات میں قصہ اصحاب کہف کی طرف تلمیح ہے۔ ١٢
٤٥
کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ لَكُمْ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے۔ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے۔ کہ جسم خاکی آسمان پر جا نہیں سکتا۔ بلکہ زمین ہی سے نکلا۔ اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔‘‘
(ازالہ ص ٦٠٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)
ناظرین! دیکھیں۔ ترجمہ میں جسم خاکی اور مر جاؤ گے۔ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مرزا قادیانی لَكُمْ کو مفید تخصیص جانتے ہیں اور قرآن مجید کا سیاق کلام شاہد ہے کہ آیت کے مخاطب ابلیس و آدم و حوا ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَّلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِيْنٍ. (بقرہ ٣٦) پس شیطان نے آدم و حوا دونوں کو پھسلا دیا اور بہشت سے جس میں وہ رہتے تھے۔ ان دونوں کو نکال دیا اور ہم نے کہا تم اترو۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا اور فائدہ ہے ایک وقت تک۔ اَزَلَّهُمَا میں تثنیہ ہے۔ وہ ذکر شیطان کے بعد ضمائر جمع مرزا قادیانی لَكُمْ کو جو ضمیر خطاب اور اعرف معارف ہے۔ جب مفید تخصیص تسلیم کرچکے۔ تو پھر ان کا مخاطبین کے سوا اوروں سے مراد لینا ان کی تسلیم کے خلاف ہے۔ غرض اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ مخاطبین زمین سے اٹھ کر آسمان پر نہ جاسکیں۔ تو یہ کہاں سے مرزا قادیانی نے نکال لیا کہ جولوگ خطاب کے وقت ہنوز کتم عدم میں مستور تھے۔ وہ بھی اسی حکم میں شامل و داخل ہیں۔ اس کی دلیل انہوں نے کچھ نہیں دی بلکہ لَكُمْ مفید تخصیص مان کر اپنے دعویٰ کو ضعف پہنچایا۔
- ٢...... اگر بلا کسی دلیل کے مان لیا جائے کہ لَكُمْ میں ابلیس اور آدم کے سوا ان کے
ذریات بھی شامل ہیں۔ تب بھی آیت بالا مفید معنی مقصود مرزا قادیانی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جب ثابت ہو چکا کہ لَكُمْ میں ابلیس و آدم و حوا کی طرف خطاب ہے۔ تو قرآن مجید کے بیسیوں مقامات سے یہ ثابت اور واضح ہے کہ شیاطین آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اور ملائک سے قریب ہوجاتے ہیں۔ حتیٰ کہ شہاب ثاقب ان کے پیچھے لگ کر ان کو خاک کر دیتا ہے۔ بقول مرزا قادیانی آیت کا اثر مخاطبین پر یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ سب زمین سے اونچے اٹھ نہ سکیں فضا میں جا نہ سکیں۔ مگر شیاطین کا چڑھ جانا دیگر آیات سے معلوم ہوگیا۔ اور آیت مستدلہ ان کے لیے مانع نہ ہوئی۔ اب مرزا قادیانی فرمائیں کہ یہ آیت انبیاء خدا کے لیے آسمان پر جانے سے کیوں مانع ہے؟
- ٣...... مستقر کا ترجمہ ٹھیک ٹھیک ہیڈ کوارٹر ہے۔ جس کو صدر مقام بھی بولتے ہیں۔ عربی
زبان کی تاریخوں میں اسی لیے تخت گاہ کو ”مستقر“ الخلافۃ لکھا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کا اپنے ہیڈکوارٹر میں موجود ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ دوسری جگہ جا نہیں سکتا۔ علیٰ ہٰذا اس کا ہیڈکوارٹر سے علیحدہ ہونا بھی اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کو اپنے صدر مقام سے اب کوئی مناسبت نہیں رہی سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ بھی بشر تھے۔ جو شب معراج کو بالائے سدرۃ المنتہیٰ تشریف لے گئے تھے۔ اگر آنحضرتؐ کے لیے یہ آیت مانع نہ ہوئی تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے بھی نہیں ہو سکتی۔ معراج جسمانی کا ثبوت اس مضمون میں آگے آئے گا۔
٤...... مرزا قادیانی نے اِلٰی حِیْنٍ کا ترجمہ ”یہاں تک کہ مرجاؤ گے“ کیا ہے۔ مگر وہ کسی لغت کی کتاب سے حین کے معنی موت ثابت نہ کر سکیں گے۔ حین کے معنی وقت کے ہیں اور اسی لیے اِلٰی حِیْنٍ کا ترجمہ ایک وقت تک ہے۔ ہر شخص کے لیے استقرار فی الارض کا ایک معین عرصہ رب کریم نے مقرر کر رکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک وقت تک زمین پر رہے اور جب مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کا وعدہ پورا ہونے کو آیا۔ تو وہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ ظاہر ہے کہ اِلٰی حِیْنٍ کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایک وقت زمین پر ہے تو دوسرے وقت زمین پر سے اٹھ کر چلا بھی جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی جسم کا بھی بوجہ جسم ہونے کے آسمان پر جانا محال نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ رب کریم اس جسم کو آسمان پر لے جانا چاہے یا نہ چاہے۔ حضرت عیسیٰ کے لیے آسمان پر لے جانے کا اظہار اس نے خود فرمایا اور خود ہی اپنے منشا کو پورا فرمایا۔
بالفرض مرزا قادیانی نے زور لگا کر حِیْنٍ بمعنی موت ثابت بھی کر دیا۔ تب اور بھی زیادہ ان کے معنی قابل اعتراض ہو جائیں گے یعنی اس وقت ترجمہ آیت یہ ہوگا۔ اور تمہارے لیے زمین میں استقرار اور فائدہ موت تک ہے۔ جس سے یہ نکلا کہ موت کے بعد اموات کی لاشیں زمین سے اٹھائی جاتی ہیں۔ قبروں میں نہیں دبائی جاتیں۔ بلکہ وہ فضا میں چلی جاتی ہیں۔ اس معنی کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ اس وقت آپ کو حِیْنٍ کا ترجمہ مجبوراً وقت کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدینؒ و شاہ عبدالقادرؒ نے کیا ہے۔ غرض بہر صورت آپ کے استدلال کا بودا اور کمزور اور غلط ہونا ظاہر ہو گیا اور کھل گیا کہ گو آپ نے آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا اور اپنی طرف سے الفاظ بھی زیادہ کئے۔ مگر ایں ہمہ مساعی پھر بھی مرزا قادیانی حصول مرام میں ناکامیاب ہی رہے۔
١؎ اگر یہ جواب ہو کہ موت کے بعد جسم گور زمین میں ہی رہتے ہیں۔ مگر ان کو زمین سے کچھ فائدہ نہیں ملتا۔ تو اس کے رد میں آیت ثُمَّ اَقْبَرَہ اور آیت اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتاً اَحْيَاءً وَّ اَمْوَاتاً مرسلات ٢٥ پر نظر کرو۔
٤٧
١٤...... چودھویں آیت
وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى الْخَلْقِ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ’’اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں۔ تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قویٰ میں بکلی فرق آ گیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کو چاہتی ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٦١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)
مرزا قادیانی کے اس وجہ استدلال کا جواب میں آٹھویں اور بارھویں آیت کے تحت میں لکھ آیا ہوں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ میں بار بار یہی عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی بطور کلیہ قاعدہ کے عمر کی وہ مقدار قرار دیں۔ جس کو ارذل عمر کہہ سکیں۔ اور جس پر تنکیس فی الخلق صحیح ثابت ہو سکے۔ ہم توریت وغیرہ کتابوں میں لکھا دیکھتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی ٩٣٠ برس حضرت شیثؑ کی ٩١٢۔ حضرت نوحؑ ١٠٠٠‘ حضرت ادریسؑ ٣٦٥۔ حضرت موسیٰؑ ١٢٠۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ١٧٥ سال کی عمریں تھیں اور باایں ان کے انسانیت کے قویٰ میں کچھ فرق نہ آیا تھا۔ اصحاب کہف کا قصہ پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانی جسموں کو صدیوں کے زمانہ کا اثر محض اتنا ہوتا ہے۔ جتنا ہم لوگوں پر ٦ گھنٹے یا ١٢ گھنٹے یا ٢٤ گھنٹے یا ٤٨ گھنٹے گذر جانے سے اگر ناظرین اور مرزا قادیانی کے نزدیک ایک ٣٣ سال کا جوان شخص ایسا پیر ہرم اور شیخ فانی ہو سکتا ہے کہ اس کی قوت جسمانی اور قویٰ بشریٰ بالکل ہی اسے جواب دے جائے۔ تو حضرت مسیحؑ کی نسبت بھی مرزا قادیانی کو ایسا خیال باندھ لینے کا حق ہے۔ لیکن اگر یہ ایک قابل تمسخر بات سمجھی جائے کہ کوئی نوجوان شخص معمولی قاعدہ انحطاط بدنی کے لحاظ سے ٤٨ گھنٹے میں شیخ فانی ہو سکے۔ تو یقیناً حضرت عیسیٰؑ کا پیر ضعیف ہو جانا بھی غلط ہے۔
حکیم نور الدین جو فصل الخطاب میں مان چکے ہیں کہ الہامی زبان میں ایک یوم ایک سال کو کہتے ہیں۔ وہ اس بیان سے زیادہ تر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کہ وحی ربانی میں ٣٠٩ برس کو ایک یوم یا بعض یوم کہا گیا ہے۔ ان کو اب پتہ لگا لینا چاہیے کہ جب الہامی زبان میں ٣٠٩ برس برابر ہیں ایک دن کے۔ تو دو ہزار برس کتنے دن کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ سوال حل کرنے سے پہلے یہ بھی غور فرما لینا چاہیے کہ ٣٠٩ برس کا بعض یوم کے برابر ہونا تو اسی طبقہ ارض پر ثابت ہے۔ مملکت آسمانی کا حساب اس سے نرالا ہے۔ رب کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ
٤٨
كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ. (حج ٤٧) جس کو تم ہزار سال شمار کرتے ہو۔ وہ پروردگار کے ہاں ایک یوم ہے۔ اب مرزا قادیانی حساب لگائیں کہ ..... عیسوی سال کتنے دن کے برابر ہوئے۔ پھر ان کو پیر ہرم اور ضعیف القویٰ ہو جانے کی حقیقت معلوم ہو جاوے گی۔
واضح ہو اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ کو مرزا قادیانی نے (ازالہ ص ٦٩٦ خزائن ج ٣ ص ٤٧٥) پر درج کیا ہے اور اس حساب سے روز ششم کو الف ششم کا قائم مقام بتا کر اپنی پیدائش اس میں ثابت کی ہے اس لیے اب مرزا قادیانی اس حساب سے انکار نہیں کر سکتے۔
١٥...... پندرھویں آیت
”اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَّشَيْبَةً. ترجمہ:۔ خدا وہ خدا ہے۔ جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا۔ پھر ضعف کے بعد قوت دیدی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور پیرانہ سالی دی۔ یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔“
(ازالہ ص ٦١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)
یہ سچ ہے۔ مگر آیت میں مسیح کے مر چکنے کی دلیل اور مرزا قادیانی کے بیان میں حضرت عیسیٰ کے وفات کر جانے کی وجہ استدلال ذرا بھی موجود نہیں۔ اچھا اگر کوئی شخص مشہور کر دے کہ مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ (کتاب ہذا کی تصنیف کے وقت مرزا قادیانی زندہ تھا) اور جب کوئی اس سے پوچھے کہ تم کو کیونکر معلوم ہوا تو وہ یہی آیت پڑھ دے۔ تو آپ اس کی وجہ استدلال کو کیا کہیں گے؟ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اس وقت مسیح علیہ السلام ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً کے مصداق حال ہیں۔ نزول برزمین کے بعد ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَّشَيْبَةً کی حالت ان پر طاری ہو گی۔
١٦...... سولہویں آیت
وفات مسیح پر مرزا قادیانی نے یہ پیش کی ہے اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِه نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ اور لکھا ہے کہ کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے۔ اوّل کمال کی طرف رُخ کرتا ہے۔ پھر اس کا زوال ہوتا ہے۔ کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے؟
(ازالہ ص ٦١١ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)
٤٩
کاش مرزا قادیانی اس مثال سے ہی فائدہ اٹھاتے اور سمجھتے کہ سب روئیدگی کی قسمیں زمین سے اُگنے۔ کمال تک پہنچنے اور بڑھنے اور پھر زوال کی جانب مائل ہوکر خشک ہونے میں درجہ مساوی نہیں رکھتیں۔ چنبیلا ان ہر سہ مراتب کو دو ماہ میں طے کر لیتا ہے اور پھٹکر کو کمال تک پہنچنے کے لیے دس ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ سن اور ہالوں کا بیج چند پہر میں زمین سے اُگ آتا ہے اور گنوارے اور کھنڈی کا بیج سال بھر تک زمین میں جوں کا توں پڑا رہتا ہے۔ افسوس کہ آپ حارث و حراث ہونے کے دعویدار ہو کر بھی ان مثالوں سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ مسیح اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔ مگر اس قانون میں مساوات شخصی نکال کر آپ دکھا دیجئے۔
١٧...... سترھویں آیت
ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ. وجہ استدلال میں مرزا قادیانی کے پاس وہی پرانے لفظ ہیں۔ ”یعنی اول رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے۔ اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو۔ یہاں تک کہ مر جاتے ہو...... یہی قانون قدرت ہے۔ کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔
(ازالہ ص ٦١١ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)
ناظرین ! زبان عرب میں حرف ثُمَّ تراخی اور ترتیب کے لیے آتا ہے۔ اور اسی لیے ہم نہایت صدق دل سے گواہی دیتے ہیں۔ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِيَدِهِ لَيُوْشِكَنَّ أَنْ يَّنْزِلَ فِيْنَا ابْنُ مَرْيَمَ حَكَماً عَدْلاً ثُمَّ إِنَّهُ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ. مرزا قادیانی قانون قدرت کے موٹے موٹے حروف تو پڑھ لیتے ہیں۔ مگر کیا اچھا ہو کہ اس کی تشریحات بھی ملاحظہ کر لیا کریں۔
١٨...... اٹھارھویں آیت
اَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيْعَ فِی الْاَرْضِ (الخ) تا اُولِی الْاَلْبَابِ (الجزو ٢٣) اس آیت کے تحت میں مرزا قادیانی نے صرف یہ الفاظ لکھے ہیں ان آیات میں مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔“
(ازالہ ص ٦١٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٠)
مرزا قادیانی موت مسیح پر اس آیت سے استدلال کی وجہ کچھ نہیں لکھ سکے۔ کھیتی کی مثال سچ ہے۔ مگر اس مثال میں مرزا قادیانی کی غلط فہمی کا اظہار سولہویں آیت کے تحت میں ہم کر چکے ہیں۔
٥٠
١٩...... انیسویں آیت
یہ ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ (سورہ فرقان) اس آیت کا ترجمہ مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں کیا ہے ۔ ”ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں۔ وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور بازاروں میں پھرتے تھے ۔“ اور پہلے ہم بنص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لزوم سے طعام کا کھانا ہے سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہذا اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔
(ازالہ ص ٦١٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
ناظرین ! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان منکرین نبوت کے جواب میں نازل فرمائی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ۔ اور رسالت کو بنظر حقارت دیکھتے اور یوں کہا کرتے تھے۔ مَا لِهَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، یہ رسول کیسا ہے۔ جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان کی اس بیہودہ گفتگو کے جواب میں بطور تشفی و تسکین قلب فرمایا ہے کہ بازاروں میں پھرنا اور طعام کھانا اگر رسالت کے منافی ہے تو سارے کے سارے پیغمبر ایسے ہی گزرے ہیں۔ جن میں یہ صفات لوگوں نے دیکھے اور معلوم کئے اور باایں ہمہ یہ معترض ان میں سے بعض کی نبوت کا یقین بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً نصاریٰ اور یہود اور عرب کے اکثر قبیلے۔ اب آپ خیال فرمائیں کہ اس میں کونسی دلیل وفات مسیح کی ہے۔
حضرت مسیح کے طعام کھانے یا نہ کھانے کی بحث ساتویں آیت کے تحت میں ہو چکی مرزا قادیانی آپ نے ان تین آیتوں کو دلیل وفات مسیح بنانے میں حصر اور تعمیم سے بہت ہی کام لیا ہے۔ اور یہ دل میں ٹھان لی ہے کہ اگر ایک تعمیم کی دوسری نص تخصیص کر دیتی ہو تو اس تخصیص کا ہرگز اعتبار نہیں کریں گے۔ مگر یہ کاغذ کی ناؤ چلتی نظر نہیں آتی ۔ أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (یسین ٧٧) کیا انسان نے نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا۔ اور وہ جھٹ کھلم کھلا خصومت رکھنے والا بن گیا۔) آیت میں الْإِنْسَانُ کل انسانوں پر شامل ہے۔ جس سے کوئی باہر نہیں۔ حالانکہ اس آیت میں دو جگہ آپ کو تخصیص ماننی پڑے گی۔ اول..... مِنْ نُّطْفَةٍ میں۔ کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام انسان تھے۔ مگر نطفہ سے پیدا نہ ہوئے تھے۔ دوم...... خَصِيمٌ مُّبِينٌ میں کیونکہ ہم یقیناً اور ایماناً جانتے ہیں کہ انبیاء اور صدیقین نہایت فرمانبردار بندے ہوتے ہیں۔ اور کبھی اپنے پروردگار سے خصومت نہیں کرتے۔
٥١
- ٢....... مرزا قادیانی ۔ یہ فرمائیں کہ طعام کھانا اور بازاروں میں پھرنا یہ مرسلین کا لازم
حال تھا یا منجملہ صفات بشری کی ایک صفت ۔ اگر لازمہ حال تھا۔ تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک نبی اور مرسل نے وقت پیدائش سے لے کر زندگی کی آخری ساعت تک ۔ غرض اپنی تمام تر عمر کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ کوئی منٹ کوئی سیکنڈ ایسا گذرنے نہ دیا ہو کہ وہ بازار میں پھرتے ہوئے اور کچھ نہ کچھ کھاتے ہوئے نظر نہ آئے ہوں ۔ غرض کہ ان کا منہ اور ان کے پاؤں ہر وقت چلتے ہی رہتے تھے ۔ کیوں مرزا قادیانی آپ کے مذہب میں یہی معنی اس آیت کے ہیں؟ اگر یہی معنی ہیں ۔ تو اس کا بطلان نہایت صریح ہے ۔ لیکن اگر باوجود آیت کے الفاظ بالا کے یہ معنی آپ نہیں کرتے اور جائز رکھتے ہیں کہ ان کے کھانے اور بازاروں میں پھرنے کے خاص اوقات ہوں ۔ اور دیگر اوقات میں اکل طعام اور مَشْیٌ فِى الْاَسْوَاقِ ان میں پایا بھی نہ جاتا ہو۔ تب آیت بالا آپ کے کیا مفید ہے؟ اگر کسی مکلف وصائم کو دیکھ کر کوئی شخص یہ حکم لگا سکتا ہے ۔ کہ طعام کھانے اور بازاروں میں پھرنے کی صفت اس سے جاتی رہی ۔ تو اس کے دانشمند ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے کیا مرزا قادیانی ان نمونوں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ۔
٢٠....... بیسویں آیت
یہ ہے ۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ ۔ ترجمہ: ۔ یعنی جو لوگ غیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے ۔ بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں ۔ مرچکے ہیں ۔ زندہ بھی تو نہیں ہیں ۔ اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘ اس کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور ان سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں ۔ جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے ...... اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے ۔ تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن ماننے میں کلام ہے۔“
(ازالہ ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
ناظرین ! مرزا قادیانی نے اپنی عبارت میں انسانوں کی قید اپنی طرف سے لگا دی ہے۔ آیت میں تعمیم ہے اور اس لیے ایسے تین صفات بیان ہوئے ہیں ۔ جن سے کوئی مخلوق جن و ملک ۔ انسان وحیوان وغیرہ اس تعمیم سے باہر نہیں رہ سکتے ۔ ١....... مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اس میں کل
٥٢
مخلوق شامل ہے ٢...... کسی شے کا خالق نہ ہونا۔ یہ بھی سب پر محیط ہے۔ ٣...... مخلوق ہونا۔ یہ بھی بجز خدا کے سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ پس ان صفتوں والا اگر کسی قوم اور قبیلہ کا معبود سمجھا یا مانا گیا ہے۔ تو وہ مردہ ہے۔“
جب ہم نصاریٰ کے مذہب پر نظر ڈالتے ہیں جو خدا کو ثالث ثلثہ جانتے ہیں اور اس کے ساتھ دو اور اقنوم قائم کرتے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خدا کے سوا ایک تو مسیح کو معبود جانتے ہیں۔ دوسرے روح القدس کو۔ ان دونوں کی پرستش بھی کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کو پکارتے بھی ہیں۔ مرزا قادیانی اس آیت پر تمسک کر کے حضرت مسیح کی وفات ثابت کرتے ہیں۔ میں ان سے دریافت کر لینا چاہتا ہوں۔ کہ وہ روح القدس کو بھی مردہ جانتے ہیں۔ یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں۔ کیا وہ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ نہیں۔ یا وہ کسی شے کا خالق بھی ہے۔ یا وہ خود مخلوق نہیں۔ یا نصاریٰ اس کو اسی طرح نہیں پکارتے۔ جس طرح مسیح کو پکارتے ہیں۔ اگر یہ سب صفات اس میں موجود ہیں تو پھر........... روح القدس کو آیت کی تعمیم سے جدا رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر مرزا جی کے پاس روح القدس کو اس عمومیت سے جدا رکھنے اور جدا باور کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ تو یقین رکھیے کہ ہمارے پاس بھی ہے۔ اور اگر وہ روح القدس کو بھی مردہ سمجھتے ہیں تو بسم اللہ اس کا اقرار فرمائیں تاکہ ان کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے اور میں پھر معنی آیت گزارش کروں۔
ناظرین ۔ ایک لطیف قصہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ جب قرآن مجید میں اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (انبیاء ٩٨) نازل ہوا۔ تو مشرکین نے اس تعمیم کو دیکھ کر خوب تالیاں لگائیں اور خوش ہو کر کہا کہ اگر ہم اور ہمارے بت جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ تو ہم کو کچھ نہیں۔ کیونکہ اسی قاعدہ ”وَمَاتَعْبُدُوْنَ“ کے بموجب نصاریٰ کے ساتھ مسیح کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور ہم اس پر خوش ہیں کہ جب مسیح جہنم میں جائے تو ہم اور ہمارے بت بھی وہیں ڈالے جائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا۔ وَمَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ط بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ط (زخرف ٥٨) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نظیر جو ان کفار نے پیش کی ہے۔ یہ ان کا مجادلہ ہے۔ یہ لوگ محض خصومت سے ایسی باتیں کرتے ہیں اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ (زخرف ٥٩) حضرت عیسیٰ تو خدا کے ایسے بندہ ہیں۔ جن پر خدا نے نعمت کی ہے۔ پس آیت کریمہ کی اس تعمیم میں وہ منعم علیہ جس کی تخصیص واستثناء دیگر آیات سے ہو چکی ہے۔ کیونکر شامل ہو سکتا ہے؟
مرزا قادیانی ملاحظہ فرمائیں کہ ایسی تعمیمات سے تمسک واستدلال کرنا اور دیگر آیات
٥٣
پر نظر نہ ڈالنا وہ شیوہ اور وہ مسلک ہے جس پر مشرکین مکہ گامزن ہو چکے ہیں۔ اور جن کی تکذیب قرآن مجید فرما چکا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا استدلال نہ شرعی ہے نہ عالمانہ۔ بلکہ آیت مذکورہ ایسے استدلال کا نام مجادلہ رکھتی اور مستدل کو قَوْمٌ خَصِمُوْنَ میں شامل کرتی ہے فَاعْتَبِرُوْا يَا أُولِی الْأَبْصَارِ.
- ٢....... أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ پھر بھی غور فرمائیے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ یہ مِنْ دُوْنِ
اللّٰہ جن کو پکارا جاتا ہے۔ یہ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ حالاً ہیں۔ یا مآلاً ہیں یعنی کیا آیت کے یہ معنی مرزا جی کرتے ہیں کہ جب چند شخصوں نے کسی مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کو پکارنا شروع کیا۔ تو وہ فوراً مر بھی جاتا ہے۔ اور اس کی حیات بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ یہی معنی کرتے ہیں۔ تب کچھ شک نہیں کہ یہ معنی خلاف واقعہ ہیں اور کلام ربانی کی شانِ عظیم اس سے برتر واعلیٰ ہے۔ ہم نے خود سینکڑوں ایسے شخص دیکھے ہیں۔ اور مرزا قادیانی نے نیز ناظرین رسالہ نے بھی دیکھے ہوں گے کہ ان کے بیوقوف معتقد اور مرید ان کو خدائے حاضر ناظر کی طرح ہر وقت ہر جگہ موجود جانتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے یا پیر یا پیر ہی پکارا کرتے ہیں۔ ان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خدا روٹھ جائے تو پیر ملا دیتا ہے اور پیر روٹھ جائے تو خدا نہیں ملا سکتا۔ اس لیے وہ ہمیشہ پیر کا درجہ رسول اور خدا سے برتر وافضل جانا کرتے ہیں۔ اور با ایں ہمہ طغیانِ کفر و شرک یہ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ معبود اپنی تمتع اور کامرانی کے دن بڑی عیش وشادمانی سے پورے کیا کرتے ہیں۔ یہ واقعات جن کا ظہور ہر شخص ہر روز دیکھ سکتا ہے۔ بتلا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کے معنی غلط اور خلاف واقعہ ہیں۔
اب رہا ان کا مآلاً اموات اور غیر احیاء ہونا۔ یعنی بالآخر ان مشرکین کے معبودوں نے ایک روز مرنا ہے۔ یہ بیشک صحیح ہے۔ مگر اب آیت میں مسیح علیہ السلام کی وفات بالفعل پر ذرا بھی اشارت باقی نہ رہے۔ اور مرزا قادیانی کا ہم پر کچھ اعتراض نہ رہ گیا۔ کیونکہ حضرت مسیح کی وفات بزما نہ آئندہ کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اور كُلُّ نَفْسٍ فَانٍ کا اثر ونفاذ مسیح پر بھی تسلیم کرتے ہیں۔
- ٣....... جوابات بالا مرزا قادیانی کی تفہیم کے لیے عرض کئے گئے ہیں۔ ورنہ مفسرین
نے آیت کو بحق اصنام یعنی بتوں کے لیے لکھا ہے۔ اور اموات غیر احیاء کے یہ معنی کیے ہیں کہ ان بنائے ہوئے معبودوں کو تو کبھی بھی حیات حاصل نہیں ہوئی۔ ان میں کبھی بھی لوازم زندگی پائی نہیں گئی۔ اور اس لیے عدم محض ہیں اس معنی پر کوئی اعتراض مرزا قادیانی کا وارد نہیں ہوتا۔ اور وفات مسیح کی دلیل کا تو اس میں ہونا ذرا بھی تعلق نہیں رکھتا۔
٥٤
٢١..... اکیسویں آیت
وفات مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی نے یہ پیش کی ہے مَّاکَانَ مُحَمَّدًا اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اور وجہ استدلال یہ لکھی ہے کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی رسول نہیں آسکتا۔ حضرت عیسیٰ بھی رسول ہیں۔ وہ بھی نہیں آسکتے۔ جب نہیں آسکتے۔ تو ان کی حیات کی کوئی ضرورت نہ رہی۔ ثابت ہوا کہ لامحالہ وہ فوت ہوگئے۔
ناظرین! یہاں مرزا قادیانی سے سخت غلط فہمی ہوئی ہے اور منشاء غلطی یہ ہے کہ سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان رفیعہ کے سمجھنے میں قصور ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ آیت صریح اور نص قطعی موجود ہے۔ "وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (ترجمہ) جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے۔ جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا۔ تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔"
اور اس کا مفہوم و منطوق یہ ہے کہ جس قدر انبیاء ورسل حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک گزرے ہیں۔ یہ سب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ کی امت کے شمار میں اپنے آپ کو داخل وشامل سمجھیں گے اور امتیوں کی طرح آپ کا کلمہ پڑھیں گے۔ اسی آیت کی عملی تفسیر اس حدیث معراج میں ہے۔ جو صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے امام بن کر نماز پڑھائی اور موسیٰ وعیسیٰ و ابراہیم علیہم السلام وغیرہ نے آپ کے پیچھے مقتدی بن کر پڑھی۔ پس جب انبیاء گذشتہ کا شمار پہلے ہی سے حضرت کی امت میں حضرت کی رسالت کے بعد ہوتا ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس میثاق ازلی کے ایفاء کے طور پر دنیا میں آنا اور خلیفہ مسلمین بننا رسول کریم ﷺ کے اعلیٰ درجہ رسالت کا مظہر ہے۔ نہ کہ آنحضرتؐ کے درجہ خاتمیت کے منافی۔ یہ امر کہ مسیح علیہ السلام آنحضرتؐ کی امت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے انیسویں آیت کے تحت میں (ازالہ کے ص ٦٢٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦) پر ان الفاظ میں مان لیا ہے۔ "یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔" یہ اقرار کرنے کے بعد مرزا قادیانی سے نہایت مستعبد معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسیح بن مریم کے آنے کا انکار اس آیت کے تمسک سے کریں۔ اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ انبیاء گذشتہ میں سے اگر کوئی نبی اس میثاق ازلی کے موافق جس کی خبر قرآن مجید میں دی گئی۔ ہمارے سید محمد مصطفیٰ ﷺ کی نصرت وخدمت کے لیے دنیا
٥٥
میں تشریف لائے۔ تو مرزا قادیانی اس آیت کو اس کے لیے مانع خیال کرتے ہیں۔ مگر خود اپنے لیے ایک پہلو نکال کر یوں تحریر کرتے ہیں۔ ”خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہؐ سے نور حاصل کرتا ہے۔ اور نبوت تامہ نہیں رکھتا۔ جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں۔ وہ اس تحریر سے باہر ہے۔ کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے کل میں جزو داخل ہوتی ہے۔“
(ازالہ ص ٥٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤١٠)
دیکھو کیسے صاف لفظوں میں لکھ گئے کہ میں نبی ہوں اور یہ آیت میرے لیے مانع نہیں۔ کیونکہ فنا فی الرسول ہو کر میں بھی محمدؐ رسول اللہ ﷺ کا جزو بن گیا ہوں۔
اچھا مرزا قادیانی! اگر بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے کوئی نبی ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس کی نبوت جداگانہ شمار نہیں ہوتی۔ تب بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا آنا اور نزول فرمانا ثابت ہو گیا۔ کیونکہ صحیح مسلم کی حدیث معراج عن ابو ہریرہؓ سے ثابت ہو چکا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا اتباع کیا ہے۔ اور فنا فی الرسول ہونے کی شہادت حضرت عیسیٰؑ کے اس وعظ سے ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنی امت کو وجود باجود محمدیؐ کی بشارت سنا سنا کر فرمایا تھا۔ ”آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے۔ اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔“ (یوحنا ١٤ باب ٣٠) آیت دنیا کا سردار اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔“ خیال کرو کیسے الفاظ ہیں۔ اور کس سچے دل اور صادق زبان سے نکلے ہیں۔ اگر فنا فی الرسول کا درجہ اس قول کے قائل کو بھی حاصل نہیں (جس کا اپنے قول میں صادق ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے) تو اور کس شخص کو ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد مرزا قادیانی اس حدیث پر نظر فرمائیں۔ جس میں آنحضرتؐ نے انبیاء کو علاتی بھائی فرما کر آخر میں فرمایا ہے۔ وَاَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ۔ یہاں آپ ذرا غور سے دیکھیں کہ آپ کی اصطلاح کے موافق عیسیٰ بن مریم تو محمد رسول اللہ میں اور محمد رسول اللہ حضرت مسیح علیہ السلام میں کس طرح داخل ہیں۔ غرض ثابت ہوا کہ آپ کی مستدلہ آیت آپ کے مفید نہیں ہو سکتی۔ بچند وجوہ
- ١...... قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ جملہ انبیاء آنحضرت کی امت میں ہیں۔ لہٰذا اس
میں سے کسی ایک کا آنا اور خلیفہ بننا بعینہ صدیق اور فاروق جیسا خلیفہ بننا ہے۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے مان لیا کہ مسیح بھی اسی امت محمدیہؐ کے شمار میں آچکا ہے۔
- ٣...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ میں نبی ہوں۔ اور میرے لیے آیت خاتم النبیین مانع
٥٦
نہیں کیونکہ مجھے درجہ فنا فی الرسول حاصل ہے اور میں رسول خدا سے کچھ جدا نہیں ہوں۔ ٤...... فنا فی الرسول کا قاعدہ کلیہ حضرت مسیح پر زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ انجیل اور صحیح مسلم اس کے گواہ ہیں۔
پس ثابت ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اس آیت سے استدلال میں بڑی غلطی کھائی ہے۔ یا صریح مغالطہ دیا ہے۔
ناظرین! یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو خدا کے نبی ہیں۔ وہ ہمارے سید و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابی بھی ہیں۔ صحابی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے ایمان کے ساتھ اس زندگی میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو۔ آنحضرت ؐ کا حضرت مسیح سے شب معراج کو ملاقات کرنا ثابت ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اگر صدیق و فاروق کی خلافت کے لیے آیت خاتم النبیین مانع ہے تو حضرت عیسیٰ کی خلافت کے لیے بھی ہے اور اگر ان کے لیے مانع نہیں۔ تو حضرت عیسیٰ کے لیے بھی مانع نہیں۔ ایک نبی کا نبی ہو کر پھر صحابی ہونا بھی بعید نہیں۔ حضرت ہارون و یحییٰ علیہم السلام کی مثالیں موجود ہیں۔ ہارون تو موسیٰ کے صحابی تھے۔ یحییٰ زکریا علیہ السلام کے۔
٢٢....... بائیسویں آیت
وفات مسیح علیہ السلام پر یہ پیش کی ہے فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم کو معلوم نہ ہو۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گذشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آ جاتا ہے۔ یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپ فیصل کر چکے ہیں۔ دیکھو کتاب سلاطین ۔ کتاب ملاکی ۔ انجیل کہ ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اترنا مسیح نے کس طور پر بیان فرمایا ہے۔“
(ازالہ ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
ا۔ اے مرزا قادیانی اگر آپ فَاسْئَلُوا اَهْلَ الذِّکْرِ پر ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تو یوں ہی فیصلہ کرلیں۔ آپ نے الفاظ ”ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اترنا“ لکھ کر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایلیا آسمان پر چڑھایا گیا۔ آپ یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کا اترنا کس طور کا بیان کیا گیا ہے تو پہلے یہ دریافت کر لیجئے کہ ”ایلیا کا آسمان پر چڑھ جانا کس طرح بیان کیا گیا ہے“ اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیا کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لیجاوے۔ تب ایلیا الیشع کے ساتھ جلجال سے چلا۔ اور ایلیا نے الیشع کو کہا (بقیہ حوالہ اگلے صفحہ پر دیکھیے)
٥٧
تو یہاں ٹھہر اس لیے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ سو الیسع بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہ چھوڑوں گا سو وے بیت ایل کو اتر گئے۔ اور انبیاء زادے جو بیت ایل میں تھے نکل کے الیسع کے پاس آئے اور اس کو کہا تجھے آگاہی ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لیجائے گا۔ وہ بولا ہاں میں جانتا ہوں۔ تم چپ رہو۔ تب ایلیا نے اس کو کہا۔ اے الیسع تو یہاں ٹھہر کہ خداوند نے مجھ کو یریحو کو بھیجا ہے۔ اس نے کہا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا۔ چنانچہ وہ یریحو میں آئے اور انبیاء زادے جو یریحو میں تھے الیسع کے پاس آئے۔ اور اس سے کہا تو اس سے آگاہ ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اٹھا لیجائے گا۔ وہ بولا۔ میں تو جانتا ہوں۔ تم چپ رہو اور پھر ایلیا نے اس کو کہا۔ تو یہاں درنگ کر، کہ خداوند نے مجھ کو یردن بھیجا ہے۔ وہ بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ وے دونوں آگے چلے۔ اور ان کے پیچھے پیچھے پچاس آدمی انبیاء زادوں میں سے روانہ ہوئے۔ اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہو رہے۔ اور وے دونوں لب یردن (نام دریا) کھڑے ہوئے۔ اور ایلیا نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کر پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے ادھر ادھر ہو گیا۔ اور وے دونوں خشک زمین پر ہو کے پار ہو گئے۔
اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے۔ تب ایلیا نے الیسع کو کہا کہ اس سے آگے کہ تجھ سے جدا کیا جاؤں۔ مانگ کہ میں تجھے کیا کچھ دوں۔ تب الیسع بولا۔ مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پر ہے مجھ پر دوہرا حصہ ہو۔ تب وہ بولا تو نے بھاری سوال کیا۔ سو اگر مجھے اپنے سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا۔ تو تیرے لیے ایسا ہو گا۔ اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہوگا۔
اور ایسا ہوا کہ جوں ہی وے دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے۔ تو دیکھ کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان آ کے ان دونوں کو جدا کر دیا۔ اور ایلیا بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔ اور الیسع نے یہ دیکھا اور چلایا۔ اے میرے باپ میرے باپ۔ اسرائیل کی رتھ اور اس کے ساتھی۔ سو اس نے اسے پھر نہ دیکھا۔ اور اس نے اپنے کپڑوں پر ہاتھ مارا۔ اور انہیں دو حصے کیا۔ اور اس نے ایلیا کی چادر کو بھی جو اوپر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا۔ اور الٹا پھر لب یردن کے کنارے پر کھڑا ہوا۔ اور وہاں اس نے ایلیا کی چادر کو جو اس پر سے گر پڑی تھی۔ لیکر پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیا کا خدا کہاں ہے۔ اور اس نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا تو پانی ادھر ادھر ہو گیا اور الیسع پار ہو گیا۔“ مرزا قادیانی ایلیا کے آسمان پر چڑھ جانے کی یہ کیفیت مفصل پڑھ کر اب اپنے اس فقرہ کو یاد کریں کہ ”جب جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو جائے تو پھر اسی جسم کے ساتھ اترنا کچھ مشکل نہیں۔ نیز فقرہ ”مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے“ (ازالہ ٢٦٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٦) اور ملاحظہ کیجئے کہ ایلیا کا جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنا کس وضاحت سے اہل کتاب کے صحف سماوی میں مندرج ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ ایلیا کی جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے۔ وہ اس کا جسم ہی تو تھا۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اول تو شروع باب میں یہ فقرہ ہے کہ خدا نے چاہا کہ ایلیا کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لیجاوے۔ بگولے میں اڑا کر لے جانا روح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ دوم یہ فقرہ ایلیا نے اپنی چادر کو لپیٹ کر دریا پر پھینک کر مارا۔ پانی ادھر ادھر ہو گیا۔
(بقیہ حوالہ اگلے صفحہ پر دیکھیے)
٥٨
ناظرین اس بیان میں مرزا قادیانی نے چند غلطیاں کی ہیں اول یعنی آیت کے سمجھنے میں آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر تم کو معلوم نہ ہو۔ تب اہل کتاب سے پوچھو۔ خدا کے فضل سے نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایسا نہیں۔ جو ہم کو معلوم نہ ہو۔ قرآن مجید سے لیکر صحاح ستہ اور دیگر تمام دواوین حدیث میں نزول مسیح علیہ السلام کی مفصل خبریں درج ہیں۔ بلکہ میں دعویٰ کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ احادیث نزول مسیح میں اس قدر تفصیل اور تشریح ہے کہ آج تک کسی پیشگوئی کو تو کیا گذشتہ واقعہ کو بھی کسی مؤرخ نے ایسی خوبی اور صفائی سے شاید ہی بیان کیا ہو۔ میرا یہ کہنا تو مرزا قادیانی کو ناگوار خاطر ہوگا کہ انہوں نے ان احادیث پر نظر نہیں ڈالی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان کی تحریر میں ان احادیث کا علم ہونے کی ذرا بھی دلالت نہیں۔
- الف...... مرزا قادیانی! جغرافیائی طور پر اس پیشگوئی کے متعلقہ احادیث اس طرح پر ہیں۔
- ١....... مدینہ کی آبادی اہاب تک پہنچ جائے گی۔ (صحیحین مسلم ج ٢ ص ٣٩٣
کتاب الفتن و اشراط الساعۃ) ناظرین آج ہمارے زمانہ تک اس حد تک آبادی نہیں پہنچی
- ٢...... اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہوگا (ترمذی ج ٢ ص
٢٢٩ باب فضل المدینۃ) خدا کے فضل سے آج مدینہ آباد و با رونق ہے۔
- ٣...... بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا۔ مدینہ کا خراب ہونا
سبب ہے جنگ عظیم کا۔ جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کی فتح کا۔ قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا (ابو داؤد ص ١٣٢ ج ٢ باب امارت الملاحم) یہ فقرہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ خروج الدجال سبب ہے نزول مسیح کا۔
- ٤...... حضرت مسیح شہر بیت المقدس میں اور مسلمانوں کے لشکر میں نازل ہوں گے
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج دجال، ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال)
- ب...... اس کے بعد ملکی انقلابات سے متعلقہ احادیث پر نظر ڈالئے۔
- ١...... مسلمانوں کا لشکر جو نصاریٰ کی طلب میں نکلا ہوگا۔ اس فوج کے مقابل ہوں
(بقیہ) اگر چادر سے مراد جسم ہے۔ تو ایلیا نے خود اپنے جسم کو کس طرح لپیٹ کر دریا پر مارا تھا۔ سوم یہ فقرہ الیسع نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا۔ کیا الیسع نے اپنے پیر و مرشد کی لاش کو پھینک کر مارا تھا غرض یہ تاویل فضول ہے۔ اور سلاطین باب ٢ سے ایک جسم کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ پر ایمان ہے۔ تو پہلے اس صعود جسمی کو تو مان لیں۔ ١٢
٥٩
گے۔ جس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا ہوگا۔ تین روز تک مسلمانوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ چوتھے روز مسلمانوں کو فتح کامل حاصل ہوگی۔ اس جنگ سہ روزہ میں ٩٩ فیصدی مقتول ہوں گے۔ اس فتح کے بعد مسلمان قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے۔ فتح کے بعد جب ملک شام میں پہنچیں گے۔ تب الدجال خروج کرے گا۔ اور پھر نماز صبح کے وقت حضرت عیسیٰ نزول فرمائیں گے۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢ کتاب الفتن واشراط الساعۃ عن ابوہریرہؓ وابن مسعودؓ )
- ٢....... الدجال زمین مشرق۔ خراسان سے نکلے گا۔ (ترمذی ج ٢ ص ٤٧ باب
ماجاء فی الدجال عن ابوبکر صدیقؓ وہ بجز مکہ مدینہ سب جگہ پھر جائے گا۔)
(مسلم ج ٢ ص ٤٠٥ باب فی بقیہ من احادیث الدجال)
- ٣....... حضرت عیسیٰ مسیح باب ”لد“ پر الدجال کو قتل کریں گے۔
(مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال )
- ج....... تعین زمانہ اور سنین کے اعتبار سے ملاحظہ فرمائیے۔
- ١....... جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں ٦ سال کا فاصلہ ہے۔ اور الدجال کا خروج
ساتویں سال میں ہے (ابوداؤد وصححہ ج ٢ ص ١٣٢ باب فی تواتر الملاحم)
گو میں نے ان احادیث کی طرف نہایت مختصر لفظوں میں اشارہ کیا ہے۔ مگر حق کے طالب اور صداقت کے جویا ان بیانات سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میری غرض ان احادیث کو دکھانے سے یہ ہے کہ جب اسلام نے اپنی تعلیم کو خود مکمل کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ناچیز بندوں پر اپنی نعمت کو تمام فرما دیا ہے اور مبحث فیہ مسئلہ میں بھی ایسی صراحت سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا ہے۔ تو ان نعمتوں کی قدر نہ کرنا اس پاک اور آخری تعلیم پر اعتبار نہ کرنا۔ اور پھر اہل کتاب سے پرسش کا اپنے آپ کو محتاج جاننا کیا ہی لغو فعل ہے۔ جس طرح بہت سے شوم طبع بھکاری (جن کے اندوختہ سے ان کے نفس کو بھی منفعت حاصل نہیں ہوتی) سینکڑوں اشرفیاں اپنی سڑی بسی گدڑی میں چھپا رکھتے ہیں۔ اور پیسہ پیسہ کے لیے دربدر بھٹکتے پھرا کرتے ہیں۔ بس اس جگہ بھی ٹھیک وہی مثال ہے۔
دوسری غلطی مرزا قادیانی کی یہ رائے ہے کہ نصاریٰ کی کتابوں سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب کسی نبی کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو۔ تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ ”مرزا قادیانی کیوں یہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ کہ ان کتابوں میں خاص حضرت مسیح کے آنے کے بارہ میں کیا لکھا گیا ہے۔
٦٠
کیونکہ اس جگہ عمومیت کا سوال نہیں بلکہ خصوصیت کا ہے۔ میں معزز ناظرین کی نزہت طبع کے لیے مسیح کے آنے کے بارہ میں جو کچھ انجیل میں لکھا ہے پیش کرتا ہوں۔ متی ٢٤ باب میں یہی بیان ہے:۔ ١....... یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد اس کے پاس آئے کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھلائیں ٢....... پر یسوع نے کہا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں پتھر پر پتھر نہ چھوٹے گا جو گرایا نہ جائے گا۔ ٣....... جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہوگا اور تیرے ١؎ آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے ٤....... اور یسوع نے جواب دے کے انہیں کہا۔ خبردار رہو کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے ٥....... کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے۔ اور کہیں گے میں مسیح ٢؎ ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے ٦....... اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار مت گھبراؤ۔ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک اخیر نہیں ہے (یعنی قیامت نہیں) ٧....... کیونکہ قوم
١؎ ناظرین تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ یہ الفاظ اِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ کا ترجمہ ہیں۔ مرزا قادیانی نے اِنَّهُ کی ضمیر میں جو مختلف وجوہ پیش کئے ہیں۔ احادیث نبوی کے الفاظ اور انجیل کے الفاظ اس کا تصفیہ کرتے ہیں۔ حواریوں کے الفاظ سوال سے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سوال سے پہلے بھی ان کو حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے اور پھر قرب قیامت میں باردوم آنے کا حال معلوم ہو چکا تھا یعنی وہ یہ وقت تھا۔ جب اللہ تعالیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کا وعدہ حضرت عیسیٰ کو دے چکا تھا۔ اور ان الفاظ کے معنی حضرت عیسیٰ نیز ان کے حواری وہی سمجھے تھے۔ جو آج جمہور مسلمانوں نے سمجھے ہیں ورنہ تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا کیا نشان ہے۔“ بالکل بے معنی ہوا جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح تو خود ان میں موجود تھے۔ اور آنے میں کیا کسر رہ گئی تھی۔
٢؎ حضرت عیسیٰ نے پیشگوئی کیسے صاف اور واضح الفاظ میں حتمی طور پر فرمائی ہے۔ اور اطلاع دی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے پیدا ہوں گے۔ جو مسیح کا نام اور درجہ اپنے لیے ثابت کریں گے۔ پھر علامت اور نشان کے طور پر فرما دیا کہ جھوٹے مسیح اس زمانہ میں پیدا ہوں گے جب لڑائیاں شروع ہوں گی۔ یا لڑائیوں کی افواہ۔ قوم قوم پر بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی۔ کال۔ وبائیں۔ زلزلے آئیں گے اب ان علامات پر نظر غور سے دیکھو۔ پہلے مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ یاد کرو جَعَلْنٰکَ مَسِیْحَ ابْنِ مَرْیَمَ۔ یعنی میں مسیح ہوں (ازالہ ص ٦٣٣ خزائن ج ٣ ص ٤٤٢) پھر فرانس کی جنگ۔ سیام سے سوڈانیوں کا۔ مصر سے انگریزوں کا۔ افریقہ میں وحشی لوگوں سے ہندوستان میں برہما اور شمالی پہاڑی والوں سے وغیرہ وغیرہ پر نگاہ ڈالو۔ پھر روس اور انگلستان کی اور جرمن و فرانس کی اور یونان و روم کی جنگ کی افواہیں یاد رکھو۔ اور پھر اس نتیجہ کو جو مسیح علیہ السلام نے نکالا ہے انصاف سے دیکھو کہ وہ جھوٹے مسیح بہتیروں کو گمراہ کرنے والے ہوں گے۔
٦١
قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی۔ اور کال ۔ وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے (٨) پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وے تمہیں دکھ میں حوالے کریں گے۔ اور میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گے (٩) اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے۔ اور ایک دوسرے سے کینہ رکھے گا (١٠) اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے (١١) اور بے دینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جاوے گی (١٢) پر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پاوے گا (١٣) اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جاوے گی۔ تا کہ سب قوموں پر گواہی ہو اور اس وقت آخر آوے گا (١٤) پس جب ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا ہے۔ مقدس مکان میں کھڑے دیکھو گے۔ (یعنی جب الدجال بیت المقدس پہنچے) (١٥) تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ (١٦) جو کوٹھے کے اوپر ہو۔ اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔ (١٧) اور جو کھیت میں ہو اپنا کپڑا اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھر ے (١٨) پر ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں (کیونکہ جب بچہ پیٹ یا گود میں ہوتا ہے بھاگا نہیں جاتا) (١٩) سو دعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں یا سبت کے دن نہ ہو (اس سے ظاہر ہے کہ الدجال بیت المقدس میں موسم سرما اور یوم شنبہ کو پہنچے گا ۔) (بھاگنا نہ ہو سے مطلب یہ ہے کہ خدا تم کو وہ دن نہ دکھلائے) (٢٠) کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی۔ جیسی دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی اور نہ کبھی ہوگی (٢١) اور اگر وے (دن) گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا۔ پر برگزیدوں کی خاطر وے دن گھٹائے جائیں گے۔ (٢٢) تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے۔ یا وہاں تو یقین مت لاؤ (٢٣) کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے یہاں تک کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے (٢٤) دیکھو۔ میں پہلے سے کہہ چکا ہوں (٢٥) پس اگر وے (لوگ) تمہیں کہیں دیکھو وہ (مسیح) جنگل میں ہے۔ تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے (جس کا نام مرزا قادیانی نے بیت الذکر رکھا ہے) تو باور مت کرو (٢٦) کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے۔ اور پچھم تک چمکتی ہے۔ ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔ (٢٧) اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا۔ اور چاند اپنی روشنی نہ دیگا۔ اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
یوحنا کی انجیل میں دیکھئے۔ (٢٨) تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور
٦٢
تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے۔ تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے۔ کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے (٢٩) اور اب میں نے تمہیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا ہے تا کہ جب ہو جائے۔ تم ایمان لاؤ۔ ١٥ باب۔ مرقس کے ١٣ باب اور لوقا کے ١٧ باب میں بھی اسی طرح ہے۔
اب مرزا قادیانی انصاف اور حق پسندی کی راہ سے فرمادیں کہ آپ حضرت مسیح کا بیان ان کے نزول کے بارہ میں جو اس قدر مفصل ہے اور اناجیل اربعہ میں منقول ہے۔ کیوں منظور نہیں فرماتے۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں۔ اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ زیادہ تر تدبر اور غور کے قابل ہے۔ ظاہر ہے۔ ”پھر آتا ہوں“ وہی شخص کہا کرتا ہے جو پہلے جایا کرتا ہے۔ پہلے جانا حضرت مسیح علیہ السلام کا ہمارے اور مرزا قادیانی کے نزدیک مسلم ہے (گو اس کی کیفیت میں اختلاف ہو) مگر ”پھر آتا ہوں“ کی مرزا قادیانی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کا پھر آنا محال اور قدرت کے خلاف ہے۔ اندریں حالت کہ مرزا قادیانی ”فَاسْئَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ“ پکار رہے ہیں۔ اور انجیل حضرت مسیح کا بذات خود دنیا پر مکرر آنا بآواز بلند پکار رہی ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے کیوں اور کیونکر اس آیت کو وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل بنایا ہے۔ اور نہ صرف خوش اعتقاد مریدوں کو بلکہ کل مسلمانوں کو کیسی صریح غلطی میں ڈالنا چاہا ہے۔
یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اہل کتاب کی آسمانی کتاب میں نزول مسیح علیہ السلام کی کیفیت کیا لکھی ہے؟ اب میں ایلیا کے اس قصہ پر توجہ کرتا ہوں۔ جس کا حوالہ اس آیت مستدلہ کے تحت میں مرزا قادیانی نے دیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ یہود حضرت ایلیا کی آمد کے منتظر تھے۔ جب حضرت مسیح نے نبوت کا اظہار کیا۔ تو یہود نے یہ اعتراض کیا کہ پہلے ایلیا آنا چاہیے تھا اگر تو مسیح ہے۔ بتا ایلیا کہاں ہے؟ حضرت مسیح کا جواب اس بارہ میں انجیل میں یوں تحریر ہے کہ حضرت یوحنا کی طرف اشارہ کر کے آپ نے فرمایا۔ آنے والا ایلیا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو اس جواب کا وہی مطلب ہے۔ جو مرزا قادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر ناظرین انجیل کو ذرا تأمل سے ملاحظہ فرمائیے۔ اسی انجیل میں یہ بھی ہے کہ جب علماء یہود کے فرستادوں نے خود حضرت یوحنا سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں۔ آیا مسیح ہیں۔ کہا میں نہیں ہوں۔ پوچھا۔ کیا آپ ایلیا ہیں۔ فرمایا۔ میں نہیں ہوں۔ آیا وہ نبی ہیں (وہ نبی ترجمہ ہے آنحضرت کا) کہا میں نہیں ہوں۔ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر آپ نہ مسیح ہیں نہ ایلیا ہیں نہ وہ نبی ہیں۔ تو پھر کون ہیں۔ حضرت یوحنا (یحییٰ علیہ السلام)
٦٣
نے جواب دیا میں وہ ہوں۔ جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔
اب دیکھو کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیا بتایا تو انجیل ہی کا یہ بیان ہے کہ یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔ چیلہ نے اپنے گرو کو (کچھ) بنانا چاہا۔ مگر وہ نہ بنا فرمائیے۔ مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے۔ وہ سچا ہے۔ یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے۔ وہ صادق ہے۔ نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی تو دونوں سچے ہیں۔ ہاں۔ مسیح کے قول میں تحریف ہوگئی ہے۔ اس قدر لکھنے کے بعد جس سے ایلیا کا یوحنا میں ہونا غلط محض ثابت ہو چکا۔ یہ بھی درج کر دینا چاہتا ہوں۔ کہ یہودی اگر حضرت ایلیا کے آنے کے قائل بھی تھے۔ تو ان کے اعتقاد میں یہ ہرگز نہ تھا۔ کہ وہ خود آسمان پر سے اترے گا۔ دیکھو علماء یہود نے حضرت یوحنا سے آ کر یہ पूछा ہے کہ تو مسیح ہے۔ یا ایلیا یا وہ نبی۔ اگر ایلیا کے آسمان سے نزول فرمانے کے وہ قائل ہوتے۔ تو حضرت یوحنا پر مسیح اور وہ نبی ہونے کا شبہ نہ کرتے اور جب انہوں نے شبہ کیا تو اس کے صرف دو معنی ہیں یا تو یہود مسیح اور وہ نبی اور ایلیا تینوں کے نزول من السماء کے قائل تھے۔ اور یہ بہ بداہت باطل ہے۔ کیونکہ مسیح اور وہ نبی تو ہنوز بار اوّل بھی دنیا میں پیدا نہ ہوئے تھے۔ یا یہ کہ وہ ایلیا کے بجسدہ آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہ تھے اور یہی فقرہ کا مطلب ہے۔ بدیں صورت مرزا قادیانی کی وجہ استدلال کچھ بھی نہ رہی۔ اور ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے اس آیت سے استدلال کرنے میں چند در چند غلطیاں کیں اور مغالطے دیئے ہیں۔
٢٣......تیئسویں آیت
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَ ادْخُلِي جَنَّتِي. اے اطمینان والے نفس اپنے رب کی طرف پھر جا۔ تو اس سے راضی وہ تیرے سے راضی۔ پھر میرے بندوں میں داخل ہو جا۔ اور میری جنت میں چلا آ۔" مرزا قادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ گذشتہ جماعت میں دخل جب مل سکتا ہے۔ جب انسان مرجائے اور صحیح بخاری کی حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی فوت شدہ نبیوں کے گروہ میں شامل تھے لہٰذا یہ نص وفات مسیح پر دلالت صریح رکھتی ہے۔
(ملخص ازالہ ص ١٦٧ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
ناظرین! مرزا قادیانی کا صغریٰ و کبریٰ دونوں غلط ہیں۔ صحیح بخاری کی اسی حدیث پر جس کا مرزا قادیانی نے حوالہ دیا ہے۔ اگر تدبر کرتے تو اس غلطی پر وہ جلد مطلع ہو جاتے۔ مرزا
قادیانی فرمائیے نبیوں کی فوت شدہ جماعت میں حضرت عیسیٰ کو دیکھنے والا کون تھا؟ ظاہر ہے۔ ہمارے سید و مولیٰ محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت آپ اُسی دنیوی حیات میں تھے۔ پس جس طرح محمد رسول اللہ کا گذشتہ انبیاء کے گروہ میں دخل ہوا۔ دخل مل جانے کے بعد کچھ تفاوت نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے ہو۔ یا زیادہ دیر کے لیے اسی طرح مسیح بھی اس وقت اس گروہ میں موجود تھے۔ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی مرزا قادیانی کی یہ ہے کہ انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا۔ اگر وہ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ اور يَا اَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِيْ دونوں پر چشم بصیرت سے نظر فرماتے۔ تو ان کو صداقت کا نور درخشاں نظر آتا۔ پہلی آیت میں عیسیٰ مخاطب ہیں (عیسیٰ میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں) اور دوسری میں صرف نفس یعنی روح مخاطب ہے۔ پہلی آیت میں رَافِعُكَ اِلَيَّ ہے۔ اور دوسری میں ارْجِعِيْ دنیا بھر کے لغات میں تلاش کرلو۔ نہ رجوع بمعنی ”رفع“ ملے گا۔ اور نہ ”رفع“ بمعنی رجوع پھر ایک کو دوسری سے کیا مناسبت ہے؟ اس سے ثابت ہوا کہ ”رفع“ کے معنی کلام الٰہی میں وہی ہیں جو اس کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور مرزا قادیانی نے اپنی تقویت کے لیے لفظ کو اس کے اصلی معنی سے پھیر کر کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔
مرزا قادیانی آپ نے رَافِعُكَ اِلَيَّ کو ارْجِعِيْ اِلٰى رَبِّکِ کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ارْجِعِيْ اِلٰى رَبِّکِ اور اِلٰى رَبِّکَ فَارْغَبْ بھی ہم معنی ہیں۔ تو آپ کیا جواب دیں گے۔
٢٤...... چوبیسویں آیت
اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ. خدا وہ ہے۔ جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر رزق دیا۔ پھر مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ ”مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ یہی چار واقعات زندگی کے ہیں۔ اس سے کوئی باہر نہیں یعنی مسیح بھی۔“
(طبع ازالہ ص ٦١٨ خزائن ج ٣ ص ٤٣٤)
ناظرین! یہ سچ ہے کہ ان واقعات چارگانہ میں کل مخلوق داخل ہے۔ مگر حرف ثُمَّ جو ہر حالت کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات آنِ واحد ہی میں شخص واحد پر گزر نہیں لیتے۔ بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سامعین کے لیے آیت خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں اور ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ
٦٥
ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کے الفاظ صیغہ مضارع ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ گو مستمع پر دو واقع گزر لیے ہوں اور گزر رہے ہوں۔ مگر دو امور آئندہ پیش آئیں گے۔ پس جب آیت کا مفہوم زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضی نہیں۔ بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مر جانا ہے۔ اور سب پر ان واقعات چارگانہ نے گزر لینا ہے تو وفات مسیح پر استدلال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے کہ آج کل حضرت مسیح ثُمَّ رَزَقَكُمْ کے مصداق حال ہیں؟
٢٥......پچیسویں آیت
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ یعنی جو چیز زمین پر ہے وہ فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے فان کا لفظ اختیار کیا۔ یَفْنیٰ نہیں کہا۔ مطلب یہ کہ فنا کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ ہمارے مولوی صاحبان یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح بن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔“
(ازالہ ص ٦٢٠ خزائن ج ٣ ص ٤٣٤)
ناظرین! ہمارا ایمان ہے کہ ہر شے کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے۔ ہم مرزا قادیانی کے بیان کو سچ جانتے ہیں کہ یَفْنیٰ کی جگہ فَانٍ کا لفظ اختیار کرنے میں یہی بلاغت اور حکمت تھی۔ مگر مرزا قادیانی یہ فرمائیں کہ اس میں وفات بالفعل کی دلیل کہاں ہے۔ یہ بھی جناب ممدوح کا مولوی صاحبان پر افتراء محض ہے کہ مسیح بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔ ہاں ہم یہ ضرور اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ کے تغیر و تبدل کا اثر بعض جسموں پر (غیر معمولی کہو خرق عادات کے طور پر سمجھو) ایسا خفیف ہوتا ہے کہ وہ اثر نہ خود اس جسم کو محسوس ہوتا ہے اور اس کے دیکھنے والے کو۔ اصحاب کہف جب ٣٠٩ برس کے بعد اٹھے تو انہوں نے اپنے خواب کی درازی مدت کو صرف يَوْمٌ أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ خیال کیا تھا علیٰ ہٰذا۔ جب ان میں سے ایک بازار میں گیا تو بازار والے بھی جسمی ساخت وغیرہ سے اس کو اپنے ہی زمانہ کا ایک شخص سمجھ کر (کیونکہ ان کو بھی کوئی ایسا تغیر نہ معلوم ہوا۔ جس سے وہ ان کو گزشتہ چار صدیوں کا آدمی خیال کر لیتے) اور ان کے ہاتھوں میں نہایت پرانے عہد کا سکہ دیکھ کر دور دراز کے خیالات میں پھنس گئے تھے۔ تغیر و تبدل کے اثر کا تفاوت طبقات ارض پر بھی ہے۔ گرم ولایت میں مرد و زن جلد جوان ہو جاتے ہیں۔ اور سرد میں ان سے کئی سال بعد۔ گرم ولایت کے رہنے والے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ سرد ولایت کے بدیر۔ آسمانی زمین پر رہنے
٦٦
والوں میں تغیر وتبدل ایسا کم اور غیر محسوس ہے جس کے لیے کسر اعشاریہ کے صفر بھی مشکل سے کفایت کر سکتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ كُلُّ مَنْ کی تحت میں آسمان کے فرشتے بھی شامل ہیں اور مرزا قادیانی بھی جانتے ہیں کہ فَانْ کا اثر ان پر بھی ہے۔ یعنی سلسلہ فنا ان کے ساتھ ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ہزاروں برس سے عبادت کرنے والے ہنوز ایسے زمانہ تک جس کی حد انسانی وہم و گمان سے برتر ہے زندہ رہیں گے اب مرزا قادیانی کے نزدیک اگر مولوی صاحبان نے مسیح علیہ السلام کے جسم پر جو زمین سے آسمان پر ہے۔ نامعلوم تغیر وتبدل کا تا نزول ہونا مان لیا ہے۔ اور اس ماننے سے ان کی توحید اور ان کی اطاعت قرآن کریم کے دعویٰ باطل ہو گئے ہیں۔ تو کیا خود مرزا قادیانی پر وہی اعتقاد درباره فرشتگان رکھنے میں وہی اعتراض عائد نہ ہوں گے؟ سُبْحَانَ اللّٰهِ قَضَی الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ اسی کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی یہ آفتاب جو آپ کے نزدیک جسم جبرائیل کا نام ہے۔ اس کے وجود میں ایسا کم تغیر وتبدل ہے کہ آپ کے فلسفیوں کے نزدیک (جن کی تحقیقات پر بھروسہ کر کے اور جن کی ہنسی اڑانے کے خوف سے ڈر کر آپ نے رفع مسیح کا انکار کیا ہے) اس کی اتنی حدت اور حرارت جو دنیا کو گرم نہ رکھ سکے پچاس کروڑ برس میں جا کر کم ہوگی۔
٢٦...... چھبیسویں آیت
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے بدیں الفاظ کیا ہے۔ متقی لوگ جو خدا تعالیٰ سے ہر ذرا سی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں صدق کی نشست گاہ میں۔ بااقتدار بادشاہ کے پاس۔‘‘ اور وجہ استدلال یہ لکھی ہے ۔ ’’کہ مرنا اور مقربین کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا۔ یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی لکھا ہے کہ اگر رَافِعُكَ اِلَیَّ کے یہی معنی ہیں کہ مسیح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا‘‘
(ضمیمہ ازالہ ص ٦٢١ - ٦٢٠ خزائن ج ٣ ص ٤٣٥)
ناظرین! ترجمہ اور وجہ استدلال میں چند غلطیاں ہیں۔ ترجمہ میں ”فوت ہو جانے کے بعد“ بناوٹی الفاظ ہیں۔ جو مرزا قادیانی کی مضمون آفرین طبیعت نے خود شامل کر دیئے ہیں۔ اس آیت مستدلہ کا تعلق مرنے کے بعد سے نہیں۔ بلکہ روز قیامت سے ہے۔ الفاظ قرآنی یہ ہیں
٦٧
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُ هُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰی وَاَمَرُّ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ (القمر ٤٧) آگے چار آیتیں مجرمین ہی کے بیان میں ارشاد فرما کر فرمایا: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ۔
معزز ناظرین! نہ صرف مرزا قادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے بلکہ یہ بھی کہ مرزا قادیانی نے اسی آیت کی بنا پر جو یہ اصول قائم کیا تھا (حالانکہ الفاظ میں اس اصول کی طرف صراحت تو کیا دلالت بھی نہیں) کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے۔ وہ سراپا غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ. هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ. مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ ٥ ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ. (ق ٣١-٣٢) جس روز ہم جہنم کو پوچھیں گے ۔ تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے؟ اور (جس روز) متقین کے واسطے جنت کو آراستہ کر کے قریب لائیں گے۔ یہ وہ بہشت ہے۔ جس کا وعدہ ہر رجوع کنندہ (احکام کے) محافظ کو دیا گیا تھا۔ جو شخص بن دیکھے رحمٰن سے ڈرا۔ اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔ اس کو اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر دو۔ یہ دن یوم خلود ہے۔‘‘ یہ آیت کس قدر مرزا قادیانی کے تلازم اور ایک آن کے مسئلہ کو باطل کر رہی ہے؟ احادیث صحیحہ میں بھی بڑی تفصیل و تشریح ہے سب کی جامع ایک ہی حدیث ہے۔ ”رسول اللہ فرماتے ہیں۔ میں سب سے پہلے دروازہ جنت جا کر کھٹکھٹاؤں گا۔ رضوان پوچھے گا۔ آپ کون ہیں۔ میں کہوں گا۔“ محمد ﷺ رضوان دروازہ کھول دے گا اور کہے گا۔ مجھے یہی حکم تھا۔ کہ آپؐ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘‘
(مشکوۃ ص ٥١١ باب فضائل سید المرسلین)
اگر مرزا قادیانی کا یہ مذہب ٹھیک ہے۔ تو ان کو اس حدیث کے بعد بتلانا پڑے گا کہ وفات محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے تک جس قدر برگزیدگان خدا انتقال کرتے رہے۔ وہ سب کہاں جنت کے باہر ہے۔
یہ تمام تقریر تو مرزا قادیانی کی اصولی غلطی ظاہر کرنے کے لیے لکھی گئی۔ اب میں یہ عرض کرتا ہوں کہ آیت مستدلہ مرزا قادیانی کے دعویٰ پر ذرا دلیل نہیں۔ بالفرض ان کا یہ بیان صحیح ہے کہ انسان مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ تو وفات مسیح پر کیا دلیل ہے۔ برگزیدہ بندوں میں داخل ہونا اگر دلیل وفات ہوتی ۔ تو شب معراج میں ہی رسول کریم کا وفات پانا ایک مسلم واقعہ ہوتا ۔ جب ایسا نہیں ہوا تو آپ کا یہ استدلال ایسا بودا اور ضعیف ہے۔ جس کو دعویٰ سے
٦٨
ذرا مناسبت نہیں۔
٢٧...... ستائیسویں آیت
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيْسَهَا وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ ٥ جن لوگوں کو ہماری طرف سے پہلے سے بھلائی مل چکی ہے۔ وہ دوزخ سے دور رہیں گے۔ اور بہشت کی آسائشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ مرزا قادیانی کی وجہ استدلال وہی پرانی ہے کہ انسان مرتے ہی بہشت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور مضمون آیت یہ ہے کہ ”نیک بندے بہشت میں داخل ہوں گے۔ لہذا حضرت مسیح مر گئے ۔“ (تلخیص ازالہ ص ٦٢٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦) مرتے ہی بہشت میں داخل ہونے کا غلط ہونا میں ثابت کر چکا ہوں۔ بالفرض یہ عقیدہ صحیح و درست ہے۔ تاہم اس اصول سے کہ مردے فوراً داخل بہشت ہوتے ہیں وفات مسیح بالفعل کہاں ثابت ہو گئی ؟
نوٹ....... تائید الاسلام میں حضرت مصنفؒ نے مرزا قادیانی کی طرف سے اپنے غلط عقیدہ وفات مسیح کی ٣٠ آیات میں تحریف کے جوابات دیئے۔ آیت ٢٨ کے جواب تائید الاسلام میں شائع نہیں ہوئے۔ غالباً وہ مسودہ سے کاتب نے کھو دیا ہوگا۔ ذیل میں اپنی طرف سے چند سطریں شامل کر کے اسے مکمل کیا جا رہا ہے۔ (فقیر)
٢٨...... اٹھائیسویں آیت
اینما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدہ (النساء ٧٨) ”یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بود و باش اختیار کرو“ اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض و آفات منجر الی الموت تک پہنچانا ہے اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔
(ازالہ ص ٦٢٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)
- ا....... یہاں بھی مرزا قادیانی نے تحریف قرآنی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نامراد
کوشش کی ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی ومفہوم پر نظر کرنا ضروری
٦٩
ہے۔ آپؐ جب صحابہ کرام کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ آپؐ نے کفار کے مقابلہ کے لیے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا۔ ان کی تنبیہ کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں کئی رکوع اسی مضمون سے متعلق نازل ہوئے۔ ان میں یہ آیت کریمہ بھی ہے ”کہ جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم موت سے نہیں بچ سکتے۔ موت تو کہیں بھی آسکتی ہے۔ اگرچہ بلند و بالا برجوں میں کیوں نہ رہو پھر بھی موت آئے گی ۔“ اب اس آیت میں موت کا آنا یقینی ہے اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ کہاں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔
- ٢...... تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق کی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔
بحث اس میں ہے کہ اس وقت زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ۔ مرزا قادیانی کا موقف ہے کہ فوت ہو گئے اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کہ وہ فوت ہوگئے ۔ پس مرزا کا یہ دجل اور تحریف ہے۔ مرزا کے دل کا چور بھی مرزا کو ملامت کرتا تھا کہ تم غلط استدلال کر رہے ہو۔ اس لیے مجبوراً اسے کہنا پڑا ”یہ اشارۃ النص بھی مسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں“ مرزا نے غلط کہا اس اشارۃ النص نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی ”شرارۃ النفس“ نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے۔
- ٣...... مرزا کا کہنا کہ ”موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں“ یہاں بھی مرزا کو یاد
رکھنا چاہیے کہ جس طرح مسلمان و کافر ....... اور نبی کی کیفیت موت میں فرق ہے اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیل علیہ السلام سے پیدا ہوئے۔ اس لیے آسمانوں پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر و باہر ہے۔ مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات موت ولوازم موت میں مرزا کی نسبت تفاوت ہے۔ تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہیے؟
- ٤...... اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں یہ صرف مرزا قادیانی کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار
مکہ مادہ پرست، منکرین بعثت یہی کہتے تھے۔ وقالوا ما ہی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیی وما یھلکنا الا الدھر ۔ (جاثیہ ٢٤) وہ (کفار) کہتے تھے کہ ہمیں دنیوی زندگانی
٧٠
ہی کافی ہے۔ ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں کفار مکہ و منکرین بعثت حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے۔ یہی روگ آج مرزا قادیانی الاپ رہا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے نزدیک موت صرف اور صرف مشیت الٰہی بفضل مایشاء اور ”حمیت“ ذات باری کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے۔ کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا۔ کوئی چند ساعات‘ کوئی چند سال‘ کوئی چند صدیاں۔ جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے جس کو چاہے موت دے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ ان کی وفات کے وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں۔ پس جبکہ مرزا اخسر الدنیا و الآخرہ کا مصداق ہے۔
- ٥...... مرزا نے اپنی غلط برآری کے لیے آیت میں تحریف کرکے اشارۃ النص ثابت کرنا چاہیں۔
جبکہ صراحۃ النص بل رفعه الله (قرآن) ان عيسى لم يمت (حدیث) الله ینزل فیکم (حدیث) کی موجودگی اس بات پر دلیل بین ہے کہ مرزا قادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا ہے۔
٢٩...... انتیسویں آیت
مَااٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَانَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا جو کچھ تم کو رسول دے وہ لے لو۔ اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔
(ازالہ ص ٦٢٣ خزائن ج ٣ ص ٤٣٦)
آیئے مرزا قادیانی اسی آیت پر عمل کریں اور دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارہ میں کیا فرمایا ہے۔
- ١...... امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لِلْيَهُوْدِ
اِنَّ عِيْسٰى لَمْ يَمُتْ وَاِنَّهُ رَاجِعٌ اِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
(تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦ و ٣٧٦ و ٥٧٥ ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩)
رسول خدا ﷺ نے یہود کو (جو وفات عیسیٰ کے قائل تھے) فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے۔ اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔“ حدیث میں لَمْ يَمُتْ کا لفظ غور طلب ہے۔ کیونکہ لَمْ نفی تاکید کے لیے آتا ہے اور مضارع کو بمعنی ماضی کر دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ اس حدیث پر شاید جرح
ہو سکتی ہے کہ مرسل ہے۔ امام حسن بصری نے صحابی کا نام نہیں لیا۔ مگر یہ جرح مرزا قادیانی اور ان کے اخوان الصفا کی طرف سے تو ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے مباحثہ لدھیانہ میں تسلیم کرلیا ہے۔ ”مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔“ مرسل حدیث بکلی پایہ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض نہیں ہوتی اب رہے اہل حدیث۔ وہ بھی اس حدیث پر کچھ جرح نہیں کر سکتے۔ کیونکہ امام حسن بصریؒ سے بروایت صحیح ثابت ہو چکا ہے کہ جب وہ روایت حدیث میں ارسال کرتے ہیں تو اس حدیث کے راوی حضرت علی مرتضیٰؓ ہوتے ہیں۔ مگر بنی امیہ کے خلاف اور شورش کے خوف سے آپ نام نہیں لیا کرتے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث بالا مرفوع ہے۔ اور اس کی سند بھی جید اور عالی ہے۔ ”مرزا قادیانی اگر مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو اس حدیث کے سامنے سر اطاعت خم کریں۔
- ٢...... ابوداؤد ص١٣٥ ج٢ باب خروج الدجال کی حدیث میں ہے۔ لَیْسَ بَیْنِیْ
وَبَیْنَ عِیْسٰی نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہی عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے۔ ان الفاظ کو مرزا قادیانی ایمانی نظر سے دیکھیں کہ کس کا آنا ثابت ہوتا ہے اور کس کی زندگی واضح ہے۔
- ٣...... امام احمد کی مسند اور ابن ماجہ ص٢٩٩ باب خروج الدجال میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں شب معراج کو حضرت ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں پھر حضرت عیسیٰ کو فیصلہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا۔ قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا۔ اور میرے ہاتھ میں شمشیر برندہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا۔ تو یوں پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
مرزا قادیانی کیا یہ احادیث مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ میں داخل ہیں۔ یا نہیں؟ اگر ہیں۔ تو آپ ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اگر آپ کے نزدیک مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ میں جملہ احادیث نبوی میں سے صرف وہ دو حدیثیں داخل ہیں۔ جو آپ نے اس آیت کی تحت میں لکھی ہیں۔ تو
١؎ میں نے ازراہ اختصار تین احادیث پیش کی ہیں۔ تفصیل دواوین حدیث میں دیکھنی چاہئیں۔ ورنہ غائت المرام ضرور ملاحظہ ہو۔
٧٢
واضح ہو کہ یہ دو حدیثیں بھی آپ کے مدعا کے لیے ذرا مثبت نہیں۔
- ١....... ترمذی ج ٢ ص ١٩٥ ابواب الدعوات کی یہ حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ
أَعْمَارِ امتی مابین السِّتِّینَ الى السَّبْعِینَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ جس کا ترجمہ بھی آپ نے صحیح کیا ہے کہ ”میری امت کی اکثر عمریں ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی۔ اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے۔ جو ان سے تجاوز کریں۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ بھی اقلہم میں داخل ہیں۔ پھر یہ حدیث کیا دلیل آپ کے لیے ہے؟
- ٢....... دوسری حدیث مسلم ج ٢ ص ٣١٠ ابواب الفضائل باب معنی قولہ علی
راس مائۃ سنۃ کی یہ پیش کی ہے مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةَ سنة وفي رواية و ھِيَ حَيَّةٌ جو زمین کے اوپر جاندار ہے۔ ایسا مخلوق نہیں کہ اس پر سو برس گزریں اور وہ زندہ ہو مَا عَلَى الْأَرْضِ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ حکم صرف ان نفوس منفوسہ کے لیے ہے۔ جو اس وقت زمین پر موجود تھے۔ ورنہ مَا عَلَى الْأَرْضِ کی شرط لغو ٹھہرتی ہے۔ بلکہ زیادہ تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم کو یہ تخصیص کرنے کے وقت حضرت مسیح کا ضرور خیال گزرا ہے۔ اور اس لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے ۔ جو روئے زمین کے کل انسانوں پر تو حاوی ہو سکیں۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام اس سے مستثنیٰ بھی رہیں۔ لفظ الارض پر جن علماء نے علمی بحث کی ہے اور آیات ربانی کے قرائن سے الارض کے الف لام کی تعیین کے لیے قرار دیا ہے۔ اس بحث میں تو مرزا قادیانی الارض کو ربع مسکون پر بھی اطلاق نہ کر سکیں گے۔ بلکہ جزیرہ عرب ہی مختص ہو جائے گا۔
الغرض یہ احادیث بھی آپ کے لیے کچھ ممد و معاون نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ کے امر واجب الاذعان کو جو نہایت وسیع اور عام ہے صرف دو حدیثوں کے اندر (جن کو آپ نے بہزار دقت اپنے مفید بنایا تھا۔ مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے) محدود جانتے ہیں۔ بلکہ جہاں کہیں رسول معصوم کے ارشادات جن کی اطاعت ہم پر فرض کی گئی ہے۔ ان (مرزا) کے اوہام نفسانی کی مخالفت کرتے ہیں اس جگہ آپ نہایت دلیری اور جرأت سے احادیث رسول پر مخالفانہ حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نگاہ میں احادیث نبوی کی وقعت کو پرکاہ سے بھی کم ظاہر کردیں۔ اس بیان کے ثبوت میں کہ انہوں نے کس طرح پر جا بجا احادیث نبوی پر حملہ کیے ہیں۔ اور کیسے کیسے پیرایہ میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا زور و شور سے تحریر کیا ہے۔ مجھے زیادہ حوالے دینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس جگہ صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا
٧٣
مَا اتِيكُمُ الرَّسُولُ کا امر واجب الاذعان اس وقت فراموش ہو جایا کرتا ہے؟
٣٠...... تیسویں آیت
یہ ہے أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً ط اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں کیا ہے ”یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا۔ تب ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہدے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے ایسے کھلے کھلے نشان دکھادے۔ اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی“ ترجمہ کے بعد لکھا ہے ”کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا۔ انہیں جواب صاف ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں ہے۔“
(ازالہ ص ٦٢٥ خزائن ج ٣ ص ٤٣٧)
ناظرین اس آخری آیت کے تحت میں مرزا قادیانی نے اپنی تمام اندرونی چالاکیاں ختم کر دی ہیں پہلے تو ایک آیت کے اول اور آخر کے الفاظ کو ملا کر اور بیچ کے الفاظ کو بالکل اڑا کر اس کو ایک مستقل آیت بنا دیا اور پھر اس کے ترجمہ میں بہت کچھ کمی بیشی کی۔ مثلاً ہم کو معلوم نہیں ہوتا کہ ”تب ہم ایمان لے آئیں گے“ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ناظرین جس آیت کو مرزا قادیانی نے الفاظ بالا کے ساتھ لکھا ہے۔ وہ قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ ط وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَبًا نَّقْرَؤُهُ ط قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً (بنی اسرائیل ٩٣) اس سے ثابت ہوا کہ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ کے بعد اور قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي سے پہلے اس قدر الفاظ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَبًا نَّقْرَؤُهُ مرزا قادیانی نے دانستہ قلم انداز کر دیئے۔ اور اس طرح قرآن مجید کو بھی اپنی تحریف سے محروم نہ چھوڑا۔ پہلے تو احادیث کو ظنی وغیرہ کہہ کر قرآن مجید پر مدار ڈالا۔ اور جب قرآن مجید کو بھی اپنے مطالب کے مخالف پایا۔ اور تاویل وتعقید سے بھی کام نہ چلا۔ تب الفاظ اور آیتوں کو بھی قلم انداز کرنا شروع کیا۔ اللہ اکبر اگر رب کریم نے اس کتاب مجید کی حفاظت کا خود ذمہ نہ فرمایا ہوتا۔ اگر باری تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے اپنی کلام قدیم کو کروڑوں مسلمانوں کے دل و سینہ اور قلب و زبان پر نہ لکھ دیا ہوتا۔ تو پیارے مسلمانو! تم دیکھتے کہ کتب سابقہ میں تو کیا تحریف ہوئی تھی۔ جو ایسے شیر بہادروں کی بدولت قرآن مجید میں ہو جاتی۔ پاک ہے وہ رب العالمین جس نے وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ کہہ کر قرآن کی حفاظت خود فرمائی ہے۔
غرض پیارے ناظرین! مرزا قادیانی نے عمداً آیت کے الفاظ کو قلم انداز کر کے اور سلسلہ کلام کو توڑ کر پہلے تو کفار کے بیان کو پلٹ دیا اور پھر اس جواب کو جو دوسری درخواست کے متعلق تھا۔ پہلی درخواست سے متعلق کر کے ایک خیالی قانون قدرت کی مدد فرمائی۔ اور غالباً دل میں بہت ہی خوش ہوئے ہوں گے کہ ہم نے کیسی خوبی سے اپنے مذہب کو ثابت کر دیا۔ بزرگ مسلمانو! اب آیت شریفہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں اور اس آیت کو سرے سے وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا سے دیکھتے چلے آئیں۔ کفار نے یہ کہا تھا۔ ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔ ١...... جب تک تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ بہا نہ نکالے۔٢...... یا تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو اور تو اس میں نہریں چلا کر بہالے۔٣...... یا ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دے۔ جیسا کہ تو کہا کرتا ہے۔٤...... یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن۔٥...... یا ہو تیرے لیے ایک ستھرا گھر۔٦...... یا تو چڑھ جائے آسمان پر۔ اور ہم تو تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے بھی ایمان نہ لائیں گے۔٧...... جب تک تو ہمارے لیے ایک نوشتہ نہ اتارے۔ جس کو ہم سب پڑھ لیں۔ اے محمدؐ۔ تو کہہ دے۔ سبحان اللہ میں تو ایک بشر اور رسول ہوں۔
اس تمام آیت سے پتہ چلتا ہے کہ کفار اپنی درخواست ہائے معجزہ میں کیا کچھ دیکھنے کی تمنا کرتے تھے۔ ان کی درخواستیں یا تو نبی کے درجہ رفیعہ سے بہت ہی گری ہوئی اور سفلی تھیں۔ اور یا منصب نبوت سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی اور عادت اللہ کے خلاف۔ ان کی سفلی اور گری ہوئی درخواستیں یہ تھیں۔ ١...... زمین سے چشمہ کا نکالنا۔ ٢...... کھجور اور انگوروں کا باغ ٣...... اس میں نہریں۔٤...... ستھرے گھر۔ ظاہر ہے کہ نہ ان کو معجزہ کہہ سکتے ہیں اور نہ ایسا کر دکھلانے سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ الٰہی طاقت کے سوا اور کوئی بشر ایسا کچھ دکھلا ہی نہیں سکتا۔ پس یہ درخواستیں تو یوں فضول ٹھہریں۔
عادت اللہ کے خلاف ان کی درخواستیں یہ تھیں۔ ١...... آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے۔٢...... خدا اور فرشتوں کو ضامن لے آ۔
پس آیت میں تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ساری درخواستوں میں سے صرف ایک ہی ایسی درخواست تھی۔ جو منظور کی جاتی۔ یعنی ’’آسمان پر چڑھنا۔‘‘ لیکن چونکہ کفار اپنا کاذب اور رسول خدا ﷺ کا صادق ہونا اپنے دلوں میں جانتے تھے اور ان کو کامل یقین تھا کہ جو معجزہ اس رسول سے چاہا جائے گا۔ باذن الٰہی یہ ضرور دکھا دے گا۔ لہٰذا یہ درخواست کرنے کے
۔۔
بعد کہ جب تک تو آسمان پر چڑھ کر ہم کو نہ دکھلائے ۔ ہم ایمان نہ لائیں گے۔ پھر جھٹ اس اقرار اور اس شرط سے بھی منکر ہو گئے۔ اور صاف کہہ اٹھے کہ ہم تو آسمان پر تیرے چڑھ جانے سے بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہاں تب ایمان لائیں گے۔ جب تو ہمارے نام کا نوشتہ بھی بارگاہ الٰہی سے لکھوا کر لے آئے اور ہم سب اس کو پڑھ بھی لیں۔
ناظرین ! کفار کے اس آخری اور شوخانہ استہزاء کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے نبی ان کو سنادے۔ میرا خدا اس سے پاک ہے کہ ہر ایک کے پاس کتاب الٰہی نازل کرے اور تمام مخلوق کو صاحب کتاب اور رسول بنا دے۔ پھر یہ بھی کہہ دے۔ میں تو ایک بشر ہوں۔ یا رسول۔ یعنی بشر کسی پر کتاب الٰہی نازل نہیں کر سکتا اور رسول دوسرے کو رسول نہیں بنا سکتا۔
آیت کے الفاظ اور اس کے ترجمہ اور مطلب پر غور کرنے کے بعد ناظرین معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی مستدلہ آیات میں سے سب سے آخری آیت کو جو عدم رفع بر سماء کی دلیل قرار دیا تھا اور پھر اس کو وفات مسیح پر چسپاں کیا تھا وہ ان کے دعویٰ کی کتنی مبطل ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کفار کا قول یوں نقل فرماتا ہے وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ ہم آسمان پر تیرے چڑھ جانے سے ایمان نہ لائیں گے۔ اور مرزا قادیانی قول کفار میں یہ الفاظ ادا کرتے ہیں۔ تو آسمان پر ہمیں چڑھ کے دکھا۔ تب ہم ایمان لے آئیں گے۔
اب مسلمان خود اندازہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے یا مرزا قادیانی دونوں سے صرف ایک صادق بن سکتا ہے اور چونکہ ہمارا اور مرزا قادیانی کا بھی یہی مذہب ہے کہ رب العالمین سے بڑھ کر اصدق الحدیث کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی سے امید ہے کہ وہ اپنے ان الفاظ پر کہ ” کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں جواب صاف ملا کہ یہ عادت اللہ کے خلاف ہے۔“ مکرر غور فرمائیں گے کہ قرآن مجید نے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کے جواب میں ہرگز ہرگز یہ نہیں فرمایا کہ یہ عادت اللہ کے خلاف ہے۔
پس جب قرآن مجید ہی ان کی وجہ استدلال کو پاش پاش کر رہا ہے تو پھر ان کی دلیل کیا رہی؟ مرزا قادیانی ! قرآن مجید کی وہ لمبی چوڑی تعریفیں جو آپ جا بجا لکھا کرتے ہیں۔ کیا ان کا عملی ثبوت یہی ہے کہ مطلب و مفہوم کلام پاک ایک طرف آپ الفاظ قرآنی اور نظم کلام فرقانی میں بھی تصرف فرمایا کرتے ہیں؟ حیف حیف !!!
ناظرین ۔ مرزا قادیانی کی پیش کردہ آیات پر وفات مسیح کے متعلق ان کی غلط فہمی کے
٧٦
اظہار کے بعد میں ایک بار پھر آپ کی توجہ ان آیات کی طرف منعطف کراتا ہوں۔
واضح ہو کہ آیات نمبر ٨۔١٢۔١٤۔١٥۔١٦۔١٧۔١٨۔٢٤۔٢٥۔٢٨ ایسی عام ہیں کہ جن سے کسی شخص کی بھی وفات بالفعل ثابت نہیں ہوتی۔ (خصوصیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا تو کیا ذکر) اور اگر الفاظ کو توڑ مروڑ کر ان کو مفید معنی اثبات وفات بالفعل کر لیا جائے تو پھر ان کے اثر سے کوئی شخص بھی (کل بنی آدم میں سے جو ایک ارب کئی کروڑ سطح ارض پر موجود ہیں) زندہ نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ خود مستدل صاحب بھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی ان آیات کو مثبت معنی وفات بالفعل جانتے ہیں۔ تو دلائل سے خود اپنی حیات بالفعل تو ثابت کر دکھائیں اور علمی طاقت سے جو کتب قدس میں آپ نے حاصل کی ہے۔ کام لیکر ذرا بیان تو کریں کہ اَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ. اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُونَ. اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا. الَّذِي خَلَقَكُمْ. وَمَنْ نُعَمِّرُهُ نُنَكِّسْهُ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفّٰى. وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ. ان آیات میں جس حصر نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گھیر لیا ہے تو آپ اس حصر سے کیونکر باہر رہے کیا آپ بھی اپنے آپ کو دستبرد اجل سے اچھوتا سمجھتے ہیں؟
آیات نمبر ٦‘٢٥ کا ایک ہی مضمون ہے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے دونوں کو ملا کر ایک قضیہ بنایا ہے۔
علیٰ ہٰذا ...... آیات ١٢۔١٥۔٢٤ کا ایک ہی مضمون ہے۔
علیٰ ہٰذا ...... آیات ١٦‘ ١٨ کا ایک ہی مضمون ہے۔
علیٰ ہٰذا ...... آیات ٢٦۔٢٧ دونوں ہم مضمون ہیں۔
اس سے واضح ہوگا کہ مرزا قادیانی کو صرف شمار آیات بڑھا لینا منظور ہے۔ ورنہ دراصل ان کے پاس وفات مسیح کی چند آیات بھی نہیں۔ آیات نمبر ٢٢‘٢٩ ایسی عام ہیں۔ جن کا حیات یا ممات سے ذرا تعلق نہیں۔ اب رہ گئیں آیات نمبر ١۔٢۔٣۔٤۔١٠۔١١ یہ ایسی آیات ہیں۔ جن میں مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں ایک وعدہ کا ذکر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا۔ دوسری میں ایفائے وعدہ کا اظہار‘ تیسری میں قیامت کا بیان اور حضرت عیسیٰ کے ساتھ سوال و جواب کا ذکر۔ چوتھی میں ان کا نزول۔ دسویں میں دین مسیحی کے ارکان کا بیان۔ گیارہویں میں ان کی برأت ان تہمتوں سے جو ان کی غیر معمولی پیدائش پر معاندین نے ان کو اور ان کی ماں کو
٧٧
لگائیں۔ نیز ان تہمتوں سے جو ان کے قتل وصلب کے بارہ میں یہود نے مشہور کر رکھی ہیں۔ نیز ان فاسد ظنوں سے جو مشرکین عرب نے ان کی نسبت قائم کر رکھے ہیں کہ ان کے معبودوں کی طرح مسیح بھی حصب جہنم ہوں گے۔ حضرت مسیح کی برأت کی گئی ہے۔ مگر اس آیت میں موت بالفعل کا ذکر کہاں ہے؟
ناظرین ۔ حقیقت یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی بھی اپنے دل میں جانتے ہیں کہ میرا استدلال ان آیات سے وفات مسیح پر صحیح نہیں۔ گو وہ دعویٰ کے زور میں آکر ان آیات کو وفات مسیح کی مثبت لکھ گئے ہیں تاہم
دل کی بات بھی توضیح المرام میں لکھ گئے ہیں کہ وفات مسیح پر تین آیات دلالت کرتی ہیں ازالہ کے ص ٢٨٥ پر بھی یہی اقرار موجود ہے۔ اور وہ آیات یہ ہیں۔ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ دوم بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْہِ سوم فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ان تین آیات میں سے دو آیات قابل غور ہیں۔ اول ۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ ۔ دوم ۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ۔ آیت اول۔ میں ایک وعدہ اور ایک اخبار ہے۔ آیت دوم میں اس وعدہ کے وفاء اور اس خبر کے صدق ظہور کا اظہار ہے۔ لہٰذا اب مدار علیہ صرف ایک آیت یعنی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ رہ گئی۔ کیونکہ اس آیت وعدہ کے الفاظ سے جو شے موعود سمجھی جائے گی۔ اس کا آیت دوم اور سوم میں جس میں سے ایک میں صرف رفع کا لفظ ہے۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْہِ اور دوسری میں صرف توفی کا فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ وفاء صدق ظہور ثابت ہو جائے گا۔
”توفی“ کے لفظ پر مکرر بحث کی ہم کو ضرورت نہیں ناظرین اسی کتاب کے حصہ گذشتہ پر اس کو ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ہاں اس جگہ یہ لکھ دینا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے ازالہ میں تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح کو جب موت کا وعدہ دیا گیا۔ ”اس سے حقیقی موت مراد نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے۔ یہ عام محاورہ ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہو کر پھر بچ جائے ۔ اس کی نسبت یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئے سرے سے زندہ ہوا۔“
(ازالہ ص ٣٩٢ خزائن ج ٣ ص ٣٠٢)
اور اس تسلیم کر لینے کے بعد ان کے تمام دعاوی دلیل و حجت سے ایسے برہنہ اور عاری ہو گئے۔ جیسے خزاں میں درخت اور ان کی تمام ایچ پیچ کی تقریریں ایسی ہی بے اعتبار ہوگئیں۔ جیسے
٧٨
دیوالیہ کی آڑ سے تاہم اتمام حجت کے لیے ہم مرزا قادیانی کو اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنے اس اقرار کو واپس لے لیں اور بھولے بھٹکے سے جو الفاظ قلم سے نکل چکے۔ ان کو نسیا منسیا خیال کریں اور پھر بھی اس آیت کے معنی کر کے دکھلائیں۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ اوّل يٰعِيْسٰى پر غور فرمائیے۔ ظاہر ہے کہ يٰعِيْسٰى اور يٰاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّة میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ دوسری آیت میں صرف نفس مخاطب ہے جس میں بدن مشارک نہیں اور پہلی آیت میں عیسیٰ علیہ السلام مخاطب ہیں۔ جس میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں۔
دوم ...... اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ پر تدبر فرمائیے۔ ”توفی“ کے معنی قبض تام ہیں اور چونکہ یہ قبض تام عیسیٰ کے لیے ہے۔ جس کے مفہوم میں روح اور جسم دونوں شامل تھے۔ لہٰذا توفی بجسدہ العنصری ثابت ہوا۔
سوم...... وَرَافِعُكَ اِلَيَّ پر نظر کیجئے۔ ”رفع“ کے معنی بلند کرنا ہیں۔ جس کی ضد وضع ہے جو نیچے رکھ دینے کے معنی میں آتا ہے۔
(ازالہ کے ص ٣٣٩ خزائن ج ٣ ص ٢٧٢) پر آپ نے تسلیم کر لیا ہے کہ رَافِعُكَ کا تعلق مُتَوَفِّيْكَ سے ہے۔ پھر یہ بھی مان لیا ہے کہ جو قبض کیا جاتا ہے۔ وہی اٹھایا بھی جاتا ہے۔
لفظ عیسیٰ کے مفہوم اور توفی کے معنی نے حضرت مسیح کا بجسدہ العنصری قبض کیا جانا اور لفظ رَافِعُ کے معنی نے اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کر دیا۔ یہ وہ معنی ہیں۔ جن میں نہ لغت سے عدول ہوا۔ نہ عرف سے۔ نہ کہیں مرادی معنی لیے گئے۔ نہ مجازی ڈھکوسلا لگایا گیا۔ مرزا قادیانی جو اس آیت کے معنی کرتے ہیں۔ وہ يٰعِيْسٰى کے لفظ پر تو کچھ غور کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ میں ”توفی“ کے معنی صرف قبض روح کرتے ہیں۔ مگر ہم حیران ہیں کہ ”توفی“ کے معنی صرف قبض روح کس لغت میں ہیں۔ اگر براہ عنایت مرزا قادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھادیں۔ کہ ”توفی“ کے معنی صرف قبض روح اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں۔ تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس رقم میں ”سراج منیر“
٧٩
بخوبی چھپ سکتا ہے۔ (سراج منیر مرزا قادیانی کا رسالہ ہے ان دنوں مرزا قادیانی اس کی اشاعت کے لیے چندہ کی اپیل کر رہا تھا اس کی طرف اشارہ ہے (فقیر اللہ وسایا) رَافِعُکَ اِلَیَّ کے معنی وہ لغوی نہیں لیتے۔ بلکہ مرادی معنی لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ رَافِعُکَ اِلَیَّ سے قرب الہی مراد ہے۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ اور لغت ان کا شاہد ہے کہ رفع کسی جسم کے بلند کرنے نیچے سے اٹھا کر اوپر لے جانے کو کہتے ہیں۔ وہ جسم خواہ محسوس ہو۔ یا غیر محسوس واضح ہو کہ جس طرح حضرت عیسیٰ کے محسوس جسم کے اٹھا لینے پر رب کریم نے اس لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔ اسی طرح رسول خدا نے بھی ایک محسوس جسم کے زمین سے اوپر اٹھائے جانے پر اسی لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔
وقريش تسألني عن مسراى فَسَأَلَتْنِى عَنْ اشياء مِنْ بيت المقدس لم اثبتها فَكُرِبْتُ كربًا مَا كُرِبْتُ مِثْله. فَرَفَعَهُ اللهُ اِلَیَّ أنظر اليه. مَا يَسْأَلُوْنِيْ عَنْ اشياء الا انباتهم.
(مسلم ج ١ ص ٩٦ باب الاسراء عن ابو ہریرہؓ)
آنحضرتؐ فرماتے ہیں۔ شب معراج کے بعد (جب آپ نے لوگوں سے اپنا بیت المقدس تشریف لیجانا اور وہاں سے افلاک پر جانا بیان فرمایا) قریش میرے اس سفر کے متعلق سوال کرنے لگے۔ انہوں نے بیت المقدس کے متعلق چند ایسی چیزیں دریافت کیں۔ جن کا میں نے دھیان نہ رکھا تھا مجھے اس وقت نہایت ہی شاق گزرا (کیونکہ جواب نہ دینے سے کفار کو احتمال کذب کا یارا تھا) رب کریم نے میرے لیے بیت المقدس کو اٹھا کر بلند کر دیا کہ میں اسے بخوبی دیکھتا تھا۔ پھر قریش نے جو کچھ مجھ سے پوچھا۔ میں نے جواب دے دیا۔ جناب مرزا قادیانی رَفَعَهُ اللهُ اِلَیَّ پر کم سے کم تین بار غور فرمائیں۔
رَفَعَ کے جو معنی وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں ہم نے کئے ہیں۔ اسی کا صیغہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ
اسریٰ کا لفظ غور طلب ہے کہ اس سے معراج جسمانی ثابت ہوتا ہے (جو جمہور اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے) یا کشفی منام والا۔ جو مرزا قادیانی کا مذہب ہے۔ پھر دیکھنا چاہیے کہ اگر آنحضرت نے اپنا خواب یا کشف بیان کیا ہوتا تو کفار کو اس سے سخت انکار کرنے اور امتحان کی غرض سے مختلف سوالات پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ خواب میں کسی دور دراز مکان کا دیکھ لینا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ علیٰ ہذا خواب میں مرئیات کو واقع کے مطابق دیکھنا بھی ضروری نہیں۔ کفار کے سوال اور ان کے اعتراض سے رسول کریم کی گھبراہٹ اور اللہ تعالیٰ کا اس گھبراہٹ کو دور فرمانا تو جب ہی ٹھیک ہوتا ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرتؐ نے اپنے معراج کو جسمانی بتلایا تھا۔ اور آپ کے الفاظ سے صحابہ اور مشرکین نے یہی سمجھا تھا۔
٨٠
اِلَیْهِ کا منطوق ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے جب مُتَوَفِّیْكَ میں صرف قبض روح کے معنی لیے۔ تو رَافِعُكَ میں معزز موت مراد لی۔ ان دونوں فعلوں کا مرجع بہرحال عیسیٰ ہیں۔ مگر جب وہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ کے معنی کرتے ہیں۔ تو ان کے بیان میں لغزش آ جاتی ہے۔ کیونکہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ کی ضمیر کا مرجع جسم اور روح دونوں ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔ لیکن بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ میں آ کر وہ ضمیر کا مرجع صرف روح کو قرار دے بیٹھے ہیں۔ جس کے واسطے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ یہ تو کلام میں نہایت بھونڈی اور بدنما تعقید ہے۔ جس کا وجود کسی فصیح انسان کے کلام میں بھی نہیں ملتا۔ چہ جائیکہ ایسے معجز کلام الہی میں ہو؟ اس وقت مرزا قادیانی کو اپنے وہ الفاظ جو (توضیح المرام ص ١٤ خزائن ج ٣ ص ٥٨) میں لکھے ہیں۔ یاد کرنے چاہیں۔ ” خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں۔ جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ غایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنی جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں۔ اپنی طرف سے گھڑے جائیں۔ اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے۔ صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کر لیا جائے۔“ اب مرزا قادیانی کو دیکھنا چاہیے کہ متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت کا خیال نہ کر کے غایت درجہ کے سفلی بدنما اور بے طرح موٹے معنی آپ کرتے ہیں۔ یا ہم ایسے معنی کہ اس میں ضمائر بھی ٹھیک نہیں بیٹھتی ہیں۔
مرزا قادیانی نے ازالہ کے خاتمہ پر پھر آیت يَا عِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْ اِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ ط کو لکھا ہے
(ازالہ ص ٩٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦٠٦)
اور بیان کیا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے ترتیب وار چار فعل بیان کر کے اپنے تئیں ان کا فاعل بیان کیا ہے“ میں کہتا ہوں کہ ہمارا مذہب بھی یہی ہے اور آیت کے جو معنی ہم نے لکھے ہیں۔ اس
١؎ مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن مجید کے الفاظ کے دہقانی ہونے میں تو شک ہی نہیں ہاں وہ چاہتے ہیں کہ معانی میں بلاغت اور نزاکت ہو۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ تفسیر کے لیے روحانی ارادوں کا خیال کرنا مرزا قادیانی نے ضروری ٹھہرایا ہے۔ مگر الفاظ کی موافقت اس تفسیر کے لیے ضروری نہیں بتائی تا کہ ہر شخص آزادی سے جو چاہے وہ آیات کی تفسیر کرے اور جب اس پر اعتراضات وارد ہوں۔ تب کہہ دے کہ متکلم کے روحانی ارادہ میں یہی معنی ہیں۔ گو تم الفاظ سے یہ معنی سمجھ نہ سکو۔
٨١
میں ترتیب ان فعلوں کی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ البتہ ترتیب توڑنے کا جو الزام بڑے زور وشور سے انہوں نے قائم کیا ہے۔ اور ترتیب توڑنے والوں کو پیٹ بھر گالیاں دی ہیں۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے۔ وہی ابن عباسؓ جن کا مذہب امام بخاری نے مُتَوَفِّیْکَ بمعنی مُمِیْتُکَ بیان کیا ہے۔ اور وہی ابن عباسؓ جن کا مذہب (ازالہ ص ٨٩٢ خزائن ص ٥٨٧ ج ٣) پر آپ نے اپنے لیے سند سمجھا ہے۔
بڑے حیف کی بات ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے مقولہ کا آدھا حصہ تو آپ قبول کرتے ہیں اور آدھا قبول نہیں کرتے۔ ایمان ببعض اور کفر ببعض کی ۔ اگر کوئی اور مثال ہے تو فرمائیں؟
مسیح موعود
یہ وہ مضمون ہے۔ جس پر مرزا قادیانی کی تمام کامیابی کا انحصار ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے پر جو ثبوت اور علامات بیان کی ہیں۔ میں ان کو مع اپنی ضروری معروضات کے تحت میں درج کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی نے اس مضمون کو (ازالہ ص ٦٢ خزائن ج ٣ ص ٤٦٨) سے شروع کیا ہے۔ آغاز مضمون میں لکھتے ہیں۔ ”اب ثبوت اس بات کا کہ وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ دیا گیا ہے۔ یہ عاجز ہی ہے۔ ان تمام دلائل اور علامات اور قرائن سے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔ ہر ایک طالب حق پر بخوبی کھل جائے گا۔“
١......بعد المائتین کا رد
ازانجملہ ...... الآیات حدیث بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ میں آیا ہے۔ الآیات سے آیات کبریٰ مراد ہیں۔ جو تیرہویں صدی میں ظہور پذیر ہوں گی...... چنانچہ اس وقت میں نے ہی دعویٰ کیا ہے۔“ (ایضاً) ناظرین ......حدیث کا ترجمہ تو یہ ہے کہ نشانیاں دو صدیوں کے بعد ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ حدیث لکھ کر پھر اس سے تیرہویں صدی مراد لی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے دو قرینے قائم کیے ہیں۔ اوّل...... یہ کہ لآیات سے مراد آیات کبریٰ ہیں۔ کیونکہ آیات صغریٰ تو نبی ﷺ کے وقت مبارک ہی سے ظاہر ہونی شروع ہوگئی تھیں۔ دوم ...... علماء کا اتفاق ...... میں کہتا ہوں کہ لآیات سے اگر آیات کبریٰ ہی مراد لیں۔ تب بھی حدیث کے یہی معنی ہیں کہ دوسری صدی کے بعد آیات کا ظہور ہوگا۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی آیات صغریٰ تو خیرالقرون ہی میں ظاہر ہونے لگی
٨٢
تھیں۔ پس نبی ﷺ کا دوصدیوں کے بعد فرمانا اور آیات صغریٰ سے جو اس وقت بھی ظاہر ہورہی تھیں قطع نظر فرمانا صاف دلیل اس پر ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا بھی کہ علماء کا اتفاق اس حدیث کے معنی میں تیرہویں صدی پر ہوا ہے۔ یہ دو طرح سے غلط ہے۔ اول ...... یہ کہ ان کے نزدیک اتفاق علماء کوئی شے نہیں یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی معنی آیات حیات مسیح میں کل مفسرین کے اور معنی احادیث نزول مسیح میں کل محدثین کے اور اصول تنقید احادیث میں تمام فقہاء ومجتہدین کے برخلاف اپنے الہام وکشف کو دلیل شرعی قرار دینے میں جمیع صوفیہ کرام وسالکین کے سخت مخالف اور معاند ہیں اور اسی لیے آپ نے نہایت جوش میں آکر یہ تحریر کیا ہے۔ ”امت ١؎ کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔“
(ازالہ ص ١٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
پس جس شخص کے نزدیک تمام امت کے اتفاق اور اجماع کا نام بھی کورانہ ہے۔ وہ اتفاق علماء کو ایک حدیث کے معنی میں کیا دلیل بنا سکتا ہے؟ دوم ...... یہ کہ علماء کا اتفاق ہونا بھی اس معنی پر غلط ہے۔ امام جعفر صادق کا یہی مذہب ہے کہ اس حدیث کی رو سے آیات کبریٰ دوصدیوں کے بعد شروع ہو جائیں گے۔ صاحب اشعۃ نے اسی کو راجح بیان کیا ہے۔ نبی ﷺ کی دوسری حدیثیں بھی اسی بیان کی تائید کرتی ہیں۔ خِيَارُكُمْ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ كُلُّ خَفِيفِ الْحَاذِ دوم لَا يُولَد بعد المائتين مولود لله فيه حاجته اور قرون مشہود لہا بالخیر بھی اسی حدیث کی تائید میں ہیں۔ جو تیسری صدی کے آغاز میں ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر تاریخ اسلام اس زبردست پیشگوئی کی شہادت ادا کررہی ہے کہ تیسری صدی سے کیسی کیسی علامات ظہور پذیر ہونے لگیں جن میں سے ایک ایک نے اہل عالم کے دل کو ہلا دیا اور موت وقیامت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے دکھلا دیا۔ قتل وضلال کی کثرت ہوئی۔ طاعون ووباء آئی۔ ملک کے ملک صاف کرگئی۔ ایک ایک ظالم کے ہاتھ سے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کا خون ہوا۔ خسف ہوئے۔ مسخ ہوئے۔ باطنیہ نے حج بیت اللہ بند کردیا۔ حجر اسود کو کعبہ سے اکھاڑ کر لے گئے۔ قحط ایسے ایسے ہوئے کہ قحط یوسف کا نمونہ نظر آگیا دین کے برباد کرنے کو قرامطہ۔ باطنیہ۔ معتزلہ پیدا ہوئے۔ ایک ایک مسئلہ کے اختلاف پر ہزاروں عالمان دین تہ تیغ بے دریغ کئے گئے۔ امام اہل سنت والجماعت احمد بن حنبلؒ جیسے پابزنجیر مدتوں اسیر
؎١ ناظرین ! اول امت کے لفظ پر غور فرماویں۔ جو صحابہ سے لیکر تا ایں دم تمام مسلمانوں پر حاوی وشامل ہے۔ پھر تمام امت کے اتفاق اور اجماع کو کورانہ کہنے پر خیال کرو کہ کس طرح پر سب مسلمانوں کو بے بصر اور دور از بصیرت بتلایا ہے۔ حالانکہ حدیث مسلم میں یہ ہے کہ میری امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا۔ رب کریم نے بھی غیر سبیل المومنین کہہ کر اس اجماع کی تصدیق فرمادی۔ یاد رکھو المومنین میں الف لام استغراق ہے۔
٨٣
رہے۔ بیسیوں نے نبوت کے دعوے کئے۔ بیسیوں نے مثلیت کا نقارہ بجایا۔ کوئی مثیل نوح صاحب کشتی کہلایا۔ کوئی مسیح ابن مریم موعود کے مثیل ہونے کا دعویدار ہوا۔ کسی نے ابراہیم۔ کسی نے جبرائیل۔ کسی نے سیدہ فاطمہ بی بیؓ، کسی نے علی مرتضیٰؓ کی روحانیت کا اپنے اندر ہونا مشہور کیا۔ غرض وہ تمام آثار وامارات اور نشان وعلامات جن کو آیات قیامت احادیث میں بیان کیا گیا تھا۔ سب کے سب بڑے زور کے ساتھ تیسری صدی ہی میں ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے۔ اس چودھویں صدی میں جو کچھ ان فتن کے نمونے نظر آتے ہیں۔ ان سب کی جڑ تیسری صدی کی سرزمین میں لگی ہوئی ہے اور ان تمام شواہد سے اب ہم بخوبی جانتے اور کامل یقین رکھتے ہیں کہ حدیث میں الایات بَعْدَ الْمِأتَیْن سے دو صدیاں ختم ہو کر تیسری صدی ہی کا پتہ دیا گیا ہے۔ اگر ہم بالفرض تسلیم کر لیں کہ اس سے تیرھویں صدی مراد ہے تو پھر بھی مرزا قادیانی کے لیے یہ حدیث کچھ مفید نہیں۔ کیونکہ الہام نے عہدہ مسیحائی پر ان کو چودھویں صدی میں ممتاز کیا ہے۔ اور تیرھویں صدی میں خود مرزا قادیانی بھی عامۂ مومنین کی طرح یہی مذہب اور اعتقاد رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بنفس نفیس جلالی طور پر اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ پس اگر یہ جائز ہے کہ الایات بعد المأتین کی حدیث کو تیرھویں صدی کے متعلق کہہ سکیں۔ تو یہ بھی جائز ہے کہ اس حدیث کو تئیسویں صدی کے متعلق بتا سکیں۔ کیونکہ جس طرح تیسری صدی کو خالی دیکھ کر کسی نے یہ گمان کیا تھا کہ ’مأتین‘ کا تعلق ہزار کے ساتھ اور بیچ کی صدیوں سے بکلی قطع نظر کر لی تھی۔ اسی طرح تئیسویں صدی کو خالی دیکھ کر ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ مأتین کا تعلق الفین سے ہوگا۔ غرض اس حدیث میں نہ تیرھویں صدی کی تخصیص ہے اور نہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کی تنصیص۔ اچھا زیادہ سے زیادہ مرزا قادیانی نے اگر تاویلات وتسویلات نفسانی سے کام لیا اور بڑا زور لگا کر یہ معنی پیدا کر لیے کہ حدیث کا تعلق تیرھویں صدی سے ہے اور حدیث کے معنی ہی یہ ہیں کہ آیات کبریٰ کا آغاز تیرھویں صدی سے ہو۔ پھر بھی حدیث میں یہ دلالت کہاں ہے کہ مسیح موعود اسی صدی میں آئے گا؟ یا کل آیات کبریٰ ایک ہی صدی میں عدم وبطون سے نکل کر بروز وظہور میں آ جائیں گے۔ ناظرین! ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی جو اپنے آپ کو مسیح موعود ثابت کرنے لگے ہیں۔ ان کے پاس کیسے کیسے دلائل قاطعہ ہیں اور کیسے کیسے براہین ساطعہ ہیں؟ جو ان نصوص شرعیہ کے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں مسیح ابن مریم علیہ السلام کے نزول کی اخبار صحیحہ وامارات صادقہ ظاہر کی گئی ہیں۔ ونعم ماقیل؎
٨٤
اگر چنیں بقیامت شکر فروش آئی
٢...... مکاشفات اولیاء کا رد
مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کی دوسری دلیل مکاشفات اکابر اولیاء کو بتلایا ہے کہ یہ بزرگ بالاتفاق ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے پہلے یا چودھویں کے سر پر ہوگا۔ پھر لکھا ہے کہ ”اس وقت میں بجز اس عاجز کے اور کوئی دعویدار اس منصب کا نہیں ہوا۔“
(ازالہ ص ٦٨٥ خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
ناظرین۔ مرزا قادیانی کی اس دلیل میں چند ضعف ہیں۔
- ١...... مکاشفہ کو دلیل ٹھہرانا۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ حدیث اس کی مخالف ہو۔
چودھویں صدی کے خلاف حدیث میں کئی طرح پر آیا ہے۔ اول بعد المأتین کی حدیث ہی پر غور فرمائیے پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اکابر کا یہ کشف صاف اور تام نہیں۔ کیونکہ وہ خود چودھویں صدی پر جزم نہیں کر سکے۔ ان کے کلام میں حرف ”یا“ موجود ہے۔ جو شک کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پس جب خود ان کے نزدیک اس پر جزم صحیح نہیں۔ تو مرزا قادیانی کو اس پر جزم و حصر کرنا کب درست و روا ہے؟
- ٢...... جن اکابر اولیا کے مکاشفات کو دلیل ٹھہرایا ہے۔ ان کا نام تک نہیں لکھا۔ لازم تو
یہ تھا کہ آپ ان کی اصل عبارتیں نقل کرتے اور اکابر کے اسمائے گرامی سے اطلاع دیتے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی آپ کے حوالہ اور نقل کا بھی میں تو بہت کم اعتبار رکھتا ہوں کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ نے کئی جگہ آیات قرآنیہ میں سے کئی جملے اور احادیث میں سے کئی فقرے اور بائبل میں سے کئی درس قلم انداز کر دیئے ہیں۔ جب یہ حال ہے تو مجرد یہ کہنے سے کہ اکابر اولیاء یوں کہتے ہیں کب اعتبار ہو سکتا ہے؟
- ٣...... محض دعوٰی کو دلیل دعوٰی بنایا ہے یعنی چونکہ اس وقت میں نے دعوٰی کیا ہے۔ لہٰذا
میں سچا ہوں۔ حالانکہ کوئی بد معاش سے بد معاش اور عیار سے عیار بھی کوئی ایسی کارروائی زور و فریب کی نہیں کرتا۔ جب تک اس کے پاس یہ باور کرانے کی وجہ نہ ہو کہ یہ کارروائی اس کی برمحل اور بروقت سمجھی جائے گی۔
٨٥
- ٤...... ناظرین دیکھیں۔ یہ دوسری دلیل بھی وہی ہے جو پہلی دلیل تھی۔ پہلی دلیل میں
بھی علماء کے اتفاق اور اپنے اظہار دعویٰ کو دلیل ٹھہرایا تھا۔ اور دوسرے میں بھی اولیاء کے اتفاق اور اپنے دعویٰ کو دلیل ٹھہرایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی شمار دلائل کے زیادہ کرنے کی فکر میں ہیں۔
٣...... دجال ریل گاڑی یاجوج ماجوج کا رد
تیسری دلیل مرزا قادیانی کی یہ ہے۔ ”ازانجملہ مسیح موعود ہونے کی یہ علامت ہے کہ دجال اور اس کا گدھا ریل خروج کر چکا۔ یاجوج ماجوج۔ دابتہ الارض۔ دُخان ظاہر ہوچکے۔ ایسے وقت میں مسیح موعود کا دعویٰ اس عاجز نے کیا ہے“
(ملخص ازالہ ص ٦٨٥۔٦٨٦ خزائن ج ٣ ص ٤٦٩۔٤٧٠)
مرزا قادیانی سے یہ امر دریافت کر لینا چاہیے کہ دجال اور اس کے گدھے۔ یاجوج ماجوج۔ دابتہ الارض۔ دخان اور مسیح موعود میں کوئی تلازم اور ان کے ظہور میں کوئی ترتیب ہے یا نہیں۔ کیونکہ جس طرح پر انہوں نے یہ تمام نام احادیث سے لیے ہیں۔ (گو ان کی نوعیت اور ماہیت و کیفیت میں اختلاف کیا ہے) اسی طرح ان کو احادیث کی بیان کردہ ترتیب اور تلازم پر بھی خیال رکھنا چاہیے تھا۔
دجال ان کی رائے میں پادری ہیں۔ پادری لوگ تو شیوع اسلام سے چھ سو برس پہلے سے چلے آتے ہیں اور اب تیرہ صدیوں سے برابر اسلام کے ساتھ معاندانہ مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ سپین، غرناطہ، شام میں ان پادریوں کے طفیل جو تیغ بے دریغ لاکھوں مسلمانوں کی گردن پر چل چکی ہے۔ وہ ارباب تواریخ سے مخفی نہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس ضرورت شدیدہ کے وقت میں بھی مسیح نہ آیا۔ شاید یہ عذر تھا کہ ہنوز اس دجال کے پاس گدھا موجود نہیں۔ خیر صدیاں گذر گئیں کہ اس کا گدھا بھی چل نکلا۔ مگر مسیح اس وقت بھی نہ آیا۔
یاجوج ماجوج آپ کی رائے میں روس وانگریز ہیں۔ یہ دونوں سلطنتیں ہزاروں برس سے قائم ہیں اور چند صدیوں سے ان کا درجہ دنیا کی اول درجہ کی سلطنتوں میں شمار ہوتا ہے اور ان کی سطوت اور غلبہ قائم ہونے کے زمانہ کو بھی سینکڑوں سال ہو چکے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس وقت بھی مسیح نہ نکلا۔
علماء اسلام کو آپ دابتہ الارض کہتے ہیں۔ یہ دابتہ الارض تو عہد نبویؐ ہی سے موجود
٨٦
ہیں ۔ غرض دابۃ الارض کو نکلے ہوئے صدی پر صدی گذرتی گئی اور مسیح کا ظہور ہونے میں نہ آیا۔ دخان کی تعبیر آپ نے قحط شدید سے کی ہے۔ یہ بھی عہد نبوی سے لاحق حال مملکت اسلام وغیر اسلام رہا ہے اور بایں ہمہ مسیح نے اس ممتد زمانہ میں منہ نہیں دکھلایا۔ مسیح موعود نے ظہور پکڑا بھی تو کب؟ جب ان تمام امارات نے جن کا مسیح کے بعد آنے کا بھی ذکر تھا۔ سینکڑوں سال سے دنیا کو تباہ و ویران کر رکھا ہے۔ جناب مرزا قادیانی آپ کی یہ بیان کردہ تاویلات ہی بتلا رہی ہیں کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں۔ اگر مسیح موعود ہوتے تو ضرور تھا کہ دجال کے بعد اور یاجوج ماجوج ودابۃ الارض سے پہلے تشریف لاتے۔ اگر آپ کو اصرار ہے کہ مسیح موعود ضرور ہیں۔ تو آپ کی تاویلات دابۃ الارض یاجوج ماجوج وغیرہ صحیح نہیں اور جب یہ صحیح نہیں تو اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ آپ مسیح نہیں ہیں۔
٤...... چودھویں صدی کا رد
مرزا قادیانی کی چوتھی دلیل یہ ہے ”اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کی علامت یہ ہے کہ مسیح حضرت موسیٰ سے چوداں سو برس بعد یہودیوں کی اصلاح کے لیے آیا۔ جب توریت کا مغز اور بطن یہودیوں سے اٹھایا گیا تھا۔ علیٰ ہذا ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز آیا۔“
(تلخیص ازالہ ص ٦٩٢ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
مرزا قادیانی کی اس دلیل میں بھی غلطیاں ہیں۔
- ١...... مسیح حضرت موسیٰ سے چوداں سو برس بعد نہیں ۔ بلکہ سولہ سو برس بعد آئے تھے۔
بائبل دیکھ لو۔ اور (ازالہ ص ٢٧٨ خزائن ج ٣ ص ٢٤١) پر اپنا اقرار ملاحظہ کر لو کہ حضرت محمدؐ مصطفیٰ حضرت موسیٰ سے بائیس صدیوں کے بعد ہوئے۔ سنہ عیسوی و ہجری جن میں غلطی کا ہونا محال ہے گواہ ہیں کہ آنحضرتؐ مسیح سے ٥٧٠ برس بعد ہوئے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے ١٦ صدیوں کے بعد ہوئے۔
- ٢...... بالفرض مسیح ١٤ صدیوں کے بعد آئے تھے۔ تب بھی توافق زمانہ نہ رہا کیونکہ مرزا
قادیانی اپنے سال پیدائش کے لحاظ سے تو بارہ صدیوں کے بعد اور سال دعویٰ کے اعتبار سے کامل تیرہ صدیوں کے بعد مسیح ہوئے ہیں۔ بہر حال اگر یہ قاعدہ مان لیا جائے کہ جس قدر عرصہ کے بعد حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح ہوئے تھے۔ اسی قدر عرصہ کے بعد حضرت محمد مصطفیٰؐ سے مثیل مسیح
٨٧
ہو ۔ تب بھی تاریخ کی رو سے مسیح موعود کے آنے میں (خواہ وہ اصل ہوں۔ ہمارے مذہب کے موافق یا مثیل مرزا قادیانی کے موافق) ٣ صدیاں اور آپ کے منہ مانی مدت کی رو سے پوری ایک صدی باقی ہے۔
غرض اس سے ثابت ہوا کہ یہ دلیل بھی غلط ہے اور مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں۔
٥...... الف ششم کا رد
مرزا قادیانی کی پانچویں دلیل یہ ہے۔ ”از انجملہ یہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم کے آخر میں پیدا ہوتا ۔ سو وہ بھی عاجز ہے۔“ (ازالہ ص ٦٩٣ خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
ناظرین اس بیان میں بھی چند مغالطے اور غلطیاں ہیں۔
مغالطہ یہ ہے کہ آنے والا ابن مریم کے لیے پیدا ہونے کا لفظ استعمال کیا۔ تا سمجھا جائے کہ وہ آسمان سے اترنے والا نہ ہوگا۔ اور لوگ دھوکے میں پڑ جائیں کہ مسیح کی پیدائش کا احادیث میں ذکر صریح ہے۔
اس امر کا ثبوت کہ اس کا الف ششم میں پیدا ہونا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام میں تو ملتا نہیں۔ ان کے سینہ میں ہو تو ہو۔
اپنے آپ کو آدم اور ابن مریم۔ آخر الخلفاء بنانے میں براہین احمدیہ کے جو حوالے مرزا قادیانی نے دیے ہیں۔ وہ بے سود ہیں۔ کیونکہ نزول مسیح علیہ السلام کے بارہ میں جو کچھ انہوں نے براہین میں تسلیم کیا تھا۔ وہ اسے صحیح نہیں سمجھتے۔ اور جائز رکھتے ہیں کہ براہین کا اتنا حصہ غلط اور پرانے خیالات کا فوٹو تسلیم کر لیا جائے۔ لہٰذا اب ان کا کیا حق ہے۔ کہ اسی کتاب کے دوسرے حصہ کو بطور نص قطعی کے پیش کریں اور اسے مان بھی لیا جائے؟ ماسوا اس کے یہ حوالے جو مرزا قادیانی نے دیے ہیں۔ بالکل بے سود ہیں۔ الہام کے مضمون میں ہم ظاہر کر آئے ہیں کہ جو الہام موافق شرع ہو وہ مفید ظن ہے۔ ورنہ مفید ظن بھی نہیں۔
٦...... فرشتوں کے پروں پر ہاتھ کا رد
مرزا قادیانی کی چھٹی دلیل ”از انجملہ ۔ نزول مسیح کی یہ علامت لکھی ہے کہ وہ فرشتوں کے پروں پر اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا دایاں اور بایاں ہاتھ جو تحصیل علوم عقلی اور انوار باطنی کا ذریعہ ہے۔ آسمانی مؤکلوں کے سہارے پر ہوگا۔ اور وہ مکتب و کتابوں اور مشائخ سے نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ سے علم لدنی پائے گا۔ اور اس کی ضروریات
٨٨
زندگی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہوگا ...... اسی لیے خدا نے میرا نام متوکل رکھا ہے۔“
(ازالہ ص ٦٩٧ خزائن ج ٣ ص ٤٧٦)
ناظرین واضح ہو کہ اس بیان میں بھی بہت غلطیاں ہیں۔
- ١...... دو فرشتوں کے پروں پر اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔ مرزا قادیانی نے رکھی ہوئی
ہوں گی سے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ مدت العمر ان کی ہتھیلیاں فرشتوں کے پروں پر رکھی گئی۔ چونکہ یہ عذر بیان قابل تاویل بن گیا تھا۔ لہٰذا آگے چل کر اس کی تاویل کر دی لیکن حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں۔
فينزل عندالمنارة البيضاء شرقى دمشق بين ميروذتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين
(عن نواس صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال)
”حضرت عیسیٰ شہر دمشق کے شرقی میں سفید منارہ کے پاس زرد لباس پہنے دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر نازل ہوں گے“
ان کی تاویل کرنے کی حاجت نہیں۔ ماسوا اس کے تعجب خیز یہ ہے کہ یہ الفاظ جن کی تاویل کر کے اس کے مصداق مرزا قادیانی خود بنتے ہیں۔ صحیح مسلم کی حدیث عَنْ ابنِ سمعانؓ کے ہیں اور اس حدیث کی نسبت مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں ”کہ اس کے مضامین عقل۔ شرع اور توحید کے خلاف ہیں۔“
(ازالہ ص ٢٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢١٤، ٢١٥)
جب ان کا اس حدیث کی نسبت یہ اعتقاد ہے۔ تو پھر اسی حدیث میں سے اپنی تائید کے الفاظ نکالنا اور اسے دلیل ششم بتانا کیا عقل ۔ شرع ۔ توحید کے خلاف نہ ہوگا؟؟؟
- ٢...... وہ مکتب اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے علم لدنی پائے گا۔
(ازالہ کے ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ٥٤٢ ) پر مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے کہ ”وہ فضل احمد کے شاگرد ہیں۔ مولوی مبارک علی مرزا قادیانی کے استاد زادہ، اسی طرح اور بیسیوں استاد ہیں جن سے مرزا قادیانی نے پڑھا اور علم حاصل کیا ہے۔ اندریں صورت مرزا قادیانی اپنی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی کے شاگرد نہیں۔ ناظرین درحقیقت اس عبارت سے مرزا قادیانی کا مقصود یہ ہے کہ نبی امی کا شرف خاص بھی اپنے اندر ثابت کریں اور عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبِی کے مصداق اپنے آپ کو بھی ٹھہرا دیں۔ لیکن ان کا یہ دعویٰ خود ان کے اقرار مندرجہ بالا سے غلط ہو گیا۔
- ٣....... اور اس کی ضروریات زندگی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہوگا۔
رب کریم تو کل مخلوق کی ضروریات زندگی ہی کا متکفل اور متولی ہے۔ اپنے کلام پاک
٨٩
میں فرماتا ہے۔ ”وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ۔ فرماتا ہے نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ“ پھر مرزا قادیانی کی خصوصیت کیا ہے۔ ہاں اگر وہ فرمائیں کہ لوگوں کو اسباب کے ذریعہ ملتا ہے اور ان کو بلا توسط اسباب تو یہ بھی غلط ہے۔ وہ زمینداری کا علاقہ جس نے حارث حراث آپ کو بنا دیا ہے۔ اور نسل درنسل مغلیہ عہد سے خاندان میں چلا آیا ہے۔ کتنا بڑا سبب ہے۔ تصانیف کی آمدنی اور احباب کی فتوح علاوہ برآں۔ اب رہا متوکل نام ہونا۔ چندہ کے لیے ان کی بار بار درخواستوں اور التجاؤں نے توکل کی نفی ثابت کر دی ہے۔
٧......اس کے دم سے کافر مریں گے کا رد
مرزا قادیانی کی ساتویں دلیل از انجملہ ۔ ”علامت مسیح یہ لکھی ہے کہ اس کے دم سے کافر مرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخالف اور منکر کسی بات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ اس دلائل کاملہ کے سامنے مر جائیں گے سو عنقریب لوگ دیکھیں گے کہ حقیقت میں مخالف حجت اور دلیل اور بینہ کی رو سے مر گئے۔
(ازالہ ص ٦٩٩ خزائن ج ٣ ص ٤٧٧)
ناظرین ! اس بیان میں بھی چند غلطیاں ہیں۔
- ١.......علامت مسیح یہ لکھی ہے کہ اس کے دم سے کافر مرے گا۔ مرزا قادیانی یہ تو فرمائیں
کہ یہ علامت کہاں لکھی ہے۔ کیا مسلم کی حدیث عن نواس بن سمعان میں؟ جس کے مضمون کو آپ نے شرک اور حماقت سے پر بتایا ہے۔ پھر اس حدیث سے استدلال مرزا قادیانی کے لیے کیا ہوگا؟ وہ خود ہی فیصلہ دیں۔
- ٢...... مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ اب تک تو ان کے دلائل سے کچھ کام نہیں نکلا۔ ہاں
عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ صفت ذاتی اپنے موصوف سے جدا نہیں ہو سکتی۔ آپ مسیح بن کر تو آگئے۔ لیکن ہنوز مسیح موعود کے صفات سے رنگین نہیں ہوئے۔
٨......عقائد کی درستی کا رد
مرزا قادیانی کی آٹھویں دلیل۔ از انجملہ ۔ علامت مسیح موعود یہ ہے۔ ”جب آئے گا لوگوں کے عقائد اور خیالات کی غلطیاں نکالے گا“
(ازالہ ص ٦٩٩ خزائن ج ٣ ص ٤٧٧)
مرزا قادیانی آپ کے صدق و کذب کے دعویٰ کا اسی پر امتحان ہے کہ آپ کسی حدیث سے یا آیت قرآنی سے یہ نکال کر دکھائیں کہ مسیح مسلمانوں کے عقائد میں بھی غلطیاں نکالے گا۔
اگر آپ یہ الفاظ دکھلادیں۔ تو آپ کے سچے ہونے میں کیا کلام ہے ورنہ خدا سے ڈریں۔ دل سے باتیں بنا کر اتباع نفس و ہوا کیوں کرتے ہو؟
اسی بیان میں مرزا قادیانی نے دو غلطیوں کا ذکر کیا ہے جو مسلمانوں کے عقائد سے نکال دی ہیں۔
- ١...... لوگ سمجھ رہے تھے کہ ”وہی مسیح ابن مریم نبی ناصری جو فوت ہو چکا ہے۔ پھر
دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ سو پہلے یہی غلطی ان کی دور کر دی گئی اور ان لوگوں کو سچا ٹھہرایا گیا۔ جو مسلمانوں میں سے مسیح کی موت کے قائل تھے یا عیسائیوں میں سے یونی ٹیرئین فرقہ جو اسی بات کا قائل ہے کہ مسیح مر گیا اور دنیا میں نہیں آئے گا“
(ازالہ ص ٢٠٠ خزائن ج ٣ ص ٤٧٧)
اس بیان میں مرزا قادیانی نے چند مغالطے دیئے ہیں۔ اول ...... یہ لکھ کر کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہی مسیح آئے گا۔ جو نبی ناصری ہے۔ جو فوت ہو چکا ہے۔ بیشک مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے کہ مسیح نبی ناصری ہی آئے گا۔ مگر آپ نے الفاظ جو ”فوت ہو چکا ہے“ کو مسلمانوں کے اعتقاد سے منسوب کرنے میں پچھلے مسلمانوں پر افتراء کیا اور حالیہ کو مغالطہ دیا۔
دوم ...... یہ لکھ کر ان لوگوں کو سچا ٹھہرایا گیا جو مسلمانوں میں سے موت مسیح کے قائل تھے۔ مرزا قادیانی نے صاف مغالطہ دیا۔ ورنہ براہ مہربانی وہ طبقہ بعد طبقہ دس دس مسلمانوں کے نام تو لیں۔ جو وفات مسیح کے قائل تھے۔ دس نہیں تو پانچ ہی سہی۔ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ
مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں یا شاید کسی دوسری کتاب میں ایک پادری کے جواب میں کیا خوب تحریر فرمایا ہے۔ پادری کا اعتراض یہ تھا کہ جب شریعت توریت آچکی اور فضل انجیل عنایت ہو چکی تھی۔ تو نبوت محمد ﷺ کی کیا ضرورت رہ گئی۔“ مولوی صاحب مرحوم نے فرمایا۔ عیسائیوں کا یہ منہ نہیں کہ ہم پر یہ اعتراض کر سکیں۔ کیا یہودیوں نے مسیح کو تسلیم کیا۔ کیا مریم صدیقہ کی نسبت بہتان لگانے سے وہ باز آئے۔ کیا وہ قائل نہ تھے کہ انجیل آسمانی کتاب نہیں۔ کیا وہ بڑے دعوے سے نہ کہتے تھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا ہے۔ کیا وہ پر زور لفظوں میں نہ کہتے تھے کہ مسیح دوبارہ نہیں آسکتا۔“ عیسائی سب کچھ سنتے تھے۔ مگر یہود کے حملوں کا کچھ جواب نہ دے سکتے تھے۔ سیدنا محمد ﷺ نے عیسائیوں کو یہود کے ان حملوں سے بچایا۔ حضرت مسیح کے رسول اور کلمتہ اللہ ہونے کی گواہی دی۔ ان کی نبوت کی تصدیق فرمائی۔
حضرت مریم کا صدیقہ ہونا ظاہر کیا۔ انجیل کو ہدایت اور نور بتلایا۔ مسیح کے قتل وصلب کی قطعی اور تاکیدی الفاظ میں نفی کی۔ اور بالآخر قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (ابن کثیر ج ١ ص ٢٦٦ و ٢٧٦ ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩)”اور ظاہر کر دیا کہ حضرت عیسیٰ ہرگز نہیں مرے وہ تو قیامت سے پہلے پھر دنیا میں آئیں گے ۔“ اور ایک عام حکم لگا دیا کہ کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جو حضرت عیسیٰ کو رسول اللہ اور اس کی ماں کو صدیقہ نہ سمجھے ۔“
ناظرین ! مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی تقریر کو دیکھئے کہ وہ نبوت محمد ﷺ کے اسباب بعثت میں سے ایک سبب عظمیٰ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ یہود کی غلط فہمیاں دور کی گئیں اور ان کو حیات مسیح اور نزول مسیح کی خبر دی گئی۔ اور اس کے متعلق ان کے عقاید میں جس قدر غلطیاں تھیں وہ رفع کر دی گئیں۔ اب مرزا قادیانی کی تقریر کو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ آپ اس مقصد نبوت محمدیہ کے خلاف پھر یہود کا وہی پہلا اعتقاد زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس کی تکذیب خود رسول کریم فرما چکے اور قرآن مجید ربانی طاقت سے یہود کے ان معتقدات کو جھٹلا رہا ہے۔
لوگو!!! اگر ایک ایسے مسئلہ میں جس میں چھ سو سال سے برابر یہود اور نصاریٰ کی بحثیں چلی آتی تھیں۔ اور جس کے فیصلہ کرنے کے لیے خدا نے بنی اسمعیل میں سے آخر الزمان پیغمبر بھیجا ( تاکہ بنی اسرائیل کے دونوں گروہوں میں سے وہ کسی کا جانب دار نہ سمجھا جائے ) اور اس نے نیز اس پر اتری ہوئی آسمانی کتاب نے اس بحث اور جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ۔ تم لوگ ایمان نہیں لاتے۔ تو بجز اس کے کہ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ عرض کیا جائے اور کیا ہو سکتا ہے؟ عمر فاروقؓ زندہ ہوتے تو وہ دکھلا دیتے کہ جو شخص رسول خدا کے فیصلہ پر رضا مند نہیں ۔ اس کا فیصلہ کیا ہے؟
- ٢...... دوسری غلطی مرزا قادیانی نے جو نکالی۔ وہ یہ بتلائی ہے کہ ” لوگ سمجھ رہے تھے کہ
مسیح وفات کے بعد آنحضرت ﷺ کی قبر میں دفن کیا جائے گا۔ لیکن وہ اس بے ادبی کو نہیں سمجھتے تھے کہ ایسے نالائق اور بے ادب کون آدمی ہوں گے؟ جو آنحضرت کی قبر کھودیں گے۔ اور یہ کس قدر لغو حرکت ہے کہ رسول مقبول کی قبر کھودی جائے ۔ اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائی جائیں ۔“
(ازالہ ص ٧٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
ناظرین ! اس تقریر میں بھی چند مغالطے ہیں۔
- ١...... تیرہ سو برس کے مسلمانوں میں سے ایک مسلمان کا بھی یہ اعتقاد نہیں کہ حضرت مسیح
آنحضرتؐ کے لحد منور میں دفن کئے جائیں گے۔ اور اس لیے آنحضرتؐ کی قبر مبارک کھودی جائے گی۔ اور نبی پاکؐ کی ہڈیاں نکالی جائیں گی۔ حیف۔ حیف۔ محض یہ جتانے کے لیے ہم نے مسلمانوں کی کوئی غلطی نکال دی ہے پہلے تو مرزا قادیانی نے مسلمانوں پر افتراء کیا۔ کہ ان کا یہ اعتقاد تھا۔ پھر اپنے اور ہمارے سید و آقاؐ کی نسبت نہایت مکروہ الفاظ کا دانستہ شوخانہ طرز پر استعمال کیا۔ جس کو پڑھ کر ایک محب رسول کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ اور جسم لرز جاتا ہے۔ افسوس افسوس یہ الفاظ اس شخص کی قلم سے نکلے ہیں۔ جس کو محبت رسول کا سب سے بڑھ کر دعویٰ ہے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ.
مسلمانوں کا بیشک یہ اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے مقبرہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔ اس بارہ میں چند احادیث ہیں۔ اوّل حدیث...... (فتح الباری ج ٧ ص ٥٤ عائشہ صدیقہؓ) جس میں آپ نے درخواست کی کہ میں بھی آپؐ کے پہلو میں مدفون ہوں۔ فرمایا۔ نہیں۔ یہاں تو میں۔ ابوبکرؓ۔ عمرؓ۔ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی مدفون ہوں گے۔ دوسری حدیث....... (ابوداؤد احمد وابن حبان وابن جریر نیز مشکوٰۃ ص ٣٨٠) کے یہ الفاظ ہیں ویدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ بن مریم بین ابی بکر و عمر ان کو مسلمان نبی ﷺ کے قریب دفن کریں گے۔ طبرانی اور ابن عساکر کی حدیث جس کو امام بخاری نے بھی تاریخ میں بیان کیا ہے۔ بہت ہی واضح ہے۔ یایدفن عیسی بن مریم مع رسول اللہ و صاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً عیسیٰ ابن مریم ہمارے حضرت اور ان کے دونوں یاروں کے پاس دفن ہوں گے۔ اور ان کی قبر وہاں چوتھی قبر ہوگی (یعنی تین قبریں پہلے اور چوتھی یہ)
اب مرزا قادیانی خیال کر لیں کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کس طرح پر دفن ہوئے ہیں (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ ابواب المناقب) میں ابو مودود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک میں اب تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔‘‘ گو حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت امام حسنؓ نے چاہا بھی کہ یہ شرف ان کو حاصل ہو۔ مگر ارادت الٰہیہ میں جس کے لیے یہ زمین مقدر ہو چکی تھی۔ اسی کے لیے اب تک خالی ہے۔
ازالہ کے دوسرے مقام پر مرزا قادیانی کو یہ تو یاد نہیں رہا کہ روضہ رسول میں عیسیٰ ابن مریم کے دفن ہونے کو محض مسلمانوں کی غلطی اور اس غلطی نکالنے کو اپنے مسیح موعود ہونے کی دلیل بتا
٩٣
چکا ہوں۔ بلکہ صرف یہ خیال رہا کہ جو کچھ ابن مریم کے حق میں آچکا ہے۔ وہ سب اپنے اوپر منطبق کرلوں لہٰذا نہایت صفائی سے اقرار کر لیا کہ ”میں نے خواب میں دیکھا۔ ایک فرشتہ روضہ رسول کی خالی زمین پر سرکنڈا مار کر کہہ رہا ہے کہ یہ تیرے دفن ہونے کی جگہ ہے (دیکھو ازالہ ص ٤٧١ خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) میں عبارت کے بعد وہ سب اعتراضات جو مرزا قادیانی نے ہم پر کئے تھے۔ ان پر لوٹ پڑے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہو گیا کہ جس عقیدہ کو وہ مسلمانوں کی غلطی بتاتے تھے۔ یہ خود ان کی غلطی ہے۔
مرزا قادیانی نے رسول پاک کی ہڈیوں کا جو ذکر کیا ہے۔ یہ ان کی اور غلطی پر غلطی ہے۔ حدیث میں تو آچکا ہے۔ انبیاء کے جسم زمین پر حرام ہوتے ہیں۔ یعنی وہ پاک جسم جوں کے توں پڑے رہتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے۔ خدا کے ہاں میری عزت اس سے زیادہ ہے کہ میں چالیس دن تک اپنی قبر میں چھوڑا جاؤں۔ اگر آپ کو منصب رسالت کی عظمت کا خیال رہتا۔ تو یہ لفظ زبان پر نہ آتا۔
٩....... نبی اللہ کی حقیقت
مرزا قادیانی کی نویں دلیل۔ ازانجملہ ”مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا....... سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے“
(ازالہ ص ٧٠١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
ناظرین۔ یہ سچ ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہوگا۔ مسلم کی حدیث عن نواس بن سمعان میں چند بار یہ الفاظ آئے ہیں ويحصر نبی الله عيسى واصحابه فيرغب نبي الله عيسىٰ و اصحابه ثم يهبط نبى الله عيسى واصحابه فيرغب نبي الله عيسى و اصحابه الى الله۔ عیسیٰ نبی اللہ کا لفظ اس رسول اور کلمۃ اللہ کی ذات والا صفات کے لیے ایسا ہی خاص ہے جیسے غلام احمد قادیانی مرزا قادیانی کی ذات سے خاص ہے۔ مرزا قادیانی نے بڑے دعویٰ سے لکھا ہے کہ غلام احمد قادیانی تمام دنیا پر بجز ان کے اور کسی کا نام نہیں۔
(ازالہ ص ١٨٦ خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
میں رب کریم کی قسم کھا کر اور اس ذات احد و صمد کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ابتدائے دنیا
سے لیکر قیام قیامت تک عیسیٰ نبی اللہ بجز اس مریم کے بیٹے۔ بنی اسرائیل کے رہبر۔ صاحب انجیل۔ نبی ناصری کے اور کسی کا نام نہیں۔ نہ ان سے پہلے کوئی عیسیٰ نبی اللہ ہوا۔ اور نہ آئندہ کوئی ہوگا۔ اور حدیث شریف میں انہی کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے پاس وحی جبرائیل کا آنا بھی ہمارا مذہب ہے امام شوکانی اور نواب صدیق الحسن صاحب نے اس پر بالتفصیل بحث کی ہے اور اس مذہب کی بناء بھی اسی حدیث نواس بن سمعان کے یہ الفاظ ہیں۔ ”اذا وحی اللہ الی عیسیٰ“
مگر مرزا قادیانی پر افسوس ہے کہ مسیح موعود کی یہ علامت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبی اللہ ہوگا جس کے پاس وحی ربانی بھی آیا کرے گی۔ اور با ایں ہمہ اپنے ہی آپ کو مسیح موعود خیال کئے بیٹھے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہی تشریف لائیں گے۔ تو نہایت غیظ و غضب میں بھر کر فرماتے ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ آیت خاتم النبیین روکتی ہے کہ کوئی نبی بھی آئے نیا ہو یا پرانا۔ یہ آیت تو سب کے لیے سدراہ ہے۔ پھر مسلمانوں کو نہایت تمسخر سے کہتے ہیں۔ اچھا اگر عیسیٰ نبی اللہ ہی آئے۔ اور ان پر وحی بھی اتری۔ تب تو ایک نیا قرآن اور بن جائے گا۔ یہ قرآن ٢٣ سال میں اتنا اترا ہے۔ تو حضرت عیسیٰ کا چہل سالہ اقامت میں اس سے دو گنا قرآن جدید ہو جائے گا۔ مسلمان کلمہ بھی ان کا ہی پڑھنے لگیں گے۔ یہ سب کچھ لکھ کر جب اپنے آپ کو نبی اللہ بنانے اور وحی الٰہی کا مہبط قرار دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تب بے چون و چرا مسیح موعود کی علامت میں سے اس کا نبی اللہ اور وحی پانے والا ہونا بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ مگر اس لیے کہ ان کی وہ تلوار جو مسلمانوں کے لیے کھینچی تھی۔ ان پر الٹ کر نہ جا لگے۔ یوں فرماتے ہیں۔ اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ بلکہ وہ نبوت مراد ہے۔ جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے۔ ناظرین ایسی تفسیر اور شرح کی نسبت ہی مالا یرضی بہ قائلہ کہا کرتے ہیں کہ حدیث میں نبی اللہ ہے۔ اور مرزا قادیانی اس سے محدثیت کو تعبیر کرتے ہیں اور لطف یہ کہ محدثیت تعبیر کرنے کے بعد اپنے آپ کو وحی پانے والا بدستور قائم رکھتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا۔ کہ جب آپ نے حسب الہام خود ہشتاد سالہ عمر تک پہنچنا ہے اور وحی آپ پر بھی آتی ہے تو آپ کا قرآن کس قدر بڑھ جائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو جس قسم کی وحی آئے گی۔ اس کا ذکر اسی حدیث میں موجود ہے اذ وحی اللہ الی عیسیٰ انی قد اخرجت عباداً لی لا یدان لاحد بقتالہم فحرز عبادی الی الطور.
(مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال عن نواس بن سمعانؓ)
خدا حضرت عیسیٰ کے پاس وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں کہ ان
٩٥
سے لڑائی کی کسی کو طاقت نہیں۔ سو تو میرے مسلمان بندوں کو طور کی طرف پناہ میں لے جا۔‘‘ اور ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ وحی احکام و شرائع پر مشتمل نہ ہوگی۔ ہاں اب مرزا قادیانی کی وحی کو دیکھنا چاہیے کہ آپ جا بجا براہین احمدیہ کی عبارتوں کو دلیل اور مقابلہ کے وقت اس طرح پر پیش کرتے ہیں۔ گویا یہ عبارتیں بھی قرآن مجید کی مانند تمام مسلمانوں پر حجت شرعیہ ہیں۔ جس طرح اکابر دین نزاع فیما بین کے وقت کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کو پیش کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی براہین کی عبارتیں اس طرح ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان کو وحی ربانی جانتے ہیں اور تھوڑے دن کے بعد وحی مُتْلُوّ کا درجہ اس کو عطا فرمانے والے ہیں۔
١٠...... مکاشفہ عبداللہ غزنوی کی تردید
مرزا قادیانی کی دسویں دلیل۔ ازانجملہ مکاشفات مولوی عبداللہ غزنوی مسیح موعود ہونے کی علامت ہیں۔ ’’حافظ محمد یوسف راوی ہیں کہ مولوی عبداللہ صاحب نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے یہ پیشگوئی کی تھی۔ ایک نور آسمان سے قادیاں کی طرف نازل ہوا۔ مگر افسوس کہ میری اولاد اس سے محروم رہ گئی۔
(ازالہ ص ٤٠٤ خزائن ج ٣ ص ٤٧٩)
ناظرین...... اوّل تو کشف خود ہی اعتبار کی شے نہیں۔ مولوی عبداللہ بیچارہ تو ایک ادنیٰ امتی ہی تھے۔ مرزا قادیانی کا ایک اولوالعزم رسول کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ ’’مسیح کا مکاشفہ کچھ بہت صاف نہیں تھا ۔‘‘
(ملخص ازالہ ص ٦٩٥ خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
پس جب ایک رسول کا کشف مکدر تھا ۔ تو مولوی صاحب کے کشف کا کیا درجہ رہا۔
دوم...... اس کا راوی بھی اب قابل اعتماد رہا نہیں۔ کیونکہ اس کشف کی روایت اس نے مرزا قادیانی کا مرید ہونے اور آپ کے دعویٰ سے پہلے نہیں کی ؎١
سوم...... الفاظ کشف کی خصوصیت سے مطابقت مرزا قادیانی آپ کی ذات سے ذرا بھی نہیں۔ بالفرض قادیان میں نور اترنا ایک کشف میں معلوم ہوا۔ مگر اس کی کیا دلیل ہے کہ وہ نور خود مرزا قادیانی ہی ہیں۔ اچھا وہ ہی سہی۔ پھر بھی مسیح موعود ہونے کی علامت اسی خواب میں کچھ بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اگر اس کشف کا تعلق مرزا قادیانی کی ذات سے ہو تو آپ
؎١ حافظ محمد یوسف نے خود مرزا کی بیعت سے رجوع کیا معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے استاد عبداللہ غزنوی مرحوم سے کچھ نہ سنا تھا۔ (ہدایت اللہ)
٩٦
ایک صالح مرد ثابت ہوسکیں گے اور جب تک اسی حالت میں مرزا قادیانی نظر آئیں گے۔ جس حالت میں صاحب کشف کے زمانہ میں تھے وہ صلاحیت ان میں پائی جائے گی۔
چہارم....... یہ الفاظ جو راوی کشف نے بیان کئے ہیں۔ اپنی بطلان پر اپنے اندر ہی شہادت موجود رکھتے ہیں۔ وہ شہادت ان الفاظ میں ہے۔ مگر افسوس میری اولاد اس سے محروم رہے گی۔ بطلان یہ ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب کا اولیاء الرحمن میں سے ہونا ہمارے اور مرزا قادیانی کے نزدیک مسلم ہے اور اولیاء الرحمن کے آثار بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے سب سے آخری اثر اور علامت ان کی یہ لکھی ہے کہ ”خدا تعالیٰ کئی پشتوں تک ان کی اولاد اور ان کے جانی دوستوں کی اولاد پر خاص طور پر نظر رحمت رکھتا ہے۔
(ازالہ ص ٤٤٨ خزائن ج ٣ ص ٣٣٨)
پس ثابت ہوگیا کہ راوی کے وہ الفاظ غلط اور باطل ہیں اور جیسا کہ آپ اولیاء الرحمن کے آثار میں لکھ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت مولوی صاحب مرحوم کی اولاد پر برابر ہے اور وہ بھی اپنے نامور باپ کی طرح اتباع سنت میں کامل اور نہایت معمور الاوقات ہیں۔
١١...... مجذوب کا کشف
مرزا قادیانی کی گیارہویں دلیل۔ ازانجملہ ایک کشف ایک مجذوب کا ہے۔ جس کو کریم بخش نمازی نے بیان کیا اور کریم بخش کے پابند صوم وصلوٰۃ ہونے کی گواہی پچپن ١؎ شخصوں نے دی کہ گلاب شاہ نے ١٨٧١ء میں اس سے کہا تھا کہ عیسیٰ قادیاں میں ہے اور اب جوان ہو گیا ہے وہ لدھیانہ میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ تو مرگیا۔ وہ نہیں آئے گا ....... ہم بادشاہ ہیں۔ جھوٹ نہیں بولیں گے۔“
(ازالہ ص ٧٠٩ خزائن ج ٣ ص ٤٨٤)
ناظرین۔ یہ کشف سراسر لغو اور غلط ہے۔ کریم بخش کا بیان ہرگز ہرگز قابل توثیق نہیں اور کسی مجذوب کو رسول معصومؐ کے خلاف لب کشائی کی ہرگز ہرگز جرأت نہیں۔ کوئی کشف احادیث صحیحہ و مرفوعہ کی تکذیب نہیں کر سکتا۔ اور سید الانبیاءؐ کے ارشادات کی صحت کی معیار کسی شخص کا کشف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اول...... تو کریم بخش کی مضطرب بیانی ہی کو دیکھئے کہ لوگوں کے سامنے جو اظہار دیا ہے
١؎ پچپن آدمیوں پر بھی نظر ڈالو۔ جو میاں کریم بخش کی توثیق کرتے ہیں۔ انہی میں مشرک و کافر ہیں اور انہی میں جاہل و نادان بھی۔ جو توثیق و تصدیق کو نہیں جانتے۔ انہی میں بعض مرزا قادیانی کے مرید بھی۔
٩٧
اس میں بیان نہیں کیا کہ عیسیٰ کا نام بھی مجذوب نے اسے بتایا تھا۔ بلکہ بعد میں کریم بخش نے آ کر یہ کہا کہ ایک بات بیان کرنے سے رہ گئی اور وہ یہ ہے کہ مجذوب نے مجھے صاف صاف یہ بھی بتلا دیا تھا کہ عیسیٰ کا نام ”غلام احمد“ ہے۔ دیکھو تمام خبر کا عطر اور تمام کشف کی جان تو یہی نام تھا اور وہی کریم بخش سے ابتدائی بیان میں چھوٹ گیا تھا۔ تو اب اس کے حافظہ اور یاد پر کیا بھروسہ ہو سکتا ہے۔
(رسالہ نشان آسمانی ص ٢١ خزائن ج ٣ ص ٣٨١) کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی میاں کریم بخش کی جانب سے شک ہوا۔ اور انہوں نے ازالہ اوہام میں اس کی شہادت دینے کے بعد کسی نہ معلوم وجہ کے باعث اس کو مکرر طلب کر کے اس کی شہادت پھر لی۔ اور اس شہادت لینے سے پہلے اس کو مکرر قسمیں دلائیں۔ پھر جب اس کا بیان لکھا گیا۔ تو اس میں اور بھی زیادہ اضطراب نظر آیا۔ ازالہ میں اس کا بیان ہے کہ مجذوب صاحب نے کہا تھا کہ عیسیٰ قادیاں میں ہے۔ تب میں نے کہا۔ قادیان تو لدہانہ سے تین کوس ہے۔ وہاں عیسیٰ کہاں ہیں۔ اس کا انہوں نے جواب نہ دیا۔ اور مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ کہ ضلع گورداسپور میں کوئی گاؤں ہے۔ جس کا نام قادیان ہے۔ (نشان آسمانی ص ٢٢ خزائن ج ٣ ص ٣٨٢) میں اس نے بیان کیا ہے۔ میں بھول گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا۔ کہ قادیان ضلع گورداسپور میں عیسیٰ ہے۔“
ناظرین ۔ یہ ایسی فاش غلطیاں ہیں۔ جو کسی راوی میں روا نہیں رکھی گئیں۔ قابل غور ہے کہ جس راوی میں ضبط اور عدالت ہی موجود نہیں۔ تو خود وہ کیا اور اس کی روایت کیا؟ مرزا قادیانی نے پچپن آدمیوں سے کریم بخش کے پابند صوم وصلوٰۃ ہونے کی شہادت لینے میں بے سود محنت فرمائی۔ جناب موصوف خوب واقف ہیں کہ راوی کا صرف پابند صوم وصلوٰۃ ہونا ہی اس کو ثقہ نہیں بنا سکتا۔ افسوس ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث کا انکار کرنے کے لیے تو حضرت نواس بن سمعانؓ صحابی رسولؐ تک کی ذات پر بھی حملہ کرنے میں آپ تامل نہ کریں اور کریم بخش پر اعتقاد کر لیں کہ متن اور سند میں اس کا اضطراب ثابت ہو جانے کے بعد اس کو ساقط العدالت نہ ٹھہرائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کشف کے مضامین سراسر عقل اور شرع کے مخالف پڑے ہوئے ہیں جس کو تھوڑا سا بھی ذہن سلیم دیا گیا ہے۔ وہ اس کشف کے صریح البطلان ہونے میں ذرا تامل نہ کرے گا۔ مرزا قادیانی (ازالہ ص ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) پر لکھتے ہیں۔ ”ہم کہہ سکتے ہیں کہ
٩٨
اگر آنحضرتؐ پر ابن مریمؑ اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت نہ کھلی ہو اور نہ یاجوج ۔ ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی ۔ اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ”مرزا قادیانی کی یہی عبارت اس کشف کے خلاف عقل و شرع ہونے کی کافی دلیل ہے۔
عقل کے خلاف اس کشف کے مضمون اس لیے ہے کہ مرزا قادیانی نے تسلیم کر لیا ہے کہ جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن تھی۔ آنحضرتؐ کو سمجھایا گیا۔ مگر حقیقت کاملہ اور اصل کیفیت معلوم نہ ہوسکی ۔ ”اس کے یہ معنی ہیں کہ جس قدر غیب محض کے وقائع انسانی قویٰ کو سمجھائے جاسکتے تھے ۔ وہ اسی قدر ہیں ۔ جس قدر آنحضرتؐ کو سمجھا دیئے گئے ۔ اس سے بڑھ کر سمجھنا انسانی قویٰ کے امکان سے باہر ہے ۔ عقل جانتی ہے کہ جو خاصہ جنس کو حاصل نہیں ۔ وہ فرد کو بھی حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اور جو حقائق انسان کامل کے مکمل انسانی قویٰ کے امکان
١؎ ناظرین ذرا خیال فرمائیں ۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ابن مریم میں ہوں ۔ دجال پادری ہیں ۔ یاجوج انگریز ماجوج روس دابتہ الارض علماء ظواہر ۔ گویا ان الفاظ کی حقیقت کاملہ یہی ہے ۔ ہم حیران ہیں کہ ان کے اس مذہب کی کیا حیثیت ہے کہ آنحضرتؐ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی ہو“ کیونکہ اس حقیقت کاملہ کے لیے جو مرزا قادیانی نے ان الفاظ کی خوبی بیان کی ہے ۔ کسی اور نمونہ کے موجود ہونے کی ضرورت نہ تھی ۔ پادری بھی عہد نبوی میں موجود تھے ۔ اور امتی بھی ”نمونہ کے کیا معنی؟ نوع موجود تھے ۔ جس کے ایک فرد نے ابن مریم اور ایک یا چند نے دجال لقب پانا تھا ۔ آپ صاف فرما دیتے ۔ یہ پادری دجال ہیں ۔ اسلام میں فتنہ پھیلائیں گے ۔ میری امت سے ایک شخص ہندوستان ۔ پنجاب میں قادیاں گاؤں سے غلام احمد نامی پیدا ہو کر ان کے دلائل کی بیخ کنی کر دے گا ۔ مگر آنحضرتؐ نے تو ایسا نہیں کیا ۔ ظاہر ہے کہ اگر احادیث میں مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ۔ قادیاں۔ پنجاب۔ ہندوستان ۔ چودھویں صدی کے نام صاف صاف طور پر ہوتے۔ تو اس سے انکار کر کے مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے کو خود مرزا قادیانی ہی خلود نار کا فتویٰ دیتے ۔ جبکہ باوجود نہ ہونے ان تعینات کے آپ اپنے منکرین کو ایک حد تک مستوجب سزا لکھ چکے ہیں ۔ اب دیکھئے ۔ اس سے بھی بڑھ کر احادیث میں صاف صاف نام موجود ہیں ۔ مرزا غلام احمد کی جگہ عیسیٰؑ نبی اللہ ہے ۔ مرزا غلام احمد تو دنیا میں ہزار ہو سکتے ہیں ۔ مگر عیسیٰ نبی اللہ ان کے سوا کوئی بھی نہیں ۔ ولد غلام مرتضیٰ کی جگہ ”ابن مریم“ ولد غلام مرتضیٰ بھی سینکڑوں ۔ مگر قرآن وحدیث میں ”ابن مریم“ بجز عیسیٰؑ اور کوئی نہیں ۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر دیکھئے)
٩٩
سے برتر و اعلیٰ تھے۔ وہ انسان ناقص کے کمزور قویٰ سے ضرور ہی برتر و اعلیٰ ہوں گے۔ اور اسی لیے محال ہے کہ ایک مجذوب کو وہ حقیقت معلوم ہو جائے۔ جو آنحضرتؐ سے پوشیدہ رکھی گئی۔ شرع کے خلاف اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
- ١....... اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ (نحل ٤٤)
ترجمہ.....خدا وہ ہے جس نے ذکر تم پر نازل کیا تاکہ تو لوگوں کو واضح کر دے کہ قرآن میں ان کے لیے کیا اتارا گیا ہے۔
- ٢....... هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّيْنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ
وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ O
(جمعه ٢) ترجمہ.....خدا وہ ہے جس نے ان پڑھے لوگوں میں اپنا رسول بھیجا۔ جو خدا کی آیتیں پڑھتا۔ لوگوں کو پاک صاف بناتا۔ کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر چہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔
(بقیہ حواشی) پنجاب ہندوستان کی جگہ احادیث میں دابق۔ قسطنطنیہ۔ دمشق۔ باب لد۔ مکہ۔ مدینہ روضہ رسول کے نام ہیں۔ افسوس جس نبی پاک کا بیان اطلاع اخبار آئندہ (پیشگوئی) میں ایسا واضح ہو جیسا کسی جغرافیہ دان سیاح کا ممالک سیر کردہ کے متعلق ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی اس کی نسبت ”منکشف نہ ہونا“ بیان کریں۔ یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں۔ تو ان میں کونسی ایسی عمیق تہہ ہے کہ وحی الٰہی نے سید الانبیاءؑ کو بھی اطلاع دینے میں اس سے بخل کیا ہو۔ دابۃ الارض اگر علماء ظاہر ہیں تو اس کی کونسی ماہیت ایسی ہے۔ جو کماحقہ آنحضرتؐ پر ظاہر نہ ہوئی۔ ناظرین ابن مریم یاجوج ماجوج۔ دابۃ الارض ایسے الفاظ ہیں جو قرآن مجید میں آتے ہیں۔ اپنے لیے تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کے تمام اسرار جمیع رموز سارے بطون۔ جملہ حقائق اور سب کے سب (دقائق مجھ پر کھولے گئے ہیں۔ اور آنحضرتؐ کے لیے جن پر قرآن مجید نازل ہوا۔ جن کے فرمانے سے ہم نے قرآن کو قرآن سمجھا یہ اعتقاد کہ آنحضرتؐ ان الفاظ قرآنی کے مفہوم سے بھی نا آشنا محض تھے ہاں نہ صرف آنحضرتؐ پر ان الفاظ کی حقیقت سے نسبت جہل دی گئی ہے۔ بلکہ خدا پر بھی کہ اس کی وحی نے ہی نہ بتلایا ہو۔ ان الفاظ کو ایک منصف غیر مذہب کا شخص بھی ایک مسلمان کے منہ سے پسند نہیں کر سکتا۔ میں نے اس تقریر میں دجال کے گدھے کا ذکر نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ صحاح ستہ میں اس گدھے کا کہیں ذکر نہیں۔ مرزا قادیانی کو جہاں تاویل کرنی آتی ہے۔ وہاں تو خواہ کوئی کلام ہو اور کیسی ہی ہو۔ اس کو فوراً صحیح مان لیتے ہیں اور جس کی تاویل سے عاجز ہو جاتے ہیں۔ خواہ وہ مسلم کی حدیث ہو یا بخاری کی وہ ان کے نزدیک قرآن کے مخالف ہے۔
٢؎ مرزا قادیانی کے نزدیک تعجب کی بات نہ ہوگی۔ ہمارے نزدیک تو یہ بالکل محال ہے۔ کہ خداوند کریم جس کو ”الم نشرح لک صدرک“ فرمائے۔ وہی الفاظ قرآنی کے مفہوم اور حقیقت سے بے خبر ہو۔
- ٣.......اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ
لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا. (مائدہ ٣) (ترجمہ) آج خدا نے تمہارا دین کامل کردیا۔ اور اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور خدا خوشنود ہے کہ تمہارا دین اسلام ہو۔‘‘
اگر مجذوب کی باتیں صحیح مان لی جائیں تو ان آیات کی تکذیب لازم آتی ہے اور اسی لیے الفاظ کشف سراپا غلط ہیں۔
مجذوب کا یہ کہنا کہ ہم بادشاہ ہیں۔ ہم جھوٹ نہ بولیں گے۔ رسول کریم ﷺ کی قسمیہ کلام وَالَّذِيْ نَفْسِىْ بِيَدِهٖ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ فرضی بادشاہ تو جھوٹ نہ بولے اور اصل حقیقت ظاہر کر دے اور وہ سلطان الاصفیاء سید الانبیاء اصل حقیقت کے خلاف دروغ بیان کریں۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ . اَيُّهَا النَّاسُ ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِى السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُہ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِى السَّمَاءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرٌ.
١٢.......اعدادِ جمل کی تردید دجال کا خروج
مرزا قادیانی کی بارھویں دلیل۔ ’’ازانجملہ اس عاجز کے مسیح موعود ہونے پر یہ نشان ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہو...... خروج دجال کا زمانہ آیت اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ سے ثابت ہے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد ١٢٧٣ ہیں۔ ١٢٧٣ ہجری ١٨٥٧ء کے مطابق ہیں۔ سو در حقیقت ضعف اسلام کا یہی زمانہ ہے اور خروج دجال کا بھی یہی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ جب وہ زمانہ آئے گا۔ تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا چنانچہ اس زمانہ سے قرآن اٹھایا گیا۔ اب میں ان حدیثوں کے موافق جن میں لکھا ہے کہ ایک مرد فارسی الاصل دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ہوگا۔ میں قرآن کو آسمان پر سے لے آیا ہوں۔ (ازالۃ الخص ص ٢٧١ تا ٢٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤٨٨ تا ٤٨٩)
ناظرین۔ یہ بیان بھی مغالطے اور سقم سے بھرا ہوا ہے۔ کسی آیت کے اعداد نکال کر مضمون آیت کو اعداد جمل سے متعلق سمجھنا اور اس کے مضمون کے لیے اسی زمانہ کو خاص متعین کر دینا ایسا لغو بیان ہے۔ جس میں ایک ذرہ برابر بھی سمجھ ہو گی۔ وہ اس کی لغویت کو فوراً معلوم کر سکتا ہے۔ کسی آیت سے اعداد نکالنے سے پہلے اور اس اعداد کے زمانہ کو مضمون آیت سے تعلق
١٠١
دینے سے پیشتر مرزا قادیانی پر یہ فرض تھا کہ وہ اعداد جمل کو بھی الٰہی تعلیم ثابت کر دیتے اور بتلاتے کہ ”الف“ کا ایک اور ”خ“ کے ٦٠٠۔ اور ”ص“ کے ٩٠ ہونے کا ثبوت کس حدیث یا آیت سے ملتا ہے اعداد جمل تو ایک طرف خود سنہ ہجری بھی جو مرزا قادیانی نے نکالا ہے اور اس کو اس آیت میں مراد ربانی بتلایا ہے۔ زمانہ نزول قرآن اور حیات پیغمبر ﷺ کے بعد مقرر ہوا ہے۔ اور اس سنہ کا رواج بھی ایک اتفاقی امر ہے۔ نہ کہ وحی جو ارباب تواریخ سے پوشیدہ نہیں۔ برف پر پتھر کی عمارت بنانا اسی کا نام ہے کہ ایسی ایسی وجوہ پر بناء استدلال قائم کی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر آیات کے مضامین کو اعداد جمل سے متعلق کیا جائے اور اس مضمون کا زمانہ اعداد سے متعین کر دیا جائے۔ تو نصف سے زیادہ قرآن مختص بہ بعض ہو جائے گا اور اس کا عامۃ الناس کے لیے ہدایت اور نور اور واجب الاذعان ہونا صحیح نہ رہے گا۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ قرآن مجید سے اعداد جمل کے موافق تاریخ نکالنا ایک جسارت ہے اور اس پر یہ یقین کرنا کہ آیت کا تعلق بھی زمانہ اعداد سے ہے۔ گونہ کفر ہے۔
مسلمان بادشاہوں کی تاریخوں اور شاعروں کی تصانیف کو کھول کر ملاحظہ کیجئے کہ بیسیوں آیات سے اعداد جمل نکالے گئے ہیں۔ تو کیا مرزا قادیانی ان کو بھی یقین کرتے ہیں کہ ان آیات کا تعلق اسی زمانہ اعداد سے ہے۔
- ١...... اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (نساء ٥٩) ایک
ایسی آیت ہے جو مسلمانوں کو اپنے امیر اور حاکم کی اطاعت کرنے کا حکم دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد قیام قیامت تک جس قدر امیر ہوئے اور ہوں گے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ سب کی اطاعت کرنے کا یہ آیت حکم دے رہی ہے اگر اس کے اعداد پر خیال کیا جائے تو ١٠٦٨ ہجری ہوتے ہیں۔ سید عبد الرشید تتوی نے یہی آیت جلوس اورنگ زیب کی تاریخ میں پیش کی تھی۔ اعداد پر ایمان لانے والوں کو چاہیے کہ نہ عالمگیر کے سوا کسی کو امیر المومنین سمجھیں اور نہ کسی اور کی اطاعت کو اپنے ذمہ واجب کریں۔ (معاذ اللہ)
- ٢...... قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ٥ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ٥ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ
کُفُوًا اَحَدٌ ٥ (اخلاص) شیخ ابوالفیض فیضی کی تفسیر ”سواطع الالہام“ کی تاریخ تصنیف ہے۔ لازم ہے کہ اس سورۃ کو وصف رب العالمین نہ سمجھیں۔ (معاذ اللہ)
- ٣...... الصلح خیر شاہ طہماسپ صفوی اور سلطان روم میں باہمی مصالحت کی تاریخ ہے۔
١٠٢
لازم ہے اب زن وشوہر کے متعلق اس کو قرآن کا حکم خیال نہ کریں۔ (معاذ اللہ)
٤....... غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ ، امیر تیمور کی فتح روم کی تاریخ ہے۔ آیت کا ترجمہ بھی اسی کا مؤید ہے۔ (گو شان نزول مخالف ہو) یعنی ”روم“ ادنی الارض میں مغلوب کیا گیا۔ تاریخ نکالنے والے نے لفظ ”ارض“ کے حرف ”ادنی“ یعنی ض سے تاریخ نکالی ہے۔ اب مناسب ہے کہ امیر تیمور کی جنگ کو جنگ مقدس قرار دیں۔ جس کی تاریخ خود خدا بیان کر رہا ہے۔
٥....... رَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ ٥ عالمگیر کی تاریخ انتقال ہے۔ آپ کو اقرار کرنا چاہیے کہ سوائے عالمگیر کے اور کسی کو یہ نعمتیں نہ ملیں گی۔ ورنہ کم سے کم اس بادشاہ کے قطعاً جنتی ہونے کا (جیسا اہل سنت والجماعت کو اصحاب بدر بیعت الرضوان۔ عشرہ مبشرہ۔ خلفاء اربعہ کی نسبت ہے) ضرور ہی دعویٰ کیجئے اور ایسی ہی سینکڑوں تاریخیں ہیں اور اگر ان پر مرزا قادیانی کا یقین نہیں تو آیت وَاِنَّا عَلٰی ذَهَابٍ بِهٖ کو کیوں اعداد سے متعلق کرتے ہیں؟
ناظرین۔ جب یہ اصول ہی غلط ٹھہرا۔ تو اب مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ خروج دجال معہود کا اور کوئی ثبوت شرعی پیش کریں اور تب مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہوں اور اس دعویٰ کے لیے بھی پھر ثبوت شرعی ظاہر کریں۔ ازالہ کے ١٨٥ صفحہ پر آپ نے لکھا ہے کہ مجھے کشفی طور پر ”غلام احمد قادیانی“ کے الفاظ پر توجہ دلائی گئی۔ جس کے عدد پورے تیرہ سو ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ لایات بعد المأتین سے یہی عاجز مراد ہے۔ اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“
ناظرین۔ یہ تاریخ گویا مسیح موعود ہونے کا اعلیٰ ثبوت ہے۔ جو مرزا قادیانی نے ایسے پرزور الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ”غلام احمد قادیانی“ ایسے الفاظ ہیں۔ جو مدح یا ذم کچھ بھی ظاہر نہیں کرتے جو اپنے مسمّیٰ کے صدق یا کذب پر ذرا بھی شہادت نہیں دیتے۔ اگر اعداد بھی حجت بن سکتے ہیں اور تاریخ بھی دلیل وثبوت کا رتبہ پاسکتی ہے۔ تو میں سچ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے اس کشف سے راقم کا کشف بدرجہا صاف وبرتر ہے۔ جب مرزا قادیانی نے دہلی جاکر شیخنا وشیخ الکل سے درخواست بحث ومناظرہ کی۔ اور طرفین کے مطبوعہ اشتہارات پٹیالہ میں پہنچے تو میرے دل میں آیا کہ دیکھئے۔ اب کیا ہوتا ہے۔ فوراً میرے دل میں ڈالا گیا ”مولوی سید نذیر حسین دہلوی“ میں نے جب اعداد شمار کئے تو پورے ١٣٠٩ھ جو سنہ مناظرہ تھا۔ ظاہر ہے کہ مولوی اور سید ایسے دو لفظ ہیں۔ جو اپنے مسمّیٰ کے شرافت ذاتی وعلمی اور اعزاز حسی ونسبی پر دلالت کر
٦٠١ ١٠٣
رہے ہیں اور یہ بھی میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آج دنیا پر ”مولوی سید نذیر حسین دہلوی“ ”شیخنا و شیخ الکل کے سوا جن سے مرزا قادیانی مناظرہ کرنے کے شوق میں دہلی پہنچے تھے۔ اور کسی کا نام نہیں۔
برادر عزیز قاضی عبدالرحمٰن کے دل میں ایسا ہی خیال کرنے پر یہ الفاظ ڈالے گئے۔ سید محمد نذیر حسین دہلوی اس کے اعداد بھی پورے ١٣٠٩ھ نکلتے ہیں۔ وَ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ ایک دفعہ پھر اسی عزیز کے دل میں یہ الفاظ ڈالے گئے ۔ ”غلام احمد قادیانی“ ”مسیح موعود ہرگز نہیں اعداد شمار کرنے پر پورے ١٨٩١ء نکلے جو مرزا قادیانی کا سنہ دعویٰ ہے۔
مرزا قادیانی نے اسی موقعہ پر آیت اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِه لَقَادِرُوْنَ سے یہ ثابت کر کے کہ قرآن مجید ١٢٧٤ھ میں آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔ پھر لکھا ہے۔ اب میں اس قرآن کو پھر زمین پر لے آیا ہوں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی طرف اشارہ تھا۔ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثریا لناله رجل من فارس
(ازالہ ص ٤٧ خزائن ج ٣ ص ٣٩٣ حاشیہ)
ان کے اس دعویٰ اور استدلال میں چند امور غور طلب ہیں۔
- ١...... مرزا قادیانی کو ثابت کرنا چاہیے تھا کہ ذَھَابٍ بِہٖ میں جو ضمیر ہے۔ اس کا مرجع
قرآن مجید ہی ہے۔ اس آیت سے ماقبل و بعد کی آیتیں ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن مجید ہے۔ آیات پر غور کرو۔ وَ أَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْأَرْضِ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِه لَقَادِرُوْنَ ٥ فَاَنْشَأْنَا لَكُمْ بِه جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ لَّكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ .
(المومنون ١٨)
ہم نے آسمان سے پانی اندازہ کے موافق اتارا اور ہم اس کے دور کر دینے پر قادر ہیں۔ پھر ہم نے پانی سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے۔ ان باغوں میں بہت میوے ہیں۔ جن سے تم کھاتے ہو ۔“ آیت میں صاف طور پر ”ماء“ کا لفظ موجود ہے۔ جس کی طرف ذَھَابٍ بِہٖ اور بِہٖ جَنّٰت کے ضمائر کا مرجع ہے۔ لیکن اگر اب بھی مرزا قادیانی اپنی ہٹ دھرمی پر ہی قائم رہے تو ان کو مناسب ہے کہ جس طرح ”ذَھَابٍ بِہٖ“ کی ضمیر کا مرجع قرآن شریف کو قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح بِہٖ جَنّٰت کی ضمیر کا مرجع بھی قرآن شریف ہی کو قرار دیں۔ اور پھر ہم کو ترجمہ بھی کر کے دکھلا دیں۔
- ٢...... مرزا قادیانی قرآن مجید سے قرآن مجید کا زمین سے اٹھایا جانا تو ثابت کرتے
ہیں۔ مگر قرآن مجید سے اس کا دوبارہ آنا ثابت نہیں کر سکتے۔ قرآن کے دوبارہ زمین پر آنے کا
ثبوت مرزا قادیانی ایک حدیث سے دیتے ہیں۔ اور یہ وہی طرز استدلال ہے۔ جس پر خود مرزا قادیانی حیات و وفات مسیح میں علماء پر اعتراض کیا کرتے ہیں۔ یعنی جب وہ بزعم خود آیات قرآنیہ سے وفات مسیح ثابت کرتے ہیں۔ اور علماء کرام اس کے مقابلہ میں احادیث رسول متضمن حیات مسیح کو پیش کرتے ہیں تو آپ فرمایا کرتے ہیں کہ قرآن مجید قطعی اور متواتر ہے اور احادیث ظنی یا زیادہ سے زیادہ مفید ظن لہذا جب قرآن مجید سے وفات مسیح ثابت ہوچکی۔ تو پھر حدیث ان کی حیات کو ثابت نہیں کرسکتی۔ پس اسی طرح اے جناب مرزا قادیانی۔ جب قرآن مجید سے قرآن مجید کا بقول آپ کے ١٢٧٤ھ میں دنیا سے اٹھ جانا ثابت ہوچکا۔ تو اب اس کا دنیا پر موجود ہونا آپ ثابت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ کا قابل اعتراض طرز استدلال اگر علماء کے لیے جائز نہیں تو آپ کے لیے بھی کیوں جائز ہوسکتا ہے۔
- ٣......مرزا قادیانی نے اپنی فارسی النسل والاصل ہونے کا ثبوت کچھ بھی نہیں دیا۔ بلکہ
سمرقندی الاصل ہونے کا اقرار (ازالہ ص ١٢٠ خزائن ج ٣ ص ١٥٩ حاشیہ) کرلیا ہے جس نے کسی پرائمری مدرسہ میں بھی جغرافیہ کی تعلیم پائی ہے اور نقشہ ایشیاء ایک آدھ دفعہ بھی دیکھا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ سمرقند فارس میں نہیں ہے اور اس سے بخوبی واضح ہوگیا کہ مرزا قادیانی حسب اقرار خود فارسی الاصل نہیں۔ اب رہا سمرقندی الاصل ہونا۔ سو یہ بھی غلط ہے۔ ان کا یہ بیان شاید صحیح ہو کہ بادشاہ چغتائی کے زمانہ میں ان کے اجداد سمرقند میں رہتے تھے۔ اور پھر دہلی آگئے۔ مگر جس طرح پر مرزا قادیانی نویں صدی سے چودھویں صدی تک ہندوستان میں رہنے سہنے اور بود و باش کرنے سے ہندی الاصل نہیں بنے اور نہیں کہلائے۔ اسی طرح سمرقند میں چند روزہ قیام آباء و اجداد سے وہ سمرقندی الاصل بھی نہیں ہو سکتے۔ تحقیق انساب و اقوام والے فاضل ایسے ادھورے اور ناقابل اطمینان بیان پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ مغل ہیں۔ اور مغل ہی مرزا کہلاتے ہیں۔ وہ پہلا بچہ جس کا نام والدین نے مغل رکھا تاتاری الاصل ہے جس کی نسل چینی تاتار اور دامان تبت میں پھیلی ہوئی ہے۔ چنگیز خان۔ ہلاکو خاں وغیرہ اسی نسل سے ہیں۔ ابوالفضل (جس نے سب سے پہلے خاندان مغل میں الہام کشف۔ ولایت معبودیت اور محبوبیت کے شرف ثابت کرنے میں بہت کچھ کوشش کی ہے اور جس کی تحریروں کو مرزا قادیانی نے بطور ارہاص سمجھ کر غالباً ان سے فائدہ بھی اٹھایا ہے) اسی تحقیق پر جزم کرتا ہے اور یہ سب تاریخی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی جو حدیث لَنَالَہٗ رَجُلٌ کے حوالہ سے فارسی الاصل بنے تھے۔ اور حدیث حارث
١٠٥
حراث کے حوالہ میں سمرقندی الاصل ہونے کے مدعی ہوئے تھے۔ وہ در حقیقت نہ فارسی الاصل ہیں نہ سمرقندی۔ بلکہ تاتاری ہیں۔ اور اس قوم میں سے ہیں۔ جس کو ابو داؤد کی حدیث میں امت کی ہلاک کنندہ قوم فرمایا گیا ہے۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک عالی نسب کی جانب خواہ مخواہ نسبت پیدا کرنے کے لیے اتنے ایچ پیچ ڈالے اور اس حدیث کے مورد خود ہی بنے۔ جس میں نسب بدلنے والے کے لیے سخت وعید ہے۔ حتیٰ کہ اس کا روزہ و نماز بھی قبول نہیں ہوتا۔ ان کو اور ان کے مریدوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب مرزا قادیانی کے کمالات ذاتی و کسبی نے شرافت نسبی و اضافی سے ان کو مستغنی کر دیا ہے تو نسب کے اعلیٰ ثابت کرنے کے لیے یہ اضطرار بیانی کیوں؟؟؟
- ٣...... مرزا قادیانی نے معنی حدیث بھی غلط کئے ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ لَوْ
كَانَ الْاِيْمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ہیں۔ اور ازالہ ص ٦٠٣ خزائن ج ٣ ص ٤٢٦ پر مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں کہ کان حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔ لہٰذا ترجمہ الفاظ حدیث یہ ہے کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو میرے اصحاب میں ایک ایسا شخص موجود ہے۔ جو اس کی طلب وہاں تک کرتا۔ یہ حدیث آنحضرت ﷺ نے سلمان فارسیؓ کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمائی تھی۔ حضرت سلمان فارسیؓ کا حال پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ کس طرح پر آپ نے سن شعور سے لیکر ضعف پیری تک دین حق کی تلاش میں اپنی عمر عزیز کو صرف کیا۔ اور کس طرح پر سینکڑوں مذہبوں اور ملتوں کے اصول و شرائع سے واقفیت پیدا کرتے۔ اور صراط المستقیم کو ڈھونڈھتے رہے۔ اور بالآخر اس سنت الٰہی کے موافق کہ خدا کسی کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا اور طالب حق کو محروم نہیں رکھتا شرف اسلام سے فائز ہوئے تو اس وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ اسلام اور یہ صراط المستقیم تو خدا نے دنیا میں ہی بھیج دیا ہے۔ اس کا تلاش کر لینا تو ان پر کیا دشوار ہونا تھا۔ اگر ایمان و اسلام ثریا پر بھی ہوتا۔ تو ان کی طلب پھر بھی مطلوب رس ہوتی۔ مرزا قادیانی جو اس حدیث کو اپنے زمانہ سے متعلق بتاتے ہیں اور اس حدیث کے تمسک سے دعویٰ کرتے ہیں کہ آسمان پر اٹھائے گئے قرآن کو میں دوبارہ دنیا پر لے آیا ہوں۔ وہ اس جگہ کان کو بمعنی ”سوف یکون“ لیتے ہیں۔ یعنی جب زمانہ دراز آئندہ میں ایمان آسمان پر ہوگا۔ لیکن اس ترجمہ میں علاوہ اس نحوی غلطی اور ازالہ کے صفحہ مذکورہ کے خلاف ہونے کے معاذ اللہ یہ بھی نکلتا ہے کہ رسول کریم کے عہد میں بھی نزول ایمان زمین پر نہ ہوا تھا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
- ٤...... مرزا قادیانی ابن مریم یعنی مسیح موعود بنتے ہیں اور پھر یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کی
مسیحیت سے پہلے قرآن مجید دنیا سے اٹھا لیا گیا تھا۔ حالانکہ حدیث شریف میں اس کے خلاف
ہے ۔ حج الکرامۃ صفحہ ٤٣٢ میں ۔ یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ الدجال کو قتل کریں گے۔ اور چالیس سال تک قیام کریں گے۔ کتاب اللہ اور میری سنت پر عمل کریں گے۔ پھر موت پائیں گے۔ مسلمان حضرت عیسیٰ کی جگہ ایک شخص کو قبیلہ بنی تمیم سے جس کا نام مقعد ہوگا۔ خلیفہ بنائیں گے۔ جب وہ بھی مرجائے گا۔ تو اس کی وفات کے بعد بیس سال پورے نہ ہوئے ہوں گے۔ کہ لوگوں کے سینہ میں سے قرآن اٹھا لیا جائے گا۔ رواہ ابوالشیخ عن ابی ہریرۃ مرفوعاً اس حدیث نے دو باتوں کا فیصلہ کر دیا۔ اول ...... یہ کہ آپ مسیح موعود نہیں۔ دوم ...... یہ کہ ہنوز رفع قرآن کا زمانہ نہیں آیا۔
ناظرین ! یہی بارہ علامات و دلائل ہیں۔ جو مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے پر پیش کی ہیں۔ جن کا اغلاط سے پر سقم مملو مغالطات سے بھرا ہوا ہونا مختصر طور پر عرض کیا گیا۔ ان بارہ علامات کی طرف ناظرین نظر غائر ڈال کر مکرر خیال فرمائیں کہ ایک حدیث یا ایک آیت بھی جو دلالت بلکہ اشارت بھی اس دعویٰ کی کرتی ہو۔ مرزا قادیانی اس تمام مضمون (مسیح موعود) میں پیش نہیں کر سکے۔ جن الفاظ حدیث کی تاویل کر کے ان کو اپنی طرف لگایا۔ ان کے اصل لفظ نہیں لکھے تاکہ کوئی سمجھ دار معلوم نہ کر سکے کہ اس تاویل کی موافقت ان الفاظ سے ہو نہیں سکتی۔ اس کے جواب میں آپ صاحبان غایت المرام میں اس عاجز کا لکھا ہوا مضمون ’’ابن مریم‘‘ ملاحظہ فرما ویں۔ جس سے واضح ہو جائے گا کہ مسیح موعود کون ہیں۔ اور ان کے علامات حدیث و کتاب اللہ میں کیا کیا درج ہیں۔ اس مقام پر بھی میں چند ایسے علامات کا تحریر کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ جن سے مرزا قادیانی کا مسیح موعود نہ ہونا یقینی اور قطعی طور پر معلوم ہو جائے۔
علامات مسیح و مہدی
- ١...... مسیح موعود کے زمانہ کی ایک علامت صحیحین کی متفقہ حدیث میں ہے۔ ویکثر
المال حتی لا یقبلہ احد (مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم) کہ مال کی اس زمانہ
١؎ مرزا قادیانی نے مال کی تاویل معارف اور اسرار کی ہے یعنی مسیح کے وقت میں اسرار قرآنی اور معارف ربانی بکثرت ظاہر ہوں گی۔ اس تاویل پر اول تو یہ اعتراض ہے کہ مریدوں کا ان معارف کو قبول نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ مسلم کی تفسیر نے اس تاویل کو بالکل ہی غلط کر دیا ہے۔ سوم مولوی محمد حسن امروہی مال سے مراد مال ہی رکھتے ہیں۔ اور مرزا قادیانی کے الہامات بمقابلہ آریہ صاحبان کو وہ مال قرار دیا ہے۔ جس کو آج تک کوئی حاصل نہیں کر سکا۔ ناظرین کے لیے پیر و مرید کا یہ اختلاف بیانی قابل دید ہے۔ پھر مسلم کی تفسیر نے جس میں زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر ہے پیر اور مرید دونوں کی تاویل کو غلط قرار دے دیا ہے۔
١٠٧
میں اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ مال کی تفسیر مسلم کی دوسری حدیث میں یہ ہے کہ انسان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو کوئی لینے والا نہ ملے گا۔
مرزا قادیانی جو اپنے پیش نہاد پنجگانہ سلسلوں کے لیے احباب سے مال کے خود ملتمس ہیں۔ وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔
- ٢...... مسیح موعود کے زمانہ کی دوسری علامت صحیحین میں ہے۔ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَة
الواحدة خير من الدنيا وَمَا فِيْهَا. (مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یعنی ہر انسان کی نگاہوں میں دنیا کی جاہ وحشمت مال و دولت بے قدر محض ہو جائیں گے۔ دنیا سے انقطاع تام حاصل ہوگا۔ اور رب العالمین کی جانب ایسا جذب کامل ہو جائے گا اور محبوب حقیقی کی محبت نفس اور طبیعت پر اس قدر غالب آ جائے گی کہ اگر تمام دنیا کی حکومت واقتدار اور دنیا بھر کے مال ومتاع کو ایک طرف اور صرف ایک سجدہ کو دوسری طرف رکھ کر مسلمان کو کہا جائے گا کہ دونوں میں سے وہ کسے پسند کرتا ہے۔ تو وہ سجدہ کو پسند کرنے اور اس ایک منٹ کو جو طاعت الٰہی میں صرف ہو مال پر ترجیح دینے میں ذرا بھی تامل نہ کرے گا۔ گویا زبان حال سے اس شعر کا ورد کرے گا۔
دیوانہ تو مال و جہاں راچہ کند
مسیح موعود کے زمانہ کی یہ برکت عام ہوگی۔ مرزا قادیانی کے زمانہ میں جو فسق و فجور پھیلا ہوا ہے جس قدر ارتکاب محارم ہو رہا ہے۔ زنا اور شراب کا استعمال امارت اور فخر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے توحید کو چھوڑ کر قبر پرستی تعزیہ پرستی کو اپنا دین ایمان سمجھ لیا ہے۔ کتاب اور سنت سے منہ موڑ لیا ہے۔ وہ نہ مرزا قادیانی سے پوشیدہ ہے۔ نہ ناظرین سے اُس لیے ثابت ہوا کہ وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔
- ٣...... مسیح موعود کے زمانہ کی تیسری علامت صحیح مسلم وابوداؤد وغیرہ میں یہ ہے۔ ’’اس
کے زمانہ میں تباغض وتحاسد ( باہمی بغض وحسد ) دور ہو جائے گا۔ انسان کے بچے سانپوں کے ساتھ اور شیر بکری کے ساتھ کھیلیں گے۔ تعصب کی زہریں نکل جائیں گی۔ اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا۔‘‘
(ملخص ازالہ ص ٥٩٤ خزائن ج ٣ ص ٤٢٠)
آپ نے یہی الفاظ لکھے ہیں اور ان کو بلا کسی تاویل کے قبول کر لیا ہے۔ بسم اللہ اسی کسوٹی پر اپنے دعویٰ کو کس لیجئے اور رسالہ شہادت القرآن کے آخری اشتہار خزائن ج ٦ ص ٣٩٦
١٠٨
پر نظر غائر فرمائیے کہ ”آپ نے خود اپنی قلم سے اپنے مبائعین کی درندگی وحوش طبعی۔ بدتہذیبی۔ آپس میں بدکلامی ۔ دشنام دہی۔ بلکہ فحش کلمات کے استعمال کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ اور حکیم نورالدین کی رائے لکھی ہے کہ یہ لوگ قادیاں آکر بجائے درست ہونے کے اور زیادہ خراب ہو جاتے ہیں اور آپس میں ذرا بھی پاس اور لحاظ نہیں کرتے۔ لہٰذا یہ سالانہ جلسہ بند کیجئے اور ان مریدوں کا اس طرح جمع ہونا مسدود فرمائیے ۔“ آپ کی شہادت اور اس پر حکیم نورالدین کی نورانی تصدیق نے ثابت کر دیا کہ آپ مسیح موعود نہیں ۔ اگر ہوتے تو تمام اسلامی دنیا میں محبت اور اتحاد پھیلا دیتے۔ نہ کہ مبائعین میں بھی وہ حالت پائی جائے ۔ جو کسی نام اور نمود کی مہذب سوسائٹی میں بھی نظر نہ آئے گی سچ ہے ۔ درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔
- ٤...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ان ہی کے اقوال ذیل شاہد ہیں ۔
- ا...... یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح
ہے ۔ جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے ۔
(ازالہ ص ٧٢١ خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)
- ٢...... صحیح مسلم اور بخاری کی متفق علیہ حدیثوں میں جو صحابہ کبار سے مروی ہیں۔ ابن
صیاد کو دجال معہود اور آخر مسلمانوں کی جماعت میں داخل کر کے مار بھی دیا ۔
(ازالہ ملخص ص ٢٢٤ خزائن ج ٣ ص ٢٢٣)
یہ اقوال صاف بتلا رہے ہیں کہ آپ مسیح موعود نہیں ۔ کیونکہ مسیح موعود نے خروج دجال معہود کے بعد آنا تھا۔ دجال معہود قبل از خروج مسلمان ہو گیا۔ اور تیرہ سو برس ہو چکے کہ مر بھی گیا۔
- ٥...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ان کا یہ اقرار شاہد صادق ہے ۔ ”ممکن اور
بالکل ممکن ہے کہ کوئی مسیح ظاہری جلال و اقبال کے ساتھ آئے۔ ممکن ہے کہ اس پر احادیث کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ جاویں۔“
(ازالہ ص ٢٠٠ ملخص خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
حکیم نورالدین اپنے خط میں جو ازالہ کے آخر میں لگا ہوا ہے۔ ایک سائل کو اطلاع دیتے ہیں کہ خود خاکسار نے جب مرزا قادیانی کے حضور میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا۔ ”میں نے تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے ممکن ہے کہ مثیل مسیح بہت آویں اور کوئی ظاہری طور پر بھی مصداق ان پیشین گوئیوں اور نشانات کا ہو ۔ جن کو میں نے روحانی طور پر الہاماً اپنے پر چسپاں کیا ہے ۔“
(مضمون نورالدین ملخصہ در آخر ازالہ ص ١ خزائن ج ٣ ص ٦٣٢)
مرزا قادیانی اور حکیم نورالدین کی تقریر سے جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ مسیح آئے گا۔ جو ظاہری طور پر احادیث کی پیشینگوئیوں اور رسول کریمؐ کے بتائے ہوئے نشانات کا مصداق ہو اور ظاہری جلال واقبال بھی اپنے ساتھ رکھتا ہوگا۔ جس کا ذکر حدیث شریف میں بہ تصریح وارد ہے اور وہ اوّل دمشق میں ہی اترے۔ تو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے ان علامات کو اپنی ذات پر چسپاں کرنے میں بڑی بھاری جرأت کی ہے اور اس لیے کہ موعود مسیح کی وہ علامات جن کا ظاہری طور پر ظہور ہونا رسول کریم ﷺ نے بیان کیا ہے اور انہی علامات سے ہم کو مسیح موعود اور مسیح مدعی میں فرق کرنے کے لیے ”فاعرفوہ“ فرمایا ہے۔ آپ میں پائی نہیں جاتیں لہٰذا ہم بعد شناخت کامل بیان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہیں۔ مسیح موعود ہی دمشق کے شرق میں اترنے والا اور ظاہری جلال واقبال والا ہے۔ جس کے نزول پر ہم مسلمان ایمانی طور پر اور مرزا قادیانی امکانی طور پر یقین رکھتے ہیں۔
جس وقت یہ مسیح موعود نازل ہوگا اور مرزائیوں سے دریافت کرے گا کہ تم نے باوجود نہ ہونے علامات بیان شدہ کے مرزا غلام احمد کو کیوں مسیح تسلیم کر لیا تھا اور کیوں خود مرزا کے اس تذبذب سے ”جو امکانی طور پر میرے نزول کی تسلیم میں“ اس کی تقریر کے اندر نمایاں تھا۔ مرزا کی اندرونی حالت اور خود اس کے دعاوی پر اسی کی بے اعتباری سے فائدہ اٹھا کر میرے منتظر کیوں نہ رہے تھے اور تَحْمَل النُّصُوْصَ عَلَى ظَوَاهِرِهَا کے اصول پر عمل نہ کر کے کیوں تم نے اپنے اعتقادات اور ایمانیات کو استعارہ اور مجاز پر قائم کر لیا تھا۔
تو اس وقت میں نہیں جانتا یہ لوگ کیا جواب دیں گے اور کیونکر مسیلمہ کا کلمہ پڑھنے والے (جو نبوت میں اپنے آپ کو اور آنحضرت ﷺ کو سہیم وشریک جانتا تھا اور آنحضرتؐ کی نبوت کی نفی نہ کرتا تھا۔) محمد رسول اللہ کی امت میں شریک ہوسکیں گے۔ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَاتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ ٥ (یٰسٓ ٣٠) کیا رسول علیہ السلام کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور بھی استہزاء ہوسکتا ہے کہ ان کے بتلائے ہوئے علامات اور مقرر کردہ نشانات والے مسیح کو تو امکانی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے (جس میں دونوں شقیں برابر ہوتی ہیں) اور اپنے آپ کو یقینی اور قطعی طور پر مسیح موعود کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
- ٦...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حضرت مسیح علیہ السلام کے یہ الفاظ ناطق
ہیں۔ انجیل میں ہے۔
١١٠
- ٢٢...... تب اگر کوئی تمہیں کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔
- ٢٣...... کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں
دکھاویں گے یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا۔ تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔
- ٢٤...... دیکھو۔ میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں۔
- ٢٥...... پس اگر وے تمہیں کہیں دیکھو۔ وہ جنگل میں ہے۔ تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ
کوٹھڑی میں ہے تو باور مت کرو۔
- ٢٦...... کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے۔ ویسا ہی انسان
کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔ (متی باب ٢٤)
ان الفاظ میں جناب مسیح نے اپنے آنے سے پہلے جھوٹے مسیح جھوٹے نبیوں کے آنے کی کیسی صاف پیشگوئی فرمائی ہے۔ مرزا قادیانی کا ان الفاظ کے مقابلہ میں یہ جواب کہ ”عیسائیوں میں جن لوگوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ تو جھوٹے مسیح ہیں اور میں سچا مسیح موعود ہوں“ بالکل ابلہ فریب جواب ہے۔ جناب چور وہیں پڑتا ہے۔ جہاں مال ہوتا ہے۔ موعود بننے کا دعویٰ وہیں کر سکتا ہے۔ جہاں کسی کے آنے کا انتظار ہوتا ہے۔ اس لیے ضرور تھا اور آئندہ بھی ہے کہ تا نزول مسیح علیہ السلام مسلمانوں میں جھوٹے مسیح پیدا ہوتے اور دعویدار بنتے رہیں۔ مرزا قادیانی سے پہلے ”ابن ہوذ“ نامی ایک شخص تھا۔ جس کے کئی ہزار مرید تھے۔ اور جو بڑی وجاہت اور شان کا آدمی تھا۔ وہ یہی دعویٰ کر چکا ہے۔ امام ابن تیمیہ الحرانی نے اس کو ساکت کیا تھا۔
- ٧...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر رزین کی وہ حدیث نص ہے۔ جس کے
راوی امام جعفر صادق سے لیکر علی المرتضیٰ تک (رضی اللہ عنہم اجمعین) کل ائمہ اہلبیت نبوی ہیں۔ رسول خدا نے فرمایا۔ وہ امت کیونکر ہلاک ہوگی۔ جس کے اوّل میں میں، بیچ میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
(مشکوٰۃ ص ٥٨٣ باب ثواب ھذہ الامۃ)
مرزا قادیانی جو خود ہی مہدی اور خود ہی مسیح بنتے ہیں۔ وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ حدیث بالا مہدی اور مسیح کو دو جدا جدا شخص بتلا رہی ہے۔ اور مسیح موعود اس کو قرار دیتی ہے۔ جو مہدی کے بعد آنے والا ہو۔
اگر حدیث کے تسلیم کرنے میں کچھ تامل ہو۔ تو نعمت اللہ ولی کا قصیدہ (جو مرزا قادیانی کے نزدیک ایسا معتبر اور قابل وثوق ہے کہ اس قصیدہ کو شائع کرنے کے لیے ایک علیحدہ رسالہ لکھا
١١١
اور اس کا نام نشان آسمانی قرار دیا) ایک بار پھر دیکھا جائے۔ اسی میں یہ بھی شعر ہے۔
مہدی وقت عیسیٰ دوران کے بیچ میں جو واؤ پڑا ہوا ہے۔ آپ بڑی آسانی سے اس کو واؤ تفسیر کہہ سکتے۔ جیسا وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ میں کہا ہے۔ مگر دوسرے مصرعہ میں ہر دو بھی موجود ہے۔ اور ترجمہ یہ ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دونوں کے دونوں شہسوار ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں بزرگوار میدان آراء جنگ آزما ہوں گے۔ اور سیفی فتح سے تمام دنیا کو مسخر کر دکھلائیں گے۔ جس کو مرزا قادیانی ناچیز سمجھتے ہیں۔
- ٨......مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر دلیل۔ ان کا یہ اقرار ہے۔ ”مسیح موعود جو
آنے والا ہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا“
(ازالہ ص١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
اب یا تو مرزا قادیانی اقرار کریں کہ میں نبی اللہ ہوں یا تسلیم فرمائیں کہ میں مسیح موعود نہیں۔
- ٩......مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے۔ جو جابرؓ سے
صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم میں ہے۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا اور قیامت تک غالب رہے گا۔ عیسیٰ بن مریم انہی میں نازل ہوں گے۔ گروہ کا امیر کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے نہیں تم آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ خدا نے اس امت کو اکرام دیا ہے ۔“ یہ حدیث چاہتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول اس گروہ میں ہو۔ جو شروع زمانہ اسلام سے لیکر مسیح کے آنے تک حق کے لیے جنگ وقتال کرنے والا اور اپنے جنگ و غزا میں نصرت و فیروزی رکھنے والا ہو۔ حدیث کا یہ بھی مطلب ہے کہ نزول عیسیٰ سے پہلے ایک ایسا امیر مسلمانوں میں موجود ہو۔ جس کی امارت تسلیم شدہ ہو۔ حدیث یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس امیر کی امارت کا حق ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تسلیم فرمائیں ۔ اور یہی امر ظاہر کرنے کے لیے نماز میں اس امیر کا اقتداء کریں۔
مرزا قادیانی جو مسیح موعود بنتے ہیں۔ اوّل...... یہ فرمائیں کہ ان کا نزول کونسی جنگ جو فتح یاب فرقہ میں ہوا ہے۔ دوم...... ان سے پہلے کونسا امیر المسلمین موجود تھا۔ جس کی امارت کو مرزا قادیانی نے تسلیم کر کے اس کی اقتداء کی ہے اور اس نے بھی آپ کی اطاعت بطوع کرنی چاہی ہے۔ ناظرین! اس کا جواب مرزا قادیانی ہرگز نہ دیں گے۔ مگر آپ یاد رکھیں کہ یہ امیر حضرت امام
١١٤
مہدی ہوں گے جن کا ذکر بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم کی حدیث عن ابو ہریرہؓ میں ان الفاظ میں ہے۔ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ مرزا قادیانی نے ان تمام اعتراضات سے بچنے اور ان قیود سے آزاد ہونے کے لیے اور ہی پہلو اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں لَا مَھْدِیْ اِلَّا عِیْسٰی ”عیسیٰ کے سوا اور کوئی مہدی ہی نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ آپ اس کو حدیث رسولؐ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ بڑے بڑے محدثین نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ ایک وضعی قول ہے جس کا کچھ اعتبار نہیں اور اس کے مقابلہ میں یہ بھی علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ مہدی کا ہونا۔ آخر زمانہ میں ظہور کرنا۔ رسول خدا ﷺ کی عترت اور جناب فاطمہ علیہا السلام کی اولاد سے ہونا احادیث نبوی سے حد تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر انکار کے کیا معنی؟ اسی لیے آیا ہے کہ جو شخص دجال کا یا مہدی کا انکار کرے گا۔ وہ کافر ہو جاوے گا۔ رواہ ابوبکر الاسکاف فی فوائد الاخبار۔ وابوالقاسم السھیلی فی شرح السیر لہ۔ شرح عقائد تفتازانی میں ہے۔ قول لا مھدی اِلّا عیسیٰ پر دھوکا نہ کھاؤ۔ یہ تو احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔
- ١٠...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر ابن الجوزی کی حدیث شاہد ہے۔ جس
کے یہ لفظ ہیں۔ ”عیسیٰ زمین میں اتر کر بیاہ کریں گے۔ ان کی اولاد ہوگی۔“ مرزا قادیانی جو قبل از دعویٰ مسیحیت کئی شادیاں کر چکے ہیں اور ان کی اولاد خدا کے فضل سے اس وقت نوکر چاکر بھی ہے۔ وہ اس کے مصداق نہیں ہو سکتے۔
- ١١...... مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حدیث ابو ہریرہؓ جو احمد اور ابن جریر کے
نزدیک ہے۔ شاہد ہے کہ حضرت مسیح مقام روحاء میں آ کر حج وعمرہ کریں گے۔
(مسلم ج ١ ص ٨٩٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)
میں نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللہ مرزا قادیانی کے نصیب میں نہیں۔ میری اس پیشگوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔
نوٹ...... یہ کتاب مرزا کی زندگی ١٨٩١ میں شائع ہوئی۔ اس کی اشاعت کے بعد سترہ سال مرزا قادیانی زندہ رہا۔ ١٩٠٨ء میں مرا۔ مگر مصنف کی پیشگوئی کے مطابق اسے حج کی توفیق نہ ہوئی۔ فالحمد للہ۔ اس سے مصنفؒ کی عند اللہ مقبولیت اور مرزا کی مردودیت ظاہر ہوئی۔ (فقیر اللہ وسایا)
ناظرین! میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو یہ مضمون پڑھ کر معلوم اور یقین ہو گیا ہے کہ کیا ان علامات کے اعتبار سے جن کو مرزا قادیانی نے علامات مسیح موعود
١١٣
قرار دے کر پھر ان کی تطبیق اپنی ذات پر کرنے میں سعی مذبوح کی ہے اور کیا ان علامات سے جن کا علامات مسیح ہونا ہمارے سید و مولیٰ محمد رسول اللہ ﷺ نے ظاہر فرمایا ہے۔ غرض بہرطور اور بہر دو صورت ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں ہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ خیر گو مرزا قادیانی کا مسیح موعود نہ ہونا تم نے ثابت کر دیا۔ مگر مثیل مسیح نہ ہونے کی منافی تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تو شاید مثیل مسیح تو وہ ضرور ہی ہوں۔ ”ناظرین! یہ بھی اس شخص کا وہم ہی ہے۔ اور ٹھیک یہی مثال رکھتا ہے کہ کوئی مجرم گاؤں میں اپنے آپ کو تھانہ دار ظاہر کرے اور لوگوں سے نذریں وغیرہ لیکر آگے کو چل دے۔ تھوڑی دیر بعد معلوم ہو جائے کہ وہ تھانہ دار نہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں نذر پیش کرنے والے رفع ندامت کے لیے کہیں۔ خیر اگر تھانہ دار نہ تھا۔ تو کانسٹیبل تو ضرور ہی ہوگا۔ مگر تھا کوئی ضرور۔ حاصل یہ ہے کہ ایمان اور صداقت اور راست بیانی ایسے اوصاف ہیں کہ جب ان کی نفی ہو جاتی ہے۔ تو آدمی میں کوئی صفت بھی باقی نہیں رہتی۔ مماثلت پر مفصل بحث ہماری کتاب غایت المرام میں ہے۔
اسی مضمون کے خاتمہ پر میں مرزا قادیانی کے مضمون ”قریب تر با من و نزدیک تر بسعادت“ کون لوگ ہیں۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے۔ یا وہ لوگ جو منکر ہو گئے۔“ پر بھی کچھ گذارش کرنا چاہتا ہوں۔ اس مضمون میں مرزا قادیانی نے معتقدین اور مبائعین کو جو انوار و برکات حاصل ہوئی ہیں۔ ان کا بیان کیا ہے۔ تمہیدی الفاظ میں ہی لکھا ہے۔ ”وہ لوگ ہر ایک خطرہ کی حالت سے محفوظ و معصوم ہیں۔“
ناظرین۔ انہی الفاظ پر غور کرو۔ ہر ایک خطرہ سے محفوظ ہونے والے اور معصوم بننے والے یہ کون؟ مقام خوف وہ مقام ہے کہ بڑے بڑے اولوالعزم رسول ہیبت و خوف سے کانپا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا تصفیہ فرما دیا ہے۔ فَلَا يَامَنُ مَکْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (اعراف ٩٩) سورہ یوسف ٥٣ میں ہے وَمَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوْءِ (میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا۔ کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا ہی حکم دیتا ہے۔“ عثمانؓ بن مظعون کے جنازہ پر آنحضرتؐ نے فرمایا۔ والله لا ادری ما یفعل بی محمد معجم (کبیر ج ٩ ص ٣٧ نمبر ٨٣١٧) بخدا میں نہیں جانتا بخدا میں نہیں جانتا۔ حالانکہ میں رسول خدا ہوں کہ میرے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا۔ اور تمہارے ساتھ کیا؟ ابن مسعودؓ کی حدیث میں ہے۔ الجنة اقرب الی احدکم من شراک نعله والنار مثل ذلک (رواه البخاری ج ٢ ص ٩٦٠ باب
١١٤
الجنۃ اقرب الی احدکم) بہشت اور دوزخ تو تمہارے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادہ تم سے قریب تر ہیں۔“ حضرت انسؓ کی حدیث میں ہے۔ تم وہ عمل کرتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ تر باریک ہیں۔ ہم ان کو عہد رسول اللہ ﷺ میں مہلکات سے شمار کرتے تھے۔
(رواہ البخاری ج ٢ ص ٩٦١ باب ما یتقی من محقرات الذنوب)
یہ ارشادات ان مقتدایان ملت اور انبیاء کرام کے ہیں۔ جن کی عصمت پر نص قطعی موجود ہے۔ جن کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ خوف اور خشیت خدا اور بیم ورجا سے خالی نہ ہوتا تھا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا۔ جو کچھ میں جانتا ہوں۔ واللہ اگر تم جان لو تو ہنسو کم اور گریہ کرو بہت‘ عورتوں سے فرش پر لذت نہ پاؤ۔ راہوں میں نکل بھاگو۔ اور خدا سے فریاد کرو (ترمذی ج ٢ ص ٥٧ ابواب الزہد عن ابی ذرؓ) باوجود ایسے نصوص شرعیہ و قطعیہ کے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو خطرہ سے محفوظ سمجھتا ہے۔ تو بحکم آیت خَاسِرِیْنَ میں داخل ہے۔ اب رہا۔ مریدان جناب (مرزا) کا خطرہ سے معصوم ہو جانا۔ یہ خاصہ انبیاء کا ہے۔ اور وہ باوجود معصوم ہونے کے بھی ڈرتے رہے ہیں۔ اوّل۔ آپ نے عاجز و گنہگار بندوں کو معصوم بتایا۔ اور پھر خشیت اور خوف کی صفت سے خالی کر کے ان کو ہلاکت کے قریب کر دیا۔ جس طرح نصاریٰ فضل پر بھروسہ کر کے بیٹھ گئے۔ صدق اعمال ان سے اٹھ گیا۔ حسن عبادت جاتا رہا۔ وہی حال ان بیچاروں کا بھی ہونے والا ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہو رہا ہے۔ میں تو مرزا قادیانی کے جتنے مریدوں سے واقف ہوں اور بیعت سے پہلے کی واقفیت رکھتا ہوں۔ ان کی حالت ماسبق و مابعد پر اکثر احتیاط اور غور سے فکر کیا کرتا ہوں تو ان کو بدترین حالت میں پاتا ہوں۔ ان میں سنن ہدیٰ بہت کم نظر آتے ہیں۔ اوقات صلوٰۃ کے بھی پابند نہیں ہوتے۔ خیر اب ناظرین ان انوار و برکات کی تفصیل سنیں جو مرزا قادیانی نے فرمائی ہیں۔
- ١۔ ..... ”ان لوگوں نے اپنے بھائی پر حسن ظن کیا ہے۔ اور اس کو مفتری یا کذاب نہیں
ٹھہرایا اور اس کی نسبت طرح طرح کے شکوک فاسدہ کو دل میں جگہ نہیں دی۔ اس وجہ سے اس ثواب کا انہیں استحقاق ہوا کہ جو بھائی پر نیک ظن رکھنے کی حالت میں ملتا ہے۔“
(ازالہ ص ١٨٠ خزائن ج ٣ ص ١٨٦)
ناظرین! حسن ظن ایک عمدہ صفت ہے اور بیشک ہر مسلمان کو ہر مسلمان پر ہونی چاہیے۔ مگر حسن ظن اس کا نام نہیں ہے کہ ایک شخص پر حسن ظن کرتے کرتے تمام سلف و خلف صلحاء و علماء سے سوء ظنی پیدا ہو جائے اور صرف ایک شخص کو مفتری یا کذاب نہ کہنے کے لیے صحابہ اور
١١٥
تابعین تک کو ملحد ومحرف تسلیم کرلیا جائے۔ (معاذ اللہ)
میں سچ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی سے حسن ظن صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب جملہ مفسرین ومحدثین فقہاء وتابعین ائمہ وصحابہ اجمعین کی طرف سے سخت سخت شکوک اور بدظنیوں کو دل میں مستحکم کرلیا جائے۔ اگر ابو ہریرہؓ روایت حدیث کے ساتھ وَاِنْ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ سے حیات عیسیٰ ثابت کرتے ہیں تو کیا کریں؟
اگر ابن جریر وابن کثیر تفسیر طبری جز٦ ص ١٨ وامام احمد باسناد صحیح ابن عباسؓ سے اس آیت ان من اھل الکتاب میں حیات اور نزول مسیح بیان کرتے ہیں تو خیر وہ بھی بیان کیا کریں؟
اگر ضحاک اور قتادہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ کے معنی رَافِعُكَ ثُمَّ مُتَوَفِّیْكَ فِیْ آخر الزمان روایت کرتے ہیں۔ تو خیر وہ بھی روایت کرتے رہیں؟
اگر امام حاکم وابن مردویہ طبرانی اور ابن ابی حاتم حضرت ابن عباسؓ سے اِنَّہٗ لعلم للساعة میں نزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ کی تفسیر کرتے ہیں۔ تو خیر یہ بزرگوار بھی اپنی کتابیں اپنے پاس رہنے دیں؟
اگر عبد بن حمید نے انہ لعلم للساعة میں ابو ہریرہؓ کا مذہب بھی یہی نقل کیا ہے کہ قبل از قیامت حضرت مسیح علیہ السلام تشریف فرمائے دنیا ہوں گے۔ تو وہ بھی اس نقل کو اپنے پاس رکھ چھوڑیں؟
اور اگر رئیس المفسرین ابن جریرؒ نے سند متصل وصحیح کے ساتھ حضرت امام حسن بصریؒ سے جو جملہ اہل کشف وشہود اولیا وعلماء کے امام وسرگروہ ہیں۔ ان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ میں حیات عیسیٰ بیان کرتے ہوں۔ اور وَاللّٰهِ انه لحی الآن عند اللہ. ولكن إِذَا نزل امنوا به اجمعون فرماتے ہوں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ بخدا حضرت عیسیٰ اس وقت خدا کے پاس ضرور ہی زندہ ہیں۔ مگر جب نازل ہوں گے۔ تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے تو خیر قسم کھایا کریں؟
اگر کعب بن احبار۔ قتادہ۔ مجاہد آیات بالا میں نزول اور حیات مسیح ثابت کرتے ہوں۔ تو کیا کریں؟
اگر معالم وبیضاوی۔ کشاف ودرمنثور وبحر مواج وغیرہ آیات صدر میں معانی بالا پر جزم
١١٦
کرتے ہوں۔ تو کیا کریں؟ اگر سلف وخلف کا اجماع واتفاق اسی عقیدہ پر رہا ہو۔ تو ہوا کرے؟ اگر خروج دجال کی احادیث کے راوی ٣٥ صحابہؓ ہوں۔ تو ہوا کریں۔ اگر قتل دجال و نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کے راوی ١٣٠ صحابہؓ ہوں۔ تو خیر؟ مگر وہ حسن ظن جو ایک بھائی کو بھائی سے ہونا چاہیے۔ وہ مانع ہے کہ مرزا قادیانی کو کاذب اور مفتری خیال کیا جائے۔ مرزائی حسن ظن کے یہ معنی کس نے کئے ہیں کہ تمام جہان کے عقلائے ملت وعلماء دین ایک طرف ہوں اور ایک مدعی ایک طرف پھر بھی وہ حسن ظن ہی چلا جائے؟
یقین رکھئے کہ یہ بہت بڑی خرابی ہے جو واقع ہورہی ہے۔ اس کا انجام بخیر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی اس کے بعد دوسری خوبی یہ بتلاتے ہیں۔
٢..... ”دوسری یہ کہ وہ حق کے قبول کرنے کے وقت ملامت کنندہ کی ملامت سے نہیں ڈرے اور نہ نفسانی جذبات ان پر غالب ہو سکے۔ اس وجہ سے وہ ثواب کے مستحق ٹھہر گئے۔ کہ انہوں نے دعوت حق کو پا کر اور ایک ربانی مناد کی آواز سن کر پیغام کو قبول کر لیا۔ اور کسی طرح کی روک سے رُک نہیں سکے۔
(ازالہ ص ١٨٠ خزائن ج ٣ ص ١٨٦)
ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمان صدق دل سے اعتقاد رکھتے ہیں کہ داعی الی اللہ اور ربانی مناد محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ اور آنحضرتؐ کے ان دونوں مراتب رفیعہ کا ذکر قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے۔ یَاقَوْمَنَا اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوْا بِہ یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (احقاف ٣١) دوسری جگہ ہے۔ وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِہ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا. (احزاب ٤٦) حدیث میں ہے۔ فالداعی محمد و الماوبۃ الجنۃ. ربانی مناد کا اس آیت میں ذکر ہے رَّبَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْبِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَا. (آل عمران ١٩٣) پس جن لوگوں نے محمد ﷺ کو داعی الی اللہ قبول کر کے اس کی دعوت حق کو قبول کر لیا ہے۔ اور احمد مصطفیٰ ﷺ کو ربانی مناد صدق دل سے جان کر ان کی ندا کو گوش جان سے سن لیا ہے۔ وہ مجبور ہیں کہ کسی اور کو داعی الی اللہ سمجھیں۔ یا اس کی دعوت کو دعوت حق قرار دیں۔ چونکہ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتؐ سے بڑھ کر کوئی دعوت حق نہیں کر سکا اور کسی کی ندا اس مبارک ندا سے زیادہ شیریں اور روح بخش نہیں ثابت
١١٧
ہوئی اس لیے اس مبارک دعوت اور ندا کے بعد اور جتنی دعوتیں اور ندائیں ہیں۔ وہ سب گمراہی اور ضلالت کی دعوت اور ندائیں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ۔ (یونس ٣٢) پس یہ دوسری مصیبت ہے۔ جو مبائعین مرزا قادیانی پر نازل ہو چکی اور نازل ہو رہی ہے۔ جس مصیبت کا گرنا ان کو برف باری کی طرح خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ مگر تھوڑی دیر میں وہ خوش آئند منظر مہلک ثابت ہوگا۔
- ٣...... تیسری بات مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”پیشگوئی کے مصداق پر ایمان لانے کی
وجہ سے وہ ان تمام وساوس سے مخلصی پاگئے کہ جو انتظار کرتے کرتے ایک دن پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور آخر یاس کی حالت میں ایمان دور ہو جانے کا موجب ٹھہرتے ہیں“
(ازالہ ص ١٨٠ خزائن ج ٣ ص ١٨٦)
ناظرین! یہ تیسری برکت ہے جو مبائعین کو مرزا قادیانی سے حاصل ہوئی۔ اگر مرزا کے مبائعین کا ایمان یہی ہے کہ وہ ہر چیز پر مشاہدہ کے بغیر ایمان نہیں لا سکتے۔ اگر مبائعین کی اتنی ہی عقل ہے کہ وہ ہر ایک پیشگوئی کو جو ان کے عہد حیات میں پوری نہ ہو..... قبول نہیں کر سکتے اور اگر وہ ایسے دل کے بودے۔ طبیعت کے کمزور ایمان کے کچے ہیں کہ خدا کے وعدوں اور مصلحتوں اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادوں کو وہ اپنی پیدا شدہ وساوس کا دافع نہیں جانتے۔ تب مرزا قادیانی بخوبی یقین رکھیں کہ وہ ان لوگوں کو وساوس سے مخلصی نہیں دے سکتے اور ان کا ایمان جو حالت یاس سے دور ہونے لگ گیا ہے قائم نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ مسیح موعود کی پیشگوئی پر جب یہ وساوس کرنے اور پھر ایمان چھوڑنے لگے۔ تب تو مرزا قادیانی نے احسان فرما کر خود دعویٰ کر دیا اور ان کی روک تھام کر لی۔ لیکن کل کو جب یہ قیامت کے وجود پر وساوس قائم کریں گے اور وہی انتظار کی وجہ سے حالت یاس پیدا ہو کر ازالہ ایمان ان کا ایمان ہو جائے گا۔ تب مرزا قادیانی کیا تدبیر فرمائیں گے۔ آپ کے پنجاب کی ایک مثل ہے اَجُ نَہیْقِی کَلُ نَہیْقِی کَمْسُو بِھوتَے سدا نُہیْقَتِی ہاں اگر حسن بن محمد بن کیا بزرگ امید کی آپ نے تقلید کی اور قیامت موعودہ بھی اپنے نفس ہی کو ٹھہرایا۔ تب تو کیا کہنے ہیں۔
غرض یہ تیسری مصیبت ہے کہ ایک پیشگوئی کے انتظار سے اگر آپ نے مریدان عقیدت کیش کو رہائی بخشی ہے تو اور سینکڑوں آنے والی اور ظاہر ہونے والی پیشگوئیوں کی نسبت ان کے دلوں میں وساوس اور اوہام پیدا کر دیئے ہیں اور قریب ہے کہ جلد باز جب ان ربانی وعدوں کا
١١٨
انتظار نہ کر سکیں گے اور مصلحت الہی پر یقین نہ رکھیں گے تو سب کے سب منکر ہو جائیں گے اور وہ وقت بھی آ پہنچے گا۔ جب لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْ أَصْحٰبِ السَّعِيْرِ کہنے کی ان کو ضرورت پڑے گی۔
- ٤...... چوتھی بات مرزا قادیانی یہ بتاتے ہیں ”کہ وہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر
ایمان لا کر اس سخت اور غضب الہی سے بچ گئے۔ جو ان نافرمانوں کے حصہ میں ہوتا ہے کہ جن کے حصہ میں بجز تکذیب و انکار کے اور کچھ نہیں“
(ازالۃ ص ١٨١ خزائن ج ٣ ص ١٨٧)
ناظرین۔ خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا بندہ یہ الفاظ عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ کا ترجمہ ہیں اور ہم رب کریم کو شاہد بنا کر صدق دل سے پڑھتے ہیں۔ نَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ ۔ ہمارا ایمان ہے کہ محمد ﷺ کے بعد جو شخص اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا بندہ کہتا ہے۔ وہ اس حدیث کا مورد ہے۔ سَيَكُوْنُ فِيْ اُمَّتِيْ دَجَّالُوْنَ كَذَّابُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِيُّ اللهِ ۔
(ترمذی ج ٢ ص ٤٥ ابواب الفتن)
پس یہ چوتھی مصیبت ہے۔ جو مرزا قادیانی کے مبائعین پر نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا مان کر آیت خاتم النبیین کا انکار کیا۔ اور اس انکار سے اس مقت اور غضب الہی کے مستوجب ٹھہر گئے۔ جو محمد رسول اللہ کی نبوت کے منکرین کے لیے ہے۔ مرزا قادیانی ! اگر ہر دعویٰ کرنے والا زبان دراز محض ادعا اور زبان درازی سے خدا تعالیٰ کا نبی بن سکتا ہے۔ تب آپ سجاح اور مسیلمہ اور اسود کا کیوں انکار کرتے ہیں؟
- ٥...... پانچویں بات مرزا قادیانی نے بتائی کہ ”وہ ان فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر
گئے ۔ جو ان مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں۔ جو حسن ظن سے اس شخص کو قبول کر لیتے ہیں۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔“
(ازالۃ ص ١٨١ خزائن ج ٣ ص ١٨٧)
” یہ تو وہ فوائد ہیں ۔ جو انشاء اللہ الکریم ان سعید لوگوں کو بفضلہ تعالیٰ ملیں گے۔ جنہوں نے اس عاجز کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے۔ وہ ان تمام سعادتوں سے محروم ہیں۔“
(ازالۃ ص ١٨١ خزائن ج ٣ ص ١٨٧)
مرزا قادیانی ...... یہ پانچویں برکت تو وہی ہے۔ جو پہلی تھی۔ آپ نے خواہ مخواہ ١٥ سطروں کے بعد اس کو نئی برکت بنانا چاہا۔ ”الحمد للہ رب العالمين“ آپ کے وجود باجود سے مبائعین کو جو فیوض و برکات حاصل ہونے والے ہیں۔ (بزمانہ مستقبل) ان کی تفصیل و تشریح
١١٩
آپ نے خود ہی فرمادی۔ جناب یہ تو وہ فوائد ہیں جو برہم سماجیوں کو کیشپ چندرسین سے اور دیودھرمیوں کو اگنی ہوتری لاہوری سے۔ دتے شاہیوں کو اپنے پیر سے۔ آریہ کو دیانند سرستی سے حاصل ہو چکی ہیں۔ اس میں مسیح موعود نے کیا طرہ لگا دیا۔ اب آپ اگر ان سعادتوں کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں۔ جو آپ کو قبول نہ کرنے والوں اور رد کر دینے والوں کو پہلے سے حاصل و شامل ہیں اور آپ کے انکار سے اور زیادہ ہو گئے ہیں۔ تو میں سچ کہتا ہوں کہ ان کی تفصیل کے لیے دفتر ضخیم بھی کافی نہیں۔ سب سعادات سے اعلیٰ و افضل اجمل واکمل اتباع سنت نبوی کی سعادت ہے۔ جس کے لیے قرآن مجید فرماتا ہے۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ. (آل عمران ٣١) نیز ارشاد ہے ان تطیعوہ تھتدو یعنی محمدؐ کی اطاعت کرو گے۔ تب ہدایت پاؤ گے۔
مرزا قادیانی ...... آپ نے دافع الوساوس میں بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ کی تفسیر کرتے ہوئے ہر ایک مدعی اسلام کے لیے فنا و بقا اور لقا کے مدارج کا ذکر فرمایا ہے۔ خیر مدعی اسلام تو برطرف۔ میں گستاخانہ سوال کرتا ہوں کہ آپ کے مریدان با عقیدت کو یہ مراتب کیوں حاصل نہیں ہوئے اور ان انوار و برکات سے کس لیے محروم رہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وساوس میں ان مضامین کو صوفیہ کی کتابوں سے اخذ کر کے لکھ تو دیا۔ ورنہ نہ خود آپ کو یہ منصب حاصل ہے۔ اور نہ تاحشر آپ کے کسی متبع اور معتقد کو ان ہر سہ مراتب میں سے کوئی مرتبہ مل سکتا۔ یا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ سچے ہیں تو اقتداری کن کا جلوہ خود دکھلائیں یا کسی مرید کو پیش کریں۔
پیارے ناظرین۔ اس مضمون کو غور سے ملاحظہ فرمائیں۔ حق تعالیٰ آپ کی بصیرت کو زیادہ کرے۔ مرزا قادیانی کو اپنے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں اتنا تو غلو ہے کہ انہوں نے یہ بھی لکھ مارا۔ ”اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں غلطی پر ہے۔ تو آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے۔ انہی دنوں میں آسمان سے اتر آوے۔ کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں۔ مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آئے تاکہ میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں۔ تو سب مل کر دعا کریں کہ مسیح بن مریم جلد آسمان سے اترتے دکھائی دیں۔“
(ازالہ ص ١٥٥ خزائن ج ٣ ص ١٧٩)
مرزا قادیانی ...... ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب کام حکمت کے ساتھ ہیں اور ہر
چیز کا اس نے اندازہ کر رکھا اور ہر کام کا ایک وقت مقرر فرما دیا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کوئی چیز اندازہ سے باہر نہیں۔ کوئی کام ایک ساعت آگے یا پیچھے نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح نازل ہوں گے۔ خواہ ہم شرف زیارت سے مشرف ہوں۔ یا اس مسعود وقت سے پہلے اپنے انفاس وحیات پورے کر کے تہ خاک چلے جاویں۔ بہر حال ہم کو نزول مسیح پر وہی ایمان ہے۔ جس کو سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ نے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا ہے لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ لَمَا ازْدَدْتُ يَقِيْنًا۔ اب رہا آپ کا فرمانا۔ مسیح کو جلد بلا لو۔ ابھی بلا لو۔ اسی زمانہ میں بلالو اس کے جواب میں ہم صرف وہی آیات پڑھ دینا کافی سمجھتے ہیں۔ جو منکرین قیامت کی ایسی ایسی بیہودہ گوئیوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تعلیم فرمائیں۔ وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ. (یونس ٤٨) کہتے ہیں یہ وعدہ کب کا ہے (اور کہاں ہے) اگر تم سچے ہو۔ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيْئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ (ملک ٢٦)
کہہ دے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور میں تو ڈر سنانے والا ہوں ظاہر، پھر جب دیکھیں گے کہ وہ ان سے نزدیک ہے۔ تب نافرمانوں کے منہ برے برے ہو جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا۔ یہ ہے جو تم اس وقت مانگتے تھے۔
ناظرین۔ مرزا قادیانی یہاں بھی اپنی چالاکی سے نہیں چوکے اور اس اعتراض کا کہ دعا سے مسیح کا اترنا ضروری ہے۔ جواب خود ہی دینا چاہا ہے۔ ”اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعا اہل باطل کے مقابل پر قبول ہونی ضروری نہیں۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندوؤں کے مقابل پر مسلمانوں کی دعا قیامت کے بارہ میں قبول ہو کر ابھی قیامت آ جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گذرنے سے پہلے واقع نہیں ہو سکتی۔ اور ضرور ہے کہ خدا اسے روکے رہے۔ جب تک وہ ساری علامتیں کامل طور پر ظاہر نہ ہو جائیں۔ جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں لیکن مسیح کے ظہور کا وقت تو یہی ہے۔ ......اور وہ تمام علامتیں بھی پیدا ہو گئیں۔ جن کا مسیح کے وقت پیدا ہونا ضروری تھا۔“
(ازالہ ص ٤٦٣ خزائن ج ٣ ص ٣٤٧)
اس بیان میں ہمارے اعتراض کو مرزا قادیانی در حقیقت اٹھا نہیں سکے۔ بلکہ دو اور مغالطے لکھ مارے۔
- ١۔...... یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس گذرنے سے پہلے واقع نہیں ہو
١٢١
سکتی۔ اس فقرہ میں آپ نے نصوص قطعیہ فرقانیہ اور احادیث نبویہ کا بھی خلاف کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے مکر و غضب سے لوگوں کو بے خوف کر دینا بھی چاہا۔ قرآن مجید کی دربارہ قیامت یہ تعلیم ہے۔ لاَ يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَا اِلَّا هُوَ. (اعراف ١٨٧) اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت کا یہ ارشاد موجود ہے۔ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهُ اَعْلَمُ مِنَ السَّائِلِ
(مشکوۃ ص ١١ کتاب الایمان)
یعنی اے جبرائیل جیسی تمہیں خبر نہیں ویسی مجھے بھی نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔ دوسری حدیث میں ہے۔ اسرافیل صور کو منہ سے لگائے۔ ایک پاؤں پیچھے ایک آگے کئے ہوئے کھڑا ہے۔ کان آواز پر لگے ہوئے ہیں اور آنکھیں عرش کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ کیا جانے کس وقت حکم آپہنچے۔ پس مرزا قادیانی نے سات ہزار برس سے پہلے قیامت نہ آسکنے کا عقیدہ بالکل اسلام کے خلاف بیان کیا ہے۔
- ٢...... دوسرا مغالطہ آپ کا یہ ہے کہ ابن مریم کے آنے کی علامات پوری ہوچکی ہیں۔
جن لوگوں کی احادیث پر نظر ہے۔ یا جنہوں نے کم از کم غایت المرام میں ہمارا مضمون ’’زمانہ نزول مسیح‘‘ اور اس رسالہ میں مضمون ’’امام محمد بن عبداللہ المہدی پڑھا ہے۔ وہ آپ کے قول کی تکذیب بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور حاصل کلام جس پر اس مضمون کا خاتمہ ہے۔ یہ ہے کہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا نہ کوئی ثبوت ہی پیش کیا اور نہ مسیح موعود کی صفات کا اپنے اندر ہونا ہی ثابت کر دکھلایا۔ غرض کیا ان دلائل کی قوت سے جو مسیح موعود کے بارہ میں ہم اپنے پاس رکھتے ہیں اور کیا ان اباطیل کی لغویت سے جو آپ نے اس بارہ میں پیش کی ہیں۔ بخوبی ظاہر ہوگیا کہ آپ مسیح موعود ہرگز نہیں اور اس دعویٰ کے ثبوت کے لیے قرآن وحدیث میں سے ایک لفظ بھی مرزا قادیانی کے پاس موجود نہیں۔
۞ ۞ ۞
١٢٢
الہام ومکاشفہ
لغت میں الہام کسی شخص کے حلق میں کھانا ڈالنے کو کہتے ہیں۔ اس طرح پر کہ اس شخص کو ہونٹ اور دانت ہلانے نہ پڑیں۔ اب اصطلاح شرعی میں الہام کسی امر کے اس داعیہ کو کہتے ہیں جو دل میں کسی پہلے فکر کے بغیر پیدا ہو۔
الہام ربانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی
(ازالہ ص ٦٢٨ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
پس اس لیے کہ الہام ربانی اور شیطانی دونوں قسموں کا ہوتا ہے۔ بزرگان دین نے اس کی شناخت کے لیے ایک معیار قائم کیا ہے۔ یعنی کتاب اور سنت اور قرار دیا ہے کہ جب تک اس کی آزمائش نہ کر لی جائے تب تک الہام کو ربانی الہام کہنے کی جرأت نہ کرنی چاہیے۔
الہام کی یہ تعریف جو ہم نے کی ہے۔ ایسی واضح ہے جس پر تمام سلف وخلف کا اتفاق ہے اور وہ بزرگ جن کی تحقیقات شریف تصوف اور علم میں تازگی کی روح ڈالنے والی ہے۔ سب کے سب ایسے ہی الفاظ لکھ گئے ہیں۔
بیہقی وقت قاضی ثناء اللہؒ ارشاد الطالبین میں لکھتے ہیں کہ الہام اولیاء موجب علم ظنی ہے اور اگر دو ولیوں کا کسی ایک الہام میں اتفاق کلی ہو جائے۔ تو اس کا درجہ ظن غالب کا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے جو احاد میں سے ہو۔ بلکہ کسی قیاس کے جو شرائط قیاس کا جامع ہو۔ مخالف ہوگا۔ تب اس جگہ حدیث کو بلکہ قیاس کو الہام پر ترجیح دینی چاہیے۔’ اس کے بعد قاضی صاحب لکھتے ہیں۔ یہ مسئلہ سلف اور خلف میں مجمع علیہ ہے۔
ابو سلیمان دارانیؒ کہا کرتے تھے۔ الہام پر عمل نہ کرو۔ جب تک اس کی تصدیق آثار سے نہ ہو جائے۔
(احیاء العلوم)
پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فتوح الغیب میں لکھتے ہیں۔ الہام اور کشف پر عمل کرنا نا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث نیز اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔
١٢٣
عروۃ الوثقی خواجہ محمد معصوم قدس سرہ اپنے مکتوب نمبر ٧٧١ میں لکھتے ہیں کہ کشوف اور منامات اور بشارات صحیحہ صادقہ اور ان کے خلاف میں فرق کرنا دشوار ہے۔ پس ان پر اعتماد کرنا نہ چاہیے اور ان کو اتنا معتبر نہ خیال کرنا چاہیے کہ کمال معتد بہ انہی سے لگا ہوا ہے۔ بیشک اعتماد کے لائق اور نجات دینے والی تو صرف کتاب اور سنت ہے۔ پھر لکھتے ہیں۔ جو لوگ بلند ہمت ہوتے ہیں وہ ایسے امور کی طرف التفات نہیں کرتے۔ کشف کے معنی لغت میں کھلنے اور آشکار ہونے کے ہیں۔ اصطلاح صوفیہ میں کسی ایسے امر کو جو حواس ظاہرہ کے بغیر معلوم ہوجائے کشف کہتے ہیں۔
اس کے چند اقسام ہیں ١....... نوم و رؤیا یعنی خواب میں کسی امر کا دیکھنا۔ واضح ہو کہ منامات میں روح کے ساتھ نفس کا بھی تعلق ہوتا ہے اور اس لیے اکثر خواب یا خواب کا بیشتر حصہ صحیح نہیں ہوتا۔ صرف انبیاء کرام ہی کی یہ شان ہے۔ جن کے خواب بعینہ صحیح ہوتے ہیں۔ اور ان میں تعبیر کی یا تو بالکل ہی ضرورت نہیں پڑتی۔ یا بہت ہی کم۔ جیسا کہ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢ باب کیف کان بدء الوحی) میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آغاز کار نبوت میں رسول اللہ ﷺ جو خواب شب کو دیکھتے صبح کو نور صبح کی طرح اسی طرح دیکھ لیتے تھے یا جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن نے اپنے خواب میں فرزند کو خود ذبح کرتے ہوئے دیکھا۔ تو ذبح کا قصد مصمم کر لیا اور اس کی تعبیر نہیں کی۔ یا حضرت یوسف علیہ السلام نے کواکب وقمرین کا اپنے آپ کو مسجود پایا اور بھائیوں اور والدین کو سجدہ شکرانہ کرتے ہوئے هٰذَا تَأْوِیْلُ رُؤْیَایَ۔ فرما دیا۔
٢....... واقعہ یعنی اثناء ذکر و استغراق میں ایسی حالت آ کر طاری ہو جائے کہ محسوسات غائب ہو جائیں اور بعض امور غیبی کے بعض حقائق کھل جائیں۔ جیسے نائم پر حالت نوم میں کھل جاتے ہیں۔ ان میں بھی نفس اور روح مشارک ہوتے ہیں۔
٣....... مکاشفہ اس میں واقعہ کی طرح محسوسات سے غائب ہونا لازمی نہیں۔ بلکہ وہی حالت حضوری میں ہی ہو جاتی ہے اور اعلیٰ مکاشفہ کی صفت یہ ہے کہ روح انسانی حواس بدن سے تجرد پا کر مطالعہ مغیبات میں تفرد حاصل کرے۔ یہ تجرد اور تفرد بھی بقدر مراتب ہوتا ہے۔ کیونکہ کشف در حقیقت آئینہ خیال میں صورت مثال کے عکس پڑنے کا نام ہے۔ پس جس قدر زیادہ آئینہ خیال مصفیٰ و مجلیٰ ہوگا۔ اسی قدر کشف بھی درست اور صادق ہوگا۔ ورنہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بیہقی وقت ارشاد الطالبین میں لکھتے ہیں کہ انبیاء کے خواب بھی وحی قطعی ہیں اور اولیاء کے رؤیا اور کشف میں بھی خطا واقع ہوتی ہے۔
١٤٤
مرزا غلام احمد قادیانی جن کے مجددیت اور مثلیت کی بنیاد زیادہ تر الہام و مکاشفہ پر ہے اس بارہ میں علماء وصوفیہ سلف وخلف کی طرح مان چکے ہیں کہ ”کشف میں خطا کا احتمال بہت ہے“ (ازالہ ص ٥٦٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٥) ”شیطان اپنی شکل نوری فرشتہ کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے“ (ازالہ ص ٦٢٩ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) ”الہام ولایت یا الہام عام مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت نہیں (ازالہ ص ٦٢٩ خزائن ج ٣ ص ٤٤٠) بلکہ مرزا قادیانی تو انبیاء کے الہامات اور اولوالعزم رسولوں کے مکاشفات کو بھی صحیح اور قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں۔ بلکہ جائز رکھتے ہیں کہ سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کا کشف بھی ایسا مکدر ہو کہ حقائق غیبیہ کا ظہور اس کشف کے خلاف ہو۔ انبیاء کے الہامات صحیح نہ ہونے پر آپ نے (ازالہ ص ٦٢٩ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) پر لکھا ہے۔ ” مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب ٢٢ آیت ٢٩ میں لکھا ہے۔ کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے۔ اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مرگیا۔“ اس حوالہ توریت کے بعد
اے معشر مسلمین۔ ناظرین با تمکین۔ جب میں نے ازالہ میں یہ مقام پڑھا۔ تو اس وقت جو کچھ میرے دل پر گذرا میں اس کا بیان نہیں کر سکتا۔ میں حیران تھا کہ ایک وقت اور ایک جگہ میں چار سو نبی کیوں مبعوث ہوئے تھے۔ اور انبیاء کے اتنے جم غفیر کا ایک متفقہ الہام میں کاذب نکلنا کیا معنی رکھتا ہے؟ جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایک نبی کے ایک رؤیا۔ الہام کشف میں بھی کذب کا احتمال تک نہیں۔ پھر زیادہ حیرت بخش مرزا قادیانی کی یہ عبارت تھی کہ دراصل ”وہ الہام ایک ناپاک روح (یعنی شیطان کی طرح) سے تھا“ (ازالہ ص ٦٢٩ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) کہ کیونکر انبیاء کرام پر وحی شیطانی کا نزول ہوسکتا ہے اور کیونکر یہ ممکن یا قرین قیاس ہے کہ سینکڑوں نبی شیطانی الہام کے دھوکے میں آ جائیں اور ایسے کہ اسے ربانی بھی سمجھ لیں۔ میں جس قدر زیادہ ان الفاظ پر غور و تدبر کرتا تھا۔ اسی قدر زیادہ میری حیرانی و پریشانی اور سراسیمگی بڑھتی جاتی تھی۔ مجھے بار بار یہی خیال آتا تھا کہ اس مقام پر احبار یہود نے لفظی و معنوی تحریف کی ہے۔ مگر ایسا یقین کرنے کے لیے بھی میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ آخرش میں نے بائبل لی اور سلاطین اول کو ابتدا سے لے کر آخر سلاطین دوم تک تمام و کمال پڑھا۔ الحمد للہ کہ میری تمام حیرانی و پریشانی جاتی رہی اور مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس مقام میں تحریف بھی نہیں۔ بلکہ صرف جناب مرزا قادیانی کے تجدد طبع کا نتیجہ ہے؟ نہ انبیائے الٰہی میں سے کسی نبی نے کسی بادشاہ کو فتح کی خبر دی۔ نہ ان کا الہام غلط ہی ہوا۔ اور نہ کسی نبی نے شیطانی الہام کا دھوکا کھا کر ربانی ہی سمجھا؟ مرزا قادیانی نے اس جگہ توریت کو بالکل الٹ پلٹ دیا ہے۔ اور اس موقعہ پر ان بیباک اور نڈر یہودیوں کی یاد کو تازہ کر دیا ہے جن کی شان میں یحرفون الکلم عن مواضعہ نازل ہوا تھا۔ دیکھو سلاطین اول باب ١٦ درس ٢٩۔ سلاطین میں قصہ یہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل میں سے ایک بادشاہ کا نام اخی اب اور اس کی بیگم کا نام ایزبل تھا۔ یہ دونوں بعل بت کی پرستش کیا کرتے تھے۔ دیکھو درس ٣۔ بادشاہ پسندی سے بہت پوجاری اپنے آپ کو بعل کے نبی کہلاتے تھے۔ (بقیہ اگلے صفحہ کے حاشیہ پر)
١٢٥
انبیاء کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹے نکلنے کا سبب اسی صفحہ پر مرزا قادیانی یہ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’اس کا
(بقیہ حاشیہ پچھلے صفحہ سے) جن میں سے ساڑھے چار سو اس بت کے مندر پر حاضر رہتے اور چار سو بادشاہ کے دارالخلافہ میں جن کے رہنے کے لیے نہایت سرسبز باغ مقرر کئے گئے تھے۔ اور ان کو خاص بیگم کے دسترخوان پر کھانا ملتا تھا۔ جب اس بادشاہ نے اپنے دشمن پر لشکرکشی کا ارادہ کیا۔ تو ان چار سو بعل کے نبیوں سے (کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو بعل کے نبی کہتے اور کہلاتے تھے) اس بارہ میں دریافت کیا۔ سب نے بتلایا کہ وہ فوج کشی کرے۔ فتح پائے گا۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا۔ ان نبیوں کے سوا اگر کوئی اور بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہو۔ تو اس سے بلا کر بھی دریافت کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت ایلیا علیہ السلام بلائے گئے۔ اور انہوں نے آتے ہی بادشاہ کو کہہ دیا۔ (سلاطین ا۔ باب ١٨۔ درس ٢٢) خدا کے نبیوں میں سے میں ہاں صرف میں ہی باقی ہوں۔ اور یہ بھی بادشاہ کو کہا (سلاطین باب ١٨۔ درس ١٩) بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور گھنے باغوں کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دستر خوان پر کھاتے ہیں۔ کوہ کرمل پر مجھ پاس اکٹھا کر۔ اور پھر ان سب بعل کے نبیوں کے خلاف آپ نے فرمایا۔ کہ بادشاہ کی بیگم نے فلاں غریب ہمسایہ کی زمین جور و ستم سے لے کر اور اس کو تہمت دے کر قتل کرایا ہے۔ اس لیے جس جگہ پر کتوں نے نبات (ہمسایہ کا نام ہے) کا لہو چاٹا ہے۔ اسی جگہ تیرا ہاں تیرا بھی لہو کتے چاٹیں گے۔ (باب ٢١۔ درس ١٩ سلاطین اول) خدا (تیری بیگم) ایزبل کے حق میں بھی فرماتا ہے کہ یزرعیل کی دیوار کے پاس اس کو کتے کھائیں گے ٢٣۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس بعل پرست بادشاہ کو جس کو بعل کے نبیوں نے فتح کی اور خدا کے نبی نے شکست اور قتل و ذلت کی خبر دی تھی۔ شکست و قتل و ذلت معہ اس کی بیگم کے نصیب ہوئی۔ (سلاطین اول کے باب ١٨ درس ٤٠) میں یہ بھی ہے کہ ایلیا علیہ السلام نے ان ساڑھے چار سو بعل کے نبیوں کو قتل کیا علیٰ ہٰذا (سلاطین دوم کے باب ١٠ درس ٢٥) میں ہے کہ یاہو نے بعل کے باقی سب نبیوں کو قتل کیا اور سلاطین اول میں بعل کے ان سب نبیوں کو حضرت ایلیا نے معجزہ دکھانے پر مجبور کیا۔ اور جب وہ نہ دکھا سکے تو خود دکھلایا۔ اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ بائبل نے جن لوگوں کو بعل کے نبی اور کاذب بتایا ہے۔ اور ان کا خدا کے نبی کے سامنے ذلیل و کاذب اور مقتول و خوار ہونا بیان کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے پہلے تو ان کاذبوں کو خدا کے نبی قرار دیا ہے۔ اور پھر خدا کے نبی بنا کر ان کو جھوٹا۔ اور وحی شیطان کا قبول کنندہ بتایا ہے۔ اور اس کے بعد پھر اپنا ان پر تفوق ظاہر کیا ہے اور نہایت عجز سے لکھا ہے۔ ’’مگر اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں‘‘ (ملخص ازالہ ص ١٣٢ خزائن ج ٣ ص ٤٤١) اور تو اور میں اس جگہ مرزا قادیانی کی بلاغت کی تعریف کرتا ہوں۔ کہ عاجز کا لفظ کیسے عمدہ موقع پر تحریر کیا ہے کہ بعل کے ان نبیوں پر مرزا قادیانی کو فوقیت مل بھی سکتی ہے۔
افسوس ہے کہ نقل اور حوالہ کتاب میں ایسی ایسی تحریف کی جاتی ہے اور شیطانوں کا نام انبیاء رکھا جاتا ہے۔ (معاذ اللہ معاذ اللہ) اب ہم اصل قصہ سے قطع نظر کر کے کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کو ان کے اس بیان میں سچا بھی فرض کر لیں کہ چار سو نبی پر ناپاک روح یعنی شیطان کا الہام ہوا۔ اور انہوں نے دھوکا کھا کر اس کو ربانی بھی سمجھ لیا۔ اور اس کو مشتہر بھی کر دیا ہو۔ تو مرزا قادیانی خود ہی غور فرمائیں کہ پھر ان کو اپنے الہام پر تمام امت محمدیہ کے خلاف عقائد اور ایمانیات میں اتنا بھروسہ اور اعتبار کرنے کی کونسی وجہ ہے۔ جبکہ ان کو نبیوں کی چار سو کی جماعت کے سامنے کمیتاً و کیفیتاً کی نسبت نہیں ہو سکتی (عصاء موسیٰ کے مصنف نے قاضی صاحب مدظلہ کی سی تحقیقات پر عقائد مرزائیہ سے توبہ کی تھی۔ ہدایت اللہ)
١٢٦
سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا۔ اور نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا۔ اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔‘‘ اسی واقعہ کا حوالہ مرزا قادیانی نے ”رسالہ حقانی تقریر بر وفات بشیر ص ٧ زیر حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٩“ میں بدیں الفاظ دیا ہے کہ ”بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی۔ اور وہ غلط نکلی۔ یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی۔
(دیکھو سلاطین اول باب ٢٢ آیت ١٩)
مگر اس عاجز کی کسی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں۔‘‘
ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک نہ صرف ایک بلکہ چار سو نبیوں کا الہام اور وہ بھی متفقہ الہام غلط ہوسکتا ہے اور الہام شیطانی بھی ایسے زرق و برق کے ساتھ ہوا کرتا ہے کہ نبیوں کی تعداد کثیر بھی اسی کے دھوکے میں آسکتی ہے۔ بلکہ آچکی ہے۔
اب رسولوں کی نسبت ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”مسیح کا مکاشفہ بہت صاف نہیں تھا۔ (ازالہ ص ٦٩٠ خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) یہ دخل (شیطانی کلمہ کا) کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے (ازالہ ص ٦٢٨ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) اور سید الانبیاء ﷺ کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ کچھ تعجب نہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم۔ دجال۔ یاجوج ماجوج۔ دابۃ الارض دجال کے ستر باع کے گدھے کی حقیقت کاملہ اور اصلی معلوم نہ ہوئی ہو۔ (مختصراً) (ازالہ ص ٦٩١۔ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) ان تمام عبارات کے بعد جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک اولیاء کا الہام اور کشف اور مرزا قادیانی کے نزدیک انبیاء کا الہام اور کشف بھی جب حجت اور دلیل نہیں بن سکتا۔ تو پھر ہر ایماندار اندازہ کرسکتا ہے کہ ایک عامی کا الہام کیا درجہ رکھ سکتا ہے۔ اور اس کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ مرزا قادیانی کے نزدیک گو انبیاء اور رسل کے الہام اور مکاشفہ میں غلطی ہوتی رہی ہے۔ مگر ان کے خیال میں یہ نہایت مشکل ہے کہ تمام افراد امت کا بھی یہی حال ہو۔ ان کا خیال ہے کہ محدث جو امت میں سے ہی ایک فرد ہوتا ہے۔ ایسے درجہ کا شخص ہوتا ہے کہ اس کے الہام کو وحی کہنا چاہیے اور یقین کرنا چاہیے کہ ”رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی ہریک دخل شیطانی سے منزہ کیا جاتا ہے۔ (توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠) پھر ازالہ کے صفحہ ٩١٣ خزائن ج ٣ ص ٥٩٩ پر لکھا ہے کہ محدث حالت در ربودگی میں جو کلام لذیذ لے آتا ہے۔ وہی وحی الٰہی ہوتی ہے۔“ میں زیادہ تر اسی کی تنقیح کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے اس
١۔ محدث کو مرزا قادیانی نے یہ درجہ عطا فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود محدث ہونے کا دعویٰ ہے۔
١٢ ٧
دعویٰ پر کہ وہ بھی محدث ہیں۔ میں غایت المرام میں بخوبی بحث کر چکا ہوں کہ صحیحین کی حدیث مرفوع متصل اور سنن ترمذی کی حدیث صحیح اور ابن عباسؓ کے قول سے جس کو امام بخاری اپنی صحیح کی تعلیقات میں لائے ہیں اور ان خواص سے جن کا محدث میں ہونا لازمی ہے۔ یہی ثابت ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے سوا امت محمدیہ میں اور کوئی محدث نہیں۔ اب اس جگہ میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ آیا فی الواقع محدث کی وحی ؎١ آمیزش شیطانی سے پاک ہوتی ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد ہے) یا نہیں؟ (جیسا جمہور سے مروی ہے)
اس بارے میں کتاب الفرقان میں اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان سے میں ایک فصل کا ترجمہ ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ ”ولی خدا‘ کی شروط میں سے یہ بات نہیں کہ وہ معصوم ہو اور غلطی یا خطا نہ کرے۔ بلکہ جائز ہے کہ علم شریعت کا کوئی حصہ اس سے مخفی رہے۔ اور بعض امور دین اس پر مشتبہ رہیں۔ حتیٰ کہ بعض ممنوع امور کو مامور بہ خیال کر بیٹھے۔ یا وہ بعض خوارق کو کرامات اولیاء میں سے شمار کرنے لگے۔ حالانکہ وہ شیطانی ہوں۔ اور شیطان نے اس کو ناقص کرنے کے لیے تلبیس کر دی ہو۔ اور اس بندۂ خدا کو اس امر کی آگاہی بھی نہ ہو۔ اور باایں ہمہ اس کی ولایت الہٰی میں کچھ فرق بھی نہ آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمدیہ کی خطا ونسیان سے درگزر کی گئی ہے اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ ولی خدا سے غلطی کرنا جائز ہے۔ تو ہم کو ضرور نہیں کہ اس ولی خدا کی تمام باتوں کا یقین بھی کر لیا کریں۔ یہ تو نبی کا درجہ ہے۔ بلکہ ولی کو بھی جائز نہیں کہ اگر اس کے دل میں کوئی الہام آئے۔ یا محادثہ وخطاب الہٰی سے وہ مشرف ہونا خیال کرے۔ تو ان پر اعتماد بھی کر لے۔ بلکہ اسے لازم ہے کہ اس الہام وخطاب کو احادیث نبوی کے سامنے پیش کرے اگر احادیث کے موافق ہو۔ تو قبول کرے۔ ورنہ رد کرے اور اگر اسے یہ خبر نہ ہو کہ احادیث سے موافق ہے یا مخالف۔ تو ان میں توقف کرنا چاہیے۔ واضح ہو کہ اس بارہ میں لوگوں کی تین صنفیں ہیں۔ ایک وسط میں۔ اور دو افراط وتفریط میں۔ ایک وہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی شخص کو ولی اللہ سمجھ لیتا ہے تو اس کے ان تمام اقوال میں جن کی نسبت ولی اللہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کے دل میں خدا کی طرف سے آئے ہیں۔ ولی اللہ کی موافقت کر لیتا ہے اور اس کے افعال اسی کو سپرد کر دیتا ہے (خواہ کیسے ہی ہوں) ایک وہ ہے کہ جب کسی نیک شخص سے کوئی ایسا قول یا فعل دیکھ پاتا ہے۔ جو شرع کے موافق نہیں ہوتا۔ تو اس کی ولایت کی ہی نفی کر دیتا ہے۔ گو اس نیک کی یہ غلطی اجتہادی غلطی ہو۔ مگر واضح ہو کہ
؎١ محدث کے الہام کا نام وحی رکھنا۔ یہ بھی مرزا قادیانی کا ہی کام ہے۔ ورنہ اسلام نے لفظ وحی کا استعمال خاص انبیاء کے لیے کیا ہے۔
١٢٨
بہترین امور اوسط ہوتی ہے چاہیے کہ نہ اسے معصوم سمجھے۔ اور نہ ١ اجتہادی غلطی پر گناہ گار ہی قرار دے لازم ہے کہ عام اقوال میں اس کا اتباع نہ کرے اور اجتہادی غلطی کی وجہ سے کفر اور فسق کا فتویٰ نہ دیا جائے واجب یہ ہے کہ اتباع صرف ان احکام میں کیا جائے۔ جو اللہ اور رسول نے دیئے ہیں۔ مگر جب کسی فقیہ کا قول مخالف شرع اور دوسرے کا موافق پائے۔ تو اس کو یہ الزام دینا کہ یہ شرع کے خلاف کرتا ہے۔ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ صحیحین (بخاری ج ١ ص ٥٢١ باب مناقب عمرؓ) میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے۔ قَدْ ٢ كَانَ فِي الْاُمَمِ قَبْلِكُمْ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ يَّكُنْ فِيْ اُمَّتِيْ اَحَدٌ فَعُمَرُ مِنْهُمْ اور ترمذی میں یہ ارشاد نبوی ہے۔ لَوْ لَمْ اُبْعَثْ ٣ فِيكُمْ لَبُعِثَ عمر. نیز ایک اور حدیث میں ہے اِنَّ ٤ اللّٰهَ ضَرَبَ الْحَقَّ عَلٰى لِسَانِ عمر و قلبه اسی حدیث میں ہے لَوْ كَانَ ٥ بَعْدِىْ نبی لكان عمر و روایت شعبی میں سیدنا و مولانا علی بن ابی طالبؓ سے مروی ہے مَا ٦ كُنَّا نُبَعِّدُ اَنَّ السَّكِيْنَةَ تنطق على لسان عمر. سیدنا ابن عمرؓ کا قول ہے ما كان ٧ عمر يقول بشی انى لاراه كذا الا كان كما يقول اور قیس بن خارق سے روایت ہے کنا ٨ نتحدث ان عمر ينطق على لسانه ملک. سیدنا عمر فاروقؓ اکثر فرمایا کرتے تھے۔ اقربوا من ٩ افواه المطيعين و اسمعوا منهم ما يقولون فانه تجلی لهم امور صادقة.
- ١۔ ناظرین کو یہ یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی یہ غلطی اجتہادی غلطی نہیں۔ کیونکہ اجتہاد کو نصوص شرعیہ کے موجود یا معلوم
نہ ہونے پر کیا جاتا ہے۔ اگر نصوص صحیحہ و قطعیہ شرعیہ کے ہوتے ہوئے کوئی شخص ان کا خلاف کرے اور اس کا نام اجتہاد رکھے۔ تو ائمہ ملت نے قرار دیا ہے کہ ایسا شخص معاند فی الدین یعنی دین سے عداوۃ کرنے والا ہوتا ہے۔
- ٢۔ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ پس اگر ان میں سے کوئی ایک میری امت میں ہے تو عمرؓ ہے۔
- ٣۔ اگر میں تم میں نبی نہ بنایا جاتا۔ تو عمرؓ بنایا جاتا۔
- ٤۔ خدا نے عمرؓ کے دل و زبان پر حق قائم کر دیا ہے۔
- ٥۔ اگر کوئی میرے بعد نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔
- ٦۔ ہم اسے کچھ بعید نہ سمجھتے کہ عمرؓ کی زبان پر سکینہ بول رہا ہے۔
- ٧۔ حضرت عمرؓ جس شے کی نسبت کہتے کہ میں اسے ایسا خیال کرتا ہوں۔ وہ ویسی ہی نکلتی۔
- ٨۔ ہم آپس میں باتیں کیا کرتے کہ عمرؓ کی زبان پر فرشتہ بول رہا ہے۔
- ٩۔ اطاعت کرنے والوں کے ہونٹوں سے قریب ہو جاؤ اور جو وہ کہتے ہیں سنو کیونکہ ان پر امور صادقہ کی تجلی ہوا
کرتی ہے۔
١٢٩
واضح ہو کہ ان امور صادقہ سے وہ مکاشفات مراد ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں پر کھول دیتا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اولیاء اللہ کے مخاطبات اور مکاشفات ثابت ہیں۔ (مگر ان مخاطبات اور مکاشفات کا بمقابلہ شرع اعتبار کرنے کے لیے تم یہ خیال کرو) کہ سید الانبیاء کے بعد افضل تریں سیدنا ابوبکرؓ اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ ہیں اور حدیث صحیح حضرت عمرؓ کا محدث ہونا تعین کر چکی ہے۔ اب امت محمدیہ میں خواہ کوئی شخص محدث اور مخاطب١؎ فرض کر لیا جائے۔ بہر حال سیدنا عمرؓ اس سے افضل و برتر ہوں گے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ حال تھا کہ واجبات شرعی کے موافق کام کرتے تھے اور اپنے واقعات٢؎ کو احکام شرعی پر پیش کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا ہوتا۔ کہ ان کے الہامات اور واقعات موافق شرع نکلتے ہیں اور یہ امر ان کی فضیلت کا باعث سمجھا جاتا۔ جیسا کہ بار ہا قرآن مجید حضرت عمرؓ کی موافقت میں نازل ہوا۔ اور بار ہا رب کریم نے حضرت فاروقؓ سے موافقت فرمائی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ وہ الہامات و واقعات خلاف شرع ثابت ہوتے۔ تو سیدنا عمر فاروقؓ ان سے رجوع کر لیتے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے دن ہوا۔ کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ صلح کر لی اور صلح نامہ میں بعض ایسی شروط درج ہوئیں۔ جسمیں مسلمانوں کی بظاہر سبکی تھی۔ تو بہت سے مسلمانوں پر یہ صلح گراں گذری۔ سیدنا عمرؓ بھی انہی میں تھے۔ حتیٰ کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی۔ کیا ہم حق پر اور ہمارے اعدا باطل پر نہیں؟ فرمایا۔ ہاں۔ عرض کی۔ کیا ہمارے شہید جنت میں اور کفار کے مقتول دوزخ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا۔ ہاں۔ عرض کی پھر کیوں ہم اپنے دین کو سبک ہونے دیں۔ اور ایسی شروط پر صلح کریں؟ فرمایا۔ میں خدا کا رسول ہوں اور ہر امر میں وہی مجھے حکم دیتا ہے۔ اور میں اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ عرض کی۔ کیا آپؐ نے٣؎ فرمایا تھا کہ ہم طواف کرینگے۔ فرمایا ہاں۔ کیا میں نے کہا تھا کہ اسی سال؟ عمرؓ نے کہا نہیں یہ تو نہیں۔ فرمایا۔ پس تو یقین
١؎ اس امام نے جو لفظ ”فرض کیا جائے“ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ ان کا مذہب بھی یہی ہے کہ سوا حضرت عمرؓ کے اور کوئی محدث نہیں۔ جیسا کہ احادیث کا منشاء ہے۔
٢؎ لفظ واقعات علم تصوف میں کشف اور تجلیات اور واردات قلبی کو جو غیب سے ہوں کہتے ہیں۔
٣؎ مرزا قادیانی نے اس قصہ سے بھی فائدہ اٹھایا ہے اور اس تائید میں کہ پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو جایا کرتی ہے۔ اس قصہ کا حوالہ دیکر نتیجہ نکالا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے خواب کے بھروسہ پر مدینہ منورہ سے بہ نیت عمرہ و طواف چل پڑے تھے۔ مگر اس سال مشرکین نے اجازت نہ دی۔ اور تب معلوم ہوا کہ خواب اس سال کے متعلق نہ تھا۔ مرزا قادیانی کو لازم ہے۔ اس مکالمہ نبوی کو جو حضرت عمرؓ کے ساتھ ہوا دیکھیں اور سمجھیں کہ سال کا تعین رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی نہ اپنے دل میں نہ اپنے کلام میں کیا تھا۔ اور آپؐ کا مکہ آنا صرف تقاضائے شوق صحابہ تھا لہٰذا آپ رسول کریم کی طرف ایسی غلط نسبت لگانے سے احتراز کریں۔
١٣٠
رکھ کہ (ہم ضرور مشرکین پر غالب آ کر ایک نہ ایک دن ) بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے۔ حضرت عمرؓ اس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے۔ اور یہی تقریر کی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے وہی جواب جو رسول خداؐ نے دیے تھے ان کو دیئے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے فہم سے رجوع کیا اور اس کے کفارہ میں بہت سے اعمال کئے۔ اس سے واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ موافقت نبویؐ میں سیدنا عمرؓ سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ایسا ہی حال وفات نبویؐ پر ہوا کہ حضرت عمرؓ محدث نے انکار موت کیا اور صدیق اکبرؓ نے جب خطبہ پڑھا کہ حضورؐ کا انتقال ہوگیا تب حضرت عمرؓ محدث نے اپنے قول سے رجوع فرمایا علیٰ ہذا۔ جب صدیق اکبرؓ نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کا ارادہ کیا۔ تو حضرت عمرؓ نے آ کر کہا۔ آپ ان سے کیونکر قتال کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے تو یوں فرمایا ہے۔ أُمِرْتُ ان اقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا اله إلا الله وان محمداً رسول الله فإذا قَالُوهَا عَصَمُوا منى دماءهم واموالهم الا بحقها.
(البدایہ والنہایہ ج٦ ص٣١١)
حضرت صدیقؓ نے فرمایا جب إلَّا بحقّها لفظ موجود ہے۔ تو تم یاد رکھو کہ زکوٰۃ بھی اسی کا حق ہے۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں۔ اگر کوئی عہد نبویؐ میں ایک بچہ شتر بھی مجھ کو کم دے گا۔ تو میں اس سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس تقریر کے بعد میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ کے سینہ کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور حق بھی یہی ہے۔ ایسے ہی اور بہت نظائر ہیں۔ جن سے سیدنا ابوبکرؓ کا تقدم سیدنا عمرؓ پر ثابت ہے۔ حالانکہ حضرت عمرؓ محدث ہیں بات یہ ہے کہ صدیقؓ کا مرتبہ محدث سے اوپر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ صدیق جو کچھ لیتا ہے۔ وہ رسول معصومؐ کے قول اور فعل سے لیا کرتا ہے۔ مگر محدث اپنے قلب سے بھی بہت اشیا (الہام مکاشفات وغیرہ) لیا کرتا ہے اور اس لیے کہ محدث کا قلب معصوم نہیں ہوتا۔ اسے ضرور ہوتا ہے کہ اپنی واردات قلبی کو احادیث کے سامنے پیش کرے۔ یہی وجہ ہے (کہ باوجود محدث ہونے کے) حضرت عمرؓ صحابہ سے مشورت لیا کرتے۔ اور مناظرہ فرمایا کرتے اور بعض امور میں دوسروں کی رائے کی طرف رجوع کر لیا کرتے تھے۔ علیٰ ہذا صحابہ بھی اکثر امور میں حضرت عمرؓ سے تنازع کیا کرتے تھے صحابہ آپ پر کتاب اور سنت کے دلائل وارد کرتے۔ اور آپ صحابہ پر آپ ان لوگوں کو برابر تنازع اور بحث کرنے دیتے اور کبھی یہ نہ فرماتے کہ میں محدث ملہم اور مخاطب من اللہ ہوں۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ میرا قول قبول کر لو۔ اور مجھ سے معارضہ نہ کرو۔ جب حال یہ ہے تو اب خواہ کوئی شخص خود ولایت اور مخاطب الہی کا مدعی ہو یا اس کے مرید اور تجویز کرتے ہوں کہ اس کے
مریدوں پر اس کے تمام اقوال وافعال کا ماننا ضروری۔ اور اس کی واردات کا تسلیم کر لینا بلا کتاب اور سنت سے پرکھ لینے کے لابدی ہے۔ تو وہ خود نیز اس کے مرید سب خاطی ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی گمراہ ہیں۔ ان کو یاد کرنا چاہیے کہ سیدنا عمر فاروقؓ ان سب سے افضل ہیں اور امیر المومنین بھی ہیں مگر مسلمان برابر آپ سے جھگڑا کرتے۔ اور آپ کے مقولوں کا کتاب اور سنت سے معارضہ کیا کرتے حقیقت یہ ہے کہ تمام امت کے ائمہ سلف وغیرہ کا اس پر اتفاق ہے کہ بجز رسول اللہ ﷺ کے اور کوئی ایسا شخص نہیں۔ جس کا کوئی قول لیا اور چھوڑا نہ جائے۔ کیونکہ نبی اور ولی میں صرف یہی فرق ہے۔“
اس قدر لکھنے کے بعد ہم مرزا قادیانی کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اول تو آپ کا محدث ہونے کا دعویٰ ہی ایسا ہے۔ جن کی صحیحین اور سنن کی احادیث مرفوع و مرسل تکذیب کر رہی ہیں۔ پھر اس کے بعد جو آپ نے محدث کے یہ نو خواص قرار دیئے ہیں۔
- ١...... محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لیے نبوت تامہ نہیں۔ مگر
جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔
- ٢...... کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔
- ٣...... امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔
- ٤...... رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔
- ٥...... اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔
- ٦...... اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے۔
- ٧...... اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔
- ٨...... اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔
- ٩...... اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے
جائیں۔
(توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)
پس اگر ان صفات کا محدث کی ذات میں ہونا ضروری اور لابدی ہے اور محدث وہی ہوتا ہے جس میں یہ صفات پائے جائیں۔ تو مناسب ہے کہ سب سے پیشتر آپ ان صفات کا وجود حضرت عمر فاروقؓ میں جو بالتحقیق محدث ہیں ثابت کیجئے۔ بجائے اس کے کہ محدث کا ایک معنی
١؎ میں نے صرف ان صفات پر نمبر لگا دیئے ہیں۔ عبارت کل مرزا قادیانی کی ہے جس میں سے نہ ایک حرف کم کیا گیا۔ نہ ایک زیادہ۔
١٤٢
سے نبی ہی ہونا آپ ثابت کر سکیں ۔ میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد پیش کرتا ہوں قَدْ كَانَ فِی من قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يكن فى امتى منهم احد فعمر . جس میں صاف تصریح ہے کہ محدث نبی نہیں ہوتا۔ نہ ایک معنی سے نہ دو چار معنی سے اس حدیث کو آپ نے بھی (ازالہ ص ٩١٢ خزائن ج ٣ ص ٦٠٠) پر درج کیا ہے اور یہی ترجمہ اس کا کیا ہے۔ اب رسولوں اور نبیوں کی طرح محدث کی وحی کا آمیزش شیطانی سے منزہ ہونا بھی تحقیق طلب ہے کہ حضرت عمرؓ سے بعض ایسے حرکات سرزد ہوئے ہیں۔ جن کا ان کو کفارہ دینا پڑا۔ تو تنزہ کہاں رہا؟ علیٰ ہذا! بعینہ انبیاء کی طرح محدث کا مامور ہو کر آنا یہ بھی فیصلہ طلب ہے۔ اگرچہ بعینہ کی عینیت کے معنی میری سمجھ میں آج تک نہیں آئے۔ کیونکہ جب عینیت ہی ہو گئی۔ تو غیریت کے کیا معنی اور باوجود تحقیق عینیت ایک کو محدث اور دوسرے کو نبی کہنے میں تفریق کی کیا وجہ؟ مگر اس میں بھی مرزا قادیانی کو ثابت کرنا تھا کہ حضرت عمر فاروقؓ کب اور کیونکر مامور ہو کر آئے تھے۔ اسی کے ساتھ ملا ہوا مرزا قادیانی کا یہ فقرہ ہے کہ بعینہ انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی محدثیت کا ظہور زیادہ سے زیادہ ان کے زمانہ خلافت میں خیال کیا جا سکتا ہے۔ سو آپ کو معلوم ہے اور کل مؤرخین جانتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے نام خلافت نامہ لکھ کر جب خلیفہ رسولؐ نے ان کو طلب کیا۔ تو حضرت عمرؓ نے صاف فرمایا تھا۔ مرا بخلافت حاجت نیست (ناسخ التواریخ) تو کیا حضرت عمرؓ نے اس فرض کو اسی طرح بآواز بلند ظاہر کیا تھا کہ خلافت سے قطعی انکار کیا اور گوشہ خمول میں بسر کرنے کو زیادہ پسند فرمایا تھا۔ اب رہا کہ محدث سے انکار کرنے والا ایک درجہ تک مستوجب سزا ہوتا ہے۔ اس کلیہ میں خدا جانے کتنے صحابہ رسولؐ داخل ہو گئے ہوں گے۔ جو مسائل اور واقعات میں نہایت آزادی کے ساتھ حضرت عمرؓ سے بحث کیا کرتے تھے۔ بالخصوص حضرت صدیقؓ اور حضرت ابوتراب علی کرم اللہ وجہہ تو ضرور ہی مرزا قادیانی کے نزدیک اس کلیہ میں داخل ہوں گے جنہوں نے بارہا حضرت عمرؓ کی رایوں کا خلاف کیا۔ اور ان کو ساکت بھی کر دیا۔ اب رہی سب سے آخری وجہ کہ نبوت کے معنی یہی ہیں کہ امور متذکرہ اس میں پائے جائیں۔ تو میں حیران ہوں کہ پھر محدث کی نبوت کو جزئی کہنے کی جرأت اور مبادرت آپ نے کیونکر کی؟ اجی حضرت! جب نبوت کے معنی ہی یہ ہیں۔ تو پھر جس کو بظاہر محدث کہا جاتا ہے وہ بباطن نبی کیوں نہیں؟ اور جب یہی بات ہے تو آپ اس سے بھی زیادہ صاف جس کی اردو کو پہلی پڑھنے والے بھی سمجھ لیں۔ کیوں نہیں لکھ دیتے۔ مگر کوئی مصلحت ہے۔
١٣٣
جس نے مہر سکوت لگا دی ہے
لب پہ رنگ پان جمانا چھوڑ دے
مرزا قادیانی ! میں رب کریم کے فضل سے ثابت کر چکا ہوں کہ اولیاء کا کشف اور الہام حجت اور دلیل بننے کی ذرا صلاحیت اور قابلیت نہیں رکھتا۔ اور اسی مضمون میں آپ کی تحریروں سے ثابت کر چکا ہوں کہ آپ کا یہی اعتقاد نہ صرف اولیاء بلکہ انبیاء کے حق میں بھی یہی ہے مگر آپ محدث کو کوئی ایسی شے سمجھے ہوئے تھے۔ جس کے الہام کو آمیزش شیطانی سے تنزیہہ حاصل ہے۔ میں نے اس فہم کا بھی سراپا غلط ہونا ثابت کر دیا۔ اب آپ بہر خدا آئیے۔ اور اس الہام کے بھروسہ پر جو دعاوی کئے ہیں۔ ان کو خیر باد کہہ دیجئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وفات مسیح ۔ اور عدم نزول مسیح اور اپنی قائم مقامی بجائے مسیح کے خیالات آپ کو اپنے الہام سے پیدا ہوئے۔ جس کو آپ نے ان الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔ ”مجھے یقیناً معلوم ہے کہ میری اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات الہام سے قائم کیا گیا ہوں۔ بہت سی مخالفانہ قلمیں اٹھیں گی۔
(توضیح ص ١ خزائن ج ٣ ص ٥١)
اور ان الہامات کو مقدم رکھ کر پھر آپ نے نصوص شرعیہ قرآن اور حدیث کی تاویل کر کے ان کو اپنے سانچے میں ڈھالا ہے اور اس امر میں آپ نے نہایت جرأت فرما کر قرآن وحدیث کو تابع اور الہام کو متبوع ٹھہرا دیا ہے۔ لہٰذا آپ خیال فرمائیں اور ان عقائد سے توبہ کریں۔
میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے مرزا قادیانی سے یہ مسئلہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب ایک ہی شخص کے دو الہام آپس میں متضاد اور متناقض ہوں۔ تو ان دونوں میں سے اس کو اور نیز دیگر اشخاص کو کس پر یقین اور عمل کرنا چاہیے۔ خصوصاً جب کہ ایک الہام تو کل اہل اسلام کے عقیدہ کے موافق ہو اور دوسرا کل اہل اسلام کے مخالف اور اس موافق و مخالف ہونے کا صاحب الہام کو خود بھی اقرار ہو۔ جب آپ اس کا جواب عطا فرمائیں گے۔ تو حیات اور وفات مسیح کی بحث چار سطروں میں ختم ہو جائے گی۔
١؎ (ازالہ ص ١٨٢ خزائن ج ٣ ص ١٨٨) پر لکھا ہے۔ ”میرے اس دعویٰ پر ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بنا ہے۔ کوئی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف والہام غلط ہے۔ اور جو کچھ مجھے حکم ہورہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں میں نے دھوکا کھایا ہے۔ تو ماننے والے کا اس میں حرج بھی کیا ہے۔“ ہاں صاحب ! حرج صرف اتنا ہے کہ یہ شخص احادیث کا جھٹلانے والا بن جاتا ہے۔ یعنی فقط ایمان جاتا ہے اور بس۔
١٣٤
امام محمد بن عبداللہ المہدی علیہ السلام
مرزا قادیانی نے مثیل مسیح کے دعویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کر دیا ہے کہ امام مہدیؑ بھی وہ خود ہیں۔ اور عیسیٰ کے سوا اور کوئی مہدی آنے والا نہیں۔ میں اس مقام پر مختصر طور پر کچھ احادیث نقل کروں گا۔ جس سے واضح ہو جائے کہ احادیث میں عیسیٰ مسیح سے پہلے آنے والے مہدی کی نسبت کیا ظاہر فرمایا گیا ہے۔ اور وہ کس جلالت شان کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوں گے۔
......اوّل ان فتنوں کا بیان کیا جاتا ہے۔ جو ظہور مہدی علیہ السلام سے پہلے ہوں گے۔ وہ فتنہ سفیانی ہے۔ یہ ملک شام سے خروج کرے گا۔ علی مرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ یہ خالد بن یزید بن ابی سفیان کی اولاد سے ہوگا۔ بزرگ سر۔ چیچک رو۔ آنکھ میں سفید نقطہ۔ یہ اس کا حلیہ ہے۔ وادی یاس سے نکل کر دمشق میں داخل ہوگا۔ ٣٦٠ سوار اس وقت اس کے ساتھ ہوں گے ایک ماہ کے بعد قبیلہ کلب کے تیس ہزار آدمی (جو ان کی ننھیال ہوں گی) اس سے آملیں گے۔ اسی زمانہ میں ملک مصر سے ابقع خروج کرے گا۔ اور جزیرہ عرب سے اصہب نکلے گا۔ سفیانی دونوں پر غالب آجائے گا۔ ترک اور روم سے بمقام قرقیا جنگ میں فتح پائے گا۔ قریش کو قتل کرے گا۔ بغداد میں ایک لاکھ‘ کوفہ میں ستر ہزار کو تہ تیغ بے دریغ کرے گا۔ ایک لشکر مدینہ منورہ کی جانب روانہ کرے گا۔ سادات میں سے جسے پائے گا قتل کرے گا۔ بنی ہاشم مارے جائیں گے بہت سے لوگوں کو پکڑ کر کوفہ لے جائے گا۔ امام مہدی بھاگ کر مکہ میں آجائیں گے۔
مکہ معظمہ اس سال حج کے موقع پر سات عالم مختلف مقامات سے آئیں گے۔ ہر عالم کے مرید تین سو سے زیادہ ہوں گے۔ آپس میں کہیں گے۔ ہم اس شخص کی تلاش میں آئے ہیں۔ جس کے ہاتھ سے یہ فتنہ دور ہو۔ قسطنطنیہ فتح ہو۔ ہم اس کا نام۔ اس کے باپ کا نام۔ اس کی ماں کا نام جانتے ہیں۔ یہ علماء مکہ میں امام مہدی کو تلاش کرلیں گے۔ اور کہیں گے کہ تم فلاں بن فلاں ہو۔ فرمائیں گے میں تو انصار میں سے ایک آدمی ہوں۔ علماء پھر واقف کاروں سے تحقیقات کرنے لگیں گے اور امام مہدی مکہ سے مدینہ کو تشریف لے جائیں گے۔ علماء ان کی تلاش میں مدینہ پہنچیں گے۔ امام مہدی مکہ میں تشریف لے آئیں گے۔ تین بار اسی طرح آمد و رفت ہوگی۔ حاکم
١٣٥
مدینہ کو (جو سفیانی کا نائب ہوگا) جب یہ معلوم ہوگا کہ لوگ مہدی کی تلاش میں مکہ سے آتے جاتے ہیں۔ تو وہ مکہ پر لشکر کشی کے لیے ایک فوج تیار کرے گا۔ تیسری بار میں یہ عالم امام مہدی کو بیت الحرام میں درمیان رکن اور مقام کے پائیں گے اور ان کو بیعت لینے پر مجبور کریں گے۔ دیکھو۔ سفیانی کا لشکر ہمارے تعاقب میں ہے۔ وہ آتے ہی قتل عام کر دے گا۔ اس کا گناہ آپ کے سر ہو گا۔ حضرت امام مہدی نماز عشاء کے وقت رکن اور مقام کے درمیان بیٹھ کر بیعت لیں گے۔ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی تیغ و علم اور کرتہ ہوگا۔ ان کا ظہور تین سو تیرہ آدمی کے ساتھ ہوگا۔ یعنی اصحاب بدر اور اصحاب طالوت کے برابر۔ یہ سب کے سب ابدال شام عصائب عراق نجائب مصر ہوں گے۔ رات کو عابد۔ دن میں شیر۔ اتنے میں وہ لشکر جو مدینہ سے علماء کے تعاقب میں چلا تھا۔ آپہنچے گا۔ یہ لشکر امام کے ساتھ جنگ کر کے شکست پائے گا۔ اور مسلمان ان کا تعاقب کر کے مدینہ کو ان کے قبض و تصرف سے چھڑا لیں گے۔ سفیانی کا دوسرا لشکر جو کوفہ سے چلا ہوگا۔ امام مہدی کے ساتھ جنگ کرنے آئے گا۔ جو زمین بیداء میں پہنچے گا۔ تمام لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ صرف ایک شخص بچے گا۔ وہ سفیانی کو یہ خبر جا سنائے گا۔
٢....... ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا۔ اس کو حارث کہیں گے۔ وہ کھیتی والا ہوگا۔ اس کے مقدمہ لشکر پر ایک شخص ہوگا۔ جس کا لقب منصور ہوگا۔ وہ آل محمد کو جگہ دے گا۔ جس طرح قریش نے رسولؐ کو جگہ دی تھی۔ ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا واجب ہے۔ حارث کا لشکر سفیانی کے ساتھ چند لڑائیاں کرے گا ایک تیونس میں دوسری رومیہ میں۔ تیسری تخوم ریخ میں (مرزا قادیانی حارث تو بن گئے۔ مگر یہ جنگ بھی کئے ہوتے) جب یہ لڑائی بطول کو پہنچے گی۔ تو ایک بنی ہاشم سے بیعت کریں گے۔ اس کی سیدھی ہتھیلی میں ایک تل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے کام کو اس کی راہ کو سہل کر دے گا۔ یہ امام مہدی کا عمزاد بھائی ہوگا وہ آخر مشرق میں ہوگا۔ اہل خراسان و طالقان نکلیں گے۔ ان کے ہمراہ چھوٹے چھوٹے کالے نشان ہوں گے۔
حدیث میں آیا ہے۔ جب تم سنو کہ کالے جھنڈے خراسان کی طرف سے آئے۔ تو تم وہاں پہنچو۔ اگرچہ سینہ کے بل برف پر چلنا ہو۔ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ اگر میں صندوق کے اندر مقفل ہوں تو قفل و صندوق کو توڑ کر باہر نکلوں اور ان سے جاملوں۔ اس لشکر کی لشکر سفیانی کے ساتھ بڑی لڑائی میدان اصطخر میں ہوگی۔ گھوڑے خون میں چلیں گے۔ پھر ایک لشکر جرار سجستان سے آئے گا جس پر بنی عدی کا شخص افسر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے انصار و جنود کو
١٣٦
غالب کرے گا (یہ خراسانی لشکر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جائے گا ۔)
- ٣...... ایک لڑائی مدائن میں ہو گی۔ واقعہ رے کے بعد دوسری عاقر قا میں۔ یہ بہت
سخت ہو گی جو بچے گا وہ اس کی خبر دے گا۔ کالے جھنڈے پانی پر اتریں گے (حدیث میں پانی کا لفظ ہے۔ غالباً اس سے دریائے دجلہ مراد ہے)
- ٤...... سفیانی زمین پر فساد کرے گا۔ دن دو پہر مسجد دمشق میں شراب پی کر عورت کے
ساتھ کھلم کھلا صحبت کرے گا۔ اس وقت ایک مسلمان اٹھ کر کہے گا۔ افسوس تم مسلمان ہو کر کافر ہو گئے۔ یہ کام کب حلال ہے۔ سفیانی اس کو معہ اس کے ہمراہیوں کے مسجد میں ہی قتل کر دے گا۔ اس وقت آسمان سے آواز آئے گی اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ قَطَعَ عَنْکُمُ الْجَبَّارِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاَشْیَاعَہُمْ۔ وَوَلَّاکُمْ خَیْرَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ؐ فَالْحَقُوْہُ بِمَکَّۃَ فَاِنَّہُ الْمَہْدِیْ وَاسْمُہ اَحْمَد ١ بن عبداللہ۔ (ترجمہ) لوگو۔ خدا نے ان ظالموں اور منافقوں وغیرہ کو تمہارے سے جدا کر دیا اور امت محمدیہ میں سے بہترین شخص کو تمہارا والی کر دیا۔ اب تم اسے مکہ میں جاملو۔ وہ مہدی ہے۔ اس کا نام احمد بن عبداللہ ہے۔“
- ٥...... حضرت امام مہدی کا ایک عمزاد بھائی صخری نام ہوگا۔ آپ اس کو اپنی بیعت کے
لیے بلائیں گے وہ آ کر بیعت کرے گا۔
- ٦...... قبیلہ کلب سے ایک آدمی کنانہ نام پیدا ہوگا۔ اس کی آنکھ میں پھلی ہوگی۔ اس
کے بہکانے سے صخری بیعت توڑ دے گا۔ یہ تین سال بعد از بیعت ہوگا۔ امام مہدی کا لشکر ان سے مقابلہ کر کے فتح پائے گا۔ صخری کو پکڑ کر لائیں گے۔ مہدی اس کو وادی طور کے بطن میں زیتا کے رستہ پر کنیسے کے پاس بکری کی طرح ذبح کر ڈالیں گے۔ حدیث میں ہے۔ بد نصیب وہ ہے جو اس دن غنیمت کلب سے محروم رہا۔
- ٧...... امام مہدی کی جنگ روم والوں سے ہوگی۔ یہ ہلاک سفیانی کے بعد ہوگا۔ اہل
روم ٩ لاکھ ٦٠ ہزار لشکر کے ساتھ مسلمان سے مقابلہ آرا ہوں گے۔ اس کے سوا تین لاکھ بحری فوج
ا؎ احادیث میں حضرت مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہے۔ اور اس نداء آسمانی میں احمد بن عبداللہ کہا گیا ہے۔ یہ کچھ منافی نہیں حدیث شریف میں ہے۔ میرا نام زمین پر محمد آسمان پر احمد ہے۔ اس لیے ندائے آسمانی میں محمد کی جگہ احمد کہا گیا۔ شاید اس لیے قرآن شریف میں وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہ اَحْمَد فرمایا گیا ہے۔ (یہ آیت بحق نبی ؐ ہے)
١٣٧
ہو گی۔ جس میں چالیس ہزار آدمی حمیر کے ہوں گے۔ ان کے دل میں مادہ الفت و محبت ڈالا جائے گا۔ بحری فوج دوسری سے لڑے گی اور اس کو شکست دے گی۔ پھر مشرکین فارس کی ایک قوم آئے گی۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ثلث لشکر بھاگ نکلے گا۔ ایک ثلث شہید ہوگا۔ جس کو دس اصحاب بدر کے برابر ثواب ملے گا۔ ثلث جو باقی رہے گا۔ اس میں بھی پھوٹ اور نفاق ہوگا۔ مسلمان روم سے لڑنے کو چلیں گے۔ قسطنطنیہ کا دریا ان کے لیے خشک ہو جائے گا۔ برتیے میں مسلمانوں کے خیمے ہوں گے۔ مسلمان شب جمعہ کو تکبیر وتہلیل کہتے ہوئے گھس پڑیں گے۔
اللہ تعالیٰ قسطنطنیہ ایسی قوموں کے ہاتھ پر فتح کرے گا۔ جو اولیاء خدا ہوں گے۔ موت۔ بیماری دکھ کو ان سے اٹھالے گا۔ یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ یہی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ہوکر دجال سے لڑیں گے۔ اس حدیث کو سیوطی نے جامع کبیر میں نہایت طول کے ساتھ بیان کیا ہے۔
علامات جو قرب ظہور مہدیؓ کی دلیل ہیں
- ١...... دریائے فرات کھل جائے گا۔ اس میں سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
- ٢...... آسمان سے ندا ہوگی۔ الا ان الحق فی ال محمد لوگو حق آل محمدؐ میں ہے۔
علامات شناخت مہدی
- ١...... ان کے پاس رسول ﷺ کا کرتہ تیغ اور علم ہوں گے۔ یہ نشان آنحضرتؐ کے بعد
کبھی نہ نکلا ہوگا۔ اس پر لکھا ہوگا۔ اَلْبَيْعَةُ لِلّٰہِ بیعت خدا کے واسطے ہے۔
- ٢...... امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے سر پر ایک بادل سایہ کرے گا۔ اس میں سے ایک پکارنے
والا پکارے گا۔ ہذا المہدی خليفة الله فاتبعوا یہ مہدی خلیفہ خدا ہے۔ اس کا اتباع کرو۔
- ٣...... یہ ایک سوکھی شاخ خشک زمین میں لگا دیں گے ہری ہو جائے گی۔ اس میں
برگ وبار آئے گا۔
- ٤...... خزانہ کعبہ کو نکالیں گے اور تقسیم کردیں گے۔
- ٥...... دریا ان کے لیے یوں پھٹ جائے گا۔ جیسے بنی اسرائیل کے لیے پھٹ گیا تھا۔
١٣٨
- ٦...... ان کے پاس تابوت سکینہ ہوگا۔ جسے دیکھ کر یہود ایمان لائیں گے۔ مگر چند۔
امام مہدیؑ کے اہل بیت نبویؐ سے ہونے کی احادیث
- ا...... لا تذهب ولا تنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اهل
بیتی یواطی اسمه اسمی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١ کتاب المہدی والترمذی ج ٢ ص ٤٧ باب ماجاء فی المہدی عن ابن مسعود) ”دنیا ختم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت سے ایک شخص جس کا نام میرے نام پر محمد ہوگا۔ دنیا کا مالک نہ ہو جائے ۔“ (ابوداؤد ج٢ ص١٣١ کتاب المہدی) کی دوسری روایت میں ہے۔
- ٢...... یواطی اسمه اسمی و اسم ابیه اسم ابی. ”اس کا نام میرے نام پر۔
اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ یعنی محمد بن عبداللہ
- ٣...... المہدی من عترتی من ولد فاطمہ. ”مہدی میرے کنبہ میں سے
فاطمہؓ کی اولاد ہوں گے۔“
(ابوداؤد ج٢ ص١٣١ عن ام سلمہ)
- ٤...... ان کا مولد مدینہ ہے۔ رواہ نعیم عن علی کرم اللہ وجہہ.
- ٥...... ہجرت گاہ ان کا بیت المقدس ہوگا۔ (ابوداؤد ج٢ ص١٣٢ کتاب الملاحم) کی
حدیث میں ہے۔ بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی ویرانی کا۔
- ٦...... حلیہ ان کا یہ ہے۔ گندم رنگ۔ کم گوشت۔ میانہ قد۔ کشادہ پیشانی۔ بلند بینی۔
کمان ابرو۔ دونوں ابروؤں میں فرق۔ بزرگ اور سیاہ چشم۔ سرمگین دیدہ۔ دانت روشن اور جدا جدا۔ داہنے رخسار پر تل سیاہ۔ چہرہ نورانی ایسا روشن جیسا کوکب دری۔ ریش پرانبوہ۔ کشادہ ران۔ عربی رنگ۔ اسرائیلی بدن۔ زبان میں لکنت جب بات کرنے میں دیر ہوگی۔ تو ران چپ پر ہاتھ ماریں گے۔ کف دست میں نبی ﷺ کی نشانی ہوگی۔
ناظرین ! یہ جملہ احادیث جو نواب صدیق حسن مرحوم کی کتاب اقترب الساعۃ سے لی گئی ہیں اور جن کے درج کرنے میں میں نے بہت اختصار کیا ہے۔ ایسی احادیث ہیں۔ جن کے ایک حرف سے بھی مرزا قادیانی کو تطبیق حاصل نہیں اور نہ آج تک انہوں نے ان کی تاویل ہی کر کے ان کے معانی ہم کو سمجھائے ہیں۔
١٣٩
نزول مسیح علیہ السلام کی احادیث
اب آپ مختصر طور پر عیسیٰ بن مریم کے نزول کی احادیث بھی ملاحظہ فرمالیں۔
- ١...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور وہ تم
میں نزول فرمائیں گے۔ جب ان کو دیکھو تو (اس حلیہ سے) پہچان لو۔ قد درمیانہ۔ رنگ سرخ و سفید۔ لباس زردی مائل۔ گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہوگا۔ وہ دین اسلام کے لیے لوگوں سے جنگ و قتال کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ خدا ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے۔ اور زمین پر چالیس سال تک قیام فرمائیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
(عن ابی ھریرةؓ ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥ کتاب الملاحم)
- ٢...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر لڑتی رہے
گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا۔ آیئے نماز پڑھایئے۔ فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امام ہو۔ خدا نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے (کہ بنی اسرائیل امتی محمدی کے پیچھے اقتدا کرے) (مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ) کی یہ حدیث جو بروایت جابر ہے۔ مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ کی حدیث بروایت ابو ہریرہ "کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ" کی بخوبی تفسیر کرتی ہے کہ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ سے دوسرا امام غیر عیسیٰ ہی مراد ہے۔ نہ کہ حسب قول مرزا قادیانی خود عیسیٰ ہیں جنہوں نے وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ کے معنی بنانے کے لیے وَھُوَ اِمَامُکُمْ بنا لیا ہے۔
- ٣...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں شب معراج ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیھم السلام
سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم کے سپرد ہوا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ پر بات ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کا تصفیہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا۔ قیامت کے وقت کی خبر تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدائے تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے۔ کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
(عن ابن مسعودؓ مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥)
١٤٠
- ٤...... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے خدائے پاک کی قسم ہے۔ جس کے ہاتھ میں
میری جان ہے۔ بیشک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھا دیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی۔ اور زر و مال کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا اور دنیا بھر کے مال و متاع سے ایک سجدہ کرنا اچھا معلوم ہو گا۔ ابو ہریرہؓ کہتے تھے۔ اگر تم ارشاد نبویؐ کے ساتھ قرآن سے دلیل چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ (ترجمہ) نہیں کوئی اہل کتاب مگر یہ کہ وہ ایمان لاوے گا عیسیٰ پر عیسیٰ کے مرنے سے پہلے (سورہ آل عمران) یہ حدیث صحیح (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) کی ہے۔
- ٥...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے۔ اگر وہ
پتھریلی زمین سے کہہ دیں کہ نرم ہو کر بہ جا۔ وہ بہ چلے پہلی حدیث ابو داؤد۔ دوسری مسلم۔ تیسری مسند احمد۔ چوتھی بخاری۔ پانچویں ترمذی کی ہے اور یہ احادیث متعدد صحابہ سے مروی ہیں۔ ناظرین ان کتابوں کے نام دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جملہ دواوین حدیث میں کس قدر احادیث نبوی مندرجہ ہوں گی۔ خاتم المحدثین امام شوکانیؒ نے کتاب التوضیح میں ان احادیث کو متواتر کہا ہے۔
خصوصیات زمانہ نزول مسیح
اب خصوصیات زمانہ نزول مسیح کو ملاحظہ فرمائیے:
- ١...... ان کے زمانہ میں جزیہ نہ لیا جائے گا۔ کیونکہ مال کی مسلمانوں کو کچھ ضرورت نہ ہو
گی۔ آج خود عیسیٰ بننے والے ہی روپیہ کے محتاج۔ خواستگار اور چندہ کے سائل ہیں۔
- ٢...... مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا۔ اور اسے زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔
سب متمول اور تونگر ہوں گے۔ آج دنیا کی تمام اقوام میں سب سے زیادہ مفلس اور غریب مسلمان ہیں۔ زکوٰۃ نکالنے والوں کی تعداد نہایت قلیل ہے اور لینے والے ہزاروں۔
- ٣...... آپس کی بغض اور عداوتیں جاتی رہیں گی۔ سب میں اتحاد اور محبت قائم ہو جائے گی۔
آج عیسیٰ بننے والے کے ہاتھ پر جنہوں نے بیعت کی ہے۔ خود ان میں تباغض و تحاسد موجود ہے ایک دوسرے کی چار پائی الٹ دیتا ہے۔ گالی گلوچ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین کو خود اس کا اقرار ہے۔
١٤١
- ٤....... ہر زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ وحوش میں سے درندگی نکل جائے گی۔
آدمی کے بچے سانپ بچھو سے کھیلیں گے۔ ان کو کچھ ضرر نہ ہوگا۔ بھیڑیا بکری کے ساتھ چرے گا۔
نقشہ اموات ملاحظہ ہو کہ صرف ملک ہندوستان میں سانپ کے کاٹے۔ وحوش کے کھائے ہوئے آدمیوں کی تعداد لاکھوں سے کم نہیں۔ پھر تمام دنیا کی آبادی کو اس سے قیاس کرلو۔
- ٥...... زمین صلح سے بھر جاوے گی۔ لڑائی مفقود ہو جائے گی۔
اس زمانہ کے سلاطین کی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں چھوڑ کر شاہان عظام کی جنگی تیاریوں۔
جنگی فوج کی تعداد کثیر پر نظر ڈالو۔ جو ایک عالمگیر جہاں آشوب جنگ کی خبر ہے۔
- ٦...... زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل پیدا کر۔ اور اپنی برکت کو لوٹا دے۔ اس دن ایک
انار کو ایک گھرانہ کھائے گا اور انار کے چھلکے کو بنگلہ سا بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو۔ دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو۔ دودھار بکری ایک جدی فخصوں کو کفایت کرے گی۔
- ٧...... گھوڑے سستے بکیں گے۔ کیونکہ لڑائی نہ رہے گی۔ بیل گراں قیمت ہو جائیں
گے۔ کیونکہ تمام زمین کاشت کی جائے گی۔
اس زمانہ کی بے برکتی سب جانتے ہیں۔ گھوڑوں کا گراں زر ہونا ظاہر ہے۔ یہ سب علامات مرزا قادیانی کے زمانہ میں ایسے مفقود ہیں۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ‘ مرزا قادیانی! دعویٰ مسیحائی کرنا آسان ہے۔ ازالہ اوہام کے برابر موٹی موٹی کتابیں چھپانا آسان ہے۔ مگر ان احادیث کی تاویل کرنا مشکل اور محال۔ اگر آپ کو ایمانی طور پر یقین ہے کہ آپ فی الواقع آنے والے مسیح ہیں تو ان احادیث کی تاویل تو کی ہوتی۔ نہ یہ کہ (ازالہ ص ٢٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٨) پر وعدہ کیا کہ اب ہم وہ احادیث جس سے علماء کو ڈگری ملتی ہے مع ترجمہ کے لکھتے ہیں اور لکھنے کے وقت صحیح بخاری کی چار سطروں کی حدیث بھی پوری پوری نہ لکھی۔
سیرت مسیح
- ١...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں
گے۔ پھر اہل دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت سکینہ ومتانت سے چلیں گے۔ زمین ان
١٤٢
کے لیے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گاؤں کے اندر تک اثر کر جائے گی۔
- ٢....... جس کافر کو ان کے سانس کا اثر پہنچے گا۔ وہ فی الفور مر جائے گا۔
- ٣....... یہ بیت المقدس کو ............. دجال نے اس کو محاصرہ کر لیا ہو گا اس وقت نماز صبح کا
وقت ہوگا۔
- ٤....... ان کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی و تری پر پھیل
جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
- ٥....... یہ روضہ رسول میں نبی ﷺ کے پاس مدفون ہوں گے۔ مسلمان ان کی جنازہ کی
نماز پڑھیں گے۔
- ٦....... دجال کو باب ”لُد“ پر قتل کریں گے۔ اس کا خون اپنے نیزہ پر لوگوں کو دکھلائیں
گے۔
مرزا قادیانی کے پاس یہ صفات کہاں ہیں؟ سچ ہے دعویٰ کرنا۔ آسان اور ثابت ہونا مشکل قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا o قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖ اَحَدًا o
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ o وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ.
نیاز مند محمد سلیمان عفی عنہ
١٤٣
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء ‘خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ ......... رہائش‘ خوراک‘ کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزا قادیانی اور نبوت
قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا قادیانی اور نبوت
فہرست
اللہ تعالیٰ کی نسبت ٣١٢ ملائکہ کے متعلق ٣١٣ کتابوں کی نسبت ٣١٣ انبیاء علیہم السلام کی نسبت ٣١٤ بعث بعد الموت ٣١٥ احوال برزخ اور عذاب و نعم کی احادیث ٣١٥
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا قادیانی اور نبوت
حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ نے زیر نظر کتابچہ مرزا قادیانی کے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ کے جواب میں تحریر فرمایا، مرزا کا یہ اشتہار خزائن ج١٨ میں ص٢٠٦ سے ٢١٦ تک شامل ہے۔ اس لئے ذیل میں صرف ایک غلطی کے ازالہ کا حوالہ دیں گے۔ خزائن کے حوالہ کو دیکھنے کے لئے اتنا تذکرہ کافی ہے۔ تکرار کی ضرورت نہیں۔ (فقیر اللہ وسایا)
میرے ایک دوست نے مجھے یکم رمضان المبارک کو مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ ٥ نومبر ١٩٠١ء (ایک غلطی کا ازالہ) دکھلایا، جسمیں مرزا قادیانی نے اپنا نبی ورسول ومحمد رسول و خاتم الانبیاء ہونے کا اشتہار دیا ہے اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے دو باتیں بہت صحیح لکھی ہیں۔
اول ...... یہ کہ مرزائی جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو مرزا قادیانی کے دعویٰ اور دلائل سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی کتابوں کو بھی انہوں نے غور سے نہیں پڑھا۔ اور صحبت میں رہ کر بھی تکمیل نہیں کی۔
ان لوگوں میں ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان بھی شامل ہے جس نے ١٠ جون کے اخبار میں مرزا قادیانی کا نبی ورسول نہ ہونا پرزور عبارت میں تحریر کیا تھا۔
”قادیان میں آنے والے مریدین کی درندگی، وحوش طبعی، بدتہذیبی، باہمی بدکلامی، دشنام دہی بلکہ استعمال کلمات فحش کا ذکر مرزا نے اپنے ”رسالہ شہادۃ القرآن“ (خزائن ج٦ ص ٣٩٥) کے آخری اشتہار میں کیا ہے اور اس پر حکیم نورالدین کی نورانی تصدیق ہے کہ یہ لوگ درست ہونے کی بجائے قادیان میں آکر اور زیادہ خراب ہوجاتے ہیں“
دوم...... یہ کہ نبی اور رسول بننے کا دعویٰ مرزا قادیانی کو مدت مدید سے ہے۔
٣
امر دوم ...... کے ثبوت میں مرزا قادیانی نے براہین کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ ان حوالوں سے اگر مرزا قادیانی کا مدعا اپنی نبوت کی قدامت کا اظہار ہو۔ تو یہ استدلال کچھ کمزور نہیں لیکن اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے سکوت سے ان کی قبولیت وتسلیم کے معنی نکالنے چاہتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی کو خود اقبال ہے کہ ان کے مریدوں نے بھی ان کی کتابوں کو نہیں پڑھا اور ان کے دعویٰ کو نہیں سمجھا تو عام مسلمانوں کا ان کی کسی کتاب کو نہ پڑھنا اور نہ سمجھنا باولیٰ ثابت ہو گیا بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ براہین کے مندرجہ الہامات کو پڑھنے والوں نے سکون کے ساتھ نہیں دیکھا چنانچہ (براہین ص ٥٤٤ خزائن ج ١ ص ٦٥١) سے آشکار ہے کہ مولوی غلام علی صاحب و مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری و مولوی عبد العزیز صاحب امرتسری نے ان ہی دنوں ان کا سخت انکار کر کے ان الہامات کو مجانین کے خیالات بتلایا تھا۔
ناظرین:۔ مرزا قادیانی نے الہامات مندرجہ اشتہار کو مطبوعہ براہین بتلا کر اپنے دعویٰ کی بنیاد کو پایہ تک پہنچایا ہے لیکن براہین سے اس مدعا کی تائید نہیں ہوتی مثلاً آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کو (براہین صفحہ ٤٩٨ خزائن ج ١ ص ٥٩٣) پر دیکھو۔ مرزا یوں لکھتے ہیں کہ ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیحؑ کے حق میں پیشگوئی ہے۔۔۔۔۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام پھیل جائے گا“ اب مرزا سے دریافت طلب ہے کہ براہین کے مندرجہ بالا بیان پر بھی آپ کو ایمان ہے یا نہیں کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے؟ لیکن اگر خود آپ مسیح ہیں۔ تو جسمانی طور پر سیاست ملکی کی عنان بھی ہاتھ لیجئے گا یا نہیں؟ اگر دونوں باتوں سے انکار ہے تو براہین کا حوالہ آپ کو کیوں کر مفید ہو سکتا ہے؟ مثلاً جری اللہ فی حلل الانبیاء کو دیکھو اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣) میں تو حلہ انبیاء کے پہننے سے مراد نبی بن جانا بتلایا ہے“ اور (براہین ص ٥٠٤ خزائن ج ١ ص ٦٠١ ملخص) پر لکھا ہے کہ امت محمدیہ کے بعض افراد کو حلہ انبیاء عطا ہوتا ہے یہ لوگ نبی نہیں ہوتے۔ پر نبیوں کا کام ہدایت و وعظ ان کے سپرد ہوتا ہے“ براہین میں نبوت سے انکار اور اشتہار میں اقرار نبوت پر اصرار ہے اور ہر دو حالتوں میں تمسک ایک ہی الہام سے ہے۔
تیسری آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبین پر غور کیجئے۔ (ازالہ اوہام ص ٥٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤١٠ ملخص) پر اس آیت کے تمسک سے اپنے آپ کو رسول اللہ کا صرف
تم
ایک جزو اور اپنی نبوت کو غیر تامہ بتلایا تھا۔ اور اشتہار ( ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ ملخص ) میں اسی کی دلیل پر ”اپنا رسول اور محمد خاتم الانبیاء ہونا تحریر کیا ہے“ میں حیران ہوں کہ جب ان کی سابقہ الہامی کتابوں اور حاشیہ اشتہار میں باہمی اس قدر تضاد و تناقض ہے تو مرزا قادیانی کو پہلی تصنیفات کے حوالجات کی کیونکر جرأت ہوئی ہے؟
اس ضروری تمہید کے بعد میں ناظرین کو اشتہار کے چند مقامات پر خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
مرزا قادیانی (اشتہار مذکورہ ص ٣) پر لکھتے ہیں کہ ” براہین احمدیہ میں محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم موجود ہے۔ اور اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی“
”محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی جو کفار کے لئے سخت تھے۔ انہوں نے ہرقل اور پرویز کی سلطنتوں کو فتح کیا تھا اور باہمی رحم ان میں ایسا تھا کہ نزع میں بھی خود پانی نہ پی کر دوسرے کو پلاتے تھے۔ مرزا قادیانی اپنے مریدوں کے باہمی برتاؤ کی شہادت تو شہادۃ القرآن میں دے چکے ہیں۔ اب پبلک کو یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ شدت بر کفار کا کیا نمونہ دکھلاتے ہیں؟
اس الہام کا حوالہ بھی براہین سے دیا گیا ہے۔ میں نے ( براہین ص ٥١٩ خزائن ج ١ ص ٦١٩ ) پر اس الہام کو دیکھا۔ لیکن اس مقام پر صراحۃ تو ذکر کیا کنایۃ بھی مرزا نے تحریر نہیں کیا۔ کہ کتابت مذکورہ بالا کے الہام میں ان کی ذات سے مراد لی گئی ہے۔ براہین تو کیا اور اس کے بعد متعدد الہامی کتابیں لکھیں۔ اپنی شرف و بزرگی کے مضامین سے بیسیوں ورق پر کئے لیکن کسی جگہ بھی نہ فرمایا کہ میرا نام محمد رسول اللہ ہے۔
بے شک ٥ نومبر کے اشتہار ( ایک غلطی کا ازالہ ) سے پہلے ایسی لمبی خاموشی کے کوئی معنی ہونے چاہئیں؟
اب قابل غور یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو تصویر محمد ﷺ کہتے ہیں۔ اور ظلی و بروزی طور پر محمد ﷺ بنتے ہیں۔
سوال یہ ہے:۔ کہ الفاظ تصویر ظل اور بروز کے معانی ایک ہی ہیں یا جدا جدا ہیں۔ اور اگر جدا جدا ہیں تو پھر مرزا قادیانی کس لفظ کے اعتبار و معنی سے محمد ﷺ ہیں؟
تصویر کو رسول کریم کی صورت پاک سے کیا مناسبت ہو سکتی ہے اور شکل انعکاسی کو وجود
٥
باوجود کے کمالات کیونکر مل سکتے ہیں؟ فتح مکہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیت اللہ کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام واسمعیل علیہ السلام کی تصاویر کو دیوار پر بنے ہوئے دیکھا اسی وقت ان تصاویر کو محو کروا دیا۔ اور تصاویر بنانے والوں پر لعنت فرمائی۔ (بخاری ج ٢ ص ٦١٤ کتاب المغازی) اس سے واضح ہے کہ تصویر خواہ کسی نبی یا رسول کی بھی کیوں نہ ہو وہ بہر حال محو اور ازالہ کے لئے ہے۔...... اب رہا ظلی طور پر محمد ہونا تو کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ کسی وجود کے سایہ میں بھی وہی کمالات موجود ہوتے ہیں جو شخص میں ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو ظلی ہو کر ہی مرزا قادیانی ہرگز ہرگز محمد ﷺ نہیں بن سکتے۔ کسی ظل کے تغیر پذیر وزوال گیر ہونے کے متعلق کہا ہے۔
اہل عرب بھی سریع زوال لاشی وجود کو ظل زائل سے تشبیہہ دیا کرتے ہیں۔ کتب سیر میں کثرت طرق کے ساتھ یہ امر بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے جسم اطہر وجود منور کا سایہ نہ تھا شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ کسی مدعی کو بطور مجاز بھی یہ کہنے کی جرأت نہ ہو سکے کہ میں ظل محمد ہوں۔ کیونکہ جس چیز کی حقیقت ہی موجود نہیں اس کے لیے مجاز کیونکر استعمال ہو سکتا ہے؟
اب رہا بروزی طور پر مرزا قادیانی کا محمد ﷺ ہونا یہ تو بالکل ہی غلط ہے۔ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ غلط ہے۔ مرزا قادیانی نے لفظ بروز کا استعمال فرمایا ہے۔ جسکے معنی لوگوں کو بہت کم معلوم ہیں۔ بروز کے معنی ظاہر ہونا اور باہر نکلنا ہے۔ (منتخب اللغات) اور قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال آیات مندرجہ ذیل میں سے قبور مردوں کے نکلنے کے معنی یا اوٹ میں سے نکل کر سامنے آجانے کے معنی میں لیا گیا ہے۔ ١...... وبرزوا للہ الواحد القہار (ابراہیم آیت ٤٨) ٢...... وبرزوا للہ جمیعا (سورۃ ابراہیم ٢١) ٣...... یوم ھم بارزون لایخفی علی اللہ منھم شی (غافر ١٦) سامنے آنے کے متعلق ١...... ولما برزوا لجالوت (بقرہ ٢٥٠) ٢...... قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیھم القتلی (ال عمران ١٥٤) ٣...... فاذا برزوا من عندک (النساء ٨١) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروز اس کو کہتے ہیں۔ کہ جو جسم چھپ گیا تھا۔ وہی آشکار ہو جائے‘ اوجھل جسم سامنے آجائے‘ پس یہ نہیں ہو سکتا کہ اس لفظ کا اطلاق ایک ایسے غیر شخص پر کیا جائے جو خود ہی شخصیت کے لحاظ سے اپنا غیر ہونا تسلیم کرتا ہو۔ بروز محمدیؐ کے معنی تو صرف یہ ہیں۔ کہ محمد ﷺ مدینہ طیبہ کے مرقد منور اور راحت گاہ پاک سے اٹھ بیٹھیں جس کی بابت ہمارا ایمان ہے کہ ایسا واقعہ نفخ صور کے بعد ہی ہو
٦
گا۔ زیادہ تر غور کے قابل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ظلی وانعکاسی و بروزی طریقوں پر محمد ﷺ بن جانے کی فکر میں سیرت صدیقی کا لفظ استعمال کیا ہے اور سیرت صدیقی کی کھڑکی سے داخل ہونے والے کو چادر نبوت کا پہنائے جانا تحریر کیا ہے۔ (اشتہار مذکورہ ص ٣ ملخص)
پس ضروری تنقیح یہ ہے کہ چادر نبوت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی کبھی پہنائی گئی یا نہیں؟ اور صدیق امت کو بھی ظلی یا انعکاسی یا بروزی طور پر کسی دن محمد ﷺ تسلیم کیا گیا یا نہیں؟ کیونکہ جب مشبہ بہ میں کوئی صفت حاصل نہ ہو اس وقت تک مشبہ کو اس کے ساتھ کوئی بھی وجہ تشبیہہ نہیں ہو سکتی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لئے کمال فخر کا مقام ہے جس سے ان کا فانی الرسول ہونا نکلتا ہے۔ جہاں قرآن مجید میں اللہ پاک نے بعثت رسول کی روایت فرما کر ان اللہ معنا کہا اور ان کی معیت کا اظہار فرمایا ہے ہم کو دیکھنا چاہئے کہ انہیں مقام پر معنا کا کیا نام رکھا گیا ہے؟ قرآن مجید نے تو جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ”لصاحبہ“ ہے۔ اب مرزا قادیانی دیکھیں جب صدیق امت اس مقام پر بھی جس کی توصیف قرآن مجید میں موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر اور خطاب نہیں پاسکے تو پھر کوئی اور شخص یا خود آپ سیرت صدیقی کی کھڑکی سے داخل ہو کر کیونکر چادر نبوت اوڑھ سکتے اور نبی ورسول کہلایا بن سکتے ہیں؟
مرزا قادیانی اسی اشتہار کے (ص١١) پر لکھتے ہیں۔ ”یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار ہا دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں۔ اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں“ اس فقرہ سے ظاہر ہے۔ کہ بروزی رنگ میں بذات خود محمد ﷺ تشریف فرما ہوتے ہیں۔ جس سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی لفظ بروز کو تناسخ کے ہم معنی استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اہل تناسخ کا خود ہی رد اور تکفیر کر چکے ہیں۔
(مرزا قادیانی کا مذہب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی ارواح دوسرے اجسام میں حلول کرتی رہتی ہیں۔ اور اسی کا نام بروز ہے وہ اس عقیدہ کو رکن ایمانیہ میں سے سمجھتے ہیں۔ (آئینہ کمالات صفحہ ٣٤٢ سے ٣٤٧ خزائن ج٥ ص ایضاً) تک قابل ملاحظہ ہے مرزا قادیانی نے اپنی بیوی کو ام المومنین کا خطاب دیا ہے۔ (نزول المسیح ص ١٤٦۔ ١٤٧ خزائن ج ١٨ ص ٥٢٣) اب خدیجۃ الکبریٰؓ کے رنگ میں بروز فرمانے میں کچھ دیر نہ ہوگی)
مرزا قادیانی سے دریافت طلب اس فقرہ کے متعلق یہ ہے کہ کیا آپ سے پیشتر بھی کوئی شخص بروزی رنگ میں نبوت محمدیہ سے مشرف کیا گیا ہے؟ اگر کوئی شخص ایسا گذرا ہو اور اسے
٧
آج تک مسلمان سمجھا جاتا ہو تو اس کا نام پیش کرنا چاہئے۔ اور اگر نہیں تو مرزا قادیانی نے یہ امکان کہاں سے قائم کیا؟ اور جب ہزاروں اشخاص ایسے ہی ہو سکتے ہیں تو اپنا نام محمد خاتم الانبیاء کیوں کر تجویز فرمایا؟ مرزا قادیانی کو خدا سے ڈرنا چاہئے کہ اس انداز کلام سے آپ نہ صرف اپنے لئے حصول نبوت کے خواستگار ہیں بلکہ زمان مستقبل کے واسطے بھی ہزاروں شوخ دیدہ لوگوں کے لئے جن میں دین و دنیا کی غیرت نہیں ہوتی ادعائے حصول نبوت محمدیہ کا دروازہ کھولتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے اسی اشتہار ص ٥ پر اپنا نام ”نبی“ تجویز کر کے لکھا ہے۔ کہ ”میرا نام محدث نہیں ہو سکتا کیونکہ تحدیث کے معنی کسی کتاب لغت میں اظہار غیب نہیں مگر نبوت کے معنی اظہار غیب ہے“ ناظرین....... توضیح المرام میں جس کے ٹائٹل پیج پر بھی الہامی چھپا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی (توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر لکھ چکے ہیں۔ ”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔“ مرزا قادیانی ان ہر دو فقرات کو دیکھیں اور بتلائیں۔
(ان کو قسم کھانے پر بھی مجبور نہیں کیا جاتا) کہ الہامی کتاب میں آپ نے خدا کی طرف سے محدث ہو کر آنا لکھا تھا۔ اور محدث کا ایک معنی سے نبی ہونا۔ اب اشتہار میں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام محدث نہ رکھا جائے اور ایک معنی کی شرط بھی اٹھا کر صرف ”نبی“ کہا جائے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب سے پیشتر توضیح (حوالہ مذکور) کی یہ عبارت بھی پڑھ لیں۔ ”محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہوتا ہے“ براہ مہربانی بتلائیں کہ اب جو آپ نے نبی و رسول بن کر نبوت محمدیہ کا دعویٰ کیا ہے تو آپ کی پہلی نبوت ناقصہ و نبوت جزئیہ میں کیا کسر تھی۔ اور اب وہ کیونکر پوری ہو گئی؟ دونوں حالتوں کا موازنہ بصراحت دکھلانا چاہئے۔ رہا یہ امر کہ محدث پر غیب ظاہر ہوتا ہے یا نہیں سو توضیح المرام میں آپ نے لکھا ہے کہ ”محدث“ پر امور غیبیہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اشتہار کی عبارت سچی ہے۔ اور تحدیث کے معنی کسی کتاب لغت میں اظہار غیب نہیں۔ تو آپ نے الہامی کتاب میں یہ معنی کیونکر لکھ دیئے تھے؟ اور اگر الہام نے یہ معنی بتلائے تھے تو اب اس سے انکار کرنے کی کیا ضرورت قوی آپڑی ہے؟
مرزا قادیانی سے یہ بھی التماس ہے کہ براہ مہربانی وہ حدیث شریف سیکون فی امتی ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا
٨
تقوم الساعة حتى يخرج كذابون) کی بھی شائع کریں۔ اور مسلمانوں کو سمجھا دیں کہ یہ تیس دجال و کذاب جس میں سے ہر ایک اپنے آپ کو نبی اللہ گمان کرتا ہو گا۔ امت محمدیہ کے اندر کس شان کے ہوں گے۔ آیا ان کا دعویٰ ظلی و بروزی طور پر نبی بننے کا ہو گا یا اور کسی طرح؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان فرما دیں کہ جب مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کے حضور میں بھی اقرار شہادتین کر چکا تھا اور تحریروں میں بھی آنحضرت ﷺ کا نبی و رسول ہونا تسلیم کرتا تھا صرف اتنی بات تھی کہ اپنے آپ کو بھی رسول کہتا تھا تو پھر اس کو کذاب کہنے کی کیا وجہ تھی۔ اور آپ کے دعویٰ میں اس سے کیا مغائرت ہے؟ مرزا قادیانی یہ بھی بتلا دیں کہ اگر آپ بائیس سال سے نبی و رسول ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مریدان جناب کو اس دعویٰ کی آج تک خبر نہ ہوئی۔ کیا یہ تفہیم جناب کی کوتاہی ہے یا فہم مریدین کا قصور ہے؟ اور اگر مریدین یہ عرض کریں کہ جب آپ خود ہی الہامی کتابوں میں من نیستم رسول (ازالہ ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٥) لکھتے اور اپنے آپ کو محدث بتلاتے رہے تو ہم لوگوں کا کیا قصور ہے تب فرمائیے کہ اس راز داری‘ معما خوانی‘ چیستاں گوئی‘ نقاب افگنی سے کیا مدعا تھا؟ کیا انبیاء اللہ میں سے اور کسی نبی نے بھی ایسا کیا ہے کہ ان کے دعویٰ نبوت و رسالت کی خبر ان پر ایمان لانے والوں کو بھی سالہا سال تک نہ ہوئی ہو؟
مرزا قادیانی! آپ اپنی کتاب تبلیغ صفحہ ٧٩‘ ٨٠ پر ایک نظر ڈالیں آپ نے بیان کیا ہے ”کہ جب حضرت عیسیٰ کو معلوم ہوا کہ ان کی امت نے لوگوں کو راہِ حق سے دور پھینک کر ہلاک کر ڈالا ہے اور خود بغی و عصیان میں گرفتار ہے۔ تو انہوں نے اللہ سے ایک نائب کی درخواست کی جو انہی کی حقیقت و جوہر کا مشہد و مشابہ اور بمنزلہ ان ہی کے اعضا و جوارح کے ہو‘ اللہ نے ان کی دعا کو قبول فرما کر میرے دل میں مسیح کے دل سے پھونکا گیا۔ اور مجھے توجہات واردات مسیح کا ظرف بنایا گیا ہے حتی کہ میرا نفس و نسمہ اس سے بہرہ ہو گیا۔ اور اب میں وجود مسیح کے سلک میں اس طرح پرویا گیا ہوں کہ ان کا روح میرے نفس کے اندر عیاں ہے۔ اور ان کا وجود میرے اندر پنہاں مسیح کی جانب سے ایک برق کوند کر آئی اور میری روح نے اس سے کامل طور پر ملاقات کی مجھے وجود مسیح کے ساتھ جو الصاق ہوا ہے وہ تخیل سے بڑھ کر ہے گویا میں خود مسیح بن گیا ہوں۔ اور اپنی ہستی سے جدا ہو چکا ہوں میرے آئینہ میں مسیح کا ہی ظہور و تجلی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل میرا جگر میری عروق میرے اوتار وجود مسیح سے ہی بھرے ہوئے ہیں اور میرا یہ وجود مسیح کے جوہر وجود کا ہی ایک ٹکڑا ہے“
٩
اس وحدت وجود پر غور اور مکرر غور کے بعد مرزا قادیانی بتلائیں کہ جب آپ بالکل مسیح ہی بن گئے تو پھر آپ کا آیت خاتم النبیین کے بعد نبی ورسول بننا کیوں کر ختمیت محمدی کے منافی نہیں۔ کیونکہ آپ مرزا غلام احمد تو رہے نہیں روح اور جسم سے مسیح بن چکے اور اپنی پہلی ہستی سے علیحدہ ہو چکے ہیں نیز قدیم مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح پر جو خود گھڑت اعتراضات آپ نے کئے ہیں وہ کیوں کر آپ پر وارد نہیں ہوئے؟ اس کا جواب دینے سے پیشتر یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آپ گوشت پوست سے بالکل مسیح ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیں کہ ایک دفعہ مسیح بن جانے کے بعد پھر جزوی طور پر آپ آنحضرت ﷺ کب اور کیونکر بنائے گئے؟ اور اگر یہ صحیح ہے کہ الہام براہین میں آپ کو محمد رسول اللہ بنایا گیا تھا تو پھر اس کے بعد مسیح بنائے جانے میں جو مقفیت ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟
آنحضرت ﷺ کا سید الانبیاء ہونا امید ہے کہ اب تک مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہوں گے) اور اگر آپ مسیح پہلے بنائے گئے اور محمد خاتم الانبیاء بعد میں تو الہام براہین کے کیا معنی ہیں؟ نیز یہ واقع کب ہوا؟ اور وحدت وجود مسیحی سے آپ کو جدا کر کے وحدت وجود محمدی کا درجہ و شرف کب عطا ہوا؟
تبلیغ کے بعد (ازالۃ الاوہام ص ٢٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣ ملخص) کو لیجئے۔ آپ نے کہا ہے کہ آیت و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میری شان میں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا نام جمالی و جلالی صفت کے رو سے محمد ﷺ ہے اور احمد سے مراد صرف جمالی شخص ہے۔ (جو خود مرزا قادیانی ہیں)
مرزا قادیانی بتلائیں کہ ازالۃ الاوہام لکھتے وقت آپ نے ایک آیت کے تمسک سے آپ نے آپ کو محمد ﷺ کا غیر بنایا تھا۔ اور غیر ہونے کے وجوہات بھی خود ہی تحریر کئے تھے۔ تو اب آپ خود ہی محمد ﷺ کیونکر ہو گئے؟ براہ مہربانی بتلائیے کہ آیت ”مبشرا برسول“ سے آپ کا تمسک کرنا غلط تھا۔ یا آیت محمد رسول اللہ سے استدلال غلط ہے اور چونکہ ازالہ بھی الہامی کتاب ہے اس لئے کہ کونسا الہام غلط ہے اور منشاء غلطی کیا ہے؟
ناظرین:۔ مرزا قادیانی کو جواب باصواب پر غور کرنے کے لیے چھوڑ کر مرزا قادیانی کے رنگ آمیز دعاوی کی بہار دیکھیں پہلے آپ مجدد بنے اور پھر براہین کے چند مقامات پر حضرت مسیح کے دوبارہ نزول اور سیاست ملکی کو تسلیم کر کے خود ان کی پہلی زندگی کا نمونہ بننا تجویز و پسند
١٠
فرمایا۔ پھر (توضیح و ازالہ وغیرہ) وفات مسیح کا دعویٰ باندھ کر ان کے مثیل و جانشین بنے پھر مسیح کو اپنے ممبر پر قدم رکھنے سے ڈانٹ بتانے لگے پھر (تبلیغ) خود مسیح کا وجود دکھلائے کبھی حضرت فاروقؓ کی نظیر پیش کر کے محدث کہلائے اور کبھی ”لا مہدی الا عیسیٰ“ کی وضعی روایت کے تمسک سے مہدی وعیسیٰ (ازالہ) دونوں خود ہی بنے کبھی ملہموں پر فضیلت جتلانے کے لئے خلیفہ وقت و امام زماں کہلائے (رسالہ ضرورت امام) کبھی حضرت سلمان فارسیؓ والی حدیث (ازالہ) ”رجل“ کا شرف حاصل کرنے کے لئے فارسی النسل ہونے کا اظہار کیا اور کبھی اپنے آپ کو خاندان شاہی میں بتلانے کے لئے ”سمرقندی الاصل“ ہونا بتلایا کبھی اپنی زمینداری کو بھی مطابق پیشگوئی بنانے کے لئے حدیث ”حارث حراث“ کا مصداق خود کو ٹھہرایا کبھی اپنی رسالت کے ثبوت میں آیت ”و مبشرا برسول“ کو پیش کر کے احمد بن گئے اب اشتہار ہذا میں محمد ﷺ ہونے کا دعویٰ ہے۔ فارسی النسل بننے کی جگہ خاندان سیادت سے تعلق کا اظہار کیا ہے کہ ایک دادی سیدانی تھی محدث کے کمالات کو دل سے محو اور عمرؓ فاروق کی نظیر کو چھوڑ کر اب سیرت صدیقی کا تذکرہ ہے۔ یہ جملہ مراتب اور جمیع مناصب الہامی کتابوں میں درج ہیں اور مریدان خوش فہم کے لئے بمصداق ”ہر چہ پیدائے شود از دور پندارم توئی“ ہر ایک پیشگوئی کے مورد خاص اور مصداق صحیح مرزا قادیانی ہی بنے ہوئے ہیں۔
مرزا قادیانی اشتہار مذکورہ میں کہتے ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ کے کمالات معہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے مجھے دیئے گئے ہیں۔ دریافت طلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک آنحضرت ﷺ بھی صاحب شریعت ہیں یا نہیں۔ اور اگر ہیں تو پھر اس کے کیا معنی ہیں۔ کہ مرزا قادیانی کو نبوت تو محمد ﷺ کی ہی ملی اور معہ ذالک صاحب شریعت ہونے کا افتخار حاصل نہ ہو؟ معلوم ہوتا ہے کہ ہنوز اس راز کو مخفی رکھنے میں کوئی مصلحت حائل ہے۔ آخر ایک ایسا دن آئے گا۔ جب آپ صاحب شریعت ہونے کا بھی صاف لفظوں میں اقرار کر کے اس غلطی کو بھی بے چارے مریدوں کے سر تھوپیں گے۔ (مصنفؒ کی پیشگوئی کے مطابق مرزا قادیانی نے اربعین میں صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اللہ وسایا) اور جس طرح آپ نے آج ”من نیستم رسول“ کے معنے ”من رسول ہستم“ بتلائے ہیں۔ اسی طرح آگے چل کر ان الفاظ منفیہ کو بھی مثبتہ فرما دیں گے۔ اور اس وقت بتلایا جائے گا کہ مسیح با وجود اتباع شریعت موسوی توریت کے چند احکام منسوخ کر دیئے تھے۔ اسی طرح مجھ کو بھی زیادہ اتباع
١١
شریعت محمدی ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے میرا خیال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات کو غور سے دیکھنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے صاحب شریعت نہ ہونے پر بھی کس قدر ترمیم و اصلاح شریعت محمدیہ کی بزعم خود کر دی ہے سب سے زیادہ ضروری حصہ اسلام میں عقائد کا ہے اور اسی میں بہت کچھ مرزا کے خلاف پایا جاتا ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کو صیغہ ایمان مفصل ان الفاظ میں یاد کرایا کرتے ہیں۔
آمنت بالله و ملٰئکتہ و کتبہ ورسلہ والبعث بعد الموت۔ مرزا قادیانی بھی اس جملہ پر اپنا ایمان ہونا تحریر فرما چکے ہیں لیکن جو کچھ انہوں نے ہر ایک نمبر پر شریعت محمدیہ سے عدول کیا ہے اسے مختصراً ظاہر کیا جاتا ہے۔
(مرزا قادیانی کو اپنے کلام پر وہی تحدی ہے جو قرآن پاک کو ہے۔ براہین سے تمسک ہے۔ جو مسلمانوں کو قرآن سے ہے۔ فرقہ کا نام بھی احمدی رکھ لیا ہے۔ حالانکہ الہام براہین صفحہ ٥٢٢ (خزائن ج ١ ص ٦٢٣) میں محمدی رہنے کی ہدایت ہوئی تھی کیا یہ سب امور صاحب شریعت ہونے کی تمہید نہیں؟)
اللہ پاک کی نسبت
شرع محمدیہؐ نے ہم کو بتلایا ہے کہ خدا ایک ہے کسی کا باپ ہونے یا فرزند بننے سے پاک ہے نہ وہ جسم ہے اور نہ وہ کسی جسم میں تشکل لیتا ہے وہ اپنی ذات و صفات میں یگانہ ہے۔ اللہ کو ثالث ثلاثہ کہنے والے ملعون ہیں۔ روح القدس، مسیح، جملہ ملٰئک، اور انبیاء سب اس کے بندے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے الہامات و تحریرات کو دیکھئے موعود اور الہامی فرزند کا خطاب ان الفاظ میں درج فرماتے ہیں
”فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الحق و العلا کان الله نزل من السماء‘ (تذکرہ ص ٤٤ طبع ٢) (گویا خود خدا آسمان سے اتر آیا) یہاں آپ نے خدا کا جسم انسانی میں متشکل ہونا مان لیا ہے پھر مسیح کے نزول من السماء پر تو آپ کو سو اعتراض ہیں۔ مگر اللہ پاک کے نزول من السماء پر اور وہ بھی اس کو اپنا فرزند بنا کر ایک اعتراض بھی نہیں۔ اپنے اقتدار سے ”کن“ کہنے اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
پھر ایک اور الہام یہ ہے کہ ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں“
(ایضاً ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
١٢
مرزا قادیانی کے مذہب میں اس کو ”لم یلد ولم یولد“ کا ترجمہ کہنا چاہئے ایک اور الہام یہ ہے ”تو میرے سے ایسے ہے جیسے میری توحید“ (ایضاً ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) یہاں مرزا قادیانی نے اپنا درجہ صفات ربانی کا قرار دیا اور انسان فانی ہوکر ازلی وابدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ توضیح المرام میں تثلیث پاک کا مذہب نکالا اور روحانی طور پر مسیح کا اور اپنا ابن اللہ ہونا صحیح بتلایا۔ ایک اور الہام مرزا قادیانی کا ہے انت منی بمنزلتی ولدی ایضاً............
ملائکہ کے متعلق
شرع نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ نورانی جسم والے اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ گروہ در گروہ ہیں۔ کسی گروہ کا کام تسبیح وتقدیس ہے۔ کوئی ہوا پر مؤکل ہے کوئی پانی پر‘ کوئی رزق رسانی پر‘ کوئی قبض ارواح پر‘ کوئی سوال مقبور پر‘ کوئی نفخ صور پر‘ وہ مومنین کی شیاطین سے حفاظت کرتے ہیں اور انبیاء اللہ کی نصرت کے لئے بار ہا زمین پر اترتے ہیں۔ اور وہ اہل ایمان کے لئے دعائے مغفرت وتوفیق طاعت میں مشغول رہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام انبیاء اللہ کے پاس وحی پاک لایا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ قرآن پاک کا دور کیا کرتے تھے۔ چند غزوات میں مسلح ہوکر آنحضرت ﷺ کی نصرت وخدمت کے لئے آئے تھے عزرائیل علیہ السلام قبض ارواح پر مامور ہیں۔ بہت سے فرشتے جو نیک بندوں اور بدکاروں کی جان نکالنے پر جدا جدا مامور ہیں ان کے ماتحت ہیں۔
مرزا قادیانی کو دیکھئے (ازالہ میں) وہ کہتے ہیں کہ ملائکہ نام ہے ستاروں کی ارواح کی روحیں جو ایک قدم بھی اپنے ہیڈ کوارٹر سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں۔ آفتاب کی روح کا نام جبرائیل ہے۔ وہ بھی کبھی زمین پر نہیں آیا جبریلی نور ہر ایک پر پڑتا ہے نبی پر بھی اور فاسق پر بھی۔ اس رنڈی پر بھی جو شراب پئے یار کو بغل میں لئے پڑی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے جتنا چھوٹے بڑے آئینہ کا‘ عزرائیل زمین پر نہیں آتے۔ اور اکیلا فرشتہ اتنی بڑی دنیا میں خصوصاً بیماری اور جنگ کے ایام میں یہ خدمت کیوں کر سکتا ہے۔
کتابوں کی نسبت
شرع محمدیہ نے ہم کو سکھلایا ہے کہ جملہ کتابوں پر ایمان لانا چاہئے‘ تورات‘ زبور‘ انجیل کو نور ہدایت سمجھنا چاہئے اور قرآن پاک کو ان سب کا قول فیصل تسلیم کرنا چاہئے۔ مرزا قادیانی کو
١٣
دیکھئے کہ تورات میں جو قصہ حضرت ایلیا کے بجسدہ العنصری رفع الی السماء کا ہے اس سے انکار کرتے ہیں۔ اور انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام نے جن صاف اور صریح اور نہایت واضح الفاظ میں اپنے دوبارہ قبل از قیامت تشریف لانے کا ارشاد فرمایا ہے اس سے روگرداں ہیں۔ قرآن مجید جب حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل وصلب کی نفی کرتا ہے تو مرزا قادیانی پر زور الفاظ میں ان کا صلیب پر لٹکائے جانا بیان کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آیات قرآنیہ میں جن الفاظ کو اپنے مطلب کے خلاف پاتے ہیں۔ ان کو حذف کر کے از سر نو نظم قرآنی قائم کرتے ہیں۔ جس کی نظیر ازالہ میں آیت او ترقی فی السماء موجود ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی نسبت
شرع محمدیہ نے ہم کو بتلایا ہے کہ جملہ انبیاء صداقت اور تبلیغ میں مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ سب پر یکساں ایمان لانا ہم پر فرض ہے ایک نبی کی تکذیب یا توہین جملہ انبیاء کی تکذیب اور توہین ہے۔ انبیاء کے پاس وحی الٰہی پاک فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ بھیجی جاتی ہے جس میں کبھی شیطان دخل نہیں کرسکتا۔ اور نہ انبیاء کو وحی ربانی کے متعلق کوئی غلط فہمی یا شک پیدا ہوسکتا ہے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، محمد رسول اللہ ﷺ اولوالعزم رسول ہیں۔ اور ان کو خاص فضیلتیں حاصل ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں۔ قیامت تک آپ کے بعد نہ کوئی نبی بنایا جائے گا اور نہ رسول۔ آنحضرت ﷺ کے اقرار رسالت اور نصرت کا میثاق جملہ انبیاء سے لیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی تعلیم و تفہیم یہ ہے۔
انبیاء کی جماعت کثیر نے جھوٹی پیشگوئیاں بھی کی ہیں۔ انبیاء نے دھوکا کھا کر شیطانی الہام کو ربانی وحی بھی سمجھ لیا ہے شیطانی کلمہ کا دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہوجاتا ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید کے بعض الفاظ کے معانی وحقیقت معلوم نہ ہوئی ہو۔
(دیکھو ازالہ ٦٢٨‘ ٦٢٩‘ ٦٩١)
مسیح کا مکاشفہ صاف نہ تھا۔ حضرت مسیح ہدایت و توحید و دینی کام میں ناکامیاب رہے مسیح کے معجزات عجوبہ نمائی تھے۔ میں ان کو مکروہ و قابل نفرت سمجھتا ہوں
(ازالہ ص ٣٠١‘ ٣٠٩‘ ٢٩٠)
کیا اس تعلیم سے انبیاء ورسل کی عصمت ومعجزات اور معرفت وکمالات کی عظمت وہی
١٤
قائم رہ سکتی ہے۔ جس کا قائم رکھنا شریعت محمدیہ نے فرض بتلایا ہے؟
بعث بعدالموت کے متعلق
اللہ پاک نے قرآن مجید میں حضرت خلیل الرحمٰن کا قصہ بیان فرمایا ہے جس میں چند زندہ پرند کو ذبح کرنے ان کے گوشت پہاڑیوں پر پھینک دینے اور پھر حضرت خلیل الرحمٰن کی آواز پر پرندوں کا زندہ ہونا مذکور ہے اور بتلایا گیا ہے کہ مردوں کا زندہ کیا جانا اس طرح پر ہوگا۔ پھر ایک بزرگوار کا دوسرا قصہ بیان فرمایا ہے جنہوں نے ایک پرانی بستی کے خرابہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ لوگ کیوں کر زندہ کئے جائیں گے؟ اللہ پاک نے ان کی سواری کو اور ان کو موت دی۔ اور سو سال کے بعد پہلے ان کو زندہ کیا پھر ان کی آنکھوں کے سامنے حمار کے گردوغبار کو گوشت و پوست سے مبدل فرمایا۔ انہوں نے ہڈیوں پر گوشت کو چڑھتے اور مٹی سے جسم حیوانی کو بنتے اور مردہ کو زندہ ہوتے بھی دیکھا۔ اور پھر یہ بھی دکھایا گیا کہ طعام ذرا بھی نہ بگڑا تھا۔ اس میں دونوں باتیں دکھلائی گئی ہیں کہ خدا اس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور اس طرح اپنی حفاظت سے جسے چاہے بچا لیتا ہے مرزا قادیانی کو دونوں قصوں کی حقیقت سے انکار ہے۔ حضرت خلیل الرحمٰن کے قصہ کو گوبر اور دہی آمیزش سے بچہ پیدا ہو جانے کی ترکیب پر محمول کرتے ہیں۔ اور دوسرے قصہ کو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں مانتے۔
احوال برزخ اور عذاب و نعم قبر کی احادیث
ان کا فیصلہ مرزا قادیانی اس طرح کرتے ہیں کہ موت کے بعد ہی انسانی روح جنت یا دوزخ میں چلی جاتی ہے اب اگر ان سے جنت یا دوزخ کی حقیقت پوچھئے تو اور ہی گل کھلاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو موازنہ کرنا چاہئے کہ کیا یہی وہ عقائد ہیں جو شریعت محمدیہ نے تعلیم کئے ہیں۔ اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خود بدولت صاحب شریعت بھی ہیں؟
عقائد کے بعد عادات و عبادات و معاملات میں بھی ایسی ہی مثالیں مل سکتی ہیں۔ اور معترضین نے پیش کی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی شرع محمدی سے دیدہ و دانستہ تخلف کرتے ہیں میں اس لئے ان کا ذکر نہیں کرتا کہ ان سے ذاتیات پر حملہ کرنے کا شبہ ہوتا ہے۔ میرے نزدیک قابل غور صرف یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی محمد ﷺ ہی بن گئے ہیں تو پھر صاحب شریعت کیوں نہیں؟ شاید انہوں نے سوچا ہو کہ میں صاحب شریعت ہونے سے انکار
١٥
کر کے بہت سی ملامتوں اور اعتراضوں سے بچ سکوں گا لیکن یہ خیال نہ کیا جب وہ نبوت محمدیہؐ کو لے کر بروز فرماتے ہیں تو پھر آنحضرت ﷺ کے لئے یہ کس قدر منقصت کا باعث ہے کہ کسی زمانہ میں حضور کی نبوت بلا شریعت بھی پائی جائے۔ یہ مقام تو بہت ہی غور کے قابل تھا اسی اشتہار (ص ٥) میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو محمد ثانی بھی کہا ہے اور اسی اشتہار میں کمال اتحاد کی وجہ سے نفی غیریت بھی کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اول اور ثانی کا اطلاق غیریت جتلانے کے لئے کیا جایا کرتا ہے یا غیریت کی نفی کرنے کو؟ مرزا قادیانی نے ”من تو شدم تو من شدی“ کہہ کر کمال اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔
اول...... تو جب تک من کہنے والا اپنے آپ کو من اور مخاطب کو ”تو“ کہنے کی حالت میں ہے۔ اس وقت تک کیوں کر سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ منی اور ”توئی“ کی تقیدات سے نکل گیا ہے؟
دوم...... مرزا قادیانی کو تو محمد ﷺ بن جانے میں وہ شرف ہو سکتا ہے جو ذرہ ناچیز کو آفتاب جہاں تاب بننے میں۔ مگر سید الانبیاء و فخر رسل کو مرزا غلام احمد قادیانی بننے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ (معاذ اللہ)
مرزا قادیانی کی تصنیفات دیکھنے سے جو تجربہ مجھے حاصل ہوا ہے اس پر بھروسہ کر کے میں کہہ سکتا ہوں کہ محمد ثانی مرزا اس لئے بنے ہیں کہ ”نقاش نقش ثانی بہتر کشد ز اول“ آپ کے پیش نظر ہے چنانچہ پہلے مرزا قادیانی مثل مسیح بنے تھے۔ مگر پھر مسیح کے مکالمہ کو ملکہ بتلایا اور ان کے معجزات کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھا آنحضرت ﷺ پر جزوی فضیلت کثرت براہین و دلائل میں آپ اپنے لئے تجویز کر ہی چکے ہیں۔
اب میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جن پیشگوئیوں کی بنیاد پر مرزا قادیانی نے اپنی غیب اور غیب دانی کی بنا پر نبوت ورسالت کا اظہار کیا ہے۔ وہ کیا حالت رکھتی ہیں مرزا قادیانی نے اپنی پیشگوئیوں کی تعداد دو سو (٢٠٠) سے زیادہ تحریر کی ہے جن کی تفصیل نامعلوم محض ہے۔
نوٹ...... یہ ابتدائی بات ہے بعد میں دس لاکھ نشانات کا اعلان کیا۔
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١ خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)
اسلامی دنیا کی نگاہ ایک صرف ایک ہی پیشگوئی پر ہے جس کا تعلق مرزا قادیانی کی ذات خاص سے ہے محمدی بیگم کے متعلق الہامی الفاظ جو مرزا قادیانی پر نازل ہوئے ہیں۔ وہ انا زو جناکھا ہیں۔
(تذکرہ ص ١٢٦ طبع ٢)
١٦
زوجناکھا ماضی کا صیغہ ہے۔ اور ظاہر کرتا ہے کہ اللہ پاک کے حکم سے تزویج ہو چکی ہے۔ اگر یہ ارشاد ربانی ہے تو تعجب ہوتا ہے کہ تدابیر انسانی کیوں کر اسے ملیا میٹ کر سکیں۔ کہ وہ عفیفہ دس بارہ سال اپنے جائز شوہر کے گھر میں آباد و شاد رہے۔
مرزا قادیانی:۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس پیشگوئی کا حوالہ آپ کے دل دردمند کو دکھانا بھی ہے۔ مگر آپ فرمائیں کہ میری غرض نہ گستاخی ہے۔ نہ آپ کو صدمہ پہنچانا۔
بلکہ صرف اس پیشگوئی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے بذات خود جناب والا کو قلبی و شغفی اور روحی وجانی تعلق ہے اسی ایک الہام پر آپ کے اظہار غیب کی قابلیت اور اس قابلیت کی بنیاد پر صداقت دعوٰی رسالت ونبوت کا بہت کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس بارہ میں میری التماس یہ ہے۔ کہ مرزا قادیانی ایک مستقل رسالہ تحریر فرمادیں جس میں ناکامی یا دیر کے وجوہ اور دلائل مفصل درج ہوں اس کتاب میں یہ بھی ذکر کیا جائے کہ اصل الہام میں ”باکرہ“ یا ”ثیبہ“ کا لفظ کیوں ہے کیا الہام کنندہ کو یہ خبر تو ہوگی کہ اس مستورہ نے آپ کی زوجہ تو ضرور بننا ہے۔ مگر یہ اطلاع کیوں نہ ہوئی کہ اس کا پہلا نکاح ہو گا یا پچھلا۔
صورت سوال یہ ہے کہ حرف ”یا“ شک کے موقعہ پر بولا جایا کرتا ہے اگر یہ الہام عالم الغیب کی جانب سے ہے تو اسے شک کیوں ہوا اور جب الہام اظہار غیب کے لئے آپ پر نازل ہوا ہے تو شکیہ جملہ سے حتمی طور پر اظہار غیب کیوں کر متصور ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی سے یہ بھی التماس ہے کہ جو مرید تکمیل یافتہ ہیں۔ ان کے نام شائع کر دیں۔ تاکہ ناتمام کو مخالفین کے ساتھ حوصلہ بحث نہ رہے اور مسلمانوں کو لازم ہے کہ جن کے پاس مرزا قادیانی کی عطیہ سند نہ ہو اسے ہمیشہ ناقص ہی سمجھتے رہیں۔ مریدان مرزا قادیانی سے التماس ہے کہ کوشش فرما کر داغ ناواقفیت کو مٹائیں۔ ورنہ رسول پاک سے ایسی استغناء ایسی لاپرواہی تو کفران نعمت بلکہ کفر حقیقت ہے۔
والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
فقط
تمت بالخیر
١٧
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے !
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندانِ اسلام !
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختم نبوت
پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
فہرست : ختم نبوت
تمہید ٣٢١ نبوت و رسالت کا مفہوم ٣٢٨ الیوم اکملت لکم دینکم کی تشریح ٣٣٠ ایک شبہ کا ازالہ ٣٣٠ ختم نبوت پر دوسری نص قرآنی ٣٣١ خلاصہ کلام ٣٣٢ ایک شبہ کا ازالہ ٣٣٢ پہلی حدیث ٣٣٤ دوسری حدیث ٣٣٥ تیسری حدیث ٣٣٦ چوتھی حدیث ٣٣٦ اقوال مفسرین ٣٣٧ اجماع امت ٣٣٩ عقلی توجیہ ٣٣٩ ایک شبہ کا ازالہ (نبوت رحمت) ٣٤٠
بسم اللہ الرحمن الرحیم ١
تمہید
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے تمام فرقوں کا متفقہ عقیدہ ہے جس کے متعلق تیرہ سو سال سے کبھی بھی اختلاف آراء نہیں ہوا۔ جھوٹے مدعیان نبوت ضرور پیدا ہوتے رہے لیکن امت مرحومہ نے متفق اللسان ہو کر ان کو خارج از دائرہ اسلام قرار دیا اور اس طرح گلزار اسلام کو پژمردہ ہونے سے محفوظ رکھا۔
مسلمانوں میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے۔ مثلاً جبریہ‘ قدریہ‘ مرجئہ‘ معتزلہ‘ شیعہ‘ تفضیلیہ‘ مقلد‘ غیر مقلد‘ اہل قرآن‘ اہل حدیث وغیرہ اور ان میں زبردست مناظرے‘ مباحثے اور مجادلے بھی برپا ہوئے لیکن آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ سب نے خاتم النبیین کے معنی یہی کئے کہ :
”لا نبی بعدہ۔“ ﴿آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
فی الجملہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور مسلمانوں نے ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید الٰہی کے بعد اس عقیدہ کے متعلق بہت کچھ غیرت ایمانی اور جوش مذہبی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات معمولی سا غور و فکر کرنے سے بھی معلوم ہو سکتی ہے کہ اگر توحید الٰہی کا عقیدہ بمنزلہ بنیاد ہے تو ختم نبوت کا عقیدہ بمنزلہ عمارت ہے اور ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی انبیاء کا سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کا قصر رفیع کبھی کا منہدم ہو گیا ہوتا۔ اگر مسلمانوں نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کو آئندہ انبیاء سے کوئی عداوت ہے۔ بلکہ وہ اس لئے اس عقیدہ پر مصر ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کسی نبی کی ضرورت باقی ہے تو
٣
پھر آنحضرت ﷺ کی وہ خصوصیت جو آپ ﷺ کو جمیع انبیاء سے ممتاز کرتی ہے باطل ہو جائے گی۔ جو شخص چاہے یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں لیکن پھر وہ دائرہ اسلام سے یکسر اور مطلق خارج ہو جائے گا۔ اسلام سے اسے کوئی علاقہ نہ ہو گا۔
اس لئے علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :
”اسلام نسلی خیال کو کلیۃً ملیا میٹ کر کے اپنی بنیادیں صرف مذہبی خیال پر استوار کرتا ہے۔ ہر مسلمان اس مذہبی تحریک کو جو اسلام ہی کی آغوش میں پل کر جوان ہوئی ہو اور اس کے باوجود اپنی بنیاد کسی نئی نبوت پر رکھنے کی مدعی ہو اور تمام مسلمانوں کو جو اس تحریک کو اور اس کے مفروضہ الہامات کی صداقت کو قبول نہ کریں کافر قرار دے رہی ہو اسلام کی وحدت کے لئے ایک زبردست خطرہ سمجھنے پر مجبور ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ نوع انسانی کی ثقافت کی تاریخ میں غالباً سب سے پہلا اچھوتا عقیدہ ہے ............ اسلام جو نوع انسانی کی مختلف اقوام کو ایک سلک میں منسلک کرنے کا مدعی ہے کسی ایسی تحریک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ کا موجب ہو۔“
(تلخیص حرف اقبال ص ١٢١)
اس اقتباس سے جو دنیائے اسلام کے سب سے بڑے فلسفی شاعر اور عصر حاضر کے ایک نامور مفکر کے خیالات و معتقدات کا آئینہ ہے۔ ناظرین کو بخوبی واضح ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان ختم نبوت کے عقیدہ پر اس قدر زور کیوں دیتا ہے ؟۔ سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو جاری تسلیم کرنے سے وحدت اسلامی پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔
مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیشگوئی فرمادی تھی کہ میرے بعد میری امت
٤
میں تیس نبی جھوٹے پیدا ہوں گے۔ لیکن وہ سب کے سب اپنے دعویٰ میں کاذب ہوں گے۔ کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔
چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق آنحضرت ﷺ کے بعد مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث، مختار ثقفی، میمون قداح، طلیحہ بن خویلد، ابن مقنع، سلیمان قرمطی، بابک خرمی اور عیسیٰ بن مہرویہ مشہور دجال اور کذاب گزرے ہیں۔ ان افراد نے عرب اور ایران میں کافی تباہی و بربادی پھیلائی اور ہزارہا بندگان خدا کا خون بہایا۔
تقریباً ہزار سال تک اسلامی دنیا میں امن وامان رہا۔ لیکن موجودہ صدی کے آغاز میں پنجاب کی زرخیز سرزمین سے ایک مدعی نبوت کا ظہور ہوا جس نے کمال بیباکی سے حضرت ختمی مرتبت ﷺ کے فرمان کو پس پشت ڈال دیا اور مسلمانوں میں از سر نو فتنہ و فساد کا دروازہ کھول دیا۔
اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت سی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ لیکن ان منازل کی وجہ سے ان کے دعویٰ کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عالم دین، زاہد، مناظر، مجدد، مثیل مسیح، مہدی، امام الزمان، لغوی نبی، امتی نبی، عکسی نبی، مجازی نبی، ظلی نبی اور بروزی نبی کے مناصب طے کرنے کے بعد انہوں نے غیر تشریعی مگر مستقل نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور جو شخص کسی زمانہ میں یہ کہا کرتا تھا کہ :
- ١............ ”خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد نبی کیسا؟“ (انجام آتھم
ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)
- ٢............ ”یہ کیونکر ہو سکتا ہے باوجودیکہ ہمارے نبی کریم ﷺ
خاتم الانبیاء ہوں اور پھر کوئی دوسرا نبی آجائے۔“ (ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩)
٥
ہر نبوت را بروشد اختتام
(در ثمین ص ١١٤‘ سراج منیر ص ٩٣‘ خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
اسی شخص نے آگے چل کر یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔
- ١.............
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(در ثمین ص ١٧١‘ نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٢.............
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
ازخطاہا ہمیں است ایمانم
(در ثمین ص ١٧٢‘ نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٣.............”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ
توریت‘ انجیل اور قرآن کریم پر۔“(اربعین نمبر ٤ ص ١٩‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
- ٤.............”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا
رسول بھیجا۔“(دافع البلاء ص ١١‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٥.............”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی
٦
نہیں مانتا۔" (حقیقت الوحی ص ١٦٤‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ٦ ................ "میں خدا کے حکم کے موافق نبی
ہوں۔" (خط بنام اخبار عام لاہور مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
- ٧ ................ "بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔"
(تجلیات الہیہ ص ٢٥ خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
اگرچہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ اور محترمہ محمدی بیگم صاحبہ کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو شکست فاش ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے۔
- الف ................ "ڈاکٹر عبدالحکیم خان کا دعویٰ ہے کہ میں
اس کی زندگی ہی میں ٤ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا ................ مگر خدا نے اس کی پیشگوئی کے بالمقابل مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا ................ ................ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔" (چشمہ معرفت ص ٣٢١‘ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)
سب کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے انسانوں کی عبرت کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی میعاد مقررہ کے اندر ہی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب چودہ سال تک اس کے بعد زندہ رہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ :
- ب ................ "اور اس لئے اب میں تیری جناب میں ملتجی
ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں اس
٧
دنیا سے اٹھا لے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
خدا کی قدرت اور مقام عبرت کہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو بفضل خدا ابھی تک (١٩٣٦ء) زندہ ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی سال بھر کے بعد ہیضہ میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔ (مولانا ثناء اللہ نے ١٥ مارچ ١٩٤٨ء سرگودھا میں انتقال فرمایا۔)
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ :
ج ........... ”نفس پیش گوئی میں عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے :“ لا تبدیل لکلمات اللہ . “ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
خدا کی شان کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی انتہائی کوششوں، ترغیبوں اور ترہیبوں کے باوجود ”منکوحہ آسمانی“ ان کے نکاح میں نہ آئی اور جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ١٩٠٨ء میں انتقال کر گیا اور یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔
اس لئے ایک طالب حق کے لئے ظل اور بروز، حقیقت اور مجاز کی بحثوں میں الجھنے کی بجائے ان تین حقائق پر نظر ڈال لینی ہی کافی ہے۔ لیکن ان براہین کے باوجود آج ہمارے زمانہ میں بہت سے مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کر کے ختم نبوت جیسے اہم اصول سے دستبردار ہو رہے ہیں اور رسول مدنی ﷺ کی غلامی سے نکل کر رسول قادیانی کی امت میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔
اس لئے اس ہیچمدان نے مناسب سمجھا کہ عام فہم انداز میں ختم نبوت پر ایک مضمون سپرد قلم کیا جائے تاکہ مسلمان بھائی اس نئے فتنہ کا شکار ہو کر دولت ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ واضح ہو کہ ختم نبوت کا عقیدہ اس قدر اہم ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی
٨
دعویٰ نبوت سے قبل اس سے انکار کرنے کو اسلام سے خارج ہونے کے مترادف قرار دیتا تھا۔
چنانچہ حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧ پر لکھتا ہے کہ :
”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“
اس اقتباس سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو گئی کہ جو مسلمان نبوت کا دعویٰ کرے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧ پر لکھتا ہے کہ :
”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت : ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین ۔“ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے (خواہ وہ کسی قسم کی کیوں نہ ہو؟ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ظلی ہو یا بروزی) وہ قرآن پاک پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ الغرض دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی مسلک تھا کہ آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
مضمون کی اہمیت واضح کر دینے کے بعد اب میں ختم نبوت پر چار عنوانات کے ماتحت اظہار خیال کرونگا۔
- ١....... قرآن مجید
- ٢....... حدیث شریف
- ٣....... اجماع امت
- ٤....... عقل سلیم
وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلَّا بِاللَّهِ .
٩
نبوت و رسالت کا مفہوم
ختم نبوت پر کلام کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نبوت کا مفہوم سمجھ لیا جائے تاکہ پھر ختم نبوت کے سمجھنے میں آسانی ہو۔
نبی کا لفظ عام ہے (بر وزن فعیل) بمعنی اطلاع دینے والا یا اطلاع پہنچانے والا۔ لیکن شریعت اسلامیہ کی رو سے اس کے معنی محدود اور مخصوص ہیں جن کی توضیح آئندہ ہو گی۔
- ١............ سردست صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ صرف اطلاع دینے کا نام
نبوت نہیں۔ اگر نبوت کا معیار لغوی معنی قرار دیا جائے تو پھر اطلاع یابندگی اور اطلاع دہندگی کے لحاظ سے ہر شخص نبی ہے۔ کسی شخص کی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔
- ٢............ اگر لغوی معنی میں یہ تخصیص کی جائے کہ اطلاع یابندگی من جانب اللہ
ہو تو اس کو بھی معیار نبوت نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اس صورت میں کم از کم ہر مسلمان نبی ہے کیونکہ ہر مسلمان قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے۔ زید نے بکر سے کہا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے : ”اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ“۔ تو اس مفروضہ کی بنا پر زید اور بکر دونوں نبی ہیں۔ زید اطلاع دہندہ ہے۔ بکر اطلاع یابندہ ہے۔
- ٣............ اگر رویائے صادقہ کو نبوت کا معیار قرار دیا جائے تو پھر جس شخص کو
سچی خواب آجائے وہ نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ بعض کفار کو بھی سچی خوابیں آئیں تو اس معیار کی رو سے کفار بھی نبی ہو سکتے ہیں۔ لیکن کوئی مسلمان انہیں نبی تو درکنار راستباز انسان بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔
- ٤............ بعض علماء کا خیال ہے کہ نبی وہ ہے جس کی پاکی اور طہارت کا اعلان خدا
تعالیٰ کی طرف سے ہو جائے لیکن یہ معیار بھی صحیح نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کی پاکی کا اعلان کیا ہے لیکن وہ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے نبیہ نہ تھیں۔
١٠
- ٥ .......... اگر صرف مکالمہ و مخاطبہ کو معیار نبوت قرار دیا جائے تو یہ شرف تو
ابلیس اور فرعون کو بھی حاصل ہو چکا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ محض مکالمہ و مخاطبہ کی بدولت یہ افراد نبی نہیں بن گئے۔
- ٦ .......... اگر یہ کہا جائے کہ نبی وہ ہے جس پر خدا تعالیٰ الہام و وحی نازل فرمائے تو
اس مفروضہ کی بناء پر شہد کی مکھی ، حضرت ام موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں ان سب کو نبی تسلیم کرنا پڑے گا بلکہ ہر شخص نبی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰهَا .“
- ٧ .......... اگر تبلیغ آیات اللہ کو معیار نبوت قرار دیا جائے تو بھی کام نہیں چلتا
کیونکہ اس صورت میں : ” بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَةً . “ کے مطابق ہر مبلغ نبی ہو جائے گا۔
آئیے اب دیکھیں کہ قرآن مجید نے نبوت کا معیار کس چیز کو قرار دیا ہے؟۔ قرآن مجید میں تفکر اور تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :
نبی وہ شخص ہے جو نجات انسانی کے لئے خدا تعالیٰ کے تجویز کردہ نصب العین یا پروگرام سے براہ راست مطلع ہو کر اس کو نسل انسانی کے سامنے کتاب کی شکل میں پیش کرے اور خود اس پر عمل کر کے لوگوں کو دکھاوے۔ تاکہ ان میں بھی اس پر عامل ہونے کی ترغیب پیدا ہو۔ اس نصب العین کو عرف عام میں کتاب، شریعت یا ہدایت کہتے ہیں۔ ہر نبی اپنے ساتھ ہدایت لاتا ہے کیونکہ یہ بات عقلاً محال ہے کہ پیغمبر تو آئے مگر کوئی پیغام نہ لائے۔
اصلی چیز ہدایت ہے جس کے نازل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا سلسلہ قائم کیا اور اس کا عطا کرنا کمال مہربانی سے اپنے اوپر لازم کر لیا۔ (ظاہر ہے کہ کوئی طاقت خدا کو کسی کام کرنے کے لئے مجبور نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اپنی مرضی اور اختیار سے کرتا ہے اور یہی مسلمانوں کا مذہب ہے۔)
قانونِ ارتقاء کے ماتحت نصب العین کے اس حصہ میں جس کو شریعت کہتے ہیں
اختلاف ہوتا رہا لیکن اصل حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ہوا جو نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اس نے ایک ہی حقیقت کو پیش کیا : ’’اُعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ وَلَا تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا . ‘‘
آخر الامر جب قرآن مجید کے نزول کا زمانہ آیا تو مشیت ایزدی نے مناسب سمجھا کہ اب ہدایت اخروی اور نجات ابدی کا مکمل نظام انسان کو عطا کر دیا جائے۔ چنانچہ :
’’اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا . مائدہ ٣‘‘ ﴿آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور میں مذہب اسلام سے راضی ہوا ۔﴾
ان پر شاہد عادل ہے۔ اس کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں جن میں کوئی دشواری یا ابہام نہیں ہے جو ہدایت یا پیغام آنحضرت ﷺ کی معرفت دنیا کو عطا کیا گیا بفحوائے نص قرآنی وہ من کل الوجوہ مکمل ہے جس کے بعد اب کسی مزید ہدایت یا پیغام کی حاجت باقی نہیں ہے۔
پس اگر پیغام اور ہدایت ختم ہو گئی تو پیغمبر اور ہادی کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔
پس : ’’اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ . ‘‘ عقیدہ ختم نبوت پر نص قطعی الدلالت ہے قرآن مجید خاتم الکتب یعنی آخری کتاب ہے اور حضور ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ آپ پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا اسی حقیقت کا اعلان مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی زمانہ میں یوں کیا تھا :
ہر نبوت را بروشد اختتام
ایک شبہ کا ازالہ
اگر کوئی شخص یہ شبہ وارد کرے کہ بعض انبیاء مثلاً یوشع‘ حزقیل‘ الیاس‘ ایوب
١٢
علیہم السلام کو شریعت یا ہدایت عطا نہیں کی گئی تو بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہے وہ ثابت کرے کہ فلاں فلاں رسول کو ہدایت عطا نہیں کی گئی۔
ختم نبوت پر دوسری نص قرآنی قطعی الدلالت
آنحضرت ﷺ کے علاوہ جس قدر انبیاء دنیا میں گزرے ہیں سب کی لائی ہوئی ہدایت یا تو صفحہ ہستی سے ناپید ہو گئی یا مسخ اور ناکارہ ہو گئی۔
- الف...........ویدوں کی زبان مردہ ہو گئی۔ آج نہ کوئی انہیں پڑھتا ہے نہ سمجھتا ہے
اور نہ ان کی مسخ شدہ تعلیم زمانہ حال کا ساتھ دیتی ہے اور نہ کوئی ہندو ان کی صحت‘ واقعیت اور صداقت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ نہ اپنے دعویٰ کو ثابت کر سکتا ہے کیونکہ ویدوں کی تصنیف کو کئی ہزار برس گزر گئے اور ہمارے پاس چند ہزار سال کا بھی کوئی قدیم نسخہ موجود نہیں ہے اور نہ خود ویدوں میں کسی جگہ یہ وعدہ موجود ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ محفوظ رہے گی۔
- ب............جینی‘ پارسی اور بودھوں کے مذہبی نوشتوں کا بھی یہی حال ہے۔
- ج............توریت‘ زبور اور انجیل تینوں مفقود ہو چکی ہیں۔ افسوس کہ اس مختصر
مضمون میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہو سکتی۔ ان کے ضائع ہو جانے کا خود یہود و نصاریٰ کو اعتراف ہے۔ علاوہ بریں ان کتابوں کے جس قدر نسخے آج دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ بھی سب کے سب محرف ہیں اور ان سب میں بکثرت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لے دے کے دنیا میں صرف قرآن مجید ہی ایک ایسی مذہبی کتاب ہے جو نہ صرف ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہی ہے (اور جس کے غیر محرف ہونے پر میور جیسا متعصب انسان گواہی دے رہا ہے) بلکہ بجنسہ موجود ہے اور اس کتاب کا دعویٰ ہے کہ باطل اس میں کبھی راہ نہ پا سکے گا اور جو ہدایت اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے دنیا کو عطا کی ہے وہ کبھی ناپید نہ ہوگی :
” إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ . حجر آیت ٩ ﴿ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور تحقیق ہم خود اس کے محافظ ہیں۔﴾
١٧١
پس جب تک یہ کامل ہدایت دنیا میں موجود رہے گی اس وقت تک کسی ہادی کی ضرورت بھی لاحق نہ ہوگی۔ اس لئے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
کسی نبی کا توریت کے مطابق فیصلہ کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ اس نبی کو ہدایت نہیں ملی۔ کیونکہ خود آنحضرت ﷺ نے کئی دفعہ توریت کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور سب جانتے ہیں کہ آپ خود صاحب کتاب ہیں۔
ان دو نصوص قرآنی کی روشنی میں یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ پر نبوت ختم ہو گئی۔
خلاصہ کلام
انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو فوز و فلاح کا بہترین طریقہ‘ نجات کا صحیح راستہ‘ زندگی کا ارفع و اعلیٰ نصب العین‘ روحانی مدارج طے کرنے کا یقینی ذریعہ عطا کر دیا جائے۔ لہٰذا جبکہ بمقتضائے نص قرآنی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی شکل میں انسان کو کامل ہدایت عطا کر دی تو جس مقصد کے لئے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا گیا تھا وہ لا محالہ ختم ہو گیا اور منطق کا مسلمہ اصول ہے:
" اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ ٠ " ﴿جب شرط فوت ہو جاتی ہے تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے۔﴾
چونکہ آنحضرت ﷺ کے وسیلہ سے وہ کامل ہدایت عطا کی گئی ہے۔ اس لئے منطقی طور پر آپ اس سلسلہ کے خاتم ہیں۔ اس لئے قرآن پاک نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا کہ :
" مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ٠ احزاب ٤٠ " ﴿ محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ خدا
١٤
تعالیٰ کے رسول ہیں اور سلسلہ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔﴾
مندرجہ بالا تصریحات قرآنیہ کی روشنی میں خاتم النبیین کی تفسیر بالکل آسان اور واضح ہے۔ ہم اس آیت کا ترجمہ خود نہیں کرتے بلکہ قادیانی حضرات کے امام اور مطاع کے الفاظ پیش کرتے ہیں۔ ؎
”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی دنیا میں نہیں آئے گا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
اگرچہ عبارت اپنے مفہوم کے لحاظ سے کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ تاہم ایک حوالہ اور بھی ملاحظہ کر لیجئے :
”آگاہ ہو کہ خدائے رحیم و کریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : ”لانبی بعدی . “ ﴿یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾“ (حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
جب تک مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اس وقت تک ظلی اور بروزی، تشریعی اور غیر تشریعی حقیقی اور مجازی کی تقسیم بھی پیدا نہیں ہوئی تھی : ” لانبی بعدی . “ کے معنی وہی کئے جاتے تھے جو سارے مسلمان کرتے ہیں۔ ان حوالوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی خدا کی طرف سے نہ تھا۔ ورنہ اس کو ابتداء ہی سے قرآن کا صحیح علم عطا کر دیتا مگر جیسا کہ ارباب نظر کو معلوم ہے کہ خدا نے ایک عرصہ تک ان کو نبوت کی حقیقت سے بے خبر رکھا۔
١٥
عربی زبان میں جس قدر مستند لغات ہیں سب میں خاتم النبیین کے معنی آخری نبی لکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ تاج العروس ج ١٦ ص ١٩٠‘ لسان العرب ج ٤ ص ٢٤‘ مفردات راغب ص ١٤٢ اور مجمع البحار ج ٢ ص ١٥ چاروں میں خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہی ملتے ہیں۔
ایک شبہ کا ازالہ
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ لغت مرتب کرنے والوں نے اپنا عقیدہ لکھ دیا ہے لیکن یہ محض دھوکا ہے۔ بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔ وہ ثابت کریں کہ لغت بنانے والوں نے اپنا عقیدہ لکھا ہے :
اس کے علاوہ E.W.LANE تو عیسائی ہے۔ اس نے اپنی ڈکشنری میں خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کیوں لکھ دیئے۔
اگرچہ قرآن مجید میں ختم نبوت پر متعدد نصوص موجود ہیں لیکن میں اس مختصر مضمون میں صرف انہی تین نصوص پر اکتفا کرتا ہوں اور اب احادیث صحیحہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔
پہلی حدیث ................ ”لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ كَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ وفى رواية يزعم انه نبى وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ . ترمذی ج ٢ ص ٤٥‘ ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٦“ ﴿قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک بہت سے دجال اور کذاب نہ اٹھائے جائیں جن میں سے ہر ایک یہ بکتا ہو کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔﴾
اس حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے ایک فیصلہ کن بات فرمادی جس کے بعد کوئی مسلمان جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا خاتم النبیین کے حقیقی مفہوم میں شک نہیں کر سکتا۔ حضور ﷺ نے اس کے معنی خود کر دیئے کہ میں سلسلہ انبیاء
١٦
کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
”لا نبی بعدی . “میں لائے نافیہ جنس کی نفی کرتا ہے۔ یعنی کسی قسم کا نبی نہیں پیدا ہو گا۔ ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣ پر لکھا ہے کہ :
” لا نبی بعدی . “ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔“
سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے بعد کونسی وحی ایسی نازل ہو گئی جس کی رو سے اب ”لا نبی بعدی . “میں وہی لائے نافیہ جنس کی نفی نہیں کر سکتا۔
دوسری حدیث ملاحظہ ہو : ”اِنَّ مَثَلِيْ وَمَثَلَ الْاَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَيْتًا فَاَحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِّنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيَعْجَبُوْنَ لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَاَنَا لَبِنَةُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ . بخاری ج ١ ص ٥٠١ و مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ “ ﴿ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ہو اور اس کو آراستہ پیراستہ کیا ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس کے پاس چکر لگا رہے ہوں اور خوش ہوتے ہوں اور کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (کہ عمارت مکمل ہو جاتی۔) فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔﴾
١٧
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر الانبیاء کے ہیں اور یہ کہ قصر نبوت مکمل ہو چکا ہے۔ اب کسی اینٹ کی گنجائش نہیں ہے۔
قربان جائیے آنحضرت ﷺ کے۔ آپ نے کیسی خوبصورتی کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان فرما دیا کہ میں آخری نبی ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ سلسلہ بعثت انبیاء کو ایک عمارت تصور کر لو۔ عمارت اینٹوں سے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ معمار ایک عرصہ تک اس عمارت کو اینٹوں سے بناتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ عمارت پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور صرف ایک اینٹ کی کسر باقی رہ گئی۔ آخر ایک دن اس نے وہ آخری اینٹ بھی لگادی۔ کیا اب کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی بڑا کاریگر کیوں نہ ہو اس عمارت میں کسی اینٹ کا اضافہ کر سکتا ہے؟۔
اس طرح اس قصر نبوت کی تکمیل کے بعد نہ تشریعی نبوت کی اینٹ کی گنجائش ہے‘ نہ غیر تشریعی یا ظلی و بروزی و لغوی و مجازی کی۔ ہاں! خلقِ خدا کو گمراہ کرنے کی بات دوسری ہے۔ نبوت کیا چیز ہے۔ انسان نے تو خدائی کے دعوے کئے ہیں۔
تیسری حدیث : ” وَخُتِمَ بِیَ النَّبِيُّوْنَ. رواه مسلم فی الفضائل . ج ١ ص ١٩٩ “ امام مسلم نے اس حدیث کو آنحضرت ﷺ کے فضائل کے باب میں درج کیا ہے۔ اس حدیث میں چھ فضیلتوں کا ذکر ہے۔ چھٹی فضیلت یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کیا گیا۔
اس حدیث میں اس تحریف کی بھی جڑ کاٹ دی گئی جو لفظ خاتم میں کی جاتی ہے۔ خاتم النبیین کی جگہ ختم بی النبیون کہا گیا اور اس میں کسی قسم کے نبی کا استثناء موجود نہیں۔
چوتھی حدیث : ” أَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ . ابن ماجه ص ٢٩٧ “ ﴿میں سب نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں آنے والے ہو۔﴾ یعنی آپؐ کے بعد کوئی شخص اس امت کے لئے نبی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔
ان احادیث صحیحہ کی موجودگی میں نہ کوئی مسلمان نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے اور نہ
کوئی مسلمان اس مدعی کی تصدیق کی جرأت کر سکتا ہے۔ اب ہم بعض مفسرین کے اقوال پیش کرتے ہیں۔
- ١............ ابو جعفر ابن جریر طبریؒ اپنی تفسیر میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کے
معنی یوں بیان فرماتے ہیں : ” عَنْ قَتَادَةَ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اَىْ اٰخِرُهُمْ ٠ تفسیر طبری ج ١٠‘ جز ٢٢ ص ١٦ “ ﴿حضرت قتادہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا! کہ آپؐ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہیں۔﴾
- ٢............ امام سیوطیؒ نے درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤ میں حوالہ عبدابن حمیدؒ
حضرت امام حسنؒ سے نقل کیا ہے کہ : ” عَنِ الْحَسَنِ فِىْ قَوْلِهٖ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ قَالَ خَتَمَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ بِمُحَمَّدٍﷺ وَكَانَ اٰخِرَ مَنْ بُعِثَ .“ ﴿حضرت امام حسنؒ سے آیت خاتم النبیین کے متعلق یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا اور آپؐ ان رسولوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمائے آخری ہیں۔﴾
کیا ان صراحتوں کے بعد بھی ظلی اور بروزی کی گنجائش نکل سکتی ہے ؟۔
اس کے علاوہ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ظلی اور بروزی کی تقسیم سراسر غیر قرآنی ہے۔ قرآن مجید یا احادیث صحیحہ میں کسی جگہ یہ مرقوم نہیں کہ حقیقی نبوت تو بند ہو گئی مگر مجازی نبوت باقی ہے۔ پس خود ساختہ تقسیم کے دامن میں پناہ لینا سراسر خلاف دیانت ہے۔ نعوذبالله من شرور انفسنا٠
- ٣............ علامہ زمخشریؒ نے اپنی تفسیر کشاف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا
خلاصہ یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائے گا۔ نبوت آپ ﷺ کی ذات پر ختم ہو گئی۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کشاف ج ٣ ص ٥٤٤)
- ٤............ امام رازیؒ نے بھی یہی معنی کئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد
١٩
قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ (تفصیل کے لئے دیکھو تفسیر کبیر ج ١٣ جز ٢٥ ص ٢١٤)
- ٥ ............ علامہ آلوسیؒ بغدادی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ : ”
آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس لئے خاتم المرسلین ﷺ بھی ہیں۔ آپؐ کے بعد قیامت تک اب وصف نبوت ورسالت کسی جن وانس میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ ختم نبوت کی تصریح قرآن میں موجود ہے اور اس پر ایمان رکھنا از بس ضروری ہے۔ اس کا منکر کافر ہے۔“ (تفصیل کے لئے دیکھو روح المعانی ج ٨ جز ٢٢ ص ٣٩)
- ٦ ............ علامہ زرقانیؒ شرح مواہب لدنیہ ج ٥ ص ٢٦٧ میں لکھتے ہیں کہ : ”
آنحضرت ﷺ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپؐ سب انبیاء اور رسل کے ختم کرنے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ”وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ۔“ یعنی آخر النبیین یعنی وہ جس نے انبیاء کو ختم کیا یا وہ جس پر انبیاء ختم کئے گئے۔“
ناظرین کرام غور فرمائیں کہ دنیائے اسلام کے بزرگ ترین مفسرین نے خاتم النبیین کے معنی یہی کئے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔ کیسے افسوس کا مقام ہے کہ اس قدر تصریحات کے باوجود آج تک بے باکی کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر بلکہ : ” ذرية البغايا ۔“ ﴿کنجریوں کی اولاد۔﴾ بنایا جارہا ہے اور قرآن مجید کی وہ تفسیر کی جارہی ہے جو تیرہ سو سال میں کسی مفسر، محدث فقیہ یا عالم کے ذہن میں نہیں آئی تھی۔ کیا خوب کہا ہے حضرت اکبر مرحوم الہ آبادی نے :
گلے میں جو آئیں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
اجماع امت
حضور ﷺ کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا اور اگرچہ وہ آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کا منکر نہ تھا تاہم جمیع صحابہ کرام نے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
تاریخ طبری ج ٣ ص ٢٤٤ پر مرقوم ہے کہ اگرچہ مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کی نبوت، قرآن مجید اور جمیع اسلامی احکام پر ایمان رکھتا تھا لیکن ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار کی بنا پر اور دعویٰ نبوت کرنے کی وجہ سے تمام صحابہ اور عامۃ المسلمین نے اسے اور اس کی جماعت کو کافر سمجھا اور کسی نے یہ نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں، کلمہ گو ہیں، نماز پڑھتے ہیں۔ ان کو کس طرح کافر سمجھا جائے؟۔
عقلی توجیہہ
قرآن مجید، حدیث شریف، تصریحات آئمہ و مفسرین اور اجماع امت کے بعد اگرچہ عقلی دلائل کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی تاہم اتمام حجت کے لئے ہم عقلی پہلو سے بھی اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ کس واسطے قائم کیا؟۔ اس کا جواب ہر عقلمند آدمی یہی دے گا کہ جب اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے اور بنی نوع آدم کی جسمانی غور و پرداخت کا اس نے انتظام کیا ہے تو روحانی غور و پرداخت کا بھی کوئی نہ کوئی انتظام کیا ہو گا اور وہ انتظام اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی شخص کو ہم کلامی کا شرف عطا کرے اور اس کے واسطہ سے بنی نوع آدم کو ہدایت عطا کرے تاکہ وہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
ابتداء میں مختلف اقوام میں جداگانہ طور پر انبیاء مبعوث ہوتے رہے اور خدا کا پیغام بندوں کو پہنچاتے رہے لیکن جب اس کی مشیت نافذہ نے یہ مناسب سمجھا کہ اب وقت آ گیا
٢١
ہے کہ تمام دنیا کے لئے ایک کامل قانون نافذ کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے جناب محمد ﷺ کی معرفت قرآن مجید نازل کر دیا جو تمام دنیا کے لئے ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ کو تمام دنیا کے لئے رحمت بنا دیا : ”وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ۔“
قرآن مجید وہ کتاب ہے جس پر چل کر انسان خلیفۃ اللہ علی الارض کے مرتبہ پر فائز ہو سکتا ہے۔ نجات اخروی کے لئے جن جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے وہ سب اس میں موجود ہیں۔ پھر اس نصب العین کی حفاظت کا وعدہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تا کہ یہ کتاب قیامت تک انسان کو شمع ہدایت دکھاتی رہے۔
انبیاء کی بعثت کا مقصد صرف یہی تھا کہ انسان ہدایت پائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو اب عقلی طور پر بعثت انبیاء کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئے تھا۔ چنانچہ اسی لئے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین فرما دیا کہ اب نہ قرآن مجید کے بعد کوئی ہدایت نازل ہو گی اور نہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا۔
جس شے کا ایک آغاز ہے اس کا ایک انجام بھی ہونا چاہئے۔ جب اللہ تعالیٰ کو کوئی نیا پیغام ہی نازل نہیں کرنا تو پھر پیغمبر کیوں آئے؟۔
فرض کیجئے آپ ایک مکان بنواتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے معمار اور مزدور عمارت بنانے کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ وہ ایک عرصہ معیّن تک کام کر کے اس مکان کو مکمل کرتے ہیں۔ جب وہ مکان بن کر تیار ہو جاتا ہے تو معمار اور مزدور لا محالہ رخصت ہو جاتے ہیں کیونکہ اب ان کا کام ختم ہو گیا کیا یہ ممکن ہے کہ مکان تو بن کر تیار ہو جائے لیکن معمار اور مزدور بیکار بیٹھے رہیں اور آپ انہیں رخصت نہ کریں؟۔
ایک شبہ کا ازالہ
بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ نبوت تو ایک رحمت ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی تو (نعوذ باللہ) آپ ﷺ قاطع رحمت ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے
٢٢
کہ یہ تو وہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن مجید بھی ایک رحمت ہے۔ پھر یہی اعتراض وہ قرآن کے خاتم الکتب ہونے پر کیوں نہیں کرتے ؟۔ عجیب منطق ہے کہ قرآن مجید کے بعد کوئی ہدایت نازل نہ ہو تو قرآن مجید پر کوئی اعتراض نہیں لیکن آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو حضور ﷺ کی ذات مورد اعتراض قرار پائے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے بے جا اعتراضات کرتے ہیں وہ نبوت کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور بے جا تعصب نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد بھی نبیوں کی ضرورت باقی ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کا فیض ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر آپ ﷺ کی اور کیا توہین ہو سکتی ہے کہ امت محمدیہ آپ ﷺ کی غلامی کا حلقہ اتار کر دوسرے نبی کی غلامی کا حلقہ پہن لے۔
اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عصر حاضر کے سر بر آوردہ مفکر اور بزرگ ترین اسلامی فلسفی علامہ اقبال مدظلہ نے اپنی زندہ جاوید کتاب رموز بیخودی میں ختم نبوت کے متعلق جو خیالات ظاہر فرمائے ہیں ان سے بھی مسلمانوں کو روشناس کر دیا جائے :
رموز بیخودی ص ١١٨ پر علامہ موصوف یوں گوہر فشانی کرتے ہیں :
١ ........... :
بر رسول ما رسالت ختم کرد
الغرض اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں پر اپنی پسندیدہ شریعت کو اور ہمارے رسول اکرم ﷺ پر نبوت ورسالت کو ختم کر دیا۔
٢ ........... :
او رسل را ختم و ما اقوام را
دنیا کی رونق اب قیامت تک ہمارے ہی دم سے وابستہ ہے۔ آنجناب ﷺ رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اور ہم اقوام کے۔
: ............٣
داد مارا آخریں جامے کہ داشت
اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لوگوں کو توحید کا جام پلانے کا کام ہمارے سپرد کر دیا اور یہ جام (پیغام قرآن) جو آخری جام ہے۔ اس نے ہمیں عنایت فرما دیا۔
: ............٤
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا اور حضور ﷺ کا خاتم ہونا ہی آپ ﷺ کے مذہب کے لئے باعث امتیاز ہے یعنی اسلام کو جمیع ادیان پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور ہادئ اسلام علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اپنی نعمت بندوں پر کامل کر دی۔ اب قیامت تک نہ کسی نبی کی ضرورت ہے نہ کسی پیغام کی۔
اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ :
: ............٥/٦
حفظ سر وحدت ملت ازو
حق تعالیٰ نقش ہر دعویٰ شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست
یعنی آپ ﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کے سبب ہی ملت اسلامیہ کو قوت و طاقت
٢٤
حاصل ہوئی اور ہو گی اور اسی نکتہ میں ملت کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو آخر النبیین بنا کر قیامت تک ہر مدعی نبوت کے دجل کا تار و پود بکھیر دیا اور ہمیشہ کے لئے اسلام کا شیرازہ ملی استوار کر دیا۔ یعنی نہ اب کوئی نبی آسکتا ہے اور نہ کوئی جداگانہ امت قائم ہو سکتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر وحدت ملی کو پارہ پارہ ہونے سے محفوظ کر دیا۔
غور سے دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ علامہ موصوف نے ان چھ اشعار میں ختم نبوت کے مسئلہ پر قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کا عطر کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جو کچھ اس فقیر نے گزشتہ اوراق میں لکھا ہے علامہ موصوف نے کمال بلاغت کے ساتھ اس کو ان چھ اشعار میں قلمبند کر دیا ہے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو توفیق ارزانی فرمائے کہ خالی الذہن ہو کر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے مطالب پر غور کریں اور اس حقیقت کو حرز جان بنائیں کہ نبوت و رسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی۔ اگر قرآن مجید کامل ، مکمل اور آخری ہدایت ہے تو لا محالہ حضور ﷺ کامل، مکمل اور آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی تسلیم کرنا آپ ﷺ کی صریح توہین اور تحقیر ہی نہیں بلکہ اسلام سے خارج ہو جانے کے مترادف ہے اور جیسا کہ ان اوراق کے مطالعہ سے ظاہر ہو گا۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين فقیر فانی یوسف سلیم چشتی عفی عنہ
٢٥
ماہنامہ لولاک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ‘ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف =/350 روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
شناخت مجدد
پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
فہرست : شناخت مجدد
دیباچہ ٣٤٩ مجدد کا تخیل ٣٥١ حدیث مجدد ٣٥٢ مجدد کا اصطلاحی مفہوم ٣٥٣ تجدید کی نوعیت ٣٥٤ معیار مجددیت ٣٥٩
- ١............. علم قرآن وحدیث ٣٥٩
- ٢............. قوت اصلاح ٣٦١
- ٣............. زہد و تقویٰ ٣٦١
- ٤............. حریت آموزی ٣٦٢
- ٥............. اعلائے کلمۃ الحق ٣٦٢
- ٦............. خلق ٣٦٣
- ٧............. قبولیت ٣٦٣
- ٨............. دنیا دار نہ ہو ٣٦٤
- ٩............. عاجزی و انکساری ٣٦٥
- ١٠............. کارہائے نمایاں ٣٦٥
مرزا غلام احمد قادیانی ٣٦٦ معیار اول : علوم ظاہری و باطنی ٣٧٣ یار محمد قادیانی مدعی نبوت ٣٧٩ احمد نور کابلی مدعی نبوت ٣٧٩ عبد اللطیف مدعی نبوت ٣٧٩
٢
چراغ دین جموی مدعی نبوت ٣٨٠ غلام محمد لاہوری مدعی نبوت ٣٨٠ عبداللہ تیما پوری مدعی نبوت ٣٨١ صدیق دیندار انجمن مدعی نبوت ٣٨١
معیار دوم : اصلاح عقائد و رسوم ٣٩٤ معیار سوم : تقویٰ ٤٠١ محمدی بیگم کی پیشگوئی ٤٠٢ عدالت میں اقرار نامہ ٤٢٧
معیار چہارم : اخلاق حسنہ ٤٤٦ معیار پنجم : اعلائے کلمۃ الحق ٤٥٠ معیار ششم : حریت آموزی ٤٥٤ معیار ہفتم : قبولیت دعا ٤٥٩ معیار ہشتم : دنیا دار نہ ہو ٤٦٥ معیار نہم : عاجزی و انکساری ٤٧٥ معیار دہم : کارہائے نمایاں ٤٨١
٣
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شناخت مجدد
”شناخت مجدد“ اس عنوان پر عالیجناب پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا مضمون ١٩٣٥ء اور ١٩٣٦ء کے ماہنامہ ”حقیقت اسلام لاہور“ میں قسط وار شائع ہوا۔ اس کی آخری دو قسطیں تو میسر آگئیں مگر پہلی قسط نہ مل سکی۔ ١٩٩٠ء میں کتاب ”قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ میں لکھا تھا کہ یہ مضمون مکمل مل جائے تو شائع کرنے کے قابل ہے۔ بارہ سال اس مضمون کے حصول کے لئے کئی لائبریریوں کو کھنگھالا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ ١٩٩٩ء گرمیوں میں محترم پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب پروفیسر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے توسط سے ”سردار جھنڈیر لائبریری تحصیل میلسی“ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں رد قادیانیت کی کتب دیکھتے دیکھتے اپنی جہالت پر ترس آیا کہ جسے صرف ماہنامہ رسالہ میں قسط وار مضمون سمجھ رہا تھا وہ تو جون ١٩٣٦ء میں ”شناخت مجدد“ کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ کتاب کیا ملی خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ اللہ تعالیٰ ”سردار جھنڈیر لائبریری“ کے مالکان کو جزائے خیر دیں۔ ان کی علم دوستی کہ انہوں نے کتاب فوٹو کرانے کے لئے مہیا فرمادی۔ قادیانی کتب کے حوالہ جات نئے لگا کر اسے جامع بنا دیا گیا ہے۔ آج سے پینسٹھ سال قبل شائع ہونیوالی گرانقدر کتاب پیش خدمت ہے۔ یہ کتاب لاہوری مرزائیوں کے رد میں لکھی گئی ہے۔ اس میں ”دس اصول“ مقرر کر کے ان پر مرزا قادیانی کو جانچا گیا ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی مجدد تو در کنار شرافت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترا۔ لیجئے پڑھئے۔
(فقیر اللہ وسایا)
٤
دیباچہ کتاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
یہ مضمون جو اب کتابی شکل میں شائع ہورہا ہے۔ میں نے پار سال مکرمی ماسٹر محمد احسان صاحب مدظلہ کی خاص فرمائش اور ان کے شدید اصرار پر لکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے کوئی مضمون حسب دلخواہ نہیں لکھ سکتا لیکن سخت کفران نعمت ہو گا اگر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کروں کہ اس نے اپنے خاص فضل و کرم سے اس ناچیز خدمت کو رنگ قبول عطا فرمایا۔ لوگوں نے اس مضمون کو میری توقع سے کہیں زیادہ پسند کیا۔ چنانچہ دفتر میں اب تک متعدد خطوط موصول ہو چکے ہیں جن میں اظہار پسندیدگی کیا گیا ہے۔ چند قادیانی حضرات نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس مضمون کے پڑھنے سے پہلے ہم کٹر مرزائی تھے لیکن اب انشراح صدر حاصل ہو گیا ہے اور دوبارہ مسلمان ہو چکے ہیں۔
اکثر دوستوں نے تاکید فرمائی کہ اس مضمون کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ اس کا حلقہ اشاعت وسیع ہو سکے۔ اگرچہ علامہ دوراں حکیم الامت مفکر اسلام علامہ اقبال مدظلہ کے مضمون ”اسلام اور احمدیت“ کے بعد اب کسی اور کتاب کی اشاعت کی ضرورت باقی نہیں رہی لیکن محض اس وجہ سے مجھے اس امر کی جسارت ہوئی کہ علامہ موصوف کا مضمون بہت فلسفیانہ اور عالمانہ اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے صرف علماء اور فضلاء ہی مستفید ہو سکتے ہیں اور یہ مضمون جو آپ کے سامنے ہے نہایت سلیس عبارت اور سادہ انداز میں لکھا گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ معمولی لیاقت کا آدمی بھی اسے بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
میں نے اس مضمون میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا ہے۔ مجدد کی شناخت کا جو معیار پیش کیا ہے وہ عون المعبود، شرح سنن ابی داؤد سے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ سب ان کی یا سلسلہ احمدیہ کی مستند کتابوں سے ماخوذ ہے۔ اسلوب بیان اور لب و لہجہ کے متعلق خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ تہذیب اور متانت کے درجہ سے نہ گزرنے پائے۔ میرا مقصود اس تحریر سے کسی کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی
٥
خیر خواہی اور اصلاح حال۔ علامہ اقبال نے اپنے مضمون میں ایک جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ کیا اچھا ہو اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی جملہ تصانیف کا مطالعہ کر کے ان کی دعاوی پر نفسیاتی زاویہ نگاہ سے تنقید کرے اور اپنی اس تحقیق کو مسلمانوں کے فائدہ کے لئے کتاب کی شکل میں مرتب کر دے۔ انشاء اللہ اگر مجھے فرصت ہوئی تو میں آئندہ سال تک اس اچھوتے موضوع پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھ کر ہدیہ ناظرین کروں گا تاکہ علامہ کے ارشاد کی تعمیل بھی ہو جائے اور مسلمانوں کی خدمت بھی۔
مکرمی ماسٹر محمد احسان صاحب کے دل میں خدمت اسلام والمسلمین کا جو زبردست جذبہ موجود ہے اس کو دیکھ کر مجھے توقع ہوتی ہے کہ انشا اللہ! مستقبل قریب میں اسلامی تصنیفات کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہو جائے گا جو موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت کو پورا کرنے اور مسلمانوں میں مذہبی اور تبلیغی بیداری پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔ اس کام کے لئے وسیع پیمانہ پر تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ مسلمانوں کا اخلاقی اور مذہبی فرض یہ ہے کہ کثیر تعداد میں پیکو لمیٹڈ کے حصے خرید کر کمپنی کے کارکنوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ اسلامی تصنیفات کو جلد از جلد حلیہ طبع سے آراستہ کر کے قوم کے سامنے پیش کر سکیں۔
ماسٹر صاحب موصوف نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر بھروسہ کر کے اسلامی خدمات کا بیڑا اٹھا لیا ہے اور ان کی توجہ سے موازنہ مذاہب پر ایک اہم اور مبسوط کتاب کی تصنیف کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اسلامی تعلیمات کا دنیا کے تمام مروجہ مذاہب کی تعلیمات سے موازنہ کیا جائے گا۔ یہ کتاب جس پایہ کی ہوگی اس کا اندازہ اس پراسپکٹس سے ہو سکے گا جو اس کے متعلق عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ آخر میں ان تمام دوستوں کی قدر دانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ناچیز مذہبی خدمات کو بنظر استحسان دیکھا اور پسند فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس خدمت کو مزید قبولیت عطا فرمائے اور پیش از پیش قادیانی حضرات کی ہدایت کا موجب بنائے۔ آمین!
واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين!
فقیر یوسف سلیم چشتی عفی عنہ
١٠ اپریل ١٩٣٦ء ١٦ محرم الحرام ١٣٥٥ھ
٦
مجدد کی شناخت
مجدد کا تخیل
واضح ہو کہ اسلام میں مجددین و مصلحین امت کی بعثت کا تخیل عقائد میں داخل نہیں ہے اور نہ اس پر نجات کا دارو مدار ہے۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کی حقانیت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا نجات و فلاح اخروی کے لئے کافی وافی ہے۔ اگر ایک مسلمان قرآن مجید کو اپنا ہادی و پیشوا بنالے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس بات کی بھی تلاش کرے کہ میرے زمانہ میں کون شخص مرتبہ مجددیت پر فائز ہے اور اگر اسے یہ معلوم بھی ہو جائے کہ فلاں شخص مجدد ہے تو بھی اس کے لئے یہ لازمی یا ضروری نہیں کہ وہ اس کی مجددیت پر ایمان لائے کیونکہ اسلام میں کسی مجدد کی مجددیت پر ایمان لانا فرض یا واجب قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے انکار سے اس کے اسلام اور ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا کیونکہ اس کا یہ فعل کسی نص صریح کی تکذیب کو مستلزم نہیں۔ اسی لئے کسی زمانہ میں کسی مفسر، محدث یا امام نے مجددین پر ایمان لانے کو شرط اسلام یا ایمان قرار نہیں دیا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخص پر ایمان لانا یا کسی کو ضامن نجات سمجھنا یا کسی کی اطاعت کو فرض قرار دینا یا فرض سمجھنا فائدہ کے عوض الٹا نقصان کا موجب ہے کیونکہ ایسا سمجھنا صریح طور پر شرک فی الرسالۃ ہے اور فقیر کی رائے میں یہ بات سراسر باعث خسران مبین ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد امت اسلامیہ میں کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کا طالب ہو الا بطریق امارۃ المومنین ورنہ ایسا شخص خواہ وہ کوئی ہو یکسر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ آنحضرت ﷺ نے شخصیت پرستی کا دروازہ بالکل مسدود کر دیا۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی شخص ایسا نہیں پیدا ہوگا جس پر ایمان لانا مسلمانوں کے لئے ضروری ہو۔
٧
حدیث مجدد
ان تصریحات ضروریہ کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں شروع سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس امت میں مجددین و مصلحین پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس خیال کا مبنیٰ اور ماخذ سنن ابو داؤد کی ایک حدیث ہے جسے میں ذیل میں نقل کرتا ہوں :
”عن ابی ہریرۃ فیما اعلم عن رسول اللہ ﷺ قال ان اللہ یبعث لہذہ الامۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا۔ سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائۃ ج٢ ص١٣٢“ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو دین کی اصلاح کرے گا۔﴾
سنن ابو داؤد‘ صحاح ستہ میں شامل ہے اور محدثین کا عموماً اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔ مثلاً حاکم نے اپنی مستدرک ج ٥ ص ٣٠٧ نمبر ٨٦٣٩ طبع بیروت میں اور امام بیہقی نے اپنی مدخل میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے اپنی کتاب حجج الکرامہ ص ٥١ میں لکھا ہے کہ حدیث مجدد‘ ہم کو ابو داؤد‘ امام حاکم اور امام بیہقی کی معرفت پہنچی ہے اور اس کی صحت مسلم ہے۔ نیز ملا علی قاریؒ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج ١ ص ٣٠٢ پر لکھا ہے کہ یہ حدیث جو ہم کو ابو داؤد کی معرفت پہنچی ہے صحیح ہے اس کے راوی سب ثقہ ہیں۔
القصہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت روایتاً اور درایتاً دونوں طریقوں سے ثابت ہو سکتی ہے۔ اول الذکر طریق اوپر مذکور ہو چکا اور درایتاً اس لئے صحیح ہے کہ جب آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی شخص نبوت کے مرتبہ پر فائز نہیں ہو سکتا۔ باب نبوت بہ پیرائے وحی رسالت تا قیامت بند ہو چکا ہے۔ تشریعی یا غیر تشریعی کسی قسم کا نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ جب بعثت
٨
انبیاء کا مقصد یعنی اعطائے ہدایت حاصل ہو چکا تو پھر نبی کی بعثت ایک فعل عبث ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں ارفع ہے کہ وہ کوئی کام ایسا کرے جو حکمت اور مقصد سے خالی ہو: ”فعل الحکیم لایخلو عن الحکمة.“
لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مرور ایام سے دین کی حقیقت عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور بدعات و محدثات کا رواج ہو جاتا ہے۔ پس لازمی ہے کہ ہر صدی میں کم از کم ایک بندہ خدا کا ایسا پیدا ہو جو لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف بلائے اور دین اسلام کو ازسر نو زندہ کرے اور اس کی حقیقی خوبیوں کو ازسر نو عالم آشکار کرے۔ تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہو سکے۔
مجدد کا اصطلاحی مفہوم
مجدد کے لفظی معنی تجدید کرنے والے کے ہیں لیکن اصطلاح میں مجدد اس شخص کو کہتے ہیں جو ان بدعات اور خرابیوں کو دور کر سکے جن کی وجہ سے حقائق و معارف اسلام دوبارہ اپنی اصلی شان میں نظر آسکیں۔
بظاہر نبی اور مجدد میں بڑی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں کا کام اصلاح خلق ہے لیکن ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے جدا اور صاف طور سے متمیز کر دیتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی کتاب لاتا ہے اور خدا کا پیغام لوگوں کو سناتا ہے اور اس کتاب اور پیغام کی بنا پر لوگوں کو ایک نئے آئین اور نئے طریق کی طرف بلاتا ہے۔ وہ انبیائے ماسبق کا مطیع اور تابع نہیں ہوتا یعنی وہ پرانے دین کو پیش نہیں کرتا بلکہ اپنا دین اور اپنی شریعت جاری کرتا ہے اور اس کی بناء پر لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرتا ہے لیکن مجدد نہ کوئی کتاب لاتا ہے اور نہ نیا دستور العمل پیش کرتا ہے اور نہ کوئی دعویٰ کرتا ہے اور نہ منکرین و مومنین میں امتیاز روا رکھتا ہے‘ نہ اپنے منکرین کو کافر کہتا ہے اور نہ کسی نئے آئین کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے نہ وہ کوئی امت بناتا ہے اور نہ شریعت میں کمی بیشی کر سکتا ہے۔ وہ جس
٩
نبی کی امت میں ہے اس امت کے اندر رہ کر اسی نبی کے دین کو جس کا وہ خود پابند ہے از سر نو زندہ کرتا ہے۔ اس کی بعثت کا مقصد بدعات فاسدہ کا دور کرنا ہوتا ہے یعنی وہ لوگوں کو صرف کتاب اور سنت کی طرف بلاتا ہے جن کی طرف سے لوگ غافل ہیں۔ دعویٰ تو بڑی چیز ہے اس کے لئے یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ میں مجدد ہوں۔ اگر کسی نے کہا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجددیت کا دعویٰ کوئی لازمی اور ضروری چیز ہے۔
تجدید کی نوعیت
چنانچہ اپنے قول کی تائید میں فقیر ابو داؤد شریف کی شرح عون المعبود کی عبارت پیش کرتا ہے :
”قد عرفت مما سبق ان المراد من التجديد احياء مااندرس من العمل بالكتاب والسنة والا مر بمقتضا هما واماتة ماظهر من البدع والمحدثات قال فى مجالس الا برار والمراد من تجديد الدين لامة احياء ما اندرس من العمل بالكتاب والسنة والا مر بمقتضا هما وقال فيه لايعلم ذلك المجدد الا بغلبة الظن ممن عاصره من العلماء بقرائن احواله بعلمه والا نتفاع اذا لمجدد للدين لا بد ان يكون عالما بالعلوم الدينية الظاهرة والباطنة ناصراً للسنة قامعاً للبدعة وان يعم علمه اهل الزمانة وقال القارى فى المرقات ان يبين السنة من البد عة ويكثر العلم ويعزاهله ويقمع البدعة ويكسر اهلها، عون المعبود شرح ابودائود باب مايذكر فى قرن المائة ج ٤ ص ١٨٠“
٭ بیان مذکورہ بالا سے واضح ہو گا کہ تجدید سے مراد یہ ہے کہ کتاب اور سنت کے عمل میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں ان کو از سر نو زندہ کیا جائے اور لوگوں کو ان دونوں پر عامل ہونے کا حکم دیا جائے اور جو بدعات و محدثات اور امور غیر شرعی دین میں داخل ہو گئے
١٠
ہوں ان کو بالکل نیست و نابود کر دیا جائے۔ چنانچہ مجالس الابرار نے لکھا ہے کہ امت کے لئے تجدید دین سے مراد یہ ہے کہ عمل بالکتاب والسنۃ میں سے جو باتیں مٹ چکی ہوں ان کو از سر نو زندہ کیا جائے اور ان کے اقتضاء کے مطابق حکم کیا جائے اور انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی شخص کو یقینی طور پر مجدد نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں! اس کی طرف گمان کیا جا سکتا ہے۔ علمائے امت میں جو لوگ اس کے ہمعصر ہوتے ہیں وہ اس کے احوال کے قرائن اور اس کے علم سے استفادہ کرنے کی بدولت یہ قیاس کرتے ہیں کہ شاید وہ مجدد ہے جو شخص مجدد ہو اس کے لئے یہ لازمی اور ضروری ہے کہ وہ دین کے علوم ظاہری اور باطنی دونوں میں وحید العصر اور فرید الدہر ہو۔ سنت کا حامی ہو۔ بدعت کا قلع قمع کرنے والا ہو اور دنیا کے لوگ اس کے علم سے پیش از پیش بہرہ اندوز ہوں۔ نیز ملا علی قاریؒ نے مشکوۃ شریف کی شرح مرقات میں لکھا ہے کہ مجدد وہ ہوتا ہے جو سنت اور بدعت میں امتیاز کر کے دکھائے اور علوم کے دریا بہائے اور علماء کی عزت کرے، بدعات کا قلع قمع کر دے اور اہل بدعت کو ذلیل و رسوا کر دے۔ ﴾
اس عبارت سے مجدد کا معنی اور مفہوم بالکل واضح ہو گیا۔ یعنی مجدد وہ ہے جو کہ :
- ١............ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے عمل میں سے جو کچھ مٹ گیا ہو
اسے از سر نو یا دوبارہ زندہ کر دے۔ مثلاً اگر اس کے زمانہ میں لوگ توحید سے دور ہو گئے ہوں یا خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی طریقہ ایسا رائج ہو گیا ہو جو کتاب اللہ میں مذکور نہ ہو یا شریعت حقہ کے کسی صریح حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا ہو تو مجدد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو دوبارہ توحید کی طرف بلائے۔
- ٢............ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق حکم کرے۔ یعنی لوگوں
سے کوئی بات ایسی نہ کہے جو کتاب و سنت میں مذکور نہ ہو اور نہ ان کو کسی ایسے کام کا حکم دے جو ان دونوں سے ثابت نہ ہو۔
- ٣............ بدعات اور محدثات کو مٹا دے۔ بدعات اور محدثات سے مراد وہ اُمور
ہیں جن کا شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم نہیں دیا لیکن لوگوں نے خود اپنی مرضی سے یا
١١
دیگر مذاہب کی تقلید سے داخل مذہب کرتے ہوں اور ان کو نجات کے لئے ضروری سمجھ لیا ہو۔ بدعت کے لفظی معنی ہیں (دین میں نئی بات نکالنا) اور یہی چیز ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ مثلاً دین اسلام میں نبوت کی دو قسمیں قرار دینا تشریعی اور غیر تشریعی۔ حالانکہ کتاب وسنت میں ان کا کسی جگہ ذکر نہیں ہے۔
٤ ............. مجدد وہ ہے جس کے لئے دعوٰی کرنا ضروری نہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ نجات میری اتباع میں منحصر ہے یا ”بے بہرہ آنکہ دور بماند ز لنگرم“ اس کے ہمعصر علماء اس کی خدمات دینی‘ اس کی علمیت‘ اس کے زہد واتقاء‘ اس کی روحانیت‘ اس کی پاکیزگی‘ اس کی فیض رسانی کو دیکھ کر اس کے متعلق حسن ظن قائم کرتے ہیں کہ غالباً یہ شخص مجدد ہے اور آئندہ نسلیں اس کے کارناموں کی وجہ سے اسے مجدد کے لقب سے یاد کرتی ہیں۔ مثلاً ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کہ آج دنیائے اسلام ان کو اپنا سرتاج سمجھتی ہے اور دل و جان سے ان کی دینی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔
عبارت میں دو لفظ قابل غور ہیں۔ نمبر ایک ....... غلبہ ظن اور انتفاع بعلمہ یعنی مسلمانوں کی اکثریت کا گمان غالب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص مجدد ہے اور یہ گمان کس وجہ سے ہوتا ہے؟ محض اس لئے کہ لوگ اس شخص کے جاری کردہ چشمہ ہائے علوم سے جوق در جوق سیراب ہوتے ہیں۔
٥ ............. مجدد وہ ہے جو اپنے زمانہ میں علوم ظاہری اور باطنی میں اپنا جواب نہ رکھتا ہو۔ واضح ہو کہ مذہب اسلام ایک روحانی مذہب ہے اور اس کے معیار فضیلت بھی روحانی ہیں۔ جس طرح بزرگی کا معیار تقوٰی ہے اسی طرح فضیلت کا معیار علم ہے۔ مجدد کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری اور باطنی دونوں میں ایسا بلند پایہ رکھتا ہو کہ اس کے ہمعصر علماء اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کریں۔ واضح ہو کہ علوم ظاہری کے ساتھ علوم باطنی کی بھی شرط ہے یعنی اگر وہ ایک طرف مبتدعین اور اہل ہواء کی تردید کے لئے علوم عقلیہ ونقلیہ میں نہایت بلند مرتبہ رکھتا ہو کہ بدلائل نیرہ ان کے وساوس اور اعتراضات کو رفع
کرسکے تو دوسری طرف مسلمانوں کو روحانیت کے بلند مقام پر پہنچانے کی صلاحیت اور قابلیت بھی رکھتا ہو۔ یعنی مجدد کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ چند کتابیں لکھ دے یا چند مناظرے کرے یا چند نظمیں شائع کر دے یا چند پیشگوئیاں کر دے بلکہ ان سب باتوں کے علاوہ علوم باطنی میں بھی اس کا پایہ اس قدر بلند ہو کہ وہ اپنی روحانیت سے لوگوں میں انقلاب پیدا کر سکے اور جو لوگ خدا تعالیٰ سے ملنا چاہیں ان کو خدا سے ملا سکے۔
- ٦ ............. جو سنت رسول اللہ ﷺ کی حمایت کرے اور اس کی کوششوں سے
سنت کو بدعت پر فتح حاصل ہو یعنی وہ سنت کا ناصر ہو اور رسول اللہ ﷺ کا نائب ہو۔
- ٧ ............. جو بدعات کا قلع قمع کر دے۔ ان کی لغویت عالم آشکارا کر دے۔
- ٨ ............. جو مسلمانوں میں علوم کا چرچا کر دے۔
- ٩ ............. جو علماء کی عزت کرے۔
- ١٠ ............. جو اہل بدعت کو ذلیل و رسوا کر دے۔
خلاصہ اس تمام بحث کا یہ ہے کہ :
- ١ ............. مجدد کے لئے دعویٰ کرنا ضروری نہیں۔
- ٢ ............. عام مسلمانوں کے لئے مجدد کی شناخت فرض نہیں۔
- ٣ ............. اس کے تقدس اور تورع کو دیکھ کر اس کی خدمات دینیہ کو دیکھ کر اس کی
طرف گمان کیا جاتا ہے کہ وہ مجدد ہے۔
- ٤ ............. وہ لوگوں کو کتاب اور سنت کی طرف بلاتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ایک صدی میں صرف ایک ہی مجدد مبعوث ہو اور نہ یہ ضروری ہے کہ سارے علماء کا ایک شخص کی ذات پر اتفاق ہو جائے اور یہ اس لئے کہ دین میں مجدد کی حیثیت صرف خادم اسلام کی ہے۔ اس کا کام لوگوں کو خالص اسلام کی طرف بلانا ہے جو کتاب و سنت میں مندرج ہے اور ممکن ہے کہ اللہ یہ فضل ایک سے زائد اشخاص کو عنایت فرما دے۔ چنانچہ شارح ابو داؤد نے شرح مذکورہ بالا میں صفحہ ١٨١ پر ایک فہرست ان بزرگان
١٣
طت کی مرتب کی ہے جن کو امت اسلامیہ نے مجدد وقت تسلیم کیا ہے۔ ذیل میں اسے بھی نقل کئے دیتا ہوں تاکہ میرے دعوٰی پر دلیل ہو۔
پہلی صدی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ دوسری صدی حضرت امام شافعیؒ تیسری صدی ابن سریحؒ چوتھی صدی امام باقلانیؒ یا امام اسفرائنیؒ یا حضرت سہلؒ پانچویں صدی امام حجۃ الاسلام محمد المدعو بغزالیؒ چھٹی صدی امام رازیؒ صاحب تفسیر کبیر ساتویں صدی ابن دقیق العیدؒ آٹھویں صدی امام بلقینیؒ یا حافظ زین الدینؒ نویں صدی امام جلال الدین السیوطیؒ دسویں صدی امام شمس الدین بن شہاب الدین رملیؒ گیارہویں صدی حضرت مجدد الف ثانیؒ یا امام ابراہیم بن حسن کردیؒ بارہویں صدی حضرت شاہ ولی اللہ یا شیخ صالح بن محمد نوح الفلانیؒ یا السید المرتضیٰ الحسینیؒ تیرہویں صدی مولانا محمد قاسم دیوبندیؒ یا سید نذیر حسین محدث دہلویؒ یا قاضی حسین بن محسن انصاریؒ
اس فہرست کے خاتمہ پر صاحب عون المعبود صفحہ ١٨٢ پر یوں لکھتے ہیں :
"هذا هو ظنى فى هولاء الاكابر الثلاثة انهم من المجددين على راس المائة الثالثة عشر والله تعالىٰ اعلم وعلمه اتم ." ﴿یعنی میرا گمان یہ ہے کہ ان تین حضرات میں سے کوئی ایک صاحب اس صدی کے مجدد ہیں۔﴾
ممکن ہے ممالک روم وشام و مصر و عراق میں کسی دوسرے شخص کو یہ مرتبہ
١٤
نصیب ہوا ہو کیونکہ یہ تینوں بزرگ ہندوستان کے باشندے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مختلف ممالک میں مختلف بزرگان امت اس مرتبہ پر فائز رہے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مختلف لوگوں نے مختلف بزرگوں کو مجدد تسلیم کیا ہو۔
اس فہرست کے مطالعہ سے یہ بات بھی ظاہر ہو سکتی ہے کہ بعض صدیاں ایسی گزری ہیں جن میں مجدد کی شخصیت کے متعلق علمائے امت میں اتفاق آراء نہیں ہو سکا۔ مثلاً چوتھی، آٹھویں گیارہویں وغیرہ
صاحب عون المعبود نے اپنے زمانہ کے تین بزرگوں کا نام پیش کر کے لکھا ہے کہ میرے ظن (خیال) کے مطابق ان تین بزرگوں میں سے ایک بزرگ مجدد ہو گا۔ یہاں پر لفظ ظن قابل غور ہے۔ انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ میرا یقین ہے کہ فلاں شخص مجدد ہے بلکہ محض اپنا گمان لکھا ہے اور تین صاحبوں کا نام لکھا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نہ مجدد کے لئے دعویٰ کرنا ضروری ہے اور نہ مسلمانوں پر اس کی شناخت فرض اور واجب ہے۔
جب مجدد کی خدمات دینیہ کا آفتاب نصف النہار پر جلوہ گر ہوتا ہے تو مسلمان خود بخود اس کی روشنی سے مستفید ہو کر اس کے آفتاب ہدایت و مرکز کرامت ہونے کے معترف ہو جاتے ہیں اور عوام در کنار خود علماء کا سر اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔
معیار مجددیت
ان تصریحات کے بعد اب میں وہ شرائط پیش کرتا ہوں جن کا مجدد میں پایا جانا۔ میری رائے میں اشد ضروری ہے۔
- ١...... علم قرآن وحدیث : پہلی شرط یہ کہ مجدد اپنے زمانہ میں قرآن
مجید کا سب سے بڑا عالم ہو۔ تاکہ اس کے حقائق و معارف سن کر عوام و خواص دونوں اس کے گرویدہ ہو جائیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک علوم ظاہری کے ساتھ ساتھ علوم باطنی کسی شخص کو حاصل نہ ہوں وہ قرآن مجید کے معارف عالیہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس اگر ایک
١٥
طرف مجدد منطق اور فلسفہ کا ماہر ہو تو دوسری طرف وہ تصوف اور سلوک کے مقامات بھی طے کر چکا ہو۔ بقول امام غزالیؒ :
”جو شخص تصوف میں مرتبہ بلند نہیں رکھتا وہ نبوت و رسالت‘ وحی و الہام وغیرہ کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ سوائے اس کے کہ ان لفظوں کو زبان سے ادا کرلے۔“
مثال کے طور پر میں اس موقع پر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیؒ کا ذکر کروں گا کہ میری رائے میں وہ تیرہویں صدی کے مجددین میں سے گزرے ہیں۔ مولانا موصوف کے تبحر علمی اور منطقیانہ موشگافیوں کی کما حقہ داد دینا فقیر کے دائرہ اقتدار سے باہر ہے۔ میں تو ان کے شاگردوں کی صف نعال میں بھی بیٹھنے کے لائق نہیں ہوں۔ ان کی تصانیف آج بآسانی دستیاب ہو سکتی ہیں اور ان کے مطالعہ سے ان کی غیر معمولی علمی قابلیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے جس بات کا میں اس جگہ ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب مسلمانان رڑکی (ضلع سہارنپور) کی دعوت پر مولانا موصوف کھدر کے لباس میں ملبوس عصا ہاتھ میں لئے پیادہ پا اس قصبہ میں پہنچے تو پنڈت دیانند آنجہانی کو مناظرے کے لئے رقعہ بھیجا۔ پنڈت مذکور نے جو شاہجہاں پور کے میلہ خدا شناسی میں مولانا کی بے پناہ منطق کے سامنے سپر انداز ہو چکا تھا اور اپنے حریف کی علمی قابلیت کا اچھی طرح اندازہ کر چکا تھا مناظرہ سے گریز کیا اور لیت و لعل شروع کر دی۔ مولانا نے کہلا بھیجا کہ میں بغیر شرائط مناظرہ کے لئے تیار ہوں تم ایک دفعہ مجمع عام میں آکر ان اعتراضات کا اعادہ کر دو جو پرسوں تم نے سر بازار اسلام پر وارد کئے ہیں۔ اس نے کہلا بھیجا کہ میں اس شرط پر آپ سے مناظرہ کروں گا کہ آپ اپنے خدا کو مجھے دکھا دیں۔ مولانا نے جواب میں لکھا کہ تمہاری شرط منظور ہے۔ اس پر پنڈت مذکور کے ہمراہیوں نے کہا چلئے اب کیا دیر ہے۔ نہ آپ کی شرط پوری ہو گی نہ مناظرہ ہو گا۔ دیانند صاحب نے کہا مجھے یقین ہے کہ مولوی قاسم ! واقعی خدا کو دکھا دے گا اور فوراً اسباب باندھ کر رڑکی سے راہ فرار اختیار کی۔
مقصود اس واقعہ نگاری سے یہ ہے کہ مجدد بننے کے لئے صرف دس پانچ الٹی
١٦
سیدھی کتابیں لکھ لینا کافی نہیں ہیں۔ مجدد وہ ہے جو ”کسی گھر بند نہ ہو“ ضرورت پڑنے پر خدا کو بھی دکھا سکے۔ ظاہر ہے کہ اتنا بڑا دعویٰ وہی کر سکتا ہے جو صدرا اور شمس بازغہ کے علاوہ مکتب محمدیہ میں بھی برسوں زانوئے ادب تہ کر چکا ہو :
- ٢ ...... قوت اصلاح : مجدد کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں
اصلاح کی خاص اور غیر معمولی قوت ہو اور یہ بات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب اس نے پہلے اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو۔ ورنہ یوں تو ہر شخص وعظ و نصائح کا دفتر کھول سکتا ہے۔ اخلاق حسنہ کا درس دے سکتا ہے لیکن اس زبانی جمع خرچ سے افراد امت کی اصلاح کا عظیم الشان کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ مجدد وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ یہ نہ ہو کہ جب مخالفین اس پر اعتراضات کریں تو وہ جامہ انسانیت سے معراء ہو کر انہیں بے نقط سنانے لگے اور اس کی تحریر ایسی سوقیانہ ہو جائے کہ اس کو پڑھ کے بے شرمی و بے حیائی بھی آنکھیں بند کر لیں۔ مجدد وہ ہے جس کے الفاظ میں جادو ہو۔ جس کی باتوں میں اعجاز ہو۔ جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔ جو حیوانوں کو انسان بنا دے اور انسانوں کو خدا سے ملا دے۔
- ٣ ...... زہد و تقویٰ : مجدد کے لئے تیسری شرط زہد و تقویٰ ہے۔ اس کی
زندگی ایسی ہو کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھے اسے یہ معلوم ہو کہ یہ شخص خدارسیدہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے احکام کو سامنے رکھے۔ اس کا ہر فعل اسلام کی عزت کے لئے ہو۔ نہ یہ کہ وہ اپنی مطلب برآری کے لئے بے گناہ انسانوں کو اذیت دے اور لوگوں کو تہدید آمیز خطوط لکھے کہ اگر تم میرا کہنا نہیں مانو گے تو میں فلاں فلاں طریقہ سے تمہیں ایذا پہنچاؤں گا اور اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات اس شخص کے قلم سے ہرگز نہیں نکل سکتی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر
١٧
بھی تقویٰ یا خوف خدا ہوگا۔ مجدد وہ ہے جس کی زندگی زہد واتقاء کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ اس کا اشد مخالف بھی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کا فلاں فعل شرط تقویٰ کے خلاف ہے۔ حاشیہ نشینوں کی گواہی چنداں معتبر نہیں : ”الفضل ما شہدت بہ الاعداء “ بزرگی وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے۔ متقی وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن مجید کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہو اور مجدد بننے کے لئے یہ لازمی شرط ہے جو متقی نہیں وہ مؤمن بھی نہیں مجدد ہونا تو بڑی بات ہے : ” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء ، “ والا مضمون ہے۔
٤....... حریت آموزی : چوتھی شرط یہ ہے کہ مجدد مسلمانوں کو حریت
کا درس دے۔ حریت اسلام کا امتیازی نشان ہے۔ مسلمان اگر حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ غلام نہیں رہ سکتے : ”انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین ، “ اس پر شاہد ہے۔ پس مجدد کی ایک خاص شناخت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ اسلام اور اغیار کی غلامی یہ اجتماع ضدین ہے۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں میں ایمان کی شمع کو از سر نو روشن کرے نہ یہ کہ انہیں الٹا غلامی کا سبق پڑھائے اور اغیار کی گرفت کو مضبوط کرے۔ مجدد کا فرض یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ شیر کی حیات یک روزہ روباہ کی حیات صد سالہ سے بہتر ہے۔ اگر وہ نامساعدہ حالات کی وجہ سے انہیں آزادی سے ہم آغوش نہ کرا سکے تو کم از کم اس گوہر گراں مایہ کو حاصل کرنے کا ولولہ تو ان کے اندر پیدا کرے۔ نہ یہ کہ اغیار کی شان میں قصیدہ خوانی کرے اور ان کی پالیسی کو شرط ایمان اور جزو اسلام بنالے۔
٥....... اعلائے کلمتہ الحق : پانچویں شرط جو شرط ما سبق کا منطقی نتیجہ
ہے۔ اعلائے کلمتہ الحق کی صفت ہے جس کا پایا جانا مجدد میں از بس ضروری ہے۔ حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام الاحرار امام ابن تیمیہؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کی زندگیوں میں یہ صفت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ آخر الذکر دو حضرات نے جیل خانہ کی صعوبتوں کو بطیب خاطر برداشت کیا لیکن اعلائے کلمتہ الحق کا دامن کسی حال میں ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
١٨
جب معاندین و حاسدین نے جہانگیر کے کان بھرے کہ شیخ سرہندیؒ حضور کے خلاف سازش میں مصروف ہیں تو ممکن تھا کہ حضرت موصوف جہانگیر کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھ کر نہ صرف رنج قید سے محفوظ ہو جاتے بلکہ دنیاوی حشمت سے بھی بہرہ اندوز ہوتے لیکن آپ نے اپنے دوستوں سے فرمایا کہ امتحان کا وقت آ پہنچا۔ دعا ہے کہ پائے ثبات میں لغزش نہ آئے۔ جہانگیر نے آپ کو گوالیار کے جیل خانہ میں بھجوا دیا لیکن آپ نے معافی مانگ کر حریت اور صداقت کے نام کو بٹہ نہیں لگایا اور دوران اسیری میں تمام قیدیوں کو اسلام کا شیدا بنا کر جہانگیر اور اس کے حاشیہ نشینوں کو محو حیرت کر دیا۔ پھول کو جس جگہ رکھو گے خوشبو دے گا۔ ان لوگوں نے بھی جن کو عرف عام میں مجدد نہیں کہتے اعلاء کلمۃ الحق کی روشن مثالیں ہمارے سامنے پیش کی ہیں۔ مثلاً سید الشہداء حضرت حسینؓ اور امام عالی مقام حضرت احمد بن حنبلؒ۔
الغرض جو شخص مسلمانوں کی اصلاح اور تجدید دین کے لئے مبعوث ہو اس کا اولین فرض یہ ہے کہ حق بات کہنے سے کسی حال میں بھی باز نہ رہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کام سے اسے باز نہ رکھ سکے۔ میری رائے میں تو مردان حق آگاہ کی یہ پہلی نشانی ہے۔
٦...... خلق: چھٹی شرط یہ ہے کہ مجدد خلق محمدی ﷺ کا نمونہ ہو۔ کیونکہ انسانیت کا کمال اسی صفت سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر مجدد میں خود یہ صفت نہ ہو تو وہ دوسروں کو کیا انسان بنا سکتا ہے؟۔ مجدد وہ ہے جس کی صحبت میں بیٹھ کر خلق محمدی ﷺ کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔ مجدد وہ ہے جو دشمنوں کے حق میں بھی دعا کرے نہ یہ کہ انہیں گالیاں دے اور اعتراضات سن کر جامہ سے باہر ہو جائے۔
٧...... قبولیت: ساتویں شرط مجدد بننے کے لئے یہ ہے کہ اس میں مقنا طیسی کشش پائی جائے جو دراصل روحانیت اور خدارسی کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت سید احمد صاحب رائے بریلویؒ کہ صدی سیزدہم کے مجددین میں سے تھے۔ صفت روحانیت سے
١٩
نمایاں طور پر متصف تھے۔ لوگ ان سے مناظرہ کرنے آتے تھے لیکن ان کے حلقہ بگوش ہو کر واپس جاتے تھے۔ کلکتہ کے زمانہ قیام میں انہوں نے ہزارہا مسلمانوں کو از سر نو مسلمان بنادیا۔ کتاب و سنت کو زندہ کرنا ان کا دن رات کا مشغلہ تھا اور یہی ایک مجدد کا مقصد حیات ہوتا ہے۔
اولیاء اللہ بھی اپنے اپنے زمانہ میں اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان میں بھی یہ صفت نمایاں ہوتی ہے۔ کون سا مسلمان ہے جو میرے آقا اور مولیٰ حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی روحانیت سے واقف نہیں ہے۔ جوگی جیپال پر جو فتح حضور نے پائی اسے جانے دیجئے۔ وہ تو حضرت ختمی مرتبت سردار دوجہاں تاجدار مدینہ ﷺ کی غلامی کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا۔ روزانہ زندگی اس قدر روحانیت سے لبریز تھی کہ جس پر ایک نگاہ پڑ گئی اس کی کایا پلٹ گئی۔ وصال کے بعد بھی حضور کا مزار پر انوار مرجع سلاطین رہا۔ بڑے بڑے کجکلاہ آستان بوسی اور ناصیہ فرسائی کو اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے رہے۔ یہ سب روحانیت ہی کے کرشمے ہیں۔
مجددین میں بھی یہ صفت لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔ روحانیت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ روحانیت کو مجدد سے وہی نسبت ہے جو خوشبو کو پھول سے۔ خوشبو نہ ہو تو پھول کس کام کا؟۔ محض منطق اور فلسفہ سے انسان خود اپنے آپ کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ دوسروں کو کیا ایمان اور ایقان عطا کرے گا؟۔ حکمت نظری کافی ہوتی تو امام غزالیؒ کیوں نواح دمشق میں بادیہ نشینی اختیار کرتے؟۔
٨...... دنیا دار نہ ہو: مجدد کے لئے آٹھویں شرط یہ ہے کہ وہ دنیاوی بکھیڑوں سے بالکل پاک صاف ہو۔ دنیا میں رہے لیکن دنیاوی امور سے بالکل الگ تھلگ۔ با ہمہ ولے بے ہمہ خاصان خدا کی ہر زمانہ میں یہی روش رہی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور مولانا محمد قاسمؒ صاحب کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ بزرگ بظاہر دنیا میں رہتے تھے لیکن دنیا دار نہ تھے۔ ان کی تمام تر توجہ خدا اور اس کے پسندیدہ دین کی طرف مبذول رہتی تھی اور ہر
٢٠
وقت تبلیغ و اشاعت اسلام میں مصروف رہتے تھے۔ نہ کسی سے چندہ طلب کرتے تھے نہ اشتہار شائع کرتے تھے۔
- ٩...... عاجزی وانکساری : نویں شرط یہ ہے کہ مجدد میں عاجزی اور
انکساری پائی جائے۔ مجدد وہ ہے جو حلم اور فروتنی، ایثار اور تحمل کا ایک پیکر مجسم ہو : ”نہد شاخ پر میوہ سر بر زمین“ باوجود عالم ہونے کے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھے۔ جس قدر اس کی شہرت ہوتی جائے وہ خاکساری اختیار کرے۔ مولانا محمد قاسم صاحبؒ کو جن لوگوں نے دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ وہ سادگی اور فروتنی میں اپنی مثال آپ ہی تھے۔ کبھی کوئی کلمہ غرور یا تکبر کا ان کی زبان سے نہیں نکلا۔ اجنبی لوگوں کو یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ قاسم العلوم کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تمام عمر نان جویں پر قناعت کی اور کھدر کے علاوہ کوئی کپڑا زیب تن نہیں فرمایا۔ اگرچہ ایک دنیا ان کی کفش برداری کو موجب سعادت سمجھتی تھی لیکن ان کے کسی قول یا فعل سے یہ بات کبھی مترشح نہیں ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص اپنی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے وہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت قرار دیتا ہے۔ فخر و مباحات سے کوسوں دور رہتا ہے کہ یہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ نفس امارہ ابھی زندہ ہے۔ ایسے لوگوں سے فوق العادت کام ظاہر ہوتے ہیں لیکن وہ ان پر نازاں نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں اپنے لئے نہیں اور اسی میں سروری کا راز مضمر ہے۔
- ١٠...... کارہائے نمایاں : دسویں اور آخری شرط مجددیت یہ ہے کہ مجدد
اپنی زندگی میں کوئی ایسا کارہائے نمایاں انجام دے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں بھی اس کے مرتبہ کا اعتراف کریں۔ جیسے ہم انگریزی میں WORK OF PERMANT VALUE کہہ سکتے ہیں۔ خواہ وہ کام جہاد سے متعلق ہو یا تقریر سے، تحریر سے وابستہ ہو یا
٢١
تصنیف سے‘ اصلاح رسوم سے متعلق ہو یا قیام چشمہ فیض سے۔
مثلاً امام غزالیؒ کی احیاء العلوم‘ امام رازیؒ کی تفسیر اور شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی حجۃ اللہ البالغہ ایسی کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر ہر منصف مزاج انسان ان بزرگوں کی جلالت شان کا معترف ہو جاتا ہے ”مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“ لطف تو اسی بات میں ہے کہ مجدد کی ظاہری اور باطنی زندگی ایسی ہو کہ اس کے ہمعصر اور آئندہ نسلیں جب اس کے کارنامے دیکھیں تو غلبۂ ظن کی بنا پر اسے خود بخود مجدد کا لقب دے دیں۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو کتاب اور سنت کی طرف بلائے۔ اسلام کو از سر نو زندہ کر دے۔ بدعات کا قلع قمع کر دے۔ لوگ اسے خود بخود مجدد کہنے لگیں گے۔ اس کے لئے نہ دعویٰ کرنا ضروری ہے نہ مسلمانوں پر اس کی شناخت فرض ہے۔ دعویٰ تو وہ کرتا ہے جو نئی بات یا نیا پیغام لاتا ہے۔
مجدد تو صرف کتاب و سنت کو پیش کرتا ہے جو پہلے سے موجود ہوتی ہے لیکن لوگ ان دونوں کی طرف سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اس کا کام یہ ہے کہ اسلام کی اصلی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے اور اپنے طریق عمل سے لوگوں میں اسلامی شریعت پر عامل ہونے کی تحریک پیدا کر دے اور کوئی کام ایسا کر جائے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں اس کے مرتبہ کو بآسانی شناخت کر سکیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی
ہمارے زمانہ میں قادیان میں ایک مدعی پیدا ہوئے جنہوں نے مجددیت اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی امت دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ قادیانی اور لاہوری۔ اول الذکر فریق کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت تھے اور ان کا منکر اسی طرح کافر ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کا ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ! اب بے کار ہے جب تک اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی نبوت کا بھی اقرار نہ کیا جائے۔ اس عقیدہ کی تردید میں فقیر نے ایک مضمون بعنوان ”ختم نبوت“ لکھ کر خدا کی حجت اس گروہ پر پوری کر دی۔
٢٢
آخر الذکر فریق کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نہ تھے بلکہ چودہویں صدی کے مجدد تھے اور ان کے تسلیم نہ کرنے سے کوئی مسلمان اگرچہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا لیکن ایک شدید غلطی کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔ پس میں نے مناسب سمجھا کہ مسلمانوں کے فائدہ کے لئے اس فریق کے دعویٰ کو بھی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے تاکہ مسلمان اس بات کا فیصلہ کر سکیں کہ آیا مرزا غلام احمد قادیانی اس لائق ہے کہ اسے چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا جائے۔
اس لئے میں نے گذشتہ اوراق میں حدیث مجدد کی حتی المقدور صراحت ووضاحت کر کے وہ معیار ناظرین کے سامنے رکھ دیا ہے جس پر مدعی مجددیت کو پرکھا جا سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس معیار پر پرکھنے سے قبل اس فریق کی خدمت میں بعض حقائق پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
- ١....... : مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ محض مجددیت کا نہیں ہے بے شک ان
کے دعاوی کا سلسلہ مجددیت سے شروع ہوتا ہے لیکن متعدد مراتب طے کرتا ہوا ان کی وفات سے قبل نبوت پر منتہی ہوتا ہے اور دعویٰ وہ لائق اعتناء ہے جو آخر میں کیا جائے۔ پس ان کا اصلی دعویٰ نبوت کا ہے نہ کہ مجددیت کا۔ کسی زمانہ میں یعنی قبل ١٩٠١ء ان کا خیال تھا کہ :”خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا؟۔“ لیکن جب ٢٣ سال تک بارش کی طرح متواتر وحی نازل ہوتی رہی تو وہ اس عقیدہ پر کہ :
ہر نبوت را بدو شد اختتام
(درثمین ص ١١٤، سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
قائم نہ رہے اور انہوں نے بایں معنی دعویٰ نبوت کر دیا کہ میں آنحضرت ﷺ کے فیض روحانی سے نبی بن گیا ہوں کیونکہ آپ کی توجہ نبی تراش ہے اگرچہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا لیکن میری نبوت ویسی ہی ہے جیسی انبیائے ماسبق کی تھی۔ اس دعویٰ کو انہوں نے
٢٣
ایک غلطی کے ازالہ (خزائن ج ١٨) میں شائع کیا۔ یہ اشتہار ١٩٠١ء میں منصہ شہود پر آیا تھا جس نے امت اسلامیہ میں ایک نئے فتنہ کا دروازہ کھول دیا اور وحدت ملی کو پارہ پارہ کر دیا۔
اس اعلان کے بعد اسلام مردہ ہو گیا اور اس نئی نبوت پر ایمان لانا نجات کے لئے لازمی ٹھہرا۔ چنانچہ ١٩٠٥ء میں جب بعض سر بر آوردہ قادیانی افراد نے ”حضرت صاحب“ کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ مناسب ہے کہ ریویو آف ریلیجنز میں قادیانیت سے متعلق مضامین شائع نہ ہوں تاکہ غیر قادیانی بھی اسے خرید سکیں تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس تجویز کو ناپسند کیا۔ مجوزین سے سخت ناراض ہوئے اور فرمایا! مجھے چھوڑ کر مردہ اسلام پیش کرنا چاہتے ہو؟ آج کے دن نجات میرے اوپر ایمان لانے میں منحصر ہے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ وہ مسلمان ہی کب ہے۔
چنانچہ مجوزین نے توبہ کی اور یہ تجویز رد ہو گئی۔ اس وقت کسی نے یہ نہ کہا کہ جناب آپ نے تو لکھا ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی بناء پر کوئی مسلمان کافر نہیں ہو سکتا۔ پھر آج آپ کیوں کر اپنے وجود کو شرط اسلام قرار دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خاموش ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھی تبدیلئ عقیدہ پر ایمان لا چکے تھے اور حضرت صاحب کو نبی یقین کرتے تھے۔
ان مجوزین میں ایک اللہ کا بندہ ایسا بھی تھا (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب مرحوم پٹیالوی جنہوں نے توبہ کرنے کے بعد بہت سی مفید کتابیں رد قادیانیت میں لکھیں) جس کی قسمت میں ایمان کی دولت لکھی ہوئی تھی۔ اس نے وہی کیا جو ایک مسلمان کو کرنا چاہیے تھا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو لکھا کہ آپ کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا۔ لیکن اب آپ اپنے وجود کو اسلام کے لئے شرط قرار دیتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک کوئی مسلمان آپ پر ایمان نہ لائے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ نیز اس کے معنی یہ ہیں کہ کلمہ طیبہ اب ناقص اور ناکافی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس مرید کو تسلی نہ دے سکے اور ١٩٠٦ء میں
٢٤
اللہ کا یہ بندہ مرزا غلام احمد قادیانی کی غلامی سے نکل کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔
مقصود اس تحریر سے یہ ہے کہ لاہوری جماعت کے وہ لوگ جو آج مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد اور خادم اسلام قرار دے رہے ہیں ذرا خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ اگر فی الحقیقت مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ صرف مجددیت ہی کا تھا اور اگر وہ آنجہانی کو صرف مجدد ہی سمجھتے تھے تو کیوں نہ انہوں نے اس وقت یہ کہا کہ جناب والا! مجدد پر ایمان لانا کونسی نص صریح سے ثابت ہے جو آپ منکرین کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں؟۔ اگر آپ مجدد ہیں تو لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلائے جائیں: ”لست علیہم بمصیطر۔“ جس کا جی چاہے آپ کی بات مانے جس کا جی چاہے نہ مانے۔ آپ کا منصب صرف اصلاح ہے۔ اصلاح کئے جائیں۔ اپنے وجود کو شرط اسلام قرار دینا معنی چہ؟۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ جو لوگ آج ١٩٣٥ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد قرار دیتے ہیں ١٩٠٥ء میں انہیں نبی ہی تسلیم کرتے تھے۔ پس آج ان کا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہ تھے کتمان حق بھی ہے اور خلاف واقعہ بھی۔ کیوں نہ یہ بات ١٩٠٥ء میں کہی۔
اس کے علاوہ لاہوری فریق میں ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے ١٩٠٦ء کے ریویو آف ریلیجنز ج ٥ شمارہ نمبر ٤ ص ١٣٢ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی لکھا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے اعلانات سے اس عقیدہ پر مہر توثیق ثبت فرمائی۔ پس معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت حقیقی کا تھا اور لاہوری جماعت کے افراد بھی۔ (کیونکہ ١٩١٤ء سے پہلے اس جماعت کا وجود ظاہر میں نہ تھا ان کو نبی ہی سمجھتے تھے۔)
مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد ظاہر کرنے کی ”بدعت“ ١٩١٤ء سے شروع ہوئی جب حکیم نورالدین خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات پر جماعت میں اختلاف پیدا ہوا اور قادیانی اور لاہوری دو فریق بن گئے۔ قادیانی جماعت ١٩٠١ء کے بعد کی تحریرات کو مستند سمجھتی ہے اور اس سے پہلی تحریرات کو منسوخ سمجھتی ہے۔ لاہوری جماعت ١٩٠١ء سے پہلے کی تحریرات کو پیش کرتی ہے اور ١٩٠١ء کے بعد کی اپنی اور مرزا قادیانی دونوں کی تحریرات کو
٢٦
کالعدم تصور کرتی ہے۔ لاہوری جماعت کے لوگ ١٩١٤ء سے پہلے مرزا قادیانی کو منہاج نبوت پر پرکھا کرتے تھے اور ریویو کے فائل اس دعوٰی پر شاہد ہیں۔ اگر یہ لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں سمجھتے تھے تو پھر انہیں منہاج نبوت پر پرکھتے کیوں تھے؟۔ چنانچہ ١٩٠٥ء میں جب ریاست حیدر آباد میں موسٰی ندی میں طغیانی آئی اور ہزار ہا بندگان خدا نذر سیلاب ہو گئے تو لاہوری جماعت کے ایک سر بر آوردہ رکن نے ”صحیفہ آصفیہ“ لکھ کر حضور نظام کو اس حقیقت کبریٰ کی طرف متوجہ کیا تھا کہ یہ عذاب جو آپ کی رعایا پر نازل ہوا ہے اس لئے ہے کہ انہوں نے اس زمانہ کے نبی کو (جسے نذیر کی قرآنی اصطلاح کے پردہ میں پیش کیا گیا تھا) تسلیم نہیں کیا اور اپنے دعوٰی کے ثبوت میں قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا تھا :
” ماکنا معذبین حتٰی نبعث رسولا . “ ﴿یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اس قوم میں ایک رسول مبعوث نہ کر دیں۔﴾
پس صحیفہ آصفیہ کے مصنف کے ذہن میں مرزا غلام احمد قادیانی مجدد نہ تھے بلکہ رسول تھے اور اس کی تائید خود مرزا غلام احمد قادیانی نے یوں فرمادی :
” ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ “ (بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء‘ ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
خدا کی شان کہ ١٩١٤ء میں ”خلافت ثانی“ کی تاسیس کے موقع پر انصار اللہ (میاں محمود احمد کے حامی) کی جماعت ”لاہور کے پاک ممبروں“ پر غالب آگئی اور یہ لوگ اپنی مصلحت کے ماتحت قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آگئے اور قادیانی تحریک میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔
قادیان سے قطع تعلق کرنے کے بعد صاف ظاہر تھا کہ قادیانی احمدی حضرات جو اب ”مبائعین“ کے لقب سے سرفراز تھے۔ ان ”باغیان خلافت“ کی امداد نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے الفضل ( قادیانی جماعت کا آرگن) اور پیغام صلح (لاہوری جماعت کا آرگن) میں محمودی اور پیغامی محاذ قائم ہو گیا اور بیک گردش چرخ نیلوفری مرزا قادیانی کو منہاج نبوت پر پرکھنے والے اور موسٰی ندی کی طغیانی کو عذاب الٰہی سے تعبیر کرنے والے بھولے بھالے
٢٧
مسلمانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے لگے اور اس کے ثبوت میں بلادِ مغرب میں مرزا قادیانی کا ذکر سم قاتل قرار دیا گیا۔
- ٢.......: مرزا غلام احمد قادیانی نے ممکن ہے کسی زمانہ میں مجددیت کا دعویٰ کیا
ہو لیکن ١٩٠١ء سے لے کر ٢٣ مئی ١٩٠٨ء تک یعنی وفات سے تین دن پہلے تک انہوں نے کسی کتاب میں کسی تقریر میں کسی اشتہار میں کسی جگہ یا کسی شخص سے یہ نہیں کہا کہ میں مجدد ہوں۔ ہر جگہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے منکروں اور مخالفین کو ”جنگلی سوروں سے بدتر“ قرار دیا ہے۔ اس نبوت کی خواہ کچھ ہی تاویل کیوں نہ کی جائے وہ مجددیت کی ہم معنی نہیں بن سکتی۔ ١٩٠١ء کے بعد جب کبھی مرزا قادیانی کو ”ایام الصلح“ میں اپنے قلم سے لکھی ہوئی خاتم النبیین کی تفسیر دماغی یا عقلی انتشار میں مبتلا کرتی تھی تو وہ اپنے نفس کو تسکین دینے اور اسلامی روح سے ناواقف مریدوں کو مطمئن کرنے اور واقف حال مسلمانوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لئے اپنی خانہ ساز نبوت کو ظل اور بروز کی اصطلاحات غیر شرعیہ کے پردہ میں پوشیدہ کر لیا کرتے تھے۔ لیکن ان مصطلحات غیر شرعیہ کا مفہوم خود اپنی منشاء کے مطابق معین کرتے تھے تاکہ اپنے منکرین کو خدا اور رسول کا منکر قرار دے سکیں۔
ورنہ اگر ظلی نبوت کے معنی غیر حقیقی یا مجازی نبوت کے لئے جائیں تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی بحیثیت غیر حقیقی نبی حضرت عیسیٰ سے افضل نہیں ہو سکتے تھے جو حقیقی نبی تھے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نہایت اطمینان کے ساتھ فرماتے ہیں :
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مفہوم اور منشائے حقیقی کو ان کے سچے پیروؤں نے آگے چل کر یوں بے نقاب کر دیا ہے :
٢٨
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
(اخبار بدر قادیان‘ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء ص ١٤)
اس شعر کی رو سے مرزا قادیانی اپنی شان کے لحاظ سے آنحضرت ختمی مرتبت ﷺ سے بھی چار قدم آگے نظر آتے ہیں اور چونکہ بارگاہ خلافت سے اس شعر پر شاعر کو کافر قرار نہیں دیا گیا۔ اس لئے ہم نامحرمان سرائپردۂ خلافت قادیان‘ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ”وابستگان دامن محمود“ مرزا قادیانی کو آنحضرت ﷺ سے بھی برتر یقین کرتے ہیں۔
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور بکثرات و مرّات کیا ہے۔ جس میں کسی شبہ کی مطلق گنجائش نہیں ہے۔ پس ان کو منہاج نبوت ہی پر پرکھنا مناسب ہے۔ لیکن لاہوری حضرات اس امر پر مصر ہیں کہ انہوں نے صرف مجددیت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے اپنے اتمام حجت کرنے اور مسلمانوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لئے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو منہاج مجددیت پر ہی پرکھیں گے۔
لسان الغیب فرماتے ہیں :
تاسیہ روئے شود ہرکہ دروغش باشد
معیار اول : علوم ظاہری و باطنی
علوم ظاہری کے متعلق خود مرزا قادیانی کی شہادت ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنی تالیف کتاب البریہ ص ١٣٥ خلاصہ حاشیہ‘ خزائن ج ١٣ ص ١٨١‘ ١٨٠‘ ١٧٩ میں یوں قلمبند کیا ہے :
”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کی کتابیں مجھے پڑھائیں.......... جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں
٢٩
مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ ان سے میں نے صرف ونحو حاصل کی...... جب میں اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا جن سے میں نے منطق‘ حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا ۔ “
اس شہادت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے جیسا کہ آج سے ایک صدی پیشتر عام دستور تھا۔ درس نظامیہ ختم کیا ہوگا۔ اگر چہ ان کے اساتذہ میں کوئی شخص ہندوستان کا نامور عالم نہیں تھا لیکن یہ بات چنداں اہم نہیں کیونکہ مجدد کی مجددیت کا انحصار اساتذہ پر نہیں ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے بھی معمولی اساتذہ سے درس نظامیہ ہی ختم کیا تھا لیکن جس چیز نے انہیں سر آمد فضلائے روزگار بنادیا وہ ان کی ذاتی قابلیت تھی جو انہیں اللہ تعالیٰ نے ارزانی فرمائی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ایک خاص کام لینا چاہتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ جیسی معرکۃ الآراء اور غیر فانی کتاب تصنیف کی جس کے سامنے بقول علامہ شبلی نعمانیؒ ’رازیؒ اور غزالیؒ کے کارنامے بھی ماند پڑ گئے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگرچہ مرزا قادیانی نے چھوٹی بڑی ملا کر پچاس سے اوپر ہی کتابیں لکھ ڈالیں لیکن کوئی کتاب اس قابل نہیں کہ اسے حجۃ اللہ البالغہ تو خیر بڑی چیز ہے علمی کتب کے مقابلہ میں بھی رکھا جائے۔ ان کے متبعین کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے بیاسی کتب تصنیف کیں۔ بہت خوب! ممکن ہے انہوں نے نوے لکھی ہوں لیکن کسی شخص کی علمیت کا اندازہ تصانیف کی تعداد سے نہیں ہوتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان میں لکھا کیا ہے ؟ دقت نظر‘ اجتہاد فکر‘ تبحر علم‘ زور بیان‘ وسعت معلومات اور ندرت خیال کے اظہار کے لئے بیاسی کتابیں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات صرف ایک کتاب کے لکھنے سے ظاہر ہوسکتی ہے۔ بشرطیکہ لکھنے والے میں کوئی جوہر موجود ہو۔
BRADLAy نے مدۃ العمر میں دوچار کتابیں لکھی ہوں گی لیکن اس کے ایک ہی فلسفیانہ مضمون جس کا عنوان APPEARUEE AND REALITY ہے۔ اسے فلاسفہ کی پہلی صف میں جگہ دلوادی۔ ہزار بچگان روباہ‘ ایک طرف اور ایک بچہ شیر ایک
طرف ۔ ذوق کا سارا دیوان ایک طرف غالب کا ایک شعر ایک طرف ۔
علامہ اقبالؒ نے اب تک جس قدر کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی تعداد چھ یا سات سے زیادہ نہیں لیکن ان کی صرف ایک ہی تصنیف اس پایہ کی ہے کہ اس کے متعلق عقلائے دہر کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ کتاب عصر حاضر کے مظاہر اکبر میں سے ہے اور بالیقین کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اس کتاب پر فخر کیا کریں گی۔ اس کتاب کے ایک ایک صفحہ سے حضرت مصنف کی ژرف نگاہی اور بالغ نظری، وسعت معلومات اور تبحر علمی دقت نظر اور اجتہاد فکر کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ :
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
علاوہ بریں تفسیر کبیر، احیاء العلوم، حجۃ اللہ البالغہ اس پایہ کی کتابیں ہیں کہ ہر زمانہ میں علماء اور فضلاء نے ان سے استفادہ کیا ہے اور ان کے مصنفین کی علمیت کا اعتراف کیا ہے لیکن مرزا قادیانی کی جس قدر کتابیں ہیں ان میں سے کسی کتاب سے کسی عالم نے کبھی استفادہ نہیں کیا۔ عوام کا اس جگہ ذکر نہیں کیونکہ مجدد وہ ہوتا ہے جس کی تصانیف سے خواص بھی بہرہ اندوز ہو سکیں۔ علاوہ بریں علمیت کا اندازہ عوام نہیں کر سکتے۔
اس جگہ اگر کوئی شخص یہ شبہ وارد کرے کہ بعض علمائے دہر نے قرآن مجید جیسی کتاب سے استفادہ نہیں کیا تو مرزا قادیانی پر کیا اعتراض ہے؟۔ اس کے دو جواب ہیں۔
پہلا جواب یہ ہے کہ کوئی مسلمان نہیں جو قرآن مجید کی افادیت کا انکار کرسکے۔ اس جگہ غیر مسلم دنیا سے بحث نہیں ہے۔ تمام مسلمانوں نے تفسیر کبیر، احیاء العلوم اور حجۃ اللہ البالغہ سے استفادہ کیا اور اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کیا لیکن دنیائے اسلام میں کسی عالم نے مرزا قادیانی کی کتب سے استفادہ نہیں کیا۔ استفادہ درکنار ان کی تردید میں ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کو پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ یہ کتاب
٣١
ایک نئے مذہب کی حامل ہے اور ہدایت کی مدعی ہے یہ کسی ایسے انسان کی تصنیف نہیں جو مجددیت کا مدعی تھا یا جس کے لئے علوم ظاہری میں بلند مرتبہ ہونا شرط ہو۔ یہ تو خدا کا کلام ہے جو ایک امی انسان پر نازل ہوا اور چونکہ اس کتاب نے کفر و اسلام میں خط فاصل کھینچ دیا۔ اس لئے لا محالہ اس کے منکروں نے اس سے روگردانی کی۔ لیکن مجدد کی تصنیف کفر و اسلام میں حد فاصل کھینچنے والی نہیں ہوتی۔ وہ صرف اس کے تبحر علمی کا نشان ہوتی ہے اور اسے دنیا اس نظر سے دیکھتی ہے کہ مصنف کی پرواز فکر کہاں تک ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی تصنیف ہوتی ہے جو نبوت کا مدعی نہیں ہوتا۔ چنانچہ یورپ کے اکثر علماء ڈاکٹر اقبالؒ کی تصنیف SIX LEC- TURES کے بلند پایہ فلسفیانہ کتاب ہونے کے معترف ہیں۔ اگرچہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔
لیکن مرزا قادیانی نے کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جس کو پڑھ کر ایک مسلمان ان کے تبحر علمی اور اجتہاد فکر کا معترف ہو سکے۔ اگر میں ان کی تصانیف پر تفصیلی تبصرہ کرنے لگوں تو یہ مضمون ایک ضخیم کتاب بن جائے گا۔ اس لئے یہ بات تو اس وقت ممکن نہیں۔ تاہم بعض اشارات ضروری ہیں تاکہ میرا دعویٰ پایہ ثبوت کو پہنچ سکے۔
مرزا قادیانی نے ١٨٨٥ء میں براہین احمدیہ کا اشتہار بڑے طمطراق کے ساتھ دیا تھا کہ اس کتاب میں اسلام کی حقانیت پر ایک دو نہیں پورے تین سو دلائل عقلیہ ایسے لکھے جائیں گے جو انسان تو کیا چشم فلک نے بھی نہ دیکھے ہوں گے۔ لیکن پانچ حصے لکھنے کے باوجود ہنوز وہ تین سو دلائل مدعی کے نہاں خانہ دماغ سے عالم وجود میں نہیں آئے اور چونکہ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ اس لئے اب کوئی امید بھی باقی نہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ :
جن لوگوں نے علمائے اسلام کی عربی تصانیف پڑھی ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے سرمہ چشم آریہ ، نسیم دعوت ، آئینہ کمالات اسلام اور نور القرآن وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب کا سب حکماء اور صوفیائے اسلام کی تصانیف سے ماخوذ ہے۔
حقیقت الوحی ، تریاق القلوب ، ازالہ اوہام اور توضیح المرام وغیرہ کتب میں جو کچھ
خامہ فرسائی کی ہے وہ اپنی نبوت کی تشریح ہے یا وفات مسیح کے اثبات کی کوشش ہے۔ جنگ مقدس‘ چشمہ مسیحی‘ آریہ دھرم‘ ست بچن‘ انجام آتھم‘ تحفہ گولڑویہ وغیرہ مناظرہ اور مجادلہ کی کتابیں ہیں اور بہا الیقین کہا جا سکتا ہے کہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم نے عیسائیوں کے مقابلہ میں اور مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم نے آریوں کے مقابلہ میں ان سے بدرجہا بہتر کتب تصنیف کی ہیں۔ مسیحیت کی تردید میں جو دلائل عقلیہ و نقلیہ مولوی صاحب مرحوم کی کتب ازالۃ الاوہام‘ ازالۃ الشکوک اور اظہار الحق میں پائے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تمام کتابوں میں ان کا عشر بھی موجود نہیں اور قاسم العلومؒ نے تقریر دلپذیر‘ میلہ خدا شناسی‘ قبلہ نما‘ انتصار الاسلام‘ جواب ترکی بتر کی میں جس عالمانہ طریق پر اسلام کی حقانیت آریہ دھرم کے مقابلہ میں ثابت کی ہے وہ انداز بیاں مرزا قادیانی یہاں تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی گدائے بے نوا کے گھر میں سچے موتیوں کی تلاش؟۔ فلسفیانہ نگارش تو بڑی چیز ہے۔ مرزا قادیانی تو اردو بھی صحیح نہیں لکھ سکتے تھے۔ ہر قسم کی اغلاط ان کی تحریر میں موجود ہیں۔
دو باتیں مرزا قادیانی کی تمام کتب میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں مسیح کی وفات کا مسئلہ اور برطانیہ کی خیر خواہی‘ اسی ایک مسئلہ کو انہوں نے ہر کتاب میں لکھا ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ان کے اس ”کارنامہ“ میں بھی کوئی جدت نظر نہیں آتی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر انہوں نے کوئی دلیل ایسی نہیں دی جو لٹریچر میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ ان سے کہیں زیادہ موثر پیرائے میں سرسید نے اس مضمون کو اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سید صاحب کے یہاں مرزا قادیانی کا سا طرز تحریر نہیں پایا جاتا۔
مرزا قادیانی نے نثر کے علاوہ نظم میں بھی داد سخن دی ہے اور اس میدان میں بھی ان کا دامن اغلاط سے پاک نہیں ہے۔ افسوس کہ میں اس مختصر مضمون میں ناظرین کو ان الہامی شاعری کے سب نمونے نہیں دکھا سکتا۔ صرف ایک مصرع پر اکتفا کرتا ہوں۔ قیاس کن ز گلستان من بہار مرا۔ وہ مصرع یہ ہے :
(در ثمین ص ١٣٣ نمبر ١ ایڈیشن پنجم ص ١٢٠‘ خزائن ص ١٥١ ج ٢١)
مضمون کی رکاکت سے قطع نظر کیجئے اس ”کہ تا“ کو دیکھئے کم از کم اردو شاعری میں تو اس کا جواب کہیں مل نہیں سکتا۔ غالباً اسی قسم کی ادبی خوبیوں کو دیکھ کر ان کے متبعین نے انہیں سلطان القلم کا خطاب دیا ہے۔
بقیہ تصانیف میں زیادہ تر مخالفین کے حق میں دشنام طرازیاں‘ فرضی پیشگوئیاں‘ ذاتی تعلیاں‘ سرکار کی مدح سرائی‘ اپنی وفاداری‘ چندہ کی طلب اور نبوت ورسالت کی تشریحات لایعنی پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو بنی نوع آدم کے لئے دوامی فائدہ کی قرار دی جائے یا جس کو پڑھ کر مسلمانوں کا ایمان تازہ ہو سکے۔ آخر الذکر بات یعنی اپنی نبوت کی تشریح تو اس قدر مبہم اور پیچیدہ ہے کہ لاہوری اور قادیانی دونوں جماعتوں میں مابہ النزاع بنی ہوئی ہے اور میرا خیال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی آخر تک یہ نہ سمجھ سکے کہ میں کس قسم کا نبی ہوں؟ قادیانی پارٹی اس امر کی معترف ہے کہ حضرت صاحب کو ١٩٠١ء تک اپنے دعویٰ کی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کیفیت ١٩٠٨ء تک قائم رہی اور ان کی تمام عمر اقرار نبوت اور انکار نبوت کی الجھن میں بسر ہو گئی۔ کیونکہ اگر بقول قادیانی پارٹی ١٩٠١ء میں ان کو اپنے نبی ہونے کا حقیقی اور مستقل نبی ہونے کا یقین ہو گیا تھا۔ تو ١٩٠٤ء میں وہ یہ نہ کہتے :
”سمیت نبیاً لا على وجه الحقيقة بل على طريق المجاز.“ ”یعنی میرا نام حقیقی طور پر نبی نہیں رکھا گیا بلکہ محض مجازی طور پر“
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤‘ خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩)
اور یہ ظاہر ہے کہ حقیقی نبی اپنے آپ کو مجازی نبی نہیں کہہ سکتا۔
آخر میں ایک بات ان کے مبلغ علم کے متعلق اور بھی کہنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کئی خطوط چراغ علی کو لکھے تھے کہ براہ کرم فلاں مبحث پر مجھے اپنی تحقیقات
- ٤ -
کے نتائج سے مطلع کیجئے اور فلاں مضمون جس کا آپ نے وعدہ فرمایا تھا جلد بھیجئے تاکہ میں اسے اپنی کتاب میں شامل کر سکوں۔ مجدد زماں اور یہ دریوزہ گری موجب صد استعجاب ہے۔
یہ تمام خطوط مولوی سید محمد یحییٰ صاحب تنہا بی اے نے اپنی کتاب سیر المصنفین میں درج کئے ہیں اور ان کے مطالعہ سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی چراغ علی صاحب مرحوم سے علمی رنگ میں استفادہ کیا تھا۔ مولوی صاحب کے مضامین جن لوگوں نے پڑھے ہیں وہ اس بات میں مجھ سے متفق ہوں گے کہ ان کے تمام مضامین میں محققانہ رنگ پایا جاتا ہے اور یہ بات انہیں مرزا قادیانی پر نمایاں فوقیت عطا کرتی ہے۔ کیونکہ آپ ان (مرزا قادیانی) کی تمام کتابیں پڑھ جائیے کسی جگہ تحقیق (ریسرچ) کی جھلک نظر نہیں آئے گی۔
کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو شخص سلطان القلم ہو بلکہ مجدد ہو جس کا دعویٰ یہ ہو کہ میں جب لکھتا ہوں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص مجھے اندر سے تعلیم دے رہا ہے جس کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے بھی زیادہ ہو۔
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز خان مندرجہ ریویو مئی ١٩٢٩ء)
وہ شخص علمی مضامین کے لئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلائے؟
حالانکہ مجدد کی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ عالم ہوتا ہے اور علمائے وقت اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
یہ تو ہوئی مرزا قادیانی کے علوم ظاہری کی مختصر روداد۔ اب رہے باطنی علوم تو ان کے متعلق صرف اس قدر کہنا کافی ہو گا کہ مرزا قادیانی کے متبعین میں کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جس نے کسب فیض کر کے مرتبہ ولایت حاصل کیا ہو اور اس کا نام مشاہیر اولیائے ہندؒ کے زمرہ عالیہ میں شامل کیا جا سکے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ بعض افراد نے ان پر ایمان لا کر نبوت کا درجہ ضرور حاصل کر لیا۔ اگرچہ اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت دونوں نے ان بزرگوں کی کوئی قدر و منزلت نہیں کی بلکہ انہیں الٹا مخبوط الحواس قرار دے دیا۔
٣٥
نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کے حالات ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔
١... یار محمد قادیانی کی نبوت
”ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام یار محمد تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آگیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے تو یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی محبت میں بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت صاحب کی ہر پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔“
(ارشاد میاں محمود احمد خلیفہ قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ج ٢٢ شمارہ ١ ص ٦ یکم جنوری ١٩٣٥ء)
٢... احمد نور کابلی قادیانی کی نبوت
”لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ ! اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں اور میری وحی اللہ کی طرف سے ہے اور اب آسمان کے نیچے میری تابعداری اللہ کا دین ہے۔ میں رحمتہ للعالمین ہوں اور تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔“
(لکل امۃ اجل مصنفہ احمد نور کابلی ص ٤١)
”سید احمد نور صاحب کابلی کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں‘ معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے ؟۔“
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج ٢٢ ش ٥٨ ص ١٧‘ ١١ نومبر ١٩٣٤ء)
٣... عبد اللطیف گنا چوریہ کی نبوت
”چونکہ خدا تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بنا کر مبعوث کیا ہے لیکن میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیانی نے اور ان کی جماعت نے میرے دعویٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا۔“
(عبد اللطیف خدا کا نبی اور رسول گنا چور ضلع جالندھر مورخہ ٥ مارچ ١٩٣٠ء)
٣٦
٤... چراغ دین جموی قادیانی کی نبوت
”چونکہ اس شخص (چراغ الدین) نے اپنے اشتہارات میں یہ لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم......... یہ کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے۔ گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے......... نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے......... ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔“
(المشتہر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ٢٣ اپریل ١٩٠٢ء‘ دافع البلاء ص ١٩‘ ٢٢‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٩ تا ٢٤٢)
٥... غلام محمد لاہوری کی نبوت
”جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش گم شدہ معمولی اور بے علم ہوتے ہیں ایسا ہی میرا حال تھا......... لیکن لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور و غل کے ساتھ غار حرا سے باہر نکل آیا جس کی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ ایک ہی رات میں عالم بھی ہو گیا‘ مصنف بھی‘ امام بھی ہو گیا اور مصلح موعود بھی۔“
خلیفہ قادیان کے نام مخصوص آسمانی چٹھی
”آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے حضرت مسیح موعود کی روحانی فرزندیت میں آسمانی بابرکت مصلح موعود قدرت ثانی کی آسمانی خلافت کا دعویٰ ہے لیکن آپ نے مجھے کوئی معمولی انسان سمجھ کر تکبر سے منہ پھیر لیا۔ اس طرح آپ نے مجھے ہی نہیں ٹھکرایا بلکہ اپنے محسن باپ کو ٹھکرایا جس کی شاہی گدی پر بیٹھ کر آپ ہزاروں آرام کے دن دیکھ چکے ہیں......... میری طرف سے اس لاپرواہی کی سزا میں سر دست آپ کو ہلکی سزاؤں میں مبتلا کیا جا رہا ہے......... میری اطاعت سے الگ رہنے کی صورت میں آپ کے سارے کاروبار کو ٹھنڈا کر دیا جائے گا۔“
(ص ٧‘ از رسالہ نمبر ہشتم منجانب شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود سابق
ممبر مجلس معتمدین احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ بلڈنگز لاہور)
٣٧
٦ ... عبداللہ تیماپوری کی نبوت
”اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرما کر سلسلہ آسمانی کی طرف مخلوق کو دعوت دینے کی تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ خاکسار خدا سے وحی پاکر اس کام کو سر انجام دے رہا ہے۔“
(ام العرفان ص ٩ مصنفہ عبداللہ تیماپوری قادیانی)
٧ ... صدیق دیندار چن بسویشور کی نبوت
”اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ١٩٢٤ء میں آیا ہو .............. اللہ جل شانہ نے اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتداء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کیا ہے۔“
”حضرت مرزا صاحب نے ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ ایک مامور عنقریب پیدا ہونے والا ہے۔ وہ روح حق سے بولے گا اور اس کا نزول گویا خدا کا نزول ہے۔ مرزا صاحب نے فقیر کی تاریخ پیدائش ١٨٨٦ء بتائی تھی۔ ان بشارتوں کے مطابق میری پیدائش ٧ جون ١٨٨٦ء ہے۔“
”اب حق آگیا۔ اسی کی طرف حضرت صاحب نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک روح القدس سے تائید پا کر کوئی کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو۔ بعدہ اس کی اتباع کرنا اسی میں نجات ہے۔...... میری اس ماموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو اور کون ہے ؟۔“
(خاتم النبیین ص ٧٩ مصنفہ صدیق دیندار چن بسویشور)
ناظرین! یہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی کا روحانی فیض کہ متعدد اشخاص نے ان کی بیعت میں داخل ہو کر نبوت کا درجہ حاصل کر لیا اور وحی والہام سے سرفراز ہو گئے۔ مجھے ان لوگوں کے اس رتبہ پر رشک نہیں۔ ہاں! ایک افسوس ضرور ہے :
شیخ چپ ہوں تو توکل ٹھہرے
٣٨
مرزا غلام احمد قادیانی دعوٰی نبوت کریں تو صادق۔ لیکن احمد نور کابلی‘ یار محمد‘ عبداللطیف گناچوری‘ چراغ دین جموی‘ شیخ غلام احمد لاہوری‘ عبداللہ تیماپوری‘ صدیق صاحب دیندار‘ مرزا صاحب کے متبع ان سے محبت کرنے والے اگر مدعی نبوت ہوں تو کاذب‘ مفتری اور مخبوط الحواس قرار پائیں :
جب بقول خلیفہ صاحب قادیان (میاں محمود) نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کے بعد بھی ہزاروں نبی پیدا ہوں گے تو جس طرح مرزا قادیانی کسب ذاتی اور آنحضرت ﷺ کی مہر سے نبی بن گئے اسی طرح اور لوگ بھی نبی بن سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو میاں محمود احمد خلیفہ قادیان از راہ ہمدردی یہ سمجھایا کرتے ہیں کہ نبوت ایک رحمت ہے اور اس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ پس جب آنحضرت ﷺ نبی گر ہیں تو ان کی اتباع سے جس طرح مرزا قادیانی نبی بن گئے اگر یہ لوگ بھی نبوت کے مرتبہ تک پہنچ گئے تو کیا قیامت لازم آگئی؟۔ اور اگر مرزا قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ مرزا قادیانی خاتم النبیین ہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی مورد اعتراض قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے فیض نبوت کو ہمیشہ کے لئے اس امت پر بند کر دیا اور اگر فیضان نبوت کا بند ہو جانا موجب نقصان نہیں تو پھر آنحضرت ﷺ ہی کو خاتم النبیین کیوں نہ تسلیم کر لیا جائے تا کہ بیسویں صدی کے تمام مدعیان نبوت کی ترکی خود بخود ختم ہو جائے۔
آخر میں ایک سوال قادیانی جماعت سے اور کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب مولوی یار محمد‘ سید احمد نور‘ شیخ غلام محمد اور مولوی عبداللہ تیماپوری نبوت کا دعوٰی کریں تو آپ حضرات ان لوگوں کو مجنوں‘ فاتر العقل‘ مخبوط الحواس اور غلطی خوردہ قرار دیں۔ حالانکہ یہ لوگ آپ کے اصول کی رو سے بالکل راہ راست پر ہیں۔ لیکن جب مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو دعوٰی نبوت کی وجہ سے اسی خانہ میں رکھتے ہیں جس میں آپ نے ان تمام مدعیان نبوت کو رکھا ہے تو آپ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ راز آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔
٣٩
باب نبوت یا کھلا ہوا ہے یا بند ہے تیسری کوئی صورت نہیں۔ اگر نبوت و رسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی تو پھر معاملہ بالکل صاف ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب ہے۔ خواہ وہ غلام محمد ہو یا غلام احمد‘ اور اگر نبوت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے تو پھر جس منہاج پر آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو پرکھا ہے اسی منہاج پر شیخ غلام محمد صاحب لاہوری مصلح موعود کو پرکھ لیجئے۔ آخر یہ امتیاز بین الانبیاء کیسا؟
جس زمانہ میں شیخ غلام محمد لاہوری نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا لاہوری جماعت کے اکثر اکابر کی رائے یہی تھی کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ مولوی یار محمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اکابر قادیان نے بھی یہی رائے ظاہر کی کہ ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تھا اگر اس وقت اکابر ملت اسلامیہ نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ مدعی نبوت کے دماغ میں خلل ہے تو آپ لوگ کیوں چیں بجبیں ہوئے تھے؟۔
قادیانی حضرات مجھے معاف کریں۔ نبوت کا دروازہ تو سب سے پہلے مرزا قادیانی نے کھولا۔ پھر اگر ان کے متبعین نے ان کے نقش قدم پر چل کر وہی مقام حاصل کر لیا جس کے وہ خود مدعی تھے تو اس میں کیا قیامت لازم آگئی؟۔
اب میں مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء کی تحریرات پیش کر کے ناظرین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان تحریروں کو پڑھ کر خود ہی فیصلہ کر لیں کہ آیا ان کی موجودگی میں کسی قادیانی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مدعیان نبوت کو مخبوط الحواس اور فاتر العقل قرار دے۔
”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠ حاشیہ)
”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٤ خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
٤٠
”پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی۔“
(حقیقت النبوت ص ٢٢٨‘ مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی)
”انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی ہے۔ جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء میں اور شہداء سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سرّ الٰہی بن جاتا ہے۔“
(حقیقت النبوت ص ١٥٣)
”ہمارے آنحضرت کو ایسا درجہ استادی ملا کہ آپ کے مدرسہ کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔“
(القول الفصل ص ١٥ مصنفہ مرزا محمود احمد)
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ملفوظات مرزا محمود احمد مندرجہ الفضل ج ١٠ ش ٥ ص ٥‘ ٧ جولائی ١٩٢٢ء)
”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣‘ خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤ مصنفہ مرزا قادیانی)
”آنحضرت کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا۔“
(حقیقت النبوت ص ١٨٦)
غالباً یہ حوالے میرے مقصد کو واضح کرنے کے لئے بالکل کافی ہیں۔
اب میں مرزا قادیانی اور خلیفہ ثانی اور ان کے متبعین سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یار محمد‘ سید نور احمد‘ ظہیر الدین اروپی‘ صدیق دیندار‘ عبداللہ تیماپوری‘ عبد اللطیف گناچوری‘ شیخ غلام محمد لاہوری اور میاں چراغ دین جموی جملہ مدعیان نبوت اگر آپ صاحبان سے یہ سوال کریں کہ جب آپ مانتے ہیں کہ :
- ١.......... آنحضرت ﷺ کی پیروی انسان کو نبی بنا سکتی ہے۔
٤١
- ٢..........بغیر شریعت کے نبی آسکتا ہے۔
- ٣..........آنحضرت کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔
- ٤..........آنحضرت کی کامل اتباع سے ایک امتی نبیوں کا مرتبہ حاصل
کرسکتا ہے۔
- ٥..........اگر کوئی انسان صدیقیت کے مرتبہ سے بھی آگے ترقی کرجائے
تو وہ نبی بن جاتا ہے۔
- ٦..........ایک انسان ترقی کرتے کرتے آنحضرت سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
- ٧..........نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم سمجھنا ایک لغو اور باطل عقیدہ ہے۔
- ٨..........ختم نبوت کے عقیدے سے انقطاع فیض لازم آتا ہے اور
اس میں آنحضرت کی توہین ہے اور امت محمدیہ ناقص ٹھہرتی ہے۔
- ٩..........ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ آئندہ آنحضرت کی اتباع سے نبی
بنا کریں گے۔
- ١٠..........اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود بھی آنحضرت کی
اتباع کاملہ کی بدولت نبی بن گئے تو اگر ہم لوگوں نے اسی ترکیب سے یہ درجہ حاصل کر لیا تو ہم مورد الزام کیوں ہیں:
باز میگوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
یہ کس قدر ظلم اور صریح ظلم اور حق پوشی اور ناحق کوشی اور بے انصافی ہے کہ آپ دعویٰ نبوت کریں تو صادق اور ہم دعویٰ نبوت کریں تو کاذب‘ بلکہ مجنون‘ فاترالعقل‘ مخبوط الحواس اور فریب خوردہ کہلائیں:
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
٤٢
اگر اس کے جواب میں خلیفہ قادیانی اور ان کی امت یہ کہے کہ :
١ . . . مرزا قادیانی نے یہ مرتبہ کامل اتباع آنحضرت ﷺ سے پایا تو اس کے
جواب میں یہ مدعیان نبوت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بھی ٹھیک اسی طرح پایا ہے بلکہ مرزا قادیانی نے تو صرف آنحضرت ﷺ ہی کے اتباع سے درجہ نبوت حاصل کیا ہم لوگوں نے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع بھی کی اور مرزا قادیانی کی بھی۔ جن کا ذہنی ارتقاء اپنے استاد سے بھی زیادہ تھا۔ اب رہی بات اتباع کی۔ پس وہ جس طرح مرزا قادیانی کا زبانی دعویٰ تھا ہمارا بھی زبانی ہی ہے۔ ان کو الہام ہوتا تھا ہمیں بھی الہام ہوتا ہے۔ رہا ثبوت سو وہ نہ ان کے پاس تھا نہ ہمارے پاس ہے بلکہ ان کے الہامات تو بعض اوقات مہمل بھی ہوتے تھے مثلاً ، ”پریشن“ ”عمر پلاٹوس“ ”خاکسار پیپر منٹ“ اور ”ربنا العاج“ لیکن ہمارا کوئی الہام اس قبیل سے نہیں ہے۔
آخر میں ایک سوال میاں محمود احمد خلیفہ قادیان سے اور کرتا ہوں۔ جناب موصوف ”حقیقت النبوت ص ١٨٦“ پر لکھتے ہیں :
”آنحضرت کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف؟ اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ (نعوذ باللہ) دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“
اب اگر جس طرح خلیفہ قادیانی نے مسلمانوں سے سوال کیا ہے ایک بہائی (پیرو مذہب بہاءاللہ ایرانی) ان الفاظ میں جناب موصوف سے سوال کرے :
”آنحضرت کے بعد شریعت و ہدایت منجانب اللہ کو بند قرار دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ قرآن کی وجہ سے دنیا فیض ہدایت ربانی سے بالکل محروم ہو گئی اور قرآن کے
٤٤
نزول نے اس انعام کو بالکل بند کر دیا۔ اب بتاؤ اس عقیدہ کی رو سے کہ شریعت و ہدایت ختم ہو چکی‘ قرآن دنیا کے لئے موجب رحمت ثابت ہوتا ہے یا اس کے خلاف؟۔ اگر اس عقیدہ کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن مجید دنیا پر بطور ایک عذاب کے نازل ہوا تھا۔“
تو خلیفہ قادیان اسے کیا جواب دیں گے؟۔
اگر آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کو ختم ماننا موجب نقصان ہے تو شریعت کو ختم ماننا موجب نقصان کیوں نہیں؟ جس طرح نبوت جاری ہے شریعت بھی جاری ہے۔ اگر اس کے جواب میں قادیانی حضرات بہائی حضرات سے یہ کہیں کہ جناب شریعت ختم ہو گئی تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ جناب نبوت بھی ختم ہو گئی۔ جس طرح نبوت دنیا کے لئے موجب رحمت ہے قرآن مجید بھی دنیا کے لئے موجب رحمت ہے اور جس طرح نبوت کے بند ماننے سے مفاسد لازم آتے ہیں۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد نئے نبی آنے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی اسی طرح قرآن مجید کے بعد نئی شریعت آنے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ اگر یہ کہو کہ شریعت کامل ہو چکی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نبوت بھی کامل ہو چکی ہے۔
اگر ان اعتراضات کا مرزائیوں کے پاس کوئی جواب ہو تو ہم بھی سننے کے مشتاق ہیں ؟۔
ناظرین! مجھے معاف فرمائیں بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی مقصد اس تمام داستان سے یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے علوم باطنی کی کرشمہ سازیاں ناظرین اوراق کی خدمت میں پیش کر دوں :
مختصر یہ کہ علوم ظاہری و باطنی دونوں کے لحاظ سے ہمارے مرزا قادیانی جمیع مجددین امت کی صف میں یکتا اور بے ہمتا نظر آتے ہیں۔
خدا کی شان ہے کہ ان جلوہ ریزیوں کے بعد بھی مسلمانوں کی ایک جماعت انہیں
٤٤
مجدد دین تسلیم کرتی ہے اور ان کا کلمہ پڑھتی ہے۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
جو جماعت غلو میں اس قدر ترقی کر چکی ہو کہ مرزا قادیانی کے ذہنی ارتقاء کو سرور کائنات فخر موجودات علیہ افضل الثناء والتحیات کے ذہنی ارتقاء سے بڑھ کر قرار دیتی ہو۔ جس جماعت کے افراد کو اپنے پیشوا کو نبی بنانے کے شوق میں یہ کلمہ کہنے سے باک نہ ہو کہ ایک شخص ترقی کرتے کرتے افضل الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس جماعت کے افراد سے تو یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ ان حقائق پر غور کریں گے۔ ہاں ! مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد ماننے والوں سے یہ مخلصانہ گزارش ضرور ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھے منہاج نبوت پر پرکھو اور یہ کہ جس قدر نشانات مجھ سے ظاہر ہوئے ان سے صد ہا نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ جس شخص کا یہ دعویٰ ہو کہ میں نبی اور رسول ہوں جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں :
داد آں جام را مرا بہ تمام
من بعرفان نہ کمترم زکسے
(نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ایسے مدعی کو وہ صرف مجدد کس طرح مان سکتے ہیں ؟۔ یہ بات تو علیحدہ ہے کہ وہ مجدد بھی ثابت نہ ہو سکیں لیکن انہیں تو حضرت صاحب کے رتبہ کو گھٹانا مناسب نہیں ہے۔
نوٹ : ہمارے زمانہ میں مادہ پرستی کا دور ہے۔ ہر شخص خصوصاً انگریزی دان طبقہ روحانیت اور علم باطنی کو شک اور شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ دنیا کسی زمانہ میں بھی ہادیان طریقت اور اصحاب باطن سے خالی نہیں رہتی لیکن ان کے دیکھنے کے لئے نگاہ کی ضرورت
٤٥
ہے ۔ مجدد چونکہ علوم ظاہر و باطن دونوں کا جامع ہوتا ہے۔ اس لئے وہ لوگوں میں سب سے پہلے یہ نگاہ پیدا کرتا ہے۔ یعنی لوگوں کے اندر خدا طلبی کا ذوق پیدا کرتا ہے اور اس کے بعد انہیں اس راہ پر چلاتا ہے کہ وہ دست بکار اور دل بہ یار کا مصداق بن جاتے ہیں ۔ چونکہ اس زمانہ میں بہت کم لوگ ارباب باطن یا علوم باطنی سے آگاہ ہیں اس لئے مختصر طور پر ان دونوں باتوں کی تشریح ضروری ہے تاکہ ناظرین کرام خود فیصلہ کر سکیں کہ مرزا قادیانی کا شمار ارباب باطن یعنی اولیاء اللہ میں ہو سکتا ہے یا نہیں ؟۔
جو علم حواس خمسہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے وہ اور جو علم استقرائی اور استخراجی طریق پر حاصل ہوتا ہے۔ یہ دونوں علوم ظاہری ہیں چونکہ حواس خمسہ اور قوائے عقلیہ سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اس لئے ان علوم کی بدولت حق الیقین کا مرتبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ ، اس کی صفات ، روح ، اس کے افعال ، وحی و الہام اور دیگر معاملات روحانی یہ سب حواس اور عقل کی رسائی سے بالاتر ہیں ۔ ان کی معرفت کا آلہ دماغ نہیں بلکہ قلب ہے۔ جسے صوفیائے کرام اپنی اصطلاح میں ”حاسہ باطنی“ کہتے ہیں ۔ اس حاسہ باطنی کو موثر بنانے کے لئے حکمت یا منطق فلسفہ جاننا ضروری نہیں بلکہ تزکیہ نفس شرط لازمی ہے۔ تزکیہ گویا وہ صیقل ہے جس کی بدولت آئینہ قلب منجلی ہو جاتا ہے اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ آئینہ میں عکس اسی وقت نظر آتا اور آسکتا ہے جبکہ اس کی صیقل کامل ہو ۔ اس کیفیت کو علم نہیں کہتے بلکہ وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ وجدان کے لفظی معنی ہیں پالینا۔ جاننے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن جو چیز آپ نے پالی ہے اس کے متعلق آپ کے دل میں یہ شبہ پیدا نہیں ہو سکتا کہ پائی ہے یا نہیں ؟۔ صوفی استدلالی رنگ میں نہیں بلکہ وجدانی رنگ میں خدا کو دیکھ کر اس کی ذات و صفات کے متعلق یقین جازم پیدا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہی یقین ، یقین ہے جو وجدانی طور پر پیدا ہو۔ اسی لئے مولانا رومیؒ فرماتے ہیں :
فخر رازی راز دارِ دیں بدے
٤٦
یہ یقین کس طرح پیدا ہو جاتا ہے تزکیہ نفس و تصفیہ باطن کیونکر ہوتا ہے۔ دروغ گوئی‘ خودبینی‘ فریب کاری وغیرہ عادات قبیحہ کیونکر دور ہو سکتی ہیں؟ انسان نفس امارہ کے چنگل سے کس طرح رہائی حاصل کر سکتا ہے؟ اس علم کو علم باطن کہتے ہیں۔
چونکہ اس علم کا منتہی مقام ولایت ہے اس لئے جو شخص علم باطنی میں ماہر ہوتا ہے اسے عرف عام میں ولی اللہ کہتے ہیں۔ اگرچہ ہر ولی کے لئے مجدد ہونا ضروری نہیں لیکن مجدد کے لئے ولی اللہ ہونا اشد ضروری ہے۔ کیونکہ دین کی تجدید بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اور میں پھر کہتا ہوں۔ خواہ مجھ پر تکرار مضمون کا الزام ہی کیوں نہ عائد ہو جائے کہ چند کتابیں تصنیف کر لینے یا چند پیشگوئیاں کر دینے یا چند لیکچر سنا دینے یا مناظرے کر لینے سے کوئی شخص مجدد نہیں بن سکتا۔
اب میں ناظرین کی آگاہی کے لئے چند باتیں اولیاء اللہ کے متعلق لکھتا ہوں۔ تاکہ مجددین امت کا مرتبہ اور مقام سمجھنے میں آسانی ہو۔
ہندوستان میں جو اولیاء اللہ گزرے ہیں ان میں حضرت داتا گنج بخش صاحبؒ لاہوری‘ حضرت سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیریؒ‘ حضرت خواجہ قطب الدین دہلویؒ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی دہلویؒ‘ حضرت فرید الدین گنج شکر اجودہنیؒ‘ حضرت صابر صاحب کلیریؒ‘ حضرت خواجہ باقی باللہؒ‘ حضرت بہاؤ الدین نقشبندؒ‘ حضرت خواجہ گیسو درازؒ بہت مشہور و معروف ہیں اور ان بزرگان دین کے علمی و عملی کارنامے آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ ان کی پاکیزہ زندگیوں پر طائرانہ نگاہ ڈالیئے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اولیاء اللہ کی زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کی بناء پر آپ بآسانی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مجدد کی زندگی کیسی ہونی چاہئے کیونکہ ہر مجدد ولی اللہ بھی ہوتا ہے۔ جزوی اختلافات سے قطع نظر کر لیجئے۔ کیونکہ ہر فرد کی سرشت دوسرے سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتی ہے۔ مفصلہ ذیل امور سب کی پاکیزہ زندگیوں میں مشترک نظر آتے ہیں۔
٤٧
- ١ . . . ان میں سے کسی شخص نے سلاطین وقت یا حکومت کے سامنے دریوزہ
گری نہیں کی۔ خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی دنیاوی طاقت سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ خود سلاطین وقت ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونے کو سعادت اخروی یقین کرتے تھے اور آج بھی جبکہ یہ بزرگان دین بظاہر ہماری نگاہوں سے روپوش ہو چکے ہیں۔ ان کی باطنی کشش کا یہ عالم ہے کہ ایک دنیا ان کی آرام گاہوں کی خاک طوطیائے چشم بناتی ہے اور دامن امید گلہائے مراد سے بھرتی ہے۔
انہی کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے :
” الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون . “
اس کے بر خلاف مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی سرکار دولت مدار کی چوکھٹ پر ناصیہ فرسائی کرتے گزر گئی اور اس شعر کا مفہوم ورد زبان رہا :
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
اس کی پوری تفصیل اور تحریری شہادت آگے آئے گی۔
- ٢ . . . ان بزرگان دین نے نہ ذخیرہ احادیث کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا نہ دین
اسلام میں کوئی رخنہ پیدا کیا نہ غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا نہ اکابر امت کی توہین کی نہ عام مسلمانوں کو ذریۃ البغایا کا لقب عطا کیا نہ اپنی شان میں قصیدہ خوانی کی نہ انعامی چیلنج شائع کئے اور نہ زبانی جمع خرچ کیا بلکہ سارا وقت ساری زندگی خلق اللہ کی خدمت میں بسر کی۔ جاہلوں کو عالم بنایا‘ علماء کو خدا سے ملایا‘ مسکینوں کی دستگیری کی‘ مریضوں کی تیمارداری کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اٹھتے بیٹھتے تبلیغ اسلام کی۔ ہزار ہا غیر مسلموں کو کلمہ پڑھایا۔ ہزار ہا گمراہوں کو سیدھا راستہ دکھایا اور خود نان جوین اور ایک بوریے پر قناعت کی۔ نہ یاقوتی کھائی نہ مفرح عنبری۔
٤٨
ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ اپنی شہرہ آفاق کتاب دعوت اسلام میں لکھتے ہیں کہ حضرت داتا گنج بخش لاہوریؒ کے مواعظ حسنہ میں یہ تاثیر تھی کہ بلا مبالغہ صدہا غیر مسلم روزانہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ یہی حال حضرات خواجگان چشتؒ کا تھا اور آج جو ہندوستان میں ٨ کروڑ سے زائد مسلمان نظر آتے ہیں یہ سب انہی قدسی نفس بزرگان دین کی تبلیغی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہندوستان میں نہ کوئی باقاعدہ اور منظم طریق پر تبلیغ اسلام کا ادارہ قائم ہوا اور نہ مسلمان بادشاہوں نے بااستثنائے معدودے چند کوئی تبلیغی نظام اس ملک میں قائم کیا۔
اس کے برخلاف مرزا قادیانی نے امت مرحومہ میں ایک مستقل فتنہ و فساد کا دروازہ کھول دیا۔ نبوت کا دعویٰ کر کے وحدت ملی کو پارہ پارہ کر دیا۔ نوبت باینجا رسید کہ آج کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ جب تک ایک مسلمان مرزا قادیانی آنجہانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے وہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جل جلالہ، غیر مسلموں کو تو اسلام میں کیا داخل کرتے ٥٦ ہزار مسلمانوں کے علاوہ ساڑھے سات کروڑ کو اسلام سے خارج کر دیا۔ چنانچہ شریعت مرزائیہ کی رو سے کوئی مرزائی کسی مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ دعویٰ تھا کسر صلیب کا۔ لیکن ٢٣ سالہ بارش کی طرح نزول وحی کے باوجود ٢٣ عیسائی بھی مرزا قادیانی آنجہانی کے دست حق پرست پر مسلمان نہ ہوئے بلکہ جو مغلظات آنجناب نے عیسائیوں کو سنائیں ان کے جواب میں انہوں نے بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں وہ دریدہ دہنی کی کہ باید و شاید۔
آنجناب کی سب سے بڑی تحقیق جس پر آئندہ نسلیں فخر کیا کریں گی یہ ہے کہ آپ نے بصد کاوش حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مزار کا پتہ مسلمانوں کو بتا دیا۔ واقعی تیرہ سو برس میں یہ کام کسی مجدد سے نہیں ہو سکا تھا اور یہ کام فی الحقیقت اس قدر مہتمم بالشان تھا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کو اس زمانہ میں ایک نذیر مبعوث کرنے کی سخت ضرورت تھی اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا کے مسلمانوں پر ظاہر ہوئی اور اب تو خدا کے فضل سے نبوت کا دروازہ کھل ہی چکا ہے۔ فی الحال سات نبی امت مرزائیہ میں مبعوث ہو چکے ہیں اور
٤٩
ابھی بقول خلیفہ قادیان ہزاروں نبی آنے والے ہیں۔ امت اسلامیہ کا بیڑا عنقریب اس بھنور سے صاف نکل کر ساحل مراد پر پہنچ جائے گا۔
- ٣ . . . ان جملہ بزرگان دین نے نہ چندے کے رجسٹر کھولے‘ نہ کوئی
بہشتی مقبرہ بنایا‘ نہ منارۃ المسیح تعمیر کرایا‘ نہ ایسی پیشگوئیاں شائع کیں جو پوری نہ ہوئی ہوں۔ انہوں نے کوئی کام اپنے نفس کے لئے نہیں کیا۔
اس کے برخلاف مرزا قادیانی ساری عمر چندوں کی اپیلیں شائع کرتا رہا اور اس کے بعض مرید جن کا ذکر آگے آئے گا۔ اس باب میں ان سے بدظن بھی ہوئے اور آنجناب کی نوے فیصد پیشگوئیاں غلط نکلیں :
مثلاً ١٨٨٦ء میں بشیر احمد کے متعلق پیشگوئی کی کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اولوالعزم اور نامور ہوگا :” کان اللہ نزل من السماء .“ کا مصداق ہوگا۔ لیکن وہ لڑکا ١٨٨٧ء ہی میں فوت ہو گیا۔
ثانیاً‘ محمدی بیگم صاحبہ کے متعلق پیشگوئی کی وہ میری زوجیت میں ضرور آئے گی۔ یہ تقدیر مبرم ہے۔ اگر یہ پیشگوئی غلط نکلے تو میں جھوٹا۔ لیکن قدرت خداوندی ملاحظہ ہو مرزا غلام احمد قادیانی ١٩٠٨ء میں انتقال بھی کر گئے اور یہ پیشگوئی جس کے متعلق انہیں ”زوجنکھا“ کا الہام بھی ہو چکا تھا پوری نہ ہوئی۔
ثالثاً‘ ڈپٹی عبداللہ آتھم کی پندرہ ماہ کے اندر موت کی پیشگوئی کی مگر وہ بھی غلط نکلی۔
رابعاً‘ ڈاکٹر عبدالحکیم مرحوم کے متعلق پیشگوئی کی تھی کہ میرے سامنے مریں گے لیکن ان کا انتقال ١٩٢٢ء میں ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی کی وفات کے ١٤ سال کے بعد۔
خامساً‘ شیر اسلام مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کے متعلق ١٩٠٧ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا مقام
٥٠
عبرت ہے کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں بعارضہ اسہال فوت ہو گیا اور مولانا ہنوز زندہ ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو مقام ولایت یا تقرب الی اللہ حاصل ہوتا تو خدا تعالیٰ ان کے مخالفین کو اس طرح ان پر ہنسنے کا موقع نہ دیتے۔ چونکہ عربی فارسی جانتے تھے اس لئے قدماء مصنفین کی کتب سے استفادہ کر کے چند کتابیں لکھ دیں اور مطالعہ کتب مروجہ کیا تھا۔ اس لئے چند مناظرے کر لئے۔ لیکن علوم باطنی سے کوئی بہرہ نہیں رکھتے تھے اس لئے جب اس میدان میں گامزن ہوئے تو ہر قدم پر لغزش ہوئی اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا :
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
اولیاء اللہ کی زندگی میں وہ کشش اور جاذبیت ہوتی ہے کہ غیر کلمہ پڑھنے اور محبت کا دم بھرنے لگتے ہیں۔ رجوع خلائق کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بادشاہان وقت کو ان کے مرتبہ پر رشک و حسد ہونے لگتا ہے لیکن یہاں معاملہ بنوع دیگر ہے جس کی تفصیل آئندہ اوراق میں ملے گی۔
مختصر یہ ہے کہ علم ظاہری اور علم باطنی دونوں کے لحاظ سے مرزا قادیانی کا مرتبہ ایسا نہیں کہ انہیں مجددین اسلام کی زریں فہرست میں شامل کیا جائے۔ جس کو یقین نہ ہو وہ ان کی مبہم اور ژولیدہ تصانیف کو پڑھ کر دیکھ لے۔
معیار دوم : اصلاح عقائد و رسوم و خیالات باطلہ
دوسری اہم اور ضروری شرط جس کا پایا جانا ایک مجدد میں لازمی امر ہے یہ ہے کہ اس کے اندر اصلاح احوال (ریفارم) کی زبردست قوت و صلاحیت پائی جاتی ہے اور وہ عملاً مسلمانوں کے خیالات و رسوم و عقائد کی اصلاح کر دیتا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو یہ ایک مجدد کی سب سے بڑی مگر سب سے آسان شناخت ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کا اصلی چہرہ از سر نو دکھا دیتا ہے۔ خیالات فاسدہ اور رسوم باطلہ اور عقائد
٥١
ناقصہ سب کی قولاً اور فعلاً بیخ کنی کر دیتا ہے اور قرآن و حدیث کے علوم کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے اور لوگوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی نئی بات نہیں پیش کرتا۔
ہندوستان میں صرف مجدد الف ثانیؒ حضرت شاہ ولی اللہؒ حضرت سید احمد رائے بریلویؒ اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیؒ مشہور مجدد گزرے ہیں۔ ان بزرگوں کی تصانیف اور ان کے کارنامے سب ہمارے سامنے ہیں۔ میں اس مختصر مضمون میں ان کو بالتفصیل بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن ”مشتے از خروارے“ پر عمل کرتا ہوں۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہندوستان میں ایک طرف تشیع کا زور تھا۔ دوسری طرف اکبر نے الحاد کا دروازہ کھول دیا تھا۔ تیسری طرف غیر اسلامی تصوف اور تصوف کا غلط مفہوم مسلمانوں میں رائج ہو گیا تھا۔ چوتھی طرف ہندی مسلمانوں میں رسوم راہ پا گئی تھی۔ حضرت مجدد صاحب نے پہلے علوم ظاہری میں مرتبہ کمال حاصل کیا جسے شک ہو وہ مکتوبات کا مطالعہ کر دیکھے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ باقی باللہ دہلویؒ سے علوم باطنی حاصل کئے اور ان میں وہ مقام حاصل کیا کہ خود ان کے مرشد علیہ الرحمہ نے ان کی بزرگی کا اعتراف کیا۔ جب اصلاح امت کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو ایک طرف وعظ اور تقریر کا سلسلہ جاری کیا۔ دوسری طرف روحانیت کے زور سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا۔ تیسری طرف سید المرسلین ﷺ کے نقش قدم پر چل کر ایک قابل تقلید نمونہ پیش کیا۔ چوتھی طرف جب حضرت کو دشمنوں نے گوالیار کے جیل خانہ میں مقید کیا تو تمام قیدیوں کو شب بیدار اور تہجد گزار بنا دیا۔ ہزار لیکچر ایک طرف اور ایک عمل ایک طرف۔ آپ کی قوت قدسی کو دیکھ کر ایک جہانگیر ہی طالب عفو نہیں ہوا بلکہ ساری دنیا آپ کا کلمہ پڑھنے لگی۔
آپ نے نہ چندہ جمع کیا نہ اشتہارات شائع کئے نہ ہنگامہ برپا کیا بلکہ وعظ اور تحریر سے اصلی اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا اور ہزارہا بندگان خدا کو سیدھا راستہ دکھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے کارنامے دیکھ کر ہر فرد و بشر پکار اٹھا کہ آپ مجدد الف ثانیؒ ہیں۔
٥٢
آپ نے علوم ظاہری وباطنی کا وہ چشمہ بہایا کہ ایک عالم سیراب ہوا۔ طالبان حق نے مختلف مسائل میں اپنی تسلی خاطر کے لئے قلمی استفسارات آپ کی خدمت میں بھیجے۔ ان کے جوابات آج ہمارے سامنے مکتوبات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان کو پڑھ کر ہر منصف مزاج آپ کی علمیت اور قابلیت کا معترف ہو جاتا ہے۔ ہر مکتوب حرز جاں بنانے کے قابل ہے۔
آپ نے کوئی دعویٰ ظلی یا بروزی نبوت کا نہیں کیا۔ صرف اسلام کی اصلی تصویر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے پیش کی اور یہی مجدد کا اصلی اور حقیقی منصب ہوتا ہے کہ وہ سنت کا احیاء کرے اور بدعات کا قلع قمع۔
آپ کے بعد بارہویں صدی ہجری میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اصلاح کا کام سرانجام دیا۔ شاہ صاحبؒ ١١١٤ھ میں پیدا ہوئے اور ١١٧٦ھ میں وفات پائی۔ علوم ظاہری و باطنی اپنے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحبؒ سے حاصل کئے اور ”حجۃ اللہ البالغہ“ ایسی لاجواب کتاب تصنیف کی جس کے آگے بقول علامہ شبلیؒ، رازیؒ اور غزالیؒ کے کارنامے بھی ماند پڑگئے۔ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کیا اور ساری عمر اشاعت توحید و سنت میں بسر کی۔ علوم دینیہ کے وہ چشمے جاری کئے جن سے سارا عالم اسلامی سیراب ہوگیا۔ نہ نبوت کا دعویٰ کیا نہ مسلمانوں کو کافر بنایا نہ دین میں کوئی فتنہ برپا کیا۔
حضرت سید احمد صاحب رائے بریلوی ١٢٠١ھ میں پیدا ہوئے۔ عین عالم شباب میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور اولاً تحریر اور تقریر کے ذریعہ سے مسلمانوں میں مذہبی بیداری پیدا کی۔ اس کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ ملک پنجاب میں شعائر اسلام کی اعلانیہ بے حرمتی ہورہی ہے اور طاغوتی قوتیں اسلام کے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں۔ پنجاب کی مساجد بارود خانوں اور اصطبلوں کی شکل میں تبدیل ہورہی ہیں۔ قرآن مجید کی سیڑھیاں بنائی جارہی ہیں۔ خدا کا نام لینا یا اذان دینا جرم قرار دیا جارہا ہے۔ اذان دینا ایک طرف رہا مسلمان ہونا موجب ہلاکت ہورہا ہے تو آپ نے سنت رسول اللہ ﷺ اور طریق خلفائے راشدینؓ پر عمل پیرا ہو کر علم جہاد بلند کیا اور ١٢٤٦ھ میں
مقام بالاکوٹ جام شہادت نوش فرما کر اس دور پر آشوب میں اپنے خون سے اسلام کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
غدر ١٨٥٧ء کے بعد قاسم العلوم مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندیؒ نے اپنی باطل شکن تحریروں اور ایمان افروز تقریروں کے ذریعہ سے اسلام کی صداقت مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں پر آشکار کی اور دیوبند میں علوم اسلامیہ کا وہ سر چشمہ جاری کیا جس سے آج ایک عالم سیراب ہورہا ہے۔ اگر ان کی زندگی ان کے ہمعصروں کے لئے مشعل ہدایت تھی تو ان کے بعد ان کی تصانیف آج بیسویں صدی میں اپنوں اور غیروں کے لئے موجب ہدایت ہیں۔ غیر مسلموں کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت اس شان کے ساتھ ثابت فرمائی ہے کہ آج تک کسی شخص سے ان کی تصانیف کا جواب نہیں آیا۔ چونکہ یہ زمانہ فلسفہ اور حکمت کا زمانہ ہے اس لئے قاسم العلوم نے اپنی تصانیف میں منطق اور الہیات کے وہ وہ لطیف نکتے پیدا کئے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ ہو جاتی ہے۔ عوام اور علماء دونوں استفادہ کرتے ہیں۔ اس زہد و اتقاء‘ اس علم و فضل اور اس شاندار خدمت اسلامی کے باوجود آپ نے نہ کوئی دعویٰ کیا نہ تفریق بین المسلمین کا دروازہ کھولا۔
اب ان بزرگوں کے مقابلہ میں ”چودہویں صدی کے مجدد“ کے کارناموں پر نظر ڈال لیجئے۔ زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔
تصانیف پر نظر ڈالئے تو تمام کتابوں میں طول کلام‘ التباس و ابہام‘ لفظی کج کاویاں‘ اختلافات کے انبار‘ مباحث ناہموار‘ پراگندہ تکرار‘ سخن سازی کی بھرمار‘ تاویلات کا زور‘ دعاوی کا شور‘ کہیں نبوت کا اقرار‘ کہیں نبوت سے انکار‘ کہیں دعویٰ کہیں فرار‘ بیجا تعلیاں‘ بزرگان امت کا استخفاف‘ حق و صداقت سے انحراف‘ اپنوں سے جنگ‘ غیروں سے پیکار‘ انعامی چیلنج اور شہرت کے اشتہار‘ چندوں کی طلب اور ذاتی امراض کے تذکروں کے
٥٤
علاوہ مطلب کی بات مشکل سے ملے گی۔ دیگر مجددین امت نے دعاوی نہیں کئے کام کر کے دکھایا۔ مرزا قادیانی نے مخالفوں کے حق میں بد دعائیں زیادہ کیں غیروں کو مسلمان کم بنایا۔ دیگر مجددین نے اسلام کی حقانیت آشکار کی مرزا قادیانی نے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے صرف اشتہارات پر اکتفاء کی۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ اول یعنی ١٨٨٤ء میں دعوٰی کیا کہ اسلام کی حقانیت پر تین سو دلائل سپرد قلم کروں گا۔ آج ١٩٣٥ء ہے ابھی تک وہ دلائل کتم عدم سے عالم وجود میں نہیں آئے اور مرزا قادیانی کو دنیا سے سدھارے ہوئے ٢٧ سال گزر گئے۔
مجدد کا سب سے بڑا کام خیالات کی اصلاح کرنا ہے۔ اس معاملہ میں مرزا قادیانی افسوس ہے کہ مقرر کردہ معیار پر پورے نہیں اترے کیونکہ انہوں نے خیالات کی اصلاح کے بجائے چند نئی باتیں داخل مذہب کر دیں جن کی بدولت خیالات میں اور بھی خرابی رونما ہو گئی۔ مثلاً تیرہ سو سال سے مسلمانوں کی تمام جماعتیں ختم نبوت کو نص صریح سے ثابت شدہ سمجھتی تھیں اور بات بھی دراصل یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی لیکن مرزا قادیانی کی بدولت ایک نہایت فاسد عقیدہ اسلام اور مسلمین میں پیدا ہو گیا۔ وہ یہ کہ مسلمان کہلانے والے یہ یقین کرنے لگے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال کر لوگوں کے ایمان اور عمل دونوں کو کمزور کر دیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ :
”صبح کی نماز کے لئے اٹھنے سے کوئی ٢٠‘ ٢٥ منٹ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک زمین اس مطلب کے لئے خریدی گئی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کی جائیں تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا۔“
(ملفوظات ج ٤ ص ٢١٧‘ تذکرہ ص ٤٣٩ طبع ٣)
اپنی خواب کا جو مطلب مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے وہ ایسا ہے کہ جماعت کے کم علم لوگوں کے لئے لغزش کا سبب بن سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں میں
٥٥
سب لوگ خواجہ کمال الدین اور محمد علی لاہوری کے مرتبہ کے نہیں ہیں۔ زیادہ تر لوگ بہت کم لکھے پڑھے اور سادہ مزاج دیہاتی ہیں۔ وہ جب پڑھیں گے کہ جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا تو لازمی طور سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ بہشتی بننے کی ترکیب آسان ہے کیوں نہ اس پر عمل کیا جائے اور وہاں دفن ہونے کی کوشش کی جائے۔ یہ خیال انسان کی قوت عمل کو رفتہ رفتہ مردہ کر دے گا اور یہ خیال بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ امام حسینؓ کے غم میں رونے والے پر دوزخ کی آگ اثر نہیں کر سکتی۔ یہ بت پرستوں کے عقیدہ کفارہ کی ایک مخفی شکل ہے اور میں اسے شرک خفی سمجھتا ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی خاص مقبرہ کے احاطہ میں دفن ہونے کی وجہ سے بہشتی نہیں ہو سکتا۔ اور : ” ولا تزر وازرة وزر اخریٰ “ اس پر شاہد ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ آیا سرور کائنات ﷺ نے جن کی نیابت کا مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا کوئی بہشتی مقبرہ تعمیر کرایا تھا اور اس کے لئے چندہ طلب کیا تھا؟۔ کسی مجدد نے ایسا کیا؟۔
اسی طرح طاعون کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے اس کا ایک مجرب علاج اپنے مریدوں کو ایسا بتایا جس سے اصلاح عقائد کے بجائے تخریب ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں :
”چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دیدیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہو سکتی ہے دو ہزار تک تیار ہو سکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الہیٰ کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ
٥٦
معلوم کس کس کو بشارت کے وعدے سے حصہ ملے گا۔ اس لئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے بھی دیکھا کہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی۔ اس لئے اس کی توسیع کی ضرورت پڑی۔“
(المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی کشتی نوح ص ٧٦‘ خزائن ج ١٩ ص ٨٦‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٧٦‘ ٤٧٧)
اب ناظرین اس اشتہار کو پڑھ کر خود ہی اندازہ لگالیں کہ کس خوبصورتی اور دانشمندی کے ساتھ مریدوں کے دلوں میں آثار پرستی کا بیج بویا جارہا ہے۔ مجدد کا کام یہ نہیں کہ مریدوں کے چندہ سے اپنے مکان کی توسیع کے لئے کوشاں ہو اور نہ یہ اس کے شایان منصب ہے کہ وہ لوگوں میں ضعف اعتقاد پیدا کرے۔ یہ بات سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کوئی مکان یا احاطہ انسان کو موت کے چنگل سے محفوظ رکھ سکے۔ موت جس وقت آتی ہے ”بروج مشیدہ“ میں بھی انسان کو نہیں چھوڑتی مکان مسکونہ کو کشتی نوح سے تعبیر کرنے میں ادنیٰ خوبی ہو تو ہو۔ دینی اور ایمانی خوبی مطلق نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ مریدوں میں پیر پرستی اور آثار پرستی کا رنگ پیدا ہو جائے جو اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف اور موجب نقصان آخرت ہے۔
اس جگہ ایک شبہ یہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے مریدوں پر پورا اختیار تھا۔ تم اعتراض کرنے والے کون! اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مرید تھے تو ملت اسلامیہ ہی کے افراد۔ وہ ہمارے ہی بھائی تھے جو اس عجوبہ پرستی کا شکار ہوگئے اور یقیناً ہمارا دل ان کے لئے کڑھتا ہے۔
اس سلسلہ میں لاہوری احمدیوں سے جو مرزا قادیانی کو مجدد تسلیم کرتے ہیں یہ سوال دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگر فی الواقع بہشتی مقبرہ کے متعلق مرزا قادیانی کے ارشادات صداقت پر مبنی ہیں تو وہ اپنے متعلق کیا کہیں گے۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ ١٩١٤ء سے اب تک ان کی جماعت کا کوئی فرد بعد وفات اس سعادت عظمیٰ سے بہرہ اندوز
٥٧
نہیں ہوا اور نہ آئندہ اس کی کوئی امید ہے؟۔ کیا بہشتی مقبرہ کی برکات سے محروم ہو جانا لاہوری احمدیوں کے لئے موجب نقص ایمان نہیں؟۔ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ اپنی جماعت کے افراد کے لئے تیار کیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ لاہوری حضرات اب وہاں! بار نہیں پاسکتے۔ تو کیا اس لحاظ سے وہ مرزا قادیانی کی جماعت سے خارج نہیں ہو گئے؟۔ ان کے اخراج قادیان کے متعلق الفضل نے بالکل بجا طور پر اظہار تاسف کیا ہے۔ چنانچہ ١٥ جنوری ١٩٣٥ء کے پرچہ میں اس طرح اظہار خیالات کیا گیا ہے۔
” دافع البلاء میں حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے لیکن غیر مبائعین نے اس مقدس مقام سے بکلی قطع تعلق کر لیا اور محمد علی لاہوری نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کے استفسار پر کہا کہ کیا میں قادیان چھوڑ سکتا ہوں؟۔ لیکن وہ یہاں سے ایسے گئے کہ پھر بھولے سے بھی ادھر کا رخ نہ کیا۔ ہاں! انہوں نے اس قادیان کو چھوڑا جس کے متعلق خواجہ کمال الدین صاحب بھی کبھی یوں کہا کرتے تھے :
شدہ دارالاماں کوئے نگارے
معیار سوم : تقویٰ
تیسری اہم شرط تقویٰ ہے جس کا پایا جانا ایک مجدد میں اشد ضروری ہے۔ تقویٰ کے معنی ہیں خوف خدا۔ متقی انسان وہ ہے جسے دیکھ کر لوگ یہ پکار اٹھیں کہ یہ شخص ہر وقت خدا کی حضوری میں رہتا ہے۔ تقویٰ 'بفحوائے نص قرآنی' ہر انسانی بزرگی اور مکرمت کے لئے سنگ بنیاد ہے جو شخص متقی نہیں وہ مومن بھی نہیں۔ چہ جائیکہ مجدد یا ولی ہو سکے۔ چونکہ اتقاء ایمان کی نشانی ہے اس لئے مجدد کو سراپا زہد و اتقاء ہونا چاہئے۔
متقی کو عرف عام میں پرہیز گار بھی کہتے ہیں۔ پرہیز گار سے مراد وہ شخص ہے جو ہر اس بات سے پرہیز کرے جو تعلق باللہ میں خلل انداز ہو۔ اسلام میں جس قدر نامور اولیاء
٥
اللہ، آئمہ اور مجددین گزرے ہیں سب میں یہ صفت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔ ہندوستان کے اولیاء اور مجددین کے سوانح حیات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ کر جائیے آپ کو ایک واقعہ بھی ان بزرگوں کی زندگی میں ایسا نہیں مل سکے گا جسے تقویٰ کے خلاف کہا جاسکے۔ اتقاء کی ایک ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ انسان سے فعلاً یا قولاً یا اشارتاً کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جس سے دوسرے کی دل آزاری متصور ہو یا دل آزاری کا پہلو نکل سکے۔ کما قال :
کہ در طریقت ما پیش ازیں گناہے نیست
افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں کئی باتیں ایسی نظر آتی ہیں جو ایک متقی انسان کے شایان شان نہیں لیکن میں بخوف طوالت صرف ایک واقعہ پر اکتفاء کروں گا۔ جسے میں نے ہمیشہ دلی افسوس کے ساتھ پڑھا ہے۔ میں مرزا قادیانی سے کوئی ذاتی عناد نہیں رکھتا۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے ان سے کوئی پرخاش نہیں لیکن قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتیں انہیں اس زمانہ کا سب سے بڑا انسان قرار دیتی ہیں اور مسلمانوں کو ان کی اتباع کے لئے دعوت دیتی ہیں۔ پس میرا فرض ہے کہ میں مرزا قادیانی کی سیرت کا باامعان نظر مطالعہ کروں اور دیکھوں کہ آیا وہ اس قابل ہیں کہ انہیں اولیاء اور مجددین امت کی صف میں جگہ دی جائے۔ یا ان سے عقیدت رکھی جائے۔ میں مرزا قادیانی کو امام غزالیؒ یا شاہ ولی اللہ کی صف میں اسی بنا پر نہیں رکھتا کہ ان کے قلم سے احیاء العلوم یا حجۃ اللہ البالغہ جیسی کوئی کتاب نہیں نکلی بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ان کی زندگی میں مجھے وہ بات نظر نہیں آتی جو خاصہ خاصان خدا میں ہوتی ہے۔ اس تنقید سے میرا مقصود کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ محض حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے۔
محمدی بیگم کی پیشگوئی
واقعہ بیان کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کا تذکرہ کردوں جن کا آئندہ صفحات میں مذکور ہو گا تاکہ نفس مضمون کے سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔
٥٩
- ١.............مرزا قادیانی ! محمدی بیگم کے خواستگار ۔
- ٢.............محمدی بیگم ! ایک نوجوان لڑکی اور مرزا قادیانی کی بھتیجی ۔
- ٣.............احمد بیگ ! مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی اور محمدی بیگم کے والد ۔
- ٤.............والدہ محمدی بیگم ! مرزا قادیانی کی چچازاد بہن ۔
- ٥.............فضل احمد و سلطان احمد ! مرزا قادیانی کے لڑکے ۔
- ٦.............عزت بی بی ! فضل احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی
اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی ۔
- ٧.............مرزا علی شیر بیگ ! عزت بی بی کے والد ۔
- ٨.............والدہ عزت بی بی ! مرزا احمد بیگ کی بہن ۔
- ٩.............مرزا سلطان محمد ! مرزا قادیانی کا کامیاب رقیب یعنی محمدی بیگم کا شوہر ۔
- ١٠............پھجے دی ماں ! مرزا قادیانی کی پہلی بیوی ۔
- ١١............نصرت جہاں بیگم ! مرزا قادیانی کی دوسری بیوی ۔
ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی اپنے خدا سے الہام پا کر شائع کی جو صفحہ ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥ پر مرقوم ہے :
”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم ) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا۔ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری (یعنی مرزا قادیانی کی ) طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک پوسٹر (اشتہار) شائع کیا جو تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ١١٦، مجموعہ اشتہارات ص ١٥٧، ١٥٨ ج ١ پر بھی درج ہے :
٦٠
”خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام مروت وسلوک تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے دو اڑھائی سال تک اور والد اس دختر کلاں کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“
آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ خزائن ص ٥٧٢‘٥٧٥ ج ٥ پر مرزا قادیانی یوں رقم طراز ہیں :
”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں اپنی دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور یہ بھی کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور مزید احسانات بھی تم پر کئے جائیں گے بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم میری بات مان لو گے تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔ ورنہ خبردار ہو جاؤ کہ خدا نے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوا تو نہ لڑکی کے لئے مبارک ہو گا نہ تمہارے لئے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے جن کا نتیجہ موت ہو گا۔ تم نکاح کے تین سال بعد مر جاؤ گے اور لڑکی کا شوہر اڑھائی سال کے بعد مر جائے گا۔ یہ حکم اللہ کا ہے۔ پس جو کرنا ہے جلد کر ڈالو میں نے تمہیں نصیحت کر دی ہے۔ یہ سن کر وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“
اس کے بعد مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو یہ خط لکھا جو ذیل میں درج ہے :
٦١
مشفقی مرزا علی بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ !السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں لیکن اب جو آپ کو خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارہ میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں‘ ہندؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ ورسول کے دین کی بھی کچھ پرواہ نہیں رکھتے۔ اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے‘ ذلیل کیا جائے‘ روسیاہ کیا جاوے۔
یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا؟۔ کیا میں چوہڑا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض؟ کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو وہ میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو‘ خدا سے خوف کرو‘ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔
٦٢
صرف عزت بی بی نام کے لئے جو فضل احمد کے گھر میں ہے بے شک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا؟ جو چاہے سو کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا تا رہ گیا کہیں مرا ہی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں بے شک میں ناچیز آدمی ہوں‘ ذلیل ہوں‘ خوار ہوں۔ مگر خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک طرف جب (محمدی کا) کسی شخص سے نکاح ہو گا تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اور اگر نہیں دے گا تو میں اسے عاق اور لاوارث کر دوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہو گا۔ لہذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیویں۔ ورنہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں کہ آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم راقم خاکسار غلام احمد از لودھانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥ تا ١٢٧
٦٣
اس کے بعد ہمارے مرزا قادیانی نے والدہ عزت بی بی کو ایک خط لکھا جو کہ درج ذیل ہے :
بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلی
والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز میں محمدی ( دختر احمد بیگ) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کرادو اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہ ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین صاحب اور فضل احمد کو لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر وہ (فضل احمد ) طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے۔ اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا جس کا مضمون یہ ہو گا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا نکاح غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی بیگم کا کسی اور سے نکاح ہو جائے ، عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا۔ اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کے لئے یعنی اس کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہتا تھا اور میری کوشش سب سے نیک بات ہو جاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے
٦٤
ساتھ ہے۔ جس دن (محمدی بیگم) کا نکاح ہوگا اسی دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ راقم مرزا غلام احمد از لودھانہ محلہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٨
مرزا غلام احمد قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو خط لکھا جو درج ذیل ہے :
مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ : قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود ‘ فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید دنیا میں اور کوئی صدمہ اس کے برابر نہ ہو گا .......... میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا فیصلہ آخری قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہو گا تو خدا کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ چونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلادیا کہ دوسری جگہ اس کا رشتہ کرنا ہر گز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہو گا اور خدائے تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں ہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جبکہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہو گی؟ اور آپ کو شاید یہ معلوم ہو گیا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا جو اس پیش گوئی پر
٦٥
اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر اس پر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلا بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہر گز نہیں بدل سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی برکات عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں خدا تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمادیں۔ والسلام !
خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧ جولائی ١٨٩٠ء منقول از رسالہ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣ مولفہ قاضی فضل احمد
اس پیش گوئی کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے بعض اشخاص سے انعام کا وعدہ بھی کیا تھا۔ چنانچہ ذیل کی تحریر اس حقیقت پر شاہد ہے :
”بیان کیا مجھ سے عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ
٦٦
محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“
”خاکسار (مرزا بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٩٢، ١٩٣ روایت نمبر ١٧٩ مؤلفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
جس دن مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو خط لکھا تھا۔ اسی دن ایک اشتہار بھی شائع کیا تھا جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے :
”میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیل دار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے میری اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے ہیں جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی۔ ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہ رہے گا مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور کھلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا زخم بھی مجھے پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ عمداً چاہا کہ میں ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اول ......... اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے ایک
محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔“
”خاکسار (مرزا بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٩٢، ١٩٣ روایت نمبر ١٧٩ مؤلفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
جس دن مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو خط لکھا تھا۔ اسی دن ایک اشتہار بھی شائع کیا تھا جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے :
”میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیل دار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے میری اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے ہیں جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی۔ ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہ رہے گا مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور کھلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا زخم بھی مجھے پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ عمداً چاہا کہ میں ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اول ......... اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے ایک
بنیاد رکھی ہے۔ اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک ہو گی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا...........
دوم........... سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی اور قولی اور فعلی طور پر اس مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی........... اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ ٢ مئی ١٨٩١ء ہے عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہو گا اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن طلاق نہ دے جس دن اس کو نکاح کی خبر ہو تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہو گا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی و قرابت و ہمدردی دور ہو جائیں گے اور کسی نیکی و بدی و رنج و راحت شادی و ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی کیونکہ انہوں نے اب تعلقات توڑے........... سو اب ان سے تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے بر خلاف ہے اور ایک دیوثی کا کام ہے۔
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی ٢ مئی ١٨٩١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٩‘١١، مجموعہ اشتہارات ص ٢١٩ تا ٢٢١ ج ١)
جب محترمہ محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہو گیا تو مرزا قادیانی نے دونوں فرزندوں مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد سے لکھا کہ اگر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو ان سب لوگوں سے جنہوں نے اس معاملہ میں میری مخالفت کی ہے قطع تعلق کرنا ہو گا ورنہ میں تم کو عاق کر دوں گا۔
٦٨
مرزا سلطان احمد نے جواب دیا :
”مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں میں کسی حال میں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا آپ ہی کے ساتھ تعلق ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ بات ہے تو اپنی بیوی (بنت مرزا علی شیر بیگ) کو طلاق دے دو (یہ نیک بخت اور بے گناہ عورت مرزا احمد بیگ پدر محمدی بیگم کی سگی بھانجی تھی) مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٩ روایت نمبر ٣٧ مرزا بشیر احمد قادیانی)
اس کے کچھ عرصہ بعد مرزا قادیانی نے ضلع کچہری گورداسپور میں جو حلفیہ بیان دیا وہ ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے :
”احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیشگوئی ہے جو اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے اور جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ نہیں بیاہی گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جیسا کہ پیشگوئی میں تھا میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے...... عورت اب تک زندہ ہے اور میرے نکاح میں یہ عورت ضرور آئے گی ۔ (امید کیسی یقین کامل ہے ۔) یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں۔“
(اخبار الحکم قادیان جلد ٥ شمارہ ٢٩ ص ١٤ ج ١٥ مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء)
مرزا قادیانی کو اپنی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے نکاح ہو جانے کے بعد انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ عورت ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ چنانچہ ذیل کی تحریر اس پر شاہد ہے :
”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ (محمدی بیگم کے نکاح کا معاملہ) اتنے ہی پر
٦٩
ختم ہو گیا اور جو کچھ ظہور میں آیا ہے یہی آخری نتیجہ ہے اور پیشگوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہو گئی بلکہ اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔ کوئی شخص کسی حیلہ سے اس کو رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ کو بھیجا اور خیر الرسل اور خیر الوریٰ بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے تم جلدی ہی دیکھ لو گے اور اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ص ٢٢٣ ج ١١)
اس نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کو جو الہام ہوا تھا وہ درج ذیل ہے :
”کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے ہم نے خود اس (محمدی بیگم) سے تیرا (عقد) نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔“
(الہام مرزا غلام احمد قادیانی ٧ ستمبر ١٨٩١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٨٥ مجموعہ اشتہارات ص ٣٠١ ج ١)
القصہ جب محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہو گیا تو لوگوں نے مرزا قادیانی کی پیشگوئی کے صحیح نہ نکلنے پر اعتراضات کئے۔ اس پر مرزا قادیانی نے ڈھائی سال کی میعاد مقرر کی کہ اس عرصہ میں اس کا خاوند مر جائے گا اور وہ پھر میرے نکاح میں آئے گی یعنی پہلے نفس پیشگوئی محمدی بیگم کا اپنے ساتھ نکاح تھی لیکن جب اس کی شادی مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہو گئی تو نفس پیشگوئی مرزا سلطان محمد کی ڈھائی سال کی اندر موت قرار پائی۔
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آجائے گی۔“
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١‘ خزائن حاشیہ ص ٣١ ج ١١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
لیکن جب ڈھائی سال کے عرصہ میں بھی مرزا سلطان محمد کی موت واقع نہ ہوئی تو غالباً اس کی جوانی پر ترس کھا کر مرزا قادیانی نے اس کی زندگی میں بلا تعین وقت توسیع منظور کر لی مگر اس شرط پر کہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں وفات پا جائے اور اس کی بیوہ مرزا
٧٠
قادیانی کے نکاح میں آجائے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
”لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بد نصیبی سے صادق (مرزا قادیانی) کا نام کاذب رکھیں گے لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر ہو گا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خدا تعالیٰ کے غیر متبدل وعدے پورے ہو جائیں گے کیا کوئی زمین پر ہے جو ان کو روک سکے ؟.......... اے بد فطرتو اپنی فطرتیں دکھاؤ۔ لعنتیں بھیجو ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغ گو رکھو لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔ عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے لیکن نفس پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ : ” لا تبديل لكلمات الله.“ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہو جائے گا۔“
(مرزا قادیانی کا اعلان ٦ ستمبر ١٨٩٦ء مندرجہ تبلیغ رسالت ص ١١٥، ١١٦ ج ٣، مجموعہ اشتہارات ص ٤٤٣ ج ٢)
یہ واضح ہو کہ ”عورت کا عاجز کے نکاح میں آنا“ یہ بھی نفس پیشگوئی ہے اور ”داماد احمد بیگ کی موت“ یہ بھی نفس پیشگوئی ہے اور قاعدہ کی رو سے ان دونوں کا پورا ہونا مرزا قادیانی کی صداقت کے لئے ضروری تھا۔ ”خیر جب نادان مخالفین نے پیشگوئیوں کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے اعتراضات کئے تو مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں جواب دیا :
”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف (اس پیشگوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ؟ (بیشک سب ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے) ان بیوقوفوں کو کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ص ٣٣٧ ج ١١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
جب لوگوں نے آتھم کے زندہ رہنے اور محمدی بیگم کے نکاح میں نہ آنے کی وجہ سے پے در پے اعتراضات کئے تو مرزا قادیانی نے جناب باری میں یوں دعا کی :
”میں (مرزا قادیانی) بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم ! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوندا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٨٦‘ مجموعہ اشتہارات ص ١١٥‘ ١١٦ ج ٢)
حاصل داستاں یہ کہ نہ محمدی بیگم نکاح میں آئی اور نہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرزا سلطان محمد کی موت واقع ہوئی۔ اغیار کیا اپنوں کو بھی بادل ناخواستہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مرید لاہوری قادیانیوں کے امام محمد علی لاہوری لکھتے ہیں :
”یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا لیکن ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ صرف ایک پیشگوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا یہ طریق انصاف نہیں ہے۔“
(پیغام صلح لاہور ١٦ جنوری ١٩٢١ء)
اس شہادت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی باقی جو کچھ محمد علی لاہوری نے لکھا وہ ان کی عقیدت مندی کا مظاہرہ ہے جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ اس سے بھی زیادہ عقیدت رکھے تو اس روشنی کے زمانہ میں اسے پورا اختیار حاصل ہے۔
ہاں ! ہمیں اس تحریر سے محمد علی لاہوری کا معیار صداقت ضرور معلوم ہو گیا۔
یعنی اگر کوئی شخص دس باتیں کہے اور ان میں سے چار جھوٹی ہوں تو وہ شخص جھوٹا نہیں ہے بلکہ سچا ہی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اس کی گفتگو میں جھوٹ کم اور سچ زیادہ ہے۔ ریاضی کے انداز میں کسی کے جھوٹے یا سچے ہونے کا معیار یہ ہے :
- ١............دس میں دس سچی تو وہ آدمی سچا۔
- ٢............دس میں چھ سچی چار جھوٹی تو بھی وہ آدمی سچا۔
- ٣............دس میں پانچ سچی پانچ جھوٹی تو وہ آدمی نہ جھوٹا نہ سچا۔
- ٤............دس میں چھ جھوٹی چار سچی تو وہ آدمی جھوٹا۔
پہلے زمانہ میں اگر کسی شخص کی ایک بات بھی جھوٹی ثابت ہو جاتی تھی تو اس کا نام سچوں کی فہرست سے خارج ہو جاتا تھا اور ہمیشہ کے لئے وہ شخص ناقابل اعتبار قرار پاتا تھا۔ چنانچہ صدر اسلام میں جس شخص کے متعلق کذب کا احتمال بھی ہو جاتا تھا اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی تھی لیکن دنیا کو محمد علی لاہوری کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اب یہ دشواری دور ہو گئی : ”ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے ۔ “ کتنا عمدہ اصول ہے جو محمد علی لاہوری نے جوش عقیدت میں وضع فرمایا ہے۔ اس معیار کی رو سے وہ تمام جھوٹے آدمی جنہوں نے اپنی زندگی میں جھوٹ کم اور سچ زیادہ بولا یا دو چار جھوٹ بولے جھوٹے قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ سب صادقوں کی فہرست میں داخل ہو گئے۔ محمد علی لاہوری نے اپنے مرشد کو صادق ثابت کرنے کے جوش میں حق و باطل صدق و کذب دونوں کا معیار ہی بدل دیا۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ زمانہ میں جب لوگوں کی عقلیں بہت زیادہ دقیقہ رس اور نکتہ شناس ہو جائیں گی اس وقت محمد علی لاہوری کا یہ معیار حکمائے وقت سے خراج تحسین حاصل کرے گا اور مذہبی دنیا کا معمول یہ قرار پائے گا۔ کیسا دلچسپ اور روح افروز ہو گا وہ نظارہ جب آئندہ زمانہ میں بعض بلید الذہن لوگ کسی شخص کے متعلق یہ کہیں گے کہ یہ شخص جھوٹا ہے کیونکہ اس نے فلاں فلاں موقعوں پر جھوٹ بولا تو محمد علی لاہوری کے معیار کے ماننے والے جواب میں کہیں گے کہ نہیں پہلے یہ دیکھو کہ اس
٧٣
نے جھوٹ کس قدر بولا اور سچ کس قدر بولا ۔ اگر سچ کا پلہ بھاری ہے تو جدید نظریہ کی رو سے یہ شخص کاذب نہیں بلکہ صادق ہے۔
سچ کہا ہے کسی نے : ” حبك الشئ يعم ويصم . “
ناظرین ! یہ تو ایک ضمنی بحث تھی جو درمیان میں آگئی۔ اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کرتا ہوں :
- ١ ........... میرا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ مرزا قادیانی کی زندگی کے اس عبرتناک واقعہ
کو زیر بحث لاؤں لیکن میں مجبور ہوں لاہوری جماعت کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی مجدد تھے‘ امام وقت تھے‘ نائب رسول اللہ تھے‘ خدا کے برگزیدہ تھے اور ان کے دامن سے وابستگی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے جو انہیں مجدد صدی چہار دہم تسلیم نہیں کرتا وہ کافر تو نہیں لیکن ایک شدید غلطی کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مجھ پر فرض ہے کہ میں ان کی سیرت کا بامعان نظر مطالعہ کروں اور یہ دیکھوں کہ ان کی زندگی میں شان مجددیت پائی جاتی ہے؟ کیا وہ اس لائق ہیں کہ دینی معاملات میں انہیں حکم اور عدل تسلیم کر لوں ؟ ہر مجدد کے لئے حقیقی معنی میں مومن ہونا شرط ہے اور مومن کے لئے متقی ہونا لازمی ہے۔ پس میں اس منطقی ترتیب سے چلتا ہوں کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ وہ متقی بھی تھے یا نہیں؟۔
مجددیت کا رتبہ تو بہت بلند ہے۔
جاننا چاہئے کہ متقی وہ نہیں جو محض :
- ١ ............ نماز روزہ کا پابند ہو ....... یا
- ٢ ............ وضع قطع ظاہری مسلمانوں کی سی رکھتا ہو ........ یا
- ٣ ............ صاحب تصانیف ہو ....... یا
- ٤ ............ مناظرے کر سکتا ہو ........ یا
- ٥ ............ اسلام کی حقانیت کے اثبات میں جلی قلم سے اشتہارات شائع
کر سکتا ہو ................. یا
٧٤
- ٦............ پیشگوئیاں مشتہر کر سکتا ہو...... یا
- ٧............ ان کو اپنے صدق و کذب کا معیار بنا سکتا ہو...... یا
- ٨............ انعامی اشتہارات نکال سکتا ہو...... یا
- ٩............ حکومت کی تعریف و توصیف میں تیغ قلم کے جوہر دکھا سکتا ہو...... یا
- ١٠............ اپنے مخالفین کو ”ذریۃ البغایا“ کا لقب دے سکتا ہو...... یا
- ١١............ بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال سکتا ہو...... یا
- ١٢............ طاعون اور زلزلوں کی خبر دے سکتا ہو۔
بلکہ متقی وہ ہے جو خدا ترس ہو‘ تقویٰ اور طہارت کی راہوں پر گامزن ہو۔ اس کے ہاتھ یا زبان سے کسی کو ایذاء نہ پہنچے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کسی کی دل آزاری نہ کرے کسی کو بیجا نہ ستائے‘ لطف و کرم اور فضل و رحم کا مجسمہ ہو۔
مرزا قادیانی نے محترمہ محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیشگوئی کی۔ اچھا کیا۔ یہ انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ کا زمانہ ہے ہر شخص آزاد ہے۔ میں اگر چاہوں تو ایک نہیں دس پیشگوئیاں شائع کر سکتا ہوں کسی میں طاقت نہیں جو میرا مزاحم ہو سکے لیکن اس پیشگوئی کے سلسلہ میں جو اقوال وافعال مرزا قادیانی سے سرزد ہوئے وہ میری رائے میں ایک مجدد کے شایان شان نہیں ہیں اور یہ بات میں کسی سے سن کر نہیں بلکہ اعلیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں۔ چنانچہ ذیل میں اپنے اس دعویٰ پر دلائل قاطعہ پیش کر کے فیصلہ ناظرین پر چھوڑتا ہوں :
اگر خاموش بنشینم گناہ است
میں نے یہ مضمون محض اپنے مسلمان بھائیوں کی دینی اور مذہبی اور ایمانی خدمت کی نیت سے لکھا ہے۔ حاشا کسی کی دل آزاری یا تنقیص مدنظر نہیں ہے۔ حقیقت حال سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ اس کے بعد حق و باطل میں امتیاز کرنا یہ ناظرین کا کام ہے : ” وما علینا الا البلاغ المبین .“
٧٥
لیکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے ایک غلط خیال کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو عام طور سے ہمارے قادیانی بھائیوں کے دلوں میں جاگزیں ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی سلطان القلم تھے۔ میں نے اس سے پہلے بھی ایک جگہ لکھا ہے کہ عربی یا فارسی درکنار مرزا قادیانی تو اردو بھی صحیح نہیں لکھ سکتے تھے۔ اس باب میں چونکہ ان کے کئی خطوط نقل کئے ہیں۔ لہٰذا جی چاہتا ہے کہ ان کی انشاء پردازی پر بھی ایک چہلتی ہوئی نظر ڈال دوں۔ خدا معلوم پھر اس کی باری آئے یا نہ آئے۔
مرزا قادیانی نے مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب کو ہموار کرنے اور راہ راست پر لانے کے لئے جو خط لکھا تھا وہ میں نقل کر چکا ہوں۔ یہ خط مرزا نے ١٨٩١ء میں لکھا تھا جبکہ ان کی عمر اپنے ہی قول کے مطابق ٥٢ سال کی تھی۔ پس کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ یہ تحریر مرزا قادیانی کے زمانہ طفولیت کی ہے۔ اس لئے اس میں انشاء اور ادب زبان اور محاورہ کی خامیاں نظر انداز کر دینے کے لائق ہیں۔ یہ اس زمانہ کی تحریر ہے جب وہ بہت سی کتابوں کے مصنف بن چکے تھے اور مرتبہ مجددیت پر فائز ہو چکے تھے۔ ناظرین کی سہولت کی خاطر پہلے میں مرزا قادیانی کی عبارت لکھتا ہوں اور پھر اس کی اغلاط نمایاں کرتا ہوں :
- ا۔............ مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
- ☆............ مرزا قادیانی عربی دان تھے۔ علی شیر بیگ سے خطاب کر رہے ہیں
لیکن سلمہ کی ”ہ“ صیغہ واحد غائب ہے۔
- ٢............ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا۔
- ☆............ کس قدر غیر مانوس اور بھونڈی عبارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ
میرے دل میں آپ کی طرف سے کوئی فرق نہ تھا۔
- ٣............ میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی سمجھتا ہوں۔
- ☆............ غریب طبع کی ترکیب غیر مانوس اور خلاف محاورہ اہل زبان ہے۔ حلیم
الطبع چاہئے۔
٧٦
- ٤......... آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں
بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔
- ٭......... یہ عبارت یوں چاہئے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو لوگ اس نکاح کے
حامی ہیں وہ میرے سخت دشمن ہیں۔ نکاح تو اس وقت تک ہوا ہی نہیں تھا پھر نکاح کے شریک کیا معنی؟ دوسری غلطی ہے کہ ”میرے کیا“ سے پہلے لفظ ”بلکہ“ زائد ہے۔
- ٥......... یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا
اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
- ٭......... لفظ ”اب“ اس جگہ غیر مناسب ہے کیونکہ ابھی تلوار نہیں چلی ہے۔
یوں لکھتے تو بہتر تھا ”اس حملہ سے مجھ کو بچانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔“
- ٦......... مگر یہ تو آزمایا گیا۔
- ٭......... غیر مانوس ہے۔ یہ لکھنا چاہئے تھا ”مگر یہ تو ثابت گیا۔“
- ٧......... وہی میرے خون کے پیاسے ہیں وہی میری عزت کے پیاسے ہیں۔
- ٭......... عزت کے پیاسے خلاف محاورہ ہے ”میری بے عزتی کے
خواہاں ہیں“ لکھتے تو مناسب تھا۔
- ٨......... اور اس کا رو سیاہ ہو۔
- ٭......... خلاف محاورہ ہے۔ یوں بولتے ہیں اور وہ رو سیاہ ہو۔
- ٩......... ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔
- ٭......... یوں چاہئے ”ہم اپنے بھائی کی مرضی کے خلاف نہیں کریں گے۔
- ١٠......... بیوی صاحب
- ٭......... بیوی صاحبہ چاہئے۔
- ١١......... اس سے ہمارا کیا باقی رہ گیا؟
- ٭......... غیر مانوس اور مبہم ہے مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے
٧٧
ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
- ١٢.......... تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے؟
- ☆.......... تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے؟
- ١٣.......... پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے
- ☆.......... پھر کی جگہ ”تو“ چاہئے
- ١٤.......... یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے۔
- ☆.......... ”ارادہ بند کرنا“ آج تک نہیں سنا تھا۔
- ١٥.......... فضل احمد کو ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی
کے لئے کوشش کروں گا۔
- ☆.......... کیا فصیح و بلیغ اردو ہے؟ مطلب یہ ہے کہ فضل احمد کو ہر طرح
سے سمجھا بجھا کر آپ کی لڑکی کی بہبود کے لئے کوشش کروں گا۔
- ١٦.......... اس وقت کو سنبھال لیں۔
- ☆.......... یہ محاورہ بھی مرزا قادیانی کے اجتہادات میں سے ہے۔ اردو زبان میں
تو کہیں نظر نہیں پڑا۔ مطلب یہ ہے کہ وقت کی نزاکت کا احساس فرمائیے۔
میرا خیال ہے کہ ان اغلاط کے دیکھنے کے بعد ہر منصف مزاج انسان اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مرزا قادیانی کو اردو زبان پر بھی قدرت حاصل نہ تھی۔ پس انہیں سلطان القلم کہنا ایسا ہی ہے جیسا کسی مرقات کے پڑھنے والے کو فاضل الہیات کہنا۔
اس کے بعد اب میں نفس مضمون کی طرف واپس آتا ہوں :
- ١.......... مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیشگوئی شائع فرمائی۔
- ٢.......... اس پیشگوئی کی تصدیق اور توثیق کے لئے آنحضرت ﷺ کی ایک
پیشگوئی اپنی طرف منسوب کی کہ : ” یتزوج ویولدلہ . “ یعنی وہ (مسیح موعود) بیوی کرے گا اور صاحب اولاد بھی ہو گا۔ بقول مرزا قادیانی تزوج سے وہ خاص تزوج مراد ہے جو بطور
٧٨
نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز (مرزا قادیانی) کی پیشگوئی موجود ہے۔
- ٣............. لڑکی کے والدین اور اقارب اس معاملہ میں مزاحم ہوں گے لیکن انجام
کار وہ سب خائب و خاسر ہوں گے اور اس لڑکی کے ساتھ نکاح ہوگا: ”خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو در میان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
- ٤............. مرزا قادیانی نے خدا سے الہام پا کر لڑکی کے والدین کو لکھا کہ اگر نکاح
سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا۔ جس کے ساتھ اس کی شادی ہوگی وہ ڈھائی سال تک اور لڑکی کا والد تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر بقول مرزا قادیانی : ”تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“
- ٥............. مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو اس نکاح کے لئے لالچ بھی دیا اور
دھمکیاں بھی دیں: ”مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہشمند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ اپنی بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔ ورنہ خبردار ہو جاؤ۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر تم نے کسی اور سے اس لڑکی کا نکاح کیا تو تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔“
- ٦............. مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی علی شیر بیگ کو خط لکھا کہ آپ اس پیشگوئی
کی تکمیل میں میرے معاون بنیں اور میرے مخالفین کو راہ راست پر لائیں۔
- ٧............. مرزا قادیانی نے اپنی سمدھن کو خط لکھا کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو
سمجھا بجھا کر راضی کرو ورنہ میں اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔
- ٨............. مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو خط لکھا جس کا لب ولہجہ نہایت
مصالحانہ تھا اور ان سے درخواست کی کہ : ”آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے
کے لئے معاون بنیں۔ ”کیونکہ ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے اس پیشگوئی کے جھوٹی نکلنے کے منتظر ہیں۔
- ٩.......... مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ایک ماموں سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کیا
تھا اور اس انعام کے متعلق بعض (حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔)
- ١٠.......... ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفی بیان کے سلسلہ میں یہ
کہا کہ اگرچہ اس عورت کا (محمدی بیگم کا) نکاح میرے ساتھ نہیں ہوا ہے لیکن: ”میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
- ١١.......... مرزا قادیانی نے اس نکاح کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیا تھا۔
- ١٢.......... خدا نے عرش پر مرزا قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح باندھا۔
- ١٣.......... محمدی بیگم کا نکاح میں آنا تقدیر مبرم قرار دیا۔
- ١٤.......... اپنے مخالفین کی نسبت لکھا کہ جب یہ پیشگوئی پوری ہوگی : ”تو ان
بیوقوفوں کی ناک نہایت صفائی سے کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
- ١٥.......... سلطان محمد کی موت کو تقدیر مبرم قرار دیا اور یہاں تک لکھا کہ : ”اگر
میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
- ١٦.......... مرزا قادیانی نے خدا کی جناب میں دعا کی کہ : ”اے خدا! اگر یہ
پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“
- ١٧.......... سخت بیماری کی حالت میں جبکہ مرزا قادیانی نے وصیت بھی کر دی
تھی اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا (کہ میرا دم آخر ہے اور پیشگوئی پوری نہیں ہوئی) تو ایسی حالت میں الہام ہوا : ”الحق من ربک فلا تکن من الممترین ۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ص ٣٠٦ ج ٣ مصنفہ مرزا قادیانی)
٨٠
١٨............ جب سب کچھ ہو چکا تو مرزا قادیانی نے اپنے بڑے بیٹے سلطان احمد کو عاق کر دیا اور چھوٹے بیٹے فضل احمد نے اپنی زوجہ عزت بی بی کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ مرزا قادیانی کے پاس روانہ کر دیا۔
١٩............ مرزا قادیانی نے حسب اعلان ٢ مئی ١٨٩١ء اپنی پہلی بیوی کو جنہیں لوگ عام طور پر ”پھجے دی ماں“ کہا کرتے تھے طلاق دے دی کیونکہ انہوں نے مرزا قادیانی کے دشمن مرزا احمد بیگ سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کئے۔
٢٠............ قصہ مختصر یہ پیشگوئی جسے مرزا قادیانی نے خدا سے الہام پا کر بڑے شد ومد کے ساتھ شائع کیا تھا‘ جسے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا‘ جس کے پوری ہونے کے لئے انہوں نے جناب باری میں نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی تھی‘ بلکہ مرزا علی شیر بیگ اور مرزا احمد بیگ کو نہایت درد بھرے خطوط لکھے تھے‘ جس کے لئے لڑکی کے ماموں کو حکیمانہ مصالح کے ماتحت انعام کا وعدہ بھی کیا تھا‘ جس کے پوری نہ ہونے کا انہیں اس درجہ یقین تھا کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو نہایت مکروہ اور نازیبا الفاظ میں یاد کیا تھا۔ ہاں! ہاں! وہی پیشگوئی جس کے وقوع کو انہوں نے تقدیر مبرم قرار دیا تھا‘ جس کی تائید میں حدیث نبوی پیش کی‘ نصوص قرآنیہ پیش کی تھیں‘ جس کی تکمیل آسمان پر ہو چکی تھی‘ جس کی تشہیر زمین پر ہو چکی تھی‘ جس کے لئے لاہور میں ہزاروں مسلمانوں نے بعد نماز دعا کی تھی‘ ہاں ہاں وہی پیشگوئی جو سات سال تک موافقین اور مخالفین دونوں کو سامان ہنگامہ آرائی بہم پہنچاتی رہی‘ جس کی بدولت مرزا قادیانی نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی‘ بڑے بیٹے کو عاق کیا‘ چھوٹے بیٹے کی بیوی کو طلاق ملی‘ دشمنوں کے گھر گھی کے چراغ روشن ہوئے‘ دوستوں پر برسوں بیم ورجاء کی روح فرسا کیفیت طاری رہی اور بالآخر انہیں سخت مایوسی ہوئی۔ دنیا میں رسوائی ہوئی‘ نہ پوری ہونی تھی نہ پوری ہوئی۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی اس سرائے فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ اغیار تو درکنار اپنوں نے بھی تسلیم کیا کہ: ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی تھی کہ نکاح ہو گا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔“
(پیغام صلح ٢١ جنوری ١٩٢١ء)
٨١
ناظرین کہیں گے کہ جب اپنوں اور بیگانوں کو مسلم ہے کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو پھر اس قدر خامہ فرسائی کی ضرورت کیا تھی؟۔ جس طرح کسی اختصار پسند بزرگ نے سورہ یوسف کو بایں الفاظ بیان کردیا ہے : ” پیرے بود پسری داشت گم کرد باز یافت “ اسی طرح میں بھی لکھ دیتا کہ مرزا قادیانی نے بذریعہ الہام ربانی یہ پیشگوئی کی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں میرے نکاح میں آئے گی لیکن وہ عفیفہ ان کے نکاح میں نہ آئی اور پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ آخر اس طومار سے کیا مقصد مد نظر ہے ؟۔
ناظرین کا استعجاب بجا و درست ہے لیکن اس پیشگوئی کو اس قدر تفصیل کے ساتھ لکھنے سے میرا مقصد یہ دکھانا نہیں تھا کہ مرزا قادیانی کی فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اگر یہ محض پیشگوئی ہوتی تو واقعی اس قدر تفصیل کی ضرورت نہ تھی۔ ایک پیشگوئی کے سچی نہ نکلنے سے موجودہ زمانہ میں دعوائے مجددیت باطل نہیں ہوتا بلکہ اب تو مجددیت کا معیار یہ قرار دیا گیا ہے کہ از ابتدا تا انتہا سب پیشگوئیوں پر مجموعی طور سے نظر ڈالو اور یہ دیکھو کہ ان میں کس قدر پوری ہوئیں۔ اگر بیس میں سے پندرہ بھی پوری ہو گئیں تو امیدوار امتحان مجددیت میں کامیاب ہے۔
لیکن افسوس کہ یہ محض پیشگوئی نہیں بلکہ اس کی بناء پر مرزا قادیانی کی سیرت کے متعدد پہلو منظر عام پر آگئے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ ان کو دیکھ کر میں انہیں مجدد تو درکنار ایک متقی انسان بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
دلائل ملاحظہ ہوں :
- الف............ جس زور و شور، تحکم، تحدی، یقین اور اعتماد کے ساتھ مرزا قادیانی
نے اس پیشگوئی کو تحریر اور تقریر کے ذریعے سے مشتہر کیا وہ ناظرین اوراق ہذا سے مخفی نہیں۔ ان کو اس پیشگوئی کے پوری ہونے کا اس درجہ یقین کامل تھا کہ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں اقرار کیا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔
ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں کہ : ”میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا
١٤
ہوں۔“ (انجام آتھم ص ٢٢٣‘ خزائن ص ٢٢٣ ج ١١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) اور اس کے معنی یہی ہیں کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ تو میں مامور من اللہ نہیں ہوں۔
جب یہ کیفیت تھی تو میں پوچھتا ہوں کہ انہوں نے مرزا احمد بیگ اور مرزا علی شیر کو یہ کیوں لکھا تھا کہ :”آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں؟۔“ ایک طالب حق اور جویائے صداقت بجاطور پر مرزا قادیانی سے یہ سوال کر سکتا ہے کہ جناب من جب اس پیشگوئی کے پوری کرنے کا خود خدا تعالیٰ نے آپ سے حتمی وعدہ کرلیا تھا تو آپ نے خدا کو چھوڑ کر انسانوں سے کیوں درخواست کی کہ وہ اس پیشگوئی کو پوری کریں؟۔ آپ نے از خود تو یہ پیشگوئی کی نہ تھی جو آپ کو انسانوں سے درخواست کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی جس نے آپ سے اتنی بڑی پیشگوئی کرائی تھی وہ خود اسے پوری کر دیتا۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ پیشگوئی تو کرائے خدا اور اس کی تکمیل قرار دی جائے آپ کے ذمہ! جب آپ کو ”زوجنکھا“ کا الہام ہو چکا تھا جو ماضی کے صیغہ میں ہے تو پھر آپ کو لوگوں کی منت سماجت کی کیا ضرورت تھی۔
- ب................ انہوں نے لڑکی کے ماموں کو انعام دینے کا وعدہ کیوں کیا؟ بقول
والدہ صاحبہ مرزا بشیر احمد بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی تھیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ وعدہ ہی کیوں کیا؟ کیا خدا کے وعدہ پر اعتماد نہ تھا جو انسانوں کا سہارا ڈھونڈا؟ اس انعام کی رقم میں کچھ اور رقم ڈال کر حج کو جاسکتے تھے یا کسی یتیم لڑکی کا نکاح کر سکتے تھے۔
- ج................ والدہ عزت بی بی کو دھمکیاں دینے کی کیا ضرورت تھی۔
- د................ مرزا احمد بیگ کو زمین کا لالچ دینے کی کیا ضرورت تھی۔
میرے خیال میں اگر مرزا قادیانی کو خدا کے وعدوں پر اعتماد ہوتا تو منت سماجت‘ ترہیب و ترغیب کے بجائے خود دارانہ خاموشی اختیار کرتے بلکہ مخالفین اور مانعین کو یہ لکھتے کہ تم شوق سے مزاحمت کرو۔ میرے خدا نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے ہی ساتھ ہوگا۔
٨٣
.......... فضل احمد کو یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ نہ کرے تو تم اس کی بھانجی عزت بی بی کو جو تمہارے گھر میں ہے طلاق دے دو۔ ورنہ میں تمہیں عاق کر دوں گا۔
میں پوچھتا ہوں کہ اس تمام ہنگامہ آرائی کی کیا ضرورت تھی جبکہ خدا تعالیٰ نے عرش پر نکاح باندھ دیا تھا ؟ ۔ عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف تو مرزا قادیانی مخالفین سے یہ کہتے جاتے ہیں کہ نفس پیشگوئی محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا اور نمبر دو اس کے خاوند کا ڈھائی سال کے عرصہ میں مر جانا یہ تقدیر مبرم ہے جو ٹل نہیں سکتی اور دوسری طرف اس کے پوری کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جو کام انسان اپنی کوشش سے سر انجام دیتا ہے اس کے متعلق غیر کو یہ یقین کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کسی پیشگوئی پر مبنی تھا؟ مثلاً میں آج یہ پیشگوئی کروں کہ زید کل مر جائے گا اور دوسرے دن خود اسے پستول کا نشانہ بنا دوں تو کون سا عقلمند یہ کہنے کے لئے تیار ہو گا کہ واقعی میں مامور من اللہ اور مجدد صدی چہار دہم ہوں۔
پیشگوئی کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کسی ایسی بات سے متعلق ہو جس کا وقوع مدعی کے حیطۂ اقتدار سے باہر ہو۔ مثلاً ختمی مرتبت حضور اکرم ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ : ” رومی مغلوب ہو گئے ہیں لیکن عنقریب وہ ایرانیوں پر غالب آئیں گے ۔ “ اس پیشگوئی پر غور کیجئے :
- ١.......... رومیوں کو ایرانیوں پر غالب کر دینا حضور ﷺ کے اختیار میں نہ تھا
لیکن آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اعلان فرما دیا کہ ایسا ہو گا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے اس واقعہ کی قبل از وقوع اطلاع دے دی اور یہی پیشگوئی کا حقیقی مفہوم ہے۔
- ٢.......... آپ ﷺ نے کسی شخص کو اس مطلب کے خطوط نہیں لکھے کہ اس
پیشگوئی کے پوری ہونے کے لئے میری معاونت کرو۔ پیشگوئی تو :
٨٤
کا مصداق ہو جاتی ہے۔ بقول مرزا قادیانی خدا کی بات کو کون ٹال سکتا ہے؟ مگر خدا کی بات ہو بھی تو‘ اور جو پیشگوئی خدا کی بات ہی نہ ہو وہ کس طرح ظہور میں آسکتی ہے؟۔ اس کا حشر تو وہی ہو گا جو ہمارے مرزا قادیانی کی پیشگوئی کا ہوا۔
حضور ختمی مرتبت سرکار دو عالم ﷺ کے ایک ادنیٰ غلام کی پیشگوئی ملاحظہ ہو تاکہ ناظرین کو پیشگوئی کی حقیقت معلوم ہو سکے۔ سلطان جلال الدین خلجی کو سیدی مولائی حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ علیہ سلطان نظام الدین اولیاءؒ سے کچھ کدورت تھی۔ اس کی تفصیل بھی بیان کر دوں کیونکہ آئندہ کام آئے گی۔
خاصان خدا کی معمولی شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ حکومت دنیاوی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا کرتے کیونکہ اللہ کا یہ فرمان ہر آن ان کے پیش نظر رہتا ہے: ” واخشونی فلا تخشوا ہم۔“ اور اسی لئے سلاطین وقت کی پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ اسی کلیہ کے ماتحت میرے پیشوا اور روحانی مرشد علیہ الرحمۃ کبھی سلاطین کے دربار میں سلام کی غرض سے حاضر نہیں ہوئے۔ یہ لوگ خود بادشاہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ بقول حضرت مسیح ان کی بادشاہت اس دنیا کی نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے سلطان مذکور حضرت صاحب سے کچھ کبیدہ خاطر رہتا تھا۔ جب کسی مہم سے فارغ ہو کر دلی کی طرف واپس آرہا تھا تو اس کے بھتیجے نے شہر سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر اس کے استقبال کا انتظام کیا۔ سلطان مذکور اپنے نشۂ حکومت میں چور تھا حضرت صاحب کی خدمت اقدس میں کہلا بھیجا کہ کل میں دہلی پہنچ کر دربار عام منعقد کروں گا۔ تمام امراء‘ وزراء‘ علماء‘ فضلاء اور وابستگان دولت حاضر ہوں گے۔ آپ بھی حاضر ہوں ورنہ باضابطہ باز پرس کی جائے گی۔ جس وقت قاصد آستانۂ عالیہ پر پہنچا حضرت صاحب مریدان عقیدت کیش کے درمیان تشریف فرما تھے۔ بادشاہ کا پیغام سن کر اک خفیف سا تبسم آپ کے روئے انور پر نمودار ہوا اور حاضرین مجلس کی طرف ایک معنی خیز نگاہ ڈال کر قاصد سے فرمایا! اس سے کہہ دینا کہ :”ہنوز دلی دور است۔“ قاصد جواب باصواب سن کر الٹے پاؤں واپس چلا گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
٨٥
دوسرے دن تمام خلقت بادشاہ کی موت پر سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہوا خواہوں کے یہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ حضرت محبوب الٰہیؒ بدستور وعظ و ہدایت میں مشغول تھے اور حضور کا لنگر خانہ اسی شان سے چل رہا تھا :
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
ناظرین دیکھا آپ نے پیشگوئی اسے کہتے ہیں اور اس طرح پوری ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ خاصان خدا کو ایک واقعہ کا علم قبل از وقوع ہو جاتا ہے۔ اس نہج پر نہیں کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہوتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ انہیں امور غیبیہ پر مطلع فرما دیتا ہے کہ کل ہماری مشیت کے مطابق ایسا ایسا ظہور میں آئے گا۔ وہ عامۃ الناس کو (بحکم خدا) مطلع کر دیتے ہیں نہ خود اپنی پیشگوئی کی تکمیل کے لئے ساعی ہوتے ہیں نہ دوسروں کے سامنے دست نیاز دراز کرتے ہیں کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ہماری امداد کرو۔
ضمنی طور پر یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی مصلحت کے ماتحت اپنے محبوب بندوں کو بعض امور سے قبل از وقوع اس لئے مطلع کر دیتا ہے کہ وہ ان کا مرتبہ بلند کرنا چاہتا ہے۔ انہیں ہمعصروں پر فضیلت دینی چاہتا ہے اور جب وہ کسی کام کو چاہے تو پھر اس کا ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کا آنا بلکہ اس سے بھی زیادہ : ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء!
پیشگوئی کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے اللہ اپنے بندوں کی شان محبوبیت کو دنیا کے بندوں پر ظاہر فرما دیتا ہے۔ اسی لئے پیشگوئیاں عموماً ان امور سے متعلق ہوتی ہیں جو پیشگوئی کرنے والے کے حیطۂ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ جب ہی تو دنیا کے بندے اس کے آستانے پر سر نیاز خم کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پیشگوئی کا صحیح نکلنا نہایت ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کی ایک پیشگوئی بھی غلط نکلے جسے وہ صحیح معنوں میں اس قدر تحکم اور تحدی کے ساتھ پیش کرے جس طرح کہ ہمارے مرزا قادیانی نے محمدی بیگم والی
٨٦
پیشگوئی پیش کی تھی تو اس کے متعلق عقلاء دہر کی رائے یہی ہو گی کہ یہ شخص ملھم من اللہ نہیں ہے پھر اس کا اعتبار ہمیشہ کے لئے اٹھ جائے گا۔ دس میں دو تین باتیں تو نجومیوں اور رمالوں کی بھی صحیح نکل آتی ہیں۔ تو کیا اس بناء پر وہ بھی نبوت کا دعویٰ کر سکتے ہیں یا دنیا انہیں تسلیم کر سکتی ہے؟۔
ان اعتراضات کا جواب مرزا قادیانی نے دیا ہے۔ وہ مجملہ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں :
”یہ کہنا کہ پیشگوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے ساتھ نکاح کے لئے کوشش کی گئی، طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے کہ شدت تعصب کی وجہ سے انسان اندھا ہو جاتا ہے (شدت غرض میں بھی بعینہ یہی حال ہو جاتا ہے) کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہو گا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیشگوئی ظاہر فرما دے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)
ناظرین! مرزا قادیانی کا جواب آپ نے پڑھ لیا اب میں اس پر تنقید کرتا ہوں :
- ١............ پیشگوئی کرنے والے کا اپنی پیشگوئی کو اپنے ہاتھ سے پورا کرنا صرف اس
صورت میں عندالعقل صحیح قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ :
- الف............ اپنے ہاتھ سے پوری کرنے کی بناء پر پیشگوئی کی اہمیت اور حقیقت
مبدل نہ ہو جائے۔ اس کلیہ سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش کردہ تاویل بعض پیشگوئی پر صادق آسکتی ہے کل پر نہیں۔
مثلاً زید نے پیشگوئی کہ بکر کل مر جائے گا اور دوسرے دن زید خود اپنے ہاتھ سے بکر کو قتل کر دے تو پیشگوئی تو پوری ہو گئی مگر ساتھ ہی اس کی حقیقت بھی باطل ہو گئی اور جو مقصد اس سے مد نظر تھا وہ فوت ہو گیا۔ توقیر کی بجائے اس پیشگوئی کرنے والے کی توہین و تذلیل ہو گی۔
٨٧
یا مثلاً زید نے پیشگوئی کی کہ بکر کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور اس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ لڑکی کا والد کسی مقدمہ میں ماخوذ ہو کر اس مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا جو زید کا دوست یا رشتہ دار ہو۔ اب اگر زید بکر سے یہ کہے کہ اگر آپ اپنے ہاتھ سے میری پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تو میں آپ کی سفارش کروں گا اور بکر اپنی ذاتی مصلحت کی وجہ سے زید کی اس شرط کو منظور کر کے اپنی لڑکی اس کے حبالہ نکاح میں دے دے تو اگرچہ بادی النظر میں پیشگوئی پوری ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی پیشگوئی کی حقیقت پر پانی پھر گیا۔ پیشگوئی تو اس لئے کی گئی تھی کہ لوگ پیشگوئی کرنے والے کی جلالت شان اور اس کے خدا رسیدہ ہونے کے معترف ہو جائیں لیکن اس طرح پوری ہونے کے بعد ایک شخص بھی اس بات کا معترف نہ ہو گا بلکہ یہی کہیں گے کہ زید نے ناجائز دباؤ ڈال کر اپنی بات منوالی۔
پس ان مثالوں سے ثابت ہو گیا کہ کسی پیشگوئی کی تکمیل کے لئے مدعی کا کوشش کرنا اس پیشگوئی کی نوعیت پر موقوف ہے۔ اس لئے سب سے پہلے پیشگوئی کی نوعیت کا اندازہ کرنا چاہئے کہ وہ کس قسم کی ہے؟۔ ایک مثال ملاحظہ ہو :
ایک معمولی حیثیت کا شخص زید ساکن لاہور پیشگوئی کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ چند سال کے بعد تم امریکہ جاؤ گے۔ وہاں ایک بڑے فاضل انسان بکر سے تمہارا مناظرہ ہو گا اور تم اس پر غالب آؤ گے اور تمہاری تقریر سے متاثر ہو کر وہ شخص مسلمان ہو جائے گا۔ یہ پیشگوئی اخباروں میں شائع ہو جاتی ہے اور لوگ اس بات سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔
چند سال کے بعد زید امریکہ کسی علمی مجلس سے جس کے کسی رکن سے زید کی شناسائی نہیں دعوت نامہ موصول ہوتا ہے کہ سفر خرچ ارسال خدمت ہے مؤتمر مذاہب عالم شرکت فرمائیے اور اپنے مذہب کی خوبیوں پر لیکچر دیجئے۔
اب اگر زید سامان سفر درست کرتا ہے تو اس پر کوئی الزام نہیں یا اگر وہ لیکچر مرتب کرتا ہے تو کوئی گناہ نہیں یا اگر وہ اس وقت اپنی کسی ایسی بیماری کا علاج کراتا ہے جو اس کے سفر
٨٨
میں حارج ہو یا وہ کسی دوست سے مشورہ لیتا ہے تو کوئی جرم نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ جب تک وہ خود عازم سفر نہ ہو گا امریکہ کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ وہاں پہنچ کر وہ لیکچر دیتا ہے اس کا لیکچر کامیاب ہوتا ہے اور صدر مجلس جو غیر مسلم ہے اس سے تبادلہ خیال کرتا ہے وہ اس مقصد کے لئے تیاری کرتا ہے کوئی برائی کی بات نہیں وہ انتہائی کوشش کے ساتھ اسلام کی حقانیت پر دلائل قاطع اور براہین ساطع پیش کرتا ہے۔ رازیؒ اور غزالیؒ کی تصانیف سے استفادہ کرتا ہے کوئی جرم نہیں۔ اس کے بعد وہ شخص مسلمان ہو جاتا ہے اور زید مراجعت فرمائے وطن مالوف ہوتا ہے۔ واپسی پر سب لوگ اسے مبارک باد دیں گے اور اس پیشگوئی کی صداقت کا اعتراف کریں گے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ تو نے مطالعہ کتب کیوں کیا تھا؟ یا کسی شخص سے امریکہ جانے کا راستہ کیوں دریافت کیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ نفس پیشگوئی جو تین باتوں پر مشتمل ہے۔ نمبر ایک: لیکچر کی کامیابی۔ نمبر دو: میر مجلس کا تبادلہ خیال کرنا۔ نمبر تین: اسلام لے آنا۔ یہ تینوں باتیں اس کے اختیار میں نہ تھیں۔ خدا ہی نے اس کے لیکچر کو سب لیکچروں پر فوقیت بخشی‘ خدا ہی نے میر مجلس کے دل میں تبادلہ خیال کی تحریک پیدا کی اور خدا ہی نے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھولا‘ کسی انسان میں طاقت نہیں کہ دوسرے کے خیالات کو بدل سکے: ”لست علیہم بمصیطر“ اس پر دال ہے۔
اور لیجئے! آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کروں گا۔ اور اگرچہ دشمنوں کے نرغہ میں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے کوئی شخص گزند نہیں پہنچا سکے گا: ”واللہ یعصمک من الناس“ اس پر شاہد ہے۔
چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے یار وفادار‘ صداقت شعار ثانی اثنین اذ ھما فی الغار افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا وامامنا ابوبکر الصدیق ؓ سے اور امام الاشجعین رئیس المتقین مطلوب کل طالب مولانا ومرشدنا علی ابن ابی طالبؓ اور چند دیگر جانثاران ازلی اور عقیدت کیشاں سرمدی سے ایک دن روانگی کا ذکر فرمایا اور انتظام سفر درست فرمایا! اول الذکر
٨٩
کو ساتھ لیا اور آخر الذکر کو گھر میں چھوڑا اور دشمنوں کی موجودگی میں ان کی آنکھ بچا کر مکہ سے باہر تشریف لائے اور غار میں پوشیدہ ہو گئے۔ اس کے بعد وہاں سے نکل کر بخیر و عافیت مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ آپ ﷺ کے انتظامات سفر درست کرنے یا امکانی احتیاط عمل میں لانے کی وجہ سے نفس پیشگوئی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وجہ یہ کہ :
- نمبر ١ : ................ دشمنوں نے اعلان کیا تھا کہ آج رات کے وقت (خاکم بدہن)
محمد ﷺ کو قتل کر دیا جائے اور مقدور بھر انتظام کیا تھا کہ حضور ﷺ شہر سے باہر نہ جاسکیں۔
ان دونوں باتوں کے بالمقابل حضور ﷺ کی پیشگوئی یہ تھی کہ :
- ١ .............. میں ہجرت کروں گا۔
- ٢.............. دشمن مجھے گزند نہ پہنچا سکیں گے۔
سامان سفر درست کرنا تو حضور ﷺ کے ہاتھ میں تھا مگر دشمنوں کے نرغہ میں سے صاف نکل جانا اور بغیر چشم زخم مدینہ منورہ پہنچ جانا یہ دونوں باتیں حضور ﷺ کے اختیار میں نہ تھیں۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ دشمن اپنی سکیم میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن بقولے : ”دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تر است“ جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ دشمن کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیابی تو اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے مقدر ہو چکی تھی۔
الغرض مذکورہ بالا مثالوں سے ثابت ہو گیا کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی اس قبیل سے نہ تھی کہ اس کے لئے مرزا قادیانی کی ذاتی کوشش جائز قرار دی جاسکے۔ لیکن ہم ان کی خاطر تھوڑی دیر کے لئے اس سے قطع نظر کرتے ہیں اور اب ان کے جواب کے دوسرے پہلو پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ :
”اگر ممکن ہو کہ انسان بغیر فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٩١ خزائن ص ١٩٨ ج ٢٢)
٩٠
چلئے یہ بھی سہی۔ مرزا قادیانی نے ذاتی کوشش کے لئے دو شرطیں قرار دی ہیں۔ ١....... فتنہ برپا نہ ہو۔ ٢....... طریق کوشش ناجائز نہ ہو۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا طرز عمل بعض صورتوں میں ناجائز بھی تھا اور اس کی بناء پر فتنہ بھی برپا ہوا جس کی تفصیل یہ ہے :
اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کسی کو لالچ دینا یا دھمکی دینا۔ حصول مقصد کا ناجائز طریق ہے اور مرزا قادیانی ان دونوں باتوں کے مرتکب ہوئے۔
- ١........... انہوں نے مرزا احمد بیگ کو لکھا : ”اگر تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح
کر دو تو میں تمہیں زمین بھی دوں گا اور دیگر مزید احسانات بھی کروں گا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢‘ خزائن ص ٥٧٢ ج ٥)
دیکھ لیجئے صاف لفظوں میں لالچ دیا جارہا ہے۔
- ٢........... مرزا قادیانی نے علی شیر بیگ کو لکھا : ”اگر میرے لئے احمد بیگ سے
مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔“
(خط مرزا قادیانی ٢ مئی ١٨٩١ء‘ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٦)
دیکھ لیجئے صاف لفظوں میں لالچ دیا جارہا ہے۔
متقی آدمی یا جو اخلاقی زاویہ نگاہ سے نیک آدمی ہو اس کا فرض ہے کہ اگر وہ کوئی نیک کام کر سکتا ہے‘ کسی کے ساتھ سلوک کر سکتا ہے‘ کسی مظلوم کی حمایت کر سکتا ہے‘ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تو بندوں سے مزدوری حاصل کئے بغیر ایسا کرے۔ خالصتاً لوجہ اللہ ایسا کرے تاکہ خدا سے اجر پائے۔
اگر فضل احمد مرزا قادیانی کے قبضہ میں تھا تو ان کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ اس کو درست کر کے ایک معصوم بے گناہ بلکہ مظلوم عورت کی زندگی کو بہتر بناتے خواہ علی شیر بیگ مرزا احمد بیگ کا ارادہ بند کراتا یا نہ۔ اخلاقی فرائض کو ذریعہ تجارت بنانا‘ متقی انسان کی شان سے
٩١
بعید ہے بہت بعید ہے۔ یہ باتیں تو جہلاء کو زیب دیتی ہیں مؤمن یا متقی یا مجدد کی شان ایسی رکیک باتوں سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہونی چاہئے۔
- ٣............ والدۂ عزت بی بی کو لکھا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ ورنہ میں نے اپنے بیٹے
فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ جس دن محمدی بیگم کا نکاح ہو اسی دن عزت بی بی (بے گناہ) کو تین طلاقیں یک دم دے دے۔ کیا یہ دھمکی نہیں اور کیا کسی کو ڈرانا دھمکانا حصول مقصد کا ناجائز طریق نہیں ؟۔
- ٤............ فضل احمد کو خط لکھا کہ اگر تم اپنی زوجہ عزت بی بی کو میری خاطر سے
طلاق نہ دو گے تو میں تمہیں عاق کر دوں گا کیا یہ دھمکی نہیں۔
- ٥............ مرزا احمد بیگ کو لکھا کہ عاجزی اور ادب سے ملتمس ہوں کہ اس رشتہ
سے انحراف نہ فرمائیں۔ کیا یہ خوشامد نہیں ہے ؟ اسی خط میں ہے کہ یہ عاجز آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ کیا یہ دریوزہ گری نہیں ہے ؟
محمدی بیگم کے ماموں سے انعام کا وعدہ کیا۔ کیا یہ حصول مقصد کا ناجائز طریق نہیں ہے ؟۔
اب دوسرا پہلو لیجئے :
- ا............ مرزا قادیانی نے ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو اشتہار شائع کیا :
”اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک اور والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور اس کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امور پیش آئیں گے۔“
غور کیجئے کیا یہ اعلان فتنہ کا موجب نہیں ہوا ہو گا۔ کیا اس اعلان کو پڑھ کر مرزا احمد بیگ اس کی زوجہ‘ اس کی معصوم لڑکی‘ اس کے متعلقین کے دلوں میں غم اور غصہ کے جذبات
٩٢
پیدا نہیں ہوں گے۔ کیا مرزا احمد بیگ کے دل میں اپنی معصوم بیٹی کے متعلق اس قسم کی باتیں پڑھ کر مرزا قادیانی کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔ (جو لوگ اس حقیقت کا انکار کریں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کہ اگر کوئی شخص ان کی جوان بیٹی کے متعلق اس قسم کا اعلان شائع کرے تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟۔) کیا اس اعلان کو پڑھ کر لڑکی اور اس کے والد کے دل میں تشویش پیدا نہیں ہوگی؟ کیا کوئی شخص اپنے متعلق ایسی منحوس خبر سن کر مسرور ہو سکتا ہے؟ کیا لڑکی کے دل پر غم کی گھٹا نہیں چھاگئی ہوگی؟ کیا اسے اپنا مستقبل تاریک نظر نہیں آنے لگا ہوگا کہ دیکھئے شادی کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کیا سلطان محمد کے دل میں مرزا قادیانی کی طرف سے نفرت اور دشمنی پیدا نہیں ہوئی ہوگی؟ کیا اس قسم کی اندازی پیشگوئی سے ان لوگوں کا سکون خاطر تباہ نہیں ہوا ہوگا؟ اگر یہ اعلان موجب فتنہ نہیں تو پھر نامعلوم فتنہ پردازی اور کسے کہتے ہیں؟۔
میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ناظرین اوراق سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ذرا تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو مرزا احمد بیگ کی جگہ تصور کر کے پھر میرے مذکورہ بالا سوالات پر غور کریں۔ اندریں حالات اگر بقول مرزا قادیانی ”ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ اس کو ذلیل و خوار کیا جائے“ تو کون سا گناہ کیا؟۔
اس قسم کی اندازی پیشگوئیاں یقیناً بڑے فتنہ کا موجب ہوتی ہیں۔ چنانچہ اسی فتنہ کی وجہ سے مرزا قادیانی کے مخالفین نے ان کے خلاف عدالت میں چارہ جوئی کی اور مرزا قادیانی کا سر عدالت نہایت عاجزی کے ساتھ معافی طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ فتنہ برپا ہوا اور عدالت نے فتنہ ہی کو فرو کرنے کے لئے مرزا قادیانی کو معافی نامہ داخل کرنے کا حکم دیا:
ذیل میں حضرت مسیح موعود و مہدی موعود امام الزماں جری اللہ فی حلل الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار نامہ درج کیا جاتا ہے:
٩٣
”اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مرجوعہ ٥ جنوری ١٨٩٩ء فیصلہ ٢٥ فروری ١٨٩٩ء سرکار دولتمدار بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ملزم الزام زیر دفعہ ١٠٧ مجموعہ ضابطہ فوجداری :
اقرار نامہ
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ :
- ١............... میں ایسی پیشگوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا
ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی وہ مسلمان ہو یا ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہو گا۔ (ناظرین اس موقعہ پر وہ الفاظ پڑھیں جو مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ، مرزا سلطان محمد اور محترمہ محمدی بیگم کے متعلق تحریر فرمائے تھے)
- ٢.............. میں خدا کی جناب میں ایسی درخواست کرنے سے بھی اجتناب کروں گا
کہ وہ کسی شخص کو ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟۔
- ٣............... میں کسی ایسی چیز کو الہام بنا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا کہ جس
کا منشاء یہ ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مثلاً مرزا احمد بیگ یا مرزا سلطان محمد یا محترمہ محمدی بیگم منجانب راقم مضمون) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہو گا۔
- ٤............... جہاں تک میرے احاطۂ طاقت میں ہے میں ان تمام اشخاص کو جو
میرے زیر اثر ہیں یہ ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں جس پر کاربند ہونے کا میں نے مذکورہ دفعات میں اقرار کیا ہے“ :
العبد
٩٤
مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود گواہ شد خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی دستخط جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ٢٤ فروری ١٨٩٩ء (قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ص ٥٣٩ ایڈیشن اگست ١٩٩٥ء)
ناظرین اس وقت اس بات پر حیرت نہ کریں کہ مامور من اللہ‘ قمر الانبیاء‘ خاتم الاولیاء‘ مجدد زماں‘ مسیح دوراں‘ ملہم ربانی‘ فرستادہ آسمانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام لن ترانیاں اور انذاری پیشگوئیاں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوتی تھیں دنیاوی حکومت کی ادنیٰ سی گرفت پر ”ہباء منثوراً “ہوگئیں کیونکہ اس پہلو پر آئندہ بحث ہوگی اس وقت صرف یہ دیکھیں کہ میں نے اپنا دعویٰ خود مرزا قادیانی کے قول سے ثابت کردیا یا نہیں؟۔ اگر ان کی انذاری پیشگوئیاں موجب فتنہ و فساد نہ تھیں تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں یہ عذر کیوں نہ پیش کیا کہ میری پیشگوئیوں سے جب کوئی فتنہ ہی برپا نہیں ہوتا اور نہ برپا ہونے کا احتمال ہے تو میں اقرار نامہ کیوں داخل کروں۔
عدالت کا اقرار نامہ لکھانا اور پھر ان تصریحات کے ساتھ لکھانا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ عدالت کی نظر میں یہ باور کرنے کے لئے کافی وجوہ ہوں گی کہ مرزا قادیانی کا اس قسم کی پیشگوئی شائع کرنا موجب فتنہ و فساد و باعث نقص امن عامہ ہو سکتا ہے یا ہو گا اور جناب مرزا قادیانی کا اس طرح اقرار نامہ لکھ دینا بھی اسی حقیقت پر دال ہے کہ انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر اس امر کا احساس کر لیا ہوگا کہ عافیت اسی میں ہے کہ اقرار نامہ لکھ دیا جائے۔ مبادا فتنہ برپا ہو جائے یہ اقرار نامہ ایک قابل وکیل اور جانثار مرید کے مشورہ سے لکھا گیا تھا اور غالباً اس کا مسودہ بھی اسی نے لکھا ہو گا۔ اس کی نظر میں بھی اس قسم کی انذاری پیشگوئیوں سے فتنہ برپا ہونے کا احتمال ہوگا۔
اچھا اب آگے چلئے :
- ٢............ محترمہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد کے ساتھ نکاح ہو گیا۔ اس پر مرزا
٩٥
قادیانی نے لکھا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہو گیا اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔ یہ تقدیر (مرزا سلطان محمد کی موت‘ محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آنے والا ہے۔
کیا اس اعلان کو پڑھ کر مرزا سلطان محمد اور محمدی بیگم دونوں کی اہلی زندگی تلخ نہیں ہو گئی ہو گی؟ کیا ان دونوں کا سکون واطمینان خاطر تباہ نہیں ہو گیا ہو گا؟ کیا انہوں نے اپنے دل میں یہ نہیں کہا ہو گا کہ الٰہی یہ فرشتہ عذاب کہاں سے ہم پر مسلط ہو گیا؟ کیا والدہ عزت بی بی کے یہ الفاظ جو مرزا قادیانی نے اپنے اس خط میں نقل کئے ہیں جو انہوں نے مرزا علی شیر بیگ کو لکھا تھا کہ ہم نہیں جانتے یہ شخص کیا بلا ہے؟ یہ شخص مرتا بھی تو نہیں ان کے دلی جذبات کے آئینہ دار نہیں ہیں۔ میں ان لوگوں کے ضبط و تحمل کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے بلا جرم و قصور اپنی نسبت ایسے الفاظ سنے اور چپ رہے۔ کونسی ناملائم بات تھی جو مرزا قادیانی نے ان کے حق میں روانہ رکھی؟۔
القصہ کیا یہ اعلان موجب فتنہ نہیں ہوا ہو گا؟۔
- ٣......... مرزا احمد بیگ نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کر دیا لیکن
عزت بی بی کو بلا قصور طلاق مل گئی کیا یہ فعل موجب فتنہ و فساد و خانہ بربادی نہیں؟۔ ایک بے گناہ عورت بلا قصور مطلقہ ہو گئی محض اس لئے کہ مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کی تکمیل کے لئے جائز اور مسنون طریق پر کوشش فرمارہے تھے کیا یہ کوشش فتنہ کا موجب نہیں ہوئی۔ ایک عورت کا سہاگ لٹ گیا۔ مطلقہ ہو گئی۔ ساری زندگی تباہ ہو گئی۔ اس سے بڑھ کر اور فتنہ کیا ہو گا؟۔
سبحان اللہ! کیا جائز کوشش ہے؟ کیا کسی نبی‘ ولی‘ مجدد یا مسیح نے اپنی پیشگوئی کے پوری کرنے کے لئے اس انداز کی کوشش کی جس کے نتائج اس قدر المناک اور دور رس ہوئے ہوں؟۔
٩٦
محمدی بیگم کے اعزاء سے دشمنی ہوئی۔ خاندان کے کئی افراد سے قطع تعلق ہوا۔ بڑے بیٹے کو عاق کیا۔ چھوٹے بیٹے کی بیوی کو طلاق نصیب ہوئی۔ پہلی بیوی کو طلاق ملی۔ خاندان میں تفرقہ پڑا۔ برسوں ہنگامہ برپا رہا۔ اشتہار بازی ہوئی۔ اس پر قوم کا روپیہ صرف ہوا۔ طرفین پر حالت بیم ورجاء طاری رہی۔ جگ ہنسائی ہوئی۔ اسلام کی رسوائی ہوئی۔ اپنوں کو بد دعائیں دیں۔ بدلے میں بد دعائیں لیں۔ عدالتوں میں بیانات ہوئے۔ آمدورفت میں روپیہ خرچ ہوا۔ مسلمانوں کو بے نقط سنائیں۔ انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملا۔ لوگوں کو بیچ میں ڈالا۔ انعام واکرام کے وعدے کئے۔ اغیار کے سامنے دست سوال دراز کیا۔ ان سب باتوں کے باوجود ہوا وہی جو مشیت الٰہی میں طے ہو چکا تھا۔ یعنی لڑکی کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہو گیا اور مرزا قادیانی کی نفس پیشگوئی کے پوری ہونے کا ابھی تک وقت نہیں آیا۔
٤...........مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کی نسبت لکھا کہ : ”بھلا جس دن یہ سب باتیں (یعنی مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کی موت‘ محمدی بیگم کا بیوہ ہونا اور پھر مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟۔ ان بیوقوفوں کو کہیں بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی کے ساتھ ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
ناظرین...........اس امر پر حیرت نہ کریں کہ مجدد وقت‘ مصلح امت‘ امام زماں‘ مسیح دوران اور یہ اخلاق؟۔ اس پر مفصل بحث آئندہ ہوگی۔ اس وقت صرف یہ دیکھیں کہ یہ الفاظ موجب فتنہ و فساد ہیں یا نہیں؟۔ اس بحث میں نہ پڑیئے کہ ایک معلم اور مربی‘ مصلح اور مجدد کے قلم سے یہ سوقیانہ الفاظ کس طرح سرزد ہوئے؟۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ طرز نگارش موجب فتنہ و فساد ہے یا نہیں؟۔
الغرض میں نے بدلائل و شواہد نیرہ یہ بات ثابت کر دی کہ مرزا قادیانی نے خود
٩٧
کوشش کر کے پیشگوئی کی حقیقت کو باطل کر دیا اور کوشش بھی اس انداز سے کی جسے ہرگز مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا اور میر اصولی اعتراض ”بحمداللہ علی حالہ“ قائم ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے فی الحقیقت مرزا قادیانی سے وعدہ کر لیا تھا کہ محمدی بیگم تمہارے نکاح میں آئے گی تو پھر انہوں نے خدا کو چھوڑ کر بندوں کے سامنے دست سوال کیوں دراز کیا؟ ۔ یہ بات شان اتقاء سے بہت بعید ہے۔ متقی آدمی خدا پر کامل ایمان رکھتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب خدا تعالیٰ نے بار بار مرزا قادیانی کو مطلع کیا کہ یہ پیشگوئی ضرور پوری ہوگی تو پھر انہیں اس کی کیا ضرورت لاحق ہوئی کہ انہوں نے اس کے پوری ہونے کے لئے زمین و آسمان ایک کر دیا؟۔
خود کوشش کرنا دھمکیاں دینا لالچ دینا انعام کے وعدے کرنا منت سماجت کرنا دوسروں کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا یہ سب باتیں اتقاء کے خلاف ہیں۔ ایک متقی انسان ان کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس افسوسناک داستان کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے سلسلہ میں ایک بے گناہ عورت قربانی کا بکرا بن کر ہمیشہ کے لئے وقف آلام ہو گئی اور یہ وہ بات ہے جس نے مجھے ہمیشہ بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے کسی زمانہ میں مرزا قادیانی سے عقیدت تھی اور میں ان کو غریب طبع نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھتا تھا لیکن جب سے اس واقعہ کے نتائج مجھ پر منکشف ہوئے میری عقیدت باطل جاتی رہی اور میری رائے ان کے متعلق بالکل بدل گئی۔
عزت بی بی فضل احمد پسر مرزا قادیانی کی بیوی تھی اور مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم کی بھانجی تھی اور غالباً یہی اس کا سب سے بڑا قصور تھا جس کی پاداش میں وہ یوں راندۂ درگاہ ہوئی۔ مرزا علی شیر بیگ مرزا احمد بیگ کے بہنوئی تھے جب آخر الذکر پر مرزا قادیانی کا کچھ بس نہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ اب کیا کرنا چاہئے :
٩٨
آخر بفحوائے جویندہ یابندہ ان کی سمجھ میں یہ تدبیر آئی۔ مرزا احمد بیگ کی بہن مرزا علی شیر بیگ کی بیوی ہے اور ان کی بیٹی عزت بی بی میرے بیٹے کی بیوی ہے۔ لہٰذا ایک طرف ان دونوں پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ اگر تم دونوں اپنے ذاتی اثر اور رسوخ کو کام میں لاکر مرزا احمد بیگ سے میری پیشگوئی پوری نہ کرادو گے تو میں اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری بیٹی کو طلاق دلوا دوں گا۔ یقیناً انہیں اپنی بیٹی کی خانہ بربادی کسی طرح منظور نہ ہوگی۔ اس لئے وہ انتہائی کوشش کریں گے کہ مرزا احمد بیگ راضی ہو جائے۔ دوسری طرف فضل احمد کو لکھنا چاہئے کہ اگر محمدی بیگم کا باپ اپنی لڑکی کی شادی دوسری جگہ کردے تو تم عزت بی بی ...... بے گناہ عزت بی بی ..... کو طلاق دے دو۔ یقیناً میری بہو کو اس بات کی اطلاع ہو جائے گی اور یقیناً وہ اپنے والدین کو لکھے گی کہ خدا کے لئے مرزا احمد بیگ کو راضی کرو (یا بقول مرزا قادیانی سمجھاؤ) ورنہ کلنک کا ٹیکہ ہمیشہ کے لئے میرے ماتھے پر لگ جائے گا (ہندوستان اور خصوصاً پنجاب میں زن مطلقہ کی جو حیثیت ہوتی ہے اس سے ناظرین یقیناً آگاہ ہوں گے) چنانچہ مرزا قادیانی نے اس زریں اور جائز بلکہ مسنون طریق پر عمل درآمد کیا (؟)۔ ترکیب تو واقعی سولہ آنے صحیح تھی مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ناکامی نصیب میں لکھی ہوئی تھی :
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندر را
ناظرین ! یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ محض قیاس نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔ مرزا قادیانی کے خطوط سے نقل کر چکا ہوں۔ انہیں پڑھ لیجئے۔ آپ بھی اسی نتیجہ پر پہنچیں گے۔
لیکن عزت بی بی کے والدین نے مرزا قادیانی کا کہنا نہ مانا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی نے اپنی ناکامی کے احساس کو کم کرنے کے لئے اور جواباً مرزا احمد بیگ، اس کی ہمشیرہ اور مرزا علی شیر بیگ کو رنج پہنچانے کے لئے اپنے بیٹے فضل احمد کے ہاتھ میں طلاق کی چھری دے کر غریب اور معصوم بے گناہ اور مظلوم عزت بی بی کو ذبح کرا دیا۔
میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے کس جرم کی پاداش میں عزت بی بی
٩٩
کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا۔ اگر مرزا احمد بیگ نے مرزا قادیانی کا کہنا نہیں مانا تو اس بے چاری کا اس میں کیا قصور تھا؟ یا تو اس کا کوئی قصور ثابت کیا جائے ورنہ لامحالہ یہی کہنا پڑے گا کہ ایک بے گناہ عورت کی زندگی برباد کر کے مرزا قادیانی نے اپنا دل ٹھنڈا کیا۔ اپنے جلے ہوئے پھپھولے پھوڑے۔
جو خود ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا
سچ ہے کہ نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد کہنا تو نہ مانا مرزا احمد بیگ نے اور طلاق ملی عزت بی بی کو۔ سبحان اللہ ! کیا شان اتقاء ہے۔
عزت بی بی کو طلاق مل گئی۔ بہت خوب۔ دنیا گذشتی و گزاشتی ہے طلاق پانے والی بھی مر گئی اور طلاق دلوانے والے بھی مر گئے مگر بات باقی رہ گئی اور جب تک سلسلہ عالیہ قادیانیہ باقی ہے یہ بات بھی باقی رہے گی اور لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں گے۔
اب ہم ذیل میں اس واقعہ سے جو نتائج مستنبط ہوتے ہیں ان کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں :
- ١........... مرزا قادیانی نے اس بے گناہ کو طلاق دلوا کر قرآن مجید کی اس آیت کی
مخالفت کی : ” ولا تزر وازرة وزر اخرى “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اب اگر مرزا قادیانی کا اس آیت پر ایمان ہوتا تو وہ سوچتے کہ احمد بیگ کی سرکشی کی سزا معصوم عزت بی بی کو کیونکر مل سکتی ہے ؟۔ واہ کیا انصاف ہے۔ قصور کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ یہ مانا کہ وہ بے چاری آفت کی ماری مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی لیکن سرکاری عدالتوں میں بھی زید کے جرم کی سزا بکر کو نہیں ملتی۔
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی مسیحی حضرات پر تو یہ اعتراض وارد کرتے ہیں کہ یسوع صاحب جو بے گناہ تھے دوسرے گنہگار انسانوں کے بدلے کس طرح مصلوب ہو گئے ؟۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ عیسائیوں کا خدا بھی عجیب ہے کہ گنہگاروں کے
١٠٠
بدلے ایک بے گناہ کو سولی پر لٹکا دیا۔ لیکن اپنے طرز عمل پر غور نہیں فرماتے اگر مسیحی حضرات مرزا قادیانی سے یہ سوال کریں کہ جناب یہ کون سا انصاف ہے کہ قصور کرے ماموں سزا ملے بھانجی کو؟۔ آپ کے دل میں اگر ذرہ بھر بھی خوف خدا ہوتا جسے اصطلاح میں اتقاء کہتے ہیں تو آپ ہرگز اس بے گناہ عورت کو قربانی کا بکرا نہ بناتے۔
- ٢........... یقیناً مرزا قادیانی نے اپنا غصہ اس بے گناہ عورت پر اتارا۔ لیکن قرآن
مجید میں مومنوں کی شناخت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور قصور واروں کو معاف کر دیتے ہیں: ”والکا ظمین الغیظ والعافین عن الناس ٠“ چنانچہ جس وقت امام حسنؓ کے غلام کے ہاتھ سے چینی کی قاب گر کر ٹوٹ گئی تو امام موصوف کے چہرہ پر بمقتضائے بشریت غصہ کے آثار نمودار ہوئے۔ غلام نے جب یہ حالت دیکھی تو فوراً یہ آیت پڑھی۔ امام موصوف کا غصہ فوراً فرو ہو گیا اور جب اس نے کہا : ” واللہ یحب المحسنین ٠“ تو آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا کیونکہ تو نے مجھے ارشاد خداوندی کی تعمیل کا موقع دیا۔
اول تو عزت بی بی سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوا تھا لیکن اگر بفرض محال اس سے کوئی قصور بھی سرزد ہوا ہو تو مرزا قادیانی کو اس آیت کے ماتحت اس پر احسان کرنا چاہئے تھا۔ ایک متقی یا مجدد کو عام انسانوں کے مقابلہ میں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھانا چاہئے۔ دوستوں کے ساتھ تو سبھی احسان کرتے ہیں لطف تو جب ہے کہ انسان دشمنوں کے ساتھ احسان کرے۔
- ٣........... اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عزت بی بی کے دل پر اس سانحہ کا کیا اثر ہوا
ہوگا۔ یقیناً اس نے اپنے دل میں کہا ہوگا کہ اگر ماموں صاحب نے میرا کہنا نہ مانا تو اے خدا اس میں میرا قصور کیا ہے؟۔ مجھے کس قصور کی پاداش میں یہ روز بد دیکھنا پڑا؟۔ نفسیات کے ماہرین سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ایسے موقعوں پر انسان کا ایمان متزلزل ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ پس اگر اندریں حالات خدا تعالیٰ کی صفت رحم و کرم کے متعلق عزت بی بی کے دل میں شکوک پیدا ہو گئے ہوں اور اس کے ایمان میں ضعف آگیا ہو (اور ایسا ہونا بعید از قیاس
نہیں ) تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ۔ عزت بی بی مرزا قادیانی کے دعویٰ مجددیت سے ناواقف نہ ہوگی۔ پس لازمی طور سے اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہو گا کہ کیا مجدد ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ یقیناً اس نے اپنے دل میں یہ کہا ہو گا کہ اگر مرزا قادیانی مجدد ہوتے تو فضل احمد کو ہر طرح سے درست کر کے میری آبادی کی کوشش کرتے۔ جو لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں وہ تو مظلوموں کی ڈھارس بندھاتے ہیں۔ ان کی دستگیری کرتے ہیں بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک روا رکھتے ہیں۔ یہ کیسا مجدد ہے کہ بے گناہ انسانوں کو تختہ مشق بنادیا ؟۔
عزت بی بی نے زبان حال سے یہ بھی کہا ہو گا کہ الٰہی تو نے اچھی پیشگوئی کرائی جس کے ظہور پذیر ہونے کے لئے میرے خاوند کے باپ نے دنیا بھر کے جتن کئے مگر وہ پوری نہ ہوئی۔ احمد بیگ ، محمدی بیگم ، سلطان محمد کسی کا کچھ نہیں بگڑا میں مفت میں برباد ہو گئی۔
کیا اس قسم کے خیالات اس عورت کے دل میں نہ آئے ہوں گے ؟۔ کیا ان خیالات سے اس کے ایمان میں ضعف پیدا نہ ہوا ہو گا ؟۔ اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس کا وبال کس کی گردن پر ہے ؟۔
الحاصل اس پیشگوئی سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں ان کو اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں :
- ١........... یہ عظیم الشان پیشگوئی جو ” زوجنکھا “ کے مطابق آسمان پر پوری
ہو چکی تھی قدرت کردگار سے زمین پر پوری نہ ہوئی۔
- ٢........... اس کی وجہ سے کئی بے گناہ انسانوں محمدی بیگم ، سلطان محمد اور احمد بیگ
کی دل آزاری ہوئی۔
- ٣........... عزت بی بی کی زندگی تباہ ہوئی۔
- ٤........... خاندان میں تفرقہ اور دشمنی کا بیج بویا گیا۔
- ٥........... پیشگوئی کرنے والے کی ذلت اور رسوائی ہوئی۔
- ٦........... دشمنان اسلام کو شادمانی کا موقع ملا۔
١٠٢
- ٧......... پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد شکستہ خاطر ہوئے۔
- ٨......... بہت سا روپیہ اشتہار بازی پر ضائع ہوا۔
- ٩......... برسوں ہنگامہ برپا رہا۔
- ١٠......... مرزا قادیانی کا دعوٰی مجددیت باطل ہو گیا۔
کیونکہ مرزا قادیانی نے خود اس پیشگوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دکھایا :
دستش محافظ است زہر باد صرصرم
معیار چہارم : اخلاق حسنہ
ایک مجدد کے لئے اشد ضروری ہے کہ وہ صاحب اخلاق حسنہ ہو اور سردار دو جہاں‘ صاحب خلق عظیم ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا ہو تا کہ لوگ اس کے علو مرتبت کے معترف ہوں اور اس کی طرف مائل ہوں اور ظاہر ہے کہ جب تک مجدد کی طرف لوگوں کا میلان نہیں ہو گا وہ ان کی اصلاح نہیں کر سکتا اور اصلاح حال اس کا فرض منصبی ہوتا ہے۔ اس لئے حسن اخلاق سے مزین ہونا اس کے لئے از بس ضروری ہے۔
چونکہ لاہوری جماعت کے عقیدہ کی رو سے مرزا قادیانی مجدد ہیں اس لئے ان کے اخلاق و عادات پر تنقیدی نگاہ ڈالنا ایک جویائے صداقت کا اولین فرض ہے۔
مرزا قادیانی کے پیروؤں کا یہ خیال ہے کہ جس بلند پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال سوائے آپ کے مقتدیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔
(ذکر حبیب از مصباح الدین احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم ٢١ مئی ١٩٣٤ء)
لیکن مرزا کی تصانیف کچھ اور ہی کہتی ہیں۔ ذیل میں چند اقتباسات پیش کرتا ہوں اور
١٠٣
فیصلہ ناظرین پر چھوڑتا ہوں۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ان کی شبیہ اصلی رنگ میں نظر آئے گی۔
- ١............. ”تلک الکتب ینظر الیها کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ
وینتفع من معارفها یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم الله علی قلوبهم فهم لا یقبلون . “
یعنی ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مجھے قبول کرتے ہیں اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں وہ مجھے نہیں مانتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧‘ خزائن ص ٥٤٧‘ ٥٤٨ ج ٥)
- ٢............. مرزا قادیانی اپنے ایک مخالف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو عربی
میں گالی دے کر خود ہی اس کا ترجمہ فرماتے ہیں تاکہ کسی کو مفہوم معین کرنے میں دقت نہ ہو۔ ملاحظہ فرمائیے :
” رقصت کرقص بغیۃ فی المجالس . “ تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔
(حجۃ اللہ ص ٨٧‘ خزائن ص ٢٣٥ ج ١٢)
- ٣............. ” ویتزوجون البغایا در نکاح خود می آرند زنان
بازاری را“
(لجۃ النور ص ٩٢‘ خزائن ص ٤٢٨ ج ١٦)
- ٤............. ”فلا شك ان البغایا قد خربن بلد اننا . “ہیچ شك
نیست کہ زنان فاحشہ ملک ما را خراب کردند۔
(لجۃ النور ص ٩٣‘ خزائن ص ٤٢٩ ج ١٦)
- ٥............. ” ان البغایا حزب نجس فی الحقیقۃ زنان فاحشہ
درحقیقت پلید اند“
(لجۃ النور ص ٩٥‘ خزائن ص ٤٣١ ج ١٦)
- ٦............. ” ان نساء دار ان کن بغایا فیکون رجالها دیوثین
دجالین . “ اگر در خانہ زنان آں خانہ فاسقہ باشند پس مرداں آں خانہ دیوث ودجال می باشد.
(لجۃ النور ص ٩٦‘ خزائن ص ٤٣٢ ج ١٦)
١٠٤
- ٧.......... ”اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے بر خلاف شرارت اور عناد کی راہ
سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی.......... اور ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے.......... حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور ناانصافی کی راہوں سے پیار کرتا ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠ خزائن ص ٣١ ج ٩)
- ٨.......... ”بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق
مخالف جیتے ہی رہیں گے ؟۔ کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ؟۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ص ٣٣٧ ج ١١)
- ٩.......... ”یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ص ٣٠٩ ج ١١)
- ١٠.......... ”ہمارے دشمن جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر
ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠ خزائن ص ٥٣ ج ١٤)
ممکن ہے بعض حضرات ان گالیوں کی حمایت میں یہ عذر پیش کریں کہ مرزا قادیانی نے یہ مغلظات اپنے مخالفین کو سنائی ہیں۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ دوستوں کو تو چور اور بٹ مار بھی محبت کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ مزہ تو جب ہے کہ انسان دشمنوں کے ساتھ بھی تہذیب اور متانت سے گفتگو کرے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود ارشاد فرماتے ہیں :
”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیشِ نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابلِ شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی
١٠٥
متحمل نہ ہو سکے جو امام زماں ہو کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہو جاتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔“
(ضرورت الامام ص ٨ خزائن ص ٤٧٨ ج ١٣)
”تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ بد زبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی بد تر چھری نہیں ہے۔“
(خاتمہ چشمہ معرفت ص ١٥‘ خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦‘ ٣٨٧)
میں سمجھتا ہوں کہ لاہوری مرزائی‘ مرزا قادیانی کی شہادت کو رد نہیں کر سکتے۔ پس جب وہ خود فرماتے ہیں کہ جو شخص غصہ کی حالت میں نفس پر قابو نہ رکھ سکے وہ امام الزماں نہیں ہو سکتا تو میں کس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد تسلیم کر لوں جنہوں نے اپنے مخالفین کو اعلانیہ طور پر گالیاں دی ہیں؟۔
ناظرین سے التماس ہے کہ وہ خود ان گالیوں کو پڑھ کر فیصلہ کر لیں کہ جس شخص کے قلم سے ایسی نازیبا باتیں سر زد ہو سکیں وہ کس قسم کے اخلاق کا مالک تھا؟۔
جب مرزا قادیانی کی خود اپنی حالت یہ تھی کہ اپنے مخالفین کو ذریۃ البغایا‘ ولد الحرام اور جنگلی سور کے القاب سے یاد کرتے تھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ عام مسلمانوں کی کیا اخلاقی اور روحانی اصلاح کر سکے ہوں گے؟۔
مرزا قادیانی سے پیشتر بھی اس امت میں مجددین گزرے ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ آپ ان کا مطالعہ کر جائیے کسی جگہ اس قسم کی فحش بیانی اور بد زبانی نظر نہیں آئے گی۔ امام رازیؒ‘ امام غزالیؒ‘ امام ابن تیمیہؒ‘ مجدد الف ثانیؒ‘ شاہ ولی اللہؒ‘ سید احمد صاحبؒ‘ مولانا محمد قاسم صاحبؒ کسی نے اپنے مخالفین کو کنجریوں کی اولاد یا جنگلی سور اور ان کی عورتوں کو کتیاں نہیں قرار دیا۔ یہ شرف صرف چودھویں صدی کے مجدد کے لئے مقدر تھا اور بلاشبہ اس صفت میں کوئی شخص ان کا شریک نہیں ہے۔
١٠٦
معیار پنجم : اعلائے کلمۃ الحق
پانچویں شرط جس کا پایا جانا ضروری ہے۔ اعلائے کلمۃ الحق ہے۔ مجدد میں اس قدر اخلاقی جرات ہونی چاہئیے کہ جس بات کو وہ حق سمجھتا ہو یا جو بات ظاہر کرنی ضروری ہو یا جس امر کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہو۔ اس کے اعلان، اظہار اور اشتہار میں وہ کسی طاقت سے خوف نہ کھائے۔ اگر وہ اس صفت سے عاری ہے تو نہ نیابت رسول اللہ ﷺ کا حق ادا کر سکتا ہے نہ امت کی اصلاح کر سکتا ہے۔ تمام اولیاء، صلحاء، آئمہ ہدیٰ اور بزرگان دین اس صفت سے متصف تھے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام شافعیؒ، مجدد الف ثانیؒ، سید احمد صاحب رائے بریلویؒ ان خاصان خدا کے سوانح حیات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اعلائے کلمۃ الحق میں انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ حتیٰ کہ حکومت کی دھمکیاں اور سختیاں بھی ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ پیدا کر سکیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے کوڑے کھائے، مار کھائی، ذلت و رسوائی برداشت کی مگر جس بات کو وہ حق سمجھتے تھے اس کے اعلان اور اظہار سے باز نہ آئے۔ مامون عباسی کی تمام سطوت شاہانہ ایک طرف تھی یہ اللہ کا بندہ ایک طرف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جس مجلس میں ان کا نام لیا جاتا ہے لوگوں کی گردنیں فرط عقیدت سے جھک جاتی ہیں۔
مقام حیرت ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں یہ صفت نظر نہیں آتی۔ آپ پہلے مجدد ہیں جس نے اس زریں اصول کو جو کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے بالائے طاق رکھ دیا اور گورداسپور کی عدالت میں اعلائے کلمۃ الحق سے مجتنب رہنے کا تحریری اقرار نامہ باضابطہ طور پر داخل فرمایا۔
جس کو ہم پیچھے نقل کر چکے ہیں۔ (قارئین ایک بار اس کو پھر پڑھ لیں)
حق و صداقت کی خاطر خاصان خدا نے ہمیشہ تکالیف برداشت کی ہیں۔ ذیل میں ان لوگوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں جن کو مرزا قادیانی اپنے سے کمتر اور فروتر سمجھتے تھے :
- ١........... سقراط (وفات ٣٩٩ق م) اس حکیم پر حکومت وقت نے یہ الزام لگایا تھا
١٠٧
کہ تم ایتھنز (یونان کا مشہور شہر) کے نوجوانوں کے اخلاق خراب کرتے ہو۔ اس لئے یا تو اپنے مسلک کی تلقین سے باز آ جاؤ یا موت قبول کرو۔ حکیم موصوف نے زہر کا پیالہ پینا گوارا کیا لیکن معافی طلب نہ کی۔
- ٢............ حضرت امام حسینؓ سید الشہداء ، یزید نے آپ کو حکم دیا کہ میری
بیعت کرو اور میری خلافت کو تسلیم کرو۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک فاسق کی بیعت نہیں کر سکتا اور جو خلافت خلافِ نصوص قرآنی ہو اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔ جان دینا آسان ہے لیکن ضمیر کے خلاف عمل کرنا دشوار ہے۔ چنانچہ آپ نے کربلا کے میدان میں اس شان سے جان دی کہ ابتدائے آفرینش سے تا این دم یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے عدیم المثال ہے۔
حجۃ الاسلام حکیم امت صاحب دولت لازوال علامہ فقید المثال سِر محمد اقبال نے گوہر سرمدی یعنی رموزِ بیخودی میں فلسفہ شہادت حسینؓ بایں الفاظ رقم کیا ہے :
حریت را زہر اندر کام ریخت
خاست آں سرجلوہ خیر الامم
چوں سحاب قبلہ باراں درقدم
برزمین کربلا بارید و رفت
لالہ درویرانہ ہا کارید و رفت
تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہر حق در خاک وخوں غلطیدہ است
پس بنائے لاالہ گردیدہ است
مدعائش سلطنت بودے اگر
خود نکردے باچنیں ساماں سفر
١٠٨
دوستان او بہ یزداں ہم عدد
سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود
عزم او چوں کوہساراں استوار
پائدار و تند سیر و کامگار
تیغ بہر عزت دیں است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس
ماسوا اللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
خون او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد
تیغ لا چوں از میاں بیروں کشید
از رگ ارباب باطل خوں کشید
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
رمز قرآن از حسین اموختیم
زآتش او شعلہ ہا اندوا ختیم
شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
تار ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز
١٠٩
اشک ما بر خاک پاک او رساں
واضح ہو کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو اس مرد خود آگاہ سے بھی اعلیٰ اور ارفع قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨)
لہٰذا اگر ہم ان سے سید الشہداء امام حسینؓ کی قربانی سے افضل اور برتر قربانی کے متوقع ہوں تو بے جا نہیں ہے :
- ٣........... امام احمد بن حنبلؒ: مامون عباسی خلیفہ بغداد نے آپ کو حکم دیا کہ قرآن
مجید کو مخلوق تسلیم کرو اور اس عقیدہ کا اعلان کرو۔ آپ نے فرمایا میں تم سے ڈر کر اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہنے کے لئے تیار نہیں ہوں خواہ کلمۃ الحق کی پاداش میں مجھے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔ مامون نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
- ٤........... امام ابن تیمیہؒ: آپ کو بھی اعلائے کلمۃ الحق کی پاداش میں محبوس کر دیا گیا
اور قید خانہ ہی میں آپ کی وفات ہوئی لیکن آپ نے اپنے ضمیر کے خلاف حکومت سے معافی طلب نہیں کی۔
- ٥........... مجدد الف ثانیؒ: نے بھی جیل خانہ جانا گوارا کیا لیکن اعلائے کلمۃ الحق
سے باز نہ آئے۔
- ٦........... سید احمد صاحب رائے بریلویؒ: نے اعلائے کلمۃ الحق کی بنا پر بالا کوٹ
کے میدان میں جام شہادت نوش کیا۔
مجددِ صدی چہاردہم کا طرزِ عمل آپ کے سامنے ہے۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی
١١٠
ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کے متبعین ان کو آنحضرت ختمی مرتبت ﷺ کا بروز کامل بلکہ ان سے بھی بڑھ کر یقین کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق قرآن مجید میں مرقوم ہے: ” بلغ ما انزل اليك “ یعنی اے رسول جو کچھ تیری طرف بذریعہ وحی نازل کیا جائے اسے بندوں تک پہنچا دے۔ ” ولو کره المشرکون “ خواہ وہ مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔
مرزا قادیانی وحی و الہام کے مدعی تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
زخطا ہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ص ٤٧٨ ج ١٨)
اور یہ بات محتاج بیان نہیں کہ وحی و الہام اسی لئے نازل کیا جاتا ہے کہ اسے مخلوق خدا تک پہنچایا جائے لیکن تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے ڈپٹی کمشنر کے حکم کو خدا تعالیٰ کے حکم پر ترجیح دی اور کتمان حق کا اقرار کر لیا۔ یہ تاویل بھی موجب تسکین نہیں ہو سکتی کہ اب خدا تعالیٰ کی سنت بدل گئی کیونکہ قرآن مجید فرماتا ہے: ” ولن تجد لسنة الله تبديلا . “
معیار ششم : حریت آموزی
یہ بات بھی مجدد کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ اپنی قوم کو جس کی اصلاح کے لئے وہ مبعوث ہوتا ہے حریت کا پیغام دے کیونکہ قوم زندہ نہیں ہو سکتی جب تک حریت کا صور بلند آہنگی سے نہ پھونکا جائے۔ قرآن مجید تو اسلام اور غلامی کو دو متضاد چیزیں قرار دیتا ہے اور صاف لفظوں میں اعلان کرتا ہے: ”انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین . “ یعنی غالب آنے کے لئے مومن ہونا شرط ہے اور مومن وہ ہے جس میں حریت‘ اخوت اور مساوات یہ اوصاف ثلاثہ کامل طور سے پائے جائیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں مسلمانوں کو ”
١١١
مومنین قانتین" بنانے کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔
لہذا ایک طالب حق بجا طور پر ان سے درس حریت کی توقع کر سکتا ہے۔ لوگ مومن بنے یا نہیں یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا پہلی چیز تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم میں حریت کا پیغام بھی شامل ہے یا نہیں۔
واضح ہو کہ یہ صفت مرزا قادیانی کی تعلیم میں گوگرد احمر کا حکم رکھتی ہے۔ دعویٰ تو مجددیت سے بھی بڑھ کر نبوت ورسالت کا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
داد آں جام را مرا بہ تمام
(نزول المسیح ص ٩٩‘ خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨)
لیکن وہ جام اس مئے ناب سے بالکل خالی ہے۔ اس میں جو چیز بھری ہوئی ہے وہ یثربی نہیں بلکہ لندنی ہے جس کے متعلق علامہ اقبال فرماتے ہیں :
ہمہ آفتاب لیکن اثر سحر ندارد
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو درس حریت دینے اور ان کے مردہ قالب میں روح پھونکنے کے لئے جو کوشش فرمائی اس کا اندازہ ذیل کے اقتباسات سے بخوبی ہو سکتا ہے :
- ١............ ”اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر کتابیں میں نے تالیف کیں ان
سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارہ میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جن کی طباعت اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔............ اگر میں نے یہ اشاعت گورنمنٹ برطانیہ کی سچی خیر خواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں بلاد اسلامیہ میں شائع
١١٢
کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟۔“
(کتاب البریہ ص ٦‘ ٧‘ خزائن ص ٦‘ ٧ ج ١٣)
- ٢............ ”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس
برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔............ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔“ (درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩‘٢٠‘ مجموعہ اشتہارات ص ٢١ ج ٣)
- ٣............ ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے
مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے۔“ (درخواست مرزا بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب‘ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧‘ مجموعہ اشتہارات ص ١٩ ج ٣)
- ٤............ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید میں اور حمایت میں
گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں اور میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب‘ مصر‘ روم اور شام تک پہنچادیا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥‘ خزائن ص ١٥٥ ج ١٥)
- ٥............ ”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ
امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے‘ پوری استقامت سے کام لیا کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے۔؟“
(کتاب البریہ ص ٨‘ خزائن ص ٨ ج ١٣‘ اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء)
یہ سعادت تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے حصہ میں مقدر ہو چکی تھی۔ دوسرا
١١٣
اس میں کس طرح شریک ہو سکتا تھا؟۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند!
٦ ............ ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک محسن کی بد خواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو ............ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤‘ خزائن ص ٣٨٠ ج ٦)
٧ ............ ”ان کے (والد مرزا قادیانی) انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزا قادیانی) دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ ............ ہر مسلمان کا فرض ہونا چاہئے کہ گورنمنٹ انگریزی کی سچی اطاعت کرے۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٣‘ خزائن ص ١١٤ ج ١٥)
٨ ............ ”میں نے ٢٢ سال سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“
(تحریر مرزا قادیانی ٨ نومبر ١٩٠١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦‘ مجموعہ اشتہارات ص ٤٢٤ ج ٣)
٩ ............ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔“ (اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٢٢ مارچ ١٨٩٧ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩‘ مجموعہ اشتہارات حاشیہ ص ٧٠ ج ٢)
١٠ ............ ”بار ہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے اسی گورنمنٹ کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔“
(اشتہار مرزا قادیانی ٨ نومبر ١٩٠١ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨‘ مجموعہ اشتہارات ص ٤٢٥ ج ٣)
١١٤
١١.......... ”مگر افسوس مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پر زور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارہ میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔“ (درخواست مرزا قادیانی بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١١‘ مجموعہ اشتہارات ص ١٣ ج ٣)
١٢.......... ”(اس عاجز کو) وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اُس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہو گا.......... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٢‘ خزائن ص ١٢ ج ١٥)
١٣.......... ”قیصرہ ہند کی طرف سے شکریہ۔ یہ ایسا لفظ ہے جو حیرت میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا؟۔ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٧‘ تذکرہ ص ٤٣١ طبع ٤‘ ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤‘ حاشیہ خزائن ج ١٥ ص ٥٠٤)
١٤.......... ”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نا فہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دل میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں.......... ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی اُن نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی...... اور ایسے لوگوں کے نام و پتہ و نشان یہ ہیں۔“ (تحریر مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١‘ مجموعہ اشتہارات ص ٢٢٧ ج ٢)
١١٥
ان اقتباسات کو پڑھ کر شیخ سعدیؒ کا یہ شعر بے اختیار زبان پر جاری ہو گیا :
ہمچناں کز ملک ملک بودے
مجدد صدی چہار دہم کی تعلیم کے اس پہلو پر کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر حافظؒ نے یہ کہہ کر قلم روک دیا :
بر دار تواں گفت بہ منبر نتواں گفت
معیار ہفتم : قبولیت دعا
یہ بھی ایک آسان صورت ہے جس کی مدد سے مدعی مجددیت کو پرکھا جا سکتا ہے کہ اس کی دعائیں کس قدر قبول ہوئی ہیں ؟۔ یعنی روحانیت کے لحاظ سے کیا مرتبہ رکھتا ہے ؟۔
افسوس کہ مرزا قادیانی کی اکثر و بیشتر پیشگوئیاں غلط نکلیں اور جس معاملہ کو یا جس پیشگوئی کو انہوں نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا اس میں تو انہیں یقیناً ناکامی ہوئی ۔
- ١.............. محمدی بیگم والی پیشگوئی آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ۔ مرزا قادیانی نے لکھا تھا
کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری موت آجائے گی اور یہ پیشگوئی پوری نہ ہو گی۔ مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں بعارضہ اسہال مر گیا اور یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ۔
- ٢.............. بشیر احمد اول کی ولادت سے قبل ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو مرزا قادیانی
نے سبز اشتہار شائع کیا کہ خدا نے مجھے مطلع کیا ہے کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا.............. اس کا نام عمنوائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے .............. بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا کلمتہ اللہ ہے اور .............. وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے ) دوشنبہ ہے مبارک
١١٦
دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء (یعنی اس فرزند کا نزول گویا خود خدا تعالیٰ کا نزول ہوگا) ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے……اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔“ (تبلیغ رسالت ص ٥٩‘ ٦٠ ج ١‘ مجموعہ اشتہارات ص ١٠١ ج ١)
- ب……………واضح ہو کہ اس زمانہ میں مرزا قادیانی کی دوسری بیوی (نصرت
جہاں بیگم) حاملہ تھیں۔
- ج……………چند روز کے بعد بعض لوگوں نے جو قادیان کے باشندے تھے یہ مشہور
کیا کہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرا ہے کہ مرزا قادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔ اس پر مرزا قادیانی نے لکھا کہ : ”ہم اعلان کرتے ہیں کہ ابھی تک جو ٢٢ مارچ ١٨٨٦ء ہے ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر ٢٠‘ ٢٢ سال سے زیادہ ہے پیدا نہیں ہوا لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٧٢‘ مجموعہ اشتہارات ص ١١٣ ج ١)
- د……………اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ نو سال کی مدت بہت طویل ہے۔
اس عرصہ دراز میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا ضرور ہی پیدا ہو جائے گا اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ : ”آج ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا (یعنی نو ماہ سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ للراقم مضمون ہذا) اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٧٥‘ مجموعہ اشتہارات ص ١١٧ ج ١)
- ہ……………خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند روز بعد یعنی مئی ١٨٨٦ء میں اللہ تعالیٰ نے
مرزا قادیانی کی پیشگوئی کو جھوٹا کر دکھایا۔ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام عصمت بی بی رکھا گیا اور وہ ١٨٩١ء میں فوت بھی ہو گئی : ”اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بد اعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا…………حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں
١١٧
بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہو گا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٠٦ روایت نمبر ١١٦)
و ............ ایک سال کے بعد مرزا قادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جسے انہوں نے پسر موعود قرار دیا۔ چنانچہ اس کی ولادت کے موقع پر انہوں نے یہ اشتہار شائع کیا۔ ”اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشگوئی کی تھی ........... آج ١٦ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ ٧ اگست ١٨٨٧ء میں رات ١٢ بجے کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٩٩‘ ١٠٠ مجموعہ اشتہارات ص ١٤١ ج ١)
ذ ............ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ یہ مولود مسعود اور پسر موعود ایک ہی سال کے بعد والدین کو داغ مفارقت اور مسلمانوں کو درس عبرت دے کر بتاریخ ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ ”بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہو گیا ........... اور یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو (اس پیشگوئی کے غلط نکلنے سے راقم مضمون) ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٠٦ روایت نمبر ١١٦)
ح ............ اگرچہ : ”حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے ...... لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین میں تو پرلے درجے کے استہزاء کا جوش پایا جاتا تھا۔“
(سیرت المہدی ص ١٠٦ حصہ اول روایت نمبر ١١٦)
نوٹ : ناظرین ! اشتہار خوشخبری کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد!
ط ............ اس کے بعد مرزا قادیانی نے پسر موعود کی آمد کا انتظار نہ خود کیا نہ لوگوں کو دعوت دی۔ ”اس کے بعد پھر عامتہ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا اس شدومد
١١٨
سے انتظار نہیں ہوا ۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٧٠ روایت ١١٦)
ہمارے خیال میں حقیقت آشکار ہو جانے کے بعد اس انتظار کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی تھی
نبی ........... اب صرف ایک سوال باقی ہے وہ پسر موعود جس کے نزول کو خدا کا نزول قرار دیا گیا تھا کب آیا اور اگر نہیں آیا تو کب آئے گا۔ ہم لوگ اس کے منتظر رہیں یا نہ ؟۔
نوٹ : اس پسر موعود کی ایک شناخت الہام الٰہی میں یہ بتائی گئی تھی کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کی بیوی کی روایت ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے :
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی کیسا اخفاء ہوتا ہے (غالباً اسی وجہ سے اکثر پیشگوئیاں صحیح نہیں نکلیں) پسر موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا مگر ہمارے موجودہ سارے لڑکے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں (حضرت خلیفة المسیح ثانی) کو تو حضرت صاحب نے اس طرح تین کو چار کرنے والا قرار دیا کہ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی شمار کر لیا اور بشیر اول متوفی کو بھی۔ تمہیں (راقم الحروف) اس طرح پر کہ صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔ شریف احمد کو اس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی کے لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد چھوڑ دیئے اور میرے سارے لڑکے زندہ اور متوفی شمار کر لئے اور مبارک احمد کو اس طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٧٣ روایت نمبر ٩٢ مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)
ناظرین ! دیکھا آپ نے تین کو چار کرنے والا چکر !
ہوں یہی لفظ ورد جس پہلو سے اٹھو درد ہے
کیا آپ کو اب بھی اس الہام کی صداقت میں کچھ شک ہے ؟۔ (نیز اس سے تو ہر
١١٩
لڑکا تین کو چار کرنے والا ہوا۔ جس پسر موعود کو تین کو چار قرار دینے والا ہو گا بتایا اس کی خصوصیت نہ رہی۔ پھر الہام تین کو چار کرنے والا چہ معنی دارد)
- ٣............. اپنی عمر کے متعلق مرزا قادیانی نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ مجھے اللہ
تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ تیری عمر ٨٠ سال کی ہو گی۔ چند سال کم یا چند سال زیادہ۔
(سراج منیر ص ٧٩ خزائن ص ٨١ ج ١٢)
اس قسم کی گنجائش ہر جگہ نظر آتی ہے۔ سچ ہے کہ عقلمند آدمی DEFINTE نہیں ہوتا۔
لیکن مقام عبرت ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) کی عمر ٦٨ یا ٦٩ سال سے زیادہ نہیں ہوئی۔ حالانکہ وحی الٰہی کی رو سے کم از کم ٧٥ یا ٧٦ سال کی ہونی چاہئے تھی۔ ہمیں مرزا قادیانی کا سال ولادت اور سال وفات دونوں معلوم ہیں۔ اس لئے ہماری معلومات صحیح ہیں اور مرزا قادیانی کی پیشگوئی غلط ہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ : ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترہویں برس میں تھا۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٤٦ خزائن حاشیہ ص ١٧٧ ج ١٣)
مرزا قادیانی کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوئی۔ لہٰذا ان کی عمر ٦٨ یا ٦٩ سال سے زائد نہیں ہو سکتی۔
- ٤............. مرزا نے ١٨٩٣ء میں ڈپٹی عبداللہ آتھم سے بمقام امرتسر مناظرہ کیا
جو جنگ مقدس کے نام سے مشہور ہے چونکہ مرزا قادیانی مسیحی مذہب سے کماحقہ واقف نہ تھے اس لئے دلائل کے لحاظ سے فریق ثانی پر غالب نہ آسکے۔ مجبوراً جلسہ کے اختتام پر پیشگوئی کی کہ آتھم نے عمداً حق کو چھپایا ہے اس لئے پندرہ ماہ تک (دسمبر ١٨٩٤ء تک) ہاویہ میں گرایا جائے گا لیکن خدا کی قدرت کہ آتھم کی وفات ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو ہوئی اور پیشگوئی غلط نکلی۔
- ٥............. ٥ نومبر ١٨٩٩ء کو مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ جنوری ١٩٠٠ء سے
١٤٦١
لے کر دسمبر ١٩٠٢ء تین سال کے اندر میری صداقت کے لئے خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی نشان ضرور ظاہر کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوں لیکن افسوس کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔
- ٦............. مرزا قادیانی نے طاعون کو اپنا تائیدی نشان قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ
میرے مرید اس وبا سے محفوظ رہیں گے اور ایسا ہونا قرین مصلحت بھی تھا کیونکہ طاعون عذاب الہی تھا اور عذاب ہمیشہ منکرین پر نازل ہوتا ہے۔ لیکن مقام حیرت ہے کہ اس عذاب الہی نے رسول کے تخت گاہ قادیان کو بھی نہ چھوڑا اور منجملہ اور لوگوں کے ایڈیٹر اخبار بدر کا بھی اسی مرض میں انتقال ہوا۔
- ٧............. مرزا قادیانی نے (چشمہ معرفت ص ٣٢١‘ خزائن ص ٣٣٦‘ ٣٣٧
ج ٢٣ ملخص) ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحوم کے متعلق لکھا: ”ہاں! آخری دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی ہے جس نے میرے متعلق یہ پیشگوئی کی ہے کہ میں (مرزا قادیانی) اگست ١٩٠٨ء تک مر جاؤں گا۔ میں اس کے مقابلہ میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر موصوف میری (مرزا قادیانی کی) زندگی میں مر جائے گا اور میں محفوظ رہوں گا۔“ لیکن مقام عبرت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے سابق مرید کی پیشگوئی کے مطابق اگست ١٩٠٨ء سے پہلے فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب ١٩٢١ء تک زندہ رہے۔
- ٨............. ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا نام
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ تھا اس میں مرزا قادیانی نے لکھا ”یا اللہ ! مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے۔ اے اللہ ! اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب ہوں جیسا کہ مولوی ثناء اللہ میرے متعلق اپنے اخبار میں لکھتے رہتے ہیں تو مجھ کو ان کی زندگی ہی میں ہلاک کر دے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوشی کر دے۔“
(تبلیغ رسالت ص ١١٩ ج ١٠‘ مجموعہ اشتہارات ص ٥٧٩ ج ٣ ملخص)
مرزا قادیانی کی یہ دعا جناب باری میں قبول ہو گئی اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ان کے صادق یا غیر صادق ہونے کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہو گیا۔
مرزا قادیانی کی طرف ایک ہی دعا قبول ہوئی اور وہ بھی مرزا قادیانی کو کاذب قرار دے گئی۔
معیار ہشتم : مجدد دنیا دار نہ ہو
آٹھواں معیار مجدد کی شناخت کا یہ ہے کہ اس کی زندگی علائق دنیوی سے یکسر پاک وصاف ہو یعنی اس کی زندگی ایسی بے لوث ہو کہ عیش پسندی‘ دنیا طلبی‘ تن آسانی اور خود بینی کا شائبہ بھی نہ پایا جائے۔ باہمہ ہو ولے بے ہمہ ہو‘ دنیا میں رہتا ہو مگر دنیاوی معاملات میں سروکار نہ رکھتا ہوں۔ اس کی توجہ تمام تر اصلاح امت پر مرکوز ہو۔ اس کے حاشیہ نشین لازمی طور سے اس کی شان استغناء کے معترف ہوں اور اس کی زندگی میں کوئی بات ایسی نظر نہ آئے جس کو وہ دنیا طلبی سے منسوب کر سکیں۔ مالی مناقشات سے اور روپے پیسے کے معاملات سے اس کا دامن یکسر پاک ہو۔ اس کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے اس بات کا اقرار کریں کہ وہ زاہدانہ اور عابدانہ زندگی بسر کرتا ہے۔ زخارف دنیوی کی اس کی نگاہ میں مطلق کوئی قدر و قیمت نہیں۔ وہ کوئی کام ایسا نہیں کرتا جسے جلب زر سے نسبت ہو۔
مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں یہ رنگ نظر نہیں آتا اور دنیا طلبی کے اعتراض سے ان کا دامن پاک نہیں ہے۔ جو لوگ ان کی خدمت میں رات دن باریاب تھے جن کے سامنے ان کی زندگی کے تمام پہلو موجود تھے ان کی شہادت مرزا قادیانی کے خلاف پائی جاتی ہے۔ جس کی تفصیل ذیل میں درج کرتا ہوں :
- الف ............ ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرحوم مرزا قادیانی کے مریدان باصفا میں سے
تھے۔ جب انہوں نے مرزائیت سے توبہ کی تو لاہور میں اپنے ترک مرزائیت پر جو لیکچر انہوں نے دیئے ان میں لوگوں کو بتایا کہ میں مرزا قادیانی کی خدمت گزاری کو اپنی سعادت
١٢٢
تصور کیا کرتا تھا۔ میرے سپرد ایک خاص خدمت یہ تھی کہ میں ہر ماہ ایک تولہ مشک خالص بہم پہنچایا کروں جو ساٹھ ستر روپے تولہ دستیاب ہوتی تھی اور حکیم نور الدین قادیانی کے مشورہ سے ایک یاقوتی تیار کیا کرتا تھا جسے مرزا قادیانی استعمال کیا کرتے تھے۔ بٹالہ سے روزانہ سوڈے کی بوتلیں اور برف مرزا قادیانی کے لئے جاتی تھیں۔ خوردونوش میں بھی بہت تکلفات کو دخل تھا۔ ان چیزوں سے مریدوں کا بے دریغ روپیہ صرف ہوتا تھا۔ ایک دن جبکہ میں یاقوتی تیار کر رہا تھا۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی غذا تو بالکل سادہ ہوتی تھی۔ مرزا قادیانی دعویٰ تو فنافی الرسول ہونے کا کرتے ہیں لیکن تنعم دوستی کا یہ عالم ہے؟۔ جب میں نے اپنا یہ شبہ مرزا قادیانی کی خدمت میں پیش کیا تو پہلے انہوں نے نرمی سے سمجھایا آخر کار قطع تعلق تک نوبت پہنچی اور میں دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
ممکن ہے قادیانی دوست اس جگہ یہ اعتراض پیش کریں کہ ڈاکٹر مذکور مرزا قادیانی کا دشمن تھا اس لئے اس کی گواہی لائق اعتبار نہیں لیکن اولاً یہ اس شخص کا بیان ہے جو عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کا شریک جلوت و خلوت رہا۔ ثانیاً مرزا قادیانی کو ان کے ان اعتراضات کا جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ثالثاً یاقوتی مفرحات اور مشک و عنبر کے استعمال پر خود مرزا قادیانی کی تحریریں شاہد ہیں۔
- ١..........پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اس لئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی
خدمت میں ارسال ہیں آپ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں ارسال فرماویں۔ آپ بے شک ایک تولہ مشک بہ قیمت خرید کر کے بذریعہ وی پی بھیج دیں۔
(خطوط امام بنام غلام ص ٢،٣، مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)
- ٢..........”مخدومی سیٹھ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی تاریخ
عنبر بھی پہنچ گیا۔ آپ میری طرف سے اس مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی ظاہر کی۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول ص ٢٦ مکتوب نمبر ٦٧)
١٢٣
- ٣............”میں اس کو اپنے مولا کریم کے فضل سے اپنے لئے بے اندازہ فخر کا
موجب سمجھتا ہوں کہ حضور مرزا بھی اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا استعمال فرماتے تھے۔“
(خطوط امام ہمام ص ٨ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی)
- ٤............”پرندوں کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا۔ مرغ اور بٹیر کا گوشت
بھی آپ کو پسند تھا۔ کباب پلاؤ انڈے‘ فرینی اس وقت کہہ کر پکواتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔ میوہ جات بھی آپ کو پسند تھے۔ موجودہ زمانہ کے ایجادات برف سوڈا لیمنڈ بھی پی لیا کرتے تھے۔ بلکہ موسم گرما میں برف بھی امرتسر یا لاہور سے خود منگوا لیا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ دوم ملخص ص ١٣٢ تا ١٣٤ روایت نمبر ٤٢٤ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
ان شہادتوں کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے عائد کردہ الزامات یا اعتراضات بے اصل یا بے حقیقت نہیں کہے جاسکتے۔ فی الجملہ ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی کی زندگی میں آنحضرت ﷺ کی زندگی کا رنگ نظر نہیں آیا۔ اس لئے وہ تائب ہو گئے۔
- ب............مرزا قادیانی نے اپنے مالی فتوحات کا تذکرہ اس پیرایہ میں کیا ہے کہ
اس سے فخر و مباہات کی بو آتی ہے۔ گویا بارش سیم و زر بھی ان کی صداقت کا نشان تھا۔ یہ فخریہ ہم جیسے دنیاداروں کو زیب دے تو دے‘ اہل اللہ کو ہرگز زیب نہیں دیتا کیونکہ زخارف دنیوی کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ان کی بلا سے روپیہ آئے یا نہ آئے۔
اولیاء اللہ کو ہم سگان دنیا شروع سے نذر دیتے آئے ہیں لیکن ان خاصان خدا نے کبھی اس روپیہ کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ اس کو اپنی ذات پر استعمال کیا۔ سیدی و مولائی سلطان المشائخ حضرت محبوب الٰہیؒ کے یہاں بھی لنگر جاری تھا لیکن حضور نان جویں ہی پر قناعت فرماتے تھے۔ آپ نے کبھی مالی فتوحات کا تذکرہ نہیں فرمایا تھا۔ مرزا قادیانی کو تو وحی بھی منی آرڈروں کی ہوتی تھی۔
- ١............”منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ نے مجھ سے کہا کہ ہندوستان میں
شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ ان
١٢٤
اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرمادیا ہے۔ پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہو گیا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ بباعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز معہ عیال واطفال اور ساتھ اس کے کئی غربا اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٥ خزائن ص ٢٧٤ ج ٢٢)
- ٢........... ”ایک دفعہ مارچ ١٩٠٥ء کے مہینہ میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے
مصارف میں بہت دقت ہوئی........... اس لئے دعا کی گئی ٥ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ (عام قاعدہ ہے کہ دن کے وقت جس بات کا تصور بندھا رہتا ہے رات کو خواب میں وہی چیز نظر آتی ہے۔ للراقم) میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی‘ ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٢ خزائن ص ٣٤٥‘ ٣٤٦ ج ٢٢)
- ٣........... ”(میں نے خواب میں دیکھا) والد صاحب کے فوت ہونے پر
دوسرے یا تیسرے دن ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں دیکھی۔ اس نے کہا میرا نام رانی ہے۔ میں اس گھر کی وجاہت ہوں۔ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔“
(حلیۃ النبی ج ١ ص ٨٦)
- ٤........... ”ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الٰہی سے میری زبان پر جاری ہوا۔
عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔ میں نے چند ہندوؤں کے پاس جو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کے منکر ہیں اور بہت کچھ وید پر ختم کر بیٹھے ہیں اس الہام الٰہی کو ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ آج اگر یہ روپیہ نہ آیا تو میں حق پر نہیں۔ ان میں سے ایک ہندو اشن داس نام‘ قوم کا برہمن جو آج کل ایک جگہ پٹواری ہے بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا........... اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور
١٢٥
حیرت زدہ ہو کر جواب لایا کہ در حقیقت عبداللہ خان نام ایک شخص نے جو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایکسٹرا اسسٹنٹ ہے کچھ روپیہ بھیجا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٦٢‘ خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٥‘ ٢٧٦)
اس میں حیرت کی کیا بات ہے ہر شخص یہ کام کر سکتا ہے دو چار دن پہلے آپ کا دوست آپ کو مطلع کر سکتا ہے اور آپ اطمینان کے ساتھ پیشگوئی کر سکتے ہیں۔
- ٥ ............. ”ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا۔ بست و یک آئے ہیں اس میں شک
نہیں ............. یہ روپیہ ٦ ستمبر ١٨٨٣ء کو پہنچا۔ پس اس مبارک دن کی یاداشت کے لئے اور آریوں کو گواہ بنانے کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٤٠٥‘ خزائن ص ٣١٨‘ ٣١٩ ج ٢٢)
- ٦ ............. ”حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک عرب سوالی یہاں آیا۔ آپ
نے اسے ایک معقول رقم دے دی۔ بعض نے اس پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ (شخص) جہاں بھی جائے گا ہمارا ذکر کرے گا۔ خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لئے ہی کرے۔ مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ شمارہ ١٠٣ ص ٩ مورخہ ٢٦ فروری ١٩٣٥ء)
اسی کا نام شہرت پسندی ہے یہ بات خود بینی پر دلالت کرتی ہے اور اہل اللہ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ اسی کو آج کل کی اصطلاح پروپیگنڈہ کہتے ہیں اور شرعی حیثیت سے ریا کاری اسی کا نام ہے۔
- ٧ ............. ”یادرہے کہ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ
آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے طور پر ہوں ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٣‘ خزائن ص ٣٤٦ ج ٢٢)
نوٹ : نشانات کا سلسلہ ٤٠ سال کی عمر سے شروع ہوا اور حقیقۃ الوحی ١٩٠٥ء میں لکھی تھی گویا ٢٥ سال میں ٥٠٠٠٠ نشان یعنی ایک سال میں دو ہزار نشان یعنی ایک دن میں چھ نشان۔ ناظرین کثرت نشانات پر متعجب ہوں۔ اثبات نبوت کے لئے خدا نے
١٢٦
تین لاکھ نشان دکھائے۔ یعنی ٣٠ نشان روزانہ۔ (جب شاعری میں مبالغہ جائز ہے تو یہاں کیوں نہ ہو۔ الراقم)
- ٨............ ”میرے مکان کے ملحق دو مکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور
باعث تنگی مکان توسیع مکان کی ضرورت تھی........... اور مجھے دکھایا گیا اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت کے بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے........... دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے........... حالانکہ ان سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٣٧٩ خزائن ص ٣٩٣ ج ٢٢)
(جب روپیہ پاس ہوتا ہے تو بعض اوقات محال بھی ممکن ہو جاتا ہے۔)
- ٩............ ”اوائل میں حضرت صاحب انٹر کلاس میں سفر کیا کرتے تھے اور اگر
حضرت بیوی صاحبہ ساتھ ہوتی تھیں تو ان کو اور دیگر مستورات کے ساتھ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے........... آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے ریزرو کرالیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے اور حضور کے اصحاب دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٠١ روایت ٤٢٧)
نوٹ: ہر دانش مند آدمی ایسا ہی کرے گا جتنی چادر دیکھے اتنے ہی پاؤں پھیلاؤ۔
- ١٠............ ”میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں
ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمالِ صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔“
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦٤‘ ١٦٥ روایت ١٥٧)
نوٹ: لیکن ١٩٣٠ء کی مردم شماری کی رو سے قادیانیوں کی تعداد صرف ٥٦٠٠٠ ہے۔ خدا کو معلوم مرزا قادیانی نے ٤٠٠٠٠ نفوس کا اضافہ کس طرح فرمایا؟۔
- ج........... اب آسائشِ دنیوی کا خلاصہ سنئے :
”ہماری معاش اور آرام کا تمام دارومدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر
١٢٧
آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی (خدا تعالیٰ) نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میرے اس بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو تا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔ حالانکہ میری آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں۔ اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، ٢١٢ خزائن ص ٢٢٠، ٢٢١ ج ٢٢)
و۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”تیسری پیشگوئی یہ تھی کہ لوگ کثرت سے آئیں گے سو اس قدر کثرت سے آئے کہ اگر ہر روز آمدن اور خاص وقتوں کے مجموعوں کا اندازہ لگایا جائے تو کئی لاکھ تک اس کی تعداد پہنچتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٠ خزائن ص ٧٤ ج ٢١)
نوٹ: ان تحریروں سے کس قدر پروپیگنڈے اور شہرت پسندی اور مبالغہ کی بو آتی ہے۔ مرزا قادیانی کی علمی زندگی ١٨٨٣ء سے شروع ہوتی ہے اور ١٩٠٨ء میں وفات ہوئی تو ٢٥ سال اگر مساوی بھی مان لئے جائیں تو روزانہ مہمانوں اور خطوط کا اوسط ایک ہزار پڑتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ١٨٩٠ء میں قادیان میں روزانہ ایک ہزار آدمی اور خطوط آتے تھے؟۔
١٢٨
آئیے اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے :
”اور جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے گجرات یا کڑیانوالے کی طرف جارہے تھے اور جناب نواب خانصاب تحصیل دار کے تانگہ پر ہم تینوں سوار کوچوان اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب آگے تھے میں (سید سرور شاہ گیلانی) اور جناب (محمد علی لاہوری) پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تو جب ہم اس سڑک پر پہنچے جو کہ کڑیانوالہ کی طرف جاتی ہے تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ راستہ باتوں سے طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں آپ اس کا جواب دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن (موٹا کپڑا) پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو ہم نے تو قادیان میں جاکر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں کی عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو، جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے اور آئندہ ہم ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آویں گی۔ پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں ۔
اس پر خواجہ صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو پر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ غضب خدا نازل ہو رہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا اور بار بار جناب الٰہی میں یہ عرض کرتا تھا کہ مولا کریم میں اس قسم کی باتوں کے خلاف ہوں میں اس مجلس سے بھی
١٦٩
علیحدہ ہو جاتا مگر مجبور ہوں۔ پس تیرا غضب جو نازل ہو رہا ہے اس سے مجھے بچانا۔“
(کشف الاختلاف ص ١٢ تا ١٤ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
- ب............... ”پھر جناب کو (محمد علی لاہوری) یاد ہو گا کہ جب میں نے (سید سرور
شاہ قادیانی) جناب کو کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جائے گا۔ مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بد ظنی کرتے ہیں اور یہ سنا کر میں نے بوجہ محبت آپ کو (محمد علی) یہ کہا تھا کہ آپ آئندہ کبھی اس معاملہ میں شریک نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس کی زیادہ ناراضگی کا موجب ہو۔“
(کشف الاختلاف ص ١٤ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
- ج............... ”اور خواجہ (کمال الدین) بار بار تاکید کرتے تھے کہ ضرور کہنا اور یہ
باتیں کر رہے تھے کہ دفعتاً آپ کی (محمد علی لاہوری) طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم ہو گیا ہے جس سے لنگر کا انتظام فوراً حضرت صاحب ہمارے سپرد کر دیں............ آپ نے یہ کہا کہ خواجہ صاحب میں تو اب ہرگز نہیں پیش کروں گا تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کر لیں اور غصہ والی شکل اور غضب والے لہجہ سے کہنا شروع کیا۔ بولے کہ قومی خدمت ادا کرنے میں بڑے بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں۔ کبھی حوصلہ پست نہ کرنا چاہئے اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی کے لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکتے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے
١٤٠
وہ سارے کام پورے ہو سکتے ہیں۔ آپ اچھے خادم قوم ہیں کہ یہ جانتے ہوئے پھر ایک ذرہ سی بات کہتے ہیں کہ میں آئندہ ہرگز پیش نہیں کروں گا تو میں کہتا ہوں کہ میں ضرور پیش کروں گا۔ اس پر آپ (محمد علی لاہوری) نے کہا میں ساتھ چلا جاؤں گا مگر بات نہیں کروں گا تو خواجہ صاحب نے کہا میں بھی ساتھ جانے کے لئے کہتا ہوں بات تو میں نہیں کرتا۔ بات تو میں خود کروں گا۔ غرض کہ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن سے اس بات کا صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ ہی میں مالی اعتراض کا درس خواجہ صاحب نے ہی شروع کر دیا تھا۔"
(کشف الاختلاف ص ١٥، ١٦ مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی)
".................... باقی آپ (یعنی حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اول) سے (یعنی مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ابتداء اگر حضرت زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین اور محمد علی لاہوری) اندر ہی اندر تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) سے حساب لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات پائی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ صاحب اور مولوی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے ورنہ انجام اچھا نہ ہو گا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے؟ اور گھر میں آکر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں؟ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق؟ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے۔................... پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقع پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا محمد علی لاہوری سے کہا کہ حضرت صاحب آپ تو خوب عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو جس کا جواب محمد علی لاہوری نے یہ دیا کہ ہاں! اس کا تو انکار نہیں ہو سکتا مگر بشریت ہے کیا ضرور
١٣١
کہ ہم نبی کی بشریت کی پیروی کریں۔
میرا (میاں محمود احمد کا) ان باتوں کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ یہ بات ابھی شروع نہیں ہوئی بلکہ حضرت اقدس کے زمانہ سے ہے۔ وہ (مرزا قادیانی) لنگر کا چندہ اپنے پاس رکھتے تھے (لیکن آخر کار آپ نے وہ بھی ان خواجہ صاحب وغیرہ) کے حوالہ کیا۔ اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور بھی سب کچھ چھینو۔ باقی رہا ان کا تقویٰ وہ تو ان کے بلوں اور بجٹوں سے بہت کچھ ظاہر ہو سکتا ہے کہ جس پر شور مچا رہے ہیں وہ کام روزمرہ خود کرتے ہیں۔‘‘
(میاں محمود احمد کا خط بنام نور الدین مندرجہ حقیقت اختلاف ص ٥٤‘ ٥٣ مصنفہ محمد علی لاہوری)
ہ........... ”یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں۔ وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ سو ہر شخص کو چاہئے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے سے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے۔..... اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ اس کے بعد سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا۔‘‘ (المشتہر مرزا قادیانی مسیح موعود از قادیان‘ لوجہ اللہ اشتہار لنگر خانہ کے انتظام کے لئے‘ مجموعہ اشتہارات ص ٤٦٨‘ ٤٦٩ ج ٣)
بعض لوگوں نے جولیس سیزر کی بیوی کے چال چلن پر کچھ شکوک وارد کئے۔ سیزر کے حکم سے ان اعتراضات کی تحقیقات کی گئی اور ثابت ہوا کہ وہ بے بنیاد تھے لیکن سیزر نے اپنی بیوی کو پھر بھی طلاق دے دی۔ لوگوں نے وجہ دریافت کی تو اس نے نہایت متانت کے ساتھ جواب دیا :
”میرے جیسے عظیم الشان انسان کی بیوی کا چال چلن ایسا اعلیٰ ہونا چاہئے کہ کسی کو اعتراض کرنے کی جرأت ہی نہ ہو۔‘‘
معیار نہم : عاجزی و انکساری
نواں معیار شناخت مجدد کا یہ ہے کہ اس کی تحریر اور تقریر سے عجز و انکسار عاجزی
١٣٢
اور فروتنی نمایاں ہو۔ وہ اگر چہ علم و فضل زہد و اتقاء روحانیت اور تقدس کے لحاظ سے سب پر فوقیت رکھتا ہو لیکن نخوت‘ تکبر‘ خودبینی اور غرور سے اس کی باطنی اور ظاہری زندگی بالکل پاک ہو :
نہد شاخ پر میوہ سر بر زمیں
اسے اس کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی تعریف و توصیف میں دفتر کے دفتر سیاہ کر ڈالے یا ”انا ولا غیری“ کا نعرہ بلند کرے۔ لوگ خود بخود اس کے کارنامے دیکھ کر اسے اپنا مخدوم اور مطاع تسلیم کر لیتے ہیں بلکہ بڑوں بڑوں کا سر اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ مکتوبات مجدد الف ثانیؒ اٹھا کر دیکھ لیجئے ایک جگہ بھی خود ستائی کا رنگ نظر نہیں آئے گا۔ لیکن بیسویں صدی عیسوی کے مجدد کی شان انبیاء سے بھی بلند نظر آتی ہے۔ مبالغہ اور تعلی دونوں باتیں مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اگر کام بھی ویسا ہی ہو تا جیسا کہ نام تھا تو کسی کو مجال دم زدن نہ ہوتی لیکن افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ : ”طبل بلند بانگ بباطن ہیچ“ والا معاملہ نظر آتا ہے۔ ذیل میں شواہد درج کرتا ہوں :
- ١......... ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی
طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ......... پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧‘ خزائن ص ٣٣٢ ج ٢٣)
- ٢......... ”خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم
نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی ہو۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٨‘ خزائن ص ٥٧٨ ج ٢٢)
- ٣......... ”اور اس نے (خدا) نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان
ظاہر کئے‘ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“(گویا از ١٨٩١ء تا ١٩٠٨ء ہر روز چھ نشان ظاہر
١٣٣
ہوئے۔ الراقم مضمون)
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨‘ خزائن ص ٥٠٣ ج ٢٢)
٤............. ”میں کوئی نیا نبی نہیں مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں جن دلائل سے کسی نبی کو سچا کہہ سکتے ہیں وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔“
(ملخص اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٠ اپریل ١٩٠٨ء‘ ملفوظات ص ٧‘ ٢١٨ ج ١٠)
نوٹ : اب ہم لاہوریوں کے بیان کو سچا تسلیم کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی محض ایک مجدد تھے جیسے اس امت میں ان سے پہلے اور مجدد گزرے ہیں اور یہ کہ ان کا دعویٰ محض مجدد ہونے کا تھا یا لاہوریوں کے مرشد اور مطاع کے دعویٰ کو صحیح تسلیم کریں جس میں وہ صاف الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں جیسے کہ دنیا میں ان سے پہلے بہت سے نبی آچکے ہیں۔
مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ مجھے منہاج نبوت پر پرکھو لیکن ہمارے لاہوری دوست کہتے ہیں کہ نہیں مرزا قادیانی کو منہاج مجددیت پر پرکھو۔ اب ناظرین خود ہی فیصلہ کریں کہ مریدوں کی بات درست ہے یا مرشد کی اور اس بیان میں ظلی اور بروزی یا مجازی نبوت کی بھی قید نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو بلا تکلف جمیع انبیاء ماسبق کا ہم پلہ قرار دیا ہے۔
٥............. مرزا قادیانی خاتم النبیین ہیں :
”ختمیت ازل سے محمد ﷺ کو دی گئی پھر اس کو دی گئی جسے آپ ﷺ کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لئے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور وہ جس نے تعلیم حاصل کی۔ پس بلاشبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں جو رحمن کے دنوں میں چھٹا دن ہے۔“
(الفرق بین آدم والمسیح الموعود ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب‘ خزائن ص ٣١٠‘ ٣١١ ج ١٦)
ناظرین! ایک ہی اقتباس میں تعلیٰ‘ تناقض‘ تصوف‘ تفسیر‘ اجتہاد سب کچھ موجود ہے۔ تیرہ سو سال میں کوئی مجدد اس شان کا پیدا نہیں ہوا جو باوصف مجددیت خاتم النبیین بھی ہو۔ جل جلالہ‘
چونکہ مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ : ”جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی
٤١٣
اصل صحیح شروع میں نہ ہو خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد تو اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ص ٥٢ ج ٥)
اس لئے میں بصد ادب مرزا قادیانی اور ان کے رفقاء سے دریافت کرتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے کہ : ”ختمیت ازل سے محمد ﷺ کو دی گئی ۔ (١)....... پھر اس کو دی گئی (٢)....... جسے آپ کی روح نے تعلیم دی (٣)....... اور اپنا ظل بنایا۔ اس فقرہ میں اقوال نمبر ١، ٢، ٣ پر کون کون سی نصوص قرآنی شاہد ہیں ؟۔ یعنی مرزا قادیانی نے یہ عقائد قرآن مجید یا شرع شریف کی کون سی نص سے مستنبط کئے ہیں ؟۔
پھر لکھا ہے کہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں یعنی نبوت کا خاتمہ حقیقی طور پر مجددیت مرزا قادیانی کی ذات بابرکات پر ہوا۔ اس قول نمبر ٤ پر کون نص صریح دلالت کرتی ہے ؟۔
لاہوری قادیانیوں سے مجبوراً یہ سوال کرنا پڑتا ہے کہ جب مرزا قادیانی خاتم النبیین ہونے کے مدعی ہیں تو آپ لوگ ان کا مرتبہ گھٹا کر کیوں بیان کرتے ہیں ؟۔ مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔ دوسرا حوالہ سنئے :
”میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد، احمد، مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔“
(نزول المسیح ص ٣ حاشیہ، خزائن ص ٣٨١ ج ١٨)
مرزا قادیانی سے یہ سوال ہے کہ جناب یہ بروز، حلول عینیت اور اتحاد کی تعلیم قرآن مجید کی کون سی نص سے ماخوذ ہے ؟۔ یہ آج ہی معلوم ہوا کہ اسلام نے بھی حلول کے عقیدہ کی تعلیم دی ہے۔
لاہوری قادیانیوں سے یہ سوال ہے کہ امت محمدیہ میں کس مجدد نے اپنے آپ کو حقیقی ختمیت کا مصداق قرار دیا ہے اور کس مجدد نے حلول کی تعلیم دی ہے ؟۔ مجدد کا منصب تو صرف اصلاح امت ہوتا ہے نہ کہ دین میں رخنہ اندازی۔ قرآن مجید کی کون سی
١٣٥
آیت میں یہ لکھا ہے کہ چھٹے ہزار میں حضرت محمد ﷺ مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوں گے؟۔
..........
- ٦........... ”میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اور خدا کی
دوسری کتابوں پر قرآن شریف پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١‘ خزائن ص ٢٢٠ ج ٢٢)
- ٧........... ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا توریت، انجیل اور قرآن پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩‘ خزائن ص ٤٤٢ ج ١٧)
- ٨........... ”ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن
شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠‘ خزائن ص ١٤٠ ج ١٩)
- ٩........... مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہیں: ”جہاد (یعنی دینی لڑائیوں) کی
شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا........... پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ‘ خزائن ص ٤٤٣ ج ١٧)
- ١٠........... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣‘ خزائن ص ١٦٨ ج ٢٢)
- ١١........... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری
دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٠٧ ط ٣)
کیا مرزا قادیانی سے پہلے کسی مجدد نے یہ دعویٰ کیا ہے اور اپنے وجود کو معیار کفر و اسلام قرار دیا ہے؟۔
١٣٦
١٢............ امام حسینؓ پر فضیلت: ”میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“
(نزول المسیح ص ٨١‘ خزائن ص ٤٧٩ ج ١٩)
١٣............ حضرت ابو بکر صدیقؓ پر فضیلت: ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“
(معیار الاخیار اشتہار مرزا قادیانی تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٠‘ مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٨ ج ٣)
١٤............ ”مجھ کو وہ چیز دی گئی جو دنیا اور آخرت میں کسی شخص کو بھی نہیں دی گئی۔“
(الاستفتاء‘ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٧‘ خزائن ص ٧١٥ ج ٢٢)
نوٹ : لاہوری دوستوں سے گزارش ہے کہ کسی مجدد نے ایسے دعوٰی کئے ہیں؟۔
١٥............ حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت: ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧‘ خزائن ص ٥٧٥ ج ٢٢)
١٦............ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت :
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٧‘ خزائن ص ١٨٠ ج ٣)
١٧............ حضرت سید المرسلینﷺ پر فضیلت: ”ہمارے نبی کریمﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس (مرزا قادیانی کے) وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧١‘ خزائن ص ٢٦٦ ج ١٦)
اگر یہ اقتباس کافی نہ ہو تو دوسرا ملاحظہ فرمائیے :
٧١٣
”اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ھی ظاہر فرمائی گئی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١‘ خزائن ص ٤٧٣ ج ٣)
- ١٨........... ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گزر
چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠١‘ خزائن ص ١١٧‘ ١١٨ ج ٢١)
نوٹ : کیا کسی مجدد نے تیرہ سو سال میں اس قسم کا دعویٰ کیا ہے ؟۔
- ١٩........... ”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو
ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٣‘ خزائن ص ١٥٣ ج ١٧)
”میری تائید میں اس (خدا تعالیٰ) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ٤ جولائی ١٩٠٦ء ہے اگر ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧‘ خزائن ص ٧٠ ج ٢٢)
- ٢٠........... ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے
دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٤‘ خزائن ص ٤٤٢ ج ١٧)
غالباً اس قدر اقتباسات میرے دعویٰ کے اثبات کے لئے کافی ہوں گے۔
معیار دہم : کارہائے نمایاں
دسواں معیار ایک مجدد کی شناخت کا یہ ہے کہ اس کی بعثت سے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو خصوصاً اور دنیا کو عموماً کیا فائدہ پہنچا؟ اسلام اور مسلمانوں کی کس کس رنگ میں اور کس حد تک خدمت کی؟ ان کے خیالات اور معتقدات کی کس حد تک اصلاح ہوئی؟ اسلام کو
١٣٨
دیگر مذاہب پر کس قدر غلبہ حاصل ہوا؟ اسلام کی حقانیت پر کس پایہ کی کتابیں لکھیں؟ ان سے علماء اور عوام نے کس قدر استفادہ کیا؟ کیا مجدد نے کوئی علمی کارنامہ اس مرتبہ کا اپنے پیچھے چھوڑا جس کے مطالعہ سے اخلاف کے ایمان وایقان میں اضافہ ہوسکے؟ کیا اس کی کسی تصنیف یا خدمت کے سامنے علماء نے سر تسلیم خم کیا؟ کیا مجدد نے اسلام کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا؟ کیا اس کی زندگی مسلمانوں کے لئے شمع ہدایت بنی؟۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی اصلاحی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ امام شافعیؒ کے دینی اور علمی کارنامے روز روشن کی طرح چمک رہے ہیں۔ امام غزالیؒ کی احیاء العلوم‘ امام رازیؒ کی تفسیر کبیر ‘مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات اور شاہ ولی اللہؒ کی حجۃ اللہ البالغہ نے ہر زمانہ میں علمائے اجل سے خراج تحسین وصول کیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن حنبلؒ کی علمی اور مذہبی کتب اور اعلائے کلمۃ الحق کے معاملہ میں ان کا بے نظیر استقلال کسی دانشمند سے پوشیدہ نہیں۔ سید احمد صاحب رائے بریلویؒ کے اصلاحی کارنامے بچہ بچہ کی زبان پر ہیں۔ دار العلوم دیوبند اور علمی تصانیف مولانا محمد قاسمؒ کی مذہبی خدمات پر گواہ ہیں اور اسلامی دنیا ان سب کے احسانات کے بوجھ سے دبی ہوئی ہے اور ان کے خلوص اسلامی خدمات کی معترف نظر آتی ہے۔
لیکن مجدد صدی چہار دہم کا نقشہ ان سب حضرات سے مختلف ہے۔ مرزا قادیانی نے ٢٣ سال نبوت کا اعلان کیا۔ عالم‘ مناظر‘ امام‘ مجدد‘ محدث‘ مسیح‘ مہدی‘ نبی‘ کرشن‘ رُدّر گوپال‘ بروز محمد اور ابن اللہ سبھی کچھ بنے لیکن اسلام یا مسلمانوں کو آپ کے وجود باجود سے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔
اگر ہم مرزا قادیانی سے کسی اعلیٰ درجہ کی علمی تصنیف کی اس بناء پر توقع نہیں کر سکتے کہ ان کی دماغی حالت صحیح نہ تھی اور حجۃ اللہ البالغہ کے پایہ کی کتاب لکھنے کے لئے علوم باطنی و ظاہری کے علاوہ صحت دماغی اولین شرط ہے تاہم مراق اور ہسٹیریا کے دوران کے باوجود مختلف جسمانی اور دماغی عوارض کے باوجود جن کا انہیں اور ان کے اتباع دونوں کو
١٣٩
اعتراف ہے جو کچھ خدمت اسلام والمسلمین ان سے بن پڑی اس کا مختصر حال ذیل میں درج کیا جاتا ہے لیکن اس کی تفصیل سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دماغی اور جسمانی حالت کے متعلق چند شواہد پیش کر دیئے جائیں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ یہ باتیں بلاوجہ ان سے منسوب کر دی گئی ہیں:
- ١.......... ضعف کی شکایت: ”دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ
پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے‘ دق کی بیماری کا اثر ابھی کلّی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالت مردمی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا جواب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلا پیش آوے۔“
(حاشیہ نزول المسیح ص ٢٠٩‘ خزائن حاشیہ ص ٥٧٨ ج ١٨)
- ٢.......... ”مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب السلام علیکم
.......... مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی‘ سستی اور رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرضیکہ میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ١٩ جنوری ١٨٨٧ء۔“
(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ٢ ص ١٣‘ ١٤١ مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی)
- ٣.......... ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو
پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ١٨٨٨ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا.......... پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کو ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے.......... میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے
١٤٠
تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ (ہسٹیریا کے) دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا؟۔ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦‘ ١٧ روایت نمبر ١٩ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
- ٤.......... ”مراق کا مرض حضرت (مرزا قادیانی) کو موروثی نہ تھا بلکہ خارجی
اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اسکا باعث سخت دماغی محنت‘ تفکرات‘ غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔“
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٢٥ شمارہ ٨ ص ١٠ اگست ١٩٢٦ء)
- ٥.......... ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ
حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥ روایت ٣٦٨ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)
- ٦.......... ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی
جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی (چادروں سے مراد بیماریاں ہیں) اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ تشحیذ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء‘ اخبار بدر قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ ملفوظات ص ٤٤٥ ج ٨)
- ٧.......... ”مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے
میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا.......... دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٦٣ خزائن ص ٣٧٦‘ ٣٧٧ ج ٢٢)
١٤١
٨............ ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں.............ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری.............ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔“
(ضمیمہ براہین حصہ ٥ ص ٤‘ خزائن ص ٣٧٠‘ ج ٢١)
٩............. ”حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر‘ درد سر‘ کمی خواب‘ تشنج دل‘ بد ہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٢٦ شمارہ ٥ ص ٢٦ مئی ١٩٢٧ء)
١٠............ ”عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہو گئی ہے .............اگر ایک سطر بھی لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے.............ایسا ہی میری بیوی بھی دائم المرض ہے۔ امراض رحم و جگر دامن گیر ہیں۔“
(مندرجہ اخبار بدر قادیان ٢١ مئی ١٩٠٦ء‘ مرزا کی بیوی کو مراق تھا‘ منظور الٰہی ص ٣٤٤)
(الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات ١٢ فقير)
ناظرین جس شخص کی دماغی حالت یہ ہو اس سے احیاء العلوم یا حجتہ اللہ البالغہ کے پایہ کی کتاب کی توقع کرنا بے سود ہے۔ تاہم جو کچھ خدمات مرزا قادیانی نے انجام دیں وہ مختصر طور پر ذیل میں درج کی جاتی ہیں :
١............. پہلا کارنامہ مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ آپ نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کو ناقص قرار دے دیا۔ اب یہ کلمہ کسی کو مسلمان نہیں بنا سکتا جب تک آپ کی نبوت کا اقرار اس کے ساتھ نہ کیا جائے۔ آپ سے پہلے کسی مجدد نے اپنے وجود کو شرط اسلام قرار نہیں دیا لیکن آپ کا ارشاد یہ ہے :
”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٠٧ طبع ٣)
نیز فرمایا مجھے الہام ہوا کہ :
”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا تیرا
١٤٢
مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ ص ٣٢٦ ط ٣ اشتہار معیار الاخبار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧‘ مجموعہ اشتہارات ص ٢٧٥ ج ٣)
- ٢................ دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے جہاد کو منسوخ کر دیا۔
(حوالہ مذکور ہو چکا)
- ٣................ تیسرا کارنامہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی تین عظیم الشان
خوبیوں یعنی حریت‘ اخوت اور مساوات کو مٹا ڈالا۔ تفصیل اس کی یہ ہے :
- الف................ مرزا قادیانی نے تمام عمر حریت کے خلاف جہاد کیا۔ ہزاروں اشتہار
طبع کرائے۔ ممالک اسلامیہ میں بھیجے پچاس الماریاں کتابیں لکھ ڈالیں۔ مسلمانوں کو غلامی کے فوائد سے آگاہ کیا۔
- ب................ مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ کسی مسلمان کے ساتھ
نماز نہ پڑھو‘ نہ کسی مسلمان کا جنازہ پڑھو‘ نہ اپنی لڑکی دو‘ نہ برادرانہ تعلقات رکھو۔
- ج................ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم کر کے تمام انسانوں کو
انسانوں کی اطاعت سے آزاد کر کے دنیا میں حقیقی مساوات قائم کر دی تھی لیکن مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو اپنی اطاعت کے لئے مجبور کیا اور صفت مساوات کو زائل کر دیا۔
- ٤................ چوتھا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے قادیان کو دار الامان قرار
دے کر ایک عدد مینارۃ المسیح اور ایک عدد بہشتی مقبرہ وہاں تعمیر کرا دیا تاکہ مینارہ پر جب بڑا لالٹین جلایا جائے تو تمام پنجاب کے مسلمانوں کے قلوب اس کی روشنی سے منور ہو جائیں اور بہشتی مقبرہ کی تعمیر نے مسلمانوں کی جملہ مشکلات حل کر دیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا۔ (ملفوظات احمدیہ حصہ ٧ ص ٤٩٦ مرتبہ منظور الہٰی لاہوری)
- ٥................ پانچواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے مناظرہ میں دشنام طرازی کا پسندیدہ
طریقہ ایجاد فرمایا جس کی بدولت فتنہ و فساد کا دروازہ کھل گیا۔
١٤٣
- ٦............ چھٹا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلام میں چند غیر اسلامی عقائد مثلاً
حلول بروز اور تناسخ داخل فرمادیئے۔
خطبہ الہامیہ ص ١٨٠‘ خزائن ص ٢٠٧ ج ١٦ پر مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
”ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“ یعنی جن کو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں وہ دراصل آنحضرت محمد ﷺ تھے جو مرزا قادیانی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ جل جلالہ
- ٧............ ساتواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے غیر اسلامی اصطلاحات اور وہ باتیں
جن کی قرآن مجید تردید کرتا ہے دوبارہ اسلام میں داخل کر دیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”لم یلد ولم یولد ۔“
لیکن آپ کو الہام ہوتا ہے : ”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
”انت منی وانا منك“ (اے مرزا) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤‘ خزائن ص ٧٧ ج ٢٢‘ تذکرہ ص ٤٢٢ ط ٣)
”انت من مآئنا و ہم من فشل“ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل (بزدلی) سے۔
(انجام آتھم ص ٥٩‘ خزائن ج ١١ ص ٥٥‘ ٥٦‘ تذکرہ ص ٢٠٤ طبع ٣)
”انت منی بمنزلۃ ولدی“ اے مرزا تو ہمارے نزدیک مثل ہماری اولاد کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦‘ خزائن ص ٨٩ ج ٢٢‘ تذکرہ ص ٥٦٢ ط ٣)
- ٨............ آٹھواں کارنامہ یہ ہے کہ غلط پیشگوئیاں کر کے آپ نے پیشگوئی کے
معیار کو پست کر دیا اور لوگوں کا ایمان انبیائے سابق کی پیشگوئیوں کی صحت کے متعلق بھی متزلزل ہو گیا۔
- ٩............ نواں کارنامہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے
١٤٤
وحدت ملی کو پارہ پارہ کر دیا بلکہ نبوت کو بازیچہ اطفال بنا دیا۔ چنانچہ اس وقت آپ کی امت میں چھ سات آدمی نبوت کے مدعی موجود ہیں جن پر بارش کی طرح وحی الہی نازل ہو رہی ہے۔
١٠............ دسواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے سب سے پہلے انعامی اشتہارات کی بدعت کو فروغ دیا۔ اس طرح مذہب کو تجارتی رنگ دے کر پروپیگنڈہ میں سہولتیں پیدا کر دیں۔
١١............ گیار ہواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے متضاد باتیں بیان کر کے مجددیت کو اس قدر سہل الحصول بنا دیا کہ اب ہر شخص اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ تناقض کی دو مثالیں ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں :
الف............ ”میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب و الحاد و زندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جبکہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ص ٢٧٩ ج ٧)
ب............ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ الحکم قادیان ٦ مارچ ١٩٠٨ء، بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
ج............ ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ص ٤٨١ ج ١٥)
د............ ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ پھر ریویو ص ٤٧٨ پر لکھا ہے کہ : ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢)
١٢............ بارہواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے بہت تلاش و تحقیق کے بعد مسیح
١٤٥
ناصری کی قبر کا پتہ مسلمانوں کو بتایا جس سے ان کی ایمانی قوت میں بہت اضافہ ہوا۔
١٣........... تیرہواں کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم صدیقہ کی توہین کر کے عیسائیوں کو مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ اور ان کی ازواج مطہرات پر اعتراض کریں۔
الف........... ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بر خلاف تعلیم توریت کے عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا...........مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ کہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ص ١٨ ج ١٩)
ناظرین! ملاحظہ فرمایا کیسے طنز آمیز کنایات ہیں اور جو کچھ حمل کے متعلق لکھا ہے وہ خلاف نصوص قرآنیہ بھی تو ہے۔ قرآن مجید تو لکھتا ہے کہ مریم صدیقہ تھیں لیکن مرزا قادیانی کہتا ہے کہ انہیں یوسف نجار سے حمل ہو گیا تھا۔ اس لئے بزرگان قوم کے اصرار سے بوجہ حمل یوسف نجار سے نکاح کر لیا۔ اللہ اللہ کس قدر بے باکی ہے۔
ب........... ”ہاں! آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥ خزائن ص ٢٨٩ ج ١١)
دنیا میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے جب مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے پیشوا جناب یسوع مسیح اور ان کی والدہ مریم بتول کی شان میں ایسی گستاخیاں کیں تو انہوں نے بھی آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں۔
١٤........... چودھواں کارنامہ آپ کا یہ ہے کہ قادیان کو مکہ معظمہ کا ہمسر بنا دیا :
١٤٦
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص ٥٢)
- ١٥............ پندرہواں کارنامہ آپ کا یہ ہے کہ اپنی برأت کے لئے تمام انبیاء کو
اپنی صف میں لاکر کھڑا کیا جب مسلمانوں نے آپ کے کسی فعل پر اعتراض کیا تو آپ نے ہمیشہ یہ کہہ کر مخالفین کا منہ بند کر دیا کہ یہ اعتراض تو انبیائے ماسبق پر بھی پڑتا ہے۔
”میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جائیں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ خزائن ص ٥٧٥ ج ٢٢)
اب میں لاہوری دوستوں سے صرف ایک سوال کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ آج یہ لوگ ہمیں تلقین کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ محض مجددیت کا تھا اور ہم انہیں صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں جن کے انکار سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا لیکن آج سے ٢٢ سال پیشتر یہی لوگ مرزا قادیانی کو جو کچھ تسلیم کرتے تھے ذیل کے اقتباسات سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے :
- الف ............ ”ہم حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی و رسول
اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔............ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔“
(پیغام صلح ج اول نمبر ٣٤ مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩١٣ء)
- ب ............ ”ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس زمانہ کے
سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے تھے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“
(پیغام صلح لاہور ج اول نمبر ٢٥ مورخہ ٧ ستمبر ١٩١٣ء)
١٤٧
کیا میرے لاہوری دوست مجھے اس حقیقت سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ ١٩١٣ء اور ١٩٣٥ء میں فرق کیوں ہے؟۔ ان کے عقائد میں یہ تبدیلی کیوں پیدا ہو گئی ہے؟۔ آج وہ اس شخص کو جو مرزا قادیانی کو رسول کہتا ہے کافر قرار دیتے ہیں لیکن ١٩١٣ء میں مرزا قادیانی کی رسالت کا اعلان ہی معیار ایمان تھا؟۔ آخر یہ حیرت انگیز انقلاب کیونکر پیدا ہو گیا۔
آخر میں اس حقیقت کا اظہار کرنا ضروری ہے کہ میں نے اس مضمون میں کوئی بات اپنی طرف سے نہیں لکھی ہے سب کچھ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے بیانات اور اعلانات پر مبنی ہے۔ میں نے اپنی طرف سے نہ کوئی بات زیادہ کی ہے نہ کم۔ صرف وہ نتائج جو ان تحریروں سے برآمد ہوتے ہیں ہدیہ ناظرین کر دیئے ہیں۔ میرا مقصد اس مضمون سے کسی کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ صرف مسلمان بھائیوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا ہے۔ فقط !
١٤٨
القرآن الكريم
بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَهٗ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ
رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
ترجمہ: ”نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں“
(الاحزاب، آیت نمبر ٤٠)
~ ٩
الحديث الشريف
بسمہ تعالیٰ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّہٗ سَيَكُوْنُ فِیْ اُمَّتِيْ كَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِيٌّ وَّاَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
ترجمہ : میری امت میں تیس کذاب اور دجال پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے‘ حالانکہ میں خاتم النّبیّن ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(ترمذی، جلد دوم، ص ٤٥، ابواب الفتن، حدیث صحیح)
خطبات ختم نبوت جلد چہارم
مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنیؒ مجاہد تحریک ختم نبوت آغا شورش کشمیریؒ مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ مناظر اسلام مولانا محمد امین اوکاڑویؒ محقق العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ مفکر ملت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ امام حرم شیخ عبداللہ ابن السبیل حفظہ اللہ مفکر اسلام علامہ خالد محمود مدظلہ فدائے ملت مولانا سید محمد اسعد مدنی مدظلہ استاذ الحدیث مولانا سید محمد ارشد مدنی مفتی ہند مولانا مفتی ظفیر الدین مدظلہ شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمن درخواستی حضرت مولانا جمیل احمد نظیری مدظلہ شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلویؒ خطیب سندھ مولانا سائیں عبدالغفور قاسمی جسٹس محبوب احمد میاں وفاقی شرعی عدالت حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی مدظلہ
کی تقاریر شامل ہیں۔
صفحات: 408 ہدیہ: 180/-
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم۔اے جناح روڈ، ٥۔حسین سٹریٹ، مسلم ٹاؤن، لاہور مکتبہ لدھیانویؒ بالمقابل مغربی دروازہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی مکتبہ ختم نبوت بیرون دہلی دروازہ، لاہور
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خوشخبری
احتساب قادیانیت جلد ہفتم
مجموعہ رسائل ردّ قادیانیت حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
- ١... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
- ٢... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت وافضلیت
- ٣... عبرت خیز
- ٤... فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)
- ٥... تتمہ فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)
- ٦... فیصلہ آسمانی (حصہ دوم)
- ٧... فیصلہ آسمانی (حصہ سوم)
- ٨... دوسری شہادت آسمانی (اوّل‘ دوم)
- ٩... تنزیہہ ربانی از تلویث قادیانی
- ١٠... معیار صداقت
- ١١... حقیقت المسیح
- ١٢... معیار المسیح
- ١٣... ہدیہ عثمانیہ وصحیفہ انواریہ
- ١٤... حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے کل چودہ رسائل وکتب ردّ قادیانیت پر ہمارے علم میں ہیں۔ ان میں سے پہلے تین صحائف رحمانیہ پر مشتمل احتساب قادیانیت جلد پنجم میں شائع ہو گئے ہیں۔ فالحمد للہ! باقی گیارہ کا مجموعہ احتساب قادیانیت جلد ہفتم ہو گی۔ آپ کا ایک رسالہ شہادت آسمانی حصہ اوّل بھی ہے۔ جسے خود مصنف مرحوم نے دوسری شہادت آسمانی میں مکمل سمو دیا تھا۔ حصہ اوّل مکمل دوسرے حصہ میں بھی موقع بہ موقع شامل ہے۔ اس لئے دوسری شہادت آسمانی کے ہوتے ہوئے حصہ اوّل تکرار کے باعث اس فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ ان رسائل پر کام شروع ہے۔ رفقاء اور دیگر جماعتی حضرات دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت آسانی پیدا فرمائیں۔
آمین! بحرمۃ النبی الکریم!
ضروری اطلاع
مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت :-/150
مقدمہ قادیانی مذہب پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت :-/75
خاتم النبیین حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ ترجمہ : مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/75
رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ قیمت :-/100
تحفہ قادیانیت جلد اول مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150
تحفہ قادیانیت جلد دوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150
تحفہ قادیانیت جلد سوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150
تحفہ قادیانیت جلد چہارم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/150
احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ قیمت :-/100
احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ قیمت :-/150
احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ قیمت :-/150
احتساب قادیانیت جلد چہارم حضرت یحییٰؒ ، حضرت تھانویؒ حضرت عثمانیؒ ، حضرت میرٹھیؒ قیمت :-/150
احتساب قادیانیت جلد پنجم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت :-/100
احتساب قادیانیت جلد ششم قاضی سلیمان منصور پوریؒ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ قیمت :-/100
قومی تاریخی دستاویز مولانا اللہ وسایا قیمت :-/100
رفع نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبد اللطیف مسعود قیمت :-/100
تحریف بائبل بزبان بائبل مولانا عبد اللطیف مسعود قیمت :-/75
سوانح مولانا تاج محمودؒ صاحبزادہ طارق محمود قیمت :-/80
قلمی جہاد کی سرگزشت مولانا اللہ وسایا قیمت :-/70
تحفہ قادیانیت (انگلش) مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت :-/100
نوٹ : تحفہ مکمل سیٹ رعایتی قیمت :-/400 احتساب قادیانیت مکمل سیٹ رعایتی قیمت :-/600
رابطہ : دفتر مرکزی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122 542277