احتساب قادیانیت جلد 29 · مولانا محمد صادق بہاولپوری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 29 · Maulana Muhammad Sadiq Bahawalpuri
PDF 1

رَدّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ جناب مکرم سید حبیبؒ صاحب لاہوری حضرت مولانا حنیفؒ ندوی جناب شیخ سلطان احمد صاحبؒ حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ جناب مکرم منشی محمد عبداللہ معمارؒ

احتساب قادیانیت

جلد ٢٩

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٢٩

حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ

حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ

جناب مکرم سید حبیب صاحبؒ لاہوری

حضرت مولانا حنیف ندویؒ

جناب شیخ سلطان احمد صاحبؒ

حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ

جناب مکرم منشی محمد عبداللہ معمارؒ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد انتیس (٢٩) نام مصنفین : حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ جناب سید حبیب صاحبؒ حضرت مولانا محمد حنیف ندویؒ جناب شیخ سلطان احمد خانؒ حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسریؒ

صفحات : ٥٦٠ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر ٢٠٠٩ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

بسم الله الرحمن الرحیم

فہرست رسائل مشمولہ....... احتساب قادیانیت

عرض مرتب

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحيم!

احتساب قادیانیت جلد انتیس (٢٩)

حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ جناب سید حبیب صاحبؒ حضرت مولانا محمد حنیف ندویؒ جناب شیخ سلطان احمد خانؒ حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسریؒ

٥٦٠ ٣٠٠ روپے ناصر زین پریس لاہور ستمبر ٢٠٠٩ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

٣ بسم الله الرحمن الرحيم!

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٢٩

عرض مرتب ٤

صفحہ ٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

عرض مرتب

الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ، اما بعد! قارئین کرام! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد انتیس (٢٩) حاضر خدمت ہے۔ اس میں :

کل تعداد ٢٠ رسائل و کتب شامل اشاعت ہیں۔

امور مذہبیہ بہاولپور رہے ہیں۔ قادیانیوں کے متعلق جب بہاولپور کی عدالت میں کیس دائر تھا۔ جس کی وکالت کے لئے حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ بہاولپور تشریف لائے تھے۔ تب مولانا محمد صادق بہاولپور کے ناظم امور مذہبیہ تھے۔ مولانا محمد صادق صاحب کے مرزا قادیانی ملعون کے خلاف بہت سے رسائل ہوں گے۔ ہمیں صرف تین رسائل دستیاب ہوئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔

حضرت مولانا سید ابوالحسنات احمد قادریؒ تھے۔ آپ جامع مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب تھے اسلامیان وطن کی رہنمائی فرمائی۔ مجلس عمل تحفظ ختم ن آپ کو تحریک کے آغاز میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ بہادری کے ساتھ کراچی، سکھر، لاہور میں جیل کاٹی مولانا خلیل احمد قادریؒ صاحب کو تحریک میں تحفظ ختم حکم ہوا۔ مولانا سید ابوالحسناتؒ کو معلوم ہوا تو بڑی بہا ادا کیا۔ غرض آپ بہت بہادر اور شیر دل رہنماء تھ درجن بھر سے زائد رسائل ہوں گے۔ لیکن ہمیں صرف

اس جلد میں جناب سید حبیب کی جناب سید حبیب کی اس کتاب کے ٹائٹل پر حص

صفحہ ٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

عرض مرتب

وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده، امابعد! ! لیجئے اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی جلد ت ہے۔ اس میں:

حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ کے ٣ رسائل حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ کے ٣ رسائل جناب سید حبیب صاحب مدیر سیاست لاہور کا ١ رسالہ حضرت مولانا محمد حنیف ندویؒ کا ١ رسالہ جناب شیخ سلطان احمد خانؒ کے ٢ رسائل جناب حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ کے ٧ رسائل مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسریؒ کے ٣ رسائل کل تعداد ٢٠ رسائل و کتب ہیں ۔

حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ جامعہ عباسیہ بہاولپور کے پروفیسر سینئر پروفیسر، ناظم قادیانیوں کے متعلق جب بہاولپور کی عدالت میں کیس دائر تھا۔ جس کی سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ بہاولپور تشریف لائے تھے۔ تب مولانا محمد پہیہ تھے۔ مولانا محمد صادق صاحب کے مرزا قادیانی ملعون کے خلاف ں صرف تین رسائل دستیاب ہوئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔

حضرت مولانا سید ابوالحسنات احمد قادریؒ بہت بڑے نامور عالم دین اور مذہبی پیشوا تھے۔ آپ جامع مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب تھے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے اسلامیان وطن کی رہنمائی فرمائی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے آپ مرکزی صدر تھے۔ آپ کو تحریک کے آغاز میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ کراچی سے گرفتار کرلیا گیا۔ آپ نے بڑی بہادری کے ساتھ کراچی، سکھر، لاہور میں جیل کاٹی۔ جیل کے دوران میں آپ کے صاحبزادہ مولانا خلیل احمد قادریؒ صاحب کو تحریک میں تحفظ ختم نبوت کے جرم بے گناہی میں موت کی سزا کا حکم ہوا۔ مولانا سید ابوالحسناتؒ کو معلوم ہوا تو بڑی بہادری سے اس خبر کو سنا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ غرض آپ بہت بہادر اور شیر دل رہنماء تھے۔ مولانا قادری صاحب کے رد قادیانیت پر درجن بھر سے زائد رسائل ہوں گے۔ لیکن ہمیں صرف تین رسائل میسر آئے۔

اس جلد میں جناب سید حبیب کی کتاب تحریک قادیان بھی شامل اشاعت ہے۔ جناب سید حبیب کی اس کتاب کے ٹائٹل پر حصہ اول لکھا ہے۔ دوسرا حصہ دستیاب نہیں ہوا۔ اغلب

صفحہ ٧

گمان یہ ہے کہ شائع ہی نہیں ہوا۔ جو کتاب میسر آئی ہے۔ یہ فوٹوسٹیٹ ہے۔ فہرست میں نقد و تبصرہ کی سرخی ہے۔ جو ص ٧ سے ص ٣٣ تک صفحات کو حاوی ہے۔ وہ فوٹوسٹیٹ جس کتاب سے ہوئی۔ اس میں بھی ص ٧ سے ص ٣٣ تک صفحات موجود نہ تھے۔ نامعلوم اس میں کیا کچھ تھا کیا تبصرہ تھا۔ آگے ص ٣٧ سے ص ٤٧ تک تمہید ہے۔ فوٹو میں موجود ہے۔ لیکن میں نے حذف کر دیا۔ اس دور میں سیاست، زمیندار دو اخبارات کی تو تکار کو آج کی نئی نسل کو یہ بحث پڑھانا، ذہن پراگندہ کرنے والی بات ہے۔ ان مباحث کا آج کی نسل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اسے بھی حذف کردیا۔ الحمد للہ! رد قادیانیت کی بحث جہاں سے شروع ہوئی وہ اوّل سے آخر تک موجود تھی اور یہ ہمارا مقصود ہے۔ تو گویا گوہر مقصود مل گیا۔

سید حبیب صاحب اپنے دور کے اچھے لکھاری، ادیب اور رہنما تھے۔ کشمیر کمیٹی میں مرزا محمود ملعون کے ساتھ کام کرتے۔ لاہوری مرزائی ڈاکٹر یعقوب بیگ سے مفت علاج کراتے رہے۔ ان دونوں کے بارہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ لیکن جب قلم پکڑا تو مرزا قادیانی ملعون کے بخئے ادھیڑنے کا خوب حق ادا کیا۔ مولانا ظفر علی خان کے معاصر تھے۔ ان سے دوستی، دشمنی رہی۔ اخبار والوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ روزنامہ سیاست لاہور کے مدیر تھے۔ ان کا یہ مضمون سیاست میں قسط وار چھپتا رہا۔ پھر کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس نایاب کتاب کو زندہ کرنے کی سعادت پر شکر الہی بجالاتے ہیں۔ الحمد لله اولاً وآخراً!

الاعتصام لاہور میں فتنہ قادیانیت کے خلاف آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ عرصہ ہوا، مکتبہ ادب و دین، گوجرانوالہ، لاہور نے اسے کتابی شکل میں ”مرزائیت نئے زاویوں“ کے نام سے شائع کیا۔ اس جلد میں اسے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔

موصوف دھرم کوٹ رندھاوا گورداسپو رکھتے۔ میرے استاذ گرامی قدر سلطان المناظرین احمد صاحب چچا لگتے تھے۔ ان کا پہلا رسالہ مشک دوسری بار اسے مجلس شائع کرنے کی سعادت حا

مندرجہ بالا سات رسائل بھی احقر حضرت مولانا گلزار احمد صاحبؒ مظاہری، م تھے۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اتحاد العل محمد چراغ کے بعد اتحاد العلماء کے مرکزی ع میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ خوب شعلہ نوا

صفحہ ٧

ہی نہیں ہوا۔ جو کتاب میسر آئی ہے۔ یہ فوٹو سٹیٹ ہے۔ فہرست میں نقد و تبصرہ ے سے ص ٣٣ تک صفحات کو حاوی ہے۔ وہ فوٹو سٹیٹ جس کتاب سے ہوئی۔ ص ٣٣ تک صفحات موجود نہ تھے۔ نامعلوم اس میں کیا کچھ تھا کیا تبصرہ تھا۔ ٤٤ تک تمہید ہے۔ فوٹو میں موجود ہے۔ لیکن میں نے حذف کر دیا۔ اس دور دو اخبارات کی توتکار کو آج کی نئی نسل کو یہ بحث پڑھانا، ذہن پراگندہ ۔ ان مباحث کا آج کی نسل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اسے بھی حذف یانیت کی بحث جہاں سے شروع ہوئی وہ اوّل سے آخر تک موجود تھی اور یہ کو ہر مقصود مل گیا۔

صاحب اپنے دور کے اچھے لکھاری، ادیب اور رہنما تھے۔ کشمیر کمیٹی میں مرزا ام کرتے۔ لاہوری مرزائی ڈاکٹر یعقوب بیگ سے مفت علاج کراتے بارہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ لیکن جب قلم پکڑا تو مرزا قادیانی ملعون کے ق ادا کیا۔ مولانا ظفر علی خان کے معاصر تھے۔ ان سے دوستی ، دشمنی رہی۔ ہوتا ہے۔ روزنامہ سیاست لاہور کے مدیر تھے۔ ان کا یہ مضمون سیاست کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس نایاب کتاب کو زندہ کرنے کی سعادت پر

لحمد للّٰه اولاً وآخراً!

”مرزائیت نئے زاویوں سے‘‘

ندویؒ اہل حدیث مکتب فکر کے جید عالم دین اور صاحب قلم رہنما تھے۔ ادیانیت کے خلاف آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ عرصہ ہوا، الہ، لاہور نے اسے کتابی شکل میں ”مرزائیت نئے زاویوں“ کے نام اسے بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔

موصوف دھرم کوٹ رندھاوا گورداسپور کے رہائشی تھے۔ کاکے زئی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ میرے استاذ گرامی قدر سلطان المناظرین مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے سلطان احمد صاحب چچا لگتے تھے۔ ان کا پہلا رسالہ مشک و عنبر پہلی بار جنوری ١٩٣٣ء میں شائع ہوا۔ اب دوسری بار اسے مجلس شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔

مندرجہ بالا سات رسائل بھی احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔ حضرت مولانا گلزار احمد صاحبؒ مظاہری، مظاہر العلوم سہارن پور کے فارغ التحصیل عالم دین تھے۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اتحاد العلماء کے آپ عرصہ تک سیکرٹری جنرل رہے اور مولانا محمد چراغ کے بعد اتحاد العلماء کے مرکزی صدر بھی رہے۔ آپ نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ خوب شعلہ نوا خطیب اور بہادر انسان تھے۔ حق تعالیٰ نے خوبیوں کا

صفحہ ٨

مرقعہ بنایا تھا۔ آپ کے مزید رسائل بھی رد قادیانیت پر ہیں۔ مجھ مسکین کو یہی میسر آئے جو شامل اشاعت کر دیئے۔ آپ کے صاحبزادہ جناب فرید احمد پراچہ، سابق ایم۔این۔اے جماعت اسلامی کو خط بھی لکھا کہ وہ بقیہ رسائل مہیا کر دیں۔ لیکن شاید خط ان کو موصول نہیں ہوا۔ یا یہ کہ وہ اس کام کو کام ہی نہیں سمجھتے۔ وللناس فیما یعشقون مذاہب!

بہر حال اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس جلد میں مولانا مظاہریؒ کے ٧ رسائل بھی یکجا ہو گئے۔ مولانا مرحوم سے ١٩٧٤ء میں نیاز مندانہ ساتھ رہا۔ چنیوٹ اور چناب نگر کی ختم نبوت کانفرنسوں میں بھی تشریف لاتے رہے اور اپنے بیان سے ممنون فرماتے رہے۔

امرتسریؒ اور مولانا میر ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ کے رد قادیانیت کے محاذ پر دست بازو تھے۔ آپ کی شہرہ آفاق کتاب محمدیہ پاکٹ سے ایک زمانہ نفع حاصل کر رہا ہے۔ اس کتاب کے نام سے قادیانیت کانپتی ہے۔ وہ کتاب چونکہ عام طور پر مل جاتی ہے۔ مکتبہ سلفیہ شیش محل لاہور اسے مسلسل شائع کر رہا ہے۔ اس لئے اسے اس جلد میں شائع نہیں کیا۔ اس کے علاوہ تین رسائل ہمیں میسر آئے جو اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔

قارئین اگلی جلد کی اشاعت تک کے لئے اجازت چاہتا ہوں۔

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ١١/ رمضان المبارک ١٤٣٠ھ ٢/ ستمبر ٢٠٠٩ء

صفحہ ٨

کے مزید رسائل بھی رد قادیانیت پر ہیں۔ مجھ مسکین کو یہی میسر آئے جو شامل پ کے صاحبزادہ جناب فرید احمد پراچہ، سابق ایم ۔ این ۔ اے جماعت وہ بقیہ رسائل مہیا کردیں۔ لیکن شاید خط ان کو موصول نہیں ہوا۔ یا یہ کہ وہ اس - وللناس فيما يعشقون مذاهب!

تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس جلد میں مولانا مظاہریؒ کے ٧ رسائل بھی یکجا سے ١٩٧٤ء میں نیازمندانہ ساتھ رہا۔ چنیوٹ اور چناب نگر کی ختم نبوت لاتے رہے اور اپنے بیان سے ممنون فرماتے رہے۔

نا محمد عبداللہ معمار اہل حدیث مکتب فکر کے مسلمہ رہنما تھے۔ مولانا ثناء اللہ ہیم صاحب سیالکوٹیؒ کے رد قادیانیت کے محاذ پر دست بازو تھے۔ آپ کی پاکٹ سے ایک زمانہ نفع حاصل کر رہا ہے۔ اس کتاب کے نام سے کتاب چونکہ عام طور پر مل جاتی ہے۔ مکتبہ سلفیہ شیش محل لاہور اسے مسلسل ، اسے اس جلد میں شائع نہیں کیا۔ اس کے علاوہ تین رسائل ہمیں میسر اشاعت ہیں۔

ذہب قادیان۔ لطات مرزا عرف الہامی بوتل۔ راد مناظرہ روپڑ۔

کی اشاعت تک کے لئے اجازت چاہتا ہوں۔

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ١١؍ رمضان المبارک ١٤٣٠ھ ٢؍ ستمبر ٢٠٠٩ء

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزا

اور

یسوع

(حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ)

صفحہ ١٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

تعارف مصنف علیہ الرحمۃ

حضرت مولانا محمد صادق صاحبؒ بہاولپور کے ان نامور علماء سے تھے جن کا تذکرہ سرزمین بہاولپور میں اچھی یاد کے ساتھ ہمیشہ یادرہے گا۔ آپ کے علم وفضل کے ساتھ ساتھ آپ کے فاضل اجل تلامذہ کا حلقہ ہی آپ کی شہرت وناموری کے لئے کافی ہیں۔ آپ مختلف دینی اور مذہبی درسگاہوں اور تنظیموں کے سربراہ تھے۔ سابق جامعہ عباسیہ کا قیام اور اس کے لئے معاون مدارس کا جال آپ کے افکار کا آئینہ دار ہے۔

آپ محرم الحرام ١٣١١ھ میں بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب جائیؒ سے حاصل کی۔ ان کی وفات کے بعد ١٩٠٧ء میں بہاولپور کی قدیم درسگاہ صدر دینیات (جامعہ عباسیہ) میں داخل ہوئے۔ وہاں مولانا نورالدین صاحبؒ جیسے مشفق استاذ کی خدمت میں رہ کر علم کی تکمیل کی۔ اگرچہ آپ نے حصول علم کے لئے اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا محمد شاکر صاحبؒ سابق پروفیسر ایس۔ ای کالج بہاولپور کے ہمراہ دو مختصر سے سفر لاہور اور چیلا واہن کے کئے تھے۔ مگر سند فضیلت مدرسہ صدر دینیات سے حاصل کی اور ١٢ مئی ١٩١٨ء کو مدرسہ عربیہ احمد پور شرقیہ حال مدرسہ عربیہ فاضل میں اوّل مدرس مقرر ہوئے۔ تقریباً ٧ سال تک صدر مدرس رہے۔ اس عرصہ میں مولانا غلام حسینؒ سابق وزیر تعلیم ڈیرہ نواب صاحب تشریف لائے تو آپ نے انہیں ایک دینی درسگاہ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ وزیر صاحب نے تجویز کی تائید کی۔ چنانچہ آپ نے ٢٠ صفحات پر مشتمل جامعہ عباسیہ کی رپورٹ ابتدائی لکھی۔ جس میں جدید و قدیم علوم کے امتزاج سے ایک درسگاہ کا تخیل پیش کیا۔ چنانچہ سرکار والا شان اعلیٰ حضرت صادق محمد خان عباسی خامس کی منظوری سے ٢٥ جون ١٩٢٥ء کو جامعہ عباسیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جامعہ عباسیہ کے اعلیٰ عہدہ کے لئے حضرت مولانا غلام محمد گھوٹویؒ کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور مولانا محمد صادق صاحبؒ مدرس اوّل مقرر ہوئے۔ ٢٥ سال تک جامعہ عباسیہ میں تدریس کی خدمات انجام دیں اور شیخ الفقہ کے جلیل القدر عہدہ پر فائز رہے۔ جامعہ عباسیہ کے نصاب کمیٹی کے ہمیشہ رکن رہے اور جب کہ پنشن پر فراغت حاصل کر چکے تھے اور حکومت پاکستان جامعہ عباسیہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں سونپ رہی تھی۔ اس کے نصاب کی تشکیل میں علالت کے باوجود اس کے تمام اجلاسوں میں جو مختلف مقامات پر منعقد ہوئے شریک رہے۔ آپ جامعہ عباسیہ کے عہدہ شیخ الفقہ سے مفتی امور مذہبیہ مقرر ہوئے۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد ناظم محکمہ امور مذہبیہ مقرر ہوئے اور چھ سال تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

صفحہ ١١

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف مصنف علیہ الرحمۃ

مولانا محمد صادق صاحبؒ بہاولپور کے ان نامور علماء سے تھے جن کا تذکرہ اچھی یاد کے ساتھ ہمیشہ یادرہے گا۔ آپ کے علم وفضل کے ساتھ ساتھ آپ کا حلم بھی آپ کی شہرت و ناموری کے لئے کافی ہے۔ آپ مختلف دینی اور تنظیموں کے سر براہ تھے۔ سابق جامعہ عباسیہ کا قیام اور اس کے لئے معاون افکار کا آئینہ دار ہے۔

محرم ١٣١١ھ میں بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حضرت جائی سے حاصل کی۔ ان کی وفات کے بعد ١٩٠٧ء میں بہاولپور کی قدیم جامعہ عباسیہ ) میں داخل ہوئے۔ وہاں مولانا نور الدین صاحبؒ جیسے مشفق علم کی تکمیل کی۔ اگرچہ آپ نے حصول علم کے لئے اپنے برادر بزرگ صاحب سابق پروفیسر ایس ۔ ای کالج بہاولپور کے ہمراہ دو مختصر سے سفر لاہور تھے۔ مگر سند فضیلت مدرسہ صدر دینیات سے حاصل کی اور ١٢ مئی ١٩١٨ء کو ل مدرسہ عربیہ فاضل میں اوّل مدرس مقرر ہوئے۔ تقریباً ٧ سال تک صدر مولانا غلام حسینؒ سابق وزیر تعلیم ڈیرہ نواب صاحب تشریف لائے تو درسگاہ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ وزیر صاحب نے تجویز کی تائید کی۔

مفصل جامعہ عباسیہ کی رپورٹ ابتدائی لکھی۔ جس میں جدید و قدیم علوم کا خاکہ پیش کیا۔ چنانچہ سرکار والا شان اعلیٰ حضرت صادق محمد خان عباسی جون ١٩٢٥ء کو جامعہ عباسیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جامعہ عباسیہ کے اعلیٰ غلام محمد گھوٹویؒ کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور مولانا محمد صادق صاحبؒ سال تک جامعہ عباسیہ میں تدریس کی خدمات انجام دیں اور شیخ الفقہ رہے۔ جامعہ عباسیہ کے نصاب کمیٹی کے ہمیشہ رکن رہے اور جب کہ پنشن حکومت پاکستان جامعہ عباسیہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں سونپ دی طویل علالت کے باوجود اس کے تمام اجلاسوں میں جو مختلف مقامات آپ جامعہ عباسیہ کے عہدہ شیخ الفقہ سے مستعفی ہو کر مفتی امور مذہبیہ مقرر ہوئے اور چھ سال تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

اگرچہ مختلف اوقات میں حواشی اور رسائل لکھے ہوئے تھے۔ مگر سب ناتمام تھے اور مدت کے بعد ضائع ہو جاتے رہے۔ جب بہاولپور میں مرزائیوں نے ارتداد و فسخ نکاح کا مقدمہ چلا رکھا تھا تو مرزائیت کی رد میں چند رسائل لکھے۔ جن میں دو رسالے ’’مرزا اور یسوع‘‘ اور ’’مرزا اور محمدی بیگم‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔

عرصہ سے علماء ریاست بہاولپور کے تراجم لکھ رہے تھے۔ جو تقریباً تکمیل پذیر ہو چکے ہیں۔ ضمیمہ کے طور پر ان علماء کے تراجم بھی لکھے ہیں۔ جن کا ورود عارضی طور پر بہاولپور میں یا اس کے نواحی علاقوں میں ہوا ہے۔ جس میں ایک ہزار علمائے ربانی کے حالات قلمبند ہو چکے ہیں۔ اگر یہ تذکرہ شائع ہو جائے تو اس باب میں مکمل تذکرہ ہوگا۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی صاحب کے زیر نگرانی فیصلہ مقدمہ بہاولپور اور بیانات علماء ربانی دو جلدوں میں شائع کرائے اور دو جلدوں کے اوّل مقدمے بھی لکھے۔ (امیر انجمن)

پناہ بخدا

حضرت مولانا ظفر علی خان مرحوم

نبی کے بعد نبوت کا مدعا ہو جسے ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
نئے صنم کدہ میں آگئے نئے نئے بت نئے بتوں کی نئی گھات سے خدا کی پناہ
ٹیچی ٹیچی ١؎ ہے ادھر اور ادھر غلام احمد ہزار بار ان آفات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
جو بن کے بوعلی آئے حکیم نور الدین تو بوعلی کی اشارات سے خدا کی پناہ
کسی خدا کا تو قائل ہے قادیان بھی ضرور جو مانگتا ہے مکافات سے خدا کی پناہ
بنے جو بیٹا خدا کا اور اس کی بیوی بھی ہر ایسے سخرے کی ذات سے خدا کی پناہ
ان ابلیسانہ حکایات پر مبنی ہے استدلال ان احمقانہ روایات سے خدا کی پناہ
اگر کرامت پیر بھرم ہے استدراج تو پیر اور اس کی کرامات سے خدا کی پناہ

(٢٠؍اکتوبر ١٩٣٤ء)

١؎ مرزا غلام احمد قادیانی پر وحی لانے والے فرشتے کا نام ۔ (حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)

صفحہ ١٢

مقدمہ

از حضرت مولانا محمد ناظم صاحب ندوی سابق شیخ الجامعہ بہاولپور

وسابق استاذ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ

بسم الله الرحمن الرحيم!

”نحمده ونصلى على رسوله الكريم وخاتم النبيين الذى لا ياتى بعدہ نبی ورسول“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پانچ عظیم اور اولوالعزم رسل (حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد ﷺ) میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے اور جن کی عظمت و جلالت اور جن کے معجزات کا خصوصی ذکر ہوا ہے اور جن کی ولادت اور جن کا ظہور بھی اس دنیا میں آدم علیہ السلام کے بعد بے نظیر طریقہ پر ہوا ہے۔ چونکہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان و افتراء باندھا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے متعلق بڑی وضاحت سے تمام افتراءات اور بہتانات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نصاریٰ کے عقیدہ الوہیت اور عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی۔ قرآن حکیم کے نزول کے بعد مسلمانوں کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق وہی ہے جو قرآن حکیم کے نصوص اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ مگر ہندو پاک میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مہدویت یا دعویٰ مجددیت اور پھر دعویٰ نبوت کے بعد دونوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق نہایت نازیبا کلمات اور سب وشتم اور اہانت کا جو باب کھولا گیا وہ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔ چونکہ قادیانی اپنے مذہب اور عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت پر گفتگو کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور ان کے دفن اور آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق ہوتا ہے اور وہ چونکہ اپنے عقائد کے بیان کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اہل حق مسلمانوں کا بھی حق ہے کہ مرزا قادیانی کے غلط عقائد وافکار اور اسلام کے منافی طریقہ کار کی حقیقت بیان کر کے مسلمانوں کو صحیح عقائد اور صحیح طریقہ کار سے روشناس کرائیں۔ اس چھوٹے سے کتابچہ (مرزا اور یسوع) میں حضرت مولانا محمد صادق صاحبؒ نے مرزائیوں کے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عقائد اور ان کے سب وشتم اور جلیل القدر نبی کی اہانت وتذلیل ورسوا کن اسلوب

صفحہ ١٣

مقدمہ

حضرت مولانا محمد ناظم صاحب ندوی سابق شیخ الجامعہ بہاولپور وسابق استاذ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ

بسم الله الرحمن الرحيم! مده ونصلی علی رسولہ الکریم وخاتم النبیین الذی لا یاتی رسول ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پانچ عظیم اور اولوالعزم رسل ت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمدﷺ) میں ر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے اور جن کی عظمت وجلالت اور جن کے معجزات ور جن کی ولادت اور جن کا ظہور بھی اس دنیا میں آدم علیہ السلام کے بعد ہے چونکہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم فتراء باندھا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے متعلق بڑی وضاحت بہتانات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نصاریٰ کے عقیدہ الوہیت فرمائی۔ قرآن حکیم کے نزول کے بعد مسلمانوں کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام م کے متعلق وہی ہے جو قرآن حکیم کے نصوص اور احادیث صحیحہ سے ثابت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مہدویت یا دعویٰ مجددیت اور پھر دعویٰ رت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق نہایت نازیبا اہانت کا جو باب کھولا گیا وہ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔ چونکہ ائد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت پر گفتگو سلام کی موت اور ان کے دفن اور آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق ہوتا ئد کے بیان کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اہل حق مرزا قادیانی کے غلط عقائد وافکار اور اسلام کے منافی طریقہ کار کی ں کو صحیح عقائد اور صحیح طریقہ کار سے روشناس کرائیں۔ اس چھوٹے میں حضرت مولانا محمد صادق صاحبؒ نے مرزائیوں کے عیسیٰ علیہ ا کے سب وشتم اور جلیل القدر نبی کی اہانت وتذلیل ورسوا کن اسلوب

نگارش کو ان کی کتب کے حوالہ جات سے ثابت کر کے اس کی تردید فرمائی ہے اور پوری کتاب میں اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ ”وجادلہم بالتی ھی احسن“ سے سرمو انحراف نہیں کیا ہے۔

بڑی خوشی کی بات ہے کہ اسلام کا درد رکھنے والے نوجوانوں کی نوخیز جماعت تبلیغ اسلام نے عقائد اسلام کی نشر واشاعت کے لئے اس نہایت مفید مختصر وجامع کتابچہ شائع کرانے کا انتظام کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمام مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اس کتابچہ کا مطالعہ کر کے کھرے اور کھوٹے کا امتیاز کریں گے۔

بسم الله الرحمن الرحيم!

مرزا اور یسوع

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جن ناپاک الزامات اور قابل نفرت گستاخی اور موجب کفر، توہین وتحقیر کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کو مختلف عنوانوں سے ادا کیا ہے۔ کبھی یسوع کہہ کر گالی دی ہے۔ کبھی یسوع مسیح کہہ کر کوسا ہے۔ گاہ معجزات کے انکار وتردید کے ضمن میں عیسیٰ علیہ السلام کہہ کر استخفاف کیا ہے اور استدلال بالقرآن کرتے ہوئے آپ کے تقدس عفت وعصمت کو برے رنگ میں پیش کیا ہے۔ غرض ہر عنوان اور ہر رنگ میں پوری بے دردی سے اولوالعزم پیغمبر کا استخفاف کیا ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے اس قسم کے بیسیوں اقوال موجود ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شان قدسی پر ناپاک حملے کئے گئے ہیں۔ مگر ہم ان میں سے صرف دس حوالے پیش کرتے ہیں۔

سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

صفحہ ١٤

غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی۔ مگر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے غلط اجتہادوں اور غلط پیشین گوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری مشتبہ ہوگئی ہے۔ ہرگز نہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

٣ ...... ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ کہ اس کو نبی قرار دیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

٤ ...... ”ممکن ہے آپ نے کسی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اسی تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اور اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے اور کچھ نہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

٥ ...... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں دیں۔ ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

٦ ...... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشین گوئیوں کو اپنی ذات کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان بھی نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوچکی تھیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

٧ ...... ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس مشکل کو حل کر سکے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

٨ ...... ”بہر حال مسیح علیہ ا خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے ک کو خیال کرتے ہیں۔ اگر عاجز اسی عمل کو مکر سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں

٩ ...... ”یہی وجہ ہے کہ حض اچھا کرتے تھے۔ مگر ہدایت توحید اور دینی اس میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجے کا ر

١٠ ...... ”آپ کا خاندان آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا شجر جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے او بالوں کو اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ

مندرجہ بالا اقوال جو مرزا قادیا اور واضح الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اسلام کی مقدس تعلیم اور دانش وحکمت کو نہ صرف ضروری تسلیم کیا بلکہ جزوایمان مسلمان نہیں رہ سکتا۔ جب تک تمام انبیاء ع تقدس اور ان کی عفت عصمت کو لوح وا ادعائے مہدویت ومجددیت ، مسیحیت ونبو پیغمبر کی شان میں جن مغلظات والزامات براندام ہے۔

صفحہ ١٥

ظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہیں کہ ان کے بہت سے غلط اجتہادوں اور غلط پیشین گوئیوں کی وجہ سے ہے۔ ہرگز نہیں۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

"پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک میں دے سکتے ۔ چہ جائیکہ کہ اس کو نبی قرار دیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

"ممکن ہے آپ نے کسی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا ری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی ے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اسی تالاب کی مٹی آپ بھی اور اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور یا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ ر آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہ تھا۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

"عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے س ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گالیاں دیں۔ ان کو ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ کی اولاد بنیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

"یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوچکی

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین ھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس مشکل کو حل کر سکے۔"

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

"بہر حال مسیح علیہ السلام کی یہ طبی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر عاجز اسی عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔"

(ازالہ اوہام ص ٣٠٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

"یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعے سے اچھا کرتے تھے۔ مگر ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجے کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔"

(ازالہ اوہام ص ١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

"آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود پذیر ہوا تھا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

مندرجہ بالا اقوال جو مرزا قادیانی کی معتبر کتابوں میں سے درج کئے گئے ہیں۔ صاف اور واضح الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور منقصت بلکہ بعض بازاری گالی گلوچ پر مشتمل ہیں۔ اسلام کی مقدس تعلیم اور دانش و حکمت سے لبریز تفہیم نے تمام انبیاء علیہم السلام کی تعظیم وتوقیر کو نہ صرف ضروری تسلیم کیا بلکہ جزو ایمان قرار دیا ہے۔ عقیدہ اسلامی کی رو سے کوئی مسلمان ہرگز مسلمان نہیں رہ سکتا۔ جب تک تمام انبیاء علیہم السلام کی تصدیق صدق دل سے نہ کرے۔ ان کے تقدس اور ان کی عفت عصمت کو لوح دل پر نقش ثابت نہ کرے۔ مگر مرزا قادیانی نے باوجود ادعائے مہدویت و مجددیت، مسیحیت ونبوت ورسالت کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کی شان میں جن مغلظات والزامات کو استعمال کیا ہے۔ ان پر شرافت اور انسانیت لرزہ براندام ہے۔

صفحہ ١٦

علمائے اسلام شرعی تعلیم کی وجہ سے مجبور تھے کہ وہ ان مغلظات توہینی کلمات کی وجہ سے مرزا قادیانی کی تکفیر کرتے۔ چنانچہ علمائے امت نے مرزا قادیانی کے دیگر کفریات کی فہرست میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کو نمایاں جگہ دی۔ مگر مرزائی جماعت ابتداء سے لے کر آج تک مختلف چالوں سے اس الزام کے رفع کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کلمات یسوع کے حق میں کہے ہیں نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں اور کبھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ اقوال پادریوں اور عیسائیوں کے مقابل بطور الزام پیش کئے ہیں اور کبھی کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ پادریوں نے حضور سرور عالم ﷺ کی ذات اقدس میں نہایت ناپاک اور غلیظ الفاظ استعمال کئے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے رسول خدا ﷺ کے عشق اور محبت سے مجبور ہو کر ایسا کیا ہے۔ مگر ہم نہایت وثوق اور پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ تینوں جواب بالکل غلط ہیں۔

مرزا قادیانی کو بخوبی علم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع ایک ہیں۔ یعنی عیسائیوں کا یسوع وہی ہے جس کو مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں۔ پس جو کچھ حضرت یسوع کے حق میں کہا گیا ہے وہ دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کہا گیا ہے اور نہ یہ سب اقوال پادریوں پر بطور الزام پیش کئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ الزامی جوابات کا رنگ ڈھنگ ان کا طرز طریق، سیاق و سباق، اسلوب بیان قرائن و شرائط اور مخاطب کے مسلمات پر مدار ہوتا یہ سب ایسے امور ہیں جن سے بادی النظر میں امتیاز ہوسکتا ہے کہ یہ الزامی جواب ہے حقیقی نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے اکثر بیانات میں یہ امور مفقود ہیں۔ بلکہ اسلوب بیان اور طریق استدلال مرزا قادیانی کے عقیدہ کی رہنمائی کرتا ہے اور نہ ہی مرزا قادیانی نے عشق محمدی اور محبت مصطفوی میں مجبور ہو کر پادریوں کی بدزبانی کا انتقام لیا جو انہوں نے حضور ﷺ کے حق میں کی تھی۔ بلکہ پادریوں کی بدزبانی کی وجہ سے مسلمانوں میں جس غیض و غضب کے پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کو فرو کرنے کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی خدمت کی ہے۔ الغرض عیسیٰ علیہ السلام کی جو توہین و تحقیر مرزا قادیانی نے کی ہے۔ اس کے متعلق مرزائی جماعت اس وقت تک تین جواب دے سکی ہے۔

ہم اس مختصر رسالہ میں ان ہر سہ جوابات کو بیان کر کے خود مرزا قادیانی کے اقوال اور مستند حوالہ جات سے ثابت کریں گے کہ یہ جوابات بالکل غلط اور ناقابل قبول اور اصل حقیقت سے

صفحہ ١٧

ئے اسلام یثربی تعلیم کی وجہ سے مجبور تھے کہ وہ ان مغلظات توہینی کلمات کی وجہ کی تکفیر کرتے۔ چنانچہ علمائے امت نے مرزا قادیانی کے دیگر کفریات کی ت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کو نمایاں جگہ دی۔ مگر مرزائی جماعت ابتداء سے لے چالوں سے اس الزام کے رفع کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ کبھی اقادیانی نے یہ کلمات یسوع کے حق میں کہے ہیں نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شان ہا کہ مرزا قادیانی نے یہ اقوال پادریوں اور عیسائیوں کے مقابل بطور الزام ں کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ پادریوں نے حضور سرور عالم ﷺ کی ذات اقدس ور غلیظ الفاظ استعمال کئے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے رسول خدا ﷺ مجبور ہو کر ایسا کیا ہے۔ مگر ہم نہایت وثوق اور پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ ط ہیں۔

یانی کو بخوبی علم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع ایک ہیں۔ یعنی ا ہے جس کو مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں۔ پس جو کچھ حضرت یسوع کے دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کہا گیا ہے اور نہ یہ سب اقوال پیش کئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ الزامی جوابات کا رنگ ڈھنگ ان کا طرز اسلوب بیان قرائن وشرائط اور مخاطب کے مسلمات پر مدار ہوتا ہے جس سے ہ بادی النظر میں امتیاز ہوسکتا ہے کہ یہ الزامی جواب ہے تحقیقی نہیں۔ مگر بیانات میں یہ امور مفقود ہیں۔ بلکہ اسلوب بیان اور طریق استدلال کی رہنمائی کرتا ہے اور نہ ہی مرزا قادیانی نے عشق محمدی اور محبت مصطفوی کی بدزبانی کا انتقام لیا جو انہوں نے حضور ﷺ کے حق میں کی تھی۔ بلکہ ہ سے مسلمانوں میں جس غیض وغضب کے پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا رت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کو فرو کرنے کے لئے گورنمنٹ ۔ الغرض عیسیٰ علیہ السلام کی جو توہین وتحقیر مرزا قادیانی نے کی ہے۔ اس اس وقت تک تین جواب دے سکی ہے۔

سالہ میں ان ہر سہ جوابات کو پیش کر کے خود مرزا قادیانی کے اقوال اور کریں گے کہ یہ جوابات بالکل غلط اور ناقابل قبول اور اصل حقیقت سے

کوسوں دور ہیں اور محض داغ کفر کے دھونے کے لئے غلط توجیہات اور نامقبول تاویلات کا سہارا لیا گیا ہے۔ درحقیقت مرزا قادیانی نے وہ کام کیا ہے جس کا مستحق ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب اوّل

مرزائی نہایت جرات سے کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کوئی گستاخی اور توہین نہیں کی۔ بلکہ یسوع کے حق میں بدکلامی کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہیں اور یسوع اور ہیں اور وہ عیسائیوں کا یسوع ہے۔ جس کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ اس کے صفات انبیاء جیسے ہیں۔ اس کی تائید میں حوالہ جات حسب ذیل پیش کرتے ہیں۔

خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“

(انجام آتھم ص١٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔“

(انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣)

نہیں نکلا۔ یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ ہاں چونکہ درحقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو۔ اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے کلمات ہوں راست باز نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن ہمارا نبی ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج١٥ ص٣٠٥)

ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو سچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے۔ ...... پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں۔ بلکہ وہ کلمات یسوع کی نسبت لے جائیں۔ جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔“

(آریہ دھرم ٹائٹل پیج آخر ص٩٤)

صفحہ ١٨

(نوٹ: آریہ دھرم کتاب کے دسمبر ١٩٣٦ء ایڈیشن سوم میں یہ مضمون ”قابل توجہ ناظرین“ کے نام سے موجود تھا۔ خزائن سے یہ مضمون قادیانیوں نے نکال دیا ہے۔ البتہ یہی حوالہ مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٦ پر موجود ہے)

جواب الجواب الاوّل

مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے امور ذیل ثابت ہوتے ہیں۔

یسوع کہیں گزرا۔ اس لئے بطور فرض محال اس کے حق میں سخت کلامی کی ہے۔

ہم توضیح وتفہیم کے لئے ہر ایک نمبر کا جواب علیحدہ علیحدہ لکھتے ہیں۔ تاکہ خلط مبحث نہ ہو اور مرزائی توجیہات کی حقیقت پوری طرح آشکارہ ہو جائے۔

مرزا قادیانی نے یسوع کی توہین اور بے ادبی کی ہے۔ مگر دوسرا حصہ غلط ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں کی۔ کیونکہ جب عیسیٰ علیہ السلام خود یسوع ہیں (جیسا کہ نمبر ب میں ثابت کریں گے) تو جو توہین اور بے ادبی یسوع کے حق میں ہوگی۔ بعینہ وہی توہین اور بے ادبی عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کے گذشتہ دس حوالہ جات میں سے حوالہ نمبر ٢، ٧ میں لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صریح موجود ہے اور حوالہ نمبر ١ میں مسیح اور حوالہ نمبر ٨ میں مسیح ابن مریم اور حوالہ نمبر ٩ میں حضرت مسیح کے الفاظ ثبت ہیں۔ ان حوالہ جات میں یسوع لفظ نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا مسیح یا مسیح ابن مریم یا حضرت مسیح کے الفاظ موجود ہیں۔ پس ان حوالہ جات میں جو اہانت اور حقارت پائی جاتی ہے وہ یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی منقصت اور اہانت ہوگی۔

پس مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ منہ سے نہیں نکلا سراسر غلط ہوگا۔

صفحہ ١٩

ریہ دھرم کتاب کے دسمبر ١٩٣٦ء ایڈیشن سوم میں یہ مضمون ”قابل توجہ موجود تھا۔ خزائن سے یہ مضمون قادیانیوں نے نکال دیا ہے۔ البتہ یہی حوالہ ٢٩٦ پر موجود ہے ) ول کے ان حوالہ جات سے امور ذیل ثابت ہوتے ہیں۔ ا نے یسوع کی اہانت کی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نہیں۔ لام اور ہیں یسوع اور ۔ قرآن وحدیث میں نہیں۔ پادریوں کے بیان کردہ صفات پر یسوع راست باز نہیں ٹھہر سکتا۔ سوع اس ادب کا مستحق نہیں جس کا استحقاق ایک سچا آدمی رکھتا ہے۔ ری جو صفات یسوع کے بیان کرتے ہیں۔ چونکہ ایسے صفات والا کوئی را۔ اس لئے بطور فرض محال اس کے حق میں سخت کلامی کی ہے۔ کے لئے ہر ایک نمبر کا جواب علیحدہ علیحدہ لکھتے ہیں۔ تاکہ خلط مبحث نہ ہو ت پوری طرح آشکارہ ہو جائے۔

نمبر الف کا پہلا حصہ فریقین کے نزدیک مسلم ہو گیا کہ ہین اور بے ادبی کی ہے۔ مگر دوسرا حصہ غلط ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی سی علیہ السلام خود یسوع ہیں (جیسا کہ نمبر ب میں ثابت کریں گے ) ع کے حق میں ہوگی ۔ بعینہ وہی توہین اور بے ادبی عیسیٰ علیہ السلام کی نی کے گذشتہ دس حوالہ جات میں سے حوالہ نمبر ٢، ٧ میں لفظ حضرت ہے اور حوالہ نمبر ١ میں مسیح اور حوالہ نمبر ٨ میں مسیح ابن مریم اور حوالہ نمبر ٩ ہیں۔ ان حوالہ جات میں یسوع لفظ نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، مسیح کے الفاظ موجود ہیں۔ پس ان حوالہ جات میں جو اہانت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی منقصت اور اہانت ہوگی ۔ یہ کہنا کہ حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ منہ سے نہیں نکلا

جواب نمبر : ٢ ...... یہ بالکل غلط ہے کہ یسوع اور ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہیں۔ کیونکہ عیسائی جس نبی کی امت ہیں اس نبی کا انجیلی نام یسوع اور اسلامی نام عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح علیہ السلام ہے۔ خود مرزا قادیانی کو یقین ہے کہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہیں۔ چنانچہ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے چند حوالے پیش کرتے ہیں۔

اور کتب احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیاہ اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

توضیح المرام کے اس حوالہ سے دو امر ثابت ہوتے ہیں۔ ایک یہ مسیح اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ دوسرا یہ کہ یسوع نبی ہیں ۔

یسوع یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد عین چودھویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا۔“

(ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)

براہین کے اس حوالے سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک عیسائیوں کے سوا یہودی کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام یسوع ہے۔ گویا عیسائیوں اور یہودیوں دونوں قوموں کا اتفاق ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا یسوع کی تفسیر لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کرنا مرزا قادیانی کے علم اور انصاف کی بین دلیل ہے۔ اگر یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا غیر ہے تو مرزا قادیانی کی تفسیر کیسے صحیح ہوئی؟

السلام ہیں اور کوئی نہیں اور یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرین قیاس ہے۔ کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جیزس بنالیا ہے تو یوز آسف میں جیزس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں ۔“

(راز حقیقت ص ١٥، خزائن ج ١٤ ص ١٦٧)

مرزا قادیانی کا اخیر میں یہ اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور سری نگر کشمیر کے محلہ خان یار میں مدفون ہیں۔ چنانچہ (حقیقت المہدی ص ٧ خزائن ج ١٤ ص ٤٣٣) پر لکھتے ہیں کہ : ”مدت ہوئی حضرت مسیح علیہ السلام وفات پا چکے ہیں ۔ کشمیر خانیار میں آپ کا مزار

صفحہ ٢٠

ہے ۔ ”پھر کتاب (راز حقیقت ص ١٨ خزائن ج ١٤ص ١٧٠) میں اس کا ثبوت اس طرح دیتے ہیں کہ سری نگر محلہ خانیار میں ایک قبر ہے۔ جو یوسف نبی کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔ پھر یوز آسف کو لفظ یسوع سے بدلا ہوا ثابت کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ قبر ثابت کرتے ہیں۔ جیسا کہ راز حقیقت کے مندرجہ بالا حوالہ سے ظاہر کرتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ درحقیقت یہ قبر یسوع کی ہے جو متغیر ہو کر یوز آسف ہو گیا اور چونکہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہیں۔ لہٰذا یہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع و مسیح علیہ السلام ایک ہیں۔ ورنہ یہ قبر اگر صرف یسوع کی ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور یہ انکا مزار ہے۔

٤....... پھر (راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١) میں یوز آسف کی قبر کا نقشہ دیا گیا ہے اور اس کی پیشانی پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیسس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ یہ ان کا مزار ہے ۔“ پس جبکہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع علیہ السلام ایک ہیں تو مرزا قادیانی یا ان کی جماعت کا یہ کہنا کہ یہ بے ادبی اور اہانت کے کلمات یسوع کے حق میں ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں نہیں بالکل باطل اور لغو ہے۔

پس مرزا قادیانی نے جس قدر مغلظات اور فحش گالیاں حضرت یسوع کے حق میں استعمال کیں ہیں۔ وہ یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہیں۔ کیونکہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔

مزید توضیح کے لئے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنی جماعت میں مسیح موعود کے نام سے مشہور ہیں اور مسلمان ان کو متنبی قادیان ونچو دیگر عنوانوں سے یاد کرتے ہیں۔ پس اگر کوئی متنبی قادیان کہہ کر گالیاں دینا شروع کر دے اور کوئی مرزائی اعتراض کرے کہ مسیح موعود کو گالیاں کیوں دیتے ہو اور وہ سادگی سے عرض کر دے کہ میں نے مسیح موعود کو گالیاں نہیں دیں۔ بلکہ متنبی قادیان کو گالیاں دی ہیں۔ ہم انصاف اور حق شناسی کا واسطہ دے کر دریافت کرتے ہیں۔ کیا کوئی مرزائی اس بات سے تسلی پا سکتا ہے۔ یقیناً نہیں پا سکتا تو پھر مرزایان کی جماعت کس امید پر اس بدیہہ البطلان حیلہ سے مسلمانوں کو تسلی دے سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق کوئی بے ادبی کا کلمہ نہیں کہا بلکہ جو کچھ بھی کہا جواب نمبر ٣ : ..... مرزا قا ہے۔ کیونکہ جواب نمبر ١ کے ذیل میں خود یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں۔ جب قر واقع ہے تو وہی ذکر حضرت یسوع کا ہے۔ یوز آسف کے نام سے مشہور ہے۔ وہ بلا ہے کہ یوز آسف لفظ یسوع کی بگڑی ہوئی اور اسی قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے ۔ ” واوینهما الى ربوة ذات قرا ص ١٠٤) میں لکھتے ہیں۔ ”مگر خدا کا کلام ق مگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرما السلام اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہات کی جگہ تھی اور مصفیٰ پانی کے چشمے اس میں علیہ السلام کی قبر زمین میں کسی کو معلوم نہی مفقود ہے۔“

مرزا قادیانی کے نزدیک ا راست باز سچا اور نبی ماننے کے لئے مرزا قادیانی کرشن جی کی نبوت کے ق میں لکھتے ہیں کہ: ”ملک ہند میں کرشن مرزا قادیانی جو کرشن جی کو میں کہیں بتایا گیا ہے کہ وہ کون تھا۔ گا حضرت یسوع پر گوناگوں عیوب لگا احادیث سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم حکیم میں صرف چند کے نام بتلائے قرآن میں ان کا نام اور ذکر نہیں ہے

صفحہ ٢١

از حقیقت ص ١٨، خزائن ج ١٤ ص ١٧٠) میں اس کا ثبوت اس طرح دیتے ہیں میں ایک قبر ہے۔ جو یوسف نبی کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔ پھر یوز آسف کو وا ثابت کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ قبر ثابت کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہ بالاحوالہ سے ظاہر کرتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ ے ہیں اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ درحقیقت یہ قبر کہ یوز آسف ہو گیا اور چونکہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہیں۔ لہٰذا یہ قبر حضرت عیسیٰ ا سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع و مسیح علیہ السلام صرف یسوع کی ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا ہو گئے ہیں اور یہ انکا مزار ہے۔

پھر (راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١) میں یوز آسف کی قبر کا نقشہ دیا گیا یہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس یا نام مشہور ہیں۔ یہ ان کا مزار ہے۔“ پس جبکہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات ت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع علیہ السلام ایک ہیں تو مرزا قادیانی یا ان کی ادبی اور اہانت کے کلمات یسوع کے حق میں ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے لغو ہے۔

نی نے جس قدر مغلظات اور فحش گالیاں حضرت یسوع کے حق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہیں۔ کیونکہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہی

لئے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنی جماعت میں مسیح اور مسلمان ان کو متنبی قادیان و دجال و دیگر عنوانوں سے یاد کرتے ہیں۔ کر گالیاں دینا شروع کردے اور کوئی مرزائی اعتراض کرے کہ مسیح اور وہ سادگی سے عرض کردے کہ میں نے مسیح موعود کو گالیاں نہیں دی ہیں۔ ہم انصاف اور حق شناسی کا واسطہ دے کر دریافت کرتے سے تسلی پاسکتا ہے۔ یقیناً نہیں پاسکتا تو پھر مرزائیوں کی جماعت کس سے مسلمانوں کو تسلی دے سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق

کوئی بے ادبی کا کلمہ نہیں کہا بلکہ جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ یسوع کے حق میں کہا گیا ہے۔

جواب نمبر : ٣........ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں غلط ہے۔ کیونکہ جواب نمبر ٢ کے ذیل میں خود مرزا قادیانی کی تصریحات سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں۔ جب قرآن حکیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر متعدد جگہ پر واقع ہے تو وہی ذکر حضرت یسوع کا ہے۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ جو قبر سری نگر میں یوز آسف کے نام سے مشہور ہے۔ وہ بلاشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور ثبوت یہ ہے کہ یوز آسف لفظ یسوع کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ یعنی یہ قبر حضرت یسوع علیہ السلام کی قبر ہے اور اسی قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ثابت کرتے ہوئے اس آیت قرآنیہ سے استدلال کیا ہے۔ ”واوینہما الی ربوۃ ذات قرار ومعین“ چنانچہ (حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤) میں لکھتے ہیں۔ ”مگر خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (گذشتہ آیت میں ) ترجمہ: یعنی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوش حالی کی جگہ تھی اور مصفیٰ پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مریم علیہا السلام کی قبر زمین میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مفقود ہے۔“

مرزا قادیانی کے نزدیک اس قبر اور صاحب قبر کا ذکر اس آیت میں ہے اور نیز کسی راست باز سچا اور نبی ماننے کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ اس کا قرآن میں ذکر میں ہے۔

مرزا قادیانی کرشن جی کی نبوت کے قائل ہیں۔ چنانچہ (حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) میں لکھتے ہیں کہ: ”ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے۔“

مرزا قادیانی جو کرشن جی کو نبی مانتے ہیں۔ کیا کرشن جی کا ذکر قرآن میں ہے یا قرآن میں کہیں بتایا گیا ہے کہ وہ کون تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کرشن جی کی تعظیم وتکریم کی جائے اور اس لئے حضرت یسوع پر گونا گوں عیوب لگائے جائیں کہ ان کا ذکر قرآن وحدیث میں کہیں نہیں ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعداد ایک لاکھ یا دو لاکھ چوبیس ہزار ہے اور قرآن حکیم میں صرف چند کے نام بتلائے گئے ہیں۔ کیا باقی انبیاء کا احترام اس بناء پر نہ کیا جائے کہ قرآن میں ان کا نام اور ذکر نہیں ہے۔

صفحہ ٢٢

جواب نمبر :٤....... مرزا قادیانی کا عیسائیوں اور پادریوں کے بیان کردہ صفات کی وجہ سے حضرت یسوع کو راست باز نہ ٹھہرانا اور ان کی اہانت کرنا نہ صرف اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے ان اصولوں اور قواعد کے بھی خلاف ہے۔ جن کو وہ نہایت بلند آہنگی اور تعلی سے اپنی کتاب تحفہ قیصریہ میں بار بار یوں توضیح سے بیان کرچکے ہیں۔ چنانچہ (تحفہ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”من جملہ ان اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصہ دنیا پر محیط ہو گئے ہیں اور ایک عمر پا گئے ہیں اور ایک زمانہ ان پر گزر گیا ہے۔ ان میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کی رو سے جھوٹا نہیں اور نہ ان نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔“ پھر (تحفہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٨) میں لکھتے ہیں۔ ”اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہئے کہ ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں۔ جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر وہ دعویٰ ان کا جڑ پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا۔“

پھر (تحفہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٩) میں لکھتے ہیں۔ ”پس یہ اصول نہایت پیار، امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے۔ خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں۔ یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک مذہب چلا آیا۔ یہی وہ اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھایا۔ اسی وجہ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آ گئی ہے۔ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گو وہ ہندؤوں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔“

پس مرزا قادیانی کے اس اصول اور قاعدہ کی رو سے عیسائیوں کے نبی سچے اور راست باز ہیں۔ کیونکہ حضرت یسوع کو عیسائی نبی مانتے ہیں اور کروڑوں پیروکار صد ہا سال سے چلے آتے ہیں۔ آپ کا مذہب ایک حصہ دنیا پر محیط ہے اور کروڑہا دلوں میں آپ کی عزت اور عظمت ہے۔ پس جبکہ حضرت یسوع میں یہ سب امور موجود ہیں اور آپ کی سوانح اس تعریف کے تحت میں آگئی ہے تو پھر مرزا قادیانی اپنے اصول، قاعدہ کے خلاف عیسائیوں کے یسوع کو کیوں سچا اور

صفحہ ٢٣

راست باز نہیں ٹھہراتے اور ایک اصول مقرر کرتے ہیں۔ دنیا سے اس کی پابندی چاہتے ہیں۔ مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ ’’کبر مقتا عند الله ان تقولو مالا تفعلون‘‘ ترجمہ: خدا کے نزدیک یہ بات بہت ناراضگی کی ہے کہ وہ بات کہو جو خود نہ کرو۔

باقی رہی یہ بات کہ پادری حضرت یسوع کے متعلق بعض ایسے امور بیان کرتے ہیں جو قابلِ اعتراض ہیں۔ سو اس کا جواب بھی مرزا قادیانی کی زبانی سن لیجئے۔ (تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٠) میں لکھتے ہیں۔ ’’اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کریں۔ بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستورالعمل پر اعتراض کریں اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدائے تعالیٰ کی طرف کروڑہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے۔ یہی پختہ دلیل اس کی منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔‘‘

پس اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ پادریوں کے بیان کردہ قابلِ اعتراضات صفات کی بناء پر بھی حضرت یسوع کی عزت پر حملہ یا ان کو برے الفاظ سے یاد کرنا بھی روا نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی ایک عام اصول (تحفہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٨) پر لکھتے ہیں کہ: ’’اگر ہم ان کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بدچلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملامت ان مذاہب کے بانیوں پر لگائیں۔ کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے۔ اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے۔‘‘

علاوہ ازیں مرزا قادیانی تو کشفی بیداری میں حضرت یسوع مسیح کی زبانی ان کا اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال معلوم کر چکے ہیں۔ پادریوں اور عیسائیوں کی زیادتیوں سے ان کا متنفر ہونا دیکھ چکے ہیں۔ چنانچہ (تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣) میں لکھتے ہیں۔ ’’اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں۔ ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔ یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصلی رنگ روپ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ تثلیث اور ابنیت ہے، ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔‘‘

پھر (تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤) میں لکھتے ہیں۔ ’’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آج

صفحہ ٢٤

کل عیسائیت کے بارہ میں سکھایا جاتا ہے۔ یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔“

مرزا قادیانی صرف اتنی صفائی پر کفایت نہیں کرتے۔ بلکہ اسی کتاب (تحفہ قیصریہ ص٢٠، خزائن ج١٢ ص٢٧١) میں لکھتے ہیں: ”اُس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے۔ خدا نہیں ہے ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔“ اس اقتباس سے یہ معلوم ہوا کہ جس یسوع کو مرزا قادیانی برگزیدہ اور کاملوں کے گروہ سے شمار کرتے ہیں۔ وہی عیسائیوں کے یسوع ہیں۔ جن کو خدا بنایا گیا ہے اور قوم کے اس ناجائز فعل کے باوجود بھی حضرت یسوع کی برگزیدگی اور کمال میں کوئی نقص نہیں آیا۔ مرزا قادیانی بغایت پرواز طبع اتنی تعریف پر بھی کفایت نہیں کرتا۔

بلکہ (تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥) پر لکھتے ہیں: ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے۔ وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ عقیدت ہے۔ کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔“

اس عبارت نے بہت سے اہم مطالب کو صاف کر دیا ہے۔

محبت کا دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔

اور مسلمانوں میں سے زیادہ حقدار ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی طبیعت کو یسوع میں اور یسوع کی طبیعت کو مرزا قادیانی میں استغراق ہے۔

عیسائیوں کا یسوع ہے۔

پس ثابت ہوا کہ عیسائیوں کا یسوع مسیح راست واجب الاحترام نبی ہے۔ اب

مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ: ”اسی سی ادب کا لحاظ نہیں رکھا۔ جو سچے آدمی کی ہے۔ مرزا قادیانی راست بازوں اور مطابق حضرت راست باز اور نبی ثا اعتراض امور ثابت ہوتے ہیں ان اور پختہ کہ کشفی بیداری میں خود حضر برگزیدہ اور کامل گروہ سے مانتے ہو عیسائیوں اور مسلمانوں کی مشترک توہین و تحقیر میں بھی کوئی کسر نہیں چھو کہنے اور اہانت کرنے کو فتنہ انگیزی ق جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بڑ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا

”کہ جن لغزشوں کا ا علیہ السلام کا دانہ کھانا اگر تحقیر سے

الحاصل مرزا قادیانی حضرت یسوع خدا تعالیٰ کے ہے۔ حضرت ان سے بری ہیں ہے اور انبیاء کی اہانت موجب گالی دینا اور پادریوں کے غلط کی رو سے فتنہ انگیزی اور موجب جواب نمبر: ٥ کی امت ہیں۔ وہی عیسیٰ علیہ

صفحہ ٢٥

میں سکھایا جاتا ہے۔ یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین باتیں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔“ صرف اتنی صفائی پر کفایت نہیں کرتے۔ بلکہ اسی کتاب (تحفہ قیصریہ ص ٢٠، لکھتے ہیں: ”اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع ہے کہ درحقیقت یسوع ے اور نیک بندوں میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ش ہے ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے یہ معلوم ہوا کہ جس یسوع کو مرزا قادیانی برگزیدہ اور کاملوں کے گروہ سے سائیوں کے یسوع ہیں۔ جن کو خدا بنایا گیا ہے اور قوم کے اس ناجائز فعل سوع کی برگزیدگی اور کمال میں کوئی نقص نہیں آیا۔ مرزا قادیانی بہانہ پرداز ت نہیں کرتا۔

یہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥) پر لکھتے ہیں: ”جس قدر عیسائیوں کو حضرت نے کا دعویٰ ہے۔ وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ عقیدت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔“

نے بہت سے اہم مطالب کو صاف کر دیا ہے۔

عیسائیوں کا یسوع ہے اور جس کی محبت کا ان کو دعویٰ ہے۔ بعینہ اس کی تی ہے۔

یوں کا یسوع مسیح مسلمانوں اور عیسائیوں میں یکساں واجب الاحترام ہے۔

ئیوں کے یسوع مسیح کی محبت اور احترام میں مرزا قادیانی تمام عیسائیوں ہ حقدار ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی طبیعت کو یسوع میں اور یسوع کی ستغراق ہے۔

رزا قادیانی کی طبیعت کو جس یسوع کی طبیعت میں استغراق ہے وہ

کہ عیسائیوں کا یسوع مسیح راست واجب الاحترام نبی ہے۔ اب

مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ: ”اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کا ذکر کرتے وقت اس ادب کا لحاظ نہیں رکھا۔ جو سچے آدمی کی نسبت ہونا چاہئے۔“ کس قدر غلط اور ناقابل التفات حیلہ ہے۔ مرزا قادیانی راست بازوں اور نبیوں کی شناخت کا ایک معیار مقرر کرتے ہیں۔ جس کے مطابق حضرت راست باز اور نبی ثابت ہوتے ہیں۔ پھر عیسائی مذہب کی تعلیم میں جو قابل اعتراض امور ثابت ہوتے ہیں ان سے حضرت یسوع کی بریت کرتے ہیں اور بریت ایسی کامل اور پختہ کہ کشفی بیداری میں خود حضرت یسوع کی زبانی سن چکے ہیں۔ پھر عیسائیوں کے یسوع کو برگزیدہ اور کامل گروہ سے مانتے ہوئے ان کی محبت اور احترام کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور آنجناب کو عیسائیوں اور مسلمانوں کی مشترک جائیداد بھی ثابت کرتے ہیں۔ پھر عیسائیوں کے یسوع کی توہین و تحقیر میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حالانکہ تحفہ قیصریہ میں ایسے قوموں کے نبیوں کو کاذب کہنے اور اہانت کرنے کو فتنہ انگیزی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے، مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو برا کہا جائے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٠)

”کہ جن لغزشوں کا انبیاء علیہم السلام کی نسبت خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ جیسا آدم علیہ السلام کا دانہ کھانا اگر تحقیر سے ان کا ذکر کیا جائے تو یہ موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧١، خزائن ج ٢١ ص ٩١)

الحاصل مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت یسوع خدا تعالیٰ کے سچے پیغمبر ہیں اور جو پادری ان کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ حضرت ان سے بری ہیں اور عیسائی تعلیم کی وجہ سے حضرت یسوع پر اعتراض ان کی اہانت ہے اور انبیاء کی اہانت موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔ پس مرزا قادیانی کا عیسائیوں کے یسوع کو گالی دینا اور پادریوں کے غلط بیانات کی وجہ سے ان کو راست باز نہ سمجھنا مرزا قادیانی کی تحریرات کی رو سے فتنہ انگیزی اور موجب کفر اور سلب ایمان ہے۔

جواب نمبر : ٥...... گزشتہ حوالہ جات سے ظاہر ہو چکا ہے کہ عیسائی جس یسوع کی امت ہیں۔ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور عیسائی تعلیم میں جو قابل اعتراض امور جو حضرت مسیح

صفحہ ٢٦

کی طرف منسوب ہیں وہ سب غلط ہیں اور ان امور کا غلط اور افتراء ہونا مرزا قادیانی کے نزدیک بالکل اظہر و ثابت ہے۔ پھر باوجود اس علم اور بصیرت کے حضرت یسوع کے نفس الامری وجود سے انکار کرتے ہوئے فرضی قرار دے کر انہیں گالیاں دینا اور طعن و تشنیع کا مورد بنانا کس قدر واجب الاحترام حضرات انبیاء علیہم السلام کے وقار و عظمت اور شرف علو مرتبت کا استخفاف اور استحقار ہے اور بہت بڑے فتنہ کا فتح الباب ہے اور ہر زندیق اور بے دین کے لئے ایک ایسا حربہ ہے کہ وہ جب چاہے قوم کی روایات کی بناء پر خدا تعالیٰ کے اپنے پیارے بندوں اور مقرب رسولوں کو اسی تاویل و توجیہ کی بناء پر ناپاک الزام کا نشانہ بنائے۔ مرزا قادیانی (تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ ص٢٦٠) میں قوموں کے نبیوں کو برا بھلا کہنے والوں کو صلح کاری اور امن کا دشمن قرار دیتے ہیں اور قوموں کے بزرگوں کو گالی نکالنا فتنہ انگیزی بتلاتے ہیں۔

جس یسوع کے متعلق عیسائیوں کے یہ اقوال ہیں۔ وہی یسوع عیسائیوں کا پیغمبر ہے۔ مرزا قادیانی اپنی اس افترائی تاویل پر بھی عیسائی قوم کے نبی کو گالی دے رہے ہیں۔ جس کو وہ فتنہ انگیزی کہہ چکے ہیں۔

مرزائیوں کا جواب ثانی

مرزائی جماعت ایک یہ جواب بھی دیا کرتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت مسیح کے متعلق کہا ہے وہ بطور الزام کے عیسائیوں پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ مولوی جلال الدین شمس اپنی کتاب (مقدمہ بہاولپور ص ١٤١) میں لکھتے ہیں۔ ”پس متکلمین کا یہ طریق ہے کہ مد مقابل کے عقائد کو مد نظر رکھ کر الزامی جواب دیا کرتے ہیں اور یہی طریق حضرت مسیح موعود نے اختیار کیا ۔“ چنانچہ فرمایا: ”اس بات کو یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ وہ ہمارے مقابل کرتے ہیں ۔“

(الخ آریہ دھرم ٹائٹل پیج آخر )

جواب الجواب الثانی

الزامی جواب یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کے مسلمات کو اس پر بطور حجت کے اس طریق سے پیش کئے جاتے ہیں کہ اسلوب بیان اور قرائن سے عموماً ظاہر ہوتا ہے کہ یہ متکلم کے مسلمات اور عقائد نہیں۔ محض مخاطب کو اس کے مسلمات کی بناء پر الزام دینا مقصود ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی تحریرات الزامی جوابات پر بوجوہ ذیل محمول نہیں ہو سکتی۔

صفحہ ٢٧

ہیں وہ سب غلط ہیں اور ان امور کا غلط اور افتراء ہونا مرزا قادیانی کے نزدیک ہے۔ پھر باوجود اس علم اور بصیرت کے حضرت یسوع کے نفس الامری وجود سے فرضی قرار دے کر انہیں گالیاں دینا اور طعن و تشنیع کا مورد بنانا کس قدر واجب نبیاء علیہم السلام کے وقار و عظمت اور شرف علو مرتبت کا استخفاف اور احتقار ہے کا فتح الباب ہے اور ہر زندیق اور بے دین کے لئے ایک ایسا حربہ ہے کہ وہ روایات کی بناء پر خدا تعالیٰ کے اپنے پیارے بندوں اور مقرب رسولوں کو اسی و پر ناپاک الزام کا نشانہ بنائے۔ مرزا قادیانی (تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ ے کے نبیوں کو برا بھلا کہنے والوں کو صلح کاری اور امن کا دشمن قرار دیتے ہیں اور کو گالی نکالنا فتنہ انگیزی بتلاتے ہیں۔

وع کے متعلق عیسائیوں کے یہ اقوال ہیں۔ وہی یسوع عیسائیوں کا پیغمبر ہے۔ افتراء کی تاویل پر بھی عیسائی قوم کے نبی کو گالی دے رہے ہیں۔ جس کو وہ فتنہ

ب ثانی

جماعت ایک یہ جواب بھی دیا کرتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت مسیح بطور الزام کے عیسائیوں پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ مولوی جلال الدین شمس اپنی ورص ١٤١) میں لکھتے ہیں ۔ ”پس متکلمین کا یہ طریق ہے کہ مد مقابل کے عقائد کو اب دیا کرتے ہیں اور یہی طریق حضرت مسیح موعود نے اختیار کیا ۔“ چنانچہ دکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔ ایل کرتے ہیں۔“

(الحق آریہ دھرم ٹائٹل پیج آخر)

ثانی

ب یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کے مسلمات کو اس پر بطور حجت کے اس طریق سے اسلوب بیان اور قرائن سے معلوم ظاہر ہوتا ہے کہ یہ متکلم کے مسلمات اور ب کو اس کے مسلمات کی بناء پر الزام دینا مقصود ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی ت پر بوجوہ ذیل محمول نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی نے جو استخفاف اور تحقیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق

ازالہ اوہام میں کی ہے۔ اس میں مخاطب عیسائی نہیں بلکہ علماء، زاہد، صوفی، سجادہ نشین قوم کے منتخب لوگ ہیں۔ چنانچہ (ازالہ ص٢، خزائن ج٣ ص١٠٢) میں لکھتے ہیں۔ ”اے بزرگو! اے مولویو! اے قوم کے منتخب لوگو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کی آنکھیں کھولے۔ غیض و غضب میں آ کر حد سے مت بڑھو۔“ پھر چند سطور میں آگے لکھتے ہیں۔ ”اے میرے مخالف الرائے مولویو اور صوفیو اور سجادہ نشینو جو مکفر اور مکذب ہو۔“ پس ازالہ میں مخاطب نہ عیسائی ہیں اور نہ انجیل کے تحریرات ان کے مسلمات میں سے ہیں۔

پس یہ سخت کلامی الزامی جوابات پر محمول نہیں ہو سکتی۔ علیٰ ہذا اعجاز احمدی بھی عیسائیوں کے مقابلے میں نہیں لکھی گئی۔ بلکہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی سرور شاہ صاحب قادیانی کے درمیان موضع لد میں مناظرہ ہوا تھا۔ جس میں فاتح قادیان کو فتح ہوئی۔ مرزا قادیانی نے شکست در شکست کو چھپانے کے لئے اعجاز احمدی لکھ کر چند علماء اور بزرگوں کو مخاطب کیا۔ چنانچہ (اعجاز احمدی ٹائٹل پیج، خزائن ج١٩ ص١٠٧) پر یہ عبارت موجود ہے۔ اور اس رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب، مولوی اصغر علی صاحب اور مولوی علی الحائری صاحب شیعہ وغیرہ بھی مخاطب ہیں۔ جن کا نام رسالہ میں مفصل درج ہے۔

اعجاز احمدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو منقصت اور توہین کی گئی ہے۔ اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اقوال الزامی طور پر پیش کئے گئے ہیں۔ کیونکہ اعجاز احمدی میں مخاطب علماء اور بزرگ ہیں اور یہ ان کے مسلمات میں سے نہیں پھر ان کو الزامی طور پر کہنا کیسے صحیح ہے۔ علیٰ ہذا مرزا قادیانی نے دافع البلاء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عفت و عصمت کو معرض طعن میں پیش کرتے ہوئے قرآن حکیم کی ایک آیت سے استدلال پیش کیا ہے۔ کیا قرآن کریم عیسائیوں کے مسلمات میں سے تھا۔ جس کو مرزا قادیانی بطور الزام پیش کر رہے ہیں۔ بلکہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ امور قبیح اور ناپاک قصے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ نہ صرف مرزا قادیانی کے نزدیک سچے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی صحیح ہیں۔ جن کی بناء پر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قصور نہیں کہا۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم“ الغرض اس قسم کے بیسیوں نظائر دیئے جا سکتے ہیں۔ مگر محض اختصار کی خاطر ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

صفحہ ٢٨

واقعی یہ معلوم ہوتا ہے کہ متکلم کا یہ عقیدہ نہیں اور نہ ان کو حق سمجھتا ہے۔ مگر یہ مرزا قادیانی کی تحریرات میں مفقود ہے۔ بلکہ بعض مقامات میں ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہی صحیح ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

پس غور کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی جس چیز کو حق قرار دے رہے ہیں کیا یہ بھی الزام ہے۔ یا مرزا قادیانی کے عقیدہ کو ظاہر کرتا ہے۔ علی ہذا (اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) کا یہ حوالہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے۔

”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے کہ اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

مرزا قادیانی اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیوں کو صاف جھوٹی بتلا کر تمام لوگوں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی وغیرہ۔ سب کو چیلنج کیا ہے کہ کوئی ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔ گویا یہ عقدہ ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس کو صرف عیسائیوں پر بطور الزام پیش نہیں کیا۔ ورنہ چیلنج عام نہ کرتے بلکہ ان پیشین گوئیوں کے جھوٹے ہونے پر اپنے یقین کا اظہار بہت تعلی اور تحدی سے کیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں جو اہانت اور سخت کلامی کی ہے وہ عیسائیوں کے مقابل میں بطور الزام نہیں۔ بلکہ اپنی تحقیقات اور عقائد کا اظہار کیا ہے۔

مرزائیوں کا جواب ثالث

مرزائی صاحبان ایک یہ جواب بھی دیا کرتے ہیں کہ پادریوں نے حضور ﷺ کی شان اقدس میں نہایت ناپاک الفاظ استعمال کئے تھے۔ چونکہ مرزا قادیانی کو حضور ﷺ سے عشق اور فدائیت تھی۔ اس عشق محمدی اور فدائیت نبوی سے مجبور ہو کر مرزا قادیانی نے پادریوں کے نبی کے حالات ان پر ظاہر کئے ہیں اور اس کی تائید میں مرزا قادیانی کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں۔

”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال و چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام لکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علا مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہیں یسوع کے کچھ حال لکھیں۔“

اسی صفحہ کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ لیں کہ آئندہ ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہیں کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی۔ ورنہ جو کچھ کہیں

جواب الجواب الثالث

یہ جواب بھی بوجہ ذیل بالکل غلط

تمام انبیاء علیہم السلام کی تعظیم و تکریم سکھا عیسائیوں پر شاق ہے تو کیا مسلمانوں کـ نے از راہ سفاہت و نادانی حضور ﷺ کـ و خسران حاصل کیا تو کسی مسلمان کے لیـ کی شان میں بدزبانی کر کے ویسا ہی خسر

ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اشتہار تبلیغ حق کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ مجھ جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

حسین نعوذ باللہ بوجہ اس کے کہ اس نے پر تھا۔ ”لعنة الله علی الکاذبین سے ایسے خبیث الفاظ لکھے ہوں۔ مگر نے اپنے ورقہ کی اور لعن و طعن میں بـ بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب عیسائی کی بدزبانی کے مقابل میں جو آ کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں

صفحہ ٢٩

آنحضرتﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت سے گالیاں دی ہیں۔ پس اسی طرح اس مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہیں۔ ہمیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کچھ حال لکھیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

اسی صفحہ کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ : ”اگر پادری اب بھی اپنی پالیسی بدل لیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبیﷺ کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی ۔ ورنہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے ۔“

جواب الجواب الثالث

یہ جواب بھی بوجہ ذیل بالکل غلط اور بیہودہ ہے۔

تمام انبیاء علیہم السلام کی تعظیم وتکریم سکھلاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین وتحقیر اگر عیسائیوں پر شاق ہے تو کیا مسلمانوں کے دلوں میں غیض وغضب پیدا نہیں کرتی ۔ اگر پادریوں نے ازراہ سفاہت ونادانی حضورﷺ کی شان عالی میں بدزبانی کر کے دنیا وآخرت کا خذلان وخسران حاصل کیا تو کسی مسلمان کے لئے یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بدزبانی کر کے ویسا ہی خسران اور خذلان حاصل کرے۔

ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی اشتہار تبلیغ حق (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤) پر لکھتے ہیں ۔ ”واضح ہو کہ کسی شخص کے ایک کارڈ کے ذریعہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ حسینؓ نعوذ باللہ بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی ۔ باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ ’لعنة الله علی الکاذبین “ مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راست باز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں ۔ مگر ساتھ مجھے یہ بھی دل میں خیال گذرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے ورد تبرائی اور لعن وطعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل میں جو آنحضرتﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“

صفحہ ٣٠

مرزا قادیانی اس عبارت میں صاف اور غیر مبہم الفاظ میں شیعہ اور عیسائی کے مقابلہ میں حضرت امام حسینؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کو سفیہانہ کلام اور جاہلانہ حرکت قرار دیتے ہیں اور جو شخص ایسی ناروا حرکت کرے مرزا قادیانی اس کو نادان، جاہل، بدتمیز کہتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی باوجودیکہ مصلح، مجدد، مہدی معہود، مسیح موعود نبی اور رسول ہونے کے مدعی تھے۔ ان کے لئے یہ کیونکر جائز ہو گیا کہ انہوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سفیہانہ باتیں کہہ کر نادانوں، جاہلوں اور بدتمیزوں جیسا کام کیا۔ کیا نبیوں سے بھی یہ فعل صادر ہوتے ہیں۔ ”العیاذ باللہ العلی العظیم“

عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست لکھی تھی۔ جس کو تریاق القلوب کے آخر میں بطور ضمیمہ نمبر ٤ نقل کیا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی نے صاف الفاظ میں اقرار کیا ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں اپنی سخت کلامی کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ بعض پادریوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان مقدس میں گستاخی اور توہین کی تھی۔ مسلمانوں میں اس بدزبانی کی وجہ سے وحشیانہ جوش پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ اس جوش کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کی ہے تاکہ ملک میں بے امنی نہ پھیلے اور اس فعل کو گورنمنٹ کی خیر خواہی ظاہر کیا ہے۔

چنانچہ (ضمیمہ تریاق القلوب ص ب، ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠، ٤٩١) میں لکھتے ہیں کہ: ”اور میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ جب پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبیﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور باایں ہمہ جھوٹا تھا۔ لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت زہریلا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیتی سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر

صفحہ ٣١

عبارت میں صاف اور غیر مبہم الفاظ میں شیعہ اور عیسائی کے مقابلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کو سفیہانہ کلام اور جاہلانہ شخص ایسی ناروا حرکت کرے مرزا قادیانی اس کو نادان، جاہل، بدتمیز وجود یکہ مصلح، مجدد، مہدی معہود، مسیح موعود نبی اور رسول ہونے کے امر جائز ہو گیا کہ انہوں نے عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ نہیں کہہ کر نادانوں، جاہلوں اور بدتمیزوں جیسا کام کیا۔ کیا نبیوں سے ”العیاذ باللہ العلی العظیم“ قادیانی نے ٢٧ ستمبر ١٨٩٩ء کو ایک درخواست بعنوان حضور گورنمنٹ ت لکھی تھی۔ جس کو تریاق القلوب کے آخر میں بطور ضمیمہ نمبر ٣ نقل کیا ، صاف الفاظ میں اقرار کیا ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ بتلائی ہے کہ بعض پادریوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان تھی۔ مسلمانوں میں اس بدزبانی کی وجہ سے وحشیانہ جوش پیدا ہونے کا کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت امنی نہ پھیلے اور اس فعل کو گورنمنٹ کی خیر خواہی ظاہر کیا ہے۔ القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠، ٤٩١) میں لکھتے ہیں کہ: ”اور وں کہ جب پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد س پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ میں اور ان مؤمنین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے جھوٹا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اور بائیں ہمہ جھوٹا تھا۔ لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے بڑھنے سے اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ان کلمات کا کوئی صدمہ دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان سچی تڑپ اور پاک نیتی سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر

بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی ہیں ان کی غیض وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض ومعاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے ایک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی۔ گو یہ کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ویسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے۔ جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچ سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گذر چکے ہیں ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں۔ جس کی تفصیل کا اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے جو کچھ پادریوں کے مقابل میں آیا ہے۔ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیرخواہی میں اوّل درجہ کا بنا دیا ہے۔

تریاق القلوب کے اس حوالہ سے اگرچہ بہت سے نتائج نکل سکتے ہیں۔ مگر ہم اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے امور ذیل کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔

مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہونے اور ملک میں بے امنی پھیلنے کا خطرہ تھا۔

صفحہ ٣٢

حق میں سخت کلامی کی ہے۔

وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ کوئی عیسائیوں کا یسوع یا فرضی یسوع نہیں۔

تھا۔ نہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کا جذبہ اور عشق رسول کا اثر۔

کھل گیا عشق بتاں طرز سخن سے مؤمن
اب مکرتے کیوں ہو عبث بات بنائے کیوں ہو

تریاق القلوب کے اس حوالے نے نہ صرف مرزائیوں کے جواب ثالث کو غلط ثابت کیا بلکہ مرزائی مشن کے ہر سہ جوابات کو ہباءً منثوراً کر دیا۔ خود نہایت وضاحت سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں اور جو کچھ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی کی ہے۔ وہ الزام کے طور پر نہیں بلکہ پادریوں نے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی تھی۔ اس کا عوض اور بدلہ ہے اور اس بدلہ لینے کا موجب عشق رسول نہیں تھا۔ بلکہ ملک میں بدامنی پھیلنے کا خطرہ تھا۔ اس کو روکنا اور گورنمنٹ عالیہ کی خدمت کرنا تھا۔ جب کہ مرزا قادیانی ان مسلمانوں کو وحشی قرار دیتے ہیں۔ جن کے دلوں میں پادریوں کی بدزبانی کی وجہ سے غیظ و غضب پیدا ہونے کا امکان تھا اور ان کے جوش کو ایک وحشیانہ جوش بتلاتے ہیں تو صاف معلوم ہوا کہ یہ جوش اور غیظ و غضب مرزا قادیانی کے نزدیک ناپسند حرکت اور قابل نفرت چیز تھی۔ ورنہ ان مسلمانوں کو وحشی اور ان کے جوش کو وحشیانہ جوش نہ کہتے۔ پھر کیونکر یہ احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ پادریوں کی بدزبانی کی وجہ سے مرزا قادیانی کو بھی جوش اور غیظ و غضب پیدا ہوا۔ پھر ناحق مسلمانوں کو طفل تسلی دینے کے لئے یہ طومار کیوں قائم کیا جاتا ہے کہ پادریوں نے حضورﷺ کے حق میں بدکلامی کی تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بھی عشق نبوی سے مجبور ہو کر ان کے نبی کے حالات کو ظاہر کیا ہے۔

”ھٰذا آخر ما اردنا تحریرہ ونسأل اللہ العلی العظیم ان یوفقنا لما یحب ویرضیٰ“

صفحہ ٣٢

کی اس بدزبانی کی وجہ سے مسلمانوں کا جوش وحشیانہ جوش ہے۔ دیانی نے امن ملکی کی خاطر پادریوں کے مقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سخت کلامی کی ہے۔

کے حق میں مرزا قادیانی نے سخت کلامی کی ہے (پادریوں کے مقابل میں) عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ کوئی عیسائیوں کا یسوع یا فرضی یسوع نہیں۔ یانی کی سخت کلامی عوض و معاوضہ کے طور پر ہے۔ الزامی طور پر نہیں۔ یانی کی سخت کلامی کا موجب بدامنی کو روکنا اور محسن گورنمنٹ کی خدمت کرنا ور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کا جذبہ اور عشق رسول کا اثر۔

کھل گیا عشق بتاں طرز سخن سے مؤمن
اب بگرتے کیوں ہو عبث بات بناتے کیوں ہو

یٰ علیہ السلام کے حق میں سخت کلامی مسلمان سے نہیں ہوسکتی۔

ب کے اس حوالے نے نہ صرف مرزائیوں کے جواب ثالث کو غلط ثابت کیا جوابات کو ہباء منثوراً کردیا۔ خود نہایت وضاحت سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایک ہیں اور جو کچھ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ام کے طور پر نہیں بلکہ پادریوں نے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی ہے اور اس بدلہ لینے کا موجب عشق رسول نہیں تھا۔ بلکہ ملک میں بدامنی روکنا اور گورنمنٹ عالیہ کی خدمت کرنا تھا۔ جب کہ مرزا قادیانی ان تے ہیں۔ جن کے دلوں میں پادریوں کی بدزبانی کی وجہ سے غیظ وغضب ن کے جوش کو ایک وحشیانہ جوش بتلاتے ہیں تو صاف معلوم ہوا کہ یہ جوش نی کے نزدیک ناپسند حرکت اور قابل نفرت چیز تھی۔ ورنہ ان مسلمانوں کو انہ جوش نہ کہتے۔ پھر کیونکر یہ احتمال پیدا ہوسکتا ہے کہ پادریوں کی بدزبانی ا جوش اور غیظ وغضب پیدا ہوا۔ پھر ناحق مسلمانوں کو طفل تسلی دینے کے تا ہے کہ پادریوں نے حضور ﷺ کے حق میں بدکلامی کی تھی۔ اس لئے ا سے مجبور ہوکر ان کے نبی کے حالات کو ظاہر کیا ہے۔

ا اردنا تحریره ونسال الله العلی العظیم ان یوفقنا لما

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

تحریف قرآنی

بزبان قادیانی

(حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ)

صفحہ ٣٥

سوم: ”قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا میں قرآن کو آسمان سے لایا ہوں ۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)

چہارم: ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ: ”انا نزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر نہایت تعجب سے کہا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان ۔ یہ کشف تھا کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

”لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم“

مسلمانو! مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اقتباسات کو آپ غور سے پڑھیں اور نتیجہ اخذ فرمائیں کہ جو شخص قرآن مجید کو ایک ناقص اور قابل اصلاح کتاب تسلیم کرے کیا وہ مسلمان ہے؟ جو قرآن میں اپنے وطن مالوف (قادیان) کے اندراج کا معتقد ہو اور اسے مکہ معظمہ و مدینتہ النبی ﷺ کی طرح مشرف و معظم ہونے کا یقین رکھے جو قرآن کو اغلاط زدہ مانے اور قرآن کے اس حتمی فیصلہ’انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر:٩)“ کا منکر ہو کیا وہ صاحب ایمان تصور ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ قطعاً نہیں بلکہ وہ ایک کافر مطلق بے ایمان شیطان کا خلیفہ اعظم ہے۔ سبحان اللہ! قرآن جس طرح آج سے ساڑھے تیرہ سو برس قبل حضور پرنور ﷺ پر نازل ہوا تھا اسی طرح بعینہ اب تک محفوظ و مامون ہے اور تاقیامت بحفاظت باقی رہے گا۔

صفحہ ٣٦

یہ ہر قسم کے اغلاط سے مبرا اور پاک ہے۔ مخلوق میں سے کسی کی ہستی نہیں کہ اس میں اپنی طرف سے ایک حرف تغیر وتبدل کر سکے۔ اس میں غلطی کا امکان محال ہے۔ یہ ایک ایسا خورشید درخشاں ہے جو گرد و غبار سے دھندلا نہیں ہو سکتا۔ یہ دنیا کے اغلاط کی تصحیح کے لئے اترا ہے۔ اس کی اغلاط ناممکن ہیں۔

جو بھی اس میں غلطی کا معتقد ہے وہ ایک گمراہ بے دین اور مذہب اسلام کا حقیقی دشمن ہے۔ ایک مراقی نبی کی مراقی امت کی بکواس بے جا سے اس رفیع منزلت تنزیل پر حرف نہیں آسکتا۔ آپ لوگ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ جس طرح مرزا قادیانی قرآن کو ایک ممکن التبدیل کتاب تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے حکیم الامت نور الدین صاحب بھی قرآن خوانی بحالت ناپاکی و جنابت جائز جانتے ہیں۔ نعوذ باللہ منہا! چنانچہ حکیم صاحب مذکور فرماتے ہیں ۔ ”ناپاکی و جنابت کی حالت میں بھی قرآن شریف پڑھنا جائز ہے۔ جنبی حالت میں درود و استغفار بلکہ قرآن بھی پڑھ سکتا ہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٧٨)

”انا للّٰہ وانا الیہ راجعون“

مرزا قادیانی نے اپنی لومڑ چال سے کبھی کچھ بکا کبھی کچھ ۔ مگر مرزا قادیانی کے معتقدین نے بھی جو چاہا جس ہستی کے متعلق جو کچھ زبان قلم سے مناسب سمجھا تھوک دیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنے ”مراقی“ اور کم عقل ہونے کا اعلان بھی (ریویو ماہ اپریل ١٩٠٣ء ، حاشیہ ص ١٥٣) پر صاف الفاظ میں بکا کہ: ”مجھے مراق ہے۔“

غور فرمائیے کہ ایک مراقی آدمی حالت مراق میں جو کچھ کہے، بکتا جائے، کم از کم دوسرے سننے یا دیکھنے والوں کو تو اس کے اقوال پر کان نہ دھرنا چاہئے۔ یہ امت مرزائیہ عقل کے اندھے گانٹھ کے پورے ۔ اندھا دھند امتی بنے پھرتے ہیں۔ مراقی نبی کے مراقی الہامات پر اعتقاد دھرے چاہ ضلالت میں یکے بعد دیگرے گرتے چلے جارہے ہیں۔

٤

صفحہ ٣٧

یہ ساری سزا ہے۔ اس قادر مطلق کی جس کے کلام میں یہ لوگ تغیر وتبدیل کے، نقص کے معتقد ہیں۔ عبرت! عبرت!! عبرت!!!

سچ ہے، خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتا۔

اب میں مرزا قادیانی کے اس مصنوعی قرآن کی طرف آپ صاحبان کی توجہ مبذول کراتا ہوں اور حوالہ جات تصانیف مرزا قادیانی بھی ساتھ ساتھ مندرج ہیں۔ اگر تسکین درکار ہو تو خود کھول کر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

آیات قرآنی

تحریف قادیانی

”قد انزل اللہ الیکم ذکراً رسولا یتلوا علیکم (طلاق: ١٠، ١١)“

”انزل ذکر ورسولا“ (ایام الصلح ص ٨٩، مطبوعہ منیجر بک ڈپو، تالیف واشاعت قادیان طبع جنوری ١٨٩٩ء)

”قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا (بنی اسرائیل: ٨٨)“

”قل لئن اجتمعت الجن والانس علی ان یاتو“ (سرمہ چشم آریہ ص ١١ حاشیہ مطبوعہ بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان طبع اشاعت دسمبر ١٩٢٣ء، نور الحق ج ١ ص ١١٢، قد طبع فی المطبع المصطفائی پریس فی لاہور ١٨٩٤ء بمطابق ١٣١١ھ)

”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو بسورة من مثلہ وادعو شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین (بقرہ: ٢٣)“

”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو بسورة من مثلہ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا“ (سرمہ چشم آریہ ص ١٠، براہین احمدیہ ص ٣٩٥، ٣٩٦، ٥٤٦، نور الحق ج ١ ص ١٠٥)

”ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام (بقرہ: ٢١٠)“

”یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام“ (حقیقت الوحی ص ١٥٤، مطبع میگزین قادیان باہتمام منیجر مطبع تاریخ اشاعت ١٥ مئی ١٩٠٧ء)

٥

صفحہ ٣٨

”امنت انه لا اله الا الذى امنت به بنو اسرائيل (یونس:٩٠)“

”امنت بالذی امنت بہ بنو اسرائیل“ (اربعین ص٣٥ نمبر٣، بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام باہتمام حکیم فضل دین ١٥ دسمبر ١٩٠٠ء)

”ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى احسن (نحل:١٢٥)“

”جادلهم بالحكمة والموعظة الحسنة“ (نور الحق ص ٤٦، تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٤، حاشیہ فاروق پریس قادیان)

مندرجہ بالا تحریف قادیانی اور اصل آیات قرآنی کا ملاحظہ ناظرین نے کر لیا ہو گا کہ مدعی صحت آیات قرآنی غلام احمد قادیانی نے کس چال بازی سے اپنی اندھی امت کی آنکھوں میں خاک ڈال کر انہیں اور ہی اندھا کیا ہے۔

کسی آیات کے الفاظ میں کمی کی، کسی میں ماقبل و مابعد الفاظ کو تغیر و تبدل کیا، کسی کو بے ربط بنا کر جاہل اور گمراہ لوگوں کو نمونہ صحت بنا کر انہیں خوب الو بنایا۔ صاحب علم حضرات پر مخفی نہیں کہ مرزا قادیانی کس قدر بے باک اور چالاک واقع ہوئے ہیں اور کس چال بازی سے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عقل کے اندھے اور قسمت کے کھوٹے لوگ کس طرح اس ٤٢٠ نبی کے دام تزویر میں پھنستے ہیں۔

کاش! انہیں ٹھنڈے دل سے اس فریب کاری پر سوچنے کی زحمت گوارہ ہوتی تو یقیناً وہ سمجھ جاتے کہ آج کل صرف پاگلوں کی دنیا کے باسی ہی نبوت کے مدعی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس گمراہ مخلوق (امت قادیانیہ) کو راہ ہدایت نصیب فرمائے اور اپنی باقی ساری کائنات کو اس فتنہ ناگہانی سے محفوظ رکھے۔ آمین ! ثم آمین !!

ناظم اعلیٰ: محمد صادق عفی عنہ

صفحہ ٣٨

”امنت انه لا اله الا الذى امنت به بنو اسرائيل (یونس:٩٠)“

”امنت بالذى امنت به بنو اسرائيل“ (اربعین ص ٣٥ نمبر ٤، بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام باہتمام حکیم فضل دین ١٥؍دسمبر ١٩٠٠ء)

”ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى احسن (نحل:١٢٥)“

”جادلهم بالحكمة والموعظة الحسنة“ (نور الحق ص ٤٦، تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٤، حاشیہ فاروق پریس قادیان)

مندرجہ بالا تحریف قادیانی اور اصل آیات قرآنی کا ملاحظہ ناظرین نے کر لیا ہوگا کہ مدعی صحت آیات قرآنی غلام احمد قادیانی نے کس چال بازی سے اپنی اندھی امت کی آنکھوں میں خاک ڈال کر انہیں اور ہی اندھا کیا ہے۔

کسی آیات کے الفاظ میں کمی کی، کسی میں ماقبل و مابعد الفاظ کو تغیر و تبدل کیا، کسی کو بے ربط بنا کر جاہل اور گمراہ لوگوں کو نمونہ صحت بنا کر انہیں خوب الو بنایا۔ صاحب علم حضرات پر مخفی نہیں کہ مرزا قادیانی کس قدر بے باک اور چالاک واقعہ ہوئے ہیں اور کس چال بازی سے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عقل کے اندھے اور قسمت کے کھوٹے لوگ کس طرح اس ٤٢٠ نبی کے دام تزویر میں پھنسے ہیں۔

کاش! انہیں ٹھنڈے دل سے اس فریب کاری پر سوچنے کی زحمت گوارہ ہوتی تو یقیناً وہ سمجھ جاتے کہ آج کل صرف پاگلوں کی دنیا کے باسی ہی نبوت کے مدعی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس گمراہ مخلوق (امت قادیانیہ) کو راہ ہدایت نصیب فرمائے اور اپنی باقی ساری کائنات کو اس فتنہ ناگہانی سے محفوظ رکھے۔ آمین ! ثم آمین !!

ناظم اعلیٰ: محمد صادق عفی عنہ

صفحہ ٣٨

منت بہ بنو اسرائیل " بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام ١ اکتوبر ١٩٠٠ء)

"امنت انه لا اله الا الذی امنت به بنو اسرائیل (یونس:٩٠)“

حكمة والموعظة لحق ص ٤٦، تبلیغ رسالت ج ٣ طبع قادیان)

"ادع الی سبیل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتی هی احسن (نحل: ١٢٥)“

تحریف قادیانی اور اصل آیات قرآنی کا ملاحظہ ناظرین نے کر لیا ہو گا کہ غلام احمد قادیانی نے کس چال بازی سے اپنی اندھی امت کی آنکھوں میں ی اندھا کیا ہے۔

کے الفاظ میں کمی کی، کسی میں ماقبل و مابعد الفاظ کو تغیر و تبدل کیا، کسی کو بے توں کو نمونہ صحت بنا کر انہیں خوب الو بنایا۔ صاحب علم حضرات پر مخفی نہیں بے باک اور چالاک واقعہ ہوئے ہیں اور کس چال بازی سے اپنے مدعا کو تے ہیں۔ عقل کے اندھے اور قسمت کے کھوٹے لوگ کس طرح اس ٤٢٠ ہیں۔

ٹھنڈے دل سے اس فریب کاری پر سوچنے کی زحمت گوارہ ہوتی تو یقینا وہ پاگلوں کی دنیا کے باسی ہی نبوت کے مدعی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے گمراہ مخلوق (امت قادیانیہ ) کو راہ ہدایت نصیب فرمائے اور اپنی باقی انی سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین!!

ناظم اعلیٰ محمد صادق عفی عنہ

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

فرنگی نبی کی

ناپاک چھینٹیں

(حضرت مولانا محمد صادق بہاولپوریؒ)

صفحہ ٤٠

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! ”الحمدلله رب العلمین والصلوة والسلام علیٰ سید المرسلین خاتم النبیین محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین“

قادیانی اڑدھا مسمی غلام احمد قادیانی بمقام قادیان پیدا ہوا۔ سن شعور کو پہنچتے ہی اسے مبلغ پندرہ روپیہ ماہوار کی ملازمت کچہری سیالکوٹ نصیب ہوئی۔ اس قدر قلیل تنخواہ سے اس ایمان خوار اڑدھا کا گزر مشکل ہونے لگا۔ دن رات کی سوچ کے بعد لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ جھٹ سوچ کر بذریعہ اشتہار اعلان کیا کہ وہ ایک کتاب بعنوان ”براہین احمدیہ“ طبع کرانے والا ہے۔ جس کی قیمت دس روپیہ پیشگی ہوگی۔ بھولے بھالے مسلمانوں نے خدمت اسلام سمجھتے ہوئے دھڑا دھڑ منی آرڈر مرزا قادیانی کو بھیجنے شروع کئے۔ تھوڑے عرصہ میں مرزا قادیانی رئیس وقت ہو گئے۔ ان کا دماغ دولت بے پایاں سے لگا خرافاتیں سوچنے۔ آخر تائید ابلیسی بھی موئید ہوئی۔ رقم ہڑپ کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے متاع ایمان پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ چند ایک کاٹھ کے الو ہوا خواہ ہوگئے۔ ان کے بل بوتے اور گورنمنٹ برطانیہ کی امداد سے مرزا قادیانی نے جس قدر عمر بھر دعوے کئے ہیں وہ بحوالہ ضمیمہ پیش ناظرین ہیں۔ فیصلہ صاحب انصاف کے ہاتھ ہے کہ ایسا بیباک شخص کس طرح خدا و پیغمبران خدا وہادیان دین کا بدخواہ ہے۔ والسلام!

نمبر شمار دعوٰی مرزا حوالہ جات از کتب مرزا ١ میں محدث ہوں توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠ ٢ مجدد ہوں حمامۃ البشریٰ ص ١١١، خزائن ج ٧ ص ٣٣٤ ٣ مسیح موعود ہوں ازالۃ الاوہام ص ٦٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠ ٤ مثیل مسیح ہوں مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١ ٥ مہدی ہوں تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣ ٦ ملہم ہوں تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣ ٧ حارث موعود ہوں ازالۃ الاوہام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١ ٨ رجل فارسی ہوں تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ١١٥ ٩ کرشن اوتار ہوں لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨ ٢

١٠ خاتم الانبیاء ہوں ایک غلطی ١١ خاتم الاولیاء ہوں خطبہ الہا ١٢ خاتم الخلفاء ہوں تریاق الق ١٣ چینی الاصل ہوں تحفہ گولڑ ١٤ معجون مرکب ہوں تریاق ا ١٥ یسوع کا ایلچی ہوں تحفہ قیص ١٦ مسیح ابن مریم سے بہتر ہوں دافع ال ١٧ حسینؓ سے بہتر ہوں دافع ا ١٨ رسول ہوں دافع ١٩ مظہر خدا ہوں حقیق ٢٠ خدا ہوں آئین ٢١ مانند خدا ہوں ارب ٢٢ خالق ہوں نص ٢٣ خدا کا نطفہ ہوں ار ٢٤ خدا کا بیٹا ہوں ٢٥ خدا کی بیوی ہوں ٢٦ خدا کا باپ ہوں ٢٧ ظلی محمد واحمد ہوں ٢٨ تشریعی نبی ہوں ٢٩ حجر اسود ہوں ٣٠ ذوالقرنین ہوں ٣١ آدم ہوں ٣٢ نوح ہوں

صفحہ ٤٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم! لمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین خاتم النبیین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین“ نامی غلام احمد قادیانی بمقام قادیان پیدا ہوا۔ سن شعور کو پہنچتے ہی اسے لی ملازمت کچہری سیالکوٹ نصیب ہوئی۔ اس قدر قلیل تنخواہ سے اس بمشکل ہونے لگا۔ دن رات کی سوچ کے بعد لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ چ کر بذریعہ اشتہار اعلان کیا کہ وہ ایک کتاب بعنوان ”براہین احمدیہ“ کی قیمت دس روپیہ پیشگی ہوگی۔ بھولے بھالے مسلمانوں نے بذری عہ منی آرڈر مرزا قادیانی کو بھیجنے شروع کئے۔ تھوڑے عرصہ میں گئے۔ ان کا دماغ دولت بے پایاں سے لگا خرافاتیں سوچنے۔ آخر تالیف ہڑپ کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے متاع رع کیا۔ چند ایک گانٹھ کے الو ہمنوا ہو گئے۔ ان کے بل بوتے اور سے مرزا قادیانی نے جس قدر عمر بھر دعوے کئے ہیں وہ بحوالہ ضمیمہ پیش انصاف کے ہاتھ ہے کہ ایسا بیباک شخص کس طرح خدا و پیغمبران خدا سلام!

حوالہ جات از کتب مرزا توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠ حمامتہ البشریٰ ص ١١١، خزائن ج ٧ ص ٣٣٤ ازالۃ الاوہام ص ٦٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١ تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣ تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣ ازالۃ الاوہام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ١١٥ لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨ ٢

٤١ ١٠ | خاتم الانبیاء ہوں | ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢ ١١ | خاتم الاولیاء ہوں | خطبہ الہامیہ ص ٧٠، خزائن ج ١٦ ص ایضاً ١٢ | خاتم الخلفاء ہوں | تریاق القلوب ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣ ١٣ | چینی الاصل ہوں | تحفہ گولڑویہ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ١٤٧ ١٤ | معجون مرکب ہوں | تریاق القلوب ص ٦٤، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٣ ١٥ | یسوع کا ایلچی ہوں | تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥ ١٦ | مسیح ابن مریم سے بہتر ہوں | دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠ ١٧ | حسینؓ سے بہتر ہوں | دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣ ١٨ | رسول ہوں | دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١ ١٩ | مظہر خدا ہوں | حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨ ٢٠ | خدا ہوں | آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً ٢١ | مانند خدا ہوں | اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ ٢٢ | خالق ہوں | نصرۃ الحق ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٤ ٢٣ | خدا کا نطفہ ہوں | اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣ ٢٤ | خدا کا بیٹا ہوں | حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩ ٢٥ | خدا کی بیوی ہوں | تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١ ٢٦ | خدا کا باپ ہوں | حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩ ٢٧ | ظلی محمد واحمد ہوں | حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ ٢٨ | تشریعی نبی ہوں | اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ ٢٩ | حجر اسود ہوں | ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٣ ٣٠ | ذوالقرنین ہوں | نصرۃ الحق ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٨ ٣١ | آدم ہوں | نصرۃ الحق ص ٨٥، خزائن ج ٢١ ص ١١٤ ٣٢ | نوح ہوں | نصرۃ الحق ص ٨٦، خزائن ج ٢١ ص ١١٣ ٣

صفحہ ٤٢

یہ مختصر پمفلٹ انشاء اللہ العزیز لعین قادیانیوں پر برباد کن گولہ کی طرح گرے گا۔ اگر کوئی قادیانی اس کا ایک ہی حوالہ غلط ثابت کرے تو منہ مانگا انعام حاصل کرے۔

اس قدر لچر بیہودہ آدمی محدثیت مجددیت کا مدعی ہونے، گویا اسلام کو زندہ درگور کرنے کا خواہاں ہے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ اہل ایمان کو اس دجال وقت کی فریب کاریوں سے اپنے حبیب کا صدقہ محفوظ فرمائے۔ آمین فقط ناظم!

٤

PDF 44

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قادیانی مسیح کی نادانی

اس کے خلیفہ کی زبانی

(حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ)

صفحہ ٤٤

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

”الحمد لولیہ والصلوٰۃ والسلام علٰی نبیہ وحبیبہ“

سائل: کیا مرزا قادیانی کسی وقت نبی کے معنی بھی نہیں سمجھتے تھے۔

مجیب: مرزا قادیانی کے فرزند رشید خلیفہ المسیح کی تحریر تو یہی بتاتی ہے کہ فی الواقع ایک زمانہ مرزا قادیانی کا اسی نادانی اور لاعلمی میں گزرا۔

سائل: یہ کہاں لکھا ہے؟

مجیب: (حقیقت النبوت ص ١٢٤، میں مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ مرزا قادیانی) نے لکھا ہے۔

”خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداءً نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبی کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتیں اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے۔ نہ کہ کیفیت محدثیت۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تم نے کیوں ہماری نبوت سے انکار کیا۔“

سائل: بیٹے کے نزدیک باپ کی پہلی غلطی یہ تھی کہ وہ نبی کی تعریف غلط سمجھا ہوا تھا۔ یعنی وہ سمجھتا تھا کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔ تو میں نہیں سمجھ سکا کہ مرزا قادیانی نے پھر پہلے ہی اپنے کو نبی کیوں نہ مانا۔ اس لئے کہ وہ بعض حکم قرآنی تو منسوخ کر چکے تھے۔ مثلاً جہاد کہ اس کو صاف ہی اڑانا منظور کر چکے تھے۔ جب کہ یا، یا، کے ساتھ تین شرط نبی ہونے کی ظاہر کی گئیں۔ تو تینوں میں سے ایک بھی ان میں اگر موجود تھی تو پھر نہ ماننا انتہا درجہ کی خوش فہمی اور نادانی تھی۔ اگر نئی شریعت نہ لا سکے تو نہ سہی اور بلاواسطہ نبی نہ ہوئے تو نہ سہی۔ بعض حکم تو منسوخ کر چکے تھے۔ یعنی جہاد، دوسرے خلیفہ نبی کو یہ منصب شریعت مرزائیت میں ہی شاید حاصل ہے کہ وہ ایک نبی کی شان میں یہ گستاخی کرے کہ ان کی شان میں کہے کہ اور

٢

صفحہ ٤٥

بسم الله الرحمن الرحیم!

لوليه والصلوة والسلام على نبيه وحبيبه “

مرزا قادیانی کسی وقت نبی کے معنی بھی نہیں سمجھتے تھے۔

قادیانی کے فرزند رشید خلیفہ المسیح کی تحریر تو یہی بتاتی ہے کہ فی الواقع ایک عرصہ لاعلمی میں گزرا۔ لکھا ہے؟ ت النبوت ص ١٢٤، میں مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ مرزا قادیانی) نے لکھا ہے۔ ت مسیح موعود چونکہ ابتداء میں نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے م منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ شرائط ری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے ری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص پ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی ئے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ یہ دعویٰ کی کیفیت سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتیں اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے نہ کہ کیفیت محدثیت۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور نے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تم نے کیوں

دیک باپ کی پہلی غلطی یہ تھی کہ وہ نبی کی تعریف غلط سمجھا ہوا تھا۔ شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ تو میں پھر پہلے ہی اپنے کو نبی کیوں نہ مانا۔ اس لئے کہ وہ بعض حکم قرآنی کہ اس کو صاف ہی اڑانا منظور کر چکے تھے۔ جب کہ یا، یا، کے ہا گئیں۔ تو تینوں میں سے ایک بھی ان میں اگر موجود تھی تو پھر نہ ہی ۔ اگر نئی شریعت نہ لا سکے تو نہ سہی اور بلا واسطہ نبی نہ ہوئے تو تھے۔ یعنی جہلاء دوسرے خلیفہ نبی کو یہ منصب شریعت مرزائیت نبی کی شان میں یہ گستاخی کرے کہ ان کی شان میں کہے کہ اور ٢

نہیں جانتے تھے۔ بھلا نبی تو نہ جانتا ہو اور خلیفہ جسے ایمان بھی نبی سے ملا ہو وہ جاننے والا ہے اور میں یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا۔ اس کو مرزا قادیانی نے ڈانٹا بھی مگر وہ بدستور مجدد کہتا رہا اور مزید خلافت کا حصہ دار بھی بنا رہا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ نبی کی ادنیٰ مخالفت مستلزم ارتداد ہے۔ پھر مرتد امیر جماعت کیسے بن سکتا ہے اور اس کے متبعین مرزائی کیونکر کہلا سکتے ہیں۔ مرتد کے متبع تو مرتد ہی ہوں گے۔

مجیب: یہ تینوں سوال ایسے ہیں کہ ان کا جواب خلیفہ صاحب دیں یا امیر جماعت لاہوری مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے دیں۔ ہم تو اس معاملہ میں لاجواب اور متحیر ہیں۔

سائل: خیر مذکورہ امور کا جواب تو میں مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور امیر جماعت احمدیہ سے طلب کرتا ہوں۔ لیکن کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ کبھی مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ بھی بدلا ہے۔

مجیب: جی ہاں! مرزا قادیانی کے بیٹے محمود احمد قادیانی ہی اس (حقیقت النبوۃ ص ١٢١) پر لکھ رہے ہیں۔ ”اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ (مرزا قادیانی) نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٠ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔“

اور اسی (حقیقت النبوۃ ص ١٢٢) پر محمود قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ایک غلطی کا ازالہ سے معلوم ہوتا ہے۔ جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔“

سائل: یہ مضمون خلیفہ قادیان نے کس کے جواب میں لکھا ہے؟

مجیب: معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مسٹر محمد علی صاحب ایم۔اے امیر جماعت لاہور کو لکھا ہے۔ اس لئے کہ محمد علی صاحب ایم۔اے کی جماعت کا اخبار (پیغام صلح ج ٢٢ ش ٢٦ ص ٦، مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٤ء) میں اپنے خلیفہ اور ابن مرزا کی اس طرح عزت افزائی کر رہا ہے۔ ”افسوس ہے کہ جناب میاں صاحب (یعنی محمود احمد خلیفہ قادیان) کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل میں آتی ہے۔ جسے توبہ توبہ نقل کفر کفر نہ باشد نعوذ باللہ جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ آپ نبی کی تعریف ہی نہ جانتے تھے۔ مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ کی (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرنے۔ جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب کا ٣

صفحہ ٤٧

وارث کون ہو سکتا ہے۔ خود نبی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی اور جہل کے آپ مدعی نبوت پر یا دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجتے ہیں۔ ذرا تأمل نہیں کرتے یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں صاحب (یعنی خلیفہ جی) نے حضرت مسیح موعود کی کھینچی ہے۔ کیا اس قابل ہے کہ کسی عقلمند آدمی کے سامنے پیش کی جاسکے۔‘‘

سائل : کیا نفیس مضمون پیغام صلح کا ہے۔ اللہ انہیں صحیح العقیدہ مسلمان کرے۔ انہوں نے جو حق بات تھی وہ کہہ دی۔ ھداہ اللہ!

مجیب : اس سے بڑھ کر امیر جماعت احمدیہ لاہوری جناب محمد علی صاحب ایم۔اے نے انصاف کی بات لکھی ہے جو مرزائیت کی تصویر زریں ہے۔ ملاحظہ ہو (النبوۃ فی الاسلام ص ١٩٣، مصنفہ محمد علی صاحب امیر جماعت لاہوری) ’’اب اس عبارت پر غور کرو کہ میاں (محمود احمد) صاحب اس دعویٰ کرنے والے کو کس قسم کا آدمی بتاتے ہیں۔ بارہ برس سے ایک دعویٰ کر رہا ہے۔ ایک عقیدہ پیش کر رہا ہے۔ شب و روز اسی کے دلائل دے رہا ہے۔ اسی عقیدہ کی بناء پر مخالفوں کو مباہلہ کے لئے بلا رہا ہے۔ حالانکہ میاں صاحب کے نزدیک صحیح وہ تھا جو مخالف کہتے تھے۔ بارہ سال کے بعد پھر کچھ اور سوچتا ہے اور دو سال اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔ حتیٰ کہ ایک مرید اپنے خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعویٰ کردوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن رہے ہیں تو چلو اب رسالت کا دعویٰ کردو۔ تب دعویٰ رسالت ہوتا ہے۔ گویا میاں صاحب کے نزدیک پیران نمی پرند مریدان می پرانند کے علاوہ وہ چالبازی کا بھی کمال ہے۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون! اب میاں صاحب (یعنی محمود احمد ) ہی انصاف کریں کہ یہ کیسا نبی ہے۔ نبوت سے پہلے تو اخلاق کی ضرورت ہے۔ دوسرے مجدد دین کی وہ ہتک کی گئی کہ مرزا قادیانی کے مقابل ان کو عوام الناس کی طرح ٹھہرایا گیا اور مرزا قادیانی کی اپنی یہ عزت ہورہی ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک انہیں چالباز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون! اسلام کا باقی کیا رہ گیا۔ آخر آپ مرزا قادیانی کا کیا کیرکٹر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نبی تو آپ جب بنائیں گے دیکھا جائے گا۔ پہلے ایک متین کیرکٹر کا انسان تو رہنے دیجئے۔‘‘

سائل : سبحان اللہ ! واہ میاں محمد علی ایمان کی آپ نے آج ہی کہی ہے۔ اللہ آپ کو صراط مستقیم پر اور کردے تو بڑے کام کے آدمی ہو۔ ھداکم اللہ!

٤

ہاں قبلہ ذرا یہ تو اور بتا دیں کہ محمد علی صا خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے۔‘‘ اس سے

مجیب : یہ عبارت میں آپ کو دکھاتا ص ١٢٤، مصنفہ مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان) پر تحر سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٩٠٠ء سے اس خیال کا اظہ سے نہ تھا۔ چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب الہی ثابت کیا اور ’’لا نفرق بین احد م موعود نے اس خطبہ کو پسند فرمایا۔‘‘

سائل : ماشاء اللہ محمد علی صاحب تو صورت میں لکھ رہے ہیں۔ میں سمجھا تھا کہ محمد علی

مجیب : درحقیقت محمد علی صاح مرزا قادیانی نے نبوت تک ترقی کی ہے۔ اوّا برہمن اوتار بنتے بنتے مجدد دین بنے اور جب گئے۔ محمد علی صاحب کا یہ مضمون مجھے بھی بہت کہنہ مشق منشی اور بہترین مضمون نگار سخن سنج برا

سائل : جو جماعت قادیانی پارٹ کی نبوت کے متعلق محمود صاحب خلیفہ کی عبار

مجیب : کیوں نہیں۔ بلکہ اس مرزا قادیانی کو نبی مانے بغیر رہ نہیں سکتا۔ م

ایک بزرگوار قاسم علی صاحب ص ٣٠ پر فرماتے ہیں۔ ’’حضرت اقدس ( امتی کی۔ دوسری نبی کی۔ امتی کی حیثیت امتی بن کر جو زمانہ گذارا ہے۔ غلام احمد او سے احمد اور مریم سے ابن مریم بنتے ہیں۔ جب آپ مریم تھے ابن مریم نہ تھے۔ ا آپ ابن مریم بن گئے تو اب مریم نہ ر

صفحہ ٤٧

ردی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی اور جہل دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجتے ہیں۔ ذرا تأمل نہیں ے شرم تصویر جو جناب میاں صاحب (یعنی خلیفہ جی) نے حضرت مسیح قابل ہے کہ کسی عقلمند آدمی کے سامنے پیش کی جاسکے۔“

نہیں مضمون پیام صلح کا ہے۔ اللہ انہیں صحیح العقیدہ مسلمان کرے۔ کہہ دی۔ ھداہ اللہ!

سے بڑھ کر امیر جماعت احمدیہ لاہوری جناب محمد علی صاحب ایم ۔ اے ہے جو مرزائیت کی تصویر زریں ہے۔ ملاحظہ ہو (النبوۃ فی الاسلام ص ١٩٣، ت لاہوری ) ”اب اس عبارت پر غور کرو کہ میاں (محمود احمد ) صاحب قسم کا آدمی بتاتے ہیں۔ بارہ برس سے ایک دعویٰ کر رہا ہے۔ ایک ہر روز اسی کے دلائل دے رہا ہے۔ اسی عقیدہ کی بناء پر مخالفوں کو مباہلہ میاں صاحب کے نزدیک صحیح وہ تھا جو مخالف کہتے تھے۔ بارہ سال کے سال اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔ حتیٰ سے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ لے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن دعویٰ کر دو۔ تب دعویٰ رسالت ہوتا ہے۔ گویا میاں صاحب کے باہر ائمہ کے علاوہ وہ چالبازی کا بھی کمال ہے۔ فانا لله وانا صاحب (یعنی محمود احمد ) ہی انصاف کریں کہ یہ کیسا نبی ہے۔ نبوت ہے۔ دوسرے مجددین کی وہ ہتک کی گئی کہ مرزا قادیانی کے مقابل ا گیا اور مرزا قادیانی کی اپنی یہ عزت ہو رہی ہے کہ نعوذ باللہ من ہے۔ فانا لله وانا اليه راجعون ! اسلام کا باقی کیا رہ گیا۔ اثر و دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نبی تو آپ جب بنائیں گے بستر کا انسان تو رہنے دیجئے۔“

واہ میاں محمد علی ایمان کی آپ نے آج ہی کہی ہے۔ اللہ آپ کو م کے آدمی ہو۔ ھداکم اللہ!

٤

ہاں قبلہ ذرا یہ تو اور بتا دیں کہ محمد علی صاحب نے جو لکھا ہے کہ : ” حتیٰ کہ ایک مرید اپنے خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے۔“ اس سے کس عبارت کی طرف اشارہ ہے؟

مجیب : یہ عبارت میں آپ کو دکھانا بھول گیا۔ اب ملاحظہ فرمائیں۔ اسی ( حقیقت النبوۃ ص ١٢٤، مصنفہ مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان ) پر تحریر ہے ۔ ”مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٩٠٠ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا۔ گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا۔ چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل الہی ثابت کیا اور ”لا نفرق بين احد منهم“ والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند فرمایا۔“

سائل : ماشاء اللہ محمد علی صاحب تو گویا خلیفہ جی کے مضمون کو باقتضاء انصاف شرح کی صورت میں لکھ رہے ہیں۔ میں سمجھا تھا کہ محمد علی صاحب غصہ میں آ کر لکھ گئے ہیں۔

مجیب : در حقیقت محمد علی صاحب نے یہ مبادی نبوت دکھائے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی نے نبوت تک ترقی کی ہے۔ اوّل ڈرتے ڈرتے محدث ، ملہم ، مہدی امت محمد ، کرشن، برہمن اوتار بنتے بنتے مجدد دین بنے اور جب مریدین میں اس کی برداشت ہو گئی ۔ علی الفور نبی بن گئے۔ محمد علی صاحب کا یہ مضمون مجھے بھی بہت پسند آیا ہے۔ خوب نقشہ کھینچا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ آخر کہنہ مشق منشی اور بہترین مضمون نگار سخن سنج بزرگوار ہیں۔

سائل : جو جماعت قادیانی پارٹی سے وابستہ ہے۔ ان میں سے بھی کسی نے مرزا قادیانی کی نبوت کے متعلق محمود صاحب خلیفہ کی عبارت آرائی کے علاوہ کچھ اور بھی خامہ فرسائی کی ہے؟

مجیب : کیوں نہیں۔ بلکہ ایسی دلچسپ دلائل کی رپوٹ پیش کی ہے کہ ہر بے عقل مرزا قادیانی کو نبی مانے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ملاحظہ ہو۔

ایک بزرگوار قاسم علی صاحب ہیں۔ وہ ازہاق باطل ایک کتاب لکھتے ہیں۔ اس کے ص ٣٠ پر فرماتے ہیں۔ ” حضرت اقدس (یعنی مرزا قادیانی) کی دو حیثیتیں الگ الگ ہیں۔ ایک امتی کی۔ دوسری نبی کی۔ امتی کی حیثیت ابتدائی ہے اور نبی کی شان انتہائی ۔ حضرت صاحب نے امتی بن کر جو زمانہ گزارا ہے۔ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ اس سے ترقی پا کر آپ غلام احمد سے احمد اور مریم سے ابن مریم بنتے ہیں۔ جس زمانہ میں آپ غلام احمد تھے۔ اس وقت احمد نہ تھے اور جب آپ مریم تھے ابن مریم نہ تھے۔ ایسا ہی جب آپ احمد بن گئے تو غلام احمد نہ رہے اور جب آپ ابن مریم بن گئے تو اب مریم نہ رہے۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے۔ جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے۔“

٥

صفحہ ٤٩

سائل: سبحان اللہ! سبحان اللہ!! اتنا ادق نکتہ ہے کہ اب بھی اس پر بھاری نقطہ ہے کہ پڑھنے والے، سننے والا، سنانے والا اب تک نہ سمجھ سکا۔

مجیب: سنانے والا تو میں خود ہوں۔ اگرچہ نکتہ عجیبہ ہے۔ لیکن انکشاف حقیقت مرزائیت کے لئے بہترین مضمون ہے اور میں اسے خوب سمجھ گیا ہوں۔

سائل: کرم فرما کر مجھے بھی سمجھا دیجئے؟

مجیب: صاف بات ہے۔ ایک ہوتا ہوتا ہے۔ ایک بننا، ہونا مشکل چیز ہے۔ اس لئے کہ وہ مبدء فیاض کے فیضان پر موقوف ہے اور بننا بالکل آسان۔ دیکھئے فقیر ہونا مشکل ہے۔ مگر بننا آسان ہے۔

سائل: بننا کیسے آسان ہے؟

مجیب: ایک پیسہ کا شنگرفی رنگ لا کر کپڑے رنگ کر چار پیسے کی تسبیح ہاتھ میں لے لو۔ فقیر بن گئے اور ہونے کے لئے تزکیہ روحانی شرط ہے اور تزکیہ کے لئے مجاہدہ و ریاضت شرط ہے اور مجاہدہ و ریاضت کے لئے توفیق الٰہی لازم ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد فیاض حقیقی کا فیضان مقدم ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بقول قاسم علی نبی بھی نہ ہوئے اور مریم بھی نہ ہوئے۔ اسی طرح امتی بھی نہیں ہوئے اور ابن مریم اور غلام احمد بھی نہ ہوئے۔ بلکہ آپ کی طبیعت جس طرف مائل ہوئی ویسے بن گئے۔

اوّل امتی بن کر غلام احمد اور مریم بنے رہے۔ پھر احمد اور ابن مریم بنے اور یہ ظاہر ہے کہ چند عہدے ایک وقت میں مرزا قادیانی ظاہر کرنا خلاف مصلحت سمجھتے ہوں گے۔ بنابریں جب غلام احمد بنے تو احمد نہ بن سکے اور جب مریم بنے تو ابن مریم کیسے بن جاتے۔ پھر جب مریم بن گئے تو ابن مریم بن کر کیا اپنی ہنسی اڑاتے۔ کہ کل ماں بنے ہوئے تھے آج بیٹے اسی ماں کے ہوگئے۔ گویا ایک طرح کا آواگون مرزا قادیانی نے اپنے اوپر صحیح کر کے دکھایا۔ فرمائے نکتہ سے پردہ ہٹا اور وضاحت سے سمجھ میں آیا یا نہیں۔

سائل: جی ہاں۔ کچھ کچھ سمجھا ہوں اور سمجھ لوں گا۔

مجیب: آگے ملاحظہ ہو قاسم علی صاحب مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والوں پر تعجب کرتے ہیں اور ایک زبردست دلیل نبوت پیش فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ وهو ھذا!

(ازہاق الباطل ص٤٢، مصنفہ قاسم علی قادیانی) پر لکھتے ہیں۔ ”پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر بھی عیسیٰ نہ کہنا یا غلام احمد

٦

سے احمد بن جانے پر بھی احمد نہ کہنا ایسا ہے۔ جیسے کسی کو ڈپٹی کلکٹر کہنا جو دراصل اب اس کی توہین اور گستاخی ہے۔

سائل: اس میں دلائل نبوت کیا ہیں۔

مجیب: معلوم ہوتا ہے۔ قاسم علی صاحب اس پر قیاس کر کے مناصب وعہدہ کا تقاسمہ فرمایا ہے یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے نبی خود نبوت کا انکار کرتے النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ کی حدیث کو تسلیم

سائل: کیا صاف لفظوں میں مرزا قادیانی موافق مان کر ”لا نبی بعدی“ والی حدیث کو صحیح

مجیب: ملاحظہ کر لیجئے اور سمجھ لیجئے۔

مرزا غلام احمد قادیانی) پر لکھتے ہیں۔ ”کیا ایسا بدبخت قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین آنحضرت ﷺ کے بعد رسول و نبی ہوں۔“

اور (ترجمہ حمامة البشریٰ ص٩٦، خزائن فرماتے ہیں: ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“

اور (آئینہ کمالات اسلام ص٢١، خزائن لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہے اور میں ایمان لاتا ہوں۔ اس بات پر کہ رسول کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ

اور (ایام الصلح ص١٤٦، خزائن ج١٤ نبی بعدی میں نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات کر کے منصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے وہ علاوہ ازیں بہت سے مضامین ہیں

صفحہ ٤٩

سبحان اللہ! سبحان اللہ !! اتنا دق نکتہ ہے کہ اب بھی اس پر بھاری نقطہ ہے کہ نہ ماننے والا اب تک نہ سمجھ سکا۔ سنانے والا تو میں خود ہوں۔ اگر چہ نکتہ عجیب ہے۔ لیکن انکشاف حقیقت ترین مضمون ہے اور میں اسے خوب سمجھ گیا ہوں۔

کرم فرما کر مجھے بھی سمجھا دیجئے؟

صاف بات ہے۔ ایک ہوتا ہوتا ہے۔ ایک بننا، ہونا مشکل چیز ہے۔ اس کے فیضان پر موقوف ہے اور بننا بالکل آسان۔ دیکھئے فقیر ہونا مشکل ہے۔

بننا کیسے آسان ہے؟

۔ پیسہ کا گیروا رنگ لا کر کپڑے رنگ کر چار پیسے کی تسبیح ہاتھ میں لے لو۔ کے لئے تزکیہ روحانی شرط ہے اور تزکیہ کے لئے مجاہدہ وریاضت شرط ہے لئے توفیق الٰہی لازم ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد فیاض حقیقی کا فیضان قادیانی بقول قاسم علی نبی بھی نہ ہوئے اور مریم بھی نہ ہوئے۔ اسی طرح بن مریم اور غلام احمد بھی نہ ہوئے۔ بلکہ آپ کی طبیعت جس طرف مائل کر غلام احمد اور مریم بنے رہے۔ پھر احمد اور ابن مریم بنے اور یہ ظاہر ہے میں مرزا قادیانی ظاہر کرنا خلاف مصلحت سمجھتے ہوں گے۔ بنا بریں جب سکے اور جب مریم بنے تو ابن مریم کیسے بن جاتے۔ پھر جب مریم بن اپنی ہنسی اڑاتے۔ کہ کل ماں بنے ہوئے تھے آج بیٹے اسی ماں کے واژگون مرزا قادیانی نے اپنے اوپر صحیح کر کے دکھایا۔ فرمائے نکتہ سمجھ میں آیا یا نہیں ۔

ا۔ کچھ کچھ سمجھا ہوں اور سمجھ لوں گا۔

ملاحظہ ہو قاسم علی صاحب مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والوں پر تعجب نہ دلیل نبوت پیش فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ وهو هذا! ٢٢، مصنفہ قاسم علی قادیانی) پر لکھتے ہیں ۔ ”پس امتی کے درجہ سے ترقی کو نبی نہ کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر بھی عیسیٰ نہ کہنا یا غلام احمد

٦

سے احمد بن جانے پر بھی احمد نہ کہتا ایسا ہے۔ جیسے کسی پٹواری کو ڈپٹی کلکٹر ہو جانے پر پٹواری یا بقول ڈپٹی کلکٹر کہتا جو دراصل اب اس کی توہین اور گستاخی ہے۔“

سائل: اس میں دلائل ثبوت کیا ہیں۔ میری سمجھ میں تو یہ چیستان بالکل نہ آئی۔

مجیب: معلوم ہوتا ہے۔ قاسم علی صاحب پٹواری سے ڈپٹی کلکٹر ہو گئے ہوں گے۔ اس پر قیاس کر کے مناصب وعہدہ کا تقاسمہ فرمالیا ہے اور معقول تقاسمہ ہے۔ بدقسمتی سے شاید انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے نبی خود نبوت کا انکار کرتے ہوئے ”ولـکـن رسـول الله وخـاتـم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ کی حدیث کو تسلیم کر چکے ہیں۔

سائل: کیا صاف لفظوں میں مرزا قادیانی خاتم النبیین کے معنی ہمارے اعتقاد کے موافق مان کر ”لا نبی بعدی“ والی حدیث کو صحیح مان گئے؟

مجیب: ملاحظہ کر لیجئے اور سمجھ لیجئے۔ (انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) پر لکھتے ہیں ۔ ”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت ونبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد رسول و نبی ہوں ۔“

اور (ترجمہ حمامۃ البشریٰ ص ٩٦، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) پر مرزا قادیانی مدعی نبوت کو کافر فرماتے ہیں۔ ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں ۔“

اور (آئینہ کمالات اسلام ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے اور میں ایمان لاتا ہوں۔ اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔“

اور (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”حدیث لا نبی بعدی میں نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیال رقیقہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“

علاوہ ازیں کے بہت سے مضامین ہیں جو بخوف طوالت نہیں بتاتا۔ ورنہ ضخیم کتاب ہو جائے۔

٧

صفحہ ٥٠

سائل: پھر کیا میاں محمود کو ان کتابوں کے مطالعہ سے سابقہ نہیں پڑا۔ جو وہ ایک غلطی کا ازالہ اشتہار کا حوالہ دے کر نبوت ثابت کر رہے ہیں۔

مجیب: میں اوّل بتا آیا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تدریجی ترقی کا مخالفانہ رنگ میں محمد علی صاحب ایم۔ اے امیر جماعت احمدیہ نے واضح اور روشن نقشہ کھینچ دیا ہے۔ چنانچہ یہاں نبوت کا انکار کرتے کرتے کسی میں شان نبوت بھی ماننا کفر بتا دی ہے۔ جیسا کہ ایام صلح کی گذشتہ عبارت کے اخیر میں فرمایا ہے۔ ”کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“

مگر اب اس درجہ سے ترقی کر کے (ازالہ اوہام ص٤٢١، خزائن ج٣ ص٣٢٠، مصنفہ مرزا قادیانی) میں فرماتے ہیں۔ ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔“

پھر اسی (ازالہ اوہام ص٤٢٢، خزائن ج٣ ص٣٢١) پر فرماتے ہیں۔ ”محدثیت کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا۔“

پھر (توضیح المرام ص١٨، خزائن ج٣ ص٦٠) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث بن کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔“

سائل: یہ اعلان شاید مولوی عبدالکریم کے خطبہ کے بعد کا ہوگا۔ کیونکہ ان کے رسول ثابت کرنے سے بقول مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے امیر جماعت احمدیہ مذکورہ اوّل مرزا قادیانی کو جرأت ہوگئی۔ جیسا کہ محمد علی صاحب نے لکھا۔ ”حتیٰ کہ ایک مرید اپنے ایک خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعویٰ کر دوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن رہے ہیں تو چلو اب رسالت کا دعویٰ کر دو۔ (مکمل عبارت پہلے نقل ہوچکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کریں)“

مجیب: جی ہاں میرا خیال بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد عام طور پر کچھ شور مچ گیا تو مرزا قادیانی اس کے بعد معذرت بھی فرما چکے ہیں اور اپنی سادگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

سائل: عجیب بات ہے وہ کہاں لکھا ہے؟

مجیب: ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کا اقرار نامہ مورخہ ٣؍ فروری ١٨٩٢ء اس اقرار نامہ پر

٨

آٹھ گواہیاں ثبت ہیں اور ڈاکٹر عبدالحکیم رسالت جلد دوم ص٩٥، مجموعہ اشتہارات ج١ خدمت میں گذارش ہے کہ اس عاجز کے ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے ۔ ہے۔ (گویا دوسری قسم کی نبوت پر تو خفیہ (ازالہ اوہام ص١٣٧) میں لکھ چکا ہوں مصطفی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں سو میں تما اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ا تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لف میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبوت ۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم لئے اس لفظ کو دوسرے پیرا یہ میں بیان نبی مگر برائے خاطر محدث ہی سہی۔“ لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی ا

سائل: ہاں خوب یاد آ تھے۔ اب نبی کیسے بننے لگے؟

مجیب: مسیح موعود میں اور وہ یقیناً نبی ہیں۔ لیکن مرزا قادیا

سائل: اس کا ثبوت خیال ہی ہے۔

مجیب: انشاء اللہ و عبارات سے آپ کو معلوم ہوجا۔ نہ تھا۔ بعد میں جب جمعیت مضبوط

صفحہ ٥١

کیا میاں محمود کو ان کتابوں کے مطالعہ سے سابقہ نہیں پڑا۔ جو وہ ایک غلطی کا کر نبوت ثابت کر رہے ہیں۔ اول بتا آیا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تدریجی ترقی کا مخالفانہ رنگ میں محمد علی جماعت احمدیہ نے واضح اور روشن نقشہ کھینچ دیا ہے۔ چنانچہ یہاں نبوت کا شان نبوت بھی ماننا کفر بتا دی ہے۔ جیسا کہ ایام صلح کی گذشتہ عبارت کے ۔ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“ درجہ سے ترقی کر کے (ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠، مصنفہ ہیں۔ ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم تک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔“ اوہام ص ٤٢٢ خزائن ج ٣ ص ٣٢١) پر فرماتے ہیں۔ ”محدثیت کو اگر ایک مجازی شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا۔“ ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ماسوا اس کے عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث بن کر آیا ہے نبی ہی ہوتا ہے۔“ ن شاید مولوی عبد الکریم کے خطبہ کے بعد کا ہوگا۔ کیونکہ ان کے رسول مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ مذکورہ اوّل ۔ جیسا کہ محمد علی صاحب نے لکھا۔ ”حتی کہ ایک مرید اپنے ایک خطبہ ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعویٰ ہو جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن رہے ہیں تو چلو اب عبارت پہلے نقل ہو چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کریں)“ میرا خیال بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد عام قادیانی اس کے بعد معذرت بھی فرما چکے ہیں اور اپنی سادگی کا اعلان

ثبوت ہے وہ کہاں لکھا ہے؟ مرزا قادیانی کا اقرار نامہ مؤرخہ ٣/فروری ١٨٩٢ء اس اقرار نامہ پر

٨

آٹھ گواہیاں ثبت ہیں اور ڈاکٹر عبدالحکیم کے مناظرہ میں جو لاہور میں ہوا تھا لایا گیا اور (تبلیغ رسالت جلد دوم ص ٩٥، مجموعہ اشتہارات ج اوّل ص ٣١٣) سے ہم نقل کر رہے ہیں۔ ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ (گویا دوسری قسم کی نبوت پر تو خفیہ خفیہ اب بھی اصرار ہے۔ مؤلف) بلکہ جیسا کہ میں کتاب (ازالہ اوہام ص ١٣٧) میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبوت سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدثیت مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ (گویا ہوں تو ضرور کسی قسم کی نبی مگر برائے خاطر محدث ہی سہی۔ مؤلف) سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔“

سائل: ہاں خوب یاد آیا۔ ایک وقت تو وہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے کو مسیح موعود بتاتے تھے۔ اب نبی کیسے بننے لگے؟

مجیب: مسیح موعود میں اور نبی میں کیا فرق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح موعود ہیں اور وہ یقیناً نبی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی مسیح موعود بھی یونہی نہیں بنے۔

سائل: اس کا ثبوت تو آپ شاید کسی کتاب سے نہ دے سکیں گے۔ یہ تو محض آپ کا خیال ہی ہے۔

مجیب: انشاء اللہ دوں گا اور صاف واضح صورت میں دوں گا۔ بلکہ یہ بھی انہیں عبارات سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح موعود کے آنے سے مرزا قادیانی کو اوّل اوّل انکار بھی نہ تھا۔ بعد میں جب جمعیت مضبوط ہو گئی تو انکار کیا ہے۔

٩

صفحہ ٥٢

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل آ جائیں۔ (اس لئے کہ جب میں نہ رہا تو پھر کوئی آئے۔ وہ اپنی آپ نبیڑ لے گا۔ بقول شخصے بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا۔ اس کی بلا سے بوم بسے یا ہما رہے۔ مؤلف) ہاں اس زمانے کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ (اس لئے کہ میرا دعویٰ تو خانہ ساز ہے۔ حدیث کے الفاظ میری صداقت پر تائید نہیں کرتے۔ بلکہ تکذیب کرتے ہیں۔ مگر جس طرح بھی ہو سکے مجھے بھی مان لو اور میں تمہاری خاطر سے اسے مان لیتا ہوں۔ بقولیکہ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو۔ مؤلف) کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ بلکہ درویشی اور غریب لباس میں (اگر رجوعات معقول ہو گئی تو پھر دیکھ لینا کس شان کا مسیح موعود بنتا ہوں۔ للمؤلف)“

سائل: کیا مثیل مسیح بنتے بنتے پھر خود ہی مسیح موعود بھی بن گئے ہیں؟

مجیب: جی ہاں! صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے۔ چنانچہ (کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٢) پر فرماتے ہیں۔ ”اور یہی عیسیٰ ہے۔ جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی ہے۔“

سائل: شاید اب جماعت میں عقیدہ کا نشہ پورا مستولی ہو گیا ہو گا۔ جب ہی تو بلا خوف و ہراس صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا۔

مجیب: جی ہاں! یہی شان تدریجی کہلاتی ہے۔

سائل: لیکن کبھی تو مریم تھے۔ آج مریم کے بیٹے کیسے ہو گئے؟

مجیب: اس کا جواب خود مرزا قادیانی نے نہایت معقول دیا ہے۔ جس کو پڑھ کر ہر نامعقول اطمینان سے مرزا قادیانی کو عیسیٰ مان سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) میں فرماتے ہیں۔ ”سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔ اس لئے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ

١٠

صفحہ ٥٣

اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں نے صرف دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے پر ختم ہو گیا بلکہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل آ جائیں۔ (اس لئے مگر کوئی آئے۔ وہ اپنی آپ خبر لے گا۔ بقول شخصے بلبل نے آشیانہ چمن سے بوم بسے یا ہما رہے۔ مؤلف ) ہاں اس زمانے کے لئے میں مثیل مسیح ہوں بے سود ہے۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں آئے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ (اس لئے کہ ہے۔ حدیث کے الفاظ میری صداقت پر تائید نہیں کرتے۔ بلکہ تکذیب جس طرح بھی ہو سکے مجھے بھی مان لو اور میں تمہاری خاطر سے اسے مان لیتا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو۔ مؤلف) کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور آیا۔ بلکہ درویشی اور غریب لباس میں (اگر رجوعات معقول ہوگئی تو پھر وجود بنتا ہوں۔ للمؤلف)“

مثیل مسیح بنتے بنتے پھر خود ہی مسیح موعود بھی بن گئے ہیں؟

ہاں صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے۔ چنانچہ (کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ۔ ”اور یہی عیسیٰ ہے۔ جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور ۔ میری نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنادیں گے اور نیز کہا گیا کہ آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے یہی ہے۔“

اب جماعت میں عقیدہ کا نشہ پورا مستولی ہو گیا ہوگا۔ جب ہی تو عام میں اعلان کیا گیا۔

یہی شانِ تدریجی کہلاتی ہے۔

آپ تو مریم تھے۔ آج مریم کے بیٹے کیسے ہو گئے؟

جواب خود مرزا قادیانی نے نہایت معقول دیا ہے۔ جس کو پڑھ کر ہر قادیانی کو عیسیٰ مان سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩

چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ

١٠

براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت اس سرِ مخفی کی مجھے خبر نہ دی ۔“

سائل: یہ تمام عبارات استعاری رنگ وغیرہ کے پردہ سے مؤل ہی ہیں۔ خلیفہ محمود احمد صاحب جو نبوت صاف مان رہے ہیں۔ وہ کس اعلان کی بناء پر؟

مجیب: وہ آخری ترقی کی بناء پر، درحقیقت محمد علی صاحب امیر جماعت لاہوری لیپا پوتی کر کے حقیقت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ لیکن خلیفہ محمود جو حقیقت واقعہ ہے۔ اس کا اظہار کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یقیناً دعویٰ نبوت کیا اور بڑے شدومد سے کیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔ (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) پر صاف مرزا قادیانی بتا رہے ہیں ۔ ” جس آنے والے مسیح کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے۔ اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔“

سائل: ایک غلطی کا ازالہ جو اشتہار ہے۔ اس میں کیا ہے جس کی بناء پر خلیفہ مرزا محمود بڑے زور سے مرزا قادیانی کو نبی مان رہے ہیں۔

مجیب: اس حقیقت الوحی کے اجمالی مضمون کی تفصیل ہے۔ چنانچہ (تبلیغ رسالت ج دہم، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥) میں اشتہار ( ایک غلطی کا ازالہ ) بھی نقل ہے۔ اس لئے کہ تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی ہے۔ اس کے اقتباس بخوف طوالت ملاحظہ کرلیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

اسی میں پھر فرماتے ہیں کہ: ”اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتلاؤ اس کو کس نام سے پکارا جاتا۔ اگر اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔“

اور پھر ایک غلطی کا ازالہ اشتہار دیکھنا بھی بے کار ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر تو مرزا قادیانی نے اپنی نبوت پر ایسا صاف مضمون لکھا ہے کہ بقول شخصے تسمہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ فرماتے ہیں کہ: ”اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ

١١

صفحہ ٥٤

آنحضرت ﷺ کی امت سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو عیسیٰ بن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ یعنی اس کثرت سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔’فلا یظھر علی غیبہ احد الا من ارتضیٰ من رسول‘ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشتا۔ جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔‘‘

دوسری جگہ اسی (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) پر لکھا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ میرا سابقہ انکار درحقیقت میری نادانی تھی۔ حقیقت الامر یہ ہے۔ وهو هذا! ’’اسی طرح اوائل میں میرا عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدائے بزرگ کے مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘

سائل: ایک پہلو سے تو تمام انبیاء کرام بھی امتی ہیں۔ اس لئے کہ آیہ کریمہ ’واذا اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘ میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام حضور ﷺ پر ایمان لانے۔ آپ کی نصرت فرمانے کا عہد حضور الٰہی میں کر چکے ہیں۔

مجیب: جی ہاں! اس آیت سے ایک حیثیت کا امتی ہونا تو تمام انبیاء کا ثابت ہے۔

سائل: آیہ کریمہ کی خلاصہ تفسیر معہ ترجمہ ذرا سنادیں۔

مجیب: بہت اچھا یہ آیت قرآن کریم کے تیسرے پارے میں سورہ آل عمران کی ہے۔ سورۃ کا آٹھواں رکوع ہے۔ ’واذا اخذ اللہ‘ یعنی جب لیا اللہ نے’میثاق النبیین‘ عہد نبیوں کا ’لما اتیتکم من کتاب وحکمة‘ جو کچھ دوں میں کتاب و حکمت سے ’ثم جاء کم رسول‘ پھر آئے تمہارے پاس ایک رسول ’مصدق لما معکم‘ تصدیق کرنے والا اس کی جو تمہارے ساتھ ہے’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘ البتہ ایمان لانا اس کے ساتھ اور البتہ مدد

١٢

صفحہ ٥٥

امت سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو عیسیٰ بن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے یعنی اس کثرت سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے رہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہوسکتے ۔ جب کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا علی غیبه احد الا من ارتضى من رسول “ یعنی خدا اپنے غیب پر اور غلبہ نہیں بخشتا۔ جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ بجز اس شخص رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو نعمت عطا نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔“ (اسی (حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) پر لکھا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ تک میری نادانی تھی۔ حقیقت الامر یہ ہے۔ وهو ھذا! اوائل میں میرا عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور ان میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس تا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی ۔ اس نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔ مگر اس طرح سے پہلو سے امتی ۔“

پہلو سے تو تمام انبیاء کرام بھی امتی ہیں۔ اس لئے کہ آیہ کریمہ ”واذا ن لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق به ولتنصرنه “ میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام حضور ﷺ پر ایمان نے کا عہد حضور الٰہی میں کر چکے ہیں۔ اس آیت سے ایک حیثیت کا امتی ہونا تو تمام انبیاء کا ثابت ہے۔ س کی خلاصہ تفسیر معہ ترجمہ ذرا سنادیں۔ یہ آیت قرآن کریم کے تیسرے پارے میں سورہ آل عمران کی ہے۔ ”واذا اخذ الله “یعنی جب لیا اللہ نے ”میثاق النبیین “ ، كتاب وحكمة “ جو کچھ دوں میں کتاب وحکمت سے ”ثم جاء پاس ایک رسول ”مصدق لما معكم “ تصدیق کرنے والا اس من به ولتنصرنه “البتہ ایمان لانا اس کے ساتھ اور البتہ مدد ١٢

دینا اسے”قال ء اقررتم واخذتم على ذالكم اصری “ کہا کیا اقرار کیا تم نے اور لیا تم نے اس پر زبردست میرا ذمہ ”قالوا اقررنا “ بولے ہم نے اقرار کیا ”قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدین “ فرمایا تو اب شاہد رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ شاہد ہوں۔ اس کی تفسیر معالم، مدارک وغیرہ میں جو ہے اس سب کا لب لباب تفسیر قادری میں موجود ہے۔ وہی نقل کرتا ہوں ۔ وھو ھذا!

”اور یاد کرو تم اے محمد ﷺ جب کہ لیا خدا نے عہد و پیمان پیغمبروں کا اور امتیں عہد لینے میں انبیاء کی تابع ہیں اور یہ بڑا عہد ہے کہ حق تعالیٰ نے سب پیغمبروں سے لیا کہ تم اور تمہاری امتیں محمد ﷺ کا ایمان لائیں اور عہد کا مضمون اس طرح پر ہے کہ جو کچھ دوں میں تجھے کتاب اتاری ہوئی اور مجھ سے۔ پھر آئے تمہارے پاس رسول میرا کہ محمد ﷺ ہے۔ یاد رکھنے والا اور سچا کرنے والا۔ اس چیز کو کہ تمہارے پاس ہے۔ کتاب اور حکمت سے۔ البتہ ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے اور یاری اور مددگاری کرنا تم اس کی اپنی ذات سے۔ اگر تمہارے زمانہ میں آئے۔ ورنہ اس کی صفتیں اور نعتیں بیان کرکے اپنی امتوں کو اس کی یاری و مددگاری کا حکم کردینا۔ کہا اللہ نے انبیاء کو ان پر یہ عہد پیش کر کے۔ کیا اقرار کیا تم نے اور لیا تم نے اوپر اس کے جو ہم نے کہا عہد، میرا اس طور پر کہ اسے پورا کرو۔ کہا انبیاء علیہم السلام نے کہ اقرار کیا ہم نے اور عہد قبول کرلیا ہم نے۔ کہا خدا نے کہ گواہ رہو۔ تم ایک دوسرے کے اقرار پر یا فرشتوں کو حکم فرمایا کہ گواہ رہو انبیاء کے اقرار پر اور میں کہ خدا ہوں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ اس اقرار پر۔ پھر جو کوئی پھر جائے اور انکار کرے گا اس رسول مقبول کا۔ ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے سے بعد اس عہد و پیمان کے۔ پس وہ انکار کرنے والے وہ قرآن اور ایمان سے باہر نکل جانے والے ہیں۔ یا عہد و پیمان سے نکل جانے والے ہیں۔“ اسی قسم کے مضامین سے تفاسیر مملو ہیں۔ بہر کیف آپ کا خیال صحیح ہے کہ مرزا قادیانی اگر نبوت کے ساتھ امتی بن رہے ہیں تو اور انبیاء بھی ایک طرح امت محمد ﷺ ضرور ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کے دعویٰ کا خلاصہ یہی ہوا کہ مثل دیگر انبیاء کے وہ اپنے کو نبی اور امتی بتاتے ہیں۔ معاذ اللہ!“

سائل: ہاں قبلہ ذرا یہ اور بتا دیں کہ عبدالحکیم خان کون بزرگوار ہیں جن کا حوالہ نبوت کے الفاظ بدلنے والے اقرار نامہ میں آیا تھا۔

مجیب: عبدالحکیم خان یہ ایک ڈاکٹر تھے اور مرزا قادیانی کے خاص راز دار امتی تھے۔ پھر چالبازی اور گھریلو نبوت سازی کی حقیقت معلوم کرکے منحرف ہوگئے اور سخت مخالفت کی در حقیقت مرزا قادیانی کو اپنی زندگی میں پانچ قسم کی جماعتوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی جماعت تو وہ تھی ١٣

صفحہ ٥٦

جو اوّل ہی تاڑ گئی اور مخالف رہی اور تردید میں سرگرم ہو گئی۔ دوسری! جماعت وہ جو اوّل اوّل مرزا قادیانی کی سخت معتقد رہی۔ پھر دعوئی مسیحیت کے وقت منحرف ہوئی۔ تیسری! جماعت جس نے دعوئی مسیح موعود قبول کر کے نبوت کے دعوئی کو ٹالا اور ٹال رہی ہے۔ چوتھی! جماعت وہ جو مرزا قادیانی کے دعوئی نبوت کو تسلیم کر کے اسی پر اب تک اڑی ہوئی ہے۔ پانچویں! جماعت وہ ہے جو نبوت مرزا صاحب کو مان کر خود بھی نبی ہونے کی مدعی ہے۔

سائل: یہ تیسری جماعت جو نبوت کے دعاوی ٹال رہی ہے۔ یہ تو شاید لاہوری جماعت ہوگی اور چوتھی مرزا محمود کی جماعت ہوگی۔

مجیب: ہاں آپ کا خیال صحیح ہے۔

سائل: اور پہلی جماعت میں کون لوگ ہیں؟

مجیب: اس میں علماء حقہ اہل سنت و جماعت اور غیر مقلدین کی جماعت کے پیشوا اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ ہیں۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری سے تو مرزا قادیانی کی خوب ہی چھنتی رہی۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے ایک خط مولوی ثناء اللہ کو لکھا اور وہ تمام کا تمام ہی پڑھ لیں۔ بڑے مزے کا خط ہے۔ ”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ اس شخص کا دعوئی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔ اگر میں ایسا ہی کذاب ومفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر دراز نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تا کہ وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب ومفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی

١٤

کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے ط کرتا ہوں کہ اے میرے مالک اگر یہ دعوئی تیری نظر میں مفسد وکذاب ہوں اور دن مالک، میں عاجزی سے تیری جناب میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کی خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو ا دے۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعو لکھتے ہیں) اب میں تیرے ہی تقدس ور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ آمین ثم آمین

پھر اس خط کو اشتہار کی ص ١٩٠٧ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قا لکھا۔ ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی

سائل: یہ خط گویا اپرا مولوی ثناء اللہ امرتسری۔

مجیب: خدا کی شان!

٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دستوں کی مرض م انجمن نعمانیہ میں مدرس اوّل تھے او سڑک پر کسی مکان میں تھے۔ حضر تشریف لائے تھے۔ مرزا قادیانی ممدوح نے نہایت زور سے دعاء فر نہ پکڑے۔ تو ہر شے پر قادر ہے دستوں میں ہی مرے اور سچا بد ہیضہ میں مرے۔ وہ تو اب تک ز سائل: دستوں میں

صفحہ ٥٧

مخالف رہی اور تردید میں سرگرم ہو گئی۔ دوسری جماعت وہ جو اوّل اوّل معتقد رہی۔ پھر دعویٰ مسیحیت کے وقت منحرف ہوئی۔ تیسری جماعت جس ویل کر کے نبوت کے دعویٰ کو ٹالا اور ٹال رہی ہے۔ چوتھی جماعت وہ جو نبوت کو تسلیم کر کے اسی پر اب تک اڑی ہوئی ہے۔ پانچویں جماعت وہ ہے مان کر خود بھی نبی ہونے کی مدعی ہے۔

یہ تیسری جماعت جو نبوت کے دعویٰ ٹال رہی ہے۔ یہ تو شاید لاہوری مرزا محمود کی جماعت ہوگی۔

آپ کا خیال صحیح ہے۔

پہلی جماعت میں کون لوگ ہیں؟

میں علماء حقہ اہل سنت و جماعت اور غیر مقلدین کی جماعت کے پیشوا اور م۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری سے تو مرزا قادیانی کی خوب ہی چھنتی نے ایک خط مولوی ثناء اللہ کو لکھا اور وہ تمام کا تمام ہی پڑھ لیں۔ بڑے ت مولوی ثناء اللہ صاحب ۔ السلام علیٰ من اتبع الهدیٰ ! مدت پرچہ میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ تارہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور او میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔ اگر میں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر دراز نہیں ت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا تر ہے۔ تاکہ وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل ی اللہ کے موافق کذابین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک حق وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی

١٤

کی بناء پر پیشین گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعاء کرتا ہوں کہ اے میرے مالک اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد و کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک، میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میری زندگی میں ان کو نابود کر دے۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے ۔ (اخیر میں اس خط کے لکھتے ہیں) اب میں تیرے ہی تقدس ورحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔ آمین ثم آمین !“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٧٢)

پھر اس خط کو اشتہار کی صورت میں شائع کر کے اس کے ہفتہ عشرہ بعد ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی ڈائری روزانہ کی جو اس میں شائع ہوتی تھی اس میں لکھا۔ ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (مرزا قادیانی) کی طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“

سائل : یہ خط گویا اپریل ١٩٠٧ء کو شائع ہوا۔ پھر اس سے بعد مرزا قادیانی مرے یا مولوی ثناء اللہ امرتسری۔

مجیب: خدا کی شان مرزا قادیانی اس خط کے شائع کرنے کے ایک ہی سال بعد ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو دستوں کی مرض میں مبتلا ہو کر مر گئے۔ اس زمانہ میں حضرت والا قبلہ مدظلہ العالی انجمن نعمانیہ میں مدرس اوّل تھے اور میں طالب علمی میں تھا کہ مرزا قادیانی لاہور آئے۔ کیلے والی سڑک پر کسی مکان میں تھے۔ حضرت قبلہ عالم پیر سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ اس کے مقابلہ کو تشریف لائے تھے۔ مرزا قادیانی سامنے آنے سے پہلو بچا رہے تھے۔ اسی حالت میں حضرت ممدوح نے نہایت زور سے دعاء فرمائی کہ الٰہی اگر مرزا سچا ہے تو مجھے منگل تک ہلاک کر ورنہ وہ منگل نہ پکڑے۔ تو ہر شے پر قادر ہے۔ چنانچہ منگل کی رات میں ہی مرزا قادیانی ٢٦؍ مئی کو مر گئے اور دستوں میں ہی مرے اور یہی بددعاء مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے لئے کی تھی کہ طاعون یا ہیضہ میں مرے۔ وہ تو اب تک نہ مرے۔ مگر مرزا قادیانی مر گئے۔

سائل : دستوں میں مرنے کی کیا سند ہے؟

١٥

صفحہ ٥٨

مجیب: سند ملاحظہ کر کے تو آپ شاید صاف کہہ دیں کہ مرزا قادیانی ہیضہ میں ہی مرے۔ ملاحظہ ہو۔ (ضمیمہ اخبار الحکم قادیان غیر معمولی مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٨ء) میں مرزا قادیانی کی وفات اس طرح درج ہے۔ ”برادران اسلام جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے حضرت امامنا مولانا مسیح موعود، مہدی معہود مرزا قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی۔ (مگر حضور کھائے بغیر رہتے نہ تھے۔ مؤلف) اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو (یعنی مرزا قادیانی کو) دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٥ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نور الدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام آجائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی۔ مجھے اور خلیفہ صاحب مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج با قاعدہ ہوتا رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ ساڑھے دس بجے صبح ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جاملی۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“ دیکھی آپ نے دستوں کی سند۔

سائل: جی ہاں! اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی دعاء بہت ہی جلدی مستجاب ہوئی اور سچے کے سامنے جھوٹے کو اللہ نے ہلاک فرمایا۔ ہاں قبلہ باقی چار جماعتوں کی تصریح اور سنادیں۔

مجیب: بقیہ جماعتوں کی تصریح انشاء اللہ پھر، یار زندہ صحبت باقی۔

(فقیر: قادری ابوالحسنات خطیب مسجد وزیر خان، لاہور)

١٦

PDF 60

سند ملاحظہ کر کے تو آپ شاید صاف کہہ دیں کہ مرزا قادیانی ہیضہ میں ہی ضمیمہ اخبار الحکم قادیان غیر معمولی مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٨ء) میں مرزا قادیانی کی وفات برادران اسلام جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے حضرت امامنا مولانا مرزا قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی۔ (مگر نہ تھے۔مؤلف) اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٧ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ ہم واپس اپنی آ دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آ گیا۔ جس سے نبض بعدہ مع مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا طبیب صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ ساڑھے دس بجے صبح اس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی۔ ”انا لله وانا اليه دوستوں کی سند۔

! اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی دعاء بہت ہی جلدی جسے جھوٹے کو اللہ نے ہلاک فرمایا۔ ہاں قبلہ باقی چار جماعتوں کی

جن کی تصریح انشاء اللہ پھر، یار زندہ صحبت باقی۔

(فقیر: قادری ابوالحسنات خطیب مسجد وزیر خان، لاہور)

١٦

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

اکرام الحق کی

کھلی چٹھی

کا جواب

(حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ)

صفحہ ٦٠

بسم الله الرحمن الرحيم!

”الحمد لوليه والصلوة والسلام على نبيه وحبيبه“

دور حاضر میں چونکہ آزادی کا زور ہے۔ اسی وجہ سے ہر سمت بے دینی کا شور ہے۔ آج وہ وقت ہے کہ انسان اگر چاہے کہ یکسو ہو کر ایک مذہب کا متبع بنا رہے تو مشکل ہے۔ اس لئے کہ علم دنیا سے اٹھ رہا ہے۔ جہالت عام ہو رہی ہے۔ پھر ایک جاہل جو اپنے پرانے طریقہ پر جا رہا ہے۔ اس کو جب کوئی نئی آواز آتی ہے تو وہ مجبور ہے کہ اسے سنے اور سننے کے بعد معذور ہے کہ مذبذب ہو۔ پھر مذبذب ہونے پر اس کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ جس پر اپنا یقین جمائے ہوئے ہے۔ جسے اپنا راہنما جان رہا ہے۔ جس کو عالم باعمل سمجھ رہا ہے۔ اس سے ان شبہات کا ازالہ کرے اور عالم جب اس کے وہ اعتراضات سنتا ہے تو دو باتوں میں سے ایک بات کرنے پر مجبور ہوتا ہے یا کہہ دیتا ہے کہ تم نے ایسے بیدین کی بات ہی کیوں سنی۔ اپنی پرانی روش پر چلا جانا تمہارا فرض تھا یا جواب دیتا ہے اب جواب کی صورت بھی دو حال سے خالی نہ ہوگی یا وہ جواب ایسے علمی جواہر ریزوں سے مزین ہوگا کہ وہ سن کر کچھ نہ سمجھ سکا ہو۔ یا ایسے سادہ الفاظ میں ہوگا کہ اس کی تسلی اس جواب سے پوری نہ ہو اور تیسرا درجہ جواب کا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی تشفی اس جواب سے کر سکا ہو۔ مگر پھر جدید شبہات سے وہ اگر مذبذب ہو جائے تو اس میں اس کی جہل کی وجہ ہی ہو سکے گی۔ بہر کیف آج جہاں عالم عالم میں بیدینوں کے حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ وہاں عوام جاہل بھی ان کے پنجہ میں۔ سخت مشکل ہے آج حیرت ہی حیرت ہے۔ انسان کرے تو کیا کرے۔ اگر سب سے صلح رکھتا ہے تو حکم قرآنی ”لا تجدو قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخرة يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا ابائهم وابنائهم واخوانهم اوعشيرتهم“ کے خلاف ورزی کرنے والا بن کر ملزم شرعی قرار پاتا ہے اور اگر سب کو دندان شکن جواب دیتا ہے تو ہمارے اپ ٹو ڈیٹ انگریزی خوان ناراض ہوتے ہیں۔ اگر خاموش رہتا ہے تو شیطان اخرس مداہن فی الدین قرار پاتا ہے۔ بنا بریں چوتھا طریقہ ہمارے ذہن میں آیا ہے۔ وہ اگر ہمارا خیال غلطی نہیں کرتا تو شاید عام طور پر بھی پسندیدہ ہوگا۔ ”ولیس وراء ذالك حبة خردل من الايمان“

وہ یہ کہ سخت کلامی درشت زبانی، سب وشتم ، طعن وتشنیع ، میں میں، تو تو، واہی تواہی اوندھے سیدھے سے مجتنب رہ کر بخندہ پیشانی سادہ بیانی اختیار کر کے مہذب پیرایہ میں معترض کے اعتراض کو لے کر اس کا شافی وافی کافی واضح لائح روشن طریق سے جواب دے۔ پھر منصف کے لئے وہ یقیناً مشعل ہدایت ہوگا اور غیر منصف کے لئے نہ وہ کفایت کر سکتا ہے نہ یہ۔ لہٰذا اس

٢

صفحہ ٦١

بسم الله الرحمن الرحيم! مد لوليه والصلوة والسلام على نبيه وحبيبه“ میں چونکہ آزادی کا زور ہے۔ اسی وجہ سے ہر سمت بے دینی کا شور ہے۔ آج کر چاہے کہ یکسو ہو کر ایک مذہب کا متبع بنا رہے تو مشکل ہے۔ اس لئے کہ علم الت عام ہو رہی ہے۔ پھر ایک جاہل جو اپنے پرانے طریقہ پر جا رہا ہے۔ آتی ہے تو وہ مجبور ہے کہ اسے سنے اور سننے کے بعد معذور ہے کہ مذبذب ر اس کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ جس پر اپنا یقین جمائے ہوئے ہے۔ جسے اپنا کو عالم باعمل سمجھ رہا ہے۔ اس سے ان شبہات کا ازالہ کرے اور عالم جب تا ہے تو دو باتوں میں سے ایک بات کرنے پر مجبور ہوتا ہے یا کہہ دیتا ہے کہ ت ہی کیوں سنی۔ اپنی پرانی روش پر چلا جاتا تمہارا فرض تھا یا جواب دیتا ہے دو حال سے خالی نہ ہو گی یا وہ جواب ایسے علمی جواہر ریزوں سے مزین ہوگا ہ۔ یا ایسے سادہ الفاظ میں ہوگا کہ اس کی تسلی اس جواب سے پوری نہ ہو اور تیسرا کہ وہ اپنی تشفی اس جواب سے کر سکا ہو۔ مگر پھر جدید شبہات سے وہ اگر میں اس کی جہل کی وجہ ہی ہو سکے گی۔ بہرکیف آج جہاں عالم عالم ے محفوظ نہیں ہیں۔ وہاں عوام جاہل بھی ان کے پنجہ میں۔ سخت مشکل ہے انسان کرے تو کیا کرے۔ اگر سب سے صلح رکھتا ہے تو حکم قرآنی ”لا ن بالله واليوم الآخرة يوادون من حاد الله ورسوله ولو م واخوانهم او عشيرتهم “ کے خلاف ورزی کرنے والا بن کر ملزم سب کو دندان شکن جواب دیتا ہے تو ہمارے اپٹوڈیٹ انگریزی خوان وش رہتا ہے تو شیطان اخرس مداہن فی الدین قرار پاتا ہے۔ بنابریں آیا ہے۔ وہ اگر ہمارا خیال غلطی نہیں کرتا تو شاید عام طور پر بھی پسندیدہ

درشت زبانی، سب و شتم ، طعن و تشنیع، میں میں، تو تو ، واہی تباہے کر معتمدان پیشانی سادہ بیانی اختیار کر کے مہذب پیرایہ میں معترض تسلی کافی واضح لائحہ روشن طریق سے جواب دے۔ پھر منصف ہوگا اور غیر منصف کے لئے ندوہ کفایت کر سکتا ہے نہ یہ۔ لہذا اس ٢

تمہید کے بعد اوّل ہمیں ایک بزرگوار کا تعارف کرا دینا ضروری ہے۔ تا کہ ناظرین انہیں سمجھ سکیں کہ یہ کون ہیں اور کیا ہیں۔ پھر ان کی ان عنایات کا شکریہ جواب کی صورت میں پیش کر دینا ہے جو انہوں نے اپنی عصبیت مذہبی کے اقتضاء سے اسلام اور بانی اسلام سید اکرم رحمت دو عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر کی ہیں۔ ”والله الموفق والمعين ونستعين“

ایک مدت گزری کہ عیسائیوں کی طرف سے ایک ٹریکٹ نکلا تھا جس کا نام حقائق القرآن تھا۔ اس کا جواب غیر مقلدین کی طرف سے بھی شائع ہوا تھا اور اہل سنت نے بھی بہت سے اجوبہ دیئے تھے۔

پھر دوبارہ جب کہ نومبر ١٩٣٢ء میں مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند لاہور کا سالانہ جلسہ ہونے والا تھا۔ اس وقت ایک اکرام الحق نامی عیسائی یا مرزائی یا ”لا الى هؤلاء ولا الى هؤلاء“ نے کھلی چٹھی بنام علماء کرام شائع کی۔ جس میں ہو بہو وہی اعتراضات حقائق القرآن کے حوالہ سے لکھ کر احناف کو ڈرایا تھا کہ یا تو جواب شافی دو۔ ورنہ میں مرزائی یا عیسائی ہو جاؤں گا۔ چنانچہ اسی وقت بہت سے اجوبہ شائع ہوئے۔ جلسہ میں بھی علماء کرام نے مختصر جوابات دیئے۔ مگر احباب کا برابر اصرار رہا کہ جوابات مفصل براہین واضحہ کے ساتھ شائع کئے جائیں۔ مگر میں ٹالتا رہا۔ آخرش بزم تنظیم نے بزور درخواست کی کہ جوابات لکھے جائیں۔ ہم شائع کریں گے۔ لہذا اب مجھے ان اعتراضات کے جوابات کے لئے قلم اٹھانا پڑا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ معترض میرے اجوبہ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ مگر میں انشاء اللہ حتی المقدور ہر آیت کا جواب آیت سے اور حدیث کا جواب حدیث سے دوں گا اور تہذیب کے دائرہ سے خارج کوئی لفظ اپنی قلم سے نہ نکالوں گا۔ آئندہ ہدایت یہ قدرت الہی میں ہے۔ ”وما علينا الا البلاغ“

ملخص تمام اعتراضات کا یہ ہے کہ

از روئے قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سید اکرم ﷺ سے افضل ہیں۔ اس دعویٰ کے ثبوت میں حوالہ جات قرآنی دیئے ہیں اور ان اولہ کی تعداد چودہ تک پہنچائی ہے۔ ہم معترض صاحب کے اعتراض کو عنایت کے لفظ کے ساتھ تعبیر کریں گے اور جواب کے موقعہ پر شکریہ لکھیں گے اور جملہ اعتراضات کا ملخص نقل کریں گے۔

عنایت اوّل: حضرت مسیح کی پیدائش بے باپ کے معجزانہ تھی۔ اس لئے وہ حضور ﷺ سے افضل تھے۔

شکریہ: میاں اکرام! آپ نے سخت غلطی کی ہے جو محض اس کی وجہ سے آپ عیسائی ٣

صفحہ ٦٢

بننے کو تیار ہو گئے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہوئے۔ عزیزم ! معجزہ کی تعریف تو یہ ہے کہ مخلوق میں سے کسی برگزیدہ نبی سے اس طرح کوئی فعل سرزد ہو کہ اس کے مقابلہ سے عوام عاجز آجائیں اور وہ قوت ان کی ذاتی نہ ہو۔ بلکہ بعطاء الٰہی ان میں نظر آئے۔ مگر اس معجزہ کا فاعل بظاہر وہی نبی ہو۔

امر ولادت ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پیدا ہونے والے سے نہیں بلکہ پیدا کرنے والے سے ہے اور جس فعل کا ظہور خالق کی طرف سے ہو۔ اسے مخلوق کی طرف منسوب کر کے معجزانہ کا دعویٰ کرنا محض خوش فہمی کی دلیل ہے۔ بلکہ بموجب آیہ کریمہ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون“ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت ولادت بجائے حضرت عیسیٰ کے زیادہ معجزانہ ہے۔ لہٰذا عیسائی بننے کی تیاری نہ کیجئے۔ بلکہ آدمی بننے کی فکر فرمائیے۔ کیونکہ آیہ مذکور میں صاف ارشاد ہے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال مثل آدم کے ہے۔ (کہ وہ بے باپ پیدا کئے گئے) اور آدم کو محض مٹی سے بنا کر حکم فرمایا تو وہ پیدا ہو گئے۔ یہاں ماں ہے نہ باپ۔

علاوہ ازیں شان تخلیق اب تک چار صورتوں میں نظر آئی ہے۔ اوّل درجہ یہ کہ بلا وساطت والدین جیسے آدم صفی علیہ السلام دوسرے بوساطت والدہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام۔ تیسرے بوساطت مرد جیسے حضرت حوا علیہا السلام، چوتھے بوساطت والدین، جیسے تمام مخلوقات اور غالباً یہی شان تخلیق خالق زمین و زمان کو زیادہ مرغوب ہے کہ اس صورت میں اپنے محبوب خاص جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ولادت فرمائی۔ پھر اگر معجزانہ تخلیق سبب شرافت و عظمت علی الخلائق ہے تو آدمی بننا پسند نہ ہو تو حوائی بنئے کہ اور بھی زیادہ معجزانہ ہے کہ عادت اللہ کے خلاف ظہور ہوا ہے۔

اور پھر ناقہ صالح علیہ السلام کو سب سے افضل ماننا پڑے گا کہ وہ پتھر کی چٹان سے نکلا اور باہر آتے ہی بچہ دیا۔ لہٰذا ناقی بنئے کہ اس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ ”فقال لهم رسول الله ناقة الله وسقياها“

میاں اکرام ! اعتراض کرتے یا حقائق قرآن پڑھتے وقت کچھ سوچا بھی ہوتا۔ یوں ہی پکار بیٹھے کہ میں دلائل حقائق قرآن سے متاثر ہو چکا ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ ہر فعل فاعل کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور مفعول پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شان سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرما کر بتایا کہ: ”ولنجعله آية للناس“ ہم نے مسیح کو بے باپ پیدا کر کے اپنی قدرت کی

٤

صفحہ ٦٣

نی علیہ السلام بے باپ کے پیدا ہوئے۔ عزیز من! معجزہ کی تعریف تو یہ ہے رگزیدہ نبی سے اس طرح کوئی فعل سرزد ہو کہ اس کے مقابلہ سے عوام عاجز کی ذاتی نہ ہو۔ بلکہ بعطاء الٰہی ان میں نظر آئے۔ مگر اس معجزہ کا فاعل بظاہر

ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پیدا ہونے والے سے نہیں بلکہ پیدا کرنے فعل کا ظہور خالق کی طرف سے ہو۔ اسے مخلوق کی طرف منسوب کر کے ش فہمی کی دلیل ہے۔ بلکہ بموجب آیہ کریمہ ”ان مثل عيسى عند قہ من تراب ثم قال له كن فيكون“ حضرت آدم علیہ السلام کی ضرت عیسیٰ کے زیادہ معجزانہ ہے۔ لہٰذا عیسائی بننے کی تیاری نہ کیجئے۔ بلکہ کیونکہ آیہ مذکور میں صاف ارشاد ہے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال وہ بے باپ پیدا کئے گئے) اور آدم کو محض مٹی سے بنا کر حکم فرمایا تو وہ پیدا ہوئے۔

ان تخلیق اب تک چار صورتوں میں نظر آئی ہے۔ اول درجہ یہ کہ دم صفی علیہ السلام دوسرے بوساطت والدہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام۔ حضرت حوا علیہا السلام، چوتھے بوساطت والدین، جیسے تمام مخلوقات ن زمین و زمان کو زیادہ مرغوب ہے کہ اس صورت میں اپنے محبوب ﷺ کی ولادت فرمائی۔ پھر اگر معجزانہ تخلیق سبب شرافت و عظمت علی م ہو تو حوا کی بنے کہ اور بھی زیادہ معجزانہ ہے کہ عادت اللہ کے خلاف

علیہ السلام کو سب نے افضل ماننا پڑے گا کہ وہ پتھر کی چٹان سے نکلا بی بنے اور اس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ ”فقال لهم قیاها“

س کرتے یا حقائق قرآن پڑھتے وقت کچھ سوچا بھی ہوتا۔ یوں ہی ن سے متاثر ہو چکا ہوں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ ہر فعل فاعل کی ذات کے اس کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شان سے عیسیٰ علیہ السلام کو اية للناس“ ہم نے مسیح کو بے باپ پیدا کر کے اپنی قدرت کی

٤

ایک نشانی بتائی ہے نہ کہ حضرت مسیح کی شرافت بھی اس میں مضمر ہے اور اگر ایسا ہی ہوتا تو بہت سے کیڑے مکوڑے موسم برسات میں بلاماں باپ وجود میں آتے ہیں۔ وہ بھی افضل قرار دیئے پڑیں گے۔ امرود کے اندر، گولر کے اندر خود بخود کیڑا بھونگا پیدا ہوتا ہے تو یہ معجزانہ ولادت ہے۔ لہٰذا فرمائیے کہ یہ بھی سب سے حتیٰ کہ معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل ہیں۔ واللہ الهادی!

عنایت نمبر ٢: مسیح کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو سب جہان پر فضیلت ہے۔ لہٰذا مسیح افضل ہیں۔

شکریہ: عزیز من! والدہ کی افضلیت سے مولود کی افضلیت کو کیا تعلق اور اگر حضرت مریم علیہا السلام کو آپ ”وطهرك على نساء العالمين“ سے تمام زمانہ کی عورتوں پر افضل مانتے ہیں تو عیسائی بننے اور مرزائی ہونے کی کیوں ڈینگ ہانکی۔ مریمی ہونے کی دھمکی دی ہوتی۔ علاوہ ازیں طہرک کا ترجمہ ہی دیکھ لیا ہوتا تاکہ آپ کو عرف عرب تو معلوم ہو جاتا۔ دیکھئے مفسرین نے عرف کے لحاظ سے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ”وطهرك من مسيس الرجال “ یعنی مس ذکور سے پاک کیا ہے جو ایک امر واقعہ کا اظہار قرار پاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے ماتحت مفسرین نے جس قدر اقوال نقل کئے ہیں ان میں سے کوئی بھی آپ کے دعوٰی کا مؤید نہیں۔ ملاحظہ ہو پہلا قول تو مذکور ہو چکا علاوہ اس کے دو قول اور ہیں۔

یعنی پاک کیا تجھ کو اے مریم حیض سے۔ علامہ اسدی کہتے ہیں کہ حضرت مریم حائضہ نہیں ہوئیں۔

سے اور علیٰ النساء العالمین کے ماتحت لکھتے ہیں۔

”قيل عالمى زمانها. وقيل على جميع النساء العالمين فى انها ولدت بلا اب ولم يمكن ذالك لاحد من النساء وقيل بالتحرير فى المسجد لم تحرر انثى“ یعنی بعض کہتے ہیں ان کے زمانہ کی عورتوں پر طہارت دی گئی۔ بعض کہتے ہیں۔ تمام زمانہ کی عورتوں پر طاہر ہوئیں۔ اس لئے کہ بغیر مرد کے اولاد دی اور یہ بات زمانہ کی عورتوں میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ مسجد میں آزاد ہونے کی وجہ سے طاہر ہوئیں۔ پھر فرمائیے عیسیٰ علیہ السلام کو اس سے کیا فضیلت۔ سعدی علیہ الرحمۃ نے خوب کہا ہے۔

ہنر بنما اگر داری نہ جوہر
گل از خار است ابراہیم از آذر

٥

صفحہ ٦٤

اور اگر بفرض غلط ہم تسلیم بھی کرلیں تو عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کی وجہ سے افضل ماننا پڑے گا اور سرکار ابد قرار روحی فداہ صل اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ازواج مطہرات کو یہ شرف ملا کہ ارشاد ہوا۔ ”ینساء النبی لستن کاحد من النساء“ اے ہمارے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اور اس سے بڑھ کر یہ شرف محض حضور کی وجہ سے ملا کہ ازواج مطہرات مومنین کی مائیں قرار پائیں اور صاف حکم آیا۔ ”النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسهم وازواجه امهاتهم“ یعنی ہمارے حبیب ﷺ مسلمانوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیبیاں ان کی (یعنی مسلمانوں کی) مائیں ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ ”ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا ان ذالکم کان عند الله عظيماً“ ان کے بعد نہ نکاح کرو ان کی بیبیوں سے۔ بے شک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے اور اگر طہر کا مقابلہ منظور ہے تو لیجئے ”انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ويطهركم تطهيراً“ وہاں والدہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کی عورتوں میں مطہر تھیں۔ یہاں بہ تصدق حضور ﷺ اہل بیت اطہار مطلقاً مطہر ہوئے۔ تو اب فیصلہ کر لیجئے کہ بموجب آپ کے دعویٰ کے عیسیٰ علیہ السلام نسبت ام کی وجہ سے باعظمت قرار پارہے ہیں اور یہاں حضور سرور عالم ﷺ کی وجہ سے ازواج کو شرافت مل رہی ہے۔ ذرا انصاف سے فرمائیں کس میں افضلیت نکلی۔ اگر اللہ انصاف دے تو صاف کہو گے کہ بے شک حضور ﷺ کی عظمت ثابت اور ہمارے مخالف قرآن کا دعویٰ باطل اور پھر خود سید یوم النشور ﷺ کی شان میں ارشاد ہوا۔ ”وما ارسلنك الا كافه للناس بشیراً ونذیراً“ یعنی اے محبوب ہم نے تجھ کو نہ بھیجا۔ مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے۔ خوشخبری دینا اور ڈر سنانا۔ للناس میں الف لام استغراقی ہے۔ جو احاطہ افراد کا مقتضی ہے۔ بنا بریں بدء خلق سے قیام ساعت تک ہر متنفس رسالت میں حضور کا محتاج حتیٰ کہ انبیاء سابقین بھی خواہ یحییٰ ہوں یا موسیٰ۔ از آدم تا عیسیٰ علیہ السلام نبوت ورسالت میں حضور کے دست نگر۔ اسی بناء پر محققین حضور کو ”نبی الانبیاء“ فرماتے ہیں اور خود حضور بھی سناتے ہیں۔ ”انا امام الانبیاء“ ہم تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ علاوہ ازیں ”واذ اخذ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحكمة ثم جأكم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ءاقررتم واخذتم علیٰ ذالکم اصری، قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدین“ اور یاد کرو (اے محبوب اس واقعہ کو) جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں

٦

صفحہ ٦٥

ض غلط ہم تسلیم بھی کر لیں تو عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کی وجہ سے افضل ماننا پڑے ی فداہ صل اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ازواج مطہرات کو یہ شرف ملا کہ ارشاد ی لستن کاحد من النساء ”اے ہمارے نبی کی بیویو! تم اور عورتوں کی سے بڑھ کر یہ شرف محض حضور کی وجہ سے ملا کہ ازواج مطہرات مؤمنین کی اف حکم آیا۔ ”النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وازواجہ ے حبیب ﷺ مسلمانوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی انوں کی) مائیں ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ ”ولا ان تنکحوا بدا ان ذالکم کان عند اللہ عظیماً“ ”ان کے بعد نکاح کروان کی یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے اور اگر طہرک کا مقابلہ منظور ہے تو ا یذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیراً“ ”وہاں پنے زمانہ کی عورتوں میں مطہر تھیں۔ یہاں بہ تصدق حضور ﷺ اہل بیت تو اب فیصلہ کر لیجئے کہ بموجب آپ کے دعویٰ کے عیسیٰ علیہ السلام نسبت ر پارہے ہیں اور یہاں حضور سرور عالم ﷺ کی وجہ سے ازواج کو شرافت ے فرمائیں کس میں افضلیت نکلی۔ اگر اللہ انصاف دے تو صاف کہو کی عظمت ثابت اور ہمارے حقائق قرآن کا دعویٰ باطل اور پھر خود سید ا ارشاد ہوا۔ ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا“ کو نہ بھیجا۔ مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے۔ ناس“ میں الف لام استغراقی ہے۔ جو احاطہ افراد کا مقتضی ہے۔ بنابریں ت ہر تنفس رسالت میں حضور کا محتاج حتیٰ کہ انبیاء سابقین بھی خواہ یحییٰ علیہ السلام نبوت و رسالت میں حضور کے دست نگر۔ اسی بناء پر محققین تے ہیں اور خود حضور بھی سناتے ہیں۔ ”انا امام الانبیاء“ ”ہم تمام زیں ”واذ اخذ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب ل مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ۔ اقررتم اصری ، قالوا اقررنا قال فاشھد واوانا معکم من ے محبوب اس واقعہ کو) جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں ٦

تم کو کتاب اور حکمت دوں۔ پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ فرمایا کیوں! تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا۔ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں خود تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ ”النبیین“ میں الف لام استغراقی ہی ماننا پڑے گا۔ اس لئے کہ جمع پر الف لام مفید استغراق ہوتا ہے۔ بنابریں صاف ظاہر ہے کہ اتباع سید الرسل ہادی سبل جناب محمد رسول اللہ ﷺ موسیٰ ہوں یا عیسیٰ، آدم ہوں یا یحییٰ، شیث ہوں یا شعیب، ابراہیم ہوں یا اسماعیل، سب پر لازم ہوا اور حضور کی فضیلت تام اور شرف تمام واضح ولائح اور مزید برآں یہ کہ ہر نبی کی نبوت ہی اس امر پر موقوف ماننی پڑے گی کہ وہ اتباع محمد رسول اللہ ﷺ میں اس عہد کا شریک ہو، عام اس سے کہ عیسیٰ، موسیٰ ہوں یا آدم و یحییٰ علیہم السلام، وللہ الحمد، میاں اکرام ! انصاف سے کہنا کیا اب بھی تم مرزائی عیسائی ہونے کو تیار ہو۔ اگر زبان سے نہیں تو آپ کو ضمیر ضرور آپ کو ہمارے اس معروض کے تسلیم کرنے پر مجبور کرے گا۔

آیت نمبر ٣: حضرت مسیح کی ولادت کے وقت خارق عادت امور ظاہر ہوئے۔ درخت خرما نے جو سوکھا ہوا تھا تر ہو کر تازہ کھجوریں دیں۔ چشمہ جاری ہو گیا۔ بموجب آیت کریمہ ”فناداھا من تحتھا ان لا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا . وھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطباً جنیاً فکلی واشربی وقری عینا“ یعنی تو اسے اس کے تلے (فرشتہ پکارا) کہ غم نہ کھا۔ تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بہادی ہے اور کھجور کی جڑ پکڑ اپنی طرف ہلا۔ تجھ پر تازہ پکی کھجوریں گریں گی تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔

تبصرہ : بے شک یہ خارق عادت امور ہوئے مگر نہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے بلکہ قبل از ولادت عیسیٰ وقت درد زہ یہ امور ظاہر ہوئے۔ چنانچہ اگر ان آیات سے اوپر کی آیت پڑھ لی جاتی تو معاملہ صاف ہو جاتا۔ 'فاجاء المخاض الی جذع النخلۃ قالت یلتنی مت قبل ھذا وکنت نسیاً منسیاً' اس کے بعد ہے فناداھا من تحتھا! جس کا ترجمہ صاف بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ درد زہ کا ہے۔ جس وقت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہی نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ لفظی ترجمہ یہ ہے۔ پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا تو (حضرت مریم) بولیں ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تو فناداھا من تحتھا تو اسے اسی کھجور کے تلے سے فرشتہ پکارا کہ غم نہ کھا۔ ٧

صفحہ ٦٦

دوسرے ان امور سے قدرت خداوندی کا اظہار ہوا یا کہ اعجاز مسیح کا ، قطع نظر اس کے ایسی مثالیں بکثرت ملتی ہیں کہ بے یارو مددگار یتیم بچے کی پرورش ایسی شان سے ہوئی کہ بادشاہ زادوں کی بھی نہ ہوئی۔ دور نہ جائیے ۔ نور جہاں بیگم کے حالات ہی پڑھ لیجئے کہ وہ کیسے پیدا ہوئی اور جہانگیر بادشاہ کی کس طرح بیگم بنی۔ مختصر قصہ بھی سن لیجئے تاکہ آپ اچھی طرح سمجھ سکیں ۔ نور جہاں کا دادا شاہ طہماسپ صفوی ٩٣٠ء کے امراء میں سے تھا۔ اس کے انتقال کے بعد ان کا خاندان زیر عتاب شاہی آ گیا۔ تمام جائیداد ضبط کر لی گئی۔ چنانچہ نور جہاں بیگم کے والد مرزا غیاث اپنی بیوی کو لے کر جان بچا کر بھاگے۔ چونکہ بیوی پوری دنوں سے تھی ۔ راستہ میں وضع حمل ہو گیا اور لڑکی پیدا ہوئی۔ ادھر تو بے خانمان بحالت بربادی نکلنا ہوا۔ ادھر اس بے سروسامانی میں لڑکی ہو گئی۔ اپنی جان ہی بھاری تھی۔ لڑکی کہاں لے جاتے۔ جنگل میں ڈال سپرد خدا کر آگے چل دیئے۔ حسن اتفاق پیچھے سے ایک قافلہ آ رہا تھا۔ اس کے میر قافلہ کی نظر اس لڑکی پر پڑی۔ لاولد تھا۔ غنیمت جان کر اسے اٹھا لیا ۔ دودھ پلانے والی کی تلاش ہوئی۔ اگلے قافلہ میں اسی لڑکی کی ماں دایہ مقرر ہوئی۔ مختصر یہ کہ شدہ شدہ دربار شاہی تک رسائی ہوئی اور لڑکی کا نام مہر النساء رکھا گیا اور شیر افگن سے عقد کیا گیا۔ اس کے قتل کے بعد جہانگیر کے محل میں آئی اور نور جہاں خطاب پا کر پردۂ جہانگیر میں ملکہ ہو کر حکمران ملک بنی ۔ یہی حال اکبر بادشاہ کا ہے جو تواریخ میں آپ کو ملے گا۔ لہٰذا یہ امر بھی کوئی ایسا نہیں جس کی بناء پر حضرت سرور عالم ﷺ پر حضرت مسیح کو فضیلت دی جائے سکے۔ پھر حضرت مسیح کی ولادت میں قرآن کے اندر کوئی خاص منقبت نہیں۔ برخلاف حضور ﷺ کے متعلق کہیں ارشاد ہے۔ ”لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولاً“ یعنی ہم احسان رکھتے ہیں ۔ مؤمنین پر کہ ان میں ہم نے رسول مطلق مبعوث فرمایا۔ کہیں ارشاد ہے ۔ ”قد جاءکم من الله نور وكتاب مبين “ بے شک تم میں اللہ کی طرف سے نور یعنی محمد ﷺ اور روشن کتاب آئی ۔ کہیں فرمایا ۔ ”يا ايها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور وهدى ورحمة للمؤمنين “ اے لوگو! بے شک تشریف لائے تم میں نصیحت مجسم تمہارے رب کی طرف سے اور شفا تمہاری صدری امراض کی اور ہدایت و رحمت مؤمنین کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ ذرا کوئی بتائیے تو کہ سوائے حضور ﷺ کے کسی نبی کے لئے رب العزت جل علا تبارک و تعالیٰ نے یہ شان ولادت ثابت کی۔ میاں اکرام ! انصاف شرط ہے۔ حسد و عناد سخن پروری مذہب پرستی دوسری چیز ہے اور حقیقت شناسی دوسری شے ہے۔ ٨٠

صفحہ ٦٧

عنایت نمبر ٤: مسیح نے شیر خوارگی میں کلام کیا۔ لڑکپن میں ان کو کتاب ملی۔ لہٰذا وہ حضورﷺ سے افضل ہیں۔

شکریہ: اگر یہی معیار فضیلت ہے تو حضرت یحییٰ کو اس سے بڑھ کر فضیلت میں مانئے کہ یہاں دعویٰ مسیح ظاہر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ”قال انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیاً“ اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے ارشاد ہے۔ یا ”یحییٰ خذ الکتاب بقوة وآتينا الحكم صبيا وحنانا من لدنا وزکوة“ یعنی رب العزت فرماتا ہے۔ اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے (یعنی یحییٰ کو) بچپن ہی میں نبوت دی اور اپنی طرف سے مہربانی اور ستھرائی اور کمال ڈر والا تھا۔ بنابریں اکرام میاں کو چاہئے اس اصول کے ماتحت سچائی بتائیں کہ وہاں عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا گیا۔ یہاں خاص حکم یحییٰ علیہ السلام کی طرف ہوا۔ ”وشهد شاهد من اهلها ان كان قميصه قد من قبل فصدقت“ سورہ یوسف میں جو تذکرہ ہے۔ یوسف علیہ السلام کی برأت کی شہادت شیر خوار بچے نے دی تھی۔ لہٰذا اسے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل مانئے کہ یہ نبی ہو کر کلام کرتے ہیں اور وہاں بغیر نبی ہوئے بول رہا ہے۔ جان عزیز! کیوں دھوکہ میں پڑ کر عوام کو دھوکہ میں ڈال رہے ہو۔ ذرا سمجھ کر میدان میں آیا کرو۔ احوال مذکورہ سے معلوم ہوا کہ مذکورہ امور معیار افضلیت نہیں۔ بلکہ فضیلت وافضلیت کے لئے وہ شان ہونی چاہئے ۔ جو حضورﷺ کے لئے وضاحتاً قرآن پاک میں جا بجا مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔

اول ...... حضورﷺ کے صدقہ میں گناہگارانِ امت کے خطاؤں کی معافی کا صراحتاً وعدہ فرمایا گیا۔ ”ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاؤك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحيماً“ یعنی جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں ۔ تو اے محبوب ! تمہارے حضور حاضر ہوں۔ پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسولﷺ ان کی سفارش فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ آگے حضورﷺ کو مؤمنین کے ہر معاملہ کا مختارِ کلی بنا کر ان کے فیصلہ کو بخوشی قبول کرنے پر ایمان موقوف کیا جاتا ہے۔ ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً“ تو اے محبوب ! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے۔ جب تک اپنے آپس کے جھگڑوں میں تمہیں حاکم نہ بنائیں۔ نیز جو کچھ تم حکم فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور اسے مان لیں۔ کہیں حضورﷺ کے دین

صفحہ ٦٩

کو تمام ادیان پر غالب کیا جا رہا ہے اور حضور ﷺ کی وجہ سے حضور ﷺ کی ہمراہی جماعت کے لئے اجر عظیم اور مغفرت کی بشارت دی جاتی ہے۔ ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وكفى بالله شهيداً محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم، لهم مغفرة واجراً عظيماً “ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی گواہ ہے۔ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت اور آپس میں نرم دل۔ (آخر آیت تک بیان فرماتے ہوئے اخیر میں فرماتے ہیں) جو ان میں ایمان والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں۔ ان کے لئے وعدہ کیا اللہ نے بخشش اور بڑے ثواب کا۔ کہیں حضور ﷺ کے ایذا دینے والوں کو اپنے ایذا دینے والا فرمایا۔ حالانکہ اس قادر مطلق کو کوئی ایذا نہیں دے سکتا۔ مگر غایت قرب ومحبت دکھانے کو ارشاد ہوا ۔ ”ان الذین يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة واعدلهم عذاباً مهينا “ بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ دنیا اور آخرت میں، اور اللہ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنے والوں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے والا فرمایا ۔ ”ان الذین یبایعونک انما يبايعون الله يدالله فوق ايديهم “ وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جنہوں نے حضور ﷺ کی غلامی اختیار کی ان کے لئے رضا الٰہی کا ڈپلوما دنیا میں عطاء ہوا ۔ ”لقد رضی الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجرة “ بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے فعل کو اللہ جل وعلا تبارک و تعالیٰ اپنا فعل فرما رہا ہے۔ ”وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى “ اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی۔ بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ حضور ﷺ کے صدقہ میں مؤمنین کے مقاتلہ کو اللہ اپنا فعل فرما رہا ہے۔ ”فلم تقتلوهم ولكن الله قتلهم “ تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا۔ حضور ﷺ کا ادب اتنا زبردست تعلیم فرمایا گیا کہ کسی نبی کے لئے بھی یہ رتبہ نہ آیا کہ نام لے کر بھی نہ پکارو۔ بلکہ خطابات خاص سے ندا دو۔ ”لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضاً “ ہمارے رسول کو نہ پکارو۔ ایسے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو

١٠

پکارتے ہیں۔ حضورﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت الله ومن تولى فما ارسلنك عليهم . نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے وضاحتاً فرمایا۔ ”قل ان كنتم تحبون ذنوبكم والله غفور الرحيم “اے میرے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اللہ تمہیں دوست ر مہربان ہے۔ سرکار مدینہﷺ کے حضور آواز بلند کر الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم كجهر بعضكم لبعض ان تحبط ا اپنی آوازیں اونچی نہ کرو۔ اس غیب دان نبی جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلا خبر نہ ہو اور کہاں تک کہوں کہیں شرح صد حبیب کے فضل کو دکھا کر غنی کر دینا بتایا جا ر حضورﷺ کو امر ونہی کا مالک بتایا۔ ”ماا فانتهوا“ جو ہمارے حبیب تمہیں دیں یہ ہے شان محمد رسول اللہ ﷺ ۔ کوئی نبی رہا یہ کہ قال انی عبداللہ آتانی الکتاب و عطاء ہوئی۔ یہ غلط ہے اور اس وجہ سے غ اگر کسی اہل علم سے پوچھ لیتے کبھی نہ کہ جب یقینی ہو تو اس کو ماضی کے صیغہ سے ”اذا السماء انشقت واذا الكواک اگر انجیل وغیرہ میں کہیں ہے کہ عیسیٰ عل کے لئے کتاب نازل ہو چکی تھی تو ”ھو علیہ السلام کو مہد مادر میں جب قوم نے اس وقت کلام فرمایا اور اس میں بتا

صفحہ ٦٩

کیا جا رہا ہے اور حضورﷺ کی وجہ سے حضورﷺ کی ہمراہی جماعت کے ت کی بشارت دی جاتی ہے۔ ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی لیظهره علیٰ الدین کله وکفیٰ بالله شهیداً محمد رسول الله اء علی الکفار رحماء بینهم ، لهم مغفرة واجراً عظیماً “ وہ پنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر ا گواہ ہے۔ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر ل ۔ (آخر آیت تک بیان فرماتے ہوئے اخیر میں فرماتے ہیں) جو ان ے کام کرنے والے ہیں۔ ان کے لئے وعدہ کیا اللہ نے بخشش اور بڑے ر کے ایذا دینے والوں کو اپنے ایذا دینے والا فرمایا۔ حالانکہ اس قادر سکتا۔ مگر غایت قرب ومحبت دکھانے کو ارشاد ہوا۔ ”ان الذین ه لعنهم الله فی الدنیا والآخرة واعدلهم عذاباً مهینا “ ا اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ دنیا اور آخرت میں، لت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حضورﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہاتھ پر بیعت کرنے والا فرمایا۔ ”ان الذین یبایعونک انما فوق ایدیهم “ وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں تو اللہ ہی سے بیعت ں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جنہوں نے حضورﷺ کی غلامی اختیار کی ان انہیں عطا ہوا۔ ”لقد رضی الله عن المؤمنین الشجرة “ بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس ت کرتے تھے۔ حضورﷺ کے فعل کو اللہ جل علا تبارک و تعالیٰ اپنا فعل اذ رمیت ولکن الله رمٰی “ اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی نے پھینکی تھی۔ حضورﷺ کے صدقہ میں مومنین کے مقاتلہ کو اللہ اپنا تلوهم ولکن الله قتلهم “ تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے ایسا زبردست ادب تعلیم فرمایا گیا کہ کسی نبی کے لئے بھی یہ رتبہ نہ آیا کہ یا فلاں کہہ کر ندا نہ دو۔ ”لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم “ ہمارے رسول کو نہ پکارو۔ ایسے جیسے آپس میں ایک دوسرے کو ١٠

پکارتے ہیں۔ حضورﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت فرمایا۔ ”من یطع الرسول فقد اطاع الله ومن تولیٰ فما ارسلنک علیهم حفیظاً “ جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔ دوسری جگہ وضاحتاً فرمایا۔ ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ویغفر لکم ذنوبکم والله غفور الرحیم “ اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ سرکار مدینہ کے حضور آواز بلند کر کے بات کرنے کی ممانعت کی گئی۔ ”یا ایها الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون “ اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو۔ اس غیب دان نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو۔ جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو اور کہاں تک کہوں کہیں شرح صدر کی بشارت ہے۔ کہیں اپنے فضل کے ساتھ اپنے حبیب کے فضل کو دکھا کر غنی کر دینا بتایا جا رہا ہے۔ یہ وہ مراتب ہیں کہ کسی نبی میں نہ ملیں گے۔ حضورﷺ کو امر و نہی کا مالک بتایا۔ ”ما اتاکم الرسول فخذوه ومانهکم عنه فانتهوا “ جو ہمارے حبیب تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں باز رہو۔ دیکھا آپ نے، یہ ہے شانِ محمد رسول اللہﷺ ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حضور یوم النشورﷺ کے لئے یہ فضائل نہیں۔ رہا یہ کہ قال انی عبداللہ آتانی الکتاب وغیرہ وغیرہ سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ آپ کو کتاب بچپن میں عطاء ہوئی۔ یہ غلط ہے اور اس وجہ سے غلط ہے کہ بوجہ لاعلمی اکرام میاں اس کے معنی ہی نہ سمجھے۔ اگر کسی اہل علم سے پوچھ لیتے کبھی نہ کہتے۔ جب کہ عرف بلغا واہل لسان ہی یہ ہے کہ مستقبل جب یقینی ہو تو اس کو ماضی کے صیغہ سے ظاہر کیا کرتے ہیں اور اس کی نظائر بہت سے ہیں۔ جیسے ”اذ السماء انشقت واذا الکواکب انتثرت ، اذ السماء انفطرت “ وغیرہ وغیرہ اور اگر انجیل وغیرہ میں کہیں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جس وقت یہ دعویٰ فرما رہے تھے۔ اس وقت ان کے لئے کتاب نازل ہو چکی تھی تو ”هاتوا برهانکم ان کنتم صادقین “ بلکہ حقیقتاً عیسیٰ علیہ السلام کو مہد مادر میں جب قوم نے دیکھا تو وہ متعجب ہوئی تو آپ نے شروع سے بعطاء الٰہی اس وقت کلام فرمایا اور اس میں بتایا کہ میں خدا کا بندہ ہوں۔ خدا کا بیٹا نہیں اور مجھے کتاب ١١

صفحہ ٧٠

ونبوت بھی ملے گی وغیرہ وغیرہ۔ اللہ ہدایت دے اور اگر انصاف ہو تو معاملہ صاف ہے۔

عنایت نمبر ٥: قرآن سے ثابت ہے کہ مسیح کو جب دشمنوں نے پکڑنا چاہا تو آسمان سے فرشتہ آ کر اسے بجسم خاکی آسمان پر لے گیا اور کفار سے بچا لیا اور حضرت محمدﷺ کو مخالفوں نے گھیرا تو کوئی فرشتہ نہ آیا نہ ان کو آسمان پر اٹھایا۔ لہٰذا مسیح افضل ہے۔

شکریہ: بے شک قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”بل رفعه الله الیہ “ آیا ہے۔ مگر انصاف تو یہ تھا کہ اصل واقعہ صاف دکھاتے تا کہ ناواقف مغالطہ میں نہ پڑتا۔ اگر ٹھنڈے کلیجہ سے سنیں تو ہم عرض کریں۔ قرآن کریم میں ہے ۔”فلما احس عیسیٰ منهم الكفر قال من انصارى الى الله قال الحواريون نحن انصار الله “ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کفر پایا تو بولے کون میرا مددگار ہوتا ہے اللہ کے لئے ۔ حواریوں نے کہا ہم مددگار ہیں اللہ کے لئے۔ یہ شان تو عیسیٰ علیہ السلام کی تھی۔ اب حضورﷺ کے مرتبہ کا اندازہ کیجئے کہ اللہ جل علا نے اس پاک ہستی کو وہ دلاوری و شجاعت و قرب عطا فرمایا کہ آپ کو اپنی مدد کے لئے فرشتہ تو فرشتہ کسی صحابی کی مدد کی بھی حاجت نہ تھی۔ چہ جائیکہ آسمان پر جانے کے لئے دعاء کرتے۔ دیکھئے قرآن کریم میں ہے ۔ ” والله يعصمك من الناس “ اے حبیب، اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا۔ چنانچہ اللہ نے دنیا میں ہی قلب قوی عطا فرما کر دشمنوں میں اس شان سے رکھا کہ مکہ سے تشریف لاتے وقت چپہ چپہ پر دشمنوں کا ڈیرہ تھا۔ کوچہ کوچہ گلی گلی حتیٰ کہ باب عالیہ تک محصور تھا۔ مگر عصمت الٰہی میں رہ کر اس شان سے مدینہ آئے کہ وہیں مکہ کے غار میں رہے اور کفار غار کا گشت کرتے رہے۔ مگر حضورﷺ کا بال بیکا نہ کر سکے۔ میاں اکرام ! احساس بغاوت پر حواریوں سے استمداد کرنے والا زیادہ رتبہ والا ہو سکتا ہے یا جان نثاروں کی جان نثاری دیکھتے ہوئے یہ کہنے والا کہ جاؤ مجھے میرے رب نے اپنی حفاظت میں لے رکھا ہے۔ ذرا انصاف کرو اور انصاف سے کہو کہ کیسی کہی۔ واہ میاں اکرام ! آپ تو آپ ہی ہیں۔ آپ اگر واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی افضلیت کے قائل ہوتے تو یہ قصہ نہ چھیڑا ہوتا۔ علاوہ ازیں اگر آپ کو فرشتہ کے نہ آنے کی ہی شکایت ہے تو اپنی معلومات کی کوتاہی کا شکوہ کیجئے۔ کیا آپ نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا۔ ” ولقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة “ حضورﷺ کی مدد نہیں بلکہ حضورﷺ کے غلاموں کی امداد بہ تصدق ذات محمد رسول اللہﷺ یوں کی گئی۔ جس کا تذکرہ آیۃ مذکورہ میں فرمایا۔ یعنی بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی۔ جب تم

١٢

صفحہ ٧١

غیرہ وغیرہ۔ اللہ ہدایت دے اور اگر انصاف ہو تو معاملہ صاف ہے۔

نمبر ٥: قرآن سے ثابت ہے کہ مسیح کو جب دشمنوں نے پکڑنا چاہا تو آسمان جسم خاکی آسمان پر لے گیا اور کفار سے بچالیا اور حضرت محمد ﷺ کو مخالفوں نے ستایا نہ ان کو آسمان پر اٹھایا۔ لہٰذا مسیح افضل ہے۔

جواب: بے شک قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”بل رفعه“ آیا ہے مگر انصاف تو یہ تھا کہ اصل واقعہ صاف دکھاتے تا کہ ناواقف مغالطہ میں نہ پڑے۔ ہم سے سنیں تو ہم عرض کریں۔ قرآن کریم میں ہے۔ ”فلما احس عیسی منهم الكفر قال من انصاری الی الله قال الحواریون نحن انصار الله “ یعنی جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا تو بولے کون میرا مددگار ہوتا ہے اللہ کے لئے ۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے لئے ۔ یہ شان تو عیسیٰ علیہ السلام کی تھی۔ اب حضور ﷺ کے مرتبہ کا حال سنئے! اللہ نے اس پاک ہستی کو وہ دلاوری و شجاعت و قرب عطاء فرمایا کہ آپ کو حواری تو کیا فرشتہ کسی صحابی کی مدد کی بھی حاجت نہ تھی۔ چہ جائیکہ آسمان پر جانے کے لئے کہتے ۔ قرآن کریم میں ہے۔ ”والله یعصمک من الناس“ اے حبیب، اللہ آپ کی حفاظت کرے گا۔ چنانچہ اللہ نے دنیا میں ہی غلبہ قوی عطاء فرما کر دشمنوں کو ذلیل کیا۔ مکہ سے تشریف لاتے وقت چپہ چپہ پر دشمنوں کا ڈیرہ تھا۔ کوچہ کوچہ گلی گلی میں دشمنوں کا پہرہ تھا۔ مگر عصمت الہی میں رہ کر اس شان سے مدینہ آئے کہ وہیں مکہ کے کافر غار کا گشت کرتے رہے۔ مگر حضور ﷺ کا بال بیکا نہ کر سکے۔ میاں اکرام ! بھلا بتائیے حواریوں سے استمداد کرنے والا زیادہ رتبہ والا ہوسکتا ہے یا جان کے دشمنوں میں ہوتے ہوئے یہ کہنے والا کہ جاؤ مجھے میرے رب نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ خدا لگتی اور انصاف سے کہو کہ کیسی کہی ۔ واہ میاں اکرام ! آپ تو آپ ہی ہیں ۔ آپ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی افضلیت کے قائل ہوئے تھے تو یہ قصہ نہ چھیڑا ہوتا۔ اگر حواری و فرشتہ کے نہ آنے کی ہی شکایت ہے تو اپنی معلومات کی کوتاہی کا شکوہ کرو۔ کیا قرآن کریم میں نہیں پڑھا۔ ”ولقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة “ کہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کے غلاموں کی امداد بہ تصدیق ذات محمد رسول اللہ ﷺ یوں سورہ میں فرمایا۔ یعنی بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی۔ جب تم

١٢

بالکل بے سر و سامان تھے۔ اس کے آگے اسی جگہ ارشاد ہے ۔ ”اذ تقول للمؤمنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثة آلاف من الملائکۃ منزلین “ یعنی جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے۔ تین ہزار فرشتے اتار کر۔ آگے اس فرمان محمدی کی تصدیق میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”بلی ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورهم هذا یمددکم ربکم بخمسة آلاف من الملائکۃ مسومین “ ہاں کیوں نہیں۔ اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا۔ آگے ایک مقام پر ارشاد ہے۔ ”اذ تستغیثون ربكم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین “ یعنی جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں۔ ہزار فرشتوں کی قطار سے آگے یوم حنین کے واقعہ میں ارشاد ہے۔ ”ثم انزل الله سکینته علی رسوله وعلى المؤمنین وانزل جنودا لم تروها وعذب الذین کفروا وذالك جزاء الكافرین “ پھر اللہ نے تسکین نازل فرمائی۔ اپنے رسول اور مؤمنین پر اور وہ لشکر اتارا (فرشتوں کا) جو تم نہ دیکھتے تھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔ کہئے میاں اکرام ! بس یا ابھی اور ضرورت ہے۔ واللہ الہادی بخوف ضخامت رسالہ اسی پر اکتفاء کرتا ہوں ورنہ جتنی دلائل قرآنی درکار ہوں اور حاضر کر سکتا ہوں۔ اب ذرا ٹھنڈے کلیجہ انصاف کی نگاہ سے میرا رسالہ پڑھ کر فیصلہ کرنا آئندہ اختیار بدست مختار۔

عنایت نمبر ٦: مسیح کا جسم با وجود حاجت بشریہ کے آج تک محفوظ ہے۔ حالانکہ اور کسی کا نہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسیح محمد ﷺ سے افضل ہے۔

شکریہ: جسم کا محفوظ رکھنا رکھنے والے کی قدر پر دال ہے یا رہنے والے کی فضیلت پر۔ برایں عقل و دانش اور کیا کہوں۔ کہیں آپ خفا ہو کر غصہ کے بائلر کو تیز نہ کرلیں۔ بھائی جان جسم تو ملائکہ بھی رکھتے ہیں اور آج تک بدستور ہیں۔ بلکہ ان پر تو کسی دشمن کو حملہ کرنے کی جرأت ہی نہیں اور جب عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لا کر انتقال فرمائیں گے۔ ملائکہ اس وقت بھی بدستور ہوں گے۔ لہٰذا عیسائی مرزائی نہ بنئے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی تو مر کر مٹی میں مل چکے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرمائیں گے۔ مگر ملائکہ بدستور رہیں گے اور آپ کے نزدیک معیار افضلیت یہ ٹھہرا کہ جو آسمان پر چلا جائے یا زندہ رہے وہ سب سے افضل ہے۔ حالانکہ دنیا میں بے

١٣

صفحہ ٧٢

جان چیزوں میں بہت سی چیزیں ایسی ملیں گی جن کی زندگی عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں بڑی ہے۔ جیسے پہاڑ، آسمان، چاند، سورج، ستارے تو ان کو بھی حضرات انبیاء علیہم السلام پر آپ افضل مانیں گے۔ اگر میرا خیال غلطی نہیں کرتا تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ پھر ایسے لایعنی وجوہات پیش کرنے سے کیا فائدہ۔ جان عزیز! ذرا سوچو سمجھو ہوش میں آ کر بات کیا کرو۔ مذہبی نشہ میں اندھا دھند نہ بکا کر، اور اگر یہی ہے تو ”اليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية“ فرعون کے متعلق ہے اور اس کا ظہور بھی ہو گیا کہ آج اس کی لاش مصر کے میوزیم میں بتائی جاتی ہے۔

عنایت نمبر ٧، ٨: مسیح نے جانوروں کو پیدا کیا۔ حالانکہ پیدا کرنا خاصہ خداوندی ہے اور بیماروں کو، اندھوں کو، کوڑھیوں کو، تندرست و چنگا بنایا۔ مردے زندہ کئے۔

شکریہ: صاحب قرآن تو یوں فرما رہا ہے۔ ”قل الله خالق كل شئ وهو الواحد القهار“ یعنی اے حبیب ﷺ فرما دیجئے کہ اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہ ہی زبردست خالق و قہار ہے۔ ہاں خوب یاد آیا۔ آپ غالباً اس آیت کے نہ سمجھنے سے دھوکہ میں پڑے۔ جس میں عیسیٰ علیہ السلام کے ماذون ہونے کا ذکر ہے۔ ”انی اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرء الاكمه والابرص واحيى الموتى باذن الله“ یعنی میں مٹی سے جانور کی شکل بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونکتا ہوں۔ پس وہ اللہ کے حکم سے زندہ جانور بن جاتا ہے اور میں بیماروں کو اچھا کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ اللہ کے حکم سے، اس آیت سے صاف ظاہر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام یہ سب کام بحکم الہی کرتے تھے۔ بلکہ پھونک دینا مسیح کا کام تھا۔ مس فرمانا مسیح کا کام تھا اور اس پھونک اور مس میں اثر ڈالنا خدا کا کام۔ بنا بر ایں نہ مسیح خالق ہوئے نہ شافی اور نہ خدا کی خدائی میں شریک۔

مجھے آپ کے اس دعوٰی پر ہنسی آتی ہے۔ برادرم ذرا انصاف سے کہنا اگر بادشاہ پھانسی کا حکم دے اور اس کی تعمیل کرنے والا اس حکم کو پورا کر دے تو کیا اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ محکوم بادشاہ ہو گیا۔ مجسٹریٹ و جسٹس کو مجاز ہوتا ہے۔ سزا اور عفو جرم کا۔ مگر باذن بادشاہ، تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ مجسٹریٹ اور جسٹس خود بادشاہ ہیں۔ ذرا خوش فہمی کو علیحدہ کر کے تعقل سے کام لے کر وجہ ترجیح بتانی تھی۔ ماشاء اللہ چشم بددور۔ علاوہ ازیں کیا انبیاء اس لئے آئے تھے کہ اندھی آنکھ والے کو تندرست کردیں۔ مردے کو زندہ کردیں۔ مٹی کے جانور بنا کر پھونک سے اڑتا ہوا دکھادیں۔ حاشا وکلا۔ انبیاء کے یہ کام نہیں۔ بلکہ جو نبی جس قوم کے اندر آیا اسے اسی قوم کے مذاق کے مطابق معجزہ

١٤

صفحہ ٧٣

ت سی چیزیں ایسی ملیں گی جن کی زندگی عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں بڑی ہے۔ چاند، سورج، ستارے تو ان کو بھی حضرات انبیاء علیہم السلام پر آپ افضل خیال غلطی نہیں کرتا تو میں کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ پھر ایسے لایعنی وجوہات پیش ا۔ جان عزیز! ذرا سوچو سمجھو ہوش میں آ کر بات کیا کرو۔ مذہبی نشہ میں اندھا رچکی ہے تو ”الیوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية“ فرعون کا ظہور بھی ہو گیا کہ آج اس کی لاش مصر کے میوزیم میں بتائی جاتی ہے۔

موں کو، کوڑھیوں کو، تندرست سوانکھا بنایا۔ مردے زندہ کئے۔

صاحب قرآن تو یوں فرما رہا ہے۔ ”قل الله خالق کل شئی وهو ہار “ یعنی اے حبیب ﷺ فرما دیجئے کہ اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہ ہی ہے۔ ہاں خوب یاد آیا۔ آپ غالباً اس آیت کے نہ سمجھنے سے دھوکہ میں لیہ السلام کے ماذون ہونے کا ذکر ہے۔ ”انی اخلق لكم من الطين انفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرء الاكمه والابرص باذن الله“ یعنی میں مٹی سے جانور کی شکل بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونکتا م سے زندہ جانور بن جاتا ہے اور میں بیماروں کو اچھا کرتا ہوں اور مردوں کو حکم سے، اس آیت سے صاف ظاہر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام یہ سب کام بحکم تک دینا مسیح کا کام تھا۔ مس فرمانا مسیح کا کام تھا اور اس پھونک اور مس میں ایں نہ مسیح خالق ہوئے نہ شافی اور نہ خدا کی خدائی میں شریک۔

ا اس دعویٰ پر ہنسی آتی ہے۔ برادرم ذرا انصاف سے کہنا اگر بادشاہ پھانسی کرنے والا اس حکم کو پورا کر دے تو کیا اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ محکوم سٹس کو مجاز ہوتا ہے۔ سزا اور عفو جرم کا۔ مگر باذن بادشاہ، تو کیا اس کے یہ شخص خود بادشاہ ہیں۔ ذرا خوش فہمی کو علیحدہ کر کے تعقل سے کام لے کر وجہ شم بددور۔ علاوہ ازیں کیا انبیاء اس لئے آئے تھے کہ اندھی آنکھ والے کو کو زندہ کر دیں۔ مٹی کے جانور بنا کر پھونک سے اڑتا ہوا دکھا دیں۔ حاشا ۔ بلکہ جو نبی جس قوم کے اندر آیا اسے اسی قوم کے مذاق کے مطابق معجزہ

١٤

ملا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اس وقت ہوئی جب کہ جادوگری کے فن کو چرچا تھا۔ چنانچہ ان کے عاجز کرنے کے لئے آپ کو جادو شکن معجزہ عطاء ہوا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ ”وما تلك بيمينك يموسى قال هي عصاى اتوكؤ عليها واهش بها على غنمى ولى فيها مآرب اخرى“ اور تیرے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ۔ عرض کی یہ میرا عصا ہے۔ میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور یہی میرے اس میں کام ہیں۔

”قال القها يا موسى فالقها فاذا هى حية تسعى“ فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ تو آپ نے اسے ڈال دیا تو جب ہی وہ اڑتا ہوا سانپ ہو گیا۔ پھر ارشاد ہوا۔ ”خذها ولا تخف سنعيدها سيرتها الاولى“ اسے پکڑ لے اور اس سے نہ ڈر اب ہم اسے

پھر پہلی طرح کا کر دیں گے۔ ”واضمم يدك الى جناحك تخرج بيضاء من غير سوء آية اخرى لنريك من آيتنا الكبرى . اذهب الى فرعون انه طغیٰ“ اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا، خوب سپید نکلے گا۔ بے کسی مرض کے یہ ایک اور نشانی ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھلائیں۔ فرعون کے پاس جا اس نے سرکشی کی ہے۔ چنانچہ اسی معجزہ کے اظہار کا واقعہ دوسری جگہ مذکور ہے۔ ”فاذا حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم“ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں حکمت یونان کا چرچا تھا تو حکما میدان حکمت میں آ کر کوس لمن الملک بجایا کرتے تھے۔ اللہ نے آپ کو مبعوث فرمایا اور حکماء کے عاجز کرنے کے لئے وہ معجزہ دیا جس کا مقابلہ حکماء زمانہ نہ کر سکے۔ یعنی محض مس کرنے سے مادر زاد اندھے کا سوانکھا ہو جانا وغیرہ وغیرہ۔ مردے کا جی اٹھنا۔ زمانہ سرور عالم ﷺ میں فصاحت وبلاغت کے دریا امنڈ رہے تھے۔ علمی مذاق کا ستارہ اوج پر تھا تو حضور ﷺ کو ان کے عاجز کرنے کے لئے وہ معجزہ عطاء ہوا کہ فصحاء و بلغاء عرب دبے لہجے رہ گئے اور میدان فصاحت میں آکر دعویٰ کرنے کی بجائے گوشۂ عجز میں جا بیٹھے اور خدا نے اپنے محبوب کی زبان سے علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ کہلوا دیا۔ ”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا ياتون بمثله ولوكان بعضهم لبعض ظهيراً “ یعنی اے حبیب! علی الاعلان کہہ دیجئے کہ اگر جن اور انس اس پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن پاک کی مثل لائیں تو نہ لاسکیں گے۔ اگر چہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں اور یہ : قیامت تک کے لئے واضح ولائح طور پر قائم ہے۔ اعجاز ہائے عیسوی ان کی ذات کے ساتھ

١٥

صفحہ ٧٤

گئے۔ معجزات محمدی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ پھر کفار نے جب کوئی جدید معجزہ انبیاء سابقین کے معجزوں سے بڑھتا چڑھتا مانگا تو حضور ﷺ نے علی الفور دکھایا۔ جیسا کہ شق قمر جس کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے۔ ”اقتربت الساعة وانشق القمر وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر“ یعنی قریب ہو گئی قیامت اور شق ہو گیا چاند اور جب دیکھتے ہیں کوئی نشانی منہ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے پرانا۔ ”وکذبوا واتبعوا اهوائهم وكل امر مستقر“ اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پا چکا ہے۔ ہاں اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ کفار نے حضور ﷺ سے کوئی معجزہ طلب کیا اور حضور ﷺ دکھا نہیں سکے یا دکھانے میں اپنی معذوری ظاہر کی تو اگر آپ قرآن سے دکھائیں گے تو انشاء اللہ ہم قرآن سے اس کا جواب عرض کر دیں گے اور اگر آپ حدیث سے اڑائیں گے تو ہم احادیث سے جواب نذر کریں گے۔

عنایت نمبر ٩: قرآن کریم میں ذکر ہے کہ لوگ جو کچھ گھروں میں کھاتے یا رکھتے تھے۔ حضرت مسیح ان کو بتا دیتے تھے۔ یہ علم غیب کی صفت ہے۔ جس میں مسیح شریک ہے۔ ثابت ہوا کہ مسیح افضل ہے۔

شکریہ: جی ہاں! ”وانبئكم بما تأكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذالك لآية لكم “ میں یہی ذکر ہے۔ مگر افضلیت تو جب ثابت ہوتی۔ جب کہ مسیح تو یہ بتا دیتے اور حضور سید یوم النشور ﷺ نہ بتاتے۔ اب ذرا آپ سنبھل کر بیٹھئے اور گوش ہوش کے ساتھ مسموع فرمائیے اور سمجھئے کہ حضور ﷺ کی کیا شان علم ہے۔ مگر قبل اس کے کہ میں حضور ﷺ کی وسعت علم آپ کو دکھاؤں۔ یہاں پر عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ اس صورت میں بھی آپ کو آدمی بننا چاہئے تھا نہ کہ عیسائی۔ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو گھر میں جو لوگ کھاتے اسے بتا دیتے یا جو کچھ جمع کرتے وہ بتاتے اور آدم صفی علی نبینا و علیہ السلام کی شان میں ارشاد ہے۔ ”وعلم آدم الاسماء كلها ثم عرضهم على الملئكة فقال انبئونى باسماء هؤلاء ان كنتم صادقين “ ملائکہ کے مقابلہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ نے سکھائے تمام اشیاء کے نام۔ پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کیں اور کہا سچے ہو تو ان اشیاء کے نام بتاؤ تو عرض کرنے لگے۔ پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں۔ مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔ آگے ارشاد ہے ”قال يا آدم انبئهم باسمائهم فلما انبأهم باسمائهم قال الم اقل لكم انى اعلم “ فرمایا اے آدم تم بتا دو انہیں سب

١٦

اشیاء کے نام۔ جب آدم نے انہیں سب اور سمجھ لیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام اشیاء میں علیہ السلام سب کچھ اشیاء کو جانتے تھے تو آ آدمی بننا ضروری ہے۔ اب لیجئے وہ دلا ہیں۔ اگر چہ سب نہیں کہ رسالہ مختصر ہے۔ نے تو خود دعویٰ کیا۔ جس کا تذکرہ قرآن علم کے متعلق خود خدا جل وعلا قرآن پاک ومبشراً ونذيراً لتؤمنوا بالل واصيلاً ”یعنی بے شک اے حبیب ہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایما بیان کرو۔ دوسری جگہ فرمایا: ”يا ايها ا وداعياً الى الله باذنه وسراجاً ہم نے تجھے بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دینے والا آفتاب۔ شاہد شہود سے ہ ہے تو وہ بے شک شاہد ہیں اور جو شاہد دوسری جگہ فرمایا: ”وكذالك نرى الموقنين “ ایسے ہی ہم ابراہیم علی جس چیز کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سلطن ہے۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز تمام مملکت ابراہیم علیہ السلام کی زی روشن طریق پر واضح ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام دیکھے اشارہ کا مشار الیہ سوائے حضور سید ابراہیم کا یہی ہوا کہ ہم ایسے ہی کے دکھانے کی تشبیہ دی گئی۔ وہ م

صفحہ ٧٥

صاحبھا الصلوٰۃ والسلام اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں اور قیامت تک جب کوئی جدید معجزہ انبیاء سابقین کے معجزوں سے بڑھتا چڑھتا مانگا تو دکھایا۔ جیسا کہ شق قمر جس کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے۔ ”اقتربة قمر وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر“ یعنی شق ہو گیا چاند اور جب دیکھتے ہیں کوئی نشانی منہ پھیرتے ہیں اور کہتے ”وکذبوا واتبعوا اهوائهم وكل امر مستقر“ اور انہوں نے کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہے۔ ہاں اگر آپ یہ ثابت کردیں سے کوئی معجزہ طلب کیا اور حضور ﷺ دکھا نہیں سکے یا دکھانے میں اپنی یا قرآن سے دکھائیں گے تو انشاء اللہ ہم قرآن سے اس کا جواب عرض حدیث سے اڑائیں گے تو ہم احادیث سے جواب نذر کریں گے۔

: قرآن کریم میں ذکر ہے کہ لوگ جو کچھ گھروں میں کھاتے یا رکھتے تھے عیسیٰ علیہ السلام سب بتادیتے تھے۔ یہ علم غیب کی صفت ہے۔ جس میں سمع شریک ہے۔ ثابت وا!”وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان میں بھی ذکر ہے۔ مگر افضلیت تو جب ثابت ہوتی۔ جب کہ سمع تو یہ وہ نہ بتاتے۔ اب ذرا آپ سنبھل کر بیٹھئے اور گوش ہوش کے کہ حضور ﷺ کی کیا شان علم ہے۔ مگر قبل اس کے کہ میں حضور ﷺ کی یہاں پر عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ اس صورت میں بھی آپ کو آدمی ماننے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو گھر میں جو لوگ کھاتے اسے بتادیتے یا جو م صفی علی نبینا وعلیہ السلام کی شان میں ارشاد ہے۔ ”وعلم آدم ھم على الملئكة فقال انبئونى باسماء هؤلاء ان كنتم میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ نے سکھائے تمام اشیاء کے نام۔ پھر سب سچے ہو تو ان اشیاء کے نام بتاؤ تو عرض کرنے لگے۔ پاکی ہے تجھے نہیں سکھایا۔ آگے ارشاد ہے ”قال یا آدم انبئھم باسمائھم قال الم اقل لكم انی اعلم “فرمایا اے آدم تم بتا دو انہیں سب ١٦

اشیاء کے نام۔ جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے تو فرمایا ہم نہ کہتے تھے کہ ہم جانتے ہیں اور سمجھ لیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام اشیاء میں سے صرف کھانے اور جمع کرنے کا علم رکھتے تھے اور آدم علیہ السلام سب کچھ اشیاء کو جانتے تھے تو آدم افضل ہونے چاہئیں تو اس اصول کی بناء پر جناب کو آدمی بننا ضروری ہے۔ اب لیجئے وہ دلائل جو وسعت علم مصطفےٰ ﷺ کے لئے قرآن پاک میں ہیں ۔ اگرچہ سب نہیں کہ رسالہ مختصر ہے۔ لیکن مختصر میں مختصر عرض کرتا ہوں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو خود دعویٰ کیا۔ جس کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے اور یہاں حضرت سرور عالم ﷺ کی وسعت علم کے متعلق خود خدا جل وعلا قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ ”انا ارسلنک شاہداً ومبشراً ونذیراً لتؤمنوا بالله ورسوله وتعزروه وتوقروه وتسبحوه بكرة واصيلاً “ یعنی بے شک اے حبیب ہم نے تجھے بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی و ڈر سنانے والا۔ تاکہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔ دوسری جگہ فرمایا: ”یاایھا النبی انا ارسلنک شاهدا ومبشراً ونذیراً وداعياً الى الله باذنه وسراجاً منيراً“ یعنی اے غیب کی خبریں دینے والے نبی بے شک ہم نے تجھے بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا۔ ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔ شاہد شہود سے ہے اور شہود حضور ہے۔ شاہد مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ رویت ہے تو وہ بے شک شاہد ہیں اور جو شاہد ہے وہ بلا شک حاضر ہے اور جو حاضر ہے وہ یقیناً ناظر ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: ”وکذالك نری ابراهیم ملکوت السمٰوٰت والارض ولیکون من الموقنین“ ایسے ہی ہم ابراہیم علیہ السلام کو دکھاتے ہیں۔ اپنی ساری بادشاہی آسمان و زمین کی تو جس چیز کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی سلطنت سے خارج مانا جائے۔ وہی ابراہیم علیہ السلام سے غائب ہے۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز غائب نہیں اور نہ سلطنت ہی سے خارج ، تو آسمان و زمین کی تمام مملکت ابراہیم علیہ السلام کی زیر نظر ہوئی اور نری فرمانے اور ارینا نہ فرمانے میں خاص حکمت روشن طریق پر واضح ہے۔ اس لئے کہ ارینا میں انقطاع کا وہم ہے اور نری بقا اور تجدد پر دال۔ تو ثابت ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام دیکھتے تھے اور تمام سلطنت الہیہ دیکھتے رہیں گے۔ اب کذالک اسم اشارہ کا مشار الیہ سوائے حضور سید یوم النشور ﷺ کون ہوسکتا ہے۔ ترجمہ وکذالك نرى ابراهیم کا یہی ہوا کہ ہم ایسے ہی دکھاتے ہیں۔ ابراہیم کو ایسے ہی کیا معنی؟ وہ دوسرا کون ہے جس کے دکھانے کی تشبیہ دی گئی ۔ وہ مشبہ بہ یقیناً حضور سرور عالم سید اکرم ﷺ ہی ہیں۔ اس لئے کہ: ١٧

صفحہ ٧٦

”فكيف اذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بک علی هؤلاء شهیدا“ میں حضور ﷺ ہی تمام انبیاء کی تبلیغ حقہ کی شہادت میں روز قیامت بلائے جائیں گے۔ چنانچہ لفظی ترجمہ سے ظاہر ہے۔ یعنی کیسی ہو گی۔ جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ و نگہبان کر کے لائیں تو حضور ﷺ کو سب پر گواہ اس وقت تک لانا بیکار قرار پائے گا۔ جب تک کہ حضور ﷺ کو شاہد نہ مانا جائے اور شاہد اس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ جو مشاہدہ کرنے والا ہو۔ بنا برایں ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام فقط گھر میں جو کچھ کھایا جاتا تھا اسے بتا دیتے تھے اور جو وہ خزانہ جمع کرتے وہ بتا دیتے تھے۔ سرکار مدینہ سید الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء اپنی تشریف آوری سے پہلوں کا مشاہدہ بھی فرمارہے تھے اور تشریف لاکر سب کا مشاہدہ کیا۔ تشریف لے جاکر قیامت تک مشاہدہ کرتے رہیں گے۔ فرمائیے میاں اکرام ! کس کی وسعت علم زیادہ ہوئی اور سنئے حضور سید اکرم ﷺ کو وہ روشن کتاب ملی کہ جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے اور یہ امر تو نا قابل انکار ہے کہ جس پر کتاب آئی ہو وہ اس کے علم سے بے خبر ہو۔ مگر نہیں قرآن ہی فرماتا ہے۔ ”ان علینا جمعه وقرآنه“ اس کا پڑھانا جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے تو جس سے کتاب ملی اسی سے پڑھی اور اس کتاب کی شان یہ ہے کہ ”ونزلنا عليك الكتاب تبياناً لكل شئ“ یعنی اے حبیب ہم نے تم پر وہ کتاب نازل فرمائی۔ جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے۔ اس سے زیادہ اور فرمایا: ”ولا حبة فى ظلمات الارض ولا رطب ولا يابس الا فى كتاب مبين“ نہ کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں ہے نہ خشک وتر۔ مگر روشن کتاب میں ہے۔ یعنی قرآن کریم میں۔ پھر سورہ فتح میں ”ويتم نعمته عليك“ فرما کر مہر لگا دی کہ ہم نے اپنی تمام نعمتیں تم پر ختم کر دی ہیں اور ظاہر ہے کہ علم اور ہر قسم کا علم ...... نعمتوں میں سے ایک زبر دست نعمت ہے۔ لہٰذا جہاں انبیاء کو بقدر حاجت تھوڑا تھوڑا دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اتنا دیا کہ گھر کا خزانہ اور کھانے بتادیں۔ سرکار مدینہ ﷺ پر تمام خزانے ختم فرمادیئے۔ دوسری جگہ یہی فرمایا: ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دینا“ یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ پھر کہاں تک دلائل پیش کروں۔

کہیں ارشاد ہے ”وما هو على الغيب بضنين“ ہمارے حبیب غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ کہیں ارشاد ہوتا ہے۔ ”وعلمك مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك

١٨

صفحہ ٧٧

من كل امة بشهيد وجئنابک على ھؤلاء شهيداً" میں حضور ﷺ قبل شہادت میں روز قیامت بلائے جائیں گے۔ چنانچہ لفظی ترجمہ سے ظاہر جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ و نگہبان ﷺ کو سب پر گواہ اس وقت تک لانا بیکار قرار پائے گا۔ جب تک کہ جائے اور شاہد اس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ جو مشاہدہ کرنے والا ہو۔ بنا بر ایں لسلام فقط گھر میں جو کچھ کھایا جاتا تھا اسے بتا دیتے تھے اور جو وہ خزانہ جمع ۔ سرکار مدینہ سید الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء اپنی تشریف آوری سے پہلوں کا ے اور تشریف لا کر سب کا مشاہدہ کیا۔ تشریف لے جا کر قیامت تک مشاہدہ تایئے میاں اکرام! کس کی وسعت علم زیادہ ہوئی اور سنئے حضور سید ب ملی کہ جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے اور یہ امر تو نا قابل انکار ہے کہ س کے علم سے بے خبر ہو۔ مگر کہیں قرآن ہی فرماتا ہے۔ "ان علینا کا پڑھانا جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے تو جس سے کتاب ملی اسی سے پڑھی اور کہ "ونزلنا عليك الكتاب تبياناً لكل شئ" یعنی اے حبیب ل فرمائی۔ جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے۔ اس سے زیادہ اور فرمایا: الارض ولا رطب ولا يابس الا في كتاب مبين" نہ کوئی دانہ نہ خشک و تر۔ مگر روشن کتاب میں ہے۔ یعنی قرآن کریم میں۔ پھر سورہ عليك" فرما کر مہر لگا دی کہ ہم نے اپنی تمام نعمتیں تم پر ختم کر دی ہیں اور ۔۔۔۔۔ نعمتوں میں سے ایک زبردست نعمت ہے۔ لہٰذا جہاں انبیاء کو بقدر نا علیہ السلام کو بھی اتنا دیا کہ گھر کا خزانہ اور کھانے بتا دیں۔ سرکار رما دیئے۔ دوسری جگہ یہی فرمایا: "اليوم اكملت لکم دینکم ورضيت لكم الاسلام دينا" یعنی آج میں نے تمہارے لئے پنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ پھر کہاں وما هو على الغيب بضنين" ہمارے حبیب غیب بتانے ہے" وعلمك مالم تكن تعلم وكان فضل الله عليك

١٨

عظيماً" اے حبیب ہم نے سکھا دیا۔ کچھ آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا زبردست فضل ہے اور لیجئے صاف اللہ جل وعلا کا ارشاد ہے۔ "الذين يتبعون الرسول النبي الامي الذي يجدونه مكتوباً عندهم في التورات والانجيل يامرهم بالمعروف وينههم عن المنكر ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث ويضع عنهم اصرهم والاغلل التي كانت عليهم" یعنی وہ جو غلامی کریں گے اس رسول امی کی۔ جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان پر حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں انہیں حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتارے گا۔ دیکھا آپ نے یہ شان اس ہی نبی امی کی ملے گی۔ عیسائیوں کے پھندے بھی اس پاک ہستی نے کھولے۔ ورنہ عیسیٰ علیہ السلام پر بھی نہ معلوم کیا کیا الزامات کے پھندے لگادیئے گئے تھے۔ بقدر ضرورت اس عجالہ میں اس مختصر پر کفایت کرتا ہوں۔ اب اگر تحقیق حق فی الواقع منظور ہے تو اصالتاً تشریف لائیں اور نہایت آزادانہ طریق سے جو شبہات ہوں فرمائیں اور سمجھ کر جائیں اور اشتہار بازی سے باز آئیں کہ حقیقتاً یہ طریقہ سمجھنے کا مفید نہیں۔ اس لئے کہ جواب دینے والا ہر ایک یکساں مزاج نہیں رکھتا۔ کوئی غصہ میں لکھے گا۔ کوئی الزامی جوابات دے کر ٹال دے گا۔ کوئی تحقیق حق سے دور ہو کر بے نقط سنانے پر اتر آئے گا۔ جب آپ سامنے ہوں گے ٹھنڈے دل سے باتیں ہوں گی اور یقین ہے کہ انشاء اللہ آپ کی تشفی کے قابل جواب حاضر کئے جائیں گے۔ آئندہ آپ کی مرضی۔

عنایت نمبر ١٠: قرآن مجید میں تمام انبیاء کے گناہوں کا ذکر ہے۔ خصوصاً حضرت محمد ﷺ کی بابت یہی حکم ہے۔ " واستغفر لذنبك" اور "ووجدك ضالاً فھدٰی" مگر مسیح کی بابت گناہ کا کوئی ذکر نہیں۔ ثابت ہوا کہ مسیح افضل ہے۔

شکریہ: یہاں تو آپ بہت ہی دھوکہ میں پڑ گئے ہیں اور بوجہ کم علمی آپ محاورہ عربی تک کا عبور نہ کرسکے۔ یا بالفاظ دیگر آپ کی خوش اعتقادی کا بھاؤ آپ کو ادھر بہا لے گیا۔ جناب من قرآن کریم نے تو کسی نبی کو بھی گنہگار نہیں کہا اور نہ ہی گنہگار ہو سکتا ہے۔ اسلام کا تو عقیدہ ہی یہ ہے کہ ہر نبی خواہ عیسیٰ ہوں یا موسیٰ، آدم ہوں یا یحییٰ معصوم عن العصیان ہیں۔ اب رہے وہ تذکرے جن سے آپ دھوکہ میں پڑے۔ ان میں کہیں گناہ کا ذکر نہیں۔ "ولقد عهدنا الى آدم من قبل فنسى ولم يجدله عزما فعصى آدم "کے معنی ہی نسیان کے کردیئے۔

١٩

صفحہ ٧٨

اسی طرح جتنے انبیاء کے متعلق تذکرے ہیں۔ ان کی صفائی خود قرآن پاک نے فرمائی ہے۔ چونکہ یہاں اس کا تفصیلی تذکرہ بحث کی ضرورت سے زائد ہے۔ اس لئے اسے کسی دوسرے موقعہ پر عرض کروں گا۔ اب تو مابہ النزاع ”واستغفر لذنبك“ اور ”ووجدك ضالا“ والی آیتیں ہیں۔ لہٰذا ان کا جواب عرض ہے۔ میاں اکرام ! اعتراض سے متاثر ہوتے وقت آپ کو اصطلاحات پر بھی عبور کر لینا تھا۔ مگر افسوس کہ آپ نے یکطرفہ فیصلہ سن کر اثر قبول کر لیا۔ قرآن کریم میں بہت سے مواقع ہیں۔ جہاں مخاطب حضور سید لولاک ﷺ ہیں اور مقصود دوسرے عوام کو حکم پہنچانا ہے۔ چنانچہ مثال کے لئے چند عرض کرتا ہوں۔ ”يا ايها النبى اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن واحصوا العدة“ یعنی اے محبوب ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ ”واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن“ اور اپنے رب سے ڈرو۔ اپنی عورتیں اپنے گھروں سے نہ نکالو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”يا ايها النبى اتق الله ولا تطع الكافرين والمنافقین“ یعنی اے محبوب اللہ کا خوف رکھو اور کافروں اور منافقوں کی نہ سنو۔ علاوہ اس کے اور بہت سی مثالیں ہیں جو بخوف طوالت نہیں لکھی گئیں۔ اسی طرح ”استغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات“ کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (اس لئے کہ آپ کی سفارش ہمارے ہاں خصوصیت سے مقبول ہے) جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں۔ ”فاستغفر الله واستغفر لهم الرسول“ قطع نظر اس کے ہمارے یہاں مفسرین بھی قریب قریب یہی بتا رہے ہیں۔ چنانچہ صاحب معالم فرماتے ہیں۔ ”امر بالاستغفار مع انه مغفور له ليستن به امته“ یعنی حکم استغفار بظاہر حضور ﷺ کو ہوا حالانکہ حضور مغفور و معصوم ہیں۔ یہ اس لئے کہ امت کو تعلیم مل جائے اور سنت محبوب بن جائے۔ صاحب تفسیر کبیر علامہ فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ ”ان المراد توفيق العمل الحسن واجتناب العمل السيئ ووجه ان الاستغفار طلب الغفران والغفران هو الستر على القبيح ومن عصم فقد ستر عليه قبائح الهوى“ یعنی اس سے مراد توفیق عمل حسن اور اجتناب عمل مذموم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استغفار طلب غفران ہے اور غفران قبائح سے مستور ہونے کو کہتے ہیں اور جو معصوم ہوا وہ یقینا مستور عن القبائح ہو گیا۔

٢٠

اور اگر آپ گرائمر جانتے تو اس سے اس آیت کا مفہوم بالکل ہی واضح ہو جاتا۔ ضیافت علمی کے خیال سے ہم آپ کو بتا دیتے ہیں ”وللمؤمنين والمؤمنات“ کی ترکیب نحوی یہ ہے کہ واؤ عاطفہ ۔ استغفر فعل امر حاضر ، انت ضمیر اس میں مستتر فاعل ۔ ”لذنبك“ میں ل حرف جار ، ذنب مضاف ، ک ضمیر مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا ل حرف جار کا ۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعل استغفر کے ۔ واؤ حرف عطف ، ل حرف جار ، المؤمنين معطوف علیہ ، و حرف عطف ، المؤمنات معطوف ۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مجرور ہوا ل حرف جار کا ۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعل استغفر کے ۔ فعل اپنے فاعل اور دونوں متعلقوں سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا ۔ اس ترکیب نحوی کے اعتبار سے بتائیے کہ اس میں عام مسلمانوں کی تخصیص کہاں ہے ؟ اور یہ معنی کہاں سے لئے گئے ہیں کہ آپ کی سفارش خصوصیت سے مقبول ہے ؟ اب رہا ضال کا استعمال ، سمجھ لیجئے ، تا کہ آپ کو حقیقت حال معلوم ہو جائے ۔ ضال اسم فاعل ہے جو ضل سے مشتق ہے ۔ اس کے معنی راستہ بھول جانے کے ہیں ۔ چنانچہ محاورہ میں کہا جاتا ہے ”ضللنا من وجوه كثيرة“

صفحہ ٧٨

کے متعلق تذکرے ہیں۔ ان کی صفائی خود قرآن پاک نے فرمائی ہے۔ یہ تذکرہ بحث کی ضرورت سے زائد ہے۔ اس لئے اسے کسی دوسرے موقع پر ۔ بوجہ النزاع ”واستغفر لذنبك “اور ”ووجدك ضالاً “ والی آیات کا جواب عرض ہے۔ میاں اکرام! اعتراض سے متاثر ہوتے وقت آپ کو سوچ لینا تھا۔ مگر افسوس کہ آپ نے یکطرفہ فیصلہ سن کر اثر قبول کر لیا۔ قرآن قاطع ہے۔ جہاں مخاطب حضور سید الیوم النشور ﷺ ہیں اور مقصود دوسرے

چنانچہ مثال کے لئے چند عرض کرتا ہوں۔ ”يا ايها النبى اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن واحصوا العدة “ یعنی اے محبوب! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ ”واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن “ اور اپنے رب سے ڈرو۔ اپنی عورتیں اپنے گھروں سے نہ نکالو، ” ولا يخرجن الخ “ ” يا ايها النبى اتق الله ولا تطع الكافرين والمنافقين “ اے محبوب! اللہ کا خوف رکھو اور کافروں اور منافقوں کی نہ سنو۔ علاوہ اس کے اور بھی بہت سی آیات ہیں جو بخوف طوالت نہیں لکھی گئیں۔ اسی طرح ” واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات “ کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی معافی مانگو (اس لئے کہ آپ کی سفارش ہمارے ہاں خصوصیت سے مقبول ہے) چنانچہ ہم اول ذکر کر آئے ہیں۔ ” فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول “ کے ہمارے یہاں مفسرین بھی قریب قریب یہی بتا رہے ہیں۔ چنانچہ

” امر بالاستغفار مع انه مغفور له ليستن به امته “

کہ باوجودیکہ حضور مغفور و معصوم ہیں۔ یہ اس لئے کہ امت کو تعلیم دی جائے۔ صاحب تفسیر کبیر علامہ فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ ” فالطاعة انما هي بسبق العمل الحسن واجتناب العمل السيء ووجه ان الامر بالاستغفار مع انه سبق غفران والغفران هو الستر على القبيح ومن عصم فقد غفر له ما كان يقع لولا العصمة “ یعنی اس سے مراد توفیق عمل حسن اور اجتناب عمل مذموم ہے۔ اس لئے غفران ہے اور غفران قبائح سے مستور ہونے کو کہتے ہیں اور جو معصوم ہے اس کے لئے صدور قبائح ممتنع ہو گیا۔

٢٠

٧٩

اور اگر آپ گرائمر جانتے تو ان جھگڑوں میں ہی نہ پڑتے۔ اس لئے کہ اس کے قاعدہ سے اس آیت کا مفہوم بالکل ہی ہمارے مذکورہ ترجمہ کے موافق ہوتا ہے اور حسب موقعہ آپ کی ضیافت علمی کے خیال سے ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔ ” واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات “ اس کی ترکیب نحوی یہ ہوتی ہے۔

واؤ عاطفہ، استغفر امر حاضر معروف فعل با فاعل ۔

(لذنبك) میں ل ، جار ، ذنب مضاف، خواص مضاف الیہ مضاف محذوف، ک ، مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ سے مل کر مضاف الیہ (ذنب) مضاف کا ہوا۔ پھر مضاف مضاف الیہ سے مل کر مجرور، ل ، جار کا ہوا۔ جار مجرور مل کر معطوف علیہ ہوا۔ اب وللمؤمنین کو لیجئے۔

واؤ حرف عطف ، ل ، جار ، مؤمنین معطوف علیہ ۔ والمؤمنات ، واؤ عطف ، مؤمنات معطوف ، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مجرور ہوا جار کا۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوا فعل امر استغفر کا۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔

اس ترکیب نحوی کے اعتبار سے وہی معنی صحیح بنتے ہیں جو ہم لکھ آئے ہیں اور ان معنی کے اعتبار سے آپ کے حقائق قرآن کا اعتراض ہی محض لایعنی ہو جاتا ہے اور مزید اطمینان کے لئے آپ کی بائبل، اے توبہ، عیسائیوں کی بائبل سے بھی نظیر پیش کئے دیتے ہیں۔ تاکہ آپ اچھی طرح سمجھ سکیں کہ نبی کو مخاطب کر کے قوم مراد لینا پرانا طریقہ ہے۔ چنانچہ بائبل میں ہے۔ اے اسرائیل سن، استثناء ٤ / ١٦ اس سے مراد قوم ہے۔ نہ کہ خود اسرائیل مختصراً جواب عرض کر دیا ہے اور تفصیل کی حاجت ہو تو پھر عرض کروں گا کہ تشریف لے آئیں اور سمجھ جائیں۔ اشتہار بازی محض بازی ہے۔ اس سے اجتناب فرمائیں۔ اب رہا ”ووجدك ضالاً فهدى “ اس کے متعلق پہلے آپ لفظ ضال کا استعمال سمجھ لیجئے۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ ضال کے جو معنی سمجھتے ہیں وہ غلط ہیں ۔ یہ ضل سے ہے اور ضلال کے معنی عدول عن الطريق المستقيم کے ہیں اور جس جگہ یہ معنی لئے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل مثال سے آپ سمجھ سکیں گے ۔ ” من اهتدى فانما يهتدى لنفسه ومن ضل فانما يضل عليها “ یعنی جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے راہ پر آیا اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا اور ضلال عدول عن الحق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ عام اس سے کہ عمداً ہو یا سہواً کم ہو یا زیادہ۔ چنانچہ محاورہ میں کہتے ہیں ۔ ” كوننا مصيبين من وجه وكوننا ضالين من وجوه كثيرة “ اور کبھی لفظ ضلال محض خطا کے معنی میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ

٢١

صفحہ ٨٠

نسبت ضلال انبیاء کی طرف بھی کی گئی اور کفار کی طرف بھی اور بمعنی استغراق فی المحبت بھی اور اس میں بون بعید ہے۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ ان کے بیٹوں نے کہا۔ ”انک لفی ضلالک القدیم ، ان ابانا لفی ضلال مبین“ یعنی آپ اپنی پرانی محبت میں ہیں اور بے شک ہمارے باپ شفقت یوسف میں کھلم کھلا ہیں۔ محض سہو کے معنی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ ”فعلتہا اذا وانا من الضالین“ میں نے وہ کام کیا ایسے حال میں کہ مجھے اس کے راہ کی خبر نہ تھی اور ”ان تضل احداہما فتذکر احدہما الاخری“ یعنی کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلائے اور ”ووجدک ضالاً فہدیٰ“ میں بھی یہی معنی بنتے ہیں کہ اے حبیب ! ہم نے تمہیں اپنی محبت میں از خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ اس لئے کہ ضلال بمعنی شفقت بھی آتا ہے اور بمعنی عدول عن الحق بھی اور عدول عن طریق المستقیم بھی۔ پھر حسب موقعہ سیاق کلام سے اس کے معنی ارباب زبان سمجھتے ہیں۔ آپ نے بے سوچے سمجھے یوں ہی معنی گھڑ لئے۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل آیات میں بھی علیحدہ علیحدہ معنی مراد ہیں۔ جو آپ کی ضیافت علمی کے خیال سے نذر ہیں۔ ”یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا وما یضل بہ الا الفاسقون“ اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے وہی گمراہ ہوتے ہیں جو بے حکم ہیں۔ ”فہمت طائفة منہم ان یضلوک وما یضلون الا انفسہم“ تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں دھوکہ دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں۔ ”ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر فقد ضل ضلالا بعیداً“ اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔ ”وما دعاء الکافرین الا فی ضلال“ اور کافروں کی دعاء بھٹکتی پھرتی ہے۔ ”وقالوا اذا ضللنا فی الارض“ اور بولے جب ہم مٹی میں رل جائیں گے۔ ”الم یجعل کیدہم فی تضلیل وارسل علیہم طیراً ابابیل“ یعنی کیا نہ کر دیا ان کا مکر ہم نے باطل تو اب سمجھ لیجئے کہ ضلال، ضال، مضل کے معنی حسب موقعہ، باطل ہونے، مٹی میں ملنے، شفقت پدری کرنے، محبت و طلب میں از خود رفتہ ہونے، سہو کرنے، گمراہ ہونے، غفلت میں پڑنے، اپنے منصب سے بے خبر ہونے وغیرہ وغیرہ کے آتے ہیں۔ تو آپ نے گمراہ کے معنی کی تخصیص کس دلیل سے کر لی۔ ذرا انصاف بھی تو کیا کیجئے۔ محض مذہبی طرفداری میں اندھا دھند لکھ مارنا انصاف کے خلاف ہے۔ واللہ الہادی!

٢٢

صفحہ ٨١

ف بھی کی گئی اور کفار کی طرف بھی اور بمعنی استغراق فی المحبت بھی اور اس رچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ ان کے بیٹوں نے کہا۔ قديم . ان ابانا لفی ضلال مبین “ یعنی آپ اپنی پرانی محبت میں باپ شفقت یوسف میں کھلم کھلا ہیں۔ محض سہو کے معنی میں حضرت موسیٰ فعلتها اذا وانا من الضالین “ میں نے وہ کام کیا ایسے حال میں کہ اور ” ان تضل احداهما فتذكر احدهما الاخریٰ “ یعنی کہیں تو اس کو دوسری یاد دلائے اور ” و وجدک ضالاً فھدی “ میں بھی یہی ب! ہم نے تمہیں اپنی محبت میں از خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔ اس بھی آتا ہے اور بمعنی عدول عن المنہج بھی اور عدول عن طریق المستقیم کلام سے اس کے معنی ارباب زبان سمجھتے ہیں۔ آپ نے بے سوچے ۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل آیات میں بھی علیحدہ علیحدہ معنی مراد ہیں۔ جو ال سے عذر ہیں۔ ” يضل به كثيرا ويهدى به كثيرا وما ن “ اللہ بہیتروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہیتروں کو ہدایت فرماتا ہے ہیں جو بے علم ہیں۔ ” لھمت طائفة منهم ان يضلوك وما تو ان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں دھوکہ دیں اور وہ اپنے ہی من یکفر بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ۔ جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو پڑا۔ ” وما دعاء الكافرين الا في ضلال “ اور کافروں کی دعاء سوا اذا ضللنا فى الارض “ اور بولے جب ہم مٹی میں مل كيدهم في تضليل وارسل عليهم طيراً ابابیل “ یعنی کیا نہ ں تو اب سمجھ لیجئے کہ ضلال، ضال، ضل کے معنی حسب موقعہ، باطل ت پوری کرنے، محبت و طلب میں از خود رفتہ ہونے، سہو کرنے، گمراہ پنے منصب سے بے خبر ہونے وغیرہ وغیرہ کے آتے ہیں۔ تو آپ ں دلیل سے کر لی۔ ذرا انصاف بھی تو کیا کیجئے۔ محض مذہبی طرفداری ب کے خلاف ہے۔ واللہ الھادی!

٢٢

عنایت نمبر ١١: حضرت سرور عالم ﷺ عرصہ ہوا فوت ہو گئے اور مسیح ابھی تک زندہ ہے اور قرآن کہتا ہے۔ زندہ مردہ برابر نہیں۔

شکریہ: اس کا جواب ہم اوّل نمبر ٦ میں دے آئے ہیں۔ بلکہ عنایت نمبر ١١ حقیقتاً محض عنایت ہے کہ تعداد سوال بڑھ جائے۔ مگر میاں اکرام نے اس کا نمبر علیحدہ گنا ہے تو ہمیں بھی ان کی خاطر سے اس نمبر کا جواب بھی نمبری ہی دینا چاہئے۔ جان عزیز! آپ ” ومــــــا يستــــــوى الاحـيــــــاء ولا الامــوات “ سے یہ تو اعتراض جڑ بیٹھے۔ مگر یہ بھی سوچا کس چیز میں برابر نہیں۔ باعتبار دنیا برابر نہیں یا روحانیات میں یا فضیلت وافضلیت میں اور اگر بزعم سامی ایسا ہی ہے تو سنبھل کر بتائیے کہ بموجب عقائد عیسویت حضرت مسیح جب مر کر تین روز قبر میں پڑے رہے تھے (معاذ اللہ ) اس وقت ان کے شاگرد جو زندہ تھے وہ حضرت مسیح سے افضل تھے یا نہیں۔ اگر میرا خیال غلطی نہیں کرتا تو یقیناً عیسائی یہی کہیں گے کہ شاگرد افضل نہیں تھے۔ تو کہئے پھر یہ اعتراض کس جگہ رکھا جائے۔ ذرا ہوش سے بات کیا کیجئے۔ (نوٹ! یہ نمبر ہم ١٩١٤ء کے مطبوعہ اشتہار سے لے رہے ہیں اور میاں کی کھلی چٹھی میں یہ نمبر ١٣ ہے)

عنایت نمبر ١٢: از روئے مسلمات اسلام قریب قیامت مسیح، بنی آدم کی رہبری کے لئے آئیں گے۔ جب اوّل آخر مسیح ہادی ٹھہرا تو ثابت ہوا۔ مسیح افضل ہے۔

شکریہ : آپ کا اعتراض تو ہم نے سن لیا۔ مگر یہاں آپ پر اعتراض آتا ہے وہ یہ کہ آپ تو قرآن کے سوا احادیث کو مانتے نہ تھے۔ پھر یہاں احادیث کو مسلمات اسلام قرار دے کر کیوں سامنے آئے اور جب آئے تھے تو انہیں مسلمات کو بغور پڑھ لیا ہوتا۔ آپ کو انہیں میں یہ بھی مل جاتا کہ مسیح کس حیثیت سے آئیں گے اور کن احکام محمد رسول اللہ ﷺ کی تعمیل کریں گے اور وہ مستقل رسول بن کر آئیں گے یا بہ حیثیت محکوم۔

جناب من! اصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضور کے ان احکام کی زمانہ اخیر میں آکر تعمیل کریں۔ جو چودہ سو برس قبل حضور ﷺ صادر فرما گئے ہیں۔ حتیٰ کہ امامت بھی وہ نہ کریں۔ بلکہ سرور عالم ﷺ کے امتی امام مہدی علیہ الرحمۃ والرضوان کی اقتداء میں نماز پڑھیں۔ با آنکہ حضرت مہدی ان کے مرتبہ رسالت سابقہ کا وقار کرتے ہوئے انہیں امامت کے لئے کہیں۔ مگر حضرت مسیح فرمادیں۔ نہیں حضور سید یوم النشور ﷺ کا ارشاد ہے۔ ” امامکم منکم تکرمة لهذه الامة “ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ یہ اکرام واعزاز ہے اس .....

صفحہ ٨٢

امت کے لئے۔ اب وہ حدیث بھی سن لیجئے۔ جسے آپ مسلمات اسلام کے نام سے فرما رہے ہیں۔ وهو هذا١ ” مسلم شریف، مطبوعہ مصر، جزء ثانی، کتاب الفتن میں حضرت نواس ابن سمعانؓ کلابی سے مروی ہے۔ ذکر رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة فخفض ورفع حتی ظنناه فى طائفة النخل فلما رحنا اليه عرف ذالك فينا فقال ماشأنكم . قلنا يا رسول الله ذكرت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه فى طائفة النخل فقال غير الدجال أخوفنى عليكم ان يخرج و أنا فيكم فأنا حجيجه دونكم ان يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافئة كأنى اشبه بعبد العزى بن قطن فمن أدرك منكم فليقراء عليه فواتح سورة الكهف انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كأيامكم قلنا يا رسول الله فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلاة يوم قال لا اقدروا له قدره فقلنا يا رسول الله ما اسراعه في الارض قال كا لغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيومنون به ويستجيبون له فيأمر السمأ فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعا وأمده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها أخرجى كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله“ یعنی ایک روز صبح کے وقت

٢٤

صفحہ ٨٣

وہ حدیث بھی سن لیجئے۔ جسے آپ مسلمات اسلام کے نام سے فرما رہے (مطبوعہ مصر، جزء ثانی، کتاب الفتن میں حضرت نواس ابن سمعان کلابی رسول الله ﷺ الدجال ذات غداة فخفض ورفع حتى النخل فلما رحنا اليه عرف ذالك فينا فقال ماشأنكم . قلنا رت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه فى فقال غير الدجال أخوفنى عليكم ان يخرج و أنا فيكم فأنا يخرج ولست وفيكم فأمر حجيج نفسه والله حليفتي على ب قطط عينه عنبة طافئة كأنى اشبه بعبد العزى بن قطن ليقراء عليه فواتح سورة الكهف انه خارج خلة بين الشام ينا وعاث شمالا ياعباد الله فاثبتوا قلنا يارسول الله وما اربعون يوم يوماً كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر يارسول الله فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلاة له قدره فقلنا يارسول الله ما اسراعه في الارض قال كا الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيومنون به مر السما فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم واسبغه ضروعا و آمده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم ينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من بة فيقول لها أخرجى كنوزك فتتبعه كنوزها كيعا سيب لا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذالك اذ بعث يم فينزل عند المنارة البيضاء الشرقى دمشق بين كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر واذا رفعه لؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى لبه حتى يدركه بباب لد فيقتله“ یعنی ایک روز صبح کے وقت ٢٤

رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر اس جوش سے بیان فرمایا کہ ہم نے سمجھ لیا کہ دجال مدینے کی کھجوروں میں آ پہنچا ہے ۔ جب شام کو خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے ہمارے چہرے پر آثار پائے ۔ فرمایا تمہارا کیا حال ہے ۔ ہم نے عرض کیا ۔ حضور ﷺ نے دجال کا ذکر ایسی اونچ نیچ سے بیان فرمایا کہ ہم کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ مدینہ کی کھجوروں میں ہی آ پہنچا۔ فرمایا: علاوہ دجال کے اور بہت سے فتنوں کا مجھے تمہارے لئے خوف ہے ۔ وہ تو اگر میرے سامنے آ گیا تو میں تمہارا ناصر و مددگار ہوں اور اگر میرے بعد آیا تو ہر شخص اپنے نفس کی حفاظت کرنے والا ہے اور میری طرف سے ہر مسلمان کا اللہ محافظ ہے ۔ وہ یعنی دجال جوان اور گٹھے ہوئے بدن کا ہے۔ ایک آنکھ اس کی باہر اٹھی ہو گی ۔ مثل عنبہ کے، میں اس کی تشبیہ عبد العزیٰ بن قطن یہودی سے دے سکتا ہوں ۔ جو شخص تم میں سے اس کو پاوے اس سے محفوظ رہنے کے لئے سورۂ کہف کی ابتدائی آیات اس پر پڑھے ۔ وہ شام وعراق کے درمیانی راستہ سے نکلے گا اور گردونواح میں فساد پھیلانے کا ارادہ کرے گا۔ اے خدا کے بندو! اس وقت ثابت قدم رہنا ہم نے عرض کی حضور وہ زمین پر کتنے دن ٹھہرے گا۔ فرمایا چالیس دن ۔ پہلا دن ایک برس کے برابر ہوگا۔ دوسرا دن ایک مہینہ کا، تیسرا دن ہفتہ بھر کا باقی ایام مثل معمولی دنوں کے ہوں گے ۔ ہم نے عرض کی حضور ﷺ! وہ دن جو ایک برس کا ہوگا یا مہینہ اور ہفتہ کا اس میں ہم کو پانچوں وقت کی نمازیں ہی کافی ہوں گی۔ فرمایا نہیں اندازہ کر کے برس دن کی نمازیں پڑھنا۔ (اور ایسی ہی مہینہ اور ہفتہ میں ) ہم نے عرض کی حضور ﷺ وہ چالیس دن میں تمام زمین پر کیسے پھر جائے گا۔ فرمایا جیسے ابر ہوا کے ساتھ دنیا میں پھر جاتا ہے ۔ پھر وہ ایک قوم پر آ کر اپنی خدائی کی دعوت دے گا ۔ وہ قوم اس پر ایمان لے آئے گی ۔ پھر وہ آسمان کو جب حکم بارش دے گا تو اتنا مینہ برسے گا کہ زمین سرسبز ہو جائے گی اور اس قوم کے مویشی خوب موٹے تازے ہوکر دودھ سے تھن بھرے واپس آئیں گے ۔ پھر وہ ایک دوسری قوم پر آ کر اپنی خدائی کی دعوت دے گا ۔ وہ اس کی دعوت کو رد کریں گے ۔ ان کے پاس جو کچھ رہا سہا ہوگا ۔ سب نیست و نابود ہو جائے گا۔ پھر دجال جنگل میں جا کر زمین کے خزانوں کو باہر نکلنے کا حکم دے گا تو بہت سے خزانے اس کے پیچھے اس طرح ہو جائیں گے جیسے یعسوب شہد کی مکھیوں کی بادشاہ کے پیچھے مکھیاں لگی رہتی ہیں۔ پھر وہ ایک جوان کو بلا کر تلوار سے قتل کرے گا اور دونوں ٹکڑے ایک تیر کے نشانہ کے انداز پر علیحدہ علیحدہ پھینک کر بلائے گا۔ وہ زندہ ہوکر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ واپس آئے گا۔ اس وقت میں اچانک اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو دنیا میں بھیجے گا اور وہ سفید منارہ مشرقی ٢٥

صفحہ ٨٤

دمشق پر دو عصا بغل میں لگائے دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہتھیلی رکھے اس طرح اتریں گے کہ جب آپ سر نیچا کریں بالوں سے پانی ٹپکے اور جب سر اونچا کریں موتیوں کی طرح قطرے گریں۔ اس وقت جس کافر کو ان کے سانس کی ہوا پہنچے گی۔ ہلاک ہوگا اور آپ کا سانس منتہائے نظر تک پہنچے گا۔ جب دجال کو آپ کی خبر پہنچے گی وہ بھاگے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو باب اللد پر جا قتل کریں گے۔ الیٰ الآخرہ!

اس حدیث میں طول زمان کے تذکرہ پر مرزائی صاحبان تاویل کرتے ہیں کہ دن سال بھر کے برابر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ سال بھر کا کام ایک دن میں ہونے لگے۔ مگر اس حدیث میں واضح طور پر نمازوں کو معمولی دنوں کے حساب پر پڑھنے کی ہدایت نے یہ تاویل پادر ہوا کر دی ہے۔ دوسرے عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا نقشہ اس شان سے کھینچا ہے کہ کسی قسم کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اور چند احادیث بتاتا ہوں۔ جس سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول محض ان خدمات کے لئے ہوگا۔ جس کا حکم حضور سید یوم النشور ﷺ فرما گئے ہیں۔ پھر اگر حاکم اعلیٰ کسی خدمت کو اپنے ماتحت کے سپرد کر جائے تو عقلاء میں اس ماتحت کو حاکم اعلیٰ سے افضل نہیں مانا کرتے۔ لہٰذا آپ ہی تعقل سے کام لے کر اپنی ضمیر سے فیصلہ کریں کہ آپ نے کیا اعتراض پیش کیا ہے۔

مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم قریب ہے کہ تم میں ابن مریم نازل ہوں گے۔ بہ حیثیت حاکم عادل اور وہ صلیب توڑیں گے اور سؤر کے قتل کا حکم فرمائیں گے اور جزیہ موقوف کر کے اسلام کی دعوت دیں گے اور مال بکثرت ہوگا۔ حتیٰ کہ خیرات لینے والا نہ ملے گا اور (رغبت الی اللہ سے) ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا اگر قرآن سے سند چاہو تو پڑھو۔ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ (متفق علیہ) یعنی کوئی اہل کتاب نہیں۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان قبول کر لیں گے۔ اصل حدیث یہ ہے۔ ”قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد حتیٰ تکون السجدة الواحدة خیراً من الدنیا وما فیہا . ثم یقول ابوہریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن

٢٦

صفحہ ٨٥

ائے دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہتھیلی رکھے اس طرح اتریں گے کہ جب سے پانی ٹپکے اور جب سر اونچا کریں موتیوں کی طرح قطرے گریں۔ اس انس کی ہوا پہنچے گی۔ ہلاک ہوگا اور آپ کا سانس منتہائے نظر تک پہنچے خبر پہنچے گی وہ بھاگے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو باب ی الآخرہ!

طول زمان کے تذکرہ پر مرزائی صاحبان تاویل کرتے ہیں کہ دن سال معنی ہیں کہ سال بھر کا کام ایک دن میں ہونے لگے۔ مگر اس حدیث میں دنوں کے حساب پر پڑھنے کی ہدایت نے یہ تاویل پادر ہوا کر دی ہے۔ شریف آوری کا نقشہ اس شان سے کھینچا ہے کہ کسی قسم کی گنجائش ہی نہیں احادیث بتاتا ہوں۔ جس سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا لئے ہوگا۔ جس کا حکم حضور سید یوم النشور ﷺ فرما گئے ہیں۔ پھر اگر ماتحت کے سپرد کر جائے تو عقلاء میں اس ماتحت کو حاکم اعلیٰ سے افضل ہی عقل سے کام لے کر اپنی ضمیر سے فیصلہ کریں کہ آپ نے کیا

ب نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں۔ فرمایا خدا کی قسم قریب ہے کہ تم میں ابن مریم نازل ہوں گے۔ یہ ب توڑیں گے اور سؤر کے قتل کا حکم فرمائیں گے اور جزیہ موقوف کر اور مال بکثرت ہوگا۔ حتیٰ کہ خیرات لینے والا نہ ملے گا اور (رغبت الی ہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا اگر قرآن سے سند ل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ (متفق علیہ ) یعنی کوئی السلام کی موت سے پہلے ایمان قبول کرلیں گے۔ اصل حدیث یہ ﷺ والذی نفسی بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن كسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض حد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا هريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن

٢٦

به قبل موته“ اور دوسری روایت بخاری مسلم میں ہے۔ ”كيف انتم اذا انزل ابن مریم فيكم وامامكم منكم“ یعنی کیا حال ہوگا تمہارا جب نازل ہوں گے ابن مریم تم میں اور تمہارا امام تم میں سے ہو اور جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہمیشہ میری امت سے ایک جماعت ہوگی۔ حق پر مقاتلہ کرتی اور غالب رہتی قیامت تک فرمایا۔ پھر نازل ہوں گے تم میں عیسیٰ ابن مریم پھر اس جماعت حقہ کا امیر کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ نہیں تمہارا بعض تمہارے کا امیر ہے۔ یہ اعزاز دیا ہے۔ اللہ جل علا نے اس امت کو۔ لفظ حدیث یہ ہیں: ”لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيمة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة . رواه مسلم“ اب تو میرا خیال ہے کہ میاں اکرام کا اطمینان ہو گیا ہوگا اور سمجھ گئے ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس شان سے آئیں گے اور مسلمات اسلام سے ہیں۔ حاشیہ نووی یہی ہے۔ چنانچہ اس میں علامہ امام نووی فرماتے ہیں۔ امام قاضی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور آپ کا دجال کو قتل کرنا اہل سنت و جماعت کے نزدیک حق و صحیح ہے۔ اس لئے کہ اس بارہ میں بکثرت احادیث صحیح وارد ہیں اور جب اس کے ابطال پر کوئی دلیل عقلی و نقلی موجود نہیں تو اثبات اس کا واجب ہوا۔ بعض معتزلہ اور جہمیہ فرقوں اور ان کے ہم خیال لوگوں نے نزول مسیح کا انکار کیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ یہ احادیث قابل رد ہیں۔ بموجب آیہ کریمہ وخاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی اور باجماع مسلمین کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ کہ شریعت نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام قیامت تک ہمیشہ رہنے والی ہے۔ کبھی منسوخ نہ ہوگی۔ مگر یہ استدلال فاسد ہے۔ اس لئے کہ نزول عیسیٰ سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ نبی ہو کر ایسی شریعت کے ساتھ اتریں گے۔ جو ہماری شریعت کی ناسخ ہو اور نہ ان احادیث میں نہ ان کی غیر میں ایسا مضمون ہے۔ بلکہ یہ احادیث اور وہ جو کتاب الایمان وغیرہ میں گزری ہیں کہ وہ حکم عادل ہو کر اتریں گے اور ہماری شریعت کے مطابق حکم کریں گے اور جو کچھ لوگوں نے امور شریعت سے چھوڑ دیا ہوگا اس کو زندہ فرمائیں گے۔ اصل عبارت بخوف طوالت نقل نہیں کی گئی۔ ”من شاء فلينظر فيه“

کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ معلوم ہوا کہ مسیح خاتم النبیین اور افضل ہیں۔

٢٧

PDF 87

شکریہ: اگرچہ اس کا جواب بھی شکریہ نمبر ١٢ میں آچکا ہے۔ مگر چونکہ ہم میاں اکرام کی خاطر سے اور ان کے نمبر کے لحاظ سے نمبر وار جواب دے رہے ہیں۔ لہٰذا یہاں بھی جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

جی ہاں! ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ سے یہی ثابت ہے۔ مگر ذرا انصاف کو ملحوظ رکھ کر اعتراض کیا ہوتا۔ حضرت مسیح کی تشریف آوری پر اگر ایمان لائیں گے تو وہی عیسائی ایمان لائیں گے جنہیں اہل کتاب کہا جاتا ہے یا مسلمان بھی۔ اگر کہئے کہ مسلمان بھی، تو ذرا بتائیں کہ مسلمان جب پہلے سے مؤمن ہیں تو از سر نو ایمان لانا تحصیلِ حاصل؟ اور اگر کہئے کہ عیسائی، تو ہمارا مقصد صحیح کہ اپنی نا تمام تبلیغ کو مکمل کرنے عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے یا بموجب پیش گوئی سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ آئیں گے اور جو جو قوانین حضور ﷺ نے چودہ سو برس قبل مرتب فرما دیئے ہیں ان کے مطابق عملدرآمد کریں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ”يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما وعدلا يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد ويهلك في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويقتل الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون“ قریب ہے یہ کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں۔ حکم وعادل، صلیب توڑ دیں، خنزیر کو قتل کریں، جزیہ موقوف کریں اور مال کی اتنی کثرت ہو کہ کوئی قبول نہ کرے اور اس زمانہ میں تمام مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔ مگر اسلام اور دجال کو قتل فرما کر زمین پر چالیس برس قیام فرمائیں۔ پھر انتقال کریں اور مسلمانوں کی جماعت ان کی نماز جنازہ پڑھے۔

تو اب فرمائیے ابن مریم بحکم محمد رسول اللہ ﷺ بموجب چودہ سو برس پیشتر کی پیش گوئی کے تشریف لائیں اور تشریف لاکر کام یہ کریں کہ صلیب توڑیں۔ جو نصاریٰ میں ہے نہ کہ مسلمانوں میں ۔ خنزیر قتل فرمائیں جو نصاریٰ میں مرغوب چیز ہے نہ مسلمانوں میں، اور جزیہ بموجب قانون محمدی اٹھا رکھیں اور تمام باطل مذہب والوں کو ہلاک کر دیں اور دین محمدی کا اتباع فرمائیں اور چالیس برس دنیا میں رہ کر وفات پائیں اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں نہ کہ عیسائی۔ اس لئے کہ عیسائی تو اس وقت مسلمان ہی ہوں گے اور دجال کا قتل تو بتائیے۔ اس میں حضور ﷺ کی افضلیت ثابت ہوئی۔ جو ان تمام واقعات کو مسلمات اہل اسلام میں قائم فرما گئے۔ یا عیسیٰ علیہ

٢٨

السلام کی۔ اللہ انصاف دے تو آپ دھری، اس کا علاج نہ کسی طرح ممکن عنایت نمبر ١٤: یہ عنا ہیں۔ میاں اکرام کو یہ یاد نہیں رہا فرمائیں۔ لہٰذا ان کی اصل سے ان العناية هذا! بحکم قران۔ ”ونفخ صاحب الوہیت تھے۔ اس لئے آ شکریہ: یہاں ونف الحق صاحب بے سوچے سمجھے ایک سے بحث ہی نہیں۔ اس لئے کہ دور رخی میں یہ بھی ہے تو شاید آز کیا گیا۔ بہر کیف وہ اس امر ۔ ہو جاؤں گا۔ لہٰذا وہ بھی اس کے اصل میں یہ سراسر؟ پر معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ علا فی الشئ قال يوم ينفخ نحو قوله تعالى فا ونفخت فيه من روحي ونفخة الربيع حين اع نفخ سے مراد نفخ! یوم ینفخ فی الصور یعنی جس دن جائے اس میں دوبارہ اور ناقور یعنی صور اور نفخ روح پھولنے اور پھلنے کے بھی ؟

صفحہ ٨٧

السلام کی ۔ اللہ انصاف دے تو آپ صاف کہیں گے کہ اب معاملہ صاف ہے۔ رہی ضد وکد، ہٹ دھرمی، اس کا علاج نہ کسی طرح ممکن ، نہ کبھی ہوا۔ والله الهادی!

عنایت نمبر ١٤: یہ عنایت ہم ان کے اصلی پمفلٹ حقائق قرآن سے نقل کر رہے ہیں ۔ میاں اکرام کو یہ یاد نہیں رہی ۔ لیکن اس خیال سے کہ شاید اس جواب کے بعد پھر عنایت فرمائیں۔ لہذا ان کی اصل سے اس کا شکریہ پیش کر دینا حسب موقعہ مناسب متصور ہوا۔ وهـو العناية هذا !

بحکم قران۔ ”ونفخنا فيه من روحنا“ مسیح کے اندر ذات الہی تھی پس وہ صاحب الوہیت تھے۔ اس لئے ایک گنہگار رسول سے (معاذ اللہ ) مسیح افضل تھے۔

شکریہ: یہاں ونفخنا فیہ میں روحنا کو اٹھا کر پادری صاحب یا مرزائی یا اکرام الحق صاحب بے سوچے سمجھے ایک نیا خداخانہ ساز بنا رہے ہیں۔ ہاں اکرام الحق کو تو اس اعتراض سے بحث ہی نہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے یہ اعتراض ہی نہیں کیا۔ مگر چونکہ حقائق قرآن کی دو ورقی میں یہ بھی ہے تو شاید آج نہ کہا تو کل کہہ دیں۔ اس وجہ سے ان کو بھی اس شکریہ میں شریک کیا گیا ۔ بہر کیف وہ اس امر کے قائل ہوں یا نہ ہوں ۔ مگر ارادہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ لہذا وہ بھی اس کے معترف ہونے والے ہوئے۔

اصل میں یہ سراسر غلط فہمی یا بالفاظ دیگر مخالفت قرآنی ہے۔ نفخ کے معنی صاف ہو جانے پر معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ علامہ امام راغب مفردات میں فرماتے ہیں۔ ”النفخ نفخ الريح فى الشئ قال يوم ينفخ فى الصور ونفخ فى الصور . ثم نفخ فيه اخرى ذالك نحو قوله تعالى فاذا نقر فى الناقور . ومنه نفخ الروح فى النشأة الاولى ونفخت فيه من روحى يقال انتفخ بطنه ومنه استعير انتفخ النهار اذا ارتفع ونفخة الربيع حين اعشب ورجل منفوخ ای سمین“

نفخ سے مراد نفخ ریح ہے۔ کسی شئے میں پھونک مارنا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے۔ یوم ینفخ فی الصور یعنی جس دن پھونکا جائے ، صور اور پھونک دی جائے صور میں اور پھر پھونک دی جائے اس میں دوبارہ اور نفخ اور نقر دونوں ایک معنی رکھتے ہیں۔ فاذا نقر یعنی جب پھونکا جائے ناقور یعنی صور اور نفخ روح سے مراد ۔ پہلی پیدائش ہے اور نفخت فیہ من روحی کے معنی باعتبار عرف پھولنے اور پھلنے کے بھی ہو سکتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم نے اپنے حکم سے اس لئے کہ

٢٩

صفحہ ٨٨

روح کی حقیقت امر ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا۔ ”قل الروح من امر ربی“ یعنی ہم نے عالم امر میں حضرت مسیح کو پھولتا پھلتا تخلیق فرمایا۔ پھر پیٹ پھولنے کے معنی میں بھی نفخ آتا ہے اور سپیدۂ سحر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے اِنتَفَخَ النھار، انتفخ بطنہ اور کھیتی کے شاداب و سرسبز ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے نفخہ الربیع اور فربہ آدمی کے معنی میں بھی بولا جاتا۔ جیسے رجل منفوخ یعنی آدمی سمین و فربہ ہے۔

پھر وہم نصرانیت کو تو قرآن کریم خود رد فرما رہا ہے۔ ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم وقال المسیح یا بنی اسرائیل اعبد اللہ ربی وربکم فانہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماویٰ ھم النار“ بے شک کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے اور مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو۔ جو میرا رب اور تمہارا رب ہے۔ بے شک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ دوسری آیت سے تو اس وقت حیات مسیح بھی ثابت ہو رہی۔ جو ابطال مرزائیت کے لئے اعلیٰ دلیل ہے۔ ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح بن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا“ یعنی بے شک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے۔ اے حبیب تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کر سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح بن مریم کو اس کی ماں کے ساتھ اور تمام زمین والوں کو۔ اس آیت کریمہ میں ابن مریم وامہ ومن فی الارض میں واؤ بمعنی معہ ہے اور معیت کے معنی سے یہ مفہوم صاف حاصل ہو رہا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو معہ حضرت مریم علیہا السلام کے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مار دیتے۔ مگر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے نہ مارا۔ اس لئے عیسائی ان کو خدا ماننے کے لئے تیار ہو گئے۔ حالانکہ وہ رسول خدا اور خدا کے بندے تھے۔ نہ کہ خدا کے بیٹے یا خدا۔ معاذ اللہ اور دوسرے فرقہ کے رد میں فرمایا: ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثہ“ یعنی بے شک وہ کافر ہوئے۔ جنہوں نے کہا کہ تین معبودوں میں سے ایک اللہ ہے۔ یعنی باپ اللہ، بیٹا مسیح اور روح القدس تین معبود ہیں۔ ”اعاذنا اللہ تعالٰی من ھذا الشرک الجلی“ پھر آگے فرمایا کہ خدا تو کھانے پینے سے منزہ ہے اور ”کانا یأکلان الطعام“ یعنی مسیح اور ان کی والدہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ پھر جو کھانا کھانے کا محتاج ہو وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ

٣٠

ہمارے حبیب تو وہ ہیں جن کی شان اے حبیب ہم نے آپ کو تمام مخلوق میں ارشاد ہے۔ ”ان ھو الا عبد شک وہ عیسیٰ نہیں تھے۔ مگر ایک ایسے بے مثل بنا کر بھیجا۔

انجیل کی نظر میں سید الانبیاء

یہاں تک تو مسلمات مقابلہ تھا۔ اب جگہ تھام کے بیٹھو۔ مسلمات سے ہے کہ وہ حضورﷺ کے آخری حصہ میں وعظ فرماتے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ میں جا میرے اس کہنے سے کہ باپ پا میں نے تمہیں اس کے واقع ہو بعد اس کے میں تم سے بہت کلام کی کوئی چیز نہیں۔ اس مضمون سے آ سنئے ہم بتاتے ہیں جو آیا وہ حبیب محتشم تاجدارِ آں شہنشا رسول اللہﷺ ہیں۔ جنہوں ان کی جماعت نے نیا منصب اب اس جماع شریک ہو کر عیسائی بننا چا پھر انصاف آپ کے ہاتھ

”الفضل

صفحہ ٨٩

ہمارے حبیب تو وہ ہیں جن کی شان میں ہم نے فرمایا: ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس“ یعنی اے حبیب ہم نے آپ کو تمام مخلوقات کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا اور عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ارشاد ہے۔ ”ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلا لبنی اسرائیل“ بے شک وہ خدا نہیں تھے۔ مگر ایک ایسے بندے کہ ہم نے ان پر انعام فرمایا اور بنی اسرائیل کی طرف بے مثل بنا کر بھیجا۔

انجیل کی نظر میں سید الانبیاء کا رتبہ دنیا کے سردار کا ہے

یہاں تک تو مسلمات اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام و جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ تھا۔ اب جگر تھام کے بیٹھو۔ میری باری آئی۔ ذرا انجیل سے تو پوچھئے جو حضرات نصاریٰ کے مسلمات سے ہے کہ وہ حضور ﷺ کی شان والا میں کیا کہہ رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی عمر کے آخری حصہ میں وعظ فرماتے ہیں اور اس میں بتاتے ہیں۔ یوحنا ١٤ باب کی ٢٩ سے۔ تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ میں جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے تو تم میرے اس کہنے سے کہ باپ پاس جاتا ہوں۔ خوش ہوتے۔ کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔ اب میں نے تمہیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا تھا کہ جب وہ وقوع میں آوے تو تم ایمان لاؤ۔ بعد اس کے میں تم سے بہت کلام نہ کروں گا۔ اس لئے کہ اس جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔

اس مضمون سے آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ آپ کے بعد وہ دنیا کا سردار کون آیا۔ سنئے ہم بتاتے ہیں جو آیا وہ وہی سید الانبیاء سند الاتقیاء حبیب کبریا محبوب خدا مالک رقاب عالم حبیب محتشم تاجدار آں شہنشاہ این و آن قاسم کون و مکان سید الثقلین ، نبی الحرمین ، امام القبلتین محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ مٹے ہوئے مراتب دکھائے جن کو ان کی جماعت نے نسیا منسیا کر کے ہباء منثورا کر دیا تھا۔

اب اس جماعت کے نامی محققین کے خیالات بھی ملاحظہ کر لیجئے۔ جن میں آپ شریک ہو کر عیسائی بننا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے اسلام اور بانی اسلام کے متعلق کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر انصاف آپ کے ہاتھ ہے۔

مانو نہ مانو پیارے تمہیں اختیار ہے
ہم نیک و بد جناب کو سمجھائے جاتے ہیں

”الفضل ما شهدت به الاعداء“

٣١

صفحہ ٩٠

حضور ﷺ کی شان فضیلت اغیار کی زبان وقلم سے

مشہور ومعروف مؤرخ ڈبلیو آرونگ جن کا ایک ایک لفظ علمی دنیا میں قدر وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جن کی مؤرخانہ تحقیق کا پایہ اس قدر بلند ہے کہ آپ کی تحریریں بطور سند کے پیش کی جاتی ہیں۔ تحریر فرماتے ہیں۔

”حضرت محمد صاحب نہایت سادہ مزاج ریفارمر تھے۔ آپ کی ذہنی قابلیت حیرت انگیز اور قوت مدبرہ غیر معمولی تھی۔ آپ کا فہم وادراک نہایت تیز حافظہ زبردست اور مزاج انکسار پسند تھا۔ آپ کی گفتگو نہایت مختصر مگر پرمغز اور سنجیدہ ہوتی تھی۔ حبیب کی حلاوت آپ کی بینظیر فصاحت اور مترنم لہجہ سے دوبالا ہوجاتی تھی۔ آپ بڑے متقی اور نیک منش تھے۔ اکثر روزہ سے رہتے تھے۔ ظاہری شان وشوکت کا کچھ خیال نہ تھا۔ جیسا کہ نچلے طبقہ کے لوگوں میں ہوا کرتا ہے۔ بلکہ جو کپڑے آپ پہنتے ان میں اکثر پیوند ہوتے۔ صفائی کا بہت خیال رکھتے۔ اکثر غسل کرتے اور خوشبو لگاتے۔ معاملات میں بڑے منصف تھے۔ آپ بیگانے غریب امیر غلام اور آقا سب کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرتے۔ عام لوگوں کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتے اور ان کی شکایات سنتے تھے۔ طبیعت پر اس قدر قابو یافتہ تھے کہ خانگی زندگی میں بھی نہایت متحمل، بردبار اور ذی حوصلہ تھے۔ آپ کے خادم انس کا بیان ہے کہ میں آٹھ برس تک آپ کی خدمت میں رہا۔ اس عرصہ میں آپ نہ تو کبھی مجھ پر ناراض ہوئے اور نہ ہی سخت کلامی کی۔ باوجودیکہ مجھ سے نقصان بھی ہو جاتا تھا۔ آپ کے سوانح حیات کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالکل خود غرض نہ تھے۔ کیونکہ ملکی فتوحات سے جو حاکمانہ غرور اور خود غرض لوگوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ آپ میں بالکل نہ تھا۔ بلکہ نہایت عروج اور شاہانہ صولت وسطوت کی موجودگی میں بھی آپ ایسے ہی سادہ اور غریبانہ حالت میں رہے۔ جیسے کہ افلاس کے زمانہ میں شاہانہ شان وشوکت تو در کنار۔ اگر آپ کہیں تشریف لے جاتے اور لوگ تعظیماً کھڑے ہوجاتے تو بھی آپ ناپسند فرماتے۔ مال و دولت جو خراج سلطنت جزیہ اور مال غنیمت سے حاصل ہوتا وہ صرف جنگی مہمات اور امداد مساکین میں صرف ہوتا تھا اور یہی مصارف اس قدر تھے کہ بیت المال ہمیشہ خالی رہتا تھا۔ عمر بن حارث کا قول ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی لونڈی ، غلام چھوڑا نہ درہم اور دینار۔ آپ کو دنیاوی آسائش و آرام سے کوئی غرض نہ تھی۔ آپ ہمیشہ نماز میں مصروف رہا کرتے جو مسلمانوں کی نہایت پسندیدہ عبادت اور روحِ انسانی کو صاف وشفاف بنانے والی چیز ہے۔ آپ ہمت شکن

٣٢

صفحہ ٩١

حالات اور مصیبت افزاء واقعات میں بھی ہمیشہ متوکل رہتے تھے اور انجام کی راحت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم پر منحصر سمجھتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر خدا رحم نہ کرے تو میں بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنے اکلوتے فرزند ابراہیم کی وفات حسرت آیات پر بالکل صابر وشاکر رہے۔

آپ اپنی زندگی کے آخری دن تک خدمت مذہب میں مصروف رہے اور اپنے پیروؤں کو ہدایات دیتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے داعی اور مستقل زاہد کو برا کہنا یا ان پر ریا کاری کا الزام لگانا قطعاً غلط ہے۔ قرآن جس کے ذریعہ حضرت محمدﷺ نے لوگوں کو ہدایت اور نیکی کی طرف بلایا۔ اس کی تعلیم نہایت بلند پایہ اور پاکیزہ ہے۔“

میں لکھتا ہے۔

”حضرت مسیح کے چھ سو سال بعد جب کہ حضرت مسیح کا عجیب وغریب اثر مغرب کی طرف منتقل ہو جانے کی وجہ سے شام اور عرب کی اخلاقی حالت نہایت خراب ہو رہی تھی۔ عرب جیسے وسیع ملک میں ایک پیغمبر بھیجا گیا۔ جس نے نہ صرف عدل وانصاف اور امن وامان کی حکومت قائم کی۔ بلکہ ہیبت ناک بت پرستی کا بھی قلع قمع کر دیا۔ عرب میں عورتوں اور مردوں کو بتوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ معمولی مناقشات پر خوفناک لڑائیاں چھڑ جاتی تھیں۔ اخلاقی قباحتیں اور بری عادتیں ”طبیعت ثانیہ“ ہو گئی تھیں کہ ٢٩؍ اگست ٥٧٠ء کو مکہ میں یہ پیغمبر پیدا ہوا۔ اس سے چند روز پیشتر آپ کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور چند روز بعد آپ کی والدہ بھی فوت ہو گئیں اور اپنے یتیم فرزند کو دادا کے سپرد کر گئیں۔ جب یہ یتیم لڑکا بڑا ہوا تو امید کے موافق نہایت خاموش طبع تھا اور گرد وپیش کے لوگ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔ اسی زمانہ میں آپ کے دادا بھی انتقال فرما گئے اور محمدؐ کی حفاظت اور پرورش آپ کے چچا ابو طالب کے سپرد کر گئے۔ بچپن اور جوانی کے زمانہ میں آپ کو کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا۔ سوائے اس کے کہ بہ سلسلہ تجارت آپ کو شام جانا پڑا۔ جہاں آپ اس برے زمانے کے ہر واقعہ کا نہایت عمیق نظروں سے مطالعہ کرتے رہے۔

٢٤ برس کی عمر میں آپؐ نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کی۔ جن کی طرف سے آپؐ شام میں تجارت کیا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے تمام معاملات میں آپؐ کو ایسا وفادار، صادق، امین اور کفایت شعار پایا کہ ان دونوں کی ٢٦ سالہ گرہستی زندگی دنیا کی شادیوں میں ایک نمونہ سمجھی جاتی ہے۔ بظاہر آپؐ کی زندگی خاموش تھی۔ لوگ آپؐ کو ”الامین“ کے لقب سے یاد کیا کرتے

صفحہ ٩٢

تھے۔ جب آپ شہر کی گلیوں میں چلتے تھے تو بچے دوڑ کر آپ کو چمٹ جاتے تھے۔ کیونکہ انہیں آپ کی محبت پر بھروسہ تھا۔ مفلس اور مفلوک الحال لوگ بھی بغرض مشورہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ اسی زمانہ میں حضرت محمد ﷺ ایک غار میں جایا کرتے تھے اور وہاں عبادت اور غور و فکر میں کئی کئی مہینے صرف کر دیتے اور اس اندرونی آواز پر بھروسہ کرنے سے ڈرتے تھے۔ جو آپ کو تبلیغ حق پر آمادہ کرتی تھی۔ وہ خیال کیا کرتے کہ میں کیسے پیغمبر بن سکتا ہوں۔ کیا انسانی کمزوری تو مجھے ایسا کرنے کے لئے نہیں ابھارتی؟ اسی حالت میں ایک رات جب کہ آپ زمین پر لیٹے پڑے تھے۔ آسمان پر روشنی چمکی اور ایک نورانی شکل نیچے اترتی ہوئی نظر پڑی۔ جس نے کہا:

”اٹھ تو خدا کا نبی ہے۔ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھ۔“ آپ نے سوال کیا، کیا پڑھوں؟ اس کے بعد فرشتے نے رسول کو تلقین کی اور نہ صرف اس بڑی دنیا کا ذکر کیا۔ جس میں ہم رہتے ہیں۔ بلکہ آسمان اور فرشتوں کی مخفی دنیاؤں کا بھی ذکر کیا اور اس کے علاوہ توحید یزدانی کی تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ساری دنیا منور ہے۔ نیز اس اہم کام کا تذکرہ کیا جس کے لئے محمد ﷺ کو پیدا کیا تھا۔ یہ وہ عجیب و غریب واقعہ تھا جس نے محمد ﷺ کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا۔ اس سے پہلے آپ صرف ”امین“ تھے۔ مگر اب ”رسول“ ہیں۔ جیسا کہ تم نے دوسرے پیغمبروں کی زندگی میں پڑھا ہے کہ اکثر اسی قسم کا فرشتہ آسمان سے نازل ہوتا ہے تاکہ پیغمبروں کی رہنمائی کرے اور ان میں تبلیغ حق کی ہمت پیدا کرے۔ کیونکہ ہماری دنیا کی نگرانی اور جانچ پڑتال ایک ایسی زندہ جاوید طاقت کے ہاتھ میں ہے جو ضرورت کے وقت دنیا میں پیغمبر بھیجا کرتی ہے۔ محمد صاحب اٹھے اور جلدی سے خدیجہ کے پاس گئے اور بیتابی کے ساتھ سوال کیا میں کون ہوں؟ میں کیا ہوں؟ وفادار بیوی نے جواب دیا تو صادق اور وفادار ہے۔ تو نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ خدائے قادر و توانا اپنے وفادار بندوں کو دھوکہ نہیں دیا کرتا۔ اس آواز کی پیروی کر اور جس کام کے لئے تجھے منتخب کیا گیا ہے اس کی تکمیل کر۔ اس طریقہ سے وفادار بیوی نے آپ کی ہمت افزائی کی اور ایمان بھی لے آئیں۔ اس کے بعد اس کے چند عزیز و اقارب بھی مسلمان ہو گئے۔ لیکن ابوطالب نے جو آپ کے چچا اور زندگی بھر کے محافظ رہے آپ کے پیغام کو تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ اس سے ان کے فرزند علی ایمان لے آئے تھے۔ تین سال تک آپ نے خاموشی کے ساتھ تبلیغ کی اور اس عرصہ میں صرف تیس آدمی مسلمان ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا پبلک وعظ کیا۔ جس میں خدا کی وحدانیت کا تذکرہ کیا۔ انسانی قربانی، شراب خوری اور ہر خراب عادت کے برے نتائج

صفحہ ٩٣

لیوں میں چلتے تھے تو بچے دوڑ کر آپ کو چمٹ جاتے تھے۔ کیونکہ انہیں آپ مفلس اور مفلوک الحال لوگ بھی بغرض مشورہ آپ کی خدمت میں حاضر میں حضرت محمد ﷺ ایک غار میں جایا کرتے تھے اور وہاں عبادت اور غور وفکر دیتے اور اس اندرونی آواز پر بھروسہ کرنے سے ڈرتے تھے۔ جو آپ کو تا۔ وہ خیال کیا کرتے کہ میں کیسے پیغمبر بن سکتا ہوں۔ کیا انسانی کمزوری تو نے نہیں ابھارتی؟ اسی حالت میں ایک رات جب کہ آپ زمین پر لیٹے نی چمکی اور ایک نورانی شکل نیچے اترتی ہوئی نظر پڑی۔ جس نے کہا: کا نبی ہے۔ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھ ۔‘‘ آپ نے سوال کیا، کیا شتے نے رسول کو تلقین کی اور نہ صرف اس بڑی دنیا کا ذکر کیا۔ جس میں ہم ور فرشتوں کی مخفی دنیاؤں کا بھی ذکر کیا اور اس کے علاوہ توحید یزدانی کی سے ساری دنیا منور ہے۔ نیز اس اہم کام کا تذکرہ کیا جس کے لئے محمد ﷺ ہ و غریب واقعہ تھا جس نے محمد ﷺ کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا۔ اس یکن‘‘ تھے۔ مگر اب ’’رسول‘‘ ہیں۔ جیسا کہ تم نے دوسرے پیغمبروں کی نیز اسی قسم کا فرشتہ آسمان سے نازل ہوتا ہے تا کہ پیغمبروں کی رہنمائی ں کی ہمت پیدا کرے۔ کیونکہ ہماری دنیا کی نگرانی اور جانچ پڑتال ایک ے ہاتھ میں ہے جو ضرورت کے وقت دنیا میں پیغمبر بھیجا کرتی ہے۔ محمد ے خدیجہ کے پاس گئے اور بیتابی کے ساتھ سوال کیا میں کون ہوں؟ میں ، جواب دیا تو صادق اور وفادار ہے۔ تو نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ ار بندوں کو دھوکہ نہیں دیا کرتا۔ اس آواز کی پیروی کر اور جس کام کے ں کی تکمیل کر۔ اس طریقہ سے وفادار بیوی نے آپ کی ہمت افزائی کی اس کے بعد اس کے چند عزیز واقارب بھی مسلمان ہو گئے۔ لیکن چچا اور زندگی بھر کے محافظ رہے آپ کے پیغام کو تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ ان لے آئے تھے۔ تین سال تک آپ نے خاموشی کے ساتھ تبلیغ کی آدمی مسلمان ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا پبلک وعظ کیا۔ جس ہ کیا۔ انسانی قربانی، شراب خوری اور ہر خراب عادت کے برے نتائج

بیان کئے۔ آہستہ آہستہ کچھ اور آدمی بھی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ لیکن ساتھ ساتھ مخالفت بھی پورے زور کے ساتھ شروع ہو گئی۔ آپ کے پیروؤں کو زبردستی چھین لیا جاتا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔ لیکن وہ لوگ اپنے پیغمبر پر کچھ ایسے فدا تھے کہ اپنی جان گرامی سے زیادہ آپ سے محبت کرتے تھے۔ ایک شخص سے جسے طرح طرح کی تکلیفیں دے کر نیم مردہ کر دیا گیا تھا دریافت کیا گیا کہ کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم آرام سے اپنے گھر بیٹھو اور محمد تمہاری جگہ پر ہوں۔ مرتے ہوئے آدمی نے جواب دیا۔ ’’خدا کی قسم اگر میرے آقا محمد کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو بھی میں اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہنا گوارہ نہ کروں گا ۔‘‘ محمد صاحب سے ان لوگوں کی محبت اس قدر بڑھی ہوئی تھی۔ رفتہ رفتہ اہل عرب کے مظالم اس قدر بڑھ گئے کہ ابتدائی مسلمانوں کو کسی محفوظ اور مضبوط پناہ کی تلاش میں ہجرت کرنا پڑی۔ لیکن جہاں کہیں بھی وہ گئے ان کے دلوں سے اپنے محبوب رسول اور ان کی تعلیم کی یاد فراموش نہیں ہوئی۔ لیکن اب پیغمبر صاحب پر بھی تاریک زمانہ شروع ہوا اور مخالفین کے مظالم اس ہولناک حد تک پہنچ گئے کہ سوائے ایک کے باقی تمام مسلمان ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں چلے گئے ۔ محمد کے چچا ابوطالب نے اصرار کیا کہ آپ اپنا کام چھوڑ دیں ۔ لیکن آپ نے اس قسم کی کوئی بات نہ سنی اور کہا۔ اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں رہوں گا۔ یقیناً اس کام سے اس وقت تک دست بردار نہ ہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اس نورانی مذہب کو دنیا پر ظاہر نہ کر دے یا میں خود اس کوشش میں جان نہ دے دوں۔

چچا کی گفتگو سے محمد شکستہ ہو جاتے ہیں اور رنج و تاسف اور ملال کی حالت میں اپنا کمبل اوڑھ کر چلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں کہ ان کے چچا کی آواز آتی ہے۔ ٹھہرو ، ٹھہرو! محمد ! جو کچھ تم کہنا چاہتے ہو آزادی سے کہو۔ خدا کی قسم میں تمہارا ساتھ کبھی نہ چھوڑوں گا ۔ یہ الفاظ محمد کے اس چچا کے ہیں۔ جس نے اگر چہ آپ کے پیغام کو تسلیم نہ کیا تھا۔ لیکن باوجود اس کے آپ کے مشن اور آپ کی ذات سے اس قدر مانوس تھا۔

لیکن اب پہلے سے بھی زیادہ نازک وقت آیا ہے۔ آپ کے چچا اور آپ کی محبوب بیوی خدیجہ کا انتقال ہو جاتا ہے۔ جو ہر کام میں آپ کی عقلمند مشیر تھیں ۔ ان دونوں کی موت سے محمد تنہا رہ جاتے ہیں۔ اس سال کو مسلمان رونے کا سال کہتے ہیں۔

اب ان کے ساتھ مکہ میں صرف علی اور جان نثار ابو بکر رہ جاتے ہیں۔ ان کے دشمن ان

صفحہ ٩٤

کے قتل کی سازش کرتے ہیں۔ لیکن وہ محصور مکان کے دریچہ سے نکل کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور مکہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسلام میں مکہ چھوڑنے کا سال ہجری کہلاتا ہے۔

غار کی تنہائی میں دشمنوں کے خوف سے کانپتے ہوئے ضعیف العمر ابوبکر نے کہا ہم صرف دو ہیں۔ محمد نے جواب دیا۔ ہم دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ کیونکہ خدا بھی ہمارے ساتھ ہے۔

اس کے بعد وہ مدینہ چلے جاتے ہیں۔ جہاں آپ کو بہت سے انصار مل جاتے ہیں۔ نو مسلموں کی تعداد روز افزوں ترقی کرتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ ایک سلطنت کے بادشاہ بنا دیئے جاتے ہیں۔ یہاں سے آپ کی پبلک لائف کا آغاز ہوتا ہے۔ اب ان کے لئے لازمی نہیں کہ ایک خاموش زاہد کی سی زندگی بسر کریں۔ برخلاف اس کے انہیں ہزارہا لوگوں کی رہنمائی کرنا اور ان کے مستقبل پر غور کرنا ہے۔

مکہ سے دشمن آپ کا تعاقب کرتے ہیں اور آپ ایک چھوٹی سی فوج جمع کر کے ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے نکلتے ہیں۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مگر انہیں ایک عظیم الشان اور مشہور و معروف فتح حاصل ہوتی ہے اور باوجود اس فتح عظیم کے محمد کا کریکٹر یہ ہے کہ صرف دو آدمی قتل کئے جاتے ہیں اور اپنے زمانہ کی رسم کے خلاف قیدیوں سے نہایت مہربانی اور نرمی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ مسلمان انہیں روٹی دیتے ہیں اور خود کھجوریں کھاتے ہیں۔

اس کے بعد دس سال کی کشمکش کا زمانہ آتا ہے اور اس عرصہ میں سینکڑوں آدمی آپ کے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ میرے خیال میں تم بمشکل اندازہ کر سکو گے کہ محمد لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کی کس قدر طاقت رکھتے تھے اور یہ کہ ارد گرد کے لوگوں کو آپ سے کس قدر محبت تھی اور آج بھی مسلمانوں کو آپ سے کس قدر عقیدت والفت ہے۔

٨؍ جون ٦٣٨ء کو اس زمانہ کا آخری سین نظر آتا ہے۔ محمد اس قدر ناتواں ہوگئے ہیں کہ اکیلے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔ علی اور دوسرے صحابہ آپ کو سہارا دے کر مسجد میں لے جاتے ہیں۔ آپ یہ پوچھنے کے لئے آواز بلند کرتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جس کے ساتھ انہوں نے کوئی سختی کی ہو یا جس کا کوئی قرض ان کے ذمہ ہو۔ ایک شخص ہلکی سی رقم کا مطالبہ کرتا ہے جو فوراً ادا کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد دعاء کے الفاظ دھیمے ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آواز بالکل سنائی نہیں دیتی اور محمد اس جسم فانی کو چھوڑ کر زیادہ اعلیٰ اور زیادہ نورانی دنیاؤں میں اپنا کام کرنے کی غرض سے چلے جاتے ہیں۔“

صفحہ ٩٦

تقریظ: امام اہل سنت، ماحی بدعت، حامی شریعت، عالم ربانی، مقبول صمدانی، بحر الطمطام حجة الاسلام سید المفسرین سید العلماء والموعظین حضرت قبلہ وکعبہ مولانا مولوی حاجی صوفی سید ابو محمد محمد دیدار علی شاہ صاحب لازال شموس فیوضہ ابدا۔

”ایام جلسہ مرکزی حزب الاحناف ہند لاہور میں ایک کھلی چٹھی بنام علماء کرام میری نظر سے گذری تھی۔ جو اکرام الحق نامی کسی شخص نے شائع کی تھی۔ اس میں وہی پرانے اعتراضات نصاریٰ کے تھے جو اس سے قبل ١٩١٢ء میں قاسم علی احمدی نے بار سوم لکھ کر دہلی سے شائع کئے تھے۔ پھر حقائق قرآن میں بھی اعتراضات چھپے۔ اس کے بعد اس کھلی چٹھی میں شائع کئے گئے اور جب شیر میدان اسلام نے جوابات دیئے تو میاں اکرام نے ایک اور پرچہ چھاپا جس میں مولوی دیگر علماء پر خاموشی کا الزام لگایا۔ حالانکہ یہ محض غلط الزام تھا۔ مولوی دیگر علماء خاموش نہ رہے بلکہ انہوں نے تقریروں میں بھی جلسہ کے اندر بقدر وسعت وقت مختصر جوابات دیئے۔ بلکہ خود اکرام الحق مولوی عبدالحفیظ صاحب کے جواب کا شکر گزار ہوا۔ بہر کیف زیادہ تر اس طرف التفات کرنے کو اس لئے غیر ضروری سمجھا گیا کہ اس کا جواب پہلے بھی شائع ہو چکا تھا اور اب بھی بہت سے جوابات لکھے گئے۔ پھر میرے لخت جگر بلند اختر عالم ربانی مقبول بارگاہ صمد مولانا حافظ حکیم سید محمد احمد اطال اللہ عمرہ باشاعة الدین بالجماعة سید المرسلین بوجہ من الصادقین المصدقین و مطیع الاتحاد بین المسلمین نے نہایت پسندیدہ طرز پر لفظ بلفظ ہر اعتراض اور شبہ کے مکمل جواب لکھے اور ایسے لکھے کہ ایک منصف مزاج بہکا ہوا مسلمان تو درکنار اگر ایک نصرانی عیسائی بھی بنظر انصاف دیکھے تو اس کی تشفی وتسلی کو کافی ہے اور عزیز مذکور نے اس جواب میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ ہر شبہ کا جواب حسب خواہش معترض فقط آیات قرآنی سے دیا ہے اور حدیث واجماع اور قیاس شرعی سے مطلقاً کام نہیں لیا گیا۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ معترض صاحب کی یہ خواہش ایک حد تک کسی طرح حق بجانب نہ تھی۔ اس لئے کہ وہ خود اپنی کھلی چٹھی کی سطر ١٣ صفحہ اوّل پر لکھ چکے ہیں کہ اس رسالہ کے مصنف نے تیرہ وجوہات بیان کی ہیں جو تمام کی تمام قرآن مجید کی آیات اور مسلمانوں کی مسلمات پر مبنی ہیں۔ تو جب قرآن کریم اور دیگر مسلمات اسلام پر مبنی اصول کو وہ خود تسلیم کرتا ہے اور اعتراض نمبر ١٣ کو تو محض مسلمات اسلام کی بنا پر ہی نقل کیا ہے۔ پھر میں نہیں سمجھ سکا کہ خود تو فضیلت عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے کو سب طرف جانے کا مجاز بنتا ہے اور دوسرے کو قرآن کریم سے جواب دینے پر مجبور کر کے صفحہ ٢ کی سطر ٢٣ پر احادیث رواۃ صحیحہ کے متعلق لکھتا ہے۔ زبانی قصے کہانیاں چھوڑ کر کوئی

ہیں ۔ لیکن وہ محصور مکان کے دریچہ سے نکل کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں اسلام میں مکہ چھوڑنے کا سال ہجری کہلاتا ہے ۔ میں دشمنوں کے خوف سے کانپتے ہوئے ضعیف العمر ابوبکرؓ نے کہا ہم جواب دیا۔ ہم دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ کیونکہ خدا بھی ہمارے ساتھ ہے۔ وہ مدینہ چلے جاتے ہیں۔ جہاں آپ کو بہت سے انصار مل جاتے ہیں۔ نو وں ترقی کرتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آپؐ ایک سلطنت کے بادشاہ بنا سے آپ کی پبلک لائف کا آغاز ہوتا ہے۔ اب ان کے لئے لازمی نہیں زندگی بسر کریں۔ برخلاف اس کے انہیں ہزار ہا لوگوں کی رہنمائی کرنا تا ہے۔

آپ کا تعاقب کرتے ہیں اور آپؐ ایک چھوٹی سی فوج جمع کر کے ان کا نکلتے ہیں۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مگر انہیں ایک عظیم الشان اور ہوتی ہے اور باوجود اس فتح عظیم کے محمدؐ کا کریکٹر یہ ہے کہ صرف دو آدمی اپنے زمانہ کی رسم کے خلاف قیدیوں سے نہایت مہربانی اور نرمی کا سلوک ہ روٹی دیتے ہیں اور خود کھجوریں کھاتے ہیں۔ س سال کی کشمکش کا زمانہ آتا ہے اور اس عرصہ میں سینکڑوں آدمی آپؐ ۔ میرے خیال میں تم بمشکل اندازہ کر سکو گے کہ محمدؐ لوگوں کے دلوں کو مسخر رکھتے تھے اور یہ کہ اردگرد کے لوگوں کو آپؐ سے کس قدر محبت تھی اور آج کس قدر عقیدت والفت ہے۔

ہو کہ اس زمانہ کا آخری سین نظر آتا ہے۔ محمدؐ اس قدر ناتواں ہو گئے ہیں ہو سکتے۔ علیؓ اور دوسرے صحابہؓ آپ کو سہارا دے کر مسجد میں لے جاتے لئے آواز بلند کرتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جس کے ساتھ جس کا کوئی قرض ان کے ذمہ ہو۔ ایک شخص ہلکی سی رقم کا مطالبہ کرتا ہے وں کے بعد دعاء کے الفاظ دھیمے ہوتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آواز اس جسم فانی کو چھوڑ کر زیادہ اعلیٰ اور زیادہ نورانی دنیاؤں میں اپنا کام کرتے ہیں۔“

صفحہ ٩٦

قرآن سے اس کا ثبوت تو پیش کرے۔ سبحان اللہ! کیا زبانی قصے کہانی اور احادیث حبیب ربانی آپ کے نزدیک ایک مرتبہ کی ہیں۔ ذرا قرآن کریم سے پوچھئے کہ وہ فرمان محمد رسول اللہ ﷺ کی کیا عظمت ظاہر فرما رہے ہیں۔ ارشاد ہے۔ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ یعنی ہمارے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتے۔ ان کی ہر بات ہماری وحی سے ہوتی ہے۔ جو ان کو وحی کی جاتی ہے۔ اندریں صورت حضور ﷺ کی ایک بھی حدیث کا انکار جب کہ وہ باسانید صحیحہ ثابت ہو جائے۔ کیا مذکورہ آیت کریمہ کے انکار کو مستلزم نہیں ۔ میاں اکرام الحق کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ رتبہ حضور ﷺ کو ہی اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمایا کہ آپ کے تمام اقوال وافعال باسانید صحیحہ آج تک منقول و مروی معہ بیان حالات روات چلے آ رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول وفعل تو کیا اصل انجیل کو بھی دس پانچ اسانید صحیحہ سے نہیں بلکہ ایک سند صحیح سے بھی کوئی عیسائی نہیں دکھا سکتا۔ برخلاف حضور ﷺ کی کہ آپ کے ہر قول وفعل کو ایک ایک سند سے نہیں بلکہ کئی کئی سندوں سے ہم آنحضرت ﷺ تک دکھانے کو موجود ہیں اور اگر اکرام الحق کو اس کا شوق ہو تو ہمارے مقدمہ تفسیر میزان الادیان کا مطالعہ کرے جو دفتر مرکزی حزب الاحناف ہند لاہور سے مل سکتا ہے۔ بلکہ اگر بغرض ہدایت اکرام الحق خود لینے آئے تو ہم اسے بلا قیمت دیں گے اور اس کے مطالعہ سے ہمیں یقین ہے کہ علاوہ کھلی چٹھی کے جوابات کے اور وہ اعتراضات بھی حل ہو جائیں گے جو دہریوں وغیرہ نے اسلام پر کئے تھے اور غالباً میاں اکرام کا وہم بھی وہاں تک نہ پہنچا ہوگا۔ مجھے افسوس ہوا کہ سرور عالم ﷺ کی احادیث کو اکرام الحق نے مثل قصے کہانیوں کے قرار دے دیا۔ با آنکہ خود کو بھی فضیلت عیسیٰ علیہ السلام میں مسلمات اسلام سے مدد لینی پڑی۔ جیسا کہ اعتراض نمبر ١٣ سے ظاہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ سوائے اسلام کوئی مذہب اپنے بانی مذہب کے اقوال وافعال کو بانی مذہب تک اسانید صحیحہ کے ساتھ معہ بیان حالات روات نہیں بیان کر سکتا۔ اسی واسطے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے حضور ﷺ کے اقوال وافعال کو ان کے متبعین کے ذریعے جمع کرا کر انہیں باسانید صحیحہ موثق کرایا اور پھر حکم فرمایا: ”ما اتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا“ یعنی ہمارے حبیب رسول جو تم کو دیں لے لو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ دوسری جگہ فرمایا: ”الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه مكتوباً عندهم فى التوراة والانجيل“ یعنی مسلمان وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں۔ ہمارے رسول کی جو نبی امی

صفحہ ٩٧

تو پیش کرے۔ سبحان اللہ! کیا زبانی قصے کہانی اور احادیث حبیب ربانی رتبہ کی ہیں۔ ذرا قرآن کریم سے پوچھئے کہ وہ فرمان محمد رسول اللہ ﷺ کی ہیں۔ ارشاد ہے ۔ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى محبوب محمد رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتے۔ ان کی ہر ا ہے۔ جو ان کو وحی کی جاتی ہے۔ اندریں صورت حضور ﷺ کی ایک بھی ہ باسانید صحیحہ ثابت ہو جائے۔ کیا مذکورہ آیت کریمہ کے انکار کو مستلزم ومعلوم ہونا چاہئے کہ یہ رتبہ حضور ﷺ کو ہی اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمایا کہ مال باسانید صحیحہ آج تک منقول و مروی معہ بیان حالات روات چلے علیہ السلام کا قول وفعل تو کیا اصل انجیل کو بھی دس پانچ اسانید صحیحہ سے بھی کوئی عیسائی نہیں دکھا سکتا۔ برخلاف حضور ﷺ کی کہ آپ کے ہر قول کی ں بلکہ کئی کئی سندوں سے ہم آنحضرت ﷺ تک دکھانے کو موجود ہیں

شوق ہو تو ہمارے مقدمہ تفسیر میزان الادیان کا مطالعہ کرے جو دفتر لاہور سے مل سکتا ہے۔ بلکہ اگر بغرض ہدایت اکرام الحق خود لینے آئے اور اس کے مطالعہ سے ہمیں یقین ہے کہ علاوہ کھلی چٹھی کے جوابات ہو جائیں گے جو دہریوں وغیرہ نے اسلام پر کئے تھے اور غالباً میاں پہنچا ہوگا۔ مجھے افسوس ہوا کہ سرور عالم ﷺ کی احادیث کو اکرام الحق ر دے دیا۔ یا آنکہ خود کو بھی فضیلت عیسیٰ علیہ السلام میں مسلمات ا کہ اعتراض نمبر ١٣ سے ظاہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم دعویٰ سے کہہ مذہب اپنے بانی مذہب کے اقوال وافعال کو بانی مذہب تک اسانید ت روات نہیں بیان کر سکتا۔ اسی واسطے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمارے ان کے متبعین کے ذریعے جمع کرا کر انہیں باسانید صحیحہ موثق کرایا اور ول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا " یعنی ہمارے حبیب سا پر عمل کرو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ دوسری جگہ فرمایا: ول النبى الامي الذى يجدونه مكتوباً عندهم في مسلمان وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں۔ ہمارے رسول کی جو نبی امی

لقب ہیں۔ ان کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بلکہ ہنود کے ویدوں میں بھی باآنکہ وہ باطل ہیں۔ مگر حضور ﷺ کا ذکر موجود ہے۔ اس بحث کو بھی ہم نے اپنے اس مقدمہ میزان الادیان میں بہ تفصیل لکھا ہے۔

جب یہ امر ثابت ہو گیا کہ احادیث رسول اللہ ﷺ کو مثل قصص و حکایات نصاریٰ و ہنود سمجھنا مستلزم انکار قرآن ہے جو صریح گمراہی اور بے دینی ہے تو اب احادیث سے اگر آپ موازنہ کریں گے تو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے کہیں زیادہ بلکہ بیشمار معجزات ہمارے حضور ﷺ کی احادیث سے آپ کو ملیں گے۔ جو مسلمات اسلامیہ سے ہیں۔ مگر یہ جب سہی جب کبھی آپ کو ہم سے ملنے کی خدا توفیق دے گا۔ اب تو میں اپنے لخت جگر کو دعا دیتا ہوں کہ انہوں نے آپ کی خواہش کے مطابق تمام اجوبہ قرآن کریم سے بالاختصار کہے اور باوجود مختصر ہونے کے بفضلہ ایسے واضح اور جامع ہیں کہ ایک تحقیق کرنے والے کی تشفی کو کافی۔ اللہ عزوجل انکو اجر عظیم عطاء فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔ بحرمۃ النبی الامین۔ فقیر حقیر ابو محمد محمد دیدار علی امیر مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند لاہور غفر اللہ لہ ولوالدیہ اساتذتہ۔

تقریظ: فاضل نوجوان واعظ خوش بیان عالم یگانہ فاضل فرزانہ سید الناظرین حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد صاحب صدر مدرس مدرسہ دارالعلوم حزب الاحناف و ناظم مرکزی حزب الاحناف ہند لاہور ۔

”عم فيضه ودام عزه“

”مبسملاً وحامداً ومصلياً ومسلماً اما بعد فمن كشف الستر عن كل كاذب وعن كل بدع اتى بالعجائب ولولا رجال مؤمنون هدمت صوامع دين الله من كل جانب“

”قد سمعت رسالة طيبة وعجالة نفيسة صنفت في جواب اسئلة اكرام الحق المرزائي او العيسائی لا الى هؤلاء ولا الى هؤلاء من اوله الى أخره فنعم الجواب وهو احق ان يقال عين الصواب ولعمري انها لعروة وثقى لطالب الحق والرشد والهدى يستغنى بها عما سوى كيف لا وهى محلاة بحلى آيات القرآن وموشحة بنصوص الفرقان فمن له ادنى بصيرة فانه يهتدى بها الى صراط مستقيم وطريق سوى ومن اكتحلت عيونه بكحل الانصاف والتقى فبمطالعته يجد سبيل الرشد والهدى وانشاء الله لا يحرم الاجر

صفحہ ٩٨

يشفى لان العلامة المجيب والفاضل الاريب البحر الطمطام والحبرالقمقام مولانا الاعظم واخانا المعظم اباالحسنات الحافظ الحكيم محمد احمد صانه الله عن شر كل حاسد اذا حسد وجزاه الله وعن سائر المسلمين جزاء المزيد المتعدد قد بذل جهده لا حقاق الحق على اكرام الحق وسعى وجمع الادلة القطعية واوفى واتى بتحقيق انيق رائق فائق مرضى واستقضى حتى صار بمقابلة اهل الضلال والهوى مصداقا للقول الدائر والمثل السائر لكل فرعون موسى وكذالك يحق الحق ولقذفه على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق واهوى ومن كان فى هذه الوريقه عمى فهو فى الاخرة اعمى واضل سبيلا وربكم اعلم بمن ضل عن سبيله وهو اعلم بمن اهتدى فقط“

نمقه المفتقر الى الله الصمد ابوالبركات سيد احمد
السنى الحنفى الرضوى القادرى الناظم المركزى انجمن
حزب الاحناف هند لاهور

تقریظ: حضرت مولانا مولوی سید منور علی صاحب عربک ٹیچر ڈسٹرکٹ بورڈ سکول اوسیا تحصیل کوہ مری ضلع راولپنڈی۔

میں حسن اتفاق سے چھٹیوں میں آیا ہوا تھا کہ میں نے اکرام الحق کی کھلی چٹھی بھی اوّل سے آخر تک پڑھی اور جناب مولانا مولوی حافظ قاری حکیم سید ابوالحسنات محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان سلمہ نے جو جوابات تحریر فرمائے ہیں۔ اوّل سے آخیر تک پڑھے اور اس سے اوّل جو جوابات دیگر اصحاب کی طرف سے شائع ہوئے وہ بھی دیکھے۔ مگر میں اس عجالہ مبارکہ کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں۔ ممدوح نے نہایت محنت سے تتبع فرما کر جواب دیئے ہیں۔ اگر توفیق ہدایت ہو تو اکرام جیسے اور مشتبہ افراد کے لئے بھی یہ بہترین مشعل ہدایت ہے اور ”مـن یـضـل الله فـلا هـادى لـه “ یہ دوسری بات ہے میں دعاء کرتا ہوں کہ اللہ مؤلف کے علم و عمل میں برکت دے اور اسی قسم کی خدمات دینی میں مصروف رکھے۔ آمین بحرمت النبی الامین۔ سید منور علی عفی عنہ!

گزارش ضروری: چونکہ کھلی چٹھی ہزارہا کی تعداد میں شائع کی جا چکی ہے۔ لہٰذا اگر ناظرین کی نظر میں یہ جواب مفید ہے تو اسے کافی تعداد میں شائع کرنے کے لئے جو صاحب بزم کی امداد فرمائیں گے وہ حقیقتاً ایک خدمت دینی کا ثواب لیں گے۔

(سیکرٹری بزم تنظیم مسجد وزیر خان لاہور)

صفحہ ٩٨

لابة المجيب والفاضل الاريب البحر الطمطام والحبر القمقام اخانا المعظم ابا الحسنات الحافظ الحکیم محمد احمد صانه حاسد اذا حسد وجزاه الله وعن سائر المسلمين جزاء ۔ لقد جهده لاحقاق الحق علی اکرام الحق وسعی وجمع الادلة اتى بتحقیق انیق رائق فائق مرضی واستقصى حتى صار ضلال والهدى مصداقا للقول الدائر والمثل السائر لكل ذالك يحق الحق ويقذفه على الباطل فيدمغه فاذا هو زاهق في هذه الوريقه عمى فهو في الاخرة اعمى واضل سبيلا ضل عن سبيله وهو اعلم بمن اهتدى فقط“ نمقه المفتقر الی الله الصمد ابو البرکات سید احمد السنی الحنفی الرضوی القادری الناظم المرکزی انجمن حزب الاحناف هند لاہور

حضرت مولانا مولوی سید منور علی صاحب عربیک ٹیچر ڈسٹرکٹ بورڈ سکول راولپنڈی۔

ق سے چٹھیوں میں آیا ہوا تھا۔ میں نے اکرام الحق کی کھلی چٹھی بھی اوّل ناب مولانا مولوی حافظ قاری حکیم سید ابوالحسنات محمد احمد قادری خطیب جوابات تحریر فرمائے ہیں۔ اوّل سے آخر تک پڑھے اور اس سے اوّل طرف سے شائع ہوئے وہ بھی دیکھے۔ مگر میں اس عجالہ مبارکہ کو زیادہ نے نہایت محنت سے تتبع فرما کر جواب دیئے ہیں۔ اگر توفیق ہدایت ہو تو کے لئے بھی یہ بہترین مشعل ہدایت ہے اور ”من یضل الله فلا ہت ہے میں دعاء کرتا ہوں کہ اللہ مؤلف کے علم و عمل میں برکت دے اور مصروف رکھے۔ آمین بحرمتہ النبی الامین۔ سید منور علی عفی عنہ!

ی: چونکہ کھلی چٹھی ہزارہا کی تعداد میں شائع کی جا چکی ہے۔ لہٰذا اگر مفید ہے تو اسے کافی تعداد میں شائع کرنے کے لئے جو صاحب بزم ایک خدمت دینی کا ثواب لیں گے۔

(سیکرٹری بزم تنظیم مسجد وزیر خان لاہور)

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

کرشن قادیانی

کے

بیانات ہذیانی

(حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد قادری)

صفحہ ١٠٠

نحمدہ ونصلیٰ علیٰ رسولہ الکریم بسم الله الرحمن الرحیم

حامد: بھائی سعید احمد میں آپ کو ایک مشورہ دینے آیا ہوں اور چونکہ آپ میرے دوست ہیں۔ اس لئے میں بزور آپ سے کہوں گا کہ اس پر عمل کریں۔

سعید: فرمائیے ! اگر آپ کا مشورہ صحیح اور واجب العمل ہوگا مجھے اس پر عمل کرنے میں کبھی عذر نہ ہوگا۔

حامد: میں آپ کی باتیں سن کر اس نتیجہ پر تو پہنچ چکا ہوں کہ مرزائی جماعت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی، مذہب اہل سنت سے علیحدہ جماعت ہے اور اس کو مسلمانان اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن تہذیب بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ میں نے آپ کے منہ سے کئی بار سنا کہ آپ نے مرزا قادیانی آنجہانی کو کرشن اوتار کہا۔ یہ اچھا نہیں۔ ان کی اتنی اہانت نہ کیجئے۔ بلکہ بین ثبوت ان کے کرشن نہ ہونے کا یہ ہے کہ میں نے قادیان میں گائے کا گوشت بکتے دیکھا۔ اگر وہ کرشن ہوتے تو مثل کرشن جی کے گؤ رکھشا کرتے اور بن میں گائے چراتے۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے حکومت سے درخواست کر کے گائے کے ذبح کی قادیان میں اجازت لی تھی۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ مخالفت مذہبی کی وجہ سے انہیں برا کہتے کہتے یہاں تک اتر آئیں کہ کرشن اوتار کہنے لگیں۔

سعید: بھائی جان ! ہنود کے اوتاروں میں رام اور کرشن ہی دو موحد ایسے گزرے ہیں جن کے متعلق ہم بھی برا لفظ ان کی شان میں نہیں کہہ سکتے ۔ اس لئے کہ بعض صوفیاء کرام نے اپنے مشاہدات سے انہیں حضورﷺ کے عشق میں فنا دیکھا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں اہانت مرزا قادیانی لازم نہیں آتی۔ قطع نظر اس کے جب مرزا قادیانی خود ہی اپنے کرشن ہونے کا دعویٰ کر گئے ہوں تو پھر آپ کیا کہیں گے اور وہ دعویٰ بھی خدا کے الہام سے کیا گیا ہو تو پھر؟

حامد: آپ بھی زور میں آکر چاہے جو کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مسیح موعود بھی بنے اور اس کے ساتھ کرشن اوتار بھی ہونے کا مدعی ہو اور پھر وہ دعویٰ بھی الہامی ہو۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا یہ بھی کسی جگہ لکھا ہے۔

سعید: جی ہاں ! (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٨) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے : ” خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی

٢

صفحہ ١٠١

نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم! سعید احمد میں آپ کو ایک مشورہ دینے آیا ہوں اور چونکہ آپ میرے عزیز اور آپ سے کہوں گا کہ اس پر عمل کریں۔ سعید! اگر آپ کا مشورہ صحیح اور واجب العمل ہوگا مجھے اس پر عمل کرنے میں

آپ کی باتیں سن کر اس نتیجہ پر تو پہنچ چکا ہوں کہ مرزائی جماعت خواہ ب اہل سنت سے علیحدہ جماعت ہے اور اس کو مسلمانان اسلام سے کوئی بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ میں نے آپ کے منہ سے کئی بار سنا کہ آپ کو کرشن اوتار کہا۔ یہ اچھا نہیں۔ ان کی اتنی اہانت نہ کیجئے۔ بلکہ میں نے کا یہ ہے کہ میں نے قادیان میں گائے کا گوشت ہوتے دیکھا۔ اس جی کے گئورکھشا کرتے اور بن میں گائے چراتے۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی نے حکومت سے درخواست کر کے گائے کے ذبح کی قادیان میں نہیں کہ مخالفت مذہبی کی وجہ سے انہیں برا کہتے کہتے یہاں تک اتر آئے۔

ان! ہندو کے اوتاروں میں رام اور کرشن ہی دو موحد ایسے گزرے ہیں ن کی شان میں نہیں کہہ سکتے ۔ اس لئے کہ بعض صوفیاء کرام نے اپنے للہ کے عشق میں فنا دیکھا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں اہانت ع نظر اس کے جب مرزا قادیانی خود ہی اپنے کرشن ہونے کا دعویٰ کر گے اور وہ دعویٰ بھی خدا کے الہام سے کیا گیا ہو تو پھر؟ ور میں آ کر چاہے جو کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کے ساتھ کرشن اوتار بھی ہونے کا مدعی ہو اور پھر وہ دعویٰ بھی الہامی جگہ لکھا ہے۔

لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٨) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ مانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی

٢

ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس سال سے کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پر ہو گئی ہے۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔“

علاوہ بریں آپ تو اس کو مرزا قادیانی کی اہانت مانتے ہیں اور ان کے پیرو بھاشا زبان میں اشتہار دے دے کر ہندو جاتی کو مطلع کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہندوؤں کے سیوک ابوالبشیر مرزا، مسجد احمدیہ بیرون دہلی دروازہ لاہور کا یہ اشتہار ملاحظہ ہو۔ جس کا عنوان (ہندو جتا اور اس کا کرتویہ ) ہے۔ اس کے اخیر میں وہ بتاتے ہیں۔ (٥) اے ہندو جاتی تو کرشن بھگوان کی محبت کا دعویٰ بھی کرتی ہے اور پھر تو اس کے کتھن کو بھول گئی ہے۔ کیا اس نے تجھے نہیں بتلایا تھا کہ جب کبھی دھرم کی ہانی ہوتی ہے اور ادھرمی زور ظلم کرتے ہیں تو اس وقت میں اپنی آتما کو پرگٹ کرتا ہوں۔ نیکوں کی رکھشا اور دھرم کی ستھاپن کے لئے سمہ سمہ پر شریر دھارن کرتا رہتا ہوں۔ (گیتا ادھیائے شلوک ٧/٨) پس میں بھگوان کرشن کے بھگتوں کے لئے ڈھنڈورہ دیتا ہوں کہ کرشن بھگوان نے اپنی پرتگیا انوسار اسی بھارت ورش کی بیاس ندی کے تت پر اپنی آتما کو پرگٹ کر دیا ہے۔ پس ہندو جتا کا کرتویہ ہے کہ کرشن قادیانی کے جھنڈے تلے اکترت ہو جائیں۔ جو کوئی شردھا سے اسے شرون کر اپنا کر تو یہ بالن کرے گا پاپوں سے انمکت ہو جائے گا۔ آپ کا سیوک ابوالبشیر مرزا۔

حامد: لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! میں نے تو آج یہ ٹھانی تھی کہ اگر آپ نے میرا مشورہ نہ مانا تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ ضدی اور متعصب ہیں۔ مگر آپ کے پاس تو ہر چیز کا ثبوت ان کی خود تحریرات سے موجود ہے۔ اچھا یہ تو بتائیں کوئی ابو عمر عبدالعزیز ہیں۔ انہوں نے حقیقت مرزا ایک پمفلٹ نکالا ہے۔ اس میں وہ مرزاجی کے بیانات سے ان کی عمر میں گڑبڑ بتا رہے ہیں کیا یہ صحیح ہے۔

سعید: بالکل صحیح ہے۔ لیجئے میں آپ کو یہ تفصیل ان کی اصل عبارتوں سے بتائے دیتا

٣

صفحہ ١٠٢

ہوں۔ (تریاق القلوب ص١١، خزائن ج١٥ص١٥٢) میں ہے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”ثمانین حولاً اوقريباً من ذالك اوتزيد عليه سنيناً وترى نسلاً بعيداً“ یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الہام تقریباً پینتیس برس سے ہوچکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا اور (ضمیر براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٧، خزائن ج٢١ ص٢٥٨) میں لکھتے ہیں ۔ ”میں بخدا اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی مت سمجھو۔ اس کو بقول اپنے تمسخری سمجھ لو۔ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گذر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگئی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔ پھر اسی ضمیمہ کے اسی صفحہ پر چھ سات سطر بعد لکھتے ہیں اور جو الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں ۔“ اور پھر اسی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠) پر لکھتے ہیں ۔ ”میری عمر اس وقت تخمیناً ٧٤ سال کی ہے۔“ عبارات منقولہ بالا سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ الہام میں عمر ٧٤ برس سے ٨٦ کے اندر اندر مرزا قادیانی بتا رہے ہیں۔

حامد: اچھا اب ذرا یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی دنیا میں کب آئے ۔

سعید: (کتاب البریہ ص١٧٧، خزائن ج١٣ ص١٧٧) میں اور (ریویو آف ریلیجنز بابت جون ١٩٠٦ء کے ص٢١٩) پر اور (اخبار بدر ٣٠؍اگست ١٩٠٤ء ص٥) پر اور (الحکم ٢١، ٢٨؍مئی ١٩١١ء ص٤ کالم نمبر١) پر اور (حیات النبی ج١ص٤٩) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”میری پیدائش سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔“

حامد: سکھوں کا آخری وقت کس سن میں ہوا؟

سعید: ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء سکھوں کا آخری وقت تھا۔

حامد: تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٠ سال ہوئی۔

سعید: آپ کیوں حساب لگاتے ہیں ۔ مرزا قادیانی ہی سے پوچھئے وہی بتا رہے ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ ص٩٣،٩٤، خزائن ج١٧ ص٢٥٢) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کی وفات مبارک تک کل مدت ٤٧٣٩ سال ہے اور پھر (تحفہ گولڑویہ ص٩٥ حاشیہ ) پر لکھتے ہیں ۔ اس حساب کی رو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے اور (اخبار الحکم ٦؍جنوری ١٩٠٨ء ص٦) پر ہے۔ الف ششم ١٢٧٠ھ میں ختم ہوا تھا۔

٤

صفحہ ١٠٣

١١، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢) میں ہے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”ثــمــانــيــن ذلك او تزيد عليه سنينا وترى نسلا بعيدا “یعنی تیری عمر اسی چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا اور ں سے ہو چکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا اور (ضمیمہ براہین ج ٢١ ص ٢٥٨) میں لکھتے ہیں ۔ ” میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی پنے تمسخری سمجھ لو ۔ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا پانچ چھ سال کم ۔ پھر اسی ضمیمہ کے اسی صفحہ پر چھ سات سطر بعد لکھتے ہیں کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے میمہ حصہ پنجم ص ٩٠) پر لکھتے ہیں ۔ ” میری عمر اس وقت تخمیناً ٧٦ سال کی سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ الہام میں عمر ٧٤ برس سے ٨٦ کے اندر اندر

ذرا یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی دنیا میں کب آئے ۔ ب البریہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) میں اور (ریویو آف ریلیجنز بابت (اخبار بدر ٣٠؍ اگست ١٩٠٦ء ص ٥) پر اور (الحکم ٢١ و ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٤ کالم ص ٣٩) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ” میری پیدائش سکھوں کے آخری

آخری وقت کس سن میں ہوا؟ یا ١٨٤٠ء سکھوں کا آخری وقت تھا۔ ب سے مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٠ سال ہوئی۔ حساب لگاتے ہیں ۔ مرزا قادیانی ہی سے پوچھئے وہی بتا رہے ہیں ۔ ص ٢٥٢) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”حضرت آدم علیہ السلام سے ب تک کل مدت ٤٧٣٩ سال ہے اور پھر ( تحفہ گولڑویہ ص ٩٥ حاشیہ ) پر سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس ١٩٠٨ء ص ٦) پر ہے۔ الف ششم ١٢٧٠ھ میں ختم ہوا تھا۔

٤

حامد: تو اس حساب سے مرزا قادیانی کا سن ظہور یعنی پیدائش کا سال ١٢٥٩ھ بنتا ہے۔ سعید: جی ہاں! (ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٠٢، ج ٢١ ش ٥ ص ١٤٩) پر بھی قریب قریب یہی سنہ لکھا ہے۔ وهو هذا ! ” ١٢٦٠ھ سن پیدائش حضرت مسیح موعود ۔“ اب مختلف بیانات عمر مرزا قادیانی کے متعلق ملاحظہ ہوں ۔

مرزا قادیانی کی عمر ٨٣ سال ہوئی ہے۔

کی عمر ٨٠ سال ہوئی ہے۔

کی عمر ٧٦ برس ہوئی ہے۔

مرزا قادیانی کی عمر ٧٤ سال ہوئی ہے۔

آپ نے ٦٩ سال کی عمر پائی۔

عمر ٦٦ سال میں ختم کی ۔

اور اصل تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تحریر کے مطابق ١٢٦٠ھ میں پیدا ہوئے اور ١٣٢٦ھ میں بغیر حج کئے مرے۔ تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر بموجب الہام مذکورہ نہ چوہتر برس کی ہوئی ہے نہ ٨٦ برس کی ۔ بلکہ ٦٨ برس تک پہنچ کر ختم ہوگئی ۔

حامد: کیا کہیں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔ سعید: جی ہاں ! لکھا ہے۔ براہین احمدیہ کے (ضمیمہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) پر ہے۔ ” اور جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ اور متناقض اقوال تو میں آپ کو پہلے نمبروں میں خود مرزا قادیانی کی تحریر سے دکھا چکا ہوں ۔

٥

صفحہ ١٠٤

حامد: ازالہ اوہام مرزائیوں کی کوئی کتاب ہے۔

سعید: ہاں ہے۔

حامد: اس کے حصہ دوم میں ص٦٠٢ کا ایک مفصل مضمون مرزا قادیانی کا ایک مرزائی نے مجھے دکھایا جس کے پڑھنے سے مجھے یہ اطمینان ہوگیا کہ وہ صحیح ہے۔

سعید: وہ کیا مضمون تھا۔ مجھے بھی تو سنایئے۔ لیجئے یہ ازالہ اوہام ہے اور وہ ہے جو مرزا قادیانی کی ابتدائی زمانہ ١٣٠٨ھ میں ریاض ہند امرتسر کے ذریعہ کل سات سو چھوٹی تقطیع پر طبع ہوا تھا۔

حامد: ہاں اسی تقطیع کا میں نے دیکھا تھا اس کا ص ٦٠٢ نکالئے۔

سعید: یہ لیجئے۔

حامد: (ازالہ اوہام ص ٦٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) سے بحث شروع کی ہے۔ ”افسوس کہ بعض علماء جب دیکھتے ہیں کہ توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلما توفیتنی میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے۔ ”واذ قال الله يعيسىٰ أأنت قلت للناس “ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ یعنی فلما توفیتنی ہے وہ بھی بصیغہ ماضی ہے۔ اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے علماء جو اس کو دلیل میں پیش کرتے ہیں غلط ہے۔“

سعید: بھائی جان بے علمی بری بلا ہے۔ اوّل تو مرزا قادیانی کو قرآن ہی نہیں آتا۔ یا یوں کہیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا جہاں ذکر آتا ہے مرزا قادیانی غصہ میں از خود رفتہ ایسے ہوجاتے ہیں کہ ہوش ہی نہیں رہتا۔ قرآن کریم میں یہ آیت یوں نہیں ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے نقل کی ہے۔ بلکہ یوں ہے۔ ”واذ قال الله يعيسى ابن مريم “ علاوہ اس کے چونکہ مرزا قادیانی پہلے بتاگئے ہیں کہ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کلام میں بھی مرزا قادیانی کے تناقض ہو۔ چنانچہ ملاحظہ کیجئے (ضمیمہ براہین احمدیہ ص٦، خزائن ج٢١ ص١٥٩) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

٦

صفحہ ١٠٥

ازالۃ الاوہام مرزائیوں کی کوئی کتاب ہے۔

ل ہے۔

اس کے حصہ دوم میں ص ٦٠٢ کا ایک مفصل مضمون مرزا قادیانی کا ایک مرزائی سے پڑھنے سے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ وہ صحیح ہے۔

وہ کیا مضمون تھا۔ مجھے بھی تو سنائیے۔ لیجئے یہ ازالۃ الاوہام ہے اور وہ ہے جو زمانہ ١٣٠٨ھ میں ریاض ہند امرتسر کے ذریعہ کل سات سو چھوٹی تقطیع پر طبع

اسی تقطیع کا میں نے دیکھا تھا اس کا ص ٦٠٢ نکالئے۔

لیجئے۔

ازالۃ الاوہام ص ٦٠١، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) سے بحث شروع کی ہے۔ ”افسوس کہ ہیں کہ توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل کہ فلما توفیتنی میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ لما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے۔ ”واذ قال اللہ یعیسیٰ اٰنت قلت ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے۔ جو خاص واسطے یعنے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا ر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ یعنی فلما توفیتنی ہے۔ اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے علماء جو اس کو دلیل میں پیش

ائی جان بے علمی بری بلا ہے۔ اوّل تو مرزا قادیانی کو قرآن ہی نہیں آتا۔ یا ام کا جہاں ذکر آتا ہے مرزا قادیانی غصہ میں از خود رفتہ ایسے ہو جاتے ہیں قرآن کریم میں یہ آیت یوں نہیں ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے نقل کی ہے۔ قال الله يعيسى بن مريم “ علاوہ اس کے چونکہ مرزا قادیانی پہلے سی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کلام میں بھی ہو۔ چنانچہ ملاحظہ کیجئے (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٦، خزائن ج ٢١ ص ١٥٩) پر

٦

”جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو۔ مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون“ اور جیسا کہ فرماتا ہے: ”واذ قال اللہ یعیسی بن مریم اٰاَنت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ“ (اسی طرح چند اور امثلہ قرآنی پیش کرتے کرتے ص ٧ تک آکر آگے کہتے ہیں) اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا یہ قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے۔ اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے۔ جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں۔ بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہو گیا۔ گویا وہ صرف نحو جو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں۔ اسی وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔“ اب آپ فرمائیے کہ مرزا قادیانی جو ازالۃ الاوہام میں لکھ آئے ہیں۔ اسی صرف نحو سے لکھ آئے یا نہیں جس صرف و نحو کو معاذ اللہ خدا بھی نہ جانتا تھا اور مرزا قادیانی نے اپنی تحریر سے خود اقرار کیا یا نہیں کہ میں قرآن پر حملہ کر کے اپنا جھوٹا دعویٰ ثابت کرنا چاہتا ہوں۔

حامد: بھائی جان! اب مجھے اور کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ اللہ آپ کے علم ومعلومات میں ترقی دے۔ خوب شافی جواب دیتے ہو۔

سعید: نہیں اور لیجئے! ازالۃ الاوہام میں تو کہہ آئے ہیں کہ یہ واقعہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اٰاَنت قلت کا سوال ہو چکا۔ مگر نصرۃ الحق دیباچہ ہے۔ (اس میں ص ٤٠، خزائن ج ٢١ ص ٥١) پر خوب اپنے کو کاذب مانا ہے۔ لکھتے ہیں ”اور قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ ہرگز نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ آیت فلما توفیتنی سے یہ دونوں مطلب ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس تمام آیت کے اوّل آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرانا تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں ان کے حالات سے مطلع تھا اور گواہ تھا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کے حالات سے واقف تھا۔ یعنی بعد وفات مجھے ان

٧

صفحہ ١٠٦

کے حالات سے کچھ بھی خبر نہیں۔“ تو اب سمجھ لیجئے کہ ازالہ اوہام میں جب مطلب یوں معنی کرتے نہ بنا تو کہہ دیا کہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا اور یہاں نصرت الحق میں جب صحیح معنی کرنے میں مطلب بنا تو یہ کہہ دیا کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا اور ازالہ اوہام میں قال اور ان کے ماضی ہونے پر اتنا زور دیا کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اُس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے اور پھر براہین احمدیہ میں جب دیکھا کہ مجھ پر خصم کی چوٹ پڑتی ہے تو کہہ دیا کہ جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آ جاتی ہے۔ جیسا کہ اوّل میں ساری عبارت آپ کو بتا چکا ہوں۔ فرمائیے یہ کیسا کلام الٰہی کی ترجمانی اور تفسیر میں تناقض ہے جو بقول مرزا قادیانی جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹے آدمی ہوئے یا نہیں۔ اس کی وجہ بھی آپ سمجھ سکے کہ اس طرح متضاد مضامین مرزا قادیانی کیوں لکھ جاتے ہیں۔

حامد: مراق کی وجہ سے دماغ میں ضعف اور نسیان میں ترقی ہوئی ہوگی۔

سعيد: خیر یہ وجہ تو ایسی ہے کہ اسے تو قریب قریب سب ہی جانتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ آپ باقاعدہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔

حامد: یہ بات قابل تسلیم نہیں ہو سکتی۔ اگر باقاعدہ تعلیم یافتہ نہ تھے تو یوں ہی اتنی ساری کتابیں عربی اردو میں لکھ ڈالیں۔

سعيد: اس کا بھی مرزا قادیانی خود اقرار کر رہے ہیں۔ چنانچہ نصرت الحق جو حقیقتاً دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کا ہے۔ اس کے (ص٥٣، خزائن ج٢١ ص٦٧) پر لکھتے ہیں ”اور نہ میں کسی عالم فاضل سے باقاعدہ تعلیم یافتہ اور سند یافتہ تھا۔ تا مجھے اپنے سرمایہ علمی پر ہی بھروسہ ہوتا۔“

حامد: یہ بھی ایک عجیب معاملہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم یافتہ بھی نہ ہونا اپنے کو مان رہے ہیں اور پھر خدا کے کلام کی توجیہات و تاویلات کے میدان میں بھی گام فرسا ہیں۔

سعيد: یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو کثرت سے قرآن کریم کے معنی میں ہر جگہ اپنے مراق سے کام لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ ”یا آدم اسکن انت وزوجك الجنۃ“ کے ماتحت ملاحظہ کیجئے۔ جس میں یہ بحث فرمائی ہے کہ سننے والا ایک دفعہ تو پیٹ بھر کے ہنسنے پر مجبور ہوگا۔

حامد: کیا اس کے معنی بھی بدلے ہیں۔

٨

صفحہ ١٠٧

خبر نہیں۔“ تو اب سمجھ لیجئے کہ ازالہ اوہام میں جب مطلب یوں معنی کرتے قت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا اور یہاں نصرت الحق میں جب بحث ہو تو یہ کہہ دیا کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا اور ان کے ماضی ہونے پر اتنا زور دیا کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اُس کے س واسطے ماضی کے آتا ہے اور پھر براہین احمدیہ میں جب دیکھا کہ مجھ پر کہہ دیا کہ جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے پر بھی آ جاتی ہے۔ جیسا کہ اوّل میں ساری عبارت آپ کو بتا چکا ہوں۔ ترجمانی اور تفسیر میں تناقض ہے جو بقول مرزا قادیانی جھوٹے آدمی کے ا ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹے آدمی ہوئے یا نہیں۔ اس کی وجہ بھی آپ سمجھ مامین مرزا قادیانی کیوں لکھ جاتے ہیں۔ کی وجہ سے دماغ میں ضعف اور نسیان میں ترقی ہوئی ہوگی۔ وجہ تو ایسی ہے کہ اسے تو قریب قریب سب ہی جانتے ہیں۔ دوسری وجہ علیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ ت قابل تسلیم نہیں ہو سکتی ۔ اگر با قاعدہ تعلیم یافتہ نہ تھے تو یوں ہی اتنی لکھ ڈالیں۔

کا بھی مرزا قادیانی خود اقرار کر رہے ہیں۔ چنانچہ نصرۃ الحق جو حقیقتاً م کا ہے۔ اس کے (ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٧) پر لکھتے ہیں ” اور نہ میں تعلیم یافتہ اور سند یافتہ تھا۔ تا مجھے اپنے سرمایہ علمی پر ہی بھروسہ ہوتا ۔“ یک عجیب معاملہ ہے کہ با قاعدہ تعلیم یافتہ بھی نہ ہونا اپنے کو مان رہے توجیہات و تاویلات کے میدان میں بھی گامزن رہیں۔ یہ ہے کہ آپ کو خیریت سے قرآن کریم کے معنی میں ہر جگہ اپنے مراق ”یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة“ کے ماتحت ملاحظہ کیجئے۔ تا ہے کہ سننے والا ایک دفعہ تو پیٹ بھر کے ہنسنے پر مجبور ہوگا۔ کے معنی بھی بدلے ہیں۔

٨

سعید: ملاحظہ کیجئے (تریاق القلوب ص ١٥٦، ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) پر کتنی عاقلانہ تقریر کی ہے۔ لکھتے ہیں ۔ ” اب یاد رہے کہ بندہ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیش گوئی کے مطابق بھی ہوئی ۔ یعنی میں توام (جوڑلا) پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ: ”یادم اسکن انت وزوجك الجنة“ جو آج سے بیس برس پہلے (براہین احمدیہ ص ٤٩٦) میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی۔ ( لکھتے لکھتے آگے کہتے ہیں ) منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

حامد: ہنس کر ! مرزا قادیانی کو کیا ہوگیا۔ جہاں دیکھو وہ بات کہتے ہیں۔ جس کو ایک فہیم ہذیان سے زیادہ سمجھ ہی نہ سکے۔

سعید: یہ آپ کو اختیار ہے۔ کچھ سمجھے ہم تو مرزا قادیانی کے مضامین آپ کو سنا دیتے ہیں۔

حامد: اس کو دروغ بانی اور کذب بیانی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔

سعید: یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے عقیدہ میں جھوٹ بولنے والا مرتد ہے۔

حامد: یہ بھی کہیں لکھا ہے۔

سعید: جی ہاں ! تحفہ گولڑیہ کے حاشیہ میں ہے۔ (ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) پر ملاحظہ ہو۔ ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔“

حامد: مرتد کا تو نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

سعید: جی ہاں۔

حامد: تو اس حساب سے جو ذرا جھوٹ بولے فوراً مرتد ہوگا اور اس کی بیوی نکاح سے خارج۔

سعید: جی ہاں ! مرزا قادیانی کے اصول کے لحاظ سے تو ایسا ہی ہے۔

حامد: خیر صاحب یہ قصہ تو چھوڑیئے ۔ اب ذرا مجھے ”یعیسی انی متوفيك ورافعك الی ومطهرك من الذین کفروا“ کی مفصل بحث سنا دیجئے ۔ یہ مرزائیوں کی مایہ

٩

صفحہ ١٠٨

تاز بحث ہے اور ازالہ اوہام سے ایک مرزائی نے مجھے یہ بحث سنائی تھی۔ جس سے میں کچھ شک میں پڑ گیا۔ (ازالہ اوہام ص ٩٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٠٦ حاشیہ متعلقہ ص ٨٩٢) میں اس طرح لکھا ہے۔ یہ آیت پوری پوری یہ ہے۔ ”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامہ“ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفاروں کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جائے اور ”ارجعی الیٰ ربک“ کی خبر اس کو پہنچ جائے۔ پہلے اس کا وفات پانا ضروری ہے۔ پھر بموجب آیہ کریمہ ”ارجعی الیٰ ربک “ اور حدیث صحیح کہ اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مؤمن کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے۔ جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں۔ (پھر ص ٩٢٤ تک لکھتے لکھتے کہتے ہیں) سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقع ہیں اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔ کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیونکر رب العالمین کا ذکر کیا۔ پھر رحمٰن پھر رحیم پھر مالک یوم الدین (آگے کہتے ہیں) غرض موافق عام طریق کامل البلاغت قرآن کریم کی آیت موصوفہ میں ہر چہار فقرہ ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کے طرز پر ”یحرفون الکلم من مواضعہ“ کی عادت ہے اور جو مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الٰہی کی تحریف وتبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدا تعالیٰ کے ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے یعنی کہتے ہیں کہ اگرچہ فقرہ ”مطہرک من الذین کفروا “ اور فقرہ ”وجاعل الذین اتبعوا “ بترتیب طبعی واقع ہیں۔ لیکن فقرہ ”انی متوفیک “ اور فقرہ ”ورافعک الیٰ “ ترتیب طبعی پر واقع نہیں۔ بلکہ دراصل فقرہ ”انی متوفیک “ مؤخر اور فقرہ ”رافعک الیٰ “ مقدم ہے۔ “ افسوس اس کا کیا جواب ہے؟ ١٠

سعید : اس کے متعلق اوّ جو دعویٰ کر گئے کہ امور قابل بیان کا تر ہے۔ یہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے یا اس کہ آیات قرآنیہ تک صحیح نہیں لکھ سکتے سب کی آنکھوں میں دھول ڈال کر کہ کہ تمام قرآن کریم میں ترتیب طبعی کریم معاذ اللہ غلط ٹھہرتا ہے۔ مثال طبعی کہاں ہے۔

ہے ” یمریم اقنتی لربک واسج اے مریم اپنے رب کے حضور ادب ساتھ رکوع کر۔

والاسباط وعیسٰی وایوب کیا مرزا قادیانی اور ان کے متبعین ہے۔ یعنی پہلے حضرت ابراہیم پر و السلام پر پھر یعقوب علیہ السلام پـ پھر یونس علیہ السلام پر پھر ہارون آیت میں داؤد علیہ السلام صاحـ داؤد علیہ السلام کو ملی۔

وقوم لوط واصحاب الا اس کے بعد عاد وثمود۔ اس کـ قرآنی سے نوح پھر عاد پھر فرعـ طبعی کہاں رہی۔

صفحہ ١٠٩

اوہام سے ایک مرزائی نے مجھے یہ بحث سنائی تھی۔ جس سے میں کچھ شک (ص ٩٢٢ ، خزائن ج ٣ ص ٦٠٦ حاشیہ متعلقہ ص ٨٩٢ ) میں اس طرح لکھا ہے ۔ یہ ہے ۔ ” یعیسیٰ انی متوفیک ورافعك الی ومطهرك من الذین الذین اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامه “ اس آیت میں اور اپنے تینوں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔ یعنے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ کیونکہ اس خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جائے اور ” ارجعی الی ربک “ کی خبر اس کو وفات پانا ضروری ہے۔ پھر بموجب آیۂ کریمہ ” ارجعی الی ربك “ کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مومن کی روح کا لازمی ہے۔ جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں۔ (پھر ص ٩٢٤ ) سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقعہ ہیں اور یہی آیت سے مناسب حال ہے۔ کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیونکر رب العالمین کا ذکر پھر مالک یوم الدین (آگے کہتے ہیں ) غرض موافق عام طریق کامل آیت موصوفہ میں ہر چہار فقرہ ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن لوگ یہودیوں کے طرز پر ” یحرفون الكلم من مواضعه “ کی عادت حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الٰہی باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدا تعالیٰ کے ان چار ترتیب وار فقروں ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے یعنی کہتے ہیں کہ اگر چہ فقرہ ” مطهرك من و جاعل الذین اتبعوا “ بترتیب طبعی واقع ہیں ۔ لیکن فقرہ ”انی رافعك الیٰ “ترتیب طبعی پر واقع نہیں۔ بلکہ دراصل فقرہ ”انی رافعك الیٰ “ مقدم ہے۔“ افسوس اس کا کیا جواب ہے؟

١٠

سعید: اس کے متعلق اول تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ مرزا قادیانی اندھا دھند جو دعویٰ کر گئے کہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ یہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے یا اس کی دلیل بھی ہے۔ بزرگوار کی قرآن دانی کا تو یہ حال ہے کہ آیات قرآنیہ تک صحیح نہیں لکھ سکتے اور دعویٰ اتنا زبردست کر گئے اور سورہ فاتحہ کی مثال دے کر سب کی آنکھوں میں دھول ڈال کر نکل گئے۔ جان عزیز اول تو یہ اصول ہی سرے سے غلط ہے کہ تمام قرآن کریم میں ترتیب طبعی کا لحاظ لازمی رکھا گیا ہے اور اگر اسکو صحیح مانتے ہو تو قرآن کریم معاذ اللہ غلط ٹھہرتا ہے۔ مثال کے لئے چند آیات پیش کرتا ہوں۔ بتائیے اس میں ترتیب طبعی کہاں ہے۔

ہے ” یمریم اقنتی لربك واسجدی وارکعی مع الراکعین “ جس کے صاف معنی ہیں۔ اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر۔

والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان و آتینا داؤد زبورا “ کیا مرزا قادیانی اور ان کے متبعین یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس آیت میں وحی اور نبی میں ترتیب طبعی ہے۔ یعنی پہلے حضرت ابراہیم پر وحی ہوئی اور وہ نبی ہوئے۔ پھر اسماعیل علیہ السلام پر پھر اسحاق علیہ السلام پر پھر یعقوب علیہ السلام پر پھر ان کی اولاد پر۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام پر پھر ایوب علیہ السلام پر پھر یونس علیہ السلام پر پھر ہارون علیہ السلام پر، پھر سلیمان علیہ السلام پر، پھر داؤد علیہ السلام۔ اس آیت میں داؤد علیہ السلام صاحب زبور سب کے بعد ہیں۔ حالانکہ توریت وانجیل سے پہلے زبور داؤد علیہ السلام کو ملی۔

وقوم لوط واصحاب الایکه “ اس میں ترتیب طبعی نہیں۔ اس لئے کہ پہلے قوم نوح ہوئی۔ اس کے بعد عاد وثمود۔ اس کے بعد اصحاب ایکہ۔ پھر قوم لوط پھر فرعون ذوالاوتاد اور ترتیب قرآنی سے نوح پھر عاد پھر فرعون۔ پھر ثمود۔ پھر قوم لوط۔ پھر اصحاب ایکہ ہیں۔ بتائیے ترتیب طبعی کہاں رہی۔

١١

صفحہ ١١٠

چہارم ....... ” ولقد خلقنا السمٰوت والارض وما بينهما في ستة ايام “ اس میں بھی ترتیب نہیں۔ اس لئے کہ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی ہے۔ جیسا دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔ ”خلق الارض فى يومين ثم استوى الى السماء وهي دخان فقال لها “ بحمدہ آیات مذکورہ کی مثالوں سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ قرآن کریم میں جہاں امور قابل بیان ہوں وہاں ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن میں ہے۔ غلط اور محض لغو ہے۔ علاوہ اس کے بہت سی مثالیں قرآن کریم میں ہیں۔ مگر مختصر میں اختصار کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ بدیں وجہ اسی پر اکتفاء کی گئی۔ اب مرزا قادیانی کی شیریں کلامی ملاحظہ ہو کہ غصہ میں آ کر نہ صرف موجودہ علماء کو کوس گئے ۔ بلکہ حضرت ابن عباس سید المفسرین اور صاحب اتقان اور ضحاک تابعی صاحب فتح القدیر ، صاحب جلالین، صاحب مجمع البحار ، صاحب تنویر ، صاحب درمنثور، صاحب مدارک ، صاحب تفسیر کبیر علامہ فخر الدین رازی ، صاحب خازن، صاحب مشکوٰۃ سب کو اپنے مطلب کے خلاف دیکھ کر صاف کہہ گئے کہ حال کے متعصب ملاّ جن کو یہودیوں کی طرز پر ”يحرفون الكلم عن مواضعه “ کی عادت ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے مرزا قادیانی کے مرض مراق نے انہیں یہ راہ نمائی کی کہ جو میں کہوں وہ صحیح ، باقی جو میرے مخالف ہو وہ یہودی اور قرآن میں تحریف کرنے والا ۔ عام اس سے کہ وہ صحابی جلیل القدر ہو یا تابعی یا مسلمہ علماء۔

حامد: آپ تو یہ کہے جارہے ہیں۔ مگر ذرا بتائیے تو جن لوگوں کے آپ نے نام لئے ہیں انہوں نے کہیں کہا بھی ہے۔

سعید: نام بنام ترتیب وار سب کی تحقیق آپ کو سناتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے ۔ بہتر یہ ہے کہ اوّل آپ سید المفسرین ابن عباسؓ کا عقیدہ سن لیں۔ پھر تمام مفسرین مذکورہ ومحدثین کے اقوال عرض کروں گا۔ علامہ محمد بن سعد محدث اپنے طبقات کبریٰ میں حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ نقل فرماتے ہیں۔ ” اخبرنا هشام بن محمد بن السائب عن ابيه عن ابي صالح عن ابن عباس قال كان بين موسى بن عمران وعيسى بن مريم الف سنة وتسعة مائة سنة فلم تكن بينهما فترة وان عيسى عليه السلام حين رفع كان ابن اثنين ثلاثين سنة وستة اشهر وكانت نبوة ثلاثون شهراً وان الله ١٢

صفحہ ١١١

رفعه بجسده وانه حى لآن وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس “ یعنی ہشام بن محمد بن سائب اپنے باپ صالح سے راوی ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا کہ حضرت موسیٰ بن عمران اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان ایک ہزار نو سو برس اور چھ ماہ کا کوئی خالی زمانہ نبوت سے نہیں رہا اور بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے اور اس وقت ان کی عمر ٣٢ برس کی تھی اور ان کی نبوت کا زمانہ تیس مہینہ کا تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معہ جسم و روح کے اٹھا لیا اور بے شک وہ عنقریب واپس آنے والے ہیں دنیا میں اور بادشاہ ہوں گے پھر عام طریق سے انتقال فرمائیں گے۔ (کبریٰ ج١ ص ٢٦، مطبوعہ مطبع لندن، جرمنی) اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

اول ...... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع مع الجسد والروح ہوا۔ نہ بموجب دعویٰ مرزا قادیانی محض رفع روح۔

دوم ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع مع الجسد والروح ٣٢ سال کی عمر میں ہوا۔ اس سے حکایت کشمیر جو مرزا قادیانی کی ایجاد کردہ ہے باطل ہوتی ہے۔

حامد: کیا کشمیر کے متعلق مرزا قادیانی نے کچھ لکھا ہے۔

سعید: جی ہاں! ( ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢ حاشیہ ) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔ بلکہ وہ صلیب سے بچ کر پوشیدہ طور پر ایران اور افغانستان کا سیر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور ایک لمبی عمر وہاں بسر کی۔ آخر فوت ہو کر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور اب تک آپ کی وہیں قبر ہے ۔ يُزار ويتبرك به!

حامد: کیا کہیں مرزا قادیانی نے ملک شام میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مانی ہے؟

سعید: جی ہاں! مانی تھی مگر اس سے چونکہ کچھ مطلب براری میں نقص آتا تھا۔ لہٰذا پھر انکار کر دیا۔ چنانچہ (ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧) پر لکھتے ہیں۔ ”ہاں ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی قبر بلادِ شام میں ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے۔ جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا۔ جس سے وہ نکل آئے ۔“

١٣

صفحہ ١١٢

حامد: سچ ہے بقول مرزا قادیانی جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) اور بالکل حق ہے کہ: ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم

نہیں ۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦ حاشیہ)

سعید: آپ نے بیچ میں غیر متعلق سوال کر کے ہماری بحث کو ناتمام کر دیا۔ اچھا خیر سنئے۔ حضرت ابن عباسؓ کے فرمان سے دو دعوے تو ہم ثابت کر چکے۔

سوم...... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں۔ اس لئے کہ ”و انہ حی“ بتارہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں۔ بلکہ زندہ اٹھائے گئے۔ جس سے مرزا قادیانی کا دعویٰ وفات مسیح باطل ٹھہرتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابن عباسؓ خود فرماچکے ہیں کہ مسیح بجسد عنصری مع الروح اٹھائے گئے ہیں۔

چہارم...... یہ کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام جو آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ ”فسیرجع الی الدنیا“ بہت جلدی اصالتاً واپس تشریف لائیں گے اور مثیل مسیح کا دعویٰ باطل و بحث لا طائل ہے۔

پنجم...... یہ کہ حضرت مسیح موعود اصالتاً تشریف لاکر حاکم عادل بن کر مجوزہ قانون سرور عالمﷺ ”ویضع الجزیة ویقتل الخنزیر ویکسر الصلیب“ کو جاری کریں گے۔

ششم...... یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تا نزول آسمان پر زندہ ہیں۔ اس لئے حضرت ابن عباسؓ فرما چکے ہیں ۔ ”ثم یموت کما یموت الناس“

حامد: حضرت ابن عباسؓ کے متعلق محدثین کی کیا تحقیق ہے۔

سعید: آپ جلیل القدر صحابی ہونے کے علاوہ حضورﷺ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضورﷺ نے آپ کے لئے قرآن فہمی کی دعاء بھی کی ہے۔

حامد: مگر بعض مفسرین حضرت ابن عباسؓ سے ہی متوفیک کو ممیتک ترجمہ لکھتے ہیں۔ یہ کہاں تک صحیح ہے؟

سعید: ہاں لکھ رہے ہیں وہ بھی صحیح ہے۔ اس لئے کہ ممیتک فاعل ہے۔ جس کا معنی ہیں ۔ (مارنے والا ہوں میں تجھ کو) اس کا صاف مطلب ہے کہ اسم فاعل سے جب اظہار کیا گیا تو اوّل اللہ تعالیٰ آئندہ کے واقعہ کی خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ ہم تمہیں اوّل مع روح وجسد

١٤

صفحہ ١١٣

اٹھانے والے ہیں۔ پھر مارنے والے ہیں۔ پھر قیامت تک تمہیں تمہارے منکروں پر غالب کرنے والے ہیں۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے تقدیم و تاخیر کا انکار کر کے نہ صرف مفسرین کو یہودی بنایا۔ بلکہ حضورﷺ کے چچازاد بھائی حضرت ابن عباسؓ پر بھی خفا ہو گئے کہ کم از کم یہی سوچتے کہ میں نے وفات مسیح کو اپنی صداقت کا معیار بنا رکھا ہے۔ اگر تمہارا قول میں مان لوں گا تو جھوٹا نہ ہو جاؤں گا۔ اس لئے تم کو بھی یہودی اور محرف علماء کی فہرست میں شمار کرتا ہوں۔

حامد: کیا کہیں یہ بھی مرزا قادیانی لکھ گئے ہیں کہ وفات مسیح ان کا معیار صداقت ہے۔

سعید: جی ہاں! (تحفہ گولڑویہ ص ١٦٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤) پر لکھتے ہیں: ”یادرہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں“۔

حامد: یہ معیار مرزا قادیانی نے کسی حدیث کے ماتحت لیا۔ کیا کسی حدیث میں یہ ہے کہ جب عیسیٰ مر جائیں گے تو دوسرا مسیح ابن چراغ بی بی یا مسیح ابن فلاں قادیان یا پنجاب میں پیدا ہوگا۔ جس کے اوپر کے دھڑ میں مراق اور نیچے کے دھڑ میں کثرت بول کی دو بیماریاں ہوں گی۔

سعید: ہنس کر! شاید کسی حدیث میں مرزا قادیانی نے دیکھا ہوگا۔ سوال آپ کا معقول ہے۔ مرزا قادیانی کو حیات و ممات پر اسی وقت بحث کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جب ایسی کوئی حدیث یا آیت قرآنی انہیں مل جائے۔ ورنہ یہی جواب کافی ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام مر گئے تو بتاؤ تمہیں کیا۔ اچھا مر گئے ان کے مرجانے کے ثبوت کے بعد تمہارا مسیح موعود یا مثیل مسیح ہونا کیسے ثابت ہے اور لطف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع روح مع الجسد کا عقلاً نقلاً انکار اور نہایت شدومد سے اصرار ہے۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کو اسی صورت میں زندہ ماننا اپنا مذہب بنایا جاتا ہے۔

حامد: اچھا یہ کہاں لکھا ہے۔

سعید: (نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨) پر لکھتے ہیں: ”ان عیسیٰ الا نبی اللہ کالانبیاء آخرین وان ہو الا خادم شریعت النبی المعصوم الذی حرم اللہ علیہ المراضع حتیٰ اقبل علیٰ ثدی امہ وکلمہ اللہ علیٰ طور سینین وجعلہ

١٥

صفحہ ١١٤

من المحبوبين هذا هو موسى فتى الله الذى اشار اليه في كتابه الى حياته وفرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين “ اس کا ترجمہ بین السطور میں خود مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ ”عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے۔ جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے۔ جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔“ اور (نور الحق ص ٥٠) پر فائدہ میں لکھتے ہیں ۔ ” كلم الله موسى على جبل وكلم شيطان عيسىٰ على جبل فانظر الفرق بينهما انكنت من الناظرين “ (ترجمہ خود ہی لکھتے ہیں) ”خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ سو اس دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔“

حامد: میں نے غور کر لیا اور سمجھ لیا۔

سعید: وہ کیا؟

حامد: یعنی عیسیٰ علیہ السلام مرزا قادیانی کے عقیدہ میں وہ ہیں جن سے شیطان ہم کلام ہوا اور مرزا قادیانی خود ان کے مثیل ہو کر مسیح موعود بنے تو وہاں صرف پہاڑ پر شیطان ایک بار ہم کلام ہوا ہوگا۔ مگر مثیل کی تو رفاقت اسے ایسی ضروری ہوگی کہ ہر وقت ہم کلام ہی ہوتا رہتا ہوگا۔ جب ہی تو آپ کے الہامات میں سے ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا ۔“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢١) ایک الہام ہے۔

سعید: وہی ایک الہام کیا ہے۔ بحث دور جا پڑتی ہے۔ خیر لیجئے ! حسب موقعہ ہم آپ کو مرزا قادیانی کے خاص الہامات بھی سناتے چلیں۔ جو اس سے پہلے آپ نے نہ سنے ہوں گے۔

حامد: الہامات کا شان نزول ضرور سنائیے۔

سعید: مضمون بڑھ جائے گا۔ مگر خیر لیجئے۔ (نزول المسیح ص ١٤٤، خزائن ج ١٨ ص ٥١٢) شان نزول، براہین احمدیہ چھپ رہی تھی اور روپیہ نہیں تھا۔ چھاپنے والے کا تقاضا تھا تب دعاء کی گئی اور یہ الہام ہوا۔ ” دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔“ ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا۔ الہام نمبر ١٦ ” ون ول یو گوٹو امرتسر ۔“ پھر (ص ١٤٥، خزائن ج ١٨ ص ٥١٣ ، ٥١٧) پر الہام ہے۔ ” آئی ایم

١٦

صفحہ ١١٥

ذا هو موسى فتى الله الذى اشار اليه فى كتابه الى حياته من بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين“ اس کا مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ ”عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا کی شریعت کا ایک خادم ہے۔ جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ی موسیٰ مرد خدا ہے۔ جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے س بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں ٥٠) پر فائدہ میں لکھتے ہیں۔ ”كلم الله موسى على جبل وكلم جبل فانظر الفرق بينهما انكنت من الناظرين “ (ترجمہ خود ہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔“

غور کر لیا اور سمجھ لیا۔

علیہ السلام مرزا قادیانی کے عقیدہ میں وہ ہیں جن سے شیطان ہم کلام کے مثیل ہو کر مسیح موعود بنے تو وہاں صرف پہاڑ پر شیطان ایک بار ہم کلام اسے ایسی ضروری ہوگی کہ ہر وقت ہم کلام ہی ہوتا رہتا ہوگا۔ جب ہی تو کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢١) ایک الہام ہے۔ ب الہام کیا ہے۔ بحث دور جا پڑتی ہے۔ خیر لیجئے! حسب موقعہ ہم آپ امات بھی سناتے چلیں۔ جو اس سے پہلے آپ نے نہ سنے ہوں گے۔ کا شان نزول ضرور سنائیے۔

بڑھ جائے گا۔ مگر خیر لیجئے۔ (نزول مسیح ص ١٤٤، خزائن ج ١٨ ص ٥١٢) پ رہتی تھی اور روپیہ نہیں تھا۔ چھاپنے والے کا تقاضا تھا تب دعاء کی ن کے بعد موج دکھاتا ہوں ۔“ ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا۔ الہام ۔“ پھر (ص ١٣٥، خزائن ج ١٨ ص ٥١٣ ، ٥١٧) پر الہام ہے۔ ”آئی ایم

١٦

کورلر۔“ پھر (ص ١٣٨، نمبر ١٩) ”آئی شیل ہیلپ یو۔ آئی کین وینٹ آئی ول ڈو۔ وی کین ویٹ، وی ول ڈو۔“

حامد: سبحان اللہ ! سبحان اللہ !! کیوں نہ ہو۔ اگر جس سے پہاڑ پر شیطان ہم کلام ہوا تھا اسی کے تو آپ مثیل ہیں۔ اچھا صاحب اب وہ بحث سنا دیجئے اور رخصت دیجئے۔

سعید: (تفسیر در منثور ج ٢ ص ٣٦) پر ایک حدیث ہے وہ ملاحظہ کیجئے۔ ”اخرج ابن عساكر اسحق بن بشير عن ابن عباس في قوله تعالىٰ يعيسى انى متوفيك ورافعك الىٰ قال رافعك الىٰ ثم متوفيك فى آخر الزمان“ یعنی اے عیسیٰ پہلے ہم تمہیں اپنی طرف اٹھائیں گے اور پھر زمانہ آخر میں فوت کریں گے۔ تفسیر معالم التنزیل جلد اول میں حضرت ضحاک تابعیؒ سے ہے۔ ”قال الضحاك وجماعة ان فى هذه الآية تقديما وتاخيرا “ یعنی اس آیت میں تقدیم تاخیر ہے۔ حاشیہ تفسیر جلالین میں ہے۔ ”وفى البخارى قال ابن عباس انى متوفيك مميتك بعد انزالك من السماء في آخر الزمان “ یعنی اے عیسیٰ ہم تمہیں مارنے والے ہیں۔ بعد نزول کے آسمان سے زمانہ آخر میں۔ مجمع البحار جلد سوم میں ہے۔ ”متوفيك ورافعك الىٰ على التقديم والتاخیر “ یعنی متوفیک ورافعک مقدم مؤخر ہے۔ تفسیر مدارک جلد اول میں ہے۔ ”اى مميتك في وقتك بعد النزول من السماء“ یعنی تمہیں ہم مارنے والے ہیں۔ آسمان سے نزول کے بعد۔ تفسیر کبیر میں علامہ فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں۔ ”لا تقتضى بالترتيب فلم يبق الا ان يقول فيها تقديم وتاخير والمعنى انى رافعك الىٰ ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزال اياك في الدنيا “ یعنی ترتیب الفاظ کی آیت مقتضی نہیں۔ بلکہ تقدیم و تاخیر لازمی ہے اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تجھ کو اے عیسیٰ اٹھانے والا ہوں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں کفار سے اور پھر تجھ کو دنیا میں اتار کر فوت کرنے والا ہوں۔ تفسیر خازن جلد اول میں ہے۔ ”ان في الآية تقديما وتاخير تقديره انى رافعك الىٰ ومطهرك من الذين کفروا ومتوفيك بعد انزالك الى الارض“ جس کے معنی سابقہ معنی کے مطابق ہیں۔ علاوہ اس کے بہت سے دلائل ہیں۔ اس مختصر میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ انشاء اللہ آئندہ ملاقات میں اس کے متعلق اور ایک مختصر بحث آپ کو سناؤں گا۔

١٧

صفحہ ١١٦

حامد: آپ نے اس سے قبل وعدہ کیا تھا کہ باپ بیٹوں کا اختلاف دکھائیں گے۔ وہ تو رہ گیا اور ملاقات کا وقت پورا ہو گیا۔

سعید: آپ نے آتے ہی گفتگو ہی ایسی چھیڑ دی۔ اچھا خیر۔

حامد: وقت تو بہت گزر گیا لیکن یہ ایک رسالہ مجھے ملا ہے۔ جس کا نام (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے) لکھا ہے۔ یہ محمد یامین تاجر کتب قادیان کی طرف سے شائع ہوا ہے اور کاشی رام سٹیم پریس لاہور میں طبع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر ماہ دسمبر ١٩٠٦ء کی کوئی تقریر ہے جو مرزا قادیانی آنجہانی نے کی تھی۔ اس میں یہ عبارت عجیب ہے جو اس رسالہ کے ص ٥ پر مرزا قادیانی تقریر میں کہتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ بہت غلطیوں کو دور کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت توحید صرف زبان پر رہ گئی۔ سچا موحد کوئی نظر نہیں آتا۔“ تو اس میں سوال طلب امر یہ ہے کہ سچا موحد سوائے مرزا قادیانی کوئی نہیں رہا۔ یا وہ بھی اسی کلیہ میں داخل ہیں کہ سچا موحد کوئی نظر نہیں آتا۔

سعید: بات تو صاف ہے جو توحید مرزا قادیانی پھیلانا چاہتے تھے اس کا موجد سوائے ان کے اس وقت تک کوئی نہ ہوگا۔ اب تو ان کے متوسلین میں بہت سے ہیں۔

حامد: میں ذرا وضاحت سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی توحید کیا کوئی مخصوص توحید تھی۔

سعید: جی ہاں! ان کی توحید میں آپ کو بتاتا ہوں۔ جو ان کے الہامات سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نقشہ سے ملاحظہ کر لیجئے۔

مرزا قادیانی کا الہام اور توحید

مسلمان کا ایمان

پر تیری حمد کرتا ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١١)

”الحمد للّٰہ رب العالمین“ تمام تعریفیں اور حمد اللہ کے لئے ہے جو پروردگار ہے عالم کا۔

سے ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

”قل هو اللّٰه احد، اللّٰه الصمد، لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفواً احد“

سے ایسا ہے جیسے میری اولاد۔ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

”قالت اليهود عزير ابن اللّٰه وقالت النصارىٰ المسيح ابن اللّٰه“

١٨

سے بمنزلہ میرے فرز ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص

تجھ سے۔ (حقیقت الو

منہ کی باتیں ہیں۔ الوحی ص ٨٤، خزائن ج

میرے احمد تو میر ص ٧٩، خزائن ج ٢

مرزا میں تجھے ن کرتا۔ (حقیقت

صفحہ ١١٧

نے اس سے قبل وعدہ کیا تھا کہ باپ بیٹوں کا اختلاف دکھائیں گے۔ وہ پورا ہو گیا۔ نے آتے ہی گفتگو ہی ایسی چھیڑ دی۔ اچھا خیر۔ بہت گزر گیا لیکن یہ ایک رسالہ مجھے ملا ہے۔ جس کا نام (احمدی اور غیر ما ہے۔ یہ محمد یامین تاجر کتب قادیان کی طرف سے شائع ہوا ہے اور میں طبع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر ماہ دسمبر ١٩٠٦ء کی کوئی تقریر ہے جو سا تھی۔ اس میں یہ عبارت عجیب ہے جو اس رسالہ کے ص ٥ پر ہیں۔ ”اللہ تعالیٰ بہت غلطیوں کو دور کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت توحید حد کوئی نظر نہیں آتا۔“ تو اس میں سوال طلب امر یہ ہے کہ سچا موحد رہا۔ یا وہ بھی اسی کلیہ میں داخل ہیں کہ سچا موحد کوئی نظر نہیں آتا۔ اف ہے جو توحید مرزا قادیانی پھیلانا چاہتے تھے اس کا موجد سوائے گا۔ اب تو ان کے متوسلین میں بہت سے ہیں۔ ت سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی توحید کیا کوئی مخصوص توحید تھی۔ ن کی توحید میں آپ کو بتاتا ہوں۔ جو ان کے الہامات سے صاف ملاحظہ کر لیجئے ۔

مسلمان کا ایمان

رو توحید

”الحمد للہ رب العالمین“ تمام تعریفیں اور حمد اللہ کے لئے ہے جو پروردگار ہے عالم کا۔

نہ ”خدا عرش ص ٣٢، خزائن

”قل هو الله احد . الله الصمد . لم يلد ولم يولد . ولم يكن له كفواً احد“

ے پانی (نطفہ) ج ٢ ص ٣٤٢)

”قالت اليهود عزير ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله“

ادی ”تو مجھ تح البلاغ ص ٦،

١٨

سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”لم یلد ولم یولد“ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔

تجھ سے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

”ليس كمثله شئ وهو سميع البصير“ اس کی ذات پاک کی مثل کوئی نہیں۔

منہ کی باتیں ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ٥٢٢، حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

”انا انزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون“ اللہ فرماتا ہے ہم نے اس قرآن عربی کو نازل فرمایا تا کہ تم فلاح حاصل کرو، نہ کہ مرزا قادیانی کے منہ کی بات ہے۔

میرے احمد تو میری مراد ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمه انك انت الوهاب“ الٰہی ہمارے دلوں کو سخت نہ کر بعد ہدایت دینے کے اور بخش دے اپنی طرف سے ہمیں رحمت۔ تو ہی زبردست بخشنے والا مرادیں دینے والا ہے۔

مرزا میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان کو نہ پیدا کرتا۔ (حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)

یہ شان سرور عالم ﷺ میں متعدد طرق سے احادیث میں حاکم باسناد صحیح عبداللہ بن عباسؓ سے راوی ہیں۔ ”اوحی اللہ تعالیٰ الیٰ عیسٰی ان آمن بمحمد وامر من ادرکہ من امتك ان یومنوا بہ فلولا محمد ما خلقت آدم ولا الجنۃ ولا النار ولقد خلقت العرش علی الماء فاضطرب فكتب علیه لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ فسکن اللہ“ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو وحی بھیجی۔ اے عیسیٰ ایمان لا محمد ﷺ پر اور تیری امت سے جو لوگ اس کا زمانہ پائیں انہیں حکم کر

١٩

صفحہ ١١٨

کہ اس پر ایمان لائیں کہ اگر محمدﷺ نہ ہوتے میں آدم کو نہ پیدا کرتا۔ نہ جنت ودوزخ بناتا۔ جب میں نے عرش کو پانی پر بنایا اسے جنبش تھی میں نے اس پر ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ لکھ دیا ٹھہر گیا۔ امام قسطلانی مواہب لدنیہ اور منح محمدیہ میں رسالہ میلاد اور امام علامہ ابن ظفر بک سے ناقل ہیں کہ روایت ہے آدم علیہ السلام نے عرض کی الہی تو نے میری کنیت ابو محمد کس لئے رکھی۔ حکم ہوا اے آدم اپنا سر اٹھا۔ آدم علیہ السلام نے سر اٹھایا۔ سر پردہ عرش میں محمدﷺ کا نور نظر آیا۔ عرض کی الہی یہ نور کیسا ہے۔ فرمایا ”هذا نور نبی من ذريتك اسمه في السماء احمد وفي الارض محمد لولاه ماخلقتك ولا خلقت سماء ولا ارضا“ یہ نور پاک ایک نبی کا ہے۔ تیری ذریت یعنی اولاد سے اس کا نام آسمان میں احمد اور زمین میں محمد۔ اگر وہ نہ ہوتا میں تجھے نہ بناتا نہ آسمان وزمین کو پیدا کرتا اور اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو بخوف طوالت نہیں لکھی گئیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں ”عرفت ربی بفسخ العزائم“ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے پورا نہ ہونے سے پہچانا۔ قرآن پاک میں ہے۔ ”و ما من دابة فى الارض الا هو آخذ بناصيتها“ زمین پر کوئی چلنے والا نہیں۔ (عام اس سے کہ مرزا قادیانی ہوں یا چھٹائی جی) مگر ہمارے ہاتھ میں اس کی چوٹی ہے۔

کن فیکون “ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

٢٠

صفحہ ١١٩

(١٠) میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا وہی ہوں۔ پھر میں نے نیا نظام بنایا۔ پہلے آسمان بنائے، پھر زمین بنائی، پھر انسانوں کو بنایا۔ ملخص از (کتاب البریہ ص ٨٥ تا ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

”ذالکم اللہ ربکم خالق کل شئ لا اله الا هو فانى توفکون“ وہی ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا بنانے والا۔ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔ پھر تم کہاں اوندھے جاتے ہو۔ ”الله خالق كل شئ وهو على كل شئ وکیل “ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور ہر چیز کا مختار۔ ”الهکم اله واحد “ تمہارا معبود ایک ہے۔

حامد: دھن دھن کرشن ثانی اور مرزا قادیانی ماشاء اللہ خوب توحید کی کہانی بکھانی۔ سنا ہے کہ آپ شیریں زبان بھی بہت زیادہ تھے۔

سعید: جی ہاں! شیریں زبانی میں تو آپ بے مثل تھے۔ چنانچہ ملاحظہ کیجئے (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٤، خزائن ج ٥ ص ٦٠٤) پر آخر کتاب میں فرماتے ہیں۔ ”اب اگر وہ گروہ اس کھلے کھلے فیصلہ کو منظور نہ کریں اور بھاگ جائیں اور خطا کا اقرار بھی نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کی عدالت سے مندرجہ ذیل انعام ہے۔

١...... لعنت۔ ٢...... لعنت۔ ٣...... لعنت۔ ٤...... لعنت۔ ٥...... لعنت۔ ٦...... لعنت۔ ٧...... لعنت۔ ٨...... لعنت۔ ٩...... لعنت۔ ١٠...... لعنت۔

تلک عشرة کاملہ

٣٠/ مارچ ١٨٩٤ء المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی

اور (نور الحق ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢) کے آخر تک ایک ہزار لعنت گناتے ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) پر فرماتے ہیں۔ ”میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے زیادہ ذلیل ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) پر فرماتے ہیں۔ ”سب مسلمانوں نے مجھے مان لیا۔ مگر بدکار اور زانیہ عورتوں کی اولاد نے نہیں مانا۔“

٢١

صفحہ ١٢٠

(انوار الاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١) پر فرماتے ہیں۔ ”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“

(انجام آتھم ص٢١، خزائن ج١١ ص٢١) پر علماء حقہ کو کہتے ہیں۔ ”اے بدذات فرقہ مولویان۔“

(انجام آتھم ص٢٨٢، خزائن ج١١ ص٢٨٢) پر مولوی سعد اللہ نو مسلم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں۔ ”من صادق نیستم اگر تو اے نسل بدکاران بذلت نمیری۔“

اور خلف الرشید مرزا بشیر محمود قادیانی فرماتے ہیں۔ (برکات خلافت ص٧٥) ”حضرت مسیح موعود کا زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو لڑکی نہ دے۔“ وغیرہ وغیرہ۔

حامد: باپ بیٹوں کا اختلاف والا قصہ تو رہ ہی گیا۔

سعید: یہ انشاء اللہ پھر دوسری ملاقات میں عرض کروں گا۔ والسلام!

فقیر! قادری ابوالحسنات خطیب مسجد وزیر خان لاہور۔

ایک زبردست امداد کا شکریہ

اراکین بزم جناب محترم بابو عبدالعزیز صاحب اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ سول ملٹری گزٹ کے تہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے مرزائی کتابوں کا کافی ذخیرہ عاریتہً ہمیں عطا فرمایا اور امید ہے کہ عنقریب وہ بزم کو ہبہ بھی فرمادیں گے۔ جزاھم اللہ عن خیر الجزاء۔

دعاء ہے کہ ایسے ہی ہر مسلمان کو خدا توفیق دے کہ وہ بزم کی امداد میں دامے درمے قدمے سخنے قلمے معاون رہیں۔ سیکرٹری بزم تنظیم متصل مسجد وزیر خان لاہور۔

گزارش ضروری

حامیان ملت اسلامیہ پر اطلاعاً واضح کیا جاتا ہے کہ عصر حاضر کی ہر قسم کی بدمذہبی کا سدباب کرنے کی غرض کو لے کر چند مخلص احناف نے بزم تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جس نے حتیٰ القدر اپنا تبلیغی سلسلہ شروع کر دیا اور آج اس کا چودھواں نمبر چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ مگر نہایت افسوس ان سنی حضرات پر ہے جو صاحب ثروت ہوتے ہوئے اپنا پیسہ لہو ولعب واسراف بیجا میں اٹھا دیتے ہیں اور کسی تبلیغی کام میں ایک پائی خرچ کرنا ناگوار خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ حضرات ان اخراجات کا عشر بھی بزم کو دے دیں تو یقیناً یہ انجمن غیر مذاہب کے تبلیغی اداروں سے کسی حالت میں کم نہ ہو اور وہ تبلیغی خدمت انجام دے جو حقیقتاً ایک اسلامی بزم کا مطمح نظر ہونا چاہئے۔ سیکرٹری!

٢٢

صفحہ ١٢٠

لام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) پر فرماتے ہیں۔ ”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا لہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ حرامزادہ کی یہی اختیار نہ کرے۔“

م ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١) پر علماء حقہ کو کہتے ہیں۔ ”اے بدذات فرقہ

ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) پر مولوی سعد اللہ نو مسلم کو مخاطب کر کے کہتے اگر تو اے نسل بدکاران بذلت نمیری۔“

خلیفہ مرزا بشیر محمود قادیانی فرماتے ہیں۔ (برکات خلافت ص ٧٥) ”حضرت م ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کولڑکی نہ دے۔“ وغیرہ وغیرہ۔

بیٹوں کا اختلاف والا قصہ تو رہ ہی گیا۔

شاء اللہ پھر دوسری ملاقات میں عرض کروں گا۔ والسلام!

فقیر! قادری ابوالحسنات خطیب مسجد وزیر خان لاہور۔

کا شکریہ

جناب محترم بابو عبدالعزیز صاحب سٹنٹ کاؤنٹنٹ سول ملٹری گزٹ انہوں نے مرزائی کتابوں کا کافی ذخیرہ عاریتہً ہمیں عطاء فرمایا اور امید بھی فرمادیں گے۔ جزاھم اللہ عنا خیر الجزاء۔

یسے ہی ہر مسلمان کو خدا توفیق دے کہ وہ بزم کی امداد میں دامے درمے ہیں۔ سیکرٹری بزم تنظیم متصل مسجد وزیر خان لاہور۔

سلامیہ پر اطلاعاً واضح کیا جاتا ہے کہ عصر حاضر کی ہر قسم کی بد مذہبی کا لے کر چند مخلص احناف نے بزم تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جس نے حتی المقدور اپنا آج اس کا چودھواں نمبر چھپ کر آپ کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔ مگر ت پر ہے جو صاحب ثروت ہوتے ہوئے اپنا پیسہ لہو ولعب و اسراف بیجا غی کام میں ایک پائی خرچ کرنا ناگوار خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ حضرات روے دیں تو یقیناً یہ انجمن غیر مذاہب کے تبلیغی اداروں سے کسی حالت انجام دے جو حقیقتاً ایک اسلامی بزم کا مطمح نظر ہونا چاہئے۔ سیکرٹری!

٢٢

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

تحریک

قادیان

(جناب سید حبیب صاحبؒ)

صفحہ ١٢٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

خلاصہ تحریر

اس خیال سے کہ ناظرین کرام کو میرے استدلال کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ میں ان دلائل کو جو تحریک قادیان کے متعلق میں نے پیش کی ہیں۔ ایک جگہ جمع کئے دیتا ہوں۔ باقی تفصیلات میں جو ان دلائل کے ثبوت میں سپرد قلم ہوئیں۔ یہ دلائل ملاحظہ فرمائیے۔

پہلی دلیل: مرزا قادیانی کی تحریر مبتذل اور پیش پا افتادہ اغلاط سے پر ہے۔ لہٰذا یہ الہام کی عبارت نہیں ہو سکتی۔ جس کو خدا کی زبان کہتے ہیں۔

دوسری دلیل: میرا ایمان ہے کہ حضور شافع المذنبین ﷺ کے دین کی تجدید کے لئے اگر کوئی مرسل آئے تو وہ جس طرح مجنون، کاہن اور ساحر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح شاعر بھی نہیں ہو سکتا اور مرزا قادیانی شاعر تھے۔ مگر کلام شاعری کے لحاظ سے ناقص ہے۔

تیسری دلیل: مرزا قادیانی کے دعاوی کی کثرت و ندرت اور ان کے تنوع کا یہ حال ہے کہ انسان ان کی فہرست ہی کو دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔

چوتھی دلیل: مرزا قادیانی فرزند خدا ہونے کے مدعی ہیں اور یہ عقیدہ اسلام کے خلاف ہے۔

پانچویں دلیل: مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ الوہیت کا بھی ہے۔ یعنی آپ کو خود خدا ہونے کا دعویٰ ہے۔ یہ بھی تعلیم اسلام کے خلاف ہے۔

چھٹی دلیل: میرے عقیدہ کے مطابق احمد مجتبیٰ محمدﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مرزائی صاحبان بھی حضور ﷺ کی شان میں خاتم النبیین کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مگر مجھے علی وجہ شہادت علم ہے کہ خاتم النبیین کا جو مفہوم عام مسلمانوں کے ذہن میں موجود ہے وہ قادیانی جماعت کے مفہوم ذہنی سے کوسوں دور ہے۔

ساتویں دلیل: ہر پیغمبر کے معتقدین مرتد ہوئے۔ لیکن شاید تاریخ عالم میں مرزا قادیانی کے سوا کوئی ایسی مثال نہیں ملتی۔ جس میں کسی نبی پر ایمان لانے والوں میں اپنے نبی کے دعویٰ نبوت کے متعلق اختلاف ہوا ہو۔ مرزا قادیانی واحد مدعی نبوت ہیں جن کے ادعائے نبوت کے متعلق خود ان کے معتقدین میں اختلاف ہے۔

آٹھویں دلیل: مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور خدائے تعالیٰ نے نبوت کا دروازہ بند کر دیا ہے۔

٢

صفحہ ١٢٢

بسم الله الرحمن الرحيم!

سے کہ ناظرین کرام کو میرے استدلال کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ میں ان ان کے متعلق میں نے پیش کی ہیں۔ ایک جگہ جمع کئے دیتا ہوں۔ باقی ائل کے ثبوت میں سپرد قلم ہوئیں۔ یہ دلائل ملاحظہ فرمائیے۔

: مرزا قادیانی کی تحریر مبتذل اور پیش پا افتادہ اغلاط سے پر ہے۔ لہٰذا یہ لتی۔ جس کو خدا کی زبان کہتے ہیں۔

ل: میرا ایمان ہے کہ حضور شافع المذنبین ﷺ کے دین کی تجدید کے تو وہ جس طرح مجنون، کاہن اور ساحر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح شاعر بھی نی شاعر تھے۔ مگر کلام شاعری کے لحاظ سے ناقص ہے۔

ا: مرزا قادیانی کے دعویٰ کی کثرت وندرت اور ان کے تنوع کا یہ حال یہی کو دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔

مرزا قادیانی فرزند خدا ہونے کے مدعی ہیں اور یہ عقیدہ اسلام کے

ا: مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ الوہیت کا بھی ہے۔ یعنی آپ کو خود خدا ہیم اسلام کے خلاف ہے۔

میرے عقیدہ کے مطابق احمد مجتبیٰ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مرزائی شان میں خاتم النبیین کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مگر مجھے علی وجہ کا جو مفہوم عام مسلمانوں کے ذہن میں موجود ہے وہ قادیانی جماعت ہے۔

: ہر پیغمبر کے معتقدین مرتد ہوئے؟ لیکن شاید تاریخ عالم میں مثال نہیں ملتی۔ جس میں کسی نبی پر ایمان لانے والوں میں اپنے نبی تلاف ہوا ہو۔ مرزا قادیانی واحد مدعی نبوت ہیں جن کے ادعائے تقدین میں اختلاف ہے۔

مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور خدائے تعالیٰ نے نبوت کا دروازہ

٢

١٢٣

نویں دلیل: مرزا قادیانی نبوت کے مدعی بھی ہیں اور اس سے انکار بھی کرتے ہیں۔

دسویں دلیل: مرزا قادیانی پر ایسے الہامات ہوئے ہیں جو ان کی فہم میں نہیں آئے۔ حالانکہ میرے علم ویقین کے مطابق دنیا میں کوئی پیغمبر یا نبی ایسا نہیں گزرا جس پر خدائے تعالیٰ نے اس قدر بے اعتمادی کی ہو کہ اس کو پیام بھیجا ہو اور پھر اس کو پیام کے معنی نہ سمجھائے ہوں۔

گیارھویں دلیل: مرزا قادیانی کے ایسے الہامات کی وجہ سے جو خود مرزا قادیانی نہیں سمجھ سکے۔ مدعیان نبوت کا ذبہ کے لئے ایک وسیع میدان پیدا ہوگیا ہے۔ آئے دن ایک نبی علم نبوت بلند کیا کرے گا اور کہے گا کہ مرزا قادیانی کے فلاں الہام کی وضاحت کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔

بارھویں دلیل: مرزا قادیانی نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہر صدی میں ایک مجدد ہوتا ہے۔ لیکن وہ پہلے بارہ سو سال میں سے کسی مجدد کا نام نہیں بتا سکے۔ حالانکہ ہر پیغمبر نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء میں سے بعض کا نام ضرور لیا ہے۔

تیرھویں دلیل: مرزا قادیانی نے الہامات کے نام سے قرآن وحدیث کی بعض آیات میں تصرف کیا ہے۔

چودھویں دلیل: مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور انہوں نے خود پیش گوئی کی صحت کو معیار نبوت ٹھہرایا ہے۔

پندرھویں دلیل: مرزا قادیانی کے بعض افعال واقوال پیغمبر تو کجا عام انسان کی شان کے شایان بھی نہ تھے۔

سولہویں دلیل: مرزا قادیانی نے کوئی ایسا کام بطور نبی نہیں کیا۔ جو ان کے ادعائے نبوت کو ضروری یا مسلمانوں کے لئے مفید ثابت کرے۔

سترھویں دلیل: مرزا قادیانی کی بعض کاروائیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔

اٹھارھویں دلیل: مرزا قادیانی نے کرشن کو نبی ظاہر کر کے خود ان کے اوتار ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ دونوں باتیں تعلیم قرآن مجید کے خلاف ہیں۔

کتاب ہذا کا جواب

قادیانی اور لاہوری حضرات اس کتاب کا جواب لکھ رہے ہیں۔ جن کی تکمیل کے بعد میں بفضل ایزد متعال جواب الجواب لکھوں گا۔ جو سیاست میں شائع ہونے کے بعد حصہ دوم وسوم کی صورت میں چھپے گا۔ مسلمان بھائی مطمئن رہیں۔

٣

صفحہ ١٢٤

تشکر و امتنان

اس اعلان کے بعد کہ میں تحریک قادیان پر اظہار خیالات کروں گا۔ مجھے تحریک قادیان کا از سرنو مطالعہ کرنا پڑا۔ میں پہلے بھی ایک دفعہ عرض کر چکا ہوں اور اب دوبارہ وہی بات کہتا ہوں کہ اپنی تسلی کے لئے کسی مسئلہ کا سمجھ لینا ایک بات ہے اور اسی مسئلہ کا دوسرے کو سمجھانا بالکل جداگانہ امر ہے۔ جس کا اٹھانا اور دھرنا آسان نہیں۔ لہٰذا جس طرح مجھے یہ معلوم ہے کہ میں کیوں ہندو یا آریا یا یہودی یا عیسائی یا سکھ نہیں ہوں۔ اسی طرح مجھے یہ بھی علم ہے کہ میں قادیانی کیوں نہیں ہوں۔ تاہم اپنے دلائل کو دوسروں پر واضح کرنے کے لئے مجھے بعض کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت لاحق ہوئی۔ جن میں سے چند میرے پاس موجود تھیں اور باقیوں کے حصول کی خاطر میں نے جدوجہد کی۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے اپنے ایک قادیانی شناسا سے درخواست کی کہ وہ مجھے کوئی ایسی کتاب عاریتاً یا قیمتاً عطاء فرمائیں۔ جس میں جماعت قادیان کی طرف سے رسمی طور پر یہ اعلان ہو کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کیا کیا ہیں اور ہمارے برادران قادیان کے عقائد کیا کیا ہیں۔ انہوں نے وعدہ تو کیا مگر وہ وعدہ ایفا نہ ہوا۔ میں نے ایک خط قادیان بھی لکھا اور وہاں سے متذکرہ صدر صفات کی کتاب طلب کی۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی کتاب یا جواب مجھے موصول نہیں ہوا۔

اپنے مشارالیہ قادیانی دوست کے علاوہ میں نے مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ (لاہور) کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ وہ اپنی جماعت کی کوئی ایسی رسمی کتاب مجھے عنایت فرمائیں جس میں مرزا قادیانی کے دعاوی اور احمدی جماعت لاہور کے معتقدات کی تشریح موجود ہو۔ ممدوح نے فی الفور اپنی کتاب ”تحریک احمدیت“ مجھے تحفۃً بھیج دی۔ مرزا قادیانی چونکہ کرشن ہونے کے بھی مدعی تھے۔ لہٰذا مجھے خواجہ کمال الدین صاحب آنجہانی کی کتاب ”کرشن اوتار“ کی بھی تلاش تھی۔ اس کے لئے میں نے خواجہ صاحب کے فرزند ارجمند کی خدمت میں رقعہ لکھا۔ جواب آیا کہ یہ کتاب اب ختم ہو چکی ہے۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب کو دوبارہ تکلیف دی گئی۔ جنہوں نے کتاب کرشن اوتار از راہ لطف و کرم عاریتاً میرے پاس بھیج دی۔ لیکن واپسی کے لئے تاکید کر دی۔

ساتھ ہی میں نے ایک عریضہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کی خدمت میں لکھا۔ جنہوں نے حسب عادت مجھ پر مہربانی کی اور اپنی دو کتابیں عقائد مرزا اور تاریخ مرزا میرے پاس بذریعہ ڈاک مفت روانہ کر دیں اور ڈاک کا خرچ بھی خود برداشت فرمایا۔

٤

صفحہ ١٢٥

ان کے بعد کہ میں تحریک قادیان پر اظہار خیالات کروں گا۔ مجھے تحریک کد کرنا پڑا۔ میں پہلے بھی ایک دفعہ عرض کر چکا ہوں اور اب دوبارہ وہی بات کے لئے کسی مسئلہ کا سمجھ لینا ایک بات ہے اور اسی مسئلہ کا دوسرے کو سمجھانا ہے۔ جس کا اٹھانا اور دھرنا آسان نہیں۔ لہٰذا جس طرح مجھے یہ معلوم ہے کہ یا یا یہودی یا عیسائی یا سکھ نہیں ہوں۔ اسی طرح مجھے یہ بھی علم ہے کہ میں وں۔ تاہم اپنے دلائل کو دوسروں پر واضح کرنے کے لئے مجھے بعض کتابوں ی لاحق ہوئی۔ جن میں سے چند میرے پاس موجود تھیں اور باقیوں کے نے جدوجہد کی۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے اپنے ایک قادیانی شناسا وہ مجھے کوئی ایسی کتاب عاریتہً یا قیمتاً عطاء فرمائیں۔ جس میں جماعت رسمی طور پر یہ اعلان ہو کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کیا کیا ہیں اور ہمارے عقائد کیا کیا ہیں۔ انہوں نے وعدہ تو کیا مگر وہ وعدہ ایفاء نہ ہوا۔ میں نے ہا اور وہاں سے متذکرہ صدر صفات کی کتاب طلب کی۔ لیکن ان کی طرف ب مجھے موصول نہیں ہوا۔

ار الیہ قادیانی دوست کے علاوہ میں نے مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ میں عریضہ لکھا کہ وہ اپنی جماعت کی کوئی ایسی رسمی کتاب مجھے عنایت ا قادیانی کے دعاوی اور احمدی جماعت لاہور کے معتقدات کی تشریح فی الفور اپنی کتاب ”تحریک احمدیت“ مجھے تحفۃً بھیج دی۔ مرزا قادیانی بھی مدعی تھے۔ لہٰذا مجھے خواجہ کمال الدین صاحب آنجہانی کی کتاب کی تلاش تھی۔ اس کے لئے میں نے خواجہ صاحب کے فرزند ارجمند کی جواب آیا کہ یہ کتاب اب ختم ہو چکی ہے۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب کو جنہوں نے کتاب کرشن اوتار از راہ لطف و کرم عاریتہً میرے پاس بھیج لئے تاکید کر دی۔

ں نے ایک عریضہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کی خدمت میں لکھا۔ ی مجھ پر مہربانی کی اور اپنی دو کتابیں عقائد مرزا اور تاریخ مرزا میرے پاس کردیں اور ڈاک کا خرچ بھی خود برداشت فرمایا۔

٤

حضرت علامہ حکیم مولانا سید محمد احمد صاحب قادری خطیب مسجد وزیر خان مرحوم کو بھی تکلیف دی گئی۔ جنہوں نے از راہ کرم کتاب مرزائیت پر تبصرہ نمبر ٢ ’قادیانی کی کہانی مرزا جی کی زبانی‘ مفت روانہ کر کے مجھ پر احسان کیا۔

مولانا محمد بخش صاحب مسلم اگرچہ مولوی ظفر علی صاحب کے ساتھ قادیانی مقدمہ میں ماخوذ ہیں۔ مگر ان کی بعض عادات سے سخت بیزار ہیں۔ ان کی بندہ نوازی ہے کہ وہ میرے پاس اکثر تشریف لایا کرتے ہیں۔ ان سے مشورہ کیا گیا تو انہوں نے دو کتابیں دیکھنے کا مشورہ دیا اور پھر خود ہی وہ کتابیں میرے پاس بھیج دیں۔ ان میں سے ایک کتاب مرزا قادیانی کا وہ لیکچر ہے جو انہوں نے ٢/نومبر ١٩٠٤ء کو سیالکوٹ میں دیا تھا اور جس کو دسمبر ١٩٢٢ء میں منیجر صاحب بک ڈپو تالیف واشاعت قادیان نے دوسری مرتبہ شائع کیا اور دوسری ’کتاب ترک مرزائیت‘ ہے۔ جو مولانا لال حسین صاحب اختر نے لکھی ہے۔ مولانا موصوف عرصہ تک احمدی جماعت لاہور کے مبلغ تھے۔ ان کی کتاب سے مجھے بہت مدد ملی۔ (یہ کتاب احتساب قادیانیت ج اول میں شامل ہے)

نیز حضرت تاج الشعراء علامہ مولانا تاج الدین احمد صاحب تاج نے از راہ نوازش اس خیال سے کہ مجھے اپنے کام میں امداد مل سکے۔ ذیل کی کتابیں اپنے کتب خانہ میں سے مفت عنایت کی ہیں۔

ہاں کوئٹہ میں ایک نہایت معزز دوست کے کتب خانہ سے کتاب عشرہ کاملہ مجھے عاریتہً

٥

صفحہ ١٢٦

مل گئی۔ جو مولوی محمد یعقوب صاحب سنوری کی تصنیف ہے اور جو یقیناً مفید معلومات کا مجموعہ ہے۔

علاوہ ازیں مجھے بہ تشکر اعتراف کرنا ہے کہ جناب سید دلاور شاہ صاحب قادیانی نے مجھے اپنی جماعت کی طرف سے ذیل کی تین کتابیں مفت بھجوادی ہیں۔

مجھے اعتراف ہے کہ ان کتابوں کا مطالعہ میری معلومات میں اضافہ کا باعث ہوا۔ گویا تحریر کے وقت ہر خیال کی کتابیں میرے سامنے موجود تھیں۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے حق میں داخل اور باطل سے خارج کرے۔ مجھے فہم صداقت کی نعمت عطاء فرمائے اور میری تحریر کو حق و باطل میں امتیاز کا باعث بنائے۔ آمین!

میں ان احباب کا جنہوں نے مجھے کتابیں عنایت کیں تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اسی موقعہ پر مجھے مولانا محمد الحق خان صاحب بی۔ اے علیگ مدیر سیاست کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے۔ جنہوں نے کتابت اور پروف کی تصحیح میں اور دو ایک مواقع پر عمدہ مشورہ سے میری امداد کی۔

نہایت ضروری گذارش

مسئلہ قادیان پر قلم اٹھانے سے قبل میں دو ایک باتیں لکھ دینا چاہتا ہوں تا کہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہوسکے۔

ورنہ یہ کام سیاسی اخبار نویسوں کا نہیں ہے۔ علمائے کرام کا ہے۔ جنہیں قرآن پاک اور حدیث شریف وغیرہ پر کامل عبور ہے۔

میں تحریک قادیان کیوں میرے لئے اور مجھ ایسے مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

کام نہیں لیا گیا اور نہ ان کے استعمال سے کسی کی ہتک یا دل آزاری ہی مقصود ہے۔ احمدی تو ایسا لفظ ہے جو مرزا قادیانی کے پیرو خود اپنے لئے بصد شوق استعمال کرتے ہیں کہ ان کے پیر طریقت نے یہی نام ان کے لئے تجویز کیا۔ قادیان وہ شہر ہے جس کے متعلق ان کے ہادی کا اپنا شعر ہے کہ:

٦

صفحہ ١٢٧

وب صاحب سنوری کی تصنیف ہے اور جو یقیناً مفید معلومات کا مجموعہ ہے۔ مجھے بہ تشکر اعتراف کرنا ہے کہ جناب سید دلاور شاہ صاحب قادیانی نے ف سے ذیل کی تین کتابیں مفت بھجوادی ہیں۔ ت، مصنفہ مرزا بشیر احمد صاحب۔ یت، مرتبہ سید بشارت احمد صاحب وکیل اور ر، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ۔ ت ہے کہ ان کتابوں کا مطالعہ میری معلومات میں اضافہ کا باعث ہوا۔ گویا ی کی کتابیں میرے سامنے موجود تھیں۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے حق میں رج کرے۔ مجھے فہم صداقت کی نعمت عطاء فرمائے اور میری تحریر کو حق و باطل ئے۔ آمین ثم آمین !

باب کا جنہوں نے مجھے کتابیں عنایت کیں تہ دل سے شکرگزار ہوں۔ اسی الحق خاں صاحب بی۔اے علیگ مدیر سیاست کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پروف کی تصحیح میں اور دو ایک مواقع پر عمدہ مشورہ سے میری امداد کی۔

گزارش

ر پر قلم اٹھانے سے قبل میں دو ایک باتیں لکھ دینا چاہتا ہوں تا کہ کوئی غلط فہمی ی کم مائیگی کا احساس ہے میں بدرجہ مجبوری اس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں۔ سیاسی اخبار نویسوں کا نہیں ہے۔ علمائے کرام کا ہے۔ جنہیں قرآن پاک شریف وغیرہ پر کامل عبور ہے۔

وہ سے بحث کرنا مقصود نہیں۔ میں صرف یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میری دانست قادیان کیوں میرے لئے اور مجھ جیسے مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ ں میں احمدی مرزائی یا قادیانی الفاظ کے استعمال میں کسی خاص اہتمام سے یا گیا اور نہ ان کے استعمال سے کسی کی ہتک یا دل آزاری ہی مقصود ہے۔ یسا لفظ ہے جو مرزا قادیانی کے پیرو خود اپنے لئے بصد شوق استعمال کرتے کے پیر طریقت نے یہی نام ان کے لئے تجویز کیا۔ قادیان وہ شہر ہے جس ان کے ہادی کا اپنا شعر ہے کہ: ٦

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص ٥٢)

لہٰذا کسی صاحب کو قادیان سے نسبت دینا ان کے لئے وجہ دل آزاری نہیں ہو سکتا۔ مجھے اگر کوئی میرے اجداد کی نسبت سے مکی، مدنی، حجازی، عربی یا وطن کی نسبت سے بخاری، کشمیری، پنجابی، ہندوستانی، یا ایشیائی کہے تو مجھ پر ایسا خطاب ہرگز گراں نہیں گزر سکتا۔

نیز مجھے یہ بھی عرض کرنے دیجئے کہ خود مرزا قادیانی آنجہانی خود کو غلام احمد قادیانی لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ (ازالہ اوہام طبع اوّل ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠) پر آپ لکھتے ہیں کہ: ”میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں“

اگرچہ اس حوالہ سے مقصود صرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے لئے قادیانی کا لفظ پسند فرمایا۔ لہٰذا ان کے کسی مرید کے لئے یہ لفظ نہ صرف ہتک آمیز ہی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وجہ فخر و مباہات ہونا چاہئے۔ تاہم اس موقعہ پر یہ عرض کر دینا بھی بے جا نہ ہوگا کہ مرزا قادیانی کا یہ خیال صحیح نہ تھا کہ اس وقت کوئی شخص دنیا میں ایسا نہ تھا جو غلام احمد قادیانی ہو۔ اس لئے کہ ضلع لدھیانہ میں موضع قادیان موجود ہے اور ضلع گورداسپور میں تین قادیان ہیں۔ جن میں سے ایک میں مرزا قادیانی رہتے تھے اور ایک قادیان میں غلام احمد قادیانی ایک اور شخص موجود تھا۔ جو قریشی قوم سے تھا اور مرزا قادیانی کا ہم عمر تھا اور اگرچہ بعض اشخاص کے لئے مرزا قادیانی کا یہی خیال ان کے دعاوی کے رد کرنے کے لئے کافی دلیل ہو سکتا ہے۔ تاہم میں نے اس کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس لئے کہ میرے پاس زیادہ وزن دار اعتراضات موجود ہیں۔ لہٰذا میں نے یہ واقعہ تذکرۃً سپرد قلم کیا ہے اور بس۔

رہا مرزائی کا لفظ سو اس کے متعلق عرض ہے کہ بانی تحریک قادیان کی حیات میں ایک سالانہ جلسہ کے موقعہ پر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ لاہور کی شان میں کسی نے مرزا قادیانی کی موجودگی میں یہ شعر کہا تھا کہ؎

کیا ہے راز طشت از بام جس نے عیسویت کا
یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں پکے مرزائی

٧

صفحہ ١٢٨

اور مرزا قادیانی آنجہانی نے اس شعر کی داد دی۔ یوں بھی انسان غور کرے تو اپنے مرشد سے کوئی نسبت اس کے لئے وجہ آشفتگی نہیں ہوسکتی۔ عیسائیوں نے عیسائی کے لفظ کو مسلم سے کہتر جان کر مسلمانوں کے لئے محمدی کا لفظ تجویز کیا۔ لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ ایک سچے مسلمان کے لئے اس سے زیادہ اور کوئی وجہ مسرت و غرور بات ہو نہیں سکتی کہ اسے اس کے مرشد وہادی (ﷺ) کے اسم مبارک سے نسبت دی جائے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہر مسلمان بہ زبان حال و قال فخر و مباہات سے نعرہ بلند کرنے لگا کہ ؎

محمدی ہوں محمدی ہوں محمدی ہوں

اور عیسائی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

گراں گزرے۔ لیکن اگر ایسا ہو تو اس کو میری لغزش تصور کیا جائے اور اگر مجھے اس کی طرف متوجہ کیا گیا تو مجھے عذر تقصیر میں کوئی تامل نہ ہوگا۔

دوستوں سے کتابیں حاصل کی ہیں۔ استدلال تمام تر میرا اپنا ہے۔ لہٰذا اگر بالفرض دلائل سے میرے استدلال کو کوئی صاحب رد کر سکیں گے تو وہ شکست میری ذاتی شکست ہوگی۔ اس سے میرے ہم عقیدہ یا دوسرے علماء یا عوام پر کوئی اثر نہ ہوگا۔

کتاب کا صفحہ یا کتاب کا نام صحیح نہ ہو تو اس کو سہو کتابت یا لغزش قلم سمجھا جائے توجہ دلانے پر مجھے اس کی تصحیح شائع کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔

”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين . اعوذ بالله من الشيطن الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم “

افتتاح اسباب ........ بہ فاتحۃ الکتاب

حمد وثناء ہو تیری کون و مکان والے
الـحـمـدلله
یا رب ہر دو عالم دونوں جہان والے
رب الـعـالـمـيـن

٨

صفحہ ١٢٩

انی آنجہانی نے اس شعر کی داد دی۔ یوں بھی انسان غور کرے تو اپنے کے لئے وجہ آشفتگی نہیں ہوسکتی۔ عیسائیوں نے عیسائی کے لفظ کو مسلم سے کے لئے محمدی کا لفظ تجویز کیا۔ لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ ایک سچے مسلمان اور کوئی وجہ مسرت و غرور بات ہو نہیں سکتی کہ اسے اس کے مرشد مبارک سے نسبت دی جائے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہر مسلمان بہ زبان حال بلند کرنے لگا کہ ؎

دی ہوں محمدی ہوں محمدی ہوں
سامنہ لے کر رہ گئے۔

ش ہے کہ اس تحریر میں کوئی کلمہ یا فقرہ اشارہ یا کنایہ ایسا نہ ہو جو کسی پر ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو تو اس کو میری لغزش تصور کیا جائے اور اگر مجھے اس کی گیا تو مجھے عذر تقصیر میں کوئی تامل نہ ہوگا۔

ں سے اس مضمون کی تدوین میں سوائے ازیں کوئی امداد نہیں لی کہ بعض کتابیں حاصل کی ہیں۔ استدلال تمام تر میرا اپنا ہے۔ لہذا اگر بالفرض سے استدلال کو کوئی صاحب رد کرسکیں گے تو وہ شکست میری ذاتی اس سے میرے ہم عقیدہ یا دوسرے علماء یا عوام پر کوئی اثر نہ ہوگا۔

ش کی گئی ہے کہ حوالے سچے ہوں۔ اگر کوئی حوالہ غلط ہو یا اس کا صفحہ یا یا کتاب کا نام صحیح نہ ہو تو اس کو سہو کتابت یا لغزش قلم سمجھا جائے توجہ ں کی تصحیح شائع کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔

بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين ، اعوذ يم، بسم الله الرحمن الرحيم“

افتتاح اسباب ...... بہ فاتحہ الکتاب

تیری کون و مکان والے
دلله
و عالم دونوں جہان والے
ین

٨

بن مانگے دینے والے عرش وقرآن والے
الرحمن
گرتے ہیں تیرے در پر سب آن بان والے
بیشک رحیم ہے تو رحمت نشان والے
الرحيم
یوم جزا کے مالک خالق हमारा تو ہے
ملك يوم الدين
سجدہ ہیں تجھ کو کرتے تیری ہی جستجو ہے
اياك نعبد
امداد تجھ سے چاہیں سب کا سہارا تو ہے
واياك نستعين
تیری ہی بارگاہ میں یہ بھی اک آرزو ہے
رستہ دکھا دے سیدھا او آسمان والے
اهدنا الصراط المستقيم
وہ راستہ دکھا تو پروردگار عالم
صراط
جس پر چلا کئے ہیں پرہیز گار عالم
الذين
نعمت تھی جن کو ملتی تجھ سے نگار عالم
انعمت عليهم
اور نام جن کا اب تک ہے یادگار عالم
تیری نظر میں ٹھہرے جو عزوشان والے
عاجز حبیب کو تو ان کی نہ راہ چلانا
غير
مغضوب ہیں جو تیرے اے خالق زمانہ
المغضوب عليهم

٩

صفحہ ١٣٠
گمراہ ہوئے جو تجھ سے اے صاحب یگانہ
ولا الضآلین
ہے عرض تجھ سے اتنی اے قادر وتوانا
مقبول یہ دعاء ہو او لا مکان والے
آمین

”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين ، اعوذ بالله من الشيطن الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم“

قسط اوّل

ادعائے نبوت کوئی نئی بات نہیں۔ حضور سرور کائنات فخر موجودات احمد مصطفیٰ محمد مجتبیٰ ﷺ کی شریعت کے ماتحت دعویٰ نبوت کرنے والوں کی ابتداء خود خواجہ دو جہاں ﷺ کے عہد ہی میں شروع ہوئی۔ جو اب تک جاری و ساری ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ کب ختم ہوگی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ علامہ اقبال کا ایک شعر کہ ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

اس کی صداقت نا قابل انکار ہے۔ مسیلمہ تو مرد تھا۔ حضور ختم رسلؐ بابی انت وامی یا رسول اللہ ، کے زمانہ میں ایک سے زیادہ عورتوں نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ مسیلمہ اور ایک مدعیہ نبوت عورت کی ناکامی نے دونوں کو متحد ہونے پر مجبور کیا۔ مشاورت ہوئی۔ دونوں تنہا تھے۔ ان کے پیرو مرشد علیہ اللعنہ بھی آپہنچے۔ شیطنت کے پینگ بڑھے۔ بدکاری و مے خواری کے لطف اڑے اور بی پیغمبرنی صاحبہ مسیلمہ سے روزے اور نماز بطور حق مہر بخشوا کر اور اپنا منہ کالا کر کے گھر کو سدھاریں۔

اس وقت سے لے کر اب تک مسلمانوں کو راہ ہدیٰ سے منحرف کرنے کے لئے کئی خدا، کئی اوتار، کئی پیغمبر، کئی فرزندان خدا، اور کئی مہدی اس دنیا میں آچکے ہیں۔ آغا خان اپنے مریدوں کے لئے خود خدا ہے۔ اس کے غسل کا وہ پانی جو یورپ کی غلیظ ترین ناپاکیوں کا حامل ہوتا ہے بطور تبرک بٹتا اور سونے کے بھاؤ بکتا ہے۔ ہندوستان اور عرب میں ایسے گروہ موجود ہیں جو کسی داعی ظاہر یا باطن کی آمد کے منتظر بیٹھے ہیں۔ یا جن کی دانست میں اب ہادی آچکا۔ چنانچہ بلوچستان کے علاقہ مکران میں ایک قوم آباد ہے۔ جس کو ذکری کہتے ہیں۔ اس قوم کا خیال یہ ہے کہ (معاذ اللہ )

١٠

صفحہ ١٣١

الہ الا الله محمد مهدی رسول الله“

ایک شخص بلند آواز سے ذکر شروع کرتا ہے اور باقی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔

غرض ان کے معتقدات عجیب وغریب ہیں۔

جن مہدی حضرات یا ان کے پیروؤں کا پتہ چلتا ہے وہ کامیاب مہدی ہیں۔ ناکام مہدیوں کی تعداد کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔ مثلاً ضلع گجرات میں ایک گروہ ہے جو ماں کے ساتھ بیٹے ، بہن کے ساتھ بھائی اور بیٹی کے ساتھ والد کے تعلقات کی حرمت کا قائل ہی نہیں۔ ان کے مہدی کا حکم ہی یہ ہے کہ اپنی بیوی کو ماں یا بہن کہہ کر پکارو۔

غرض اگر آپ تلاش کریں گے تو آپ کو ہر گلی میں کوئی نہ کوئی ایسا صاحب عزم مل جائے گا جو ملہم من اللہ ہونے کا دعویدار ہوگا۔ اکثر صاحب قلم کامیاب ہوتے ہی پیری کا اور اس کے بعد ملہم ہونے کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔ کلکتہ کے ایک بہت بڑے عالم دین اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے اور اگر چہ وہ دعویٰ مہدویت سے باز آگئے۔ تاہم اب تک ان کی تحریر کا رنگ وہی ہے جو کسی ایسے ہی شخص کا ہوسکتا ہے۔ جس کو یقین ہو کہ وہ جو کچھ بھی لکھ رہا ہے۔ کسی قوت فوق العادۃ کے اشارے حکم یا تائید سے لکھ رہا ہے۔

القصہ اسلام کی گذشتہ ساڑھے تیرہ سو سال کی زندگی میں جس قدر مدعی نبوت یا مہدویت یا مسیحیت پیدا ہوئے۔ ان سب میں سے مرزا قادیانی بھی ایک ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ قلت مطالعہ یا عدم واقفیت اس تاثر کا سبب ہے۔ مدعیان نبوت میں سے مرزا قادیانی کامیاب بھی شمار نہیں ہو سکتے۔ ان کو جو کچھ کامیابی حاصل ہوئی اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی یہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ جہاں بے کار علماء کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے ان کی مخالفت کو اپنا پیشہ بنالیا اور یوں ان کا پروپیگنڈا بڑھ گیا۔ جن علمائے کرام نے دلیل سے اور اظہار حق کے لئے ان کی مناسب مخالفت کی میں ان کی عزت کرتا ہوں اور ان کے حق میں میرے منہ سے دعائے خیر نکلتی ہے۔ مگر ایسے بزرگوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔

١١

صفحہ ١٣٢

پس مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت، مجددیت، مسیحیت و مہدویت میں کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ کرشن کا اوتار بن کر ایک بت پرست (کرشن) کو پیغمبر بنا دینا ضرور ایک نرالی بات ہے اور ان کی یہ جدت طرازی ان کے لئے ایک شانِ امتیاز پیدا کرتی ہے اور بس۔

بعثت سرور کونین و صاحب قبلتین ﷺ کے وقت سے لے کر اب تک جن لوگوں نے مہدویت کے دعاوی پیش کئے یا نبوت کے منصب پر قبضہ ثابت کرنے کی سعی کی۔ ان میں سے بعض نہایت کامیاب مدعیانِ نبوت کا حال بطور مثال سن لیجئے۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی کی ظاہری کامیابی مقابلہً کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ وھو ھٰذا!

ابن تومرت

فتوحات اسلامیہ میں بحوالہ تاریخ کامل وغیرہ لکھا ہے کہ پانچویں صدی کے شروع میں ”محمد بن تومرت“ ساکن جبل سوس نے دعویٰ کیا کہ میں سادات حسینی میں سے ہوں۔ مہدی موعود ہوں۔ اس کے حالات میں مذکور ہے کہ اس نے امام غزالیؒ وغیرہ اکابر علماء سے تحصیل علوم کے بعد رمل و نجوم میں بھی مہارت بہم پہنچائی اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کا علم و فضل اور زہد وتقویٰ دیکھ کر اور اس کی جادو بھری تقریریں سن کر لاکھوں آدمی اس کے شاگرد ومرید بن گئے اور ایک لشکر لڑنے مرنے والا تیار ہو گیا۔ بادشاہ وقت کو بھی اس نے شکست دی۔ جس کی اس نے پہلے سے پیش گوئی کر دی تھی۔

مناسبت معنوی وطبعی کے لحاظ سے عبداللہ وشریسی اور عبدالمومن وغیرہ اس کے معتمد علیہ قرار پائے۔ عبداللہ ایک بڑا فاضل شخص تھا۔ اس کے علوم فنون کو ابن تومرت نے کچھ عرصہ تک ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ اس کو ایک مجذوب کی مانند نہایت میلے اور گندے حال میں گونگا بنائے رکھا۔ جب لوگوں میں اس مدعی مہدویت کا خوب چرچا ہو گیا تو اپنی پہلے سے سوچی ہوئی چال چلا۔ یعنی فاضل عبداللہ وشریسی سے کہا کہ اب اپنا کمال علم و فضل ظاہر کرو۔ چنانچہ اس کی بتائی ہوئی تدبیر کے موافق ایک دن صبح کے وقت عبداللہ نہایت مکلف لباس پہنے اور خوشبوئیں لگائے مسجد کے محراب میں دیکھا گیا۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ فرشتہ نے آسمان سے آ کر میرا سینہ شق کیا اور دھو کر قرآن اور مؤطا وغیرہ کتب آسمانی واحادیث و علوم سے بھر دیا۔ مکار مہدی موعود اس بات کو سن کر رونے لگا کہ میری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی بھی پیدا کئے ہیں جن پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرح فرشتے اترتے ہیں اور جس طرح آنحضرت ﷺ کا سینہ شق کیا گیا تھا اسی طرح اس عاجز کی جماعت کے ایک شخص کا سینہ فرشتوں نے شق کر کے قرآن وحدیث اور علوم لدنیہ

١٢

سے بھر دیا ہے۔ غرضیکہ اس حکیم الا بعض لوگ اس جھو۔ فہرست اسم وار اس نے عبداللہ کو عطاء ہونے کا معجزہ تسلیم کر لیا شناخت کا بھی نور عطاء کیا ہے اور لہٰذا ان دوزخیوں کو قتل کر دینا چ سے نازل ہوئے ہیں۔ جو فلاں سنسان مقام پر ایک چاہ میں ا پہنچی۔ جہاں مکار مہدی نے ”عبداللہ وشریسی کہتا ہے کہ ا دوزخی قتل کر دیئے جائیں۔ کیا اس تصدیق کے ب کردیں۔ ان کو عالم بالا پر ہی متوجہ ہو کر کہا کہ یہ چاہ اب نز اس سے قہر الہی نازل ہونے ک رائے سے فوراً اس چاہ کو بند کر بعدہ وشریسی کے دن میں سرانجام ہوا۔ اس طر میں مشغول ہوا اور ٢٤ سال تک

عبدالمومن

محمد ابن تومرت کردیا تھا اور اس کے حق م ٤ برس تک لوگوں کے ساتھ لئے ملک فتح کرنے کی طرز بھی اس نے فتح کیا۔ ٥٥١ آخر ٣٣ سال تک مہدی ک

صفحہ ١٣٣

قادیانی کے دعویٰ نبوت، مجددیت، مسیحیت ومہدویت میں کوئی نئی بات نہیں کہ ایک بت پرست (کرشن) کو پیغمبر بنا دینا ضرور ایک نرالی بات ہے جو ان کے لئے ایک شان امتیاز پیدا کرتی ہے اور بس۔ خاتم النبیین ﷺ کے وقت سے لے کر اب تک جن لوگوں نے ملک یا نبوت کے منصب پر قبضہ ثابت کرنے کی سعی کی۔ ان میں سے چند مدعیان نبوت کا حال بطور مثال سن لیجئے۔ تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی کی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ وهو هذا !

حاشیہ میں بحوالہ تاریخ کامل وغیرہ لکھا ہے کہ پانچویں صدی کے شروع میں السوس نے دعویٰ کیا کہ میں سادات حسینی میں سے ہوں۔ مہدی موعود مذکور ہے کہ اس نے امام غزالیؒ وغیرہ اکابر علماء سے تحصیل علوم کے لئے استطاعت بہم پہنچائی اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کا علم وفضل اور جادو بھری تقریریں سن کر لاکھوں آدمی اس کے شاگرد ومرید بن گئے اور بااختیار ہو گیا۔ بادشاہ وقت کو بھی اس نے شکست دی۔ جس کی اس نے

طبعی کے لحاظ سے عبداللہ ونشریسی اور عبدالمؤمن وغیرہ اس کے معتمد علیہ ایک فاضل شخص تھا۔ اس کے علوم فنون کو ابن تومرت نے کچھ عرصہ تک ظاہر میں مجذوب کی مانند نہایت میلے اور گندے حال میں گونگا بنائے رکھا۔ جب کرامات کا خوب چرچا ہو گیا تو اپنی پہلے سے سوچی ہوئی چال چلا۔ یعنی فاضل سے کہا اب اپنا کمال علم وفضل ظاہر کرو۔ چنانچہ اس کی بتائی ہوئی تدبیر کے موافق نہایت مکلف لباس پہنے اور خوشبوئیں لگائے مسجد کے محراب میں دیکھا گیا، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ فرشتہ نے آسمان سے آ کر میرا سینہ شق کیا اور غیب آسمانی واحادیث وعلوم سے بھر دیا۔ مکار مہدی موعود اس بات کو سن کر بولا امت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی بھی پیدا کئے ہیں جن پر حضرت مہدی کے فرشتے اترتے ہیں اور جس طرح آنحضرت ﷺ کا سینہ شق کیا گیا تھا اسی طرح اس کے ایک شخص کا سینہ فرشتوں نے شق کر کے قرآن وحدیث اور علوم لدنیہ

١٢

سے بھر دیا ہے۔ غرضیکہ اس حکیم الامتہ ونشریسی کے طفیل اس کو بہت کچھ فروغ حاصل ہوا۔ بعض لوگ اس جھوٹے مہدی کے دعووں کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جن کی فہرست اسم وار اس نے عبداللہ کو دے دی تھی۔ جب عبداللہ کا سینہ شق ہونے اور علوم لدنی اس کو عطاء ہونے کا معجزہ تسلیم کر لیا تو اس عبداللہ سے ہی کہلوایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں کی شناخت کا بھی نور عطاء کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ایسی متبرک جماعت میں دوزخیوں کا رہنا ٹھیک نہیں۔ لہٰذا ان دوزخیوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ میرے اس بیان کی تصدیق کے لئے تین فرشتے آسمان سے نازل ہوئے ہیں۔ جو فلاں کنوئیں میں موجود ہیں (اور خفیہ طریق سے تین مخلص مرید ایک سنسان مقام پر ایک چاہ میں اتار بھی دیئے) حسب الحکم مہدی کاذب ساری جماعت اس چاہ پر پہنچی۔ جہاں مکار مہدی نے اوّل دو رکعت نماز پڑھی ۔ بعد ازاں کنوئیں میں آواز دی کہ: ”عبداللہ ونشریسی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دوزخیوں کی شناخت کا علم دے کر حکم دیا ہے کہ دوزخی قتل کر دیئے جائیں ۔ کیا یہ سچ ہے؟ چاہ میں سے آواز آئی ۔ سچ ہے ! سچ ہے !! سچ ہے!!!“ اس تصدیق کے بعد بدیں خیال کہ یہ عالم تنہائی کے فرشتے اوپر آ کر افشائے راز نہ کر دیں۔ ان کو عالم بالا پر ہی پہنچا دیا جائے تو مناسب ہے۔ مہدی موعود نے ونشریسی وغیرہ سے متوجہ ہو کر کہا کہ یہ چاہ اب نزولِ ملائکہ سے متبرک ہو گیا ہے۔ اس میں نجاست وغیرہ گرنے اور اس سے قہر الٰہی نازل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس کو بند کر دینا مناسب ہے۔ چنانچہ سب کی رائے سے فوراً اس چاہ کو بند کر دیا گیا۔

بعدہ ونشریسی کے بتلانے کے موافق سب مخالف چن چن کر قتل کر دیئے گئے۔ یہ کام کئی دن میں سر انجام ہوا۔ اس طرح مہدی کاذب اپنے مخالفین کا قلع قمع کر کے فتنہ وفساد اور ملک گیری میں مشغول ہوا اور ٢٤ سال تک مدعی مہدویت رہ کر عبدالمؤمن کو جانشین کر کے مر گیا۔

عبدالمؤمن

محمد ابن تومرت نے مرنے سے پیشتر اس کو امیر المؤمنین کا لقب دے کر اپنا جانشین کر دیا تھا اور اس کے حق میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ بہت سے ملک فتح کرے گا۔ عبدالمؤمن ٤ برس تک لوگوں کے ساتھ سخاوت واحسان کے سلوک کرتا رہا اور چونکہ جواں مرد اور بہادر تھا اس لئے ملک فتح کرنے کی طرف متوجہ ہوا۔ چنانچہ جس طرف کو گیا اس کی فتح ہوئی۔ اندلس اور عرب کو بھی اس نے فتح کیا۔ ٥٥١ھ میں اپنے بیٹے محمد کو ولی عہد کر کے اپنے مریدوں سے بیعت کرائی۔ آخر ٣٣ سال تک مہدی کا خلیفہ اور امیر المؤمنین کہلا کر اور بڑی شان وشوکت سے بادشاہت بادشاہت کر

١٣

صفحہ ١٣٤

کے ٨٥٨ھ میں مر گیا اور اپنی اولاد کو بادشاہت دے گیا۔ بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا اور مدت العمر محمد بن تومرت کی تعلیم مہدویت پھیلاتا رہا۔

ظریف ابو صبیح وصالح بن ظریف

دوسری صدی کے شروع میں اس نے حکومت کی بنیاد قائم کی اور نبوت کا دعویٰ کر کے نیا مذہب اپنی قوم میں رائج کیا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں سلطنت رہی۔ چنانچہ صالح بن ظریف شروع ہی میں اپنے باپ کا مرید ہوا۔ یہ شخص اپنی قوم میں عالم و دیندار تھا۔ باپ کی طرح اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور عیسیٰ بن مریم میرے ہی وقت میں نازل ہوں گے اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس نے اپنا نام خاتم الانبیاء بھی رکھا۔ مفصل حال ”ابن خلدون“ میں موجود ہے۔

یہ ایک جدید قرآن کے اپنے اوپر نازل ہونے کا دعویدار تھا۔ جس کی سورتیں اس کے مرید نماز میں پڑھتے تھے۔ چند سورتوں کے نام یہ ہیں۔ سورۃ الدیک، سورۃ الحمر، سورۃ الفیل، سورۃ آدم، سورۃ نوح، سورۃ ہاروت و ماروت، سورۃ ابلیس، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ ٤٧ سال تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت اور بادشاہت کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کے خاندان میں حسب ذیل مشہور بادشاہ ہوئے۔

نام بادشاہ مدت سلطنت نام بادشاہ مدت سلطنت الیاس بن صالح ٥٠ سال یونس بن الیاس ٣٣ سال ابوغفیر محمد صالح کا پڑوتا ٢٩ سال ابوالانصار عبداللہ بن ابوغفیر محمد ٤٤ سال

ان لوگوں نے بڑی شان وشوکت سے حکومت کی اور ایسے صاحب اقبال وشوکت وجلال تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ اور خلفاء بھی ان سے ڈرتے تھے۔

عبداللہ مہدی صاحب افریقہ

یہ شخص ٢٩٦ھ میں مہدویت کا مدعی ہوا۔ اگلے سال افریقہ میں جاکر وہاں کا فرمانروا ہو گیا اور مہدویت کا زور وشور سے اعلان کیا۔ ٦٣ سال کی عمر پائی اور ٣٢٢ھ میں اپنے بیٹے ابوالقاسم کو ولی عہد کر کے اپنی موت سے مر گیا۔ گویا ٢٧ سال دعوئی مہدویت کے ساتھ زندہ رہا۔ اس کی اولاد میں ٥٦٣ھ تک سلطنت رہی اور ١٣ فرمانروا اس کے خاندان میں ہوئے۔

(مفصل دیکھو ابن خلدون ج ٣ اور تاریخ کامل ابن اثیر ج ٨)

١٤

صفحہ ١٣٥

اور اپنی اولاد کو بادشاہت دے گیا۔ بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا اور مدت العمر مہدویت پھیلاتا رہا۔

صالح بن طریف

کے شروع میں اس نے حکومت کی بنیاد قائم کی اور نبوت کا دعویٰ کر کے نیا کیا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں سلطنت رہی۔ چنانچہ ہی میں اپنے باپ کا مرید ہوا۔ یہ شخص اپنی قوم میں عالم و دیندار تھا۔ باپ ت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور عیسیٰ بن مریم میرے ہی اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس نے اپنا نام خاتم الانبیاء بھی رکھا۔ میں موجود ہے۔ قرآن کے اپنے اوپر نازل ہونے کا دعویدار تھا۔ جس کی سورتیں اس کے - چند سورتوں کے نام یہ ہیں۔ سورۃ الدیک، سورۃ الحمر، سورۃ الفیل، سورۃ وت و ماروت، سورۃ ابلیس، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ ٤٧ سال کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت اور بادشاہت کرتا رہا۔ اس کے بعد ذیل مشہور بادشاہ ہوئے۔

مدت سلطنت نام بادشاہ مدت سلطنت ٥٠ سال یونس بن الیاس ٣٣ سال ٢٩ سال ابوغفار عبداللہ بن ابوغفیر محمد ٤٤ سال

بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور ایسے صاحب اقبال و شوکت بادشاہ اور خلفاء بھی ان سے ڈرتے تھے۔

افریقہ

میں مہدویت کا مدعی ہوا۔ اگلے سال افریقہ میں جا کر وہاں کا فرمانروا سے اعلان کیا۔ ٦٣ سال کی عمر پائی اور ٣٢٢ھ میں اپنے بیٹے ابوالقاسم ت دے کر مر گیا۔ گویا ٢٧ سال دعویٰ مہدویت کے ساتھ زندہ رہا۔ اس کی ت رہی اور ١٣ فرمانروا اس کے خاندان میں ہوئے۔

(مفصل دیکھو ابن خلدون ج ٤ اور تاریخ کامل ابن اثیر ج ٨)

١٤

ایسے اور بہت سے نام پیش کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن میں مندرجہ بالا مثالوں کو اپنے مقصود کے لئے کافی سمجھتا ہوں۔

قسط دوم

دعویداران مسیحیت و مہدویت کی جماعت کثیر میں سے صرف تین اشخاص کے حالات اس لئے اوپر درج کئے گئے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ مفلوک الحالی کے مقابلہ میں علم برداران تحریک قادیان کی ثروت و وجاہت و تمکنت بھی ان کی صداقت کی ایک دلیل سی بن گئی ہے۔ اس کا ازالہ ہو سکے اس لئے کہ جن مدعیان نبوت کا مختصر حال اس سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے ان کی شوکت ثروت و تمکنت اور ان کا جاہ و جلال قادیان سے لاکھوں گنا بڑھا ہوا تھا۔ وہ صاحب تخت و تاج و حامل شمشیر و علم ہو گزرے ہیں۔ لہٰذا ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہونا درست نہیں۔ اس کو خداوند کردگار نے اپنے کلام میں ”متاع قلیل“ کا نام دیا ہے۔ لہٰذا اس سے مرعوب ہونا دانشمندی سے بعید ہے۔

تاہم اس سے مرزا قادیانی کے دعاوی کی تکذیب نہیں ہوتی۔ اس کے لئے زیادہ وزنی دلائل کی ضرورت ہے۔ میں جن دلائل کی بنا پر تحریک قادیان سے اتفاق نہیں کر سکتا وہ ملاحظہ فرمائیے۔

پہلی دلیل

قرآن مجید فرقان حمید کے ماننے والوں کو اس حقیقت پر ناز ہے اور اس بات پر مسلمان بجا طور پر فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا میں الہامی کتابوں کے ماننے والوں میں صرف مسلمان ہی ایسے ہیں جن کا ایمان ایک ایسی کتاب پر ہے جس میں کوئی تبدیلی نہ اب تک ہوئی ہے نہ آئندہ ہوگی اور نہ ہو سکتی ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ جس طرح سے اس کتاب کا مصنف لاشریک و بے مثال ہے۔ اسی طرح یہ کتاب بھی بے عدیل و بے نظیر ہے اور اس کتاب مقدس کے مقابلہ میں بھی کوئی اور کتاب تصنیف نہیں ہو سکتی۔ پوری کتاب تو بڑی بات ہے قرآن پاک کا اپنا دعویٰ ہے کہ اس کی سورتوں کی طرح کی ایک سورۃ بھی کوئی لکھ نہیں سکتا۔ خواہ لکھنے والا ایک ہو یا دنیا جہاں کے تمام عالم و فاضل و عام انسان و حیوان، فرشتے، دیوی اور دیوتا جمع ہو کر بھی ایسی کوشش کیوں نہ کریں۔ اسلام دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے امریکہ اور یورپ کے قارونوں کا روپیہ پانی کی طرح بہ چکا اور پادریوں نے کوئی کوشش اٹھا نہ رکھی۔ مگر اس کی ایک للکار کا جواب نہ دے سکے۔ وہ للکار کیا ہے۔ ”اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا

١٥

صفحہ ١٣٦

نزلنا علی عبدنا فأتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شہداءکم من دون اللہ ان کنتم صادقین “

یعنی خداوند کریم، محمد رسول اللہ ﷺ پر جو قرآن نازل کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں تم کو کچھ شک ہو تو اگر تم سے ہو سکے تو اس کی ایسی ایک ہی سورۃ تیار کر لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا جس کو چاہو اپنی امداد کے لئے بلا لو۔

غور کیجئے! ساڑھے تیرہ سو سال میں اس دنیا میں کتنے آدمی آئے اور چلے گئے۔ ہر لمحہ کی آبادی کئی سو کروڑ کی ہے۔ یہ صرف انسانوں کی تعداد ہے۔ غیر انسان مخلوق اس کے علاوہ ہے۔ اتنی بڑی تعداد سے چند آیتیں قرآن پاک کے مقابلہ میں تیار نہ ہوسکیں۔ یہ قرآن پاک کی صرف زبان کا اعجاز ہے۔ دوسری خوبیوں کا تو ذکر ہی کیا۔

پس جس مسلمان کی نگاہوں میں قرآن پاک کی یہ خوبی کھب چکی ہو وہ کسی مدعی الہام کی تائید نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ وہ مدعی الہام ایسا بیان اور ایسی زبان نہ لائے جس کا دنیا میں جواب نہ ہو۔

مرزا قادیانی کی تحریروں کو میں نے بغور پڑھا ہے۔ میں اس کتاب میں بارہا اپنی علمی فرومائیگی کا اعتراف کر چکا ہوں اور پھر اس کا اقرار کرتا ہوں۔ لیکن مجھ ایسا ہیچمدان بھی یہ دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریر مبتذل اور پیش پا افتادہ اغلاط سے پر ہے۔ ان کی تحریروں میں عربی اور فارسی اور اردو کو استعمال کیا گیا ہے جو لوگ عربی سے آگاہ ہیں اور میں یہاں دم مارنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ وہ ان کی عربی میں فاش غلطیاں دکھا سکتے ہیں۔ فارسی کا بھی یہی حال ہے۔ لیکن میں اردو کے متعلق وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سہو کتابت وغیرہ کے لئے ہر ممکن موقعہ دینے کے بعد بھی ان کی تحریر کو نہایت معمولی اغلاط سے مملو پاتا ہوں اور من حیث الکل بھی ان کی تحریر نہ معجز نما ہے اور نہ پر زور، مثلاً ان کی کتاب (تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧) میں انہوں نے اپنی قلم کے الفاظ استعمال کر کے تذکیر تانیث کی ایک نہایت ہی پیش پا افتادہ غلطی کی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) پر مرغی کی قلم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ایک اور موقعہ پر ہوش آئی ہے کے الفاظ لکھ کر آپ نے اپنی ادبی کمزوری کا بدترین نمونہ پیش کیا ہے۔

میں ہر بات مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ لہٰذا عبارت کے طویل نمونے نے مبتذل

١٦

صفحہ ١٣٧

طرز تحریر کے ثبوت میں پیش کرنا نہیں چاہتا۔ ورنہ مرزا قادیانی کی تحریر سے ایسے متعدد نمونے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ ساری تحریر کا معیار ادب بہت ادنیٰ ہے اور ادبی لحاظ سے تحریر کی خوبی کا نمونہ کہیں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔

میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن پاک کے بے مثال طرز تحریر پر ایمان لانے کے بعد میں یقین نہیں کر سکتا کہ خدائے قرآن مجید نے جب ایک اور نبی تجدید دین محمد کے لئے بھیجا تو خدا (معاذ اللہ) طرز تحریر کو بھول گیا یا عربی کی بجائے اردو کے اختیار کرتے ہی اس کی زبان میں فرق آ گیا۔ لیکن یہاں تو عربی بھی غلط ہے۔

شاید کہا جائے کہ ادبی چٹخاروں سے مذہب کو کیا واسطہ۔ لہٰذا میں پھر عرض کروں گا کہ قرآن پاک نے جب ہمارے مذہب کی بناء ہی اس بات پر رکھی ہے کہ زبان کو معیار صداقت مذہب قرار دے کر اس کا دعویٰ کیا ہے کہ اس کی زبان لاجواب ہے تو اب کسی وجہ سے اس کی اہمیت کو گھٹانا قرآن پاک کے ایک ایسے اصول کو نظر انداز کرنا ہے جو خدائے قرآن الحکیم نے مدعیان نبوت کی تکذیب یا تصدیق کے لئے ہمیں عنایت کیا ہے۔

اگر مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ نہ ہوتا کہ ان کی زبان کا ذمہ دار بھی خود خدا ہے تو شاید اس اعتراض کی اہمیت کچھ کم ہو جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ مرزا قادیانی بہ بانگ دہل کتاب (نزول المسیح ص ٥٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤) پر فرماتے ہیں: ”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

پھر (نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥) پر لکھتے ہیں: ”ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔ عربی تحریروں کے وقت میں صدہا فقرات وحی متواتر کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے۔“

غرض مرزا قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی تحریر اعجاز خداوندی کا ایک نمونہ ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی تحریر مبتذل ہوتی ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی اسی محولہ بالا تحریر سے ظاہر ہے۔ جو اعجاز تحریر کے متعلق نزول المسیح سے لی گئی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن پاک کے نازل کرنے والے خداوند قدوس نے مرزا قادیانی کو مبعوث یا مقرر فرما کر اعجاز تحریر دکھایا تو سوائے ازیں کہ اس کے لئے دعائے ہدایت کی جائے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔

١٧

صفحہ ١٣٨

دوسری دلیل

بعثت خاتم النبیین کے زمانہ میں کفار نے حضرت امی لقب ﷺ (فداہ امی وابی) پر جو الزام لگائے ان میں آپ کو ساحر، کاہن، مجنون اور شاعر بھی کہا گیا۔ خداوند محمد نے ان سب الزامات کی بڑے زور سے تردید کی اور الزام شاعری کی تردید میں قدرے زیادہ زور سے کام لیا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ حضور شافع المذنبین ﷺ کے دین کی تجدید کے لئے اگر کوئی مرسل آئے تو وہ جس طرح مجنون، کاہن یا ساحر نہیں ہو سکتا اسی طرح شاعر بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے شاعری کے میدان میں بھی جلوہ نمائی کی ہے۔ مگر ان کی نثر کی طرح ان کی شاعری بھی نہایت مبتذل ہے۔ خواہ وہ شاعری اردو کی ہو یا فارسی کی۔ سارا کلام اس کا نمونہ ہے۔ لہٰذا میں اس دلیل کو طول دینے سے گریز کرتا ہوں۔

قسط سوم

جناب محمد مصطفےٰ ﷺ کے دین کی سب سے بڑی خوبی سادگی ہے۔ حضور ﷺ کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے رسول اور نبی ہیں اور اس کے بندے ہیں اور بس۔ ان کے دعویٰ میں کوئی ایچ پیچ نہیں برعکس اس کے۔ مرزا قادیانی کی تحریر کے خلاف میری تیسری دلیل یہ ہے کہ ان کے دعاوی کی کثرت ندرت اور ان کے تنوع کا یہ حال ہے کہ انسان ان کی فہرست دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔ نمونۃً آپ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں:

منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبےٰ باشد

یہ شعر کتاب (تریاق القلوب ص ٩، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤) پر موجود ہے۔ پھر (براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ١٣٢، درثمین ص ١٠٠) پر ارشاد ہوتا ہے:

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

ایسے اشعار کو شاعرانہ تخیل یا تعلی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج ہے کہ آپ کے دعاوی کی فہرست ماشاء اللہ بہت ہی طویل ہے۔ ان کی مختصر سی روداد ملاحظہ فرمائیے۔

اللہ تعالیٰ ہونے کا دعویٰ

مرزا قادیانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں: ”رأيتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو ....... فخلقت السموات

١٨

والارض ....... وقلت انا زينا اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں وہی اللہ نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن فرمایا: ”انت منى بمنزلة ولدى اور پھر (البشریٰ ج ٢ ص ”انت منى بمنزلة اولادى“

مرزا قادیانی نے سیالک کی جماعت کی طرف سے شائع ہ بعد آپ (البشریٰ کی جلد اول ص ٥٦

ہندوں کو مخاطب کر میں لکھتے ہیں کہ: ”برہمن اوتار (

کتاب البشریٰ ہی کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بہت اہم دعویٰ ہے۔ یہ طویل بحث کا محتاج ہے جس کے ثبوت میں متعدد حوا

اپنی کتاب آئینہ کم ہوئے لکھا ہے کہ یہ دعویٰ ”مد

صفحہ ١٣٩

ان کے زمانہ میں کفار نے حضرت امی لقب ﷺ (فداہ ابی وامی) پر جو کو ساحر، کاہن، مجنون اور شاعر بھی کہا گیا۔ خداوند محمد نے ان سب کی تردید کی اور الزام شاعری کی تردید میں قدرے زیادہ زور سے کام لیا کہ شافع المذنبین ﷺ کے دین کی تجدید کے لئے اگر کوئی مرسل آئے تو یا ساحر نہیں ہو سکتا اسی طرح شاعر بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں اس کے میدان میں بھی جلوہ نمائی کی ہے۔ مگر ان کی نثر کی طرح ان کی ہے۔ خواہ وہ شاعری اردو کی ہو یا فارسی کی۔ سارا کلام اس کا نمونہ ہے۔ ماننے سے گریز کرتا ہوں۔

اس کے دین کی سب سے بڑی خوبی سادگی ہے۔ حضور ﷺ کا دعویٰ رسول اور نبی ہیں اور اس کے بندے ہیں اور بس۔ ان کے دعویٰ میں ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریر کے خلاف میری تیسری دلیل یہ ہے کہ ان اور ان کے تنوع کا یہ حال ہے کہ انسان ان کی فہرست دیکھ کر پریشان چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں:

مسیح زمان و منم کلیم خدا
محمد احمد کہ مجتبےٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤) پر موجود ہے۔ پھر (براہین احمدیہ ص ١٠٠) پر ارشاد ہوتا ہے:

کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

تخیل یا تعلی پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج ہے کہ باطلہ بہت ہی طویل ہے۔ ان کی مختصر سی روداد ملاحظہ فرمائیے۔

دعوٰی

اب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں لکھتے م عين الله وتيقنت اننی ھو....... فخلقت السمٰوات

١٨

والارض....... وقلت انا زينا السماء بمصابيح “ میں نے نیند میں خود کو ہو بہو اللہ دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔ پس میں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔

٢...... اللہ تعالیٰ کے فرزند ہونے کا دعویٰ

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”انت منى بمنزلة ولدی“ تم میرے بیٹے کی جگہ ہو۔ اور پھر (البشریٰ ج ٢ ص ٦٥) پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کر کے کہا کہ: ”انت منی بمنزلة اولادی“

٣...... کرشن ہونے کا دعویٰ

مرزا قادیانی نے سیالکوٹ میں لیکچر دیا۔ یہ ٢ نومبر ١٩٠٤ء کی بات ہے۔ یہ لیکچر قادیان کی جماعت کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ اس لیکچر میں آپ نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد آپ (البشریٰ کی جلد اول ص ٥٦) پر خود کو ”جے کرشن جی رودر گوپال“ فرماتے ہیں۔

٤...... اوتار ہونے کا دعویٰ

ہندوؤں کو مخاطب کر کے جناب مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١) میں لکھتے ہیں کہ: ”برہمن اوتار (یعنی مرزا قادیانی) سے مقابلہ اچھا نہیں ۔“

٥...... آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ

کتاب البشریٰ ہی کی جلد اوّل میں ص ٥٦ پر مرزا قادیانی نے آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

٦...... نبوت کا دعویٰ

یہ بہت اہم دعویٰ ہے۔ اس کے وجود سے مرزائیوں کی ایک جماعت نے انکار کیا ہے۔ یہ طویل بحث کا محتاج ہے۔ یہاں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے۔ اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ جس کے ثبوت میں متعدد حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔

٧...... ابن مریم ہونے کا دعویٰ

اپنی کتاب آئینہ کمالات کے ص ٣٤ پر مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ دعویٰ ”ملھم من اللہ“ اور ”مجدد من اللہ“ ہونے کا دعویٰ سے کچھ بڑا

١٩

صفحہ ١٤٠

نہیں ہے۔ نیز اس دعویٰ کے الفاظ آپ کی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں ملتے ہیں۔ جس کے (ص٢٥٨، ج٣ص٤٥٦) پر آپ لکھتے ہیں کہ: ”نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔ جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شخص والد روحانی کو نہ پایا۔ جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدا تعالیٰ اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا۔“

نیز کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) پر آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ نیز سیالکوٹ میں مرزا قادیانی نے ایک لیکچر دیا تھا۔ جس کا حوالہ میں قبل ازیں دے چکا ہوں۔ اس میں بھی آپ نے یہ دعویٰ کیا۔ چنانچہ مطبوعہ لیکچر کے صفحات ٣٢،٣٣ پر اس دعویٰ کا ذکر موجود ہے۔

لیکن اسی پر اکتفا نہیں۔ خدا اور عیسیٰ ابن مریم ہونے کے مدعی ہونے کے علاوہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ خود محمدﷺ بھی ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی تحریر موسومہ (خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٥٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھ پر اس رسول کا فیض اتارا اور اس کو پورا کیا اور مکمل کیا اور میری طرف اس رسول کا لطف اور جود بھرا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔“ اصل عبارت عربی میں ہے۔ میں نے آسانی کے خیال سے اس کا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔

اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ص٢٦٢) پر آپ نے ظلی طور پر محمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

آپ نے اپنے احمد ہونے کا دعویٰ پیش کیا۔ جس کی تفصیل یوں ہے کہ قرآن شریف میں ایک آیت شریفہ ہے کہ: ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام طبع اوّل ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) پر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ احمد میں ہی ہوں۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ص٢٦٢) پر آپ نے ظلی احمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

٢٠

صفحہ ١٤٠

دعویٰ کے الفاظ آپ کی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں ملتے ہیں۔ جس کے (م) پر آپ لکھتے ہیں کہ: ”نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔ جس نے عیسیٰ کے زمانہ میں کسی ایسے شخص والد روحانی کو نہ پایا۔ جو اس کی روحانی پیدائش کا ا تعالیٰ اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندہ کا نام ابن

(ازالہ اوہام ص ٦٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٥٩) پر آپ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی رٹ میں مرزا قادیانی نے ایک لیکچر دیا تھا۔ جس کا حوالہ میں قبل ازیں دے آپ نے یہ دعویٰ کیا۔ چنانچہ مطبوعہ لیکچر کے صفحات ٣٢، ٣٣ پر اس دعویٰ کا

دعویٰ

اکتفا نہیں۔ خدا اور عیسیٰ ابن مریم ہونے کے مدعی ہونے کے علاوہ آپ کا ی بھی ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی تحریر موسومہ (خطبہ الہامیہ ص ٧١، خزائن ج ١٦ :”خدا نے مجھ پر اس رسول کا فیض اتارا اور اس کو پورا کیا اور مکمل کیا اور کا لطف اور جود بھرا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔“ اصل میں نے آسانی کے خیال سے اس کا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔

کا دعویٰ

تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢) پر آپ نے ظلی طور پر محمد ہونے کا

ا دعویٰ

اپنے احمد ہونے کا دعویٰ پیش کیا۔ جس کی تفصیل یوں ہے کہ قرآن شریف کہ: ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ (ازالہ اوہام طبع اول ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) پر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ

کا دعویٰ

١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢) پر آپ نے ظلی احمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

٢٠

١٤١

١٢...... مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

اس کا ثبوت ابن مریم کے دعویٰ کی دلیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

١٣...... محمدﷺ ہونے کا دعویٰ

البشریٰ نامی کتاب کی جلد دوم کے ص ٩٩ پر لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود یعنی مرزا قادیانی نے فرمایا کہ آج اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا کہ تمہارا نام محمدﷺ رکھا گیا ہے۔“

١٤...... مجدد ہونے کا دعویٰ

آپ کتاب (نشان آسمانی ص ٣٧، خزائن ج ٤ ص ٣٩٧) پر لکھتے ہیں کہ: ”اس عاجز کو دعویٰ سے مجدد ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے۔“ اور درثمین فارسی ص ١٢٢ پر فرماتے ہیں؎

رسید مژدہ زغیبم کہ من ہماں مردم
کہ او مجدد ایں دین و رہنما باشد

١٥...... محدث ہونے کا دعویٰ

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) پر آپ لکھتے ہیں کہ: ”میں محدث ہوں۔“ نیز (توضیح المرام ص ١٧، تا ١٩) میں بھی یہ دعویٰ موجود ہے۔

١٦...... مہدی ہونے کا دعویٰ

(معیار الاخیار ص ١١) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں مہدی ہوں۔“

١٧...... جزوی و ظلی نبی ہونے کا دعویٰ

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٣) پر آپ نے بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اسی طرح ظلی اور جزوی نبی ہونے کا دعویٰ آپ نے (توضیح المرام ص ١٧ تا ١٩، خزائن ج ٣ ص ٥٩) پر بھی کیا ہے۔

١٨...... صور ہونے کا دعویٰ

(چشمہ معرفت ص ٧٧، خزائن ج ٢٣ ص ٨٥) پر ملاحظہ فرمائیے تو اس میں لکھا ہے کہ: ”اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہیں۔“

١٩...... سنگ اسود ہونے کا دعویٰ

(البشریٰ ج اول ص ٤٨) پر لکھا ہے کہ: ”ایک شخص نے میرے پاؤں کو بوسہ دیا۔ میں نے کہا کہ سنگ اسود میں ہوں۔“

٢١

صفحہ ١٤٢

٢٠....... عجیب ترین دعویٰ

لیکن سب سے عجیب دعویٰ وہ ہے جو (البشریٰ ج دوم ص ١١٨) پر یوں درج ہے۔ ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ دعاویٰ کی تو انتہا نہیں۔ کہاں تک لکھتا چلا جاؤں۔ اب انسان عقیدہ لائے تو کس دعویٰ پر۔

قسط چہارم

اختصار کے ساتھ اور شدید انتخاب کے بعد میں نے مرزا قادیانی کے بیس دعاویٰ گنوائے ہیں۔ ان دعاویٰ میں سے جن کا تعلق اوتار یا کرشن وغیرہ سے ہے۔ ان کے متعلق مجھے جو کچھ عرض کرنا ہے وہ میں کسی آئندہ قسط میں ناظرین کرام کے گوش گزار کروں گا۔ خدا اور فرزند خدا ہونے کے متعلق آپ کے دعاویٰ ایسے ہیں کہ ان کے خلاف اگر تفصیلی بحث کی جائے تو برسوں یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس لئے کہ توحید باری تعالیٰ اسلام کا اصل الاصول ہے اور قرآن پاک تولید و ولادت حق عزاسمہ کے خلاف دلائل سے بھرا پڑا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے عقیدت مند عوام کو مرزا قادیانی کے ان دعاویٰ سے آگاہ تک نہیں کرتے۔ لوگوں کو ایک مجدد اور خادم دین محمدﷺ کی بیعت کے لئے دعوت دی جاتی ہے اور جب فریب خوردہ انسان عقل کو کھو بیٹھتا ہے تو اس کے لئے ایسے خلاف عقل دعاویٰ کے متعلق ان توضیحات کو تسلیم کر لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی جو ایک دانش مند کے لئے لایعنی ہوتی ہیں۔ کسی مسلمان سے بلا تکلف و بلا اطلاع پوچھ کر دیکھ لیجئے کہ کیا تم تسلیم کر سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی سے پیدا ہوا یا کسی کو اس کی فرزندی کا رتبہ حاصل ہے تو وہ معاذ اللہ کہہ کر ایسے کلمات کے سننے تک سے انکار کر دے گا۔ مگر عقیدت وہ شے ہے کہ جہاں ایک دفعہ یہ جذبہ پیدا ہوا۔ موحد ترین انسان اپنے پیر کی ہر خلاف شرع حرکت کو عین شریعت سمجھتا اور اپنے مرشد کے کفر نواز کلمات کو توحید کی دلیل واضح گردانتا ہے۔

برادران قادیان! کہیں گے اور اس کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ یہ باتیں راز و نیاز کی ہیں۔ جو شخص فنا فی اللہ ہو چکا وہ خود کو فرزند خدا سمجھنے لگے تو کیا۔ لیکن یہ شریعت نہیں۔ حضرت منصور نے دعویٰ ”انا الحق“ کیا، تو شریعت نے ان کی کھال کھینچ دی۔ قرآن الحکیم کی تعلیم کی رو سے ایسا دعویٰ خارج از اسلام ہے اور ایک نبی کے لئے وہ گفتگو شایان شان نہیں جو کسی مجذوب کی زبان پر جاری ہو سکتی ہو۔

اور یوں عیسائیوں سے بھی پوچھ لیجئے وہ کہیں گے کہ: ”ابتداء میں کلام تھا۔ کلام خدا کے ساتھ تھا کلام خدا تھا ۔“

٢٢

ایک پاکیزہ تثلیث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی کلام کو کلمہ کہہ کر کـ محولہ بالا اصول ”باپ بیٹا اور روح الـ مسلمانوں کو نہایت وضاحت سے حکم ہے۔“ (قرآن حکیم) بلکہ سورۃ قل ھو اللہ احـ کر کے ایسے عقائد باطلہ کی ترویج کا در کہ بیکاری تھی مجھے بھی یہ شوق پیدا ہو اپنا ایک شعر ہے۔

بیکاری میں
لیتے ہیں

اس زمانہ میں تین نظمیں سے ایک الحمد شریف کا ترجمہ ہے جو کے ترانہ کی مخمس ہے اور تیسری میں قـ

تاکہ ابتـ
لم یلد اندر
زانکہ از
لم یولد شـ

پہلے شعر میں اب اور ر اور بنی نوع انسان کا تعلق اب اور ا برعکس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خلقت کا بـ باپ پیدا کرنے پر بھی قدرت نہیں سے باپ نے اولاد پیدا کی۔ لیکن و موت اولاد کی پرورش کو ناممکن نہیں بـ برعکس ازیں رب وہ خدا ہے قدوّس پھر اس اولاد کی پرورش کرتا ہے۔ پر

صفحہ ١٤٣

ایک پاکیزہ تثلیث ہے۔ جس میں تولید و ولادت کی آلائش کا ذکر تک نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی کلام کو کلمہ کہہ کر کہ وہ مسیح کا نام دیتے اور مسیح کو خدا کا فرزند مانتے ہیں اور یوں محولہ بالا اصول ”باپ بیٹا اور روح القدس“ کی تثلیث میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت وضاحت سے حکم دیا کہ وہ ہرگز ہرگز یہ نہ کہیں کہ: ”خدا تین میں سے ایک ہے۔“

(قرآن الحکیم)

بلکہ سورۃ قل ھو اللہ احد میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”لم یلد ولم یولد“ یہ کلمہ بیان کر کے ایسے عقائد باطلہ کی ترویج کا دروازہ ہمیشہ کے لئے اور کلیتہً بند کر دیا گیا ہے۔ کسی زمانہ میں کہ بیکاری تھی مجھے بھی یہ شوق پیدا ہوا تھا کہ شاعری کے جسم زار کو مجروح تر کیا جائے۔ چنانچہ میرا اپنا ایک شعر ہے۔

بیکاری میں حبیب کبھی شاعری کے لطف
لیتے ہیں خوب وقت کا ہرجانہ سمجھ کر

اس زمانہ میں تین نظمیں ایسی بھی قلم سے ٹپک پڑیں جو قابل تعریف تھیں۔ ان میں سے ایک الحمد شریف کا ترجمہ ہے جو اس کتاب میں کسی دوسری جگہ درج ہے۔ دوسری علامہ اقبال کے ترانہ کی تخمیس ہے اور تیسری میں قل شریف کا ترجمہ ہے۔ آخری نظم کے دو شعر ہیں۔

تا کہ ابت خود نگوید کس ترا رب ما
لم یلد اندر قرآں خود گفتی وصف خویش را
زانکہ از آلائش تولید ہستی پاک تو
لم یولد ثابت شدہ مشہور مولا کو بکو

پہلے شعر میں ابت اور رب کے عقائد کا مقابلہ موجود ہے۔ مسیحی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بنی نوع انسان کا تعلق اب اور ابن کا ہے۔ یعنی باپ اور اولاد کا۔ لیکن اسلام کا عقیدہ اس کے برعکس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خلقت کا پروردگار یعنی رب ہے اور ان دو عقائد میں بعد المشرقین ہے۔ باپ پیدا کرنے پر بھی قدرت نہیں رکھتا۔ وہ خالق کا منصب ہے۔ خالق کی اجازت اور اس کے حکم سے باپ نے اولاد پیدا کی۔ لیکن وہ اس کو پال نہیں سکتا۔ پالنے والا پروردگار ہے۔ چنانچہ باپ کی موت اولاد کی پرورش کو ناممکن نہیں بنا دیتی۔ پس باپ ایک آلہ کار ہے جس کا فعل بہت عارضی ہے۔ برعکس ازیں رب وہ خدائے قدوس ہے جو خود باپ کو پال کر اولاد پیدا کرنے کے قابل بنا دیتا ہے اور پھر اس اولاد کی پرورش کرتا ہے۔ پروردگار یا رب کے بغیر زندگی ہی خارج از امکان ہے۔

٢٣

صفحہ ١٤٤

اسلام کے اس عقیدہ نے مسیحیت پر فتح پائی۔ مگر مرزا قادیانی پھر مسیحی عقیدہ کی طرف لوٹ گئے۔ خود از بس اندوہناک ہے۔ کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی کو خدا کے فرزند ہونے کا جو دعویٰ ہے وہ معنوی ہے۔ نہ کہ جسمانی، اگر بالفرض اس توضیح کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی یہ نہیں کہتے کہ خدانخواستہ حضرت مریم اور خداوند تعالیٰ میں جسمانی لحاظ سے زن وشوہر کے تعلقات تھے۔ جس سے حضرت مسیح پیدا ہوئے اور اگر عیسائیوں کے اس دعویٰ کو خداوند اسلام نے گوارا نہیں کیا کہ معنوی لحاظ سے عیسیٰ خدا کے بیٹے تھے تو مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کیوں اس کلیہ سے ایک استثنیٰ کو جائز رکھے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں سے آگے بڑھ کر قدم رکھا ہے۔ چنانچہ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدائے تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھا دے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١)

پھر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے فرمایا: ”أنت من ماء نا وہم من فشل“ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے ہیں۔

(اربعین ج٣ ص٣٤، خزائن ج١١ ص٣٢٣)

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ باقی لوگ خشکی سے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ البتہ اگر یہاں ”ماء“ کے معنی نطفہ کر لئے جائیں تو لغواً صحیح ہوگا۔ مگر بات بدل جائے گی۔

اور ماء سے مراد نطفہ لینا خارج از جواز نہیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے مرید خاص قاضی یار محمد صاحب نے اپنے ٹریکٹ موسوم بہ ”اسلامی قربانی“ میں ایک ایسا فقرہ لکھا ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی (معاذ اللہ ) قوت رجولیت کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب غور کیجئے جب رجولیت کا ذکر بھی موجود ہو۔ عورت بننے کا دعویٰ بھی موجود ہو۔ نطفہ کا قصہ بھی موجود ہو تو اس مضمون پر ٹھنڈے دل یا تہذیب سے بحث کیسے اور کیونکر کی جاسکتی ہے؟ لیکن اس پر بھی اکتفاء نہیں۔ مرزا قادیانی (کشتی نوح ص٤٧، خزائن ج١٩ ص٥٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“ ٢٤

اور (اسی صفحہ حوالہ مذکورہ مراد اس عاجز سے ہے در دزہ تنے کھجو زبان کے لحاظ سے درو کے موجود ہونے پر دعویٰ فرزند خد آسانی سے نکل نہیں سکتے۔

قسط پنجم

پس تحریک قادیان کـ

چوتھی دلیل

یہ کہ مرزا قادیانی نے بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مخلوق خدا کا بیٹا مانا جائے۔ اس معاملہ کوئی مرد اپنا باپ بنائے یا سمجھے کو گوارا نہیں تو خدا تعالیٰ کو یہ حق گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے۔ کسی ایک کا بھی باپ نہیں ہے۔

پانچویں دلیل

مرزا قادیانی کے ہے۔ ان میں ایک دعویٰ الوہـ کے متعلق کچھ لکھ کر عامتہ المسلم کر چکا ہوں۔ میری سمجھ کے استعارہ و کنایۃ بھی کسی مخلوق والے، فنا فی الرسول کو رسول صاحبان کی تعداد شاید ہزارو سے مجھے اس لئے بھی انکارـ

صفحہ ١٤٥

اس عقیدہ نے مسیحیت پر فتح پائی۔ مگر مرزا قادیانی پھر مسیحی عقیدہ کی طرف عود کر گیا ہے۔ کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی کو خدا کے فرزند ہونے کا جو نہ کہ جسمانی ، اگر بالفرض اس توضیح کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ بھی ماننا نہیں کہتے کہ خدانخواستہ حضرت مریم اور خداوند تعالیٰ میں جسمانی لحاظ سے تھے۔ جس سے حضرت مسیح پیدا ہوئے اور اگر عیسائیوں کے اس دعویٰ کو ہیں کیا کہ معنوی لحاظ سے عیسیٰ خدا کے بیٹے تھے تو مرزا قادیانی کے مقابلہ ایک استثنیٰ کو جائز رکھے۔

یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں سے آگے بڑھ کر قدم رکھا ہے۔ ن فرماتے ہیں ۔ ” بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور کر خدائے تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھا دے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ ہو گیا جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے فرمایا: ”انت من ماء نا وهم من سے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے ہیں۔

(اربعین ج ٣ ص ٣٤ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

ء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ۔ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ البتہ اگر یہاں ”ماء“ کے معنی نطفہ کر لئے جائیں تو ل جائے گی۔

راد نطفہ لینا خارج از جواز نہیں ۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے مرید خاص ، اپنے ٹریکٹ موسوم بہ ”اسلامی قربانی“ میں ایک ایسا فقرہ لکھا ہے جس عاذ اللہ ) قوت رجولیت کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب غور کیجئے جب رجولیت ت بننے کا دعویٰ بھی موجود ہو۔ نطفہ کا قصہ بھی موجود ہو تو اس مضمون پر سے بحث کیسے اور کیونکر کی جاسکتی ہے؟ لیکن اس پر بھی اکتفاء نہیں۔ ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) پر لکھتے ہیں کہ: ” مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ ا کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں۔ عیسیٰ بنایا گیا ۔“

٢٤

اور (اسی صفحہ حوالہ مذکورہ ، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) پر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ : ” پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ متوجہ کھجور کی طرف لے آئی ۔“ زبان کے لحاظ سے درد کو مؤنث لکھنا شاید ” اعجاز خداوندی “ ہو ۔ لیکن تمام مراحل حمل کے موجود ہونے پر دعویٰ فرزند خدا کو معنوی تسلیم کر لینا ایک لقمہ ہے۔ جس کو مجھ ایسے گنہگار بھی آسانی سے نگل نہیں سکتے۔

پس تحریک قادیان کے خلاف میری قسط پنجم

چوتھی دلیل

یہ کہ مرزا قادیانی نے فرزند خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مخلوق خدا میں سے کسی کو ”بداہۃ، صراحتاً، کنایۃ، اشارۃ، یا استعارۃً“ خدا کا بیٹا مانا جائے۔ اس معاملہ میں تو اللہ تعالیٰ کو یہ بھی گوارا نہیں کہ اس کے پیغمبر محترم ﷺ کو بھی کوئی مرد اپنا باپ بنائے یا سمجھے اور جب کسی مرد کا رسول خدا کو اپنا باپ سمجھنا بھی خدائے برتر و توانا کو گوارا نہیں تو خدا تعالیٰ کو باپ کہنے اور سمجھنے والے کے لئے اسلام کے وسیع حلقہ میں داخلہ کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ: ”محمد تم مردوں میں سے کسی ایک کا بھی باپ نہیں ہے۔ بلکہ وہ خدا کا بھیجا ہوا رسول اور خاتم النبیین ہے۔“

پانچویں دلیل

مرزا قادیانی کے ان دعاوی پر نظر دوڑائیے۔ جن کو میں نے قسط سوم میں جمع کر دیا ہے۔ ان میں ایک دعویٰ الوہیت کا بھی ہے۔ یعنی آپ کو خود خدا ہونے کا دعویٰ ہے میں اس دعویٰ سے متعلق کچھ لکھ کر عامتہ المسلمین کی فراست و دانش کی ہتک کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ جیسے کہ میں عرض کرچکا ہوں۔ میری سمجھ کے مطابق قرآن پاک کی تعلیم ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ استعارۃ و کنایۃ بھی کسی مخلوق کو خالق تسلیم کیا جائے ۔ کیا فنا فی اللہ کے بہانہ سے کسی کو اللہ ماننے والے، فنا فی الرسول کو رسول خدا مان لیں گے؟ اور اگر ایسا ہو تو خدا اور رسول ہونے کے مدعی صاحبان کی تعداد شاید ہزاروں سے بھی متجاوز ہوجائے ۔ پس مرزا قادیانی کے دعاوی کو تسلیم کرنے سے مجھے اس لئے بھی انکار ہے کہ ان کے دعاوی میں الوہیت کا دعویٰ بھی موجود ہے۔

٢٥

صفحہ ١٤٦

چھٹی دلیل

میرے عقیدہ کے مطابق احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین تھے۔ مرزائی صاحبان بھی حضور ﷺ کی شان میں خاتم النبیین کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مگر مجھے علی وجہ البصیرت علم ہے کہ خاتم النبیین کا جو مفہوم عام مسلمانوں کے ذہن میں موجود ہے وہ احمدی جماعت کے مفہوم ذہنی سے کوسوں دور ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ سرور کائنات ﷺ فداہ ابی وامی کے بعد کوئی ظلی بروزی صاحب شریعت یا بغیر شریعت نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس قادیانی جماعت مرزا قادیانی کی نبوت کی قائل ہے اور خود مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں۔ لہٰذا میرے لئے تحریک قادیان قابل قبول نہیں۔ مجھے علم ہے کہ مرزا قادیانی کے وہ مرید جو لاہوری جماعت کے نام سے معروف ہیں۔ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے۔ لیکن یہ مسئلہ جداگانہ بحث کا طالب ہے۔ اس موقعہ پر صرف اتنا عرض کرنا کافی ہے۔ مرزا قادیانی کے معتقدین کی اکثریت غالب ان کے دعویٰ نبوت کی تصدیق کرتی ہے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ یہ اکثریت خاتم النبیین کے الفاظ کے وہ معنی تسلیم نہیں کرتی جو عام مسلمانوں کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ مجھے علم ہے کہ مرزائی صاحبان خاتم النبیین کے متعلق لفظی نزاع اور بحث کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن میں اس جھگڑے کو غیر ضروری سمجھتا ہوں اور اس پر بحث کرنا گناہ جانتا ہوں۔ حضرت امام الاعظمؒ کا ارشاد ہے کہ کسی مدعی نبوت سے دلیل یا ثبوت طلب کرنا کفر ہے۔ اس لئے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ سائل مفخر بنی نوع آدم و باعث تخلیق عالم ﷺ کے بعد امکان نبوت کو صحیح سمجھتا ہے۔

خاتم النبیین کے الفاظ پر اس لئے بھی بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ حضور ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کے انقطاع کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج تک کوئی نبی مبعوث ہی نہیں ہوا اور جن اشخاص نے ایسا دعویٰ کیا وہ بہت کچھ عروج پانے کے بعد ایسے ناکام ہوئے کہ ان کا انجام ختم نبوت کی توثیق و تائید کے لئے بجائے خود ایک دلیل بن گیا ہے۔

مرزا قادیانی کے معاملہ میں خاتم النبیین کے مسئلہ پر بحث کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی متعدد ہیں اور اگر ان کے دوسرے دعاوی اور ان کے اپنے پیش کردہ دلائل نبوت سے ان کی تکذیب ہو جائے تو اس سوال پر بحث کرنا غیر ضروری ہو جاتا ہے کہ حضرت مکی مدنی العربی (فداہ ابی) کے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کا امکان بھی ہے یا نہیں۔ میں

٢٦

صفحہ ١٤٧

مرزا قادیانی کے دعاوی کے خلاف خاتم النبیین کے مسئلہ پر بحث کئے بغیر پانچ دلائل پیش کر چکا ہوں اور متعدد مزید دلائل پیش کرنے والا ہوں۔ یہ دلائل انشاء اللہ ناقابل تردید ہیں۔ لہٰذا میرے لئے یہ ضروری نہیں کہ میں سید المرسلین کے خاتم النبیین ہونے کے مسئلہ پر زیادہ تفصیل سے بحث کروں۔

ساتویں دلیل

ہر پیغمبر کے بعض معتقدین مرتد ہوئے۔ لیکن شاید تاریخ عالم میں مرزا قادیانی کے سوا اور کوئی ایسی مثال موجود نہیں۔ جس میں کسی نبی کے دعویٰ نبوت کے متعلق اختلاف ہوا ہو۔ مرزا قادیانی وہ واحد مدعی نبوت ہیں جن کے ادعائے نبوت کے متعلق خود ان کے معتقدین میں اختلاف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مریدوں کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ کا نام احمدی جماعت لاہور ہے اور دوسرا گروہ قادیانی کہلا رہا ہے۔ لاہوری جماعت کے عقائد کی فہرست اس جماعت کے امیر مولانا محمد علی کی تصنیف ”تحریک احمدیت“ کے آخری صفحہ پر موجود ہے۔ اس میں عقیدہ نمبر ٢ کے الفاظ یہ ہیں۔

”ہم آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ بالفاظ بانی سلسلہ (یعنی مرزا قادیانی قادیان) جو لکھتے ہیں کہ: ”اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ ہم نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

اسی جماعت کے عقیدہ نمبر ٧ میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

برعکس ازیں جماعت قادیان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے انکار کرنے والا کافر ہے۔ میں ان دو جماعتوں کے اختلاف کی وجہ سے یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ مرزا قادیانی متضاد باتیں فرما گئے۔ لہٰذا ان کی تحریک پر ایمان لانا خارج از بحث ہے۔ ان تضاد پر انشاء اللہ تعالیٰ جداگانہ بحث بھی ہوگی۔

قسط ششم

تحریک قادیان پر مجھے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کو ایک نبی کی تحریک مانا جاتا ہے اور جیسے کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔ مرزا قادیانی نے ادعائے نبوت کا ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جو کبھی بند ہوتا نظر ہی نہیں آتا۔ پس مرزا قادیانی کی تحریک کے خلاف میری

٢٧

صفحہ ١٤٨

آٹھویں دلیل

یہ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور خدائے اسلام نے نبوت کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ اس لئے کہ اس نے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو ایک کامل دین دیا اور اس دین کو ایک کتاب میں منضبط کر کے فرما دیا کہ ہم نے اسے (قرآن کو) نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ حضور امی لقب (فداہ روحی) کے بعد اگر کوئی نبی آئے تو کیوں؟ اس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نبی آئے گا۔

میں ادب سے عرض کروں گا کہ اسلام کی تردید، تنسیخ و تکمیل یا تجدید تو خارج از امکان ہے اور نہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہی یہ ہے کہ وہ ان اغراض سے آئے۔ لہٰذا ان پر بحث کرنا فضول ہے۔ قرآن اور اسلام مرادف ہیں۔ لہٰذا اسلام یا قرآن کی تشریح اور تفسیر کرنے والوں کو اگر پیغمبر مان لیا جائے تو شاید ایسے پیغمبروں کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہو چکی ہے اور ابھی کروڑوں مفسر اور شارح انشاء اللہ تعالیٰ پیدا ہو کر رہیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ اسلام کو کسی جدید نبی کی ضرورت ہی نہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ایک ایسا دعویٰ ہے جس کو کوئی سلیم العقل مسلمان تسلیم نہیں کر سکتا۔

اگرچہ میں اس بات کا ذمہ دار نہیں کہ یہ ثابت کروں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے یا نہیں۔ لیکن چونکہ امکان ہے کہ جماعت لاہور میری تحریر کے جواب میں کچھ لکھے اور اس جماعت کو یقیناً میرے دلائل کی مخالفت میں قلم اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو بھی واضح کر دیا جائے۔ ورنہ اس جماعت کے لوگ اتنا لکھ کر تمام ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں گے کہ (سید) حبیب کا تمام استدلال ہی غلط ہے۔ اس لئے کہ اس نے مرزا قادیانی کو مدعی نبوت مان کر بحث کی ہے اور مرزا قادیانی سرے سے اس بات کے دعویدار ہی نہ تھے کہ وہ نبی ہیں۔

٢٨

صفحہ ١٤٩

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی وہ واحد شخص ہیں۔ جنہوں نے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور ان کے معتقدین میں ان کی بعثت کے مقصد کے متعلق اختلاف ہے۔ لہٰذا یہ کام بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان مرزا قادیانی کے مقاصد بعثت کے متعلق ان کے مریدوں کے دو گروہوں میں کس گروہ کے استدلال کو صحیح تسلیم کریں۔ اندریں حالات میں صرف اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت وانکار دعویٰ نبوت کے متعلق دونوں قسم کے اقوال جمع کردوں۔ اس کے بعد یہ فرض احمدی جماعت لاہور اور مرزائی احباب قادیان پر عائد ہوگا کہ وہ اپنے رہنما کے دعویٰ کے متعلق قلم اٹھا کر مقاصد بعثت میں جو تضاد ہے اس کی تاویل کریں جو اصحاب اس بات کے قائل ہیں کہ مرزا قادیانی نے مدعی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ ان کے دعاوی نبوت کی تردید میں دلائل پیش کریں اور جو اصحاب ان کے دعویٰ نبوت کے قائل ہوں وہ ان کے انکار کی مدلل تاویل پیش کر کے ممنون فرمائیں۔

مجھے اتنا اور عرض کرنے دیجئے کہ مرزا قادیانی کے جو مرید اس بات کے قائل ہیں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ ان کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے۔ چنانچہ اس خیال کے مؤید حضرات کے سردار مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور اپنی کتاب تحریک احمدیت کے ص ٣٠ پر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”چنانچہ اسی (یعنی مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے یا نہیں) بناء پر مارچ ١٩١٤ء میں جماعت احمدیہ کے دو گروہ ہوگئے۔ فریق اوّل یعنی اس فریق کا جو مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد دروازہ نبوت کو کھلا مانتا ہے۔ ہیڈ کوارٹر قادیان رہا اور دوسرے فریق نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں قائم کیا۔ فریق قادیان کی قیادت اس وقت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے اور فریق لاہور کی مصنف کتاب ہذا کے ہاتھ میں اور اب یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے طور پر الگ الگ کام کر رہی ہیں اور گو بلحاظ تعداد کثرت فریق قادیان کو حاصل ہے۔ لیکن اثر اور رسوخ کے لحاظ سے عام مسلمانوں میں فریق لاہور غالب ہے۔“

ظاہر ہے کہ مسلمان جب مرزا قادیانی کے متعلق یہ فیصلہ کرنے بیٹھیں گے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت تھے یا نہیں تو وہ اکثریت کے قول کو اپنے لئے دلیل تسلیم کریں گے اور اقلیت کے معتقدات کو رد کرنے پر مجبور ہوں گے۔

قبل ازیں کہ میں مرزا قادیانی کے اقوال سے یہ واضح کرنے کی کوشش کروں کہ وہ مدعی نبوت تھے۔ میں ان کے ادعائے نبوت سے انکار کرنے والوں کے سردار مولانا محمد علی

٢٩

صفحہ ١٥٠

صاحب ایم۔اے، کی ذاتی تحریروں سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ خود اس بات کے قائل رہ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نبی تھے۔ مولوی صاحب اپنے ان اقوال کا مطالعہ کریں اور پھر بتائیں کہ ان کے خیالات میں جو تبدیلی ہوئی ہے وہ کب اور کیونکر پیدا ہوئی۔ آپ کے محولہ بالا اقوال درج ذیل ہیں:

کے ساتھ تھا۔“

(ریویو ج٥ ص ١٢٣ ش٢، ٥/مئی ١٩٠٥ء)

مصلح، شفیع، مہدی یا مسیح کی آمد کے منتظر ہیں۔ اس انتظار کی بنا ان پیشگوئیوں پر ہے جو خود بانی مذہب کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں۔ یہ تمام پیشگوئیاں اس امر میں متفق ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں کا نزول ایسے زمانہ میں ہوگا جب کہ دنیا پرستی اور طرح طرح کے مفاسد کی افواج ایسے زور وشور سے جمع ہو جائیں گی جس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں نہ گزری ہو اور ہر ایک مذہب بیان کرتا ہے کہ موعود پیغمبر کے نزول کے ساتھ نیکی اور بدی اور خدا پرستی اور دنیا پرستی کے درمیان اس وقت ایک سخت خطرناک جنگ ہوگا اور آخر کار حق پرستی اور راستی کی افواج فتح پائیں گی۔“

(ریویو ج٦ ص ١١ ش ٣ ص ٨١، مارچ ١٩٠٧ء)

ہے جس میں موعود نبی کا نزول مقدر تھا۔“

(ریویو ج٦ ص ٨٣ ش ٣ ص ٨٣، مارچ ١٩٠٧ء)

لکھی ہے آخرین کہا گیا ہے اور یہی وہ لفظ جو کلمہ یا جس کے مترادف الفاظ ان تمام پیشگوئیوں میں لکھے ہوئے ہیں جو مسیح موعود کے متعلق ہیں۔

(ریویو ج٦ ص ٩٦ ش ٣ ص ٩٦، مارچ ١٩٠٧ء)

رجل من ابناء فارس بھی ہے۔“

(ریویو ج٦ ص ٩٨ ش ٣ ص ٩٨، مارچ ١٩٠٧ء)

ہیں کہ اس نبی آخر الزماں کی تصدیق کو سمجھنے کے لئے اندرونی شہادت پر غور کریں۔“

(ریویو ج٦ ص ٩٩ ش ٣ ص ٩٩، مارچ ١٩٠٧ء)

آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں یا دو ظہور ہیں اور آپ کے دو ناموں محمدؐ اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم میں

٣٠

صفحہ ١٥١

اپنی تحریروں سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ خود اس بات کے قائل رہ نبی تھے۔ مولوی صاحب اپنے ان اقوال کا مطالعہ کریں اور پھر بتائیں جو تبدیلی ہوئی ہے وہ کب اور کیونکر پیدا ہوئی۔ آپ کے محولہ بالا اقوال

"سلسلہ احمدیہ اسلام کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھا"

(ریویو ج ٥ ص ١٦٣ ش ٢، مئی ١٩٠٥ء)

"دنیا میں جتنے بڑے مذاہب موجود ہیں وہ سب آخری زمانہ میں ایک موعود کی آمد کے منتظر ہیں۔ اس انتظار کی بنا ان پیشگوئیوں پر ہے جو خود بانی مذہب نے کی ہیں۔ یہ تمام پیشگوئیاں اس امر میں متفق ہیں کہ پیغمبر آخر الزماں کا ظہور اس وقت ہوگا جب کہ دنیا پرستی اور طرح طرح کے مفاسد کی افواج ایسے زور وشور سے حملہ آور ہوں گی کہ جس کی پہلے زمانہ میں نہ گزری ہو اور ہر ایک مذہب بیان کرتا ہے کہ موعود کے ظہور کے وقت نیکی اور بدی اور خدا پرستی اور دنیا پرستی کے درمیان اس وقت ایک سخت جنگ ہوگی اور آخر کار حق پرستی اور راستی کی افواج فتح پائیں گی۔"

(ریویو ج ٦ ص ٨١ ش ٣، مارچ ١٩٠٧ء)

"کیونکہ فتنہ ہر چہار اکناف میں پھیل چکا ہے۔ اس لئے یہی وہ آخری زمانہ ہے جو موعود کے لئے مقدر تھا۔"

(ریویو ج ٦ ص ٨٢ ش ٣، مارچ ١٩٠٧ء)

"اس حیثیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت ہوئی ہے ان کی طرف اور یہی وہ لفظ جو بجنسہ یا جس کے مترادف الفاظ ان تمام پیشگوئیوں میں پائے جاتے ہیں جو موعود کے متعلق ہیں۔"

(ریویو ج ٦ ص ٩٦ ش ٣، مارچ ١٩٠٧ء)

"تفصیلی بیان میں اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ نبی آخرالزمان کا ایک نام احمد بھی ہے۔"

(ریویو ج ٦ ص ٩٨ ش ٣، مارچ ١٩٠٧ء)

"پس ان ابتدائی اور خارجی امور کے فیصلہ سے اب ہم اس حالت میں ہو گئے ہیں کہ ان کے دعویٰ کی تصدیق کو سمجھنے کے لئے اندرونی شہادت پر غور کریں۔"

(ریویو ج ٦ ص ٩٩ ش ٣، مارچ ١٩٠٧ء)

"قرآن شریف اور حدیث نبویؐ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ کے دو ظہور ہیں اور آپؐ کے دو ناموں محمدؐ اور احمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم میں ٣٠

انہی دو بعثتوں کی طرف اشارہ ہے۔"

(ریویو ج ٤ ص ١٧٤ ش ٥، مئی ١٩٠٩ء)

"جب ہم کسی شخص کو مدعی نبوت کہیں گے تو اس سے مراد یہ ہو گی کہ وہ صرف نبوت کا مدعی ہے یا بالفاظ دیگر کامل نبوت کا مدعی ہے۔"

(النبوۃ فی الاسلام ص ٢٣٠)

"قرآن شریف نے جو امتیازی نشان سچے اور جھوٹے کے درمیان قائم کیا ہے اس کی رو سے حضرت مرزا قادیانی کے دعویٰ کو پرکھو۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ اعتراض کرتے وقت تو عیسائی اور اس سلسلہ کے مخالف بڑی بڑی باریکیاں نکالتے ہیں۔ مگر اس موٹی بات کو نہیں سمجھتے کہ ایک مدعی نبوت میں کسی امتیازی نشان کا پایا جانا ضروری ہے۔"

(ریویو ج ٤ ص ٤١١ ش ١١، نومبر ١٩٠٥ء)

"حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کی صداقت کو پرکھنے کے لئے منہاج نبوت پر اگر کوئی شخص چلے تو ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے دل میں کوئی شبہ نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ مذہبی تاریخ پر نظر ڈال کر غور کرو کہ جن لوگوں نے کسی مدعی نبوت کو قبول کیا اور جنہوں نے انکار کیا ان کا انکار کس بناء پر تھا۔"

(ریویو ج ٦ ص ٢٧ ش ٧، جولائی ١٩٠٧ء)

"ہر ایک نبی نے جو خدا کی طرف سے آیا ہے دو باتوں پر زور دیا ہے۔ اول یہ کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں۔ اور دوسرا یہ کہ اس کی نبوت کو اور اس کے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کریں۔ ان میں اول الذکر امر تو اس کے مشن کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اور ثانی الذکر کا تسلیم کرنا اس واسطے ضروری ہوتا ہے۔ کہ وہ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا پر زندہ ایمان بغیر نبی کے ماننے کے پیدا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح آج نادان معترض اعتراض کر رہے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی اپنے آپ کو نعوذ باللہ خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں نے بھی ہمارے نبی ﷺ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ آپؐ نے اپنے آپ کو نعوذ باللہ خدا کے برابر بنانا چاہا۔ بعینہ اسی قدیم سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا قادیانی کو بھی مبعوث فرمایا ہے۔"

(ریویو ج ٤ ص ٤٦٦ ش ١٢، دسمبر ١٩٠٥ء)

"باقی رہا یہ امر کہ اس دعویٰ میں کہاں تک یہ سلسلہ سچا ہے۔ سو اس کو اسی طریق پر پرکھو۔ جس طریق پر انبیاء سابقین کے نشانات کو پرکھتے ہیں اور کوئی ایسا مطالبہ نہ کرو جو پہلے انبیاء علیہ السلام سے کفار نے کیا ہے۔ پہلے انبیاء سے خدا کی کیا سنت رہی۔ اب بھی وہ اسی سنت کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔"

(ریویو ج ٤ ص ٤٦٩ ش ١٢، دسمبر ١٩٠٥ء)

٣١

صفحہ ١٥٢

لیکن اسی پر اکتفا نہیں ایسے حوالے بیسیوں دیئے جاسکتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں:

١٣....... ”تمام انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں ہم یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ نبی کو اس کے دعویٰ کے وقت تک ایک بڑا راستباز اور برگزیدہ انسان عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور کوئی شخص نہیں ہوتا کہ اس پر کچھ بھی عیب لگا سکے۔ لیکن دعویٰ کے بعد اس قدر الزام نبی پر لگائے جاتے ہیں کہ ان کی کوئی حد نہیں رہتی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون پس جس طرح قرآن شریف نے کفار کو ملزم کہا۔ اسی طرح آج وہ لوگ بھی ملزم ٹھہرتے ہیں جو جانتے ہیں اور اگر جانتے نہیں تو تحقیق کر سکتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی کی زندگی قبل از دعویٰ مسیحیت ایک بالکل بے لوث اور اعلیٰ درجہ کے راستباز کی زندگی تھی اور عجیب تر یہ کہ آپ کے الہامات میں بعینہ وہی عبارت پائی جاتی ہے جو وحی قرآنی میں آنحضرت ﷺ کی نسبت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ الہام کے یہ لفظ ہیں: ولقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون۔ اب کوئی خدارا غور کریں کہ حضرت مرزا قادیانی کی زندگی قبل از دعویٰ مسیحیت بعینہ اسی قسم کی بے لوث زندگی ہے یا نہیں۔ جیسے انبیاء کی ہوتی ہے۔“

(ریویو ج ٥ ش ٥ ص ٢٣١ مئی ١٩٠٦ء)

١٤....... ”افسوس مسلمانوں پر جو حضرت مرزا قادیانی کی مخالفت میں اندھے ہو کر انہی اعتراضوں کو دہرا رہے ہیں۔ جو عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عیسائی آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اور دہرا رہے ہیں۔ جو یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کرتے تھے۔ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا جائے گا وہ سارے نبیوں میں پڑے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کلی سلسلۂ نبوت کو رد کرتا ہے۔“

(ریویو ج ٥ ش ٨ ص ٣١٨، اگست ١٩٠٦ء)

١٥....... ”یا آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا۔ وہ خدا کی طرف سے تھا اور ان کو ہندوستان کے مقدس نبی میرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں پورا کر دکھایا۔“

(ریویو ج ٣ ش ١ ص ١١، جنوری ١٩٠٤ء)

١٦....... ”حضرت مسیح کے وقت کے یہودی اور ہمارے نبی ﷺ کے وقت کے یہودی اور عیسائی بھی تو اپنے آپ کو ایماندار ہی ظاہر کرتے تھے۔ لیکن ان لوگوں کا ایمان اس زمانہ کی طرح مردہ ہو چکا تھا۔ ایسے وقتوں میں اللہ تعالیٰ اور نبی بھیج کر از سر نو آسمانی نشان دکھاتا رہا۔ اور

٣٢

صفحہ ١٥٣

والے بیسیوں دیئے جاسکتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: م السلام کی زندگی میں ہم یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ نبی کو اس ۔ اور برگزیدہ انسان عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور کوئی سکے۔ لیکن دعویٰ کے بعد اس قدر الزام نبی پر لگاتے جاتے کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ ۔ نے کفار کو ملزم کہا۔ اسی طرح آج وہ لوگ بھی ملزم تے ہیں تو تحقیق کر سکتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی کی وٹ اور اعلیٰ درجہ کے راستباز کی زندگی تھی اور عجیب تر یہ ت پائی جاتی ہے جو وحی قرآنی میں آنحضرت ﷺ کی تا ہیں: ولقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون۔ اب کوئی ندگی قبل از دعویٰ مسیحیت بعینہ اسی قسم کی بے لوث زندگی

(ریویو ج ٥ ش ٥ ص ٢٣١، مئی ١٩٠٦ء)

پر جو حضرت مرزا قادیانی کی مخالفت میں اندھے ہو کر آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ والسلام پر کرتے تھے۔ سچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری مارے نبیوں میں پڑے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سلسلہ نبوت کو رد کرتا ہے۔“

(ریویو ج ٥ ش ٨ ص ٣١٨، اگست ١٩٠٦ء)

یک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا۔ مقدس نبی میرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں پورا

(ریویو ج ٣ ش ١ص١١، جنوری ١٩٠٤ء)

۔ کے یہودی اور ہمارے نبی ﷺ کے وقت کے اہر کرتے تھے۔ لیکن ان لوگوں کا ایمان اس زمانہ ا اور نبی بھیج کر از سر نو آسمانی نشان دکھاتا رہا۔ اور

اخیر پر طالبان حق کو ہم یہ خوشخبری سناتے ہیں کہ ایسا ایک نشان نما اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مبعوث فرمایا ہے۔ جیسا کہ اس کا قدیم سے وعدہ تھا۔ ہاں اس کے پیچھے لگ کر جو دنیا میں مسیح موعود ہو کر ظاہر ہوا ہے۔ ہم اس کامل اور یقینی ایمان کو پھر حاصل کر سکتے ہیں۔ پس ہمارا آخری جواب اس سوال کا کہ آیا ہم ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ہے کہ ہم اسی وقت ایمان کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ جب کہ ہم آسمانی نشانوں کو دیکھ کر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کی وساطت سے اس زمانہ میں ظاہر فرمائے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین رکھتے ہوں۔ اگر یہ نہیں تو پھر ہمارا ایمان ہمارے منہ کی بات ہے۔ جو محض لاف ہی لاف ہے اور جس کی اصلیت کچھ نہیں۔“

(ریویوج٣ص١١)

١٧...... ”فارسی الاصل ( رجل من ابناء فارس ) کے متعلق جو پیش گوئی وارد ہوئی ہے اس کی جڑ قرآن شریف میں ہے۔ چنانچہ سورۃ الجمعہ میں آیا ہے۔’ھو الذی بعث ...... العزیز الحکیم ‘ خدا تو وہ ہے کہ جس نے امی لوگوں میں سے یہ رسول مبعوث کیا کہ انہیں اس کی آیات سنائے اور انہیں پاک بنائے اور کتاب و حکمت کی انہیں تعلیم دے۔ گو وہ پہلے عیاں طور پر غلطی میں پڑے ہوئے تھے اور نیز آخری زمانہ میں ایک ایسی قوم ہو گی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئی۔ وہ قوم بھی انہی لوگوں کے ہم رنگ ہوگی اور ان میں بھی اسی طرح نبی مبعوث ہوگا۔ جو انہیں خدا کی آیات سنائے گا اور انہیں پاک بنائے گا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔“

(ریویوج٦ص٩٦)

١٨...... ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ایک اور یگانہ یقین کرتے ہیں اور حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء اور قرآن کریم کو خاتم الکتب دل سے مانتے ہیں اور فرشتوں حشر و نشر قیامت اور مسئلہ تقدیر پر ہمارا ایمان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خادمین الاولین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضل تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“

(پیغام ج ١ نمبر ٢٥، مورخہ ٧ ستمبر ١٩١٣ء)

١٩...... ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈالا ہے کہ اخبار ہٰذا (پیغام صلح) کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضرت

٣٣

صفحہ ١٥٤

مرزا قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح سے تعلق ہے۔ (یعنی جناب مولوی محمد علی صاحب جناب خواجہ کمال الدین صاحب، جناب مولانا غلام حسین صاحب پشاوری، جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، جناب ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب وغیرہ) خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔“

(پیغام صلح ج ١ نمبر ٣٣ ، مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩١٣ء)

قسط ہفتم

مولوی محمد علی صاحب کے معتقدات کے متعلق بحث کو ختم کرنے سے پیشتر میں ایک اور حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ دنیا اس حقیقت تلخ سے آگاہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید عام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب کو تسلیم ہے کہ تکفیر اسی صورت میں ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی مانا جائے اور اس کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں کو کافر جاننے والے مرزائی ان کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے۔ چنانچہ اپنی کتاب (تحریک احمدیت ص ٢٩) پر مولوی محمد علی لکھتے ہیں کہ: ”بالآخر حضرت مولوی (نورالدین) صاحب کے انتقال کے بعد جماعت احمدیہ کے دو فریق ہو گئے۔ ایک فریق کا عقیدہ یہ رہا کہ جن لوگوں نے حضرت مرزا قادیانی کی بیعت نہیں کی۔ خواہ وہ انہیں مسلمان ہی نہیں مجدد اور مسیح موعود بھی مانتے ہوں اور خواہ وہ ان کے نام سے بھی بے خبر ہوں۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور دوسرے فریق کا عقیدہ یہ رہا کہ ہر کلمہ گو خواہ وہ اسلام کے کسی فرقہ سے بھی تعلق رکھتا ہو۔ مسلمان ہے اور کوئی شخص اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ جب تک وہ خود رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار نہ کرے۔ مسئلہ نبوت مسیح موعود جو آج کل فریقین کے درمیان اختلاف کا اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت اسی مسئلہ تکفیر سے پیدا ہو رہا ہے۔ کیونکہ تکفیر بغیر اس کے صحیح نہ ہو سکتی تھی کہ حضرت مرزا قادیانی کو منصب نبوت پر کھڑا کیا جائے۔“

٣٤

صفحہ ١٥٥

ہدیٰ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح سے تعلق ہے۔ لی صاحب جناب خواجہ کمال الدین صاحب، جناب مولانا غلام حسین ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، جناب ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب سا کے بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ بھی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی انتے ہیں اور جو درجہ حضرت نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اب دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ لیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔“

(پیغام صلح ج ١ نمبر ٤٣، مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩١٣ء)

حب کے معتقدات کے متعلق بحث کو ختم کرنے سے پیشتر میں ایک اور وں۔ دنیا اس حقیقت تلخ سے آگاہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید عام مولوی محمد علی صاحب کو تسلیم ہے کہ تکفیر اسی صورت میں ممکن ہے کہ اور اس کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں کو کافر جاننے والے میں کرتے۔ چنانچہ اپنی کتاب (تحریک احمدیت ص ٢٩) پر مولوی محمد علی مولوی (نورالدین) صاحب کے انتقال کے بعد جماعت احمدیہ کے ا عقیدہ یہ رہا کہ جن لوگوں نے حضرت مرزا قادیانی کی بیعت نہیں میں مجدد اور مسیح موعود بھی مانتے ہوں اور خواہ وہ ان کے نام سے بھی سلام سے خارج ہیں اور دوسرے فریق کا عقیدہ یہ رہا کہ ہر کلمہ گو خواہ تعلق رکھتا ہو۔ مسلمان ہے اور کوئی شخص اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ گا کی رسالت کا انکار نہ کرے۔ مسئلہ نبوت مسیح موعود جو آج کل کا اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت اسی مسئلہ تکفیر سے پیدا ہو رہا صحیح نہ ہو سکتی تھی کہ حضرت مرزا قادیانی کو منصب نبوت پر کھڑا

٣٤

ان الفاظ کو بغور ملاحظہ فرمائیے۔ مولوی محمد علی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تکفیر صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی مانا جائے اور تکفیر کی علامت یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کے پیچھے نماز ادا نہ کی جائے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے پچھلے دنوں اپنی جماعت کے عقائد کے متعلق ایک اعلان لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ ہم منکر مسلمانوں کے سوا سب کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں میں ذاتی تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب کی جماعت کے آدمی کسی غیر احمدی مسلمان کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے ہیں۔ خود اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب کی جماعت کے ارکان مسلمانوں کو کافر نہیں جانتے اور وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز ادا کر لیتے ہیں۔ اس لئے میں نے تین مختلف مواقع پر مولوی صاحب کے پیچھے نماز ادا کی۔ لیکن ایک دفعہ جب یہ بحث چھڑی تو مولوی صاحب نے کہا کہ ہم تو سید صاحب (حبیب) کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار ہیں۔ لیکن پھر خود ہی فرمایا کہ ہم سمجھ لیتے کہ ایک نماز نہیں ہوئی۔ اس ایک فقرہ نے وہ کام کیا جو ہزاروں دلیلیں اور لاکھوں تحریریں نہ کر سکتیں۔ میری آنکھوں کے سامنے سے ایک پردہ ہٹ گیا۔ میں نے تینوں نمازیں دہرائیں اور توبہ کی۔ (مولانا محمد علی صاحب نے میرے اس بیان کو سیاست میں پڑھ کر جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ ناکام رہے۔ مصنف)

مولوی محمد علی صاحب کی جماعت کے عام مسلمانوں کو کافر سمجھنے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اگر احمدی جماعت لاہور کے احباب غیر مرزائی مسلمانوں کو کافر نہ جانتے تو جدا گانہ نماز کا بندوبست ہی نہ کرتے۔ بلکہ ہم انہیں ہر روز دوسرے مسلمانوں کی طرح مختلف مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتے۔ علی الخصوص عیدین اور نماز جمعہ یہ شاہی مسجد میں ادا کرتے۔ لیکن صورت واقعہ یہ ہے کہ ان کی علیحدہ مسجد موجود ہے اور یہ اسی میں نماز ادا کرتے ہیں۔

دنیا میں معدلت گستری کا اصول اوّل یہ ہے کہ کسی شخص کو بلا ثبوت جرم، مجرم تسلیم نہ کیا جائے۔ لیکن جماعت احمدیہ لاہور کا اصول اس کے برعکس معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہر مسلمان کو بلا ثبوت مرزائیوں کی تکفیر کا مجرم قرار دے کر اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ ہر مسلمان کو تکفیر احمدیت سے بری سمجھ کر اس کے پیچھے نماز ادا کرتے اور جس کو اس جرم کا مجرم مسلم الثبوت جان لیتے۔ اس کی قیادت میں نماز ادا کرنے سے انکار کرنے میں حق بہ جانب ہوتے۔

٣٥

صفحہ ١٥٦

چونکہ میں احمدی جماعت لاہور کے متعلق اس سلسلہ میں اور کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا اس موقعہ پر دو باتیں سپرد قلم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

اوّل...... یہ کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کا حلقہ دعویٰ نبوت تک محدود نہیں۔ لہٰذا احمدی جماعت لاہور کے ارباب حل وعقد کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی نے خدا، فرزند خدا، کرشن، کلکی اوتار وغیرہ کے نام سے جو بیسوں دعوے کئے ہیں۔ ان کے متعلق اس جماعت کا عقیدہ کیا ہے۔ اس لئے کہ اگر مرزا قادیانی کے گوناگوں دعاویٰ میں سے ایک کا بطلان بھی ہو جائے تو ان کو محدث یا بروزی نبی ماننے کا حق بھی باطل ہو جاتا ہے۔

دوم...... یہ کہ میں ذاتی طور پر مولانا محمد علی کی قابلیت، شرافت، دوست نوازی، اخلاق اور محبت ومروت کا قائل ہوں۔ ان کی جماعت کے بعض درخشندہ ارکان سے میرا گہرا تعلق ہے اور میں ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور ان سے کہیں زیادہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کا مرہون منت ہوں۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میرے خاندان کے ایک ایک فرد کی بہ حیثیت معالج بلافیس اس قدر خدمت کی ہے کہ اس کا معاوضہ ادا کرنا میری طاقت سے باہر ہے۔ بارہا انہوں نے دوائیں اپنے پاس سے عطاء کی ہے اور میرے لئے سوائے ازیں چارہ نہیں کہ میں ان کے لئے دعائے خیر کرتا رہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے ایسے سیاسی آدمی کو مذہبی بحث میں کود کر ان کی جماعت کے معتقدات پر لے دے کرنا پڑی۔ لیکن عقائد کے معاملہ میں مداہنت کو دخل نہیں۔ لہٰذا میں مجبور ہوں کہ اپنی صحیح رائے سپرد قلم کروں۔ خدا کرے کہ میری تحریر میرے ان کرم فرما کے لئے باعث ہدایت بن جائے۔ جس سے مجھے بے انتہاء مسرت حاصل ہوگی۔

اب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

(اخبار بدر مجریہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء) میں مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“

پھر آپ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨ حاشیہ) پر فرماتے ہیں: ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال، اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے

٣٦

صفحہ ١٥٧

احمدی جماعت لاہور کے متعلق اس سلسلہ میں اور کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا سپرد قلم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

یہ کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کا حلقہ دعویٰ نبوت تک محدود نہیں۔ لہٰذا احمدی احباب حل وعقد کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی نے خدا، اوتار وغیرہ کے نام سے جو بیسیوں دعوے کئے ہیں۔ ان کے متعلق اس جماعت کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ اگر مرزا قادیانی کے گوناگوں دعاوی میں سے ایک کا بطلان بھی ہو جائے تو مجدد، بروزی نبی ماننے کا حق بھی باطل ہو جاتا ہے۔

یہ کہ میں ذاتی طور پر مولانا محمد علی کی قابلیت، شرافت، دوست نوازی، کا قائل ہوں۔ ان کی جماعت کے بعض درخشندہ ارکان سے میرا گہرا تعلق ہے۔ بالخصوص سید حسین صاحب اور ان سے کہیں زیادہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کا مرہون احسان ہوں۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے میرے خاندان کے ایک ایک فرد کی بہ حیثیت طبیب اس قدر خدمت کی ہے کہ اس کا معاوضہ ادا کرنا میری طاقت سے باہر ہے۔ بارہا خدا نے انہیں میرے پاس سے عطاء کی ہے اور میرے لئے سوائے ازیں چارہ نہیں کہ میں ان کا شکر گزار ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے ایسے سیاسی آدمی کو مذہبی بحث میں پڑ کر اس جماعت کے معتقدات پر لے دے کرنا پڑی۔ لیکن عقائد کے معاملہ میں مداہنت کو میں برا سمجھتا ہوں کہ اپنی صحیح رائے سپرد قلم کروں۔ خدا کرے کہ میری تحریر میرے ان دوستوں کے لئے ہدایت بن جائے۔ جس سے مجھے بے انتہاء مسرت حاصل ہوگی۔

ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨ حاشیہ) پر فرماتے ہیں: ”میری طرف سے ایک رسالت ایک وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

٣٦

تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢) پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں۔ جس پر خدا کا کلام حقیقی و قطعی بہ کثرت نازل ہو۔ جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“

١٩؍ اپریل ١٩٠٨ء کو بدر میں مرزا قادیانی کی ڈائری شائع ہوئی جس میں تحریر ہوا کہ: ”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں۔ جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔“

٥؍ مارچ ١٩٠٨ء کے بدر (ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں مرزا قادیانی کی ڈائری شائع ہوئی۔ اس میں لکھتے ہیں کہ: ”ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں ۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدائے تعالیٰ جس کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“

اسی ڈائری میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ: ”ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کو پہچاننے میں کسی قسم کا خفا نہ رکھنا چاہئے۔“

(اخبار عام مجریہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء) میں مرزا قادیانی کا آخری مکتوب شائع ہوا تھا۔ اس میں آپ نے لکھا کہ: ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا نے میرا نام نبی رکھا تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک کہ دنیا سے گزر جاؤں۔“

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) پر ارشاد ہوتا ہے کہ: ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر لکھتے ہیں کہ: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

٣٧

صفحہ ١٥٨

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦) پر قرآن پاک کی ایک آیت ان کی شان میں درج ہے۔ جس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔ ”کہہ دو اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول ہو کر آیا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) پر قرآن پاک کی ایک آیت کو اپنے الہام کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ جس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ ”(اے مرزا) تو بے شک رسولوں میں سے ہے۔“

غرض مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت کے ثبوت میں متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن مجھے اختصار مدنظر ہے۔ لہٰذا امثلہ بالا پر اکتفاء کرتا ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس دعویٰ کو اس خیال سے کہ مسلمان اس دعویٰ کو سنتے ہی ان سے اغماض کریں گے بھول بھلیاں بنا دیا۔

قسط ہشتم

مرزا قادیانی کے اپنے ادعائے نبوت کو بھول بھلیاں بنانے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ لیکن میں ایک مثال پر اکتفاء کرتا ہوں۔ آپ نے ٥ نومبر ١٩٠١ء کو ایک اشتہار دیا تھا۔ جو ہو بہو درج ذیل ہے۔

ایک غلطی کا ازالہ

”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں جو واقعہ کے سراسر خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ایک وحی اللہ ہے۔ ”هو الذی ارسل رسوله بالہدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله“ دیکھو (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز

صفحہ ١٥٩

کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں دیکھو۔ (براہین احمدیہ ص٥٠٤) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ ”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص ٥٥٧ براہین میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں۔ جو فرمایا کہ: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اور اس آیت میں ایک پیش گوئی ہے۔ جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد پیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی ”فنا فی الرسول“ کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے۔ اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں۔ بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے، بلکہ اسی کے جلال کے لئے اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد واحمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ: ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اس کے معنی یہ ہیں کہ : ”لیس محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین ولا سبيل الى فيوض الله من غير توسطه“ غرض میری نبوت اور رسالت ٣٩

صفحہ ١٦٠

باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بہ حیثیت فنافی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اثر سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمدﷺ ہی نبی رہا۔ نہ اور کوئی یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَآخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ“ اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے۔ لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں۔ وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام!

(خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان، ٥؍نومبر ١٩٠١ء، خزائن ج١٨ ص٢١٢، ٢١٦)

٤٠

صفحہ ١٦١

ہے ۔ نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بہ حیثیت فنا فی الرسول مجھے ہوم میں فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا اور جس رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور رسول ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے لی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہاں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور خدا نے اس میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا نحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل اثر سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ صلی اللہ علیہ النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ رہا۔ نہ اور کوئی یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور ت محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر وت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ب دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خدا تعا لی فرماتا ہے۔ ”وآخرین منهم لما یلحقوا بهم“ اور انبیاء کو اپنے کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے۔ لیکن دوسرے پر ضرور ص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا نا پاک خیال ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی ام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام!

(خاکسار مرزا غلام احمد از قادیانی، ٥؍ نومبر ١٩٠١ء، خزائن ج١٨ ص٢١٢،٢١٠)

٤٠

اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے نبوت کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک بلاواسطہ، دوم بالواسطہ اور اپنے لئے فرمایا کہ میں بواسطہ نبوت محمدیہ نبی ہوں۔ مطلب یہ کہ میری نبوت کا ذریعہ پہلے نبیوں کے ذریعہ سے الگ ہے۔ مگر مقصود میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ اسی مضمون کو دوسری جگہ یوں فرماتے ہیں۔ ”ایک اور نادانی یہ ہے کہ (میرے مخالف) جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس نے نبوت کا یہ دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے۔ بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کے رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)

اس قسم کے بہت سے حوالہ جات ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے نبوت کا صاف صاف دعویٰ کیا ہے۔ مگر بواسطہ نبوت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ۔ لیکن آپ بعد حصول نبوت دوسرے نبیوں سے کسی طرح کم نہیں رہے۔

قسط نہم

غرض ناظرین کرام نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے بعض مقامات پر اپنی نبوت کا اعلان نہایت واضح غیر مشکوک اور پرزور الفاظ میں کیا ہے۔ لیکن دوسری تحریروں میں اس کو مشکوک بنا دیا ہے۔ واضح اور بھول بھلیاں اعلان نبوت ہر دو قسم کی مثالیں پیش کر چکا ہوں۔ لیکن اب مجھے یہ ناگوار فرض ادا کرنا ہے کہ میں یہ بتاؤں کہ مرزا قادیانی نے نبی ہونے سے بالکل انکار بھی کیا ہے۔ چونکہ احمدی جماعت لاہور ان کے ادعائے نبوت سے انکاری ہے۔ لہٰذا یہ فرض برادران قادیان پر عائد ہوتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے اقوال میں جو تضاد ہے اس کی توضیح کریں۔ ورنہ یہ اقرار و انکار نبوت بجائے خود مرزا قادیانی کے دعویٰ کو باطل ٹھہراتا ہے اور مرزا قادیانی کے دعویٰ کو صحیح تسلیم کرنے سے میرے انکار کی نویں دلیل یہ ہے کہ وہ نبوت کے مدعی بھی ہیں اور اس سے انکار بھی کرتے ہیں۔ ادعائے نبوت سے آپ کے انکار کا ثبوت ملاحظہ فرمائیے۔

(١٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١ تا ٢٣٠) کو مرزا قادیانی نے ایک اعلان شائع کیا تھا جس میں آپ نے لکھا کہ: ”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، ملائکہ کا منکر، بہشت دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبریل، لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بہ کلی منکر ہے۔ لہٰذا میں بغرض

٤١

صفحہ ١٦٢

اظہار الحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم۔ اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و خبیر جو خیر الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں۔ جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی سچا مسلمان کہلانے لگتا ہے۔“

ایسا ہی آپ نے اپنی تقریر مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء میں جو جامع مسجد دہلی میں ہوئی اور جو تقریر واجب الاعلان (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥) کے نام سے شائع ہوئی۔ فرمایا ملاحظہ ہو: ”دوسرے الزامات جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلۃ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت کا انکاری ہے۔ یہ سارے الزامات دروغ اور باطل محض ہیں۔ ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے اور میری کتاب توضیح المرام اور ازالہ اوہام سے جو ایسے اعتراض نکالے گئے ہیں۔ یہ نکتہ چینوں کی سراسر غلطی ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کے ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں۔“

پھر اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) میں تحریر کیا ہے کہ:

”سوال ...... رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

اما الجواب ...... نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔ جس حالت میں رؤیائے صالحہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے تو محدثیت جو قرآن شریف میں نبوت کے ساتھ اور رسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے۔ جس کے لئے صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے۔ اس کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا

٤٢

صفحہ ١٦٤

ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آ گیا؟‘‘ پھر ١٨٩٢ء میں آپ میں اور مولوی عبدالحکیم صاحب میں ایک مباحثہ بمقام لاہور ہوا۔ دوران مباحثہ میں جب مولوی عبدالحکیم نے یہ اعتراض کیا کہ آپ دعویٰ نبوت کرتے ہیں تو آپ نے ذیل کی تحریر دی۔ جس پر ٣؍ فروری ١٨٩٢ء تاریخ ہے (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣) اور آٹھ گواہوں کے دستخط ہیں اور اس تحریر کو آپ کی طرف سے ایک اقرار نامہ تسلیم کر کے بحث کا خاتمہ کر دیا گیا۔ میں اس کے صرف چند فقرات یہاں نقل کرتا ہوں۔ لکھتے ہیں کہ:

’’جس حالت میں ابتداء سے میری نیت ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘

نہ صرف آپ نے بار بار دعویٰ نبوت سے انکار کیا۔ بلکہ صاف طور پر یہ بھی بتا دیا کہ آپ نے لفظ نبی کا استعمال محدث کے لئے جو آپ کا دعویٰ ہے صرف بطور مجاز کیا ہے۔ ایسے حوالہ جات سے آپ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ میں صرف تین چار حوالہ جات پر اکتفاء کرتا ہوں۔

’’آنے والا مسیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً نبی بھی ہے۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٣٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨)

’’محدثیت کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے تو کیا اس سے دعویٰ نبوت لازم آ گیا۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)

’’مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔‘‘

(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)

’’اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کا استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اسے بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

’’اور اس جگہ میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے۔ یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤)

٤٣)

Wait... Actually, the final digit on the last line looks like `٢٤`. Let me double-check. Yes, `٢٤`. Wait, the image says `٢٤`. I'll output it again correctly without any commentary.

ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آ گیا؟‘‘ پھر ١٨٩٢ء میں آپ میں اور مولوی عبدالحکیم صاحب میں ایک مباحثہ بمقام لاہور ہوا۔ دوران مباحثہ میں جب مولوی عبدالحکیم نے یہ اعتراض کیا کہ آپ دعویٰ نبوت کرتے ہیں تو آپ نے ذیل کی تحریر دی۔ جس پر ٣؍ فروری ١٨٩٢ء تاریخ ہے (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣) اور آٹھ گواہوں کے دستخط ہیں اور اس تحریر کو آپ کی طرف سے ایک اقرار نامہ تسلیم کر کے بحث کا خاتمہ کر دیا گیا۔ میں اس کے صرف چند فقرات یہاں نقل کرتا ہوں۔ لکھتے ہیں کہ:

’’جس حالت میں ابتداء سے میری نیت ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘

نہ صرف آپ نے بار بار دعویٰ نبوت سے انکار کیا۔ بلکہ صاف طور پر یہ بھی بتا دیا کہ آپ نے لفظ نبی کا استعمال محدث کے لئے جو آپ کا دعویٰ ہے صرف بطور مجاز کیا ہے۔ ایسے حوالہ جات سے آپ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ میں صرف تین چار حوالہ جات پر اکتفاء کرتا ہوں۔

’’آنے والا مسیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً نبی بھی ہے۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٣٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨)

’’محدثیت کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے تو کیا اس سے دعویٰ نبوت لازم آ گیا۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)

’’مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔‘‘

(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)

’’اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کا استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اسے بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

’’اور اس جگہ میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے۔ یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔‘‘

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤)

Ah, my output must be ONLY the transcribed text.

صفحہ ١٦٤

”اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں بلکہ فصیح استعارہ ہے۔“

(اربعین ص٤٢ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص٤١٣)

”سمیت نبياً من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقة“

(استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص٦٥، خزائن ج٢٢ ص٦٨٩)

چند اور ثبوت ملاحظہ فرمائیے آپ لکھتے ہیں: ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٧)

”میں سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(اشتہار ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١)

”جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(تقریر واجب الاعلام بمقام دہلی، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٥٥)

”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں۔“

(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)

”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا وہ شخص جو قرآن پر ایمان رکھتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“

(انجام آتھم ص٢٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٧)

چند اور حوالے بھی دیکھ لیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”ابتداء سے میری نیت میں اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات حصہ اوّل ص٣١٣)

”اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا، ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔“

(نشان آسمانی ص٢٨، خزائن ج٤ ص٣٩٠)

”میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تا کہ دین مصطفےٰ کی تجدید کروں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٨٣، خزائن ج٥ ص٣٨٣)

”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔ میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو

٤٤

صفحہ ١٦٥

یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں بلکہ فصیح استعارہ ہے۔‘‘

(اربعین ص ٢٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

یا من الله علیٰ طریق المجاز لا علیٰ وجه الحقیقته‘‘

(استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩)

ملاحظہ فرمائیے آپ لکھتے ہیں: ’’ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٩٧)

مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کافر جانتا ہوں۔‘‘

(اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(تقریر واجب الاعلان بمقام دہلی، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

ہو سکتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں۔‘‘

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

لعنت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر کیا کوئی شخص جو قرآن پر ایمان رکھتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ

(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

حوالہ بالا دیکھ لیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے:

میری نیت میں اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں۔ بلکہ صرف محدث آنحضرت ﷺ نے متکلم مراد لئے ہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات حصہ اوّل ص ٣١٣)

میں محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا، ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل

(نشان آسمانی ص ٢٨، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تا کہ دین مصطفےٰ کی

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ٣٨٣)

میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔ میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو

میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے۔ جس طرح محدثین سے۔‘‘

(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)

’’ان لوگوں نے میرے قول کو نہیں سمجھا بلکہ یہی کہا کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا یہ قول صریح کذب ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے یہ کہا ہے کہ محدث میں تمام اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں۔ لیکن بالقوۃ نہ بالفعل۔ پس محدث بالقوۃ نبی ہے اور اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو وہ بھی بالفعل نبی ہوتا۔‘‘

(حمامة البشریٰ ص ٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)

’’میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ نبی بھی ہو جاتا ہے۔‘‘

(جنگ مقدس ص ٧٤، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)

’’ہمارے سید رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔‘‘

(شہادت القرآن ص ٢٧، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)

قسط دہم

پس القصه انکار و ادعائے نبوت کے متعلق مرزا قادیانی کی تحریریں دیکھ کر انسان انگشت بدنداں ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست

لیکن برادران قادیان لوگوں کو یہ کہہ کر بہلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی شریعت کے بغیر نبی مبعوث ہوئے۔ ایسا نبی ظلی اور بروزی نبی ہوتا ہے۔ اس کو محدث کہتے ہیں اور محدث اور مجدد نبی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تحریک قادیان کا یہ جزو مسیحی حضرات کے تین میں ایک اور ایک میں تین خداؤں کے اصول سے کچھ کم تر معمّہ نہیں۔ جو لوگ صریح واضح اور پیچ و خم سے مبرا دین مبین کی موجودگی میں ایسے گورکھ دھندوں میں الجھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی جدت اور وقت پسندی انہیں مبارک ہو۔ لیکن اس خیال سے کہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ مرزا قادیانی کا بروزی یا ظلی نبی ہونے کا دعویٰ ادعائے نبوت کے نئے پیرائے کا ایک پردہ تھا۔ جس سے مدعا یہ تھا کہ لوگ ادعائے نبوت کی ناخوشگوار گولی کو نگل جائیں اور بس۔ میں مرزا قادیانی کی تقریروں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ اپنی شان ایسی بتاتے ہیں جو بروزی و ظلی نبی تو ایک طرف رہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی بالاتر ہے اور خود سردارِ انبیاء صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بھی کسی طرح کمتر نہیں۔

صفحہ ١٦٦

ملاحظہ فرمائیے اپنے فرزند ارجمند مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی شان میں مرزا قادیانی کی تحریر کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ٢١، ١٢٤) پر عربی میں یہ لکھی ہے کہ : ”میرا پیدا ہونے والا بیٹا گرامی و ارجمند ہوگا۔ اوّل و آخر کا مظہر ہوگا اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ خود آسمان سے اترے گا۔“

جب بیٹا خود اللہ ہو تو پھر تا بہ پدر چہ رسد اس کے بعد مرزا قادیانی کا اپنے اسی فرزند ارجمند کے متعلق یہ کہنا موجب حیرت نہیں کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا اور اس الہام میں ان کے لڑکے کی شان میں انہیں کسی کا یہ شعر سنایا گیا۔

اے ختم رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدۂ ز راہ دور آمدۂ

یہ شعر (تریاق القلوب ص ١٥٧ ، خزائن ج ١٥ ص ٢١٩) پر درج ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آج دنیا میں زندہ ہیں۔ محمد مصطفیٰ (فداہ ابی) ان سے پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ اگر آج یہ کہا جائے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فخر رسل ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہوتے ہیں کہ آپ احمد مجتبیٰ (فداہ روحی) سے بھی بڑھکر ہیں اور جب بیٹے کی یہ شان ہے تو باپ کو صرف بروزی اور ظلی نبی ماننا کیسے ممکن ہے۔

لیکن مرزا قادیانی کی شان خود ان کی زبان سے سنئے۔ صاحب (البشریٰ ج ٢ ص ٦١) پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بذریعہ الہام خبر دی کہ: ”اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔“ پھر الہام ہوا: ”خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے۔“ یہ الہام کتاب (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) پر موجود ہے۔ کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ٨٩) پر لکھا ہے کہ : ”میں خدا کی باڑ ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨) پر آپ لکھتے ہیں کہ : ” وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین “ ان (مرزا قادیانی) کی شان میں نازل ہوئی نہ کہ رسول امی لقب (فداہ ابی) کی شان میں اسی طرح (اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) پر لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ”داعی الی اللہ وسراج منیرا“ کے خطاب دیئے گئے تھے۔ پھر وہی دو مجھے (مرزا قادیانی کو) بھی عطاء ہوئے۔“ پھر (خطبہ الہامیہ صفحات ٨، ١٩، ٣٠، ٣٥، ١٥٨، ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٥٢، ٥٩، ٢٥٩) پر لکھا ہے۔

٤٦

صفحہ ١٦٧

فرمائیے اپنے فرزند ارجمند مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی شان میں کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ٢١، ٢٢) پر عربی میں وحی لکھی ہے کہ : ”میرا پیدا ہونے والا لڑکا، اوّل و آخر کا مظہر ہوگا اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ خود آگیا۔“ خود اللہ ہو تو پھر تابہ پدر چہ رسد اس کے بعد مرزا قادیانی کا اپنے اسی فرزند کو خدا ماننا موجب حیرت نہیں کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا اور اس الہام میں ان کے لڑکے کا یہ شعر سنایا گیا ؎

اے ختم رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدہ، زراہ دور آمدہ

(تریاق القلوب ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٢١٩) پر درج ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد زندہ ہیں۔ محمد مصطفیٰ (فداہ ابی) ان سے پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فخر رسل ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہوتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) ان سے بھی بڑھکر ہیں اور جب بیٹے کی یہ شان ہے تو باپ کو صرف نبی ماننا کیسے ممکن ہے۔

مرزا قادیانی کی شان خود ان کی زبان سے سنئے۔ صاحب (البشریٰ ج ٢ ص ٦١) پر لکھتے ہیں کہ انہیں بذریعہ الہام خبر دی کہ: ”اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔“ ایک الہام: ”خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے۔“ یہ الہام بھی (اربعین نمبر ٤ ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) پر موجود ہے۔ کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ٨٩) پر لکھا ہے کہ ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی۔“ کتاب (البشریٰ ج ١ ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨) پر آپ لکھتے ہیں کہ: ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“ (مرزا قادیانی) کی شان میں نازل ہوئی نہ کہ رسول امی لقب (فداہ ابی و امی) کی۔ اسی طرح (اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥١) پر لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جو ”سراج منیر“ اور ”سراج منیرا“ کے خطاب دیئے گئے تھے۔ وہی وحی ہو بہو مجھے عطا ہوئے ہیں۔“ پھر (خطبہ الہامیہ صفحات ٨، ١٩، ٣٠، ٣٥، ١٥٨، ١٧١، خزائن ج ١٦

٤٦

مرزا قادیانی اپنے رتبہ کا اظہار ان لفظوں میں کرتے ہیں۔ ”میں نور ہوں، مجدد مامور ہوں، منصور ہوں، مہدی معہود اور مسیح موعود ہوں۔ مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ، میں مغز ہوں، جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں ۔ جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں۔ جس کو دھواں چھپا نہیں سکتا اور ایسا کوئی شخص تلاش کرو۔ جو میری مانند ہو۔ ہرگز نہیں پاؤ گے۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر ہوگا۔ اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔ بس خدا سے ڈرو اور مجھے پہچانو اور نافرمانی مت کرو۔ میرے سوا اور دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔ پس جو میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین (محمد رسول اللہ) کے صحابہ میں داخل ہوا۔“ (یعنی میرے مرید صحابہ کے برابر ہیں)

(درثمین فارسی ص ٧٢، ١٧١) پر لکھتے ہیں۔

انچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بہ عرفاں نہ کمترم زکسے

ایک جگہ فرمایا: ”میں وہ تھیلہ ہوں کہ جس میں تمام نبی بھرے پڑے ہیں۔ (ظاہر ہے کہ تمام میں محمد بھی شامل ہیں۔ مصنف)“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٨) پر ارشاد ہوتا ہے۔ ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“

(معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨) پر لکھتے ہیں: ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩) میں مرزا قادیانی کا اپنی شان میں ایک الہامی شعر درج ہے۔ ملاحظہ ہو۔

مقام او مبیں از راہ تحقیر
بدانش رسولاں ناز کردند

٤٧

صفحہ ١٦٨

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) پر شعر ہے؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”اے عیسائی مشنریو! ابن مریم مت کہو۔ دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) پر لکھا ہے۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پا بہ منبرم

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) پر لکھا ہے: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں۔ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(درثمین فارسی ص ١٦٣، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) پر لکھتے ہیں۔

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

یعنی آپ کو سید الشہداء سے بھی افضل تر ہونے کا دعویٰ ہے۔ پھر (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩) پر آپ کی شان میں لکھا ہے کہ: ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ سے یہ ظاہر ہو گا جو کچھ کہ قرآن سے ظاہر ہوا۔“

آپ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے؎

آں چہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش زخطا
ہم چو قرآں منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں ست ایمانم
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بدو القا
واں یقین کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

٤٨

صفحہ ١٦٩

ص٢٠،خزائن ج١٨ ص٢٤٠) پر شعر ہے؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

ص١٣،خزائن ج١٨ ص٢٣٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”اے عیسائی مشنریو! ابن مریم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

ص١٥٨،خزائن ج٣ ص١٨٠) پر لکھا ہے؎

ایک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بہ منبرم

(ص١٤٨،خزائن ج٢٢ ص١٥٢) پر لکھا ہے: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں۔ جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ وہ ہرگز نہ دکھا سکتا۔“

(ص١٥٥،خزائن ج٢٢ ص١٥٩) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔“

ص١٦٢،نزول المسیح ص٩٩،خزائن ج١٨ ص٤٧٧) پر لکھتے ہیں؎

کر بلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

سید الشہداء سے بھی افضل تر ہونے کا دعویٰ ہے۔ پھر (البشریٰ ج٢ ص١١٩) ہے کہ :”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ آن سے ظاہر ہو۔“

اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے؎

گویم روحی فدا بخدا پاک دانشم زخطا
نزہ اش دائم از خطاہا ہمین ست ایمانم
بود عیسیٰ را بر کلامے کہ شد بدو القا
پرتو ذات آں یقیں ہائے سید السادات
بریں یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص١٠٠،خزائن ج١٨ ص٤٧٨)

٤٨

(خطبہ الہامیہ ص٢٣،خزائن ج١٦ ص٥٦) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : ”مجھ کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔“

لیکن مرزا قادیانی کی تعلی کی انتہاء یہ ہے کہ آپ لکھتے ہیں کہ انہیں الہام ہوا تھا کہ: ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول له کن فیکون“ یہ الہام (البشریٰ ج٢ ص٩٤) پر درج ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خداوند کریم نے مرزا قادیانی سے کہا کہ : ”اے مرزا تحقیق تیرا ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ وہ جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔“

مجھ گنہگار کا یہ عقیدہ ہے کہ کن فیکون کا دعویٰ خداوند تعالیٰ کے سوا کسی کے شایان شان نہیں اور سید ہاشمی نسب امی لقب (فداہ روحی) نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر یہ حال بروزی نبی کا ہے تو مستقل نبی کا کیا ہوگا۔

میری رائے یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے مدارج اس لئے قائم کر دیئے کہ ذرا سا پھسلنے والا انسان بھی پھسل کر اس طرف آجائے۔ ”والله اعلم بالصواب“

قسط یازدہم

مختصر یہ کہ مرزا قادیانی ایک مقام پر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے نبی اور رسول ہیں اور تمام انبیاء سے (جن میں جناب محمد رسول اللہ ﷺ شامل ہیں) افضل ہیں اور اس دعویٰ پر خدا کی قسم کھاتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ وہ بروزی اور ظلی نبی ہیں جو بہ الفاظ دیگر محدث ہوتا ہے۔ لیکن اپنا مقام تمام انبیاء علیہم السلام سے ارفع و اعلیٰ ظاہر کرتے ہیں اور اس کے بعد اچانک ادعائے نبوت سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والا اسلام سے خارج ہے وغیرہ وغیرہ۔

ادعائے نبوت کی بھول بھلیاں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے بعض الہامات ایسے ہیں جو خود ان کی سمجھ میں نہیں آئے۔ لہٰذا لازم ہے کہ ایسے الہامات کی تفہیم کے واسطے خدا تعالیٰ مزید نبی مبعوث کرے۔ گویا مرزا قادیانی نے احیائے نبوت کا ایک سلسلہ جاری کر دیا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے نبی آئیں گے۔ جو ان الہامات کے معانی دنیا پر واضح کریں گے۔ پس

دسویں دلیل

جو مجھے مرزا قادیانی کی تحریک کے قبول کرنے سے مانع ہے۔ یہ ہے کہ مرزا قادیانی پر ایسے الہامات ہوئے جو خود ان کے فہم میں نہیں آئے۔ حالانکہ میرے علم و یقین کے مطابق دنیا میں

٤٩

صفحہ ١٧٠

کوئی پیغمبر یا نبی ایسا نہیں گذرا۔ جس پر خدا نے اس قدر بے اعتمادی کی ہو کہ اس کو پیام بھیجا ہو اور پھر اس پیام کے معنی نہ سمجھائے ہوں۔ معاذ اللہ اس سے تو خدا پر بخل کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے کسی کو منتخب کر لیتا ہے اور پھر اس پر اعتماد نہیں کرتا اور یہ بات خدائے علیم وحکیم کی شان کے خلاف ہے۔ میں اپنی اس دلیل کو مرزا قادیانی کے مقرر کردہ معیار پر جانچتا ہوں۔ آپ کتاب (چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”یہ تو بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہو ۔“

لیکن اس معیار کے قائم کرنے کے بعد آپ کتاب (نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”زیادہ تر تعجب کی بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوئے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ ۔“

اس کے بعد کون ایسا صاحب عقل سلیم ہوگا جو تسلیم نہ کرے گا کہ مرزا قادیانی نے خود جو معیار مقرر کیا تھا۔ وہ اس پر پورے نہیں اترے۔ آپ کو جو الہامات ایسے ہوئے جن کے معانی آپ پر واضح نہیں ہوئے۔ ان کے نمونے ملاحظہ فرمائیے۔

(البشریٰ ج ١ ص ٤٦، تذکرہ ص ٩١) پر ارشاد ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا: ”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس“

مرزا قادیانی اس کے متعلق خود لکھتے ہیں کہ حصہ اوّل کے معنی یہ ہیں کہ: ”اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑا۔ لیکن آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس اس وقت تک مشتبہ رہا ہے اور اس کے کچھ معنی نہ کھلے ۔“ ”واللہ اعلم باالصواب“

حبیب عرض کرتا ہے کہ پہلے فقرہ کے معنی مرزا قادیانی کو اس لئے معلوم تھے کہ یہ فقرہ انجیل میں موجود ہے اور کہا جاتا ہے کہ صلیب پر حضرت عیسیٰ نے یہ فقرہ استعمال کیا۔ مرزا قادیانی نے جو اضافہ کیا وہی ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔

ایک اور مثال سنئے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤) پر ارشاد ہوتا ہے۔ ”خدا نے فرمایا ہوشعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور اس کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ١٨، البشریٰ ج ١ ص ٥١) پر مرزا قادیانی ایک الہام لکھتے ہیں کہ: ”پریشن، عمر پراطوس یا پلاطوس“ ”نوٹ: آخری لفظ پراطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ بہ باعث سرعت

٥٠

صفحہ ١٧١

گزرا۔ جس پر خدا نے اس قدر بے اعتمادی کی ہو کہ اس کو پیام بھیجا ہو اور فرمائے ہوں۔ معاذ اللہ اس سے تو خدا پر بخل کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ یا یہ کسی کو منتخب کر لیتا ہے اور پھر اس پر اعتماد نہیں کرتا اور یہ بات خدائے علیم ہے۔ میں اپنی اس دلیل کو مرزا قادیانی کے مقرر کردہ معیار پر جانچتا معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨) پر لکھتے ہیں کہ: ” یہ تو بالکل غیر معقول کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا جو انسانی سمجھ

معیار کے قائم کرنے کے بعد آپ کتاب (نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ زیادہ تر تعجب کی بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوئے واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“ ن ایسا صاحب عقل سلیم ہو گا جو تسلیم نہ کرے گا کہ مرزا قادیانی نے خود جو پر پورے نہیں اترے۔ آپ کو جو الہامات ایسے ہوئے جن کے معانی ان کے نمونے ملاحظہ فرمائیے۔ ٤٦، تذکرہ ص ٩١) پر ارشاد ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا: ”ایلی اوس“ اس کے متعلق خود لکھتے ہیں کہ حصہ اوّل کے معنی یہ ہیں کہ: ”اے میرے مجھے کیوں چھوڑا۔ لیکن آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس اس وقت کچھ معنی نہ کھلے ۔“ ”واللہ اعلم بالصواب“ ہوتا ہے کہ پہلے فقرہ کے معنی مرزا قادیانی کو اس لئے معلوم تھے کہ یہ فقرہ جاتا ہے کہ صلیب پر حضرت عیسیٰ نے یہ فقرہ استعمال کیا۔ مرزا قادیانی سمجھ میں نہیں آیا۔

لکھتے ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ص ٦٦٤) پر ارشاد ہوتا ہے۔ ”خدا نے قرے شاید عبرانی ہیں اور اس کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے ۔“ ج ١ ص ١٨، البشریٰ ج ١ص ٥١) پر مرزا قادیانی ایک الہام لکھتے ہیں کہ: ں“ نوٹ: آخری لفظ پراطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ بہ باعث سرعت

٥٠

الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان سے یہ الفاظ ہیں۔“

ایک اور الہام (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩) پر یوں بیان کرتے ہیں۔ ” پیٹ پھٹ گیا ۔“ اور لکھتے ہیں کہ یہ دن کے وقت کا الہام ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩) پر ایک اور الہام لکھتے ہیں کہ: ” خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔“ اور خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”نہ معلوم کس کے حق میں یہ الہام ہے۔“

ایک اور پرلطف الہام اسی صفحہ پر درج کرتے ہیں۔ الہام کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔ ”٢٤/ دسمبر ١٩٠٦ء مطابق ١٥/شعبان ١٣٢٤ھ بروز پیر موت تیرہ ماہ حال کو۔“

اس پر مرزا قادیانی اپنے قلم سے نوٹ لکھتے ہیں کہ: ”قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٥، تذکرہ ص ٦٩٧) دیکھیں تو وہاں تحریر موجود ہے۔ ”بہتر ہوگا کہ اور شادی کر لیں۔“

مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ: ”معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔“

اسی کتاب کی اسی جلد کا ص ٦٥، ٦٦ دیکھئے۔ ایک نہایت حیرت ناک الہام ہے۔ ”بعد ١١، انشاء اللہ۔“

خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ” اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ اس سے کیا مراد ہے۔ گیارہ دن، گیارہ ہفتے یا کیا، یہی ہندسہ ”١١“ دکھایا گیا ۔“

اگر ہم کتاب البشریٰ کی دوسری جلد کا ص ٥٠ نکال کر دیکھیں تو الہام درج ہے۔ ”غَمْ غَمْ غَمْ“

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ” اس کا مطلب واضح نہیں ہوا۔“

اسی کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ١١٧) پر مرزا قادیانی کے الفاظ موجود ہیں کہ: ”آج رات مجھے الہام ہوا کہ ایک دم میں رخصت ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے۔ لیکن خطرناک ہے۔ یہ الہام ایک مؤزوں عبارت میں ہے۔ مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا ۔“

کتاب (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) پر فرماتے ہیں۔ ”ایک عربی الہام تھا۔ الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ مکذبوں کو نشان دکھایا جائے گا۔“

٥١

صفحہ ١٧٢

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧) پر الہام درج ہے: ”ایک دانہ کس کس نے کھایا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦) پر الہام درج ہے: ”لاہور میں ایک بے شرم ہے۔“

ایک اور الہام (البشریٰ ج ١ ص ٤٤) پر ہے۔ ”ربنا عاج۔“ مرزا قادیانی ان کے بھی کوئی معنی بیان نہیں فرما سکے۔

کیا ایسے الہامات جن کے الفاظ مبہم ہوں۔ اس خداوند کریم کی طرف سے ہو سکتے ہیں۔ جس نے قرآن پاک ایسی کتاب نازل کی۔ محمد جیسا فہیم وحکیم رسول بھیجا اور جو دنیا کو دعوت دیتا ہے کہ عقل سے کام لو۔ فہم سے کام لو۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔

گیارھویں دلیل

پس تحریک قادیان کے خلاف میری گیارھویں دلیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ایسے الہامات کی وجہ سے مدعیان نبوت کے لئے ایک میدان وسیع پیدا ہو گیا ہے۔ آئے دن ایک نبی علم نبوت بلند کرے گا اور کہے گا کہ مرزا قادیانی کے فلاں الہام کی وضاحت کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔

بارھویں دلیل

سنئے مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت کے متعلق مجھے جو کچھ عرض کرنا تھا وہ ختم ہوا۔ لیکن مرزا قادیانی کی تحریک پر ایک اعتراض اور ایسا وارد ہوتا ہے جس کا تعلق اسی ادعائے نبوت سے ہے۔ لہٰذا وہ اسی وقت بیان کئے دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی امتی نبی ہیں۔ جس نبی ﷺ کے یہ امتی ہیں اس پر جو کتاب نازل ہوئی اس میں متعدد انبیاء کے اسمائے گرامی موجود ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی پر جو الہام نازل ہوئے ان میں کسی ایسے امتی نبی کا نام نہیں آیا جو حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد مبعوث ہوا ہو۔

نیز مرزا قادیانی نہایت فصاحت سے کتاب (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔“ جس کے معنی یہ ہیں کہ مرزا قادیانی واحد امتی نبی ہیں جو تیرہ سو سال میں مبعوث ہوئے۔ پھر ہر صدی میں مجدد کا آنا کیسا اور مرزا صاحب کا مجدد الف ہونا لائعنی یہ دونوں امور تو پیشرو کے طالب ہیں؟

قسط دوازدہم

مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت پر کافی بحث ہو چکی۔ لیکن بعض امور ہیں۔ جو اعلان

٥٢

صفحہ ١٧٣

ص ١٠) پر الہام درج ہے: ”ایک دانہ کس کس نے کھایا۔“

ص ١٢٦) پر الہام درج ہے۔ ”لاہور میں ایک بے شرم ہے۔“

م (البشریٰ ج ١ ص ٤٣) پر ہے۔ ”ربنا عاج۔“ مرزا قادیانی ان کے بھی کوئی مات جن کے الفاظ مبہم ہوں۔ اس خداوند کریم کی طرف سے ہو سکتے ں ایسی کتاب نازل کی۔ محمد جیسا فہیم و حکیم رسول بھیجا اور جو دنیا کو دعوت فہم سے کام لو۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔

دیان کے خلاف میری گیارھویں دلیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ایسے ن نبوت کے لئے ایک میدان وسیع پیدا ہو گیا ہے۔ آئے دن ایک نیا مدعی ہے گا کہ مرزا قادیانی کے فلاں الہام کی وضاحت کے لئے مجھے مبعوث

یانی کے ادعائے نبوت کے متعلق مجھے جو کچھ عرض کرنا تھا وہ ختم ہوا۔ لیکن ایک اعتراض اور ایسا وارد ہوتا ہے جس کا تعلق اسی ادعائے نبوت سے ن کئے دیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی امتی نبی ہیں۔ جس نبی ﷺ تاب نازل ہوئی اس میں متعدد انبیاء کے اسمائے گرامی موجود ہیں۔ لیکن نازل ہوئے ان میں کسی ایسے امتی نبی کا نام نہیں آیا جو حضور سرور ث ہوا ہو۔

آئی نہایت فصاحت سے کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں یہ ہیں کہ مرزا قادیانی واحد امتی نبی ہیں جو تیرہ سو سال میں مبعوث مجدد کا آنا کیسا اور مرنا صاحب کا مجدد الف ہونا لا یعنی یہ دونوں امور تو کے ادعائے نبوت پر کافی بحث ہو چکی۔ لیکن بعض امور ہیں۔ جو اعلان

٥٢

نبوت کا جزو لاینفک ہیں۔ مثلاً الہام اور پیش گوئی اس کے علاوہ مسئلہ تکفیر اہل قبلہ اور تنسیخ جہاد کا معاملہ بھی دو ایسے کوائف ہیں۔ جن کا مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت سے بہت بڑا تعلق ہے۔ نیز اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہوتے ہوئے بعض ایسی باتیں لکھ جائے یا کہہ دے جو صحیح نہ ہوں تو وہ بھی اس کے ادعائے نبوت کے خلاف جاتی ہیں اور اگر مدعی نبوت کی تحریر میں ثقاہت نہ ہو تو اس سے بھی اس کے دعوٰی کی تردید لازم آتی ہے۔

جہاں تک الہامات کا تعلق ہے میں عرض کر چکا ہوں کہ مرزا قادیانی کے بعض الہامات ایسے ہیں جن کو وہ خود سمجھ نہیں سکے۔ وہ خود لکھ چکے تھے کہ الہام وہی ہے جو نبی کی زبان میں ہوتا کہ وہ اس کو سمجھ سکے۔ جو الہام سمجھ میں نہ آئے اس کے نزول سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے باوجود وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں ایسی غیر زبانوں میں بھی الہام ہوئے جن سے وہ ناآگاہ تھے اور جن کو وہ سمجھ نہیں سکے۔ بعض الہامات اردو میں ہوئے۔ مگر وہ ایسے مبہم تھے کہ مرزا قادیانی خود تحریر چھوڑ گئے ہیں کہ وہ ان کے فہم میں نہیں آئے اور بعض الہام ایسے بھی ہوئے جو دنیا کی کسی مروجہ زبان میں نہیں ہیں اور جن کو آج تک مرزا قادیانی یا کوئی اور سمجھ نہیں سکا۔ یہ تمام بحث قسط گذشتہ میں موجود ہے۔ لہٰذا میں اس کے تکرار کی ضرورت نہیں سمجھتا۔

تیرویں دلیل

یہ ہے کہ وہ اپنے الہام خود سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں قدرت کی طرف سے ایسا علم نہیں دیا گیا۔ جو ان کے مقصد بعثت کے لئے کافی ہوتا۔ پس وہ نبی مبعوث نہ تھے ورنہ اللہ تعالیٰ جو الہام نازل فرماتا اس کا فہم انہیں ضرور عطاء کرتا۔

نیز مرزا قادیانی کے الہامات میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ان پر بعض اوقات قرآن شریف کی پوری آیات اور حدیث شریف کے پورے کے پورے فقرے بطور الہام نازل ہوئے۔ مثلاً:

اوّل ...... (البشریٰ ج ٢ ص ٦١) پر آپ کا ایک الہام درج ہے۔ ”انت مدينة العلم“ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مرزا تو علم کا شہر ہے۔ اب دنیا جانتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث پاک ہے کہ: ”انا مدينة العلم وعلی بابھا“ (میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے۔)

دوم ...... (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩) پر مرزا قادیانی کا الہام درج ہے کہ: ”انا اعطينك الکوثر“ دنیا جانتی ہے کہ یہ قرآن شریف کی ایک مشہور آیت ہے جو رسول ہاشمی و نبی مطلبی ﷺ

٥٣

صفحہ ١٧٤

کے حق میں نازل ہوئی۔

سوم ...... (انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨) پر الہام درج ہے۔ ”ومـــــــا ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین“ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ بھی قرآن کریم کی ایک مشہور آیت کریمہ ہے۔ جو سرور کائنات کی شان میں نازل ہوئی تھی۔

چہارم ...... (اربعین نمبر ٢ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٠) پر مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ”داعیا الی اللہ وسراجاً منیراً“ کے خطابات دیئے۔ حالانکہ یہی خطاب قرآن پاک میں رسول اللہ ﷺ کو عطاء ہو چکے تھے۔

پنجم ...... اسی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) پر آپ نے ایک اور الہام کے نزول کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کے الفاظ درج ذیل ہیں۔ ”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی دنٰی فتدلٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی“ یہ بھی قرآن شریف کی آیات بینات ہیں۔ جو پیغمبر آخر الزمان کی شان کی مظہر ہیں۔

اگر اس قسم کے الہامات کو صحیح مان لیا جائے تو یہ حسن عقیدت کی انتہاء ہے۔ اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ جس کا جی چاہے وہ قرآن شریف کی چند آیات لے کر اعلان کر دے کہ یہ اس کی شان میں بذریعہ وحی نازل ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہ پیغمبر ہے تعجب ہے کہ ایک انسان تو اپنے دس نوکروں کو دس اسناد ایسی دے سکتا ہے جس میں حسن خدمات کا ذکر ایک دوسرے سے مختلف ہو۔ لیکن (معاذ اللہ) خداوند علیم و حکیم یہ نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے ایک نئے نبی کو سند دیتے ہوئے نئے الفاظ استعمال کر سکے۔

چودھویں دلیل

یہ ہے کہ انہوں نے الہامات کے نام سے قرآن وحدیث کی بعض آیات پر تصرف کیا اور وہ تصرف مجھ عاجز کی رائے ناقص میں صریحاً تصرف بے جا ہے۔ اب میں پیشین گوئیوں کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ چونکہ یہ بحث طویل ہے۔ لہٰذا میں ابتداء ہی میں لکھ دینا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت کے خلاف میری پندرھویں دلیل یہ ہے۔

پندرھویں دلیل

ان کی اکثر پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ قبل ازیں کہ میں مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کی طرف رجوع کروں۔ میں ان کے چند مقولے نقل کرنا چاہتا ہوں۔ جو پیشین گوئیوں کی اہمیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

٥٤

صفحہ ١٧٥

’’ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘

گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیش گوئیوں کے وقت کا انتظار کرے۔‘‘

ایسے مقولے متعدد پیش کئے جاسکتے ہیں۔ مگر نمونۃً یہی کافی ہیں۔ ورنہ متعدد پیش گوئیوں کو آپ نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا۔ مثلاً (انجام آتھم ص ٢٣٣، خزائن ج ١١ ص ٢٣٣) پر رقم فرما ہیں۔ ’’وَمن ایں (پیش گوئی) را برائے صدق و کذب خود معیاری گردانم‘‘

اس کے علاوہ بعض پیش گوئیوں کے سلسلہ میں آپ نے اعلان کیا کہ اگر یہ درست ثابت نہ ہوں تو میں جھوٹا۔ مثلاً آتھم کی موت کے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے آپ نے ایک اشتہار انعامی چار ہزار بمرتبہ چہارم (٢٧؍اکتوبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦) کو شائع کیا۔ اس اشتہار کے ص ١٦ پر آپ لکھتے ہیں کہ: ’’اے خداوند اگر یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہوں تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا۔‘‘

اس سے مقصود صرف یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ مرزا قادیانی پیش گوئی کو صداقت نبوت کی جانچ کے لئے معیار سمجھتے تھے اور بس۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ مجھے ادب سے عرض کرنے کی اجازت دی جائے کہ مرزا قادیانی اپنے اس معیار پر پورے نہیں اترے۔ میں طویل بحث کرنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا صرف چند مثالیں پیش کر کے ثابت کر دوں گا کہ مرزا قادیانی کی اہم اور ایسی پیش گوئیاں جن کو انہوں نے خاص طور پر اس غرض سے منتخب کیا کہ ان کو مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا معیار سمجھا جائے غلط اور بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ ملاحظہ فرمائیے:۔

ص ١٠٠) کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا کہ اس غرض سے انہیں ایک نشانی ملی ہے اور انہیں خداوند قدوس نے بشارت دی ہے کہ: ’’ان کے ہاں ایک فرزند ارجمند پیدا ہوگا۔ جو وجیہہ اور

٥٥

١٨٧) پر الہام درج ہے۔ ’’ومــــا

ہے کہ یہ بھی قرآن کریم کی ایک مشہور آیت

ہے۔

(ص ٣٥) پر مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ

منیرا‘‘ کے خطابات دیئے۔ حالانکہ یہی

تھے۔

(خزائن ج ٧ ص ٢٢٦) پر آپ نے ایک اور

مایا ہیں۔ ’’وما ینطق عن الھویٰ ان

سین او ادنیٰ‘‘ یہ بھی قرآن شریف کی

ہیں۔

یہ حسن عقیدت کی انتہاء ہے۔ اس کے معنی

چند آیات لے کر اعلان کر دے کہ یہ اس کی

فریب ہے کہ ایک انسان تو اپنے دس نوکروں

کا ذکر ایک دوسرے سے مختلف ہو۔ لیکن

ایک نئے نبی کو سند دیتے ہوئے نئے الفاظ

قرآن وحدیث کی بعض آیات پر تصرف کیا

سب بے جا ہے۔ اب میں پیشین گوئیوں کی

ت میں ابتداء ہی میں لکھ دینا چاہتا ہوں کہ

یں دلیل یہ ہے۔

قبل ازیں کہ میں مرزا قادیانی کی پیشین

ا نقل کرنا چاہتا ہوں۔ جو پیشین گوئیوں کی

صفحہ ١٧٦

پاک اور زکی ہوگا۔ اس کا نام عمانوئیل اور بشیر ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔ وہ رجس سے پاک ہے وہ نور اللہ ہے۔ مبارک ہے۔ وہ آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ وہ صاحب شکوہ وعظمت ودولت ہوگا۔‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس قدر تعریفیں درج ہیں کہ میں ان کی تکرار سے قاصر ہوں۔

اس اشتہار کے شائع ہونے پر بعض مخالفین نے لکھا کہ مرزا قادیانی کے ہاں لڑکا پیدا ہو چکا ہے اور اشتہار اب دیا گیا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں مرزا قادیانی نے (٢٢ مارچ ١٨٨٦ء، اشتہار عنوان اشتہار واجب الاظہار مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٣) کو ایک اور اشتہار دیا جس میں اعلان کیا کہ ہمارے (مرزا قادیانی کے) ہاں دو لڑکے ہیں اور بائیس سال کی عمر کے ہیں اور کوئی لڑکا موجود نہیں۔ لیکن لڑکا ضرور پیدا ہوگا۔ اشتہار بہت طویل ہے۔ لیکن ملخص اس کی یہی ہے۔

اس پر بھی لوگوں نے اعتراض کئے تو مرزا قادیانی نے (٨ اپریل ١٨٨٦) اشتہار صداقت آثار، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧) کو ایک اور اشتہار دیا۔ جس میں پھر اپنے دعاوی کی تجدید کی۔ ان تمام اشتہارات میں مرزا قادیانی نے یہ لکھ دیا تھا کہ لڑکا نو سال کے اندر ہوگا۔ آخری اشتہار میں یہ بھی لکھا کہ حمل تو ہو گیا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ لڑکا جو آنے والا ہے وہ یہی ہو گا یا کبھی بعد کو پیدا ہوگا۔

اگر مرزا قادیانی اسی پر اکتفاء کرتے تو اس پیش گوئی کے پورا نہ ہونے کے متعلق ہمارے احمدی دوست جو توجیہات پیش کرتے ہیں ان میں ضرور وزن ہوتا۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی نے اس پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ جب آپ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو (اگست ١٨٨٧ء اشتہار بعنوان خوشخبری، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١) کو اعلان کر دیا کہ وہ لڑکا پیدا ہوچکا۔ چنانچہ اس اشتہار کے الفاظ یہ ہیں۔ ”اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ١٦ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ بمطابق ٧ اگست ١٨٨٧ء میں بارہ بجے رات کو بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذالك!“

مگر افسوس ہے کہ خداوند قدیر کی قدرت غالب آئی اور وہ لڑکا ٤ نومبر ١٨٨٧ء کو سولہ ماہ کی عمر کے بعد فوت ہو گیا۔ اس پر جب ایک شور پیدا ہوا تو مرزا قادیانی نے اشتہار دے کر

٥٦

توجیہات پیش کیں۔ مگر وہ م میرے لئے کوئی حقیقت نہیں وہ تھا جس کی خدائے تعالیٰ

قسط سیزدہم

دوم....... آپ کا قابل غور ہے۔ ماہ مئی، جون میں ہوا۔ جس میں مرزا قاد ہوتا رہا۔ جس میں فریقین مسیح پر تھا۔ مرزا قادیانی نے کے نام سے چھپ چکا ہے ایک روحانی درجہ لیکر آئے۔ روحانی حربہ سے کام لینا پ مقدس ص ٢٠٩، خزائن ج ٩ ص جب کہ میں نے بہت تضر عاجز بندے ہیں۔ تیرے دیا ہے کہ اس بحث میں دو کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز ان مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ طرف رجوع نہ کرے اور اور اسی وقت جب یہ پیش لنگڑے چلنے لگیں گے اور آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی لئے تھا میں اس وقت اقر نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وا پڑے تو میں ہر ایک سزا کو

صفحہ ١٧٧

توجیہات پیش کیں ۔ مگر وہ معتقدین کے لئے مفید ہوں تو ہوں ۔ آپ کے محولہ بالا اشتہار کے بعد میرے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔ اس لئے کہ آپ نے خود اشتہار دے کر تسلیم کیا تھا کہ یہی لڑکا وہ تھا جس کی خدائے تعالیٰ نے انہیں بشارت دی تھی ۔

قسط سیزدہم

دوم...... آتھم کا انجام : اس کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی خاص طور پر قابل غور ہے۔ ماہ مئی، جون ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی کا ایک مناظرہ عیسائیوں کے ساتھ امرتسر میں ہوا۔ جس میں مرزا قادیانی کے مقابل ڈپٹی عبداللہ آتھم (پادری) تھے۔ پندرہ روز تک مباحثہ ہوتا رہا ۔ جس میں فریقین کے پچاس پچاس آدمی بذریعہ ٹکٹ داخل ہوتے رہے ۔ مباحثہ الوہیت مسیح پر تھا۔ مرزا قادیانی نے ابطال الوہیت مسیح پر بہت سی دلیلیں پیش کیں ۔ یہ مباحثہ جنگ مقدس کے نام سے چھپ چکا ہے۔ مگر چونکہ لفظی بحثیں علمائے ظاہری کا حصہ ہوتی ہیں اور مرزا قادیانی ایک روحانی درجہ لیکر آئے تھے ۔ لہٰذا آپ نے ان لفظی دلائل کو خود ہی ناکافی جان کر آخر میں ایک روحانی حربہ سے کام لینا چاہا ۔ چنانچہ آخری روز خاتمہ پر آپ کے جو الفاظ تھے وہ کتاب (جنگ مقدس ص ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١) پر ملاحظہ ہوں۔ فرماتے ہیں : ” آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ تو اس امر کا فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں ۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بناتا ہے ۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اسی وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آوے گی ۔ بعض اندھے سوجاکھے ہو جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا ۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں ۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے ۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کو اٹھانے کے لئے تیار ہوں ۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جاوے ۔

٥٧

صفحہ ١٧٨

میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جاویں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

اس روحانی حربہ کا مطلب صاف ہے کہ عیسائی مناظر (جو الوہیت مسیح کا قائل ہے) پندرہ ماہ کے عرصہ میں مر کر واصل جہنم ہوگا۔ لیکن ڈپٹی آتھم بجائے ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کے ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو فوت ہوئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ان کے مرنے پر رسالہ (انجام آتھم ص ١ خزائن ج ١١ ص ١) لکھا۔ جس کے شروع میں لکھا ہے۔ ”مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے۔“

اس حساب سے ڈپٹی آتھم اپنی مقررہ میعاد پندرہ ماہ سے متجاوز ہو کر ایک سال پونے گیارہ ماہ تک زیادہ زندہ رہے۔ اس پر اعتراض ہوئے تو مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں فرمایا۔ گو آتھم پندرہ ماہ میں نہیں مرا۔ لیکن مرا تو سہی۔ اس میں کیا حرج ہے۔ میعاد کو مت دیکھو کہ مر تو گیا۔ چنانچہ آپ کے اصلی الفاظ جو کتاب پر ہیں۔ وہ قابل دید ہیں۔ فرماتے ہیں: ”اگر کسی کی نسبت یہ پیش گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا اور اس کے ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣ حاشیہ)

پر اس کی تائید میں دوسری جگہ لکھا ہے۔ ”ہمارے مخالفوں کو اس میں تو شک نہیں کہ آتھم مر گیا ہے۔ جیسا کہ لیکھرام مر گیا اور جیسا کہ احمد بیگ مر گیا۔ لیکن اپنی نابینائی سے کہتے ہیں کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اے نالائق قوم جو شخص خدا کی وعید کے بموجب مر چکا اب اس کی میعاد غیر میعاد کی بحث کرنا کیا حاجت بھلا دکھاؤ کہ اب وہ کہاں اور کس شہر میں بیٹھا ہے۔“

عقیدت مند دماغ جو عذر چاہیں قبول کریں اور مریدوں کے دل جہاں چاہیں سر تسلیم خم کر دیں۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ آتھم بے چارہ دوامی زندگی لے کر نہیں آیا تھا۔ مرنا تو اسے تھا ہی مرزا قادیانی کی پیش گوئی تب پوری سمجھی جاتی کہ وہ مرزا قادیانی کی بتائی ہوئی میعاد کے اندر فوت ہوتا۔ یوں فوت تو مرزا قادیانی بھی ہوئے۔ لہٰذا آتھم کے بعد از میعاد مرجانے کو اپنی پیش گوئی کی صداقت کی دلیل ٹھہرانا حسن عقیدت کا حد سے متجاوز امتحان لینے کی کوشش کرنا ہے اور راقم الحروف بلا خوف لومۃ لائم اعلان کرنے پر تیار ہے کہ اس عاجز کی رائے میں مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔

٥٨

صفحہ ١٧٩

قسط چہار دہم

مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق تھی۔ اس کا حال مولانا ممدوح نے اپنے قلم سے بالتفصیل لکھا ہے۔ میں نے کئی اور کتابوں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ مجھے مولانا ثناء اللہ صاحب کے بیان میں کوئی مبالغہ یا غلط بیانی یا اخفائے حق یا تلبیس حق و باطل کا نشان نہیں ملا۔ لہٰذا میں مولانا کی تحریر کو یہاں بجنسہ نقل کئے دیتا ہوں۔ میری نگاہ میں اس معاملہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن اس پر میں مولانا کے بیان کے اختتام پر بحث کروں گا اور اپنا نظریہ ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کروں گا۔ ”وبالله التوفیق“

سوم ........ مولانا ثناء اللہ کی موت: مولانا صاحب اپنی کتاب تاریخ مرزا میں لکھتے ہیں۔ ”جب میری عمر کوئی ١٧، ١٨ سال کی تھی۔ میں بشوق زیارت بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان گیا۔ ان دنوں مرزا قادیانی ایک معمولی حیثیت میں تھے۔ مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے جو وہاں دیکھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دل میں جو ان کی نسبت خیالات تھے۔ وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہو گئے۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں ان کے مکان پر دھوپ میں بیٹھا تھا۔ وہ آئے آتے ہی بغیر اس کے کہ السلام علیکم کہیں یہ کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔ کیا کام کرتے ہو۔ میں ایک طالب علم علماء کا صحبت یافتہ اتنا جانتا تھا کہ آتے ہی السلام علیکم کہنا سنت ہے۔ فوراً میرے دل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریق کی پرواہ نہیں کی۔ کیا وجہ ہے۔ مگر چونکہ حسن ظن غالب تھا۔ اس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔

جن دنوں آپ نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا۔ میں ابھی تحصیل علم سے فارغ نہیں ہوا تھا۔ آخر بعد فراغت میں نے مرزا قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ دل میں تڑپ تھی۔ استخارے کئے، دعائیں مانگیں۔ خواب دیکھے جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے مجھے اپنے مخالفوں میں سمجھ کر مجھ کو قادیان میں پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی۔ جس دعوت کے الفاظ یہ ہیں۔ ”مولوی ثناء اللہ اگر سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کریں اور ہر ایک پیش گوئی کے لئے ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور آمد و رفت کا خرچ اور کرایہ علیحدہ۔“

(اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٧)

یہ بھی لکھا کہ: ”یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیش گوئی میں نے لکھی ہے۔ تو

٥٩

صفحہ ١٨٠

گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور دربدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔ بلکہ ہم اور پیش گوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کریں گے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیش گوئی سو روپیہ دیتے جاویں گے۔ اس وقت لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا۔ تب بھی ایک لاکھ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔ جس حالت میں وہ دو آنے کے لئے دربدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن اور وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔ ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا ان کے لئے ایک بہشت ہے۔ لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے پابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو لعنت ہے۔ اس لاف وگزاف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”لا تقل ما ليس لك بہ علم“ گمراہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی۔ کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے جو بیوجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گزرتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٢ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢)

پھر یہ لکھا کہ : ”واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔

آئیں گے اور سچی پیش گوئیوں کی اپنی قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔

وہ پہلے مریں گے اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلدتر ان کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

انجام اس کا یہ ہوا کہ میں نے ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء مطابق ١٠؍شوال ١٣٢٠ھ کو قادیان پہنچ کر مرزا قادیانی کو اطلاعی خط لکھا جو درج ذیل ہے۔ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! بخدمت جناب مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان، خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١، ١٣ قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع

٦٠

صفحہ ١٨١

ت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور ت ہوگی۔ بلکہ ہم اور پیش گوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کے موافق فی پیش گوئی سو روپیہ دیتے جاویں گے۔ اس وقت لاکھ سے س اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے ی ایک لاکھ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔ جس حالت میں وہ ب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن اور ۔ ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا ان کے لئے ایک بہشت ہے۔ لیکن ت توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو لعنت ہے۔ اس لاف جمع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ ل ما ليس لك به علم “ گمراہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے ب کی۔ کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے جو تی ہے جو بے شرمی سے گذرتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

اضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے

دیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں ں کی اپنی قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔ س چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلدتر ی گی۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

کہ میں نے ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء مطابق ١٠؍شوال ١٣٢٠ھ کو قادیان پہنچ ا لکھا جو درج ذیل ہے۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بخدمت جناب ادیان، خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١، ١٣ ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع

٦٠

رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیش گوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرراً آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔“

(راقم ابوالوفاء ثناء اللہ، مورخہ ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء)

مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! از طرف عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ۔ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشین گوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رفع کرادیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگر چہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت موسیٰ پر یا حضرت یونس پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشین گوئیوں پر زد نہ آئے۔ دوسری یہ شرط ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنا دیا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں

٦١

صفحہ ١٨٢

آئے۔ چوروں کی طرح آگے اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت خرچ نہیں کر سکتے۔ یادرہے کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں۔ بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے۔ اوّل صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو تنبیہ کی جاوے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سنا دیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کوئی ہرج نہیں ہے۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سناؤ گا کہ اس پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا جواب یہ ہے۔ اسی طرح تمام وسواس دور کر دیئے جاویں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ آپ کو بات کرنے کا موقع دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک میں اس جگہ ہوں بعد میں ١٥ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ کم فرصتی ہے۔ مگر چودہ جنوری ١٩٠٣ء تک ٣ گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خدائے تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔

سوچ لو، دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسے دور کرا لیتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو اپنے وسواس دور کرانے میں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے۔ ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں...... اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں۔ قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جائیں، قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اوّل چونکہ میں رسالہ ”انجام آتھم“ میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اس عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جائے گا کہ آپ اوّل ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیش گوئی پر ہو۔ ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر لکھ کر پیش کریں۔ جس کا مطلب یہ ہو کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کی رو

٦٢

صفحہ ١٨٣

آگئے اور ہم ان دنوں باعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے کر سکتے ۔ یادر ہے کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ دع کریں۔ بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم بکم اس لئے کہ لگ نہ ہو جائے۔ اوّل صرف ایک پیش گوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو تنبیہ کی جاوے گا کہ اگر لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں۔ ہم خود پڑھ تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز پیش گوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح تمام وسواس دور کر دیئے جاویں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ کرنے کا موقع دیا جاوے تو یہ ہر گز نہیں ہوگا۔ چودھویں جنوری ١٩٠٣ء میں ١٥؍ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ کم فرصتی ہے۔ ٣ گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک یہ طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا خدائے تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔

کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک گھنٹہ جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسے صد ہا آدمی آتے ہیں۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔ اس کو یں اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے۔ ان کی تو اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں۔ قادیان سے بغیر تصفیہ کے کر کرتا ہوں۔ اوّل چونکہ میں رسالہ ”انجام آتھم“ میں خدا تعالیٰ سے قطعی ا سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اس عہد کے مطابق قسم کھاتا کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جائے گا کہ آپ اوّل نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیش گوئی پر ہو۔ ایک سطر یا دو سطر حد س کا مطلب یہ ہو کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کی رو ٦٢

سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا۔ جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں۔ پھر دوسرے دن اسی طرح دوسری لکھ کر پیش کریں تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا۔ اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین۔ سو میں اب دیکھوں گا کہ آپ سنت نبوی کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں۔ یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں اور چاہئے کہ اوّل آپ مطابق اس عہد مؤکد قسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں جمع کیا جائے گا اور آپ کو بلایا جائے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وسواس دور کر دیئے جائیں گے۔“

(مرزاغلام احمد بقلم خود)

قسط پانزدہم

مولانا ثناء اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس خط کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ میں مایوس ہو جاتا۔ مگر ارادہ کے مستقل آدمی سے یہ امید غلط ہے کہ وہ ایک آدھ مانع پیش آنے سے مایوس ہو جائے۔ اس لئے میں نے پھر ایک خط لکھا جو درج ذیل ہے۔

”الحمدللہ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی، اما بعد! از خاکسار ثناء اللہ۔ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب! آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا۔ وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا جب کہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١، ١٣ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہی صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے بجز العادۃ طبعیۃ ثانیہ کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیاز مند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیش گوئیوں کو جھوٹی ثابت کروں تو فی پیش گوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کا پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹے تجویز کرتے ہیں۔ ”تلك اذا قسمة ضیزی“ بھلا یہ تحقیق کا طریق ہے۔ میں ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے جائیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا ٦٣

صفحہ ١٨٤

رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ نے مجھے در دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی جس سے عہدہ برآ میں امرتسر میں ہی بیٹھا ہوا ہو سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر میں چونکہ اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلانیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹہ کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ آپ مجمع عام پسند نہیں کرتے۔ اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں گے۔ جو پچیس پچیس سے زائد نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمان نوازی اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہوگی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کارروائی آج ہی شروع ہو جاوے۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث میں موجود ہے۔

(١١؍جنوری ١٩٠٣ء)

اس کا جواب جناب مرزا قادیانی نے خود نہیں لکھا۔ بلکہ آپ کی طرف سے مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے لکھا جو درج ذیل ہے:۔ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ، حامداً ومصلیاً“ مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزمان، مسیح موعود، مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے۔ جن کی طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری ان سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقومہ جواب رقعہ سامی میں قسم کھا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ طلب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے ہیں کہ جلسہ محدود ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ کل قادیان وغیرہ کے اہل الرائے مجتمع ہوں تا کہ حق و باطل سب پر واضح ہو جائے۔ والسلام علٰی من اتّبع الهدٰی !

(مورخہ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء)

٦٤

صفحہ ١٨٥

گواہ شد محمد سرور وابوسعید عفی عنہ۔ خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزمان۔ بس اب ناامیدی ہوگئی تو میں اپنے مصاحبوں سے یہ کہتا ہوا چلا آیا۔

ہمہ شوق آمدہ بودم ہمہ حرمان رفتم

مولانا صاحب آگے چل کر رقم فرماتے ہیں۔

بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے
بلا یہ کون لیتا جان پر لیتے تو ہم لیتے

میرا روئے سخن مرزا قادیانی کے ساتھ اور بزرگان علمائے کرام کے بعد شروع ہوا۔ مگر کیفیت میں ان سے بڑھ گیا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے آخری نظر عنایت جو مجھ پر کی خود انہی کے لفظوں میں درج ذیل ہے فرماتے ہیں۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

”بسم اللہ الرحمن الرحیم . نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم . یستنبؤنك احق هو قل ای و ربی انہ الحق“ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ، مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور بہت سے میرے پر حملے کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ

٦٥

صفحہ ١٨٦

محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، اگر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعاء کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر قدیر جو علیم و خبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!

مگر اے میرے کامل و صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین ! یا رب العالمین۔ میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت ”لا تقف ما لیس لك بہ علم“ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ جو تو نے اے میرے آقا میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین ! ربنا افتح بیننا وبين قومنا بالحق وانت خير

٦٦

صفحہ ١٨٧

الفاتحین ۔ آمین !بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

(مرزا غلام احمد ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٧٨، ٣٧٩)

اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری یوں چھپی۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے ہی اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ: ”اجیب دعوۃ الداع“ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔ (مرزا)

(اخبار بدر قادیان ٢٥ اپریل ص ٧ کالم ٢)

نتیجہ یہ ہوا کہ جناب مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو انتقال کر گئے اور مولانا ثناء اللہ صاحب بفضل تعالیٰ اب تک زندہ موجود ہیں۔

قسط شانزدہم

چہارم...... پیش گوئی سلطان محمد : مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا تھا کہ مرزا سلطان محمد صاحب ٢١ اگست ١٨٩٤ء تک ضرور فوت ہو جائیں گے اور یہ تاریخ ہر گز نہیں ٹل سکتی۔ ملاحظہ ہو (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو بہت ہی اہم اور عظیم الشان قرار دیا ہے۔ لیکن جس صاحب کے متعلق یہ پیش گوئی تھی وہ تاریخ مقررہ سے ٢٩ سال بعد تک تو میرے علم کے مطابق زندہ تھے۔ ان کی تاریخ وفات مجھے محفوظ نہیں۔ لیکن اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تائب ہو کر مرے اور مرزائی ہو چکے تھے۔ لیکن ایک نہایت ہی عزیز اور شریف سید دوست نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ مرزائی نہیں ہوئے تھے۔ لہٰذا یہ ایک اور پیش گوئی ہے جو غلط ثابت ہوئی۔

ف....... جناب اب بھی زندہ ہیں۔ مجھے ان کے ایک اور ہمنام کی وجہ سے مغالطہ لگا۔ جس کا مجھے افسوس ہے۔ مصنف!

پنجم...... ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب: عرصہ بیس سال تک مرزا قادیانی کے مرید رہے۔ آخر ان سے علیحدہ ہوئے اور مرزا قادیانی کے برخلاف قلم اٹھایا۔ بلکہ دعویٰ الہام سے بھی مقابلہ کی ٹھہری۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا آخری الہام مرزا قادیانی کی موت کے متعلق شائع کیا۔ جس کا ذکر مرزا قادیانی نے مع جواب خود کیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی کتاب (چشمہ معرفت

٦٧

صفحہ ١٨٨

ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٦) سے لے کر میں درج ذیل کرتا ہوں ۔ ”ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر ٢٠ برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت ﷺ کے نجات ہو سکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف ۔اس لئے میں نے منع کیا۔ مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر میں نے اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے یہ پیش گوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا ۔“

اس مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی بتائی ہوئی مدت کے اندر اندر ہی (٢٦ مئی ١٩٠٨ء) کو فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب میرے علم کے مطابق ١٩١٩ء تک زندہ سلامت رہے۔ مجھے ان کی تاریخ وفات محفوظ نہیں۔ لیکن اس کا علم غیر ضروری ہے اور اس مبحث سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

ششم...... طاعون: مرزا قادیانی کی زندگی میں پنجاب میں مرض طاعون نے وباء کی صورت اختیار کر لی۔ اس پر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٢ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٦) پر لکھا کہ : ”خدا نے اپنی سنت کے مطابق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا اور اس کی قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی۔ تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جائے ۔“ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر کے لوگ مبتلائے عذاب

٦٨

صفحہ ١٨٩

ہوئے تھے۔ جس نے طاعون کی شکل اختیار کر لی تھی۔ لہٰذا لازم تھا کہ مرزا قادیانی پر ایمان لانے والے لوگ اس وبا سے محفوظ رہتے۔ لیکن شاید کوئی صاحب اس بات میں شک کریں کہ مرزا قادیانی نے جس عذاب کا ذکر کیا ہے وہ طاعون ہی ہے۔ لہٰذا میں ان کی تحریر کا ایک اور حوالہ پیش کئے دیتا ہوں۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (دافع البلاء ص١٠، خزائن ج١٨ص٢٣٠) پر رقم فرما ہیں۔ ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

”رسول کا تخت گاہ“ تو مرزا قادیانی کی اردو ہے۔ لیکن اس سے اس وقت غرض نہیں۔ مرزا قادیانی کی اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ چونکہ وہ نبی اللہ تھے اور چونکہ وہ قادیان میں مبعوث ہوئے تھے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ لیکن ؎

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

مرزا قادیانی کی زندگی میں طاعون قادیان میں پھیلا اور مرزا قادیانی کے متعدد مرید اس کی نذر ہوئے۔ مریدوں کے متعلق تو مرزا قادیانی کے حامی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا ایمان مضبوط نہ تھا۔ یا وہ دل میں مرتد ہو چکے تھے۔ لہٰذا عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے۔ لیکن ”نبی اللہ“ کی تخت گاہ میں طاعون کا نبی موصوف کی پیش گوئی کے خلاف پھیل جانا ایک ایسا واقعہ ہے۔ جس کی حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا اور یہی حقیقت جناب مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی تغلیط کے لئے کفایت کرتی ہے۔ مزید بحث کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

اب تک مرزا قادیانی کی جن پیش گوئیوں پر میں نے اظہار خیال کیا ہے وہ سب موت سے تعلق رکھتی ہیں۔ طاعون کے متعلق آپ کی پیش گوئی مرگ انبوہ سے تعلق رکھتی ہے اور باقی تمام پیش گوئیوں میں غیر مشکوک وصریح الفاظ میں کسی شخص کے کسی مقررہ میعاد کے اندر فوت ہونے کی پیش گوئی موجود ہے۔ میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ تمام پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔

قسط ہفتدہم

لیکن لوگوں کی موت کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اگر غلط ثابت ہوئیں تو مقام تعجب نہیں۔ اس لئے کہ قرآن پاک پر ایمان رکھنے والا مسلمان ایمان رکھتا ہے کہ:

٦٩

صفحہ ١٩٠

ساعة ولا يستقدمون“ نہ ایک پل پر پیچھے ہی ہٹا سکتے ہیں اور نہ آگے ہی بڑھا سکتے ہیں۔ گویا میعاد حیات کم و بیش نہیں ہو سکتی۔

بڑھا بھی سکتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت یہ ہے کہ اس کو نہ گھٹائے نہ بڑھائے۔ لہٰذا یہ سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی ممکن نہیں اور نہ تحویل ہی ممکن ہے۔

فوت ہوگا۔

ان حالات میں سوائے اس شخص کے جو مامور من اللہ ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے خود آگاہ کر دے کہ فلاں شخص کی میعاد حیات، فلاں وقت فلاں مقام اور فلاں طریق پر ختم ہوگی۔ کوئی شخص کسی دوسرے انسان کے متعلق یا اپنے متعلق یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کس طرح اور کب فوت ہوگا اور اگر اللہ جل جلالہ خود کسی شخص کو ایسا علم دے تو وہ غلط نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اللہ کے پاس ام الکتاب ہے اور اس کے علم سے کوئی چیز خارج نہیں۔ لیکن خداوند کریم کے بتانے کے بغیر اگر کوئی شخص کسی کی یا اپنی موت کے متعلق مقام وقت یا سبب موت کی پیش گوئی کرے تو اس کا غلط ثابت ہونا یقینی ہے۔

مرزا قادیانی نے مختلف آدمیوں کے انتقال کے متعلق جو پیش گوئیاں کیں۔ چونکہ وہ سب غلط ثابت ہوئیں۔ لہٰذا اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نہیں ہوا۔ اگر وہ ایسی پیش گوئیاں الہام کی بناء پر کرتے یا وہ مستجاب الدعوات ہوتے تو ان کی پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعاء کو سن کر ان پر افراد متعلقہ کی میعاد حیات کا راز ظاہر کر دیتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کے خلاف یہی ایک دلیل کافی ہے۔

٧٠

کہ وہ خود اپنی موت کے ورنہ میں مرزا قادیانی ک بیٹھے تھے کہ پیک اجل لیکن انہوں مریں گے یا مدینہ میں میں قاضی محمد سلیمان صا یا مدینہ کی زیارت ہرگز ن صحیح نکلی اور مرزا قادیانی اخبار الحکم ق اخبار مذکور اپنے غیر معمو

وفات مسیح

برادران!

موعود مہدی معہود مرزا کوئی دماغی کام زور س تھی اور چونکہ دل سخت واپس آ جایا کرتی تھی۔

لیکن ٢٥ مئی کی شام کو گئے تو واپسی پر حضور کو ہ فرماتے تھے۔ مجھے حکم ایک دست آنے پر طب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی آنے سے آرام آجا۔ ایک اور بڑا دست آ صاحب اور خواجہ کمال سے طلب کیا اور جب

صفحہ ١٩١

کہ وہ خود اپنی موت کے مقام کے متعلق سچی پیش گوئی نہ کر سکے۔ میں بات کو طول دینا نہیں چاہتا۔ ورنہ میں مرزا قادیانی کی تحریروں سے ثابت کر سکتا ہوں کہ وہ ابھی عود شباب کی امید میں لگائے بیٹھے تھے کہ پیک اجل نے انہیں آ لیا اور وہ اس دارفانی سے انتقال فرمانے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن انہوں نے اپنی موت کے متعلق صریح پیش گوئی کی تھی۔ یعنی یہ کہ: ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ ملاحظہ ہو (میگزین ١٤؍جنوری ١٩٠٦ء، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥) ان کے مقابلہ میں قاضی محمد سلیمان صاحب مصنف کتاب رحمۃ اللعالمین نے پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی کو مکہ یا مدینہ کی زیارت ہرگز نصیب نہ ہوگی۔ واقعات اس امر کے شاہد ہیں کہ قاضی صاحب کی پیش گوئی صحیح نکلی اور مرزا قادیانی لاہور میں فوت ہوئے۔ آپ کو عمر بھر میں حجاز کی زیارت کا موقعہ نہیں ملا۔ اخبار الحکم قادیان سے ایک اقتباس آپ کی موت کے متعلق نقل کرتا ہوں۔ ملاحظہ ہو اخبار مذکور اپنے غیر معمولی ضمیمہ مورخہ ٢٨؍مئی ١٩٠٨ء میں رقم طراز ہے۔

وفات مسیح

برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے۔ حضرت امامنا مولانا حضرت مسیح موعود مہدی معہود مرزا قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کی دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٥؍مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن ”پیغام صلح“ کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نور الدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آ گیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور مجھے، خلیفہ المسیح مولوی نور الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے

٧١

صفحہ ١٩٢

سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے صبح ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جاملی۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

یہ اقتباس تو مقام و سبب موت کے متعلق تھا۔ اب میعاد حیات کو لیجئے۔ مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق متعدد پیشین گوئیاں کی تھیں جو سب غلط ثابت ہوئیں۔ آپ کی ان پیش گوئیوں میں دو چار بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔

ہوا کہ: ”اے مرزا ہم تجھ کو اسی (٨٠) سال کی عمر دیں گے۔ یا اس کے قریب۔“

القلوب ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢) پر لکھتے ہیں کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ: ”میں ان کاموں کے لئے تجھے ٨٠ برس یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال اسی برس سے زیادہ عمر دوں گا۔“

مجھے اطلاع دی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“

ہوگی۔“ لیکن مرزا قادیانی ٧٥ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ لہٰذا یہ سب الہام غلط ثابت ہوئے۔ آپ کے خلیفہ اوّل اور اخبار بدر نے یقیناً سعی کی ہے کہ آپ کی عمر کو ٧٤ سال تک بڑھا دیں۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ اس امر کا فیصلہ بھی مرزا قادیانی خود کر گئے ہیں۔

آپ کتاب (تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) پر لکھ گئے کہ: ”جب میری عمر ٤٠ برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس سال پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھ پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

اس کے معنی ہیں کہ ١٣٠١ھ میں مرزا قادیانی کی عمر چالیس سال تھی۔ اگر کم ہو تو ہو۔ زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے الفاظ ”میری عمر چالیس برس تک پہنچی۔“ کے یہی

٧٢

معنی ہو سکتے ہیں اور آپ فوت ہ زیادہ نہیں ہو سکتی۔ پس ثابت ہوا تھے۔ اس کے متعلق آپ کے تما نہیں ہو سکتا۔

قسط ہشتم..... محمدی بیگم

مرزا قادیانی کی پیش ایک اور اہم اور ایسی پیش گوئی کارناموں کی نسبت زیادہ زیر بح کے نکاح کے متعلق مرزا قادیانی اساس بن چکی ہے اور بعض اوقا چاہتا تھا کہ اس پیش گوئی پر بحث ہے۔ یعنی یہ کہ بعض مرزائی دوست کے لئے کمتر یا نامناسب نہیں ج (سید) حبیب نے مرزا قادیانی مسئلہ پر اس نے خامہ فرسائی کیلئے قادیان کے دلائل کا لوہا ماننا تھا۔

اندریں حالات میں سپرد قلم کردوں۔ لیکن جو لوگ اس ہیں۔ وہ اس قسط کے مطالعہ کی تکل

ہشتم..... قبل از

کروں۔ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں اور ان کے شوہر بھی زندہ اور سلام کا انہیں ناگوار گزرنا یقینی ہے۔ لہ محمدی بیگم صاحبہ اور م یعنی محترمہ موصوفہ مرزا قادیانی ۔ دار تھیں اور رشتہ بھی کئی طرح کا تھ

صفحہ ١٩٣

معنی ہو سکتے ہیں اور آپ فوت ہوئے ١٣٢٦ھ میں۔ لہٰذا آپ کی عمر ٦٥ ، ٦٦ برس سے کسی طرح زیادہ نہیں ہو سکتی۔ پس ثابت ہوا کہ اپنے انجام کے مقام اور وقت سے مرزا قادیانی بالکل ناآگاہ تھے۔ اس کے متعلق آپ کے تمام الہامات سچے نہ تھے۔ لہٰذا ان کا یہ دعویٰ کہ وہ نبی تھے درست نہیں ہو سکتا۔

قسط ہشتم مہم...... محمدی بیگم

مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کے متعلق کوئی بحث مکمل نہیں ہو سکتی۔ جب تک ان کی ایک اور اہم اور ایسی پیش گوئی کا ذکر نہ کیا جائے۔ جو شاید مرزا قادیانی کے تمام دوسرے کارناموں کی نسبت زیادہ زیر بحث آ چکی ہے۔ میری مراد محترمہ محمدی بیگم صاحبہ سے مرزا قادیانی کے نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی سے ہے۔ یہ پیش گوئی بے شمار مرتبہ مباحثہ ومجادلہ کا اساس بن چکی ہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے جانبین سے غلاظت بھی پھینکی گئی۔ لہٰذا میں چاہتا تھا کہ اس پیش گوئی پر بحث نہ کروں۔ لیکن اس کو قلم زد کرنے میں ایک اندیشہ کا امکان ہے۔ یعنی یہ کہ بعض مرزائی دوست میری نظر سے ایسے گزرے ہیں جو کسی دلیل کو حصول مقاصد کے لئے کہتر یا نامناسب نہیں جانتے۔ امکان ہے کہ وہ لوگوں سے یہی کہنا شروع کر دیں کہ (سید) حبیب نے مرزا قادیانی کے خلاف قلم اٹھایا اور سب کچھ لکھا۔ لیکن محمدی بیگم کے نکاح کے مسئلہ پر اس نے خامہ فرسائی نہیں کی۔ اس لئے کہ وہ اس میں احمدی نقطہ نگاہ کا مؤید تھا یا کم از کم قادیان کے دلائل کا لوہا مانتا تھا۔

اندریں حالات میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق بھی میں اپنے استدلال کو سپرد قلم کر دوں۔ لیکن جو لوگ اس بحث میں سوقیانہ انداز گفتگو یا بازاری طرز تحریر کے متوقع رہتے ہیں۔ وہ اس قسط کے مطالعہ کی تکلیف گوارا نہ فرمائیں کہ انہیں مایوسی ہو گی۔

ہشتم ...... قبل ازیں کہ میں اس مسئلہ کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا ذکر کروں۔ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ محترمہ محمدی بیگم صاحبہ اب تک بقید حیات ہیں۔ عیالدار ہیں اور ان کے شوہر بھی زندہ اور سلامت مقام پٹی ضلع لاہور میں موجود ہیں۔ اس موضوع پر تجدید بحث کا انہیں ناگوار گزرنا یقینی ہے۔ لہٰذا میں ان سے بہ ادب عذرخواہ ہوتا ہوں۔

محمدی بیگم صاحبہ اور مرزا قادیانی کا وہ تعلق جو مرزا قادیانی چاہتے تھے پیدا نہیں ہو سکا۔ یعنی محترمہ موصوفہ مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئیں۔ لیکن ویسے وہ مرزا قادیانی کی قریبی رشتہ دار تھیں اور رشتہ بھی کئی طرح کا تھا۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے۔

٧٣

صفحہ ١٩٤

محمدی بیگم صاحبہ مرزا قادیانی کی بھانجی یعنی ہمشیرہ زادی تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ محمدی بیگم صاحب کی والدہ مرزا قادیانی کی سگی ہمشیرہ نہ تھیں۔ بلکہ وہ مرزا قادیانی کی چچازاد بہن تھیں۔ تاہم چچازاد بہن کی اولاد ہونے کی وجہ سے محمدی بیگم ان کی بھانجی ضرور تھیں۔

ماموں کے لڑکے سے بیاہی ہوئی تھیں۔ گویا وہ مرزا قادیانی کی بھاوجہ تھیں اور محمدی بیگم صاحبہ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کی بھتیجی بھی ہوتی تھیں۔

رشتے اور بھی تھے۔ لیکن یہ دو رشتے قریب ترین تھے۔ یعنی یہ کہ محترمہ محمدی بیگم صاحبہ مرزا قادیانی کی ہمشیرہ زادی یعنی بھانجی اور برادر زادی یعنی بھتیجی بھی تھیں۔ لیکن تقاضائے انصاف یہ ہے کہ میں تسلیم کروں کہ شرعاً مرزا قادیانی ان سے نکاح کر سکتے تھے۔ لہٰذا بروئے دستور و عرف عام خواہ بھانجی اور بھتیجی سے مطالبہ نکاح معیوب کیوں نہ ہو شرعاً جو بات جائز ہے اس پر رشتہ داری کے نام سے انگشت اٹھانا خارج از بحث ہے۔

محمدی بیگم صاحبہ سے نکاح کا خیال مرزا قادیانی کو جس طرح سے پیدا ہوا وہ بھی قابل ذکر ہے۔ سنئے محمدی بیگم صاحبہ کے والد مرحوم کا اسم گرامی احمد بیگ صاحب تھا۔ ان کی ایک بہن تھیں جو محمدی بیگم کی پھوپھی ہوتی تھیں۔ اس خاتون کا شوہر عرصہ سے مفقود الخبر تھا۔ احمد بیگ صاحب نے چاہا کہ بہن کی جائیداد انہیں بذریعہ ہبہ مل جائے اور ان کی بہن کی مرضی بھی یہی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کی منشاء اور ان کی رضا مندی کے سوا قانوناً ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا ان کو رضا مند کرنے کے لئے احمد بیگ کی بیوی صاحبہ یعنی محمدی بیگم کی والدہ محترمہ مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اس ہبہ نامہ کے متعلق آپ کی رضا مندی چاہی۔ مرزا قادیانی نے جواب میں فرمایا ہم استخارہ کرنے کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے۔

کچھ عرصہ تک جواب کا انتظار کرنے کے بعد محمدی بیگم کے والد صاحب خود مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہبہ نامہ کا ذکر چھیڑا۔ مرزا قادیانی نے پھر استخارہ کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن ان کے اصرار پر اسی وقت حجرہ میں تشریف لے گئے اور استخارہ کیا۔ مگر جواب میں جو وحی نازل ہوئی اس میں آپ کو ہدایت کی گئی کہ آپ محمدی بیگم کا رشتہ طلب کریں اور اگر یہ رشتہ مل جائے تو سائل کی امداد کریں۔ ورنہ ہرگز اس کی امداد نہ کریں۔ اس خیال سے کہ

٧٤

صفحہ ١٩٥

لوگ اس ہبہ کے مسئلہ کو محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کے مطالبہ نکاح کا محرک ماننے میں شاید تامل کریں۔ لہٰذا میں مرزا قادیانی کی ایک تحریر بطور ثبوت پیش کرتا ہوں۔ یہ تحریر عربی میں ہے لیکن اس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔ یہ تحریر کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢ ، ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ٥٧٢) پر موجود ہے۔ وہو ہذا!

”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کردی ہے۔ پس وہ تیوری چڑھا کر چلا گیا۔“

الہام کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نکاح کی صورت میں ہبہ کی اجازت دینے پر تیار تھے۔ اس کے علاوہ اس میں محمدی بیگم کے والد صاحب کے لئے اقرار کی صورت میں انعام واکرام کا لالچ بھی موجود تھا اور انکار کی صورت میں دھمکی بھی موجود تھی۔ لیکن تعجب ہے کہ احمد بیگ صاحب پر نہ لالچ کا اثر ہوا اور نہ تخویف کا، اور اس نے رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔

مجھے معلوم نہیں کہ اس انکار کی وجوہات کیا تھیں۔ لیکن ممکن ہے کہ محمدی بیگم چونکہ مرزا قادیانی کی بھانجی اور بھتیجی تھیں۔ لہٰذا احمد بیگ صاحب کو اس میں تکلیف محسوس ہوئی۔ علاوہ ازیں محمدی بیگم صاحبہ مرزا قادیانی کے سگے فرزند فضل احمد صاحب کی بیوی یعنی مرزا قادیانی کی بہو کی (ماموں زاد) بہن بھی تھیں۔ لہٰذا بہو کی بہن کا بہو کے خسر کے ساتھ نکاح شاید کسی کو بھایا نہ ہوگا۔

٧٥

صفحہ ١٩٦

علاوہ ازیں مرزا قادیانی اور محمدی بیگم صاحب کی عمروں میں بھی بہت تفاوت تھا اور اگرچہ شرعاً یہ کوئی عیب نہیں کہ میاں بیوی کی عمروں میں تفاوت ہو اور آئے دن تفاوت عمر کے بہت زیادہ ہونے کے باوجود لوگوں میں نکاح ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم لوگ بالعموم اپنی بیٹی کسی معمر شخص کو دینا پسند نہیں کرتے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ شخص مذکور صاحب عیال ہو۔ بیوی زندہ موجود رکھتا ہو اور اس کی اولاد جوان برسرکار اور عیالدار ہو۔ میں احمد بیگ کے انکار کو طبعی سمجھتا ہوں اور ان کو مجرم نہیں سمجھتا۔ مجھے تعجب ہے کہ خداوند کریم نے ایک شخص کو محض اس لئے (بقول مرزا قادیانی) قہر کے لئے چن لیا کہ اس نے اپنی لڑکی کو خدا کے نبی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شاید انبیاء علیہم السلام کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ انہوں نے کسی سے نکاح کرنا چاہا ہو اور عورت کا ولی محض انکار کی وجہ سے قہر الہی کا مستوجب بن گیا ہو۔

مرزا قادیانی اور محمدی بیگم صاحبہ کی عمروں میں جو فرق تھا اس کا ثبوت بھی مرزا قادیانی ہی کی تحریر میں موجود ہے۔ چنانچہ کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤) پر عربی زبان میں ایک فقرہ موجود ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”یہ میری مخطوبہ یعنی مطلوبہ ابھی چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سال کے لگ بھگ ہے۔“

قسط نمبر دہم

ہر انسان حصول مقصد کے لئے تحریص تخویف اور خوشامد کے تمام ذرائع استعمال کرتا ہے۔ محمدی بیگم کے حصول کے لئے مرزا قادیانی نے بھی ان تمام ذرائع کو استعمال کیا۔ ان میں اور عام انسان میں فرق تھا تو صرف یہ کہ ان کی طرف سے تخویف و تحریص کے جو ذرائع استعمال میں آئے تھے ان کو الہام الہی کی منظوری بھی حاصل تھی۔ (معاذ اللہ)

مرزا قادیانی کے یہ جتا دینے کے باوجود کہ اگر محمدی بیگم کو کسی اور جگہ بیاہا تو اس کا خاندان مصائب میں مبتلا ہوگا۔ محترمہ موصوفہ کے والد ماجد نے اس کی شادی دوسری جگہ کردی۔ اس کے بعد بھی مرزا قادیانی اس خیال سے باز نہ آئے اور وہ محمدی بیگم کے حصول کے لئے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے رہے۔ ان کو الہام ہوا کہ خداوند تعالیٰ تمام موانع کو دور کرنے کے بعد انجام کار محمدی بیگم ان کو دلوا دے گا۔ ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء۔ مگر یہ خیال یا یہ الہام بھی غلط نکلا اور مرزا قادیانی کو تادم مرگ محمدی بیگم سے ملاقات تک نصیب نہ ہوئی۔

مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے متعلق جو الہامات شائع کئے وہ قابل ملاحظہ ہیں اور میں

٧٦

صفحہ ١٩٧

ان میں سے بعض کو درج ذیل کرتا ہوں ۔ سب سے پہلے مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا۔ اس اشتہار کی تاریخ (١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨) ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے۔ " كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محموداً " انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔ جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی رائے سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی۔"

اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ

٧٧

صفحہ ١٩٨

لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیش گوئی کا مفصل بیان مع اس کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہر کر دیا ۔ اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔ جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی۔ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو بلا شبہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور یہ پیش گوئی سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جسے ان کے حال سے خبر ہوگی۔ وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا۔ ہم نے اس پیش گوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا بار بار کسی متعلق پیش گوئی کی دل شکنی نہ ہو۔ لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہوگا۔ اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار سے ملے گا کہ خداوند تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔‘‘

’’ اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍اپریل ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہ ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ’’الحق من ربك فلا تكونن من الممترين‘‘ یعنی بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

قریبی مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے

٧٨

گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی ۔ آئے۔‘‘ (انتہیٰ ملخصاً)

میرا زندہ رہنا، دوم، نکاح کے وقت اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اِ ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے ک میرے نکاح میں آجانا۔ اب آ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ ک ہے۔‘‘

ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہین فوت ہو۔ (٢) اور پھر داماد اس ک (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور واقعات کے پورے ہونے تک ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسا

مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد ب تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے

قسط ہشتم

محترمہ محمدی بیگم ہ الہامات شائع کئے ان میں ۔ الہامات جو اسی قبیل کے ہیں ما

صفحہ ١٩٩

گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔“ (انتہی ملخصاً)

میرا زندہ رہنا، دوم، نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں۔ اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایمان سے کہیں کہ یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور وہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیش گوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ٣٢٥)

ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔ (١) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“ (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦)

قسط ہشتم

محترمہ محمدی بیگم صاحبہ سے زوجیت کا تعلق پیدا کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے جو الہامات شائع کئے ان میں سے بعض میں قسط گذشتہ میں بطور نمونہ پیش کر چکا ہوں۔ چند اور الہامات جو اسی قبیل کے ہیں ملاحظہ فرمائیے۔

-٧٩-

صفحہ ٢٠٠

آنا تقدیر مبرم ہے۔ ”لا تبديل لكلمات الله“ یعنی میری بات یہ نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩٣ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١١٦)

کیا کہ میں ان (تیرے خاندان) کے لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا اور فرمایا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔“

ويردها اليك امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجنكها الحق من ربك فلا تكونن من الممترين لاتبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انا يردها اليك“

انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور عورت کو واپس تیری طرف لائے گا۔ ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس بات کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔“

(انجام آتھم ص٦٠،٦١، خزائن ج١١ص٦٠)

کرتے ہیں۔ پس میں ان کو نشان دوں گا اور تیرے لئے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو جو احمد بیگ کی عورت کی بیٹی ہے۔ پھر تیری طرف واپس لاؤں گا۔ یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کے سبب سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے۔ پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے داخل کی جائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ معرض التواء میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لفظ ”فسیکفیکہم اللہ“ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا اور اصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا۔“

٨٠

صفحہ ٢٠١

١١...... ”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام ہے جو (براہین ص ٤٩٦) میں مذکور ہے۔ ”یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة ..... يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة “ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدباطنیوں کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ص ٣٣٨)

١٢...... ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ :” يتزوج ويولد له “ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

١٣...... ”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں درج ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے۔ وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش

٨١

صفحہ ٢٠٢

گوئی کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا۔ جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خدا نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آ جائے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں۔ ہو کر رہیں گی۔“

(اخبار الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء، مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں)

مرزا قادیانی کے وہ اکثر الہامات ختم ہوچکے۔ جن کا تعلق محمدی بیگم صاحبہ سے مرزا قادیانی کے تعلقات زن وشوہر پیدا کرنے سے تھا۔ ان الہامات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بقول مرزا قادیانی:

آئے گی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

دیئے جائیں گے اور محمدی بیگم آپ کے نکاح میں آئے گی۔ مگر ایسا بھی نہ ہوا۔

الہام صحیح ثابت نہ ہوا۔

الہام صحیح ثابت نہ ہوا۔

دے دیں گے تو ان پر انعام واکرام خداوندی کی بارش ہوگی۔ مگر انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ گویا الہامی تحریص کا انجام نہایت اندوہناک ہوا۔

وتکلیف سے ڈرایا گیا۔ مگر انہوں نے اس تخویف کی پرواہ نہ کی اور واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ اس دارالمحن میں ہر شخص جن تکالیف کا نشانہ بنتا ہے اور جن سے مرزا قادیانی کے مرید خود ان کا خاندان ان کے ورثا اور خود مرزا قادیانی بری نہ تھے۔ ان کے علاوہ محمدی بیگم صاحبہ پر یا ان کے شوہر پر یا ان کے والد ماجد پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔

٨٢

صفحہ ٢٠٣

ایسا ہوا۔ لیکن یہ ایک اتفاقی امر ہے۔ جس کی وقعت کسی صاحب دانش و بینش کی نظروں میں ایک پرکاہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتی۔

ہو جائے گا۔ لیکن وہ شخص میرے علم کے مطابق ٢١ اپریل ١٩٣٢ء تک یعنی تاریخ مقررہ سے کامل تیس سال بعد تک زندہ تھا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔

جیسی کہ بالعموم پنجاب کی ایسی عورتوں کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ سہاگن با نصیب صاحب مال اور اولاد ہوئی۔

اس مسئلہ پر ابھی بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ مگر وہ غیر ضروری ہے۔ اس لئے کہ اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے۔ وہ بہت واضح ہے۔ مرزا قادیانی کو جب مخالفین نے تنگ کیا کہ یہ سب الہامات ناکارہ ثابت ہوئے تو انہوں نے اپنی کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) پر لکھا ہے کہ: ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ: ”یا ایھا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

اس الہام کے الفاظ عجیب ہیں۔ نکاح فسخ ہو گیا یا ملتوی ہو گیا۔ ایک ایسا فقرہ ہے جس کی داد دینا آسان نہیں۔ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ اطلاع مرتے دم تک نہ دی کہ اب یہ خاتون تمہارے قبضہ میں نہیں آسکتی۔ رہا یہ مسئلہ کہ محمدی بیگم سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ توبہ کرے۔ ایک جدت ہے جس کا اس تحریر سے پہلے کہیں پتہ نہیں چلتا۔ محمدی بیگم آزاد نہ تھی۔ وہ رسم کی وجہ سے والدین کے قبضہ میں تھی۔ والدین نے اسے جس کے سپرد کیا۔ وہ ایک سعادت مند بیٹی کی طرح اپنے شوہر کے پاس گئی اور اس نے ایک شریف زادی کی طرح اس کے قدموں میں زندگی گزار دی۔ لہٰذا اس سے توبہ کا مطالبہ بے حد عجیب اور رسوم پنجاب سے خدائے تعالیٰ کی ناواقفی (معاذ اللہ) کا ایک بدیہی ثبوت ہے اور بس۔

٨٣

صفحہ ٢٠٤

قسط بست و یکم

اس بحث کی ابتداء میں نے لکھا تھا کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم صاحبہ کے حصول کے لئے تحریص و تخویف کے طریق کار کو اختیار کیا۔ الہامات نے اس پروپیگنڈا میں مرزا قادیانی کی جو مدد کی۔ وہ ان الہامات سے ظاہر ہے۔ جو اوپر درج ہو چکے ہیں اور ان کا جو نتیجہ نکلا وہ بھی ناظرین کرام ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ لیکن خاص طور پر قابل لحاظ یہ حقیقت ہے کہ خود مرزا قادیانی کو ان الہامات کے مؤثر ہونے پر اعتماد نہ تھا۔ اس لئے کہ اگر وہ ان الہامات پر اعتماد کلی رکھتے تو ان کی اشاعت پر قناعت کرتے اور حصول مقصد کے لئے دوسرے ذرائع استعمال میں نہ لاتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور غیر الہامی تحریص و تخویف کے آلات کو بھی خوب استعمال کیا۔

غیر الہامی تخویف و تحریص کی داستان بھی دلچسپ ہے۔ ذرا اس کا نمونہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ آپ نے اپنی سمدھن یعنی اپنے لڑکے فضل احمد کی ساس کو جو محمدی بیگم کی پھوپھی ہوتی تھیں۔ ذیل کا خط لکھا: ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! نحمدہ ونصلی ! والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح سمجھا سکتی ہو۔ سمجھاؤ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے اور اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنا اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سوامید رکھتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اس روز سے جو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا۔ اس طرف پر عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ تو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا۔ پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح کوشش کرنا چاہی اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر تقدیر غالب ہے۔ یادرہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس

٨٤

دن نکاح ہو گا اس دن عزت بی بی

(ملخص مجموعہ اشتہارا

ایک خط محمدی بیگم ۔ محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح محمد رسول اللہ" پر مجھے کیا ہوا ضرور ہوگا۔ محمدی بیگم میر اسلام کی بڑی ہتک ہوگی ۔ کیونکہ ناطہ نہ کریں گے تو میرا الہام جھوٹا وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ آپ اپنے جگہ رشتہ نامبارک ہوگا۔ میں نہا انحراف نہ کریں۔ جو آپ کی لڑکی

ایک ایسا ہی خط اپنے میں اپنی بے کسی، بے بسی ظاہر ک اپنے بھائی مرزا احمد بیگ (والد تمہاری لڑکی کو اپنے بیٹے فضل ا بیگ کو اس ارادہ سے منع کر دیں کا ہوں تو وہ مجھے بچائے گا۔“

باوجود ان خطوط کے بھی اپنی بیوی کو طلاق نہ دی او جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی قسموں ، احمد بیگ و فضل احمد بیگ سے قط

(دیکھو اشتہا

محمدی بیگم صاحبہ کے متعلق جو کچھ مجھے عرض کرنا تھا ۔ میں اس قصہ کو ختم کروں ۔ میں ا لحاظ سے مرزا قادیانی کے خلاف

صفحہ ٢٠٥

دن نکاح ہو گا اس دن عزت بی بی کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔‘‘

(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢٠، مورخہ ٤ مئی ١٨٩١ء، راقم مرزا قادیانی از لدھیانہ اقبال گنج)

ایک خط محمدی بیگم کے باپ مرزا احمد بیگ کو لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’آپ کی لڑکی محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح ہو چکا ہے اور مجھ کو الہام پر ایسا ایمان ہے جیسے ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ پر مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ یہ بات اٹل ہے۔ یعنی خدا کا کیا ہوا ضرور ہوگا۔ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ اگر آپ کسی اور جگہ نکاح کریں گے تو اسلام کی بڑی ہتک ہوگی۔ کیونکہ میں دس لاکھ آدمی میں اس پیش گوئی کو مشتہر کر چکا ہوں۔ اگر آپ ناطہ نہ کریں گے تو میرا الہام جھوٹا ہوگا اور جگت ہنسائی ہوگی۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنے کے معاونین بنیں۔ دوسری جگہ رشتہ نامبارک ہوگا۔ میں نہایت عاجزی سے اور ادب سے التماس کرتا ہوں کہ اس رشتہ سے انحراف نہ کریں۔ جو آپ کی لڑکی کے لئے گونا گوں برکتوں کا باعث ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ‘

ایک ایسا ہی خط اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ (والدہ عزت بی بی) کے نام بھی لکھا اور اس میں اپنی بے کسی ، بے بسی ظاہر کر کے خواہش کی کہ اپنی بیوی (والدہ عزت بی بی ) کو سمجھا دیں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ (والد محمدی بیگم ) سے لڑ جھگڑ کر اسے اس ارادہ سے باز رکھیں۔ ورنہ میں تمہاری لڑکی کو اپنے بیٹے فضل احمد سے طلاق دلوا دوں گا۔ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو اس ارادہ سے منع کر دیں۔ ورنہ مجھے خدا کی قسم کہ یہ سب رشتہ ناطہ توڑ دوں گا اور اگر میں خدا کا ہوں تو وہ مجھے بچائے گا۔‘‘

باوجود ان خطوط کے بھی مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوا اور ادھر فضل احمد نے بھی اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور اپنے والد صاحب کے گھر کو روشن تر کرنے کی مطلق پرواہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی قسموں کے مطابق مرزا قادیانی نے اپنی زوجہ اوّل اور دولڑکوں مرزا سلطان احمد بیگ وفضل احمد بیگ سے قطع تعلق کر لیا۔

(دیکھو اشتہار نصرت دین قطع تعلق از اقارب مخالف دین، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٠)

محمدی بیگم صاحبہ کے حصول کے لئے مرزا قادیانی کے الہامی اور غیر الہامی مساعی کے متعلق جو کچھ مجھے عرض کرنا تھا۔ وہ اختتام کو پہنچا۔ (الحمد اللہ علی ذالک) لیکن قبل ازیں کہ میں اس قصہ کو ختم کروں۔ میں اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری ناقص رائے میں یہ قضیہ دو لحاظ سے مرزا قادیانی کے خلاف جاتا ہے۔ اوّل ! تو یوں کہ مرزا قادیانی نے اس معاملہ کے متعلق

٨٥

صفحہ ٢٠٦

جس قدر پیش گوئیاں بھی کیں وہ (احمد بیگ مرحوم کے سوا) سب کی سب غلط ثابت ہوئیں اور دوسرے! یوں کہ مرزا قادیانی نے ناکامی سے غصہ کھا کر اپنی پہلی بیگم صاحبہ محترمہ سے قطع تعلق کر لیا۔ انہوں نے اپنی سمدھن کو یہ دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے بھائی (محمدی بیگم کے والد) کو دباؤ ڈال کر رشتہ دینے پر راضی نہ کرے گی تو اس کی لڑکی کو طلاق دلوا دی جائے گی۔ ناکامی کی صورت میں مرزا قادیانی نے اپنے لڑکے فضل احمد بیگ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ حالانکہ اس عفیفہ کا کوئی قصور نہ تھا اور وہ اپنی عمر اور حالت کے لحاظ سے محمدی بیگم صاحبہ کا رشتہ دلوانے میں کوئی بااثر مداخلت نہیں کر سکتی تھی۔

انتہاء یہ ہے کہ جب فضل احمد بیگ صاحب نے اپنے والد ماجد یعنی مرزا قادیانی کے اشارے پر ناچنے سے انکار کر دیا اور بیگناہ بیوی کو طلاق نہ دی تو مرزا قادیانی اس سے ناراض ہو گئے اور اسے عاق اور محروم الارث کر دیا۔ حالانکہ عاق بیٹے کو بھی محروم الوارث کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ میں جب اس واقعہ پر غور کرتا ہوں تو فضل احمد بیگ صاحب کی عزت میرے دل میں المضاعف ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ خدائے قدوس نے جہاں یہ حکم دیا ہے کہ کوئی فرزند والدین کے سامنے (جب وہ بہت بوڑھے ہو جائیں تو) اف بھی نہ کرے۔ وہاں یہ بھی حکم دیا ہے کہ شریعت کے خلاف والدین کے احکام کی پابندی نہ کی جائے اور کسی گروہ، قوم یا خاندان کی عداوت کی وجہ سے مسلمان کو جادۂ عدل وانصاف سے کبھی منحرف نہیں ہونا چاہئے۔

مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرزا سلطان احمد بیگ سے بھی قطع تعلق کر لیا۔ ان دونوں بھائیوں نے حفظ حدود شریعت کے لئے مالی لحاظ سے بہت بڑا نقصان اٹھایا۔ اگر وہ شریعت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کو راضی رکھتے تو آج قادیان کی لاتعداد دولت کے مالک ہوتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جزاہم اللہ تعالیٰ!

مرزا قادیانی نے خفا ہو کر جو کچھ کیا وہ ان کے ایسے بلند پایہ انسان کی شان کے لائق نہ تھا۔ مرزا قادیانی کی اردو کمزور اور پھس پھسی تھی تو کیا، وہ تبحر عالم تو تھے۔ لہٰذا یہ سب افعال ان کی شان سے بطور عالم وانسان بعید تھے تا بہ نبی اللہ چہ رسد۔

قسط بست و دوم

مرزا قادیانی کے ایسے افعال واقوال جو ایک عام انسان کی شان شایان بھی نہیں ہیں۔ اسی ایک مثال تک محدود نہیں ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے حصول میں ناکام ہو کر اپنی رفیقہ حیات اور اپنی اولاد پر سختی روا رکھی۔ بلکہ اس کی کئی مثالیں آسانی سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا

٨٦

صفحہ ٢٠٧

مرزا قادیانی کی تحریک قبول نہ کرنے کے لئے میرے پاس سولہویں دلیل موجود ہے۔

سولہویں دلیل

مرزا قادیانی کے بعض افعال واقوال پیغمبر تو کجا عام انسان کی شان کے شایاں بھی نہ تھے۔ اس کی مثالیں گنواتا ہوں تو عرض کرنا پڑے گا کہ:

سے قطع تعلق کر لیا۔

الفاظ استعمال کئے جو نہایت ہی ثقیل و نامناسب تھے۔ حضرت خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین کے زمانہ میں بھی عیسائی اور موسائی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔ لیکن صاحب، قاب قوسین او ادنیٰ نے ان کے معتقدات کی تردید نہایت مہذب الفاظ میں کی۔ جس کا شاہد قرآن ہے۔ حضور سرور کائنات نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کو نہایت اعلیٰ الفاظ میں بیان کیا اور ان کی والدہ محترمہ کی عصمت کی شہادت دی۔ قرآن پاک میں بھی ان کا ذکر فخر و مباہات سے موجود ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے برخلاف قرآن وحدیث کے ان کی شان میں رکیک الفاظ استعمال کئے۔ مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ادب مانع ہے کہ میں ان کے متعلق دلیل پیش کرنے کے خیال سے نقلاً بھی ایسے الفاظ استعمال کروں جو تہذیب سے گرے ہوئے ہیں اور ان کی والدہ محترمہ کے متعلق تو میں ہرگز کوئی برا لفظ بطور مثال بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ لہٰذا میں مرزا قادیانی کی دو تحریریں بطور مثال پیش کرتا ہوں جس میں انہوں نے عمداً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کی ہے اور اسی پر اپنی اس تحریر کے اس حصہ کو ختم کرتا ہوں۔

مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ: ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“ (معاذ اللہ! حبیب)

پھر آپ اپنی کتاب (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٢، ٢٤) پر رقم طراز ہیں کہ: ”مسیح کا حال

٨٧

صفحہ ٢٠٨

چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار متکبر خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘ یاد رہے کہ آخری الزام کی تردید خود خداوند تعالیٰ نے قرآن پاک میں کی ہے۔ یعنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

ہیں۔ حالانکہ آپ خود اس عادت کی مذمت کرتے ہوئے اپنی کتاب (کشتی نوح ص١١، خزائن ج١٩ ص١١) پر لکھتے ہیں کہ:”کسی کو گالی مت دو۔ گو وہ گالی دیتا ہو۔“

پھر اپنی کتاب (ضرورت الامام ص٨، خزائن ج١٣ ص٤٧٣) پر خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلیوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہوسکے۔“

مرزا قادیانی کے اس کلام کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے مخالفین کی بدگوئی کے مقابلہ میں کلام نرم سے کام لیتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مخالفین کو انہوں نے بے نقط گالیاں دی ہیں۔ پر اگر ایسا کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر تھا بھی تو ان لوگوں کو کوسنے کے لئے ان کی طرف سے کیا عذر پیش کیا جاسکتا ہے۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کو برا بھلا نہیں کہا۔ بلکہ ان کے دعاویٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ایسے لوگوں کے متعلق کتاب (انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) پر فرماتے ہیں کہ: ”جو شخص اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ فلاں کے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط نکلی اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں رہے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“

ہے جو خود ان کے قلم سے نکلی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ نے ادعائے نبوت سے پہلے اعلان کیا کہ آپ کو براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب شائع کرنا ہے۔ لیکن روپیہ موجود نہیں۔ لہٰذا مسلمان قیمت پیشگی روانہ کر دیں۔ اس لئے کہ اس کتاب میں حقانیت اسلام پر تین سو دلائل ہوں گے۔ لوگوں نے لاکھوں روپے روانہ کئے۔ جس کا مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا۔ آپ

٨٨

صفحہ ٢٠٩

نے تین جلدیں لکھنے کے بعد اعلان کیا کہ کتاب ایک سو جزو تک پہنچ گئی ہے اور قیمت بڑھا کر پہلے دس اور پھر پچیس روپے کر دی۔ لیکن چوتھی جلد کے خاتمہ پر آپ نے اعلان کر دیا کہ اب اس کتاب کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لی ہے اور اس کے بعد آپ نے کتاب کی اشاعت بند کر دی۔ قطع نظر اس کے کہ بقول مرزا قادیانی ، اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ تکمیل کتاب کے متعلق کیا تھا وہ اب تک پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اپنی شان یوں بیان کرتا ہے کہ ہمارا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ مرزا قادیانی نے خود اس کتاب کے متعلق اپنے مواعید کو پس پشت ڈال دیا۔ لیکن جب لوگوں نے تقاضے کئے تو آپ نے ایک اشتہار شائع کیا۔ جو (اخبار بدر قادیان مجریہ ٩؍ اگست ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٨٦، ٨٧) میں درج ہوا۔ اس کا مضمون درج ذیل ہے۔

”اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن کریم بھی باوجود کلام الہی ہونے کے ٢٣ برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدائے تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کون سا ہرج تھا۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا ہے تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی ہے۔ کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم ہوا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لے لی گئی ہے اور ایسے بہت کم لوگ ہیں جن سے دس روپیہ لئے گئے اور جن سے پچیس روپیہ لئے گئے ہوں وہ تو صرف چند ہی انسان ہیں اور پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل جو مطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے کچھ عجب نہیں۔ بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے۔ پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور وغوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتاب ہمارے پاس روانہ کر دے اور اپنی قیمت واپس لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں واپس کر دیں اور قیمت لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا۔ مگر ہم نے قیمت دے دی۔ کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری نہیں کرنا چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا نے ہم کو فراغت بخشی۔“

ناظرین کرام اس اشتہار کو بار بار پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ یہ تحریر ایک نبی تو کیا معمولی انسان کے شایان شان بھی ہے؟

٨٩

صفحہ ٢١٠

قسط بست وسوم

مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ ایسے ہیں جن کے خلاف نرم ترین الفاظ میں صدائے احتجاج بلند کرنے والا بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مرزا قادیانی کے یہ الفاظ ایک معمولی آدمی کے شایان شان بھی نہیں۔ تا بہ نبی اللہ چہ رسد۔ اس خیال سے کہ ناظرین کرام ان افعال واقوال کا موازنہ کرتے ہوئے کہیں ، اس معیار کو نظر انداز نہ کر دیں۔ جو مرزا قادیانی نے خود مقرر کیا ہے۔ میں مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ مرزا قادیانی کتاب (ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨) پر ارشاد فرماتے ہیں کہ: ” یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے۔“

مگر اپنے اس قول کے باوجود آپ نے اپنے وقت کے مولویوں کو بعض اوقات اشتعال کے بعد اور اکثر اوقات بلا اشتعال ایسی گالیاں دی ہیں کہ العظمة لله! اس سلسلہ تحریر کو ادب وتہذیب سے نبھانے کے بعد میں کوئی ایسی بات لکھنا پسند نہیں کرتا جو برادران قادیان پر گراں گزرے۔ لہٰذا ناظرین کرام کو ان الفاظ سے آگاہ کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی نے اپنے وقت کے علماء کے خلاف نام لے لے کر استعمال کئے۔ علماء کے نام لکھنا بے سود ہیں۔ طویل حوالے دینا غیر ضروری ہیں۔ صرف مرزا قادیانی کے الفاظ نقل کر دینا کافی ہے۔ جس کسی کو شبہ ہو وہ مرزا قادیانی کی کتابیں نکال کر ان کو تلاش کر لے۔ ناکام رہے تو مجھ سے مدد حاصل کرے۔ میں خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ لیکن اس کے بعد مرزا قادیانی کے متعلق اپنی رائے خود قائم کرلے۔ مجھے اس میں مدد دینے سے معذور سمجھے۔

مرزا قادیانی کی گالیوں کی فہرست کے لئے میں مولوی محمد یعقوب صاحب کا مرہون منت ہوں۔ اب آپ ان کی فہرست ملاحظہ فرمائیے۔ وهو ھذا!

کالانعام کو بھی پلایا۔ اندھیرے کے کیڑو۔ ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والا۔ اندھے نیم دہریہ، ابولہب اسلام کے دشمن، اسلام کے عار مولویو، اے جنگل کے وحشی، اے نابکار، ایمانی روشنی سے مسلوب، احمق مخالف اے پلید دجال، اسلام کے بدنام کرنے والے اے بدبخت مفتریو، اِعْمٰی، اشرار، اوّل الکافرین اوباش، اے بدذات خبیث، دشمن اللہ اور رسول، ان بیوقوفوں کے بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔

٩٠

حیائی سے بات بڑھا بداندیش، بدظن، بد بیہودہ، بدعلماء، بے بصـ

چھوڑ دیا۔ ترک تقویٰ

وثواب سے منحرف و

پلید، خطا کی ذلت ا خام خیال، خفاش۔

گو، دشمن سچائی، دشـ سیاہ داغ ان کے منـ

جائیں گے۔ روبـ

سیاہ دل فرقہ کس المتکبرین الذی ا

صفحہ ٢١١

حیائی سے بات بڑھانا، بددیانت بے حیا انسان، بدذات فتنہ انگیز، بدقسمت منکر، بدچلن، بخیل، بداندیش، بیوطن، بدبخت قوم، بدگفتار، بدعلماء، باطنی جذام، بخل کی سرشت والے، بیوقوف جاہل بیہودہ، بدعلماء، بے بصر۔

چھوڑ دیا، ترک تقویٰ کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ تکفیر ولعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے۔

وثواب سے منحرف و دور، جعلساز، جیتے جی جی مرجانا۔

پلید، خطا کی ذلت انہی کے منہ میں۔ خالی گدھے۔ خائن، خیانت پیشہ خاسرین خالیہ من نور الرحمٰن، خام خیال، خفاش۔

گو، دشمن سچائی، دشمن قرآن، دلی تاریکی، ذلت کی موت، ذلت کے ساتھ پردہ داری، ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کر دیں گے۔

جائیں گے۔ روسیاہ، روباہ باز، رئیس المنافقین، رأس المعتدین، رأس الغاوین۔

سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ سادہ لوح ساتھی، سفہا، سفلہ، سلطان المتکبرین الذی اضاع دینہ بالکبر والتوہین، سگ بچگان۔

٩١

صفحہ ٢١٢

ش...... شرم وحیا سے دور، شرارت خباثت وشیطانی کارروائی والے، شریف از سفلہ نے ترسد، بلکہ از سفلگئے او بترسد، شریر مکار، شیخی سے بھرا ہوا، شیخ نجدی۔

ص...... صدرۃ القناۃ نیوش، صدرک ضربہ دریک ربانی بحار وماء۔

ض...... ضال، ضررہم اکثر من ابلیس لعین۔

ط...... طالع منحوس، طلسم نفاق، الغاء الحق والدین۔

ظ...... ظلماتی حالت۔

ع...... علماء السوء، عداوتِ اسلام، عجب دیندار والے، عدوالعقل، عقارب، عقب الکلب، عدوہا۔

غ...... غول الاغوی، غدار سرشت، غالی، غافل۔

ف...... فبہت یا عبدالشيطان، فریبی فن عربی سے بے بہرہ، فرعونی رنگ۔

ق...... قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ۔ قست قلوبہم، قد سبق الکل فی الکذب۔

ک...... کینہ ور، کمہار زادے۔ کوتاہ نطفہ۔ کھوپڑی میں کیڑا۔ کیڑوں کی طرح خود ہی مرجائیں گے۔ کتے۔

گ...... گدھا، گندے اور پلید فتویٰ والے، کمینہ گندی کارروائی والے، گندی عادت، گندے اخلاق، گندہ دہانی، گندے اخلاق والے۔ ذلت سے غرق ہوجا۔ کج دل قوم، گندی روحو۔

ل...... لاف وگزاف والے، لعنت کی موت۔

م...... مولویت کو بدنام کرنے والو۔ مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لئے، منافق، مفتری، مورد غضب، مفسد، مرے ہوئے کیڑے، مخذول، مہجور، مجنون، معذور، منکر، محجوب، مولوی مگس طینت، مولوی کی بک بک، مردار خوار مولویو۔

ن...... نجاست نہ کھاؤ، نااہل مولوی، ناک کٹ جائے گی، ناپاک طبع لوگوں نے نابینا علماء، نمک حرام، نفسانی ناپاک نفس، نابکار قوم، نفرتی ناپاک شیوہ، نادان متعصب، نالائق، نفس امارہ کے قبضہ میں نااہل حریف، نجاست سے بھرے ہوئے، نادانی میں ڈوبے ہوئے، نجاست خواری کا شوق۔

و...... وحشی طبع، وحشیانہ عقائد والے۔

ہ...... ہالکین، ہندو زادہ۔

٩٢

ی...... یکہ والمفتری البطال، یہود کے قسط بست و چہارم نثر میں آپ م کے شایان نہ تھا۔ اب ذرا ا ہیں ۔ مگر میں صرف چند اشع

اک سگ دیوانہ لو بدزباں بدگوہر آدمیت سے نہیں سخت بدتہذیب او حق تعالیٰ کا وہ چیختا ہے بیہو مغز لونڈوں نے ل کچھ نہیں تحقیق دوغلا استاد اس جہل میں بوجہل سخت دل نمرود ہے وہ نابینا وہ مقلد اور مق اس کو چڑھتا ہے شورہ پستی ان کی ہ ہائے صد افسوس آدمی ہے یا ک

صفحہ ٢١٣

ی ...... یک چشم مولوی، یہودیانہ تحریف، یہودی سیرت، یا ایہا الشیخ الضال والمفتری البطال، یہود کے علماء، یہودی صفت۔

قسط بست و چہارم

نثر میں آپ مرزا قادیانی کی تحریر کا وہ نمونہ ملاحظہ فرما چکے۔ جو بطور انسان ان کی شان کے شایان نہ تھا۔ اب ذرا نظم میں ان کے غیض وغضب کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ ایسی نظمیں متعدد ہیں۔ مگر میں صرف چند اشعار پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

نظم میں گالیاں

اک سگ دیوانہ لودیانہ میں ہے آج کل وہ خرشتر خانہ میں ہے
بدزباں بدگہر وبدذات ہے اس کی نظم ونثر واہیات ہے
آدمیت سے نہیں ہے اس کو مس ہے نجاست خوار وہ مثل مگس
سخت بدتہذیب اور منہ زور ہے منہ پر آنکھیں ہیں مگر دل کور ہے
حق تعالیٰ کا وہ نافرمان ہے آدمی کاہے کو ہے شیطان ہے
چیختا ہے بیہودہ مثل حمار بھونکتا ہے مثل سگ وہ بار بار
مغز لونڈوں نے لیا ہے اس کا کھا بکتے بکتے ہوگیا ہے باؤلا
کچھ نہیں تحقیق پر اس کی نظر اس کا اک استاد ہے سو بدگہر
دوغلا استاد اس کا پیر ہے اس کی صحبت کی یہ سب تاثیر ہے
جہل میں بوجہل کا سردار ہے بولہب کے گھر کا برخوردار ہے
سخت دل نمرود یا شداد ہے جانور ہے یا کہ آدم زاد ہے
ہے وہ نابینا دیانفاش ہے مسخرا ہے منہ پھٹا اوباش ہے
وہ مقلد اور مقلد اس کا پیر پھر محدث بنتے ہیں دونوں شریر
اس کو چڑھتا ہے بخاری سے بخار پھیرتا ہے اس سے منہ اب نابکار
شورہ پشتی ان کی ہر رگ رگ میں ہے جس طرح کہ زہر مار وسنگ میں ہے
ہائے صد افسوس اس کے حال پر لاکھ لعنت اس کے قیل وقال پر
آدمی ہے یا کہ ہے بندر ذلیل مل گیا کفار سے وہ بے دلیل
وہ یہودی ہے نصاریٰ کا معین پادری مردود کا ہے خوشہ چیں

٩٣

صفحہ ٢١٤

اس سلسلہ کو قلم بند کرتے ہوئے مجھے کسی موقعہ پر ایسی تکلیف نہیں ہوئی۔ جیسی کہ مرزا قادیانی کی محولہ بالا تحریروں کا نمونہ پیش کرتے ہوئے محسوس ہوئی۔ میں چاہتا ہوں کہ اس باب کو جلد سے جلد ختم کروں۔ لیکن دیانت صحیفہ نگاری مجبور کر رہی ہے کہ ایک اور بات بھی جو اس ضمن میں داخل ہے عرض کروں۔

ہر صاحب قلم کا فرض ہے کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے انتہاء کی احتیاط سے کام لے۔ اپنے خیالات کے اظہار میں انسان کی آزادی اس کا پیدائشی حق ہے۔ وہ چاہے تو اللہ تعالیٰ کے وجود باوجود سے انکار کر کے دلائل پیش کرے۔ مگر اخلاق تہذیب دیانت تحریر اور شرافت نے اس کو پابند کر دیا ہے کہ یہ کسی کی تحریر میں تحریف نہ کرے اور اس کا حوالہ دیتے ہوئے اس میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ خدائے تعالیٰ کو خود گوارا نہیں کہ اس کے نام سے کوئی ایسی کتاب (تحریر) منسوب کی جائے جو اس کی بارگاہ سے نازل نہ ہوئی ہو۔ اس کو خدائے قدوس نے افتراء علی اللہ کا نام دیا ہے اور اس کی وعید بہت سخت بیان فرمائی ہے۔

اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ انسان اگر کسی دوسرے انسان سے کوئی ایسی تحریر یا بات منسوب کرے جو اس کی نہ ہو تو یہ جائز نہ ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ جناب مرزا قادیانی کی تحریر میں بعض ایسے حوالے موجود ہیں۔ جن کا وجود اس خاکسار کو نہیں ملا۔ اگر یہ میری غلطی ہے تو میں ان حوالوں کا پتہ ملنے پر ادب سے مرزا قادیانی کی روح اور ان کے پیروکار حضرات سے معافی مانگ لوں گا اور اظہار ندامت کروں گا۔

میں ایسے حوالوں میں سے صرف تین بطور نمونہ پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔

اول ....... اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر اور اپنی کتاب (تحفہ بغداد ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٨) کے حاشیہ پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”بات یہ ہے کہ جب مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ اللہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں۔ وہ نبی کہلاتا ہے۔“

میں بہ ادب عرض کروں گا کہ حضرت مجدد صاحب سرہندی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ایسے اشخاص کے لئے اس طرح کبھی لفظ نبی استعمال نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے لفظ محدث لکھا ہے۔ مرزا قادیانی نے خود دعویٰ کیا کہ ایسے محدث نبی ہوتے ہیں اور اس غرض سے حضرت سرہندی کی

٩٤

صفحہ ٢١٥

تحریر کو بدل دیا اور یہ بات نہ صرف ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔ بلکہ کسی صاحب دیانت انسان کی شان کے شایان بھی نہیں۔

دوم....... مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر لکھتے ہیں کہ: ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ جب کہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“

مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ اپنے عہد طفلی سے قرآن پاک کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ گاہے گاہے غفلت سے یہ سلسلہ منقطع بھی ہوا۔ مگر بحمداللہ کہ پھر جلد شروع ہو گیا۔ کئی ترجمے بھی میری نظر سے گذرے ہیں۔ لیکن کوئی آیت کریمہ میری نظر سے ایسی نہیں گزری۔ جس سے مرزا قادیانی کے محولہ بالا قول کی تائید ہو اور غضب یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ مقولہ قرآن پاک اور دوسری کتب سماوی کے متعلق ہے۔ جن کے بارے میں ایسی بات کہنا آسان نہیں۔ یہ لکھنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نبی تو درکنار یہ بات ایک عام انسان کی شان کے شایان بھی نہیں ہے۔

سوم....... مرزا قادیانی کی کتاب (ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) پر نگاہ ڈالئے اور کتاب (البشریٰ ج ١ ص ١٩) اٹھا کر دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔“

مجھے پھر ندامت سے مرزا قادیانی کے قول کی تردید کرنا پڑتی ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے نام تو قرآن پاک میں بالصراحت موجود ہیں۔ لیکن قادیان کا نام میری نگاہ سے نہیں گذرا۔ اگر ایسا ہو تو یہ میری معلومات میں ایک گرانقدر اضافہ ہوگا۔ فی الحال میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ مرزا قادیانی نے قرآن پاک کے متعلق وہ حوالہ دیا ہے جو اس میں موجود نہیں اور یہ بات ان کی اور ہر انسان کی شان سے بہت ہی بعید ہے۔

قسط بست و پنجم (٢٥)

میں نے اوّل اوّل مرزا قادیانی کے دعاوی بیان کئے۔ پھر ان دعاوی کو میں نے بیس حصوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے جو دعاوی الوہیت یا ابن اللہ ہونے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان پر میں نے پہلے بحث کی۔ اوتار ہونے کے دعاوی کو میں نے پیچھے ڈال دیا اور ان پر مجھے ابھی اظہار خیال کرنا ہے۔

٩٥

صفحہ ٢١٦

الوہیت کے بعد میں نے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو لیا اور ثابت کیا کہ حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت ہی نہیں۔ پھر مرزا قادیانی کے الہامات کو لیا اور ان کا پول ظاہر کر کے ثابت کیا کہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ ختم رسل ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے تو بھی مرزا قادیانی نبی نہ تھے۔ اس لئے کہ ان کے الہام غلط، بے معنی اور خود ان کے فہم سے بالاتر تھے۔ اس کے بعد میں نے مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں لیں اور مرزا قادیانی کی تحریر سے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ یہ معیار نبوت ہیں۔ میں نے بہ دلائل قاطع ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں سچی ثابت نہیں ہوئیں۔ لہٰذا وہ نبی نہ تھے۔

ان دو امور پر اظہار خیال کرنے کے بعد میں نے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی کے بعض افعال و اقوال نبی کی شان سے گرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کو نبوت کا درجہ دینا صحیح نہیں ہو سکتا۔ لیکن فرض کر لیجئے کہ (معاذ اللہ) وہ نبی تھے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مبعوث ہوئے تو انہوں نے اسلام کے لئے کیا کیا۔

اس کے جواب میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ ایک ایسی جماعت پیدا کر گئے ہیں جو منظم ہے۔ نماز گزار ہے۔ زکوٰۃ با قاعدہ دیتی ہے اور صالح ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ کام اتنا بڑا نہیں ۔ جس کے لئے نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت ہو۔ زکوٰۃ تو مسلمانان عالم میں سے سب سے زیادہ احتیاط اور با قاعدگی کے ساتھ آغا خان کے مرید دیتے ہیں۔ نماز گزار ہونے میں بوہرہ جماعت کے شیعہ شاید ہر گروہ کے مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ منظم بھی ہیں اور جماعت احناف کے اکثر پیروں کے مریدوں میں بھی یہ خوبیاں موجود ہیں۔

رہا جماعت کا صالح ہونا اس میں مجھے ذاتی تجربہ کی بناء پر کلام ہے۔ میرے احمدی بھائیوں میں سے جو بدترین ہے۔ شاید وہ میری ذات سے بہت بہتر ہو۔ لیکن میرا تجربہ شاہد ہے کہ عام مسلمان بلکہ عام انسان جن کمزوریوں میں مبتلا ہیں۔ احمدی بھائی ان سے بالاتر نہیں ہیں۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ بدچلن بھی ہیں اور نیکو کار بھی۔ دیانتدار بھی ہیں بددیانت بھی۔ اس سے زیادہ مجھے نہ کچھ کہنا چاہئے اور نہ کہنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام ہر شریف صوفی کر رہا ہے اور اکثر ان میں سے کامیاب ہیں اور انہیں مرزا قادیانی پر یہ تفوق حاصل ہے کہ وہ عقائد میں ترمیم کئے بغیر مسلمانوں کو صالح بنا رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے حیات مسیح کے مسئلہ کو واضح کر دیا تو میں عرض

٩٦

کروں گا کہ یہ مسئلہ مرزا قادیانی مسائل کے متعلق بھی اختلاف را اس مسئلہ کے متعلق بھی اختلاف را اس کے لئے نبی مبعوث ہوتا۔ مسلمانوں میں جن م تین مثالیں پیش کرنے پر اکتفاء کر

طلاق ہوتی ہے یا تی

دوسرے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ نے قرآن و متشابہات یہاں متشابہات میں متشابہات سے مراد وہ مسائل اللہ تعالیٰ نے اس فطرت میں اختلاف پیدا کیا جا پس مناسب یہ کے پیدا ہوئے ہوں یا باپ ہوں۔ ان حالات سے خدا ک نہیں ہیں۔ دیانتداری سے آ اور یہ اصول بھی مسئلہ بھی ابتداء سے مختلف فی خدا قادر مطلق ہے۔ وہ جو چا مانتے ہیں مر گئے تو ان کی م پر زندہ ہیں تو یہ بھی خدا بے

صفحہ ٢١٧

کروں گا کہ یہ مسئلہ مرزا قادیانی سے پہلے بھی زیر بحث تھا اور جس طرح مسلمانوں میں متعدد اور مسائل کے متعلق بھی اختلاف رائے جس کو ضمنی وفروعی اختلاف کہنا چاہئے موجود ہے۔ اسی طرح اس مسئلہ کے متعلق بھی اختلاف رائے عرصہ سے موجود ہے۔ یہ مسئلہ اتنی بڑی اہمیت نہیں رکھتا کہ اس کے لئے نبی مبعوث ہوتا۔

مسلمانوں میں جن مسائل کے متعلق اختلاف اجتہاد ہے وہ متعدد ہیں۔ مگر میں ان کی تین مثالیں پیش کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔

طلاق ہوتی ہے یا تین ایک اہم مسئلہ ہے جو مختلف فیہ ہے۔

دوسرے ہیں کہ وہ معراج جسمانی کے قائل ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود فرمایا ہے کہ مسائل قرآن دو قسم کے ہیں۔ محکمات ومتشابہات یہاں متشابہات سے مراد شبہ پیدا کرنے والے مسائل نہیں ہیں۔ بلکہ میری دانست میں متشابہات سے مراد وہ مسائل ہیں۔ جن میں دلیل بازی کا امکان ہو اور بس۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ دلیل بازی کے قابل مسائل کو لے کر دین فطرت میں اختلاف پیدا کیا جائے۔ بلکہ اس کو نہایت مقہور و مغضوب فعل ظاہر فرمایا۔

پس مناسب یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ معراج جسمانی ہوا ہو یا روحانی، عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہوں یا باپ سے پیدا ہوئے ہوں۔ وہ زندہ آسمان پر موجود ہوں یا فوت ہو چکے ہوں۔ ان حالات سے خدا کی قدرت کاملہ میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ مسائل جزو ایمان نہیں ہیں۔ دیانتداری سے ایک رائے قائم کر لینا کافی ہے اور بس۔

اور یہ اصول بھی مسلمہ ہے کہ فروعی اختلاف سے ایمان کو کوئی تعلق نہیں۔ حیات مسیح کا مسئلہ بھی ابتداء سے مختلف فیہ چلا آتا ہے۔ یہ بھی جزو ایمان نہیں جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا قادر مطلق ہے۔ وہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مسیح جن کو کروڑوں آدمی خدا کا بیٹا مانتے ہیں مر گئے تو ان کی موت خداوند کریم کی لازوال قدرت کا ایک ثبوت ہے اور اگر وہ آسمان پر زندہ ہیں تو یہ بھی خدائے عزوجل کی قدرت کا ایک بدیہی نشان ہے۔

٩٧

صفحہ ٢١٨

واضح رہے کہ یہود ایک سے زیادہ پیغمبروں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ مسیح کی موت کے ثبوت میں ایسے سوال کرنا کہ وہ کھاتے کیا ہیں۔ پاخانہ کہاں پھرتے ہیں۔ جہالت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ کر سکتا ہے کہ وہ انہیں زندہ رکھے اور خوراک یا حوائج ضروری سے مستغنی کر کے زندہ رکھے۔

یہ کہنا کہ ہر شخص کے لئے موت کا مزہ چکھنا لازم ہے۔ لہٰذا مسیح مر گئے۔ ایک بودی دلیل ہے۔ اس لئے کہ ہر ایک کی میعاد حیات مقرر ہے اور یہ کوئی نہیں کہتا کہ مسیح کبھی بھی فوت نہیں ہوں گے۔ غرض حیات مسیح ابتداء سے مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے اور ایسے لوگ مرزا قادیانی سے بہت پہلے موجود تھے۔ جو مسیح کی موت کے قائل تھے اور جن میں سرسید کا نام بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جیسے کہ میں عرض کر چکا ہوں۔ حیات وممات مسیح کے متعلق ہر مسلمان مطالعہ کے بعد اپنی دیانتدارانہ رائے قائم کرنے میں آزاد ہے۔ اس کی یہ رائے نہ اس کو کافر بنا سکتی ہے نہ مؤمن۔ لہٰذا ایسے مسئلہ کے تصفیہ کے لئے ایک نبی کی بعثت قطعاً غیر ضروری تھی۔

یاد رہے کہ خود قادیانی حضرات تسلیم کرتے ہیں کہ حیات مسیح کا مسئلہ جزو ایمان نہیں۔ ان حالات میں مرزا قادیانی کا صرف اس مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے مبعوث ہونا خارج از بحث ہے اور اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا۔ جو ان کی بعثت کا مقصد قرار دیا جائے۔ اگر کوئی ہے تو مجھے اس کے سننے سے مسرت حاصل ہوگی۔

قسط بست و ششم (٢٦)

میری رائے یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ان مسائل میں پڑ کر اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی اور نہ انہوں نے کوئی نئی بات ہی پیدا کی۔ البتہ ایسے مسائل کو مرزا قادیانی کے وقت سے پہلے یہ اہمیت حاصل نہ تھی کہ لوگ ان کی وجہ سے آپس میں لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے خلاف فتاویٰ شائع کرتے۔ مرزا قادیانی نے ان فروعی مسائل کو غیر معمولی اہمیت دے کر ملت مرحومہ میں افتراق پیدا کیا اور فتنہ و فساد کے دروازے کھول دیئے۔

اور فرض کر لیجئے کہ مسیح زندہ ہیں۔ ان حالات میں اس مسئلہ پر اعتراض کیا وارد ہو سکتا ہے کوئی نہیں۔ اصل میں معراج جسمانی وروحانی، ولادت مسیح اور وفات عیسیٰ علیہ السلام میں اختلاف خدائے قدوس کی قدرت کے محدود و غیر محدود ہونے کا اختلاف ہے اور یہ بحث معجزہ کے امکان اور عدم امکان سے تعلق رکھتی ہے۔

٩٨

صفحہ ٢١٩

انسان دنیا میں دوسو کروڑ کے قریب آباد ہیں۔ ایک انسان کی عقل نوع انسانی کے مقابلہ میں ١/٢٠٠٠٠٠٠٠٠٠ ہوئی اور اگر ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک کی کل انسانی آبادی سے ہر انسان اپنے دماغ کو نسبت دے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ کس قدر معمولی عقل کا مالک ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ عالم و جاہل میں فرق صرف یہ ہے کہ عالم اپنی جہالت کی وسعت سے آگاہ ہوتا ہے اور جاہل اس سے واقف نہیں ہوتا۔

مثلاً میں جانتا ہوں کہ دنیا میں ہزار ہا زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔ میں صرف سات یا آٹھ زبانوں میں گفتگو کرسکتا ہوں اور وہ بھی نامکمل۔ اس سے مجھے علم ہے کہ السنۂ عالم کے لحاظ سے میری جہالت کی وسعت کیا ہے۔ لیکن جو بدبخت یہ سمجھتا ہے کہ اردو کے سوا دنیا میں کوئی زبان ہی نہیں اسے اپنی جہالت کی وسعت کا علم کیسے ہوسکتا ہے۔

پس جو لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ دوسو کروڑ انسانوں میں سے ایک فرد کی عقل کے مالک ہیں اور عقل کل کروڑوں سے زیادہ انسان پیدا کرچکی ہے اور کہ وحوش و طیور بھی دماغ اور شعور رکھتے ہیں۔ وہ ہر بات میں مین میکھ نکالتے ہیں۔ اگر وہ ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد عقل کل سے اپنی دانست کا تناسب مقرر کریں تو شاید انہیں یہ کہنے کی جرأت نہ ہو کہ فلاں کام ناممکن ہے۔ اس لئے کہ حد عقل سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے قرآن پاک میں فرمایا ہے: ”یہ ہر اس بات کو جو ان کے فہم میں نہیں آتی جھٹلا دیتے ہیں۔“

کل تک انسان کا زمین سے بلند ہونا خارج از عقل تھا۔ آج وہ ٣٥ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا پھرتا ہے۔ کل تک انسان کی آواز کا ایک میل کے فاصلہ تک پہنچانا خارج از امکان تھا۔ آج لندن اور دہلی میں روز باتیں ہوتی ہیں اور درمیان کے سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل اور بن کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے۔ کل تک انسان کی حد نظر محدود تھی۔ آج جاپان میں بیٹھ کر وہ اس انسان کو دیکھ سکتا ہے جو امریکہ میں بیٹھا ہو اور اس پر بھی ہم انسان چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق بن کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کام خداوند تعالیٰ کے لئے ممکن نہیں ہے۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

خلاف فطرت کا لفظ ہم نے سن لیا ہے۔ لیکن فطرت کیا ہے؟ وہ جو ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں؟ اور بس؟ لیکن کیا ہمیں احساس ہے کہ خداوند تعالیٰ کا ایک روز ہمارے ہزار سال کے برابر ہے اور اگر اس نے فطرت یہ بنائی ہو کہ فلاں ستارہ تیس سال تک یوں چلے گا اور پھر تیس سال تک الٹا چلتا رہے گا تو یہ دور ہمارے حساب کے مطابق تیس تیس ہزار سال کے ہوئے اور تیس ہزار

٩٩

صفحہ ٢٢٠

سال میں انسان کی کم از کم تین لاکھ نسلیں ختم ہوتی ہیں۔ لہذا تین لاکھ آدمیوں کے تجربہ کے بعد جو اصول فطرت مقرر ہوگا وہ بدلے گا اور انسان اس کو دیکھیں گے تو کیا وہ اس کو خلاف فطرت کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔

معجزہ سے انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عقل انسانی اس قدر محدود ہے جس قدر کہ میں بیان کر چکا۔ ایمان بالغیب کے معنی یہی ہیں کہ انسان قرآن کی مسلمات کو تسلیم کرنے کے بعد متشابہات کو بلا چون و چرا مان لے اور عقل انسانی کو محدود و ناچار سمجھتے ہوئے ہر بات کو اس کی کسوٹی پر نہ پرکھے۔ تاہم یہ سچ ہے کہ ہر معاملہ کو خواہ مخواہ معجزہ بنانا بھی صحیح نہیں۔

غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اپنی پیدائش سب سے بڑا معجزہ ہے۔ لیکن خدائے تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو افلاک کی ساخت کے سامنے ہیچ قرار دیا ہے۔ ہم گلاب کا پھول دیکھتے ہیں اور اس کو عین فطرت سمجھ کر معجزہ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اس علم کے باوجود کہ اس پھول کے اجزاء کیا کیا ہیں اور ان اجزاء کے موجود ہوتے ہوئے بھی ہم ویسا پھول نہیں بنا سکتے۔ پھر فرمائیے اس کے باوجود پھول کے وجود کو معجزہ نہ سمجھنا حماقت ہے یا اعجاز ماننا غلطی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

شیطان اور فرشتے دونوں ابتداء سے زندہ ہیں اور جب تک خدا چاہے گا زندہ رہیں گے۔ ان کے ساتھ اگر ایک انسان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو بھی خدا زندہ رکھے تو یہ خلاف فطرت کیسے ہوا۔ ہزاروں حشرات الارض ایسے ہیں کہ نر و مادہ کے اجتماع کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی مرغیاں دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں کہ نر کے بغیر دوامی طور پر انڈے دیتی ہیں۔ اگر یہ فطرت ہے تو ایک عورت کے ہاں باپ کے بغیر بچہ کا پیدا ہونا کیوں خلاف فطرت ہے اور اب تو علم طب کی رو سے اس کا امکان نا قابل انکار طریق پر ثابت ہو چکا ہے۔

سچ یہ ہے کہ ہم فطرت کے اصول اپنی رائے سے مقرر کرتے ہیں اور پھر ان اصولوں پر اگر کوئی چیز پوری نہیں اترتی تو اس کو خلاف عقل قرار دیتے ہیں۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ کہاں عقل کل اور کہاں انسان ضعیف البنیان کا شعور۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔

میرے ایک مکرم مولوی صاحب جو میدان صحیفہ نگاری کے شہسوار سمجھے جاتے ہیں۔ جب اوّل اوّل لاہور میں آئے تو آپ نے معراج نبوی پر تقریر کی اور فرمایا کہ معراج روحانی تھا نہ کہ جسمانی، کیسے ممکن ہے کہ انسان کا جسم آسمان پر موجود رہے۔ اس پر طبقہ جہلاء میں سے ایک

١٠٠

صفحہ ٢٢١

شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ”سن او مولوی سن، خدا قادر مطلق ہے۔“ میں سمجھتا ہوں کہ اس جہالت پر ہمارا علم کروڑوں مرتبہ قربان کر دیا جائے تو بھی ایسی جہالت کی قیمت ادا نہیں ہوتی۔ ظالم نے کوزے میں دریا بند کر دیا۔

انکار معجزہ کی ایک مثال سنئے۔ قرآن شریف میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو لوگوں نے آگ میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے آگ تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا سبب بن جا۔“ (قرآن الحکیم)

ہمارے فطرت نواز دوست اس کی تاویلیں کرتے اور کہتے ہیں کہ قانون فطرت یہ ہے کہ آگ انسان کو جلا دیتی ہے۔ لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ ابراہیم اس میں گرتے اور جل نہ جاتے۔ پس آگ سے مراد فتنہ اور تکلیف ہے۔ وغیرہ وغیرہ!

لیکن ان بھلے مانسوں سے پوچھے کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ یورپ کے پہاڑ الپس کی بلندی پر آگ میں اتنی قوت نہیں رہتی کہ وہ انڈے کو ابال سکے۔ ہم اگر انڈے کو آنچ زیادہ دیں تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ لیکن الپس کی بلندی پر اگر سو سال تک بھی آگ جلاتے رہیں تو بھی انڈا ابلتا نہیں۔ اس کا جلنا تو بڑی بات ہے۔ بتائیے وہاں آگ کی فطرت کیوں بدل جاتی ہے۔

اس کے جواب میں ہمارے فطرتی دوست کہیں گے کہ وہاں فطرت کے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ آگ کا زور کم ہو جاتا ہے۔ خوب، تو معلوم ہوا کہ بعض اسباب ایسے بھی ہیں جو آگ کو بے ضرر کر سکتے ہیں۔ الپس دنیا کا بلند ترین پہاڑ نہیں۔ ممکن ہے کہ اس سے زیادہ بلند پہاڑ پر آگ کسی چیز کو بھی جلا نہ سکے۔ آخر یہ اسباب کس نے پیدا کئے خدا نے، تو کیا ابراہیم علیہ السلام کے معاملہ میں آگ کو بے بس کرنے کے متعلق خداوند تعالیٰ کو جو قدرت حاصل ہے وہ زائل ہو چکی تھی۔ (معاذ اللہ) اور اگر زائل نہ ہوئی تھی تو پھر آپ کو اس پر ایمان لانے میں کیا عذر ہے؟ اور آپ اس کی تاویلیں کیوں تلاش کرتے پھرتے ہیں؟ کیا خدا زمین پر وہ سامان پیدا نہ کر سکتا تھا جو بلند پہاڑ پر اس نے پیدا کر رکھے ہیں؟

غرض مرزا قادیانی نے ان فروعی مسائل کو چھیڑ کر دین فطرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ میں اس بحث کو اب ختم کرتا ہوں۔ اس لئے کہ اس سے زیادہ لکھنے کی حاجت ہی نہیں۔ کیونکہ کج بحث کو کوئی قائل نہیں کر سکتا اور صاحب شعور کے لئے جو کچھ تحریر ہوا وہ کافی ہے۔

قسط بست و ہفتم (٢٧)

یہ سوال کہ آخر مرزا قادیانی نبی مبعوث ہوئے تو کسی غرض سے تشنۂ جواب رہا جاتا

١٠١

صفحہ ٢٢٢

ہے ۔ مرزا قادیانی کے مرید ان کے اس فعل کو اسلام کی خدمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیالکوٹ میں اپنا مشہور لیکچر دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وسیلہ سے قرآن کی آیات جہاد کی تنسیخ کا حکم بھیجا۔ لیکن میں ثابت کروں گا کہ مرزا قادیانی نے یہ اعلان کر کے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت نہیں کی۔ بلکہ الٹا انہیں نقصان پہنچایا۔ اس لئے کہ میری ناقص رائے میں مرزا قادیانی نے آیات جہاد کا کافی غور و تعمق سے مطالعہ ہی نہیں فرمایا۔ وگرنہ وہ کبھی تنسیخ جہاد کا اعلان کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔

جہاد کیا ہے؟ کیا تیغ و تبر لے کر ایک غیر مسلم شخص یا اشخاص کے گرد ہو جانا جہاد ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ جہاد اس کا نام نہیں اور نہ خدائے تعالیٰ نے ایسے جہاد کی اجازت ہی دی ہے۔ بلکہ ایسے جہاد کے حکم سے خدا کی وہ کتاب جو ہر رطب و یابس پر حاوی ہے۔ بالکل خالی ہے۔ نہیں نہیں میں نے غلطی کی۔ وہ اس سے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ روکتی اور ٹوکتی ہے۔

اسلام کا جہاد کیا ہے؟ شاید اس پر کسی قدر وضاحت سے اظہار خیال بے جا نہ ہوگا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے اعلان تنسیخ جہاد کا بہترین جواب یہ ہے کہ جہاد کو اس کی حقیقی صورت میں بیان کر دیا جائے۔ اس لئے کہ اس کے بعد اہل الرائے حضرات اندازہ لگا سکیں گے کہ ایسے جہاد کی تنسیخ کی صورت بھی کبھی پیدا ہو سکتی ہے یا نہیں۔

میں اپنے ناقص علم کے مطابق جہاں تک احکام جہاد کو سمجھ سکا ہوں ان کا ملخص پیش کرتا ہوں ۔

اس کی تائید میں دلائل پیش کرے۔

ہی عمدہ طریق پر بحث مباحثہ کرے۔

مجبور ہے کہ ان پر جبر نہ کرے۔ بلکہ انہیں ان کے دین پر رہنے دے۔

فرض ہے کہ وہ ان سے ہرگز نہ الجھے۔ بلکہ وقار و تمکنت کے ساتھ ان کے پاس سے گزر جائے۔

١٠٢

صفحہ ٢٢٣

دین کے خلاف غیر مؤدبانہ الفاظ کے استعمال کا موقعہ دے۔

ان پر ظلم کرے تو مسلمان کو اجازت ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں ذیل کے وسائل اختیار کرے۔

بھی نہ کرے تو گناہ کبیرہ ہے۔ وہ قرآن الحکیم کے الفاظ میں دشمنوں میں سے سمجھا جائے گا۔

اس سے کی گئی ہو۔

ہے۔ درخت ترکاریاں کھیتیاں اور گھر برباد کرنے کی بھی اجازت نہیں۔

ترک کر دینے پر مجبور ہے۔ مسلمان کو قرآن شریف حکم دیتا ہے کہ اگر یہ صلح جوئی فریب پر مبنی ہو تو بھی خدا اور رسول کے نام پر جو فریب دیا جائے اس کو قبول کرو اور فریب کو عذر قرار دے کر دشمن کی تجویز مصالحت کو مسترد نہ کرو۔ بلکہ اس کے فریب کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یہ حکم سورۂ انفال میں وضاحت سے مرقوم ہے۔

قسط بست و ہشتم (٢٨)

جہاد اسلامی کا مرقع پیش کر چکا ہوں۔ اس پر غور کیجئے اور پھر فرمائیے کہ ان حالات میں مرزا قادیانی کا فرمانا کہ اب تلوار کا زمانہ نہیں رہا۔ بلکہ دلیل کا زمانہ ہے۔ کیا معنی رکھتا ہے یہ اور صرف یہ کہ اس مسئلہ کے متعلق موصوف نے کافی غور و فکر سے کام نہیں لیا۔ دلیل تو اسلام کا سب

١٠٣

صفحہ ٢٢٤

سے بڑا سہارا ہے اور مسلمان دلیل کے مقابلہ میں تلوار کو کبھی اٹھا سکتا ہی نہیں۔ اسلام خون ریزی کو اس قدر معیوب بتاتا ہے کہ اس نے ایک انسان کے قتل کو جمیع نوع بشر کے قتل کے برابر ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فتنہ کو قتل سے بھی بدتر ظاہر کیا ہے۔ ان حالات میں تنسیخ جہاد کے لئے کسی نبی کی بعثت کی ضرورت ہی کیا تھی۔

اور اگر خدانخواستہ اس کی ضرورت تھی تو معاذ اللہ کیا خداوند تعالیٰ کو یاد نہیں رہا تھا کہ ہجرت اور ترک تعاون جہاد کے دو لازمی جزو ہیں؟ اگر یاد تھا تو کیوں مرزا قادیانی کی وساطت سے ہجرت کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا اور نہ عدم تعاون کے متعلق ہی کوئی حکم آیا۔

ایک اور اصولی بات ہے جو قابل غور ہے۔ انسان کے ساختہ پرداختہ اور خدا کے فرستادہ قانون میں فرق یہ ہے کہ ایک بدلتا ہے اور دوسرا نہیں بدلتا۔ انسان آج ایک قانون بناتا ہے۔ کل اس کی تصحیح کے پرچے جاری کرتا ہے۔ کہیں اضافہ کا اعلان کرتا ہے۔ کہیں تنسیخ کا اور پھر اس قانون کو دوبارہ شائع کرتا ہے تو وہ بعض اوقات اس قدر متغیر ہو چکا ہوتا ہے کہ اصل سے اس کا لگاؤ نام ہی کا رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحائف میں ردو بدل یوں نہیں کیا کہ ایک کتاب کے بعض حصص کی تنسیخ یا ترمیم کے لئے نبی مبعوث کیا ہو۔ بلکہ جب ضرورت محسوس ہوئی نئی کتاب نازل فرمائی۔ کیا برادران قادیان ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کوئی ایسا نبی آیا ہو جس نے کسی موجود الوقت صحیفہ آسمانی کی ضمنی ترمیم کا محض زبانی اعلان کیا ہو۔

یہ اصول مسلمہ ہے کہ قرآن پاک کے بعد کسی صحیفہ آسمانی کے نزول کا امکان باقی نہیں رہا۔ ان حالات میں اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ مختلف اوقات میں نبی مبعوث ہوا کریں گے۔ وہ ظلی نبی ہوں گے اور قرآن پاک کے بعض احکام کی تنسیخ یا ترمیم کے پیام لایا کریں گے تو کیا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک روز قرآن مجید کے بعض جزو بالکل تبدیل ہو جائیں گے اور اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بجنسہ محفوظ رکھنے کا جو وعدہ کیا ہے اس کا (معاذ اللہ) کیا حشر ہوگا؟

پھر تنسیخ آیات جہاد سے مرزا قادیانی کی مراد کیا تھی؟ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان احکام کو واپس لیتا ہے یا ایک عرصہ کے لئے معطل فرماتا ہے۔ اگر یہ معطل ہوئے تو ان کے احیاء کی ترکیب کیا ہوگی۔ کیا نیا نبی مبعوث ہوگا۔ جو اعلان کرے گا کہ آیات جہاد پھر نافذ ہوتی ہیں؟ اور اگر یہ دوامی طور پر منسوخ ہو چکیں تو کل حالات زمانہ بدلنے پر مسلمان کیونکر جہاد کر سکیں گے یا کیا مرزا قادیانی کا خیال یہ تھا کہ دنیائے جنگ پرور میں مسلمان اور صرف مسلمان جنگ کی ضرورت سے مستغنی ہے۔ اگر ان کا خیال فی الحقیقت یہی تھا تو ان کی سیاسی دوراندیشی کا فقدان قابل رحم ہے۔

١٠٤

صفحہ ٢٢٥

لیکن ایک اور زبردست دلیل ایسی موجود ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ تنسیخ جہاد کے لئے کسی نبی کی بعثت ضروری نہ تھی۔ تعجب ہے کہ اس کی طرف اب تک توجہ نہیں کی گئی۔ قرآن شریف کا دعویٰ ہے کہ اس کے احکام قیامت تک تبدیل نہ ہوں گے۔ اس بات پر ایمان رکھنے والا انسان جب دوسری طرف اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ ممالک عالم کے حالات مختلف ہیں اور زمانہ ہے کہ ہر روز رنگ بدلتا رہتا ہے تو مسلمان اگر شک نہ بھی کرے تو بھی اطمینان قلب کے لئے اس امر پر ضرور راہنمائی کا طالب ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر قوم ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے چودہ سو سال کا پرانا آئین قابل پذیرائی ہو۔

وہ دیکھتا ہے کہ کل مسلمان دنیا بھر کے حاکم تھے۔ آج محکوم ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ حاکم ومحکوم کی حالت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ خوب سمجھتا ہے کہ حاکم قوم کے لئے جو کچھ ممکن ہے وہ محکوم کے لئے ہرگز ممکن نہیں۔ لہٰذا وہ تعجب کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ قرآن پاک کے وہ احکام جن کی تعمیل ایک حاکم قوم ہی کر سکتی ہے۔ محکوم کے لئے کس طرح واجب العمل ہو سکتے ہیں۔ یہ طرز استدلال غیر طبعی نہیں۔ لیکن جن قوانین کا بنانے والا خود لازوال ہو۔ ان قوانین کا لازوال ہونا موجب تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں وہ خود ان قوانین کو بدلنا چاہے تو دوسری بات ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے۔

جہاد کے احکام ہی کو لیجئے۔ مرزا قادیانی ایک انسان تھے۔ ان کی عقل نے گرد و پیش کے حالات کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا کہ آج کل جہاد ممکن نہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس کی تنسیخ کا اعلان کر دیا۔ لیکن اگر وہ سوچتے کہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قرآن پاک کے قوانین اٹل ہیں اور پھر سوچتے کہ اگر قوانین جہاد کی بظاہر اس وقت ضرورت نہیں اور تلاش کرتے کہ ان بظاہر متضاد صورتوں کا حل قرآن شریف میں موجود ہے یا نہیں اور ایمان لاتے کہ حل موجود ضرور ہوگا۔ خواہ کسی خاص انسان کی عقل وہاں تک پہنچ سکی ہو یا نہ تو مجھے یقین ہے۔ نہیں نہیں میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی راہنمائی کرتا اور ان پر بات واضح ہو جاتی۔

جو بات میں عرض کرنے والا ہوں یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ایک معمولی نکتہ ہے۔ لیکن معمولی نکات ہی بعض اوقات مسائل مہمہ کے حل کا باعث بن جاتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قابل ترین انسان کی نگاہ اس نکتہ کو شناخت نہیں کر سکتی۔ مگر عام آدمی اس کو فضل ایزدی سے پا لیتا ہے۔ سنئے قرآن الحکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی وسعت سے زیادہ

١٠٥

صفحہ ٢٢٦

تکلیف نہیں دیتا۔﴾ اس کے معنی کیا ہیں یہ کہ جس شخص میں وسعت نہ ہو اس پر جہاد یا دوسرے احکام قرآنی کا بجالانا فرض نہیں۔

ملت افراد کے اجتماع کا نام ہے۔ اگر کسی ملت کے تمام افراد بہ حیثیت مجموعی جہاد کی وسعت نہ رکھتے ہوں تو ظاہر ہے کہ اس قوم پر جہاد فرض نہیں ہوتا اور جہاد کا فیصلہ کون کر سکتا ہے۔ ملت۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”وامرهم شوریٰ بینهم“ ﴿اور ان کی حکومت کا طرز یہ ہے کہ وہ آپس میں مشورہ کر لیتے ہیں۔﴾

پس اگر ملت کے افراد باہمی مشورہ سے طے کریں کہ ملت میں جہاد کی وسعت نہیں تو جہاد کا فرض اس ملت پر عائد ہی نہیں ہوتا۔ یوں ثابت ہوا کہ ان احکام کی موجودگی میں تنسیخ جہاد کے لئے نبی کی بعثت کی ہرگز ضرورت نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا یہ اعلان کرنا کہ وہ نبی تھے اور ان کی وساطت سے آیات جہاد منسوخ قرار دی گئیں۔ ایک ایسا اعلان ہے جو کسی صورت میں بھی کسی مسلمان کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

سترھویں دلیل

لہٰذا مرزا قادیانی کی تحریک کے خلاف میری دلیل یہ ہے کہ انہوں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جو ان کے ادعائے نبوت کو ضروری یا مسلمانوں کے لئے مفید ثابت کرے۔ بدیں وجہ ان کی تحریک ہم مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

قسط بست و نہم

ہر انسان اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے۔ لیکن نبی اس سے بری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ خدا کا رسول ہوتا ہے اور اسے ہدایت کرنے والا غلطی سے بالاتر ہے اور پھر غلطی بھی وہ جو اصول دین سے تعلق رکھتی ہو نبی اللہ سے کیسے سرزد ہو سکتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے اقوال و افعال کو دیکھا جائے تو ان میں رخنے ہی رخنے نظر آتے ہیں۔ میں جہاد کے متعلق ان کے غلط استدلال پر بحث کر چکا ہوں۔ اب مناسب تفصیل کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک قادیان کے اجراء سے مرزا قادیانی ملت مرحومہ کے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوئے اور ممدوح کی تحریک میرے لئے قابل قبول نہیں۔

اٹھارہویں دلیل

مرزا قادیانی نے اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا۔ آپ کی وجہ سے امت مرحومہ کو جو عظیم الشان نقصانات ہوئے ان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

١٠٦

صفحہ ٢٢٧

اول ...... اٹلی کے قائد اعظم مسولینی نے پچھلے دنوں اپنی حکومت کی پالیسی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: ”ہم چاہتے ہیں کہ امن عالم کی حیات کا رشتہ زیادہ سے زیادہ طول پذیر ہو۔ لیکن ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ دنیا سے جنگ مٹ سکتی ہے۔ اس لئے کہ دوامی امن موت کا مرادف ہے۔“

ناظرین کرام! آخری فقرہ پر غور کریں: ”دوامی امن موت کا مرادف ہے۔“ یعنی وہی قوم دوامی امن کی طالب ہو سکتی ہے جو تقریباً مر چکی ہو۔ مسولینی نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ اس مقصد کو خداوند تعالیٰ نے قرآن الحکیم میں یوں بیان فرمایا کہ مسلمانوں کو قیام امن کی تلقین کرنے کے باوجود اور یہ حکم دینے کے باوصف کہ اصلاح کے بعد ملک میں فساد پیدا نہ کرو۔ یہ بھی حکم دیا کہ وہ سامان حرب و ضرب سے ہمیشہ لیس رہیں۔ تا کہ دشمن ان میں رعب محسوس کریں اور ان کو عواقب جنگ سے بے خبر سمجھ کر ان پر حملہ نہ کر دیں۔ اس دنیا میں زندگی اور عزت کی زندگی وہی گزار سکتا ہے جس کو اس کے گرد و پیش کے رہنے والے لقمہ تر نہ سمجھ سکیں۔ یہی حال قوموں کا ہے۔ دنیا میں امن کی حامی سب سے زیادہ وہی اقوام نظر آتی ہیں جن کی جنگی تیاریوں کے باعث ایک عالم ان کا حلقہ بگوش بن چکا ہے۔ انہی حالات و حقائق سے آگاہ خدائے بزرگ و برتر نے مسلمانوں کو مضبوط و توانا بن کر آمادہ کار رہنے کا مشورہ دیا۔ لیکن اگر جہاد ہی بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے منسوخ فرما دیا ہے تو پھر تیار بر تیار رہنے کی آیات کی ضرورت کیا باقی رہی؟ کچھ بھی نہیں۔

دنیا کی دول عظمیٰ روز اسلحہ کی تخفیف کے راگ الاپتی ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اپنی جنگی قوتوں کو برابر بڑھا رہی ہیں۔ ان حالات میں ایک قوم جس کو خدا کے نام پر کمزور بن جانے، غیر مسلح ہو جانے اور جنگ کو حرام سمجھنے کی تلقین کی گئی ہے وہ مسلمان ہیں۔

واضح رہے کہ مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت مقامی نہ تھا۔ یعنی وہ محض مسلمانانِ ہندوستان کے لئے مبعوث ہونے کے مدعی نہ تھے۔ بلکہ ان کا تقرر عالمگیر تھا۔ لہٰذا ان کا الہام تنسیخ جہاد ترکی، ایران، مصر، حجاز، نجد، افغانستان، یمن وغیرہ کے لئے یکساں نازل ہوا۔ لیکن کون نہیں جانتا کہ اگر آج مرزا قادیانی پر ایمان لا کر ترکی، ایران اور افغانستان وغیرہ ہم ایسے اسلامی ممالک جہاد کو منسوخ سمجھ کر نہتے ہو بیٹھیں تو ان کا کیا حشر ہو۔

فرانس سے جرمنی نے ایک مرتبہ جنگ کر کے الساس اور لورین کے علاقے چھین لئے تھے۔ فرانس کے بچوں کو بیس سال تک نقشوں پر جدا گانہ رنگ لگا کر یہ تعلیم دی جاتی رہی کہ یہ

١٠٧

صفحہ ٢٢٨

علاقے تمہارے تھے۔ آج دشمن کے قبضہ میں ہیں۔ اس سے ان کے سمند غیرت پر تازیانہ لگتا رہا۔ آخر بیس سال کے بعد فرانس کے سپوتوں نے وہ علاقے جرمنی سے واپس لے لئے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زندہ قومیں کمزور ہو جاتی ہیں تو نقصان ضرور اٹھاتی ہیں۔ لیکن اس نقصان کے احساس کو مٹنے نہیں دیتیں اور یوں ایک روز اپنی عظمت گذشتہ کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی نے تنسیخ جہاد کا اعلان کر کے مسلمانوں کی خودداری کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ ان کی روایات کو تباہ کرنے کی سعی کی اور ان کی حمیت کی رگ جان تک کو مسل دیا۔ لہٰذا انہوں نے تنسیخ جہاد کا اعلان کر کے ملت مرحومہ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔

دوم ...... مرزا قادیانی نے حیات و ممات مسیح کے ایسے فروعی مسائل کی بحث کو زندہ کیا اور ان کو خاص اہمیت دی۔ جس کی وجہ سے مسلمان ام الکتاب کو چھوڑ کر متشابہات کی بھول بھلیاں میں پڑ گئے اور ان میں انتشار پیدا ہوا۔ میں اس موضوع پر کافی بحث کر چکا ہوں۔ لہٰذا اس وقت اس پر زیادہ اظہار خیال نہیں کروں گا۔

سوم ...... مرزا قادیانی نے اہل قبلہ کی تکفیر کی اور یوں ملت مرحومہ میں بے حد اختلاف و انتشار پیدا کیا۔ جس سے مسلمانوں کو شدید صدمہ اور بدترین نقصان پہنچا۔ یہ موضوع ذرا تفصیلی اور واضح بحث کا طالب ہے۔ لہٰذا میں اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ اظہار خیالات کرنا چاہتا ہوں۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان بلاوجہ کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ یہ بات اسلام سے مخصوص نہیں۔ بلکہ جملہ مذاہب عالم کا قانون یہی ہے۔ کافر کیا ہے، خدا کا مجرم۔ لہٰذا کسی بے گناہ کو مجرم قرار دینا جرم قرار دیا گیا ہے۔ آئین دنیا میں بھی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر زنا یا چوری یا کسی اور قسم کے جرم کے ارتکاب کا جھوٹا الزام لگائے تو وہ خود مجرم قرار دیا جاتا ہے اور سزا پاتا ہے۔

مرزا قادیانی نے نہ صرف اپنے مخالفین کو بلکہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیا۔ چنانچہ غیر قادیانی مسلمانوں کے متعلق برادران قادیان کے عقیدہ کو بیان فرماتے ہوئے مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ لاہور اپنی کتاب (تحریک احمدیت ص ٢٩) پر لکھتے ہیں کہ فریق قادیان کا ”عقیدہ یہ رہا کہ جن لوگوں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت نہیں کی خواہ وہ انہیں مسلمان ہی نہیں مجدد اور مسیح موعود بھی مانتے ہوں اور خواہ وہ ان کے نام سے بھی بے خبر ہوں وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“

خود مرزا قادیانی اپنی کتاب (معیار الاخبار ص ٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”مجھے الہام ہوا جو شخص تیری

١٠٨

صفحہ ٢٢٩

پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“ نیز آپ نے ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم کے نام ایک خط لکھا۔ جس میں آپ نے تحریر کیا کہ: ”ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے قبول نہیں کی وہ مسلمان نہیں۔“ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) پر مرزا قادیانی رقمطراز ہیں کہ: ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

مولوی نور الدین قادیانی نے جو مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل تھے۔ اس مسئلہ کو زیادہ صاف کر دیا ہے۔ وہ اخبار الحکم مجریہ ٧؍اگست ١٩٠٨ء میں لکھتے ہیں کہ ؎

اسم او اسم مبارک ابن مریم می نہند آں غلام احمد است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے درشان او آں کافر است جائے او باشد جہنم بے شک وریب وگماں

کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی نے اس لئے مسلمانوں کو کافر بنایا کہ خود علمائے اسلام نے ان کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں۔ مرزا قادیانی بقول خود مامور من اللہ تھے اور نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے خدا کا پیام لے کر آئے تھے۔ ان کے مقابلہ میں جو لوگ اٹھے وہ کسی کے نمائندہ نہ تھے۔ انہوں نے اگر مرزا قادیانی کو کافر کہا تو وہ ان کا ذاتی فعل تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہئے کہ وہ ان کا اور ان کے عقیدت مندوں کا فعل تھا۔ لہٰذا ان کی وجہ سے تمام عالم اسلام کو کافر قرار دینا کہاں کی دانشمندی تھی۔

علماء کے اعلان تکفیر کے جواب میں مرزا قادیانی زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ وہ مکفر علماء کا نام لے کر ان کے خلاف خود کفر کا فتویٰ لگا دیتے یا تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہتے کہ میں مسلمان ہوں اور شرع مطہرہ کی رو سے مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے اور بس۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور پنجاب یا ہندوستان تک جو بحث محدود تھی اس کی وجہ سے چین اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی کافر قرار دیا۔

مرزا قادیانی کے فتوائے تکفیر میں بھی تضاد ہے جو حوالہ جات میں نے اوپر نقل کئے ان میں مرزا قادیانی نے منکروں کو جہنمی قرار دیا ہے۔ لیکن اپنی کتاب (توضیح المرام ص ١٧، ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) پر ایک طویل تحریر کے ضمن میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”جزوی نبی بھی انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بہ آواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔“

١٠٩

صفحہ ٢٣٠

ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرنے میں اور جہنمی ہونے میں تو بہت بڑا فرق ہے۔ لہٰذا میرے احمدی بھائی اگر اس تفریق کی توضیح فرما سکیں تو باعث ممنونیت ہوگا لیکن اس پر اکتفا نہیں۔ آپ اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ١٣١، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والوں کو کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نہیں ہیں۔ ان حالات میں ان کا اپنے قول کے خلاف منکر خود کو کافر بنا دینا کہاں تک جائز ہے۔ اس کا فیصلہ خود مسلمان کر سکتے ہیں۔ ”وما علینا الا البلاغ“

قسط سیوم (٣٠)

اپنے اس قول کے باوجود تکفیر اہل قبلہ میں مرزا قادیانی نے اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ انہوں نے اپنے معتقدین کو مسلمانوں کے ساتھ نماز تک پڑھنے سے روک دیا۔ چنانچہ آپ اپنی کتاب (اربعین ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) اور اسی کتاب کے ص ٢٨ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ: ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہیں۔ اس لئے کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ: ”امامکم منکم“ یعنی جب مسیح نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل ضبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا۔ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔“

١١٠

صفحہ ٢٣١

اب حالت یہ ہے کہ ماں مرجائے تو بیٹا احمدی ہونے کی صورت میں جنازہ میں شامل نہیں ہوتا۔ گویا نماز میں شمول سے انکار کر کے احمدی بھائیوں نے ہم مسلمانوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ لیکن تقاضائے انصاف یہ ہے کہ میں تسلیم کروں کہ شیعہ اور سنی مسلمان بھی ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ یہ شرف اہل حدیث گروہ ہی کو حاصل ہے کہ اس نے شمول نماز سے انکار نہیں کیا۔ لیکن شیعہ سنی اختلاف عوام کا اختلاف ہے۔ اس کو نبوت کی تصدیق حاصل نہیں۔ شیعہ اور سنی دلائل سے ایک دوسرے کو کافر ٹھہراتے ہیں اور ان کا استدلال غلط ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ اس کو خدائے تعالیٰ کی تصدیق حاصل نہیں۔ برعکس ازیں مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور ان کا اعلان تکفیر گویا خدا کی طرف سے تمام غیر مرزائی مسلمانوں کے لئے اعلان تکفیر ہے اور ظاہر ہے کہ ان دو صورتوں میں بعد المشرقین ہے۔

نیز مرزا قادیانی نے ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے جو از بس اندوہناک ہے۔ مرزا قادیانی کی آمد تک غیر معروف اور تعداد کے لحاظ سے قابل تغافل فرقوں کے علاوہ صرف شیعہ سنی جماعت ہی میں اختلاف نماز پیدا ہوا، اور یہ اختلاف صرف ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے تک محدود رہا۔ اس کے علاوہ تمام ارکان اسلام پر ان کا اجتماع رہا۔ خصوصاً حج پر، لیکن مرزا قادیانی کے مریدوں نے اگر اصولاً نہیں تو عملاً قادیان کو اپنا مرکز حج بنالیا ہے اور یہ بات نہایت ہی اندوہناک ہے۔ ان کا یہ فعل بھی مرزا قادیانی کے ایک قول پر مبنی ہے۔ وہ اپنی کتاب درثمین جلد دوم کے صفحہ ٥٢ پر لکھتے ہیں کہ ؎

زمیں قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

مجھے معلوم نہیں کہ کسی احمدی دوست نے حج کے لئے ارض مقدسہ حجاز کو جانے کی تکلیف گوارا کی ہو۔ لیکن یہ بات میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ اگر اس میں لاعلمی کی وجہ سے مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تو خدا مجھے معاف کرے۔ (مجھے اتنا لکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ جماعت قادیان کے خلیفہ ثانی اور بعض اور قادیانی اصحاب حج کر آئے ہیں۔ مگر عام رجحان یہی ہے کہ حج پر سفر قادیان کو ترجیح دی جاتی ہے اور یہ رجحان رو بہ ترقی ہے۔ حبیب)

اسی موقعہ پر میں اس امر کے خلاف بھی احتجاج کرنا بطور مسلمان اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ جس قدر اسلامی الفاظ حضور سرور کائنات فداہ روحی اور ان کے آل کے ساتھ مخصوص ہیں۔

١١١

صفحہ ٢٣٢

برادران قادیان ان کو نہایت بے باکی سے اپنے امام اور اس کی اولاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ ہم رسالت کے خادم اس کو بے ادبی و گستاخی قرار دیتے ہیں۔ دنیا میں عزت افزا الفاظ کی کمی نہیں۔ یہ سچ ہے کہ الفاظ مذکورہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے لئے کہیں باضابطہ طور پر رجسٹری نہیں ہوئے۔ لیکن احترام خاندان محمد ﷺ کی وجہ سے برادران قادیان ان کا حد سے زیادہ آزادانہ استعمال ترک کر دیں تو ان کی عنایت ہوگی ۔ مثلاً مرزا قادیانی کی بیگمات کو امہات المومنین لکھا جاتا ہے اور ان کے جانشین وقت کے ہر حرم محترم کو سیدہ کا لقب دیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! میرے ان فقرات کو بحث عقائد سے تعلق نہیں۔ یہ محض ایک دردمندانہ اپیل ہے اور بس۔

قسط سی و یکم (٣١)

مرزا قادیانی نے کرشن ہونے کا دعویٰ سب سے پہلے اپنے سیالکوٹ کے لیکچر میں کیا۔ یہ لیکچر قادیانی جماعت سیالکوٹ کی طرف سے بصورت کتاب شائع ہوچکا ہے۔ مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے یہ کتاب مجھے عاریتہ مطالعہ کے لئے دی تھی۔ جو میں نے واپس کردی۔ اس کتاب کے (ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) پر یہ دعویٰ موجود ہے۔ صفحات ٣٣، ٣٤ پر اس دعویٰ کو ادعائے مسیحیت سے مدغم کرکے ایک ہی دکھایا گیا ہے۔ کرشن مہاراج کو نبی بتایا گیا ہے۔ مسیح موعود مرزا قادیانی ہیں وہ کرشن بھی ہیں۔ لہٰذا کرشن اور مسیح موعود ایک ہی ہیں۔

میں نے ابتدائی اقساط میں جہاں مرزا قادیانی کے دعاوی گنوائے ہیں۔ وہاں جناب مرزا قادیانی موصوف کی کتابوں کے حوالے دے کر ان کے کرشن ہونے کے ادعا کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ ناظرین کرام کو گذشتہ اقساط نکال کر ثبوت کے ملاحظہ فرمانے میں تکلیف نہ ہو۔ میں یہ لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کے لیکچر سیالکوٹ کے علاوہ (جس کا حوالہ اوپر درج ہوچکا ہے) کتاب (البشریٰ جلد اوّل ص ٥٦) پر آپ کے متعلق ، ہے کرشن جی رودر گوپال کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ اسی کتاب کے اسی صفحہ پر ان کو ”آریوں کا بادشاہ“ لکھا ہے اور اسی کتاب کی دوسری جلد کے ص ١١٨ پر ان کا نام ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور مقام پر آپ نے خود کو ”کلگی والے“ کا خطاب بھی دیا ہے۔ جس سے مراد سکھوں کے دسویں گرو لئے جاتے ہیں۔

حوالے تو اور بھی متعدد دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن زیر نگاہ مقصد کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ مرزا قادیانی کے کرشن ہونے کے دعویٰ پر متعدد پہلوؤں سے بحث ہوسکتی ہے۔ سب سے

١١٢

پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرشن ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یا لازم ہوگا کہ مرزا قادیانی کو بھی جب ہم ہندوؤں کی کا اوتار ہونے کے دعویدار تھے خدا ہیں۔ میں مرزا قادیانی کے یہ ہے کہ انسان یا کسی دوسری کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ کے لئے کسی نہج سے بھی شریعت ضروری ، امراض جسمانی اور ہوتا ہے اور خداوند کریم کی شان اور جاگتا ہے اور یہ سب کچھ المشرقین ہے۔ تمام پیغمبر ا ہیں۔ خدا محدود نہیں ہو سکتا اللہ کا قائل ہے اور فلسفہ اوتار

کی مصداق ۔ صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ تھے۔ ان کی تعلیم کو ہندوانہ السلام کے ادعائے نبوت خوب ! لیکن تاریخ میں نبوت کا نشان تمام مرسلین من اللہ کو صرف ایک بھی ایسا آدمی نہیں سے ظاہر ہے کہ نبوت کا

صفحہ ٢٣٣

پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرشن جی کا اپنا دعویٰ کیا تھا۔ کیا وہ مدعی نبوت تھے کہ مرزا قادیانی کرشن ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یا وہ کچھ اور دعویٰ رکھتے تھے۔ اگر ان کا دعویٰ نبوت سے بالاتر تھا تو لازم ہوگا کہ مرزا قادیانی کو بھی نبی سے زیادہ درجہ دیا جائے۔

جب ہم ہندوؤں کی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کرشن جی خدا کا اوتار ہونے کے دعویدار تھے۔ یعنی وہ کہتے تھے کہ وہ انسان نہیں ہیں۔ بلکہ انسان کے جسم میں خود خدا ہیں۔ میں مرزا قادیانی کے ادعائے الوہیت پر بحث کرتے ہوئے لکھ چکا ہوں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان یا کسی دوسری مخلوق کو ہم استعارۃً بھی خدا سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ لہٰذا کرشن جی کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ خدا کا اوتار تھے یا خود خدا تھے۔ صریح کفر ہے شرک ہے اور اس عقیدہ کے لئے کسی نہج سے بھی شریعت اسلام میں قبولیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اوتار کھاتا پیتا ہے۔ حوائج ضروری، امراض جسمانی اور خواہشات نفسانی کا (خواہ وہ منکوحہ ہی کے متعلق کیوں نہ ہوں) شکار ہوتا ہے اور خداوند کریم کی شان اس سے ارفع و اعلیٰ ہے۔ اوتار ایک جگہ تک محدود ہوتا ہے۔ سوتا اور جاگتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بعید ہے۔ پیغمبر اور اوتار کے مفہوم میں بعد المشرقین ہے۔ تمام پیغمبر انسان تھے اور خدا کے بندے تھے۔ وہ یہی کہتے رہے کہ ہم خدا نہیں ہیں۔ خدا محدود نہیں ہوسکتا۔ اوتار اس امر کے مدعی تھے کہ وہ خود خدا ہیں۔ اسلام نیابت و رسالت اللہ کا قائل ہے اور فلسفہ اوتار کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اوتار کی بحث بہت طویل ہے اور

صد سال می تواں سخن از زلف یار گفت

کی مصداق ہے۔ لیکن میں اس کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں قادیانی بھائی صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ کرشن جی کا اپنا دعویٰ یہ نہ تھا کہ وہ خدا کا اوتار ہیں۔ وہ نبوت کے مدعی تھے۔ ان کی تعلیم کو ہندو اسی طرح غلط پیش کر رہے ہیں۔ جس طرح مسیحی دوست حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ادعائے نبوت کو دعویٰ الوہیت و ابن اللہ کہہ کر ظاہر کرتے ہیں۔

خوب! لیکن اس کے جواب میں دو باتیں عرض کرتا ہوں۔ اوّل یہ کہ ہندوؤں کی تمام تاریخ میں نبوت کا نشان نہیں ملتا۔ ان کے ہاں جو بھی آیا وہ اوتار ہی بن کر آیا۔ عیسائی اس کے برعکس تمام مرسلین من اللہ کو صرف نبی مانتے ہیں اور صرف ایک کو خدا کا بیٹا یا خدا کہتے ہیں۔ ہندوؤں میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں ملتا جس کا دعویٰ صرف نبوت تک محدود ہوتا، اور جس کو ہندو بھی نبی مانتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ نبوت کا مفہوم ہی ہندو قوم کی ذہنیت سے خارج رہا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ کرشن جی خود تو

١١٣

PDF 235

مدعی نبوت تھے۔ ان کے مریدوں نے انہیں اوتار بنا دیا۔ بڑی دور کی کوڑی لانے کے مصداق ہے۔ لیکن میں برادران قادیان کے اس جواب کو تسلیم کر لیتا۔ بشرطیکہ مرزا قادیانی خود اوتار ہونے کے مدعی نہ ہوتے۔ مگر جس حالت میں وہ خود اوتار ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس صورت میں یہ کہنا کہ وہ کرشن کو اوتار نہیں بلکہ نبی مانتے تھے۔ ایک عجیب معمہ بن جاتا ہے۔ جس کا سمجھنا ایک عام آدمی کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔

مرزا قادیانی کے اوتار ہونے کا دعویٰ کتاب (البشریٰ ج دوم ص ١١٦) پر ملاحظہ فرمائیے جہاں ہندوؤں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ: ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں“ یہاں مرزا قادیانی نے خود کو برہمن اوتار لکھ کر ایک اور بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ جو فلسفہ اسلام وفلسفہ ہنود میں ہمیشہ سے موجود چلی آتی ہے۔ مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد انسان برزخ میں رہے گا اور پھر قیامت کے روز زندہ ہو کر اپنا حساب دینے کے بعد بہشت یا دوزخ میں چلا جائے گا۔ ازاں بعد کیا ہوگا۔ ایک ایسی بحث ہے جس کو موجودہ مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا میں اسے قلم انداز کرتا ہوں۔

برعکس اس کے ہندو فلسفہ یہ ہے کہ انسان مر کر کئی کروڑ جیو بدلتا ہے۔ جس کو جون کی تبدیلی کہتے ہیں اور بالآخر یہ خدا بن جاتا ہے۔ یعنی نروان حاصل کر لیتا ہے۔ ہندو عقیدہ اسلام کے خلاف ہے۔ کبھی فرصت ملی تو انشاء اللہ ان دونوں متضاد خیالات پر تبصرہ کر کے ثابت کروں گا کہ اسلامی عقیدہ بہتر، صحیح اور عقل کے مطابق ہے۔ اس وقت اتنا لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا برہمن اوتار ہونے کا دعویٰ اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔

لیکن میں اپنے موضوع سے دور چلا گیا۔ میں ثابت کر رہا تھا کہ مرزا قادیانی نے یہ جانتے ہوئے کہ کرشن جی مہاراج نبوت کے دعویدار نہ تھے۔ بلکہ خدا ہونے کے مدعی تھے۔ خود کو کرشن قرار دیا اور یوں وہ بات کی جو اسلام کی شریعت کی پابندی کرنے والے کے لئے ہرگز ہرگز موزوں نہ تھی۔ مگر بالفرض بحث کے لئے مان لیجئے کہ کرشن نبوت کے دعویدار تھے اور مرزا قادیانی نے ان کو نبی مان کر کرشن ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر کلکی والے کے دعویٰ کے متعلق کیا کہیں گے جو ہرگز نبوت کے مدعی نہ تھے اور اسلام سے جن کی عداوت اظہر من الشمس ہے۔

کرشن جی مہاراج کو گزرے مدتیں بیت گئیں۔ لیکن کلکی والے گرو تو کل زندہ تھے اور ان کے صحیح ومستند حالات کتابوں میں محفوظ ہیں۔ کیا وہ اسلام کی شریعت کی رو سے عقائد باطلہ نہ رکھتے تھے۔ پھر مرزا قادیانی نے کلکی والے کا اوتار ہونے کا دعویٰ کیا تو کیوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی تمام مسلمانوں کے لئے مطلق نبی بنے۔ مذہب سے آگاہ مسلمانوں کے واسطے ظلی

١١٤

نبی ہوئے۔ عیسائیوں کے گئے۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ ان کے کرشن ہونے کے دعو ہے۔ احمدی بھائی کہتے ہیں نہیں ہیں اور اگر صحیح ہیں تو ک

اول تو کرشن ج ہیں اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ رائے اور دوسرے مستند ہند وہی مثل ہوئی کہ : ”مدعی س ان کو حضرت سلیمان علیہ ال کی شریعت کی رو سے جائز سے تعلق رکھتے ہیں زمین موسیٰ کے زمانہ میں اجتماع موسیٰ علیہ السلام کے حرم م آج دو بہنوں سے نکاح ک ازیں کہ اس کی عقل پر آ مزید یہ کہیں کہ اسلام کے داخل حرم کرنے کی اجاز

جس طرح م خدا کا اوتار نہیں بلکہ نبی ما بھی تسلیم کئے لیتا ہوں ک کتابوں میں درج ہے۔ قسطی و دوم (٣٢

اس کے بع کی تعلیم اسلام کے موا کہ وہ نبی تھے یا نہ تھے

صفحہ ٢٣٥

نبی ہوئے۔ عیسائیوں کے لئے مسیح، ہندوؤں کے لئے کرشن اور سکھوں کے لئے کلغی والے بن گئے۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ نہ سمجھے کہ ان تمام دعاوی میں تضاد و تناقض پیدا ہو جائے گا۔ آؤ! ذرا ان کے کرشن ہونے کے دعوٰی پر مزید غور کریں۔ کرشن جی کے مخالفوں کو ان کے چلن پر اعتراض ہے۔ احمدی بھائی کہتے ہیں کہ کرشن جی کے متعلق ایسے تمام حصے جن میں گوپیوں کا ذکر ہے۔ صحیح نہیں ہیں اور اگر صحیح ہیں تو کیا حضرت سلیمان کی بیویاں صدہا سے متجاوز نہ تھیں۔

اول تو کرشن جی مہاراج اور ان کی گوپیوں کے قصے ہندوؤں کی مستند کتابوں میں مذکور ہیں اور ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم ان کو جھوٹا یا محرف قرار دیں۔ خصوصاً اس صورت میں کہ لالہ لاجپت رائے اور دوسرے مستند ہندو مؤرخین نے ٨ سے لے کر ١٠٨ گوپیوں تک کا وجود سچ مان لیا ہے یہ تو وہی مثل ہوئی کہ: ”مدعی سست و گواہ چست“ اگر کرشن جی اور ان کی گوپیوں کے واقعات سچے ہیں تو ان کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے تشبیہ دینا انبیاء کی گستاخی ہے۔ حضرت سلیمان نے وہ کیا جو ان کی شریعت کی رو سے جائز تھا۔ ان کی تمام بیویاں ان کی منکوحہ عورتیں تھیں اور منکوحہ اور غیر منکوحہ سے تعلق رکھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں اس بات کو ذرا واضح کئے دیتا ہوں۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اجتماع بین الاختین یعنی دو سگی بہنوں سے نکاح جائز تھا اور کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حرم میں دو سگی بہنیں موجود تھیں۔ آج یہ حرام کر دیا گیا ہے۔ پس اگر کوئی شخص آج دو بہنوں سے نکاح کر کے یہ کہے کہ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا تھا۔ تو سوائے ازیں کہ اس کی عقل پر آنسو بہائے جائیں اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہاں اگر مرزا قادیانی یا ان کے مرید یہ کہیں کہ اسلام کے خدا نے جو نبی بھیجے۔ ان میں سے کسی کو کسی وقت غیر منکوحہ عورتیں بھی داخل حرم کرنے کی اجازت تھی تو اور بات ہے۔

جس طرح میں نے بحث کی خاطر سے مان لیا ہے کہ مرزا قادیانی نے کرشن جی کو خدا یا خدا کا اوتار نہیں بلکہ نبی مان کر کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی طرح میں محض بحث کی غرض سے یہ بھی تسلیم کئے لیتا ہوں کہ کرشن جی مہاراج کے چلن کے متعلق جو کچھ بھی ہندوؤں کی مسلمہ و مستند کتابوں میں درج ہے۔ وہ غلط ہے اور کرشن جی مہاراج کا چلن ہر قسم کے شبہ سے بالاتر ہے۔

قسط سی و دوم (٣٢)

اس کے بعد کرشن جی کی تعلیم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ دیکھنا لازمی ہے کہ ان کی تعلیم اسلام کے موافق تھی یا متضاد۔ اس کا جائزہ لینا اس لئے ضروری ہے کہ ہم فیصلہ کرسکیں کہ وہ نبی تھے یا نہ تھے۔

١١٥

صفحہ ٢٣٦

میں نے اس کی گیتا کو سنسکرت میں نہیں دیکھا۔ اس لئے کہ میں سنسکرت سے نا آشنا ہوں۔ لیکن میں نے جیل میں ہندی اور گورمکھی کو درساً پڑھ کر گیتا کا ہندی میں مطالعہ کیا۔ اس سے قبل میں اردو میں گیتا جی کا ترجمہ پڑھ چکا تھا اور فیضی خلد آشیاں کا فارسی ترجمہ بھی بہت تعمق و غور کے ساتھ دیکھ چکا تھا۔ میں نے گیتا بعض پنڈت صاحبان سے درساً پڑھی ہے۔ جن میں سے سب سے پہلے مشہور قومی کارکن پنڈت نیکی رام صاحب شرما تھے۔ ان پنڈت صاحب سے میانوالی جیل میں خوب لطف صحبت رہا۔ بہت شریف اور مخلص انسان ہیں۔ کئی ہندو سیاسی قیدی ان سے گیتا پڑھا کرتے تھے۔ سب سے دور ایک مسلمان بھی اپنی فارسی اور اردو اور ہندی کے گیتا کے نسخے لئے ہوئے مؤدب بیٹھا کرتا تھا اور توجہ سے ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ ظن بلکہ سوئے ظن بد نصیبی سے ہم مسلمانوں کی طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔ مسلمان سیاسی قیدی اپنے اس گیتا خواں بھائی کے متعلق عجیب و غریب خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ ان سب کی طرف سے بے پرواہ ہو کر علم کے موتی جمع کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ یہ طالب علم یہی خاکسار حبیب تھا۔ جس کی یہ تقریر ناظرین کرام ملاحظہ فرما رہے ہیں۔

گیتا کے سب سے بڑے مؤید زمانہ حال میں مہاتما گاندھی جی مہاراج ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ ایک جنگ میں مصروف ہیں اور گیتا بھی میدان جنگ میں لکھی گئی۔ یہ کوئی شریعت کی کتاب نہیں کہ اس کو کسی نبی کا کلام یا الہامی کتاب سمجھا جائے۔ بلکہ یہ فلسفہ جنگ ہے اور بس۔ واقعہ یہ ہے کہ کورو اور پانڈو بھائی بھائی تھے۔ ان میں جنگ ہو گئی۔ ایک فریق کا سب سے بڑا بہادر اپنے بھائیوں کا خون گراتے ہوئے گھبراتا تھا۔ وہ موت کو جنگ پر ترجیح دیتا تھا۔ کرشن جی نے اسے جنگ پر اکسایا اور جن الفاظ میں اکسایا یا جن دلائل سے اسے قائل کیا وہ گیتا کی پونجی ہیں۔ اپنے مقاصد کے لحاظ سے یہ کتاب بہت اعلیٰ ہے۔ مگر چونکہ الہامی کتاب نہیں۔ اس لئے اس میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔ ان خوبیوں کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔ کرشن جی ایک جگہ ارجن کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تو جنگ کر اس لئے کہ؎

شہادت کہ نبود ازاں برتری
نصیبے کسے نیست جز چھتری
اگر مردہ گردی بہ خلد است جا
وگر فتح یابی شوی پادشاہ

١١٦

صفحہ ٢٣٤

دوسری جگہ جب ارجن ہزیمت کا خدشہ ظاہر کرتا ہے اور نتیجہ کی بحث چھیڑتا ہے تو کرشن کہتے ہیں کہ تو جنگ کر اس لئے کہ نتائج خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان کا کام یہ ہے کہ پوری توجہ سے کام کرے اور نتیجہ کو خدا پر چھوڑ دے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں خیالات موتیوں میں تولنے کے قابل ہیں۔ لیکن اگر تحریر و خیالات کی جزوی خوبی کے باعث کتابوں کو الہامی قرار دیا جائے تو شاید ان کی کوئی انتہا نہ رہے۔ اب میں کرشن جی کے اس فلسفہ کو لیتا ہوں۔ جو اسلام کے خلاف ہے اور عقل عامہ بھی جس کو قبول نہیں کرسکتی۔ ملاحظہ ہو وہ کیا فرماتے ہیں۔

من از ہر سہ عالم جدا گشتہ ام
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام

یہ خیال اسلام کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ کرشن جی نے ایک اور خیال گیتا میں یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان مرتا نہیں۔ بلکہ جون بدلتا ہے۔ لہذا ارجن کو جنگ کرنے میں عذر نہیں ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ جون بدلنے کا فلسفہ اسلام اور عقل عامہ کے خلاف ہے۔ جس روز کرشن جی کا یہ فلسفہ زیر غور آیا۔ اس روز میں نے پنڈت نیکی رام صاحب سے پوچھا کہ اگر انسان اور دوسرے حیوانات جو آج دنیا میں زندہ موجود ہیں۔ اس دور حیات میں اسے بطور سزا گزار رہے ہیں تو پھر جیو ہتیہ اور انسان کا قتل جرم کیوں ہے۔ (اس تحریر کے بعد مجھے ایک معزز ہندو دوست نے بتایا کہ اس کا جواب آسان ہے۔ یعنی یہ کہ انسان قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ اگر کسی شخص کو پھانسی کی سزا مل چکی ہو اور تمام مراحل متعلقہ اپیل و درخواست رحم ختم ہوچکے ہوں اور صرف مرگ مفاجات باقی ہو تو بھی کوئی شخص اس کو قتل کرنے کا مجاز نہیں ہوسکتا۔ یہ جواب معقول ہے۔ حبیب)

ان کے ارشاد پر میں نے اپنے مطلب کو یہ کہہ کر واضح کیا کہ ایک گائے یا ایک گھوڑا کسی گناہ کی وجہ سے قید حیات میں مبتلا ہیں۔ پھر ان کا قتل جرم کیوں ہے۔ اس لئے کہ ان کا قتل تو انہیں قید سے چھڑا دیتا ہے اور اگر انہیں ایک مخصوص تعداد میں جون کی قید بھگتنا ہے تو اس تعداد میں سے ایک کی میعاد کم ہو جاتی ہے۔ دوسری مثال میں نے یہ عرض کی تھی کہ فرض کیجئے ایک شخص کا نام دین محمد ہے۔ وہ اس لئے انسان بنا اور گھوڑا نہیں بنا کہ اس کے گناہ ایسے سخت نہ تھے کہ اسے حیوان بنایا جاتا۔ لیکن وہ ملحد مسلمان کے ہاں پیدا ہوا۔ اس لئے کہ اس کے گناہ بہت تھے اور وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے قابل نہ تھا۔

اسی طرح ایک ہندو رام لال ہے۔ وہ اپنے گناہوں کے حساب سے اچھوت یا کھتری یا برہمن پیدا ہوتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جو برہمن اور اس پر بھی مہاراجہ ادھیراج پیدا ہو۔

١١٧

صفحہ ٢٣٨

لیکن ایسا انسان بھی اس زندگی کو ایک قیدی کی حیثیت سے گزارتا ہے۔ اگر اس کو قتل کر کے اس کی میعاد قید کو کم کر دیا جائے تو یہ اس کے لئے مفید ہے۔ نہ کہ مضر، پھر قتل یا جیو ہتیا جرم کیوں ہیں۔

پنڈت جی نے کچھ عرصہ تک سکوت کرنے کے بعد فرمایا کہ مقتول کو اس قتل کی وجہ سے کئی لاکھ جونوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ گناہ تو کیا قاتل نے یہ مقتول کو الٹی سزا ملتی ہے تو کیوں۔ پنڈت جی خاموش ہو گئے اور دوسرے روز سے گیتا کا درس بند ہو گیا۔ (اس نکتہ کا جواب میرے محولہ بالا معزز ہندو دوست صرف یہ دے سکے کہ پنڈت جی کا استدلال غلط تھا۔ مگر وہ خود بھی اس کی تردید نہیں کر سکے۔ حبیب)

عقل عامہ بھی کرشن جی کے جون کے فلسفہ کے خلاف ہے۔ سزا وہ جس کا احساس ہو اور جس کی لم واضح ہو۔ جب پرتاپ کے ایڈیٹر مہاشہ کرشن کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کس جرم کی وجہ سے انسان بنایا گیا اور معمولی ہندو پیدا ہوا تو وہ اس جرم سے آئندہ اجتناب کیسے کر سکتا ہے اور اسے جب احساس جرم ہی نہیں تو یہ سزا کیسے ہوئی۔ (اس کا جواب بھی میرے موصوف بالا دوست نہیں دے سکے۔ حبیب)

ایک دفعہ یہی اعتراض کلکتہ میں پنڈت دینا ناتھ صاحب متوفی مدیر بجلی لاہور کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے میرے اس سوال پر کہ گدھے کو جب احساس سزا ہی نہیں تو سزا کیسے ہوئی۔ سکوت فرما کر جواب دیا کہ اعتراض وزنی ہے اور میں اس کا جواب دینے سے قاصر ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ تحریک قادیان کے اختتام کے بعد اسی طرز و طریق پر مسیحیت، آریہ دھرم، ہندو مت اور سکھوں کے پنتھ پر ناقدانہ سلسلہ لکھوں۔ وباللہ التوفیق۔ اس وقت ان مسائل پر زیادہ وضاحت سے بحث کروں گا۔ فی الحال اسی قدر اظہار خیال کافی ہے۔

کرشن جی کے کلام سے اور متعدد مثالیں ایسی پیش کی جاسکتی ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے خیالات اسلام کے خلاف تھے اور ان کی کتاب الہامی کتاب نہیں۔ لیکن موجودہ مقاصد کے لئے محولہ بالا امثلہ کافی ہیں۔

پھر ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔ اگر دنیا میں تمام حیوانات وانسان گناہ کی وجہ سے آئے ہوئے ہیں تو ان کی نسل کا جاری رکھنا کیوں ثواب ہے۔ کیا کوئی پسند کرتا ہے کہ جیل خانے بھرے جائیں۔ نہیں پھر اگر یہ فلسفہ درست ہے تو کیوں حیوانات سے بچہ کشی کرائی جاتی ہے۔ کیوں ہر انسان کے لئے لازمی ہے کہ اولاد پیدا کرے۔ کیوں اس کی موت کے بعد اس کو سر پھوڑنے کے لئے اس کے لڑکے کا وجود رحمت مانا جاتا ہے۔ کیوں انسان کی زندگی کا مقصد مانا

١١٨

صفحہ ٢٣٩

جاتا ہے۔ (اس کا جواب بھی میرے متذکرہ بالا ہندو دوست نہیں دے سکے۔ حبیب) لیکن ہمارے اس استدلال کے جواب میں ہمارے قادیانی دوست کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح کرشن کے ادعائے نبوت کو ہندوؤں نے اوتار کا دعویٰ بنا دیا۔ اسی طرح انہوں نے انکی تعلیم کو بھی بدل دیا۔

خوب لیکن اس خیال پر کئی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ خود ہندو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کتاب میں تحریف نہیں ہوئی۔ دوسرے ہم تاریخ مذاہب حقہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جب بھی کسی آسمانی کتاب میں تحریف ہوئی۔ دوسری آسمانی کتاب میں جو اس کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تحریف کا ذکر آیا۔ چنانچہ توریت میں جب تحریف ہوئی تو حضرت عیسیٰ نے انجیل لاکر دنیا کو دی۔ جس میں تحریف تورات کی مثالیں بیان کی گئی تھیں اور اب تک موجود ہیں۔ جب انجیل میں بھی تحریف ہوئی تو قرآن پاک نازل ہوا اور اس میں صاف لکھا ہے کہ:

بات لکھ دی۔ وغیرہ وغیرہ۔

اگر گیتا الہامی کتاب ہے تو اس میں جو تحریف ہوئی اس کے متعلق مرزا قادیانی پر الہام کیوں نہ ہوا کہ اس کی فلاں فلاں باتیں محرف ہیں۔ ایک اور اعتراض یہ ہوسکتا ہے کہ ہر آسمانی کتاب شریعت کی حاملہ تھی۔ مگر گیتا جی کے بہترین حصے بھی شریعت بننے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ نیز اگر گیتا کے ان تمام حصص کو جو اسلام کے خلاف ہیں۔ نکال دیا جائے تو باقی جو کچھ رہ جاتا ہے وہ بہت قلیل ہے اور اس کو خوبی خیال کے لحاظ سے خواہ کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ دیا جائے تو بھی وہ خدا کا کلام ظاہر نہیں ہوتا۔ مگر بحث کی خاطر سے یہ بھی تسلیم کر لیجئے کہ کرشن جی کے کلام میں تحریف ہوئی۔ اس صورت میں گویا اب تک بحث کی غرض سے ہم تین باتیں تسلیم کر چکے ہیں۔

افسانے ہیں۔

١١٩

صفحہ ٢٤٠

سوم ....... یہ کہ ان کی کتاب ان کی تعلیم کا صحیح مرقع پیش نہیں کرتی۔ بلکہ اس میں تحریف کی گئی ہے اور اس وجہ سے مرزا قادیانی نے ان کو نبی قرار دے کر کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ بہر حال اگر صورت معاملہ یہ ہے تو پھر بحث کا اصول یہ ہوگا کہ ہم قرآن الحکیم کو کسوٹی بنا کر اس پر مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کو پرکھیں کہ انہیں خدا کی طرف سے علم دیا گیا تھا کہ کرشن جی نبی تھے۔

قسط سی وسوم (٣٣)

مجھے معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے کرشن جی مہاراج کے سر پر نبوت کا جو تاج رکھا ہے اس میں غیر قادیانی حضرات میں سے کتنے ان سے متفق ہیں۔ البتہ ایک صاحب کا مرزا قادیانی سے اس معاملہ میں اتفاق اظہر من الشمس ہے اور وہ مولوی ظفر علی صاحب مالک و مدیر جریدۂ زمیندار لاہور ہیں۔ جن کا اخبار آئے دن بر محل و بے محل یہ اعلان کرتا رہتا ہے کہ کرشن جی پیغمبر تھے۔ باقی مسلمانوں میں سے بعض تعلیم یافتہ مسلمان یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہندوستان ایسے وسیع ملک اور ہندوؤں ایسی بڑی قوم کا پیغمبر خالی ہونا خارج از امکان ہے۔ لہٰذا اگر کرشن جی کو پیغمبر مان لیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں خدائے قدوس نے خود فرمایا ہے کہ ہر قوم کے لئے ہم نے ہادی بھیجا اور کوئی گاؤں ایسا نہیں جس میں ہمارا پیام نہیں پہنچا۔

میں عرض کروں گا کہ میرا بھی یہ ایمان ہے کہ ہندوستان چھوڑ، پنجاب میں بھی پیغمبر آئے اور پنجاب یا تبت یا چین کا ایک قریہ بھی ایسا نہیں جس میں خدا کا پیام نہ پہنچا ہو۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی عذر نہیں کہ ہر گاؤں میں کوئی ڈرانے اور بشارت دینے والا آیا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے پہلے مبعوث ہوا ہو۔ اس لئے کہ خاتم النبیین کے بعد بعثت انبیاء بند ہوچکی۔ اس پر مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت کی ذیل میں کافی بحث کرچکا ہوں اور اس موضوع پر اس وقت کچھ لکھنا غیر ضروری ہے۔ نیز کرشن جی چونکہ حضرت خاتم الانبیاء سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا ان کی نبوت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے بعثت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی کا مبعوث ہونا خارج از بحث ہے۔

بہر کیف مجھے یہ تسلیم ہے کہ ہندوستان میں ایک چھوڑ متعدد نبی پیدا ہوئے اور مجھے یہ بھی تسلیم ہے کہ قرآن پاک کے چوبیسویں پارہ کے ربع ثالث یعنی سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ اسی لقب (فداہ روحی) کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ : ”اے پیغمبر تحقیق ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے۔ جن میں سے

١٢٠

صفحہ ٢٤١

بعض ہیں کہ ان کا ذکر ہم نے آپ سے کر دیا ہے اور بعض ہیں کہ ان کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔" کرشن جی کی نبوت کے حامی کہتے ہیں کہ جب ہندوستان میں نبیوں کی بعثت مسلم ہے اور اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ بعض انبیاء کا ذکر قرآن مقدس میں موجود ہی نہیں تو پھر کرشن جی کو نبی مان لینے میں حرج کیا ہے۔ خصوصاً اس صورت میں کہ ان کی کتاب گیتا ایک بینظیر کتاب ہے۔ ان میں سے اکثر اصحاب وہ ہوتے ہیں جنہوں نے گیتا کی تعریف ادھار لی ہوتی ہے۔ یعنی انہوں نے خود کبھی گیتا کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا اور اس کے باوجود وہ اس کی خوبی کے قائل ہوتے ہیں۔ اگر خوبی تحریر کو معیار نبوت سمجھا جائے تو پھر مجھے یاد ہے کہ ایک انگریز نے آکسفورڈ سے شیکسپیئر کے کلام کا جو مجموعہ شائع ہوا ہے اس کی تمہید میں لکھا ہے کہ: ”احمقوں میں سے وہ بدترین احمق ہی جس کے سر پر حماقت کا تاج راس آئے۔ اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ کتاب (شیکسپیئر کی تصانیف) دنیا کی بہترین کتاب ہے۔“

قرآن پاک سے تو اس شخص کو دور کی نسبت بھی نہ تھی۔ لیکن انجیل یا کتاب مقدس پر ایمان رکھتے ہوئے اس نے شیکسپیئر کی تصنیف کو دنیا کی بہترین کتاب قرار دیا۔ کیا اس میں حرج کی کوئی بات لازم نہیں آتی۔ اگر نہیں تو آؤ شیکسپیئر کو بھی پیغمبر مان لیں۔ آج ممنوعات شرعی کو عقلی دلائل کی وجہ سے حلال قرار دیا جارہا ہے۔ سود کا جواز زیر بحث ہے۔ اس لئے کہ لینے میں حرج نہیں اور نہ لینے میں نقصان ہے۔ ہماری تجارت کی کساد بازاری کو حرمت سود پر محمول کیا جاتا ہے۔ گویا معاذ اللہ اصول قرآنی کو ہماری تذلیل کا باعث ثابت کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج سود ہی نے دنیا کو پریشان کر رکھا ہے اور جس مغرب کی تقلید میں ہم سود کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مغرب حرمت سود کی حکمت کا قائل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کجا بود مرکب کجا تاختم۔ آمدم برسر مطلب۔ سوال یہ نہیں کہ کرشن جی کو پیغمبر مان لینے میں کوئی حرج ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم کسی خاص شخص کو جس کا قرآن میں بالصراحت ذکر نہیں نبی مان لیں۔

میری گذارش ہے کہ جن انبیاء علیہم السلام کا قرآن پاک میں نام بہ نام ذکر موجود ہے۔ جس طرح ان میں سے کسی کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح ان میں کسی کا نام لے کر اضافہ کرنا بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اور ان دونوں اصولوں کی لم منجملہ دلائل متعددہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسے نبی کا انکار جس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔ تحریف فی القرآن ہے اور اسی طرح کسی ایک کا اضافہ بھی تحریف فی القرآن ہوگا۔

١٢١

صفحہ ٢٤٢

میں ناسخ و منسوخ کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ لیکن اتنا عرض کروں گا کہ اب تک بعض لوگوں نے یہ تو لکھا ہے کہ فلاں آیت کو فلاں آیت نے منسوخ کر دیا۔ مگر یہ کسی نے نہیں کہا کہ نزول قرآن پاک کے بعد کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے۔ یہ کام بن پڑا تو مرزا قادیانی ہی سے جنہوں نے آیات جہاد کی تنسیخ کا اعلان کیا اور اس اعلان کو الہام پر مبنی قرار دیا۔

اسی طرح تکمیل قرآن الحکیم کے بعد کسی نے آج تک یہ نہیں کہا کہ اس میں بذریعہ الہام اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اگر یہ مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی نبی تھے اور انہیں بذریعہ الہام کرشن بنایا گیا اور بتایا گیا کہ کرشن نبی تھے تو اس کے معنی یہ ہوئے جہاں حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب وغیرہم علیہم السلام کا ذکر آتا ہے وہاں قرآن پاک میں ایک نبی کے نام کا اضافہ کرنا پڑے گا اور یہ تسلیم کر لیں تو تحریف یا تبدیل قرآن کو صحیح ماننا پڑتا ہے جو کفر ہے۔

محولہ بالا آیت کریمہ سے یہ تو ثابت ہے کہ خود خدائے تعالیٰ نے بعض انبیاء کے نام نہیں لئے اور کرشن جی کا نام بھی نہیں لیا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوند کریم نے جس کا نام نہیں لیا اس کا نام لینے کا حق کس کو ہے۔ کیا محمد ﷺ نے ایسا کیا۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ ورنہ حدیث موجود ہوتی کہ فلاں یا فلاں رسول یا رسولوں کے نام خدا نے تو نہیں لئے۔ لیکن رسول اللہ نے ان کی تخصیص نام بہ نام فرمائی۔

اور جب خدا اور اس کے رسول ﷺ دونوں نے ایسا نہیں کیا تو کیا خلفائے راشدین نے ایسا کیا۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ کیا کسی مدعی نبوت نے، محدث نے، مجدد نے یا کسی اور مسلمان نے کسی کا نام لے کر اس کو نبوت کا درجہ دیا۔ نہیں اور ہرگز نہیں بالکل نہیں۔

تو یہ سوال حل طلب ہوا کہ جس کی تخصیص خدا اور رسول ﷺ نے نہیں کی۔ اس کی تخصیص کون کر سکتا ہے۔ کیا ہر مسلمان ایسا کر سکتا ہے۔ اگر ہر مسلمان کو اس کی اجازت ہے تو پھر انبیاء کی ایک لامتناہی فہرست تیار ہو سکتی ہے۔ کیا اجماع امت کو اس کا حق دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو لازم ہے کہ دونوں کے ذریعہ سے گذشتہ انبیاء کی فہرست تیار کی جائے۔ جن کا ذکر قرآن شریف میں موجود نہیں اور اگر افراد ملت کو مجموعی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ کسی کا نام لے کر اس کی نبوت کی تصدیق کریں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ حق کس کو حاصل ہے۔ جواب ملے گا کہ خدا اور صرف خدا کو اور وہ الہام یا وحی کے ذریعہ ہی سے کسی کا نام اپنے کسی فرستادہ کو بتائے گا۔ اس لئے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ انسان سے کلام بذریعہ الہام یا وحی ہو اور اگر یہ صورت صحیح مان لی جائے اور

١٢٢

صفحہ ٢٤٣

تسلیم کی جائے کہ اس نے مرزا قادیانی کو منتخب کر کے ایک نام بتایا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ محمد (فداہ روحی) پر قرآن نامکمل نازل ہوا۔ اس میں ایک نام نہ تھا اور وہ نام مرزا قادیانی پر ظاہر کر کے قرآن کی تکمیل کی گئی اور یہ عقیدہ خلاف اسلام ہے۔ اس لئے کہ قرآن مکمل ہے اور اس میں کسی ترمیم یا اضافہ کی گنجائش نہیں۔ پس میرا استدلال یہ ہے کہ:

کہ خود خدا اس پر کوئی نام ظاہر کرے۔

ہوتی تو حضور سرور کائنات ایسا کرتے۔ مگر ان کا ایسا نہ کرنا بتا رہا ہے کہ خدا جس کو ظاہر نہ کرے۔ بندہ اس میں دخل نہیں دے سکتا۔

مشیت میں فرق ہے۔ مشیت ایزدی یہ ہے کہ قرآن شریف مکمل ہے اور یہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا۔ اس میں تبدیلی ممکن نہیں نہ اس میں اضافہ ہی ممکن ہے۔

مجید میں موجود نہیں تو وہ تکمیل قرآن الحکیم کے مرادف ہوگی اور یہ بات بھی تعلیم قرآن پاک کے خلاف ہے۔

پس اصولاً یہ ایمان رکھنا کہ دنیا بھر میں متعدد پیغمبر مبعوث ہوئے۔ جن سے ہندوستان بھی خالی نہیں رہا۔ لیکن کسی کا نام لے کر اس کو مخصوص بہ نبوت کرنا اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ حق عام افراد کو دیا جائے تو فتنہ کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے اور انبیاء کی فہرست لامتناہی ہو جاتی ہے اور اگر اجماع امت کو یہ حق دیا جائے تو اس کے لئے ووٹوں کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اور انبیاء کا نام بھی کونسل کا ایک انتخاب بن جاتا ہے۔ یہ علم صرف خدا کو ہے اور رب العزت جن ناموں کو ظاہر کرنا چاہتا تھا ان کو ظاہر کر چکا اور اگر چہ مزید ناموں کا اظہار اس کی قدرت سے خارج نہیں۔ تاہم اس کی مشیت اور سنت یہ ہے کہ مزید نام ظاہر نہ کئے جائیں۔ لہٰذا کسی کا یہ کہنا کہ فلاں شخص بھی نبی تھا۔ بروئے قرآن الحکیم جائز نہیں۔ پس مرزا قادیانی کی تحریک کے خلاف میری دلیل یہ ہے۔

انیسویں دلیل

انہوں نے کرشن جی مہاراج کو نبی ظاہر کر کے خود ان کے اوتار ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ

١٢٣

صفحہ ٢٤٤

دونوں باتیں تعلیم قرآن المجید کے خلاف ہیں۔ الحمدللہ والمنۃ کہ تحریک قادیانی پر میرا مضمون انتہاء کو پہنچا۔ میں نے کوشش کی ہے کہ میں کوئی ایسی بات نہ لکھوں جو کسی کے لئے دل آزار ثابت ہو۔ میرے احباب نے مجھے اس مقصد میں کامیاب ہونے پر مبارک بادیں دی ہیں۔ لیکن میں اب پھر اعلان کرتا ہوں کہ اگر میرے قلم سے کوئی ایسا فقرہ نکل گیا ہو جو کسی صاحب قلب پر گراں گذرا ہو تو اس کو نادانستہ غلطی سمجھ کر معاف کر دیا جائے۔ حبیب!

ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

تتمہ اوّل

تحریک قادیان

اس کی کامیابی کی ظاہری وجوہ

میں جن دنوں سیاست میں تحریک قادیان کے حسن و قبح پر اظہار خیال کر رہا تھا تو اس کے دوران میں بعض احباب نے سوال کیا تھا کہ تحریک قادیان ترقی پذیر کیوں ہے۔ بعض حضرات ایسے ہیں کہ وہ قادیان کی دولت وثروت سے اور بعض اس کے معتقدین کی تعداد سے بعض ان کے مریدوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کی شمول سے مرعوب ہیں اور وہ اس کو تحریک قادیان کی صداقت کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں۔ اسی خیال باطل کے ازالہ کے واسطے میں نے ابتدائے مضمون میں بعض ایسے مدعیان نبوت کے حالات درج کئے جنہوں نے مہدی یا مسیح موعود یا ظلی و بروزی نبی یا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ اس قدر ترقی پذیر ہوئے کہ ان کی سلطنتیں قائم ہوگئیں اور تین تین نسل تک ان کی اولاد صاحب سریر و تاج وعلم ہوئی۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ مسیح موعود یا حضرت مہدی جب تشریف لائیں گے تو وہ مسلمانوں کی حکومت قائم کریں گے۔ جناب مرزا قادیانی کی تحریک پر عوام کی طرف سے یہ اعتراض بھی وارد ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔ لیکن جنہوں نے واقعی سلطنتیں قائم کیں اور اپنے نام کا سکہ چلایا وہ وجاہت دنیوی اور تعداد معتقدین کے لحاظ سے مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء سے بہت زیادہ کامیاب تھے۔ پر آخر وہ مٹ گئے اور اسلام اپنی اصلی شان اور حقیقی صورت میں باقی رہ گیا۔ ’’والحمد للہ علیٰ ذالك‘‘

اللہ تعالیٰ خود قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو بازاروں میں شان سے پھرتے

١٢٤

صفحہ ٢٤٥

ہیں ۔ ان کی شوکت سے اے مسلمان تو گمراہ نہ ہونا ۔ اس لئے کہ ان کی پونجی بہت تھوڑی ہے اور ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے ۔ جو بہت ہی بری قیام گاہ ہے ۔ اگر وجاہت دنیوی ، حکومت مادی ، تعداد معتقدین یا علم وفضل مریدین ہی معیار صداقت ہو تو آج دنیا میں مسیحیت سے زیادہ کوئی مذہب سچا قرار نہیں پاسکتا ۔ جس کے بادشاہوں کی شان کوس لمن الملک بجا رہی ہے۔ جن کے معتقدین کی دولت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ۔ جن کی سلطنتیں بے شمار ہیں اور جس کے مرید سائنس کے میدان میں ایسے شہسوار ثابت ہورہے ہیں کہ کوہ ہمالیہ کی بلندی ان کی پائگاہ بن چکی ہے۔ پاتال کے راز ان کی کف دست کا سرمایہ بن چکے ہیں۔ ہوا ، پانی اور خاک پر ان کا قبضہ ہے۔ دنیا کی بربادی ان کے لئے ایک لمحہ کا کھیل ہے۔ انسان کی آواز کو ہزاروں میل پر پہنچاتے ہیں اور دشت و ہاموں کوہ و بیابان دریا اور سمندر ان کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ لیکن بحمد اللہ کہ یہ سب کچھ معیار صداقت نہیں ہے۔ پس وجاہت دنیوی شوکت ظاہری اور تعداد و قسم معتقدین تحریک قادیان کے لئے وجہ تفاخر نہیں بن سکتیں ۔

بعض لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ تحریک قادیان کے خلاف ایسے واضح دلائل موجود ہیں ۔ جیسے کہ میں نے قلم بند کئے اور جس کے مطالعہ کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کوئی سلیم العقل انسان اس مذہب کا معتقد نہیں ہوسکتا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریزی دان مسلمان اس مذہب کی طرف رجوع کر رہے ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ عرض کرنا کافی ہے کہ تحریک قادیان کی نسبت بہت زیادہ زبردست دلائل شرک اور بت پرستی کے حامی مذاہب کے خلاف موجود اور بے شمار مرتبہ اصرار کے ساتھ پیش ہو چکے ہیں۔ پھر بھی گاندھی جی اور برنارڈشا جیسے لوگ کیوں اپنے اپنے دین اور مذہب کی کفریات سے باز نہیں آتے ۔

اس کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں دیا ہے ۔ وہ فرماتا ہے کہ ابتداء میں دین ایک تھا ۔ یعنی دین فطرت اسی دین پر اب تک اللہ تعالیٰ لوگوں کو پیدا کرتا ہے ۔ دین میں اختلاف لوگوں نے بعد میں پیدا کیا اور لوگ ہی ہر سلیم الفطرت مولود کو بتدریج عقائد باطلہ کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کے لئے رسول بھیجے ۔ لیکن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور یوں تفریق باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی ۔

خدا قادر مطلق ہے وہ چاہے تو ایک لمحہ میں ان اختلافات کو مٹا کر دین فطرت کا ڈنکہ بجاوے ۔ لیکن میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور اب پھر عرض کرتا ہوں کہ قدرت ایزد متعال اور مشیت

١٢٥

صفحہ ٢٤٦

خدائے لایزال میں فرق ہے۔ قدرت یہ ہے کہ جب جو چاہے کرے۔ مگر مشیت یہ ہے کہ یہ اختلافات تبلیغ کے ذریعہ رفع ہوں اور اگر نہ ہوں تو ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن کر دے گا۔ قرآن پاک میں بارہا حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم یہ نیت نہ کر چکے ہوتے کہ ہم ان اختلافات کا قضیہ قیامت کے روز چکائیں گے تو ہم کبھی کا ان کفار کا قصہ ہی پاک کر دیتے۔

مگر ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک راز قدرت ہے۔ جس پر انسان حاوی نہیں۔ روحانی امور میں بھی جسمانی امور کی طرح بعض جگہ انسان معذور ہے اور اس معذوری کے باوجود اس پر ایمان لانا ایمان بالغیب ہے۔ انسان سورج سے روشنی اور گرمی پاتا ہے اور اس روشنی اور گرمی سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔ لیکن وہ اس روشنی اور گرمی کی مقدار یا اس کے معیار کو گھٹانے یا بڑھانے سے معذور ہے۔ اسی طرح روحانیت میں انسان جانتا ہے کہ یہ اختلافات برے ہیں۔ خون ریزی اور فتنہ و فساد کا سبب ہیں۔ وہ براہین قاطعہ پیش کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس کے مخالف اس کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ وہ گھبراتا ہے لیکن خود کو بے بس پاتا ہے۔ اس لئے کہ مشیت ایزدی یہی ہے۔

اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ حضرت ابراہیم کو نار نمرود میں ڈالا گیا۔ حکم ہوا کہ اے آگ ابراہیم کے لئے سرد ہو جا اور سلامتی کا سبب بن جا اور ایسا ہی ہوا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس خدا میں یہ قوت تھی کہ وہ آگ کو سرد کر دے اور آزار کی بجائے سلامتی کا سبب بنا دے کیا وہ یہ قدرت نہیں رکھتا تھا کہ اس آگ کے جلانے والوں کو آگ جلانے کا موقعہ ہی نہ دیتا یا ان کے دل ہی پیام ابراہیم کی طرف پھیر دیتا۔

یقیناً اس میں یہ قدرت تھی۔ لیکن مشیت ایزدی یہی تھی کہ ایسا نہ کیا جائے اور غور کرو تو ابراہیم علیہ السلام کے جوہر کھلے تو اس طرح کہ آگ ان کے سامنے جلی۔ اس کا اعلان ان کے روبرو ہوا۔ ان کو وہاں تک پہنچایا گیا۔ موت اور بدترین عقوبت کی موت سامنے نظر آئی۔ انہیں اٹھا کر اس میں پھینکا گیا۔ انہیں علم نہ تھا کہ آگ ان کے لئے سرد ہو کر سلامتی کا سبب بن جائے گی۔ یہ تسلیم ورضا کے آخری امتحان میں کامیاب ہوئے اور پھر انعام واکرام الہی سے فائز المرام ہوئے۔ اگر جبراً کفار کے دل پھیر دیئے جاتے تو دین کا خزانہ آج رضائے الہی کے روبرو انتہائی تسلیم کے ان موتیوں سے خالی ہوتا۔ جن کا وجود ابراہیم کے پسینے اور سیدالشہدا علیہ السلام کے پاک خون سے پیدا ہوا۔

پس یہ مشیت ہے کہ دین فطرت کے خلاف ادیان وعقائد باطلہ پیدا ہوں۔ ترقی کریں اور موجود رہیں۔ لیکن یہ سب پیدا ہوتے اور مٹتے رہتے ہیں۔ دین فطرت البتہ ازل سے

١٢٦

موجود ہے اور ابد تک قائم رہے گا سے فریب نہ کھائے۔ دعا ہے کہ ا

اب تک جو کچھ عرض ہ قائم رہتے اور بظاہر ترقی کرتے اظہار کے لئے مجھ سے زیادہ صا اہل قلم کی ضرورت ہے۔ تاہم مکنہ حصہ کثیر ایسا ہے کہ اس کے فہم ہ اظہار خیال کی ضرورت ہے۔

کرنے کے لئے مجھے ہندوستا ہوگا۔ جو لوگ موجودہ وقت دو مسیحیت کا ہر بادشاہ یا صدر جمہ حکومت کا جزو لاینفک ہے۔ ہوگا کہ محکمہ جات دفاع ، مالیات ہے۔ لیکن ہندوستان میں مسلم نہیں ہوا۔ البتہ اتنا ضرور تسلی و تدریس کے لئے کافی جاگیر دین کے لئے ایک مرکز کا کا چونکہ اس وقت مسجدوں میں اور صوفیاء بھی عوام و حکام و ہو کر تبلیغ دین کے کام میں م

غرض یہ کہ تبلیغ

وجہ ہے کہ حکومت کا مرکز ت تا۔ اس صورت حالات اتحادی سیاسی ضرورت ۔

صفحہ ٢٤٧

ہے۔ قدرت یہ ہے کہ جب جو چاہے کرے۔ مگر مشیت یہ ہے کہ یہ ہوں اور اگر نہ ہوں تو ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن کر دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم یہ نیت نہ کر چکے ہوتے کہ ہم ان اختلافات مٹا دیں گے تو ہم کبھی کا ان کفار کا قصہ ہی پاک کر دیتے۔

؟ یہ ایک راز قدرت ہے۔ جس پر انسان حاوی نہیں۔ روحانی امور بعض جگہ انسان معذور ہے اور اس معذوری کے باوجود اس پر ایمان سورج سے روشنی اور گرمی پاتا ہے اور اس روشنی اور گرمی سے فائدہ روشنی اور گرمی کی مقدار یا اس کے معیار کو گھٹانے یا بڑھانے سے معذور انسان جانتا ہے کہ یہ اختلافات برے ہیں۔ خون ریزی اور فتنہ مرقعہ پیش کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس کے مخالف اس کی بات پر کان خود کو بے بس پاتا ہے۔ اس لئے کہ مشیت ایزدی یہی ہے۔

کرتا ہوں۔ حضرت ابراہیم کو نار نمرود میں ڈالا گیا۔ حکم ہوا کہ اے سلامتی کا سبب بن جا اور ایسا ہی ہوا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کو سرد کر دے اور آزار کی بجائے سلامتی کا سبب بنا دے کیا وہ یہ کے جلانے والوں کو آگ جلانے کا موقعہ ہی نہ دیتا یا ان کے دل

تھی۔ لیکن مشیت ایزدی یہی تھی کہ ایسا نہ کیا جائے اور غور کرو تو اس طرح کہ آگ ان کے سامنے جلی۔ اس کا اعلان ان کے روبرو سخت اور بدترین عقوبت کی موت سامنے نظر آئی۔ انہیں اٹھا کر اس ان کے لئے سرد ہو کر سلامتی کا سبب بن جائے گی۔ یہ تسلیم و رضا ہوئے اور پھر انعام و اکرام الٰہی سے فائز المرام ہوئے۔ اگر جبراً کفار یقیناً آج رضائے الٰہی کے روبرو انتہائی تسلیم کے ان موتیوں سے اور سید الشہداء علیہ السلام کے پاک خون سے پیدا ہوا۔

دین فطرت کے خلاف ادیان وعقائد باطلہ پیدا ہوں۔ ترقی پیدا ہوتے اور مٹتے رہتے ہیں۔ دین فطرت البتہ ازل سے ١٢٦

موجود ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔ مبارک ہے وہ جو عقائد باطلہ کی مؤقت ترقی اور چمک دمک سے فریب نہ کھائے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس دھوکے سے محفوظ رکھے۔ آمین!

اب تک جو کچھ عرض ہوا وہ ایک اصول اعتقاد تھا کہ عقائد باطلہ اور ادیان کاذبہ کیوں قائم رہتے اور بظاہر ترقی کرتے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ نکتہ بہت باریک ہے۔ اس کے اظہار کے لئے مجھ سے زیادہ صاحب استطاعت وعلم، انسان اور مجھ سے کہیں زیادہ صاحب قوت اہل قلم کی ضرورت ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ مسلمانوں کا ایک حصہ اس دلیل سے مطمئن ہو جائے۔ مگر حصہ کثیر ایسا ہے کہ اس کے فہم ہی سے یہ دلیل بالا تر ہے اور اس کے سمجھانے کے لئے زیادہ واضح اظہار خیال کی ضرورت ہے۔

کرنے کے لئے مجھے ہندوستان میں اسلامی سلطنت کی تاریخ کے ابواب کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ جو لوگ موجود الوقت دول یورپ کی تبلیغی جدوجہد سے آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مرکز مسیحیت کا ہر بادشاہ یا صدر جمہور ”یمین الدین“ کے لقب سے ملقب ہے اور تبلیغ مسیحیت ان کی حکومت کا جزو لاینفک ہے۔ چنانچہ دور کیوں جاؤ۔ برطانیہ ہی کے نظام حکومت پر نگاہ ڈالو تو معلوم ہوگا کہ محکمہ جات دفاع، مالیات اور خارجہ کی طرح محکمہ دینیات بھی نظام سلطنت کا ایک جزو لاینفک ہے۔ لیکن ہندوستان میں مسلمانوں نے جو سلطنت قائم کی۔ اس میں دینیات کو یہ مرتبہ کبھی حاصل نہیں ہوا۔ البتہ اتنا ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس ملک میں جو مسلمان بادشاہ ہوئے۔ وہ درس وتدریس کے لئے کافی جاگیریں دیا کرتے تھے۔ جن کی وجہ سے ہر مسجد درسگاہ بن گئی تھی۔ جو تعلیم دین کے لئے ایک مرکز کا کام دیتی تھی۔ لیکن اس کرم فرمائی سے مندر بھی مستثنیٰ نہ تھے۔ تاہم مجھے چونکہ اس وقت مسجدوں ہی سے تعلق ہے۔ لہٰذا میں انہی کا ذکر کروں گا۔ ان کے متعلقین یعنی علماء اور صوفیاء بھی عوام و حکام دونوں کی عقیدت اور خدمت کے باعث قوت لایموت سے بے پرواہ ہو کر تبلیغ دین کے کام میں مصروف رہتے تھے۔

غرض یہ کہ تبلیغ اسلام کا کام حکومت کی بجائے غیر سرکاری ذرائع کا شکر گزار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا مرکز تو تھا آگرہ اور مسلمان زیادہ ہوئے بنگالہ میں۔ جہاں صوفیا کا گذر زیادہ تھا۔ اس صورت حالات نے بھی اکبر اعظم کے وقت میں پلٹا کھایا ان کے زمانہ میں ہندو و مسلم اتحاد کی سیاسی ضرورت کے باعث قومیت ہند کے باپ جلال الدین اکبر نے شعار اسلام کو بالکل ١٢٧

صفحہ ٢٤٨

پس پشت ڈال دیا اور انہوں اور ان کے درباریوں نے اپنی عملی مثال سے تبلیغ دین کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت اگر شریعت حقہ کا علم بلند رہا تو وہ اپنی سرفرازی کے لئے مخصوص صوفیائے کرام و علمائے دین کا ممنون احسان تھا۔ جہانگیر اور شاہجہان کے زمانہ میں اکبر کے جاری کردہ دین الٰہی کے چرچے تو باقی نہ رہے۔ مگر تبلیغ کے کام کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں ہوئی۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ اس کلیہ کی واحد استثناء ثابت ہوئے۔ معرکہ کفر و دین میں اقبال نے انہیں ؎

ترکش ما را خدنگ آخری

لکھ کر اظہار حق کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد حالت بد سے بدتر ہو گئی اور نہ صرف بادشاہ اور امراء واعیان واکابر سلطنت شعار دین سے بے پروا ہو گئے۔ بلکہ اکبر جہانگیر اور شاہ جہان کے زمانہ میں مساجد و مقابر ومکاتب کو جو گراں قدر امداد ملتی تھی وہ بھی طوائف الملوکی وجہ سے بند ہوگئی۔ سلطنت مغلیہ کے انحطاط کے ساتھ زر امداد نہ ملنے کی وجہ سے اور ہر زور آور کے بادشاہ بن کر اپنے علاقہ کو لوٹنے کی وجہ سے مدرسے خانقاہیں اور مساجد بند ہوگئیں۔ علماء اور صوفیاء کو بدرجہ مجبوری سلسلۂ درس وتدریس بند کرنا پڑا اور ملک میں تعلیم کا نام تک باقی نہ رہا۔ نہ دین کی تعلیم باقی رہی نہ دنیا کی۔

عالمگیر کے وصال اور ١٨٥٧ء کے غدر تک کا زمانہ پنجاب میں ”برچھا گردی“ کا زمانہ کہلاتا ہے۔ نہ کوئی نظام حکومت تھا اور نہ امن و امان ہی موجود تھا۔ کسی کی زندگی، دولت، عزت وعصمت محفوظ نہ تھی۔ ان حالات میں نہ صرف مسلمانان ہند کے لئے بلکہ عام ہندوستانیوں کے لئے علم کا چراغ گل ہو گیا۔ انگریز اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان سے جہالت دور کی۔ یہ صحیح ہے لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مصر روما اور یونان کے میدان تہذیب وتمدن میں کوس لمن الملک بجانے سے بہت پہلے ہندوستان آسمان علم پر ماہ عالمتاب بن کر چمک چکا تھا۔ پھر انقلاب کی وجہ سے قعر جہالت میں گرا۔ جس سے مسلمانوں نے آکر اسے نکالا۔ مگر سلطنت مغلیہ کے انحطاط کے ساتھ یہ پھر جہالت کے گڑھے میں گر پڑا۔ عالم وفاضل لوگ طبعاً میعاد حیات پوری کر کے اٹھ گئے۔ علم کے مرکز مٹ چکے۔ لہٰذا ملک جاہل رہ گیا۔

غدر ١٨٥٧ء کی تمام ذمہ داری بے جا طور پر مسلمانوں کے سر منڈھ دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ارباب حکومت کے دلوں میں مسلمانوں کی طرف سے بغض پیدا ہو گیا۔ ادھر مسلمانوں کے علماء نے حکومت انگلشیہ سے ہر قسم کے تعاون کو گناہ قرار دے کر اعلان کر دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔ نیز بین الاقوامی معاملات نے بھی ایسی صورت اختیار کر لی کہ مسلمانوں اور

١٢٨

صفحہ ٢٤٩

انگریزوں کے تعلقات اچھے نہ رہے۔ مسلمانوں نے علماء کے فتاویٰ کے باعث انگریزی مدارس سے جو تعلیم کی روشنی کو واپس لانے والے تھے اجتناب کیا۔ مساجد اجڑی پڑی تھیں۔ مکاتب کا نشان تک مٹ چکا تھا۔ صوفیاء کے تکیئے حدیث شریف و قرآن مجید کے مسائل کی جگہ بھنگ نواز دوستوں کی گپ بازی کا مرکز بن چکے تھے۔

غرض حالت یہ تھی کہ مسلمان حکام وقت کا چور بنا ہوا تھا۔ حکومت اس کے ہاتھ سے چھن چکی تھی اور جاہل ماں باپ جاہل تر اولاد پیدا کر رہے تھے۔ بیکاری مفلسی اور حکومت کے عتاب نے مسلمانوں کو ایک قابل نفرت چیز بنا دیا تھا۔ مسیحی پادری ہمیشہ تسلیم کرتے رہے ہیں کہ دنیا میں ان کے عقائد کے لئے اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو اس کا نام اسلام ہے۔ وہ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو بہکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس وقت کو غنیمت اور اس موقعہ کو بے حد مناسب جان کر مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ایک عالمگیر جدوجہد شروع کی۔ جس کا سلسلہ ١٨٦٠ء سے لے کر ١٩٠٣ء کے بعد تک بڑے زور شور سے قائم رہا۔

بیکار مسلمان مسیحی ہو کر روزگار حاصل کر لیتے تھے۔ قلاش مسلمان مالی لحاظ سے بہتر حالت میں ہو جاتے تھے اور غداری کا داغ جو ان کے لئے بیحد پریشان کن تھا وہ بپتسمہ کے پانی کے ساتھ ان کی پیشانی سے دھل جاتا تھا۔ یہ ترغیبات کچھ معمولی نہ تھیں۔ زر حکومت اور ثروت کی ترغیب سے اگر کسی اور دین کا واسطہ پڑتا تو مٹ جاتا۔ یہ اسلام ہی کا کام تھا کہ وہ اس بے پناہ حملہ سے محفوظ رہا۔ ”والحمد الله علی ذالک“

عیسائیوں کے ان حملوں سے ہندو بھی محفوظ نہ تھے۔ لیکن اوّل تو وہ جدید تعلیم حاصل کر کے پرانی جہالت کے ازالہ میں مصروف ہو گئے تھے۔ دوسرے ان کے پاس تجارت اور دولت موجود تھی۔ لہٰذا یہ نہ قلاش و مفلس تھے نہ بے روزگار۔ تیسرے یہ حکومت کے عتاب سے محفوظ تھے۔ بلکہ یوں کہئے کہ اس کے لطف کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ لہٰذا انہیں وہ خطرات درپیش نہ تھے جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہو چکے تھے۔

مسلمانوں کو بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلام اور اس کے بانی ﷺ پر بے پناہ حملے شروع کر دیئے۔ جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ آخر زمانہ نے تین آدمی ان کے مقابلہ کے لئے پیدا کئے۔ ہندوؤں میں سوامی شری دیانند جی مہاراج نے جنم لے کر آریہ دھرم کی بنیاد رکھی اور عیسائی حملہ آوروں کا مقابلہ شروع کیا۔ مسلمانوں میں سرسید نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اس میدان میں اترے۔

١٢٩

صفحہ ٢٥٠

سرسید نے مسلمانوں کے سر سے غداری کا الزام دور کرنے کی کوشش کی اور انہیں تعلیم جدید کی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ہی مسیحیوں کے حملوں کا جواب دے کر شریعت حقہ کی حمایت کرنے لگے۔ غدر کا الزام آج تک مسلمانوں کے سر پر موجود ہے۔ البتہ جدید تعلیم کی ترویج میں سرسید کو غیر معمولی کامیابی ہوئی۔ ان کی سیاسی رہنمائی بھی صحیح ثابت ہوئی اور مسلمان ایک عرصہ تک اس راہنمائی سے روگردانی کرنے کے بعد آج پھر لاچار ہوکر انہی کے اصولوں کو اختیار کر کے کامیاب ہو رہے ہیں۔

مذہبی حملوں کا جواب دینے میں البتہ سرسید کامیاب نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہر معجزے سے انکار کیا اور ہر مسئلہ کو بزعم خود عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں بچے کھچے جو علماء بھی موجود تھے ان میں اور سرسید میں ٹھن گئی۔ کفر کے فتوے شائع ہوئے اور بہت غلاظت اچھلی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی پروپیگنڈا زور پکڑ گیا اور علی گڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے ملحد پیدا کرنے لگا۔ یہ لوگ محض اتفاق پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے۔ ورنہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہوتا تھا۔ بحمد اللہ کہ یہ صورت حالات عارضی ثابت ہوئی اور اب خدا کے فضل و کرم سے مسلم یونیورسٹی باعمل اور سچے مسلمان پیدا کر رہی ہے۔

اس وقت کہ آریا اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اکے دکے جو عالم دین بھی کہیں موجود نہ تھے۔ وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے۔ مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریا اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔ میں مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت وغیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں۔

میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے۔ لیکن افسوس ہے کہ جس کی ابتداء اچھی تھی اس کی انتہاء وہ نہ رہی جو ہونا چاہئے تھی۔

مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے خدام کی قدر کرتی ہے۔ عیسائیوں اور آریاؤں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی۔ مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری جیسے بزرگ ان کے حامی اور معترف تھے اور ان ہی کے نام کا ڈنکہ بجاتے تھے۔ غرض مرزا قادیانی کی کامیابی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ جہالت مسلمانوں پر قابض تھی اور اسلام مسیحی اور آریا مبلغین

١٤٠

صفحہ ٢٥١

کے طعن تشنیع کا مورد بنا ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس حالت سے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف سے سینہ سپر ہو کر اغیار کا مقابلہ کیا اور یوں مسلمانوں کے دلوں میں جگہ پیدا کر لی۔ یہ ہر دلعزیزی آگے چل کر ان کے بہت کام آئی۔ اسی کی وجہ سے یہ صاحب زر ہو گئے اور اسی کو ان کی خدمت اسلام کا نام دے کر آج بھی ان کے مرید سادہ لوح مسلمانوں کو پھسلا لیتے ہیں۔

رنگ لیا۔ لہٰذا ایسی تحریروں کی وجہ سے جن کی خوبی کا مجھے اعتراف ہے۔ یہ محبوب انام ہو چکے تھے۔ اب انہوں نے اس کامیابی کو اجتماع زر کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لئے کہ دنیا میں زر کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوتی اور مرزا قادیانی اگرچہ ایک پرانے با رسوخ اور حاکم خاندان کے وارث تھے۔ تاہم مالی لحاظ سے ان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی۔ کسی انگریز کا مقولہ ہے۔ کامیابی سے بڑھ کر کوئی چیز کامیاب نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی ایک کامیاب مبلغ تھے۔ مسلمان اس لئے ان کے شیدا ہو رہے تھے کہ یہ محمد ﷺ (فداہ روحی) کے دین کی حمایت میں جان لڑا رہے تھے۔ لہٰذا جب انہوں نے دین حقہ کی صداقت کے ثبوت میں دلائل جمع کرنے کے لئے ایک کتاب (براہین احمدیہ) کی اشاعت کا اعلان کیا اور پیشگی قیمت مانگی تو محمد ﷺ کے نام پر مر مٹنے والی قوم نے ان پر سیم و زر کا مینہ برسا دیا۔

شہرت اور زر حاصل کر کے انہوں نے نبوت کا اعلان کیا۔ اب لوگ بدکے لیکن جو شخص دلوں میں جگہ پیدا کر چکا تھا۔ کروڑوں میں سے چند سو کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گیا اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔

اس کے بعد مرزا قادیانی کو جو کامیابی ہوئی۔ اس کی وجوہ یہ ہیں کہ ہر جدید عقیدہ کے رکھنے والے زیادہ مخلص اور جوشیلے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں خواص جو کامیابی کی کلید ہیں۔ اب تک ان کی جماعت میں موجود ہیں۔ جہاں کسی مرزائی کو پاؤ گے اپنے سلسلہ سے اس کا اخلاص قابل تعریف دیکھو گے۔ ہر مرزائی ایک مبلغ ہے۔ جس کا جوش ہر وقت ابلتا رہتا ہے اور کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ میں دھرم سالہ گیا۔ وہاں مسلمان صفر کے برابر ہیں۔ ان میں سیاسی، مذہبی، اخلاقی جوش نام تک کو موجود نہ تھا۔ مگر کوتوالی بازار کے ایک کونے میں ایک قادیانی دوست کی دوکان تھی۔ وہ درزی کا کام کرتے ہیں۔ ان کی دوکان ہر اسلامی تحریک کا مرکز بنی ہوئی ہے اور وہاں مذہبی مباحث ہر وقت تازہ رہتے ہیں۔ حنفی، سنی، شیعہ جو موجود ہیں وہ عہدوں پر سرفراز ہیں۔ تعلیم یافتہ ہیں ان میں سے بعض متقی بھی ہیں۔ لیکن ان کے ہاں مذہبی اخلاقی تعلیم یا تمدنی امور کا ذکر تک نہیں آتا۔ یہ

١٣١

صفحہ ٢٥٢

ادارے زندہ ہیں تو ایک قادیانی مربی کے دم سے، پھر اگر جہلاء اور نوجوان مسلمان اس سے متاثر ہوں تو تعجب کیا۔

اس جماعت کی تنظیم بہت ہی تعریف کی مستحق ہے۔ ہر شخص خیرات زکوٰۃ اور چندہ کا روپیہ قادیان کو روانہ کرتا ہے اور وہاں سے تبلیغ عقائد کے لئے مبلغ ہر حصہ ملک کو روانہ کئے جاتے ہیں۔ کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ رسالے شائع ہوتے ہیں اور اخبار نکالے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس قادیانی عقائد کی اصلاح یا عقائد صحیحہ کی تبلیغ کے لئے عام مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ نا قابل ذکر ہے۔ یہ صحیح ہے کہ علماء اور صوفیاء عقائد قادیان کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اکثر حضرات کا طرز بیان و استدلال ایک مسلمان مبلغ کی شان کے شایان نہیں ہوتا۔ نیز ان لوگوں کا دائرہ تبلیغ بالعموم ان کی جماعت تک محدود ہوتا ہے جو لوگ ان کی باتیں سنتے ہیں۔ ان کے بہکنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان کی تقریریں ضائع جاتی ہیں۔ ضرورت تو یہ ہے کہ ان لوگوں تک صحیح خیالات کو پہنچایا جائے جن کا متاثر ہونا زیادہ ممکن ہو۔

تحریر کے ذریعہ سے تحریک قادیان کے خلاف جو پروپیگنڈا ہوتا ہے وہ قلت زر کی وجہ سے نہایت غلیظ اور گھٹیا کاغذ پر اس طرح چھپتا ہے کہ کوئی اس کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتا۔ ایسی تحریریں عموماً ایک گروہ کے باہر پہنچنے تک نہیں پاتیں۔ غرض قادیان کا پروپیگنڈا منظم اور وسیع ہے اور مخالفت غیر منظم کمزور اور مفلس ہے۔

تحریک قادیان کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب مسلمانوں کی جہالت ہے۔ جہالت سے میری مراد اصول دین سے مسلمانوں کی نا آگاہی ہے۔ جو لوگ بی۔اے، ایم۔اے اور بیرسٹر ہو جاتے ہیں وہ انگریزی زبان اور دوسری چیزوں کے ماہر ہوں تو کیا، وہ دین حقہ سے بالکل نا آگاہ ہوتے ہیں۔ ان کے دل تعلیم دین کے پیاسے ہوتے ہیں۔ حنفی، سنی، شیعہ اور اہل حدیث وغیرہ جماعتوں کے عقائد کو ان تک پہنچانے کا کوئی بندوبست ہی نہیں۔ ان تک اگر کوئی عقیدہ پہنچتا ہے تو وہ یہی قادیان کا عقیدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی تحریک میں ایک لچک بھی ہے جو کسی اور عقیدہ میں موجود نہیں۔ یعنی ماننے والے کا اختیار ہے کہ وہ ان کو صرف محدث مانے یا مجدد، نبی بروزی وظلی مانے، مستقل نبی تسلیم کرلے۔ مسیح موعود مانے یا مہدی آخر الزمان جو لوگ مذہب اور اس کے فلسفہ سے آگاہ ہیں۔ انکے لئے یہی لچک تحریک قادیان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ مگر ایک ایسے شخص کو جو اصولِ دین سے بے بہرہ ہو۔ ایسی باریکیوں کا علم بھی نہیں ہوتا اور وہ اس کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔

١٣٢

صفحہ ٢٥٣

ایک اور سبب یہ ہے کہ قادیان کے ماننے والے عام مسلمانوں سے بحث کرتے رہتے ہیں ۔ وہ خود بعض مسائل کی باریکیوں کو اپنی کتابوں سے ازبر کر لیتے ہیں ۔ ان کے مد مقابل زیر بحث معاملات سے بالکل نا آگاہ اور کورے ہوتے ہیں اور یوں وہ پریشان ہوکر علماء کے پاس جاتے ہیں ۔ چند معزز وقابل قدر ہستیوں کے سوا ہمارا موجودہ طبقہ علماء جو کچھ ہے وہ ظاہر ہے۔ لہٰذا وہ گالی اور کفر کے فتویٰ سے کام لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پریشان مسلمان ان سے بیزار ہو کر دوسرے گروہ سے جا ملتا ہے۔

ایسے لوگوں کا علاج ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی یہ کہ ان کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جائے ۔ جس قدر مہدی پیدا ہوئے وہ سب ناکام رہے ۔ سوائے ان کے جن کی مخالفت ہوئی مقدار مخالفت کے تناسب سے انہیں کامیابی ہوئی اور مخالفت کے مٹتے ہی ان کا بازار سرد پڑ گیا۔ ضرورت ہے کہ علمائے اسلام اوّل تو تحریک قادیان سے بے پرواہ ہو جائیں۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ بحث میں پڑ کر سادہ لوح مسلمان آسانی سے گمراہ ہو جاتے ہیں ۔ اگر انہیں بحث میں نہ ڈالا جائے تو ان کے عقیدہ راسخ میں غیر مانوس عقائد کی تبلیغ کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی۔ قادیان سے الجھنے والے ان کے دل میں شوق بحث پیدا کرتے ہیں ۔ لیکن چونکہ ان کے ہاتھ میں مسالہ نہیں ہوتا اور جو ہوتا ہے اس کو وہ استعمال نہیں کر سکتے ۔ لہٰذا گمراہ ہوکر بھٹک جاتے ہیں ۔ لیکن اگر مقابلہ کرنا ہے تو پھر قادیان کی طرح ایک منظم جماعت بناؤ اور مسلسل پروپیگنڈا کرو ۔ صحیح عقائد کی تبلیغ ہی عقائد باطلہ کی تردید ہے اور یہ بات ہر بحث سے مستغنی ہے۔ عقائد صحیحہ کی تبلیغ کرو اور اشد ضرورت کے سوا کسی کی تردید نہ کرو ۔ وما علینا الا البلاغ

قادیانی دوستوں کی عادت ہے کہ وہ کبھی اس سوال پر بحث نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی نبی تھے یا نہیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ دجال، مسیح موعود، وفات مسیح، حیات مسیح اور دوسرے ایسے مسائل پر بحث کرتے ہیں جن میں اختلاف موجود ہے اور خلط مبحث پیدا کر کے مسلمانوں کو پھسلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ میں نے تحریک قادیان کے خلاف جو کچھ لکھا ہے اس کا جواب دینے کی بجائے جماعت احمدیہ لا ہور کو اصرار ہے کہ میں یہ بتاؤں کہ مرزا قادیانی کافر تھے یا نہیں ۔ ان کے پیرو کار مذہب اسلام سے خارج ہیں یا نہیں ۔ اس صدی کا مجدد کون ہے اور دجال آئے گا یا نہیں ۔

مگر یہ مبحث ہی غلط ہے۔ اصل سوال یہ اور صرف یہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی تھے یا نہیں اور انہوں نے خود جو معیار قائم کیا کیا وہ اسی معیار کے مطابق ایک غلط دعویٰ کے مدعی ثابت ہو چکے

١٣٣

صفحہ ٢٥٤

ہیں یا نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی جماعت کی کامیابی کا ایک اور راز بھی ہے جو میں اپنی ذمہ داری کے احساس کامل کے بعد سپرد قلم کر رہا ہوں اور وہ راز یہ ہے کہ حکومت برطانیہ اس عقیدہ کی حمایت کر رہی ہے۔ ١٨٥٧ء کے غدر کے بعد حکومت جبر و تعدی اور تبلیغ دونوں کے ذریعہ سے مسلمانان ہند کو رام کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ اس لئے کہ اس نے حکومت ہند اسی بد نصیب قوم سے لی تھی اور طبعاً یہ قوم انگریزوں سے کھنچی ہوئی تھی اور دارالحرب اور ترک تعاون کے فتاویٰ جاری تھے۔

حکومت نے مسلمانوں کو رام کرنے کے لئے متعدد وسائل اختیار کئے۔ زور و جبر کے قصوں کے بیان کا نہ یہ موقع ہے نہ محل۔ تبلیغ نے جو راہیں اختیار کیں ان میں سے تین قابل ذکر ہیں۔

رقوم بطور معاوضہ دے کر ان سے کتابیں لکھوائی گئیں۔ جو مختلف مضامین پر مشتمل تھیں۔ لیکن جن میں انگریزی راج کی برکتوں کا ذکر ضرور ہوتا تھا۔

امداد کرائی گئی۔

ان کی جماعت کی ترویج و اشاعت میں امداد کی گئی۔

شاید نہیں یقیناً مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ اس کا ثبوت کیا ہے کہ سرکار برطانیہ تحریک قادیان کی مؤید ہے۔ اس کے جواب میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اوّل اوّل تو میرے دل میں یہ خیال محض ایک گمان تھا۔ مگر گذشتہ دو سال میں مجھے اس کا بہت ثبوت ملا ہے۔ جس کو ظاہر کرنا غیر ضروری ہے۔ صرف ایک واقعہ بطور مشتے نمونہ از خروارے قلمبند کرتا ہوں اور وہ واقعہ مولوی ظفر علی صاحب سے تعلق نہیں رکھتا۔ مولوی صاحب جس مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ وہ ان کی عریاں نویسی اور فحش نگاری کا لازمی نتیجہ تھا۔

جس واقعہ کا میں ذکر کرنے والا ہوں۔ وہ اگرچہ مختصر ہے۔ مگر اہل دانش و بینش کے تخیل کے واسطے ایک غیر محدود وسعت کا حامل ہے۔ سنئے ایبٹ آباد کے میر ولی اللہ صاحب ایڈووکیٹ جو بے نظیر شاعر، بے بدل مصنف، اور نہایت مخلص قومی کارکن ہیں۔ اپنے ہاں کے سپرنٹنڈنٹ پولیس سے جو انگریز ہیں ملے اور اپنے لڑکے کے واسطے ملازمت کا ذکر چھیڑا۔ یہ لڑکا ایم ۔ اے پاس ہے۔ صاحب بہادر نے فرمایا: ”ویل آپ حکومت سے امداد چاہتے ہیں اور خود حکومت کی

١٣٤

صفحہ ٢٥٥

ویسی مدد نہیں کرتے جیسی کہ آپ کر سکتے ہیں۔“ میر صاحب نے پوچھا وہ کیا تو جواب ملا کہ: ”آپ مقامی اسلامیہ انجمن کے صدر ہیں۔ مسجد جامع آپ کے انتظام میں ہے۔ لیکن انجمن کے مبلغ اور مسجد کے امام صاحب قادیانیوں کے خلاف تقریریں کرتے پھرتے ہیں۔“

مجھے ذاتی طور پر ایسے نوجوانوں سے سابقہ پڑا ہے۔ جنہیں قادیانی حضرات نے اس شرط پر ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا کہ وہ قادیانی ہو جائیں۔ نیز مجھے بعض ایسے نوجوانوں کا حال معلوم ہے جو محض ملازمت کے لئے قادیانی بن گئے۔ میری رائے یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے قادیانی جماعت کے نوجوان کے لئے حصول ملازمت زیادہ آسان ہے۔ (سید) حبیب

تتمہ دوم

تحریک قادیان

اس کی اصلاح کے ذرائع کیا ہیں؟

تحریک قادیان کی ظاہری کامیابی کے متعلق جو کچھ میں لکھ چکا ہوں۔ اگر غور سے اس کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں اس تحریک کی اصلاح کا مواد بھی موجود ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ یہ نکات ذرا واضح تر ہو جائیں۔ میں اس تحریر میں صرف اصلاح قادیان کے موضوع پر بحث کرنا چاہتا ہوں۔ اصلاح عقائد قادیان سے میری مراد مرزا قادیانی کے صرف ان مریدوں کی اصلاح ہے جو عرف عام میں قادیانی کے نام سے معروف ہیں۔ اس لئے کہ جہاں تک احمدی جماعت لاہور کا تعلق ہے میں اس کو اسلام یا مسلمانوں کے لئے خطرناک نہیں سمجھتا۔ ان کے عقائد میں یہ تضاد موجود ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے بھی ہیں اور نہیں بھی مانتے۔ لہٰذا جو عام لوگ ان کے ہم خیال ہیں۔ ان کو خود یہ معلوم نہیں کہ ان کے عقائد کیا ہیں اور کچھ اس تضاد عقائد کی وجہ سے اور بہت زیادہ اس وجہ سے کہ جماعت لاہور کے امیر مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے کا استدلال یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے تنسیخ جہاد کا اعلان ہی نہیں کیا اور یوں یہ جماعت کسی غیر مسلم طاقت کے لئے مفید نہیں رہی۔ ان کی جماعت ترقی نہیں کر رہی اور نہ اس کی ترقی کرنے کی کوئی توقع ہی باقی ہے۔ مولانا محمد علی صاحب کی بے نظیر قابلیت استعداد و محنت کی وجہ سے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحبان کے اخلاص کے باعث یہ جماعت زندہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ چند افراد پر جس تحریک کا دارومدار ہو وہ حیات جاودانی کی متوقع نہیں ہو سکتی۔

١٣٥

صفحہ ٢٥٦

قادیانی جماعت البتہ مصروف جدوجہد ہے اور اگر چہ تبلیغ میں جس قدر عرق ریزی محنت شاقہ زر پاشی اور جدوجہد سے یہ جماعت کام لیتی ہے۔ اس کے لحاظ سے اس کی کامیابی کو نمایاں نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ خواہ نسبت وتناسب کے لحاظ سے اس جماعت کی ترقی کی حقیقت کیسی بھی یاس انگیز کیوں نہ ہو۔ من حیث الکل اس جماعت کی ترقی ایسی نہیں جس سے مسلمان بے پروا ہو سکیں۔ تبلیغ مسلمان کا فرض اولین ہے اور وہ اغیار کے لئے ہے۔ لیکن جب اپنے حلقہ میں سے دوست نکل رہے ہوں تو ان کا سنبھالنا اغیار کو دعوت تبلیغ دینے سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

میری دانست میں چونکہ عقائد قادیان کی اصلاح کی ضرورت مسلمہ ہے۔ لہٰذا اس نا قابل انکار ضرورت پر بحث کرنا تحصیل حاصل ہے۔ پس میں اب وہ تجاویز سپرد قلم کرتا ہوں۔ جن کے اختیار کرنے سے میری ناقص رائے میں قادیان کے پروپیگنڈا کا کماحقہ سدباب ہو سکے گا۔

کے پروپیگنڈا کی وجہ سے جولوگ جادہ حق سے انحراف کر جاتے ہیں۔ وہ ہندو یا عیسائی، سکھ یا موسائی وغیرہ نہیں ہوتے۔ بلکہ ہمارے بھائی اور مسلمان ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے خلاف اپنے قلوب میں جذبات بغض وعناد پیدا کر کے ہم ان کو واپس نہیں لاسکتے۔ ضرورت ہے کہ ہم ان کو گم کردہ راہ بھائی سمجھ کر ان سے محبت کریں اور تالیف قلوب اور اخلاص والفت سے ان کو واپس لانے کی کوشش کریں۔

سے گری ہوئی باتوں سے اور خصوصاً بانی سلسلہ کی تحقیر سے بالکل خالی ہو۔ اس کا اساس ذاتی حملے اور رکیک یا استہزاء نواز فقرات والفاظ نہ ہوں۔ بلکہ دلائل وبراہین قاطع پر اس کا مدار ہو۔

ہے کہ اس کو اگر نابود کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ میری ناقص رائے تو یہ ہے کہ جس قدر پروپیگنڈا قادیان کے خلاف جاری ہے وہ مفید ہونے کی بجائے مضر ہے۔ لہٰذا اگر ایسا بھی نہ ہوتا تو شاید بہتر ہوتا۔ صوفیاء علماء اور دوسرے حضرات اپنے اپنے طور پر ہزاروں کا خرچ بھی برداشت کرتے ہیں اور دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔ مگر عدم تنظیم کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ ضرورت

١٣٦

ہے کہ قادیان کی اصلاح کے لئے

طور پر اس کام کے لئے تیار کیا جا کوشبہ میں ڈال کر گمراہ کرنے وا ہاں کے مبلغین کا یہ حال ہے کہ قادیان سے نا آشنا ہوتے ہیں گن لیتے ہیں اور بس۔ وہ خودا اور بدزبانی پر اتر آتے ہیں اور بلکہ مضر ثابت ہوتے ہیں۔ پو کمزوریوں سے آگاہ مبلغ میدا

ہیں۔ اس طرف ان کے جواب کہ پروپیگنڈا کو منظم کر کے ا کرنے کے لئے وقف ہو اور مسلمانوں کو اس سے محفوظ ر

کتابیں شائع ہوتی رہتی ہی رسالوں یا کتابوں کی اشاعت خاموش ہو جاتا ہے اور اگر کہی رسالے یا پمفلٹ کی سرمایہ ک کفایت شعاری کے خیال ۔ لکھتا ہے۔ لہٰذا ہر تحریر تشنہ تق نقص کا ازالہ کیا جائے۔

یہ ایک ناقابل ا پاس نہیں جاتا اور نہ مقدمہ

صفحہ ٢٥٧

ہے کہ قادیان کی اصلاح کے لئے منظم و مسلسل پروپیگنڈا کا بندوبست کیا جائے۔

طور پر اس کام کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ عام مسلمانوں کو شبہ میں ڈال کر گمراہ کرنے والے مسائل سے خوب آگاہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں کے مبلغین کا یہ حال ہے کہ چند بزرگ و آگاہ حضرات کے سوا سب کے سب بالعموم مسائل قادیان سے ناآگاہ ہوتے ہیں۔ ان کی تقریر کی پونجی صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ ادھر ادھر سے کچھ سن گن لیتے ہیں اور بس۔ وہ خود اسلام کے مسائل مسلمہ سے آگاہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا وہ استہزاء و تفنن اور بدزبانی پر اتر آتے ہیں اور یوں ان کی تقریریں اور ان کے وعظ نہ صرف مفید ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ مضر ثابت ہوتے ہیں۔ پس اگر پروپیگنڈا کی تنظیم ہو جائے گی تو ہم بھی قادیانی تحریک کی کمزوریوں سے آگاہ مبلغ میدان میں اتار سکیں گے۔

ہیں۔ اس طرف ان کے جواب کے لئے کوئی مستقل رسالہ یا اخبار موجود نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ پروپیگنڈا کو منظم کر کے ایک اخبار یا رسالہ جاری کیا جائے جو صرف عقائد قادیان پر بحث کرنے کے لئے وقف ہو اور جس میں تہذیب و متانت سے اس عقیدہ کی کمزوریاں واضح کر کے مسلمانوں کو اس سے محفوظ رہنے یا اس کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر واپس آنے کی دعوت دی جائے۔

کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جو اکثر مفت بانٹی جاتی ہیں۔ ادھر یہ حال ہے کہ مفید مطلب رسالوں یا کتابوں کی اشاعت کا کوئی بندوبست ہی نہیں۔ ہر شخص انفرادی طور پر کچھ کرتا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے اور اگر کہیں دردمندوں کی کوئی جماعت پیدا ہوتی ہے کہ وہ کام کرے تو اس کے رسالے یا پمفلٹ کمی سرمایہ کی وجہ سے ذلیل ترین کاغذ پر بدترین صورت سے شائع ہوتے ہیں اور کفایت شعاری کے خیال سے ان کا حجم اس قدر کم ہوتا ہے کہ صاحب تحریر اپنے جذبات کو دبا کر لکھتا ہے۔ لہٰذا ہر تحریر تشنہ تفصیل و تکمیل ہوتی ہے۔ ضرورت ہے کہ پروپیگنڈا کو منظم کر کے اس نقص کا ازالہ کیا جائے۔

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کوئی شخص مرض کے علاج کے لئے کبھی کسی وکیل کے پاس نہیں جاتا اور نہ مقدمہ میں مشورہ لینے کے لئے کوئی فریق مقدمہ کسی طبیب ہی کے ہاں پہنچتا

١٣٧

صفحہ ٢٥٨

ہے ۔ لیکن مذہب کے معاملہ میں ہم لوگ اس قدر غیر محتاط ہیں کہ اقل واقفیت کے بل بوتے پر اہم ترین مذہبی مسائل پر بحث کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عام جاہل مسلمان قادیانیوں کے آگاہ حضرات سے الجھ کر خود دام میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ منظم پروپیگنڈا کی صورت میں ہر شہر میں تحریک قادیان کے متعلق لٹریچر جمع کیا جائے اور حسب ضرورت ایک یا زیادہ علماء کو اس بحث کے متعلق ہر قسم کی واقفیت پہنچا کر اعلان کر دیا جائے کہ کوئی مسلمان کسی قادیانی بھائی سے بحث نہ کرے۔ بلکہ اگر کسی مسئلہ میں اسے خود شک ہو یا کوئی قادیانی کسی مسئلہ پر اس سے بحث کرنا چاہے تو دونوں حالتوں میں وہ فلاں عالم کی طرف رجوع کرے۔

کار پختہ مغز مسلمان بھی قادیانی حضرات سے کسی وجہ سے بھی کوئی تعلق کیوں نہ رکھے ۔ ہم اسے خود قادیانی مشہور کر دیتے ہیں ۔ اس سے دو نقصان ہوتے ہیں۔ پہلے یہ کہ عوام کو شبہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص صاحب فراست انسان بھی قادیانی ہو گیا۔ لہٰذا اس تحریک میں ضرور کوئی قابل ستائش بات موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو یوں بدنام کیا جاتا ہے وہ ضد میں آ کر اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ واقعی مرزائی ہو گئے۔ نیز اس قسم کا سوء ظن گناہ بھی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں ہم اپنے آزمودہ و پختہ کار آدمیوں کو بھی نادان و خام عقل والی دوشیزگان کی طرح اغوا ہونے کے قابل جان لیں اور یہ سمجھ لیں کہ جہاں یہ قادیانی سے ملے یہ قادیانی ہو گئے ۔

عقائد کو دبا کر اصلاح عقائد قادیان کے نام سے ایک جماعت قائم کریں جو محبت کو اصول عمل قرار دے اور برادران قادیان کو راہ حق پر واپس لانے کے لئے مسلسل و متواتر کام کرے۔ اگر ایسا ہوا تو مجھے یقین ہے کہ تحریک مذکورہ کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں جو رخنہ پیدا ہو گیا ہے وہ جلد مٹ جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ !

اگر کافی تعداد میں باہمت مسلمانوں نے میری اس رائے کو پسند کیا تو میں اپنی تجویز کو جامہ عمل پہنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا۔

"السعی منی والاتمام من الله تعالیٰ"

(سید) حبیب

صلائے عام یاران نکتہ داں کے لئے

١٤٨

PDF 260

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزائیت

نئے زاویوں سے

(حضرت مولانا محمد حنیف ندویؒ)

صفحہ ٢٦٠

بسم الله الرحمن الرحیم !

ابتدائیہ

ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو مرزائیت کو اس کے سوا اور کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ وہ ایک فتنہ تھا جو اب ختم ہو چکا۔ کیونکہ ان حالات میں جب کہ پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ اس کو بالکل نئے قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے مسائل جو پوری دنیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں اور مرزائیت کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کبھی کوئی جواب نہ تھا۔

یہ پہلے پہل محض ایک غلط فہمی تھی۔ اس کے بعد اس نے مناظرانہ ادّعاء کی شکل اختیار کر لی اور پھر جب انگریز کی چشم دور رس نے اس میں اپنے استعماری عزائم کی محکمی و استواری کے امکانات دیکھ کر سرپرستی کی اور منصب واعزاز کے متعدد دروازوں کو اس پر کھول دیا تو باقاعدہ ایک جماعت اور گروہ کا روپ دھار لیا۔ جس نے از راہ اخلاص متحدہ ہندوستان اور اسلامی ممالک میں، تبلیغ کے رنگ میں برطانیہ کے سیاسی ارادوں کی تکمیل کے سلسلہ میں وہ کام کر دکھایا جو عیسائی مشنری ہزار صلاحیتوں کے باوجود نہیں کر سکتے تھے۔ یعنی مسلمانوں کی اس عصبیت و جوش پر خنجر چلانے کی کوشش کی جو ان کو جہاد پر اکسا سکتا تھا اور انگریز کے خلاف آمادہ پیکار رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس شرارت کا ایک فائدہ انگریز کو یہ پہنچا کہ مسلمان وقت کی صحت مند تحریکوں کا ساتھ دینے اور ان دینی و ثقافتی مضرتوں پر غور کرنے کے بجائے جو انگریز کی آمد سے ان کو پہنچی تھیں لاطائل مناظرات ومجادلات میں الجھ گئے۔

بحمد اللہ! انگریز کا یہ منحوس سایہ مرزائیت کی تائید وحمایت کے علی الرغم اب سروں سے اٹھ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فتنے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں جو صرف اس کی نگرانی و حوصلہ افزائی کی وجہ سے زندہ تھے۔ لہٰذا اس امر کا اب کوئی حقیقی امکان نہیں رہا کہ مرزائیت آئندہ پروان چڑھے گی۔ نوجوانوں میں پھیلے گی اور اپنی دعوت کے دائروں کو وسیع کر پائے گی۔ کیونکہ اس نوع کا خطرہ کسی تحریک سے اس وقت ہوتا ہے جب اس میں علمی گہرائیاں ہوں۔ ایجابی پیغام ہوں اور ایسے تصورات ہوں جن کا زندگی سے گہرا لگاؤ ہو یا پھر بدرجۂ اقل تحریک کے حاملین میں اچھے نمونے پائے جائیں۔ مگر یہاں تو یہ عالم ہے کہ یہ تینوں چیزیں مفقود ہیں نہ تو اپنی تہوں میں یہ کوئی اونچا نصب العین ہی رکھتی ہے نہ اس کی تعلیمات میں زندگی کی موجودہ اقدار سے بحث کی گئی ہے اور نہ اس کے ماننے والوں میں کوئی مابہ الامتیاز ایسا ہے جو سیرت وکردار کے لحاظ سے کشش اور جذب سے بہرہ مند ہو۔

٢

صفحہ ٢٦١

سوال یہ ہے کہ اگر مرزائیت ایسا ہی حقیر فتنہ ہے اور اس کا دور فی الواقعہ گزر چکا ہے تو ہم نے ”الاعتصام“ میں اس کے بارہ میں خواہ مخواہ کیوں مضامین لکھے اور کیوں بغیر کسی غرض و مقصد کے اب ان کو کتاب کی شکل میں شائع کیا جارہا ہے۔ اس اعتراض کے ہمارے پاس دو جواب ہیں۔

جگہ نہیں اور یہ مذہب اپنی عمر طبعی کو پہنچ چکا ہے۔ تاہم سیاسیات کی نئی کروٹوں نے ایک پیچیدگی ضرور پیدا کر دی ہے اور وہ یہ کہ اس مسلک کو ماننے والے ایک معقول تعداد میں پاکستان میں موجود ہیں اور بظاہر پاکستان کے شہری بھی ہیں۔ لیکن ان کی سابقہ روایات، ان کا بے لوچ عقیدہ اور قادیان کا بھارت میں رہ جانا ایسے امور ہیں کہ ان کے پیش نظر اگر ان کی حیثیت و موقف سے متعلق ٹھیک ٹھیک فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کی صورت میں خدانخواستہ سخت مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور بھارت کی اکثریت بھی اس کی خواہاں نہیں۔ لیکن کوئی ملک بھی آج جنگ کو بالکل نظر انداز کر کے آئین کے بوقلموں تقاضوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ ”الاعتصام“ کے شائع شدہ مضامین میں ہم نے ان کے اس مؤقف کی تشریح کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ آئندہ آئین میں اگر انہیں اقلیت قرار دیا جائے تو اس پیچیدگی کا حل نکل آتا ہے۔ یہ مجموعہ انہیں مضامین پر مشتمل ہے۔

اب تک جو بحثیں اس پر ہو رہی تھیں۔ ان کا انداز بالکل مناظرانہ اور سطحی قسم کا تھا۔ جو باوجود تردید کے وہی ذہن پیدا کرتا تھا۔ جو مرزائیت کا ہے۔ ہم نے اس صورتحال کا جائزہ لیا اور کچھ نئے زاویوں سے اس مسئلہ پر نظر ڈالی اور بحث و فکر کی جدید روش نکالی۔ جس سے قارئین کرام ان تمام مفسدوں سے بچ کر صحیح نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ جو اتھلے مناظرانہ انداز بحث سے ابھرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرزائیت ایک خاص طرز استدلال کا نام ہے۔ مخصوص عقیدوں کا نہیں۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دیکھنے میں ایک شخص ان کی تردید میں دلائل کا انبار لگا رہا ہو۔ لیکن فی الحقیقت اس کے باوجود ذہن کی کیفیتوں کے اعتبار سے اس میں اور مرزائی میں کوئی فرق نہ ہو۔ ان مضامین کا مقصد اسی مرزائیت سے اس کے حامیوں اور مخالفوں کو نکالنا ہے اور دونوں کو یہ بتانا ہے کہ نبوت والہام کے تقاضے، تائید و تردید کے فرسودہ اسالیب سے قطعی مختلف اور غیر مفید ہیں۔

٣

صفحہ ٢٦٢

ہمارے نزدیک اول تو اسلام ہماری تمام ضروریات کا کفیل ہے اور اس کے مضمرات میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی عصر حاضر کو ضرورت ہے اور تعلیم و ارشاد کے داعیات نے اگر کسی وقت جبرائیل علیہ السلام کو پکار ہی لیا تو اس وقت ظل و بروز سے کام نہیں چلے گا۔ بلکہ ایک ایسی شریعت کے دروازے کھلیں گے جو ہر اعتبار سے نئی ہوگی۔ جن لوگوں کو دورِ حاضر کی دینی نفسیات کو ٹٹولنے کا موقع ملا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ اس وقت کا انسان مذہب کے معاملہ میں کس اضطراب میں مبتلا ہے۔ وہ یا تو اسلام کی ایسی سچی تلی تعبیر کا طالب ہے جو حد درجہ مختصر ہو۔ معقول ہو اور موجودہ عصر کے تمام تقاضوں کا باحسن وجہ ساتھ دے سکے اور یا پھر وہ ایسے مذہب کو مانے گا جو بنیادی و اساسی اقدار کے لحاظ سے تو ماضی سے ایک رشتہ و نسب رکھتا ہو۔ مگر اپنے اسلوب، تفنن اور اخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی نئی شے ہو۔

آپ ہی بتلائیے جب ذہنوں کی یہ کیفیت ہو اور تشنگی و طلب کا یہ عالم ہو تو شراب سے پیاس بجھ سکے گی؟ نبوت کے ظلی و بروزی تصور سے پیش آئند مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکے گا؟ مرزائیت نئے زاویوں سے ایسے ہی تنقیدی مضامین پر مشتمل ایک مجموعہ ہے۔ جن سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ یہ تصور جس کو مرزا قادیانی نے پیش کیا ہے۔ نہایت ہی گھٹیا، غیر حکیمانہ اور بیکار ہے۔ اس سے مذہب ودین کا کوئی تقاضا پورا نہیں ہو پاتا اور اس سے سواء قیل وقال اور چند حوالوں اور مناظرانہ ہتھکنڈوں کے اور کچھ حاصل نہیں۔ اس سے نہ ذہن کو فلسفہ کی بلندیاں میسر آتی ہیں، نہ ذوق میں ادب و لسان کی چاشنی کا اضافہ ہوتا ہے اور نہ عمل ہی کو نئی سمتیں ملتی ہیں۔

ہم مکتبہ ادب و دین کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ”الاعتصام“ میں چھپے ہوئے ان مضامین کو خاص سلیقے سے جمع کیا اور شائع کیا ہے اور امید رکھتے ہیں کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ جو غلط فہمی سے مرزائیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ محمد حنیف ندوی!

پیش لفظ

(مولانا محمد جعفر صاحب پھلواری ندوی)

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ایک رسالے میں موٹے حروف سے لکھتے ہیں کہ: ”گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت عین عبادت ہے۔“

(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)

غالباً اسی وجہ سے ان کو بعض حضرات نے ”سرکاری نبی“ کا خطاب دیا ہے۔ پنجاب سائیکل مارٹ لکھنؤ کے ایک کرم فرمانے دوران گفتگو میں فرمایا کہ آیت ”اطیعوا الله واطیعوا

٤

صفحہ ٢٦٣

الرسول واولی الامر منکم“ میں منکم کے معنی علیکم ہے۔ یعنی تمہارا جو حاکم وقت ہو اس کی اطاعت کرو۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب تحریک ترک موالات اپنے شباب پر تھی۔ یہ ١٩٢٠ء کا واقعہ ہے۔ جب میں ندوۃ العلماء میں طالب علم تھا۔ اس کے بعد ٣٥، ٣٦ کا ذکر ہے کہ ایک مبلغ میرے پاس تبلیغ غلام احمدیت کے لئے آیا۔ اسے یہ خیال تھا کہ اگر کپور تھلے کی شاہی مسجد کا خطیب غلام احمدیت کو قبول کر لے تو نصف آبادی کپور تھلہ تو ضرور ہی حلقہ دام میں آجائے گی۔ اثنائے گفتگو میں میں نے مرزا قادیانی کی اس مندرجہ بالا عبارت کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہر حکومت وقت کی اطاعت عین عبادت ہے؟ جواب ملا بے شک میں نے پھر دریافت کیا۔ اگر اس وقت برطانیہ کے بجائے فرعون، نمرود، ہامان، شداد وغیرہ کی حکومت ہو تو آپ اس حکومت کی اطاعت کو بھی اپنی عین عبادت تصور فرمائیں گے؟ جواب ملا ”یقینا “ مجھے اس ”یقینا“ پر کوئی خاص تعجب نہ ہوا۔ کیونکہ وہ رسالہ جس میں مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا عبارت تھی۔ ان ہی مبلغ صاحب نے مجھے عنایت فرمایا تھا اس رسالے کا نام ”القول الاصح فی نزول المسیح“ یا اسی قسم کا کچھ نام تھا۔ کچھ دنوں بعد مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کی تفسیر کبیر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں سورۃ یوسف کی تفسیر میں آپ نے استدلال فرمایا ہے کہ مسلمان کے لئے حکومت کافرہ کی ملازمت، وفاداری اور اطاعت جائز ہی نہیں۔ بلکہ سنت انبیاء ہے۔ جیسا کہ سیدنا یوسف کے طرز عمل سے واضح ہوتا ہے۔ (یہ الفاظ میرے اور مضمون صاحب تفسیر کبیر کا ہے) یہ سرکاری امام رازی صاحب تفسیر کبیر وہی بزرگ ہیں جو اپنے ایک کتابچے میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے تفسیر فاتحہ کی تفسیر دو فرشتوں سے پڑھی ہے۔ یہ سرکاری فرشتے اگر سچی مچی ہیں تو مجھے ان کا علم نہیں۔

باتیں تو اور بھی بے شمار ہیں۔ میں نے چند حوالوں پر صرف اس لئے اکتفاء کیا ہے کہ آپ کو بیک نظر معلوم ہو جائے کہ غلام احمدی مذہب کی اصل بنیاد کیا ہے؟ آپ پر یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ اس کا لب لباب ہے ہر حکومت وقت کی اطاعت کو عین عبادت جاننا۔ یعنی اگر ابراہیم علیہ السلام ونمرود کی ٹکر ہو تو نمرود کی اطاعت کو عین ایمان سمجھو اور ابراہیم علیہ السلام کو شہر بدر کر دو۔ اگر موسیٰ علیہ السلام و فرعون کا تصادم ہو تو فرعون کی وفاداری کو عبادت تصور کرو اور موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرو۔ اگر زکریا علیہ السلام وہیروڈیس کا مقابلہ ہو تو ہیروڈیس کا ساتھ دو اور زکریا علیہ السلام کا سر قلم کر دو۔ اگر آنحضرت ﷺ اور کفار قریش سے جنگ ہو تو مکہ کے رہنے والے غلام احمدی وہی کریں گے جس کی مرزا قادیانی نے تعلیم فرمائی ہے۔ اگر حسین علیہ السلام و یزید باہم نبرد آزما ہوں

٥

صفحہ ٢٦٤

تو لشکر یزید کی کمان سنبھال کر یہ رجز پڑھتے ہوئے نکل پڑو کہ ۔

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین ست در گریبانم

(درثمین فارسی ص ١٧١)

اور اگر پاکستان و بھارت کی جنگ شروع ہو جائے تو بھارت کے غلام احمدی پورے خلوص و وفاداری کے ساتھ بھارتی فوج میں شامل ہو کر اپنے خلیفہ کے مقابلہ میں صف آراء ہوں اور خلیفہ صاحب پاکستان کی وفاداری میں اپنے مریدان باصفا کا صفایا کریں اور جسے فتح ہو وہ اسی طرح چراغاں کرے۔ جس طرح عراق پر برطانوی قبضہ ہونے کے بعد قادیان میں چراغاں کیا گیا تھا۔

اور پھر مرزا قادیانی کی روح پکار اٹھے کہ: ”قتلنا هما فی الجنة“ تم دونوں نے واقعی ہمارے مشن کی تکمیل کی اور اپنی حکومت وقت کی اطاعت و وفاداری کر کے عین عبادت کا ثبوت بہم پہنچا دیا۔ تم دونوں جن و انس نے مقصد تخلیق کو پورا کیا۔ ”وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون“ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔ کتنا پاکیزہ عشق ہے۔

فرمائیے! میں نے غلط کہا ہے کہ پاکستان بنتے ہی غلام احمدیت ختم ہو گئی۔ جو مشن اصولاً ختم ہو جائے اسے عملاً بھی ختم ہی سمجھئے۔ ایسی جماعتیں اقالۂ الموت کے کئی سنبھالے لینے کی مہلت بھی حاصل کر لیں تو وہ درحقیقت مردہ ہی ہوتی ہیں۔ صرف اسی لئے کہ ان کا بنیادی اصول مردہ ہوتا ہے۔ ورنہ محض زندگی تو چوپایوں کو بھی حاصل ہے۔ غلام احمد جماعت کی زندگی صرف برطانیہ کے بل بوتے پر قائم تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے فرمایا تھا کہ برطانیہ ہماری تلوار ہے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ تلوار ہی جس کے سہارے وہ قائم تھے رخصت یا مختل ہو گئی تو غلام احمدیت کس طرح زندہ رہ سکتی ہے؟ ”وہ کون جو بگڑی ہوئی تقدیر سنوارے“

ایسے پھسپھسے، بے ثبات، بے مغز اور پادر ہوا اصول پر جس جماعت کی بنیاد ہو اس کے افراد سے ”ختم نبوت“ اور دوسرے علمی مضمونوں پر مباحثہ کرنا میرے نزدیک تضیع اوقات ہے۔ پہلے انہیں نفس ”نبوت“ سمجھائیے کہ نبوت کیا چیز ہے؟ کس لئے ہوتی ہے۔ اس کا کیا مشن ہوتا ہے؟ پھر ختم نبوت پر گفتگو کیجئے اور دیگر مضامین کی طرف توجہ دلائیے۔ جس کے مغز میں نبوت کا مشن ”برطانیہ (یا ہر حکومت وقت) کی اطاعت عین عبادت“ ہو۔ اس سے پہلے اُس نبوت پر

٦

صفحہ ٢٦٥

بات کرنی چاہئے نہ کہ ختم نبوت پر۔ اب اگر بحث بھی کرنی ہے تو اس پر کیجئے کہ تم اصولاً ختم ہو چکے ہو۔ یا اس پر گفتگو ہونا چاہئے کہ خود احمدیت زندہ ہے یا نہیں؟

آپ پوچھیں گے کہ جب یہ فرقہ ایسا ہی نا قابل اعتنا ہے اور یہ ختم ہی ہو رہا ہے تو مولانا محمد حنیف ندوی نے یہ کتاب کیوں شائع کی ہے؟ تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ غلام احمدیوں کو قابل تعرض سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بعض سادہ لوح مسلمانوں کو ہوشیار کرنا ہے۔ غلام احمدی جماعت کا لٹریچر اور ان کے مبلغین بعض اوقات سادہ لوح مسلمانوں کو اس مسئلے پر گفتگو کرتے وقت چند مغالطوں میں ڈال دیا کرتے ہیں۔ ان ہی مغالطوں سے ہوشیار کرنا کتاب کا اصل مقصد ہے۔

انشاء اللہ یہ کتاب غلام احمدی جماعت کے سمجھدار طبقے کو بھی متاثر کئے بغیر نہ رہے گی۔ اس کتاب میں مؤلف نے ان تمام مضامین کو جمع کر دیا ہے جو وقتاً فوقتاً ”الاعتصام“ میں شائع ہوتے رہے اور مقبول ہوئے۔ مولانا نے اپنی تحریر میں عام مناظرانہ انداز سے احتراز کیا ہے اور جن جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کا انداز نرالا اور اچھوتا ہے۔ استدلال پرزور، مزاح سنجیدہ، گرفت مضبوط اور حملہ زور دار ہے۔ نگارش کے متعلق میں خود کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ ”الفضل ما شهدت به الاعداء“ کی مثل الفضل نے پوری کر دکھائی ہے۔ مدیر الفضل جناب تنویر صاحب اس فضل کا اعتراف فرما چکے ہیں۔ ایک اور بات سن لیجئے۔ پاکستانی اور بھارتی غلام احمدیوں کی باہمی جنگ (بہ سلسلہ وفاداری حکومت وقت) کا جو ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق ممکن ہے کوئی غلام احمدی آپ کو یہ کہہ کر مغالطے میں ڈالے کہ:

ایک دوسرے کے خلاف لڑیں گے یا نہیں؟

گولی چلائیں گے یا نہیں؟

بس اسی طرح سمجھ لیجئے کہ دونوں کے غلام احمدی بھی باہم ایک دوسرے کا گلا کاٹیں گے۔ بظاہر یہ اعتراض بڑا وزنی اور سادہ لوح مسلمانوں کو تذبذب میں ڈالنے والا نظر آئے گا۔ لیکن خوب سمجھ لیجئے یہ ساری گفتگو ان کے دوسرے تمام مغالطوں کی طرح محض فریب

٧

صفحہ ٢٦٦

ہوگا۔ اس لئے کہ اگر دو مسلمان گروہ یا حکومتیں باہم دست و گریباں ہوں تو گو ایک ہی عند اللہ برسر حق اور دوسری برسر ناحق ہوگی۔ لیکن دونوں اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر نبرد آزما ہوں گی۔ کفر کی تائید کسی کے بھی پیش نظر نہ ہوگی۔ کفر کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے جنگ کرنے والا صرف کافر ہے اور کچھ نہیں۔

اور اگر قوت کافرہ اور طاقت مسلمہ کی ٹکر میں دونوں طرف مسلمان ہوں تو قوت کافرہ کی تائید اور تغلب علی المسلمین کے لئے جنگ کرنے والے مسلمان نہیں کہے جاسکتے۔ اگر کوئی سیاسی مصلحت یا مجبوری ان کے پیش نظر ہو جب بھی وہ فتوائے فسق سے بچ نہیں سکتے۔ برطانیہ کی تائید کے لئے ممالک اسلامیہ پر حملہ کرنے والے فوجی مسلمان جس فتوے کے مستحق تھے۔ اسی فتویٰ کے مستحق وہ فوجی مسلمان ہوں گے جو نہرو کی تائید میں پاکستان سے جنگ کریں۔

اور ان تمام باتوں کو جانے دیجئے۔ اسی قسم کے بھارتی فوجی مسلمانوں کے متعلق آپ اپنی بقاء، مصلحت، خوشی، تمنائے عہدہ ومنصب، فاسقانہ خود غرضی، کافرانہ تقیہ، قوم فروشی، خود فراموشی وغیرہ کے سارے الزام لگا لیجئے۔ لیکن یہ کسی کے وہم وقیاس میں ہی نہیں آسکتا کہ وہ نادان مسلمان پاکستانی مسلمانوں سے اس لئے جنگ کریں گے کہ ان کے پیغمبر کا (نعوذ باللہ) یہ ارشاد ہے کہ نہرو گورنمنٹ کی اطاعت عین عبادت ہے۔ ایک بدتر سے بدتر مسلمان بھی کسی ایسی ”وحی“ کا قائل نہیں جس کا مفاد ہر حکومت وقت کی اطاعت کو عین عبادت سمجھنا ہو وہ حکومت کافرہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے الہامی فرامین غلام احمد کی بارگاہ ہی سے صادر ہو سکتے ہیں۔ جن میں حکومت اسلامی کی ماتحتی وتائید میں جنگ کرنے والے اور حکومت کافرہ کی ماتحتی وتائید میں جان دینے والے یکساں عبادت کا درجہ رکھتے ہوں۔

آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے مولانا کی اس کاوش فکری سے احمدیت کا پڑھا لکھا طبقہ متاثر ہو اور اس پر یہ واضح ہو جائے کہ نبوت کا مقام بہت اونچا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مقابلہ میں کوئی درجہ نہیں رکھتے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ختم نبوت اور اس کے حدود اطلاق

ایک نیا جائزہ

مرزائیت سے متعلق مسائل پر اب جو قلم اٹھا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اس کے تمام

٨

صفحہ ٢٦٧

متعلقات ایک نئے زاویۂ نظر سے ضبط تحریر میں آہی جائیں۔ پھر خدا جانے اس کا موقع ملے یا نہ ملے۔ کیونکہ غور و فکر کے ہدف و معیار اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بہت ممکن ہے۔ آئندہ مذہب پر اظہار خیال ہی دقیانوسیت سے تعبیر ہو۔ سب سے بڑا مسئلہ جو اس خصوص میں فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ ختم نبوت ہے۔ اگر یہ حقیقت ثابتہ معرض بحث سے نکل کر پھر حقیقت کی حیثیت اختیار کرلے اور اس کے تمام متعلقہ گوشے وضاحت سے سامنے آجائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مفید علمی کوشش ہوگی۔

نئی بات کہنا مشکل ہے

جہاں تک نفس دلائل کا تعلق ہے۔ باوصف تحقیق اس باب میں کوئی نئی بات اور بالکل اچھوتی بات ڈھونڈ لانا کہ: ”لم يطمثهن انس قبلهم ولا جان“ مشکل ہے۔ کیونکہ جب سے جھوٹے مدعیان نبوت نے سر اٹھایا ہے۔ علماء حق نے برابر ان کی تردید کے لئے ان مباحث کی چھان بین کی ہے اور شاید ہی کوئی گوشہ ایسا چھوڑا ہو جو آنے والوں کے لئے موضوع فکر ہو سکے۔ لیکن صرف دلائل ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ان کو قرینے سے پیش کرنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ہی حقیقت باوجود بار بار زیر نظر ہونے کے بسا اوقات ذہن سے اوجھل رہتی ہے اور پھر سلیقے کے ایک ہی اشارہ سے سہو و مدہوشی کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔

قرآن حکیم کے دلائل پر کبھی لکھنے کا موقع ملا تو اس کی اس خوبی پر کھل کر بحث کی جاسکے گی کہ آیات وشواہد کے پیش کرنے میں یہ کن کن اداؤں میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ یہاں صرف اتنا یاد رکھئے کہ وہ کوئی انوکھی اور جدید بات لے کر نہیں آیا۔ نئے نئے دلائل کی خلاقی وتکوین اس کا ہرگز منصب نہیں۔ وہ تو انہیں حقیقتوں کو جو ہمارے گردو پیش پھیلی ہوتی ہیں اور جن پر کبھی نگاہ اعتبار نہیں پڑتی اور اگر پڑتی ہے تو غور و فکر کے لئے نہیں رکتی۔ اس ڈھنگ سے پیش کرتا ہے کہ ذہن کی تمام صلاحیتیں خود بخود انہیں حقیقتوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ان کے لئے نہیں رہتا کہ یا تو ایک دم جھٹلائیں اور یا پھر ان کی تصدیق کریں یہ انداز اور یہ ڈھب حقیقی شے ہے۔

سچ کے کچھ زینے

یوں سمجھئے کہ فکر سے پہلے اصابت فکر کا مرتبہ ہے۔ سوچنا اور بات ہے اور صحیح سوچنا اور بات۔ بسا اوقات ایک مسئلہ پر ہم گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔ علم منطق کے تمام حربے استعمال میں

٩

صفحہ ٢٦٨

لاتے ہیں اور پھر بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔ لیکن جب ایک بارگی خود حقیقت ایک دوسرے انداز میں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے تو ہمیں اپنی بیچارگی وجہل پر افسوس ہوتا ہے کہ یہی بات تو ہزار دفعہ دوران بحث و مناظرہ میں دلائل و اعتراضات کی شکل میں ہمارے سامنے آئی۔ لیکن دل میں نہ اتر سکی۔ اب یہ کیا معاملہ ہے کہ یہی چھوٹی سی اور نہایت پیش پا افتادہ حقیقت ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے دل کی طرف بے اختیار بڑھ رہی ہے۔

بات یہ ہے کہ انسانی ذہن تک اترنے کے لئے بیچ کے کچھ زینے ہیں ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ذہن صاف ہے دلائل میں کوئی الجھاؤ نہیں اور پیش کرنے کا ڈھب منطقی طور پر استوار ہے تو بات منوانے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں ہوگی۔ تاخیر والتواء یا ڈھیل کے تین ہی سبب ہو سکتے ہیں۔ یا تو جو بات آپ کہتے ہیں وہ مبنی بر حقیقت نہیں۔ یا پھر سننے والے کا ذہن صاف اور اخاذ نہیں۔ یا پھر مسئلہ کو پیش کرنے کا ڈھنگ صحیح نہیں۔

کہنے کا ڈھنگ

اس تیسری بات کو میں زیادہ اہم سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک کہنے کا اسلوب زیادہ درخور اعتنا ہونا چاہئے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ذہن کی کجی اور غیر استواری کے باوجود جب کوئی بات ڈھب کی کہی گئی تو اس نے دل میں کہیں نہ کہیں جگہ پیدا کر ہی لی۔

ڈھنگ سے کیا مقصود؟

ڈھنگ سے کہنے سے مقصود صرف لفاظی نہیں۔ یا فصاحت و بلاغت نہیں کہ اس کا مرتبہ بعد کا ہے۔ اصل شے یہ ہے کہ جس مسئلہ کو آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں پہلے آپ یہ دیکھ لیں کہ خود اس کا مرتبہ کیا ہے۔ یعنی یہ محکمی و استواری کے کس درجہ میں ہے۔ اس کے بعد اس پر غور فرمائیے کہ اب تک جو اسے پیش کیا گیا ہے تو اس میں کن باریک علمی رعایتوں کو نظر انداز کر دینے سے اس کی مؤثریت میں فرق آیا ہے؟ وہ کیا نفسیاتی یا منطقی نقائص ہیں۔ جن کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی رہی۔ اس کے بعد بھی اگر خصم نہیں مانتا تو پھر آپ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ پھر آپ کے پاس یہ معقول عذر ہے کہ ممکن حد تک آپ کوشش فرما چکے۔ مقدر کی خرابیاں آپ کے بس کا روگ نہیں۔ پانی میں سیدھی سے سیدھی شے بھی ٹیڑھی نظر آئے گی۔ فطرت کا بدلنا ہمارے لئے دشوار ہے۔ انہیں حقائق کے پیش نظر آئیے ہم مسئلہ ختم نبوت اور اس کے حدود اطلاق پر غور کریں اور دیکھیں کہ سقم کہاں پیدا ہوا؟ کیا صرف وہ نفسیاتی ہے یا استدلال واستنباط میں کہیں خامی ہے؟

١٠

صفحہ ٢٦٩

سر دست یہ اگر چہ ایک مسلمہ ہے اور اپنے معنوں میں بالکل واضح ۔ تاہم اسے معرض بحث میں لانے پر ہم مجبور ہیں ۔ اس کا فیصلہ کہ حقیقت ثابتہ کیا ہے ۔ اب دلائل پر موقوف ہے ۔ اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونا بہر آئینہ بہت مشکل ہے کہ ایک حقیقت کو بحث کی سطح پر لایا جائے اور پھر اس حقیقت کی سطح تک پہنچا جائے ۔ مگر اس کا کیا کیجئے کہ ایسا ہونا ضروری ہے کہ یہاں ذہنوں کی ساخت یک قلم مختلف ہے۔ سمجھنے کا انداز جدا جدا ہے۔ جو بات آپ کو اصول کی حد تک صحیح معلوم ہوتی ہے۔ وہی دوسرے کے نزدیک مشکوک اور یکسر باطل ۔

فکر و استدلال کے تین اصول

ہم نے جہاں تک اس مسئلہ کی تفصیلات پر غور کیا ہے۔ یہاں پر تین مقدمات ایسے ہیں جن کی وضاحت ہو جانا چاہئے ۔ بلکہ یوں سمجھئے یہ تین اصول ہیں جن کو بہر آئینہ ہر بحث میں مرعی رہنا چاہئے ۔ ہم نے تمام اختلافی مسائل پر غور کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ فکر و استدلال میں جہاں کہیں فروگذاشت ہوتی ہے وہ انہیں تین حقیقتوں کو نظر انداز کر دینے سے ہوتی ہے۔ یعنی ان تین مقدمات کا درجہ یہ ہے کہ ان پر غورو فکر کر لینے سے ہر ہر مسئلہ میں آپ کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے اور اس کی مدد سے آپ فوراً معلوم کر سکتے ہیں کہ استدلال کے اشہب تیز خرام نے کہاں ٹھوکر کھائی ہے۔ ان میں ایک حقیقت نفسیاتی مزاج کی ہے اور دوسری دو منطقی انداز کی۔

مناظرانہ ذہنیت

پہلے نفسیاتی حقیقت کو لیجئے ۔ کسی مسئلہ پر غور کرتے وقت یہ نہایت ضروری ہے کہ ذہن پر مناظرانہ کیفیتیں اثر انداز نہ ہوں ۔ یعنی آپ بحث کے موڈ میں نہ ہوں کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کے ہوتے ہوئے یہ ناممکن ہے کہ نظر وفکر میں وہ کلیت و جامعیت پیدا ہو سکے۔ جو دین کے اسرار تک انسان کو پہنچاتی ہے۔

مناظر میں سب سے بڑا نقص جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ باوجود ذہانت اور جودت طبع کے کبھی اس لائق نہیں ہو پاتا کہ دین کے مزاج کلی پر غور کر سکے۔ دین کے مصالح پر نظر ڈال سکے کہ اس کے اصول و بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ اس کے الہیات ، اخلاق، عبادات اور معاشرتی واقتصادی نقشے انسان کو کس منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے ماننے سے کس نوع کا طبقہ ظہور پذیر ہوتا ہے؟ کس طرح کے اخلاق سے انسان آراستہ ہوتا ہے اور عادات وعوائد میں کیا تغیر رونما ہوتا ہے؟ وہ کیا سلجھاؤ اور شائستگی ہے جو اس کا مایہ افتخار و نازش ہے؟ یعنی مذہب کا وہ جمال اور حسن جو

١١

صفحہ ٢٧٠

اس کی بنیاد اور اساس ہے۔ مناظر کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کی نظر میں ایک طرح کی خیرہ اور کجی پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کے سبب سے جزئیات کی ٹٹول اور جستجو میں لگا رہتا ہے اور اصول اس کی نظر سے مخفی رہتے ہیں۔ اس کی ساری پرچول شاخوں اور پتوں تک ہی رہتی ہے اور اس تحقیق و تفحص کی مناظرانہ موشگافیوں میں اسے موقع ہی نہیں ملتا کہ اس کے اس جمال سے لطف اندوز ہو سکے۔ جس کا تعلق پورے درخت کے پھیلاؤ سے ہے۔ گویا یہ پیڑ گننے کا قائل ہے۔ آم کھانا اس کے مقاصد میں داخل نہیں۔

اس کا نتیجہ

اس ذہنیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نظر کی جزئیت کی وجہ سے اسلام پر جب غور کرے گا تو جزئی حیثیت سے اگر وہ معتزلی ہے تو دیکھے گا کہ کن کن آیات سے اعتزال کی تائید ہوتی ہے۔ ارجاء کا قائل ہے تو سارا زور اس پر لگائے گا کہ ارجاء کی آیات تلاش کی جائیں۔ اس طرح جبری یا قدری ہے تو اپنے مذہب کی آیتیں دکھلائے گا۔ اس کو اس سے کچھ مطلب نہیں ہوگا کہ اسلام بحیثیت مجموعی ہم سے کیا چاہتا ہے؟ جن لوگوں نے قرآن حکیم کی تفاسیر کو دیکھا ہے اور بالاستیعاب پڑھا ہے۔ انہوں نے دورانِ مطالعہ میں یہ کوفت محسوس کی ہوگی کہ اس طرح کی بحثوں نے کیونکر قرآن کی حقیقی معنویت اور خوبیوں کو چھپا رکھا ہے۔ بہت بڑا نقصان اسلام کو یہ پہنچا ہے کہ اس کے حکم و اسرار پر چند لاطائل بحثوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنی جلیل القدر کتاب صرف مناظرانہ گتھیوں کو سلجھانے کے لئے نازل ہوئی ہے۔ انسانی زندگی کو سنوارنا اس کا مقصد نہیں۔

اس کا اثر اعمال پر کیا ہوتا ہے؟

عملی اعتبار سے اس کا اثر طبائع پر یہ ہوتا ہے کہ مذہب کے تقاضے صرف اس قدر رہ جاتے ہیں کہ مخصوص مسائل پر آپ کے ذہن میں کتنا مواد جمع ہے؟ اور کن کن دلائل سے آپ اپنے مسلک کو حق بجانب ٹھہرا سکتے ہیں؟ مذہب کی رو سے استفادہ پوری عملی زندگی میں اس سے رہنمائی کا ولولہ اور شوق یا اخلاق وعادات میں ایک خاص طرح کا امتیاز قائم رکھنے کی تڑپ دائرہ عمل سے خارج قرار پاتی ہے۔

یعنی ایک مناظر اگر وہ مرزائی ہے تو اس کی تمام تر مذہبی زندگی کا مدار اس پر ہوگا کہ وہ حیات مسیح کے مسئلہ پر بڑے سے بڑے عالم سے ٹکرا سکے۔ ختم نبوت کے مضبوط حصار کو توڑ سکے۔

١٢

مرزا قادیانی کی بھی کہ یا تو تمام پہلے ا گوئی چیز ہی ایسی۔ کے مطابق پورا ہو نہیں ہے کہ مذہب سے مخصوص نہیں۔ بحث و جدل کی اہمی اور اس کا نتیجہ یہ ہو آپ کی اصابت ر

مرزائی نقطہ نظر

یوں تو توقع اس سے کی تنگ نظری ہے۔

ایک زحمت گوارا نہیں ک اس کے مقصد کو ک کھونٹا گاڑ کر بیٹھ خواہش ہوگی کہ ا

حالاً یہاں ایک مقام مقام پر نظر ڈالی۔ کیا ملتا ہے۔ جن بحث کا صحیح تجزیہ

یہ لوگ کی منطقی تنقیحات

صفحہ ٢٧١

مرزا قادیانی کی کبھی نہ پوری ہونے والی پیش گوئیوں کو ایسی ترازو پر تول سکے۔ جس سے یہ معلوم ہو کہ یا تو تمام پہلے انبیاء معاذ اللہ اسی طرح کی مہمل اور متضاد باتیں کرتے رہے ہیں اور یا پھر پیشین گوئی چیز ہی ایسی ہے کہ اس کے ٹھیک ٹھیک منشاء تک رسائی ناممکن ہے۔ پھر اگر یہ منشاء اس کے زعم کے مطابق پورا ہو جاتا ہے تو اس کی نفسیات مذہبی کی تسکین ہو جاتی ہے۔ وہ اب اس کا ہرگز مکلف نہیں ہے کہ مذہب کے اصولی و اساسی تقاضوں پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ بات صرف مرزائی مناظر ہی سے مخصوص نہیں۔ دینی تصور کا یہ بگاڑ ہر اس شخص میں پیدا ہو جاتا ہے جو اس ذہن کا حامل ہے۔ یعنی بحث و جدل کی اہمیت اس گروہ میں اس درجہ محسوس کی جاتی ہے کہ اسی کو حاصل دین سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ نزاعی مسائل پر ان کے انداز اور اسلوب پر نہیں سوچتے تو یہ کبھی آپ کی اصابت رائے کے قائل نہیں ہو سکیں گے۔

مرزائی نقطہ نظر کا صحیح تجزیہ

یوں تو یہ ذہنیت بجائے خود اس لائق نہیں ہے کہ کسی مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ بحث کی توقع اس سے کی جاسکے۔ لیکن جو کجی خصوصیت سے اس انداز فکر سے ذہن میں پیدا ہوتی ہے وہ تنگ نظری ہے۔

ایک مناظر کسی مسئلہ پر غور کرتے وقت اس کی تمام متعلقہ تفصیلات پر سوچ بچار کی کبھی زحمت گوارا نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کا انداز یہ ہو گا کہ یہ ایک آیت یا ایک حدیث جس کو دیکھے گا کہ اس کے مقصد کو کسی حد تک پورا کر سکتی ہے اسے مضبوطی سے پکڑے گا اور کوشش کرے گا کہ یہیں کھونٹا گاڑ کر بیٹھ جائے۔ اب نہ تو وہ خود یہاں سے ہلے گا اور نہ آپ کو ہلنے دے گا۔ اس کی یہ خواہش ہوگی کہ اسی ایک آیت یا حدیث سے وہ تمام تفصیلات جو مطلوب ہیں نکل آئیں۔

حالانکہ قرآن یا سنت کا یہ انداز نہیں ہے۔ بلکہ ہر ہر مسئلہ کے لئے وضاحت و تفصیل کا یہاں ایک مقام ہوتا ہے اور قرآن وحدیث میں کسی مسئلہ کے تفحص کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسی مقام پر نظر ڈالی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ اس خصوص میں ہمیں کتاب وسنت کے سرچشموں سے کیا ملتا ہے۔ جن لوگوں نے مرزائیوں سے بحث کی ہے وہ ہماری تائید کریں گے کہ یہ ان کے انداز بحث کا صحیح تجزیہ ہے۔

یہ لوگ جب حیات مسیح کے مسئلہ پر مثلاً غور کریں گے تو اس انداز سے نہیں کہ اس بحث کی منطقی تنقیحات کیا ہو سکتی ہیں؟ اور اس گتھی کو سلجھانے کے لئے ہمیں کن راستوں پر گامزن ہونا

١٣

صفحہ ٢٧٢

چاہئے اور کتاب وسنت کے کن کن مقامات سے استفادہ کرنا چاہئے؟ بلکہ اس کے برعکس یہ صرف اس پر اکتفا کریں گے کہ اپنے ڈھب کی کچھ آیتیں ڈھونڈ لیں۔ سیاق وسباق سے انہیں علیحدہ کریں اور تاویل وترجمہ کی تحریفات سے ایسے ایسے معنی پہنائیں کہ ان کی مطلب برآری ہوسکے۔ سنت کے ان مقامات کو یہ چھوڑ دیں گے۔ جہاں اس مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے یا اصولاً پڑ سکتی ہے اور نظر وہاں دوڑائیں گے جہاں سرے سے یہ مسئلہ بیان کرنا مقصود ہی نہیں۔

حیات مسیح کی متعلقہ تنقیحات

ان کے اس انداز استدلال کی مثالیں بہت ہیں اور ان کی تفصیل اتنی دلچسپ ہے کہ اگر نفس موضوع سے ہٹ جانے کا خطرہ لاحق نہ ہوتا تو میں قطعی بیان کرتا۔ وضاحت کے لئے صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ لگے ہاتھوں آپ حیات مسیح سے متعلق یہ معلوم کر لیجئے کہ وہ کیا تنقیحات ہیں جن پر روشنی ڈالنی چاہئے اور وہ کیا انداز ہے سوچنے کا جو درست نتائج تک پہنچا سکتا ہے اور مرزائی کیونکر اس انداز سے پہلو تہی کرتے ہیں؟ سب سے پہلے اس کی تاریخی پس منظر پر غور فرمائیے کہ یہودی بھی ایک مسیح کے منتظر ہیں اور عیسائی بھی۔ اس کی آمد ثانی کے قائل اور اس کی زندگی کے معترف۔ اب قرآن کا منصب یہ ہونا چاہئے کہ وہ دونوں کے اس متفقہ عقیدے کے مقابلہ میں بتائے کہ اسکی کیا روش ہے۔ آیا مسیح کا انتقال ہوچکا یا وہ ابھی زندہ ہے اور دوبارہ آئے گا۔

فرض کر لیجئے کہ قرآن کے نقطہ نظر سے اس کا انتقال ہوچکا۔ جیسا کہ مرزائی سمجھتے ہیں۔ اگر یہ پوزیشن صحیح ہے تو قرآن کو بڑے صاف لفظوں میں دوٹوک اس رائے کا اظہار کر دینا چاہئے۔ اس سے ایک تاریخی نزاع کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ یہ مسئلہ جس ڈھنگ سے قرآن میں مذکور ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیرایہ استدلال کا مسئلہ ہے۔ اب وہ صحیح ہو یا غلط اس سے بحث نہ کیجئے۔ اس پر غور فرمائیے کہ نص صریح کا کسی صورت میں بھی نہیں۔ یعنی ثبوت کا مزاج استدلالی ہے۔ جو بحث ونزاع کا ہدف ہوسکتا ہے۔ ایسا واضح نکھرا ہوا اور متعین نہیں کہ اس میں اختلاف کے لئے کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ برسبیل تنزل ہے۔ ورنہ ہماری رائے میں اس کی زندگی سے متعلق اشارات اس سے کہیں زیادہ واضح ہیں۔ اس نکتہ کے فہم پر اگر مناظرانہ تنگ نظری قادر نہ ہو تو اس تنقیح پر غور فرمالیا جائے کہ عیسائیوں کے نقطہ نظر سے حضرت مسیح خدا اور خدا کے بیٹے ہیں۔ اب اگر مسیح کا انتقال ہوچکا ہے تو یہ اس عقیدہ پر ایسی براہ راست چوٹ ہے جس کی سہار عیسائیت میں بالکل نہیں۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ سارے قرآن میں ایک جگہ بھی وفات مسیح کو بطور ابطال الوہیت مسیح کے پیش نہیں کیا گیا۔

١٤

صفحہ ٢٧٣

بلکہ قرآن حکیم جب یہ بتانا چاہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا نہیں ہے تو وہ دور کے لوازم کا تذکرہ کرتا ہے۔ کبھی کہتا ہے: ”ان مثل عيسىٰ عندالله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران) “ مسیح کی مثال عنداللہ ایسی ہے جیسے آدم کی کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اسے کن فیکون کہا۔

کبھی فرماتا ہے: ”انی يكون له ولد ولم يكن له صاحبة (الانعام) “ خدا کے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس کی جورو ہی نہیں۔

کبھی ارشاد ہوتا ہے: ”کانا یاکلان الطعام (المائده) “ مسیح اور اسکی ماں تو کھانے کی احتیاج بھی محسوس کرتی تھیں۔

اور یوں نہیں فرما دیتا کہ عیسائیو! تم کس پھیر میں ہو جو مر چکا وہ خدا کیونکر ہو سکتا ہے۔

حالانکہ قرآن کے اسلوب بیان کی یہ نمایاں خوبی ہے کہ جب وہ اعتراض کرتا ہے تو ایسی پوزیشن اختیار کرتا ہے جو زیادہ مضبوط ہو اور اس باب میں اس کو آخری پوزیشن یا فیصلہ کن پوزیشن قرار دیا جاسکے۔ مسیح کا آدم کی طرح ہونا یا خدا کی جورو نہ ہونا یا مسیح یا اس کی ماں کا کھانا کھانا اعتراضات تو ہیں۔ لیکن فیصلہ کی جو طاقت اس وار میں ہے کہ مسیح کا انتقال ہو چکا ہے وہ ان میں بالکل نہیں۔ لہٰذا اگر قرآن نے وضاحت کی یہ پوزیشن اختیار نہیں کی تو لامحالہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قرآن کے نقطہ نظر سے مسیح کی موت متیقن نہیں۔ ورنہ وہ بھی اس اعتراض سے نہ چوکتا۔

کیا مناظرہ جنگ ہے؟

وفات مسیح کا مسئلہ اس وقت موضوع بحث نہیں۔ یہ تو ایک مثال ہے۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ مناظرانہ کج بحثی کیونکر اصابت فکر سے روکتی ہے اور کسی طرح واضح اور فیصلہ کن متعلقات کو نظروں سے اوجھل رکھتی ہے۔ نوک جھونک اور دلائل و براہین کی نمائش اور بات ہے اور حقیقت تک رسائی بالکل دوسری شے۔ جن لوگوں نے مناظروں کو دیکھا ہے اور سنا ہے۔ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ فریقین کس طرح بحث میں ایک دوسرے کو الجھاتے ہیں۔ حیرت و پریشانی کے کیا کیا سامان پیدا کئے جاتے ہیں اور کس کس انداز میں مخالف کی سادگی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کس کس طرح غلط بیانی کی جاتی ہے؟ اور اسے الحرب خدعۃ کہہ کر جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔

حالانکہ یہ سرے سے حرب ہی نہیں۔ یہاں تو غرض افہام وتفہیم ہے۔ یعنی اپنی بات سمجھانا اور دوسرے کی سمجھنا مقصود ہے۔ لیکن وہ اس اعتبار سے اسے حرب کہنے میں حق بجانب ہیں

١٥

صفحہ ٢٧٤

کہ فریقین کی نفسیات مناظرہ میں واقعی اس طرح کی ہو جاتی ہیں۔ گویا باہم خصم اور مخالف ہیں۔ منشاء ایک دوسرے کو پچھاڑنا ہے اور شکست دینا ہے۔ سمجھانا نہیں۔

مناظرہ اور دعوت کے تقاضے جدا جدا ہیں

جب مناظرہ کی غرض وغایت یہ قرار پائے کہ مخالف پر کیونکر فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔ تو اس کا مزاج دعوتِ دینی کے مزاج سے بالکل مختلف ٹھہرے گا۔ کیونکہ دین تو یہ چاہتا ہے کہ خطاب میں ایسی مؤثریت، ایسی شیرینی، ایسی مٹھاس اور جاذبیت ہو کہ سننے والا اثر قبول کر کے رہے اور مناظرہ کے تیور اس بات کے متقاضی ہوں گے کہ اس میں جنگ کا دم خم ہو۔ جنگ کا سا ادّعا اور للکار ہو اور جنگ ہی کی طرح کا انداز گفتگو ہو۔ مذہب و مناظرہ بظاہر اگر چہ حلیف و دوست معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقتاً ان کے راستے جدا جدا ہیں۔ مذہب کے معاملہ میں بسا اوقات ہار جانا فتح کا مترادف ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی غلطی نہ صرف یہ کہ تسلیم کرنا پڑتی ہے بلکہ غلطی پر متنبہ کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور مناظر ہمیشہ معصوم ہوتا ہے۔ اس سے یا تو کبھی لغزش سرزد ہی نہیں ہوتی اور یا پھر اس لغزش کا اخفاء ضروری ہوتا ہے۔

یہ تخالف تو داعی کی نسبت سے ہوا۔ وہ شخص جس کو آپ کسی دینی حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مناظرہ کا ڈسا ہوا نہیں ہے تو نہایت توجہ سے آپ کی باتوں کو سنے گا اور پوری شکر گزاری کے ساتھ ان کی پذیرائی کرے گا۔ لیکن اگر وہ ایسی طبیعت نہیں رکھتا اور اس کے دل و دماغ پر بحث کا چسکا لگ چکا ہے تو سمجھ لیجئے کہ دل کی صحت رخصت ہو چکی۔ وہ آسانی سے ماننے والا نہیں۔ بات بات پر یہ ٹوکے گا اور ایسی مین میخ نکالے گا کہ آپ پریشان ہو جائیں گے۔

مناظرہ اور تبادل خیال میں فرق

اس غلط فہمی کا ازالہ نہایت ضروری ہے کہ تبادل خیالات کو ہم مناظرہ سے تعبیر نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ایک ناگزیر تقاضا ہے۔ جب تک دنیا میں فہم و فکر کے پیمانے مختلف رہیں گے۔ تبادل خیالات کی ضرورتوں کا برابر محسوس کیا جائے گا۔ کیونکہ رفع نزاع اور رفع اختلاف کی اور کوئی صورت بجز اس کے ہمارے ذہن میں نہیں آتی کہ دو معقول آدمی بیٹھ کر گفتگو سے معاملہ کو سلجھا لیں یا باہمی افہام و تفہیم سے ایک دوسرے کو قائل معقول کرلیں۔

ہم جس چیز کی مخالفت کرتے ہیں اور جس بیماری کو اصابت فکر کے لئے مہلک سمجھتے ہیں وہ مناظرانہ ذہنیت ہے۔ مجادلہ بالحسن تو وظیفۂ انبیاء ہے۔ یعنی ایسے طریق اور ڈھب سے اپنے مقصد کو پیش کرنا جو مخالف کے نقطۂ نظر سے بھی معیوب نہ ہو۔ خالص پیغمبرانہ صفت ہے۔

١٦

صفحہ ٢٧٥

ایک باریک اور حکیمانہ فرق مناظر اور داعی میں یہ ہے کہ مناظر کی زد میں صرف دلائل واعتراضات کا ایک انبوہ ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مخالف پر قابو پانے کے لئے ایک طرح کی اخلاقیت کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن داعی دلائل کو اتنا اہم نہیں سمجھتا۔ جتنا کہ اخلاقیت کو درخور اعتنا قرار دیتا ہے۔

یوں سمجھئے کہ مناظر کے سامنے صرف فن مناظرہ اور اس کے تقاضے ہوتے ہیں۔ وہ رشیدیہ کے ہر ہر حرف کی پابندی کا التزام کرتا ہے۔ لیکن اس کتاب کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جو اس کی لوح دل پر مرتسم ہے۔ اس کے برعکس ایک داعی یہ دیکھتا ہے کہ مخاطب میں رشد و ہدایت کے دواعی کیونکر بیدار ہو سکتے ہیں۔ پھر اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں دلائل کے پیچھے بھاگنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا تو وہ نفس مخاطب کا تعاقب کرتا ہے اور نقض ومعارضہ کی راہوں کو چھوڑ کر استدلال کی ایسی راہیں اختیار کرتا ہے جو سیدھی اس کی دل تک پہنچتی ہیں۔ حضرت ابراہیم کو دیکھئے کہ نمرود سے بحث کرتے وقت جب یہ دیکھتے ہیں کہ اس دلیل سے ”ربی الذی یحیی ویمیت“ میرا پروردگار وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اس کی تسکین نہیں ہوتی ..... تو اس دلیل پر اس کو جو غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس کا ازالہ نہیں فرماتے ۔ بلکہ آسانی فہم کے لئے ایک اور مشاہدہ عبرت اس کے سامنے پیش فرما دیتے ہیں کہ اچھا یہ نہیں نہ سہی۔ اس دلیل پر غور کر لو۔

”فان الله یاتی بالشمس من المشرق فات بها من المغرب“ ﴿اللہ تو اپنی قدرت کاملہ سے آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے۔ تم بھی اگر اس کارخانہ پر قابو رکھتے ہو تو یہ سمت بدل دو۔﴾

ظاہر ہے دوسری دلیل پہلی دلیل سے کچھ قوی نہیں ہے اور نہ پہلی دلیل ایسی غیر واضح ہے کہ اس پر نمرود کے اعتراض کو صحیح سمجھا جائے۔ تاہم حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مناظرہ کی منطق سے پہلو تہی کی اور تفہیم کا دوسرا انداز اختیار کیا۔ ہم جو مسائل کے فہم میں یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے مناظرانہ اثرات سے دماغ کو پاک کر لیا جائے تو یہ بالکل وہی حقیقت ہے جسے قرآن ”شہادت قلب“ سے تعبیر کرتا ہے۔ ”ان فی ذلک لذکری لمن کان له قلب او القی السمع وهو شهید“ ﴿اس میں یقیناً نصیحت کی بات ہے۔ لیکن اس شخص کے لئے جس کے پہلو میں دل ہے یا جو توجہ سے سنتا ہے اور اس کا دل اس پر شاہد ہے۔﴾

کیونکہ اگر پہلے ایک رائے قائم کر لی گئی ہے تو پھر یہ ناممکن ہے کہ جانچ پرکھ کے

١٧

صفحہ ٢٧٦

اصولوں کا اعتدال کے ساتھ استعمال ہو سکے۔ نزاعی مسائل میں بالخصوص جب کسی فیصلہ پر پہنچنا مقصود ہو۔ ذہن کو اس تجریدی سطح پر لے آنا چاہئے کہ گویا پہلی دفعہ آپ ایک موضوع پر غور کر رہے ہیں اور کوئی سابقہ تعصب یا پہلا عقیدہ آپ کے آزادانہ غور و فکر میں حائل نہیں۔

ہر شے کے دو مزاج ہوتے ہیں

طبیب ممکن ہے اس حقیقت کو نہ مانیں۔ مگر یہ ایک سچائی ہے کہ دوا کا مزاج دوہرا ہوتا ہے۔ ایک مزاج وہ ہوتا ہے جو ہر ہر دوا میں قدرت نے پنہاں رکھا ہے اور ایک مزاج وہ ہے جو دواؤں کے ساتھ ملانے سے ابھرتا ہے۔ یعنی بنفشہ کی ایک خصوصیات وہ ہیں جن کی وجہ سے وہ بنفشہ ہے اور کچھ نئے اثرات اور نئی کیفیات ہیں۔ جو دوسری دواؤں کے ساتھ ملنے سے اس میں خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ مفرد و مرکب کے مزاج و خصوصیات کا اختلاف اتنا واقعی اور حقیقی ہے کہ اس میں قطعاً اختلاف کی گنجائش نہیں۔ بسا اوقات مختلف ادویہ کو باہم ملانے اور آمیخت کرنے سے اس طرح کا ایک نیا مزاج پیدا ہو جاتا ہے اور نئی نئی خصوصیات ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ خود طبیب حیران رہ جاتا ہے۔

طبعیات کی ایک مثال

اس حقیقت کو زیادہ وضاحت سے سمجھنے کے لئے طبعیات کے اس عام مسئلہ پر غور کیجئے کہ آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسیں ہیں جن کو اگر علیحدہ علیحدہ دیکھا جائے تو کہیں نمی کا نشان نہیں ملتا۔ یعنی اگر تجربہ یہ نہ بتا دے کہ دونوں کے باہم ملنے سے پانی معرض ظہور میں آتا ہے تو صرف ان دونوں کا الگ الگ مطالعہ اس نتیجہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ دونوں کا مزاج اپنی طبعی خصوصیات کی وجہ سے پانی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ یہ دونوں بہر آئینہ گیسیں ہیں۔ جن میں مائیت کی بجائے آتش پذیری کی صلاحیتیں زیادہ نمایاں ہیں۔

مکانکی ثبوت

اسی اصول کو مکانکی انداز سے دیکھئے کہ ایک مشین، ایک انجن اور کل پرزوں کا بہت بڑا مجموعہ اس کا ایک وظیفہ ہے اور وہ جن پرزوں پر مشتمل ہے ان کا اپنا علیحدہ علیحدہ ایک کام ہے۔ اگر ایک شخص ریڈیو کے بکھرے ہوئے اجزاء کو دیکھے تو وہ کسی ایک پرزے کو دیکھ کر یہ پیشین گوئی نہیں کر سکتا کہ یہی جب دوسرے اجزاء سے مشین میں جڑے گا تو اس میں سے نغمہ و موسیقی کے چشمے اُبلنے لگیں گے۔

١٨

صفحہ ٢٧٧

بھاپ بظاہر کتنی ہلکی شے ہے۔ لیکن یہی ترتیب پا کر اور دوسرے کل پرزوں سے مل کر بڑے بڑے انجنوں کو بجلی کی سی رفتار سے حرکت دیتی اور چلاتی ہے۔

حسن کی حقیقت

جمالیات میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ یہاں بھی حسن کا مفہوم یہ نہیں کہ لذت نظر کا پورا پھیلاؤ جسم کے ایک ہی حصہ میں سمٹ آیا ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل نئی حقیقت ہے۔ جو مختلف حقیقتوں کے امتزاج و ترتیب سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی صرف کاکل و گیسو کا پیچ و خم ہی اسے معرض ظہور میں نہیں لاتا۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ اس کا تعلق ایک حسین چہرہ سے بھی ہو۔ پھر وہ حسین چہرہ بھی تنہا کوئی شے نہیں۔ جب تک ایک براق اور صراحی دار گردن نے اسے نہ تھام رکھا ہو اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی پھر اس گردن کو بھی اس طرح کا ہونا چاہئے کہ جب نظر اس سے پھسلے تو ایسی جگہ جا کر رکے کہ اس رکاوٹ کے بعد دنیا کی اور کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ پھر نظر اور خیال کی یہ بھی کوئی آخری رکاوٹ نہیں اور کئی چیزیں ہیں جو نظر کے دامن کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مسکراہٹیں ہیں، انگڑائیاں ہیں، چال ہے، ادائیں ہیں اور خدا جانے کیا کچھ ہے؟ غرض یہ ہے کہ ان میں ایک ایک چیز کا علیحدہ علیحدہ اگر آپ تصور کریں گے تو ان میں کوئی کشش اور جاذبیت نظر نہیں آئے گی۔ لیکن جب ان سب کی مجموعی فوج تیار ہو گی تب فتوحات کی وسعتوں کے کیا کہنے۔

یہ حسن جو نغمہ و شعر میں مضمر ہے کہاں سے آیا ہے۔ محض حسن امتزاج ہی تو ہے۔ ایک عمدہ سے عمدہ شعر جو آپ کو تڑپا دیتا ہے اور وجد طاری کر دیتا ہے وہ جن الفاظ اور تراکیب پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کو الگ الگ ہزاروں مرتبہ ہم پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن ہمارا ذہن کبھی متاثر نہیں ہوتا۔ پھر جب ایک صاحب فن ان الفاظ کو لے کر سلیقے سے ترتیب دیتا ہے تو اس میں بالکل نئی معنویت پیدا ہو جاتی ہے جو پہلے نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارا سائنس اتنی ترقی کر لے کہ وہ نغمہ کا ٹھیک ٹھیک تجزیہ کر سکے تو وہ آپ کو یہ بتا سکے گا کہ وہ راگ جو آپ کے لئے لذت گوش کا سامان بہم پہنچاتا ہے درحقیقت ایسی آوازوں کا مجموعہ ہے کہ جن کو اگر آپ الگ الگ سن پائیں تو بے توجہی یا نفرت سے منہ پھیر لیں۔

استدلال و استنباط کا معاملہ

غرض یہ ہے کہ ہر شے کے دو مزاج ہوتے ہیں۔ ایک جب وہ تنہا ہو اور ایک جب وہ دوسری چیزوں کے ساتھ ملے۔ ٹھیک اسی طرح فکر و استدلال کا معاملہ ہے۔ یہاں بھی ایک حقیقت

١٩

صفحہ ٢٧٨

یا مفہوم وہ ہے جو ایک آیت یا ایک حدیث میں منفردًا مذکور ہے اور ایک اس کی وہ جامع اور واضح شکل ہے جو کتاب وسنت کے دفاتر وابواب میں مختلف پہلو اور پیرایہ ہائے بیان میں مستور ہے۔ ان دونوں میں وضاحت و تعین کا جو فرق ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔

یہ قطعی ممکن نہیں کہ ایک مسئلہ اپنے طبعی پھیلاؤ کے ساتھ کسی ایک جگہ اس انداز سے آجائے کہ کوئی پہلو اجمال کا اس میں نہ رہے یا کوئی غلط تاویل نہ پیدا ہو سکے۔ یا کسی شک وظن کی گنجائش نہ نکل سکے۔ بلکہ اس کے برعکس قرآن وحدیث کا مسائل کے باب میں یہ انداز خاص ہے جو بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہے کہ ایک مقام پر صرف انہیں حقیقتوں کا اظہار ہو جن کا اظہار وہاں مقصود ہے۔ قرآن وسنت کا انداز بیان فقہ وقانون یا انسانی فنون سے مختلف ہے۔ کیونکہ ان کے سامنے صرف چند اصول ہی نہیں جن کو سمجھانا مقصود ہے۔ پوری انسانی زندگی ہے۔ پورا معاشرہ ہے۔ زمانہ کا ایک مخصوص ذہن ہے۔ وقت کے رسم ورواج اور تصورات وعقائد ہیں۔ آنحضرت ﷺ مکلف ہیں کہ ایک خاص تدریج اور ترتیب سے ان تک اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائیں اور خاص ڈھب سے ان کی ترتیب فرمائیں۔ اس لئے وہاں ترتیب مسائل کا وہ ڈھب قدرتاً نہیں ہو سکتا۔ جو ہم کو فنون کی کتابوں میں ملتا ہے۔ کیونکہ ان کے سامنے صرف فن اور اس کے متعلقات ہیں اور آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک قوم ہے جس کی اصلاح کی ایک خاص رفتار ہے۔ اس لئے قرآن وسنت کی ہدایات و نصوص اس تاریخی رفتار کے دوش بدوش چلتے ہیں۔

ایک نکتہ

یہی وہ نکتہ ہے جس پر نظر نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں نے قرآن حکیم میں از راہ تکلف ربط آیات کی تلاش شروع کر دی اور قرآن کو بھی ایک انسانی کتاب بنانا چاہا۔ جس میں ترتیب بیان کا وہی انسان ڈھنگ ہے گویا وہ بھی ایک فن ہے اور اس میں بھی وہی ترتیب و ربط ہے جو فن کی دوسری کتابوں میں ہوتا ہے۔ حالانکہ کتاب وسنت ایک قوم کی ترتیب کا عملی و علمی ریکارڈ ہے۔ اس میں جو ترتیب ہے وہ تاریخی ہے۔ واقعات کی ہے۔ مسائل ومضامین کی ہے۔ اس انداز کی نہیں کہ آپ ایک ایک آیت کو ماقبل سے متصل اور جڑا ہوا پائیں۔

دوسرا مقدمہ

اس لئے قدرتاً دوسرا مقدمہ یا اصول فہم مسائل جس کا مرعی رکھنا ضروری ہے یہ ہوگا کہ جب کسی مسئلہ پر غور کریں۔ بشرطیکہ وہ مسئلہ اہم اور بنیادی بھی ہو تو اس کے پورے متعلقات کو بیک وقت زیر نظر لائیں۔ کتاب وسنت میں تفحص اور تلاش سے ایسی مقامات کا پتہ لگائیں جہاں اس

٢٠

صفحہ ٢٧٩

مسئلہ کے کسی پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ سب متعلقات مل کر ایسی مکمل اور جامع اور ایسی واضح اور روشن تصویر آپ کے سامنے پیش کریں گے کہ اتنی وضاحت و جامعیت سے وہ کسی ایک جگہ نہیں مل سکے گی۔ یعنی دلائل و مؤیدات کے پورے پھیلاؤ کو پہلے اپنے سامنے لائیے۔ پھر یہ دیکھئے کہ اب آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ یقیناً اس طرح کا یہ تاثر اس تاثر سے بالکل مختلف ہوگا۔ جو اس ترتیب کے ملحوظ نہ رکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یوں ایک شبہ جو ایک جگہ ابھرتا ہے دوسری جگہ زائل ہو جائے گا۔ یعنی اگر ایک مخصوص وضاحت ایک آیت میں آپ کو نہیں ملے گی تو وہ دوسرے انداز سے دوسری جگہ مل جائے گی۔ یہی حال احادیث کا ہے کہ ان کو ساتھ ساتھ رکھنے سے شک و شبہ کی تمام گنجائش ختم ہو جاتی ہیں۔

ایسی صورت میں مسئلہ کی لغوی اور ادبی تصریحات کی بھی چنداں ضرورت نہیں رہے گی اور ”يفسر بعضه بعضاً“ کا وہ منظر آپ کے سامنے آئے گا کہ جس سے کامل انشراح صدر کے مواقع ملیں گے۔

اس سلسلہ میں مناظروں کا عامتہ الورود دھوکہ یا گھپلا یہ ہوتا ہے کہ اس تاثر کو وہ زائل کریں۔ جو تصویر کے پورے رخوں کو دیکھنے سے پیدا ہوا ہے۔ یعنی ایک ڈاکو کی طرح جو بھیڑ اور ہجوم سے بچتا ہے اور اِکے دُکے مسافر پر حملہ کرتا ہے۔ یہ صرف ایک ایک آیت کو بحث کے لئے چنتے ہیں اور ایک ایک حدیث کو مجموعی تاثر سے الگ کر کے حملہ آور ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذہن میں چونکہ مسئلہ کے تمام پہلو نہیں رہتے۔ اس لئے کمزور عقل اور تھوڑے علم کا آدمی آسانی سے ان کی تاویلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

تیسرا اصول

فکر و استدلال کی گاڑی کو کامیابی کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے اس مقدمہ کی رعایت بھی ضروری ہے کہ دعویٰ اور دلائل میں خصوصِ تعیین کی مناسبت کا خیال رہے۔ یعنی جس درجہ دعویٰ میں تعیین اور تحدید ہے۔ اسی طرح دلیل کو بھی متعین وخاص (SPECIFIC) ہونا چاہئے۔ ورنہ یہ اندیشہ لاحق رہے گا کہ مدعی و مجیب دونوں اپنی اپنی ہانکتے رہیں اور تنقیح طلب نکات بدستور تشنہ ہی رہیں۔

فکر و استدلال کی عام لغزش

رودادِ مناظرات میں یہ مغالطہ عام ہے۔ ہر مناظر دعویٰ تو کرتا ہے۔ ایک لگے بندھے اور نپے تلے عقیدے کا اور دلائل ایسے پیش کرتا ہے کہ جن کے مزاج میں عموم تو ہوتا ہے۔ مگر وہ

٢١

صفحہ ٢٨٠

کلیت نہیں ہوتی۔ ہر ہر فرد پر جس کا اطلاق بلامحابہ ہو سکے اور نہ وہ تعیین وخصوص ہی ہوتا ہے کہ جس سے دعویٰ ثابت ہو سکے۔ موضوع زیر بحث میں جہاں جہاں اس انداز کے دھوکے اور گھپلے آئے ہیں۔ میں ان کی چہرہ کشائی نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان کی وضاحت تو اپنے مناسب مقام پر ہو گی۔ سردست دوسری طرح کی مثالوں سے اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

ایک مثال

متحدہ ہندوستان میں دو سیاسی تنظیمیں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں۔ ایک کانگرس تھی۔ جس میں مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ پیش پیش تھے اور دوسری جانب مسلم لیگ تھی۔ جس کی عنان قیادت مرحوم قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھ میں تھی۔ مولانا کے حامی یہ کہتے تھے کہ انگریزی دان حضرات کو اسلامی مزاج سے کیا مناسبت؟ اور لیگ سے وابستہ اس الزام کا یوں جواب دیتے تھے کہ یہ مانا، ابوالکلام آزاد بڑا دقیقہ رس عالم ہے۔ مگر یہ سیاسیات کا خارزار ہے۔ یہ قال اللہ وقال الرسول کہنے والے کیا جانیں کہ یہاں کن کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے؟

استدلال کی غلطی دونوں جانب یہ تھی کہ یہ بحث کرنے والے یہ بھول جاتے تھے کہ متنازع فیہ کوئی عالم دین نہیں بلکہ ابوالکلام ہے۔ جس کی جامعیت اور سیاسیات میں بصیرت ورسوخ کالوہا بڑوں بڑوں نے مانا ہے۔ اسی طرح سوال صرف کسی مسٹر کا نہیں محمد علی جناح کا ہے جو ہو سکتا ہے۔ دین کی جزئیات کو اتنا نہ جانتا ہو جتنا ایک عالم دین جانتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے۔ اس کی شبانہ روز کی زندگی کا معمول اس انداز سے مختلف ہو۔ جو عام مسلمان کا ہو سکتا ہے۔ لیکن اتنا تو بہر آئینہ مسلم ہے کہ اس کی دعوت کی بنیاد دو قوموں کے جس عقیدہ پر تھی وہ عین اسلامی انفرادیت کا تقاضا تھا۔

غرض یہ نہیں کہ دونوں کو حق بجانب ٹھہرایا جائے یا دونوں کی غلطی پکڑی جائے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ دونوں گروہوں کے طرز استدلال میں جو منطقی غلطی تھی وہ یہی تھی کہ ان کا دعویٰ تو مخصوص اور متعیّن تھا۔ لیکن دلیل کی بناوٹ میں عموم کو زیادہ دخل تھا۔ یعنی ثابت وہ یہ کرنا چاہتے تھے کہ ابوالکلام علم وفضل کی جلالت شان کے باوجود سیاسیات میں کورے ہیں اور دلیل وہ یہ لاتے تھے کہ عام علماء کے دائرہ معلومات میں سیاسیات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح دوسرا فریق جواباً کوشش یہ کرتا تھا کہ قائد اعظم کی دین سے متعلق عام لاعلمی کا غلط استعمال کرے۔

٢٢

صفحہ ٢٨٠

یہ جس کا اطلاق بلا محابہ ہو سکے اور نہ وہ تعین و خصوص ہی ہوتا ہے کہ جس موضوع زیر بحث میں جہاں جہاں اس انداز کے دھوکے اور گھپلے آئے نا نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان کی وضاحت تو اپنے مناسب مقام پر ہوگی۔ ثالوں سے اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

نا میں دو سیاسی تنظیمیں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے بڑی تیزی یک کانگرس تھی۔ جس میں مولانا ابوالکلام آزاد اپنی تمام خوبیوں کے ری جانب مسلم لیگ تھی۔ جس کی عنان قیادت مرحوم قائد اعظم محمد علی انا کے حامی یہ کہتے تھے کہ انگریزی دان حضرات کو اسلامی مزاج سے وابستہ اس الزام کا یوں جواب دیتے تھے کہ یہ ماننا، ابوالکلام آزاد بڑا سیات کا خارزار ہے۔ یہ قال اللہ وقال الرسول کہنے والے کیا جانیں دو چار ہونا پڑتا ہے؟ دونوں جانب یہ تھی کہ یہ بحث کرنے والے یہ بھول جاتے تھے کہ ولانا ابوالکلام ہے۔ جس کی جامعیت اور سیاسیات میں بصیرت و رسوخ ۔ اسی طرح سوال صرف کسی مسٹر کا نہیں محمد علی جناح کا ہے جو ہو سکتا جانتا ہو جتنا ایک عالم دین جانتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے۔ اس کی انداز سے مختلف ہو۔ جو عام مسلمان کا ہوسکتا ہے۔ لیکن اتنا تو بہر لی بنیاد دو قوموں کے جس عقیدہ پر تھی وہ عین اسلامی انفرادیت کا

کو حق بجانب ٹھہرایا جائے یا دونوں کی غلطی پکڑی جائے۔ بتلانا یہ ے طرز استدلال میں جو منطقی غلطی تھی وہ یہی تھی کہ ان کا دعویٰ تو کی بغاوت میں عوام کو زیادہ دخل تھا۔ یعنی ثابت وہ یہ کرنا چاہتے شان کے باوجود سیاسیات میں کورے ہیں اور دلیل وہ یہ لاتے میں سیاسیات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح دوسرا قائد اعظم کی دین سے متعلق عام لاعلمی کا غلط استعمال کرے۔

٢٢

٢٨١

حالانکہ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ اگر کسی شخص نے اسلامی فنون کو نہیں پڑھا تو وہ اسلام کے متعلق ایک بدیہی اور جانی پہچانی حقیقت سے بھی ناواقف ہے۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ اسلام ایک الگ ثقافت ہے اور اسلامی قومیت کی بنیاد علیحدہ اور ممتاز عقیدے کی نیو پر استوار ہوتی ہے۔ اب یہ الگ بحث طلب اور دقیق مسئلہ ہے کہ اسلامی قومیت کا دائرہ کسی دوسرے ثقافتی و وطنی دائرے سے بھی کہیں ملتا ہے یا نہیں۔ یا اس کے ملنے اور الگ رہنے کی کیا کیا صورتیں ہیں؟ یہاں اس گتھی کو سلجھانے کا کوئی موقع نہیں۔ غرض یہ ہے کہ فریقین نے اثبات مدعا کے لئے جو ڈھنگ استعمال کیا اس میں کیا منطقی خامی تھی۔

دوسری مثال

اسی طرح ایک گھپلا وہ ہے جو عام الحاد پسند عناصر کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ دلیل کا انداز یہ ہوتا ہے کہ مذہب کی نظر میں چونکہ مادیت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ بلکہ اصلی و حقیقی شئے روحانیت ہے۔ اس لئے وہ دینی قدروں سے بحث ہی نہیں کرتا۔ یہی نہیں بلکہ وہ طبائع کو ایسے رخ پر ڈالتا ہے کہ جو تعمیر و تمدن کے یکسر منافی ہوتا ہے۔ یعنی ایک مذہبی آدمی کی نفسیات اس طرح کی ہو جاتی ہے کہ وہ آخرت کو اتنا اہم سمجھتا ہے کہ یہاں کی ہر ہر لذت اس کی نظروں میں حقیر ٹھہرتی ہے۔ وہ بھوک کی ہر تکلیف اور جانکاہی کو اس توقع پر برداشت کر لیتا ہے اور اس کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ آسمانی بادشاہت میں جو نعمتیں اس کے دستر خوان پر چنی جائیں گی وہ ان سے کہیں عمدہ ہوں گی۔ اس کی ساری کوشش اُس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ کسی طرح یہ نفس امارہ ختم ہو جائے۔ اگرچہ اس کے ختم ہونے سے زندگی کی یہ ساری آرزوئیں ہی کیوں نہ مٹ جائیں۔ اس کا ذہنی برتاؤ دنیا کے بارے میں ہمدردانہ نہیں ہوتا۔

ظاہر ہے مذہب کے باب میں یہ تجزیہ عیسائیت اور ہندو مذاہب کے اعتبار سے تو صحیح ہے کہ ان کے ہاں رہبانیت اور تیاگ بنیادی عقیدہ ہے۔ ہندو مذہب کے نقطہ نظر سے یہ ساری کائنات متھیا یا باطل ہے۔ اس لئے اس کے تقاضے اور مطالبے بھی درخور اعتناء نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح عیسائیت کے خیال سے اصلی و حقیقی زندگی صرف وہ ہے جس کا آغاز موت کے بعد ہوگا۔ دنیاوی اور جسمانی زندگی کو وہ یک قلم گناہ اور معصیت کی زندگی قرار دیتے ہیں اسی لئے نجات کے لئے وہ ان اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے۔ جو اس جسم کے ساتھ اس دنیا میں رونما ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ عمل جو جسم کی آلودگیوں سے کسی طرح الگ نہیں ہے۔ پاک کیونکر ٹھہرے۔ ان کے نزدیک

٢٣

صفحہ ٢٨٢

نجات کا انحصار اعمال پر نہیں، کفارہ پر ہے۔ لیکن اسلام کا مزاج اس ذہنیت سے بالکل مختلف ہے۔ وہ تو موت سے پہلے کی زندگی میں اور آخرت و عقبیٰ کی زندگی میں کوئی خط امتیاز نہیں کھینچتا بلکہ اس کے نزدیک تو یہ پہلی زندگی دوسری زندگی کی تمہید یا نتیجہ ہے۔ اسلام جس عقیدے کی تلقین کرتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا اگر چہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹھہراؤ کی جگہ نہیں۔ تاہم اس کے فرائض وواجبات میں جن سے ادنیٰ تغافل بھی رہبانیت ہے۔ یہاں رہنے اور بسنے کے کچھ شرائط ہیں۔ جن کو بہر آئینہ ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اسلام تمدنی ارتقاء میں پورا پورا حصہ دار ہے۔ ایک مسلمان کی بہترین آرزو اس کے نزدیک یہی ہے کہ وہ ”وقنا عذاب النار“ سے پہلے حسن دنیا کا طالب ہو۔ کہ عروسِ دنیا کے گیسوئے پیچیدہ کو اگر سلجھا لیا گیا تو آخرت کا مسئلہ آسان ہے۔

جسم ناپاک نہیں۔ یہ دنیا اور اس کی فطرت بھی گناہ و معصیت سے آلودہ نہیں۔ بلکہ ارادہ و شعور اور عمل کے خاص خاص نقشے یا چوکھٹے اسے ناپاک یا پاک ٹھہراتے ہیں۔ غرضیکہ جب اسلام کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہو تو اسے منجملہ دوسرے مذاہب کے ایک مذہب قرار دینا اور پھر ترقی کی راہ میں مانع سمجھنا منطقی غلطی ہے۔

تنبیہ کی ضرورت

یہ اصول منطق میں نہایت پیش پا افتادہ ہے کہ جب دعویٰ خاص ہو تو اس کے ثبوت میں دلیل کو بھی خاص اور متعین ہونا چاہئے۔ لیکن اگر آپ مباحثات کا جائزہ لیں گے تو وہ دینی ہوں یا سیاسی ان میں اسی مغالطہ کو زیادہ جاری وساری پائیے گا کہ دعویٰ و دلیل میں باہم مناسبت نہیں۔ ایک کا مزاج متعین ہے اور دوسرا غیر متعین۔ عموم کا رنگ لئے ہوئے اس لئے اس پر تنبیہ ضروری تھا۔ کیونکہ آئندہ تفصیلات میں اور مخالفانہ انداز بحث میں بار بار اسی غلطی کا ارتکاب دیکھئے گا۔

خلاصہ بحث

ان مقدمات کی وضاحت کے بعد اب ہم اس موڑ تک پہنچ گئے ہیں جہاں سے نفسِ موضوع کا آغاز ہونا چاہئے۔ اب تک جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کا ملخص یہ ہے کہ مسائل کے فہم کے لئے سب سے پہلے ذہن کا صاف ہونا ضروری ہے۔ بالخصوص مناظرانہ کج بحثی سے جو غور و فکر کی صلاحیتوں میں ایک طرح کا بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور تنگ نظری اور چھچھور پن سے جو اس کا منطقی نتیجہ میں بچاؤ لازمی ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازمی ہے کہ کسی مسئلہ پر غور کرتے وقت ایک مرتبہ اس

٢٤

صفحہ ٢٨٣

کے مجموعی چوکھٹے پر نظر ڈال لی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ دلائل و شواہد کے اس انبار سے خود بخود کیا اثرات ذہن پر مرتسم ہوتے ہیں اور دلائل کی چھان بین میں اس لغزش پر خصوصیت سے نظر رہے کہ دعویٰ و دلیل میں باہم تطابق بھی ہے یا نہیں۔

آئیے ختم نبوت کے سلسلہ میں جن آیات واحادیث کو پیش کیا جاتا ہے پہلے بغیر کسی بحث میں الجھے اور بغیر کسی تنقیح میں پڑے، ہم یہ دیکھ لیں کہ بحیثیت مجموعی ان سے عقیدہ کے کون کون سے پہلو روشن ہوتے ہیں اور تصویر کے کون کون سے رخ سامنے آتے ہیں۔ یعنی ہمارا ذہن بغیر کسی جانبداری کے اور ہماری عام سمجھ بوجھ بغیر کسی مناظرانہ دخل اندازی کے آپ سے آپ کن کن حقائق کو بھانپ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

آیات

آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں

وخاتم النبیین (احزاب:٤٠) ﴿لوگو! محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں (تو زید کے کیوں ہوں؟) وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور (خطوں کی مہر کی طرح سب) پیغمبروں کے آخر میں ہیں۔﴾

آپ ﷺ کو پوری کائنات کی طرف بھیجا گیا ہے

﴿اور (اے پیغمبر) ہم نے تو تم کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا ہے کہ ان کو ایمان لانے پر خوشخبری سنادو اور کفر کرنے پر ہمارے عذاب سے ڈرا دو۔ مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔﴾

دین کے سارے تقاضے مکمل ہوچکے

لكم الاسلام دينا (مائده:٣)“ ﴿اب ہم تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر چکے اور ہم نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور ہم نے تمہارے لئے اسی دین اسلام کو پسند فرمایا۔﴾

نذيراً (فرقان:١)“ ﴿وہ ذات بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا۔ تاکہ تمام کائنات انسانی کے لئے وہ ڈرانے والا ہو۔﴾

٢٥

صفحہ ٢٨٤

احادیث

قصر نبوت کی آخری اینٹ

ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ یہ اینٹ میں ہوں اور میں نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔

آپ کی چھ خوبیوں میں سے ایک خوبی ختمِ نبوت بھی ہے

٢٦

صفحہ ٢٨٥

جھوٹے مدعیان نبوت آئیں گے، لا نبی بعدی کی تصریح

امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد و ترمذی) ”ثوبانؓ سے روایت ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ سب یہ خیال کریں گے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔﴿

آنحضرتﷺ عاقب بھی ہیں

والعاقب الذی لیس بعدہ نبی (بخاری ومسلم) ”میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں۔ احمد ہوں...... اور میں عاقب بھی ہوں۔ عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی پیدا نہ ہو۔﴿

حضرت عمرؓ کی جلالت شان اگرچہ نبوت کی متقاضی ہے، مگر ختم نبوت مانع ہے

میرے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا مقدر ہوتا تو عمرؓ ضرور نبی ہوتے۔﴿

امت محمدیہ میں آئندہ سلسلہ خلفاء کا ہوگا

خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون (بخاری، مسلم، مسند احمد) ”بنی اسرائیل میں تو تدبیر و سیاست کی عنان انبیاء کے ہاتھوں میں رہی۔ جب ان میں ایک نبی فوت ہوا۔ دوسرے نبی نے اس کی جگہ گھیری۔ اب چونکہ میرے بعد نبی پیدا نہیں ہوں گے۔ اس لئے خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔﴿

حضرت ہارونؑ کے مقام پر فائز ہونے والا بھی اس لئے نبی نہ ہوسکا

کہ اب یہ منصب ہی نہیں رہا

موسی الا انہ لا نبی بعدی“ ”آنحضرتﷺ نے علیؓ سے فرمایا۔ تیرا معاملہ میرے ساتھ ویسا ہی ہے جیسا ہارون علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا، فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴿

٢٧

صفحہ ٢٨٦

نبوت و رسالت کے دونوں کواڑ بند ہیں

٨....... "ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی، مسند احمد) ﴿رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ پس اب میرے بعد نہ کوئی رسول پیدا ہوگا نہ نبی۔﴾

آنحضرت ﷺ کا ایک نام مقفیٰ بھی ہے

٩....... "عن ابی موسٰی الاشعری کان رسول اللہ ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء فقال انا محمد واحمد والمقفیٰ" ﴿ابوموسٰی اشعری سے روایت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہمیں اپنے نام گن گن کر بتائے۔ آپؐ نے فرمایا میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، اور مقفیٰ یعنی آخری ہوں۔﴾

اب رویاے صالحہ کے سوا نبوت کے قبیل کی اور کوئی شے نہیں رہی

١٠....... "عن ابی ھریرة مرفوعاً انہ لیس یبقی بعدی من النبوة الا الرؤیا الصالحة (نسائی)" ﴿ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ آپؐ نے فرمایا نبوت کے قبیل سے میرے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ سوا رویاے صالحہ کے کہ وہ رہے گا۔﴾

آخری نبی اور آخری امت

١١....... "عن ابی امامة الباھلی عن النبی ﷺ انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ)" ﴿ابوامامہ باہلی سے روایت ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں تو انبیاء کے آخر میں آیا ہوں اور تم وہ ہو جو سب امتوں کے آخر میں ہو۔﴾

ایک اور تصریح

١٢....... "عن ضحاك بن نوفل قال قال رسول اللہ ﷺ لا نبی بعدی ولا امة بعد امتی (بیہقی)" ﴿ضحاک بن نوفل سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا اور میری امت کے بعد کوئی (نئی) امت نہیں ہو پائے گی۔﴾

١٣....... "انی آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد (مسلم)" ﴿میں تو انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ (جو مسجد نبوی کے نام سے پکاری جائے گی)۔﴾

٢٨

صفحہ ٢٨٧

تمہیں صرف میری نبوت سے متعلق پوچھا جائے گا

١٤....... "يا ايها الناس انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم وانتم تسئلون عنى (مسند احمد)" ﴿اے لوگو! میرے بعد اور کوئی نبی نہیں پیدا ہونے کا اور تمہارے بعد اور کوئی امت نہیں۔ تمہیں میری بابت ہی پوچھا جائے گا۔﴾

قیامت اور میرے درمیان اور کوئی نبوت حائل نہیں

١٥....... "عن انس قال قال رسول الله ﷺ بعثت وانا والساعة كهاتين (بخارى)" ﴿حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت یوں اتصال رکھتے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں (یعنی بیچ کی اور شہادت کی انگلی)۔﴾

لوگو! جس طرح تمہارا باپ ایک ہے اسی طرح تمہارا پیغمبر بھی ایک ہے

١٦....... "يا ايها الناس ان ربكم واحد واباكم واحد ودينكم واحد ونبيكم واحد لا نبى بعدى (كنز العمال)" ﴿اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ تمہارا دین بھی ایک ہے اور پیغمبر بھی ایک۔ (کیونکہ میرے بعد اور کوئی نبی نہیں)﴾

مسئول عنہ، صرف آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ہے

١٧....... "لوكان موسى حيا ماوسعه الا اتباعى (احمد وبيهقى) " ﴿اگر موسیٰ زندہ ہوتے۔ ان کو بھی میری پیروی کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔﴾

ختم نبوت کا منصب پہلے سے تھا

١٨....... "عن العرباض بن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان أدم لمنجدل فى طينة (مشكوة) " ﴿عرباض بن ساریہ سے روایت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ میرا خاتم النبیین ہونا تو اس وقت سے طے ہے جب آدم علیہ السلام کی مٹی ابھی گوندھی جارہی تھی۔﴾

پہلے نبی آدم علیہ السلام اور آخری نبی آنحضرت ﷺ

١٩....... "عن ابى ذر قال قال رسول الله ﷺ يا اباذر اوّل الانبياء أدم واخرهم محمد (صحيح ابن حبان) " ﴿ابوذرؓ سے مروی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اے ابوذر سب سے پہلے نبی تو آدم ہیں اور آخری محمد (ﷺ)۔﴾

٢٩

صفحہ ٢٨٨

ان دلائل کی وضاحت

آیات واحادیث کی یہ فہرست آپ کے سامنے ہے۔ اس میں دیکھنے اور دکھانے کی یہ چیز ہے کہ ایک ہی حقیقت کو قرآن وسنت میں کس کس ڈھنگ سے بیان کیا گیا ہے۔ اس مجموعہ کی ہر ہر آیت اور حدیث اس لائق ہے کہ تنہا اس کو مسئلہ زیر بحث کے لئے استدلال واستنباط کا مبنیٰ قرار دیا جائے۔ تاہم اس کفایت ووضاحت کے باوجود ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ دلائل وشواہد کی پوری بوقلمونی پر نظر ڈالئے۔ تاکہ کوئی گوشہ نظر سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ ذوق فہم کی کجی تاویل وتحریف کے کن کن مورچوں پر پناہ ڈھونڈتی ہے۔

نگاہ کی چشم کی زلف دوتا کی
سہے دل جفا کس کس بلا کی

یوں تو جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے۔ ایک ایک آیت وحدیث میں ختم نبوت کی ایسی تعبیر پڑی چھلک رہی ہے کہ شبہ کے لئے کوئی موقع ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر ان سب کو ایک ساتھ جوڑنے اور ملانے میں جو لطف ہے وہ تنہا ایک ایک میں کہاں۔ ہم اس پورے مجموعے کو قائم رکھتے ہوئے ان دلائل کے متعلق صرف اس حد تک مختصراً تعرض چاہتے ہیں جس حد تک بعض پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور نظر کے سامنے لانے کا تعلق ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ کتاب وسنت میں ان تمام شکوک وشبہات کو کیونکر پہلے سے مرعی رکھا گیا ہے جو کسی وقت دل میں پیدا ہو سکتے ہیں اور پھر کتنی خوبی سے ان کا سدباب کیا گیا ہے۔

پہلے سورۃ احزاب کی اس آیت کو لیجئے۔ جس میں آنحضرتﷺ کو ”خاتم النبیین“ کے نام سے پکارا گیا ہے اور بغیر کسی خارجی شہادت کے اس کی داخلیت پر غور فرمائیے۔ یہاں جس بات کی تردید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کو جو جناب زیدؓ کا باپ کہا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ وہ تو صرف آپ کے لے پالک تھے اور لے پالک کسی شکل میں بھی حقیقی بیٹے جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ زید تو زید آنحضرتﷺ تم میں سے کسی مرد کے بھی حقیقی باپ نہیں ہیں۔ ظاہر ہے اس انداز تردید سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچھا باپ نہیں ہیں نہ سہی۔ پھر اور کیا رشتہ ہے؟ ان کے اور ان کی امت کے درمیان؟ تو فرمایا وہ رسول ہیں۔ یعنی روحانی باپ ہیں۔ اس معنی کو کہ نبی قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ”وازواجہ امھاتھم (احزاب)“ ﴿اور اس کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں۔﴾

٣٠

صفحہ ٢٨٩

جب پیغمبر امت کے روحانی باپ ٹھہرے تو اس رشتہ کی وضاحت تو ہو گئی جس کا جاننا مقصود تھا۔ اب خاتم النبیین کہہ کر اسی رشتہ کی محکمی اور استواری کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پھر یہ باپ بھی ایسا معمولی باپ نہیں جس کی شفقتوں سے تم کسی وقت محروم ہو جاؤ۔ نہیں یہ اس ڈھب کا باپ ہے کہ قیامت تک کے لئے اس کی پدرانہ شفقتیں زندہ رہیں گی۔ اب اس کے بعد اور کوئی ایسا سرپرست نہیں پیدا ہونے کا جو تمہارا باپ کہلائے۔ کیونکہ یہ آخری نبی ہے۔

سورہ سباء کی آیت میں فرمایا: ”تم کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا ہے۔“ یعنی اگر قیامت تک کی کائنات انسانی کو ایک عصر میں جمع کیا جاسکے تو وہ آنحضرت ﷺ کا عصر نبوت ہوگا۔ کافہ کا لفظ ان سب لوگوں پر بولا گیا۔ جو کسی وقت بھی آپ کی دعوت کے مخاطب ہو سکتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت کا یہ پھیلاؤ اس لئے ہے کہ دین کے سارے تقاضے ہی مکمل ہوچکے۔ اب کوئی حالت منتظرہ نہیں رہی۔ جس کے لئے کوئی نیا نبی پیدا ہو۔ اکمال دین اور اتمام نعمت کا جس کا تذکرہ سورۂ مائدہ میں ہوا ہے۔ یہی مطلب ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو دوسری جگہ سورۃ فرقان میں للعٰلمین نذیراً کہہ کر پکارا۔ یعنی آپ کی تبلیغ واشاعت کا دائرہ تمام ”عوالم“ تک ممتد ہے اور عوالم کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں دنیائے انسانیت کی پوری وسعت کے لئے سمائی ہے۔ ان آیات کو ان احادیث کے ساتھ ملایئے جن میں ختم نبوت پر مختلف طریق سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلی ہی حدیث صحیحین کی ملاحظہ ہو کہ اپنے مفہوم میں کس درجہ متعین اور واضح ہے۔ یعنی نبوت کو ایک قصر تصور کرنا اور پھر آنحضرت ﷺ کا اپنے کو اس قصر کی آخری اور تکمیلی اینٹ قرار دینا کتنی عمدہ تشبیہ ہے۔ اس میں غور طلب حقیقت یہ ہے کہ: ”ختم بی البنیان وختم بی الرسل“ فرما کر آنحضرت ﷺ نے لفظ ختم کے مورد ومعنی کو بالکل واضح فرما دیا ہے۔ یعنی خاتم النبیین میں جو جہل و نادانی سے ایک بالکل نئے معنی پیدا کئے جاتے تھے۔ ان کا بخوبی انسداد ہو گیا۔

دوسری حدیث سے جو مسلم میں ہے۔ لفظ کافۃ کی تشریح ہو گئی کہ ختم نبوت کے مترادف ہے۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ ”وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون“ ﴿مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔﴾

ترمذی کی اس حدیث سے کہ: ”اگر میرے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا مقدر ہوتا تو عمرؓ نبی ہوتے۔“ اس شبہ کا ازالہ ہو گیا کہ نبوت محض ایک فضیلت ہے جو کثرت اطاعت یا آنحضرت کے ساتھ ایک مخصوص لگاؤ کی وجہ سے عطاء ہوتی ہے۔

٣١

صفحہ ٢٩٠

بخاری و مسلم کی اس حدیث سے کہ: ”كانت بنو اسرائیل تسوهم الانبياء“ ﴿بنی اسرائیل میں عنانِ تربیت انبیاء کے ہاتھوں میں رہی۔﴾ اور اب خلفاء ہوں گے کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہوگا۔ یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دین کی خدمت اور امت کی اصلاح کا اندازہ کیا ہوگا۔ اسی طرح ان تمام احادیث پر نظر ڈالتے جائیے۔ جس میں ”لا نبی بعدی“ کی تکرار ہے اور یہ ملاحظہ فرمائیے کہ اس مفہوم کو الفاظ کے الٹ پھیر کے ساتھ کتنے اسالیب میں سمویا ہے؟ اس لئے آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ اس مسئلہ کی وضاحت اس سے زیادہ ممکن ہی نہیں۔ یوں تاویل کے حدود و ملکات کا یہ حال ہے کہ نصوص صریحہ کو متشابہات کے تحت میں رکھا جاسکتا ہے اور متشابہات کو اصل کتاب اور ام الکتاب ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اس موقعہ پر صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے جو جو ڈھب کتاب وسنت میں اختیار کیا گیا ہے کیا انسانی قدرت میں اس سے زیادہ کی استطاعت ہے؟ اور کیا کوئی خلش ایسی ہے جو قرآن وحدیث کی ان تصریحات کے بعد بھی باقی رہ جاتی ہے یا کوئی شبہ ہے جو دل میں ٹھہر سکتا ہے؟

قرآن وحدیث کے ان تمام دلائل کو میں ایک ہی دلیل قرار دیتا ہوں اور میرا مطالبہ یہ ہے کہ ان پر جب بھی نظر ڈالی جائے تو وہ مجموعی حیثیت سے ہو۔ ایک ایک آیت اور ایک حدیث پر سرجری نہ فرمائی جائے۔ اس اندازِ فکر سے ہم لغت کے تائیدی حوالوں سے بڑی حد تک بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ تاہم بحث تشنہ رہے گی۔ اگر یہ نہ بتایا گیا کہ آئمہ لغت کی اکثریت نے جن کی رائے ہم تک پہنچ سکی ہے لفظ ختم سے کیا سمجھا ہے۔

ایک حقیقت کا نادانستہ اعتراف

یہ واضح رہے کہ ہمارا نقطۂ نظر یہاں بھی لغت کی ورق گردانی یا حوالہ بازی نہیں بلکہ ہم اس کو بالکل دوسرے ڈھب سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ نہ جاننے اور اس پر بحث کرنے میں بڑا لطف ہے۔ بسا اوقات آدمی بات وہی کہہ دیتا ہے جس سے اس کے خصم کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔ لیکن نادانی وجھل کی وجہ سے یہ نہیں جان پاتا کہ کیونکر؟ آپ نے یہ اکثر دیکھا ہوگا کہ دوران بحث میں لفظ ختم کی وضاحت کرتے ہوئے جب متعدد حوالے پیش کئے گئے اور یہ بتایا گیا کہ یہ سب حضرات اس کی ایک ہی تعبیر پر متفق ہیں تو مخالف کیمپ سے اس کا ڈھلا ڈھلایا جواب یہ ملا۔ (اور ان کے ہاں جواب اکثر تیار رہتے ہیں) کہ اس تعبیر پر اتفاقِ رائے ان کے ہم عقیدہ ہونے کی وجہ

٣٢

صفحہ ٢٩١

سے ہے۔ ورنہ اس کے تحقیقی معنی وہی ہیں جو ہمارے حضرت پر منکشف ہوئے۔ سبحان اللہ! آپ نے غور فرمایا کہ کتنی بڑی بات بے اختیار ان کے منہ سے نکل گئی اور ایسے ڈھنگ سے کہ انہیں خبر بھی نہیں ہوئی۔ بس اسی میں لطف ہے۔

لغت کی حقیقت

اس اجمال کی تفصیل اور اس معمہ کی حیثیت معلوم کرنے کے لئے اس پر غور کرنا ہوگا کہ خود یہ لغت کیا ہے؟ کیا اس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ اس میں ہزاروں الفاظ کے معانی سے بحث کی جاتی ہے اور بس۔ (ابوبکر زبیدی کی رائے میں صرف کتاب العین میں جن الفاظ کی وضاحت ہے۔ ان میں وہ الفاظ جن کا استعمال ہوتا ہے۔ ٥٦٢٠ ہیں) یا اس کی حیثیت سے کچھ زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا خلیل، قطرب، ابن مالک، جمال الدین بن مکرم، ابن ہشام، جوہری اور فیروز آبادی نے صرف الفاظ کی چہرہ کشائی فرمائی ہے۔ یا ان کی کوششوں سے بالواسطہ کچھ اور حقائق بھی منظر عام پر آئے ہیں۔

فن تفسیر کا اعجاز

کہنے کو قرآن حکیم کی تفسیر کے معنی محض یہ ہیں کہ اس میں مختلف دور کے علماء نے اپنے اپنے فہم اور انداز سے قرآن حکیم کو جو سمجھنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس کی وضاحت ہے اور تحقیق سے دیکھئے گا تو اس کے ساتھ ساتھ مجلدات تفسیر میں ایک اور شے بھی آپ کو ملے گی اور وہ یہ ہے کہ ان مفسرین کے زمانے میں کن علوم کا چرچا تھا۔ کیا کیا مسائل زیر بحث تھے اور زیادہ تر دلائل کا کن نکات پر زور رہتا تھا۔ گویا عقلی تحریک کی ایک پوری تاریخ صرف ایک اس فن تفسیر سے مرتب کی جاسکتی ہے۔ یعنی فن تفسیر صرف فن تفسیر ہی نہیں بلکہ اسلامی ذہن کی ایک عقلی تاریخ بھی ہے۔

لغت ایک طرح کی تاریخ بھی ہے

اسی طرح جن لوگوں کی نظر اس حقیقت پر ہے کہ لغت ہر ہر دور کے اطلاقات سے بحث کرتی ہے اور ہر ہر دور کی اصطلاحات و تاویلات کی گرہیں کھولتی ہے۔ انہیں اس حقیقت کے پا لینے میں کوئی دشواری نہیں محسوس ہوگی کہ اس کی ایک حیثیت تاریخ کی بھی ہے۔ یہ جہاں یہ بتاتی ہے کہ ایک لفظ کا شجرہ نسب کیا ہے۔ اس کے کیا کیا استعمالات و مشتقات ہیں۔ وہاں یہ بھی بتاتی ہے کہ زمانے کے مختلف ادوار میں کن کن نئی اصطلاحات کا اضافہ ہوا اور کن کن الفاظ کے معنی میں کیا کیا تغیر رونما ہوا۔ چنانچہ اہل لغت میں ایک گروہ مستقل طور پر وہ ہے جس نے خصوصیت سے

٣٤

صفحہ ٢٩٢

انہیں تغیرات سے بحث کی ہے۔ جیسے جرجانی کہ انہوں نے ”التعریفات“ اسی غرض سے لکھی یا تھانوی، جنہوں نے ”کشاف اصطلاحات الفنون“ جیسی ضخیم کتاب رقم فرمائی جو قریب قریب دو ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ ”کلیات ابی البقا“ کو بھی اسی ڈھب کی شئے سمجھئے۔ گویا لغت بھی ایک طرح کی تاریخ ہے۔ جس طرح تاریخ میں سلاطین وملوک اور ان کے کارناموں سے بحث ہوتی ہے۔ جس طرح تاریخ میں سلاطین وملوک اور ان کے کارناموں کا سکہ کس کس اقلیم معنی میں چلا گیا اور پھر کب وہ متروک ہو گیا۔ اگر لغت کی یہ تعبیر صحیح ہے اور یقیناً صحیح ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ اگر ایک لفظ کی تعیین واطلاق میں فیروز آبادی تک کے لغت نگار متفق ہیں تو گویا نویں صدی کی ابتداء تک یہ ماننا پڑے گا کہ بجز اس کے اور کوئی معنی ذہنوں میں نہ تھے۔ ورنہ ہر ہر دور میں ذخیرہ الفاظ میں مجازات واصطلاحات کا جو اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کا پورا پورا ریکارڈ کتب لغت میں موجود ہے۔

فقیہ، اور مؤرخ میں فرق

یہی بات کہ اہل لغت جب کسی بات پر متفق ہوتے ہیں تو کیا ان کا یہ اتفاق اس نوعیت کا ہوتا ہے۔ جس طرح فقہاء کا ایک مسئلہ پر کہ اس میں عصبیت دلائل کا الزام ان پر دھرا جائے۔ یا وہ اس نوعیت کا ہوتا ہے۔ جیسے مؤرخین کا یہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کا جواب لغت کی اس تعبیر میں مل جاتا ہے۔ جو ہم نے بیان کی ہے۔ مؤرخین جب متفق ہوتے ہیں تو ان کے اتفاق کا سبب ایک واقعہ ہوتا ہے۔ جس میں تاویل کی کوئی لچک نہیں ہوتی اور ایک فقیہ جب متفق ہوتا ہے تو اس کا موجب دلیل ہوتی ہے۔ جس کے فہم میں دو رائے ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا، اہل لغت کا اتفاق اس حقیقت کا ہم معنی ٹھہرا کہ تاریخی طور پر اس لفظ کے اطلاق میں گروہ علماء کے درمیان کوئی اختلاف رونما نہیں ہوا۔

تاریخ کے جستہ جستہ حوالے

اس وضاحت کے بعد کہ لغت نگار صرف لغت نگار ہی نہیں ہوتے۔ مؤرخ بھی ہوتے ہیں۔ جستہ جستہ حوالوں پر غور فرمائیے۔ ازہری، ہروی، المتوفی ٣٧٠ھ کا لغت نویسوں میں جو مقام ہے اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ الفاظ کی چھان بین کے شوق بے پایاں نے انہیں گھر سے نکالا تو ایک بدوی قبیلہ نے خوبی قسمت یا شومی قسمت سے انہیں پکڑ لیا۔ برسوں انہیں کی قید میں رہے۔ اس سے ان کو موقعہ ملا کہ بغیر آمیزش کے بادیہ عرب کی اصلی وحقیقی زبان تک ان کی رسائی ہو۔

٣٤

انہوں نے ان خانہ بدوشوں کو روز غور کیا اور اس کے بعد ”التہذیب ” والخاتم والخاتم من ابا احد من رجالكم ولـ (بالکسر) اور خاتم (بالفتح) آنحضر میں کسی کے باپ نہیں۔ لیکن رسـ والے ہیں۔﴾

جو ہری المتوفی ٣٩٨ زبان میں صرف کتابوں پر تکیہ انہوں نے فطرت کے ان بیٹوں اور ان آئمہ کی صحبت میں بھی رہـ تھے۔ یہ اپنی کتاب الصحاح میں الانبیاء“ ﴿کسی چیز کے خـ خاتم الانبیاء ہیں۔﴾

ابن سیدہ المتوفی ٨ والد ماجد بھی بہت بڑے لغت قاموس نے اکثر انہیں کے معا شئ وخاتمته عاقبته ولـ

جمال الدین بن کتاب لسان کو جو شہرت وقبو تفسیر کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ اس اخرھم ” خاتم اور خاتم دو

ابو بکر محمد بن عزیز میں کوئی پیچیدگی یا ندرت نہیں النبيين أخر النبيين

صفحہ ٢٩٣

انہوں نے ان خانہ بدوشوں کو روزانہ دیکھا۔ ان سے باتیں کیں۔ ان کے محاورات اور عادات پر غور کیا اور اس کے بعد ”التہذیب“ لکھی۔ اس میں ختم کے متعلق ان کی تصریحات یہ ہیں۔ ” والخاتم والخاتم من اسماء النبى ﷺ وفى التنزيل العزيز ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين اى آخرهم “ ﴿خاتم (بالکسر ) اور خاتم ( بالفتح) آنحضرت ﷺ کے اسماء گرامی ہیں اور قرآن میں بھی مذکور ہے کہ محمد تم میں کسی کے باپ نہیں۔ لیکن رسول اللہ ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی سب سے آخر میں آنے والے ہیں۔﴾

جوہری المتوفی ٣٩٨ھ لغت و ادب کے بہت بڑے امام ہیں۔ انہوں نے بھی تحصیل زبان میں صرف کتابوں پر تکیہ نہیں کیا بلکہ خود گھوم پھر کر زبان کے ایک ایک مرکز تک پہنچے۔ انہوں نے فطرت کے ان بیٹوں سے بھی استفادہ کیا جو کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کرتے تھے اور ان آئمہ کی صحبت میں بھی رہنے کا اتفاق ہوا۔ جو بڑے بڑے شہروں میں علم وفن کا درس دیتے تھے۔ یہ اپنی کتاب الصحاح میں رقمطراز ہیں ۔ ” خاتمة الشئ آخره ومحمدﷺ خاتم الانبياء “ ﴿کسی چیز کے خاتم کے معنی آخر کے ہوتے ہیں۔ انہیں معنوں میں آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ ﴾

ابن سیدہ المتوفی ٤٥٨ ھ ان کی کتاب المحکم گویا لغت وادب کا سمندر ہے۔ ان کے والد ماجد بھی بہت بڑے لغت دان تھے۔ ان کی بلند پایگی کے لئے یہ جان لینا کافی ہے کہ صاحب قاموس نے اکثر انہیں کے معارف سے اپنی بزم علم سجائی ہے۔ یہ فرماتے ہیں: ” وخاتم كل شئ وخاتمته عاقبته وآخره “ ﴿اور خاتم یا خاتمہ کے معنی انجام وآخر کے ہیں۔﴾

جمال الدین بن مکرم المتوفی ٧١١ھ متاخرین میں سب سے بڑے امام ہیں۔ ان کی کتاب لسان کو جو شہرت و قبولیت حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ ہے کہ کسی کو نہیں ہوئی۔ یہ ادب ، تاریخ اور تفسیر کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ اس کی مثال نہیں ملے گی۔ یہ فرماتے ہیں: ”خاتمهم وحاتمهم آخرهم “ ﴿خاتم اور خاتم دونوں کے معنی آخر کے ہیں۔ ﴾

ابوبکر محمد بن عزیز المتوفی ٣٨٦ ھ نے قرآن حکیم کے ان الفاظ کی شرح لکھی ہے۔ جن میں کوئی پیچیدگی یا ندرت نہیں ہے۔ وہ اپنی کتاب ’نزهة القلوب “ میں لکھتے ہیں: ”خاتم النبيين آخر النبيين “ ﴿خاتم النبیین سے مراد آخر النبیین کے ہیں۔﴾

٣٥

صفحہ ٢٩٤

الراغب الاصفہانی المتوفی ٥٠٢ھ بہت بڑے عالم ہیں۔ ان کی کتاب الذریعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شمار علم الاخلاق کے اساتذہ میں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے چونکہ قرآن حکیم کی تفسیر، اور اس کے لغت پر بھی خصوصیت سے قلم اٹھایا ہے۔ اس لئے ان کی شہرت لغت نگار ہی کی حیثیت سے ہوئی۔ انکا کہنا ہے: ”وخاتم النبيين لانه ختم النبوت اى تممها بمجيئه“ ﴿ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے نبوت کو کمال و تمام تک پہنچا دیا۔﴾

الفیروز آبادی المتوفی ٨١٧ھ تیمور لنگ اور بایزید عثمانی کے معاصر ہیں۔ ان کی کتاب ”القاموس“ لسان کے بعد دوسری کتاب ہے۔ جس کو قبول عام کی سند ملی ہے۔ یہ فرماتے ہیں: ”والخاتم آخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالى وخاتم النبيين“ ﴿خاتم کے معنی آخر قوم کے ہیں۔ جیسے مہر، خط کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ خاتم النبیین کے بھی یہی معنی ہیں۔﴾ اس حوالے میں غور طلب حقیقت یہ ہے کہ مہر کو جن معنوں میں خاتم سمجھا جاتا ہے وہ وہ ہرگز نہیں ہے۔ جس کو مرزائیت کی اپج نے پیدا کیا ہے کہ ایسی نبوت مانیں کہ جس سے نئی شاخ پھوٹ جائے وہ نبی ہو جائے۔

سید مرتضیٰ الزبیدی المتوفی ١٢٠٥ھ یہ قاموس کے مشہور شارح ہیں۔ لین نے اپنی ڈکشنری میں زیادہ تر استفادہ انہیں سے کیا ہے۔ ان کی تصریحات ملاحظہ ہوں: ”ومن اسمائه عليه السلام الخاتَم والخاتِم وهو الذى ختم النبوة بمجيئه“ ﴿اور آپ کے ناموں میں خاتِم و خاتَم بھی ہے اور وہ وہ ہے جس نے اپنی آمد سے نبوت کے آئندہ امکانات کو روک دیا۔﴾

ابوالبقاء الحسینی المتوفی ١٠٩٤ھ انہوں نے مصطلحات عربیہ پر ایک مستند کتاب لکھی ہے جو کلیات ابی البقاء کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں یہ صراحت سے مذکور ہے کہ: ” وتسمية نبينا خاتم الانبياء لان الخاتم اخر القوم“ ﴿ہمارے پیغمبر کو خاتم الانبیاء اس مناسبت سے کہا گیا ہے کہ خاتم کہتے ہیں سب سے آخری کو۔ ﴾

بحث کو ختم کرنے سے پہلے فرزدق کے اس مشہور قصیدے میں سے ایک شعر جو اس نے ہشام بن عبدالملک کے سامنے حضرت حسینؓ کے جلیل القدر بیٹے زین العابدین کی تعریف میں پڑھا۔ ہم پیش کرنا چاہتے ہیں جو اس بات میں بیت القصید کی حیثیت رکھتا ہے کہ قصہ دل چسپ ہے۔ سن لیجئے۔ ہشام شام کے امراء کے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنے بھائی ولید کی خلافت

٣٦

صفحہ ٢٩٥

میں حج کو روانہ ہوا۔ جب مکہ پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص بہت پاکیزہ نہایت بزرگ، نہایت خوبصورت اور وجیہ مناسک حج کی ادائیگی میں مصروف ہے اور لوگوں کے جلال و احترام کا یہ حال ہے کہ وہ جدھر کا رخ کرتا ہے۔ دورویہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہشام کے ساتھیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ فرزدق آگے بڑھا اور یہ قصیدہ بطور تعارف کے پیش کیا۔

هذا الذی تعرف البطحاء وطأته
والبيت يعرفه والحل والحرم

یہ وہ شخص ہے بطحاء کی زمین جس سے آگاہ ہے۔ اسے بیت اور حرم وغیرہ کے لوگ بخوبی جانتے ہیں۔ شعر یہ ہے۔

هذا ابن فاطمة ان كنت جاهله
بجده انبياء الله قد ختموا

اگر تمہیں علم نہ ہو تو جان لو کہ یہ فاطمہ کا نونہال ہے۔ یہ وہ ہے جس کے نانا پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہوا۔

جریان نبوت کے دلائل کی نوعیت

گذشتہ صفحات میں ہم نے جس انداز اور نہج سے ختم نبوت کے دلائل پر غور کیا ہے۔ اسی ڈھب سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جریان نبوت کے دلائل کی قدر و قیمت کیا ہے۔ جس طرح ختم نبوت سے متعلق تمام آیات واحادیث پر ہم نے مجموعی نظر ڈالی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہماری یہ خواہش ہے کہ ان تمام دلائل کو بھی ایک جا اور ایک ساتھ اکٹھا دیکھا جائے۔ جو جریان نبوت سے متعلق ہیں اور پھر یہ بتایا جائے کہ ان سے جو تاثرات ذہن بغیر مناظرانہ کرید اور بحث کے از خود حاصل کرتا ہے وہ کیا ہیں۔ آیا ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبوت اور رسالت کا چشمہ فیض جاری ہے؟ اور نبوت ورسالت کے کچھ اور بھی محل ہیں۔ جن کی تعمیر ہونے والی ہے؟ یا یہ کہ ان دلائل سے قطعی کسی نبوت جدیدہ یا رسالت مستانفہ کا سراغ نہیں ملتا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان آیات میں جنہیں ختم نبوت کے جواب میں پیش کیا جاتا ہے ان میں فیوض رشد و ہدایت کا تذکرہ ہے۔ جن کا آغاز حضرت آدم سے ہوا اور آنحضرت ﷺ کی ذات ستودہ صفات پر ان کی تکمیل ہوگئی۔ یا کچھ نئے انوار و تجلیات کی خبر ہے۔ جن سے بنی آدم کی آنکھیں روشن ہونے والی ہیں۔ یعنی تحقیق طلب نکتہ یہ ہے کہ ان آیات کو جن میں کسی ہدایت کے آنے کی حکایت

٣٧

صفحہ ٢٩٦

ہے۔ اس ہدایت پر محمول کیا جائے گا۔ جو آچکی۔ ”قد تبین الرشد من الغی“ یا کسی نئی ہدایت پر چسپاں کیا جائے گا؟ جو اب تک منظر عام پر نہیں آئی۔

کچھ اور ضروری بحثیں بھی ہیں جو اسی سلسلے سے متعلق ہیں۔ انشاء اللہ وہ خاص ترتیب کے ساتھ آگے آئیں گی۔ سردست ہمیں کچھ ایسے اعتراضوں کا سامنا ہے جن کو ذوقِ ادب کی محرومیوں اور مطالعہ کی کمی نے پیدا کیا ہے۔ پہلے ان کے جواب پر غور فرما لیجئے۔ پھر آگے بڑھیں گے۔

کیا خاتم کے معنی افضل کے ہیں

کہا جاتا ہے کہ خاتم و آخر کے معنی افضل و بہتر کے ہیں۔ چنانچہ ہم برابر اس طرح کی ترکیبیں سنتے اور استعمال کرتے ہیں کہ فلاں خاتم الشعراء ہے۔ فلاں خاتم المحدثین ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے ایک جگہ امام ابن تیمیہؒ کے حق میں فرمایا ہے کہ یہ آخر المجتہدین ہیں۔ ان سب استعمالات میں کہیں یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اب شعر و سخن کی صلاحیتیں ختم ہوگئی ہیں۔ یا اب کوئی محدث پیدا نہیں ہوگا۔ یا یہ کہ ابن تیمیہؒ پر اجتہاد و استنباط کے تقاضے اس طرح مکمل ہو گئے ہیں کہ ان کے بعد کوئی اجتہاد کا دعویٰ نہیں کر سکے گا۔

جواب کی دو صورتیں

بات زیادہ الجھاؤ کی نہیں۔ جواب کی ایک صورت تو یہ ہے کہ یہ باعتبار زعم کے ہے۔ یعنی جب ایک شخص کسی کو خاتم الشعراء کہتا ہے تو وہ واقعی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے بعد شعر کہنا بے کار ہے۔ ورنہ مدحت میں غلو جو مقصود ہے اور مبالغہ کی جان ہے۔ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح خاتم المحدثین اور آخر المجتہدین کے الفاظ استعمال کرنے والا یہی سمجھتا ہے کہ محدثیت و اجتہاد کی یہ آخری کڑیاں ہیں۔ ورنہ یہ ترکیب پھسپھسی اور بے مزہ ہوگی۔ کیونکہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان الفاظ کے استعمال سے ایک گونہ فضیلت ثابت کرنا ہی مقصود ہے تو ان میں زور کیا خاک باقی رہے گا۔ اب یہ کہنے والا یا زاعم نہ تو پیغمبر ہے اور نہ یہ کوئی پیشین گوئی ہی ہے۔ بلکہ مدح کا ایک انداز ہے جو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لئے اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص شعر و سخن کے ذوق سے بہرہ مند ہو جاتا ہے یا محدثیت و اجتہاد کی مسند پر بیٹھ جاتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

دوسرا انداز یہ ہے کہ مجاز و حقیقت کے استعمال میں فرق ہے۔ جب کوئی لفظ اپنے موضوع لہ معنوں میں استعمال ہوگا تو وہ حقیقی ہوگا اور جب کسی مناسبت سے وہ ان معنوں میں استعمال نہ ہو سکے گا تو یہ مجاز ہوگا۔ مثلاً شیر کا ایک استعمال یہ ہے کہ وہ ایک درندے کا نام ہے اور

٣٨

صفحہ ٢٩٧

ایک یہ ہے کہ اس کے معنی بہادر وشجاع کے ہیں۔ پہلا استعمال حقیقی ہے اور دوسرا مجازی۔

ایک جاننے کی بات

یہاں یہ بات جاننے کی ہے کہ کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنوں میں استعمال کرتے وقت مجازی معنوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ بخلاف مجاز کے کہ اس میں تنہا مجازی معنی ہی پائے جاتے ہیں۔ جیسے شیر کہ یہ جہاں ایک درندہ ہے۔ بہادر اور شجاع بھی ہے۔ لیکن جب اس کا اطلاق کسی انسان پر ہوگا تو اس کے معنی صرف بہادر کے ہوں گے حقیقی شیر کے نہیں۔ اس خیال سے خاتم النبیین کے معنی اگر حقیقی لئے جائیں تو اس میں یہ خوبی ہوگی کہ فضیلت کے معنی از خود اس میں آجائیں گے۔ بخلاف مجاز کے کہ اس میں ختم نبوت کی وہ تعبیر نہ آسکے گی۔ جس کی تائید قرآن وحدیث اور لغت وادب کے حوالوں سے ہوتی ہے۔ پھر مجازی معنی وہاں مراد ہوتے ہیں۔ جہاں حقیقت متعذر ہو اور جہاں یہ حال ہو کہ حقیقت کی تائید میں قرائن ہی نہیں۔ شواہد و دلائل کا ایک انبار ہو۔ جیسا کہ آپ دیکھ چکے، وہاں مجازی معنوں کے لئے کوئی وجہ جواز ہی پیدا نہیں ہوتی۔

حضرت عائشہؓ کا قول

درمنثور کے حوالہ سے حضرت عائشہؓ کا ایک قول پیش کیا جاتا ہے کہ: ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ ﴿تم خاتم النبیین تو کہو۔ لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔﴾

جواب یہ ہے کہ کیوں نہ اس کا صحیح محمل تلاش کیا جائے۔ جب ختم نبوت اور لا نبی بعدی، ایک مضبوط سلسلہ کی دو کڑیاں ہیں۔ جس کا متعدد پیرایہ ہائے بیان سے اثبات ہو چکا تو اس کے معنی قطعی ان کے منافی نہیں ہو سکتے۔ بات واضح ہے حضرت عائشہؓ چونکہ اس حقیقت سے آگاہ تھیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔ اس لئے وہ احادیث کے اطلاق میں اتنی سی گنجائش چاہتی ہیں کہ ان کی آمد پر کوئی اثر نہ پڑے اور اس کا ثبوت یہ حدیث ہے جو ان سے مرفوعاً مروی ہے۔ ”عن عائشة عن النبیﷺ انه قال لا یبقی بعدہ من النبوة الا المبشرات قالوا یارسول اللہ ما المبشرات قال الرؤیا الصالحة یری المسلم او یری له (مسند احمد)“ ﴿حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپ کے بعد بجز مبشرات کے نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ مبشرات کیا ہیں۔ فرمایا صالح خواب جو مسلمان خود دیکھے یا کوئی اس سے متعلق دوسرا مسلمان دیکھے۔﴾

٣٩

صفحہ ٢٩٨

حجیت صرف کتاب اللہ اور سنت کو حاصل ہے

حضرات صوفیاء کے بعض اقوال بھی اس سلسلہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کی سلسبیل جاری ہے اور امت محمدیہ میں اب بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو ریاضت وتزکیہ نفس کی مشقتوں کو جھیل جھیل کر اپنے دل کے آئینہ کو اتنا چمکالیں کہ ان پر فیض نبوت کا پرتو پڑسکے اور جو اپنی صلاحیتوں کو اس درجہ سنوار لیں کہ مقام نبوت کے تمام انوار و تجلیات ان کو حاصل ہوجائیں۔

اس سے پہلے کہ ان اقوال کا صحیح محمل ڈھونڈا جائے اور ان کے معانی کی ٹھیک ٹھیک تعیین کی جائے۔ یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ جہاں تک حجیت واستدلال کے دائروں کا تعلق ہے وہ کتاب اللہ اور سنت رسول سے آگے نہیں بڑھتے۔ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کے مکلف تو ہیں جو قرآن وحدیث میں وارد ہوا ہے اس کو مانیں۔ اس کی وضاحت کریں اور اس پر جو شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں انکا جواب دیں۔ لیکن ہمارے لئے یہ سخت دشوار ہے کہ امت میں ہر ہر شخص کے اعتقادات کو حق بجانب ثابت کریں۔ بالخصوص جب سوال بنیادی عقیدوں کا ہو تو اس کے لئے تو لازماً ہمیں فکر ونظر کی عنان کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ہی موڑنا چاہئے اور اس سے بالکل بے پرواہ ہوجانا چاہئے کہ کون کون کیا کیا کہتا ہے۔ کیونکہ دین صرف اللہ کے احکام اور رسول کے عمل واسوہ سے تعبیر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ بشرط صحت لائق صد احترام ہے اور بصورت اختلاف وعدم صحت محض اقوال الرجال۔

نظر کی کجی

ہماری نظر میں یہ ٹیڑھ ہے کہ جو عقائد ہمیں کتاب اللہ میں تلاش کرنے چاہئیں اور جن تصورات کی پڑچول ہمیں چمنستان نبوت میں کرنا چاہئے ان کو ہم ان لوگوں کی کتابوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہر وقت غلطی کر سکتے ہیں۔ جن کا پائے استقلال ہر جگہ پھسل سکتا ہے اور جن کی عصمت کی اللہ اور اس کے رسول نے کبھی حامی نہیں بھری۔

نبوت کا مسئلہ ایسا نہیں ہے جسے امام عبدالوہاب شعرانی یا ابن العربی کے سپرد کیا جاسکے۔ یہ اصولاً نصوص چاہتا ہے۔ کتاب اللہ اور حدیث کی واضح شہادات چاہتا ہے۔ یعنی اس مسئلہ کا مزاج اصولی اور بنیادی ہے۔ یہ استدلال واستنباط کی چیز نہیں۔ بلکہ ایسا عقیدہ اور تصور ہے جس کی تائید قرآن حکیم کی کھلی کھلی اور ناقابل تاویل آیات سے ہونی چاہئے۔ یہی نہیں بلکہ اس عقیدہ کی اہمیت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عصر صحابہ میں مشہور ہو اور صحابہ اور ان کے بعد تابعین

٤٠

اور بڑے بڑے ائمہ اس کی حقانیت سے ان مشہور مسائل سے۔

کتنی مضحکہ خیز حرکت ہے کہ وضاحت ہے جو حدیث میں صراحت سے سے ہٹ کر ادھر ادھر دیکھیں اور چند لوگوں

ان اقوال کی حیثیت ہمارے ہیں ہم ان کے مرتبہ علمی اور مقام عملی کے مسلمات سے مختلف نہیں ہوسکتے۔ بالخصوص امت کے ذہن سے علیحدہ ان کا ذہن ہو اقوال پر نظر ڈالیں گے۔ ایک اور بات ص لوگ ایسے ہیں جن پر سکر وجذب کی کیفی استواری کے ساتھ دینی مسائل پر غور کرت کچھ کہتے ہیں اس کی ذمہ داری صرف ان بادی النظر میں جو معنی ذہن میں آتے ہیں معاملہ اللہ سے ہے۔

نبوت کا اطلاق

باقی رہے وہ صوفیاء اور بزرگ مستحق ہیں۔ ہم نے جہاں تک ان کی کت جس میں یہ مذکور ہو کہ آنحضرت ﷺ ہے کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ جو درمیان حد فاصل ہو۔ جس کا ماننا نجات مترادف ہو۔ ہاں وہ ولایت کو البتہ جار تعبیر کرتے ہیں۔ علمی اصطلاح میں آ کہ وہ ولایت کی قسم ہے۔ رسالت کی ہیں تو ان کی مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہنا چاہئے۔ اس نبوت سے جس کا

صفحہ ٢٩٩

اور بڑے بڑے ائمہ اس کی حقانیت سے اتنا ہی آگاہ ہوں۔ جتنا توحید قیامت اور عبادات کے مشہور مسائل سے۔

یہ کتنی مضحکہ خیز حرکت ہے کہ ختم نبوت ایسی حقیقت کے لئے جس کی قرآن میں وضاحت ہے جو حدیث میں صراحت سے مذکور ہے ہم مجبور ہوں کہ فکر و استدلال کی متعین راہوں سے ہٹ کر ادھر ادھر دیکھیں اور چند لوگوں کے اقوال پر اس کی بنیاد رکھیں۔

ان اقوال کی حیثیت ہمارے ہاں صرف اتنی ہے کہ یہ جن بزرگوں کی طرف منسوب ہیں ہم ان کے مرتبہ علمی اور مقام عملی کے قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ ان کے عقائد امت کے مسلمات سے مختلف نہیں ہو سکتے ۔ بالخصوص ایسے مسائل میں جن کی حیثیت اصول اور بنیاد کی ہے۔ امت کے ذہن سے علیحدہ ان کا ذہن ہونا قرین عقل نہیں۔ اسی مفروضے کی روشنی میں ہم ان کے اقوال پر نظر ڈالیں گے۔ ایک اور بات صوفیاء کے سلسلہ میں یہی سمجھ لینا چاہئے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جن پر سکر و جذب کی کیفیتیں اتنی غالب رہتی ہیں اور عقل و خرد اتنا مغلوب کہ وہ استواری کے ساتھ دینی مسائل پر غور کر ہی نہیں سکتے۔ ان کے شطحیات کے ہم قطعی پابند نہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کی ذمہ داری صرف ان پر ہے۔ ہم اتنا کہہ کر عہدہ برآ ہو جائیں گے کہ ان سے بادی النظر میں جو معنی ذہن میں آتے ہیں وہ ظاہر شریعت کے ساتھ میل نہیں کھاتے اور یہ کہ ان کا معاملہ اللہ سے ہے۔

نبوت کا اطلاق

باقی رہے وہ صوفیاء اور بزرگ جو صحو استحضار سے بہرہ مند ہیں تو وہ البتہ ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ ہم نے جہاں تک ان کی کتابوں پر غور کیا ہے کہیں ایک مقام بھی ان میں ایسا نہیں ملا جس میں یہ مذکور ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص اپنے الہامات یا بزرگی کے باعث اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ جو صاحب دعوت ہونے کا استحقاق رکھتا ہو۔ جو ایمان و کفر کے درمیان حد فاصل ہو۔ جس کا ماننا تقاضائے اسلام ہو اور جس کا انکار نفس اسلام کے انکار کے مترادف ہو۔ ہاں وہ ولایت کو البتہ جاری سمجھتے ہیں اور پھر ولایت ہی کے ایک پہلو کو نبوت سے تعبیر کرتے ہیں۔ علمی اصطلاح میں آپ یوں سمجھئے کہ نبوت کا ایک اطلاق ان کے نزدیک یہ ہے کہ وہ ولایت کی قسم ہے۔ رسالت کی قسم نہیں۔ لہٰذا جب وہ یہ کہتے ہیں کہ نبوت کے فیوض جاری ہیں تو ان کی مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ ولایت جاری ہے۔ پھر اس نبوت کو جس کو نبوت ولایت کہنا چاہئے ۔ اس نبوت سے جس کا ماننا ہر ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ لفظ تشریع سے جدا کرتے

٤١

صفحہ ٣٠٠

ہیں ۔ یعنی ایک نبوت وہ ہے جو اس درجے کی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کو ماننے کا مکلف نہیں اور ایک وہ ہے جس کا ماننا ہر شخص پر شرعاً ضروری ہے۔ یہ دوسری قسم کی نبوت ان کے ہاں نبوت التشریع کہلاتی ہے۔ امام شعرانی فرماتے ہیں: ”الفرق بينهما هو ان النبي اذا القى اليه الروح شيئا اقتصر به ذلك النبي على نفسه خاصة ويحرم عليه ان يبلغ غيره ثم ان قيل له بلغ ما انزل اليك اما لطائفة مخصوصة كسائر الانبياء او عامة لم يكن ذلك الا لمحمد سمى بهذا الوجه رسولا وان لم يخص في نفسه بحكم لا يكن لمن اليهم فهو رسول لا نبى واعنى بها نبوة التشريع التي لا يكون للاولياء (اليواقيت الجواهر ص ٢٥)“ ﴿دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبی پر جب وحی ہوتی ہے تو وہ اسکو صرف اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے۔ اس کے لئے یہ ناجائز ہے کہ دوسروں کو ان الہامات کی دعوت دے اور اگر اس کو ان الہامات کی دعوت پر مامور کیا گیا ہے تو وہ ہماری اصطلاح میں رسول ہے۔ چاہے اس کا حلقہ چند لوگوں تک وسیع ہو۔ چاہے ساری دنیا تک ممتد ہو اور ایسا رسول تمام کی رشد وہدایت کے لئے مامور ہو بجز آنحضرت ﷺ کے اور کوئی نہیں آپ کو اسی مناسبت سے رسول کہا گیا ہے کہ آپ نے کسی حکم کی تبلیغ کو اپنی ذات تک محدود کر کے نہیں رکھا۔ یہی نبوت تشریعی ہے جو اولیاء کو حاصل نہیں ہوتی۔﴾

اس پوری عبارت پر غور فرمائیے۔ تو یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ صوفیاء کے ہاں نبوت کا ایک اپنا اطلاق ہے۔ جس میں اولیاء امت داخل ہیں۔ ورنہ جہاں ایسی نبوت کا تعلق ہے جس کا ماننا دوسروں کے لئے ضروری ہے اور جس کو وہ رسالت سے تعبیر کرتے ہیں تو حضرت امام کے نزدیک اس کے دونوں کواڑ آنحضرت ﷺ پر بند ہیں۔

”قد ختم الله تعالى بشرع محمد ﷺ جميع الشرائع ولا رسول بعده يشرع ولا نبى بعده يرسل اليه بشرع يتعبد به في نفسه انما يتعبد الناس بشريعته الى يوم القيمة (اليواقيت الجواهر ج ٢ ص ٣٧)“ ﴿اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی شریعت سے جملہ شرائع کو ختم کر دیا ہے۔ اب نہ تو کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی رسول بھیجا جائے گا۔ جسے شریعت سے بہرہ مند کر کے مبعوث کیا گیا ہو۔ اب تو قیامت تک کے لئے لوگ آنحضرت ﷺ کی شریعت ہی کو ماننے کے پابند ہیں۔﴾

اب رہی یہ بحث کہ صوفیائے کرام نے نبوت کے معنی میں یہ توسیع کیوں فرمائی کہ اس کا اطلاق اولیاء پر بھی ہو سکے تو یہ ایک لطیف بحث ہے۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری

٤٢

صوفیاء کے اس تصور پر عائد کمالات نبوت اسکی چیز ت خوشنودی کے حصول میں جا شفاف ہو جائے کہ غیب پائے اور اس کے کان طرز حصول یہ دو مختلف چیزیں معراج ہیں۔ ان تک رسا عبادت شرط ہے۔ جو بات حصول ہے کہ اس کا تعلق نگاہ کرم اس عہدہ جلیلہ کے موجود ہوں اور جو مقام نبو کوئی شخص ان معنوں میں کے الہامات دوسروں پر ہو سکتی ہیں۔ نبوت کے ا کے اور کوئی بنیادی فرق نہ دیں کہ دونوں فطرت و ط رتبہ واعتزاز کا ہے۔ نوعی

نبوت ولایت میں

ہمارے نز طرح کا نہیں ہے۔ جیسے ہے۔ مدارج یا رتبہ کا نہ ہے۔ اپنی صلاحیتوں ۔ ہے۔ نبوت کا ماخذ مشا ولایت کا ماخذ کتاب و ایسے نہیں ہیں کہ ان پر پوری پوری تشریح ہو ۔

صفحہ ٣٠١

صوفیاء کے اس تصور پر عائد ہوتی ہے جو انہوں نے نبوت سے متعلق قائم کیا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ کمالات نبوت ایسی چیز ہے۔ جو سعی اور کوشش سے حاصل ہو سکتی ہے۔ زہد و ریاضت اور اللہ کی خوشنودی کے حصول میں جدوجہد انسان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس کا آئینہ دل اتنا مجلا اور شفاف ہو جائے کہ غیب کے انوار وتجلیات کی جھلک اس پر منعکس ہو۔ ان کا دل مہبط وحی قرار پائے اور اس کے کان طرح طرح کی آوازیں سنیں۔ یعنی مقام نبوت یا محدثیت اور بالفعل نبوت کا حصول یہ دو مختلف چیزیں نہیں۔ مقام نبوت سے مراد عمل و فکر کی وہ صلاحیتیں ہیں جو بشریت کی معراج ہیں۔ ان تک رسائی کے دروازے امت محمدیہ پر بلاشبہ کھلے ہیں۔ شوق عبودیت اور ذوق عبادت شرط ہے۔ جو بات ختم نبوت کی تصریحات کے بعد ہماری دسترس سے باہر ہے۔ وہ نبوت کا حصول ہے کہ اس کا تعلق یکسر اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے ہے۔ یعنی یہ اس پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہ کرم اس عہدہ جلیلہ کے لئے اپنے کسی بندے کو چن لے۔ جس میں نبوت کی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہوں اور جو مقام نبوت پر پہلے سے فائز ہو۔ اب چونکہ نامزدگی کا یہ سلسلہ بند ہے۔ اس لئے کوئی شخص ان معنوں میں تو نبی ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اس کا ماننا دوسروں کے لئے ضروری ہو اور اس کے الہامات دوسروں پر شرعاً حجت ہوں۔ البتہ مقام نبوت یا نبوت کی صلاحیتیں اب بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔ نبوت کے اس تصور سے چونکہ نبوت مصطلحہ اور ولایت کے اس مقام میں بجز نامزدگی کے اور کوئی بنیادی فرق نہیں رہتا۔ اس لئے وہ حق بجانب ہیں کہ اس کو بھی ایک طرح کی نبوت قرار دیں کہ دونوں فطرت و حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور امتیاز جو ہے وہ صرف رتبہ واعتزاز کا ہے۔ نوعیت کا نہیں یا یوں کہئے کہ اصطلاحی ہے۔

نبوت ولایت میں فرق نوعیت کا ہے مدارج کا نہیں

ہمارے نزدیک یہ تصور نبوت کا درست نہیں۔ ولایت و نبوت میں جو فرق ہے وہ اس طرح کا نہیں ہے۔ جیسے ایک عالم اور حکیم میں ہوتا ہے یا فقیہ و مجتہد میں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ نوعیت کا ہے۔ مدارج یا رتبہ کا نہیں۔ نبوت اپنے ماخذ کے اعتبار سے جس سے وہ براہ راست استفادہ کرتی ہے۔ اپنی صلاحیتوں کے نقطہ نظر سے اور اپنے طریق کار کے لحاظ سے ولایت سے یکسر مختلف شے ہے۔ نبوت کا ماخذ منشاء الٰہی ہے۔ ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحٰی“ اور ولایت کا ماخذ کتاب وسنت ہے اور وہ واردات و احوال جن کو الہامات و وحی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایسے نہیں ہیں کہ ان پر وثوق کیا جا سکے۔ ابھی دل کا سائنس اتنا ترقی پذیر نہیں ہوا کہ الہام و وحی کی پوری پوری تشریح ہو سکے۔ تاہم اتنا تو بہر آئینہ طے ہے کہ اس وحی میں وہ قطعیت نہیں جو وحی نبوت

٤٣

صفحہ ٣٠٢

کے ساتھ خاص ہے۔ کیونکہ یہاں یہ احتمال برابر کھٹکتا ہے کہ دل تک وحی والہام کی لہروں اور موجوں کو لے جانے والے کہیں یہ خود حضرت دل ہی نہ ہوں۔ کہیں یہ وجدان کی کارفرمائی نہ ہو کہ کشوف کا ایک سلسلہ قائم ہے۔ دل کی پہنائیاں اس درجہ وسیع اور ناقابل فہم ہیں کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود صوفیائے کرام نے اپنے الہامات کو دوسروں کے لئے حجت نہیں ٹھہرایا۔

صلاحیتوں کے اعتبار سے بھی نبی ظاہر و باطن کے اس حسن و جمال اور اعتدال و توازن کو لے کر آتا ہے کہ غیر نبی کو اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہو پاتا۔ یعنی یہ وہ حضرات ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ انتخاب اوّل روز سے چن لیتی ہے۔ غیر معمولی صلاحیتوں سے انہیں بہرہ مند کرتی ہے اور تربیت کا وہ اہتمام کرتی ہے جو دوسروں کو میسر نہیں ہوتا۔ ”اللّٰہ اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام)“

نبوت کا طریق کار یہ ہے کہ ایک شخص اپنے نفس کی فکر سے فارغ اس غم میں گھل رہا ہے کہ دوسروں کی اصلاح کیونکر کی جائے اور ولی بے چارہ اپنے ہی ہموم و افکار سے مخلصی نہیں حاصل کر سکا۔ نبی ایک روشنی رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس سے دنیا بھر کی تاریکیوں کو دور کرے۔ ”ويخرجهم من الظلمت الى النور“ اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا اور روشنی میں داخل کرتا ہے اور ولی کتاب وسنت کی روشنی تو رکھتا ہے لیکن نفس و عمل کی تاریکیوں سے برابر دو چار ہے۔

اجرائے نبوت پر کن آیتوں سے استدلال کیا جاتا ہے

اب ذیل میں ہم ان تمام آیات کو درج کرتے ہیں۔ جن پر اجرائے نبوت کی عمارت چنی گئی ہے۔ یہاں خصوصیت سے یہ اصول مدنظر رکھنا چاہئے کہ جو بات مابہ النزاع ہے وہ مطلقاً اجرائے نبوت یا اس کے متعلقات نہیں۔ کیونکہ نبوت کی گاڑی تو بہر آئینہ ہزاروں برس چلتی ہی رہی ہے۔ بلکہ وہ نبوت ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد ہو۔ یعنی ثابت یہ کرنا ہے کہ دین مکمل نہیں اور ابھی کئی اور راز ہیں جو سینہ جبریل میں پنہاں ہیں۔ بتانا یہ ہے کہ اسلام ہی آخری دین نہیں۔ نبوت، وحی اور الہام کی اور کئی کڑیاں بھی ہیں جو انسان کے سامنے آنے والی ہیں۔ ظل و بروز اور رنگ و انعکاس کے ہم قائل نہیں۔ یہاں تقسیم دو ٹوک ہے یا ایک شخص نبی ہے یا وہ نبی نہیں ہے اور اگر باوجود ادعائے نبوت کے وہ نبی نہیں ہے تو وہ صرف یہی نہیں کہ نبی نہیں ہے۔ مکار ہے اور اگر مکار نہیں ہے تو بے وقوف ہے۔ جب صاف، روشن اور واضح راستوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک شخص ٹیڑھی اور خمدار گلیوں میں چکر لگاتا ہے تو وہ چور ہے۔ بات صرف اتنی ہی ہے کہ اسلام اپنے تمام تقاضوں کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے اور سینہ جبریل کے تمام راز ربوبیت کبریٰ نے اگلوا لئے

٤٤

صفحہ ٣٠٣

ہیں ۔ اب جہاں تک انسانی رشد و ہدایت کا تعلق ہے کوئی نئی بات کہنے کی نہیں رہی اور نہ کوئی راز و معمہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ جس کے حل و القاء کے لئے جبریل کو سینہ رسالت کی تلاش ہو۔

خیر یہ بحث تو آئندہ قسطوں میں آئے گی۔ سردست صرف یہ کہنا ہے کہ ان آیتوں کو بار بار پڑھئے اور دیکھئے کہ ان میں کہیں یہ موجود ہے کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد بھی رسالت کا باقاعدہ سلسلہ جاری ہے یا وحی و الہام کے کواڑ کھلے ہیں۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ دعویٰ و دلیل میں مطابقت ہونا چاہئے اور استدلال و استنباط کی اس ہمہ گیر لغزش سے بچنا چاہئے کہ عمومات سے مخصوص و متعین دعویٰ ثابت کیا جائے۔ بات بالکل واضح ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی انسان کو دین کی جامعیت و اکملیت کا اطمینان حاصل نہ ہو اور وہ برابر نئی نئی نبوتوں اور رسالتوں کا منتظر رہے۔ یا دین کا مزاج ہی ایسا ہے کہ ہر ہر آن اس میں تغیر و تبدیلی کی گنجائش نکلتی رہتی ہے۔ تو اس کو بڑی وضاحت اور تعین کے ساتھ قرآن میں مذکور ہونا تھا۔ ظل و بروز کے چور دروازوں کی حاجت نہیں جہاں ختم نبوت کی کھلی کھلی آیتیں ہیں۔ وہاں اجزائے نبوت کی آیتیں بھی انتہائی بین اور واضح ہونا چاہئیں تھیں۔ بلکہ صحیح موقف تو یہ ہے کہ ختم نبوت اور اس کے متعلقات کو اور ان تمام پیرایہ بیان کو ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔ جن سے ختم نبوت کے مسئلہ پر پوری پوری روشنی پڑتی ہے۔

کیونکہ دو ہی تو شرعاً موقف ہو سکتے ہیں یا نبوت آنحضرتﷺ پر ختم ہے اور یا ختم نہیں ہے۔ بیچ کا کوئی راستہ نہیں۔ ظل و بروز کی بحث قطعاً غیر متعلق اور عجیب ہے۔ اگر ختم نبوت کا مسئلہ صحیح ہے اور واضح ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اجزائے نبوت کی ٹٹول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہ چاہئے کہ اطمینان سے کتاب و سنت پر عمل کرتے جائیں اور کسی دغدغہ کو دل میں نہ لائیں اور اگر نبوت کا سلسلہ جاری ہے تو پھر یہ تمام آیات اور احادیث معاذ اللہ بے مصرف ہو کے رہ جاتی ہیں اور ان میں جو خلج پیدا ہوتی ہے اسے کسی تاویل سے پاٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ آیات یہ ہیں:

الخبيث من الطيب وماكان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من يشاء فامنوا بالله ورسله فان تؤمنوا وتتقوا فلكم اجر عظيم (آل عمران: ١٧٩)" (منافقو!) اللہ ایسا نہیں ہے کہ جس حال میں تم ہو اچھے برے کی تمیز کئے بدون اسی حال پر مومنوں کو تمہارے ساتھ ملا جلا رہنے دے اور اللہ ایسا بھی نہیں کہ تم کو غیب کی

٤٥

صفحہ ٣٠٤

باتیں بتا دے۔ ہاں اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے انتخاب فرما لیتا ہے۔ (اور ان کو بقدر مناسب بتا دیتا ہے) تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ (اور غیب کی ٹوہ کے پیچھے نہ پڑو) اور اگر ایمان لاؤ گے اور نفاق سے بچتے رہو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔ ﴾

بصير (الحج) " ﴿ اللہ فرشتوں میں سے بعض کو احکام پہنچانے کے لئے انتخاب فرما لیتا ہے اور اس طرح بعض کو آدمیوں سے بھی۔ کیونکہ اللہ سب کی سنتا اور دیکھتا ہے۔ ﴾

عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا (نساء) " ﴿ جو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانے تو ایسے ہی لوگ (جنت میں) ان (مقبول بندوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (بڑے بڑے) احسانات کئے۔ یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور دوسرے نیک بندے اور یہ لوگ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔ ﴾

فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (الاعراف) " ﴿ اے بنی آدم! جب کبھی تم ہی میں سے ہمارے پیغمبر تمہارے پاس پہنچیں اور ہمارے احکام تم کو پڑھ پڑھ کر سنائیں تو ان کا کہا مان لینا۔ کیونکہ جو شخص ان کے کہنے کے مطابق پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی حالت کی اصلاح کرے گا تو قیامت کے دن ان پر نہ تو کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے۔ ﴾

بما تعملون عليم (مومنون) " ﴿ ہم اپنے پیغمبروں سے بھی ارشاد کرتے رہے ہیں کہ اے گروہ پیغمبراں ستھری چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ تم جیسے جیسے عمل کرتے ہو ہم ان سب سے واقف ہیں۔ ﴾

جاء كم به حتى اذا هلك قلتم لن يبعث الله من بعده رسولا (مؤمن) " ﴿ اور پہلے یوسف کھلے کھلے احکام لے کر تمہارے پاس پہنچ چکے ہیں تو جو احکام وہ تمہارے پاس لے کر آئے تھے۔ تم اس میں شک ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا۔ تو تم ان کے مرے پیچھے کہنے لگے کہ اس کا جھگڑا تو خدا نے چکا دیا اور اب اس کے بعد کبھی اللہ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ ﴾

٤٦

صفحہ ٣٠٥

......٧ ”وانهم ظنوا كما ظننتم ان لن يبعث الله احداً (الجن)“ اور جس طرح تم جنات کو خیال تھا۔ بنی آدم کو بھی خیال ہوا کہ خدا کبھی کسی کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجے گا۔ ﴾

......٨ ”وماكنا معذبين حتى نبعث رسولا.(بنی اسرائیل)“ اور جب تک ہم رسول بھیج کر اتمام حجت نہ کرلیں۔ کسی کو اس کے گناہ کی سزا نہیں دیا کرتے۔ ﴾

یہ ہیں وہ تمام آیات جن سے مرزائی دوست اجرائے نبوت پر استدلال کرنا چاہتے ہیں۔ ان پر مجموعی نظر ڈالنے سے بھی اس طرح کے حقائق سامنے نظر نہیں آتے کہ نبوت کے مضمرات ابھی باقی ہیں یا یہ کہ رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی جاری ہے۔ مدعا ومطلوب کی وحدت اور ارتقاء یا تعیین وضاحت جو اثبات دعویٰ کے لئے ضروری ہے۔ ان میں بالکل نہیں پائی جاتی۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف المطالب آیات ہیں۔ جن میں کوئی قدر مشترک نہیں۔ ہر جگہ ایک نئی حقیقت اور نیا مسئلہ ہے۔ جسے بیان کرنا مقصود ہے۔

پہلی آیت کو مثلاً لیجئے۔ اس میں مدینہ کے منافقین کا تذکرہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارا یہ خلاملا۔ مسلمانوں کو ہمیشہ دھوکا دے سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ پاکباز گروہ اور خبث باطن رکھنے والے بالآخر جدا جدا نظر آئیں۔ چنانچہ خود تمہارے اعمال، جیسے جہاد سے تخلف، یا جذبہ جہاد سے محرومی وغیرہ ایسی باتیں ہیں کہ جو تمہیں عام مسلمانوں سے ممیز کر کے رہیں گی۔ باقی رہا یہ کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ تم میں سے ایک ایک آدمی کا نام لے کر کیوں نہیں بتاتا کہ فلاں فلاں منافق ہے تو اس لئے کہ یہ جاننا صرف انبیاء کا کام ہے۔ تمہارا نہیں تمہارے لئے تو یہی زیبا ہے کہ بغیر غیب کی ٹٹول کے، اللہ کے نبیوں پر ایمان لاؤ اور نفاق سے احتراز کرو اور یہ جو فرمایا کہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے انتخاب فرما لیتا ہے تو یہ کوئی اصول نہیں بلکہ سابقہ عادت کی حکایت ہے۔ اس طرح بتانا یہ مقصود ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اگرچہ تم از راہ نفاق پسند نہ کرو۔ نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ کے براہ راست انتخاب کا ”رسل“ بصورت جمع اس لئے آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا، صرف آنحضرت ﷺ کو ماننا نہیں۔ بلکہ متضمن ہے تمام انبیاء پر ایمان لانے کو۔

دوسری آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک گردانتے ہیں۔ چنانچہ اس لئے قبل کی آیتوں میں ان کے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کی بیچارگی کو بڑی اچھی طرح واضح کیا ہے۔ فرمایا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ اتنے عاجز ہیں کہ ایک مکھی بھی تو

٤٧

صفحہ ٣٠٦

نہیں بناسکتے۔ یہی نہیں بلکہ اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو یہ سب مل کر بھی اس کو چھڑا نہیں سکتے۔ اس کے بعد یہ فرمایا ہے کہ اللہ فرشتوں اور انسانوں کو خلعت رسالت سے نوازتا ہے۔ لہٰذا یہ دونوں اس کے ایلچی تو ہو سکتے ہیں خدا نہیں۔

سورہ نساء کی چوتھی آیت میں ذکر ہی قیامت کی رفاقت کا ہے۔ اسی لئے حَسُنَ اولئک رفیقا فرمایا۔ اس میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ لوگ کسب و اطاعت سے نبی ہو جائیں گے۔ شبہ غالباً حرف عطف سے پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ اس میں صرف اتنا اشتراک کفایت کرتا ہے جو سب کو فی الجملہ شامل ہو اور وہ ہے رفاقت اخروی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ہر بات میں یہ معطوفات بہم برابر کے شریک بھی ہوں۔ پھر رفاقت اخروی سے یہ کب لازم آتا ہے کہ نبوت بھی آنحضرت ﷺ کے بعد حاصل ہوسکتی ہے۔

ہم اس پر بحث کر چکے ہیں کہ نبوت اطاعت کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ انبیاء کی اطاعت نتیجہ ہوتی ہے ان کی نبوت کا، یعنی نبوت اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تو ہے۔ لیکن یہ انعام پیغام اور دعوت کی ایسی صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے بعد ملتا ہے۔ جن کا وجود خود اللہ تعالیٰ کے انتخاب پر موقوف ہے۔ چوتھی آیت سے استدلال صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کہ کھلی تحریف کا ارتکاب کیا جائے۔ یابنی آدم کا لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم کی اولین اولاد ہے۔ قرآن کھول کر اسی سورۃ میں قبل کی آیات پر نظر ڈالو۔ برابر تین جگہ یہی لفظ آیا ہے اور تینوں جگہ بنی آدم کو مخاطب کر کے ابتدائی تعلیمات سے آگاہ فرمایا ہے۔ پہلی جگہ لباس پہننے کی ہدایت فرمائی ہے۔

.......١ ”یابنی أدم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سوأتکم وریشا “ ”اے بنی آدم ہم نے تمہاری ضرورت کے لئے لباس اتارا کہ تم اس سے اپنا جسم ڈھانپ سکو۔“

دوسری جگہ شیطان کے داؤں سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ جس سے تمہاری لڑائی ہے۔”یابنی أدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابويکم “ ”اے بنی آدم دیکھو شیطان تمہیں اس طرح آزمائش میں نہ ڈالے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکال باہر کیا۔“

تیسری جگہ یہ فرمایا کہ نماز کے وقت کپڑے پہننا اور بھی ضروری ہے۔”یا بنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد “ ”اے بنی آدم نماز کے وقت کپڑے پہن لیا کرو۔“

٤٨

صفحہ ٣٠٧

اور اس آیت میں انہیں یہ بتایا ہے کہ میرے بعد انبیاء آتے رہیں گے۔ ان کو ضرور ماننا۔ چنانچہ وہ آتے رہے۔ یہاں تک کہ اس کی مصلحت نے اس کے دروازے بند کر دیئے۔

یہی حال پانچویں آیت کا ہے کہ بلاشبہ ید تصرف کے اجرائے نبوت پر استدلال سخت دشوار ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ انبیاء جب بھی آئے ہیں۔ انہوں نے اکل حلال اور عمل صالح کی طرف ہی بلایا ہے۔

چھٹی اور ساتویں آیت سے استدلال تو بالکل ہی مضحکہ خیز ہو گیا ہے۔ قرآن حکیم یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قوم نے نہ صرف یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو نہ مانا۔ بلکہ جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوش ہو ہو کر یہ کہا کہ چلو چھٹی ہوئی۔ اب تو کوئی رسول نہیں آئے گا۔ جو ہمیں ہمارے گناہوں پر ٹوکے اور ہماری خواہشات کے خلاف رشد و ہدایت کی راہوں پر ڈالے۔ یعنی ان کی خواہش از راہ کفر و انکار یہ تھی کہ اللہ کا کوئی رسول آئندہ نہ آنے پائے اور ہماری از راہ ایمان یہ ہے کہ چونکہ نبوت کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب کوئی جعل ساز ہماری سمع خراشی نہ کرے۔ داعیات کفر و انکار اور داعیات ختم و تکمیل میں بڑا فرق ہے۔

یہی حال جنوں کا تھا کہ ان پر بھی کفر و انکار کی وجہ سے مایوسی کا عالم طاری تھا۔ کسی نص دینی کی بناء پر نہیں۔ اس لئے فرمایا کہ میں اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے آ گیا ہوں۔ آٹھویں آیت سے اجرائے نبوت پر یوں استدلال فرمایا گیا ہے کہ چونکہ خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ اتمام حجت سے پہلے عذاب نہیں بھیجتا۔ اس لئے اب جب کہ طرح طرح کے عذاب آ رہے ہیں۔ ہمیں اتمام حجت کی قطعی ضرورت ہے اور وہ اس وقت تک نہیں ہوتی۔ جب تک کہ ایک نبی نہ آ جائے۔ لہٰذا نبوت جدیدہ کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ ان گوناگوں عذابوں کی کوئی توجیہہ بیان کی جاسکے۔ حالانکہ اس آیت میں اس کے آنے کا کہیں ذکر نہیں۔ جو فرمایا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ اللہ کا عذاب اتمام حجت کے بعد آتا ہے اور کون کہتا ہے کہ وہ موجود نہیں۔ کیا اسلام اللہ کی سب سے بڑی حجت نہیں۔ کیا یہ ساری تکلیفیں اور یہ سارے عذاب بنی آدم پر اس لئے نہیں آ رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جھٹلا رہے ہیں۔

فیصلہ کن تنقیح ...... کیا نبوت صرف اعزاز ہے؟

یہاں تک تو بحث کا رنگ منقولی تھا۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ عقلی چھان بین ہمیں کن نتائج تک پہنچاتی ہے۔ اس سلسلہ کی فیصلہ کن تنقیح یہ ہے کہ نبوت کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی۔ کیا یہ صرف ایک طرح کا اعزاز یا شرف اور فضل ہے۔ جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو مختلف زمانوں

صفحہ ٣٠٨

میں نوازا ہے یا اس کے سامنے کوئی اصلاحی غرض بھی ہے۔ پھر اس پر غور کرنا ہے کہ کیا یہ اصلاحی غرض ایسے ڈھنگ کی ہے کہ کبھی نہ کبھی تکمیل پذیر ہو سکے یا اس کا مزاج ہی اس انداز کا ہے کہ ہمیشہ تشنہ اور نامکمل رہے۔

اجرائے نبوت کے تصور میں ساری خرابی اسی ایک تنقیح کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر صورت مسئلہ یہی ہے کہ نبوت محض ایک طرح کی بخشش وعطا ہے اور اس کے سامنے زندگی کا ایسا چوکھٹا نہیں ہے۔ جسے مکمل کرنا مقصود ہے یا زندگی چوکھٹا ہی ایسا ہے کہ زمانے کے تغیرات سے وہ روپ بدلتا رہتا ہے۔ تو یہ عقیدہ بلاشبہ صحیح ہوگا کہ نبوت کے کواڑ کھلے ہیں اور اگر اس کے برعکس نبوت سے متعلق تصور یہ ہے کہ اس سے کچھ مقصود ہے اور وہ مقصود ارتقاء کے ایک موڑ پر اپنے تمام مضمرات کے ساتھ اس طرح چشم نبوت کے سامنے کھل کر آ جاتا ہے کہ پھر اس کی تکمیل واہتمام میں کوئی زحمت محسوس نہیں ہوتی۔ تب ختم نبوت کے اصول کو صحیح ماننا پڑے گا۔ یعنی اگر انسانی معاشرہ کا ڈھنگ یہ ہے کہ یہ کسی منزل پر بھی نپے تلے اور جامع احکام کا محتاج نہیں ہے اور خود خیر وصواب کی قدریں ہمیشہ تغیر پذیر اور متبدل رہی ہیں تو اجرائے نبوت کے عقیدہ کو ماننے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔ لیکن اگر انسانی معاشرہ طفولیت سے گزر کر بلوغ کی تمام ممکن منزلیں طے کر چکا ہے اور مسائل زیر بحث کے تمام پہلو نکھر کر انسان کے سامنے آگئے ہیں اور تہذیب وثقافت کا کوئی پہلو ایسا نہیں رہا کہ جو اس وقت نظروں سے اوجھل ہو تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ ختم نبوت ہی کے مضبوط حصار میں انسانی فکر وعمل کے لئے عافیت مضمر ہے۔ ورنہ یہ خطرہ ہے کہ نفس نبوت ہی پر سے اعتقاد نہ اٹھ جائے۔ کیونکہ آخر میں اجرائے نبوت کے یہی معنی تو ہوتے ہیں کہ اخلاقی ودینی قدریں اضافی اور غیر حقیقی ہیں۔ جن کا زمانہ کے ارتقاء اور تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتے رہنا قطعی ضروری ہے۔

یہ واضح رہے کہ ہمارے سامنے وہی اصطلاحی معنی ہیں جو قرآن میں مذکور ہیں۔ اس کا ظلی اور بروزی ظہور قطعی خارج از بحث ہے۔ کیونکہ اگر بر بنائے بخشش وعطا ہی نبوت کا اجراء ضروری ٹھہرتا ہے تو پھر اس بخشش وعطاء کو بہر آئینہ مکمل ہی ہونا چاہئے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ایسے انبیاء کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ جن کی نبوت منفرد اور مستقل بالذات نہ ہو۔ بلکہ کسی بڑی نبوت کی شاخ یا فرع ہو۔ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام ہی کو دیکھئے۔ ایک ہی زمانہ میں ایک ہی قوم کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں۔ پھر ان میں عمروں کا تفاوت بھی اچھا خاصا موجود ہے۔ بلکہ نبوت کی عمر میں بھی تفاوت ہے اور نبوت بھی حضرت موسیٰ کی سفارش پر ملی

٥٠

صفحہ ٣٠٩

ہے۔ تاہم جب نبوت سے سرفراز کرنے کا ذکر آتا ہے تو قرآن دونوں کی شخصیت کو الگ الگ اور جدا جدا قرار دیتا ہے۔ ”واتينهما الكتب المستبين “ ﴿ہم نے ان دونوں کو کھلی اور واضح کتاب عطا کی۔﴾

ظلی نبوت کا تصور کیونکر پیدا ہوا

ظلی و بروزی کا یہ غیر قرآنی تصور جس میں ایک نبی تو اصلی اور حقیقی ہو اور دوسرا بالتبع، بالکل ضمنی اور تابع قرار پائے۔ اصل میں مرزا قادیانی کے ذہن میں تصوف کی راہوں سے آیا اور بائبل کے مطالعہ نے اس کی مزید تائید فراہم کی۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ جن لوگوں نے عہد نامہ قدیم میں انبیاء کو کارواں در کارواں، ایک ہی زمانہ میں اور ایک ہی قوم میں تبلیغ واشاعت کے کام میں مصروف دیکھا ہے۔ انہیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ کیا یہ محض اس کی بخشش کی ارزانیاں ہیں۔ یا یہ بات ہے کہ ان قوموں سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبت تھی۔ اس ضمن میں یہ نکتہ نہ بھولئے کہ یہیں سے ایک جذباتی سی خواہش دلوں میں یوں ابھری کہ امت محمدیہ تو آنحضرت ﷺ کے بعد ایک پیغمبر کو ترس ترس جائے اور ان قوموں پر یہ عنایت ہو کہ انوار وبرکات کی ایک بھیڑ موجود ہے جو دلوں کی صفائی اور کیرکٹر کی ستھرائی میں لگی ہے۔ پھر اس کی توجیہ ذہن میں یہ آئی کہ اصل میں اسی پوری جماعت میں حقیقی پیغمبر تو ایک ہی ہوتا تھا۔ باقی ان کے نائب اور تابع ہوتے تھے۔ جنہیں اطاعت وریاضت کی کثرت کے پیش نظر ضمناً منصب نبوت سے سرفراز کیا جاتا۔ لہٰذا امت محمدیہ میں بھی یہ گنجائش رہنا چاہئے کہ اس میں بھی بے شمار لوگ اپنی نیکی وپارسائی کی وجہ سے نبی کہلائیں اور امت کی اصلاح پر مامور ہوں۔ یہ ہے وہ نفسیاتی خاکہ جومرزا قادیانی کے ذہن میں پیدا ہوا اور ظلی نبوت کا محرک بنا۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں نبوت کا تصور اس تصور سے کوئی میل نہیں کھاتا۔ جو قرآن کے سامنے ہے۔ کیونکہ اس میں اتنی لچک ہے کہ علماء پر بھی انبیاء کا اطلاق ہوسکے۔

بائبل میں نبوت کا تصور

بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں جب دینی جذبہ کی بدرجہ غایت کمی ہوئی اور لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو قریب قریب بھول گئے تو حضرت سموئیل علیہ السلام نے احیاء دین کی غرض سے ”الرامۃ“ میں عظیم الشان تبلیغی مدرسہ قائم کیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے یہاں تعلیم پائی اور اپنے کو تبلیغی خدمات کے لئے وقف کیا ”انبیاء کے بیٹے“ قرار دیا۔ پھر اسی طرح کے اور مدرسے بھی بیت ایل، ریحا اور جلجال میں قائم ہوئے۔ ان میں طلبہ کو تبلیغ واشاعت کے

٥١

صفحہ ٣١٠

لئے تیار کیا جاتا۔ یہی لوگ جب ہزاروں کی تعداد میں فارغ ہو کر نکلتے تو لوگوں نے انہیں انبیاء ہی کے نام سے موسوم کرنا شروع کر دیا اور پھر یہ اصطلاح اتنی عام ہوگئی کہ یہودیوں کی تباہی کے بعد جب دوبارہ بائبل کو مرتب کیا گیا تو ان کو انبیاء ہی رہنے دیا گیا۔

ہم یوں بھی ظلی نبوت کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے کہ عقلاً ختم نبوت سے جو اصول متصادم ہے وہ مسئلہ ارتقاء کا ہے اور ارتقاء قطعی اس پر قانع نہیں کہ زندگی کے اصولوں اور قدروں کو بدلے بغیر برائے نام ایک منصب جاری رہے۔ اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پوری مذہبی زندگی کا جائزہ لیا جائے اور اس کو وقت کے رجحانات کے مطابق بدلا جائے۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ارتقاء سرے سے مذہب کی اس حیثیت ہی کو نہیں مانتا کہ وہ زندگی کے حدود کو متعین کر سکتا ہے۔ اس لئے اگر اجرائے نبوت کے یہ معنی ہیں کہ ہر دور میں ایک نئی شریعت آنا چاہئے اور ہر زمانے میں ایک نیا دستور وضع ہونا چاہئے تب تو اس کے کچھ معنی بھی ہیں۔ اگرچہ غلط ہیں اور اگر عملاً قیامت تک اسلام ہی کی فرمانروائی کو تسلیم کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ ہی کو بالآخر سند و حجت مانتا ہے تو پھر اس قیل و قال بیہودہ کا فائدہ؟

مرزا قادیانی کو اپنی اس کمزور پوزیشن کا احساس تھا کہ بغیر شریعت کے نبوت کا ڈھونگ کیا معنی؟ اس لئے عام طور پر اگرچہ وہ مصلحتاً زیادہ نہیں کھلتے تھے اور مسلمانوں کو بظاہر یہی یقین دلاتے تھے کہ میری نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت سے الگ کوئی شے نہیں ہے اور میں محض ان کا ایک خادم ہوں۔ وہ تو کثرت اطاعت و خدمت کا تقاضا ہے کہ از راہ مجاز و ظل مجھے نبوت کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ورنہ میں کوئی نئی چیز لے کر نہیں آیا۔ لیکن جب ذرا مزے میں آتے تھے تب اس جھول کو یوں پورا کرتے تھے کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(رسالہ اربعین نمبر٤ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

جہاں تک تنقیح کی اس شق کا تعلق ہے کہ نبوت صرف ایک طرح کا اعزاز ہے یا اس سے متعلق کوئی نصب العین بھی ہے، جواب بالکل واضح ہے۔ اس کا فیصلہ قرآن نے کر دیا ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد انبیاء کا تذکرہ آیا ہے۔ اس میں ان کی ان خدمات جلیلہ کا تفصیل سے ذکر ہے جو انہوں نے انجام دیں۔ اس لئے اس پہلو پر بحث بے فائدہ ہے۔

٥٢

صفحہ ٣١١

زندگی متحرک ہے

جو چیز غور و فکر کی محتاج اور بحث طلب ہے وہ یہ ہے کہ آیا انسانی معاشرہ ہر لمحہ تغیر پذیر ہے یا کہیں کسی منزل پر تکمیل و اتمام کے تقاضوں کے سامنے اس کی رواں گاڑی رکتی بھی ہے؟ حکمائے مغرب کا ایک گروہ انسانی معاشرہ کو بھی بجائے خود اسی طرح نامی، حی اور ہر آن ارتقاء پسند سمجھتا ہے۔ جس طرح کائنات کے دوسرے ظہورات، برگساں کا قول ہے کہ انسانی معاشرہ زندگی کے نئے نئے میدانوں میں خیمہ گاڑتا رہتا ہے اور یہ واقعہ ہے۔ حقیقت اس سے زیادہ ایک حرف نہیں کہ وہ تعبیر ہے۔ ایک طرح کی حرکت ہے جس کی سمتیں اور منزل پہلے سے متعین ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور بڑے بڑے فلسفی صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنے پیغام وعمل سے اس معاشرہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان راہوں پر اسے ڈالتے ہیں جو آسانی سے منزل تک پہنچانے میں ممد و معاون ہوں۔

نشو ونمو کی صلاحیتیں پہلے سے معاشرہ میں موجود ہوتی ہیں۔ انبیاء علیہم السلام اور حکماء وقائدین کی کوششوں سے صرف یہ ہوتا ہے کہ ان صلاحیتوں میں ایک طرح کی زندگی و تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور انسانی معاشرہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اپنے سفر کو خوش اسلوبی سے جاری رکھ سکے اور آگے بڑھا سکے۔

صحیفۂ آدم کا حجم

زندگی سے متعلق یہ نظریہ ارتقاء صحیح بھی ہے اور غلط بھی۔ صحیح اس حد تک ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی بلاشبہ بالکل سادہ خانوں سے شروع ہوئی۔ چنانچہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو جو پہلے انسان اور پہلے پیغمبر ہیں۔ جو کتاب ہدیٰ دی گئی۔ اس کا حجم دو سطروں سے زائد پھیلاؤ کا نہیں ایک سطر میں اللہ کی توحید کے ساتھ ساتھ ان کے گرد و پیش کا تعارف مرقوم ہے۔ ”وعلم ادم الاسماء کلھا“ ﴿اور آدم کو سب چیزوں کے نام بتائے۔﴾ اور دوسری سطر میں لکھا ہے: ”ولا تقربا ھذہ الشجرة“ ﴿اور دیکھو اس درخت کے قریب نہ جانا۔﴾

پھر جس رفتار سے زندگی کی وسعتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ احکام بھی اسی نسبت سے پھیلتے گئے۔ قرآن حکیم کے مطالعہ سے ہمیں انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں برابر ایک طرح کی تدریج و ارتقاء کا سراغ ملتا ہے اور محسوس طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہر لاحق نے اپنے سابق سے معاشرہ کی دولت کو جس حال میں پایا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ ہی کیا ہے۔ یا یوں کہئے کہ معاشرہ کی رفتار کو

٥٣

صفحہ ٣١٢

صحیح سمتوں پر ڈالنے کے علاوہ آگے بھی بڑھایا ہے۔

قرآن حکیم چونکہ ایک اصولی کتاب ہے۔ اس لئے اس میں انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کا حال ضمناً ہی آیا ہے۔ اگر حقیقت کا ٹھیک ٹھیک مشاہدہ کرنا ہو کہ شریعت و احکام کا آغاز کیونکر سادگی سے ہوا اور پھر کس طرح اس کا معاملہ آہستہ آہستہ پیچیدہ ہوتا گیا اور پھیلتا گیا تو اس کے لئے بائبل کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ یہاں آپ کو معاشرہ واقعی ایک رفتار سے چلتا ہوا اور ایک خاص رخ کی طرف بڑھتا ہوا معلوم ہوگا۔ یعنی یہاں آپ اس کی چال اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے اور معلوم کر سکیں گے کہ شریعت و آئین میں کیونکر اور کب ناگزیر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

اثریات کے مطالعہ نے بھی ہمارے سامنے قوموں کے ابتدائی کلچر کو بڑی حد تک اجاگر کیا ہے اور بتایا ہے کہ دنیا کے مختلف گوشوں میں انسان نے ترقی کی کون کون سی منزلیں طے کیں اور اس کی زندگی کے ڈھنگ میں کیا کیا تغیرات رونما ہوئے۔

یہ صحیح ہے کہ ارتقاء کی یہ گاڑی کبھی بخط مستقیم آگے نہیں بڑھی۔ بلکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ فکر و عمل کی ایک ہی لغزش نے انہیں صدیوں پیچھے پھینک دیا۔ پھر اس کی راہ میں موڑ، انحراف اور بے شمار رکاوٹیں بھی آئی ہیں۔ لیکن جہاں تک رشد و ہدایت کا تعلق ہے۔ اس کے تقاضوں نے کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آتے رہے۔ اس لئے بحیثیت مجموعی یہ کہنا درست ہے کہ معاشرہ برابر حرکت پذیر رہا اور آئین و شریعت کے اعتبار سے زندگی کے چوکھٹے بدلتے رہے۔

زندگی متحرک تو ہے لیکن اس کی ایک منزل بھی ہے

غلط اس نقطۂ نگاہ سے ہے کہ یہ رفتار قیامت تک اسی نہج سے جاری رہے گی اور عقائد و عمل کی دنیا میں سچائیوں اور صداقتوں کا وزن متغیر ہوتا رہے گا۔ اس خیال کی تہہ میں ایک طرح کا ذہنی مغالطہ نہاں ہے۔ ذہن کی عادت یہ ہے کہ یہ جب ایک چیز کو ایک سے زائد بار ایک ہی ڈھنگ پر ظاہر ہوتے دیکھتا ہے تو اس سے مانوس ہو جاتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ یہ اسی طرح ہمیشہ ظاہر ہوتی رہے اور پھر اس سے آگے بڑھ کر بالآخر یہ حکم لگا دیتا ہے کہ یہ اسی طرح ہوگا۔ مادہ کی تقسیم پذیری کے مسئلہ میں یونانیوں کو یہی دھوکا ہوا۔ یعنی جب ذہن نے دیکھا کہ ہر چیز تقسیم ہونے اور مختلف اجزاء میں بٹ جانے کے بعد بھی مزید تقسیم کی متحمل رہتی ہے تو اس سے اندازہ ہوا کہ تقسیم و تجزیہ کا یہ فعل کبھی ختم نہ ہوگا اور مادہ کا ہر ہر جز برابر تقسیم ہوتا چلا جائے گا۔ حالانکہ یہ بداہتہً غلط ہے۔ ایک کشتی چلتی ہے۔ ایک جہاز سمندر میں تیرتا ہے۔ ایک تیر فضا میں چھوڑا جاتا ہے۔

٥٤

صفحہ ٣١٣

ذہن کا یہ قیاس صحیح ہو تو پھر کشتی کو کبھی ساحل تک نہیں پہنچنا چاہئے۔ جہاز کو کہیں بھی لنگر انداز نہیں ہونا چاہئے اور تیر کو کبھی ہدف تک نہیں پہنچنا چاہئے۔ اجرائے نبوت کے باب میں بھی ذہن نے یونہی سوچا۔ یاد رہے کہ نبوت ورسالت اللہ تعالیٰ کا ایک فیض ایسا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی رہنمائی کی جائے اور اسے ایسی راہوں پر ڈالا جائے جو اسے منزل تک پہنچادیں۔ قوموں کی زندگی میں ایسا مقام ہزاروں اور لاکھوں سالوں کے بعد بہر آئینہ ضرور آتا ہے۔ جب یہ راہیں منزل تک جاتی ہوئی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ مزید براں انسانی زندگی کے مسائل ایسے ہیں جو تغیر وارتقاء کی مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے بالآخر اس مرحلہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں اختلاف وتنوع کی رنگارنگی ختم ہوجاتی ہے اور مسئلہ کے تمام پہلو یا مضمرات نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔

ایک تمثیل

انسانی زندگی کی مثال ایک درخت کی طرح ہے جو پہلی منزل میں صرف ایک بیج ہے۔ ایک دانہ ہے، جسے دیکھ کر اس کے اندر کے مضمرات کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ پھر جب اس کو زمین میں ڈالا جاتا ہے تو اس میں نشوونما کی صلاحیتیں بیدار ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک سوئی سی زمین کا سینہ چیر کر نکلتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ننھی ننھی کونپلوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ پھر پتیاں بنتی ہیں۔ رنگ و روپ نکھرتا ہے اور قد بڑھتا ہے۔ تاآنکہ ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیج کے تمام مضمرات پوری طرح ظاہر ہوجاتے ہیں اور آپ پکار اٹھتے ہیں کہ اب یہ پودا پورا پیڑ ہے۔ یہ آم ہے، یہ کھجور ہے۔ بلاشبہ اس کے بعد بھی اس میں تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ تغیرات بالکل جزوی ہوتے ہیں۔ ان سے درخت کی اصلی فطرت متاثر نہیں ہوتی۔ یعنی آم وہی آم ہی رہتا ہے اور کھجور کے مزاج وخصوصیات میں بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔

ٹھیک اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی کا معاملہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے اس کا آغاز ہوا۔ پھر ہر ہر دور میں اس کے خدوخال ایک خاص نقشے اور روپ میں ڈھلتے چلے گئے اور پھر ایک ایسی منزل آگئی جب دیکھنے والوں نے کہا کہ اب تہذیب وثقافت اور اخلاق وسیاست نے تغیر وترقی کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ جگہ پالی ہے جہاں فی الحقیقت پہنچنا مقصود تھا۔ یہاں پہنچ کر یہ گاڑی یقیناً رکنا چاہئے۔ کیونکہ اس سے آگے کوئی نیا اور بڑا سٹیشن ہی نہیں۔ جن جن اجتماعی الجھنوں سے ہمیں دوچار ہونا تھا۔ ان سے دوچار ہوچکے اور جو نئی الجھنیں پیش آسکتی ہیں۔ ان کا اندازہ ہے۔ اس لئے اب کسی نبوت کا انتظار نہیں جو صورتحال میں ایسا تغیر پیدا کردے۔ جو خلاف توقع ہو۔ ہدایت وصداقت کے تقاضے مکمل ہوچکے اور گمراہیاں بھی

٥٥

صفحہ ٣١٤

انتہاء کو پہنچ چکیں۔ یعنی وہ تمام فتنے جو ابھر سکتے تھے ابھر چکے اور تمام برائیاں رائج ہو چکیں۔ اس پر بھی اسلام کی جامعیت و اکملیت کا یہ حال ہے کہ کہیں اس نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا اور کسی مقام پر بھی اس کی شان حتمیت میں فرق نہیں آیا۔

دنیا کا پہلا آفاقی مذہب

اسلام کے مرتبہ حتمیت و اکملیت کا اندازہ خصوصیت سے دو چیزوں سے ہوتا ہے۔ ایک تاریخ کے اس موڑ سے جس میں یہ جلوہ طراز عالم و عالمیاں ہوا اور دوسرے مسائل کی اس فیصلہ کن نوعیت اور ڈھنگ سے جو صرف اسی کا حصہ ہے۔ اس کے پیغام کی ایک جانی بوجھی خصوصیت آفاقیت ہے۔ یہ دنیا کا پہلا اور آخری مذہب ہے۔ جس نے گروہ اور شعب کے حدود سے آگے بڑھ کر نفس انسانیت کو اپنا مخاطب ٹھہرایا۔ جس نے تمام جغرافیائی حد بندیوں کا انکار کیا۔ نسلی و قبائلی حصاروں کو توڑا اور رنگ و بو کے اختلافات سے قطع نظر کر کے پورے انسانی معاشرہ کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا۔ یعنی اسلام دنیا کا پہلا عملی مذہب ہے۔ جس میں مقام و زبان کی جکڑ بندیوں کو ختم کیا گیا اور جو ایسی دینی قدروں پر اپنے عقیدہ کی بنیاد رکھتا ہے جو غیر مقامی اور ابدی ہیں۔

اس آفاقیت کے لئے عیسائیت کی بدولت راہیں ہموار ہو چکی تھیں۔ پولوس کی تبلیغی کوششوں سے رومیوں میں ایک بڑی تعداد غیر مختونوں یا انجیلوں کی اصطلاح میں غیر قوموں کی تیار ہو گئی تھیں۔ جن کے دلوں میں عیسائیت کے لئے خاصی تڑپ تھی اور قسطنطین اعظم کے عیسائی ہو جانے سے تو گویا عیسائیت کی حیثیت سرکاری مذہب ہی کی ہو گئی تھی۔ اس لئے یورپ میں اسے پاؤں پسارنے کا خوب موقعہ ملا۔

بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس کی برکت سے ان مغربی قوموں کی فطری حوصلہ مندی بروئے کار آئی اور یہ یوں فاتحانہ طور پر یورپ و ایشیاء کی مختلف قوموں کو جو صدیوں سے جدا جدا رہتی تھیں۔ ملا دینے میں کامیاب ہوئی اور اس طرح یہ تو ہوا کہ انسانیت چھوٹے چھوٹے قومیت کے دائروں سے نکل کر ایک بڑے دائرے میں داخل ہوئی اور آفاقیت و عالمگیریت کی طرف ابتدائی قدم اٹھا۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ عیسائیت کے پاس ایسی کوئی عالمی دعوت نہیں تھی جس پر پوری انسانیت کی شیرازہ بندی ہو سکتی۔

عمل کا کوئی چوکھٹا نہیں تھا۔ جو مختلف قوموں اور ملکوں کی رنگارنگی کے باوجود بکارآمد ہوتا اور رنگ و نسل کے اختلاف کے علی الرغم انسانیت کے لئے ایسی اونچی اخلاقی و معاشرتی سطحیں مہیا کرتا۔ جہاں سب تفرقے مٹ جاتے اور اخوت و بھائی چارہ کی بنیاد پڑتی۔ لہٰذا اس کی فتوحات عملاً

٥٦

صفحہ ٣١٥

صرف اتنا ہی کر سکیں کہ انسانی معاشرہ کو تاریخ کے ایسے موڑ پر لا کر چھوڑ دے۔ جہاں اجتماعیت بیدار ہو اور آفاقیت کروٹ لے۔ اب یہ کام اسلام کا تھا کہ اس میں آفاقیت و تکمیل کا رنگ بھر دے۔

اسلام سے پہلے

تاریخ کی اس مناسبت پر جس سے اسلام آخری مذہب قرار پاتا ہے۔ ایک اور اعتبار سے بھی غور ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ اس سے قبل کے مذاہب پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر دیکھیں کہ انہوں نے رشد و ہدایت کے تقاضوں کو کس حد تک تشنہ چھوڑا۔

مثلاً یہودیت کو لیجئے جن لوگوں نے اس کے مطالعہ میں تھوڑی سی بھی زحمت گوارا کی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ صدیوں کے تغیر و تبدل کے بعد اس میں جو ہولناک عیب پیدا ہو گیا تھا۔ وہ مذہب کے باب میں ان کی وہ تنگ نظری تھی۔ جس کی وجہ سے زندگی کا پھیلاؤ سمٹ کر چند مسائل میں محدود ہو کر رہ گیا تھا اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ یہودی ان مسائل کے معاملہ میں بھی مخلص نہیں تھے۔ صرف الفاظ اور ظواہر کی حد تک پابندی کے قائل تھے۔ مذہب سے ان کی دلچسپی صرف اتنی ہی تھی کہ اس میں چند مسائل ہیں۔ چند احکام اور رسوم ہیں۔ جن کی ٹھیک ٹھیک تعین اور وضاحت ہونا چاہئے، عمل ضروری نہیں۔ چنانچہ قرآن حکیم نے ان کی اسی کمزوری کی طرف اس مشہور واقعہ میں اشارہ کیا ہے کہ جب انہیں ایک قتل کے سلسلہ میں گائے ذبح کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے اس پر بڑی جرح کی۔ قانون اور ضابطے کی رعایت سے مین میخ نکالی اور بظاہر ذبح کرنے پر مجبور بھی ہو گئے۔ لیکن دلوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اس کے لئے قطعی آمادہ نہیں تھے۔

”فذبحوها وما كادوا يفعلون“ ﴿ اس پر انہوں نے گائے ذبح تو کر ڈالی لیکن وہ ایسا کرنے کے نہیں تھے۔ ﴾

دین کے اس جزوی تصور اور کھوکھلے لفظی لگاؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دوسرے خیال کے لئے فضا ہموار ہو گئی۔

عیسائیت کیونکر پیدا ہوئی

اور وہ یہ تھا کہ شریعت کی پابندی ہی انسان کے لئے غیر فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اس سے جی چراتا اور پہلو تہی کرتا ہے۔ اس لئے دین کا تصور ہی ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں سوا ناگزیر اخلاقی پابندیوں کے اور کوئی شرعی و دینی پابندی نہ ہو۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ عیسائیت آگے بڑھتی ہے اور پولوس اس اصول کو بنیادی عقیدے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یعنی صاف صاف کہتا ہے کہ شریعت معاذ اللہ لعنت ہے اور مدار نجات عمل نہیں۔ بلکہ عقیدہ اور ایمان ہے۔

٥٧

صفحہ ٣١٦

اس سے اتنا فائدہ تو ہوا کہ یہود کی فقیہانہ بدکاری ختم ہوگئی۔ لیکن ایمان وعقیدہ کی روک اتنی مضبوط ثابت نہ ہوئی۔ جو فسق و فجور کی بوقلمونیوں پر قابو پاسکے۔ لہٰذا تاریخی طور پر ضرورت محسوس ہوئی کہ اب مذہب کا جامع اور آخری تصور رہنمائی کے لئے آگے بڑھے۔ جو شریعت وایمان کے حدود کو متعین کرسکے۔ جو عقیدہ وعمل میں ٹھیک ٹھیک گرہ لگا سکے اور یہ بتاسکے کہ ایمان زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں اور زندگی کا تصور اس ڈھنگ سے پیش کرسکے کہ گویا وہ اس درجہ فطری اور ضروری ہے کہ اس سے اغماض نفس زندگی کے اغماض کے مترادف ہے۔

عیسائیت و یہودیت کے اس بگڑے ہوئے تصور نے مذہب کو جس روپ میں پیش کیا اس کا قطعی طور پر یہ تقاضا تھا کہ انسان کو اب زیادہ پریشان نہ کیا جائے اور اسلام اپنی آخری ومتوازن تعلیمات کے ساتھ رہنمائی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لے۔

مسائل کا فیصلہ کن انداز

مسائل کے باب میں بھی اسلام نے جو فیصلہ کن انداز اختیار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی دین خدا کا آخری اور مکمل دین ہے اور یہ حقیقت اتنی واضح اور نمایاں ہے کہ جن لوگوں نے بحث کے اس پہلو پر غور کیا ہے وہ اکثر مناظرانہ قیل وقال سے بے نیاز ہوگئے ہیں۔ یعنی اگر قرآن حکیم میں ختم نبوت سے متعلق کوئی تصریح مذکور نہ ہو۔ تکمیل دین کا کوئی مژدہ اس میں نہ ہو۔ تب بھی یہ دین اپنی جگہ اتنا مکمل اور جامع ہے کہ پہلی نظر سے اس کی جامعیت واکملیت کا یقین ہوجاتا ہے۔ یعنی اگر قرآن حکیم میں ختم نبوت سے متعلق کوئی تصریح مذکور نہ ہو۔ تکمیل دین کا کوئی مژدہ اس میں نہ ہو۔ تب بھی یہ دین اپنی جگہ اتنا مکمل اور جامع ہے کہ پہلی نظر سے اس کی جامعیت واکملیت کا یقین ہوجاتا ہے۔

آپ ہی بتائیے عقائد میں توحید سے آگے انسانی تصور کے لئے پرواز کی کوئی گنجائش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جس ڈھب سے اپنی صفات پیش کی ہیں۔ ان سے زیادہ بہتر انداز انسانی سمجھ بوجھ اختیار کرسکتی ہے۔ عبادات میں نماز سے زیادہ کامل زیادہ جامع اور زیادہ روحانیت آفریں نقشہ ہمارے ذہن میں آتا ہے؟ معاشرتی زندگی میں مرد اور عورت کے حقوق کی تعیین جس توازن سے اسلام نے فرمائی ہے اس میں کسی اصلاح وترمیم کے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے؟

سرمایہ اور محنت کے مسئلہ کو جس خوبی سے حل فرمایا ہے۔ انسانیت کے بڑے سے بڑے حامیوں کو بھی اس سے بہتر حل سوجھا ہے؟ یعنی زندگی کے پورے چوکھٹے کو اسلام نے جس طرح سجایا ہے۔ اس کی زیب وزینت پکار پکار کر اس کی تکمیل واتمام پر گواہی دے رہی ہے۔

٥٨

صفحہ ٣١٧

٣١ فقیہانہ بدکاری ختم ہو گئی۔ لیکن ایمان و عقیدہ کی ر کی بوقلمونیوں پر قابو پاسکے۔ لہذا تاریخی طور پر آخری تصور رہنمائی کے لئے آگے بڑھے۔ جو یدہ و عمل میں ٹھیک ٹھیک گرہ لگا سکے اور یہ بتا سکے کہ مور اس ڈھنگ سے پیش کر سکے کہ گویا وہ اس درجہ گی کے اغماض کے مترادف ہے۔ ، ہوئے تصور نے مذہب کو جس روپ میں پیش کیا زیادہ پریشان نہ کیا جائے اور اسلام اپنی آخری ر اپنے ہاتھ میں لے لے۔

تے جو فیصلہ کن انداز اختیار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہے اور یہ حقیقت اتنی واضح اور نمایاں ہے کہ جن عز مناظرانہ قیل وقال سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ تصریح مذکور نہ ہو۔ تکمیل دین کا کوئی مژدہ اس میں ح ہے کہ پہلی نظر سے اس کی جامعیت و اکملیت کا بوت سے متعلق کوئی تصریح مذکور نہ ہو۔ تکمیل دین کا ئی جگہ اتنا مکمل اور جامع ہے کہ پہلی نظر سے اس کی

سے آگے انسانی تصور کے لئے پرواز کی کوئی گنجائش ت پیش کی ہیں۔ ان سے زیادہ بہتر انداز انسانی سمجھ زیادہ کامل زیادہ جامع اور زیادہ روحانیت آفریں گی میں مرد اور عورت کے حقوق کی تعیین جس توازن و ترمیم کے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے؟ خوبی سے حل فرمایا ہے۔ انسانیت کے بڑے سے ہے؟ یعنی زندگی کے پورے چوکٹھے کو اسلام نے جس ار کر اس کی تکمیل و اتمام پر گواہی دے رہی ہے۔ ٥٨

تکمیل کے معنی

اس فصل کے اختتام سے پہلے یہ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ تکمیل دین سے اسلام کا منشاء کیا ہے۔ اس کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ اسلام معاشرہ انسانی کے مسلسل ارتقاء کے بارے میں مایوس ہے۔ یعنی اس کا خیال ہے کہ آئندہ اس میں کوئی تغیر رونما ہونے کا نہیں۔ حالانکہ سائنس کی ترقیات صبح و شام اس تصور کی تردید کر رہی ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ تغیرات تو ہوتے رہیں گے۔ معاشرہ انسانی آگے بھی بڑھے گا۔ مگر اس میں بنیادی تبدیلیاں رونما نہ ہوں گی۔ سائنس کی ترقیات سے صاف اتنا ہو جائے گا کہ جزئیات کی نئی نئی شکلیں ہمارے سامنے آئیں۔ اقتصاد و سیاست کی نئی نئی جزوی الجھنیں پیدا ہوں۔ جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو فی الجملہ متاثر کریں۔ ایسا یقیناً ہوتا رہے گا اور ایسا ہونا قطعی اسلام کے حق میں مضر نہیں۔ اسلام کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ مکمل ہونے کے باوجود اپنے اندر اجتہادی لچک بھی رکھتا ہے۔ اس لئے اس طرح کی صورتحال سے عہدہ برآ ہونا کچھ بھی دشوار نہیں۔

دوسرا محاذ

ختم نبوت کے متعلق ایک محاذ تو ان لوگوں کا تھا جو کھلے بندوں آنحضرت ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کے قائل تھے۔ ان سے متعلق ہمیں جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔ ایک دوسرا محاذ ہے جن سے نمٹنا آسان نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ بظاہر ختم نبوت کے قائل ہیں۔ لیکن عقیدہ و عمل کے اعتبار سے ان میں اور دوسرے گروہ میں ہمیں غور و فکر کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اس اجمال کی تفصیل معلوم کرنا ہو تو حضرات تشیع کا جو عقیدہ آئمہ اطہار سے متعلق ہے اس پر غور فرمائیے۔ اس سلسلہ کی پہلی بات جس سے نبوت و امامت کے ڈانڈے ملے ہوئے محسوس ہوتے ہیں یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اس بات کا مقتضی ہے کہ انسانی ہدایت کے لئے انبیاء کو بھیجے۔ اسی ڈھنگ کا ایک سلسلہ امامت کا ہے جسے حفظ دین کی خاطر مقرر کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کا جاری رکھنا بھی اس کے لطف و کرم کے لئے اتنا ہی ضروری ہے۔ پھر جس طرح پیغمبر معصوم ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی واجبات سے ہے کہ امام بھی معصوم ہو۔ علامہ حلی نے اس پر پانچ دلائل پیش کئے ہیں:

ہیں۔ لہذا ایک شخصیت ایسی ہونا چاہئے جو نگران ہو۔ اب اگر یہ شخصیت بھی غلطی کر سکتی ہے تو اس کی ضرورت ہی نہ رہی۔

٥٩

صفحہ ٣١٨

اس کی اطاعت ضروری ہے۔

نصب کو ضروری ٹھہرایا گیا ہے۔

کیونکہ اس کی عقلی صلاحیتیں عوام سے بہر آئینہ زیادہ ہوتی ہیں۔ تعلق باللہ اور معرفت الٰہی کے نقطہ نظر سے بھی اس کا مقام اونچا ہے۔ اس پر بھی اگر یہ غلطی کر سکتا ہے تو عوام اس سے اچھے رہے کہ کم صلاحیتوں کے باوجود بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس سے قطع نظر کہ ان دلائل کی منطقی حیثیت کیا ہے اور کیونکر علامہ حلی نے ایک سنجیدہ دینی عقیدے کی بنیاد خطابیات پر رکھی ہے۔ سردست اس پر غور فرمائیے کہ امام کا حضرات امامیہ کے نزدیک معصوم ہونا ضروری ہے۔

حقیقت غور طلب یہ ہے کہ معصوم امام مفترض الطاعۃ بھی ہوتا ہے۔ اب اگر تین باتوں کو باہم ملائیے گا تو نتیجہ میں جو شے سامنے آئے گی وہ یہ ہے کہ نبوت کے ساتھ ساتھ حضرات شیعہ کے نزدیک ایک بالکل متوازی نظام امامت کا بھی جاری ہے۔ یعنی جس طرح انبیاء کی بعثت ضروری ہے۔ اسی طرح آئمہ کا نصب ضروری ہے۔ جس طرح انبیاء فکر و عمل کے اعتبار سے معصوم ہوتے ہیں۔ اسی طرح آئمہ اطہار کا دامن ہر طرح کی ذہنی و عملی لغزش سے پاک ہوتا ہے۔ پھر جس طرح انبیاء کو ماننا، ان پر ایمان لانا اور ان کے فیصلوں کے سامنے اطاعت کے لئے گردن جھکانا فرض ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ حضرات آئمہ کی اطاعت کی جائے اور ان کے فیصلوں کے سامنے سر جھکایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ نبوت اور امامت میں بعض صفات کی کمی بیشی مابہ الامتیاز ہو۔ مگر جہاں تک نبوت کے اس تصور کا تعلق ہے جو ہر آدمی کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس کے یہ تین ہی بڑے بڑے اجزاء ہو سکتے ہیں۔ بعثت و نصب کا وجوب، عصمت کا ہونا اور اطاعت و انقیاد کی فرضیت۔ یعنی اللہ نے اسے بھیجا ہو عملی زندگی پاک اور نمونے کی ہو اور اس کی اطاعت انسان پر فرض ہو اور ان تینوں باتوں میں امامت و نبوت میں اشتراک ہے۔ اب اگر ایک گروہ یہ مانتا ہے کہ ختم نبوت سے صرف اتنا ہی ہو پایا ہے کہ لفظ نبوت کا اطلاق کسی دوسرے شخص پر نہیں ہو سکے گا۔ لیکن آنحضرتؐ کے بعد ایک دوسرے نام سے رشد و ہدایت کا یہی سلسلہ جاری رہیگا اور اس کا ماننا اور تسلیم کرنا ہمارے لئے اتنا ہی ضروری ہو۔ جتنا سلسلۂ نبوت کا تو واقعہ و عمل کے اعتبار سے اجرائے

٦٠

صفحہ ٣١٩

نبوت اور اجرائے امامت میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ایک شخص توحید کے یہ معنی لیتا ہے کہ کسی شخص پر لفظ اللہ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ کسی کو رب اور پروردگار نہیں کہہ سکتے۔ لیکن عملاً ایسے مرکزوں سے اس کی عقیدت و محبت برابر وابستہ ہے۔ جو اختیارات کے اعتبار سے کسی طرح بھی اللہ سے کم نہیں تو کیا آپ اسے توحید ہی قرار دیں گے اور شرک نہیں سمجھیں گے۔ جس طرح توحید کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ غیر اللہ کے سامنے جھکنا تو جائز نہیں۔ سجدہ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہ سمجھا جائے اور ضروریات اور مشکلات کے وقت اس کو پکارنے اور اس سے استمداد واعانت چاہنے میں بھی کوئی گناہ نہ متصور ہو۔ صرف اتنی احتیاط البتہ ملحوظ خاطر رہے کہ اس غیر اللہ کو اللہ کے نام سے متصف نہ کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح سے ختم نبوت کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ آنحضرتؐ کے بعد بھی اطاعت وانقیاد کے چور دروازے کھلے ہیں۔ یعنی اب بھی انسان مجبور ہے کہ مستقلاً ایک سلسلہ رشد و ہدایت مانے اور اپنی عقیدت و محبت کا اسے مدار اور محور قرار دے۔ ہاں ختم نبوت کے اعتراض سے بچنے کے لئے اس نوع کے سلسلہ کو جو باعتبار واقعہ قطعی نبوت کے مترادف ہے نبوت کا سلسلہ نہ ٹھہرائے۔ بلکہ اس پر امامت کی چھاپ لگائے۔

امامت و نبوت میں جو فرق حضرات شیعہ کے یہاں ہے۔ وہ نام اور چھاپ کا تو ضرور ہے۔ حقیقت و معنی کا ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبوت ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے اور ایک مثبت معنی سے تعبیر ہے وہ حقیقت و معنی سوا اطاعت مفروضہ اور بلا شرط وانقیاد کے اور کوئی چیز نہیں۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت خاتم النبیین ہیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ آپؐ کے بعد اب کوئی شخص ایسا نہیں جس جس کی اطاعت ہم پر فرض ہو جس کا ماننا ضروری ہو اور جو ہمارے لئے اسوہ و نمونہ قرار پاسکے۔ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے اطاعت وعقیدت کا ایک مرکز ہمارے لئے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ بجز آنحضرتؐ کی اطاعت وانقیاد کے اور تمام دروازوں کو امت محمدیہ پر بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی نبوت کے جن کواڑوں کو بند کیا گیا ہے وہ صرف نام اور چھاپ کے کواڑ نہیں۔ حقیقت ومعنی کے کواڑ ہیں۔

کوئی انسان معصوم نہیں ہو سکتا

اسلامی نقطہ نظر سے بجز انبیاء علیہم السلام کے ہر ہر شخص گناہ و معصیت کی دلاویزیوں پر ریجھ سکتا ہے۔ کچھ تو اس لئے کہ اسے عقل و خرد کی جو حقیر پونجی دی گئی ہے وہ گناہوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیتوں سے یک قلم محروم ہے اور کچھ اس لئے کہ الہام و وحی کی روشنی کے بغیر خود عقل نامکمل اور ناقص ہے۔ نفسیات کے جدید ترین انکشافات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان اپنے

٦١

صفحہ ٣٢٠

اعمال اور زندگی کے ظہورات میں اتنا معقول پسند نہیں ہے جتنا کہ نفس کی تحریکات کے مقابلہ میں مجبور ہے۔ یعنی یہ جو چار دانگ عالم میں اس کی منطق آرائی اور فلسفہ دانی کے ڈھنڈورے پٹ رہے تھے۔ اس کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ خارجی دنیا میں اس کے اقتدار وسطوت کا چاہے کتنا چرچا ہو اور وہ صحیح بھی ہو۔ باطن کی ابھری ہوئی اور فعال خواہشات سے عہدہ برآ ہونے کی تو اس میں مطلق سکت نہیں۔ کیونکہ عقل وخرد کا مزاج ہی ایسا ہے کہ یہ اپنے اندر فعال رہنمائی کی صلاحیتیں بالکل نہیں رکھتی۔ اس کے کام کا ڈھنگ اس طرح کا ہے کہ یہ صرف نیک وبد کے فرق کو ایک مرتبہ سمجھا دیتی ہے۔ عملی زندگی سے یہ تعرض نہیں کرتی اور آخر آخر میں تو ترغیبات کے مقابلہ میں یہ اتنی مغلوب ہو جاتی ہے کہ اس کا کام فقیہہ شہر کی طرح صرف یہ رہ جاتا ہے کہ جب ایک برائی ہو چکے تو یہ اس پر جواز کی مہر ثبت کر دے۔ البتہ نبوت کی عقل ایسی ہوتی ہے جس میں حقانیت کی جھلک ہے اور جو گناہوں سے نپٹنے کی پوری پوری صلاحیت اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو یہ منظور ہے کہ کائنات انسانی کے لئے کچھ اسوہ ونمونہ کی روشن سطحیں کروٹ نہ لیں اور پھر اس عقل فعال و پاک میں بھی بشریت کی اتنی رعایت موجود ہے کہ اجتہاد وفکر کی لغزشوں کا برابر امکان موجود رہے۔ و بنی آدم۔

اول الناس اول ناس

لہٰذا کسی انسان کو جب کہ اس کا مزاج بشری یہی ہے معصوم ٹھہرانا قطعی غیر عقلی اور غیر اسلامی ہے۔ انبیاء کے باب میں عصمت کا ماننا تو اس لئے درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اہتمام فرمایا ہے کہ انہیں فکر وعمل کی کسی لغزش پر قائم نہ رہنے دیا جائے۔ لیکن ائمہ کے باب میں اس ڈھنگ کے اہتمام کا کہیں ذکر نہیں۔

مذہب کا مطالبہ

انسانی فطرت کی اسی کمزوری کے پیش نظر کہ یہ ترغیبات نفس کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے گناہوں کے معاملہ میں کلی احتراز کا مکلف نہیں گردانا۔ یعنی اس سے مذہب کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ اس سے کبھی گناہ کا صدور نہ ہو یا کبھی اس کے ذہن وفکر میں لغزش کروٹ نہ بدلے۔ بلکہ صرف اور صرف اس قدر ہے کہ یہ حتی المقدور پاکبازی ونیکی کے معیاروں کو قائم رکھنے کی سعی کرے اور اس پر بھی اگر گناہ ومعصیت کی جاذبیتیں اسے بہکا ہی دیں تو فوراً متنبہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے آگے بخشش کے لئے دعا وطلب کے ہاتھ پھیلا دے۔ ”واما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله انه هو السميع

٦٢

العلیم“ اور اگر سننے والا اور تمہاری فطر عصمت آئمہ کا عق ان حالات لئے کتاب اللہ وسنت اس کا جواب معلوم کر نے اس عقیدہ کے لی غیر سیاسی تھی۔ حضرت آنحضرت ﷺ کے بع مزاج شورائی ہے۔ ”وشاو اس لئے نے اپنی رائے پر اصرا تعبیر وہ ہے جو ان کے حضرت علی اختیار کیا۔ اب تک ر حضرت علیؓ اور ان ۔ طرح روزے رکھتے عامۃ المسلمین کے اس وجہ سے بہت زیادہ بڑ شیعیت اسلام ۔ تاریخ ک اور یہ طے کیا گیا کہ ا اختلاف کو اپنایا جائے ڈھالا جائے کہ بظاہ میں باقی نہ رہے۔ ی

صفحہ ٣٢١

العلیم ”اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی تحریک تمہیں محسوس ہو تو اللہ سے پناہ مانگو۔ وہ یقیناً سننے والا اور تمہاری فطری کمزوریوں کو جاننے والا ہے۔ ﴾

عصمت آئمہ کا عقیدہ کیونکر پیدا ہوا

ان حالات میں عصمت ائمہ کا عقیدہ حضرات شیعہ میں کیونکر پیدا ہوا۔ جب کہ اس کے لئے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ میں کوئی نص موجود نہیں اور جب کہ یہ عقیدہ خلاف عقل بھی ہے۔ اس کا جواب معلوم کرنے کے لئے اوّلاً اس تاریخی پس منظر اور بیک گراؤنڈ پر غور کرنا چاہئے۔ جس نے اس عقیدہ کے لئے راہیں ہموار کیں۔ یہ ظاہر ہے خلافت راشدہ تک شیعی اختلاف کی نوعیت غیر سیاسی تھی۔ حضرت علیؓ دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے تھے کہ بر بنائے قرابت داری، خلافت کا حق آنحضرت ﷺ کے بعد انہیں کو پہنچتا ہے۔ دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کا مزاج شورائی ہے۔

”وشاورهم فی الامر“ ﴿اور آپ معاملات میں مشورہ کر لیا کیجئے۔﴾

اس لئے خلیفہ وہ قرار پائے گا۔ جس پر صحابہؓ کی معتد بہ جماعت جمع ہوگی۔ حضرت علیؓ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا۔ کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ یہ محض ایک تعبیر ہے اور اس کی دوسری تعبیر وہ ہے جو ان کے علاوہ جلیل القدر صحابہؓ نے اختیار کی۔

حضرت علیؓ کے بعد بنی امیہ کے دور میں اس سیاسی اختلاف نے بالکل دوسرا ڈھنگ اختیار کیا۔ اب تک روزمرہ کی عملی زندگی پر اس اختلاف کی کوئی پرچھائیں نہ پڑی تھیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ اور ان کے اتباع اسی انداز سے نمازیں پڑھتے تھے۔ جس طرح دوسرے صحابہؓ، اسی طرح روزے رکھتے تھے۔ جس طرح دیگر صحابہؓ۔ یعنی زندگی کے تمام ظہورات میں ان کا اسلام عامۃ المسلمین کے اسلام سے کسی طرح مختلف نہیں تھا۔ مگر جب یہ تلخیاں بنو امیہ کی بیہودگیوں کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھیں تو شیعیت میں بھی ردّ عمل کے طور پر شدید عصبیت پیدا ہوئی۔

شیعیت اسلام کے خلاف ایک سازش کا نام ہے

تاریخ کے اس موڑ پر ایران کی مغلوب مجوسیت اور کچلی ہوئی یہودیت میں سازش ہوئی اور یہ طے کیا گیا کہ اسلام سے اس کے غلبہ و تفوق کا انتقام لینا اس طرح ممکن ہے کہ آپس کے اس اختلاف کو اپنایا جائے۔ اس میں اپنا مخصوص عقیدہ اور روح داخل کی جائے اور اس کو ایسی شکل میں ڈھالا جائے کہ بظاہر یہ اسلام کا ایک فرقہ ہی رہے۔ مگر اسلام کی کوئی ادا اور اسلام کا کوئی حسن اس میں باقی نہ رہے۔ یعنی اس کے عقیدوں کے محور یک قلم بدل دیئے جائیں۔ اس میں اطاعت

٦٣

صفحہ ٣٢٢

محبت کی سمتیں بھی از سر نو متعین ہوں اور ایک ایسا متوازی نظام تجویز کیا جائے جو بتدریج اثرات و نتائج کے اعتبار سے اسلام کا حریف اور مد مقابل ثابت ہو سکے۔

ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ یہ سازش کامیاب رہی۔ اسلامی تاریخ کا معمولی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں پر جو جو آفتیں آئیں۔ ان کی تہ میں یہی تصور کارفرما تھا جس کو مجوسیت اور یہودیت نے پیدا کیا۔ اس سازشی گروہ کے سامنے دشواری یہ تھی کہ اگر یہ اسلام کے اسی ڈھانچے کو قائم رہنے دیتے جس کو آنحضرتﷺ نے پیش کیا اور عقیدت و محبت کے دائروں کو نبوت تک محدود رکھتے اور ماتھوں کو دوسرے آستانوں پر نہیں جھکاتے تو اس سے یہ خدشہ لاحق تھا کہ مخالفت و عناد کی وہ فضا بگڑ جائے گی جس کی تلخیوں میں عمداً اضافہ کیا گیا۔ اس لئے نبوت کے مقابلہ میں امامت کو لامحالہ لانا پڑا۔ آپ اگر شیعہ کتب و روایات کا مطالعہ کریں گے تو ایک چیز جو آپ کی توجہ کو اس طرف موڑے گی وہ یہ ہوگی کہ یہاں خدا اور رسول کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جو آئمہ کو ہے۔ یہاں فضائل و مناقب اور معجزات و کرامات اور اختیارات و علوم کی فراوانیاں کچھ اس طرح کی ہی ہیں۔ نبوت و رسالت کی لو تو بہر آئینہ دبتی ہوئی نظر آئے گی اور یوں معلوم ہوگا کہ امام حسینؓ اور آئمہ اہل بیت کے مقابلہ میں معاذ اللہ! یہ دوسرے درجے پر ہیں۔ اس لٹریچر کا اثر ہے کہ ایک شیعہ نفسیاتی طور پر مجبور ہے کہ وہ محبت و وابستگی اور لگاؤ اور تعلق خاطر کی ہر ہر کیفیت کو صرف آئمہ اہل بیت تک محصور رکھے اور اس حقیقت کو نہ سمجھے کہ اصل میں مقصود بالذات تو اسلام ہے اور یہ وہ کسوٹی اور معیار ہے جس کی نسبت سے فضائل و مناقب کی قدریں متعین ہوتی ہیں۔ یعنی اسلام میں اطاعت و عقیدت کے لئے ایک اصول متعین ہے جس کی رعایت بہر آئینہ ضروری ہے۔

فرق مراتب

یہ اصول فرق مراتب کا ہے۔ اس میں جو شئے محبت و عقیدت کے لائق ہے وہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات بے ہمتا ہے۔ ”والذین اٰمنوا اشد حباً للہ“ ﴿اور وہ لوگ جو مومن ہیں وہ اللہ کو زیادہ چاہتے ہیں۔﴾

پھر دوسرے درجہ پر محبت و عقیدت کا محور آنحضرتﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے۔ ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“ ﴿اے رسول کہہ دو کہ اگر تمہیں واقعی اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی اختیار کرو۔ اس پر خود اللہ تمہیں چاہنے لگے گا۔﴾

تیسرے درجہ پر صحابہؓ اور آئمہ اہل بیتؓ ہیں۔ جن میں پھر ایک ترتیب ہے۔

٦٤

صفحہ ٣٢٣

”والسّٰبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ “ اور مہاجرین وانصار میں سے جن لوگوں نے سبقت کی اور وہ لوگ جو ان کے بعد خلوص دل سے داخل ایمان ہوئے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔﴿

غرض یہ ہے کہ جب عصبیت وسازش نے مل کر ایک نیا روپ دھارا تو ضرورت محسوس ہوئی کہ عقیدت ومحبت کی موجودہ سمتوں کو بدلا جائے۔ کیونکہ اگر محبتوں کے باب میں توازن اور فرق مراتب کا یہ انداز قائم رہتا ہے تو پھر یہ سازش کامیاب نہیں رہتی اور اس اختلاف کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں رہتی جو صحابہؓ سے ہے۔ کیونکہ یہی تو دین کے حامل وسرچشمہ اور مبلغ ہیں۔ انہیں کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا ہے۔

عصمت آئمہ کے عقیدے کو ماننے کی ضرورت یوں بھی محسوس ہوئی ہے کہ شیعہ حضرات چونکہ اصولاً ان ذرائع ہی کے قائل نہیں جن سے احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہم تک منتقل ہوا۔ مزید برآں ان کے ہاں ہمیشہ سیاسی خلفشار میں رہنے کی وجہ سے کوئی سلسلہ روایت مرتب نہ ہو سکا جو آنحضرت تک پھیلا ہوا ہو اور جس کی ایک ایک کڑی نقادان فن کے سامنے ہو۔ اس لئے مرویات کے اس نقص کو چھپانے اور جرح ونقد کے تیز کانٹوں سے بچنے کے لئے عصمت آئمہ کا ایک عقیدہ گھڑا گیا۔ تاکہ جب بات ان کی طرف منسوب ہو جائے تو اس پر کوئی رائے زنی نہ ہو سکے اور چپ چاپ اسے مان ہی لیا جائے۔

ختم نبوت ایک مثبت عقیدہ ہے

غرض جہاں تک ختم نبوت کے حدود کا تعلق ہے اس میں یہی چیز داخل نہیں کہ آپ آنحضرت کے بعد کسی نبوت کے قائل ہیں یا نہیں۔ یہ شے بھی داخل ہے کہ عقیدت ومحبت کے نئے نئے محور اب تلاش نہیں کئے جائیں گے اور قیامت تک کے لئے یہ کافی ہوگا کہ کتاب وسنت کی روشنی سے استفادہ کیا جائے گا۔ اب کسی کی ذات کا ماننا یا نہ ماننا کفر واسلام اور ہدایت وگمراہی کا معیار نہ بن سکے گا اور کوئی شخص بھی اس موقف پر فائز نہیں ہوگا کہ اس کی وجہ سے ہدایت رہنمائی کی سمتیں بدل جائیں اور کوئی عصبیت اور گروہ بندی جائز نہ ہوگی جس سے کتاب وسنت کا مرتبہ ثانوی ہو جائے۔

ختم نبوت ایک مثبت اور ایجابی عقیدہ ہے اور ایک طرح کا پیرایہ بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی والہام کا وہ انداز جو اطاعت وتعبد کا مقتضی ہے تکمیل تک پہنچ چکا اور ہدایت

٦٥

صفحہ ٣٢٤

کے تمام مضمرات نکھر کر نگاہ اعتبار کے سامنے آچکے۔ اب یہ کسی جماعت کے لئے روا نہیں کہ ان سے ہٹ کر عقیدت و محبت اور اطاعت و فرمانبرداری کے اور صنم خانے تعمیر کرے۔ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دینی اقدار کو معین کر دیا گیا اور واشگاف طور پر بتا دیا گیا کہ توحید میں کن کن نزاکتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ عبادات کی کیا کیا شرائط اور تفصیلات ہیں۔ معاشرت اور تدبیر منزل کے کیا کیا اصول ہیں اور سیاسی و اقتصادی رجحانات کو کن کن سانچوں میں ڈھالنا چاہئے ۔ جب یہ سب کچھ ہو چکا تو ہمیں بتایا جائے کہ اجرائے نبوت سے کیا مقصود ہے؟۔ اب اگر کوئی صاحب نبوت و عصمت کا لبادہ اوڑھ کر جلوہ گر ہو ہی جائیں تو ہمیں کن نئے مسائل کی تلقین کریں گے۔ جن کو اب تک ہم نے نہیں سنا اور کن جدید حقائق کی طرف توجہ دلائیں گے جن سے ہماری اپنی بصیرت آشنا نہیں ہوئی۔ اگر واقعہ یہ ہے کہ کوئی کیفیت منتظرہ باقی نہیں رہی اور اسلام نے ہر ہر شے کی پوری پوری وضاحت کر دی ہے تو دنیا و عقبیٰ کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے یہ کافی ہے۔

دراصل یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اس وقت مسلمانوں کے سامنے اشکال کیا ہے؟۔ اشکال یہ نہیں کہ حضرت مسیح کی وفات ہو چکی یا وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ اشکال یہ بھی نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی امکان ہے یا نہیں۔ اشکال یہ ہے کہ اسلام نے جن اصولوں کی وضاحت کی ہے اور زندگی کی عملی گتھیوں کو جس انداز سے سلجھایا ہے اس وقت ان اصولوں کو کیونکر رائج کیا جائے اور اس انداز کو کس طرح اپنایا جائے۔

اگر نئی نبوت ہماری مشکلات کا حل ہوتی یا عصمت آئمہ کا عقیدہ ہمیں ادبار و تسفل کے دائروں سے نکال سکتا تو آج ہم یقیناً زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیابی سے تگ و تاز کر سکتے۔ مگر آپ نے دیکھ لیا کہ اس ڈھنگ کے مزخرفات سے ہمیں نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ الٹا نقصان پہنچا ہے۔ اس لئے آؤ ان سب کو چھوڑ کر کتاب وسنت ہی کو آزمائیں اور اپنی توجہ کو دوسری تمام سمتوں سے ہٹا کر اسی ایک سمت پر مرکوز کر دیں اور اس کے بعد بھی اگر ہم کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں۔ پھر بلاشبہ کسی نئی روشنی کی طرف دوڑنا اور کسی نئی حکمت کی پیروی کرنا ہمارے لئے ضروری ہو جائے گا۔ لیکن اس وقت بھی مرزا قادیانی کا ظہور وادعاء افسوس ہے کہ نا قابل التفات ہوگا۔ کیونکہ ان کے عریض و وسیع لٹریچر میں عمل وسعی کے تقاضوں کا کوئی جواب مذکور نہیں۔ اس میں جو کچھ ہے اس کو ان تین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ دعاوی ، پیشگوئیاں اور ان کو حق بجانب ثابت کرنے کی ناکام کوشش اور بس۔

٦٦

صفحہ ٣٢٥

کیا قادیانی ایک الگ قوم ہیں

ایک علمی بحث

فرقہ یا اقلیت

یہ مسئلہ خالص دستوری و آئینی ہے کہ آئندہ قانونی چوکھٹے میں مرزائیوں کی کیا حیثیت ہو؟۔ انہیں مسلمانوں کا ایک گمراہ فرقہ، ایک برخود غلط شاخ اور جادۂ حق وصداقت سے ہٹی ہوئی ایک جماعت قرار دیا جائے یا مستقل قوم۔ الگ مذہب اور مخصوص اقلیت سمجھا جائے؟۔

ختم نبوت کے ضمن میں ہم نے عرض کیا تھا کہ جہاں تک اسلامی نقطۂ نظر کا تعلق ہے ختم نبوت بنیادی مسئلہ ہے اور اس میں قطعاً اتنی لچک نہیں ہے کہ مرزائی علم الکلام کی تاویلات فاسدہ کا متحمل ہو سکے۔

کیونکہ تاویلات کے لئے کچھ علمی شرائط ہیں۔ ادب ونحو کی پابندیاں ہیں اور اسلامی ذہن کے ساتھ سازگاری کی ایسی قیود ہیں جن کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو قادیانی تحریفات کے لئے کوئی وجہ جواز باقی نہیں رہتی۔

تاویلات کے مختلف مدارج

ہم نے اس تنقیح کو بھی واضح کیا تھا کہ ختم نبوت کے معاملہ میں قادیانی برتاؤ کو تاویل قرار دینا اس اعتبار سے تو صحیح ہے کہ اصطلاح میں بہرآئینہ اسے تاویل ہی ٹھہرایا جائے گا۔ لیکن اگر تاویل کے مختلف مدارج ہیں اور ہر درجہ اپنا الگ حکم رکھتا ہے تو پھر یہ جس درجہ کی تاویل ہے اس کے ڈانڈے معانی کے اعتبار سے طے ہوئے ہیں۔

قوم کسے کہتے ہیں

ہم نے اس نکتہ کی بھی تشریح کی تھی کہ جب ایک گروہ عملاً معاشرہ میں اپنی جداگانہ حیثیت قائم کر لیتا ہے۔ اپنی عصبیت اور تعلقات وابستگی کے اعتبار سے کچھ نئے مرکزوں کو اپنا لیتا ہے تو وہ ایک الگ قوم ہی رہے گا۔ اگرچہ بعض چیزوں میں یا اکثر چیزوں میں وہ دوسروں سے اشتراک رکھتا ہو۔ کیونکہ قومیت کی صحیح صحیح تعریف یہی ہے کہ ہر وہ رشتہ جو آپ میں عصبیت کی لہروں کو تیز کر دیتا ہے۔ عقیدت کی سمتوں کو بدلتا ہے اور آپ میں دوسروں سے مختلف نوع کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے۔ قومیت سے تعبیر ہے۔ اس کسوٹی پر قادیانی حضرات کو پرکھئے۔ ان کی

٦٧

صفحہ ٣٢٦

نمازیں الگ ہیں۔ مساجد جدا گانہ ہیں اور معاشرتی اعتبار سے اتنی بیگانگی ہے کہ کوئی قادیانی عام مسلمانوں سے رشتہ ناطہ جائز نہیں سمجھتا۔

جذبات کا اختلاف

پھر جذبات کے لحاظ سے بھی اتنی دوئی کہ آپ جن باتوں سے خوش ہوتے ہیں وہ ان کے لئے مطلق خوشی کا سبب نہیں ہوسکتیں۔ مثلاً آپ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں خالص اسلامی نظام رائج ہو۔ مگر قادیانی اخبارات نے ہمیشہ اس رائے کی مخالفت کی۔ آپ کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کی جو لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ اب یہ قائم رہے۔ بلکہ زیادہ گہری اور مضبوط ہوتی جائے۔ مگر قادیانی اس خواہش کے اظہار میں قدرتاً مخلص نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک تو ان کا قادیان ہندوستان میں رہ گیا ہے۔ دوسرے اس تقسیم سے آدھی جماعت ”خلیفۃ المسلمین“ کی ہدایات و فیوض سے محروم ہو گئی ہے۔ لہٰذا جب عقیدہ اور جذبات کے اعتبار سے وہ بالکل دوسری طرح کے محسوسات رکھتے ہیں تو پھر خالص سیاسی نقطہ نظر سے انہیں کیوں الگ قوم نہ کہا جائے۔

یہ مناظرانہ اپچ نہیں

ہم صرف اس نکتے کی اور وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ عام قادیانی حضرات ہماری اس رائے کو محض مناظرانہ اپچ قرار دیں اور بظاہر مخالفت کریں۔ مگر ان کے خواص جانتے ہیں کہ یہی وہ مطالبہ ہے جس کو منوانے کے لئے خود ظفر اللہ نے زور دیا اور ہندوستانی نمائندہ سر سیتلواد سے یہ کہا کہ ہندوستان میں قادیانیوں کو ایک اہم اقلیت قرار دیا جائے۔ اگر عام قادیانی سوچیں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ اس میں انہیں کا فائدہ ہے۔ وہ ایک مرتبہ اس پوزیشن کو مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ ان سے پاکستان میں وہی برتاؤ ہونے لگے گا جو دوسری اقلیتوں سے ہوتا ہے اور اگر وہ فرقہ کی حیثیت سے ان حقوق و مفادات پر قابض ہونا چاہیں گے جو عام مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے خلاف تلخیاں زیادہ تیزی سے ابھریں گی اور یہ کبھی بھی کسی حلقہ سے انتخاب جیت نہیں سکیں گے۔

چوہدری ظفر اللہ کا عارضی اقتدار

چوہدری ظفر اللہ کے موجودہ اثر و رسوخ سے الگ ہو کر انہیں سوچنا چاہئے کہ ان کا حقیقی فائدہ کس بات میں مضمر ہے۔ کیونکہ جلد یا بدیر چوہدری ظفر اللہ کا یہ اثر ہر آئینہ ان سے چھننے والا

٦٨

صفحہ ٣٢٧

ہے ۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بڑی سے بڑی ملازمتیں بھی کسی گروہ کے لئے کوئی تحفظ نہیں ہوتیں۔ حقیقی تحفظ یہ ہے کہ پاکستان کے دستور میں ان کے لئے مخصوص اقلیت کی حیثیت سے جگہ ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تجویز ان کے حق میں اتنی ہی مفید ہے تو ہم اس کی کیوں تائید کر رہے ہیں؟ جواب یہ کہ دو وجہ سے ایک تو یہ کہ جب یہ ہم سے الگ ایک گروہ ہیں ۔ دینی اور ذہنی اعتبار سے ان کا راستہ ہم سے جدا ہے تو کیوں دستور کے لحاظ سے یہ ہم سے الگ نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ عالم اسلامی چونکہ ان کے تفصیلی عقائد سے آگاہ نہیں۔ اس لئے فرقے کی حیثیت سے انہیں موقع ملتا ہے کہ ان کو گمراہ کریں اور اپنے غلط پراپیگنڈے سے ان کے عقیدوں کو متاثر کریں ۔ چنانچہ دنیائے اسلام میں یہ ہمیشہ اس روپ سے متعارف ہوتے ہیں کہ ہم ایک تبلیغی جماعت ہیں اور اسلام کی سربلندی اور استحکام کے لئے کوشاں ہیں۔ حالانکہ مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ مرزائیت کی اشاعت ہو ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تلبیس و فریب کاری کے اس فتنہ کا انسداد ہو ۔ عالم اسلامی کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ پاکستان میں ان کی آئینی حیثیت کیا ہے؟ تو پھر وہ ان کے دام میں نہیں پھنسیں گے ۔ ہم اس شے کے لئے تیار ہیں کہ انہیں ایک اقلیت سمجھیں اور ان سے اس طرح کا برتاؤ کریں جس طرح اقلیت سے کرنا چاہئے ۔ لیکن ہم اس پر بھی آمادہ نہیں ہیں کہ انہیں اسلام کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔

آئندہ دستور میں مرزائیوں کی جگہ

یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے کہ مرزائیت کا مقام اسلامی فرقوں میں کیا ہو؟ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک صحبت میں ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا کہ انہیں بہر آئینہ مؤولین ہی میں شمار کرنا چاہئے ۔ اب جب کہ پاکستان نے ایک نئی سیاسی کروٹ لی ہے تو اس میں خواہ کوئی نظام حکومت چلے ۔ اتنا تو ہوگا ہی کہ دستور میں ان کی حیثیت کو متعین کیا جائے اور اس حیثیت کے مطابق ان کے حقوق کی وضاحت ہو ۔

ہمیں مولانا ابوالکلام آزاد کی رائے سے اتفاق نہیں ہے کہ تاویل کے ہر ہر مرتبہ کا ایک ہی حکم ہو ۔ تاویل کی اصطلاح میں اتنی لچک نہ ہونا چاہئے کہ اسلامی مزاج و نصوص کی صریحاً مخالفت کے باوجود کوئی گروہ اسلام کے دائرے سے نہ نکل سکے ۔ اگر تاویل کے مراتب مختلفہ کا لحاظ کئے بغیر اس کی ہر ہر صورت کو جائز گوارا کیا گیا تو پھر انکار و ارتداد کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی ۔ فرض کیجئے ایک شخص غیر اللہ کی پوجا کرتا ہے اور اس شرک خالص کے لئے اس سے استدلال کرتا ہے کہ خود اللہ

٦٩

صفحہ ٣٢٨

نے اپنے لئے جمع کے صیغوں کو اور جمع کے ضمائر کو استعمال کیا ہے۔ لہٰذا ضرور اسلام میں شرک کی گنجائش موجود ہے تو اسے جائز تاویل نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ”کونوا قردۃ خاسئین“ سے تناسخ پر استدلال کرتا ہے یا بہائیوں کی طرح آیات قیامت کی تاویل کرتا ہے تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس لئے قادیانیوں کے مذہبی موقف کو متعین کرنے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ قطع نظر اس کے وہ اجراء نبوت تک استدلال کے کن پر پیچ راستوں سے پہنچتے ہیں۔ خود ختم نبوت کا عقیدہ ہمارے ہاں کس نوعیت کا ہے۔ اگر نبوت اکمال واتمام کی ان منزلوں تک پہنچ چکی ہے کہ اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی۔ اگر آنحضرت ﷺ نے دین کے تمام مضمرات کو بیان فرمادیا ہے تو آپ کے بعد کسی نئے ڈھونگ کی نہ صرف یہ کہ ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔ بلکہ نئی نبوت کے ماننے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ جو دلی لگاؤ ہے اس میں فرق آتا ہے۔ کیونکہ جب نیا نبی آئے گا تو لامحالہ وہ نئے گروہ کی بنیاد رکھے گا۔ نئی عصبیتوں کو اجاگر کرے گا اور توجہات و وابستگی کے پرانے مرکزوں سے لوگوں کو ہٹا کر ان کا رخ اپنی طرف موڑے گا۔

لہٰذا قادیانیت کی یہ حیثیت ہرگز نہیں ہو سکتی کہ وہ کوئی فرقہ ہے یا اسلام کی کوئی شاخ ہے۔ بلکہ وہ ایک مذہب قرار پائے گا جس طرح یہودیت کے بعد عیسائیت ہے اور وہ یہودیت کا کوئی فرقہ نہیں۔ عیسائیت کے بعد اسلام ہے اور وہ عیسائیت کی شاخ نہیں۔ بلکہ مستقل دین ہے۔ جس نے منفرد عقائد و معاشرہ کی بنیاد رکھی۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیت اسلام کے بعد ایک مذہب ہے۔

صرف اشتراک عقائد سے بات نہیں بنے گی۔ کیونکہ بنیادی مسائل میں یہودیت عیسائیت سے الگ تعلیمات کا نام نہیں۔ اسی طرح عیسائیت اسلام سے مختلف نہیں۔ تاہم یہ الگ الگ مذہب ضرور ہیں۔ اسی طرح قادیانیت بھی اشتراک عقائد کے باوجود ایک الگ مذہب ہے۔

صرف ایک فرق البتہ ان مذاہب میں اور قادیانیت میں ہے اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح ، اللہ کے سچے نبی ہیں اور مرزا قادیانی جھوٹے۔ مگر اس میں نفس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ کہ نبی سچا ہو یا جھوٹا۔ بہرکیف جب وہ آنحضرت ﷺ کے بعد آ کر لوگوں سے اپنی نبوت منواتا ہے۔ اپنے گرد لوگوں کو جمع کرتا ہے اور مسلمانوں کے دینی مزاج کو بدلتا ہے تو لامحالہ وہ نئے مذہب کی بنیاد رکھتا ہے۔

٧٠

صفحہ ٣٢٩

ہماری رائے میں خود قادیانیوں کو اس بات پر اصرار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی ایک شاخ ہیں۔ کیونکہ وہ خود ایسا نہیں سمجھتے۔ یہی سبب ہے کہ وہ دیانتداری سے عام مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری کو ممنوع گردانتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ان کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ لہٰذا خود ان کے لئے یہی مناسب ہے کہ یہ ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان میں رہیں۔ اقلیت کی یہ رعایت بھی ان کے لئے بس ایک ناگزیر رعایت ہے جو حالات کی مجبوریوں سے دی گئی ہے۔ ورنہ خالص اسلامی طرز عمل تو وہی ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے مرتدین کے مقابلہ میں اختیار کیا۔ یہاں کی ریاست چونکہ مشترکہ جدوجہد کے اصول پر منصہ شہود پر آئی ہے۔ اس لئے قانون مجبور ہے کہ انہیں شہریت کے تمام حقوق بخشے اور ان کی حفاظت کرے۔

ہمارے نزدیک ایک تعلیم کی حیثیت سے قادیانیت کا موسم گزر گیا۔ اس کے پاس موجودہ پود کے لئے کوئی پیغام نہیں۔ اس دور کے لئے اس کے دامن میں کوئی شے نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ اتنا کھوکھلا مذہب کیونکر رائج ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد طبیعتوں میں ایک طرح کی مایوسی تھی۔ ایک طرف انگریز اور امریکہ کے پھیلائے ہوئے پادری اسلام پر حملہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف دیانند اسلام کے خلاف زہر اگل رہا تھا۔ مولانا محمد علی مونگیریؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور قاضی سلیمانؒ ان کے جواب میں سنجیدہ اور متین علمی لٹریچر کا انبار لگا رہے تھے۔ مگر اس میں وہ ادعاء نہ تھا۔ ہمیشہ مسلمانوں نے جس سے دھوکہ کھایا۔

مرزا قادیانی نے اس نفسیاتی ماحول سے فائدہ اٹھایا اور حامی اسلام کے روپ میں میدان مناظرہ میں کود پڑے اور پھر ادعاء و لاف زنی کے ایسے ایسے کرشمے دکھائے کہ یہ حضرات اس فن میں ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔

انگریز کے دست فتنہ پرور نے اس آگ کو ہوا دی۔ پھر کیا تھا انگریزوں کا یہ خودکاشتہ پودا دیکھتے دیکھتے شعلہ جوالہ بن گیا۔ اب وہ فضا جو مرزائیت کے لئے سازگار تھی باقی نہیں رہی۔ انگریز کی سرپرستی ختم ہو چکی ہے۔ پادریوں کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔ مباحثہ و مناظرہ کی بساط بھی الٹ چکی ہے اور چونکہ اس کے پاس کوئی پیغام نہیں۔ اس لئے یہ اب صرف چوہدری ظفر اللہ کے انجکشنوں پر زندہ ہے۔ لہٰذا ان سے کوئی بحث یا لڑائی نہیں اور نہ اب اس سے کچھ فائدہ ہی ہے۔ ہم ان کو جھوٹا مانتے ہوئے بھی یہ رعایت ان سے برتنا چاہتے ہیں کہ انہیں اقلیت کی حیثیت سے آئین و دستور میں جگہ دی جائے۔

٧١

صفحہ ٣٣٠

نبوت ورسالت کا ایک عام فہم معیار

انبیاء علیہم السلام کے آنے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وقت کے کچھ سوالات ہیں جو ابھر رہے ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جن کا زندگی کا چوکھٹا بنانے میں حصہ ہے۔ کچھ خیالات و افکار ہیں جو ذہنوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ انبیاء آ کر ان سوالات کے مقابلہ میں ایک متعین موقف اختیار کرتے ہیں۔ ان تقاضوں کے اعتبار سے اسلامی برتاؤ کی وضاحت کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ زندگی کے ان نظریات میں جو پھیل رہے ہیں اور پھیلائے جارہے ہیں۔ حق وصداقت کی مقدار کتنی ہے۔ وہ سچائیوں کو قبول کرتے ہیں اور ان سچائیوں میں ملے ہوئے جھوٹ کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ان سے پہلے پوری زندگی کا ایک نقشہ ہوتا ہے۔ جس پر لوگ عمل پیرا ہوتے ہیں اور ان کا فرض منصبی ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس پورے نقشہ کا جائزہ لیں۔ نقشہ کی ایک ایک تفصیل کو دیکھیں اور پھر اصلاح و ہدایت کا جو پروگرام پیش کریں۔ اس میں پوری زندگی کا پھیلاؤ ہو۔ وہ بتائیں کہ معتقدات میں کیا کیا خامیاں ہیں اور عمل میں کس کس انداز کی کوتاہیاں ہیں۔

یعنی اس وقت کی پوری تمدنی و معاشی زندگی پر حکیمانہ انداز سے نظر ڈالیں اور اس وقت کے تمام مضمرات و امکانات کو سامنے رکھ کر جس وقت وعصر کے وہ پیغمبر ہیں۔ ایک سچا تلا لائحہ عمل لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ اس میں وقت کے وہ تمام سوالات سمٹ کر اس طرح آجائیں کہ بحث و نظر کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہے۔

یہ واضح رہے کہ نبوت کے جمال جہاں آراء کی یہ صرف ایک جھلک ہے یا یوں کہئے کہ صرف ایک پہلو ہے نظر وفکر کا۔ ورنہ اس باب میں اور بھی کئی چیزیں کہنے کی ہیں جو آئندہ پیش آمدہ مناسبتوں کے مدنظر انشاء اللہ پیش کی جائے گی۔ جب یہ اصول طے ہوگیا کہ پیغمبر کی ژرف نگاہی وقت کے تقاضوں کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرتی اور باریک سے باریک مکنونات کو بھی ٹٹول لیتی ہے تو اب اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی الجھاؤ نہیں رہے گا کہ اس کی بعثت و تبلیغ سے خود زمانہ یا عصر کس حد تک متاثر ہوتا ہے اور یہ زمانہ یا عصر کیا شے ہے؟ آئیے اس سوال پر بھی لگے ہاتھوں غور کرلیں۔ زمانہ تعبیر ہے۔ ان قوتوں سے ان عوامل سے اور خیالات وافکار کی ان موجوں سے جو زندگی کی زنجیر بنانے میں حصہ لیتی ہیں۔ اس قدر جاننے کے بعد اب نبوت کے ردعمل کو معلوم کر لینا دشوار نہیں رہے گا کہ اس کی تعلیمات اس نہج کی ہونی چاہئیں کہ ان سے وقت کی تمام قوتیں لرزہ براندام ہوں۔ تمام عوامل خائف ہوں اور تصورات و نظریات کے تمام حلقے نئی شکل میں ڈھلنے

٧٢

صفحہ ٣٣١

کے لئے آمادہ۔ غرض یہ نہیں کہ ان میں کہ ہر ایک کو اپنی زندگی میں کامیابی بھی نصیب ہو اور وہ اس حد تک کامران و خوش بخت بھی ہو کہ بہر آئینہ ایک نمونے کا معاشرہ قائم کر کے دنیا سے رخصت ہو۔ بلکہ صرف یہ ہے کہ ان کے پیغام اور دعوت میں انقلاب آفرینی اور تعمیر و تطہیر کی پوری صلاحیتیں موجود ہوں۔

اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی اور ہے اس کو سمجھ لینے کے بعد نتائج خود بخود آپ کے ذہن میں آنا شروع ہو جائیں گے اور وہ ہے۔ حکومت، ریاست یا ہیئت حاکمہ یہ ہے زمانہ کا اولین مفہوم! یا نبوت کا حقیقی مخاطب! یا حریف۔ اس کی یہ کوشش رہتی ہے کہ خیالات وافکار اور رسم و رواج کے سانچے اس طرح ڈھلیں کہ جس سے اس کے اقتدار کو ٹھیس نہ لگے۔ لہٰذا نبوت کی زد میں سب سے پہلے وقت کی یہی حکمران قوتیں آتی ہیں۔ سب سے پہلے انہی ایوانوں میں ایک جھٹکا اور زلزلہ محسوس ہوتا ہے۔ یعنی عوام الناس سے بھی قبل نمرود دعوت ابراہیمی کے دور رس نتائج پر نظر ڈالتا ہے اور بنی اسرائیل اور قبطیوں سے بھی پیشتر خود فرعون اس کا دھڑکا دل میں پاتا ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد مسئلہ بڑی حد تک نکھر گیا ہے۔ اب یہ بتائیے کہ مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت سے وقت کے کن تقاضوں کا جواب ملا اور وقت کے کون کون سوال حل ہوئے اور انگریزی حکومت ان کی دعوت سے کس حد تک متاثر ہوئی۔ گورنمنٹ ہاؤس میں کیا غلغلہ ہوا اور بکنگھم پیلس میں کہاں کہاں شگافوں نے منہ کھولا۔ جواب میں اتنی مایوسی اور قنوط ہے کہ اسے جواب سے تعبیر کرنا ہی غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے سارے لٹریچر کو کھنگال ڈالنے کے بعد بھی دعوت یا پیغام کے قسم کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ وقت کے وہ سوالات جن پر ان کے معاصرین نے نہایت خوبی اور بلاغت سے بحثیں کی ہیں۔ ان کی مصنفات کے صفحات ان سے بالکل تہی ہیں۔ ان کی کتابوں سے یہ بالکل مترشح نہیں ہو پاتا کہ یہ کوئی سلجھا ہوا پروگرام لائے ہیں یا ان کی کوئی دعوت ہے یا موجودہ عصر کے تہذیبی وثقافتی رجحانات کے خلاف یہ اپنے مستقل بالذات خیالات رکھتے ہیں۔ یا اسلام ہی کی کوئی ایسی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں جو وقت کے شکوک وشبہات کا ازالہ کر سکے اور اسلامی موقف کو موجودہ نظریات کی روشنی میں زیادہ وضاحت سے بیان کر سکے۔

ان میں سے کسی چیز کو بھی مرزا قادیانی نے چھوا تک نہیں۔ تمام تصنیفات گھٹیا قسم کی مناظرانہ بحثوں سے معمور ہیں۔ جن میں نہ تنقید کا کوئی اصول مدنظر ہے، نہ صحت مند طرز نگارش کی کوئی جھلک اور حکومت کے سامنے تو انہوں نے یوں پوٹا ٹیک دیا ہے۔ جس پر آج پورا ٹوڈییسٹ بھی شرما جائے۔ اب اگر یہ نبوت ہے تو پھر ہمیں بتا دیجئے کہ ڈھونگ کسے کہتے ہیں؟

٧٣

صفحہ ٣٣٢

پیغمبر مناظر نہیں ہوتا، حکیم ہوتا ہے

جس طرح حاذق طبیب کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ مریض کی ایک ایک بیماری کو پہچانتا ہو اور پھر اسے یہ بھی معلوم ہو کہ ان بیماریوں میں زیادہ اہم اور توجہ طلب بیماری کون ہے؟ ٹھیک اسی طرح انبیاء کا ہاتھ قوم کی نبض پر ہوتا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ جسم وروح پر کن کن امراض کا حملہ ہے۔ پھر انہیں اس شے کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کن عوارض کا علاج پہلے ہونا چاہئے اور کون عوارض بعد میں توجہ طلب رہیں گے۔

پھر جس طرح اصلی شے تشخیص ہی نہیں اور بیماریوں کے مدارج مختلفہ کی پہچان ہی نہیں ۔ بلکہ معالجہ ہے۔ یعنی اچھا اور کامیاب طبیب وہی نہیں جو ایک نظر میں عوارض کی تہ تک پہنچ جائے۔ بلکہ وہ ہے جو اس انداز سے مریض کا علاج کرے۔ جو واقعی اس کے لئے صحت بخش اور مفید ہو۔ یہیں سے ایک طبیب اور حکیم کی راہیں جدا جدا ہوتی ہیں۔ طبیب صرف علائم ظاہری کو جانتا ہے۔ ادویہ اور ان کے خواص کی معرفت سے بہرہ مند ہے۔ اس سے زیادہ نہیں اور حکیم کی نظر مریض کی حالت نفسی پر بھی رہتی ہے۔ اسے اس کا بھی علم ہے کہ معالجہ کے مختلف ومتعدد طرق میں سے کون طریق ذہنی ونفسیاتی اعتبار سے زیادہ مفید رہے گا۔ کیونکہ ایک مریض طبیب سے جو بنیادی توقع رکھتا ہے وہ یہی ہوتی ہے کہ جسم سے پہلے اس کی روح کو چارہ سازی کی افادیت کا یقین ہو جائے اور بیماری نے پے بہ پے حملوں سے جن صلاحیتوں کو ختم کر دیا ہے وہ پھر لوٹ آئیں۔ علاج ومعالجہ اس کے بعد کی شئے ہے۔

اسی طرح ایک پیغمبر کی کامیابی یہی نہیں کہ وہ قومی جسم کے تمام عوارض سے آگاہ ہو۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا طریق علاج حکیمانہ ہو۔ اس میں یہ رعایت رکھی گئی ہو کہ نسخہ ایسا تجویز ہو کہ جس سے روح کی بالیدگی کا اہتمام سب سے پہلے ہو۔ علاج اس ڈھنگ سے ہو کہ ذہن کی تازگی اور قلب کی بشاشت سب سے پہلے پلٹ کر آئے۔ نبوت کا یہ عام پیمانہ ہے۔ جس کی تعیین کے لئے بہت بڑے علم کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ہر وہ شخص جو اس کے حدود سے تھوڑی سی واقفیت بھی رکھتا ہے اور اس کے مذاق سے آشنا ہے اس کو جانے گا۔

آئیے ! اس صدی کے قومی امراض کا جائزہ لیں اور پھر دیکھیں کہ بحیثیت مریض کے ہماری توقعات ایک پیغمبر سے کیا ہوسکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک سب سے بڑا عارضہ جس سے ہم دوچار ہوئے اور اب تک جس کے اثرات سے ذہن محفوظ نہیں ہیں۔ وہ مرعوبیت کا عارضہ ہے۔

٧٤

صفحہ ٣٣٤

انگریزی عہد اقتدار میں احساس کمتری کا ہم اس شدت سے شکار ہوئے کہ ہماری ہر بات سے ایک طرح کی بے چینی ٹپکنے لگی۔ سیاسیات سے لے کر مذہب تک میں معذرت طلبی کا عنصر غالب رہا۔ دین سے متعلق ہماری بڑی سے بڑی آرزو یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح مغربی خیالات و تصورات سے اس کی ہم آہنگی ثابت ہو جائے اور ہم دوسروں سے ببانگ دہل یہ کہہ سکیں کہ ہمارا مذہب بحمد اللہ عقل وفکر کی جدید کسوٹیوں پر پورا اترتا ہے۔ حالانکہ یہ نقطۂ نظر مذہب کی موت تھا۔ کیونکہ یہ تو اس وقت زندہ رہتا ہے جب اس کی حیثیت ایجابی اور جارحانہ ہو۔ جب یہ زمانہ کے اغلاط پر اہل زمانہ کو ٹوکے ، نظری وعملی گمراہیوں پر ڈانٹے اور خود اعتدال وعقل میں سمویا ہوا زندگی کا ایک ڈھب پیش کرے۔ ورنہ علم کلام کی لیپا پوتی اور نئے نئے تصورات حیات کی تائید و نصرت اس کی گرتی ہوئی دیواروں کو نہیں بچا سکتیں۔ مذہب جب تک آگے آگے رہتا ہے۔ زندہ رہتا ہے اور جہاں اس کی حیثیت ثانوی ہوئی ختم ہو گیا۔ یہ قائد بن کر دنیا میں آتا ہے اور اپنی قیادت سے عمر بھر دستبردار نہیں ہوتا۔ اس کی غیرت وخودداری تبع و اطاعت کی ذلتیں کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔

اس معذرت طلبی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی تصور صرف مناظرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یعنی اس میں وہ بھاری بھرکم پن طبعی سنجیدگی ، ایجابیت اور وقار نہیں رہتا۔ جو اس کی وہ خصوصیات ہیں جو کبھی جدا نہیں ہوتیں۔ بلکہ یہ صرف اکھاڑے کی ایک شے ہو کے رہ جاتا ہے اور ظاہر ہے مذہب اکھاڑے کا نام ہرگز نہیں ہے۔ یہ ایک پیغام سے تعبیر ہے جو حد درجہ سنجیدہ ہے۔ ایک دعوت کا نام ہے جس میں ایجاب واثبات کے کامیاب پہلو نمایاں ہیں۔ مذہب زندگی ہے۔ تہمت زندگی نہیں۔ لہٰذا ہمیں ایک مدعی نبوت سے جو توقع ہو سکتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ وہ مناظرہ بازی اور سستی کتب فروشی سے بالا تر ہو کر مذہب کے تصور کو اسی دلکشی سے پیش کرے۔ ایسی ایجابیت کے انداز میں دہرائے کہ مغربی علوم کی آمد آمد سے جو ایک طرح کی مرعوبیت ذہنوں پر طاری ہو گئی تھی۔ وہ دور ہو جائے اسلام کی تعبیر ایسے ڈھب سے لوگوں کے سامنے آئے۔ جس میں مناظرانہ چھچھور پن نہ ہو۔ بحث وجدل کی سطحیت نہ ہو۔ ایک پہلوان کی اکھاڑ پچھاڑ نہ ہو۔ بلکہ ایک حکیم کی سوجھ بوجھ ہو۔ ایک فلسفی کی متانت ہو اور پاکیزہ سیرت ہو۔ ایسا سلجھا ہوا عمل ہو اور عملی زندگی کا ایسا پیارا نمونہ ہو کہ جس کی ایک ایک ادا پر اس وقت کی نظریات حیات خود بخود نثار ہوں۔ ہمیں مناظرہ سے نفرت ہے۔ اس سے زیادہ غیر معقول غیر دینی اور غیر نفسیاتی حربہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کا مذاق عام اس وقت ہوتا ہے۔ جب کسی قوم سے سیرت کی محکمی اور دلائل کی شوکت رخصت ہو جاتی ہے۔ جب زندگی وعمل اور نمونہ و اسوہ کی جاذبیتیں جواب دے جاتی ہیں۔ یہ ایک طرح کی مذہبی سوفسطائیت ہے۔ جس

٧٥

صفحہ ٣٣٤

کے بطن سے صالح اور عمدہ منطق کبھی پیدا نہیں ہوتی۔ اس سے ظہور پذیر ہونے والی چیزیں کیا ہیں؟ جھگڑا، مناقشہ اور بدذوقی یا ایک طرح کا مراق۔ اب یہ فرمائیے! مرزا قادیانی کا سب سے بڑا تحفہ کیا ہے۔ جو انہوں نے ہمیں مرحمت فرمایا۔ یہی ”مناظرہ“ یعنی پوری قوم لال کتاب ہاتھ میں لئے ایک دنیا سے دست و گریباں ہے۔ حوالہ سے حوالہ اور ورق سے ورق ٹکرا رہا ہے۔ انبیاء کا ورثہ یقیناً یہ حقیر چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ وہ جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں۔ وہ ذہنوں کی بالیدگی ہوتی ہے۔ فکر کا سلجھاؤ ہوتا ہے اور عمل کی پاکیزگی۔ مناظرہ، معذرت طلبی اور بحث وجدل کی قیل و قال سے ان کی تبلیغی سطح کہیں بلند ہوتی ہے۔

اللہ کا معیار انتخاب

انبیاء کو چونکہ دنیا میں اس لئے بھیجا جاتا ہے۔ تاکہ اللہ کے پیغام کو اس کے ان بندوں تک پہنچادیں۔ جو فکر وعمل کی گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس لئے انہیں قول وعمل کی وہ تمام جاذبیتیں عطاء کی جاتی ہیں جو نفس دعوت کو مقبول ومحبوب ٹھہرانے کے لئے ضروری ہیں۔ انبیاء کا مبعوث ہونا اللہ کے انتخاب سے ہے۔ لہٰذا جب وہ کسی بندے کو چنے گا تو اس کا انتخاب کتنا صحیح اور کس درجہ بلند ہوگا۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ پہلے انبیاء کی تاریخ پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ انہیں روح ومعنی کی تمام خوبیوں سے نوازا گیا۔ قلب ودماغ کی ہر ہر صلاحیت سے بہرہ مند کیا گیا۔ سیرت وعمل کے ہر ہر ظہور سے مشرف فرمایا گیا اور اسوہ وکردار کی ایسی ایسی خصوصیتیں بخشی گئیں۔ جن سے ان کی محبوبیت ودلنوازی میں اور اضافہ ہو گیا۔ انبیاء کی محبوبیت ودلنوازی کی ان تمام اداؤں سے اس مقدار کے ساتھ اس لئے آراستہ کر کے بھیجا جاتا ہے تاکہ کشش وجذب کی یہ کیفیتیں عوام کو ان کا گرویدہ بنادیں اور یہ اللہ کے پیغام کو زیادہ کامیابی کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں اتار دیں۔ یوں تو نبوت کے بے شمار فیوض اور ظہورات ہیں۔ لیکن ایک فیض یا ظہور ایسا ہے جس کا نبوت سے بڑا قریبی تعلق ہے اور وہ ہے حسن بیان، گفتگو اور اظہار مدعا کا صحیح مذاق، تحریر وادب کی سحر طراز چاشنی یا فصاحت وبلاغت کی معجزانہ صلاحیتیں۔ فصاحت وبلاغت کی تعریف میں اہل فن نے بڑی بڑی موشگافیاں کی ہیں۔ آپ اختصار کے ساتھ یوں سمجھ لیجئے کہ حسین ترین معنی اگر حسین تر جامہ لفظی اختیار کر لیتا ہے تو اس کا نام فصاحت ہے اور انبیاء کے درجہ فصاحت پر یوں غور فرمائیے کہ انہیں جو کلام دیا جاتا ہے اس میں براہ راست اس اخلاق حسن وخوبی کی بخششوں کو دخل ہے جس کی ہلکی سی توجہ سے یہ سارا گلستان وجود مہک رہا ہے۔ عہد نامہ جدید وقدیم بڑی حد تک محرف ہے۔ مگر آج بھی داؤد کا زبور پڑھو۔ سلیمان کے امثال سنو۔ موسیٰ کے مواعظ پر غور کرو۔ جو بائبل میں کئی

٧٦

صفحہ ٣٣٥

جگہ مذکور ہیں۔ اناجیل کی زبان اور تیور دیکھو۔ تمہیں اندازہ ہوگا کہ انبیاء کے بیان میں کس درجہ، بلاغت کتنی شوکت وحشمت اور کس درجہ رکھ رکھاؤ ہوتا ہے اور سب سے آخر میں پھر قرآن کو دیکھو جس میں نظم کی سی موزونیت، شعر کا سا ترنم اور نثر کا پھیلاؤ اور وسعتیں ہیں جو بیک وقت نظم ونثر کی تمام خوبیوں کا حامل ہے۔ ایک ایک لفظ نہیں ایک ایک شوشہ اور نقطہ کتنا تیکھا اور کتنا شوخ ہے۔ انداز بیان کتنا مدلل کتنا شیریں اور پراثر بھی ہے۔ سینکڑوں تفسیریں لکھی گئیں اور ہر تفسیر میں اس کے حسن وجمال اور معنی ومغز کو اپنے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن نہ تو گہر ہائے معانی ختم ہوئے اور نہ اس کے حسن وجمال کی داستانیں ہی کم ہوئیں اور خدا ہی جانتا ہے ابھی کتنے رازی، کتنے زمخشری، کتنے ابن تیمیہ اور ابن قیم پیدا ہوں گے اور قرآن کے حکم واسرار کے کیا کیا پہلو انسان کے ذوق ادب کی تسکین کا سامان بہم پہنچائیں گے۔ احادیث پر اس نقطہ نظر سے غور کرو کہ آنحضرتؐ کے اقوال واعمال کا یہ مجموعہ کتنے نوادر ادب اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔ ان کو بدذوقوں سے بحث نہیں جنہیں دین کی صحیح سمجھ ہی عطا نہیں ہوئی۔ جن لوگوں نے باقاعدہ ریاض نبوت کے ان گل بوٹوں کو دیکھا ہے جن کی ترتیب وتزئین میں محدثین نے بڑی بڑی مشقتیں اٹھائی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تنہا ان کی ادبی حیثیت کتنی اونچی ہے۔ انبیاء علیہم السلام جہاں اپنے ماننے والوں کو زندگی کا ایک صحیح نظام عطا کرتے ہیں۔ زمانے کی گتھیوں کو سلجھاتے ہیں۔ عمل وسیرت کے نقوش کو اجاگر کرتے ہیں اور تہذیب وثقافت کے ہزاروں باریک نکتے سمجھاتے ہیں۔ وہاں قوم کو ذوق ادب بھی عطا کرتے ہیں۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انبیاء ایک معیار اور نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے جس ذوق اور جس معیار کے حامل ہوں گے اسی طرح کا ذوق ومعیار ان کے ماننے والوں میں بھی ابھرے گا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو اس نعمت سے خصوصیت سے نوازا گیا ہے۔ آج بھی دنیا بھر کے ادب کو کھنگال ڈالئے۔ خالص ادبی حیثیت سے اسلامی لٹریچر کا جائزہ لیجئے۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اس میں جو جمال ہے، جو رعنائی اور خوبیاں ہیں وہ کہیں نہیں ملیں گی۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے۔ تحقیق وتنقید کا کہ دنیا کے لٹریچر میں اسلامی ادب کا کیا مقام ہے؟۔ یقین جانئے کہ جب کبھی اس پر غور کیا گیا اور لکھا گیا تو یہ بجائے خود ایک بہت بڑی خدمت ہوگی عالمی ادب کی۔ اس مختصر تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ نبوت بھی ایک حسن ہے اور حسن کی پہچان کے جہاں اور بیسیوں پیمانے ہیں وہاں ایک پیمانہ ادب وذوق کی شائستگی کا بھی ہے اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ یہ پیمانہ نسبتاً زیادہ واضح ہے۔ اس صدی میں جب ایک شخص ادعائے نبوت کے ساتھ ہمارے سامنے آئے گا اور قرآن کے اس معیار کے بعد آئے گا تو

٧٧

صفحہ ٣٣٦

لا محالہ ہم سب سے پہلے اسی پیمانے سے اسے جانچیں گے۔ ہماری کم سے کم توقعات اس سے جو ہوں گی وہ یہ ہوں گی کہ اس نے اگر چہ قوم کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہیں رکھا۔ زمانے کے مسائل کو نہیں سمجھا۔ موجودہ تقاضوں پر نظر نہیں ڈالی۔ سیرت وعمل کے اعتبار سے کوئی بلند نمونہ نہیں چھوڑا۔ کم از کم اتنا تو کیا ہوتا کہ ابوالکلام کا ”الہلال“ اس کے جمال ادبی کے سامنے گہنا جاتا۔ حالی کا وہ مسدس جو نصف صدی سے گونج رہا ہے خاموش ہو جاتا اور حکیم الامت ڈاکٹر اقبال کی شاعری اس کی چاکری کرتی۔ یہ کیا بد مذاقی ہے کہ براہین احمدیہ شب ہجراں سے بھی زیادہ طویل ہونے کے باوجود ایک پیرا اور جملہ اپنے اندر ایسا نہیں رکھتی کہ جس سے ذوق کی تسکین ہو سکے۔ کیا یہی نبوت ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کا معیار بھی معاذ اللہ بدلتا رہتا ہے۔ یعنی یا وہ زمانہ تھا کہ زبور عطا کرتا تھا جس سے پہاڑوں کے کلیجے متاثر ہوتے۔ طیور اس کے نغموں پر سر دھنتے۔ وہ انجیل اتارتا جس سے کہ یونانی ورومی اپنی حکمت وفلسفہ بھول جاتے اور ان لوگوں کے پیچھے ہولیتے جنہوں نے کہیں تعلیم نہیں پائی۔ قرآن میں ادب کے ان ان معجزات کو نازل فرماتا کہ مخالفین بھی سنتے تو رقت طاری ہو جاتی۔ (تفیض اعینہم من الدمع) اور اب یہ حال ہے کہ ”خاکسار پیپرمنٹ“ (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤) اور ”کمترین کا بیڑا غرق“ (البشریٰ ج ٢ ص ١٢١) ایسے عجائب سے نوازا جارہا ہے؟ کیا یہ الہامات اسی چشمہ علم وحکمت کا ترشح ہیں جس سے زبور کے نغمہ ہائے شیریں نے استفادہ کیا۔ جس کی سطح سے سلیمان کے امثال وکلمات ابھرے۔ جس سے انجیل نے فیض پایا اور سب سے آخر میں جس کی تجلیات نے قرآن کی ایک ایک آیت کو روشنی بخشی۔

کیا یہ پیغمبر ہے؟

ایک نفسیاتی تجزیہ

نبوت کی پرکھ کے کئی انداز ہیں۔ ایک انداز اس کی روزمرہ کی زندگی کا ہے۔ اس میں ایسا سلجھاؤ ایسی پاکیزگی اور بلندی ہونا چاہئے کہ وہ عام انسانوں سے قطعی مختلف ہو۔ ایک انداز دوسروں سے معاملہ کا ہے۔ یہ بھی ایسا ہونا چاہئے کہ اس پر ”حقوق العباد“ کی بنیاد رکھی جاسکے۔ کچھ لوگ معجزات وخوارق کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں گے اور کچھ لوگ صرف تعلیمات کو معیار ٹھہرائیں گے کہ اس سلسلہ کی اہم کڑی یہی ہے۔ کیونکہ اگر ایک شخص دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ ایسا پیغام بھی پیش کرتا ہے جو تمام انسانی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور جس سے زندگی کی تمام الجھنیں دور ہوتی ہیں تو بلاشبہ یہ اللہ کا پیغمبر ہے اور اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ انبیاء کی پہچان کی یہ مختلف

٧٨

صفحہ ٣٣٧

کسوٹیاں اس لئے ہیں کہ ہر شخص کا ذوق دوسرے سے علیحدہ ہے اور وہ مجبور ہے کہ اپنے ذوق کی رعایت ہر آئینہ ملحوظ رکھے۔ علم الاخلاق کے نقطہ نظر سے ایک شخص یہ دیکھے گا کہ یہ شخص جو نبوت کا مدعی ہے کس ڈھب کے اخلاقیات کو پیش کرتا ہے؟۔ کیا یہ کسی منضبط نظام کے تابع ہے؟۔ کیا اس لائق ہے کہ اسے انسانی معاشرہ کے سامنے بطور نصب العین کے پیش کیا جائے۔ عمرانیات کے ماہر یوں دیکھیں گے کہ یہ جس ضابطہ حیات کو پیش کرتا ہے۔ کیا اس سے زندگی کی گاڑی کامیابی سے آگے بڑھتی ہے؟ اور ایک سیاسی دماغ اس کی دعوت میں ایک ایسے چوکھٹے کی تلاش کرے گا جس میں ایک ہموار، متوازن اور صحیح نہج زندگی کے نقشے کی تمام چولیں عمدگی سے بٹھائی جاسکیں۔ غرض نبوت ایک ایسی سچائی ہے جس کو کسی کسوٹی پر پرکھئے، کسی ڈھب سے دیکھئے اور کسی ترازو سے تولئے۔ یہ سچائی ہی رہے گی اور اس کے وزن یا قیمت میں سرموفرق نہیں پیدا ہوگا۔ آج ہم قارئین کے سامنے فکر ونظر کا بالکل نیا پیمانہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس کو ملحوظ رکھ کر مرزا قادیانی کی پیغمبرانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کیا ایسا شخص کسی عقلی اعزاز کا مستحق ہے۔ وہ پیمانہ ہے نفسیات کا...... اور یہ وہ فن ہے جس سے ایک شخص کے اس مزاج کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوتا ہے۔ خارجی زندگی جس کا مظہر ہوتی ہے۔ کیونکہ نفسیات کا یہ مانا ہوا اصول ہے کہ ہماری زندگی کا ہر ہر طور تابع ہوتا ہے۔ اس بنے اور ڈھلے ہوئے نظام کے جس کا گہرا تعلق ہمارے نفس باطن سے ہے۔ یہ نظام یا مزاج نفسی جتنا اعلیٰ اور باقاعدہ ہوگا۔ ہماری خارجی زندگی بھی اسی نسبت سے اعلیٰ اور باقاعدہ ہوگی...... اور پیغمبر کے متعلق یہ بھی نہ بھولئے کہ جہاں وہ حق وصداقت کا پیکر ہوتا ہے وہاں اس کا نفسیاتی مزاج بھی نہایت عمدہ، نفیس اور منضبط ہوتا ہے۔

اس علم کی دسترس اتنی زبردست ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے زندگی کے بڑے بڑے بھید معلوم ہوجاتے ہیں۔ چند مثالوں سے اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کیجئے۔ فرض کیجئے ایک شخص کے بال الجھے ہوئے ہیں اور وضع میں بے قاعدگی اور بے ترتیبی ہے تو اس سے یہ معلوم ہوگا کہ اس کے ذہن میں سلجھاؤ یا قرینہ کا احساس مفقود ہے۔ یا یہ شخص جمالیات کے ذوق سے قطعی محروم ہے۔ ایک شخص کی یہ عادت ہے کہ جب سوتا ہے تو پوری طرح منہ ڈھانپ کر، اس سے اس کی یہ کمزوری معلوم ہوگی کہ یہ زندگی کے مصائب میں گریز اور فرار کی راہ کو زیادہ پسند کرتا ہے اور اس میں مقاومت اور مقابلہ کی صلاحیتیں کم ہیں اسی طرح فرض کیجئے ایک شخص بار بار گفتگو کرتے وقت اپنے متعلق زیادہ تفصیلات بیان کرتا ہے اور اپنی ذات کو بات چیت کا مرکز ومحور ٹھہراتا ہے تو ایسا شخص اس وہहम میں مبتلا ہے کہ لوگ اس سے کم دلچسپی لیتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے زیادہ کا مستحق

٧٩

صفحہ ٣٣٨

ہے۔ اسی طرح جو شخص بلاضرورت اپنی پرہیزگاری کے ڈھنڈورے پیٹتا ہے۔ وہ درحقیقت اس جھول کو دور کرنا چاہتا ہے جو اس کی واقعی زندگی میں پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی ہماری زندگی کی ایک ایک حرکت ایک ظہور ہے طے نظام کے تابع ہے جو ہمارے باطن میں کارفرما ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھئے اور سردست مرزا قادیانی کی ایک حرکت کا نفسیاتی جائزہ لیجئے۔ آپ کی کتاب ہے (نورالحق ص ١٥٨ تا ١٦٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢) اس میں پادری عمادالدین کے خرافات کا جواب مندرج ہے۔ ہم جواب کی اہمیت پر غور کئے بغیر جو ٹکڑا غور وفکر کے لئے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک جگہ بھنا کر آپ نے پادری عمادالدین کو ملعون قرار دینا چاہا ہے۔ ہم اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے اور اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ عربی اور اردو میں اس کے معنوں میں کیا اختلاف ہے جو چیز غور طلب ہے وہ ملعون قرار دینے کی نوعیت ہے۔ آپ نے لعنت لعنت کی جو گردان شروع کی ہے تو ان کا نمبر پورے ایک ہزار تک جا پہنچایا ہے۔ یعنی کتاب میں ایک ہزار مرتبہ گن کر اور اس پر باقاعدہ نمبر ڈال کر لعنت کا لفظ زیب قرطاس فرمایا ہے۔ بتائیے نفسیات کے ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے اس حرکت کی آپ کیا توجیہ فرمائیں گے۔ یہ واضح رہے کہ موقع کی مجبوری سے علیہ اللعنۃ کہہ دینا یا یہ کہنا کہ اس پر ہزار لعنت ہے۔ یہ اور بات ہے ہم اس کے جواز ومواقع جواز پر نظر نہیں ڈالیں گے اور گن گن کر ہزار مرتبہ لعنت لعنت کی گردان کرنا بالکل شے دیگر ہے۔ یہ وہ حرکت ہے جو نفسیات کا دلچسپ موضوع بن سکتی ہے اور جس سے مرزا قادیانی کی نفسیات کا تجزیہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ لکھنے والے کی طبیعت میں گھٹیا پن ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ظرف عالی نہیں اور اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ وہ شخص جو رہنمائی کی پاکیزہ غرض سے آیا ہو اس کو تعصبات کے اعتبار سے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے تو یہ زیبا ہے کہ وہ بہت سنجیدہ، بہت اونچا اور متوازن ہو۔ اس کی باتوں اور تحریروں سے یہ مترشح ہونا چاہئے کہ اس کا دل و دماغ صحیح اور ٹھنڈا ہے۔ یہ جب خوش ہوتا ہے تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں اور جب بگڑتا ہے تو اس رکھ رکھاؤ اور سلیقے کے ساتھ کہ اس کے مرتبہ ومقام کو کوئی گزند نہ پہنچے اور دشمن انگاروں پر لوٹنے لگے اور مرزا قادیانی کی اس حرکت سے دشمن کو تکلیف تو کیا پہنچے گی البتہ وہ ان کی اس خفیف الحرکتی پر الٹا ہنسے گا کہ عجب مسخرے سے پالا پڑا ہے کہ جس کو گالی دینا بھی نہیں آتا گالی میں بھی اتنی جان تو ہو کہ اُس کو ہزار مرتبہ دہرانا نہ پڑے۔

٨٠

صفحہ ٣٣٩

دو مختلف دعویٰ

نبوت تجدید

انبیاء علیہم السلام کو جہاں فکر وعمل کی سینکڑوں خوبیوں سے بہرہ مند کیا جاتا ہے وہاں کھل کر اور وضاحت سے کہنے کی صلاحیت خصوصیت سے ان کو عطاء ہوتی ہے۔ یعنی ان میں یہ ملکہ ہوتا ہے کہ بات ایسے انداز اور ڈھب سے کہیں کہ سننے والے کے دل میں اتر جائے اور ایک متعین اثر پیدا کرے۔ یعنی ان کی دعوت کی حقانیت اور سچائی میں شبہ ہو تو ہو۔ سننے والے اس غلط فہمی میں ہرگز نہیں رہتے کہ یہ کہتا کیا ہے۔ زیادہ واضح اسلوب میں یوں سمجھئے کہ انبیاء علیہم السلام جب تشریف لاتے ہیں اور اپنے پیغام کو دنیا تک پہنچاتے ہیں تو وہ اپنے منصب اور دعویٰ کو اس ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں کہ مخاطبین اولین کے لئے انکار کی گنجائش تو نکل سکتی ہے۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کی دعوت کی حقیقت ہی سرے سے ان پر مشتبہ ہوجائے۔ بالخصوص ان لوگوں پر مشتبہ ہونا تو قطعی قرین عقل نہیں جو پہلے ماننے والے ہیں۔ جنہوں نے ان کی تعلیمات کو اپنے کانوں سے سنا۔ کتابوں اور صحیفوں کو پڑھا اور خلوت وجلوت میں ان کے ساتھ شریک رہے۔ یہ تو بلا شبہ ہوا ہے کہ جب یہ پاکباز گروہ دنیا سے اٹھ گیا ہے تو اس دعوت کی مختلف تعبیریں ہونے لگیں۔ بلکہ اس کی تعیین تک میں شک وشبہ کی آندھیاں چلنے لگیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ مؤمنین کی صفوں میں اس طرح کا بنیادی اختلاف رونما ہوجائے۔ جو اصل دعوت اور منصب ہی پر پردے ڈال دے۔ عقیدت وغلو نے بارہا ایک پیغمبر کو جو اللہ کا فرستادہ اور بندہ ہوتا ہے۔ الوہیت کی چوٹیوں تک پہنچایا ہے۔ مگر یہ کبھی نہیں ہوا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں اس موضوع پر بحث چل نکلے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا یا نہیں؟ اور پھر یہ بحث بھی ایسی بے ڈھب کہ خود اس کی کتابوں سے دونوں طرح کی تائیدات مہیا ہوسکیں۔ کیونکہ انبیاء سب سے پہلے جس چیز کو صفائی اور وضاحت سے پیش کرنے پر مامور ہیں وہ یہی ان کا منصب اور دعوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کی تاریخ میں ہمیں تین ہی طرح کے گروہ ملتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے اللہ کا رسول مان لیا۔ دوسرا وہ جنہوں نے انکار کیا اور تیسرا وہ جن پر جہل اور غلو کی وجہ سے ان کی دعوت مشتبہ ہوگئی۔ مگر یہ واضح رہے کہ یہ گروہ مخاطبین اولین اور مؤمنین کا نہیں ہوتا۔ بلکہ ان میں کچھ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو براہ راست ان ذرائع تک دسترس ہی نہیں رکھتے جو حقیقت تک پہنچا سکیں اور کچھ وہ مخالف ہوتے ہیں جو دینی حقیقت کو عمداً عقیدت ومحبت کے روپ میں پیش کر کے بگاڑنا چاہتے ہیں۔ جیسے عیسائیت کے معاملہ میں ہوا کہ

٨١

صفحہ ٣٤٠

پولوس نے اس وقت تک حضرت مسیح کی پر زور مخالفت کی۔ جب تک وہ ان میں موجود رہے۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ اب میدان صاف ہے تو اپنی نبوت کا ڈھونگ رچایا اور عیسائیت کے خدوخال تک کو مسخ کر ڈالا۔ لیکن انبیاء کی پوری تاریخ میں اس حقیقت کی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ ایک شخص نے تو نبوت کا اونچا دعویٰ کیا ہو اور اس کے ماننے والوں نے اور مخاطبین اولین نے پوری دیانتداری سے اس سے کہیں کم درجے کا اسے اہل سمجھا ہو۔ یعنی جوش محبت اور غلو عقیدت نے انبیاء کو خدا کے جاہ وجلال کا پیکر تو ٹھہرایا ہے۔ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خود ماننے والوں نے اسے نبوت کی بلندیوں سے نیچے اتار لیا ہو اور تجدید واصلاح کی مسند پر لا بٹھایا ہو۔ یہ خصوصیت صرف مرزا قادیانی کو حاصل ہوئی ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ آخر وقت تک خود ان کے ذہن میں یہ کھٹک رہی کہ میرا منصب کیا ہے کیا میں واقعی اللہ کا نبی ہوں یا صرف تجدید واصلاح کے منصب پر مجھے ٹرخایا جارہا ہے؟ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی لہری آدمی تھے۔ جب کبھی خوش فہمیوں نے زور مارا تو نبوت کے فراز اعلیٰ تک اچھل گئے اور پیغمبرانہ بلندیوں تک کو چھو آئے اور جب دماغ متوازن ہوا اور مور کی طرح اپنے پیروں پر نظر پڑی تو عاجزی کی لہر طاری ہوگئی اور آپ نے یہ کہنا شروع کیا کہ توبہ توبہ میں نے نبوت کا ادعا کب کیا ہے۔ میں تو صرف آنحضرت ﷺ کا امتی ہوں اور سوا تجدید کے اور کسی شے کا مدعی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص کے ذہن میں الجھاؤ ہو جو خود اپنے منصب سے متعلق یقین کے ساتھ کوئی رائے نہ رکھتا ہو اور جو بیک وقت متضاد دعاوی کی رٹ لگاتا ہو، کیا ایسا شخص ذہنوں میں کوئی سلجھاؤ پیدا کر سکتا ہے۔ کیا اس کے ماننے سے دماغوں میں روشنی کی کوئی کرن آسکتی ہے۔ چنانچہ مرزائی ذہنوں میں جو ایک طرح کی پیچیدگی اور پریشانی آپ محسوس کرتے ہیں اور تناسب اور سلجھاؤ کا فقدان پاتے ہیں تو یہ درحقیقت نتیجہ ہے۔ اسی نمونے کا جس نے تربیت ہی ایسی پائی ہے۔ فکر ونظر کی ٹیڑہ اور ژولیدگی سے اب ہر ہر مرزائی پر اس کا یہ اثر ہے کہ استواری کے ساتھ یہ کسی مسئلہ پر غور ہی نہیں کر سکتے۔

مجازی نبی اور ظلی نبی

مرزا قادیانی کی کتابوں میں اتنا الجھاؤ، تکرار اور ذوق صحیح سے محرومی وتہی دستی کا مظاہرہ ہے کہ کوئی شخص بھی انہیں بالاستیعاب نہیں پڑھ سکتا۔ بلکہ خود ذوق صحیح کی پہچان ایک طرح سے یہ ہے کہ پڑھا لکھا آدمی اس معاملہ میں سپر ڈال دے اور اپنے عجز کا پوری طرح اعتراف کرے۔ یعنی سوائے ایک طرح کے مراق اور بد ذوقی کے یہ ناممکن ہے کہ ان کی کتابوں سے شغف پیدا ہوسکے۔ میرا اپنا یہ حال ہے کہ بارہا ان کی کتابیں پڑھنے کا عزم کیا۔ بظاہر کتاب ہاتھ میں اٹھا بھی

٨٢

صفحہ ٣٤١

لی۔ لیکن چند ہی صفحے پڑھنے کے بعد دیکھا کہ دل و دماغ قطعی بغاوت پر آمادہ ہیں۔ ناچار، ہمت ہار دی اور کتاب رکھ دی۔ صرف ایک دلچسپی البتہ ان میں ایسی ہے جو مطالعہ پر کبھی کبھی اکساتی ہے اور وہ ہے ان کا روایتی تضاد اور بے تکا پن، ایک ہی صفحے میں بسا اوقات یہ اتنی مختلف اور متضاد باتیں کہیں گے کہ آپ کا محظوظ ہونا قطعی ہے۔ زیادہ پر لطف حصہ ان کی کتابوں کا وہ ہوتا ہے جہاں یہ اپنے منصب پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہاں دیکھنے کی چیز یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک دم کتنا اونچا اٹھتے ہیں اور پھر کس تیزی سے زمین پر آ گرتے ہیں۔ کبھی تو یہ گمان ہوتا ہے کہ نبوت کے تمام فرازوں کو انہوں نے ان کی آن میں طے کر لیا اور لاہوت کے کناروں کو چھو آئے اور کوئی فضیلت ایسی نہ چھوڑی جس کا انتساب انہوں نے اپنی طرف نہ کیا ہو اور کبھی عجز و انکسار کا یہ عالم کہ ایک ادنیٰ و حقیر مسلمان ہیں۔ جن میں کوئی تعلی اور ادعا نہیں۔ طبیعت کا یہ اتار چڑھاؤ پوری تحریرات میں چھایا ہوا ہے۔ جب نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ابن مریم کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر منم محمد واحمد تک کا نعرہ مستانہ مارتے ہیں اور نہیں شرماتے۔ پھر جب اعتراضات سامنے آتے ہیں تو اپنا مقام اتنا گرا لیتے ہیں کہ انہیں دائرہ اسلامیت میں رکھنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ جھوٹا اور سچا ہونا تو خیر ایک الگ بحث ہے۔ یہاں اصلی مصیبت یہ ہے کہ مرزا قادیانی عمر بھر اس چکر سے نہیں نکلے کہ یہ کہاں کھڑے ہیں؟ ان کا دعویٰ کیا ہے؟ لوگ انہیں کیا سمجھیں اور کیا جانیں؟ ان کا کمال یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ تضاد اور تناقض کو بڑی حکمت سے باہم سمو دیتے ہیں۔ مثلاً ایک ہی وقت میں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ غیر تشریعی اور ظلی نبی ہیں اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ مجازی نبی ہیں۔ حالانکہ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ غیر تشریعی اور ظلی نبوت کے یہ معنی ہیں کہ یہ نبوت کی ایک قسم ہے۔ جس میں ان کے عقیدے کے مطابق دعویٰ تو ہوتا ہے۔ الہامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ مگر شریعت یا پیغام نہیں ہوتا اور مجازی کے معنی اس کے بالکل الٹ ہیں۔ یعنی غیر حقیقی ان دونوں میں جو فرق ہے اس کو یوں سمجھئے کہ مرزا قادیانی جب اپنے کو ظلی اور غیر تشریعی نبی قرار دیتے ہیں تو وہ اپنے لئے مراتب نبوت میں سے ایک ادنیٰ مرتبہ چن لیتے ہیں۔ لیکن جب وہ کہتے ہیں کہ ان کی نبوت مجازی ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ سرے سے منصب نبوت پر فائز ہی نہیں اور ان کو جو نبی کہا جاتا ہے تو وہ محض ایک پیرایہ بیان ہے۔ جیسے کوئی شخص اپنے گدھے کو از راہ محبت اسپ تازی کہہ دے یا اسپ تازی کو شیر قرار دے تو اس سے اس کی حقیقت نہیں بدلے گی۔ گدھا، گدھا ہی رہے گا اور گھوڑا، گھوڑا ہی رہے گا۔ گویا غیر تشریعی نبی اور تشریعی نبی میں فرق مرتبہ کا ہے اور مجازی نبی اور نبی میں فرق نوعیت کا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا یہ اعجوبہ ہے کہ

٨٣

صفحہ ٣٤٢

وہ ان دونوں کو اس طرح اپنے میں جمع کر لیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ ان کے ذہن کا یہی الجھاؤ لاہوری و قادیانی تفریق کا ذمہ دار ہے۔ تعجب ان پر نہیں یہ تو بے چارے اپنی افتاد طبیعت سے بہر آئینہ مجبور تھے۔ تعجب ان لوگوں پر ہے۔ جو اس زمانے میں ان کو مانتے ہیں۔ آج دور صاف صاف اور دو ٹوک بات کہنے کا ہے۔ یعنی یا تو آپ کا ایک متعین منصب ہے اور یا نہیں ہے۔ یہ پیچ دار باتیں اور چناں و چنیں کے قصے اس زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اس عہد میں ذہن و فکر کی مشغولیتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایسا الجھاؤ ہوا، انسان قطعا کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ذہنی خوبیاں ہی تو ایک ایسی چیز ہیں۔ جن کی بناء پر ایک پیغمبر اپنے ہم عصروں سے ممتاز ہوتا ہے اور اگر اسی نعمت سے یہ حضرت محروم ہیں اور ذہن ہی میں استواری اور استقامت نہیں۔ تو دعویٰ نبوت کس برتے پر۔ ہمارے نزدیک نبوت فکری ارتقاء اور فکری سلجھاؤ کا آخری مقام ہوتا ہے اور جس کو ہم نبی قرار دیتے ہیں۔ اس کے متعلق یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ بہترین صلاحیتوں سے بہرہ مند ہے۔

پیشین گوئی کا نیچر

معجزہ اور پیشین گوئی ایک ہی حقیقت کے دو ظہور ہیں۔ معجزہ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تکوینات میں لگے بندھے قوانین کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں اور کوئی سائنسی طریق اس کی توجیہ نہیں کر پاتا۔ اسی طرح پیشین گوئی سے علم کے نپے تلے قواعد کی مخالفت ہوتی ہے اور علم و خبر کے معمولی اور عامتہ الورود ڈھنگ سے اس کی توجیہ نہیں ہو سکتی۔ شق القمر مثلاً معجزہ اور خرق عادت ہے۔ اس پر اگر صرف سائنس کے نقطۂ نظر سے غور کیجئے گا تو یہ قطعی محال نظر آئے گا کہ اتنے بڑے کرے کے دو ٹکڑے ہو جائیں اور نظام شمسی میں کوئی ہلچل نہ ہو۔ یعنی تجاذب و کشش کے تمام دائرے جن کے بل بوتے پر نجوم و کواکب کا یہ حیرت انگیز نظم و نسق چل رہا ہے۔ بغیر کسی ادنیٰ تاثر اور گڑبڑ کے قائم رہیں یعنی نہ تو چاند کے چہرے پر اس کا کوئی اثر ہو اور نہ سورج کی پیشانی پر شکن آئے۔ انسانی عقل اسے سب مانتی ہے اور عقل انسانی کی بساط ہی کیا ہے۔ یہ بیچاری تو ماننا بھی چاہے تو نہیں مان سکتی۔ ٹھیک اسی طرح پیشین گوئی بھی خرق عادت ہے۔

جس طرح معجزہ دلائل نبوت میں سے ہے۔ اسی طرح اس کا شمار بھی نبوت کے دلائل و براہین ہی میں ہوگا۔ اس کا ڈھنگ بھی ایسا ہے کہ انسانی ذرائع علم و خبر سے اس کی توجیہ نہیں ہو سکتی۔ غلبہ روم کی پیشین گوئی ہی کو لیجئے اور اپنے طور پر غور فرمائیے کہ ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان خوفناک جنگ ہے۔ دونوں قومیں اپنے زمانے کی بڑی اور تاریخی قومیں ہیں۔ دونوں کے

٨٤

صفحہ ٣٤٣

ذرائع بے پناہ اور وسیع ہیں اور دونوں حرب و قتال کی خوگر اور مشاق ہیں۔ ان دو الجھی ہوئی قوموں میں جب لڑائی ہوگی تو یہ ظاہر ہے کہ آسانی سے ایک قوم کو دوسری پر غلبہ حاصل نہیں ہو سکے گا اور پھر اگر ان میں ایک کو شکست ہو ہی گئی تو پھر چند ہی سال میں اس کا خم ٹھونک کر میدان جنگ میں دوبارہ کود پڑنا اور شکست کو فتح سے بدل دینا اور بھی مستبعد ہے۔

اس کو جانے دیجئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سات سال پہلے قرآن کا متعین الفاظ میں فیصلہ سنا دینا کہ ایرانیوں کی اس عارضی فتح کا کوئی اعتبار نہیں۔ رومی ہی بالآخر جنگ جیتیں گے۔ کتنی بڑی بات ہے۔ پیشین گوئی اتنی واضح اور متعین ہے کہ حضرت ابوبکرؓ قریش سے شرط بدلتے ہیں اور مکے کی گلیوں میں پکار پکار کر رومیوں کی فتح کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ کیا انسانی ذرائع علم و خبر سات سال پہلے کی ایک بات کو اتنے وثوق، اتنی قطعیت اور حتمیت سے بیان کرنے پر قادر ہیں؟ پیشین گوئی کی ایک صورت بلاشبہ یہ ہے کہ ایک شخص حالات و افکار کی نبض پر ہاتھ رکھے اور پھر اس کی چال سے آئندہ کا اندازہ کرے۔ جیسے ہائنے نے ہیگل کے تصورات سے اندازہ کیا کہ آئندہ جرمنی کی سیاسی قسمت فسطائیت اور مطلق العنانی کا رخ اختیار کرے گی۔ کیونکہ ہیگل کے فلسفہ میں اس کے جراثیم پہلے سے موجود تھے۔ جس کو اس کی بصیرت نے از راہ فراست بھانپ لیا۔ یہ پیشین گوئی حیرت انگیز ضرور ہے۔ لیکن ایسی نہیں کہ اس کی علمی توجیہہ نہ ہو سکے۔ بلکہ اس کا تو کمال ہی یہ ہے کہ یہ ٹھیک ٹھیک اندازے اور تخمینے پر مبنی ہے۔

انبیاء کی پیشین گوئیاں ان علمی اندازوں سے قطعی مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں آئندہ واقعات سے متعلق ایسی حقیقتوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ جن کی تہ میں تجربہ و تخمین کا کوئی اصول کار فرما نہیں ہوتا۔ انبیاء کی پیشین گوئیاں خرق عادت یا معجزانہ خصوصیات کی حامل اسی وقت ہوں گی جب وہ واضح اور متعین ہوں اور انسانی وسائل علمی اپنے کو ان کی توجیہہ سے قاصر و عاجز قرار دیں۔ ورنہ وہ اٹکل سے کہی ہوئی ایک بات ہے جو ہو سکتا ہے غلط ہو اور ہو سکتا ہے کہ صحیح ہو یا وہ ایسی بے تکی اور مہمل شے ہے کہ اس کے کچھ معنی ہی مقرر نہیں۔ پیشین گوئی اور اس قسم کی مہملات میں ایک اور فرق یہ ہے کہ پیش گوئی کا پہلے سے چرچا ہوتا ہے۔ پھر جب واقعات سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایمان و آگہی میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا غلبہ روم کی پیشین گوئی پر ہوا کہ جب رومی ساتویں سال جیت گئے تو مسلمانوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور مہملات توجہ و التفات کو ذرہ بھی متاثر نہیں کر پاتے۔ بلکہ ان کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے اور ان میں اس وقت معنی ڈالا جاتا ہے جب بے خبری میں ایک واقعہ ہو جاتا ہے۔

٨٥

صفحہ ٣٤٤

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آج کل قادیانیوں میں مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی کا بڑا اہتمام ہے۔ اس کی سندات ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نکالی جارہی ہیں اور اس کے اہمال اور بے تکے پن کو بڑی عیاری سے دور کیا جارہا ہے۔ مرزا قادیانی کا ایک الہام (تحفۃ الاذھان ج٣ ش١ ص٢١٨، جون جولائی ١٩٠٨ء) میں ہے ”داغ ہجرت“ اس کو موجودہ انقلاب پر چسپاں کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ مرزائیوں نے سوچا ہوگا کہ اتنی بڑی تبدیلی سے متعلق اگر مرزا قادیانی کا کوئی الہام ان کی کتابوں میں سے نہ نکلا تو بڑی بھد ہوگی۔ لوگ کہیں گے کہ عجیب نبی ہے جو محمدی بیگم کے نکاح کا ڈھنڈورا تو چار دانگ عالم میں پیٹتا ہے۔ مگر ملک کے اس عظیم الشان بٹوارے کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ جس کی وجہ سے ان کی امت کو بنے بنائے مرکز ہی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تلاش اور تفحص سے معلوم ہوا کہ الہام ”داغ ہجرت“ ہے۔ جس کی تاویل ہوسکتی ہے۔ اب غور فرمائیے پیشین گوئی جن معنوں میں خرق عادت اور غیر معمولی حقیقت ہوتی ہے۔ اس کی کوئی جھلک بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ پہلے یہ تو بتائیے کہ نحوی اصطلاح میں یہ کوئی جملہ بھی ہے۔ جس سے سننے والے کے علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ خبر ہے؟ انشاء ہے؟ کیا ہے؟ یہ داغ ہجرت کیسا ہے کون اٹھائے گا۔ کب اٹھائے گا۔ مومنوں اور عقیدتمندوں کو یہ زحمت گوارا کرنا پڑے گی یا دشمن اسے برداشت کریں گے۔ اس کے معنی کیا ہیں؟ اور اس میں پیشین گوئی کی کون ادا پنہاں ہے۔ اگر ہر بے تکی بات ہر مہمل جملہ اور ہر خرافات کی قسم کی چیز پیشین گوئی ہوسکتی ہے تو پھر خود بے تکے پن، اہمال اور خرافات کے لئے ہمیں اور معنی تلاش کرنے پڑیں گے۔

نبوت سے دست برداری

سچائی جب اذعان و آگہی کے جھروکوں سے کسی کے دل پر اپنا پرتو ڈالتی ہے تو خوف و ہراس کے تاریک بادل یک قلم چھٹ جاتے ہیں اور ایک دم اطمینان و تسکین سے دل یوں بھر جاتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے بلائے ہوئے جادوگروں میں مقابلہ ہوتا ہے۔ جادوگر یہ کرشمہ دکھاتے ہیں کہ رسیاں اور لاٹھیاں ہو بہو سانپ معلوم ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا جاتا ہے کہ گھبراؤ نہیں تم ہی سربلند رہو گے۔ لاٹھی ہاتھ سے پھینکو، جادوگر یہ دیکھ کر کہ وہی لاٹھی ایک اژدھا کی صورت میں ان کے بنے ہوئے سانپوں کو دبوچ اور نگل رہی ہے۔ متحیر ہوتے ہیں، پھر ان پر یہ بات کھلتی ہے کہ جادو اور اعجاز میں جو فرق ہے۔ وہ جھوٹ اور سچائی کا ہے۔ حقیقت اور شعبدہ بازی کا ہے اور موسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کا نبی ہے۔ جادو گر ہرگز نہیں۔ یہیں سے سچائی کی کارفرمائیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ دل اتنے مضبوط اور بے خوف

٨٦

صفحہ ٣٤٥

ہو جاتے ہیں کہ ابھی ابھی چند لمحے پہلے جو جادوگر فرعون کی عزت واقبال کی دعائیں مانگ رہے تھے اور اس کے دبدبہ ورعب سے لرز رہے تھے۔ اب صاف صاف اس کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے موسیٰ وہارون کے رب کو پہچان لیا۔ ”آمنا برب ھارون وموسیٰ“ فرعون دھمکی دیتا ہے کہ اگر تم نے یہ گستاخی کی تو میں تمہیں سخت ترین تکلیفیں پہنچاؤں گا۔ آڑے ترچھے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور سولی پر ٹانگ دوں گا۔ ”ولا صلبنکم فی جذوع النخل“ ان کا ایک ہی جواب ہے۔ ”لن نؤثرک علیٰ ماجاء نا من البینات“ کہ جو سچائیاں دل کی گہرائیوں تک اتر چکی ہیں۔ ان کو کیسے چھوڑ دیں۔ سزا کا تمہیں اختیار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا نا کہ مرجائیں گے۔ بلا سے تمہارا یہ فیصلہ زندگی تک ہی اثر انداز ہے۔ اس کے بعد نہیں۔

”فاقض ماانت قاض انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا“

سعید بن مسیبؒ کو گرفتار کر کے حجاج کے سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہو تمہیں کس انداز سے قتل کیا جائے۔ گویا تمہارے جرموں کی سزا بہر آئینہ قتل ہی ہے۔ اب تمہیں جو سوچنا ہے وہ صرف یہ ہے کہ قتل کی کس صورت کو پسند کرتے ہو۔ حضرت سعیدؒ چمک کر جواب دیتے ہیں کہ جو صورت تمہیں اللہ کے ہاں عذاب اور گرفت کی پسند ہے۔ اسی کے مطابق میرے ساتھ معاملہ کرو۔ کتنی دلیری اور بے خوفی ہے۔

اہل حق کا ہمیشہ یہی شیوہ رہا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ خود حق وصداقت میں اتنی لذت ہے کہ دنیا کی ہر ہر لذت اس کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔ برونو ایک فلسفی ہے۔ اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ پہلا نظام فلکی غلط ہے۔ اس کی پاداش میں اسے موت کی سزا سننا پڑتی ہے۔ جس کو وہ پورے استقلال سے سنتا ہے۔ سچ بولنا اور بات ہے اور سچائی کے اظہار میں مصائب کو برداشت کرنا اور بات۔ سچ کی راہ میں مصائب جھیلنے ہی سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ دل میں اس کے ساتھ وابستگی کا کیا عالم ہے۔ ایک عام انسان ، سچائی اور جھوٹ کے ساتھ کوئی اخلاقی قدر و قیمت یا حکم وابستہ نہیں کرتا۔ بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اصلی شے کامیابی وکامرانی ہے اور یہ دونوں اس کے حصول کے محض مختلف ذریعے ہیں۔ کبھی سچائی سے کام نکلتا ہے اور کبھی اس کو قربان کر کے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن ایک صداقت شعار انسان سچائی کو ذریعہ ووسیلہ نہیں سمجھتا۔ بلکہ مقصد وغایت قرار دیتا ہے۔ اور یہی سچے اور جھوٹے انسان میں حقیقی فرق ہے۔ کیونکہ جھوٹا انسان بھی کبھی کبھی سچ بولتا ہے۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ مسلسل سچ بولتا چلا جائے۔ تا آنکہ اس کی راہ میں کوئی مصیبت برداشت کرنا پڑے۔ کسی امتحان یا آزمائش سے دوچار ہونا پڑے۔

٨٧

صفحہ ٣٤٦

انبیاء علیہم السلام جو دنیا میں حق و صداقت کے سب سے بڑے علمبردار ہوتے ہیں۔ ان کا معیار حق گوئی تو سب سے اونچا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا سچائی سے صرف یہی تعلق نہیں ہوتا کہ یہ امر واقعہ ہے۔ لہٰذا اس کا اظہار ضروری ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ اس کے پہنچانے پر مامور ہیں ۔” فاصدع بما تؤمر “ انہیں اس کی ہرگز پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حکومت کیا خیال کرے گی اور قانون و سزا کے حلقے کیونکر حرکت میں آئیں گے۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو اس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ حضرت ابراہیم ہی کو دیکھئے کہ جب توحید کی سچائی نے ایک مرتبہ دل میں گھر کر لیا تو پھر آگ کے الاؤ میں کود جانا پسند کیا۔ مگر اس سچائی سے دست بردار نہیں ہوئے۔

انبیاء کی سب سے بڑی اور موٹی پہچان ہی یہ ہے کہ حق کی تبلیغ میں وہ کتنے بے باک ہیں۔ کس درجہ جسور اور دلیر ہیں۔ کیونکہ حق کوشی اور حق شعاری ہی کی تکمیل کا دوسرا نام تو نبوت ہے۔ اگر ایک مدعی نبوت شخص اسی حق کو چھپاتا ہے جس کے پہنچانے پر وہ مامور ہے اور اسی سچائی کے اظہار سے خائف ہے۔ جس کی تبلیغ پر وہ خدا کی طرف سے مکلف ٹھہرایا گیا ہے تو اس مسخرے کو کون پیغمبر کہہ سکتا ہے۔ یہ مصلحت اندیش ہو سکتا ہے۔ مفاد پرست اور ابن الوقت ہو سکتا ہے۔ نبی ہرگز نہیں ہو سکتا۔

ایک مرتبہ جب مرزا قادیانی موت و ہلاکت کی پیشین گوئیاں بانٹ رہے تھے اور از راہ نبوت خود ہی ان کی تکمیل کے سامان بھی مہیا کر رہے تھے۔ مخالفین نے مسٹر ڈوئی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ انہیں اس بلیک میلنگ سے روکا جائے۔ مرزا قادیانی کو یہ معلوم ہوا تو اوسان کھو بیٹھے اور خواجہ کمال دین کی موجودگی میں نبوت سے دست بردار ہو گئے۔ آپ نے اقرار کیا کہ میں آئندہ اس ڈھنگ کی کوئی پیشین گوئی شائع نہیں کروں گا۔ جو کسی کی موت سے متعلق ہو اور تو اور مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم کو ایسے کلمات سے مخاطب نہیں کروں گا۔ جن سے ان کو اذیت پہنچے۔

یعنی آپ نے اللہ میاں سے کہہ دیا کہ آئندہ ایسے الہامات نہ ڈسپیچ کئے جائیں۔ جن پر کوئی مجسٹریٹ گرفت کرے۔ فرمائیے یہ نبوت ہے ! اس سے زیادہ بے یقینی اور خوف و بزدلی کی کوئی مثال ہو سکتی ہے۔ کیا ہمارے ادنیٰ رضا کار بھی غیرت و حمیت کی اتنی توہین برداشت کر سکتے ہیں۔

ختم شد! ٨٨

PDF 348

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی پیغمبر

اور

مشک و عنبر

(جناب شیخ سلطان احمد خان)

صفحہ ٣٤٨

بسم الله الرحمن الرحيم!

حمد ”الحمدلله رب العلمين ، الرحمن الرحيم ، مالك يوم الدين ، اياك نعبد واياك نستعين ، اهدنا الصراط المستقيم ، صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضآلين (فاتحه)“ ”الحمد لله الذى لم يتخذ ولد ولم يكن له شريك فى الملك ولم يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا (بنی اسرائیل: ١١١)“ ”قل هو الله احد ، الله الصمد ، لم يلد ولم يولد ، ولم يكن له كفواً احد (اخلاص)“ ”لو اراد الله ان يتخذ ولداً لا صطفى مما يخلق ما يشاء سبحنه هو الله الواحد القهار (زمر: ٤)“

نعت ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً ان الذى له ملك السموات والارض لا اله الا هو يحي ويميت فامنوا بالله ورسوله النبى الامى الذى يؤمن بالله وكلماته واتبعوه لعلكم تهتدون (اعراف: ١٥٨)“ ”ياايها النبى انا ارسلنك شاهداً ومبشرا ونذيراً وداعياً الى الله باذنه وسراجاً منيرا ، وبشر المؤمنين بان لهم من الله فضلاً كبيرا

(احزاب: ٤٥ تا ٤٧)“

”لقد جآءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤف رحيم (توبه: ١٢٨)“ ”محمد رسول الله والذين معه اشد على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعاً سجداً يبتغون فضلاً من الله ورضوانا سيماهم فى وجوههم من اثر السجود ذالك مثلهم فى التوراة ومثلهم فى الانجيل (فتح: ٢٩)“

اما بعد مرزا غلام احمد قادیانی پیغمبر کے دعاوی کی داستان تو بہت طول طویل ہے۔ اس مختصر

٢

صفحہ ٣٤٩

رسالہ میں ان سب کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس لئے اس رسالہ میں صرف ایک ہی بات بیان کی جاتی ہے وہ یہ کہ

قادیانی پیغمبر کا دعویٰ

”من فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني وما رأی“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) جس نے مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں فرق جانا۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا اور نہیں دیکھا۔ یعنی مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں کوئی فرق نہیں۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ میں عین محمد ہوں۔

قادیانی پیغمبر کا دعویٰ غلط

اس دعویٰ میں ذرہ بھر بھی صداقت نظر نہیں آتی۔ ”چہ نسبت خاک را با عالم پاک“ جہاں تک غور کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی میں کوئی ایک بات بھی محمد رسول اللہ ﷺ والی نہیں پائی جاتی۔ آگے چل کر تو چند ایک واقعات حضور ﷺ کے کتب سیرۃ سے مفصل لکھے جائیں گے اور چند ایک خطوط مرزا قادیانی کے رسالہ موسومہ ”خطوط امام بنام غلام“ سے تحریر کئے جائیں گے۔ جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگا کہ حضور ﷺ اور مرزا قادیانی میں بعد المشرقین والمغربین ہے۔ مگر یہاں انہی واقعات میں سے چند ایک باتیں نہایت مختصر طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

”كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون (صف: ٣) “

مشک وعنبر کو بطور خوراک استعمال کیا ہو۔ ہاں چونکہ حضور ﷺ خوشبو کو پسند فرماتے تھے۔ اس لئے مشک کو بطور خوشبو استعمال کیا ہے۔ (سیرۃ النبی) کبھی کبھی مجلس عالیہ میں خوشبو کی انگیٹھیاں بھی جلائی جاتیں۔ جن میں اگر اور کبھی کبھی کافور ہوتا۔ (سیرۃ النبی) مگر مرزا قادیانی کثرت سے مشک وعنبر کھاتے رہے۔ خود بھی کھاتے رہے اور اپنے گھر میں بھی استعمال کراتے رہے۔ چونکہ کثرت سے مشک منگواتے اور کھاتے تھے۔ اس لئے ایک خط میں یہ بھی لکھ دیا کہ: ”بباعث دورۂ مرض ضرورت رہتی ہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٩)

تاکہ عوام کو اعتراض کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔ مگر مرزا قادیانی کا یہ دورۂ مرض مشک وعنبر کھانے سے بھی زیادہ قابل اعتراض ہے۔ جناب محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے امراض سے بالکل محفوظ ومامون رکھا۔ اگر مرزا قادیانی سچ مچ عین محمد ہوتے تو ان کو ایسی مہلک بیماری ہی لاحق

٣

صفحہ ٣٥٠

نہ ہوتی۔ حضور ﷺ کو جب کبھی کوئی بیماری ہوئی تو حضور ﷺ بجائے کسی دوائی پینے کے صرف ایک دعاء پڑھ کر اور ہاتھ پر پھونک کر جسم پر پھیر لیا کرتے اور اللہ تعالیٰ صحت عطاء فرماتا۔ حضور ﷺ نے مرض الموت میں جب کہ سخت سر درد اور شدید تپ تھی۔ دوائی کا پینا پسند نہ فرمایا۔ پھر مرزا قادیانی کا کسی مرض میں مشک وعنبر کھانا عین محمد ہونے کی دلیل ہے۔ یا خلاف محمد ہونے کی۔ مشک وعنبر کے علاوہ مرزا قادیانی نے ”بادام روغن سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر بھی ملا اور پیا بھی۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ حضور ﷺ نے کبھی بادام روغن پیا تھا اور سر اور پاؤں پر ملا تھا۔ پھر مرزا قادیانی نے انگریزی ادویات کا استعمال بھی کیا ہے۔ ان میں سے دو دوائیں زیادہ تر قابل ذکر ہیں۔

اول....... ٹنکچر لوڈر۔ دوم....... ٹانک وائن۔

ٹنکچر لوڈر ایک قسم کا عرق ہے۔ جس میں الکحل (ست شراب) کی آمیزش ننانوے فیصدی ہوتی ہے۔ اس کے پینے سے دل کو فرحت سرور حاصل ہوتا ہے۔ ٹانک وائن بھی ایک انگریزی دوائی ہے۔ اس کے لفظی معنی سن کر ہی اس کی اصلیت معلوم ہو جائے گی۔

ٹانک ”مقوی“ وائن ”انگوری شراب“۔ مرزا قادیانی کے خط نمبر ١٩ کے اس فقرہ سے ”انگریزی دوکان سے ایک روپیہ کا ٹنکچر لوڈر جو ایک سرخ رنگ عرق ہے۔“ (خطوط امام بنام غلام ص ٦) ثابت ہوتا ہے کہ قبل ازیں بھی مرزا قادیانی اس عرق کو منگوا چکے ہوئے ہیں۔ اگر پہلی دفعہ منگواتے تو کیا خبر تھی کہ اس کا رنگ وغیرہ کیسا ہے اور کیا چیز ہے۔

اسی طرح خط نمبر ١٢ کے فقرہ ”ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔“ (خطوط امام بنام غلام ص ٥) سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی مرزا قادیانی ٹانک وائن منگوا چکے ہوئے ہیں اور اس کو اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انگریزی دکان ای پلومر اینڈ کو لاہور سے دستیاب ہوتی ہے۔

پس مشک وعنبر کھانے والا، بادام روغن کی مالش کرنے والا اور پینے والا ٹنکچر لوڈر اور ٹانک وائن استعمال کرنے والا شخص اگر یہ دعویٰ کرے کہ: ”مَنْ فَرَّقَ بَيْنِی وَبَيْنَ الْمُصْطَفٰی فَمَا عَرَفَنِی وَمَا رَأٰی“ تو اس سے بڑھ کر جناب سید المرسلین، محبوب رب العالمین ﷺ کی شان والاشان میں گستاخی اور بے ادبی کی مثال دنیا میں اور کیا ہو سکتی ہے؟

٤

صفحہ ٣٥١

پر۔ کبھی چٹائی پر اور کبھی خالی زمین پر آرام فرماتے۔

مرزا قادیانی نہ کبھی کھال پر سوئے۔ نہ کبھی ننگی چٹائی پر اور نہ ہی مرزا قادیانی کے بدن پر کبھی چٹائی کی بدھیاں اور نشان پڑے اور نہ ہی کبھی خالی زمین پر آرام کیا۔ بلکہ نرم اور گرم بستر بچھاتے رہے۔ ایک شخص نے مرزا قادیانی کو بستر بھیجا۔ اس کی نسبت لکھتے ہیں۔ ”درحقیقت وہ بستر اس سخت سردی کے وقت میرے لئے نہایت عمدہ اور کارآمد چیز ہے۔ جو عین وقت پر پہنچا۔ جزاكم الله خير الجزاء“

(خطوط امام بنام غلام ص٣)

جناب محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ایک انصاریہ عورت بستر بھیجتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بستر کو واپس بھیج دیتے ہیں اور فرماتے ہیں۔ ”یہ ہم بندوں کے کام کا نہیں ہے۔“

گویا مرزا قادیانی نے لفظاً اور معناً دونوں طرح پر مطاع عالمیان ﷺ کی مخالفت کی۔

اس پر دعویٰ یہ کہ: ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ“ انا لله وانا اليه راجعون!

دست مبارک سے غربا و مساکین وغیرہ میں تقسیم فرما دیتے ہیں۔ جب تک تمام روپیہ ختم نہ ہو جائے گھر تشریف نہیں لے جاتے۔ رات مسجد میں گزارتے ہیں۔ ”الدنيا جيفة وطالبها کلاب“ فرماتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے خدا کی اگر میں چاہتا تو سونے چاندی کے پہاڑ میرے ساتھ چلتے۔ مگر حضور ﷺ نے مال دنیا کو پسند نہ فرمایا۔ بلکہ نفرت کی۔ مگر مرزا قادیانی کی انتہائی خوشی روپے کی آمد میں ہے۔ الہام اور وحی ہوتی ہے تو روپے کی آمد کی۔ ”ایک دفعہ مجھے قطعی طور پر الہام ہوا کہ آج ٢١ روپے آئیں گے۔ آنہ کم نہ زیادہ۔“

ایک دفعہ یہ وحی الہی میری زبان پر جاری ہوئی کہ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان الہام ہوا کہ: ”دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔“ (نزول المسیح ص ١٣٤، خزائن ج ١٨ ص ٥١٢) یعنی دس دن بعد روپیہ آئے گا۔

دعائیں کرتے ہیں تو روپے کے لئے۔ کوئی فرشتہ آتا ہے تو روپیہ ہی لاتا ہے۔ دس لاکھ روپے کی آمد کو اپنا معجزہ بتلاتے ہیں۔ پھر دعویٰ ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ“ جناب ختم المرسلین تو اپنی ازواج مطہرات اور صاحبزادی فاطمہ کو سونے کے زیور پہنے سے منع فرماویں اور نہ پہننے دیں۔ مگر مرزا قادیانی طلائی زیورات خود بنوا کر اور تاگہ ڈلوا کر دیں۔ حضرت فاطمہ شہنشاہ

٥

صفحہ ٣٥٢

دو عالم ﷺ کی صاحبزادیؓ کا لباس اونٹ کی کھال کا ہو۔ جس میں تیرہ پیوند لگے ہوں اور مرزا قادیانی اپنی لڑکی مبارکہ کے لئے ریشمی اور جالی کا لباس جس میں گوٹہ لگا ہوا ہو تیار کرا کر پہنا دیں۔ (خطوط امام بنام غلام ص ٤) پھر دعوٰی یہ ”من فرق بینی وبین المصطفٰی“ غزوہ احزاب میں حضور ﷺ خندق کھودنے، پتھر توڑنے اور مٹی ہٹانے میں صحابہؓ کے ساتھ شامل ہیں۔ سینہ مبارک کے بال مٹی سے چھپ گئے ہیں۔ تین دن کا فاقہ ہے۔ پیٹ پر پتھر بندھے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی تمام عمر کسی جنگ میں شریک نہ ہوئے۔ بلکہ جہاد کو حرام قرار دے دیا اور اتنی بہادری دکھلائی کہ ”سیف کا کام قلم سے ہے دکھلایا ہم نے“ یعنی حضور ﷺ نے تلوار سے کام لیا اور مرزا قادیانی نے قلم سے۔ گویا محمد ﷺ کی صریح مخالفت کی۔ کبھی پیٹ پر پتھر نہ باندھے۔ بلکہ بجائے پتھر باندھنے کے مشک وعنبر کھایا۔ حضور ﷺ کے جسم مبارک پر مٹی ڈھونے سے مٹی پڑ گئی۔ مرزا قادیانی کے جسم پر بجائے مٹی کے بادام روغن پڑا اور ٹانک وائن سے بدن کی تکلیف دور کی اور خچر لونڈے سے روح کو فرحت پہنچائی۔

ان الفاظ میں کرتا ہے: ”اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے قدم دھویا کرتا۔“ نجاشی حبشہ کا بادشاہ اپنی خادمانہ حیثیت کا اظہار یوں کرتا ہے: ”خدا کی قسم اگر کار سلطنت میرے متعلق نہ ہوتا تو میں ان کا خادم ہوتا اور ان کو وضو کراتا۔“ مگر مرزا قادیانی جن کی شان یہ ہے کہ: ”جے سنگھ بہادر ہیں۔ کرشن اوتار ہیں۔ آریوں کے بادشاہ ہیں۔ مسیح ناصری سے افضل اور خود مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں۔ نبی اور رسول ہیں۔ عین محمد بلکہ محمد سے بھی افضل ہیں۔ عین اللہ ہونے کا خواب دیکھ چکے ہیں۔ بلکہ جن و انسان اور زمین و آسمان بھی پیدا کر چکے ہیں۔“ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے۔“ اور گورنمنٹ انگریزی کی اطاعت کے بارے میں اتنی کتابیں اور اشتہارات لکھے ہیں کہ ان کے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں اور پھر دعوٰی یہ کہ: ”من فرق بینی وبین المصطفٰی“ میں عین محمد ہوں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے سامنے یہ شعر پڑھا گیا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

تو مرزا قادیانی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اگر یہی نورانیت ہے۔ تب تو گھٹا باندھ کر آیا ہے۔ آہ!

٦

صفحہ ٣٥٣
مرا دردیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد
وگر دم درکشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد

مرزا قادیانی نے عین محمد ہونے کا دعویٰ کر کے اہل اسلام کے دلوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ ایک بہروپیہ بھی جب کسی کا سوانگ بھرتا ہے تو ہو بہو وہی نقشہ پیش کر دیتا ہے اور دیکھنے والوں کو محو حیرت بنا دیتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی سے اتنا بھی نہ ہو سکا۔ صرف زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کیا۔ خدایا تو کہاں ہے۔ کیا ہوئی تیری غضبناکی؟ حضورﷺ رفع حاجت کے لئے مکہ معظمہ سے کم از کم تین میل دور فاصلہ پر جاتے۔ یعنی حدود حرم سے باہر تشریف لے جاتے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے لئے انگریزی وضع کے پاخانے منگواتے ہیں اور خیمہ خریدتے ہیں۔ تو تمام سامان قنات و پاخانہ وغیرہ کا ہمراہ لیتے ہیں اور قادیان دارالامان جو بقول مرزا قادیانی خدا کے رسول کا تخت گاہ اور ہجوم خلائق سے ارض حرم ہے۔

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ٥٢، اردو)

حضورﷺ کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”انك لعلى خلق عظيم (قلم:٤)“ حضور کو اپنے ذاتی معاملہ میں کبھی غصہ نہ آیا۔ نہ کسی سے انتقام لیا۔ ”واصبر على ما يقولون (مزمل:١٠)“ کے حکم کی تعمیل کی۔ مگر مرزا قادیانی نے سب کو گن گن کر سخت سے سخت گالیاں سنائیں۔ بلکہ پیغمبروں کو بھی نہ چھوڑا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت لکھا کہ وہ شراب پیا کرتے تھے۔ مگر اپنا ذکر نہ کیا کہ میں بھی ٹانک وائن اور ٹنکچر لوونڈر کا استعمال کیا کرتا ہوں۔

سرکار دو عالمﷺ نے اپنی صاحبزادی کے جہیز میں ایک ”مشک“ پانی لانے کے لئے اور دو ”چکیاں“ آٹا پیسنے کے لئے دیں۔ مگر مرزا قادیانی نے عین محمد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے محمدﷺ کے بر خلاف کیا۔ زمانہ حال کے رسم و رواج کے مطابق اپنی لڑکی کے جہیز میں سونے کے زیورات نہایت قیمتی و ریشمی پارچات برتن وغیرہ بہت کچھ سامان دیا۔ ایک خط میں حماموں کا ذکر ہے۔ شاید یہ بھی جہیز میں دیئے ہوں۔ مگر مشک اور چکیاں نہ دیں اور حضورﷺ کی سنت کو زندہ نہ کیا بلکہ خلاف کیا۔

حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد قیامت تک تیس ایسے شخص ہوں گے جو میری

٧

صفحہ ٣٥٤

امت سے نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ یاد رکھو وہ کذاب ہوں گے۔ کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے حضرت محمدﷺ کی امت میں ہو کر نبوت کا دعویٰ کیا اور صاف کہہ دیا کہ میں ”امتی نبی“ ہوں۔ اس طرح سے حضورﷺ کی پیش گوئی کو اپنے اوپر پورا کر دکھلایا۔

مرزا قادیانی نے اپنے لئے کہا کہ اگر میں نبوت کا دعویٰ کروں تو اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں اور پھر دعویٰ نبوت کر بھی دیا اور کہا: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢١٣، بدر ٥ / مارچ ١٩٠٨ء)

پس اب مرزا قادیانی کو کیا کہیں۔ ”عین محمد“ یا عین پر ایک موٹا سا نقطہ ڈال دیں اور یوں پڑھیں ۔ ”غین محمد“ یعنی غین سے مراد غیر ہے۔ ”ویحبون ان یحمد وبمالم یفعلوا (آل عمران:١٨٨)“ حضرت نبی کریمﷺ کے مفصل واقعات معہ حوالہ جات اور مرزا قادیانی کے اصل خطوط اور تحریریں آگے چل کر درج کئے گئے ہیں۔ خوب غور سے مکرر، سہ کرر بار پڑھیں اور ان سے خود نتائج اخذ کریں۔ میں نے بخوف طوالت نتائج بھی مختصر ہی بیان کئے ہیں۔ مشک کے خواص اور فوائد بھی آخیر پر کتاب مخزن سے تحریر کئے گئے ہیں۔ ان کو بھی بغور پڑھیں۔

اگر کہا جائے کہ مشک وعنبر کا کھانا، بادام روغن کا پینا اور مالش کرنا۔ لذیذ اغذیہ سے شکم سیر ہونا، پلنگ پر گرم بستر بچھا کر سونا، مستورات کو طلائی زیور اور ریشمی اور جالی کے گوٹہ دار پارچات وغیرہ پہنانا، عند الشرع جائز ہیں اور قابل اعتراض نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب اشیاء جناب محمدﷺ اور خانوادہ نبوت کے لئے بھی تو شرعاً جائز تھیں۔ بلکہ حضورﷺ کی خاطر سے تو دو جہان ہی پیدا ہوئے۔ مگر جب حضورﷺ نے یہ چیزیں استعمال نہیں کیں اور ان سے نفرت فرمائی تو پھر مرزا قادیانی جو عین محمد ہونے کے مدعی ہیں۔ انہوں نے کیوں استعمال کیں۔ یہاں جائز و ناجائز کا سوال نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ کہاں تک صحیح ہے۔ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے گلے میں سونے کا ہار دیکھ کر حضورﷺ نے آگ کا ہار فرمایا۔ حضرت صدیقہؓ کے کنگن اتروائے۔ کبھی خالی زمین پر اور کبھی ننگی چٹائی پر حضورﷺ نے آرام فرمایا۔ تمام عمر جو کی روٹی بھی سیر ہو کر نہ کھائی۔ شکم پر پتھر باندھے۔ اچھے کپڑے نہ خود پہنے اور نہ خانوادہ نبوت کو پہننے دیئے۔ مرزا قادیانی عین محمد ہونے کی حیثیت سے ان اشیاء کا استعمال رکھنے کا کیا حق رکھتے ہیں اور اگر استعمال کیا تو عین محمد نہ رہے اور عین محمد ہونے کا ان کا دعویٰ صحیح نہ

٨

صفحہ ٣٥٥

رہا اور جب دعویٰ صحیح نہ رہا تو مرزا قادیانی نے حضورﷺ کی شان والاشان کا استخفاف کیا جو اپنے تئیں عین محمد اور محمد واحد کہا۔ ”منم محمد واحد کہ مجتبے باشد‘ العزة لله ولرسوله وللمؤمنين! باقی رہا ٹانک وائن اور ٹنکچر لونڈر کا سوال۔ تو جب مرزا قادیانی یہ اشیاء منگواتے رہے تو استعمال بھی کرتے ہوں گے۔ خواہ کسی بیماری کی وجہ سے ہی ہو۔ مگر حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ حرام اشیاء میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی اور اگر بالفرض والتقدیر کسی مرض کے لئے یہ دونوں انگریزی دوائیں دوا بھی ہوں تو پھر بھی مرزا قادیانی کے لئے ان کا استعمال سخت ناجائز بلکہ قطعا ناجائز ہے۔ کیونکہ ٹانک وائن کے معنی ہی مقوی انگوری شراب ہے اور ٹنکچر لونڈر میں ننانوے فیصدی الکحل ہوتا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی نے بحیثیت عین محمد ان کا استعمال کیا تو پھر اس کے یہ معنی ہوئے۔ نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ ، خاکم بدہن۔ نقل کفر کفر نہ باشد ، حضرت سید الطاہرین جناب محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰﷺ نے کبھی ان کا استعمال فرمایا ہوگا۔ استغفر الله، استغفر الله، استغفر الله!

غرضیکہ مرزا قادیانی نے ”من فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني وما رأی“ کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے دلوں کو پاش پاش کر دیا ہے اور دیگر مذاہب والے تو یہی کہتے ہوں گے کہ میاں جیسے مرزا قادیانی نبی بن گئے۔ ویسے ہی محمد صاحب بھی نبی بن گئے ہوں گے ۔ آہ! مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کر کے اسلام کو کس قدر زک پہنچائی ہے اور بانیٔ اسلام علی الف الف صلوٰۃ والسلام کی درپردہ دوستی کے رنگ میں دشمنی کی ہے اور مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر ”والله متم نوره ولو كره المشركون (صف:٩)“

ایک ضروری بات

”ووجدك عائلاً فاغنیٰ (الضحیٰ:٨)“

قابل بیان یہ ہے کہ حضورﷺ کے فقر وفاقہ ومحنت شاقہ اور شکم مبارک پر پتھر باندھنے کے جو واقعات کتب سیرت یا اس رسالہ میں لکھے ہیں۔ ان سے یہ مطلب نہیں کہ حضورﷺ خدانخواستہ افلاس وغربت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ حاشا وکلا ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ حضورﷺ تو شہنشاہ دو جہاں ہیں۔ آپ ہی کی خاطر سے اللہ تعالیٰ نے سب کچھ پیدا کیا۔ ’لولاك لما خلقت الافلاك“ بڑے بڑے بادشاہ حضورﷺ کی قدمبوسی کو اپنا فخر سمجھتے تھے۔ صحابہؓ جان ومال قربان کئے بیٹھے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو بطور آزمائش خواب میں بیٹا

٩

صفحہ ٣٥٦

ذبح کرنے کا حکم فرمایا تھا اور حضرت خلیل علیہ السلام نے اس حکم کی پوری پوری تعمیل کی تھی۔ اسی طرح اگر جناب محمدﷺ اپنے صحابہ کی آزمائش کے لئے حکم دے دیتے کہ مجھے ایک نوجوان لڑکے کے گوشت یا خون کی ضرورت ہے۔ کون لائے گا تو یقین جانئے گا کہ حضورﷺ کے اصحاب میں سے جن کے ہاں لڑکے تھے سب ہی اپنے لڑکوں کو قتل ہونے کے لئے پیش کر دیتے اور ایک بھی پیچھے نہ رہتا۔ حضرت ابو بکر صدیق کے بیٹے حضرت عبدالرحمن جب ایمان لائے تو ایک دن والد ماجد سے کہنے لگے ۔ ابا جان فلاں جنگ میں آپ میری زد کے نیچے آگئے تھے۔ اگر میں اس وقت چاہتا تو آپ کو قتل کر دیتا۔ حضرت صدیق نے فرمایا۔ بیٹا اگر اس جنگ میں تو میری زد کے نیچے آجاتا تو میں ضرور ہی تجھ کو بوجہ تیرے کفر کے قتل کر دیتا۔ یعنی محمد کے دشمن کو کس طرح چھوڑ دیتے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”قل ان کان اباءکم وابناءکم (توبہ:٢٤)“ معہ ترجمہ پڑھو۔ پس حضورﷺ کسی مالی کمی کی وجہ سے بھوکے پیاسے نہیں رہتے تھے اور نہ ہی اس لئے شکم مبارک پر پتھر باندھتے تھے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں ۔ قسم ہے خدا کی اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے ۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ١٧)

نوے ہزار درہم حضورﷺ کی خدمت میں آتے ہیں۔ حضورﷺ اس نوے ہزار کو تقسیم کر کے چین لیتے ہیں۔ اتفاقا اگر کوئی رقم قابل تقسیم کبھی بوجہ نہ ملنے سائل کے باقی رہ جاتی ۔ تو جب تک وہ کل خرچ نہ ہو جاتی ۔ حضورﷺ گھر تشریف نہ لے جاتے اور مسجد میں رات بسر فرماتے۔ ایک دفعہ ایک شخص خدمت اقدس میں آیا اور دیکھا کہ دور تک آپﷺ کی بکریوں کا ریوڑ پھیلا ہوا ہے۔ اس نے آپﷺ سے درخواست کی اور آپﷺ نے سب کی سب اسے دے دیں۔ اس نے اپنے قبیلہ میں جا کر کہا۔ اسلام قبول کرلو۔ محمدﷺ ایسے فیاض ہیں کہ مفلس ہو جانے کی پرواہ نہیں کرتے۔

(سیرۃ النبی ج ٢ ص ٢٤٥)

غرضیکہ دست مبارک سے لاکھوں اور کروڑوں روپے تقسیم فرمائے۔ پھر یہ گمان کرنا کہ حضورﷺ نے بوجہ افلاس شکم مبارک پر پتھر باندھے۔ نہایت ہی نامناسب بلکہ حضورﷺ کی شان والا شان کے خلاف ہے۔ آپ کا یہ فقر وفاقہ اختیاری تھا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ووجدک عائلا فاغنی (الضحی:٨)“ پس جس کو اللہ تعالیٰ غنی کر دے اس سے بڑھ کر اور کون غنی ہو سکتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ حضورﷺ نے خود فرمایا ہے۔ محمد اور محمد کی آل کے لئے دنیا لائق

١٠

نہیں ۔ مجھ سے زیادہ میر حالت میں دنیا سے سفر کر انہیں ثواب عظیم دیا ۔ اس دن میرا رتبہ ان کے درجہ

حضورﷺ کے زیورات پہننے سے من میں ملیں تو دنیا میں ان سونے کے کنگن اور حضر نے خود ”الدنیا جیف نجاشی نے کچھ زیور آنح میں حبشی پتھر کا نگینہ جڑا سے اس کو چھوتے تھے ۔

”ان رس چیز اٹھائے نہیں رکھتے تکلیف ہوتی تھی۔ بلکہ ہو جاتا تھا کہ اب وہار

ایک بار نکل آئے۔ لوگوں کو ت ہے۔ گمان ہوا کہ کہیں اس کو خیرات کر دینے

غرضیکہ م نے فقر و فاقہ اختیار کر لوگ نعمت کھانے وا

”وفر

صفحہ ٣٥٧

نہیں ۔ مجھ سے زیادہ میرے بھائی اولوالعزم رسولوں نے تکلیف اٹھائی ہے اور صبر کیا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے سفر کر کے اپنے رب سے جاملے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مرتبہ کو بلند کیا اور انہیں ثواب عظیم دیا۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ اپنی معیشت میں فراخی چاہوں اور کل قیامت کے دن میرا رتبہ ان کے درجہ سے کم ہو جائے ۔ مجھے تو یہی منظور ہے کہ اپنے بھائیوں سے خفت نہ ہو۔

(پیارے نبیؐ کے پیارے حالات ص٧٢)

حضور ﷺ نے تمام اہل وعیال وخانوادۂ نبوت کو پر تکلف اور ریشمی لباس اور سونے کے زیورات پہننے سے منع فرمادیا تھا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر تم کو اس کی تمنا ہے کہ یہ چیزیں تم کو جنت میں ملیں تو دنیا میں ان کے پہننے سے پرہیز کرو۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ہاتھوں سے سونے کے کنگن اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے گلے سے سونے کا ہار اتروا دیئے۔ جب کہ حضور ﷺ نے خود ”الدنيا جيفة وطالبها کلاب “ فرمایا تو پھر دنیا کی خواہش کیوں فرماتے۔ ایک دفعہ نجاشی نے کچھ زیور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہدیۃً بھیجے۔ ان میں ایک انگوٹھی بھی تھی۔ جس میں حبشی پتھر کا نگینہ جڑا تھا۔ آپؐ کے چہرۂ مبارک پر کراہت کے آثار ظاہر ہوتے تھے اور لکڑی سے اس کو چھوتے تھے۔ ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔

(سیرۃ النبی حصہ اول ج٢ ص٢٦٣)

”ان رسول الله ﷺ كان لايدخر......“ آنحضرت ﷺ کل کے لئے کوئی چیز اٹھائے نہیں رکھتے تھے۔ اتفاق سے یا بھولے سے اگر کوئی چیز گھر میں رہ جاتی تو آپؐ کو سخت تکلیف ہوتی تھی۔ بلکہ آپؐ اس وقت تک گھر میں تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ جب تک یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ اب وہاں خدا کی برکت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص٢٢١)

ایک بار عصر کی نماز پڑھ کر خلاف معمول فوراً گھر میں تشریف لے گئے اور پھر فوراً ہی نکل آئے۔ لوگوں کو تعجب ہوا۔ آپؐ نے فرمایا۔ مجھ کو نماز میں خیال آیا کہ کچھ سونا گھر میں پڑا رہ گیا ہے، گمان ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رات ہو جائے اور وہ سونا گھر میں پڑا رہ جائے ۔ اس لئے جاکر اس کو خیرات کر دینے کو کہہ آیا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص٢٤٧)

غرضیکہ مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ اور بھی کئی وجوہ ہیں۔ جن کے باعث حضور ﷺ نے فقر وفاقہ اختیار کیا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ”اے نفس آگاہ ہو جا کہ دنیا میں بہت سے لوگ نعمت کھانے والے ہیں۔ وہ آخرت میں بھوکے اور ننگے ہوں گے۔“ ”وفرحوا بالحيوة الدنيا وما الحيوة الدنيا فى الاخرة الا متاع

١١

صفحہ ٣٥٨

(الرعد:٢٦) ”حضورﷺ نے امت کے غرباء کی خاطر بھی فقر وفاقہ اختیار فرمایا۔ تا کہ غرباء امت کو تسلی رہے کہ وہ صبر سے فقر وفاقہ کو سنت نبوی سمجھ کر برداشت کریں اور مستحق ثواب ہوں۔

حضورﷺ کا فقر وفاقہ میں بسر کرنا خدا کی مرضی اور منشاء کے ماتحت تھا۔ خدا تعالیٰ کو یہ پسند ہی نہ تھا کہ محمدﷺ اور حضورﷺ کے گھر والے عیش وعشرت میں زندگی بسر کریں۔ مشک وعنبر کھائیں اور ریشم اور جالی اور گوٹہ زیب تن کریں اور سونے کے زیورات استعمال کریں۔ بلکہ صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔

اے محمدؐ! اپنی بیبیوں کو کہہ دے کہ اگر تم دنیا کی زیب وزینت بناؤ سنگار اور آرام وآسائش چاہتی ہو تو تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ آؤ پھر میں تم کو کچھ مال تمہاری حسب خواہش دے کر تم کو روانہ کر دوں اور اگر اللہ ورسول کو چاہتی ہو اور فقر وفاقہ منظور ہے تو پھر تمہارے لئے خدا نے جنت تیار کر رکھی ہے۔ جو ابدالاباد رہنے والی ہے اور یہ دنیا فنا ہو جانے والی ہے۔ ”فما متاع الحيوة الدنيا فی الآخرة الا قليل (توبه:٣٨)“ ”وما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور (آل عمران:١٨٥)“ ”قل متاع الدنيا قليل (النساء:٧٧)“

حاصل مطلب یہ کہ:

کو خدا نے یداللہ یعنی اپنا ہاتھ فرمایا۔ غربا ومساکین وغیرہ میں تقسیم کر دیئے اور اپنے لئے کبھی ایک پائی بھی نہ رکھی۔

بغیر فقر وفاقہ اور محنت شاقہ کے تم خدا تک نہیں پہنچ سکتے۔

والفقر منی“

١٢

صفحہ ٣٥٩

کی خوشی کا انتظار کرو۔

زیں سبب فرمود پیغمبر مگر
انہ لوکان لدنیا قدر
ماسقی منھا لکافر شربتہ
بلکہ می انداخت بروئے صدمحن

(مثنوی مولانائے روم)

”ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم (البقرہ:٢٢٥)“

”انما الاعمال بالنیات (بخاری ج ١ ص ٢، باب کیف کان بدء الوحی)“

اب ذیل میں حضور ﷺ کے چند ایک واقعات مفصل طور پر لکھے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ مرزا قادیانی کے خطوط بھی نقل کئے جاتے ہیں۔ جن سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی ہر بات میں حضور ﷺ کے برخلاف کرتے رہے۔ حضور ﷺ کے واقعات اور قادیانی پیغمبر کے خطوط یک جا تحریر کرنے سے کسی صاحب کو یہ گمان نہ گزرے کہ خدانخواستہ حضور ﷺ اور قادیانی پیمبر کے حالات بطور مقابلہ لکھے گئے ہیں۔ حاشا وکلا!

چہ نسبت خاک رابا عالم پاک

حضور ﷺ کے مبارک حالات کے ذیل میں مرزا قادیانی کے خطوط صرف یہ ثابت کرنے کے لئے لکھے گئے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ”من فرّق بینی وبین المصطفیٰ“ اس کی اپنی تحریروں ہی سے باطل ہو جاتا ہے۔ یہ خط مرزا قادیانی کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی لاہور جو مرزا قادیانی کے مرید ہیں۔ انہوں نے چھپوائے ہیں۔ پس ان خطوط میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ جس رسالہ میں یہ خطوط چھپے ہیں۔ اس کا نام ”خطوط امام بنام غلام“ ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم!

”تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً (السجدہ:١٦) “ ﴿وہ دور ہوتی ہیں کروٹیں ان کی بچھونوں سے پکارتے ہیں پروردگار اپنے کو ڈر سے اور طمع سے۔ ﴾

١٣

صفحہ ٣٦٠

حضرت عمرؓ نے فرمایا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کھجور کی کھری چارپائی پر لیٹے ہیں اور چٹائی کے نشان آپ کے پہلوئے مبارک پر پڑ گئے ہیں اور ایک تکیہ چمڑے کا لگائے ہیں۔ جس میں کھجور کا چھلکا پڑا ہوا ہے۔

روایت ہے کہ حضور ﷺ کے پاس جو عبا تھی جہاں تشریف لے جاتے اکثر وہی دوہری کر کے اپنے نیچے بچھاتے۔ اکثر آپ چٹائی پر سو رہتے اور اس کے سوا حضور ﷺ کے نیچے کچھ نہ ہوتا۔ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس بوریئے کے نشان آپ کی پسلیوں پر دیکھ کر مجھے رونا آ جاتا تھا۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک انصار کی بیوی میرے پاس آئی۔ اس نے جو ایک دوہری چادر حضور ﷺ کے بستر کی دیکھی، بہت افسوس کیا۔ اپنے گھر پہنچ کر ایک بستر حضور ﷺ کے لئے بھیجا۔ جس میں اون بھری ہوئی تھی۔ جب آپ تشریف لائے تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ عائشہؓ یہ نئی چیز ہمارے ہاں کیا رکھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں انصاریہ نے آپ کے لئے بستر بھیجا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اسی وقت اس بستر کو واپس کردو۔ یہ ہم بندوں کے کام کا نہیں ہے۔ قسم ہے خدا کی اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے۔

(پیارے نبیؐ کے پیارے حالات ص ١٧٠، ١٧١)

حضور ﷺ فرمایا کرتے کہ گھر میں ایک بستر اپنے لئے ایک اپنی بیوی کے لئے اور ایک مہمان کے لئے کافی ہے۔ چوتھا شیطان کا حصہ ہے۔

(سیرت النبی جلد دوم ص ٢٦٢)

بستر کمبل کا تھا۔ کبھی چمڑے کا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٦٤)

بچھونے میں کوئی التزام نہ تھا۔ کبھی معمولی بستر پر۔ کبھی کبھی کھال پر۔ کبھی چٹائی پر اور کبھی خاکی زمین پر آرام فرماتے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٦٧)

قادیانی پیمبر (خط نمبر ٦)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! محبی اخویم ! حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کل کے خط میں سہو سے میں اس بستر کی رسید بھیجنا بھول گیا۔ جو آپ نے بڑی محبت اور اخلاص کی راہ سے بھیجا تھا۔ درحقیقت وہ بستر اس سخت سردی کے وقت میرے لئے نہایت عمدہ اور کارآمد چیز ہے۔ جو عین وقت پر پہنچا۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء! باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ والسلام! خاکسار: مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

١٤

صفحہ ٣٦١

بسم الله الرحمن الرحيم!

”فاصبر كما صبر اولوالعزم من الرسل (احقاف:٣٥)“

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے تین دن متواتر روزہ رکھا اور رات کے وقت بھی آپ کو کھانے کے لئے کچھ نہ ملا تو اس وقت فرمایا۔ اے عائشہؓ محمد اور محمد کی آل کی آل کے لئے دنیا لائق نہیں۔ اے عائشہؓ اللہ تعالیٰ ہمت والے پیغمبروں سے ان کے صبر کی وجہ سے راضی ہوا ہے اور مجھ سے بھی اسی بات پر راضی ہے کہ میں بھی ان کی طرح صبر کروں۔ اس واسطے فرمایا ہے کہ: ”فاصبر كما صبر اولوالعزم من الرسل“ یعنی اے محمد ایسا صبر کر۔ جیسا اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا۔

آنحضرت ﷺ نے ایک دن عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا کہ اے عائشہؓ مجھے دنیا سے کچھ تعلق نہیں۔ مجھ سے زیادہ میرے بھائی اولوالعزم رسولوں نے تکلیف اٹھائی ہے اور صبر کیا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے سفر کر کے اپنے رب سے جاملے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مرتبہ کو بلند کیا اور انہیں ثواب عظیم دیا۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ اپنی معیشت میں فراخی چاہوں اور کل کے دن میرا رتبہ ان کے درجہ سے کم ہو جائے۔ مجھے تو یہی منظور ہے کہ اپنے بھائیوں سے خفت نہ ہو۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص٧٢)

قادیانی پیغمبر کا خط نمبر ١٥

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ السلام عليكم ورحمته الله وبركاته۔ آج مولوی یار محمد لاہور بھی گئے۔ مگر افسوس نہایت ضروری کام یاد نہ رہا۔ اس لئے تاکیداً لکھتا ہوں کہ ایک تولہ مشک عمدہ جس میں چھچھڑا نہ ہو اور اوّل درجہ کی خوشبودار ہو۔ اگر شرعی ہو تو بہتر ہے۔ ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیج دیں اور دو ڈبیہ سردرد کی ٹکیاں کی جس میں پتاشہ کی طرح ٹکیاں ہوتی ہیں۔ مگر بڑی ٹکی ہو۔ دونوں بذریعہ وی۔ پی روانہ فرمادیں۔ زیادہ خیریت۔

والسلام! خاکسار: مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص٥)

١٥

صفحہ ٣٦٢

بسم الله الرحمن الرحيم! ”قد جاء كم من الله نور (مائده:١٥)“ حضور ﷺ کے جسم مبارک سے خوشبو آتی تھی۔ جو آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا۔ تمام دن اس کے ہاتھ میں خوشبو آتی اور عرق شریف ایسا خوشبودار تھا کہ بعض بیبیوں نے شیشے میں کر رکھا تھا۔ دلہنوں کو بجائے عطر لگا دیتی تھیں۔ سب خوشبوؤں سے اس کی خوشبو غالب رہتی تھی۔ جس کوچہ میں آپ نکل جاتے۔ اس سے خوشبو آتی۔ یہاں تک کہ پھر جو وہاں سے نکلتا خوشبو سے پہچان لیتا کہ آپ ﷺ ادھر تشریف لے گئے ہیں۔

(تواریخ حبیب الرحمٰن ١٧٤)

حضرت انسؓ کی والدہ ام سلیمؓ سے آپ کو نہایت محبت تھی۔ آپ اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہ بچھونا بچھا دیتیں۔ آپ ﷺ آرام فرماتے۔ جب سو کر اٹھتے تو وہ آپ کا پسینہ ایک شیشی میں جمع کر لیتیں۔ مرتے وقت وصیت کی کہ کفن میں حنوط ملا جائے تو عرق مبارک کے ساتھ ملا جائے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣١٠)

مشک وعنبر میں بھی آپؐ کے بدن مبارک سے زیادہ خوشبو نہ تھی۔

(سیرۃ النبی ص ١٥٦)

اکثر بھوک کی وجہ سے (حضور ﷺ) کی آواز اس قدر کمزور ہو جاتی کہ صحابہؓ آپ کی حالت سمجھ جاتے تھے۔ ایک دن ابوطلحہؓ گھر میں آئے اور بیوی سے کہا کچھ کھانے کو ہے۔ میں نے ابھی رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ ان کی آواز کمزور ہو گئی ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٢)

قادیانی پیغمبر کا خط نمبر ١٩

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ ایک ضروری کام تھا کہ میں ملاقات کے وقت اس کا ذکر کرنا بھول گیا۔ وہ یہ ہے کہ پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی وہ اب نہیں رہی۔ آپ جاتے ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار ہو۔ ضرور، وی پی کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچھڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے۔ وہی اس میں ہو اور ساتھ اس کی انگریزی دکان سے ایک روپیہ کا ٹنکچر لونڈر جو ایک سرخ رنگ عرق ہے بہت احتیاط سے بند کر کے بذریعہ ڈاک وی پی کر کے بھیج دیں اور جہاں تک ممکن ہو پرسوں تک یہ دونوں چیزیں روانہ

١٦

صفحہ ٣٦٣

بسم الله الرحمن الرحيم! نور (مائده:١٥)“ سے خوشبو آتی تھی ۔ جو آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا ۔ تمام دن ریف ایسا خوشبودار تھا کہ بعض بیبیوں نے شیشے میں کر رکھا ۔ سب خوشبو یوں سے اس کی خوشبو غالب رہتی تھی۔ جس خوشبو آتی۔ یہاں تک کہ پھر جو وہاں سے نکلتا خوشبو سے گئے ہیں ۔

(تواریخ حبیب الہ ص ١٧٤)

سلم سے آپ کو نہایت محبت تھی۔ آپ اکثر ان کے گھر ۔ آپ ﷺ آرام فرماتے۔ جب سو کر اٹھتے تو وہ آپ کا وقت وصیت کی کہ کفن میں حنوط ملا جائے تو عرق مبارک

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣١٠)

دن مبارک سے زیادہ خوشبو نہ تھی۔

(سیرۃ النبی ص ١٥٦)

ﷺ) کی آواز اس قدر کمزور ہو جاتی کہ صحابہؓ آپ کی میں آئے اور بیوی سے کہا کچھ کھانے کو ہے۔ میں نے واز کمزور ہو گئی ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٢)

نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم! اللہ وبرکاتہ ۔ایک ضروری کام تھا کہ میں ملاقات کہ پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی وہ اب نہیں جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچھڑا ر خوشبو ہوتی ہے۔ وہی اس میں ہو اور ساتھ اس کی ایک سرخ رنگ عرق ہے بہت احتیاط سے بند کر کے ہاں تک ممکن ہو پرسوں تک یہ دونوں چیزیں روانہ ١٦

کردیں۔ کیونکہ مجھ کو اپنی بیماری کے دورہ میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ خیریت ۔ والسلام! مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! ”ولسوف يعطيك ربك فترضىٰ (الضحىٰ: ٥)“ سہل بن سعد سے کسی نے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی میدہ کی روٹی بھی کھائی تھی۔ وہ بولا تو کیا ان باتوں سے پوچھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تو فوت ہونے تک میدہ کو آنکھ سے بھی نہیں دیکھا۔ کھانا تو کیا۔

مواہب میں لکھا ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کمال بھوکے تھے۔ آپ ﷺ نے ایک پتھر اٹھا کر اپنے شکم مبارک پر باندھ لیا اور فرمایا اے نفس آگاہ ہو جا کہ دنیا میں بہت سے لوگ نعمت کھانے والے ہیں۔ وہ آخرت میں بھوکے اور ننگے ہوں گے۔ اے نفس جان لے کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے نفس کو بزرگ رکھتے ہیں اور وہی نفس اس کی اہانت کرتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے نفس کو ذلیل کرتے ہیں اور وہ نفس ان کا اکرام کرتا ہے۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٦٩ ، ٧٠)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ٥

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلى علىٰ رسوله الكريم! محبى اخويم ! حكيم محمد حسين صاحب قريشى سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام عليكم ورحمته الله وبرکاته ! خط پہنچا۔ آپ بے شک ایک تولہ مشک بقیمت ٣٦ روپے خرید کر کے بذریعہ وی پی بھیج دیں ۔ ضرور بھیج دیں ۔ باقی سب خیریت ہے۔ والسلام! مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٢)

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! ”ذالك متاع الحيوة الدنيا والله عنده حسن الماب (آل عمران: ١٤)“ ایک دفعہ صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں فاقہ کشی کی شکایت کی اور پیٹ کھول کر دکھایا کہ پتھر بندھے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا شکم مبارک کھولا تو ایک کی بجائے دو پتھر تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٢)

١٧

صفحہ ٣٦٤

ایک دفعہ حضرت فاطمہ کے گلے میں سونے کا ہار دیکھا تو فرمایا کہ تم کو یہ ناگوار نہ ہوگا کہ پیغمبر کی لڑکی کے گلے میں آگ کا ہار ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٤٣)

ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن (مسکتہ) دیکھے فرمایا کہ اگر اس کو اتار کر ورس کے کنگن کو زعفران سے رنگ کر پہن لیتیں تو بہتر ہوتا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣٦٣)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٤

محبی اخویم ! حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! آپ کی علالت اور لڑکے کی علالت سے بہت فکر ہوا۔ خدا تعالیٰ جلد صحت بخشے۔ اپنی خیریت سے اطلاع دیتے رہیں اور چند چیزیں جو نیچے لکھی ہیں خرید کر کے ارسال فرما دیں اور موازی ٨/ جو آپ کے میرے ذمہ تھے بھیجے گئے ہیں اور ٣٢ دانے طلائی زیور پہنچیاں تاگہ ڈالنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ آپ تاگہ ڈلوا کر بدست حامل ہذا بھیج دیں۔ والسلام ! خاکسار: مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم !

”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (مائدہ:٣)“

روز دوشنبہ ٢٩ صفر کو بیماری کا آغاز ہوا۔ سخت درد سر اور تپ شدید تھی۔ ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ جو رومال خدا کے رسول ﷺ نے سر سے باندھ رکھا تھا۔ میں نے اسے ہاتھ لگایا بدن مبارک سے سینک آتا تھا۔ بدن ایسا گرم تھا کہ میرے ہاتھ کو برداشت نہ ہوئی۔

(رحمۃ اللعالمین ص ٢٦٨)

لوگوں نے دوا پلانی چاہی۔ چونکہ گوارا نہ تھی۔ آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔ اسی حالت میں غشی طاری ہوگئی۔ لوگوں نے منہ کھول کر پلا دی۔ افاقہ کے بعد آپ ﷺ کو احساس ہوا تو فرمایا کہ سب کو دوا پلائی جائے۔ معلوم ہوا جن لوگوں نے زبردستی دوا پلائی تھی۔ ان میں حضرت عباسؓ شامل نہ تھے۔ اس لئے وہ اس حکم سے مستثنیٰ رہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٤١)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ تمام عمر یعنی مدینہ کے قیام سے وفات تک آپ ﷺ نے کبھی دو وقت سیر ہو کر روٹی نہیں کھائی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨١)

”وهو الذی جعل اللیل والنہار خلفۃ لمن اراد ان یذکر او اراد

١٨

صفحہ ٣٦٥

شکورا (فرقان: ٦٢)“ ”ولا تبذر تبذیرا (بنی اسرائیل: ٢٦)“

جب انتقال ہوا تو حضرت عائشہؓ نے کمبل جس میں پیوند لگے ہوئے تھے اور گاڑھے کی ایک تہمد نکال کر دکھائی کہ انہی کپڑوں میں آپؐ نے وفات پائی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٥٨)

قادیانی پیغمبر

دستی خط معرفت مولوی یار محمد صاحب خط نمبر ١

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں چند روز سے سخت بیمار ہوں۔ بعض وقت جب دورہ دوران سر شدت سے ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سر درد بھی ہے۔ ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خاص تلاش سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو اور کہنہ نہ ہو اور نیز اس کے ساتھ کوئی طونی نہ ہو۔ ایک بوتل خرید کر بھیج دیں۔ پانچ روپے قیمت اس کی ارسال ہے اور نیز ہمارا پہلا کلاک یعنی گھنٹہ بگڑ گیا ہے۔ اس لئے ایک کلاک عمدہ دوسرا خرید کرنے کے لئے ٩ روپے بھیجتا ہوں۔ یہ کلاک بخوبی امتحان کر کے ارسال فرماویں اور اس کے ساتھ دوسری چیزیں بھی خریدنی ہیں۔ ان چیزوں کی تفصیل ذیل میں ہے۔ والسلام!

مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

بسم الله الرحمن الرحيم!

”فاذا مرضت فهو يشفين“

عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب بیمار ہوتے تو یہ دعا پڑھ کر اپنے ہاتھ جسم پر پھیر لیا کرتے۔

”اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاءک شفاء لا يغادر سقما“ ﴿اے نسل انسانی کے پالنے والے خطرہ کو دور فرما دے اور صحت عطا کر شفا دینے والا تو ہی ہے اور اسی شفا کا نام شفا ہے جو تو عنایت کرتا ہے۔ ایسی صحت دے جو کوئی تکلیف باقی نہ چھوڑے۔﴾

(رحمۃ اللعالمین ص ٢٦٩)

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک دن خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ نے شکم کو کپڑے سے کس کر باندھا ہے۔ سبب پوچھا تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ بھوک کی وجہ سے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٢)

١٩

صفحہ ٣٦٦

قادیانی پیمبر خط نمبر ١٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ براہ مہربانی ایک تولہ مشک خالص جس میں ریشہ اور جھلی اور صوف نہ ہوں اور تازہ وخوشبودار ہو۔ بذریعہ وی پی پارسل ارسال فرمادیں۔ کیونکہ پھر مشک ختم ہو چکی ہے اور باعث دورہ مرض ضرورت رہتی ہے۔ یہ لحاظ رکھیں کہ اکثر مشک میں ایک چمڑہ جیسا ملا دیتے ہیں یا پرانی اور ردی ہوتی ہے اور خوشبو نہیں رکھتی۔ ان باتوں کا لحاظ رہے۔ تلاش کر کے جہاں تک ممکن ہو جلد بھیج دیں۔ والسلام!

خاکسار: مرزا غلام احمد عفی عنہ، ٢٨؍ اپریل ١٩٠٤ء

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”کلو اشربوا ھنیا بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ (حاقہ:٢٤)“

ایک دفعہ ایک شخص خدمت اقدس میں حاضر ہوا کہ سخت بھوکا ہوں۔ آپ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کے ہاں کہلا بھیجا کہ کچھ کھانے کا بھیج دو۔ جواب آیا کہ گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔ آپؐ نے دوسرے گھر کہلا بھیجا۔ وہاں سے بھی جواب آیا۔ مختصر یہ کہ آٹھ نو گھروں میں سے کہیں پانی کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔

حضرت ابوطلحہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور بھوک کی وجہ سے بار بار کروٹیں بدلتے ہیں۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٢)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! چونکہ میرے گھر میں باعث بیماری کے مشک خالص کی ضرورت ہے اور مجھے بھی سخت ضرورت ہے اور پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمادیں۔

مرزا غلام احمد عفی عنہ، ٢٢؍ اکتوبر ١٩٠٠ء

(خطوط امام بنام غلام ص ٣٢)

٢٠

صفحہ ٣٦٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”والباقيات الصالحات خير عند ربك ثواباً وخير املا“

(كهف:٤٦)

تمام اہل وعیال وخانوادہ نبوت کو ممانعت تھی کہ وہ پر تکلف وریشمی لباس اور سونے کے زیور استعمال کریں۔ آپؐ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم کو اس کی تمنا ہے کہ یہ چیزیں تم کو جنت میں ملیں تو دنیا میں ان کے پہننے سے پرہیز کرو۔

(سیرۃ النبی حصہ اوّل جلد دوم ص ٣٥٠)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ”ماكانت لاحدانا الا ثوب واحد“ یعنی ہم تمام بیبیوں کے پاس صرف ایک ایک جوڑہ کپڑا تھا۔ ایک دفعہ آپؐ حضرت فاطمہؓ کے پاس آئے۔ دیکھا کہ انہوں نے ناداری سے اس قدر چھوٹا دوپٹہ اوڑھا ہے کہ سرڈھانکتی ہیں تو پاؤں کھل جاتے ہیں اور پاؤں چھپاتی ہیں تو سر برہنہ رہ جاتا ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣٤٩، ٣٥٠)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

محبّی اخویم! حکیم محمد حسین قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس وقت والدہ محمود احمد ہوا کی تبدیلی کے لئے لاہور آتی ہیں۔ غالباً انشاء اللہ تعالیٰ دس دن تک لاہور میں رہیں گی اور بعض ضروری چیزیں پارچات وغیرہ خریدیں گی۔ اس لئے اس خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے آپ سے بہتر اور کسی شخص کو میں نہیں دیکھتا۔ لہٰذا اس غرض سے آپ کو یہ خط لکھتا ہوں کہ آپ جہاں تک ہوسکے اس خدمت کے ادا کرنے میں ان کی خوشنودی حاصل کریں اور خود تکلیف اٹھا کر عمدہ چیزیں خرید دیں۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔

خطوط امام بنام غلام ص ٤، مرزا غلام احمد عفی عنہ، ٤؍ جون ١٩٠٧ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”وللاخرة خير لك من الاولى (الضحیٰ:٤)“

اکثر ایسا ہوتا کہ آنحضرت ﷺ صبح کو ازواج مطہرات کے پاس تشریف لاتے اور پوچھتے کہ آج کچھ کھانے کو ہے۔ عرض کرتیں نہیں۔ آپؐ فرماتے کہ اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨٣)

٢١

صفحہ ٣٦٨

آپ کی بیویوں نے جب زیورات وغیرہ کی رغبت کی آپ طلاق دینے پر آمادہ ہو گئے اور فرمایا کہ فقر و فاقہ منظور ہے تو میرے نکاح میں رہو۔ ورنہ طلاق لے لو۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٦٨)

بخاری اور مسلم میں بالاتفاق لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گھر والے دو دن برابر جو کی روٹی سے آسودہ نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ نے انتقال فرمایا۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٦٩)

ایک دفعہ حضرت ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے۔ بولیں کہ سرکہ ہے۔ فرمایا کہ جس گھر میں سرکہ ہو اس کو نادار نہیں کہہ سکتے۔ (سیرۃ النبی جلد دوم ١٥٩)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٢٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! محب اخویم! حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے گھر کی طرف سے پیام ہے کہ جو چار روپے تیرہ آنے ہماری طرف نکلتے تھے وہ مولوی محمد علی صاحب کو دے دیئے ہیں۔ ان سے وصول کر لیں اور یہ تمام چیزیں اپنی ذمہ داری سے اور اپنی کوشش اور دیکھ بھال سے خرید کر کے بھیج دیں اور بادام روغن میری بیماری کے لئے خریدا جاوے گا۔ نیا اور تازہ ہو اور عمدہ ہو۔ یہ آپ کا خاص ذمہ ہے۔ والسلام!

(خطوط امام بنام غلام ص ٧، مرزا غلام احمد عفی عنہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”وما اوتیم من شئ فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا وما عند اللہ خیر وابقیٰ (قصص: ٦٠)“

جابرؓ انصاری کا بیان ہے کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ حضرت بی بی فاطمہؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان کے جسم مبارک پر اونٹ کی کھال کا ایک لباس ہے۔ جس میں تیرہ پیوند ہیں۔ وہ آٹا گوندھ رہی تھیں اور کلام اللہ زبان پر جاری تھا۔ رسالت مآب کی آنکھ سے اسی وقت آنسو ٹپک پڑے اور فرمایا: ”فاطمہؓ دنیا کی تکلیفوں کا صبر سے خاتمہ کر اور آخرت کی خوشی کا انتظار کر۔“

٢٢

صفحہ ٣٦٩

ابو ہریرہؓ ایک موقعہ کا ذکر حضرت علی کرم اللہ وجہ کے حوالہ سے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عید کا روز تھا اور حضرت امام حسنؓ دوسرے بچوں کو اچھے کپڑے پہنے دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور ماں سے آ کر کہا کہ جب تک ہمارے کپڑے اجلے اور اچھے نہ ہوں گے ہم عید گاہ نہ جائیں گے۔ سیدہؓ نے بچہ کو گود میں لیا۔ پیار کیا اور کہا یہ کپڑے میلے ہونے والے ہیں اور پھٹ جانے والے ہیں۔ تمہارے کپڑے تمہارے اللہ کے پاس ایسے موجود ہیں کہ جن سے بہتر کوئی کپڑا نہیں ہو سکتا۔ وہ تمہاری امانت موجود ہے۔ خدا کی مرضی پر راضی رہو۔ وہاں جا کر سب کچھ پہن اوڑھ لینا۔

قادیانی پیغمبر خط نمبر ١١

بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

محبّی اخویم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس وقت بموجب تاکید والدہ محمود لکھتا ہوں کہ آپ مبارکہ میری لڑکی کے لئے ایک قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے قیمت سے زیادہ نہ ہو اور گوٹہ لگا ہوا ہو۔ عید سے پہلے تیار کرا کر بھیج دیں۔ قیمت اس کی کسی کے ہاتھ بھیج دی جاوے گی۔ یا آپ کے آنے پر آپ کو دی جاوے گی۔ رنگ کوئی ہو۔ مگر پارچہ ریشمی یا جالی ہو۔

(خطوط امام بنام غلام ص ٥٤، مرزا غلام احمد غفی عنہ، ١٤ فروری ١٩٠٤ء)

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين (بنی اسرائیل:٨٢)“

رسول اکرمﷺ حرام اشیاء کو بطور دوا استعمال کرنے سے نہی فرماتے۔ اللہ نے حرام چیزوں میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی۔

(رحمۃ اللعالمین ص ٢٨١)

آنحضرتﷺ اس دنیا کی آخری شب میں تھے کہ عائشہؓ نے پڑوسن سے چراغ کے لئے تیل منگوایا تھا۔

(رحمۃ اللعالمین ص ٢٩٣)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دعاء فرمایا کرتے۔ الٰہی آل محمد کو صرف اتنا دے کہ جتنا پیٹ میں ڈال لیں۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے فرزند آدم کو ان چند چیزوں کے سوا اور کسی چیز کا حق نہیں۔ رہنے کے لئے ایک گھر۔ ستر پوشی کے لئے ایک کپڑا اور شکم سیری کے لئے روکھی سوکھی

٢٣

صفحہ ٣٧٠

روٹی اور پانی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ۔ ”ولا يطوى له ثوب“ کبھی کوئی کپڑا تہہ کر کے نہیں رکھا گیا۔ یعنی صرف ایک جوڑا کپڑا ہوتا تھا۔ دوسرا نہیں ہوتا تھا۔ جو تہہ کر کے رکھا جا سکتا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٨١)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ١٢

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم! محی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خوردنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے باقی خیریت ہے۔ والسلام!

(خطوط امام بنام غلام ص ٥، مرزا غلام احمد عفی عنہ)

بسم الله الرحمن الرحيم! ”من يطع الرسول فقد اطاع الله (النساء: ٨٠)“ (حضورﷺ) کے نعلین مبارک اس طرز کے تھے جس کو اس ملک میں چپتلی کہتے ہیں۔ یہ صرف ایک تلا ہوتا تھا۔ جس میں تسمے لگے ہوئے تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٥٨)

موزوں کی عادت نہ تھی۔ لیکن نجاشی نے جو سیاہ موزے بھیجے تھے آپؐ نے استعمال فرمائے۔ بظاہر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چرمی تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٥٨)

ایک دفعہ حضرت فاروق اعظمؓ آنحضرتﷺ کے ہمراہ بازار گئے ۔ وہاں سندس کا ایک حلہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے حضورﷺ سے گزارش کی کہ کاش اس حلہ کو عید کے واسطے آپؐ خرید لیتے۔ ارشاد ہوا کہ عمرؓ! اس حلہ کو وہ آدمی پہنے جسے آخرت سے بہرہ نہ ہو۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٢٧)

ایک دفعہ قیصر روم نے آپؐ کی خدمت میں ایک پوستین بھیجی۔ جس میں دیبا کی سنجاف لگی ہوئی تھی۔ آپؐ نے ذرا دیر کے لئے پہن لی۔ پھر اتار کر حضرت جعفرؓ (حضرت علیؓ کے بھائی) کے پاس بھیج دی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٥٤)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ۔ ”كان يقبل الهدية ويثيب عليها“ آنحضرتﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس کا معاوضہ دیتے تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٥٥)

٢٤

صفحہ ٣٧١

قمیص، تہبند، چادر، جوتے کے دو جوڑے کبھی پاس نہیں دیکھے تھے۔ اکثر ہوتا تھا کہ اس بادشاہ دین و دنیا کے پاس کپڑوں کی قسم سے ایک ہی چادر باقی رہ جاتی تھی اور کوئی کپڑا جسم مبارک پر نہیں ہوتا تھا۔ حضور ﷺ نماز میں اس کا تہبند کرتے اور نصف اوڑھ کے نماز پڑھ لیتے تھے۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٦٨)

پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے اور فرماتے جو میری سنت سے بیزار ہوگا وہ میرا نہیں ہے۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٢٠)

معمول تھا کہ مجلس سے اٹھ کر گھر میں تشریف لے جاتے تو کبھی کبھی ننگے پاؤں چلے جاتے اور جوتی وہیں چھوڑ جاتے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ پھر واپس تشریف لائیں گے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٦١)

جوتی پھٹ جاتی تو خود گانٹھ لیتے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٧١)

لباس کے متعلق کسی قسم کا التزام نہ تھا۔ عام لباس، چادر، قمیص، اور تہبند تھی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٥٧)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ٢١

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

محبّی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے قریباً دو ماہ سے کثرت پیشاب کی بہت شکایت ہے اور اس کے ساتھ آٹھ جوڑہ جراب عمدہ مضبوط ولایتی جس کی فی جوڑہ آٹھ آنے قیمت ہو مردانہ بذریعہ وی پی بھیج دیں اور جہاں تک ممکن ہو جلد تر بھیج دیں۔ جو ایک طرف کثرت پیشاب کی تکلیف ہے اور ایک طرف پاؤں کو سردی کی بھی تکلیف اور اگر کوئی پشمی پوستین جو نئی اور گرم ہو اور کشادہ ہو جو کابل کی طرف سے آتی ہے۔ مل سکے تو اس کی قیمت سے اطلاع دیں۔ تاکہ اگر گنجائش ہو تو قیمت بھیج کر منگوالوں۔ والسلام! مرزا غلام احمد

نوٹ: یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب یہ گنجائش کا فقرہ بعض مخلص دوستوں نے سنا تو بے تحاشا ہر ایک نے خواہش کی کہ پوستین ہماری طرف سے خرید کر بھیج دی جاوے۔ حضرت کو قیمت سے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ میں اور مستری محمد موسیٰ صاحب بائیسکل کے سوداگر انارکلی میں سوداگروں کے ہاں پوستین کی تلاش کو نکلے۔ چنانچہ ایک دکان پر ایک پوستین چالیس روپے کی پسند آئی اور وہ پوستین خرید کر مستری صاحب کی طرف سے حضرت کی خدمت میں بھیجی گئی۔ قریشی۔

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

٢٥

صفحہ ٣٧٢

بسم الله الرحمن الرحيم !

”عسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محمودا (بنی اسرائیل : ٧٩)“

ازواج مطہراتؓ کے ساتھ آپؐ کو جو محبت تھی۔ اس کا اظہار کبھی دنیا دارانہ طریقہ سے نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ ازواج مطہرات نے جب اچھے کھانے اور اچھے لباس کی خواہش ظاہر کی تو آپؐ نے ان سے ایلا کر لیا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٥٠)

عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے گھر والے کئی کئی راتیں خالی پیٹ بسر کیا کرتے تھے اور جب کھانا کھاتے تھے تو اکثر اوقات آپؐ کا کھانا جو کی روٹی ہوا کرتا تھا۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ١٦٩)

حضرت انسؓ بن مالکؓ آپؐ کے خادم خاص بتلاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے شہر کے امیروں کے بڑے بڑے خوانچوں پر بیٹھ کر نہیں کھایا اور نہ کبھی چینیوں کی رکابی میں کھایا ہے اور نہ کبھی آپؐ کے لئے پتلی پتلی چپاتیاں کسی نے پکائیں۔ راوی کہتا ہے میں نے اپنے استاد قتادہؓ سے پوچھا کس چیز پر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام روٹی رکھ کر کھایا کرتے تھے۔ اس نے بتایا اس چمڑے کے دستر خوان پر۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٦٩)

معمول تھا کہ حضورؐ رفع حاجت کے لئے اس قدر دور نکل جاتے کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے۔ مکہ معظمہ میں جب تک قیام تھا حدود حرم سے باہر چلے جاتے۔ جس کا فاصلہ مکہ معظمہ سے کم از کم تین میل تھا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٧٢)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ٢٠

بسم الله الرحمن الرحيم ! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اشیاء مفصلہ ذیل ہمراہ لیتے آویں اور اگر خدانخواستہ ایسی مجبوری ہو تو کسی اور آنے والے کے ہاتھ بھیج دیں۔ وائی بیوٹر، جو ایک رحم کے متعلق دوائی ہے۔ پلومر کی دکان سے مشک خالص عمدہ جس میں چھچھڑا نہ ہو۔ ایک تولہ یا نصف تولہ عمدہ ہینگ اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔ اس لئے ایسے پاخانہ کی ضرورت پڑی۔ تیس کا منی آرڈر آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا ہے۔ باقی سب خیریت ہے۔ والسلام !

(خطوط امام بنام غلام ص ٦ ،مرزا غلام احمد عفی عنہ)

٢٦

صفحہ ٣٧٣

بسم الله الرحمن الرحیم! "يا ايها النبى انا ارسلنك شاهدا ومبشراً ونذيراً وداعيا الى الله باذنه وسراجاً منيرا (احزاب:٤٦،٤٥)“

(غزوہ احزاب میں) سرور عالم ﷺ بھی مٹی پھینک رہے ہیں۔ شکم مبارک پر گرد اٹ گئی ہے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣٨٨)

خندق کھودنے، پتھر توڑنے، مٹی ہٹانے میں نبی ﷺ خود بھی صحابہؓ کو مدد دیتے ہیں۔ سینہ مبارک کے بال مٹی سے چھپ گئے تھے۔

(رحمۃ اللعالمین ص ١٣٩)

پتھر کھودتے کھودتے اتفاقاً ایک سخت چٹان آ گئی۔ کسی کی ضرب کام نہیں دیتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ تین دن کا فاقہ تھا اور پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ آپؐ نے دست مبارک سے پھاوڑا مارا تو چٹان ایک تودہ خاک تھی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣٨٨)

ایک دفعہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور عبداللہ بن عباسؓ ام سلمہ کے پاس گئے اور کہا کہ آج ہم کو وہ کھانا پکا کر کھلاؤ جو آنحضرت ﷺ کو بہت مرغوب تھا۔ بولیں تم کو وہ کیا پسند آئے گا۔ لوگوں نے اصرار کیا تو انہوں نے جو کا آٹا پیس کر ہانڈی میں چڑھادیا۔ اوپر سے روغن زیتون اور زیرہ اور کالی مرچیں ڈال دیں۔ پک گیا تو لوگوں کے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ آپؐ کی محبوب ترین غذا تھی۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ١٥٩)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٢٢

بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ میری رائے میں وہ مشک بہت عمدہ تھی۔ اگر چند ہفتوں میں مجھے گنجائش ہوئی تو میں منگوالوں گا۔ بباعث کثرت اخراجات ابھی گنجائش نہیں۔ مگر ضرورت کے وقت جس طرح بن پڑے منگوانی پڑتی ہے۔ وہ مشک تھوڑی سی موجود ہے۔ باقی سب خرچ ہو گئی ہے۔ والسلام!

(خطوط امام بنام غلام ص ٧، مرزا غلام احمد عفی عنہ)

بسم الله الرحمن الرحیم! "تبارك الذى ان شاء جعل لك خيراً من ذالك جنت تجرى من تحتها الانهار وجعل لك قصورا (فرقان:١٠)“

٢٧

صفحہ ٣٧٤

آخری ایام میں آنحضرتﷺ کی نو بیویاں تھیں اور الگ الگ حجروں میں رہتی تھیں۔ جن میں نہ صحن تھا نہ دالان تھے۔ نہ ضرورت کے الگ الگ کمرے تھے۔ ہر حجرہ کی وسعت عموماً چھ سات ہاتھ سے زیادہ نہ تھی۔ دیواریں مٹی کی تھیں۔ جو اس قدر کمزور تھیں کہ ان میں شگاف پڑ گیا تھا اور ان سے اندر دھوپ آتی تھی۔ چھت کھجور کی شاخوں اور پتوں سے چھائی تھی۔ بارش سے بچنے کے لئے بال کے کمبل لپیٹ دیئے جاتے تھے۔ بلندی اتنی تھی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو ہاتھ سے چھو سکتا تھا۔ گھر کے دروازوں پر پردہ یا ایک پٹ کا کواڑ ہوتا تھا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص١٥٢)

آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ابوذرؓ! اگر احد کا پہاڑ میرے لئے سونا ہو جائے تو میں کبھی یہ پسند نہ کروں گا کہ تین راتیں گزر جائیں اور میرے پاس ایک دینار بھی رہ جائے۔ لیکن ہاں وہ دینار جس کو میں ادائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں۔

(سیرۃ النبی ص٢٣٦)

اکثر یہاں تک معمول تھا کہ گھر میں نقد کی قسم سے کوئی چیز موجود ہوتی تو جب تک کل خیرات نہ کردی جاتی گھر میں آرام نہ فرماتے۔ رئیس فدک نے ایک دفعہ چار اونٹ پر غلہ بار کرکے خدمت نبوی میں بھیجا۔ حضرت بلالؓ نے بازار میں غلہ فروخت کر کے ایک یہودی کا قرض تھا وہ ادا کیا۔ پھر آنحضرتﷺ کی خدمت میں آکر اطلاع کی۔ آپؐ نے پوچھا کچھ بچ تو نہیں رہا۔ بولے ہاں۔ کچھ بچ بھی رہا۔ فرمایا جب تک کچھ باقی رہے گا میں گھر نہیں جاسکتا۔ حضرت بلالؓ نے کہا میں کیا کروں۔ کوئی سائل نہیں۔ آنحضرتﷺ نے مسجد میں رات بسر کی۔ دوسرے دن حضرت بلالؓ نے آکر کہا۔ یا رسول اللہﷺ خدا نے آپ کو سبکدوش کر دیا۔ یعنی جو کچھ تھا وہ بھی تقسیم کردیا گیا۔ آپؐ نے خدا کا شکر ادا کیا اور اٹھ کر گھر تشریف لے گئے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص٢٣٧)

”الفقر فخری والفقر منی (حدیث)“

جو چیز آنحضرتﷺ کے پاس آتی۔ جب تک صرف نہ ہوجاتی آپؐ کو چین نہ آتا۔ بیقراری سی رہتی۔ ام المؤمنین ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ گھر میں تشریف لائے تو چہرہ متغیر تھا۔ ام سلمہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ خیر ہے۔ فرمایا: کل جو سات دینار آئے تھے شام ہوگئی اور وہ بستر پر پڑے رہ گئے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص٢٣٦)

”الدنیا جیفۃ وطالبھا کلاب (حدیث)“ یعنی دنیا مردار ہے اور طالب اس کے کتے۔

٢٨

صفحہ ٣٧٥

ایک دفعہ حضورﷺ کی خدمت میں نوے ہزار درہم آئے۔ آپؐ نے ان کو بوریے پر رکھ دیا۔ پھر ان کو تقسیم کرنا شروع کیا اور کسی سائل کو نہ پھیرا۔ یہاں تک کہ ان سے فراغت پائی۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص ٣٨)

عموماً فرمایا کرتے تھے کہ میں تین دن سے زیادہ اپنے پاس ایک دینار بھی رکھنا پسند نہیں کرتا۔

(سیرۃ النبی ص٢٤٠)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ٩

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! وحی الہیٰ کی بناء پر مکان ہمارا خطرناک ہے۔ (یہ باغ والے مکان کی طرف اشارہ ہے جو بالکل ایک طرف جنگل میں واقع ہے۔ کیونکہ ان دنوں اسی مکان میں حضرت تشریف فرما تھے) اس لئے آج دوسو ساٹھ روپے خیمہ خریدنے کے لئے شیخ عبدالرحیم صاحب کے ہاتھ بھیجتا ہوں۔ چاہئے کہ آپ دوسرے چند دوست داروں کے ساتھ جو تجربہ کار ہوں بہت عمدہ خیمہ معہ قناتوں اور دوسرے سامانوں کے بہت جلد روانہ فرمادیں اور کسی کو بیچنے والوں میں سے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدنا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ نوابوں سے دوچند سہ چند مول لیتے ہیں اور خیمہ کو ہر طرح سے دیکھ لیا جائے کہ پرانا اور بوسیدہ نہ ہو اور تمام سامان قنات اور پاخانہ وغیرہ کا ساتھ ہو کہ کوئی نقص نہ ہو۔

(خطوط امام بنام غلام ص٤، مرزاغلام احمد عفی عنہ)

قادیانی پیغمبر کے چند الہامات

زیادہ۔

(نزول المسیح ص ١٣٤، خزائن ج ١٨ ص ٥١٢)

نوٹ: الہام کا مطلب یہ ہے کہ دس دن کے بعد روپیہ آئے گا اور موج ہو جائے گی۔مؤلف!

قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔ چنانچہ میں نے شرمپت اور ملاوامل مذکورہ بالا آریوں کو یہ پیش گوئی بتلائی۔

(نزول المسیح ص ١٣٦، خزائن ج ١٨ ص ٥١٤)

٢٩

صفحہ ٣٧٦

شریعت اور ملا دائل قادیانی پیغمبر کے دو نہایت ثقہ اور معتبر گواہ ہیں۔ مؤلف!

اسماعیل خان“ وہ صبح کا وقت تھا اور اتفاقاً چند ہندو اس وقت موجود تھے۔ میں نے سب کو اطلاع دی کہ خدا نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ آج اس نام کے اس شخص کی طرف سے کچھ روپیہ آئے گا۔

(نزول المسیح ص ١٥٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٤٧)

الہام ہوا کہ ماجھے خاں کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں۔

(نزول المسیح ص ٢٠٢، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٠)

اور مالی فتوحات اب تک دو لاکھ روپے سے بھی زیادہ۔

(نزول المسیح ص ٢٣٠، خزائن ج ١٨ ص ٦١٠)

ڈاک خانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس قدر اس نے روپیہ بھیجا۔ میری دانست میں دس لاکھ سے کم نہیں۔ اب ایماناً کہو کہ یہ معجزہ ہے یا نہیں۔

(نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦)

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

”اطیعوا الله والرسول لعلكم ترحمون (آل عمران: ١٣٢)“ آنحضرت ﷺ نے (حضرت فاطمہؓ کے) جہیز میں ایک پلنگ اور ایک بستر دیا۔ اصابہ میں لکھا ہے کہ آپؐ نے ایک چادر، دو چکیاں اور ایک مشک بھی دی اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہی دو چیزیں عمر بھر ان کی رفیق رہیں۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٣٤٢)

قادیانی پیغمبر خط نمبر ٢٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

محبی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اس وقت رات کا وقت ہے۔ میں قیمت نہیں بھیج سکتا۔ آپ مفصلہ ذیل کپڑے ساتھ لے آویں ۔ آپ کے آنے پر قیمت دی جاوے گی۔ بہرحال اتوار کو آ جاویں۔ والسلام!

(خطوط امام بنام غلام ص ٧، مرزا غلام احمد عفی عنہ)

نوٹ: یہ اس موقعہ پر حضور نے خود خاکسار کو کمال مہربانی سے یاد فرمایا تھا۔ جب کہ صاحبزادی مبارکہ بیگم کے نکاح کی تقریب سعید اگلے روز قرار پاچکی تھی۔ قریشی!

٣٠

صفحہ ٣٧٧

بسم الله الرحمن الرحيم!

’’ان مع العسر يسرا ان مع العسر يسرا (الم نشرح: ٥، ٦)‘‘

ایلاء کے زمانے میں حضرت عمرؓ جب مشربہ میں جو اسباب کی کوٹھڑی تھی۔ حاضر ہوئے تو ان کو نظر آیا کہ سرور عالمﷺ کے بیت قدس میں دنیاوی سازوسامان کی کیا کیفیت ہے۔ جسم مبارک پر صرف ایک تہبند ہے۔ ایک کھری چارپائی بچھی ہے۔ سرہانے ایک تکیہ پڑا ہے۔ جس میں خرمے کی چھال بھری ہے۔ ایک طرف مٹھی بھر جو رکھے ہیں۔ ایک کونے میں پائے مبارک کے پاس کسی جانور کی کھال پڑی ہے۔ کچھ مشکیزہ کی کھالیں سر کے پاس کھونٹی پر لٹک رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرتﷺ نے رونے کا سبب دریافت فرمایا۔ عرض کی یا رسول اللہﷺ میں کیوں نہ روؤں۔ چارپائی کے بان سے جسم اقدس میں بدھیاں پڑگئی ہیں۔ یہ آپؐ کے اسباب کی کوٹھڑی ہے۔ اس میں جو سامان ہے وہ نظر آرہا ہے۔ قیصر و کسریٰ تو باغ و بہار کے مزے لوٹیں اور آپؐ خدا کے پیغمبر اور برگزیدہ ہوکر آپؐ کے سامان خانہ کی یہ کیفیت ہو، ارشاد ہوا کہ اے ابن خطاب تم کو یہ پسند نہیں کہ وہ دنیا لیں اور ہم آخرت۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص٢٦٤)

قادیانی پیمبر خط نمبر ٢٦

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم!

محبّی اخویم! حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ مہربانی فرما کر یہ تمام چیزیں اور کپڑے جو میرے گھر کا ہے بڑی احتیاط سے خرید دیں۔

مکرر یہ کہ حماموں کی قیمت معہ کرایہ وغیرہ مبلغ مولوی محمد علی صاحب کو دیئے گئے ہیں۔ والسلام!

(مخطوط امام بنام غلام ص ٨، مرزا غلام احمد عفی عنہ)

حکیم محمد حسین صاحب قریشی جن کی معرفت مرزا قادیانی مشک وعنبر منگوایا کرتے تھے لکھتے ہیں:

حضرت اقدس اور مفرح عنبری

’’میں اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لئے بے اندازہ فخر وبرکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال

٣١

صفحہ ٣٧٨

فرماتے تھے۔ حضور کو چونکہ دورۂ مرض کے وقت اکثر مشک و دیگر مقوی دل ادویات کی ضرورت رہتی تھی۔ جو اکثر میری معرفت جایا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ حضور کو اگر مفرح عنبری موافق آجائے اور مفید ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔ بہت سا روپیہ حضور کا دوسری ادویات پر خرچ ہونے سے بچ جائے۔ لہٰذا ایک دفعہ میں نے دوسری ادویات کے ساتھ ہی ایک ڈبیہ مفرح عنبری کی بھی خدمت میں بھیج کر استعمال کے لئے عرض کی اور ساتھ ہی عرض کر دیا کہ اگر حضور کو یہ موافق آجائے تو میں ہمیشہ اس خدمت کو اپنا فخر سمجھوں گا اور میری دلی خواہش ہے کہ یہ حضور کے استعمال میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا بے اندازہ فضل ہوا اور میری خواہش پوری ہوئی کہ وہ مفید اور مقبول ہوئی اور آٹھ روز کے اندر ہی حضور نے میر مہدی حسین کو بھیج کر ایک ڈبیہ مفرح عنبری اور طلب فرمائی اور اس کی قیمت پانچ روپے بھی بھیج دی جو میں نے دست بستہ عرض کر کے مفرح عنبری کے ساتھ ہی حضور کو بھیج دیئے۔ تا آخر خط۔ (مکتوب امام بنام غلام ص ٩،٨)

”بسم الله الرحمن الرحيم ٠ ياايها النبى قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين امتعكن واسرحكن سراحاً جميلا ٠ وان كنتن تردن الله ورسوله والدارالاخرة فان الله اعدللمحسنات منكن اجراً عظيما ٠ احزاب: ٢٨، ٢٩“

اے نبی کہہ بیویوں اپنی کے، اگر ہو تم ارادہ کرتیاں زندگانی دنیا کا اور بناؤ اس کا پس آؤ کہ کچھ فائدہ دوں تم کو اور رخصت کر دوں میں تم کو رخصت کرنا اچھا۔ اگر ہو تم ارادہ کرتیاں خدا کا اور رسول اس کے کا اور اگر گھر پچھلے کا پس تحقیق اللہ نے تیار کیا واسطے نیکی کرنے والیوں کے تم میں سے ثواب بڑا۔

جب مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہونے سے مال ہاتھ آیا اور آسودہ حال ہوگئے تو حضرت رسول خدا ﷺ کی بعض بیویوں نے بھی دنیا کے مال و اسباب کی خواہش کی۔ اس پر آپؐ ناخوش ہوئے اور قسم کھائی کہ ایک ماہ تک گھر تشریف نہ لائیں گے اور آپؐ نے ایک حجرہ میں علیحدہ رہ کر ایک ماہ گزارا اور ٢٩ دن کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپؐ گھر میں تشریف لائے اور سب سے پہلے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک بات کہتا ہوں تم جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ بلکہ اپنے ماں باپ سے اس میں مشورہ کر کے جواب دینا۔ عائشہؓ نے عرض کیا کہ فرمائیے۔

٣٢

صفحہ ٣٧٩

آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کو دو باتوں میں اختیار دیا جاتا ہے۔ اگر دنیاوی مال واسباب کی خواہشمند ہو تو یہ لے کر مجھ سے الگ ہو جاؤ اور اگر میری زوجیت میں رہنا پسند کرتی ہو تو یہاں تو وہی فقیرانہ سامان اور کئی کئی روز کے فاقے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ بھلا اس معاملے میں والدین سے کیا مشورہ کرنا ہے۔ میں آپ کی زوجیت میں رہنا چاہتی ہوں۔ اس کے بعد سب بیبیوں نے یہی جواب دیا۔

قادیانی پیمبر انتقال جائداد مرزا غلام احمد قادیانی

(نقل رجسٹری باضابطہ)

”منکہ مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم قوم مغل ساکن ورئیس قادیان وتحصیل بٹالہ کا ہوں۔ موازی ١٤ کنال اراضی نمبری خسرہ ٧٠٤،٢٤٢، ٧٢١،١٧ قطعه کا کھاتہ نمبر ١٧٠ بحوالہ عمل جمع بندی ١٨٩٦ء ١٨٩٧ء واقعہ قصبہ قادیان مذکورہ موجود ہے۔ ١٤ کنال منظورہ میں سے موازی ٢ کنال اراضی نمبری خسرہ نمبری ٧٠٤،٢٤٢ مذکورہ میں باغ لگا ہوا ہے اور درختان آم وکھٹے ومٹھہ وشہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے ۔ پھلے ہوئے ہیں اور موازی ١٢ کنال اراضی منظورہ چاہی ہے اور بلاشرکتہ الغیر مالک وقابض ہوں ۔ سو اب مظہر نے برضاء و رغبت خود وبدرستی ہوش وحواس خمسہ اپنی کل ١٤ کنال اراضی مذکورہ کو معہ درختان ثمرہ وغیرہ موجودہ باغ واراضی زرعی ونصف حصه آب وعمارت وچرخ چوب چاہ موجودہ اندرون باغ ونصف حصہ کھورل ودیگر حقوق داخلی وخارجی متعلقہ اس کے محض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائج نصف جن کے ٢٥٠٠ روپے ہوتے ہیں۔ بدست مسماة نصرت جہاں بیگم زوجہ خود رہن وگروی کردی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذیل زیورات ونوٹ کرنسی نقد مرتهنہ سے لیا ہے۔ کڑی کلان طلائی قیمتی ٥٧٠ ، کڑے خورد طلا قیمت ٢٥٠، ڈنڈیاں ٤ عدد بالیاں دو عدد پہنچی ١٠ عدد زنجیر طلائی دو عدد بالی گھنگھرو والی طلائی دو عدد کل قیمتی ٦٠٠ کنگن طلائی قیمتی ٢١٠ روپے بند طلائی قیمتی ٥٠٠ روپے کٹیمہ طلائی قیمتی ٢١٥ روپے حمیلاں جوڑ طلائی قیمتی ٣٠٠ روپے پونچیاں طلائی بڑی قیمتی چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے ۔ جو شن اور مونگے چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے چنتان کلاں ٣ عدد، طلائی قیمتی ٢٠٠ روپے چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپے بالیاں جڑاؤ سات ہیں۔ قیمتی ١٥٠ روپے نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپے ٹیکہ طلائی جھلا قیمتی ٢٠ روپے حمائل قیمتی ٢٥ روپے پہونچیاں خورد طلائی ٢٢ دانہ ٢٥ روپے ہسلی طلائی قیمتی ٤٠ روپے

٣٣

صفحہ ٣٨٠

ٹیپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٦ روپے کرنسی نوٹ نمبری ١٥٩٠٠٠ ای ٢٩ لاہور کلکتہ قیمتی ایک ہزار اقرار یہ کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد تیس سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں۔ تب فک الرہن کرالوں، ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔ داخل خارج کرا دوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ فصل خریف ١٩٥٥ء سے مرتہنہ دے گی اور پیداوار لے گی۔ جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر تین میں نصف مبلغ زر رہن ایک ہزار روپے کے آگے رقم دوسو ساٹھ کو قلمزن کر کے پانچ سو لکھا ہے۔ جو صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہوگا اور درختان غیر ثمرہ یا خشک شدہ کو مرتہنہ واسطے ہر ضرورت و آلات کشاورزی کے استعمال کر سکتی ہے۔ بنابران رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند ہو المرقوم ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی فیض احمد نمبر ٤٣٩، العبد مرزا غلام احمد بقلم خود گواہ شد میاں حکیم کرم دین صاحب بقلم خود گواہ شد نبی بخش نمبردار بقلم خود بٹالہ حال قادیان۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

”ورفعنا لک ذکرک (الم نشرح:٤)“

نجاشی بادشاہ حبش نے صحابہؓ سے مخاطب ہو کر کہا۔ مرحبا تمہیں اور جس کی طرف سے آئے ہو بے شک وہ خدا کے رسول ہیں۔ ان کی تعریف انجیل میں موجود ہے اور عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی بشارت دی ہے۔ خدا کی قسم اگر کار سلطنت میرے متعلق نہ ہوتا تو میں ان کا خادم بنتا اور ان کو وضو کرایا کرتا۔

(پیارے نبی کے پیارے حالات ص١٦٤، تواریخ حبیب ص٢٦)

ہرقل شہنشاہ روم نے کہا۔ اگر میں یہ جانتا کہ میں اس تک پہنچ سکوں گا تو میں اس کے دیدار کا عاشق ہوتا اور اس کی ملاقات تکلیف سے حاصل کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا۔

(صلی اللہ علیہ والہ وسلم، ترجمہ حدیث بخاری پارہ اوّل)

شہنشاہوں کا وہ رتبہ کہاں ہے
جو ہے فخر غلامان محمدؐ

قادیانی پیغمبر لکھتا ہے

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں

٣٤

صفحہ ٣٨١

نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ وہ رسائل اور کتابیں جمع کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

”میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے۔ جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔“

(مقولہ از تبلیغی مجلہ لاہور، جمادی الآخرا ١٣٥١ھ)

نوٹ: ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا۔ (مؤلف) بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

بسم الله الرحمن الرحيم!

”انك لعلى خلق عظيم (القلم:٤)“ ”واصبر على ما يقولون واهجرهم هجراً جميلا (مزمل:١٠)“ ”ولا تستوى الحسنة ولا السيئة ادفع بالتى هى احسن فاذا الذى بينك وبينه عداوة كانه ولى حميم . وما يلقها الا الذين صبروا وما يلقها الا ذو حظ عظيم (حم السجده:٣٤، ٣٥)“

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ آنحضرتﷺ کی عادت کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی۔ برائی کے بدلے میں برائی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ درگزر کرتے تھے اور معاف کر دیتے تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٢٩)

آپ نے کبھی کسی سے اپنے ذاتی معاملہ میں انتقام نہیں لیا۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٢٩)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کسی کو برا نہیں کہتے تھے۔ کسی کی عیب گیری نہیں کرتے تھے۔ کسی کے اندرونی حالات کی ٹوہ میں نہیں رہتے تھے۔

(سیرۃ النبی جلد دوم ص ٢٣٠)

خود اپنے ذاتی معاملہ پر کبھی آپ کو غصہ نہیں آیا اور نہ کبھی کسی سے انتقام لیا۔

(سیرۃ النبی ص ٢٣٠)

آپ نے فرمایا۔ خدا کے نزدیک سب سے برا وہ شخص ہے۔ جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔

(سیرۃ النبی حصہ اوّل جلد دوم ص ٢٤٧)

سخت سے سخت غصہ کی حالت میں صرف اس قدر فرماتے ۔ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

(سیرۃ النبی حصہ اوّل جلد دوم)

٣٥

صفحہ ٣٨٢

کسی کی کوئی بات بری معلوم ہوتی تو مجلس میں نام لے کر اس کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ بلکہ صیغہ تعمیم کے ساتھ فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ لوگ ایسا کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہے۔ یہ طریقہ ابہام اس لئے اختیار فرماتے تھے کہ شخص مخصوص کی ذلت نہ ہو اور اس کے احساس غیرت میں کمی نہ آ جائے۔

(سیرۃ النبی ص ٢٣٥)

قادیانی پیمبر

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزباں ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

(درثمین اردو ص ٨٢)

ان العدا صاروا خنازیرا الفلا
نساءہم من دونہن الاکلب

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

یعنی میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔

”ذالک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا، الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧،٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”یعنی ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

”اے بدذات فرقہ مولویان تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔“

اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری مولویت کے شتر مرغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ حاشیہ)

”مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

٣٦

صفحہ ٣٨٣

"جو شخص اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے (مرزا قادیانی) کی پیش گوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں فتح اسلام (علاوہ ازیں علماء اسلام کو نام لے لے کر گالیاں دی ہیں۔ جن کا درج کرنا دور از ادب بات ہے)

بسم الله الرحمن الرحيم

"ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)“ ”سيكون فى امتى ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبى لا نبى بعدى (حديث)“

یعنی میری امت میں ٣٠ کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ خیال کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

نوٹ: بعض دوسری احادیث میں کذاب کے ساتھ دجال کا لفظ بھی آیا ہے۔

حدیث مندرجہ بالا میں مخبر صادق ﷺ "ما ينطق عن الهوى (نجم:٣)“ جن کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ " وعلمك ما لم تكن تعلم (النساء: ١١٣)“ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں میرے بعد قیامت ؎١ تک ٣٠ ایسے شخص پیدا ہوں گے جو کہیں گے کہ ہم جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔ یعنی امتی نبی ہیں۔ مگر وہ کذاب دجال ہوں گے۔ کیونکہ میرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔ اس حدیث میں تین لفظ قابل غور ہیں یعنی امتی، نبی، کذاب۔

قادیانی پیمبر

میں آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں۔"

(حقیقت الوحی ص٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦، حقیقت النبوۃ ص٩٩)

اور نبی بھی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١، حقیقت النبوۃ ص ٢١٢)

؎١ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے آخر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے۔“

(ازالہ اوہام کلاں ص ٨١، خرد ص ١٩٩)

٣٧

صفحہ ٣٨٤

پیدا ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠، حقیقت النبوۃ ص ٢١٠)

” وشهدوا على انفسهم انهم كانوا كافرين (انعام: ١٣٠) “

مدعی نبوت پر قادیانی پیغمبر کا فتویٰ کفر

”وماكان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين“ ترجمہ: اور یہ مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں ادعائے نبوت کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

قادیانی پیغمبر کا دعویٰ نبوت

”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء ، بحوالہ حقیقت النبوۃ ص ٢١٣)

”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“

(آخری خط بنام اخبار عام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء، حقیقت النبوۃ ص ٢١٢)

THE PROPHET MIRZA GHULAM AHMAD.

یعنی النبی مرزا غلام احمد۔

(بحوالہ حقیقت النبوۃ ص ٢٠٩)

” اذهبتم طيباتكم فى حياتكم الدنيا واستمتعتم بها (احقاف: ٢٠)“

افعال و خواص مشک کستوری

”لطافت بخشتی ہے اور غلیظ یعنی گاڑھی خلطوں کو تحلیل کرتی ہے اور بالخاصہ فرحت لاتی ہے اور دل و دماغ و تمام اعضائے رئیسہ اور اصلی حرارت کو قوت بخشتی ہے اور خواہش ظاہری باطنی کو پاک وصاف کرتی ہے اور باہ کو حرکت دیتی ہے اور سرعت انزال کو دفع کرتی ہے اور فالج اور لقوہ اور رعشہ اور نسیان کو مفید ہے۔“

(منقول از مخزن ص ١٧١)

” ان الذين يفترون على الله الكذب لايفلحون ٠ متاع قليل ولهم عذاب اليم (نحل: ١١٦، ١١٧)“

قادیانی پیغمبر

”مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی۔“

(نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٢)

٣٨

PDF 386

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

الکتاب

والحکمۃ

یعنی حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی

ایک زبردست دلیل

(جناب شیخ سلطان احمد خانؒ)

صفحہ ٣٨٦

تمہید

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے اور کثرت سے باتیں کرتا ہے۔ ان باتوں میں قرآن مجید کا علم بھی شامل ہے اور غیب کی خبریں بھی۔ ایک دن خدا نے باتوں باتوں میں مرزا قادیانی کو کہا کہ: ”جعلتك مسیح ابن مریم“ جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسیح ناصری مر چکا ہے اور ہم خدا نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنا دیا ہے۔ خدا کی بات تو صاف ہی تھی۔ مگر مرزا قادیانی اس کو نہ سمجھے اور نہ دوبارہ دریافت کیا۔ مگر اپنی الہاموں کی کتاب یعنی براہین احمدیہ میں اس کو درج کر دیا اور ساتھ ہی اپنی اس وحی کے برخلاف اس کتاب میں لکھ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ مگر یہ انہوں نے اپنی رائے سے نہیں لکھا۔ بلکہ اس وحی کے رو سے لکھا جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ یعنی قرآن مجید کی آیات سے ثابت کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور مرزا قادیانی خدا سے باتیں تو کیا کرتے تھے۔ مگر خدا نے بھی نہ جتلایا کہ ہم نے تو مسیح ناصری کی جگہ تم کو مسیح بنا دیا ہے اور تم اسی مسیح کی آمد کے قائل ہو۔ ہوتے ہوتے بارہ سال گزر گئے۔ آخر ایک دن مرزا قادیانی کو خود ہی خیال آ گیا کہ میں تو غلطی پر رہا۔ آنے والا مسیح تو میں ہی ہوں اور مسیح ناصری تو مر چکا ہے۔ جو آیات وہ مسیح ناصری کی حیات اور آمد ثانی کے بارہ میں لکھ چکے تھے انکی نسبت تو لکھ دیا کہ ان آیات کا مفہوم و مطلب سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہوئی اور دوسری آیات سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ مسیح ناصری مر گیا ہے اور اس کی جگہ میں آ گیا ہوں۔ منجملہ دیگر دلائل وفات مسیح پر ایک دلیل پیش کی جاتی ہے کہ مسیح ابن مریم عربی زبان اور قرآن مجید سے ناواقف ہوگا اور یہ بات شان نبوت کے منافی ہے کہ نبی اللہ ہو کر بچوں کی طرح مکتب میں ا، ب، ت پڑھے۔ اس لئے وہ نہیں آ سکتا۔ اس مختصر رسالہ میں اسی بات کا جواب ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذی اصطفٰی

انبیاء کا استاد اللہ تعالیٰ ہوتا ہے

پارہ تین رکوع تیرہ میں اللہ تعالیٰ فرشتہ کے ذریعہ مریم صدیقہ کو بشارت دیتا ہے کہ تیرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا اور اس کی صفات یوں بیان فرماتا

٢

صفحہ ٣٨٧

ہے۔ ”وجیہاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین ، ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین ...... ویعلمہ الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل ورسولاً الی بنی اسرائیل“ اس پیش گوئی و بشارت میں سے ہم صرف ایک حصہ آیات کو پیش کرتے ہیں۔ یعنی ”ویعلمہ الکتاب والحکمة والتورات والانجیل“ اور اس کے معنی پر غور کرتے ہیں۔

”التورات“ اور انجیل سکھلانے کا وعدہ کیا ہے۔ انجیل تو خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ”وآتینہ الانجیل“ اس لئے انجیل کا صحیح مطلب و مفہوم سکھلانا ضروری تھا۔ تا ایسا نہ ہو کہ کسی آیت کے مفہوم و مطلب سمجھنے میں مسیح کو دقت ہو۔ ہر ایک نبی پر جو کتاب نازل ہوتی ہے اس کا صحیح مطلب و مفہوم اللہ تعالیٰ ہی سکھلاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ ہی نے قرآن مجید کا صحیح مفہوم و معانی و مطالب سکھلائے۔ ”الرحمن علم القرآن“ یعنی رحمان نے محمد رسول اللہ کو قرآن سکھلایا ، اور پھر فرمایا : ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ ....... ثم ان علینا بیانہ (القیامة: ١٦ تا ١٩) “ یعنی قرآن مجید کے معنی و مفہوم کو کھول کر بتلانا بھی ہمارا ذمہ ہی ہے۔

سکھلائے گا کہ وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا اور بنی اسرائیل کے پاس کتاب توریت تھی۔ مگر وہ غلط معنی کرنے اور ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کے عادی تھے اور ناحق پر جھگڑا کرنے والے تھے۔ پس اگر خود اللہ تعالیٰ مسیح کو تورات نہ سکھلاتا تو یہودی اس کو چٹکیوں میں اڑا دیتے ، اور دوسرا یہ فائدہ تھا کہ مسیح نبی اللہ ان لوگوں کے آگے زانوے شاگردی تہ نہ کرتے ۔ جس کی طرف وہ رسول ہو کر آیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی مسیح علیہ السلام کے لئے یہ ذلت بھی گوارا کر لیتا کہ وہ ایک کافر کی شاگردی کرے تو بھی اسمیں یہ نقص تھا کہ استاد جو چاہتا پڑھاتا۔ تمام علماء کی ہر ایک بات میں ایک جیسی تفہیم نہیں ہوتی۔ اس لئے ممکن تھا کہ وہ استاد ایک لفظ کا معنی کچھ پڑھاتا اور دوسرے علماء اس سے کچھ اور مراد لیتے اور مسیح نبی اللہ ان سے بحث میں مغلوب ہو جاتے تو نبوت کی قلعی کھل جاتی ۔ یا تورات کا کوئی مسئلہ بیان کرتے اور وہ غلط نکلتا تو بعد میں ندامت سے اپنی

٣

صفحہ ٣٨٨

غلطی کا اقرار کرنا پڑتا اور لوگوں میں بدگمانی پھیل جاتی کہ اس نبی اللہ کو تورات کتاب اللہ کا علم نہیں اور بار بار اپنی غلطیوں سے رجوع کرتا ہے۔ ہمارے آقائے نامدار حضرت خاتم النبیین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانی کتابوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”قل فاتو بالتورات فاتلوها ان کنتم صادقین (آل عمران: ٩٣) “ ﴿لاؤ تورات اور میرے سامنے پڑھو اور جو باتیں تم کہتے ہو وہ اس میں سے نکال کر دکھلاؤ، اگر تم سچے ہو۔﴾ اگر حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علم تورات نہ سکھلایا ہوتا اور آپ اس زبان سے واقف نہ ہوتے تو یہ چیلنج کس طرح دیتے۔ اسی طرح باقی تمام مذاہب والوں کو چیلنج دیا کہ: ”فاتوا بکتابکم ان کنتم صادقین (الصافات: ١٥٧) “ پھر فرمایا: ”قل هل عندکم من علم فتخرجوه لنا ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصون (انعام: ١٤٨) “ غرضیکہ سیدالمرسلین ﷺ کو تمام انبیائے گذشتہ کی کتابوں کا علم اللہ تعالیٰ نے دے دیا تھا صلی اللہ علیہ، اور اس میں مصلحت الہی یہی ہوتی ہے۔ تا دوسری قومیں نبی اللہ کو کسی بات میں از روئے علم نہ جھٹلاویں اور یہ بھی انبیاء کے لئے ایک معیار صداقت ہے۔

مرزا قادیانی اور دعویٰ قرآن دانی

ہمارے زمانہ میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا ہے اور بقول ان کے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے الہام میں نبی ورسول کر کے پکارا ہے۔ جیسا کہ ان کی ابتدائی کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ جس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اور مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ بھی از روئے الہام کر دیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید سکھلا دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”الرحمن علم القرآن “ یعنی رحمٰن نے مرزا قادیانی کو قرآن سکھلایا۔ یہ وہی آیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں فرمائی ہے۔ مرزا قادیانی بھی اس آیت کو از روئے الہام خود اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ پھر ”فتبارک من علم وتعلم“ بھی فرمایا۔ پھر مرزا قادیانی نے بھی فرمایا کہ:

گر استادرا نامی ندانم
کہ خواندم در دبستان محمد

(آئینہ کمالات ص ٦٣٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٤

اگر چہ آپ کر دیا۔

یعنی علم قر اللہ عطاء ہوئے ہیں او مرزا قادیانی کی ق مگر افسو بہت سی باتیں ہیں ج کیا۔ مگر ہم صرف ا ”الرحمن علم ال کتاب میں آپ تحر .......١ الدين كله “ ی جس غلبہ کاملہ دین حضرت مسیح علیہ ال آفات اور اقطار ت .......٢ جهنم للكافری

صفحہ ٣٨٩

اگرچہ آپ کے ایک سے زیادہ استاد تھے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے یہاں تک دعویٰ کر دیا۔

علم قرآن علم آں طیب زباں
علم غیب از وحی خلاقِ جہاں
ایں سہ علم چوں نشانہا دادہ اند
ہر سہ ہمچوں شاہداں استادہ اند
آدمی زادے ندارد ہیچ فن
تا در آویزد دریں میداں بمن

(تحفہ غزنویہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٣)

یعنی علم قرآن علم عربی زبان اور علم غیب یہ تین نشان میری صداقت کے مجھ کو منجانب اللہ عطاء ہوئے ہیں اور کوئی آدمی زادہ ان میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

مرزا قادیانی کی قرآن فہمی کا نمونہ

مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کے یہ تمام دعاوی قرآن دانی کے صحیح ثابت نہ ہوئے۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کو قرآنی آیات کے تحت میں آپ نے بیان کیا اور بعد میں ان سے رجوع کیا۔ مگر ہم صرف ایک دو باتیں پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ جس کتاب میں آپ کے الہامات ”الرحمن علم القرآن“ اور ”فتبارك من علم وتعلم“ درج ہیں۔ یعنی براہین احمدیہ اسی کتاب میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔

الدین کله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

جهنم للكافرين حصيرا“ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور

٥

صفحہ ٣٩٠

اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔.......... وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١ حاشیہ)

’’انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامہ‘‘ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور جولوگ تیری متابعت اختیار کریں یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے متبعین میں داخل ہوجائیں ان کو ان کے مخالفوں پر کہ جو انکاری ہیں قیامت پر غلبہ بخشوں گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ حاشیہ)

مندرجہ بالا نمبر ٢،١ تو قرآن کریم کی آیات ہیں جن کے رو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور آئیں بھی جلالی طور پر نہ کہ جمالی طور پر۔ اس وقت دنیا سے کج اور ناراستی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

کئے گئے ہیں۔ گویا توفی کے معنے پورا دینا ہیں۔ مرزا قادیانی پھر یوں تحریر فرماتے ہیں:

’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد ومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔‘‘ ’’میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بتاتی ہے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٤)

مطلب یہ کہ مرزا قادیانی باوجود نبی اور رسول ہونے کے بارہ سال تک از روئے قرآن مجید حضرت عیسیٰ کی حیات اور آمد ثانی کے قائل رہے۔ ’’رسمی عقیدہ پر جما رہا‘‘ نہیں بلکہ آپ نے تو قرآن مجید کی آیات پیش کر کے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور یہ وہی تفہیم ہے جو الرحمن علم القرآن کے ماتحت ہے۔ قرآن کریم کی نسبت تو

٦

صفحہ ٣٩١

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وما یعقلھا الا العالمون “ یعنی قرآن کریم کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا۔ بلکہ علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کو بھی نہ سمجھے جو خدا نے بڑی شدومد سے کیا اور پھر اس سے بھی عجیب بات یہ کہ : ”میرے مخالف مجھے بتلا دیں کہ میں نے باوجود یکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک یہ دعوے کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٤)

سبحان اللہ! خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا اور بارہ سال تک اسی پر جما رہا۔ ”آمن الرسول بما انزل الیه من ربہ ......... الخ “ پھر تحریر فرماتے ہیں: ”اس جگہ یاد رہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔“

(ایام صلح ص ١٤، خزائن ج ١٤ ص ٢٧١)

اب قرآن دانی کا تو یہ حال ہے کہ وہ دو آیات جو کہ مسیح ابن مریم بقول ان کے زندہ ہونے اور دوبارہ آنے کی خبر نہیں دیتیں۔ ان کو تو مسیح ابن مریم کی حیات اور آمد ثانی کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے اور وہ تیس آیات جو مسیح ابن مریم کی موت کی خبر دیتی ہیں ان کے مطلب و مفہوم کی آپ کو خبر ہی نہیں۔ گویا کہ وہ تیس آیات قرآن میں درج ہی نہیں اور عربی دانی کا یہ حال ہے کہ توفی کے معنے پورا دینے کے کئے گئے ہیں۔ حالانکہ بقول ان کے زبان عرب میں پورا دینے کے معنے ہیں ہی نہیں اور مادۂ نبوت کا یہ حال ہے کہ اپنے الہام کو جو بڑی شدومد سے ہوا سمجھے ہی نہیں اور خدا کی فرمانبرداری کا یہ حال ہے کہ خدا کی وحی کے برخلاف لکھ دیا اور پھر لطف یہ کہ ان تمام باتوں پر بارہ سال تک جو ایک زمانہ دراز ہے جمے رہے۔

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست

مرزا قادیانی جو خود نبوت کے صحیح معنے نہیں جانتے نبوت ورسالت کے مدعی ہیں۔ نبی کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں:

”اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدائے تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٤ ص ١٠٣، مکتوب نمبر ٣٠)

٧

صفحہ ٣٩٢

دوسری جگہ نبی کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں:

”نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

پھر فرماتے ہیں:

”حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعے سے حاصل کئے ہوں۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

”رسول کو علم دین بتوسط جبریل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔“

(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

مرزا قادیانی نے شاید احکام وعقائد دین اور علم دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں گے۔ مرزا قادیانی کو جس طرح نبی کی تعریف میں اختلاف رہا اسی طرح ان کی نبوت کا حال ہے۔

مرزا قادیانی کا دعوٰی کیا تھا

دعوٰی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“ (ازالۃ اوہام ص ٤٢١، ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ ترجمہ: کہہ دے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔“ (تذکرہ طبع سوم ص ٣٥٢)

آنحضرتﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔“ (ازالۃ اوہام ص ٥٨٦، خزائن ج ٣ ص ٤١٦)

سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

نے ہمارے نبیﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ (چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

٨

صفحہ ٣٩٣

رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف بنام اخبار عام، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ (حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

کیا ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تو بجز اس کے کیا کہیں۔ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور لعنت الله على الكاذبين المفترين اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ (تتمہ حقیقت الوحی (انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥) ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

ادعاء نبوت کروں اور اسلام سے خارج (بدر ٥ مارچ ٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) ہوجاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

مرزا قادیانی کا اپنے دعویٰ میں دھوکا کھانا

مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو ایمان اٹھ جاتا ہے اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعویٰ میں بھی دھوکا کھایا ہو۔ یہ خیال سراسر غلط ہے اور جو لوگ نیم سودائی ہوتے ہیں۔ وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں...... جس یقین کو نبی کے دل میں اس کی نبوت کے بارہ میں بٹھایا جاتا ہے۔ وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہو جاتا ہے ...... نبیوں اور رسولوں کو ان کے دعویٰ کے متعلق اور ان کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاسکتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے جس میں کچھ شک باقی نہیں رہتا...... مگر نبوت کے دعویٰ میں انہوں نے دھوکا نہیں کھایا۔ کیونکہ وہ حقیقت نبوت قریب سے دکھائی گئی اور بار بار دکھائی گئی۔“ (اعجاز احمدی ص ٢٤، ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢، ١٣٥)

مگر افسوس کہ مرزا قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ لکھ کر اور اس میں اپنے عقیدہ کی تبدیلی کا اعلان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یا تو ان کا مندرجہ بالا قائم کردہ معیار غلط ہے یا انہوں نے اپنے

٩

صفحہ ٣٩٤

دعویٰ میں دھوکا کھایا ہے۔ مگر بقول خلیفہ المسیح ثانی (جن کی شان میں مرزا قادیانی کا الہام ہے فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء لکان الله نزل من السماء (تذکرہ ص ١٣٩) مرزا قادیانی کو ہی اپنے دعویٰ میں غلطی لگی رہی۔ فرماتے ہیں: ”نبوت کا مسئلہ آپ پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ ... ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)

میاں صاحب کی تحریر سے انکار کرنا گویا کہ: ”کان الله نزل من السماء“ خدا کی بات سے انکار کرنا ہے۔ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

یہ دعویٰ خدا کے حکم سے نہ تھا؟ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(بدر مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

ثابت ہوا خدا کے حکم سے نہیں۔ پس مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ میں غلطی لگی رہی۔ اپنے مسیح موعود ہونے کے الہام کو تو بارہ سال تک نہ سمجھے اور نبوت کے الہام کو تئیس سال نہ سمجھے۔ پہلے محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور بعد میں رسول ہونے کا۔ پس بعض کا یہ خیال درست ہے کہ اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعویٰ میں دھوکا کھایا ہے اور اپنے تمام دعاوی سے ایمان اٹھا دیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کرنے میں مجبور تھے۔ کیونکہ مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک خطبہ میں آپ کو نبیوں کی صف میں کھڑا کر کے آیت ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ آپ پر چسپاں کر دی۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤)

اگرچہ آپ نے اس خطبہ کو پسند فرمایا۔ مگر تاہم ١٩٠٠ء یعنی ایک سال کامل اس سوچ میں رہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی غلطی کا ازالہ شائع کروں یا اپنی کا۔ آخر کار ١٩٠١ء میں آپ نے دعویٰ نبوت کر دیا۔ آپ خود مدت العمر اپنی نبوت سے انکار کرتے رہے اور مسیح موعود ہی رہے۔ مگر اب اگر کوئی ان کی نبوت سے ایک منٹ کے لئے بھی انکار کرے تو وہ پکا کافر بن جاتا

١٠

صفحہ ٣٩٥

ہے۔ مرزا قادیانی خدا کی وحی میں بھی فرق نہ کر سکے کہ یہ وحی ولایت ہے یا وحی نبوت۔ کیونکہ ١٩٠١ء سے پہلے وہ اپنی وحی کو وحی ولایت ہی کہتے رہے۔

(برکات الدعا ص٢٦، خزائن ج٦ ص ایضاً)

مگر بعد میں وہی وحی وحی نبوت نکلی۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی نہ خدا کے قول کو سمجھے نہ فعل کو۔ مرزا قادیانی کے معیار مقرر کردہ کے مطابق مرزا قادیانی محدث نے محدث کا دعویٰ کرنے میں بھی دھوکا کھایا اور مرزا قادیانی نبی ورسول نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کرنے میں بھی دھوکا کھایا نہ آپ کو حقیقت محدث دکھائی گئی اور نہ ہی آپ کو حقیقت نبوت قریب سے اور بار بار دکھائی گئی۔ بلکہ دکھائی ہی نہیں گئی اور نہ ہی آپ نے وحی ولایت کو دیکھا۔ نہ وحی نبوت کو۔ غرضیکہ مسیح کی نسبت جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ مسیح کو تورات اور انجیل سکھلائے گا تو اس میں یہی مصلحت ربانی تھی کہ تا مسیح جو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہے۔ کتاب اللہ کی تفہیم میں دوسروں کا محتاج نہ رہے اور اپنے ناقص کلام اور عقیدہ میں تبدیلی کرنے سے لوگوں کی نظروں میں اپنی نبوت ورسالت کو مشتبہ نہ کردے اور اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی صداقت کا ایک معیار ہے۔

الکتاب والحکمت کے معنی

اب ہم اپنے اصل مطلب کی طرف عود کرتے ہیں۔ یعنی ”الکتاب والحکمۃ“ کے معانی پر غور کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں ”الکتاب والحکمۃ“ اکٹھا آیا ہے۔ وہاں اس سے مراد قرآن اور بیان قرآن یعنی تفہیم قرآن یا تفسیر قرآن وغیرہ ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔

الکتاب والحکمۃ (البقرۃ: ١٢٩)“

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء ہے کہ یارب مکے والوں میں رسول پیدا کر جو ان کو الکتاب والحکمۃ سکھلائے۔ مکہ میں جناب خاتم النبیین ﷺ مبعوث ہوئے اور آپؐ نے جو کچھ امت کو سکھلایا وہ الکتاب والحکمۃ ہے۔

ویزکیکم ویعلمکم الکتاب والحکمۃ (البقرۃ: ١٥١)“

١١

صفحہ ٣٩٦

والحكمة يعظكم به (البقرة:٢٣١)“

عمران:٤٨)“ یہ وہی آیت ہے جو عنوان میں پیش کی گئی ہے۔

”واذ اخذ اللہ ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتب وحكمة (آل عمران:٨١)“ اس آیت میں الکتاب والحکمۃ نہیں۔ اس لئے ہم اس پر بحث نہیں کرنا چاہتے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ ہاں اس قدر بتلا دینا ضروری ہے کہ یہاں ”من تبعیضیہ“ ہے کہ تمام انبیاء کو کتاب اور حکمت سے بطور جز یا کتب اور حکمت کا بعض حصہ دیا گیا تھا۔ ”وانہ لفي زبر الاولين (الشعراء:١٩٦)“ اور ”ان ھذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى (الاعلى:١٨، ١٩)“ ”رسول من اللہ يتلوا صحف مطهرة فيها كتب قيمة (البينة:٢، ٣)“ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کو کتاب اور حکمت میں سے بطور جز کچھ نہ کچھ دیا گیا تھا۔ قرآن مجید مکمل ہے۔ بعض نبیوں کی نسبت ذکر ہے کہ ان کو الکتاب دی گئی۔ جیسا کہ: ”وآتينا موسى الكتاب“ اور بعض کو الحکمۃ ”آتينا لقمان الحكمة“ مگر مجموعی طور پر ”الكتاب والحكمة“ کسی نبی کو دینے کا ذکر نہیں۔

انفسهم يتلوا عليهم آيتہ ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة (آل عمران:١٦٤)“

آل ابراهيم الكتاب والحكمة وآتيناهم ملكاً عظيما (النساء:٥٤)“ اس آیت میں آل ابراہیم سے مراد اہل اسلام ہی ہیں۔ کیونکہ ماقبل مسلمانوں کا ذکر ہے اور اہل کتاب کے حسد کرنے کا بیان ہے۔ ”ويقولون للذين كفروا هولاء اهدىٰ من الذين آمنوا سبيلا (نساء:٥١)“ یعنی کافر لوگ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس بات سے ان پر لعنت کرتا ہے اور فرمایا ہے۔ ”ام لهم نصيب من الملك فاذا لا يؤتون الناس نقيرا (نساء:٥٣)“ الناس سے مراد مسلمان ہیں۔ اس کے آگے مندرجہ بالا آیت ہے اور اس میں بھی الناس سے مراد مسلمان ہیں۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ ”مايود الذين

١٢

صفحہ ٣٩٧

كفروا من اهل الكتاب ولا المشركين ان ينزل عليكم من خير من ربكم والله يختص برحمته من يشاء والله ذو الفضل العظيم . ما ننسخ من آية او ننسها (البقره: ١٠٥، ١٠٦) ”تورات اور انجیل کے منسوخ ہو جانے کے سبب وہ لوگ حسد کرتے تھے اور نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر قرآن نازل ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو جتلاتا ہے کہ: ”فقد آتينا آل ابراهيم الكتاب والحكمة (النساء: ٥٤)“ مسلمانوں کو آل ابراہیم اس لئے کہا کہ حضور ﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور اہل کتاب کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بھی حسد ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جتلا دیا کہ محمد ﷺ بھی آل ابراہیم ہیں اور پھر اس لئے بھی آل ابراہیم کہا کہ حضرت ابراہیم نے دعاء کی تھی کہ یا رب مکے والوں میں رسول پیدا کر۔ جو ان کو ’الکتاب والحکمة‘ سکھلا دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم نبی حضور ﷺ کو الکتاب والحکمت دینے کا ذکر کر کے یہ جتلا دیا کہ دعائے ابراہیم قبول کر لی گئی اور آل ابراہیم کو الکتاب والحکمت دے دی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں دعائے ابراہیم اور بشارت عیسیٰ ہوں اور آیت ”فقد آتينا آل ابراهيم الكتاب والحكمة“ سے اگلی آیت یعنی ”فمنهم من أمن به ومنهم من صد عنه وكفى بجهنم سعيراً (النساء: ٥٥)“ یعنی بعض اہل کتاب تو اس الکتاب والحکمۃ پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض خود بھی ایمان نہیں لاتے اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے۔ اگر الکتاب والحکمہ سے صحائف سابقہ مراد لئے جائیں تو اہل کتاب تو ان کو مانتے ہیں۔ پھر من صد عنہ کے کیا معنی۔

اہلِ اسلام مفسرین کی رائے کو تو احمدیہ جماعت کچھ کم ہی وقعت دیتی ہے۔ اس لئے میں ان کا حوالہ پیش نہیں کرتا۔ قادیانی جماعت نے تا حال تمام قرآن مجید کی تفسیر نہیں لکھی۔ جس کا حوالہ دیا جائے۔ ہاں مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے بیان القرآن لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے میری تائید کی ہے۔ دیکھو ص ٣٥٢ زیر آیت حصہ اوّل لکھتے ہیں۔

یہاں آل ابراہیم کو یعنی مسلمانوں کو دو چیزیں دینے کا ذکر کیا۔ کتاب اور حکمت اور ملکِ عظیم۔

وكان فضل الله عليك عظيما (النساء: ١١٣)“

١٣

صفحہ ٣٩٨

(المائدہ:١١٠) ”مریم کو خوشخبری دی گئی تھی کہ تیرے بیٹے کو اللہ تعالیٰ الکتاب والحکمۃ سکھلائے گا۔ اس آیت نمبر ٨ میں یہ ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مسیح کو احسان جتائے گا کہ میں نے تجھ کو الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل سکھلائی۔ جو لوگ پارہ تین میں الکتاب والحکمۃ یعنی التوراۃ والانجیل معنی کرتے ہیں۔ وہ یہاں بھی یہی معنی کریں گے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ میں نے تجھ کو الکتاب والحکمت یعنی تورات اور انجیل سکھلائی۔ افسوس قرآن نہ ہوا۔ عبارتوں کا مجموعہ ہوا۔ اگر تورات اور انجیل ہی سے مراد ہوتی تو الکتاب والحکمۃ لانا بے فائدہ۔

(الاحزاب: ٣٤) ”اس آیت میں الکتاب کی بجائے آیات کا لفظ ہے جو ہمارے مدعا کی اور بھی تائید کرتا ہے۔

ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة (الجمعة:٢)“ گویا قرآن مجید نے الکتاب والحکمت کے معانی کو مقید کر دیا ہے کہ ان سے مراد قرآن و بیان قرآن ہی ہے اور بس۔

حضرت مسیح کو قرآن کریم کون سکھلائے گا

"ويعلمه الكتاب والحكمة (آل عمران:٤٨)“ یعنی عیسیٰ ابن مریم کو اللہ تعالیٰ الکتاب والحکمت یعنی قرآن مجید سکھلائے گا۔ پس مسیح ابن مریم کو کسی مکتب میں جانے اور بشر استاد سے تعلیم قرآن حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شاگرد ہوگا۔

نتیجہ: اللہ تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن مجید سکھلانا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ خود دنیا میں تشریف لائیں گے اور قرآن مجید پر عمل کریں گے۔ ان کی جگہ کوئی ایسا شخص جس نے انسانوں سے تعلیم حاصل کی ہو اور بار بار آیات قرآنی کے مفہوم و معانی کے متعلق غلطیاں کر کے ٹھوکریں کھائی ہوں اور اپنی غلطیوں سے رجوع کیا ہو، نہیں آسکتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی۔

١٤

PDF 400

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

قادیانی

ہم مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ)

صفحہ ٤٠٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم! "الحمد للّٰہ وکفٰی والصلوٰۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ والہ واصحابہ اجمعین"

حضور ﷺ کی پیش گوئی

حضور ﷺ کی زبان صداقت ترجمان نے آج سے چودہ صدیاں پہلے ہی امت کو خبردار کیا تھا۔ ”مجھے اپنی امت کے حق میں گمراہ کرنے والے لوگوں (یعنی خانہ ساز نبیوں) کی طرف سے بڑا کھٹکا ہے اور میری امت میں ضرور تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک مدعی ہوگا کہ وہ خدا کا نبی ہے۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔“

(بخاری ومسلم)

حضور ﷺ کے صحابی حضرت حذیفہؓ بہت پریشان رہا کرتے تھے کہ کہیں اس طرح کے کسی شر اور فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ ہم جاہلیت کے تاریک ترین دور میں بڑے زیاں کار تھے۔ خدائے ذوالمنن نے ہمیں نعمت اسلام سے نوازا۔ لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس خیر و برکت کے بعد بھی کوئی بھلائی عرصۂ ظہور میں آئے گی۔ فرمایا، ہاں لیکن اس میں کدورت ہوگی۔ پوچھا کدورت کس قسم کی ہوگی۔ فرمایا ایسے ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو میری راہ ہدایت سے منحرف ہوکر اپنا علیحدہ طریقہ اختیار کریں گے جو شخص ان کی بات پر کان دھرے گا اور عمل پیرا ہوگا اسے جہنم واصل کر کے چھوڑیں گے۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی علامات کیا ہے۔ فرمایا وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے۔ (یعنی مسلمان کہلائیں گے) ان کا ظاہر تو علم وتقویٰ سے آراستہ ہوگا۔ لیکن باطن ایمان وہدایت سے خالی ہوگا۔ وہ ہماری ہی زبانوں کے ساتھ کلام کریں گے۔ حذیفہؓ نے گزارش کی یا رسول اللہ ﷺ تو پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ فرمایا: اے حذیفہؓ جب ایسا وقت آجائے تو مسلمانوں کی جماعت میں لازمی طور پر شریک حال رہنا اور مسلمانوں کے امام وخلیفہ سے انحراف نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ایسا وقت ہو کہ مسلمانوں کی کوئی جماعت ہی نہ رہے اور ان کا کوئی امام بھی نہ ہو تو پھر کیا کرنا ہوگا؟ فرمایا اگر ایسی حالت رونما ہو تو پھر گمراہ فرقوں سے الگ رہنا۔ اگرچہ تمہیں درختوں کے پتے اور جڑیں چبا کر ہی گزر اوقات کرنا پڑے۔“

(بخاری ومسلم)

٢

صفحہ ٤٠١

قادیانی گروہ کی تصویر بنائی جائے اور اس پر اس حدیث کو بطور عنوان درج کیا جائے تو کسی طرح بھی غلط نہ ہوگا۔ حضور انور ﷺ نے جس طرح بتایا کہ وہ دین کی ظاہری حالت پر قائم ہوں گے۔ لیکن گمراہی ان کے دلوں کی آخری تہ تک اتری ہوگی اور وہ جہنم کے راستوں پر اندھا دھند دوڑ رہے ہوں گے۔ قادیانی گروہ بھی اسی طرح ایک نئی خانہ ساز نبوت قائم کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جس امت کو حضور انور ﷺ نے اس خطرے سے آگاہ کیا تھا اور اس خطرے کی جزئیات تک بتا دی تھیں۔ اسی امت کے افراد اس دام میں گرفتار ہو رہے ہیں اور امت کے دوسرے کروڑوں افراد اس گمراہ کن گروہ سے غافل ہیں یا حدیث مبارک کی ہدایات کے مطابق اس کا بروقت اور مؤثر نوٹس نہیں لے رہے۔

مسلمان قادیانیوں کی نظر میں

مسلمانوں کے بارے میں قادیانی جس قسم کے نظریات رکھتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی میاں بشیر الدین محمود اور دیگر قادیانیوں کی کتابیں پڑھنے سے امت مسلمہ کو صاف طور پر پتہ چل جائے گا کہ قادیانی گروہ مسلمانوں کو کیا سمجھتا ہے۔ ان کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا ہے اور مسلمانوں کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا ہے۔ اس سلسلے میں چار چیزیں بالخصوص پرکھنے والی ہیں۔

پڑھنے کے سلسلہ میں قادیانیوں کے نظریات۔

کیا مسلمان کافر ہیں

پاکستان کے کروڑوں مسلمان مرزا قادیانی کو نہ صرف یہ کہ نبی نہیں تسلیم کرتے بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضور انور ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہر شخص مفتری، کذاب اور کافر ہے۔ اس عقیدے پر امت مسلمہ کا ہر فرد کار بند ہے اور اس میں کسی شک و تردد میں مبتلا نہیں۔ لیکن چند روشن خیال اور تجدد پسند مسلمان اس مسئلے کو اہمیت نہیں دیتے اور ان کے نزدیک یہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے ”جسے مولویوں کی ضد اور ہٹ دھرمی نے سنگین بنادیا ہے۔“

٣

صفحہ ٤٠٢

یہ حضرات قادیانی نہیں ہیں۔ یہ بھی حضور ﷺ کے ختم المرسلین پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بھی مرزا قادیانی کے مکر و فریب سے واقف ہیں۔ لیکن محض اپنی نام نہاد روشن خیالی کی بناء پر اس مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔ انہیں حضرات کے لئے مرزا قادیانی کی چند تحریریں پیش ہیں۔ تا کہ وہ دیکھ لیں کہ وہ بے شک قادیانی گروہ کو نظر انداز کرتے رہیں۔ لیکن قادیانی انہیں کیا سمجھتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کئی کتابوں میں ان حضرات کو جو مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتے کافر لکھا ہے:

”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ ......... اب جو شخص خدا اور رسول کے احکام کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھے باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

”کفر دو طرح پر ہے۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٥)

مرزا قادیانی کے خلیفہ میاں محمود احمد نے بھی اپنی تحریروں میں ان مسلمانوں کو کافر کہا ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کو تسلیم نہیں کرتے۔ (آئینہ صداقت ص ٣٥) میں میاں محمود نے لکھا: ”کل

٤

صفحہ ٤٠٤

مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

٢١ جون ١٩٢٣ء کے الفضل میں جامعہ ملیہ کے طالب علم عبدالقادر کا مضمون شائع ہوا تھا۔ وہ لکھتا ہے:

ایک دن عصر کی نماز کے بعد خود جناب خلیفہ صاحب سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی کہ وہ غیر احمدیوں کی کیوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس گفتگو کا خلاصہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں:

خاکسار: کیا یہ صحیح ہے کہ آپ غیر احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔

خلیفہ صاحب: ہاں یہ درست ہے۔

خاکسار: اس تکفیر کی بناء کیا ہے۔ کیا وہ کلمہ گو نہیں ہیں۔

خلیفہ صاحب: بے شک وہ کلمہ گو ہیں۔ لیکن ہمارا اور ان کا اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔ مسلم کے لئے توحید پر، تمام انبیاء پر، ملائکہ پر، کتب آسمانی پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو ان میں سے ایک بھی نبی اللہ کا منکر ہو جائے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔ لیکن صرف رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے مطابق غیر احمدی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت سے منکر ہو کر کفار میں شامل ہیں۔ اللہ کی طرف سے ایک مامور آیا جس کو ہم نے مان لیا اور انہوں نے نہ مانا۔‘‘

اسی طرح کے خیال کا اظہار کلمتہ الفصل میں صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی ولد غلام احمد قادیانی نے کیا:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

بلکہ مرزا محمود نے اس شخص کو بھی کافر قرار دیا جو مرزا قادیانی کو سچا تسلیم کرنے کے باوجود آپ کی بیعت نہیں کرتا۔

’’آپ نے (مسیح موعود نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا مانتا ہے مگر مزید اطمینان کے

٥

صفحہ ٤٠٤

لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“

(مندرجہ تشحیذ الاذہان ص ٤، اپریل ١٩١١ء)

جنگلی سؤر اور کتیوں کی اولاد

اس طرح قادیانی گروہ نے مسلمانوں کو صرف کافر ہی قرار نہ دیا بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹی نبوت تسلیم نہ کرنے والے ہر فرد کو خنزیر، جنگلی سؤر، کتیوں کی اولاد اور نہ جانے کیا کیا خطاب دیئے۔ ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

”جس شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)

”بلاشبہ ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بڑھ گئیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا۔ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

لمحۂ فکریہ

یہاں ایک لمحے کے لئے رک جائیے اور سوچئے کہ آپ تو اپنی روشن خیالی اور تجدد پسندی میں ہر شے سے اغماض برت رہے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہ کر کے آپ کی حیثیت کیا بن جاتی ہے۔ قادیانیوں کی نظر میں ہر وہ فرد جو مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کافر ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مشرک اور جہنمی ہے۔ یہودی اور عیسائی ہے۔ جنگلوں کا سؤر اور بیابانوں کا خنزیر ہے۔ کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد ہے۔ کتیوں کی اولاد ہے اور ۔ ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔

ان تمام ”خطابات“ کی زد میں ختمِ نبوت کا ہر قائل شامل ہوتا ہے۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ چاہے قادیانیوں کو برا بھلا کہتا ہو یا ان سے اغماض برتتا ہو۔ چاہے افسر ہو یا ماتحت۔ چاہے تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ۔ وہ مرزائیوں کے نزدیک کافر ہے۔ اس دائرہ تکفیر میں ہر انسان

٦

صفحہ ٤٠٥

گالیوں کی زد میں حضرت قائد اعظم سے لے کر قائد عوام تک ہر مسلمان شامل ہے۔ اس میں صدارتوں اور وزارتوں کا حلف اٹھانے والے حکمران بھی شامل ہیں۔ جن کے حلف میں ختم نبوت پر اعتقاد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مرزائیوں کی طرف سے آنے والے یہ گولے صرف علماء کے گھروں میں ہی نہیں گر رہے۔ ان کی توپوں کا رخ ہر مسلمان کی طرف ہے۔ ختم نبوت پر اعتقاد رکھنے والے ہر فرد کی طرف ہے اور مرزائیوں کو سرکاری چھتری تلے تحفظ دینے والے حکمرانوں کی طرف بھی ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے جس میں ہر فرد کو سوچنا ہے کہ اس کا طرز عمل کیا ہے اور مرزائیوں کی اس کے بارے میں رائے کیا ہے۔

عملی ثبوت

مسلمانوں کو کافر سمجھنے کا مسئلہ مرزائیوں نے صرف تحریر تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ اپنے عمل کے ساتھ ثابت کیا کہ وہ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور ہر ایسے شخص کو دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔

ہم عیسائیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے گرجوں میں عبادت کے لئے نہیں جاتے۔ ان سے شادی بیاہ نہیں کرتے۔ ان کا کوئی فرد مرجائے تو ان کی مذہبی رسومات میں شرکت نہیں کرتے۔ ہم ہندوؤں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مندروں کا رخ نہیں کرتے۔ ان کی عبادت میں شریک نہیں ہوتے۔ ان کو اپنی لڑکیاں نہیں دیتے۔ ان کی شمشان بھومی پر حاضری نہیں دیتے۔ اسی طرح ہم قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلقات استوار نہیں کرتے۔ کیونکہ یہی چیزیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی گروہ دوسرے گروہ کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ اب جو حضرات قادیانی گروہ کو بھی مسلمانوں کا ہی ایک گروہ سمجھتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ ذرا اسی معیار پر قادیانیوں کو دیکھ لیں۔

نماز کا معاملہ

قادیانیوں کو اس بات کی ممانعت ہے کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد نے کہا: ”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اس میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے۔“

(اخبار الحکم قادیان ج٥ ش٢٩ ص٣، مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء)

٧

صفحہ ٤٠٦

”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی منکر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧، حاشیہ مرزا قادیانی)

اسی طرح میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے بھی بڑی سختی سے اپنے پیروکاروں کو مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا۔ ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩)

”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا مسئلہ ہے اور اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠، مصنفہ میاں محمود قادیانی)

قادیانی حضرات اس پر اتنے متشدد ہوئے کہ انہوں نے مکہ میں جا کر بھی مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی۔ چنانچہ (آئینہ صداقت ص ٩١) میں میاں محمود قادیانی واقعہ درج کرتے ہیں۔ ”١٩١٢ء میں میں سید عبدالحی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گیا۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب بھی براہ راست حج کو گئے۔ جدہ میں ہم مل گئے اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے۔ پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آ گیا۔ میں ہٹنے لگا۔ مگر راستے رک گئے تھے۔ نماز شروع ہو گئی تھی۔ نانا صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اولؓ (حکیم نورالدین) کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے۔ اس پر میں نے نماز شروع کر دی۔ پھر اسی جگہ ہمیں عشاء کا وقت آ گیا۔ وہ نماز بھی ادا کی۔ گھر جا کر میں نے عبدالحی عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفہ اولؓ کے حکم کی نماز تھی۔ اب آؤ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرالیں اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کراتے۔“

نماز جنازہ

اسی طرح قادیانیوں نے مسلمانوں کی نماز جنازہ بھی کبھی نہیں پڑھی۔ اس سلسلے میں بھی ان کا باقاعدہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے منکر کا نماز جنازہ جائز نہیں۔ ”حضرت

٨

صفحہ ٤٠٧

مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کا جنازہ محض اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔“

(اخبار الفضل ج ٢ ش ١٣٦ ص ٧، مورخہ ٦؍ مئی ١٩١٥ء)

اسی اخبار الفضل میں درج ہے۔ ”اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تک تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اللہ اور نبی کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔“

(الفضل ج ٢ ش ١٣٦ ص ٨، مورخہ ٦؍ مئی ١٩١٥ء)

ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔

”اس کے متعلق (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) نے فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ اگر چہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔“

(مندرجہ اخبار الفضل ج ١٠ ش ٤٢ ص ٧، مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٢٢ء)

”تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ایک لڑکا پڑھتا ہے۔ چراغ دین نام حال میں جب وہ اپنے وطن سیالکوٹ گیا تو اس کی والدہ صاحبہ فوت ہو گئیں۔ متوفیہ کو اپنے نوجوان بچے سے بہت محبت تھی۔ مگر سلسلے میں داخل نہ تھیں۔ اس لئے چراغ الدین نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ اپنے اصول اور مذہب پر قائم رہا۔ شاباش اے تعلیم الاسلام کے غیور فرزند کہ قوم کو اس وقت تجھ سے غیور بچوں کی ضرورت ہے۔“ زندہ باش!

(اخبار الفضل قادیان، ٢٠؍ اپریل ١٩١٥ء، ج ٢ ش ١٢٩ ص ١)

حضرت قائد اعظم کا جنازہ

یہ بات تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان سابق وزیر خارجہ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔ جب اس سے اس سلسلے میں استفسار کیا گیا تو اس نے کہا: ”یوں سمجھ لیجئے کہ میں ایک غیر مسلم ملک کا مسلمان وزیر ہوں۔“

(بحوالہ اداریہ روز نامہ مشرق ١٥ فروری ١٩٦٤ء)

اس کے اس جواب پر جب اسلامی اخبارات میں احتجاج کیا گیا تو جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا: ”جناب چوہدری ظفر اللہ خان پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ

٩

صفحہ ٤٠٨

کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“

(ٹریکٹ نمبر ٢٢ بعنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، شائع کردہ مہتمم نشر واشاعت انجمن احمدیہ ربوہ)

اسی طرح ابھی کچھ عرصہ پہلے آزاد کشمیر کے ممتاز روحانی پیشوا ایڈووکیٹ پیر مقبول حسین گیلانی انتقال ہوا تو آزاد کشمیر کے ایک مرزائی ایڈووکیٹ عبدالحئی نے موقع پر موجود ہونے کے باوجود نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حالانکہ پیر گیلانی پورے آزاد کشمیر کی مشترک پسندیدہ شخصیت تھے۔

نکاح

امت مسلمہ سے مرزائیوں نے علیحدگی اس طرح اختیار کی کہ پھر مسلمانوں سے اپنے گروہ کے نکاح وغیرہ کے تعلقات بھی توڑ لئے اور مسلمان اس مرحلہ پر سوچیں کہ قادیانیوں کے نزدیک ان کی کیا پوزیشن ہے۔

(٤؍فروری ١٩٣٣ء کے الفضل ج٢٠ ش٩٧ ص٨) میں ناظر امور عامہ قادیان کا یہ اعلان شائع ہوا:

”یہ اعلان بغرض آگاہی عام شائع کیا جاتا ہے کہ احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر احمدیوں سے کرنے ناجائز ہیں۔“

اسی طرح برکات خلافت کے ص٧٥ پر میاں محمود خلیفہ قادیان نے لکھا:

”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“

”حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریاں پیش کیں۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت ص٩٣)

اس طرح کی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ ان افراد کو جماعت سے نکال دیا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو اپنی لڑکیاں دی تھیں۔

١٠

صفحہ ٤٠٩

”٦ نومبر ١٩٣٤ء ج ٢٢ ش ٦٩ ص ٨ کے الفضل میں ضلع شیخوپورہ اور ضلع گورداسپور کے ایسے پانچ افراد کے نام درج تھے جنہیں محض اس وجہ سے جماعت سے نکال دیا گیا۔“

قطع تعلق

قادیانیوں نے مسلمانوں سے محض نکاح وغیرہ کے معاملات ہی ختم نہیں کئے بلکہ قادیانیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مسلمانوں سے قطع تعلق کر لیں: ”یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے اول تو یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا: نہ کہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ آباء پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں بھی حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں۔ جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔“

(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان ص ١٣١)

”اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے صاف حکم دیا ہے کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں۔ جبکہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٨ جون ١٩١٤ء)

بالکل علیحدہ

اسی طرح کلمۃ الفصل میں صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی نے بڑے واضح انداز میں اعلان کیا: ”غیر احمدی سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے۔ جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیاوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔ ہاں اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کبھی سلام نہیں کہا۔ نہ ان کو سلام کہنا جائز ہے۔ غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور ایسا کوئی تعلق

11

صفحہ ٤١٠

نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔“

(کلمۃ الفصل ص ١٦٩، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

قادیانیوں کی ان تمام تحریروں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے مسلمانوں کے بارے میں نظریات واضح ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کے منکر ہیں۔ کافر، دائرہ اسلام سے خارج، مشرک، یہودی، کنجریوں، بدکاروں اور کتوں کی اولاد ہیں۔ وہ جنگلوں کے خنزیر، بیابانوں کے سؤر اور ولد الحرام ہیں۔ ان کے پیچھے نماز ناجائز اور قطعی حرام ہے۔ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جاسکتی۔ ان کی لڑکیوں سے نکاح حرام ہے۔

وہ افراد جو مرزائیوں کے کاروباری اخلاق سے گھائل ہو جاتے ہیں۔ ان کے عاجزانہ رویہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی چاپلوسی کے فریب میں پھنستے ہیں اور ان کے چہروں پر ظاہر تقویٰ کی خشکی دیکھ کر ان کے باطن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی کی تحریر کی روشنی میں سوچیں کہ قادیانی تو انہیں یہودی عیسائی کی حیثیت سے سلام کرتے ہیں۔

سوچنے کا مقام

سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اتنے بے حس کیوں ہو گئے۔ اقلیت اکثریت کو غیر مسلم قرار دے رہی ہے اور اکثریت بے بس ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہ کیا رہوڈیشیا کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ اگر ہماری غفلت کا یہی عالم رہا تو پھر رہوڈیشیا کی طرح یہاں بھی اقلیت اکثریت پر حکومت کرنے لگے گی۔ قادیانی بڑی خاموشی کے ساتھ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔

یہ ہماری غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ اقلیت اکثریت کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر ملازمتوں پر قابض ہو رہی ہے۔ اگر اقلیت کو اقلیت قرار دیا جاتا تو یہ صورت پیدا نہ ہوتی۔ قادیانی اپنی آبادی کے لحاظ سے صرف ایک فیصد ملازمتیں حاصل کرتے۔ جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔ ”ملت اسلامیہ کے اندر رہنے کا پھل جو انہیں سرکاری ملازمتوں کے دائرہ میں سیاسی مفادات کے حصول کی صورت میں ملتا ہے۔ اس سے قطع نظر یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ان کی موجودہ آبادی کی بنیاد پر جو تازہ ترین مردم شماری کی روشنی میں صرف چھپن ہزار ہے۔ انہیں ملک کی کسی مقننہ میں ایک نشست کا بھی استحقاق حاصل نہیں ہوتا۔“

(روزنامہ اسٹیٹ مین مورخہ ١٠؍ جون ١٩٣٥ء)

١٢

صفحہ ٤١١

ہماری غفلت نے انہیں فوج کی کلیدی آسامیوں پر پہنچایا۔ انہیں اقتصاد و معیشت کی منصوبہ بندی پر قابض بنایا۔ انہیں سول سروسز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کروایا۔ انہیں ایوان حکومت میں پہنچا دیا اور آج قادیانی علی الاعلان کہتے پھرتے ہیں کہ معنوی اور عملی اعتبار سے ہمارا اقتدار قائم ہو چکا ہے اور چند روز کی بات ہے۔ جب جماعت احمدیہ کی مکمل حکمرانی ہوگی۔

اس مرحلہ پر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی سوچنا چاہئے کہ انہوں نے جس سانپ کو پال رکھا ہے کہ وہ حزب اختلاف کو ڈسے وہ سانپ کل اسے بھی ڈس سکتا ہے۔ سانپ پھر سانپ ہے۔ اس کی خصلت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ مرزائی اب بھٹو کو بھی اقتدار سے محروم کر کے اس پر قابض ہونے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔

مرزائی تحریک کے بانی نے ملت اسلامیہ اور اس کے ہر فرد کو سڑے ہوئے دودھ سے اور اپنے متبعین کو تازہ دودھ سے تشبیہ دی ہے۔

رواداری چھوڑیئے

یہ موقع رواداری کی تبلیغ کا نہیں سیدھی سادی بات ہے۔ مرزائی ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہمارے نزدیک مرزائی کافر ہیں۔ جب تک ہم مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیتے تو واضح ہے کہ ہم انہیں ان کے تمام عقائد سمیت صحیح سمجھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان میں مرزائی مسلم اقلیت اور غیر قادیانی غیر مسلم اکثریت ہیں۔ کیوں یہی مفہوم نہیں نکلتا؟ فیصلہ آپ کر لیجئے۔

علامہ اقبال کی پکار

مجھے رواداری کی تلقین کرنے والے اپنے روشن خیال اور تجدد پسند دوستوں کو کچھ نہیں کہنا۔ ہاں انہیں صرف علامہ اقبال کی پکار پہنچا دوں گا۔ آپ نے رواداری کے ان مبلغین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ”ایک مسلمان وجدانی طور پر ان حالات کے مخصوص مزاج کو اچھی طرح سمجھتا ہے جن میں وہ گھرا ہوا ہے اور اس لئے وہ کسی دوسرے ملک کے مسلمانوں کی بہ نسبت انتشار پسندانہ عناصر کے متعلق زیادہ حساس واقع ہوا ہے۔ ایک عام مسلمان کا یہ فطری احساس میرے نزدیک بالکل صحیح ہے اور اس کی جڑیں بلاشبہ اس کے ضمیر میں نہایت گہری ہیں۔ جو لوگ ایسے معاملہ میں رو

صفحہ ٤١٢

ذہنی کیفیتیں جذبہ رواداری کو جنم دے سکتی ہیں۔ جیسا کہ گبن نے کہا ہے: ”ایک رواداری اس فلسفی کی ہے جو تمام مذاہب کو سچا سمجھتا ہے۔ ایک اس مؤرخ کی ہے جو سب کو یکساں جھوٹا خیال کرتا ہے اور ایک اس سیاسی شخص کی ہے جو دوسرے طرز ہائے فکر کے معاملہ میں محض اس لئے روادار واقع ہوا ہے کہ وہ خود تمام نظریوں اور مسلکوں سے لاتعلق رہا ہے۔ پھر ایک رواداری اس کمزور شخص کی ہے جو محض اپنی کمزوری کی بنا پر ہر اس اصول یا شخصیت کی ہر قسم کی توہین برداشت کر لیتا ہے جس کو وہ عزیز رکھتا ہے۔“

”ظاہر ہے کہ رواداری کی یہ اقسام کوئی اخلاقی قدر و قیمت نہیں رکھتیں۔ بلکہ اس کے برعکس یہ اس شخص کے روحانی افلاس کا پتہ دیتی ہیں جو ان میں مبتلا ہو۔ سچی رواداری وسعت قلب ونظر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ رواداری تو اس شخص میں ہوتی ہے جو روحانی طور پر مضبوط ہو اور جو اپنے عقائد کی حدود کی سختی سے حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے لئے مخالف قسم کے عقائد کو بھی برداشت کرتا ہے۔ بلکہ وقعت کی نظر سے دیکھتا ہو۔ ہمارے رواداری کے مبلغین کی بوالعجبی ملاحظہ فرمائیے کہ وہ ان لوگوں کو غیر روادار بتاتے ہیں جو اپنے عقائد کی حدود کا تحفظ کر رہے ہوں۔ وہ غلط طور پر اس رویہ کو اخلاقی گھٹیا پن کی ایک علامت سمجھتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ رویہ فی الاصل تحفظ ذات

PDF 414

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانیت

عدالت کے کٹہرے میں

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری)

صفحہ ٤١٤

بسم الله الرحمن الرحيم!

”الحمد لله وكفى والصلوة والسلام على من لا نبى بعده وآله وصحبه وسلم . اما بعد!“

حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے تشریف لانے کے بعد سے آج تک چودہ سو سال میں منکرین ختم نبوت اور مدعیان نبوت کو مسلمان حکمرانوں، عدالتوں، علماء کرام اور ائمہ ہدیٰ نے کبھی مسلمان قرار نہیں دیا اور ہمیشہ ان کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہی سمجھا۔ اس لئے کسی مدعی نبوت کو ممالک اسلامی میں کبھی بھی برداشت نہ کیا گیا اور نہ ان کا کوئی سلسلہ چلا۔ انگریز حکومت نے اس فتنہ انکار ختم نبوت قادیانیت کو اپنی ضرورتوں کے لئے اور مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے کے مذموم مقاصد کے لئے تیار کیا۔ پروان چڑھایا اور ہر طرح سر پرستی کی۔ پاکستان بننے کے بعد یہی توقع کرنی چاہئے تھی کہ اب اس افتراق و انتشار کی تحریک کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔ لیکن افسوس غلط کار حکمرانوں کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ سردار عبدالقیوم صدر آزاد کشمیر لائق صد مبارک ہیں کہ انہوں نے جرات مندانہ قدم اٹھایا اور قانونی طور پر آزاد کشمیر اسمبلی سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔

ہم تین عدالتی فیصلے نقل کر رہے ہیں۔ جن میں قادیانیوں کو مرتد، غیر مسلم قرار دیا گیا۔ آج تک عدالتوں میں جتنے مقدمات مسلمان و قادیانیوں کے متعلق گئے۔ ان کو کبھی بھی مسلم قرار نہیں دیا گیا۔ مسلمان حکمرانوں کو آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ ضد سے باز آنا چاہئے اور اس فتنہ سے مسلمانوں کو بچانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ ورنہ خدانخواستہ وہ روز بد نہ دیکھنا پڑے۔ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

گلزار احمد مظاہری ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد علماء پاکستان

فیصلہ عدالت بہاولپور، ٧؍فروری ١٩٣٥ء

”اوپر کی تمام بحث سے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ بایں معنی نہ ماننے سے کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ ارتداد واقع ہو جاتا ہے اور کہ عقائد اسلامی کی رو سے ایک شخص کلمہ کفر کہہ کر بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

مدعا علیہ! مرزا غلام احمد قادیانی کو عقائد قادیانی کی رو سے نبی مانتا ہے اور ان کی تعلیم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امت محمدیہ میں قیامت تک سلسلہ نبوت جاری ہے۔ یعنی کہ وہ نبی

٢

صفحہ ٤١٥

کریم ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ بمعنی آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نیا نبی تسلیم کرنے سے جو قباحتیں لازم آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی ہے۔ اس لئے مدعا علیہ اس اجماعی عقیدہ امت سے منحرف ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھا جاوے گا اور اگر ارتداد کے معنی کسی مذہب کے اصولوں سے بکلی انحراف کے لئے جاویں تو بھی مدعا علیہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے ایک نئے مذہب کا پیرو سمجھا جاوے گا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے قرآن کی تفسیر اور معمول بہ مرزا قادیانی کی وحی ہوگی نہ کہ احادیث واقوال فقہاء جن پر کہ اس وقت تک مذہب اسلام قائم چلا آیا ہے اور جن میں سے بعض کے مستند ہونے کو خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔

علاوہ ازیں احمدی مذہب میں بعض احکام ایسے ہیں کہ جو شرع محمدی پر مستزاد ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں۔ مثلاً چندہ ماہواری کا دینا۔ جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے۔ زکوٰۃ پر ایک زائد حکم ہے۔ اس طرح غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنا، کسی احمدی کی لڑکی غیر احمدی کو نکاح میں نہ دینا۔ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔ شرع محمدی کے خلاف افعال ہیں۔

مدعا علیہ کی طرف سے ان امور کی توجیہیں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیوں غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ کیوں ان کو نکاح میں لڑکی نہیں دیتے اور کیوں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ لیکن یہ توجیہیں اس لئے کارآمد نہیں کہ یہ امور ان کے پیشواؤں کے احکام میں مذکور ہیں۔ اس لئے وہ ان کے نقطۂ نگاہ سے شریعت کا جزو سمجھے جائیں گے جو کسی صورت میں بھی شرع محمدی کے موافق تصور نہیں ہوسکتے۔ اس کے ساتھ جب یہ دیکھا جاوے کہ وہ تمام غیر احمدی کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے مذہب کو مذہب اسلام سے ایک جدا مذہب قرار دینے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں مدعا علیہ کے گواہ مولوی جلال الدین شمس نے اپنے بیان میں مسیلمہ وغیرہ کاذب مدعیان نبوت کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گواہ مذکور کے نزدیک دعویٰ نبوت کاذبہ ارتداد ہے اور کاذب مدعی نبوت کو جو مان لے وہ مرتد سمجھا جاتا ہے۔

مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کاذب مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے مدعا علیہ بھی مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا ابتدائی تحقیقات جو ٤؍نومبر ١٩٢٦ء کو عدالت منصفی احمد پور شرقیہ سے وضع کی گئی تھیں۔ بحق مدعیہ ثابت قرار دی جاکر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ مدعا علیہ قادیانی عقائد اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہوچکا ہے۔ لہٰذا اس کے

٣

صفحہ ٤١٦

ساتھ مدعیہ کا نکاح تاریخ ارتداد سے مدعا علیہ سے فسخ ہوچکا ہے اور اگر مدعا علیہ کے عقائد کو بحث مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھا جاوے تو بھی مدعا علیہ کے ادعا کے مطابق مدعیہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں ہوسکتا اور کہ اس کے علاوہ جو دیگر عقائد مدعا علیہ نے اپنی طرف منسوب کئے ہیں وہ گو عام اسلامی عقائد کے مطابق ہیں۔ لیکن ان عقائد پر وہ انہی معنوں میں عمل پیرا سمجھا جاوے گا جو معنی مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں اور یہ معنی چونکہ ان معنوں کے مغائر ہیں جو جمہور امت آج تک لیتی آئی۔ اس لئے بھی وہ مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا ہے اور وہ ہر دو صورتوں میں مرتد ہی ہے اور یہ مرتد کا نکاح چونکہ ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ صادر کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد مدعا علیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی۔ مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعا علیہ لینے کی حق دار ہوگی۔

اس ضمن میں مدعا علیہ کی طرف سے ایک سوال یہ پیدا کیا گیا ہے کہ ہر دو فریق چونکہ قرآن مجید کو کتاب اللہ سمجھتے ہیں اور اہل کتاب کا نکاح جائز ہے۔ اس لئے بھی مدعیہ کا نکاح فسخ قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس کے متعلق مدعیہ کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جب دونوں فریق ایک دوسرے کو مرتد سمجھتے ہیں تو ان کو اپنے عقائد کی رو سے بھی باہمی نکاح قائم نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے نہ کہ مردوں سے بھی ، مدعیہ کے دعویٰ کی رو سے بھی مدعا علیہ مرتد ہو چکا ہے۔ اس لئے اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے بھی اس کے ساتھ مدعیہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ مدعیہ کی یہ حجت وزن دار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس بناء پر بھی وہ ڈگری پانے کی مستحق ہے۔

مدعا علیہ کی طرف سے اپنے حق میں چند نظائر قانونی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔ ان میں پٹنہ اور پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ جات کو عدالت عالیہ چیف کورٹ نے پہلے واقعات مقدمہ ہٰذا پر حاوی نہیں سمجھا اور مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو عدالت ہٰذا کے اجلاس خاص نے قابل پیروی قرار نہیں دیا۔ باقی رہا عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاولپور کا فیصلہ بمقدمہ مسمات جندوڑی بنام کرم بخش اس کی کیفیت یہ ہے کہ یہ فیصلہ جناب مہتہ اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ کے اجلاس سے صادر ہوا تھا اور اس مقدمہ کا صاحب موصوف نے مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ پر ہی انحصار رکھتے ہوئے فیصلہ فرمایا تھا اور خود ان اختلافی مسائل پر جو فیصلہ مذکور میں درج تھے کوئی محاکمہ نہیں فرمایا تھا۔ مقدمہ چونکہ بہت عرصہ سے دائر تھا۔ اس لئے صاحب موصوف نے اسے زیادہ عرصہ معرض

٤

صفحہ ٤١٧

تعویق میں رکھنا پسند نہ فرما کر باتباع فیصلہ مذکور اسے طے فرما دیا۔ دربار معلےٰ نے چونکہ اس فیصلہ کو قابل پابندی قرار نہیں دیا جس فیصلہ کی بناء پر کہ وہ فیصلہ صادر ہوا اس لئے فیصلہ زیر بحث بھی قابل پابندی نہیں رہتا۔

فریقین میں سے مختار مدعیہ حاضر ہے۔ اسے حکم سنایا گیا مدعاعلیہ کارروائی مقدمہ ہذا ختم ہونے کے بعد جب کہ مقدمہ زیرغور تھا فوت ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف یہ حکم زیر آرڈر ٢٢ رول ٦ ضابطہ دیوانی تصور ہوگا۔ پرچہ ڈگری مرتب کی جاوے اور مسل داخل دفتر ہو۔ مورخہ ٧؍فروری ١٩٣٥ء، مطابق ٣؍ذیقعدہ ١٣٥٣ھ بمقام بہاولپور دستخط: محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج، ضلع بہاولنگر، ریاست بہاولپور

فیصلہ عدالت راولپنڈی، ٣؍جون ١٩٥٥ء

نقل فیصلہ از عدالت شیخ محمد اکبر صاحب، پی سی ایس ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی مورخہ ٣؍جون ١٩٥٥ء، در اپیل ہائے دیوانی نمبر ٣٤، ٣٣ ١٩٥٥ء از مسماۃ امۃ الکریم بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین۔

فیصلہ کا آخری پیراگراف

”چنانچہ مسلمان قادیانیوں کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں:

اور شیطانی قرار دینا جس کے پیروکار حضور ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔

قرآن کے برابر ہے۔

اوپر کی ساری بحث سے میں نے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے ہیں۔

٥

صفحہ ٤١٨

آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔

نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں۔

جانشینوں اور پیروؤں کی تشریحات و تاویلات اور فہم کی روشنی میں ایک ایسی وحی پانے کے مدعی تھے جسے نبوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

نبوت کو جھٹلاتے ہیں۔

ہونے کا دعویٰ کیا اور ظل و بروز کی اصطلاحوں کی حقیقت ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔

اسلام سے خارج ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس بحث اور اس سے اخذ کردہ نتائج کی بناء پر یہ بات بڑی آسانی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عدالت سماعت نے جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ درست ہیں۔ چنانچہ میں ان سب کی توثیق کرتا ہوں۔ مسماۃ امۃ الکریم کی اپیل میں کوئی جان نہیں۔ لہٰذا میں اسے خارج کرتا ہوں۔

اعلان فیصلہ: ٣؍ جون ١٩٥٥ء دستخط: محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی

فیصلہ عدالت جیمس آباد

مرزا غلام احمد نبوت کے جھوٹے دعویدار ہیں

”انہوں نے شریعت محمدی میں تحریف کی۔ مدعا علیہ غیر مسلم اور مرتد ہے۔ مسلمان لڑکی سے اس کا نکاح جائز نہیں۔ متذکرہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں امتی نبی یا ظلی اور بروزی نبی کا

٦

صفحہ ٤١٩

کوئی تصور نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پیروؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بیٹیاں غیر احمدیوں کے نکاح میں نہ دیں اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے شریعت محمدی سے انحراف کر کے اپنے ماننے والوں کے لئے ایک نئی شریعت وضع کی ہے۔ مسیح موعود کے بارے میں بھی ان کا تصور اسلامی نہیں ہے۔ مسیح کے صحیح اسلامی تصور کے مطابق وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ حدیث رسول کے مطابق مسیح علیہ السلام جب دوبارہ ظہور فرمائیں گے تو وہ دوسرا جنم نہیں لیں گے۔ اس طرح اس بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ بھی باطل قرار پاتا ہے۔

جہاد کے بارے میں بھی ان کا نظریہ مسلمانوں کے عقیدے سے بالکل مختلف ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے مطابق اب جہاد کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور یہ مہدی اور مسیح کی حیثیت سے تسلیم کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کی نفی ہوگی۔

ان کا نظریہ قرآن پاک کی ٣٢ ویں سورۃ آیت ٣٩، ٤٠ اور دوسری سورۃ ١٩٢، ١٩٣، بیسویں سورۃ آیت ٨ چوتھی سورۃ آیت ٧٤، ٧٥، نویں سورۃ آیت ٥ اور ٢٥ سورۃ آیت ٥٣ کے بالکل برعکس اور منافی ہے۔

مندرجہ بالا امور کے پیش نظر میں یہ قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ مدعا علیہ اور ان کے ممدوح مرزاغلام احمد نبوت کے جھوٹے مدعی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات وصول کرنے کے متعلق ان کے دعویٰ بھی باطل اور مسلمانوں کے اس متفقہ عقیدے کے منافی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔

مسلمانوں میں اس بارے میں بھی اجماع ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی اس کے برعکس یقین رکھتا ہے تو وہ صریحاً کافر اور مرتد ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی نے قرآن پاک کی آیات مقدسہ کو بھی توڑ مروڑ کر اور غلط رنگ میں پیش کیا ہے اور اس طرح انہوں نے ناواقف اور جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے جہاد کو منسوخ قرار دیا ہے اور شریعت محمدی میں تحریف کی ہے۔ اس لئے مدعاعلیہ کو جس

٧

صفحہ ٤٢٠

نے خود اپنی نبوت کا اعلان کیا ہے۔ نیز مرزا قادیانی اور ان کی نبوت پر اپنے ایمان کا اعلان کیا ہے۔ بلا کسی تردد کے غیر مسلم اور مرتد قرار دیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ زیر نظر مقدمے میں فریقین کے درمیان شادی اسلام میں قطعی پسند نہیں اور قرآن پاک اور حدیث کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ کیونکہ فریقین نہ صرف مختلف نظریات کے حامل ہیں۔ بلکہ ان کے عقائد بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور یہ بات اس رشتے کے لئے سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں۔

اسلام میں کسی مسلمان کے لئے جنس مخالف کے ساتھ شادی کے سلسلے میں متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور کسی بھی صورت میں کوئی مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے جائز شادی نہیں کر سکتی۔ جن میں عیسائی، یہودی یا بت پرست شامل ہیں اور ایک مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کا نکاح اسلام کی نظر میں غیر مؤثر ہے۔

اندریں حالات میں یہ قرار دیتا ہوں کہ اس مقدمے کے فریقین کے درمیان شادی اسلامی شادی نہیں۔ بلکہ یہ سترہ سال کی ایک مسلمان لڑکی کی ساٹھ سال کے ایک غیر مسلم (مرتد) کے ساتھ شادی ہے۔ لہٰذا ”یہ شادی غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے۔“

مندرجہ بالا امور کے پیش نظر مسئلہ نمبر ٣،٤، ٦، ٧ اور ٨ ساقط ہو جاتے ہیں اور ان پر غور کی ضرورت نہیں۔

مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدعیہ جو ایک مسلمان عورت ہے کی شادی مدعا علیہ کے ساتھ جس نے شادی کے وقت خود اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے اور اس طرح جو غیر مسلم قرار پایا ہے غیر مؤثر ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعا علیہ کی بیوی نہیں۔

تنسیخ نکاح کے بارے میں مدعیہ کی درخواست کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جاتا ہے اور مدعا علیہ کو ممانعت کی جاتی ہے کہ وہ مدعیہ کو اپنی بیوی قرار نہ دے۔ مدعیہ اس مقدمہ کے اخراجات بھی وصول کرنے کی حق دار ہے۔

یہ فیصلہ ١٣؍ جولائی کو جناب شیخ محمد رفیق گریجہ کے جانشین جناب قیصر احمد حمیدی جو ان کی جگہ جیمس آباد کے سول اور فیملی کورٹ جج مقرر ہوئے ہیں۔ کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔

٨

PDF 422

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانیوں

کی

سیاسی منزل

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری)

صفحہ ٤٢٢

”نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ، اما بعد!“

برطانوی سازش

اب اس حقیقت کی وضاحت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ قادیانی صرف ایک مذہبی فرقہ ہی نہیں ایک سیاسی گروہ بھی ہیں۔ جسے انگریز کی ضرورتوں نے جنم دیا۔ انگریز مسلمانوں میں سے جذبہ جہاد ختم کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس کے ذہن رسا نے ایک نئی نبوت کو جنم دیا۔ جیسا کہ ایک برطانوی دستاویز ”دی آرائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ (برطانوی حکمرانوں کا ہندوستان میں ورود) میں درج ہے کہ ١٨٦٩ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدیروں اور مسیحی راہنماؤں کا ایک وفد ہندوستان آیا۔ اس وفد کے مقاصد میں یہ جائزہ شامل تھا کہ ہندوستانی باشندوں میں انگریزی اقتدار کی راہیں کیسے ہموار کی جاسکتی ہیں اور مسلمانوں کو کیسے وفاداری پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس وفد نے جو رپورٹ پیش کی اس میں اس مسئلے کا حل تجویز کیا گیا کہ: ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی راہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹیالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں سے ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا اور کام لیا جاسکتا ہے۔ اب جب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اسی قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“

جہاد کی مخالفت

مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت نے انگریزی کی اسی ضرورت سے جنم لیا اور پھر اس گروہ نے انگریز کی وفاداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ان تمام مقاصد کو پورا کیا جن کے لئے انگریز نے انہیں جنم دیا۔ جہاد کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہیں ان ممالک میں پہنچایا جو برطانوی استعمار کا شکار تھے اور جہاں کے مسلمان جذبہ جہاد سے لبریز ہو کر انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کئے ہوئے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتے ہیں ۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ان کتابوں

٢

صفحہ ٤٢٣

کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

”پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے کوئی نہیں۔“

(کتاب البریہ اشتہار ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، خزائن ج ١٣ ص ٩)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ انگریز کی نظر آخر مرزا قادیانی پر ہی کیوں پڑی۔ جب کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں میں نہ مشہور تھے نہ مقبول۔ اس کا جواب خود مرزا قادیانی ہی دیتے ہیں۔

سو پشت سے ہے پیشہ آبا

”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام میں ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ ان میں سے کئی گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں، پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمت سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کی گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“

(کتاب البریہ اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء ص ٣، خزائن ج ١٣ ص ٤، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

چنانچہ مرزا قادیانی کے اس ”شاندار ماضی“ کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریز نے ان کے سر پر ”نبوت“ کا تاج رکھا اور انہیں جذبہ جہاد کے خلاف تبلیغی مشن سونپ دیا تاکہ امت مسلمہ کمزور پڑ جائے۔ اس میں سے روح فاروقی ختم ہو جائے اور اس پر برطانوی استعمار اپنے پنجے گاڑ سکے۔ مرزا قادیانی نے اس فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ انگریز کی سرپرستی میں ان کی کتابیں

٣

صفحہ ٤٢٤

شائع ہوتی رہیں۔ اس کی مہربانی سے مرزا قادیانی ملت کے غیظ وغضب سے محروم رہے۔

مرزا قادیانی اپنے فرقے کا تعارف کراتے ہیں:

”یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔ چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میں نے ایسی کتابیں عربی فارسی، اردو اور انگریزی میں تالیف کر کے شائع کی ہیں۔ جن کا یہی مقصد ہے کہ یہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے محو ہو جائیں۔ اس قوم میں یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے۔ لیکن اگر خدا نے چاہا تو امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح ہو جائے گی۔“

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ١ ش ١٢ ص ٤٩٥، نومبر ١٩٠٢ء)

انگریز کی سرپرستی اور اس کی عنایات کا اعتراف خود مرزا قادیانی نے بارہا اپنی تحریروں میں کیا بلکہ اس بات کو فخریہ انداز میں پیش کیا کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں۔

”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“

انگریز کے فوائد

قادیانیوں اور انگریز کی اس باہمی سودے بازی سے انگریز نے مندرجہ ذیل فائدے اٹھائے۔

اندرونی دشمنوں سے لڑنے پر مبذول کرا دی۔ اس طرح انگریز کے مقابلے میں وہ مؤثر قوت فراہم نہ ہو سکی جس سے ہم سو سال پہلے ہی غلامی کی زنجیروں کو توڑ سکتے تھے۔

یہ جذبہ ختم تو نہ ہو سکا تاہم اس مسئلے پر مرزا قادیانی نے حتی المقدور ہاتھ پاؤں مارے۔ جس کا حال ہم اس کی اپنی تحریروں سے پیش کر چکے ہیں۔

م

صفحہ ٤٢٥

مرزا غلام احمد قادیانی نے سرکار کو ان افراد کے نام و پتے فراہم کئے جو انگریزی سرکار کے خلاف برسر پیکار تھے۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں۔ ”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ان نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا۔ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کر لے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١٤٥)

اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٣٠ء احمدیہ جماعت کو ایک گشتی مراسلہ لکھتے ہیں۔ جس میں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے علاقہ کی سیاسی تحریکات سے پوری طرح واقف رہنا چاہئے۔ اگر کوئی سرکاری افسر سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہو تو اس کا خیال رکھیں اور یہاں قادیان میں اس کی اطلاع بھیجیں۔

ہندوستان کے باہر بھی قادیانی مبلغوں نے انگریز کے لئے جاسوسی کا کام انجام دیا۔ (٣؍ مارچ ١٩٣٥ء الفضل قادیان ج٢١ ش ٩٦ ص٣) میں درج ہے۔ ”افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیابی و ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔“ (اخبار امان افغانستان)

اسی طرح افغانستان میں قتل کئے جانے والے قادیانی مبلغ صاحبزادہ عبداللطیف کے بارے میں خود میاں محمود احمد خلیفہ قادیان بیان کرتے ہیں۔ ”ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے۔ جو افغانستان میں ایک ذی وقار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔“

(الفضل قادیان ج٢٣ ش٢٠ ص٥، مورخہ ١٦؍اگست ١٩٣٥ء)

٥

صفحہ ٤٢٦

انگریز کی طرف سے جاسوسی کے فرائض انجام دینے کے لئے محمد امین نامی قادیانی کو روس بھیجا گیا۔ ”چونکہ برادرم محمد امین خان کے پاس پاسپورٹ تھا۔ اس لئے وہ روس میں داخل ہوتے ہی انگریزی جاسوس قرار دے کر گرفتار کئے گئے ۔“

(اعلان میاں محمود احمد الفضل ٤ اگست ١٩٢٣ء)

یہ محمد امین صاحب خود بیان کرتے ہیں: ”روس میں اگر چہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔“

(محمد امین کا مکتوب مندرجہ الفضل ج ١١ ش ٢٥ ص ١١، ٢٨، دسمبر ١٩٢٣ء)

اسی طرح عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں انگریز کی خدمت انجام دیتے رہے۔ انگریز سے ان کی وفاداری کا یہ عالم ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی انگریز تک سرکاری راز پہنچاتے رہے۔ ربوہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ تحریک جدید کے فروری ١٩٦٨ء کے شمارہ میں قادیانی مبلغین کا تعارف شائع ہوا ہے۔ اس میں چوہدری مشتاق احمد باجوہ بی اے ایل ایل بی کے تعارف میں درج ہے: ”انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے قادیان کی حفاظت کے سلسلہ میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ حکومت برطانیہ کے وزراء سے ملاقاتیں کر کے بعض ضروری باتیں ان تک پہنچائیں۔“

قادیانیوں کو معاوضہ

اس تمام تر خدمت کے بدلہ میں قادیانیوں نے مندرجہ ذیل فوائد انگریز سرکار سے حاصل کئے:

گروہوں یعنی یہودیوں اور سی آئی اے سے رابطہ قائم کیا۔

انگریز نے مسلمانوں کے حصے کی ملازمتیں قادیانیوں کو سونپ دیں۔

اخبار الفضل قادیان ٣، جون ١٩١٩ء میں ایک واقعہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے: ”ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہتا ہے ملازمت کے لئے ایک انگریز افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کئے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس۔ اس پر ذیل کا مکالمہ ہوا:

٦

صفحہ ٤٢٧

افسر: کیا تم بھی احمدی ہو۔ امیدوار: نہیں صاحب۔ افسر: افسوس تو اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو پھر فلاں تاریخ کو آنا۔‘‘

غرضیکہ انگریز نے قادیانیوں کو ان کی خدمات کے سلسلہ میں ملازمتیں فراہم کیں اور اس زمانے میں بہت سے تعلیم یافتہ بیروزگار مسلمانوں کے قادیانی ہونے کا سبب یہی ملازمت کی کشش تھا۔

ضلع گورداسپور کا مسئلہ

قیام پاکستان کے موقع پر قادیانی گروہ نے بھرپور کوشش کی کہ قادیان ہندوستان میں شامل رہے۔ مسلم لیگ کی طرف سے چوہدری ظفر اللہ ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے پیش ہوئے ’’مارشل لاء سے مارشل لاء تک‘‘ کے مصنف اس سلسلے میں رقمطراز ہیں: ’’ریڈ کلف اپنے سامنے پیش ہونے والے مقدمہ کے اس خاص نقطہ میں پیشگی دلچسپی لے رہا تھا جس علاقہ پر پرواز کرنا چاہتا تھا وہ وہی علاقہ تھا جس کا ضلع گورداسپور کی تقسیم سے تعلق تھا .... حالات کی ستم ظریفی یہ تھی کہ مسلم لیگ کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکیل اسے خود ہی چاندی کی طشتری میں رکھ بھارت کو پیش کر رہے تھے۔‘‘

(ص ٣١٨)

قادیانی جماعت چاہتی تھی کہ قادیان ہندوستان میں شامل رہے۔ کیونکہ ہندوستانی حکومت سے انہیں توقع تھی کہ وہ انہیں ملک بدر نہ کرے گی اور تحصیل پٹھانکوٹ کے راستے قادیانی ریاست کشمیر کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا سکیں گے۔ کیونکہ ان کے نبی نے ریاست کشمیر کے قادیانی ریاست میں بدل جانے کی پیش گوئی کی تھی۔ چنانچہ قادیانیوں نے غیر معمولی دلچسپی لی کہ تحصیل پٹھانکوٹ ہندوستان کو مل جائے۔ اسی سلسلے میں مردم شماری کے موقع پر قادیانی جماعت کے افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نام کے سامنے مسلم کی بجائے احمدی درج کرائیں۔ اس سے تحصیل پٹھانکوٹ مسلم اکثریت کی بجائے اقلیت کی تحصیل بن گئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے چوہدری ظفر اللہ کو وزیر خارجہ مقرر کیا اور چوہدری ظفر اللہ خان نے پاکستان کے ابتدائی دور کی مالی مشکلات کے باوجود پانچ لاکھ روپے وکالت کی فیس وصول کی۔ لیکن ایوارڈ کے سامنے پاکستانی نقطہ نظر کی بجائے قادیانی نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کا حال باؤنڈری کمیشن کے ایک رکن جسٹس محمد منیر کی زبانی سنئے: ’’گورداسپور کے سلسلہ میں انتہائی افسوسناک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ بات کبھی میری سمجھ

٧

صفحہ ٤٢٨

میں نہیں آئی کہ آخر احمدیوں نے ایک علیحدہ عرضداشت کیوں پیش کی۔ اس علیحدہ نمائندگی کی ضرورت صرف اس وجہ سے پیدا ہو سکتی تھی کہ احمدی حضرات مسلم لیگ کے موقف سے متفق نہ تھے۔ یہ بات خود اپنی جگہ بڑی افسوسناک تھی۔ میری رائے میں ممکن ہے ان کی نیت یہ ہو کہ مسلم لیگ کا مقدمہ مضبوط بنایا جائے۔ لیکن انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کئے ان سے الٹا یہ ثابت ہو گیا کہ دریائے بھین اور دریائے بسنتر کے درمیانی علاقے پر غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے اور اس طرح انہوں نے یہ دلیل فراہم کر دی کہ اگر دریائے اوجھ اور دریائے بسنتر کا دوآبہ بھارت کو دے دیا جائے تو بھین بسنتر دوآبہ اپنے آپ بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ بہر کیف یہ علاقہ ہمارے پاس رہا۔ مگر احمدیوں نے جو مؤقف اختیار کیا وہ گورداسپور کے معاملے پر ہمارے لئے سخت نقصان کا باعث ہوا۔

(پاکستان ٹائمز مورخہ ٢٤/جون ١٩٤٧ء)

روزنامہ مشرق ٣؍فروری ١٩٧٦ء کو لکھتا ہے۔ ”ضلع گورداسپور کے سلسلہ میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق چوہدری ظفر اللہ خان، جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے۔ خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کا نقطۂ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ اب جب کہ سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف ہے اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمان سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم کرنے کے مترادف تھا۔“

اس حقیقت سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ تحصیل پٹھانکوٹ کے ہندوستان میں مل جانے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پیدا ہوا۔ جو آج تک حل نہ ہو سکا۔ قادیان کے ہندوستان میں مل جانے کے مختلف فوائد بتاتے ہوئے ایک مرزائی صاحب قلم مرزا شکر علی کلوی نے لکھا۔ ”عجیب اتفاق اور ایشور کی شان ہے کہ باوجودیکہ قادیان بر وقت تقسیم پاکستان میں شامل ہو چکا تھا۔ مگر ایشور نے ہندوؤں کی دل جوئی کرتے ہوئے تاکہ ان کو کرشن ثانی (مرزا غلام احمد قادیانی) پر ایمان لانے کی توفیق ملے۔ بھارت میں واپس کر دیا کہ ہندوؤں کو اس اعتراض کا موقعہ نہ دیا جائے کہ اب یہ کرشن ثانی بدیشی ہو گئے۔“

(کرشن ثانی اور جنگ مہا بھارت ثانیہ ص ٣٦)

اب جب خود قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ تسلیم کرانے پر زور لگا چکے ہیں۔ مردم شماری میں علیحدہ نام لکھوا چکے ہیں۔ جماعت الگ بناتے ہیں اور ان کے حقوق کی کوشش کرتے ہیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر اقلیت کا اس کے سوا اور کیا معنی ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو قانوناً تسلیم کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں اور مسلمان حکمران اس گریز کو کیوں نہیں سمجھتے۔ یا للعجب!

٨

ہندوؤں میں بیان کریں گے خدمات انجام دیں تقسیم کے بعد پنڈت پاکستان چلے آئے۔

قادیانی منصوبہ

قیام پا صوبے کو قادیانیت منصوبے کے چار ح

ہم اس بھی اس گروہ کے اور ان کے مکر و فریب

صوبے پر قبضہ

قادیا ملک کے بعد ہی ا ١٩٤٨ء کو قادیانی بلوچستان جواب صوبوں کی آباد ک آبادی کو تو احمدی اس طرف اگر چہ تک کامیاب نہیں تبلیغ پھیلتی ہے،

صفحہ ٤٢٩

ہندوؤں کے سلسلہ میں قادیانیوں کے کیا نظریات ہیں اسے تو ہم آئندہ صفحات میں بیان کریں گے۔ مختصراً یہ کہ اس گروہ نے پہلے تو انگریز کی کوکھ سے جنم لیا اور اس کے لئے خدمات انجام دیں۔ پھر تقسیم کے وقت ہندوستان کے ساتھ چمٹے رہنے کی کوشش کی اور جب تقسیم کے بعد پنڈت نہرو نے حسب وعدہ انہیں تحفظ نہ دیا تو قادیان میں اپنے درویش چھوڑ کر پاکستان چلے آئے۔

قادیانی منصوبہ

قیام پاکستان کے بعد ان کی سرگرمیاں مزید تیز ہوگئیں اور انہوں نے پہلے کسی ایک صوبے کو قادیانیت کا گڑھ بنا کر پھر پورے ملک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ قادیانیوں کے اس منصوبے کے چار حصے تھے۔

ہم اس منصوبے کے تمام جزئیات واضح کرتے ہیں تاکہ مسلمان عوام بھی اور حکمران بھی اس گروہ کے ہم رنگ زمین دام سے آگاہی حاصل کریں۔ ان کی سازشوں سے خبردار رہیں اور ان کے مکر وفریب کا تار و پود بکھیر دیں۔

صوبے پر قبضہ

قادیانی منصوبے کا پہلا حصہ کسی ایک صوبے پر قبضہ تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے تقسیم ملک کے بعد ہی کوششیں شروع کر دیں۔ قیام پاکستان کو ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ٢٣ جولائی ١٩٤٨ء کو قادیانی خلیفہ بشیر الدین محمود نے کوئٹہ میں ایک خطبہ دیا۔ جس کے الفاظ یہ تھے۔ ”برعکس، بلوچستان جو اب باکی بلوچستان ہے کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ یہ آبادی اگرچہ دوسرے صوبوں کی آبادی سے کم ہے۔ لیکن بوجہ ایک یونٹ ہونے کے اسے بہت اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے۔ لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جاسکتا ہے۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہماری Base (بنیاد) مضبوط نہ ہو۔ پہلے بنیاد مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ بس پہلے بنیاد مضبوط کرلو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنی (بنیاد) Base بنالو۔ کسی ملک میں

٩

صفحہ ٤٣٠

ہی بنالو۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“

(١٣؍ اگست ١٩٤٧ء، الفضل ربوہ)

اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی مرزائی مبلغین نے بلوچستان پر دھاوا بول دیا۔ چپے چپے پر کتابیں پھیلائیں اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کا ہر منصوبہ بنایا۔ لیکن انہیں اس صوبے میں حسب خواہش کامیابی نہ ہوئی۔ بلوچستان میں ناکامی کے بعد (اب حال ہی میں ضلع ژوب، صوبہ بلوچستان کے قادیانیوں کو نکال دیا گیا ہے) قادیانیوں نے پنجاب اور سندھ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنالیا۔

پورے ملک پر قبضے کا منصوبہ

منصوبے کے دوسرے حصہ میں پورے ملک پر قبضہ کا پروگرام تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے قادیانیوں نے پانچ طریقے اختیار کئے۔

حکمرانوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے ان کو مختلف رعایتیں دیں۔

کسی وقت بھی حکومت پر قبضہ کیا جاسکے یا برسر اقتدار گروہ پر سیاسی دباؤ ڈالا جاسکے۔

بڑھا کر پاکستانی حکومتوں کے لئے ایک Pressure Group کی حیثیت اختیار کر گئے۔

جماعت برسر اقتدار آجائے تو اسے سبوتاژ کر کے اپنا اقتدار قائم کیا جائے۔

حکمران اور سرمایہ دارانہ سیاست کے مہرے ان کی طرف توجہ کریں اور ان کی قیمت لگائیں۔

ان مختلف حیلوں سے قادیانی گروہ نے برسر اقتدار آنے کے لئے کوششیں کیں۔

حکمرانوں کی کاسہ لیسی

برسر اقتدار آنے کے ان مختلف مدارج میں پہلا درجہ برسر اقتدار حکمرانوں کی کاسہ لیسی ہے۔ اس سلسلہ میں قادیانیوں کا نظریہ یہ ہے۔ ”اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں پناہ دی ہو۔“

(ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی رسالہ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق)

١٠

صفحہ ٤٤١

”اگر حاکم ظالم ہو تو بھی اسے برا بھلا نہ کہتے پھرو بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ٢٩٨، از مرزا غلام احمد)

اس نظریے کے ساتھ قادیانیوں نے ہر اقتدار کا ساتھ دیا۔ ان کے ظلم و ستم میں باقاعدہ ان سے تعاون کیا اور حکومت کے مخالفین کے بارے میں حکومت کے کان بھرتے رہے۔ ان کے خلاف اسے اکساتے رہے اور ان کی تباہی و بربادی کے منصوبے تیار کر کے حکومت کو دیتے رہے۔ پاکستان کے افراد جانتے ہیں کہ ایوب خان دور میں محترمہ فاطمہ جناح اور جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈہ مرزائیوں نے منظم طریقے پر شروع کیا اور ربوہ کے ضیاء الاسلام پریس سے پوسٹر چھپ کر مرزائیوں کے ہاتھوں پورے ملک میں چسپاں ہوتے رہے اور ان کی وہ حالت بن گئی جس کی طرف خود خلیفہ قادیان نے اشارہ کیا تھا۔

”ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع سے ہی لوگ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے۔ بعض لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چک اور نئے ”زمیندار کی“ محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔“

(اخبار الفضل ج ٢٢ ش ٥٨ ص ٢، ١١؍ نومبر ١٩٣٤ء)

ملازمتوں پر قبضہ

پورے ملک پر قبضے کے منصوبے کے دوسرے حصہ میں قادیان نے فوج اور سول سروسز پر قبضہ کا پروگرام تیار کیا۔ اس سلسلہ میں خلیفہ ربوہ کی صرف ایک تحریر کافی ہے۔ ”بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے ہیں۔ جن کے ذریعے سے جماعت ١؂ اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچا سکتی ہے۔ جب تک ان سارے محکموں میں ہمارے اپنے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹم ہے، انجینئرنگ ہے۔ ہمیں اس بارے میں خاص پلان بنانا چاہئے اور پھر اس کے مطابق کام کرنا چاہئے۔“

(الفضل ج ٣٩، ش ١٠ ص ٤، مورخہ ١١؍ جنوری ١٩٥٢ء)

١؂ اس لفظ جماعت پر غور کیجئے اور اس کے حقوق حاصل کرنے کی سکیم پر توجہ کیجئے۔ پورے ملک میں ایک یہی جماعت ہے جو برملا اپنے علیحدہ حقوق کی بات کرتی ہے۔ لیکن اپنی الگ حیثیت سے گنتی کرانے پر اور اس کے تقاضے و ارادے پورے کرنے پر تیار نہیں ہوتی۔ کاش ہمارے حکمران اس ”منطق“ کو سمجھیں۔

١١

صفحہ ٤٣٢

اس کے بعد قادیانی جماعت نے خاص پلان بنایا۔ قادیانی جماعت کے ایک تنظیمی سرکلر کی ہدایت کے مطابق ہر شہر میں قادیانی جماعت نے طلبہ کی گروپ بندی کی۔ مرزائی اساتذہ نے ان طلبہ کو مفت ٹیوشن کی سہولت فراہم کی۔ انہیں مالی امداد دی گئی اور مرزائی افسروں کی جانبداری نے ایسے طلبہ کو سول سروسز میں پہنچا دیا۔ اسی طرح فوج میں بھی ان کی تعداد بڑھتی رہی۔

بیرونی طاقتوں سے تعلق

منصوبے کا تیسرا حصہ بیرونی ممالک کے ساتھ روابط تھے۔ چنانچہ قادیانی حضرات نے تمام بیرونی ممالک اور بالخصوص امریکہ سے اپنے خفیہ تعلقات اتنے وسیع کر لئے کہ جسٹس منیر ”رپورٹ“ کے مطابق ”خواجہ ناظم الدین کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ اگر نوے فیصد علماء اس پر اتفاق کرلیں کہ مرزا غلام احمد کو ماننے والا کافر ہے اور اس کو سنگسار کر کے ہلاک کر دیا جائے تو وہ اس کے آگے سر تسلیم خم کریں گے۔“ (ص ٣١٣)

لیکن اس سلسلہ میں جب ایک وفد نے ان سے ملاقات کی تو ”خواجہ ناظم الدین نے وفد کو بتلایا کہ میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میرے لئے ان مطالبات کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اگر میں نے چوہدری ظفر اللہ کو کابینہ سے برطرف کر دیا تو پاکستان کو امریکہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں ملے گا۔“

اسی طرح اسرائیل اور دیگر غیر اسلامی ممالک کے ساتھ قادیانیوں نے خفیہ تعلقات استوار کر لئے اور یوں ہماری حکومتوں کے لئے ایک Pressure Group کی حیثیت اختیار کر گئے۔

سیاسی پارٹیوں میں شمولیت

اپنے اس منصوبے کے چوتھے حصہ کے مطابق قادیانی حضرات کو ہدایت کے مطابق مختلف سیاسی پارٹیوں میں شامل کیا جاتا رہا۔ تقسیم سے پہلے قادیانی حضرات مسلم لیگ میں بھی شامل تھے اور کانگریس میں بھی۔ لاہور میں پنڈت نہرو کی آمد پر قادیانیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ تقسیم کے بعد بھی قادیانیوں کے گمنام افراد برسر اقتدار جماعت کے علاوہ ہر اس جماعت کے ممبر بنوائے گئے۔ جس کے برسر اقتدار آنے کا احتمال پایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ نیشنل عوامی پارٹی میں بھی قادیانیوں کے افراد شامل تھے۔ پیپلز پارٹی میں ان کی شمولیت تو کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب پیپلز پارٹی کی علانیہ حمایت کے باوجود قادیانی تحریک استقلال اور دوسری جماعتوں میں بھی گھس رہے ہیں۔

١٢

صفحہ ٤٣٣

گزشتہ انتخابات میں قادیانیوں نے پیپلز پارٹی کی علانیہ حمایت کی۔ اس کے لئے سرمایہ وقف کیا۔ اپنے کارکن دیئے۔ اب قادیانی گروہ اس کوشش میں ہے کہ اس پارٹی کو سبوتاژ کر کے اپنا اقتدار قائم کریں۔ اپنے اقتدار کے لئے قادیانی گروہ ١٩٦٥ء میں ہی پرامید ہو گیا تھا۔

٣ تا ٧ اگست ١٩٦٥ء کو لندن میں جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن ہوا۔ سر ظفر اللہ نے افتتاح کیا۔ خبر ملاحظہ ہو۔ ”لندن ٣ اگست ( نمائندہ جنگ ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کر رہے ہیں۔ کنونشن کا آغاز گذشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سر ظفر اللہ نے کیا۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے اور سود پر پابندی لگادی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔“

(روزنامہ جنگ راولپنڈی مورخہ ٤ اگست ١٩٦٥ء)

غلط اعداد و شمار

منصوبے کا پانچواں حصہ غلط اعداد و شمار کی اشاعت ہے۔ قادیانی گروہ نے اس سلسلہ میں ہمیشہ جھوٹ بولا اور تعداد بہت زیادہ بتائی تا کہ اس سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکیں۔

تقسیم سے پہلے قادیانیوں نے اپنی تعداد چار لاکھ بتائی۔ جب مردم شماری ہوئی تو یہ صرف ٣٥ ہزار نکلی۔ ان کے اس جھوٹ کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ مولوی جلال الدین شمس کی مطبوعہ تقریر ”اسلام کا عالمگیر غلبہ“ کے صفحہ ٤٨ پر مختلف ممالک میں مرزائی مساجد کی تعداد لکھی گئی ہے۔ جن میں گھانا میں مساجد کی تعداد ٢٥٠ درج ہے۔ یہ تقریر ١٩٦٠ء کے سالانہ اجتماع میں کی گئی۔ اس سے سات سال بعد فروری ١٩٦٧ء کے ماہنامہ تحریک جدید ربوہ میں بھی بیرون ملک مساجد کی تعداد لکھی گئی اور آپ حیران ہوں گے کہ سات سال بعد گھانا میں مساجد کی تعداد ٢٤ تھی۔ سات سال میں مساجد کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہوگئی۔ اسے کہتے ہیں دروغ گو را حافظ نباشد۔

امر واقعہ تو یہ ہے کہ گھانا میں ان کی صرف دو مساجد ہیں۔ مرزائی حضرات نے اعداد و شمار کے اسی کھیل سے حکمرانوں کو بھی دھوکا دیا اور مفاد پرست سیاستدانوں کو بھی۔ ہم نے قادیانیوں کے منصوبے کے چار مرحلے بتائے تھے۔ جن میں کسی صوبے پر قبضہ، ملازمتوں پر قبضہ کے ذریعے پورے ملک پر قبضہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اکھنڈ بھارت کا قیام شامل ہے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی

مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں قادیانیوں نے کیا کردار انجام دیا اور انہیں مشرقی

١٣

صفحہ ٤٣٤

پاکستان کی علیحدگی کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ یہ موضوع ایک علیحدہ کتاب کا موضوع ہے۔ میں قارئین کو صرف اتنی بات یاد دلاتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی سے پہلے مجیب کے ساتھ سیاسی مذاکرات جاری تھے۔ ایک دن ریڈیو پاکستان نے خبر سنائی کہ ایم ایم احمد اچانک ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں۔ اس خبر کے اگلے روز ہی ریڈیو نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی خبر سنائی۔ ایم ایم احمد کیا پروگرام لے کر اچانک ڈھاکہ پہنچے؟ اس کو اگلے روز کی فوجی کارروائی سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد کے بعد ہفت روزہ بیباک کے ایک شمارے میں ایک وکیل کا ایک بیان چھپا ہے۔ جنہوں نے اس ملزم (غالباً محمد اسلم نامی) کے مقدمے کی پیروی کی تھی جس نے ایم ایم احمد پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اس میں محمد اسلم کا بیان ہے کہ میں ایم ایم احمد کے پاس گیا تھا اور پوچھا کہ کیا ہندوستان کے قادیانی بنگلہ دیش کے لئے کام کر رہے ہیں اور چندہ جمع کر رہے ہیں تو اس نے اثبات میں جواب دیا اور حملے کے لئے وجہ اشتعال یہی چیز تھی۔ ان وکیل کا نام غالباً محمد اسلم ہے اور یہ پنڈی کے ہیں۔

اکھنڈ بھارت

اس کتابچے میں ہم نے اب تک قادیانیوں کے سیاسی ماضی کے ساتھ ساتھ ان کے حال کا جائزہ بھی لے لیا ہے۔ اب قادیانیوں کے آئندہ منصوبوں کی وضاحت ضروری ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ منصوبے کے چار مراحل میں سے آخری مرحلہ اکھنڈ بھارت کا قیام ہے اور یہی قادیانیوں کے سیاسی سفر کی آخری منزل ہے۔ اس سلسلے میں قادیانی خلیفہ بشیر الدین محمود صاحب کے ایک سے زیادہ اقوال موجود ہیں۔ ٣؍ اپریل ١٩٤٧ء کو انہوں نے کہا۔ ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ممکن ہے کہ یہ عارضی طور پر افتراق ہو اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)

اسی طرح خلیفہ صاحب نے خواب دیکھا۔ ”حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا۔ جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آتے ہیں اور ایک چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذرا سی دیر لیٹنے پر اٹھ بیٹھے۔ اس کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ تا کہ احمدیت اس وسیع بنیاد پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رویاء میں اسی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں گی ۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔“

١٤

صفحہ ٤٣٥

کرشن قادیانی

١٩٦٣ء میں ایک قادیانی صاحب قلم مرزا شکر علی کلانوی نے ایک کتابچہ ”کرشن ثانی اور جنگ مہا بھارت ثانیہ“ لکھا۔ یہ کتابچہ لاہور آرٹ پریس سے شائع ہوا اور ٤٤ صفحات کے اس کتابچے میں اکھنڈ بھارت کے لئے قادیانیوں کی خواہشات اور کوششوں کا تذکرہ بھی ہے اور اکھنڈ بھارت کے لئے قادیانیوں کے دلائل بھی۔ کتابچے کے آغاز میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد درج ہے۔ ”جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔ ایسا ہی ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں۔ گویا کہ راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)

اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی ١٩٠٨ء کی لاہور کی تقریر درج ہے۔ ”پس ہندو مسلمان آپس میں صلح کر لیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہو تو اس زیادتی کو وہ قوم ترک کر دے۔ وگرنہ باہم عداوت کا تمام گناہ اس قوم کی گردن پر ہوگا۔ ہاں اگر آپ صاحبان یہ اعتراض پیش کریں کہ مسلمان گائے کا گوشت استعمال کرتے ہیں اور ہم گائے کو پوجتے ہیں۔ کیونکر صلح ہو سکتی ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ہندو قوم اس پر ہم سے صلح کرنے کو تیار ہو جائے تو ہم گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی گائے کا گوشت کھائے تو ہم بطور تاوان چار لاکھ روپے ادا کرنے کو تیار ہیں۔“

(پمفلٹ مذکورہ ص ١٤، ١٥)

اکھنڈ بھارت کے لئے قادیانی ہندوؤں سے ہر قیمت پر صلح کرنے کو تیار ہیں۔ چاہے اپنی روایات قربان کرنی پڑیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کرشن ثانی بھی ہیں اور جب تک اکھنڈ بھارت نہ بنے۔ کرشن کی تعلیمات عام نہیں کی جاسکتیں۔

قادیان کیلئے بے چینی

اس کے علاوہ یہ بھی وجہ ہے کہ قادیانیوں کا قبلہ یعنی قادیان ہندوستان میں ہے جہاں پہنچنے کے لئے یہ لوگ بیتاب ہیں۔ اسی کتابچے میں اس بے چینی کو سمویا گیا ہے۔

”کیونکہ بن باس کے سال قریب الاختتام ہیں اور بن باسیوں کی فریاد آکاش کو ہلا چکی ہے اور وہ اپنے وطن کے درشن کے لئے بیحد بے قرار و بیتاب ہیں۔ سو پراتھنا کرتے ہیں۔ کاش پرماتما جلدی ہی ہمیں اپنی نگری جنم بھومی میں پہنچادے۔“

(پمفلٹ مذکورہ ص ٢٦، ٢٧)

پاکستان قادیانیوں کے لئے بن باس ہے۔ جہاں سے یہ لوگ اپنی جنم بھومی (ہندوستان) پہنچنے کے لئے بیتاب ہیں اور وہاں پہنچنے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ اس پمفلٹ

١٥

صفحہ ٤٣٦

میں بار بار زور دیا گیا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے صلح کر لینی چاہئے۔ تاکہ ہم دوبارہ آپس میں مل سکیں۔ چنانچہ ص ٣٢ پر درج ہے: ”مضمون ہذا میں میں نے اپنے ہندو بھراتاؤں کو سمجھانے کی طرف زیادہ زور دیا ہے۔ کیونکہ اگر بڑی پارٹی صلح کے لئے آمادہ ہو جائے تو چھوٹی پارٹی بخود آمادہ ہو جاتی ہے۔ جیسے پانڈو ہر طرح سے کوروں سے صلح کرنا چاہتے۔“

نیز شنکر راؤ نے ہندوؤں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ کرشن ثانی یعنی مرزا قادیانی کی قبر ان کے حصے میں آئی ہے تو قادیان پہنچنے کی خواہش کا اظہار قادیانیوں کی طرف سے بار بار ہوا ہے۔ اس پمفلٹ میں امام جماعت قادیانیہ کا قول نقل کیا گیا ہے: ”مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان کا راستہ جلد کھلنے والا ہے جو حضرت مسیح کا مرکز ہے۔“

کتابچہ کے ص ٥٩ پر درج ہے: ”١٩٤٧ء میں جب تقسیم ناگزیر ہوگئی تو امام جماعت احمدیہ مرزا محمود احمد نے دعا کی۔ الہام ہوا: اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا یعنی جہاں بھی تم جاؤ گے میں تم سب کو واپس لاؤں گا اور آپس میں ملا دوں گا۔ (الفضل، ١٩٤٧ء)

قادیانی حضرات جو خواب ایک عرصہ سے دیکھ رہے تھے ان کے خیال میں اب اس کی تعبیر کا وقت آگیا ہے۔ مرزا محمود نے ١٩٤٧ء میں بتایا تھا کہ ہم جہاں بھی جائیں گے خدا ہمیں واپس لائے گا اور آپس میں ملا دے گا۔ چونکہ کتابچہ مذکور کے مخاطب ہندو ہیں۔ اس لئے ملا دینے کا مطلب یہی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں ملا دے گا۔ یہ ہے قادیانیوں کی سیاسی منزل اور یہ ہے ان کے منصوبے کی آخری کڑی جس کی تکمیل کے لئے ان کی سرگرمیاں بڑھ گئیں ہیں۔ میں آخر میں اپنے ایک دوست کا واقعہ درج کرتا ہوں جو انہوں نے چند روز پہلے مجھے بذات خود سنایا۔ میرے یہ دوست لائل پور میں رہتے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے باعمل مسلمان ہیں۔ لیکن ان کے والد بہت پرانے قادیانی ہیں۔ میرے دوست نے بتایا: ”ایک دن والد صاحب نے گھر کے تمام افراد کو بلایا اور پوچھا کہ بھئی تمہاری کیا رائے ہے کہ اب جب واپس جائیں تو شہر میں قیام کریں یا دیہات میں۔ میں نے پوچھا کہاں کی واپسی۔ فرمایا قادیان کی۔ ہم نے کہا آپ کیسی باتیں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا بہتر ہے ابھی سے سوچ لیا جائے۔ تا کہ اس کے مطابق تیاری ہو اور میں جماعت کو مطلع کردوں۔“

محترم قارئین! تو یہ ہے قادیانیوں کی منزل ........ مسلمان عوام بھی فیصلہ کرلیں اور مسلمان حکمران بھی سوچ لیں کہ کیا وہ قادیانی گروہ کی کڑی نگرانی نہ کر کے اس منزل کے راہی تو نہیں بن رہے۔

١٦

PDF 438

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ

خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

سراپا

غلام احمد قادیانی

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری)

صفحہ ٤٣٨

”الحمد للہ وکفیٰ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ وآلہ واصحابہ اجمعین ، اما بعد!“

امت مسلمہ کا قادیانی گروہ سے کوئی شخصی اختلاف نہیں، بلکہ یہ خالص دینی و ایمانی مسئلہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضورﷺ کی عمارت ختم نبوت میں نقب زنی کی ہے اور ہم اس عمارت کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اس خالص دینی و ایمانی مسئلے میں ہمارے لئے یہ موضوع کوئی دلچسپی کا باعث نہیں کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت کا جائزہ لیں۔ ان کی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کریں اور ان کے کردار کو زیر بحث لائیں۔ لیکن چونکہ ہمارے بہت سے قادیانی دوست اسی فریب کا شکار ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو بحیثیت نبی تسلیم کرتے ہیں۔ لہٰذا انہی افراد کے سامنے ہم مرزا قادیانی کی تحریروں سے تشکیل پائی ہوئی ان کی ایک تصویر پیش کر رہے ہیں تاکہ ہمارے سادہ لوح دوست اس تصویر کو بغور دیکھیں اور پھر تنہائی کے لمحوں میں سوچیں کہ وہ کس کو نبی تسلیم کر رہے ہیں۔

ہمارے لئے یہ مفروضہ کہ مرزا غلام احمد نبی ہو سکتا ہے۔ سرے سے ہی غلط اور کفر کی علامت ہے۔ ہم اپنی اس تحریر میں چند لمحے کے لئے بھی یہ فرض کرنے کو تیار نہیں کہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔ اس لئے ہم انہیں ایک مذہبی رہنما فرض کر کے بات کریں گے۔ یعنی تحریر کے آخر میں اگر یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی ایک مذہبی رہنما بھی تسلیم نہیں کئے جاسکتے تو پھر قادیانی حضرات کے لئے سوچنے کا مقام ہوگا کہ وہ ایسے شخص کو نبی تسلیم کر رہے ہیں۔ جو محض ایک مذہبی رہنما بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

رہنما کی خوبیاں

مسلمانوں کے کسی بھی مثالی مذہبی رہنما میں بہت سی بنیادی خوبیاں پائی جانی ضروری ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں۔

٢

صفحہ ٤٣٩

صحیح العقل

ایک مذہبی رہنما کے لئے صحیح العقل ہونا بنیادی شرط ہے۔ کوئی پاگل امت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ بلکہ اسے خود رہنمائی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کی تاریخ میں جتنے بھی افراد رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ وہ فہم و تدبر کے اعتبار سے اپنے معاشرے کے بہترین افراد تھے۔ لوگوں کو ان کی سمجھ بوجھ پر بھروسہ تھا اور امور دینی و دنیاوی میں ان سے مشورے لیے جاتے تھے۔ اس کے برعکس جناب مرزا قادیانی فہم و تدبر کی اعلیٰ صلاحیتیں تو کجا ادنیٰ صلاحیتوں کے بھی مالک نہیں۔ یہ تعصب کی زبان میں نہیں کہہ رہا۔ مرزائی مرزا قادیانی کی بابت خود اپنی تحریروں میں ہسٹیریا، مراق اور دوران سر کی بیماریوں کا اظہار کرتے ہیں۔

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے اٹھو آیا مگر یہ دورہ خفیف تھا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٦، صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد)

”مراق کا مرض حضرت مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت ، تفکرات ، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔“

(رسالہ ریویو قادیان ص١٠، بابت اگست ١٩٢٦ء)

مالیخولیا کے اثرات

یہ بات تو طب کا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ دوران سر، مراق، ہسٹیریا اور مالیخولیا دماغی امراض ہیں۔ ان امراض کے اثرات مریض پر کیا ہوتے ہیں۔ اس کا حال حکماء کی

٣

صفحہ ٤٤٠

زبانی ہی سنئے۔ طب کے امام حکیم بوعلی سینا لکھتے ہیں۔ ”مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات وافکار متغیر بخوف وفساد ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب مزاج سوداوی ہو جانا ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے۔“

(قانون شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا فن اول از کتاب ثالث)

اس مرض کے علاج کے طور پر حکیم بوعلی سینا لکھتے ہیں۔ ”مریض مالیخولیا کو لازم ہے کہ کسی دل خوش کن کام میں مشغول رہے اور اس کے پاس وہ لوگ رہیں جو اس کی تعظیم وتکریم کرتے رہیں اور اس کو خوش رکھیں۔“

اس مرض مالیخولیا کے کرشمے بھی بڑے عجیب ہیں۔ اس کے مریض عجیب وغریب عادات کے مالک بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ برہان الدین نفیس نے لکھا۔ ”مالیخولیا خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔“

(شرح اسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا)

اسی طرح حکیم محمد اعظم خان لکھتے ہیں۔ ”مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔“

(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)

اب ذرا غور فرمائیے کہ مالیخولیا کا ایک مریض جو اپنے مرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر معجزات وکرامات کی باتیں کرتا ہے۔ پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی حیثیت کیا ہے۔ جو آدمی بھی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس پر الہام نازل ہوتے ہیں اور یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔ مرزا قادیانی کا ان امراض میں مبتلا ہونا خود ان کی، ان کے صاحبزادوں کی اور ان کے متبعین کی تحریروں سے ثابت ہے۔ پھر ان کی دماغی صحت کا حال خود ان کی تحریریں پڑھ کر واضح ہے۔ ایک

٤

صفحہ ٤٤١

کتاب میں مرزا قادیانی نے اپنے چند مخالفین کا نام لکھ کر تحریر فرمایا: ”....... ان تمام پر خدا کی ہزار بار لعنت ۔“ ہزار بار لعنت کا لفظ لکھنے کے بعد انہوں نے لعنت لعنت کا لفظ ایک ہزار بار لکھا جو سات صفحات پر حاوی ہے۔ بتائیے کوئی صحیح العقل آدمی اس طرح کی تحریر لکھ سکتا ہے۔ ایک گالی کو اگر کوئی دس بار سے زائد دفعہ ایک سانس میں دہرائے تو اسے مہا پاگل کہیں گے اور پھر وہ اسے ہزار بار دہرادے اور صرف دہرائے ہی نہیں بلکہ اپنی تحریر میں اسے لکھ دے اور اسے چھپوائے تو اس کا مقام آپ خود ہی سوچئے۔

فرمایا مرزا قادیانی نے

اب گرامی قدر مرزا قادیانی کے چند ارشادات عالیہ بھی ملاحظہ کر لیجئے:

(حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨٠، خزائن ج٢٢ ص ٧٠٦)

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج٢٢ ص ٨٩)

الہام ہے۔ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگا۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج٢٢ ص ٥٨١)

مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، مصنفہ مرزا قادیانی جدید ایڈیشن)

(اربعین نمبر ٢ ص ٣٤، خزائن ج١٧ ص ٤٢٣)

(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج١٠ ص ١٣٢، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٩٢)

٥

صفحہ ٤٤٢

اس کی مثل انگریز کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی ہوں۔“

(تذکرہ یعنی وحی مقدس مجموعہ الہامات و مکاشفات ص ٣١)

الہامی لفظ ہے۔ اب تک میں نے اس صورت میں قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور کسی لغت کی کتاب میں نہیں دیکھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣)

(ص ١٢ ٹریکٹ نمبر ٣٤، اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی)

یہ مرزا قادیانی کے الہامات وانکشافات اور آپ کے ’ارشادات گرامی‘ کے صرف چند نمونے ہیں۔ ان کی سب کتابیں پڑھ کر دیکھئے۔ آپ کو اسی طرح کی ذہنی الجھنیں اور ”ادب پارے“ ملیں گے۔

پستی کردار

کسی بھی مذہبی رہنما کے لئے دوسری صفات میں سے سلیم الفطرت اور بلند کردار ہونا ضروری ہے۔ کردار کی ذیل میں عادات اور معاملات بھی آتے ہیں۔ آئیے ذرا مرزا قادیانی کی عادات کا جائزہ لے لیں۔

کسی بھی مذہبی رہنما کی پرائیویٹ لائف دوسرے افراد سے پوشیدہ نہیں ہوتی۔ جب وہ پبلک لائف میں آتا ہے تو اس کی پرائیویٹ لائف لازماً زیر بحث آتی ہے۔ مرزا قادیانی کی روزمرہ کی زندگی میں جھانکئے۔ ان کی عادات واطوار کا مطالعہ کیجئے۔ ان کے خوردنوش کا معاملہ دیکھئے اور پھر غور فرمائیے کہ کیا ہم انہیں محض ایک مذہبی رہنما بھی تسلیم کر سکتے ہیں؟۔ تحریریں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی ہیں: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق الہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا۔ یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد خلیفہ اول (حکیم نورالدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً استعمال کرتے رہے۔“

(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج ١٧ ش ٢٦ ص ١، ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)

٦

صفحہ ٤٤٤

محبّی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام! مرزا غلام احمد عفی عنہ

(خطوط امام بنام غلام ص ٥، مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی قادیانی)

یاد رہے کہ ٹانک وائن عمدہ قسم کی شراب ہے۔ جیسے کہ پلومر کی دکان سے ایک خط کے ذریعے دریافت کیا گیا تو جواب ملا۔ ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سر بند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے ہے۔

(سودائے مرزا ص ٣٩)

”مرزا شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سالے اور ان کے فرزند مرزا فضل احمد کے خسر تھے۔ انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک بڑی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے۔ تسبیح کے دانے پھیرتے جاتے اور منہ سے گالیاں نکالتے جاتے۔ بڑا لٹیرا ہے۔ لوگوں کو لوٹنے کے لئے دکان کھول رکھی ہے۔ مرزا قادیانی سے میری رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم ہے۔ بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کر دیا۔ اس لئے یہ دکان کھول لی ہے۔“ (میاں بشیر الدین محمود صاحب کی تقریر جلسہ سالانہ ١٩٤٥ء، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٣٤ ش ٩١ ص ٤، مورخہ ١٧ اپریل ١٩٤٦ء)

”نئی جوتی جب پاؤں میں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اڑا کر پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی۔ جس کو لوگ اپنی پگڑیوں وغیرہ سے صاف کر دیا کرتے تھے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب یا دیگر احباب اچھے اچھے کپڑے کے کوٹ بنوا کر لایا کرتے۔ حضور کبھی تیل سر مبارک میں لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا۔ جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔“

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٣١ فروری ١٩٣٥ء)

”کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے“

٧

صفحہ ٤٤٤

ہی رکھ لیتے ۔ صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ گردن اکڑ کر رہ جاتی ۔ ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔“

(سیرت المہدی حصہ ١ ص ١٢٨ روایت نمبر ٤٨٠)

”ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا ۔ آپ اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہ کر سکتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک بوٹ پر نشان لگانا پڑا۔“

(منکرین خلافت کا انجام ص ٥٠ مصنفہ محمود احمد)

عادات واطوار کے اس اجمالی خاکہ کے بعد اب آئیے معاملات کی طرف ۔ یہ مرزا قادیانی اور آپ کے احباب کی تحریریں ہیں۔ یہ انہیں کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔ ہم تو صرف پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ یہ انہیں کا آئینہ ہے۔ ہم تو صرف دکھانے کی گستاخی کر رہے ہیں۔

چندے کی بہار

مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے چندوں سے جس طرح تمتع کیا۔ اس کا حال وہ خود بیان کرتے ہیں۔ ”ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا۔“

”مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک سے اٹھاتا ہے۔ اس نے میری دست گیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، ٢١٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

قومی چندے کے نام پر لئے گئے اس روپے کا کیا استعمال ہوتا ہے۔ اس کا حال محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان کے ایک خطبے سے لگائیے۔ ”لدھیانہ کا ایک شخص تھا۔ جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو کر اور بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے۔ مگر یہاں بیوی صاحب کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا اس پر حرام ہے کہ وہ ایک حبہ بھی کسی سلسلے کے لئے بھیجے۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی چندہ نہ

٨

لیا جائے۔ حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا ”سب سے بڑا اعترا مال کے متعلق تھا کہ لوگوں سے ر حساب نہیں۔“

خود غرضی

کوئی بھی مذہبی رہنما مذہبی رہنما تو کجا ایک عام دنیا د غرضیوں کے اسی تانے بانے سے کے قلم کی تراوش سے بار بار ٹپکتی مریدوں سے نذرانہ طلب کر مکتوبات احمدیہ کے نام سے مرز زائد خطوط ایسے ہیں جن میں مخا لکھا ہے یا چندہ پہنچنے پر شکریہ کا ن آپ کا جنت میں مقام طے کر ل ”١٩٠٨ء کا واقعہ ہے کہ اپنے بیمار بیٹے کی صحت کرتے تھے۔ انہوں نے دعا قبول نہیں ہوئی........ ول صاحب کا خط بھی اسی مضمون کا طعن کرتے ہیں۔ ہر دو خطوط ۔ لکھ دیں کہ اگر وہ رکھیں ایسا ہی مقرر کے جو اس کی انتہائی طاق

صفحہ ٤٤٥

لیا جائے۔ حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا۔"

(الفضل قادیان ج ٢٦ ش ٢٠٠، ص ٧، مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء)

"سب سے بڑا اعتراض جو اس نے (ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب) نے مسیح موعود پر کیا۔ وہ مال کے متعلق تھا کہ لوگوں سے روپیہ لیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں۔ کوئی حساب نہیں۔"

(اخبار الفضل قادیان ج ٨ ش ٤٥ ص ٧، مورخہ ٢٠ جنوری ١٩٢١ء)

خود غرضی

کوئی بھی مذہبی رہنما خود غرضی کا شکار نہیں ہوتا۔ اگر وہ خود غرضی کا شکار ہے تو پھر وہ مذہبی رہنما تو کجا ایک عام دنیا دار قسم کا معزز آدمی بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کی پوری زندگی خود غرضیوں کے اسی تانے بانے سے بنی ہوئی ہے۔ ان کے دل کی خواہشات ان کی زبان سے اور ان کے قلم کی تراوش سے بار بار ٹپکتی ہیں۔ وہ انگریز سے اپنی خدمات کا صلہ مانگتے ہیں۔ وہ اپنے مریدوں سے نذرانہ طلب کرتے ہیں اور وہ امیروں کو بڑے بڑے عاجزانہ خط لکھتے ہیں۔ مکتوبات احمدیہ کے نام سے مرزا قادیانی کے خطوط کا جو مجموعہ شائع ہوا ہے۔ اس میں ایک سو سے زائد خطوط ایسے ہیں جن میں مخاطب کوئی نہ کوئی امیر آدمی ہے۔ جسے آپ نے چندہ بھیجنے کی بابت لکھا ہے یا چندہ پہنچنے پر شکریہ کا خط لکھا ہے کہ آپ کا چندہ ملا اور مجھے بذریعہ الہام بتایا گیا ہے کہ آپ کا جنت میں مقام طے کر لیا گیا ہے۔ نذرانہ طلب کرنے کی صرف ایک مثال ملاحظہ کریں:

"١٩٠٨ء کا واقعہ ہے کہ ضلع کانپور کے ایک رئیس ولی محمد نامی جو ایک عرصہ سے احمدی ہو چکے تھے اپنے بیمار بیٹے کی صحت کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں خطوط لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے حضور کو لکھا کہ میں مدت سے دعا کرا رہا ہوں مگر اب تک بیٹے کے حق میں دعا قبول نہیں ہوئی ......... ولی محمد صاحب کے خط کے ساتھ ہی اسی جگہ کے ایک احمدی یوسف علی صاحب کا خط بھی اسی مضمون کا آیا ہے۔ اس رئیس کے بیٹے کو اب تک صحت نہیں ہوئی اور مخالف طعن کرتے ہیں۔ ہر دو خطوط کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جواب لکھ دیں کہ اگر وہ رئیس ایسا ہی بے دل ہے تو چاہئے کہ اس سلسلہ کی تائید میں کوئی بھاری نذرانہ مقرر کرے جو اس کی انتہائی طاقت کے برابر ہو اور اسے اطلاع دے اور یاد دلاتا رہے۔"

(مفتی محمد صادق قادیان ٢٠ اکتوبر ١٩٢٧ء)

٩

صفحہ ٤٤٦

یہ اندازِ گفتگو ہے

کسی بھی مذہبی رہنما کے لئے گفتگو کی پاکیزگی بہت ضروری ہے۔ اگر اس کی زبان سے اخلاق کی بجائے گالیوں کے موتی جھڑتے ہوں اور وہ دشنام طرازی کو اپنی تبلیغ کا ہتھیار بنالے تو کوئی بھی اسے معقول آدمی تسلیم کرنے کو تیار ہوتا۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی خوش گفتاری کے چند شاہکار بھی دیکھئے:

شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

گئیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

اپنے اس کلام بلاغت نظام میں مرزا قادیانی نے اخلاق کے جو موتی بکھیرے ہیں وہ آپ نے دیکھ لئے۔ ”حرام زادہ“ کا لفظ تو گویا مرزا قادیانی کا تکیہ کلام ہے۔ بلکہ بسترۂ کلام ہے۔ اس لفظ کے ادا کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ اور دوسرے خلیفہ میاں محمود احمد کی زبانی سنئے: ”میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ایک شخص زور زور سے کہہ رہا تھا کہ اس حرام زادے کو میرے سامنے لاؤ۔ جو کہتا ہے کہ کتے کا جھوٹا جائز نہیں۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کہا گیا تھا کہ کسی کو حرام زادہ کہنے والے کو حد لگائی جائے۔“

(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل قادیان ١٢؍ فروری ١٩٢٢ء)

حد لگانے کی بات سناتے وقت میاں صاحب کو اپنے بزرگوار کی کتابیں یاد نہیں رہیں۔ وگرنہ ایسی بات منہ سے نہ نکالتے۔ مرزا قادیانی کی خوش گفتاری کی صرف ایک مثال اور

١٠

صفحہ ٤٤٧

ملاحظہ فرمائیے: ”قادیان میں ایک مخالف آیا ہوا تھا۔ جس نے حضرت کے خدام میں سے کسی کو اپنے پاس بلا بھیجا جو اس کے ساتھ گفتگو کرنے چلا گیا۔ حضرت کو علم ہوا تو فرمایا کہ ایسے خبیث مفسد کو اتنی عزت نہیں دینی چاہئے۔ اس کے ساتھ تم میں سے کوئی بات چیت کرے۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ ٤ ص ١٤٥)

باطل اقتدار کا ساتھی

مذہبی رہنما کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ باطل اقتدار کا مخالف ہوتا ہے۔ باطل اقتدار کا ساتھ دینے والا شیطان کا ساتھی تو ہوسکتا ہے۔ مگر کوئی مذہبی رہنما نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حضورؐ نے فرمایا افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطان جائر۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی نے انگریز کے سامراجی اور باطل اقتدار کا بھر پور ساتھ دیا۔ اس کے لئے خدمات انجام دیتے رہے جس کا اظہار بڑے فخریہ انداز میں کرتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(ارشاد مرزا قادیانی مندرجہ رسالہ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٧٧)

”گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

١١

صفحہ ٤٤٨

مرزا قادیانی کی اس طرح کی سینکڑوں تحریریں موجود ہیں۔ جن میں انہوں نے انگریزی سرکار کی کاسہ لیسی کی ہے۔ اس کی تعریف کی ہے۔ اس کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بتایا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے خلیفہ ثانی خود اعتراف کرتے ہیں۔ ”ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع سے ہی لوگ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پٹھو ہے۔ بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق جھولی چک اور نئی زمینداری محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ٢٢ ش ٥٨ ص ٢، مورخہ ١١؍نومبر ١٩٣٤ء)

اسی طرح قادیانی حضرات تقسیم ملک کے بعد بھی ہر چڑھتے سورج کے پجاری اور ہر اقتدار کے جھولی چک رہے۔

فصاحت و بلاغت

اب ذرا آیئے مرزا قادیانی کی فصاحت و بلاغت کی طرف۔ فصاحت بلاغت کے کمال نمونے آپ کو یہاں ملیں گے۔ کچھ تو ہم پیچھے درج کر آئے ہیں۔ اب ذرا انگریزی الہام دیکھئے۔ اس غلط انگریزی کی تہمت (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ پر عائد کی گئی ہے۔

He is with you to kill Enemy.

(البشریٰ ج ٢ ص ٤)

He halts in the Zila Pehsawar.

Word and Two Girls.

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦)

We can what will Do.

یہ تو انگریزی کا حال ہے۔ ہمارا انگریزی دان طبقہ سوچے کہ کیا خدا کو اس قدر انگریزی بھی نہیں آتی جو آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم کو آتی ہے۔ (نعوذ باللہ)

١٢

صفحہ ٤٤٩

شاعری سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے چند نمونے شاعری کے بھی پیش خدمت ہیں۔ ان اشعار میں تخیل کی بلندی، ندرت خیال، الفاظ کی بندش معانی کی پیچیدگی۔ غرضیکہ ہر شئے قابل تعریف ہے۔ ملاحظہ تو کیجئے۔

وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے۔

......١

وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے
اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار

......٢

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآن کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے

ان اشعار میں نہ تو وزن ہے نہ بحر کا لحاظ، نہ قافیہ و ردیف درست ہیں نہ کوئی ندرت خیال اور کہا گیا ہے کہ یہ الہامی اشعار ہیں۔ شعر و شاعری سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی بھی ان اشعار کو دیکھے تو سر پیٹ لے اور اس نثر کو شعر کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ یہ اشعار نسبتاً بہتر لئے گئے ہیں۔ وگرنہ شعر و شاعری کے نام پر جو خرافات مرزا قادیانی کی تحریروں میں شامل ہیں۔ انہیں دیکھ کر مرزا قادیانی کی مختلف حالتوں کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔

رہنمائی

کسی بھی مذہبی رہنماء کے لئے رہنمائی کے فریضہ کی مخلصانہ انجام دہی بہت ضروری ہے اور یہی اس کے اخلاص نیت کی پہچان ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے دین کی کیا خدمت کی۔ کوئی فقہ کی کتاب تدوین کی ہے؟ احادیث کی کوئی تشریح لکھی؟ قرآن کی تفسیر کی، موجودہ مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کیا؟ اسلام کے معاشی نظام کو پیش کیا؟ اس کے معاشرتی اور سیاسی نظام کا نقشہ دکھایا۔ اسلامی نظام کے قیام کے لئے جدوجہد کی؟ غرضیکہ رہنمائی کا کوئی ایک کام تو ہو۔ جس کے سبب مرزا قادیانی کو محض رہنما قرار دیا جائے۔ بجائے رہنمائی کے جہاد

١٣

صفحہ ٤٥٠

کو ممنوع ٹھہرایا۔ حضور نبی کریم ﷺ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت امام حسینؓ، حضرت فاطمہؓ اور دیگر اکابرین کی توہین کی۔ نئے فتنے پیدا کئے۔ اسلام کی تاریخ میں پہلی دفعہ منظم طور پر باطل اقتدار کی کاسہ لیسی کا آغاز کیا۔ مرزا قادیانی کے بارے میں تحریر شدہ ساری چیزوں کو ترتیب دی جائے تو تصویر یوں بنتی ہے۔

ایک شخص جو مراق اور مالخولیا کا مریض ہے۔ اپنے مرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ انگریز اس نبی کو پالتے پوستے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ عجیب و غریب باتیں کرتا ہے جو دماغی صحت پر شک دلاتی ہیں۔ کردار کا عالم یہ ہے کہ افیون اور ٹانک وائن کا استعمال عام ہے۔

نہ جوتے کی تمیز ہے نہ کوٹ پر تیل گرنے کی پروا۔ وہ معاملات دیکھئے تو خود اعتراف کہ دس روپے سے آغاز کر کے تین لاکھ روپوں کا مالک بن گیا ہوں۔ خود غرضی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ گفتگو کرتے ہیں تو گالیوں کی زبان میں اور تحریر لکھتے ہیں تو دشنام طرازی سے بھرپور۔ باطل اقتدار سے پینگ کا یہ عالم کہ انگریز کے پٹھو ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کا یہ عالم کہ خدا کی طرف منسوب انگریزی کا ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکے اور ملت کی رہنمائی یہ کہ اسے جذبہ جہاد سے محروم کرنے کی سازش۔

یہ ہے وہ تصویر۔ اس شخص کو ایک مذہبی رہنماء تسلیم کرنا لفظ رہنمائی کی توہین ہے۔ پھر ایسے شخص کو نبی تسلیم کیا جائے تو یہ کتنی احمقانہ اور کافرانہ بات ہوگی۔ ایسے نبیوں کا تصور یہودیوں کی کتابیں تو فراہم کرتی ہیں۔ اسلام کی تاریخ ایسے فرد کو ایک رہنما کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسے افراد کو حکومتوں نے کڑی سزائیں دیں یا ان کے لئے پاگل خانہ تجویز کیا۔

یہ سوچنا اب مرزائی حضرات کا کام ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی اندھا دھند پیروی کرتے ہیں یا ان کی کتابیں پڑھ کر انہیں ان کا صحیح مقام عطاء کرتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

صفحہ ٤٥٠

ت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت امام حسینؓ، حضرت فاطمہؓ ا کئے۔ اسلام کی تاریخ میں پہلی دفعہ منظم طور پر باطل انی کے بارے میں تحریر شدہ ساری چیزوں کو ترتیب

مریض ہے۔ اپنے مرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر نبوت کا تے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ عجیب ۔ دلاتی ہیں۔ کردار کا عالم یہ ہے کہ افیون اور ٹانک

ں گرنے کی پروا۔ وہ معاملات دیکھئے تو خود اعتراف کہ ں کا مالک بن گیا ہوں۔ خود غرضی کوٹ کوٹ کر بھری ں اور تحریر لکھتے ہیں تو دشنام طرازی سے بھر پور۔ باطل نے پر فخر کرتے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کا یہ عالم کہ خدا ں لکھ سکے اور ملت کی رہنمائی یہ کہ اسے جذبہ جہاد سے

مذہبی رہنماء تسلیم کرنا لفظ رہنمائی کی توہین ہے۔ پھر ور کافرانہ بات ہوگی۔ ایسے نبیوں کا تصور یہودیوں کی ایسے فرد کو ایک رہنما کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں۔ ی سزائیں دیں یا ان کے لئے پاگل خانہ تجویز کیا۔ م ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی اندھا دھند پیروی کرتے م عطاء کرتے ہیں۔

أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

قادیانی

آزادی کشمیر کے دشمن

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہریؒ)

صفحہ ٤٥٢

بسم الله الرحمن الرحیم

قرارداد اقلیت

وہ محض ایک قرارداد ہی نہ تھی اس دور کا سب سے بڑا اعلان بھی تھا۔ ایسا اعلان جس میں کروڑوں اہلِ ایمان کے دل کی دھڑکنیں اور ان کے ایمانی ولولے کی تپش شامل تھی۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد پاس کر کے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان اور عالمِ اسلام کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبے کو قانونی شکل دی اور اس طرح انگریز کی سازش سے جنم لینے والا یہ ٹولہ آزاد کشمیر میں اقلیت قرار دیا گیا۔ اب وہاں مرزائیوں کو غیر مسلم لکھا اور سمجھا جائے گا۔ اب ان کے لئے مسلمانی کا روپ دھار کر امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرنے کی سازشیں تیار کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اب ان کے عزائم اور ارادے بے نقاب ہوں گے اور اب وہ جاسوسی کے لئے اپنی سرگرمیاں پہلے انداز میں جاری نہ رکھ سکیں گے۔

قادیانیوں کی بوکھلاہٹ

یہی وجہ ہے کہ اس قرارداد کے سامنے آتے ہی ربوہ سے اسلام آباد تک قادیانیوں میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ علانیہ اور خفیہ سرگرمیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ پمفلٹ لکھے اور تقسیم کئے گئے۔ حکامِ بالا کو اپنی وفاداریوں کے حوالے دے دے کر ان سے امداد چاہی گئی اور مرزا ناصر احمد سے لے کر منظور احمد ایڈووکیٹ تک ہر ایک نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ربوہ میں بھونچال آ گیا ہو اور بہشتی مقبرے کی ہڈیاں حیران و ششدر رہ گئی ہوں۔

مرزائی امت کے امام مرزا ناصر احمد نے اسی جمعہ کو مسجد میں خطاب کیا اور کہا: ”اگرچہ مجھے گرمی اور پھر شدید نزلہ، کھانسی اور بیماری نے آ گھیرا۔ لیکن چونکہ میں اپنے بھائیوں سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے جمعہ پڑھانے آ گیا ہوں۔“

(قرارداد پر تبصرہ ص ١)

جماعت میں بس گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔ اس کا حال خود امام جماعت احمدیہ بیان کرتے ہیں: ”دوستوں نے مجھے فون کئے۔ میرے پاس آدمی بھجوائے۔ خطوط آئے،

(قرارداد پر تبصرہ ص ٢)

ان کی یہ گھبراہٹ بے جا نہ تھی۔ کیونکہ اب تک مرزائی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنی فریب کاری کا کھیل کھیلتے رہے۔ اب آزاد کشمیر اسمبلی نے ان کی فریب کاری کا پردہ چاک چاک کر دیا تھا

٢

صفحہ ٤٥٣

الله الرحمن الرحيم! اس دور کا سب سے بڑا اعلان بھی تھا۔ ایسا اعلان جس میں اور ان کے ایمانی ولولے کی تپش شامل تھی۔ آزاد کشمیر قرارداد پاس کر گئے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان اور بے کو قانونی شکل دی اور اس طرح انگریز کی سازش سے قرار دیا گیا۔ اب وہاں مرزائیوں کو غیر مسلم لکھا اور سمجھا پ دھار کر امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرنے کی سازشیں تیار رادے بے نقاب ہوں گے اور اب وہ جاسوسی کے لئے لیں گے۔

سامنے آتے ہی ربوہ سے اسلام آباد تک قادیانیوں میں سرگرمیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ پمفلٹ لکھے اور ں کے حوالے دے دے کر اُن سے امداد چاہی گئی اور لیٹ تک ہر ایک نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ یوں و بہشتی مقبرے کی ہڈیاں حیران و ششدر رہ گئی ہوں۔ ر احمد نے اسی جمعہ کو مسجد میں خطاب کیا اور کہا: ”اگرچہ ی نے آ گھیرا۔ لیکن چونکہ میں اپنے بھائیوں سے ایک دھانے آ گیا ہوں ۔“

(قرارداد پر تبصرہ ص ١)

ی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کا حال خود امام جماعت احمدیہ بیان فون کئے۔ میرے پاس آدمی بھجوائے۔ خطوط آئے،

(قرارداد پر تبصرہ ص ٢)

یونطہ اب تک مرزائی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنی فریب بلی نے ان کی فریب کاری کا پردہ چاک چاک کر دیا تھا

٢

اور دنیا بھر کو بتا دیا تھا کہ یہ امت محمدیہ میں شامل نہیں۔ یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ ان کے خیالات ان کے عزائم اور ان کے عقائد مسلمانوں سے جدا گانہ ہیں۔ ان کا قبلہ مکہ مکرمہ نہیں بلکہ قادیان، لندن اور نیو یارک ہے اور یہ سب کارنامہ سردار عبدالقیوم صدر آزاد جموں و کشمیر، کرنل راجہ محمد ایوب اور دوسرے باحمیت غیرت مند ممبران اسمبلی، علماء اسلام آزاد کشمیر کی غیرت مندانہ جہادی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

اپنی اس تقریر میں مرزا ناصر نے اور اسی طرح امیر جماعت ہائے ”احمدیہ“ آزاد کشمیر محمد منظور ایڈووکیٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ قرارداد پورے آزاد کشمیر کی آواز نہیں۔ کیونکہ اسمبلی سے گیارہ ممبر غیر حاضر تھے۔ آج جب کہ صدر آزاد کشمیر اس قرارداد کی توثیق بھی کر چکے ہیں اور پوری جرات واستقامت سے مرزائی سازشوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ اس بات کی وضاحت بے معنی سی نظر آتی ہے۔ تاہم مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ ذریت اسی طرح اپنے آپ کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ وگرنہ یہ قرارداد پورے آزاد کشمیر کی آواز تھی۔ کیا اس کی مخالفت میں کوئی آواز اٹھی؟ کیا کسی رکن اسمبلی نے تردیدی بیان جاری کیا؟ کیا مرزائیوں کے ایک محدود طبقے کے علاوہ پورے آزاد کشمیر میں اس قرارداد کا بھر پور خیر مقدم نہیں کیا گیا؟ کیا قرارداد کی حمایت میں جلوس نہیں نکالے گئے؟ کیا نوجوانان کشمیر نے قرارداد کو تسلیم کرانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم نہیں کیا؟ کیا علماء اسلام نے اس کا دوسرے ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا؟ کیا غیر حاضر ارکان اسمبلی نے کوئی اختلافی بیان دیا؟ غرضیکہ یہ آواز نہ صرف پورے آزاد کشمیر کی آواز تھی۔ بلکہ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کی آواز تھی اور ان کے دلی جذبات کی تپش اور ایمانی جذبے کی حرارت اس میں شامل تھی۔ جماعت ہائے احمدیہ آزاد کشمیر کے امیر کوئی ایڈووکیٹ صاحب ہیں۔ انہوں نے اپنے پمفلٹ میں یہ موشگافی کی کہ:

”یہ قرارداد مذہب کی آڑ میں ملک اور قوم سے ایک مہلک اور بھیانک غداری کے مترادف ہے اور جماعت احمدیہ کو محض بہانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ریزولیوشن تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کی طرف ایک خطرناک قدم ہے۔“

گویا بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب ہونے والی اسمبلی کے ممبران اور صدر مملکت محض اس لئے غدار ہیں کہ انہوں نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو مزید تباہ کاری کا موقع فراہم نہیں کیا اور انہوں نے انگریز کے خود کاشتہ پودے کو بیخ و بن

٣

صفحہ ٤٥٤

سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ ہمیں مرزائیوں کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت فراہم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم حکومت پاکستان کو مسلمانان پاکستان یہ واضح طور پر بتا دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ اگر مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ غداری ہے تو پاکستان کے کروڑوں مسلمان پھر اس غداری کو قبول کرتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کی بات وہ طبقہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر نے جنم لیا۔ جنہوں نے ہر موقع پر تحریک کو سبوتاژ کیا اور جو تقسیم کے بعد ہندوؤں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔

قصہ کشمیر کمیٹی

اس پمفلٹ میں ایڈووکیٹ صاحب نے اپنی جماعت کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر ١٩٣١ء کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ کشمیر کمیٹی میں اکابرین مسلمانان ہند شامل تھے اور اس کی قیادت امام جماعت احمدیہ نے کی۔

کشمیر کمیٹی کا قیام اور تحریک آزادی کشمیر میں قادیانیوں کی شمولیت کا پس منظر یہ تھا کہ اس زمانے میں ایشیاء، انگلستان اور روس کی باہمی جنگ و جدل کا میدان بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل سے روس نے توسیع پسندی کی جس پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا۔ اس نے برطانوی اقتدار کے لئے خطرے کی یہ گھنٹی بجا دی کہ اب روس افغانستان اور کشمیر کے راستے ہندوستان میں داخل ہو جائے گا۔ اس کا تذکرہ جوزف کوبل کی کتاب Danger Of Kashmir میں موجود ہے۔ برطانوی حکومت نے اپنی حکومت کے استحکام کے لئے ضروری سمجھا کہ وہ شمال مغربی ہند کے ان تمام علاقوں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لے۔ جہاں اشتراکی سرگرمیاں جاری تھیں اور جہاں سے روس کے لئے مداخلت کے راستے موجود تھے اور ان سرحدی علاقوں میں ایسی وفادار جماعتوں کو پالا جائے جو ایک طرف آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کر سکیں اور دوسری طرف برطانوی حکومت کے لئے مخبری کے فرائض انجام دیں۔ ان علاقوں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لینے کی راہ میں معاہدہ امرتسر رکاوٹ تھا۔ جس کے تحت مہاراجہ کی رضامندی ضروری تھی اور مہاراجہ اپنی ریاست سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔ چنانچہ اس کی نگاہ قادیانی جماعت پر پڑی جس کو خود انگریز نے جنم دیا تھا اور جس کی وفاداریوں کا بارہا تجربہ کر چکا تھا۔ چنانچہ قادیانی جماعت جس نے پہلے کسی بھی تحریک میں حصہ نہ لیا تھا اور انگریز کی حکومت کی وفادار ترین جماعت یہی تھی۔

٤

صفحہ ٤٥٥

اس کا اس تحریک میں حصہ لینا اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے آقا کے اشارے پر ناچ رہی ہے اور انہیں کشمیر کے مفادات اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا۔ ہندوستان کے مسلمان تڑپ اٹھے۔ تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر قادیانی نہ صرف یہ کہ اس تحریک سے علیحدہ رہے۔ بلکہ جب ترکی کو شکست ہوئی اور بغداد برطانوی قبضے میں چلا گیا تو قادیان میں جشن فتح منایا گیا اور چراغاں کیا گیا۔

(منیر رپورٹ ص ١٩٦)

”٢٧ نومبر کو انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ کے زیر انتظام حسب ہدایت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور قابل یادگار فتح کا جشن منایا گیا۔ نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا۔ خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی چراغ روشن کئے گئے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٦ ش ٤١ ص ٢، مورخہ ٣ دسمبر ١٩١٨ء)

جن قادیانیوں کا یہ کردار اور جن کی انگریز سے وفاداریاں اس عروج کو پہنچی ہوئی تھیں اور جنہوں نے مسلمانوں کی ہر تحریک کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے آزادی کشمیر کی تحریک میں محض برطانوی مفادات کے حصول کے لئے شرکت کی۔

اس تحریک میں قادیانیوں کی شمولیت کا دوسرا بڑا مقصد یہ تھا کہ کشمیر کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا جائے۔ چنانچہ مرزا بشیرالدین محمود نے ایک خطبہ میں کہا: ”بیشک قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے۔ لیکن اس وقت ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہماری قوت اور ہمارے وقار کا مرکز کون سے مقام پر قائم ہوگا۔“

(الفضل ج ٢٢ ش ٦٦ ص ١٣، مورخہ ٢٩ نومبر ١٩٣٣ء)

کشمیر کو اپنا Base بنانے کی تیاری کے سلسلے ہی کی ایک کڑی یہ ہے کہ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر آگئے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہوا اور یہیں ان کی قبر موجود ہے۔

چنانچہ ١٩٣١ء میں جب تحریک آزادی کشمیر کا اعلان ہوا تو: ”حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ العزیز جو پہلے ہی مناسب موقع کے انتظار میں تھے۔ یکا یک میدان عمل میں آگئے۔“

(الفضل ١٢ جون ١٩٣١ء)

جب کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو قادیانی زعماء بڑی تعداد میں وہاں بھیجے گئے۔ اس دوران سینکڑوں مبلغین ریاست میں پہنچے اور ریاست کے چپے چپے کا دورہ کر کے قادیانی عقائد کی تبلیغ

صفحہ ٤٥٦

کرنے لگے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے تحریک آزادی کے مظلومین کی امداد کے لئے اکثر رقوم شیخ محمد عبداللہ کی معرفت دی گئیں۔

(کچھ پریشان داستانیں کچھ پریشان تذکرے، اشرف عطا، ص ١٤٠، ١٤١)

پمفلٹ لکھنے والے ایڈووکیٹ صاحب نے کشمیر کمیٹی میں مسلم زعماء کی شمولیت کا تذکرہ بھی کیا ہے اور اسے امیر جماعت احمدیہ کی بھر پور قیادت کا کرشمہ قرار دیا ہے کہ ان کی صدارت میں علامہ اقبال اور دوسرے مسلم زعماء کام کر رہے تھے۔

ایڈووکیٹ صاحب تاریخی حقائق کو اس بے دردی سے مسخ کر رہے ہیں کہ جوش مخالفت میں انہیں کشمیر کمیٹی کے افسانے کا کلائمیکس بھی یاد نہیں رہا۔ یعنی جب مسلم زعماء نے اس امر کا اندازہ لگا لیا کہ مرزا بشیر الدین محمود کمیٹی کو جماعتی مفاد میں استعمال کر رہے ہیں تو انہوں نے لاہور میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں مرزا بشیر الدین کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا اور علامہ اقبال کمیٹی کے نئے صدر منتخب ہوئے۔

(ملاحظہ ہو اقبال کا سیاسی کارنامہ محمد احمد خاں ص ١٨٤)

علامہ اقبال اور کشمیر کمیٹی

علامہ اقبال سے قادیانی حضرات کی عداوت اور بغض نے انہیں علامہ کی زیر قیادت کام نہ کرنے دیا اور انہوں نے عملاً کمیٹی سے بائیکاٹ کر دیا۔ حتیٰ کہ جو قادیانی وکلاء ریاست میں مسلمانوں کے مقدمات لڑ رہے تھے وہ مقدمات ادھورے چھوڑ کر واپس آگئے۔ اس صورتحال پر علامہ نے ایک اخباری بیان میں تبصرہ کیا۔ ”بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جو اپنے مذہبی فرقے کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مرزائی وکلاء میں ایک صاحب نے جو میر پور کے مقدمات کی پیروی کرتے رہے تھے۔ حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے اور جو کچھ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔“

(اقبال اور سیاست ملی رئیس احمد جعفری ص ٣٠٤)

کشمیر کمیٹی کے خاتمے کے بعد قادیانیوں نے ایک اور ادارہ تحریک کشمیر کے نام سے قائم کرنا چاہا اور علامہ اقبال کو اس ادارہ کی صدارت پیش کی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب اب قادیانی تحریک کے سخت مخالف بن چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ تحریک کشمیر کے نام سے قادیانی حضرات اپنے عقائد کی نشر و اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس آفر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

(اقبال کا سیاسی کارنامہ)

٦

صفحہ ٤٥٧

تبصرہ نامی پمفلٹ میں قادیانی ایڈووکیٹ منظور نے قادیانیوں کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید فرمایا ہے کہ آزاد کشمیر کا پہلا صدر انور نامی ایک احمدی تھا۔ جس کا اصل نام غلام علی گلکار تھا۔ اس انکشاف کے بعد ایڈووکیٹ صاحب خاموش ہیں۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان گلکار صاحب کی گلکاریاں کب تک رہیں؟ اور ان کی حکومت قائم نہ رہ سکنے کی وجوہات کیا تھیں؟

امر واقعہ یہ ہے کہ ٢٤/ اکتوبر کو ریاست کشمیر میں جماعت احمدیہ کے صدر خواجہ غلام نبی گلکار آزاد کشمیر حکومت کے پہلے صدر رہے۔ لیکن ٢٤/ اکتوبر ١٩٤٧ء کو ان کی حکومت دم توڑ گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آزاد علاقے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک انڈر گراؤنڈ قادیانی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ غلام نبی گلکار نے اس انڈر گراؤنڈ حکومت کے جن عہدیداروں کا اعلان کیا۔ ان کی اکثریت جماعت احمدیہ کے عقائد سے تعلق رکھتی تھی۔

(شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ، کلیم اختر ص ١٣٣)

جموں کشمیر آزاد حکومت

یہی وجہ ہے کہ تحریک کشمیر کے دیگر مسلمان رہنما ان گلکار صاحب کو سرے سے صدر ہی تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ سردار محمد ابراہیم خاں لکھتے ہیں۔ ”٢٤/ اکتوبر ١٩٤٧ء کو جموں وکشمیر کی پہلی آزاد حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا اور ہمارے دریائے جہلم کے قریب پونچھ کے جنوب میں پلندری کے مقام پر آزاد حکومت کا صدر مقام قائم کیا گیا۔ راقم الحروف کو اس حکومت کا بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا۔“

(کشمیر کی جنگ آزادی ص ١٥٩)

قادیانیوں کی ان ”شاندار خدمات“ کا تذکرہ کرنے کے بعد ایڈووکیٹ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”یہ قرارداد پاکستان کے استحکام کے خلاف بھی ایک سازش ہے۔ کیونکہ صاف نظر آرہا ہے کہ محرکین کا آخری مقصود یہ ہے کہ اس تحریک کو آزاد کشمیر سے شروع کر کے پاکستان کے تمام علاقوں میں پھیلا دیا جائے اور فتنہ و فساد کا ایک بازار گرم کر دیا جائے۔“

(ص ١٢، ١٣)

١٩٥٣ء کے واقعات

اسی خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے مرزا ناصر احمد قادیانی نے ١٩٥٣ء کے فسادات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت حکومت قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ مان لیتی تو نہ فتنہ و فساد ہوتا۔ نہ قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا۔ نہ ہنگاموں کی فضا پیدا ہوتی۔ حکومت نے خود ہنگامہ کھڑا کیا اور تشدد کے کوڑے سے اس آگ کو بھڑکایا۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر میں یہ قرار داد پاس ہوئی۔ نہ کوئی فتنہ و فساد ہوا اور نہ ہنگاموں نے سلطنت کے امن و سکون کو

٧

صفحہ ٤٥٨

لوٹا۔ اسی طرح اگر یہ قرارداد پاکستان میں بھی پیش کی جائے تو پورے ملک میں انتہائی جوش وخروش کے ساتھ اس کا استقبال کیا جائے گا۔ اس لئے کہ غیرت مند پاکستانی عوام نے جس طرح صدر آزاد کشمیر کے فیصلے کو سراہا ہے اور صدر آزاد کشمیر کو مبارک باد کے پیغامات بھیجے ہیں۔ ان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فتنہ و فساد کے تمام خدشے بالکل بے معنی ہیں۔ یا پھر قادیانیوں نے فتنہ و فساد کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ جس کی بنیاد پر مرزا ناصر احمد اپنی تقریر میں کہتے ہیں۔ ”یہ بات تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ حکومت وقت کو ایسا کمزور اور بزدل کیوں سمجھتے ہیں کہ حکومت ان کی اس قسم کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائے گی۔ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔“

(تبصرہ ص ٩، ١١)

فتنہ و فساد کی بات بالکل بے جوڑ ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی طبقے کو اقلیت قرار دیا جاتا ہے اور کہیں فتنہ و فساد نہیں ہوتا۔ ایران میں بہائیوں کو اقلیت قرار دیا گیا نہ کوئی دنگا و فساد ہوا اور نہ ہنگاموں کی آگ بھڑکی۔ اگر اقلیت قرار دینے پر کہیں فتنہ و فساد ہو تو قصور سراسر اقلیت کا ہی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے منظور ایڈووکیٹ اور مرزا ناصر احمد کا فتنہ و فساد کی بات کرنا صریحاً اس بات کی علامت ہے کہ بیرونی اشاروں پر ناچنے والی یہ جماعت مغربی پاکستان میں بھی وہی ڈرامہ دہرانے والی ہے جو اس کے نام نہاد دانشوروں نے مشرقی پاکستان میں کھیلا تھا۔ مسلمانان پاکستان میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے سے متعلق دو رائیں کبھی بھی نہیں رہیں۔ مسلمانان پاکستان شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور حنفی اہل حدیث فرقوں میں تو تقسیم ہو سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور دوسری سیاسی جماعتوں میں تو تقسیم ہو سکتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ پر تمام امت کی ایک رائے ہے۔ حتیٰ کہ حکمران جماعت کے عام کارکن بھی مرزائیوں کی سرگرمیوں کو ملت اسلامیہ کے لئے تباہ کن خیال کرتے ہیں اور انہیں اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس طرح فتنہ و فساد کی کہیں گنجائش موجود نہیں۔ اس کتابچہ کا موضوع یہ نہیں ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت کیوں قرار دیا جائے؟ اس سلسلہ میں عنقریب ایک پمفلٹ لایا جائے گا۔ تاہم اس پمفلٹ کی تمام بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مرزائیوں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کی بجائے ہمیشہ الجھایا ہے اور اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے تحریک کشمیر کو سبوتاژ کیا ہے۔ اس لحاظ سے آزاد کشمیر میں مرزائیوں کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ یہ طبقہ ابھی تک اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

٨

PDF 460

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ربوہ سے

اسرائیل تک

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری)

صفحہ ٤٦٠

”اللہم اعاذنا من مکائد الشیطن“

یہودی سازشیں

یہودی قوم کی تاریخ سازشوں سے بھر پور ہے۔ اس قوم نے قدم قدم پر امت مسلمہ کے خلاف سازشیں تیار کیں۔ انہیں پروان چڑھایا۔ ان کے لئے اپنا سرمایہ وقف کیا اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی نظام کو تباہ و برباد کرنے کے لئے تخریب کاریوں کے جال پھیلائے۔ اسلام کی سیاسی مرکزیت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے انہوں نے سب سے پہلے حضرت عثمانؓ کے عہد میں سبائی تحریک کا آغاز کیا۔ عبداللہ بن سبا ایک یہودی تھا۔ جو یمن کا رہنے والا تھا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے امت مسلمہ میں انتشار و افتراق کے سامان تلاش کئے۔ ان کی قبائلی عصبیت کو استعمال کیا۔ بنو امیہ اور بنو ہاشم کی پرانی دشمنی کی آگ کو اپنی سازشوں کی ہوا سے بھڑکایا اور اس طرح سبائی تحریک نے بصرہ سے مصر تک بے اطمینانی کی ایک لہر پیدا کر دی۔

نیا طریقہ واردات

یہودیوں کے سازشی ذہن نے ملت اسلامیہ میں نقب زنی کے لئے سب سے آسان اور مؤثر راستہ جو تلاش کیا وہ جھوٹی نبوت کا راستہ تھا۔ یہودیوں کے ذہن رسا نے چھوٹے موٹے نبی تو ہر دور میں پیدا کئے۔ لیکن عثمانی خلافت کے ترکی میں ”شبتے سیبی“ اور انگریزی حکومت کے ہندوستان میں ”مرزا غلام احمد قادیانی“ کو بڑے ہی منظم طریقے سے مسیح موعود بنایا۔

ترکی کا مسیح موعود

١٦٦٦ء میں شبتے سیبی نے ترکی کے علاقے ازمیر اور سالونیکا میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ شبتے سیبی پہلے یہودی تھا۔ سالونیکا میں بہت بڑی تعداد اس پر ایمان لائی۔ پھر اس نے اپنے تبلیغی سفر کا آغاز کیا۔ طرابلس الغرب اور شام سے ہوتا ہوا بیت المقدس پہنچا۔ پھر یہاں سے سمرنا پہنچا اور ترکی میں دعوت عام کا آغاز کیا۔ شبتے کے اثرات ترکی کی سرحدوں سے نکل کر اطالیہ، جرمنی اور ہالینڈ تک پہنچ گئے۔ دارالحکومت استنبول میں بھی اس کے حامی پیدا ہو گئے۔ جب سلطان محمد خان چہارم نے اس کی گرفتاری کا اعلان کیا تو اس نے توبہ کر لی اور دائرہ اسلام میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ترک اسے اور اس کے پیروؤں کو دونمہ مسلمان کہتے ہیں۔ انہوں نے مسلمان معاشرے میں شامل ہونے کے بعد اپنی سرگرمیاں اور تیز کر دیں۔ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے انہوں نے منڈی و بازار پر تو پہلے ہی قبضہ کر رکھا تھا۔ امت مسلمہ میں شامل ہو کر انہوں نے فوج اور سول کے مناصب پر بھی قبضہ کرنے کا باقاعدہ پروگرام بنایا اور اس طرح ترکی کے اسلامی

٢

صفحہ ٤٦١

معاشرے اور عثمانی خلافت کی جڑیں کاٹنے میں انہیں کوئی قانونی دشواری نہ رہی۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب ”حاضر العالم الاسلامی“ میں ان کے گھناؤنے کردار سے پردہ اٹھایا ہے۔

”مسلمان رہنما اس بات کو خوب اچھی طرح جان گئے تھے کہ نوخیز ترکی کی قیادت مغرب پرست ملحد گروہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں۔ ورنہ حقیقت میں زندیق یہودی ہیں۔ دونمہ کے معنی ہیں دو چہروں اور رخوں والے۔ یہ لوگ نہایت ذکی وفہیم تھے۔ خصوصاً اقتصادی امور میں زبردست مہارت رکھتے تھے۔ چنانچہ ترکی معاشرے میں انہیں اپنی تعداد سے کئی گنا زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔“

مسلم معاشرے میں مل جانے کی وجہ سے ان یہودیوں نے جو فوائد حاصل کئے تھے ان میں یہ بہت بڑا فائدہ تھا کہ ان کے ہم رنگ زمین دام کو کوئی سمجھ نہ سکا۔ ان کے نام مسلمانوں جیسے تھے۔ ان کے اعمال میں تقویٰ کی ظاہری چمک تھی۔ وہ مساجد کی طرف عام مسلمانوں سے بھی زیادہ ذوق وشوق سے جاتے تھے۔ ان کے ماتھوں پر محرابیں بنی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھ تسبیح کے منکوں پر گردش کرتے تھے۔ اس ظاہری تقویٰ کے ساتھ کوئی بھی ان کے گھناؤنے کردار کو نہ جان سکا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اسی نام نہاد مسلمانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کلیدی مناصب حاصل کرنے کی پوری کوشش کی اور حکمرانوں کی چاپلوسی کر کے انہوں نے اعلیٰ عہدے حاصل کر لئے۔ فرانس کا مسیحی مصنف باڑیس اپنی کتاب ”جمہوریہ اسرائیل“ میں لکھتا ہے۔

”دونمہ یعنی وہ یہودی جو مسلمان ہو گئے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ انہی میں سے صوبہ ڈینیوپ کا گورنر مدحت پاشا تھا۔ جو ہنگری کے ایک شخص حاخام یہودی کا بیٹا تھا۔ اس حاخام نے مشرق قریب میں متعدد یہودی درس گاہیں قائم کی تھیں۔ انجمن اتحاد وترقی کے اکثر قائدین دونمہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ناظم، فوزی پاشا، طلعت پاشا اور سقرم آفندی وغیرہ۔“

یہ وہ طریقہ واردات تھا جس کے ذریعہ یہودی مسلم معاشرے میں گھس آئے۔ انہوں نے معیشت و معاشرت پر قبضہ کیا۔ انہوں نے منڈی و بازار پر قبضہ کیا۔ انہوں نے فوج اور سول پر قبضہ کیا اور پھر ایوان حکومت تک نقب لگائی۔ شبتیے سبی کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل مدارج سے گزرا۔

٣

صفحہ ٤٦٢

رکھنے پر اصرار کیا۔

جدوجہد کی۔

سے اپنے گھناؤنے کردار کا پتہ نہ چلنے دیا۔

اتحاد و ترقی کے نام پر سادہ لوح اور مخلص ترک نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ ان کو ساتھ ملا کر عثمانی حکومت کی جڑیں کھوکھلی کیں اور ترکی کو الحاد و بے دینی کے راستے پر ڈال دیا۔

نے اپنے جماعتی مفادات کا تحفظ کیا اور اپنے گھناؤنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی سعی کی۔

یہ وہ آٹھ مدارج تھے جو ترکی کے نام نہاد مسیح موعود اور اس کے پیروکاروں نے طے کئے۔ اب ذرا برطانوی ہندوستان چلئے اور اسی سازش کا دوسرا ایڈیشن ملاحظہ کیجئے۔ وہی مدارج ہیں، وہی مقاصد ہیں، وہی مفادات ہیں، وہی چاپلوسی اور کاسہ لیسی ہے اور وہی منزل ہے۔ گویا تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے کہا: ”میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥، مصنفہ مرزا قادیانی)

”مجھے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥)

”اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بنادیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ ابن

٤

مریم ہے جو آنے والا تھا جس شک محض ناصبی ہے۔“ ”تمام دنیا کا دین زبردست نشان دکھلائے۔ جس

تبلیغی سرگرمیاں

شبتے کی طرح مرزا کرنے کے لئے اسلام کی تبلیغ تحریک جدید کی انیس سالہ یا ہیں: ”جن بیرونی ممالک میں اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ ع جنوبی امریکہ، جزائر غرب الہ پیغام پھیل رہا ہے۔“

اسلام کا لبادہ

ترکی کے یہودی اسی طرح قادیانی حضرات ۔ رکھا ہے اور اسلام کے نام پر کو گمراہ کرنے کے لئے حضو قادیانی صرف مذہبی گروہ نہی امت مسلمہ کے اتحاد کو سبوتا کے لئے حلف اٹھاتے ہو۔ احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے ایک میں ایک احمدی کے لئے اس

اقتصاد پر قبضہ

جس طرح احم

صفحہ ٤٦٣

مریم ہے جو آنے والا تھا جس میں لوگ شک کرتے تھے۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٢)

”تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی۔ جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے۔ جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔“

(کشتی نوح ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ٣٢)

تبلیغی سرگرمیاں

شبتے کی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی تبلیغی وفود روانہ کئے۔ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اسلام کی تبلیغ کا سہارا لیا اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے روابط رکھے۔ چنانچہ تحریک جدید کی انیس سالہ یادگاری کتاب کے دیباچہ میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں: ”جن بیرونی ممالک میں تحریک جدید کے ذریعے احمدیت کا پیغام پھیلا ہے وہ ساری دنیا میں اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ عملاً آزاد دنیا کا کوئی حصہ بھی ان سے خالی نہیں۔ برطانیہ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، جزائر غرب الہند، مغربی جرمنی، ہالینڈ وغیرہ میں تحریک جدید کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پھیل رہا ہے۔“

اسلام کا لبادہ

ترکی کے یہودی مسیح موعود نے حکومت اور عوام کے دباؤ پر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ اسی طرح قادیانی حضرات نے بھی عوام کی طرف سے شدید مزاحمت سے ڈر کر اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اسلام کے نام پر اپنی جعل سازی کا کاروبار چلا رکھا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کی امت کو گمراہ کرنے کے لئے حضور ﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ چونکہ قادیانی صرف مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک سیاسی سازش ہے۔ اس لئے ہر جھوٹ اور مکر کا سہارا لے کر امت مسلمہ کے اتحاد کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ چنانچہ جب نئے آئین کے تحت صدر اور وزیر اعظم کے لئے حلف اٹھاتے ہوئے ختم نبوت پر اپنے اعتقاد کا اظہار بھی ضروری قرار دیا گیا تو مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے ایک بیان میں کہا: ”میں نے حلف کے الفاظ پر بہت غور کیا۔ میرے خیال میں ایک احمدی کے لئے اس حلف کے اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔“

(خطبہ جمعہ الفضل ربوہ ج ٦٢، ش ١٠٦ ص ٥، مورخہ ١٣ مئی ١٩٧٣ء)

اقتصاد پر قبضہ

جس طرح امیر شکیب ارسلان نے لکھا ہے کہ شبتے کے ساتھیوں میں اقتصادی امور

٥

صفحہ ٤٦٤

کے ماہرین موجود تھے اور انہوں نے مسلمانوں کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کے لئے سازشیں تیار کیں اور اقتصاد پر قبضے کے ذریعے اپنے گھناؤنے مقاصد پورے کئے۔ اسی طرح قادیانیوں نے معیشت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ چنانچہ ایم ایم احمد قادیانی کو اسی مقصد کے لئے امریکی حکومت کے ذریعہ منصوبہ بندی کمیشن کا چیئرمین بنوایا گیا اور اس نے ملت کی معیشت پر قبضہ کر کے اس کے لئے قدم قدم پر مشکلات پیدا کیں اور اس طرح اس بین الاقوامی سازش کا ایک کردار بن کر ابھرا۔ جس نے ہم سے ہمارا مشرقی پاکستان چھین لیا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ایک بہت بڑا حصہ ان غلط منصوبوں کا تھا جن کے بعد مشرقی بازو میں محرومی کا احساس پیدا ہوا اور اسے پروان چڑھایا گیا۔ یہ منصوبے ربوہ کی ہدایت پر ایم ایم احمد نے اس طرح تیار کئے کہ ہمارے مشرقی پاکستانی بھائیوں کو محرومی کا احساس زیادہ ہونے لگا۔ معیشت پر اسی قبضے کے ذریعہ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے حکومتی سرمایہ فراہم ہوتا رہا۔ یعنی مسلمانوں کے ٹیکس اور ان کے خون پسینے کی کمائی کے ذریعے قادیانی مبلغ بیرون ملک قادیانیت کی تبلیغ کرتے رہے۔

١٩٥٩ء میں جب تحریک جدید کے لئے بجٹ منظور ہوا تو بتایا گیا کہ اس سال اس مد پر بیس لاکھ اسی ہزار روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ١٩٥٩ء کے بعد ١٩٦٤ء میں یہ رقم ایک کروڑ چھیاسی لاکھ ہو چکی تھی۔ اتنی خطیر رقم حکومت کی طرف سے محض احمدیت کی تبلیغ کے لئے فراہم کی جاتی رہی۔

اسی طرح کے بے شمار فوائد قادیانی حضرات نے محض معیشت پر قبضہ کر کے حاصل کئے اور یہودی منصوبہ کے مطابق انہوں نے اس کڑی کا حصول بھی کیا۔

ملازمتوں پر قبضہ

یہودی منصوبہ کی پانچویں کڑی فوج اور سول سروسز پر قبضہ تھا۔ چنانچہ قادیانیوں نے انگریز کے دور میں انگریز کی کاسہ لیسی کے ذریعہ اور انگریزی حکومت کے بعد ہر پاکستانی اقتدار کی خوشامد اور حزب اختلاف کی جاسوسی کے ذریعے انہوں نے ملازمتیں حاصل کیں۔ انگریز نے پالیسی یہ رکھی کہ مسلمانوں کو ملازمتوں سے محروم رکھا جائے۔ لیکن مسلمانوں کے نام پر اس طبقے کو نوازا جائے جو اس کے جیب کی گھڑی ہو۔ چنانچہ اس نے مرزا غلام احمد کی ذریت کو فوج اور سول سروسز میں ملازمتیں دیں۔ جو قیام پاکستان کے موقع پر اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ہمیں ورثے میں ملے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ انہوں نے اپنے طلبہ کی گروہ بندی کی اور زندگی کے ہر شعبہ میں انہیں بھجوایا۔ کلیدی مناصب پر پہلے ہی وہ قادیانی غالب

٦

صفحہ ٤٦٥

تھے۔ جنہیں انگریز کی چشم کرم نے ملازمتوں پر فائز کیا تھا۔ ان کے توسط سے قادیانی منصوبہ بندی پایہ تکمیل تک پہنچتی رہی۔

(خطبہ جمعہ ٤/ جنوری ١٩٥٢ء،بمقام ربوہ )

١٩٥٢ء میں مرزا بشیر الدین محمود نے ایک خطبہ میں اپنے اسی پلان کا اظہار کیا۔ اگر وہ (قادیانی جماعت کی صوبائی شاخیں) اپنے نوجوانوں کو دنیا کمانے پر لگائیں تو اس طرح لگائیں کہ جماعت اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی محکمے میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ متعدد محکمے ہیں۔ جن کے ذریعے سے جماعت ١؂ اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچا سکتی ہے۔ جب تک ان سارے محکموں میں ہمارے اپنے آدمی موجود نہ ہوں۔ ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔ مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے۔ پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس ہے، اکاؤنٹس ہے، کسٹم ہے، انجینئرنگ ہے۔ یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں۔ جن کے ذریعہ سے ہماری جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور اس سے ہم اپنے حقوق کی حفاظت کا

صفحہ ٤٦٦

ساہیوال (سابقہ منٹگمری) میں ایک قادیانی ڈپٹی کمشنر کے دور میں قادیانی علی الاعلان چکوک میں جاتے رہے اور انہوں نے سرکاری سرپرستی میں اپنے عقیدے کی کھلم کھلا تبلیغ کی۔

ظاہری عبادات کا لبادہ

یہودی منصوبے کے مطابق مرزائیوں نے ظاہری عبادات کا لبادہ اوڑھا۔ چنانچہ قادیانیوں کو نمازوں وغیرہ میں مشغول دیکھ کر امت کے سادہ لوح طبقہ نے دھوکا بھی کھایا۔ لیکن جس طرح عبداللہ بن ابی کی نمازیں اسے ملت اسلامیہ میں نقب زنی کا موقع فراہم نہ کر سکیں۔ اسی طرح قادیانی بھی ملت کو دھوکا نہ دے سکے۔ تاہم اتنی بات واضح ہے کہ قادیانیوں کا ظاہری عبادات کا لبادہ اس حدیث مبارکہ کے عین مطابق ہے۔ جس میں حضورﷺ نے آخری دور کے فتنوں کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ جھوٹے نبی نمازیں طویل پڑھیں گے تا کہ لوگ ان سے دھوکا کھا جائیں۔ ”او کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام“

سازشیں ہی سازشیں

قادیانیوں نے بھی شیعہ کی طرح ملت کے اجتماعی وجود کا جگر پاش پاش کرنے کے لئے سازشیں تیار کیں۔ شیعہ کی امت نے عثمانی حکومت کا خاتمہ کرنے کی سازش کی اور جب یہ سازش کامیاب ہوگئی تو شیعہ کے ساتھی مرزا غلام احمد قادیانی کی امت نے اس پر جشن چراغاں منایا۔

”٢٧؍ نومبر کو انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابلِ یادگار جشن منایا گیا۔ (ترکوں کی شکست پر) نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا۔ جو بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔ منارۃ المسیح پر گیس کی روشنی کی گئی۔ جس کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی چراغ روشن کئے گئے۔“

(اخبار الفضل قادیان ج ٦ ش ٤١ ص ٢، مورخہ ٣ دسمبر ١٩١٨ء)

یہودی سازش کا ایک گروہ عثمانی خلافت کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل رہا اور دوسرے گروہ نے اس سازش کی کامیابی پر مسرت کا جشن منایا۔ جس طرح قادیانی حضرات نے یہودی منصوبے کے مطابق سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے لئے کوششیں کیں۔ دعائیں مانگیں اور خاتمے پر مسرت کا جشن منایا۔ اسی طرح یہ قادیانی اسلامی ملت کی تباہی و بربادی کے لئے کوشاں رہے۔ یہودیوں کو ملت اسلامیہ کا اتحاد کبھی راس نہیں آیا۔ وہ اس کوشش میں رہے کہ اس اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیں۔ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو

٨

صفحہ ٤٦٧

ابھارا اور مرزا قادیانی نے ان کے منصوبے کی تکمیل کے لئے ان کی ہر سازش کو پورا کیا۔

حکومت پر قبضہ

یہودی منصوبہ کی آخری کڑی حکومت پر قبضہ ہے۔ اس قبضے کی خواہش کا اظہار قادیانیوں کی طرف سے موقع بہ موقع ہوتا رہا۔ انگریز کے جانے کے بعد وہ انگریز کی جانشینی کے خواب دیکھتے رہے۔ (ملاحظہ ہو منیر رپورٹ) پھر انہوں نے بلوچستان پر قبضہ کا منصوبہ بنایا اور اس میں ناکامی کی صورت میں انہوں نے اندر ہی اندر سے ملت اسلامیہ کے اجتماعی نظام کو کھوکھلا کیا اور موجودہ حکومت کی صورت میں قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اقتدار کی منزل قریب ہے۔ وہ ڈی میں پہنچ چکے ہیں اور اب کسی لمحے وہ ایک کک میں گول کرلیں گے۔

ایک ہی سازش

یہودی مسیح موعود صنیعے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف مدارج کا جائزہ اس حقیقت کو طشت از بام کر دیتا ہے کہ ایک ہی تصویر ہے۔ رنگ مختلف ہیں۔ ایک ہی ڈرامہ ہے کردار مختلف ہیں۔ ایک ہی کتاب ہے۔ ایڈیشن مختلف ہیں۔ ایک ہی منزل ہے راستے ذرہ جدا ہیں۔ ایک ہی سازش ہے۔ لیکن سٹیج مختلف ہیں اور ہر دو سازشوں کی کڑیاں آپس میں یوں ملتی ہیں کہ اسرائیل سے ترکی سے ربوہ ایک ہی قطار میں نظر آتے ہیں۔ بصیرت و بصارت رکھنے والے اصحاب ان خفیہ تاروں کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ جن کے سہارے یہ کٹھ پتلیاں رقص کرتی ہیں۔

نظریاتی ہم آہنگی

قادیانیوں اور یہودیوں کی ہم آہنگی کی کئی بنیادیں بھی ہیں۔ سب سے اہم بنیاد نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ قادیانی اپنے عقائد کے اعتبار سے یہودیت سے بہت قریب ہیں۔ مثلاً

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

یہودی حضرت مسیح علیہ السلام پر جھوٹ اور افتراء باندھتے ہیں۔ ان پر الزامات عائد کرتے ہیں۔ انہیں گالیاں دیتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے وہی الزامات حضرت مسیح علیہ السلام پر عائد کئے جو یہودی کرتے رہے تھے۔ وہی افتراء باندھے جنہیں یہودیوں کے ذہن نے جنم دیا تھا۔ وہی جھوٹ بولے جو یہودیوں کی کتابوں میں درج تھے اور وہی گالیاں دیں جو یہودیوں کے ہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے موجود ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے یہود کی کتابیں منگوا کر ترجمہ کرائیں۔

(دیکھو مکتوبات احمدیہ حصہ اول ص ٥)

٩

صفحہ ٤٦٨

اور ان کتب کی مدد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طعن و تشنیع کے یہودانہ فریضہ کو پورا کیا۔ مرزا قادیانی نے بار بار تذکرہ کیا کہ یہود کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراضات بہت قوی ہیں۔

”غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سچا قرار دیا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی) پیشین گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

”اور یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ ضرور عیسیٰ نبی ہیں۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

پھر مرزا قادیانی نے یہودیوں کی سی زبان اختیار کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزامات عائد کئے:

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا ہو سکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ نمبر ٧)

”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہود ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا بھی مذاق

١٠

صفحہ ٤٦٩

اڑایا ہے: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور جس دن سے آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کر لیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل ترب (یعنی مسمریزم) تھا۔ بہر حال یہ معجزہ صرف کھیل کی قسم میں سے تھا اور مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

”ممکن ہے آپ نے کسی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزہ کی پوری حقیقت کھلتی ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

حضرت مریم پر بہتان

غرض کہ مرزا قادیانی کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو یہودیوں سے یہی نظریاتی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ جس طرح یہودی حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان باندھتے ہیں اور ان پر دشنام طرازی کرتے ہیں اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتابوں میں یہودیوں کی طرف سے عائد کردہ اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کیا ہے۔ حضرت مریم جیسی پاک دامن اور عفت مآب خاتون کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل نکاح کر لیا۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیوں کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“

(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

یہودیوں کے ساتھ مرزائیوں کی نظریاتی ہم آہنگی کی حقیقت تو واضح ہو گئی کہ مرزائی

صفحہ ٤٧٠

بھی یہودیوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ مطہرہ پر بیہودہ الزامات عائد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے ہاں نبوت کا معیار بھی وہی ہے جو یہودیوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ قادیانی بھی کلام پاک میں اسی طرح تحریف کرتے ہیں جس طرح یہودی کرتے تھے۔ جس طرح قرآن میں کہا گیا ہے: ”ویحرفون الکلم عن مواضعہ“ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں سینکڑوں تحریفیں کیں۔ قادیانیوں اور یہودیوں کی اس ہم آہنگی کا سلسلہ صرف عقائد ونظریات تک محدود نہیں۔ بلکہ قادیانی یہودیوں کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔

اسرائیلی ایجنٹ

اسرائیل عربوں کا دشمن ہے۔ اس نے قلب اسلام میں اپنی سازشوں کے خنجر گھونپے ہیں۔ اس نے امت مسلمہ سے بغض وعناد کو اپنی مملکت کا منشور بنایا ہے۔ اس نے ہمارے عرب بھائیوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ پاکستان نے اسی وجہ سے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل کی سرزمین پر کسی مسلمان کا داخلہ قانونی طور پر جائز نہیں۔ لیکن اسی اسرائیل میں مرزائیوں کا مشن قائم ہے۔ ان کی مساجد موجود ہیں اور وہ اپنی تبلیغ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مولوی جلال الدین شمس نے اپنی تقریر میں بتایا اور مسجدوں کے لحاظ سے ان کی نسبت یہ ہے۔ برطانیہ ایک، امریکہ میں چار، ہالینڈ ایک، اسرائیل ایک۔

(اسلام کا عالمگیر غلبہ)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل حکومت جس نے اپنی سرزمین پر پاکستانی مسلمانوں کا داخلہ بند کیا ہوا ہے۔ اس نے مرزائیوں کو مشن قائم کرنے اور مسجد بنانے کی اجازت کیسے دی۔ کیا اسلام کی خدمت کے لئے؟ کیا دین کی تبلیغ کے لئے؟ کیا مسلمان بھائیوں کی اعانت کے لئے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ اس نے اجازت جس مقصد کے لئے دی ہے اور مرزائی وہاں جس مقصد کو پورا کر رہے ہیں۔ اس کا حال محمد خیر القادری کی زبانی سنئے۔ آپ دمشق کے مشہور ادیب ہیں۔ انہوں نے ”القادیانیہ“ کے عنوان سے دمشق سے مطبوعہ پمفلٹ میں بتایا۔

”قادیانیوں نے اپنے نئے دین کو عرب ممالک میں پھیلانے کا ارادہ کیا تو ان شہروں میں پھیل گئے جن میں اپنے لئے زیادہ ترقی اور مفاہمت کے حالات دیکھے۔ تا کہ ان میں وہ اپنا تبلیغی مشن قائم کریں۔ لیکن انہیں اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے حیفا (اسرائیل) کے سوا کوئی دوسرا شہر نہ ملا اور یہ معاملہ بھی ایک ہی سبب اور حقیقت حال کی طرف لوٹتا ہے اور وہ ہے ”برطانوی پرچم کا سایہ“ اس سائے میں قادیانیوں نے سلامتی اور قرار محسوس کیا۔ ان ہی حالات میں

١٢

صفحہ ٤٧١

قادیانیوں نے حیفا ١؎ میں اپنا مرکز قائم کیا۔ اسی مرکز سے وہ اپنے تبلیغی مشن عرب شہروں میں بھیجتے ہیں۔ جب سے حکومت برطانیہ حیفا سے دستبردار ہوئی۔ قادیانیوں کو اسرائیلی علم کے زیر سایہ امن وسلامتی اور خصوصی سرپرستی حاصل ہوئی اور تاحال حیفا شہر میں ان کا مرکز قائم ہے۔ جہاں سے وہ فلسطین میں داخل ہوتے ہیں اور عرب شہروں میں جا نکلتے ہیں۔“

قادیانیوں کی جاسوسی

اور ہم پوری صراحت سے کہتے ہیں کہ قادیانیوں سے نرمی اور اغماض کا انجام بڑا خوفناک ہوگا۔ پہلی عالمگیر جنگ میں جاسوسی سے ان کا تعلق رہا ہے۔ جیسا کہ ولی اللہ زین العابدین نامی ایک معروف قادیانی انگریزی فوج سے فرار ہوا اور دعویٰ کیا کہ میں مملکت عثمانیہ کا پناہ گزین اور اسلامی حمیت کا حامل ہوں۔

اس طرح اس نے عثمانی ترکوں کو دھوکا میں رکھا۔ پانچویں بریگیڈ کے سالار جمال پاشا نے اسے خوش آمدید کہا اور ١٩١٧ء میں قدس شہر کے صلاحیہ کالج میں تاریخ ادیان کا لیکچرار مقرر کیا اور جب برطانوی فوج دمشق میں داخل ہوئی تو ولی اللہ زین العابدین عثمانیوں سے بھاگ کر انگریز فوج سے جا ملا۔“

(ترجمہ از القادیانیہ ص ١٤،١٢)

اسرائیل کی یہ وہ خدمت ہے جو قادیانی گروہ انجام دے رہا ہے۔ جس کے سبب اکثر عرب ممالک نے اپنے ہاں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ پکی داڑھیوں اور اسلام کے ظاہری روپ کے ساتھ عربی بولتے ہوئے عرب معاشرے میں داخل ہوتے ہیں اور اپنی سازشوں کے جال پھیلاتے ہیں۔ اسرائیل کی خدمت انجام دیتے ہیں اور یہودی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ انگریزوں کی طرح یہودیوں نے بھی قادیانیوں کو اپنی سازش کا آلہ کار صرف اس لئے بنایا کہ قادیانی جہاد کے مخالف ہیں اور یہودی امت مسلمہ سے جہاد کی روح ختم کرنا چاہتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی بڑے فخر سے کہتے ہیں۔

”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد

١؎ بہائی جو بہاء اللہ کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ ان کا مرکز بھی عکہ (متصل حیفا) اسرائیل میں ہے۔ یہ بڑا غور طلب مسئلہ ہے کہ پاکستانی مسیح کا مرکز بھی اسرائیل میں اور ایرانی مسیح کا بھی اسرائیل میں اور اسرائیلی یہودیوں کی ریاست ہے۔ یعنی ان دونوں گروہوں سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا کام یہودی لے رہے ہیں۔

١٣

صفحہ ٤٧٢

بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔“

(مرزا قادیانی کا اشتہار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٥٧)

”میں نے صد ہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں شائع کیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٤٦، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٧)

جب فلسطین مسلمانوں کے قبضے سے نکلا اور ریاست اسرائیل ١٩٤٨ء میں قائم ہوئی تو ایک قادیانی مبلغ نے انگلستان کے اخبارات کو ایک مضمون روانہ کیا۔

”بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک میں بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر آرٹیکل دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے۔ اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔“

(الفضل قادیان ج ٥ ص ٧٥، مورخہ ١٩ مارچ ١٩١٨ء)

قادیانیوں نے یہودیوں کے لئے جاسوسی کے فرائض انجام دیئے۔ انہیں پاکستان اور بلاد عرب کے راز پہنچاتے رہے اور آج کل بھی یہی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ عرب ممالک ان کی اسی طرح کی سرگرمیوں سے پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب جاوید الرحمٰن (قادیانی) کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو سعودی حکومت نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ گذشتہ دنوں جب آزاد کشمیر اسمبلی نے قرارداد منظور کی تو رابطہ عالم اسلامی اور دیگر زعمائے عرب کی طرف سے سردار عبدالقیوم کے نام مبارک باد کے خطوط میں کہا گیا۔ ”خدا کا شکر ہے آپ نے اس گروہ کو اقلیت قرار دیا۔ اس گروہ نے تو ہمارے خلاف جاسوسی کا پورا نظام قائم کر رکھا ہے۔ ہم اس کے ہاتھوں بہت پریشان ہیں۔“

اسرائیل سے ربوہ تک اور ربوہ سے اسرائیل تک ایک ہی سازش ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اپنے عرب بھائیوں کے خلاف یہودیوں کے ان ایجنٹوں کی سرگرمیوں کو سرکاری تحفظ نہ دے۔ عرب ہمارے بھائی ہیں۔ ان سے ہمیں مادی و اخلاقی مدد ملتی ہے۔ ہم انہیں کیوں ناراض کریں۔ گورنمنٹ اپنی ذمہ داری محسوس کرے یا نہ کرے۔ اہل ایمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس گروہ کی سازشوں سے پردہ اٹھنے کے بعد اس کا بائیکاٹ کرے اور یہودیوں کو وطن عزیز میں اپنی سازشوں کا جال پھیلانے کا موقع نہ دیں۔ وگرنہ یہ گروہ صہیونیت اور یہودیت کے مخصوص مقاصد پورے کرنے کے لئے اپنی سرگرمیاں علانیہ اور خفیہ انداز میں جاری رکھے گا۔ یہودیوں کے ان ایجنٹوں کا محاسبہ کیجئے اور یہودیت کے ہر رنگ اور روپ کو اپنے ملک سے نکال پھینکئے۔

١٤

PDF 474

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی

اور کلمہ طیبہ

(حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری)

صفحہ ٤٧٤

بسم الله الرحمن الرحيم!

جب سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر انہیں کلمہ طیبہ اور دوسرے اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے دہائی مچا رکھی ہے۔ وہ اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عام مسلمانوں کو یہ کہہ کر دھوکا دیتے پھرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور مولوی کلمہ طیبہ کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ مسلمانوں اور ان کے کلمہ پڑھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مسلمان وہ لوگ ہیں جو کلمہ پڑھنے میں مخلص ہیں جو اس کے مفہوم پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہیں۔ سورۂ بقرہ کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ نے ان مخلص اہل ایمان کا ذکر کیا ہے اور انہیں ہدایت یافتہ اور کامیاب قرار دیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے گروہ کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ: ”کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور یوم آخر کو مانا۔ مگر وہ قطعا مومن نہیں۔“

پھر ایسے لوگوں کے لئے ایک خاص سورت نازل فرمائی جس کا نام سورۂ منافقون ہے۔ اس کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ ”اذا جاء ك المنفقون قالوا نشهد انك لرسول الله والله يعلم انك لرسوله والله يشهد ان المنفقين لكذبون“ ﴿کہ منافق جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ کے رسول خدا ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ مگر اللہ یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔﴾

آیئے! اب ان قادیانیوں کی اپنی کتاب کے حوالوں سے آپ کو بتائیں کہ وہ کس طرح جھوٹے اور منافق ہیں۔

٢

صفحہ ٤٧٥

الرحمن الرحیم! لم قرار دے کر انہیں کلمہ طیبہ اور دوسرے اسلامی انہوں نے دہائی مچا رکھی ہے۔ وہ اپنے آپ کو مظلوم مانوں کو یہ کہہ کر دھوکا دیتے پھرتے ہیں کہ پاکستان کی ہوئے ہیں۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ مسلمانوں رق ہے۔ مسلمان وہ لوگ ہیں جو کلمہ پڑھنے میں مخلص اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہیں۔ سورۃ بقرہ کے یمان کا ذکر کیا ہے اور انہیں ہدایت یافتہ اور کامیاب سے گروہ کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات سے بھی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور یوم آخر کو مانا۔

ص سورت نازل فرمائی جس کا نام سورۂ منافقون ”اذا جاءك المنفقون قالوا نشهد انك والله يشهد ان المنفقين لكذبون “ کہ کہ ہم آپ کے رسول خدا ہونے کی شہادت دیتے ہے۔ مگر اللہ یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ

کتاب کے حوالوں سے آپ کو بتائیں کہ وہ کس

٢

......١ محمد رسول اللہ سے قادیانی کیا مراد لیتے ہیں؟

قادیانی جب محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد نے کہا:

(الفضل ١٥ اکتوبر ١٩١٥ء)

(حجۃ اللہ ص ٨٧، خزائن ج ١٢ ص ١٦٧)

سے میں ہی مراد ہوں۔

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨، الفضل ١٥ اکتوبر ١٩١٥ء)

کہا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(پیغام صلح لاہور ١٤ مارچ ١٩١٣ء، اخبار بدر ج ٢ ش ٤٣، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)

مانتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کہتا ہے:

لـه خسف الـقـمـر الـمنير وان لى
خـسا الـقـمـران المشرقان اتنکر

٣

صفحہ ٤٧٦

کہ محمد ﷺ کے لئے تو ایک چاند کو گرہن لگا۔ جب کہ میرے لئے چاند اور سورج دونوں کو گرہن لگا۔ کیا اب بھی تم انکار کرتے ہو۔

(اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(الفضل قادیان ج ١٠ ش ٥ ص ٥ ، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء)

ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔“ (بحوالہ قادیانی مذہب)

”جب مسیح موعود خود ہی محمد ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان پر نازل ہونے والے الہامات کو بھی قرآن یا قرآن جدید نہ کہا جائے۔“

(مقالہ از ڈاکٹر بشارت احمد، الفضل ١١؍ نومبر ١٩٣٩ء)

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ٥٣)

زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“

(الفضل ج ٢٠ ش ٥٠ ص ١١، مورخہ ١١؍دسمبر ١٩٣٢ء)

(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)

٤

صفحہ ٤٧٧

دین اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ تمام انبیاء کا احترام سکھاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلام میں کسی ایک پیغمبر کا انکار یا اس کی توہین موجب کفر ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق خیالات سنئے اور پھر فیصلہ کیجئے ۔

دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

قادیانی ہمیشہ مسلمانوں کو یہ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کو چھپانے کی کوشش کی ہے کہ وہ خود مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں۔ آئیے ! دیکھیں وہ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں۔

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣، اخبار الحکم جلد نمبر ٤ ص ٢٤)

(جریدۃ الحکم ١٠؍ اگست ١٩٠١ء)

ہونے کی وجہ سے وہ غیر احمدی ہے۔“

(انوار خلافت ص ٨٩، ٩٠)

(برکات خلافت ص ٧٥)

٥

صفحہ ٤٧٨

پڑھی جائیں۔“

(تحفۃ الاذہان ص ٣١١)

بدبخت اور زانیات کی اولاد ہیں ۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

انگریزوں نے مسلمانوں کی نوسوسالہ حکومت چھینی۔ ان کے مذہب کو عیسائیت کی اشاعت کر کے مٹانا چاہا۔ انہیں سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی لحاظ سے پس ماندہ رکھا۔ برصغیر سے باہر کے مسلمانوں سے بھی یہی کچھ کیا۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کا امت مسلمہ سے ذرا سا بھی تعلق ہوتا تو وہ اس کے دشمن انگریز سے کم از کم بے تعلق رہتا۔ مگر اس نے مسلمانوں کے برخلاف انگریزوں سے ہمیشہ محبت کی۔ ان کا دل و جان سے خیر خواہ رہا۔ خود اس کی اپنی زبانی سنئے۔

خیر خواہی کے لئے کی ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملے گی۔“

(اشتہار منجانب مرزا غلام احمد ١٨٩٣ء)

مسلمانوں کے دلوں میں گورنمنٹ انگلیشیہ کی محبت واطاعت پیدا کرے۔“

(درخواست بحضور گورنر مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٨٩٨ء)

و احتیاط اور تحقیق و توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ کرے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

(درخواست بحضور گورنر پنجاب، تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

”فتدبروا وتفکروا“
PDF 480

(تحفۃ الاذہان ص ١٣١)

لے آئے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

سے محبت اور وفاداری۔ مت چھینی۔ ان کے مذہب کو عیسائیت کی ادی لحاظ سے پس ماندہ رکھا۔ برصغیر سے باہر قادیانی کا امت مسلمہ سے ذرا سا بھی تعلق ہوتا مگر اس نے مسلمانوں کے بر خلاف انگریزوں خود اس کی اپنی زبانی سنئے۔ ں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی

(اشتہار منجانب مرزا غلام احمد ١٨٩٤ء)

کتابوں کی تالیف میں مصروف ہوں کہ جو طاعت پیدا کرے۔“

(درخواست بحضور گورنر مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٨٩٨ء)

ر دولتمند اس کاشتہ پودا کی نسبت حزم کام کو اشارہ کرے کہ وہ بھی اس خاندان کی میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی

رسالت ج ٧ ص ١٩٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)

فکروا“

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا و شفیعنا محمد رسول اللہ ﷺ

اکاذیب

قادیان

(مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسری)

صفحہ ٤٨٠

مذمت کذب از مرزائے قادیان

(انجام آتھم ص ٤٣، خزائن ج ١١ ص ٤٣)

ہے ۔ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہے۔“

(ضمیمہ نصرۃ الحق ص ١٢٦، ١٢٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

(اشتہار مرزا مورخہ ٧؍مارچ ١٨٩٨ء مندرجہ کتاب تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٤٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)

(حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

(ازالۃ اوہام ص ٣٥٣، ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

(رسالہ اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٧)

(رسالہ نورالقرآن نمبر ٢ ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٤٠٣)

ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو۔ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار و دوست مت بناؤ۔ تیری کلام محض صدق ہو، ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔“

(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٤٠٨)

بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

اقوال بالا شاہد ہیں کہ جھوٹ بولنے والا انسان ہرگز ہرگز خدا کا مقبول نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ نبی و رسول ہو جائے۔

٢

صفحہ ٤٨١

نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق ہے، نہ انسان کا۔‘‘

(انجام آتھم ص ٣٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣)

وٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہوگئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور

(ضمیمہ نصرۃ الحق ص ١٢٦، ١٢٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

ء مندرجہ کتاب تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٤٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)

ے برابر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

یں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔‘‘

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)

ں تو پانچ سو سہی حضرت۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٨٦٦،٣٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

کم نہیں۔‘‘

(رسالہ اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٧)

ی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔‘‘

(رسالہ نورالقرآن نمبر ٢ ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٤٠٣)

ی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب یمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں جھوٹ مت بولو۔ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ تم جھوٹوں کی صحبت دوست مت بناؤ۔ تیری کلام محض صدق ہو۔ ٹھٹھے کے طور

(نور القرآن نمبر ٢ ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٤٠٨)

ت میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

بولنے والا انسان ہرگز ہرگز خدا کا مقبول نہیں ہوسکتا۔ چہ

٢

تأسف

مگر کس قدر مقام افسوس ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے باوجود جھوٹ کی اس قدر مذمت کرنے کے خود اپنی کتب و تحریرات میں ہزار ہا صریح و بین جھوٹ بولے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔

وجہ تالیف رسالہ ہذا

ہم نے یہ رسالہ انجمن اہل حدیث چنیوٹ کے ممبران کی درخواست پر لکھا ہے۔ جس میں سر دست چند ایک جھوٹ مرزا قادیانی کے دکھائے گئے کہ مرزائی اصحاب ان کو ملاحظہ کرکے مرزائیت سے توبہ کریں۔ ’’واللہ الموفق‘‘ ہمارا ارادہ ہے کہ آئندہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے۔ حتیٰ کہ مرزا کی کذبات ایک ہزار نقل کئے جائیں۔ خدا سے دعاء ہے کہ وہ ہمارے ارادوں کو پورا کرے اور ہمیں اس کی توفیق دیوے۔ آمین! خادم: محمد عبداللہ بمقام امرتسر!

اکاذیب قادیان

کذب نمبر: ١

مرزا قادیانی یہ ثابت کرتے ہوئے کہ افغان لوگ بنی اسرائیل ہیں، تحریر کرتے ہیں کہ: ’’پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوبوں سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر ایک پختہ شہادت ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص ٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)

اس تحریر کا کذب مرزا قادیانی کے بیان ذیل سے ظاہر ہے۔ ’’جو انجیلوں میں یہ بیان ہے کہ گویا مریم صدیقہ کا یوسف سے ناطہ ہوا تھا۔ یہ بالکل دروغ اور بناوٹ ہے۔‘‘

(ریویو ج ١ ش ٢ ص ٥٧، مورخہ یکم اپریل ١٩٠٢ء)

معیار

پہلے بیان میں جناب مریم کا یوسف نجار کے ساتھ منسوب ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسرے میں اسے دروغ قرار دیا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا کذب واضح ہے۔ رہ گیا اس بالکل دروغ پر فتویٰ سو یہ عاجز مفتی نہیں ہے کہ فتویٰ دیتا پھرے۔ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں: ’’غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں۔ بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔ جو نہ خدا سے ڈریں اور نہ خلقت کے لعن وطعن کی پرواہ رکھیں۔‘‘

(رسالہ آریہ دھرم ص ١٣، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

٣

صفحہ ٤٨٢

کذب نمبر:٢

”کتاب سوانح یوز آسف میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٩،خزائن ج١٧ص١٠٠)

معیار ہمیں کتاب سوانح یوز آصف میں یہ بیان کہیں نہیں ملا۔ ہمارے مخاطب بحوالہ صفحہ وایڈیشن وغیرہ اصل عبارت نقل کر کے مرزا قادیانی کو خود انہی کے بیان ذیل کی زد سے بچائیں۔ سنئے مرزا قادیانی راقم ہیں: ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص٢٠٦،خزائن ج٢٢ص٢١٥)

کذب نمبر:٣

”حضرت عیسیٰ کشمیر چلے گئے تھے۔ تاریخ کی رو سے ثابت ہے کہ حواری بھی کچھ تو حضرت عیسیٰ کے ساتھ (گئے) اور کچھ بعد میں آ ملے تھے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٢٢٥،خزائن ج٢١ص٤٠١)

کذب نمبر:٤

”کہتے ہیں کہ (یوز آسف کی قبر کے) کتبہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ شہزادہ اسرائیل کے خاندان میں سے تھا کہ قریباً اٹھارہ سو برس اس بات کو گذر گئے جب یہ نبی اپنی قوم سے ظلم اٹھا کر کشمیر میں آیا تھا اور ایک شاگرد ساتھ تھا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ص٢٦٦،اشتہار مرزا مورخہ٢٥ مئی ١٩٠٠ء)

معیار کتب تاریخ سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہے کہ (بعد واقعہ صلیب) حضرت مسیح کے ساتھ کچھ حواری کشمیر میں آئے تھے اور کچھ بعد میں آ کر ملے تھے۔ اسی طرح کذب نمبر٤ میں زیر خط سطور قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہیں۔ کوئی ہے کہ ثبوت دے کر مرزا قادیانی کو جھوٹ جیسے ”ام الخبائث“ کے الزام سے بری کر کے دکھائے؟

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
کہ بازو مخالف نے توڑے ہوئے ہیں

کذب نمبر:٥

”کشمیر کی پرانی تاریخی کتابیں ...... ان میں لکھا ہے کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں سے تھا۔ جو شہزادہ نبی کہلاتا تھا اور اپنے ملک سے کشمیر میں ہجرت کر کے آیا تھا۔ انیس سو برس گزر گئے جب یہ نبی کشمیر آیا تھا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٢٢٨،خزائن ج٢١ص٤٠٤)

٤

صفحہ ٤٨٣

معمار

احمدی اصحاب کا مذہب ہے کہ: ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“ اندریں صورت ان کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ ضمیمہ نصرۃ الحق کی عبارت منقولہ بالا کا ثبوت کشمیر کی پرانی تاریخوں سے دے کر اپنے ”مسیح موعود“ کو ارتداد کے فتوٰی سے بچائیں۔ لاہوری مرزائیو! اس وقت تمہیں بھی خاموش رہنا سزاوار نہیں ہے۔

ہمارا کام کہہ دینا ہے یارو
آگے چاہے تم مانو نہ مانو

کذب نمبر: ٦

”اگر قرآن نے یہ میرا نام ابن مریم نہیں رکھا ہے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(قول مرزا مندرجہ تحفہ ندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

معمار

قرآن مجید میں ”غلام احمد ابن مریم“ نہیں لکھا ہے۔

کذب نمبر: ٧

”احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ بن مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٨)

معمار

یہ صریح جھوٹ ہے۔ احادیث میں اس بات کا نام و نشان تک نہیں ملتا کہ مسیح نے بعد واقعہ صلیب ١٢٠ برس عمر پائی۔

کذب نمبر: ٨

”مرہم عیسیٰ ...... تمام طبیبوں نے جو مختلف قوموں میں گزرے ہیں۔ اس بات کو بالاتفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰ کے لئے بنایا گیا تھا۔ چنانچہ ہزار کتاب ایسی پائی گئی ہے جس میں یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ درج ہے اور وہ کتابیں اب تک موجود ہیں۔ اکثر کتابیں ہمارے کتب خانہ میں ہیں۔“

(ایام الصلح ص ١١١، خزائن ج ١٤ ص ٣٣٨)

معمار

مرزائی اصحاب اگر طب کی ہزار کتاب تو بہت بڑی بات ہے۔ ٥٠٠ بلکہ ٢٠٠ کتاب کی

٥

صفحہ ٤٨٤

عبارات ہی دکھلا دیں۔ جن میں نسخہ مرہم عیسیٰ بمعہ وجہ تسمیہ مقولہ مرزا درج ہو تو ہم مرزا قادیانی کو اس معاملے میں راست گو مان لیں گے۔ کوئی جوان مرد احمدی ہے؟ کہ اپنے صادق نبی کو جھوٹ کے اس ناپاک داغ سے بچائے۔

بھائیو! جھوٹ بولنا معمولی سی بات نہیں ہے کہ ایک مدعی مسیحیت والہام کا اس سے ملوث ہونا نظر انداز کیا جائے۔ جھوٹ وہ مکروہ فعل ہے کہ بقول حضرت مرزا قادیانی ”وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں۔ وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔“

(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٢٨٦)

اندریں صورت ہمارے احمدی سجنوں پر اس وقت تک کھانا پینا حرام ہے جب تک کہ وہ اس بارے میں اپنے مسلمہ نبی کی پوزیشن کو صاف نہ کریں۔

کذب نمبر: ٩

”احادیث صحیحہ میں یہ فرمایا گیا کہ اس مہدی (بزعم خود، خود بدولت) کو کافر ٹھہرایا جائے گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

کذب نمبر: ١٠

”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا۔ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٨)

معیار

ان احادیث صحیحہ کا پتہ دینے والے کو فی حدیث مبلغ پانچ صد روپیہ انعام ملے گا۔

کذب نمبر: ١١

”سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔ اس سے پہلے صد ہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہوگا اور احادیث صحیحہ نبویہ پکار پکار کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٠، خزائن ج ٥ ص ٣٤٠)

معیار

صاحب صد ہا اولیاء کے الہام بمع ان کے اسماء کے دکھائیں گے اور احادیث صحیحہ نبویہ کی نشان دہی فرمائیں گے۔ فی حوالہ ایک روپیہ انعام ان کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ بصورت دیگر صرف کذب مرزا کا اقرار احمدیوں پر فرض ہوگا۔

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

٦

صفحہ ٤٨٥

کذب نمبر: ١٢

”انبیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔ نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٠)

معمار گذشتہ انبیاء پر یہ ”سفید جھوٹ ہے۔“ ثبوت دینے والا لائق صد ہزار ستائش ہوگا۔

کذب نمبر: ١٣

”نبیوں کا اس پر اتفاق تھا کہ مسیح موعود ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہوگا۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٨، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٨)

معمار یہ بھی مثل سابق ایک بے ثبوت جھوٹ ہے۔

کذب نمبر: ١٤

”ساتواں ہزار ...... آخری ہزار ہے ...... اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے۔ جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٨)

معمار انبیاء کی کوئی ایسی شہادت بسند معتبر موجود نہیں ہے۔

کذب نمبر: ١٥

”میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیش گوئی ”وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ“ پوری ہوئی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے اڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن وحدیث میں کی گئی تھی کہ جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

معمار عرب وعجم کے ان اخبار و جرائد کے مضامین کا حوالہ مطلوب ہے۔ جنہوں نے یہ لکھا تھا کہ ریل جو تیار ہو رہی ہے یہ مسیح موعود کی علامت ہے۔

کذب نمبر: ١٦

”یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ ہے اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید

٧

صفحہ ٤٨٦

کی پیش گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔"

(تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥)

معمار

تمام دنیا کی شہادت تو خیر بڑی بات ہے۔ مرزائی اصحاب یہود و نصاریٰ اور اہل اسلام ہندو، سکھ، بدھ مذہب کے پیروؤں میں سے صرف ایک ایک سو عالم کی تحریرات سے بھی اگر یہ ثابت کر دیں تو ہم اس قول میں مرزا قادیانی کو جھوٹا کہنے سے علی الاعلان توبہ کر لیں گے۔

کذب نمبر: ١٧

”انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)

معمار

یہ بھی انبیاء پر جھوٹ ہے۔

کذب نمبر: ١٨

”تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے (مسیح علیہ السلام سے) افضل قرار دیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

معمار

اس جگہ تو مرزا قادیانی نے جھوٹوں کے بھی کان کترے ہیں۔ انبیاء کرام کے صحیح اور مستند اقوال دکھانے والے کو فی قول ایک روپیہ انعام۔

کذب نمبر: ١٩

”قرآن شریف کی نصوص بینہ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اسی زمانہ میں فوت ہو گیا۔ جس میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨١، خزائن ج ٣ ص ١٨٧)

معمار

اس قول کے کذب محض اور افتراء علی القرآن ہونے پر خود مرزا قادیانی کا مذہب دربارہ ”قبر مسیح در کشمیر“ ہی زندہ شاہد ہے۔

کذب نمبر: ٢٠

’احادیث میں ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔‘

(مفہوم رسالہ مسیح ہند میں ص ٥٢)

٨

صفحہ ٤٨٧

معمار یہ بھی بے ثبوت افترا علی الرسول ہے۔

کذب نمبر : ٢١

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥ ، خزائن ج ١٩ ص ١٧١)

معمار معاذ اللہ، خدا کے پاک رسول اور شراب؟

کذب نمبر : ٢٢

”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢١ تا ٢٤)

معمار اف رے ظلم۔ آہ! رے ستم ۔ مرزائیو! یاد رکھو ” جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٤٢)

کذب نمبر : ٢٣

”کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی کسی پیش گوئی کے معنی کرنے میں کبھی غلطی نہ کھائی ہو۔“

( ضمیمہ نصرۃ الحق ص ٨٧ ، خزائن ج ٢١ ص ١٦٨)

معمار مرزائیو! حضرت صالح علیہ السلام نے بطور پیش گوئی خبر دی تھی کہ اگر تم نے ائے معاندین میری اونٹنی پر دست درازی کی تو تم پر عذاب آئے گا۔ بتلاؤ انہوں نے اس پیش گوئی میں کون سی غلطی کھائی؟ اگر نہ بتا سکو اور ہرگز نہ بتا سکو گے تو آیت ”انما یفتری الکذب الذی لا یؤمنون بآیات اللہ“ کو ملحوظ رکھ کر کہو کہ مرزا قادیانی میں کوئی رتی ایمان کی موجود تھی؟

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

کذب نمبر : ٢٤

” یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا۔“

(قول مرزا اور الحکم مورخہ ١٠ اکتوبر ١٩٠٧ء)

٩

صفحہ ٤٨٨

معمار

مرزا قادیانی کا قول بالا سراسر جھوٹ اور مغالطہ پر مبنی ہے۔ اس سے پہلے وہ بعبارت النص لکھ چکے ہیں کہ: ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر میں ایسا ہی کذاب ہوں تو میں (مولوی صاحب کی) زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔“

(آخری فیصلہ اشتہار مرزا مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

مرزائیو! کہہ کر مکر جانا نبیوں کی شان ہے؟

کذب نمبر: ٢٥

مرزا قادیانی اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٦٢٥، ٦٢٦، خزائن ج ٣ ص ٤٣٧، طبع اول) پر رقم طراز ہیں: ”تیسویں آیت یہ ہے۔ ”او ترقی السماء قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولاً“ یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو یہ آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھا۔ تب ہم ایمان لے آویں گے۔“

معمار

حالانکہ یہ صریح اور بدیہی جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی نے یہاں عجیب دجل کیا ہے کہ درمیان میں سے کئی آیات چھوڑ گئے۔ کافروں نے صاف کہا تھا کہ: ”او ترقی فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتاباً نقرءہ“ کہ یا تو چڑھ جا آسمان میں اور ہم ہرگز ہرگز تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے ایمان نہ لائیں گے۔ حتیٰ کہ تو وہاں جاکر ہمارے اوپر کتاب نہ اتارے۔ جسے ہم خود پڑھیں۔ یعنی ہمیں بھی اپنی طرح صاحب کتاب نبی بنوادے۔ آخر تک جس کے جواب میں فرمایا: ”ہل کنت الا بشراً رسولاً“ بھائیو! خدا کے لئے انصاف سے غور فرمائیے کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ کافروں نے کہا ہم تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے ایمان نہ لائیں گے۔ مگر قادیانی اس کے بالکل الٹ قرآن پر جھوٹ باندھتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایمان لے آویں گے۔ فرمائیے اس سے واضح اور کیا جھوٹ ہو سکتا ہے۔

لفظ قرآں اور مرزائی دغا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

نوٹ: یہی کذب بیانی مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر کی ہے۔

١٠

PDF 490

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مغالطات مرزا

عرف الہامی بوتل

(مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسری)

صفحہ ٤٩٠

بسم الله الرحمن الرحیم ....... نحمده ونصلی علی رسوله الکریم!

دیباچہ قابل ملاحظہ

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دنیاوی اغراض ومقاصد کو پورا کرنے اور اپنی حالت جو یہاں تک گر چکی تھی کہ مرزا قادیانی بقول خود اپنے والد کی وفات کے وقت روٹی کی فکر میں گھلے جاتے تھے کہ سنبھالنے اور سنوارنے کے لئے جو پہلو بدلے اور بتدریج دعاوی کئے ہیں وہ محتاج بیان نہیں ہیں۔

(نزول المسیح ص ١٨٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦)

کہیں معمولی مسلم خادم اسلام ہونے کا دعویٰ سنایا تو کہیں مجددیت ومحدثیت کی مسند پر قبضہ جمایا۔ کہیں مسیح موعود ہونے سے انکار بلکہ اپنی طرف اس دعویٰ کو منسوب کرنے والوں پر لعنت و پھٹکار کی بوچھاڑ کی ہے۔ (ازالہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) تو کہیں علی الاعلان مسیح موعود ہونے کا اظہار ہے۔ (اربعین نمبر ٢، خزائن ج ١٧ ص ١٩٥) ایک طرف مدعی نبوت کو ملعون، خسر الدنیا والآخرہ۔ (انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٤٥) کافر و (آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣٤٣) بے دین، مسیلمہ کذاب کا بھائی کہا جاتا ہے۔ (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨) تو دوسری طرف یہ کہہ کر کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ (اخبار بدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء) نبوت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ ادھر مدعی الوہیت پر انتہائی ناراضگی کا اظہار ہے۔ (نورالقرآن ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٤١) تو ادھر الوہیت کے اعلیٰ مقام پر دعویٰ قبضہ واقتدار ہے۔

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے جملہ دعاوی میں اسی طرح غیر صادق ہیں۔ جس طرح آج کل کے دیگر متنبی باوجودیکہ آپ کا انداز تکلم گول مول، مبہم ومجمل، نجومیوں کی طرح وسیع المعانی الفاظ استعمال کرنے کا تھا۔ تاہم آپ ممتاز و نمایاں رنگ میں غیر صادق نکلے ہیں۔

خاکسار کتب مرزا کا وسیع مطالعہ کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر اپنے ایمان ودیانت، علم وعقل کی بناء پر بحلف شہادت دیتا ہے کہ قادیانی نبوت کے صحرائے علم کلام میں سوائے لفاظی، سخن سازی، مغالطہ دہی اور دھوکہ بازی کی گلی سڑی مالیدہ اور بوسیدہ بے گوشت و پوست، ٹیڑھی، ترچھی، بے ڈھنگی ہڈیوں کے اور کچھ نہیں اور خود مرزا قادیانی بلحاظ ان دعاوی کے ہر قابلِ تعریف فعل سے اسی طرح پاک تھے۔ جس طرح ایک گھاس خور بہیمہ ماس کے ذائقہ سے۔

٢

صفحہ ٤٩١

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں بلا استثناء سب کی سب باطل اور دعویٰ صداقت کی دلائل از اول تا آخر مجموعہ تاویلات بلکہ تحریفات ثابت ہوئی ہیں۔

الغرض آپ کی کوئی ادا میزان نبوت کسوٹی علم و عقل پر پوری نہیں اترتی۔ سخت گوئی اس ”معراج کمال“ پر پہنچی ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ و انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی آپ کی نظر عنایت سے نہیں بچے۔

عام مخالفوں کے حق میں تو سوائے سؤر، کتے، بے ایمان، بدذات، خبیث اور ولد الحرام وغیرہ کے کوئی ہلکا دشنام شاید آپ کی لغت میں ہی نہ تھا۔ باقی رہی دماغی حالت سو مذکورہ صفات سے متصف انسان جس دل و دماغ کا مالک ہو سکتا ہے عیاں را چہ بیان۔ خود مرزا قادیانی کو اعتراف ہے کہ مجھے مراق ہے۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ١ ش ٢، بابت ماہ جون ١٩٠٦ء)

تفصیل کے لئے ہماری تصنیف ”پاکٹ بک محمدیہ“ بجواب پاکٹ بک مرزائیہ کا باب ”مراق مرزا“ ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی نے جس قدر پیش گوئیاں بطور تحدی اپنی تائید میں پیش کی ہیں۔ ان سب کی تردید حضرات علماء کرام بالخصوص حضرت استاذی المکرم شیخ الاسلام امام المناظرین فاتح قادیان الحاج حضرت مولانا ابو الوفاء محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری اپنے رسائل ”الہامات مرزا“، ”نکاح مرزا“، ”تعلیمات مرزا“، ”شہادات مرزا“ وغیرہ میں نہایت ہی عمدہ، احسن، مدلل اور معقول پیرائے میں کر چکے ہیں۔ ”فجزاہم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء“

مگر مرزا قادیانی نے جو دوسرا طریق اختیار کر رکھا تھا۔ یعنی عجیب و غریب مغالطات اور مخفی در مخفی چالوں سے سادہ لوح لوگوں کو اپنے دام میں لانا اس خاص شق کی تردید میں آج تک کوئی رسالہ میری نظر سے نہیں گزرا۔

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ وہ عموماً گول مول اور ذو معنی الہامات بنایا اور سنایا کرتے تھے۔ مثلاً:

”دو پل ٹوٹ گئے۔“

(مکاشفات ص ٥٨)

”دو شہتیر ٹوٹ گئے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠)

”تین بکرے ذبح ہوں گے۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٩)

”آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٣)

”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢١)

”میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢)

”خاکسار پیپرمنٹ۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٩١)

٣

صفحہ ٤٩٢

ان گول مول پیش گوئیوں سے مقصود آپ کا یہ تھا کہ دنیا میں ہر روز بیسیوں واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ پس جس جس واقع کو اپنے کسی الہام کے تھوڑا بہت مطابق پاؤں گا۔ اسی کو الہامی پیش گوئی بتاؤں گا۔

اس غیر معقول، بھدے اور بد نما طریق کے علاوہ آپ ایک خاص چال بھی چلا کرتے تھے۔ جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یعنی جس طرح بعض چالاک و ہوشیار دنیا دار عطار بیماری کے دنوں میں ایک ہی بوتل سے ہر قسم کا شربت دے دیا کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص شربت بنفشہ لینے آیا تو اسی بوتل سے دے دیا۔ کسی کو نیلوفر کی ضرورت پڑی تو اسی سے نکال دیا۔ کسی نے بزوری مانگا تو اسی بوتل سے انڈیل دیا۔ کسی نے انجبار طلب کیا تو اسی سے گلاس بھر دیا۔ بعینہ یہی حالت مرزا قادیانی کی تھی کہ آپ بھی اپنے ایک ہی گول مول الہام سے مختلف اوقات میں مختلف اور متعدد واقعات پر استدلال کر کے اپنی مسیحیت کی دوکان چلایا کرتے تھے۔

چونکہ یہ طریق نہایت غیر معقول اور پر از فریب ہے۔ جس کی موجودگی میں کوئی معقول پسند، سلیم الطبع، منصف مزاج انسان ایک منٹ کے لئے بھی مرزا قادیانی کو نبی ورسول تو بڑی بات ہے۔ ایک معمولی درجہ کا راست گو آدمی بھی تسلیم نہیں کر سکتا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی بسبب اپنے عظیم الشان دعاوی کے جملہ انسانوں کو اپنی غلامی کا طوق پہنانا چاہتے تھے۔ اس لئے جیسا کہ ہر انسان کا جو بروئے دلائل معقولہ (مرزا قادیانی کو غیر صادق سمجھتا ہے) اخلاقی، مذہبی اور قانونی حق ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی ہر بات کو جانچے۔ حتیٰ کہ بال کی کھال اتار کر لوگوں کو مرزائیت سے بچائے۔ میں نے بھی مناسب سمجھا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریرات سے اس قسم کے مغالطات کی بیسیوں مثالوں سے سردست صرف پانچ امثلہ اپنے غلطی خوردہ غلام احمدی بھائیوں کی خدمت میں پیش کروں۔ ”لعلهم يهتدون . وما اريد الا الاصلاح . وما توفيقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب“

درخواست

خاکسار مؤلف کے نزدیک یہ رسالہ قادیانی مشن کے متعلق فیصلہ کن ہے۔ اگر برادران اسلام و دیگر ناظرین کرام اسے مفید پائیں تو میری درخواست ہے کہ وہ اس کی اشاعت میں میرا ہاتھ بٹا -

خاکسار محمد عبداللہ (ثالث) معمار امرتسر کٹڑہ کرم سنگھ، کوچہ عثمان ڈار ماہ محرم الحرام ١٣٥٤ھ، مطابق ماہ اپریل ١٩٣٥ء

٤

صفحہ ٤٩٣

مغلظات مرزا عرف الہامی بوتل

الہامی دوکان کی بوتل نمبر : ١

ابتدائی حالت

١٨٨٠ء،١٨٨٤ء میں مرزا قادیانی اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے اندر الہامی دوکان کا اعلان کرتے ہوئے ایک الہام بہ ایں الفاظ پیش کرتے ہیں کہ: ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنة ، یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة ، یا احمد اسکن انت وزوجک الجنة نفخت فیک من لدنی روح الصدق“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٦ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٥٩٠)

الہامی تشریح یا پانی میں قند

”اے آدم ! اے مریم! اے احمد ! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔“

”اس آیت میں بھی روحانی آدم (مرزا قادیانی) کا وجہ تسمیہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلا توسط اسباب ہے۔ ایسا ہی روحانی آدم میں بھی بلا توسط اسباب ظاہریہ نفخ روح ہوتا ہے اور یہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور طبیعت اور وراثت کے بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کو یہ نعمت عطاء کی جاتی ہے اور ان کلمات میں بھی جس قدر (میری) پیش گوئیاں ہیں وہ ظاہر ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٦، خزائن ج ١ ص ٥٩٠)

نوٹ معماری: اس جگہ مرزا قادیانی نے اپنی ذات والا صفات کو آدم ، مریم ، احمد قرار دیا ہے اور اپنے مریدین باصفا کو اپنی زوجہ بنا کر ان میں آئندہ بعض افراد کا صاحب الہام ہونا ظاہر کیا ہے اور لفظ جنت کے معنی نجات حقیقی کے وسائل بتائے ہیں۔ سترہ برس بعد مرزا قادیانی نے ایک پیش گوئی کی تھی کہ : ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں مسمات محمدی بیگم کا نکاح خدائے تعالیٰ نے آسمان پر میرے ساتھ کر دیا ہے۔ لہٰذا یا تو کنوارے پن کی حالت میں یا بیوہ ہو کر میرے پاس آئے گی اور جس دوسرے شخص سے اس کی شادی کی جائے گی وہ اڑھائی سال اور والد اس

٥

صفحہ ٤٩٤

لڑکی کا تین سال کے اندر اندر وفات پا جائے گا۔“ (آسمانی فیصلہ ص اخیر، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦، آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٥٦٩، تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢)

مرزا قادیانی کی اس دھمکی آمیز کارروائی کا اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ نے مورخہ ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی کا نکاح مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے کر دیا۔ چنانچہ وہ بڑے ٹھاٹھ باٹھ، شان وشوکت، باجوں گاجوں کے ساتھ اس ”آسمانی منکوحہ“ کو بیاہ کر لے گیا اور بیچارے مرزا قادیانی جو ”مالک کن فیکون“ (نصرۃ الحق طبع اول ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٤٢) ”مختار حیات وممات“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٦) ہونے کا دم مارا کرتے تھے۔ منہ دیکھتے اور بعد حسرت یہ کہتے رہ گئے۔

چاہتا نہ تھا کہ تجھ کو دیکھوں پاس غیر کے
پر جو خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا

اب چاہئے تو یہ تھا کہ سلطان محمد جو ایک ”صادق نبی اللہ، بلکہ ظلی خدا“ کا رقیب بنا فوراً نہ سہی، ”الہامی پیش گوئی“ کی میعاد اڑھائی سال میں فنا کے گھاٹ اتر جاتا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ بلکہ برعکس اس کے مرزا سلطان محمد دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا گیا اور آج تک ”بستر عیش“ (البشریٰ ج ٢ ص ٨٨) پر مزے کی نیند سوتا ہے نہ کسی ”ٹیچی“ فرشتہ کا ڈر، نہ خیراتی اور شیر علی ملکین قادیانی کا خوف وخطر۔

اس پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی نے بعد گذرنے میعاد اڑھائی سالہ یہ عذر کیا کہ ان لوگوں نے توبہ کر لی ہے۔ جیسا کہ بعض نے میری بیعت بھی کی ہے۔ اس لئے ان لوگوں کی توبہ کے باعث سلطان محمد کی موت ٹل گئی۔ (جل جلالہ)

آئندہ کے لئے مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی فرمائی کہ: ”اب سلطان محمد میری زندگی میں ضرور مرے گا اور وہ عورت یقیناً یقیناً میرے نکاح میں آئے گی۔ یہ امر تقدیر مبرم، خدا کا قطعی اور ان ٹل فیصلہ ہے اور اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١، اشتہار مرزا مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣، مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء)

اسی سوچ بچار میں مرزا قادیانی کو اپنے الہامی تھیلے براہین احمدیہ کا ایک سترہ سال پہلے کا بھولا بسرا الہام ”یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ یاد آ گیا۔ پھر کیا تھا آپ نے فوراً سے پہلے ہوشیار عطار کی طرح آب شیریں کو شربت نیلوفر سے تبدیل کرتے ہوئے لکھا: ”براہین احمدیہ

٦

صفحہ ٤٩٥

میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو (براہین احمدیہ ص ٤٩٦، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں مذکور ہے۔ ”یا آدم اسكن انت وزوجك الجنة ، يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة ، يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة“ اس جگہ تین زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم، یہ وہ ابتدائی نام ہے۔ جب کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ (والدہ میاں سلطان احمد، فضل احمد، ناقل) کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ (والدہ میاں محمود، ناقل) کے وقت مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلاء پیش آئے۔ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں ...... کا ابتلاء پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت (جب وہ میرے نکاح میں آئے گی ، ناقل) حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے۔ جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ہے۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨، جنوری ١٨٩٧ء)

نوٹ: پمفلٹ نمبر : ١

مرزا قادیانی نے تحریر بالا میں الہام آدم اسکن کے ماتحت اپنی پہلی بیوی کو جنتی ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے بباعث اس کے کہ اس عورت نے محمدی بیگم کے نکاح والے معاملے میں مرزا قادیانی کی سخت مخالفت کی اور دشمنوں کا ساتھ دیا۔ طلاق دے چھوڑی تھی۔

(ملاحظہ ہو اشتہار مورخہ ٢؍ مئی ١٨٩١ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٢ ص ١١٦، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٢١)

کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ مرزا قادیانی کی مخالفت میں وہ عورت ہی حق پر تھی۔ کیونکہ اسے ”الہام الٰہی“ نے جنتی بتایا اور مرزا قادیانی اس کے برعکس ۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

نمبر : ٢ ...... عبارت زیر نظر میں مرزا محمود احمد کی والدہ پر چند بے جا الزاموں کی طرف اشارہ ہے۔ کیا ہمارا مرزائی دوست حضرت ام المؤمنین سے دریافت کر کے ان الزامات کے متعلق کچھ بتائیں گے کہ ان کی نوعیت کیا تھی۔

٧

صفحہ ٤٩٦

ہٰذا اپنی حمد و تعریف کی پیش گوئی کی اور مخالفوں کو بندر، سؤر وغیرہ قرار دیا۔ اب جب کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے نصف صدی سے بھی زیادہ ہو گیا ہے اور وہ عورت بدستور سلطان محمد کے قبضہ وتصرف میں ہے۔ کیا اس واقعہ سے وہ تمام سخت الفاظ مرزا قادیانی پر تو نہیں الٹ پڑتے؟

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) اور مرزا قادیانی کا یہ بھی قول ہے کہ: ”قرآن شریف میں بکثرت ایسی آیات موجود ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی اپنی ہستی کچھ نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس طرح بکلی خدا تعالیٰ کے تصرف میں ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک کل انسان کے تصرف میں ہوتی ہے۔ انبیاء نہیں بولتے۔ جب تک خدا ان کو نہ بلائے اور کوئی کام نہیں کرتے۔ جب تک خدا ان سے نہ کرائے۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں یا کرتے ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کے نیچے کہتے یا کرتے ہیں اور ان سے وہ طاقت سلب کی جاتی ہے۔ جس سے خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی انسان کرتا ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں جیسے مردہ اور اس کی ہستی ان پر ایسی غالب ہوتی ہے کہ ان کی ہستی پر فنا آ جاتی ہے۔ ان کے اقوال وافعال اسی کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ تمام اسی کی طرف سے ہوتے ہیں۔“

(ریویو ج ٢ ص ٤٠، ٤١ مورخہ ٢٠؍ فروری ١٩٠٣ء)

”اسی قسم کی دوسری آیات سے جو بکثرت قرآن کریم میں موجود ہیں۔ یہ قطعی ثبوت ملتا ہے کہ انبیاء کے اقوال وافعال کو خدا تعالیٰ اپنے اقوال وفعال ٹھہراتا ہے اور وہ اسی طرح پھرتے ہیں جس طرح وہ ان کو پھیرتا ہے۔ وہ اس کے ہاتھ میں ایسے بے اختیار ہوتے ہیں۔ جیسے ایک مردہ، اور بکلی اسی کے تصرف میں ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے جذبات اور خواہشات کچھ نہیں ہوتے اور نہ ان کے حرکات اور کلام اور ارادے ان کے اپنے ہوتے ہیں۔ حرکت یا سکون، رنج یا راحت، خوشی یا غم، محبت یا عداوت، عفو یا انتقام، سخاوت یا بخل، شجاعت یا بزدلی، رحم یا غضب، ان کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ان کی اپنی مرضی یا اپنے ارادے کچھ نہیں ہوتے۔ وہ خدا تعالیٰ کے تصرف تام میں ہوتے ہیں اور ان کے تمام قویٰ اسی کی خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔“

(ریویو ج ٢ ص ٧٢، بابت فروری ١٩٠٣ء)

اب سوال یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں تو اس الہام کا مطلب بحکم و بہ تصرف خدا کچھ اور لکھا ہے اور یہاں بحکم و بہ الہام خدا اس کے خلاف کیوں لکھا۔ کیا یہ کارروائی خدا کی شانِ عالم

٨

صفحہ ٤٩٧

الغیب والشہادۃ سے بعید اور اس کی ذات علیم کل پر جہالت کا الزام قائم نہیں کرتی؟ ضرور کرتی ہے اور خدا کی ذات ستودہ صفات تو اس قسم کے دھوکہ وفریب ، دورنگی وتخالف سے یقیناً منزہ ومبرا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ملہم بحکم آیت ”هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِيْن“ خدائے قدوس نہ تھا اور مرزا قادیانی بمع اپنے ملہم کے صاف گو راست رو نہ تھے۔ ضمیمہ انجام آتھم کی مذکورہ تحریر سے قریباً چار ماہ بعد ۔

شربت نیلوفر سے شربت بنفشہ

رسالہ (سراج منیر ص٦٦، خزائن ج١٢ ص٦٦، مطبوعہ مئی ١٨٩٧ء) پر لکھا ہے کہ: ”اٹھائیسویں پیش گوئی (براہین احمدیہ ص٤٩٦) پر درج ہے اور وہ یہ ہے۔ ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ ، یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ ، یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ “اے آدم تو اور تیرا زوج بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اے احمد تو اور تیرا زوج بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے اور تین ناموں سے تین واقعات آئندہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو عنقریب لوگ معلوم کریں گے ۔“

نوٹ معماری

ضمیمہ انجام آتھم جنوری ١٨٩٧ء کی تحریر میں اس الہام کو دو پہلی بیویوں اور ایک آئندہ ہونے والی آسمانی منکوحہ کے متعلق لکھا تھا۔ کما مر بیانہ مگر یہاں تین واقعات آئندہ کے بارے میں اسے ظاہر کیا ہے۔ آہ!

ہم بھی قائل تیری نیرنگی کے ہیں یاد رہے
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے

سراج منیر سے قریباً اڑھائی سال بعد ۔

شربت بنفشہ سے شربت اعجاز

(تریاق القلوب ص٣٥، خزائن ج١٥ ص٢٠٣، ١٨٩٩ء) میں مرزا قادیانی راقم ہیں کہ: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی (جو میاں محمود احمد کی والدہ سے ہوئی، ناقل) کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور جیسا کہ اس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ”یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ“ ایسا ہی وہ بجا لایا ۔“

٩

صفحہ ٤٩٨

نوٹ معماری

براہین احمدیہ میں اس الہام احمد اسکن کے ماتحت احمد بمعنی غلام احمد اور زوجہ بمعنی مریدان خود ”بتصرف خدا“ لکھا تھا۔ پھر ضمیمہ انجام آتھم میں یہ کہتے ہوئے کہ اس الہام کا بھید اس وقت خدا نے مجھ پر کھول دیا ہے۔ احمد اسکن سے مراد تیسری بیوی۔ یعنی آسمانی منکوحہ بتائی۔ پھر بہ ارادہ الہی سراج منیر میں تین واقعات آئندہ کو جگہ ٹھوکا بنایا اور اس جگہ الہام احمد اسکن سے مراد اپنی دوسری بیوی جو ١٨٨٤ء (اسی کتاب نزول المسیح ص ١٤٦ پر اس شادی کی تاریخ ١٨٨٤ء کے قریب لکھی ہے) سے مرزا قادیانی کے نکاح میں آ چکی تھی۔ (نزول المسیح ص ٢٠٨، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٦) پر لگا دیا ہے۔

مرزائیو! کیا تمہارے نزدیک ”مسیح موعود“ بننے کے لئے اسی قدر راست روی راست شعاری کی ضرورت ہے۔ یا اس سے زیادہ کی؟

خدا والو خدا کو دیکھ کر کہنا خدا لگتی

اسی کتاب تریاق القلوب کا دوسرا سین۔

شربت اعجاز سے شربت دینار

ایک دفعہ جس کو قریباً بائیس برس کا عرصہ ہوا مجھ کو یہ الہام ہوا۔ ”اشکر نعمتی رئیت خدیجتی انك اليوم لذو حظ عظیم“ (ترجمہ) میری نعمت کا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پایا۔ آج تو ایک حظ عظیم کا مالک ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)

اور اس زمانے کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا۔ ”بکر وثیب“ یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ یہ مؤخر الذکر الہام مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنہ کو بھی سنا دیا گیا تھا اور اس کو خوب معلوم تھا کہ ان صفات کی ایک باکرہ بیوی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جو خدیجہ کی اولاد میں سے یعنی سید ہو گی۔

اسی کی تائید میں وہ الہام ہے جو (براہین احمدیہ ص ٤٩٢، ٤٩٦، حاشیہ دوم، خزائن ج ١ ص ٥٨٥) میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ ”اردت ان استخلف فخلقت آدم“ اور ”یادم اسکن انت وزوجك الجنة يا مريم اسکن انت وزوجك الجنة يا احمد اسکن انت وزوجك الجنة“ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے آدم تو معہ اپنی زوجہ کے بہشت میں داخل ہو۔ اسی لحاظ سے میرا نام آدم رکھا گیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھ سے ایک نیا خاندان شروع

١٠

صفحہ ٤٩٩

ہوگا۔ سو اس نے مجھے اس الہام میں ایک نئی بیوی کا وعدہ دیا اور اس الہام میں اشارہ کیا کہ وہ تیرے لئے مبارک ہوگی اور مریم کی طرح اس سے تجھے پاک اولاد دی جائے گی۔“

(تریاق القلوب ص ٧٠، طبع اول ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٨)

نوٹ معماری

قارئین کرام! ملاحظہ فرمائیں کہ اس جگہ ان تینوں الہاموں کو ایک ہی بیوی کے بارے میں بنایا ہے۔ آہ!

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
خصوصاً ایسے ویسے انبیاء سے

عذر مرزا

(براہین احمدیہ ص ٤٩٦، خزائن ج ١ ص ٥٩٦) میں یہ الہام درج ہے۔ یعنی ”يآدم اسكن انت وزوجك الجنة “ چونکہ یہ پیش گوئی حالات موجودہ کے لحاظ سے بالکل دور از قیاس تھیں اور ان کے ساتھ کوئی تفہیم نہ تھی۔ اس لئے میں ان کی تشریح اور تفصیل واقعی طور پر نہ کر سکا۔ ناچار براہین احمدیہ میں ایک حیرت زدہ عالم میں مختصر طور پر معنی بیان کر دیئے گئے ۔“

(تریاق القلوب ص ١٦٣ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٥٢٠)

جواب معماری

براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا ”مؤلف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کی ۔“

(ملاحظہ ہوں اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ آخر رسالہ سرمہ چشم آریہ)

ہاں یہ کتاب بزعم مرزا ”نہ صرف دربار محمدی ﷺ میں پیش ہو کر قبولیت حاصل کر چکی تھی۔ بلکہ قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم مضامین سے بھر پور تھی۔“ (براہین احمدیہ ص ٢٤٨، ٢٤٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥) جو اس حالت میں تحریر کی گئی تھی کہ: ”روح القدس کی قدسیت ہر وقت ہر دم ہر لحظہ بلا فصل مرزا قادیانی کے قویٰ میں کام کرتی تھی۔“ (آئینہ کمالات ص ٩٤، خزائن ج ٥ ص ٩٤) سونے پہ سہاگہ یہ کہ مرزا قادیانی نے بقول خود اس وقت عند اللہ رسول اللہ تھے۔ جن کا ہر قول و فعل، ہر حرکت و سکون بحکم و برضا الٰہی تھا۔ پس براہین احمدیہ والے ترجمہ کو ”بلا تفہیم الٰہی“ لکھنا کذب در کذب ہے۔ ہاں ہاں یہ مضمون ” پیش گوئی“ تھا جو بطور دلیل صداقت مخالفین کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ لہٰذا یہ کسی حالت میں بھی ” بد فہمی“ پر مبنی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ” جن پیش گوئیوں

١١

صفحہ ٥٠٠

’مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خاص طور کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہیں۔ ورنہ ہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ انکشاف کرالیتے ہیں۔‘‘

(قول مرزا در ازالہ اوہام ص ٤٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٩)

پس مرزا قادیانی کا یہاں براہین احمدیہ والے ترجمہ و مفہوم کو بلا تفہیم ظاہر کرنے مرزا قادیانی کی حقیقت اصلیہ کو صاف عیاں کر رہا ہے۔

رسول قادیانی کی رسالت
جہالت ہے بطالت ہے ضلالت

احمد یو! بفرض محال مان لیا کہ براہین احمدیہ کے وقت کوئی تفہیم نہ تھی۔ صرف ایک حیرت زدہ عالم میں معنی کر دیئے گئے تھے۔ مگر ضمیمہ انجام آتھم میں تو اس الہام کو تین مختلف بیویوں پر لگاتے ہوئے صاف لکھا گیا تھا کہ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی تھی۔ جس کا سر اس وقت خدا نے مجھ پر کھول دیا ہے۔ پھر یہاں اس کے خلاف کیوں؟ کیا پہلے خدا نے کھولا تھا اور اب یہ شیطان کی عقدہ کشائی ہے؟

اچھا جناب! براہین احمدیہ کے وقت تفہیم نہ تھی نہ سہی، سراج منیر اس کے بعد خود اسی تریاق القلوب کے ص ٧٧ پر لکھتے وقت بھی کوئی تفہیم نہ تھی۔ اس موقعہ پر مرزا قادیانی کا قول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

”جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے کون اس کو روکتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٣)

سب سے آخر یہ کہ براہین والا مطلب بلکہ ضمیمہ انجام، سراج منیر ص ٧٧، تریاق القلوب والے بیانات اگر سب کے سب بلا تفہیم تھے اور اب صحیح انکشاف ہوا ہے تو آئندہ کی اس انتہائی پر از اغلاط تحریر کا کیا جواب ہے۔ ملاحظہ ہو مرزا قادیانی رقمطراز ہیں۔ اسی کتاب تریاق القلوب کا تیسرا نظارہ۔

شربت دینار سے شربت شہتوت

”منجملہ زبردست نشانوں کے جو خدا تعالیٰ نے غیب گوئی اور معارف عالیہ کے رنگ میں میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے۔ براہین احمدیہ کی وہ پیش گوئی ہے جو اس کے صفحہ ٤٩٦ میں درج ہے۔ ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنة“ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہ الہام جو

١٢

صفحہ ٥٠١

میری نسبت ہوا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ اے آدم تو اپنے جوڑے کے ساتھ جنت میں رہ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدم صفی اللہ کے وجود کا سلسلہ دوریہ اس عاجز کے وجود پر آخر ختم ہو گیا۔ یہ بات اہل حقیقت اور معرفت کے نزدیک مسلم ہے کہ مراتب وجود دوریہ میں بعض بعض کی خو اور طبیعت پر آتے رہتے ہیں۔ (ص ٤٧٢) سو ضرور تھا کہ مرتبہ آدمیت کی حرکت دوری زمانہ کے انتہاء پر ختم ہوتی۔ سو یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا۔ جو یہی راقم (مرزا) ہے اور اس کا نام بھی آدم رکھا اور پہلے آدم کی طرح خدا نے اس آدم کو بھی زمین کے حقیقی انسانوں سے خالی (کیا مرزا قادیانی کے بعد جو مرزائی پیدا ہوئے وہ حقیقی انسان نہیں ہیں) ہونے کے وقت پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کے رو سے اسی طرح نر و مادہ پیدا کیا۔ جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا۔ یعنی اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا کیا۔ جیسا کہ الہام ”یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ میں اس بات کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو کہ مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے۔ اپنی جسمانی خلقت کے رو سے جوڑا پیدا ہوگا اور خاتم الاولاد ہوگا۔ کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص (مرزا) جس پر بکمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو۔ وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔ اب یاد رہے کہ اس بندہ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیش گوئی کے مطابق ہوئی۔ یعنی میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ: ”یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ جو آج سے بیس برس پہلے (براہین احمدیہ ص ٤٩٦) میں درج ہے۔ اس میں جنت کا لفظ ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی کہ جو میرے ساتھ پیدا ہوئی۔ اس کا نام جنت تھا۔“

(تریاق القلوب ص ٤٧٨، ٤٧٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)

احمدی بزرگو! براہین احمدیہ میں درج شدہ ترجمہ و مفہوم تو بھلا بلا تفہیم الہی اور عالم حیرت کا تھا۔ یہ ترجمہ و مطلب کس عالم کا ہے؟ شاید عالم بے خودی کا ہوگا۔ آہ! اے شوق مسیحیت و مہدویت! تیرا ستیاناس ہو جائے۔ ظالم! تو اپنی دلفریب تاثیر سے کیسے کیسے مدعیان انانیت کو ذلیل و رسوا کرتا ہے۔

حضرات! غور فرمائیے۔ ابتداءً مرزا قادیانی نے آدم، احمد، مریم، بنتے ہوئے زوجہ

١٣

صفحہ ٥٠٢

کے لقب سے اپنے قرینان صحبت اور جنت بمعنی وسائل نجات لکھا۔ پھر آدم سے پہلی بیوی، مریم سے دوسری، احمد سے منکوحہ آسمانی بتائی۔ پھر تین آئندہ واقعات کو دھوکا قرار دیا۔ اس کے بعد کتاب (تریاق القلوب ص ٧٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٠٤) پر احمد سے دوسری بیوی اور جنت سے مراد حقیقی بہشت تحریر کیا۔

مابعد (تریاق القلوب ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) پر تینوں الہامات کو ایک بیوی کے متعلق کہا اور اس جگہ تو غضب ہی کر دیا کہ زوجہ کے معنی جوڑا اور جنت کے معنی اپنی حقیقی ہمشیرہ بتائی۔ یعنی مطلب یہ کہ اس الہام میں میری پیدائش کی طرف اشارہ ہے نہ کہ آئندہ کسی ایک یا بہت سی بیویوں یا واقعات کا ذکر بقولے چرخ گردوں تفو۔

اے خدا واقعی تیری مخفی تدبیریں انسانی عقل و فہم سے بالا ہیں۔ تو ہی وہ ذات صاحب اقتدار ہے کہ جھوٹے، دغاباز اور مفسد اشخاص کو بقول مرزا بعض اوقات خود انہی کے ہاتھ سے روسیاہ کراتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے تیرے تصرف سے سچ اور بالکل حق لکھا ہے کہ: ”خدا کا نام قرآن شریف کی رو سے خیر الماکرین اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب وہ کسی مجرم مستوجب سزا کو باریک اسباب کے استعمال سے سزا میں گرفتار کرتا ہے۔ یعنی ایسے اسباب اس کی سزا کے لئے مہیا کرتا ہے کہ جن اسباب کو مجرم کسی اور ارادہ سے اپنے لئے آپ مہیا کرتا ہے۔ پس وہی اسباب جو اپنی بہتری یا ناموری کے لئے مجرم جمع کرتا ہے۔ وہی اس کی ذلت اور ہلاکت کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے۔ سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں اور ان کی نظر سے وہ امور اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔ پس اس مخفی کاروائی کے لحاظ سے خدا کا نام ماکر ہے۔“

(رسالہ استفتاء حاشیہ ص ٧، ٨، خزائن ج ١٢ ص ١١٦)

احمدی بھائیو! خدارا مذکورہ بالا تحریر اور مرزا قادیانی کی پر از مغالطات چالوں کو ملحوظ رکھ کر سوچو اور خوب غور کرو۔ پھر دیکھو کہ خدا کا قانون قدرت مرزا قادیانی کے ساتھ صادق انبیاء کا سلوک کرتا ہے یا بے راہ اور سخت دل مجرموں کی تباہی و بربادی خود انہی کے ہاتھوں والا منظر دکھاتا ہے؟۔انصاف! انصاف! انصاف!

ہاں اس کے ساتھ یہ بھی بتلاؤ کہ تمہارے علم کلام میں، تمہارے الہامی ذہن رسا میں

١٤

بیوی اور بہن کے مفہوم میں مطلب ہے: اف کس غضب کے لئے بیوی کے الہام کو

لطف پہ لطف

یہ کہ رسالہ تریاق الوجودی قرار دے کر حقیقت ہے۔ مگر یہاں اپنی اغراض و معرفت لکھا ہے۔

کوڑھ پہ کھاج

اور ملاحظہ ہو والہام ظاہر کیا۔ مگر اس لکھا کہ مجھے علم ہی نہیں یہ ”سولہویں خط سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول الاصل ہوگا۔ یعنی مغلوب پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت اول لڑکی بعدہ میں پیدا ہو گئی۔ ان کی کتابوں میں شیخ ابن عربی جھوٹ و افتراء گھڑے

صفحہ ٥٠٣

بیوی اور بہن کے مفہوم میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟۔ ضرور ہے۔ پھر مرزا قادیانی کی اس تحریر کا کیا مطلب ہے:

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

اف کس غضب کی چال ہے کہ شیخ ابن عربی کی پیشگوئی کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرانے کے لئے بیوی کے الہام کو بہن پر چسپاں کر دیا۔ افسوس صد افسوس۔ اف له ولما فعله!

لطف پہ لطف

یہ کہ رسالہ تقریر اور خط متعلقہ وحدت الوجود وغیرہ میں تو انہی شیخ ابن عربی کو وحدت الوجودی قرار دے کر لعنتی ، نادان ، آزاد طبع ، ملحد و زندیق ، نفس امارہ کی خواہش کا پجاری وغیرہ بنایا ہے، مگر یہاں اپنی اغراض نفسانی کے لئے انہیں ملہم خدا، اکابر امت، اہل حقیقت و صاحب کشف و معرفت لکھا ہے۔

کوڑھ پہ کھاج

اور ملاحظہ ہو اس جگہ تریاق القلوب میں تو شیخ کی مذکورہ پیشگوئی کو منجانب اللہ کشف والہام ظاہر کیا۔ مگر اس کے قریباً چار سال بعد اکتوبر ١٩٠٣ء کو رسالہ تذکرۃ الشہادتین ص ٣٣، ٣٤ پر لکھا کہ مجھے علم ہی نہیں یہ پیشگوئی شیخ نے کہاں سے لی ہے۔ چنانچہ اصل عبارت درج ذیل ہے:

”سولہویں خصوصیت حضرت مسیح علیہ السلام میں یہ تھی کہ بن باپ پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے وہ مشابہ تھے۔ ایسا ہی میں بھی توام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن العربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء چینی الاصل ہوگا۔ یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی۔ بعد اس کے وہ پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام میں پیدا ہوا۔ اول لڑکی بعدہ میں پیدا ہوا۔ نہ معلوم یہ پیشگوئی کہاں سے ابن عربی صاحب نے لی تھی جو پوری ہوگئی۔ ان کی کتابوں میں اب تک یہ پیشگوئی موجود ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥)

شیخ ابن عربی کی پیشگوئی کو جس طرح بگاڑ کر مرزا قادیانی نے اپنے پر لگایا اور جو جو جھوٹ وافتراء گھڑے ہیں۔ اس کی تفصیل کا یہ محل نہیں۔ رسالہ کذبات مرزا مصنفہ شیخ الاسلام

١٥

صفحہ ٥٠٤

امام المناظرین فاتح قادیان الحاج حضرت مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسریؒ میں اس کی وضاحت موجود ہے۔

اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا ہے کہ تریاق القلوب میں تو شیخ کی پیشگوئی کو ان کا الہام لکھا۔ مگر یہاں قطعی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ خیر یہ تو مرزا قادیانی کی ایک معمولی اختلاف بیانی ہے جس کی سو دوسو نہیں ہزار کے قریب مثالیں میرے ناقص علم میں موجود ہیں جو رسالہ تہافۃ المرزا میں قلمبند ہوچکی ہیں۔ خدا نے توفیق بخشی تو یہ رسالہ بھی چھاپ دیا جائے گا۔ وبہ نستعین علیہ توکلت والیہ انیب!

تریاق القلوب کے چند ماہ بعد

شربت شہوت سے شربت انجبار

٢٧ ستمبر ١٩٠٠ء کو اربعین نمبر ٢ ص ٦ وخزائن ج ١٧ ص ٣٥٢ پر اسی الہام یا آدم اسکن ......الخ ۔ کو لکھ کر ص ١٦ پر اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے: ”اے آدم اے احمد، اے مریم، تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔“

اسی طرح اربعین نمبر ٣ ص ٣٠ پر مسطور ہے: ”اے احمد اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جا۔ اے آدم اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔ یعنی ہر ایک جو تجھ سے تعلق رکھنے والا ہے۔ گو وہ تیری بیوی ہے یا دوست ہے نجات پائے گا اور اس کو بہشتی زندگی ملے گی اور بہشت میں داخل ہو گا۔“

نوٹ معماری

لیجئے! یہاں نہ تین بیویوں کا ذکر نہ تین آئندہ واقعات کا تذکرہ۔ نہ ایک بیوی کا اشارہ نہ توام پیدائش کی خصوصیت نہ ہمشیرہ جنت بی بی کا مذاکرہ۔ صرف دنیا و آخرت میں بہشتی زندگی ملنے کا وعدہ ہے اور بس!

ہو چکی نماز مصلّےٰ اٹھائیے

یاد دہانی

براہین احمدیہ میں بھی اسی کے لگ بھگ ترجمہ کیا تھا۔ اس کے بعد کئی ایک پینترے بدلے۔ براہین کے ترجمہ و مطلب کو بلا تفہیم حیرت کا ترجمہ قرار دے کر چالاک عطار کی طرح ایک

١٦

صفحہ ٥٠٥

ہی بوتل سے کئی ایک شربت کے گاہک بنے۔ بالآخر موجب مقولہ مشہور اونچی دوکان پھیکے پکوان حقیقت کھل گئی کہ بوتل میں نرا پھیکا پانی ہی تھا۔ باقی ہیچ:

خواب تھا جو کچھ دیکھا
جو سنا افسانہ تھا

اربعین سے دو سال بعد

شربت انجبار سے شربت بادام

مرزا قادیانی اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ مطبوعہ ستمبر ١٩٠٢ء میں سورۃ الناس سے قادیانی معارف چھانٹتے ہوئے خناس بمعنے شیطان لکھ کر اس سے اپنی مسیحیت پر نکتہ آفرینی کرتے ہیں کہ:

”اب واضح ہو کہ خناس شیطان کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ عبرانی میں اس کا نام نحاش ہے۔ اس نحاش کا دوسرا نام دجال ہے۔ یہی تھا جو آج سے چھ ہزار برس پہلے حضرت آدم کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہوا تھا اور اس وقت یہ اپنے اس فریب میں کامیاب ہو گیا تھا اور آدم مغلوب ہو گیا تھا۔ لیکن خدا نے چاہا کہ اسی طرح آدم (یعنی مرزا قادیانی ، ناقل ) کو پھر پیدا کر کے یعنی (حضرت آدم کے بعد ) آخر ہزار ششم میں جیسا کہ پہلے وہ ( آدم ) چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔ نحاش کے مقابل پر اس کو کھڑا کرے اور اب کی دفعہ نحاش مغلوب ہو اور آدم غالب۔ سو خدا نے آدم کی مانند اس عاجز کو پیدا کیا اور اس عاجز کا نام آدم رکھا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔ ”یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود آدم کے رنگ پر ظاہر ہوگا۔ تا وہ زن مزاج لوگوں کو حیات ابدی کی طمع دے۔ جیسا کہ حوا کو اس سانپ نے دی تھی۔ جس کا نام توریت نے نحاش اور قرآن میں خناس ہے۔“

(ملخص ص ٢٧٢، ٢٧٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٧٤)

نوٹ معماری

اس عبارت میں حضرت مسیح موعود صادق رسول اللہ نے الہام آدم اسکن کی وجہ تسمیہ اپنا فاتح شیطان ہونا بیان کیا ہے اور زوجک الجنۃ سے مراد زن مزاج لوگوں کو جنت کی طمع دے کر راہِ راست پر لانے والا تحریر کیا ہے۔

١٧

صفحہ ٥٠٦

احمدی دوستو! مرزا قادیانی کی طمع کے جال میں آپ ہی لوگ پھنسے ہیں۔ کیا ہم آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ آپ اور آپ کے اسلاف میں کون کون صاحب زن مزاج ہیں؟ غور کرو! مرزا قادیانی کن معزز القابات سے تمہاری حقیقت کو عیاں کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس تحریر کو پڑھ کر مرزا قادیانی کے حق میں بے ساختہ یہ شعر تمہارے منہ سے نکل جائے گا کہ؎

کئے لاکھوں ستم اس پیار میں بھی آپ نے ہم پر
خدا نخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے

تحفہ گولڑویہ سے تین سال بعد

احادیث نبویہ میں آنے والے مسیح موعود کا نام ابن مریم مرقوم و موجود ہے۔ ادھر مرزا قادیانی کی والدہ مکرمہ کا نام ”چراغ بی بی“ تھا۔ اس اعتراض کو اٹھانے کے لئے مرزا قادیانی نے ایک عجیب بیان دیا۔ جو قابل دید وشنید ہے۔ چنانچہ کتاب نصرۃ الحق مرقومہ ١٩٠٥ء پر لکھا۔

شربت بادام سے شربت لیموں

”براہین احمدیہ“ حصص سابقہ میں ایک لطیف استعارہ کے رنگ میں مجھے ابن مریم ٹھہرایا گیا۔ اوّل میرا نام خدا تعالیٰ نے مریم رکھا اور فرمایا: ”يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة“ یعنی اے مریم تو اور تیرے دوست جنت میں داخل ہو۔ پھر آگے چل کر کئی صفحوں کے بعد فرمایا۔ ”يا مريم نفخت فيك من لدنی روح الصدق“ یعنی اے مریم میں نے تجھ میں صدق کی روح پھونک دی۔ یہ روح پھونکنا گویا روحانی حمل تھا۔ جب مریم صدیقہ میں روح پھونکی گئی تو اس کے یہی معنی تھے کہ اس کو حمل ہو گیا۔ جس سے عیسیٰ پیدا ہوا۔ پس اس جگہ بھی اسی طرح فرمایا کہ تجھ میں روح پھونکی گئی۔ گویا یہ ایک روحانی حمل تھا۔ پھر آگے چل کر آخر کتاب میں مجھے عیسیٰ کر کے پکارا گیا۔ کیونکہ بعد نفخ ربانی مریمی حالت عیسیٰ بننے کے لئے مستعد ہوئی۔ جس کو استعارہ کے رنگ میں حمل قرار دیا گیا۔ پھر آخر اس مریمی حالت سے عیسیٰ پیدا ہو گیا۔“

(براہین احمدیہ ص٤٩٦ خزائن ج٢١ ص٢٦٢)

اس بیان کی تائید بلکہ مزید وضاحت (کشتی نوح ص٤٥، ٤٦، خزائن ج١٩ ص٤٩) میں بھی موجود ہے کہ وہاں زمانہ حمل بھی قریباً دس ماہ تحریر کیا گیا ہے وغیرہ۔ بہر حال اس تحریر میں

١٨

صفحہ ٥٠٧

براہین احمدیہ کے الہام احمد اسکن کا مفہوم و مطلب جس پیرائے میں لکھا ہے۔ ہم اس پر مزید حاشیہ آرائی کر کے اپنے احمدی دوستوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے۔ وہ خود غور کریں کہ خدا کے صادق انبیاء اسی طرح کی مضحکہ خیز باتیں کیا کرتے ہیں؟ یا ان کا معیار تکلم اپنے اندر مدبرانہ اور بزرگانہ حیثیت رکھتا ہے۔

ہمارا مقصد اس جگہ صرف اور صرف یہ دکھانا ہے کہ مرزا قادیانی کے دلائل کی حالت مغالطات سے گزر کر انتہائی مضحکات کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔

گورو جنہاندے ٹپنے چیلے جان شڑپ

یہاں تک تو مرزا قادیانی کی کارروائیوں کا اظہار ہوا۔ اب مریدان مرزا کی حاشیہ آرائی ملاحظہ ہو۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی بمعہ اہل وعیال قادیان کے ایک باغ میں فروکش تھے۔ تب اخبار بدر میں لکھا گیا۔

شربت لیموں سے شربت سکنج بین

”حضرت مسیح موعود کا الہام تھا۔ ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنة“ چنانچہ اس کے مطابق آج کل حضور بمعہ بیوی بچوں کے باغ میں تشریف فرما ہیں۔“

(مفہوم اخبار بدر ج ١ ش ١٤ ص ٤ مورخہ ٦؍ جولائی ١٩٠٥ء)

یہ مضمون اگرچہ بظاہر مریدان مرزا کا ہے۔ مگر ”در حقیقت“ مرزا قادیانی کا ہی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا عام اصول تھا کہ جو ہماری راہ چلتا ہے وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتا ہے وہ درحقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے۔

(ازالۃ الاوہام ص ١٧١ ، ٤١٦، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)

نوٹ قابل یاداشت: براہین احمدیہ میں لفظ جنت کی تشریح وسائل نجات اور تریاق القلوب میں ، بھی جنت بتائی۔ یہاں قادیان کا باغ لکھا۔

قادیانی الہام کی دوسری بوتل

گول مول الہام

”شاتان تذبحان وكل من عليها فان“ (ترجمہ ) دو بکریاں ذبح کی

١٩

صفحہ ٥٠٨

جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے گا۔ یعنی ہر ایک کو قضا درپیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں۔ کوئی چار روز پہلے اس دنیا کو چھوڑ گیا اور کوئی پیچھے اسے جا ملا۔"

(براہین احمدیہ ص ٥١١ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٦١٠)

الہام کیا ہے چیستان ہے۔ ابتدائی فقرہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔ گویا کسی مذبح کے چوہدری کا اعلان ہے کہ: "دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔"

ہزار کوشش کی گئی کہ اس کا مطلب معلوم ہو۔ کچھ پتہ نہ لگا۔ آخر بحکم من طلب وجد تلاش کرتے کرتے اس سے سترہ سال بعد کی کتاب موسومہ "ضمیمہ انجام آتھم" سے بھید کھلا کہ ان بکریوں سے مراد ایک تو آسمانی خسر ہے۔ دوسرا منکوحہ آسمانی کا خاوند یعنی مرزا سلطان محمد۔ چنانچہ لکھا ہے کہ: "پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد ہے۔ یہ پیش گوئی آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے۔ اب سوچنا چاہئے کہ یہ انسان کا کام ہے۔ کیا انسان کو یہ طاقت وقدرت حاصل ہے کہ آئندہ واقعات کی خبر سالہا سال پہلے ایسی صفائی سے بیان کر سکے۔ کیا دنیا میں کوئی اور شخص موجود ہے۔ جس کی تحریروں میں یہ عظیم الشان سلسلہ پیش گوئیوں کا پایا جائے۔ یقیناً کوئی سخت بے حیا ہوگا۔ جو اس فوق عادت سلسلہ سے انکار کرے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

اف کس قدر چرب زبانی، لفاظی ولسانی سے ایک معمولی راولانہ، بے سروپیر، موم کی ناک کی طرح ہر طرف پھر جانے والی تک بندی کو مصفیٰ، عظیم الشان، فوق العادت پیش گوئی قرار دیا ہے اور جو معقول پسند اس مکروہ چالبازی کو شائستہ اعتنا نہ سمجھے۔ اسے اپنی مسیحانہ خوش کلامی سے سخت بے حیا قرار دیا ہے۔ اف رے تیری چالاکی۔ آہ!

ملے تو حشر میں لے لوں زبان مرزا کی
عجیب چیز ہے اثبات مدعا کے لئے

مرزائی دوستو! او علم وعقل کے واحد اجارہ دارو! علماء اسلام کو جاہل کندہ ناتراش کہنے والو! خدا کے لئے انصاف کے نام پر دیانت کے واسطے سے جواب دو کہ اس قسم کی تک بندیوں کو عظیم الشان فوق العادت، پر از صفائی پیش گوئی ٹھہرانے والا اس لائق ہے کہ اسے مسیح موعود، خدا کا نبی، بلکہ جملہ انبیاء کا مظہر اتم سمجھا جاوے؟ پھر یہ بھی تو بتاؤ کہ یہ عظیم الشان پیش گوئی پوری کیوں نہ

٢٠

صفحہ ٥٠٩

ہوئی۔ کیوں وہ سلطان محمد آج تک مثل زہریلے سانپ کے تمہارے سینوں پر لوٹ رہا ہے۔ دیکھنا کہیں لقب سخت بے حیا کے مصداق بن کر اوٹ پٹانگ جواب نہ دینا۔ انصاف کو کام میں لانا۔ اسے جانے دو آؤ میں تمہیں شالامار باغ کا دوسرا تختہ دکھاتا ہوں ۔سنو! اس جگہ مرزا قادیانی نے یہ کہتے ہوئے کہ براہین احمدیہ میں ایسے بہت سے اسرار ہیں جو کھلتے جاتے ہیں۔ اس تشریح کو منجانب اللہ بتایا ہے اور یوں بھی ان کا عام اصول ہے کہ ہر نبی کا ہر قول و فعل بحکم خدا ہوتا ہے۔ خاص کر جو پیش گوئی مخالفوں کے روبرو پیش کی جاتی ہے۔ ملہم لوگ حضرت احدیت میں توجہ کر کے اس کا انکشاف کرالیتے ہیں۔ پس کیا وجہ ہے کہ اس الہامی انکشاف کے بعد مرزا قادیانی نے اسی الہام کو آسمانی خسر اور اس کے داماد سے ہٹا کر کابل میں دو سنگسار ہونے والے مریدوں پر لگادیا۔ شاید اس لئے کہ مرزا قادیانی پر بڑھاپا غالب آرہا تھا اور سلطان محمد مرنے میں نہ آتا تھا۔ سنو! مرزا قادیانی راقم ہیں ۔

”ذکر اس پیش گوئی کا جو ( براہین احمدیہ ص ٥١١) میں درج ہے ۔ ” شاتان تذبحان وکل من علیھا فان “ تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ یہ پیش گوئی شہید مرحوم مولوی عبداللطیف اور ان کے شاگرد عبدالرحمن کے بارے میں ہے۔ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے پورے تیس برس بعد پوری ہوئی۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٧٠ ، خزائن ج ٢٠ ص ٧٢)

مرزائیو! انہی دلائل سے تم دنیا میں احمدیت پھیلاؤ گے؟
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

ہاں ہاں یہ پیشگوئی تو تشریح الہامی مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق تھی جو نہایت ہی معین ، عظیم الشان اور فوق العادت تھی جس سے انکار کرنے والا بقول مرزا قادیانی سخت بے حیا تھا۔ پس مرزا قادیانی کا اس جگہ عملاً اس پیش گوئی سے انکار کر کے اسے دوسری جگہ لگانا بے حیائی تو نہیں۔ انصاف والانصاف خیر الاوصاف۔

مرزا قادیانی کا پر از مغالطہ عذر

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ وہ پہلے تو بڑے زور وشور سے پیش گوئی کرتے۔ جب وہ جھوٹی نکلتی تو اجتہادی غلطی کا عذر کردیتے ۔اس جگہ بھی یہی ہوا۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ: ”براہین احمدیہ کی پیش گوئی شاتان تذبحان مجھے مدت تک اس کے معنے معلوم نہ ہوئے۔ بلکہ اور اور جگہ کو

٢١

صفحہ ٥١٠

محض اجتہاد سے اس کا مصداق ٹھہرایا۔ لیکن جب مولوی عبداللطیف اور شیخ عبدالرحمن امیر کابل کے ناحق ظلم سے قتل کئے گئے۔ تب روز روشن کی طرح کھل گیا کہ اس پیش گوئی کے مصداق یہی دونوں تھے۔“

(حقیقت الوحی ص٢٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٤)

الجواب: ناظرین کرام! ورق الٹ کر ضمیمہ کی عبارت ملاحظہ کریں۔ وہاں اس اور اس کے ساتھ کی دوسری گول مول پیش گوئیوں کے متعلق صاف مرقوم ہے۔ ان کا سر اس وقت خدا نے مجھ پر کھول دیا ہے۔ (براہین احمدیہ ص٥٣، ٥٥، خزائن ج ١ ص ٣٣٩) میں ”ایسے بہت اسرار ہیں۔ جواب کھلتے جاتے ہیں۔“

ماسوا اس کے ہم تحریرات مرزا نقل کر آئے ہیں کہ ان کا ہر قول وفعل بقول خود بحکم خدا تھا۔ لہٰذا اس جگہ مرزا قادیانی کا یہ عذر مجھے مدت تک اس کے معنی معلوم نہ ہوئے۔ اجتہاد سے اور اور جگہ کو اس کا مصداق ٹھہرانا۔ یہ صریح کذب، بدیہی جھوٹ اور صاف مغالطہ ہے۔

الہامی دوکان کی تیسری بوتل

بے پتہ الہام

”قتل خيبة وزيد هيبة“ ایک شخص جو مخالفانہ کچھ امید رکھتا تھا۔ وہ ناامیدی سے ہلاک ہو گیا اور اس کا مرنا ہیبت ناک ہوگا۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٧، الہام ٩؍جنوری ١٩٠٣ء)

اس تحریر میں کوئی تعین نہیں کہ وہ شخص کون ہے۔ اس وقت سے پہلے مر چکا ہے۔ یا آئندہ مرے گا۔ محض گولائی اور دورنگی ہے۔ الہامی لفظ زمانہ ماضی کی حکایت کر رہے ہیں۔ یعنی ایک شخص زمانہ سابقہ میں ناکام ہلاک ہو گیا۔ مگر بقیہ ترجمہ زمانہ آئندہ کی خبر دے رہا ہے۔ اس کا مرنا ہیبت ناک ہوگا۔ مطلب اس دورخی سے یہ تھا کہ اگر ان دنوں کوئی مخالف مر گیا تو اس پر لگادیں گے۔ ورنہ کسی گذشتہ مخالف کے سر مڑھ دیں گے۔ بہرحال اس سے اتنا صاف عیاں ہے کہ مصداق اس الہام کا کوئی مخالف مرزا ہے۔

بے تکی تعین

خدا کی قدرت ہے اس کے چند دن بعد ہی ایک سقہ جو مرزا قادیانی کے ہاں پانی بھرا کرتا تھا فوت ہو گیا۔ پھر کیا تھا آپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً سے پہلے اسے اس کا مصداق ٹھہرا دیا۔ چنانچہ اخبار البدر مورخہ ٢٠؍فروری ١٩٠٣ء میں لکھا ہے کہ: ”ایک سقہ جو کہ حضرت اقدس کے ہاں

٢٢

صفحہ ٥١١

پانی بھرا کرتا تھا۔ وہ ایک ناگہانی موت سے مر گیا اور اسی دن اس کی شادى تھی۔ اس کی موت پر آپ نے فرمایا کہ مجھے خیال آیا کہ: ”قتل خيبة وزيد هيبة“ جو وحی ہوئی تھی۔ وہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔“

نوٹ معماری

اصل الہام اور اس کے ترجمہ سے صاف عیاں ہے کہ یہ کسی بد ارادہ مخالف کے متعلق تھا۔ لہٰذا اسے گھر کے ماشکی پر لگانا سوائے دفع الوقتی کے کچھ معنی نہیں رکھتا۔ آگے ملاحظہ ہو۔

پراز مغالطہ کارروائی

اس واقعہ کے قریباً سات ماہ بعد جب کہ مرزا قادیانی کے دو مرید کابل میں قتل ہو چکے تھے۔ مرزا قادیانی نے ان کی موت کو اپنا معجزہ بنانے کے لئے مجملہ کئی ایک جھوٹے الہاموں کے یہ بھی پیش کر دیا کہ : ” اس سے پہلے ایک صریح وحی الٰہی صاحب زادہ مولوی عبد اللطیف کی نسبت ہوئی ۔ جب کہ وہ زندہ تھے۔ بلکہ قادیان میں موجود تھے۔ وہ یہ ہے قتل خيبة وزيد هيبة “

(تذکرۃ الشہادتین ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٧٥)

نوٹ: اس مضمون کو ( حقیقت الوحی ص ٢٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٤) پر بھی بطور نشان صداقت درج کیا ہے۔

قارئین کرام ! ملاحظہ فرمائیں کہ یہ پیش گوئی گھڑتے وقت تو کوئی تعین نہ کی ۔ بلکہ مخالفوں کے بارے میں اسے ظاہر کیا۔ اس کے بعد ایک بے ضرر غریب سقہ فوت ہوا تو یہ سوچ کر کہ کہیں ہمارا الہام یونہی بے مصداق برباد نہ ہو جائے۔ اسی پر لگا دیا۔ مگر چند ہی ماہ بعد سابقہ بیانوں پر بکمال صفائی جھاڑو پھیر کر اپنی غیب دانی کے ثبوت میں کابلی مقتولوں کو مصداق بنا دیا گیا سچ ہے۔

بدوزد طمع دیدۂ ہوشمند

الہامی دوکان کی چوتھی بوتل

یکم ؍ جون ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی نے حسب عادت کئی ایک گول مول فقرات بنام الہام سنائے ۔ ان میں ایک یہ بھی تھا۔ ”عفت الديار محلها ومقامها“

یہ الہام اخبار الحکم ٣١ مئی ١٩٠٤ء کے ص ٩ کالم ٤ پر درج ہے۔ اس کے آگے خطوط وحدانی کے اندر مرقوم ہے۔ (متعلقہ طاعون) اس کے سوا اور کوئی لفظ اس کی تشریح میں نہیں۔ نہ تو اس کا ترجمہ ہی کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ کسی آئندہ پڑنے والی طاعون کی بیماری کے بارے میں

٢٣

صفحہ ٥١٢

ہے ۔ یا گذشتہ طاعون کی حکایت ہے۔ جس نے قادیان میں زور دار صفائی پھیری تھی۔ بہرحال ایک ربڑ کا گیند ہے۔ جسے ٹھوکر مار کر ہر طرف لڑھکایا جا سکتا ہے۔

ناظرین کرام ! قبل اس کے کہ میں آپ کو یہ بتاؤں کہ مرزا قادیانی کا اس دورخی سہ رخی گولائی سے مطلب کیا تھا۔ آپ کو اس فقرہ کی کچھ تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔ یہ شعر لبید بن ربیعۃ العامری کا ہے۔ جو اس کے قصیدہ کا اوّل مصرع ہے۔ جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے۔ اس کا ترجمہ بالفاظ مرزا یہ ہے۔ ”میرے پیاروں کے گھر منہدم ہو گئے ۔ ان عمارتوں کا نام و نشان نہ رہا۔ جو عارضی سکونت کی عمارتیں تھیں اور نہ وہ عمارتیں رہیں۔ جو مستقل سکونت کی عمارتیں تھیں ۔“ ادھر ہمارے پنجابی مسیح قادیانی نبی نے اسے اپنا الہام بنا کر شائع کر دیا۔ بہر حال اس ”الہام“ میں طاعون کا کوئی ذکر نہیں۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٢٨)

مگر مرزا قادیانی نے پنجاب میں طاعون کی رفتار دیکھ کر اسے متعلق بطاعون ظاہر کیا۔ مطلب یہ کہ اگر آئندہ زمانہ میں مثل سابق پنجاب میں کبھی دوبارہ طاعون کا زور ہوا تو کہہ دیں گے کہ دیکھو! ہم نے پہلے سے ہی اس کی خبر دے رکھی تھی۔ اب کوئی سخت بے حیا ہی ہوگا۔ جو اس صریح واضح اور عظیم الشان فوق العادت پیش گوئی سے منکر ہو اور اگر طاعون نہ پھیلا تو چونکہ اس مصرع میں زمانہ ماضی کا ذکر ہے۔ کہہ دوں گا کہ ان آنکھوں کے اندھوں بدذات علماء کو نظر نہیں آتا کہ الہام میں صاف ماضی کا ذکر ہے۔ چنانچہ ١٩٠٤ء میں جب پنجاب میں طاعون کا تھوڑا سا زور ہوا تو آپ نے جھٹ کہہ دیا کہ: ”دوستو! خدا تعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ آپ صاحبوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے آج سے قریباً قریباً نو ماہ پہلے ”الحکم“ اور ”البدر“ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر یہ وحی الٰہی شائع کرائی تھی کہ :” عفت الدیار محلها ومقامها “ یعنی ملک عذاب الٰہی سے مٹ جانے کو ہے۔ نہ مستقل سکونت کی جگہ رہے گی اور نہ عارضی سکونت کی۔ یعنی طاعون کی وبا ہر جگہ عام طور پر پڑے گی اور سخت پڑے گی ۔ دیکھو اخبار الحکم ٣٠ مئی ١٩٠٤ء (غلط ہے۔ صحیح ٣١ جولائی ١٩٠٢ء ہے۔ ناقل) نمبر ١٨ ج ٨ کالم ٣ (جھوٹ ہے کالم نمبر ٤ میں ہے۔ ناقل) اور اخبار البدر نمبر ٢٠، ٢١ مورخہ ٢٤ مئی، یکم جون ١٩٠٤ء۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت بہت قریب آ گیا ہے میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں۔ بطور کشف دیکھا ہے کہ درد ناک موتوں سے عجیب طرح پر شورِ قیامت برپا ہے۔ میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی

٢٤

صفحہ ٥١٣

لگ رہی ہے۔ خدا نے مجھے خبر دی ہے۔ طاعون کے اس سخت حملہ کی جو عنقریب ہونے والا ہے۔ یہ اس لئے کہ لوگ متنبہ ہو جائیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥١٥، اشتہار الوصیت)

اس تحریر میں خود مرزا قادیانی نے اس فقرہ عفت الدیار سے مراد بوحی الٰہی طاعون لکھی ہے۔ اس کی مزید تشریح دوسرے مقام پر یوں کی گئی ہے کہ: ”کسوف اور خسوف کے ساتھ ہی قرآن شریف میں این المفر آیا ہے۔ جس سے یہی مراد ہے کہ طاعون اس کثرت سے ہوگی کہ کوئی جگہ پناہ نہ رہے گی۔ میرے الہام عفت الدیار محلھا ومقامھا کے یہی معنی ہیں۔“

ناظرین! اس لفظ ”یہی“ کو یاد رکھیں۔ (اخبار الحکم ٢٤؍نومبر ١٩٠٤ء ص٢) حضرات! دیکھئے کس زور شور سے اس الہام سے لفظ یہی کے ساتھ طاعون پر تمسک کیا ہے۔ مگر آپ یہ سن کر انگشت بدنداں رہ جائیں گے کہ مرزا قادیانی نے اسی الہام سے (جس کا مطلب یہاں طاعون بتایا ہے وہ بھی لفظ یہی کے ساتھ جو حصر کے لئے آتا ہے) دوسرے وقت اسی لفظ یہی سے زلزلہ عظیمہ کے بعد اس کا مطلب زلزلہ بتایا ہے۔ ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں اور مرزا قادیانی کی مسیحیت کی داد دیں۔ آپ حکم ہیں۔

”دیکھو وہ نشان کیسا پورا ہوا اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے کہ پیش گوئی مذکورہ الحکم اور البدر میں اس زلزلہ سے قریباً پانچ ماہ پہلے شائع کر دی گئی تھی اور پیش گوئی یہ ہے۔ ”عفت الدیار محلھا ومقامھا“ اے عزیزو! اس کے یہی معنی ہیں کہ محلوں اور مقاموں کا نام ونشان نہ رہے گا۔ طاعون تو صرف صاحب خانہ کو لیتی ہے۔ مگر جس حادثہ کی اس وحی الٰہی میں خبر دی گئی۔ اس کے تو یہ معنی ہیں کہ نہ خانہ رہے گا نہ صاحب خانہ۔ سو خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہو گیا۔ آپ صاحبوں کو معلوم ہے کہ اس کی نسبت اشتہار الوصیت میں خبر دی گئی تھی ١؎“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٢٢)

باانصاف و باایمان اصحاب ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے تو بڑے زور شور سے اس الہام کو یہی کے لفظ سے مخصوص بہ طاعون لکھا۔ مگر زلزلہ عظیمہ کے بعد اسی لفظ یہی سے زلزلہ کے متعلق محصور کر لیا۔ کیا یہ خلل دماغ تو نہیں؟

١؎ مثل مشہور ۔ دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ اس جگہ ٹھیک چسپاں ہو رہی ہے۔ ناظرین اشتہار الوصیت کی عبارت ایک دفعہ پھر پڑھ لیں۔ وہاں صاف الفاظ میں اس فقرہ کا مطلب طاعون لکھا ہے۔

٢٥

صفحہ ٥١٤

مغالطہ در مغالطہ

اور ملاحظہ ہو کہ جب لوگوں نے اس دورنگی پر اعتراض کیا تو اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے یہ لکھا کہ: ”ایڈیٹر الحکم نے (جو اس الہام کو ٣١؍ مئی ١٩٠٦ء کے پرچہ خطوط وحدانی کے اندر متعلقہ طاعون لکھا ہے۔ ناقل) ایسا لکھنے میں غلطی کی اور ایسی غلطی خود انبیاء علیہم السلام سے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں بعض دفعہ ہوتی رہی ہے۔“

(ضمیمہ نصرۃ الحق ص ١٩، خزائن ج ٢١ ص ١٧٣)

اف رے غلط بیانی! آہ رے دروغ بافی! قارئین عظام ملاحظہ ہو کس قدر دھوکہ دیا ہے ۔ آپ ہی تو اپنے اشتہار الوصیت میں اس کو متعلقہ طاعون لکھا۔ پھر اخبار الحکم ٢٤؍ مئی ١٩٠٦ء میں لفظ یہی کے ساتھ طاعون ہی سے حصر کیا۔ مگر یہاں معترض کے جواب میں ایڈیٹر الحکم والی تحریر کو پیش کر کے اس غلطی کو اس بے چارے ناکردہ گناہ کے سر تھوپ دیا۔ افسوس صد افسوس!

اوّل تو یہی جھوٹ ہے کہ اخبار الحکم ٣١؍ مئی ١٩٠٦ء کے الفاظ ایڈیٹر الحکم کے ذاتی تھے۔ یقیناً وہ موافق تشریح مرزا تھے۔ دوم بفرض محال تسلیم بھی کیا جائے تو خود مرزا قادیانی نے جو اپنی خود نوشت تحریروں میں اسے طاعون سے محصور کیا ہے۔ اس کا کیا جواب؟

احمدی دوستو! ایمان سے کہو کہ خدا کے نبی ایسے ہی ہوتے ہیں جو بات بات میں دورنگی سہ رخی باتیں اور اپنی اغلاط کو دوسروں کے سر منڈھیں۔ انصاف!

الہامی دوکان کی پانچویں بوتل

براہین احمدیہ میں اپنے الہاموں کی نمبر شماری کرتے ہوئے (ص ٥٥٧، خزائن ج١ ص ٦٥٧) پر ایک الہام یہ لکھا ہے: ”الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوالعزم“ اس جگہ ایک فتنہ ہے۔ سو اولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر۔ ”فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا“ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔ قوۃ الرحمان بید اللہ الصمد یہ خدا کی قدرت ہے جو اپنے بندے کے لئے وہ ظاہر کرے گا۔

مرزا قادیانی کے اس خود ساختہ بے تعین و تخصیص بے سروپا فقرہ سے ظاہر ہے کہ براہین احمدیہ کے وقت جن مشکلات میں مرزا قادیانی گھرے ہوئے تھے۔ ان سے رہائی ہوئی۔ چنانچہ الفاظ ”اس جگہ ایک فتنہ ہے“ سے موجود فتنہ کا اظہار ہو رہا ہے۔ ان سطور میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ آئندہ کسی دور دراز زمانہ میں جب مرزا قادیانی زیر تیغ ہوں گے۔ محفوظ رہیں گے۔

سترہ سال بعد

١٨٩٧ء میں جب کہ مرزا قادیانی کا ایک اشد مخالف پنڈت لیکھرام کسی ظالم سفاک

٢٦

صفحہ ٥١٥

کے ہاتھوں قتل کیا گیا تو آریوں نے اس قتل میں مرزا قادیانی کا ہاتھ کام کرتا ہوا بتایا۔ چنانچہ اس پر بڑا شور اٹھا۔ بعض آریوں نے مرزا قادیانی کو قتل کی دھمکیاں بھی دیں اور مرزا قادیانی کی خانہ تلاشی بھی ہوئی۔ چونکہ کوئی ثبوت اس قسم کا مہیا نہ ہو سکا۔ جس سے مرزا قادیانی مجرم ثابت ہوتے۔ اس لئے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

اس واقعہ سے مرزا قادیانی نے اپنی خدانمائی ثابت کرنے کے لئے اپنے سابقہ گول مول الہاموں پر ایک گہری نظر ڈالی۔ آخر آپ کو چند ایک فقرات جو ہر طرف لگائے جاسکیں مل ہی گئے۔ منجملہ ان کے ایک یہ الہام پیش کیا گیا۔ جس کا اوپر تذکرہ ہو چکا ہے۔ آپ نے اس الہام سے بایں طرز استدلال کیا کہ اس فتنہ کی خبر مجھے سترہ برس پہلے خدا نے دے رکھی تھی جو حرف بحرف پورا صحیح ثابت ہوا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ ”پھر آگے دوسرے الہامات ہیں جو اس کے بعد ہیں۔ جن میں صریح اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کب اور کس وقت ہوگا اور اس قسم کے ارادے اور قتل کے منصوبے کس زمانہ میں ہوں گے اور اس سے پہلے کیا علامتیں ظاہر ہوں گی اور وہ الہام یہ ہے جو براہین احمدیہ کے ص ٥٥٧ میں ہے۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوالعزم . فلما تجلی ربه للجبل جعله دكا ۔ ان الہامات میں صاف فرما دیا۔ وہ قتل کے منصوبے اس وقت ہوں گے جبکہ ایک چمکدار نشان ظاہر ہوگا۔ اسی وجہ سے ان منصوبوں کا نام اخیر کے الہام میں فتنہ رکھا اور فرمایا کہ اس جگہ فتنہ ہوگا۔ پس اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر چاہئے اور یہ بھی فرمایا کہ آخر وہ فتنہ نابود ہو جائے گا۔ یہ تین فتنے ہیں جن کا براہین میں ذکر ہوا اور یہ تینوں ظہور میں بھی آ گئے۔“

(استفتاء ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨)

ہم حیران ہیں کہ ان پر از غلط کاروائیوں پر کہاں تک مغز کھپائی کریں۔ مرزا قادیانی کی اس قطعی اور یقینی غیب دانی کا پول اور ان کے پرلے درجہ کا غیر صادق مگر ہوشیار دکاندار ہونے کا یہی ثبوت کافی ہے کہ اس تحریر کے آٹھ سال بعد خود مرزا قادیانی نے اسی الہام کو زلزلہ عظیم کے متعلق بتایا ہے اور اس الہام کے متعلق سابقہ تشریحات کو عالم اخفا کی تاریک قبر میں دفن کرتے ہوئے وہی پرانا عذر کیا ہے کہ سابقہ زمانہ میں اس بات کی طرف میرا ذہن منتقل نہ ہو سکا۔ جس کا نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی کا کوئی بھی بیان صاف گو۔ راست باز انسانوں سا نہیں ہے۔

ناظرین! مرزا قادیانی کی اس الہامی پول کی حقیقت معلوم کرنے کو ان کا مندرجہ ذیل

٢٧

صفحہ ٥١٦

مضمون ملاحظہ فرمائیں: ”یادر ہے کہ ان دونوں زلزلوں کا ذکر میری کتاب براہین احمدیہ میں بھی موجود ہے جو آج سے پچیس سال پہلے اکثر ممالک میں شائع کی گئی تھی۔ اگرچہ اس وقت اس خارق عادت بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہو سکا۔ پیش گوئی براہین احمدیہ میں زلزلے کے بارے میں یہ ہے۔ میں اپنی چمک دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوالعزم ٠ فلما تجلی ربه للجبل جعله دکا قوة الرحمن لعبيد الله الصمد۔ عربی کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ ان دنوں میں تیرے پر ایک فتنہ برپا کیا جائے گا۔ پس خدا تجھے بری کرنے کے لئے ایک نشانی دکھائے گا اور وہ یہ کہ پہاڑ پر اس کی تجلی ہوگی اور وہ پہاڑ کو پارہ پارہ کردے گا۔ یہ خدا کی قوت سے ہوگا۔ تا وہ اپنے بندہ کے لئے نشان دکھائے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٥)

مرزائی بھائیو! ایمان و دیانت کو ملحوظ رکھ کر سوچو کہ تمہارے نزدیک مسیح موعود صادق نبی بننے والے انسان کو اسی قدر دیانت و امانت راست گوئی و راست روی یا بالفاظ دیگر اسی قدر لفاظی ولسانی، مغالطہ و مبالغہ و دروغ بافی کی ضرورت ہے۔ یا اس سے بھی زیادہ کی؟

بھائیو! اللہ سے ڈرو!!

چند روز دنیا کمانے کی خاطر یا رشتہ داروں کے بندھنوں کی وجہ سے یا اپنے افسران بالا کی خوشنودی حاصل کرنے کو یا محض بھیڑ چال کی بناء پر دیکھا دیکھی اپنی ایمان جیسی متاع عزیز کی مبارک و مقدس گٹھڑی کو بدست خود کذب و مغالطہ کی بھڑکتی ہوئی چتا میں ڈال کر یوں بے دردی سے مت پھونکو؎

ہمارا کام سمجھانا ہے بھائیو!

ناظرین کرام!

مرزا قادیانی کی تحریرات میں اس قسم کے مغالطات کی بکثرت مثالیں ہیں۔ جن میں سے بطور نمونہ مشت از خروارے دو دانے از انبارے آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ اگر آپ لوگوں نے اس رسالہ کو مفید سمجھا تو اس کے دوسرے حصہ میں بقایا مثالیں بھی درج کی جائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين“

خادم امت مرزا محمد عبداللہ معمار امرتسر کٹڑہ کرم سنگھ، کوچہ جٹاں ڈار

٢٨

منشی (مولانا

PDF 518

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

روئداد

مناظرہ روپڑ

(مولانا منشی محمد عبداللہ معمار امرتسریؒ)

صفحہ ٥١٨

بسم الله الرحمن الرحیم! الحمدلله رب العالمین والصلوۃ علیٰ رسولہ الکریم!

حضرات! جون ١٩١٢ء کا واقعہ ہے کہ قصبہ روپڑ ضلع انبالہ میں فرقہ مرزائیہ نے ایک عام جلسہ منعقد کیا۔ جس کے انتظامات نہایت اخفاء میں رکھے کہ اہل اسلام کو ایک دن قبل ہی اس کا علم ہوا۔ جب کہ مرزائیوں نے ایک غیر آباد جگہ میں اپنا سائبان نصب کیا۔ الحمدللہ قصبہ روپڑ میں اس وقت تک اس فرقہ کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اگرچہ اس فرقہ نے متعدد دفعہ ناکام کوشش کی۔ آخری ناکام کوشش غالباً نومبر ١٩١٢ء میں تھی۔ جس کی بناء پر خاکسار راقم الحروف اور مولوی عبدالسلام سابق امیر جماعت احمدیہ کے درمیان مناظرہ کے شرائط طے ہوئے۔ ان شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جماعت احمدیہ تاریخ مناظرہ سے پندرہ دن پہلے اہل اسلام کو اپنے مناظر کے نام سے مطلع کرے گی۔ اس کے بعد ایک ثالث کا تقرر ہوگا۔ چنانچہ جماعت احمدیہ نے اس شرط کی خلاف ورزی کی۔ آخر تاریخ تک کسی قسم کی کوئی اطلاع اہل اسلام روپڑ کو نہ دی۔ جس سے روپڑ والوں کا خیال ہو گیا کہ مناظرہ نہیں ہوگا اور یہ خیال یقین کے درجہ تک پہنچ گیا۔ چنانچہ جگہ وغیرہ کے انتظام کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔ بلکہ ہم لوگ بالکل غافل ہوگئے۔ ادھر فرقہ مرزائیہ نے یہ چال چلی کہ تاریخ مناظرہ کی آخری رات کے دس بجے راقم الحروف کے مکان پر پہنچ کر دستک دی۔ سردیوں کی راتیں اور اس پر دس بج چکے تھے۔ بندہ جب بیٹھک میں پہنچا تو ان کی صورت دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور اپنی بے بسی پر متفکر۔ مرزائی حضرات نہایت تپاک سے ملاقات کو لپکے اور فرمایا کہ صبح مناظرہ کی تاریخ ہے۔ یقین ہے کہ جناب نے حسب شرائط مکان وغیرہ کا انتظام کر لیا ہوگا۔ بندہ نے محض اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اثبات میں جواب دیا اور دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ رات رات میں انتظام کرلوں گا اور ان کی خلاف ورزی کا ذکر برسر اجلاس کروں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوئی اور رات کے ٢ بجے تک مکان وغیرہ کا انتظام مکمل کر کے اطمینان سے گھر پہنچا۔ لیکن سوائے چند دوستوں اور اہل محلہ کے کسی کو اطلاع نہ دے سکا۔ صبح ہوتے ہی مرزائی حضرات زائد از دو صد معہ اپنے مناظر مولوی محمد اسماعیل صاحب آ موجود ہوئے۔ اہل اسلام کی طرف سے جیسا پہلے عرض کیا گیا ہے۔ مناظرہ وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ بندہ نے خود کو پیش کر دیا۔ فرقہ مرزائیہ کے صدر چوہدری غلام احمد صاحب کاٹھ گڑھ تھے اور اہل اسلام کی طرف سے بابو بہادر دین ہیڈ کلرک نہر ڈویژن روپڑ صدر اور بندہ مناظر ، شرائط پر گفتگو ہوئی۔ خلاف ورزی کو تسلیم

٢

صفحہ ٥١٩

بسم الله الرحمن الرحيم! عالمین والصلوٰۃ علیٰ رسوله الكريم! واقعہ یہ ہے کہ قصبہ روپڑ ضلع انبالہ میں فرقہ مرزائیہ نے ایک عام بہت اخفاء میں رکھے کہ اہل اسلام کو ایک دن قبل ہی اس کا علم آباد جگہ میں اپنا سائبان نصب کیا۔ الحمد للہ قصبہ روپڑ میں اس ہے۔ اگرچہ اس فرقہ نے متعدد دفعہ ناکام کوشش کی۔ آخری ا۔ جس کی بناء پر خاکسار راقم الحروف اور مولوی عبدالسلام ن مناظرہ کے شرائط طے ہوئے۔ ان شرائط میں ایک شرط یہ رہ سے پندرہ دن پہلے اہل اسلام کو اپنے مناظر کے نام سے حث کا تقرر ہوگا۔ چنانچہ جماعت احمدیہ نے اس شرط کی خلاف کوئی اطلاع اہل اسلام روپڑ کو نہ دی۔ جس سے روپڑ والوں کا خیال یقین کے درجہ تک پہنچ گیا۔ چنانچہ جگہ وغیرہ کے انتظام لکل غافل ہو گئے۔ ادھر فرقہ مرزائیہ نے یہ چال چلی کہ تاریخ بجے راقم الحروف کے مکان پر پہنچ کر دستک دی۔ سردیوں کی ندہ جب بیٹھک میں پہنچا تو ان کی صورت دیکھ کر سخت متعجب حضرات نہایت تپاک سے ملاقات کو لپکے اور فرمایا کہ صبح جناب نے حسب شرائط مکان وغیرہ کا انتظام کر لیا ہوگا۔ بندہ اثبات میں جواب دیا اور دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ رات خلاف ورزی کا ذکر برسر اجلاس کروں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی ٢ بجے تک مکان وغیرہ کا انتظام مکمل کر کے اطمینان سے گھر ہل محلہ کے کسی کو اطلاع نہ دے سکا۔ صبح ہوتے ہی مرزائی ظر مولوی محمد اسماعیل صاحب آموجود ہوئے۔ اہل اسلام کی ۔ مناظرہ وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ بندہ نے خود کو پیش کر دیا۔ احمد صاحب کاٹ گڑھ تھے اور اہل اسلام کی طرف سے بابو صدر اور بندہ مناظر بشرائط پر گفتگو ہوئی۔ خلاف ورزی کو تسلیم ٢

کیا ۔ چوہدری صاحب موصوف صدر جماعت احمدیہ نے نہایت ندامت سے اس خلاف ورزی کی معافی چاہی اور مناظرہ دوسرے دن مسجد الیٰ والی میں بلاشرائط ان کے اصرار پر مقرر ہوا۔ اہل اسلام کی طرف سے حافظ عبداللہ صاحب پیش ہوئے۔ چونکہ مولوی محمد اسماعیل احمدی مناظر کی زبان لکنت کرتی تھی۔ نیز مبحث صرف اثبات نبوت مرزا تھا۔ جو کہ مولوی صاحب احمدی کے بس کا روگ نہ تھا۔ مولوی صاحب کو تپ ہو گیا اور نبوت کی تعریف میں ہی الجھ کر رہ گئے۔ کیونکہ احمدی صاحب کی قابلیت سے خود مرزا قادیانی اس تعریف کے نمایاں فرد تھے۔ حالانکہ حافظ صاحب موصوف جیسے ماہر استاد حدیث ہیں ویسے مناظر نہیں۔ لیکن اس کا علاج کہ اثبات نبوت مرزا صاحب ناممکن کو ممکن بنایا ہے۔ ان کے خود استاد سے جب بن آیا تو مولوی محمد اسماعیل صاحب کیا کرتے۔ آخر تپ کے سایہ میں اپنی جان چھڑائی اور گھر کو سدھارے۔ جان بچی لاکھوں پائے۔ میاں بدھو گھر کو آئے۔ اس کے بعد عرصہ تقریباً ١٩ سال تک اس طرف کا رخ نہ کیا۔

اب پھر مینڈکی کو زکام ہوا اور الٹے چھیڑ چھاڑ کرنے۔ لیکن اہل شہر کو تجربہ ہو چکا تھا۔ اس لئے فی الفور آمادہ ہو گئے اور ایک جمعیت اشاعت اسلام کے نام سے قائم کر لی۔ جس میں حنفی اور اہل حدیث تمام اصحاب شامل ہو گئے اور راقم الحروف کو اس کا سیکرٹری تجویز کر کے فرقہ مرزائیہ کے ساتھ خط و کتابت کا حکم دیا۔ چنانچہ ٣؍ جولائی ١٩٣١ء سے بندہ نے ان سے شرائط مناظرہ کی تحریک کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جب انہیں کی استدعا کے مطابق جواب ملا۔ خوشی سے شرائط کا فیصلہ کر لیتے۔ لیکن ہوا یہ کہ ہفتوں جواب ندارد۔ متعدد خطوط کے بعد جواب ملا تو یہ کہ ہم تجھ کو (بندہ) نہیں جانتے۔ غیر معروف شخص ہو کسی جماعت کے نمائندہ نہیں ہو۔ اس لئے یکصد اہل اسلام کی دستخطی تصدیق ارسال کرو۔ ہاں حافظ عبداللہ صاحب امیر جماعت اہل حدیث کے نمائندہ ہیں۔ ان سے ہم بلا تصدیق شرائط طے کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ ہی حافظ عبداللہ صاحب کو ایک خط لکھا کہ مناظرہ کی خاطر دیہات سے آپ نے بہت عرصہ سے چندہ جمع کیا ہوا ہے۔ آپ مناظرہ کیوں نہیں کرتے۔ خود شرائط کا تصفیہ کیوں نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے جواب میں بندہ نے ١٩١٢ء کے مناظرہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ عجب اوندھی عقل کے مالک ہو۔ جو شخص ١٩١٢ء میں آپ کا واقف تھا اور شرائط مناظرہ طے کر سکتا تھا۔ ٢٠ سال بعد غیر معروف اور ناقابل تصفیہ ہو گیا۔ حالانکہ اس وقت کی خط و کتابت بحیثیت سیکرٹری کے ہو رہی ہے۔ گویا تمام اہل اسلام قصبہ روپڑ کا نمائندہ بھی ہوں۔ اس جواب پر جنوری ١٩٣٢ء میں شرائط ٣

صفحہ ٥٢٠

مناظرہ ہوئیں۔ فطرۃً یہ لوگ اپنے مطلب کے پکے ہیں۔ یہ جانتے تھے کہ حافظ صاحب متبحر عالم ہونے کے باوجود سادہ لوح سید ہیں۔ ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھنے والے ہیں۔ اگر شرائط ان سے طے ہو جائیں تو دو فائدہ ہوں گے۔ ایک شرائط میں کامیابی حسب منشا کی امید ہے۔ دوسرا حافظ صاحب خود مناظر ہوں گے۔ جو اپنی صحت جسمانی کی کمزوری سے ہمارے شور و غوغہ میں شائد گھبرا جائیں اور ہمیں اتنی ذلت نہ ہو۔ جتنی دوسرے علماء کے سامنے اٹھانی پڑے۔ مگر ان کی یہ بات نہ بنی۔ حافظ صاحب نے ہماری گذارش کو قبولیت کا شرف دیا اور شرائط بذریعہ سیکرٹری (بندہ راقم الحروف) جمعیت اشاعت اسلام کے طے ہوئی۔ مناظرہ کا جو نتیجہ ہوا وہ آپ کو روئیداد کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔

میرے لئے ضروری ہے کہ میں تمام حضرات علماء کا تہ دل سے اہل قصبہ روپڑ کی طرف سے شکریہ ادا کروں۔ جنہوں نے ہماری استدعا پر زحمت سفر برداشت کی اور کسی قسم کی رقم کا بطور نذرانہ مطالبہ وغیرہ نہیں کیا۔ بلکہ فراخ حوصلگی سے جن اصحاب کو زائد از سفر خرچ پیش کیا واپس کر دیا اور کہا کہ اسلام کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہم اس پر اجرت لے کر اپنا عمل ضائع نہیں کرتے۔ ”جزاءھم اللہ احسن الجزاء“ اللہ سبحانہ ہر مؤمن مسلمان کو ایسا حوصلہ عطاء فرماوے۔ آمین!

میں اپنے فرض سے کماحقہ سبکدوش نہیں ہوں گا۔ اگر میں تمام اہل شہر کا شکریہ ادا نہ کروں۔ جنہوں نے ہمیں ہر قسم کی امداد دے کر اس عظیم الشان فرض سے عہد برا ہونے کا موقعہ دیا۔ خصوصاً وہ صاحبان جنہوں نے علاوہ نقد امداد کے علماء اور دیگر معززین حضرات کا دوران مناظرہ میں مکمل خوردونوش کا انتظام کر کے اہل شہر کی عزت کو چار چاند لگا دیئے۔ میری مراد شیخ رحمت الہی صاحب میونسپل کمشنر و حاجی شیخ احسان الہی صاحب ٹھیکیدار و حاجی شیخ رحم الہی صاحب میونسپل کمشنر و شیخ حاجی ظہور الہی صاحب و شیخ نعمت الہی صاحبان سے ہے۔ اللہ ان کو اس سے زیادہ ترقی دے اور حاسدوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین!

سب سے زیادہ اور قابل تحسین ہستی جس کا وجود ہمارے لئے باعث صد ہزار افتخار ہے ۔ مستری محمد عبداللہ صاحب معمار امرتسری ہیں۔ جنہوں نے بندہ کو خصوصاً اور تمام ارکان جمعیت کو عموماً اپنا گرویدہ احسان بنالیا ہے کہ اس روئیداد کی ترتیب دے کر ہمیں اصل فرض سے باحسن طریق سبکدوش کر دیا۔ جملہ ارکان آپ کی اس امداد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

٤

صفحہ ٥٢١

میں ناقدر شناس کہلاؤں گا۔ اگر میں اپنے مکرم سید سعید الدین صاحب کا شکریہ ادا نہ کروں۔ جنہوں نے کمال عنایت سے اپنا عظیم الشان مکان حضرات علماء کی رہائش کے لئے عطاء کیا۔ جزاہ اللہ!

مناظرہ نہایت امن وامان سے سرانجام پایا اور پبلک کو حسب منشاء اراکین جمعیت پورا فائدہ پہنچا۔ اگرچہ مناظر احمدیہ جماعت نے پوری کوشش کی کہ عوام جوش میں آ جائیں۔ مگر کچھ عوام کی امن پسندی اور شیخ عبدالحکیم صاحب گجراتی صدر اہل اسلام کی ہوش مندی اور ان سے زیادہ سردار کابل سنگھ صاحب سب انسپکٹر پولیس روپڑ، ایڈیشنل مجسٹریٹ جناب چوہدری جے نرائن سنگھ صاحب کی قابلیت اور دانشوری نے مجمع کو نہایت عمدہ طریق سے قابو میں رکھا۔ جس کا شکریہ اراکین انجمن ادا کرتے ہیں۔

نوٹ: بابو عبدالرحمن صاحب مناظر جماعت احمدی کے رویہ کی اصلاح کے لئے میں اہل گجرات سے اپیل کرتا ہوں کہ بابو صاحب موصوف کا گجراتی ہونا آپ صاحبان کے لئے باعث ندامت ہے۔ اگرچہ احمدی جماعت گجرات پنجاب کے بہت سے افراد میرے مہربان ہیں۔ لیکن بابو صاحب موصوف کی اصلاح کو شاید ان کی تنہا کوشش کارگر نہ ہو۔ اس لئے آپ اپنے شہر کی عزت کی خاطر ان کی امداد کریں اور بابو صاحب موصوف سے کہیں کہ مناظر و مبلغ کے لئے جو اوصاف ضروری ہیں۔ اگر تمام کے تمام آپ اپنی ذات میں جمع نہ کر سکیں تو کم از کم طرز گفتگو مہذبانہ کرنے کی عادت پیدا کریں اور قرآن مجید اچھے حافظ سے دوبارہ پڑھ لیں۔ تاکہ تلاوت میں صحت ہو جائے۔ ورنہ اقل درجہ گجرات سے باہر جا کر اپنے کو گجراتی ظاہر نہ کریں تاکہ تمام اہل گجرات کی سبکی نہ ہو۔

خادم دین: عبدالمجید مولوی فاضل، سیکرٹری جمعیت اشاعت اسلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

’’سب تعریف اس پاک مجمع صفات کے لئے جو رب العالمین ہے اور رحمان ہے اور رحیم ہے۔ جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلائے ان دونوں سے بکثرت مرد عورت۔ پھر ان کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء وخیر الرسل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٥)

٥

صفحہ ٥٢٢

اور اس رسول انام عالی مقام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ وہ کتاب ہدایت انتساب بھیجی جو ہر ملک، ہر شہر، ہر قریہ، ہر زمانہ، ہر وقت کے مناسب حال بلکہ ہر فرد بنی نوع انسان کی طبیعت کے موافق۔ نئی دنیا کو بھی ویسی ہی مفید جیسے پرانی کو۔ برفستانی علاقے میں بھی ویسی ہی سہل العمل جیسی ریگستانی گرم خطوں میں۔ بزرگ ترین کتاب اس مقدس رسول اللہ ﷺ پر نازل کی۔ جس نے اپنی مزکیٰ و مطہر فطرت، اپنے کلمات طیبات، اپنے فیض صحبت سے عرب کی سی جاہل اجڈ، غیر متمدن، سرکش قوم کو آسمان انسانیت کے درخشندہ ستارے بنا دیا۔ ان کے اکھڑ پن کو نرمی اور رحم دلی سے، ان کی جہالت کو علم وفضل سے، ان کی غیر مدنی کو امن پسند بلکہ امن ساز جتھوں سے ان کی سرکشی کو کامل اطاعت شعاری سے بدل دیا۔ وہ جنہیں گلہ بانی کی بھی تمیز نہ تھی۔ چند ہی سالوں کے اندر اس مقدس رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کی برکت سے زمام سلطنت سنبھالے ہوئے جہانبانی کرنے لگے۔ ”اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد“

دیباچہ قابل ملاحظہ

برادران اسلام! یہ بات بالکل سچ ہے کہ: ”حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر زمانہ ترقی کرتا گیا اور قرآن مجید کے وقت دائرہ کی طرح پورا ہو گیا۔ حدیث میں ہے کہ زمانہ مستدیر ہو گیا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبیین“ ضرورتیں نبوت کا انجن ہیں۔ ظلماتی راتیں اس نور (نبوت) کو کھینچتی ہیں۔ جو تاریکی سے دنیا کو نجات دے۔ اس ضرورت کے موافق نبوت کا سلسلہ شروع ہوا اور جب قرآن مجید کے زمانہ تک پہنچا تو مکمل ہو گیا۔ اب سب ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ اس سے لازم کہ آپ یعنی آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے۔“

(تقریر مرزا در سالانہ جلسہ قادیان منعقدہ ١٨٩٧ء ص ٨٧)

مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ باوجود ختم ہو چکنے سلسلہ نبوت کے اور باوجود اس کے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی آئندہ پیدا ہونے والوں سے نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعد بھی ایسی مشہور تھی کہ اس کی صحت میں کسی کو کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی۔“

(کتاب البریہ ص ١٨٤ خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)

صفحہ ٥٢٣

بلکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے آخیر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے۔ جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔

(ازالۃ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

پھر بھی بعض دنیا جیفہ کے طلب گاروں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسی پر بس نہ کی۔ بلکہ ”بکف چراغ داشتہ“ قرآن مجید اور احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے اجزائے نبوت ثابت کرنے کی کوشش یاللعجب کی۔ منجملہ ایسے اشخاص کے اسی صدی کے اندر اسی ملک پنجاب میں ایک صاحب مسمی مرزا غلام احمد قادیانی ولد حکیم غلام مرتضیٰ اٹھے جو ایک طرف تو دعویٰ نبوت کو کفر اور مدعی نبوت کو ”مسیلمہ کذاب کا بھائی“ (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٧) کہتے ہیں اور دوسری طرف برملا نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ صاحب بقول خود ١٢٦١ھ میں قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

جب سات سال کے ہوئے تو بقول خود مولوی فضل الٰہی سے قرآن شریف و فارسی کی چند کتابیں پھر بعمر دس سال مولوی فضل احمد سے کچھ عربی اور بعمر ١٧ سال مولوی گل علیشاہ (شیعہ) سے صرف ونحو کی چند کتابیں پڑھیں۔ علم طبابت میں بھی کچھ دستگاہ رکھتے تھے جو اپنے والد سے انہوں نے حاصل کیا۔

(دیکھو کتاب البریہ ص ١٦١، خزائن ج ١٣ ص ١٨١)

اس کے بعد حسب دستور تلاش معاش کی فکر پیدا ہوئی تو قادیان سے چل کر سیالکوٹ وارد ہوئے اور بمشاہرہ پندرہ روپے ماہوار کچہری میں ملازم ہوئے۔ طبیعت میں خواہش تفوق تھی اور موجودہ عہدہ محرری میں بالائی آمدنی حسب منشاء نہ ہوتی تھی۔ اس لئے قدم آگے بڑھایا اور مختاری کا امتحان دیا۔ قسمت کی نامرادی نے اثر دکھایا۔ امتحان میں فیل ہوئے۔ جس سے نہ صرف تمام وہ ہوائی قلعے جو کثیر آمدنی کی خیالی وہمی بنیادوں پر قائم کئے تھے۔ دھم سے گر کر چکنا چور ہو گئے۔ بلکہ نوکری سے بھی طبیعت اچاٹ ہو گئی۔ نوکری کو سلام کیا اور گھر کو سدھارے۔ مگر دل میں برابر حصول دولت کی خواہش ناموری کی امنگ موجود تھی۔

بچپن سے ہی مختلف مذاہب کی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور علم جیسا کہ مذکور ہو چکا ہے گی۔ خیر سے چھ درجے تک ہی پڑھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی عمر میں ہی دہریت کے عمیق گڑھے میں اوندھے منہ گرے۔ لہٰذا خدا کا خوف یا عاقبت کا فکر تو تھا ہی نہیں۔ نوکری سے چھوٹتے ہی دولت پیدا کرنے کے لئے نئے راستہ کا تجسس شروع کیا۔ تھوڑے عرصہ بعد ہی مذہب کی آڑ میں جلب زر کا آسان ترین راستہ ڈھونڈ نکالا۔ ابتداً خادم اسلام کی شکل میں نمودار ہوئے اور

٧

صفحہ ٥٢٤

آخر میں مذہب کے پیشواؤں سے چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ اشتہار بازی کے ذریعہ اپنی گمنام ہستی کو لوگوں سے روشناس کرایا۔ جب کچھ چرچا ہو گیا تو صداقت اسلام پر ایک کتاب براہین احمدیہ لکھنی شروع کی۔ اس کے ذریعہ سے سادہ لوح مسلمانوں کی خوب جیبیں خالی کیں اور مجدد، ملہم، محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب ان دعاویٰ پر اچھی طرح قدم جم گئے تو مثیل مسیح پھر مسیح موعود بنے۔ چونکہ احادیث میں مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ موجود ہے۔ اس لئے اس کو ظلی، بروزی، مثالی، جزوی، ناقص نبوت خود ساختہ اصطلاح میں ڈھالا۔

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨، ایام صلح اردو ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

اس کے بعد تو آپ کے دعاویٰ نے اس دریا قہار کی صورت اختیار کی۔ جس کا جب بند ٹوٹ جاتا ہے تو ہر اس چیز کو جو اس کے راستہ میں آئے بہا لے جاتا ہے۔ غیر تشریعی نبی، تشریعی نبی، جامع الانبیاء، ظلی خدا، بلکہ سچ مچ خدا، مالک کن فیکون، مختار احیاء اماتت وغیرہ وغیرہ سب کچھ ہی بن گئے۔ امت محمدیہ کے مسلمہ چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر جہنمی قرار دیا اور اسی پر بس نہ کی بلکہ ہر وہ شخص جو آپ کی تصدیق نہ کرے اس کو حرام زادہ، سور، کتا، بدذات، خبیث کا لقب دیا گیا۔ آخر خدائی غیرت نے جلوہ دکھایا۔ اس بڑھتی ہوئی ضال و مضل ہستی کو اجل کی ایک ہی ٹھوکر نے قبر میں جا لٹایا۔ چنانچہ کن فیکون کی ڈینگ مارنے و زندہ کرنے کے اختیارات دھرے کے دھرے ہی رہ گئے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بمقام لاہور بروز منگل بمرض ہیضہ سوا دس بجے دن کے لاکھوں روپیہ کی پیدا کردہ جائیداد کو بنظر حسرت دیکھتے ہوئے بعض اقوال خود کی رو سے بعمر ٥٩ سال اپنے افتراؤں کی سزا پانے کو حاکم حقیقی کے دربار میں بلائے گئے۔ متوفی مذکور اپنی زندگی میں اگر چہ بظاہر بڑی ڈینگیں مارا کرتے تھے کہ آؤ مجھ سے مباحثہ و مناظرہ وغیرہ کرلو۔ مگر جب علماء کی طرف سے آمادگی دیکھتے، بھاگ جاتے اور طرح طرح کے حیلوں، بہانوں سے ٹال دیتے۔

چنانچہ ١٩٠٢ء میں (اعجاز احمدی ص، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) کے اندر مولانا ثناء اللہ امرتسری کو مباحثہ کی دعوت دی اور ساتھ ہی پیشین گوئی جڑ دی کہ وہ قادیان میں نہیں آئیں گے۔ جب مولانا صاحب سر پر جا دھمکے اور مناظرہ کے لئے بلایا تو مرزا قادیانی نے بہانہ کردیا کہ میں نے خدا سے عہد کیا ہوا ہے کہ علماء سے مناظرہ نہ کروں گا۔

ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائے

مرزا قادیانی نے اپنی تمام عمر میں دو تین ہی مباحثے کئے اور مباہلہ تو ایک ہی کیا۔

٨

صفحہ ٥٢٥

مباحثوں میں بھی شکست کھائی اور مباہلہ سے بھی کاذب ہی ثابت ہوئے۔ مختصر یہ کہ مرزا قادیانی تو کبھی کبھار پھنسے پھنسائے میدان مباحثات میں قدم رکھا کرتے تھے۔ مگر ان کی وفات کے بعد مرزائیوں نے ان کے دعاوی باطلہ کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جگہ بہ جگہ مناظرات کا بازار گرم کیا۔ ہر مقام پر جہاں دو چار بھی مرزائی تھے انجمنیں قائم کیں۔ ہر جگہ جلسے ہونے لگے۔ جن میں کذب، دجل و خداع، مکر و فریب غرض ہر طور سے مرزائیت کی زہرناک ہوا پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

ملک پنجاب میں شائد ہی کوئی ایسا مقام ہو جہاں اس فرقہ محدثہ کا اثر نہ پہنچا ہو۔ روپڑ ضلع انبالہ اور اس کے گردو نواح میں بھی بعض غیر سعیدان ازلی اس مدعی فرقہ میں داخل ہوئے اور باوجود نوگرفتار ہونے کے شیخیاں بگھارنے لگے اور مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے۔ آخر نوبت باینجا رسید کہ اہل اسلام کو ان کی شیخی کرکری کرنے۔ نیز اس گمراہ طائفہ کا سد باب کرنے کے لئے مناظرہ کرنا پڑا۔

چنانچہ مورخہ ٢٠، ٢١ / مارچ ١٩٣٢ء کو مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے لواء محمدی سر بلند ہوا اور قادیانی جھنڈی کچھ اس طرح سرنگوں ہوئی کہ ان نواح میں دوبارہ اس کے قائم ہونے کی امید نہ رہی۔ ”فالحمد لله علی ذالك“

چونکہ اس مناظرہ میں اہل اسلام نے نمایاں فتح پائی۔ اس لئے اس کا اثر و یاد قائم رکھنے کے لئے جمعیت اشاعت اسلام روپڑ کے سرپرست اصحاب نے اس مناظرہ کو بصورت رسالہ شائع کرنے کا تہیہ کیا۔ جو آپ کے سامنے ہے۔ حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ سے اپنی مخلوق کو خاطر خواہ فائدہ پہنچاوے۔ آمین! خادم خاکسار: محمد عبداللہ معمار امرتسری

شرائط مناظرہ

جو جناب عبدالمنان صاحب امیر جماعت احمدیہ کاٹھ گڑھ وجناب مولوی عبدالمجید صاحب سیکرٹری جمعیت اشاعت اسلام روپڑ کے درمیان طے ہوئیں۔ درج ذیل ہیں۔ شرائط مناظرہ مابین جماعت احمدیہ کاٹھ گڑھ واہل اسلام روپڑ منعقدہ ٢٠، ٢١ / مارچ ١٩٣٢ء۔

بروز اتوار و پیر ہوگا۔

٩

صفحہ ٥٢٦

السلام پر گفتگو ہوگی۔ دوسری نشست ڈیڑھ بجے دوپہر سے لے کر ساڑھے چار بجے تک مبحث اثبات نبوت مرزا قادیانی ہوگا۔ جس میں مدعی جماعت احمدی ہوگی اور مجیب اہل اسلام روپڑ۔

ہوگی اور ایسا ہی مجیب کے لئے نصف گھنٹہ اور بعدہ دس دس منٹ۔

مرزا قادیانی پیش ہوں گے۔

دوسرے فریق کے صدر کی اجازت سے۔

اور بعد ١٨ کے تبدیل نہ ہوگا۔

مساوی ہوگا۔

العبد: عبدالمجید مولوی فاضل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام العبد: عبدالمنان قائمقام امیر جماعت احمدیہ کاٹھ گڑھ

تاریخ مقررہ سے ایک یوم پہلے علماء کرام جن کو برائے مناظرہ اہل اسلام نے بلایا تھا پہنچ گئے۔ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی و جناب مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی۔ خاکسار راقم الحروف بھی امرتسر سے ساتھ ہولیا۔ روپڑ کے اسٹیشن پر جمعیت اشاعت اسلام وانجمن خدام المسلمین روپڑ کے سربرآوردہ اصحاب و والنٹیر برائے استقبال موجود تھے۔ چنانچہ بڑی شان وشوکت سے بصورت جلوس جائے قیام پر سواری تانگہ پہنچے۔ مرزائی علماء بھی جو قادیان سے آئے تھے۔ اسی گاڑی سے اترے۔ بموجب مقولہ مشہور ”جیسی روح ویسے فرشتے“

١٠

صفحہ ٥٢٧

نہ ان کے لئے کوئی سواری مہیا کی گئی اور نہ ہی بعزت و تکریم ان کے لئے استقبال کیا گیا۔ ہمارے جلوس کے پیچھے پیچھے مجسم حزن و ملال بنے چلے آرہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی عزیز کو دفنا کر آئے ہیں۔

ہم بہ ہمراہی سینکڑوں فرزندان اسلام کے شاد و فرحاں جائے قیام پر پہنچے۔ انجمن خدام المسلمین کے تمام والنٹیئر ہر وقت خدمت گزاری میں منہمک نظر آتے تھے۔ شیخ عنایت اللہ صاحب سید عزیز احمد صاحب بھی شکر وثنا کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے عزیز اوقات دینی خدمت کے لئے وقف کر رکھے تھے۔ (مولوی عبدالمجید صاحب، مولوی فاضل، سیکرٹری جمعیت اشاعت اسلام روپڑ و جناب منشی نذر محمد صاحب پریزیڈنٹ جمعیت اشاعت اسلام روپڑ تو ان دنوں نہایت تندہی و جانفشانی سے مصروف کار تھے۔ ان کے معزز عہدے ہی ان کی مصروفیت کے مظہر ہیں۔ مرتب) جزاهم الله خير الجزاء!

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

شہر روپڑ کے تمام مسلمان حنفی، اہل حدیث، اہل تشیع سب نے اس مناظرہ کے لئے امداد دی۔ بلکہ دیگر شہروں کے مسلمانوں نے بھی۔ جزاهم الله!

مورخہ ٢٠/ مارچ کو مناظرہ شروع ہوا۔ مقام مناظرہ شہر روپڑ کے باہر تھوڑے فاصلہ پر تکیہ شاہ مسکین تھا۔

پہلے دن ہی پہلی نشست میں سامعین قریباً ایک ہزار تھے۔ بعد دوپہر تو بکثرت لوگ شامل ہوئے۔ دوسرے دن بھی حاضری اچھی خاصی تھی۔ مناظرہ بامن و چین ختم ہوا۔ پولیس کا انتظام نہایت عمدہ تھا۔ خاص کر جناب ایس۔ ڈی۔ او صاحب جناب سردار مائل سنگھ صاحب سب انسپکٹر پولیس خاص طور پر قابل تعریف ہیں۔ آپ ہر دو افسران پولیس بہت سمجھدار، بالغ نظر، لائق و مدبر منتظم ہیں اور اس مناظرہ میں جب بھی کسی امر پر جھگڑا پیدا ہوا۔ افسران مذکورہ نے بلا پاسداری کسی فریق کے احسن طور پر اس کو نمٹایا۔ مرحبا!

مرزائیوں کی شرائط شکنی و بدتہذیبی

خدا کا شکر ہے کہ ہماری طرف سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی جس پر فریق ثانی کو اعتراض ہوا ہو۔ مگر افسوس ہے کہ فریق ثانی نے نہ صرف بار بار شرائط طے شدہ کی خلاف ہی کی بلکہ اخلاقی نقطہ نگاہ سے اکثر مواقع پر ہمیں شکایت کا موقعہ دیا۔ بار بار جماعت اہل اسلام کی طرف

١١

صفحہ ٥٢٨

اشارہ کر کے کہتے تھے کہ ”احمد بیگ (محمدی بیگم کا والد) مر گیا اور کتے بھونک رہے ہیں۔“ ہمیں اس مدعی تہذیب جماعت سے اس کی ہرگز امید نہ تھی۔

مرزائی مناظرین کا مبلغ علم

احمدی جماعت کی طرف سے جو مناظرین پیش ہوئے۔ جاہل مطلق معلوم ہوتے تھے۔ عموماً عربی عبارات غلط پڑھتے۔ خاص کر قرآن مجید کی آیات بھی صحیح نہ پڑھتے۔ قرآن مجید میں ہے کہ: ”الم نجعل الارض کفاتاً احیاء وامواتاً “ اس کا ترجمہ مرزائی مناظر مولوی محمد سلیم نے یوں کیا۔ ”کیا زمین مردوں اور زندوں کے لئے کافی نہیں۔“ اور بعد میں جب اس پر اعتراض ہوا تو ان معنوں سے صاف مکر گئے۔ اسی طرح ملک عبدالرحمن مرزائی مناظر مرزا قادیانی کے الہام ”ایتھا المراءۃ“ کو ایتھا پڑھتا وغیرہ۔

مرزائیوں کی دیانت

حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے قرآن مجید کی آیت ”اللہم ان کان ہوالحق من عندک “ پڑھی۔ اس پر مرزائی مناظر ملک عبدالرحمن نے اعتراض کیا کہ مولوی صاحب نے آیت غلط پڑھی ہے۔ لفظ ”ہوالحق“ غلط ہے۔ صحیح ”ہو الحق“ ہے۔ اس کے جواب میں مولانا محمد ابراہیم نے فرمایا۔ ”اگر آپ صادق ہیں تو قرآن شریف سے دکھائیے۔“ افسوس ہے کہ مرزائی اصحاب نے آخر تک نہ تو اپنی غلطی کا اقرار کیا اور نہ ہی قرآن سے آیت پڑھ کر سنائی۔

مرزائیوں کی چالبازی و کذب بیانی اور حق کی فتح

اس مناظرہ میں ہر بحث پر مدعی جماعت مرزائیہ تھی اور بموجب وقت مقرر آخری تقریر اہل اسلام کی بنتی تھی۔ پہلے دن دونوں نشستوں میں اسی پر عمل ہوا۔ دوسرے دن احمدی اصحاب نے یہ چال چلی کہ شرائط مناظرہ میں مرقوم تھا کہ سوائے قرآن وحدیث واقوال مرزا کے اور کوئی کتاب پیش نہیں ہوگی۔ پہلے دن جب مرزائیوں نے اس کی خلاف ورزی کی تو جھگڑا ہوکر طے ہوا کہ کتب گرائمر پیش ہو سکتی ہیں۔ مگر دوسرے روز مرزائیوں نے پھر یہی چال کھیلی اور خواہ مخواہ کی تو تو میں میں آدھ گھنٹہ گنوا دیا۔ مقصود اس تضیع اوقات سے انکا یہ تھا کہ کسی طرح آخری تقریر ہماری ہو۔ چنانچہ وہ اپنی چال میں کامیاب ہوئے۔ اب تو ہمارے پریذیڈنٹ صاحب کو بھی مرزائیوں کی چالاکی پر غصہ آیا۔ اگر معاملہ یہیں پر ختم ہو جاتا تو کوئی بڑی بات نہ تھی۔ مگر اس آدھ

١٢

صفحہ ٥٢٩

گھنٹہ ضائع ہونے کی وجہ سے دوسری نشست میں بھی آخری تقریر مرزائیوں کی ہی بنتی تھی۔ اس لئے اس پر جھگڑا ہوا۔ آخر مرزائیوں کے پریذیڈنٹ جناب عطاء اللہ خان صاحب وکیل نواں شہر نے اپنے طور پر حساب لگا کر اعلان کیا کہ اچھا یہ مناظرہ ٢ بجے سے شروع ہو کر ساڑھے چار پر ختم ہو جائے۔ ہمیں منظور ہے۔

کہنے کو تو کہہ گئے مگر بعد میں جب خبر ہوئی کہ اس سے آخری تقریر پھر اہل اسلام ہی کی ہوگی تو باوجودیکہ مناظر اسلام تقریر شروع کر چکا تھا پھر شور مچا دیا کہ نہیں ہم کو یہ منظور نہیں۔ ہمارے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ دو بجے سے شروع کر کے ٥ بجے تک مناظرہ ہوگا۔ اس پر پھر جھگڑا شروع ہوا۔ بالآخر افسران پولیس نے حسب معمول دخل دے کر یہ تجویز پیش کی کہ قرعہ ڈال لو جسے مرزائیوں نے یہ کہہ کر کہ ”یہ جواء ہے جو ہمارے مذہب میں حرام ہے“ مسترد کر دیا۔ اگرچہ قرعہ کو جواء کہنا مرزائیوں کی جہالت کی دلیل ہے۔ تاہم پولیس افسران نے اسے چھوڑ کر دوسری تجویز پیش کی کہ ہر فریق کے دو دو آدمی ایک جگہ بیٹھ کر سمجھوتہ کر لیں۔ یہ تجویز منظور ہو کر اس پر عمل ہوا۔ چونکہ مرزائی سراسر ناحق پر تھے۔ اس لئے باوجود بڑے ہوشیار و چالاک کہلانے کے پھر پھنس گئے۔ اپنے حساب میں تو وہ آخری تقریر اپنی گن کر اٹھے تھے۔ مگر ہو گئی اہل اسلام کی۔ سچ ہے الحق يعلو ولا يعلى۔

٢٠ مارچ ١٩٣٢ء کا مناظرہ نشست اول مبحث حیات و وفات مسیح

٢٠ مارچ کو صبح ٨ بجے سے ١١ بجے تک حیات و ممات مسیح پر مناظرہ تھا۔ اہل اسلام کی طرف سے مولانا حافظ و حاجی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی تھے اور مرزائیوں کی طرف سے جناب مولوی محمد سلیم صاحب۔

مولوی محمد سلیم صاحب نے وفات مسیح پر پہلی دلیل یہ پیش کی:

خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”واذقال الله ياعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله وانت على كل شئی شہید (المائدہ:) اور جب قیامت کے دن خدا تعالیٰ کہے گا اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری والدہ کو خدا کے سوائے دو معبود بنا لو حضرت عیسیٰ جواب دیں گے تو پاک ہے مجھے لائق نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہے تو تجھے علم ہے تو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور میں نہیں جانتا کہ تیرے دل میں کیا ہے۔ میں نے تو ان کو یہی کہا ہے جو تو نے مجھے حکم کیا تھا یعنی پوجا کرو خدا کی جو میرا بھی اور تمہارا بھی مربی ہے اور میں ان پر خبردار تھا

١٣

صفحہ ٥٣٠

جب تک زندہ رہا۔ پھر جب تو نے مجھے مار لیا تو تو ہی خبر رکھتا ہے ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔ حضرات اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح اپنے لئے صرف دو زمانوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک وہ زمانہ جب وہ لوگوں میں موجود تھے۔ ایک وہ زمانہ جب انہیں وفات دی گئی۔ سو خدا کے روبرو انکا دو ہی زمانوں کا ذکر کرنا اور اپنے نزول فرمانے کا ذکر نہ کرنا ثابت کر رہا ہے کہ وہ نازل نہیں ہوں گے۔ (واضح رہے کہ یہ مناظرین کے اصلی الفاظ نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی تقاریر کا صحیح مفہوم ہے۔ مرتب)

جواب از جانب اہل اسلام

اس کے جواب میں حضرت مولانا سیالکوٹی نے فرمایا:

آپ نے جو فقرہ مادمت فیہم کا ترجمہ ” میں جب تک زندہ رہا۔“ کیا ہے۔ یہ غلط ہے۔ دکھائیے یہ کس لفظ کا ترجمہ ہے۔ اسی طرح فلما توفیتنی کے معنے موت بھی غلط کئے ہیں۔ توفی کے معنی کس چیز کو پورا پورا لینے کے ہیں ( اس کے ثبوت میں حضرت مولانا نے مرزا قادیانی کی تحریر پیش کی جو آگے آتی ہے) باقی رہا آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح نے صرف دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔ تیسرے کا نہیں۔ سو صاحب من ! عدم ذکر سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ فتدبر!

تعجب ہے کہ مرزائی مولوی صاحب نے اخیر تک اس تقریر کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی دوبارہ اس آیت کو پیش کیا۔

دوسری دلیل ١؎

مرزائیوں کی طرف سے ثبوت وفات مسیح پر یہ پیش کی گئی:

قرآن شریف میں ہے: ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ “ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔ پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کفار پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں ۔“

١؎ مرزائیوں نے پہلی دوسری بلکہ اور بھی کئی دلیلیں جو آگے نقل ہوں گی پہلی تقریر بیک ہی دفعہ کیں تھیں۔ بنظر سہولت ہر ایک دلیل اور اس کے جواب کو علیحدہ علیحدہ لکھ دیا ہے۔ تاکہ ناظرین کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مرتب

١٤

صفحہ ٥٣١

اس آیت میں جیسا کہ اس کے ترجمہ سے ظاہر ہے خدا نے چار وعدے مسیح سے کئے ہیں ۔ سب سے پہلے موت کا ذکر فرمایا ہے اس کے بعد رفع پھر تطہیر کا پھر غلبہ متبعین کا ۔ یہ آپ کو بھی علم ہے کہ امور مؤخرالذکر یعنی رفع ، تطہیر وغلبہ ہو چکے ہیں ۔ اس سے لازم آیا کہ وفات بھی ہوچکی ہے۔ کیونکہ وفات پہلے مذکور ہے اور قرآن مجید میں جو ترتیب مندرج ہے اس میں تقدیم و تاخیر قطعاً جائز نہیں ۔ ہاں اگر آپ میں ہمت ہو تو قرآن شریف بدل دیجئے۔ پھر اگر آپ اسی پر اصرار کریں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے تو مہربانی سے آیت کی ترتیب بیان کیجئے کہ کس طرح ہوئی اور حضرت مسیح کب فوت ہوں گے۔ ساتھ ہی اس کے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ توفی کے معنی پورا پورا لینے کے ثابت کر دیں تو مبلغ پانچ روپیہ انعام دوں گا ۔

جواب ابراہیمی

عزیزم ! آپ کا سارا سوال ہی بنا فاسد علی الفاسد ہے۔ فقرہ یاعیسیٰ انی متوفیک کے معنے موت ہی نہیں ہیں ۔ اس کے صحیح معنے یہ ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لینے والا ہوں ۔ باقی رہا تمہارا انعام مقرر کرنا سو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہوا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا گیا ہے ۔ ہاں آپ کے مطالبہ کا پورا کرنا میرا فرض ہے ۔ جو بغیر انعام لئے کئے دیتا ہوں ۔ سنئے ! خود تمہارے امام ومطاع مرزا قادیانی جن کا دعوےٰ تھا کہ میں براہین احمدیہ کے وقت ہی عنداللہ رسول تھا ۔

(ملاحظہ ہو ایام صلح ص ٧٥ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

اسی کتاب براہین احمدیہ میں اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں: ”انی متوفیک ورافعک الی ...... میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔“ دیکھئے خود مرزا قادیانی نے فقرہ متوفیک کے معنے ”پوری نعمت دوں گا“ کئے ہیں اور ترتیب کے متعلق جو سوال تم نے کیا ہے سو جبکہ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ متوفیک کے معنی موت نہیں ہیں تو یہ سوال ہی اڑ گیا ۔ لیکن اگر ہم بفرض محال متوفیک کے معنی موت دوں گا ہی تسلیم کرلیں تو ترتیب کے متعلق جواب یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی اقراری ہیں کہ: ” یہ تو سچ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو ۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧ ، خزائن ج ١٥ ص ٤٥٤)

علاوہ قولی مرزا قادیانی کے قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ حرف واؤ میں ترتیب لازمی نہیں۔ چنانچہ اس آیت میں ”واقیموا الصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ وارکعوا مع الراکعین (بقرہ:)“ اہل کتاب کو خطاب ہے کہ قائم کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور رکوع کرو رکوع

١٥

صفحہ ٥٣٢

کرنے والوں کے ساتھ۔ اس جگہ اگر ہم آپ کی مرقومہ ترتیب لازمی قرار دیں تو ترجمہ یہ ہوگا کہ پہلے نماز پڑھ بغیر رکوع کے اس کے بعد زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر رکوع کرو۔ کیا فضول ترجمہ ہوگا۔ اے جناب! مطلب آیت کا صرف یہ ہے۔ یہ ہر سہ کام اپنے اپنے وقت پر کرو۔ ترتیب کا کوئی لحاظ نہیں۔ اسی طرح ایک جگہ بنی اسرائیل کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان کو حکم دیا۔ ”واذ خلوا الباب سجداً وقولوا حطة (البقرہ:)“ دوسری جگہ اس کو یوں ادا کیا کہ: ”وقولوا حطة وادخلوا الباب سجداً (الاعراف:)“ احمدی مولوی صاحب فرمائیے۔ اس جگہ آپ کی ترتیب کہاں گئی۔ ہاں آپ نے یہ جو پوچھا ہے کہ آیت کی ترتیب آخر کیا ہوگی اور ترتیب بدلنے کے لئے کون سا قرینہ ہے۔ سو اس کا اصل جواب تو وہی ہے جو ہم دے چکے ہیں۔ یعنی توفی کے معنی موت نہیں ہیں۔ لہٰذا ترتیب وہی ہے جو مندرج فی القرآن ہے۔ ہاں دوسرا جواب بطور فرض محال بر تسلیم توفی بمعنی موت یہ ہے کہ جس طرح آیت ”اقیموا الصلوٰة واتوا الزکوٰة وارکعوا مع الرکعین“ میں کام اپنے اپنے وقت پر کرنے کا حکم ہے۔ اسی طرح یہ چار وعدے جو حضرت مسیح سے ہوئے ہیں اپنے اپنے وقت پر کچھ پورے ہو چکے کچھ ہوں گے اور اس کے لئے قرینہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔ جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کا زمین پر اترنا اور بعد نزول پینتالیس سال گزار کر حجرہ نبویہ ﷺ میں دفن ہونا مرقوم ہے۔ جو یہ ہے۔ ”قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم فی الارض فتزوج ویولد لہ ویمکث خمس واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری“

حضرت مولانا صاحب کی اس تقریر کا کوئی صحیح جواب مرزائی مولوی سے آخر تک نہ بن پڑا۔ ہاں اپنے نبی کی سنت پر عمل پیرا ہو کر یہ افتراء باندھا کہ: ”مولوی محمد ابراہیم قرآن کی ترتیب کو غلط کہتے ہیں۔“ اس کے جواب میں حضرت مولانا صاحب نے فرمایا: ”یہ مجھ پر افتراء ہے۔ میں نے تو یہ کہا ہے کہ اس آیت کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح مندرج قرآن ہے۔ ہاں معنی وہ نہیں جو آپ کرتے ہیں اور اگر بفرض محال وہی معنی ہوں تو چونکہ قرآن مجید واحادیث صحیحہ سے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی ثابت ہے۔ اس لئے بقرینہ نصوص نبویہ ترتیب یہ ہوگی کہ بعد نزول حضرت مسیح وفات پائیں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ”ثم یموت“ فافہم!

حدیث پر احمدی مناظر نے یہ اعتراض کیا کہ فقرہ ”یدفن معی فی قبری“ کے معنی ہیں میری قبر میں دفن ہوگا۔ حالانکہ قبر نبوی کو پھاڑ کر مسیح کو دفن کرنا نبی ﷺ کی ہتک ہے۔ اس لئے اس سے مراد روحانی قبر ہے۔ اگر قبر بمعنی مقبرہ مولوی صاحب ثابت کر دیں تو مبلغ پانچ سو روپیہ

١٦

صفحہ ٥٣٣

آپ کی مرقومہ ترتیب لازمی قرار دیں تو ترجمہ یہ ہوگا کہ صلوۃ ادا کرو۔ پھر رکوع کرو۔ کیا فضول ترجمہ ہوگا۔ اسے ہر سہ کام اپنے اپنے وقت پر کرو۔ ترتیب کا کوئی لحاظ متعلق فرمایا کہ ہم نے ان کو حکم دیا۔ ’’واذ خلوا الباب ‘‘ دوسری جگہ اس کو یوں ادا کیا کہ: ’’وقولوا حطة :‘‘ احمدی مولوی صاحب فرمائیے۔ اس جگہ آپ کی ہے کہ آیت کی ترتیب آخر کیا ہوگی اور ترتیب بدلنے جواب تو وہی ہے جو ہم دے چکے ہیں۔ یعنی توفی کے معنی درج فی القرآن ہے۔ ہاں دوسرا جواب بطور فرض محال آیت ’’اقیموا الصلوة واتوا الزکوة وارکعوا مع کرنے کا حکم ہے۔ اسی طرح یہ چار وعدے جو حضرت مسیح پورے ہوچکے کچھ ہوں گے اور اس کے لئے قرینہ رسول مسیح علیہ السلام کا زمین پر اترنا اور بعد نزول پینتالیس قیام ہے۔ جو یہ ہے۔ ’’قال رسول اللہ ﷺ ینزل فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمس واربعین سنة ثم

تحریر کا کوئی صحیح جواب مرزائی مولوی سے آخر تک نہ بن افتراء باندھا کہ: ’’مولوی محمد ابراہیم قرآن کی ترتیب کو مولانا صاحب نے فرمایا: ’’یہ مجھ پر افتراء ہے۔ میں درج ہے جس طرح مندرج قرآن ہے۔ ہاں معنی وہ وہی معنی ہوں تو چونکہ قرآن مجید و احادیث صحیحہ سے اس لئے بقرینہ نصوص نبویہ ترتیب یہ ہوگی کہ بعد نزول آیت میں ہے۔ ’’ثم یموت‘‘ فافہم! اعتراض کیا کہ فقرہ ’’یدفن معی فی قبری‘‘ کے معنی اکھاڑ کر مسیح کو دفن کرنا نبی ﷺ کی ہتک ہے۔ اس لئے مذکورہ مولوی صاحب ثابت کردیں تو مبلغ پانچ سو روپیہ

١٦

انعام دوں گا۔ ماسوا اس کے خود حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جن کے حجرہ میں نبی ﷺ وجناب ابوبکرؓ وعمرؓ کی قبریں ہیں۔ خواب میں اپنی جھولی کے اندر تین چاند گرتے دیکھے۔ جس سے مراد حضرت نبی کریم ﷺ وابوبکرؓ وعمرؓ کا ان کے حجرہ میں مدفون ہونا تھا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی وہیں دفن ہونا ہوتا تو ان کو بجائے تین کے چار چاند نظر آتے۔

جواب ابراہیمی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر آنحضرت ﷺ سے ملحق ہوگی۔ اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوں گے۔ اس کی مثال مرزا قادیانی کی تحریر میں ملتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ کی قبریں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہیں۔ ان کے متعلق مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہوکر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص٤٧، خزائن ج١٨ ص٤٢٥)

احمدی دوستو! جو مطلب و مراد اس تحریر کی ہے وہی مراد آنحضرت ﷺ کی ہے۔ فقرہ یدفن فی معی قبری کے اصلی معنی یہ ہیں کہ وہ میرے ساتھ دفن ہوگا۔ آئیے ہم مرزا قادیانی کی تحریر سے ان معنوں پر دستخط بتا دیں۔ ملاحظہ ہو لکھا ہے: ’’اگر اس حدیث کے معنی ظاہر پر ہی حمل کریں تو ممکن ہے کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٤٧٠، خزائن ج٣ ص٣٥٢)

تحریر ہٰذا شاہد ہے کہ حدیث کے ظاہری معنی روضہ کے پاس مدفون ہونا ہیں۔ رہ گیا حضرت عائشہؓ کے خواب کا سوال سو توجہ سے سنئے نبی ﷺ وحضرت ابوبکرؓ وعمرؓ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زندگی میں ہی ان کے حجرہ میں مدفون ہونا تھا۔ اس لئے ان کو تین ہی چاند دکھائے گئے اور چوتھا چاند چونکہ ان کی زندگی کے بعد وہاں دفن ہونا تھا۔ اس لئے وہ ان کو نہیں دکھایا گیا۔ آگے چلو۔

تیسری و چوتھی دلیل

وفات مسیح پر مرزائیوں کی طرف سے یہ پیش کی گئی۔ ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یاکلان الطعام‘‘ نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول فوت ہوگئے اس سے پہلے سب رسول اور مسیح کی والدہ صدیقہ تھی۔ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ یہ آیت بتلا رہی ہے حضرت مسیح و مریم صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اب نہیں کھاتے۔ حالانکہ انسان بغیر طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ:

١٧

صفحہ ٥٣٤

”وما جعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام“ نہیں بنایا ہم نے کوئی جسم جو طعام نہ کھاتا ہو۔ ان آیات نے فیصلہ کر دیا کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں جس طرح مریم فوت ہو چکی ہے۔

جواب ابراہیمی

پہلی آیت جو آپ نے پیش کی ہے۔ حق تعالیٰ نے عیسائیوں پر جو مسیح کو اور اس کی والدہ کو خدا مانتے تھے۔ حجت قائم کی ہے کہ وہ دونوں تو لوازم بشریٰ مثل طعام وغیرہ کے محتاج تھے۔ جو تم کو علم ہے۔ پھر وہ خدا کیسے ہوئے۔ اس آیت میں حضرت مسیح کی حیات وممات کا کوئی ذکر نہیں۔ باقی رہا آپ کا یہ کہنا جس طرح مریم طعام سے بوجہ موت روکی گئی۔ اسی طرح مسیح بھی، سو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے ظاہر ہو کہ وہ اب طعام نہیں کھاتے۔ اگر بفرض محال ہو بھی تو یہ ضروری نہیں کہ دو اشخاص کا ایک مشترکہ فعل سے روکا جانا ایک ہی وجہ سے ہو۔ حضرت مسیح کا طعام دنیوی سے روکا جانا بوجہ رفع الی السماء ہے اور حضرت مریم کا بوجہ موت ہے۔ دوسری آیت سے جو آپ نے استدلال کیا ہے کہ کوئی جسم بغیر طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصطلاح شرع میں طعام کا لفظ روحانی انوار و برکات کے لئے بھی مستعمل ہے۔ جو انسان کے لئے اسی طرح مربی جسم ہیں۔ جس طرح طعام دنیاوی اس کی مثال حدیث نبوی ﷺ سے ملتی ہے کہ حضور علیہ السلام نے روزہ وصال کے متعلق فرمایا کہ: ”أیكم مثلي اني ابيت يطعمني ربي ويسقيني (بخاری ومسلم)“...... میں روزہ طی میں تمہاری مثل نہیں ہوں کہ بغیر ماکولات و مشروبات دنیا کے زندہ نہ رہ سکوں۔ میں رات گزارتا ہوں اور میرا خدا مجھ کو طعام کھلاتا ہے اور پانی پلاتا ہے۔ دیکھئے الحدیث میں طعام سے مراد دنیاوی طعام تو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے کھانے سے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پس جو طعام اس جگہ مراد ہے وہی حضرت مسیح کھاتے ہیں۔

نوٹ از جانب مرتب

حضرت مولانا سیالکوٹیؒ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تسبیح و تقدس رحمانی پر بھی اصطلاح شرع میں طعام کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہ انسان کے لئے اسی طرح مربی جسم ہیں جس طرح طعام دنیاوی۔ یہ جواب بالکل حدیث رسول اللہ ﷺ کے مطابق ہے۔ جو ذکر دجال میں فرمائی گئی۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ جب دجال کے ہاتھ میں طعام ہوگا۔ تو ہم اہل اسلام کا اس وقت کیا حال ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ”يجزيهم ما يجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس“ (روایت کیا الحدیث کو احمد، ابوداؤد، طیالسی نے) ترجمہ: جس طرح

١٨

صفحہ ٥٣٥

اہل سما کا مدار حیات تسبیح وتقدیس رحمانی ہے۔ اسی طرح تمہارا مایہ حیات ہوگا۔ الحدیث سے مہر نیمروز کی طرح عیاں ہے کہ حمد وثناء ربانی انسانوں کے لئے اسی طرح مربی جسم ہیں۔ جس طرح طعام دنیاوی۔ فالحمدللہ!

دوسرا جواب مولانا سیالکوٹی نے بجواب مرزائی سوال کے یہ دیا۔ ”جو طعام اہل جنت کھاتے ہیں وہی طعام حضرت مسیح علیہ السلام کھاتے ہیں۔“ حضرت مولانا صاحب کی اس تقریر کا احمدی مناظر نے پھر کوئی جواب الجواب نہیں دیا۔ ہاں یہ افتراء کیا کہ: ”مولوی محمد ابراہیم نے مان لیا ہے کہ حضرت مسیح جنت میں رہتے ہیں اور وہیں کھانا کھاتے ہیں۔“

(بجواب اس کے مولانا صاحب نے فرمایا) میں نے جنت میں جانا نہیں۔ کہا جنت کا طعام کھانا کہا ہے۔

پانچویں دلیل

مرزائی مولوی صاحب نے ممات مسیح پر پیش کی ۔ ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ نہیں ہے محمد ﷺ مگر رسول، فوت ہو گئے اس کے پہلے سب رسول۔ آیت ہذا ظاہر کر رہی ہے کہ نبی ﷺ کے پہلے سب رسول فوت ہو چکے۔ پس مسیح کی موت ثابت ہے۔

جواب ابراہیمی

لفظ خلت کے معنی جو آپ نے موت کئے ہیں۔ یہ غلط ہیں۔ پڑھئے آیت ”واذا خلوا الی شیاطینہم“ یعنی کفار جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں۔ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں۔ ”انما نحن مستہزؤن“ ہم تو مسلمانوں کو ٹھٹھا کرتے ہیں۔

اس آیت سے ثابت ہے کہ لفظ خلت کے معنی تنہا ہونا، ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا ہیں۔ پس آپ کا سارا زور ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد آئیے ہم آپ کو آپ کے نبی کا ترجمہ سنائیں جو آپ کے خود ساختہ معنوں کی تردید اور ہماری تائید کرتا ہے۔ بغور سنئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”قد خلت من قبله الرسل“ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے۔“

(جنگ مقدس ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٨٩)

ہاں! الرسل کا ترجمہ جو آپ نے سب رسول کیا ہے یہ بھی غلط ہے۔ چونکہ شرائط مقررہ کی رو سے سوائے قرآن وحدیث واقوال مرزا کے کسی اور کا قول پیش کرنا جائز نہیں۔ ورنہ میں بتاتا

١٩

صفحہ ٥٣٦

کہ خود آپ کے خلیفہ اوّل مولوی نور دین نے الرسل کا ترجمہ بہت رسول کیا ہے۔

(فصل الخطاب ج ١ ص ٣٢)

پس اگر ہم فرض محال خلت کے معنی موت بھی تسلیم کر لیں تو بھی یہ آیت آپ کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے پہلے سب رسولوں کی وفات نہیں بیان کی گئی۔ بلکہ اکثر رسولوں کی کی گئی ہے۔

مرزائیوں کی چھٹی دلیل وفات مسیح پر

” والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون اموات غير احياء “ جو لوگ من دون اللہ پکارے جاتے ہیں۔ وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے۔ بلکہ خود پیدا شدہ ہیں۔ مردے ہیں جن میں جان نہیں۔ اس آیت میں ہر اس شخص کو جو خدا کے سوا پوجا جاتا ہے۔ مردہ فرمایا گیا ہے اور حضرت مسیح بھی پوجے جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی مر چکے۔

جواب ابراہیمی

آیت کا یہ مطلب نہیں کہ معبودان مصنوعی مر چکے ہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان سب کو موت آنے والی ہے۔ اگر چہ کئی مر بھی چکے ہیں۔ غلط ہے دیکھئے قرآن مجید میں حضرت نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے۔ ” انك ميت وانهم ميتون “ اے رسول ﷺ تو بھی میت ہے اور وہ بھی مطلب یہ کہ بالآخر سب کو موت آنے والی ہے۔ پس آیت جو آپ نے پیش کی ہے۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو اللہ کے سوائے پوجے جاتے ہیں۔ آخر کار مرنے والے ہیں۔ گو ان میں کئی مر بھی چکے ہوں اور ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح بعد نزول کے فوت ہو جائیں گے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض ثم یموت یعنی عیسیٰ بن مریم زمین پر نازل ہوں گے۔ پھر فوت ہوں گے۔

ساتویں دلیل

احمدی مناظر نے یہ ...... کہ قرآن شریف میں ہے کہ: ” الم نجعل الارض كفاتاً احياء وامواتاً “ کیا زمین زندوں اور مردوں کے لئے کافی نہیں۔ یعنی زمین کافی ہے۔ پس کسی شخص کا آسمان پر جانا خلاف آیت ہذا ہے۔

جواب ابراہیمی

آپ نے جو لفظ کفاتا کے معنی ”کافی“ کئے ہیں یہ غلط محض صریح اور خلاف زبان عربی ہیں۔ اس کے صحیح معنے از روئے زبان عربی یہ ہیں کہ: ”سمیٹے ہوئے“ پس آپ کا استدلال

٢٠

صفحہ ٥٣٧

بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ باقی رہا آپ کا یہ کہنا کہ: ”کسی شخص کا آسمان پر رہنا خلاف آیت ہے۔“ قطع نظر بے ثبوت ہونے کے تحریرات مرزا قادیانی کے بھی مخالف ہے۔ سنئے ! مرزا قادیانی اقراری ہیں کہ حضرت موسیٰ آسمان میں زندہ موجود ہیں۔

جیسا کہ لکھا ہے: ”عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے................... یہ موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں....................مگر....... ہم قرآن میں بغیر وفات عیسیٰ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے۔“

(نورالحق ص ٥٠ خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩)

حضرت مولانا سیالکوٹی کی اس تقریر کے جواب میں احمدی مناظر نے کہا کہ: ”حضرت موسیٰ کی روحانی زندگی مراد ہے اور آیت ”الم نجعل الارض کفاتاً“ کے معنے میں نے کافی نہیں کئے۔“

اس کے جواب میں مولانا محمد ابراہیم صاحب نے فرمایا کہ اگر کفاتا کے معنی آپ نے کافی نہیں کئے تو پھر بتلائیے آپ کا اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ (اس کا کوئی جواب احمدی مولوی صاحب نے نہیں دیا) باقی رہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کو روحانی کہنا سو یہ مرزا قادیانی کی تصریح کے سراسر خلاف ہے۔ روحانی زندگی تو بعد وفات سب انبیاء کرام بلکہ عوام کو بھی حاصل ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کون سی خصوصیت ہے۔ مرزا قادیانی نے جیسا کہ ہم ان کی عبارت پیش کرچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ کو تو زندہ مانا بخلاف اس کے حضرت عیسیٰ کو وفات شدہ لکھا ہے۔ پس یہ تفریق ہی بتارہی ہے کہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو سچ مچ زندہ مانتے تھے۔ اس کے بعد مرزائی مولوی صاحب نے اس پر کچھ نہ فرمایا۔

آٹھویں دلیل

احمدی صاحبان کی طرف سے وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کی گئی۔ ”قرآن مجید میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بطور بشارت کہا۔ ”مبشراً برسول یاتی من بعدہ اسمه احمد“ یعنی میری وفات کے بعد احمدﷺ آئیں گے۔ سو آنحضرتﷺ آچکے پس ثابت ہوا کہ مسیح فوت ہوگئے۔“

جواب ابراہیمی

بعدی کے لفظ سے موت مراد لینا غلط ہے۔ سنئے قرآن میں ہے۔ ”واذ وعدنا

٢١

صفحہ ٥٣٨

موسى اربعين ليلة ثم اتخذتم العجل من بعده وانتم ظالمون (البقره)‘‘ یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے موسٰی علیہ السلام سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو اس کے بعد تم نے ازراہ بے انصافی بچھڑا پوجنے کو بنالیا۔ احمدی بھائیو! من بعد کا ترجمہ موت کر کے دکھاؤ تو ہم تمہاری بہادری مانیں۔ مرزائیوں کی طرف سے جواب ندارد۔ مرتب

مرزائیوں کی نویں دلیل وفات مسیح پر

”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افان مت فهم الخالدون ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول ﷺ تجھ سے پہلے کسی انسان کو ہم نے ہمیشگی نہیں دی۔ پس اگر تو مر گیا تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ آیت بتلارہی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی شخص زندہ رہنے والا نہیں بنایا گیا۔ ماسوا اس کے آنحضرت ﷺ سید المرسلین کو وفات یافتہ اور مسیح کو زندہ ماننا رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے۔

جواب ابراہیمی

آیت جو آپ نے پیش کی ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ سے پہلے سب انسانوں کی موت کا کوئی ذکر نہیں۔ صرف یہ فرمایا گیا ہے۔ آپ سے پہلے (بلکہ بعد بھی۔ منہ ) کسی انسان کے لئے دائمی زندگی نہیں کی گئی۔ سو ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہمیشہ زندہ نہیں رہیں گے۔ موت ان کو بھی آنے والی ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے۔ ”ثم یموت“ پھر وہ فوت ہوں گے۔ ہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی لمبی عمر سے نبی ﷺ کی ہتک کی بھی خوب کہی۔ اے جناب! کسی شخص کا لمبی عمر پانا اس کی ذاتی فضیلت اور اس کے غیر کی ہتک نہیں ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی ہزاروں برسوں سے حضرت موسٰی کو زندہ مانتے ہیں اور سنئے مرزا قادیانی کی نص موجود ہے کہ لمبی عمر دلیل فضیلت نہیں۔ ملاحظہ ہو قول ذیل۔ ”افسوس ہے کہ عیسائیوں کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی زندگی ثابت کریں اور صرف اس لمبی عمر پر خوش نہ ہوں۔ جس میں خنزیر اور پتھر بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ (تریاق القلوب ص١٥٦ ، خزائن ج١٥ ص١٣٩) اس تحریر سے ثابت ہے کہ لمبی عمر افضلیت کی دلیل نہیں۔ پس مرزائیوں کی مغالطہ دہی باطل ہو گئی۔

دلائل ابراہیمی برحیات مسیح علیہ السلام

ناظرین کرام! جہاں تک مجھے یاد ہے یہی وہ دلیلیں ہیں جو احمدی حضرات کی طرف سے وفات مسیح پر پیش کی گئیں۔ جن کے جوابات بھی آپ ملاحظہ فرماچکے۔ چونکہ اس مبحث میں

٢٢

صفحہ ٥٣٩

جماعت مرزائیہ مدعی تھے۔ اس لئے حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب نے زیادہ تر توجہ ان کی پیش کردہ دلائل کی قلعی کھولنے میں کی۔ ہاں جب مرزائیوں نے خود مولانا صاحب سے کہا کہ آپ کسی دلیل سے حیات مسیح ثابت کریں تو مولانا صاحب نے نہ صرف قرآن واحادیث بلکہ قول مرزا سے بھی حضرت مسیح کا آسمانوں پر جانا ، دوبارہ تشریف لانا اور پینتالیس برس زمین میں رہ کر مدینہ شریف میں حجرۂ نبویہ میں مدفون ہونا ثابت کیا۔

دلیل اول حضرت مسیح کا رفع آسمانی ونزول ثانی مرزا قادیانی کی زبانی

مرزا قادیانی (براہین احمدیہ ص ٤٦١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٣١) پر رقمطراز ہیں: ’’سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘ عبارت بالا سے حضرت مسیح کا رفع آسمانی ثابت ہے۔ اب سنئے ان کے نزول ثانی کا ثبوت۔ مرزا قادیانی اسی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٥٩٣) پر لکھتے ہیں: ’’ ھوالذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ مرزا قادیانی کی یہ تحریر محتاج تشریح نہیں بالفاظ اصرح حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی وہ بھی بخیال خود نہیں بلکہ بتمسک آیت قرآنی کا اقرار واظہار ہے۔ اس کی مزید وضاحت اسی (براہین احمدیہ ص ٥٠٥ ، خزائن ج ١ ص ٦٠١) پر یوں مسطور ہے : ’’وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر آئیں گے۔‘‘

جواب مرزائی

اس کے جواب میں مرزائیوں کی طرف سے یہ نہایت لغو، لچر، بودا عذر کیا گیا کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں رسمی عقیدہ کی بناء پر ایسا لکھا اور قبل از علم ایسا ہونا انبیاء سے پایا جاتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ تیرہ مہینے ( صحیح سترہ ماہ ہیں۔ ناقل) بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے۔

٢٣

صفحہ ٥٤٠

جواب ابراہیمی

بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کا قبلہ تھا اور قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو فرمایا گیا ہے۔ ”فبہداہم اقتدہ“ یعنی اے رسول ﷺ ہدایت میں انبیاء کی اقتداء کرو۔ پس حضور علیہ السلام کا بیت المقدس کو قبلہ بنانا اقتداء انبیاء تھی۔ جو نہ شرک تھی نہ کفر نہ گناہ کبیرہ نہ صغیرہ۔ بلکہ عمل صالح موجب ایمان۔ ہاں کعبہ شریف حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قبلہ تھا اور حضور ﷺ کی خواہش تھی کہ ہم ادھر منہ کر کے نماز پڑھیں سو حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کی مراد پوری کی اور کعبہ شریف کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ جس وقت یہ حکم ہوا۔ اسی وقت سے نبی ﷺ نے بیت اللہ کی طرف نمازیں پڑھنی شروع کیں۔ بخلاف اس کے حیات مسیح کا عقیدہ اوّل تو بزعم شما تعلیم انبیاء تو کجا الٹا شرک ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے بعد میں لکھا ہے۔ ”حضرت مسیح کو زندہ ماننا بھی تو ایک شرک ہے۔“

(ڈائری مرزا ص ١٧، ١٩٠١ء، مرتبہ عبدالحمید احمدی)

اور یہ ہو نہیں سکتا کہ انبیاء جو شرک مٹانے آتے ہیں خود شرک میں مبتلا رہیں۔ اسی کی تائید مرزا قادیانی سے بھی مرقوم ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے ”اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جب کہ ان (انبیاء) کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام پر چلاویں تو گویا وہ خدا کے احکام کو عملدرآمد میں لانے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ خود ہی احکام کی خلاف ورزی کریں تو پھر وہ عملدرآمد کرنے والے نہ رہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نبی نہ رہے وہ خدائے تعالیٰ کے مظہر اور اس کے اقوال وافعال کے مظہر ہوتے۔ پس خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ان کی طرف منسوب بھی نہیں ہو سکتی۔“

(ریویو ج ١ ص ٧١)

مرزا قادیانی کی تحریر مقولہ مرزائی صاحبان کے مسلمہ عقائد کی بناء پر ان کے عذرات پر ضرب کاری ہے اور یہ ضرب اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے جب مرزا قادیانی کی تحریر سے یہ بھی ثبوت مل جاتا ہے کہ وہ بقول خود براہین احمدیہ کے وقت بھی خدا کے نزدیک رسول اللہ تھے۔

(ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٨) پھر مرزا قادیانی کا یہ بھی قول ہے کہ: ”قرآن شریف میں بکثرت ایسی آیات موجود ہیں جن سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی اپنی ہستی کچھ نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس طرح بالکل خدائے تعالیٰ کے تصرف میں ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک کل انسان کے تصرف میں ہوتی ہے۔ انبیاء نہیں بولتے جب تک خدا ان کو نہ بلائے اور کوئی کلام نہیں کرتے۔ جب تک خدا ان سے نہ کرائے۔ ان سے وہ طاقت سلب کی جاتی ہے۔ جس سے خدائے تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی انسان کرتا ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں جیسے مردہ۔“

٢٤

صفحہ ٥٤١

مرزا قادیانی کی یہ تمام تحریرات بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ براہین احمدیہ میں جو کچھ لکھا گیا وہ مرزائیوں کے لئے بطور الہام وحی الٰہی ہے۔ احمدی دوستو ! براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول تمہارے نبی کے مؤلف نے ملہم اور مامور ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی۔ دیکھو اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ کتاب (آئینہ کمالات، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧) ہاں یہ کتاب وہ ہے جو بقول مرزا قادیانی کے محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر رجسٹر ڈ بھی ہو گئی تھی۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے ۔ ”منجملہ ان کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی زیارت ہوئی تھی۔ اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا۔ قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی۔ وہ ایسی کتاب ہے جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٤٨، ٢٤٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)

مرزائی بھائیو! ایمان سے بتلاؤ کہ ایک ایسی کتاب جو باعتقاد تمہارے قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم پھر مستحکم بھی کامل استحکام رکھنے والی جسے اس شخص نے لکھا جو بقول خود رسول اللہ تھا۔ جو خدا کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی بلکہ مردہ کی طرح تھا اور اس کا ہر قول وفعل خدا کا قول وفعل تھا۔ کیا تمہارا ایمان ہے کہ یہ کتاب بغیر خدا کے مرضی ومنشاء ورضا وحکم کے لکھی گئی؟ العجب ثم العجب!

بھائیو! مرزا قادیانی جسے تم نبی ورسول مانتے ہو وہ تو کہتا ہے۔ انبیاء کے اقوال وافعال سب خدا کے ہوتے ہیں اور تم لوگ برسر منبر ہزاروں انسانوں کی موجودگی میں کہتے ہو بلکہ اس پر اصرار وتکرار کرتے ہو کہ نہیں مرزا قادیانی براہین احمدیہ کے وقت غلطی سے مشرک تھے۔ وہ اس طور سے کہ برابر بارہ برس تک الہام پر الہام لے ہو رہا ہے کہ مسیح موعود تم ہی ہو۔ مگر مرزا قادیانی ایسے مبہوت ہو رہے ہیں کہ حضرت مسیح کو زندہ مانتے چلے جاتے ہیں اور اپنی مسیحیت کی خبر تک ہی نہیں۔

آہ! کس قدر حیرانگی ہے کہ ڈینگ تو ان الفاظ میں ماری جاتی ہے کہ : ” میں اپنے ذاتی تجربہ سے کہہ رہا ہوں کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٩٣ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ٩٣)

مگر حقیقت یہ کھل رہی ہے کہ حضرت کو اپنی نبوت ومسیحیت کی بھی خبر نہیں اور برسوں

لے براہین احمدیہ جو ١٨٨٠ء میں لکھنی شروع ہوئی سے لے کر ازالہ اوہام وغیرہ ١٨٩١ء تک برابر مرزا قادیانی باوجود الہام کے حضرت مسیح کو زندہ مانتے رہے۔ اسی کی طرف مولانا صاحب کا اشارہ ہے۔

٢٥

٥٤٠

سلام کا قبلہ تھا اور قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو فرمایا گیا اے رسول ﷺ ہدایت میں انبیاء کی اقتدا کرو۔ پس حضور علیہ انبیاء تھی۔ جو نہ شرک تھی نہ کفر نہ گناہ کبیرہ نہ صغیرہ۔ بلکہ عمل حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قبلہ تھا اور حضور ﷺ کی پڑھیں سو حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کی مراد پوری کی اور کعبہ نے کا حکم دیا۔ جس وقت یہ حکم ہوا۔ اسی وقت سے نبی ﷺ نے ع کیں۔ بخلاف اس کے حیات مسیح کا عقیدہ اوّل تو بزعم ثنا ر خود مرزا قادیانی نے بعد میں لکھا ہے۔ ” حضرت مسیح کو زندہ

(ڈائری مرزا ص ١٧، ١٩٠١ء، مرتبہ عبدالحمید احمدی)

جو شرک مٹانے آتے ہیں خود شرک میں مبتلا رہیں۔ اسی کی ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے ” اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جب کہ ان ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام پر چلاویں تو گویا وہ خدا لے ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ خود ہی احکام کی خلاف ورزی لے نہ رہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نبی نہ رہے وہ اقوال وافعال کے مظہر ہوتے ۔ پس خدا تعالیٰ کے احکام کی ی نہیں ہو سکتی۔“

(ریویو ج ١ ص ٧١)

و کہ مرزائی صاحبان کے مسلمہ عقائد کی بناء پر ان کے عذرات پر مضبوط ہو جاتی ہے جب مرزا قادیانی کی تحریر سے یہ بھی ثبوت حمدیہ کے وقت بھی خدا کے نزدیک رسول اللہ تھے۔

ن ج ٤ ص ٣٠٨) پھر مرزا قادیانی کا یہ بھی قول ہے کہ: ”قرآن جود ہیں جن سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی اپنی ہستی لکل خدائے تعالیٰ کی تصرف میں ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک کل انبیاء نہیں بولتے جب تک خدا ان کو نہ بلائے اور کوئی کلام نہیں کرائے ۔ ان سے وہ طاقت سلب کی جاتی ہے۔ جس سے خدائے دن کرتا ہے۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں جیسے مردہ ۔“

٢٤

صفحہ ٥٢٢

تک ایسے عقیدہ پر قائم رہے جو نہ صرف شرک تھا بلکہ آگے چل کر اس کے دعویٰ مسیحیت کے راستہ میں ایک نہ ہٹنے والی مضبوط چٹان کی طرح حائل ہونے والا تھا۔ احمدی بھائیو! غور کرو پھر غور کرو کیا انبیاء صادقین سے ایسا ہونا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں سو ہزار بار ہرگز نہیں۔ احمدی مولوی صاحب یہ تو بتلاؤ کہ جب کشف میں بقول مرزا قادیانی براہین احمدیہ رسول اللہ ﷺ کے دربار میں پیش ہو کر قبولیت حاصل کر رہی تھی۔ کیا اس وقت یہ بیانات جن میں حضرت مسیح کی حیات و رفع آسمانی ونزول ثانی رقم تھی۔ اس میں سے کاٹ کر براہین احمدیہ پیش کی گئی تھی؟ یا کیا نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کو بھی اس عقیدہ شرکیہ سے اس وقت تک خبر نہ تھی؟ افسوس ہے تمہاری قابل رحم حالت پر اور تعجب ہے تمہارے ان مباحثات ومناظرات پر۔ اٹھو اگر تم میں ہمت ہے تو کسی صادق رسول کی ایسی نظیر پیش کرو کہ برابر باون برس کی عمر ١؎ تک شرک جیسی خطرناک غلطی میں مبتلا رہا ہو۔ تم ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ پھر کہتا ہوں کہ ہرگز ہرگز نہ پیش کر سکو گے۔ لہٰذا خدا سے ڈرو اور مخلوق کو دھوکہ نہ دو۔

اس ساری تقریر کا آخر مناظرہ تک کوئی جواب احمدیوں نے نہیں دیا۔

دوسری دلیل حضرت مسیح کے بجسم عنصری زندہ اٹھائے جانے پر

حضرت مولانا سیالکوٹی نے پیش کی کہ: ”قرآن شریف میں ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کو سولی پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“

(پ ٦ سورہ النساء ع ٢١)

غور فرمائیے! آیت شریفہ میں الفاظ ”وما قتلوه وما صلبوه“ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم عنصری ہے۔ اسی کی نسبت فرمایا: ”بل رفعه الله اليه“ بلکہ خدا نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح معہ جسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔

”فتدبر ولا تكن من الكافرين“

تیسری دلیل نزول مسیح از آسمان

چونکہ مرزائی بار بار کہتے تھے کہ آسمان سے مسیح کے نازل ہونے پر کوئی دلیل پیش کرو۔ اس لئے حضرت مولانا صاحب نے مرزا قادیانی کی تحریر ہی سے نزول از آسمان کی احادیث دکھائیں۔ چنانچہ آپ نے رسالہ (تشحیذ الاذہان ج ١ ش ٢ ص ٥، مارچ ١٩٠٦ء) سے مرزا قادیانی کا قول

١؎ مرزائیوں کا اعتقاد ہے کہ براہین احمدیہ بعمر ٤٠ سال مرزا قادیانی لکھنی شروع کی اور اس کے بارہ برس بعد تک حیات مسیح کے معتقد رہے۔ ملاحظہ حقیقت النبوۃ وغیرہ تالیفات میاں محمود احمد ۔

٢٦

صفحہ ٥٤٣

دکھایا کہ: ”مرزا قادیانی نے فرمایا دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے۔ جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔“

اس کے جواب میں احمدی مناظر کچھ جواب نہ دے سکا۔ نہ الٹا نہ سیدھا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک! پہلا مناظرہ مورخہ ٢٠/مارچ کا صبح ٨ بجے سے ١١ بجے تک کا ختم ہوا۔

دوسری نشست مناظرہ برصدق وکذب مرزا

اس دوسرے مناظرہ ”کذب و صدق مرزا“ میں بھی مدعی جماعت احمدیہ تھی۔ ان کی طرف سے ملک عبدالرحمٰن صاحب گجراتی اور اہل اسلام کی طرف سے مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔ ملک عبدالرحمٰن صاحب نے پہلی دلیل صدق مرزا پر یہ دی کہ بعد دعوٰی نبوت ہر ایک نبی پر اعتراض ہوتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے صداقت انبیاء پر یہ معیار پیش کیا ہے کہ ان کی پہلی زندگی بحیثیت پاکیزگی، امانت، دیانت پیش کی۔ چنانچہ ارشاد ہے ۔”فقد لبثت فیکم عمراً من قبله افلا تعقلون“ میں رہ چکا ہوں تو تم میں اس سے پہلے کیا تم عقل نہیں کرتے۔

ایسا ہی مرزا قادیانی کے متعلق ہوا کہ آپ کی ابتدائی زندگی پر کسی مخالف کو گنجائش اعتراض نہیں۔ خود مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں اوّل المکفرین بنا وہ بھی حضرت مرزا قادیانی کی تعریف میں رطب اللسان تھا۔ ہم اپنے مخاطبوں سے بزور کہتے ہیں کہ وہ حضرت مرزا قادیانی کی پہلی زندگی پر کوئی اعتراض ثابت کریں۔

جواب از اہل اسلام

اس دلیل کا اہل اسلام کی طرف سے تین طرح پر جواب دیا گیا۔

اوّل جواب حضرت مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی

مرزا قادیانی کی ابتدائی زندگی جیسا کہ ظاہر کی جاتی ہے۔ پاکیزہ نہ تھی۔ (مثل مشہور ہے کہ دائی سے پیٹ چھپا نہیں رہتا۔ مرتب) ان کی پہلی زندگی کا حال ہم سے پوچھو۔ ہمارے شہر سیالکوٹ میں مرزا قادیانی بصیغہ ملازمت پندرہ روپیہ پر ملازم ہو کر گئے۔ وہاں بذریعہ رشوت وغیرہ خوب ہاتھ رنگے۔ یہ وہاں کی ہی دولت تھی۔ جس سے مرزا قادیانی نے چار ہزار کا زیور بعد میں اپنی زوجہ محترمہ کو بنوا کر دیا۔ اسی طرح جب آپ نے ملہم ہونے کی ڈینگ ماری اور حقانیت اسلام پر کتاب براہین احمدیہ لکھنی شروع کی تو ظاہر کیا کہ: ”میرے پاس کچھ سرمایہ نہیں ۔“ اور اشتہار پر اشتہار دیئے کہ رئیسان اسلام اس کام میں میری معاونت کریں۔ چنانچہ اسی طرح آپ نے خوب روپیہ کمایا۔ اس کا اس سے

٢٧

صفحہ ٥٤٤

بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ وہی مرزا قادیانی جو بقول خود اپنے والد کی وفات کے وقت ”روٹی کی فکر“ (نزول المسیح ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦) میں گھلے جاتے تھے۔ لاکھوں کی جائیداد چھوڑ کر مرے۔ مختصر کہ آپ پر لے سرے کے دنیا پرست تھے۔ لہذا آپ نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کے جواب میں مرزائیوں سے یہ تو نہ ہو سکا کہ مرزا قادیانی کی دولت جمع ہونے کا کوئی شرعی عذر پیش کرتے۔ ہاں یہ جواب دیا کہ: ”حضرت سلیمان بھی تو بادشاہ تھے۔ نیز نبی کریم ﷺ مال غنیمت سے پانچواں حصہ لیتے تھے۔“

جواب ابراہیمی

حضرت سلیمان علیہ السلام نے نبوت کے ذریعہ دولت و حکومت نہیں پیدا کی تھی۔ بلکہ ان کے والد حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ تھے۔ ان کے وفات پانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام ان کے جانشین ہوئے اور نبی کریم ﷺ جو مال غنیمت سے پانچواں حصہ لیتے تھے۔ سو جنگوں کا معاملہ ہے۔ نبی ﷺ کی خصوصیت نہیں۔ ہر ایک سپاہی ادنیٰ سے اعلیٰ تک مال غنیمت کا حصہ لیتا تھا۔ نبی ﷺ بذات خود جنگ میں کمان افسر ہوتے تھے۔ اس لئے آپ بھی حسب قانون سیاست اپنے حصہ کے حقدار تھے۔ ہاں یہ بھی واضح رہے کہ پانچواں حصہ نبی ﷺ اکیلے ہی نہیں لیتے تھے۔ بلکہ وہ حصہ بیت المال کہلاتا تھا۔ جس میں سے تمام یتیم و مسکین و مسافر بھی کھاتے تھے۔ پڑھو آیت ”فان لله خمسه وللرسول ولذى القربى واليتمى والمساكين وابن السبيل“ یعنی پانچواں حصہ اللہ و رسول و مسلمانوں کے ( کمزور و غریب ) قرابت داروں و یتیموں و مسکینوں و مسافروں کے لئے ہے۔ (الانفال)

بھائیو! غور کرو کہ آنحضرت ﷺ نہ صرف مسلمانوں کے جن میں بڑے بڑے امراء رئیس تھے۔ روحانی پیشوا تھے۔ بلکہ حاکم وقت بھی اندریں حالات اگر آپ چاہتے تو لاکھوں کروڑوں روپیہ جمع کر لیتے ۔ مگر آپ نے جس طور پر دنیا میں گزارہ کیا وہ ہم اپنے الفاظ میں نہیں ۔ مرزا قادیانی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو لکھا ہے: ”جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت و اقبال کے دنوں میں ( آنحضرت ﷺ نے ) کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی کوئی یادگار تیار نہ کی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش و عشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہو کر نہ کھایا۔“

(براہین احمدیہ ص ١١٧، خزائن ج ٢١ ص ١٠٩)

احمدی بھائیو! محمد رسول اللہ ﷺ جیسے مقدس رسول سے مرزا قادیانی کی مثال دینے والو! شرم کرو۔ یوم الحساب کو خدا کے روبرو کیا جواب دو گے؟

٢٨

صفحہ ٥٤٥

وبقول خود اپنے والد کی وفات کے وقت ”روٹی کی فکر“ (نزول جاتے تھے۔ لاکھوں کی جائیداد چھوڑ کر مرے۔ مختصر کہ آپ پر نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کے جواب میں مرزائیوں سے یہ تو نہ کا کوئی شرعی عذر پیش کرتے۔ ہاں یہ جواب دیا کہ: ”حضرت مال غنیمت سے پانچواں حصہ لیتے تھے۔“

نے نبوت کے ذریعہ دولت وحکومت نہیں پیدا کی تھی۔ بلکہ تھے۔ ان کے وفات پانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ ﷺ جو مال غنیمت سے پانچواں حصہ لیتے تھے۔ سو ت نہیں۔ ہر ایک سپاہی ادنیٰ سے اعلیٰ تک مال غنیمت کا لکان افسر ہوتے تھے۔ اس لئے آپ بھی حسب قانون یہ بھی واضح رہے کہ پانچواں حصہ نبی ﷺ اکیلے ہی نہیں ۔ جس میں سے تمام یتیم و مسکین و مسافر بھی کھاتے تھے۔ سول ولذی القربى واليتامى والمساكين وابن ورسول و مسلمانوں کے ( کمزور و غریب ) قرابت داروں ۔ (الانفال)

ﷺ نہ صرف مسلمانوں کے جن میں بڑے بڑے امراء وقت بھی اندریں حالات اگر آپ چاہتے تو لاکھوں جس طور پر دنیا میں گزارہ کیا وہ ہم اپنے الفاظ میں نہیں۔ یں۔ ملاحظہ ہو لکھا ہے: ”جب مدت مدید کے بعد غلبہ میں (آنحضرت ﷺ نے) کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت کا تجویز نہ کیا گیا، کوئی اور ذاتی اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں نہ کھایا۔“

(براہین احمدیہ ص ١١٧، خزائن ج ١ ص ١٠٩)

ﷺ جیسے مقدس رسول سے مرزا قادیانی کی مثال دینے لیا۔ جواب دو گے؟ ٢٨

اسی دلیل مرزائیہ ”فقد لبثت فيكم عمراً“ کا دوسرا جواب

مولانا محمد ابراہیم نے یہ دیا کہ انبیاء کرام شرک وکفر سے پیدائشاً پاک ہوتے ہیں۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی قبل دعویٰ نبوت کے بقول خود مشرک تھے اور قرآن میں ہے۔ ”انما المشركون نجس“ پس مرزا قادیانی کی لائف قبل از نبوت پاکیزہ نہ تھی۔ ثبوت سنئے

مرزا قادیانی عرصہ دراز تک عقیدہ حیات مسیح کے معتقد بلکہ مشتہر ومبلغ رہے اور بعد میں آپ نے کھلے الفاظ میں اس عقیدہ کو شرک قرار دیا۔ نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی پہلے خود بھی مشرک تھے۔

اس کے جواب میں مرزائیوں سے اور کچھ نہ بن پڑا تو نہایت بے حیائی، ڈھیٹ پن، بے ایمانی اختیار کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ہاں ہاں اس مقدس رسول ﷺ کو، جس نے کروڑہا انسانوں کو بتوں اور عیسیٰ پرستی اور مخلوق پرستی سے نجات دیکر۔ ”لا اله الا الله“ پر قائم کیا۔“

(ست بچن ص ٧٣، خزائن ج ١٠ ص ١٩٧)

مشرک ثابت کرنے کی کوشش کی۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! استغفر اللہ ثم استغفر اللہ! افتراء صریح و بہتان قبیح کا ثبوت یوں بتایا کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ ’من حلف بشئ من دون الله فقد اشرك‘ الحدیث سے معلوم ہوا کہ خدا کے سوا کسی اور کی قسم کھانا شرک ہے۔ مگر دوسرے وقت آپ نے ایک شخص کے باپ کی خود قسم کھائی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ”قد افلح وابيه“ شخص نجات پا گیا مجھے اس کے باپ کی قسم۔“

جواب ابراہیمی

بھائیو! ہم نے مرزا قادیانی کے مشرک ہونے پر ان کی صریح تحریرات پیش کیں ہیں۔ اس کے جواب میں ہمارے مخاطبوں نے نہایت بے انصافی سے آنحضرت ﷺ سید الموحدین کو مشرک ثابت کرنے کی کوشش کی۔ پناہ بخدا۔ خیر ان کی مرضی حق تعالیٰ خود حساب لے گا۔ ہمارا کام صحیح جواب دینا ہے۔ سو سنئے جو حدیث آپ نے پیش کی ہے۔ اس میں ایک لفظ محذوف ہے۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ: ”قد افلح ورب ابيه“ اس شخص کے باپ کے رب کی قسم یہ نجات پا گیا۔ اس طرح کے حذف، محذوف کلام عرب میں بکثرت ہوتے ہیں۔ خود قرآن مجید میں ہی مواقع کثیرہ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ بطور نمونہ ایک موقعہ پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ ہو۔ سورہ یوسف میں ہے۔ ”واسئل القرية“ اس کا ترجمہ لفظی ہے کہ ”پوچھ لے قریہ سے“ حالانکہ قریہ کوئی قابل استفسار ہستی نہیں۔ سو اس آیت میں بھی ایک لفظ اہل محذوف ہے۔ جس کے ملانے سے عبارت یہ ہوگی کہ: ”پوچھ بستی میں رہنے والوں سے، اور یہی صحیح ہے۔ جسے ہمارے مخاطب بھی مانتے ہیں۔ حاصل یہ کہ حدیث میں غیر

٢٩

صفحہ ٥٤٦

اللہ کی قسم (جیسا کہ مرزائی اصحاب کہتے ہیں) ہرگز نہیں کھائی۔ ”فتدبرہ لاتکن من المفترین“ اس کے جواب میں مرزائیوں نے دوبارہ الحدیث پر اعتراض نہیں کیا۔ فللہ الحمد!

مرزائیوں کی دلیل فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ الخ کا تیسرا جواب مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی مناظر اہل اسلام نے دوسرے دن کے مناظرہ میں یہ دیا کہ: ”گو یہ درست ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی ہر قسم کے عیوب ونقائص سے پاک ہوتی ہے۔ تاہم اس کے ثبوت میں اس آیت سے استدلال کرنا غلط ہے۔ خلاف مراد آیت ہذا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں کفار کے سامنے نبی ﷺ کی ابتدائی زندگی بحیثیت پاکیزگی پیش ہی نہیں کی گئی۔ بلکہ اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ کفار کہتے تھے۔ اے محمد ﷺ اس قرآن کو بدل ڈال۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے زبانِ نبوی سے کہلوایا کہ اے لوگو! میں تم میں بیشتر حصہ زندگی کا گزار چکا ہوں اور تم بخوبی جانتے ہو کہ میں ان پڑھ ہوں۔ پس عقل کرو کہ میرے جیسا ان پڑھ اس کو کیسا بدل سکتا ہے۔ میرا ان پڑھ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ وہی کہتا ہوں جو کچھ مجھ پر وحی الٰہی نازل ہوتی ہے۔“

بھائیو! اس آیت کا اصلی و صحیح مطلب یہی ہے۔ مرزائی صاحبان کی طبیعت کا جزو غالب چونکہ مغالطہ دہی ہے۔ اس لئے وہ اگلی پچھلی آیات کو چھوڑ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ساری آیات اس مقام کی یوں ہیں ۔

”واذ تتلیٰ علیہم ایتنا بینات قال الذین لا یرجون لقاء نا ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ ٠ قل مایکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا مایوحیٰ الی انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم ٠ قل لوشاء اللہ ما تلوتہ علیکم ولا ادرکم بہ ٠ فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون“

یعنی جب ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں۔ جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں تو کہتے ہیں لے آ ہمارے پاس سوائے اس قرآن کے اور کتاب یا بدل ڈال اس کو کہہ کہ اس کو بدلنا میرا کام نہیں میں تو وحی الٰہی کا متبع ہوں جو مجھ پر اترتی ہے اور میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے اگر حکم عدولی کروں اپنے رب کی ، انہیں یہ بھی کہہ دے اگر خدا چاہتا میں نہ پڑھتا تم پر اور نہ تم کو اس کی خبر دیتا۔ کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے پھر کیا نہیں سمجھے۔

بھائیو! خدارا ان آیات پر مکرر سہ کر نظر ڈال کر دیکھو۔ کیا اس میں کوئی بھی لفظ ایسا ہے کہ محمد ﷺ کی پہلی زندگی چونکہ پاکیزہ تھی اس لئے وہ ان کی نبوت پر دلیل ہے؟۔ ہرگز نہیں۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ لاریب انبیاء کی پہلی کیا ساری زندگی پاک ہوتی ہے مگر اس وقت سوال یہ

٣٠

صفحہ ٥٤٧

کہتے ہیں) ہرگز نہیں کھائی۔ ”فتدبره لا تكن من المفترين“

مرزائیوں نے دوبارہ اہلحدیث پر اعتراض نہیں کیا۔ فلللہ الحمد!

آیت فیكم عمراً من قبله الخ کا تیسرا جواب مولوی احمد دین صاحب سرے دن کے مناظرہ میں یہ دیا کہ: ”گو یہ درست ہے کہ انبیاء علیہم رجس سے پاک ہوتی ہے۔ تاہم اس کے ثبوت میں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں کفار کے سامنے نبی ﷺ کی عویٰ نہیں کی گئی۔ بلکہ اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ کفار کہتے ڈال۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے زبان نبوی سے کہلوایا کہ کا گزار چکا ہوں اور تم بخوبی جانتے ہو کہ میں ان پڑھ ہوں۔ پس کو کیسا بدل سکتا ہے۔ میرا ان پڑھ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ہی کہتا ہوں جو کچھ مجھ پر وحی الٰہی نازل ہوتی ہے۔“

تسلی و صحیح مطلب یہی ہے۔ مرزائی صاحبان کی طبیعت کا جزو س لئے وہ اگلی پچھلی آیات کو چھوڑ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

آیتیں یوں ہیں۔ بهم آيتنا بينات قال الذين لا يرجون لقاء نا ائت قل مايكون لى ان ابدّله من تلقاء نفسى ان اتبع الا عصيت وربى عذاب يوم عظيم . قل لوشاء الله ما . فقد لبثت فيكم عمراً من قبله افلا تعقلون“

پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں۔ جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں وائے اس قرآن کے اور کتاب یا بدل ڈال اس کو کہہ کہ اس کو بدلنا ہوں جو مجھ پر اترتی ہے اور میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب کی ، انہیں یہ بھی کہہ دے اگر خدا چاہتا میں نہ پڑھتا تم پر اور نہ تم کو وں تم میں ایک عمر اس سے پہلے پھر کیا نہیں سمجھتے۔

ت پر مکرر سہ کر نظر ڈال کر دیکھو۔ کیا اس میں کوئی بھی لفظ ایسا ہے پاکیزہ تھی اس لئے وہ ان کی نبوت پر دلیل ہے؟ ۔ ہرگز نہیں۔ میں انبیاء کی پہلی کیا ساری زندگی پاک ہوتی ہے مگر اس وقت سوال یہ

٣٠

ہے کہ کیا اس آیت میں وہ پاکیزگی بطور دلیل صدق دعویٰ نبوت پیش کی گئی ہے یا نہیں سو اس آیت سے یہ کہیں نہیں نکلتا اور نہ ہی کسی دوسری جگہ محض پاکیزہ زندگی کو دلیل نبوت قرار دیا گیا ہے۔ اس کا جواب مرزائیوں نے کوئی نہ دیا۔

مرزائیوں کی دوسری دلیل

اسی ضمن میں یہ تھی کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کو نیک ، پارسا، خادم دین وغیرہ کہا۔ اس کا جواب از جانب مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی یہ دیا گیا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے خود اس کا جواب دیا ہوا ہے کہ: ”جو میں نے مرزا قادیانی کے ملہم ہونے کو ممکن سمجھا تھا تو وہ اس وقت تک تھا کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کیا تھا اور نہ نبوت و رسالت کا اس کو دعویٰ تھا۔ جب سے وہ مسیح موعود خود بن بیٹھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو برملا گالیاں دینے لگ گیا ان کو بدچلن، بدزبان، شرابی، موٹی عقل والا، جھوٹ بولنے والا، زنا کار عورتوں کے خون سے وجود پذیر، کنجریوں سے محبت رکھنے والا وغیرہ وغیرہ (نقل کفر کفر نباشد) یہ بعینہ مرزا قادیانی کے الفاظ ہیں۔ (دیکھو ضمیمہ انجام آتھم ص٤، ٦، خزائن ج١١ ص٢٨٩) اور آنحضرت خاتم الانبیاء پر علم یاجوج ماجوج و دجال وغیرہ میں فوقیت کا مدعی ہوا ہے اور جھوٹ بولنے میں اور کتابوں کے جھوٹے حوالے دینے میں اپنی نظیر آپ ہی ہو گیا ہے۔ تب سے وہ ہمارے اس ریویو کا محل نہیں رہا۔“ (اشاعت السنۃ ج ٢٠ نمبر ٢ ص ٦٣، ٦٤)

دوسرا جواب

اس کا مولانا سیالکوٹی نے یہ دیا کہ ماسوائے اس کے خدا تعالیٰ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ سے ہی مرزا قادیانی کے غیر صادق ہونے پر مہر لگا دی۔ وہ یوں کہ مرزا قادیانی نے اپنی تصنیف (اعجاز احمدی ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢) پر بطور پیش گوئی لکھا تھا کہ مولوی محمد حسین مجھ پر ایمان لے آئے گا۔ حالانکہ یہ پیش گوئی صریح جھوٹی نکلی۔

اس کے جواب میں مرزائی مناظر نے مولانا محمد ابراہیم کے سامنے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر دوسرے دن کے مناظرہ میں جب یہی دلیل مولوی احمد الدین صاحب نے کذب مرزا پر پیش کی تو مرزائیوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس پیش گوئی کا یہ مطلب بتایا ہوا ہے کہ محمد حسین بٹالوی فرعون کی طرح مجھ پر ایمان لائے گا۔ سو مولوی محمد حسین مرتے وقت ایمان لایا ہوگا۔

جواب از جانب اہل اسلام

جناب! جو تحریر مرزا قادیانی کی آپ نے پیش کی ہے کہ محمد حسین فرعون کی طرح ایمان لائے گا وہ اس وقت کی ہے جب مرزا قادیانی بقول خود اصلیت سے ناواقف تھے۔ جیسا کہ وہ خود

٣١

صفحہ ٥٤٨

لکھتے ہیں: ”مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایمان فرعون کی طرح ہوگا یا پرہیز گار لوگوں کی طرح۔“ حاشیہ استفتاء اردو ص ٢٢، خزائن ج ١٢ص ١٣٠ بخلاف جو تحریر مرزا قادیانی کی ہم نے پیش کی ہے وہ اس کے بہت بعد کی ہے جس میں بقول مرزا قادیانی خدا نے انہیں بذریعہ وحی بتا دیا تھا کہ ”محمد حسین کا ایمان سعید لوگوں کی طرح ہوگا اور میرے مرید اس کو چشم خود دیکھیں گے ۔“

(ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ص ١٦٢)

پس آپ کا عذر باطل اور ہمارا اعتراض بحال (اس کا جواب الجواب مرزائیوں نے نہیں دیا۔ مرتب)

تیسری دلیل صداقت مرزا پر

احمدیوں کی طرف سے یہ پیش گئی کہ: ”مرزا قادیانی نے اعجاز احمدی کتاب لکھ کر بطور تحدی دعویٰ کیا کہ یہ ایسی فصیح و بلیغ بے مثل و نظیر ہے کہ کوئی شخص اس کا جواب نہ دے سکے گا۔ چنانچہ کسی سے جواب نہ بن پڑا۔

جواب ابراہیمی

اے جناب! مرزا قادیانی کا ایسا دعویٰ کرنا ہی ان کے مفتری ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ دنیا بھر میں صرف ایک کتاب بے مثل و نظیر ہے۔ یعنی قرآن مجید۔ اب اس کے بعد جو دعوے کرے کہ میرا کلام بھی ایسا ہی ہے وہ مفتری علی اللہ۔ جیسا کہ آیت قرآن اس پر شاہد ہے: ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ . انعام ع ١١ “ یعنی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر افترا باندھے۔ نیز اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو کہے کہ میں اتارتا ہوں (یا بنا سکتا ہوں) اس جیسا جو خدا نے اتارا باقی رہا یہ کہنا کہ اس کا جواب کسی نے نہ دیا۔ یہ بھی غلط ہے۔ یہ دیکھئے میرے ہاتھ میں رسالہ پکڑا ہے جس کا نام ہے ”ابطال اعجاز مرزا“ شاید تم یہ کہو کہ مرزا قادیانی نے جواب کے لئے جو میعاد مقرر کی تھی اس کے اندر جواب نہیں دیا گیا۔ سو واضح ہو کہ مرزا قادیانی کا اس کے جواب میں میعاد مقرر کرنا ہی ان کے عجز کی دلیل ہے۔ خود تو اچھی خاصی مدت میں ایک کتاب لکھی یا لکھوائی مگر مخاطبوں کو بیس یوم کی مہلت دی وہ اس طرح کہ کتاب لکھ کر اور چھاپ کر ٢٠ یوم میں شائع کی جائے۔ آہ! کس قدر ہوشیاری ہے۔

اس کے جواب میں مرزائیوں نے کہا کہ رسالہ ابطال اعجاز مرزا کا جواب الجواب ہماری جماعت کی طرف سے دیا جاچکا ہے۔ مگر اصل اعتراض یعنی ٢٠ یوم کی دجالانہ قید کا کوئی

٣٢

صفحہ ٥٤٩

جواب نہ دیا۔ دوسرے دن کے مناظرہ میں پھر اسی اعجاز احمدی کو پیش کیا تو اس کے جواب میں مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی نے اس قصیدہ اعجازیہ کی خوب دھجیاں اڑائیں اور کئی ایک شعر اس قصیدہ کے پڑھ کر سنائے جن میں صرفی، نحوی، عروضی، ہر قسم کی بکثرت غلطیاں ظاہر کیں جن کا آخر تک مرزائیوں نے باوجود بار بار کے مطالبہ کے کوئی جواب نہ دیا۔

مرزائیوں کی چوتھی دلیل

صدق مرزا پر یہ تھی کہ جس طرح حضرت نوح کی دعا سے ان کی قوم پر طوفان آیا اس طرح مرزا قادیانی کی بددعا و پیش گوئی سے ان کے مخالفین پر طاعون بھیجی گئی اور قادیان جس میں مرزا قادیانی رہتے تھے کی نسبت وعدہ ہوا انہ اوی القریۃ !

جواب ابراہیمی

حضرت نوح علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا پر جو طوفان آیا تھا اس میں کافر ہی تباہ وبرباد کئے گئے تھے اور مومن سب کے سب بچائے گئے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک اس پر شاہد ہے: ”فانجينه والذين معه فى الفلك واغرقنا الذين كذبوا بآياتنا (اعراف) “ پس ہم نے نوح اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی کشتی میں اور غرق کئے ہم نے وہ لوگ جو ہماری تکذیب کرتے تھے۔

بخلاف اس کے طاعون میں علاوہ غیر مرزائیوں کے مرزائی بھی مبتلا ہوئے اور ان پر کچھ شدت سے طاعون کا حملہ ہوا کہ مرزا قادیانی پکار اٹھے ”اے خدا ہماری جماعت سے طاعون اٹھالے ۔“ (اخبار بدر ٤ مئی ١٩٠٥ء) پس یہ دلیل جو آپ نے صدق مرزا پر پیش کی ہے الٹی کذب مرزا پر ہماری دلیل ہے۔ مرزائیوں نے اس کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔

مرزائیوں کی پانچویں دلیل

”نبوت کا جھوٹا دعوے کرنے والا مارا جاتا ہے، اگر مرزا قادیانی کاذب ہوتے تو زندہ نہ رہتے۔“

جواب ابراہیمی

قطع نظر اس بات کے کہ قرآن مجید میں کاذب مدعی نبوت کی موت ضروری قرار دی گئی ہے یا نہیں۔ مرزا قادیانی اس اپنے مسلمہ اصول پر بھی کاذب ہی ثابت ہوتے ہیں۔ وہ یوں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت جیسا کہ تم احمدیوں کا اعتقاد ہے۔ ١٩٠٢ء میں کیا اور وفات ان کی ١٩٠٨ء ہے۔ یعنی بعد دعویٰ کے کل چھ سال کے قریب زندہ رہے۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ صادق نبی کے لئے ٢٣ سال زندہ رہنا ضروری ہے اور ٢٣ سال کی مہلت کاذب کو نہیں ملتی۔ دیکھو (اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن

٣٤

صفحہ ٥٥٠

ج ٧ ص ٤٤٠) وغیرہ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی بقول خود مطابق قرآن مجید کاذب ثابت ہوئے۔

دوسرا جواب

اس دلیل مرزائیہ کا مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی نے دوسرے دن کے مناظرہ میں یہ دیا کہ: احمدی دوستو! تم اور تمہارے نبی مرزا قادیانی جو صادق اور کاذب میں تفریق کرنے کے لئے ٢٣ سال مدت ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے کہاں ملتا ہے؟ پیش کرو۔ ماسوا اس کے یہ بھی غلط ہے کہ کاذب نبی بطور سزا مارا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں صاف مرقوم ہے کہ مفتریان علیٰ اللہ کی سزا دنیا میں مقرر نہیں ہے۔ بلکہ موت کے وقت سے سزا شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ انعام رکوع ١١ میں ہے۔ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوقال اوحیٰ الیّ فلم یوح الیہ شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ ولو تریٰ اذا الظلمون فی غمرات الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولون علیٰ اللہ غیر الحق “ یعنی اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء کرے۔ یا کہے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے اور نہ ہوتی ہو اس کی طرف وحی یا کہے کہ میں اتارتا ہوں۔ اس جیسا جو خدا نے اتارا۔ اے نبی ﷺ کبھی تو دیکھے جس وقت یہ مفتری ظالم موت کی بیہوشی میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلائے ہوتے ہیں کہ نکالو اپنی جان آج تم کو جزا ملے گی۔ ذلت کی مار بوجہ اس کے کہ تم خدا پر جھوٹ باندھتے تھے۔ یہ آیات پکار رہی ہیں کہ خدا پر افتراء باندھنے والوں کی سزا ان کی موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ پس مرزائیوں کا یہ اصول کہ کاذب مدعی نبوت کو اسی دنیا میں ضروری موت کی سزا بحیثیت قانون مقررہ بنتی ہے۔ غلط ہے (اس تمام تقریر کا مرزائیوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مرتب)

چھٹی دلیل

مرزائیوں نے یہ پیش کی کہ جھوٹا موت کی تمنا نہیں کرتا۔ جیسا کہ آیت ”فتمنوا الموت ان کنتم صادقین“ سے ظاہر بخلاف اس کے حضرت مرزا قادیانی نے بڑے جوش وخروش سے درگاہ الٰہی میں دعاء کی کہ اے خدا اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر عذاب نازل کر۔ (وغیرہ)

جواب ابراہیمی

یہ بنا کہ کاذب موت کی دعاء نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کی قرآن دانی کی پردہ دری کر رہا ہے۔ قرآن مجید میں موجود ہے کہ کفار مکہ نے دعاء کی تھی۔ ”اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء واتینا بعذاب الیم وما کان اللہ لیعذبھم

٣٤

صفحہ ٥٥١

ہوا کہ مرزا قادیانی بقول خود مطابق قرآن مجید کاذب ثابت ہوئے۔

مولوی احمد دین صاحب گکھڑوی نے دوسرے دن کے مناظرہ میں جواب دیا کہ: اور تمہارے نبی مرزا قادیانی جو صادق اور کاذب میں تفریق کرنے معیار قرار دیتے ہیں۔ اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے کہاں ملتا ہے؟ یہ غلط ہے کہ کاذب نبی بطور سزا مارا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں صاف کی سزا دنیا میں مقرر نہیں ہے۔ بلکہ موت کے وقت سے سزا شروع ہوتی نص ہے۔ ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً اوقال اليه شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل الله ولو ترى اذا الموت والملئكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم بما كنتم تقولون على الله غير الحق “ یعنی اس سے زیادہ کرے یا کہے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے اور نہ ہوتی ہو اس کی طرف ۔ اس جیسا جو خدا نے اتارا۔ اے نبی ﷺ کبھی تو دیکھے جس وقت یہ میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلائے ہوتے ہیں کہ نکالو اپنی جان کی مار بوجہ اس کے کہ تم خدا پر جھوٹ باندھتے تھے۔ یہ آیات پکار رہی نے والوں کی سزا ان کی موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔ پس کاذب مدعی نبوت کو اسی دنیا میں ضرور ہی موت کی سزا بحیثیت قانون مقررہ تقریر کا مرزائیوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مرتب)

پیش کی کہ جھوٹا موت کی تمنا نہیں کرتا۔ جیسا کہ آیت ”فـتـمـنـوا صادقین “ سے ظاہر بخلاف اس کے حضرت مرزا قادیانی نے بڑے جوش دعاء کی کہ اے خدا اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر عذاب نازل کر۔ (وغیرہ)

موت کی دعاء نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کی قرآن دانی کی پردہ دری کر رہا یہ ہے کہ کفار مکہ نے دعاء کی تھی۔”اللهم ان كان هذا هو الحق من حجارة من السماء وائتنا بعذاب الیم وما كان الله ليعذبهم

٣٤

وانت فيهم (الانفال) : ” یعنی کفار کہتے تھے کہ اگر یہ حق ہے تو اے خدا ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا، یا لے آ ہم پر عذاب دردناک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ خدا ان پر عذاب نہیں کرے گا۔ کیونکہ اے نبی رحمت تو ان کے درمیان ہے۔ پس تمہارا یہ کلیہ کہ کاذب عذاب کی دعاء نہیں مانگتا ٹوٹ گیا۔

اس کے جواب میں مرزائیوں میں عجب کھلبلی مچی۔ دلیل تو یہ دی تھی کہ کاذب موت کی تمنا نہیں کرتا۔ اس لئے مرزا صادق ہے۔ کیونکہ اس نے موت کی تمنا کی مگر جب یہ قرآن سے ثابت ہو گیا کہ کافر بھی موت کی دعاء مانگتے تھے تو مرزائی صاحبان خلط مبحث کر کے کہنے لگے۔

ہاں یہ تو درست ہے کہ کفار نے موت کی تمنا کی تھی۔ مگر ان پر عذاب وارد ہو گیا تھا۔ چنانچہ ابو جہل آسمانی پتھروں سے ہی ہلاک کیا گیا تھا۔

جواب ابراہیمی

آپ کی دلیل صرف یہ تھی کہ کاذب عذاب کی دعاء نہیں کرتے اور مرزا قادیانی نے کی ہے اور میں نے قرآن پاک سے ثابت کر دیا کہ کافر بھی عذاب کی دعاء کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا تمہاری دلیل ”گاؤ خورد ہوئی“ باقی رہا یہ کہنا کہ ان پر عذاب آ گیا تھا۔ سو یہ بھی غلط ہے اس دعاء کے جواب میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ بوجہ اس کے رسول رحمتہ اللعالمین ان کے اندر موجود ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ابو جہل وغیرہ کی موت بباعث اس دعاء کے نہ تھی۔ پھر یہ بھی غلط ہے کہ ابو جہل آسمانی پتھروں سے مارا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تو قتل ہوا تھا۔ (جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (چشمہ معرفت ص ١٦٨، خزائن ج ٢٣ ص ١٧٦) میں تسلیم کیا ہے۔ مرتب)

حضرت مولانا کی اس تقریر کے جواب میں مرزائیوں نے صاف تسلیم کر لیا کہ ”واقعی ابو جہل قتل کیا گیا۔ مگر اس کی موت اس دعاء کے باعث ہی تھی ۔“

اس کے جواب میں

مولوی صاحب نے فرمایا کہ ”قرآن پاک سے ثابت ہے کہ کفار کی اس دعاء پر عذاب کی نفی کی گئی ہے۔ مگر آپ ضد اور ہٹ اختیار کرتے ہوئے مصرح آیات کے خلاف اڑ رہے ہیں۔ اچھا اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ہر اس کاذب کے لئے جو عذاب کی خواہش کرے ذلت کی موت مقرر ہے تو بھی مرزا قادیانی کاذب ہی ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی ذلت ورسوائی کی موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مولانا محمد ثناء اللہ امرتسری کے ہاتھوں سے تنگ آ کر درگاہ الٰہی میں بدیں الفاظ دعاء کی کہ: ”اے میرے مالک بصیر وقدیر! اگر میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو مجھے ثناء اللہ کی زندگی میں ہلاک کر۔“ (اشتہار آخری فیصلہ، مجموعہ اشتہارات ج٣

٣٥

صفحہ ٥٥٢

ص ٥٧٩) مرزا قادیانی کی اس دعاء کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا مولانا امرتسری کی حیات میں ہی مر گئے اور مولوی صاحب موصوف بفضلہ تعالیٰ زندہ سلامت بکرامت موجود ہیں۔ فللہ الحمد۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہونے پر بار بار خدا تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر یہ دلیل دی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ اگر وہ دوسری جگہ بیاہی جائے گی تو اس کا خاوند اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا وغیرہ۔ ان میں بھی مرزا قادیانی سراسر غیر صادق نکلے ۔“

جواب مرزائی

اس کے جواب میں مرزائیوں نے کہا ”آخری فیصلہ والی دعاء کے متعلق مولوی ثناء اللہ نے خود کہا تھا۔ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کرے گا۔ پس جبکہ انہوں نے اس فیصلہ کو قبول ہی نہیں کیا تو وہ اس کی بناء پر صادق نہیں ہو سکتے اور مرزا قادیانی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے آنحضرت ﷺ باوجود صادق ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرما گئے اور محمدی بیگم کے نکاح پر جو اعتراض ہے اس کا یہ جواب ہے کہ یہ پیش گوئی شرطی تھی۔ جیسا کہ لکھا ہے۔ ” حتما المراۃ توبی توبی“ سو ان لوگوں نے توبہ کی اس لئے موت سے بچ گئے ۔“

جواب ابراہیمی

مرزا قادیانی کی دعا آخری فیصلہ مباہلہ نہ تھی کہ اس کے لئے مولوی ثناء اللہ کی منظوری یا عدم منظوری ضروری ہوتی ۔ بلکہ یہ دعاء جیسا کہ خود اسی اشتہار میں لکھا ہے محض دعا تھی۔ اسی طرح اس اشتہار کے اخیر میں یہ فقرے موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں کہ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں ۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ الفاظ بالصریح یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ”فیصلہ مرزا“ مولوی ثناء اللہ صاحب کی منظوری یا عدم منظوری پر موقوف نہ تھا۔ پس مولانا صاحب کے انکار کا اس پر کوئی اثر نہیں ۔ باقی رہا مسیلمہ کذاب کا واقعہ سو وہاں کاذب اور صادق میں امتیاز کرنے کو ایسی کوئی دعاء یا فیصلہ نہ تھا۔ جیسا مرزا قادیانی نے خدا سے چاہا۔ نیز خود رسول کریم ﷺ نے پیش گوئی کی ہوئی تھی کہ مسیلمہ کذاب مقتل بعد ی میرے فوت ہونے کے بعد قتل ہوگا اور محمدی بیگم کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے توبہ کی ۔ اس لئے موت ٹل گئی ۔ یہ سراسر مغالطہ ہے۔ پہلے یہ دیکھو کہ سلطان محمد کا قصور کیا تھا۔ سو مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”احمد بیگ کے داماد کا قصور یہ تھا کہ اسے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ پیش گوئی کو سن کر پھر نکاح کرنے پر راضی ہوئے ۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار ص٤ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٩٥)

٣٦

معلوم ہوا کہ کیا اس نے توبہ کی رقمطراز ہیں ۔ ”مثلاً آ جرم سے دستبردار ہو ج یہ تعریف چاہئے تھی کہ وہ اپنی خ جو کچھ کیا وہ محتاج دلیل کہہ رہے ہیں کہ وہ ت اس کے ایک غیر مستند روایت میں آوے گی جو نہ آ

جواب ابراہیمی

یہ روایت بیان کیجئے ۔ بفرض م کے سینکڑوں برس ط بھی دلیل کافی ہے نکاح کو قیامت کے آیا ہے کہ حضرت ع کی ہوگی ۔“

پس ج کو محمدی بیگم کے نک بوکھلائے کہ گھبراہٹ

جواب ابراہیمی

جناب والی روایت میں قی محمدی بیگم کا قیامت

صفحہ ٥٥٣

کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا مولا نا امرتسری کی حیات میں ہی مر گئے اور مولوی صاحب بسلامت بکرامت موجود ہیں۔ فللہ الحمد۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے جب بار بار خدا تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر یہ دلیل دی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی یہ لڑکی ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ اگر وہ دوسری جگہ بیاہی جائے گی تو اس کا خاوند اڑھائی سال میں فوت ہو جائے گا۔ سو اس پیشگوئی میں مرزا قادیانی سراسر غیر صادق نکلے۔“

اب مرزائیوں نے کہا ” آخری فیصلہ والی دعاء کے متعلق مولوی ثناء اللہ کو منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کرے گا۔ پس جبکہ انہوں نے اسے نامنظور کیا ہے تو وہ صادق نہیں ہو سکتے اور مرزا قادیانی پر کوئی اعتراض نہیں کہ باوجود صادق ہونے کے مسلمہ کذاب سے پہلے انتقال کر گئے، اور جو اعتراض ہے اس کا یہ جواب ہے کہ یہ پیش گوئی شرطی تھی۔ جیسا کہ ”سو ان لوگوں نے توبہ کی اس لئے موت سے بچ گئے۔“

آخری فیصلہ مباہلہ نہ تھی کہ اس کے لئے مولوی ثناء اللہ کی منظوری یا دعاء جیسا کہ خود اسی اشتہار میں لکھا ہے۔ محض دعا تھی۔ اسی طرح یہ فقرات موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں کہ بالآخر مولوی صاحب سے ان کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ یہ الفاظ بالصریح یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ”فیصلہ مرزا“ منظوری یا عدم منظوری پر موقوف نہ تھا۔ پس مولانا صاحب کے انکار کا اس پر کیا اثر تھا۔ یہاں کاذب اور صادق میں امتیاز کرنے کو ایسی کوئی نشانی قادیانی نے خدا سے چاہی۔ نیز خود رسول کریم ﷺ نے پیش گوئی کی تھی کہ کذاب میرے فوت ہونے کے بعد قتل ہو گا اور محمدی بیگم کے متعلق جو پیشگوئی تھی مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ” احمد بیگ کے داماد کا قصور یہ تھا کہ وہ خداوند تعالیٰ کی پیش گوئی کو سن کر پھر نکاح کرنے پر راضی ہوئے۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار ص ٤ حاشیہ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

٣٦

معلوم ہوا کہ سلطان محمد کا قصور محمدی بیگم سے نکاح کرنا تھا۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اس نے توبہ کی سو پہلے ہم کتب مرزا سے دکھاتے ہیں کہ توبہ کہتے کسے ہیں۔ سنئے مرزا قادیانی رقمطراز ہیں : ” مثلاً اگر کافر ہے تو سچ مچ مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے۔ تو سچ مچ اس جرم سے دستبردار ہو جائے۔“

(اشتہار مرزا ص ٦، مورخہ ١٦ اکتوبر ١٨٩٢ء)

یہ تعریف توبہ کی بالکل صحیح و درست ہے کہ جس کی رو سے سلطان محمد کی توبہ یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ اپنی منکوحہ کو طلاق دے کر اس جرم سے دستبردار ہو جاتا۔ بخلاف اس کے اس نے جو کچھ کیا وہ محتاج دلیل نہیں۔ آج وہ اس عورت پر قابض و متصرف ہے۔ ادھر ہمارے مرزائی بھائی کہہ رہے ہیں کہ وہ تائب ہو گیا تھا۔ اس لئے بچ رہا۔ کیا خوب!

اس کے جواب میں مرزائی صاحبان بہت پریشان ہوئے۔ جب کہیں سہارا نہ ملا تو ایک غیر مستند روایت کی بناء پر نبی ﷺ پر اعتراض کیا کہ آپ نے بھی فرمایا تھا کہ مریم میرے نکاح میں آوے گی جو نہ آئی۔

جواب ابراہیمی

یہ روایت جو آپ نے پیش کی ہے۔ بالکل غیر مستند ہے۔ مہربانی کر کے اس کی سند بیان کیجئے۔ بفرض محال اگر صحیح بھی ہو تو یہ ایک کشفی معاملہ ہے۔ جناب مریم صدیقہ آنحضرت ﷺ کے سینکڑوں برس پیشتر فوت ہو چکی تھیں۔ پس اس نکاح کے کشفی اور متعلقہ عالم آخرت ہونے پر یہی دلیل کافی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ اس روایت میں اس نکاح کو قیامت کے دن ہونے والا کہا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کی تحریر ذیل ”بعض آثار میں آیا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ والدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عالم آخرت میں زوجہ مطہرہ آنحضرت کی ہوگی ۔“

(سرمہ چشمہ آریہ ص ٢٠، خزائن ج ٢ ص ٢٩٢)

پس جب کہ خود اس روایت میں اس نکاح کو متعلقہ عالم آخرت قرار دیا گیا تو تمہارا اس کو محمدی بیگم کے نکاح کی نظیر بنانا صریح خلاف دیانت ہے۔ اس کے جواب میں مرزائی کچھ ایسے بوکھلائے کہ گھبراہٹ میں آ کر کہہ دیا کہ محمدی بیگم کا نکاح بھی قیامت کو ہوگا۔

جواب ابراہیمی

جناب من ! جس طرح میں نے تمہارے نبی کے دستخطوں سے ثابت کیا ہے کہ مریم کا نکاح والی روایت میں قیامت کا حال مسطور ہے۔ اسی طرح تم بھی کسی الہام مرزا سے ثابت کرو کہ یہ نکاح محمدی بیگم کا قیامت کے دن ہوگا۔ میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ تم یہ ثابت نہ کر سکو گے۔ کیونکہ خود مرزائی ٣٧

صفحہ ٥٥٤

تحریرات موجود ہیں کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا جب تک محمدی بیگم میرے نکاح میں آوے۔

چنانچہ (شہادۃ القرآن ص٨٠، خزائن ج٦ ص٣٧٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”محمدی بیگم والی پیش گوئی بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ ١......مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔٢......پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔٣......پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔٤......پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔٥......پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔٦......پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔“

مرزائی دوستو! یہ عبارت جہاں ایک طرف یہ کہہ رہی ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح اسی عالم دنیا کے متعلق تھا۔ وہاں دوسری طرف یہ بھی بتا رہی ہے کہ آپ لوگ بحث و مناظرے میں مخلوق خدا کو گمراہ کرنے کے لئے ہر قسم کے دھوکہ، فریب، مغالطہ بازی سے اجتناب نہیں کیا کرتے۔ افسوس شہادۃ القرآن کی تحریر کے علاوہ اور سنو۔

مرزا قادیانی اس نکاح کو تقدیر مبرم یعنی قطعی امر اٹل قرار دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر یہ نکاح ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو ان کی تحریر ذیل: ”یعنی نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبديل لكلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلیں گی۔ پس اگر ٹل جائے خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی تو وہ اپنی کلام پاک کی پیش گوئی جاری کرنے کے لئے متوجہ ہوگا اور اسی طرح کرے گا جیسا کہ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں ٹلتی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھادوں گا جو اس کے حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔“

(اشتہار مرزا ١٨٩٣ء ص٤، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٣)

اس کے جواب میں مرزائی مناظر یہ پہلو تو بالکل چھوڑ گیا کہ ”یہ نکاح قیامت کو ہوگا۔“ اور دوسرا پہلو بدلا کہ حدیث میں ہے کہ تقدیر مبرم دعا سے ٹل جاتی ہے۔ جواباً مولانا محمد ابراہیم صاحب نے فرمایا کہ یہ تقدیر مبرم ایسی نہ تھی جو ٹل جاتی۔ کیونکہ مرزا صاحب نے اس کے ٹل جانے کی صورت میں خدا کا کلام باطل ہونا لازمی قرار دیا تھا۔ ماسوائے اس کے یہ نکاح مرزا قادیانی کے صادق رسول یا کاذب دجال ہونے میں بطور ایک دلیل فاصل ومحکم کے پیش کیا گیا۔ جیسا کہ خود

٣٨

صفحہ ٥٥٥

وقت تک زندہ رہوں گا جب تک محمدی بیگم میرے نکاح میں آوے۔ زائن ص ٢٨٠، خزائن ج ١١ ص ٣٧٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”محمدی بیگم والی پیش ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین ہو۔٢...... پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔٤...... پھر یہ کہ وہ ہوئے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ ٥...... پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان نے تک فوت نہ ہو۔ ٦...... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔“

عبارت جہاں ایک طرف یہ کہہ رہی ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح اسی عالم ی طرف یہ بھی بتا رہی ہے کہ آپ لوگ بحث ومناظرے میں مخلوق قسم کے دھوکہ، فریب، مغالطہ بازی سے اجتناب نہیں کیا کرتے۔ کے علاوہ اور سنو۔

نکاح کو تقدیر مبرم یعنی قطعی ان اٹل قرار دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر باطل ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو ان کی تحریر ذیل: ”یعنی نفس پیش گوئی یعنی ح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے ود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلیں گی۔ طل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا جو چند روز تک ان کو دی گئی گوئی جاری کرنے کے لئے متوجہ ہوگا اور اسی طرح کرے گا جیسا کہ کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس کے حکم

(اشتہار مرزا ١٨٩٣ء ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

مرزائی مناظر یہ پہلو تو بالکل چھوڑ گیا کہ ”یہ نکاح قیامت کو ہوگا۔“ نہیں ہے کہ تقدیر مبرم دعا سے ٹل جاتی ہے۔ جواباً مولانا محمد ابراہیم برم ایسی نہ تھی جو ٹل جاتی۔ کیونکہ مرزا صاحب نے اس کے ٹل جانے ں ہونا لازمی قرار دیا تھا۔ ماسوائے اس کے یہ نکاح مرزا قادیانی کے ہونے میں بطور ایک دلیل فاضل و محکم کے پیش کیا گیا۔ جیسا کہ خود

٣٨

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”فوالذی بعث لنا محمد ن المصطفیٰ ............ ان ھذا حق فسوف تریٰ وانی اجعل ھذا النباء معیار صدقی اوکذبی “(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣) پس قسم ہے اس خدا کی جس نے ہمارے لئے محمدﷺ کو مبعوث فرمایا ............ یہ بالکل سچ عنقریب تم دیکھو گے میں اسے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار بناتا ہوں۔“ یہ تحریر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ نکاح والی تقدیر اٹل تھی۔ جس کا ٹل جانا مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔

احمدی دوستو! بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اس نکاح کے ٹل جانے کی دعائیں کس نے مانگی تھیں۔ سنو! نکاح ٹل جانے کی دعا تو کسی سے ثابت نہیں۔ البتہ نکاح ہونے کے لئے تمام مرزائی و مرزا قادیانی بلکہ ان کی بیوی ام سلمہ بھی رورو کر دعائیں مانگتی۔ (دعاء الکافرین الا فی ضلال۔ مرتب) جو بوجہ کاذب ہونے مرزا قادیانی کے قبول نہ ہوئیں۔ مرزائیو! تم تو کہتے ہو کہ یہ نکاح قیامت کو ہوگا مگر مرزا قادیانی تو صاف مکر گئے ہیں۔ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ............ مگر جب ان لوگوں نے شرط کو پوری کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا “ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

اس عبارت میں نکاح پڑھا جا کر فسخ ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ کیا تم لوگ بتا سکتے ہو کہ مرزا قادیانی کے نکاح فسخ ہونے کی شرعی وجہ کیا تھی۔ سنو! نکاح فسخ ہونے کے لئے عند الشرع چار سبب ہیں:

احمدی دوستو! بتلاؤ مرزا قادیانی کا نکاح کون سے سبب کی وجہ سے فسخ ہوا تھا۔ کیونکہ نہ تو مرزا قادیانی مفلس تھے کہ نان ونفقہ نہ دیتے اور نہ نامرد تھے اور نہ سخت گیر۔ بلکہ بیوی کے عاشق تھے۔ اگر سبب ہو سکتا ہے تو صرف نمبر ٤ یعنی مرتد تھے۔ نکاح فسخ ہوا، اس کا کوئی جواب احمدی جماعت سے نہ بن پڑا۔

دوسرے دن کے مناظرہ میں مولوی احمد دین صاحب مناظر منجانب اہل اسلام نے بھی محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی کو جھوٹی ثابت کیا اور علاوہ سابقہ تحریرات مرزا قادیانی کے یہ تحریر بھی پیش کی کہ مرزا قادیانی نے بصورت نہ نکاح ہونے کے اپنے آپ کو ہر ایک بد سے بدتر ٹھہرایا ہوا ہے۔ جیسا کہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر لکھا ہے : ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

پس مرزا قادیانی نے جو فتویٰ اپنے پر لگایا ہے۔ ہم انہیں ایسا ہی ماننے پر مجبور ہیں کیونکہ یہ جز پیش گوئی کی پوری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے اسی ضمن میں یہ بھی پیش

١؎ مرزا قادیانی کا اپنا قول ہے کہ میری بیوی اس نکاح کے واقع ہونے کے لئے رو رو کر دعا ئیں مانگتی تھی۔

٣٩

صفحہ ٥٥٦

گوئی کی تھی کہ سلطان محمد بے برکت رہے گا۔ حالانکہ وہ بعیش و راحت زندگی گزار رہا ہے اور خدا کے فضل سے درجنوں اس کی اولاد ہے۔

شرط توبہ توبہ کے متعلق مولوی احمد دین صاحب نے فرمایا کہ: ”بقول مرزا قادیانی خدا کا وعدہ تھا کہ آخر وہ عورت تیرے نکاح میں آئے گی اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھا دے گا۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

اس تحریر میں صاف صاف موجود ہے کہ خدا سب موانعات کو اٹھا دے گا اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس نکاح کے لئے شرط یہ تھی تو بھی اس شرط والی روک کا اٹھانا حسب وعدہ ملہم مرزا ضروری تھا۔ پس اس روک کا نہ اٹھنا ہی اس پیش گوئی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔

منہاج نبوت کی رو سے کذب مرزا پر ایک دلیل

مرزائی صاحبان نے اس بات پر بڑا زور دیا کہ مرزا قادیانی منہاج نبوت پر پورے اترتے ہیں۔ اس لئے مناظرین اسلام نے منہاج نبوت کی رو سے بھی مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا۔ چنانچہ مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے فرمایا: ”انبیاء کرام کو ہمیشہ ان کی مادری زبان میں وحی ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧)

پس مرزا قادیانی از روئے منہاج نبوت بھی غیر صادق ثابت ہوئے۔ اب سنئے ثبوت اس امر کا کہ انبیاء کی وحی ان کی جانی ہوئی زبان میں ہوتی ہے۔ قرآن مجید سورہ ابراہیم میں ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم “ نہیں بھیجا۔ ہم نے کوئی رسول مگر اس کی قوم کا ہم زبان تاکہ انہیں واضح کرے۔

اس پر مرزائی مناظر نے کہا کہ: ”اس آیت سے ہر رسول کا ہم زبان ہونا ثابت ہے۔ مگر یہ ثابت نہیں کہ اس پر وحی بھی قوم کی زبان میں ہوتی تھی۔“

یہ عذر مرزائیوں کا اگرچہ بالکل لغو تھا۔ کیونکہ یہ خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے کہ: ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

تاہم حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب نے سنت ابراہیمی علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام پر عمل کرتے ہوئے اس سے واضح دلیل قرآن مجید سے پیش کر کے مرزائیوں کو ساکت و عاجز کر دیا۔ فرمایا:

٤٠

صفحہ ٥٥٦

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بو ضاحت فرمایا ہے۔ ”ولو جعلنا قرانا اعجمیا لقالوا لولا فصلت ايته ء اعجمی و عربی (حم:)“ اگر ہم اس قرآن کو اوپری زبان میں بناتے تو کفار معترض ہوتے کہ اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں۔ یہ کیا بات ہے کہ عجمی الہام اور عربی مخاطب؟ یہ آیت صاف ثبوت ہے۔ اس امر کا کہ الہام الٰہی مخاطبوں کی مادری زبان میں ہوتا ہے۔

آپ کے جواب میں مرزائی ایسے چپ ہوئے کہ گویا انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔ اصل دلیل کا جواب تو نہ دے سکے۔ ہاں حسب عادت خود بدولت اپنے نبی کی سنت کے مطابق کجروی اختیار کر کے پچھلے انبیاء پر خواہ مخواہ نکتہ چینی شروع کر دی۔ چنانچہ ملک عبدالرحمن مرزائی مناظر نے نہایت گستاخانہ، شوخانہ لہجہ میں عجیب طور پر منہ بنا کر کہا کہ: ”قرآن مجید میں انسانوں کی بولی کے علاوہ کاں کاں اور چوں چوں اور چڑ چڑ کا الہام موجود ہے۔ حضرت سلیمان کہتے ہیں کہ: ”علمنا منطق الطير (النمل:)“ خدا نے ہم کو جانوروں کی بولی سکھائی۔

جواب ابراہیمی

مرزائیو! کچھ تو ایمان، انصاف دیانت سے کام لو۔ کہاں یہ امر کہ انبیاء علیہم السلام پر جو الہام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوتا ہے۔ وہ ان کی جانی ہوئی زبان میں ہوتا اور یہ جواب کہ حضرت سلیمان کو خدا نے جانوروں کی بولی ہی سکھلائی وہاں اگر تم قرآن مجید سے یہ ثابت کرتے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جو الہام انسانوں کی ہدایت کے لئے ہوتا تھا۔ وہ ان کی جانی ہوئی زبان اور ان کی قومی زبان میں نہ تھا تو البتہ تمہاری دلیل تھی۔ مگر افسوس ہے کہ تم لوگ اس قسم کی مغالطہ بازیوں سے جہلاء کو دھوکہ دیتے ہو۔ پھر یہ بھی غلط ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بذریعہ الہام جانوروں کی بولی سکھلائی گئی تھی۔ علمنا کا لفظ الہام کے لئے مخصوص نہیں بلکہ طبعی فہم و تفہیم بھی اس میں داخل ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی فطرت میں اپنی قدرت سے یہ طاقت ودیعت کر دی کہ وہ جانوروں کی بولی سمجھنے لگ گئے۔ فافہم وتدبر!

دوسرے دن یعنی ٢١/ مارچ کا مناظرہ

دوسرے دن کے مناظرہ میں بھی مثل یوم گذشتہ مدعی جماعت احمدیہ تھی اور معترض اہل اسلام، مرزائیوں کی طرف سے مولوی محمد سلیم صاحب و ملک عبدالرحمن صاحب تھے اور اہل اسلام کی طرف سے مولوی احمد صاحب گکھڑوی اس دن دونوں نشستوں میں زیادہ تر انہی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ جن کو ہم نقل کر چکے ہیں۔ کیونکہ آج بھی اثبات نبوت مرزا ہی زیر بحث تھا۔ ہاں چند ایک نئی باتیں جو زیر بحث آئیں۔ ان کو ذیل میں لکھا جاتا ہے۔ مولوی احمد دین صاحب نے ٤١

است رہے گا۔ حالانکہ وہ بعیش و راحت زندگی گزار رہا ہے اور خدا و ہے۔

ق مولوی احمد دین صاحب نے فرمایا کہ: ”بقول مرزا قادیانی خدا نکاح میں آئے گی اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھا دے گا۔

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٤٣)

صاف موجود ہے کہ خدا سب موانعات کو اٹھا دے گا اور اگر یہ مان رط یہ تھی تو بھی اس شرط والی روک کا اٹھانا حسب وعدہ ملہم مرزا منا ہی اس پیش گوئی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔

ذب مرزا پر ایک دلیل

اثبات پر بڑا زور دیا کہ مرزا قادیانی منہاج نبوت پر پورے اسلام نے منہاج نبوت کی رو سے بھی مرزا قادیانی کا کاذب ہونا

م صاحب سیالکوٹی نے فرمایا: ”انبیاء کرام کو ہمیشہ ان کی مادری اس کے مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ بعض الہامات مجھے ان ے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی

(نزول المسیح ص ٥٧)

وئے منہاج نبوت بھی غیر صادق ثابت ہوئے۔ اب سنئے ثبوت ائی ہوئی زبان میں ہوتی ہے۔ قرآن مجید سورہ ابراہیم میں ہے۔

بلسان قومه ليبين لهم“ ”نہیں بھیجا۔ ہم نے کوئی رسول مگر ضح کرے۔

نے کہا کہ: ”اس آیت سے ہر رسول کا ہم زبان ہونا ثابت ہے۔ قوم کی زبان میں ہوتی تھی۔“

چہ بالکل لغو تھا۔ کیونکہ یہ خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے کہ: ”یہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ جس ف مالا يطاق ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

ابراہیم صاحب نے سنت ابراہیمی علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام پر عمل قرآن مجید سے پیش کر کے مرزائیوں کو ساکت و عاجز کر دیا۔ فرمایا: ٤٠

صفحہ ٥٥٨

مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر یہ دلیل پیش کی کہ: ”قرآن شریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کر کے فرمایا گیا ہے کہ: ”وجعلنا فی ذریتہ النبوة والکتب (العنکبوت:)“ ہم نے نبوت و شریعت ابراہیم کی اولاد میں رکھی۔ بخلاف اس کے مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کو فارسی الاصل ظاہر کرتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے بھی کہا ہے اور یہ مسلمہ ہے کہ اہل فارس حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کاذب متنبی تھے۔ کیونکہ بموجب قرآن مجید نبوت صرف حضرت ابراہیم کی اولاد کے لئے مخصوص ہے۔“

جواب مرزائیاں

حضرت مرزا قادیانی جناب نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور قرآن سے ثابت ہے کہ نوح علیہ السلام کی اولاد میں بھی نبوت ہے۔

جواب از اہل اسلام

بیشک حضرت نوح کی اولاد میں ایک وقت تک نبوت کا وعدہ تھا۔ سو یہ وعدہ سینکڑوں برس تک پورا ہوتا رہا اور حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں نبی آتے رہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مبعوث کیا تو پچھلے سلسلہ کو قطع کر کے آئندہ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جدالانبیاء قرار دیا۔ جیسا کہ آیت سے جو میں پیش کر چکا ہوں ثابت ہے۔ پس آپ کا یہ عذر باطل ہے۔ مرزائی۔ خا....... مو......ش

کذب مرزا پر دوسری دلیل

مولوی احمد دین صاحب نے یہ پیش کی کہ مرزا قادیانی (حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”ہر ایک نبی اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے آدھی عمر پاتا ہے۔“ اس سنت انبیاء مسلمہ و مقبولہ بلکہ پیش کردہ مرزا قادیانی کی رو سے اگر صرف انہی انبیاء سے حساب لگایا جائے جو مندرج قرآن ہیں۔ تو خیریت سے مرزا قادیانی کی عمر بڑی کھینچ تان کے ١٨ سال بنتی ہے۔ حالانکہ وہ باعتقاد مرزائیوں کے مرزا قادیانی ٧٠ برس سے بھی زیادہ عمر پا کر مرے۔ اسے بھی جانے دیجئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس ہوئی۔“ اس حساب سے نبی ﷺ کی ٦٠ برس ہوئی۔ پس اگر اسی حساب سے ہم مرزا قادیانی کی عمر کا اندازہ مقرر کریں تو ٣٠ یا ٣١ برس ہونی چاہئے تھی۔ جو نہ ہوئی۔ پس الحدیث مسلمہ مرزا سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہ تھے۔ بلکہ کاذب متنبی تھے۔ اس کے جواب میں مرزائیوں نے کہا کہ: ”یہ قاعدہ عمر والا صرف حضرت مسیح و نبی ﷺ سے مخصوص تھا۔ آئندہ انبیاء کے لئے نہیں تھا۔“

٤٢

صفحہ ٥٥٩

یہ دلیل پیش کی کہ : ”قرآن شریف میں حضرت ابراہیم علیہ ” وجعلنا في ذريته النبوة والكتب (العنكبوت:٢٧)“ اولاد میں رکھی۔ بخلاف اس کے مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کو جیسا کہ انہوں نے بھی کہا ہے اور یہ مسلمہ ہے کہ اہل فارس حضرت ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا ذب متنبی تھے۔ کیونکہ بموجب براہیم کی اولاد کے لئے مخصوص ہے۔“

جناب نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور قرآن سے ثابت بھی نبوت ہے۔

اولاد میں ایک وقت تک نبوت کا وعدہ تھا۔ سو یہ وعدہ سینکڑوں برس لیہ السلام کی اولاد میں نبی آتے رہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ حضرت پچھلے سلسلہ کو قطع کر کے آئندہ کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سے جو میں پیش کر چکا ہوں ثابت ہے۔ پس آپ کا یہ عذر باطل ہے۔ مرزائی ۔ خا ..... مو ..... ش

صاحب نے یہ پیش کی کہ مرزا قادیانی (حمامة البشریٰ ص ٢٠، ٤١، خزائن ج ٧ ی اپنے سے پہلے نبی کی عمر سے آدھی عمر پاتا ہے۔“ اس سنت انبیاء قادیانی کی رو سے اگر صرف انہی انبیاء سے حساب لگایا جائے جو مندرج قادیانی کی عمر بڑی کھینچ تان کے ١٨ سال بنتی ہے۔ حالانکہ وہ باعتقاد اس سے بھی زیادہ عمر پا کر مرے۔ اسے بھی جانے دیجئے۔ مرزا قادیانی ام کی عمر ایک سو تیس برس ہوئی ۔“ اس حساب سے نبی ﷺ کی ٦٢ برس مرزا قادیانی کی عمر کا اندازہ مقرر کریں تو ٣٠ یا ٣١ برس ہونی چاہئے تھی۔ اس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہ تھے۔ بلکہ کاذب متنبی تھے۔ مرزائیوں نے کہا کہ: ” یہ قاعدہ عمر والا صرف حضرت مسیح و نبی ﷺ کے لئے نہیں تھا۔“

٤٢

جواب از اہل اسلام

یہ عذر مرزا قادیانی کی تصریح صریح کے مخالف ہے انہوں نے اس قاعدہ کو عام لکھا ہے اور جو روایت پیش کی ہے اس میں بھی بلا تخصیص عام ذکر ہے۔ اس کے بعد مرزائیوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

کذب مرزا پر تیسری دلیل

مولوی احمد دین صاحب نے یہ پیش کی ۔ ”حدیث میں ہے کہ ہر ایک نبی جہاں فوت ہوتا ہے۔ اسی جگہ اس کی قبر ہوتی ہے۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی لاہور میں مرے اور قادیان میں دفن ہوئے ۔“

جواب مرزائی

” یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کے اندر حسین بن عبداللہ راوی ہے۔ جو ضعیف ہے۔ دیکھو ترمذی شریف ۔“ جواباً مولوی احمد الدین صاحب نے فرمایا۔ ” الحدیث میں حسین بن عبداللہ نام کا کوئی راوی نہیں ہے۔ یہ تمہاری بے ایمان، بددیانتی اور مغالطہ دہی ہے۔ اگر سچ ہو تو ترمذی دکھاؤ۔ چنانچہ جب بار بار کے اصرار سے مجبور ہو کر مرزائیوں نے الحدیث کو پڑھ کر بہت شرمندہ ذلیل و رسوا ہوئے۔ مرتب) اس پر مرزائیوں نے اپنی ذلت یوں مٹانی چاہی کہ غیر مستند کتب یہود و نصاریٰ سے استدلال کیا کہ کئی ایک انبیاء جہاں فوت ہوئے تھے وہاں دفن نہیں ہوئے۔ اس کے رد میں مولوی احمد دین صاحب نے فرمایا: ”بھائیو! میں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پیش کی ہے کہ ہر ایک نبی جہاں انتقال فرماتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے۔“ اس کے خلاف مرزائی صاحبان ادھر ادھر کی غلط سلط اور نہایت ردی و نا قابل استناد کتب سے تمسک کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف خلاف دیانت ہی ہے بلکہ خلاف شرائط بھی ہے۔ شرائط نامہ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ قرآن وحدیث واقوال مرزا قادیانی کے سوا کوئی کتاب پیش نہ کی جائے گی۔ احمدی دوستو ! یہ مان لیا کہ تم لوگ ایمان ودیانت سے کوسوں دور ہو۔ تاہم اپنے مسلمہ شرائط کی تو پابندی کرو۔ خدا سے نہ سہی مخلوق خدا سے تو حیا کرو۔

کذب مرزا پر چوتھی دلیل

مولوی احمد دین صاحب نے پیش کی: انبیاء کرام اعلیٰ درجہ کے با اخلاق ہوتے ہیں۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی نے نہایت ظلم و تعدی و بے انصافی اختیار کرتے ہوئے اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨) پر لکھا ہے: ”كل مسلم ....... يقبلني ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا يعنى سب مسلمانوں نے مجھے مانا اور میری تصدیق کی مگر ان میں سے بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“ بھائیو! خدارا غور فرمائیے کہ مرزا قادیانی ایسا شخص کبھی بھی با اخلاق کہلا سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

٤٣

صفحہ ٥٦٠

جواب مرزائی

مسلمانوں کو ذریۃ البغایا نہیں کہا بلکہ غیر مسلموں کو کہا۔

جواب از اہل اسلام

اول تو یہ غلط ہے۔ بالفرض صحیح بھی ہو تو بھی یہ سخت مکروہ بہتان ہے۔ کیا ہندو، آریہ، سکھ، عیسائی وغیرہ مخالفین مرزا قادیانی بدکاروں کی اولاد ہیں۔ تف ہے اس بدنگاہی پر۔ اس کے علاوہ اور سنو! جب مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ ”عبداللہ آتھم عیسائی پندرہ ماہ میں مرجائے گا اور وہ نہ مرا تو مرزا قادیانی نے (انوار اسلام ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١) پر لکھا: ”جو شخص ہماری فتح پر قائل نہ ہوگا اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں، ملخص“

بھائیو! کسی شخص کا حلال زادہ یا حرامی ہونا اس کے والدین کے میلاپ جائز یا نہ جائز پر موقوف ہے۔ مگر دیکھئے مرزا قادیانی کس قدر ظلم سے کہہ رہے ہیں کہ جو میری فتح نہ مانے وہ حرام زادہ ہے۔ آہ رے ظلم، اف رے ستم!

مرزائیو! اگر مرزا قادیانی کی تصدیق یا عدم تصدیق پر ہی حلال زادہ یا حرام زادہ ہونا منحصر ہے تو ایمان سے بتلاؤ کہ خود مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا سلطان احمد جو مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کا مخالف و مکذب تھا وہ کون تھا؟۔ انصاف!!!

کذب مرزا قادیانی پر پانچویں دلیل

مولوی احمد دین نے یہ پیش کی کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب چشمہ معرفت پر لکھا کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کا دعوے ہے کہ میں اس کی زندگی میں ١٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا....... مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ٣٢٢، ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)

اس تحریر میں مرزا قادیانی نے الہاما خود ڈاکٹر عبدالحکیم کی ہلاکت اپنی زندگی میں بتائی ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب مرزا قادیانی سے کئی سال بعد فوت ہوئے۔ پس خدا نے فیصلہ کر دیا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے۔

جواب مرزائی

ڈاکٹر عبدالحکیم اپنی پیش گوئی کو منسوخ کر چکا تھا۔

جواب از اہل اسلام

اے جناب! ہوش کرو۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی پیش نہیں کی جس کا آپ جواب دے رہے ہیں۔ میں نے تو مرزا قادیانی کی الہامی پیش گوئی پیش کی ہے کہ خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں محفوظ رہوں گا۔ یہ پیش گوئی از سر تا پا جھوٹی نکلی۔ فالحمد للہ!

مرزائی جواب ندارد

دوسرے دن کا مناظرہ بالاختصار ختم ہوا۔

مناظرہ ختم ہونے کے بعد اہل اسلام بخوشی و خرم تکبیر بلند کرتے ہوئے گھروں کو سدھارے۔ مرزائی اصحاب بھی ذلت و رسوائی، ناکامی، نامرادی کی مجسم خواری صورت میں بصد حزن و ملال چلتے بنے۔

فالحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خیر المرسلین!

٤٤

PDF 562

علماء کرام وخطباء حضرات سے اپیل

ہر ماہ کا ایک جمعہ ختم نبوت کیلئے وقف کریں

لم یعرف ان محمدﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات“ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔

بغاوت کر رہے ہیں۔

قضیہ، عراق، ایران۔ کویت، عراق جنگیں، افغانستان میں روسی پھر امریکی یلغار، سقوط عراق سے سانحہ لال مسجد تک ہوشربا اور سنگین مسائل اور مجبوریوں کی وجہ سے ختم نبوت کے تحفظ کا کام اور قادیانیت کے احتساب کے عمل کی خطابت میں ثانوی حیثیت ہوگئی۔ حالانکہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تبلیغ اور جہاد جیسے فرائض کا تعلق حضورﷺ کے اعمال سے ہے اور ختم نبوت کا تعلق حضورﷺ کی ذات مبارک سے ہے۔

کے لئے وقف کر کے شفاعت نبویؐ کے مستحق بنیں۔ قادیانیت سے خود بچنا اور امت کو بچانا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

والسلام!

فقیر خواجہ خان محمد

(مولانا خواجہ خواجگان) خواجہ خان محمد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون: 4514122