قادیانیت
کے
تعاقب
میں
تحقیق و تدوین : محمد طاہر رزاق
بسم الله الرحمن الرحيم
قال الله تعالى فى القرآن المجيد
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن
رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب)
قال النبى صلى الله عليه وسلم
انا خاتم النبيين لا نبى بعدى
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز 8
قادیانیت
کے
تعاقب میں
ترتیب و تدوین
محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انتساب
- جنوں کی داستان
- عشق کی روایت
- جُہد کی حکایت
- رزم گاہ حیات میں پرچم احرار کی اُڑان
- تحفظ ختم نبوت کا نقیب
- امیر شریعتؒ کا عندلیب
سید محمد کفیل شاہ بخاری
کے نام
حرفِ سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکرگزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا، جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔
(آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
آئینہ مضامین
اگر قادیانی نہ ہوتے تو--- (محمد طاہر رزاق) 8 تاثرات--- (الحاج محمد نذیر مغل) 13 مجذوب فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں--- (انور طاہر) 14 رواداری کے نام پر آئین کی خلاف ورزی 18 ربوہ کی کہانی مرزا طاہر کی زبانی 21 ظفر اللہ قادیانی کا خبث باطن 28 قادیانیت' خطرہ--- جائزہ--- تجاویز 29 مس بے نظیر بھٹو کی غیرت کہاں گئی؟ 45 سندھ میں قادیانیوں کا اجتماع 48 ضیاء الحق کو شہید کس نے کیا؟ 50 مرزا طاہر اور امریکی کانگریس 87 ہائے قادیان--- ہچکیاں اور سسکیاں 90 قادیانی فتنے کی نئی شر انگیزی 96 ریلوے نظام میں قادیانیوں کا عمل دخل 99
پوشیدہ سازشیں ـــــــ بے نقاب 103 جنوبی افریقہ میں قادیانی مقدمہ کے بارے میں مولانا 109 عبدالرحیم اشعر سے ایک گفتگو اسلام اور وطن کے غدار قادیانیوں کے سالانہ جلسے میں 118 بھارت زندہ باد کے نعرے روس میں پاکستانی طلبہ کون ہیں؟ 120 قادیانی دیوالی 123 ء کی اینٹی قادیانی تحریک اور ممتاز دولتانہ 129 قادیانی خلافت کی گدی اور حکیم نورالدین کا خاندان 134 مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے 142 پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور قادیانی سازشیں 150 قادیانیوں نے مرزا طاہر کی بیعت سے انکار کر دیا 168 قادیانی وڈیرے نے مسلمانوں کو جبراً مرتد بنا لیا 170 سر ظفراللہ نے پاکستان کو کیا دیا؟ 173 قادیانیت دور حاضر کی بدترین آمریت 176 قادیانیت کی ایک رائل فیملی کا ایک عزیز پیرز ہوٹل راولپنڈی کا 185 مالک جس کا بدکاری کا اڈہ چلانے کے جرم میں منہ کالا کیا گیا لیاقت علی خان کے قتل کی سازش 193
اگر قادیانی نہ ہوتے ----- تو -----
- O - اسلام کے مقابلہ میں ایک جعلی اسلام جنم نہ لیتا -----
- O - دنیا میں انگریزی نبوت کا جال نہ بچھایا جاتا -----
- O - اسلام کو ارتدادی لباس نہ پہنایا جاتا -----
- O - قرآن میں تحریف و تبدل کے طوفان نہ اٹھائے جاتے -----
- O - احادیث رسول کو مسخ کر کے ان کے معانی و مفاہیم کو بدلا نہ جاتا -----
- O - مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقابلہ میں قادیان و ربوہ آباد نہ کیے جاتے -----
- O - رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس پر خاک نہ اڑائی جاتی -----
- O - حریم نبوت پہ ارتدادی کتے نہ بھونکتے -----
- O - انگریز کو ہندوستان میں استحکام نہ ملتا ----- تحریک آزادی بہت جلد اپنی منزل پہ
پہنچ جاتی -----
- O - انگریز کا جاسوسی کا نظام بہت کمزور ہوتا -----
- O - بیرونی دنیا میں ہزاروں بد قسمت قادیانیت کو اسلام سمجھ کر قبول نہ کرتے -----
- O - ہندوستان میں ہندوؤں اور عیسائیوں کو توہین رسالت کی جرات نہ ہوتی -----
امہات المومنین اور رنگیلا رسول ایسی غلیظ اور متعفن کتابیں نہ لکھی جاتیں -----
- O - تقسیم ہندوستان میں ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہوتا ----- گورداسپور کے
ہزاروں مسلمان موت کے گھاٹ نہ اترتے ----- مسلمان عورتیں ہندوؤں اور سکھوں کی بربریت کی نذر نہ ہوتیں ----- ان کے بچے اور گھر بار جلائے نہ جاتے -----
- O - مسئلہ کشمیر پیدا نہ ہوتا ----- سارا کشمیر پاکستان میں شامل ہوتا ----- کیونکہ کشمیر
جانے کے لیے بھارت کے پاس صرف گورداسپور ہی ایک زمینی راستہ ہے -----
- O ۔ بھارت کے ساتھ پانی کا تنازعہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔ کیونکہ پاکستان کے تقریباً تمام بڑے
دریاؤں کا منبع کشمیر ہے۔۔۔۔۔
- O ۔ پاکستانی فوج میں موجود قادیانی جرنیل قادیان پہنچنے کے لیے بار بار کشمیر کے محاذ پر
جنگیں شروع نہ کراتے۔۔۔۔۔
- O ۔ لاکھوں کشمیری مجاہدین کو موت کے گھاٹ نہ اتارا جاتا۔۔۔۔۔ جیلوں میں اذیتیں نہ
دی جاتیں۔۔۔۔۔
- O ۔ بین الاقوامی سازشوں کا اڈہ ”ربوہ“ معرض وجود میں نہ آتا۔۔۔۔۔
- O ۔ جی۔ ایچ۔ کیو کے دفاعی راز اسلام دشمن طاقتوں کے پاس نہ پہنچتے۔۔۔۔۔
- O ۔ سر ظفر اللہ پاکستان کا وزیر خارجہ نہ بنتا۔۔۔۔۔ اور خارجی تعلقات میں پاکستان تباہ نہ
ہوتا۔ بیرون ممالک ہمارے سفارت خانے قادیانیت کی تبلیغ کے اڈے نہ بنتے۔۔۔۔۔ اور کئی اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات خراب نہ ہوتے۔
- O ۔ ہزاروں مسلمان نوجوان نوکری اور چھوکری کے لالچ میں بے ایمان اور مرتد نہ
بنتے۔۔۔۔۔
- O ۔ پاکستان کو قادیانی ریاست بنانے کے لیے فوج میں ہولناک سازشیں جنم نہ
لیتیں۔۔۔۔۔
- O ۔ لیاقت علی خان کو قتل کر کے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد نہ رکھی جاتی۔۔۔۔۔ یاد
رہے کہ لیاقت علی خان کا جرمن نژاد قاتل ”کنزلے“ سر ظفر اللہ کا لے پالک بیٹا تھا۔۔۔۔۔
- O ۔ پاکستان کو 1965ء کی جنگ میں جھونک کر ملک کی زرعی اور صنعتی ترقی کو تباہ نہ کیا
جاتا۔۔۔۔۔ اور سترہ دن کی جنگ سے ملک کا خزانہ خالی نہ ہوتا۔۔۔۔۔
- O ۔ بیرون ممالک کفر (قادیانیت) کی تبلیغ کے لیے حکومت پاکستان کے خزانے کے
اربوں روپے ہڑپ نہ ہوتے۔
- O ۔ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔ نوے ہزار اسلامی فوج قید نہ ہوتی۔۔۔۔۔ مسلمان
فوج کی پوری دنیا میں رسوائی نہ ہوتی۔۔۔۔۔ ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی بنگالی مسلمانوں میں احساس محرومی پیدا نہ کر سکتا۔۔۔۔۔ انہیں علیحدگی کی بغاوت پر آمادہ نہ کر سکتا۔۔۔۔۔ علیحدگی
پسند بنگالی مسلمان دوسرے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ نہ رنگتے ۔۔۔۔۔
- O - ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ذریعہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل اسرائیل نہ
پہنچتا ۔۔۔۔۔ اسرائیل کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ آور نہ ہوتا ۔۔۔۔۔ کیونکہ اسرائیل کی فوج میں چھ سو قادیانی بھرتی ہیں ۔۔۔۔۔ اگر چند منٹ قبل اس سازش کا پتہ نہ چلتا ۔۔۔۔۔ تو نعوذ باللہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ تباہ ہو جاتا ۔۔۔۔۔
- O - ڈاکٹر منیر احمد قادیانی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اربوں روپے ہضم نہ کر
سکتا ۔۔۔۔۔ اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈھانچے کو تباہ نہ کر سکتا ۔۔۔۔۔
- O - اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے قادیانی مختلف محکموں میں اپنی قادیانی لابی کی کیمپ بھرتی نہ کر
سکتے ۔۔۔۔۔
- O - ہندوستان میں تردید جہاد کی تبلیغ نہ ہوتی ۔۔۔۔۔
- O - مسئلہ سندھ پیدا نہ ہوتا ۔۔۔۔۔ سندھ میں قتل و غارت کے بازار گرم نہ
ہوتے ۔۔۔۔۔
- O - پاکستان میں علاقائی اور لسانی تنظیمیں نہ بنتیں ۔۔۔۔۔
- O - وطن عزیز میں دہشت گردی اور مذہبی منافرت پیدا نہ ہوتی ۔۔۔۔۔
- O - حکومتوں کی بار بار ٹوٹ پھوٹ سے عدم استحکام اور بے یقینی کی فضا پیدا نہ
ہوتی ۔۔۔۔۔
- O - پاکستان توڑنے کی سازشیں کبھی سر نہ اٹھاتیں ۔۔۔۔۔
- O - پاکستان کو بدنام کر کے لاکھوں قادیانی بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کر کے
اربوں ڈالر کما کر قادیانی جماعت کا پیٹ نہ بھرتے ۔۔۔۔۔
- O - آج ہمارے معاشرے میں عریانی اور فحاشی نے پنجے نہ گاڑے ہوتے ۔۔۔۔۔
- O - مرزا قادیانی ملعون کے جھوٹی نبوت کا دروازہ کھولنے کے بعد ہندوستان میں مزید
جھوٹے نبی پیدا نہ ہوتے ۔۔۔۔۔ اور وہ اسلام کی بیخ کنی نہ کرتے ۔۔۔۔۔
- O - پاکستان میں قرآن پاک کو جلانے کے واقعات نہ ہوتے ۔۔۔۔۔ قرآن پاک کے
نسخوں کو گندے نالوں میں نہ پھینکا جاتا ۔۔۔۔۔
- کپڑوں پر اللہ اور نبی اکرمؐ کے نام نہ چھاپے جاتے ----- جوتوں کے تلووں پر لفظ
اللہ نہ لکھا جاتا ----- بندر کے ہاتھوں میں سعودی عرب کا کلمہ طیبہ والا پرچم نہ تھمایا جاتا -----
- ملعون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین پیدا نہ ہوتے -----
- پاکستان میں نفاذ اسلام کی تحریکیں ناکام نہ ہوتیں -----
- پاکستان میں تحفظ ختم نبوت کی تحریکیں نہ چلتیں ----- جن میں دس ہزار مسلمان
شہید ہوئے ----- دو لاکھ مسلمان قید ہوئے ----- دس لاکھ متاثر ہوئے -----
- ہندوستان کے بہترین علماء ، بہترین خطیب ، بہترین ادیب ، بہترین صحافی ، بہترین
شاعر ، بہترین دانشور قادیانی فتنے کی سرکوبی میں کھپ گئے ----- ان بہترین لوگوں نے جتنی جدوجہد اور محنت اس فتنہ کے خلاف کی ----- اتنی جدوجہد اور محنت سے ایک براعظم مسلمان ہو سکتا تھا -----
- امت کے سرکردہ افراد قادیانی فتنہ کی گوشمالی میں اتنے مصروف رہے ----- کہ
ہندوستان میں کئی اور فتنوں کو سر اٹھانے کا موقعہ مل گیا -----
اسلام پر قادیانیوں کی پے در پے یلغاریں
تخت ختم نبوت پہ قادیانیوں کی مسلسل ڈاکہ زنی
قدم قدم پہ ارتداد کے یہ بچھے ہوئے کانٹے
نگر نگر میں لگے ہوئے نبوت کے ڈاکوؤں کے پھندے
گاؤں گاؤں میں ایمان سوز بارودی سرنگیں
شہر شہر میں گھاتیں اور ارتدادی وارداتیں
اور پورے ملک میں پھیلائے گئے قادیانی جال
لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر ہماری خاموشی ----- مسلسل خاموشی ----- کیا یہ خاموشی ہمارے ایمان کی موت کا اعلان تو نہیں؟ کیا یہ خاموشی رسول اللہ ﷺ سے بے تعلقی کا اعلان تو نہیں؟
علمائے کرام یہ خاموشی کیوں؟ مشائخ عظام یہ چپ کیوں؟ پیران کرام لبوں پر یہ سکوت کیوں؟ دانشور! یہ زبان بندی کیوں؟ ملی رہنماؤ! ہونٹوں پر یہ تالے کیوں؟ اے خطیبو! کچھ تو بولو اے ادیبو! کچھ تو لکھو اے شاعرو! کچھ تو کہو اے دانشورو! کچھ تو اظہار کرو۔
دیکھو وقت تمہاری ایمانی غیرت اور تمہارے عشق رسولؐ پہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے
لٹ رہا ہے مصر کا بازار ہم خاموش ہیں
نیل کے ساحل پہ اترے رہزنوں کے قافلے
دیدہ اسلام ہے خونبار ہم خاموش ہیں
آج کیونکر مصلحت نے روک دی تیری زباں
آج کیوں اے جرأت اظہار ہم خاموش ہیں
اک ہمیں تھے جن کو توفیق سخن تھی بزم میں
ہم تھے مشرق کے لب گفتار ہم خاموش ہیں
بول ”اے مسلمان!“ خاموشی کی یہ ساعت نہیں
طعنہ زن ہیں ہر طرف اغیار ہم خاموش ہیں
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی ، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور
تاثرات
حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا۔
”قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں“
لہذا قادیانیوں کے خلاف جہاد کرنا اسلام اور پاکستان دونوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اسلام اور پاکستان میں ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے جو اسلام کے خلاف ہو گا وہ پاکستان کا بھی دشمن ہو گا اور جو پاکستان کا دشمن ہو گا وہ اسلام کا بھی دشمن ہو گا۔
صد ہا مبارک باد کے مستحق ہیں جناب محمد طاہر رزاق صاحب جو قادیانیوں کے خلاف جہاد کر کے اسلام اور پاکستان دونوں کی خدمت کر رہے ہیں ہر مسلمان کو ہر لحاظ سے اُن کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
اللہ پاک کے حضور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب محمد طاہر رزاق صاحب کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے اور اُنہیں دنیا و آخرت میں سرفراز و سرخرو کرے۔ (آمین)
خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل
مجذوب---- فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں
عقیدہ ختم نبوت کا فلسفہ اور روح نبی آخرالزمان اور ختم الرسل محمد و احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور اقدس میں دین اسلام کے مکمل بلکہ اکمل ہونے پر یقین کا دوسرا نام ہے۔ نبی اور رسول کی بعثت ہی اس لیے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے جو نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کا۔ ختم نبوت کا عقیدہ تسلیم کرلینے کے بعد محبت اور اطاعت کا مرکز و مرجع اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ہے تو وہی اسی عقیدہ میں مانع و رکاوٹ ہے اور اس عقیدت کا پرچارک کچھ بھی ہونے کا مدعی ہو‘ ختم نبوت کے فلسفہ سے بے خبر اور اس کے ثمر سے استفادہ کرنے والوں میں شامل نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی اپنی اپنی جگہ فکر و عمل کی نئی بستی بسانے کی وجہ سے آخری امت اب بھی اتحاد اور اس کی برکات سے مستفید ہونے کی منتظر ہے۔
ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم اتحاد کی اہمیت اور اس کی بنیاد سے بے خبر ہیں بلکہ یہ ہے کہ جو ذات بابرکات ہمارے درمیان محبت و ہم آہنگی کا باعث ہے‘ اسی سے محبت اور اطاعت کے اپنے سے پیمانے ہمیں ایک دوسرے سے اتنا دور لے گئے ہیں جیسے ہم ایک اللہ‘ ایک رسول‘ ایک دین‘ ایک کتاب اور ایک مرکز پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ یہ نتیجہ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہیں بلکہ اس سے قطعی لاعلم ہونے کی خبر دیتا ہے اور یہی وہ فتنہ ہے جس سے اس عقیدہ کے بڑے علمبردار بھی عملاً صرف نظر سے کام لے رہے ہیں کہ حقیقت سامنے آنے اور پھر اس پر عمل کی دنیا بسنے سے عقیدت
کی دنیا کا محور کوئی نقل نہیں اصل ہو گی۔ نام نہاد ظل نہیں، وہ ہوں گے جن کا پوری امت پر سایہ ہے۔ بروز وغیرہ نہیں روز محشر کے شافع ہوں گے صرف وہی ہوں گے۔ مثل و مثیل کی گنجائش نہ پہلے تھی، نہ ہے اور نہ ہو گی۔
یقین جانئے کہ عقیدہ ختم نبوت یہی ہے اور یہی اس کا تقاضا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی قیامت تک کے لیے رہنما ہیں اور ان کے سوا کوئی اور رہنما نہیں اور اگر کوئی ہے اور ہو سکتا ہے تو وہی جو اس حقیقت کو عام کرے۔ پوری امت گروہ در گروہ ہونے کے باوجود اگر عقیدہ ختم نبوت کے منکرین کے خلاف ایک ہے تو صرف اس لیے کہ ان کو ایک بنانے والا یہی عقیدہ ختم نبوت ہی تو ہے۔ اس عقیدہ کا پرچار جتنا ہوگا، امت میں انتشار و اختلاف کا باعث بننے والے ہی ناکام و نامراد نہیں ہوں گے بلکہ وہ اور بھی زیادہ ہوں گے جنہوں نے خود کو محبت و اطاعت کا محور بنانے کے لیے اصل مرکز و محور اور مرجع و منبع کی جگہ لینے کی ناپاک سازش کی اور دجل و فریب کی ایک ایسی دنیا بسا دی جس کا ہر باسی اپنی اپنی جگہ ایک مکمل فتنہ اور آزمائش ہے کہ کس کس سے کیسے کیسے نپٹیں ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
قادیانیت کو جہاں تہاں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود یہ فتنہ امت مسلمہ کے لیے راکھ میں چنگاری کا کام دے رہا ہے تو صرف اس لیے کہ ہمارے رہنماؤں نے وفا کا ثبوت نہیں دیا۔ وہ جن کی وجہ سے رہنما بنے، انہی کو اور ان ہی کی تعلیمات کو تمام مسائل کا حل قرار نہیں دے رہے وہ نعرے دیتے ہیں، عمل نہیں۔ منبر پر ایثار اور قربانی کا لیکچر دیتے ہیں، عمل کی دنیا میں خود غرضی کا پیکر ثابت ہوتے ہیں۔ صادق و امین نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تذکرہ ان کی زبان پر ہوتا ہے لیکن ان کا کردار جھوٹ، بددیانتی، مکاری، فریب اور بد عہدی سے عبارت ہے۔ ان لوگوں نے اپنے عمل سے دنیا جہاں کی ہر برائی کو کامیابی کی کنجی قرار دے دیا۔ اس کے بعد بھی ہمارا یہ رونا کہ فلاں چند ٹکوں پر قربان ہو گیا اور مذہب کے لیے سرطان بن گیا تو قصور کس کا ہے۔ قادیانیت کی ترقی اب بھی ہمارے لیے پر اسرار ہے تو یہ دین کس کی ہے؟ کوئی گرین کارڈ یا پاکستان سے باہر جانے کے لیے گنبد خضریٰ کے مکین سے بے تعلقی کے ثبوت پہ دستخط کرتا ہے تو یہ جرم کس کا؟ صرف ان کا جنہوں نے دین
اسلام کو علم و دعویٰ سے بڑھ کر عمل کی صورت میں پیش نہیں کیا۔ جنہوں نے دین فروشی بھی معاش کا ایک ذریعہ بنالی۔
عقیدہ ختم نبوت سے قطعی منافی اس صورت حال میں ابھی کچھ لوگ فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں ہیں تو غنیمت ہیں اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ محمد طاہر رزاق صاحب بھی ان میں سے ایک ہیں بلکہ درست الفاظ میں فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں تنہا وہاں جا پہنچے، جہاں ان کے ساتھ کم از کم متین خالد صاحب کو ہونا چاہیے تھا۔
محمد طاہر رزاق اور متین خالد ان دو نوجوانوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے ایک پوری جماعت کا کام کیا ہے۔ اول الذکر نے تصنیف اور دوسرے نے تالیف کے ذریعے قادیانیت کو ہلا کر رکھ دیا اور تصنیف و تالیف کی دنیا میں ایسی رہنما چیزیں لے آئے ہیں جنہیں سامنے رکھتے ہوئے اس کام کو اور زیادہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ محمد متین خالد نے ”ثبوت حاضر ہیں“ کی صورت میں ایسا کام کر دکھایا جو رہتی دنیا میں ان کا نام زندہ رکھے گا۔ لیکن محمد طاہر رزاق نے فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں نت نئے جو تجربے کیے، ان کی اپنی ایک دنیا ہے۔ انہوں نے قادیانیت کش سو، سوا سو کتابچے لکھے۔ یہ تعداد کچھ کم نہیں اور پھر ان میں قادیانیت اور اس کے بانی کو ہر پہلو اور ہر انداز سے زیر موضوع بنایا گیا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے اس فتنہ کا تعارف طنز و مزاح اور قلم کو جس طرح نشتر بنا کر کیا ہے، وہ انہی کا حصہ ہے۔ کہانی اور افسانے کے انداز میں ان کی قادیانیت شکن تحریریں ایک منفرد کام ہے جس نے انہیں مرگ مرزائیت کے لیے کام کرنے والوں میں ایک مقام دے دیا ہے۔
محمد طاہر رزاق نے بس یہی کام نہیں کیا، قادیانیت کے خلاف شعر و شاعری کی دنیا میں جو کام ہوا، اسے انہوں نے ایک جگہ جمع کر لیا۔ اپنے کتابچوں کی تہذیب و تنقیح کرتے رہے اور انہیں کتابوں میں سمو کر محفوظ کر دیا اور اب انہوں نے تصنیف کے ساتھ تالیف کو بھی مستقل طور پر سنبھال لیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف جو بھی کام ہوا، وہ اسے مختلف انداز اور حوالے سے اکٹھا کر رہے ہیں۔ تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز اسی کا ایک حصہ ہے اور ان کا کام جاری ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ”تاریخ احمدیت“
کے نام پر جو کام ہوا، اس کا جواب وہ تنہا دیں گے اور اس طریقے سے دیں گے کہ پڑھا بھی جائے۔ زیر نظر تالیف بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کے مخالفوں کو جکڑنے کے لیے محمد طاہر رزاق جس طرح کڑی سے کڑی ملا رہے ہیں، اس سے مجھے ان سے تعارف کے دن ہی اختلاف رہا لیکن اس کا اظہار میں نے کبھی نہیں کیا اور نہ اب کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ محمد طاہر رزاق تحریک تحفظ ختم نبوت کے کام میں جس جذب و کیف کی منزل پر ہیں، وہاں ان سے بات ممکن نہیں۔ دبے لفظوں میں کہی گئی کوئی بات مکمل ہو جانے سے پہلے ہی وہ پھٹ پڑتے ہیں کہ آپ کو قادیانیوں کو مسلمان بنانے کی فکر ہے۔ میں مسلمانوں کو قادیانیوں سے بچانے کی فکر میں ہوں۔ میں اس کا چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے بے تاب ہوں کہ مسلمان کو اسے دیکھنے میں ہی کراہت محسوس ہو اور وہ بولتے چلے جاتے ہیں کہ دلائل رکھنے والا بھی ان کی خطابت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
طاہر رزاق صاحب، قادیانی تحریک کا تنہا تعاقب کر رہے ہیں۔ انہوں نے جتنا کچھ لکھا، اور جتنا لکھنا اور لکھے ہوئے کام کو جس طرح اکٹھا کرنا چاہیے، اسے مزید مناسب اور مفید طریقہ سے پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی سوچ اور عمل کا اپنا انداز ہے۔ وہ اپنے منصوبے، اپنے اندازے، قرینے اور سلیقے سے مکمل کرنا اور اپنے منفرد کام کے ذریعے کام چلانا چاہتے ہیں۔ میں ان کی کامیابی پر سو فیصد یقین رکھتا ہوں اور ہمہ وقت دعا گو ہوں۔ وہ مجذوب ہیں قادیانی فتنے کے تعاقب کا کام وہ تنہا، جس طرح کرنا چاہتے ہیں، کر کے ہی دم لیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
انور طاہر 8 فروری 2000ء روزنامہ جنگ، لاہور
رواداری کے نام پر آئین کی خلاف ورزی
سینیٹر جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ (موجودہ صدر پاکستان)
آج کل لاہور ہائی کورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جن قادیانی سیشن ججوں کی بطور ہائی کورٹ جج تقرری کی سفارش سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب خلیل الرحمن خان نے نہیں کی تھی ان کا معاملہ دوبارہ زیر غور لایا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اگر عیسائی یا پارسی حضرات اعلیٰ عدالتوں کے جج بن سکتے ہیں تو قادیانی کیوں نہیں؟ اور آئین میں کسی قادیانی کے جج بننے پر کوئی پابندی بھی نہیں۔
بادی النظر میں یہ بات عام آدمی کو اپیل کرتی ہے مگر قادیانی عقائد کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس دلیل میں قطعاً کوئی وزن نہیں۔ قادیانیوں کو چھوڑ کر دنیا بھر کے غیر مسلم، عیسائی ہوں یا پارسی، ہندو ہوں یا سکھ، بدھ مت کے پیروکار ہوں یا دہرئیے، سب کے سب دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے، مسلمان مانتے اور مسلمان کہتے ہیں۔ یہ صرف قادیانی اور لاہوری فرقہ کے مرزائی غیر مسلم ہیں جو ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے اور صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل ۲۶۰ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ جسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ اس کا حتمی ثبوت یہ ہے کہ کسی قادیانی سرکاری ملازم یا کسی قادیانی چھوٹے یا بڑے جج (بشمول لاہور ہائی کورٹ کے قادیانی جج کے، جسے انتہائی اہم بینچ کا رکن مقرر کیا گیا ہے) کا پاکستان میں کسی انتخابی حلقہ میں ووٹ درج نہیں ہے۔ چونکہ ان کا ووٹ صرف غیر مسلموں کی فہرست میں درج ہو سکتا ہے۔ اس
لیے وہ اپنا ووٹ نہیں بنواتے اور آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔ چیف جسٹس صاحبان پتہ کروالیں کہ جن قادیانیوں کو وہ ہائی کورٹ کا جج بنانا چاہتے ہیں کیا ان کے ووٹ غیر مسلم ووٹروں کی فہرست میں پاکستان کے کسی انتخابی حلقہ میں درج ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر چیف جسٹس صاحبان اس بات پر غور فرمائیں کہ جو لوگ آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کو تسلیم ہی نہیں کرتے وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج بن جانے کی صورت میں کون سے آئین کا "تحفظ اور دفاع" کرنے کا حلف اٹھائیں گے؟ ان کا حلف اٹھانا تو ایسے ہی ہو گا جیسے کوئی خدا کا منکر دھوکہ باز خدا کی قسم اٹھا کر کسی معاملہ میں چالاکی اور عیاری سے دھوکہ بازی کر جائے۔ کیا کسی ایسے شخص سے آئین پاکستان کا تحفظ اور دفاع کا حلف لینا جو آئین پاکستان یا اس کے کسی حصے کو تسلیم ہی نہ کرتا ہو خود حلف دینے والے کے حلف کو مشکوک یا متنازع نہیں بنا دے گا؟ فاضل چیف جسٹس صاحبان ان قادیانی امیدواروں سے جنہیں وہ اعلیٰ عدالت کا جج بنانا چاہتے ہیں۔ خود بالمشافہ دریافت فرمالیں کہ کیا وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۶۰ کی رو سے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ ساری حقیقت کھل جائے گی۔
صوبہ پنجاب میں قادیانی ووٹروں کی تعداد ۴۰۸۸ ہے۔ ان میں کسی اعلیٰ یا ماتحت عدالت کے کسی قادیانی جج کا ووٹ درج نہیں ہے۔ ۴۰۸۸ ووٹروں پر وہ پنجاب میں اعلیٰ عدالت کے جج کی ایک اسامی حاصل کر چکے ہیں۔ اس صوبہ میں مسلمان ووٹروں کی تعداد تین کروڑ اکیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر مسلمانوں کو ۴۰۸۸ ووٹروں پر ایک اسامی دی جائے تو لاہور ہائی کورٹ میں مسلمان ججوں کی تعداد سات ہزار آٹھ سے زیادہ ہونا چاہیے جبکہ یہاں کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد صرف پچاس ہے۔ گزشتہ دنوں اخباری خبروں سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک "اہم شخصیت" قادیانیوں کو ہر صورت ہائی کورٹ کا جج بنانا چاہتی ہے اور اسی کے اشارہ پر جسٹس خلیل الرحمن خان کو سپریم کورٹ بھیجا گیا تھا۔ اگر آج پھر اس "اہم شخصیت" نے اس معاملے میں کسی قسم کا دباؤ ڈالا تو انشاء اللہ عامتہ المسلمین اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں گے اور پھر ...... ہرچہ بادا باد ..... دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمان حضور نبی اکرم ﷺ سے انتہائی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ آپ کے ناموس کا معاملہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ نام نہاد اہم شخصیتوں کا حدود اربعہ کیا ہے۔
وہ کتنی طاقتور ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ پھر مسلمان اپنے پیارے رسول ﷺ پر اپنی جان‘ اولاد‘ مال‘ والدین غرض کہ ہر قیمتی متاع قربان کرنے کے لیے میدان میں سر بکف آتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریکیں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ مملکت خداداد میں مسلمانوں کی گردنوں پر حضور ﷺ کے باغی جعلی نبی کے پیروکاروں کو مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ مرزائیوں اور ان کی مہربان ”اہم شخصیت“ کو سر ظفر اللہ آنجہانی کی ذلت اور رسوائی کے ساتھ وزارت خارجہ سے علیحدگی سے سبق سیکھنا چاہیے اور قادیانیوں کو عدلیہ میں پلانٹ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ اہم شخصیت ہوش کے ناخن لے۔ اس کے اقتدار کے اپنے دن اب گنے ہیں۔ کیا اسے نہیں معلوم کہ چھے سات ماہ پہلے کی اس سے زیادہ بااختیار کئی اہم شخصیتیں آج پابجولاں ہیں۔ ان میں ایک ایسی شخصیت بھی شامل ہے جس نے اہم شخصیت کی سرپرستی کرکے اسے موجودہ حیثیت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ رہے نام اللہ کا...... ”اہم شخصیت“ کی طرح کی کئی لوٹا برانڈ اہم شخصیتیں اقتدار کا زمانہ ختم ہونے پر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں ”پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ کی تصویر بنی زبان حال سے کہہ رہی ہیں:
(بشکریہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور)
ربوہ کی کہانی‘ مرزا طاہر کی زبانی
ہفت روزہ ختم نبوت کے شمارہ نمبر ٣٦ میں ایک قادیانی نوجوان زاہد عباس سید کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں اس نوجوان نے ربوہ میں بغاوت کی اٹھنے والی لہروں کی نشاندہی کی تھی۔ اس مضمون میں قادیانی نوجوان نے یہ بھی بتایا تھا کہ اب وہاں کے نوجوان:
- ١- مرزا طاہر کے ملک سے فرار پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔
- ٢- مرزا طاہر کے باپ مرزا محمود پر بدکاری کے الزامات زیر بحث ہیں۔
- ٣- یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مباہلہ کا شوشہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے چھوڑا
ہے۔
- ٤- یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی ”کتا کتے کی موت یعنی کتے کے
عدد پر مر گیا“ اس کا مصداق مرزا محمود تھا جو باون ویں سال میں ١١ سال تک فالج میں مبتلا رہ کر مر گیا۔
- ٥- وہاں دانشوروں کا ایک طبقہ کھل کر رائل فیملی اور اس کے کارندوں پر تنقید کرتا
ہے اور مرزا طاہر نے ان سے سوشل بائیکاٹ کی تلقین کی ہے۔
الغرض اس مضمون میں ربوہ کی اندرونی صورت حال کو واضح طور پر پیش کیا تھا۔ ممکن ہے کہ قادیانی یہ کہیں کہ ربوہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہاں کوئی بغاوت نہیں‘ سب لوگ رائل فیملی کے وفادار ہیں۔ اس لیے ہم ذیل میں مرزا طاہر کے ایک طویل بیان کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔ جس میں اس مضمون کی تصدیق ہوتی ہے لیکن ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزا طاہر کے بیان کا خلاصہ پیش کر دیں‘ جس سے مرزا طاہر کے بیان کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ خلاصہ یہ ہے:
- O ۔ ربوہ میں بدیوں کے اڈے بن چکے ہیں۔
- O ۔ پیشہ ور اور عادی مجرم برائیاں پھیلانے کا کاروبار کرتے ہیں۔
- O ۔ ”احمدی“ (قادیانی) شراب کا کاروبار کرتے ہیں۔
- ربوہ میں برے لوگوں کے لیے عمل جراحی کی ضرورت ہے۔
- وہاں ماحول دیکھ کر لوگ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
- ناظر سودا لانے کے لیے کار استعمال کرے تو تنقید کرتے اور پھبتیاں کستے ہیں۔
- کسی کے گھر کے اچھے حالات دیکھیں تو اس کا لندن ہاؤس، پیرس ہاؤس نام رکھتے
ہیں۔
- وہ غلطیاں کرتے ہیں تو یہ پکڑنے والے (تنقید کرنے والوں کی طرف اشارہ) کون
ہوتے ہیں۔
- وہ آگ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ زبان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی۔
- حسد سے دانشوری پیدا ہو رہی ہے۔
- (قادیانی مبلغ جنہیں مربی کہا جاتا ہے) دبی زبان میں شکوے کرتے ہیں کہ ہم سے یہ
ہوا، وہ ہوا۔ ہماری فلاں جگہ تقرری ہونی چاہیے تھی۔
- فلاں شخص نے ظلم کیا، مجھے نیچا دکھانے کے لیے یہ کیا، وہ کیا۔
- نئی نسل شتر بے مہار کی طرح جدھر چاہے، سر اٹھائے نکل جاتی ہے۔
- اگر کسی وقف زندگی نے اپنی اولاد کو لاہور شالامار باغ کی سیر کرا دی، لاہور لے
گیا تو آگ لگنے کی کیا ضرورت ہے۔ کون سا عظیم گناہ اس سے ہو گیا کہ اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤ۔
- کاریں استعمال نہ کریں ساتھ دو قدم پر بازار ہے۔ پیدل چلیں خواہ مخواہ کار کا
استعمال اچھی عادت نہیں۔
- جنہوں نے جلنا ہے، انہوں نے جلنا ہی ہے۔
قارئین کرام! یہ مرزا طاہر کے بیان کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ اب آپ اصل بیان کے اقتباسات ملاحظہ کریں۔
"میں نے تربیتی امور کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس میں بار بار ربوہ کا نام لیتا رہا ہوں، ایک مثال کے طور پر۔ لیکن جیسا کہ میں نے واضح کیا تھا، دراصل ربوہ کی اس مثال کا تعلق دنیا کی ساری جماعتوں سے ہے"۔
"جہاں تک میرے گزشتہ خطبے میں اس نصیحت کا تعلق ہے کہ تربیت، نرمی اور
شفقت، محبت اور پیار اور سمجھانے کے ذریعہ کی جاتی ہے، سختی سے نہیں کی جاتی۔ یہ بات بالکل درست ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ پیشہ ور مجرموں سے نرمی کرنی چاہیے اور ان کے جرم کو نظر انداز کر دینا چاہیے اور انہیں معاشرے کے ساتھ ظلم کرنے سے باز رکھنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
بعض بدیوں کے اڈے بن جاتے ہیں۔ یعنی لفظ ”پیشہ ور“ اس طرح تو ان پر اطلاق نہیں پاتا لیکن ”پیشہ وری“ کا لفظ ایک محاورہ بن چکا ہے یعنی ”عادی مجرموں“ کے لیے بھی آپ ”پیشہ ور مجرموں“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ پس ان معنوں میں بعض جگہ بدیوں کے ایسے اڈے بن جاتے ہیں جن کو ہم ”پیشہ ور“ اڈے کہہ سکتے ہیں اور وہاں سے برائیاں پھیلانے کے کام ہوتے ہیں۔
بظاہر ایک دکان ہے، ایک جنرل اسٹور ہے۔ وہاں کاروبار تو ہونا چاہیے۔ ان سودوں کا جن سودوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں، لیکن بسا اوقات وہاں بدیوں کے کاروبار بھی شروع ہو جاتے ہیں اور آپ ہمیشہ وہاں قابل اعتراض حرکت کرنے والوں کو قابل اعتراض حالت میں لمبے عرصے تک پائیں گے اور کئی قسم کی خرابیاں وہاں سے جنم لیتی ہیں۔
تو جہاں تک نظام کا تعلق ہے، نظام جماعت کو وہاں ضرور دخل دینا چاہیے۔
احمدی دکاندار ربوہ سے باہر بھی ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یورپ میں بعض احمدی دکانداروں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے ہوٹل کے کاروبار ہیں اور وہاں شراب بھی بکتی ہے۔ چنانچہ جب میں نے اس بات پر اصرار کیا کہ آپ کو یہ کاروبار چھوڑنا ہو گا تو بڑی بھاری تعداد ایسی تھی جنہوں نے اس کاروبار کو ترک کر دیا (جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ قادیانیوں نے اب بھی شراب کا کاروبار نہیں چھوڑا۔ ندیم) تو اس صورت حال کے مطابق مختلف کارروائی کرنی ہوتی ہے۔ مگر نظام جماعت کو سب دنیا میں مستعد ہو کر، جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے، ان کو برائیوں سے متعلق نہ رہنے دیں اور ربوہ جیسے شہر میں جہاں انتظامیہ کا دخل عام شہروں کے مقابلے پر زیادہ ہے، کیونکہ وہاں بھاری اکثریت احمدیوں کی ہے اور احمدیوں کی رائے عامہ کو جس قوت سے استعمال کیا جا سکتا ہے، اس قوت سے غیر شہروں میں بسنے والے احمدیوں کی رائے
عامہ کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ تو Firmness اور سختی سے میری مراد یہ ہے کہ پہلے باقاعدہ ایک منصوبہ بنا کر ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے۔ ان کی برائیاں ان پر کھولی جائیں۔ ان کو بتایا جائے کہ تم ان حالات میں بالکل غلط سمت میں جارہے ہو۔
ان لوگوں کو تلاش کیا جائے جن کا ان پر اثر ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ ایسے لوگوں پر دباؤ بڑھایا جائے۔ پھر اس دباؤ کو نسبتاً عام کیا جائے اور رائے عامہ کو منظم کر کے اس کے ذریعے دباؤ کو بڑھایا جائے۔
پس اس پہلو سے، ربوہ کا شہر ہو یا دوسرے ایسے مقامات ہوں جہاں احمدیوں کی کچھ آبادیاں، جہاں اس قسم کی بدیاں دکھائی دیتی ہیں، جہاں الگ الگ گھر ہیں لیکن بچوں میں کچھ کمزوریاں نظر آرہی ہیں، ان سب باتوں کا رائے عامہ سے مقابلہ کریں۔
لیکن پھر بھی بعض بیمار ایسے ہیں جن پر نسخے کارگر نہیں ہوا کرتے۔ ان کی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ پھر نتھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ وہاں پھر عمل جراحی بھی ہے۔
پس اس پہلو سے ربوہ کا عمومی معیار بلند کر دیا جائے یا دوسری احمدی بستیوں کا معیار بلند کیا جائے کہ وہاں مریض لوگ بے چینی محسوس کریں۔ بدیوں کے شکار سمجھیں کہ یہاں کوئی مزہ نہیں آرہا۔ یہ جگہ ہمیں قبول نہیں کرتی۔ ان لوگوں کو معاشرہ رد کردے۔ معاشرہ ان لوگوں سے تعلق کاٹ لے۔ بغیر اس کے کہ مقاطعہ کا اعلان ہو۔ معاشرے کا عملی وجود مقاطع کر رہا ہو اور یہ ظاہر کر رہا ہو کہ ہم الگ ہیں تم الگ ہو۔ تمہاری ہمارے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب یہ احساس دلوں کے اندر پیدا ہو تو پھر ایسے لوگ ان شہروں کو چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
جہاں تک بدیوں کے اڈوں کا تعلق ہے، بعض بیہودہ حرکتوں والے ایسے اڈے جہاں بدیاں دکھائی دیتی ہیں، ان کے متعلق اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ ان سے زیادہ دلکش اڈے بھی تو بنانے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ بعض اڈے آپ بند کر رہے ہوں۔ ان کی جگہ دوسرے اڈے جاری ہونے چاہئیں، جہاں نوجوان بے کار لوگ، غریب لوگ، جن کے لیے لذت یابی کے کوئی سامان نہیں ہیں، جن کو تسکین قلب کے لیے کچھ میسر نہیں، ان کو معاشرہ یہ چیزیں مہیا کرے۔
مثال کے طور پر اگر ربوہ میں کسی ناظر نے سودا لانے کے لیے اپنی کار استعمال کر لی تو ان لوگوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس کی جو تعلیم ہے، اس کی جو پرانی قربانیاں ہیں، اس کو جس قسم کی صلاحیتیں خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہوئی تھیں، وہ اگر یہ دنیا میں استعمال کرتا، جس طرح دوسرے دنیا داروں نے کی ہیں، تو جس حال میں اب وہ رہ رہا ہے، اس سے بیسیوں گنا بہتر حال میں ہوتا۔ اگر جماعت نے اس کو کار دے دی اور اگر اس نے اپنا سودا لانے کے لیے بھی استعمال کر لی تو تمہیں جلنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن وہ اسی پر پھبتیاں کستے رہیں گے۔ اس پر ان کا دل آگ میں جلتا رہے گا کہ ان کو یہ چیزیں کیوں نصیب ہوئیں، انہوں نے یہ چیزیں کیوں استعمال کیں۔
کسی گھر کے اچھے حالات دیکھے تو اس کا نام ”لنڈن ہاؤس“ رکھ دیا، کسی گھر کا نام پیرس ہاؤس رکھ دیا۔ یہ ہے اولی الالباب غیر (دینی۔ ناقل) جو (اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ۔ ناقل) اولی الالباب کے بالکل مد مقابل طاقتوں کی پیداوار ہے اور ان کی سوچ اور طرز فکر کا نتیجہ سوائے مزید جلن کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ کسی انتظامیہ سے جھگڑا ہو گیا، کسی امیر سے ناراض ہو گئے، اس کو پھر ساری عمر معاف ہی نہ کیا۔ ان کے خلاف ہر وقت مجلسوں میں تنقید۔ کبھی سوچتے نہیں کہ اس جماعت کے کارکنوں میں، اس کی مجلس عاملہ میں ایسے ایسے کارکن ہیں، جنہوں نے ساری زندگیاں، اپنے سارے وقت کو جماعت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ جب تم لوگ آرام کرتے تھے، جب تم لوگ سیرو تفریح میں لذتیں حاصل کیا کرتے تھے، یا گھروں کی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے، یہ لوگ جماعت کے کام کی خاطر دن رات کبھی دفتروں میں، کبھی لوگوں کے گھروں میں پھر کر چندہ اکٹھا کرتے ہوئے، کبھی نصیحتیں کرتے ہوئے، کبھی مجلس عاملہ کے اجلاس میں، گویا کوئی اور شغل ہی نہیں۔ جنہوں نے ساری زندگی........ وقف کر دی، اگر ان سے غلطیاں بھی ہو گئی ہیں تو تم خدا سے بڑھ کر اوپر پکڑنے والے کون ہوتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو ایسے بندوں سے عفو کا سلوک فرماتا ہے۔ درگزر کا سلوک فرماتا ہے اور تمہیں کسی ایسے احساس نے کہ انہوں نے کبھی مجھے اچھی نظر سے نہیں دیکھا تھا یا مجھ سے، جو میں توقع رکھتا تھا، وہ سلوک نہیں کیا تھا۔ ایسے احساس نے ہمیشہ کے لیے آگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے خلاف ہر وقت تخریبی کارروائیاں، تنقید، زبان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی اور ارد گرد کی جو نسلیں ہیں، جو تمہارے پاس آ کے بیٹھتی ہیں،
ان کو بھی جہنم کی آگ میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہو۔
ایسے تنقیدی اڈے بعض دفعہ ظاہری بدیوں کے اڈوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں....... بعض واقفین زندگی ایسے بھی ہیں بد نصیبی کے ساتھ، جنہوں نے اپنے آپ کو ساری عمر...... وقف کیا اور خدمتیں بھی کیں۔ لیکن کبھی تحریک جدید کے کسی افسر سے ناراض ہو کر، کسی سلوک کے نتیجے میں، ان کے دل میں ہمیشہ ایک انتقام کی آگ بھڑکتی رہی۔ اور چونکہ حسد سے جو دانشوری پیدا ہوتی ہے، وہ جہنم سے ہٹانے والی نہیں بلکہ جہنم کی طرف لے جانے والی ہوا کرتی ہے۔ آگ کی اولاد ہمیشہ آگ ہوتی۔ آگ سے جنت نہیں پیدا ہوا کرتی۔ اس لیے پھر ان کے گھروں میں جہنم پیدا کرنے کے کارخانے قائم ہو جاتے ہیں۔ اپنے گھر میں بیٹھ کر دبی زبان میں شکوے کرتے ہیں۔ ہم سے یہ ہوا، ہم سے وہ ہوا۔ ہماری فلاں جگہ تقرری ہونی چاہیے تھی، فلاں شخص نے ظلم کی راہ سے اور پارٹی بازی کے نتیجے میں مجھے نیچا دکھانے کے لیے یہ کیا، وہ کیا۔ اب جب اولاد اپنے باپ کی مظلومیت کے قصے سنے گی تو اس کا ردعمل وہاں تک نہیں رہے گا جہاں تک اس کے باپ کا ردعمل تھا۔ اس کے باپ کے اوپر اس کے ذہن کی بالغہ قوتوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور آپ کا جو ردعمل ہے، جس طرح گھوڑے کی باگیں ہاتھ میں ہوتی ہیں، ایک حد تک اس کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ لیکن اولاد کے ردعمل پر پھر کوئی باگیں نہیں ہوا کرتیں۔ پھر یہ شتر بے مہار کی طرح جس طرف سر اٹھائیں، نکل جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اولادیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
بعض لوگوں کے متعلق اطلاع ملتی ہے کہ ان کا بیٹا فلاں جگہ کام کر رہا ہے۔ اس نے اپنی ظالمانہ تنقید کے گویا اپنی دانشوری کے اڈے بنائے ہوئے ہیں۔ اور نئی نسلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کا باپ ہے اس نے عمر بھر خدمت کی، باہر اور اندر بھی۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اس میں یہ عادت ہے۔ وہ محلے کی انتظامیہ سے شاکی ہوگا۔ فلاں سے شاکی ہو گیا۔ باہر سے حسن سلوک سے، محبت سے باتیں کرے گا لیکن گھر میں بیٹھ کر وہ اندرونی جو دبی ہوئی آگ ہے، وہ بھڑک اٹھتی ہے۔
اب نام لینے کا تو کوئی مناسب موقع نہیں ہے۔ نہ مناسب ہے کہ کوئی نام لے کر کسی کو ننگا کرے۔ لیکن ایک دو تین چار ایسے بہت سے ہوا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ رہے
ہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے انتظامیہ کو ربوہ قادیان میں بہت قریب سے دیکھا ہے‘ ان کو پتہ ہے کہ کئی کچھ دیر رہے‘ کچھ کو تو مدینہ نے نکال باہر پھینک دیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس ماحول سے اتنا دور سمجھا‘ ایسی اجنبیت دیکھی کہ بالآخر خود نکل کر چلے گئے ۔ کچھ ایسے تھے جن کی اولادیں تباہ ہو گئیں‘ خود رہے ۔ اس طرح مختلف قسم کے بد اثرات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خود کمائے ۔
اگرچہ میں بذات خود اس میں کوئی عیب نہیں دیکھتا کہ اس سلسلہ میں کسی افسر کو کار ملی ہے‘ کوئی سہولت ملی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کر لے ۔ اگر کسی نے اپنی سہولتوں میں کبھی اپنے بچوں کو شامل کر لیا یعنی اگر لاہور دورے پر گیا ہے‘ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ واقفین زندگی کے بچے آخر قید ہونے کے لیے تو نہیں بنائے گئے اور کبھی ان کو شالامار باغ کی سیر کرا دی تو آگ لگنے کی کیا ضرورت ہے ۔ کون سا اس قدر گناہِ عظیم اس سے مرتکب ہو گیا کہ اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤ لیکن ایسے لوگوں پر‘ جو بے چارے طعن و تشنیع کے محل پر کھڑے رہتے ہیں ۔ ان کو طوعی طور پر‘ قربانی کی خاطر بعض بیماروں کو بچانے کے لیے اپنے معاملات میں احتیاط کرنی چاہیے اور اس سے کوئی بڑی قیامت نہیں آ جائے گی ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اپنے خاندانوں کو پوری طرح محروم کر دیں ۔ مثلاً اگر آپ اپنے بیٹوں کو کاریں دیں کہ وہ بازاروں اور گلیوں میں دندناتے پھریں اور کار کا غلط استعمال کریں اور وہ اپنے ساتھ دوستوں کو لے کر پھریں تو یہ یقیناً حد سے بڑھنے والی بات ہے ۔ یہاں آپ کا عمل واقعتاً سرزنش کے لائق بن جاتا ہے ۔ پھر آپ اسے عادت بنالیں ۔ ساتھ دو قدم پر بازار ہے کہ جب بھی گھر سے باہر نکلنا ہے موٹر پر قدم رکھنا ہے اور موٹر سے قدم نکال کر دکان تک پہنچنا ہے ۔ یہ تو اچھی عادت نہیں ہے ۔
تو ٹھیک ہے آپ بھی خواہ مخواہ دوسروں میں جلن کیوں پیدا کرتے ہیں ۔ جنہوں نے جلنا ہے انہوں نے جلنا ہی ہے ۔
(روزنامہ ”الفضل“ ربوہ جلد ۴۷ ۔ ۳۹‘ نمبر ۱۵‘ ۱۷ جنوری ۱۹۸۹ء)
ظفر اللہ کا خبث باطن
اس سلسلے میں سب سے پہلے ہمارے سامنے سر محمد یامین خان کی ایک روایت آتی ہے، جس سے تحریک کے پس منظر پر روشنی پڑتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
”یکم مارچ ۱۹۳۹ء ڈاکٹر ضیاء الدین نے لنچ پر مجھ کو مسٹر جناح، سر ظفر اللہ خان اور سید محمد حسین بیرسٹر الہ آباد کو بلایا۔ میرے ایک طرف مسٹر جناح بیٹھے تھے اور دوسری طرف سر ظفر اللہ خان۔ مسٹر جناح کے دوسری طرف سید محمد حسین تھے اور سر ظفر اللہ خان کے دوسری طرف ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد۔ لنچ کے دوران سید محمد حسین نے چیخ چیخ کر، جیسا ان کی عادت ہے کہنا شروع کیا کہ چودھری رحمت علی کی اسکیم کہ پنجاب، کشمیر، صوبہ سرحد، سندھ و بلوچستان ملا کر بقیہ ہندوستان سے علیحدہ کر دیے جائیں، ان سے پاکستان اس طرح بنتا ہے کہ پ سے پنجاب، الف سے افغان یعنی صوبہ سرحد، ک سے کشمیر، س سے سندھ، تان سے بلوچستان کے اخیر کا ہے۔ چونکہ سید محمد حسین زور زور سے بول رہے تھے۔ سر ظفر اللہ خان نے مجھ سے کہا کہ اس شخص کا حلق بڑا ہے مگر دماغ چھوٹا ہے۔ سر ظفر اللہ خان اس کی مخالفت کرتے رہے کہ یہ ناقابل عمل ہے۔
(ماہنامہ الحق، اگست ۱۹۷۴ء، از قلم ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری)
قادیانیت ‘خطرہ‘ جائزہ ‘تجاویز
جناب عبد الباسط
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کے بعد گزشتہ ۱۴ سالوں میں قادیانی تحریک کن مراحل سے گزری اور اس آئینی ترمیم اور ۱۹۸۴ء میں نافذ کیے گئے صدارتی آرڈی نینس کے بعد قادیانیت کن سازشوں میں ملوث ہے۔ یہ ایسے امور ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس جائزے کی نوعیت اگرچہ اجمالی ہے۔ لیکن ہم بعض ایسے امور کی نشاندہی کریں گے جن کی طرف اس وقت توجہ دینا از حد اہم ہے۔
قادیانی تحریک ‘ جس کی ابتداء ۱۸۸۰ء کے اوائل میں ہوئی۔ برصغیر کی ایک ایسی تحریک تھی جس نے پاک و ہند کے سیاسی اور مذہبی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے لے کر اپنی وفات ۱۹۰۸ء کے عرصے میں تحریک کو سیاست پر مبنی ایسا مذہبی رنگ دیا جو قدرے تبدیلی کے ساتھ ان کے جانشینوں نے اپنائے رکھا اور انہی اعتقادات اور ہدایات کو آج کے قادیانی اپنائے ہوئے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی ایک عام شخص تھا جو نہ تو ذہنی طور پر کسی اعلیٰ صلاحیت کا مالک تھا اور نہ ہی اس میں کوئی فکری انقلاب پیدا کرنے کی اہلیت تھی۔ قادیان کے دیہاتی ماحول میں اس نے آنکھ کھولی۔ باپ کی مسلمانوں سے غداری اور بھائی کی سکھوں اور انگریزوں سے وفاداری کو بنظر غائر دیکھا اور پھر اپنی محرومیوں اور مسلسل پریشانیوں کے ازالے کے لیے کوئی ایسی راہ اختیار کرنے کی ٹھانی جس سے اس کی خاندانی وجاہت قائم رہے۔ اس کے لیے ایمان فروشی اور انگریز کی غلامانہ تابعداری ترقی کا زینہ تھی۔ اس کے سوا اسے
کوئی اور راہ سجھائی نہ دی۔ رفتہ رفتہ وہ دین فروشی کے دھندے کا امام بن گیا۔ مسلسل بیماریوں کا شکار آدمی جو ہسٹریا، مراق، ذیابیطس، مرگی، کثرت بول، اسہال وغیرہ جیسی امراض میں مبتلا ہو۔ اس کی ذہنی قویٰ اور نفسیاتی احوال و افکار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس کے الہامات، پیش گوئیاں، دعاوی اور دیگر واقعات تحریک کے خدوخال کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔ البتہ اس کاروبار میں مرزا قادیانی نے ایک تو اپنے لیے عمدہ زندگی گزارنے کی راہ نکالی۔ دوسرے انگریز کی سیاسی خدمت کر کے جماعتی تنظیم کی اور ایک الگ امت کی نیو اٹھائی۔
مرزا قادیانی نے انگریزی سامراج کی زبردست حمایت کی۔ جہاد کو جس سے مراد انگریز کے خلاف بغاوت و تشدد پسندانہ تحریکات تھیں، منسوخ کر دیا۔ دنیا کے ان تمام ممالک میں، جہاں مسلمان انگریزوں کے خلاف جہاد کے نام پر سیاسی تحریکیں چلا رہے تھے، اپنا لٹریچر روانہ کر کے ان کو انگریز کی غلامی کا درس دیا۔ یہود کی استعماری تحریک صہیونیت کے لیے سیاسی خدمات انجام دیں اور اپنے دعاوی (مجدد، مہدی، مسیح موعود، محدث، نبی، کرشن، اوتار) کی بھول بھلیوں میں الجھا کر نامور علماء اور حریت پسند افراد کو انگریز کی مخالفت سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کر لیا اور ان کی سامراج دشمن تحریکوں کا رخ مرزائیت کی طرف موڑ کر ان کی فعال اور حریت پسندانہ توانائیوں کو برباد کیا۔
یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو چکی ہے کہ مرزا قادیانی نے انگریز آقاؤں کے اشارے پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہودی تخریب کاروں کی حمایت سے آگے بڑھا اور اسلام دشمن طاقتوں کی شہ پر دیگر ممالک میں پھلا پھولا۔ برطانوی ہند کے علاقے پنجاب میں جو کہ انگریز کی وفاداری اور فوجی بھرتی کے لیے مشہور تھا۔ ایک ایسی تحریک کا وجود بہت بڑی سیاسی اہمیت کا حامل تھا۔ جس کے نتیجے میں مختلف طبقوں اور مذاہب میں مسلسل تصادم ہو۔ ہر اقلیتی فرقہ یا گروہ اپنے زندہ رہنے کے لیے انگریز کی طرف دیکھے اور اس کی رواداری کو اپنی بقا کی ضمانت جانے۔ اس تحریک سے یہ مقصد حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ انگریز کو یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ قادیان کا یہ مجہول مدعی اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلامیان ہند کو خوگر غلامی کر رہا ہے۔ اسلامی فکر کے احیاء کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور ایک ایسی جماعت تیار کر رہا ہے جو مستقبل میں ان کے اقتدار کے لیے ڈھال بنے گی۔
یہی وجہ ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس نے ہر سطح پر قادیانیت کی آبیاری کی اور اس خود کاشت پودے کو بڑھنے پھولنے کے مواقع بہم پہنچائے۔
قادیانیت کے دام ہم رنگ زمین میں جو لوگ پھنسے ان میں زیادہ تعداد پنجاب کے لوگوں کی تھی اور ان میں نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تھے۔ جو انگریز کے دور حکومت میں معاشرتی ترقی اور اعلیٰ عہدے حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ اس میں ہمیں عدالتی نظام سے وابستہ چھوٹے اہل کار، منشی، نائب کورٹ، محرر، اہلمد وغیرہ نظر آتے ہیں۔ پنجاب اور برطانوی ہند کے دوسرے محکموں مثلاً محکمہ نہر، ریلوے، پوسٹ آفس وغیرہ کے بابو اور کلرک بھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے۔ چونکہ انگریز کی زبردست حمایت اور مدح و توصیف مرزا قادیانی کا ایمان تھا۔ اس لیے استحصالی طبقوں کے لوگ جیسے جاگیردار، انگریز کے مقرر کردہ اہل کار، سفید پوش، نمبردار، ضلع دار وغیرہ بھی اس تحریک کو اپنے اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے تھے اور بظاہر جماعت میں شامل نہ ہونے کے باوجود قادیانیت نواز تھے۔ کئی لوگ محض اس لیے قادیانی بن گئے کہ انہیں انگریز کی نوکری کی ضرورت تھی۔ وہ درخواست میں اپنی اس وفاداری کا ذکر کر کے دل سے نہ سہی مجبوری کے تحت قادیانی بن جاتے تھے۔ زیادہ پڑھے لکھے لوگ تحریک سے دور رہے۔ صرف خواجہ کمال الدین وکیل، مولوی محمد علی ایم۔اے وکیل اور دو چار اور آدمیوں کے نام ملتے ہیں جو انگریزی تعلیم سے آراستہ تھے اور کسی مخصوص مقصد یا سرکار کے اشارے پر مرزا قادیانی کی حوصلہ افزائی اور خدمت کے لیے مقرر تھے۔ ایسے ہی بعض مذہبی گروہ کے نفس پرست مولوی قادیانی بنے۔ ایک قلیل تعداد ایسے جوانوں کی تھی جو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر قادیانی بن گئے۔ ان میں سے بعض ”عاشقان پاک طینت“ اسلام کی آغوش میں واپس بھی آئے۔ ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں وغیرہ سے اکا دکا لوگ مرزائی ہوئے۔ ۱۹۰۱ء میں قادیانیوں کی تعداد چند ہزار سے تجاوز نہ کر سکی۔ پنجاب میں یہ تعداد ۳۲۵۰ تھی اور یو۔پی میں ۹۳۱ تھی۔
۱۹۰۸ء میں مرزا کے مرنے کے بعد چھ سال تک حکیم نور الدین نے قادیان کی گدی پر بیٹھ کر اپنی آمریت کا سکہ چلایا۔ نور الدین برطانوی انٹیلی جنس کا کارندہ تھا اور سیاسی جوڑ توڑ کے باعث کشمیر سے نکالا گیا تھا۔ اس نے مرزا کی سیاسی پالیسی کو آگے بڑھانے میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے کفر و ارتداد کو پھیلانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی ابتداء میں یہ شخص نیچری اور نیم ملحد تھا۔
۱۹۱۴ء میں نور الدین کے مرنے کے بعد یہ سیاسی طائفہ باہمی چپقلش کا شکار ہو گیا۔ لاہوری جماعت خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی کی سربراہی میں پروان چڑھنے لگی۔ اور قادیان کی گدی مرزا کے بیٹے مرزا محمود کے قبضے میں آگئی۔ قادیانیت کی ترقی کا اصل دور مرزا محمود کے زمانے سے شروع ہوا۔ مرزا محمود کو ابتدائی دس سالوں تک محض مسیح موعود کے فرزند کے طور پر گدی پر بٹھایا گیا۔ حقیقی اقتدار پر اس گروپ کا قبضہ رہا، جس میں مرزا محمود کے نانا ناصر نواب، ماموں میر اسحاق اور انصار اللہ پارٹی کے بعض ممبر تھے۔ ان لوگوں کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر برطانوی حکام سے قریبی روابط تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر تحریک خلافت کے زمانے میں، مرزا محمود نے اپنی "کونسل آف ایجنسی" سے نجات حاصل کر کے بذات خود حکومت سنبھال لی۔ خاص طور پر ۱۹۲۴ء کی لندن یاترا کے بعد مرزا محمود اپنی اور جماعت کی سیاسی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہو چکا تھا اور انگریز کی سیاسی ضروریات پورا کرنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا تھا۔
مرزا محمود ڈبل فیل تھا۔ بیماریوں کا شکار اور احساس برتری کا مریض تھا۔ اس کے علاوہ بچپن ہی سے جنسی بداعتدالیوں کا شکار تھا۔ اس نے ایک تو اپنے اور اپنے خاندان کی دنیاوی خواہشات کے لیے ہر ممکن ذرائع سے دولت سمیٹی۔ دوسرے اپنے باپ کی پالیسی کے مطابق انگریز کی خدمت میں اپنی اور اپنی جماعت کی بقا سمجھی۔ اس نے ۱۹۱۴ء سے قبل (کانپور مسجد) اور اس کے بعد انگریز کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنے وسائل اور عقیدت مندوں کی توانائیاں استعمال کیں۔ تحریک ہجرت، خلافت، عدم تعاون، سائمن کمیشن، گول میز کانفرنس، نہرو رپورٹ، ۱۹۳۵ء کے آئین کے تحت ہونے والے انتخابات، مطالبہ پاکستان۔ غرضیکہ آزادی کے ہر موڑ پر انہوں نے برطانوی سامراج کی حمایت اور مسلمانوں کے مطالبہ حریت کے خلاف کام کیا۔ قادیانیت نے علماء حق کے خلاف بد زبانی کی، منافرت اور کشیدگی پھیلا کر انگریز کی "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی کو استحکام بخشا۔ دنیا کے ان تمام علاقوں میں جہاں برطانیہ نے نو آبادیاں قائم کر رکھی تھیں۔ وہاں اپنے جاسوس بھیجے اور برطانوی سامراج کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو جاسوس
مبلغوں کے ذریعے ناکام کرایا۔
مرزا محمود مسلمانوں کی تکفیر کا زبردست داعی تھا۔ اس نے اپنے باپ کی طرح ملت اسلامیہ کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ان کے بچوں کے جنازے پڑھنے کو ممنوع قرار دیا۔ رشتہ ناطہ کی ممانعت کر دی۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز حرام قرار دی اور مرزا قادیانی کی تحریرات کی بنیاد اور اس کے الہامات کے بل بوتے پر قادیانیت کو ایک ایسی تحریک کے رنگ میں پیش کیا، جس کا اپنا ایک ”اصلی اور مکمل“ نبی اور رسول تھا۔ ارض حرم تھی، مدینۃ النبی تھا، خاندان نبوت، صحابی و صحابیات تھیں۔ کتاب مقدس تھی۔ بہشتی مقبرہ تھا۔ اور وہ تمام چیزیں اس کے پاس موجود تھیں جس سے ایک امت تشکیل پاتی ہے۔
مرزا محمود کے دور میں انگریز کے ادنیٰ خدمت گاروں، ایمان فروش اور جاہ و طلب مولویوں اور برطانوی جاسوسوں کی ایک کھیپ پروان چڑھی۔ جماعتی فنڈ میں برطانوی اور یہودی ذرائع سے پیسہ آیا اور جماعت کی سیاست سے دلچسپی کے باعث ”قادیان“ سامراج کا پولیٹیکل سنٹر بن گیا قادیانیت مذہبی لحاظ سے انگریز کی ایسی ایجنسی تھی، جس کا کام تمام گندے امور (Dirty Tricks) کا انجام دہی تھا۔ ضمیر فروش مولویوں کی جو کھیپ قادیانیت سے وابستہ تھی۔ اس کا کام مناظروں میں حصہ لینا، روایتی بدزبانی اور بدکلامی کر کے طبقاتی انتشار پھیلانا اور مذہبی تحریکوں کی آڑ میں انگریز کی سیاسی خدمت انجام دینا تھا۔ ان مرزائی گماشتوں میں حافظ روشن علی، میر قاسم علی، جلال الدین شمس، اللہ دتہ جالندھری، غلام رسول راجیکی جیسے عاقبت نااندیش لوگ شامل تھے۔ ان میں سے شمس اور جالندھری فلسطین میں مبلغ کے روپ میں یہودیت کی خدمت میں مصروف رہے۔
اگرچہ مرزا محمود خود انگریز افسران کو خطوط لکھتا رہتا تھا اور ان کی ہدایات حاصل کرتا تھا۔ لیکن پنجاب میں سر فضل حسین کے عروج اور ان کے قادیانیوں اور ظفر اللہ کے ساتھ تعلقات کے بعد سر ظفر اللہ، انگریز اور قادیانی سربراہ کے درمیان ایک رابطہ کی صورت اختیار کر گیا۔ سر ظفر اللہ برطانوی سامراج کا نہایت وفادار خادم تھا۔ اس نے وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر اور عدالت عالیہ ہند کی ججی کے زمانے میں ہر سطح پر انگریز کی خدمت کو ایمان کا جزو سمجھا اور کسی مرحلے پر بھی تحریک آزادی ہند اور مسلمانوں کے سیاسی مفاد کے لیے آواز بلند نہ کی۔
مطالبہ پاکستان یا تحریک پاکستان میں قادیانیوں کا کردار قطعا منفی تھا۔ شاطر سیاست مرزا محمود نے نہایت عیاری کے ساتھ ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں مکروہ کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ کی حمایت کا ڈھونگ رچا کر قادیانیوں نے یونینسٹ آزاد اور زمیندار لیگ کے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی بھر پور حمایت کی۔ کیونکہ محض اسی صوبے میں وہ کسی حد تک سیاسی کردار ادا کرنے کے اہل تھے۔
پاکستان بننے کے بعد مرزا محمود نے جو کچھ کیا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں رہا۔ جنگ کشمیر ۱۹۴۷ء اور پاک بھارت ۱۹۶۵ء کی سازشیں‘ بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کے عزائم‘ جارحیت پر مبنی ارتداد کی تبلیغ‘ سیاسی‘ مذہبی‘ اقتصادی و فوجی اداروں اور سول محکموں میں اثر و نفوذ کی خفیہ کارروائیاں‘ انتشار و افتراق پھیلانے والے لٹریچر کی تیاری اور تقسیم سمیت صوبائی و علاقائی فتنوں کی آبیاری بعض ایسے امور ہیں جو محتاج تعارف نہیں۔ سر ظفر اللہ نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہماری خارجہ پالیسی کے ایسے خدوخال مرتب کیے جن کے باعث پاکستان سامراجی طاقتوں کا حاشیہ بردار بن گیا اور اسلامی بلاک سے کٹ کر رہ گیا۔
نومبر ۱۹۶۵ء میں جب مرزا محمود واصل جہنم ہوا تو قادیانی جماعت کی تعداد میں کافی اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ اضافہ قادیانی مبالغہ آرائی کے لحاظ سے ہزاروں میں تھا اور جماعت کے اراکین کی تعداد پچاس لاکھ تھی جو صریح جھوٹ ہے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک تو پہلے سے مرتدین کی ذریت کے باعث ہوا اور دوسرے لاہوری جماعت کے کہنے کے مطابق نوکری اور چھوکری کے طلب گاروں نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ جماعت کے چندوں میں نامعلوم اور معلوم ذرائع سے اضافہ ہوا اور یورپی ممالک میں نئے مشن قائم کیے گئے۔ مرتد اعظم سر ظفر اللہ نے قادیانیت کی ترقی میں کافی مدد دی۔
مرزا ناصر احمد نے ۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۲ء تک ربوہ کے راج بھون پر قبضہ کیے رکھا۔ ان کے بارے میں بھی بہت سی رنگین داستانیں مشہور ہیں۔ جن کے بیان کا یہاں موقع نہیں۔ مرزا ناصر نے اسرائیل میں قائم قادیانی مشن کو مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی اور ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد صہیونی اشارے پر مشرق وسطیٰ میں سازشوں کے جال بچھائے‘ افریقہ میں قادیانی مشنوں کو برطانوی اور امریکی سامراج کی بھر پور حمایت
حاصل رہی جس کے باعث کئی افریقی غربت و پسماندگی کے ازالے کے لیے قادیانیت کی آغوش میں چلے گئے۔ گولڈ کوسٹ، سیرالیون، نائیجیریا، جنوبی افریقہ وغیرہ قادیانی ارتدادی تبلیغ کی آماجگاہ بن گئے۔
پاکستان کی شکست و ریخت اور علاقائی اور لسانی عصبیتوں کو ہوا دینے میں قادیانی ہمیشہ سے پیش پیش تھے۔ ایوب خاں کی آمریت کے خاتمے کے بعد انہوں نے نئے سیاسی مربیوں کے حصول کے لیے دوڑ دھوپ شروع کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں گھناؤنے کردار کے بعد بھٹو حکومت میں اچھے عہدے حاصل کیے۔ لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس ۱۹۷۴ء کے بعد ان کی سازشیں منظر عام پر آنے لگیں۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء ان کا یوم احتساب بنا اور بعد کے چند سال قادیانیت کی اصلیت کو بے نقاب کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔
اسرائیل، مغرب کی سامراجی طاقتیں اور ان کے حاشیہ نشین قادیانیت کی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں ترقی کے خواہاں رہے اور پاکستان میں علمائے اسلام اس دشمن استعمار نواز اور ارتداد پر مبنی اس تحریک کا محاسبہ کرنے میں سرگرم عمل رہے۔ جولائی ۱۹۷۸ء میں مرزا ناصر احمد سویڈن، ڈنمارک، مغربی جرمنی اور لندن کے دوروں کے بعد اکتوبر میں ربوہ آئے۔ استعماری طاقتوں نے ان کی خوب پذیرائی کی اور مالی وسائل کی فراہمی کے وعدے کیے گئے۔ لندن میں جماعت کا اکاؤنٹ جلد ہی لاکھوں پونڈ تک پہنچ گیا۔
اسرائیل کے قادیانی مشن نے مشرق وسطیٰ میں کذاب قادیان کا لٹریچر عربی زبان میں تیار کر کے مشاہیر کے نام روانہ کیا اور بعض لائبریریوں میں رکھوایا۔ مرزا ناصر نے اپنے جاسوس مبلغ لبنان میں تعینات کیے۔ ایران میں شہنشاہیت کے خاتمے اور بہائیت کے خلاف ایرانی حکومت کی مہم کے بعد قادیانیوں نے بہائیوں کے ساتھ خفیہ معاہدہ کیا۔ ۱۹۸۰ء میں مرزا ناصر نے امریکہ کے دورے کے دوران بہائی رہنماؤں سے ملاقات کی اور باہمی یگانگت کے معاہدے کیے۔ جون ۱۹۸۲ء میں مرزا ناصر جہنم واصل ہوا۔
مرزا طاہر احمد قادیانی جماعت کا چوتھا سربراہ بنا۔ اپنے بھائی مرزا رفیع احمد کو پچھاڑ کر ربوے کی گدی پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے حواریوں کی مدد سے جن میں سر ظفر اللہ پیش پیش تھا۔ انتہائی درجہ کی غنڈا گردی کے بعد کامیابی حاصل کی۔ یہ اسی قسم کی غنڈا گردی تھی جو اس کے باپ مرزا محمود نے ۱۹۱۴ء میں قادیان میں انصار اللہ پارٹی کی مدد سے کی تھی۔ مرزا
رفیع احمد کے حواری الزام لگاتے ہیں کہ مرزا طاہر غاصب، بزدل اور سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر ہونے کے باعث تخت خلافت چھین لے گیا۔ بہرحال قادیانیت کے نئے سربراہ نے ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۴ء تک اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے اور استعماری اڈے بشارت معبد کے قیام کے علاوہ کوئی نمایاں کام نہ کیا۔ ۱۹۸۴ء میں صدارتی آرڈی نینس کے اجراء کے بعد مرزا طاہر خفیہ طور پر ہماری غفلت کے باعث لندن بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے بعض اراکین نے اس کو ”پیش آمدہ خطرات“ سے آگاہ کر دیا تھا۔ قادیانیوں کو ڈر تھا کہ حکومت مرزا طاہر احمد کو تخریبی کارروائیوں کے الزام، اسلم قریشی کیس اور صدارتی آرڈی نینس ۱۹۸۴ء کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں گرفتار کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ جس کا ان کو بعض بیورو کریٹس اور پولیس اہل کاروں سے علم ہو گیا اور مرزا طاہر لندن جا کر ایک تو جماعت اور خلافت کو بچا لے گیا۔ دوسرے اپنا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ قادیانی خدشات کچھ بھی ہوں لیکن یہ بات افسوس ناک ہے کہ مرزا طاہر دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گیا۔ جس طیارے میں مرزا طاہر سوار ہونے والا تھا اس کے پائیلٹ نے اس کو اپنے ساتھ لے جا کر KLM کے جہاز میں سوار کرایا۔ اتفاق سے اسی طیارے میں مصطفیٰ گوکل صاحب سابق وزیر جہاز رانی سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد، لندن سے فون کیا تو معلوم ہوا کہ مرزا طاہر اپنے برطانوی آقاؤں کے پاس پہنچ گیا ہے اور ان کے چرنوں میں بیٹھ گیا ہے۔ ربوے کے پالتو مبلغ اس کو ”نشان“ قرار دینے لگے۔
مرزا طاہر نے لندن میں جعلی نبوت کے نام پر جو کاروبار شروع کیا ہے۔ اس کے گزشتہ تین سال کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے:
اس نے لندن کو اپنا مستقل اڈہ بنانے کے بعد چیدہ چیدہ قادیانی مبلغوں کو لندن بلایا۔ اسرائیل سے جلال الدین قمر، کلکتہ سے مولوی امینی، قادیان سے وسیم احمد وغیرہ نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔ ان مبلغوں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ صدارتی آرڈی نینس کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائیں۔ پاکستان کی فوجی حکومت کو بدنام کریں اور قادیانیت سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں اور پریس سے رابطہ بڑھائیں۔ پاکستان میں قادیانیت کو جن مسائل کا سامنا تھا۔ ان کے لیے ایک الگ لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ جس میں سیکولر اور اشتراکیوں کی اعانت سے آرڈی نینس کے خلاف رائے عامہ کو تیار کرنا، طلباء اور وکلاء کی
تنظیموں سے ساز باز کرنا اور جعلی تنظیموں کے نام سے مختلف طبقوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا شامل تھا۔ گزشتہ تین سالوں میں شیعہ‘ دیوبندی‘ بریلوی وغیرہ فرقوں کے خلاف جو فتاویٰ چھپ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے اکابر کے خلاف جو سخت کلمات فوٹوسٹیٹ پرچوں کی صورت میں گردش کر رہے ہیں‘ ان میں سے اکثر کے پیچھے قادیانیت کا خفیہ ہاتھ ہے۔ لسانی‘ گروہی‘ طبقاتی اور علاقائی عصبیتوں کو ہوا دینے میں بھی قادیانی عناصر پیش پیش ہیں اور نہایت خفیہ اور منظم طریقے سے ملک سالمیت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ علماء کرام سے عرض ہے کہ وہ ان کی سازشوں کو سمجھیں اور عوام کو باہمی اتحاد و یک جہتی کا درس دیں۔
مرزا طاہر نے بین الاقوامی جاسوسی اداروں سے معقول مالی امداد حاصل کی اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں وہ کافی حد تک کامیاب رہا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس موساد (Mossad) امریکی سی۔آئی۔اے برطانوی ایم آئی فائیو MI5 جرمن اور ڈچ سیکرٹ سروس قادیانیت کو مالی ذرائع مہیا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ۱۹۸۲ء میں بیرونی مشنوں سے قادیانیوں کو سات کروڑ بارہ لاکھ روپے حاصل ہوئے۔ ۱۹۸۷ء میں یہ رقم ۱۸ کروڑ چھتیس لاکھ تک پہنچ گئی جو اڑھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔ یہ رقم کہاں سے آئی اور ایک دم اس میں اتنا اضافہ کیسے ہوا؟ ابھی تو یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو قادیانیوں نے خود شائع کیے ہیں۔ در پردہ کہانی کچھ اور ہو گی!
پاکستان میں ۱۹۸۲ء میں قادیانی چندوں کی مقدار ایک کروڑ ستاون لاکھ روپے تھی۔ جو ۱۹۸۷ء میں سات کروڑ بارہ لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ یہ سات گنا اضافہ کہاں سے ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف تحریکوں سے حاصل ہونے والے قادیانی چندے جو ۱۹۸۲ء میں ۹ کروڑ تھے۔ اب ۲۱ کروڑ ۹۰ لاکھ تک پہنچ چکے تھے۔ دیگر تحریکوں کے چندوں سے ۱۰ کروڑ ۱۳ لاکھ روپے ان سے علاوہ ہیں۔
کیا حکومت پاکستان قادیانیوں کے ان چندوں کے بارے میں معلوم نہیں کر سکتی کہ یہ کہاں سے آ رہے ہیں؟ اور وہ کون سے ایسے قادیانی امراء و صنعت کار ہیں جو ہزاروں روپے جماعت کو دے رہے ہیں۔ پاکستان کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان ریونیو AGpr کو فوری طور پر قادیانی فنڈز کو منجمد کر کے اس کی مکمل پڑتال کرنی چاہیے اور قادیانیوں کو
مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے حسابات اے۔ جی (A.G) آفس کو پیش کریں اور ان کو شائع کیا جائے ۔ اگر سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی تحقیقات کی جاسکتی ہیں تو مذہب کے نام پر چلنے والے اس یہود نواز سیاسی تنظیم کے خفیہ مالی ذرائع کی تحقیق کیوں نہیں کی جاسکتی ؟ یہ شبہ بھی کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے پی ایل 480 کے تحت جمع پاکستانی بیلنس سے قادیانیوں کو روپیہ دیا جاتا ہے۔
قادیانی جماعت کے مرکزی مبلغین دنیا بھر کے ممالک میں قادیانیت کی ترویج اور سیاسی پخت و پز میں لگے ہوئے ہیں ۔ ان کی کل تعداد ۱۸۲ ہے۔ یہ مبلغ ربوہ سے تیار ہو کر باہر جاتے ہیں ۔ افریقہ میں ان کی سب سے زیادہ کھپت ہے ۔ جہاں سکیم کے تحت قائم قادیانی ہسپتالوں سے جماعت کو سوا آٹھ کروڑ روپے سالانہ کی آمدن ہے ۔ ۳۱ قادیانی سکول ہائیر سیکنڈری تعلیم دے رہے ہیں اور سو پرائمری سکول افریقی بچوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر رہے ہیں۔
برطانیہ نے اپنے پرانے سیاسی خادموں کو بڑھنے پھولنے کے مواقع بہم پہنچانے کے لیے ٹل فورڈ (Tilford) کے علاقے میں کئی ایکڑ زمین پر مشتمل اراضی الاٹ کر دی ہے ۔ جہاں قادیانی مرکز اسلام آباد قائم ہو گیا ہے ۔ یہ زمین ان کو کوڑیوں کے مول دی گئی ہے ۔ مرزا طاہر نے قادیانیت کی تبلیغ کے لیے ہزاروں کی تعداد میں کیسٹ تیار کرائے ہیں ۔ ان کی اپنی تقریروں کے کیسٹ اور ویڈیو فلم پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں تقسیم کی جا رہی ہیں ۔ گزشتہ تین سالوں میں ۲۷۲۰ کیسٹ دنیا کی ۱۸ زبانوں میں تیار کرا کے قادیانی مشنوں کو مہیا کر رہے ہیں ۔ جو ارتداد کی تبلیغ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ اتنا قادیانی لٹریچر تیار کیا گیا ہے جو قادیانیوں کے بقول دس سال میں بھی تیار نہ ہوا تھا ۔ یہ تمام امور قادیانیت کے مستقبل کے جارحانہ عزائم کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہیں ۔
قادیانیوں کی ارتدادی مہم کا سب سے شرمناک پہلو عرب ممالک میں کیسٹ اور لٹریچر کی ترسیل ہے ۔ قادیانی اسرائیلی امداد سے عرب مسلمانوں میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے میں کوشاں ہیں ۔ قادیانی جریدہ سویز کراچی ۱۹۸۶ء ‘ ۱۹۸۷ء میں لکھتا ہے کہ :
”حضرت امام جماعت احمدیہ نے عربوں کی طرف تبلیغ کے لیے جماعت کو خصوصی توجہ دلائی ۔ باقاعدہ فارم کے لحاظ سے اب تک بانوے عرب جماعت احمدیہ میں شامل
ہو چکے ہیں۔ لیکن حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ میرے ذاتی علم کے لحاظ سے ان کی تعداد سو سے تجاوز کر چکی ہے۔“
عربوں کو مرزا غلام احمد کی لعنتی تحریک میں شامل کر کے ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا بہت بڑی جسارت ہے۔ عرب ممالک کو اس خطرے کی طرف فوری توجہ دینا چاہیے اور قادیانیت کے دام تزویر میں پھنسنے والوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنا چاہیے یہ عرب لازمی طور پر زر‘ زن یا زمین کے چکر میں متاع دین لٹا چکے ہوں گے۔ ان کی وجہ سے مزید گمراہی پھیل سکتی ہے۔
مغربی ممالک اور امریکہ اپنے آپ کو آزاد دنیا قرار دیتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو آزادی‘ سیکولرازم اور انسان حقوق کا علمبردار کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاحات اپنی کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتیں اور مغربی ادارے اپنی مرضی کے مطابق ان کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کے صہیونی اگر فلسطین کے حریت پسندوں کو ہلاک کریں اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑیں تو نہ تو انسانی حقوق کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے اور نہ ہی اسے ظلم گردانا جاتا ہے۔ مغرب میں رنگ و نسل کی تمیز اور جنوبی افریقہ کی نسل پرستی کی حمایت وغیرہ ان اصطلاحات کی زد میں نہیں آتے۔ مرزا طاہر اور اس کے حواری پاکستان میں قادیانیوں کو درپیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر یہود نواز پریس میں اچھالتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان میں احمدی اقلیت کے انسانی حقوق سلب کیے جاچکے ہیں۔ ان کی عبادت گاہیں بند کی جارہی ہیں۔ ان کو اپنے عقائد کی ترویج و تشہیر کی اجازت نہیں اور ان سے امتیاز برتا جا رہا ہے۔ ان واقعات کو یک طرفہ طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔
یورپی ممالک اور امریکہ نے چونکہ قادیانیت کی پشت پناہی کرنی ہوتی ہے اس لیے وہ حقوق انسانی کی آڑ لے کر پاکستان پر مختلف نوع کے دباؤ ڈالتے ہیں۔ قادیانی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ انسانی حقوق کے کمیشن (اقوام متحدہ) اور بین الاقوامی پریس میں پاکستان میں کیے جانے والے نام نہاد قادیانی مظالم کو خوب اچھالتے ہیں۔ اور جب ایسی مبالغہ آمیز خبریں شائع ہوتی ہیں تو یہود نواز پریس اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ اس ”مظلوم اقلیت“ کا تحفظ کریں۔ کئی قادیانیوں نے اس بنیاد پر بیرون ملک خصوصاً مغربی
جرمنی میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے اور کئی مراعات حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ نے قادیانیت کی کھلی حمایت کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ اسی قسم کا ڈھونگ بہائیت کی حمایت میں بھی جاری ہے۔ مغربی پریس بہائیوں کو مظلوم اور ایرانی حکومت کو ظالم قرار دیتا ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے رائے عامہ کو متاثر اور تیار کرتا ہے۔ بہائی ایران سے بھاگ کر پاکستان میں اپنے اڈے قائم کر رہے ہیں۔
قادیانیت چونکہ جہاد کی مخالف‘ سامراج کی حاشیہ بردار‘ یہودیوں کی پروردہ استعماری ایجنسی ہے۔ اس لیے اسلام دشمن طاقتیں اس کی ترقی کو اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں جو ان کے نزدیک انقلاب کا درس دیتا ہے اور سامراج اور صیہونیت کا دشمن ہے۔ قادیانیت کا فروغ اسلامی اقدار پر ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ اسلامی بنیاد پرستوں کی سرگرمیوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ قادیانی تحریک کی بنیاد ایک ایسے نظریے پر قائم ہے جس میں اسلام کی انقلابی روح کو مکمل ختم کر کے اسے سامراج کی داشتہ بنا دیا گیا ہے۔ اس لیے ایسی تحریک‘ اس ”تشدد پسندانہ“ اسلام کا ایک توڑ ثابت ہو سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں سامراجی اور یہودی مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں قادیانیت کی ترقی کے لیے اسے ہر طرح کی مدد بہم پہنچاتی ہیں۔ اسی لیے مرزا طاہر کو امریکہ ”اسلام“ پیش کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔
یہ تو ایک اجمالی سا خاکہ ہے۔ جس سے قادیانیوں کے عزائم اور ان کی گزشتہ پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی اسلام مخالف تحریک جس نے گزشتہ صدی میں استعماری اور یہودی مدد سے اتنی بڑی قوت حاصل کر لی ہے اور جس کی پشت پر امریکہ‘ اسرائیل اور یورپ کا تعاون اور سرمایہ ہے۔ اس کے زہریلے اثرات کو زائل کرنے کے لیے اسلامی طاقتیں اور علمائے کرام کیا کوششیں کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ جس قدر بڑا چیلنج ہے اتنا بڑا مقابلہ نہیں کیا جا رہا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ مجلس احرار اسلام اور دیگر انجمنیں اور ادارے قادیانی خطرے کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں ان کا محاسبہ کیا جاتا ہے اور بیرون ملک بھی ان کے مکروہ کردار کو بے نقاب کیا جاتا ہے۔ لیکن ہماری حکمت عملی بعض خامیوں کا شکار ہے۔ ان خامیوں کو مدنظر رکھتے
ہوئے بعض تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں کئی طرح کی ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے اس وقت ان کو ڈرافٹ کے طور پر سمجھا جائے اور مستقبل کے لائحہ عمل کی بنیاد قرار دیا جائے:
- ۱- قادیانی اپنی تعداد کے بارے میں بہت مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ان کی مکمل
مردم شماری کی جائے اور ان کے شناختی کارڈ اور شہریت (Domicile) کے سرٹیفکیٹ میں اس کا اندراج کیا جائے۔
- ۲- تمام سرکاری اداروں اور دفاعی محکموں میں قادیانیوں کی صحیح تعداد معلوم کی
جائے۔ اہم اور حساس محکموں میں ان کی بھرتی بند کی جائے اور دیگر محکموں میں ان کا اقلیتی کوٹہ مقرر کر دیا جائے۔
- ۳- قادیانی پرچوں اور ان کے جرائد و رسائل میں جان بوجھ کر ایسا مواد شائع ہوتا
ہے جس سے صدارتی آرڈی نینس کی خلاف ورزی ہو حکومت پرچہ شائع ہونے کے کئی ماہ بعد اسے ضبط کرتی ہے جو کہ مضحکہ خیز امر ہے۔ ایسے پرچوں کو فوراً ضبط کیا جائے اور پریس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
- ۴- حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ پاکستانی مشنوں کو ہدایت جاری کرے کہ وہ
قادیانیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے وزارت خارجہ کو پورے طور پر آگاہ کریں اور اس کا موثر جواب دیں اور یہ جواب پاکستانی پریس میں لازمی طور پر شائع ہو۔
- ۵- لندن کے پاکستانی سفارت خانے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ قادیانی سرگرمیوں سے
حکومت کو مطلع کرے اور لندن میں قائم اسلامی مشنوں سے اشتراک پیدا کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ اس فتنے کا موثر سد باب کر سکیں۔
- ۶- قادیانیوں کے خفیہ فنڈز کی تحقیقات کی جائے ان کو منجمد کر کے ان کا مکمل آڈٹ کیا
جائے اور حساب کتاب کی تفاصیل اے ۔ جی آفس کے ذریعے حاصل کر کے کتابی صورت میں شائع کی جائیں تاکہ اس میں کروڑوں کے اضافے کی حقیقت معلوم ہو سکے۔
- ۷- قادیانی کتب و رسائل لندن اور بھارت میں چھپ کر پاکستان آ رہے ہیں۔ ان کی
آمد کو روکا جائے اور کسٹم کے محکمے کو خصوصی ہدایات دی جائیں کہ وہ ان کو ضبط کرے۔
- ۸- قادیانیت کو ایک سیاسی جماعت قرار دیا جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ ایک خفیہ
سیاسی جماعت ہے۔ اس کے بعد ایک سپیشل ٹربیونل قائم کر کے خاص سیاسی نقطہ نظر سے اس کی کارروائیوں کو بے نقاب کیا جائے اور انٹیلی جنس اداروں کی گزشتہ تمام خفیہ رپورٹوں کو ٹربیونل کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔ سیاسی جماعت قرار پانے کے بعد اس کی مذہب کے پردے میں کی گئی کارروائیاں بے نقاب ہو جائیں گی۔
- ۹۔ علمائے کرام، دانشوروں اور صاحب قلم لوگوں پر مشتمل ایک پینل مقرر کیا جائے
جو قادیانیت کے متعلق مختلف زبانوں میں لٹریچر تیار کرے یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ دنیا کو جدید تحقیقی انداز میں تیار کیے گئے لٹریچر سے دلچسپی ہوتی ہے جو ٹھوس حقائق پر مبنی ہو اور جس کے پڑھنے کے بعد تحریک کے بنیادی خطوط اور مضمرات واضح ہوں۔ وہ لٹریچر جو ایک عرصہ تک پاک و ہند میں چھپتا رہا اور محض مذہبی مناظرہ بازی کی پیداوار تھا۔ وہ باہر کی دنیا کے لیے قابل قبول نہ ہوگا۔ محمدی بیگم سے نکاح، پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے کی بحث، حیات و وفات مسیح وغیرہ پہ بہت کم زور دیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک دائم المرض نفسیاتی مریض تھا۔ جس کو شوگر، مرگی، ہسٹریا، کثرت بول، اسہال وغیرہ کی بیماریاں تھیں۔ حصول زر اور جاہ طلبی کے لیے اس نے نبوت کے نام پر برطانوی سامراج کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ نفسیاتی لحاظ سے اس شخص کا تجزیہ اور اس کے اوٹ پٹانگ کشف و الہامات کا تنقیدی جائزہ لوگوں کو بانی احمدیت اور تحریک کے پس منظر کے بارے میں صحیح معلومات مہیا کرے گا۔
اس ضمن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ایک دردمندانہ اپیل کروں گا کہ وہ قادیانیت کے سیاسی احتساب کے لیے فوری طور پر معقول وظائف کا اعلان کرے اور ریسرچ سکالروں کو یہ کام سونپے کہ وہ انڈیا آفس لائبریری لندن میں بیٹھ کر قادیانیت کے اصل پس منظر کو بے نقاب کرنے کا عظیم کام شروع کر دیں۔ یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس اہم ذخیرے سے قادیانی تاریخ مرتب نہیں کی۔ اس منصوبے پر فوراً عمل کی ضرورت ہے۔ کچھ وظائف ان اسکالروں کو دیے جائیں جو بھارت میں جا کر وہاں خفیہ رپورٹوں سے استفادہ کر کے ان کی روشنی میں قادیانیت کے سیاسی اور مذہبی عوامل سے عوام کو واقف کرائیں اور دنیا کے سامنے یہ حقیقت ٹھوس ثبوت کے ساتھ پیش کریں کہ قادیانیت برطانوی سامراج کی سازش کا دوسرا نام ہے۔ ”کذاب پنجاب“ یہود کا سیاسی ایجنٹ
تھا اور قادیانی مبلغ جاسوسوں کا ایک گروہ تھا۔ قادیانیوں کو احمدیہ تحریک کی جوبلی کے موقع پر یہ تحفہ پیش کرنا ضروری ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ اس ٹھوس تحقیقی کام سے متاثر ہوگا۔ عام مناظر جو طریق اختیار کرتے ہیں اور جس طرح کی مذہبی مباحث چھیڑتے ہیں وہ مغربی دنیا کو متاثر نہیں کر سکتیں جو قادیانیت کی اسلام دشمنی کے باعث پہلے سے اس کی اعانت پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
- ۱۰۔ قادیانیت نے ۱۸۸۰ء تک جو سیاسی اور پاکستان مخالف کارروائیاں اور
سازشیں کیں اور ملکی سالمیت کے خلاف جو کام کیا ہے۔ اس کی تفاصیل بھی منظر عام پر لائی جائیں۔ قادیانی کئی سالوں سے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ دیوبند اور جمعیت علماء ہند نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ حالانکہ ان کا اپنا کردار اتنا شرمناک تھا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ”الفضل قادیان“ کا ورق ورق ان کی روسیاہی سے لتھڑا پڑا ہے۔
- ۱۱۔ قادیانی جماعت کا دوسرا سربراہ مرزا محمود ۱۹۱۴ء سے ۱۹۶۵ء تک اپنی آمریت کا سکہ
چلاتا رہا۔ یہ شخص برطانیہ کا ذلیل خوشامدی، آزادی ہند کا دشمن، مسلمانوں کی تکفیر کا مبلغ اور مرزا قادیانی کی لعنتی نبوت کا زبردست پرچارک تھا۔
سیاسی کردار کے ساتھ ساتھ اس کا ایک نہایت ہی گھناؤنا اخلاقی کردار تھا۔ اس کی سوانح قادیان کے راسپوٹین کے عنوان سے مرتب کی جائے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا جائے۔ وہ چہرہ جو لاہوری جماعت کے اخبار ”پیغام صلح“ لاہور مباہلہ کے پرچوں، مصری کے بیانوں اور حقیقت پسند پارٹی میں صاف جھلکتا ہے۔ راحت ملک کی کتاب ”ربوہ کے مذہبی آمر“ کو ایڈٹ کر کے فوری طور پر دوبارہ شائع کیا جائے اور اس کے انگریزی تراجم باہر کے ملکوں میں بھیجے جائیں۔
- ۱۲۔ اسرائیل میں قادیانی مشن کی ۱۹۲۸ء سے ۱۹۸۷ء تک کی کارروائیوں کو طشت
از بام کرنے کے لیے ربوہ میں براجمان قادیانی مبلغ چوہدری محمد شریف سے پوچھ گچھ کی جائے۔ دو جاسوس مبلغ اللہ دتہ اور جلال الدین شمس واصل جہنم ہو چکے ہیں۔ رشید چغتائی اور نور احمد شاید ربوہ ہی میں ہیں اور اسرائیل کے قیام ۱۹۴۸ء کے وقت وہاں سازشوں میں مصروف رہے ہیں۔ ان کے تفصیلی بیانات لیے جائیں اور ان کی وہ تمام رپورٹیں جو یہ جاسوس اسرائیل سے پاکستان بھیجتے تھے، وہ حاصل کر کے منظر عام پر لائی جائیں۔ ان کے
ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے نام ای۔ سی۔ ایل (Exit Control List) میں شامل کیے جائیں۔
- ۱۳۔ جن عرب ممالک میں قادیانی اپنا لٹریچر اور مبلغ بھیج رہے ہیں۔ ان کے سربراہوں
اور تنظیموں کو خطوط لکھ کر اور رسائل و جرائد میں مضامین کے ذریعے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC) کے نوٹس میں یہ بات لائی جائے تاکہ موثر قدم اٹھایا جاسکے۔
- ۱۴۔ مرزا طاہر اور اس کے پاکستانی حواری ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور
لندن میں بیٹھ کر وطن عزیز کے خلاف زہر افشانی اور سازشیں کر رہے ہیں۔ ان کے پاسپورٹ ضبط کیے جائیں اور شہریت ختم کر دی جائے۔
- ۱۵۔ وزارت خارجہ امریکہ اور یورپی ممالک کو حقوق انسانی وغیرہ کے نام پر چلائی گئی
قادیانیت کی حمایت میں مہم بند کرنے کے لیے مجبور کرے۔ ان کو اصل صورت حال سے آگاہ کرے اور سفارتی اثر و رسوخ بروئے کار لائے۔ ان ممالک کے سفارت خانوں کو قادیانی تحریک کی حقیقت بتائی جائے اور مناسب لٹریچر فراہم کیا جائے۔ اسلامی تنظیموں کے ذریعے ایسا لٹریچر تیار کرا کے ان کو روانہ کیا جائے، جس سے وہ قادیانیت کا اصل چہرہ دیکھ سکیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ان معروضات پر غور کر کے ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے گا جو اس فتنے کی سرکوبی کے لیے ضروری ہے۔ (ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک)
مس بے نظیر بھٹو کی غیرت کہاں گئی؟
اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانی بے نظیر بھٹو کی سرکردگی میں پیپلز پارٹی کی حالیہ مہم میں پوری طرح ساتھ دے رہے ہیں اور بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ پہلے تو مس بے نظیر کی لندن میں روانگی سے قبل قادیانی سربراہ مرزا طاہر سے طویل ملاقات ہوئی جس میں قادیانی راہنما کی طرف سے قائم مقام چیئرمین پیپلز پارٹی کو ہر طرح تعاون کا یقین دلایا گیا۔ مرزا طاہر احمد نے ربوہ میں قائم مقام قادیانی امیر مرزا منصور کو بھی اس سلسلے میں ہدایات بھیجیں۔ چنانچہ ۱۰ اپریل کو لاہور ایئرپورٹ پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ مرزا منصور احمد نے بھی قادیانیوں کی طرف سے مس بے نظیر کا استقبال کیا۔ حکومت کو بھی مصدقہ ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ قادیانی مس بے نظیر کی مہم میں بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ ہر قیمت پر موجودہ حکومت اور صدر ضیاء الحق کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ صدر ضیاء الحق کا قصور یہ ہے کہ وہ پہلے پاکستانی صدر ہیں جن کے دور میں اسلامی اقدار کی حوصلہ افزائی اس ملک میں ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ غیر اسلامی اور مخالف اسلام نظریات کی اشاعت و ترویج کو بھی روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں قادیانی تحریک نے اسلام اور مسلمانوں میں اس دور میں جو تفریق، انتشار اور عظیم خطرات پیدا کیے ہیں، وہ بھی صدر مملکت کے محل نظر ہیں۔ انہوں نے قادیانی گروہ کو اپنی کھال کے اندر رکھنے کے لیے کافی کوشش کی ہے۔ اگرچہ صدر کے اقدامات نہایت نرمی، رحم دلی اور فراخ حوصلگی پر مبنی ہیں اور قادیانیوں کو مراعات بھی بہت دی ہیں۔ لیکن پھر بھی قادیانی بگڑے ہوئے لاڈلے نواب زادوں کی طرح صدر مملکت اور حکومت کے خلاف ریشہ
دہانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
حال ہی میں وفاقی وزیر جناب اقبال احمد خاں نے بھی پریس میں بیان دیا ہے کہ قادیانی مس بے نظیر کی حالیہ مہم میں اس کا پورا ساتھ دے رہے ہیں۔ انتہا یہ کہ قادیانی اب خود اپنے رسالوں میں تحریراً بھی کھلم کھلا مس بھٹو کی نہ صرف حمایت کر رہے ہیں بلکہ ان سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف بھی بیان داغ رہے ہیں۔ حال ہی میں قادیانیوں کے نیم سرکاری ہفت روزہ ”لاہور ۱۷ مئی ۸۶ء“ کے اداریہ میں سال رواں کے آخر تک انتخابات کے عنوان کے تحت کہا گیا ہے:
”پاکستان پیپلز پارٹی کی قائم مقام چیئرمین کے پنجاب‘ سرحد‘ سندھ اور بلوچستان کے بڑے بڑے شہروں میں عظیم اجتماعات میں شریک ہو کر از سر نو عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرنے والوں کو ”مٹھی بھر افراد قرار دینا تو ویسے ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ شرکت نہ ہونے والوں کے لیے اس سے بھی کوئی خفیف اصطلاح تراشنی ہو گی اور نہ ان سیاسی بزرجمہروں سے ہی اتفاق کیا جاسکتا ہے جنہوں نے اہل وطن کی اکثریت کو ”تماش بین اور لوفرز“ ناچنے والے قرار دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔ ہمیں اس پر اعتراض نہیں کہ مس بے نظیر قادیانیوں کی حمایت کیوں حاصل کر رہی ہیں لیکن اگر ان کو اپنے مرحوم باپ سے واقعی محبت اور لگاؤ ہے تو ہم انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ جب آپ کے والد گرامی کے خلاف عدالتی کارروائی ہو رہی تھی تو قادیانیوں نے اپنے گماشتوں کے ذریعہ معلوم کر لیا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی یقینی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے مذہب کے بانی مرزا غلام احمد کی کتاب کا اقتباس شائع کیا‘ جس میں ایک مبہم سی عبارت شائع کر کے اس کی تاویل یہ کی کہ مرزا کی پیش گوئی ہے کہ بھٹو نے چونکہ میری جماعت کے خلاف کارروائی کی تھی‘ اس لیے یہ کتا عبرت ناک طریق سے مارا جائے گا۔ اصل اقتباس یوں ہے:
مرزا کو الہام ہوا ”کلب یموت علی کلب“ یعنی کتا ہے‘ جو کتے کے عدد (حروف تہجی) کے مطابق مرے گا۔ اس میں اپنے دشمن کو کتا دکھایا گیا اور کتے (کلب) کا حروف تہجی سے ۵۲ عدد بنتا ہے۔ جو کتے کے عدد یعنی کلب کے حروف تہجی کے مطابق) ۵۲ سال کی عمر میں مارا جائے گا۔ بھٹو صاحب اس وقت ۵۲ سال کے ہونے والے تھے۔ قادیانیوں کو حکومت کے تیور معلوم ہو چکے تھے اس لیے کوئی صاف واضح پیش گوئی تو نہیں
مل سکتی تھی۔ ہمیشہ کی طرح مرزا کی ہذیانی، مبہم اور ہر طرح کی ضرورت کے مطابق پیش گوئیوں سے پر کتابوں میں سے گول مول عبارت نکال کر تاویل کر کے بھٹو صاحب پر فٹ کر دی۔
محترمہ مس بے نظیر صاحبہ! شاید آپ کو یاد آیا کہ نہیں، وہی قادیانی ہیں جنہوں نے آپ کے والد کی دردناک رحلت پر خوب جشن منایا تھا۔ اپنے جلسہ سالانہ دسمبر ۷۹ء میں خوشیوں کے قصیدے گائے گئے تھے کہ قادیانیوں سے ٹکر لینے والا کیسی دردناک موت مارا گیا۔ پھر انہوں نے جگہ جگہ پوسٹر چسپاں کیے، لوگوں کو بائی پوسٹ بھیجے اور ان پوسٹروں میں مرزا کا الہام درج کیا گیا تھا۔ کلب یموت علی کلب جس امت کے نبی نے آپ کے والد کو الہاماً کتا کہا ہے، اس کی امت سے آپ کیا نیک توقعات رکھتے ہیں۔
دوسرے یہ بھی دیکھئے کہ آپ کی پارٹی کے ارکان، آپ کے مونس و ہمدرد حضرات، آپ کے خاندان کے افراد اور سب سے بڑھ کر آپ کے غیرت مند باپ کی روح اپنی غیرت مند بیٹی سے کیا توقع رکھتی ہے۔
مندرجہ بالا حوالہ میں پیپلز پارٹی کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے پیر پگاڑو کے ریمارکس پر تنقید کی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ”پیپلز پارٹی کے ساتھ عوام کا سیلاب ہے۔ تو یہ سیلاب ٹوئسٹرز (ناچنے والوں) کا ہے۔ اور ”ٹوئسٹرز“ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سیاست میں ”فور سائٹ“ ہونی چاہیے۔ یہ تو ”بیک سائٹ“ ہے“۔
آگے چل کر ”لاہور“ قادیانی ہفت روزہ ممبران اسمبلی سے یوں خطاب کرتا ہے:
”اس صورت حال میں ان حضرات کے پاس اپنی رکنیت کی میعاد پوری کرنے پر اصرار کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ کیا یہی ایک بات اس امر کی متقاضی نہیں کہ تمام ارکان اسمبلی دوبارہ جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں کہ اب تو منتخب ہو کر مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد سیاست ان کے لیے شجر ممنوعہ بھی نہیں رہی۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۷، از قلم: م۔ ب)
سندھ میں قادیانیوں کا اجتماع
عبدالتواب شیخ
قادیانیوں کا کل سندھ سالانہ اجتماع پی اے ایف چک نزد شادی لارج میں ۹ فروری کو ہوا‘ جلسہ گاہ میں ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بینر آویزاں کیا گیا اور اذان اور باجماعت نماز کا اہتمام بھی۔ اس جلسہ میں پورے سندھ سے پانچ بسوں‘ دو ویگنوں اور ذاتی گاڑیوں میں تین سو کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے‘ جن میں عورتیں بھی شامل تھیں۔ جن کے لیے الگ سے پنڈال بنایا گیا تھا۔ دن کے ساڑھے بارہ بجے سرکاری فوجی گاڑی 86,2877,667 سوزوکی سوئفٹ کار میں دو مسلح فوجی جوانوں کے جلو میں ایک اعلیٰ ترین فوجی افسر جلسہ گاہ میں پہنچے‘ جن کو وہاں موجود باخبر افراد نے بریگیڈئیر کمانڈر ۲۰۶ بدین چھاؤنی عبدالغفور احسان بلوچ بتایا۔ ایجنسی کے اہلکاروں نے اس کی تصدیق کی۔ اس جلسہ گاہ کی طرف ان فوجی آفیسر کی رہنمائی قادیانیوں کے رضا کار نصیر کھوسکی والے نے کی اور یہ حضرات شادی لارج نہر کی پٹڑی پر گئے اور اس راستے کو اختیار نہیں کیا جو کیلے کے پودے لگا کر جلسہ گاہ کے لیے بنایا گیا تھا۔ سوا دو بجے جلسہ عام میں اذان دی گئی اور ڈھائی بجے نماز باجماعت دو مرتبہ ادا کی گئی۔ جلسہ گاہ میں ایک بڑا بینر اسٹیج پر آویزاں تھا جس پر ”احمدیت تیرا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا“ تحریر تھا۔ مقررین کے ناموں کو مخفی رکھتے ہوئے ان سے تقاریر کرائی گئیں۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ ۷۲ فرقے ۷۳ ویں کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور ہمیں مسلمان ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم پر پابندی عائد ہے کہ ہم درود نہ پڑھیں‘ کلمہ نہ آویزاں کریں‘ بسم اللہ نہ لکھیں‘ اس سب کے کرنے پر قید و بند کی سزائیں ہیں‘ یہ چاہتے
ہیں کہ ہمارا وجود مٹ جائے، مگر ایسی بات نہیں، ہمارا وجود بڑھ رہا ہے۔ ۷۳ ممالک میں ہمارا کام ہو رہا ہے، ہم سے ٹکرانے والے فنا ہو جائیں گے، تاریکی کا دور ختم ہونے والا ہے، پندرھویں صدی ہمارے غلبے کی صدی ہے، اب ہم سیٹلائٹ کے ذریعے ایشیا میں بارہ گھنٹے کا پروگرام نشر کر رہے ہیں، ہمارے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں، ہمیں ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، ربوہ میں ہمیں جلسہ کی اجازت نہیں۔ لوگ ہمارے جلسہ کو میلہ کہتے ہیں جب کہ ہم کہتے ہیں کہ یہاں میل صاف ہو جاتا ہے۔ مقررین نے غلام احمد کو بعثت رسول ثانی اور اپنے آپ کو صحابیوں کی جماعت قرار دیا اور اس کے ساتھ مرزا بشیر کے خواب کے حوالہ سے سندھ کی فضیلت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ باب الاسلام ہی نہیں، غلبہ اسلام کا بھی خطہ ہے۔ مرزا بشیر نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک زبردست سیلاب آیا ہے اور وہ اس میں بہہ رہے ہیں اور جس سرزمین پر ان کے پیر ٹکے وہ خطہ سندھ تھا ہم نے اپنی تحریک کے لیے سندھ میں زمینیں حاصل کیں، اس میں برکت ہوئی اور خوب پیسہ حاصل ہوا، اور اس پیسہ سے یورپ، افریقہ، ایشیا میں غلبہ اسلام کا سامان پیدا ہوا۔ ہم کئی رکاوٹوں کے باوجود حکومت کے وفادار ہیں۔ یہ جلسہ الہی ہے جو تربیتی اور تبلیغی بھی ہے۔ جلسہ کے دوران نعرہ تکبیر حضرت محمد ﷺ زندہ باد تحریک احمدیت، شہادت احمدیت زندہ باد کے نعروں کے ساتھ مرزا غلام احمد کی جے کے نعرے اسٹیج سے لگائے گئے۔ فوجی آفیسر جو سول وردی (سفید کپڑے اور لال سندھی ٹوپی) میں ملبوس تھے۔ ساڑھے تین بجے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے افراد سے بغل گیر ہو کر واپس چلے گئے اور اس طرح حاضر سروس فوجی آفیسر جو بدین جیسے حساس ترین علاقہ کی چھاؤنی کے انچارج ہیں، تین گھنٹے جلسہ میں رہے، اس جلسہ میں مسلمانوں پر کڑی نکتہ چینی کی گئی۔
(بشکریہ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی، ۲۰ فروری ۱۹۹۴ء)
ضیاء الحق کو شہید کس نے کیا؟
- سنسنی خیز انکشافات O ناقابل تردید حقائق
- اہل اسلام اور محبان وطن کے لیے لمحہ فکریہ!
ترتیب و تحقیق: حاجی عبدالحمید رحمانی
صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق ۱۷ اگست ۸۸ء بروز بدھ پونے چار بجے سہ پہر سی۔ 130 طیارے کے ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون) شہید جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ جاں بحق ہونے والوں میں ۲۵ سے زائد اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے۔
واقعات کے مطابق جنرل محمد ضیاء الحق فوجی مشقوں کے سلسلے میں بہاولپور تشریف لائے۔ ان کا یہ دورہ انتہائی خفیہ تھا۔ صدر کا یہ طیارہ پاک فضائیہ کا پاکستان۔ 1 طیارہ تھا جو پرواز کے چند منٹ بعد بہاولپور ایئر پورٹ سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر بستی لال کمال کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ علاقہ دریائے ستلج کے بالکل قریب ہے۔
صدر ضیاء الحق نے اپنے سیاسی تدبر کی وجہ سے ۱۱ سال ۴۳ دن اسلامی جمہوریہ پاکستان پر حکومت کی اور یوں انہیں ملک کی اکتالیس سالہ تاریخ میں طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کا اعزاز حاصل رہا۔ اس عہد کو جانچنے کے لیے اس کے تمام پہلوؤں پر نظر ڈالنی چاہیے۔ بہرحال وقت کا غیر جانبدار محاسب اس پر صحیح رائے دے سکے گا۔ صدر جنرل محمد
ضیاء الحق پابند صوم وصلوۃ اور سچے مسلمان تھے۔ ان کی المناک وفات سے عالم اسلام میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم غم و اندوہ کے تاریک سائے پھیل گئے۔ حکمران ہوں یا عوام، کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ صدر ضیاء الحق ہمارے درمیان موجود نہیں رہے۔ صدر ضیاء الحق ایک خاکی انسان تھے اس لیے انہیں موت کا ذائقہ چکھنا ہی تھا مگر اس طرح کی درد ناک موت ہمیشہ ہی نا قابل یقین ہوا کرتی ہے۔
صدر ضیاء الحق نے جہاد افغانستان کی حمایت، تائید اور معاونت کی صورت میں بڑا اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ ۳۵ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ گاہ مہیا کرنا، دس برس تک جہاد افغانستان کی پشت پناہی کرنا، بیرونی دباؤ اور دھمکیوں کے خلاف استقامت اور حوصلہ مندی سے ڈٹے رہنا، انہی کا خاصا تھا۔ افغانستان کی آزادی اور مجاہدین کے ہاتھوں افغانستان میں اسلامی حکومت کا قیام صدر ضیاء کے چند بڑے اہداف میں سے ایک تھا۔ افغان مجاہدین کے نو جماعتی اتحاد نے انہیں جہاد افغانستان کے "ہیرو" کا خطاب دیا اور اعلان کیا کہ افغانستان کی آزادی کے بعد کابل کی مشہور عالم مسجد "پل خشتی" کا نام "مسجد ضیاء الحق" رکھ دیا جائے گا۔
اس حادثے کے بارے میں اب تک بہت سی باتیں سرکاری، غیر سرکاری، بیرونی اور اندرونی سطح پر کہی گئی ہیں، کہی جارہی ہیں اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے طیارے کا حادثہ ایک معمہ بنتا جارہا ہے اور اس سوال کا ہر ایک شخص کو جواب مطلوب ہے کہ کیا یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا یا کہ ایک سازش کے تحت طیارے کو تباہ کیا گیا؟
مختلف ذرائع سے ملنے والے ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں ایک واضح تصویر بنتی ہے جو ریکارڈ پر لانے کے لائق ہے۔ جو حقائق اب تک سامنے آئے ہیں، ان سے یہ بات تقریباً واضح ہو جاتی ہے کہ طیارہ کو اتفاقی حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی تخریب کاری اور سازش کا شکار ہوا ہے۔
اس بارے میں چند ذمہ دار شخصیات کی آراء پیش خدمت ہیں:
- ۱۔ ۱۸ اگست ۱۹۸۸ء کو واشنگٹن پوسٹ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر کے
دوسرے پیراگراف ہی میں صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خاں کا بیان تھا کہ سبوتاژ کے امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔
- ۲۔ ۱۸ اگست ۱۹۸۸ء کو پاکستانی سینٹ کے ایک خصوصی اجلاس میں ۴۴ مقررین نے
اس حادثہ کا ذمہ دار سبوتاژ کو ٹھہرایا۔
- ۳۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۸۸ء کو واشنگٹن پوسٹ نے جنرل اسلم بیگ کے وہ جملے چھاپے جو انہوں
نے بقول واشنگٹن پوسٹ کے سینئر افسران کے اجلاس میں کہے تھے۔ جنرل بیگ نے کہا کہ ”یہ سانحہ ایک سازش ہے جو بیرونی عناصر نے تیار کی ہے، لیکن اس میں ہمارے اپنے لوگوں کا سرگرم تعاون ہوا ہے“۔
انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ بہاولپور کی دسمبر ۱۹۸۸ء تک جتنی انکوائری ہوئی، اس کی تمام تفصیلات ہمارے پاس موجود ہیں۔ ان تفاصیل کی تہہ میں جانے سے اس بات کی نشاندہی ہو سکے گی کہ سانحہ بہاولپور کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
(روزنامہ ”جنگ“ ۱۴ ستمبر ۱۹۸۹ء)
- ۴۔ سابق سینئر وزیر محمد اسلم خٹک نے کہا ہے کہ یہ فضائی حادثہ جس میں صدر مملکت
سمیت متعدد انتہائی قیمتی جانیں گئی ہیں، سو فیصد تخریب کاری کا نتیجہ ہے اور یہ کہ انہوں نے حادثہ سے دو ماہ پہلے مرحوم صدر اور وزیر داخلہ کو اس سازش سے آگاہ کر دیا تھا کہ دشمن ان کی جان کی درپے ہیں مگر صدر مملکت نے انہیں یہی کہا تھا کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔
- ۵۔ تحریک استقلال کے چیئرمین اور فضائی امور کے ماہر ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان
نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ تخریب کاری کے نتیجہ میں تباہ ہوا ہے اور اس کا ننانوے فیصد امکان ہے۔
- ۶۔ جہاد افغانستان کے رہنما گلبدین حکمت یار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر
ضیاء کی شہادت میں کے جی بی کا ہاتھ ہے۔
- ۷۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ نسیم آہیر نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ضیاء
الحق کا طیارہ تباہ کرانے کے لیے کسی شخص کو خریدا گیا ہے۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۶ اگست ۱۹۸۸ء)
علاوہ ازیں درج ذیل حقائق بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ حادثہ کسی فنی خرابی کی بناء پر پیش نہیں آیا تھا۔
اس المناک حادثہ میں فنی خرابی اس لیے خارج از امکان ہے کہ پرواز کے اعتبار سے سی-130 طیارہ دنیا کے محفوظ ترین طیاروں میں شمار ہوتا ہے اور فنی خرابی کے باعث اس کے فضا میں پھٹنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کے چار میں سے اگر تین انجن بھی خراب ہو جائیں تو یہ صرف ایک انجن سے بھی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ اگر چاروں انجن بھی خراب ہو جائیں یا کام کرنا چھوڑ دیں تو بھی یہ گلائیڈ کے طور پر اتر سکتا ہے اور کریش لینڈنگ کر سکتا ہے۔ اس طیارے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ طیارہ اتفاقی حادثہ پیش آنے پر قلا بازیاں نہیں کھاتا۔ اس طیارے کو صدر ضیاء الحق نے ۱۹۸۱ء میں اپنے خصوصی فیلکن طیارے پر ہونے والے حملے کے بعد ماہرین کی رائے پر استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ یہ طیارہ پاک فضائیہ میں ۱۹۶۳ء سے زیر استعمال ہے اور پندرہ بیس سال کے دوران اس قسم کے طیارہ کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ اب تک سرکاری ذرائع اور عالمی ہوا بازی کے مبصرین نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ طیارہ فنی خرابی یا اتفاقی حادثے کا شکار نہیں ہوا۔
- ۴۔ برطانیہ کے مشہور جریدہ اکانومسٹ کے تجزیہ نگار نے سی-130 کی تباہی کو تخریب
کاری کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ایسا محفوظ طیارہ کسی فنی خرابی کی وجہ سے تباہ نہیں ہو سکتا۔ یوں یہ اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش اور تخریب کاری ہے“۔
نیوزویک نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ ....... ”پاکستان میں ان کے سیاسی اور مذہبی مخالفین بھی اس تخریب کاری کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں“۔
(بحوالہ ”اردو ڈائجسٹ“ ضیاء شہید نمبر)
ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے ضیاء الحق شہید نمبر میں ملک کے معروف محقق، ادیب ستار طاہر نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ ”پاکستان میں ضیاء دشمن عناصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ہی کسی ملک دشمن گروہ کا کسی غیر ملک سے گٹھ جوڑ اس خوفناک سازش کا باعث بنا ہے“۔
جناب ادیب جاودانی نے اپنے ماہنامہ میں اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”تمام قرائن و شواہد اس امر کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں کہ طیارہ باہر سے نہیں اندر سے تباہ ہوا ہے اور ایک بڑا امکان جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ ہے کہ جہاز تباہ کرنے والا
شخص طیارہ کے اندر موجود تھا اور اس نے اپنے نصب العین کے لیے جہاز کو تباہ کر دیا۔
(ماہنامہ مون ڈائجسٹ‘ صدر ضیاء الحق نمبر)
۱۶ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو سانحہ بہاولپور کے تحقیقاتی بورڈ نے مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حادثہ کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ حادثہ زیادہ امکانی طور پر کسی مجرمانہ حرکت یا تخریب کاری کا نتیجہ ہے“۔
تحقیقاتی بورڈ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تخریب کاری میں ایسی تنظیم ملوث ہو سکتی ہے جو جدید تکنیکی ذرائع حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو۔ (روزنامہ جنگ‘ نوائے وقت‘ لاہور ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
سابق ائیر کموڈور طارق مجید اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ ”اگر ہم قومی سطح پر اس حادثہ کی تہہ تک نہیں پہنچے تو مستقبل بھی بگڑ جائے گا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ اس تخریبی حادثے کی غیر ٹیکنیکل وجوہ کی تحقیقات اس بورڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے نہ ہی یہ بورڈ ایسی تحقیقات کی اہلیت رکھتا ہے۔ غیر ٹیکنیکل وجوہ دراصل سیاسی وجوہ ہیں۔ یہ حادثہ سراسر ایک سیاسی حادثہ ہے۔ اسے سیاسی پس منظر میں دیکھنا ہو گا۔ اس کا اپنے سے قبل اور بعد میں ہونے والے واقعات سے گہرا تعلق ہے۔ اس سے خود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حادثے کا پاکستان کی قومی پالیسیوں سے بھی گہرا تعلق ہے اور اس امر سے بھی کہ جنرل ضیاء الحق کے بعد‘ عنان حکومت کن ہاتھوں میں ہونی چاہیے“۔
(ہفت روزہ ”ندا“ ۱۵ نومبر ۱۹۸۸ء)
سانحہ بہاولپور کی اس تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی نے کہا کہ ”حکومت نے صدر ضیاء الحق کے قاتلوں کے بارے میں اپنا شبہ ظاہر نہیں کیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی اور پڑوسی ممالک میں صدر ضیاء کے مخالفین کے بارے میں کئی مفروضے گردش کر رہے ہیں“ اور یہی وجہ ہے کہ اس تخریب کار تنظیم کو بچانے کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ ”تحقیقاتی رپورٹ کے بعض امور عوام کے سامنے لانا ملکی مفاد میں نہیں ہوگا“۔ (اردو ڈائجسٹ کا ضیاء شہید نمبر)
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو اس سانحہ کے ذمہ داروں کے بارے میں پوری آگاہی اور معلومات ہیں۔
اب یہ سوال اور زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ اگر طیارہ کو تخریب کاری یا کسی سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے تو اس کے پس پردہ کیا عزائم ہیں؟ اور کون سے ہاتھ اس میں ملوث ہیں؟ اس المناک سانحہ اور پاکستانی قوم کے خون سے ہاتھ رنگنے والے روس، امریکہ اور بھارت کے علاوہ اور کون ہو سکتے ہیں؟ اور یہ سازش کس طرح پروان چڑھ سکتی تھی، اگر میر جعفر و میر صادق کی غدار اولاد اہل پاکستان کی صفوں میں موجود نہ ہوتی۔ اپنے ضمیر کا سودا کرنے والا اگر کوئی پاکستانی نہ ہوتا تو شاید مثلث کے تینوں زاویے بیکار ہو جاتے۔
اس امر پر ناقابل تردید حقائق و واقعات کی روشنی میں ہم پوری دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ واضح کرتے ہیں کہ اس "المناک حادثہ" کی ذمہ دار قادیانی جماعت ہے جس کا خمیر ہی تخریب کاری، سازشوں اور سامراجی طاقتوں کی کاسہ لیسی سے اٹھایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ "قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں اور قادیانیت "یہودیت" کا چربہ ہے"۔
بہاولپور کے المناک تاریخی حادثہ کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد کرنا کسی مخالفت برائے مخالفت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے جسے کسی طور بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آپ قادیانیوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قادیانیوں نے عالم اسلام کو بالعموم اور اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کو بالخصوص ہر موقع پر نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اس مختصر سے مضمون میں قادیانیوں کی اسلام اور ملک کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا احاطہ ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ اس المناک حادثہ کے ذمہ دار "قادیانیوں" کی ذہنیت کو جانچنے کے لیے کچھ باتیں تمہید کے طور پر بیان کرنا ضروری ہیں تاکہ آپ یہ پورا کیس آسانی سے سمجھ سکیں۔
قائد اعظمؒ اور قادیانی
قائد اعظمؒ نے ۱۹۳۸ء میں راجہ صاحب آف محمود آباد کی کراچی آمد کے موقعہ پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ "قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی وفاداریاں مشکوک ہیں۔ میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے"۔ (بحوالہ ہفت روزہ "ختم نبوت انٹرنیشنل" ص ۴ تا ۶، ۱۲ فروری ۱۹۸۷ء)
شومئی قسمت کہ قافلہ وقت تیزی سے رواں دواں تھا۔ قائد اعظم کو مہاجرین کی آباد کاری اور دیگر مسائل نے مہلت نہ دی وگرنہ آپ اس خطرے کا ابتداء میں ہی حل ڈھونڈ لیتے اور قوم آئندہ تباہیوں سے محفوظ ہو جاتی۔ قائد اعظمؒ کے انتقال پر ملال سے ساری قوم کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کے داغ مفارقت سے ہر شخص یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ یتیم ہو گیا ہو لیکن اس جانکاہ صدمہ پر بھی قادیانیوں کے رویہ میں کوئی فرق نہ آیا۔ پاکستان کے باشعور شہری جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خاں قادیانی نے بانی پاکستان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی اور وہ ایک طرف الگ بیٹھا رہا۔ حالانکہ اس وقت یہ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز تھا۔ جب اخبارات اس معاملہ کو منظر عام پر لائے تو ان کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ ”چودھری ظفر اللہ خاں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ حالانکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے“۔
(آتش فشاں، ص ۲۴، مئی ۱۹۸۱ء)
قادیانی فوجی سازش
مارچ ۱۹۵۱ء میں ایک سازش کا انکشاف ہوا جس میں بڑے بڑے فوجی افسر شریک تھے اور جس کا مقصد یہ تھا کہ حکومت پاکستان کا تختہ الٹ دیا جائے۔ اس مقدمہ کے ملزموں میں جسے بعد میں ”راولپنڈی سازش کیس“ کے نام سے موسوم کیا گیا، ایک میجر جنرل نذیر احمد بھی تھے، جو قادیانی تھے۔
شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کا راز
گزشتہ دنوں قومی اخبارات اور کراچی سے شائع ہونے والے ایک جریدہ ہفت روزہ ”تکبیر“ مارچ ۱۹۸۶ء میں پاکستان کے مشہور سراغ رساں جیمز سالومن ونسنٹ کی یادوں کے حوالہ سے ایک چونکا دینے والا انکشاف شائع ہو چکا ہے۔ اس انکشاف سے ملک بھر کے سیاسی حلقے حیرت زدہ رہ گئے۔ بتایا گیا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی جیمز کنزے نے قتل کیا تھا۔ یہ شخص ظفر اللہ خان
کالے پالک تھا اور اس سازش کا پورا ڈرامہ آنجہانی ظفر اللہ خان کے تخریبی ذہن کی پیداوار تھا۔
لیاقت علی خان کے قتل سے متعلق یہ رپورٹ آج بھی سنٹرل انٹیلی جنس کراچی کے دفتر میں موجود ہے۔ اب اس قتل کی وجہ بھی سنئے۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کو حکم دیا کہ وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان سے ملاقات کر کے انہیں قادیانیوں کی خرمستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے آگاہ کرو۔ لہٰذا ملاقات کے لیے صرف ۵ منٹ کا وقت دیا گیا۔ لیکن جب قاضی صاحب نے ”قادیانیت کے سربستہ رازوں کی گرہیں کھولیں“ تو لیاقت علی خان ششدر رہ گئے اور یہ ۵ منٹ کی ملاقات اڑھائی گھنٹے میں بدل گئی۔ لیاقت علی خان نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ”اب یہ بوجھ آپ کے کندھوں سے میرے کندھوں پر آن پڑا ہے“۔
ایک میٹنگ میں لیاقت علی خان نے ظفر اللہ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت (قادیانی جماعت) کی نمائندگی کرتے ہیں“۔
سیالکوٹ میں قاضی صاحب کی لیاقت علی خان سے آخری ملاقات ہوئی اور اس کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ لیاقت علی خان نے سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ کے عہدے سے الگ کرنے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا اور وہ راولپنڈی کے جلسہ عام میں اس کا اعلان کرنے والے تھے۔ ادھر قادیانی سازشی قوتیں بھی تیار بیٹھی تھیں۔ جیمز کے بقول کنزے جلسہ عام میں سٹیج کے بالکل قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ جونہی شہید ملت لیاقت علی خان سٹیج پر آئے، کنزے نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا اور شورو غل میں سید اکبر کو قاتل مشہور کر دیا اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے ہلاک کر دیا گیا۔ کنزے راولپنڈی سے فرار ہو کر ربوہ پہنچا۔ اس کے بعد وہ مغربی جرمنی فرار ہوگیا۔ جیمز کنزے آج بھی مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے۔
قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے ان کی شہادت کے بعد انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان کا پروگرام تھا کہ قادیانیوں کو سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دیا جائے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی
آج سے دو سال قبل راؤ فرمان علی جو مشرقی پاکستان میں گورنر کے مشیر بھی تھے، انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بڑی وجہ ”عظیم قادیانی ریاست کے قیام کا نظریہ تھا۔ بنگالیوں کی علیحدگی کے کئی عوامل تھے جن میں غربت، محرومی، عدم مساوات، ناخواندگی، پسماندگی اور ذرائع مواصلات کا فقدان شامل تھا۔ یہ تمام عوامل پیدا کرنا قادیانی امت کے فرزند ایم ایم احمد (یحییٰ خان کا مشیر) کے کمالات کا نتیجہ تھا“۔
عوامی لیگ کے راہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے ۱۹۷۰ء میں اپنی انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں برسر اقتدار آگیا تو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ ایم ایم احمد قادیانی کو مشرقی پاکستان کے ساتھ معاشی ناانصافیوں کے الزام میں سرنگاپٹم کے سٹیڈیم میں الٹا لٹکا کر پھانسی دوں گا۔ (ترجمان اہل سنت ختم نبوت نمبر، کراچی)
پروفیسر فرید احمد کے صاحب زادے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مرزائی بھارت کے ایجنٹ اور آلہ کار ہیں۔ انہی کی سازشوں سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی معرض وجود میں آئی۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ نامعلوم وجوہ کی بناء پر ابھی تک نظروں سے اوجھل ہے۔ شاید اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں کہ اتنا کاری زخم کھا چکنے کے بعد بھی نشانہ باز کے متعلق مطلقاً نہیں بتایا گیا۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے اور حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ میں قادیانیوں کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور حکومت کسی غیر ملکی دباؤ یا مصلحت کے تحت اس رپورٹ کو منظر عام پر آنے نہیں دیتی۔
جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو ہر پاکستانی خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لیکن قادیانی فخر سے گردن اکڑ کر چلتے تھے۔ ابھی تک ہزاروں گواہ موجود ہیں جنہوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش بن گیا، تو ربوہ اور لاہور میں مرزائیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائی تقسیم کی۔ اپنے مکانوں پر جشن چراغاں کیا اور شب بھر سڑکوں پر رقص کرتے رہے۔
اسرائیل میں چھ سو قادیانی فوجی
اسرائیل نے مسلمان عرب پر جو ظلم و ستم توڑے ہیں، انہیں پڑھ کر ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم بھی شرما جاتے ہیں۔ خصوصاً اسرائیل نے فلسطین میں خون ناحق کے جو دریا بہائے ہیں صرف وہی داستان مظالم پڑھ کر جسم پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے اور شریانوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آپ یہ پڑھ کر حیران ہو جائیں گے کہ ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ "جہاں ننگ انسانیت یہودی درندے فلسطین و دیگر عرب ممالک کے مسلمانوں کے قیمتی خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، وہاں ۶۰۰ قادیانی فوجی بھی اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور اس چنگیزی فعل میں یہودی درندوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں"۔
اسرائیل میں قادیانی مشن
اسرائیل میں کوئی بھی دیگر مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کو اسرائیل میں کام کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ کچھ عرصہ قبل روزنامہ نوائے وقت کے اول صفحہ پر ایک چونکا دینے والی تصویر شائع ہوئی جس میں اپنے فرائض قبیح سے سبکدوش ہونے والے قادیانی مشن کا سربراہ دوسرے نئے آنے والے قادیانی مشن کے سربراہ کا تعارف اسرائیلی صدر سے کروا رہا ہے۔ اخبار میں یہ راز فاش ہونے پر دارالکفر ربوہ کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھل گئیں۔
اسرائیل میں قادیانیوں سے جو کام لیے جا رہے ہیں اور جو خدمات وہ سرانجام دیں گے، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ ایک دردناک اور درد رساں لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اگر دوست کا دشمن دوست نہیں تو دشمن کا دوست کس طرح دوست ہو سکتا ہے؟
وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس پیر کرم شاہ الازہری مدظلہ نے گزشتہ دنوں انکشاف کرتے ہوئے فرینکفرٹ کی مسجد میں کہا کہ قادیانیوں کا مشن تل ابیب میں آج بھی سرگرم عمل ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ان کی دوستی اسلام اور عالم اسلام کی مخالفت پر ہے۔
(روزنامہ ”جنگ“ ۱۹۸۸ء)
پاکستان میں قادیانی حکومت کا خواب اور قادیان
مرزائیوں کا سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۷۴ء کو ربوہ میں ہو رہا تھا۔ نام نہاد قادیانی خلیفہ مرزا ناصر تقریر کر رہا تھا۔ پاکستان ایئرفورس کا ایک جہاز اڑتا ہوا آیا۔ اس نے فضا میں غوطہ لگا کر مرزا ناصر کو سلامی دی۔ دوسرا آیا اس نے بھی یہی عمل دھرایا۔ تیسرے نے بھی یہی فعل قبیح کیا۔ یہ سارے مرزائی پائلٹ تھے جنہوں نے ایئرفورس کے سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری کے حکم پر ایسا کیا۔ اس پر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر خوشی سے پھولے نہ سمایا۔ اس نے اپنا دامن پھیلایا اور آسمان کی طرف منہ کر کے حاضرین سے مخاطب ہوا ”میں دیکھ رہا ہوں کہ احمدیت (قادیانیت) کا پھل پک چکا ہے اور جلد ہی میری جھولی میں گرنے والا ہے“۔
یہ رپورٹ جرائد اور رسائل میں پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوئی۔ خفیہ ذرائع سے مسٹر بھٹو بھی اس کی تصدیق کر چکے تھے۔ ان حقائق کے پیش نظر حکومت نے ظفر چودھری کو رخصت کر دیا۔ اس خبر سے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
ایئرفورس پر قادیانی یلغار
پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری بڑے متعصب اور سخت گیر طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کروانے کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا۔ جب کبھی بھرتی کا مرحلہ آیا ہم عقیدہ افراد کو فوقیت دی گئی۔ امریکہ وغیرہ میں کسی نوجوان کو بغرض بھرتی بھیجنے کا سوال اٹھا تو قادیانی افسر کا چناؤ ہوا حتیٰ کہ فضائیہ میں ان کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔ اسی لیے تاحال مرزائی محکمہ دفاع کے بعض اہم اور نازک عہدوں پر براجمان ہیں۔ ایک بار ظفر چودھری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلمان فضائی افسر نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تک رسائی حاصل کی اور انہیں ظفر چودھری کی گھٹیا ذہنیت اور اس کی اغراض مذمومہ سے آگاہ کیا۔ یہ تمام حقائق سن کر بھٹو صاحب بے حد پریشان ہوئے اور کہتے ہیں کہ اس روز بھٹو مرحوم بے حد پریشان تھے۔ ان کے ماتھے پر ایک معنی خیز شکن ابھری اور کہا ”اچھا یہ ہے ان کا اصل روپ“۔
(موید قومی ہیرو ایم ایم عالم‘ ص ۱۸۳-۱۸۴)
شاید بھٹو صاحب اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے مگر ایک واقعہ نے ان کو عملی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا اور وہ درگزر نہ کر سکے۔ ہوا یوں کہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کو جسٹس ہمدانی کی عدالت میں ایک فوری نوعیت کا بیان سماعت کیا گیا۔ فاضل عدالت نے ۳۱ اگست کو اس کے بعض اجزا خبر رساں ایجنسیوں کے حوالے کیے جو آئندہ روز اشاعت پذیر ہوئے۔ بیان ہوا کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی صدارت میں بعض سرکردہ قادیانیوں نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو راستہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروگرام یہ طے ہوا کہ ایک تقریب میں انہیں قتل کر دیا جائے۔
اس سے پہلے ایئر مارشل ظفر چودھری جو نہایت متعصب اور کٹر قادیانی ہے‘ اور رشتہ کے لحاظ سے سر ظفر اللہ خان کا حقیقی بھتیجا اور میجر جنرل نذیر احمد ان کا ہم زلف ہے‘ نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جو ناکام بنادی گئی۔
قتل کی سازش حکومت کے علم میں ہے۔ مزید برآں تفتیشی ادارے مسٹر ایم ایم احمد کے ایک رشتہ دار کے گھر سے وائرلیس ٹرانسمیٹر برآمد کر چکے ہیں۔ (رپورٹ جسٹس ہمدانی ٹربیونل)
(مندرجہ اردو اخبارات‘ بتاریخ یکم اکتوبر ۱۹۷۴ء)
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی
نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو پر مسعود محمود وعدہ معاف گواہ تھا۔ یہ شخص ایف ایس ایف کا ڈائریکٹر تھا اور کٹر قادیانی تھا۔ یاد رہے بھٹو صاحب کے زوال میں اس کے خفیہ ہاتھوں کا گہرا تعلق ہے۔
سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی نے اپنی تنگ فطرت اور خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ایک محفل میں کہا تھا کہ ”بھٹو صاحب کا باون سال کی عمر میں مرنا مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ باون سال کی عمر میں ایک کتا‘ کتے کی موت مرے گا“۔ (بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ ۲۶ جون تا ۲ جولائی ۱۹۸۷ء)
حالانکہ سابق وزیراعظم بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا اور ان کی یہ شاندار خدمت تاریخ اسلام میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
شاہ فیصلؒ کی شہادت
جب ایک خطرناک یہودی سازش کے تحت محسن اسلام خادم امت محمدیہؐ اور پاسبان حرم شاہ فیصلؒ کو شہید کردیا گیا تو روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں کی آنکھیں خون کے آنسو رو رہی تھیں اور ہر مسلمان کا دل زخموں سے چور چور تھا لیکن اس وقت قادیان اور ربوہ کی غیر مسلم اقلیت نے خوشی کے ترانے بجائے کیونکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے سابق وزیراعظم پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو خصوصی طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے لیے کہا تھا۔ چونکہ شاہ فیصلؒ یہود کے ازلی دشمن تھے اور وہ اسرائیل کے وجود کو برداشت نہ کرتے تھے جبکہ قادیانی یہودیوں کے دیرینہ ایجنٹ ہیں لہٰذا ان کی موت پر قادیانیوں نے خوشی کے چراغ جلائے۔
روسی ایجنٹ
قادیانی بین الاقوامی سازشوں اور جاسوسی کے اتنے بڑے ماہر ہیں کہ دونوں سپر طاقتوں امریکہ اور روس کو اپنے انسانیت سوز اور اخلاق شکن منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس بدنام زمانہ گروہ کی خدمات مستعار لینا پڑتی ہیں۔ قادیانی فتنے کا ایک ہاتھ امریکہ اور دوسرا ہاتھ روس نے تھاما ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں رسوائے زمانہ مرزائی صنعت کار اور دارالکفر ربوہ کی ایک اہم شخصیت نصیر اے شیخ نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر پاکستان میں مقیم روسی سفیر کے اعزاز میں ایک پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں ملک کی اہم شخصیات کو مدعو کیا۔ دعوت کے بعد نصیر اے شیخ اور روسی سفیر کی ایک اہم اور خفیہ میٹنگ ہوئی۔ یاد رہے کہ روس اور قادیانی جماعت کے مابین قریبی مراسم ۱۹۷۸ء میں استوار ہوئے۔ جب روسی سفیر سے احمدیہ جماعت کے سربراہ نے ملاقات کی اس کے بعد
باقاعدہ ان کا روسی لابی سے رابطہ قائم ہو گیا۔ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ‘ از صاحب زادہ طارق محمود)
علاوہ ازیں اسلام آباد میں ایک قادیانی پروفیسر جمیل احمد روسی لٹریچر تقسیم کرتا ہوا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پروفیسر مذکور قادیانی جماعت کے پہلے نام نہاد خلیفہ حکیم نورالدین کا نواسہ ہے۔ اس خبر سے دینی و سیاسی حلقے ورطہ حیرت میں پڑ گئے اور ہر شخص اس سوچ میں غرق تھا کہ قادیانی جماعت کا کمیونسٹ ملک روس سے کیا تعلق؟ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحب زادہ طارق محمود) اس وقت پاکستان میں قادیانی لابی پاکستان و افغانستان کے مابین تعلقات کی پوری رپورٹ روس کو پہنچا رہی ہے اور دوسری طرف قادیانیوں پر روسی نوازشات کہ ننگ وطن، ننگ دین اور ننگ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ در حقیقت یہ سودی و یہودی نوبل پرائز یہودیوں کی طرف سے قادیانیوں کو ان کی خدمات کے عوض دیا گیا ہے۔ (غدار پاکستان از مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
امریکی استعمار کی طرف سے قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت
امریکی سینٹ کی ۱۷ رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرار داد میں جو شرائط شامل کی ہیں، ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ ..... ”امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی ”آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں“ بحوالہ مضمون جناب ارشاد احمد حقانی‘ ادارتی صفحہ ۳‘ روزنامہ جنگ‘ ۵ مئی ۱۹۸۷ء)
قادیانیوں کی مکمل مذہبی اور شہری آزادیوں کا مطلب کیا ہے؟
یہ کہ وہ .........
- ☆ ملت اسلامیہ سے قطعی طور پر الگ ایک نئی امت ہوتے ہوئے بھی اسلام کا نام
اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال کر کے دھوکہ اور اشتباہ کی جو فضاء قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ بدستور قائم رہے۔
- ☆ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ملت اسلامیہ کے دینی تشخص کے تحفظ کے لیے
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ ختم ہو جائے۔
- ٭ - ۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو مسجد، کلمہ طیبہ اور اسلام کا
نام اور اصطلاحات استعمال کرنے سے جو روکا گیا ہے، اسے غیر موثر بنایا جائے۔
- ٭ - پاکستان کے دینی اور عوامی حلقے مسلمانوں سے قادیانیوں کی الگ حیثیت کو عملاً
متعین کرانے کے لیے جن جائز قانونی اقدامات کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا راستہ روک دیا جائے.......
.......امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی معتقدات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ ہے۔
یہ صورت حال مسلمانوں کے دینی و قومی حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شرط کو مسترد کرنے کا دو ٹوک اعلان کرے اور دینی و قومی حلقوں کا فرض ہے کہ وہ موثر آواز بلند کر کے قادیانیت کو ناجائز تحفظ دینے کی امریکی کوشش کو ناکام بنادیں۔
پاکستان کے اندر کہوٹہ دشمن لابی
”جو ممالک پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں، بلکہ اس مسلسل کوشش میں مصروف ہیں کہ پاکستان اس ضمن میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکے۔ ان میں روس، بھارت، اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں۔ امریکہ کو پاکستان کا دوست، حلیف اور مربی ملک ہونے کی حیثیت سے ہر طرح کی مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی تمام تر سہولتیں حاصل ہیں، بلکہ پاکستان کی اب تک کی تاریخ میں ایوان صدر یا وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ہونے والے ہر طرح کے خفیہ اجلاسوں میں بھی امریکیوں سے زیادہ کوئی نہ کوئی امریکی نواز ضرور موجود ہوتا ہے۔ اس حقیقت کا اطلاق بڑی حد تک کہوٹہ کے ضمن میں ہونے والے اجلاسوں پر بھی ہوتا ہے۔
اس کتاب کے معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے، کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر
کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور اہم واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان کے ایک بہت سینئر سفارت کار نے مجھے ڈاکٹر عبد القدیر خاں کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ میں کوشش کروں گا کہ اس واقعہ کا ذکر ان کے اپنے الفاظ میں کروں۔
ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا "نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے" جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اس اجلاس میں موجود تھا کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں، میں آپ کو بتاؤں آپ کا اسلامی بم کیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا، تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا "یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی
اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟” میں نے کہا میں فنی اور تکنیکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے۔ اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا‘ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ جب ہم کاریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی سائنس دان) ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے ہیں جس میں بقول سی آئی اے کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا اچھا تو یہ بات ہے۔
(ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم‘ مصنفہ زاہد ملک)
ربوہ سے اسرائیل تک
ربوہ کے علاوہ پاکستان میں مرزائیت کا دوسرا بڑا مرکز کنری ضلع تھرپارکر (سندھ) ہے۔ یہاں سے برٹش گورنمنٹ نے ۳۲ سے ۳۵ ہزار ایکڑ زمین چند کوڑیوں کے بھاؤ اپنے بااعتماد خدمت گزاروں کو عطا کی تھی۔ یہ جگہ بھی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا درجہ رکھتی ہے۔ سندھی عوام کہتے ہیں کہ براستہ انڈیا‘ کنری میں اسرائیل کی ڈاک مسلسل پہنچ رہی ہے۔ اس قصبہ کی طرف اکثر و بیشتر بھارتی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھی گئی ہے۔ ایوب کے عہد میں چند جیپیں باقاعدہ حراست میں لی گئی تھیں جن کا تذکرہ اخبارات میں موجود ہے۔ چونکہ یہ علاقہ بارڈر سے بالکل قریب ہے اس لیے ان پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ (قائدین تحریک ختم نبوت سے انٹرویو‘ سندھی قلم قبیلہ کی یادداشتیں)
پاکستانی افواج میں قادیانیوں کی بھرمار
پاک فوج میں قادیانیوں نے اس قدر غلبہ حاصل کر لیا تھا کہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو خود یہ اعلان کرنا پڑا کہ اب احمدیوں کو فوج کا رخ نہیں کرنا
چاہیے ۔ کیونکہ فوج ہمارے آدمیوں سے بھر چکی ہے۔ بقول آغا شورش کاشمیری کہ ایک وقت تھا جب فوج میں ۱۷ جرنیلوں میں ۱۴ جرنیل قادیانی تھے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانی جہاد کے منکر ہیں اور تنسیخ جہاد ان کے مذہب کا حصہ ہے۔ پھر وہ کیسے مجاہد ثابت ہوں گے؟ قادیانیوں کی مکارانہ سازش کی انتہاء دیکھئے کہ .....
- ۱۔ میجر جنرل شیر بہادر (جو کہ پاکستان کے پہلے مسلم کمانڈر انچیف بننے والے تھے) اور
میجر جنرل افتخار احمد کو ہوائی سفر کے دوران ایک ہیلی کاپٹر کے ساتھ ہلاک کرا دیا گیا تاکہ میجر جنرل شیر بہادر پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف منتخب نہ ہو سکیں۔
- ۲۔ ریٹائرڈ ائیر کموڈور ایم ایم عالم نے کہا ہے کہ مجھے قادیانیوں کی سازش کے نتیجے میں
سروس سے ریٹائر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سازش کے نتیجے میں ۱۹۶۸ء کے بعد مجھے جہاد کے قریب بھی نہیں جانے دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے آج تک پنشن بھی وصول نہیں کی۔ انہوں نے لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو دور میں مجھے قادیانیوں نے فوج سے نکالنے کی کوشش کی لیکن بھٹو صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور)
پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں قادیانی ہاتھ
- ۱۔ روزنامہ جنگ کراچی ۸ فروری میں ایک بیان ملاحظہ ہو:
کراچی کے کونسلر ہاشم زیدی نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ شہر کے امن و امان کو تباہ کرنے میں احمدی فرقے کے افراد کا ہاتھ ہے۔ اپنے اس الزام کی تائید میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی رات کو تقریباً ۴ بجے، بلاک نمبر ۲۰ فیڈرل بی ایریا میں ایک جیپ میں سوار ۱۶ افراد نے آکر فائرنگ کی اور علاقہ کے لوگوں نے اس کے جواب میں جب پتھراؤ کیا تو وہ گھبرا کر جیپ میں سوار ہو کر فرار ہو گئے۔ ان میں ایک فرد ٹھوکر لگنے سے گر گیا اور اس کی ڈائری زمین پر گر پڑی جس میں شناختی کارڈ کا فارم ”ب“ تھا۔ ڈائری تو اس نے اٹھا لی مگر فارم ”ب“ سڑک پر پڑا رہا جس میں مذہب کے خانے میں احمدی درج ہے۔ مسٹر ہاشم زیدی نے اپنے بیان کے ہمراہ وہ فارم ”ب“ بھی اخبارات کو جاری کیا۔
- ۲۔ مرزا طاہر کا بیان کہ ”عنقریب پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور پاکستان
میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے“۔ قادیانی جماعت کے سربراہ کے خطاب کا یہ کیسٹ سینٹ جیسے اعلیٰ ادارے میں پیش کیا گیا اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
- ۳۔ راولپنڈی اسلام آباد ایمونیشن ڈپو میں خوفناک دھماکہ ہوا جس میں ہزاروں
انسانوں کی ہلاکت اور اربوں روپے کے اسلحہ کا تباہ ہونا ایک عظیم المیہ ہے۔ لیکن قادیانیوں نے ملتان میں اپنی عبادت گاہ میں جلسہ کیا اور اس واقعہ پر باقاعدہ نماز شکرانہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ غالباً اس سے افواج پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنا مقصود تھا۔ دوسرے یہ تاثر دینا بھی مقصود تھا کہ یہ واقعہ اس لیے رونما ہوا کہ جماعت احمدیہ راولپنڈی کی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ حذف کیا گیا چنانچہ انہوں نے ایسا بھی پروپیگنڈا کیا۔
- ۴۔ اسرائیل کی مسلسل دھمکیاں کہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات تباہ
کرسکتے ہیں، کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ پر مرزائیوں کا تسلط اور ایک معروف قادیانی آفیسر کا ایٹمی راز چوری کرکے اسرائیل پہنچ جانا، پاکستان دشمنی کا زندہ ثبوت ہے۔
- ۵۔ سابق وزیر داخلہ نسیم آہیر کا یہ بیان کہ پاکستان میں تخریب کاری کے واقعات میں
قادیانی ہاتھ ہو سکتا ہے۔
صدر ضیاء الحق اور قادیانیت کا محاسبہ
(حادثہ بہاولپور کی اصل وجہ)
- ۱۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق قادیانیوں کی تخریبی سرگرمیوں سے بخوبی واقف
تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قادیانی ملک پاکستان میں اسلامائزیشن کے عمل میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ صدر پاکستان قادیانیوں کے عزائم سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔
- ۲۔ قومی یکجہتی سیمینار کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان نے
قادیانیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ”وہ پاکستان کی اسلامی ریاست میں اپنے نظریہ کی تبلیغ بند
کر دیں اور مسلمان بن کر تبلیغ نہ کریں۔ اگر انہوں نے میری ہدایت پر عمل نہ کیا تو قادیانیوں کے تمام اخبارات ، جرائد اور کتب پر پابندی لگا دی جائے گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔"
صدر نے کہا کہ "قادیانیوں کو اس وقت کی قومی اسمبلی نے غیر مسلم قرار دیا تھا اور ۱۹۷۴ء کے آئین میں اس کے مطابق ترمیم کر دی گئی تھی۔" ۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی ۵ اپریل ۱۹۸۴ء)
- ۳۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے قادیانیوں کو ان کی ارتدادی کارروائیوں
سے باز رکھنے کے لیے کئی ایک عملی اقدامات کیے ۔ مثلاً انہوں نے پاکستان میں اسلامائزیشن کے سلسلہ میں عوام کے پر زور احتجاج پر قادیانی جماعت کی کافرانہ ، مرتدانہ اور مکارانہ سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس مجریہ ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء جاری کیا "جس کی رو سے کوئی قادیانی جو خود کو احمدی یا کسی اور دوسرے نام سے موسوم کرتا ہو ، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہو خود کو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے ، ۳ سال کی سزا اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔"
قادیانیوں نے اس آرڈیننس کا پورے ملک میں مذاق اڑایا اور اس کی خلاف ورزیاں شروع کر کے ملک میں خانہ جنگی شروع کرنے کا سامان پیدا کیا۔ انہوں نے اپنی عبادت گاہوں میں اذانیں اور کلمہ طیبہ و قرآنی آیات لکھنا شروع کر دیں اور پورے ملک میں نہایت ہی شر انگیز اور مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی قسم کے پمفلٹ تقسیم کرنے شروع کر دیے۔
ملک منظور الٰہی اعوان کہتے ہیں کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء سے صرف دو ماہ بعد ربوہ کی انجمن اصلاح و ارشاد نے یکم جولائی ۸۴ء کو ایک خط جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل ضیاء کا انجام بھی نہایت خطرناک ہے۔ اس کی موت کتے کی موت ہو گی اس کی لاش چیلیں اور کوے ہی کھائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
مزید یہ کہ قادیانیوں نے صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کی دل
آزاری کرتے ہوئے ایک جلوس نکالا۔ "صدیق آباد (ربوہ) میں قادیانیوں نے ایک جلوس نکالا جس میں ”جماعت احمدیہ زندہ باد) مرزا غلام احمد کی جے‘ ملاں مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ جلوس ایوان محمود سے نکلا اور مختلف سڑکوں اور بازاروں میں گشت کرنے کے بعد منتشر ہو گیا"۔ (جنگ‘ لاہور ۲ ستمبر ۱۹۸۶ء)
۴۔ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے موتمر عالم اسلامی کے دو روزہ کنونشن کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں یا احمدیوں کے سامنے دو راستے کھلے ہیں۔ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں اور اپنی غلطیوں اور گستاخیوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں یا پھر اقلیت بن کر رہیں اور اپنی اقلیتی حیثیت تسلیم کر لیں۔ انہوں نے قادیانیوں کو خبردار کیا کہ حکومت نے قادیانیوں کے بارے میں جو آرڈیننس نافذ کیا ہے‘ اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت انتہائی سختی کے ساتھ نمٹے گی۔ انہوں نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ قانون کا غیظ و غضب انتہائی شدید ہوگا۔ قادیانیوں کے بارے میں آرڈیننس کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ اس آرڈیننس کے انتہائی اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس میں اسلامی معاشرے کے قیام میں بڑی مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ قادیانیوں اور احمدیوں کے بارے میں آرڈیننس نافذ کر کے حکومت نے نہ صرف اسلام کی عظمت کی بحالی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کر دیا ہے بلکہ اس نے معاشرے کی خرابیوں کو دور کرنے کا بھی تہیہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اصل خطرہ انہی منافقوں (قادیانیوں) سے ہے جو مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر ہماری صفوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ (روزنامہ ”جنگ“ کوئٹہ‘ ۱۱ مئی ۱۹۸۴ء)
۵۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کل بروز جمعہ قادیانیوں کے خلاف حکومت کے آرڈیننس کے نفاذ پر یوم تشکر منائیں۔ آج یہاں موتمر عالم اسلامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے اس آرڈیننس کا نفاذ ایک اہم قدم ہے اور در حقیقت یہ پوری امت مسلمہ کے لیے زبردست خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ صدر نے کہا کہ یوم تشکر کے موقع پر خطیبوں اور آئمہ حضرات کو حکومت کے اس آرڈیننس پر تفصیلی روشنی ڈالنی چاہیے۔
جس کا مقصد قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا تدارک کرنا اور اسلام کی عظمت کو بحال کرنا ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ کوئٹہ ۱۹۸۴ء)
- ٦۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ آئندہ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں
پر فائز نہیں کیا جائے گا اور حکومت انہیں کسی بھی حساس ذمہ داری پر فائز نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ آج سہ پہر یہاں سے پشاور روانہ ہونے سے قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر نمائندہ جنگ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض قادیانی اہم جگہوں پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان ۵ سالوں سے کوشش کر رہی ہے کہ انہیں ان کلیدی عہدوں پر نہ آنے دیا جائے۔ شہری محکموں اور فوج میں اس پالیسی پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔ حالیہ قانون سے پہلے کسی پابندی کے نہ ہونے کی وجہ سے ان سے تھوڑی بہت رعایت ہو جاتی تھی۔ اب وہ ترقی کر کے آگے تو آسکتے ہیں لیکن کسی انتہائی اہم عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے۔ کوئی قادیانی عدالت عظمیٰ کا جج تو بن سکتا ہے مگر وہ چیف جسٹس نہیں بن سکے گا۔ فوج کا سربراہ نہ ہو سکے گا اور نہ ہی اس کی خدمات سراغ رسانی کے لیے حاصل کی جا سکیں گی۔ (روزنامہ جنگ‘ کوئٹہ ۱۱ مئی ۱۹۸۵ء)
قادیانیت عالم اسلام کے لیے سرطان
جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا کہ قادیانیت کا وجود پورے عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس سرطان کو ختم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات لندن میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کے نام ایک پیغام میں کہی ہے۔ اس کانفرنس میں دنیائے اسلام کے چار ہزار سے زائد علمائے کرام اور مندوبین نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس کے آغاز ہی میں تلاوت قرآن پاک کے بعد صدر پاکستان کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ قادیانیت کا وجود عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت پاکستان مختلف اقدامات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس سرطان کا خاتمہ کیا جائے۔ آپ نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا اور دنیا کو اس کے فریب سے آگاہ کیا۔ ختم نبوت کا عقیدہ نہ صرف ملت
اسلامیہ کے ایمان کا بنیادی نکتہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین اور رحمت کی تکمیل کا عالمی پیغام ہے۔ (روزنامہ مشرق، کوئٹہ ۱۰ اگست ۱۹۸۵ء)
قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں پروفیسر محمد احمد کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع نے کہا ہے کہ مسلح افواج میں قادیانی افسروں کی تعداد ۳۲۸ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم افراد کی مسلح فوج میں ملازمت پر کوئی پابندی نہیں! (جنگ لاہور،
۱۶ فروری ۱۹۸۷ء)
قادیانی جہاد کو حرام سمجھتے ہیں اور مرزا قادیانی نے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔ چونکہ فوج کے قیام کا مقصد ہی جہاد اور صرف جہاد ہے اس لیے جہاد کے منکروں کو اول تو فوج میں رکھنا ہی درست نہیں لیکن اگر ان کے رکھنے میں کوئی مصلحت حائل ہے تو انہیں اختیارات نہیں دینے چاہئیں کہ وہ ان اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتوں کے تخت الٹنے کی سازشوں میں ملوث ہوں۔ فوج میں قادیانی افسروں کی اتنی بڑی تعداد ملازم ہونے پر دینی و سیاسی حلقوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ لہٰذا ہر طرف سے ان منکرین جہاد کو فوج سے نکالنے کے لیے پرزور احتجاج شروع ہوا۔ جس کے پیش نظر صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے جی ایچ کیو ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت کی کہ مسلح افواج سے ۳۲۸ قادیانیوں کو نکالنے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ (روزنامہ "جنگ"
لاہور، ۲ نومبر ۱۹۸۷ء)
جی ایچ کیو نے صدر پاکستان کی طرف سے ملنے والے حکم کے جواب میں واپسی لیٹر لکھا کہ پاک فوج سے قادیانیوں کو نکالنے کے اختیارات ہمارے پاس نہیں ہیں۔ یہ فریضہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سرانجام دے گی۔ چنانچہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے مسلم افواج سے ۳۲۸ قادیانی غیر مسلم منکرین جہاد افسران کو نکالنے کا کیس سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ضروری کارروائی کے لیے بھیج دیا۔ اس امر کی اطلاع پریذیڈنٹ سیکرٹریٹ ایوان صدر اسلام آباد کے ڈائریکٹر حافظ خالد محمود نے ایک یادداشت کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد صاحب کو دی۔ اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل یہ کیس ایوان صدر نے جنرل ہیڈ کوارٹرز اے جی ایچ پی ایس ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی کو ارسال کیا تھا جس پر ایڈجوٹنٹ جنرل غلام محی الدین نے یہ کیس واپس ایوان صدر اسلام
آباد کو بھیج دیا تھا کہ قادیانی افسران کو فوج سے نکالنے کے بارے میں یہ معاملہ متعلقہ وزارت کے سپرد کیا جائے۔ (جنگ، لاہور ۱۹۸۸ء) اور کہا جاتا ہے کہ صدر پاکستان کے حکم کی روشنی میں پاک فوج سے قادیانیوں کو ماہ ستمبر ۸۸ء کے آخر میں نکال دینے کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے کہ اگست ۱۹۸۸ء میں سانحہ بہاولپور پیش آگیا۔ قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر احمد صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے نتیجہ میں رات کی تاریکی میں برقع پہن کر بزدلانہ طور پر ہوائی جہاز کے ذریعے ملک سے فرار ہو گیا اور لندن میں قادیانی نبوت کے موجد انگریز کی گود میں جا بیٹھا۔ اس بزدلانہ فرار کے بعد مرزا طاہر نے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی شروع کر دی اور لندن میں قادیانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں عنقریب افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا“ اس بیان پر پاکستانی سینٹ میں بھی احتجاج بلند ہوا۔ قادیانیوں کے بھگوڑے خلیفہ کے اس طرح بھاگنے کی وجہ سے دنیا بھر میں قادیانیوں کے بالعموم اور پاکستان میں قادیانیوں کے بالخصوص حوصلے پست ہو گئے۔ امتناع قادیانیت صدارتی آرڈیننس مجریہ اپریل ۱۹۸۴ء نے قادیانیوں کی مزید کمر توڑ دی۔ اس کے بعد بھی قادیانیت کو قانونی شکنجے میں جکڑنے کے لیے قانون سازی ہوتی رہی۔ مرزا طاہر کے اس طرح بزدلانہ فرار اور مجاہدین ختم نبوت کی طرف سے قادیانیت کے بت پر پے در پے ضربیں لگانے سے قادیانی بوکھلا گئے اور انہوں نے اپنی ساری تنزلی و ذلت کا سبب مرزا طاہر کو جانا اور قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد مرزا طاہر کی باغی ہو گئی اور اس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ اس باغی گروہ کا کہنا ہے کہ مئی ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر جس قادیانی گروہ نے حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کیا تھا‘ اس گروہ کی قیادت بھی مرزا طاہر کر رہا تھا۔
طلبہ پر حملہ کے باعث پوری قوم سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی اور عظیم الشان تحریک ختم نبوت چلی، جس کے نتیجہ میں ستمبر ۱۹۷۴ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا، جس کے اثرات پوری دنیا میں بالخصوص مسلم ممالک میں محسوس کیے گئے۔ قادیانی جماعت کے باغی گروہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ذلت و رسوائی مرزا طاہر بھگوڑے کی وجہ سے اٹھانا پڑی۔ اس باغی گروہ کا مزید کہنا ہے کہ مولانا محمد اسلم
قریشی کا اغوا بھی مرزا طاہر کے حکم سے ہوا۔ جس سے دوبارہ تحریک ختم نبوت چلی، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا۔ مولانا اسلم قریشی کا پراسرار اغوا اور ڈرامائی برآمدگی میں پنجاب کی پولیس نے قادیانیوں کے ساتھ مل کر اہل اسلام کے ساتھ خوفناک سازش کی۔ جس کی تفصیلات ایک علیحدہ کتابچے میں درج ہیں اور جس کی شرح یہاں ممکن نہیں۔ بہرحال قادیانی جماعت کے اس باغی گروہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ دونوں تحفے مرزا طاہر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ کر خود لندن میں جا بیٹھا۔ مزید قادیانی نوجوان نسل تحریک ختم نبوت کی مذہبی سرگرمیوں، لٹریچر اور اپنے مذہب کے باطل ہونے پر یقین ہونے پر اپنے مذہب سے باغی ہو رہی ہے۔ مرزا طاہر احمد لندن میں بیٹھا ان تمام حالات کا بغور جائزہ لیتا رہا۔ دوسری اہم بات یہ کہ فتنہ قادیانیت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۹ء میں دعویٰ مسیحیت و مامور من اللہ ہونے کا کیا، جو بالآخر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی بنیاد ثابت ہوا۔ اب قادیانی ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء میں مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی بنیاد کا صد سالہ جشن منا رہے تھے۔ پاکستان میں اس جشن میں مرزا طاہر کی شرکت اشد ضروری تھی۔ اس نے سوچا کہ پاکستان سے مزید فرار کہیں مجھے میری نام نہاد خلافت سے محروم نہ کر دے۔ اس لیے اس نے پاکستان آنے کا پروگرام تشکیل دیا۔ چونکہ مرزا طاہر، مولانا اسلم قریشی کے اغواء کے کیس میں پولیس کو مطلوب تھا لہٰذا مرزا طاہر کی ربوہ واپسی کا راستہ صاف کرنے کے لیے مولانا اسلم قریشی کی رہائی کا ڈرامہ اسلام آباد میں تیار کیا گیا، جو کہ گزشتہ سوا پانچ سال سے قادیانیوں کی قید میں ذہنی و جسمانی اذیتیں اٹھا رہے تھے۔ اس ڈرامائی برآمدگی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستانی مسلمانوں کا اپنے علماء کرام سے یقین و اعتماد ختم کروا دیا جائے اور جو لوگ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ مرزائیت کے خلاف کام کر رہے ہیں عوام الناس کی نظر میں ان کا مقام گرا دیا جائے۔ بہرحال اس شرمناک ڈرامہ کی تفصیلات علیحدہ ایک پمفلٹ میں درج ہیں۔
دوسری بات یہ کہ قادیانیوں میں جب مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑتی ہے تو ان کو مطمئن کرنے کے لیے مرزا قادیانی کے چیلے نت نئے طریقوں سے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ بالآخر ان کی مزید ذلت و رسوائی کی شکل میں
نکلنا ہے اور ان کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ ان گمراہ کن طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو مقابلہ میں آنے کا چیلنج کرتے ہیں اور پھر میدان سے اس طرح غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ حال ہی میں قادیانیوں کے لیڈر مرزا طاہر کی طرف سے ایک نئی حرکت مذمومہ صادر ہوئی ہے اور وہ ہے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج اور قادیانیوں نے اس موضوع پر ایک پمفلٹ رات کی تاریکی میں مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں بزدلانہ طور پر پھینکا تاکہ سادہ لوح مسلمان شکوک و شبہات کا شکار ہو جائیں اور پھر مرزا طاہر کو پوری شان وشوکت کے ساتھ واپس ملک لایا جائے اور اس دوران ہر ممکن طریقہ سے عوام الناس کو ان کے علماء سے برگشتہ کر دیے جانے کا سامان پیدا کیا جائے۔ مرزا طاہر نے فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے والے مسلمانوں کو لندن سے خصوصی طور پر مباہلہ کا چیلنج بھیجا اور ان سے کہا کہ اگر وہ خود کو حق پر سمجھتے ہیں تو میرے ساتھ مباہلہ کر لیں اور اس پمفلٹ میں مرزا طاہر نے خصوصی طور پر صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کو چیلنج کیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے قادیانیوں کے سامنے ان کا سب سے بڑا نشانہ صرف اور صرف صدر پاکستان تھے جو کہ قادیانیت کے پھیلاؤ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جون ۱۹۸۸ء کو خبر دی کہ ......
”لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے صدر ضیاء الحق سمیت جماعت کے تمام مخالفین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لندن میں مجھ سے مباہلہ کر لیں“ (جنگ‘ لاہور ۱۵ جون ۸۸ء)
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل نے اپنے پرچہ میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کی المناک وفات سے قبل انہیں خبردار کرتے ہوئے قادیانیوں کی تاریخ کو سامنے رکھ کر ایک یادگار اداریہ لکھا جو کہ مندرجہ ذیل ہے:
مباہلہ کا چیلنج نہیں‘ صدر ضیاء کے لیے خطرے کی گھنٹی
مرزا طاہر احمد نے تمام مخالفین کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا اور بطور خاص صدر پاکستان
جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لیا۔ دراصل مرزا طاہر نے مباہلہ کا جو چیلنج دیا ہے اس کا ایک پس منظر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس چیلنج میں بطور خاص مرزا طاہر نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لیا ہے۔ مرزا طاہر کے ذہن میں یہ بات ہے کہ صدر پاکستان کو کرسی صدارت سنبھالے تقریباً ۱۲ سال ہو چکے ہیں۔ ملک کے اندرونی حالات درست نہیں ہیں۔ سندھ میں امن و امان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ سیاسی جماعتیں صدر ضیاء سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں (مرزا طاہر کے خیال کے مطابق) صدر ضیاء کا اقتدار اب چند روز کا مہمان ہے لہٰذا اس مباہلہ کا پس منظر یہ ہوا:
- ۱۔ اگر کسی وجہ سے بھی صدر ضیاء کا اقتدار ختم ہو جائے تو مرزا طاہر اور اس کے
مرزائی پیروکار بغلیں بجانے لگیں گے کہ صدر ضیاء کا اقتدار ہمارے پیشوا کی بددعا کا نتیجہ ہے اور یہ ایک نشان ہے جو ان کے خیال کے مطابق خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔
- ۲۔ یہ بھی ممکن ہے کہ افواج پاکستان میں جو قادیانی اہم عہدوں پر متعین ہیں، انہوں
نے صدر ضیاء کو اقتدار سے ہٹانے کا کوئی منصوبہ بنایا ہو اور مرزا طاہر نے اسی بنیاد پر یہ چیلنج دیا ہو۔
بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی شخص ہمیشہ کے لیے اپنے نام اقتدار الاٹ کروا کے نہیں آیا۔ جو آیا اس نے بہر حال جانا ہے۔ صدر ضیاء کا اقتدار ایک نہ ایک روز ضرور ختم ہونا ہے۔ لیکن مرزائی افسر صدر ضیاء کے اقتدار کے خلاف مرزا طاہر کی ہدایت پر منصوبہ بنا چکے ہیں اور صدر ضیاء مرزائیوں کے نرغے میں ہیں۔ کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس لیے صدر جنرل ضیاء الحق کو چاہیے کہ وہ مباہلہ پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر پر غور کریں۔
آج سے چند سال پہلے مرزائیوں نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ صدر ضیاء فلاں مہینے قتل ہو جائیں گے اور ان کا قتل (نام نہاد) احمدیت کی صداقت کا بہت بڑا نشان ہو گا۔ مرزائیوں کا وہ بھی منصوبہ تھا جس میں وہ ناکام ہو گئے۔ اس لیے مرزا طاہر کے نئے چیلنج سے ہمیں کسی خطرناک منصوبے کی بو آتی ہے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل، جلد نمبر ۷، شمارہ ۸، ۱۵ تا
۲۱ جولائی ۱۹۸۸ء)
سانحہ بہاولپور کے بارے میں قادیانیوں کے تاثرات اور خوشیاں
اس تاریخی اداریہ کے تقریباً ایک ماہ بعد ۱۷ اگست ۱۹۸۸ء کو جنرل محمد ضیاء الحق طیارہ کے حادثہ میں شہید ہو گئے اور پھر اس حادثہ کے دو دن بعد ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء کو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ واقع لندن میں خطبہ جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی موت ہمارے مباہلہ کے نتیجہ میں آئی ہے اور یہ ہماری احمدیت کی صداقت کا نشان ہے، چونکہ صدر ضیاء احمدیت کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے، انہیں راستے سے ہٹانا بہت ضروری تھا۔ اس لیے ہمیں ان کے مرنے پر خوشی ہوئی ہے اور صدر ضیاء الحق کی موت حق و صداقت کا فیصلہ ہے اور جماعت احمدیہ کی فتح کا کھلا نشان ہے۔ چنانچہ روزنامہ ”جنگ“ لاہور نے اپنی ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء کی اشاعت میں لکھا کہ .....
”گزشتہ روز لندن میں قادیانیوں کے ایک جلسہ عام میں مقررین نے دعویٰ کیا کہ جنرل ضیاء الحق کی وفات مباہلہ کے نتیجہ میں واقع ہوئی ہے جو قادیانیوں کے امام نے ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کو دیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی اخبار جنگ لندن مورخہ یکم ستمبر ۱۹۸۸ء میں قادیانی جلسہ کے بارے میں احمدیہ ایسوسی ایشن نے جو پریس ریلیز شائع کرایا ہے، اس میں یہ سرخی لگائی گئی کہ جنرل ضیاء الحق کے قتل سے خدا کا ایک نشان ظاہر ہو گیا ہے کیونکہ وہ مرزا طاہر اور احمدیت کی تکذیب میں سب سے پیش پیش تھا۔ ان باتوں سے صاف صاف ثابت ہے کہ پاکستان کے سربراہ کو مرزا طاہر نے قتل کروایا ہے۔
روزنامہ جسارت کراچی کی اطلاع کے مطابق قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے صدر ضیاء الحق کے طیارے کو کریش کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرزا طاہر نے ۱۹ اگست کو برطانیہ میں قادیانی ہیڈ کوارٹر میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ صدر ضیاء الحق کی موت حق و صداقت کا فیصلہ ہے اور جماعت احمدیہ کی فتح کا کھلا نشان ہے۔ مرزا طاہر نے کہا کہ میں نے اپنی ۱۲ اگست کی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر صدر ضیاء الحق نے احمدیوں پر ظلم و تشدد ختم نہ کیا اور زیادتیاں کرنے سے باز نہ آیا تو خدا اسے پکڑے
گا اور وہ خدائی عذاب سے بچ نہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے لازماً سزا دے گا۔ میری تقریر کے چند روز بعد مولا کی تقدیر ظاہر ہوئی۔ احمدیت کی نصرت کا ایسا نشان ظاہر ہوا جس پر احمدیت ہمیشہ ناز کرے گی۔ مرزا طاہر نے کہا کہ صدر ضیاء الحق کی موت پر اس لیے خوشی ہے کہ احمدیت کی فتح کا کھلا نشان ظاہر ہوا۔ صدر ضیاء الحق قہر خداوندی کا شکار ہوئے ہیں۔ کیونکہ میں نے بار بار اسے تنبیہہ کی تھی کہ وہ احمدیوں پر ظلم کرنے سے باز آجائے۔ صدر ضیاء الحق کو مہلت دی گئی لیکن اس نے نجات کا راستہ اختیار نہ کیا اور خدا کی ناراضگی کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے تمام قادیانیوں سے کہا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں“۔
گویا صدر ضیاء الحق کی شہادت اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان خط امتیاز ثابت ہوئی اور اس کی وجہ سے اہل ایمان اور اہل کفر کا نفاق نکھر کر سامنے آگیا۔
دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے قادیانیوں کے اس بیان کو انتہائی لغو اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ضیاء الحق مرحوم نے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرنے اور اس میں فریق بننے کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دعویٰ سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ صدر ضیاء الحق کے طیارے کے حادثہ میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے“۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء)
مرزائیوں نے صدر ضیاء الحق کی موت پر جس خوشی کا اظہار کیا اور کر رہے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مرزا طاہر نے اپنی تقریر جو اس نے ۱۹ اگست کو لندن میں قادیانی جماعت کی مرکزی عبادت گاہ میں کی، کہا ”صدر ضیاء الحق کی موت پر اس لیے خوشی ہے کہ احمدیت کی فتح کا کھلا نشان ظاہر ہوا“۔
جولائی ۱۹۸۹ء کے قادیانی اخبار ”الفضل“ میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے کہا ہے کہ صدر ضیاء کے ہلاک ہونے سے ۴۳ دن قبل خدا نے اسے بتایا تھا کہ جنرل ضیاء ۴۳ دن بعد ہلاک ہو جائے گا۔
اور یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے صدر ضیاء الحق کی المناک وفات پر مٹھائیاں تقسیم کیں، دیگیں پکائیں، چراغاں کیا اور جلوس نکالے۔ اس سلسلہ میں قومی اخبارات کی چند ایک خبریں ملاحظہ فرمائیں۔
"صدر محمد ضیاء الحق کے انتقال پر قادیانیوں نے ایک جلوس نکالا جس میں مرحوم صدر کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ بعد ازاں جامع مسجد غلہ منڈی سے اہل سنت والجماعت نے بھی ایک جلوس نکالا جس کی قیادت مولانا نعیم الدین نے کی۔ جلوس کے شرکاء نے قادیانیوں کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے جلوس کی مذمت کی"۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۲۲ اگست ۱۹۸۸ء)
مجاہد اسلام صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی موت کی خبر پر چک نمبر ۶-۱۱ ایل تحصیل چیچہ وطنی میں مرزائیوں نے جشن منایا اور مٹھائی تقسیم کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما خالد لطیف چیمہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مرزائیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزائی پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں لہٰذا ان کو فوری طور پر حکومت میں کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ (”مشرق“ لاہور ۲۳ اگست ۱۹۸۸ء)
گزشتہ روز پیر محل میں ایک قادیانی سعید احمد زرگر کی طرف سے مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق اور امتناع قادیانی آرڈیننس کے بارے میں نازیبا الفاظ کے استعمال سے لوگ مشتعل ہو گئے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۲۱ اگست ۱۹۸۸ء)
ننکانہ صاحب کے قریب چک نمبر ۵۶۵ میں قادیانیوں نے جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کی المناک شہادت کے موقعہ پر پورے گاؤں میں مٹھائیاں تقسیم کیں‘ بھنگڑا ڈالا اور چراغاں کیا۔ مولانا محمد حسین ہزاروی امیر جماعت مبلغین توحید و سنت پاکستان نے قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر کی طرف سے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کی شہادت کو مباہلہ کی دعا کی وجہ سے انتقال قرار دینے کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ مولانا ہزاروی نے کہا کہ صدر ضیاء الحق نے مباہلہ قبول نہیں کیا۔ یہ چیلنج پاکستانی علماء نے قبول کیا تھا اور مباہلہ باہمی فریقین کا بال بچوں سمیت کسی کھلی جگہ پر کرنے کا نام ہے۔ جمعیت اہل حدیث کے مرکزی امیر مولانا معین الدین لکھوی اور ناظم اعلیٰ میاں فضل حق نے کہا ہے کہ مرزا طاہر نے اپنے مباہلہ کا پیغام جنرل ضیاء الحق کو نہیں دیا تھا۔ ضیاء الحق شہید نے کبھی ایسی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ ایسے معاملات سے بالا تر تھے۔ جہاں تک مباہلہ کے چیلنج کا تعلق ہے‘ علماء
اسلام نے اس کی حقیقت واضح کر دی ہے اور قادیانی نبی اور اس کے جانشین اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ مرزا طاہر کا یہ بیان کہ مباہلہ قبول کرنے والا ہلاکت سے ہمکنار ہو گا سازش پر مبنی ہے۔
مرزا طاہر احمد نے اسلام دشمن اور ملک دشمن طاقتوں اور شخصیتوں سے مل کر سازش تیار کی۔ سازش کو بروئے کار لانے کا منصوبہ تیار کیا اور پھر ایک جھوٹ موٹ کے مباہلہ کے چیلنج کا بہانہ بنایا ہے۔ یہ بات تعجب انگیز اور انتہائی حیران کن ہے کہ صدر ضیاء کے نام مباہلہ کا چیلنج اور پھر جنرل ضیاء الحق کے طیارے کا حادثہ ایک ساتھ ہوتا ہے۔ یہ سازش مرزا طاہر نے کن حکومتوں اور کن لوگوں سے مل کر تیار کی ہے، اس کا سراغ لگانا حکومت پاکستان اور تحقیقی اداروں کا کام ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۱ ستمبر ۱۹۸۸ء)
اسلامی انقلابی محاذ کے سربراہ ملک رب نواز ایڈووکیٹ کی درخواست پر ڈی ایس پی چنیوٹ نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا حکم دیا ہے۔ ملک رب نواز نے کہا ہے کہ مجھے آج قادیانی جماعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے جس میں مرزائیوں نے صدر ضیاء الحق اور سید عارف الحسینی کے قتل کو اپنا کارنامہ بتایا ہے اور دھمکی دی ہے کہ ان کے انجام سے عبرت پکڑو۔ نیز دسمبر میں ربوہ میں جلسے کا انعقاد اور ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو صد سالہ جوبلی جشن کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ مجھے اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو برا بھلا کہا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ کوئی بھی قادیانی ایسا خط جماعت کے ایماء کے بغیر نہیں لکھ سکتا اور قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اگر مجھے قتل کروایا یا کوئی نقصان پہنچایا تو اس کی تمام ذمہ داری مرزا طاہر احمد پر ہوگی۔ ملک رب نواز نے اپنی درخواست میں یہ بھی تحریر کیا کہ قادیانی استاد خوابوں کے ذریعے اپنی سازش کا پہلے اعلان کرتے ہیں جس طریقہ سے مرزا بشیر الدین نے خواب دیکھا کہ پاکستان کی کرسی پر خون کے چھینٹے ہیں، تو لیاقت علی خان شہید کر دیئے گئے۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو اپنا کارنامہ بتایا۔ اب جنرل ضیاء الحق اور سید عارف الحسینی کے قتل کو اپنے مباہلے کی فتح قرار دیا۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ستمبر ۱۹۸۸ء)
تجزیہ
ان تمام حالات و واقعات کی روشنی میں سانحہ بہاولپور کے کسی نتیجہ پر پہنچنا مشکل نہیں ہے۔ سانحہ بہاولپور جس انداز اور طریقے سے پیش آیا ہے‘ یہ بات ۱۰۰ فیصد یقینی اور حتمی ہے کہ اس سازش میں ایک ایسا آدمی ضرور شامل ہے جس نے اپنی جان کی قربانی دے کر اس حادثہ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ صدر ضیاء کا دورہ بہاولپور انتہائی خفیہ اور مختصر وقت کے لیے تھا۔ اس لیے یہ کارروائی طیارے سے باہر کسی شخص کی نہیں ہو سکتی اور آپ یہ پڑھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے کہ اس جہاز میں بریگیڈیئر لطیف بھی شامل تھا جو مذہب کے لحاظ سے قادیانی تھا۔ اوکاڑہ سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا سارا خاندان قادیانی ہے۔
بریگیڈیئر عبداللطیف حادثہ کے وقت جی ایچ کیو میں ڈائریکٹر انسپکشن آف ٹیکنیکل ڈویلپمنٹ کے عہدے پر فائز تھا۔ صدارتی آرڈیننس کی رو سے قادیانی نماز وغیرہ ادا نہیں کر سکتے کہ یہ اسلامی شعائر میں سے ہے۔ جبکہ بریگیڈیئر عبداللطیف کی نماز جنازہ ہوئی اور اسے قادیانیوں کے قبرستان واقع گارڈن ٹاؤن لاہور میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ایک خاص حصہ میں دفن کیا گیا۔
ملک کے مختلف جرائد و رسائل اور اخبارات نے اس سانحہ پر بہت کچھ لکھا اور ابھی لکھا جا رہا ہے اور سانحہ میں فوت ہونے والے تمام لوگوں کو شہید کہا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان کے بارے میں تو یہ اعزاز سمجھ میں آتا ہے لیکن قادیانی بریگیڈیئر لطیف کو شہید کہہ کر پکارنا اور سچا مسلمان ثابت کر کے اس سانحہ کے اصل مجرموں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے تاکہ یہ تاریخی سانحہ بھی پہلے سانحوں کی طرح داخل دفتر ہو جائے اور عوام اس کے حقائق جاننے کے لیے عمر بھر ترستے رہیں۔
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے صدر جنرل ضیاء الحق کی شہادت سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پیشتر قادیانی عبادت گاہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جلد ہی ایک انقلاب آئے گا اور اس کا نام احمدی انقلاب ہو گا”مرزا طاہر کے اس ”ارشاد عالیہ“ کو ذرا غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کس یقین کی بنیاد پر کہہ رہا ہے؟ ہمارے
خیال میں مرزا طاہر نے یہ بات بالکل صحیح کہی ہے کیونکہ فوج میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ اور عمل دخل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہفت روزہ ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ جلد نمبر ۷‘ شمارہ نمبر ۸‘ ۲۸ جولائی ۱۹۸۸ء نے اپنے اداریہ .......
”فوج میں شیزان کا بے دریغ استعمال“ میں لکھا کہ ....... ”تازہ ترین اطلاع کے مطابق پاکستانی بحریہ کی ہر تقریب میں شیزان مینگو جوس اور شیزان کا شربت (قادیانیوں کی فیکٹری کا تیار کردہ) ہی استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان نیوی کے سربراہ جناب افتخار احمد سروہی کے بارے میں آغا شورش کاشمیری مرحوم نے یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ قادیانی ہے۔ جب سروہی نے چارج سنبھالا تو اس وقت ہفت روزہ ختم نبوت نے حکومت کو اور خود سروہی صاحب کو متوجہ کرنے کے لیے یہ انکشاف شائع کر دیا۔ لیکن بذات خود سروہی صاحب نے اس کی تردید نہیں کی۔ اب پاکستان نیوی میں قادیانی مشروب ساز فیکٹری پر نوازشات کا جو سلسلہ شروع ہے اس کی ذمہ داری سروہی صاحب پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر سروہی صاحب کو چاہیے کہ وہ قادیانی مشروب ساز فیکٹری پر نوازشات کا سلسلہ فورا بند کرائیں اور یہ تحقیق بھی کریں کہ کن افسران کی سازش سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے اور اپنی پوزیشن بھی واضح کریں“۔
ہفت روزہ ختم نبوت سیالکوٹ کے چیف ایڈیٹر منظور الہی ملک اعوان نے ہلٹن ہوٹل لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس میں کہا کہ سانحہ بہاولپور میں قادیانی ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک سانحہ اور قتل عام کے سازشیوں اور قاتلوں کے دستاویزی ثبوت‘ تقریری‘ تحریری اور کیسٹ وغیرہ بھی مہیا کر لیے ہیں۔ جس سے ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ اس سانحہ کے ذمہ دار قادیانی جماعت کے اہم اور ذمہ دار افراد ہیں۔ جن میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اور ڈپٹی چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل احمد کمال سرفہرست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی تمام معلومات پر مشتمل اشتہار ہزاروں کی تعداد میں شائع کروا کے اسلام آباد وغیرہ میں خود تقسیم کروائے مگر آج تک قادیانی جماعت کے کسی ترجمان نے اس بات کی تردید نہیں کی۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ سیالکوٹ جلد نمبر ۱‘ شمارہ نمبر ۱‘ ۵ تا ۱۱ اکتوبر ۱۹۸۹ء) وفاقی وزیر دفاع ریٹائرڈ کرنل غلام سرور چیمہ کے نام ”کھلا خط“
کے عنوان سے ملک منظور الٰہی اعوان نے لکھا ہے کہ ”چند ہفتے ہوئے آپ نے اخبارات میں یہ بیان دیا تھا کہ صدر ضیاء وغیرہ کے قتل عام کے مجرموں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا اور اگر یہ جاننا ضروری ہے کہ قاتل کون ہیں تو خدا سے ٹیلی فون کر کے پوچھ لو“ آخر میں ملک صاحب نے وفاقی وزیر دفاع پر الزام لگایا ہے کہ یا تو ”آپ مرزا طاہر قادیانی مرتد کے رشتہ دار اور قادیانی چیلے ہیں“ یا آپ خود بھی اس قتل عام کے جرم میں ملوث ہیں۔ (ہفت روزہ ختم نبوت‘ سیالکوٹ‘ جلد نمبر ۱‘ شمارہ نمبر ۱‘ ۵ تا ۱۱ اکتوبر ۱۹۸۹ء)
سید عطاء الحسن شاہ بخاری نے بھی اپنے پرچہ نقیب ختم نبوت‘ ستمبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ”وفاقی وزیر دفاع ریٹائرڈ کرنل غلام سرور چیمہ کے متعلق افواہ ہے کہ وہ قادیانی ہیں“۔
چنانچہ ہفت روزہ چٹان ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۹ء میں اس موضوع پر ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے جس میں پورے ثبوت کے ساتھ فوج سے منفی سرگرمیوں کی بناء پر ریٹائرڈ کیے جانے والے کرنل غلام سرور چیمہ وفاقی وزیر دفاع کو قادیانی ثابت کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ قادیانی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
فوج میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ
صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاک فوج کے جائنٹ چیف آف سٹاف افتخار احمد سروہی‘ ڈپٹی چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل احمد کمال‘ وفاقی وزیر دفاع ریٹائرڈ کرنل غلام سرور چیمہ‘ صوبہ سندھ کے چیف سیکرٹری کنور ادریس‘ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے میں پاکستانی سفیر نسیم احمد اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ قدیر الدین احمد وغیرہ کا حساس ترین کلیدی عہدوں پر براجمان ہونے کے بعد مرزا طاہر کی پاکستان میں عنقریب احمدی انقلاب کی دھمکی کی روشنی میں ”احمدی“ انقلاب آچکا ہے۔
معروف ماہر قانون اور دانشور جناب عبدالباسط اپنی تصنیف ”انسداد مرزائیت“ میں لکھتے ہیں۔ کسی بھی مرزائی شخص سے یہ توقع وثوق سے نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہر حالت میں اس ملک سے وفاداری کرے گا۔ اس ضمن میں فوج کا معاملہ خاص طور پر سنگین ہے۔ پاکستانی افواج میں مرزائی حضرات کی اچھی خاصی تعداد افسروں کے طبقہ سے تعلق رکھتی
ہے۔ فوج کی اہم بلکہ کلیدی آسامیوں پر بھی مرزائی حضرات فائز ہیں۔ اور مستقبل میں بھی اس کی توقع ہے کہ وہ فائز ہوتے رہیں گے....... میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ غیر معمولی طور پر مضبوط شخصیت کے علاوہ ایک عام مرزائی سے وفاداری کی توقع رکھنا بھی زیادتی ہے۔ اس کی وجہ بہت سیدھی سادی ہے۔ اس ملک میں ہر مرزائی ذاتی طور پر نفرت کا ہدف ہے۔ ایک عام پاکستانی مسلمان کو (مرزائی کے عقائد و عزائم کی وجہ سے) اس کی ذات سے کراہت ہوتی ہے۔ ہر عمل کا ردعمل ہونا ایک لازمی امر ہے۔ عوامی نفرت کے ردعمل کے طور پر اکثر مرزائی حضرات کے دلوں میں بھی پاکستانی عوام کے بارے میں انقباض پایا جاتا ہے۔ ایک ایسے شخص سے قربانی کی توقع رکھنا عبث ہے جسے عوام نے بوجوہ نفرت کا ہدف بنایا ہو اور جس کے اپنے دل میں عوام سے نفرت اور رنجش کے جذبات موجود ہوں۔ میں مرزائی حضرات کو اس نوعیت کی قربانی دینے سے قاصر اس واسطے سمجھتا ہوں کہ وہ عوامی نفرت کا ہدف بنے رہے ہیں اور اپنی شخصیت کے تحفظ کے تقاضوں کے پیش نظر اس ملک کے عوام کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ مجھے خوف اس بات کا نہیں ہے کہ مشکل وقت میں مرزائی حضرات غیر معمولی ایثار کا مظاہرہ نہیں کریں گے بلکہ خوف دراصل یہ ہے کہ شدید بحران میں یہ لوگ اس ڈولتی کشتی کو چھوڑتے چھوڑتے اس کے پیندے میں سوراخ ہی نہ کر جائیں۔ نفرت اور بدلہ لینے کے محرکات ضبط و شعور کو کالعدم کر دیتے ہیں۔ ٹھکرایا ہوا معشوق اپنے عاشق سے بدلہ لینے میں زیادہ ہی سفاک ثابت ہوتا ہے۔ کسی ایسے شخص کا فوج میں کلیدی عہدے پر فائز ہونا جو کسی بھی وجہ سے معاشرہ اور وطن سے بیزار ہو یا جس کے جذبہ حب الوطنی میں کسی قسم کا ابہام ہو خطرے سے خالی نہیں ہے۔ دشمن کی نظر خاص طور پر اس قسم کے اشخاص کو اچک لینے پر لگی رہتی ہے۔ میں برملا اس خدشہ کا اظہار کروں گا کہ پاکستانی افواج کے قادیانی آفیسر اس نوعیت کے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں کہ ان کی وفاداریوں پر مکمل انحصار کرنا قرین مصلحت نہیں ہے"۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شیعہ حضرات کی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ فقہ جعفریہ کے قائد عارف الحسینی کے قتل میں حکومت شامل تھی لیکن شیعہ حضرات اپنے اس قتل کا بدلہ علامہ عارف الحسینی کے جنازہ پر ہی لے سکتے تھے جس میں صدر ضیاء خصوصی طور پر شامل ہوئے۔ بعض احباب کا یہ کہنا ہے کہ اس کارروائی میں امریکہ اور
روس کا ہاتھ ہے۔ لہٰذا اس امر کی بھی تردید نہیں کی جاسکتی لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سانحہ کو سرانجام دینے کے لیے روسی اور امریکی خود تو نہیں آسکتے جبکہ ان دونوں کے مفادات کو پروان چڑھانے کے لئے ان کا طائفہ پاکستان میں موجود ہے۔ روس اور امریکہ کے ساتھ قادیانیوں کے تعلقات کو آپ اچھی طرح پڑھ آئے ہیں۔ حال ہی میں روس نواز لیڈر ولی خان نے اپنے دورہ لاہور کے موقع پر ایک بیان دے کر مذہبی حلقوں کو تشویش میں ڈال دیا کہ قادیانیوں کو ان کے مذہبی عقائد کی بناء پر کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اندریں حالات یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ سانحہ بہاولپور میں کسی بیرونی طاقت کی ایجنٹی کا فریضہ ادا کرنے، قادیانی خلیفہ کی پیش گوئی کو سچ ثابت کرنے، عالم اسلام کے اتحاد اور سربلندی کے لیے کوشاں اور قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے صدر ضیاء الحق کو ختم کرنے کے لیے بریگیڈیئر لطیف کا ہاتھ تھا۔
قادیانی افسر کی موت اگر پاکستان اور عالم اسلام کے لیے اتنے بڑے المیہ اور نقصان کا باعث بن سکتی ہے تو اس میں کیا حرج تھا۔ یہ بات سو فیصد قادیانی سازش اور کرتوت کی غمازی کرتی ہے۔ قادیانیوں نے جس بھی مسلمان لیڈر اور ختم نبوت کے پروانے کو ٹھکانے لگانے کا سوچا ہے اس میں یہ بہر صورت کامیاب ہوئے ہیں لہٰذا جب تک تفتیشی ادارے بریگیڈیئر لطیف کے کردار کو مخدوش قرار دے کر اس بارے میں جرات مندانہ تفتیشی اقدام نہیں اٹھاتے۔ اس وقت تک سانحہ بہاولپور ایک معمہ ہی رہے گا۔
قادیانیوں کو صدر ضیاء الحق مرحوم کے خلاف ہونے والی سازش کا نہ صرف علم تھا بلکہ انہوں نے تفویض کردہ فرائض بھی انجام دیے پھر جب بہاولپور کے حادثہ نے پاکستانی عسکری قوت کی دیوار میں دراڑ ڈال دی اور پورے عالم اسلام کو مغموم کر دیا تو اسے مباحلے کے چیلنج کا نتیجہ قرار دیا مگر ہم یہ بات علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ حادثہ بہاولپور قادیانی دعوت مباہلہ کا نہیں، قادیانی سازش کا نتیجہ ہے۔ وطن وملت کے خلاف سازشوں کو اپنی کرامتیں قرار دینے کا دجل و فریب مرزا طاہر کو اپنے والد اور دادے سے ورثا ملا ہے۔
ہم نے بھاگتے چور کی لنگوٹی پکڑ کر اسے دنیا کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ اب ملزم سے باز پرس اور تفتیش وتحقیق کرنا ارباب اختیار کا کام ہے۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں وہ آری بھی ہے
(مولانا ظفر علی خانؒ)
مرزا طاہر اور امریکی کانگریس
گزشتہ کئی دنوں سے یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ قادیانی لیڈر مرزا طاہر امریکی کانگریس تک رسائی حاصل کر کے پاکستان کے خلاف مواد مہیا کر رہا ہے اور پاکستان کی اقتصادی امداد بند کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور انسانی حقوق کے نام پر قادیانیوں کے لیے خصوصی مراعات اور امداد حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مگر لندن کے قادیانی ہیڈ کوارٹر اور امریکی کانگریس کی جانب سے ان خبروں پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہ آنے کی وجہ سے ان خبروں کو محض قیاس آرائیاں قرار دیا جا رہا تھا۔ آخر اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ قادیانیوں اور امریکی کانگریس کے درمیان واقعی روابط موجود ہیں اور یہ تصدیق بھی مفرور قادیانی رہنما مرزا طاہر نے خود کی ہے۔ اس نے واشنگٹن میں ایک خصوصی انٹرویو میں کچھ انکشافات کیے ہیں جس کے کچھ حصے روزنامہ ”ملت“ لندن کے ۱۲ اکتوبر کے شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔
دراصل انٹرویو میں وہ تردید کر رہے تھے اس بات کی کہ وہ امریکہ کے آلہ کار نہیں ہیں یا انہوں نے امریکی کانگریس سے کوئی درخواست کی ہے، مگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ یہی تردید ان سارے حقائق کی تصدیق کر رہی ہے۔ اس انٹرویو میں قادیانی پیشواء کہتا ہے۔
- ۱۔ امریکی کانگریس مجھے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے۔
- ۲۔ میں نے امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت مسترد کر دی۔
- ۳۔ ایک مرحلے پر امریکی سینیٹروں اور کانگریس کے ارکان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس
وقت تک پاکستان کو کوئی امداد نہیں دی جائے گی جب تک کہ امریکہ کے صدر اس بات کی ہر
سال تصدیق نہیں کریں گے کہ قادیانیوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جا رہا۔
- ۴۔ میں نے امریکی قادیانیوں کو ہدایت کی کہ اس قسم کی تحریک سے مجھے نقصان پہنچے گا۔
- ۵۔ دراصل امریکی کانگریس مجھے پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
یہ ہیں وہ انکشافات یا اعترافات جو مرزا موصوف نے اپنے انٹرویو میں کیے۔
ہم یہاں سب سے اہم اور بنیادی سوال مرزا صاحب سے یہ کرتے ہیں کہ یہ امریکی کانگریس نے آپ ہی کو استعمال کرنے کی کوشش کیوں کی۔ دنیا بھر میں پاکستانی جماعتوں اور تنظیموں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ ان میں امریکیوں کی نظر کرم یا نظر انتخاب آخر آپ پر کیوں پڑی اور یہ پیش کش صرف آپ ہی کے سامنے کیوں رکھی گئی حالانکہ دوسری تنظیموں کو بھی پاکستانی حکومت کی متعدد پالیسیوں اور اس کے کئی اقدامات سے شدید اختلافات رہے ہیں۔ اس میں کوئی تو راز ضرور ہو گا کہ پاکستان کی بعض بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو خواہش اور کوشش کے باوجود کانگریس سے خطاب کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ مگر قادیانی ذریت پر چچا سام اتنا مہربان کہ انہیں خود تشریف لانے اور خطاب فرمانے کی درخواست کر رہے ہیں اور پھر اس سوال کا جواب بھی درکار ہے کہ کانگریس تک رسائی امریکی قادیانیوں نے کی یا امریکی کانگریس نے قادیانیوں تک اپنے خیر سگالی کے جذبات پہنچائے۔
ہمیں تو سارے بیان میں یہ حقیقت کچھ اس طرح جھلکتی نظر آتی ہے کہ مرزا طاہر نے اپنے امریکہ میں مقیم پیروکاروں کو ہدایت کی کہ امریکی سرکار سے اپنی حاجت روائی کی درخواست پیش کرو اور انسانی حقوق کے نام پر قادیانیوں کی مشکل کشائی کی کوئی صورت نکالو۔ اس ہدایت پر ان کے پیروکاروں نے باقاعدہ مہم شروع کی اور اس کے لیے انہوں نے وہ تمام ذرائع استعمال کیے جو قادیانی ذریت میں ایسے مواقع پر کیے جاتے ہیں اور جس میں حلال و حرام یا جائز ناجائز کی ہرگز کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ وہ اس سے دوہرا مفاد حاصل کرنا چاہتے تھے، ایک طرف اپنے آقا کا مزید قرب اور دوسری طرف حکومت پاکستان کو بلیک میل کرنا۔ اب رسائی تو ان کی ہو جاتی ہے اور شاید بہت سے معاملات طے بھی پا جاتے ہیں مگر جلاوطنی کے نام پر مزید گرین کارڈز حاصل کرنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ اس لیے معاملہ کچھ ادھورا رہ گیا۔ اس رہی سہی کسر کو پورا کرنے کے لیے مرزا طاہر نے ایک انٹرویو
داغ دیا۔ ایک طرف اپنے آقا کو ذرا آنکھ دکھائی تاکہ لوگ کہیں کہ واقعی بڑے بااصول اور پاکستان کے محب وطن ہیں اور دوسری طرف پاکستان کو اشارہ کر دیا کہ ہم تاج برطانیہ کے محبوب ہی نہیں، بلکہ ہم امریکہ بہادر کے اداروں کی چاکری بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہوشیار رہنا اور ہمارا خیال رکھنا۔ کوئی اور قانون یا آرڈیننس نہ بنا دینا جس سے میرے امتیوں کو کوئی پریشانی ہو یا جو قانون قادیانیوں کے بارے میں بنائے ہوئے ہیں، ان پر کہیں عمل درآمد نہ شروع کر دینا، اصل میں سارے افسانے کا مرکزی نقطہ یہی ہے۔ قادیانی پیشوا بھولے پن میں یہ بھی کہہ گئے کہ ایک مرحلے پر کانگریس کے ارکان نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ جب تک پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم بند نہیں ہوتے، اس وقت تک امریکی صدر پاکستان کی امداد بحال نہ کرے۔
تو جناب اس تجویز کو کانگریس کے سامنے کس نے رکھا تھا؟ اور کانگریس کے سامنے یہ درخواست کس نے پیش کی تھی کہ قادیانیوں پر پاکستان میں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ نبوت کا سارا کاروبار ہی جھوٹ پر چل رہا ہے۔ قادیانیوں پر ظلم کی جھوٹی داستانیں بنا کر ہزاروں قادیانیوں کو برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں پناہ دلوائی اور یہاں روزگار کے ساتھ اپنے آقاؤں کی نمک حلالی کے مواقع بھی ہاتھ آئے اور اب امریکہ میں گرین کارڈ کے لیے نیا چکر چلایا اور کانگریس سے خطاب کرنے کی دعوت بھی حاصل کر لی۔ ہمیں اس ڈرامے سے ایک خوشی بھی ہوئی ہے اور ایک گونہ اطمینان بھی حاصل ہوا ہے کہ علمائے اسلام نے عجمی مدعی مہدویت و نبوت کے بارے میں بار بار اس بات کا جو اظہار کیا تھا کہ یہ دراصل عالمی استعماری طاقتوں کا لگایا ہوا پودا ہے۔ اس کی آبیاری انہوں نے کی اور وہ ہمیشہ اس کی سرپرستی کرتے رہیں گے۔ اس پر جن لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا، انہیں بھی اب یقین آگیا ہے کہ اس امت کا اصل مسئلہ کس طرف ہے اور ایک چھوٹا سا گروہ ہونے کے باوجود یہ امریکی کانگریس اور پھر اس سے خطاب، پھر تاج برطانیہ سے تعلق اور ملکہ ہالینڈ و ڈنمارک سے قربتیں، یہ سارے شواہد اس بات کے ہیں کہ اس امت کا ان سے کوئی تعلق نہیں جن کا کعبہ مکہ میں ہے اور جن کے آقا و مولا سرور دو عالم ﷺ ہیں۔ (صراط مستقیم، برمنگھم، ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ۵، شمارہ ۳۸، مارچ ۱۹۸۸ء)
ہائے قادیان-----ہچکیاں اور سسکیاں
قادیانیوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اس لیے کہ دجال قادیان مرزا قادیان نے قادیان کے متعلق کہا تھا۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
اگر قادیانی ترک سکونت کر کے پاکستان آئے ہیں تو اس سے ان کا مقصد پاکستان کے خلاف مخبری کرنا اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، نوے ہزار فوجی جوانوں کا قید ہونا، پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے عظیم حادثہ تھا۔ اس سلسلہ میں متعدد سیاسی رہنماؤں کی بیانات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں کہ اس عظیم حادثہ کا مرکزی کردار مرزا قادیانی کا پوتا مسٹر ایم ایم احمد تھا۔
سوال یہ ہے کہ آخر قادیانی پاکستان کے دشمن کیوں ہیں؟ انہیں پاکستان میں رہتے ہوئے، اس کا کھاتے ہوئے بھی اس پاک وطن کی سرزمین سے محبت کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب قادیانیوں کے دوسرے نام نہاد خلیفہ آنجہانی مرزا محمود کی اس پیشگوئی سے ملتا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ اول تو ہندوستان کی تقسیم ہوگی نہیں۔ اگر ہو بھی گئی تو ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ متحد ہو جائیں اور پھر اکھنڈ بھارت بن جائے۔ مرزا محمود کی یہ پیشگوئی الفضل قادیان مئی ۱۹۴۷ء میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی کوشش مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں جنرل یحییٰ خان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے کی گئی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
مرزا محمود کے اکھنڈ بھارت کے الہامی نظریہ کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ میں اس کی اور اس کی بیوی کی جو لاشیں دفن ہیں وہاں پر نصب کتبے پر یہ عبارت کندہ ہے کہ امانتاً دفن ہیں۔ اور جوں ہی حالات سازگار ہوں، ان دونوں کو یہاں سے نکال کر قادیان کے نام نہاد بہشتی مقبرے میں دفن کر دیا جائے۔
مرزا محمود کے اور بھی بہت سے بیانات اور پیغامات ایسے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اگر ٹھہرا رہا تو مجبوری سے ۔۔۔۔۔ ورنہ اس کی تمنا یہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح جلاوطنی کی زندگی ختم ہو اور وہ جلد پاکستان سے چھٹکارا حاصل کر کے قادیان پہنچ جائے۔ چنانچہ اس نے قادیان کے سالانہ جلسہ پر یہ پیغام بھیجا:
”آج پھر مسجد اقصیٰ (مرزاڑہ) میں ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے۔ اس لیے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہو گئی ہے بلکہ شمع احمدیت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آ سکتے۔ یہ حالات عارضی ہیں اور...... ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام ...... ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا“۔
(ماہنامہ ”الفرقان“ درویشان قادیان نمبر ۱‘ اکتوبر ۱۹۶۳ء)
اسی مرزا محمود نے اپنی جماعت کے ایک متبع مسٹر جلال الدین شمس کے نام خط میں فتح قادیان سے متعلق یوں مشورہ دیا:
”دعا‘ گریہ زاری سے کام لینا چاہیے اور ظلم کو برداشت کر کے ظلم کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک یہ طریق ہماری آبادی نہیں دکھائے گی‘ دوبارہ قادیان کا فتح کرنا مشکل ہو گا“۔
(ایضاً‘ ص ۶۵)
مرزا محمود اپنے ایک اور پیغام میں جو نام نہاد ”اصحاب الصفہ“ کے نام ہے‘ لکھتا ہے:
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے کچھ صحابہ اور کچھ اور لوگ جو جوار مسیح..... کو دنیوی زندگی پر فضیلت دیتے ہیں‘ قادیان آ رہے ہیں..... کچھ لوگ جو اور نہیں ٹھہر سکتے‘ واپس آئیں گے۔ اللہ ان کی قربانی کو قبول کرے...... اور قادیان میں رہنے کے ثواب کو
بڑھانے کی انہیں توفیق بخشے اور ہماری جلاوطنی کے دن چھوٹے کرے۔ اگر سلسلہ کی ضروریات مجبور نہ کرتیں تو میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا لیکن زخمی دل اور افسردہ افکار کے ساتھ آپ سے دور اور قادیان سے باہر بیٹھا ہوں۔ نہ معلوم وہ دن کب آتا ہے کہ میں بھی اس مقام پر پہنچ سکوں جو خدا کے رسول (مرزا) کی تخت گاہ ہے اور احمدیوں کا دائمی مرکز ہے ..... آپ لوگ دعا میں لگے رہیں۔ خدا تعالیٰ جلد قادیان پھر ہمارے ہاتھوں میں دے"۔ (ایضاً ص ۵)
مرزا محمود خلافت اور الہام کا مدعی تھا۔ اس نے اکھنڈ بھارت کی پیشگوئی کی لیکن اس کی تمنا پوری نہ ہو سکی۔ پھر پیغام پر پیغام ارسال کیے اور اپنے پیروکاروں کو یہ تاثر دیا کہ ہم اگر قادیان سے دور ہیں تو جلاوطنی کے یہ حالات عارضی ہیں۔ قادیان میں رہنے والوں کو کہا گریہ و زاری کرو، دعائیں کرو تاکہ خدا جلد قادیان ہمارے ہاتھوں میں دے دے، لیکن ۔
مرزا محمود کا ادعائے خلافت، ماموری، مصلحیت کام نہ آسکا اور وہ دس سال موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہ کر انتہائی ذلت و نامرادی کے عالم میں سوئے جہنم سدھار گیا لیکن قادیان نہ ملنا تھا نہ ملا۔
- ۲- قادیانی، مرزا قادیانی کی بیوی کو "ام المومنین" کہتے ہیں۔ مذکورہ رسالہ الفرقان
میں ہی ص ۳۴ پر اس کا ایک پیغام شائع کیا گیا ہے۔ اس نے بھی یہی پیغام دیا " میں اپنے خدا کی ہر تقدیر پر راضی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ خواہ درمیانی امتحان کوئی صورت اختیار کرے، قادیان...... جماعت کو ضرور واپس ملے گا" (ص ۳۴)
- ۳- مرزا محمود کا بھائی اور مسٹر ایم ایم احمد کا باپ مرزا بشیر احمد ایم اے امیر جماعت
قادیان کے نام لکھتا ہے: "ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا پیارا مرکز ہمیں کب واپس ملے گا۔ مگر جب تک وہ ہمیں واپس نہیں ملتا، ان بزرگوں کا وجود اور ان کے ساتھ آپ جیسے جاں نثار درویشوں کا وجود اس شمع کا حکم رکھتا ہے۔ الخ۔۔۔ ایضاً ص ۴۸
یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ فوج میں موجود عبدالعلی قادیانی اور اختر حسین قادیانی جیسے جنرلوں نے مسلط کی تھی۔ جس کا مقصد قادیانی پیشواؤں
کے پیغامات اور الہامات کی روشنی میں قادیان کا حصول تھا۔ سیالکوٹ (جہاں سے قادیان بالکل قریب ہے) کے محاذ پر فوج کی کمان قادیانی افسروں کے ہاتھ میں تھی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ ۶۵ء کی جنگ میں پاکستان بچ گیا ورنہ قادیانیوں کا منصوبہ اس وقت ہی پاکستان کو تباہ کرنے کا تھا۔ جیسا کہ پاکستانی فوج کے سابق کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان نے اپنی حال ہی میں شائع ہونے والے کتاب ”مائی ورژن“ میں انکشافات کیے ہیں۔
مذکورہ بالا قادیانی رہنماؤں کے پیغامات اور الہامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہر قادیانی پاکستان کے مقابلہ میں قادیان کو پسند کرتا ہے اور اس کی جدائی اور فراق انہیں بہت زیادہ گراں گزرتا ہے۔ چنانچہ قادیان کے ”ہجر و فراق“ میں کچھ قادیانی شعراء نے بھی مرثیہ خوانی کی ہے جس کی جھلک ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔
ایک قادیانی شاعرہ فغان درویش کے نام سے یوں نوحہ خوانی کرتی ہے۔
کب ہوں گے واپسی کے اشارے کب آئیں گے
کب پھر ”مینار مشرق“ پہ چمکے گا آفتاب
”شب“ کب کٹے گی دن کے نظارے کب آئیں گے
ایک قادیانی شاعر پاکستان کے قیام کو قید سے تعبیر کرتے ہوئے ”درویش قادیان سے خطاب“ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ گو ہم یہاں رہتے ہیں لیکن ہمارا دل اور جان قادیان میں ہے۔ اور یہ کہ تم جنت میں آباد ہو اور ہم دنیا میں۔
کہ ہم جہاں میں اور تم جناں میں رہتے ہوں
جو قادیان میں رہتے ہو تم تو یہ سمجھو!
ہماری جان میں اور جان جاں میں رہتے ہو
قفس کی بات کو رہنے دو ہم اسیروں تک
ہو خوش نصیب کہ تم گلستاں میں رہتے ہو
(الفرقان، ص ۲۹)
ایک اور شاعر قادیان اور درویش قادیان کے صدمہ و جدائی اور پاکستان کے قیام کو
امتحان اور اس شخص کی مانند قرار دیتا ہے جو کاروان کو چھوڑ کر لٹ پٹ گیا ہو۔ اس کی گریہ وزاری ملاحظہ ہو۔ یادرہے کہ قادیانی‘ قادیان کو دارالامان کہتے ہیں۔
امتحاں میں پھنس گئے ہم قادیاں کو چھوڑ کر
تم ستارے بن چکے ہو آسمان عشق کے
ہم زمیں پر آ گرے ہیں آسماں کو چھوڑ کر
ایک تم بھی ہو کہ ہو تم اپنی منزل کے قریب
ایک ہم ہیں لٹ گئے جو کارواں کو چھوڑ کر
ذیل کے شاعر کا حال انتہائی خستہ ہے۔ یہ بے چارہ ہجر کی گھڑیاں ہی گن رہا ہے گویا اس پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔
ہو میسر پھر ظہور قدرت ثانی تمہیں
ہم پہ کیا گزری بتائے نالہ ناہید کیا
خود بتائے گی ہماری چاک دامانی تمہیں
شعر اول کے مصرعہ ثانی میں ظہور قدرت ثانی سے مراد مرزا محمود ہے۔
اب اسیر پنجہ آفات کی کتھا بھی سنئے۔
اک عمر لازوال کا ساماں لیے ہوئے
یارب وہ دن نصیب ہو‘ آئیں بصد نیاز
بچھڑے ہوؤں کو یوسف دوراں لیے ہوئے
(ایضاً‘ ص ۲۶)
اس میں یوسف دوراں مرزا محمود کو کہا گیا ہے۔ اور یہ شاعر قادیان کے غم میں کچھ زیادہ ہی بدحال ہے۔
نیم بسمل کی طرح ہوں نیم جاں تیرے بغیر
ساری خوشیاں مٹ گئیں ہیں میری جاں تیرے بغیر
قادیاں کی پاک بستی میں مگن تھا دل مرا
اب تو دل گھبرا گیا ہے مہرباں تیرے بغیر
ایک قادیانی شاعرہ قادیان کے غم میں اپنی تلملاہٹ اور تڑپ یوں ظاہر کرتی ہے۔
امیدیں تلملاتی ہیں تمنائیں تڑپتی ہیں
زمین قادیاں تو ہم سے چھوڑی جا نہیں سکتی
قسم ایک بار کھائی ہے جو توڑی جا نہیں سکتی
یہ سچ ہے میں نے چھوڑا تھا تجھے تو نے نہیں چھوڑا
مگر پھر لوٹ کر آنے کا وعدہ بھی نہیں توڑا
یہ اشعار مرزا محمود کے اس الہام کی روشنی میں کہے گئے ہیں کہ اگر برصغیر کی تقسیم ہوگئی تو یہ عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ اکھنڈ بھارت بن جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے قادیانی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور مذکورہ بالا بیانات‘ پیغامات اور منظوم اس کا واضح ثبوت ہیں۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۵‘ شمارہ ۱۸ از قلم: محمد حنیف ندیم)
قادیانی فتنے کی نئی شرانگیزی
جاوید اقبال خواجہ - لندن
یورپ کے مختلف ملکوں میں پناہ گزین بوسنیا کے مسلمانوں کے درمیان کام کرنے والے مسلم رضا کاروں کو یوں تو بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، لیکن انہوں نے حال ہی میں مسلمانوں کی توجہ ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف دلائی ہے کہ ”قادیانی“ بوسنیا کے مہاجرین کے درمیان نہایت سرگرمی سے کام کر رہے ہیں اور بوسنیا کے وہ مسلمان پناہ گزین، جنہوں نے ستر سال کے کیمونسٹ نظام کے بعد اب اسلام کو جاننا اور سمجھنا شروع کیا ہے، قادیانی اپنے مغربی پشت پناہوں کے تعاون سے انہیں احمدی فرقے کی اسلامی تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف بوسنیا اور کروشیا کے درمیان لڑائی سے کروشین حکام نے اس ملک میں پناہ گزین بوسنیا کے مہاجرین کی امداد کرنے والی مسلم تنظیموں کے لیے خصوصاً مشکلات پیدا کرنا شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف عیسائی مشنری ادارے امدادی کارروائیوں کے نام پر کھلم کھلا کام کر رہے ہیں اور اب قادیانی بھی پوری سرگرمی سے مصروف عمل ہو گئے ہیں۔ ان کا خصوصی نشانہ اس وقت برطانیہ میں پناہ لیے ہوئے بوسنیا کے وہ مہاجرین ہیں جو مختلف علاقوں میں مقیم ہیں، ایک ریلیف ورکر کے مطابق، بوسنیا کے مہاجرین قدرتی طور پر اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف سے کی جانے والی امدادی کارروائیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسلام کے لیے ان کے نیک جذبات سے قادیانی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ مساجد، اسلامک سنٹر اور مہاجرین کی رہائش کے علاقوں میں جاکر اپنے مسلمان ہونے کا دکھاوا کر کے ضرورت مند مہاجرین کو امداد کے نام پر اپنے فرقے کی تعلیمات سے روشناس کرا رہے ہیں۔
مسلم ریلیف کے لیے کام کرنے والے ایک رضا کار فہیم مظہری نے لندن سے شائع ہونے والے ایک مسلم ہفت روزہ کو بتایا ہے کہ حال ہی میں بوسنیا کے ایک مسلمان نے اسے بتایا کہ کچھ ”احمدی مسلمان“ اسے ملنے آئے تھے اور انہوں نے اس کے گھر میں ضرورت کے لیے چیزیں خرید کر مہیا کیں۔ فہیم مظہری نے جو بوسنیا کی زبان بڑی روانی سے بولتے ہیں، جب اس معاملے کی مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس نہیں، قادیانی ایک انتہائی منظم منصوبے کے تحت بوسنیا کی مظلوم کمیونٹی میں کام کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ اسلامی تعلیمات کے بارے میں ابھی پوری طرح آگاہ نہیں اور ان پر قادیانی فرقے کی حقیقت واضح نہیں ہے۔
قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کی مزید تحقیق پر پتہ چلا ہے کہ تقریباً ستر مہاجرین پر مشتمل گروپ کو قادیانی، اپنے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد سے، جو لندن کے نواح میں مقیم ہیں، ملاقات کے لیے لے گئے تھے، یاد رہے کہ قادیانیوں نے لندن کے جنوب میں واقع ایک قصبے Ashtead میں ”اسلام آباد“ کے نام سے اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کر رکھا ہے۔ جہاں سے انہیں یورپ، روس اور ایسے تمام علاقوں میں تبلیغ کرنے کی آزادی ہے، جو عام مسلمانوں کے لیے بند ہیں۔
قادیانیوں کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ برطانیہ میں آئے ہوئے بوسنیا کے مہاجرین کے ساتھ ساتھ سابقہ یوگو سلاویہ میں بھی پوری طرح اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے یوگو سلاویہ کے علاقوں میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں احمدی ”تعلیمات“ کے بارے میں لٹریچر تیار کر کے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا ہے، مسلمان رضاکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اپنی ان سرگرمیوں کی بنا پر قادیانی جانے کتنی تعداد میں بوسنیا کے مہاجرین کو متاثر کر چکے ہیں۔
یورپ میں قائم مسلم تنظیم نے قادیانیوں کی ان سازشوں پر گہرے اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ ایک طرف تو بوسنیا کے مظلوم مسلمان سرب اور کروشیا کے قدامت پرست اور کیتھولک عیسائیوں کے ہاتھوں محض اس جرم پر مار کھا رہے ہیں کہ وہ نام کے بھی مسلمان کیوں ہیں تو دوسری طرف کمیونزم کے پنجے سے نکل کر وہ اب قادیانیوں کے پھندے میں گرفتار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اکثر مسلم تنظیمیں مسئلے کی سنگینی سے پوری طرح واقف ہیں نہ وہ اس کے سدباب کے لیے عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے کوشاں ہیں، انفرادی طور پر کچھ لوگ اور تنظیمیں بوسنیا کے مہاجرین کے درمیان امدادی اور تبلیغی کام کر رہی ہیں، لیکن یہ مسئلہ جتنا بڑا ہے اور سنگینی جتنی زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں یہ اکا دکا کوششیں زیادہ بار آور ثابت نہیں ہو رہیں۔ قادیانیوں کے ساتھ عیسائی تنظیمیں ایسے تمام بچوں کو اپنی پناہ میں لینے کے لیے نہایت سرگرمی سے کام کر رہی ہیں، جن کے ماں باپ لڑائی میں مارے جا چکے ہیں یا لاپتہ ہیں، بوسنیا سے آنے والے کئی بچوں کو عیسائی گھرانوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ اگرچہ یورپ میں مقیم مسلمان انفرادی طور پر بوسنیا کے مسلمانوں کے لیے جو کچھ بھی ان سے بن پڑا ہے، کر رہے ہیں، لیکن اسلام کے نام پر قائم کی گئی بے شمار اور لاتعداد تنظیمیں اپنی اپنی سرگرمیوں میں مگن ہیں، آپس میں اتحاد اور تعاون کے فقدان، ہر ایک کی انفرادی کوششوں اور مسائل کی سنگینی کے عدم احساس کے سبب بوسنیا کے مسلمان مہاجرین کی پوزیشن بہت نازک ہے۔
(ہفت روزہ ”تکبیر“ ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء)
ریلوے نظام میں قادیانیوں کا عمل دخل
ڈاکٹر دین محمد فریدی
حال ہی میں خانیوال کے قریب مہرشاہ اسٹیشن پر کراچی جانے والی تیز رو کو ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ جس میں حکومت کے اعلان کے مطابق ۱۲۷ افراد جاں بحق اور ۱۰۰ سے اوپر زخمی ہوئے۔ انجن سمیت کئی ڈبے تباہ ہوئے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق تخریب کاری خارج از امکان نہیں۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ملک میں ہونے والی تخریب کاری اور دہشت گردی کے پس منظر میں کون لوگ ہیں؟ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے اس ملک کو کمزور کرنے والا کونسا طبقہ ہے؟ ہر طرف تباہی، بربادی آہ و بکا ہے۔ مگر اس خفیہ ہاتھ تک کیوں نہیں پہنچا جارہا؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے ضلع بھکر کے ایک مجسٹریٹ کا تبادلہ سٹی مجسٹریٹ جھنگ کی حیثیت سے ہو گیا۔ میری ان کے ساتھ اچھی گپ شپ تھی۔ ان دنوں جھنگ میں سنی شیعہ فساد زوروں پر تھا۔ میں نے اس مجسٹریٹ سے کہا کہ فقیر کی ایک بات آپ گرہ سے باندھ لیں۔ اگر آپ نے اس پر عمل کیا تو انشاء اللہ جھنگ میں امن کا سہرا آپ کے سر ہو گا۔ انہوں نے پوچھا کیا؟ میں نے کہا آپ جس شخص کو بھی تخریب کاری کرتے ہوئے پائیں اسے گرفتار کر کے اس کے عقیدے کی تحقیق کریں۔ مجسٹریٹ نے پوچھا اس سے کیا ہو گا؟ میں نے کہا کہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ وہ تخریب کار قادیانی ہو گا۔ سٹی مجسٹریٹ نے اس پر خصوصی نگاہ رکھی۔ ایک جلوس نعرے لگاتا آرہا تھا۔ دو لڑکے ایک طرف سے آئے اور انہوں نے اہل جلوس کو توڑ پھوڑ کی طرف لگا کر دکانوں کو آگ لگانی شروع کر
دی۔ ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ جب عقیدے اور رہائش کی تحقیق ہوئی تو وہ جھنگ میں کمبل کے ایک کارخانے میں ملازم تھے اور سکھر سندھ کے باشندے تھے۔ ایک قادیانی تھا، ایک ہندو۔ اسی طرح حضرت مولانا صادق حسین شاہ اور پانچ جید علماء اہل سنت ملوانہ موڑ جھنگ کے قریب شہید کر دیے گئے۔ ان کی گاڑی پر فائرنگ کے وقت ان کی کار کے پیچھے حمید اللہ قریشی ڈی۔ ایس پی قادیانی کی گاڑی تھی۔ دہشت گرد فائرنگ کر کے سامنے موٹر سائیکل پر جا رہے تھے مگر کیس کی تفتیش ایسے طریقہ پر ہوئی کہ ان علماء کا خون ضائع کر دیا گیا۔
ایسے بہت سے واقعات ہیں جو منظر عام پر آ چکے ہیں اور کچھ تفتیشی کارروائی کی پر اسرار تہوں میں دب گئے ہیں اور قادیانی تفتیش کا رخ پھیر کر صاف بچ جاتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد قادیانیوں نے ملک میں سنی شیعہ فساد کی نیو رکھی۔ ضیاء الحق دور میں اسے دہشت گردی کی شکل دے دی گئی اور اس دہشت گردی کو کبھی فرقہ وارانہ رنگ میں، کبھی لسانی گروہی رنگ میں، کبھی علاقائی اور کبھی سیاسی رنگ میں پیش کیا گیا۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ہر واقعہ کے پیچھے بالواسطہ یا بلاواسطہ قادیانی کا ہاتھ ہے۔
اسی ضمن میں سمرشاہ ریلوے اسٹیشن کا یہ خوفناک حادثہ بھی محل نظر ہے۔ جب سے سیف الرحمٰن قیصرانی جو کہ قادیانی ہے، ملتان ڈویژن میں ریلوے کا ڈی ایس تعینات ہوا۔ اس ڈویژن نے ریلوے میں خسارہ ہی دکھایا۔ پسنجر گاڑیوں کا تو حال ہی برا ہوا۔ ایس ٹی، ریلوے گارڈ اور پولیس نے لوٹ مار مچادی۔ گاڑی میں ٹکٹ لے کر سفر کرنے والے دس فیصد افراد بہ مشکل ہوتے ہیں۔ ۲۶ نومبر ۱۹۹۶ء کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ میرے پاس ٹکٹ تھا۔ چند افراد اور ٹکٹ والے تھے۔ تھل پسنجر ملتان تا پشاور جانے والی جو کہ خسارہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکی تھی، پوری گاڑی میں اکثریت بغیر ٹکٹ تھی۔ جو ایس ٹی صاحب کو کرایہ سے کچھ کم رقم دے کر آرام سے سفر کر رہے تھے۔ ایس ٹی صاحب ٹکٹ والے مسافروں سے سیٹیں لے کر بغیر ٹکٹ والے کو دے رہے تھے۔ میں ایس۔ٹی صاحب سے اس معاملے میں تلخ ہوا تو ایس ٹی صاحب کے منہ سے سچی بات نکل گئی کہ ایسے نہ کریں تو اوپر والوں کو ماہانہ بھتہ کیسے دیں؟ بھتے کا چکر سیف الرحمٰن قادیانی ڈی ایس ریلوے ملتان کا چلایا ہوا ہے۔ خانیوال میں انہی ڈی ایس صاحب نے ٹیکنیکل افراد کی
بجائے نان ٹیکنیکل افراد کو خصوصی طور پر بھرتی کر رکھا ہے ۔ خانیوال کا اسٹیشن ملتان ڈویژن میں اس وجہ سے اہم ہے کہ مال گاڑی کے اکثر ڈبے علاقہ کے لیے وہاں سے بک ہوتے ہیں ۔ اسٹیشن ماسٹر جو کہ سیف الرحمن کا خاص آدمی بتایا جاتا ہے ۔ وہ علاوہ کرایہ سو روپیہ فی ڈبہ وصول کرتا ہے ۔ تقریباً پچاس ہزار روپیہ یومیہ کی آمدن ہوتی ہے ۔ ایک ایک دن سو ڈبہ بک ہوتا ہے ۔ اسٹیشن ماسٹر اور عملہ میں اس اوپر کی آمدن کی تقسیم پر تلخی ہوئی اور یہ نزلہ اس عظیم نقصان پر پڑا کہ تیز رو کی بوگیوں سے پریشر بریک کے نظام کو عملہ نے ختم کر دیا ۔ اخباری اطلاع سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تقریباً پانچ چھ بوگیوں کے بعد پریشر پائپ لوہے کی ہک میں پھنسا کر باقی بوگیاں ڈمی کر دی گئی تھی ۔ پریشر چیک کرنے پر اخباری اطلاعات کے مطابق ڈرائیور اور اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کی پریشر کے بارے میں تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ راستہ میں گارڈ بھی جب اپنی بریک لگوانے لگا تو ناکام ہوا ۔ دس منٹ کے بعد خانیوال سے مہر شاہ تک یہ خوفناک حادثہ پیش آ گیا ۔ اب اس میں چھوٹے عملے کو مورد الزام ٹھہرا کر معطل اور تفتیش کے چکر میں اس بہت بڑے نقصان پر پردہ ڈال دیا جائے گا ۔ اصل ملزم صاف بچ جائے گا ۔ قادیانی جہاں کہیں بھی ہیں کلیدی اسامیوں پر ہیں ۔ وہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں اور مرزا طاہر نے تو پاکستان کو کھلی جنگ کی دھمکی دی ہوئی ہے ۔ وہ جنگ یہی ہے کہ پاکستان میں تفرقہ ڈالو اور نقصان پہنچاؤ ۔ وہ پاکستان کے ہر مسلمان کے دشمن ہیں اور انہیں ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
نواز شریف صاحب کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دور میں لبنیٰ اعجاز نامی قادیانی سائنس دان عورت شمسی توانائی پلانٹ جو کہ ۸۰ کروڑ ڈالر کا تھا، تباہ کر کے امریکہ بھاگ گئی ۔ اس کا کچھ نہ بگاڑا جا سکا ۔ اس طرح یہ سیف الرحمن قیصرانی ڈی ایس ریلوے ملتان ڈویژن، پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا رہا ہے مگر پھر بھی معصوم بنا بیٹھا ہے اس کو کھلی چھٹی سے محکمہ ریلوے کے ایس ٹی حضرات اور گارڈ صاحبان سے ماہانہ بھتہ لے کر ملتان سے پشاور چلنے والی تھل پسنجر ٹرین خسارہ کے باعث بند ہو چکی ہے ۔ خسارہ کے بارے میں، میں پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ اس کے بند ہونے سے اس لائن پر سفر کرنے والے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔
قادیانی طبقہ پاکستان کے باشندوں کو مشکلات میں مبتلا کر کے بہت خوشی محسوس کرتا ہے کیونکہ اسے اسلام اور پاکستان سے دشمنی ہے ۔ یہ کھاتے بھی پاکستان کا ہیں اور موقع
ملتے ہی ڈنگ بھی پاکستان کو مارتے ہیں۔ اس کے ہزاروں ثبوت موجود ہیں۔ جو حکمران دیدہ دانستہ آنکھیں بند کرلیں ان کا کوئی علاج نہیں۔ سیف الرحمٰن قیصرانی کی ایک حرکت اور منظر عام پر لا رہا ہوں۔ کوٹلہ جام ریلوے اسٹیشن سے ایک بوگی ملتان کے لیے لگتی ہے۔ غالباً ماڑی انڈس گاڑی کے ذریعے ملتان جاکر ۱۹۰ ڈاؤن سے کراچی جاتی ہے اس میں ۷۸ سیٹ ہیں۔ اس کا اصل کرایہ اکانومی کا کراچی کے لیے مبلغ ۲۴۵ روپے بمعہ ٹوکن ہے مگر ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹھیکیدار ریلوے ایجنسی سید چراغ شاہ مبلغ ۲۹۰ روپے لے رہا ہے۔ برتھ کا اصل کرایہ ۲۶۰ روپے ہے۔ مگر کراچی برتھ کے لیے ۳۲۰ روپے وصول کیا جارہا ہے۔ عوام سے لوٹ کھسوٹ میں کوٹلہ جام کا اسٹیشن ماسٹر اور اسکا اسسٹنٹ بھکر ریلوے اسٹیشن کا عملہ بمعہ اسٹیشن ماسٹر سب ملوث ہیں۔ اس لوٹ کے مال میں اکثر ان میں کھینچا تانی بھی ہوتی ہے۔ کراچی جانے والے مسافروں کو بھی پریشان کیا جاتا ہے۔ اس پریشانی سے فائدہ اٹھانے میں اکثر دفعہ گارڈ صاحب بھی ملوث ہوتے ہیں اور سواری سے ۲۰ روپے مزید وصول کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ سیف الرحمٰن قیصرانی قادیانی کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس کو راضی کرنے کے لیے منتھلی دینی پڑتی ہے۔
اس سلسلہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب بندہ نے یہ معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ملتان کندیاں سیکشن پر متعین ایک اسٹیشن ماسٹر سے رابطہ قائم کیا تو بھکر قادیانیوں کے ایک ذمہ دار کو کسی طرح علم ہو گیا۔ اس نے اسٹیشن ماسٹر کو بلا کر ڈی ایس ریلوے ملتان سیف الرحمٰن کو خبر دینے کی دھمکی دی اور کہا کہ میں اطلاع دے دوں گا کہ تم ہمارے دشمن، دین محمد فریدی کو ملتے ہو۔ اسٹیشن ماسٹر جرات کر گیا اور قادیانی کو کھری کھری سنا دیں۔ میں موجودہ حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ملک دشمن طبقہ سے آپ اچھی طرح آگاہ ہیں، جہاں اور اچھے اقدام کر رہے ہیں۔ وہاں انہیں آئین پاکستان کو ماننے پر مجبور کریں ورنہ ان کو آئین سے بغاوت کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے سزا دی جائے اور کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر کے ملک میں امن وامان بحال کیا جائے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، اپریل ۱۹۹۷ء)
پوشیدہ سازشیں ----- بے نقاب
"تاشقند کے اصلی راز اور قادیانیوں کی سازشیں" جناب میجر امیر افضل خان کی گراں بہا تصنیف ہے جو زیادہ تر ان کے ذاتی تجربات پر مشتمل ہے۔ میں اس کتاب سے چند انتہائی اہم نکات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ انہیں پڑھئے اور تحفظ ختم نبوت اور تحفظ پاکستان کے لیے آگے بڑھئے۔ (مؤلف)
باؤنڈری کمیشن میں قائد اعظم نے سر ظفر اللہ خان کو کیوں وکیل مقرر کیا۔ اس بارے میں ہمیں جو کچھ معلوم ہو سکا، وہ یہ تھا کہ قائد اعظم جانتے تھے کہ قادیانیوں اور انگریزوں میں گاڑھی چھنتی تھی۔ قادیانی ان کے پروردہ تھے اور سب سے زیادہ چہیتے ۔ گورداسپور میں ویسے بھی مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور قائد اعظم یقین کرنا چاہتے تھے کہ قادیان کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع پاکستان کو مل جائے گا اور کشمیر کی بھاری مسلم اکثریت والی ریاست بھی ہماری جھولی میں ہو گی اور اگر مہاراجہ ہری سنگھ کو عقل نہ آئی تو چند مسلمان مجاہد اس پر قبضہ کر لیں گے۔
قائد اعظم کو البتہ زیادہ فکر حیدر آباد کی تھی اور کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملانے کے بعد وہ سارا زور حیدر آباد کو بچانے اور جنوبی بھارت میں اس ریاست کو مسلمانوں کی جائے پناہ بنانا چاہتے تھے۔ بھارت کے دو چوٹی کے لیڈروں یعنی نہرو اور پٹیل میں کشمیر اور حیدر آباد کے سلسلہ میں اختلافات بھی تھے۔ پٹیل کا تعلق چونکہ بمبئی یعنی جنوبی بھارت سے تھا، وہ حیدر آباد پر ہر حالت میں قبضہ کرنا چاہتا تھا اور اس سلسلے میں اگر کشمیر پاکستان کو دینا پڑ جاتا تو اسے چنداں پرواہ نہ تھی لیکن نہرو جو کشمیری برہمن تھا، وہ ہر حالت میں کشمیر کو بھارت
کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔ جنرل نوابزادہ شیر علی پاکستان آنے سے پہلے سردار پٹیل سے ملے تو پٹیل نے انہیں کہا تھا کہ ”اپنے بادشاہ سلامت“ کو گزارش کرنا کہ وہ حیدر آباد اور کشمیر کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ بہرحال اس معاملے پر زیادہ روشنی جنرل شیر علی خود ہی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن ہم مات کھا گئے۔ نہ کشمیر ملا نہ حیدر آباد کو بچا سکے۔ لیکن شاید اس وقت قائد اعظم انگریزوں اور قادیانیوں کی سازش کو نہ سمجھ سکے۔ قادیان جو پاکستان کو نہ ملا اور قادیانی ”مظلوم“ بن کر پاکستان میں داخل ہوئے تو قائد کو ظفر اللہ پر کوئی شک نہ گزرا اور اسی وجہ سے انہوں نے ظفر اللہ کو پہلے جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل بنایا اور بعد میں وزیر خارجہ بھی‘ جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔ گو ظفر اللہ نے لمبی اور بے معنی تقریریں کر کے جان بوجھ کر کشمیر کا مقدمہ خراب کیا لیکن ہم اس وقت اس طریق کار کو نہ سمجھ سکے۔ (ص ۲۵-۲۶)
قادیانیوں کے مقاصد اور سازش
قادیانیوں نے بھی باؤنڈری کمیشن کے سامنے جس کا سربراہ ریڈ کلف تھا‘ سکھوں کی طرح ایک فریق بننے کی درخواست دے دی اور ظفر اللہ کو وکیل بنایا اور یہ بات اس زمانے میں ہی سامنے آگئی تھی کہ قادیانیوں نے اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے الگ ظاہر کیا تھا اور اس علاقے میں خصوصی مرعات مانگیں۔ قادیان کی پوزیشن پاپائے روم کی ویٹی کن سٹی کی طرح ہونی چاہیے۔ اس سے مسلمانوں کا کیس کمزور ہوا اور قادیان سمیت ضلع گورداسپور کا زیادہ علاقہ بھارت کا حصہ بن گیا۔
یہ ایک سازش تھی۔ اگر قادیان پاکستان کا حصہ بن جاتا اور کشمیر بھی پاکستان کو مل جاتا تو قادیانیوں کے خلاف جو تحریک ۱۹۵۳ء میں شروع ہوئی تھی‘ وہی تحریک ۱۹۴۷ء یا زیادہ سے زیادہ ۱۹۴۸ء میں شروع ہو جاتی جو مذہبی مسلمان تحریک پاکستان سے علیحدہ رہنے کے باعث نیچے چلے گئے تھے‘ ان کے لیے اوپر آنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ نہ صرف قادیانیوں کو ختم کرنے کی تحریک چلاتے بلکہ قادیان کو ختم کرنے کے لیے کوشش کرتے کہ اللہ اور رسولؐ کے نام پر بنائے جانے اور اسلام کے نظریہ پر قائم ہونے والے ملک میں کسی جھوٹے نبی کا مرکز نہیں ہو سکتا۔
سازش یا ”تجویز“ یہ تھی کہ قادیانی مظلوم بن کر پاکستان میں داخل ہوں حالانکہ مشرقی پنجاب میں قادیانیوں کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ مرزا غلام احمد کا پوتا‘ میجر داؤد‘ میجر وحید حیدر اور میجر صفدر بیگ وغیرہ متعدد افسر قادیانیوں کو بحفاظت مشرقی پنجاب سے نکال رہے تھے۔ پھر بریگیڈیئر ایوب کی جگہ بھی قادیانی بریگیڈیئر نذیر آگیا۔ سیالکوٹ کا پہلا ڈپٹی کمشنر مرزا غلام کا پوتا ایم ایم احمد تھا۔ لاہور میں بھی متعدد قادیانی افسر بے دین لوگ اور قادیانیوں کے دوست ان کی ”بحالی“ کے کام پر لگے ہوئے تھے۔ ظفر اللہ کے قصبہ ڈسکہ میں قادیانیوں کا ایک مرکز قائم تھا جہاں سے ہدایات موصول ہوتی تھیں کہ کس قادیانی کنبہ کو کہاں بھیجا جائے اور اس طرح ”مظلوم قادیانی“ پنجاب پر چھا گئے اور بعد میں جھوٹے نبی کا ایک مرکز ربوہ میں بھی بنوا لیا گیا۔ قادیانیوں کے مرکز کو قادیان سے نکالنے کے لیے تین دفعہ سو سو ٹرکوں کا ایک کانوائے فوج کی حفاظت میں قادیان بھیجا گیا۔ سب خیریت سے ”مظلوم“ بن کر پاکستان آگئے اور ۱۹۵۳ء تک ان کے خلاف کوئی تحریک نہ چل سکی۔ لیکن جب تحریک چلی تو ان کا ہمدرد جسٹس منیر موجود تھا۔
(ص ۲۱-۲۷)
آدم خان
آدم خان بس گزارہ ہی تھے۔ ان کے کافی نمبر کاٹ دیئے گئے اور بمشکل کرنل بنے۔ بہر حال پاکستان کے پہلے نشان حیدر سرور شہید کی ان کے ماتحت بہادری اور پھر ان کی قادیانی بیوی کی کوششوں نے ان کو بھی کرنیلی کے چند ماہ بعد میجر جنرل بنا دیا۔ ان کا لہجہ سخت فکاہی تھا۔ ہر اچھے اور قابل افسر کے پیچھے پڑ جاتے تھے تاکہ اپنی خامیوں کو چھپا سکیں۔
(ص ۳۵)
سیالکوٹ میں قادیانیوں کی سازش
پروگرام کے مطابق سرحد کے مجاہدین بروقت مظفر آباد کے علاقوں میں داخل ہو کر سری نگر کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے جس کی تفصیل آگے چل کر آئے گی لیکن سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر ایم ایم احمد نے مجاہدین کو جموں کی طرف نہ جانے دیا۔ خان قیوم کھلی مجلسوں میں سینکڑوں دفعہ کہہ چکے تھے کہ جب سرحد کے مجاہدین
وادی کشمیر میں داخل ہوئے تو پنجاب کے مجاہدین کو حکومت نے روک لیا اور نواب ممدوٹ نے ۱۹۵۴ء میں ریل کے ایک سفر کے دوران راقم کے سامنے یہ تسلیم کیا کہ ایسا لیاقت علی کے حکم پر کیا گیا تھا بلکہ اس کے دو وزیر ممتاز دولتانہ اور شوکت حیات بھی لیاقت علی کے ہم خیال تھے۔
یہ کچھ تو بڑی سطح پر تھا بلکہ اس زمانے میں سیالکوٹ سے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کو نکال کر ایبٹ آباد لایا گیا اور اس کی جگہ انبالہ سے ۱۵ پنجاب رجمنٹ کو لانے میں دیر کر دی گئی کہ سیالکوٹ چھاؤنی میں مسلمان فوجی صرف ۱۶ پنجاب کے تھے اور اس رجمنٹ کے ہندوؤں اور سکھوں کو جان بوجھ کر سیالکوٹ میں رکھا گیا اور اکتوبر نومبر ۱۹۴۷ء میں بھارت بھیجا گیا۔ یہ لوگ اپنی رائفلیں اور بارود گوردوارے میں اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔
ادھر ایم ایم احمد اور ۱۶ پنجاب کا کرنل ہوبرٹ دونوں مل کر سرحد کی سخت دیکھ بھال کر رہے تھے کہ یہاں سے کشمیر کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ آخر اس میں کیا راز تھا۔
راز یہ تھا کہ ہماری فوج کے کئی افسر عشق رسولؐ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس چیز کو امریکن اور یہودی اخباریں بھی تسلیم کر چکی ہیں کہ پاکستانی فوج میں کئی لوگ عشق رسولؐ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگ اکثر کہتے ہیں اور کچھ اپنے دل میں یہ عزم لیے ہوئے تھے کہ سیالکوٹ محاذ سے جب آگے پیش قدمی ہوئی تو میرا ہدف قادیان ہو گا کہ اس سے میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خوش ہوں گے اور ہمیں دونوں جہان حاصل ہو جائیں گے۔
راقم اس پہلو کو ذاتی طور پر جانتا ہے اور اگر کسی زمانے میں بھی سیالکوٹ سے بھارت کی طرف پیش قدمی ہوتی تو نہ صرف کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا ہوتا بلکہ قادیان کی بھی اینٹ سے اینٹ بج گئی ہوتی۔ (ص۴۴-۴۵)
اسلامی تجاویز کا قادیانی سربراہ
اس وقت تماشہ یہ بنا کہ جی ایچ کیو میں کرنل صفدر بیگ کو اس کام پر لگایا گیا کہ فوج میں اسلامی تشخص کے حوالے سے مختلف سوچوں اور تحقیقوں کا خلاصہ تیار کرے۔ صفدر بیگ نہ صرف قادیانی تھا بلکہ مرزا غلام احمد کی ایک بیوی کا رشتہ دار تھا تو اس نے ان تمام
تجویزات سے روح محمدی کو نکال کر باہر پھینک دیا۔ ایوب خان کے پاس اب وقت نہ تھا کہ ایسی باتوں کی طرف دھیان دے۔ ظفر اللہ کو بھی اب پاکستان میں رہنے کی ضرورت نہ تھی کہ قادیانی ہر جگہ چھا چکے تھے۔ فوج کا چیف آف جنرل سٹاف حیاء الدین قادیانی تھا جو اسلام کی کوئی بات نہ سننا چاہتا تھا۔ ظفر اللہ اب جج بن کر بین الاقوامی دنیا میں جارہا تھا کہ پاکستان میں سب ”خیریت“ تھی۔ ایوب کو اوپر اٹھایا جارہا تھا اور وہ ترکی‘ یورپ اور امریکہ کا دورہ کررہا تھا۔ ساتھ سکندر مرزا تھا۔ (ص ۹۲)
ایوب خان کو موقع اچھا ملا
اس کے مشیروں میں فاروقی کی قسم کے لوگ تھے جو لاہوری قادیانی تھے۔ پھر ایک فضل الرحمن آیا جو ”ماڈرن اسلام“ کا دعویدار تھا۔ انگریزوں کے پرانے تنخواہ دار غلام احمد پرویز جس کا ذکر ہلال کے مدیر اکرام قمر کی زبان سے ہو چکا ہے‘ وہ بھی ایوب خان کا خاص دوست تھا۔ آخری دنوں میں ایک اور بے دین الطاف گوہر آگیا تو اسلام کے لحاظ سے ایوب خان کا دور تاریک ترین ہے کہ اہل مغرب مکمل طور پر ہمارے اوپر چھا چکے تھے۔
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر؟ بھنور ہے تقدیر کا بہانہ
(اقبال)
(ص ۱۰۷)
اختر کی مری میں ایوب سے ملاقات
اختر ملک قادیانی تھا۔ لیکن عام لوگوں کو اس نے اس سلسلہ میں ہمیشہ اندھیرے میں رکھا اور اچھا ایکٹر ہونے کی وجہ سے وہ بھی فوج میں خاصا پاپولر تھا۔ بہرحال وہ ایم ایم احمد‘ مرزا غلام کے پوتے اور حکومت کے مالیاتی سیکریٹری کے ساتھ اکثر ملاقاتیں کرتا تھا اور ایک آدھ دفعہ وہاں پر بھٹو کو بھی دیکھا گیا اور ہم جب صدر ہاؤس میں تھے تو ایک دن یہ بات بھی سنی کہ سیکیورٹی والوں کو کچھ کاغذات ملے ہیں یا زبانی کچھ پتہ چلا ہے کہ شاید اختر ملک کسی سازش میں ملوث ہے اور اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن انہی دنوں ایوب خان نے مری
جانا تھا اور راقم بھی حفاظتی دستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ لیکن میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ جنرل اختر ملک نہ صرف ایوب خان کو آکر صدر ہاؤس ملا اور لمبی کانفرنس ہوئی بلکہ فون کر کے اپنے جی ٹو میجر عطا محمد ملک سے کچھ کاغذات بھی منگوائے اور ایک نقشہ بھی اور حکم بھی دیا کہ مال روڈ کو استعمال کریں لمبا راستہ اختیار نہ کریں۔ قارئین کو معلوم ہو گا کہ گرمیوں کے موسم میں مال روڈ کو ملک کا صدر بھی استعمال نہیں کرتا۔ (ص ۱۲۰-۱۲۱)
اختر ملک کی چالاکیاں
اختر ملک نے جو کچھ کیا اور جنگ کا ہیرو بھی بن گیا۔ اس میں اس کی دوہری شخصیت کی داد دینا پڑتی ہے۔ حالانکہ جنگ کے بعد انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اختر ملک پر مقدمہ چلایا جاتا لیکن مقدمہ کون چلاتا۔ ایوب خان، جس کو خود ”دھوکا“ دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس نے کہا ”میری توبہ“ یا محمد موسیٰ مقدمہ چلاتا جو ایوب خان کے مطابق ”سمجھتا“ کچھ نہ تھا۔ یا پھر یحییٰ مقدمہ چلاتا جو خود بھٹو کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو اور عزیز احمد کو کچھ نہ کہا گیا۔ (ص ۱۲۳-۱۲۴)
جنوبی افریقہ میں قادیانی مقدمہ کے بارے میں
مولانا عبدالرحیم اشعر سے ایک گفتگو
ضبط و ترتیب: منظور احمد الحسینی
"پچھلے دنوں جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے اس دعویٰ کو خارج کر دیا کہ قادیانی مسلمان ہیں۔ اس مقدمہ میں پاکستانی علماء، دانشوروں اور ماہرین کا ایک نو رکنی وفد کیپ ٹاؤن گیا تھا تاکہ عدالت میں مسلمانوں کی معاونت کرے۔ اس وفد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحیم اشعر مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کی عظیم الشان کامیابی کے بعد مولانا موصوف نے حرمین شریفین میں حاضری دی اور حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر دو اکتوبر کو کراچی پہنچے۔ تقریباً دس دن مولانا کا قیام دفتر مجلس تحفظ نبوت کراچی میں رہا۔ اسی دوران مولانا نے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا، دوستوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ۱۲ ستمبر کی صبح مولانا ملتان روانہ ہوگئے۔ اسی قیام کے دوران مولانا سے مقدمہ کی کارروائی کے متعلق گفتگو ہوئی جو ذیل میں پیش کی جارہی ہے"۔
سوال : آپ کا قافلہ کتنے افراد پر مشتمل تھا؟
جواب : نو (۹) افراد پر مشتمل تھا۔ مولانا محمد تقی عثمانی، کراچی، مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان،
مولانا مفتی زین العابدین فیصل آباد‘ مولانا ظفر احمد انصاری کراچی‘ جناب جسٹس محمد افضل چیمہ اسلام آباد‘ سابق اٹارنی جنرل الحاج غیاث محمد لاہور‘ جناب ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ لاہور‘ انوار الحسن قادری کراچی۔
سوال : یہ وفد نیروبی کب روانہ ہوا؟ جواب : ۵ ستمبر کو میرے سوا وفد کے تمام اراکین کراچی پہنچ چکے تھے۔ مجھے کیپ ٹاؤن روانگی کے بارے میں حتمی فیصلہ سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ چنداں بعد مجھے معلوم ہوا کہ وفد کے وہ ارکان جنہوں نے اسلام آباد‘ لاہور‘ اور فیصل آباد سے پہنچنا تھا‘ وہ کراچی پہنچ چکے ہیں اور صرف میرے منتظر ہیں۔ مرزائیت پر تمام کتب صرف میرے پاس تھیں۔ کراچی سے مولانا محمد تقی عثمانی نے مجھ سے رابطہ قائم کر کے اطمینان حاصل کیا۔
میں ۵ بجے کی پرواز سے لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوا۔ ادھر کراچی میں نیروبی جانے کے لیے ہوائی جہاز کی پرواز کا وقت ہو گیا تھا‘ لیکن میرے بروقت نہ پہنچنے کی وجہ سے طیارہ کی پرواز میں تاخیر ہو گئی۔ جوں ہی ہمارا طیارہ لاہور سے کراچی ہوائی اڈے پر پہنچا‘ فوراً اعلان ہوا کہ مولانا عبدالرحیم اشعر جلد طیارے کی اگلی طرف سے تشریف لے آئیں۔ ان کا شدت سے انتظار ہو رہا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ نیروبی جانے والی فلائیٹ پر سوار ہوا اور طیارہ اپنی منزل مقصود کی طرف (پھر فنی خرابی سے تاخیر کے بعد) روانہ ہو گیا۔ چھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم (پاکستانی وقت کے مطابق رات ۴ بجے اور کینیا کے وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے) کینیا کے دارالخلافہ نیروبی پہنچ گئے۔ راستے میں ہوائی جہاز نے دوبئی میں تقریباً ایک گھنٹہ تک اسٹاپ کیا۔ ۶ ستمبر کو صبح تا دوپہر اراکین نے آرام کیا۔
نیروبی میں سفیر صاحب نے ایک دوست کے گھر کھانے کا اہتمام کیا۔ دوران طعام ایک ڈاکٹر صاحب جو مقامی باشندے تھے‘ انہوں نے قادیانیت کے مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کی۔ کچھ سوالات کیے‘ اراکین وفد میں سے جواب کے لیے مجھے چنا گیا۔ آخر میں ڈاکٹر موصوف نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی چند سوالات کیے۔ منجملہ سوالات میں ایک سوال یہ بھی کیا کہ کیا قرآن میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کے حیات و رفع کا ذکر ہے‘ کیا اسی طرح نزول کا بھی ذکر ہے؟ میں نے جوابا تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتلایا کہ حیات و رفع کی طرح نزول کے بارے میں کئی آیات موجود ہیں نیز بتایا کہ قرآن مجید کے علاوہ صحابہ کرام‘ مفسرین‘ مجددین‘ محدثین تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ یہ دلچسپ گفتگو کھانے کے بعد تک جاری رہی۔ تمام اراکین وفد نے اس باحوالہ گفتگو کو خوب سراہا۔
اسی شام نیروبی سے جوہانسبرگ روانہ ہوئے‘ دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد وہاں پہنچے۔ جوہانسبرگ ہوائی اڈے پر مولانا الحاج محمد ابراہیم‘ مولانا میاں احمد‘ مولانا بشیر احمد و دیگر احباب نے اراکین وفد کا زبردست استقبال کیا۔ تمام اراکین وفد کو کاروں کے جلوس میں دارالعلوم واٹرفال (میاں فارم) لے جایا گیا۔ یہ دارالعلوم اس علاقے میں دینی تعلیم کا بہت بڑا مرکز ہے۔ جو مولانا الحاج محمد ابراہیم‘ مولانا مفتی میاں احمد و دیگر احباب کے زیر انتظام چل رہا ہے۔ یہ دونوں بزرگ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس دینی مرکز کے منتظمین کا تعلق حضرت رئیس المحدثین مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوری سے بہت گہرا رہا ہے۔ ان کے والد بزرگوار مولانا محمد موسیٰ وہی عظیم شخصیت ہیں جو ڈابھیل میں رئیس المحدثین مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کو لائے تھے۔
اس دارالعلوم کو دیکھ کر ہمیں اپنے اکابر کی محنتوں اور دینی کاوشوں کے نتائج و ثمرات سامنے نظر آئے۔ یہ انہی حضرات کی محنت کا پھل ہے کہ جنوبی افریقہ میں ہی نہیں بلکہ عرب و عجم‘ پوری دنیائے اسلام میں ان کے تعلیمی و تبلیغی کام کو بڑی ہی وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس دارالعلوم میں درس نظامی کے مکمل درجات کے علاوہ حفظ و ناظرہ کی پڑھائی کا بھی مکمل انتظام ہے۔ طلبہ کے لیے رہائش‘ کتب کی فراہمی اور خوردونوش کا انتہائی اعلیٰ انتظام ہے۔ دارالطلبہ‘ دارالافتاء کے علاوہ دارالعلوم کا اپنا بہت بڑا کتب خانہ ہے۔ یہاں سب سے اہم کام دارالترجمہ کا قیام ہے جس میں حضرت شیخ الحدیثؒ کی تقریبا آٹھ دس کتب کا ترجمہ اردو سے انگلش میں کیا جا چکا ہے۔ اس دارالعلوم کے منتظمین حضرات شب و روز اس مدرسہ کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس مدرسہ کی آمدنی کے لیے تقریبا چھ ہزار ایکڑ زمین وقف کر رکھی ہے۔ تمام درجہ کے طلباء کی تعداد دو
سو سے کہیں بڑھ کر ہے۔
سوال : آپ دارالعلوم واٹرفال سے کیپ ٹاؤن کب پہنچے؟ جواب : ہمارا وفد ۸ ستمبر کی صبح ساڑھے دس بجے واٹرفال سے کیپ ٹاؤن کے لیے روانہ ہوا۔ دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم کیپ ٹاؤن ائرپورٹ پر تھے۔ جب ہمارا قافلہ ہوائی جہاز سے اترا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کیپ ٹاؤن کے تمام مسلمان ہمارے استقبال کے لیے امڈ آئے ہیں۔ شیخ نجار ممبر رابطہ عالم اسلامی شیخ نظیم‘ شیخ عبدالحمید اور جناب سلیمان پیٹرسن یہ حضرات سب سے آگے تھے۔ انہوں نے اراکین وفد کو بڑھ کر خوش آمدید کہا۔ ان حضرات اور مسلمانان کیپ ٹاؤن کے علاوہ حضرت مولانا پروفیسر علامہ خالد محمود بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے جو مانچسٹر سے یہاں اسی سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ کاروں کے جلوس میں اراکین وفد کو میاں محمد موسیٰ کے بنگلے پر لے جایا گیا۔ آخر تک سب اراکین وفد کا قیام انہی کے ہاں رہا۔
سوال : آپ حضرات کی پیشی کب تھی؟ جواب : پیشی کا دن ۹ ستمبر تھا۔ اس لیے ۸ ستمبر شام کو وکلا سے رابطہ قائم کیا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے سینئر وکیل جناب اسماعیل محمد تھے جبکہ ان کے معاون وہاں کے پروٹوکول کے مطابق دو حضرات اور تھے۔ ہمارے وفد کے اراکین جناب جسٹس محمد افضل چیمہ‘ سابق اٹارنی جنرل غیاث محمد‘ مولانا تقی عثمانی‘ سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے جناب اسماعیل محمد سے ملاقات کی۔ اور صبح کی پیشی کے بارے میں باہم قانونی مشورے کیے۔
سوال : آپ نے اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کیا؟ جواب : کیونکہ قادیانی حضرات کی تمام کتب اور فائلیں جو دو بڑے بکسوں میں تھیں‘ وہ صرف میرے پاس تھیں۔ جس طرح ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں قومی اسمبلی میں یہ کتابیں کام آئیں اور تمام حوالہ جات ہماری کتب سے پیش کیے گئے تھے۔ اسی طرح یہاں بھی ہمارا مرکزی کردار رہا۔ ہم نے وجوہات کفر مرزا‘ وجوہ تکفیر لاہوری گروپ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے دعاوی‘ توہین انبیاء (نعوذ
باللہ ) خصوصاً حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور آپ کی فہم و فراست پر مرزا کے ناپاک حملوں کے تمام حوالہ جات اور اسی طرح سے محمد علی لاہوری کی تمام وہ تحریرات جو ریویو آف ریلیجنز میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بارے میں وہ لکھتا رہا‘ پیش کی گئیں۔ سابق اٹارنی جنرل غیاث محمد مسلمانوں کے وکیل اسماعیل محمد و دیگر اراکین وفد نے ان تمام حوالہ جات کی مدد سے انگریزی زبان میں نوٹس تیار کیے اور ان کی نقلیں عدالت کو مہیا کیں۔
سوال : یہ تیاری رات کتنے بجے تک جاری رہی؟
جواب : رات گیارہ بجے تک۔
سوال : ۹ ستمبر کو عدالت کی کارروائی کتنے بجے شروع ہوئی؟
جواب : ۹ ستمبر ٹھیک دس بجے عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔ وفد کے اراکین کو عدالت میں نمایاں جگہ دی گئی۔ قادیانیوں کی طرف سے انگریز وکیل مسٹرینگ اور اس کے معاون پیش ہوئے۔ یہ انگریز وکیل ایک مدت تک رہوڈیشیا میں جج کے فرائض انجام دے چکا تھا۔
سوال : کیا لاہوری گروپ انجمن احمدیہ اشاعت اسلام کو دیگر قادیانی گروپ یا یہودیوں کی حمایت حاصل تھی؟
جواب : دنیا بھر کی قادیانی تنظیمیں جنوبی افریقہ کی انجمن احمدیہ اشاعت اسلام کی حمایت کر رہی تھیں بلکہ ان کو یہودی لابی کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔
سوال : اس مقدمے کی بنیاد کیا تھی؟
جواب : انجمن احمدیہ نے حکومت کو ایک نئی مسجد کی تعمیر کی درخواست دی۔ وہ اس طرح سے اس میں ایک مرکز قائم کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس درخواست کے ساتھ کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں مسلمانوں کے خلاف مقدمہ دائر کر کے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ اس مقدمے میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ انہیں غیر مسلم کہنے سے روکا جائے۔ عام مسلمانوں کے قبرستان میں ان کے مردے دفنانے کی اجازت دی
جائے۔ مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونے کی اجازت اور نماز پڑھنے کا حق دیا جائے اور اشاعت اسلام کے نام پر چندہ جمع کرنے دیا جائے۔ ہمارے خلاف آئے دن جو غیر مسلم ہونے کا پروپیگنڈہ ہوتا رہتا ہے‘ وہ بند کرایا جائے۔ اور مسلمان ہمارے خلاف نفرت بالکل نہ پھیلائیں۔ پاکستان کی اسمبلی نے ہمیں غیر مسلم قرار دے کر ہم پر ظلم کیا ہے۔
سوال : ۹ ستمبر کو قادیانیوں کے وکیل نے جو دلائل دیے‘ وہ کب تک جاری رہے؟
جواب : قادیانی وکیل پونے چار بجے تک اپنے موقف کو دہراتا رہا اور اس پر کمزور دلائل دیتا رہا۔ اور بار بار ذکر کردہ دلائل پھر سے سناتا رہا۔ بعض مرتبہ جج کی طرف سے اس کو تنبیہ کی گئی کہ کام کی بات کرو‘ عدالت کا وقت ضائع مت کرو۔
سوال : مسلمان وکلاء نے کیا موقف اختیار کیا؟
جواب : مسلمان وکلاء کے نمائندے اسماعیل محمد نے پونے چار بجے اپنی بحث کے نکات کا خلاصہ جج کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ کل ۱۰ ستمبر کو میں انہی نکات پر تفصیل سے بحث کروں گا۔ دوسرے روز عدالت دس بجے شروع ہوئی اور سابقہ نکات پر بحث کے ساتھ ساتھ آٹھ حلفیہ بیانات عدالت میں داخل کیے۔ ان میں کہا گیا تھا کہ لاہوری اور قادیانی الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی فرقہ ہیں۔ مزید یہ کہ کسی غیر مسلم عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون غیر مسلم۔ یہ فیصلہ صرف مسلم عدالت ہی کر سکتی ہے۔
مکہ مکرمہ میں ۱۹۷۴ء میں ساری دنیا کی مسلمان تنظیموں کے نمائندوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا اور اسی فیصلہ کی بنیاد پر قادیانیوں کا وہاں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا تھا جس طرح کافروں کا داخلہ وہاں بند ہے۔ جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کو کوئی تحفظ نہیں مل سکتا۔ عدالت عالیہ نے مسلمانوں کے موقف کو تسلیم کیا اور قرار دیا کہ قادیانیوں کو کسی طرح مسلمانوں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی درخواست کو عدالت عالیہ نے مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کا خرچہ بھی ان پر ڈالا۔ قادیانیوں کے وکیل نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت مانگی۔ مگر عدالت نے اس کی اجازت نہیں
دی۔ تاہم قادیانیوں نے اعلان کیا کہ وہ جنوبی افریقہ کی وفاقی سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کریں گے مگر وہ ابھی تک اس پر عمل نہیں کرسکے۔
سوال : اس فیصلہ سے مجموعی طور پر آپ کا کیا تاثر رہا؟
جواب : میرا تاثر اس سلسلہ میں بہت اچھا ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔ وہ وقت دور نہیں جب قادیانیت صرف براعظم افریقہ ہی میں نہیں بلکہ یورپ میں بھی دم توڑ دے گی اور اپنی موت آپ مرجائے گی۔ اس بات کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ جب مسلمانوں کے حق میں یہ فیصلہ ہوا‘ صرف جنوبی افریقہ میں ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں میں خوشی کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی۔
سوال : وہاں کے مسلمانوں نے اس مقدمہ میں کتنی دلچسپی لی؟
جواب : وہاں کے مسلمانوں کی دلچسپی کا یہ حال تھا کہ جب ہمارا وفد وہاں پہنچا تو تمام مسلمانان کیپ ٹاؤن نے انتہائی پر تپاک طریقے سے ہمارا خیر مقدم کیا اور مختلف لوگوں کی طرف سے آخر تک ضیافتوں کا ایک تانتا بندھا رہا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت مسلمانوں سے بھرا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ اوپر کی گیلری میں مسلمان مستورات بھی اپنے معصوم بچوں کو گود میں لیے ہوئے فیصلہ سننے کے لیے آتی تھیں۔ مسلمانوں کے ہجوم کی وجہ سے عدالت عالیہ کو ایک بڑے ہال نما کمرے میں منتقل کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود ہجوم عدالت کے باہر تک پھیلا ہوا تھا۔ عوام الناس تو اپنی جگہ رہے۔ اراکین وفد کی خدمت کے لیے اس علاقے کے تمام علماء نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کے جذبات انتہائی قابل دید و قابل قدر تھے۔ جب یہ فیصلہ ہوا‘ اس وقت تمام مسلمانوں نے خوشی کے مارے ہال سر پر اٹھا لیا اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ یہ یاد رہے کہ عدالت میں واٹر فال کے مفتی مولانا ابراہیم سنجالوی کا مرتب شدہ فتوی (جو قادیانیوں کے خلاف دیا گیا تھا) ہمارے وکیل نے پیش کیا۔ جس پر عدالت میں بحث ہوتی رہی۔ یہ فتویٰ قادیانیت کے خلاف موثر دستاویز ثابت ہوا اور اس نے قادیانیت کی کمر توڑ دی"۔
سوال : کیا اس مقدمہ کی کار روائی چھاپنے میں وہاں کے اخبارات نے کوئی دلچسپی لی؟
جواب : وہاں کے تمام اخبارات سپریم کورٹ کی کارروائی کو بڑھ چڑھ کر لکھتے رہے اور فیصلے کو نمایاں جگہ چھاپا۔
نوٹ : ماہ ستمبر میں جہاں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی نے فیصلہ دیا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ اس سال ۶-۷ ستمبر ۱۹۸۲ء ربوہ میں مسلمانوں کی مسلم کالونی میں پہلی تاریخی عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ نیز دس ستمبر ۱۹۸۲ء کو جبکہ قادیانیوں کے تمام مراکز خاص کر ربوہ شہر میں (اسپین میں ایک مسجد ضرار بنانے کی خوشی میں) "مٹھائی بانٹی جا رہی تھی" کھانے کی دیگیں تقسیم کی جا رہی تھیں۔ ایک دوسرے کو تحائف دیے جا رہے تھے۔ شاندار اور یادگار چراغاں کیا جا رہا تھا۔ ربوہ میں سیمینار منعقد کیے جا رہے تھے۔ ربوہ شہر کے بازاروں‘ گلیوں‘ محلوں‘ سڑکوں کو دلہن جیسا سجایا گیا تھا۔ کھیلوں کے مقابلے ہو رہے تھے۔ ایک دوسرے کو اس خوشی میں شاندار ضیافتیں دی جا رہی تھیں۔
ٹھیک اسی تاریخ (۱۰ ستمبر ۱۹۸۲ء) کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں سپریم کورٹ کے انگریز (جن کے یہ خود کاشتہ پودا ہیں) جج نے قادیانیوں کے دعویٰ کو خارج کر دیا کہ یہ مسلمان ہیں۔
سوال : اراکین وفد کی روانگی کیپ ٹاؤن سے کب ہوئی اور وطن کس طرح سے واپسی ہوئی؟
جواب : سارا وفد دوسرے دن ۱۱ ستمبر کیپ ٹاؤن کے وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے جوہانسبرگ سے روانہ ہوا۔ وہاں دارالعلوم واٹر فال میں قیام کیا گیا۔ ۱۲ ستمبر کو مختلف جگہوں کی سیاحت کی گئی۔ وہاں کا مرکز رابطہ عالم اسلامی دیکھا۔ آزاد ویل گاؤں میں جس میں صرف مسلمان بستے ہیں‘ انہوں نے ہمارا پر تپاک خیر مقدم کیا اور بڑی محبت سے پیش آئے۔ ۲۷ ستمبر کی شام وفد کے اراکین میں سے مولانا ظفر احمد انصاری‘ جناب ریاض الحسن گیلانی‘ جناب الحاج محمد غیاث‘ جسٹس محمد افضل چیمہ‘ انوار الحسن قادری نیروبی کے لیے روانہ ہوگئے۔ جبکہ مولانا مفتی زین العابدین نیو کاسل اور دیگر شہروں کے تبلیغی دورے کے لیے عازم سفر
ہوئے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب انہیں قریبی علاقوں ڈربن وغیرہ میں دوستوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ انہی دنوں مولانا ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم اور مولانا اسعد مدنی مدظلہ واٹر فال آئے ہوئے تھے۔ ان حضرات نے ان علاقوں میں تقاریر و مواعظ کے پروگرام کیے تھے۔ مجھے مفتی صاحب نے احباب دارالعلوم کے سپرد کر دیا اور کہا کہ ان مولانا کا روز روز افریقہ آنا ممکن نہیں۔ میں ان کو آپ کے پاس چھوڑ جاتا ہوں۔ آپ حضرات قادیانیت کے خلاف تمام مواد حاصل کرلیں۔
چنانچہ میرا وہاں پانچ روز تک قیام رہا۔ دارالعلوم کے علماء نے میری بہت خدمت کی۔ انہوں نے قادیانی کتب کے حوالہ جات اور دیگر فائلوں کے فوٹو اسٹیٹ لے لیے، بعض پوری کتب فوٹو اسٹیٹ کی گئیں۔ ایک دن عصر تا مغرب ”قادیانی ایک سیاسی جماعت ہے“ کے عنوان پر میری تقریر رکھی گئی، جس پر مفصل بیان ہوا۔
سوال : آپ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے کب روانہ ہوئے؟ جواب : ۱۶ ستمبر کی شام کو مفتی صاحب اور مولانا تقی عثمانی کی معیت میں نیروبی کے لیے عازم سفر ہوئے۔ مفتی صاحب کی امامت میں جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔ ہفتہ کی رات ۲ بجے کینیا ائرلائنز کے ذریعہ جدہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی برکت سے سعادت حج نصیب فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، جلد ۱، شمارہ ۲۰، اکتوبر ۱۹۸۲ء)
اسلام اور وطن کے غدار
”قادیانیوں کے سالانہ جلسے میں بھارت زندہ باد کے نعرے“
”اوائل اگست میں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع لندن میں منعقد ہوا‘ جس سے برطانیہ میں بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر کے ایل سنگھوی نے بھی خطاب کیا۔ جسے خاص طور پر اجتماع میں مدعو کیا گیا تھا۔ اخبارات میں اس اجتماع کی جو خبر شائع ہوئی اس کا متن درج ذیل ہے:“
قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارت زندہ باد کے نعرے
”شری غلام احمد کی جے“ کے نعرے مرزا طاہر نے خود لگوائے‘
بھارتی ہائی کمشنر نے بھی تقریر کی
لندن (بیورو رپورٹ) برطانیہ میں بھارت کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کے ایل سنگھوی نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اس بات کا فخر ہے کہ قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر‘ قادیان (بھارت) میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے قادیانیوں کو ہر قسم کی مذہبی اور سماجی آزادی دے رکھی ہے۔ قادیانیوں کا ساتواں سالانہ جلسہ یہاں ٹلفورڈ میں ۳ روز جاری رہنے کے بعد گزشتہ رات ختم ہو گیا۔ اس میں ۱۲۶ ملکوں سے آئے ہوئے ۱۰ ہزار افراد نے شرکت کی۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی۔ ان کی تعداد ۷ سو بیان کی گئی ہے۔ مرزا طاہر نے اختتامی اجلاس میں قیام پاکستان میں احمدیوں کی خدمات کے بعض تاریخی حوالے دیے اور کہا کہ احمدیوں نے پاکستان کی ہر ممکن حمایت کی ہے لیکن اس کے برعکس جن ملاؤں نے قیام پاکستان کی
مخالفت کی تھی وہ آج بھی پس پردہ اس ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے پاکستان کے تمام سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابقہ اختلافات فراموش کر کے ایک ساتھ اکٹھے ہو کر پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو دنیائے اسلام کے لیے ایک نمونے کا ملک بنانا چاہتے تھے۔ وہ تمام فرقوں کو اس ملک میں مساوی حقوق دینا چاہتے تھے۔ وہ تنگ نظر ملاؤں کے خلاف تھے۔ بھارتی ہائی کمشنر کی تقریر کے دوران سامعین نے بھارت زندہ باد اور شری غلام احمد کی جے کے نعرے لگائے۔ یہ دونوں نعرے مرزا طاہر احمد نے خود لگوائے جس کے جواب میں پنڈال میں موجود سامعین نے زندہ باد کہا۔ مرزا طاہر احمد نے بعض عرب علماء پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ لوگ ہمارے خلاف ہیں لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمارے عقیدے سے قطعی طور پر لاعلم ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے کہا کہ کلمہ طیبہ پڑھنے والوں کو قانون کا نشانہ بنانا کہاں کی شرافت ہے۔ یہ فیصلہ خدا پر چھوڑ دو کہ اس کا دل کیا کہتا ہے۔ قادیانیوں کے اس اجلاس کی کوریج کے لیے ٹیلی ویژن اور میڈیا کے لاتعداد رپورٹر موجود تھے۔ قادیانی جماعت کے پریس سیکرٹری رشید چودھری نے بتایا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے اس سالانہ جلسہ کی کوریج پاکستان کے بعض خاص علاقوں میں دکھائی گئی ہے۔
(روزنامہ ”پاکستان“ لاہور ۔ ۴ اگست ۱۹۹۲ء)
روس میں پاکستانی طلبہ کون ہیں؟
گزشتہ دنوں وزیر مملکت برائے داخلہ راجہ نادر پرویز نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ ”معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے‘ سیاسی طور پر گمراہ کیے گئے‘ بیرون ملک تعلقات رکھنے والے اور تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے والوں کو ملازمت دے کر افغانستان کے ذریعے روس اور مشرقی بلاک کے سوشلسٹ ممالک میں بھیجنے کا کام افغانستان میں مقیم پاکستانیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس غیر قانونی ذریعے سے ملک چھوڑنے والے طلبہ کی صحیح تعداد نہیں جانتی۔ انہوں نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ روس اور افغانستان جانے والے طالب علم قبائلی علاقوں کے ذریعے جاتے ہیں اور ان کی بھرتی روسی ایجنٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہاں ایک ایسا ادارہ بھی ہے جو طلبہ کو روس میں تعلیم و تربیت کے لیے بھی بھیجتا ہے جبکہ اس نے مشرقی بلاک کے مختلف ملکوں کو بھیجنے کے لیے بھی کچھ طلباء کو بھرتی کیا۔ حکومت‘ روس اور دیگر سوشلسٹ ممالک کی انڈورسمنٹ پر سختی کے ذریعے اس کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور افغانستان جانے والے طالب علموں کو کمیونزم کے نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تاہم عام خیال یہ ہے کہ ان میں سے صرف چند ہی ایجنٹ بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ روس طالب علموں کی ابتدائی بھرتی کو اسپانسر کرتا ہے اور یہ بھرتی صرف بلوچستان اور سرحدی صوبے تک محدود ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ خفیہ طور پر پنجاب سے بھی بھرتی کیا جارہا ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور ۲۴ جون)
وزیر مملکت برائے داخلہ امور نادر پرویز نے تسلیم کیا کہ:
- ۱۔ ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو طلبہ کو روس میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجتا ہے۔
- ۲۔ روس اور افغانستان جانے والے طالب علموں کو کمیونزم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
- ۳۔ روس طالب علموں کی ابتدائی بھرتی کو سپانسر کرتا ہے۔
- ۴۔ بلوچستان اور سرحد کے علاقوں کے علاوہ خفیہ طور پر پنجاب سے بھی طلبہ کو بھرتی کیا
جارہا ہے۔
جناب راجہ نادر پرویز کے قومی اسمبلی میں انکشافات ہر محب وطن شہری کے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی جماعت روسی مفادات کی تکمیل کے لیے پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور ان کے آلہ کار کی حیثیت سے پاکستان کی وحدت اور سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مدت پہلے مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے منتخب کیا تھا۔ بعد ازاں صوبہ سرحد میں قادیانی جماعت نے بال و پر نکالے۔
ایبٹ آباد میں گرمائی ہیڈ کوارٹر بنانے کی ناکام کوشش کی۔ روس کے ساتھ قادیانی جماعت کے باقاعدہ سمجھوتہ کے بعد انہوں نے قبائل کا رخ کیا تاکہ روس کے ساتھ گہرا رابطہ برقرار رہے۔ روس میں کمیونزم کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم بھی یقیناً قادیانی ہیں۔ پاکستان کو نظریاتی طور پر گزند پہنچانے کے لیے کمیونزم کا پرچار ضروری ہے۔ چند برس پہلے خانہ ساز نبوت کا قریبی فرد پروفیسر جمیل احمد اسلام آباد میں روسی لٹریچر تقسیم کرتا ہوا موقع پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس کے گھر پولیس کا چھاپہ ڈالا گیا تو روسی نظریات کی تشہیر پر مبنی وسیع ذخیرہ برآمد کرلیا گیا۔
بین الاقوامی سیاست کے مدوجزر میں وطن عزیز براہ راست روسی یلغار کی زد میں ہے۔ روس ہمیں نظریاتی طور پر مفلوج اور جغرافیائی طور پر اپاہج کرنا چاہتا ہے۔ اسے ایک ایسی ہی جماعت کی ضرورت ہے جو پاکستان کے جغرافیے اور نظریات کی قاتل ہو۔ روس کے لیے جو خدمات ولی خاں اور اس کی جماعت سرانجام نہ دے سکی، وہ خدمات بلاشبہ قادیانی جماعت بطریق احسن سرانجام دے رہی ہے۔
صوبہ سرحد یا بلوچستان، پنجاب یا سندھ کا کوئی غیرت مند پاکستانی اپنے دشمن ملک میں
بیٹھ کر اپنے ملک کی تباہی و بربادی کا خواہاں نہیں۔ رہا مسئلہ سیاسی گمراہوں اور تعلیمی اداروں میں داخلہ کے حصول میں ناکام رہنے والوں کا، یہ محض ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ روس میں تربیت حاصل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ایک مخصوص نظریے کی بنا پر جاتے ہیں۔ ان کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان خدانخواستہ ٹکڑے ہو جائے۔
یہ آرزو اور تمنا پاکستان کے اندر رہنے والی ایک نمک حرام جماعت کی ہے اور وہ قادیانی جماعت ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ۶، شمارہ ۹، اگست ۱۹۸۷ء)
(از قلم: حافظ محمد حنیف)
قادیانی دیوالی
قادیانی شریعت
قادیانی شریعت "تذکرہ" سے زیادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد اور مرزا بشیر احمد کی کتابوں پر مشتمل ہے۔ ان میں "حقیقت نبوت، کلمتہ الفضل، انوار خلافت، جنازہ کی حقیقت اور سیرت المہدی" جیسی کتابیں شامل ہیں۔ لیکن قادیانی اب اپنی شریعت کو چھپاتے ہیں۔ ان کتابوں کے نئے ایڈیشن نہیں چھاپتے۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی ایڈیشن چھاپ کر بیٹھ گئے ہیں۔ دراصل یہ کتابیں تمام مسلمانوں کو کافر بیان کر کے اسلام اور قادیانیت کے مابین واضح خط فاصل کھینچتی ہیں اور انہی کتابوں سے قادیانی عزائم کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب صرف ان کتابوں میں مسلمانوں کے خلاف کی گئی بد زبانی کے باعث قادیانی انہیں چھاپنے سے کتراتے ہیں۔ "سیرۃ المہدی" کو نہ چھاپنے میں تو بعض شرمندگیاں بھی شامل ہیں۔
قادیانی تقیہ: قادیانی اخبار الفضل مورخہ ۸ مارچ ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں "اخبار جہاں" کے ایک کالم کا ایک حصہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں بھی یہ درج ہے "پاکستانی شریعت کے عامل قادیانیوں کی تعداد نامعلوم ہے۔ اس لیے کہ انہیں جب اقلیت قرار دے دیا گیا تو ان کی قیادت نے اس کی اجازت دے دی کہ جو لوگ قادیانی ہونے کے اعلان کے متحمل نہیں ہو سکتے، وہ اپنے عقیدے کو مخفی رکھ سکتے ہیں۔ اس پر قادیانی اخبار نے اسی اشاعت میں یہ تبصرہ کیا ہے "بعض احمدیوں کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے خود کو چھپایا ہوا ہے، درست نہیں ہے۔ یہ محض خیال، قیاس آرائی بلکہ ناواجب بدظنی ہے۔ یہ تبصرہ قادیانی فریب کا شاہکار ہے۔ کیونکہ پاکستان میں واقعی سینکڑوں قادیانی خود کو قادیانی نہیں بتاتے اور عرب ممالک میں جتنے قادیانی رہ رہے ہیں، وہ قادیانی قیادت کے علم میں ہیں۔ وہ سارے قادیانی پاسپورٹ پر خود کو مسلمان ظاہر کر کے عرب ممالک میں گئے ہیں اور ظاہر ہے مسلمان ظاہر کرنے کے لیے انہیں اپنے "مسیح موعود" کے کذب کا حلف نامہ بھی بھرنا پڑتا ہے۔ اس کے
باوجود ایسے قادیانیوں کے خلاف کبھی کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوئی جو اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ قادیانی قیادت کی اجازت سے ہی قادیانی اپنا مذہب چھپاتے ہیں۔
مباہلے کی برکات: لندن میں ۱۸ نومبر ۱۹۸۸ء کے خطبے میں مرزا طاہر احمد نے دعویٰ کیا کہ ہم دعاؤں‘ ابتہال اور روحانی مقابلہ کے سال سے گزر رہے ہیں۔ (الفضل‘ مورخہ ۲۸ نومبر ۱۹۸۸ء) مباہلے میں مرزا طاہر احمد نے اپنی طرف سے ساری جماعت کو بھی شامل کیا تھا۔ چنانچہ مباہلہ کے کتابچہ کے آخری صفحہ پر یہ الفاظ درج ہیں ”ہم ہیں فریق اول‘ (امام جماعت احمدیہ عالمگیر دنیا بھر کے احمدی مرد و زن‘ چھوٹے بڑے کی نمائندگی میں) ”گزشتہ برس قادیانیوں کے خاص خاص مومنین موصی حضرات” دو سو سے زیادہ تعداد میں ہلاک ہوگئے۔ ربوہ کے بہشتی مقبرہ کے ریکارڈ سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ مزید برآں جس مریض کے بارے میں بھی ”الفضل“ نے کثرت سے دعا کی‘ تحریک کا وہی مریض ہلاک ہوا۔ یہ عبرت ناک حقیقت ”الفضل“ کے صفحات میں بکھری پڑی ہے۔ اس سے بھی قادیانی مباہلے کی برکات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں قادیانی جامعہ کے پروفیسروں‘ پیشہ ور تنخواہ دار مولویوں اور خاندان خلافت کے بعض افراد سے لے کر عام سرگرم قادیانیوں تک سارے لوگ شامل ہیں۔
قادیانی بے پردگی: عام طور پر قادیانی پردے کی پابندی کا پرچار کرتے ہیں مگر چونکہ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ جس ملک‘ علاقہ میں جاتے ہیں‘ وہاں کے رواج اپنا لیتے ہیں۔ چنانچہ انگریزوں کے دیس انگلستان میں قادیانی عورتوں کا پردہ اتروا دیا گیا ہے۔ قادیانی اخبار ”الفضل“ ربوہ کی ۱۶ مارچ ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں ہارٹلے پول (انگلستان) میں ہونے والے ایک قادیانی فورم کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ مخلوط تقریب تھی۔ جس میں قادیانی مرد اور عورتیں شریک تھیں۔ یہ ہے ان کی پردہ کی پابندی۔ اس تقریب نے یہ ظاہر کر دیا کہ دراصل قادیانیوں کے ظاہر و باطن میں نمایاں فرق ہے۔
قادیانی قبولیت دعا کا عبرت ناک نشان
۱۶ نومبر ۱۹۸۸ء کے انتخابات میں جیسے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی میں کامیابی
کی خبر نکلی، مرزا طاہر نے لندن سے ایک اور سیاسی چال چلی۔ انہوں نے قادیانیوں کو تلقین کی کہ ”اسیران راہ مولیٰ (قاتلان شہدائے ختم نبوت) کی رہائی کے لیے دعائیں کریں اور ساتھ ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کی ڈیڈ لائن بھی دے دی کہ اس سے پہلے پہلے رہا ہو جائیں گے۔ خدا سے قادیانیوں کے زندہ تعلق کا پہلا نشان تو یہ ظاہر ہوا کہ وہ سارے قیدی رہا ہو گئے جن کی رہائی کے لیے قادیانیوں نے دعا نہیں کی تھی اور اب صرف وہی بد نصیب قید میں ہیں جن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی تھیں۔ گویا قادیانیوں کی ساری دعائیں اللہ تعالیٰ نے اٹھا کر ان کے منہ پر دے ماری ہیں۔ ۲۳ مارچ کی تاریخ بھی گزر گئی ہے اور قاتلان شہدائے ختم نبوت میں سے کوئی بھی رہا نہیں ہو سکا۔
مرزا طاہر کی دعا کوئی عام دعا نہیں تھی۔ بلکہ اس کی اہمیت اور شان و شوکت کے پیش نظر ۱۴ مارچ ۱۹۸۹ء تک اخبار الفضل میں ان کا دعائیہ بیان چوکھٹوں میں سجا کر بار بار شائع کیا گیا۔ یہ تکرار اشاعت کے بعد اگر سچ مچ قاتلان شہدائے ختم نبوت رہا ہو جاتے تو قادیانیوں نے اپنی دعا کی قبولیت کے شور سے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ لیکن اب قدرت نے انہیں پوری طرح رسوا کر دیا ہے اور قادیانی قبولیت دعا کا مزعومہ نشان اب عبرت ناک نشان بن کر رہ گیا ہے۔
بابرکت نکاح: قادیانی جماعت کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر بہتر سال کی عمر میں اپنی ایک نوجوان لیڈی ڈاکٹر مریدنی طاہرہ صدیقہ پر فریفتہ ہو گئے۔ موصوف نکاح کرنا چاہتے تھے۔ مگر مریدوں پر اپنے نام نہاد تعلق باللہ کی دھاک بھی بٹھائے رکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ تین قادیانی بزرگوں نے استخارے کیے اور ان میں سے ایک نے تو کہا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آیا اور دو نے کہا کہ بڑا بابرکت رشتہ ہے۔ چنانچہ خدا سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے اس گروہ کے استخاروں کے بعد مرزا ناصر کا طاہرہ صدیقہ سے بیاہ ہو گیا اور اس کی برکات اس طرح ظاہر ہوئیں کہ مرزا ناصر احمد بیاہ کے ایک ماہ کے اندر ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔ لڑکی کا باپ اپنی جوان سال بیٹی کی تباہی کے صدمے سے ہلاک ہو گیا۔ لڑکی کا بھائی بھی دل کے دورے سے ہلاک ہو گیا۔ استخارہ کرنے والے دونوں ”بزرگ“ قادیانی بھی عبرت ناک موت سے دو چار ہوئے۔ یکے بعد دیگرے اتنی اموات سے سبق سیکھنے کی بجائے قادیانی امت کو پھر یہ
باور کرایا گیا کہ اس لڑکی سے مرزا ناصر کا وہ بیٹا پیدا ہو گا، جس کے ذریعے عظیم قادیانی فتوحات ہوں گی لیکن جب ایک سال گزر گیا تو یہ خوش فہمی بھی ختم ہو گئی۔ یہ ہے قادیانی دعاؤں اور تعلق باللہ کی عبرت ناک حقیقت۔
قصر خلافت: قادیانی خلیفے کی رہائش گاہ ”دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو“ کی منہ بولتی تصویر بنی ہوئی ہے۔ قصر خلافت ربوہ کی موجودہ محلاتی صورت مرزا ناصر کی پہلی بیوی منصورہ کی فرمائش اور خواہش پر بنائی گئی۔ لیکن قصر خلافت کی تعمیر کے دوران ہی ان کا انتقال ہو گیا اور تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی مرزا ناصر کا بھی انتقال ہو گیا۔ مرزا طاہر کے دور میں تعمیر مکمل ہوئی اور طاہر کی پسند کے مطابق اس کی آرائش و زیبائش کا کام مکمل ہوا تو مرزا طاہر کو ملک سے فرار ہونا پڑ گیا۔ یوں یہ قصر خلافت قصر نحوست بن کر رہ گیا۔
جشن نحوست کا آغاز: ”الفضل“ ۱۵ مارچ ۱۹۸۹ء میں کشتی رانی کلب مجلس صحت مرکزیہ ربوہ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ۱۵-۱۶-۱۷ مارچوں کو صد سالہ جشن تشکر کے سلسلے میں دریائے چناب میں کشتی رانی کے مقابلے ہوں گے۔ احباب تشریف لائیں۔ یہ قادیانی جشن تشکر کا آغاز تھا اور آغاز میں پہلے ہی دن دو قادیانی دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ قومی اخبارات میں اس حادثے کی خبریں چھپ چکی ہیں۔ یہ سانحہ المناک ہے۔ دراصل یہ سانحہ قادیانیوں کو قدرت کی طرف سے انتباہ ہے کہ تم جو جشن منانے چلے ہو، مجھے قبول نہیں۔ گویا یہ جشن نحوست تھا۔
نوجوانوں میں بیزاری: قادیانی قیادت کی چیرہ دستیوں اور بداعمالیوں سے قادیانی نوجوانوں میں شدید قسم کی بیزاری پائی جاتی ہے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے، حلفاً بیان کرتا ہوں کہ ربوہ کے نوجوانوں میں ایسے ایسے صاف گو موجود ہیں جو یہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔
- ا۔ قادیانی خلافت صرف دکانداری ہے۔ ”خلیفہ خدا بناتا ہے“ کا اعتقاد محض ڈھونگ
ہے۔ ویسے تو دنیا کی ہر شے خدا بناتا ہے۔ گدھے کو بھی خدا بناتا ہے، خلیفے کو بھی خدا بناتا ہے مگر یہ کوئی علیحدہ روحانی مقام نہیں ہے۔
- ۲۔ مرزا ناصر کی زوجہ اول منصورہ بیگم کا نام لے کر اس کو فحش گالیاں دینے والے
نوجوان بھی ربوہ میں موجود ہیں۔
- ۳۔ مرزا ناصر کو احمق قائد اور اس کی اولاد پر بدکاری کے الزام لگانے والے بھی
موجود ہیں۔ ایسے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ہم سماجی اور معاشی طور پر ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ اس دلدل سے نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتے۔
اب ایک سچا لطیفہ ‘ ایک صاحب نے کہیں کہہ دیا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے تو کیا ہوا گدھا بھی خدا ہی بناتا ہے۔ اس کی رپورٹ ہو گئی اور جماعت سے اخراج کر دیا گیا۔ کئی ماہ بعد غریب کو معافی ملی۔ اس کے قریبی دوستوں نے پوچھا، معافی کس طرح ملی؟ اس نے آہستگی سے بتایا میں نے کہا تھا معافی دے دیں۔ غلطی ہو گئی۔ گدھا خدا نہیں بناتا صرف خلیفہ کو ہی خدا بناتا ہے۔
صد سالہ جشن تشکر: صد سالہ جشن تشکر دراصل مسلمانوں کے لیے جشن تفکر ہے۔ کیونکہ قادیانی غرور و تکبر کا سر بڑی حد تک کچلا گیا ہے۔ دنیاوی غلبہ و اقتدار کی مرزا محمود کی ساری امیدیں حسرتوں میں بدل گئیں تو مرزا ناصر نے ۱۹۶۵ء میں خلافت سنبھالتے ہی قادیانیوں کو غلبے کے نئے سبز باغ دکھانا شروع کر دیے۔ نشہ خلافت میں مرزا ناصر نے کہا:
میں جماعت کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ پچیس تیس سال جماعت احمدیہ کے لیے نہایت ہی اہم ہیں۔ کیونکہ دنیا میں انقلاب عظیم پیدا ہونے والا ہے۔ (خطبہ ۱۰ دسمبر‘ ۱۹۶۵ء ‘ مطبوعہ الفضل ‘ ۹ جون ۱۹۶۶ء)
اب ۱۹۸۹ء میں حالت یہ ہے کہ پاکستان جو قادیانیوں کا گڑھ تھا اور جہاں دنیا بھر میں موجود قادیانیوں میں سے سب سے بڑی تعداد مقیم ہے‘ وہاں بھی مرزا طاہر کو رہنے کی توفیق نہیں ملی اور انہیں لندن بھاگ جانا پڑا۔ دوسرے حکمرانوں نے تو کیا آنا تھا‘ خود قادیانی خلیفہ بھی وہاں موجود نہیں۔ اگر قادیانی لیڈروں میں عقل ہوتی تو ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو قصر خلافت پر خود ہی مختلف ملکوں کے جھنڈے بنوا کر لہرا دیتے۔ چار پانچ تھان کپڑے کا اور چند بانس کا خرچہ تو ہو جاتا مگر مرزا ناصر کی پیشگوئی پوری ہو جاتی۔ اگر محمدی بیگم والی پیشگوئی پوری کرنے کے لیے منت سماجت اور لالچ سے دھمکیوں تک ساری تدابیر کرنا جائز تھا تو مرزا ناصر
کی پیشگوئی پوری کرنے کے لیے چند ملکوں کے جھنڈے بنوا کر لہرا دینا بھی تدبیر ہی ہوتا اور اس میں قادیانی عقیدے کے مطابق کوئی حرج نہ ہوتا۔ مرزا ناصر کی غلبہ و اقتدار کی یہ پیشگوئیاں معمولی نہ تھیں۔ انہیں صرف قادیانی اخبار میں ہی شائع نہیں کیا گیا بلکہ قادیانی لٹریچر میں‘ مستقل نوعیت کی حامل کتابوں میں اس غلبہ و اقتدار کی خبر کو محفوظ کر دیا گیا۔ (مثلاً عبداللطیف بہاولپوری کی تفسیر سورۂ یٰسین ص ۱۲۳) اب اس غلبہ کا یہ عبرت ناک منظر سامنے آیا ہے کہ ربوہ شہر میں ۲۳ مارچ کا دن خاموشی سے گزر گیا۔ پٹاخے بازی اور فائرنگ کو قادیانی جائز نہیں سمجھتے مگر اس دن بعض نوجوانوں نے ہوائی فائرنگ اور پٹاخے بازی کی اور گرفتار ہوئے۔ قادیانیوں کی تمام اہم عمارات پر لائٹوں کے ہار آویزاں تھے مگر انہیں روشن نہیں کیا گیا۔ کیونکہ انہیں روشن کرنے کی صورت میں سرکردہ قادیانیوں کی گرفتاری یقینی تھی۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کلمہ مہم کی آڑ میں قادیانی قائدین نے سینکڑوں غریب قادیانیوں کو گرفتار کرایا مگر جب ربوہ میں صد سالہ دیوالی کا موقعہ آیا اور یہاں چند گرفتاریوں کا اندیشہ ہوا تو لائٹنگ کا پروگرام ہی منسوخ کر دیا گیا۔ حالانکہ اب قوت ایمانی اور قادیانی غیرت کے اظہار کا موقع تھا۔ کیونکہ ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کی تاریخ سو سال بعد آئی تھی اور اب اس دن کے لیے قادیانیوں کو ۲۳ مارچ ۲۰۸۹ء تک انتظار کرنا ہوگا۔ ۲۳ مارچ کو ربوہ شہر اس شعر کی تصویر بنا ہوا تھا۔
ہمارے دل میں مگر تیرے غم کے داغ جلے
ہندوؤں کی دیوالی بڑی دھوم دھام سے ہوتی ہے۔ مگر قادیانی دیوالی کا اس سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ہندوؤں کی دیوالی اور قادیانی دیوالی کا فرق ضرور بیان کیا جاسکتا ہے۔
اجڑا ہوا گلشن ہے بھاگا ہوا مالی ہے
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۷‘ شمارہ ۴۶‘ از قلم: عبدالکریم‘ لاہور)
۱۹۵۳ء کی اینٹی قادیانی تحریک اور ممتاز دولتانہ
مجاہد الحسینی
فرنگی سامراج کے ساختہ پرداختہ فتنہ قادیانیت کے خلاف جب بھی آواز اٹھتی ہے ”آل فرنگ“ اور اس کے ہمنواؤں کو سخت پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔ ان کا مقصد یہ کہ کسی طرح انکار ختم نبوت کے فتنے کی سرکوبی اور تعاقب نہ ہو اور انگریز کے خود کاشتہ پودے کو برگ و بار کا پورا موقع میسر آ جائے۔ ہمارے ملک کے ایک کہنہ مشق اہل قلم اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات پیر علی محمد راشدی کا ایک مضمون بھی اسی کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے ”ایک ورق اپنی یادداشتوں میں سے“ کے زیر عنوان روزنامہ جنگ لاہور ۶۔ جولائی ۱۹۸۵ء کے شمارے میں ”مجیب پاکستان توڑنے کے حق میں نہیں تھا۔“ کے موضوع پر زور قلم صرف کرتے ہوئے بنگالیوں کے دلوں میں مغربی پاکستان والوں کے سلوک اور طرز عمل کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں‘ ان میں بنگالی وزیر اعظم کو قائد ملت کے القاب سے نوازنے‘ انہیں بسیار خور ثابت کرنے کے لیے ان کے مضحکہ خیز کارٹون شائع کرنے کے علاوہ ان کے خلاف سب سے آخری حربہ یہ استعمال کیا گیا کہ پنجاب سے اینٹی قادیانی تحریک چلوائی گئی۔
راشدی صاحب نے اسی ضمن میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”پنجاب کے ایک وزیر نے میری موجودگی میں‘ جبکہ میں بھی سندھ کا وزیر تھا‘ خواجہ ناظم الدین کے خلاف اس تحریک کو استعمال کر کے اس کا عہدہ چھڑانے کی کوشش کا مشورہ دیا تھا‘ لیکن میں نے اس ”شرارت“ میں حصہ لینے سے روکا تھا۔“
راشدی صاحب کو اپنی ڈائری کا پرانا ورق ربع صدی بعد یکا یک کہاں سے دستیاب
ہو گیا اور وہ کیا اسباب و محرکات ہیں جن کی وجہ سے ۱۹۵۳ء کی اینٹی قادیانی تحریک کو پنجاب کے ایک وزیر کی سازش اور شرارت اور اسے بنگالیوں کے خلاف نفرت کی مہم قرار دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و محرکات کیا تھے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سلسلے میں مفصل گفتگو تو (انشاء اللہ) کسی دوسری مجلس میں ہو گی۔ البتہ مختصراً یہ بات ذہن نشین رہے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی مرحلے میں نظام حکومت انگریزی قوانین و ضوابط کے تحت جاری تھا۔ یہ سرزمین بے آئین تھی۔ قائد اعظم مسٹر جناح کو خرابی صحت کی بناء پر آئین سازی کا موقع نہ ملا تھا، ان کے بعد متحدہ بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل مقرر ہوئے اور لیاقت علی وزیر اعظم! جب لیاقت علی خاں گولی کا نشانہ بن گئے تو خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنا دیے گئے اور ایک مفلوج اور مجبور محض شخص ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا۔ ان دنوں دستور سازی کا کام جاری تھا۔ پارلیمنٹ کی دستوری کمیٹی نے پاکستان کے آئندہ نظام کی بابت سفارشات میں یہ بھی تجویز کیا تھا کہ اسلامی مملکت کے سربراہ کے عہدہ پر ہمیشہ کوئی مسلمان شخص مقرر کیا جائے ۱
انہی دنوں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے آرام باغ کراچی میں ایک جلسہ عام کیا (نعوذ باللہ) احمدیت کو زندہ اور اسلام کو مردہ مذہب قرار دیتے ہوئے نہایت گستاخانہ اور اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ جس پر زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔
ان دونوں باتوں پر پورے ملک میں شدید ردعمل ظاہر ہوا تھا اور ہماری ملکی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی تمام سیاسی و دینی جماعتوں اور دینی و ملی رہنماؤں نے بیک آواز یہ مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کی دستوری کمیٹی کو اپنی سفارشات میں مسلمان کی تعریف (Defination) کر دینا چاہیے تاکہ کوئی غیر مسلم قادیانی اسلام کے مقدس نام پر سربراہ مملکت کے عہدہ پر فائز ہونے کی اہلیت سے محروم رہے، اور پاکستان کے گستاخ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کو وزارت سے الگ کر کے کسی مسلمان کو اس عہدہ پر متمکن کیا جائے۔ اس مطالبے کے محرکات میں یہ بھی تھا کہ سر ظفر اللہ خاں نے اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرون اور بیرون ملک وزارت خارجہ کے دفاتر میں قادیانی افسر بھرتی کر لیے تھے۔ حتیٰ کہ ان دنوں جناب حمید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت
لاہور نے اپنے ایک اہم مضمون میں لکھا تھا کہ بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارت خانے قادیانی تبلیغ کے اڈے بن گئے ہیں‘ قادیانیوں کے سربراہ جماعت مرزا محمود نے بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کی مہم کا آغاز کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ مطالبات کسی صوبے کی وزارت سے ہرگز متعلق نہ تھے۔ صرف پنجاب سے اٹھنے والی تحریک کو بنگالی وزیر اعظم کے خلاف سازش قرار دینا اسلام کے بنیادی عقائد اور دینی غیرت وحمیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
فتنہ قادیانیت کا مرکز ومنبع چونکہ پنجاب ہے۔ اس لیے پنجاب نے ہی اس فتنے کے استیصال اور سدباب کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ المشائخ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف‘ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال‘ چودھری افضل حق‘ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ مولانا سید محمد داؤد غزنوی‘ شیخ التفسیر مولانا احمد علی‘ مولانا محمد علی جالندھری‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مولانا ظفر علی خاں‘ ابو الحسنات مولانا سید محمد احمد قادری‘ مولانا مرتضیٰ احمد میکش‘ ماسٹر تاج الدین انصاری‘ شیخ حسام الدین‘ جناب حمید نظامی‘ آغا شورش کاشمیری اور دوسری عظیم شخصیات پنجاب ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے صوبوں اور علاقوں کے حضرات اس فتنے کی سرکوبی میں شریک جدوجہد نہ تھے۔ بلکہ پورے متحدہ ہندوستان کے علماء و مشائخ اپنے فقہی مسالک کے اختلاف کے باوجود ”فتنہ قادیانیت“ کے استیصال کے لیے متحد و یک زبان تھے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی‘ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی‘ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی‘ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری‘ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (دیوبندی) حضرت مولانا نذیر حسین محدث دہلوی‘ مولانا محمد حسین بٹالوی‘ مولانا محمد عبداللہ معمار امرتسری (اہلحدیث)‘ حضرت مولانا مفتی دین محمد ڈھاکہ‘ علامہ راغب احسن ایم۔اے ڈھاکہ‘ مولانا محمد صادق‘ مولانا احتشام الحق تھانوی‘ مولانا عبدالحامد بدایونی‘ علامہ محمد یوسف کلکتوی کراچی‘ مولانا محمد الیاس برنی (حیدر آباد دکن)‘ علامہ ابو الحسن علی ندوی لکھنؤ ‘ مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوری‘ علامہ کفایت حسین اور سید مظفر علی شمسی‘ صدر و ناظم تحفظ حقوق شیعہ وغیرہ شخصیات کی بڑی تعداد ایسی ہے‘ جس نے اس محاذ پر گرانقدر خدمات انجام دے کر تاریخ امت کے صفحات روشن کیے ہیں۔
ان شخصیات کا کسی بھی مرکزی وزیر یا کسی بھی حکومت سے ذاتی کوئی جھگڑا تھا، نہ مفاد وابستہ تھا اور نہ ہی یہ عظیم شخصیات صرف صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتی تھیں۔
علامہ اقبال اور اینٹی قادیانی تحریک
ہمیں پیر راشدی صاحب کی فکری کم مائیگی اور علمی بے بضاعتی کا اس وقت شدید احساس ہوا، جب انہوں نے اینٹی قادیانی تحریک کو پنجاب کے ایک وزیر کی خواجہ ناظم الدین کے خلاف سازش اور شرارت قرار دیا۔۔۔۔۔ اگر ان کی یہ معلومات مبنی بر صداقت ہیں تو مفکر پاکستان علامہ اقبال نے اینٹی قادیانی مضامین، نظمیں اور خطبات کس کے خلاف سازش اور شرارت کے طور پر تحریر فرمائے تھے؟
پنجاب سے اٹھنے والی کوئی بھی دینی تحریک اگر بنگالی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو وزارت سے الگ کرنے کی سازش تھی تو بنگال کے پیران عظام، مشائخ طریقت، علماء کرام اور دینی رہنماؤں نے اس تحریک میں حصہ لینے کی زحمت کیوں اٹھائی تھی؟ اگر یہ بنگالیوں کے خلاف سازش تھی تو خواجہ ناظم الدین کے بعد جب محمد علی بوگرا کو امریکہ سے بلوا کر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان کیا گیا تھا، اس کے خلاف تحریک کیوں نہ جاری رہ سکی، کیا اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ پورے ملک کے علماء کرام اور دینی رہنما جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں پابند سلاسل کر دیے گئے تھے، اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے لیے آواز اٹھانے والے اور ایک دینی عقیدے کے تحفظ کا نعرہ بلند کرنے والوں کا سینہ گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہو جاتا تھا، اس دور کے ارباب اقتدار کی سخت گیری اور تشدد سے لوگ خائف اور حوصلہ ہار گئے تھے، اس لیے اینٹی قادیانی تحریک جاری نہ رہ سکی تھی۔ وہ تحریک بنگالیوں کے خلاف نفرت و حقارت اور کسی بنگالی وزیر اعظم کو اس کے عہدہ سے ہٹانے کی نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی عقیدہ کے تحفظ کی زبردست تحریک تھی۔ راشدی صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ۱۹۷۴ء میں آپ کے سندھی وزیر اعظم نے اسی تحریک کے اثرات سے مرعوب اور متاثر ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ اور کارنامہ انجام دیا تھا، اگر بقول ان کے ۱۹۵۳ء کی تحریک پنجاب کی سازش تھی تو ۱۹۷۴ء میں سندھی وزیر اعظم نے کس کے خلاف سازش اور شرارت کی تھی اور ان کے بعد صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کے سلسلے میں جو تاریخی اقدامات کئے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے وہ کس کے خلاف سازش اور شرارت کے زمرے میں آتا ہے؟ پیر علی محمد راشدی اب عمر کے جس حصے میں ہیں‘ انہیں اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کے غضب سے ڈرنا چاہیے‘ وہ مغربی پاکستان والوں کا مشرقی پاکستان والوں سے سلوک اور طرز عمل ضرور واضح کریں‘ وہ شیخ مجیب الرحمن کو محب پاکستان اور ملک و ملت کا محسن ثابت کریں۔ انہیں اس کا حق ہے۔ اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہمیں تو اس پر اعتراض ہے کہ وہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش نہ فرمائیں‘ اور اپنی دنیا اور آخرت برباد نہ کریں۔۔۔۔۔ کیونکہ تاریخی حقائق و شواہد‘ کذب بیانی اور دروغ گوئی سے کبھی محو نہیں ہوا کرتے۔ البتہ ایسی کوشش کرنے والوں کی وجہ سے دینی و ملی بے وفاؤں اور مفاد پرستوں کی فہرست میں چند ناموں کا ضرور اضافہ ہو جاتا ہے۔
پیر علی محمد راشدی بھی حقائق مسخ کرنے کی کوشش کر کے دیکھ لیں وہ قادیانیوں کی حیلے بہانے سے تائید و حمایت کر کے اس فتنے کے مردہ جسم میں زندگی کی روح پھونکنے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے۔
(ماہنامہ صوت الاسلام‘ فیصل آباد‘ جلد ۱‘ شمارہ ۱۱)
قادیانی خلافت کی گدی اور حکیم نور الدین کا خاندان
حکیم نور الدین، مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھی بننے سے پہلے ہی ہندوستان میں اپنی علمیت اور ماہر طبیب کی حیثیت سے کافی شہرت رکھتے تھے۔ ان کے نسخہ جات کی کتاب ”بیاض نور الدین“ اب بھی یونانی طب میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور بہت سے سابقہ مشاہیر اسلام و علمائے ہند نے بھی اس عندیہ کا اظہار کیا ہے کہ قادیانی تحریک کے پیچھے اصل دماغ حکیم نور الدین تھے۔ حکیم صاحب کی تدابیر اور پلاننگ ہی تھی جو اس تحریک نے یکدم شہرت پکڑی۔
حکیم نور الدین مزاجی طور پر بہت پرسکون اور معتدل مزاج کے مالک تھے۔ یعنی مرزا قادیانی کے بالکل برعکس۔ مرزا قادیانی بہت جلد باز اور مشتعل مزاج تھے۔ مخالف کی بات برداشت کرنا تو درکنار، جب تک جی بھر کر کوسنے سنا کر اس کا شجرہ خراب نہ کر لیتے، نیچے نہ بیٹھتے تھے۔ بلکہ جب مخالف کے ہولناک انجام اور موت کی پیش گوئی کر دیتے تھے تب کچھ ٹھنڈ پڑتی تھی۔ لیکن حکیم نور الدین مخالفین سے بردباری سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے چند کتب لکھیں مگر کسی میں مخاطب یا مخالف پر کیچڑ نہیں اچھالا، نہ دشنام طرازی کی۔ انہوں نے اپنے مرشد مرزا قادیانی کی بھی چاپلوسی نہیں کی۔ ان کی کتب اور ان کی تقاریر کے مجموعہ ”خطبات نور“ میں مرزا قادیانی کو جگہ جگہ صرف ”مرزا“ یا زیادہ سے زیادہ ”مرزا جی“ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ جبکہ مرزا جی کی نسل میں نام نہاد ”خلافت“ چلی تو گدی نشینوں نے ان کے ساتھ حضرت اقدس اور علیہ السلام یا علیہ الصلوۃ والسلام لگانا شروع کر دیا۔ اسی طرح حکیم صاحب کی کتب میں مرزا کی بیگم کے لیے جو زیادہ سے زیادہ عزت والا لفظ استعمال
ہوا ہے وہ ”بیوی صاحبہ“ ہے جبکہ دیگر گدی نشین اور ان کے مرید ”بیوی صاحبہ“ کو نعو باللہ ”ام المومنین“ کے لقب سے نوازتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے اچانک مرنے کے بعد حکیم نورالدین کی ذاتی قابلیت اور شخصیت کی وجہ سے سارے قادیانی اکابرین نے متفقہ طور پر حکیم صاحب سے قادیانی قیادت قبول کرنے کی درخواست کی۔ حکیم صاحب ذاتی طور پر جاہ پسند نہ تھے۔ اس کے علاوہ انہیں معلوم تھا کہ مرزا کا بیٹا بشیرالدین محمود بڑا جاہ طلب ہے۔ اسی طرح مرزا کی بیوی بھی اپنے خاندان کا بندہ بطور گدی نشین دیکھنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے دیگر قادیانی اکابرین خواجہ کمال الدین اور محمد علی لاہوری وغیرہ سے اسی خدشہ کا اظہار کیا کہ مرزا صاحب کی فیملی کو حق تلفی کا احساس نہ ہو مگر جب سب لوگوں نے زور دیا تو بھی حکیم صاحب نے خود جا کر پہلے مرزا کی بیوی سے کہا کہ مجھے کوئی خواہش گدی کی نہیں۔ اگر آپ کسی اور کو موزوں سمجھتی ہیں تو میں اس کو تسلیم کر لوں گا مگر بیوی نے اس وقت کی نزاکت اور مریدوں کا رجحان دیکھ کر حکیم صاحب کی خلافت ہی قبول کرلی۔ بشیر الدین محمود باپ کی وفات پر بڑی آس لگائے بیٹھے تھے مگر حالات کا رخ دیکھ کر بادل نخواستہ حکیم صاحب کی قیادت تسلیم کر لی۔ لیکن یہ اوائل عمر سے ہی بڑا جاہ طلب اور سازشی دماغ کا مالک تھا۔ حکیم نور الدین جب قادیانی گدی کے پہلے خلیفہ بنے تو وہ کافی ضعیف العمر ہو چکے تھے۔ خلافت کے تیسرے سال وہ گھوڑے سے گر گئے۔ اس کے بعد صحت اور بھی بگڑ گئی۔ بشیر الدین محمود نے سوچا کہ بڑھا زیادہ دن نہ جئے گا۔ اس نے سوچا کہ باپ کی وفات پر تو چوک ہو گئی اب ایسی پلاننگ ہو کہ حکیم صاحب کی وفات پر کوئی دوسرا خلیفہ نہ بن جائے۔ چنانچہ اپنے لیے گدی نشینی پکی کرنے کے لیے نوجوان قادیانیوں کی ایک تنظیم اپنی سربراہی میں بنائی جس کا نام ”انصار اللہ“ رکھا اور ایک اخبار ”الفضل“ اور ایک رسالہ تشحیذ الاذہان کے نام سے نکالنا شروع کیا۔ یہ تنظیم اور رسالے مرزا کے پرانے ساتھیوں کے خلاف کیچڑ اچھالتے تھے۔ یعنی ان ساتھیوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا جن سے یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ حکیم صاحب کے بعد خلیفہ منتخب ہو سکتے ہیں۔
حکیم صاحب خود صلح جو آدمی تھے۔ چنانچہ ان کے چھ سالہ دور میں قادیانیوں کا کوئی بحث مباحثہ یا مباہلہ مسلمانوں سے نہیں ہوا جبکہ مرزا صاحب ہمہ وقت اشتعال انگیزی اور
مباحثوں میں مصروف رہتے تھے۔ چنانچہ حکیم صاحب کے دور میں مسلمانوں کو سکون ملا۔ اس کے علاوہ حکیم صاحب نے مرزا غلام احمد کے درجات کو اپنے دور میں اتنا بلند نہ کیا اور نہ ہی زیادہ القاب سے نوازا۔ حکیم صاحب کی یہ باتیں بھی مرزا بشیر الدین محمود کو اچھی نہ لگتی تھیں۔ حکیم صاحب پر تو وہ کوئی الزام تراشی نہ کر سکتا تھا مگر مرزا کے پرانے ساتھیوں خاص کر محمد علی لاہوری، خواجہ کمال الدین، سید محمد حسین شاہ اور دیگر ایسے پرانے ساتھی، جن سے گدی نشینی کا خطرہ تھا، ان کے خلاف دن رات پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد کا مقام اور مرتبہ گھٹا کر بیان کرتے ہیں۔ اس لیے یہ سچے قادیانی نہیں۔ حکیم صاحب کے دور میں مسلمانوں کو تو سکون ملا لیکن خود ان کی اور ان کے ساتھیوں کے لیے ان کے پیرو مرشد کے اہل خاندان کے ہاتھوں نیند حرام رہی۔ حکیم صاحب اپنی خرابی صحت کی بنا پر حالات کو کنٹرول نہ کر سکے اور مرزا بشیر الدین محمود کو راہ راست پر لانے کی حسرت لیے آنجہانی ہو گئے۔
حکیم صاحب کی رحلت کے وقت مرزا محمود نے فوراً اپنی تنظیم کے کارکنوں کے ذریعے اپنے ہم خیال قادیانیوں کو قادیان میں جمع کر لیا اور منصوبہ کے مطابق ان سب نے مل کر نعرہ لگانا شروع کر دیا کہ مرزا محمود ہی خلیفہ ہوں گے۔ اس وقت مرزا صاحب کے پرانے ساتھیوں نے کھڑے ہو کر مرزا محمود کے خلاف بولنا چاہا مگر ان کے بندے پہلے سے تیار تھے۔ سب نے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا اور ”مرزا محمود کو تخت خلافت مبارک ہو“ کے نعرے لگانے شروع کر دیے اور مرزا محمود نے بلا توقف کھڑے ہو کر اپنے ”خلیفہ دوم منتخب ہونے کا اعلان کر دیا“ اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ فوراً قادیان سے باہر کے قادیانیوں کو بذریعہ پوسٹ اپنے خلیفہ ہونے کے اشتہار (جو پہلے ہی طبع کرا لیے گئے تھے) بھجوا دیے۔ خلیفہ بننے کے فوراً بعد مرزا محمود نے اپنے والد کے تمام پرانے ساتھیوں اور قادیانی اکابرین، جن سے اس کی خلافت کو خدشہ ہو سکتا تھا، کو قادیانی تنظیم سے خارج کر دیا۔ ان میں سرکردہ پرانی مقبول شخصیت مولوی محمد علی صاحب تھے جن کو بہت تنگ کر کے قادیان سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔ مرزا صاحب کے پرانے ساتھیوں مولانا محمد احسن امروہی، خواجہ کمال الدین، ڈاکٹر محمد حسین شاہ اور دیگر معروف ساتھیوں نے مولانا محمد علی کی امارت میں اپنا مرکز لاہور بنا لیا جن کے پیرو کار لاہوری احمدی کہلانے لگے۔ خلیفہ بننے
کے وقت مرزا محمود کی عمر صرف ۲۵ سال تھی اور اس نے اس نوجوانی میں اپنی خلافت سے سب رکاوٹیں اپنی اعلیٰ تخریبی منصوبہ بندی کی بدولت دور کر کے شاندار کامیابی حاصل کی اور اپنے باپ کے چھٹے ہوئے اور منجھے ہوئے پرانے ساتھیوں پر برتری حاصل کی۔
اس کامیابی کے بعد بھی مرزا محمود کو ہمیشہ دھڑکا ہی رہا کہ کوئی اور قادیانی اتنا مقبول نہ ہو جائے کہ خلافت اس کے خاندان سے چھن جائے۔ کیونکہ یہ ایک سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔ چندوں، نذرانوں کی بھرمار، مریدوں اور مریدنیوں کی عقیدت اور خدمات کے مزے۔ مرزا محمود نے خود لکھا ہے جب وہ خلیفہ بنے تو خلافت میں صرف چند آنے تھے اور خود مرزا محمود کی ملکیت میں پرانا ویران سا آموں کے درختوں پر مشتمل ایک باغ تھا۔ خود میٹرک فیل تھے۔ کوئی ملازمت بھی نہ مل سکتی تھی مگر سازشی اور تخریبی ذہنیت پائی تھی۔ اس مفلس شخص کی وفات کے وقت اس کے پاکستان کے ہر شہر میں بنگلے، جائیدادیں اور سندھ کے کئی قصبات پر مشتمل بے حساب زمینیں اور کئی بینکوں میں اکاؤنٹ موجود تھے۔ مرزا محمود اور ان کے باپ کا خاندان حکیم نور الدین کی خلافت کے دوران اپنا چھ سالہ کسمپرسی کا دور نہیں بھولا۔ اس لیے انہوں نے آئندہ کے لیے خاندان مرزا سے باہر خلافت جانے کے تمام راستے مسدود کر دیے۔
ایک دفعہ مرزا محمود کے بھائی بشیر احمد نے اپنے والد کی ایک خواب شائع کرائی جس میں مرزا صاحب خربوزے کی پھانکیں مریدوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ ایک پھانک (شاید غلطی سے) انہوں نے باہر کے کسی مرید کو دی۔ باقی سب پھانکیں خاندان میں تقسیم کیں۔ اس کی تعبیر ”الفضل“ میں یہ شائع کی گئی کہ صرف ایک خلیفہ (حکیم نور الدین) باہر سے بننا تھا اور خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خلیفہ خاندان مرزا کے سوا ہو ہی نہیں سکتا۔ ان خوابوں اور ہر طرح کی پیش بندیوں کے بعد بھی دھڑکا ہی رہتا تھا کہ کوئی دوسرا قادیانی خلافت کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ (شاید خربوزے کی پھانکوں والے خواب پر بھروسہ نہ تھا) اس سلسلے میں حکیم نور الدین کے خاندان سے مرزا محمود کو بہت خدشہ رہتا تھا۔ کیونکہ عام قادیانیوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی طرح ہی حکیم نور الدین اور ان کے خاندان کا احترام موجود تھا۔ اور جو مرید قادیانی خلیفہ سے ملنے آتے، وہ حکیم نور الدین کے اہل خاندان سے بھی ضرور ملاقات کرنے جاتے۔ مرزا محمود اور اس کی والدہ اور اہل خاندان کو
یہ بات بھی کھٹکتی تھی اور ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ حکیم نور الدین کی اولاد بھی لائق فائق تھی۔ اور مرزا محمود کی طرح میٹرک فیل نہ تھی۔ سب سے بڑے لڑکے میاں عبدالحئی تھے۔ مرزا محمود نے ان سے دوستی گانٹھی۔ خلافت کے دو تین سال بعد اچانک میاں عبدالحئی کی موت کی خبر پھیلی۔ معلوم یہ ہوا کہ زہر خوانی سے موت واقع ہوئی ہے۔
میاں عبدالحئی قادیانی جماعت میں بڑے مقبول تھے۔ ان کی موت سے مرزا محمود کو آئندہ خلافت کے لیے ایک بڑے خطرے سے نجات ملی۔ حکیم نور الدین کے دوسرے لڑکے میاں عبدالسلام تھے جو بہت بڑے زمیندار تھے اور تیسرے میاں عبدالوہاب عمر تھے جو اپنے والد کی طرح لائق طبیب تھے۔ یہ دونوں قادیانی تنظیم کے امور میں دلچسپی نہ لیتے تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ اس لیے ان سے مرزا محمود کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا لیکن ان کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رہتا تھا۔ تاکہ یہ بددل ہو کر قادیانی افراد کی نظروں سے دور رہیں۔ حکیم نور الدین کا چھوٹا لڑکا میاں عبدالمنان عمر تھا جو کہ مرزا محمود کے بیٹے مرزا ناصر کا ہم عمر تھا (مرزا ناصر جو بعد میں قادیانیوں کے تیسرے سربراہ بنے) عبدالمنان بڑا ہو کر بہت لائق نکلا۔ ایم۔اے کے علاوہ عربی فاضل بھی تھے۔ پھر پی ایچ ڈی بھی کی۔ تقریر بھی بڑی اچھی کرتے تھے۔ جبکہ مرزا ناصر تقریر کر ہی نہیں سکتے تھے۔ پھر بھی عبدالمنان سے مقابلہ کے لیے ان کی تقریر قادیانیوں کے جلسہ سالانہ پر ضرور رکھی جاتی تھی مگر مرزا ناصر کی تقریر اس قدر بور ہوتی تھی کہ قادیانی جلسہ کے میدان سے اپنی چادریں اٹھا اٹھا کر جھاڑنا شروع کر دیتے تھے اور باہر نکلنے لگ جاتے تھے۔ سارا میدان گرد سے بھر جاتا۔ اسٹیج سے اپیل ہوتی مگر کوئی نہ رکتا۔
اسی طرح قادیانیوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کے صدر کے سالانہ انتخاب میں ہر سال عبدالمنان عمر کا نام پیش ہونے لگا۔ پہلے تو منان کی تھوڑی بہت اکثریت ہوتی جسے ہیرا پھیری سے کمی میں بدل کر مرزا ناصر کے صدر ہونے کا اعلان کر دیا جاتا۔ یہ صورت حال بڑھاپے میں مرزا محمود کے لیے پھر پریشانی کا باعث بنی۔ وہ ہر قیمت پر اپنے بیٹے ناصر احمد کو آئندہ خلیفہ بنانا چاہتے تھے مگر اب پھر حکیم نور الدین کا خاندان انہیں اپنے لیے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ حکیم نور الدین کی بیگم صاحبہ اور ان کے بڑے صاحبزادے میاں عبدالسلام صاحب زندہ تھے۔ قادیانی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں ان
کے کسی اہل خاندان کے خلاف کوئی قدم اٹھانا مرزا محمود کے لیے بہت مشکل اور خطرناک بھی ہو سکتا تھا۔ اس لیے وہ موقع کی تلاش میں رہے۔ آخر حکیم نور الدین کی بیگم صاحبہ اور چند سال بعد میاں عبدالسلام بھی انتقال کر گئے۔ چنانچہ ۵۷ء کے بعد میاں عبدالوہاب عمر اور میاں عبدالمنان عمر صحیح معنوں میں یتیم ہو گئے اور مرزا محمود کے سازشی شکنجے میں آگئے۔ پہلے تو میاں عبدالوہاب کے خلاف اخبار الفضل میں اپنے حواریوں سے باقاعدہ اس قسم کے مضمون لکھوانا شروع کیے کہ وہ جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتا۔ قادیانیت سے لا تعلق ہو رہا ہے۔ مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آتا ہے۔ اس کا ایمان کمزور ہے۔ انہی دنوں قادیانی تنظیم خدام الاحمدیہ کے صدر کا انتخاب ہوا تو عبدالمنان عمر زبردست اکثریت سے جیت گئے۔ لیکن خلیفہ محمود کی چالبازی دیکھئے کہ اعلان کر دیا کہ آئندہ سے خدام الاحمدیہ کا صدر خلیفہ خود ہوگا۔ چنانچہ میاں عبدالمنان کے ساتھ پھر زیادتی کی اور خود صدر بن جانے کے بعد نائب صدر مرزا ناصر احمد کو بنا دیا۔ صدارت بھی بیٹے کے ہاتھ سے نہ جانے دی اور عبدالمنان عمر کو مات بھی دے دی۔ مگر اللہ جسے عزت دے۔ انہی دنوں عبدالمنان کو امریکہ سے ایک یونیورسٹی نے لیکچر دینے کے لیے بلایا۔ عبدالمنان کو وہاں گولڈ میڈل‘ انعامی شیلڈ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی ملیں۔ ان اعزازات نے خاندان مرزا کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مرزا محمود کی نیند حرام ہو گئی اور غیظ و غضب میں اس نے آخری وار کیا یعنی منان صاحب کی غیر حاضری میں عبدالوہاب اور ان کے خلاف اخبار الفضل میں مہم چلائی کہ یہ لوگ خلیفہ کے خلاف ہیں اور اپنی خلافت کے لیے کوشاں ہیں۔
عبدالوہاب بیچارے سیدھے سے آدمی تھے۔ نہ ان کا کوئی اخبار تھا جو ان کی طرف سے کوئی وضاحت شائع کرتا۔ انہوں نے اس خیال سے کہ شاید خلیفہ صاحب کو کوئی غلط فہمی ہو گئی‘ عقیدت سے ایک خط لکھا جس میں ان کی زیادتیوں کے پیش نظر لکھ دیا کہ ”آپ سے ہمیں بہت میٹھی قاشیں کھانے کو ملی ہیں۔ اب کے ایک کڑوی بھی سہی“ مرزا محمود نے تو اس خط سے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ ”دیکھو کہتے ہیں کہ اللہ کا خلیفہ کڑوی قاشیں کھانے کو دیتا ہے۔ حد ہو گئی ان کی بے ایمانی کی“ ساتھ ہی چیلوں چانٹوں نے ”الفضل“ میں خلیفہ کی سر میں سر ملائی اور تان اس پر ٹوٹی کہ حکیم نور الدین کے خاندان پر طرح طرح کے من گھڑت الزامات لگا کر میاں عبدالوہاب عمر اور عبدالمنان عمر اور سب اہل خاندان کو خارج از
قادیانیت قرار دے دیا اور ان سے تعلق رکھنا منع ہو گیا۔ بائیکاٹ ہو گیا۔
میاں منان امریکہ میں ہی تھے۔ ان کے بال بچوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ بیوی بے چاری بچوں کو لے کر ربوہ سے نکل کر لاہور رشتہ داروں کے پاس چلی گئی۔ مرزا محمود نے اپنے خطبات میں پر زور اعلان کیا کہ ”حکیم نور الدین کے خاندان نے خلیفہ سے ٹکر لی ہے۔ یہ تباہ و برباد ہو جائیں گے‘ در در کی بھیک مانگیں گے‘ کاسہ گدائی لے کر گھومیں گے‘ کوئی انہیں بھیک نہیں ڈالے گا“ اور اکثر قادیانی حضرات یہی سمجھتے ہیں کہ خاندان تباہ ہو گیا۔ نہیں‘ ایسا نہیں ہوا۔ جب عبد المنان عمر امریکہ سے واپس ربوہ آئے تو اخراج از جماعت کا علم ہوا۔ انہوں نے اپنے اخراج اور بیوی بچوں کو تنگ کرنے کی وجہ پوچھی۔ خلیفہ سے ملنا چاہا‘ ملنے نہیں دیا گیا۔ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا کہ خلیفہ صاحب کہتے ہیں کہ پہلے معافی مانگو۔ منان صاحب ہر ایک سے پوچھتے کہ کس بات کی معافی مانگوں‘ وجہ تو بتاؤ۔ مگر سب چمچے اور اندھے مرید یہی کہتے کہ بس خلیفہ کے پیر پکڑ لو ورنہ عذاب آجائے گا۔ گھر بار پر تو خلیفہ کے گماشتے قبضہ کر چکے تھے اس لیے منان صاحب بھی بیوی بچوں کو تلاش کرتے لاہور پہنچے۔ آدمی بہت لائق اور کوالیفائیڈ تھے۔ لاہور میں جاتے ہی پنجاب یونیورسٹی میں انسائیکلو پیڈیا میں ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ ڈائریکٹر ہو گئے اور کئی ہزار مشاہرہ مقرر ہوا۔ جبکہ ربوہ میں انہیں خلیفہ صاحب کی نوکری سے ساڑھے تین سو روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ان کی اہلیہ پنجاب یونیورسٹی سے عربی اور انگلش میں ایم اے گولڈ میڈلسٹ تھیں۔ انہوں نے سہگل والوں کے اسکول پنڈی میں اپلائی کیا اور اپنی قابلیت کی بنا پر پرنسپل مقرر ہوئیں اور بہت جلد ان کا مشاہرہ ہزاروں میں مقرر ہو گیا۔ جبکہ ربوہ میں اسکول میں پڑھانے پر صرف ڈھائی سو روپیہ مہینہ ملتا تھا۔ اور اس فیملی کو رہنے کے لیے کچا مکان دیا گیا تھا۔ میاں صاحب (میاں عبد المنان عمر) کے تینوں بچے بہت لائق نکلے۔ بڑا لڑکا ایم ایڈ ہے اور جرمنی میں بڑے عہدے پر فائز ہے۔ دوسرا لڑکا انجینئر ہے اور کینیڈا میں ایک بڑی فرم میں ڈائریکٹر ہے۔ بیٹی ڈاکٹر ہے اور امریکہ میں مشہور سپیشلسٹ ڈاکٹر ہے اور اپنا ہسپتال بھی چلا رہی ہے۔ میاں صاحب اور ان کی اہلیہ کچھ سال لاہوری گروپ کے عہدیدار بھی رہے ہیں مگر اب ان سے بھی بد دل ہو گئے۔ تنظیم کے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ سارا سال بچوں کے پاس یورپ اور امریکہ گزارتے ہیں۔ سردیوں میں
ایک دو ماہ پاکستان اپنے رشتہ داروں سے ملنے آجاتے ہیں۔
عامۃ المسلمین کے لیے تو یہ حالات دلچسپی کا باعث ہوئے ہوں گے۔ لیکن قادیانی حضرات کے لیے یہ حالات خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ کیا خدائی سلسلے اور خلیفے ایسے ہوتے ہیں۔ ان کے طور طریق اور لچھن ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کیا ایسی تخریبی کارروائیاں چند روزہ زندگی اور عارضی گدی کے لیے روحانی شخصیتوں کو زیب دیتی ہیں؟ آپ قادیانیوں میں سے اکثر قادیانیوں کو میاں عبدالمنان عمر اور خاندان حکیم نور الدین (ان کے خلیفہ اول) کے بارے میں مرزا محمود کے یہ الفاظ یاد ہوں گے ”کہ یہ کاسہ گدائی لے کے گھومیں گے کوئی انہیں بھیک نہ ڈالے گا“ ان کے ابا بھی جس سے بگڑ جاتے تھے‘ اسے ایسی ہی پیش گوئیاں اور دھمکیاں سنایا کرتے تھے جو کبھی نہ پوری ہوئیں نہ ہوں گی۔ مگر افسوس ہے کہ عقل کے اندھے رجوع نہیں کرتے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم
کیونکہ ”ختم نبوت“ پوری دنیا میں جاتا ہے۔ اگر میاں عبدالمنان اور ان کی فیملی کی نظر سے یہ مضمون گزرے تو ان سے بھی درخواست ہے کہ خدارا آپ مسلمان ہو جائیں۔ یہ آپ کی آخرت کے لیے بہتر ہو گا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۵‘ شمارہ ۲۵‘ از قلم: م۔ب)
مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے
اس پر ملک دشمنی کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے
مرزا ناصر احمد ہیڈ آف دی جماعت احمدیہ ربوہ کئی ماہ تک یورپ، امریکہ اور خصوصا لندن شریف کا دورہ کر کے واپس ربوہ آگئے۔ غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے بعد یہ ان کا دوسرا غیر ملکی دورہ تھا۔ اس دفعہ انہوں نے یہ دورہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مکمل تیاری کر کے اور بڑی سج دھج سے کیا ہے۔ ان کے ہمراہ اس نیو مسیحی جماعت کے پوپوں، پادریوں اور چیلوں چانٹوں کی ایک ٹیم بھی گئی ہوئی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرزا صاحب اور ان کی اس ٹیم کا دورہ کسی ایسے منصوبہ اور پروگرام کے مطابق ہوا ہے جو کسی بیرونی طاقت کے کسی خاص شعبہ نے سوچ سمجھ کر بنایا ہوا تھا۔ مرزا صاحب کے ہمراہ جو ٹیم گئی ہوئی تھی اس میں مرزائی اخبار روزنامہ "الفضل" ربوہ کے ایڈیٹر مسعود دہلوی بھی شامل تھے۔ اس دورے میں حضور مرزا صاحب کا یہ ازلی غلام سپیشل تنزلی پر ایڈیٹر سے وقائع نگار خصوصی بن کر ساتھ گیا ہوا تھا۔ ان دہلوی صاحب نے خاصہ زور قلم صرف کر کے مرزا صاحب کے سفر کی رپورٹ مرتب کی ہے جو روزنامہ الفضل میں چھپ رہی ہے۔ اس رپورٹ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دورہ کی تفصیلات ربوہ میں تیار نہیں کی گئیں بلکہ تل ابیب، لندن اور واشنگٹن کی تیار کردہ دکھائی دیتی ہیں۔۔
من انداز قدت را مے شناسم
ابھی تک مرزا صاحب کے سفر کی پوری تفصیلات ہمارے سامنے نہیں آئی ہیں۔ بہر حال جو کچھ مرزائی اخبارات میں چھپ چکا ہے یا ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے‘ وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے اس دورہ کے تین رخ تھے۔
- ١- انہوں نے اپنی جماعت کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ امریکہ اور یورپ کے
سامنے اسلام کی تبلیغ کے لیے نکلے ہیں اور ان کی تبلیغ کے ذریعہ امریکہ اور یورپ اسلام (احمدیت) قبول کرنے والے ہیں۔ لہٰذا تم وقتی چیزوں سے مایوس اور بددل نہ ہو جاؤ۔ جماعت کے کھونٹے سے بندھے رہو اور جماعت کے سارے چندے باقاعدگی سے دیتے رہو۔ بالآخر جماعت کو غلبہ حاصل ہو کر رہے گا۔
- ٢- انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کا یورپ اور امریکہ میں مذاق اڑایا۔ اس کے
فیصلہ کی دھجیاں بکھیریں اور پاکستان کی تضحیک اور مذمت کی۔ اس کی رسوائی اور بدنامی کی مہم جوئی میں مصروف رہے اور ان لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہمارے متعلق پاکستان کا فیصلہ غیر قانونی‘ سیاسی‘ وحشیانہ‘ جاہلانہ اور غلط فیصلہ ہے۔ ہم اس فیصلہ کے باوجود حقیقی مسلمان ہیں جبکہ دوسرے مسلمان سرکاری مسلمان ہیں۔
- ٣- ایک شاطر اور عیار سیاست دان کی طرح مرزا ناصر احمد نے اس دورے میں
اپنے آپ کو ایسی سرگرمیوں کے ذریعے کیموفلاج کرنے کی کوشش کی۔ جن سرگرمیوں پر بظاہر حکومت پاکستان کو کوئی اعتراض نہ ہو سکے مثلاً وہ جہاں گئے‘ انہوں نے اپنی جماعت کے تنظیمی طرز کے اجتماعات رکھے اور ان میں سارے امریکہ اور سارے یورپ کو احمدی بنا لینے اور احمدیت کا ساری دنیا میں بہت جلد غلبہ آجانے کی بے سروپا باتیں کرتے رہے۔ اسی طرح وہ جہاں گئے‘ پہاڑوں‘ جھیلوں‘ دریاؤں‘ روشنیوں اور معروف سیرگاہوں سے لطف اندوز ہو کر اپنے مغل شہزادہ ہونے کی حس کی تسکین کا سامان کرتے رہے‘ لیکن ہماری اطلاع کے مطابق وہ ان غیر سیاسی مذہبی تفریحی سرگرمیوں کی آڑ اور پردہ میں اپنے
آقایان ولی نعمت اور ایسے خاص لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے جو اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ آف دی ریکارڈ وہ صدر فورڈ سے بھی ملے ہیں اور یہی ان کے دورے کا اصل منشا اور مقصد ہو سکتا ہے۔ ان کی سب سے زیادہ آؤ بھگت امریکہ اور مغربی جرمنی میں ہوئی جو آج کل پاکستان کے متعلق بدترین دشمنی کا مظاہرہ کرنے والے ملک ہیں۔ مرزا ناصر احمد کی ان دونوں ملکوں میں آؤ بھگت کا پس منظر یہ ہے کہ فریقین میں اسلام دشمنی‘ پاکستان کی بربادی کا مشورہ اور بھٹو کے خلاف سازش کرنا قدر مشترک ہے۔
اب یہ بھٹو حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس امر کی چھان بین کرے کہ اس دورہ کی اصل غرض و غایت کیا تھی۔ مرزا ناصر احمد نے اس دورہ میں دوسری قوموں اور غیر ملکیوں کے سامنے پاکستان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا‘ اس کی بدنامی کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کا مذاق اڑا کر اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اب کس سزا کا مستحق ہے اور حکومت اس کے خلاف کیا اقدام کرتی ہے۔
ہمیں اس بات کا انتہائی دکھ ہے کہ اول تو حکومت کو بیرونی ممالک میں مرزائیوں کی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا اور اگر وہاں سے کوئی بات وزارت خارجہ کے پاس آجائے تو وہ اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیتی۔
یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ مرزائیوں کے متعلق جب گزشتہ سے پیوستہ سال ہماری قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کیا اور یہ خبر باہر گئی تو امریکہ کے ایک شہر میں وہاں کے اہم پاکستانی مرزائی ممبروں کا ایک خاص اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں بھارت کے سفیر متعینہ امریکہ نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی اطلاع جب امریکہ میں مقیم ایک محب وطن پاکستانی نے پاکستان کے سفیر متعینہ امریکہ کو دی تو انہوں نے اس خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا اور یہ اطلاع دینے پر اس محب وطن پاکستانی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مرزائیوں کی اس میٹنگ اور اس میں بھارتی سفیر کی شرکت کی اطلاع حکومت
پاکستان کو بھیجی۔ ممکن ہے پھر دوبارہ یاد دہانی بھی کرائی ہو لیکن ہماری حکومت کی وزارت خارجہ نے اس اتنے اہم واقعہ پر کوئی توجہ نہ دی، کوئی ایکشن نہ لیا۔ حکومت پاکستان نے امریکہ میں ہونے والی مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کا محاسبہ کیا کرنا تھا، اس نے آج تک مرزائیوں کی ملک کے اندر غدارانہ سرگرمیوں اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے خلاف باغیانہ اقدامات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
اس باغ کا والی اللہ ہے
آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ مرزا ناصر احمد نے اپنے اس بیرونی دورہ میں ملک کی بدنامی اور رسوائی کا ارتکاب، قومی اسمبلی کے فیصلہ کی تضحیک اور حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے ملک دشمنی اور دستور کی مخالفت کا کھلم کھلا ثبوت دیا ہے۔ اس لیے انہیں گرفتار کیا جائے اور ان پر ملک دشمنی اور دستور کی مخالفت کے سلسلہ میں مقدمہ چلایا جائے۔
یہ میٹنگیں کس مقصد کے لیے؟
کچھ دنوں سے مرزائی ریٹائرڈ اور ان سروس فوجی افسران پر اسرار قسم کی میٹنگیں کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے پائینز ہوٹل نتھیا گلی میں ایک خفیہ میٹنگ کی۔ جس میں ہماری اطلاع کے مطابق تیس چالیس کے لگ بھگ لوگ شامل ہوئے۔ یہ میٹنگ صدر افغانستان سردار محمد داؤد خاں کے پاکستان آنے سے دو تین روز پہلے ہوئی تھی۔ حال ہی میں ربوہ میں بھی ایسی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ایک میٹنگ میں ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق جنرل عبدالحمید ریٹائرڈ، جنرل عبدالعلی ریٹائرڈ حال امیر جماعت احمدیہ اسلام آباد، بریگیڈیئر شمیم احمد، مرزا منصور احمد قائم مقام امیر جماعت احمدیہ، مرزا فرید احمد خلف مرزا ناصر احمد، ظہور احمد باجوہ اور بعض ان سروس فوجی افسران شریک ہوئے۔ کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔
اس میٹنگ کے چند روز بعد ربوہ میں بھی اسی طرح کی ایک اور میٹنگ ہوئی۔ جس میں ہماری اطلاع کے مطابق ظفر چودھری ریٹائرڈ سی این سی پاکستان ایئر فورس ان کے دو
اور ساتھی اور اسی طرح کچھ دیگر ریٹائرڈ اور ان سروس فوجی افسران‘ مرزا منصور احمد‘ مرزا فرید احمد اور ظہور احمد باجوہ سے بند کمرے میں میٹنگ کرتے رہے۔ یہ ریٹائرڈ جنرل ان سروس فوجی اور کچھ دوسرے سویلین مرزائی لیڈروں سے ربوہ میں ایسے موقعہ پر ملنے آئے اور یہ مشاورتیں ان دنوں ہوئیں جن دنوں مرزا ناصر احمد بیرونی ممالک کے دورے پر گئے ہوئے تھے جبکہ ربوہ میں ان دنوں کوئی تقریب یا تہوار بھی نہ تھا۔ ان لوگوں کا ربوہ آنا خالی از علت نہیں ہے اور اس سے پہلے لاہور نتھیا گلی کی مشاورتیں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ لاہور میں ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل ان لوگوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے جبکہ اس کا منیجر ایک ریٹائرڈ مرزائی فوجی کرنل ہے۔ ربوہ کی یہ عادت ہے کہ وہاں ان کا کوئی معمولی درجے کا آدمی آئے جائے تو وہ اس کو مرزائیت کا ستون بتا کر اس کے استقبال اور الوداع کی رپورٹیں شائع کرتے ہیں لیکن یہاں جنرل حمید ریٹائرڈ‘ جنرل عبدالعلی ریٹائرڈ اور ائیر مارشل ظفر چودھری ریٹائرڈ جیسے لوگ تن تنہا آتے اور تن تنہا چلے جاتے ہیں۔ نہ ان کو لینے کے لیے اور نہ ان کو الوداع کرنے کے لیے کوئی نکلتا ہے اور نہ ہی ان کی کوئی رپورٹ الفضل میں شائع کی جاتی ہے۔ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد امریکہ اور یورپ کا دورہ کافی دنوں سے ختم کر چکے تھے۔ پھر وہ لندن میں جا کر ٹھہر گئے اور پاکستان بلکہ ربوہ میں یہ بھی ایک دفعہ مشہور کیا گیا کہ وہ اب واپس آئیں گے ہی نہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ آ رہے ہیں۔ آنے کی تاریخیں مقرر ہوتی تھیں اور منسوخ ہو جاتی تھیں۔ ان میٹنگوں کے بعد وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اچانک کراچی پہنچ گئے اور پھر ربوہ تشریف لے آئے اور یہاں آکر پھر وہی زمین آسمان کے قلابے ملانے کی باتیں کر رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد کے یورپ اور امریکہ جانے سے پہلے ربوہ میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد جماعت کے بااعتماد لوگوں کو کانوں کان خبر پہنچائی گئی تھی کہ بھٹو صاحب آنے والے دسمبر سے آگے نہیں جاسکتے۔ یہ سب پراسرار اور معمہ قسم کی چیزیں ہیں۔ ان تمام چیزوں سے ربوہ والوں کا مقصد کیا ہے۔ ادنیٰ عقل رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیت انگریزوں کی سرپرستی اور پاکستان بن جانے کے بعد ہمارے مسلمان حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی اور غفلت سے ایک اژدہا بن گئی تھی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں اسلامیان پاکستان کی متفقہ جدوجہد‘ مرزائیوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ
اور ۷ ستمبر کی قومی اسمبلی کے فیصلہ نے اس اژدہا کو سخت زخمی کر دیا ہے۔ اب یہ زخمی اژدہا لوٹ پوٹ ہو کر سراپا انتقام بن چکا ہے۔ یہ انتقام لینا چاہتا ہے اسلام سے، پاکستان کی قومی اسمبلی سے، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اس میں شریک جماعتوں اور ان کے رہنماؤں سے، شاہ فیصل مرحوم کے خاندان اور تمام عرب ممالک سے اور ذوالفقار علی بھٹو سے۔ اس انتقام کے لیے وہ برطانیہ، مغربی جرمنی، امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا ایجنٹ بن چکا ہے اور اس بات کا آرزو مند ہے کہ پاکستان کی حکومت اس کا پوری طرح سر کچل دے اور جس طرح ایران کی حکومت نے بہائیت کے فتنہ کی ایران سے بیخ کنی کر دی تھی۔ اسی طرح حکومت پاکستان بھی اس فتنہ کی مکمل بیخ کنی کردے تاکہ اس کی یہ بے چینی اور بے کلی ختم ہو جائے۔
یہ روپیہ کہاں سے آیا
مرزا ناصر احمد پچھلے ہفتہ یورپ، امریکہ اور لندن کے طویل دورہ سے واپس آئے تو انہوں نے واپسی پر جمعہ کے روز اپنی بڑی عبادت گاہ کے اجتماع میں جو تقریر کی، اس میں ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق یہ بھی کہا کہ فلاں ملک میں ہم نے جو عبادت گاہ بنوائی ہے، اس پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچہ آیا ہے۔ اس رقم میں سے ۵۳ لاکھ روپیہ جماعت نے جمع کر کے خرچ کیا ہے اور باقی کا بھی ”کہیں“ سے انتظام ہو گیا ہے۔ ہم مرزا صاحب سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ ۵۳ لاکھ روپیہ کا بقول آپ کے آپ کی جماعت نے انتظام کیا، یہ باقی تقریباً ایک کروڑ روپیہ کا کہاں سے انتظام ہوا ہے۔ کیا سونا بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آگیا ہے یا جعلی نوٹ چھاپنے کا کوئی انتظام ہے یا یہ روپیہ اسرائیل یا سی آئی اے کا عطیہ ہے۔
ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ ۵۳ لاکھ روپیہ والا بھی آپ نے تکلف فرمایا ہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ یہ ۵۳ لاکھ روپیہ بھی آپ نے یا آپ کی جماعت نے کہیں نہیں بھیجا بلکہ غیبی کھاتوں سے روپیہ آ رہا ہے جس سے آپ اسلام دشمن طاقتوں کی منشا کے مطابق اسلام کو بگاڑنے اور اس کی اصل روح کو قتل کرنے کے لیے مختلف ملکوں میں اڈے بنا رہے ہیں۔ بجٹ اور منافع گھر لے آتے ہیں۔ پھر ایک اطلاع کے مطابق آپ نے یہ بھی اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایک یہودی صرف میری زیارت کر کے اور میری آواز سن کر ایمان
لے آیا اور اس نے کہا کہ میں نے آپ کے چہرے اور آپ کے اندر نور دیکھ لیا ہے اور اس نے آپ کو ایک لاکھ ڈالر کا چیک پیش کیا۔ اگر یہ روایت ہمیں درست پہنچی ہے تو آپ اطمینان کر لیں کہ اس یہودی نے واقعی آپ کے اندر اور آپ کے چہرے پر کوئی نور دیکھا اور ایمان لایا؟ یا ایسے ہی آپ کے سامنے جھوٹ بول کر آپ کو اسرائیل کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ تھما گیا ہے تاکہ آپ اس روپیہ سے مسلمانوں میں ارتداد اور کفریہ عقائد کی تعلیم و تبلیغ کر کے امت محمدیہ میں انتشار پیدا کریں اور اس روپیہ کو پاکستان کی بربادی پر خرچ کریں۔
سعودی عرب جانے والے مرزائی
ربوہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مرزا ناصر احمد کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقعہ پر جب مرزا ناصر احمد کی مبینہ طور پر صدر فورڈ سے ملاقات ہوئی تو اس میں مرزا ناصر احمد نے امریکہ سے اپنی جماعت کو بچانے اور مصیبت میں کام آنے کی امداد مانگی۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد سے کہا گیا کہ آپ زیادہ سے زیادہ مرزائیوں کو سعودی عرب بھجوائیں۔ وہاں امریکن کمپنیاں اور فرمیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں انہیں ملازمتیں دی جائیں گی۔ مرزا ناصر احمد نے مبینہ طور پر یہ پیغام ربوہ بھجوا دیا۔ چنانچہ ان کے قائم مقام مرزا منصور احمد نے باہر اپنی جماعتوں کو خفیہ ہدایات بھجوا دیں اور ان سے کہا گیا کہ سعودی عرب کے لیے بھرتی کریں۔ اس مقصد کے لیے سات سو مرزائی بھرتی کیے گئے۔ ان سے تین تین سو روپیہ پیشگی وصول کر لیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ انیس انیس سو روپیہ بعد میں دیں گے۔ پھر اس کے بعد مزید دیں گے۔ چنانچہ خفیہ خفیہ ان سات سو آدمیوں کے پاسپورٹ اور ویزوں کے لیے کام شروع کر دیا گیا۔ ابھی تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی کہ یہ راز کھل گیا اور مرزا منصور احمد نے وقتی طور پر ان لوگوں کو تھوڑے دن رک جانے کا حکم دے دیا ہے۔
ہمارے بھائی مولانا کوثر نیازی وزیر مذہبی امور پاکستان اس بات سے خفا ہوتے ہیں جب یہ کہا جائے کہ مرزائی سعودی عرب جا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ دھڑا دھڑ جا رہے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ سات سو مرزائی بھی وقتی طور پر خاموشی اختیار کر گئے۔ یقیناً یہ وہاں جائیں گے اور موقعہ پاتے ہی چلے جائیں گے۔ ابھی مرزائی حکومت کے اندر کافی اثر و
رسوخ استعمال کرتے ہیں اور وہاں چلے جارہے ہیں۔ ظاہر یہی کیا جارہا ہے کہ امریکہ بہادر مرزائیوں کی اقتصادی مدد کرنا چاہتا ہے اور مرزائیوں کو وہاں ملازمتیں دی جائیں گی لیکن ہمیں اس میں بڑے خطرات نظر آرہے ہیں۔
ہماری حکومت پاکستان سے مخلصانہ درخواست ہے کہ سعودی عرب ہمارا محبوب ترین ملک ہے۔ وہاں کی حکومت ہماری دوست اور محسن حکومت ہے۔ وہ ہمارے خیر خواہ اور دوست ہیں‘ ہم ان کے دوست اس لئے ان سانپوں اور بچھوؤں کو وہاں نہ جانے دیں۔ یہ وہاں جاکر یہودیوں کے آلہ کار ثابت ہوں گے۔ جاسوسی کرنا ان کی فطرت ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے کسی نازک وقت کے لیے انہیں وہاں اس بہانہ سے پہنچایا جارہا ہو اور کوئی وقت آنے پر یہ سعودی عرب کی حکومت کو یا عالم اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچائیں۔ حکومت اس سکینڈل کی تحقیقات کرے۔ ان سات سو مرزائیوں کے کاغذات کس مرحلہ میں ہیں۔ انہیں روک دے‘ ان کے سرغنوں کو گرفتار کرے اور انہیں یہ اجازت نہ دے کہ وہ ہمارے قابل احترام ملک کے لیے کبھی کوئی خطرہ بن سکیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا مفید ہوگا کہ حکومت کے ریکارڈ پر یہ چیز موجود ہے کہ لاہور سے کسی مرزائی نے ربوہ کے دس آدمیوں کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ وہ سعودی عرب جانے کے لیے فلاں تاریخ فلاں فلائیٹ پر لاہور ایئر پورٹ پر پہنچ جائیں۔ یہ امر واقع ہے۔
(بہ شکریہ ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ ۵ نومبر ۱۹۷۶ء‘ از قلم مولانا تاج محمود)
پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور قادیانی
سازشیں‘ سازشیں‘ سازشیں
محترم ابن نظام نے چٹان کے جنوری کے شمارے میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو سائنس فاؤنڈیشن میں کام کرنے کے لیے اسلامی کانفرنس نے ۵ کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے۔ جبکہ ڈاکٹر سلام نے اسلامی کانفرنس سے ایک ارب ڈالر کا تقاضا کیا تھا۔ ڈاکٹر سلام نے ٹریسٹے اٹلی میں نظریات طبیعات کا بین الاقوامی مرکز قائم کیا ہے جس کے وہ ڈائریکٹر ہیں۔ اس مرکز کو بین الاقوامی ایٹمی ادارے یونیسکو کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر سلام کے بقول یہ غیر سیاسی ادارہ ہو گا اور اسے مسلم ممالک کے سائنس دان چلائیں گے۔
ڈاکٹر سلام نے سائنس فاؤنڈیشن کے بارے میں یہ گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے اس ادارے کی پالیسی اور ورکنگ ان کے مشوروں کی مرہون منت ہے۔ اسلامک سائنس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل جناب احمد قطانی (مراکش) بڑے زیرک اور محب اسلام ایٹمی سائنس دان ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر سلام کی چرب زبانی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے اور ان کے ہتھکنڈوں میں آنے سے صاف انکار کر دیا۔ ڈاکٹر سلام آج کل اسی نوع کا تاثر کویت میں دے رہے ہیں۔ کویت میں موصوف کی حیثیت اقوام متحدہ کے نمائندے کی سی ہے جس پر حکومت کویت کو کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
یہ قادیانی گماشتہ کس عیاری سے اسلامی ممالک کے ایٹمی اداروں میں نقب لگا رہا ہے۔ اسلامک سائنس فاؤنڈیشن جدہ میں واقع ہے۔ سعودی عرب کے بارے میں مشہور ہے کہ کوئی قادیانی وہاں پر نہیں مار سکتا۔ مگر ڈاکٹر سلام کے وہاں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ۔ وہ پوری یکسوئی اور اعتماد کے ساتھ جدہ میں تمام اسلامی ممالک کے ایٹمی پروگراموں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ اندازہ لگائیے کہ قادیانی کس قیامت کی چال چلتے ہیں اور سادہ لوح مسلمان کتنے وثوق سے فریب کا شکار ہورہے ہیں۔
ڈاکٹر سلام کس پایہ کے سائنس دان ہیں اور انہیں نوبل پرائز کس تحقیق کے سلسلہ میں ملا۔ انہوں نے عالمی انعام حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی کیا خدمات سرانجام دیں۔ یہ معمہ بھی حل ہوچکا ہے کہ پاکستان کے ایک ”مایہ ناز“ ایٹمی سائنس دان نے انکشاف کیا تھا کہ یہودیوں نے آئن سٹائن کی صد سالہ برسی کے موقع پر فیصلہ کیا تھا کہ نوبل پرائز اپنی لابی میں جانا چاہیے۔ چنانچہ قرعہ فال ڈاکٹر سلام کے نام نکلا۔ یوں ڈاکٹر سلام نوبل انعام یافتہ ہوئے۔ ورنہ اہلیت کے اعتبار سے وہ اس عالمی انعام کے سزاوار نہ ہو سکتے تھے۔ ڈاکٹر سلام نے عالمی اعزاز تو حاصل کر لیا ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی میدان میں انتہائی استعداد کے بعد انہوں نے ملک کے لیے کون سا کارنامہ سرانجام دیا۔ کس سائنسی شعبہ میں ان کی دریافت سامنے آئی۔ کون سا معرکہ سر ہوا؟ یہ سوالات آج تک تشنہ جواب ہیں۔ ہم نے ان کے گلے میں پھولوں کے ہار تو ڈال دیے۔ سرکاری سطح پر ان کا پر تپاک استقبال کیا۔ صدر پاکستان ان کے خیر مقدم میں بچھ بچھ گئے۔ ملت اسلامیہ کے جذبات سے بے نیاز ہو کر ان کی راہ میں پھولوں کی کہکشاں سجا دی گئی مگر اب تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اداروں میں کون سی انقلابی تبدیلی لائے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق وہ کوئی خدمت انجام دینے کے بجائے پاکستان کے بارے میں ایٹمی معلومات ہندوستان منتقل کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں کوئی قابل اور ذہین سائنس دان ایٹمی اداروں تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر سلام پاکستان آتے ہیں تو چند ہفتے قیام کے بعد وہ ہندوستان کو عازم سفر ہو جاتے ہیں، جہاں ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بنگلور‘ بنارس اور ہندوستان کی دیگر بڑی درسگاہوں میں جدید سائنسی علوم پر لیکچر دیتے ہیں۔ لیکچر محض بہانہ
ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے کٹر غنیم ہندوستان کو اپنی تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرتے ہیں۔
انڈیا انہی معلومات کی بنا پر لوک سبھا اور عالمی سطح پر نوحہ کرنے لگتا ہے اور ان کے اخبارات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ گھر کے بھیدی اس طرح لنکا ڈھا رہے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی دانشور ڈاکٹر سلام کی علمیت کے قصیدے پڑھتے تھکتے نہیں۔
ڈاکٹر سلام ایک طویل عرصہ تک پاکستان میں صدر کے سائنسی مشیر رہ چکے ہیں۔ وہ مسٹر بھٹو کے سائنسی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ جناب بھٹو نے انہی کے ایماء پر ڈاکٹر شہزاد صادق کو فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا تھا اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے تمام وسائل ان کی تحویل میں دے دیے تھے۔ ڈاکٹر شہزاد برسوں او جی ڈی سی میں سیاہ و سفید کے مالک رہے اور رفتہ رفتہ قادیانی لابی کے لوگوں کو اوپر لاتے رہے۔ بھٹو کے بعد انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا۔ مگر آج تک تیل اور گیس کی کارپوریشن قادیانی لابی کے تصرف سے آزاد نہیں ہو سکی۔ اب بھی انہی پر عنایات کی بارش ہو رہی ہے اور ہم اپنی کوتاہی اور غفلت پر کف افسوس مل کے رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر سلام جب تک مسٹر بھٹو کے مشیر رہے، ان کی تمام صلاحیتیں قادیانی لابی کے لیے سرگرم رہیں۔ جناب بھٹو کچھ کچھ قادیانیوں کے عزائم سے باخبر ہو گئے تھے۔ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ان کے اقتدار کے گرد ان کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
مسٹر بھٹو کے دور میں ایک سائنسی کانفرنس ہو رہی تھی۔ شرکت کے لیے ڈاکٹر سلام کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب قومی اسمبلی نے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر سلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے مندرجہ ذیل ریمارکس کے ساتھ اسے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھیج دیا:
I do not want to set foot on this accursed land until the constitutional amendment is withdrawn.
”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک آئین میں کی گئی ترمیم
واپس نہ لی جائے"۔
مسٹر بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصہ سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے اشتعال میں آ کر اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ ڈاکٹر سلام کو فی الفور برطرف کر دیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی۔ تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ وقار احمد بھی قادیانی تھے۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی اہم دستاویز فائلوں میں محفوظ رہتی۔ اتنی دریدہ دہنی اور ڈھٹائی کے باوجود جب ڈاکٹر سلام پاکستان آتے ہیں تو ان کی پذیرائی میں سرکار کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ اور ان کا شایان شان خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ وطن عزیز کی رسوائی اور حد درجہ بے حرمتی کرنے والے اس ڈاکٹر کی پذیرائی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
مارشل لاء کے فیض یافتہ اور سابق وزیر تعلیم مسٹر محمد علی ہوتی کو ڈاکٹر سلام کا کلاس فیلو ہونے کا افتخار حاصل ہے۔ ڈاکٹر سلام جب پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، تو جناب ہوتی نے ان دنوں سخت احتجاج کیا تھا کہ سلام قادیانی ہے۔ اس کا کھانا الگ کیا جائے۔ چند دن ہوئے مجھے ڈاکٹر سلام کے ایک پرانے رفیق اور ہم جماعت سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر سلام جب بھی پاکستان آتے ہیں تو یونیورسٹی کی پرانی یادیں تازہ کرنے کے لیے ان کے پاس مختصر قیام ضرور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلام نے انہیں بڑے فخر سے بتایا کہ محمد علی ہوتی جس نے ہوسٹل میں ان کا کھانا الگ کر دیا تھا، آج کل اسلام آباد ائیر پورٹ پر گاڑی لے کر حاضر ہو جاتا ہے اور خوش آمدید کا یہ منظر دیدنی ہوتا ہے۔ نفرت محبت کے قدموں میں کس طرح سجدہ ریز ہوئی، اس اسرار سے سابق وزیر تعلیم ہی پردہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم دانائے راز یہی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر سلام کی خوشنودی کے طالب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عہد و منصب کی تقسیم میں ڈاکٹر سلام کی کرم فرمائی اور نوازش شامل ہوتی ہے۔
مجھے اس نابغہ روزگار کی بات دل کو لگتی ہے، جس نے کہا تھا کہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت اس وقت تک برسر اقتدار نہیں آسکتی جب تک اسے قادیانیوں کا غیر معمولی التفات میسر نہ ہو۔ انگلستان کا یہ پودا اب تناور پیڑ کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کا زہر اور
جڑیں ملک کے چاروں طرف پھیل رہی ہیں۔ انگریز کا آفتاب جب تک برصغیر پر قائم رہا‘ اس نے انہی افراد کو عہدوں سے نوازا‘ جو یا تو قادیانی تھے یا ان کے منظور نظر تھے۔ اس طرح وہ ایک ایسی لابی قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے‘ جو آج بھی ان کے افکار اور مفادات کی پروٹیکشن کر رہی ہے۔ مجھے اس میں کوئی شبہ نظر نہیں آتا کہ آج ملک میں ہماری دینی جماعتوں کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوئے ہیں‘ ان کے پیچھے قادیانی منصوبہ بندی اور سازشوں کی بساط کام کر رہی ہے۔
انگریز کی پروردہ یہ تنظیم زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی شاخیں پھیلا رہی ہے اور سرکاری محکموں میں دخیل ہونے کی حد تک اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے صحیح طریقہ سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ حساس محکمے اس کی دست برد سے کل محفوظ تھے نہ آج۔ اس کے ایجنٹ خود کو لبرل ثابت کرتے ہیں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے عمل کو محض ملاؤں کی تنگ نظری اور کج اندیشی سے منسوب کرتے ہیں۔ ملا کا لفظ گالی بن کے رہ گیا ہے اور کوئی فرد رجعت پسند کہلوانے کے لیے آمادہ نہیں۔ بعض لوگ بڑی معصومیت اور سادہ لوحی سے سوال کرتے ہیں کہ ان مولویوں نے کیا ہنگامہ کر رکھا ہے۔ کیا پاکستان میں اقلیت کو تحفظ حاصل نہیں۔ کیا یہاں ہندو‘ سکھ‘ عیسائی اور پارسی نہیں رہتے۔ انہیں اگر شہری حقوق اور تحفظات حاصل ہیں تو قادیانی اس سے کیوں محروم ہیں۔ تان آکر یہیں ٹوٹ جاتی ہے کہ یہ چند گمراہ مولویوں کے ذہن کا شاخسانہ ہے۔ ایک معروف کالم نویس نے قادیانیوں کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں تو پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں سے زیادہ حقوق اور تحفظ ملنا چاہیے۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کئی اقلیتیں سکونت پذیر ہیں اور ریاست نے ان کے حقوق محفوظ کیے ہیں مگر آج تک کسی عیسائی یا ہندو نے اٹھ کر یہ باطل دعویٰ نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہے۔ عیسائی اپنے آپ کو عیسائی سمجھتے ہیں اور ہندو خود کو ہندو کہلواتے ہیں۔ اگر کوئی شخص برسرعام اعلان کرے کہ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے علاوہ وہ بھی صدارت کے عہدے پر متمکن ہے تو 9 کروڑ عوام اسے پاگل سمجھنے میں ایک لمحہ کے لیے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ کیا حکومت یا ریاست اس قسم کے باغیانہ نعرے کو برداشت کر سکتی ہے؟
مرزا غلام احمد نے بانگ دہل اپنے آپ کو نبی کہا ہے۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار
اور فرقہ دجل کو کس تحمل سے برداشت کیا گیا، اس کے پیرو کار اور ان کے خیر اندیش ملت اسلامیہ کو تلقین کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو تمام اقلیتوں سے زیادہ حقوق دیے جائیں جبکہ وہ اعلانیہ اور واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ اسرائیل میں ہمارے مشن ہیں۔ یہودیوں کے وہی دوست ہو سکتے ہیں جو پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن ہیں۔
پچھلے دنوں اسرائیل کے ایک اخبار یروشلم پوسٹ کے صفحہ اول پر تصویر شائع ہوئی جس میں قادیانی مشن کے سربراہ نے اسرائیل کے صدر کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ اس نے انہیں مکمل آزادی دی اور ان سے تعاون کیا۔ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور بیت المقدس کی بے حرمتی کرنے والے یہودیوں کے انہی کے ساتھ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں جو ۹۰ کروڑ مسلمانوں کے دینی جذبات سے کھیل رہے ہیں۔
ہمارے یہ لبرل دانشور جو قادیانیوں کو فتنہ اور غیر مسلم قرار دینے والے پر رجعت پسندی کی پھبتی کستے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسٹر بھٹو کوئی مولوی نہ تھے۔ اور نہ کوئی رجعت پسند لیڈر، بلکہ سزائے موت پانے سے پہلے انہوں نے شیو کا سامان طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں مولوی کی موت نہیں مرنا چاہتا۔
"I dont want to die like moolvie death."
مسٹر بھٹو سے ہزار اختلافات کی گنجائش ہے مگر کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا کہ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف تحریک کی پرورش کی اور بالآخر انہیں ۱۹۷۴ء کے آئین میں غیر مسلم قرار دے کر دم لیا۔ یہ اتنا بڑا کریڈٹ ہے کہ آخرت میں ان کے لیے ذریعہ نجات بھی بن سکتا ہے۔ چٹان کے بانی آغا شورش کاشمیری نے مسٹر بھٹو کے نظریات کے خلاف ایک طوفانی جنگ لڑی۔ جیل میں گئے اور ناقابل برداشت صعوبتیں برداشت کیں مگر جب بھٹو نے آئین میں ترمیم کی تو انہوں نے تمام اختلافات سے بالا تر ہو کر انہیں زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔ حالانکہ ان کے رفقاء ان سے متفق نہ تھے مگر آغا صاحب نے انہیں کہا، آج مسٹر بھٹو کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی نہ کی گئی تو وہ آئندہ کوئی اچھا کام نہ کریں گے۔ تم اگر میرا ساتھ نہیں دینا چاہتے تو نہ دو، میں تنہا اس شخص کو مبارک باد پیش کروں گا جس نے ناموس رسالت کی حرمت کو قائم رکھا۔ چنانچہ یہ کہنا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا محض علماء کی بصیرت کی تنگی ہے، سراسر خلاف حقیقت ہے۔
مسٹر بھٹو نے اپنے دور میں کہوٹہ ریسرچ سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا اور ممتاز ایٹمی سائنس دان جناب اے کیو خان کو ہالینڈ سے بلا کر کہا آپ کام کریں اور اس سلسلہ میں بھاری اخراجات کی فکر نہ کریں۔ کہوٹہ سینٹر کے قیام کے فوراً بعد یہودی حرکت میں آگئے۔ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف سازش کا جال پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کے علم و فن کا اعجاز ہے کہ وہ نہایت قلیل مدت میں پاکستان کو یورینیم کی افزودگی میں بھارت کے مقابلے میں بہت آگے لے آئے۔ یہ بات یہود کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی۔ چنانچہ ایک منظم منصوبہ کے تحت ڈاکٹر صاحب پر ایٹمی راز چرانے کا شوشہ چھوڑا گیا۔ ہالینڈ کی عدالت میں ڈاکٹر صاحب کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلا کر یک طرفہ فیصلہ کرایا گیا۔ تاکہ ڈاکٹر صاحب کو قوم کی نظروں سے گرا دیا جائے۔ اہل پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کے گلے میں گولڈ میڈل پہنا کر اپنے جذبات کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ اس سے بھی بڑے اعزاز کے مستحق ہیں کہ گولڈ میڈل ان کی خدمات کے صلے میں بڑی حقیر چیز ہے۔ نوبل پرائز بھی ان کے جاوداں کارنامے اور خدمات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ۹ کروڑ پاکستانیوں کے دل ڈاکٹر صاحب کے لیے دھڑکتے ہیں۔ جذبوں کا یہ خراج تمام عالمی انعامات سے سوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے فقط اہل پاکستان کی محبتیں اور جذبات سے معمور دھڑکنیں ان کی آسودگی کے لیے کافی ہیں۔ ویسے بھی ان کے پایہ کی شخصیت عالمی اعزاز اور میڈلوں سے بالا تر ہے۔ اہل وطن کی نگاہیں ہر وقت ان کے لیے فرش راہ رہتی ہیں۔ یہ افتخار بانی پاکستان کے بعد اگر کسی شخص کے حصہ میں آیا ہے تو وہ فقط ڈاکٹر قدیر خان ہیں جو ۹ کروڑ آنکھوں میں محو خرام ہیں۔
ڈاکٹر اے کیو خان کے خلاف قادیانی ٹولہ اس لیے بھی سرگرم ہے کہ انہوں نے کہوٹہ ریسرچ سینٹر میں کسی قادیانی فرد کو ملازمت نہیں دی۔ جبکہ ایٹمی توانائی کمیشن میں ۲۵ کے قریب قادیانی اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں جن میں ڈاکٹر سلام کا بھائی بھی شامل ہے۔
معتبر ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام جب پاکستان آتے ہیں تو ایٹمی توانائی کمیشن کراچی کے گیسٹ ہاؤس میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔ وہ جناب منیر احمد خان کو فون کرتے ہیں تو موصوف عالم شوق میں کراچی پہنچ جاتے ہیں۔ وہیں اہل دل کی محفل سجتی ہے اور کسی نامہ و قاصد کے بغیر پیغام پہنچتے ہیں۔ ڈاکٹر سلام وہیں سے
ہندوستان کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔ وہ وہاں کی معروف درس گاہوں میں اپنے بلیغ و فصیح لیکچر سے اہل علم کی تشنگی بجھاتے ہیں۔
ایک دانائے راز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سلام کی نگاہ ملک کے ان تمام افراد پر مرکوز ہے جو جدید اور ایٹمی علوم پر دستگاہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے تمام حضرات کو ایٹمی اداروں سے دور رکھیں تاکہ پاکستان میں کوئی جوہر قابل سامنے نہ آسکے۔ مجھ تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایسے کئی ذہین سائنس دان ڈاکٹر سلام کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر سعید زاہد اس سلسلے میں سرفہرست ہیں۔ ڈاکٹر زاہد، ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنس دان ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین مسٹر جان فلپ بیکٹر کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے نہایت امتیازی حیثیت سے دو کورسز کیے۔ شکاگو کی شہرت یافتہ ایٹمی تجربہ گاہ آرگان نیشنل لیبارٹری سے نیوکلیئر انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا اور اوکرج میں نیوکلیئر ری ایکٹر ہیزرڈ کا کورس کیا۔ ڈاکٹر زاہد اپنی فیلڈ میں یکتا سائنس دان ہیں جنہوں نے نیوکلیئر ری ایکٹر ہیزرڈ کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان میں چشمہ کی منصوبہ بندی اور بلڈنگ کو ڈیزائن کرنے میں اس یکتائے روزگار سائنس دان کی شبانہ روز مساعی اور کاوشوں کا گہرا دخل ہے۔ امریکہ کے چوٹی کے ایٹمی سائنس دانوں نے ڈاکٹر سعید زاہد کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ بلکہ نیوکلیئر ری ایکٹر کے بارے میں ان کی بیش قیمت رائے کا احترام کیا ہے۔ آج پاکستان کا یہ عظیم سائنس دان اسلام آباد میں کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ اسے پنشن تک سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں نیوکلیئر سائنس دانوں کے لیے کہنہ میں انہیں ایک کنال کا پلاٹ دیا گیا جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔ ڈاکٹر سعید زاہد کی وہ خطا کیا تھی جس کی پاداش میں انہیں پنشن اور رہائشی سہولت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ڈاکٹر سلام کو استقبالیہ دینے کے لیے آمادہ نہیں تھے جبکہ حکومت کی طرف سے انہیں ریسپشن دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ڈاکٹر سلام ان کی گستاخی کس طرح برداشت کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر زاہد کا انکار سلام کی طبع نازک پر گراں گزرا۔ چنانچہ انہیں سائنس فاؤنڈیشن سے فارغ کر دیا گیا کیونکہ ڈاکٹر سلام کی ہر بات آج بھی جان غزل کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افریقہ کی ایک ریاست میں حکومت پاکستان کے مصارف پر
جو تبلیغی مشن روانہ کیا جاتا ہے، ان کا کثیر زر مبادلہ قادیانیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ تبلیغی مشن پر جانے والے وفد کے تمام اراکین قادیانیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اسلامی ریاست کا خزانہ غیر مسلموں کے لیے آج بھی کھلا ہے۔ نہ کوئی احتساب، نہ باز پرس۔ کس سے داد فریاد کی جائے
ایم ایم احمد کے زمانے میں یہی دستور رائج تھا۔ اس وقت کسی سرپھرے نے قومی اسمبلی میں سوال اٹھا دیا کہ قوم کو اعتماد میں لیا جائے کہ حکومت پاکستان قادیانیوں کے تبلیغ دین کے لیے بھاری اخراجات کیوں برداشت کر رہی ہے۔ جب یہ سوال متعلقہ وزارت میں پہنچا تو ایم ایم احمد نے اس کا گلہ گھونٹ دیا تھا۔ ان دنوں وزارت خزانہ کے سیکرٹری یہی تھے۔ اس کے بعد کسی مرد حر نے جرات نہ کی۔ آج بھی قومی اسمبلی میں یہ سوال اٹھ جائے تو ایوان کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ اہل وطن کو معلوم ہو جائے کہ کتنا کثیر زر مبادلہ قادیانیوں کے مشن پر اٹھ رہا ہے۔ یہ سوال بھی جاں گسل ہے کہ ڈاکٹر سعید زاہد کو ڈاکٹر سلام کی خواہشات اور مفادات کی نذر کیوں کیا گیا۔ انہیں راستے کا پتھر سمجھنے والے اپنے کن آقاؤں کے لیے دست تعاون دراز کیے بیٹھے ہیں۔
میری معلومات کے مطابق حکومت عراق اپنے ایٹمی پروگرام کے فروغ کے لیے ڈاکٹر زاہد کی علمی اور سائنسی استعداد سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ مگر پاکستان کا یہ ممتاز سائنس دان قادیانی سازش کا شکار ہو کر گمنامی اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ نوکر شاہی کی چیرہ دستیوں سے اس کا سینہ فگار اور دل چھلنی ہو چکا ہے۔ جس شخص نے نیوکلیئر فیکٹری کو ابتدائی مرحلے میں نئی زندگی دی، اس کی ڈیزائننگ میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں، سائنس فاؤنڈیشن کو نئی سمتیں عطا کیں، جدید سائنسی علوم پر ید طولیٰ رکھنے والا یہی شخص دیار وطن میں بے یار و مددگار ہے اور شہر خوباں میں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے اور ادھر جناب جونیجو کچھی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیتے چلے ہیں۔ نظام اسلام کا چرچا ہے اور حقوق العباد سے بے نیازی کا بھی مظاہرہ ہو رہا ہے۔
بیان کیا جا چکا ہے کہ ڈاکٹر سعید زاہد کا قصور فقط یہ تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر سلام کو ری
ریسپشن دینے اور اس میں شرکت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ استقبالیہ میں عدم شرکت پر انہیں سیکرٹری کی طرف سے ناپسندیدگی کا پیغام پہنچایا گیا۔ ڈاکٹر سلام نے اپنی راہ کا کانٹا صاف کر کے ہی سکھ کا سانس لیا۔ تاہم ڈاکٹر اے کیو خان کو وہ اب تک اسیر نہیں کر سکے۔ حالانکہ ڈاکٹر قدیر ان کی عقابی نگاہوں میں شروع دن سے ہی کھٹک رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے ایک بالمشافہ ملاقات میں ڈاکٹر سلام کے نوبل پرائز کی پردہ داری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہودیوں نے آئن سٹائن کی صد سالہ برسی کے موقع پر ڈاکٹر سلام کو عالمی انعام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس انٹرویو کی اشاعت پر قادیانیوں نے طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ صدر پاکستان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ ڈاکٹر قدیر اپنے بیان کی تردید کریں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیانیوں کی براہ راست رسائی کہاں تک ہے اور وہ چلمن کے پیچھے بیٹھ کر کہاں سے تار ہلاتے ہیں۔
پاکستان کے ممتاز جیالوجسٹ نے نوائے وقت کے چیف رپورٹر جناب انور فیروز سے انٹرویو کے دوران لرزہ خیز انکشاف کیا تھا۔ ان کا یہ بیان ”نوائے وقت“ کے جمعہ میگزین میں شائع ہوا۔ جس کی تردید آج تک نظر سے نہیں گزری۔
”میں نے ۱۹۶۷ء میں پہلی بار یورینیم دریافت کیا اور اس کی اعلیٰ کوالٹی کے نتائج حاصل کیے۔ یہ سابق صدر ایوب کے لیے چونکا دینے والا انکشاف تھا۔ کیونکہ ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عثمانی کہہ چکے تھے کہ پاکستان میں یورینیم نہیں ہے۔ ایوب خان سے میری ملاقات کے چند دن بعد ڈاکٹر عثمانی کو چیئرمین کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ اس نے ایوب خان کو اس لیے اندھیرے میں رکھا کہ یورینیم کی مدد سے کمیشن کو بھاری رقم مل سکتی تھی۔ ایوب خان نے ایٹمی ادارے کے ڈاکٹر غنی سے کہا کہ وہ میرے ساتھ گلگت جائیں۔ ڈاکٹر غنی نے میری کوششوں کی تعریف کی۔ ان کی واپسی کے بعد میں نے کوششیں تیز کیں اور ۲۰۰ کلو گرام یورینیم نکالا اور پھر ایوب خان سے ملا۔ ایوب خان نے ہدایت کی کہ فرانس سے ماہرین کی ٹیم بلائی جائے جو ان علاقوں کا سروے کرے۔ ٹیم گلگت گئی اور صدر کو رپورٹ دی۔ میں ایوب خان کو ۱۹۶۸ء کے شروع میں پھر ملا۔ جنہوں نے مجھے راولپنڈی بلا کر بھاری انعام دینے کا اعلان کیا مگر انہیں مہلت نہ مل سکی۔ ان کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ وہ اقتدار چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد یورینیم کی تلاش کا
منصوبہ غائب ہو گیا۔ صرف ایک جیالوجسٹ یورینیم کی تلاش میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اسے برطرف کر دیا گیا۔ وہ ملک سے باہر چلا گیا اور دوسرے ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے"۔ ایٹمی توانائی کمیشن کے موجودہ چیئرمین نے عہدہ سنبھالا تو مجھے ۲۴۰۰/- روپے ماہانہ کی پیش کش کی۔ پہلے ماہ تنخواہ دی گئی۔ دوسری بار مشروط کر دی گئی کہ میں اخباری بیان دوں کہ میرا پہلا موقف جو سرکاری فائلوں میں تھا، وہ غلط تھا۔ میرے انکار پر میری ملازمت ایک ماہ بعد ختم کر دی گئی"۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے، شیر خان کے پاس ۸ ہزار کلوگرام یورینیم پڑا ہے جسے ایٹمی توانائی کمیشن خریدتی ہے نہ حکومت فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ یاد رہے کہ ایک ایٹم بم کی تیاری میں دس کلو گرام یورینیم درکار ہے۔ ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین نے محض اس لیے شیر خان کو ملازمت سے برطرف کر دیا کہ اس نے پاکستان میں یورینیم کے بھاری ذخائر کی تردید سے صاف انکار کر دیا تھا۔ شیر خان نے سابق وزیر پٹرولیم اور راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس کے گولڈ میڈلسٹ کو متعدد خطوط لکھے۔ امریکہ سے قومیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر اسد نے مکتوب نگار کو جواب تک دینے کی زحمت نہ کی۔ شیر خان نے صدر سے کہا کہ اگر مجھے ملاقات کا وقت عنایت کیا جائے تو وہ ان تمام چہروں کو بے نقاب کر سکتے ہیں جو پاکستان میں ایٹمی پروگرام کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک ایٹمی قوت بنے۔
ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین جناب منیر احمد خان نے تادم تحریر شیر خان کے الزام کی تردید نہیں کی۔ راولپنڈی کے ایک مقامی ہفت روزہ نے یہ شدید الزام عائد کیا ہے کہ اس ادارے میں قادیانی یعنی بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ موجود ہیں۔ ایک منصوبہ کے تحت قادیانیوں کی ایک بڑی کھیپ کو ایٹمی توانائی کمیشن میں انتہائی اہم مقامات پر فائز کیا گیا ہے۔
جناب منیر احمد خان نے اردو ڈائجسٹ سے ایک تفصیلی انٹرویو میں یہ خوش رنگ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ مقامی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ ۱۹۷۷ء میں انہوں نے روزنامہ جنگ میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اب ہر سال ایٹمی ری ایکٹر لگائیں گے۔ وقت نے اس دعویٰ کو بھی باطل
ثابت کر دیا ہے۔ ہمارے پاس لے دے کے صرف ایک ایٹمی ری ایکٹر موجود ہے جو برقی توانائی کے لیے کراچی میں نصب کیا گیا ہے۔ ۱۳۷ میگاواٹ کا یہ ری ایکٹر ناقص کارکردگی کے باعث رواں حالت میں نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۱۳۷ میگاواٹ کا پوری دنیا میں یہ واحد ری ایکٹر ہے جبکہ بالعموم ۵۰۰ یا ایک ہزار میگاواٹ کا حامل ری ایکٹر ہوتا ہے۔ تحریک استقلال کے سربراہ جناب اصغر خان نے بھی ایٹمی توانائی کمیشن کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ ۱۳۷ میگاواٹ کا حامل یہ ری ایکٹر صحیح حالت میں کام کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے پاس ایٹمی ری ایکٹروں کی تعداد بارہ کے لگ بھگ ہے۔
ڈاکٹر عفاف نے روزنامہ ”مسلم“ کے ۹ مارچ کے شمارے میں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستان کے ایٹمی توانائی کے کمیشن میں بے شمار پی ایچ ڈی سائنس دان کام کر رہے ہیں۔ جبکہ منیر احمد خان جو گزشتہ چودہ سال سے مسلسل ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ نہ تو ڈاکٹر ہیں نہ ہی نیوکلیئر انجینئرنگ میں انہوں نے کوئی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ صرف الیکٹریکل انجینئرنگ میں ایم ایس سی ہیں۔ انہوں نے چودہ سال میں کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا ”منیر احمد خان کی عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں لیکن اپنی ملازمت میں توسیع کرنے کے لیے انہوں نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے ہیں۔ داد دیجئے کہ انہوں نے سفارش کے لیے کیا خوبصورت منصوبہ تیار کیا ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ اب تک اپنے منصوبہ میں کامیابی ہو بھی چکی ہو۔
مارچ کے آخر میں ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سیگواڈ ایکلونڈ کو خصوصی طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر سیگواڈ نے صدر پاکستان سے بھی ملاقات کی اور بعد ازاں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی توانائی کے پر امن مقاصد خاص طور پر میڈیسن اور زراعت کے شعبوں میں زبردست ترقی کی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے معائنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ان تنصیبات کی دیکھ بھال اور سب سے بڑھ کر پاکستانی سائنس دانوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی توانائی کمیشن کو اس عظیم الشان کارکردگی کے پیش نظر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی
ٹیکنالوجی میں پاکستان کا مستقبل بڑا روشن ہے۔ ڈاکٹر سیگوارڈ نے پنسٹیک کا بطور خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنسٹیک ٹریننگ اسکول میں سائنس دانوں کی تعلیم و تربیت کا معیار بڑا قابل تعریف ہے۔
ڈاکٹر سیگوارڈ کا یہ ستائشی بیان باخبر لوگوں کے لیے موجب حیرت ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جو قبل ازیں پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ آج اسی زبان سے تعریف کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ زبانی تنقید توصیف و ستائش میں کیسے ڈھل گئے۔ ڈاکٹر سیگوارڈ نے پنسٹیک کا بطور خاص حوالہ دیا اور منیر احمد خان کی خدمات اور علمی صلاحیتوں کو سراہا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب منیر کی عمر ساٹھ کے ہندسے کو چھو رہی ہے۔ اور وہ ملازمت سے ریٹائر ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ توسیع ملازمت کے لیے ان کے دل میں تمنا جوان ہو رہی ہے۔ بعض باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست اپنی ملازمت میں توسیع کی استدعا نہیں کرنا چاہتے بلکہ بالواسطہ جناب صدر اور وزیر اعظم کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خود کہنا نہیں چاہتے تھے۔ زبان غیر سے اس کی شرح کر دی گئی ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سیگوارڈ ایکلونڈ کا ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ‘ جب جناب منیر احمد خان ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں‘ بڑا ہی پہلو دار اور معنی خیز ہے۔ کچھ لوگ منیر احمد خان اور ڈاکٹر سیگوارڈ کے درمیان گہرے مراسم اور ربط باہم کو بھی خیال آفریں سمجھتے ہیں۔
ہمارے قومی رہنماؤں میں اصغر خان وہ واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بڑی فراوانی سے بیانات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال امریکہ میں قیام کے دوران کہا تھا کہ یہ پاکستان کی حماقت ہوگی کہ وہ ایٹم بم بنائے۔ اسرائیلی ریڈیو ان کے کلام کو لے اڑا تھا اور حضرت اصغر خان کے اس جرات مندانہ بیان پر خراج تحسین پیش کیا تھا۔ اصغر خان بہت مسرور ہیں کہ ستائش کی سند مل گئی۔ یہ اعزاز ان کو مبارک ہو۔ رقیب بھی خوش ہے کہ میر کارواں خوئے دل نوازی رکھتا ہے۔ اصغر خان کا سیکولر ازم جو کل تک دل نشین لفظوں میں مستور تھا‘ آج ان کے قلم سے چھلک پڑا ہے۔
ہم برسبیل تذکرہ یا تفریحاً یہ بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ قصداً انہوں نے یہ نرم گوشہ رکھا ہے تاکہ اہل قادیان ان سے الرجک نہ ہوں اور انہیں قربت کا احساس رہے۔ بیان
کہا جاچکا ہے کہ اسرائیل اور قادیان کوئی غیر نہیں ہیں۔ قادیانیوں نے جبکہ اسرائیل میں اپنے مشن قائم کر رکھے ہیں تو کیا اسرائیل اپنی موساد کے ذریعے قادیانیوں کی صفوں میں داخل نہیں ہو سکا؟ قادیانی اور یہودی اصل میں دونوں ایک ہیں۔ ایک کو قادیان کی بازیافت کی تڑپ ہے تو دوسرے کو ہیکل سلیمانی کی جستجو بے چین کر رہی ہے۔ شاہین پاکستان نے روزنامہ جنگ کو ایک طویل انٹرویو دیا۔ فرماتے ہیں:
صدر نے قوم کو پرفریب تاثر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ تاثر سراسر غلط ہے۔ میری معلومات کے مطابق پاکستان کے سائنس دانوں کو ایٹم بم تیار کرنے کی تمام صلاحیتیں رکھنے کے باوجود ایسے کسی پروگرام کو تکمیل کے آخری مراحل تک پہنچانے کی ہدایات نہیں ہیں۔ نہ ہی موجودہ حکومت اس قسم کے منصوبے میں سنجیدگی کے ساتھ دلچسپی رکھتی ہے۔ بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ ضیاء الحق عالمی رائے عامہ اور پاکستانی قوم دونوں کو دھوکہ میں رکھے ہوئے ہیں۔ ویانا میں سبرامنیم اور ڈاکٹر عبدالسلام کے درمیان ہونے والی گفتگو صورت حال کو واضح کر دیتی ہے"۔
(روزنامہ جنگ ۱۵ مارچ ۱۹۸۶ء)
اصغر خان کے اس بیان سے واقعی صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر سلام اور سبرامنیم کی گفتگو کا حوالہ دیا۔ جو ویانا میں ان کے درمیان ہوئی۔ مقام فکر ہے کہ پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر سلام کو بات کرنے پر کس نے مامور کیا۔ خلوت میں ہونے والی ملاقات اصغر خان تک کیسے پہنچی۔ یہ راز نہاں ان پر کیسے عیاں ہوا۔ اصغر خان کے بیان پر تبصرہ تو بعد میں ہو گا مگر کیا یہ حقیقت کسی ثبوت کی محتاج ہے کہ ڈاکٹر سلام اپنے آقاؤں کو ایٹمی خبروں کی ترسیل کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ کہاں ڈاکٹر سلام اور کہاں سبرامنیم۔ یہ سبرامنیم وہ شخص ہیں جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ہماری رسوائی کے در پے ہیں۔ سبرامنیم کو تو بھارت کی نمائندگی کا حق حاصل ہے مگر پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر سلام کو ترجمانی کا حق کس نے دیا۔ یہ سوال حقائق کا پردہ چاک کر کے رکھ دیتا ہے۔ کیا سربراہ مملکت اس کی وضاحت فرماسکتے ہیں، کیا وہ اہل وطن کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر بتایا جائے کہ شاہین پاکستان، ڈاکٹر سلام کی وضاحت کو کیوں قبول کر رہے ہیں۔ انہیں ڈاکٹر سلام کی وکالت کیوں مقصود ہے؟ اگر اصغر
خاں اس پہیلی کے سیاق و سباق سے آگاہ ہیں تو وہ ہی وضاحت فرمادیں۔ مجھے ان کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔
اصغر خاں اس سلسلے میں کیا دلائل رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے کی بجائے اقتصادی پروگرام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نیز ایٹم بم بنانے کی حماقت سے باز آجانا چاہیے۔ دلیل بظاہر دل کش اور دل میں اتر جانے والی ہے مگر یہ بات کہتے وقت لائق احترام سیاسی قائد کو ہندوستان کے خوفناک عزائم سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ ہندوستان ۱۹۷۴ء میں ایٹمی دھماکہ کر کے نیوکلیئر کلب میں شامل ہوچکا ہے۔ اس نے اعلانیہ ایٹم بم بنایا ہے اور ہائیڈروجن بم کے تجربات میں مصروف ہے۔ اس نے روس کی ننگی جارحیت سے مشرقی پاکستان کو ہڑپ کر لیا ہے اور برملا عالمی پریس کے سامنے اظہار فخر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرقاب کر دیا ہے۔ دشمن جب اس قدر بھیانک تیور سے پڑوسی ملک سے مخاطب ہو تو شاہین پاکستان کا ٹائٹل حاصل کرنے والے سیاسی قائد ان کے لیے دل بستگی کا سامان پیدا کریں اور قوم کو اپنی آنکھ نیچی کرنے کے مشورے سے نوازیں تو پھر وطن کی بقا صرف دعاؤں ہی کے سہارے قائم رہ سکتی ہے۔
اصغر خاں مزید کہتے ہیں:
میں اب تک ۶۵ جلسے کر چکا ہوں۔ اس بارے میں پاکستان کی حساسیت مجھے کہیں نظر نہ آئی۔ ایٹم بم بنانے میں کسی غیر معمولی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا البتہ اخبارات میں غیر معمولی جذباتیت کا اظہار ضرور کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کا مسئلہ بھی جذباتی تھا، اس طرح نیوکلیئر پروگرام بھی۔ پاکستان کے لیے اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس صرف ایک ایٹمی ری ایکٹر ہے اور وہ بھی صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ اس وقت بڑی طاقتیں ہماری مدد کو اس وقت تک نہیں آئیں گی، جب تک انہیں ہماری نیت کے بارے میں یقین نہیں ہو جاتا۔ ضیاء الحق اب تک جو کچھ کہتے رہے ہیں، ان طاقتوں کو ان کی زبان پر اعتماد نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جنرل ضیاء جھوٹ بول رہے ہیں“۔
تحریک استقلال کے قائد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں پاکستانی عوام کے تغافل پر شکوہ کر رہے ہیں کہ وہ نیوکلیئر پروگرام پر حساس نہیں ہے۔ اسے ایٹم بم سے کوئی
دلچسپی نہیں۔ صرف اخبارات نے اسے مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ اصغر خان کے لیے یہ بات سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگی کہ قومی اخبارات عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر اخبارات پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں متجسس ہیں تو اس لیے کہ اہل وطن کے لیے یہ نہایت جذباتی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر قوم اتنی بے حس اور جذبات سے بے نیاز ہے جیسے اصغر خان سمجھ رہے ہیں تو کہوٹہ کے ہزاروں لوگ جن میں ناخواندہ بھی یقیناً شامل ہوں گے، وفور شوق میں پاکستان کے رجل عظیم جناب قدیر خان کے گلے میں گولڈ میڈل نہ ڈالتے اور ان کی عظمت کو سلام عقیدت نہ پیش کرتے۔ اصغر خان مزید فرماتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کے سلسلے میں بھی پاکستانی عوام نے جذبات کا سہارا لیا۔ ابھی لوگوں کا حافظہ محفوظ ہے۔ اسے سیاست دانوں کی طرح دیمک نہیں لگی۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پوری قوم نے خیبر سے کراچی تک بیک زبان ہو کر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ مسٹر بھٹو جہاں بھی گئے، انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بڑے فیاض سیاست دان تھے۔ انہوں نے جب قوم کا بھرا ہوا موڈ دیکھا تو وہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں لے آئے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان کی اکثریت نے پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ نوائے وقت نے اگلے روز شہ سرخی کے ساتھ خبر شائع کی کہ وزیر اعظم بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ یعنی قوم نے اس سلسلے میں مسٹر بھٹو کو مینڈیٹ نہیں دیا بلکہ یہ فرد واحد اور ایک آمر مطلق کا ذاتی فیصلہ تھا جسے ایوان کے نام سے قوم پر مسلط کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے بعد 90 ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی کا کیا جواز رہ گیا تھا۔ ہندوستان یہی چاہتا تھا کہ پاکستان بنگلہ دیش کو تسلیم کر لے۔ اصغر خان اپنے دلائل سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اہل پاکستان کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔
یہ استدلال پیش کرتے ہوئے اصغر خان اپنی کہہ مکرنی بھول گئے کہ انہوں نے قوم کے جذبات سے مجبور ہو کر بنگلہ دیش کے تسلیم کیے جانے کے اپنے پہلے موقف سے توبہ کر لی تھی۔ بنگلہ دیش کی مثال دے کر وہ اب اپنا کینہ انڈیل رہے ہیں کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں اپنی عوام کی کوئی تائید حاصل نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو ایک سچے لیڈر کو دو ٹوک بات کہنی چاہیے۔ عوام ہی ان قائدین کو لیڈر بناتے ہیں اور اصغر خان الٹا عوام کو سرزنش کرتے ہیں کہ ایک سچے لیڈر کو عوام کے جذبات اور امنگوں کی فکر دامن گیر نہیں
ہونا چاہیے۔
جہاں تک ایٹمی ری ایکٹر کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں گزشتہ دس بارہ سال سے ۵ میگا واٹ کا ایک ہی ایٹمی ری ایکٹر ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس ری ایکٹر نے آج تک ۵ میگا واٹ پر اپنی کار کردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگر ری ایکٹر مذکور کی صلاحیت کار صحیح نہیں ہے تو اس میں اہل وطن کا کیا قصور؟ یہ تو منیر احمد خان بہتر بتا سکتے ہیں جن کا دعویٰ تھا کہ مزید ری ایکٹر لائیں گے۔ چنانچہ امریکہ اور فرانس کے ماہرین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ جب پاکستان کے نامور سائنس دان واحد ری ایکٹر کو کام میں نہیں لاسکتے تو مزید فراہم کرنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ یہ رویہ پاکستانی سائنس دانوں کو نااہل اور مشکوک بنانے کے مترادف ہے اور اصغر خان وہی جواز پیش کر رہے ہیں جو امریکہ اور فرانس شروع دن سے کہتے چلے آرہے ہیں۔
ہندوستان پاکستان کے خلاف تین چار مرتبہ جارحیت کرچکا ہے۔ ہمارے مد مقابل ایک ایسا دشمن ہے جو کسی بھی لمحہ شب خون مارنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ہم دشمن کے بھیانک عزائم اور اس کے ایٹمی پروگرام کی خوفناک تیاریوں سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔ اسے جس دن ہماری کمزوری کا عرفان حاصل ہو گا، وہ جنگ و جدل سے گریز نہیں کرے گا۔ اسی باعث تو پاکستانی عوام جذباتی ہو رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کو جنگ و قتال سے کوئی دلچسپی نہیں مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی ان کو ہڑپ کرجائے۔ انہیں وطن کے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ سیاست دان جو پبلک کے جذبات اور حمایت سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے خواب دیکھتا ہے اسے عوام کے اجتماعی احساسات کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ ہندوستان کی وکالت کا طوق گلے میں لٹکا کر قوم کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ یہ محض اغیار کو خوش کرنے کے حیلے ہیں۔
میں اس دل گرفتہ داستان کو بادل نخواستہ سمیٹ رہا ہوں۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے کسی شخص کے ساتھ کوئی ذاتی عناد ہے نہ پرخاش۔ فقط اصلاح مقصود ہے۔ وطن کی محبت نے مجبور کیا ہے کہ میں اہل وطن کو قادیانیوں کی خوفناک سازش سے آگاہ کردوں جو دیمک کی طرح تمام اداروں کو چاٹ رہے ہیں۔ پاکستان کے تمام ایٹمی ادارے اس کی دستبرد سے محفوظ نہیں ہیں۔ کہوٹہ ریسرچ سنٹر ایک ایسا ادارہ ہے جو محض ڈاکٹر قدیر خان کی شدید حب
الوطنی اور والہانہ محبت کی وجہ سے ان یہودی گماشتوں سے بچا ہوا ہے۔ اگرچہ مردے کھانے والے کرگس کی طرح قادیانی اس عظیم ترین ادارے کے گرد بھی چکر لگا رہے ہیں۔ قدیر خان قوم کی متاع حیات اور سرمایہ زندگی ہیں۔ ان کی حفاظت کی جائے کہ وہ قوم کی زندگی ہیں۔
میں صدر پاکستان سے وطن کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں اصلاح احوال کی طرف توجہ دیں۔ وطن کی مٹی ان سے اپنا قرض طلب کرتی ہے۔ یہ قرض جتنی جلدی بے باق ہو‘ اتنا ہی اچھا ہے۔
(بہ شکریہ ہفت روزہ ”چٹان“ بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۵‘ شمارہ ۱۶‘
از یونس خلش)
قادیانی گروہ میں اقتدار کی جنگ۔۔۔
قادیانیوں نے مرزا طاہر کی بیعت سے انکار کر دیا
نیا صدر مقام مغربی جرمنی منتقل کرنے کا فیصلہ۔۔۔۔
مرزا طاہر صورت حال پر قابو پانے کے لیے لندن چلے گئے
چنیوٹ ۳۰ جولائی (نامہ نگار) قادیانیوں کے صدر مقام ربوہ میں اس جماعت کی جنگ اقتدار عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب بیرون پاکستان مختلف ملکوں میں ان کے مشن بھی اس کھینچا تانی میں شریک ہو گئے ہیں اور متعدد مشنوں نے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ہے نیز جماعت کے بیرونی مشنوں کے سربراہ مرزا مبارک احمد کو جماعت کا نیا سربراہ منتخب کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ ان باغی عناصر نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جماعت کا نیا صدر مقام مغربی جرمنی میں منتقل کر دیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران بھی قادیانی ہیڈ کوارٹر کو مغربی جرمنی منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ اس صورت حال سے قادیانی فرقے کے سربراہ مرزا طاہر احمد کو سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے چنانچہ وہ اس پر قابو پانے کے لیے لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں بڑے بڑے قادیانی رہنما بشمول چودھری ظفر اللہ، ایم ایم احمد، احمدی مبلغ اور
تنظیموں کے سربراہ پہلے سے موجود ہیں۔ ادھر مرزا مبارک اور ان کے ساتھی قادیانی جماعت کو موجودہ سربراہ سے نجات دلانے اور مستقبل کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں۔ ان تمام مذاکرات میں مرزا مبارک نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ طاہر احمد کے سربراہ بننے کے فوراً بعد ہی علاج کے بہانے لندن چلے گئے تھے۔ وہ بیرونی مشنوں میں فعال کردار کے حامل اور موثر شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کے مرنے کے بعد بیشتر لوگوں نے مرزا مبارک احمد کو نیا خلیفہ بنانے کی تجویز دی تھی تاکہ قادیانی فرقہ انتشار سے محفوظ رہے۔ لیکن ربوہ کی بیورو کریسی نے یہ تجویز اپنے مالی مفادات کے پیش نظر مسترد کردی۔ لیکن قادیانیوں کی اکثریت مرزا طاہر کو اپنا سربراہ ماننے سے انکاری ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت 'کراچی' ۳۱ جولائی ۱۹۸۲ء)
قادیانی وڈیرے نے مسلمانوں کو جبراً مرتد بنالیا
عبدالتواب شیخ
"تکبیر" میں قادیانیوں کی تھر میں سرگرمیوں اور سیٹلائٹ کے ذریعہ تبلیغ و نشریات جام کرکے علاقہ کے افراد کو مرزا طاہر کی ہفوات سننے پر مجبور کرنے کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد ٹیلی ویژن کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ٹنڈو الہ یار ٹی وی بوسٹر کے انجینئر محمد اسلم قائم خانی کی قیادت میں چار رکنی ٹیم نے کھوسکی اور شادی لارج کا دورہ کیا، علاقہ کے افراد سے اس سلسلے میں بیانات لیے۔ علاقہ کے افراد نے اس ٹیم کو بتایا کہ پہلے ہمارے ٹی وی کی نشریات جام ہو جاتی تھیں اور مرزا طاہر کا پروگرام آنے لگتا تھا، مگر "تکبیر" اور دیگر ذرائع ابلاغ سے اس کے خلاف آواز بلند ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے، اس انکوائری کی رپورٹ تو اعلیٰ حکام کو بھجوادی گئی ہے جس میں ان سرحدی علاقوں میں ایک بوسٹر قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کرنے کے ساتھ بھارت کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے، دور جدید کی سیٹلائٹ کے ذریعہ ابلاغ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قادیانیوں نے ایک چینل دو کروڑ روپیہ ماہانہ پر احمد ایم ٹی وی کے نام سے حاصل کیا ہے جو روسی سیٹلائٹ کے ذریعہ ایشیا میں بارہ گھنٹے دو عالمی زبانوں میں اور یورپ میں ساڑھے تین گھنٹے قادیانیوں کی نشریات دے رہا ہے، اس سلسلے میں مورخہ ۹۳-۱۰-۲۲ کو ربوہ سے ایک سرکلر SAT-ATN جاری کیا گیا، جس میں لکھا ہوا ہے کہ لندن سے موصولہ اطلاع کے مطابق ۲۹ اکتوبر بروز جمعہ سے اب جمعتہ المبارک کا خطبہ ۷۰ ڈگری ایسٹ کی بجائے ۱۰۳ ڈگری ایسٹ جہاں ATN آتا ہے، آیا کرے گا۔ یہ اسٹار ٹی وی کے بالکل قریب ہے، سٹار ٹی وی کی ڈائریکشن سے ڈش کو دو انچ مغرب کی طرف گھمائیں اور ساتھ دو انچ اوپر اٹھائیں۔ یہی ATN مطلوبہ سیٹلائٹ ہے۔ اس سیٹلائٹ کے دونوں چینل کی فریکونسی درج ذیل ہے ATNCOLD+ATN فریکونسی 1274MMZ آڈیو
فریگونسی ۷۵۰ مونو، ماسکو ٹی وی فریگونسی ۱۴۷۴ آڈیو فریگونسی ۶۷۰۲ مونو ہے۔ MTA خطبہ جمعہ فریگونسی 1425 آڈیو فریگونسی ۶۷۵۰ مونو ہے۔ اس خطہ اور نئے منصوبے کی روشنی میں مرزا طاہر کی اس پیش گوئی کو کہ پندرھویں صدی احمدیت (قادیانیت) کے غلبے کی صدی ہے‘ درست ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں نے ایک بڑے پنج سالہ منصوبہ کا آغاز کیا ہے۔ جس کے لیے کئی کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں‘ سیٹلائٹ پروگراموں کو کیچ کرنے والی ڈش جس کی مالیت مارکیٹ میں ۲۵ ہزار روپیہ ہے‘ قادیان کے مقامی صدر کے سفارشی خط پر ربوہ سے صرف دس ہزار میں فراہم کی جارہی ہے۔ صرف شرط اتنی ہے کہ آپ کم از کم جمعہ کا خطبہ ضرور سنیں‘ اس کے علاوہ تھر اور ضلع بدین کا جو سرحدی علاقہ ہے۔ انہوں نے خصوصی ہدف بنا کر کام شروع کیا ہے۔ قادیانیوں نے مٹھی شہر کے ساتھ ہی ۱۲۵ ایکڑ سے زائد زمین حاصل کر کے وہاں المہدی اسپتال کا کام شروع کر رکھا ہے۔ جس کا ٹھیکہ ربوہ کے صدیق نامی شخص کے پاس ہے‘ یہ پراجیکٹ شمسی توانائی کے منصوبے کے قریب ہے۔ جہاں سورج کی شعاعوں سے میٹھا پانی تیار کیا جاتا ہے‘ اسی طرح پاک و ہند سرحد سے قریب ترین علاقہ ننگر پار کر میں بھی ۱۳۰ ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے۔ وہاں بھی اسی قسم کے پراجیکٹ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سماجی خدمات کے حوالے سے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے ساتھ علاقہ کے افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اسپتال ملک دشمن عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بھی ہو گا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی (SOS) سے قادیانی تنظیم الناصر کے روابط کی خبروں سے ان اطلاعات کو تقویت ملتی ہے۔
حال ہی میں ایک قادیانی ماہر تعلیم ریٹائر صوبیدار میر اللہ دتہ جن کو ایک اعلیٰ فوجی آفیسر نے‘ جن کے قادیانیوں سے کھلم کھلا مراسم بتائے جاتے ہیں اور جن کا بنگلہ قادیانیوں کا گیسٹ ہاؤس بنا ہے اور جو کھلم کھلا قادیانیوں کے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں‘ ان ہی افسر کی بدولت ایڈ منسٹریٹر ایجوکیشن کینٹ بدین رکھا گیا ہے‘ کی ایک ملاقات مبینہ طور پر رانا چندر سنگھ کے فرزند حمیر سنگھ کے ساتھ وجے کمار سے ہوئی تھی‘ جو بھارت کا خطرناک تخریب کار ہے۔ اسی کینٹ اسکول میں کئی قادیانی اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں جو طالب علموں کے ذہن میں قادیانیت کا زہر منتقل کر رہے ہیں‘ اسی طرح مٹھی ہائی اسکول کا قادیانی ہیڈ ماسٹر غلام محمد کھلم کھلا قادیانیت کا پرچار کیے ہوئے ہے اور اساتذہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کے
گھر آکر ڈش کے ذریعہ نشر ہونے والے مرزا طاہر کے پروگرام کو دیکھیں، اس نے ایک استاد نور محمد ماسٹر کو بہانے سے پروگرام والے دن گھر بلایا اور وہ جب وہاں پہنچے تو وہاں نصف درجن کے لگ بھگ ہندو بیٹھے ہوئے تھے اور مرزا طاہر کا خطاب آ رہا تھا۔ ماسٹر نور محمد نے بیٹھنے سے انکار کر دیا تو اب اس کو حیلے بہانے سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی ایم ۔ پی ۔ اے ارباب عطاء اللہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سے تحریری شکایت بھی کی مگر وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگڑا اور وہ تاحال اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ گوٹھ ماہمار ضلع تھر میں اسی ہیڈ ماسٹر کے قریبی عزیز عبد الحمید نے قادیانیت کی تبلیغ کے لیے یہ طریقہ اپنایا کہ عوام کی نماز کو درست کرانا ہے اور امامت شروع کر دی۔ گاؤں والوں کو پتہ چلا کہ قادیانی ہے تو انہوں نے نکال دیا تو یہ گوٹھ کرم علی سموں چلا گیا۔ وہاں یہ چند مسلمانوں کو ورغلانے میں کامیاب ہو گیا اور ایک شخص نبی بخش پر اس کا جادو چل گیا، اس نے اسے ربوہ کی یاترا کرا دی اور المہدی اسپتال میں ملازمت بھی دلا دی۔ پھول پورہ گاؤں چونڈل نگر پار کر مسجد میں مبارک نامی قادیانی مسند سنبھالے ہوئے قادیانیت کا پرچار کر رہا ہے نوکوٹ میں تو قادیانیوں نے البیت المہدی کے نام سے ایک باقاعدہ مسجد بنا کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ۱۹۸۵ء میں مسلمان ہونے والے عبد الحق، سلمہ اور عرفان جو انجمن دعوت اسلام حیدر آباد میں نمبر ۱۹۵۱ کے تحت رجسٹرڈ ہوئے تھے اور اس کے بعد اب ایچ ڈی اے رانی باغ حیدر آباد میں ملازم تھے اور مسلمان ہونے کے بعد ان کے تین بچے جاوید، کامران اور بختیار ہوئے تھے۔ انہیں چند ماہ قبل قادیانی شدت پسند وڈیرا نے اپنے زرعی فارم میں لے جا کر بالجبر قادیانی بنا لیا، ان افراد پر یہ جبر پرانے قرض دکھا کر کیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قادیانیوں نے تبلیغی، اصلاح و ارشاد، کمانڈو تربیت یافتہ تنظیم الناصر کے بعد اب الاحمد نامی تنظیم قائم کی ہے جو خوبصورت لڑکیوں کے ذریعہ مبینہ طور پر مسلمانوں میں کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کو بھاری مقدار میں سرمایہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ قادیانی ہونے والے کی شادی اور کاروباری ضروریات پوری کرے گی۔
(ہفت روزہ ”تکبیر“ ۲۴ مارچ ۹۴ء)
ظفر اللہ نے پاکستان کو کیا دیا؟
- ۱۔ ظفر اللہ خان نے بحیثیت وزیر خارجہ ان ممالک سے پاکستان کے تعلقات کو مضبوط
تر کیا جو سامراجی عزائم کے آئینہ دار تھے اور جن سے قادیانی امت کو ہمہ قسم کی مراعات حاصل ہو سکتی تھیں۔ ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق سردار بہادر خاں‘ برادر خورد سابق صدر محمد ایوب خاں کی وہ تقریر کرتی ہے جو انہوں نے قومی اسمبلی میں عہد ایوبی میں کی تھی:
” آپ نے یہ کہہ کر کہ امریکہ اور برطانیہ ہمارے معاملات میں دخیل ہیں اور خواجہ ناظم الدین کے بعد جتنے انقلابات آئے ہیں‘ ان میں ان دونوں کا ہاتھ تھا‘ ملک میں سنسنی پیدا کر دی۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ واقعی ہمارا نظام اتنا کمزور تھا‘ یا ہے کہ اس میں غیر حکومتیں دخل دے سکتی ہیں اور دخل بھی ایسا کہ جب چاہیں‘ حکومت بدل دیں۔“
چنانچہ ظفر اللہ خان کی کوشش تھی کہ امریکہ و برطانیہ سے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا جائے بلکہ پاکستان کو ان کے بازوؤں میں اس طرح جکڑ کر رکھ دیا جائے کہ وہ ادھر ادھر نہ جاسکے۔ کیونکہ یہی وہ قابل اعتماد حکومتیں تھیں جو آڑے وقت میں قادیانیوں کی ہر قسم کی مدد کو پہنچ سکتی تھیں۔
- ۲۔ ظفر اللہ خان قادیانی کے عہد وزارت میں پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن بنا۔ یہ وہ
معاہدے ہیں جو سامراجی عزائم کے آئینہ دار ہیں۔ جن میں آج تک ہمارا ملک جکڑا ہوا ہے۔ ہم نے ان معاہدوں کی وجہ سے اشتراکی ممالک اور آزاد دنیا کی دشمنی مول لی۔ سیٹو کی وجہ سے ہم اشتراکی ممالک سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے۔ بالفاظ دیگر امریکہ و برطانیہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا دیے گئے۔ سینٹو کی وجہ سے مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ممالک کی
نگاہوں میں ہمارا کردار مشکوک ہو کر رہ گیا۔
- ٣۔ ظفر اللہ خان نے اپنے عہد وزارت میں اسلامی ممالک کے ساتھ خاص طور پر
ہمارے تعلقات بگاڑے رکھے۔ ایسا کیوں کیا؟ اس لیے کیا کہ پاکستان کے تعلقات اگر ان اسلامی اور عرب ملکوں سے اچھے ہو گئے تو وہ آڑے وقت میں، اسلام کے رشتہ کی وجہ سے پاکستان کی مدد کو آسکتے ہیں یا اگر پاکستان کے تعلقات ان عرب اور اسلامی ملکوں سے اچھے ہو گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام ازم کی سپرٹ دوبارہ پیدا ہو جائے اور اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے آپس میں متحد ہو جائیں۔ اس سے قادیانیوں کے عزائم کے ناکام ہونے کا شدید خدشہ لاحق ہو سکتا تھا۔ چنانچہ عرب ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اس قدر بگڑ گئے کہ جب مصر پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا تو ہم حملہ آوروں کا ساتھ دے رہے تھے اور غاصبوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے، جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت، عرب ملکوں کی حمایت کر رہا تھا۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں ہمارے خلاف ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نفرت کا بیج بو دیا گیا۔ جس کی سزا مدتوں ہم بھگتتے رہے۔
- ۴۔ ظفر اللہ خان نے پاکستان کے تعلقات ان ملکوں سے نہایت خوشگوار رکھے جو اگرچہ
اسلامی ممالک تھے مگر جن کی خارجہ پالیسی برطانوی و امریکی مفاد کے تابع رہی۔ اس طرح افغانستان سے بھی تعلقات کو خراب رکھا گیا کیونکہ غیور پٹھانوں نے کبھی قادیانیوں کو خوش آمدید نہیں کہا۔
- ۵۔ ظفر اللہ خان کے عہد ہی میں ہمارے ملک کے اندر غیر ملکی اڈے قائم کر دیے گئے
جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر ان کے عزائم میں داخلی حالات سد راہ بنے تو انہیں ٹھیک کر دیا جائے۔ چنانچہ پشاور کے اڈے کی طرف خاص طور پر روس نے نشاندہی کرائی۔ جسے عہد ایوبی میں ختم کر دیا گیا۔
- ٦۔ ظفر اللہ خان نے بیرونی ممالک میں ان لوگوں کو سفارتی عہدوں پر مامور کیا جو
عقیدتاً احمدی تھے، تاکہ احمدی ریاست معرض وجود میں آجائے تو نئی ریاست کو تسلیم کرانے میں زیادہ دقتیں پیش نہ آئیں اور فوری طور پر نئی ریاست کو عالمی برادری تسلیم کر لے۔ اس چیز کی طرف مرحوم حمید نظامی ایڈیٹر روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور نے اپنے ایک ایڈیٹوریل میں حکومت کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ نیز جب وہ غیر ملکی دورے سے
واپس آئے تو انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ ہمارے غیر ملکی سفارت خانے ایک خاص جماعت کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں۔
یہ ایک جھلک ہے‘ ان کامیابیوں کی جو خارجی لحاظ سے ظفر اللہ خان قادیانی خلیفہ کے آئندہ عزائم کی تکمیل کے لیے انجام دی تھیں۔ لیکن کروڑوں رحمتیں ہوں‘ ان رضا کاروں پر جنہوں نے ختم نبوت کے نام پر جام شہادت نوش کر کے قادیانیوں کے عزائم کا رخ موڑ کر رکھ دیا اور وقتی طور پر وہ دب گئے۔ اسی طرح خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ان زعماء و اکابرین کو جنہوں نے ان سنگین حالات میں قوم کی صحیح رہنمائی کر کے قادیانیوں کی سازشوں کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ ص ۳۴۵ تا ۳۵۰‘ از نور الحق قریشی)
قادیانیت
دور حاضر کی بد ترین آمریت
از قلم : غلام رسول
قادیانی اخبار و رسائل کا دستور ہے کہ وہ اپنے گھناؤنے کردار اور مذموم حرکات سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل دوسروں پر کیچڑ اچھالنے ، لعن اور طعن و تشنیع کے تیر برسانے میں مصروف رہتے ہیں حالانکہ اگر وہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو انہیں قادیانیت کی ایسی کریہہ شکل نظر آئے گی کہ ان کا سویا ہوا ضمیر بھی توبہ توبہ کر اٹھے۔
دراصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے بے بنیاد الزامات کا جواب دینے کے بجائے خود قادیانیوں کے گھناؤنے اور فحش کردار ‘ بداعمالیوں ‘ مذموم حرکات اور متضاد بیانات کو کثرت سے اور مفصل طور پر عوام کے سامنے بار بار پیش کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ انہیں عالم اسلام میں کہیں سر چھپانے کی جگہ نہ ملے گی بلکہ قادیانیوں کی نئی پود بھی اپنے اکابرین اور ان کے خطرناک مذہب کی اصلیت جان کر تائب ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں مرزا غلام کے جسمانی و دماغی امراض ‘ متضاد بیانات ‘ مضحکہ خیز مراقی حرکات ‘ مرزا محمود کی بدکرداری اور فحاشی کے واقعات ‘ احتجاج کرنے والے قادیانیوں کا بائیکاٹ ‘ مقاطعہ ‘ اخراج ‘ شہر بدر اور جان سے مروا دینے اور گھروں کو جلا دینے کی سزاؤں پر مشتمل واقعات کو مشتہر کرنا چاہیے ۔ زیر نظر مضمون میں ہم قادیانیت کے ایک خطرناک روپ پر جو اس زمانے کی بدترین آمریت کی شکل میں سامنے آیا ہے ‘ کچھ روشنی ڈالیں گے۔
حسب سابق قادیانی پالیسی کے تحت اپنی آمریت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے دوسروں پر آمریت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ قادیانی آرگن ”لاہور“ اس سلسلے میں پیش پیش ہے۔ اور اکثر اپنے کالموں میں مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید پر آمر کا لیبل لگا کر تضحیک کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔ اپنی ۲۶ جنوری کی اشاعت میں صفحہ ۴ پر جناب اعجاز الحق وفاقی وزیر برائے محنت پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے ان کے والد مرحوم ضیاء الحق شہید کے بارے میں یوں رقم طراز ہے۔ ”جب کوئی انسان آمر مطلق بن جاتا ہے تو اس کا ہر قول صحیفہ آسمانی بن جاتا ہے اور ہر فعل حکم ربانی کے مرتبہ کا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ قطعاً بھول جاتا ہے کہ آخر ایک دن اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا کیونکہ جب عوام گلیوں اور بازاروں میں نکل آتے ہیں تو بڑے بڑے فرعونوں کے پتے دھل جاتے ہیں اور بڑے بڑے آمروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔“
ہم شہید صدر کی آمریت کی بحث میں پڑنے کی بجائے قادیانی آرگن کی توجہ اس کے سربراہوں اور خلیفوں کی بدترین آمریت کی جانب مبذول کرائیں گے۔ اسے چاہیے کہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈالے‘ اپنے گھر کی خبر لے اور اس کے گند کی صفائی کرے۔ مرزا محمود کی آمریت کے واقعات تو خود اس کے متاثرین مریدوں نے کتابوں کی شکل میں شائع کر دیے ہیں‘ جن میں مریدنیوں کی عصمت دری‘ لڑکوں سے بدفعلی‘ قتل و غارت اور گھروں کو جلا دینے تک کے واقعات درج ہیں۔ تم شہید صدر ضیاء الحق کو آمر تو کہہ دیتے ہو مگر عام لوگ تو کیا تمہارے جیسا دشمن بھی مرحوم صدر پر (تمہارے نام نہاد خلیفوں جیسا تو کجا) معمولی بد اخلاقی کا الزام بھی نہیں لگا سکا۔
مرزا محمود کو قادیانی نہ صرف خلیفہ بلکہ مامور اور مصلح موعود مانتے ہیں۔ بدترین آمر اسے‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایسے آمر بھی گزرے ہیں جنہوں نے بڑے نیک کام کیے اور لوگوں سے حسن سلوک کیا۔ انہیں آمر تو کہا جاسکتا ہے لیکن برا نہیں کہہ سکتے۔ لیکن مرزا محمود ایک ایسا آمر تھا جس نے بداعمالیوں میں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے یہاں تک کہ اپنی مرید عورتوں اور دوشیزاؤں کی عصمت لوٹی۔ مریدوں کے بیٹوں سے بدفعلی اس کا روز مرہ کا مشغلہ تھا۔ جن عقیدت مندوں کو شبہ ہو وہ متاثرہ قادیانیوں کی اپنی شائع کردہ کتب مثلاً بلائے دمشق‘ شہر سدوم‘ کمالات محمودیہ‘ ربوہ کا مذہبی آمر‘ اخبار مباہلہ وغیرہ
ملاحظہ فرمائیں جن کے مطالعہ سے انہیں اور بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات سے آگاہی ہو گی۔ ایسے گھناؤنے کردار کی روشنی میں مرزا محمود کو صرف برا آمر ہی نہیں بلکہ بدترین آمر بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ شخص نہ صرف خود بدترین آمر تھا بلکہ اس نے آئندہ کے لئے بھی قادیانیوں پر مستقل آمریت مسلط رکھنے کا مستحکم بندوبست کر دیا۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ مرزا غلام کے فوت ہونے کے بعد قادیانیوں کا پہلا خلیفہ (سربراہ) حکیم نور الدین کو چن لیا گیا۔ مرزا محمود اس وقت صرف ۱۹ برس کا تھا مگر بہت جاہ پرست تھا۔ اسے بہت صدمہ تھا کہ خلافت کی گدی مرزا کے خاندان کو نہیں ملی۔ چنانچہ اس نے سازشیں شروع کر دیں کہ آئندہ گدی مستقل طور پر مرزا کے خاندان میں رہے اور مرزا کے پرانے ساتھی محمد علی لاہوری‘ خواجہ کمال الدین‘ شیخ تیمور‘ محمد احسن امروہوی وغیرہ جو ممکنہ جانشین ہو سکتے تھے ان سب کے خلاف خوب پراپیگنڈہ کیا۔ رسائل شائع کئے اور اشتہار بازی کی (اب بھی قادیانی گروہ کا طریق کار یہی ہے کہ کثرت سے جھوٹا پراپیگنڈہ اور اشتہار بازی سے لوگوں کو غلط راہ پر لگا دینا) حکیم نور دین کے بھی اس قدر کان بھرے کہ انہوں نے وصیت لکھ کر شیخ تیمور کے پاس رکھوا دی کہ ان کے بعد محمود خلیفہ ہو گا۔ بعد میں حکیم صاحب پر سازش کھل گئی تو انہوں نے شیخ صاحب سے وصیت لے کر تلف کر دی (شیخ تیمور مرزا محمود کے خلیفہ بننے پر قادیانیت سے تائب ہو گئے۔ اللہ نے انہیں بہت نوازا اور وہ بعد میں خیبر یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر ہوئے) بالاخر اس کی سازشیں رنگ لائیں اور حکیم نور الدین کی موت کے بعد مرزا محمود قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ بننے میں کامیاب ہو گیا۔ خلیفہ بننے کے بعد یہ آمر مطلق بن گیا۔ اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں مثلاً محمد علی لاہوری‘ مولوی محمد احسن امروہوی‘ ڈاکٹر یعقوب بیگ‘ غلام حسن خان وغیرہ کو قادیان سے نکلوا دیا۔ فخر دین ملتانی اور محمد امین وغیرہ کو قتل کروا دیا۔ شیخ عبد الرحمن مصری‘ مرزا عبدالحق ایڈووکیٹ اور بہت سے دیگر مریدوں کی بیویوں اور اولاد سے بد فعلی اور عصمت دری کی داستانیں بھری پڑی ہیں۔ مرزا محمود نے آئندہ کے لیے قادیانیوں پر آمریت مسلط کرنے کے لیے یوں ڈرامہ رچایا کہ اپنے ایک خواب کو اپنے اخباروں اور رسائل میں کثرت سے شائع کیا کہ خواب میں دیکھا کہ مرزا غلام خربوزے کی قاشیں بانٹ رہے ہیں‘ ایک قاش انہوں نے حکیم نور الدین کو دی اور باقی اپنی اولاد میں بانٹ دیں۔ اس سے
تعبیر یہ نکالی کہ حکیم نور الدین کے علاوہ باقی خلیفے مرزا کی اولاد سے ہوں گے۔ چنانچہ یہ قانون بنا دیا گیا کہ آئندہ خلیفہ مرزا کے خاندان سے باہر کا نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ قانون نہ ہوتا تو مرزا محمود کے بعد سر ظفر اللہ اور مرزا ناصر کے بعد ڈاکٹر سلام خلیفہ بنتا۔ مگر اس قانون کی رو سے قادیانی خلیفہ کا معیار انتخاب لیاقت کی بجائے نسل اور خاندان قرار پایا۔ مرزا محمود نے مزید احتیاط یہ کی کہ حکیم نور الدین کے لائق بیٹے میاں عبدالمنان عمر (جو قادیانیوں میں بہت مقبول تھے) کو قادیانی جماعت سے نکال دیا۔ اس اقدام کے بعد حکیم نور الدین کے خاندان کے سب لوگ قادیانیت چھوڑ گئے۔ کچھ مسلمان ہوئے‘ باقی لاہوری گروپ میں شامل ہو گئے۔
قادیانی آمریت اتنی سخت اور دہشت ناک ہے کہ کوئی قادیانی کیسی ہی برائی دیکھے‘ اختلاف کی جرات نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا کرے تو کم از کم ایک سخت قسم کا بائیکاٹ ہے‘ جو ان کی اصطلاح میں ’مقاطعہ‘ کہلاتا ہے۔ اس میں کسی قادیانی کو حتیٰ کہ اس کے اپنے بیوی بچوں کو بھی اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ دکانداروں کو سودا دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ کہ اس کی چیخ کوئی نہیں سنتا اور وہ برادری کے بائیکاٹ سے مجبور ہو کر بے گناہ ہوتے ہوئے بھی خلیفہ کے قدموں پر گر کر معافی مانگ لیتا ہے۔ کوئی اگر ڈٹ جائے‘ مقابلہ پر اتر آئے یا مقدمہ دائر کر دے تو اس کا گھر جلایا جا سکتا ہے یا وہ قتل بھی ہو سکتا ہے۔
یہ آمریت کا سلسلہ صرف گدی نشینی تک ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے شہروں میں جو قادیانی امیر اور عہدے دار مقرر کیے جاتے ہیں‘ وہاں بھی یہی جذبہ کار فرما ہے۔ کہنے کو تو قادیانی جماعت میں ہر تین سال بعد باقاعدہ انتخابات کے ذریعہ ہر شہر اور حلقہ میں عہدیداروں کو لوگ منتخب کرتے ہیں مگر یہ قانون دکھانے کی حد تک ہے۔ جو عہدیدار با اصول‘ خوددار اور غیرت مند ہوں وہ تو تین سال کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی تبدیل کر دیے جاتے ہیں لیکن جو عہدیدار اپنی بیوی یا بہنیں یا بیٹیاں خلیفہ صاحب کے پاس بھیجتے رہتے ہیں۔ وہ سالہا سال تک اپنے عہدوں پر فائز رہتے ہیں۔ اور ان کو ہر طرح کی سہولتیں اور آسائشیں حاصل رہتی ہیں۔ غیر ملکی ہوائی سفر اور یورپ کی سیریں کرائی جاتی ہیں۔
اگر کوئی قادیانی اپنی عورتوں کو خلیفہ سے ملنے نہ دے‘ اس سے یا اس کے خاندان سے پردہ کرائے تو اسے لائق بھروسہ نہیں سمجھا جاتا‘ ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا اور ان کی
باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے اور ان کے خلاف خلیفہ کو رپورٹیں بھیجی جاتی ہیں۔ انہیں کسی انتخاب میں بھی ووٹ دینے کا حق نہیں، اگر کوئی ایسا غیرت مند شخص عہدہ دار بن بھی جائے تو خلیفہ اپنے ذاتی اختیارات کے تحت فوراً اس کا انتخاب منسوخ کر کے اپنے کسی پٹھو کو نامزد کر دیتا ہے۔ اس آمریت کا مظاہرہ کراچی میں مرزا محمود کے دور میں ہوا۔ یہاں چوہدری عبداللہ خان (سر ظفر اللہ کا بھائی) کے اچانک مرنے کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کثرت رائے سے کراچی کے قادیانی امیر منتخب ہو گئے۔ جو کہ ایک بااصول غیرت مند آدمی ہیں اور اپنی عورتوں کو بھی مرزا محمود اور اس کے خاندان سے نہیں ملواتے۔ یہ بات مرزا کے خاندان اور ان کے بے غیرت پٹھوؤں، جن میں چوہدری ظفر اللہ کی چوہدری برادری پیش پیش تھی، بہت ناگوار تھی۔
چوہدری ظفر اللہ کی برادری کا چوہدری احمد مختار کراچی کی قادیانی جماعت کا امیر بننے کا متمنی تھا۔ مگر انتخاب میں شیخ رحمت اللہ سے ہار گیا۔ مگر خاندان مرزا کی خدمت میں چوہدریوں کی عورتیں ہر وقت حاضر رہتی تھیں۔ انہوں نے خلیفہ اور اس کے بیٹے مرزا ناصر کو (جو بعد میں تیسرا قادیانی خلیفہ بنا) رام کر لیا۔ اور مرزا محمود نے بیک قلم شیخ رحمت اللہ کو امارت سے ہٹا کر چوہدری احمد مختار کو امیر جماعت کراچی نامزد کر دیا اور یہ پٹھا اس زمانے سے قادیانی جماعت کا امیر چلا آ رہا ہے۔ حالانکہ قادیانی مذہب کا قانون یہ ہے کہ ہر جماعتی عہدیدار کا انتخاب ہر ۳ سال بعد دوبارہ ہو، مگر چوہدری احمد مختار (جو بغیر انتخاب نامزد ہوا) اپنی مردانہ اور زنانہ خدمات کے طفیل ۲۸ سال سے کراچی کی قادیانی جماعت کی امارت کی گدی پر متمکن ہے۔
سچ ہے جسے پیا چاہے‘ سہاگن کہلائے۔ رسالہ (لاہور) کے ایڈیٹر ثاقب زیروی غور کریں کہ آپ کے ہاں صرف آمریت نہیں بلکہ آمریت در آمریت ہے۔ ایک بد ترین آمر (مرزا محمود) نے آگے مرزا ناصر اور طاہر جیسے آمر پیدا کیے۔ انہوں نے آگے احمد مختار جیسے آمر پیدا کیے۔ تو آپ کس منہ سے شہید صدر ضیاء الحق کو آمر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ پہلے اپنے ہاں سے تو آمریت ختم کریں۔ آپ پر تو وہ ضرب المثل صادق آتی ہے کہ چھاج بولے سو بولے چھلنی کیا بولے جس میں سو چھید۔
مرزا محمود بھی بڑے گنی آدمی تھے۔ بڑے بڑے لائق لوگوں کو قابو کرنے کے لیے کیا
کیا چکر چلائے۔ چوہدری ظفر اللہ اور چوہدری برادری کے لوگ خاندان مرزا کی عورتوں کے چکر میں اور ان کی عورتیں خلیفہ اور اس کے شہزادوں کے ہاں۔ سر ظفر اللہ، مرزا کے اندرون خانہ ایسا مست رہا کہ ساری عمر اپنی بیوی کی خبر نہ ملی۔ یورپ سے آتا تو اپنے گھر کے بجائے سیدھا مرزا محمود کے پاس یا اس کے بیٹوں، بیٹیوں میں سے کسی کے گھر قیام کرتا۔ ناچار ظفر اللہ کی بیوی نے بالاخر طلاق لے کر مشہور سرمایہ دار شاہ نواز سے شادی رچالی اور ظفر اللہ کی عالمی شہرت کو چار چاند لگائے۔ کراچی کے قادیانی گروہ کا مستقل امیر چوہدری احمد مختار بھی اسی قسم کی عیاشیوں میں مست ہے اور آمریت در آمریت کی زندہ مثال ہے۔ اسے بھی اپنے گھر بار کی خبر نہیں ہوتی۔ بس خاندان مرزا کا اندرون خانہ خدمت گزار ہے۔ اپنے گھر والوں کو ترساتارہتا ہے۔ اس کا ایک بیٹا اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا مگر یہ نہ مانا۔ بالاخر بیٹے نے خود کشی کرلی۔ مگر باپ کے چہرہ پر میل نہ آیا کیونکہ یہ تو مرزا طاہر کے گھرانے کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔ احمد مختار کا بڑا بیٹا بھی اس سے باغی ہے۔ ایک دفعہ پوتا ایسا بیمار ہوا۔ جس کا علاج یورپ میں ہو سکتا تھا۔ بیٹے نے اس کے علاج کے لیے پیسے کے لیے بہت فریاد کی۔
احمد مختار کروڑ پتی ہے اور مرزا طاہر کے گھرانے پر لاکھوں روپے نچھاور کرتا ہے مگر پوتے کے علاج کے لیے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً بچہ مرگیا۔ تب اس کے واحد زندہ بیٹے نے بھی دل برداشتہ ہو کر اپنے باپ یعنی مختار کا گھر چھوڑ دیا اور علیحدہ رہتا ہے۔ اس سے ملتا بھی نہیں۔ ماں بیٹے سے ملنے آتی تھی تو چوہدری اس پر بگڑتا تھا۔ نتیجتہً ماں بھی اولاد کے غم میں چل بسی۔ یہ ایسا موقع تھا کہ اس کا پتھر دل بیٹے کی طرف مائل ہو جاتا۔ مگر اس کا گرو مرزا طاہر بھی کائیاں تھا۔ فوراً ۵۰ سالہ بڈھے احمد مختار کی شادی ایک خوبرو دوشیزہ سے کرا دی۔ اب بڈھا اس میں مست ہے۔ احمد مختار کی مسرت ڈائجسٹ کے ایڈیٹر زیڈ۔ یو۔ تاثیر کے ساتھ بھی خوب رنگ رلیاں رہتی ہیں۔ تاثیر ایک جونیئر کلرک تھا۔ پھر اس نے گلشن مہران ہاؤسنگ پراجیکٹ کا چکر چلایا، جسے ۲۵ سال ہو گئے مگر کسی کو پلاٹ نہیں دیا۔ لیکن خود جونیئر کلرک (جو جی ٹائپ کوارٹر میں رہتا تھا) سے کروڑ پتی ہو گیا۔ گلشن میں ۳ بنگلے۔ بچے اور سسرال آئے دن کینیڈا، امریکہ اور یورپ گھومتے ہیں۔ تاثیر کی احمد مختار سے بہت دوستی ہے۔ تاثیر کے پاس ایک دم دولت آئی تو شمیم کوثر نامی ایک نازنین کو جو ایک مقامی
کالج میں پڑھاتی تھی بطور داشتہ رکھ لیا۔ احمد مختار اور تاثیر دونوں‘ اس کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے۔ بیوی سے اس مسئلہ پر جھگڑا ہوا تو اس کو علیحدہ بنگلہ لے دیا اور خود گلشن مہران میں قادیانی امیر کے ساتھ وہی رنگ رلیاں۔ مال حرام بود بجائے حرام بافت۔ اور ہاں ثاقب زیروی صاحب! آپ بھی تو گلشن مہران ہو آئے۔ آپ کے رسالہ ”لاہور“ میں تاثیر اور احمد مختار کے ہمراہ وہاں کی تصویر تو بہت عمدہ آئی ہے۔ سنائیے! رات کیسی گزری؟ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ بات پہنچی تھی آپ کی ہاں آمریت در آمریت اور بدترین آمریت تک۔ لب لباب یہ کہ شہیدوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو بصارت کے ساتھ بصیرت بھی عطا کرے اور تائب ہو کر امت محمدیہ میں شمولیت کی توفیق بخشے۔ وما علینا الا البلاغ۔
تازہ ہدایت
مرزا طاہر احمد نے لندن سے مردم شماری کے سلسلے میں قادیانیوں کے لیے تازہ ہدایات بھیجی ہیں۔ سب قادیانیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مذہب کے خانے میں ”احمدی“ لکھیں۔ مسلمان نہ لکھیں۔ یہ بھی تنبیہہ کی گئی ہے کہ اگر کسی نے مرزا طاہر کے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور اپنا مذہب مسلمان لکھ دیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور قادیانی تنظیم کی طرف سے عبرتناک سزا دی جائے گی۔ یہ اعلان تمام قادیانی مراکز میں کر دیا گیا ہے۔
یہ اعلان قادیانیوں کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ایک طرف یہ رونا کہ انہیں جبراً غیر مسلم قرار دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف قادیانی سربراہ کا یہ حکم کہ کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہ لکھے اور اگر کسی نے اپنے آپ کو مسلمان لکھا تو اس کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے گی۔ اہل بصیرت قادیانیوں کو چاہیے کہ اپنے سربراہ کی گمراہ کن چالوں کو سمجھیں‘ تائب ہوں اور امت مسلمہ سے علیحدگی کے حکم پر احتجاج کرتے ہوئے قادیانیت سے تائب ہوں اور اپنی عاقبت سنوار لیں۔
مرزا طاہر کے پاس قادیانیوں کے کثرت سے ایسے خطوط پہنچ رہے ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ قادیانی عہدہ دار نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو تبلیغ کے لیے مجبور کرتے ہیں جس کی
پاداش میں ان کو ملکی قانون کے تحت سزائے قید ہو جاتی ہے۔ کئی والدین نے مرزا طاہر سے اس پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ قادیانی عہدہ داروں کو منع کریں کہ ہمارے بچوں کو تبلیغ (قادیانیت کے پرچار) کے لیے نہ مائل کریں اور انہیں قید و بند سے بچائیں۔
پچھلے دنوں قادیانی مرزائوں میں ایک ستم رسیدہ ماں کا خط پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں اس بات پر احتجاج کیا گیا تھا کہ اس کے بیٹے نے عہدہ داروں کے کہنے پر قادیانیت کی تبلیغ کی اور سزا پا گیا۔ خط میں مرزا طاہر سے فریاد کی گئی تھی کہ ہمارے بچوں کو تبلیغ کے لیے مجبور کر کے کیوں ملکی قانون کی خلاف ورزی کرائی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں انہیں قید و بند اور بوڑھے والدین کو در بدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔
اس خط کی روشنی میں مرزا طاہر نے قادیانیوں سے کہا کہ میں اپنے عہدیداروں کو تبلیغ (قادیانیت کے پرچار) سے تو نہیں روکتا۔ ہاں اگر کوئی تبلیغ نہ کرے تو اسے قادیانی تنظیم کی طرف سے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ نیز یہ کہ اس عورت کے لڑکے سے تبلیغ کے لیے آئندہ نہ کہا جائے۔ مرزا طاہر کا یہ پیغام بھی مرزائی مراکز میں پڑھ کر سنایا گیا۔
قارئین غور فرمائیں کہ ابلیس تو شیطانی تبلیغ کے لیے قید و بند کا خطرہ بھی مول لے رہا ہے مگر مسلمان اسلامی تبلیغ کی طرف کماحقہ متوجہ نہیں۔ اس وقت جبکہ قادیانیوں میں اپنے مذہب اور سربراہوں سے بیزاری کی لہر ہے، ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جہاں بھی کسی قادیانی کو پائے، اس کا گھیراؤ کرے، خود دلائل سے قائل کرے یا علماء کے پاس لے جائے اور جب تک اسے گمراہی کی دلدل سے نکال نہ لے، اس کا پیچھا نہ چھوڑے۔
مجرمانہ غفلت
قادیانی اپنے سالانہ جلسہ کو حج کا بدل قرار دیتے ہیں۔ قادیانی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد سے پاکستان میں حکومت نے یہ جلسہ بند کروا دیا ہے۔ اور بحمد اللہ چند سال سے گمراہی کا یہ مظاہرہ اس سر زمین پر بند ہے۔ مگر جائے تعجب ہے کہ قادیان اور انگلینڈ میں منعقدہ قادیانی سالانہ جلسوں کے انعقاد میں حکومت کے بعض ادارے نہ صرف معاونت کرتے ہیں بلکہ قادیانیوں کو ان جلسوں میں جانے کے لیے ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔
ابھی ماہ دسمبر میں قادیانیوں کا جلسہ سالانہ قادیان (بھارت) میں ۲۶ تا ۲۸ دسمبر برپا
ہوا۔ یہاں پاکستان سے باقاعدہ قادیانیوں کا قافلہ قادیان جلسہ میں شرکت کے لیے گیا اور اختتام جلسہ سالانہ کے بعد قافلہ کی صورت میں واپس آیا۔ ظاہر ہے کہ یہ قافلہ حکومت کی منظوری اور اجازت سے اس مصنوعی حج میں شرکت کے لیے بھارت گیا۔
پچھلے سال جولائی میں انگلینڈ میں بھی قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ہوا اور اس میں شرکت کے لیے بھی پاکستان سے سینکڑوں قادیانی گئے۔ ہماری قومی ایئر لائن پی آئی اے ہر سال ان جلسوں میں شرکت کے لیے کرائے میں رعایت اور دیگر سہولتیں دیتی رہتی ہے۔ ہر سال قادیان (بھارت) اور ٹلفورڈ (انگلینڈ) میں قادیانیوں کے یہ مرکزی سالانہ جلسے ہوتے ہیں‘ جن میں قادیانی اکابرین آئندہ سال دنیا بھر میں اہل اسلام کو مرتد بنانے کے منصوبے بناتے اور تبلیغی سرگرمیوں کا جال بچھاتے ہیں۔ لوگوں کو قادیانی بنانے کے لیے تقریریں کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آئین پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-A اور ۲۹۸-B کے تحت قادیانی مذہب کی تبلیغ پر پابندی ہے اور اس کے لیے کئی سال قید کی سزا ہے تو حکومت کس طرح اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قادیانیوں کو ان جلسوں میں شرکت کی اجازت دیتی ہے اور سہولتیں مہیا کرتی ہے جبکہ سب جانتے ہیں کہ یہ جلسے خالصتاً قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اور مسلمانوں کو گمراہ اور مرتد کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں ہمارا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ ان کارکنوں اور افسران کے خلاف‘ جو جلسہ قادیان و انگلینڈ کے لیے قادیانی قافلوں کو اجازت ناموں اور سہولتوں کے ذمہ دار ہیں‘ اور اس طرح آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور بالواسطہ طور پر قادیانی مذہب کی تبلیغ کے مرتکب ہوئے ہیں‘ ان پر آئین کی دفعہ ۲۸۲ کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمہ قائم کرکے عدالت عالیہ سے سزا دلوائے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۹ شمارہ ۴۰)
قادیان کی ایک رائل فیملی کا ایک عزیز
پیرز ہوٹل راولپنڈی کا مالک
جس کا بدکاری کا اڈہ چلانے کے جرم میں منہ کالا کیا گیا
آج کل یہ ایک شور و غوغا ہے کہ قادیانی بڑے اعلیٰ اخلاق اور سچے کردار کے مالک ہیں۔ بلکہ اس طرح کا پروپیگنڈہ معاشرے میں یہ خود پھیلاتے ہیں تاکہ ان کے ظاہری اخلاق سے لوگ متاثر ہو کر قادیانیت کے جھوٹے مذہب میں پھنس جائیں۔ قادیانیوں کے اعلیٰ اخلاق اور سچے کردار کا حال اگر کسی کو معلوم کرنا ہے تو ہم سے پوچھیں کہ وہ کس قماش کے لوگ ہیں۔ ہمارے پاس ان کے کردار و اخلاق کی پوری تاریخ محفوظ ہے بلکہ بعض کہانیاں تو ان لوگوں نے، جنہوں نے قادیانیت کو ترک کیا ہے، شائع بھی کی ہیں۔ مذکورہ تاریخ اتنی گری ہوئی ہے کہ ہمارے صفحات اس کے متحمل نہیں۔ لیکن ۲۶ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو راولپنڈی میں ایک واقعہ رونما ہوا۔ بدکاری کے اڈے پر چھاپہ مارا گیا۔ بہت سے لوگ گرفتار ہوئے۔ بعضوں کو سزا کے طور پر کوڑے مارے اور بدکاری کے اڈہ کے مالک پیر صلاح الدین کا منہ کالا کیا گیا۔ پھر نامعلوم کن وجوہ کی بناء پر باقی ماندہ سزائیں معاف کر دی گئیں۔
اخبارات میں تفصیل کے ساتھ وہ رپورٹ چھپی، چونکہ صلاح الدین کا تعلق نہ صرف قادیانی پارٹی سے ہے بلکہ رشتہ کے لحاظ سے خلیفہ جی کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ لہٰذا ہم قارئین کی خدمت میں وہ اخباری رپورٹ پیش کر رہے ہیں تاکہ ان کی اصلیت سامنے آجائے۔ (ادارہ)
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (نمائندہ جسارت) آج یہاں سنٹرل گورنمنٹ ہسپتال کے وسیع
وعریض میدان میں پیرز ہوٹل اور عروسہ ہوٹل سے بدکاری کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے ۱۷ افراد کو کوڑے لگائے گئے۔ یہ میدان پیرز ہوٹل کے بالکل سامنے واقع ہے۔ اس میدان میں زیر تعمیر ایک عمارت کی چھت پر اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں ٹکٹی لگائی گئی تھی۔ مارشل لاء حکام، جیل حکام اور پولیس کے اعلیٰ افسر یہاں موجود تھے۔ میدان میں سڑکوں پر اور ارد گرد کی عمارتوں پر ہزاروں افراد موجود تھے۔ جب ملزموں کو کوڑے لگائے جاتے تھے تو لوگ تالیاں بجاتے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر سرفراز بھی موجود تھے۔ تمام ملزموں کو کوڑے لگانے کی کارروائی تقریباً چار گھنٹے میں مکمل ہوئی۔ بریگیڈیئر سرفراز اس دوران وہاں موجود رہے۔ کارروائی شروع ہونے سے قبل پیرز ہوٹل کے مالک پیر صلاح الدین اور ہوٹل کے منیجر اور لڑکیوں کی سپلائی کا کام کرنے والے ملزم نذر محمد بخاری کو اسٹیج پر لایا گیا اور اعلان کیا گیا کہ چونکہ ان دونوں کی عمر زیادہ ہے، اس لیے انہیں کوڑوں کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ لیکن انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عوام کے سامنے ان کے منہ کالے کیے جائیں۔ اسٹیج پر ان دونوں ملزموں کے چہروں پر سیاہی ملی گئی اور اس کے بعد انہیں پورے اسٹیج پر گھمایا گیا تاکہ وہاں تمام لوگ ان کے سیاہ چہرے دیکھ لیں۔ اس وقت وہاں موجود ہزاروں افراد نے تالیاں بجائیں۔
آج صبح ۱۰ بجے ہی سے لوگ سنٹرل ہسپتال کے میدان میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ سزا صرف ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ہے۔ ان ملزموں کے خلاف اور مقدمات بھی زیر سماعت ہیں جن کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اعلان کیا گیا کہ مارشل لاء حکام کی یہ خواہش رہی ہے کہ کوڑوں کی سزائیں نہ دی جائیں لیکن ان مجرموں کی جرم کی نوعیت اور جس طرح یہ مظلوم اور بے سہارا لڑکیوں کو ورغلا کر گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے تھے، اس پر انہیں برسرعام کوڑے لگانے کی سزا دینا ضروری تھا۔ اس موقع پر لوگوں نے زبردست تالیاں بجائیں۔ اسٹیج پر کہا گیا کہ اب حکومت کی یہ پرخلوص کوشش ہے کہ جو لوگ ملک میں اخلاقی قدروں کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور غیراسلامی اور غیرانسانی حرکات کر رہے ہیں، انہیں اس بات کی اجازت نہ دی جائے۔ حکومت ایسے لوگوں کو تنبیہہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ان قبیح حرکات سے باز آجائیں یا اپنے ناپاک وجود لے کر اس ملک سے نکل جائیں۔ اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ ان مجرموں کا یہ طریق کار تھا کہ وہ غریب اور
بے سہارا لڑکیوں کو سرپرستی کا لالچ دے کر پھنسانے اور انہیں ورغلا کر گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے۔ یہ مجرم اس گناہ کے کاروبار سے اس قدر دولت بنا رہے تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مارشل لاء حکام نے پیرز ہوٹل پر چھاپہ مارا تو ایک رات کی آمدنی کے طور پر ۳۵ ہزار روپے ہوٹل کے کیش بکس سے برآمد ہوئے۔ اس قدر مجمع تھا کہ ٹریفک کا انتظام کرنے کے لیے پولیس کا خصوصی دستہ متعین کیا گیا اور خود ڈی ایس پی ٹریفک وہاں موجود تھے۔
ملزموں کو ڈیڑھ بجے پولیس کی نگرانی میں لایا گیا۔ اسٹیج پر لاؤڈ اسپیکر لگا ہوا تھا جس سے فوج کے ایک کیپٹن پیرز ہوٹل اور عروسہ ہوٹل پر چھاپہ، اس کارروائی کا پس منظر اور ملزموں کو دی جانے والی سزاؤں کے بارے میں اعلانات کر رہے تھے۔
اس کے بعد پیرز ہوٹل کے مالک پیر صلاح الدین کو جو اقلیتی فرقہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد کا قریبی عزیز ہے، اسٹیج پر لایا گیا اور اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ گھناؤنے کردار کا مالک یہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اسے بھی کوڑوں کی سزا دی جاتی لیکن اس کی عمر ۶۴ سال ہے اور قانون کے مطابق ۴۵ سال سے زیادہ عمر کے آدمی کو کوڑوں کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کا منہ کالا کیا جائے۔ اس کے بعد نذر محمد بخاری کو اسٹیج پر لایا گیا اور اعلان کیا گیا کہ لوگ یورپ علم سیکھنے کے لیے جاتے ہیں لیکن یہ وہ بدکردار شخص ہے جو بدکاری کے اڈے چلانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے یورپ گیا تھا۔ اس کی عمر ۶۷ سال ہے۔ اس لیے اسے بھی کوڑوں کی سزا نہیں دی جاسکتی اور اس کا منہ کالا کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد پیر صلاح الدین کے بیٹے محی الدین مظاہر احمد کو اسٹیج پر لایا گیا اور ٹکٹکی پر باندھ کر ۲ بج کر ۷ منٹ پر پہلا کوڑا لگایا گیا۔ اس وقت لوگوں نے ”شرم شرم“ کے نعرے لگائے۔ جب اسے پانچواں کوڑا لگایا گیا تو اس نے کہا ڈاکٹر صاحب مجھے بچا لیں اور ان سے کہیں کہ ذرا آرام سے کوڑے ماریں اور مجھے پانی پلایا جائے۔ مجرم کو پانی پلایا گیا اور ۱۵ کوڑے پورے کیے گئے۔ اس کے بعد مجرم عبدالرشید، گٹر خاں، پیرز ہوٹل کے منیجر نذر بخاری اور کسٹم انسپکٹر خضر حیات کو اسٹیج پر لایا گیا۔ اس وقت بتایا گیا کہ خضر حیات کی ذمہ داری تھی کہ وہ ناجائز کارروائیوں کو روکتا لیکن یہ بدکاری کے اڈوں پر شراب مہیا کرتا تھا۔ ملزم گٹر خان ۱۵ کوڑے کھانے کے بعد بے ہوش ہو گیا۔ ڈاکٹر نے اس گیا۔ ڈاکٹر نے اس کا گیا۔ ڈاکٹر نے اس کا
معائنہ کیا اور انجکشن لگایا۔ جس کے بعد اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد کسٹم انسپکٹر شبیر حسین شاہ اور کسٹم انسپکٹر طاہر مقبول کے کوڑے لگائے گئے۔
طاہر مقبول کو جب پانچواں کوڑا لگا تو جیل حکام نے کوڑے لگانے والوں کو صحیح کوڑا نہ پڑنے کی بناء پر یہ کوڑا مارنے کی ہدایت کی۔ اس پر طاہر مقبول نے کہا کہ مجھے کوڑا ٹھیک لگا ہے۔ مجھ پر ظلم نہ کریں۔ خدا کے واسطے مجھ پر رحم کریں۔ اس کے بعد مجرم نصیب الرحمن اور افتخار حسین کو پندرہ پندرہ کوڑے مارے گئے۔ اس کے بعد مظفر حسین کو ۵ کوڑے‘ یوسف کو ۵ کوڑے‘ مسعود کو ۵ کوڑے‘ موسیٰ کو ۵ کوڑے اور سلیم کو ۵ کوڑے لگائے گئے۔ موسیٰ اور سلیم کوڑے کھانے کے بعد بے ہوش ہو گئے اور اس کے بعد مجرم جاوید اقبال کو ۱۵ کوڑے مارے گئے اور پھر افتخار حسین کو ۱۵ کوڑے لگے۔ اس کے بعد ۳ بج کر ۲۵ منٹ پر ۱۰ منٹ کا وقفہ کیا گیا اور اس کے بعد جب دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے یعقوب‘ اشرف‘ قمر سلطان‘ سلیم‘ اخلاق احمد‘ رشید خاں‘ مہران اور نسیم شاہ کو پندرہ پندرہ کوڑے لگائے گئے۔ اخلاق احمد نے چلا کر کہا کہ اللہ کے لئے بے گناہ پر رحم کرو‘ مجھے پانی پلا دو۔ میرے گناہ بخش دے مالک۔ اس کے بعد مصطفیٰ کو ۵ کوڑے لگائے گئے۔ پھر گلزار‘ عبد الوحید اور بانوش خاں کو پندرہ پندرہ کوڑے لگائے گئے۔ آخر میں اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ ایسے تمام افراد جو اس قسم کے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہیں‘ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ باز آجائیں۔ ورنہ انہیں بھی عبرت ناک سزائیں دی جائیں گی۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اس قسم کے گھناؤنے کاموں میں ملوث لوگوں کی نشاندہی کریں تاکہ وطن عزیز کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کیا جاسکے۔ اس پر لوگوں نے پر جوش تالیاں بجائیں۔
پہلے پیشاب خطا ہوا‘ پھر بیہوشی طاری ہوئی اور بالاخر اسٹریچر پر ڈال
کر لایا گیا‘ آخری کوڑا بانوش خان نے نوش جان کیا
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (نمائندہ جسارت) عروسہ گیسٹ ہاؤس اور پیرز ہوٹل سے بدکاری کے الزام میں گرفتار ہو کر سزا پانے والے مجرمان کو آج راولپنڈی میں سرعام کوڑے لگائے گئے۔ اس عبرت ناک منظر کو ہزاروں افراد نے دیکھا۔ اس واقعہ کی چند
خاص خاص باتیں یہ ہیں:
- O - عروسہ گیسٹ ہاؤس اور پیرز ہوٹل سے بدکاری کے الزام میں پکڑے جانے
والے ۲۶ ملزموں کو آج مجموعی طور پر ۴۲۵ کوڑے لگائے گئے جبکہ مجرموں کو سرسری سماعت کی فوجی عدالت نے مجموعی طور پر ۴۲۵ کوڑوں کی سزا دی تھی۔ ۶ زائد کوڑے ان ۲ مجرموں کو لگائے گئے جنہیں بعض کوڑے بھرپور انداز میں نہیں لگے تھے اور حکام نے ان کوڑوں کو منسوخ کر دیا تھا۔ کسٹم انسپکٹر طاہر مقبول کو ۳ کوڑے دوبارہ لگائے گئے۔ اسی طرح کسٹم انسپکٹر شبیر حسین شاہ اور دیگر ۲ مجرموں بشیر خان اور قمر سلطان کو بھی ایک ایک کوڑا دوبارہ لگایا گیا۔
- O - ایک مجرم نصیب الرحمٰن کا کوڑا لگنے کے دوران پیشاب خطاب ہو گیا۔ آخری
کوڑا لگنے کے بعد مجرم بے ہوش ہو گیا اور اسے اسٹریچر پر ڈال کر لے جایا گیا۔
- O - ۵ بج کر ۲۲ منٹ پر بانوش خاں کو آج کا آخری کوڑا لگایا گیا۔
- O - کوڑے لگانے والے دونوں قیدیوں کے لیے تھرماس میں جیل سے خاص طور پر
چائے لائی گئی تھی اور وقفے کے دوران ان کی چائے اور بسکٹوں سے تواضع کی گئی۔
ڈی ایم ایل اے نے کوڑے مارنے والوں کو دودھ پینے کے لیے
انعامات دیئے‘ مجرم اپنی کاروباری جگہ کو دیکھتے رہے
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (نمائندہ جسارت) آج جب یہاں ۲۶ مجرموں کو کوڑے مارنے کی کارروائی مکمل ہو گئی تو ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر سرفراز ملک اسٹیج پر آئے اور اس کارروائی میں حصہ لینے والوں سے ملے۔ انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ کوڑے لگانے والے بشارت اور زمرد کو میری جانب سے دودھ پینے کے لیے پچاس پچاس روپے انعام دیں۔ انہوں نے زمرد سے ہاتھ بھی ملایا۔ بعد میں انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں گی اور ہم نے اس لیے اس جگہ کا انتخاب کیا تاکہ مجرموں کو وہ جگہ بھی نظر آتی رہے‘ جہاں وہ اپنا گھناؤنا کاروبار کرتے تھے۔
ہجوم کی وجہ سے دیوار منہدم ہو گئی
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (نمائندہ جسارت) آج یہاں پیرز ہوٹل اور عروسہ ہوٹل کے ملزموں کو کوڑے مارے جانے کا منظر دیکھنے کے لیے زبردست ہجوم تھا۔ بھیڑ کی وجہ سے ایک قریبی پٹرول پمپ کی دیوار پر لوگ چڑھے ہوئے تھے کہ اچانک یہ دیوار گر پڑی اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ایک درخت پر بھی بے شمار لوگ چڑھے ہوئے تھے۔ درخت کی شاخ ٹوٹ گئی۔ اس کے نیچے بھی کچھ افراد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکیوں نے بھی کوڑے مارنے کا منظر دیکھا
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (پی پی آئی) آج یہاں اسلام آباد میں مقیم اور مختصر عرصہ کے لیے پاکستان آئے ہوئے بہت سے غیر ملکی صحافتی نمائندوں نے پیرز ہوٹل اور عروسہ ہوٹل سے گرفتار ہونے والے مجرموں کو سرعام کوڑے مارنے کا منظر دیکھا۔ ان میں سے بیشتر نے پہلی بار فوجی عدالت سے ملنے والی اس عبرت ناک اور سبق آموز سزا پر عمل درآمد ہوتے ہوئے دیکھا۔ ان غیر ملکی صحافیوں نے اس امر کو خاص طور پر محسوس کیا کہ کوڑے مارنے کی سزا کا منظر دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے عوام معاشرہ کے خلاف مختلف نوعیت کے جرائم کے ارتکاب پر اس نوعیت کی سزا کو سراہتے ہیں۔ ایک غیر ملکی صحافی نے کہا کہ اس نوعیت کی سزا لازماً جرائم کے انسداد کا حقیقی ذریعہ ثابت ہوگی۔
کوڑے مارنے والے دو قیدی
راولپنڈی ۲۵ اکتوبر (نمائندہ جسارت) آج راولپنڈی میں جن ۲۶ ملزموں کو سرعام کوڑے مارے گئے‘ ان کو کوڑے مارنے والوں میں ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی کے دو قیدی زمرد اور بشارت شامل تھے۔ زمرد قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے اور اسے کوڑے مارنے کے لیے جیل میں باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔ جیل حکام کے مطابق زمرد جیل میں نمبردار ہے اور بہتر رویہ اور اس ڈیوٹی کے باعث اسے ہر تین ماہ بعد سزا میں ۸ دن تخفیف کی رعایت ملتی ہے جبکہ بشارت کا فوج میں کورٹ مارشل ہوا تھا۔
(جسارت کراچی‘ ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۹ء)
پیرز ہوٹل سے گرفتار شدہ افراد کی سزائیں معاف
راولپنڈی ۴ مئی (نمائندہ جنگ) معلوم ہوا ہے کہ پیرز ہوٹل کے مالک کے لڑکے پیر مظاہر احمد اور ہوٹل سے گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کی باقی ماندہ سزائیں معاف کر دی گئی ہیں۔ یہ لوگ مختلف جیلوں میں سزا بھگت رہے ہیں۔ (جنگ کراچی ۵ مئی ۱۹۸۰ء)
پریس فوٹو گرافروں کو دھمکی دینے پر سزا
راولپنڈی ۵ نومبر (نمائندہ جنگ) آج شب سرسری سماعت کی فوجی عدالت نمبر ۱۸ کے سربراہ میجر جوزف شیروف نے پریس فوٹو گرافروں کو دھمکی دینے کے سلسلہ میں مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ یہ مقدمہ پیرز ہوٹل کے مالک پیر صلاح الدین اور اس کے لڑکے مظاہر احمد کے خلاف زیر سماعت تھا۔ فیصلہ رات ساڑھے آٹھ بجے سنایا گیا۔ میجر جوزف شیروف نے زیر دفعہ ۵۰۶ تعزیرات پاکستان کے تحت اخباری فوٹو گرافروں کو دھمکی دینے کے جرم میں پیر صلاح الدین کو ایک سال قید سخت اور ۴۰ چالیس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی ہے جبکہ عدالت کے سربراہ نے پیر صلاح الدین کے لڑکے مظاہر احمد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ پیر صلاح الدین کو اس سے قبل ایک مقدمہ میں ایک سال قید سخت کی سزا دی جا چکی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ پیر صلاح الدین پر جو ۴۰ لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے، مجرم کو یہ رقم ادا کرنا ہو گی اور اگر وہ جرمانے کے ۴۰ لاکھ روپے ادا نہیں کرے گا تو اس کی املاک میں سے ۴۰ لاکھ روپے جرمانہ کی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔ عدالت نے مجرم صلاح الدین کو اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا حق دیا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اپیل کر سکتا ہے۔ استغاثہ کے مطابق دو ہفتہ قبل جب بدکاری ایکٹ کے تحت صلاح الدین اور دیگر متعدد افراد کے خلاف سمری ملٹری کورٹ میں مقدمہ کی سماعت ہو رہی تھی تو اس موقع پر اخباری فوٹو گرافروں نے صلاح الدین اور دیگر مجرموں کی تصویریں بنانے کی کوشش کی تو اس موقع پر صلاح الدین اور اس کے لڑکے مظاہر احمد نے فوٹو گرافروں کو تصاویر بنانے پر خطرناک انجام بھگتنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ چنانچہ فوٹو گرافروں کی شکایت پر سمری ملٹری کورٹ کے سربراہ کی
تحریر پر چھاؤنی تھانہ کی پولیس نے صلاح الدین اور مظاہر احمد کے خلاف دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ پی پی آئی کے مطابق قبل ازیں فاضل عدالت نے مقدمہ میں گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ ان میں روزنامہ جنگ راولپنڈی کے فوٹو گرافر رفیق ناز‘ ایک دوسرے مقامی روزنامہ کے اقبال زیدی اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔
(جنگ کراچی ‘ ۶ نومبر ۱۹۷۹ء)
پیر صلاح الدین کی جائیداد کی چھان بین کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل
دے دی گئی
راولپنڈی ۶ نومبر (نمائندہ جنگ) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مارشل لاء حکام نے پیرز ہوٹل اور اس سے ملحق تمام جائیداد کی چھان بین کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم مقرر کی ہے جو اس امر کا پتہ لگائے گی کہ صلاح الدین نے دس کینال کا پلاٹ جس میں پیرز ہوٹل اور اس کی رہائش گاہ ہے‘ کن ذرائع سے حاصل کیا۔ یہ پلاٹ غالباً صلاح الدین کو سیٹلائٹ ٹاؤن الاٹمنٹ کمیٹی نے الاٹ کیا تھا اور یہ پلاٹ رہائشی مقاصد کے لیے کہہ کر الاٹ کروایا جس میں پیر صلاح الدین نے ہوٹل تعمیر کر لیا تھا۔ اس امر کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ پیرز ہوٹل کی تعمیر کے لیے کس افسر نے اجازت دی تھی جبکہ گنجان اور رہائشی علاقوں میں ہوٹلوں کی تعمیر قانونی طور پر ممنوع ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاح الدین اس املاک کا تقریباً ۶۰ ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتا تھا۔ ٹیم یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ کیا صلاح الدین ٹیکس کی رقم صحیح دیتا رہا ہے۔ ان افسران کا سراغ لگایا جا رہا ہے جنہوں نے اس رہائشی پلاٹ پر ہوٹل بنانے کی اجازت دی تھی۔ کیونکہ اس نے اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر یہ ہوٹل تعمیر کیا تھا جبکہ ہوٹل کی تعمیر کے وقت وہاں رہائش پذیر باشندوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ خیال ہے کہ اس معاملہ میں انتظامیہ کے کئی افسران بھی ملوث ہوں گے۔ یہ خصوصی ٹیم چند روز میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے حتمی رپورٹ مارشل لاء حکام کو پیش کر دے گی۔
(جنگ کراچی ‘ ۷ نومبر ۱۹۷۹ء)
لیاقت علی خان کے قتل کی سازش
ابن فیض
کیا اس کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ تھا؟
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بارے میں مختلف نظریات ہیں کہ ان کا قتل اگر چہ صریحاً ایک سیاسی سازش سمجھا گیا۔ لیکن یہ کن عناصر کی سازش تھی۔ یہ بات کسی حد تک مستند شہادت رکھتی ہے کہ راولپنڈی کے جس جلسہ عام میں لیاقت علی خان کو گولی ماری گئی۔ اس میں اپنی تقریر کے لیے مرحوم نے جو مختصر نوٹ تیار کیے تھے۔ ان میں عالم اسلام کے اتحاد کے کسی منصوبے کی طرف اشارہ تھا اور یہ بات وہ ظاہر کر چکے تھے کہ راولپنڈی کی تقریر میں ایک انتہائی اہم اعلان کریں گے۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ ان کے قتل کی سازش میں نہ صرف پاکستان دشمن عناصر کا بلکہ وسیع تر محاذ پر عالم اسلام کی دشمن طاقتوں کی بھی شمولیت موجود ہو۔
یہ بات بھی اس دور کے سیاسی واقعات سے ظاہر ہے کہ دولت مشترکہ کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کے بارے میں مسئلہ کشمیر پر برطانیہ کے بھارت نواز رویہ اور دوسری معلومات کی بنا پر خان لیاقت علی خان کی ایک خاص پالیسی بن رہی تھی۔ انہوں نے علی الاعلان کہا تھا کہ برطانیہ پاکستان کو گھڑے کی مچھلی کی طرح سمجھتا ہے اور ہم اس رویہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ خود پاکستان کے سیاستدانوں اور اقتدار میں شامل ایسے افراد موجود تھے۔ جن کی برطانیہ سے وابستگی ڈھکی چھپی نہ تھی۔ اس بنا پر بھی لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کے ڈانڈے ملک سے باہر اور ملک کے اندر ایک مخصوص طبقہ اور گروہ تک پہنچتے ہیں۔
سازش کے سیاسی ہونے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ اس اہم معاملہ کی تحقیقات میں طرح طرح کی رخنہ اندازیاں ہوئیں اور تحقیقات کو غلط سمتوں میں ڈالنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے گئے۔ موقعہ واردات پر سازش کے بڑے آلہ کار یعنی قاتل سید اکبر کو گولی سے اڑا کر یہ اطمینان کر لیا گیا کہ راز بے نقاب نہ ہونے پائے اور پھر یہی نتیجہ نکالا گیا کہ یہ دردناک اور سفاکانہ قتل جس نے پاکستان کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا صرف ایک شخص کی جنونی کیفیت اور بعض معاملات پر اس کے مجنونانہ رد عمل کا نتیجہ تھا۔ یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب کے قتل کی سازش میں جو اسلام دشمن، ملک دشمن اور پراسرار ہاتھ ملوث تھے۔ ان کے سامراجی غیر ملکی مفادات اور پاکستان میں اس کے ذریعہ ہونے والی تبدیلی یا کسی تبدیلی کو روکنا، کس مقصد کے لیے تھا۔ اس سلسلہ میں ایک اہم مسئلہ اہل فکر کی نظر سے اوجھل چلا آ رہا ہے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد یہاں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو نہ صرف سیاسی اور مالی مفادات کے لیے برطانیہ کا وفادار تھا بلکہ مذہبی طور پر اور عقیدے کے اعتبار سے برطانوی اقتدار سے وابستگی رکھتا تھا۔ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں انگریزوں نے مسلمان قوم کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے قادیانیت کا فتنہ برصغیر میں پیدا کیا تھا اور انگریزوں کی خواہش کے مطابق قادیانی فرقے نے ہر وہ کام کرنا گوارا کیا جو انگریزی اقتدار کے تحفظ کے لیے مفید ہو سکتا تھا۔
مسلمان علماء اور اہل فکر کی نظر میں قادیانیت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا۔ یہ اپنے عزائم اور مقاصد کے لحاظ سے عالم اسلام کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا تھا اور آزادی سے قبل اور پھر اس کے حصول کے بعد، برصغیر پاک و ہند کے جید علماء نے مذہبی آواز اٹھائی۔ پہلے پہل تو اس مسئلہ کو مخصوص طرز فکر سے چنداں اہم نہ سمجھا گیا مگر جس وقت ”قادیانیت“ کے اس سیاسی اور خطرناک عزائم کے کئی رخ سامنے آنے لگے تو شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے نہایت تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر قلم اٹھایا، جس کا برصغیر کے ہر طبقہ فکر نے فوری اثر قبول کیا۔
آزادی کے بعد علماء ملت کے علاوہ سیاسی لیڈروں میں قادیانیت کے خلاف پہلی آواز سید حسین شہید سہروردی مرحوم نے اٹھائی اور ان کے مذموم عقائد اور مقاصد سے
وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین مرحوم کو ایک طویل خط کے ذریعہ آگاہ کیا۔ سر ظفر اللہ خاں کی بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان تقرری سے مذہبی حلقوں میں بالخصوص اور سیاسی گوشوں میں بالعموم بے چینی پائی ہی جاتی تھی۔ کیونکہ یہ حلقے اور گوشے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور ناپاک عزائم سے پوری طرح آگاہ تھے۔ کیونکہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ بیان آنے والے خطرات کو سمجھنے کے لیے کافی تھا۔
"میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی رکھنا پڑے تو یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔"
آزادی کے موقع پر جب ریڈ کلف کمیشن و باؤنڈری کمیشن تشکیل دیا گیا تو اس کے سامنے مرزائیوں نے اپنا الگ کیس پیش کیا اور قادیان کو ”ویٹی کن سٹی“ قرار دینے کا مطالبہ کیا اور قادیانیوں کی یہ الگ پوزیشن پاکستان کے مستقبل کے لیے کس قدر گراں قیمت اور خطرناک ثابت ہوئی۔ اس سے برصغیر میں مسائل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس سے ملت اسلامیہ آج تک نقصان اٹھا رہی ہے۔
یہ تمام بیانات، حالات اور عزائم قادیانیوں کی بین السطور سیاست کی غمازی کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ قادیانیوں کی اپنی ”فرقان بٹالین“ اور حکومت کے مختلف محکموں میں ان کا بے پناہ اثر و رسوخ اور ظفر اللہ خاں کا وزارت خارجہ پر مسلسل متمکن رہنا پاکستان کے محب عناصر کے دلوں میں عجیب و غریب شبہات پیدا کر رہا تھا اور یہ سب کچھ اس امر کی غمازی کر رہا تھا کہ قادیانی پاکستان کو قادیانی سٹیٹ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
یہ صورت حال جیسا عرض کر چکا ہوں۔ محب وطن طبقہ کے لیے از حد پریشان کن تھی۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور علماء حق نے امت مسلمہ کو قادیانیوں کے ان مذموم ارادوں سے خبردار کیا۔ اس کے ساتھ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز عالم دین خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے مسلم لیگ کے برسر اقتدار اکابر اور دیگر زعمائے ملت سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور انہوں نے وزراء، سیاسی لیڈروں اور عدالت عالیہ کے بعض ججوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو مرزائیت
کی مذہبی و سماجی حیثیت اور اس کے خطرناک عزائم سے آگاہ کیا۔ ان میں بیشتر زعما ملت کے علاوہ خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی مرحوم، سردار عبد الرب نشتر مرحوم، سردار بہادر خان مرحوم، شیخ دین محمد گورنر سندھ مرحوم، ملک امیر محمد مرحوم، چیف جسٹس محمد منیر، سکندر مرزا، سید ہاشم گزدر وغیرہ شامل تھے۔ لیکن قاضی صاحب کی سب سے اہم ملاقات خان لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ تھی جو اس مضمون اور دعوت فکر کا سر عنوان ہے۔
۱۹۵۱ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بعض قادیانی امیدواروں کو بھی اپنا ٹکٹ دیا اور بعض مرزائی امیدوار آزاد انتخابات لڑ رہے تھے۔ قاضی احسان احمد نے اپنی جماعت مجلس احرار کے فیصلہ کے مطابق ان مسلم امیدواروں کے حق میں کام کرنے کا فیصلہ کیا، جن کا مقابلہ مرزائی امیدوار کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ان مرزائی امیدواروں کی بھرپور مخالفت کا عہد کیا جو لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے تھے۔ اس انتخابی مہم کے دوران خان لیاقت علی خان مرحوم پنجاب کا دورہ کر رہے تھے۔ سیالکوٹ کے قصبہ سمبڑیال میں ایک مرزائی امیدوار انتخاب لڑ رہا تھا۔ جس کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا امیدوار بھی موجود تھا۔ ان دنوں قاضی صاحب مرحوم بھی ضلع سیالکوٹ کا دورہ کر رہے تھے اور سیالکوٹ میں ان کا قیام ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کے مکان پر تھا۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خواجہ محمد صفدر صاحب جنرل سیکریٹری مسلم لیگ قاضی صاحب کے پاس آئے اور درخواست کی کہ اگلے روز ۴ بجے بعد از دوپہر سمبڑیال میں مسلم لیگ کا جلسہ ہے جہاں خان لیاقت علی خان بھی تشریف لا رہے ہیں۔ آپ وہاں تشریف لے چلیں اور جلسہ سے خطاب فرمائیں۔ اس جلسہ کی اہمیت وزیر اعظم کے خطاب کے علاوہ اس وجہ سے بھی بڑھ گئی تھی کہ لیگی امیدوار کا مقابلہ ایک مرزائی امیدوار سے تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مقابلہ اہم ہے۔ اس لیے قاضی صاحب کی تقریر ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے وزیر اعظم سے پوچھ لیا ہے کہ انہیں وہاں تقریر کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب اپنے مقامی ساتھیوں کی معیت میں سمبڑیال تشریف لے گئے اور یہ سفر انہوں نے تانگے پر طے کیا اور راستے میں اگوکی کے مقام پر بھی مختصر خطاب کیا۔ قاضی صاحب ۴ بجے شام سمبڑیال پہنچے تو جلسہ کی
کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ جب قاضی صاحب جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو فضا مسلم لیگ زندہ باد‘ قاضی احسان احمد زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ ضلعی لیگی قائدین نے بڑھ کر قاضی صاحب کا استقبال کیا۔ چند منٹ گزرے تھے کہ وزیر اعظم بھی تشریف لائے تو سارے مجمع میں نعروں کی گونج پیدا ہو گئی۔ سب سے پہلے قاضی صاحب کو تقریر کی دعوت دی گئی آپ نے اپنے بیان میں اپنی جماعت اور اس کی دینی جدوجہد کا تعارف پیش کیا اور احرار نے استحکام دفاع پاکستان کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دیں‘ اس کا ذکر کیا۔ امت مرزائیہ کی مذموم دینی و سیاسی سرگرمیوں کا مختصر احوال بیان کیا۔ آپ کی تقریر کی لذت اور نوائے گرم سے سامعین جھوم جھوم رہے تھے۔ آپ کے بعد وزیر اعظم کا تاریخی خطاب ہوا۔ جلسہ کے اختتام پر وزیر اعظم نے ایک لیگی رہنما سے پوچھا کہ ”یہ مولوی صاحب کون ہیں۔“ غالباً خواجہ صاحب نے ہی وزیر اعظم سے قاضی صاحب کا تعارف کرایا۔ جس پر خاں لیاقت علی خاں نے خواہش ظاہر کی کہ چند گھنٹوں بعد سیالکوٹ کے جس جلسہ عام سے وہ خطاب کر رہے ہیں۔ اس سے قاضی صاحب بھی خطاب فرمائیں۔ قاضی صاحب نے خاں صاحب مرحوم رحمتہ اللہ علیہ کی دعوت قبول فرمائی۔
اسی روز شام سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا۔ جونہی اہل شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی صاحب بھی تقریر کرنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ وزیر اعظم اور قاضی صاحب کی زبردست تقاریر ہوئیں اور اسی جلسے میں وزیر اعظم نے اپنا تاریخی فقرہ کہا تھا۔
”آپ ملک کو اندرونی دشمنوں سے محفوظ رکھیں۔ میں ملک کو بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھوں گا“۔
جلسہ کے دوران نعرہ ہائے تکبیر‘ اور لیاقت علی خان‘ قاضی صاحب‘ مسلم لیگ و ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ جلسہ کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خاں سے مصافحہ کیا اور عرض کیا کہ ”میں آپ سے بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں“ جس پر لیاقت علی خاں نے کہا کہ آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لایئے‘ قاضی صاحب نے کہا کہ آدھ گھنٹہ میں حاضر ہوتا ہوں۔
قاضی صاحب فوراً اپنے ایک عزیز‘ جو وہاں ایک بنک میں کام کر رہے تھے‘ کے
یہاں پہنچے، قادیانیت کے لٹریچر کا ایک بڑا صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں اور اس کے علاوہ دوسرا لٹریچر بھی تھا۔ اپنے عزیز موصوف کو اٹھانے کو کہا۔ دونوں صندوق کے ساتھ اسٹیشن پہنچے، جہاں وزیراعظم کا سیلون کھڑا تھا۔ پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لیے صوبہ بھر کے ممتاز مسلم لیگی لیڈر موجود تھے اور اس انتظار میں ہی تھے کہ کب وزیر اعظم انہیں شرف باریابی بخشتے ہیں، جب قاضی صاحب اسٹیشن پر وزیراعظم کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ وزیراعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ نے دیر کردی۔
قاضی صاحب اپنے صندوق کے ساتھ جب سیلون میں جانے لگے تو صدیق علی خان نے کہا کہ ملاقات کے لیے دس منٹ مقرر ہیں۔ حفاظتی گارڈ نے قاضی صاحب، ان کے عزیز اور صندوق کی روایتی چیکنگ کی، لیاقت علی خان نے اپنی نشست کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھا لیا۔ آپ نے ابتدائی بات چیت میں اپنی جماعت کے متعلق بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کیا اور جماعت کی دفاع پاکستان کے سلسلے میں کوششوں سے آگاہ فرمایا۔ آپ نے ملک میں منعقدہ کئی جہاد کانفرنسوں کے انعقاد کے شاندار نتائج سے بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد آپ نے قادیانیت کے پس منظر، ان کے مذموم مذہبی اور سیاسی نظریات سے وزیر اعظم کو آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کے سیاسی عزائم کی ایک بھرپور جھلک بیشتر حوالوں سے ان کے سامنے رکھی اور پھر قادیانیوں کی ”تذکرہ“ دکھائی جس میں لکھا تھا کہ :
”نبی کریم محمد ﷺ پہلی رات کا چاند تھے اور میں مرزا غلام (احمد) چودھویں رات کا چاند ہوں....... (تذکرہ)“
خان لیاقت علی خان نے اس جملہ پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور اس کے بعد مرزا بشیر الدین محمود کی وہ سب تصانیف اور حوالے دکھائے جن میں حضور نبی کریم ﷺ حضرت فاطمۃ الزہراؓ، حضرت حسنینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خان ان تمام حوالوں کو خود انڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کو اکمل قادیانی کے یہ شعر دکھائے۔
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(استغفراللہ)
تو قاضی صاحب خود زار و قطار رو رہے تھے۔ لیاقت علی خان کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور دوسرے مذہبی اور سیاسی حوالے دیکھنے کے بعد قاضی صاحب سے فرمایا کہ ”قاضی صاحب آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ کراچی چلیں۔“ قاضی صاحب نے اپنے طے شدہ جماعتی پروگراموں کو منسوخ کرنے کی بنا پر ساتھ چلنے سے معذرت چاہی۔ البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہو کر ملاقات کریں گے۔ قاضی صاحب کی لیاقت علی خاں سے یہ ملاقات ۴۵ منٹ جاری رہی اور رخصت ہوتے وقت لیاقت علی خان نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ: ”مولانا آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا‘ اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“
ایک ملاقات میں چودھری محمد علی سابق وزیر اعظم جن سے قاضی صاحب کے تعلقات انتہائی عزیزانہ ہو گئے تھے‘ نے کراچی میں قاضی صاحب سے کہا کہ جب سے لیاقت علی خاں نے آپ سے ملاقات کی ہے۔ اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے بلکہ ایک میٹنگ میں ظفر اللہ خان کو ان الفاظ سے لیاقت علی خان نے مخاطب ہو کر کہا: ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں“ اس کے تھوڑے عرصے بعد پاکستان کے اس مرد جلیل کو انتہائی پراسرار حالات میں شہید کر دیا گیا۔ قاضی صاحب نے ان کی شہادت کے بعد انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان کا پروگرام تھا کہ قادیانیوں کو ایک سیاسی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دے دیا جائے۔ لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اسی ملاقات کے بعد لیاقت علی خان کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ از قلم: ابن فیض)