فتاویٰ ختم نبوّتؐ
جلد اوّل
مرتب:
مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری رئیس دارالافتاء ختمِ نبوّتؐ کراچی
تحقیق وتخریج:
جناب مولانا فخر الزمان جناب مولانا عبدالستار حیدری جناب عزیز الرحمٰن رحمانی
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ
حضوری باغ روڈ * ملتان * فون: 514122
فتاویٰ ختم نبوّت
جلد اوّل
مرتب:
مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری
رئیس دارالافتاء ختم نبوّت کراچی
تحقیق وتخریج:
جناب فخرُ الزّمان جناب عبدُ الستّار حیدری جناب عزیزُ الرحمٰن رحمانی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ • ملتان • فون: 514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
انتساب
حکیم العصر شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ مجاہد اسلام ...... حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ مجاہد ختم نبوت ...... حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ مناظر اسلام حضرت مولانا منظور احمد الحسینیؒ مدفون مدینہ طیبہ کے نام اس کاوش کو منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان حضرات کے صدقہ جاریہ ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو دن دگنی رات چوگنی ترقیات سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
فہرست کتاب کے آخر میں ملاحظہ فرمائی جائے!
بسم الله الرحمن الرحيم!
حرفے چند!
الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی ، امابعد!
بیس سال قبل ایک بار ضمناً کسی بات کے تذکرہ میں مخدومنا المحترم حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا کہ آج تک قادیانیت کے خلاف امت مسلمہ کے جو فتاویٰ جات شائع ہوئے ہیں انہیں یکجا کر دینا چاہئے۔ بہت اہم امر تھا۔ تب سوچ لیا کہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ سے تذکرہ کیا۔ انہوں نے تصویب و تائید سے سرفراز فرمایا۔
لیکن ”کل امر مرهون باوقاتھا“ کے بموجب بوجوہ اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی۔ شہید اسلام حضرت لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد احساس ہوا کہ حضرت مرحوم کی زندگی میں ان کی زیرنگرانی یہ کام ہو جاتا تو نور علی نور! کا مصداق ہوتا۔ اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ چنانچہ مخدوم محترم حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ اور حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری رئیس دارالافتاء ختم نبوت کراچی کی مشاورت سے اس کام کو ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ہر دو حضرات نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل اور دارالافتاء ختم نبوت کراچی کے رکن حضرت مولانا مفتی فخر الزمان صاحب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ملتان دفتر مرکزیہ جا کر اس کام کو سرانجام دیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ ملتان تشریف لائے۔ طریقہ کار کے خطوط متعین کئے اور کام شروع کر دیا۔ چنانچہ:
- ۱...... فتاویٰ دارالعلوم دیوبند
- ۲...... کفایت المفتی
- ۳...... آپ کے مسائل اور ان کا حل
- ۴...... خیر الفتاویٰ
- ۵...... فتاویٰ مفتی محمودؒ
- ۶...... فتاویٰ محمودیہ
- ۷...... فتاویٰ رحیمیہ
- ۸...... امداد الفتاویٰ
- ۹...... امداد الاحکام
- ۱۰...... فتاویٰ حقانیہ
- ۱۱...... احسن الفتاویٰ
- ۱۲...... فتاویٰ نذیریہ
- ۱۳...... فتاویٰ ثنائیہ
- ۱۴...... فتاویٰ مولانا عبداللہ روپڑیؒ
- ۱۵...... احکام و مسائل
- ۱۶...... فتاویٰ نعیمیہ
۱۷...... فتاویٰ مہریہ ۱۸...... احکام شریعت ۱۹...... فتاویٰ رضویہ ۲۰...... منہاج الفتاویٰ ۲۱...... تفہیم الاحکام ۲۲...... فتاویٰ جماعتیہ ۲۳...... فتاویٰ نظامیہ ۲۴...... فتاویٰ امجدیہ ۲۵...... فتاویٰ حکیمیہ ۲۶...... عبقات ۲۷...... فتاویٰ علماء اہل حدیث ۲۸...... نظام الفتاویٰ ۲۹...... جواہر الفقہ
فتاویٰ جات کی ان کتب کو حاصل کیا گیا۔ ان کو پڑھ کر ان سے وہ فتاویٰ جات جو قادیانیت کے خلاف دیئے گئے تھے۔ ان کو جمع کیا گیا۔ ان کی تخریج وتحقیق کی گئی۔
قرآن وحدیث، فقہ، تاریخ اور کتب قادیانیہ کے حوالجات کو ایڈیشنوں کی قید کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ کام برادر عزیز مولانا مفتی فخر الزمان، مولانا عبد الستار حیدری اور جناب عزیز الرحمن رحمانی نے سرانجام دیا۔ یہ کام ہو رہا تھا تو کراچی سے اطلاع آئی کہ فقیہہ ملت حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی صاحب بھی مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوگئے ہیں۔ اب جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ ایسے بزرگ رہنماؤں کی شفقتوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
مولانا مفتی فخر الزمان صاحب اس پورے مسودہ کو کراچی ساتھ لے گئے۔ حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری مدظلہ نے ترتیب کے لئے خاکہ مرتب کیا۔ ایک ایک فتویٰ پر سرخی قائم کی۔ پھر تبویب و ترتیب قائم کی۔ آپ کے گرامی قدر رفقاء مولانا مفتی محمد نعیم امجد سلیمی اور مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری نے بھی آپ کی رہنمائی میں اس کام پر نظر ڈالی۔ یوں تقریباً اڑھائی سال کی محنت کے بعد مسودہ اس قابل ہوا کہ اسے کمپوزر کے سپرد کرسکیں۔
چند توضیحات
- نمبر ۱...... اس میں قادیانیت کے خلاف وہ فتاویٰ جات شامل نہیں جو کتابی شکل میں علیحدہ علیحدہ شائع
ہوئے۔ وہ انشاء اللہ علیحدہ جلد میں شائع ہوں گے۔
- نمبر ۲...... اس میں جواہر الفقہ جلد اول سے ”اصول الافکار“ شامل نہیں کیا۔ اس لئے کہ وہ احتساب قادیانیت
جلد تیرہ میں شائع ہو چکا ہے۔
- نمبر ۳...... بعض فتاویٰ جات ترک کر دیئے گئے۔ مثلاً فتاویٰ رضویہ اور احسن الفتاویٰ کے بعض فتاویٰ جات
ترک کرنے پڑے۔ اس لئے کہ ہر دو بزرگ حضرات فتنہ قادیانیت کے خلاف فتویٰ دیتے وقت فتاویٰ جات کو صرف رد قادیانیت کے خلاف منحصر نہ رکھ سکے۔
- نمبر۴....... فتاویٰ حکیمیہ کے بعض فتاویٰ کو مختصر اور بعض کو قلمزد کرنا پڑا۔ اس لئے کہ اس میں بعض دوسرے فتاویٰ
جات کے فتوؤں کو من وعن اپنا فتویٰ ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض دوسرے حضرات کے رسالہ جات کو نام لئے بغیر اپنے فتویٰ کا جزو بنایا گیا اور دوسروں کے رسالہ جات کو اپنے فتویٰ میں ضم کرنے کے لئے سوال تیار کیا گیا۔ وغیرہ! ان تسامحات کے ہوتے ہوئے ہمارے لئے اس کے بغیر اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ اس کو ترک کرتے یا اختصار کرتے۔ علاوہ ازیں افسوس کہ اس فتویٰ میں بعض مقام پر فتویٰ کی جگہ خطابت نے لے لی ہے۔
- نمبر۵....... اس کے علاوہ تقریباً تمام فتاویٰ جات سے رد قادیانیت کے فتویٰ جات شامل ہو گئے ہیں۔ کہیں سہو
ہوا ہے تو اللہ رب العزت سے معافی کے طلب گار ہیں۔ ہر فتویٰ کے آخر میں جس کتاب سے وہ فتویٰ لیا گیا اصل کا حوالہ بمعہ صفحہ و جلد دے دیا گیا ہے۔
- نمبر۶....... اس میں صرف مطبوعہ فتاویٰ جات کو جمع کیا گیا ہے اور وہ بھی وہ جو فتاویٰ کی کتب میں مل گئے۔ غیر
مطبوعہ یا دیگر رسائل وغیرہ میں قادیانیت کے خلاف جو فتوے شائع ہوئے ان کو ہم جمع نہیں کر پائے۔
- نمبر۷....... اس میں ابھی بہت محنت کی ضرورت تھی۔ جو ہم نہیں کر پائے۔ تاہم جو کچھ ہو سکا وہ پیش خدمت
ہے۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ کوئی اللہ کا بندہ اس کی اشاعت کے بعد اس پر مزید محنت کرے تو انشاء اللہ تعالیٰ اشاعت ثانی میں اس کا خیال رکھنے کے قابل ہوں گے۔
پروف ریڈنگ کے لئے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، حضرت مولانا عبد الرزاق مجاہد، جناب الحاج رانا محمد طفیل جاوید اور برادرم قاری محمد حفیظ اللہ نے معاونت کی۔ غرض ہر وہ شخص جس نے اس کتاب کی اشاعت کے کسی مرحلہ میں کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا وہ سب عند اللہ اجر عظیم اور عند الناس شکریہ کے مستحق ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ ان سب دوستوں اور بزرگوں کو دارین میں جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ آمین!
رد قادیانیت پر جو کتب و رسائل علیحدہ علیحدہ شائع ہوتے رہے ان کی بھی کمپوزنگ شروع ہے۔ امید ہے کہ اسے بھی بہت جلد شائع کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ کوشش ہوگی کہ فتاویٰ جات کی اشاعت کی تکمیل ۲۹، ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر سے قبل ہو جائے۔ وما ذلك على الله بعزيز!
طالب دعا....... فقیر اللہ وسایا دفتر مرکزیہ ملتان ۱۴۲۶/۴/۲۳ھ....... ۲۰۰۵/۶/۱ء
باب اوّل
کلمہ شہادت اور
سوال....... اخبار میں کہ کسی غیر مسلم کو ”غیر مسلم اگر مسلم پڑھنے کے غیر مسلم سے سارے کینے کر لوح مسلمانوں کو گمرا جواب....... مسلم کا عزم کرنا بھی شرعاً کہ وہ اپنے سابقہ ع کیونکہ ان کے نزد بیعت کرنے میں شر غلام احمد قادیانی کہتا ”جو شخص تیری پیرو نافرمانی کرنے والا نیز مرزا ”خدا تو کیا وہ مسلمان نہیں مرزا قا ”کل م بھی نہیں سنا وہ کافر
باب اول
کتاب العقائد
قادیانی اور کلمہ طیبہ
کلمہ شہادت اور قادیانی
سوال...... اخبار جنگ ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے عنوان کے تحت آنجناب نے ایک سائل کے جواب میں کہ کسی غیر مسلم کو مسلم بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ فرمایا ہے کہ:
”غیر مسلم کو کلمہ شہادت پڑھا دیجئے مسلمان ہو جائے گا۔“
اگر مسلمان ہونے کے لیے صرف کلمہ شہادت پڑھ لینا کافی ہے تو پھر قادیانیوں کو باوجود کلمہ شہادت پڑھنے کے غیر مسلم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ از راہ کرم اپنے جواب پر نظر ثانی فرمائیں۔ آپ نے تو اس جواب سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ قادیانی اس جواب کو اپنی مسلمانی کے لیے بطور سند پیش کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کریں گے اور آپ کو بھی خدا کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔
جواب...... مسلمان ہونے کے لیے کلمہ شہادت کے ساتھ خلاف اسلام مذاہب سے بیزار ہونا اور ان کو چھوڑنے کا عزم کرنا بھی شرط ہے۔ یہ شرط میں نے اس لیے نہیں لکھی تھی کہ جو شخص اسلام لانے کے لیے آئے گا ظاہر ہے کہ وہ اپنے سابقہ عقائد کو چھوڑنے کا عزم لے کر ہی آئے گا۔ باقی قادیانی حضرات اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ان کے نزدیک کلمہ شہادت پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا بلکہ مرزا قادیانی کی پیروی کرنے اور ان کی بیعت کرنے میں شامل ہونے سے مسلمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے انھیں یہ الہام کیا ہے کہ:۔
”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ طبع جدید ص ۳۳۶)
نیز مرزا قادیانی اپنا یہ الہام بھی سناتا ہے کہ:
”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ۶۰۰ طبع دوم)
مرزا قادیانی کے بڑے صاحب زادے مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں:
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
مرزا قادیانی کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (غلام احمد) قادیانی کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)
قادیانیوں سے کہئے کہ ذرا اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بات کیا کریں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۱۹۹، ۲۰۰)
مسلمان اور قادیانی کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق
سوال...... انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں۔ قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گومگو میں ہیں۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہیے جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تھا۔ برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں کیونکر کافر ہیں؟
جواب...... قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو پھر آپ لوگ مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا قادیانی کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے نے اپنے رسالہ کلمۃ الفصل میں اس سوال کے دو جواب دیئے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے، اور یہ کہ قادیانی صاحبان ”محمد رسول اللہ“ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟
مرزا بشیر احمد قادیانی کا پہلا جواب یہ ہے کہ:۔
”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آ جاتے ہیں۔ ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں! حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لیے یہی کلمہ ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق...... جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے، اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ”زیادتی“ سے پاک ہے۔ اب دوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے لکھتے ہیں:۔
”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ (یعنی مرزا قادیانی) خود فرماتا ہے۔ ”صار وجودی وجودہ“ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے۔ از
ناقل)۔ نیز ”من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی ومارأیٰ.“ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفیٰ کو الگ الگ سمجھا، اس نے مجھے نہ پہچانا، نہ دیکھا۔ ناقل) اور یہ اسی لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (نعوذ باللہ۔ ناقل) جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے۔
پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی....... فتدبروا۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸ مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۱۴، نمبر ۳، ۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)
یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں اور قادیانی جب ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔ مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے نے جو لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لیے دنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں۔“ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے۔ جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کو دنیا میں دو بار آنا تھا۔ چنانچہ پہلے آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دوسری بار آپ ﷺ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں ۔ معاذ اللہ ...... مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ، خطبہ الہامیہ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے۔ (دیکھئے خطبہ الہامیہ ص ۲۵۴ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً) یاد رہے کہ قادیانیوں کا یہ بروزی فلسفہ بعینہ ہندوؤں کا اواگون ہے۔
اس نظریہ کے مطابق قادیانی امت مرزا قادیانی کو ”عین محمد ﷺ“ سمجھتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں بلکہ دونوں ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی، غیر مسلم اقلیت ....... مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہل اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ ہیں، محمد مصطفیٰ ہیں، احمد مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، امام الرسل ہیں، رحمۃ للعالمین ہیں، صاحب کوثر ہیں، صاحب معراج ہیں، صاحب مقام محمود ہیں، صاحب فتح مبین ہیں، زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا قادیانی کی خاطر پیدا کیے گئے۔ وغیرہ وغیرہ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا قادیانی کی ”بروزی بعثت“ آنحضرت ﷺ کی اصل بعثت سے روحانیت میں اعلیٰ واکمل ہے، آنحضرت ﷺ کا زمانہ روحانی ترقیات کی ابتدا کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی کا زمانہ ان ترقیات کی انتہا کا ...... وہ صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ اس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا (جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی) اور مرزا قادیانی کا زمانہ چودھویں رات کے بدر کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تین ہزار معجزے دیئے گئے تھے اور مرزا قادیانی کو دس لاکھ، بلکہ دس کروڑ، بلکہ بے شمار۔ حضور ﷺ کا ذہنی ارتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک مرزا قادیانی نے ذہنی ترقی کی، آنحضرت ﷺ پر بہت سے وہ رموز واسرار نہیں کھلے جو مرزا قادیانی پر کھلے۔
مرزا قادیانی کی آنحضرت ﷺ پر فضیلت و برتری کو دیکھ کر ....... قادیانیوں کے بقول ....... اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا قادیانی پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت ونصرت کریں۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا قادیانی کی شکل میں محمد
رسول اللہ خود دوبارہ تشریف لائے ہیں، بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کے گھر پیدا ہونے والا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ اصلی محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے۔ نعوذ باللہ، استغفر اللہ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید (یا قادیانی اصطلاح میں مرزا قادیانی کے ”صحابی“) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا قادیانی کی شان میں ایک ”نعت“ لکھی، جسے خوش خط لکھوا کر اور خوبصورت فریم بنوا کر قادیان کی ”بارگاہ رسالت“ میں پیش کیا، مرزا قادیانی اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوئے اور اسے بڑی دعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدۂ نعتیہ مرزا قادیانی کے ترجمان (اخبار بدر جلد ۲ نمبر ۴۳) میں شائع ہوا۔ وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے چار شعر ملاحظہ ہوں۔
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں! اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
مرزا قادیانی کا ایک اور نعت خواں، قادیان کے ”بروزی محمد رسول اللہ“ کو ہدیۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:۔
محمد پئے چارہ سازی امت ہے اب ”احمد مجتبیٰ“ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا
(الفضل قادیان ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)
یہ ہے قادیانیوں کا ”محمد رسول اللہ“ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ چونکہ مسلمان، آنحضرت ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کو خاتم النبیین اور آخری نبی مانتے ہیں، اس لیے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحہ کے لیے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصب نبوت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے۔ کجا کہ ایک ”غلام اسود“ کو نعوذ باللہ ”محمد رسول اللہ“ بلکہ آپ ﷺ سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:۔
”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے۔“ ”اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو (نعوذ باللہ) نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو، مگر دوسری بعثت (قادیان کی بروزی بعثت ...... ناقل) میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ...... آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۴۷)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:۔ ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے
خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)
ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں:۔ ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں یہ ’’کفر کا فتویٰ‘‘ نازل نہ ہوتا۔ اس لیے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۱۹۲ تا ۱۹۹)
لا الہ الا اللہ ایوب خان رسول اللہ کا قائل کافر ہے
سوال...... ایک شخص نے بھری مجلس میں کہا کہ اگر صدر صاحب غلہ روک دیں اور لوگوں کو غلہ نہ ملے تو ہم لا الہ الّا اللہ ایوب خان رسول اللہ کہیں گے۔ ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب...... کلمہ طیبہ میں ایوب خان رسول اللہ کے الفاظ اگر اعتقاد اور اس معنی سے کہے گئے ہوں کہ کسی وقت ’’ایوب خان‘‘ بھی ’’رسول اللہ‘‘ ہو سکتا ہے تو یہ کفریہ عقیدہ ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے بھی نبوت و رسالت کا اعتقاد رکھنا کفر ہے۔ اور اگر یہ اعتقاد کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی پر بطور تعریض کہے گئے ہوں، مثلاً قوم کی خوشامدی اور ذہنی غلامی پر طنز کے طور پر یہ کلمات کہے گئے ہوں کہ یہ قوم اب اس قدر ذہنی غلامی میں گرفتار ہے کہ اپنے حکمرانوں کو کسی وقت بھی خدا کا پیغمبر کہنے کو تیار ہو سکتی ہے، تو یہ کفر نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایوب خان رسول اللہ کہنے والے کے اعتقاد کا ہمیں پورا علم نہیں ہے اس لیے یقینی حکم اس پر نہیں لگایا جا سکتا۔
قال العلامۃ ظفر احمد العثمانیؒ: قال الموفق فی المغنی ومن ادعی النبوۃ او صدق من ادعاها فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا بذلک مرتدین. (اعلاء السنن ج ۱۳ ص ۲۳۶ من ادعی النبوۃ او صدق من ادعاها)
(فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۱۷۴)
باب دوم
قادیانیوں کا انکار ختم نبوت
نبوت کے متعلق عقائد کی وضاحت
سوال ...... ایک عام مسلمان کو نبوت و رسالت کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟ اور ختم نبوت کے بارے میں بھی وضاحت کریں کہ ایک مسلمان کو ختم نبوت پر کس طرح ایمان رکھنا چاہیے تاکہ قادیانیوں کے فتنہ و شر سے مسلمان محفوظ رہ سکیں۔ کیونکہ وہ خود بھی کہتے اور لکھتے ہیں کہ آنحضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرما کر تفصیلی جواب سے نوازیں۔
(صابر حسین/ میرپور)
الجواب ...... نبوت و رسالت کے بارے میں ایک مسلمان کو جو عقیدہ رکھنا چاہیے ان کو ہم خصوصیات نبوت کے نام سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ باقی جہاں تک قادیانیوں کی بدلتی ہوئی نئی پالیسی ہے۔ اس کے بارے میں صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ یہ لوگ زمانہ ساز ہیں اسی طرح مرزا قادیانی خود بھی متلون مزاج تھا اس نے خود اپنی زندگی میں اتنے دعوے کیے جن کی ضخیم کتاب تیار کی جاسکتی ہے اور ہر روز نئے دعوؤں کے ساتھ آنا ہی اس چیز کی دلیل ہے کہ ایسا آدمی جھوٹا ہے اور جھوٹ کی کوئی بنیاد نہیں ہوا کرتی۔ اس لیے جھوٹا آدمی بھیس بدل بدل کر ایمان پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھ کر منکرین ختم نبوت کی تکذیب کرنا بھی ضروری ہے جو شخص ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو مگر منکر ختم نبوت کو ولی یا غوث یا قطب یا ابدال مان کر شیطان کو دوست رکھتا ہو اور مسلمان ہو کر کافر کو بھی اس کے کفر کے باوجود مسلمان سمجھتا ہو۔ لہٰذا محض ختم نبوت پر ہی ایمان لانے سے ایمان معتبر نہیں ہوگا بلکہ منکرین ختم نبوت کی تکذیب کرنا بھی ضروری ہے۔ اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ ایک مسلمان کو نبوت و رسالت کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے اس کا جواب حسب ذیل ہے۔
خصوصیات نبوت ”نبوت عہدہ وہبی ہے کسبی نہیں۔“ ”اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ“
(الانعام ۱۲۴)
”اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عہدہ رسالت کس کو دینا چاہیے۔“
کوئی اپنی کوشش و محنت اور ریاضت و عبادت سے نبی نہیں بن سکتا۔ ایسی آرزو سے عبادت و ریاضت کرنے والا جھوٹا کذاب ہے اور ایسا شخص واجب القتل ہے۔ نبی کے علوم وہبی ہوتے ہیں کسبی نہیں۔ وہ زمین کے کسی استاد سے تعلیم حاصل کیا ہوا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تعلیم کرتا ہے۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ کو جو علوم عطا فرمائے گئے ہیں ان کا تعدد و شمار احاطہ انسانی سے باہر ہے۔ انھیں گننا اور شمار کرنا حماقت ہے اور نفی کرنا بھی بدعقیدگی ہے۔ ہاں تمام علوم عطائی ہیں ذاتی نہیں۔ حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے بھی پوری امت پر ممتاز ہوتے ہیں۔ علمی اور عملی کمال یعنی نبی کا علم اور عمل دونوں کامل ہوتے ہیں۔ کمال علم یہ ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی اور نبی کا عمل کامل ہوتا ہے۔ ہر گناہ سے پاک ہوتے ہیں چونکہ وہ امت کے لیے نمونہ عمل ہوتے ہیں ان کی طرف کسی قسم کی غلطی اور خطاء کی نسبت کرنا گمراہی ہے۔ نبی مزکی و مطہر ہوتا ہے وہ لوگوں کا تزکیہ نفس کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے
تربیت یافتگان دیگر تمام اشخاص سے ممتاز و منفرد ہوتے ہیں۔
نبی انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے وہ ہر وقت انسانوں کی فلاح کا چاہنے والا ہوتا ہے۔ ان کی تمام مساعی جمیلہ کا مدعا نجات انسانیت ہے۔ نبی کی معاشی زندگی اور اخلاقی کردار، امارت اور فقر دونوں صورتوں میں یکساں ہوتی ہے۔
نبی کی پوشاک، خوراک، مسکن میں جو سادگی فقر کی حالت میں ہوتی ہے۔ بادشاہی، حکومت حاصل ہونے پر بھی وہی ہوتی ہے۔ دونوں حالتوں میں تواضع و انکساری ہوتی ہے۔ وہ مفاد عوام پر ذاتی مفاد کو قربان کرتے ہیں۔ غلبہ و سلطنت حاصل ہونے پر بھی ان کے عجز و نیاز اور شان عبدیت اور تواضع پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑتا۔ ان کے قلب و روح کی پاکیزگی کسی بھی ماحول سے متاثر نہیں ہوتی۔ نبی کی زندگی میں بناوٹ، تکلف، نمائش، علو ذات، نمود و شخصیت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کا حب و بغض رب العالمین کے لیے ہوتا ہے۔ وہ حق نفس کو معاف کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن حق اللہ کو معاف نہیں کرتا۔ نبی اطاعت الٰہی کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔ خلوت، جلوت، گھر میں، گھر سے باہر، دوستوں اور دشمنوں میں، غصہ اور خوشی الغرض کسی حالت میں بھی رضا الٰہی کی راہ سے سرمو تجاوز نہیں کرتا۔ حق کی اطاعت اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے۔ نبی کے دعویٰ نبوت کی تائید میں خوارق اور معجزات کا ظہور ہوتا ہے۔ معجزہ کے لیے سات شرطیں بیان کی گئیں ہیں۔
۱۔ اللہ تعالیٰ کا فعل ہو۔ ۲۔ خارق عادت ہو۔ ۳۔ اس کا معارضہ ناممکن ہو۔ ۴۔ مدعی نبوت سے ظاہر ہو۔ ۵۔ دعویٰ کے موافق ہو۔ ۶۔ نبی کا مکذب نہ ہو۔ ۷۔ دعویٰ پر مقدم ہو۔
نبی کا والد اور والدہ مشرک اور کافر نہیں ہو سکتے۔ نبی خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ ہوتا ہے۔ نبی کو علم غیب سے نوازا جاتا ہے۔ اس کی نفی کرنا جہالت و حماقت ہے۔ ہر نبی کی طرف وحی آتی ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ رسول صاحب کتاب و صحیفہ ہوتا ہے اور نبی کی طرف کتاب کا نازل ہونا لازمی نہیں ہوتا۔ نفس نبوت میں سب انبیاء برابر ہیں لیکن درجات و مراتب میں فرق ہے
معجزہ کی اصولی دو قسمیں ہیں
۱۔ معجزہ معنویہ۔ ۲۔ معجزہ حسیہ۔
معجزہ معنویہ خواص کے لیے ہوتا ہے۔ جیسے قرآن اور دیگر کتب وغیرہ۔ معجزہ حسیہ عوام کے لیے ہوتا ہے۔ جیسے شق القمر، تکثیر طعام و میاہ، تکلم حیوانات و جمادات، معجزات معنویہ کو عقلی معجزات بھی کہتے ہیں۔
(نوٹ) ...... بنی اسرائیل کے اکثر معجزات حسی تھے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کند ذہن اور کم فہم تھی۔ اور امت محمدیہ ﷺ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک وجہ اس امت کے افراد کی ذکاوت اور عقل کا کمال ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ شریعت محمدیہ چونکہ تا قیام قیامت رہنے والی ہے۔ اس لیے اسے باقی رہنے والا معجزہ بصورت قرآن دیا گیا۔
معجزہ کرامت اور سحر میں فرق
معجزہ و کرامت دونوں فعل خداوندی ہیں۔ معجزہ کا ظہور نبی پر ہوتا ہے اور کرامت کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ دونوں غیر اختیاری ہیں۔ کسب اور اکتساب اور تعلیم و تعلم کو اس میں کوئی دخل نہیں دونوں کا سبب محض ارادہ الٰہی ہے اس کے برعکس سحر، ایسا فعل و عمل ہے جو مخفی اسباب پر مبنی ہو۔ یہ انسانی فعل ہے اور اس کے اختیار میں ہے۔ سحر،
تعلیم، تعلم اور کسب واکتساب اور مشق اور تجربہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۱۵۹۔۱۶۰)
خاتم النبیین کا صحیح مفہوم وہ ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے
سوال...... ایک بزرگ نے خاتم النبیین یا لفظ خاتمیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔ "اسلام کو خاتم الادیان کا اور پیغمبر اسلام کو خاتم الانبیاء کا خطاب دیا گیا ہے۔ خاتمیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی چیز ناقص اور غیر مکمل ہو اور وہ رفتہ رفتہ کامل ہو جائے دوسرے یہ کہ وہ چیز نہ افراط کی حد پر ہو نہ تفریط کی حد پر بلکہ دونوں کے درمیان ہو جس کا نام اعتدال ہے۔ اسلام دونوں پہلوؤں سے خاتم الادیان ہے۔ اس میں کمال اور اعتدال دونوں پائے جاتے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اس عالیشان عمارت کی آخری اینٹ ہوں جس کو گزشتہ انبیاء تعمیر کرتے آئے ہیں۔ یہ اسلام کے کمال کی طرف اشارہ ہے اسی طرح قرآن مجید میں ہے کہ مذہب اسلام ایک معتدل اور متوسط طریقہ کا نام ہے اور مسلمانوں کی قوم ایک معتدل قوم پیدا کی گئی ہے اس سے اسلام کے اعتدال کا ثبوت ملتا ہے۔" کیا خاتم النبیین کا یہ مفہوم صحیح ہے اور سبھی فرقوں کا اس پر اتفاق ہے؟ رہنمائی فرما کر ممنون فرمادیں۔
الجواب...... "خاتم الانبیاء" کا وہی مفہوم ہے جو قرآن و حدیث کے قطعی نصوص سے ثابت اور امت کا متواتر اور اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ "آخری نبی" ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ اس مفہوم کو باقی رکھ کر اس لفظ میں جو نکات بیان کیے جائیں وہ سر آنکھوں پر۔ اپنی عقل و فہم کے مطابق ہر صاحب علم نکات بیان کر سکتا ہے لیکن اگر ان نکات سے متواتر مفہوم اور متواتر عقیدہ کی نفی کی جائے، تو یہ ضلالت و گمراہی ہوگی اور ایسے نکات مردود ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۲۴۱۔۲۴۲)
عقیدہ کی اہمیت
سوال...... عقیدہ اور اعمال کا باہمی کیا تعلق ہے؟ اور آپ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟ دلائل سے جواب دیں۔
(محمد اعجاز / میرپور)
الجواب...... ایمان کامل کے دو اجزاء ہیں۔
- ۱۔ عقائد، ان کا تعلق دل سے ہے۔ ۲۔ اعمال، ان کا صدور اعضاء ظاہری سے ہوتا ہے۔
عقائد ایمان کامل میں اصل اور اساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور اعمال فروع کا درجہ رکھتے ہیں۔ گویا کہ عقیدہ روح ہے اور اعمال جسم، ایمان پھول کا نام ہے اور اس میں خوشبو عقیدہ کا نام ہے اور پھول کی پتیاں اعمال ہیں۔ ایمان و اسلام ایک درخت ہے اور ان میں عقیدہ جڑ ہے، شاخیں اور ٹہنیاں اعمال ہیں۔ پس عقیدہ صحیحہ سے دل کی طہارت ہوتی ہے۔ بغیر درستی عقیدہ کے کوئی عمل مقبول نہیں ہے اور اختلاف مذاہب کا مدار اختلاف عقائد پر ہے نہ کہ اختلاف عمل پر، اسی لیے مذاہب اربعہ باوجود اختلاف اعمال کے وحدت عقیدہ کی وجہ سے اہل سنت والجماعت کہلاتے ہیں۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۱۷۱)
ختم نبوت یا اجزائے نبوت
سوال...... خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت قائم رہے گا یا نہیں؟
جواب:...... ہمارے پیارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کسی قسم کا نیا نبی نہیں آئے گا چنانچہ قرآن مجید میں خاتم النبيين و كان الله بكل شئى عليما يعنى ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا ......ن ابن عباس يريد لولم اختم به النبيين لجعلت له ابنا يكون بعده نبيا وعنه قال ان الله لما حكم ان لانبى بعدى لم يعطنى ولداً يصير رجلاً (وكان الله بكل شئى عليما) اى دخل فى علمه انه لا نبى بعده فان قلت قد صلح ان عيسى عليه السلام ينزل فى آخر الزمان بعده وهو نبى قلت ان عيسى عليه السلام من نبئ قبله و حين ينزل فى آخر الزمان ينزل عاملاً بشريعة محمد ﷺ و مصليا الى قبلته كانه بعض امته.
(نقل از تفسیر خازن ج ۵ ص ۲۱۸)
”ختم کر دی اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود گرامی پر نبوت اور کسی قسم کی نبوت آپ کے بعد نہ ہوگی کیونکہ لا نبوت میں لا نفی جنس کا ہے اس لیے بعد آپ ﷺ کی ذات کے کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر میں آپ ﷺ کے وجود پر سلسلہ نبوت کا ختم نہ کرتا تو آپ ﷺ کے لیے کوئی بیٹا عطا کرتا جو بعد آپ ﷺ کے نبی ہوتا اور آپ ﷺ ہی سے مروی ہے کہ جب خداوند کریم نے حکم دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو اس نے مجھے نرینہ اولاد نہ دی جو زندہ رہتی اور خدا کے علم میں یہ پہلے ہی سے تھا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اگر کوئی اعتراض کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو اخیر زمانہ میں نزول ہوگا تو وہ نبی ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ پہلے نبی مبعوث ہو چکے ہیں اور آپ ﷺ کی ذات خاتم النبیین ہے اور ان کا دوبارہ آنا خاتم النبیین کے منافی نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کی شریعت کے عامل ہوں گے اور یہی بیت اللہ ان کا قبلہ ہوگا۔“
(بخاری شریف ج ۱ ص ۵۰۱) میں بایں طور ہے۔ عن ابی هریرة ان النبی ﷺ قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون به و یعجبون له و یقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبیین. ”ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ میری اور ان پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر میں پھرتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں ایسا آراستہ گھر؟ یہ اینٹ کیوں نہ لگائی تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“ اور ایسا ہی (ترمذی ج ۲ ص ۳۵ و ابوداؤد ج ۲ ص ۱۷۲) میں ہے کہ فرمایا آنحضور ﷺ نے ”انه سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ کہ قریب ہے ”کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے وہ دعویٰ نبوت کا کریں گے لوگ ان کو نبی تصور کریں گے اور حالانکہ میں نبوت کے سلسلہ کو ختم کر چکا ہوں میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا۔“ پس ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ جناب نبی کریم ﷺ کی ذات پر سلسلہ نبوت کا ختم ہو چکا ہے ان کے بعد کوئی نبی صادق نہیں آئے گا اگر آئیں گے تو وہ کذاب اور بے دین ہوں گے۔
(فتاویٰ نظامیہ جلد ۴ ص ۳۱۱ تا ۳۱۳)
ختم نبوت کے وقت کے تعین کی تحقیق
سوال: ...... حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین کس وقت سے تسلیم کرنا چاہیے؟ ولادت کے بعد سے یا نبوت ملنے کے بعد سے یا بعد الوفات؟ مقصد یہ ہے کہ وحی کا دروازہ کس وقت سے بند تصور کیا جائے؟
الجواب...... حضور نبی کریم ﷺ ابتدائے امر سے ہی خاتم النبیین ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس منصب مبارک کے لیے ازل سے ہی منتخب فرما دیا تھا۔ (مشکوٰۃ ص ۵۱۳) میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ کو نبوت کب ملی، ارشاد فرمایا۔ ”جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت بھی نہیں ہوئی تھی“۔ البتہ عالم اجساد میں آپ ﷺ سب انبیاء کے بعد آئے اور جب عمر مبارک چالیس برس ہوئی تو نبوت ملی اور وحی کا نزول شروع ہوا، آپ ﷺ کو نئی شریعت اور نئی کتاب ملی جو تمام انبیاء سابقین کی شریعتوں کے لیے ناسخ بنا دی گئی، لہٰذا آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کر دے، تاہم نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں اور قیامت کے قریب نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدی کا احیاء اور اس کی اتباع کریں گے، اور احادیث صحیحہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر وحی بھی آئے گی لیکن یہ وحی شریعت مصطفےٰ ﷺ کو بدلنے کے لیے نہ ہوگی بلکہ اس وقت کے ضروری امور کے متعلق ہوگی، گویا انقطاع وحی سے مراد وہ وحی ہے جو حضور انور ﷺ کی شریعت کو منسوخ کرے۔
لما ورد فی الحديث: قال ابوهريرة: قالوا: يارسول الله متى وجبت لك النبوة قال وآدم بين الروح والجسد. (رواه الترمذى مشكوة ص ۵۱۳ باب فضائل سيدالمرسلين ﷺ، الفصل الثانى)
قال العلامة ملا على القارى فى شرح هذا الحديث: وجبت لى النبوة والحال ان آدم بين الروح والجسد يعنى وانه مطروح على الارض بلا روح والمعنى انه قبل تعلق روحه بجسده. وروى ابو نعيم فى الدلائل وغيره من حديث ابى هريرة مرفوعًا كنت اوّل النبيين فى الخلق وآخرهم فى البعث.
(مرقاة المصابيح ج ۱۱ ص ۵۸)
وقال العلامة جلال الدين سيوطى رحمه الله: فبينما هو كذلك اذ اوحى الله الى عيسى بن مريم عليه السلام انى قد اخرجت عباداً لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرّز عبادى الى الطور وقال صحيح على شرط الشيخين. ذلك صريح فى انه وحى حقيقى، لا وحى الهام والثانى ان ماتوهمه هذا الزاعم من تعذر الوحى الحقيقى فاسد لان عيسى علیہ السلام نبى فاى مانع من نزول الوحى عليه؟ فان تخيل نفسه ان عيسى علیہ السلام قد ذهب عنه وصف النبوة وانسلخ منه فهذا قول يقارب الكفر لان النبى لا يذهب عنه وصف النبوة ابداً ولا بعد موته و ان تخيل اختصاص الوحى للنبى ﷺ بزمن دون زمن فهو قول لا دليل عليه ويبطله ثبوت الدليل على خلافه. (نزول عیسیٰ بن مریم آخرالزمان ص ۴۸، ۵۲ الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۱۶۵ مکتبہ نوریہ)
(فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۳۸۹، ۳۹۰)
ختم نبوت
سوال...... ختم نبوت پر عقیدہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر ایمان معتبر نہیں۔ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
(محمد احمد سعیدی / لاہور)
”دین اسلام کی اصل روح عقیدہ ختم نبوت ہے اور اسی عقیدہ پر پختہ ایمان ہی اسلام کی بنیاد ہے۔ اس عقیدہ میں کسی قسم کا ریب و شک، گویا پورے دین کو منہدم کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ختم نبوت کا عقیدہ بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ اس کے بغیر کسی کا بھی عقیدہ و ایمان مسلمانوں کے نزدیک معتبر نہیں ہو سکتا۔
تکمیل نبوت
کمالات نبوت ایسی انتہا کو پہنچ کر مکمل ہو گئے جو اب تک نہ ہوئے تھے اور اب جو نبوت قائم ہے وہ خاتم کی ہے اور اس کامل نبوت کے بعد کسی نئی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ نبوت جب سے شروع ہوئی اور جن کمالات کو لے کر شروع ہوئی تھی اور آخر کار جس حد پر رکی اور ختم ہوئی اس کے اول سے آخر تک جس قدر بھی کمالات نبوت طبقہ انبیاء میں سے کسی کو ملے وہ سب کے سب خاتم النبیین میں آ کر جمع ہو گئے۔ یہ کمال جامعیت آپ ﷺ کی نبوت کے ساتھ خاص ہے۔
قرآن اور ختم نبوت
قرآن حکیم کی ایک سو سے زائد آیات میں مسئلہ ختم نبوت بیان کیا گیا ہے۔ چند آیات یہ ہیں۔ ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا“ (الاحزاب ۴۰) ”محمد ﷺ باپ نہیں کسی کے تم مردوں میں سے لیکن اللہ کے رسول ﷺ ہیں“ اور انبیاء کرام میں کوئی بھی اس کمال جامعیت سے متصف نہیں ہوا۔ ورنہ جہاں بھی کمال جامعیت کا اجتماع ہوتا وہیں پر نبوت ختم ہو جاتی اور آگے بڑھ کر یہاں تک نہ پہنچتی۔
خاتم النبیین ہونا کمال جامعیت کی دلیل ہے
خاتم النبیین کا جامع علوم نبوت جامع اخلاق نبوت جامع احوال نبوت اور جامع شئون نبوت ہونا ضروری ٹھہرا پس آپ ﷺ کی ذات جملہ انبیاء کرام کے کمالات کا خلاصہ ہوئی بلکہ کائنات کے جملہ خصائل و فضائل کا خلاصہ ہوئی۔ ہر کمال آپ ﷺ کی ذات میں جمع ہے اور ہر جمال آپ ﷺ کی ذات سے متصف ہے۔ گویا ہر جمال و کمال و خوبی و حسن وہی ہوگا جو آپ ﷺ کی ذات میں جمع ہو ورنہ وہ خوبی و کمال نہیں ہوگا۔ پس دامنِ مصطفیٰ ﷺ سے جدا ہو کر کوئی شے کمال خوبی کے نام سے تعبیر نہیں کی جا سکتی۔ علم کمال ہے بے علمی کمال نہیں۔ تصرف کمال ہے عاجزی کمال نہیں۔ حیات کمال ہے موت کمال نہیں۔ لہٰذا جب آپ ﷺ کو جامع کمالات تسلیم کرنا ضروری ٹھہرا پھر آپ ﷺ کے علمی کمال اور تصرف کے کمال کو بعد از وصال حیات کے کمالات کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔ جیسے کمالات کی حد ہوئی اسی طرح شریعت بھی مکمل ہوئی کیونکہ کمالات علم و عمل پر ہی شریعتوں کی بنیاد ہے۔ جب یہ کمالات اپنے آخری کنارے کو پہنچے تو اس کا صاف مطلب یہ نکلا کہ شریعت اور دین بھی آ کر خاتم پر مکمل ہو گیا اور شریعت و دین کا بھی کوئی تکمیل طلب حصہ باقی نہیں رہا کہ اسے پہنچانے اور مکمل کرنے کے لیے کسی اور نبی کو بھیجا جائے اس لیے جب آپ خاتم النبیین ہوئے تو خاتم الشرائع خاتم الادیان اور خاتم الکتب یا بالفاظ دیگر کامل الشریعت کامل الدین اور کامل الکتاب ہونا بھی ضروری ہوا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کامل ہی ناقص کے لیے ناسخ بن سکتا ہے نہ کہ ناقص کامل کے لیے اس لیے شریعتِ محمدی بوجہ اپنے انتہائی کمال اور ناقابل تغیر و تبدل ہونے کے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرنے کی حقدار ٹھہرتی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ناسخ آخر میں آتا ہے اور منسوخ اس سے مقدم ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔
”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ”حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔“
ختم نبوت
لا الہ الا اللہ میں الہ نکرہ ہے جو عموم پر دال ہے اور جب نکرہ پر حرف نفی داخل ہو جائے تو معنی حصر کا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی طرح کا کوئی معبود نہیں نہ اصلی نہ ظلی نہ بروزی، نہ مراقبی، نہ مذاقی۔ اسی طرح ہی لا نبی بعدی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔
”انی عبداللہ و خاتم النبیین.“ (رواہ البیہقی) میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں۔
آپ نے نبوت کو قصر (محل) سے تشبیہ دے کر اپنی ختم نبوت کی حقیقت یوں واضح فرمائی۔
”فانا سددت موضع تلک اللبنۃ و ختم بی الرسل.“
(کنزالعمال ص ۴۵۳ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۱۲۷)
مراد ہے یعنی آخری خاتم خَتَمَ سے بنا ہے۔ اس کے معنی افضل نہیں۔ ورنہ ”خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ“ کے معنی یہ ہوتے اور کیے جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دل اور کان افضل کر دیے۔ (العیاذ باللہ) خَتَمَ کا معنی آخری ہی ہے جیسے آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس کو فرمایا:
”انت خاتم المہاجرین.“ ”تم مہاجرین میں آخری مہاجر ہو۔“ کیونکہ انھوں نے فتح مکہ کے دن ہجرت کی۔ اس کے بعد ہجرت بند ہو گئی۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
”لا ہجرۃ بعد الیوم.“ ”آج کے بعد اب مکہ سے ہجرت نہ ہوگی۔“ یعنی مکہ فتح ہو جانے کے بعد مسلمانوں کے پاس ہی رہے گا۔ خاتم المہاجرین کے معنی افضل المہاجرین نہیں کیے جاسکتے۔
تمام مفسرین نے خاتم النبیین کی یہی تفسیر کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔
آنحضرت ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین آپ ﷺ پر نبوت کو ختم کیا اور اس پر مہر لگا دی۔ پس آپ ﷺ کے بعد نبوت کسی پر نہ کھولی جائے گی۔ قیامت کے قائم ہونے تک اور ایسا ہی ائمہ تفسیر، صحابہ و تابعین نے فرمایا۔
کسی قادیانی کے عقلی ڈھکوسلوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں کیونکہ دین نقل سے پہنچا ہے عقل سے نہیں۔ دین عقل کے مطابق ہے لیکن ہر کس و ناکس کے عقل میں دین کی ہر ہر بات کا آ جانا ضروری نہیں۔ باقی اگر اپنے ایمان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صحبت بد کو ترک کر دو اسلام کا آغاز ہی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے ہوا ہے۔ اثبات بعد میں ہے نفی پہلے ہے لہٰذا توحید میں غیر خدا کی نفی کرنا شرط اول ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کی پہلی شرط دشمن و گستاخ اور منکر ختم نبوت کا قولی وعملی رد ہے۔ سو بار غلامی کا دعویٰ کیا جائے لیکن ان کی صحبت ترک نہ کی جائے تو یہ دعویٰ کامل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ان قادیانیوں کی صحبت سے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ختم نبوت کے منکرین کے عقلی ڈھکوسلوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
نوٹ...... مذکورہ بالا بحث کی مزید تفصیل کے لیے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی ”ختم نبوت“ کتاب لائق مطالعہ ہے۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۱۶۱ تا ۱۷۰)
فتنۂ انکار ختم نبوت
نبوت ورسالت کی اقسام
نبوت تشریعی و غیر تشریعی
سوال....... صاحب شریعت کس نبی کو کہتے ہیں۔ اس کی تعریف کیا ہے؟ غیر تشریعی نبی کس کو کہتے ہیں۔ اس کی تعریف کیا ہے؟
الجواب....... حامداً و مصلیا جس کی شریعت مستقل ہو۔ (وہ صاحب شریعت نبی کہلاتا ہے۔ ناقل) اور جو دوسرے نبی کے تابع ہو۔ (وہ غیر تشریعی نبی کہلاتا ہے۔ ناقل)
(فتاویٰ محمودیہ جلد ۱۵ ص ۱۲۶۔ ۱۲۸)
مرزا ظلی و بروزی نبی
سوال مرزائی...... کیا مرزا قادیانی نبی ظلی و بروزی تھے؟
جواب حنفی...... نبی کریم ﷺ کے بعد جو شخص دعوٰی نبوت کا نئے سرے سے کرے وہ کافر و مفتری و جہنمی ہے کیونکہ یہ سلسلہ نبوت ختم ہے۔ ہاں البتہ عالم فاضل، مجدد، غوث، قطب، ہادی، مہدی، متبع نبی ﷺ کے ہو کر تا اختتام عالم تک آتے رہیں گے۔ جن کے ذریعہ سے تبلیغ اسلام ہر دور و ہر فرد کے کانوں تک پہنچتی رہے گی اور قلب مومنین انوار تجلیات الٰہیہ سے اپنے اپنے مقامات کو مشاہدہ فرماتے رہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ خاتم الانبیاء صاحب جامع کمالات والبرکات محمد ﷺ کے بعد نئے نبی کا آنا محال ہے چنانچہ ذیل کے دلائل سے ظاہر ہوتا ہے۔
- ☆....... ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبین۔ و کان الله بکل شیء علیما۔
(احزاب ۴۰)
- ☆....... وما ارسلناک الا کافۃ للناس۔
(سبا ۲۸)
- ☆....... یایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعًا۔
(اعراف ۱۵۸)
- ☆....... تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیراً۔
(فرقان ۱)
- ☆....... الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔ (المائدہ ۳) وما
ارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔
(انبیاء ۱۰۷)
- ☆....... وما ارسلنا من رسول الالیطاع باذن الله۔
(النساء ۶۴)
- ☆....... وما ارسلنا من رسول الابلسان قومہ۔
(ابراہیم ۴)
- ☆....... فبعث الله النبیین مبشرین و منذرین و انزل معہم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس۔
(البقرہ ۲۱۳)
- ☆..... لقد ارسلنا رسلنا بالبينت وانزل معهم الكتاب والميزان.
(حدید ۲۵)
- ☆..... فانه نزل علی قلبک باذن الله.
(بقرہ ۹۸)
- ☆..... وانا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ.
٭ (النساء ۱۶۳)
- ☆..... وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی.
(یوسف ۱۰۹)
پس ان دلائل قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بعد نبی ﷺ کے کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ نبی ﷺ کامل اور اکمل نبی آچکے ہیں تو پھر کامل اور اکمل کے بعد ناقص کا آنا کون سی عقل ہے اور خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب۔ (ازالہ اوہام ص ۷۱۱ خزائن جلد ۳ ص ۵۱۱) خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم دین بواسطہ جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بپیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔“
(عبارت ازالہ اوہام ص ۷۱۱ ایضاً)
اسی طرح کتاب (انجام آتھم ص ۲۷ خزائن جلد ۱۱ ص ۲۷) میں ہے۔ ومن قال بعد رسولنا وسیدنا انی نبی او رسول فھو کافر کذاب اور شہادت القرآن صفحہ ۲۸ خزائن جلد ۶ ص ۳۲۳۔۳۲۴ میں یوں لکھتے ہیں کہ ”ہمارے رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ہے۔ اس لیے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے“ اور ایسے ہی (تریاق القلوب ص ۱۳۰ خزائن جلد ۱۵ ص ۴۳۲) میں ہے کہ ”میرا منکر کافر نہیں چونکہ میں ایک ملہم ہوں۔ انبیاء کا منکر کافر ہوتا ہے“ اور مرزا لکھتے ہیں ۔
ہر نبوت را برو شد اختتام
(درثمین فارسی ص ۱۱۴)
پس ان عبارات مرزا سے خود واضح ہوا کہ جو شخص بعد خاتم الانبیاء کے دعویٰ نبوت کرے وہ خود کافر و دجال ومفتری ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی ان الفاظ کے مصداق ہوئے اور چند کذب مرزا قادیانی کے بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ ناظرین خود موازنہ کر لیں کہ مرزا قادیانی کس نمبر کے کذاب تھے۔ وہو ہٰذا۔
کتاب (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۱ خزائن جلد ۲۲ ص ۱۰۴ حاشیہ) میں بایں طور مسطور ہے کہ ”خدا کا قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا ہے اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے ۔“ اور اسی طرح (کشتی نوح ص ۵ خزائن جلد ۱۹ ص ۵) مرقوم ہے کہ ”قرآن مجید میں بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی ۔“ (تریاق القلوب برحاشیہ ص ۱۳۰ خزائن ج ۱۵ ص ۴۳۲) پر موجود ہے کہ ”احادیث نبویہ پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ وہ مسیح موعود حارث کہلائے گا۔ یعنی زمیندار اور زمیندار کے خاندان سے ہوگا۔“ کتاب (حقیقۃ الوحی ص ۲۰۱ خزائن جلد ۲۲ ص ۲۰۸) پر ہے کہ ”احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا سو وہ میں ہوں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۷ خزائن جلد ۱۷ ص ۵۳) پر مرزا نے لکھا کہ ”ضروری تھا قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور
اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشین گوئی انھیں مولویوں نے اپنے ہاتھوں پوری کی ۔“
کتاب (شہادۃ القرآن ص ۴۱ خزائن جلد ۶ ص ۳۳۷) پر تحریر ہے کہ ”وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی۔ ھذا خلیفتہ اللہ المہدی آپ سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو اسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے جس کا نام بخاری ہے ۔“
ناظرین انصاف کریں کہ کس حدیث صحیح میں قبر کشمیر میں ہے۔ پس ان تمام عبارتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعوٰی میں خود جھوٹے تھے کیونکہ نہ تو کسی حدیث صحیح میں قبر حضرت عیسیٰؑ کا کشمیر میں ہونے کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کے زمانہ میں طاعون پڑنے کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کے زمیندار ہونے کا بیان ہے اور نہ ہی کہیں یہ لکھا ہے کہ مسلمان لوگ اس کے قتل کے لیے فتوے دیں گے اور اس کی توہین کریں گے اور حضرت عیسیٰؑ کو دائرہ اسلام سے خارج کریں گے اور نہ ہی بخاری شریف میں ھذا خلیفتہ اللہ المہدی لکھا ہے ۔
ناظرین ! مرزا قادیانی آنجہانی کے افترا و کذبات ہیں۔ اگر کوئی مرزائی یہ کلمات پیش کردہ دکھا دے تو یک صد روپیہ انعام حاصل کرے اور علاوہ اس کے خود مرزا آنجہانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۸ خزائن جلد ۵ ص ۲۸۸) میں لکھتا ہے کہ ”ہمارے صدق وکذب جانچنے کے لیے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی امتحان نہیں ہو سکتا۔“ اور (چشمہ معرفت ص ۲۲۲ خزائن جلد ۲۳ ص ۲۳۱) میں لکھتا ہے کہ ”جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں اعتبار نہیں رہتا۔“ پس میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی یہ سب باتیں جھوٹی ہیں۔ لہٰذا کذاب و دجال ٹھہرا۔ اگر کسی مرزائی کو شک ہو تو مرد میدان بن کر ان سب باتوں میں سے ان کی ایک بات ہی صحیح کر دے اور علاوہ اس کے کتاب قہر یزدانی بر قلعہ قادیانی میں حیات وممات حضرت عیسیٰؑ پر بدلائل قاطعہ پوری پوری بحث کی گئی ہے ۔
(فتاویٰ نظامیہ ص ۸۹۱ تا ۸۹۵)
مہاتما بدھ کے متعلق عقیدۂ نبوت درست نہیں ہے
سوال....... قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (۱) لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد ۷) (۲) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ (فاطر ۲۴) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی پیغمبر آیا ہے تو ہندوستان میں بھی کوئی پیغمبر آیا ہوگا، جبکہ مہاتما بدھ کی تعلیمات بھی انبیاء کرام کی تعلیمات کے مطابق ہیں، تو کیا اس کو بھی نبی ماننا درست ہے یا نہیں؟
الجواب....... مذکورہ بالا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضور انور ﷺ سے پہلے کوئی قوم یا امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں ہادی (راہ بتلانے والا) نذیر (ڈرانے والا) نہ آیا ہو، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا صریح غلطی ہے کہ جو بھی مذہبی راہنما دنیا میں گزرے ہیں وہ پیغمبر ہی ہوں گے تاکہ ”مہاتما بدھ“ بھی نبی بن سکے۔
گذشتہ اقوام کے نبیوں کے بارے میں اسلامی شریعت کا قطعی فیصلہ یہ ہے کہ جن انبیاء کے متعلق کتاب وسنت میں کوئی تصریح نہ ہو تو ان کے متعلق ہم اجمالی طور پر یہ عقیدہ رکھیں گے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے وہ نبی ہوگا اور جس کو یہ منصب نہیں ملا وہ نبی نہیں اگرچہ اس کی تعلیمات شرائع آسمانی کے مطابق ہی کیوں نہ ہوں، زیادہ سے زیادہ اگر اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں تو وہ یہ کہ اس کی تعلیمات اگر
شرک سے پاک اور توحید پر مشتمل ہوں تو وہ ایک نیک آدمی ہوگا۔ الحاصل: حضور انور ﷺ سے پہلے بجز ان حضرات کے جن کی نبوت پر قرآن وحدیث میں تصریح کی گئی ہو کسی دوسرے شخص کے بارے میں خصوصی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نبی ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ نبی نہیں، احتمال ہے کہ نبی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ نبی نہ ہو۔
باقی رہا حضور انور ﷺ کے بعد کا معاملہ تو اس کے متعلق اسلام کا قطعی فیصلہ یہ ہے کہ حضور انور ﷺ کی بعثت کے بعد تاقیامت کسی شخص کو کسی قسم کی نئی نبوت نہیں مل سکتی، خواہ وہ تشریعی ہے یا غیر تشریعی! اور جس کسی نے بھی نئی قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ کافر ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوگا اور جو بھی اس کو نبی مانے گا وہ بھی کافر ہوگا۔
قال الشيخ ظفر احمد العثمانيؒ قال الموفق في "المغني": ومن ادعى النبوة او صدق من ادعاها فقد ارتد لان مسيلمة لما ادعى النبوة فصدقه قومه صاروا بذلك مرتدين. الخ.
(اعلاء السنن ج ۱۲ ص ۵۹۸ من ادعى النبوة او صدق من ادعاها) (فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۱۵۶۔۱۵۷)
ختم نبوت کا منکر کافر ہے
سوال ...... حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ رکھنا فرض ہے یا سنت یا مستحب؟ اور انکار ختم نبوت کفر ہے یا معمولی گناہ؟
الجواب ...... عقیدۂ ختم نبوت بنص قرآن و حدیث فرض ہے، رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء والمرسلین اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو خاتم الادیان سمجھنا فرض ہے، آپ ﷺ کی ختم نبوت کا منکر اور آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا معتقد کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قال الله تبارک و تعالی: مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ.
(الاحزاب آیت ۴۰)
عن ابی هریرةَ قال قال رسول الله ﷺ مثلى و مثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانهُ تُرِكَ منه موضع لبنةٍ فطاف به النظّار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنتُ اَنَا فسدَدْتُ موضع اللبنة ختم بى البنيان و خِتم بی الرسل و فی رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبين. متفق عليه.
(مشکوٰۃ ج ۳ ص ۵۱۱ حدیث نمبر ۵۷۴۵) (فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۱۴۸)
منکرین ختم نبوت کو مسلمان سمجھنا کفر ہے
سوال ...... (۱)...... کیا جس جماعت میں خدا کے منکر کمیونسٹ، ختم نبوت کے منکر مرزائی۔ جنت دوزخ عذاب ثواب اور فرشتوں کے منکر نیچری بحیثیت مسلم شامل ہوں اس جماعت میں شامل ہونا اور اسے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت قرار دینا۔ اور اس جماعت کے نمائندہ کو مسلمانوں کا نمائندہ سمجھ کر انتخاب میں کامیاب بنانے کی کوشش کرنا یا ووٹ دینا شرعاً حلال ہے یا حرام اور یہ تینوں گروہ مسلمان ہیں یا کافر؟ نیز ان تینوں گروہوں کے عقائد باطلہ سے واقف ہونے کے باوجود ان کو مسلمان قرار دینے والوں کا کیا حکم ہے؟ (۲)...... کیا جو شخص سول میرج ایکٹ کو اپنا ذاتی عقیدہ قرار دے جس میں ہر مسلمان مرد اور عورت کا نکاح غیرمسلم عورت مرد سے جائز قرار دیا گیا ہو اور نکاح کے وقت فریقین کو اپنے مذہبی عقائد سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ اس شخص کا کیا حکم ہے؟ اور جو لوگ ایسے شخص کے اس قسم کے عقیدے سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دیں ان کا کیا حکم ہے؟
(۳)....... کیا وہ شخص جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو لیکن ایسے قرآنی احکام کو جو نص قرآنی سے ثابت ہیں جیسے عقد نکاح تقسیم وراثت وغیرہ کو موجودہ دور ترقی میں رکاوٹ سمجھتا ہو اور احکام قرآن کے خلاف جو قانون حکومت نے پاس کیے ہوں ان کی پیروی کی ترغیب دیتا ہو تا کہ مسلمان مقتضیات زمانہ اور موجودہ ضروریات کا ساتھ دے سکیں۔ مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کے اس قسم کے عقائد سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دینے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۴)...... کیا جو شخص قرآن کریم کے صریح احکام کی مخالفت کرنے والوں کو ترقی پذیر اور مبنی بر انصاف قرار دے۔ جیسا کہ مسٹر محمد علی جناح صاحب نے سول میرج ایکٹ کی ترمیم پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ ایسا شخص مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کے اس قسم کے عقائد سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دینے والوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۵)...... کیا جو شخص کلمہ گو ہونے کے باوجود مندرجہ بالا عقائد رکھتا ہو مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کو مسلمان قرار دینے والوں کا کیا حکم ہے؟ المستفتی محمد یٰسین نعت خواں (لدھیانہ) مورخہ ۲۰ محرم ۱۳۶۵ھ۔
جواب ...... (۱)....... جو شخص خدا کے منکروں ختم نبوت کے منکروں عذاب وثواب کے منکروں کو مسلمان سمجھے وہ خود بھی اسلام سے خارج ہے۔ (۲)....... جو شخص سول میرج ایکٹ کے ماتحت نکاح کرے اور اپنے مذہب سے قطعی منکر ہو جائے وہ اسلام سے خارج ہے اور جب تک توبہ کر کے دوبارہ اسلام نہ لائے مسلمان نہیں۔ (۳)....... قرآنی احکام کو موجودہ دور ترقی کے خلاف اور مانع ترقی سمجھنا صریح گمراہی ہے۔ ایسا شخص اسلام کے خلاف ہے۔ (۴)....... جو شخص قرآنی احکام کے خلاف کرنے والوں کو ترقی پذیر بتائے اور ان کے افعال کو مبنی بر انصاف سمجھے وہ مسلمان نہیں۔ (۵)....... ایسا شخص جو مذکورہ بالا عقائد رکھتا ہو صرف نام کا مسلمان ہے ورنہ وہ اسلامی عقائد و احکام کا مخالف اور حقیقی اسلام سے خارج ہے۔ (محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی)
(کفایت المفتی جلد ۹ ص ۴۴۳۔۴۴۴)
ختم نبوت کی تحریک کی ابتداء کب ہوئی
سوال ...... ختم نبوت کی تحریک کی ابتداء کب ہوئی۔ آیا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب جھوٹے مدعیان نبوت نے دعویٰ کیا تھا یا کسی اور دور میں؟
جواب ...... ختم نبوت کی تحریک آنحضرت ﷺ کے ارشاد ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ سے ہوئی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے مدعیان نبوت کے خلاف جہاد کر کے اس تحریک کو پروان چڑھایا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۴۵)
باب سوم
قادیانی عقائد
قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی ہی (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ ہیں
سوال...... اخبار جنگ میں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے زیر عنوان آپ نے مسلمان اور قادیانی کے کلمہ میں کیا فرق ہے، مرزا بشیر احمد قادیانی کی تحریر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:۔
”یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہے کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں اور قادیانی جب محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔“
مکرم جناب مولانا صاحب! میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب کلمہ شریف میں محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں تو اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہی ہوتے ہیں۔ ”مرزا غلام احمد قادیانی“ نہیں ہوتے۔ اگر میں اس معاملہ میں جھوٹ بولتا ہوں تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہزار بار لعنت ہو اور اسی یقین کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی احمدی کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد بجائے آنحضرت ﷺ کے ”مرزا غلام احمد قادیانی“ نہیں لیتا۔ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اسی طرح حلفیہ بیان اخبار جنگ میں شائع کروائیں کہ درحقیقت احمدی لوگ (یا آپ کے قول کے مطابق قادیانی) کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد آنحضرت ﷺ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا حلف شائع کروا دیا تو سمجھا جائے گا کہ آپ اپنے بیان میں مخلص ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا کہ کون اپنے دعوے یا بیان میں سچا اور کون جھوٹا ہے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ظاہر ہو جائے گا کہ آپ کے بیان کی بنیاد، خلوص، دیانت اور تقویٰ پر نہیں بلکہ یہ محض ایک کلمہ گو جماعت پر افترا اور اتہام ہوگا جو ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔
نوٹ...... اگر آپ اپنا حلف شائع نہ کرسکیں تو میرا یہ خط شائع کردیں تاکہ قارئین کو حقیقت معلوم ہوسکے۔
جواب...... نامہ کرم موصول ہو کر موجب سرفرازی ہوا۔ جناب نے جو کچھ لکھا میری توقع کے عین مطابق لکھا ہے۔ مجھے یہی توقع تھی کہ آپ کی جماعت کی نئی نسل جناب مرزا قادیانی کے اصل عقائد سے بے خبر ہے اور جس طرح عیسائی تین ایک، ایک تین، کا مطلب سمجھے بغیر اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی بڑے زور شور سے اعلان کرتے ہیں۔ کچھ یہی حال آپ کی جماعت کے افراد کا بھی ہے۔
آپ نے لکھا ہے کہ آپ ”محمد رسول اللہ“ سے مرزا قادیانی کو نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ ہی کی ذات عالی کو مراد لیتے ہیں اور یہ کہ اگر آپ ایسا عقیدہ رکھتے ہوں تو فلاں فلاں کی ہزار لعنتیں آپ پر ہوں۔ مگر آپ کے مراد لینے نہ لینے کو میں کیا کروں مجھے تو یہ بتائیے کہ میں نے یہ بات بے دلیل کہی یا مدلل؟ اور اپنی طرف سے خود گھڑ کر کہہ دی ہے یا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے حوالوں سے؟ جب میں ایک بات دلیل کے ساتھ کہہ رہا
ہوں تو مجھے قسمیں کھانے کی کیا ضرورت؟ اور اگر قسموں ہی کی ضرورت ہے تو میری طرف سے اللہ تعالیٰ ”انک رسول اللہ“ کی قسمیں کھانے والوں کے مقابلے میں ”انہم لکاذبون“ کی قسم کھا چکا ہے۔
میرے بھائی! بحث قسموں کی نہیں، عقیدے کی ہے۔ جب آپ کی جماعت کا لٹریچر پکار رہا ہے کہ مرزا قادیانی ”محمد رسول اللہ“ ہیں، وہی رحمتہ للعالمین، وہی ساقی کوثر ہیں، انہی کے لیے کائنات پیدا کی گئی، انہی پر ایمان لانے کا سب نبیوں سے (بشمول محمد رسول اللہ ﷺ کے) عہد لیا گیا ہے، اور مصطفی اور مرزا میں سرے سے کوئی فرق ہی نہیں بلکہ دونوں بعینہ ایک ہیں وغیرہ وغیرہ اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ بھی فرمایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ ہیں اس لیے ہمیں کسی اور کلمے کی ضرورت نہیں۔ ہاں! کوئی دوسرا آتا تو ضرورت ہوتی اور پھر اسی بنیاد پر پرانے محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں کو منہ بھر کر کافر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نئے محمد رسول اللہ کے منکر ہیں تو فرمائیے کہ آپ کے ان سب عقائد کو جاننے کے باوجود میں کس دلیل سے تسلیم کرلوں کہ آپ نئے محمد رسول اللہ کا نہیں بلکہ اسی پرانے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ اگر جناب کو میرے درج کردہ حوالوں میں شبہ ہو تو آپ تشریف لاکر ان کے بارے میں اطمینان کر سکتے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۰۰ تا ۲۰۲)
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
سوال....... ثابت کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ان کی تحریروں کے حوالے دیں۔ ہمارے محلے کے چند قادیانی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
جواب....... مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے دو گروہ ہیں ایک لاہوری، دوسرا قادیانی (جن کا مرکز پہلے قادیان تھا اب چناب نگر ہے) ان دونوں کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور تحریروں میں باصرار و تکرار نبوت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن لاہوری گروہ اس دعوائے نبوت میں تاویل کرتا ہے۔ جبکہ قادیانی گروہ کسی تاویل کے بغیر مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔
آپ سے جن صاحب کی گفتگو ہوئی ہے وہ غالباً لاہوری گروہ کے ممبر ہوں گے۔ ان کی خدمت میں عرض کیجئے کہ یہ جھگڑا تو وہ اپنے گھر میں نمٹائیں کہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی کیا توجیہ و تاویل ہے؟ ہمارے لیے اتنی بات بس ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور دعویٰ بھی انہی لفظوں میں جن الفاظ میں آنحضرت ﷺ نے کیا تھا۔ مثلاً:۔
قل یایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔
(الاعراف ۱۵۸)
قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی۔
(الکھف ۱۱۰)
وغیرہ وغیرہ۔ (مرزا کا انھیں الفاظ میں دعوئی نبوت کے لیے دیکھیں۔
(تذکرہ ص ۳۵۲، ۸۹، ۲۳۵)
اگر ان الفاظ سے بھی دعویٰ نبوت ثابت نہیں ہوتا تو یہ فرمایا جائے کہ کسی مدعی نبوت کو نبوت کا دعویٰ کرنے کے لیے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔
رہیں دعویٰ نبوت کی تاویلات! تو دنیا میں کس چیز کی لوگ تاویلیں نہیں کرتے، بتوں کو خدا بنانے کے لیے لوگوں نے تاویلیں ہی کی تھیں اور عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا ماننے والے بھی تاویلیں ہی کرتے ہیں۔ کسی اور کھلی ہوئی غلط بات یا غلط عقیدہ کی تاویل لائق اعتبار نہیں۔ اسی طرح حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد
نبوت کا دعویٰ بھی قطعی غلط ہے اور اس کی کوئی تاویل (خواہ خود مدعی کی طرف سے کی گئی ہو یا اس کے ماننے والوں کی جانب سے) لائق اعتبار نہیں۔ دسویں صدی کے مجدد ملا علی قاریؒ شرح ”فقہ اکبر ص ۲۰۲“ میں فرماتے ہیں۔ دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع۔ ”ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔“
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں ”کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوش و حواس سے محروم ہو تو اس کو معذور سمجھا جائے گا ورنہ اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔“ (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۲۰۲۔۲۰۳)
قادیانی عقائد
سوال ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:۔
- (۱)...... آیت ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق میں ہوں۔
(ازالہ اوہام طبع اول ص ۶۷۳ خزائن ص ۴۶۳ ج ۳)
- (۲)...... ”مسیح موعود کے آنے کی خبر احادیث میں آئی ہے میں ہوں۔“
(ازالہ اوہام طبع اول ص ۶۶۶۔۶۶۷ خزائن ص ۴۶۰ ج ۳)
- (۳)...... ”میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔“
(معیار الاخیار ص ۱۱)
- (۴)...... ”ان قدمی علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ.“
(خطبہ الہامیہ ص ۷۰ خزائن ص ایضاً ج ۱۶)
- (۵)...... ”لا تقیسونی باحد ولا احدا بی.“
(خطبہ الہامیہ ص ۵۲ خزائن ص ۵۲ ج ۱۶)
- (۶)...... ”میں مسلمانوں کے لیے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لیے کرشن ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ۳۳ خزائن ص ۲۲۸ ج ۲۰)
- (۷)...... ”میں امام حسین سے افضل ہوں۔“
(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ص ۲۳۳ ج ۱۸)
- (۸)...... ”وانی قتیل الحب لکن حسینکم: قتیل العدیٰ فالفرق اجلی واظہر.“
(اعجاز احمدی ص ۸۱ طبع اول خزائن ص ۱۹۳ ج ۱۹)
- (۹)...... یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار تھیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۱)
- (۱۰)...... ”یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ص ۲۸۹ ج ۱۱)
- (۱۱)...... ”یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ اس کے پاس بجز دھوکہ کے اور کچھ نہ تھا۔“
(ملخصاً ازالہ اوہام ص ۳۰۳۔۳۰۲ خزائن ص ۲۵۹ ج ۳ و ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ص ۲۹۱ ج ۱۱)
- (۱۲)...... ”میں نبی ہوں اس امت میں نبی کا نام میرے لیے مخصوص ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۳۹۱ خزائن ص ۴۰۶۔۴۰۷ ج ۲۲)
- (۱۳)...... مجھے الہام ہوا۔ یا ایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعًا۔
(معیار الاخیار ص ۱۱)
- (۱۴)...... ”میرا منکر کافر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ص ۱۶۷ ج ۲۲)
- (۱۵)...... ”میرے منکروں بلکہ متابعوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔“
(فتاویٰ احمدیہ اول)
- (۱۶)...... ”مجھے خدا نے کہا اسمع ولدی. اے میرے بیٹے سن۔“
(البشریٰ ص ۴۹)
- (۱۷)...... ”لولاک لما خلقت الافلاک.“
(حقیقۃ الوحی ص ۹۹ خزائن ص ۱۰۲ ج ۲۲)
- (۱۸)...... میرا الہام ہے وما ینطق عن الھویٰ.
(اربعین ص ۳۶۔۴۳ خزائن ص ۳۸۵ ج ۱۷)
- (۱۹)....... وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین.
(حقیقۃ الوحی ص ۸۲ خزائن ص ۸۵ ج ۲۲)
- (۲۰)....... ”انک لمن المرسلین.“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ص ۱۱۰ ج ۲۲)
- (۲۱)....... اتانی مالم یؤت احدا من العالمین.
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ص ۱۱۰ ج ۲۲)
- (۲۲)....... ”ان اللّٰہ معک ان اللّٰہ یقوم اینما قمت.“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ص ۳۰۱ ج ۱۱)
- (۲۳)....... مجھے حوضِ کوثر ملا ہے۔ انا اعطینک الکوثر.
(انجام آتھم ص ۵۸ خزائن جلد ۱۱ ص ۵۸)
- (۲۴)....... میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہو بہو اللہ ہوں۔ رایتنی فی المنام عین اللّٰہ و تیقنت اننی
ھو...... فخلقت السموات والارض.
(آئینہ کمالات ص ۵۶۴۔۵۶۵ خزائن ص ایضاً ج ۵)
- (۲۵)....... میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔
(فتاویٰ احمدیہ ص ۷)
جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجب افتراق ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا.
جواب ....... مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال جو سوال میں نقل کیے گئے ہیں اکثر ان میں سے میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ان کے بے شمار اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنانے کے لیے کافی ہیں۔ پس خود مرزا قادیانی اور جو شخص ان کا ان کلمات کفریہ میں مصدق ہو سب کافر ہیں اور ان کے ساتھ اسلامی تعلقات مناکحت وغیرہ رکھنا حرام ہے۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے جانشین تو اپنے مریدوں کو غیر مرزائی کا جنازہ پڑھنا بھی حرام بتائیں اور غیر احمدی انھیں مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ رشتے ناتے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔ کفایت اللہ دہلی
(کفایت المفتی جلد ۱ ص ۳۱۲۔۳۱۳)
مرزا غلام احمد قادیانی کا معراج جسمانی کا انکار و اقرار
سوال ...... ”دعوت“ کی کسی سابقہ اشاعت میں نظر سے گزرا تھا کہ معراج شریف کے جسمانی ہونے پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ اکثر صحابہؓ معراج کو روحانی مانتے تھے۔ یہ معراج جسمانی کا عقیدہ بہت بعد کی پیداوار ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر اوپر اٹھائے جانے کے خیال کی تائید کے لیے وضع کیا گیا تھا اس اجماع کا حوالہ مطلوب ہے؟
(منصور علی از کیمبل پور)
جواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتے ہیں :۔
”اس بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمانوں کی طرف اٹھائے گئے تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۴۷ خزائن ج ۳ ص ۲۴۷)
مرزا قادیانی نے اس کتاب کے ص ۱۴۸ کی آٹھویں سطر میں اس کے لیے اجماع صحابہؓ کا لفظ بھی بیان کیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۱۴۸ خزائن ج ۳ ص ۲۴۸)
امید ہے کہ اب آپ کے مرزائی دوست کا کوئی شبہ باقی نہیں رہا ہوگا۔ باقی رہا نہ ماننا تو یہ دلوں کی مہر کا ایک ظاہری نشان ہے۔ حق تعالیٰ اتباع حق کی توفیق عطا فرمائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ۔ خالد محمود عفا اللہ عنہ ۱۸ جنوری ۱۹۶۳ء۔
(عبقات ص ۸۹۔۹۰)
عقائد قادیانی
”انا انزلناہ قریباً من القادیان قرآن میں ہونا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۹۱)
- ”اور مرزا قادیانی کا زمین و آسمان نئے سرے سے بنانا۔“
(کتاب البریہ ص ۸۷ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۵)
- ”اور حضور ﷺ کے معراج جسمی سے انکار کرنا۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶)
- ”اور قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں کہنا۔“
(اشتہار لیکھرام مارچ ۱۸۹۷ء مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۳۳۷)
- اور فرشتے کواکب کا نام تصور کرنا۔ فرشتوں کا نزول زمین پر نہ ہونا۔
(حمامۃ البشریٰ ص ۱۰ خزائن ج ۷ ص ۲۷۶)
- اور انبیاء کا کاذب سمجھنا۔
(ازالہ ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹)
- اور آپ ﷺ کی وحی کو غلط کہنا۔
(ازالہ ص ۴۷۳ خزائن ج ۳ ص ۳۷۴)
- اور حضرت عیسیٰ ؑ کو یوسف نجار کا فرزند سمجھنا۔
(ازالہ اوہام ص ۴۵۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴)
- اور مسجد اپنے والد کی بنی ہوئی کو مسجد حرام سمجھنا۔
(خطبہ الہامیہ ص ۱۵ خزائن جلد ۱۶ ص ۱۵)
- اور معجزات کو مسمریزم کہنا۔ (ازالہ اوہام حاشیہ ص ۳۰۵ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶) اور اپنی کتاب براہین کو خدا کا
کلام تصور کرنا۔ (خطبہ الہامیہ ص ۲۱ خزائن ج ۱۶ ص ۲۱) اور اپنے آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھنا۔ (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) اور خداوند کریم کے لیے اولاد کا ثبوت کرنا انت منی بمنزلت ولدی وانت منی انا منک (دافع البلاء ص ۶ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۷) اور عیسیٰ ؑ کو اپنے سے حقیر سمجھنا وہ یہ ہے۔
(درثمین اردو ص ۵۳)
علیٰ ھذا القیاس مشتے نمونہ از خروارے لکھے گئے۔
(فتاویٰ نظامیہ جلد اوّل ص ۴۰۔۴۱)
قادیانی کے جھوٹے خدا
مرزا ”ایسے کو خدا کہتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۶۲۵ خزائن جلد ۳ ص ۴۳۹) ”جس نے چار سو جھوٹوں کو اپنا نبی کیا ان سے جھوٹی پیشین گوئیاں کہلوائیں۔“ جس نے ایسے کو ایک عظیم الشان رسول بنایا جس کی نبوت پر اصلاً دلیل نہیں بلکہ اس کی نفی نبوت پر دلائل قائم، جو (خاک بدہن ملعونان) ولد الزنا تھا۔ (اعجاز احمدی ص ۱۳ خزائن جلد ۱۹ ص ۱۲۰) ”جس کی تین دادیاں نانیاں زنا کار کسبیاں تھیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱) ایسے کو جس (کشتی نوح ص ۱۶ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸ حاشیہ) نے ”ایک بڑھئی کے بیٹے کو محض جھوٹ کہہ دیا کہ ہم نے بن باپ کے بنایا اور اس پر یہ فخر کی جھوٹی ڈینگ ماری کہ یہ ہماری قدرت کی کیسی کھلی نشانی ہے۔“ ایسے کو جس (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن جلد ۱۱ ص ۲۹۱) نے ”ایک بدچلن عیاش کو اپنا نبی کیا جس نے ایک یہودی فتنہ گر کو اپنا رسول کر کے بھیجا جس کے پہلے ہی فتنہ نے دنیا کو تباہ کر دیا۔“ (مواہب الرحمٰن ص ۷۲ خزائن ج ۱۹ ص ۲۹۰) ایسے کو ”جو اسے ایک بار دنیا میں لا کر دوبارہ لانے سے عاجز ہے۔“ (دافع البلاء ص ۱۵ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۵) وہ جس نے ایک شعبدہ باز کی مسمریزم والی مکروہ حرکات قابل نفرت حرکات جھوٹی بے ثبات کو اپنی آیات بینات بتایا، ایسے کو جس کی آیات بینات لہو و لعب ہیں اتنی بے اصل کہ عام لوگ ویسے عجائب کر لیتے تھے اور اب بھی کر دکھاتے ہیں بلکہ آج کل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں اہل کمال کو ایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔ ایسے کو جس نے اپنا سب سے پیارا بروزی خاتم النبیین دوبارہ قادیان میں بھیجا مگر اپنی جھوٹ فریب تمسخر ٹھٹھول کی چالوں سے اس کے ساتھ بھی نہ چوکا، اس سے کہہ دیا کہ تیری جورو کے اس حمل سے بیٹا ہوگا جو انبیاء کا چاند ہوگا بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے، بروزی بیچارہ اس کے دھوکے میں آ کر اسے اشتہاروں میں چھاپ بیٹھا اسے تو یوں ملک بھر میں جھوٹا بننے کی ذلت
و رسوائی اوڑھنے کے لیے یہ جل دیا اور جھٹ پٹ میں الٹی کل پھرا دی بیٹی بنا دی بروزی بیچارہ کو اپنی غلط فہمی کا اقرار چھاپنا پڑا اور اب دوسرے پیٹ کا منتظر رہا اب کی یہ مسخرگی کی کہ بیٹا دے کر امید دلائی اور ڈھائی برس کے بچے ہی کا دم نکال دیا، نہ نبیوں کا چاند بننے دیا نہ بادشاہوں کو اس کے کپڑوں سے برکت لینے دی، غرضیکہ اپنے چہیتے بروزی کا جھوٹا کذاب ہونا خوب اچھالا اور اس پر مزہ یہ کہ عرش پر بیٹھا اس کی تعریفیں گا رہا ہے، اس پر بھی صبر نہ آیا بروزی کے چلتے وقت کمال بے حیائی کی ذلت و رسوائی تمام ملک میں طشت از بام ہونے کے لیے اسے یوں چاؤ دلایا کہ اپنی بہن احمد بیگ کی بیٹی محمدی کا پیام دے، بروزی بیچارے کے منہ میں پانی بھر آیا، پیام پر پیام، لالچ پر لالچ، دھمکی پر دھمکی، اُدھر احمد بیگ کے دل میں ڈال دیا کہ ہرگز نہ پسیج، یوں لڑائی ٹھنوا کر اپنے امدادی وعدوں سے بروزی کی امید بڑھائی کہ دیکھ محمدی کا باپ اگر دوسری جگہ اس کا نکاح کر دے گا تو ڈھائی برس میں وہ مرے گا، اور تین برس میں وہ شوہر، یا بالعکس، بروزی جی تو ہمیشہ اس کی چالوں میں آ جاتے تھے اسے بھی چھاپ بیٹھے یہاں تک تو وہی جھوٹی پیشین گوئیاں رٹیں جو سدا کی تھیں۔ اب اس قادیانی کے خود ساختہ خدا کو اور شرارت سوجھی جھٹ بروزی کو وحی پھنکا دی کہ ”زوجنکھا“ محمدی سے ہم نے تیرا نکاح کر دیا۔ اب کیا تھا بروزی جی ایمان لے آئے کہ اب محمدی کہاں جا سکتی ہے یوں جل دے کر بروزی کے منہ سے اسے اپنی منکوحہ چھپوا دیا، تاکہ وہ حد بھر کی ذلت جو ایک چمار بھی گوارا نہ کرے کہ اس کی جورو اور اس کے جیتے جی دوسرے کی بغل میں، یہ مرتے وقت بروزی کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہو، اور رہتی دنیا تک بیچارے کی فضیحت و خواری و بے عزتی و کذابی کا ملک میں ڈنکا ہو، ادھر تو عابد و معبود کی یہ وحی بازی ہوئی ادھر سلطان محمد آیا اور نہ عابد کی چلنے دی نہ معبود کی، بروزی جی کی آسمانی جورو سے بیاہ کر ساتھ لیا، یہ جا، وہ جا، چلتا بنا، ڈھائی تین برس پر موت دینے کا وعدہ تھا وہ بھی جھوٹا گیا، الٹے بروزی جی زمین کے نیچے چل بسے وغیرہ وغیرہ خرافات ملعونہ۔ یہ ہے قادیانی اور اس کا ساختہ خدا۔ کیا وہ خدا کو جانتا تھا یا اب اس کے پیرو جانتے ہیں۔ حاش للہ سبحن رب العرش عما یصفون۔
(فتاویٰ رضویہ جلد ۱۵ ص ۵۴۱ تا ۵۴۳)
قادیانی اور اس کی کتابیں
سوال...... میں تبلیغی جماعت کا ایک خادم ہوں۔ ایک سفر میں میری ملاقات ایک قادیانی سے ہو گئی میں نے اس سے دریافت کیا کہ علماء دیوبند تم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ان لوگوں نے ہماری کتابوں کا مطلب غلط سمجھا۔ حالانکہ ان حضرات کو ہم سے مطلب معلوم کرنا چاہیے تھا اور کافر نہیں کہنا چاہیے تھا۔ میں نے کہا کہ ان کتابوں کے نام کیا ہیں؟ انھوں نے ان کتابوں کے نام بتائے۔ ایک غلطی کا ازالہ نمبر ۲، انجام آتھم نمبر ۳، حقیقت الوحی نمبر ۴، ازالۃ الاوہام۔ سوال یہ ہے کہ یہ کتابیں کیسی ہیں اور اس پر عمل کرنا کیسا ہے۔ اس شخص کا کہنا درست ہے یا غلط؟ فقط ۔
الجواب...... حامداً ومصلیاً۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور ختم نبوت کا انکار کیا ہے حالانکہ حضرت رسول مقبول ﷺ سب سے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور یہ مسئلہ قرآن پاک اور احادیث مشہورہ اور اجماع سے ثابت ہے۔ اِس دعویٰ کی وجہ سے مرزا کافر ہے اور جو شخص اس کے اس دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے وہ بھی اس کے حکم میں ہے۔ مرزا کی زندگی میں اس سے مناظرہ کیا گیا اور اس کے ہر غلط دعویٰ کی تردید، قرآن پاک اور احادیث کے ذریعہ سے کی گئی اور اس پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ وہ خود اپنی عبارات اور
کتابوں کا کوئی صحیح مطلب نہیں بیان کر سکا تو آج اس کے ماننے والے کس شمار میں ہیں۔ اگر وہ کوئی ایسا مطلب بیان بھی کریں جس کے خلاف صراحۃً مرزا نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے تو وہ خود ان کا مطلب ہے مرزا کا مطلب نہیں ہوگا۔ اس کی تردید کے لیے ہدیۃ المفتری اکفار الملحدین، عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام، ختم النبوۃ، عشرہ کاملہ وغیرہ بہت سی کتابیں تصنیف ہو کر عرصہ ہوا شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں ان کی کفریات ایک دو نہیں بلکہ بڑی مقدار میں پوری تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ اس لیے اس کی کتابوں کا مطالعہ عوام ہرگز نہ کریں۔ اہل علم حضرات تردید کے لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کر کے اس کی ان کفریات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک شعر کہا ہے؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین اردو ص ۵۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ ”انھوں نے اپنے باپ یوسف کے ساتھ سترہ سال کی عمر تک نجاری (بڑھئی) کا کام سیکھا“ (ازالہ اوہام ص ۱۵۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴) اور خود ان کی قبر کشمیر میں ہے (راز حقیقت ص ۱۶ خزائن ج ۱۴ ص ۳۳) اور ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانیہ تھیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱) حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور ان کی والدہ اور ان کی نانی کا تذکرہ قرآن شریف میں احترام کے ساتھ کیا گیا اور فرمایا گیا ہے۔ وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ ۔ غرض مرزا غلام احمد قادیانی نے کفریات لکھنے میں کچھ کمی نہیں کی۔ اس لیے وہ تمام علماء کے نزدیک کافر ہے فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۱۵۔۸۔۸۷ھ۔ الجواب صحیح بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۱۵۔۸۔۱۳۸۷ھ۔
(فتاویٰ محمودیہ جلد ۱۱ ص ۳۲۔۳۳)
مرزا کا قول کہ اللہ نے مجھ سے ہمبستری کی اور مجھے حمل قرار پایا
سوال...... ایک دفعہ جناب والا نے قادیانی ملعون کا تذکرہ فرماتے ہوئے اس کا ایک الہام ذکر فرمایا تھا کہ ”آج رات خدا نے میرے سے قوتِ رجولیت کا اظہار کیا (ہمبستری کی) جس کے نتیجہ میں مجھے حمل قرار پا گیا“ یہ الہام کس کتاب میں ہے؟ جناب والا کو یاد ہو تو تحریر فرماویں۔
جواب...... حامداً و مصلیاً۔ صفحہ تو محفوظ نہیں لیکن مرزا کی کتابوں سے عشرہ کاملہ میں بھی نقل کیا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔ حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۶۔۱۱۔۸۵ھ۔ الجواب صحیح بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۶۔۱۱۔۸۵ھ۔ الجواب صحیح سید احمد علی سعید نائب مفتی دارالعلوم دیوبند ۶۔۱۱۔۸۵ھ۔
مرزا کے الہامات ذیل پر غور کریں۔
- (الف) مرزا کا حیض اور بچہ یریدون ان یروا طمثک۔ اس الہام کی تشریح مرزا قادیانی یوں بیان
کرتے ہیں۔ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر اللہ تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۴۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۸۱)
(ب) اللہ تعالیٰ کا نطفہ انت من ماء نا وهم من فشل یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے ا، دوسرے لوگ خشکی سے۔
(اربعین ص ۳۴ ۔ ۳ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۳)
(ج) اللہ تعالیٰ سے ہمبستری (نعوذ باللہ) زنا شوئی کے فعل کا وقوع ۔ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید یار محمد صاحب بی۔ او ۔ ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر ۳۴ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر میں لکھتے ہیں کہ ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت (مردانہ) طاقت کا اظہار فرمایا سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ص ۱۲)
(د) استقرار حمل مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ۴۷ خزائن ج ۱۹ ص ۵۰) پر لکھتے ہیں کہ ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“
(فتاویٰ محمودیہ جلد ۱۰ ص ۱۱۶۔ ۱۱۷)
یہ دعویٰ کہ مجھ میں رسول اللہ کی روح حلول کر گئی ہے کفر ہے
سؤال ...... ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک اور حضرت امام مہدی ؑ کی روح میرے بدن میں حلول کر گئی ہیں وغیرہ، اس اعتقاد کی نسبت کیا حکم ہے۔
الجواب ...... عقائد مذکورہ کفر کے عقائد ہیں۔ مدعی مذکور گمراہ اور بے دین ہے۔ (درمختار ص ۳۲۴ ۔ ۳۲۵ ج ۳ طبع رشیدیہ) اس سے مرید ہونا اور اس کا اتباع کرنا درست نہیں ہے۔ وہ شخص مصداق ضلوافاضلوا کا ہے، اس کی صحبت سے بچیں، ولنعم ما قال فی المثنوی المعنوی.
پس بہر دستے نباید داد دست
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۳۳۵)
اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دعویٰ کرنا
سوال ...... اللہ جل جلالہ کا کلام کرنا اپنے بندہ سے اور بندہ کا اللہ تعالیٰ سے، یہ منصب و درجہ خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے یا عام۔ اگر خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے اور نبوت ختم ہو چکی ہے۔ اب فی زمانہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کلام فرمایا تو اس پر اور اس کلام کو حق جاننے والا اور اس کے معتقد پر شرعاً کیا حکم ہوگا۔ بینوا بسند الکتاب. تو جروا من الله الوهاب؟
جواب ...... اللہ تعالیٰ کا کلام بالمشافہہ اور بطور وحی کے خاصہ انبیاء علیہم السلام ہے، جو آنحضرت ﷺ کے بعد قطعا منقطع ہے اور مدعی اس کا کافر ہے۔ صرح بہ فی شرح الشفاء۔
البتہ بصورت الہام عامۂ مومنین کو حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن عرفاً اس کو کلام نہیں کہا جاتا۔ اس لیے ایسے الفاظ بولنا کہ (اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام فرمایا) اگر اس کی مراد یہ ہے کہ بطور وحی کے بالمشافہہ فرمایا تب تو کفر ہے اور اگر مراد اس سے بطور الہام دل میں ڈالنا ہے تب بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس میں ایہام ہوتا ہے ادعا وحی کا، اور
کفر کے ایہام سے بچنا بھی ضروری ہے۔
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۲۸)
مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی عمر کے بارہ میں جھوٹا الہام
سوال...... مکرمی و محترمی جناب علامہ صاحب قبلہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ نے رحیم یار خاں میں مجلس کے دوران فرمایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق جو الہام شائع کیا تھا وہ امر واقعہ کی روشنی میں بالکل غلط نکلا۔ قادیانی اس کا انکار کرتے ہیں اور حوالہ مانگتے ہیں۔ براہ کرم مجھے اس کے مفصل حوالہ جات سے مطلع کریں۔ ممکن ہے اس سے کچھ لوگوں کے عقائد درست ہو جائیں؟ سائل: عبدالخالق رحیم یار خاں
الجواب...... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! مرزا قادیانی نے جولائی ۱۸۸۷ء میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔
یأتی علیک زمان مختلف بارواح مختلفہ و تری نسلاً بعیداً ولنحیینک حیوۃً طیبۃ ثمانین حولاً او قریباً من ذلک۔
خط کشیدہ عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔
”اور ہم تجھے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے، اسی سال یا اس کے قریب قریب۔“
مرزا قادیانی نے اپنی اس پیشگوئی کا اشتہار شائع کیا تھا اور پھر اس الہام کو اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم میں بھی نقل فرمایا۔ مرزا قادیانی اسے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لیے یہی کافی ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۲۳۳ خزائن ج ۳ ص ۴۴۴)
اس تصریح سے یہ امر واضح ہے کہ اسی سال عمر ہونے کی یہ پیشگوئی مرزا قادیانی کے صدق یا کذب کو جانچنے کے لیے کافی ہے۔ ہاں مرزا قادیانی نے اس پیشگوئی کو ”او قریباً من ذلک“ یعنی یا اس کے قریب قریب کے الفاظ سے جس طرح گول کیا ہے۔ اب ہم اس کی بھی تحدید کیے دیتے ہیں کہ اس سے مراد کیا تھی۔
مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی میں اپنا یہ الہام پیش کرتے ہیں۔
اطال اللہ بقاءک اسی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔
(حقیقۃ الوحی ص ۹۶ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۰)
پھر مرزا قادیانی نے احتیاطاً اس کی اور توسیع کی، خود لکھتے ہیں۔
”خدا نے صریح لفظوں میں مجھے اطلاع دی تھی کہ تیری عمر ۸۰ برس ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۷ ضمیمہ خزائن ج ۲۱ ص ۲۵۸)
ان تصریحات کی روشنی میں مرزا قادیانی کی عمر کم از کم ۷۴ سال اور زیادہ سے زیادہ ۸۶ سال ہونی چاہیے تھی۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی ان تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ۱۳۲۶ھ میں تقریباً ۶۶ سال کی عمر میں فوت ہو گئے اور وہ پیشگوئی جسے انھوں نے خود اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا انھیں یکسر کاذب ٹھہرا گئی۔
مرزا قادیانی کی عمر پر پہلا استدلال
مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“
(تریاق القلوب ضمیمہ ۲ ص ۶۸ خزائن ج ۱۵ ص ۲۸۳)
”غلام احمد قادیانی“ اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی ۱۳۰۰ کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کر رہا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ۱۶ خزائن ج ۱۵ ص ۱۵۷۔۱۵۸)
مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے یہ دو باتیں ثابت ہیں۔
- (۱)...... مرزا قادیانی تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر مجدد مبعوث ہوئے۔
- (۲)...... اس وقت مرزا قادیانی کی عمر پورے چالیس برس کی تھی۔
مرزا قادیانی کی وفات بالاتفاق ۱۳۲۶ھ میں ہوئی ہے۔ چودھویں صدی کے یہ چھبیس سال، چالیس میں جمع کیے جائیں تو آپ کی کل عمر ۶۶ سال کے قریب بنتی ہے۔
مرزا قادیانی کی عمر پر دوسرا استدلال
”خدا تعالیٰ نے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوۃ ہے یعنی تئیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت ﷺ کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ۹۴ خزائن ج ۱۷ ص ۲۵۱۔۲۵۲)
اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے وقت دنیا کی عمر ۴۷۳۹ سے گیارہ برس کم یعنی ۴۷۲۸ برس تھی۔ مرزا قادیانی کی وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی وفات کے وقت دنیا کی عمر ۴۷۲۸+۱۳۲۶=۶۰۵۴ برس کے قریب تھی۔ اب مرزا قادیانی کی پیدائش کا وقت ان کے اپنے بیان کی رو سے ملاحظہ کیجئے۔
اس حساب سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔
(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۹۵ خزائن جلد ۱۷ ص ۲۵۲)
چھ ہزار سے گیارہ نکال دیں تو باقی ۵۹۸۹ رہ جاتے ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش ۵۹۸۹ کے آغاز یا ۵۹۸۸ کے آخر میں کسی وقت ہوئی۔
خلاصہ اینکہ مرزا قادیانی کی پیدائش اس وقت ہوئی جب دنیا کی پیدائش پر تقریباً ۵۹۸۸ سال گزر چکے تھے اور وفات اس وقت ہوئی جب دنیا کی عمر ۶۰۵۴ برس کے قریب تھی۔ اس مدت سے ۵۹۸۸ نکال دینے سے باقی ۶۶ سال ہی رہ جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی عمر کا یہ تعین ان کے دعوؤں اور الہامات پر مبنی ہے۔ ان کی بعثت اگر تیرھویں صدی کے ختم پر چودھویں صدی کے آغاز سے کچھ ایک دو سال پہلے تجویز کی جائے تو زیادہ سے زیادہ اس عمر کا تصور ۶۷ یا حد ۶۸ سال ہو سکے گا۔ اس سے زیادہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ مشہور انگریز سر لیپل گریفن نے ”پنجاب چیفس“ (Punjab Chiefs) کے نام سے پنجاب کے زمینداروں کی ایک اہم تاریخ مرتب کی تھی۔
اس کی دوسری جلد میں مرزا قادیانی کے خاندان کا بھی تذکرہ ہے۔ مورخ موصوف اس میں لکھتے ہیں۔
”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا ۔“
(پنجاب چیفس جلد ۲ ص ۶۲)
مرزا قادیانی کی وفات انگریزی حساب سے ۱۹۰۸ء کے اوائل میں واقع ہوئی۔ ۱۸۳۹ء میں پیدائش ہو تو ۱۹۰۷ء کے اختتام تک مرزا قادیانی کی عمر ۶۸ سال بنتی ہے۔ قادیانی سلسلے کے خلیفہ اول جناب حکیم نور الدین صاحب بھی اپنی کتاب ”نورالدین“ میں (جو مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی لکھی گئی تھی اور ۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی) مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ان الفاظ میں لکھی ہے۔
سنہ پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود ۱۸۳۹ء۔
(نور الدین ص ۷۰، مطبع ضیاء الاسلام قادیان)
الہامات پر مبنی عمر ۶۶ سال ہو یا تاریخی واقعات پر مبنی ۶۸ سال ہو ہر دو اعداد عمر مرزا غلام احمد کے اس الہام کو غلط ثابت کرنے کے لیے کہ ان کی عمر کم از کم ۷۴ سال ہوگی اور زیادہ سے زیادہ ۸۶ سال کی ہوگی۔ کافی و وافی ہیں۔
اب ہم مرزا قادیانی کی اس عبارت کو پھر پیش کرتے ہیں جو انھوں نے اسی سال کی عمر کی پیشگوئی تحریر فرمانے کے متصل بعد لکھی ہے۔
”اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لیے یہی کافی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۳۳ خزائن ج ۳ ص ۴۳۳)
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی خلاف الہام وفات سے سبق لینے کی بجائے آپ کے واقعات عمر میں ہی رد و بدل کرنا شروع کر دیا۔ وفات کی تاریخ تو وہ نہ بدل سکتے تھے۔ ناچار انھوں نے تاریخ پیدائش میں اختلاف کرنا شروع کر دیا تاکہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیشگوئی پر منطبق کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کی پیدائش کبھی زیر اختلاف نہیں آئی۔ ہم نے مرزائیوں کو بارہا چیلنج دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کا کوئی اختلاف وہ مرزا قادیانی کی زندگی کے واقعات سے پیش کریں اور بتائیں کہ کبھی ان کے حین حیات بھی اس موضوع میں کوئی اختلاف رونما ہوا ہو۔ اگر یہ اختلافات سب مرزا قادیانی کی وفات کے بعد ہی اٹھے ہیں تو کیا یہ خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کا واحد سبب مرزا قادیانی کی وہ الہامی پیشگوئی ہے جس پر مرزا قادیانی کی مدت حیات کسی طرح منطبق نہ اتر سکی۔ مرزا بشیر الدین محمود نے سیرت مسیح موعود کے نام سے ایک مختصر رسالہ لکھا تھا۔ جو اب پانچویں بار ربوہ کے مرکز جدید سے شائع ہوا ہے اس میں جماعت کے خلیفہ نے سر لیپل گریفن کی کتاب ”پنجاب چیفس“ سے مرزا قادیانی کا سنہ پیدائش نقل کرنے میں کھلم کھلا تحریف اور خیانت کی ہے۔ مرزا محمود اس رسالہ کے ص ۵ پر اسے یوں نقل کرتے ہیں۔
”غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا یہ شخص ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا۔“
(سیرت مسیح موعود ص ۵ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود)
قارئین دعوت مطلع رہیں کہ اصل کتاب میں ۱۸۳۷ء نہیں بلکہ ۱۸۳۹ء ہے۔ یہ تحریف مرزا قادیانی کی عمر کو محض لمبا کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے تاکہ اسے کچھ تو پیشگوئی کے قریب لایا جاسکے لیکن افسوس کہ اس پر بھی مرزا قادیانی آنجہانی کی پیشگوئی واقعات کا ساتھ نہیں دے سکی۔
مرزائی حضرات سے دوسرا سوال
- (۱)...... اپنے قدیم تحریری ذخائر سے یہ ثابت کریں کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کے متعلق اختلاف کبھی ان کی
زندگی میں بھی اٹھا ہو۔
- (۲)...... مرزا محمود نے پنجاب چیفس کے حوالے سے قادیانی کا سنہ پیدائش نقل کرنے میں تحریف اور خیانت نہیں کی؟
نقل کو اصل کے مطابق ثابت کر کے خلیفہ قادیان سے بددیانتی کے اس داغ کو دور کریں۔
الحاصل مرزا قادیانی کی عمر ۶۶ اور ۶۷ سال کے قریب ہی بنتی ہے اور کسی صورت میں بھی ۷۴ سال ثابت نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی اپنی خلاف الہام وفات سے اپنے دعوؤں کی پوری طرح تکذیب کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ ۲ اکتوبر ۶۲ء۔
(عبقات ص ۳۶۰ تا ۳۶۴)
قادیانی عقائد
سوال...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، کہ زید کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سورہ زلزال کے معنی غلط سمجھے، وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ یوسف نجار کے بیٹے تھے، وہ کہتا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو ابن مریم اور دجال کی خبر نہیں دی گئی، وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا انتقال ہو گیا، کشمیر میں قبر ہے، ایسے شخص کی اقتدا موجب نجات ہے یا نار، ایسا عقیدہ رکھنے والا کیسا ہے اور وہ مدعی ہے، کہ عیسیٰ موعود میں ہوں، اور کوئی عیسیٰ نہیں آئے گا۔ حضرت رسول اکرم خاتم النبیین نہیں اس کے اور ایسے صدہا عقیدے ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب...... ایسا عقیدہ رکھنے والا بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ایسے شخص کی اقتدا سراسر ضلالت و موجب نار ہے، جتنی باتیں اس شخص کے سوال میں نقل کی گئی ہیں، وہ محض غلط و باطل ہیں، اور الحاد و زندقہ کی باتیں ہیں، اس نالائق شخص نے رسول تو رسول خود اللہ تعالیٰ کو جھوٹا بنایا (العیاذ باللہ) اللہ تو فرماتا ہے۔ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔ (النجم ۳،۴) اور فرماتا ہے۔ ثم ان علینا بیانہ۔ (القیامۃ ۱۹) یعنی قرآن کے معنی اور مطلب کا بیان کر دینا اور آپ ﷺ کو سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے اور یہ نالائق کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے سورہ زلزال کے معنی غلط سمجھے۔ نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قالت انی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا قال کذالک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ آیۃ للناس و رحمۃ منا و کان امراً مقضیا (مریم ۲۰۔۲۱) یہ آیت اور مثل اس کے اور آیتیں صاف صاف ناطق ہیں کہ عیسیٰ ؑ بن باپ کے پیدا ہوئے اور یہ نالائق کہتا ہے کہ عیسیٰ ؑ یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔ (الاحزاب ۴۰) اور یہ نالائق کہتا ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ تو قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ اتریں گے اور پھر آپ ﷺ نے ان کے نازل ہونے کا پورا قصہ و نیز دجال کا مفصل حال بیان فرمایا ہے کما ھو مروی فی کتب الاحادیث اور یہ نالائق مردود کہتا ہے کہ آپ کو ابن مریم اور دجال کی خبر نہیں دی گئی اور عیسیٰ کا انتقال ہو گیا اور اپنے آپ ﷺ کو یہ مردود عیسیٰ موعود بتاتا ہے، الحاصل یہ شخص بالکل ملحد اور ضال و مضل اور دجال و کذاب ہے، جمیع اہل اسلام کو لازم ہے کہ ایسے شخص سے نہایت ہی احتراز کریں۔ حررہ محمد علی عفی عنہ، سید محمد نذیر حسین۔
(فتاویٰ نذیریہ جلد ۱ ص ۹-۱۰)
قادیانی شبہات
مفتری علی اللہ کے خائب ہونے کا مفہوم؟
سوال ...... قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اگر یہ محض افتراء اور جھوٹ تھا تو وہ حیاتِ طبعی تک زندہ کیسے رہے۔ جو شخص خدا پر افتراء باندھے وہ نہایت ذلت کی موت مرتا ہے۔ حیاتِ طبعی تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزا قادیانی کا سلسلہ تو ان کے بعد بھی قائم ہے اس مغالطے کی وضاحت کیجئے؟ سائل: فضل رحیم از شیخو پورہ۔
الجواب ...... ”فلاح نہ پانا اور فائز المرام نہ ہونا“ یہ صرف انھیں کفار سے خاص نہیں جو اللہ رب العزت پر افتراء کر کے اللہ پر جھوٹے دعوے کریں بلکہ قرآن کی رو سے کوئی کافر بھی فوز و فلاح کا مستحق نہیں قرآن کریم میں ہے۔
اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ. (المومنون ۱۱۷) ترجمہ: بے شک کافر فلاح نہیں پائیں گے۔
اس آیت کی رو سے کوئی کافر خواہ وہ ہندو یا عیسائی، دہریہ ہو یا یہودی، ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ اب اس فلاح نہ پانے اور کامیاب نہ ہونے کو کسی خاص قسم کے کافروں سے مخصوص کرنا اور یہ کہنا کہ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ فلاح نہیں پائے گا۔ یہ محض سینہ زوری اور تحکم ہے۔ قرآن کریم اس خیال کی تائید نہیں کرتا۔ وہ شخص جو خدا پر افتراء باندھے اور وہ شخص جو اللہ کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلائے قرآن میں دونوں کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے اور پھر دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ قرآن پاک کہتا ہے۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيَاتِهٖ اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ. (انعام ۲۱)
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے، بے شک ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔
پھر ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيَاتِهٖ اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ. (یونس ۱۷)
ترجمہ: اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی۔ ایسے گنہگار یقیناً فلاح نہیں پائیں گے۔
ان آیاتِ کریمہ میں ”مفتری علی اللہ“ اور ”مکذب بآیات اللہ“ دونوں کو ایک ہی حکم میں داخل کیا گیا ہے۔
پس اس عدمِ فلاح اور ناکامی کو مفتری علی اللہ سے خاص کرنا فہم قرآن سے خالی ہونے کی وجہ سے ہے۔
فلاح نہ پانے سے یہ مراد لینا کہ وہ عمر طبعی پوری نہ کریں گے۔ یا دنیا میں کسی قسم کی عزت نہ پائیں گے۔ یہ نظریہ بالکل غلط اور ہدایت کے خلاف ہے جن لوگوں نے تاریخ عالم کے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور نیکوں اور بدوں کی دنیوی تاریخ ان کی نظر سے اوجھل نہیں۔ انھیں یقین ہے کہ ان آیاتِ قرآنیہ میں کامیابی سے مراد دنیا کی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی فوز و فلاح مقصود ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے تمام ساتھیوں سے خطاب فرمایا تھا۔
قَالَ لَهُمْ مُوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى.
(طٰہٰ ۶۱)
ترجمہ: موسیٰ ؑ نے انھیں کہا کہ تمھارے حال پر افسوس ہے خدا تعالیٰ پر تم افتراء نہ باندھو۔ ایسا
کرنے سے خدا تمھیں کسی عذاب سے برباد کر دے گا۔ بے شک جس نے خدا پر افتراء باندھا وہ نامراد اور خاسر رہا۔ اس آیت شریفہ میں فرعون اور اس کے ماننے والوں سب کو مفتری علی اللہ کہا گیا ہے اور پھر سب کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ یقیناً نامراد رہیں گے۔ فرعون نے چار سو برس تک حکومت کی اور اس مدت دراز میں اسے کبھی سر درد تک نہ ہوئی۔ مگر بایں ہمہ وہ قرآن کی رو سے خائب و خاسر اور محروم الفلاح تھا۔ مرزا قادیانی اس آیت کا آخری جملہ قد خاب من افتری تو پیش کرتے ہیں مگر پوری آیت نقل نہیں کرتے تاکہ بات کھل نہ جائے اور حقیقت سے پردہ نہ اٹھ جائے کہ خدا پر افتراء باندھنے والے چار سو برس تک بھی کامیابی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ محض دنیوی زندگی ہے۔ حقیقی زندگی میں یہ لوگ ایک آن واحد کے لیے بھی فائز الفلاح نہیں کہے جا سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ خالد محمود
(عقبات ص ۲۲۰۔۲۲۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے کفر کے اسباب!
سوال...... براہ کرم ہفت روزہ ”دعوت“ میں مندرجہ ذیل امور کا جواب دیں۔ دلائل ایسے قطعی ہوں کہ ان کی تاویل نہ کی جا سکتی ہو۔
- (۱)...... مرزا غلام احمد قادیانی نبی کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- (۲)...... مرزا قادیانی مجدد کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- (۳)...... مرزا قادیانی عالم کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- (۴)...... مرزا قادیانی عابد و زاہد کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
- (۵)...... مرزا غلام احمد قادیانی مسلمان کیوں نہیں تسلیم کیے جاتے؟
آپ کا مخلص : نذیر احمد بٹ، رحیم سٹریٹ سردار پور اچھرہ لاہور
الجواب...... (۱)...... مرزا قادیانی نبی اس لیے نہیں تسلیم کیے جا سکتے کہ وہ حضور ﷺ کے بعد تیرھویں صدی میں پیدا ہوئے اور حضور خاتم النبیین کے بعد میں پیدا ہونے والا کوئی شخص کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی آمد پر محض اس لیے نبی تسلیم کر لیے جائیں گے کہ وہ حضور ختمی مرتبت ﷺ سے بہت پہلے کے پیدا ہوئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر طرح کی نبوت حضور ﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور وحی نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں پیغمبروں کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ قال اللہ تعالیٰ۔
الذین یبلغون رسالات اللہ و یخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ. (احزاب ۳۹) ترجمہ: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رسالت آگے پہنچاتے ہیں اور وہ اسی سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
اور مرزا قادیانی انگریزوں سے ڈرتے تھے۔ مسلمانوں سے ڈرنے کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے حج نہیں کیا تھا اور محض اسی لیے نہیں کیا تھا کہ انھیں حجاز کے مسلمانوں سے جان کا خوف تھا اور پھر یہ نہیں کہ یہ ڈر کوئی امر قلبی تھا بلکہ زندگی بھر مرزا قادیانی کے ساتھ رہا اور انگریزوں سے ڈرنے کی دلیل یہ ہے کہ ڈپٹی کی عدالت میں انھوں نے محض ڈرتے ہوئے اپنے طریق کار کے خلاف آئندہ ضمانت کے طور پر دستخط کر دیے تھے اور پھر ساری عمر انگریزوں کی مدح خوانی اور سلطنت برطانیہ کی قصیدہ خوانی کرتے رہے۔ پس ایسے اشخاص کے متعلق جن کی
قلبی اور ذہنی کیفیت اس قدر کمزور ہو نبوت کے تصور کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
- (۲)...... مرزا قادیانی مجدد اس لیے تسلیم نہیں کیے جاسکتے کہ مجدد کا کام قوم کو پہلی بدعات اور پہلی آلائشوں سے
نجات دلانا ہے۔ جو زمانے کے تاثرات اور رسم و رواج سے وہ داخل دین کر چکے ہوں اور وہ بھی زیادہ تر علمی میدان میں معروف کے قیام اور منکرات کی روک تھام کے لیے عمل میں آتا ہے۔ مرزا قادیانی بجائے اس کے کہ قوم کو کسی پہلے انتشار سے نجات دلاتے، خود ایک وجہ انتشار بن گئے۔ بجائے اس کے کہ پہلی فرقہ بندی میں کچھ کمی ہوتی ایک اور فرقے کا ان میں اضافہ ہو گیا اور وہ فرقہ بھی ایسا بنا جو پوری قوم سے کٹ کر ایک جداگانہ ملت بن گیا۔ پس جبکہ مرزا قادیانی کا کوئی کام مجددین سابقین کے منہاج پر نہ تھا۔ انھیں مجدد کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
- (۳)...... مرزا قادیانی کو ایک عالم اس لیے تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ معقول منقول اور ادب ہر اعتبار سے کمزور اور
خام تھے۔ ادب عربی کے اعتبار سے وہ متعدد غلطیوں کے مرتکب ہوئے۔ جن کی تفاصیل سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ منقول میں بھی انھوں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ حدیث کی بحث کرتے ہیں تو قواعد محدثین اور آداب محدثین سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں۔ تفسیر کرتے ہیں تو قرآنی علوم سے خالی نظر آتے ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس ان میں کوئی علمی ممتاز شان نہ تھی کہ انھیں امتیازی طور پر عالم تسلیم کیا جائے۔
- (۴)...... مرزا قادیانی کا غیر محرم عورتوں سے عام اختلاط اور متعدد غلط بیانیوں کا ارتکاب، انھیں ایک زاہد اور
پرہیز گار انسان سمجھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
- (۵)...... مرزا قادیانی کو مسلمان تسلیم کرنے سے یہ امور مانع ہیں۔
- (۱)...... انھوں نے مراق سے افاقہ کی حالت میں بھی ختم نبوت کے ان معنوں کا انکار جاری رکھا جو آنحضرت ﷺ
سے لے کر آخر تک امت مسلمہ نے بالاجماع سمجھ رکھے تھے اور ختم نبوت کا یہ انکار ایک مستقل وجہ کفر ہے۔
- (۲)...... انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی اور انھیں بہت سے نامناسب الفاظ کے ساتھ ذکر کیا اور قاعدہ
شرعیہ ہے کہ نبی کی توہین اور اس کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ہر دو موجب کفر ہیں۔
- (۳)...... مرزا قادیانی نے بعض ان امور شرعیہ کو جو حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شریعت میں عبادات تھے حرام قرار
دے کر تحریم حلال اور تحلیل حرام کا ارتکاب کیا۔ جیسے جہاد کو حرام قرار دینا وغیرہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ
(عبقات ص ۱۹۳۔۱۹۶)
چودھویں صدی ہجری کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں
سوال...... چودھویں صدی ہجری کی اسلام میں کیا اہمیت ہے اور جناب کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ ”چودھویں صدی میں نہ تو کسی کی دعا قبول ہوگی اور نہ ہی اس کی عبادات۔“ آخر کیا وجہ ہے؟
الجواب...... شریعت میں چودھویں صدی کی کوئی خصوصی اہمیت نہیں۔ جن صاحب کا قول آپ نے نقل کیا ہے وہ غلط ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۷۹)
کیا چودھویں صدی آخری صدی ہے
سوال...... بعض لوگ کہتے ہیں کہ چودھویں صدی آخری صدی ہے اور چودھویں صدی ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اس کے بعد قیامت آجائے گی۔ جبکہ میں اس بات کو غلط خیال کرتا ہوں۔
الجواب...... یہ بات سراسر غلط ہے۔ قرآن کریم اور حدیث نبوی ﷺ میں قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا اور اس کی بڑی بڑی جو علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں وہ ابھی شروع نہیں ہوئیں، ان علامتوں کے ظہور میں بھی ایک عرصہ لگے گا۔ اس لیے یہ خیال محض جاہلانہ ہے کہ چودھویں صدی ختم ہونے پر قیامت آ جائے گی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۷۸۔۲۷۹)
پندرھویں صدی اور قادیانی بدحواسیاں
سوال...... جناب مولانا صاحب! پندرھویں صدی کب شروع ہو رہی ہے۔ باعث تشویش یہ بات ہے کہ بندہ نے قادیانیوں کا اخبار ”الفضل“ دیکھا اس میں اس بارے میں متضاد باتیں لکھی ہیں، چنانچہ مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۹۹ھ، ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء کے پرچہ میں لکھا ہے کہ ”سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے غلبۂ اسلام کی صدی کے استقبال کے لیے جس کے شروع ہونے میں دس دن باقی رہ گئے ہیں ایک اہم پروگرام کا اعلان فرمایا ہے ۔“
مگر الفضل ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۹۹ھ، ۳ نومبر ۱۹۷۹ء کے اخبار میں لکھا ہے کہ سیدنا و امامنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث پر آسمانی انکشاف کیا گیا ہے کہ پندرھویں صدی جس کی ابتدا اگلے سال ۱۹۸۰ء میں ہو رہی ہے...... اور ربوہ (چناب نگر) کے ایک قادیانی پرچہ ”انصار اللہ“ نے ربیع الثانی ۱۳۹۹ھ مارچ ۷۹ء کے شمارے میں ”چودھویں صدی ہجری کا اختتام“ کے عنوان سے ایک ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ:۔
”اسلامی کیلنڈر کے مطابق چودھویں صدی کے آخری سال کے چوتھے ماہ کا بھی نصف گزر چکا ہے یعنی آج پندرہ ربیع الثانی ۱۳۹۹ھ ہے اور چودھویں صدی ختم ہونے میں صرف ساڑھے آٹھ ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے پندرھویں صدی کا آغاز ہونے والا ہے۔ (گویا محرم ۱۴۰۰ھ سے)۔“
آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ پندرھویں صدی کب سے شروع ہو رہی ہے اس ۱۴۰۰ھ سے یا اگلے سال محرم ۱۴۰۱ھ سے۔ یا ابھی دس سال باقی ہیں؟
الجواب...... صدی سو سال کے زمانہ کو کہتے ہیں چودھویں صدی ۱۳۰۱ھ سے شروع ہوئی تھی اب اس کا آخری سال محرم ۱۴۰۰ھ سے شروع ہو رہا ہے اور محرم ۱۴۰۱ھ پندرھویں صدی کا آغاز ہوگا۔ باقی قادیانی صاحبان کی اور کون سی بات تضادات کا گورکھ دھندا نہیں ہوتی۔ اگر نئی صدی کے آغاز جیسی بدیہی بات میں بھی تضاد بیانی سے کام لیں تو یہ ان کی ذہنی ساخت کا فطری خاصہ ہے اس پر تعجب ہی کیوں ہو۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۷۹۔۲۸۰)
کیا آنحضرت ﷺ کی کنگن پہننے والی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی
سوال...... یہاں قادیانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں لیکن وہ کنگن حضور ﷺ نہ پہن سکے، اس کا مطلب ہے کہ ان کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ (نعوذ باللہ) یہ حدیث کیا ہے؟ کس کتاب کی ہے، وضاحت سے لکھیں۔
الجواب...... دو کنگنوں کی حدیث دوسری کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری کتاب المغازی باب قصۃ الاسود العنسی ج ۲ ص ۶۲۸ اور کتاب التعبیر باب النفخ فی المنام ج ۲ ص ۱۰۴۲ میں بھی ہے۔ حدیث کا متن یہ ہے۔
”میں سو رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں پر دو
کنگن سونے کے رکھے گئے۔ میں ان سے گھبرایا اور ان کو ناگوار سمجھا، مجھے حکم ہوا کہ ان پر پھونک دو۔ میں نے پھونکا تو دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر ان دو جھوٹوں سے کی جو دعویٰ نبوت کریں گے۔ ایک اسود عنسی اور دوسرا مسیلمہ کذاب۔‘‘
اس خواب کی جو تعبیر آپ ﷺ نے فرمائی وہ سو فیصد سچی نکلی، اس کو ’’جھوٹی پیش گوئی‘‘ کہنا قادیانی کافروں ہی کا کام ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۲۱۲)
مباہلہ اور خدائی فیصلہ
سوال ...... مباہلے کی کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں کلام مجید کی کون کون سی آیات کا نزول ہوا ہے؟
الجواب ...... مباہلہ کا ذکر (سورہ آل عمران آیت ۶۱) میں آیا ہے جس میں نجران کے نصاریٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔
’’پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں بعد اس کے کہ آ چکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہہ دے، آؤ! بلائیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان اور تمہاری جان۔ پھر التجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللہ کی ان پر جو جھوٹے ہیں۔‘‘
(ترجمہ شیخ الہند)
اس آیت کریمہ سے مباہلہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جب کوئی فریق حق واضح ہو جانے کے باوجود اس کو جھٹلاتا ہو اس کو دعوت دی جائے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوں اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجے ...... رہا یہ کہ اس مباہلہ کا نتیجہ کیا ہوگا؟ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہو جاتا ہے۔
- (۱)...... مستدرک حاکم (۲۔۵۹۴) میں ہے کہ نصاریٰ کے سید نے کہا کہ ان صاحب سے (یعنی آنحضرت ﷺ
سے) مباہلہ نہ کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مباہلہ کیا تو دونوں میں سے ایک فریق زمین میں دفنا دیا جائے گا۔
- (۲)...... حافظ ابونعیم کی دلائل النبوۃ میں ہے کہ سید نے عاقب سے کہا! ’’اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ یہ صاحب نبی
برحق ہیں اور اگر تم نے اس سے مباہلہ کیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی۔ کبھی کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ نہیں کیا کہ پھر ان کا کوئی بڑا باقی رہا ہو یا ان کے بچے بڑے ہوئے ہوں۔‘‘
- (۳)...... ابن جریر، عبد بن حمید اور ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں حضرت قتادہؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ
ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’اہل نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا اور اگر وہ مباہلہ کر لیتے تو زمین سے ان کا صفایا کر دیا جاتا۔‘‘
- (۴)...... ابن ابی شیبہ، سعید بن منصور، عبد بن حمید ابن جریر اور حافظ ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں امام شعبیؒ کی سند
سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’میرے پاس فرشتہ اہل نجران کی ہلاکت کی خوشخبری لے کر آیا تھا اگر وہ مباہلہ کر لیتے تو ان کے درختوں پر پرندے تک باقی نہ رہتے۔‘‘
- (۵)...... صحیح بخاری، ترمذی، نسائی اور مصنف عبدالرزاق وغیرہ میں حضرت ابن عباسؓ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’اگر
اہل نجران آنحضرت ﷺ سے مباہلہ کر لیتے تو اس حالت میں واپس جاتے کہ اپنے اہل وعیال اور مال میں سے کسی کو نہ پاتے۔‘‘
(یہ تمام روایات در منثور ج ۲ ص ۳۹ میں ہیں)
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والے عذاب الٰہی میں اس طرح مبتلا
ہو جاتے کہ ان کے گھر بار کا بھی صفایا ہو جاتا اور ان کا ایک فرد بھی زندہ نہیں رہتا۔ یہ تو تھا سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے کا نتیجہ اب اس کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے مباہلہ کا نتیجہ بھی سن لیجئے۔
۱۰ ذیقعد ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم سے ایک دفعہ مرزا قادیانی کا عید گاہ امرتسر کے میدان میں مباہلہ ہوا۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج ۱ ص ۴۲۷ - ۴۲۸)
مباہلہ کے نتیجے میں مرزا قادیانی کا مولانا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہو گیا (مرزا قادیانی نے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو انتقال کیا اور مولانا عبدالحق مرحوم مرزا قادیانی کے نو سال بعد تک زندہ رہے ان کا انتقال ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا)
(رئیس قادیان ج ۲ ص ۱۹۲)
مرزا قادیانی نے اپنی وفات سے سات مہینے چوبیس دن پہلے ۔ (۱۴ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو) فرمایا تھا: ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔“
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی ج ۹ ص ۴۴۰)
مرزا قادیانی نے مولانا مرحوم سے پہلے مر کر اپنے مندرجہ بالا قول کی تصدیق کر دی اور دو اور دو چار کی طرح واضح ہو گیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا تھا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۳۹۷ - ۳۹۸)
• قادیانی تحریک کی بنیاد
سوال ...... عبقات پڑھنے کا موقع ملا ہے ماشاء اللہ مطالعہ شیعیت میں یہ حرف آخر ہے لیکن اس میں جو قادیانی مباحث لکھے ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو یہ کتاب ایک موضوع پر رہتی ملتمس ہوں کہ نئے ایڈیشن میں قادیانیوں کے رد کو اس کتاب سے علیحدہ کر دیں۔ اس میں زیادہ فائدہ ہوگا؟ سائل: عبدالطیف انور
الجواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک دراصل شیعہ تحریکوں کی ہی ایک کڑی ہے۔ شیعیت میں چھپے مہدی کے تصور نے بہت سے لوگوں کو مہدی بننے کا شوق دیا ...... محمد علی باب کی تحریک اور بہاء اللہ ایرانی کی تحریک بھی دراصل اسی شیعہ عقیدے کی صدائے بازگشت تھیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی ابتداء میں اسی راستے پر چلا ہے۔ سو قادیانیت کو بھی اس پہلو سے شیعیت کی ایک بدلی ہوئی صورت کہہ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے مصر کے ایک مشہور محق علامہ رشید رضا مصری کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنے دعویٰ کا ذکر کیا۔ علامہ رشید رضا نے وہ خط اور اس کا رد اپنے رسالہ المنار میں دے دیا۔ مرزا غلام احمد نے پھر اپنی تحریرات میں علامہ رشید رضا کو بہت برا بھلا کہا اور اسے سیھزم فلایری (اسے شکست ہوگی اور پھر وہ کہیں دیکھا نہ جائے گا) کے لفظوں سے موت کی دھمکی دی اور گمان کیا کہ یہ وحی ہے جو اپنے خدا کی طرف سے ملی ہے۔ علامہ رشید رضا لکھتے ہیں:
وتوعدني بقوله عني "سيهزم فلا يرى" وزعم ان هذا نبأ وحي جاء ه من الله جل وعلا وقد كان هو الذى انهزم ومات.
كان هذا الرجل يستدل بموت المسيح و رفع روحه الى السماء كما رفعت ارواح الانبياء على انه هو المسيح الموعود به ولايزال اتباعه يستدلون بذلك وقد جرى على طريقة ادعياء المهدوية من شيعة ايران (كالباب والبهاء) فى استنباط الدلائل الوهمية على دعوته من
القرآن....... وهو يجد بين جاهلى اللغة وفاقدى الاستقلال العقلى من يقبل منه كل دعوىٰ.
(تفسیر المنار جلد ۶ ص ۵۸)
ترجمہ: اس شخص نے مجھے میرے بارے میں یہ کہہ کر ڈرایا کہ یہ عنقریب پسپا ہوگا پھر کہیں دیکھا نہ جا سکے گا (میری موت کی پیشگوئی کر دی) اور گمان کیا کہ یہ وحی کی خبر ہے جو اسے خدا جل وعلا سے ملی ہے اور بات یوں نکلی کہ وہ خود ہی پسپا ہوا اور مر گیا۔ یہ شخص (اپنے لیے) موت مسیح سے مسیح موعود ہونے پر استدلال کرتا تھا اور اس بات سے کہ حضرت مسیح کی روح بھی اسی طرح آسمانوں میں چلی گئی ہے جس طرح اور انبیاء کے ساتھ ہوا....... اور اس کے پیرو اس بات سے برابر استدلال کرتے چلے آ رہے ہیں اور مرزا غلام احمد اس میں ایران کے شیعہ مدعیان مہدویت کے طریق پر چلا ہے...... اپنے دعوٰی کے وہمی دلائل قرآن سے اخذ کرنے میں...... ”جو لوگ عربی زبان سے جاہل ہیں اور ان کی عقل اپنی جگہ قائم نہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو اس کے ہر دعوے پر اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔“
سو اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت ایک بگڑی ہوئی شیعیت کا ہی دوسرا نمونہ ہے۔ سو عبقات میں ان پر تنقید اپنے موضوع سے باہر نہیں...... اور یہ بات تو آپ سے مخفی نہ ہوگی کہ عبقات کوئی مستقل کتاب نہیں۔ ہفت روزہ دعوت لاہور کے باب الاستفسار (جو مختلف موضوعات پر ہوتے تھے) کی ہی ایک مجموعی پیش کش ہے۔ فیتقبل الله منا ومنکم. خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۴۸۳۔۴۸۴)
مرزا قادیانی کی تردید عیسائیت کی غرض؟
سوال....... مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ سلطنت برطانیہ کا خیر خواہ اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا۔ مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کی تردید میں وہ بہت پیش پیش تھا اگر وہ واقعی ان عیسائی قوموں کا نمک خوار تھا تو وہ پھر عیسائیوں کی تردید میں اس قدر کام کیوں کرتا رہا۔ اس کا جواب ہفت روزہ دعوت میں دیں؟
الجواب...... سلسلہ مرزائیت کے سربراہ اور قادیانیوں اور لاہوریوں ہر دو طبقوں کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی خود اس تناقض سے پردہ اٹھا چکے ہیں۔ ان کی اپنی تحریر سے زیادہ کوئی بیان اس مسئلہ کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی آنجہانی ۱۸۹۹ء کی ایک تحریر میں عیسائی پادریوں کی سخت تحریروں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔
”مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو، تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے کانشنس نے مجھے قطعی طور پر یہ فتوٰی دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہوگا کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزار ہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آ چکے تھے۔ ایک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل اس کا
عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے بالمقابل بہت نرم تھی۔ گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں جس کی تفصیل کے لیے اس جگہ موقع نہیں سو مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیرخواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ دوم اس گورنمنٹ کے احسانوں نے۔ تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔‘‘
(تبلیغ رسالت جلد ۸ ص ۵۱۔۵۳ مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ۱۴۲)
اس تحریر سے یہ بات نہایت واضح ہے کہ قادیانیوں کا مسیحی تبلیغات کا مقابلہ کرنا اسلام کی خیر خواہی کے لیے ہرگز نہ تھا۔ عیسائی قوتوں کو ہر ممکن اضمحلال اور کمزوری سے بچانے کے لیے یہ ان کا ایک حکیمانہ طریق کار تھا۔ اسلام کی خیر خواہی اگر کچھ بھی ان کے دلوں میں موجود ہوتی تو یہ آنحضرت ﷺ کی نبوت جامعہ اور رسالت جاریہ کے بعد کسی قسم کی نبوت کے ملنے کے ہرگز قائل نہ ہوتے اور ان کا مرکز عقیدت مدینہ منورہ کی بجائے کسی صورت میں قادیان قرار نہ پاتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا خود عیسائیوں کے ہی خلاف کام کرنے لگے۔ یہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے یہ فقط ظاہر ہے۔ حقیقت وہی ہے جسے مرزا قادیانی آنجہانی خود سپرد قلم کر چکے ہیں اس پر تعجب نہ کیا جائے کہ انھوں نے اپنا راز خود کیسے کھول دیا۔۔۔۔۔۔ یہ انگریزوں کو مطمئن کرنے کے لیے ضروری تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے صرف ایک اشتہار میں لکھا تھا کتاب میں نہیں۔ اس کے پیروؤں نے کیا کہ اس کے تمام اشتہارات کتابی شکل میں جمع کر دیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ ۲۶ جون ۶۲ء۔
(عبقات ۳۳۱ تا ۳۳۳)
علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی
بخدمت جناب حضرت علامہ دامت برکاتہم السلام علیکم
سمندری میں ۲۲ اپریل کو دفتر بلدیہ سمندری کے چیئرمین کی زیر صدارت یوم اقبال منایا گیا۔ جس میں چند مرزائی بھی مدعو تھے میں نے اقبال اور ختم نبوت کے موضوع پر تاریخی روشنی ڈالی۔ جس پر مرزائی مبلغ نے اعتراض کیا کہ یہ واقعہ غلط ہے۔ میں نے بیان کیا تھا کہ کشمیر کمیٹی میں جب مرزا بشیر الدین محمود صدر تھے۔ ڈاکٹر اقبال نے استعفیٰ دیا تھا اور انجمن حمایت اسلام میں جب ڈاکٹر اقبال صدر تھے تو انھوں نے مرزائی ارکان انجمن حمایت اسلام سے خارج کر دیے تھے۔ میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے پر بھی ایک بیان دیا تھا۔ مرزائی مبلغین نے ان سب امور کا انکار کیا ہے۔ اس لیے آپ ان موضوعات کے
متعلق دعوت کے باب الاستفسارات میں تفصیلاً بیان فرمائیں بہت مشکور ہوں گا؟
(محمد علی جانباز)
جواب ...... یہ صحیح ہے کہ علامہ اقبالؒ جب انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر تھے تو ان کی تحریک اور عام مسلمانوں کی تائید سے انجمن حمایت اسلام نے ۱۹۳۶ء کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس کی رو سے مرزائی انجمن حمایت اسلام کے ممبر نہیں ہو سکتے تھے۔ اور اس قرارداد کے مطابق اس وقت جتنے بھی مرزائی ممبر تھے ۔ سب انجمن حمایت اسلام کی رکنیت سے خارج ہو گئے تھے۔ سمندری کے مرزائی مبلغ نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ آپ اسے لاہور لا کر انجمن حمایت اسلام کا ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔ ایسے روشن حقائق کا انکار بہت موجب تعجب ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے ۱۹۳۶ء کے وسط میں پنجاب کے مختلف مقامات کا دورہ کیا تھا اور مرزائیوں کی ایک سیاسی انجمن نے اس دوران میں پنڈت جی کو ایک دعوت استقبالیہ بھی دی تھی۔ اس پر بعض حلقوں سے مرزائیوں پر کافی اعتراضات ہوئے اور مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان نے اپنے خطبہ جمعہ میں ان اعتراضات کے جوابات دیئے تھے۔ ان جوابات کے ضمن میں مرزا بشیر الدین نے بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کو عام مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی اور پنڈت جواہر لال نہرو نے اس کا رد کیا تھا۔ اس لیے ایسے شخص کا استقبال بالکل حق بجانب ہے۔ خلیفہ قادیان کا یہ خطبہ اخبار الفضل میں شائع بھی ہوا۔ الفاظ یہ ہیں :۔
’’اگر پنڈت جواہر لال نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لیے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا لیکن اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انھوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیے جانے کے لیے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گذشتہ رویے کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔‘‘
(اخبار الفضل ۱۱ جون ۱۹۳۶ء جلد ۲۴ شمارہ نمبر ۲۸۷ خطبہ جمعہ)
خط کشیدہ عبارت میں نہایت واضح اقرار ہے کہ مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کے محرک اوّل علامہ اقبالؒ ہی تھے۔ پس سمندری کے مرزائی مبلغ کا انکار حقیقت پر مبنی نہیں۔
- (۳) ...... ڈاکٹر یعقوب بیگ انجمن حمایت اسلام کے ایک پرانے سرگرم کارکن تھے۔ وہ مرزائیوں کی لاہوری
جماعت سے وابستہ تھے۔ علامہ اقبالؒ کی اسی مذکورہ بالا تحریک کی بناء پر وہ بھی انجمن حمایت اسلام کی رکنیت سے علیحدہ کر دیے گئے۔ اس لیے علامہ اقبال کی یہ تحریک لاہوری جماعت پر بھی بہت گراں تھی۔ انہی دنوں لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے بھی اخبار پیغام صلح میں یہ بیان شائع ہوا تھا:۔
’’علامہ اقبال جیسے بلند پایہ انسان جسے آج سے چار برس پہلے ایک مسلمان کمیٹی کا صدر بنائیں۔ آج اسے کافر قرار دیں۔ مرزا محمود احمد قادیانی کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے میں سر محمد اقبال پیش پیش تھے اور جس جماعت کو سولہ سترہ سال پیشتر ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ بتائیں۔ آج اسے کافروں کی جماعت قرار دیں۔ پس مناسب ہے کہ جو کچھ فتویٰ دیں وہ آج کی تحریرات پر دیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح جلد ۲۴ شمارہ ۲۸ فروری ۱۹۳۶ء)
گو ہمیں اس سے اتفاق نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے کے محرک علامہ اقبال تھے۔
اس وقت اس سے بھی بحث نہیں کہ پھر علامہ اقبال نے اس کمیٹی سے آخر کیوں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت ہمیں صرف یہ دکھانا ہے کہ قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں کے بیان کے مطابق مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کو محرک اوّل علامہ اقبال مرحوم ہی تھے۔
ڈاکٹر یعقوب بیگ (لاہوری مرزائی) انجمن حمایت اسلام کے اس فیصلے کے پورے ایک ہفتہ بعد فوت ہو گئے تھے اور مرزائی اخبارات نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات اسی صدمہ سے ہوئی ہے کہ ملت اسلامیہ انھیں کس طرح پوری ملت سے کٹا ہوا سمجھتی ہے۔
پھر اخبار پیغام صلح کی اسی جلد کے شمارہ نمبر ۶۰ کی اشاعت میں یہاں تک مذکور ہے کہ ”ان دنوں اسمبلی کے امیدوار یہ عہد کرتے پھرتے تھے کہ اسمبلی میں جاکر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں گا۔“
(پیغام صلح ۶ ستمبر ۱۹۳۶ء)
علامہ اقبال کو اگر ایک وقت تک مرزائیوں کے تفصیلی نظریات کی اطلاع نہ ہوسکی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علامہ اقبال کے اپنے نظریات میں کوئی کمزوری تھی۔ نہیں ان کا اپنا اعتقاد اس وقت بھی اتنا ہی پختہ تھا جتنا کہ وہ بعد میں ظاہر ہوا۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک مضمون ۱۹۱۴ء کی ابتداء میں ”لمعات“ شائع ہوا تھا۔ جسے اخبار الفضل نے بھی جلد نمبر ۳ کے شمارہ نمبر ۱۰۵ میں نقل کیا تھا:۔
”وہ (ڈاکٹر اقبال) لکھتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے جس کا انکار مستلزم کفر ہو وہ خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۱۴ء)
رہا یہ مسئلہ کہ قادیانی فرقہ کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار ”مستلزم“ کفر ہے یا نہیں۔ سو اس کے لیے اتنی بات یاد رکھیے کہ علامہ اقبال مرحوم کے والد مرحوم پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے وابستگان میں سے تھے۔ پھر جب وہ مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہوئے تو انھوں نے ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس پر مرزا قادیانی نے انھیں لکھا کہ آپ کا نام نہ صرف جماعت سے بلکہ اسلام سے ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کا کچھ تذکرہ مرزا بشیر الدین کے بھائی مرزا بشیر احمد نے بھی سیرت المہدی کی تیسری جلد ص ۲۴۹ میں کیا ہے اور اس مسئلے کی بحث کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار ”مستلزم“ کفر ہے یا نہیں۔ احقر کی کتاب عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ میں نہایت مفصل طور پر موجود ہے۔ بہر حال اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ علامہ اقبالؒ کی اسلامی خدمات میں سے عقیدہ ختم نبوت کی خدمت ملت اسلامیہ پر ایک ایسا احسان ہے کہ اسے بیان کرنے کے بغیر یاد اقبال کا کوئی حق ادا نہیں ہو سکتا۔ آپ کی (مولانا محمد علی صاحب) کی یہ ہمت لائقِ تحسین ہے کہ آپ نے سمندری کے اس جلسہ یوم اقبال میں علامہ اقبالؒ کی اس عظیم اسلامی خدمت کو تفصیل سے بیان کیا۔ رب العزت آپ کو جزائے خیر دے۔ والسلام۔ احقر خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۳۱۲ تا ۳۱۷)
معراج نبوی، سیر روحانی تھا یا جسمانی؟
سوال...... آنحضرت ﷺ کی سیرِ معراج کے متعلق صحیح عقیدہ کیا ہے؟ حضور انور ﷺ کو یہ سیر جسمانی طور پر کرائی گئی یا یہ ایک روحانی سیر تھی۔ اگر یہ ایک جسمانی سیر تھی تو پھر بعض روایات میں واقعہ معراج مذکور ہونے کے بعد یہ الفاظ کیوں کہے۔ ثم استیقظت کہ ”پھر میں جاگ پڑا“ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے کا سارا واقعہ ایک
خواب کا واقعہ تھا۔ پھر یہ معراج جسمانی طور پر کیسے صحیح ہوا؟ سائل۔ عبدالرزاق از سعدی پارک لاہور
الجواب ...... جمہور اہل اسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ سیر جسد عنصری کے ساتھ بحالت بیداری کرائی گئی اور معراج شریف کا واقعہ جسمانی طور پر ہی عمل میں آیا اور یہی ہمارا اہلسنت کا عقیدہ ہے:۔
- (۱)...... حافظ ابن قیم فرماتے ہیں:۔
ثم اسری برسول اللہ ﷺ بجسدہ علی الصحیح۔
(زاد المعاد ج ۱ ص ۲۰۰)
ترجمہ : صحیح یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو سیر معراج آپ کے جسد اطہر سمیت کرائی گئی۔
- (۲)...... حضرت امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔
اسری بہ ﷺ الی المسجد الاقصیٰ ثم الی سدرۃ المنتہی والى ما شاء اللہ و کل ذلک بجسدہ ﷺ فی الیقظۃ.
(حجۃ اللہ البالغۃ ج ۲ ص ۲۰۶ مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی)
"آنحضرت ﷺ کو مسجد اقصیٰ تک پھر وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک اور پھر وہاں سے اس مقام تک جہاں بھی خدا کو منظور تھا حضور ﷺ کو معراج کی سیر کرائی گئی اور یہ سب کچھ جسد اطہر کے ساتھ عالم بیداری میں واقع ہوا۔"
- (۳)...... دارالعلوم دیوبند کے محدث جلیل شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ لکھتے ہیں:۔
"ان الاسراء والمعراج وقعا فی لیلۃ واحدۃ فی الیقظۃ بجسد النبی ﷺ و روحہ بعد المبعث والى هذا ذهب الجمهور من العلماء المحدثين والفقهاء والمتکلمین و تواردت علیه ظواهر الاخبار الصحيحة ولا ينبغى العدول عن ذلک اذ ليس فى العقل ما يحيله حتى يحتاج الى تاویل قلت ولا سیما فی هذا العصر الذى شاهد الناس فيه من التجارب الروحية والاعمال الكهربائية ما ترک الاوهام حائرة.“
(فتح الملہم جلد ۱ ص ۳۱۶)
ترجمہ: حافظ عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ اسراء اور معراج دونوں ایک ہی رات میں آنحضرت ﷺ کے جسد اطہر اور روح انور کے مجموعہ کے ساتھ عالم بیداری میں واقع ہوئے اور یہ واقعہ بعثت شریفہ کے بعد عمل میں آیا جمہور علماء محدثین فقہا اور متکلمین کا یہی فیصلہ ہے۔ صحیح احادیث کے ظاہر معنی بھی یہی ہیں جن سے روگردانی کرنا صحیح نہیں۔ عقل اسے محال قرار نہیں دیتی کہ اس کی کوئی تاویل کرنی پڑے، میرے خیال میں اس زمانے میں تو خاص کر اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ روحی تجربات اور برقی اعمال نے انسانی فکر و گمان کو نہایت حیرت میں ڈال رکھا ہے۔"
- (۴)...... نواب صدیق حسن خاں صاحبؒ تفسیر فتح البیان میں لکھتے ہیں:۔
"جس امر پر کثرت سے احادیث صحیحہ دلالت کرتی ہیں وہ وہ ہے جس کی طرف سلف و خلف کے اکثر اکابر گئے ہیں کہ اسراء آپ ﷺ کے جسد شریف اور روح کے ساتھ عالم بیداری میں تھا۔"
(فتح البیان جلد ۳ ص ۲۸)
ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ کی روایات کا جواب
پہلا جواب: معراج شریف کا واقعہ اتنا طویل البیان ہے اور اس کی جزئیات اس قدر طویل ہیں کہ اس کے تذکرے میں بعض امور کا آگے پیچھے ہو جانا کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ یہاں جس جاگنے کا بیان ہے یہ وہ جاگنا ہے جو پہلے مسجد حرام میں واقع ہوا تھا۔ جب کہ حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کو لینے آئے تھے۔ اس وقت حضور ﷺ بیدار ہوئے اور پھر یہ واقعہ معراج عمل میں آیا۔ کسی راوی نے اس جاگنے کا یہ جزو آخر میں بیان کر دیا۔ جس سے یہ
وہم ہونے لگا کہ شاید یہ واقعہ خواب کا ہو ۔ آئیے دیکھیں کہ اس حدیث کی روایات میں کوئی ایسا راوی تو نہیں جو تقدم تاخر کا مرتکب ہوتا ہو ۔ صحیح بخاری کتاب التوحید میں "فاستیقظ" کی روایت کہ ”حضور ﷺ پھر جاگ پڑے شریک بن عبداللہ کی روایت سے مروی۔“ (جلد ۲ ص ۱۱۲۰ سطر ۳ طبع دہلی) اور شریک بن عبداللہ تقدم و تاخر کا مرتکب ہوا ہے۔ صحیح مسلم کے متن میں واقعہ معراج میں ہی امام مسلم کی یہ تصریح موجود ہے۔
قدم فيه شيئا و اخر و زاد و نقص.
(صحیح مسلم جلد ۱ ص ۲۳۴ مع الفتح)
ترجمہ: شریک نے مضمون کو آگے پیچھے کر دیا ہے اور کمی بیشی کا مرتکب ہوا ہے۔“
حافظ ابن کثیرؒ نے معراج کی روایات میں راویوں کے ذکر و حذف، اختصار و اجمال اور تفسیر و تشریح کے ایک عمومی صورت میں واقع ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔
(البدایہ والنہایہ جلد ۳ ص ۱۱۷ مصر )
حافظ ابن قیمؒ نے زاد المعاد میں اس روایت کا جواب شریک بن عبداللہؒ پر جرح کی صورت میں ہی پیش کیا ہے۔ (دیکھئے زاد المعاد جلد ۱ ص ۳۰۲) علاوہ ازیں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی (فتح الباری جزو ۴ ص ۱۷۷ دہلی) میں اسے ایک جواب کی صورت میں جگہ دی ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ شریک بن عبداللہؒ کی روایت میں جو ثم استیقظت کے الفاظ وارد ہیں وہ شریک کی اغلاط میں شمار ہیں۔
(البدایہ والنہایہ جلد ۳ ص ۱۱۴)
دوسرا جواب اگر اس جاگنے کو آخری احوال پر محمول کیا جائے تو اس سے وہ جاگنا مراد ہو گا جو سیر معراج سے واپسی اور آنحضرت ﷺ کے پھر سو جانے کے بعد حسب معمول ظہور پر آیا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں:۔
يحتمل أن يكون استيقاظاً من نومة نامها بعد الاسراء لان اسراءه لم يكن طول ليلة.
(البدایہ والنہایہ ج ۱ ص ۱۱۴)
ترجمہ: ہو سکتا ہے کہ اس میں وہ جاگنا مراد ہو جو آپ ﷺ معراج سے واپسی پر سونے کے بعد پھر جاگے کیونکہ سیر معراج ساری رات تو ہوئی نہ رہی تھی۔
تیسرا جواب عربی محاورہ میں ایک حالت سے دوسری میں آنے کو بھی یقظہ یعنی جاگنے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ جب طائف میں گئے اور لوگوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کی تو حضور ﷺ نہایت غمگین حالت میں واپس ہوئے۔ اس غم کا آپ ﷺ پر بہت اثر تھا۔ ابو اسیدؓ جب اپنے لڑکے کو آنحضرت ﷺ کے پاس گھٹی دلانے کے لیے لایا تو اس نے اپنے لڑکے کو حضور ﷺ کی ران پر بٹھا دیا اور آنحضرت ﷺ باتوں میں مشغول ہو گئے۔ ابو اسیدؓ نے اس دوران میں لڑکا آنحضرت ﷺ کی ران سے اٹھا لیا۔ جب آنحضرت ﷺ اپنی پہلی گفتگو کی حالت سے اس دوسری حالت کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا کہ لڑکا کہاں ہے۔ حدیث میں آتا ہے:۔
ثم استيقظ رسول الله ﷺ فلم يجد الصبى فسأل عنه فقالوا رفع فسماه المنذر.
(البدایہ والنہایہ ج ۱ ص ۱۱۴)
ترجمہ: پھر جب آنحضرت ﷺ اس حالت سے اس طرف متوجہ ہوئے (یعنی یقظہ میں آئے) تو آپ ﷺ نے اس لڑکے کو اپنے پاس نہ پایا۔ پس آپ ﷺ نے لوگوں سے اس کی بابت پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ اسے اٹھا لیا گیا تھا۔ پھر حضور ﷺ نے اس کا نام منذر رکھا۔
اس کے جاگنے کے متعلق حافظ قرطبیؒ لکھتے ہیں:۔
”ويحتمل ان يكون المعنى افقت مما كنت فيه مما خامر باطنه من مشاهدة الملاء الاعلى
لقولہ تعالیٰ لقد رای من ایات ربہ الکبریٰ فلم یرجع الی حالة البشریة الا وھو فی المسجد الحرام “ ترجمہ : اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے اس حالت سے افاقہ ہوا جس میں کہ میں پہلے تھا آپ ﷺ ملاء الاعلیٰ کے مشاہدہ میں اپنی باطنی توجہ پوری طرح لگا چکے تھے اور اپنے پروردگار کی آیاتِ کبریٰ مشاہدہ فرما چکے تھے پس جب آپ ﷺ پھر حالت بشری کی طرف لوٹے تو آپ ﷺ مسجد حرام میں ہی تھے۔ حافظ ابن کثیر کی رائے یہ ہے کہ شریک بن عبداللہ کی روایت کو اس معنی پر محمول کرنا اسے غلط قرار دینے کی نسبت زیادہ اچھا ہے ...... حاصل اینکہ فاستیقظت اور فاستیقظ کی روایت یا اصلاً صحیح نہیں اور یا ذو معنی ہے جو اپنے معنوں پر محمول نہیں معنی خفی پر مشتمل ہے اور اس کے مقابلہ میں اصح روایات اور اکثر روایات یہی کہہ رہی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ پھر میں مکہ آگیا۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ لکھتے ہیں:۔ بعض احادیث میں صاف لفظ ہیں۔ صبحت بمکة یا اتیت بمکة (پھر صبح کے وقت میں مکہ پہنچ گیا) اگر معراج محض کوئی روحانی کیفیت تھی تو آپ ﷺ مکہ سے غائب ہی کہاں ہوئے تھے۔ (فوائد تفسیریہ ص ۳۶۵) واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۸۵ تا ۸۹)
معراج خواب تھا یا حقیقی رؤیت؟
سوال ...... قرآن پاک نے آنحضرت ﷺ کے معراج کو لفظ ”رؤیا“ سے بھی بیان کیا۔ فی قولہ تعالیٰ و ماجعلنا رؤياك التى ارينك الا فتنة للناس اور رؤیا خواب کو کہتے ہیں۔ پس معراج ایک واقعہ خواب ہوا۔ یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے خود چشم مبارک سے یہ مشاہدات دیکھے تھے؟ عبدالحفیظ از کوہاٹ
الجواب ...... بے شک رؤیا کا لفظ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ لفظ کبھی کبھی مطلق رؤیت کے معنی میں بھی آتا ہے اور علامہ قسطلانیؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔ یہاں اس آیت سے مراد اگر یہ واقعہ معراج ہی ہے تو لفظ رؤیا حقیقی طور پر آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں وارد سمجھے نہ کہ خواب کے معنی میں۔ ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:۔ عن ابن عباس وما جعلنا الرؤیا التی ارینک الا فتنة للناس قال ھی رؤیا عین اریھا رسول الله ﷺ لیلة اسریٰ بہ.
(بخاری جلد ۲ ص ۶۸۶)
ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے جو حضور ﷺ کو معراج کی رات دکھایا گیا۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۸۹)
خواب میں زیارت نبوی ﷺ اور مرزا قادیانی
سوال ...... کیا خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو کیسے پتہ چلے کہ یہ خواب سچا ہے؟ بعض لوگ خواب میں حضور ﷺ کو کسی دوسری شکل میں دیکھتے ہیں کیا وہ بھی صحیح خواب ہوگا؟
الجواب ...... صحیحین کی روایت میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد متعدد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے کہ: ”من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لا یتمثل بی“
(بخاری جلد ۲ ص ۱۰۳۵)
ترجمہ : ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔“ ایک اور روایت میں ہے:
”من رآنى فقد رأى الحق.“ (مشکوٰۃ ص ۳۹۴) ترجمہ: ”جس نے مجھے دیکھا اس نے سچا خواب دیکھا۔“
خواب میں آنحضرت ﷺ کی زیارت شریفہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ کی اصلی ہیئت و شکل اور حلیہ مبارکہ میں دیکھے۔ دوم یہ کہ کسی دوسری ہیئت وشکل میں دیکھے۔ اہل علم کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ کی زیارت آپ ﷺ کے اصل حلیہ مبارکہ میں ہو تو ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق، واقعی آپ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، لیکن اگر کسی دوسری ہیئت و شکل میں دیکھے تو اس کو بھی زیارت نبوی ﷺ کہا جائے گا یا نہیں؟ اس میں علماء کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ یہ زیارت نبوی ﷺ نہیں کہلائے گی، کیونکہ ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق خواب میں آنحضرت ﷺ کی زیارت کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ کو اصلی شکل وصورت اور حلیہ مبارکہ میں دیکھے۔ پس اگر کسی نے مختلف حلیہ میں آپ ﷺ کو دیکھا تو یہ حدیث بالا کا مصداق نہیں، اور بعض اہل علم کا قول یہ ہے کہ آپ ﷺ کو خواہ کسی شکل وصورت اور حلیہ میں دیکھے وہ آپ ﷺ ہی کی زیارت ہے، اور آپ ﷺ کے اصل حلیہ مبارکہ سے مختلف شکل میں دیکھنا خواب دیکھنے والے کے نقص کی علامت ہے۔ شیخ عبدالغنی نابلسیؒ ”تعطیر الانام فی تعبیر المنام“ میں دونوں قسم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”فاعلم ان الصحيح بل الصواب كما قاله بعضهم ان رؤياه حق علی ای حالة فرضت ثم ان كانت بصورته الحقيقية في وقت ما سواء كان في شبابه او رجوليته او كهولته او آخر عمره لم تحتج الى تاويل. والا احتيجت لتعبير يتعلق بالرائى. ومن ثم قال بعض علماء التعبير من راه شيخا فهو غاية سلم. ومن راه شابا فهو غاية حرب. ومن راه متبسما فهو متمسک بسنته.“
وقال بعضهم من راه علی هیئته وحاله كان دليلا على صلاح الرائی و کمال جاهه و ظفره بمن عاداه. ومن راه متغير الحال عابسا كان دليلا على سوء حال الرائی. وقال ابن ابي جمرة رؤياه فى صورة حسنة حسن فى دين الرائی. ومع شين او نقص في بعض بدنه خلل فى دين الرائی. لانه ﷺ كالمرآة الصقيلة ينطبع فيها ما يقابلها. وان كانت ذات المرآة على احسن حالة و اكملها وهذه الفائدة الكبرى فى رؤياه ﷺ اذ به يعرف حال الرائی.“
(ج ۲ ص ۲۷۶، ۲۷۷)
ترجمہ: ”پس معلوم ہوا کہ صحیح بلکہ صواب وہ بات ہے جو بعض حضرات نے فرمائی کہ خواب میں آپ ﷺ کی زیارت بہرحال حق ہے۔ پھر اگر آپ ﷺ کے اصل حلیہ مبارکہ میں دیکھا خواہ وہ حلیہ آپ ﷺ کی جوانی کا ہو یا پختہ عمری کا، یا زمانہ پیری کا، یا آخری عمر شریف کا، تو اس کی تعبیر کی حاجت نہیں، اور اگر آپ ﷺ کو اصل شکل مبارک میں نہیں دیکھا تو خواب دیکھنے والے کے مناسب حال تعبیر ہوگی۔ اسی بنا پر بعض علمائے تعبیر نے کہا ہے کہ جس نے آپ ﷺ کو بڑھاپے میں دیکھا تو یہ نہایت صلح ہے، اور جس نے آپ ﷺ کو جوان دیکھا تو یہ نہایت جنگ ہے، اور جس نے آپ ﷺ کو مسکراتے دیکھا تو یہ شخص آپ ﷺ کی سنت کو تھامنے والا ہے۔ اور بعض علمائے تعبیر نے فرمایا ہے کہ جس نے آپ ﷺ کو اصلی شکل و حالت میں دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی درست حالت، اس کی کمال وجاہت اور دشمنوں پر اس کے غلبہ کی علامت ہے، اور جس نے آپ ﷺ کو متغیر حالت میں (مثلاً) تیور چڑھائے ہوئے دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی حالت کے برا ہونے کی علامت ہے۔ حافظ ابن ابی جمرہؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو اچھی صورت میں دیکھنا، دیکھنے والے کے دین کے اچھا ہونے کی علامت ہے، اور عیب یا نقص کی حالت میں دیکھنا، دیکھنے والے کے دین میں خلل کی علامت ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی مثال شفاف آئینہ کی سی
ہے، کہ آئینہ کے سامنے جو چیز آئے اس کا عکس اس میں آ جاتا ہے۔ آئینہ بذات خود کیسا ہی حسین و باکمال ہو (مگر بھدی چیز اس میں بھدی ہی نظر آئے گی) اور خواب میں آنحضرت ﷺ کی زیارت شریفہ کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے خواب دیکھنے والے کی حالت پہچانی جاتی ہے۔“
اس سلسلہ میں مسند الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی ایک تحقیق فتاویٰ عزیزی میں درج ہے جو حسب ذیل ہے:
”سوال....... آنحضرت ﷺ کی زیارت خواب میں اہل سنت اور شیعہ دونوں فرقہ کو میسر ہوتی ہے اور ہر فرقہ کے لوگ آنحضرت ﷺ کا لطف و کرم اپنے حال پر ہونا بیان کرتے ہیں اور اپنے موافق احکام آنحضرت ﷺ سے سننا بیان کرتے ہیں، غالباً دونوں فرقہ کو آنحضرت ﷺ کی شان میں افراط کرنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور خطرات شیطانی کو اس مقام میں دخل نہیں تو ایسے خواب کے بارے میں کیا خیال کرنا چاہیے؟
الجواب....... یہ جو حدیث شریف ہے ”من رانی فی المنام فقد رانی.“ یعنی جناب آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا تو اس نے فی الواقع مجھ کو دیکھا ہے۔ تو اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث خاص اس شخص کے بارہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس صورت مبارک میں دیکھے جو بوقت وفات آنحضرت ﷺ کی صورت مبارک تھی اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث عام ہے آنحضرت ﷺ کے کسی وقت کی صورت میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہو گا یعنی ابتدائے نبوت سے تا وقت وفات جوانی اور کلاں سالی اور سفر اور حضر اور صحت اور مرض میں جس وقت آنحضرت ﷺ کی جو صورت مبارک تھی۔ ان صورتوں میں سے جس صورت میں آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہو گا یعنی فی الواقع اس نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا ہو گا اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی صورت میں سنی نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اسی طرح شیعہ نے بھی نہ دیکھا ہے، اور فرضیات کا اعتبار نہیں۔
تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھنا چار قسموں پر ہے۔ ایک قسم رویائے الٰہی ہے کہ اتصال تعین کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے اور دوسری قسم ملکی ہے اور وہ متعلقات آنحضرت ﷺ کو دیکھنا ہے، مثلاً آنحضرت ﷺ کا دین اور آنحضرت ﷺ کی سنت اور آنحضرت ﷺ کے ورثہ اور آنحضرت ﷺ کا نسب مطہر اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور محبت میں سالک کا درجہ اور اس کے مانند اور جو امور ہیں تو ان امور کو آنحضرت ﷺ کی صورت مقدس میں دیکھنا پردۂ مناسبات میں ہو جو فن تعبیر میں معتبر ہے۔ اور تیسری قسم رویائے نفسانی ہے کہ اپنے خیال میں آنحضرت ﷺ کی جو صورت ہے اس صورت میں دیکھنا اور یہ تینوں اقسام آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں صحیح ہیں۔
چوتھی قسم شیطانی ہے یعنی آنحضرت ﷺ کی صورت مقدس میں شیطان اپنے کو خواب میں دکھلائے اور یہ صحیح نہیں ہو سکتا، یعنی ممکن نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صورت مقدس کے مطابق شیطان اپنی صورت خبیث بنا سکے اور خواب میں دکھلاوے، البتہ مغالطہ دے سکتا ہے، اور تیسرے قسم کے خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسہ میں ڈالتا ہے چنانچہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ سورۂ نجم پڑھتے تھے اور بعض آیات کے بعد جو آنحضرت ﷺ نے سکوت فرمایا تو شیطان نے کچھ عبارت خود بنا کر پڑھ دی کہ اس سے بعض سامعین مشرکین کا شبہ قوی ہو گیا اور یہ روایت اوپر ایک
مقام میں مفصل مذکور ہوئی ہے تو جب آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات میں شیطان نے ایسا کیا تو خواب میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے شریعت میں ان احکام کا اعتبار نہیں جو خواب میں معلوم ہوں اور خواب کی بات حدیث نہیں شمار کی جاتی اور اگر کاش کوئی بدعتی کہے کہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فلاں حکم فرمایا ہے کہ وہ حکم خلاف شرع ہو تو اس بدعتی کے قول پر اعتبار نہ کیا جائے گا۔ واللہ اعلم ۔“
(فتاویٰ عزیزی ج ۱ ص ۲۸۵ تا ۲۸۷)
گزشتہ دنوں قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی کی ”خلافت“ کی تائید میں قادیانی اخبار ”الفضل ربوہ“ میں آسمانی بشارات کے عنوان سے بعض چیزیں شائع کی گئیں ان میں سے ایک کا تعلق خواب میں آنحضرت ﷺ کی زیارت سے ہے اس لیے اس کا اقتباس بلفظہ درج ذیل ہے:
”دیکھا کہ (قادیانی عبادت گاہ) مبارک (ربوہ) میں داخل ہو رہا ہوں، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے۔ محراب میں حضرت بابا گرو نانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہہ کی صورت میں حضرت نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہیں ، آنحضور ﷺ کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، باوجود کوشش کے شبیہہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔“
(الفضل ربوہ ۶ نومبر ۱۹۸۲ء)
علم تعبیر کی رو سے اس خواب کی تعبیر بالکل واضح ہے۔ صاحب خواب کو آنحضرت ﷺ کا سکھوں کے پیشوا کی شکل میں نظر آنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا دین و مذہب، جسے وہ غلط فہمی سے اسلام سمجھتے ہیں دراصل سکھ مذہب کی شبیہہ ہے، اور ان کے روحانی پیشوا آنحضرت ﷺ کے بروز نہیں، بلکہ سکھوں کے پیشوا بابا نانک کے بروز ہیں۔
اور صاحب خواب کو انوارات کا نظر آنا جس کی وجہ سے وہ خواب کی اصل مراد کو نہیں پہنچ سکے۔ شیطان کی وہی تلبیس ہے جس کا تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فرمایا ہے اور ان انوارات میں یہ اشارہ تھا کہ ان کے پیشوا نے بابا نانک کا بروز ہونے کے باوجود تلبیس و تدلیس کے ذریعہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی طرح بہت سے حقیقت ناشناس لوگوں نے دھوکہ کھایا۔
چونکہ خواب کی یہ تعبیر بالکل واضح تھی شاید اسی لیے صاحب خواب کو مرزا بشیر احمد قادیانی اور مرزا ناصر احمد قادیانی نے خواب کے اظہار سے منع کیا۔ چنانچہ صاحب خواب لکھتے ہیں:
”پھر (مرزا بشیر احمد قادیانی نے) فرمایا کسی سے خواب بیان نہیں کرنی، خلافتِ ثالثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر (مرزا ناصر احمد قادیانی کی خدمت میں) بھجوا دیا۔ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعہ پیغام ملا کہ حضور (یعنی مرزا ناصر احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ خواب آگے نہیں بیان کرنی۔“
(مرزا عبدالرشید وکالت تبشیر ربوہ)
مناسب ہے کہ اس خواب کی تائید میں بعض دیگر اکابر کے خواب کشوف بھی ذکر کر دیے جائیں۔
- ۱...... مولانا محمد لدھیانوی مرحوم ”فتاویٰ قادریہ“ میں لکھتے ہیں:
”مولانا صاحب (مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) نے حسب وعدہ کے ایک فتویٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں ارسال فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ یہ شخص میری دانست
میں غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا معلوم نہیں کہ اس کو کس روح کی اویسیت ہے۔‘‘
(فتاویٰ قادریہ ص ۱۷)
حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ نے تو اس سے لاعلمی کا اظہار فرمایا کہ مرزا قادیانی کو کس روح سے ’’فیض‘‘ پہنچا ہے۔ مگر الفضل میں ذکر کردہ خواب سے یہ عقدہ حل ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو سکھوں کے مذہبی پیشوا سے روحانی ارتباط تھا۔ مرزا قادیانی نے جو کچھ لیا ہے انہی سے لیا ہے۔
- ۲...... ’’مرزا غلام احمد قادیانی نے شہر لدھیانہ میں آ کر ۱۳۰۱ھ میں دعویٰ کیا کہ میں مجدد ہوں۔ عباس علی صوفی
اور منشی احمد جان مع مریدان اور مولوی محمد حسن مع اپنے گروہ اور مولوی شاہدین اور عبدالقادر اور مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی وغیرہ نے اس کے دعویٰ کو تسلیم کر کے امداد پر کمر باندھی۔ منشی احمد جان نے مع مولوی شاہدین و عبدالقادر ایک مجمع میں جو واسطے اہتمام مدرسہ اسلامیہ کے اوپر مکان شاہزادہ صفدر جنگ صاحب کے تھا۔ بیان کیا کہ علی الصباح مرزا غلام احمد قادیانی اس شہر لدھیانہ میں تشریف لائیں گے، اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کر کے کہا کہ جو شخص اس پر ایمان لائے گا گویا وہ اول مسلمان ہوگا۔
مولوی عبداللہ صاحب مرحوم برادرم نے بعد کمال بردباری اور تحمل کے فرمایا:
’’اگرچہ اہل مجلس کو میرا بیان کرنا ناگوار معلوم ہوگا لیکن جو بات خدا جل شانہ نے اس وقت میرے دل میں ڈالی ہے، بیان کیئے بغیر میری طبیعت کا اضطرار دور نہیں ہوتا وہ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی جس کی تم تعریف کر رہے ہو بے دین ہے۔ منشی احمد جان بولا کہ میں اول کہتا تھا کہ اس پر کوئی عالم یا صوفی حسد کرے گا۔‘‘
راقم الحروف (مولانا محمد عبدالقادر لدھیانویؒ) نے مولوی عبداللہ صاحب کو بعد برخاست ہونے جلسہ کے کہا کہ جب تک کوئی دلیل معلوم نہ ہو بلا تامل کسی کے حق میں زبان طعن کی کھولنی مناسب نہیں، مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس وقت میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا لیکن آخر الامر یہ کلام خدا جل شانہ نے جو میرے سے اس موقع پر سرزد کرایا ہے خالی از الہام نہیں۔
اس روز مولوی عبداللہ صاحب بہت پریشان خاطر رہے بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہیں کیا۔ بوقت شب دو شخصوں سے استخارہ کروایا اور آپ بھی اسی فکر میں سو گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ میں ایک مکان بلند پر مع مولوی محمد صاحب وخواجہ احسن شاہ صاحب بیٹھا ہوں، تین آدمی دور سے دھوتی باندھے ہوئے چلے آتے معلوم ہوئے۔ جب نزدیک پہنچے تو ایک شخص جو آگے آگے آتا تھا اس نے دھوتی کو کھول کر تہبند کی طرح باندھ لیا۔ خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت سے بیدار ہو گئے اور دل کی پراگندگی یک لخت دور ہوگئی اور یقین کلی حاصل ہوا کہ یہ شخص پیرایہ اسلام میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ موافق تعبیر خواب کے دوسرے دن قادیانی مع دو ہندوؤں کے لدھیانہ میں آیا۔‘‘ (اس خواب میں بھی یہی اشارہ تھا کہ یہ صاحب ہندومت کو اسلام کا لبادہ اوڑھا رہے ہیں۔ ناقل)
(فتاویٰ قادریہ ص ۲)
- ۳۔۴...... مولانا عبداللہ لدھیانویؒ کے ساتھ جن دو شخصوں نے استخارہ کیا تھا ان کے بارے میں مولانا محمد
صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’استخارہ کنندگان میں سے ایک کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بے علم ہے، اور دوسرے شخص نے خواب میں مرزا
کو اس طرح دیکھا کہ ایک عورت برہنہ تن کو اپنی گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے جس کی تعبیر یہ ہے کہ مرزا دنیا کی جمع کرنے کے درپے ہے دین کی کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘
(حوالہ بالا)
- ۵...... اسی فتاویٰ قادریہ میں ہے کہ:
”شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری مرحوم نے (جو صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے) بوقت ملاقات فرمایا کہ مجھ کو بعد استخارہ کرنے کے یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طور سوار ہے کہ منہ اس کا دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو زنار اس کے گلے میں پڑا ہوا نظر آیا جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے، اور یہ بھی میں یقیناً کہتا ہوں کہ جو اہل علم اس کی تکفیر میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ بعد سب کافر کہیں گے۔ (زنار بھی بطور خاص کسی کے ہندو ہونے کی علامت ہے اس سے الفضل میں درج شدہ خواب کی تائید ہوتی ہے کہ یہ صاحب ہندؤوں سے مستفید ہیں۔ ناقل)۔‘‘
(فتاویٰ قادریہ ص ۱۷)
- ۶...... مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ”شہادۃ القرآن ص ۹“ میں (جو ۱۳۲۱ھ میں مرزا قادیانی کی زندگی میں
شائع ہوئی) لکھتے ہیں:
”جب اس فرقہ مبتدعہ مرزائیہ کو کوئی پچھلی تفسیر بتائیں تو کفار کی طرح اساطیر الاولین کہہ کر جھٹ انکار کر دیتے ہیں اور اگر ان کے روبرو حدیث نبوی ﷺ پڑھیں تو اسے بوجہ بے علمی کے مخالف و معارض قرآن بنا کر دور پھینک دیتے ہیں اور اپنی تفسیر بالرائے کو جو حقیقت میں تحریف و تاویل منہی عنہ ہوتی ہے مؤید بالقرآن کہتے ہیں (ظاہر ہے یہ طرز عمل کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ ناقل) بیچارے کم علم لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ورطہ ترددات و گرداب شبہات میں گھر جاتے ہیں ،سو ایسے شبہات کے وقت میں اللہ عزیز و حکیم نے مجھ عاجز کو محض اپنے فضل و کرم سے راہ حق کی ہدایت کی اور ہر طرح سے ظاہراً و باطناً معقولاً و منقولاً مسئلہ ھٰذا سمجھایا۔ چنانچہ عنفوان شباب میں ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت با برکت سے مشرف ہوا۔ اس طرح کہ آپ ایک گاڑی پر سوار ہیں اور بندہ اس کو آگے سے کھینچ رہا ہے اس حالت با سعادت میں آپ سے قادیانی علیہ ما علیہ کی نسبت عرض کی، آپ نے زبان وحی ترجمان سے بالفاظ طیبہ یوں فرمایا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں اللہ تعالیٰ اس کو جلدی ہلاک کر دے گا۔‘‘
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۹ ص ۴۲، ۴۵)
باب چہارم
قادیانیوں کا شرعی حکم
کافر کو کافر کہنا حق ہے
سوال...... کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی حدیث کی روشنی میں ”کسی کافر کو بھی کافر نہیں کہنا چاہیے“ چنانچہ قادیانیوں کو کافر کہنا درست نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی صرف زبان سے کلمہ پڑھ لے اور اپنے کو مسلمان ہونے کا اقرار کرے جبکہ حقیقت میں اس کا تعلق قادیانیت یا کسی اور عقیدے سے ہو تو کیا وہ شخص صرف زبانی کلمہ پڑھ لینے سے مسلمان کہلائے گا؟ از راہ کرم مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت تفصیل سے بتائیے۔
الجواب...... یہ تو کوئی حدیث نہیں کہ کافر کو کافر نہ کہا جائے۔ قرآن کریم میں بار بار ”ان الذین کفروا“ ”والکافرون“ ”لقد کفر الذین قالوا“ کے الفاظ موجود ہیں۔ جو اس نظریہ کی تردید کے لیے کافی وشافی ہیں اور یہ اصول بھی غلط ہے کہ جو شخص کلمہ پڑھ لے (خواہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ ہی مانتا ہو) اس کو بھی مسلمان ہی سمجھو۔ اس طرح یہ اصول بھی غلط ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو خواہ خدا اور رسول کو گالیاں ہی بکتا ہو، اس کو بھی مسلمان ہی سمجھو۔
صحیح اصول یہ ہے کہ جو شخص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پورے دین کو مانتا ہو اور ”ضروریات دین“ میں سے کسی بات کا انکار نہ کرتا ہو۔ نہ توڑ مروڑ کر ان کو غلط معانی پہناتا ہو وہ مسلمان ہے کیونکہ ”ضروریات دین“ میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس کے معنی ومفہوم کو بگاڑنا کفر ہے۔ قادیانیوں کے کفر و ارتداد اور زندقہ و الحاد کی تفصیلات اہل علم بہت سی کتابوں میں بیان کر چکے ہیں۔ جس شخص کو مزید اطمینان حاصل کرنا ہو، وہ میرے رسالے ”قادیانی جنازہ“ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ اور ”قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں کیا فرق ہے“ ملاحظہ کر لیں۔ ”دفتر ختم نبوت مسجد باب الرحمت پرانی نمائش محمد علی جناح روڈ کراچی“ اندرون اور بیرون ملک ختم نبوت کے دفاتر سے یہ رسائل مل جائیں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۳۸۰۔۳۸۱)
مرزائی کافر ہیں
سوال...... بعض مقتدر و بااثر مسلمان مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کو پوری قوت سے مسلمان کہتے ہیں۔ ان سے فیصلہ ہوا تھا کہ مندرجہ ذیل پانچ علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کر لیا جائے۔ مولانا ابوالکلام صاحب آزاد، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا سید سلیمان صاحب ندوی، حضرت مولانا حسین احمد صاحب، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری، اس سلسلہ میں مولوی محمد داؤد صاحب پلیڈر قصور نے آنجناب کی خدمت اقدس میں ایک استفتاء ارسال کیا تھا۔ اس کا جواب موصول ہو چکا ہے چونکہ وہ جواب آنجناب کے قلم مبارک سے نہ تھا اس لیے فریق ثانی نے اس کو قبول کرنے میں تامل کیا۔
(مستفتی نمبر ۴۹۱ حاجی عبدالقادر، میونسپل کمشنر کوٹ بدر الدین قصور، ۳ ربیع الاول ۱۳۵۴ھ ۱۶ جون ۱۹۳۵ء)
الجواب....... مرزائے قادیانی نے اپنی تالیفات میں نبوت مجددیت، محدثیت، مسیحیت، مہدویت کا اتنی صراحت اور اتنی کثرت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا انکار یا اس کی تاویل ناممکن ہے۔ خاتم المرسلین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ ملت اسلامیہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔ خواہ وہ نبوت ظلیہ، بروزیہ، جزئیہ کی تاویلات کرنے کی پناہ لے یا کھلم کھلا نبوت تشریعیہ کا مدعی ہو۔ مرزا قادیانی کے کفر کی اور بھی وجوہ ہیں۔ مثلاً عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کی توہین، معجزات قرآنیہ کا انکار اور ناقابل اعتبار تاویلات سے ان کو رد کرنا یا استہزا کرنا اور چونکہ یہ امور مرزا قادیانی کی تالیفات میں آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہیں۔ اس لیے لاہوری جماعت کا انکار اور تاویلیں بھی لاہوری جماعت کو کفر سے نہیں بچا سکتیں۔ اگرچہ یہ دونوں جماعتیں اسلام کی مدعی ہیں، لیکن عالم اسلامی کے معتمد علیہ علماء ان دونوں کو ملت اسلامیہ سے خارج قرار دے چکے ہیں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(کفایت المفتی جلد ۱ ص ۳۱۴)
باتفاق علماء قادیانی کافر ہیں
سوال....... ایک شخص داخل فرقہ قادیانی ہو گیا ہے اور خیالات وعقائد مرزا قادیانی کے رکھتا ہے، اب اس کی تکفیر کی جائے یا نہیں، اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے خارج ہو جائے گی یا نہیں؟
الجواب....... علماء اہل حق نے باتفاق، قادیانی کی تکفیر فرمائی ہے کیونکہ عقائد واقوال اس کے باتفاق کفر ہیں، پس جو شخص قادیانی ہو جائے اور عقائد اس کے مثل مرزا قادیانی کے ہو جائیں اور مثل عقائد قادیانیوں کے وہ مرزا کو نبی جانے وہ کافر ومرتد ہے اور مسئلہ فقہ کا ہے کہ مرتد ہو جانا کسی کا زوجین میں سے فوراً موجب فسخ نکاح ہے درمختار میں ہے و ارتداد احدهما فسخ عاجل (درمختار ج ۲ ص ۴۲۵ مکتبہ رشیدیہ) لہٰذا زوجہ اس شخص کی جو کہ قادیانی ہو گیا اس کے نکاح سے خارج ہوگئی۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۳۴۶ ۔ ۳۴۷)
قادیانی اور اس کے پیروکار کافر ہیں
سوال....... مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار مسلمان ہیں یا کافر۔ برتقدیر ثانی اگر باپ سنی حنفی ہو اور اس کا بیٹا قادیانی ہو گیا ہو تو یہ بیٹا شرعاً باپ کا وارث ہوگا یا نہیں؟
الجواب....... قادیانی اور اس کے اتباع کافر ہیں اور یہ منصوص ہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۳۷۳)
قادیانیوں کا کفر قرآن وحدیث کی روشنی میں
سوال....... قادیانی جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدی سچا مذہب ہے باقی سب مذاہب باطل ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ واقعی احمدی سچا مذہب ہے اور قرآن و حدیث کے موافق ہے یا مخالف؟ بصورت دیگر ان کے ساتھ میل جول، رشتہ ناطہ کرنا کرانا کیسا ہے؟
الجواب....... تمام امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، نزول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے انکار نہیں اس لیے کہ ان کی نبوت اور پیغمبری آپ ﷺ سے پہلے تھی۔ لہٰذا ان کا حضور اقدس ﷺ کی امت میں نازل ہونا آپ ﷺ کی ختم نبوت پر اثر انداز نہیں ہوگا، بہر حال ختم نبوت کا عقیدہ تمام
امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، ایسے مسلمہ عقائد سے انکار کرنے والا کافر و مرتد ہے، اسلام اور مسلمانوں سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعوے نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کی رو سے بالکل جھوٹ اور بکواس پر مبنی ہیں۔ لہٰذا اس کے ان جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اس کے ماننے والے کافر اور مرتد ہیں۔ جب ایک مسلمان کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک شخص قادیانی ہے اور سمجھانے بجھانے پر بھی وہ باز نہیں آتا تو اس کے ساتھ اسلامی طریقہ پر علیک سلیک اور اٹھنا بیٹھنا جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّار (ھود ۱۱۳) جمہور علماء اسلام جب قادیانی عقائد و نظریات پر مطلع ہوئے تو سب نے ان کے کفر و ارتداد کے فتوے دیے جن کی بناء پر وہ لوگ جو باوجود ان عقائد کے معلوم ہونے کے قادیانیوں کو مسلمان سمجھیں (خواہ وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا مسیح ظلی یا بروزی) بہر حال کافر اور مرتد ہیں۔ مزید تحقیق کی ضرورت ہو تو ”تکفیر قادیانی“ نامی رسالہ کا مطالعہ کریں جس میں سینکڑوں معتمد علیہ علماء کے دستخط ثبت ہیں۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًاO
(الاحزاب ۴۰)
قَالَ العلامة الحافظ ابن کثیرؒ: (تحت قوله و خاتم النبیین) فهذه الآیة نص فی انه لا نبی بعده و اذا کان لانبی بعده فلا رسول بعده بالطریق اولی والاخری لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة. فان کل رسول نبی ولا ینعکس و بذلک وردت احادیث المتواترة عن رسول الله من حدیث جماعة من الصحابة.
(تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۹۳ مطبوعہ مصطفیٰ محمد مصر)
ومثله فى الجامع لاحکام القران. جلد ۱۳ ص ۱۲۷ سورة الاحزاب.
(فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۳۹۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر میں شبہ نہیں ہے
سوال...... عموماً اور خصوصاً مبائعین اور مصدقین مرزا غلام احمد قادیانی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کتب دینیات میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے وجہ کفر کی پائی جائیں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تو اس کو کافر نہ کہا جائے گا، اور حدیث میں ارشاد ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر نہ کہنا چاہیے۔ عن انسؓ انه قال قال رسول الله ﷺ من صلی صلوتنا و استقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی له ذمة الله و ذمة رسوله فلا تخفرو الله فی ذمته. (مشکٰوۃ بخاری ج ۱ ص ۵۷) دوسری حدیث یہ ہے من قال لا اله الا الله دخل الجنة اور رسالہ استنکاف المسلمین میں دربارہ ترک موالات مرزائیاں جو فتویٰ علماء دین نے مفتی بہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے معتقدین و مبائعین پر کفر کے لگائے ہیں ان کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور حسب ذیل آیات کو پیش کرتے ہیں۔ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذهب ريحكم. (الانفال۴۶) واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا. (آل عمران ۱۰۳) اور مرزا کے مسلمان ہونے کے ثبوت میں ایک پرچہ بھی جس پر چند مبائعین و مصدقین کے دستخط ہیں پیش کرتے ہیں جو ہمرشتہ ہذا ہے۔ اب علماء کرام سے یہ عرض ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے تو مرزا اور اس کے معتقدین بھی اہل قبلہ اور کلمہ گو ہیں علماء دین ان پر کفر کا فتویٰ کیوں لگاتے ہیں اور پرچہ منسلکہ پر اعتبار کرنا چاہیے یا نہیں اور جو شخص مرزا اور اس کی جماعت کو مسلمان سمجھے اس کی نسبت کیا حکم ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں۔
الجواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اتباع و مریدین کے کفر و ارتداد میں کچھ شبہ اور تردد نہیں ہے۔ اس میں ایک وجہ بھی اسلام کی باقی نہیں رہی۔ تمام وجوہ کفر و ارتداد کی ہیں، کیونکہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی پیغمبر کی توہین باتفاق کفر ہے اور سب وشتم انبیاء ارتداد صریح ہے۔ بعد اس کے کوئی وجہ اسلام کی اس شخص میں باقی نہیں رہتی نہ توحید باقی رہتی اور نہ اقرار رسالت اور تفصیل اس کی کتابوں اور رسالوں میں موجود ہے۔ اس کو ملاحظہ کریں اور مرزا مذکور کے تمام کفریات اور عقائد باطلہ کو علماء نے جمع کر کے ایک جگہ شائع کیا ہے اور طبع کرایا ہے اس کو دیکھ لیں اور اشتہار منسلکہ بالکل کذب صریح ہے، اس میں مرزا کے کفر کو چھپایا گیا ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہے، پس جو شخص مرزا مذکور اور اس کے اتباع کو مسلمان سمجھے اور ان کے کفر کا اظہار نہ کرے وہ جاہل و عاصی ہے اور سخت گنہگار ہے اس کے پیچھے نماز درست نہیں ہے اس کو ہرگز امام نہ بنایا جائے۔
(درمختار ج ۳ ص ۳۱۷ مکتبہ رشیدیہ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۳۶۷۔۳۶۸)
مرزائیوں کا لاہوری فرقہ بھی کافر ہے
سوال...... مرزائیوں کا لاہوری فرقہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا اور بظاہر اس کے نبی ہونے سے برأت کا اظہار کرتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا، اسی طرح یہ فرقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا بھی منکر ہے۔ کیا یہ عقیدہ رکھنے والے لوگ مسلمان ہیں یا قادیانی مرزائیوں کی طرح کافر و مرتد؟
الجواب...... مرزائیوں کا لاہوری فرقہ اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی اور غیر نبی ہونے میں متردد ہے لیکن دیگر عقائد قطعیہ مثلاً حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا ہونے سے انکار، اسی طرح ان کے رفع الی السماء سے بھی انکار کرنا۔
(صرح بہ محمد علی لاہوری فی تفسیر بیان القرآن جلد ۱ ص ۳۱۳)
یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا ماننا، اس قسم کا عقیدہ رکھنا قرآنی آیات، صحیح احادیث اور اجماع امت کے خلاف ہے لہٰذا مرزائیوں کا یہ (لاہوری) فرقہ بھی اپنی تاویلات فاسدہ کی وجہ سے مسلمان نہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
قَالَ اللّٰہ تعالیٰ حکایۃ عن مریم: قَالَتْ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا o قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا o قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَکُ بَغِیًّا o قَالَ کَذٰلِکِ ط قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا ج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا o
(مریم آیت ۱۸ تا ۲۱)
وَقَالَ اللّٰہ تَعَالٰی: وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ o (التحریم ۱۲)
(فتاویٰ حقانیہ جلد ۱ ص ۳۹۷)
قادیانی کافر ہیں روافض میں تفصیل ہے
سوال...... ایک مولوی صاحب نے بروز جمعہ یہ فتوی بیان فرمایا کہ شرعاً جملہ افراد اہل شیعہ و احمدی کافر ہیں، اور جو شخص ان کے ساتھ خورد ونوش کرے گا یا ان کے ساتھ کسی تقریب میں شامل ہوگا کافر متصور ہوگا اور پھر اس کے ساتھ برتاؤ کرنے والا بھی کافر ہوگا۔ علیٰ ہٰذا القیاس سلسلہ کفر جاری رہے گا، اور جملہ عورات کا نکاح ناجائز اور
فسخ شدہ ہے جو لڑکیاں اہلسنت والجماعت کی کسی شیعہ یا احمدی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں ان کی اولاد ولد الحرام ہیں اور وہ زنا کرا رہی ہیں، کیا جملہ افراد اہل شیعہ کافر ہیں۔ (۲)...... کیا جملہ افراد احمدی جماعت کے کافر ہیں، ہم حنفی ہیں اور جس فرقہ احمدیہ کا ہم سے تعلق ہے وہ کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے۔ (۳)...... کیا جملہ عورات کا نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہیں جو اہلسنت والجماعت کی لڑکیاں ہیں اور کسی شیعہ یا احمدی سے بیاہی ہوئی ہیں اور وہ اس طرح زنا کر رہی ہیں۔ (۴)...... کیا کسی معزز شیعہ یا احمدی اہل برادری کی تعظیم کرنا کفر ہے اور پھر جو اس کے ساتھ برتاؤ کرے گا یا اس کی کسی تقریب میں شریک ہوگا وہ بھی کافر ہوگا یا گنہگار۔
الجواب...... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سب باتفاق علمائے اہل حق کافر و مرتد ہیں ان سے کسی قسم کا اتحاد و ارتباط رکھنا اور بیاہ شادی کرنا سب حرام ہے۔
(شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)
اور روافض میں یہ تفصیل ہے کہ جو فرقہ ان کا قطعیات کا منکر ہے اور سب شیخین کرتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہے یعنی افک کا معتقد ہے اور صحابہ کی تکفیر کرتا ہے وہ بھی کافر و مرتد ہے۔
(فتاویٰ شامی ج ۳ ص ۳۲۶ باب المرتد)
ان سے مناکحت و مجالست حرام ہے اور واضح ہو کہ روافض تبرا گو ہی ہوتے ہیں اگرچہ بوجہ تقیہ کے جو ان کے نزدیک دینی فعل ہے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقائد باطلہ مخفی رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے قول و فعل کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ان کے اصول مذہب کو دیکھا جائے پس بعد اس تمہید کے آپ خود اپنے سوالات کا جواب سمجھ سکتے ہیں۔
- (۱)...... اکثر افراد شیعہ ایسے ہیں کہ ان کے کفر پر فتویٰ ہے اور اصول مذہب کے اعتبار سے ان کے کفر میں کچھ
تردد نہیں لہٰذا ان کے ذبیحہ میں اور ان سے رشتہ مناکحت قائم کرنے میں احتیاط کی جائے اور احتراز کیا جائے۔
- (۲)...... قادیانی قطعاً کافر و مرتد ہیں اور یہ غلط ہے کہ وہ مسلمان کو کافر نہیں کہتے ان کی کتب مذہب کو دیکھو کہ
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کوئی مرزا کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے اور جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔
- (۳)...... یہ صحیح ہے وہ نکاح نہیں ہوا اور اس حالت میں صحبت و جماع کرنا زنا ہے۔
- (۴)...... یہ حکم عام نہیں ہے مگر معصیت و فسق ہونے میں اس میں کلام نہیں ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ من
وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام.
(مشکوٰۃ باب الاعتصام والسنہ ص ۳۱)
پس جبکہ مبتدع کی تعظیم و توقیر کرنا گویا اسلام کو منہدم کرنا ہے تو ایسے گمراہ کافر و مرتد فرقوں کی تعظیم و توقیر کس درجہ معصیت ہوگی۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۳۹۵ تا ۳۹۷)
قادیانی اہل کتاب نہیں ہیں
سوال....... عیسائی اپنی نسبت انبیاء کی طرف کیوں کرتے ہیں اور کیا عیسائیت کا نام قرآن نے ان کے لیے وضع کیا ہے؟
کافر لوگ اپنی کتاب میں تحریف کرتے تھے۔ پھر ان کو اہل کتاب کیوں کہا جاتا ہے جبکہ مرزائی قادیانی بھی قرآن کو مانتے ہیں۔ ان کو اہل کتاب کیوں نہیں کہا جاتا؟
محمد سلیم، ملتان
الجواب....... محترم محمد سلیم صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
”عیسائی“ عرف عام میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کریں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ نسبت فی الواقع درست ہے یا نہیں، جیسے رسول اللہ ﷺ کے دور میں صحابہ کرام بھی اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے تھے اور منافقین بھی۔ عام اس سے کہ کس کی نسبت صحیح ہے کس کی غلط۔
دراصل بلند مرتبت ہستیوں کی طرف قدیم زمانہ سے لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال سیدنا ابراہیم ؑ ہیں۔ ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ عرب کے مشرک بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہودی بھی، عیسائی بھی اور مسلمان بھی حالانکہ سب کے عقائد و نظریات باہم مختلف و متضاد ہیں۔ جس سے واضح ہوا کہ فی الواقع یہ تمام لوگ آپ کے پیروکار نہ تھے نہ ہیں لیکن عقیدت و اتباع کا دعویٰ جیسے صدیوں پہلے تھا، آج بھی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن عزیز نے یوں بیان فرمایا:
مَا كَانَ اِبْرَاهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ.
(آل عمران، ۶۷) (حضرت) ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے، نہ عیسائی بلکہ ہر باطل سے الگ تھلگ مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرَاهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ.
(آل عمران ۶۸،۶۷) بے شک تمام لوگوں میں ابراہیم سے قریب تر وہ ہیں جو ان کے پیروکار ہوئے اور یہ نبی، اور ایمان والے اور ایمان والوں کا والی اللہ ہے۔
تو ”عیسائی“ نہ قرآن کی اصطلاح ہے نہ بائبل کی بلکہ عرف عام ہے۔ قرآن نے ان کو نصارٰی کہا ہے۔ بہر حال عیسائی کہلائیں یا نصارٰی یا کچھ اور، یہ ان کی اپنی اصطلاحیں ہیں جیسے ”شیر عالم“ خواہ بزدل ترین ہی کیوں نہ ہو۔ ”محمد فاضل“ خواہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو، ”محمد مسلم“ خواہ اللہ کے آگے کبھی سر جھکایا ہی نہ ہو، آپ خواہ کہیں یا نہ کہیں ”مرزائی، قادیانی یا احمدی“ مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے مرتدین ہیں۔ نہ ہم مسلمان کہیں، نہ قرآن و سنت، مگر جس طرح منافقین اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور قرآن نے وَمَاهُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ کہہ کر ان کے ایمان کی نفی کی۔ اسی طرح باقی جھوٹے مدعیان اسلام کو سمجھ لیں۔
ہم اس لیے ان (نصارٰی) کو اہل کتاب کہتے ہیں کہ قرآن نے انھیں اہل کتاب کہا ہے۔ (یَا اَهْلَ الْكِتَابِ) ان کے علماء و مشائخ نے بادشاہوں اور سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے ایماء پر، روپیہ بٹورنے کے لیے بیشک اللہ کے کلام میں لفظی و معنوی تحریفات کیں مگر وہ اپنے اس جرم پر ہمیشہ پردے ڈالتے تھے اور کبھی کھل کر اپنے انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کا انکار نہیں کرتے تھے۔ آخر انھوں نے اپنے جاہل عوام پر حکومت تو کرنی تھی۔ جو انبیائے کرام اور بزرگان دین سے عقیدت رکھتے تھے البتہ عوام کی جہالت و سادہ لوحی سے اللہ کے کلام و نظام میں من مانی تاویلات و تحریفات میں مصروف رہتے تاکہ حق بات عوام تک پہنچنے نہ پائے اور ان کا طلسم ٹوٹ نہ جائے۔ شریعت کے جس حکم میں فائدہ نظر آتا بیان کر دیتے۔ جہاں ان کی بدعقیدگی و بدعملی کا ذکر آتا یا وہ احکام شرع کے جو ان کی خواہشات و مفادات سے متعارض ہوتے ان میں ”بقدر ضرورت“ تبدیلی کر دیتے۔
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ (المائدہ ۱۳) اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں۔
ان کو اہل کتاب اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ اسے سرِ بسر مانتے ہیں بلکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچے نبی اور کتاب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ گو حقیقت میں یہ نسبت غلط اور ناقابل اعتبار ہے۔ دیکھئے
نہیں کہ مسلمان بھی ان تمام لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عملاً ہم کتنے سچے مسلمان ہیں؟ اسے ہم خود سمجھتے ہیں اور خدا و رسول بھی اس پر گواہ ہیں۔ ذرا اپنے عوام، نام نہاد مشائخ وعلماء (الا ماشاء اللہ) سیاستدان اور اہل دانش کو دیکھ لیں۔
کہ دانم مشکلات لا الہ را
- ۱....... احمدیوں (قادیانیوں) کو مسلمان اس لیے نہیں مانتے کہ ان کے پیشوا نے قرآن، انبیائے کرام اور دین
اسلام کی توہین کی۔
- ۲....... عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا، چونکہ پہلے مسلمان تھے، ارتداد کے بعد مرتد ہو گئے۔ (اور ان کی اولاد تمام
قادیانیوں کی طرح زندیق وملحد) لہٰذا وہ مرتد ہیں، اہل کتاب نہیں۔ وہ خود بھی اہل کتاب نہیں کہتے۔ مسلمان کہلاتے ہیں۔ جو ارتداد کی وجہ سے ختم ہو گیا۔ اسلام سے نکلے مرتد ہونے کی وجہ سے، اہل کتاب اس لیے نہیں کہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں، نہ کہلاتے ہیں۔ واللہ اعلم و رسولہ، عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ جلد اول ص ۳۴۹ تا ۳۵۱)
مذاہب......: مرزائی، رافضی، چکڑالوی وغیرہ کافر ہیں یا نہیں۔
سوال......: معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ، مرزائیہ، چکڑالویہ، رافضیہ بلا تفضیلیہ وغیرہ وغیرہ فرقے۔ یہ قطعی کافر ہیں یا نہیں۔ نماز میں ان کی اقتداء اور ان سے سلام مصافحہ کرنا روا ہے یا نہیں۔ ان کا ورثہ مسلم کو یا مسلم کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلم عورت کو ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہو جائے۔ مذہب اہلسنت والجماعت بدل لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بلا طلاق وہ دوسری جگہ نکاح لے سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب......: ان فرق کے گمراہ، زندیق، ملحد، بدعتی ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں۔ البتہ کافر ہونے میں تفصیل ہے۔ مرزائیہ، چکڑالویہ تو بے شک کافر ہیں۔ معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ بھی تقریباً ایسے ہی ہیں۔ لیکن صاف کافر کہنا ذرا مشکل ہے رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں جو حضرت ابوبکرؓ وغیرہم کو مرتد کہتے ہیں اور زیدیہ کافر نہیں۔ جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی امامت خطا نہیں ہے۔ مگر حضرت علیؓ افضل ہیں اور حضرت عثمانؓ کے بارہ میں ساکت ہیں۔ نہ اچھا کہتے ہیں نہ برا۔
اگر ان فرقوں کی اور ان کے علاوہ باقی فرقوں کی تفصیل مطلوب ہو تو کتاب ملل والنحل ابن حزم اور شہرستانی وغیرہ کا مطالعہ کریں اور نواب صدیق حسن خان مرحوم کا بھی ایک رسالہ ”عقیدۃ الاکوان“ اس بارہ میں ہے وہ بھی اچھا ہے۔
رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔ ابن کثیر جلد دوم ص ۲۰۱ میں مسند احمد وغیرہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے۔ کہ جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو تو ان سے بچو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے ناطہ رشتہ وغیرہ کرنا یا ویسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں امام بنانا اس قسم کا تعلق کوئی بھی جائز نہیں بلکہ جو ان میں سے کافر ہیں۔ اگر اتفاقی طور پر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہو گیا ہو تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں۔ نماز کا اعادہ کرنا چاہیے بلکہ اگر نکاح پڑھا ہوا ہو اور بعد
میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو حد کفر کو پہنچ گئی تو بھی نکاح خود بخود فسخ ہو جاتا ہے۔ طلاق کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوا (البقرہ ۲۲۱) یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو اور دوسری جگہ ہے۔ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ (الممتحنة ۱۰) یعنی کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو۔ اگر اسی حالت میں مر جائیں مسلمان ان کے وارث نہیں اور یہ مسلمانوں کے وارث نہیں۔ عبداللہ امرتسری
(فتاویٰ اہلحدیث جلد ۱ ص ۲۰۱)
صحیح العقیدہ مسلمان کو بلا تحقیق قادیانی کہنا صحیح نہیں ہے
سوال....... زید نے بکر کی نسبت کہ جو شہر کا امام اور تمام مسلمانوں کا دینی پیشوا اور پکا حنفی ہے یہ جھوٹا الزام لگایا کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے مسلمانوں کو اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور نکاح وغیرہ پڑھوانا نہیں چاہیے اور اس افتراء اور بہتان کی شہادت چند سامعین نے ایک مجمع کثیر کے سامنے کہ جن میں ہزاروں آدمی مجتمع تھے دی، پس زید کو اس کی سزا شرعاً کیا ہونی چاہیے۔
الجواب....... کسی مسلمان سنی حنفی پر بلا تحقیق ایسی تہمت لگانا کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے یا قادیانی ہے گویا اس کو کافر کہنا ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی کو کافر کہا جائے اور وہ ایسا نہ ہو تو وہ اسی پر لوٹتا ہے جس نے کہا۔ عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ايما رجل قال لاخيه كافر فقد باء بها احدهما متفق عليه (مشکوٰۃ ص ۴۱۱ باب حفظ اللسان) اور نیز حدیث شریف میں ہے۔ سباب المسلم فسوق و قتاله كفر. (مشکوٰۃ ص ۴۱۱ باب حفظ اللسان) الغرض زید اس صورت میں فاسق ہے اس کو توبہ کرنی چاہیے اور جس کو تہمت لگائی ہے اس سے معافی کرانی چاہیے۔ قال اللہ تعالیٰ یا ایها الذين امنوا لا يسخر قوم من قوم عسى ان يكونوا خيرا منهم (الی قوله تعالیٰ) بئس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فاولئک هم الظلمون. (الحجرات ۱۱)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۱۲ ص ۲۳۹-۲۴۰)
اہل قبلہ کو کافر کہنے کا مطلب!
سوال....... کلمہ گو اور اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ قادیانی مرزائی و لاہوری مرزائی احمدی اہل قبلہ و کلمہ گو مسلمان ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟
الجواب....... کلمہ گو اور اہل قبلہ ایک خاص اصطلاح ہے اسلام اور مسلمانوں کی، جس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں کہ جو کلمہ پڑھ لے خواہ کسی طرح پڑھے وہ مسلمان ہے یا جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے۔ بلکہ یہ لفظ اصطلاحی نام ہے اس شخص کا جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایم اے پاس ہے تو ایم اے ایک اصطلاحی نام ہے۔ ان تمام علوم کا جو اس درجہ میں سکھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ جو ایم اے کے الفاظ میں پاس ہوتا ہو اور یاد رکھتا ہو۔ اس طرح اہل قبلہ کے معنی بھی باتفاق امت یہی ہیں کہ جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو: کما صرح بہ فی عامۃ کتب الکلام اور اس کی مفصل بحث رسالہ ”اکفار الملحدین“ مصنفہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ میں موجود ہے۔ ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمایا جائے۔ مگر رسالہ عربی زبان میں ہے۔ (اب اس کا ترجمہ بھی شائع ہو گیا ہے۔ مرتب) (اردو زبان میں بھی اس مضمون کا ایک رسالہ احقر کا ہے جس کا نام اصول الاکفار ہے) واللہ تعالیٰ اعلم.
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۱۳)
اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب
سوال...... ”لا تکفر اھل قبلتک“ حدیث ہے یا نہیں اور اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب...... حدیث: ”لا تکفر اھل قبلتک“ کے متعلق جواباً عرض ہے کہ ان لفظوں کے ساتھ تو یہ جملہ کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا۔ لیکن اس مضمون کے جملے بعض احادیث میں وارد ہیں مگر قادیانی مبلغ جو ان الفاظ کو ناتمام نقل کر کے اپنے کفر کو چھپانا چاہتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جیسے قرآن سے کوئی شخص ”لا تقربوا الصلوۃ“ نقل کرے۔ کیونکہ جن احادیث میں اس قسم کے لفظ واقع ہیں ان کے ساتھ ایک قید بھی مذکور ہے۔ یعنی بذنب او لعمل وغیرہ جس کی غرض یہ ہے کہ کسی گناہ و معصیت کی وجہ سے کسی اہل قبلہ کو یعنی کسی مسلمان کو کافر مت کہو۔ چنانچہ بعض روایات میں اس کے بعد ہی یہ لفظ بھی منقول ہیں۔ الا ان تروا کفراً بواحاً یعنی جب تک کفر صریح نہ دیکھو کافر مت کہو۔ خواہ گناہ کتنا بھی سخت کرے۔
یہ روایت ابوداؤد کتاب الجہاد (ج ۱ ص ۲۵۲ باب الغزو مع أئمۃ الجور) میں حضرت انسؓ سے اس طرح مروی ہے: ”الکف عمن قال لا الہ الا اللہ ولا تکفرہ بذنب ولا تخرجہ من الاسلام بعمل“
نیز بخاری (ج ۱ ص ۵۷ باب فضل استقبال القبلہ) میں حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے: ”مرفوعاً من شھد ان لا الہ الا اللہ واستقبل قبلتنا وصلے صلاتنا واکل ذبیحتنا فھو المسلم.“
اہل قبلہ سے مراد بالاجماع امت وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریات دین کو مانتے ہیں۔ نہ کہ صرف قبلہ کی طرف نماز پڑھ لیں۔ چاہے ضروریات اسلامیہ کا انکار کرتے رہیں۔
(کما فی شرح المقاصد المجلد الثانی من صفحہ ۲۶۸ الی صفحہ ۲۷۰) قال المبحث السابع فی حکم مخالف الحق من اھل القبلۃ لیس بکافر مالم یخالف ماھو من ضروریات الدین الی قولہ والافلا نزاع فی کفر اھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی العلم بالجزئیات وکذا بصدور شئی من موجبات الکفر...... الخ۔ وفی شرح الفقہ الاکبر وان غلا فیہ حتی وجب اکفارہ لا یعتبر خلافہ وفاقہ ایضاً الی قولہ وان صلے الی القبلۃ و اعتقد نفسہ مسلما لان الامۃ لیست عبارۃ عن المصلین الی القبلۃ بل عن المومنین و نحوہ فی (الکشف للبزدوی صفحہ ۲۳۸ ج ۳) (لاخلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات۔ (اکفار الملحدین ص ۱۱ مطبوعہ دیوبند) وقال الشامی ایضاً اھل القبلۃ فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر ومن انکر شیئاً من الضروریات الاسلام کحدوث العالم وحشر الاجساد و نفی العلم بالجزئیات و فرضیۃ الصلوۃ والصوم لم یکن من اھل القبلۃ ولو کان مجاھداً بالطاعات الی قولہ ومعنی عدم تکفیر اھل القبلۃ ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بانکار الامور الخفیۃ غیر المشھورۃ ھذا ما حققہ المحققون فاحفظہ و مثلہ قال المحقق ابن امیر الحاج فی شرح التحریر لا بن ھمام والنھی عن تکفیر اھل القبلۃ ھو الموافق علی ماھو من ضروریات الاسلام ھذہ جملۃ قلیلۃ من اقوال العلماء نقلتھا واکتفیت بھا لقلۃ الفراغۃ وتفصیل ھذہ المسئلۃ فی رسالۃ اکفار
الملحدين فى شئى من ضروريات الدين لشيخنا و مولانا الكشميرى مدظله والله اعلم.“
(امداد المفتین ص ۱۱۱ تا ۱۱۳)
دارالاسلام میں غیر مسلمین کو تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں
سوال...... اسلامی ریاست میں کفر و شرک کی تبلیغ کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ کیا بطور حسن سلوک یا رواداری اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ان کے باطل دین کی تبلیغ کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ بینوا توجروا.
الجواب باسم ملہم الصواب دارالاسلام میں غیر مسلمین اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں مذہبی تبلیغ کر سکتے ہیں، کھلے مقامات پر انھیں تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں دی جاسکتی، حتیٰ کہ وہ اپنی مذہبی کتاب بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے ۔ قال العلامة العثمانی رحمه الله تعالیٰ قلت ولا ينبغى للامام ان يهاد نهم على ما يخالف شروط عمرؓ من غير ضرورة فانه هو القدوة فى هذا الباب، قال الموفق وينبغى للامام عند عقد الهدنة ان يشترط عليهم شروطا نحو ما شرطه عمرؓ وقد رويت عن عمرؓ فى ذلك اخبار منها ما رواه الخلال باسناده فذكر ما ذكرناهُ فى المتن اه (اعلاء السنن ص ۵۴۰ ج ۱۲ باب شروط اهل الذمة) وقد حكى ابن تيمية اجماع الفقه وسائر الائمه رحمهم الله تعالى على مراعاة تلك الشروط قال ولولا شهرتها عند الفقهاء لذكرنا الفاظ كل طائفة فيها (الى قوله) ومن جملة الشروط ما يعود باخفاء منكرات دينهم و ترك اظهارها كمنعهم من اظهار الخمر والناقوس والنيران والاعياد و نحو ذلك ومنها ما يعود باخفاء شعائر دينهم كاصواتهم بكتابهم. (اعلاء السنن ص ۵۳۳ ج ۱۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم. ۴ صفر سنہ ۱۴۰۰ھ۔
(احسن الفتاویٰ جلد ۱ ص ۱۸۔۱۹)
مدینہ منورہ کے علاوہ کسی دوسرے شہر کو (منورہ) کہنا
سوال...... میری نظر سے ایک رسالہ گزرا ہے جس میں پاکستان کے ایک شہر کو ”المنورۃ“ کہا گیا ہے حالانکہ ایسا لفظ ہم نے کبھی کسی اور جگہ نہیں پڑھا۔ مذکورہ شہر میں ایک مخصوص عقائد کے لوگ (قادیانی) بستے ہیں۔ کیا اس طرح کے الفاظ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
الجواب...... ”المنورۃ“ کا لفظ مدینہ طیبہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ”المدینۃ المنورۃ“ کے مقابلہ میں مخصوص عقائد کے لوگوں (قادیانیوں) کا ”ربوۃ المنورۃ“ کہنا آنحضرت ﷺ سے چشم نمائی، شر انگیزی اور مسلم آزاری کی شرمناک کوشش ہے اور یہ ان کے کفر و ضلالت کی ایک تازہ دلیل ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۸ ص ۶۱۔۶۲)
جھوٹے نبی کا انجام
سوال...... رسول پاک ﷺ کے بعد امکانِ نبوت پر روشنی ڈالیے اور بتائیے کہ جھوٹے نبیوں کا انجام کیا ہوتا ہے مرزا قادیانی کا انجام کیا ہوگا؟
الجواب...... آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا حصول ممکن نہیں، جھوٹے نبی کا انجام مرزا غلام احمد قادیانی جیسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے چنانچہ تمام جھوٹے مدعیان نبوت کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل
کیا۔ خود مرزا قادیانی منہ مانگی ہیضے کی موت مرا اور دم واپسیں دونوں راستوں سے نجاست خارج ہو رہی تھی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۱۹۴)
جھوٹے مدعی مسیحیت کا شرعی حکم
تشریح ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ عیسیٰ موعود میں ہوں اور وہ عیسیٰ مر گئے۔ سو ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے یا مومن اور جو ایسے شخص کا معتقد ہو وہ کیسا ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب ...... جو شخص اپنے کو عیسیٰ موعود کہتا ہے اور عیسیٰ ؑ کی موت کا قائل ہے وہ بڑا دجال کذاب منکر قرآن و احادیث متواترہ کا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ۔ وإن من اهل الكتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (ای قبل موت عیسیٰ ؑ) (النساء ۱۵۹) کما قال ابن عباس وابوھریرہ وغیرھما من السلف وھو الظاھر. (کما فی تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر الشوکانی ہکذا فی الفتح) یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ ؑ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ احادیث صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں شام میں ان کا ظہور ہوگا۔ دجال کو قتل کریں گے۔ لوگوں کو اس کے شر و فساد سے بچاویں گے ان کی دعا سے یاجوج ماجوج کی قوم ہلاک ہوگی ان کے ہاتھ سے شر و فساد کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ جمیع اقوام یہود و نصاریٰ وغیرہ اسلام قبول کریں گے۔ عدل و انصاف سے سارا زمانہ معمور ہو جائے گا۔ سات برس تک یہی حالت رہے گی۔ پھر آپ دنیا سے رحلت فرمائیں گے۔ یہ قصہ تمام کتب احادیث و عقائد میں مرقوم ہے اور اس پر تمام اہلسنت والجماعت کا اعتقاد ہے۔ ہاں بعض فرقہ ضالہ نے احادیث نزول عیسیٰ ؑ کو انا خاتم النبیین سے منسوخ سمجھا اور تناقض خیال کر کے جملہ احادیث صحاح کو رد کیا۔ ان کی سوء فہمی نے انھیں چاہ ضلالت میں ڈالا۔ فی الحقیقت کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جو حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول آخر زمانہ میں ہوگا۔ وہ مستقل و جدید شریعت کے ساتھ نہیں ہوگا۔ بالجملہ جمیع اہلسنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں اور جو شخص ان کی حیات کا منکر اور مثل یہود مردود کے قتل ہونے کا یا خود بخود فوت ہونے کا قائل ہو اور اپنے آپ کو عیسیٰ کہتا ہو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہیں اور جو شخص ایسے اعتقاد والے کا پیرو ہو وہ بھی احاطہ اسلام سے باہر ہے۔ واللہ اعلم
حررہ عبدالحفیظ عفی عنہ۔ ۳۰ رجب ۱۳۱۷ھ فتاویٰ نذیریہ جلد اوّل ص ۴ تا ۵۔ سید محمد نذیر حسین۔
(فتاویٰ ثنائیہ جلد اوّل ص ۳۷۳ تا ۳۷۵)
حکم قائل بوفات مسیح ؑ
سوال ...... حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا معتقد دائرہ اسلام سے خارج ہے یا نہیں؟
الجواب ...... اس نص قطعی الثبوت کا اگر یہ شخص منکر ہے تو اسلام سے خارج ہے اور اگر اس کو غیر قطعی الدلالۃ قرار دے کر تاویل کرتا ہے تو مبتدع وضال ہے۔ ۶ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ (تتمہ اربعہ ص ۲۱)
(امداد الفتاویٰ جلد ۵ ص ۴۳۳)
باب پنجم
لاہوری مرزائیوں کے متعلق شرعی حکم
مجدد کو ماننے والوں کا کیا حکم ہے
سوال ...... ہر صدی کے شروع میں مجدد آتے ہیں کیا ان کو ماننے والے غیر مسلم ہیں؟
جواب ...... ہر صدی کے شروع میں جن مجددوں کے آنے کی حدیث نبوی ﷺ میں خبر دی گئی ہے وہ نبوت و رسالت کے دعوے نہیں کیا کرتے اور جو شخص ایسے دعوے کرے وہ مجدد نہیں۔ لہٰذا کسی سچے مجدد کو ماننے والا تو غیر مسلم نہیں، البتہ جو شخص یہ اعلان کرے کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“ اس کو ماننے والے ظاہر ہے غیر مسلم ہی ہوں گے۔
سوال ...... چودھویں صدی کے مجدد کب آئیں گے؟
جواب ...... مجدد کے لیے مجدد ہونے کا دعویٰ کرنا ضروری نہیں۔ جن اکابر نے اس صدی میں دین اسلام کی ہر پہلو سے خدمت کی وہ اس صدی کے مجدد تھے۔ گزشتہ صدیوں کے مجددین کو بھی لوگوں نے ان کی خدمات کی بنا پر ہی مجدد تسلیم کیا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر ۱ ص ۲۷۸)
چودھویں صدی کے مجدد حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی تھے
سوال ...... مشہور حدیث مجدد مسلمانوں میں عام مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر سو سال کے سرے پر ایک نیک شخص مجدد ہو کر آیا کرے گا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ چودھویں صدی گزر گئی مگر کوئی بزرگ مجدد کے نام اور دعویٰ سے نہ آیا اگر کسی نے مجدد کا دعویٰ کیا ہے تو اس کا پتہ بتائیں؟
جواب ...... مجدد دعویٰ نہیں کیا کرتا، کام کیا کرتا ہے چودہ صدیوں میں کن کن بزرگوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟ چودھویں صدی کے مجدد حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ تھے۔ جنھوں نے دینی موضوعات پر قریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں اور اس صدی میں کوئی فتنہ کوئی بدعت اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس پر آپ نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ اسی طرح حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف و سلوک، عقائد و کلام وغیرہ دینی علوم میں کوئی ایسا علم نہیں جس پر آپ نے تالیفات نہ چھوڑی ہوں۔ بہرحال مجدد کے لیے دعویٰ لازم نہیں اس کے کام سے اس کے مجدد ہونے کی شناخت ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد نے مجدد سے لے کر مہدی، مسیح، نبی، رسول، کرشن، گورو نانک، رودر گوپال ہونے کے دعوے تو بہت کیے مگر ان کے نامراد وجود پر ان میں سے ایک بھی دعویٰ صادق نہیں آیا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷۸)
مرزا غلام احمد کو مجدد اور فیض نبوت سے مستفید سمجھنے والے بھی کافر ہیں
سوال ...... ہم ان تمام احکامات پر جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شریعت کے ہیں ایمان رکھتے ہیں اور اس کی
پیروی کی کوشش کرتے ہیں اور حضرت مرزا قادیانی کو مجدد اور باتباع پیروی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کی طرف سے فیض نبوت سے مستفید جانتے ہیں از روئے شریعت محمدیہ ﷺ ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب..... واضح ہو کہ اگر کسی شخص میں باوجود تمام عقائد اسلامیہ کے ماننے کے ایک عقیدہ بھی کفریہ ہو اور کسی ایک امر کا ضروریات دین سے بھی انکار کرے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ پس جو شخص باوجود دعویٰ اسلام و عقائد اسلام کے ایک ایسے مرتد وملحد کو جس کی کتابوں سے اس کی کفریات ثابت ہیں مسلمان سمجھے بلکہ اس کو مجدد اور فیض نبوت سے مستفید سمجھے وہ بھی قطعاً کافر ہے کیونکہ اس نے کافر کو مسلمان اور کفر کو اسلام سمجھا پس جبکہ محقق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ دعویٰ نبوت و توہین انبیاء کرام علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام وغیرہا کے قطعاً کافر ہے کیونکہ جو شخص ایسے کافر وملعون کو مجدد و مستفید از فیض نبوت سمجھے اس کی کفر میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ فقط
(شرح فقہ اکبر ص ۱۸۴) (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۴۲۸۔۴۲۹)
وحی، کشف و الہام کی تعریف، مجدد اور مہدی کی علامات
استفتاء مندرجہ ذیل چند سوالات بطور اضافہ علمی سمجھنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم مطالعہ و فرصت پر سمجھا دیے جائیں۔
- ۱...... کشف، الہام اور وحی میں کوئی فرق ہے یا نہ۔ اگر ہے تو کون سا اور کس قسم کا۔ اور وہ صوری ہے یا
معنوی۔ استدلالی ہے یا یقینی۔ ان واردات کی تشریح فرمائی جائے۔
- ۲...... مہدی اور مجدد کے منصب میں کیا تفاوت ہے اور ان مناصب کے عاملین کو نمبر ۱ میں سے کون سا درجہ
اور وصف حاصل ہوتا ہے؟
- ۳...... جیسا کہ نبی کے لیے دعویٰ نبوت ضروری ہے اسی طرح مجدد اور مہدی کے لیے بھی دعویٰ مجدیت و
مہدویت ضروری ہے یا نہ۔
- ۴...... کیا نبی اور پیغمبر کی طرح مجدد بھی معصوم، یا مرد کامل، خطاء سے مبرا ہوتا ہے۔
- ۵...... مجدد اور مہدی کو نہ ماننے والے مسلمان کے لیے از روئے شرع کیا حکم ہے۔ اور ان کی بعض تعریفوں یا
اوصاف کو نہ ماننے والے کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب..... وحی وہ علم ہے جو پیغمبر اور رسول کو بوقت انسلاخہ عن البشریۃ الی الملکیۃ حاصل ہوتا ہے۔ پھر اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔
- ۱...... کسی وقت آواز مثل صلصلۃ الجرس (گھنٹہ کی سی آواز سنائی دیتی ہے)
- ۲...... کسی وقت فرشتہ اپنی اصلی صورت میں یا انسانی صورت میں آتا ہے۔
- ۳...... کسی وقت مکالمہ الٰہی بلا واسطہ ہوتا ہے۔
- ۴...... کسی وقت مکالمہ الٰہی من وراء الحجاب ہوتا ہے۔
- ۵...... کسی وقت رؤیا کے ذریعہ سے علم دیا جاتا ہے۔ اس لیے رؤیا انبیاء علیہم السلام وحی ہیں۔ نہ رؤیا غیر۔
- ۶...... تفہیم یعنی من جانب اللہ انبیاء علیہم السلام پر ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ ان کی قوت نظریہ کو کھینچ کر رشد
وصواب کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
- ۷...... الہام وہ علم ہے جو قلب مبارک میں بغیر اکتساب اور استدلال کے القاء ہو۔ اگر نبی کو ہو تو وحی کہلاتا
ہے ۔ یعنی وہ وحی کی قسم ہوتا ہے اور وہ قطعی اور حجت ہوتا ہے اور غیر انبیاء کا الہام وحی کی قسم نہیں ہوتا اور وہ ظنی ہوتا ہے ۔ یہی فرق نبی اور غیر نبی کے رؤیا میں ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا الہام امر و نہی پر مشتمل ہوتا ہے اور اولیاء کا الہام کسی بشارت یا تفہیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء پر اپنے الہام کی تبلیغ واجب ہے اور اولیاء پر نہیں بلکہ اخفاء اولیٰ ہے جب تک کوئی ضرورت شرعیہ دینیہ داعی نہ ہو۔
اس تفصیل سے واضح ہو گیا ہوگا کہ وحی اور الہام میں کیا فرق ہے۔ الہام وحی کی قسم ہے۔ بنا بریں وحی اور الہام میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت بن جاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”علم الکلام“ مولانا محمد ادریس صاحب ص ۱۴۵ تا ص ۱۶۴ ۔
اسی طرح ”کشف“ لغۃً کھولنے کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی علم کو نبی یا ولی پر کھول دینا۔ نبی کے علم کشفی اور ولی کے علم کشفی میں وہی فرق ہے جو الہام نبی اور غیر نبی میں بیان ہوا۔ کشف اور الہام مفہوم کے لحاظ سے متفاوت ہیں اور مصداق کے لحاظ سے قریب قریب ہیں۔ اور نسبت کشف اور وحی میں وہی ہے جو الہام اور وحی میں بیان ہوئی۔
یہ تفصیل اور نسبت اس کشف کے متعلق ہے جو کہ نبی پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات کشف فسّاق پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ ابن صیاد نے کہا تھا اریٰ عرشا علی الماء آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ تری عرش ابلیس علی البحر اور بعض اوقات بہائم پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ عذاب قبر۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ثقلین کے ماسویٰ تمام بہائم طیور سن لیتے ہیں۔ کشف کے اس معنی اعم کے درمیان اور وحی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہوگی۔
- ۱...... مادہ اجتماعی ۔ وہ کشف جو نبی کو ہو۔ وہ وحی بھی ہے اور کشف بھی۔
- ۲...... مادہ افتراقی ۔ جہاں کشف ہو اور وحی صادق نہ آئے ۔ کشف اولیاء ۔ کشف بہائم وغیرہ۔
- ۳...... جہاں وحی صادق آئے اور کشف نہ ہو۔ وحی کی وہ چھ قسمیں جو الہام سے پہلے نمبروں میں بیان ہوئیں۔
تنبیہ ! عموم و خصوص مطلق کی نسبت جو بیان ہوئی۔ وہ کشف نبی اور الہام نبی اور وحی انبیاء کے درمیان تھی۔ ورنہ مطلق الہام اور مطلق کشف اور وحی کے درمیان بھی نسبت عموم و خصوص من وجہ بنتی ہے۔ کما لا یخفی علی المتأمل۔
- ۲...... مہدی ایک شخص معین ہے کوئی عہدہ نہیں ہے کہ ہر شخص کو حاصل ہو سکے۔ مہدی کے متعلق علامات
حدیث نبوی میں وارد ہوئی ہیں جو کہ یہ ہیں۔
- ۱...... اس کا نام حضور ﷺ کے مطابق ہوگا۔
- ۲...... اس کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کے ہمنام ہوگا۔
- ۳...... اہل بیت سے ہوگا یعنی اولاد فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوگا۔
- ۴...... سات سال زمین میں خلافت کرے گا اور زمین کو عدل سے پُر کر دے گا۔
- ۵...... بیعت کی صورت یہ ہوگی کہ کسی خلیفہ کے فوت ہونے کے بعد اختلاف واقع ہوگا۔ تو اس وقت مہدی
صاحب مدینہ طیبہ میں ہوں گے۔ اس ڈر سے مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف روانہ ہوں گے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے خلافت کے لیے مجبور کیا جائے کیونکہ اہل مدینہ اس کے فضل و کمال سے واقف ہوں گے لیکن جب مکہ معظمہ پہنچیں گے تو اہل مکہ بھی انھیں پہچان لیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ درانحالیکہ مہدی صاحب اس امر خلافت کے قبول کرنے کو مکروہ سمجھنے والے ہوں گے۔ یہ بیعت رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگی۔
- ......۶ اس کے بعد ایک لشکر شام سے بمقابلہ حضرت مہدی صاحب روانہ ہوگا۔ مقام بیداء میں پہنچ کر زمین
میں دھنسا دیا جائے گا۔
- ......۷ مہدی کی اس کرامت کو دیکھ کر ابدال ملک شام اور اہل عراق آئیں گے اور بیعت کریں گے۔
- ......۸ اس کے بعد ایک اور صاحب قریش میں سے مہدی کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوں گے اور وہ اپنے
اخوال کلب سے آدمیوں کو جمع کر کے مہدی کے ساتھ لڑائی کریں گے۔ لشکر مہدی کو فتح ہوگی۔ یہ سب علامات ابو داؤد باب فی ذکر المہدی بذل المجہود ج ۵ ص ۱۰۱ سے لی گئی ہیں۔
اب مجدد کے متعلق تحقیق درج کی جاتی ہے۔ جو کہ ابوداؤد اور اس کی شرح بذل المجہود ج ۵ ص ۱۰۳، ۱۰۴ باب ما یذکر فی قرن المائۃ سے اخذ کی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے اوپر ”من یجدد لھا دینھا“ کو بھیجا کریں گے۔ اس لفظ ”من یجدد“ کے اوپر غور فرمایا جائے۔ لفظ ”من“ معنی میں جمع کے ہے اور لفظ مفرد کا ہے۔ تو اب اس سے ایک قرن میں ایک فرد معین مراد لینا اور تیرہ قرن جو گزر چکے ہیں۔ ان میں سے تیرہ آدمیوں کا انتخاب کرنا اور یہ کہنا کہ اس صدی کا مجدد فلاں تھا اور اس کا فلاں، تکلف سے خالی نہیں۔ اس لیے معنی حدیث کی بناء پر اظہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر صدی میں اللہ تعالیٰ ایک جماعت ایسی قائم فرماتے ہیں جن کا ہر فرد ہر بلد میں تقریر و تحریر کے ذریعہ سے دین کو قائم رکھتا ہے اور تحریف غالین و مبطلین سے حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوریؒ فرماتے ہیں۔
ان المراد بمن یجدد لیس شخصا واحدا بل المراد بہ جماعۃ یجدد کل واحد فی بلد فی فن او فنون من العلوم الشرعیۃ ما تیسر لہ من الامور التقریریۃ والتحریریۃ. و یکون سببا لبقائہ و عدم اندراسہ وانقضائہ الی ان یاتی امر اللہ ولاشک ان ھذا التجدید امر اضافی لان العلم کل سنۃ فی التنزل کما ان الجھل کل عام فی الترقی.
(بذل المجہود ص ۱۰۳۔۱۰۴ ج ۵)
مجدد اور مہدی کے مفہوم اور مراتب کو واضح کرنے کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات حسب ذیل ہیں۔
- ......۱ ان مناصب کے حاملین کو وحی نبوت اور وحی رسالت میں سے کوئی حصہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ البتہ الہام اور
کشف وغیرہ سے اولیاء کو ظنی علم حاصل ہوتا ہے۔ وہ ان کو بھی حاصل ہونا ممکن ہے۔ مگر وہ قطعی علم جو انبیاء علیہم السلام کو وحی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے جو کہ لوگوں پر حجت ہوتا ہے۔ ان کو ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔
- ......۲ نبی اور پیغمبر کو اپنی نبوت کا اعلان کرنا اور لوگوں کو اپنی نبوت کی طرف بلانا لازم ہوتا ہے لیکن مجدد کو
مجددیت کا دعویٰ کرنا اور اپنی مجددیت پر لوگوں سے بیعت کا مطالبہ کرنا اور پھر اپنے علوم کو مجددیت کی سند کے ساتھ مستند قرار دیتے ہوئے قطعی قرار دینا جائز نہیں۔ البتہ بطور تحدیث بالنعمۃ کے اگر کوئی عالم ربانی اظہار کر دے، بطور ظن کے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے دین کی یہ اہم خدمت لی ہے۔ اس لیے مجددین کے زمرہ میں داخل ہونے کی امید کرتا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہ ہوگا۔ لیکن یہ ادعا کرنا کہ میں فلاں صدی کا مجدد ہوں اور لوگوں کو میری مجددیت پر ایمان لانا چاہیے۔ یا میرے ہاتھ پر بیعت ہو جانا چاہیے۔ بالکل جائز نہیں ہے۔
- ......۳ نبی اور پیغمبر معصوم ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ امت کا کوئی فرد حتیٰ کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم بھی انبیاء
علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں قرار دیے جاسکتے۔ کما ھو مذھب اھل السنۃ والجماعۃ.
- ۴...... مہدی اور مجدد کو نہ ماننے سے کفر نہیں لازم آتا۔ مجدد کے متعلق تو واضح ہو چکا ہے کہ کسی شخص معین کا نام
نہیں ہے بلکہ کسی کا مجدد ہونا امر ظنی ہے۔ اس لیے اس کے نہ ماننے میں کوئی خاص تکفیر نہیں ہو سکتی۔ البتہ مہدی کا ذکر ان صفات کے ساتھ جو احادیث میں آیا ہے اور یہ حدیثیں ابوداؤد وغیرہ میں مذکور ہیں۔ حدیثیں صحیح اور حسن ہیں اس لیے ان صفات کا جو منکر ہوگا اس کے لیے وہ حکم ہوگا جو احادیث احاد کے منکر کا ہوتا ہے۔ یعنی کفر لازم نہ آئے گا۔ لیکن فسق سے خالی نہ ہوگا۔
فقط واللہ اعلم الجواب صواب بندہ محمد عبد اللہ غفر لہ : خادم دارالافتاء خیر محمد عفا اللہ عنہ خیر المدارس ملتان : مورخہ ۲۰ شعبان ۱۳۷۰ھ (خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۶۷ تا ۷۱) مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان
تجدید دین اور مرزا غلام احمد قادیانی ؟
سوال:...... مرزا غلام احمد قادیانی کو اگر مجدد زمان مانا جائے تو بجا ہے یا نہیں؟
جواب:...... مرزا قادیانی مذکور ہرگز مجدد زمان نہیں مانے جاسکتے کیونکہ مجدد زمان کے لیے چند شرائط مقرر اور معین ہیں۔ چنانچہ کتاب (مجالس الابرار مجلس ۸۳ ما وجدت ھذا الکتاب فی المحکمة) میں بایں طور مسطور ہے کہ مجدد وہ ہو سکتا ہے جس کی لیاقت علمیت و بزرگی کو علمائے وقت تسلیم کرلیں نہ کہ وہ اپنی زبان سے میاں مٹھو طوطا کی طرح مجدد ہونے کا اپنے منہ سے دعویٰ کرے اور کہلائے اور مرزا قادیانی میں یہ صفت کہاں؟ دیکھو اس کی عبارت عربی جو یہاں بطور مشتے نمونہ از خروارے ہے تحریر کر دی جاتی ہے جس پر ادنیٰ لیاقت والے طالب علم بھی اعتراض کرتے ہیں اور ہنسی اڑاتے ہیں اور مرزا قادیانی کی چند تصنیفات سے کتاب اعجاز المسیح کی چند غلطیاں پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے سیف چشتیائی اور فیصلہ آسمانی میں (مولانا محمد علی مونگیریؒ) بایں طور نقل کر دی ہیں۔ وهو هذا وانى سميته اعجاز المسيح وقد طبع فى مطبع ضياء الاسلام فى سبعين يوماً من شهر الصيام وكان من الهجر سنه ۱۳۱۸ من شهر النصارى ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء مقام الطبع قادیان ضلع گورداسپور۔
(ٹائٹل اعجاز المسیح طبع اوّل خزائن جلد ۱۸ ص ۱)
اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ کیا ستر دن کا مہینہ بھی ہوتا ہے؟ امید ہے کہ مرزائی صاحبان اس جگہ بھی کچھ تاویل کریں گے حالانکہ یہ تمام عبارت بے ربط اور خلاف محاورہ عرب کے ہے۔
غلطی دوم۔ ضلع گورداسپور کی بجائے غور داسفور ہونا چاہیے تھا۔
غلطی سوم۔ باہتمام الحکیم فضل الدین بعد التعریب فضل الدین۔
غلطی چہارم۔ اس کتاب کے ص ۳ خزائن ج ۱۸ ص ۵ من کل نوع الجناح۔ نوع للجناح کیونکہ کل معرفہ پر احاطہ اجزاء کا افادہ دیتا ہے۔ وہ یہاں پر مقصود نہیں۔
غلطی پنجم۔ اس کتاب کے ص ۳ ایضاً کل امرهم علی التقوی۔ اس مقام پر کل امرلهم ہونا چاہیے تھا چونکہ کل مجموعی خلاف ہے۔
غلطی ششم۔ اس کتاب کے ص ۴ خزائن جلد ۱۸ ص ۸ فلا ايمان له او يضيع ايمانه۔ دو دفعہ ایمان کے لفظ کا تکرار بے قاعدہ اور خلاف محاورہ عرب ہے۔
غرضیکہ مرزا قادیانی نے کہیں تو مقامات حریری وغیرہ کتب سے عبارتیں چرائی ہیں اور کہیں لفظی اور کہیں
معنوی تحریف قرآن مجید و احادیث شریف کی گئی ہے جس کو پیر صاحب موصوف نے اپنی تصنیف سیف چشتیائی میں صفحہ ۷ تا ۱۸ قلمبند کر دیا ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ فقیر بھی ہر ایک جلد میں چند اغلاط مرزا غلام احمد قادیانی کے لکھتا رہے گا۔ (بابو پیر بخش کی تمام کتب ”قادیانیت“ احتساب قادیانیت ج یازدہم و دوازدہم میں شائع ہوئی ہیں مرتب)
اور دوسری شرط مجدد کی یہ ہے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن کو مطابق شریعت جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے رکھتا ہے اور اقوال و افعال اس کے ہرگز برخلاف شریعت کے نہیں ہوتے۔ اور مرزا قادیانی میں یہ ہر دو صفت موجود نہ تھیں نہ تو مرزا قادیانی نے باوجود استطاعت المالی و مرفہ الحالی حج کیا اور نہ ہی پتلی روٹی گیہوں کی کھانے سے تین دن متواتر باز رہے اور نہ ہی فرش چمڑے اور کھجوروں کے پتوں سے بنایا اور نہ ہی مرزا قادیانی نے کباب اور زردی اور پلاؤ کھانے سے منہ پھیرا اور نہ ہی جھوٹے الہام بیان کرنے سے زبان کو روکا نہ ہی نبیوں کی توہین کرنے سے قلم کو بند کیا اور نہ ہی ۲۲ کروڑ مسلمانوں کی پارٹی پر کفر کا فتویٰ لگانے سے شرمایا اور نہ ہی قرآن مجید اور احادیث شریف اور اجماع امت کے اقوال کی تحریف معنوی کرنے سے قلم کو تھاما۔
تیسری شرط مجدد کی یہ ہے کہ جو بدعت اور بت پرستی اور برے کام لوگوں کے درمیان مروجہ اور قائم ہو چکے ہوں ان کو وہ اپنی ایمانی طاقت اور استقامت اور حوصلہ اور حلیمی سے دور کر دیتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو بجائے ان باتوں کے بدعت اور بت پرستی کی بیخ قائم کی چنانچہ اپنی تصویریں بنوا کر ملکوں میں تقسیم کیں حالانکہ یہ بالکل برخلاف قرآن مجید و احادیث صحیحہ و اجماع صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے اور علاوہ اس کے اپنے آپ کو خدا کہلانا اور آسمان و زمین کے پیدا کرنے پر اپنے آپ کو قادر سمجھنا جیسا کہ (کتاب البریہ ص ۸۵ خزائن جلد ۱۳ ص ۱۰۳ و حقیقۃ الوحی و دافع البلاء) وغیرہ میں مذکور ہے۔ علاوہ اس کے خود مرزا قادیانی کا دعویٰ کرشن جی کا بھی ہے۔ (حقیقۃ الوحی خزائن جلد ۲۲ ص ۵۲۱) جس کی تعلیم شرک و بدعت سے بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ گیتا ترجمہ فیضی سے۔
ابیات
نبی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
منم ہر چہ ہستم خدا از من است
فنا از من است و بقا از من است
باشجار پیپل بدانی مرا
بر گہائے نارو بدانی مرا
اگر گوش داری چناں میشوی
خدا میشوی و خدا مے شوی
تناسخ
بہ تقلیب احوال دل گفتہ اند
گرفتار زندان آمد شد اند
ز بدانشی خصم جان خود اند
اب ناظرین ذرا مرزا قادیانی کے کلمات بھی بغور و ہوش دیکھئے اور سنئے اور انصاف فرمائیے۔ وہو ہٰذا۔ (ترجمہ) ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف فخلقت ادم۔ انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔“
(کتاب البریہ ص ۸۶۔۸۷ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳۔۱۰۵)
اور آگے چل کر اسی کتاب (کتاب البریہ ص ۲۰۷ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۵) میں جہاں یہ مضمون چھڑا ہوا ہے کہ امام مہدی اور عیسیٰ مسیح میں ہوں اور وہ حضرت عیسیٰ ؑ مر چکے ہیں اور جو لوگ ان کا زندہ ہونا آسمان پر مانتے ہیں وہ جاہل اور احمق اور نادان ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث کو غور سے نہیں سمجھتے اور جب ان کو پوچھا جائے کہ اس کے آسمان سے اترنے اور جانے کا کیا ثبوت ہے تو پھر نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث۔
پناہ بخدا۔ میرے صاحبان دیکھو! مرزا قادیانی کا کس قدر جھوٹ بولنا ثابت ہے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ فاضل اجل لاہور میں خود بحث کرنے کے لیے مع بسیار علمائے دین کے تشریف لائے اور مرزا قادیانی بھاگ گئے اور ایسا ہی پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوریؒ کے مقابلہ کرنے سے بھاگتے رہے۔ آخر الامر اس کے دعوٰیٰ کی تردید میں کتاب سیف چشتیائی و شمس الہدایۃ تیار کیں۔ اس طرح ہزار ہا علمائے دین جواب بدلائل قاطعہ اب تک دے رہے ہیں اور خاص کر اب بھی رفیق پیر بخش صاحب پنشنر پوسٹ ماسٹر انجمن تائید الاسلام کی طرف سے مستقل طور پر رسالہ ماہواری (تائید الاسلام) نکلتا ہے جس کے جواب دینے میں مرزا قادیانی اور آپ کے پیرو لا تسلم کا سبق پڑھ کر لاجواب ہو گئے اور انشاء اللہ ہوتے رہیں گے۔
چشمہ آفتاب راچہ گناہ
اور اب فقیر بھی مرزا قادیانی کے گدی نشینوں اور متبعین کو نوٹس دیتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی اور آپ لوگ سچے ہیں تو بیس ہزار روپیہ جو مرزا قادیانی نے بطور انعام اس دعوٰیٰ پر ارقام فرمایا ہے براہ مہربانی بصیغہ منی آرڈر روانہ فرمایا جائے ورنہ سرکاری طور پر درخواست کی جائے گی۔ وہو ہٰذا۔
”اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپے تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کو جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا جس طرح چاہیں تسلی کرلیں۔“
(کتاب البریہ ص ۲۰۷ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۵ حاشیہ)
اور اس کتاب کے ص ۲۰۸ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۶ میں یوں لکھا ہے کہ ”جہاں کسی کا واپس آنا بیان کیا جاتا ہے عرب کے فصیح لوگ رجوع بولا کرتے ہیں نہ نزول۔“
اب ناظرین نے مرزا قادیانی کی عبارت نزول کا لفظ وارد ہے وہ غیر فصیح ہے۔ یہ لفظ ذی عزت آدمی کی خاطر بھی بولا جاتا ہے اور یہ عام محاورہ ہے۔ نزول من السماء اور رجوع کا کلمہ کسی حدیث و کسی کتاب مذہب اسلامیہ میں بھی اس کا ثبوت نہیں اور اگر کوئی شخص دکھا دے تو اس کو بیس ہزار روپیہ علاوہ سزا اور تاوان کے دوں گا۔
میرے صاحب ذرہ انصاف سے حدیثوں کو ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کیا ان میں رجوع اور نزول من السماء کا کلمہ ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو مرزائی صاحبان تحریر شدہ تاوان لے دیں۔ اگر وہ نہ دیں تو سمجھ لیں کہ یہ لوگ کذاب ہیں اور نہ ہی مرزا قادیانی صادق اور مجدد ہو سکتے ہیں؟ اور وہ دلائل یہ ہیں۔
حدیث ..... ۱ قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة.
(نقل از تفسیر درمنثور ص ۳۰ ج ۲ مکتبہ دارالکتب العلمیہ )
یعنی کہا حضرت حسن بصریؒ نے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے واسطے مخاصمین اہل یہود کے حضرت عیسیٰ ؑ اب تک نہیں مرا۔ وہ تمہاری طرف واپس آنے والا ہے قیامت سے پہلے (اس حدیث میں رجوع کا لفظ موجود ہے اور حدیث صحیح ہے)
حدیث ...... ۲ روى اسحق بن بشر وابن عساکر عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ فعند ذلک ینزل اخي عيسى بن مريم من السماء. (کنز العمال ج ۱۴ ص ۶۱۹ حدیث نمبر ۳۹۷۲۶ مختصر ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۹) یعنی کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے، نزدیک ہے کہ میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نزول فرمائے گا۔ (اس حدیث میں کلمہ من السماء کا موجود ہے)
حدیث...... ۳ فانه لم يمت الان بل رفعه الله الى هذا السماء روى ابن جرير وابن حاتم عن ربیع قال ان النصارى اتوا النبی ﷺ الى ان قال الستم تعلمون ربنا حیی لایموت وان عيسى یاتی علیه الفناء. (تفسیر طبری ص ۱۶۳ ج ۳) یعنی کیا تم لوگوں کو علم نہیں رب ہمارا زندہ ہے۔ اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اور عیسیٰ پر موت آئے گی۔
حدیث...... ۴ عن عبداللہ بن سلام قال يُدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ و صاحبيه فيكون قبره رابعا. (درمنثور ج ۲ ص ۲۴۵۔ ۲۴۶) یعنی فرمایا کہ دفن ہوگا عیسیٰ بن مریم ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اور اس کی قبر چوتھی ہوگی۔
حدیث...... ۵ عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فیکم وامامكم منكم.
(رواہ البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات ص ۴۲۴)
ناظرین کیا حدیث نمبر اوّل میں رجوع اور حدیث نمبر ۲ اور حدیث نمبر ۵ میں کلمہ من السماء کا واقع ہے یا نہیں؟
اب مہربانی فرما کر مرزائی صاحبان کو لازم ہے کہ ایفائے وعدہ کریں یا مرزا قادیانی کے اتباع سے توبہ کریں اور علاوہ اس کے مرزا قادیانی کے اور بھی کلمات ہیں۔ اصل کو غور سے دیکھیں اور انصاف کریں کہ کیا یہ مطابق قرآن مجید و احادیث شریف و اجماع مسلمین و آئمہ دین و مجتہدین و مجدد دین کے ہیں یا نہیں؟ وهو هذا، انت منی بمنزلة اولادى انت منى وانا منک. (دافع البلاء ص ۶ خزائن جلد ۱۸ ص ۲۲۷) انت منى بمنزلة
و ولدی ۔ (حقیقة الوحی ص ۸۶ خزائن جلد ۲۲ ص ۸۹) اور معنی ان کے یوں کیے جاتے ہیں کہ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
ناظرین ! کیا یہ مرزا قادیانی کا کہنا سچ ہے؟ ہرگز نہیں ۔ یہ صریح جھوٹ ہے اور خداوند کریم پر افتراء باندھا ہوا ہے ۔ چنانچہ قرآن شریف خود اس کی تردید کرتا ہے ۔
- (اول) لم یلد ولم یولد (الاخلاص) یعنی نہیں جنا اس نے کسی کو اور نہ وہ جنا گیا۔
- (دوم) لم یتخذ ولداً ولم یکن له شریک فی الملک۔ (الفرقان ۲) اس نے کسی کو ولد (بیٹا یا بیٹی) نہیں بنایا
اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے ۔
- (سوم) و من اظلم ممن افتری علی الله کذباً الخ الذین کذبوا علی ربهم الا لعنة الله علی الظلمین ۔ (ھود ۱۸)
- (چہارم) فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیهم ثم یقولون هذا من عندالله لیشتروا به ثمناً قلیلاً ۔ (البقرہ ۷۹)
پس ان تمام مذکورہ بالا آیات بینات سے واضح ہوا کہ جو شخص اللہ پر افترا باندھے یعنی خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے یا خود خدا بنے ۔ یا اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھ کر کہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو میرے منہ سے نکلتا ہے ۔ سو وہ ظالم اور لعنتی اور دوزخی ہے ۔
اور دیکھو مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۸۷) میں لکھا ہے ۔ ”قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں اور اپنی ۔ (کتاب ازالہ اوہام ص ۱۵۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۲) میں لکھا ہے کہ مسیح ؑ یوسف نجار (یعنی یوسف ترکھان کا بیٹا) ہے اور اسی کتاب کے (ص ۶۲۸، ۶۲۹ خزائن جلد ۳ ص ۴۲۹) میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں ۔ خدا کی پناہ ایسے مجددوں سے ۔
میرے صاحبان ! انصاف فرمائیے کہ جس آدمی کے یہ الفاظ ہوں کیا وہ آدمی بقانون شریعت محمدیہ ﷺ مسلمان بھی رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ، ہرگز نہیں ، ہاں بقول شخصے ”سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی ۔“ الغرض مرزا قادیانی کسی صورت میں مجدد نہیں ہو سکتے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
(فتاویٰ نظامیہ ج ۳ ص ۲۵۲ تا ۲۶۰)
مرزا قادیانی مجدد نہیں ، کافر و مرتد تھا
سوال ...... از نوشہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبد الغفور صاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ۔ ایک مرزائی قادیانی کا سوال ہے کہ ابن ماجہ کی حدیث ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر صدی کے بعد مجدد ضرور آئے گا۔ مرزا قادیانی مجدد وقت ہے ۔ عالی جا! اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہے ، ثبوت کے لیے کوئی رسالہ وغیرہ ارسال فرمائیں تاکہ گمراہی سے بچیں۔
الجواب ...... مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضروری ہے ، اور قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ: من شک فی کفره و عذابه فقد کفر . (درمختار ص ۳۱۷ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ) جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ۔
لیڈر بننے والوں کی ایک ناپاک پارٹی قائم ہوئی ہے جو گاندھی مشرک کو رہبر ، دین کا امام و پیشوا مانتے ہیں ، نہ گاندھی امام ہو سکتا ہے نہ قادیانی مجدد ، السوء والعقاب و قہر الدیان و حسام الحرمین مطبع اہلسنت بریلی سے منگوائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۳۸۲)
باب نہم
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والوں کے بارے میں حکم
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم
سوال ...... کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں اسلام میں ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب ...... جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اسلام سمجھتا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۱۲۔۲۱۳)
مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا حکم
سوال ...... جو شخص فرقہ ضالہ مرزائیہ کو اسلام پر سمجھتا ہو اس کے بارہ میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟
جواب ...... جو ان کو مسلمان کہے وہ بھی اسی طرح مرزائی ہو جائے گا۔
(فتاویٰ علماء حدیث ص ۱۲۷)
مرزا قادیانی کو سچا ماننے والے کا حکم
سوال ...... ایک بزرگ جو اپنے آپ کو اللہ والا اور روحانیت کا بادشاہ جتاتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد اور موجودہ جماعت احمدیہ کے قائل ہیں۔ قوم ہنود کے ایک فرقے کے اوتار ہونے کے مدعی اور مامور جماعت احمدیہ کے متمنی، مذکورہ اعتقاد رکھنے والے کی رائے امور شرعیہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے بزرگ کا شرعی معاملات میں اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
(المستفتی ۸۷ سلطان احمد خاں (برار) ۲۳ محرم ۱۳۵۵ھ مطابق ۱۶ اپریل ۱۹۳۶ء)
جواب ...... جو شخص غلام احمد قادیانی کو مانے اور ان کے دعوؤں کی تصدیق کرے اور اپنے آپ کو اوتار بتائے وہ گمراہ اور اسلام سے خارج ہے۔ اس کی بات ماننا اور اس کو پیر بنانا یا اس کی جماعت میں شریک ہونا حرام ہے۔ مسلمانوں کو اس سے قطعاً محترز اور مجتنب رہنا چاہیے۔ محمد کفایت اللہ
(کفایت المفتی جلد ۱ ص ۳۱۷)
مرزائی کو کافر نہ سمجھنے والے کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین مسائل ذیل میں کہ ایک مولوی صاحب تعلیم یافتہ مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے ہیں اور شاگرد حضرت مولانا شیخ الہند محمود حسنؒ صاحب کے ہیں اور نہایت صحیح العقیدہ اہلسنت ہیں۔ اور نہایت پختہ حنفی المذہب دیوبندی ہیں۔ صرف ان کا ہمیشہ سے عقیدہ مرزا قادیانی کو کافر نہ کہنے کا ہے، ہاں بدعتی ملحد۔ بے دین۔ زندیق۔ خارجی دائرہ سنت جماعت سے خارج غرض ہر برے لفظ سے برا کہتے ہیں۔ لیکن کافر نہیں کہتے کہ مذہب اثبت واسلم یہی ہے۔ اس لیے کہ متقدمین فقہاء مجتہدین جس بدعتی کی بدعت خلاف قطعیت تاویل کرنے سے کفر تک بھی پہنچ جائے اس کو بھی بسبب اہل قبلہ ہونے کے کافر نہیں کہتے اور بعض فقہاء مجتہدین کافر کہتے ہیں۔
چنانچہ (درمختار ج ۱ ص ۴۱۳، ۴۱۵) وغیرہ کتب میں بشرح مسطور ہے۔ کل من كان من قبلتنا لا يكفر به حتى الخوارج الذين يستحلون دمائنا واموالنا و نسائنا و سب اصحاب رسول الله ﷺ و ينكرون صفاته تعالى و جواز رؤيته لكونه تاويلا و شبهة. پس ان کا اعتقاد اس سبب سے بگڑا کہ انھوں نے معانی نص کو اپنے مطلب کے موافق بنا لیا جو معانی سلف الصالحین سے مروی تھے ان کے پابند نہ ہوئے۔ وما من کفرہم اس پر امام شامی نے فرمایا کہ مذہب معتمد اس کے خلاف اور خلاصہ سے بحرالرائق نے بعض ایسے فروع نقل کیے ہیں کہ جن بدعتیوں کا صریح کفر پایا جاتا ہے مگر ان کے لیے کہا ہے مذہب معتمد یہی ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو بھی کافر نہ کہا جائے۔ (ان کی تاویل کے سبب) (درمختار ص ۳۳۸ ج ۳) میں ہے۔ ثم الخارجون عن طاعة الامام...... بتاويل يرون انه على باطل كفر او معصية توجب قتاله بتاويلهم يستحلون دمائنا و اموالنا و يسبون نسائنا و يكفرون اصحاب نبينا عليه افضل الصلوة حكمهم حكم البغاة باجماع الفقهاء كما حققه فى الفتح. اس کے بعد صاحب درمختار نے فرمایا۔ وانما لم نكفرهم لكونه عن تاويل وان كان باطلا بخلاف المستحل بلا تاويل كما مر فى باب الامامة (درمختار ص ۳۳۹ ج ۳) فتح القدیر میں ہے کہ جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک کافر نہیں اور بعض محققین ان کے کفر کے قائل ہوئے ہیں اور محیط میں ہے۔ بعض فقہاء تکفیر کے قائل ہیں اور بعض فقہاء تکفیر نہیں کرتے اس بدعت والے کی جس کی بدعت دلیل قطعی کے مخالف اور کفر ہو۔ صاحب محیط نے عدم تکفیر کو اثبت واسلم لکھا ہے۔ امام حلبی نے کہا کہ یہ کلا وجهيه هكذا فى غاية الاوطار اس پر مولوی صاحب موصوف الصدر فرماتے ہیں کہ سلف الصالحین کا طریق افضل واسلم ہے۔ مرزا قادیانی کے کفر بھی تمام تاویلات باطلہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اب اس مولوی صاحب کا کیا حال ہے۔ ان کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ اور پہلے جو عرصہ دراز سے ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں۔ ان سب کی قضا ہے یا نہ؟ اور مرزا مذکور کو کافر کہنا فرض یا سنت یا ترک اولیٰ۔ مولوی صاحب مذکور کا استدلال صحیح ہے یا غلط؟
جواب...... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت چونکہ ان کی ذاتی تحریرات اور لٹریچر سے اور اس کے متبعین کی عظیم جماعت کی سند سے متواتر ثابت ہو چکا ہے اور ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کسی نئی نبوت (خواہ جس قسم کی بھی ہو) کا عطا ہونا بند ہو چکا ہے۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ اسی عقیدہ پر گزر چکا ہے اور ضروریات دین میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔ غیر ضروریات دین میں خواہ قطعیات کیوں نہ ہوں۔ تاویل کرنے سے حکم کفر سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن ضروریات دین میں نہیں...... (رسالہ اکفار الملحدین فی ضروریات الدین مؤلفہ حضرت شاہ صاحب کشمیری) مولوی صاحب کو اس عقیدہ سے توبہ کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔ محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان (فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۳ تا ۲۰۵)
مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت ومہدویت سے واقف ہونے کے باوجود اس کو مسلمان کہنے والے کا حکم
سوال...... مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت اور مہدیت سے واقف و آشنا ہو کر بھی کوئی شخص مرزا کو مسلمان سمجھتا ہے تو کیا وہ کہنے والا شخص مومن ہو سکتا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب...... مرزا قادیانی کے عقائد و نظریات و خیالات باطلہ اس حد تک غلیظ ہیں کہ ان سے واقف ہو کر کوئی
مسلمان شخص مرزا کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ البتہ جسے اس کے عقائد باطلہ کا علم نہ ہو اور تاویل کرے اور اسے کافر نہ کہے تو ممکن ہے ورنہ نہیں۔ بہرحال جاننے کے بعد مرزا کو کافر کہنا ضروری ہے۔ البتہ جو شخص بہ سبب کسی شبہ اور تاویل کے کافر نہ کہے تو ایسے شخص کی تکفیر میں احتیاط کی جائے گی پس اسے کافر نہ کہا جائے گا۔ معترض کا نفسیاتی تجزیہ کر کے دیکھا جائے کہ وہ مرزا کے بارے میں کیا کہتا ہے تب قول کیا جائے احتیاط یہی ہے کہ عدم تکفیر کا قول کیا جائے۔ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ رحیمیہ ص ۳۲۹)
مرزا قادیانی کی تعریف کرنے والے کا حکم
سوال ..... خواجہ کمال الدین لاہوری، مرزا غلام احمد قادیانی کی فصاحت بلاغت کی تعریف کرتے ہیں یا ان کا استقبال کرنا یا ان کو اپنے یہاں مہمان کرنا کیسا ہے ایسا شخص مرتد ہے یا نہیں؟
الجواب ..... مرتد تو نہیں، فاسق و عاصی ضرور ہے کہ بے دین کی تعظیم کرتا ہے باقی جو معتقد عقائد قادیانی کا ہے اس کے ارتداد پر فتویٰ علماء کا ہو چکا ہے۔
(شرح فقہ اکبر ص ۱۸۴) (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۳۳۴)
قادیانیوں سے نرمی کرنے والے کا حکم؟
سوال ..... کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثرہم اللہ تعالیٰ و نصرہم و ایدہم اس مسئلہ میں کہ ایک سنیوں کے محلہ میں بکر قادیانی آ کر بسا، زید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانے سے، اس سے خلا ملا میل جول حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیا، ہندہ جس کے بیٹے وغیرہ سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں، اس نے کہا کہ بڑے نمازیے، پڑھ کر ملا ہو گئے، ہم عذاب ہی بھگت لیں گے۔ اس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے، تو اب ہندہ کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب ..... ہندہ نماز کی تحقیر کرنے اور عذاب الٰہی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعل مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و ناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہو گئی۔ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی جب تک نئے سرے سے مسلمان ہو کر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(احکام شریعت۔ احمد رضا خان ص ۱۹۷ مشمولہ فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۶۵۴)
مسلمان کو مرزائی کہنے والے کا حکم
سوال ..... چہ می فرمایند علماء دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ شخصے بنام عبدالعزیز مرا کہ من قسم بخدائے ذوالجلال والاکرام صحیح العقیدہ مسلمان ہستم۔ مرزائی بگوید۔ و پروپیگنڈا بکند ایں را سزا از روئے قرآن کریم و حدیث شریف و فقہ چیست ۔ بینوا توجروا۔
جواب ..... منجملہ از شروط صحت اسلام و درستی عقیدہ ایں ہم است کہ یقین حاصل باشد۔ کہ بعد از ختم المرسلین ﷺ ہر کہ دعویٰ نبوت کردہ آں دجال۔ کافر۔ کذاب ہست۔ اگر فی الواقعہ شما ایں عقیدہ میدارید۔ و نیز دیگر ضروریات دین را یقین میکنید و با ایں ہمہ کسے شمارا مرزائی یا کافر گوید۔ آں مجرم است و آں را خوف کفر است توبہ کردن لازم ۔ لیکن شرط ایں است کہ او بالیقین ایں قسم جملہ گفتہ باشد۔ و باقاعدہ شہادت شرعی بر گفتن او ازیں قسم جملہ ہائی موجود باشد۔ واللہ اعلم۔ محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۱۴/۸/۱۳۸۵
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۱۹۹)
باب ہشتم
ظہور مہدی و فتنہ دجال
حضرت مہدیؑ کے بارے میں اہلسنت کا عقیدہ
سوال...... ہمارے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی رو سے وہ ہمارے نبی ﷺ آخر الزمان ہیں۔ یہ ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے لیکن پھر آنحضرت ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی وفات کے بعد اور قیامت سے پہلے ایک نبی آئیں گے۔ حضرت مہدیؑ جن کی والدہ کا نام حضرت آمنہ اور والد کا نام حضرت عبداللہ ہوگا تو کیا یہ حضرت مہدیؑ ہمارے نبی کریم ﷺ تو نہیں ہوں گے جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ میرے نانا محترم مولوی آزاد فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ خطبہ میں فرما رہے تھے کہ قیامت سے پہلے حضرت مہدیؑ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لوگوں نے نشانیاں سن کر پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا وہ آپ ﷺ تو نہیں۔ آپ ﷺ مسکرا کر خاموش رہے۔ آپ ﷺ کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی میں اس دنیا میں دوبارہ آؤں گا۔ اس کا جواب تفصیل سے دے کر شکریہ کا موقع دیں۔
جواب...... حضرت مہدیؑ کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہل حق کا اتفاق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق و شمائل میں آنحضرت ﷺ کے مشابہ ہوں گے وہ نبی نہیں ہوں گے۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ نہ ان کی نبوت پر کوئی ایمان لائے گا۔
ان کی کفار سے خونریز جنگیں ہوں گی۔ ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا اور وہ لشکر دجال کے محاصرے میں گھر جائیں گے۔ ٹھیک نماز فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لیے سیدنا عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدیؑ کی اقتدا میں پڑھیں گے۔ نماز کے بعد دجال کا رخ کریں گے۔ وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا۔ حضرت عیسیٰؑ اس کا تعاقب کریں گے اور اسے باب لُد پر قتل کر دیں گے دجال کا لشکر تہ تیغ ہوگا اور یہودیت و نصرانیت کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔
یہ ہے وہ عقیدہ جسے آنحضرت ﷺ سے لے کر تمام سلف صالحین، صحابہ و تابعین اور ائمہ مجددین معتقد رہے ہیں۔ آپ کے نانا محترم نے جس خطبہ کا ذکر کیا ہے اس کا حدیث کی کسی کتاب میں ذکر نہیں۔ اگر انھوں نے کسی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے تو بالکل لغو اور مہمل ہے۔ ایسی بے سروپا باتوں پر اعتقاد رکھنا صرف خوش فہمی ہے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ سلف صالحین کے مطابق عقیدہ رکھے اور ایسی باتوں پر اپنا ایمان ضائع نہ کرے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۷، ۲۶۸)
حضرت مہدی کا ظہور کب ہوگا اور وہ کتنے دن رہیں گے؟
سوال ...... امام مہدی کا ظہور کب ہوگا اور آپ کہاں پیدا ہوں گے اور کتنا عرصہ دنیا میں رہیں گے؟
جواب ...... امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا کوئی وقت متعین قرآن و حدیث میں نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ کہ ان کا ظہور کس صدی میں، کس سال ہوگا۔ البتہ احادیث طیبہ میں بتایا گیا ہے کہ ان کا ظہور قیامت کی ان بڑی علامتوں کی ابتدائی کڑی ہے جو بالکل قرب قیامت میں ظاہر ہوں گی اور ان کے ظہور کے بعد قیامت کے آنے میں زیادہ وقفہ نہیں ہوگا۔
امام مہدی کہاں پیدا ہوں گے؟ اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ایک روایت منقول ہے کہ مدینہ طیبہ میں ان کی پیدائش و تربیت ہوگی۔ مکہ مکرمہ میں ان کی بیعت خلافت ہوگی اور بیت المقدس ان کی ہجرت گاہ ہوگا۔ روایات و آثار کے مطابق ان کی عمر چالیس برس کی ہوگی۔ جب ان سے بیعت خلافت ہوگی۔ ان کی خلافت کے ساتویں سال کانا دجال نکلے گا۔ اس کو قتل کرنے کے لیے حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے دو سال حضرت عیسیٰؑ کی معیت میں گزریں گے اور ۴۹ برس میں ان کا وصال ہوگا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۸)
حضرت مہدی کا زمانہ
سوال ...... روز نامہ جنگ میں آپ کا مضمون علامات قیامت پڑھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ہر مسئلے کا حل اطمینان بخش طور پر اور حدیث و قرآن کے حوالے سے دیا کرتے ہیں۔ یہ مضمون بھی آپ کی علمیت اور تحقیق کا مظہر ہے۔ لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ پورا مضمون پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰؑ کے کفار اور عیسائیوں سے جو معرکے ہوں گے ان میں گھوڑوں، تلواروں، تیر کمان وغیرہ کا استعمال ہوگا۔ فوجیں قدیم زمانے کی طرح میدان جنگ میں آمنے سامنے ہو کر لڑیں گی۔ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مہدی قسطنطنیہ سے نو گھڑ سواروں کو دجال کا پتہ معلوم کرنے کے لیے شام بھیجیں گے۔ گویا اس زمانے میں ہوائی جہاز دستیاب نہ ہوں گے۔ پھر یہ کہ حضرت عیسیٰؑ دجال کو ایک نیزے سے ہلاک کریں گے اور یاجوج ماجوج کی قوم بھی جب فساد برپا کرنے آئے گی تو اس کے پاس تیر کمان ہوں گے۔ یعنی وہ اسٹین گن رائفل، پسٹل اور تباہ خیز بموں کا زمانہ نہ ہوگا۔ زمین پر انسان کے وجود میں آنے کے بعد سے سائنس برابر ترقی ہی کر رہی ہے اور قیامت کے آنے تک تو اس میں قیامت خیز ترقی ہو چکی ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے حکم سے چند خاص آدمیوں کے ہمراہ یاجوج ماجوج کی قوم سے بچنے کے لیے کوہ طور کے قلعے میں پناہ گزین ہوں گے یعنی دنیا کے باقی اربوں انسانوں کو جو سب مسلمان ہو چکے ہوں گے یاجوج ماجوج کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اتنے انسان تو ظاہر ہے اس قلعے میں بھی نہیں سما سکتے۔ میں نے کسی کتاب میں یہ دعا پڑھی تھی جو حضور ﷺ نے فتنہ دجال سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو بتائی تھی مجھے یاد نہیں رہی۔ مندرجہ بالا باتوں کی وضاحت کے علاوہ وہ دعا بھی تحریر فرما دیں تو عنایت ہوگی۔
جواب ...... انسانی تمدن کے ڈھانچے بدلتے رہتے ہیں۔ آج ذرائع مواصلات اور آلات جنگ کی جو ترقی یافتہ شکل ہمارے سامنے ہے۔ آج سے ڈیڑھ دو صدی پہلے اگر کوئی شخص اس کو بیان کرتا تو لوگوں کو اس پر ”جنون“
کا شبہ ہوتا۔ اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سائنسی ترقی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہے گی یا خودکشی کر کے انسانی تمدن کو پھر تیر و کمان کی طرف لوٹا دے گی؟ ظاہر ہے کہ اگر یہ دوسری صورت پیش آئے، جس کا خطرہ ہر وقت موجود ہے اور جس سے سائنس دان خود بھی لرزہ براندام ہیں تو ان احادیث طیبہ میں کوئی اشکال باقی نہیں رہ جاتا جن میں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔
فتنہ دجال سے حفاظت کے لیے سورۂ کہف جمعہ کے دن پڑھنے کا حکم ہے۔ کم از کم اس کی پہلی اور پچھلی دس دس آیتیں تو ہر مسلمان کو پڑھتے رہنا چاہیے اور ایک دعا حدیث شریف میں یہ تلقین کی گئی ہے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ۔ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ۔ اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔
ترجمہ: ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے ہر فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ سے اور قرض و تاوان سے۔“
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۸ تا ۲۷۰)
حضرت مہدیؑ کے ظہور کی کیا نشانیاں ہیں؟
سوال...... آپ کے صفحے ”اقراء“ کے مطابق امام مہدیؑ آئیں گے۔ جب امام مہدیؑ آئیں گے تو ان کی نشانیاں کیا ہوں گی؟ اور اس وقت کیا نشان ظاہر ہوں گے جس سے ظاہر ہو کہ حضرت امام مہدیؑ آگئے ہیں۔ قرآن وحدیث کا حوالہ ضرور دیجئے۔
جواب...... اس نوعیت کے ایک سوال کا جواب میں ”اقراء“ میں پہلے دے چکا ہوں مگر جناب کی رعایت خاطر کے لیے ایک حدیث لکھتا ہوں۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ”ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلہ پر) اختلاف ہوگا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آ جائے گا (یہ مہدیؑ ہوں گے اور اس اندیشہ سے بھاگ کر مکہ آ جائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنا دیا جائے) مگر لوگ ان کے انکار کے باوجود ان کو خلافت کے لیے منتخب کریں گے۔ چنانچہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (بیت اللہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے۔“
”پھر ملک شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا۔ لیکن یہ لشکر ”بیداء“ نامی جگہ میں جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص و عام کو دور دور تک معلوم ہو جائے گا کہ یہ مہدیؑ ہیں) چنانچہ ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی جس کی ننھیال قبیلہ بنو کلب میں ہو گی آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا۔ آپ بنو کلب کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجیں گے وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لیے جو بنو کلب کے مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔ پس حضرت مہدیؑ خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی ﷺ کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا۔ (یعنی
اسلام کو استقرار نصیب ہوگا) حضرت مہدی سات سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“ (یہ حدیث مشکوٰۃ شریف ص ۴۷۱ میں ابوداؤد کے حوالے سے درج ہے اور امام سیوطیؒ نے العرف الوردی فی آثار المہدیؒ ص ۵۹ میں اس کو ابن ابی شیبہ، احمد، ابوداؤد، ابویعلی اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے )
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷)
مرزا قادیانی کے علاوہ پوری امت نے مہدی اور مسیح کو الگ قرار دیا
سوال ...... مہدی، اس دنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی وجود ہیں؟
جواب....... حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت مہدیؒ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ مرزا قادیانی نے خودغرضی کے لیے عیسیٰ اور مہدی کو ایک ہی وجود فرض کر لیا حالانکہ تمام اہل حق اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۳)
فرقہ مہدویہ کے عقائد
سوال....... فرقہ مہدویہ کے متعلق معلومات کرنا چاہتا ہوں ان کے کیا گمراہ کن عقائد ہیں یہ لوگ، نماز، روزہ کے پابند اور شریعت کے دعویدار ہیں کیا مہدویہ، ذکریہ، ایک ہی قسم کا فرقہ ہے؟ مہدی کی تاریخ کیا اور مدفن کہاں ہے؟
جواب....... فرقہ مہدویہ کے عقائد و نظریات پر مفصل کتاب مولانا عین القضاۃ صاحب نے ”ہدایہ مہدویہ“ کے نام سے لکھی تھی، جو اب نایاب ہے میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔
فرقہ مہدویہ سید محمد جون پوری کو مہدی موعود سمجھتا ہے۔ جس طرح کہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی سمجھتے ہیں۔ سید محمد جون پوری کا انتقال افغانستان میں غالباً ۹۱۰ھ میں ہوا تھا۔
فرقہ مہدویہ کی تردید میں شیخ علی متقی شیخ محمد طاہر پٹنی اور امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے رسائل لکھے تھے۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دیگر جھوٹے مدعیوں کے ماننے والے فرقے ہیں اور ان کے عقائد و نظریات اسلام سے ہٹے ہوئے ہیں اسی طرح یہ فرقہ بھی غیر مسلم ہے۔ جہاں تک مختلف فرقوں کے وجود میں آنے کا تعلق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ نئے نئے نظریات پیش کرتے ہیں اور ان کے ماننے والوں کا ایک حلقہ بن جاتا ہے اس طرح فرقہ بندی وجود میں آ جاتی ہے۔ اگر سب لوگ آنحضرت ﷺ کی سنت پر قائم رہتے اور صحابہ کرامؓ اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چلتے تو کوئی فرقہ وجود میں نہ آتا۔ رہا یہ کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس کا جواب اوپر کی سطروں سے معلوم ہو چکا ہے کہ ہمیں کتاب و سنت اور بزرگان دین کے راستہ پر چلنا چاہیے اور جو شخص یا گروہ اس راستہ سے ہٹ جائے ہمیں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۱۹۲)
الامام المہدیؒ ...... سنی نظریہ
محترم المقام جناب مولانا لدھیانوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
”جنگ“ جمعہ ایڈیشن میں کسی سوال کے جواب میں آپ نے مہدی منتظر کی ”مفروضہ پیدائش“ پر روشنی ڈالتے ہوئے ”امام مہدیؑ“ کے پرشکوہ الفاظ استعمال کیے ہیں جو صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے مخصوص ہیں۔ دوسرے، قرآن مقدس اور حدیث مطہرہ سے ”امامت“ کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں اس سلسلہ میں جو روایات ہیں وہ معتبر نہیں کیونکہ ہر سلسلۂ رواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذب اور من گھڑت احادیث کے لیے مشہور ہے۔
ابن خلدون نے اس بارے میں جن موافق ومخالف احادیث کو یکجا کرنے پر اکتفا کیا ہے ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتی، اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔
لہٰذا میں حق وصداقت کے نام پر درخواست کروں گا کہ مہدی منتظر کی شرعی حیثیت قرآن عظیم اور صحیح احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں بذریعہ ”جنگ“ مطلع فرمائیں تاکہ اصل حقیقت ابھر کر سامنے آجائے۔ اس سلسلہ میں مصلحت اندیشی یا کسی قسم کا ابہام یقیناً قیامت میں قابل مؤاخذہ ہوگا۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق مہدی منتظر کی ۲۵۵ھ میں جناب حسن عسکریؒ کے یہاں نرجس خاتون کے بطن سے ولادت ہو چکی ہے اور وہ حسن عسکریؒ کی رحلت کے فوراً بعد ۵ سال کی عمر میں حکمت خداوندی سے غائب ہو گئے اور اس غیبت میں اپنے نائبین، حاجزین، سفرا اور وکلاء کے ذریعہ خمس وصول کرتے، لوگوں کے احوال دریافت کر کے حسب ضرورت ہدایات، احکامات دیتے رہتے ہیں اور انھیں کے ذریعہ اس دنیا میں اصلاح وخیر کا عمل جاری ہے۔ اس کی تائید میں لٹریچر کا طویل سلسلہ موجود ہے۔
میرے خیال میں علماء اہلسنت نے اس ضمن میں اپنے اردگرد پائی جانے والی مشہور روایات ہی کو نقل کر دیا ہے۔ مزید تاریخی یا شرعی حیثیت وتحقیق سے کام نہیں لیا اور اغلباً اسی اتباع میں آپ نے بھی اس ”مفروضہ“ کو بیان کر ڈالا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب ...... حضرت مہدی علیہ الرضوان کے لیے ”رضی اللہ عنہ“ کے ”پرشکوہ الفاظ“ پہلی بار میں نے استعمال نہیں کیے بلکہ اگر آپ نے مکتوبات امام ربانی ؒ کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مکتوبات شریفہ میں امام ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے حضرت مہدیؑ کو انھیں الفاظ سے یاد کیا ہے۔ پس اگر یہ آپ کے نزدیک غلطی ہے تو میں یہی عرض کر سکتا ہوں کہ اکابر امت اور مجددین ملت کی پیروی میں غلطی ......
کی مصداق ہے۔ غالباً کسی ایسے ہی موقع پر امام شافعیؒ نے فرمایا تھا ......
فليشهد الثقلان انی رافض
(اگر آل محمد ﷺ سے محبت کا نام رافضیت ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں پکا رافضی ہوں)
آپ نے حضرت مہدی کو ”رضی اللہ عنہ“ کہنے پر جو اعتراض کیا ہے اگر آپ نے غور وتامل سے کام لیا ہوتا تو آپ کے اعتراض کا جواب خود آپ کی عبارت میں موجود ہے کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ ”رضی اللہ عنہ“ کے الفاظ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق ومصاحب ہوں گے۔ پس جب میں نے ایک ”مصاحب رسول“
ہی کے لیے ”رضی اللہ عنہ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ عام طور پر حضرت مہدی کے لیے ”علیہ السلام“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جو لغوی معنی کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے، اور مسلمانوں میں ”السلام علیکم“ ”علیکم السلام“ یا ”علیکم وعلیہ السلام“ کے الفاظ روزمرہ استعمال ہوتے ہیں۔ مگر کسی کے نام کے ساتھ یہ الفاظ چونکہ انبیاء کرام یا ملائکہ عظام کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس لیے میں نے حضرت مہدیؑ کے لیے کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ کیونکہ حضرت مہدیؑ نبی نہیں ہوں گے۔
جناب کو حضرت مہدیؑ کے لیے ”امام“ کا لفظ استعمال کرنے پر بھی اعتراض ہے اور آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ”قرآن مقدس اور حدیث مطہرہ سے امامت کا کوئی تصور نہیں ملتا۔“ اگر اس سے مراد ایک خاص گروہ کا نظریہ امامت ہے تو آپ کی یہ بات صحیح ہے۔ مگر جناب کو یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہیے تھی کہ میں نے بھی ”امام“ کا لفظ اسی اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا ہوگا۔ کم سے کم امام مہدی کے ساتھ ”رضی اللہ عنہ“ کے الفاظ کا استعمال ہی امر کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ ”امام“ سے یہاں ایک خاص گروہ کا اصطلاحی ”امام“ مراد نہیں۔
اور اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبوی ﷺ میں کسی شخص کو امام بمعنی مقتدا، پیشوا، پیش رو کہنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تو آپ کا یہ ارشاد بجائے خود ایک عجوبہ ہے۔ قرآن کریم، حدیث نبوی ﷺ اور اکابر امت کے ارشادات میں یہ لفظ اس کثرت سے واقع ہوا ہے کہ عورتیں اور بچے تک بھی اس سے نامانوس نہیں۔ آپ کو ”وجعلنا للمتقین اماما“ کی آیت اور ”من بایع اماما“ کی حدیث تو یاد ہوگی اور پھر امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے ہزاروں افراد ہیں جن کو ہم ”امام“ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ فقہ و کلام کی اصطلاح میں ”امام“ مسلمانوں کے سربراہ مملکت کو کہا جاتا ہے۔ (جیسا کہ حدیث من بایع اماما میں وارد ہوا ہے)۔
حضرت مہدیؑ کا ہدایت یافتہ اور مقتدا و پیشوا ہونا تو لفظ مہدی ہی سے واضح ہے اور وہ مسلمانوں کے سربراہ بھی ہوں گے اس لیے ان کے لیے ”امام“ کے لفظ کا استعمال قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کے لحاظ سے کسی طرح بھی محل اعتراض نہیں۔
ظہور مہدیؑ کے سلسلہ کی روایات کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد کہ:۔ ”اس سلسلہ میں جو روایات ہیں وہ معتبر نہیں۔ کیونکہ ہر سلسلہ روایت میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذب اور من گھڑت احادیث کے لیے مشہور ہے۔“
بہت ہی عجیب ہے۔ معلوم نہیں جناب نے یہ روایات کہاں دیکھی ہیں جن میں سے ہر روایت میں قیس بن عامر کذاب آ گھستا ہے۔
میرے سامنے ابوداؤد (ج ۲ ص ۵۸۸، ۵۸۹) کھلی ہوئی ہے جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی، حضرت ام سلمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کی روایت سے احادیث ذکر کی گئی ہیں، ان میں سے کسی سند میں مجھے قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔
جامع ترمذی (ج ۲، ص ۴۶) میں حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کی احادیث ہیں۔ ان میں سے اول الذکر دونوں احادیث کو امام ترمذی نے ”صحیح“ کہا ہے اور آخر الذکر کو ”حسن“۔ ان میں بھی کہیں قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔
سنن ابن ماجہ میں یہ احادیث حضرات عبداللہ بن مسعود، ابوسعید خدری، ثوبان، علی، ام سلمہ، انس بن مالک،
عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہم کی روایت سے مروی ہیں۔ ان میں بھی کسی سند میں قیس بن عامر کا نام نہیں آتا۔ مجمع الزوائد (ج ۷ ص ۳۱۵ تا ۳۱۸) میں مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے اکیس روایات نقل کی ہیں۔
- ۱ ...... حضرت ابوسعید خدریؓ ...... ۴
- ۲ ...... حضرت ام سلمہؓ ...... ۴
- ۳ ...... حضرت ابوہریرہؓ ...... ۳
- ۴ ...... حضرت ام حبیبہؓ ...... ۱
- ۵ ...... حضرت عائشہؓ ...... ۱
- ۶ ...... حضرت قرۃ بن ایاسؓ ...... ۱
- ۷ ...... حضرت انسؓ ...... ۱
- ۸ ...... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ...... ۱
- ۹ ...... حضرت جابرؓ ...... ۱
- ۱۰ ...... حضرت طلحہؓ ...... ۱
- ۱۱ ...... حضرت علیؓ ...... ۱
- ۱۲ ...... حضرت ابن عمرؓ ...... ۱
- ۱۳ ...... حضرت عبداللہ بن حارثؓ ...... ۱
ان میں سے بعض روایات کے راویوں کی تضعیف کی ہے اور دو روایتوں میں دو کذاب راویوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ مگر کسی روایت میں قیس بن عامر کا نام ذکر نہیں کیا۔ اس لیے آپ کا یہ کہنا کہ ہر روایت کے سلسلہ رواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، محض غلط ہے۔
آپ نے مؤرخ ابن خلدون کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے اس سلسلہ میں موافق اور مخالف احادیث کو یکجا جمع کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتی اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔
اس سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفہ عادل کے ظہور کی احادیث صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دیگر کتب احادیث میں مختلف طریق سے موجود ہیں۔ یہ احادیث اگرچہ فرداً فرداً آحاد ہیں مگر ان کا قدر مشترک متواتر ہے۔ آخری زمانے کے اسی خلیفہ عادل کو احادیث طیبہ میں ”مہدی“ کہا گیا ہے۔ جن کے زمانے میں دجال اعور کا خروج ہوگا اور حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہو کر اسے قتل کریں گے۔ بہت سے اکابر امت نے احادیث مہدی کو نہ صرف صحیح بلکہ متواتر فرمایا ہے انہی متواتر احادیث کی بنا پر امت اسلامیہ ہر دور میں آخری زمانے میں ظہور مہدی کی قائل رہی ہے۔ خود ابن خلدون کا اعتراف ہے۔
اعلم ان المشهور بين الكافة من اهل الاسلام على ممر الاعصار انه لابد فى آخر الزمان من ظهور رجل من اهل البيت يؤيد الدين و يظهر العدل و يتبعه المسلمون و يستولى على الممالك الاسلامية و يسمى بالمهدى و يكون خروج الدجال و ما بعده من اشراط الساعة الثابتة فى الصحيح على اثره و ان عيسى ينزل من بعده فيقتل الدجال او ينزل معه فيساعده على قتله و يأتم بالمهدى فى صلاته.
(مقدمہ ابن خلدون ص ۳۱۱)
ترجمہ: ”جاننا چاہیے کہ تمام اہل اسلام کے درمیان ہر دور میں یہ بات مشہور رہی ہے کہ آخری زمانے میں اہل بیت میں سے ایک شخص کا ظہور ضروری ہے جو دین کی تائید کرے گا۔ عدل ظاہر کرے گا اور مسلمان اس کی پیروی کریں گے اور تمام ممالک اسلامیہ پر اس کا تسلط ہوگا۔ اس کا نام مہدی ہے اور دجال کا خروج اور اس کے بعد کی وہ علامات قیامت جن کا احادیث صحیحہ میں ذکر ہے۔ ظہور مہدی کے بعد ہوں گی اور عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے بعد نازل ہوں گے۔ پس دجال کو قتل کریں گے یا مہدی کے زمانے میں نازل ہوں گے۔ پس حضرت مہدیؑ قتل دجال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز میں حضرت مہدیؑ کی اقتدا کریں گے۔“
اور یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں بھی ”علامات قیامت“ کے ذیل میں ظہور مہدی کا عقیدہ ذکر کیا گیا ہے اور اہل علم نے اس موضوع پر مستقل رسائل بھی تالیف فرمائے ہیں۔ پس ایک ایسی خبر جو احادیث متواترہ میں ذکر کی گئی ہو، جسے ہر دور اور ہر زمانے میں تمام مسلمان ہمیشہ مانتے چلے آئے ہوں اور جسے اہلسنت کے عقائد میں جگہ دی گئی ہو۔ اس پر جرح کرنا یا اس کی تخفیف کرنا پوری امت اسلامیہ کو گمراہ اور جاہل قرار دینے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے خط کے آخر میں مہدی کے بارے میں ایک مخصوص فرقہ کا نظریہ ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے۔
”میرے خیال میں علماء اہلسنت نے اس ضمن میں اپنے اردگرد پائی جانے والی مشہور روایات ہی کو نقل کر دیا ہے۔ مزید تاریخی یا شرعی حیثیت و تحقیق سے کام نہیں لیا اور اغیار کی اتباع میں آپ نے بھی اس ”مفروضہ“ کو بیان کر ڈالا، کیا یہ درست ہے؟“
گویا حفاظ حدیث سے لے کر مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ تک وہ تمام اکابر امت اور مجددین ملت جنھوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دکھایا آپ کے خیال میں سب دودھ پیتے بچے تھے کہ وہ تاریخی و شرعی تحقیق کے بغیر گرد و پیش میں پھیلے ہوئے افسانوں کو اپنی اسانید سے نقل کر دیتے اور انھیں اپنے عقائد میں ٹانک لیتے تھے۔ غور فرمائیے کہ ارشاد نبوی ﷺ ”ولعن آخر هذه الامة اولها“ کی کیسی شہادت آپ کے قلم نے پیش کر دی۔ میں نہیں سمجھتا کہ احساس کمتری کا یہ عارضہ ہمیں کیوں لاحق ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے گھر کی ہر چیز کو ”آوردۂ اغیار“ تصور کرنے لگتے ہیں۔ آپ علمائے اہلسنت پر یہ الزام لگانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ انھوں نے ملاحدہ کی پھیلائی ہوئی روایات کو تاریخی و شرعی معیار پر پرکھے بغیر اپنے عقائد میں شامل کر لیا ہوگا (جس سے اہلسنت کے تمام عقائد و روایات کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے، اور اسی کو میں ”احساس کمتری“ سے تعبیر کر رہا ہوں) حالانکہ اسی مسئلہ کا جائزہ آپ دوسرے نقطۂ نظر سے بھی لے سکتے تھے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفۂ عادل حضرت مہدیؑ کے ظہور کے بارے میں احادیث و روایات اہل حق کے درمیان متواتر چلی آتی تھیں۔ گمراہ فرقوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس عقیدہ کو لے کر اپنے انداز میں ڈھالا اور اس میں موضوع اور من گھڑت روایات کی بھی آمیزش کر لی۔ جس سے ان کا مطمح نظر ایک تو اپنے سیاسی مقاصد کو بروئے کار لانا تھا اور دوسرا مقصد مسلمانوں کو اس عقیدے ہی سے بدظن کرنا تھا تا کہ مختلف قسم کی روایات کو دیکھ کر لوگ الجھن میں مبتلا ہو جائیں اور ظہور مہدیؑ کے عقیدے ہی سے دستبردار ہو جائیں۔ ہر دور میں جھوٹے مدعیان مہدویت کے پیش نظر بھی یہی دو مقصد رہے، چنانچہ گزشتہ صدی کے آغاز میں پنجاب کے جھوٹے مہدی نے جو دعویٰ کیا اس میں بھی یہی دونوں مقصد کارفرما نظر آتے ہیں۔ الغرض سلامتی فکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اس امر کا یقین رکھیں کہ اہل حق نے اصل حق
کو جوں کا توں محفوظ رکھا اور اہل باطل نے اسے غلط تعبیرات کے ذریعہ کچھ کا کچھ بنا دیا۔ حتیٰ کہ جب کچھ نہ بن آئی تو امام مہدی کو ایک غار میں چھپا کر پہلے غیبت صغریٰ کا اور پھر غیبت کبریٰ کا پردہ اس پر تان دیا۔ لیکن آخر یہ کیا اندازِ فکر ہے کہ تمام اہل حق کے بارے میں یہ تصور کر لیا جائے کہ وہ اغیار کے مال مستعار پر جیا کرتے تھے۔
جہاں تک ابن خلدون کی رائے کا تعلق ہے، وہ ایک مؤرخ ہیں...... اگرچہ تاریخ میں بھی ان سے مسامحات ہوئے ہیں...... فقہ و عقائد اور حدیث میں ابن خلدون کو کسی نے سند اور حجت نہیں مانا اور یہ مسئلہ تاریخ کا نہیں بلکہ حدیث و عقائد کا ہے اس بارے میں محدثین و متکلمین اور اکابر امت کی رائے قابل اعتناء ہو سکتی ہے۔
(امداد الفتاویٰ جلد ششم میں ص ۴۲۹ سے ص ۴۵۷) تک "مؤخرۃ الظنون عن ابن خلدون" کے عنوان سے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ابن خلدون کے شبہات کا شافی جواب تحریر فرمایا ہے۔ اسے ملاحظہ فرما لیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ "مسئلہ مہدی" کے بارے میں اہل حق کا نظریہ بالکل صحیح اور متواتر ہے اور اہل باطل نے اس سلسلہ میں تعبیرات و حکایات کا جو انبار لگایا ہے نہ وہ لائق التفات ہے اور نہ اہل حق کو اس سے مرعوب ہونے کی ضرورت ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷۱ تا ۲۷۶)
کیا امام مہدیؑ کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہوگا
سوال...... کیا امام مہدیؑ کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہوگا؟
جواب...... امام مہدی علیہ الرضوان نبی نہیں ہوں گے اس لیے ان کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہرگز نہیں ہو سکتا اور حضرت عیسیٰ ؑ جو حضرت مہدیؑ کے زمانے میں نازل ہوں گے وہ بلاشبہ پہلے ہی سے اولوالعزم نبی ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷۶)
کیا حضرت مہدیؑ و عیسیٰ ؑ ایک ہی ہیں
سوال...... مہدیؑ اس دنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدیؑ اور عیسیٰ ؑ ایک ہی وجود ہیں؟
جواب...... حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لیے عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت مہدیؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷۶)
ظہور مہدیؑ اور چودہویں صدی
سوال...... امام مہدی ابھی تک تشریف نہیں لائے اور پندرہویں صدی کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
جواب...... مگر امام مہدی کا چودہویں صدی میں ہی آنا کیوں ضروری ہے؟
سوال...... علاوہ اس کے آنحضور ﷺ کی حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد ہوتا ہے؟
جواب...... ایک ہی فرد کا مجدد ہونا نہیں۔ متعدد افراد بھی مجدد ہو سکتے ہیں اور دین کے خاص خاص شعبوں کے
الگ الگ مجدد بھی ہو سکتے ہیں۔ ہر خطہ کے لیے الگ الگ مجدد بھی ہو سکتے ہیں۔ حدیث میں ”من“ کا لفظ عام ہے۔ اس سے صرف ایک ہی فرد مراد لینا صحیح نہیں اور ان مجددین کے لیے مجدد ہونے کا دعویٰ کرنا اور لوگوں کو اس کی دعوت دینا بھی ضروری نہیں اور نہ لوگوں کو یہ پتہ ہونا ضروری ہے کہ یہ مجدد ہیں۔ البتہ ان کی دینی خدمات کو دیکھ کر اہل بصیرت کو ظن غالب ہو جاتا ہے کہ یہ مجدد ہیں۔
سوال....... حضرت مہدی، حضرت عیسیٰ ؑ چودہویں صدی کے باقی ماندہ قلیل عرصہ میں کیسے آ جائیں گے؟
جواب....... مگر ان کا اس قلیل عرصہ میں آنا ہی کیوں ضروری ہے کیا چودہویں صدی کے بعد دنیا ختم ہو جائے گی۔ جناب کی ساری پریشانی اس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ ”حضرت مہدیؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ دونوں کا چودہویں صدی میں تشریف لانا ضروری تھا مگر وہ اب تک نہیں آئے۔“
حالانکہ یہ بنیاد ہی غلط ہے۔ قرآن وحدیث میں کہیں نہیں فرمایا گیا کہ یہ دونوں حضرات چودہویں صدی میں تشریف لائیں گے۔ اگر کسی نے کوئی ایسی قیاس آرائی کی ہے تو یہ محض اٹکل ہے جس کی واقعات کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں اور اگر اس کے لیے کسی نے قرآن کریم اور حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیا ہے تو قطعا ًغلط بیانی سے کام لیا ہے۔ اس سے دریافت فرمائیے کہ چودہویں صدی کا لفظ قرآن کریم کی کس آیت میں یا حدیث شریف کی کس کتاب میں آیا ہے؟
نوٹ....... جناب نے اپنا سفر نامہ ایک ”پریشان بندہ“ لکھا ہے اگر آپ اپنا اسم گرامی اور پتہ نشان بھی لکھ دیتے تو کیا مضائقہ تھا؟ ویسے بھی گمنام خط لکھنا، اخلاق ومروت کے لحاظ سے کچھ مستحسن چیز نہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۷۷)
پہلی نماز کے علاوہ باقی پر حضرت عیسیٰ ؑ امام ہوں گے
سوال....... اس رسالہ مسیح موعود کی پہچان از مفتی محمد شفیعؒ میں جا بجا تناقض ہے مثلاً ملاحظہ فرمائیں ص ۱۸ اور ص ۱۹ علامت نمبر ۷۰ تا نمبر ۷۶۔ ”بوقت نزول عیسیٰ ؑ یہ لوگ نماز کے لیے صفیں درست کرتے ہوئے ہوں گے۔ اس جماعت کے امام اس وقت حضرت مہدی ہوں گے۔ حضرت مہدی عیسیٰ ؑ کو امامت کے لیے بلائیں گے اور وہ انکار کریں گے۔ جب حضرت مہدی پیچھے ہٹنے لگیں گے تو عیسیٰ ؑ ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انھیں امام بنائیں گے، پھر حضرت مہدی نماز پڑھائیں گے ۔“ ان سب باتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ مولوی صاحب یہ منوانا چاہتے ہیں کہ امام، مہدی ہوں گے۔ چلو یہ بات مولوی صاحب کی تسلیم کر لی جائے تو پھر مولوی صاحب خود ہی بعد میں ص ۲۲ علامت نمبر ۹۴ میں فرماتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰ ؑ لوگوں کی امامت کریں گے ۔“ یعنی اب امام حضرت عیسیٰ ؑ کو بنایا اور بتایا گیا ہے۔ اب مولوی صاحب ہی بتائیں کہ ان کے رسالہ میں صحیح اور غلط کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے یا سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کیسے کیا جائے؟
جواب....... پہلی نماز میں امام مہدی امامت کریں گے اور بعد کی نمازوں میں حضرت عیسیٰ ؑ ...... تناقض کیسے ہوا؟
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۲-۲۲۳)
مسیح اور مہدی دو الگ شخصیتیں!
سوال....... یا پھر ایک ضمنی سوال یوں پیدا ہوتا ہے کہ جیسے عیسیٰ ؑ اور مسیح موعود مولوی صاحب کی تحقیق کے
مطابق ایک ہی جسمانی وجود کا نام ہے تو کیا کہیں مولوی صاحب مسیح موعود اور مہدی کو بھی ایک ہی تو نہیں سمجھتے اور اب بات یوں بنے گی کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں، وہی مسیح موعود ہیں اور وہی مہدی ہیں یا کم از کم مولوی صاحب کی تحقیق اور منطق تو یہی پکار رہی ہے۔
جواب....... جی نہیں! عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی کو ایک ہی شخصیت ماننا ایسے شخص کا کام ہے جس کو آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ ہو۔ احادیث متواترہ میں آنحضرت ﷺ نے ان دونوں کو الگ الگ علامات اور الگ الگ کارنامے ذکر فرمائے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۳)
حضرت مہدیؓ کے کارنامے
سوال....... یہ کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں۔ کیونکہ اس سے زیادہ مسلمانوں کی امامت تو مولوی صاحب نے خود بھی کئی بار کی ہوگی۔
جواب....... حضرت مہدی اس سے قبل بڑے بڑے کارنامے انجام دے چکے ہوں گے جو احادیث طیبہ میں مذکور ہیں، مگر وہ اس رسالہ کا موضوع نہیں اور نماز میں حضرت مہدی کا امام بننا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان کی اقتدا کرنا بجائے خود ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اس لیے حدیث پاک میں اس کو بطور خاص ذکر فرمایا گیا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۴)
بعد میں پیدا ہونے والوں کو پیشگی رضی اللہ عنہ کہنا
سوال....... اور مزید ایک معنی خیز لیکن مضحکہ خیز سوال مولوی صاحب کی اپنی تحریر سے یوں اٹھتا ہے کہ وہ فرماتے ہیں ”پھر حضرت مہدی نماز پڑھائیں گے“ ملاحظہ ہو ص ۱۹ علامت نمبر ۷۶۔ یہاں مولوی صاحب نے مہدیؓ لکھا ہے اور ایسا ہی کئی جگہوں پر مہدیؓ لکھا ہے۔ سب صاحب علم جانتے ہیں کہ ”ؓ “ اختصار ہے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ مطلب آسان ہے اور عموماً یہ ان لوگوں کے نام کے ساتھ عزت اور احترام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو فوت ہو چکے ہوں، دنیا سے گزر چکے ہوں اور حضرت نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں شامل ہوں یا ویسا روحانی درجہ رکھتے ہوں...... ابھی مسیح موعود تو آئے بھی نہیں اور بقول مولوی صاحب مہدیؓ بھی ہو چکے، تو کیا نماز پڑھانے کے لیے یہ مہدی صاحب بھی دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس آئیں گے۔
جواب....... یہ سوال جیسا کہ سائل نے بے اختیار اعتراف کیا ہے، واقعی مضحکہ خیز ہے۔ قرآن کریم نے السابقون الاولون من المهاجرین والانصار. (التوبۃ ۱۰۰) اور ان کے تمام متبعین کو ”رضی اللہ عنہم“ کہا ہے جو قیامت تک آئیں گے۔ شاید سائل، پنڈت دیانند کی طرح خدا پر بھی یہ مضحکہ خیز سوال جڑ دے گا۔ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے بھی مکتوبات شریفہ میں حضرت مہدیؓ کو کہا ہے۔ معترض نے یہ مسئلہ کس کتاب میں پڑھا ہے کہ صرف فوت شدہ حضرات ہی کو رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں۔ حضرت مہدی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہوں گے اس لیے ان کو ”رضی اللہ عنہ“ کہا گیا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۴)
سوال....... یا وہ بھی بقول مولوی صاحب حضرت عیسیٰ کی طرح کہیں زندہ موجود ہیں (آسمان پر یا کہیں اور) اور مسیح موعود کے آتے ہی آ موجود ہوں گے اور امامت سنبھال لیں گے۔
جواب ...... ارشادات نبوی ﷺ کے مطابق حضرت مہدی رضی اللہ عنہ پیدا ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۳)
حضرت مہدی کی پیدائش کی سند؟
سوال ...... کیا اس کی بھی کوئی سند قرآن مجید میں موجود ہے اور کیا ہے؟
جواب ...... جی ہاں! ارشادِ نبوت یہی ہے اور قرآنی سند ہے:
ما اتاکم الرسول فخذوہ (الحشر ۷) جس کو غلام احمد قادیانی نے بھی قرآنی سند کے طور پر پیش کیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۳)
نزول مسیح کے ساتھ ہی حضرت مہدیؑ کے مشن کی تکمیل
سوال ...... مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہدی نماز پڑھاتے ہی کہاں چلے جائیں گے کیونکہ بعد میں تو جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے وہ مسیح موعود ہی کی ذمہ داری مولوی صاحب نے پورے رسالہ میں خود ہی بیان فرمائی اور قرار دی ہے۔ محض ایک نماز کی امامت اور وہ بھی ایک جماعت کو جو ۸۰۰ (آٹھ سو) مردوں اور ۴۰۰ (چار سو) عورتوں پر مشتمل ہوگی۔
(ملاحظہ ہو ص ۱۹ علامت نمبر ۷۲)
جواب ...... حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کے بعد (جب حضرت مہدیؑ پہلی نماز کی امامت کر چکیں گے) حضرت مہدیؑ کا امام کی حیثیت سے مشن پورا ہو چکا ہوگا اور امامت و قیادت حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ میں آ جائے گی، تب حضرت مہدی کی حیثیت آپ کے اعوان و انصار کی ہوگی اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کی وفات بھی ہو جائے گی۔ (مشکوٰۃ ص ۴۷۱ باب اشراط الساعۃ) پس جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے دیگر اعوان و انصار اور مخصوص رفقاء کے تذکرہ کی ضرورت نہ تھی، اسی طرح حضرت مہدیؑ کے تذکرے کی بھی حاجت نہ رہی، کیا اتنی موٹی بات بھی کسی عاقل کے لیے ناقابلِ فہم ہے؟
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۴)
امام مہدیؑ کے آنے کے منکر کا حکم
سوال ...... اگر کوئی شخص مہدی آخرالزمان کے بارے میں وارد شدہ احادیث کو موضوع اور من گھڑت کہے اور نزول مہدی سے صاف انکار کرے تو از روئے شریعت اس شخص کا کیا حکم ہے؟
الجواب ...... قیامت کے قریب امام مہدی کا آنا صحیح احادیث اور اجماع امت سے ثابت شدہ مسئلہ ہے اس سے انکار کرنا صحیح احادیث اور اجماع سے انکار کرنے کے مترادف ہے جبکہ احادیث سے انکار کفر ہے۔
عن ابی سعیدؓ قال ذکر رسول اللہ ﷺ بلاء یصیب ہذہ الامۃ حتی لا یجد الرجل ملجاء یلجاء الیہ من الظلم فیبعث اللہ رجلاً من عترتی اہل بیتی فیملاء بہ الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلماً و جوراً یرضی عنہ ساکن الارض. رواہ الحاکم وقال صحیح وہو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ النیسابوری امام الحدیث فی وقتہ. (مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ ص ۴۷۱ الفصل الثانی)
اس روایت سے امام مہدی کی پوری تفصیل واضح ہوتی ہے جبکہ اس کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں بھی متعدد صحیح روایات موجود ہیں، تو اتنی صحیح روایات کے انکار کا کیا جواز ہے اور زبان کی ایک جنبش سے صحیح احادیث
کے ایک مکمل باب سے انکار کیا معنی رکھتا ہے؟ تاہم جو شخص مہدی آخر الزمان کا انکار کرتا ہے تو دراصل وہ احادیث نبوی کا انکار کرتا ہے اور اس پر وہی حکم لگایا جائے گا جو ایک منکر حدیث پر لگایا جاتا ہے۔
قال العلامة ملا علی القاری رحمہ اللہ، وفی المحیط من قال لفقیہ یذکر شیئاً من العلم او یروی حدیثاً صحیحاً ای ثابتاً لا موضوعاً ھذا لیس بشئ کفر.
(شرح الفقه الاكبر ص ۱۷۵ فصل فى العلم والعلماء)
(فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۱۶۵_۱۶۶)
امام مہدیؑ کے بارے میں روایات کی تحقیق
سوال...... کیا مہدیؑ کے آنے کے بارے میں جو باتیں زبان زدِ عام ہیں یہ صحیح روایات سے ثابت ہیں یا کوئی عام واقعہ ہے جس نے شہرت پائی ہے؟
الجواب...... امام مہدیؑ کے بارے میں واقعات درست اور صحیح روایات سے ثابت ہیں اور احادیث کی اکثر کتابوں میں مستقل باب کے تحت روایات کو جمع کیا گیا ہے جن میں امام مہدیؑ کے حالات تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں مثلاً جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، مستدرک حاکم، مسند احمد، ابو نعیم، مسند ابو یعلیٰ، مسند ابن ابی شیبہ، طبقات، صحیح ابن حبان وغیرہ۔ (علیہم الرضوان۔ ناقل)
اور مجموعی لحاظ سے امام مہدیؑ کے بارے میں روایات تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تواتر کو یوں نقل کیا ہے۔
قال ابوالحسن الآبری فی مناقب الشافعی تواترت الاخبار بان المهدی من هذه الامة وان عیسیٰ علیہ السلام یصلی خلفہ.
(فتح الباری ج ۶ ص ۳۵۸ قوله تعالى واذكر فى الكتاب مریم) (فتاویٰ حقانیہ ج ۲ ص ۲۱۷)
امام مہدی علیہ الرضوان
سوال...... کیا امام مہدی کے ظہور کا عقیدہ از روئے قرآن وحدیث ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ اگر کوئی امام مہدی کے ظہور کا قائل نہ ہو تو اس کے متعلق شرع شریف کا کیا حکم ہے۔ رئیس احمد دیوریا۔
الجواب...... حامداً و مصلیاً. خلیفۃ اللہ المہدی کے متعلق ابوداؤد شریف میں تفصیل مذکور ہے۔ ان کی علامات ان کے ہاتھ پر بیعت ان کے کارنامے ذکر کیے ہیں جو شخص ان امام مہدی کے ظہور کا قائل نہیں وہ ان احادیث کا قائل نہیں اس کی اصلاح کی جائے تاکہ وہ صراطِ مستقیم پر آجائے۔ فقط
واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم حررہ العبد محمود غفرلہ
(فتاویٰ محمودیہ جلد ۱ ص ۱۱۱)
علامات ظہور مہدی
سوال...... کسی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے وقت ایک ہی رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن لگیں گے۔ چاند گرہن رمضان کی ۱۳ تاریخ کو اور سورج گرہن ۲۸ رمضان کو ہوگا۔ اصل حقیقت کیا ہے؟ نیز مطلع فرمائیں کہ کیا یہ دونوں گرہن اپنی مذکورہ تاریخوں میں غلام احمد کے دعویٰ نبوت کے دور میں لگے ہیں؟
سائل: سید ناصر علی از لاہور
جواب....... حدیث کی کتاب میں یہ پیشگوئی آنحضرت ختمی مرتبت ﷺ کے الفاظ سے منقول نہیں اور نہ اسے حدیث نبوی کہا جاسکتا ہے۔ مرزائی مبلغین جب اسے حدیث نبوی ﷺ کہہ کر پیش کرتے ہیں تو یہ حضور اکرم ﷺ پر ایک صریح بہتان اور افتراء ہے۔ سنن دارقطنی میں یہ پیشگوئی ایک بزرگ محمد بن علیؒ سے منقول ہے جو صحابی بھی نہیں چہ جائیکہ اس روایت کو آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہا جائے بلکہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ محمد بن علیؒ نے ایسا واقعی فرمایا ہو کیونکہ اس قول کو محمد بن علی سے نقل کرنے والے بھی تقریباً ایسے ہی ہیں جو ضعیف اور پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ سنن دارقطنی میں محمد بن علی نامی کسی بزرگ کا یہ قول اس طرح منقول ہے۔
عن عمر بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض تنکسف القمر لاوّل لیلة من رمضان و تنکسف الشمس فی النصف منه لم تکونا منذ خلق السموات والارض.
(سنن دارقطنی ج ۲ ص ۶۵ نشر السنة ملتان پاکستان)
ترجمہ: شمر کا بیٹا جابر جعفی سے نقل کرتا ہے کہ محمد بن علی (نامی کسی شخص) نے کہا کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہوں گے اور وہ دونوں (اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر) ایسے ہیں کہ زمین و آسمان جب سے پیدا ہوئے کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اوّل یہ کہ چاند کو گرہن رمضان کی پہلی رات ہوگا اور دوسرا یہ کہ سورج گرہن اسی رمضان شریف کے نصف میں واقع ہوگا اور جب سے خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کیے ایسے گرہنوں کا ظہور کبھی نہیں ہوا۔‘‘
شمر کا بیٹا عمرو جو محمد بن علی کے مذکورہ بالا قول کو نقل کر رہا ہے۔ اس قابل نہیں کہ اس کی نقل پر اعتماد کیا جائے یہ شخص کذاب اور تقیہ باز تھا۔ اس پر رافضی اور شاتم صحابہؓ ہونے کی جرح میزان الاعتدال ذہبی میں موجود ہے۔ اس کا استاد جابر جعفی جو مذکورہ پیشگوئی کا راوی ہے ضعیف ہے۔ اس کے متعلق سیدنا امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک اس جیسا جھوٹا راوی کسی کو نہیں دیکھا۔ پس جب محمد بن علی سے نقل کرنے والوں کا بھی یہ حال ہے تو ہم اسے پورے اعتماد کے ساتھ حضرت محمد بن علی کا قول بھی نہیں کہہ سکتے۔ چہ جائیکہ اسے کسی صحابی کا قول یا ارشادِ رسول خاتم کہا جاسکے۔
باقی یہ سوال کہ اگر یہ قول ایسا ہی کمزور اور مقطوع تھا تو پھر اسے امام دارقطنی نے درج کیوں کیا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث کی کتابوں میں ارشاداتِ نبوی کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے آثار بھی منقول ہوتے ہیں۔ بعض مقامات پر ائمہ و فقہاء کے اپنے اقوال بھی مندرج ہوتے ہیں۔ حدیث کی کتاب میں درج ہونا اس بات کو ہرگز لازم نہیں کہ یہ قول خود لسانِ شریعت سے منقول ہو۔ ایسا گمان محض جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ اہل علم کے ہاں اس سوال کی کوئی قیمت نہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اپنے اصول حدیث کے رسالہ (عجالہ نافعہ کے ص ۷) پر تصریح فرماتے ہیں کہ سنن دارقطنی حدیث کی تیسرے طبقے کی کتابوں میں سے ہے۔ جن کے جمع کرنے والوں نے روایات کی صحت کا التزام نہیں کیا بلکہ ہر طرح کی روایات ان میں جمع کر رکھی ہیں۔
مرزا قادیانی نے اس ضعیف اور بے بنیاد سے قول کو جو کذاب قسم کے راویوں کے واسطہ سے صرف محمد بن علی تک پہنچتا ہے۔ اگر حدیث رسول سمجھ لیا ہے تو ہمارے لیے بالکل قابل التفات نہیں۔ مرزا قادیانی فن حدیث میں بہت کمزور تھے۔ انھیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ’’صحیح‘‘ ایک خاص معیار کی کتب ہوتی ہیں۔ جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ اور یہ کہ حدیث کی ہر کتاب صحیح نہیں کہلاتی اور وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر تھے کہ سنن دارقطنی محدثین کے ہاں ہر قسم کی رطب و یابس روایات پر مشتمل ہے۔ مرزا قادیانی کی نادانی دیکھئے کہ وہ دارقطنی کو بھی صحیح کا نام
دے رہے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ "صحیح دارقطنی میں ایک حدیث ہے ..... الخ۔ یہ سنن دارقطنی ہونا چاہیے تھا۔ یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دارقطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ۲۸ خزائن جلد ۱۷ ص ۱۳۳)
حدیث کے ابتدائی درجہ کے طلبہ کو بھی معلوم ہے کہ حضرت امام بخاری کا اسم گرامی محمد تھا اسماعیل نہ تھا۔ اسماعیل ان کے باپ کا نام تھا۔ مگر مرزا قادیانی ازالۃ اوہام میں امام بخاری کا نام اسماعیل بتاتے ہیں۔ حالانکہ اس وقت اور ان علاقوں میں اسطرح کے مرکب ناموں کا منہاج ہی نہ تھا۔
(دیکھئے ازالۃ اوہام جلد ۱ ص ۱۱، ص ۱۳۹ خزائن ج ۳ ص ۲۳۹، جلد دوم ص ۲۵۹، ص ۶۴۵)
شہادت القرآن میں مرزا قادیانی ایک حدیث صحیح بخاری کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ صحیح بخاری میں بالکل نہیں ہے۔
اور پھر یہ نہیں کہ صحیح بخاری کا لفظ اتفاقاً قلم سے نکل گیا ہو بلکہ اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہہ کر اس نقل کی اور توثیق کرتے ہیں۔ پھر (ازالۃ اوہام ص ۲۳ خزائن جلد ۳ ص ۱۲۲) پر آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ الفاظ بطور حدیث کے پیش کرتے ہیں۔ بل ھو امامکم منکم۔ لفظ بل عجیب اضافہ ہے۔
حالانکہ یہ الفاظ اس طرح آنحضرت ﷺ کی کسی حدیث میں نہیں ملتے۔ نہ ان کے لیے کوئی سند صحیح ہے اور نہ کوئی ضعیف۔ یہ محض ایک افتراء اور بہتان ہے۔ الحاصل مرزا غلام احمد فن حدیث میں عام طلبہ کے بھی ہمسر نہیں تھے۔ پس اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ان کے اعتماد پر مذکورۃ الصدر پیشگوئی کو آنحضرت ﷺ کی حدیث تسلیم کر لیں۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)
- ۲...... مذکورہ گرہن مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کی تصدیق کے لیے قطعاً ثابت نہیں ہوئے یہ محض پراپیگنڈہ
ہے۔ مرزائیوں کے اپنے دعویٰ کے مطابق گرہنوں کا وقوع ۱۳۱۰ھ میں پیش آیا۔ حالانکہ اس وقت تک مرزا قادیانی نے رسالت کا دعویٰ ہی نہ کیا تھا۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے ان گرہنوں کو اپنے دعویٰ نبوت اور رسالت کی تصدیق کے لیے کیسے پیش کر دیا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:۔
"اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دو گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے۔ جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اس پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ۱۹۶ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۳)
اگر یہ کہا جائے کہ گرہن مہدویت کی علامت ہیں نبوت اور رسالت کی نہیں تو یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک مہدویت کا دعویٰ رسالت کے دعویٰ کو بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقۃ الوحی کی مذکورہ عبارت میں اسے اپنے دعویٰ نبوت رسالت کے لیے آسمانی نشان بتلا رہے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ رسالت بہت بعد کا ہے اور یہ وقوع گرہن اس سے بہت پہلے کا ہے۔ بنابریں ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے دور میں ایسے گرہن کبھی نہیں لگے۔ یہ قادیانی حضرات کا محض پراپیگنڈہ ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ۱۲۱۲ھ کے اس مذکورہ گرہن سے پہلے اس طرح کے گرہن کبھی نہیں لگے کیونکہ اس
سے ایک سال قبل ۱۲۱۱ھ میں بھی چاند اور سورج کا گرہن امریکہ میں لگا تھا اور وہاں بھی اس وقت ایک جھوٹا مدعی نبوت مسٹر ڈوئی موجود تھا۔ پس ایسے گرہن جو خرق عادت بھی نہیں کسی دعوٰی کی تصدیق کے ضامن ہرگز نہیں ہو سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ خالد محمود عفا اللہ عنہ ۔
(عبقات ص ۱۱۴ تا ۱۱۷)
رفع عیسیٰ علیہ السلام وظہور مہدی علیٰ نبینا وعلیہم السلام کے دلائل
- .......۱ ثابت کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور وہ واپس آئیں گے؟
- .......۲ ثابت کرو کہ امام مہدی اہل بیت سے ہوں گے اور مدینہ منورہ یا کسی اور ملک میں پیدا ہوں گے؟
- .......۳ وہ کہتے ہیں کہ خر دجال آ چکا اگر نہیں آیا تو ثابت کرو کہ پندرہویں صدی میں آئے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ
چودہویں صدی آخری ہے اس کے بعد قیامت ہے۔ اسی صدی میں جو کچھ ہونا تھا ہو چکا۔
اب آپ برائے مہربانی ہمیں تو ان سوالات کا جواب بمع ثبوت یعنی مکمل صفحہ، جلد، نام، حدیث وغیرہ لکھیں جس پر وہ اعتراض نہ کر سکیں اور ہمیں بھی تسلی ہو اور ان کو بھی جواب دینے کے قابل رہ جائیں۔ ہم نے بہت سے علماء صاحبان کے پاس خطوط لکھے بلکہ دیوبند تک لکھے مگر کسی نے تسلی بخش جواب نہ دیا کسی نے مرزا قادیانی کا حوالہ دے کر۔ کسی نے کچھ، کسی نے گالیاں دے کر ٹال دیا۔ جس کی وجہ سے ہمارا دل بہت گھبرایا ہوا ہے کیونکہ کسی طرف سے تسلی بخش جواب نہیں پایا۔ اور نہ ہمارے پاس اتنا وقت ہے کہ کسی عالم کے پاس جائیں۔ آپ خدا کے واسطے مکمل جواب لکھ کر ہمارے دل کو یقین دلائیں کہ ہمارا مذہب سچا ہے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل نعم المولیٰ و نعم النصیر .
الجواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا آسمان پر، قرآن مجید اور حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ دلائل تو بہت ہیں مگر یہاں بوجہ تنگی وقت کے صرف ایک دو تحریر کیے جاتے ہیں۔
وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما
(سورة النساء آیت ۱۵۷۔۱۵۸)
اس آیت میں یہود کا قول نقل فرما کر اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی ہے۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ انھوں نے نہ تو عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا اور نہ اس کو سولی پر چڑھایا۔ حقیقت میں ان پر شبہ پڑ گیا اور جو لوگ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں سب شک و شبہہ میں مبتلا ہیں۔ یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے۔ (اس کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لینا کیا مشکل ہے) اور حکمت والا ہے (اس کے کاموں میں ہزاروں حکمتیں ہوتی ہیں اگرچہ کوتاہ نظر نہ سمجھ سکیں)
اس سے مرزائیوں کے تمام شبہات زائل ہو گئے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیوں گیا، کیا کرتا ہے، کیا کھاتا ہے وغیرہ وغیرہ شبہات پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جواب دیا۔ وکان الله عزيزاً حكيما۔ اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت نے یہی چاہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لے۔ پھر قیامت کے قریب زمین پر اتار دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا تو آدم علیہ السلام جنت میں ہوتے تو اچھا تھا کیوں ان کو زمین کی طرف بھیج دیا۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اسے قبول
کرے ۔ منافق کا کام ہے حجت بازی کرنا ۔ لہٰذا یہ شبہات فضول ہیں ۔ جب بھی کوئی مرزائی عیسیٰؑ کے متعلق شبہہ پیش کرے تو فوراً یہی آیت پڑھیں ۔ وكان الله عزيزاً حكيما کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔ اس کی مرضی وہ مختار ہے۔ عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھا لیا کوئی اس پر کیا اعتراض کر سکتا ہے۔ (تفسیر روح المعانی ج ۶ ص ۱۱) میں اس آیت کے ماتحت لکھا ہے۔ وهو حى فى السماء حضرت عیسیٰؑ آسمان پر زندہ ہیں۔ تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں۔ صرف مرزا غلام احمد قادیانی نے آ کر فتنہ برپا کیا اور یہ صرف اس لیے کہ ”میں عیسیٰ بنوں“ برائے حلوا خوردن روئے باید۔
- ۲...... ابوداؤد حدیث کی کتاب ہے۔ اور صحاح ستہ میں داخل ہے۔ انھوں نے ایک مستقل باب قائم کیا ہے
جس کا نام ہے ”باب ذکر المہدی“ اس میں مندرجہ ذیل حدیثیں درج ہیں۔
- ۱...... حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے تو اللہ
تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو کھڑا کریں گے جس کا نام میرے نام کے، اور اس کے والد کا نام، میرے والد کے نام کے موافق ہوگا۔ وہ شخص دنیا کو انصاف وعدل سے بھر دے گا۔ جیسا کہ اس کے آنے سے پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی۔ (اب دیکھئے کہ مرزا اور اس کے باپ کا نام نبی کریم ﷺ کے نام کے مخالف ہے اور مرزا کے آنے سے دنیا میں ظلم و ستم زیادہ ہوگیا)
(ابوداؤد ص ۱۳۱ ج ۲ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی)
- ۲...... دوسری روایت ابوداؤد میں ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ
سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مہدی میری اولاد سے ہوگا اور فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی نسل سے ہوگا۔ (ص ایضاً) (مرزا تو مغل تھا یا پٹھان یا کوئی اور قوم ہوگی سید اور فاطمہؓ کی اولاد سے ہرگز نہیں) اور بھی بہت سی روایتیں اور حدیثیں ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے مقامی علماء سے مدد حاصل کریں ورنہ ہماری طرف لکھیں۔ انشاء اللہ ان کے سب سوالوں کا جواب تسلی بخش دیا جائے گا۔
مرزائی جھوٹ بولتے ہیں کہ چودہویں صدی کے بعد قیامت ہے۔ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ نہ معلوم کہ دنیا کی عمر کتنی باقی ہے۔ عیسیٰؑ ضرور تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
اور حضرت مہدیؓ مدینہ شریف سے روانہ ہوں گے اور مکہ شریف تشریف لائیں گے تو سب لوگ مکہ والے اور دوسرے مسلمان حضرت امام مہدیؓ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ یہ بیعت بیت اللہ شریف کے میدان میں مقام ابراہیم کے قریب ہوگی۔
(ابوداؤد شریف ص ایضاً)
مرزا کو تو ساری عمر حج نصیب نہیں ہوا۔ نہ مدینہ دیکھا نہ مکہ دیکھا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مقامات میں اسے گھسنے ہی نہیں دیا۔
بہر حال آپ کو جو شبہ ہو ہماری طرف تحریر فرمائیں ہم وہ جواب دیں گے جو مرزائیوں کے لیے منہ توڑ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم۔ بندہ محمد عبداللہ غفرلہ مفتی خیر المدارس ملتان۔ الجواب صحیح : خیر محمد عفی عنہ : ۲۷ : ۱۱ : ۱۳۶۹ھ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۷۱ تا ۷۳)
دجال کی آمد
سوال...... دجال کی آمد کا کیا صحیح حدیث میں کہیں ذکر ہے اگر ہے تو وضاحت فرمائیں۔
جواب ....... دجال کے بارے میں ایک دو نہیں بہت سی احادیث ہیں اور یہ عقیدہ امت میں ہمیشہ سے متواتر چلا آیا ہے۔ بہت سے اکابر امت نے اس کی تصریح کی ہے کہ خروج دجال اور نزول عیسیٰ ؑ کی احادیث متواتر ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۸۰)
ایک قادیانی کے پُر فریب سوالات کے جوابات
ہمارے ایک دوست سے کسی قادیانی نے حضرت مفتی محمد شفیعؒ کے رسالہ ”مسیح موعود کی پہچان“ پر کچھ سوالات کیے اور راقم الحروف سے ان کے جوابات کا مطالبہ کیا۔ ذیل میں یہ سوال و جواب قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
تمہید ....... رسالہ ”مسیح موعود کی پہچان“ میں قرآن کریم اور ارشادات نبویہ سے حضرت مسیح ؑ کی علامات جمع کر دی گئی ہیں، جو اہل ایمان کے لیے تو اضافہ ایمان میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ سوال کنندہ کے لیے ان کا اثر الٹا ہوا، قرآن کریم نے صحیح فرمایا! ”ان کے دلوں میں روگ ہے، پس بڑھا دیا ان کو اللہ نے روگ میں۔“ بقول سعدی ؎
در باغ لالہ روید در شورہ بوم خس
سائل نے ارشادات نبوت پر اسی انداز میں اعتراض کیے ہیں جو ان کے پیشرو پنڈت دیانند سرسوتی نے ”ستیارتھ پرکاش“ میں اختیار کیا تھا، اس لیے کہ ارشادات نبویہ نے مسیح ؑ کی صفات و علامات اور ان کے کارناموں کا ایسا آئینہ پیش کر دیا ہے جس میں قادیانی مسیحیت کا چہرہ بھیانک نظر آتا ہے، اس لیے انھوں نے روایتی حبشی کی طرح اس آئینے کو قصور وار سمجھ کر اسی کو زمین پر پٹخ دینا ضروری سمجھا تاکہ اس میں اپنا سیاہ چہرہ نظر نہ آئے۔ لیکن کاش! وہ جانتے کہ ؎
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
رسالہ ”مسیح موعود کی پہچان“ پر سائل نے جتنے اعتراضات کیے ہیں ان کا مختصر سا اصولی جواب تو یہ ہے کہ مصنفؒ نے ہر بات میں احادیث صحیحہ کا حوالہ دیا ہے، اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا، اس لیے سائل کے اعتراضات مصنفؒ پر نہیں بلکہ خاکم بدہن آنحضرت ﷺ پر ہیں۔ اگر وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت سے منکر ہیں، یا مسٹر پرویز کے ہم مسلک ہیں تو بصد شوق پنڈت دیانند کی طرح اعتراضات فرمائیں اور اگر انھیں ایمان کا دعویٰ ہے تو ہم ان سے گزارش کریں گے کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ سے پوچھ لیجیے۔ مگر جو لوگ ارشادات نبویہ کو سرمہ چشم بصیرت سمجھتے ہیں ان کا ایمان برباد نہ کیجئے اس کے بعد اب تفصیل سے ایک ایک سوال کا جواب گوش گزار کرتا ہوں ذرا توجہ سے سنئے۔
سوال ...... ”امت محمدیہ کے آخری دور میں ...... دجال اکبر کا خروج مقدر و مقرر تھا۔“ (ص ۵ سطر پہلی و دوسری) اگر یہ دجال اکبر تھا تو لازماً کوئی ایک یا بہت سارے دجال اصغر بھی ہوں گے۔ ان کے بارے میں ذرا وضاحت فرمائی جائے، کب اور کہاں ظاہر ہوں گے، شناخت کیا ہوگی اور ان کے ذمہ کیا کام ہوں گے اور ان کی
شناخت کے بغیر کسی دوسرے کو یک دم ”دجال اکبر“ کیسے تسلیم کر لیا جائے گا۔
جواب…… جی ہاں! ”دجال اکبر“ سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال کئی ہوئے اور ہوں گے۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر غلام احمد قادیانی تک جن لوگوں نے دجل و فریب سے نبوت یا خدائی کے جھوٹے دعوے کیے ان سب کو آنحضرت ﷺ نے ”دجالون کذابون“ فرمایا ہے۔ ان کی علامت۔ یہی دجل و فریب، غلط تاویلیں کرنا، چودہ سو سال کے قطعی عقائد کا انکار کرنا، ارشادات نبویہ کا مذاق اڑانا، سلف صالحین کی تحقیر کرنا اور غلام احمد قادیانی کی طرح صاف اور سفید جھوٹ بولنا، مثلاً۔
- ☆…… انا انزلناہ قریباً من القادیان.
(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ۷۶ طبع دوم)
- ☆…… قرآن میں قادیان کا ذکر ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۱۴۰ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰)
- ☆…… مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر آئے گا، اور پنجاب میں آئے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
(اربعین نمبر ۲ ص ۲۹ خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۱)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۱۷، ۲۱۸)
ظہور مہدی کے بعد دجال کا خروج اور اس کے فتنہ فساد کی تفصیل
جنگ اخبار میں آپ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کے بارے میں حدیث کے حوالہ سے ”ان کا حلیہ اور وہ آ کر کیا کریں گے“ لکھا تھا اب مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات بھی لکھ دیں تو مہربانی ہو گی۔
- سوال……۱ خردجال کا حلیہ حدیث کے حوالہ سے (کیونکہ ہم نے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ بہت تیز چلے گا۔ اس
کی آواز کرخت ہوگی وغیرہ وغیرہ)
- سوال……۲ کانا دجال جو اس پر سواری کرے گا۔ اس کا حلیہ۔
جواب…… دجال کے گدھے کا حلیہ زیادہ تفصیل سے نہیں ملتا۔ مسند احمد اور مستدرک حاکم کی حدیث میں صرف اتنا ذکر ہے کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا اور مشکوٰۃ شریف میں بیہقی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ اس کا رنگ سفید ہوگا۔
دجال کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ جن میں اس کے حلیہ، اس کے دعوٰی اور اس کے فتنہ و فساد پھیلانے کی تفصیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ چند احادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
- ۱…… رنگ سرخ، جسم بھاری بھر کم، سر کے بال نہایت خمیدہ الجھے ہوئے، ایک آنکھ بالکل سپاٹ، دوسری عیب
دار، پیشانی پر ”ک، ف، ر“ یعنی ”کافر“ کا لفظ لکھا ہوگا جسے ہر خواندہ و ناخواندہ مومن پڑھ سکے گا۔
- ۲…… پہلے نبوت کا دعوٰی کرے گا اور پھر ترقی کر کے خدائی کا مدعی ہوگا۔
- ۳…… اس کا ابتدائی خروج اصفہان خراسان سے ہوگا اور عراق و شام کے درمیان راستہ میں اعلانیہ دعوت دے گا۔
- ۴…… گدھے پر سوار ہوگا ستر ہزار یہودی اس کی فوج میں ہوں گے۔
- ۵…… آندھی کی طرح چلے گا اور مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس کے علاوہ ساری زمین میں گھومے پھرے گا۔
- ۶…… مدینہ میں جانے کی غرض سے احد پہاڑ کے پیچھے ڈیرہ ڈالے گا مگر خدا کے فرشتے اسے مدینہ میں داخل
نہیں ہونے دیں گے۔ وہاں سے ملک شام کا رخ کرے گا اور وہاں جا کر ہلاک ہوگا۔
- ۷...... اس دوران مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے اور مدینہ طیبہ میں جتنے منافق ہوں گے وہ گھبرا کر باہر نکلیں گے اور دجال سے جاملیں گے۔
- ۸...... جب بیت المقدس کے قریب پہنچے گا تو اہل اسلام اس کے مقابلہ میں نکلیں گے اور دجال کی فوج ان کا محاصرہ کرلے گی۔
- ۹...... مسلمان بیت المقدس میں محصور ہو جائیں گے اور اس محاصرہ میں ان کو سخت ابتلا پیش آئے گا۔
- ۱۰...... ایک دن صبح کے وقت آواز آئے گی ”تمھارے پاس مدد آ پہنچی۔“ مسلمان یہ آواز سن کر کہیں گے کہ مدد کہاں سے آسکتی ہے؟ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز ہے۔
- ۱۱...... عین اس وقت جبکہ نماز فجر کی اقامت ہو چکی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے شرقی منارہ کے پاس نزول فرمائیں گے۔
- ۱۲...... ان کی تشریف آوری پر امام مہدیؑ (جو مصلے پر جا چکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے امامت کی درخواست کریں گے مگر آپ امام مہدیؑ کو حکم فرمائیں گے کہ نماز پڑھائیں کیونکہ اس نماز کی اقامت آپ کے لیے ہوئی ہے۔
- ۱۳...... نماز سے فارغ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھولنے کا حکم دیں گے۔ آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک چھوٹا سا نیزہ ہوگا۔ دجال آپ کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ آپ اس سے فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ایک ضرب تیرے لیے لکھ رکھی ہے۔ جس سے تو بچ نہیں سکتا۔ دجال بھاگنے لگے گا۔ مگر آپ ”بابِ لُدّ“ کے پاس اس کو جالیں گے اور نیزے سے اس کو ہلاک کر دیں گے اور اس کا نیزے پر لگا ہوا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۲۸۰۔۲۸۱)
کیا پاکستانی آئین کے مطابق کسی کو مہدی مصلح یا مجدد ماننا کفر ہے؟
سوال...... آپ کے اور میرے علم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؑ دُنیا میں تشریف لائیں گے لیکن پاکستانی آئین کے مطابق، جو بھٹو دور میں بنا تھا آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی مصلح کوئی مجدد یا کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اگر کوئی شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے تو وہ غیر مسلم ہے اس لحاظ سے تو میں اور آپ غیر مسلم ہوئے کیونکہ آپ نے بعض سوالات کے جوابات میں کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی تشریف لائیں گے۔ براہ مہربانی اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں۔
جواب...... جناب نے آئین پاکستان کی جس دفعہ کا حوالہ دیا ہے اس کے سمجھنے میں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور آپ نے اس کو نقل بھی غلط کیا ہے۔ آئین کی دفعہ ۲۶۰ (۳) کا پورا متن یہ ہے:
”جو شخص محمد ﷺ (جو آخری نبی ہیں) کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو شخص محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو شخص کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔“
آئین کی اس دفعہ میں ایک ایسے شخص کو غیر مسلم کہا گیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت جاری ہونے کا قائل ہو یا آپ ﷺ کے بعد نبوت کے حصول کا مدعی ہو یا ایسے مدعی نبوت کو اپنا دینی پیشوا تسلیم کرتا ہو۔
حضرت مہدیؑ نبی نہیں ہوں گے نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے اور نہ کوئی ان کو نبی مانتا ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ بلاشبہ نبی ہیں مگر ان کو نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں ملی بلکہ آپ ﷺ سے چھ سو سال پہلے مل چکی ہے۔ مسلمان ان کی تشریف آوری کے بعد ان کی نبوت پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ مسلمانوں کا ان کی نبوت پر پہلے سے ایمان ہے جس طرح حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور دیگر انبیاء کرام کی نبوت پر ایمان ہے۔ (علی نبینا و علیہم الصلوٰت و التسلیمات) اس لیے آئین پاکستان کی اس دفعہ کا اطلاق نہ تو حضرت مہدیؑ پر ہوتا ہے کیونکہ وہ مدعی نبوت نہیں ہوں گے نہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ہوتا ہے کیونکہ ان کی نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے کی ہے نہ کہ بعد کی۔ اور نہ ان مسلمانوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو ان حضرات کی تشریف آوری کے قائل ہیں۔
اس دفعہ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد حاصل ہونے والی نبوت کا دعویٰ کیا۔ یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا (تذکرہ ص۳۵۲) کا نعرہ لگایا، اور لوگوں کو اس نئی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ نیز اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے ایسے لوگوں کو اپنا دینی مصلح اور پیشوا تسلیم کیا اور ان کی جماعت میں داخل ہوئے۔
امید ہے یہ مختصر سی وضاحت آپ کی غلط فہمی رفع کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۴۔۲۴۵)
فرقہ ذکریان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گروہ جس کو ذکری کہتے ہیں۔ یہ فرقہ باطلہ ذکریان صراط مستقیم سے منحرف ہیں مثلاً ان ذکری گروہ کے عقائد میں ایک شخص مسمی بہ محمدی جو اس فرقہ کا مقتدا گزرا ہے۔ یہ لوگ اس کو اپنا پیغمبر و رسول تسلیم کرتے ہیں اور اسی کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں اور ضروریات دین مثلاً نماز پنجگانہ روزہ ماہ رمضان المبارک و حج بیت اللہ سے کلی طور پر منکر ہیں۔ لہٰذا کیا یہ لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟
اور ان کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں اور ایسے لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام برائے کرم اس پر پوری روشنی ڈالتے ہوئے بحوالہ معتبرہ کتب صحیح جواب سے مستفید فرمائیں تاکہ ہم غریب مسلمان اپنے دین و ایمان کا پورا تحفظ کر سکیں۔ بینوا توجروا۔
عبد الفتاح ولد عبد الخالق القادری ختلانی منزل ملیر سٹی۔ کراچی، پاکستان۔ ۱۸ شوال المکرم ۱۳۹۷ھ
الجواب ...... حامداً و مصلیاً۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں جو شخص آپ ﷺ کو خاتم النبیین نہ مانے بلکہ آپ ﷺ کے بعد کسی اور کی نبوت پر ایمان لائے۔ وہ شخص کافر ہے اس کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق نکاح وغیرہ جائز نہیں۔ نماز، روزہ، حج ارکان دین اسلام ہیں نصوص قطعیہ سے ان کی فرضیت ثابت ہے جو شخص ان کی فرضیت کا انکار کرے وہ بھی کافر ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
قال اللہ تعالیٰ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین، (الاحزاب ۴۰) وقال اللہ تعالیٰ و اقیموا الصلوٰۃ (البقرہ ۴۳) وقال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام. (البقرہ ۱۸۳) وقال اللہ تعالیٰ وللہ علی الناس حج البیت. (آل عمران ۹۷) مسلمانوں کو ایسے عقیدوں سے اور ایسے عقیدے والوں سے انتہائی پرہیز کرنا چاہیے اور بالکل علیحدہ رہنا چاہیے۔ اللہ پاک سب کو
صراط مستقیم کی ہدایت دے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود غفرلہ گنگوہی ۲۶ شوال ۷۰ھ۔ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور،
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۱ ص ۱۱۴، ۱۱۵)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت و نبوت جھوٹا ہے
سوال ...... قادیانیوں کے بارے ذہنی پریشانی ہے کہ ان سے کیسے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ایک طرف پمفلٹ چھاپے جاتے ہیں کہ شیزان قادیانیوں کی ملکیت ہے۔ لہٰذا اس کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دوسری طرف ایک اخبار میں خبر چھپی کہ غیر مسلم سے اچھا برتاؤ کرنا چاہیے جیسے حضور ﷺ کی سیرت سے ثابت ہے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں اور گستاخوں کو بھی معاف کر دیا۔ مسئلہ یہ ہے ہماری کچھ سہیلیاں قادیانی ہیں۔ ہم ان سے کیسے تعلقات رکھیں۔ وہ کہتی ہیں ہم آخری نبی محمد ﷺ کو مانتی ہیں۔ مرزا غلام احمد کو صرف امام مہدی تسلیم کرتی ہیں۔ ہمیں ان کے عقائد کی تفصیل بیان فرمائیں تاکہ ہمیں رہنمائی مل سکے۔ مزید یہ کہ قطب کی طرف پاؤں کرنا کیسا ہے؟ چند دینی نصیحتیں بھی فرمائیں۔ فاطمہ عنبرین، نسرین گوجرانوالہ
جواب ...... محترمہ فاطمہ عنبرین صاحبہ و محترمہ نسرین صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! قادیانی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار، خواہ اس کو مہدی مانیں، خواہ نبی، خواہ مصلح و مجدد، سب کفار و مرتدین ہیں۔ اس لیے کہ اس شخص نے اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور قرآن وسنت اور تمام امت کا اس پر قطعی فیصلہ ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا قائل ہو قطعاً کافر و مرتد اور واجب القتل ہے۔ اسے مسلمان ماننا بھی کفر ہے چہ جائیکہ مجدد یا امام مہدی ماننا، لہٰذا مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا حرام، حرام قطعی حرام ہیں۔ اخبار میں جو کچھ لکھا ہے، غلط لکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ظاہری زندگی وموجودگی میں، جو شخص آپ ﷺ کی گستاخی کرے آپ ﷺ اسے معاف کر سکتے تھے لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی گستاخ رسول کو معاف کرنا، امت کے لیے جائز نہیں بلکہ امت پر واجب ہے کہ اسے قتل کر دے۔ اپنا حق حضور ﷺ خود معاف کر سکتے تھے۔ کسی اور کی یہ حیثیت ہی نہیں کہ گستاخ و مرتد کو معاف کرتا پھرے۔ کفار جو اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہیں ، ہم ان کی جان و مال، عزت و معابد کی حفاظت کریں گے مگر وہ بھی اگر گستاخی رسول کا ارتکاب کریں تو واجب القتل ہیں۔ لہٰذا آپ قادیانیوں سے میل ملاپ کرنا چھوڑ دیں، یہ حرام ہے۔
ہاں مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ حضور ﷺ کو آخری رسول مانتے تو مسلمانوں سے الگ تھلگ کیوں ہوتے؟ مرزے کو بھی نبی ماننا اور حضور ﷺ کو بھی آخری رسول ماننا دین سے مذاق ہے۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم اللہ کی توحید بھی مانتے ہیں اور بت پرستی بھی کرتے ہیں۔ ان سہیلیوں سے قطع تعلق کرنا فرض ہے۔
احترام قبلہ شریف کا لازم ہے یعنی بیت اللہ جو مکہ شریف میں ہے۔ قطب یعنی شمال کی طرف پاؤں کرنا جائز ہے۔
عشق رسول ﷺ کی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں۔ نماز، ذکر، درود و سلام اور تلاوت قرآن کریم پابندی سے کرتے رہیں۔ واللہ اعلم ورسولہ۔ عبد القیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج اول ص ۳۵۴۔۳۵۵)
باب ہفتم
مسیح موعود کی پہچان
سوال ..... اس رسالہ (مسیح موعود کی پہچان۔ از حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ) کے مطالعہ سے ابتدا ہی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بن باپ کی پیدائش سے لے کر واقعہ صلیب کے انجام تک جسقدر بھی علامات یا دوسری متعلقہ ظاہری نشانیاں اور باتیں بیان کی گئی ہیں وہ اس وجود کے متعلق ہیں جسے مسیح علیہ السلام، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور مسیح ناصری کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اور اب بھی جبکہ رسالہ مذکورہ کے مصنف کے خیال کے مطابق مسیح موعود یا مہدی موعود وغیرہ کا نزول نہیں ہوا (بلکہ انتظار ہی ہے) تب بھی پوری دنیا اس مسیح کے نام اور کام اور واقعات سے بخوبی واقف ہے۔ یہ نشانیاں تو اس قوم نے آج کے لوگوں سے زیادہ دیکھی تھیں (محض سنی اور پڑھی ہی نہیں تھیں) جن کی طرف وہ نازل ہوا تھا، تب بھی اس قوم نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا، کیا وہ دنیا سے چھپا ہوا ہے، اس وقت بھی اس قوم نے اسے اللہ تعالیٰ کا نبی ماننے سے انکار کر دیا تھا اب اگر وہ (یا کوئی) آ کر کہنے لگے کہ میں وہی ہوں جو بن باپ پیدا ہوا تھا، میری ماں مریم تھی اور میں پنگوڑے میں باتیں کیا کرتا تھا اور مردے زندہ کیا کرتا تھا۔ چڑیاں بنا کر ان میں روح پھونکا کرتا تھا، اندھوں کو بینائی بخشتا تھا اور جذام کے مریض تندرست کر دیا کرتا تھا وغیرہ وغیرہ تو اب بھی موجودہ تمام اقوام کو کیونکر یقین آ سکے گا کہ واقعی پہلے بھی یہ ایسا کرتا رہا ہوگا اور یہ یقیناً وہی شخص ہے اور جب پہلی بار نازل ہوا تو محض بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے آیا تھا اور جب مقامی لوگوں نے دل و جان سے قبول نہ کیا تو گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں اتنے سفر اختیار کیے کہ ”مسیح“ کے لقب سے پکارا جانے لگا لیکن اب جبکہ وہ دوسری بار نازل ہوگا تو ایک سراپا قیامت بن کر آئے گا جیسا کہ رسالہ ہذا سے ظاہر ہے۔ مثلاً ملاحظہ فرمائیں۔
”جس کسی کافر پر آپ کے سانس کی ہوا پہنچ جائے گی وہ مر جائے گا۔“
(ص ۱۸ علامت ۶۳)
”سانس کی ہوا اتنی دور تک پہنچے گی جہاں تک آپ کی نظر جائے گی۔“
(ص ۱۸ علامت ۱۵)
جواب ..... اس سوال کا جواب کئی طرح دیا جا سکتا ہے۔
- ۱..... مرزا قادیانی پر مسیح موعود کی ایک علامت بھی صادق نہیں آئی۔ مگر قادیانیوں کو دعویٰ ہے کہ انھوں نے مسیح
موعود کو پہچان لیا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن پر قرآن و حدیث کی دو صد علامات صادق آئیں گی ان کی پہچان اہل حق کو کیوں نہ ہو سکے گی؟
- ۲..... یہود نے پہچاننے کے باوجود نہیں مانا تھا اور یہود اور ان کے بھائی (مرزائی) آئندہ بھی نہیں مانیں گے،
نہ ماننے کے لیے آمادہ ہیں۔ اہل حق نے اس وقت بھی ان کو پہچانا اور مان لیا تھا اور آئندہ بھی ان کو پہچاننے اور ماننے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔
- ۳..... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا جو خاکہ ارشادات نبویہ میں بیان کیا گیا ہے اگر وہ معترض کے پیش نظر ہوتا
تو اسے یہ سوال کرنے کی جرأت ہی نہ ہوتی۔ فرمایا گیا ہے کہ مسلمان دجال کی فوج کے محاصرے میں ہوں گے نماز فجر کے وقت یکا یک عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا، اس وقت کا آپ کا پورا حلیہ اور نقشہ بھی آپ ﷺ نے بیان فرما دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ٹھیک آنحضرت ﷺ کے بیان فرمودہ نقشہ کے مطابق وہ نازل ہوں گے تو ان کو بالبداہت اسی طرح پہچان لیا جائے گا جس طرح اپنا جانا پہچانا آدمی سفر سے واپس آئے تو اس کے پہچاننے میں دقت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی حدیث میں یہ نہیں آتا کہ وہ نازل ہونے کے بعد اپنی مسیحیت کے اشتہار چھپوائیں گے، یا لوگوں سے اس موضوع پر مباحثے اور مباہلے کرتے پھریں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۱۸ تا ۲۲۰)
سوال....... اور یاجوج ماجوج کو ہلاک کرنے کے لیے بددعا کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ (ملاحظہ ہو ص ۳۱ علامت نمبر ۱۶۲) کیا مسیح موعود کی ہلاکت خیز نظر یاجوج ماجوج کو کافر نہ جان کر چھوڑ دے گی کیونکہ جیسا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ کافر تو نہیں بچ سکے گا، شاید اسی لیے آخری حربہ کے طور پر بددعا کی جائے گی۔
جواب...... یہ کہیں نہیں فرمایا گیا کہ دم عیسوی کی یہ تاثیر ہمیشہ رہے گی، بوقت نزول یہ تاثیر ہوگی اور یاجوج ماجوج کا قصہ بعد کا ہے۔ اس لیے دم عیسوی سے ان کا ہلاک ہونا ضروری نہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۰)
سوال....... سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی طور پر یہ منوا بھی لیا جائے کہ مسیح موعود کا نام عیسیٰ ؑ بن مریم بھی ہوگا تو بھی یہ کیسے منوایا جائے کہ اس وقت یہ نام صفاتی نہیں ہوگا بلکہ عیسیٰ بن مریم ہونے کی وجہ سے یقینی طور پر یہ وجود ہی وہی ہوگا جو کبھی مریم ؑ کے گھر بغیر باپ کے پیدا ہوا تھا....... وغیرہ وغیرہ، بلکہ مولوی صاحب اپنے رسالہ میں خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ کبھی کبھی معروف نام استعمال تو ہو جاتا ہے لیکن ذات وہ مراد نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ نام مشہور ہوا ہو مثلاً ملاحظہ فرمائیں ص ۱۱ علامت نمبر ۱۰ جہاں مولوی صاحب مسیح موعود کے خاندان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”آپ کے ماموں ہارون ہیں“ (یا اخت ہارون) لیکن مولوی صاحب فوراً چونک اٹھتے ہیں اور ”ہارون“ پر حاشیہ جماتے ہیں (ملاحظہ ہو حاشیہ زیر ص ۱۱) ”ہارون سے اس جگہ ہارون نبی ؑ مراد نہیں کیونکہ وہ تو مریم سے بہت پہلے گزر چکے تھے بلکہ ان کے نام پر حضرت مریم ؑ کے بھائی کا نام ہارون رکھا گیا تھا.......“ تو جیسے یہاں مولوی صاحب کو ”ہارون“ کی فوراً تاویل کرنا پڑی تاکہ الجھن دور ہو تو کیوں نہ جب مسیح موعود کو عیسیٰ بن مریم بھی کہا جائے تو اسے بھی صفاتی نام سمجھ کر تاویل کر لی جائے اور جسمانی طور پر پہلے والے عیسیٰ بن مریم مراد نہ لیا جائے کیونکہ ابھی ابھی بتایا جا چکا ہے کہ مولوی صاحب کے اپنے حوالہ کے مطابق بھی مسیح بن مریم کے اٹھائے جانے کے بعد اس کا واپس آنا ممکن نہیں کیونکہ کوئی آیت منسوخ نہیں ہوگی اور ”ورافعک الیٰ“ والی آیت اوپر ہی اٹھائے رکھے گی، لوٹ آنے کی اجازت نہیں دے گی۔
جواب....... عیسیٰ بن مریم ذاتی نام ہے، اس کو دنیا کے کسی عقلمند نے کبھی ”صفاتی نام“ نہیں کہا۔ یہ بات وہی مراقی شخص کہہ سکتا ہے جو باریش و بروت اس بات کا مدعی ہو کہ ”وہ عورت بن گیا، خدا نے اس پر قوت رجولیت کا مظاہرہ کیا ۔“ ”وہ مریمی صفت میں نشوونما پاتا رہا، پھر وہ یکا یک حاملہ ہوگیا، اسے درد زہ ہوا، وضع حمل کے آثار نمودار ہوئے، اس نے عیسیٰ کو جنا، اس طرح وہ عیسیٰ بن مریم بن گیا۔“ انبیاء علیہم السلام کے علوم میں اس ”مراق“
اور ”ذیابیطس کے اثر“ کی کوئی گنجائش نہیں۔
ہارون، حضرت مریم علیہ السلام کے بھائی کا ذاتی نام تھا یہ کس احمق نے کہا کہ وہ صفاتی نام تھا؟ اور خاندان کے بڑے بزرگ کے نام پر کسی بچے کا نام رکھ دیا جائے تو کیا دنیا کے عقلاء اس کو ”صفاتی نام“ کہا کرتے ہیں؟ غالباً سائل کو یہی علم نہیں کہ ذاتی نام کیا ہوتا ہے اور صفاتی نام کسے کہتے ہیں ورنہ وہ حضرت مریم کے بھائی کے نام کو ”صفاتی نام“ کہہ کر اپنی فہم و ذکاوت کا نمونہ پیش نہ کرتا۔ ہارون اگر ”صفاتی نام“ ہے تو کیا معترض یہ بتا سکے گا کہ ان کا ذاتی نام کیا تھا؟
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۱۔۲۲۲)
سوال....... مولوی صاحب نے اپنے رسالہ ہی میں خود تاویل کا راستہ کھول دیا ہے اور اس کا سہارا بھی لیا ہے۔
(ملاحظہ ہو ص ۲۰ علامت نمبر ۸۰)
- ۱....... ”آپ صلیب توڑیں گے....... یعنی صلیب پرستی کو اٹھا دیں گے ۔“ یہ الفاظ جو مولوی صاحب نے خود
لکھے ہیں۔ یہ محض تاویل ہے۔ اس حدیث شریف کی جس میں صرف صلیب کو توڑنے کا ذکر ہے۔ صلیب پرستی اٹھا دینے کی کوئی بات حضرت نبی کریم ﷺ نے بیان نہیں فرمائی کیا مولوی صاحب ایسی کوئی حدیث شریف کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ پھر ملاحظہ ہو ص ۲۰ علامت نمبر ۸۱۔
- ۲....... ”خنزیر کو قتل کریں گے....... یعنی نصرانیت کو مٹائیں گے ۔“ یہ الفاظ بھی مولوی صاحب کی اپنی تاویل ہے
کیونکہ حدیث مذکور میں صرف خنزیر کو قتل کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ باقی مولوی صاحب کے الفاظ وہاں موجود نہیں۔ کیا مولوی صاحب حدیث شریف میں یہ دکھا سکیں گے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ یہ حضور ﷺ کے الفاظ نہیں بلکہ مولوی صاحب کی یا دوسرے علماء کرام کی بیان فرمودہ تاویل ہے۔ اب یہ حق مولوی صاحب ہی کا کیوں ہے کہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں تاویل کر لیں۔“
- ۳....... ورافعک الیٰ کی بھی تاویل ہو سکتی ہے۔
جواب....... تاویل کا راستہ....... تاویل اگر علم و دانش کے مطابق اور قواعد شرعیہ کے خلاف نہ ہو تو اس کا مضائقہ نہیں، وہ لائق قبول ہے۔ لیکن اہل حق کی صحیح تاویل کو دیکھ کر اہل باطل الٹی سیدھی تاویلیں کرنے لگیں تو وہی بات ہوگی کہ ؎
بندر نے آدمی کو دیکھ کر اپنے گلے پر استرا پھیر لیا تھا۔ مثلاً عیسیٰ بن مریم بننے کے لیے پہلے عورت بننا، پھر حاملہ ہونا، پھر بچہ جننا، پھر بچے کا نام عیسیٰ بن مریم رکھ کر خود ہی بچہ بن جانا، کیا یہ تاویل ہے یا مراقی سودا؟
- ۱....... ”صلیب کو توڑ دیں گے....... یعنی صلیب پرستی کو مٹا دیں گے ۔“ بالکل صحیح تاویل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ
ایک آدھ صلیب کے توڑنے پر اکتفا نہیں فرمائیں گے بلکہ دنیا سے صلیب اور صلیب پرستی کا بالکل صفایا کر دیں گے۔
- ۲....... ”خنزیر کو قتل کریں گے....... یعنی نصرانیت کو مٹا دیں گے ۔“ یہ تاویل بھی بالکل صحیح ہے اور عقل و شرع کے
عین مطابق۔ کیونکہ خنزیر خوری آج کل نصاریٰ کا خصوصی شعار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصرانیت کے اس خصوصی شعار کو مٹائیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ نے اہل جاہلیت کے کتوں کے ساتھ اختلاط کو مٹانے کے لیے کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔
- ۳....... ورافعک الیٰ کی تاویل....... یہ تاویل جو قادیانی کرتے ہیں قرآن کریم اور ارشادات نبوی ﷺ اور
سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اس لیے مردود ہے اور اس پر بندر کے اپنا گلا کاٹنے کی حکایت صادق
آتی ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴، ۲۵)
سوال ...... اللہ تعالیٰ نے تو حضرت نبی کریم ﷺ کو بھی قرآن مجید میں یہی حکم دیا تھا کہ بلغ ما انزل الیک۔ (المائدہ ۶۷) ”جو تیری طرف اتارا گیا ہے اس کی تبلیغ کر“ اور ساتھ ہی یہ توجہ بھی دلائی تھی کہ لست علیھم بمصیطر . (الغاشیہ ۲۲) ”میں نے تجھے ان پر داروغہ نہیں مقرر کیا بلکہ کھول کھول کر نشانیاں بیان کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ اور یہ سب قرآن مجید میں بہ تفصیل موجود ہے۔ مولوی صاحب نے خود ہی فرمایا ہے کہ مسیح موعود خود بھی قرآن پر عمل کریں گے اور دوسروں سے بھی کروائیں گے۔ (ملاحظہ ہو ص ۲۲ علامت نمبر ۹۹) تو حضرت نبی کریم ﷺ نے تو یوں خود عمل کر کے نہیں دکھایا کہ اپنی نظروں سے لوگوں کو دکھا گئے ہوں۔ خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، یہودیوں کو چن چن کر قتل کر دیتے رہے ہوں۔ (ملاحظہ فرمائیں ص ۲۱ علامت نمبر ۸۷ اور نمبر ۸۸) تو یہ کس قرآن مجید پر مسیح موعود کا عمل ہوگا؟ اور کس انداز کا عمل ہوگا؟ کیا اس سے مسیح موعود کی شان بلند ہو گیا یا اسے دوبارہ نازل کرنے والے رحیم و کریم اللہ تعالیٰ کی؟ (نعوذ باللہ من ذالک)
جواب ...... آنحضرت ﷺ نے قیصر و کسریٰ کے تخت نہیں الٹے، خلفائے راشدین نے کیوں الٹے؟ آنحضرت ﷺ نے یہود کو جزیرہ عرب سے نہیں نکالا تھا حضرت عمرؓ نے کیوں نکالا؟ آپ ﷺ نے بنو تغلب سے دوگنا زکوٰۃ وصول نہیں کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیوں کی؟ اگر یہ ساری چیزیں قرآن کریم اور منشائے نبوی ﷺ کے مطابق ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سے کیوں یہودیانہ ضد ہے؟ وہ بھی تو جو کچھ کریں گے فرمودات نبویہ کے مطابق ہی کریں گے اور آنحضرت ﷺ ان امور کی تفصیلات بھی بیان فرما چکے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۲۲۶)
سوال ...... آج تک کتنی ہی باتیں مسلمانوں کے مختلف فرقے ابھی تک طے نہیں کر سکے اور اگر تاویلات نہیں کی جائیں گی تو مولوی صاحب خود ہی اپنی بیان کردہ علامات کی طرف توجہ فرمائیں، سنجیدہ طبقہ کے سامنے کیوں کر منہ اٹھا سکیں گے۔
جواب ...... بہت سے جھگڑے تو واقعی طے نہیں ہوئے۔ مگر قادیانیوں کی بدقسمتی دیکھئے کہ جن مسائل پر مسلمانوں کے تمام فرقوں کا چودہ صدیوں سے اتفاق رہا یہ ان سے بھی منکر ہو بیٹھے اور یوں دائرہ اسلام ہی سے خارج ہو گئے۔ مثلاً ختم نبوت کا انکار، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار، ان کی دوبارہ تشریف آوری کا انکار۔ وغیرہ وغیرہ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روح اللہ ہونا
سوال ...... ایک عیسائی نے یہ سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ہیں اس طرح حضرت عیسیٰ رسول اللہ کے ساتھ روح اللہ بھی ہیں۔ لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان بڑھ گئی۔
جواب ...... یہ سوال محض مغالطہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اس لیے کہا گیا کہ ان کی روح بلاواسطہ باپ کے ان کی والدہ کے شکم میں ڈالی گئی۔ باپ کے واسطہ کے بغیر پیدا ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ضرور
ہے مگر اس سے ان کا رسول اللہ ﷺ سے افضل ہونا لازم نہیں آتا۔ ورنہ آدم ؑ کا عیسیٰ ؑ سے افضل ہونا لازم آئے گا کہ وہاں ماں اور باپ دونوں کا واسطہ نہیں تھا۔ پس جس طرح حضرت آدم ؑ بغیر واسطہ والدین کے محض حق تعالیٰ شانہ کے کلمہ ”کن“ سے پیدا ہوئے اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ بغیر واسطہ والد کے کلمہ ”کن“ سے پیدا ہوئے اور جس طرح حضرت آدم ؑ کا بغیر ماں باپ کے وجود میں آنا ان کی افضلیت کی دلیل نہیں اسی طرح عیسیٰ ؑ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کی افضلیت کی دلیل نہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۳، ۲۶۴)
حضرت عیسیٰ ؑ کو کس طرح پہچانا جائے گا
سوال ...... اگر حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر جسم کے ساتھ موجود ہیں تو جب وہ اتریں گے تو لازم ہے کہ ہر شخص ان کو اترتے ہوئے دیکھ لے گا۔ اس طرح تو پھر انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں، اور سب لوگ ان پر ایمان لے آئیں گے۔
جواب ...... جی ہاں یہی ہوگا اور قرآن وحدیث نبوی ﷺ میں یہی خبر دی گئی ہے۔ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ ؑ کے تذکرہ میں ہے:
”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ۔“ (النساء ۱۵۹) اور حدیث شریف میں ہے:
”اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے، کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا۔ قد میانہ، رنگ سرخ وسفید، بال سیدھے، بوقت نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو، ہلکے رنگ کی دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو بند کردیں گے اور تمام مذاہب کو معطل کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کذاب کو ہلاک کردیں گے۔ زمین میں امن وامان کا دور دورہ ہوجائے گا یہاں تک کہ اونٹ شیروں کے ساتھ ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پس جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی، پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انھیں دفن کریں گے۔“
(مسند احمد ص ۴۳۷، ج ۲، فتح الباری ص ۴۹۳، جلد ۶، مطبوعہ لاہور۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص ۱۶۱)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۷۔ ۲۴۸)
حضرت عیسیٰ ؑ کا مدفن کہاں ہوگا؟
سوال ...... میں اس وقت آپ کی توجہ اخبار جنگ میں ”کیا آپ جانتے ہیں“ کے عنوان سے سوال نمبر ۲ ”جس حجرے میں آنحضرت ﷺ دفن ہیں وہاں مزید کتنی قبروں کی گنجائش ہے اور وہاں کس کے دفن ہونے کی روایت ہے یعنی وہاں کون دفن ہوں گے؟ اس کے جواب میں حضرت مہدیؒ لکھا ہوا ہے۔“ جبکہ ہم آج تک علماء سے سنتے آئے ہیں کہ حجرے میں حضرت عیسیٰ دفن ہوں گے۔
جواب ...... حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر حضرت مہدیؒ کی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ہوگی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۴)
حضرت مریم کے بارے میں عقیدہ
سوال....... مسلمانوں کو حضرت مریمؑ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے اور ہمیں آپ کے بارے میں کیا معلومات نصوص قطعیہ سے حاصل ہیں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت آپ کی شادی ہوئی تھی اگر ہوئی تھی تو کس کے ساتھ؟ کیا حضرت مریمؑ حضرت عیسیٰ کے "رفع الی السماء" کے بعد زندہ تھیں۔ آپ نے کتنی عمر پائی اور کہاں دفن ہیں کیا کسی مسلم عالم نے اس بارے میں کوئی مستند کتاب لکھی ہے؟ میری نظر سے قادیانی جماعت کی ایک ضخیم کتاب گزری ہے جس میں کئی حوالوں سے یہ کہا گیا ہے کہ حضرت مریمؑ پاکستان کے شہر مری میں دفن ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں۔
جواب....... نصوص صحیحہ سے جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مریمؑ کی شادی کسی سے نہیں ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے وقت زندہ تھیں یا نہیں، کتنی عمر ہوئی، کہاں وفات پائی؟ اس بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی تذکرہ نہیں۔ مؤرخین نے اس سلسلہ میں جو تفصیلات بتائی ہیں ان کا ماخذ بائبل یا اسرائیلی روایات ہیں۔ قادیانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کی تائید قرآن و حدیث تو کجا کسی تاریخ سے بھی نہیں ہوتی۔ ان کی جھوٹی مسیحیت کی طرح ان کی تاریخ بھی "خانہ ساز" ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۶۴)
سوال....... لگے ہاتھوں مولوی صاحب اس رسالہ میں یہ بھی بتا دیتے تو مسلمانوں پر احسان ہوتا کہ ان کی (یعنی مسیح موعود کی) سانس مومن اور کافر میں کیوں کر امتیاز کرے گی۔ کیونکہ بقول مولوی صاحب ان کی سانس نے صرف کافروں کو ڈھیر کرنا ہے۔ نظر ہر انسان کی بشرطیکہ کسی خاص بیماری کا شکار نہ ہو تو لامحدود اور ناقابل پیمائش فاصلوں تک جاسکتی ہے اور جاتی ہے تو کیا مسیح موعود اپنی نظروں سے ہی اتنی تباہی مچادے گا؟
جواب....... جس طرح مقناطیس لوہے اور سونے میں امتیاز کرتا ہے اسی طرح اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی نظر بھی مومن و کافر میں امتیاز کرے تو اس میں تعجب ہی کیا ہے؟ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نظر (کافر کش) کا ذکر مرزا قادیانی نے بھی کیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۰)
سوال....... اور اگر یہ سب ممکن ہوگا تو پھر دجال سے لڑنے کے لیے آٹھ سو مرد اور چار سو عورتیں کیوں جمع ہوں گی۔
(ملاحظہ ہو ص ۱۹ علامت نمبر ۷۱)
جواب....... دجال کا لشکر پہلے سے جمع ہوگا اور دمِ عیسوی سے ہلاک ہوگا، جو کافر کسی چیز کی اوٹ میں پناہ لیں گے وہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۰)
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند شبہات کا ازالہ
سوال....... جناب مفتی صاحب! ہم صبح و شام سنتے ہیں کہ اسلام یہ کہتا ہے، اسلام وہ کہتا ہے، اور جب حوالہ پوچھا جائے تو کبھی کسی طبری، کسی ابن کثیر یا کسی غزالی کا نام بتا دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات مولانا رومؒ، بلھے شاہؒ تک کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ کسی بات کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے لیے کسی انسان کے منہ کی بات دلیل نہیں ہوسکتی ہے، خدا اور رسول کے علاوہ کسی کو حوالے کے طور پر پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
اسلاف کا خیال و مقال جزء اسلام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ عہد رسالت میں دین کامل ہو چکا ہے؟ براہ کرم درج ذیل سوالات کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل فرما کر عنداللہ ماجور ہوں:۔
- (۱)...... مریم سلام اللہ علیہا صاحب حال ہیں، اچھا تو یہ تھا کہ وہ خود فرماتیں۔ وَلِدْتُ وَلَم اَتَزَوج.
- (۲)...... کیا کبھی عیسیٰ علیہ السلام نے خود اقرار کیا ہے: ولدتنی امی مریم الصديقة ولم تتزوج.
- (۳)...... کیا قرآن مجید میں کہیں اس کا ذکر ہے کہ: ولدته مريم ولم تتزوج.
- (۴)...... کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی یہ فرمایا ہے کہ مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر نکاح جنا ہے۔
- (۵)...... یا کبھی یوں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت میں باپ کا کوئی تعلق نہیں۔
اگر ان سب صورتوں کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو پھر بتایا جائے کہ مسلمانوں میں یہ نظریہ کب سے رائج ہے اور سب سے پہلے کس نے اس کا اظہار کیا ہے؟ نیز بغیر نکاح کے عمل کی کیا حقیقت ہے؟
کیا ہر نبی علیہ السلام کا حلال نکاح سے پیدا ہونا لازم تھا، جیسا کہ طبرانی میں ارشادِ نبوی ہے کہ میرے سلسلہ نسب میں کوئی بھی بغیر نکاح کے پیدا نہیں ہوا ہے، جس قدر بھی انبیاء نبوت سے سرفراز ہوئے سب شریف النسب اور نجیب الطرفین تھے۔
اگر عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اعتقادیات اور ایمانیات سے ہے تو پھر اس کا ثبوت اہل فن کے نزدیک متواتراتِ صریحہ سے لازم ہے اور استدلالات پر اس کا ثبوت درست نہیں۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ثبوت میرے ذمہ نہیں بلکہ نظام الٰہی میں یہ طے شدہ ہے، جیسا کہ مشاہدہ ہو رہا ہے اور کلام الٰہی میں بھی اصل ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: يٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی (الحجرات ۱۳) وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيْراً وَّ نِسَاءً. (النساء ۱) بچہ میاں بیوی دونوں سے ہوتا ہے صرف احد الزوجین سے نہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے: وكانت النفخة التي نفخها فى درعها فنزلت حتى ولجت فرجها بمنزلة نكاح الاب الأم. (تفسیر ابن کثیر ج ۸ ص ۱۹۴) جبرئیل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں جو پھونک ماری تھی وہ اس طرح ان کی فرج میں داخل ہوئی جس طرح کسی کا باپ حمل ٹھہرانے کے لیے اس کی ماں سے میل ملاپ کرتا ہے۔
آپ لوگ تو اس عبارت محولہ کو مانتے ہیں جبکہ میں اس سے انکار کرتا ہوں کیونکہ یہ فعل ملائکہ کا نہیں بلکہ شوہر کا ہے، مجھے ہم جنس شریف انسان کو باضابطہ شرعی نکاح سے باپ ٹھہرانا پسند ہے جبکہ آپ لوگ اس کو پسند نہیں کرتے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنا رکھے ہیں۔ کسی نے بلا نکاح کے باپ ٹھہرایا، کسی نے غیر جنس فرشتے کو باپ ٹھہرایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ باپ کا کوئی منکر نہیں ہم جنس اور نکاح کا انکار ہے، اور یہ سارے عقیدے شریعت کے خلاف ہیں، میں شریعت اسلامیہ کے مطابق ہم جنس مسلمان پاکباز سے نکاح مان کر باپ ٹھہراتا ہوں چاہے عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا کوئی دیگر بنی آدم میں سے ہو۔ جو کوئی بھی نبوت سے سرفراز ہوا ہے وہ شریف النسب اور نجیب الطرفین ہے، کسی نبی کا نسب اس کے معاصروں کے نزدیک اندھیرے میں نہیں ہوتا؟
الجواب ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کے ثبوت کے لیے جتنے مقدمات آپ نے بیان کیے ہیں وہ تمام باطل اور استدلالات غلط اور ناقص ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ ہونے کے لیے قرآن مجید کی یہ ایک آیت ہی کافی ہے: وَلَمْ يَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَکُ بَغِیًّا (مریم ۲۰) اس میں حرام و حلال دونوں قسم کے جماع کی نفی ہے، نیز اس
آیت کے سیاق وسباق سے خارق العادت طور سے پیدا ہونا بھی ظاہر ہے۔
(فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۱۵۵۔۱۵۶)
مسیح موعود سے عیسیٰ ابن مریم ہی مراد ہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قیامت کے قریب نازل ہونے والے مسیح موعود سے عیسیٰ ابن مریم مراد ہیں یا کوئی اور عیسیٰ ومسیح؟ کیونکہ آج کل کئی مسیح موعود بنے پھرتے ہیں، مخالفین کہتے ہیں کہ احادیث متعلقہ مہدی وعیسیٰ جو سنی حضرات بیان کرتے ہیں وہ سب موضوع اور ضعیف ہیں۔ ایسے عقیدہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
الجواب ...... اہلسنت والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں اور قیامت سے قبل آسمانوں سے نزول فرمائیں گے، قرآن پاک کے کثیر نصوص قطعیہ سے یہ عقیدہ ثابت ہے، اس میں ذرہ بھر شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح نزول عیسیٰ ؑ کے متعلق اس کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں کہ جن کو جمع کر کے علماء کرام نے کئی مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔
حضرت علامہ العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس موضوع پر عقیدۃ الاسلام فی نزول عیسیٰ ؑ اور التصریح بما تواتر فی نزول المسیح مرتبہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، ان حضرات نے اور اسی طرح دیگر علماء محققین نے حیات مسیح اور نزول عیسیٰ ؑ کو محققانہ انداز میں بیان فرمایا ہے کہ تمام روایات معنی ’’تواتر‘‘ کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ رہا یہ کہ مسیح موعود سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام ہیں یا کوئی اور عیسیٰ ومسیح مراد ہے؟ تو اس بارہ میں خود امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے احادیث نزول عیسیٰ میں صرف حضرت ابن مریم ؑ کا تعین فرما دیا ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی کذاب یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں پائی جاتی ہے۔ اگر چہ روایات میں عیسیٰ کے لفظ کا ذکر ہی نہیں تا کہ کل کو کوئی دجال اس سے غلط فائدہ نہ اٹھائے بلکہ زیادہ تر روایات میں ابن مریم (مریم کے بیٹے) کی تصریح موجود ہے اور نزول ابن مریم ؑ کے بارہ میں از اول تا آخر علامات بیان کی گئی ہیں، ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی کذاب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا یا نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ علامات سے ہٹ کر مہدی موعود یا نزول عیسیٰ یا دجال وغیرہ واقعات کے بارہ میں قیاس آرائیاں کرے گا تو ایسے شخص کا عقیدہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے بلکہ قرآن پاک کی نصوص قطعیہ سے متصادم ہے۔
قال الله تبارک و تعالیٰ: وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسٰى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ. (النساء ۱۵۸)
وقال الامام فخر الدین الرازیؒ: (تحت هذه الآیة) رفع عیسٰی علیہ السلام الی السماء ثابت بهذه الایة و نظیر هذه الآیة. قوله تعالٰی فی ال عمران اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا.
(تفسیر کبیر ج ۱۱ ص ۱۰۳ المسئلة۔ سورة النساء) (فتاویٰ حقانیہ ص ۲۴۶۔۲۴۷)
حضرت عیسیٰ ؑ کا مثلِ آدم ؑ ہونا
سوال ...... سورۃ آل عمران آیت نمبر ۵۹ میں ارشاد خداوندی ہے: إِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ جس
میں حضرت عیسیٰ ؑ کو حضرت آدم ؑ کا مثیل اور مشبہ بتایا گیا ہے لیکن آدم ؑ بغیر ماں باپ کے تھے اور عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے تھے، تو پھر یہ تشبیہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟
الجواب ...... چونکہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش عادتِ مستمرہ کے خلاف ہوئی تھی جو بغیر باپ کے تھی، اور یہ ایک عجیب واقعہ تھا لیکن اس سے زیادہ عجیب تر سیدنا حضرت آدم ؑ کی پیدائش تھی جو ماں باپ دونوں کے بغیر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوئی تھی تو یہاں عجیب واقعہ کی عجیب تر واقعہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور تشبیہ و تمثیل میں مشبہ کا مشبہ بہ کے ساتھ تمام وجوہات میں متحد اور یکساں ہونا لازم نہیں ہے بلکہ مشبہ بہ کی بعض صفات کا مشبہ میں پایا جانا تشبیہ اور تمثیل کے لیے کافی ہوتا ہے جیسے کسی انسان کی بہادری کی تشبیہ شیر کے ساتھ دی جاتی ہے اگرچہ من کل الوجوہ یکساں نہیں ہوتے۔
لما قال الشيخ علاء الدين: علق تحت قوله تعالى: إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ. قلت هو مثله في احد الطرفين فلا يمنع اختصاصه دونه بالطرف الآخر من تشبيهه لان المماثلة مشاركة في بعض الاوصاف ولانه شبه به فى ان لَهُ وجوداً خارجاً عن العادة المستمرة وهما في ذلک نظيران لان الوجود من غير اَبٍ وَأُمٍّ اغرب فى العادة من الوجود من غير ابٍ فشبه الغريب بالاغرب ليكون اقطع للخصم واحسم لمادة شبهته.
(خازن ج ۱ ص ۲۵۷ آل عمران ۵۹)
وقال القرطبى: فيه دليل على صحة القياس والتشبيه واقع على ان عيسى خلق من غير اب كآدم لاعلى انه خلق من تراب والشئ قد يشبه بالشئ وان كان بينهما فرق كبير بعد ان يجتمعا فى وصف واحد فان ادم خلق من تراب ولم يخلق عيسى من تراب فكان بينهما فرق من هذه الجهة ولكن شبه ما بينهما انهما خلقا من غير آب. (احکام القرآن ج ۱ ص ۱۰۲ تحت ان مثل عیسٰی عند اللہ البقرۃ) وَمِثْلُهُ فى تفسيره الشهير بالصاوى ج ۱ ص ۱۵۹ سورة البقرة.
(فتاویٰ حقانیہ ج ۲ ص ۱۳۹)
حدیث لو کان موسٰی و عیسیٰ حیین کی تحقیق
سوال ...... ”لو کان موسٰی و عیسیٰ حیین“ کی یہ حدیث کسی بھی معتبر کتاب میں موجود ہے یا کہ بیہقی کا جو حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس میں ہے یا نہیں؟
جواب ...... حدیث: ”لو کان موسٰی و عیسیٰ حیین“ کسی بھی معتبر کتاب میں موجود نہیں۔ البتہ تفسیر ابن کثیر میں ضمناً یہ الفاظ لکھے ہیں اور اسی طرح اور بعض کتب تصوف میں نقل کر دیا ہے۔ مگر سب جگہ بلاسند نقل کیا ہے۔ اس لیے یہ حدیث بوجوہ احادیث مشہورہ کے معارض نہیں ہو سکتی۔
اولاً: معارض کے لیے مساوات فی القوۃ شرط ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں اور جہاں کہیں ہے تو وہ بلاسند ہے اور یہ قول ائمہ حدیث کا مقبول و مشہور ہے کہ: ”لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء۔“
ثانیاً: اگر بالفرض یہ حدیث معتبر ہی ہو تو احادیث متواترہ درباره حیات و نزول عیسیٰ ؑ کے معارض ہو گی اور ترجیح کی نوبت آئے گی تو ظاہر ہے کہ احادیث کثیرہ متواترۃ المعنیٰ کو اس کے مقابلہ میں ترجیح ہو گی نہ ایک اس حدیث کو جس کا حدیث ہونا بھی ہنوز متعین نہیں۔
ثالثاً: اگر ان الفاظ کو صحیح اور ثابت بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے وفات عیسیٰ ؑ ثابت نہیں ہوتی۔
بلکہ اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ عالم زمین پر حیات ہوتے کیونکہ حدیث میں اتباع نبوت کا ذکر ہے اور یہ اتباع اس عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ سو یہ صحیح ہے کہ اگر عیسیٰ ؑ اس عالم میں زندہ ہوتے تو آپ ﷺ کا اتباع کرتے۔ اب چونکہ ایک دوسرے عالم میں ہیں زندہ ہیں۔ اس لیے اتباع ان پر ضروری نہ رہا۔ نہ سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ اور اگر اس مضمون کو مبسوط دیکھنا چاہیں تو مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب نے اس مضمون پر مستقل رسالہ لکھا ہے۔ وہ ملاحظہ فرمائیے۔ (الحمد للہ! احتساب قادیانیت جلد دہم کے ص ۴۳۸ تا ۴۵۶ پر یہ رسالہ مکمل شائع ہو گیا ہے۔ مرتب) (امداد المفتین کامل ص ۱۴۳۔۱۴۴)
تحقیق استدلال بر بطلان دعویٰ مرزا بآیت فلما جاءھم
سوال...... صاحب مطول نے جولما بمعنی ظرف اور مستعمل علی طریقہ الشرط کے تحت میں تحریر کیا ہے۔ یلیہ فعل ماضی لفظاً او معنی وقال سیبویہ لما الوقوع اموال وغیرہ تو جس قدر لما کذائیہ قرآن مجید میں ہیں سب اسی معنی پر واقع ہیں۔ مگر تین جگہ لما اس قاعدہ کے خلاف ہیں۔
اول سورۂ یونس ۵۴ میں قولہ تعالیٰ اسروا الندامة لما راؤا العذاب. دوم سورۂ شوریٰ آیت ۴۴ میں قولہ تعالیٰ و تری الظلمین لما رأوا العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل سوم قولہ تعالیٰ فلما راؤہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا. سورۂ ملک آیت ۲۷ میں۔
اب جناب سے استفسار کیا جاتا ہے کیا لما ان ہر سہ جگہ میں حقیقی معنی پر مشتمل ہے یا مجازی پر اور جو صاحب مدارک وغیرہ نے یہاں حین کے ساتھ تفسیر لما کی ظاہر کی ہے تو کیا مجازی طور پر ہے اور اس صورت میں شرط کے معنی درست ہو سکتے ہیں یا نہ، اور کیا حین شرط کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور اذا جو استقبال کے لیے ہوتا ہے لما کو ان ہر سہ مواقع پر اس کے معنی میں کہنا درست ہے یا نہیں اور صاحب مدارک نے اس کے ساتھ کیوں تفسیر نہیں کی۔ جناب ان سب امور سے مفصل طور پر جواب فرما دیں، حضرت صاحب اصلی مدعا اس سے عاجز کو دریافت کرنے کا یہ ہے کہ ایک مرزائی بدعقیدہ نے مجھ کو کہا کہ آیت یاتی من بعدی اسمہ احمد (الصف ۶) کا مصداق غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ ہے تو میں نے اس کو جواب دیا کہ قطع نظر اور ادلہ کے خود یہی آیت اس مصداق بننے کی تردید کر رہی ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ فلما جاء ھم قالوا ھذا سحر مبین (الصف ۶) یعنی جس کی بابت حضرت عیسیٰ ؑ نے بشارت دی تھی وہ آ چکے ہیں، یہ نہیں کہ آئندہ کو آئیں گے تو اس نے تین مواقع قرآن سے اعتراضاً میرے پر پیش کیے، اور کہا کہ کیوں اسی جگہ پر ان مواقع کی طرح ہی معنے کیے نہ جائیں لہٰذا آپ کے پاس بغرض تفصیل کے یہ سوال بھیجا جاتا ہے، تاکہ احقر العباد کو کسی معتبر تفسیر مثلاً کشاف وغیرہ سے بخوبی واضح کر دیں، ہمارے پاس سوائے کتب نحو درسیہ کے اور کوئی کتاب نہیں ہے، اور نہ ہی اتنی لیاقت ہے، اس لیے ضرور بصد ضرور جواب سے مشرف فرمائیں۔
الجواب...... کیا مرزا کے اس دعوے کا بطلان اسی دلیل پر موقوف ہے، جو آپ اس کے سالم رہنے کی اس قدر سعی فرماتے ہیں، اس دلیل کو چھوڑ دیجئے اور ظاہر ہے کہ دلیل کے انتفاء سے مدلول کا انتفاء لازم نہیں آتا، لان الدلیل ملزوم والمدلول لازم اور انتفاء الملزوم لایستلزم انتفاء للازم. ۲۵ شعبان ۱۳۳۵ھ (تتمہ خامسہ ص ۲۵)
(امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۳۴۸۔۳۴۹)
رفع ترددات بعض مائلین سوئے قادیانی
سوال ...... جناب بندہ تسلیم مزاج شریف۔ اثناء تقریر میں جو آپ نے کل بمقام سہارنپور جلسہ میں بڑے لطف سے فرمایا تھا کہ ہم تمام قسم کے شکوک کو رفع اور اعتراضات کا بلا تعصب جواب دینے کو موجود ہیں کوئی محرک بن کر دکھا دے۔ اسی سے مجھے جرأت ہوئی ہے کہ آپ کے قیمتی وقت کا کچھ حصہ لوں، اگرچہ مجھ سے جناب مرزا قادیانی سے فی زمانہ کوئی سروکار نہیں اور میں ایک ایسی اسٹیج پر ہوں جو باعث شکوک بالکل متزلزل اور قریب ہے کہ پھسل کر بالکل برباد ہو جانے والی ہو زیادہ تر میرا میلان آپ ہی لوگوں کی طرف ہے مگر تاہم میں جس قدر سوالات کروں گا ان سے میرا مرجع طبیعت زیادہ تر جناب مرزا قادیانی ہی کی طرف ان کی مطابقت اصول میں ثابت ہوگا۔
سوال اول: مسیح کی حیات و ممات کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے جناب مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی تین آیت (یعنی فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (المائدہ ۱۱۷) قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران ۱۴۴) وغیرہ) سے ان کی ممات ثابت کی ہے کیا آپ کسی آیت سے ان کی حیات کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ مہربانی کر کے مرزا قادیانی کے دلائل کی تردید کرتے ہوئے اپنے دعاوی کا ثبوت قرآن شریف کی آیات اور احادیث سے مع پتہ رکوع و سورۃ تحریر فرمائیں۔
سوال دوم: اگر مسیح کی وفات کو آپ تسلیم کرتے ہیں اور زمانہ نزول مسیح بھی کہا جاتا ہے کہ یہی ہے اور جناب ختم رسالت مآب ﷺ بھی مثیل موسیٰ ؑ مسلم ہو چکے ہیں تو پھر مرزا قادیانی کو مسیح موعود کیوں نہ مانا جائے اور اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی ہی مسیح موعود ہے تو کیا پھر ان کی مخالفت میں کفر لازم ہوگا اور کیا یہ لازم نہیں کہ فی الفور ان کی بیعت کر لی جائے۔
سوال سوم: کیا فرشتوں کا نزول زمین پر مجسد ہوتا رہا ہے اور کیا کوئی مردہ پہلے زمانہ میں اس طرح مستقل طور سے زندہ ہوا ہے کہ جینے کے بعد برسوں جیتا رہے اور خدا نے ان کی نسل میں برکت دی اور پھولا پھلا۔
سوال چہارم: اگر مسیح زندہ ہیں اور ان کو دوبارہ تشریف لانا ہے تو کیا اس سے جناب رسالت مآب ﷺ کی ختم رسالت میں معاذ اللہ کوئی فرق لازم نہیں آتا، فرض کرو حضور ایڈورڈ کی عہد حکومت میں لارڈ کرزن انگلستان سے آ کر ہندوستان میں کچھ زمانہ حکومت کر کے واپس بلایا جائے تو عملداری حضور ایڈورڈ کی سمجھی جائے گی یا لارڈ کرزن کی، اور کیا حضور ایڈورڈ کی حکومت کے ساتھ لفظ قیام اور ختم کا استعمال کیا جائے گا یا لارڈ کرزن کی حکومت کے ساتھ، اور کیا جب مسیح دوبارہ دنیا میں رونق افروز ہوں گے اس وقت بھی وہ رسول ہوں گے یا ان کا درجہ ان سے چھین لیا جائے گا اور بہشت سے نکال کر پھر کیوں انھیں دنیا میں بھیجا جائے گا از راہ کرم ان کے جواب سے مفصل مطلع فرمائیں۔
جواب ...... مکرم بندہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ میں مسرور ہوا کہ آپ نے اپنے شبہات پیش فرمائے ہیں۔ آئندہ کے لیے بھی اس خدمت سے مشرف ہونا چاہتا ہوں لیکن کچھ ضروری امور بطور اصول موضوعہ کے عرض کر دینا مناسب سمجھتا ہوں جن کی رعایت سے آپ کو اور مجھ کو سہولت رہے گی۔ نمبر ۱:...... جس دعوٰی کی آپ دلیل پوچھیں آپ کو تعین دلیل کا حق نہ ہوگا کہ قرآن سے ثابت ہو یا حدیث سے۔ شریعت کے اصول میں سے جس اصل سے دل چاہے مجیب کو جواب دینا جائز ہوگا۔ مع لحاظ درجہ دعوٰی کے نمبر ۲:...... اپنی جس دلیل یا مضمون کا آپ جواب
چاہیں اس دلیل اور مضمون کی پوری تقریر کر دینا آپ کے ذمہ ہوگی اجمال اور اشارہ کافی نہ سمجھا جائے گا نہ کسی دوسرے شخص کے بیان کا حوالہ کافی ہوگا وہی تقریر آپ نقل کریں مگر اپنی طرف منسوب کر کے۔ نمبر ۳:...... دلیل کے جواب میں مجیب کو اختیار ہوگا کہ کسی خاص مقدمہ پر دلیل کا مطالبہ کرے جب تک اس مقدمہ پر دلیل نہ پیش کی جائے گی اس وقت تک یہی مطالبہ جواب ہوگا اس کا نام منع ہے۔ نمبر ۴:...... استدلال یا جواب استدلال میں آپ کو تطویل کے مطالبہ کا حق نہ ہوگا اگر جواب مختصر مگر کافی ہو آپ اس پر یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ یہ جواب جھوٹا ہے۔ نمبر ۵:...... وہی مضامین لکھ سکیں گے جو واقع میں آپ کو شبہ میں ڈال رہے ہیں اور جواب کو خلو ذہن کے ساتھ معائنہ فرمانا ضرور ہوگا کیونکہ محض سوچ کر کوئی شبہ زبردستی صرف رد کرنے کی غرض سے پیش کر دینا۔ یہ مجادلین کا کام ہے نہ طالبین حق کا اور اس سے کبھی فیصلہ نہیں ہو سکتا ہے۔ نمبر ۶:...... جو سوال آپ کریں اس کی غرض اور غایت کا ضرور ساتھ ساتھ اظہار فرمایا جائے اور جو وجہ اشکال کی ہو اس کو بھی ظاہر فرما دیا جائے بدون اس کے کہ ایسے سوالوں کا جواب بذمہ مجیب نہ ہوگا کیونکہ بے نتیجہ کام میں وقت صرف کرنا عبث ہے۔ اب جواب عرض کرتا ہوں۔
جواب سوال اوّل: حضرت مسیح علیہ السلام میرے عقیدہ میں زندہ ہیں ان آیتوں میں سے جس جس کی تقریر آپ نقل کریں گے اس کا جواب میرے ذمہ ہوگا۔ (اصول موضوعہ نمبر ۲) آپ کو ایسے سوال کا حق نہیں کہ آیت یا حدیث سے ثبوت دے سکتے ہیں، البتہ اتنا سوال کر سکتے ہیں کہ حیات کی کیا دلیل۔ پھر مجیب کو اختیار ہے جو دلیل چاہے بیان کرے اور آپ کو پھر اس پر موجہ شبہ کرنے کا حق ہے۔ (اصول موضوعہ نمبر ۱) جواب سوال دوم: چونکہ اس سوال کے سب اجزاء اعتقاد وفات مسیح علیہ السلام پر متفرع ہیں اور میں خود وفات کا قائل نہیں اس لیے کسی جز کا جواب میرے ذمہ نہیں۔ جواب سوال سوم: اس سوال کی غرض اور جو اس میں وجہ اشکال ہے ظاہر فرمائیے تو جواب دیا جائے۔ (اصول موضوعہ نمبر ۶) جواب سوال چہارم: فرق آنے کی وجہ لکھئے تو جواب دیا جائے۔ (اصول موضوعہ نمبر ۲) آگے جو مثال لکھی ہے اس کو ممثل لہ پر پورا بعینہ منطبق فرما کر پھر اشکال کیجئے۔ ان سوالات کے لیے ان ہی اصول موضوعہ کو کافی سمجھا گیا۔ اگر کسی جدید سوال سے کسی اور اصل موضوع کی ضرورت معلوم ہوگی اصول موضوعہ کا نمبر بڑھا دیا جائے گا اصول موضوعہ کے لحاظ سے سوال فرمائیے تاکہ باضابطہ گفتگو ہو البتہ اگر کسی اصل موضوع کو آپ غلط ثابت کر دیں گے۔ اس کا جواب یا رجوع میرے ذمہ ہوگا۔ والسلام ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ (امداد رابع ۱۴۲)
(امداد الفتاویٰ جلد ۶ ص ۱۳۹ تا ۱۴۱)
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزۂ احیاء موتیٰ کا کیوں منکر تھا؟
سوال...... مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزۂ احیاء موتیٰ کا اس بناء پر منکر ہے کہ قرآن میں ردّ میراث و ردّ نکاح کے (اگر اس کی بیوہ نے کسی اور سے نکاح کر لیا ہو) احکام بیان نہیں کیے، میرا جواب یہ ہے کہ اگر ردّ میراث و ردّ نکاح کی ضرورت ہوتی تو قرآن میں اس کے احکام ہوتے، چونکہ اس کے مرنے کے بعد اس کا مال اور اس کی ملک متعہ زائل ہوگئی، وہ محض احیاء سے واپس نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ اس کے مشروط اسباب و قیود نہ مہیا ہوں، یعنی وہ پھر مال کمائے یا وارث کسی کا بنے اور از سرنو نکاح کرے وغیرہ، فما جوابکم فی ہٰذہ المسئلہ ؟
الجواب...... قال فی الشامیة فی باب المفقود تحت قول الدر فان ظہر قبلہ ای قبل موت اقرانہ حیا الخ مانصہ لکن لوعاد حیا بعد الحکم بموت اقرانہ قال الظاھر انہ کالمیت اذا احیی و المرتد
اذا اسلم فالباقی فی یدورثته له ولا یطالب بما ذهب قال ثم بعد رقمه رایت المرحوم ابالسعود نقله عن الشيخ شاهين.
٭ (ص ٣٦٣ ج ٣)
وفى البحر فى الاحكام المرتدين وان عاد مسلما بعد الحكم بلحاقه فما وجده فی یدوارثه اخذه والا لا ای وان لم يجده قائما فی یده فلیس له اخذ بدله منه لان الوارث انما یخلفه فیه لا ستغنایه واذا عاد مسلما یحتاج الیه فیقدم علیه و على هذا لو احياء الله ميتاً حقيقة واعاده الی دارالدنیا كان له اخذ مافی یدوراثته واطلق فى قوله والا لا فشمل ما اذا كان هالكا او ازاله الوارث عن ملكه وهو قائم سواء كان بسبب يقبل الفسخ كبيع وهبة اولا يقبله كعتق و تدبیر واستیلاء فانه يمضى ولا عودله فيه و شمل مالم يدخل فى یدوارثه اصلا کمد بریه وامهات اولاده المحكوم علیهم بعتقهم بسبب الحكم بلحاقه فانهم لا یعودون فى الرق لان القضاء بعتقهم قد صح بدلیل مصحح له والعتق بعد نفاذه لا يقبل البطلان (ص ١٣٣ ج ٥) قلت و كذا اذا تزوجت زوجة الميت بعد عدة الوفاة رجلاً فنكاحه صحیح ولا يبطل بعود الميت حيًّا فان الحكم بصحته قدتم بدلیل مصحح له والله اعلم واما لوتزوجت في العدة فلاشك فى بطلان النکاح الثانی وهل تعود الی الزوج الاوّل الذی اعید حیافی عدتها بدون تجدید نکاح بینهما او بالتجديد فالظاهر الاوّل لقول الفقها المرأة تغسل زوجها المیت لان اباحة الغسل مستفاد بالنکاح والنكاح بعد الموت باق الى ان تنقضى العدة (شامی ص ٨٩٧ ج ٢) ۱۳ شوّال ٣٦ھ از تھانہ بھون۔
(امداد الاحکام ج ۱ ص ١٦٧۔١٦٨)
مسیح موعود کا دعویٰ کرنے والے کا حکم
سوال...... مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟ اور عربی میں کیا موعود کے معنی جس کے بارے میں وعدہ دیا گیا تھا ملتے ہیں اس کی وضاحت کیجئے؟ سائل: محمد اسماعیل از شجاع آباد
جواب...... موعود کے معنی جو وعدہ کیا گیا کے ہیں جیسے مقتول کے معنی ہیں جو قتل کیا گیا......موعود کا یہ معنی نہیں جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کے بارے میں (دوبارہ آنے کا) وعدہ کیا گیا تھا تو اسے عربی میں یوں کہنا ہوگا۔ انا المسيح الموعود به اگر وہ کہتا ہے انا المسيح الموعود تو عربی زبان کے اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔
مصر میں جب یہ بات پہنچی کہ ہندوستان میں ایک شخص نے وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کا (احادیث میں) وعدہ کیا گیا تھا تو ان لوگوں نے اسے المسیح الموعود به کے لفظ سے ذکر کیا مسیح موعود سے نہیں اور کوئی عربی دان کسی شخص کے بارے میں موعود کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ مطلق اسم مفعول نہیں سو اسے مسیح موعود نہیں کہا جا سکتا اور کوئی عربی دان کسی شخص کے بارے میں مسیح موعود نہیں کہہ سکتا اس کے ساتھ باء کا اضافہ ضروری ہے۔ سو یہاں المسیح الموعود به چاہیے۔
- ۲۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو خود مسیح موعود لکھتا ہے اور عربی میں بھی اپنے آپ کو المسيح
الموعود کہتا ہے۔ اپنے خطبہ الہامیہ میں کہتا ہے۔
علامہ رشید رضا مصری ایک مقام پر مرزا غلام احمد کے اس دعوئی مسیحیت کا یوں تذکرہ کرتے ہیں۔ وظهر فی الهند رجل اخر سمی ادعى انه هو المسيح الموعود به وهو غلام احمد القاديانی. ترجمہ: ہندوستان میں ایک اور بیوقوف نکلا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح موعود بہ ہے اور کان هذا الرجل يستدل بموت المسيح و رفع روحه الى السماء كما رفعت ارواح الانبياء على إنه هو المسيح الموعود به. (تفسیر المنار) ترجمہ : یہ شخص مسیح کی وفات سے ....... استدلال کرتا ہے کہ المسیح الموعود بہ وہ خود ہے۔ سو مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ علمی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔ اسے مسیح موعود بہ کہنا چاہیے تھا۔ خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۴۸۲_۴۸۵)
ظہور امام مہدیؑ اور نزول عیسیٰ ؑ کے بارے میں فتویٰ
سوال ....... جناب مفتی صاحب دربارہ ظہور امام مہدی و نزول حضرت عیسیٰ ، علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام حسب ذیل مسائل کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے صحیح عقائد سے آگاہ فرمائیں۔
(۱)...... کیا امام مہدی آخر الزمان حضرت حسینؓ کی اولاد سے ہوں گے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں؟ احادیث نبویہ کی روشنی میں حضرت مہدی کے امام حسینؓ یا امام حسنؓ کی اولاد میں سے ہونا بیان فرمائیں۔
(۲)...... حضرت مہدی کب اور کہاں پیدا ہوں گے ان کا اسم مبارک اور ان کے والدین کے اسم مبارک ان کے بارہ میں آثار غیب اور جامع حالات مہدی و حضرت عیسیٰ ؑ تحریر فرمائیں۔
(۳)...... نازل ہونے والے حضرت عیسیٰ ؑ سے عیسیٰ ؑ ابن مریم مراد ہیں یا کوئی اور عیسیٰ؟ کیوں کہ آج کل کئی مسیح موعود بنے پھرتے ہیں لامذہب حضرات یہ کہتے ہیں کہ احادیث متعلقہ مہدی و نزول عیسیٰ ؑ جو سنی حضرات بیان کرتے ہیں وہ موضوع اور ضعیف ہیں بلکہ اصلی مہدی ابن حسن عسکری یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جواب سے مطلع فرمادیں۔
الجواب...... (۱) حضرت مہدی کا فاطمی اور خانوادۂ رسول ﷺ میں سے ہونا احادیث قویہ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے اکثر روایات میں حضرت مہدی کے بارہ میں رجل من اهل بیتی (یعنی میرے خاندان اہل بیت میں سے ہوگا ) اور من عترتی ( میری اولاد میں سے ) کے الفاظ موجود ہیں (ترمذی شریف ج ۲ ص ۴۶) میں متعدد روایات میں جنھیں امام ترمذیؒ نے حدیث حسن صحیح کہا ہے نیز ابوداؤد کی روایت میں ہے۔ عن ام سلمة قالت سمعت رسول الله ﷺ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ یقول المهدی من عترتی من اولاد فاطمة (مشکوٰۃ ص۴۷۰) بروایت ابوداؤد شریف فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی سید اور فاطمۃ الزہراءؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں تحریر فرمایا کہ اس بارہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں وہ بمعنی حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں رہی یہ بات کہ حضرت مہدی ؑ کی والدہ اور والد ماجد دونوں جانبوں سے نجیب الطرفین سید ہوں گے۔ والدین میں ایک سلسلہ حضرت امام حسنؓ اور ایک حضرت حسینؓ سے ہوگا جیسا کہ شیخ ابن حجر مکی ہیثمی نے بھی یہی تصریح فرمائی ہے۔
جواب...... (۲) حضرت مہدی کے اجمالی حالات، حضرت مہدی کے علامات ظہور ان کے حالات شکل و شباہت اور شمائل اور عادات احادیث نبویہ میں مفصلاً مذکور ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین دہلویؒ نے علامات قیامت
کے ضمن میں ان چیزوں کو بھی مفصل اور یکجا جمع کیا ہے، اس رسالہ کی بنیاد آیات قرآنیہ اور مستند احادیث نبویہ پر ہے۔ یہاں ان کے رسالہ علامات قیامت سے اجمالاً مختصر حالات نقل کیے جاتے ہیں۔
حضرت امام مہدی کے ظہور کی علامت یہ ہوگی کہ اس سے قبل (اوّل) ماہ رمضان چاند اور سورج گرہن لگ چکے گا اور بیعت کے وقت آسمان سے ندا آئے گی ۔ ھذا خلیفة الله المهدی فاستمعوا له واطیعوا یہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے اس کا حکم سنو اور مانو اس آواز کو اس جگہ تمام خاص و عام سنیں گے حضرت امام سید اور اولاد فاطمہ کے ہوں گے آپ کا قد و قامت قدرے لمبا بدن رنگ کھلا ہوا اور چہرہ پیغمبر خدا ﷺ سے مشابہ ہوگا نیز آپ کے اخلاق پیغمبر خدا ﷺ سے مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف محمد والدہ صاحبہ کا نام آمنہ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ جس کی وجہ سے متکدر ہو کر کبھی کبھی ران پر ہاتھ مارتے ہوں گے۔ آپ کا علم لدنی (خداداد ہوگا) بیعت کے وقت عمر چالیس سال کی ہوگی خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی شام عراق اور یمن کے اولیاء کرام و ابدال عظام آپ کی مصاحبت میں اور ملک عرب کے بے انتہاء آدمی آپ کی افواج میں داخل ہو جائیں گے اور اس خزانہ کو جو کعبہ میں مدفون ہے جس کو تاج الکعبۃ کہتے ہیں نکال کر لوگوں پر تقسیم فرمائیں گے (آگے مفصل حالات ہیں یہاں تک کہ دجال کے دمشق پہنچنے سے قبل) حضرت امام مہدیؑ دمشق آ چکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری اور ترتیب فوج کر چکے ہوں گے اور اسباب حرب و ضرب تقسیم کر چکے ہوں گے کہ موذن عصر کی اذان دے گا لوگ نماز کی تیاری میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ کیے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی مینارے جلوہ افروز ہو کر آواز دیں گے کہ سُلَّم (سیڑھی لے آؤ) سیڑھی حاضر کی جائے گی آپ اس کے ذریعہ سے فروکش ہو کر حضرت امام مہدی سے ملاقات فرماویں گے ۔ امام مہدی نہایت تواضع اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آئیں گے ۔ (صحیح مسلم وغیرہ) اور فرمائیں گے یا نبی اللہ امامت کیجئے حضرت عیسیٰ ؑ ارشاد فرمائیں گے کہ امامت تم کرو کیونکہ تمھارے بعض بعض کے لیے امام ہیں اور یہ عزت اسی امت کو خدا نے دی ہے پس امام مہدی نماز پڑھائیں گے ۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم اقتداء کریں گے (اس کے بعد دونوں اکٹھے رہ کر دجال کا مقابلہ کفر و ضلالت کا استیصال کریں گے) تمام زمین امام مہدی کے عدل و انصاف کے چمکاروں سے منور و روشن ہو جائے گی۔ ظلم بے انصافی کی بیخ کنی ہوگی آپ کی عمر ۴۰ سال ہوگی ۔ بعد ازاں حضرت امام مہدی کا وصال ہو جائے گا۔ حضرت عیسیٰ ؑ آپ کی جنازے کی نماز پڑھا کر دفن فرمائیں گے ۔ اس کے بعد تمام چھوٹے بڑے انتظامات حضرت عیسیٰ ؑ کے ہاتھ آ جائیں گے۔ دنیا میں حضرت عیسیٰ ؑ کا قیام چالیس سال رہے گا ( یہ تمام حالات صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث میں مذکور ہیں تفصیل کے لیے شاہ رفیع الدینؒ ”کتاب علامات قیامت“ دیکھئے) واللہ اعلم !
جواب...... (۳) اہل سنت والجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ قیامت سے قبل عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے قرآن کے بے شمار نصوص قطعیہ سے یہ عقیدہ ثابت ہے اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں۔ نزول عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں اس کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں کہ علماء نے اسے مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے۔ حضرت علامہ العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس موضوع پر عقیدہ الاسلام فی حیات عیسیٰ ؑ اور التصریح بما تواتر فی نزول المسیح (مرتبہ مولانا مفتی محمد شفیعؒ) میں حیات مسیح و نزول عیسیٰ ؑ کو محققانہ انداز سے ثابت کیا ہے کہ تمام روایات متعددہ اور احادیث بمعنی تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں رہا یہ کہ عیسیٰ ابن
مریم علیہ السلام ہیں کیا کوئی اور عیسی، تو اس بارہ میں خود حضور ﷺ نے احادیث نزول عیسیٰ میں صرف ابن مریم کہہ کر ان دجالین اور کذابین کی جڑ کاٹ دی ہے عیسیٰ کا لفظ اکثر روایات میں ذکر ہی نہیں تا کہ کل کوئی دجال اس نام سے غلط فائدہ نہ لے سکے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشہور حدیث ہے۔
قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيدي ليوشكن ان ينزل ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يفيض المال حتى لا يقبله احد.
(حدیث حسن صحیح مشکوة ص ۴۷۹ بحوا مسلم ج ۲ ص ۴۷ ترمذی ج ۲ ص ۴۶)
”فرمایا نبی کریم ﷺ نے قسم رب کی قریب ہے کہ مریم کا بیٹا تم میں اتریں جو عادل و منصف فیصلہ کرنے والے ہیں۔ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر کے کفار سے جزیہ نہ قبول کرنے کے احکام صادر کر لیں گے۔ مال و دولت کی اتنی فراوانی ہو جائے گی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔“
بخاری شریف مسلم شریف کی دوسری حدیث میں ہے۔
قال كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامكم منكم.
(متفق عليه بحوالہ مشکوۃ لشريف ص ۳۸۰)
”اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمھارے امام (مہدی) تم ہی میں سے ہوں گے۔“
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے۔
قال فينزل عيسى بن مريم.
(مشکوۃ ص ۴۷۹ بحوالہ مسلم شریف)
”فرمایا حضور ﷺ نے کہ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔“
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے۔ ”قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى بن مريم عليه السلام الى الارض فيتزوج ويولدله و يمكث خمساً و اربعين سنةً ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا و عيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر.“
(مشکوۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ص ۴۷۹)
”حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم زمین میں نازل ہوں گے شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی پیدا ہوگی اور ۴۵ سال تک ٹھہریں گے پھر وفات پا کر میرے پہلو میں دفن ہوں گے پھر قیامت کے دن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکٹھے حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کے درمیان قبر سے اٹھیں گے۔“
اس کے علاوہ کئی احادیث ہیں جن میں ابن مریم (مریم کے بیٹے) کی تصریح موجود ہے اور نزول عیسیٰ بن مریم کے بارہ میں اوّل تا آخر علامات بیان کیے گئے ہیں ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مسیح موعود یا مہدی، آخرالزمان ہونے کا دعویٰ کرے یا نبی کریم ﷺ کے بیان کردہ علامات سے ہٹ کر کوئی شخص مہدی موعود یا نزول مسیح موعود ؑ یا دجال وغیرہ واقعات کے بارہ میں قیاس آرائیاں کرے تو اسے مجنون کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں دینی چاہیے۔
نمبر۴:........ رہا امام بن حسن عسکریؒ کا مہدی موعود ہونا۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک اس کی کوئی حقیقت نہیں شیعوں نے ابتدائے خروج مہدی کے بارہ میں از خود ائمہ عظام اہل بیت کو منسوب کرا کر قیاس آرائیاں کی ہیں جو ہمیشہ غلط ثابت ہوئی ہیں شیعہ کتب میں مذکور ہے کہ
- (۱)...... ”ائمہ نے ۷۰ھ میں خروج مہدی کا وعدہ کیا تھا مگر وہ پورا نہ ہوا ۔“ (نصیحۃ الشیعۃ ج ۲ بحوالہ صافی فی شرح کافی)
- (۲)...... ”امام جعفر صادقؒ خود مہدی ہونے والے تھے مگر نہ ہوئے ۔“
(نصیحۃ الشیعۃ ج ۲ ص ۲۳۸ بحوالہ کتاب الغیبت للطوسی)
- (۳)...... ”امام موسیٰ کاظمؒ نے خروج مہدی کے لیے ۲۰۰ھ مقرر کیا تھا وہ بھی پورا نہ ہوا ۔“ (ج ۲ ص ۲۳۸)
یہ روایات اور یہ خروج مہدی کے اوقات ائمہ کے نام پر شیعوں کو ارتداد سے روکنے کے لیے گھڑے جاتے رہے کہ مہدی کا وقت مقرر ہے اور بہت جلد آنے والے ہیں چنانچہ حسب روایات کتب شیعہ خود امام باقرؒ نے ان کی تردید وتکذیب کی ہے اصول کافی کی روایت ہے۔
”عن الفضل بن یسار عن ابی جعفر علیہ السلام قال قلت لھذا الامر وقت فقال کذب الو قاتون کذب الو قاتون کذب الو قاتون.“ (نصیحۃ الشیعۃ ج ۲ ص ۲۳۸ بحوالہ اصول کافی ص ۴۳۲)
”فضل بن یسار امام باقرؒ سے روایت کرتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ کیا اس امر (خروج مہدی) کے لیے کوئی وقت مقرر ہے۔ امامؒ نے تین مرتبہ فرمایا کہ جھوٹ بولا تھا وقت مقرر کرنے والوں نے ۔“ (فقط واللہ اعلم)
(فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۳۰۳۔۳۰۷)
کیا قتل خنزیر نبوت کے منافی ہے؟
سوال ...... در بخاری شریف ست کہ حضرت عیسیٰ ؑ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ ایں امر از شان نبوت بسے کمتر ست ایں را جملہ اگر تاویلے دیگر ست پس اگر احمدی لفظ ابن مریم را ہمچناں تاویل کنند قبول خواہد افتاد یا نہ؟
جواب ...... در حدیث آمدہ بحق آنحضرت قتل کلاب یعنی برائے قتل کلاب (سگہا) حکم فرمود اگر ایں فعل قتل کلاب منافی نبوت محمدیہ نبود قتل الخنازیر ہم نباشد؟ (فتاویٰ علماء حدیث ص ۱۰۲)
عیسیٰ موعود کا دعویٰ کرنے والے کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں، علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص دعویٰ کرتا ہے، کہ عیسیٰ موعود میں ہوں اور وہ عیسیٰ مر گئے۔ سو ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے یا مومن اور جو ایسے شخص کا معتقد ہو، وہ کیسا ہے؟
الجواب ....... جو شخص اپنے کو عیسیٰ موعود کہتا ہے اور عیسیٰ ؑ کی موت کا قائل ہے۔ وہ بڑا دجال، کذاب، منکر قرآن واحادیث متواترہ کا ہے، قال اللہ تعالیٰ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (النساء ۱۵۹) ای قبل موت عیسی کما قال ابن عباسؓ و ابوہریرہؓ و غیر ھما من السلف وھو الظاھر کما فی تفسیر ابن کثیر (ص ۴۰۱ ج ۲ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) فتح القدیر للشوکانی ھکذا فی الفتح۔ یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ ؑ مرے نہیں، بلکہ زندہ ہیں، احادیث صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں شام میں ان کا ظہور ہوگا۔ دجال کو قتل کریں گے۔ لوگوں کو اس کے شر و فساد سے بچا دیں گے، ان کی دعا سے یاجوج ماجوج کی قوم ہلاک ہوگی۔ ان کے ہاتھ سے شر و فساد کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ جمیع اقوام یہود ونصاریٰ وغیرہ اسلام قبول کریں گے، عدل و انصاف سے سارا زمانہ معمور ہو جائے گا۔ سات برس تک یہی حالت رہے گی۔ پھر آپ دنیا سے رحلت فرماویں گے، یہ قصہ تمام کتب احادیث و عقائد میں مرقوم ہے اور اس پر تمام اہل سنت والجماعت کا اعتقاد ہے۔ ہاں بعض فرقہ ضالہ نے احادیث نزول عیسیٰ ؑ کو حدیث انا خاتم النبیین سے منسوخ
سمجھا اور تناقض خیال کر کے جملہ احادیث صحاح کو رد کیا، ان کی سوء فہمی نے انھیں چاہ ضلالت میں ڈالا۔ فی الحقیقت کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جو حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول آخر زمانہ میں ہوگا، سو مستقل اور جدید شریعت کے ساتھ نہیں ہوگا۔ بالجملہ جمیع اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں اور جو شخص ان کی حیات کا منکر اور مثل یہود مردود کے قتل ہونے کا یا خود بخود فوت ہونے کا قائل ہو اور اپنے آپ کو عیسٰی کہتا ہو، ایسے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہیں اور جو شخص ایسے اعتقاد والے کا پیرو ہو، وہ بھی احاطہ اسلام سے باہر ہے۔ واللہ اعلم۔
حررہ عبدالحفیظ عفی عنہ ۳۰ رجب ۱۳۱۷ھ۔
(فتاوٰی نذیریہ ج ۱ ص ۸۰۷)
ایک قادیانی کے چند سوالات معہ جوابات
ایک دن کا ذکر ہے کہ فقیر مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۱۹ء کو علاقہ لائل پور (فیصل آباد) موضع صغرانوالی میں اپنے رفیقوں سے ملنے کی خاطر گیا اور رفیقوں میں سے ایک رفیق مسمی عبدالحکیم عطار نے یہ اعتراض تحریر شدہ فقیر کے پیش کر دیے اور کہا کہ یہ اعتراض ایک مرزائی نے بندہ کی طرف تحریر کیے ہیں اور کہتا ہے کہ ان اعتراضوں کا جواب اب تک کسی حنفی یا شیعہ یا اہلحدیث نے نہیں دیا اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔ لہٰذا عرض ہے کہ آپ مہربانی فرما کر ان اعتراضوں کے جواب تحریر فرمائیں اور امید قوی ہے کہ آپ ان کے اعتراضوں کے جواب باصواب دندان شکن دے سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ظاہری اور باطنی بذریعہ سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ عطا بے حساب کیا ہوا ہے اور وہ اعتراض تحریر شدہ یہ ہیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
چند سوالات بخدمت علمائے حنفیہ واہلحدیث واہل تشیع ومشائخ صوفیاء۔
سوال...... ۱ اللہ تعالیٰ نے مسیح کی پیدائش کی خبر اس کی والدہ کو دی اور محمد ﷺ کی پیدائش کی بشارت ان کی والدہ کو نہیں دی۔ پس افضل کون ہوا؟
سوال...... ۲ مسیح کی والدہ کی نسبت فرمایا کہ وہ صدیقہ ہے مگر محمد ﷺ کی والدہ کو صدیقہ نہیں فرمایا۔ پس افضل کون ہوا؟
(بقلم الہ داد احمدی)
(نوٹ) ...... تمام اعتراضوں کے جواب تحریر کرنے کے واسطے تو اب اس جلد میں گنجائش نہیں رہی صرف تھوڑا سا بیان سوال نمبر اول و دوم کے بارہ میں تحریر کیا جاتا ہے جو مفصلہ ذیل ہے۔
جواب...... سوال نمبر ۱ و نمبر ۲ میں لکھا ہے کہ رسول ﷺ کی والدہ کو آپ کی پیدائش کی بشارت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی والدہ کو صدیقہ کہا گیا ہے اور مسیح کی والدہ کو بشارت بھی دی گئی اور صدیقہ بھی کہا گیا ہے لہٰذا کون شان میں افضل ہے؟
افسوس اب تک معترض کو معلوم نہیں ہوا کہ حضور ﷺ کی شان مبارک باتفاق جمیع مسلمین تمام انبیاء علیہم السلام پر کئی وجوہات سے زیادہ ہے اور فقیر انشاء اللہ تعالیٰ جلد چہارم میں نقشہ بنا کر دکھائے گا اور یہ جو معترض کے دل میں خیال گزرا ہے کہ جس کی والدہ کو پیشگی بشارت دی گئی اس کی شان زیادہ ہے اس کی نسبت انصاف فرمائیے کہ جس شخص کی نسبت بشارت روز میثاق سے لے کر آدم ؑ تک اور آدم ؑ سے لے کر یکے بعد دیگرے
انبیاء علیہم السلام مانند حضرت ابراہیم واسماعیل و حضرت موسیٰ علیہم السلام کی زبان فیض ترجمان سے ظاہر ہوئی اس کی شان زیادہ ہوگی یا جس کی بشارت صرف ایک عورت کو دی جائے؟ یعنی ایک شخص کی نسبت ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بشارت دی گئی ہوں اور دوسرے شخص کی نسبت صرف ایک عورت عفیفہ کو بشارت ملی ہو۔ اب بتلائیے کس کی عزت و منزلت عنداللہ زیادہ ہوگی؟ اور ان دلائل قاطعہ کے ثبوت میں دو تین آیات بھی تحریر کی جاتی ہیں تاکہ ناظرین کو یقین آ جائے۔ وہو ہذا۔
واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتاب و حکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (ال عمران ۸۱) ”یعنی جس وقت عہد لیا خداوند کریم نے پیغمبروں سے کہ جو کچھ دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے۔ پھر جب آئے تمھارے پاس سچا کرنے والا اس چیز کا جو پاس تمھارے ہے۔ ضرور اس کے ساتھ ایمان لائیں اور ضرور مدد دینا۔“ تب تمام ارواح انبیاء نے اس پر اقرار کر لیا اور اس کی تائید پر یہ آیت ہے۔ ومن نوح و ابراھیم و موسٰی و عیسٰی ابن مریم و اخذنا منھم میثاقاً غلیظًا (الاحزاب ۷) یعنی جب ہم نے نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے پکا اقرار لیا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا تو انھوں نے بھی خود اپنی قوم کو بشارت دی اور کہا واذ قال عیسٰی ابن مریم یابنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة و مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف ۶) اور ایسا ہی اناجیل میں ہے۔ چنانچہ استثناء کی کتاب موسیٰ جلد ۵ صفحہ ۱۵ سے ۱۸ تک مذکور ہے۔
غرضیکہ عرب کے تمام مذاہب کے مردوں اور عورتوں کو پہلے سے ہی آپ کی تشریف آوری کی خبر کتابوں سے ظاہر ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ بوقت مصیبت حضور ﷺ کی ذات کا وسیلہ پکڑتے تھے اور یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ خاندان اسمٰعیل سے پشت بہ پشت نبی آخرالزمان نسب ہاشمی سے ہوگا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے۔ وتقلبک فی الساجدین یعنی اے میرے حبیب تو نمازیوں میں پھرتا چلا آیا ہے۔ پس اس آیت شریف سے معلوم ہوا کہ آپ کا خاندان آدم سے لے کر جہاں میں آپ نے ٹھکانا کیا ہے وہ سب کے سب صادقین و موحدین ہوئے اور مائی مریم پر جب مخالفین نے الزام زنا وغیرہ لگایا تو خداوند کریم نے ان کی بریت بیان کی اور کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو وہ عفیفہ اور صادقہ ہے اور مائی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تو کسی فرد نے کسی قسم کا الزام نہیں لگایا تو پھر خداوند کریم کو کیا ضرورت تھی کہ خواہ مخواہ ایک بے ضرورت قصہ بیان کرتا اور بشارتیں دیتا۔ باقی بیان انشاء اللہ (جلد چہارم و پنجم فتاویٰ نظامیہ) وغیرہا میں کیا جائے گا۔ فقط والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ۔ (فتاویٰ نظامیہ ج ۳ ص ۲۶۷ تا ۲۷۱)
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے
سوال....... مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود ماننے سے کیا حرج ہے؟ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب....... میرے بھائی! مرزائیوں کے مقابلہ میں مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر بحث کرنا اصل بحث نہیں بلکہ ان کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات پر بحث کرنی چاہیے کیونکہ یہ سب اختلافات مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے اور مسیح موعود بننے سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی کی شخصیت پر بحث کرنی چاہیے کہ اس طرح کا بکواس لکھنے والا شخص کبھی مہذب انسان بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ چہ جائیکہ ہم اسے مسیح موعود تسلیم کر لیں۔ مرزا نے اپنی ذلت و رسوائی کو چھپانے کے لیے مسئلہ حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام اپنی عمارت کا بنیادی پتھر بنایا تاکہ مسلمانوں
کو اس بحث میں الجھا کر ان کے ایمان کو لوٹا جاسکے۔ پس اس پر بھی ہم نے ان کے شکوک و شبہات کا رد بلیغ کر دیا ہے تاکہ گم گشتہ راہ دوست ان کے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش نرالی تھی اور پھر ان کی زندگی بھی نرالی ہے سو اس طرح ان کا دور آخر پھر سے اس زمین پر آنا بھی کچھ نرالا ہونے کا متقاضی ہے۔ یہ نرالا ہونا عین عقل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم خاکی کے ساتھ اب تک آسمان میں زندہ رہنا اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہونا۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے اس کا منکر گمراہ ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کر لیں تو قرآن و حدیث کی سینکڑوں نصوص کو (نعوذ باللہ ) جھوٹا تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ آپ ﷺ نے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم جو پہلے گزرا ہے وہ آنے والا ہے۔ اگر کوئی بدبخت یہ مان لے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ یا پنجاب کا رہنے والا سچا مسیح موعود ہے۔ تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ نے سچی خبر نہیں دی اور آپ اور باقی سوالوں کے جواب انشاء اللہ تعالیٰ (جلد چہارم پنجم ) میں حسب استعداد فقیر تحریر ہوں گے۔ مخبر صادق نہیں تھے اور نہ آپ ﷺ کی وحی کامل تھی اور آپ ﷺ کا علم سچا تھا کہ آنا تھا مرزا قادیانی نے اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو غلط خبر دی کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم نبی ناصری ہے۔ پھر آنے والے نے قادیان آنا تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ دمشق میں نازل ہوگا۔ پھر مسیح موعود نے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان سے نازل ہوگا۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں نہیں وہ تو فوت ہو چکے ہیں اور کشمیر میں جا دفن ہوئے۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ دجال مقام لد جو بیت المقدس میں ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے مقتول ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نہیں دجال مقام لدھیانہ میں قتل ہوگا اور قتل تلوار سے نہیں قلم سے ہوگا وغیرہ وغیرہ غرضیکہ ہر ایک بات میں آپ ﷺ سے مرزا نے مخالفت کی ہے۔ کیا اتنا جھوٹ بولنے والے کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ انسانیت سے بھی آشنا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی بدبخت حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ مان لے تو قرب قیامت میں ایک نئے مسیح کی آمد ماننی پڑے گی اور پھر مندرجہ ذیل باطل عقائد اس کو تسلیم کرنا پڑیں گے۔
- ۱....... ختم نبوت کا منکر ضرور ہوگا جو کہ باجماع امت کفر ہے۔
- ۲....... مرزا قادیانی کو نبی اور رسول بھی یقین کرنا ہوگا چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول تھے جب غیر عیسیٰ کوئی
آئے گا۔ تو جدید نبی بعد از خاتم النبیین کہلائے گا اور یہ کفر ہے۔
- ۳....... اور اس کے علاوہ نبی کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا اور قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کرنے سے گویا جھوٹا آدمی مسیح موعود ہوا
تو یہ بھی کفر ہے۔
- ۴....... مرزا قادیانی کو خاتم الانبیاء ماننا پڑے گا کیونکہ اس صورت میں آخر النبی وہی ہوں گے اور اس طرح بھی کفر
لازم آتا ہے۔
- ۵....... امت محمدیہ ﷺ آخر الامم نہ رہے گی کیونکہ پھر جدید نبی کی امت آخری امت ہوگی اور اس کا علیحدہ نام ہوگا
حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے۔
- ۶....... قرآن حکیم آخر الکتب نہ رہے گا کیونکہ آخر الکتب مرزا کی وحی ہوگی۔ جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے۔
از خطا ہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
نبی اکرم ﷺ نامکمل نبی ثابت ہوں گے کیونکہ کامل کے بعد نامکمل نہیں آتا۔ نامکمل کے بعد کامل اس لیے آتا ہے کہ اس کی تکمیل کرے۔ دین ناقص ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب نبی آتا ہے تو ضرورت ثابت ہوتی ہے اور ضرورت تب ہی ہوتی ہے کہ سابقہ دین نامکمل ہوتا ہے۔ وفات مسیح ؑ تسلیم کرنے سے کفر لازم آتا ہے کیونکہ نص قرآنی انہ لعلم للساعة سے ثابت ہے۔ جب علامت قیامت سے انکار ہو گا تو اصل قیامت سے بھی انکار ہو گا کیونکہ جب شرط فوت، تو مشروط بھی فوت ہوتا ہے، اور قیامت کا منکر کافر ہے۔ اگر نزول مسیح ؑ بروزی رنگ میں درست تسلیم کر لیں تو جتنے کاذب مسیح گزرے ہیں۔ سب سچ تسلیم کرنے پڑیں گے کیونکہ وہ بھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔
وہ شخص کیسا بد بخت اور گمراہ کن ہے جو رسالت مآب ﷺ کو جھٹلائے اور تمام افراد امت سے الگ ہو کر یہ اعتقاد بنائے کہ آپ کو (نعوذ باللہ) قرآن مجید سمجھ میں نہیں آیا تھا اور آپ کا ذہن ایسا ناقص تھا کہ وفات حضرت مسیح ؑ کا ذکر کئی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا اور آپ ﷺ نہ سمجھے اور ہر ایک حدیث میں عیسیٰ ابن مریم ہی فرماتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے ابھی تیرہ سو برس تک امت محمدیہ ﷺ کو گمراہ رکھا کہ بروز نزول نہ بتایا۔ (العیاذ باللہ)
خلاصہ بحث یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا تمام کارخانہ ہی غلط ہے اسے ایک عام آدمی سمجھنے سے بھی جھوٹ لازم آتا ہے چہ جائیکہ اسے مسیح موعود تسلیم، دعوؤں میں کاذب ہے کیونکہ اس کے دعویٰ کو تسلیم کرنے سے مسلمان کے دامن میں ایمان نہیں رہ سکتا۔ اس جھوٹے اور دجال شخص نے انگریزوں کی نمک حلالی کے لیے پوری امت مسلمہ کو کافر کہا ہے۔ میں اپنے بھولے بھالے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیے تجدید ایمان کریں اور توبہ کریں اور ان رسوائے زمانہ قادیانیوں کی غلیظ اور پراگندہ ذہنیت سے اپنے آپ کو محفوظ کر کے اپنا تعلق گنبد خضریٰ سے قائم کریں۔ اسی میں ہماری نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قادیانیوں کی پراگندگیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ ذہن نشین کر لیں کہ آج کل انھوں نے اپنے پینترے بدلے ہوئے ہیں اپنے جھوٹ کو اقرار ختم نبوت میں چھپا رہے ہیں۔ لہٰذا جب تک یہ منکرین ختم نبوت مرزا قادیانی کی تکذیب نہ کریں اس وقت تک ختم نبوت پر ایمان معتبر نہیں ہو سکتا۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۲۷ تا ۳۲۹)
باب نہم
حیات عیسیٰ ؑ
حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ونزول قرآن وحدیث کی روشنی میں
سوال...... کیا قرآن مجید میں کہیں ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے؟ اور وہی آ کر امام مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے؟
جواب....... سیدنا عیسیٰ ؑ کی دوبارہ تشریف آوری کا مضمون قرآن کریم کی کئی آیتوں میں ارشاد ہوا ہے اور یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وہ متواتر احادیث جن میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کی اطلاع دی گئی ہے اور جن پر بقول مرزا قادیانی کے ”امت کا اعتقادی تعامل چلا آ رہا ہے“ وہ سب انہیں آیات کریمہ کی تفسیر ہیں۔
پہلی آیت....... سورۃ الصف آیت ۹ میں ارشاد ہے ”وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول، ہدایت اور دینِ حق دے کر تا کہ اسے غالب کر دے تمام دینوں پر، اگرچہ کتنا ہی ناگوار ہو مشرکوں کو۔“
”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح ؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے...... سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لیے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر۔“
(براہین احمدیہ ص ۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ص ۵۹۳، ۵۹۴، ج ۱)
”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالم گیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالم گیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لیے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ۸۳، ۹۱ خزائن ج ۲۳ ص ۹۱)
جناب مرزا قادیانی کی اس تفسیر سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔
- (۱)...... اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے جسمانی طور پر دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
- (۲)...... مرزا قادیانی پر بذریعہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس آیت کی
پیشگوئی کا جسمانی اور ظاہری طور پر مصداق ہیں۔
- (۳)..... امت کے تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اسلام کا غلبہ کاملہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔
جناب مرزا قادیانی کی اس الہامی تفسیر سے جس پر تمام مفسرین کے اتفاق کی مہر بھی ثبت ہے یہ ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کے اس قرآنی وعدہ کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ضرور دوبارہ تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے اسلام تمام مذاہب پر غالب آجائے گا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ ”اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تمام مذاہب کو مٹا دیں گے“۔
(ابو داؤد، باب خروج دجال ج ۲ ص ۱۲۵ مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۶، مستدرک حاکم)
بعد میں جناب مرزا قادیانی نے خود مسیحیت کا منصب سنبھال لیا لیکن یہ تو فیصلہ آپ کر سکتے ہیں کہ کیا ان کے زمانے میں اسلام کو غلبہ کاملہ نصیب ہوا؟ نہیں! بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا کہ دنیا بھر کے مسلمان جناب مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ٹھہرے۔ ادھر مسلمانوں نے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کو اسلام سے ایک الگ فرقہ سمجھا۔ نتیجہ یہ کہ اسلام کا وہ غلبہ کاملہ ظہور میں نہ آیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقدر تھا۔ اس لیے جناب مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کے باوجود زمانہ قرآن کے وعدے کا منتظر ہے اور یقین رکھنا چاہیے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اس وعدے کے ایفاء کے لیے خود بنفس نفیس تشریف لائیں گے کیونکہ بقول مرزا قادیانی ..... ”ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو ۔“
دوسری آیت....... سورۃ النساء آیت ۱۵۹ میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے اور تمام اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کی خبر دی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔
”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے موت اس کی کے پہلے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔“
(فصل الخطاب، ص ۸۰ ج ۲ مولفہ حکیم نور دین قادیانی)
حکیم صاحب کا ترجمہ بارہویں صدی کے مجدد حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے فارسی ترجمہ کا گویا اردو ترجمہ ہے۔ شاہ صاحبؒ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔ ”یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند ۔“ ”یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو یہودی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت موجود ہوں گے وہ ایمان لائیں گے۔“ اس آیت کے ترجمہ سے معلوم ہوا کہ:۔
- (۱)....... عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں دوبارہ تشریف لانا مقدر ہے۔
- (۲)....... تب سارے اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔
- (۳)....... اور اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
پورے قرآن مجید میں صرف اس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذکر ہے۔ جس سے پہلے تمام اہل کتاب کا ان پر ایمان لانا شرط ہے۔
اب اس آیت کی وہ تفسیر ملاحظہ فرمائیے جو کہ حضور ﷺ اور اکابر صحابہ تابعین سے منقول ہے۔
(صحیح بخاری ص ۴۹۰ ج ۱) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات میں امام بخاریؒ نے ایک باب باندھا ہے۔ ”باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام“ اور اس کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے۔
”حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے کہ نازل ہوں تم میں ابن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے پس توڑ دیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے خنزیر کو اور موقوف کر دیں گے لڑائی اور بہہ پڑے گا مال، یہاں تک کہ نہیں قبول کرے گا اس کو کوئی
شخص۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ بہتر ہوگا دنیا بھر کی دولت سے۔ پھر فرماتے تھے ابو ہریرہؓ کہ پڑھو اگر چاہو قرآن کریم کی آیت ”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی موت سے پہلے اور ہوں گے عیسیٰ ؑ قیامت کے دن ان پر گواہ۔“
آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی قرآن کی اس آیت کی تفسیر ہے اسی لیے حضرت ابو ہریرہؓ نے اس کے لیے آیت کا حوالہ دیا۔ امام محمد بن سیرینؒ کا ارشاد ہے کہ ابو ہریرہؓ کی ہر حدیث آنحضرت ﷺ سے ہوتی ہے۔
(طحاوی شریف ص ۱۷ ج ۱)
بخاری شریف کے اسی صفحہ پر حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے نزول کی خبر دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ”وامامکم منکم“ فرمایا۔
یہ حدیث بھی حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں حدیثوں سے آنحضرت ﷺ کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے حضرت عیسیٰ ؑ کا آخری زمانہ میں حاکم عادل کی حیثیت سے اس امت میں تشریف لانا۔
- (۲)...... (کنز العمال مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ص ۶۱۹ ج ۱۴ حدیث نمبر ۳۹۷۲۶) میں بروایت ابن عباسؓ آنحضرت ﷺ
کا ارشاد ہے کہ ”میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔“
- (۳)...... امام بیہقی کی کتاب (الاسماء والصفات ص ۴۲۴) میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”تم کیسے ہو گے جب
عیسیٰ بن مریم تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تم میں شامل ہو کر تمھارے امام ہوں گے۔“
- (۴)...... تفسیر (درمنثور ص ۲۴۲ ج ۲) میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ”میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی
نبی اور رسول نہیں ہوا۔ دیکھو! وہ میرے بعد میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔“
- (۵)...... (ابو داؤد ص ۱۳۵ ج ۲ باب خروج الدجال اور مسند احمد میں ص ۴۰۶ ج ۲) میں ”آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ
انبیاء کرام باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کی مائیں (شریعتیں) الگ الگ ہیں اور دین سب کا ایک ہے اور مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ بن مریم سے ہے کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور بے شک وہ تم میں نازل ہوں گے پس جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ ان کا حلیہ یہ ہے قد میانہ، رنگ سرخ و سفید دو زرد رنگ کی چادریں زیب بدن ہوں گی۔ سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ پہنچی ہو۔ پس لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام مذاہب کو مٹا دیں گے اور مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ پس زمین میں چالیس برس ٹھہریں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔“
یہ تو آنحضرت ﷺ کے ارشادات ہیں جن سے آیت زیر بحث کی تشریح ہو جاتی ہے۔ اب چند صحابہؓ و تابعینؒ کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیے۔
- (۱)...... (مستدرک حاکم ص ۳۰۹ ج ۲ درمنثور ص ۲۴۱ ج ۲ اور تفسیر ابن جریر ص ۱۴ ج ۶) میں ”حضرت ابن عباس رضی اللہ
تعالیٰ عنہ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے اور یہ کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو ان کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔“
- (۲)...... ”ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس آیت کی تفسیر یہ فرماتی ہیں کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے
پہلے حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے گا اور جب وہ قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے آپ کی موت سے پہلے آپ پر ایمان لائیں گے۔“ (تفسیر درمنثور ص ۲۴۱ ج ۲)
- (۳)...... در منثور کے مذکورہ صفحہ پر یہی تفسیر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے صاحب زادے حضرت محمد بن الحنفیہؒ سے
منقول ہے۔
- (۴)....... اور (تفسیر ابن جریر ص ۱۳ ج ۶) میں یہی تفسیر اکابر تابعین حضرت قتادہؒ، حضرت محمد بن زید مدنیؒ (امام مالک
کے استاد) حضرت ابو مالک غفاریؒ اور حضرت حسن بصریؒ سے منقول ہے۔ حضرت حسن بصریؒ کے الفاظ یہ ہیں۔ ”آیت میں جس ایمان لانے کا ذکر ہے یہ عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ہوگا۔ اللہ کی قسم وہ ابھی آسمان پر زندہ ہیں لیکن آخری زمانے میں جب وہ نازل ہوں گے تو ان پر سب لوگ ایمان لائیں گے ۔“
اس آیت کی جو تفسیر میں نے آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ و تابعینؒ سے نقل کی ہے بعد کے تمام مفسرین نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔ لہٰذا کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ تشریف آوری کی خبر دی ہے اور دور نبوی سے آج تک یہی عقیدہ مسلمانوں میں متواتر چلا آرہا ہے۔
تیسری آیت........ سورۂ زخرف آیت ۶۱ میں حضرت عیسیٰ ؑ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہے ”اور وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں مت شک کرو۔“
اس آیت کی تفسیر میں آنحضرت ﷺ اور بہت سے صحابہ، تابعین کا ارشاد ہے کہ عیسیٰ ؑ کا آخری زمانہ میں نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہوگی۔
- (۱)...... صحیح ابن حبان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اس
آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا۔ ”قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم ؑ کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔“
(موارد الظمآن ص ۳۴۵ حدیث نمبر ۱۷۵۸)
- (۲)...... حضرت حذیفہ بن اسید الغفاریؓ فرماتے ہیں کہ ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے۔ اتنے میں
آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا مذاکرہ ہو رہا تھا؟ عرض کیا قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے۔ فرمایا قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ دخان، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا، یاجوج ماجوج کا نکلنا۔ (صحیح مسلم مشکوٰۃ ص ۴۹۳ مطبوعہ مکتبہ دارالقرآن والحدیث ملتان)
- (۳)...... اور حدیث معراج جسے میں پہلے بھی کئی بار نقل کر چکا ہوں ۔ ”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج کی
رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی۔ قیامت کا تذکرہ ہوا کہ کب آئے گی۔ حضرت ابراہیم ؑ سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ موسیٰ ؑ سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر عیسیٰ ؑ کی باری آئی تو انھوں نے فرمایا۔ قیامت کا ٹھیک ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ البتہ مجھ سے میرے رب کا ایک عہد ہے کہ قرب قیامت میں دجال نکلے گا تو میں اسے قتل کرنے کے لیے نازل ہوں گا۔ (آگے قتل دجال اور یاجوج ماجوج کے نکلنے کی تفصیل ہے۔ اس کے بعد فرمایا) پس مجھ سے میرے رب کا عہد ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو چکے گا تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ جیسی ہوگی۔“ (مسند احمد ص ۳۷۵ ج ۱، ابن ماجہ ص ۳۰۹، تفسیر ابن جریر ص ۷۲ ج ۱۷، مستدرک حاکم ص ۴۸۸ ج ۴، وص ۵۳۵ فتح الباری ص ۷۹ ج ۱۳، در منثور ص ۲۳۶ ج ۴)
ان ارشادات نبویہ ﷺ سے آیت کی تفسیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد جو انھوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کے مجمع میں فرمایا اور جسے آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے نقل کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی نشانی کے طور پر دوبارہ تشریف لانا اور آ کر دجال لعین کو قتل کرنا، اس پر اہلِ سنت کا عقیدہ، انبیاء کرام علیہ السلام کا اتفاق اور صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے اور گزشتہ صدیوں کے تمام مجددین اس کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کیا اس کے بعد بھی کسی مومن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے میں شک رہ جاتا ہے؟
(۴)..... اس آیت کی تفسیر بہت سے صحابہ و تابعین سے یہی منقول ہے کہ آخری زمانہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے۔ حافظ ابن کثیر اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ۔
”یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا قیامت کی نشانی ہے۔ یہی تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ ، حضرت ابن عباسؓ، ابو العالیہؓ، ابو مالکؓ، عکرمہؓ، حسن بصریؓ، ضحاکؓ اور دوسرے بہت سے حضرات سے مروی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے اس مضمون کی احادیث متواتر ہیں کہ آپ ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کی خبر دی ہے۔“
(تفسیر ابن کثیر ص ۱۴۲ ج ۳)
چوتھی آیت :..... سورۂ مائدہ کی آیت ۱۱۸ میں ارشاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کریں گے۔
”اے اللہ اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر بخش دیں تو آپ عزیز و حکیم ہیں۔“ سیدنا ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
”عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ الٰہی یہ تیرے بندے ہیں (مگر انھوں نے میری غیر حاضری میں مجھے خدا بنایا اس لیے) واقعی انھوں نے اپنے اس عقیدے کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہے اور اگر آپ بخش دیں، یعنی ان لوگوں کو، جن کو صحیح عقیدے پر چھوڑ کر گیا تھا اور (اسی طرح ان لوگوں کو بھی بخش دیں جنھوں نے اپنے عقیدہ سے رجوع کر لیا، چنانچہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر لمبی کر دی گئی۔ یہاں تک کہ وہ آخری زمانے میں دجال کو قتل کرنے کے لیے آسمان سے زمین کی طرف اتارے جائیں گے۔ تب عیسائی لوگ اپنے قول سے رجوع کر لیں گے۔ تو جن لوگوں نے اپنے قول سے رجوع کیا اور تیری توحید کے قائل ہو گئے اور اقرار کر لیا کہ ہم سب (بشمول عیسیٰ علیہ السلام کے) خدا کے بندے ہیں پس اگر آپ ان کو بخش دیں جبکہ انھوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ہے تو آپ عزیز و حکیم ہیں۔“
(تفسیر درمنثور ص ۳۵۰ ج ۲)
حضرت ابن عباسؓ کی اس تفسیر سے واضح ہوا کہ یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کی دلیل ہے۔
آپ نے اپنے سوال میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر امام مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے؟ اس کے جواب میں صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک امت اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؑ دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ اور یہ کہ نازل ہو کر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اقتدا میں پڑھیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے شخص ہیں جنھوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے۔ اس کی دلیل نہ قرآن کریم میں ہے، نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں اور نہ سلف صالحین میں سے کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث میں وارد
ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدیؓ اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۵۰ تا ۲۵۷)
حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات
جناب نے یہ بھی دریافت فرمایا ہے کہ کیا ”کل نفس ذائقۃ الموت“ کی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر اثر انداز نہیں ہوتی؟ جواباً گزارش ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ کو، مجھ کو، زمین کے تمام لوگوں کو، آسمان کے تمام فرشتوں کو بلکہ ہر ذی روح مخلوق کو شامل ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر متنفس کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موت آئے گی۔ لیکن کب؟ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا وقت بھی بتا دیا ہے کہ آخری زمانہ میں نازل ہو کر وہ چالیس برس زمین پر رہیں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوگا۔ مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور میرے روضہ میں ان کو دفن کیا جائے گا۔
(مشکوٰۃ شریف ص ۳۸۰)
اس لیے آپ نے جو آیت نقل فرمائی ہے وہ اسلامی عقیدہ پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ البتہ یہ عیسائیوں کے عقیدہ کو باطل کرتی ہے۔ اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے نجران کے پادریوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا ”کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام کو موت آئے گی۔“ یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔
(درمنثور ص ۳ ج ۲)
آخری گزارش ...... جیسا کہ میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات کا مسئلہ آج پہلی بار میرے آپ کے سامنے پیش نہیں آیا اور نہ قرآن کریم ہی پہلی مرتبہ میرے آپ کے مطالعہ میں آیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے دور سے قرآن مجید بھی متواتر چلا آتا ہے اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ بھی۔ اس امت میں اہل کشف، ملہم و مجدد بھی گزرے ہیں اور بلند پایہ مفسرین و مجتہدین بھی۔ مگر ہمیں مرزا قادیانی سے پہلے کوئی ملہم، مجدد، صحابی، تابعی اور فقیہ و محدث ایسا نظر نہیں آتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانہ میں دوبارہ تشریف آوری کا منکر ہو۔ قرآن کریم کی جن آیتوں سے جناب مرزا غلام احمد قادیانی وفات مسیح ثابت کرتے ہیں ایک لمحہ کے لیے سوچئے کہ کیا یہ آیات قرآن کریم میں پہلے موجود نہیں تھیں؟ کیا چودہویں صدی میں پہلی بار نازل ہوئی ہیں؟ یا گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر نعوذ باللہ قرآن کو سمجھنے سے معذور اور عقل و فہم سے عاری تھے؟
”پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت ﷺ ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالیٰ نے عمداً قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لیے گئے۔ مگر یہ بات اس کے وعدہ کے برخلاف ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ...... انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون . (الحجر ۹) یعنی ہم نے قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اور حالی طور پر ایمان لانے والے زاویۂ عدم میں مخفی ہو گئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی۔ اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اور وہ یہ ہے ...... بل ھو آیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم . (العنکبوت ۴۹) یعنی ”قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں“ ...... یہ آیت بلند آواز سے پکار کر کہہ رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا برباد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روزِ اول سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔“
(شہادۃ القرآن ص ۵۴، ۵۵ خزائن ج ۶ ص ۳۵۱)
بلاشبہ جس شخص کو قرآن کریم پر ایمان لانا ہو گا اسے اس تعلیم پر بھی ایمان لانا ہو گا جو گزشتہ صدیوں کے مجددین اور اکابر امت قرآن کریم سے متواتر سمجھتے چلے آئے ہیں اور جو شخص قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر ائمہ مجددین کے متواتر عقیدہ کے خلاف کوئی عقیدہ پیش کرتا ہے، سمجھنا چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی حفاظت کا منکر ہے۔ سیدنا عیسیٰ ؑ کی حیات پر میں نے جو آیات پیش کی ہیں۔ ان کی تفسیر صحابہ و تابعین کے علاوہ خود آنحضرت ﷺ سے بھی نقل کی ہے۔ ان کے علاوہ جس صدی کے ائمہ دین اور صاحب کشف و الہام مجددین کے بارے میں آپ چاہیں، میں حوالے پیش کر دوں گا کہ انھوں نے قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ ہونے اور آخری زمانے میں دوبارہ آنے کو ثابت کیا ہے۔
جن آیتوں کو آپ کی جماعت کے حضرات حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کی دلیل میں پیش کرتے ہیں من گھڑت تفسیر کے بجائے ان سے کہیے کہ ان میں ایک ہی آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے، صحابہ کرامؓ سے، تابعینؒ سے یا بعد کے کسی صدی کے مجدد کے حوالے سے پیش کر دیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ مر چکے ہیں۔ وہ آخری زمانہ میں نہیں آئیں گے بلکہ ان کی جگہ ان کا کوئی مثیل آئے گا۔ کیا یہ ظلم وستم کی انتہا نہیں کہ جو مسلمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ و تابعین اور ائمہ مجددین کے عقیدے پر قائم ہیں ان کو تو ”فیج اعوج“ (یعنی گمراہ اور کجرو لوگ) کہا جائے اور جو لوگ آنحضرت ﷺ اور تمام اکابر امت کے خلاف قرآن کی تفسیر کریں اور ان تمام بزرگوں کو ”مشرک“ ٹھہرائیں ان کو حق پر مانا جائے۔
میرے دل میں دو تین سوال آئے ہیں، جن کے جواب چاہتا ہوں، اور یہ جواب قرآن مجید کے ذریعہ دیے جائیں اور میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں میں ”احمدی“ ہوں۔ اگر آپ نے میرے سوالوں کے جواب صحیح دیے تو ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے قریب زیادہ آ جاؤں۔
- سوال.......۱ کیا آپ قرآن مجید کے ذریعہ بتا سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اس
جہان میں فوت نہیں ہوئے۔
- سوال.......۲ کیا قرآن مجید میں کہیں ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے؟ اور وہ آ
کر ہی امام مہدی کا دعویٰ کریں گے؟
- سوال.......۳ کل نفس ذائقۃ الموت کا لفظی معنی کیا ہے اور کیا اس سے آپ کے دوبارہ آنے پر کوئی
اثر نہیں پڑتا۔
جواب....... جہاں تک آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ ”اگر آپ نے میرے سوالات کے جواب صحیح دیے تو ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے قریب آ جاؤں۔“ یہ تو محض حق تعالیٰ کی توفیق و ہدایت پر منحصر ہے، تاہم جناب نے جو سوالات کیے ہیں....... میں ان کا جواب پیش کر رہا ہوں اور یہ فیصلہ کرنا آپ کا اور دیگر قارئین کا کام ہے کہ میں جواب صحیح دے رہا ہوں یا نہیں۔ اگر میرے جواب میں کسی جگہ لغزش ہو تو آپ اس پر گرفت کر سکتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
اصل سوالات پر بحث کرنے سے پہلے میں اجازت چاہوں گا کہ ایک اصولی بات پیش خدمت کروں۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا مسئلہ آج پہلی بار میرے اور آپ کے سامنے نہیں آیا بلکہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور سے لے کر آج تک یہ امت اسلامیہ کا متواتر اور قطعی عقیدہ چلا آتا
ہے امت کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ رہا ہو اور امت کے اکابر صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمہ مجددینؒ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس عقیدے کا قائل نہ ہو۔ جس طرح نمازوں کی تعداد رکعات قطعی ہے، اسی طرح اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد کا عقیدہ بھی قطعی ہے۔ خود جناب مرزا قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ خزائن ص ۴۰۰، ج ۳)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:۔ ”اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا، اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لیے کافی ہے۔“ ”یہ خبر مسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔ ہاں یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے جو اسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ۲ خزائن ج ۶ ص ۲۹۸)
مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی احادیث کو متواتر اور امت کے اعتقادی عقائد کا مظہر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آ کر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہر گئی تھیں ان کو قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ۵ خزائن ص ۳۰۰۔ ۳۰۱، ج ۶)
جناب مرزا قادیانی کے یہ ارشادات مزید تشریح و وضاحت کے محتاج نہیں تاہم اس پر اتنا اضافہ ضرور کروں گا۔
- ۱...... احادیث نبویہ میں (جن کو مرزا قادیانی قطعی متواتر تسلیم فرماتے ہیں) کسی گمنام ”مسیح موعود“ کے آنے کی پیش
گوئی نہیں کی گئی۔ بلکہ پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت میں دوبارہ نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ پوری امت اسلامیہ کا ایک ایک فرد قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں صرف ایک ہی شخصیت کو ”عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے، جو آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی اسرائیل میں آئے تھے، اس ایک شخصیت کے علاوہ کسی اور کے لیے ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام“ کا لفظ اسلامی ڈکشنری میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔
- ۲...... آنحضرت ﷺ سے لے کر آج تک امت اسلامیہ میں جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا عقیدہ
متواتر رہا ہے اس طرح ان کی حیات اور رفع آسمانی کا عقیدہ بھی متواتر رہا ہے اور یہ دونوں عقیدے ہمیشہ لازم و ملزوم رہے ہیں۔
- ۳....... جن ہزارہا کتابوں میں صدی وار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا لکھا ہے ان ہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ
آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا انکار مرزا قادیانی کے بقول ”دیوانگی اور جنون کا ایک شعبہ ہے“ تو ان کی حیات کے انکار کا بھی یقیناً یہی حکم ہوگا۔ ان تمہیدی معروضات کے بعد آپ کے سوالوں کا جواب پیش خدمت ہے۔
- ا ۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام : آپ نے دریافت کیا تھا کہ کیا قرآن کریم سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔ جواباً گزارش ہے کہ قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے یہ عقیدہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی گرفت سے بچا کر آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔
پہلی آیت ....... سورۃ النساء آیت ۱۵۷، ۱۵۸ میں یہود کا یہ دعویٰ نقل کیا ہے کہ ”ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ۔“ اللہ تعالیٰ ان کے اس ملعون دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”انھوں نے نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا، نہ انھیں سولی دی، بلکہ ان کو اشتباہ ہوا...... اور انھوں نے آپ کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے بڑی حکمت والا ہے۔“
یہاں جناب کو چند چیزوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔
- ۱....... یہود کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قتل اور صلب (سولی دیے جانے) کی تردید فرمائی۔
بعدازاں قتل اور رفع کے درمیان مقابلہ کر کے قتل کی نفی اور اس کی جگہ رفع کو ثابت فرمایا۔
- ۲....... جہاں قتل اور رفع کے درمیان اس طرح کا مقابلہ ہو جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وہاں رفع سے روح اور جسم
دونوں کا رفع مراد ہو سکتا ہے۔ یعنی زندہ اٹھا لینا صرف روح کا رفع مراد نہیں ہو سکتا اور نہ رفع درجات مراد ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم، حدیث نبوی ﷺ اور محاورات عرب میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ کسی جگہ قتل کی نفی کر کے اس کی جگہ رفع کو ثابت کیا گیا ہو اور وہاں صرف روح کا رفع یا درجات کا رفع مراد لیا گیا ہو اور نہ یہ عربیت کے لحاظ سے ہی صحیح ہے۔
- ۳....... حق تعالیٰ شانہ جہت اور مکان سے پاک ہیں مگر آسمان چونکہ بلندی کی جانب ہے اور بلندی حق اللہ تعالیٰ کی
شان کے لائق ہے، اس لیے قرآن کریم کی زبان میں ”رفع الی اللہ“ کے معنی ہیں آسمان کی طرف اٹھایا جانا۔
- ۴....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہود کی دستبرد سے بچا کر صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا جانا آپ کی قدر و منزلت کی دلیل
ہے۔ اس لیے یہ رفع جسمانی بھی ہے اور روحانی اور مرتبی بھی...... اس کو صرف رفع جسمانی کہہ کر اس کو رفع روحانی کے مقابل سمجھنا غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر صرف ”روح کا رفع“ عزت و کرامت ہے تو ”روح اور جسم دونوں کا رفع“ اس سے بڑھ کر موجب عزت و کرامت ہے۔
- ۵....... چونکہ آپ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ عام لوگوں کی عقل سے بالاتر تھا اور اس بات کا احتمال تھا
کہ لوگ اس بارے میں چہ میگوئیاں کریں گے کہ ان کو آسمان پر کیسے اٹھا لیا؟ اس کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اللہ تعالیٰ زمین پر ان کی حفاظت نہیں کر سکتا تھا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کسی اور نبی کو کیوں نہیں اٹھایا گیا وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام شبہات کا جواب ”وکان اللہ عزیزاً حکیماً“ میں دے دیا گیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ زبردست ہے پوری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صحیح سالم اٹھا لینا اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں اور ان کے وہاں زندہ رہنے کی استعداد پیدا کر دینا بھی اس کی قدرت میں ہے، کائنات کی کوئی چیز اس
کے ارادے کے درمیان حائل نہیں ہو سکتی اور پھر وہ حکیم مطلق بھی ہے، اگر تمھیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کی حکمت سمجھ میں نہ آئے تو تمھیں اجمالی طور پر یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ اس حکیم مطلق کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لینا بھی خالی از حکمت نہیں ہوگا۔ اس لیے تمھیں چون و چرا کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پر ایمان رکھنا چاہیے۔
- ۶...... اس آیت کی تفسیر میں پہلی صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک کے تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھایا گیا اور وہی قرب قیامت میں آسمان سے نزول اجلال فرمائیں گے۔ چونکہ تمام بزرگوں کے حوالے دینا ممکن نہیں اس لیے میں صرف آنحضرت ﷺ اور حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ”جو قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۴۷، خزائن ص ۲۲۵، ج ۳)
(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳۶، تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶، تفسیر ابن جریر ج ۳ ص ۲۰۲) میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا: ”بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور بے شک وہ تمہاری طرف دوبارہ آئیں گے۔“
(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳۶) میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کے وفد سے مباحثہ کرتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی؟“
(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۴، تفسیر در منثور ج ۲ ص ۲۳۸) میں حضرت ابن عباسؓ سے بسند صحیح منقول ہے کہ ”جب یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کے لیے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شباہت ایک شخص پر ڈال دی۔ یہود نے اسی ”مثیل مسیح“ کو مسیح سمجھ کر صلیب پر لٹکا دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے اوپر سے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔“
جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں امت کے تمام اکابر مفسرین و مجددین متفق اللفظ ہیں کہ اس آیت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسم سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور سوائے فلاسفہ اور زنادقہ کے سلف میں سے کوئی قابل ذکر شخص اس کا منکر نہیں اور نہ کوئی شخص اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھنے اور پھر صلیبی زخموں سے شفایاب ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور وہاں ۸۷ برس بعد ان کی وفات ہوئی۔
اب آپ خود ہی انصاف فرما سکتے ہیں کہ امت کے اس اعتقادی تعامل کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی میں شک کرنا اور اس کی قطعیت اور تواتر میں کلام کرنا جناب مرزا قادیانی کے بقول ”در حقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ“ ہے یا نہیں؟
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۵۷ تا ۲۶۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں
سوال ...... جیسا کہ احادیث و قرآن کی روشنی میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اب ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کون سے آسمان پر ہیں اور ان کے انسانی ضروریات کے تقاضے کیسے پورے ہوتے ہوں گے۔ مثلاً کھانا پینا، سونا جاگنا اور انس و الفت اور دیگر اشیاء ضرورت انسان کو کیسے ملتی ہوں گی۔ وضاحت کر کے مطمئن کریں۔
جواب ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ اٹھایا جانا، اور قرب قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا تو اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ جس پر قرآن و سنت کے قطعی دلائل قائم ہیں اور جس پر امت کا اجماع ہے۔ حدیث
معراج میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حضرت عیسیٰ ؑ سے دوسرے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔ آسمان پر مادی غذا اور بول و براز کی ضرورت پیش نہیں آتی جیسا کہ اہل جنت کو ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۹ - ۲۵۰)
سیدنا مسیح ؑ کی بغیر باپ کے پیدائش
سوال ...... بکر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ یا فوت شدہ ماننا۔ بغیر باپ کے یا باپ والا ماننا۔ ہمارے لیے جزو ایمان نہیں ہے بلکہ جزو ایمان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو بشر اور رسول مانے اور الوہیت میں شریک نہ کرے کیونکہ حضرت مریم ؑ کی شادی یوسف نامی بڑھی سے ہو گئی تھی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش مثل عام انسانوں کے ہوئی۔ اس لیے وہ ابن اللہ نہیں ہو سکتے۔
جواب ...... قرآن مجید سے جو کچھ ثابت ہے اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ چاہے حضرت موسیٰ ؑ کا دعوٰی رسالت ہو یا فرعون کا دعوٰی خدائی یعنی یہ ماننا بھی داخل ایمان ہے کہ فرعون نے کہا تھا اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی پس ان معنوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش بلا باپ ماننا داخل ایمان ہے کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے۔ ماکان ابوک امرء سوء وما کانت امک بغیا. (المریم ۲۸) یوسف سے نکاح ہونا انجیل میں مذکور ہے۔ مگر اسی انجیل میں یہ بھی مرقوم ہے کہ مریم ؑ یوسف کے ملاپ سے پہلے روح القدس سے حاملہ ہو چکی تھی۔ اس لیے یہ نکاح مسیح ؑ کی ولادت بے باپ ہونے کے مخالف نہیں۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج اول ص ۳۷۷)
ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں
جواب ...... آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا۔ آپ کی فرمائش پر براہ راست جواب لکھ رہا ہوں اور اس کی نقل ”جنگ“ کو بھی بھیج رہا ہوں۔
اہل اسلام قرآن کریم، حدیث نبوی ﷺ اور اجماع امت کی بناء پر سیدنا عیسیٰ ؑ کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ خود جناب مرزا قادیانی کو اعتراف ہے کہ:
”مسیح ابن مریم کی آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷، خزائن ص ۴۰۰ ج ۳)
لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو اہل اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہیے کیونکہ جناب مرزا قادیانی نے سورہ الصّف کی آیت ۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح ؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸۔۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)
جناب مرزا قادیانی قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی
بناء پر نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے ”الہام“ سے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں۔
”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی روح سے مسیح کی ”پہلی زندگی“ کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے...... اس لیے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۴)
اور اسی پر اکتفا نہیں بلکہ مرزا قادیانی اپنے الہام سے حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ تشریف لانے کی الہامی پیش گوئی بھی کرتے ہیں چنانچہ اسی کتاب کے (ص ۵۰۵ خزائن ج ۱ ص ۶۰۲) پر اپنا ایک الہام ”عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم“ درج کر کے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں۔
”یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے ”جلالی طور پر“ ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریقِ حق اور نرمی اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح ؑ نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور یہ زمانہ اس زمانے کے لیے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔“
ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح ؑ کی حیات اور دوبارہ آنے پر ایمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآن کریم کی قطعی پیش گوئی کی تکذیب ہے بلکہ جناب مرزا قادیانی کی قرآن فہمی ان کی الہامی تفسیر اور ان کی الہامی پیش گوئی کی بھی تکذیب ہے۔ پس ضروری ہے کہ اہل اسلام کی طرح مرزا قادیانی کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ آنے پر ایمان رکھیں ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن وحدیث کے علاوہ مرزا قادیانی کی قرآن دانی بھی حرف غلط ثابت ہوگی اور ان کی الہامی تفسیریں اور الہامی انکشافات سب غلط ہو جائیں گے کیونکہ:
”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمۂ معرفت ص ۲۲۲ خزائن ج ۲۳ ص ۲۳۱)
اب آپ کو اختیار ہے کہ ان دو باتوں میں کس کو اختیار کرتے ہیں۔ حیاتِ عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے کو؟ یا مرزا قادیانی کی تکذیب کو؟
جناب مرزا قادیانی کے ازالہ اوہام صفحہ ۹۲۱ والے چیلنج کا ذکر کر کے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔
آنعزیز کو شاید علم نہیں کہ حضرات علماء کرام ایک بار نہیں، متعدد بار اس کا جواب دے چکے ہیں۔ تاہم اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا تو یہ فقیر (باوجودیکہ حضرات علماء احسن اللہ جزاہم کی خاکِ پا بھی نہیں) اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے حاضر ہے۔ اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کی (کتاب البریہ ص ۲۰۷ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۵) والے اعلان کو بھی ملا لیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تصفیہ کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی کے موجودہ جانشین سے لکھوا دیا جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزا قادیانی کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت، جس کے فیصلے پر فریقین اعتماد کر سکیں۔ خود ہی تجویز فرما دیں۔ میں اس مسلمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کر دوں گا۔ عدالت اس پر جو جرح کرے گی اس کا جواب دوں گا میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کر دے کہ میں نے مرزا قادیانی کے طلسم کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا ہے تو ۲۰ ہزار روپے آنعزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ کو چھوڑتا ہوں۔ دوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرا دیجئے گا۔ اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اعلان کرا دیجئے گا۔ کہ مرزا قادیانی کا چیلنج بدستور قائم ہے اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیہ کے لیے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت احسان کریں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۰۵ تا ۲۰۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن کیا ہوگا؟
سوال....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کا مقصد کیا ہے اور ان کا مشن کیا ہوگا؟ جبکہ دین اسلام اللہ تعالیٰ کا مکمل اور پسندیدہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی آمد عیسائیوں کی اصلاح کے لیے ہو سکتی ہے۔ اگر اسلام کے لیے تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے آخر الزمان نبی ﷺ کے درجہ میں کمی ہوگی۔ برائے نوازش اخبار کے ذریعہ میرے سوال کا جواب دے کر ایسے مطمئن کیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن کیا ہوگا؟
جواب...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا مشن آنحضرت ﷺ نے خود پوری تفصیل اور وضاحت سے ارشاد فرما دیا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث میں پہلے نقل کر چکا ہوں۔ یہاں صرف ایک حدیث پاک کا حوالہ دینا کافی ہے۔
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں الگ ہیں مگر ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔ پس جب ان کو دیکھو تو پہچان لو۔ قامت میانہ، رنگ سرخ و سفیدی ملا ہوا، ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں زیب تن کیے نازل ہوں گے۔ سر مبارک سے گویا قطرے ٹپک رہے ہیں۔ گو اس کو تری نہ پہنچی ہو۔ پس وہ نازل ہو کر صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کر دیں گے اور تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ روئے زمین پر امن و امان کا دور دورہ ہو جائے گا۔ شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین میں چالیس برس ٹھہریں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی، مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔‘‘
(مسند احمد ص ۴۰۶ ج ۲، فتح الباری ص ۲۵۶ ج ۶)
اس ارشاد پاک سے ظاہر ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل مشن یہود و نصاریٰ کی اصلاح اور یہودیت و نصرانیت کے آثار سے روئے زمین کو پاک کرنا ہے مگر چونکہ یہ زمانہ خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت و بعثت کا ہے اس
لیے وہ امت محمدیہ کے ایک فرد بن کر آنحضرت ﷺ کے خادم اور خلیفہ کی حیثیت میں تشریف لائیں گے۔
چنانچہ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے۔
”سن رکھو کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے اور میرے درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں ہوا۔ سن رکھو کہ وہ میرے بعد میری امت میں میرے خلیفہ ہیں، سن رکھو کہ وہ دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے۔ جزیہ بند کر دیں گے، لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔ سن رکھو جو شخص تم سے ان کو پائے ان سے میرا سلام کہے۔“
(مجمع الزوائد ص ۲۰۵، ج ۸ ۔ درمنثور ص ۲۴۲ ج ۲)
اس لیے اسلام کی جو خدمت بھی وہ انجام دیں گے اور ان کا آنحضرت ﷺ کے خادم کی حیثیت سے امت محمدیہ میں آ کر شامل ہونا ہمارے آنحضرت ﷺ کی شان میں کمی کا باعث نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سیادت و قیادت اور شرف و منزلت کا شاہکار ہے۔ اس وقت دنیا دیکھ لے گی کہ واقعی تمام انبیاء گزشتہ (علی نبینا و علیهم الصلوات والتسلیمات) آنحضرت ﷺ کے مطیع ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
”اللہ کی قسم موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اطاعت کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔“
(مشکوٰۃ شریف ص ۳۰ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) (آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۸ - ۲۴۹)
حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام
سوال ...... حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ نظریہ کہ وہ وفات پا چکے ہیں اس بارے میں اہلسنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
(از سنگاپور)
زندہ ہیں۔
روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے: وهو حى فى السماء الثانية على ماصح عن النبى ﷺ فى حديث المعراج وهو هنالك مقيم حتى ينزل الى الارض يقتل الدجال و يملؤها عدلاً كما ملئت جوراً یعنی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام دوسرے آسمان پر زندہ ہیں جیسا کہ یہ بات حدیث معراج میں صحیح طور پر مروی ہے، اور آپ آسمان پر مقیم ہیں، یہاں تک کہ آپ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ آپ کی آمد سے قبل دنیا ظلم وستم سے بھری پڑی تھی۔
(روح المعانی ص ۱۱ ج ۶)
حدیث میں ہے۔ عن ابی هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والله لينزلن ابن مريم حكماً عادلاً فیکسر الصلیب (مسلم ص ۸۷ ج ۱) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم حضرت ابن مریم (یعنی عیسیٰ) علیہ الصلوٰۃ والسلام یقیناً (قیامت کے قریب دنیا میں) نازل ہوں گے (اور آپ) حاکم عادل ہوں گے، پس آپ صلیب کو توڑیں گے ۔‘‘
(مشکوٰۃ شریف ص ۴۷۹ باب نزول عیسیٰ ؑ قدیمی کتب خانہ کراچی)
مظاہر حق میں ہے۔ فائدہ۔ باتحقیق ثابت ہوا ہے صحیح حدیثوں سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اتریں گے آسمان سے زمین پر اور دین محمد ﷺ کے تابع ہوں گے اور حکم کریں گے آنحضرت ﷺ کی شریعت پر۔
(مظاہر حق بتغیر یسیر ص ۳۲۷ ج ۴ باب نزول عیسیٰ ؑ)
حکیم الامتؒ حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے بیان القرآن میں اس پر علمی بحث فرمائی ہے جو قابل مطالعہ ہے، اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔
’’تنبیہ ضروری ...... تقریر تفسیر سے بعض ان لوگوں کی غلطی ظاہر ہو گئی جو آج کل دعویٰ بلا دلیل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہوگئی اور آپ مدفون ہو گئے اور پھر قیامت کے قریب تشریف نہ لائیں گے اور اس پر جو احادیث عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کے متعلق آئی ہیں، ان میں تحریف کی ہے کہ مراد اس سے مثیل عیسیٰ ہے، اور پھر اس مثیل کا مصداق اپنے کو قرار دیا ہے (الیٰ قولہ) اور دوسرے دلائل سے رفع وحیات ثابت ہے، پس اس کا قائل ہونا واجب ہے، رفع تو آیت رفعہ اللہ سے جو اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے نص ہے رفع مع الجسد میں، اور بلا تعذر معنی حقیقی کے مجازی لینا ممتنع ہے اور دلیل تعذر مفقود ہے اور حیات احادیث و اجماع سے ثابت ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ان عيسى لم يمت و انه راجع اليكم قبل يوم القيمة رواه السيوطى فى الدر المنثور و اخرج ابن كثير من آل عمران وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبدالله بن جعفر عن ابيه حدثنا الربيع بن انس عن الحسن اه فذكر اثراً عنه ثم قال قال رسول الله ﷺ لليهود، ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة (الی قوله) اور اجماع نہایت ظاہر ہے کہ کسی مستند عالم سے سلفاً وخلفاً اس کے خلاف منقول نہیں الخ۔
(بیان القرآن ص ۴۰ دار الکتب العلمیہ بیروت جلد دوم پارہ نمبر ۳ رکوع نمبر ۱۳ سورہ آل عمران)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اپنی مشہور تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
مسئلہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں صرف یہودیوں کا یہ کہنا ہے کہ عیسیٰ ؑ مقتول ومصلوب ہو کر دفن ہو گئے اور پھر زندہ نہیں
ہوں گے اور ان کے اس خیال کی حقیقت قرآن کریم نے سورۂ نساء کی آیت میں واضح کر دی اور اس آیت میں بھی وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ (آل عمران ۵۴) میں اس طرف اشارہ کر دیا گیا ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے دشمنوں کے کید اور تدبیر کو خود انہی کی طرف لوٹا دیا کہ جو یہودی حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے لیے مکان کے اندر گئے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کی شکل و صورت تبدیل کر کے بالکل عیسیٰؑ کی صورت میں ڈھال دیا اور حضرت عیسیٰؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (النساء ۱۵۷) نہ انھوں نے عیسیٰ کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا، لیکن مدبر حق نے ان کو شبہ میں ڈال دیا (کہ اپنے ہی آدمی کو قتل کر کے خوش ہو لیے) اس کی مزید تفصیل سورۂ نساء میں آئے گی نصاریٰ کا کہنا یہ تھا کہ عیسیٰؑ مقتول و مصلوب تو ہو گئے مگر پھر دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیے گئے، مذکورہ آیت نے ان کے اس غلط خیالی کی بھی تردید کر دی اور بتلا دیا کہ جیسے یہودی اپنے ہی آدمی کو قتل کر کے خوشیاں منا رہے تھے اس سے یہ دھوکا عیسائیوں کو بھی لگ گیا کہ قتل ہونے والے عیسیٰؑ ہیں اس لیے شبه لهم کے مصداق یہود کی طرح نصاریٰ بھی ہو گئے۔ ان دونوں گروہوں کے بالمقابل اسلام کا وہ عقیدہ ہے جو اس آیت اور دوسری کئی آیتوں میں وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دینے کے لیے آسمان پر زندہ اٹھا لیا، نہ ان کو قتل کیا جا سکا نہ سولی پر چڑھایا وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہو کر یہودیوں پر فتح پائیں گے اور آخر میں طبعی موت سے وفات پائیں گے۔ اسی عقیدہ پر تمام امت مسلمہ کا اجماع و اتفاق ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے (التلخیص الحبیر ص ۳۱۹) میں یہ اجماع نقل کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے یہ عقیدہ ثابت ہے، اور اس پر اجماع امت ہے، یہاں اس کی پوری تفصیل کا موقع بھی نہیں اور ضرورت بھی نہیں کیونکہ علمائے امت نے اس مسئلہ کو مستقل کتابوں اور رسالوں میں پورا پورا واضح فرما دیا ہے اور منکرین کے جوابات تفصیل سے دیے ہیں ان کا مطالعہ کافی ہے۔ مثلاً حضرت حجۃ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری کی تصنیف بزبانِ عربی عقيدة الاسلام فی حیات عیسیٰ عليه السلام، حضرت مولانا بدر عالم صاحب مہاجر مدنی کی تصنیف بزبانِ اردو ”حیات عیسیٰؑ“ مولانا محمد ادریس صاحب کی تصنیف ”حیات مسیحؑ“ اور بھی سینکڑوں چھوٹے بڑے رسائل اس مسئلہ پر مطبوع و مشتہر ہو چکے ہیں، احقر نے بامر استاذ محترم حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سو سے زائد احادیث کو جن سے حضرت عیسیٰؑ کا زندہ اٹھایا جانا اور پھر قرب قیامت میں نازل ہونا بتواتر ثابت ہوتا ہے۔ ایک مستقل کتاب التصريح بما تواتر فی نزول المسیح میں جمع کر دیا ہے جس کو حال میں حواشی و شرح کے ساتھ حلب (شام) کے ایک بزرگ علامہ عبدالفتاح ابو غدہ نے بیروت میں چھپوا کر شائع کیا ہے۔ اور حافظ ابن کثیر نے سورۂ الزخرف کی آیت وانه لعلم للساعة کی تفسیر میں لکھا ہے۔ وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة امامًا عادلاً.
(ص ۲۱۷ ج ۷ بیروت دار الکتب العلمیہ)
”یعنی رسول اللہ ﷺ کی احادیث اس معاملہ میں متواتر ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰؑ کے قبل قیامت نازل ہونے کی خبر دی ہے۔“ (معارف القرآن ص ۷۴ ج ۲ و ص ۷۵ پارہ نمبر ۳ رکوع نمبر ۱۳ سورہ آل عمران)
ایک شبہ کا جواب اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ قرآن کی اس آیت مبارکہ يٰعِيْسَى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے آپ کی وفات ہوگی پھر آپ کو آسمان پر اٹھایا گیا تو اس شبہ کا جواب سمجھنے سے پہلے
یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس آیت میں جو وعدے مذکور ہیں وہ اس وقت کیے گئے تھے جبکہ قوم یہود نے آپ کو شہید کرنے کی خفیہ سازش بنائی تھی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو اس ناپاک سازش سے باخبر کر دیا اور وعدہ فرمایا کہ آپ اطمینان رکھیں کہ یہ لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں مگر یہ اپنے ناپاک منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکیں گے بلکہ قیامت کے قریب وقت موعود پر آپ اپنی طبعی موت سے ہی وفات پائیں گے اور فی الحال ان کے شر سے بچانے کے لیے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا جائے گا، تو مذکورہ آیت انی متوفیک و رافعک الی میں جو دو وعدے مذکور ہیں وہ یقیناً پورے ہوں گے، البتہ رافعک الی والا وعدہ اس وقت پورا کیا گیا، اور دوسرا وعدہ اس وقت پورا ہوگا جب قیامت کے قریب آپ دنیا میں تشریف لائیں گے تو آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے، اور واؤ چونکہ ترتیب کے لیے وضع نہیں ہوا ہے لہذا یہ ضروری نہیں کہ پہلے متوفیک کا وقوع ہو اور پھر رافعک الی کا اور اس تقدیم و تاخیر میں بھی مصلحت ہے جسے مفسرین نے بیان کیا ہے۔ کماسیأتی انشاء اللہ۔
تفسیر روح المعانی میں ہے (یعیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی) اخرج ابن ابی حاتم عن قتادہ قال ھذا من المقدم والمؤخر ای رافعک الی و متوفیک وھذا احد تاویلات اقتضا ھما مخالفۃ ظاھر الآیۃ المشھور المصرح بہ فی الآیۃ الاخری وفی قولہ ﷺ ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمۃ وثانیھا ان المراد انی مستوفی اجلک و ممیتک حتف انفک لا اسلط علیک من یقتلک فالکلام کنایۃ عن عصمۃ من الاعداء وماھم بصدرہ من الفتک بہ علیہ السلام لانہ یلزم من استیفاء اللہ تعالیٰ اجلہ و موتہ حتف انفہ ذلک۔
(روح المعانی ص ۱۵۸ ج ۱ جزء ۳ سورہ آل عمران پارہ نمبر ۳)
روح المعانی میں اور بھی جوابات مذکور ہیں تفصیل درکار ہو تو روح المعانی کا مطالعہ کیا جائے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے بھی معارف القرآن میں اس پر کلام فرمایا ہے، چنانچہ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں۔
’’اس کے ساتھ ہی یہ بھی منقول ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ نے اس وقت جبکہ یہودی آپ کے قتل کے درپے تھے آپ کی تسلی کے لیے دو لفظ ارشاد فرمائے ایک یہ کہ آپ کی موت ان کے ہاتھوں قتل کی صورت میں نہیں بلکہ طبعی موت کی صورت میں ہوگی، دوسرا یہ کہ اس وقت ان لوگوں کے نرغہ سے نجات دینے کی ہم یہ صورت کریں گے کہ آپ کو اپنی طرف اٹھا لیں گے، یہی تفسیر حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے، تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباسؓ کی یہ روایت اس طرح منقول ہے۔ اخرج اسحق بن بشر وابن عساکر من طریق جوھر عن الضحاک عن ابن عباسؓ فی قولہ تعالٰی انی متوفیک و رافعک الی یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان۔
(درمنثور ص ۳۶ ج ۲)
’’اسحٰق ابن بشر اور ابن عساکر نے بروایت جوہر عن الضحاک حضرت ابن عباسؓ سے آیت انی متوفیک و رافعک الی کی تفسیر میں یہ لفظ نقل کیے ہیں کہ میں آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر آخر زمانہ میں آپ کو طبعی طور پر وفات دوں گا‘‘
اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ توفی کے معنی موت ہی کے ہیں مگر الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے رافعک کا
پہلے اور متوفیک کا وقوع بعد میں ہوگا اور اس موقع پر متوفیک کو مقدم ذکر کرنے کی حکمت و مصلحت اس پورے معاملہ کی طرف اشارہ کرنا ہے جو آگے ہونے والا ہے یعنی یہ اپنی طرف بلا لینا ہمیشہ کے لیے نہیں ہے بلکہ چند روزہ ہوگا اور پھر آپ دنیا میں آئیں گے اور دشمنوں پر فتح پائیں گے اور بعد میں طبعی طور پر آپ کی موت واقع ہوگی اس طرح دوبارہ آسمان سے نازل ہونے اور دنیا پر فتح پانے کے بعد موت آنے کا واقعہ ایک معجزہ بھی تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعزاز و اکرام کی تکمیل بھی نیز اس میں عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت کا ابطال بھی تھا ورنہ ان کے زندہ آسمان پر چلے جانے کے واقعہ سے ان کا یہ عقیدہ باطل اور پختہ ہو جاتا کہ وہ بھی خدا حی و قیوم ہے اس لیے پہلے متوفیک کا لفظ ارشاد فرما کر ان تمام خیالات کا ابطال کر دیا پھر اپنی طرف بلانے کا ذکر فرمایا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔
(معارف القرآن ص ۷۴، ۷۵ ج ۲، فتاویٰ رحیمیہ جلد ۷ ص ۱۸ تا ۲۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانوں پر زکوٰۃ و نماز کی ادائیگی؟
سوال ...... ”دعوت“ میں حیات مسیح پر ایک مسلسل مضمون کئی قسطوں میں آ رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک شبہ وارد ہوتا ہے۔ اس کا جواب ”دعوت“ میں ہی دے کر مشکور فرمائیں۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کی رو سے واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا کے مطابق ہر وقت جب تک وہ زندہ ہیں نماز اور زکوٰۃ فرض ہے۔ اگر وہ اب آسمانوں میں زندہ ہیں تو وہاں نماز اور زکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہوں گے اور وہ زکوٰۃ لیتا کون ہوگا۔ اس کا جواب مطلوب ہے؟ سائل: مختار حسن صدر لاہور کینٹ
جواب ...... آپ پہلے اس آیت کے معنی سمجھ لیجئے جو آپ نے نقل کی ہے اس میں انشاء اللہ العزیز تمام شبہات زائل ہو جائیں گے۔ آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔
واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا۔
(مریم ۳۱)
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا جب تک میں زندہ رہوں۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں۔ ”یعنی جب تک زندہ رہوں، جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم ہو اس کی شروط و حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں گا۔ جیسے دوسری جگہ مومنین کی نسبت فرمایا۔ ”الذین ھم علی صلوتھم دائمون“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات و انوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا رہے، ہر وقت زکوٰۃ دیتا رہے، (خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو) ہر وقت روزے رکھتا رہے، ہر وقت حج کرتا رہے، حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی ”مادمت حیا“ کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ لفظ ”صلوٰۃ“ کچھ اصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قرآن نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف صلوٰۃ کی نسبت کی ہے۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموات والارض والطیر صافات کل قد علم صلوتہ و تسبیحہ (نور ۴۱) اور یہ بھی بتلا دیا کہ ہر چیز کی تسبیح وصلوٰۃ کا حال اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ و تسبیح کس رنگ کی ہے اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نمو
برکت، مدح کے ہیں جن میں سے ہر ایک معنی کا استعمال قرآن و حدیث میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رکوع میں حضرت مسیح ؑ کی نسبت ”غلامًا زکیًا“ کا لفظ گزر چکا جو زکوۃ سے مشتق ہے اور یحییٰ ؑ کو فرمایا۔ (مریم ۱۳) ”وحنانًا من لدنا و زکوۃ“ سورۃ کہف ۸۱ میں ہے ”خیرًا منہ زکوۃ و اقرب رحمًا“ اسی طرح کے عام معنی یہاں بھی زکوۃ کے کیے جاسکتے ہیں اور ممکن ہے۔ ”اوصانی بالصلوۃ والزکوۃ“ سے ”اوصانی بان امر بالصلوۃ والزکوۃ“ مراد ہو جیسے اسماعیل ؑ کی نسبت فرمایا۔ ”وکان یامر اہلہ بالصلوۃ والزکوۃ“ پھر لفظ ”اوصانی“ اپنے مدلول لغوی کے اعتبار سے اس کو مقتضی نہیں کہ وقت ایصاء ہی سے اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے۔ نیز بہت ممکن ہے کہ ”مادمت حیًا“ سے یہ ہی زمینی حیات مراد لی جائے جیسے ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جابرؓ کے والد کو اللہ نے شہادت کے بعد زندہ کر کے فرمایا کہ ہم سے کچھ مانگ، اس نے کہا کہ مجھے دوبارہ زندہ کر دیجئے کہ دوبارہ تیرے راستہ میں قتل کیا جاؤں۔ اس زندگی سے یقیناً زمینی زندگی مراد ہے۔ ورنہ شہداء کے لیے نفس حیات کی قرآن میں اور خود اسی حدیث میں تصریح موجود ہے۔“ واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ۔
(عبقات ص ۲۰۴،۲۰۳)
حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ نص قرآنی سے ثابت ہے
سوال...... کیا حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے یا دوسرے انبیاء کی طرح وفات پاچکے ہیں؟ بحیثیت ایک مسلمان کے اس بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟
الجواب...... تمام امت محمدیہ کا یہ منصوص اور بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ سلامت اٹھایا گیا ہے اور بعض فرائض کی انجام دہی تک زندہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ (النساء ۱۵۷) اور اسی طرح احادیث نبویہ بھی آپ کی زندگی پر ناطق ہیں۔
اخرج اسماعیل بن کثیر: قال الحسنؒ قال رسول اللّٰہ ﷺ ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔
(تفسیر ابن کثیر ص ۳۴۰ سورۃ النساء، دار الکتب العلمیہ بیروت، فتاویٰ حقانیہ ج۱ ص ۱۵۴)
فرقہ مرزائیہ کے آٹھ اہم اشکالات کے جوابات
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ ط
جناب حضرتا شیخنا سیدنا و مولانا زبدۃ المحققین و رئیس العارفین۔ بعد السلام علیکم کے عاجز یوں گزارش کرتا ہے کہ فرقہ باطلہ مرزائیہ کی تائیدی مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک معتقد مرزا ابو العطاء حکیم خدا بخش قادیانی نے ایک ضخیم کتاب ”عسل مصفّیٰ“ لکھی ہے۔ اس کتاب میں مرزا موصوف نے اپنے زعم میں وفات مسیح کو جہاں تک ہوسکا ثابت کیا۔ مرزا قادیانی نے تو۔ (ازالہ اوہام مطبع ریاض ہند امرتسر ۱۳۰۸ھ کے صفحہ ۵۹۸ تا ۶۲۷ میں خزائن جلد ۳ ص ۴۲۳ تا ۴۳۸، ۴۴۰) آیات قرآنی سے وفات مسیح کا استدلال پکڑا۔ مگر حکیم صاحب اپنے پیر سے بھی بڑھ کر نکلے یعنی انھوں نے ساٹھ آیات قرآنی سے وفات مسیح کا استدلال پکڑا۔ مثل مشہور ہے گرو جنہاں دے جاندے ٹپ۔ چیلے جان شڑپ۔“ راقم الحروف کی اکثر اوقات امرتسر کے مرزائیوں کے ساتھ گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ آپ کی کتاب سیف چشتیائی نے مجھے بڑا فائدہ دیا اور چند ایک مرزائیوں نے اسے پڑھا۔ چنانچہ حکیم الٰہی بخش صاحب مرحوم معہ اپنے لڑکے کے آخر
مرزائیت سے توبہ کر گئے اور اسلام پر ہی فوت ہوئے اور باقی مرزائیوں کے دل ویسے ہی سخت رہے۔ سچ ہے کہ؎
زندگی اپنی سمجھتا ہے جو مر جانے کو
میری خود یہ حالت تھی کہ ”عسل مصفیٰ“ کو پہلی بار پڑھنے سے دل میں طرح طرح کے شکوک اٹھے اور وفات مسیح پر پورا یقین ہو گیا مگر الحمدللہ کہ آپ کی سیف چشتیائی اور شمس الہدایت نے میرے متذبذب دل پر تسلی بخش امرت ٹپکا۔ امید ہے کئی برگشتہ آدمی اس سے ایمان میں تروتازگی حاصل کریں گے۔ عرصہ ایک سال سے عاجز نے کمر بستہ ہو کر یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ایک ضخیم کتاب بنا کر ”عسل مصفیٰ“ کی تردید بخوبی کی جائے اور اس کی تمام چالاکیوں کی قلعی کھولی جائے۔ چنانچہ راقم الحروف ”عسل مصفیٰ“ کے رد میں ایک کتاب ”صاعقہ رحمانی برنخلِ قادیانی“ لکھ رہا ہے اور اس کے پانچ باب ترتیب وار باندھے ہیں۔ (۱) حیات مسیح ۱۵ فصلوں پر (۲) حقیقت المسیح ۱۵ فصلوں پر (۳) حقیقت النبوت ۱۵ فصلوں پر (۴) حقیقت المہدی ۱۲ فصلوں پر (۵) حقیقت الدجال ۸ فصلوں پر۔
مصنف عسل مصفیٰ نے چند ایک اعتراضات حیات مسیح اور رجوع موتیٰ پر کیے ہیں۔ عاجز ذیل میں وہ اعتراضات تحریر کر دیتا ہے اور آپ سے ان کے جوابات کا خواستگار ہے۔ میں نے امرتسر کے چند ایک عالموں مثلاً محمد داؤد بن عبدالجبار مرحوم غزنوی، خیر شاہ صاحب حنفی نقشبندی، ابو الوفاء ثناء اللہ وغیرہ سے ان اعتراضوں کے جواب پوچھے۔ مگر افسوس کہ کسی نے بھی جواب تسلی بخش نہیں دیے۔ اب امید ہے کہ آپ بخیال ثواب دارین ان اعتراضوں کے جواب تحریر فرما کر فرقہ مرزائیہ کے دام مکر سے اہل اسلام کو خلاصی دیں گے۔
اوّل (۱)...... (صحیح بخاری مطبع احمدی جلد ۱ ص ۴۸۱) میں ہے۔ عن ابن عمر قال قال النبیﷺ رایت عیسیٰ ؑ و موسیٰ ؑ و ابراهیم ؑ فاما عیسیٰ ؑ فاحمر جعد عریض الصد.
(۲)...... پھر اسی بخاری میں ہے۔ حدثنا احمد قال سمعت ابراهيم عن ابيه قال لا والله ماقال النبیﷺ بعيسى احمر ولكن بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل ادم سبط الشعريهادى بين رجلين ينطف رأسه ماءً او يهراق...... الخ.
(ص ۴۸۹)
پہلی حدیث میں عیسیٰ مسیح ؑ بن مریم ناصری کا حلیہ سرخ رنگ، بال گھنگرو دار، سینہ چوڑا تھا اور دوسری حدیث میں مسیح موعود کا حلیہ گندم گوں رنگ، بال کندھوں پر لٹکے ہوئے اور سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوا ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ مسیح ناصری اور ہے اور آنے والے مسیح جس نے دجال کو مارنا ہے اور ہے۔
دوسری حدیث میں یہ بھی ہے۔
قال ثم اذابر جل جعد قطط اعور العين اليمنى كان عينه عنبة طافية كاشبه من رايت من الناس بابن قطن واضعا يديه على منكبى رجلين يطوف بالبيت (ص ۴۸۹) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ نے دجال کو بھی کعبہ کا طواف کرتے دیکھا مگر دوسری صحیح حدیثوں سے صاف عیاں ہے کہ دجال پر مکہ و مدینہ حرام کیے گئے ہیں۔ پھر مسیح اور دجال کا طواف کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔
دوم...... (صحیح بخاری ص ۶۶۵ ج ۲) میں ہی ہے۔ عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللهﷺ تحشرون حفاة عراة غرلائم قرّكما بدأنا اول خلق نعيده وعدًا علينا انا كنا فاعلين فاول من يكسى ابراهيم عليه السلام. الخ ثم يؤخذ برجال من اصحابى ذات اليمين و ذات الشمال فاقول اصحابى فيقال انهم
لايزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم فاقول کما قال العبد الصالح عیسیٰ بن مریم و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی الخ. (مائدہ ۱۱۷) میں ذکر ہے کہ مسیح پر سوال ہونے پر مسیح جواب دیں گے کہ سبحانک مايكون لی ان اقول مالیس لی بحق ان قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب ماقلت لہم الاما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت....... الخ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ یہ آیات اپنے اوپر چسپاں کر کے فرمائیں گے۔ اور اپنے بیان کو عیسیٰ ؑ کی طرح بیان فرمائیں گے۔ اب یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ ﷺ فوت ہو چکے ہیں۔ پس آپ ﷺ یہی کہیں گے کہ جب تو نے مجھے وفات دی اور کما قال العبد الصالح صاف ظاہر کرتا ہے کہ مسیح بھی یہی کہیں گے ۔”جب تو نے وفات دی۔“
اب اس سے معنی وفات کے لے کر یہ کہا جائے کہ اس سے مراد وہ موت ہے جو مسیح کو زمین پر آنے کے ۴۵ سال بعد آئے گی تو اس پر یہ اعتراض لازم آئے گا کہ مسیح کے پیرو مسیحی ابھی گمراہ نہیں ہوئے بلکہ مسیح کی وفات کے بعد ہوں گے اور اس جا آئندہ وفات مراد لینا اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ خدا تو مسیح کے اس زمانے کی نسبت سوال کر رہا ہے جبکہ مسیح کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا، نہ کہ آئندہ زمانہ کی نسبت اور پھر مسیح اتنا زمانہ چھوڑ کر آئندہ موت کی بابت کس طرح گفتگو کرتے اور پھر تفسیر کمالین و حسینی وغیرہ میں فلما توفیتنی کے معنی رفع الی السماء نہ ہوتا۔
اور گذشتہ زمانے میں یہ کہنے پر کہ ”جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔“ یہ اعتراض آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پھر کما قال العبد الصالح فرما کر قیامت کو یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ”جب تو نے مجھے فوت کر لیا۔“ ورنہ یوں کہنا چاہیے۔ ”جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا۔“ اور یہ غلط ہے۔ جس حالت میں کہ مسیح کی طرح ہی آنحضرت ﷺ فرمائیں گے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسیح کی بابت تو آسمان پر اٹھایا جانا معنی کریں اور آنحضرت ﷺ کی بابت فوت ہو جانے کے معنی کریں کیونکہ اس سے تو مماثلت درست نہیں رہتی۔
سوم ....... صحیح بخاری میں کتاب التفسیر میں ہے۔ ”قال ابن عباس متوفیک ممیتک“ بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ ابن عباسؓ ایسے معنی کرنے میں آیت یا عیسیٰ علیہ السلام انی ....... الخ میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں اس پر یہ اعتراضات آتے ہیں۔
- ۱....... صحیح بخاری سے یہ ثابت نہیں کہ ابن عباسؓ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں کیونکہ کتاب التفسیر میں صرف متوفیک
کے معنی ممیتک لکھے ہیں۔
- ۲....... اگر رافع کے بعد متوفیک کو رکھیں تو لازم آئے گا کہ مسیح کا رفع تو ہو گیا ہے۔ ومطھرک وجاعل
الذین الخ کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا بلکہ بعد وفات کے ہوگا اور یہ غلط ہے۔
- ۳....... اگر متوفیک کو مطھرک کے بعد رکھیں تو لازم آئے گا کہ مرفوع و مطہر ہونے کے وعدے تو پورے ہو
گئے ہیں مگر مسلمان کافروں پر غالب نہیں ہیں بلکہ موت کے بعد ہوں گے حالانکہ یہ غلط ہے۔
- ۴....... اگر متوفیک کو سب کے آخر رکھیں تو لازم آئے گا کہ قیامت کے دن جب کہ اور لوگ زندہ ہو کر اٹھیں
گے مسیح فوت ہو جائیں گے کیونکہ چوتھا وعدہ یہ ہے کہ قیامت تک تیرے پیروؤں کو کافروں پر غالب رکھوں گا۔
- ۵....... یہ چار وعدے ترتیب وار ہیں اگر واؤ ترتیب کے لیے نہیں ہے بلکہ قیامت کے پہلے پہلے یہ سب وعدے
پورے ہو جانے چاہئیں تو الی یوم القیامۃ کی ضرورت نہ تھی اور اس کی نظیر میں کوئی اور آیت بھی پیش کرنی چاہیے۔
چہارم ..... بعض مفسرین نے آیت وان من اھل الکتاب الخ کے معنی یہ کیے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ سب مسیح کی موت کے پہلے پہلے اس پر ایمان لائیں گے۔ اس پر ”عسل مصفیٰ“ کے یہ اعتراضات ہیں کہ :۔
- ۱...... آیت وجاعل الذین الخ سے صاف عیاں ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے۔ پھر مسیح کے وقت کس طرح
سب مؤمن ہو جائیں گے۔
- ۲...... مفسرین کے یہ معنی اس آیت کے مخالف ہیں۔ جہاں ارشاد ہے کہ ہم نے یہود اور نصاریٰ کے درمیان
تا قیامت بغض ڈالا ہے۔
- ۳...... اور اس آیت کے بھی مخالف ہے۔ جس میں ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت پیدا کر دیتا مگر
یہ سنت اللہ کے خلاف ہے۔
- ۴...... یہ کہ جب آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں تمام اہل کتاب مسلمان نہیں ہوئے تو پھر مسیح کے زمانے کو کیا
خصوصیت ہے؟
- ۵...... دجال یہودی ہوگا اور اس کے ساتھ ۷۰ ہزار یہود ہوں گے۔ باوجود اہل کتاب ہونے کے پھر وہ کیسے ایمان
لانے کے بغیر مر جائیں گے۔
پنجم ...... ”عسل مصفیٰ“ لکھنے والے نے مسیح کے معجزات احیائے موتیٰ ابراہیم ؑ کے رب ارنی کیف تحی الموتی ...... الخ عزیر ؑ کے ۱۰۰ سال کے بعد زندہ ہو جانے اور بنی اسرائیل کے ۷۰ سرداروں کے زندہ ہو جانے سے صاف انکار کیا ہے اور اسی کی باطل تاویلیں کی ہیں اور عدم رجوع موتیٰ پر یہ آیات قرآنی پیش کیے ہیں۔
- ۱...... وحرام علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون۔
(جز ۱۷ رکوع ۷)
- ۲...... الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیھم لا یرجعون۔
(یٰسین ۳۱)
- ۳...... حتٰی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلا انھا کلمۃ
ھو قائلھا ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون۔
(مؤمنون ۹۹-۱۰۰)
- ۴...... اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضٰی علیھا الموت و
یرسل الاخریٰ الی اجل مسمی ......
(زمر ۴۲)
- ۵...... ثم انکم بعد ذالک لمیتون ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون۔
(مؤمنون ۱۵-۱۶)
ششم ...... جز ۳ سورۃ البقر میں جہاں ابراہیم ؑ کا ذکر ہے فرمایا کہ رب ارنی کیف الخ اس پر مرزائی کہتے ہیں کہ مفسرین نے قیمہ کرنا اور کوٹنا کس لفظ کے معنی کیے ہیں۔ گو فصرھن کے معنی کوٹنا بھی ہیں۔ مگر یہاں الیک ایسے معنوں سے روکتا ہے۔ اگر کوٹنا ٹکڑے ٹکڑے کرنا معنی ہوتے تو صرف فصرھن کافی تھا نہ کہ فصرھن الیک اور جز صرف ٹکڑوں کو ہی نہیں کہتے بلکہ ثابت جسم کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ جیسے ۱۶ آدمیوں کا جز ۴ آدمی ۲ آدمی و آٹھ آدمی و ایک آدمی بھی ہو سکتا ہے۔ پس اسی طرح ابراہیم ؑ نے چار جانوروں میں سے ایک ایک جانور
پہاڑ پر رکھا اور پھر آواز دے کر ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ ہفتم....... قرآن مجید کی بیس سے زیادہ آیتوں میں ”متوفی“ کے معنی موت کے آئے ہیں۔ تو پھر یہاں مسیح کی کیا خصوصیت ہے اگر اس سے ”پورا کر لینے“ کے معنی لیں تو پھر بھی یہ ایک معمہ باقی رہتا ہے کہ (۱) کیا عمر کو پورا کرنا (۲) کیا جسم و روح کو پورا کر لینا (۳) یا کوئی اور معنی۔ اور اگر جسم مع الروح پورا لینا مراد ہے تو باقی آیات میں جہاں توفی وغیرہ ہے تو کیا یہ معنی بنیں گے کہ خدا یا فرشتے لوگوں کو جسم مع الروح اٹھا لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قبض کرنے کے معنی لیے ہیں اور قبض ہمیشہ روح کا ہوا کرتا ہے۔ ہشتم....... جب کہ خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی ذی روح مفعول تو ”متوفی“ کے معنی ہمیشہ قبض روح کے ہوا کرتے ہیں اور اگر مرزائیوں کے آگے آیات ”توفی کل نفس، ابراھیم الذی وفی“ وغیرہ پیش کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو باب تفعل سے نہیں ہیں گو اس کا ماخذ ”وفا“ ہی ہے۔ یہ آٹھ سوال گویا تمام ”عسل مصفیٰ“ کے اعتراضوں کا خلاصہ ہیں۔ ان کا جواب دینا گویا مشن مرزائیہ کے سر پر آسمانی بجلی گرانا ہے۔ امید ہے کہ آپ ان کے جوابات تسلی بخش تحریر فرمائیں گے۔ خادم الاسلام محمد حبیب اللہ کٹڑہ مہاں سنگھ کوچہ ناظر قطب الدین۔ پاس مسجد غزنویان امرت سر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط الحمد للّٰه وحدہٗ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہٗ و آلہ و صحبہ
جواب سوال نمبر ۱ احمر اور آدم سے مراد ایک ہی شخص ہے کیونکہ درصورت تغائر دوسری حدیث کا جملہ لا واللّٰہ ماقال النبی ﷺ بعیسٰی احمر ولکن قال بینما انا نائم اطوف بالکعبة فاذا رجل ادم الخ بے محل اور غیر مربوط ثابت ہوتا ہے۔ اگر احمر و آدم دو شخص ہوتے تو ایک شخص کا سرخ رنگ اور دوسرے کا گندم گوں ہونا ناممکن اور غیر واقعی نہیں مانا جاسکتا تو پھر حلفی نفی کا کیا معنی۔ اس قدر تشدد اور تاکید بالحلف اس صورت میں شایاں ہے کہ ایک ہی شخص کی نسبت حلیہ بیان کیا جاتا ہے اور اسی شخص کو ایک راوی احمر بتاتا ہے اور دوسرا آدم روایت کرتا ہے اور راوی ثانی کو اجتماع بین الحلیتین فی شخص واحد غیر واقعی نظر آتا ہو۔ یا صرف روایت باللفظ اس کا مقصود ہو۔ دراصل بات یہ ہے کہ مسیح ناصری وہی مسیح موعود ہے اور فی الواقع دونوں حدیثیں صحیح مانی جاسکتی ہیں۔ راوی ثانی کا مطلب اور محط نظر صرف روایت باللفظ ہے۔ نفیاً و اثباتاً مسیح علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی رنگت میں چونکہ سرخی و سپیدی ملی ہوئی تھی کما فی ابو داؤد وغیرہ فاذا رایتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرة والبیاض الخ ایسی رنگت والے کو اگر سرخ کہا جائے تو بھی اور اگر گندم گوں بتایا جائے تو بھی بجا ہے۔
رہا آنحضرت ﷺ کا مسیح اور دجال دونوں کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھنا سو معلوم ہو کہ خیال منفصل اور عالم رؤیا میں عالم شہادت کے محالات ممکنات دکھائی دیتے ہیں ایسا ہی مجردات مجسم ہو کر۔ چنانچہ حق سبحانہ وتعالیٰ کا بروز حشر ایک صورت میں جلوہ گر ہونا جس کا مومنین انکار کریں گے۔ پھر دوسری صورت میں متجلی ہونے پر اقرار۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ کا (علم) کو درصورت لبن مشاہدہ فرمانا۔ اور نیز واضح رہے کہ ہر ایک شخص اپنے خیالات اور اعتقادات واعمال میں اپنے مرکز استعداد ذاتی کے اردگرد گھومتا رہتا ہے یعنی اُن اسماء الٰہیہ کے دائرہ سے باہر نہیں جاسکتا کہ جن اسماء کے لیے اس کا عین ثابت فیض اقدس میں بغیر تخلل جعل مظہر قرار دیا گیا
ہے۔ صدیق کا تعین ثابت ”ہادی“ اور ابو جہل کا تعین ثابت ”مُضل“ کے احاطہ سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی عیسیٰ علیہ وعلیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا تعین ثابت اور دجال کا بھی۔ حدیث کا مطلب آنحضرت ﷺ نے مشاہدہ فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم اور دجال دونوں اپنے اپنے بیت اللہ اسمائی کا طواف کر رہے ہیں۔ ایک یهدی من یشاء کے اظہار میں اور دوسرا یضل من یشاء کے اسباب میں سرگرم اور کمر بستہ ہے ”ہادی“ اور ”مضل“ کا موصوف چونکہ ذاتِ واحدہ ہے۔ لہٰذا عالم رؤیا میں آنحضرت ﷺ کو ایک ہی بیت اللہ مشہود ہوا۔ یہ ہے مطلب مسیح اور دجال دونوں کے طواف کرنے کا۔ واللہ اعلم وعلمہ الاتم۔
دوسری حدیث جس میں دجال کی عدم رسائی بیت اللہ تک کا ذکر ہے وہ بھی صحیح و بجا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حسب ارشاد نبوی ﷺ دجال کو عالم شہادت میں بیت اللہ تک رسائی نہ ہوگی۔
جواب سوال نمبر ۲ و ۳ توفی کا معنی موت نہیں بلکہ موت ایک نوع ہے معنی ”توفی“ کے انواع میں سے ”توفی“ بمعنی قبض کر لینا۔ اٹھا لینا۔ پورا کر لینا۔ سلانا۔ دیکھو لسان العرب، قاموس، صراح وغیرہا سیف چشتیائی ملاحظہ ہو۔ پھر قبض کر لینا عام ہے۔ ایسا ہی اٹھا لینا۔ اگر اس قبض و رفع کا متعلق نفوس و ارواح ہوں اور فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو اس کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک موت دوسری نیند پس موت و نیند معنی ”توفی“ کے لیے جزئیات و مواد ٹھہرے۔ چنانچہ آیت ذیل سے صاف ظاہر ہے۔ (اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا) یعنی قبض نفوس و ارواح کی دو صورتیں ہیں ایک موت، دوسری نیند۔ اگر توفی کا معنی صرف موت دینا اور مارنے کا لیا جائے تو کلام الٰہی (معاذ اللہ) بالکل بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ جب توفی کے مفہوم میں موت ہے تو پھر حین موتھا لغو ٹھہرے گا اور والتی لم تمت میں بوجہ عطف کے الانفس پر اجتماع ضدین موت و عدم موت کا سامنا آئے گا وہو باطل۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ قبض نفوس گو دو صورتوں یعنی موت و نیند میں ہوتا ہے۔ مگر در صورت موت نفس مقبوضہ کو چھوڑا نہیں جاتا بخلاف نیند کے کہ اس میں نفس مقبوضہ کو اجل مسمیٰ و میعادِ معین تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ساری آیت پڑھو اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضی علیھا الموت و یرسل الاخریٰ الی اجل مسمی (زمر:۴۲) پس ثابت ہوا کہ توفی کا معنی صرف قبض ہے اور مقبوض شدہ شے خواہ نفوس و ارواح ہوں اور پھر چھوڑے نہ جائیں۔ جیسے موت کی صورت میں، یا پھر چھوڑ دیئے جائیں جیسے بحالت نیند و بیداری یا غیر نفوس ہوں۔ چنانچہ توفیت مالی وغیرہ محاورات عرب کما فی لسان العرب وغیرہ۔ ایسا ہی متوفیک اور فلما توفیتنی خارج ہے موضوع لہ توفی سے کہ المضاف اذا اخذ من حیث انہ مضاف یکون التقیید داخلا والقید خارجا قاعدہ مسلمہ ہے۔
فرض کیا کہ زید مر گیا اور عمرو سو رہا ہے اور دونوں کے متعلقین نے زید کے مر جانے اور عمرو کے سو جانے کے بعد ارتکاب جرائم اعتقادی و عملی کرنا شروع کیا۔ زید و عمرو دونوں سے سوال کرنے میں ایک ہی عبارت کا استعمال بحسب شہادت آیۃ مذکور بالا اللّٰہ یتوفی الانفس کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ا انتم قلتم ان یعتقدوا و یعلموا کذا و کذا بجواب اس کے دونوں کہہ سکتے ہیں کہ ماکان لنا ان نقول لہم کذا کذا الا ما امرتنا و کنا علیھم شھیدین مادمنا فیھم فلما توفیتنا کنت انت الرقیب علیھم و انت علی کل شیءٍ شھید یعنی برخلاف ارشادِ الٰہی ان کو کہنا ہم کو شایاں نہیں تھا۔ ہم جب تک ان میں موجود تھے۔ ان کو ہدایت کرتے رہے اور فرمانِ خداوندی پہنچاتے رہے۔ پھر جب تو نے ہمارے ارواح کو قبض کر لیا اور اٹھا لیا۔ پھر تو ان پر نگہبان تھا۔
بشہادت آیت مسطورہ بالا و کتب لغت (لسان العرب، قاموس، صراح) توفی کا معنی قبض، رفع کا ٹھہرا اور موت و نیند انواع و اقسام ٹھہرے معنی قبض کے لیے اور مسلمہ قاعدہ ہے کہ استعمال کلی کا جزئی میں مجاز ہے نہ حقیقت۔ لہٰذا اہل لغت نے موت کو معنی مجازی ٹھہرایا ہے۔ توفی کے لیے سیف چشتیائی ملاحظہ ہو۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ اور مسیح ابن مریم علیہما السلام بجواب سوال مذکور لفظ فلما توفیتنی استعمال فرما سکتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ بایں معنی (پھر جب قبض کر لیا تو نے روح میرا) اور مسیح علیٰ نبینا علیہ السلام (پھر جب قبض کر لیا تو نے مجھ کو یعنی میرے جسم کو مع الروح پکڑ لیا اور اٹھا لیا) وجہ اس کی وہی ہے کہ توفی کا معنی مطلق قبض و رفع کا ہے اور شئی مقبوض و مرفوع اس کے معنی سے خارج ہے۔ جملہ توفی اللّٰہ زیداً کو تینوں صورتوں میں بول سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زید کو مار دیا۔ یعنی اس کی روح کو قبض کرنے کے بعد نہ چھوڑا۔ یا اللہ تعالیٰ نے زید کو سلایا یعنی اس کی روح کو بعد القبض چھوڑ دیا۔ یا اللہ تعالیٰ نے زید کو بالکلیہ (جسم مع الروح) قبض کر لیا اور اٹھا لیا۔ تیسری صورت محل نزاع ہے اور پہلی دو صورتیں آیہ (اللّٰہ یتوفی الانفس) سے صراحۃً ثابت ہیں بلکہ اس آیت میں یتوفی کے معنی میں غور کرنے پر یہ اشکال جاتا رہتا ہے کہ جسم مع الروح کا اٹھا لینا جملہ مذکورہ سے کیسے مراد ہو سکتا ہے۔ حالانکہ محاورہ قرآنیہ میں جس جگہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو وہاں معنی موت ہی مراد ہے کیونکہ مطلق قبض و رفع توفی کا معنی ہے نہ خاص موت ہی۔
جو لفظ کہ معنی کلی (مطلق رفع و قبض) کے لیے موضوع بشہادت لغت و قرآن کریم ہے اس لفظ (توفی) کو ایک اس معنی کی جزئی کے لیے موضوع سمجھ لینا مثلاً لفظ انسان کو خاص زید کے لیے موضوع قرار دے لینا سراسر جہالت ہے۔
سطحی فرقہ کو دھوکا لگنے کی وجہ علاوہ قلت مبلغ علمی کے یہ بھی ہے کہ معنی کلی توفی کے جزئیات و مواد میں سے موت والا مادہ فی الواقع بھی بہت ہے اور قرآن کریم میں بھی بکثرت وارد ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس کثرت کی وجہ سے عوام نے موت کو معنی حقیقی توفی کے لیے سمجھ رکھا ہے۔ مگر اہل تحقیق و اہل بصیرت کی نظر واقعات پر ہوتی ہے۔ مثلاً وہ لوگ دیکھتے ہیں کہ گو قرآن کریم ہی میں خلقت انسان نطفہ سے بتائی گئی ہے اور اس کے نظائر و جزئیات کے لیے اس قدر وسعت و فراخی ہے کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ اور انا خلقناہ من نطفۃ اور ایسا ہی خلق من مآءٍ دافقٍ یخرج من بین الصلب والترائب بھی کثرت مذکور پر شاہد ہیں۔ مگر اس سے ہرگز ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ لفظ خلق کا معنی یہی قرار دیا جائے کہ نطفہ سے پیدا کرنا بلکہ معنی خلق کا مطلق پیدا کرنا ہے خواہ نطفہ والدین سے ہو۔ چنانچہ کثیر الوقوع ہے یا صرف نطفہ والدہ سے۔ چنانچہ مسیح ابن مریم یا جسم انسانی کے پہلو سے چنانچہ حوا علیہا السلام یا مٹی سے چنانچہ آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام لہٰذا توفی کا معنی صرف موت بشہادت کثرۃ نظائر قرآنیہ سمجھ لیا گیا ہے۔
یہاں پر بالطبع سوال ذیل پیدا ہوتا ہے کہ انا خلقناہ من نطفۃ یا خلق من مآءٍ دافقٍ یخرج من بین الصلب والترائب کے عموم سے نصوص قرآنیہ مثلاً خلقہٗ من تراب اور ان مثل عیسیٰ عند اللّٰہ الخ آدم و عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہما السلام کو استثناء کنندہ موجود ہیں اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو کونسی نص قرآنی کثیرۃ الوقوع جزئیات و مواد سے مستثنیٰ کرتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللّٰہ الیہ، عیسیٰ بن مریم علیٰ نبینا و علیہ السلام کے بجسمہ زندہ اٹھائے جانے پر نص قطعی ہے۔
پھر یہ سوال کہ بل رفعہ اللّٰہ الیہ سے مراد رفع درجات و اعزاز ہے کما قال سبحانہ و رفع بعضہم
فوق بعض درجات نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم نبینا و علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے : بل رفعہ اللہ الیہ سے رفع درجات مراد لینا بالکل مخالف ہے سیاق کلام الہی کے۔ اس لیے کہ ماقبل میں قول یہود کا ذکر ہے کہ انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ یعنی یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم نے مسیح علیٰ نبینا و علیہ السلام کو بذریعہ صلیب مار ڈالا۔ جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح کا بذریعہ صلیب قتل کرنا یہ محض یہود کا مجرّد واہی زعم ہے۔ انھوں نے مسیح علیٰ نبینا و علیہ السلام کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اٹھا لیا۔ یعنی مسیح کو ان کے ہاتھ سے بچا لیا۔ چنانچہ دوسری جگہ فرماتا ہے۔ واذ کففت بنی اسرائیل عنک یعنی اے مسیح منجملہ ہمارے انعامات و احسانات کے جو تجھ پر ہم نے کیے ہیں اور جن کا ذکر ماقبل میں ہے۔ مثلاً احیاء موتیٰ و ابراء اکمہ و تائید بروح القدس ایک احسان یہ بھی ہے کہ ہم نے تم کو یہود کے ہاتھ سے بچا لیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تردید اسی صورت میں تردید ماقبل یعنی قول یہود کی ہو سکتی ہے کہ رفعہ اللہ الیہ سے رفع جسمانی لیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ نے مسیح کے جسم کو اٹھا لیا اور یہود کے پنجہ سے بچا لیا۔ کما قال واذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائدہ ۱۱۰) اور نیز در صورت رفع درجات و اعزاز کلمہ بل کے ماقبل اور مابعد یعنی قتل و رفع میں علاوہ مخالفت سیاقِ کلام کے تضاد بھی نہیں پایا جاتا جو کہ قصر قلب کا مفاد ہوتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے۔ ما اهنت زیدا بل اکرمتہ میں نے زید کی اہانت نہیں کی بلکہ اس پر اکرام کیا ہے اور اس کو عزت بخشی ہے۔ اہانت اور اکرام میں تضاد ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ ایسا ہی قتل اور رفع کا بھی اجتماع نہ چاہیے۔ قتل جسمی اور رفع جسمی میں تو بے شک تضاد اور عدم اجتماع ہے اور قتل جسمی اور رفع درجات میں تضاد نہیں کیونکہ جو شخص بے گناہ مقتول و شہید ہو اس کے لیے رفعِ درجات بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا (رفعہ اللہ الیہ) سے رفع جسمی مراد ہے نہ رفع درجات۔
ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ قتل صلیبی چونکہ حسب تصریح تورات موجب لعن و ملعونیت ہے لہٰذا ذکر ملزوم و ارادہ لازم کے طریق پر گویا کلام مذکور بمنزلہ و ما کان ملعونا بل رفعہ اللہ الیہ کے ٹھہرا۔ اور ملعونیت اور رفع درجات روحی کے مابین تضاد ہے۔ دونوں باہم جمع نہیں ہو سکتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مقتول صلیبی کا مستوجب لعن ہونا اسی صورت میں ہے جب مقتول مرتکب جرم ہو۔ ورنہ در صورت غیر مجرم ہونے کے مستحق اعزاز و اکرام ہوتا ہے۔ دیکھو تورات کتاب استثناء آیت ۲۲ اور ۲۳ میں اس امر کی تصریح کر دی گئی ہے جس کو ہم سیف چشتیائی میں تورات سے بعبارتہ نقل کر چکے ہیں۔ (اس وقت یہ قلم برداشتہ لکھ رہا ہوں اور کوئی کتاب سامنے نہیں) آیت بل رفعہ اللہ الیہ میں تحقیق ہے اس وعدہ کا جو انی متوفیک و رافعک الی میں دیا گیا تھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیت بل رفعہ اللہ الیہ نص قطعی ہے رفع جسمی و حیات مسیح پر اور تحقق ہے اس وعدہ کے لیے جو کہ متوفیک اور رافعک دونوں سے کیا گیا ہے۔ اور فلما توفیتنی میں وہی مطلق رفع مراد ہے یعنی در جواب سوال خداوندی آنحضرت ﷺ و مسیح علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام دونوں اسی (توفیتنی) کو استعمال فرمائیں گے۔ جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ انی متوفیک اور فلما توفیتنی اور بل رفعہ اللہ الیہ میں رفع جسم مع الروح مراد ہے۔ واضح ہو کہ ابن عباس و بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مذہب حیات مسیح کا ہے۔ چنانچہ مرویات ابن عباس مندرجہ تفسیر درمنثور و کتب احادیث اور تراجم بخاری سے ظاہر ہے اور حدیث نزول عیسیٰ ابن مریم سے بھی کل صحابہ علیہم الرضوان کا اجماعی عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ سیف چشتیائی ملاحظہ ہو۔ لہٰذا قول ابن عباس متوفیک ممیتک مندرجہ بخاری سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ ان کا مذہب برخلاف عقیدہ اجماعی کے ہو
ممکن ہے کہ متوفیک کا معنی ممیتک امتحانا فرما دیا ہو۔ چنانچہ آپ (ابن عباسؓ) مباحثات یومیہ میں جو فیما بین صحابہ آیات قرآنیہ کے متعلق ہوا کرتے تھے۔ اثناء تقریر میں مسح علی الرجلین کو مدلل طور پر امتحانا بپایہ ثبوت پہنچاتے تھے۔ حالانکہ مذہب ان کا غسل رجلین کا ہے اور نیز یہ روایت معارض ہے۔ دوسری روایات ابن عباسؓ سے جن کو درمنثور وغیرہ نے باسانید صحیحہ ذکر کیا ہے۔
جواب سوال نمبر ۴ آیت وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء ۱۵۹) (مسیح موعود کے وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ سب مسیح کی موت سے پہلے اس پر ایمان لائیں گے) مرزائیوں کا اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ آیت مخالف ہے آیت وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (ال عمران ۵۵) کے کیونکہ دوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے۔ پھر مسیح کے وقت کس طرح سب مومن ہو جائیں گے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت تک غالب رہنے کا معنی مدت دراز قرب قیامت تک غالب رہنے کا ہے نہ یہ کہ ابتدائے یوم حشر تک۔ عرصہ دراز سے قرآن کریم میں تعبیر نہ صرف الى يوم القيامة کے ساتھ کی گئی ہے بلکہ اس معنی کو (خالدین) کے ساتھ بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ دیکھو خالدين فيها ما دامت السموات والارض الا ماشاء ربک (هود ۱۰۸) حالانکہ مدت دوام آسمان و زمین دنیویہ معدود متناہی ہے نہ بطریق خلود۔ اہل عرب کا ایک محاورہ ہے جس میں کہتے ہیں۔ لا آتیک مادامت السموات والارض وما اختلف الليل والنهار جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جب تک زندہ ہوں تیرے پاس نہ آؤں گا۔ اس سے اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ قائل لا آتيک تا مدت بقاء آسمان و زمین اور تا تعاقب لیل و نہار زندہ رہے گا تو یہ حماقت ہے جس کا منشاء بغیر از جہالت اور نہیں۔ اس تقریر سے مطلب آیت و القينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة کا بھی معلوم ہو سکتا ہے۔ رہی آیت (ولو شاء لهداكم اجمعين) سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تم سب کو راہ راست پر کر دیتا۔ مگر ایسا نہیں چاہا یعنی کسی کو کافر کسی کو مومن بنایا۔ اس سے یہ نہیں پایا جاتا کہ اگر مثلاً خطہ عرب کے سارے موجودہ لوگ مشرف بالایمان بعد از کفر و شرک ہو جائیں (چنانچہ ایسا ہوا ہے) تو یہ امر آیت لو شاء لهداکم کے خلاف ہوگا۔ ایسا ہی کسی اور شہر یا کسی ملک یا روئے زمین کے مختلف المذاہب باشندے اگر مسلمان ہو جائیں تو آیت مذکورہ کی مخالفت نہیں۔ ایسا ہی اگر مسیح علی نبینا وعلیہ السلام کے وقت موجود لوگ جو قتل و ہلاکت سے بچ رہے ہوں سارے ہی مسلمان ہو جائیں تو ہو سکتا ہے۔
دجال معہ ستر ہزار یہود اگر بغیر ایمان لانے کے مرجائیں تو اس سے اس کلیہ میں جو مدلول آیت وان من اهل الكتاب کا ہے کوئی خلل نہیں آتا۔ کیونکہ ليؤمنن قضیہ موجبہ ہے اور صدق ایجاب وجود موضوع کا مقتضی ہوتا ہے پس محکوم علیہا وہ افراد ہوں گے جو قتل و ہلاکت سے بچ جائیں گے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ عرب میں سب لوگ مسلمان رہیں گے یا ہوں گے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ بعد جہاد و مقابلہ جو بچ رہیں گے وہ مسلمان ہی ہوں گے۔ صدق الايجاب يقتضى وجود الموضوع قضیہ مسلمہ ہے۔
یہ خیال کرنا کہ جب بعہد مبارک آنحضرت ﷺ تمام اہل کتاب مسلمان نہیں ہوئے تو پھر مسیح کے زمانہ کو کیا خصوصیت ہے، بالکل بے جا اور جہالت ہے۔
اگر کوئی کہے کہ اہل فارس و روم وغیرہ بعہد نبوی ﷺ مشرف باسلام نہیں ہوئے تو بعہد خلیفہ اوّل یا ثانی یا
ثالث یا رابع یا بعہد خلیفہ آخری (مہدی موعود) کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں۔ تو ایسے قائل کو جواباً یہی کہا جائے گا کہ خلفاء علیہم الرضوان کی کارروائی چونکہ تاسیس نبوی ﷺ کی ترقی ہے اور اسی ڈالی ہوئی بنیاد کی تعمیر ہے لہٰذا بعینہ نبوی ﷺ کارروائی کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے۔ بلکہ آیت لیظہرہ علی الدین کلہ والی پیشین گوئی آخری خلیفہ نبوی ﷺ کے زمانہ میں بوقت نزول مسیح ؑ متحقق ہوگی۔ چنانچہ وعدہ فتوح بلاد شام مندرجہ تورایت زمانہ موسوی میں ظہور میں نہیں آیا تھا بلکہ بعہد یوشع خلیفہ موسیٰ علیٰ نبینا علیہما السلام متحقق ہوا۔ ایسا ہی وعدہ لیظہرہ علی الدین کلہ بعہد خلیفہ آخری بوقت نزول عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام ظہور میں آئے گا اور یہ سب کمال نبوی ہوگا ﷺ ۔
جواب سوال نمبر ۵ معجزات کا انکار مرزا اور مرزائیوں سے کوئی نئی بات نہیں۔ فلاسفہ اور معتزلہ ان سے پہلے منکر چلے آئے ہیں۔ اور اہل السنت اپنے تفاسیر ومؤلفات میں جا بجا مع مالہا وما علیہا ان کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ آیات خمسہ ذیل میں (۱)...... و حرام علی قریۃ اہلکناہا انہم الیہم لا یرجعون (الانبیاء ۹۵) (۲)...... الم یروکم اہلکنا قبلہم من القرون انہم الیہم لا یرجعون (یس ۳۱) (۳)...... حتیٰ اذا جآء احدہم الموت. (مومنون ۹۹) (۴)...... اللہ یتوفیٰ الانفس (زمر ۴۲) (۵)...... ثم انکم بعد ذالک لمیتون (مومنون ۱۵) بیان ہے اکثریہ کا اور انتفاء امر طبعی کا۔ یعنی موتیٰ بحسب الطبع رجوع کو نہیں چاہتے کما قال لا یرجعون. اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر اللہ تعالیٰ موتیٰ کو اس عالم میں دوبارہ لائے تو یہ ناممکن اور غیر واقع ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ خرق عادت ہوگا نہ بروفق عادت۔ اور قولہ تعالیٰ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا خرق اور وفق دونوں کو شامل ہے۔
جواب سوال نمبر ۶ رب ارنی کیف تحیی الموتیٰ. اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ چار پرندے مار دیے گئے تھے۔ بعدازاں زندہ کیے جانے پر ابراہیم ؑ کے پاس دوڑ کر پہنچے۔ قیمہ کوٹنا وغیرہ وغیرہ ہو یا نہ ہو پہلے ان کی موت تو ضروری ٹھہرتی ہے تا کہ احیاء موتیٰ کا معنیٰ متحقق ہو۔ بخلاف اس صورت کے کہ جب چاروں زندہ پہاڑوں پر چھوڑ دیے گئے ہوں اور بعض کو ان میں سے بلایا گیا ہو کیونکہ اس صورت میں احیاء موتیٰ والا معنیٰ جس کو ابراہیم ؑ نے معائنہ کرنا چاہا تھا نہیں پایا جاتا۔ مفسرین علیہم الرضوان کا بیان (قیمہ کوٹنا وغیرہ) بیان تاریخی ہے نہ ترجمہ۔
جواب سوال نمبر ۷ قرآن کریم میں کہیں کی بجائے اگر لاکھ جگہ بھی متوفی کا معنیٰ موت لیا گیا ہو تو بھی کلیہ اس سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جواب سوال نمبر ۲ میں لکھا گیا ہے۔
آٹھویں سوال کا جواب بھی پہلے جواب سوال نمبر ۲ سے آپ معلوم کر سکتے ہیں۔
والسلام خیر ختام والحمد للہ اولاً و آخر والصلوۃ والسلام منہ باطنا علیہ، ظاہراً.
العبد الجانی والملتجی الی اللہ المدعو بمہر علی شاہ عفی عنہ ربہ بقلم خود از گولڑہ ۱۸ ذوالحجہ ۱۳۳۴ھ۔
(فتاویٰ مہریہ ص ۲۹ تا ۳۰)
اسی مضمون کا ایک اور خط اور اس کا جواب
بحضور فیض گنجور مدظلہ العالی
تسلیم! جناب عالی حسبۃً للہ نیاز مند کے شبہات ذیل کو رفع فرمائیے۔ نہایت ہی مہربانی ہوگی۔
- ۱...... انبیاء میں سے کسی نبی کی موت قرآن کریم سے ثابت ہے یا نہ۔ اگر ہے تو کس آیت سے؟
- ۲ ....... لفظ انسان کا اطلاق جسم پر ہے یا روح پر یا دونوں پر؟
- ۳ ....... عیسیٰ ؑ کی قوم قبل الموت بگڑے گی یا بعدالموت یا ابھی نہیں بگڑی؟
- ۴ ....... ”توفی“ باب تفعل سے ہو یا تفعیل اور افعال اور استفعال سے ہو تو اس کے حقیقی معنی کیا ہوں گے؟
- ۵ ....... جب عیسیٰ ؑ تشریف لائیں گے تو ان کی شناخت کے واسطے کیا معیار ہوں گے کیونکہ ان کو حیاتِ اولیٰ میں
دیکھنے والے تو فوت شدہ ہیں اور مخبر صادق ﷺ نے دو حلیہ بیان کر دیے ہیں؟
- ۶ ....... مہدی کے واسطے جو احادیث ہیں وہ بھی مختلف ہیں۔ بعض میں بنی عباس میں سے ہوگا۔ بعض میں بنی فاطمہ
سے ہوگا۔ جب مہدی آئے گا تو اس کا کیا معیار ہوگا؟
- ۷ ....... عیسیٰ ؑ کے واسطے آیت ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (ال عمران ۵۴) اور حضرت جناب رسول
اکرم ﷺ کے واسطے ویمکرون و یمکر اللہ واللہ خیر الماکرین (انفال ۳۰) دونوں پر یکساں منصوبہ ہوا۔ عیسیٰ ؑ کو حکم ہوا کہ تجھ کو اسی جسم عنصری کے ساتھ اپنے پاس اٹھانے والا ہوں اور اس کو اٹھا بھی لیا اور ہمارے حضرت ﷺ کو کہا کہ تجھ کو بچانے والا ہوں۔ غار ثور میں تین دن رہ کر مدینہ طیبہ چلے جانا۔ اب جو نبیوں کے نہ ماننے والا ہو وہ فضیلت کس کو دے گا۔ خاص کر کے جب اس کے ساتھ یہ اجزاء بھی شامل کر دیے جائیں کہ وہ پرند بھی بنا لیتا تھا۔ مردے بھی بحکم اللہ زندہ کرتا تھا۔ اندھوں، کوڑھیوں کو بھی اچھا کرتا تھا۔ گھر کی خورد و نہادہ اشیاء سے بھی ان کو خبر کر دیتا تھا۔
- ۸ ....... عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو صلیبوں کو توڑیں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے تو اسلام اور اہل اسلام کو
اس سے کیا فائدہ متصور ہوگا۔ کیونکہ وہ تو صرف دجال کے واسطے تعینات تھے۔
- ۹ ....... مالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام
(المائدہ) خداوند کریم کا اس آیت شریف کو قیاس استقرائی کے طور پر لانا کیا حکمت ہے؟
- ۱۰....... اس صدی پر جس کو اب پچیس برس ہوئے کوئی مجدد کیوں نہ ہوا۔ اور حدیث ان اللہ عزوجل یبعث لھذہ
الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا. (مشکوٰۃ شریف باب العلم) یہ حدیث صحیح ہے یا وضعی۔
ان کے جوابات جو دل قبول کر لے آیت اور حدیث سے تحریر فرما دیں تا کہ نیاز مند کہیں حفرۃ من النار میں نہ گر جائے۔ فقط تلک عشرہ کاملہ۔
جواب ھو الصواب
- ۱ ....... آیت قد خلت من قبلہ الرسل میں حکمی موت عیسیٰ ابن مریم ؑ کی تعطیل از لوازم دنیویہ اور حقیقی موت
بمعنی قبض روح و عدم ارسال باقی انبیاء کی علیٰ نبینا وعلیہم السلام ثابت ہے۔ بناءً علیٰ ان خلت بمعنی مضت لا بمعنی توفت. دیکھو قاموس۔ لسان العرب وغیرہ کتب لغت۔
- ۲ ....... لفظ انسان کا اطلاق مجموع جسم و روح پر حقیقی اور فقط ایک ایک پر مجازی ہے۔ لما تقرر ان اللفظ
الموضوع لکل یستعمل فی کل جزء مجازاً۔
- ۳ ....... عیسیٰ ؑ کی قوم بعد الرفع الی السماء (موت حکمی) بگڑ گئی تھی۔ اور قبل الرفع اطرا جس کو تمہید بگاڑ کہنا چاہیے
شروع ہو گیا تھا۔
- ۴ ....... توفی باب تفعل سے بمعنی مطلق قبض چنانچہ توفیت مالی ای قبضت یا قبض روح مع الامساک (موت) یا قبض
روح مع الارسال (نیند) پڑھو۔ الله يتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها فیمسک التی قضی علیها الموت و یرسل الاخریٰ الیٰ اجل مسمیٰ۔
(زمر ۴۲)
- ۵...... عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کی شناخت کا معیار احادیث صحیحہ بخاری ومسلم و سائر صحاح و مسند امام احمد و غیرہم سے
بتفصیل آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اگر بآسانی خلاصہ معلوم کرنا ہو تو کتاب سیف چشتیائی کو اوّل سے ملاحظہ کرو۔
- ۶...... امام مہدی علی نبینا وعلیہ السلام کی احادیث میں تطابق اور معیار شناخت اسی کتاب سیف چشتیائی میں مفصل
لکھا ہوا ہے ملاحظہ کریں۔
- ۷...... آیۃ ومکروا ومکر الله والله خیر الماکرین اور ایسا ہی آیۃ ویمکرون و یمکر الله کا مفاد النظم
صرف اتنا ہی ہے کہ یہود نے بحق عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منصوبہ بنایا اور مشرکین مکہ نے دربارہ سرور عالمﷺ۔ اب رہا یہ کہ کون سا منصوبہ۔ سو یہ خارج میں معلوم ہوا ہے۔ آپ کا سوال میں یہ کہنا (دونوں پر یکساں منصوبہ الخ) اگر اس سے یہ مطلب ہے کہ دونوں جگہ میں ایک ہی واقعہ ہوا ہے تو یہ مدلول آیت کا نہیں محض افتراء ہے اور اگر یہ مطلب ہے کہ مطلق منصوبہ بازی دونوں جگہ میں پائی گئی تو ہم بھی اس کے قائل ہیں اور آیت کا بھی صرف اسی قدر مفاد ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خصوصیات و تشخصات ہر دو واقعہ کے متحد ہی ہوں۔ ومن ادعیٰ فعلیہ البیان۔ خصوصیت واقعہ رفع و واقعہ غار ثور آیت کا مدلول نہیں احادیث و آثار سے ثابت ہے دیکھو سیف چشتیائی۔ آپ لوگوں کے فہم پر تعجب ہے کہ دونوں آیتوں کے مدلول وضعی کے اتحاد سے اتحاد واقعات سمجھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو چاہیے کہ بعینہٖ واقعہ غار ثور و ہجرت مبارکہ واقعہ عیسویہ میں بھی ہو۔ کوئی عاقل ایسے جاہلانہ استنباطات کو وقعت کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر اہل سنت و الجماعت پر انھیں آیتوں کی رو سے کیوں بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ چاہیے کہ آنحضرتﷺ بھی مرفوع الی السماء بجسدہ العنصری ہوں۔ نہ رونق افزائے مدینہ طیبہ۔ ہاں اگر اس خیال سے مستبعد معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ؑ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے تو جواباً معروض ہے کہ مدار فضیلت آسمانی زمینی ہونے پر نہیں ورنہ کل ملائکہ سماویہ کی فضیلت آنحضرتﷺ پر لازم آئے گی۔ شائد آپ لوگوں (فرقہ مرزائیہ) کا یہی عقیدہ ہوگا اور بحسب از خود تراشیدہ قوانین کے ایسا ہی ہو۔ ضروری ہے۔ کوڑھیوں کو باذن اللہ اچھا کرنا یا مردہ کو زندہ کرنا وغیرہ یہ سب فضیلت کا موجب نہیں ہو سکتے۔ مومن کو صرف ایک ہی حدیث شفاعت کبریٰ میں غور کرنے سے یہ وہم ہی نہیں رہتا۔ جب ایسا ہے تو پھر ہم ماجاء بہ الرسول علیہ السلام من القرآن و السنۃ کے منطوق و مدلول منصوص کو اپنے جاہلانہ ڈھکوسلوں کی مداخلت بے جا کے ذریعے کیوں چھوڑ بیٹھیں اور ناری بنیں۔ آج تک کل امت مرحومہ یعنی سواد اعظم کا یہی مسلک چلا آیا ہے۔
- ۸...... اس مقام پر سیف چشتیائی کو ملاحظہ کرو۔
- ۹ و ۱۰...... قیاس استقرائی کو بے جا دخل مت دو یوں کہو کہ یاکلان الطعام سے خلاف عقیدہ قائلین برفع جسمانی
معلوم ہوتا ہے جواباً معروض ہے کہ ’’شمس الہدایۃ‘‘ اور ’’سیف چشتیائی‘‘ کو ملاحظہ کرو۔ علیٰ رأس کل مائۃ والی حدیث کا مطلب بھی سیف چشتیائی میں ملاحظہ کرو۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔
(فتاویٰ مہریہ ص ۳۹۔ ۴۱)
حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں
- سوال...... در قرآن مجید است وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ (آل عمران ۸۱) اگر حضرت عیسیٰ ؑ بقید حیات
فائز اند پس در کدام سن و سال ایمان بہ آنحضرتﷺ آوردند و بہ مدد ایشاں رسیدہ اند؟ بصورت دیگر دعویٰ حیات
مزعومہ است؟
جواب ...... حقیقت ایں جواب ہم بحوالہ خداست زیرا کہ مارا علم نیست کہ اطلاع نبوت محمدیہ عیسیٰ علیہ السلام در کدام ساعت و کدام سال رسیدہ در وقتیکہ اطلاع نبوت محمدیہ رسیدہ باشد ہماں ساعت ایمان آوردہ باشد واللہ اعلم؟
(فتاویٰ علماء حدیث ص ۱۰۲، ۱۰۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کیسی؟
سوال ...... آیت کریمہ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد (انبیاء ۳۴) ثابت می کند از قبل آنحضرت ﷺ بہ حیات ابدی ہیچ کس فائز نشدہ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام چہ طور حیات تسلیم کردہ شود؟
جواب ...... حیات ابدی بجہت عیسیٰ علیہ السلام ہیچ کسی قائل نیست لیکن معنی ابد آن است کہ منتہائش نہ باشد فافہم؟
(فتاویٰ علماء حدیث ص ۱۰۳)
بحث مرزائی گروہ
(۱)...... حیات مسیح اور اجماع امت۔ (۲)...... رفع مسیح۔ (۳)...... رفع مسیح اور امام بخاریؒ۔ (۴)...... خاتم النبیین کا معنی۔
سوال ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر اجماع امت کا ہے یا نہیں؟
جواب ...... بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں چنانچہ قرآن مجید و احادیث صحیحہ و اجماع مفسرین اس پر شاہد ہے۔ وهو هذا و ما قتلوه وما صلبوه یعنی نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کیے گئے اور نہ سولی دیے گئے ہیں۔ بل رفعه الله الیه یقینا بلکہ اس میں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف زندہ ہی اٹھا لیا ہے۔ پس اس آیت شریف سے اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی اٹھا لیا گیا ہے کیونکہ فعل قتل اور صلیب کا جسم عنصری پر ہوا کرتا ہے نہ روح پر۔ پس جس کو قتل اور صلیب سے بچایا گیا ہے اس کو اٹھایا گیا ہے۔
صاحب (فتح البیان جلد ۲ صفحہ ۳۴۴) اور علامہ سیوطی کتاب اعلام میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شریعت کے مطابق عمل کریں گے اور اسی پر اجماع امت کا ہے۔ ”انہ یحکم بشرع نبینا و وردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع وقد تواترت الاحادیث بنزول عیسی جسما.“
(فتح البیان اور تفسیر بیضاوی ج ۲ ص ۸۲) میں لکھا ہے۔ ”روی ان عیسی ینزل من السماء یخرج الدجال فیھلکہ“ اور تفسیر (معالم ج ۲ ص ۲۶۳) میں نیز بایں طور وارد ہے۔ ”بل رفع الله عیسٰی الی السماء“
اور نیز (تفسیر زاہدی ورق ۶۴ صفحہ ۲) پر رفع الله عیسی حیا الی السماء اور ایسا ہی (تفسیر حسینی ، تفسیر اکسیر اعظم ۴۰۲ و تفسیر غرائب القرآن ۱۹۰۶ و تفسیر رؤفی و تفسیر قادری و خلاصۃ التفاسیر ۴۷۲ و تفسیر جلالین) وغیرہ میں اور ان کے علاوہ تمام علمائے دین و فقہائے کرام حنفیہ و شافعیہ و حنبلیہ و مالکیہ کا بھی اس بات پر اتفاق ہے اور تمام نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور ایسا ہی تمام محدثین نے لکھا ہے۔
چنانچہ امام بخاری و مسلم و نسائی و طبرانی وغیرہ اور ایسا ہی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے
(فتوحات مکیہ جلد ۲ باب ۳۷۲) میں بایں طور لکھا ہے۔ ”ان عيسى ابن مريم نبي و رسول انه لا خلاف انه ينزل فى آخر الزمان حكما مقسطا عدلا. یعنی بے شک عیسیٰ ابن مریم نبی و رسول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ آخر زمان میں عدل و انصاف آ کر کریں گے“ اور باقی بزرگانِ خدا کا بھی اس پر اتفاق ہے جیسا کہ امام شعرانی و حضرات پیر محی الدین و علامہ ابو طاہر، امام قرطبی و علامہ نووی و شیخ احمد بن احمد حنبلی و علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفی و حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کتاب کشف المحجوب و خواجہ معین الدین اجمیریؒ کتاب انیس الارواح و علامہ قاضی عیاض، صحیح مسلم و شاہ رفیع الدین کتاب علامات قیامت اور مولانا خرم علی جونپوری تحفہ الاخبار ترجمہ مشارق الانوار میں بایں طور مذکور ہے۔
امام مہدی کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور نصرانی دین کو مٹائیں گے اور ایسا ہی (مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ ص ۴۷۹) کے حاشیہ پر ہے اور کتاب (عون الودود شرح ابوداؤد ج ۴ ص ۱۰۳) میں بھی اس طرح مذکور ہے۔ تواترت الاخبار عن النبى ﷺ فى نزول عيسى من السماء بجسد عنصرى الى الارض عند قرب الساعة وان عيسى حى فى السماء ينزل فى آخر الزمان اور صاحب (درمنثور ج ۲ ص ۲۴۳) میں بایں طور لکھا ہے۔ اخرج ابن ابی شیبة واحمد والطبراني والحاكم عن عثمان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عيسى عند صلوة الفجر اور ایسا ہی حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے (مکتوبات دفتر دوم صفحہ ۱۸۳) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ از آسمان نزول خواہد فرمود و متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے (تاویل الاحادیث مترجم رموز قصص الانبیاء صفحہ ۶۰ طبع احمدی لاہور) میں لکھا ہے۔ واجمعوا على قتل عيسى ومكروا مكر الله خير الماكرين فجعل فيه شبهة برفعه الى السماء اور ایسا ہی انجیل برنباس باب ۱۱۲ آیت پر یوں حرف تحریر کیے ہیں، اور جب حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔ ”خود مرزا قادیانی“ اپنی کتاب (براہین احمدیہ ص ۴۹۳ خزائن ج ۱ ص ۳۳۱ حاشیہ) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے اور نیز (تقویۃ الایمان میں مولوی محمد اسمعیل صاحب نے صفحہ ۱۲۹) میں لکھا ہے اور ایسا ہی غنیۃ الطالبین میں ہے۔ والتاسع رفع الله عزوجل عيسى ابن مريم الى السماء غرضیکہ تمام کتب احادیث و اصول فقہ و کتب تفاسیر و تواریخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ ان کے آنے پر پکار پکار کی آوازیں دے رہی ہیں اور اگر کسی صاحب کو شک ہو تو جلد سوم سلطان الفقہ کا مطالعہ کرے۔ اگر کوئی اعتراض ہو تو مطلع کرے۔ فقط
سوال ..... رفع کے کیا معنی ہیں؟
جواب ...... رفع کے معنی از روئے علم لغت اونچا کرنے اور اٹھانے کے ہیں چنانچہ قرآن مجید واحادیث شریف و کتب فقہ بھی انہی معنوں پر شاہد ہیں، دیکھو سورہ یوسف ورفع ابويه على العرش (یوسف ۱۰۰) اونچا بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور سورۃ بقرہ ورفعنا فوقكم الطور (بقرہ ۶۳) اونچا کیا ہم نے تم پر پہاڑ اور حدیث من رفع حجرا عن الطريق كتبت له حسنة جو شخص واسطے رفع تکلیف آدمیوں کے راستہ سے پتھر اٹھائے تو اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسری حدیث میں اسی طرح ہے۔ من رفع يديه فى الركوع فلا صلوة له یعنی جو رکوع میں ہاتھ اٹھائے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ کتب فقہ میں اس طرح لکھا ہے۔ واذا اراد الدخول فى الصلوة كبر رفع يديه حذاء اذنيه. یعنی جب ارادہ کرے داخل ہونے نماز میں تو اللہ اکبر کہے اور دونوں ہاتھوں کو کانوں
تک اٹھائے اور علاوہ ان دلائل کے خود مرزا قادیانی اپنی کتاب (براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۹ خزائن ج ۱ ص ۶۶۷ حاشیہ) مندرجہ میں بھی تحریر کرتے ہیں ۔ رفعت فجعلت مبارکا یعنی اونچا کرنا اور اٹھانا ہے۔ فقط
سوال ...... مرزائی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کسی حدیث صحیح سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اور خود امام بخاریؒ کا یہی مذہب ہے کیا ان کی یہ بات سچی ہے جواب دیں اجر ملے گا؟
جواب ...... یہ محض ان لوگوں کی کم فہمی، کم علمی کا سبب ہے۔ دیکھو مشکوٰۃ شریف باب نزول ص ۴۷۹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عن ابی ھریرۃ قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما و عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرۃ فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمن بہ قبل موتہ۔
(از بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ و مسلم ج ۱ ص ۸۷)
یعنی کہا ابو ہریرہؓ نے کہ فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے آسمان سے بیچ تمھارے درآنحالانکہ وہ صاحب عدل و انصاف ہوں گے ۔ پس توڑ دیں گے سولی نصرانیوں کی اور قتل کریں گے خنزیروں کو اور رکھ دیں گے جزیہ (یعنی جزیہ جو اسلامی ریاست میں غیر مسلم باشندوں یعنی ذمیوں پر ٹیکس ہوتا ہے اس کے ختم ہونے کا اعلان کریں گے اور فرمائیں گے کہ اب یا مسلمان ہو جاؤ ورنہ قتل کیے جاؤ گے تو سب مسلمان ہو جائیں گے یوں ہر گھر میں اسلام داخل ہو جائے گا روئے زمین پر کوئی کافر نہ ہوگا (جیسا کہ حدیث شریف میں لکھا ہے ) اور ان کے زمانے میں بہت مال ہو گا۔ یہاں تک کہ کوئی قبول نہ کرے گا اس کو یہاں تک کہ ہو جائے گا ایک سجدہ بہتر دنیا سے اور ہر چیز سے کہ دنیا میں ہے اور پھر سمجھانے کی خاطر کہا حضرت ابو ہریرہؓ نے کہ اگر تم کو شک ہو اس امر میں تو پڑھو اس آیت شریف کو اگر چاہو کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر کہ ایمان لائے گا عیسیٰ پر پہلے مرنے ان کے ۔ الخ
(مسلم ج ۱ ص ۸۷ و بخاری ج ۱ ص ۴۹۰) کی نیز ایک روایت میں بایں طور مذکور ہے ۔ قال کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم یعنی فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے کہ اے لوگو ! کیا ہوگا حال تمہارا جس وقت کہ اترے گا عیسیٰ مریم کا بیٹا درمیان تمہارے اور ہو گا تم سے امام تمہارا ‘ یعنی قریب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور نصرانی دین کو مٹا دیں گے اور محمدی دین پر عمل کریں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے نیز بایں طور پر مذکور ہے ۔ قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ و یمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم من قبر واحد بین ابی بکر و عمر ۔ (مشکوٰۃ ص ۴۸۰) یعنی فرمایا ہے رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین کی طرف پس پھر نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی اولاد ان کے لیے اور ٹھہریں گے زمین میں پینتالیس برس پھر مریں گے پھر دفن کیے جائیں گے بیچ مقبرے میرے کے پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ بن مریم ایک مقبرہ سے درمیان میں ابوبکر اور عمرؓ کے ۔"
حدیث (مسلم ج ۲ ص ۳۹۴ مشکوٰۃ باب العلامات ص ۴۷۲) میں نیز حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ قبل قیامت کے دس نشانیاں ظاہر ہوں گی وہ یہ ہیں ۔ الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغربھا و نزول
عیسیٰ بن مریم و یاجوج وماجوج و ثلثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب و خسف بجزیرة العرب واخر ذالک نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس الی المحشر وفي روایة فی العاشرة وریح تلقی الناس فی البحر ۔ ‘‘ یعنی فرمایا دھواں نکلنا اور الدجال دابۃ الارض کا ظاہر ہونا اور آفتاب کا نکلنا مغرب کی طرف سے اور اترنا عیسیٰ بن مریم کا اور ظاہر ہونا یاجوج وماجوج کا اور تین خسوفوں کا ایک خسف مشرق سے اور ایک مغرب سے اور ایک خسف عرب میں واقعہ ہوگی ایک آگ یمن کی طرف سے ہانکے گی لوگوں کو طرف محشر کے اور ایک آگ نکلے گی کنارے عدن سے ہانکے گی لوگوں کو طرف محشر کے اور ایک روایت میں ذکر آیا ہے۔ ہوا لوگوں کو سمندر کی طرف دھکیل دے گی۔‘‘
پس ان تمام دلائل قاطع یقینی (یقینی دلائل) سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اب تک زندہ آسمانوں پر ہیں اور قریب زمانہ امام مہدی علیہ السلام کے نزول فرمائیں گے اور ان کے زمانہ میں نہایت درجہ کا عدل و انصاف ہوگا اور مال سے لوگ نہایت درجہ غنی ہوں گے اور بت پرستی اور بدعت ورسومات کا نام ونشان بھی دنیا پر نہ رہے گا اور امام مہدی علیہ السلام اس وقت امام ہوں گے اور نصرانیوں کی علمداری نہ رہے گی بلکہ ان کی صلیب اور جزیہ اور سود خوری کی بیخ کنی کی جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح کریں گے اور ان سے اولاد بھی ہوگی اور ۴۵ سال دنیا میں قیام فرمائیں گے۔ پس مدینہ طیبہ میں حضور ﷺ کے مقبرہ شریف میں دفن ہوں گے۔ پس جائے انصاف ہے کہ مرزا قادیانی میں یہ باتیں کہاں پائی جاتی ہیں؟
سوال:...... مرزائی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ خاتم نبی نہ تھے، نبوت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور خاتم النبیین قرآن میں وارد ہے اس کے معنی مہر کے ہیں یعنی جو ان کے پیچھے آئیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے کیا ان کی یہ بات سچ ہے؟
جواب:...... یہ معنی ان کے بالکل غلط اور خلاف احادیث صحیحہ و اقوال آئمہ مفسرین ہیں اور اصل میں ختم کے معنی بند اور تمام کرنے کے ہیں۔ چنانچہ ختم اللہ علی قلوبھم (البقرہ ۷) اور (حدیث بخاری ج ۱ ص ۵۰۱ و مسلم ج ۲ ص ۲۴۸ و مشکوۃ فضائل سید المرسلین ص ۵۱۱) میں نیز اسی معنی پر وارد ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع اللبنة فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی النبیون و ختم الرسل و فی روایة فانا اللبنة وانا خاتم النبیین متفق علیہ یعنی کہا ابو ہریرہؓ نے کہ فرمایا نبی ﷺ نے مثل میری اور مثل انبیاء کے جیسے ایک محل کی ہے کہ اچھی بنائی گئی دیوار اس کے گرد کی چھوڑی گئی اس محل میں ایک اینٹ کی جگہ پھر گرد پھرنے لگے اس کے دیکھنے والے اور حالانکہ تعجب کرتے تھے اس دیوار کی خوبی سے مگر ایک اینٹ کی جگہ سو میں ہی ہوں جس سے وہ خالی جگہ پر ہوگئی۔ میرے ذریعے رسولوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہوا۔
ایک روایت میں ہے پس میں ہوں مثال اس اینٹ کی اور میں ہوں ختم کرنے والا سب نبیوں کا اور (ترمذی ج ۲ ص ۲۰۹) میں ہے۔ لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (مشکوۃ ص ۵۵۸) اگر بعد میرے کوئی نبی ہوتا تو ضرور عمر ہوتا اور (ترمذی ج ۲ ص ۴۵، و ابوداؤد ج ۲ ص ۱۲۷ مشکوۃ ص ۴۶۵ باب الفتن) میں بایں معنی شاہد ہے۔ وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لانبی بعدی (میری امت میں تیس (بہت سے) جھوٹے پیدا ہوں گے جو سب کے سب اس کا دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں حالانکہ میں ہوں آخری نبی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا) بخاری و مسلم شریف میں ہے کہ فرمایا آپ ﷺ
نے حضرت علیؓ سے انت مني بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (مشکوۃ ص ۵۶۳) یعنی اے علی تجھے اللہ تعالیٰ نے وہ منزلۃ دی جو بمنزلہ ہارون کے موسیٰ کی ہے مگر فرق یہ ہے کہ کوئی نبی نہیں میرے بعد۔ پس ان تمام نصوص قاطعہ سے یہی ثابت ہوا کہ بعد نبی علیہ الصلوٰۃ کے کوئی نبی امتی نہیں آئے گا۔ اگر آئیں گے تو کاذب اور مفتری کہلائیں گے اس سے زیادہ جو کہ جھوٹا دعویٰ کریں گے اور علاوہ اس کے خود مرزا قادیانی اپنی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ۲۰ خزائن ج ۷ ص ۲۰۰ و ازالۃ اوہام ص ۴۱۴ خزائن ج ۳ ص ۵۱۱) میں ختم کے معنی اختتام اور بند ہونے کے لکھتے ہیں۔
”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی اور رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بواسطہ جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو ۔“
برنبوت را برو شد اختتام
(درثمین فارسی ص ۱۱۴)
و الله يهدى من يشاء الي صراط مستقيم ومن يتولى فان الله هو الغنى الحميد ومن كفر فان الله غنى عن العالمين نسئل الله العفو والعافية لاحول ولا قوة الا بالله العلى العظيم.
(فتاویٰ نظامیہ ج ۲ ص ۳۳۹ تا ۳۴۵)
حیات عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیق
سوال....... تفسیر ابن کثیر سورۂ آل عمران میں حضور نبی ﷺ کی حدیث سند سے مذکور ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة کہ حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت سے پہلے ضرور واپس آئیں گے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو امام حسن بصری حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ حالانکہ حسن بصری نے حضور ﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔ جب تک اس درمیانے راوی کا پتہ نہ چلے اس کا اعتبار نہیں۔ اس کا جواب درکار ہے؟ سائل: بشیر حسین چمن چنیوٹ
جواب....... یہ ٹھیک ہے حضرت امام حسن بصریؒ نے حضور اکرم ﷺ کا دنیوی زمانہ نہیں پایا۔ آپ حضرت عمرؓ کے آخر زمانہ خلافت میں پیدا ہوئے تھے لیکن اس سے حدیث ناقابل اعتبار نہیں ٹھہرتی۔ ایسی روایات مرسل کہلاتی ہیں اور امام اعظم اور امام مالکؒ کے نزدیک حدیث مرسل حجت ہے۔ پھر حضرت حسن بصریؒ کی مرسلات جو ثقہ راویوں سے مروی ہوں وہ تو صحاح کے حکم میں ہیں۔ امام علی بن المدینی کہتے ہیں۔
مرسلات الحسن اذا رووها عنه الثقات صحاح.
(موضوعات کبیر ص ۳۵)
ترجمہ: حسن بصریؒ کی مرسلات جب اسے ثقہ راوی نقل کریں تو یہ صحاح کے حکم میں ہیں۔
حافظ مزی تہذیب الکمال میں ابونعیم کے طریق سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ یہی سوال حضرت امام حسن بصریؒ سے پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا۔
كل شئ قلته فيه هو عن على غير انى فى زمان لا استطيع ان اذكر عليا.
ترجمہ: ہر وہ روایت جو میں نے اسی طرح سے پیش کی ہے۔ وہ حضرت علیؓ سے مروی ہے لیکن میں ایسے زمانے (حجاج کے زمانے) میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا کھلم کھلا نام نہیں لے سکتا۔
امام بخاریؒ تاریخ میں سلیمان بن سالم قریشی کے ترجمے میں اور حافظ عسقلانیؒ ”تہذیب میں ابو زرعہ کے طریق سے حضرت حسن بصریؒ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کا باہمی ملنا جلنا بیان کرتے ہیں۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ
(تہذیب ج ۲ ص ۲۶۷، عبقات ص ۲۸۵۔۲۸۶)
حیات عیسیٰ کے متعلق اشکال کا جواب
سوال ...... مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَد (الصف ۶) معنی آیت کریمہ است کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بشارت داد کہ بعد مردن من رسولے خواہد آمد کہ نامش احمد باشد اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہنوز زندہ است مے باید کہ بنام احمد رسول نیامدہ باشد اگر آمدہ است پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شد۔
جواب ...... در معنی آیت تحریف واقع شد بعد موت ترجمہ نیست بلکہ بعد ذہابی است یعنی رفتن من چنانچہ عن موسیٰ علیہ السلام ہم ہمیں معنی گفتہ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ (اعراف ۱۵۰) ای بعد ذھابی؟
(فتاویٰ علماء حدیث ص ۱۰۳)
لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیّین کی تحقیق
سوال ...... یہاں ایک قادیانی مولوی صاحب کی اور پادری صاحب کی بحث چل کر (لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین) پر ٹھہر گئی۔ قادیانی مولوی حدیث کی کتب سے یہ الفاظ بتلا دے تو پادری نے جامع مسجد کو پچاس روپیہ دینے پر بات ٹھہری ہے۔ قادیانی مولوی نے لاہور کی لائبریری سے کتب منگوا کر بتلانا قبول کیا ہے اور لائبریری کو لکھا ہے مندرجہ ذیل کتب ارسال کرنے کو لکھا ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث ان کتب میں ہے۔ آپ تحریر فرمائیں کہ یہ کتب حدیث کی کتب ہیں یا نہیں۔
- (۱)...... زرقانی علیٰ مواہب اللدنیہ (۲)...... الیواقیت والجواہر
- (۳)...... شرح فقہ اکبر (۴)...... مدارج السالکین
الجواب ...... حامداً و مصلیاً۔
- (۱)...... زرقانی مواہب لدنیہ کی شرح ہے۔ حدیث شریف نہیں ہے۔
- (۲)...... الیواقیت والجواہر میں شیخ اکبر کی فتوحات مکیہ کے مغلق مقامات کو حل کیا گیا ہے۔ روایات حدیث جمع کرنے
کا اس میں اہتمام نہیں۔ بلکہ علم الاسرار وعلم التصوف کے مضامین کو اس میں بیان کیا ہے۔
- (۳)...... شرح فقہ اکبر علم کلام میں ہے۔ علم حدیث میں نہیں۔
- (۴)...... مدارج السالکین ہمارے پاس موجود نہیں۔ اس کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی تصوف میں ہے۔ فقط
واللہ اعلم۔
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ ۵۵/۸/۳۰ھ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور صحیح: عبداللطیف یکم رمضان ۱۳۵۵ھ۔
یہ الفاظ روایات صحیح کے خلاف ہیں صحیح روایات میں صرف ”لوکان موسیٰ“ ہے۔ عیسیٰ نہیں ہے۔ اگر تفصیل اس بحث کی دیکھنی ہو تو عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ علیہ السلام دیکھو۔
فقط : سعید احمد غفرلہ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۵ ص ۲۴۳۔۲۴۴)
حیات عیسیٰ ؑ پر شبہ کا جواب
سوال....... علمائے کرام حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ ہونے پر آیت فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدہ: آیہ ۱۱۷) پیش کر کے عیسیٰ ؑ کا آسمان پر زندہ ہونا ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ مفسرین نے بھی لکھا ہے کہ توفی کے معنی رفع الی السماء ہے، اب مرزائی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عیسیٰ ؑ زندہ ہوں، اور قریب قیامت کے نزول فرمائیں اور اپنی امت کے عقائد تثلیث پرستی سے واقف ہوں تو قیامت کے دن کس طرح اپنی لاعلمی اور بے خبری ظاہر کریں گے، اس سے تو حضرت عیسیٰ ؑ کا کذب لازم آتا ہے، ہدایت بخشا مرزائی کے جواب سے عاجز کو سرفرازی فرمائیں۔ فقط
الجواب صحیح تفسیر معلوم ہونے کے بعد اگر کوئی سوال رہے تو لکھو۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ میں ان کی حالت سے مطلع رہا، جب تک ان میں موجود رہا (سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے، اس کے متعلق بیان کر سکتا ہوں) پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا (یعنی اول بار میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری بار میں وفات کے طور پر ومن ھھنا لم یقل رفعتنی ولا امتنی والتوفی عام لھما کما فی قولہ تعالیٰ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا (الزمر ۴۲) تو اس وقت صرف آپ ان کے احوال پر مطلع رہے الخ۔ وقد تقرر فی محلہ ان عدم دلیل لا یستلزم عدم المدعا خصوصا مع وجود دلیل اخر. ۸ محرم ۱۳۵۶ھ
(النور ص ۹، ربیع الثانی ۵۷ھ)
ایضاً السوال ....... عرض یہ ہے کہ قادیانی مرزائیوں نے مندرجہ ذیل سوال کیے، ان کے جوابات تحریر فرمائیے۔
- (۱)...... جب حضرت عیسیٰ ؑ (جو اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کی رو سے زندہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر
اٹھائے گئے تھے) قیامت سے پہلے دجال ملعون کو قتل کرنے کے لیے نازل ہوں گے تو آمد ثانی میں وہ نبی اللہ ہوں گے یا صرف امتی ہوں گے۔
- (۲)...... اگر محض امتی ہوں گے نہ کہ نبی اللہ، تو ان سے نبوت کیوں چھینی جائے گی، ان کا کیا قصور ہے؟
- (۳)...... اگر نازل ہوں گے اور اس وقت بھی نبی اللہ ہوں گے تو کیا ان کا نبی ہونا آیت قرآنی خاتم النبیین اور
حدیث نبوی ﷺ انا خاتم النبیین لانبی بعدی کے خلاف نہ ہوگا؟
- (۴)...... (صحیح مسلم شریف جلد ۲ ص ۳۰۰، ۳۰۱ اور مشکوٰۃ شریف باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال، فصل اول)
میں ہے (اذ اوحی اللہ الی عیسیٰ) کیا حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد وحی و نبوت ہے۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑ کو وحی الٰہی کا ہونا آیت خاتم النبیین و حدیث لانبی بعدی کے خلاف نہیں ہے؟
- (۵)...... سورۂ آل عمران پارہ ۳ میں ہے۔ (ویعلمہ الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل) (آیۃ ۴۸) معلوم
ہوا کہ خدا نے ان کو توریت شریف اور انجیل شریف سکھا دی ہے، نازل ہونے کے بعد وہ انجیل شریف پر عمل کریں گے یا قرآن مجید کی شریعت پر عمل کریں گے؟
- (۶)...... کیا خدا نے آسمان میں ان کو قرآن مجید سکھلا دیا ہے، یا نازل ہونے کے بعد کسی مولوی صاحب سے
فرقان حمید اور سنت و حدیث شریف سیکھیں گے، ان سوالوں کے جواب قرآن مجید کی آیت مبارکہ احادیث نبویہ، اقوال صحابہ اور اقوال تابعین کی رو سے فرمائیے۔
الجواب ...... اول و ثانی و ثالث و رابع کا حاصل ایک سوال ہے اور خامس و سادس کا حاصل ایک سوال ہے، کل دو سوال ہیں۔ پہلے سوال میں نبوت عیسوی پر اشکال کیا گیا ہے اور دوسرے سوال میں آپ کے قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر اشکال کیا گیا ہے اور اشکال دعویٰ ہے، اس کے جواب میں منع کافی ہے۔ دلیل کی حاجت نہیں، پس سائل مدعی ہے، اور مدعی مطالب بالدلیل ہوتا ہے اور مجیب مانع ہے اور مانع مطالب بالدلیل نہیں ہوتا، پس سوال کے اخیر میں جو قرآن و حدیث و اقوال صحابہ و تابعین سے دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے محض بے اصول ہے (جس شخص کے ذہن میں یہ کلیہ نہ آیا ہو ماہران فن مناظرہ سے سمجھ لے) اب جواب عرض کرتا ہوں۔
اشکال اول کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بوقت نزول نبی ہوں گے، اور آپ کی وحی بھی وحی نبوت ہوگی، مگر شریعت محمدیہ کے تابع ہوں گے، اور وہ وحی بھی خلاف شریعت محمدیہ نہ ہوگی اور آپ کی نبوت ختم نبوت کے منافی اس لیے نہیں کہ ختم نبوت سد باب عطائے نبوت لاحقہ ہے نہ کہ سد باب بقائے نبوت سابقہ مع اتباع خاتم نبوت۔
اور اشکال ثانی کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آپ شریعت محمدیہ کے تابع ہوں گے، اس لیے آپ کا عمل قرآن و حدیث پر ہوگا، اور اس کی ضرورت نہیں کہ انھوں نے آسمان پر پڑھا ہو یا نزول کے بعد کسی استاد سے پڑھیں، موہوب طور پر آپ کو قرآن و حدیث کا علم عطا ہوگا۔ جیسا بعض اولیاء امت کو بھی اس طریق پر علم دیا گیا ہے، اس تقریر سے سب سوالوں کا جواب ہو گیا۔ اشرف علی ۲ رمضان المبارک ۱۳۵۶ھ
(النور ص ۱۰، رمضان المبارک ۱۳۵۷ھ، امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۶۳۸ - ۶۴۰)
حیات عیسیٰ و ادریس علیہما السلام
السوال ...... مندرجہ ذیل مسئلہ کی تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔
- (۱)...... (مریم ۵۷) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس ؑ کے بارے میں فرمایا ہے ”ورفعناہ مکاناً علیا.“
- (۲)...... گذارش یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارہ میں (النساء ۱۵۸) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”بل رفعہ اللہ
الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً.“
- (۳)...... عرض یہ ہے کہ کیا حضرت ادریس ؑ بھی حضرت مسیح بن مریم کی طرح زندہ اپنے جسد عنصری مبارک
کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
- (۴)...... الفاظ ورفعناہ مکانا علیا کے معنی بعض لوگ (یعنی مرزائی فرقہ کے لوگ) یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے
ان کے درجات بلند کیے، وہ زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے، کیا یہ معنی صحیح ہیں۔
- (۵)...... بعض لوگ الفاظ ”ورفعناہ مکانا علیا“ کے یہ معنی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، کیا
یہ معنی صحیح ہیں۔
- (۶)...... اگر حضرت ادریس ؑ اپنے جسد مبارک کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو آیا حضرت عیسیٰ
بن مریم کی طرح وہ بھی کبھی نازل ہوں گے اور نزول کے بعد وفات پائیں گے۔
- (۷)...... کسی صحیح حدیث نبوی میں یا کسی صحابی یا تابعی کے قول میں حضرت ادریس ؑ کے نازل ہونے اور پھر
وفات پانے کی خبر آئی ہے یا نہیں۔
- (۸)...... آیا قرآن شریف میں یا صحیح حدیثوں میں لفظ رفع جسمانی اور درجات کے بلند ہونے کے سوا کسی اور معنی
(مثلاً اپنی طبعی موت سے مرنا) میں بھی استعمال ہوا ہے۔
- (۹) بعض کہتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام سے مراد حضرت الیاس علیہ السلام ہیں کیا یہ صحیح ہے۔
- (۱۰) شیخ اکبر بن عربی نے فتوحات مکیہ جلد سوم صفحہ ۴۴۱ باب ۳۰ میں شب اسراء کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضرت
عیسیٰ بن مریم کا دوسرے آسمان میں اور حضرت ادریس علیہ السلام کا چوتھے آسمان میں زندہ موجود ہونا تحریر فرمایا ہے۔ کیا اہل سنت مفسرین نے حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں ایسا ہی لکھا ہے۔
الجواب ....... بعض سوالات کا تو اصل بحث سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوا۔ ان کے جواب کی حاجت نہیں، اور باقی سوالوں کا منشاء ایک مقدمہ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں، اسی کے ظہور فساد سے سب کا جواب ہو جائے گا اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں بھی لفظ رفع آیا ہے اور حضرت ادریس علیہ السلام کے قصہ میں بھی سو دونوں مقام پر ایک ہی معنی ہونا ضروری ہے، پس اگر رفع عیسوی کو حسی کہا جائے تو رفع ادریسی کو بھی، اور اگر رفع ادریسی کو رتبی کہا جائے تو رفع عیسوی کو بھی اسی مقدمہ پر سب سوالات مبنی ہیں، سو یہ مقدمہ ہی خود فاسد ہے، کیونکہ لفظ رفع مثل دوسرے بے شمار الفاظ کے اپنے اشتراک معنوی کے سبب سب اقسام رفع کو عام ہے۔ اب جس مقام پر جس قسم کی ترجیح کو کوئی دلیل مقتضی ہوگی مراد میں اسی کی تعیین ہو جائے گی، اور جس جگہ ترجیح کی کوئی دلیل نہ ہوئی دونوں کو محتمل کہا جائے گا، چنانچہ رفع السماء میں مشاہدہ مرجح ہے اور رفع حسی کو، اور رفعنا بعضهم فوق بعض درجات لفظ درجات مرجح ہے۔ ارادہ رفع رتبی کو وعلیٰ ہٰذا تمام مواردِ استعمال میں تعیین مراد کی حسب ذیل ہوگی۔ پس رفع عیسوی میں دلائل مرجح ہیں رفع حسی کو، پس وہاں رفع حسی مراد ہوگا، اور وہ دلائل کتب تفسیر و حدیث و کلام میں مشبعاً مذکور ہیں، اور سب میں اقویٰ واَسلَم اجماع ہے اس رفع حسی پر خواہ یہ رفع بعد وفات بساعۃ قلیلۃ ہو خواہ بدوں وفات۔ پس یہ اختلاف اصل مقصود کو مضر نہیں، اور جن سلف سے وفات کا دعویٰ منقول ہے، اس کا محمل یہی ہے، رفع حسی کا انکار وہ بھی نہیں کرتے پس اس رفع پر اجماع ہو گیا، اس لیے آیت میں یہی مراد ہوگا۔ اور اس کی نفی میں علاوہ انکار دلائل نقلیہ کے ایک بڑا شنیع محذور عقلی لازم آتا ہے، وہ یہ کہ آلِ عمران ۵۴ ومکروا ومکر اللہ جس کی تفصیل اسی کے متصل آیت اذ قال اللہ یا عیسیٰ (آل عمران ۵۵) میں مذکور ہے، مثل نص کے ہے ابطالِ مکرِ یہود میں جنھوں نے آپ ﷺ کے ہلاک کی تدبیر کر رکھی تھی، پس اگر رفع و توفی کو موت عرفی مقرون بالدفن پر محمول کیا جائے تو اس سے مکرِ یہود کا ابطال کیا ہوا، بلکہ ان کی تدبیر کی تو تائید وتقویت وتقریر ہو گئی کہ انھوں نے ہلاک کرنا چاہا تھا، اللہ تعالیٰ ہی نے ہلاک کر دیا تو اس میں اعداء کا خذلان کیا ہوا۔ ان کی مسرت ومقصود کی تکمیل ہو گئی اور اس کا شناعت عظمیٰ و قباحت کبریٰ ہونا ظاہر ہے اور آیت و مکروا و مکر اللہ معنی سے خالی ہوئی جاتی ہے، مومن تو مومن کوئی عاقل بھی اس کو جائز نہیں رکھ سکتا، اس لیے یہاں رفع حسی متیقن ہوگا اور فی بیوت اذن اللہ ان ترفع (النور ۳۶) میں دلیل مرجح ہے، رفع رتبی کو اور وہ دلیل امر ہے تعظیم مساجد کا اور عدم وجوب ہے رفع حسی کا اور رفع ادریسی میں کسی قسم کی ترجیح یقینی کی کوئی دلیل نہیں، اس لیے وہ محتمل ہوگا دونوں کا، چنانچہ سلف کے اقوال دونوں طرف ہیں، اس تقریر سے سب سوالات متعلقہ مقام کا جواب ہو گیا، جو ادنیٰ تامل سے سب پر منطبق ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کی تطبیق میں خفا ہو مکرر پوچھ لیا جائے۔ واللہ اعلم۔ کتبہ: اشرف علی، یکم رجب ۱۳۵۶ھ
(النور : جمادی الثانی ۱۳۵۷ھ، امداد الفتاویٰ ج ۴ ص ۶۴۲۔ ۶۴۳)
باب دوم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور قرآن
سوال ....... زید یہ اعتقاد رکھے اور بیان کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے یا وفات دیے جانے کے بارے میں قرآن پاک خاموش ہے۔ جیسا کہ زید کی یہ عبارت ہے ”قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرۂ زمین سے اٹھا کر آسمان پر کہیں لے گیا اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انھوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اثبات ۔“ تو زید جو یہ بیان کرتا ہے، آیا اس بیان کی بنا پر مسلمان کہلائے گا یا کافر، وضاحت فرمائیں۔
جواب ....... جو عبارت سوال میں نقل کی گئی ہے۔ یہ مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کی ہے۔ بعد کے ایڈیشنوں میں اس کی اصلاح کر دی گئی ہے۔ اس لیے اس پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا البتہ گمراہ کن غلطی قرار دیا جا سکتا ہے۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح ”بل رفعہ اللہ الیہ“ اور ”انی متوفیک و رافعک الیٰ“ میں موجود ہے۔ چنانچہ تمام ائمہ تفسیر اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو ذکر فرمایا ہے اور رفع جسمانی پر احادیث متواترہ موجود ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کو احادیث متواترہ اور امت کے اجماعی عقیدہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ آیات رفع جسمانی میں قطعی دلالت کرتی ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کی تصریح نہیں کرتا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۶ و ۲۴۷)
سوال ....... ورافعک الیٰ میں زندہ آسمان پر اٹھایا جانا کیوں مراد لیا جائے؟
جواب ....... ورافعک الیٰ میں ”زندہ آسمان پر اٹھایا جانا“ مراد ہے کیونکہ ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں ”رفع الی اللہ“ قتل کے مقابلے میں واقع ہوا ہے، جہاں رفع، قتل کے مقابلے میں ہو وہاں ”زندہ آسمان پر اٹھایا جانا“ ہی مراد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معنی قرآن کریم، حدیث نبوی ﷺ اور بزرگان دین کے ارشاد میں کہیں آیا ہو تو اس کا حوالہ دیجئے۔ قیامت تک ساری مرزائی امت مل کر بھی ایک آیت پیش نہیں کر سکتی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۶)
رفع عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن سے ثبوت زید اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک الآیۃ کی تفسیر کا بیان ان الفاظ سے کرتا ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے حیات مسیح اور رفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔
قرآن مجید کی مختلف آیات نے یقین نہیں البتہ ظن کے درجہ میں یہ امر ثابت ہے کیونکہ صریح نص قطعی اس امر میں واقع نہیں ہے۔
عمرو کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود زید اپنے خیال پر جما رہتا ہے۔ آخر میں تنگ آ کر کہتا ہے کہ عقیدہ تو میرا بھی وہی ہے لیکن قرآن مجید سے یہ چیز قطعی الثبوت نہیں بلکہ ظنی ہے۔ اس کی صراحت احادیث میں موجود ہے۔ عمرو کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شریک ہو کر زید کو اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں لیکن زید اپنے خیال پر بضد قائم ہے۔ مسئلہ کی صورت مسئولہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے زید کے متعلق شریعت بیضا کیا فیصلہ صادر فرماتی ہے؟
الجواب...... رفع الی السماء قرآن سے قطعاً ثابت ہے۔ "ورافعک الیٰ" "بل رفعہ اللہ الیہ" ثبوت قطعی ہے اور ہر دو آیت کی دلالت "رفع الی السماء" پر اجماع امت سے ثابت ہے۔ امت محمدیہ کا اجماع باطل امر پر نہیں ہو سکتا جو شخص یہ کہتا ہے کہ "رفع الی السماء" قرآن سے ثابت نہیں وہ سخت غلطی پر ہے۔ اس کو قرآن، حدیث کے علم سے ذرا بھی مس نہیں ہے اور نہ اسے اجماع کا علم ہے لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرا عقیدہ بھی تمام مسلمانوں کے ساتھ متفق ہے یعنی حیات عیسیٰ ؑ اور رفع الی السماء کا قائل ہے گو احادیث کی بناء پر ہی سہی تو اس کو کافر نہ کہا جائے گا۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات ملحوظ ہوں۔
- ۱...... حافظ ابن کثیرؒ نے سورۂ نساء کی تفسیر میں اجماع امت نقل کیا ہے کہ احادیث نزول عیسیٰ ؑ متواتر ہیں۔
- ۲...... امام ترمذیؒ نے عیسیٰ ؑ کا دجال کو قتل کرنے کے سلسلہ میں پندرہ صحابہؓ کی روایات کا حوالہ دیا ہے۔
- ۳...... حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں نزول عیسیٰ ؑ کا تواتر نقل کیا ہے۔ ابی الحسین آبری سے۔
- ۴...... تلخیص الحبیر کتاب الطلاق میں لکھا ہے۔ اما رفع عیسٰی علیہ السلام فاتفق اصحاب الاخبار
والتفسیر علی انه رفع ببدنه حیا.
- ۵...... حیات عیسیٰ ؑ اور رفع الی السماء بالجسد لازم و ملزوم ہیں۔
یہ اشارات ہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں زیادہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ "عقیدۃ الاسلام فی حیوۃ عیسیٰ ؑ" فقط والسلام
الجواب صواب خیر محمد مہتمم خیر المدارس ملتان ۱۳۷۱/۵/۱۵ھ بندہ محمد عبد اللہ غفر لہ خادم دار الافتاء خیر المدارس ملتان
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۱۵۱، ۱۵۲)
قادیانیوں سے سوال
سوال...... مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے سے پہلے جو اہل سنت والجماعت اپنی جماعتی تنظیم اور مرکزیت سے نا آشنا تھے اور سواد اعظم کے نام سے تمام ممالک اسلامیہ میں ایک انبوہ کثیر کسی مستقل مذہبی مرکز کے بغیر موجود تھا وہ اہلسنت فرقہ ناجیہ تھے یا نہ؟ اگر اس وقت کے وہ مسلمان فرقہ ناجیہ میں سے نہ تھے تو جو بھی اس وقت فرقہ ناجیہ تھا اس کی نشاندہی کی جائے کیونکہ آنحضرت ختمی مرتبت ﷺ کی امت جب تک موجود ہے ان میں ایک فرقہ ناجیہ فرقے کا موجود ہونا بھی لازمی ہے اور اگر وہی مرکزیت سے نا آشنا اور انتشار زدہ اہلسنت جن میں غالباً غلام احمد مرزا کے والد مرزا غلام مرتضیٰ بھی شامل تھے۔ اس وقت، فرقہ ناجیہ تھا تو مطلع کیا جائے کہ اس فرقے کو الا وھی
الجماعة کا مصداق کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ نیز اس کی بھی تفصیل کی جائے کہ جماعت سے مراد یہی ہے کہ ایک رجسٹر میں نام درج ہوں اور سب کا چندہ ایک جگہ جمع ہوتا ہو۔ خواہ مذہبی اور سیاسی امور میں ان کے امام اور صدر بھی علیحدہ علیحدہ ہوں جو آپس میں مختلف المسلک بھی ہوں یا جماعت سے مراد وہ افراد بھی ہو سکتے ہیں جو ایک خدا، ایک قبلہ، ایک قرآن اور ایک پیغمبر کی مرکزیت میں ایمان رکھتے ہوں اور صرف ان کی عملی زندگی میں انتشار ہو، اور ان کے پاس کوئی ایک رجسٹر نہ ہو۔
اس سوال کے جواب میں ہی آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔
ثانیا جس انتشار لامرکزیت سے متاثر ہو کر تنظیم اہلسنت کا مرکزی پلیٹ فارم عمل میں آیا اور دعوت کا زیر بحث شذرہ اسی مذہبی اور تبلیغی مرکز کے استحکام کے لیے ایک اپیل ہو تو اس مرکز کے موجود اور ثابت ہونے کی یہ شہادت مدیر ”الفرقان“ نے کیا اسی شذرہ میں نہیں دے دی۔ اس میں دیکھئے۔
”اس مذہبی و تبلیغی مرکز کو اس قدر مضبوط و مستحکم کر دیں کہ وہ مذہب حق سے وابستہ اپنے تمام افراد کو اپنے ساتھ رکھ کر تبلیغی خدمت سرانجام دے سکے۔“
ابوالعطاء جالندھری (قادیانی) اس پر ایسے دم بخود ہوئے کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں...... مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو اس کی وفات کے بعد چھ سال تک بھی اکٹھے نہ رہ سکے اور ان کا اختلاف خود اسی مسئلہ میں ہو گیا کہ دونوں کے حضرت صاحب کا اصل دعویٰ کیا تھا۔ مسائل کا اختلاف تو دور کی بات ہے۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اصل دعوے ہی مختلف ہو گئے۔
آنحضرت ﷺ کے جانشین مسلسل اور بلافصل تیس سال تک منہاج نبوت سے برسر خلافت رہے اور آدھی دنیا ان کے زیر نگین تھی اور یہ لوگ اپنے امام کے اصل دعوے کو ہی نہ پا سکے۔ اس سے زیادہ ان کی ناکامی اور کیا ہوگی۔
(دعوت ۱۱/ ۴ جنوری ۱۹۶۳ء)
مفتی اعظم مصر استاذ العلماء شیخ حسنین محمد مخلوف کا علمی و تحقیقی فتویٰ
حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع آسمانی اور کفریات مرزا غلام احمد قادیانی
ہفت روزہ ”دعوت“ کے باب الاستفسارات میں کافی عرصہ سے ایسے سوالات موصول ہو رہے تھے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع جسمانی اور حیات آسمانی کے متعلق علمائے مصر کا عقیدہ کیا ہے۔ کیا وہ واقعی اسلام کے اس اجماعی عقیدے کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ظہور ثانی علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے اور یہ کہ وہ آسمان پر بجسد عنصری زندہ اور موجود ہیں یا علمائے مصر اس باب میں باقی جمیع علماء عرب اور پاک و ہند کے خلاف ہیں۔ ان سوالات کا اصل محرک مصر کے ایک آزاد خیال پروفیسر شلتوت کا ایک مضمون تھا جو آج سے پچیس تیس سال پہلے شائع ہوا تھا اور جسے قادیانی حضرات اپنی ہمنوائی میں ہر سال شائع کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کا اس اشاعت سے مقصد عوام کو یہ اثر دینا ہے کہ ان ابواب میں اکابر علمائے مصر ان کے ساتھ ہیں۔ اس مغالطے اور تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لیے حکومت مصر کے سابق مفتی اعظم استاذ العلماء حضرت شیخ حسنین محمد مخلوف کا ایک فتویٰ ان کی بلند پایہ کتاب صفوۃ البیان لمعان القرآن طبع ۱۳۷۰ھ سے نقل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام استفسارات کا مشترک جواب ہے۔ جو اس سلسلہ میں دفتر ”دعوت“ میں موصول ہوتے رہے ہیں۔ رہا پروفیسر شلتوت کا معاملہ تو آزاد خیال اور خود پسند ادیب کہاں نہیں ملتے۔ اگر مصر کے ایک غیر ذمہ دار اور غیر معتمد علیہ
پروفیسر نے سلف کی شاہراہ سے ہٹ کر کتاب وسنت میں الحاد کی راہ اختیار کی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمہور علمائے مصر اور ارباب فتویٰ و قضاء بھی معاذ اللہ اسلام کے اجماعی فیصلوں سے برگشتہ ہو گئے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں مسٹر پرویز اسلامی عنوانات کو ہی اپنا موضوع سخن بنا رہے ہیں اور ان کے قلم کی جولانگاہ یہ اسلامی موضوعات ہی ہیں۔ تاہم انھیں یہاں پاکستان کے اونچے درجے کے علماء اور محققین کا اعتماد حاصل نہیں اور علمی ابواب میں ان لوگوں کی رائے نہ صرف غلط ہے بلکہ کفر کی سرحدوں سے ملتی ہے اس طرح مصر کے آزاد خیال پروفیسر شلتوت بھی وہاں کے علمی دینی اور تحقیقی حلقوں میں کسی اعتماد کے لائق نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے جب وہ تحریر لکھی تھی جسے کہ یہ قادیانی حضرات آئے دن اس طرح شائع کرتے رہتے ہیں۔ گویا کہ یہ فتویٰ آج چھپ کر آیا ہے تو وہاں کے اکابر علماء نے اسی وقت اس کی تردید فرما دی تھی اور مختلف رسائل و جرائد نے اس پر پُرزور ردّعمل فرمایا تھا۔ بہرحال مصر کے معتمد عالم اور حکومتِ مصر کے سابق مفتی اعظم کا یہ تحقیقی فیصلہ قارئین ”دعوت“ کے پیش خدمت ہے۔ ترجمہ مولانا منظور احمد صاحب (چنیوٹ) نے کیا ہے۔ (ادارہ)
واعلم ان عیسیٰ علیه السلام لم یقتل ولم یصلب کما قال تعالٰی وما قتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم وقال وما قتلوه یقیناً. فاعتقاد النصاری القتل وصلبه کفر لاریب فیه وقد اخبر الله تعالٰی انه رفع الیه عیسٰی کما قال و رافعک الیٰ وقال بل رفعه الله الیه فیجب الایمان به والجمهور علی انه رفع حیا من غیر موت ولا غفوة بجسده و روحه الی السماء والخصوصیة له علیه السلام هی فی رفعه بجسده و بقاءه فیها الی الامد المقدر له. واما التوفی المذکور فی هذه الآیة و فی قوله تعالٰی فلما توفیتنی فالمراد منه ماذکرنا علی الروایة الصحیحة عن ابن عباس والصحیح من الاقوال کما قاله القرطبی وهو اختیار الانباری وغیره. وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته ای ما احد من اهل الکتاب الموجودین عند نزول عیسٰی علیه السلام آخرالزمان الا لیؤمنن بانه عبدالله ورسوله و کلمته قبل ان یموت عیسٰی علیه السلام فتکون الادیان کلها دیناً واحداً وهو دین الاسلام الحنیف دین ابراهیم علیه السلام و نزول عیسٰی علیه السلام ثابت فی الصحیحین وهو من اشراط الساعة.
(صفوۃ البیان لمعانی القرآن ص ۱۰۹۔ ۱۱۰)
ترجمہ: ”اور جاننا چاہیے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ تو قتل ہوئے ہیں اور نہ ہی سولی دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد تعالیٰ ہے۔ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وما قتلوہ یقینا۔ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل بھی نہیں کیا اور سولی بھی نہیں دیا۔ لیکن ان کے لیے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہمشکل بنا دیا گیا اور یہ امر یقینی ہے کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ لہٰذا عیسائیوں کا قتل اور صلیب کا عقیدہ رکھنا بلاشبہ کفر ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں خبر دی ہے کہ عیسیٰ کو اس نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا ورافعک الی میں تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا۔
اور فرمایا۔ بل رفعہ اللہ الیہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لہٰذا اس پر (جسمانی رفع پر) ایمان لانا واجب ہے اور جمہور علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو موت یا نیند طاری کیے بغیر زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور جسم سمیت آسمان پر اٹھایا جانا اور وہاں ایک مدت مقررہ تک مقیم رہنا آپ ہی
کی خصوصیت ہے اور لفظ توفی جو اس آیت اور آیت فلما توفیتنی میں مذکور ہے۔ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ابن عباسؓ کی صحیح روایت کی بنا پر تحریر کر دیا ہے اور مفسرین کے اقوال میں سے صحیح قول وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ امام قرطبیؒ کے علاوہ دیگر علماء کرام نے بھی تصریح کی ہے۔ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ کی تفسیر میں مفتی اعظم فرماتے ہیں: ’’آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت جو اہل کتاب بھی موجود ہوں گے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کے کلمہ ہیں اور تمام مذاہب کی جگہ ایک ہی مذہب رہ جائے گا اور وہ ابراہیمی دین اسلام ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا (آسمان سے) نازل ہونا صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ثابت ہے اور یہ نزول سماوی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔‘‘
والمراد علی القراءتین انہ ﷺ آخر انبیاء اللہ و رسلہ فلا نبی و لارسول بعدہ الی قیام الساعة فمن زعم النبوة بعدہ فھو کذاب افاک و کافر بکتاب اللہ و سنة رسولہ ولذا افتینا بکفر طائفة القادیانیة اتباع المفتون غلام احمد القادیانی الزاعم ھو واتباعہ انہ نبی یوحی الیہ و انہ لا یجوز مناکحتھم ولا دفنھم فی مقابر المسلمین.
(صفوۃ البیان لمعانی القرآن ص ۱۸۱)
لفضیلۃ الاستاذ الشیخ الحسنین مخلوف مفتی الدیار المصریۃ السابق و عضو جماعت کبار العلماء طبع اولیٰ ۱۳۷۰ھ۔
ترجمہ: ’’زیر آیت خاتم النبیین تحریر فرماتے ہیں اور لفظ خاتم کی مراد زبر و زیر والی دونوں قرأتوں کی بناء پر یہ ہے کہ آنحضور ﷺ نبیوں اور رسولوں کے آخر میں آنے والے ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں بنایا جائے گا۔ لہٰذا حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا، بہت بڑا بہتان باندھنے والا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا منکر ہے۔ اسی لیے ہم علماء حق نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی تمام جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے کفر ہے ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ ان کے ساتھ رشتہ کیا جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے۔‘‘
(عبقات ص ۱۰۵ تا ۱۰۸)
حیات و رفع الی السماء پر اشکال کا جواب
سوال....... اگر مسیح زندہ آسمان پر بلا ایذا یہود چلا گیا تو وہ مسیح کا ہمشکل جو مصلوب ہوا تھا اس کی نعش کدھر گئی۔ اگر وہ مصلوب کوئی اور تھا تو حواریوں کو اس کے چرانے کی کیا ضرورت تھی؟
جواب....... بحکم آنکہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔ پہلا الزام جو پیر صاحب پر لگایا تھا۔ یعنی اتباع قول عیسائیاں جلدی خیال سے جاتا رہا۔ اب فرمائیے یہ قول کس کا ہے اور صریح قول اللہ تعالیٰ کے مخالف ہے یا نہیں۔ دیکھو (واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتھم بالبینات) (مائدہ ۱۱۰) یعنی اے مسیح مجملہ ہماری نعمتوں کے ایک نعمت یہ بھی ہے تم پر کہ ہم نے بنی اسرائیل کو جب انھوں نے تیرے ایذا اور قتل کا ارادہ کیا روک دیا اور تم کو ان کی ایذا سے بچا لیا۔ مسیح کا قبل الرفع ۳۳ سال کا ہونا یا ۱۲۰ یا ۱۵۰ کہیں قرآن میں مذکور نہیں ہم کو حواریوں سے کیا مطلب۔ آپ ہی چونکہ ان کے تابع ہیں ان سے دریافت فرمالیں۔ خیر تبرعاً ہم ہی سمجھا دیتے ہیں۔ جب حواریوں
کو ابتداء میں صلیب پر چڑھانے کے وقت دھوکا لگا تو اپنے اسی زعم کے مطابق نعش مصلوب کو بھی قبر سے چرایا۔
(فتاویٰ مہریہ ص ۴۲)
رفع الیٰ السماء کے وقت عمر عیسیٰ پر اشکال کا جواب
سوال ...... پیر صاحب عیسائیوں کے اس قول کی تائید کرتے ہیں کہ مسیح ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر چلے گئے ہیں۔ مگر اپنے نانا صاحب سیّد الاوّلین والآخرین ﷺ کے اس قول کو کیوں نہیں مانتے جو مستدرک اور طبرانی میں موجود ہے۔ واخبرنی ان عیسٰی بن مریم عاش عشرین ومائة سنة.
جواب ...... ناظرین، علماء کرام اس میں نہایت ہی متعجب ہیں کہ اس سوال کو اہل اسلام کے عقیدہ اجمالیہ کے مدعی کی نسبت سے کیا خیال کیا جائے۔ آیا متناقضہ ہے یا معارضہ یا منع۔ رفع خواہ ۳۳ سال کے بعد ہو یا ۱۲۰ سال یا ۱۵۰ سال کے علیٰ حسب اختلاف الرّوایات حیاتِ مسیح الیٰ الآن کو منافی نہیں۔ قطع نظر اس جہالت سے امام جلیل حافظ عماد الدین ابی کثیرؒ نے ۳۳ سال مطابق حدیث صحیح کے لکھا ہے اور خازن اور ابن سعد اور احمد اور حاکم نے اس کو صحابہ عظام کی طرف منسوب کیا ہے۔ فانہ رفع ولہ ثلث وثلثون سنة فی الصحیح وقد ورد ذالک فی حدیث فی صفة اھل الجنة انہم علی صورة ادم و میلاد عیسٰی ثلث و ثلثین سنة واماما احکاہ ابن عساکر عن بعضہم انہ رفع ولہ مائة وخمسون سنة فشاذ غریب بعید.
(ابن کثیر ص ۲۴۵)
قال ابن عباس ارسل اللہ عیسٰی علیہ السلام وھو ابن ثلاثین سنة فمکث فی رسالتہ ثلاثین شہراً. ثم رفعہ اللہ الیہ (تفسیر خازن ص ۵۰۳) و اخرج ابن سعد و احمد فی الزھد والحاکم من سعید بن المسیب قال رفع عیسٰی ابن ثلاث و ثلثین سنة.
(فتاویٰ مہریہ ص ۴۱۔۴۲)
رفع و نزول مسیح ؑ
قادیانی نظریات کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین مسائل ذیل میں جو نمبر وار درج کیے جاتے ہیں۔
- (۱)...... حضرت عیسیٰ ؑ جسم عنصری سے آسمان پر اٹھائے گئے یا صرف روح؟
- (۲)...... عیسیٰ ؑ اب تک زندہ ہیں یا نہیں۔ اگر زندہ ہیں تو کیا کھاتے ہیں کیونکہ انسانی زندگی کا مدار اس پر ہے؟
- (۳)...... حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول آسمان سے کب ہوگا اور کس شریعت پر ان کا عمل ہوگا اور اپنے آپ کو نبی
کہلائیں گے یا امتی؟
- (۴)...... حضرت عیسیٰ ؑ کس ذریعہ سے آسمان پر گئے ہوا یا بجلی یا کسی تخت پر سوار ہو کر چلے گئے؟
- (۵)...... حضرت عیسیٰ ؑ کہاں دفن ہوں گے اور کتنی مدت دنیا میں رہیں گے؟
- (۶)...... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات و نزول آسمانی سے انکار کرنا کفر یا نہیں؟
- (۷)...... نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟ اور خلیفہ کے کیا معنی ہیں اور اس کی تعریف کیا ہے؟
- (۸)...... مجدد کے کیا معنی ہیں اور کس کو کہتے ہیں؟ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے جو دعویٰ کیا کہ میں نبی اور رسول اور
مجدد زمان اور کرشن جی ہوں اب اس کو کیا مانا جائے مسلمان یا اس کے برعکس یا اس کے دعویٰ کے موافق؟
- (۹)...... مرزا قادیانی کو کوئی شخص نبی یا رسول یا مجدد و کرشن جی مانے یا صرف اس کے افعال کو اچھا سمجھے تو ایسے
شخص کا ذبیحہ یا ایسے شخص کے ساتھ کھانا پینا ناطہ لینا دینا از مذہب اہلسنت والجماعت جائز ہے یا نہیں؟ قرآن
مجید و احادیث سے بلا تاخیر تحریر فرمائیں۔
جواب...... ۱ حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی ہوا ہے نہ کہ صرف روحانی، کیونکہ قرآن شریف میں روح کا ذکر نہیں صرف قتل و صلب کی تردید کی گئی ہے کہ وما قتلوه وما صلبوہ یعنی عیسیٰ ؑ کو نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ اس نص قرآنی سے رفع جسمانی ثابت ہے کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل جسم پر وارد ہوتا ہے نہ کہ روح پر۔ پس جس چیز کو قتل اور صلیب سے بچایا اس کو اٹھایا، اور روح کو نہ کوئی قتل کر سکتا ہے اور نہ صلیب پر چڑھا سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ جسم کا رفع ہوا کیونکہ قتل اور صلیب سے جسم ہی بچایا گیا۔
جواب...... ۲ جسم و روح مرکبی کی حالت کا نام عیسیٰ تھا۔ وما قتلوه وما صلبوہ۔ (النساء ۱۵۷) میں جو ضمیریں ہیں وہ حضرت عیسیٰ ؑ جو کہ روح و جسم کی مرکبی حالت کا نام ہے ان کی طرف راجع ہیں۔ جب عیسیٰ ؑ کو مرکبی حالت میں بچایا گیا اور اس حالت میں اٹھایا گیا جس سے ثابت ہوا کہ رفع جسمانی ہوا کیونکہ صرف روح نہ کھاتا ہے اور نہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر سکتا ہے۔ پس جسم مع روح کا رفع بحالت زندگی ہوا۔ چنانچہ شیخ شہاب الدین المعروف ابن حجر (تلخیص الخبیر مطبوعہ مکہ مکرمہ مطبع عباس احمد الباز ج ۳ ص ۲۶۲) پر لکھتے ہیں۔ واما رفع عیسیٰ فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه حياً یعنی اس پر اتفاق ہے حدیثوں اور تفسیروں کا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اسی بدن کے ساتھ بحالت زندگی اٹھائے گئے۔
جواب...... ۲ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے جیسا اٹھایا گیا۔ ان کے کھانے پینے اور بول و براز کا جواب یہ ہے کہ آسمانی کرہ ہر ایک زمین سے کئی حصے زیادہ ہے اور جدید علوم حکمت سے ثابت ہے کہ ہر ایک دنیاوی اشیاء آسمانی تاثیرات سے معرض ظہور میں آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وفي السماء رزقكم یعنی تمہارا رزق یعنی روزی آسمان میں ہے۔
دوم! حضرت آدم ؑ کا ہبوط آسمان سے نصوص قرآنی سے ثابت ہے۔ پس جو کھانا پینا وغیرہ حضرت آدم ؑ اور حوا کو ملتا تھا وہی حضرت عیسیٰ ؑ کو ملتا ہے یہ کیونکر ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو کھانا نہیں ملتا اور بھوکے رہتے ہیں؟ کوئی آسمان پر گیا ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی شکایت سن کر آیا ہے؟ تو بتائے یہ صرف علوم حکمت و فلسفہ سے ناواقفیت کا باعث ہے کہ ایسے ایسے اعتراض کیے جاتے ہیں۔ جب آسمان پر ہیولے یعنی مادہ اور عناصر موجود ہیں تو آسمانی مخلوق کو رزق کا ملنا کیا قیاس فاسد ہے؟ جبکہ علوم جدیدہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ مریخ چاند و سورج وغیرہ اجرام فلکی میں نہریں اور جنگل ہیں اور آبادیاں ہیں تو یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ عیسیٰ ؑ کھاتے کہاں سے ہوں گے۔
سوم! جب نص قرآنی (البقرہ ۵۷) سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے واسطے خوانچہ بالکل تیار پکا پکایا آسمان سے نازل ہوتا تھا تو پھر ایسے اعتراض مضامین قرآنیہ سے ناواقفیت کا باعث ہے۔
جواب...... ۳ حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ (ترمذی شریف ج ۲ ص ۴۲ ابواب الفتن) حضرت عیسیٰ کا نزول دابۃ الارض کا نکلنا دجال کا خروج وغیرہ وغیرہ پس جب قیامت آنے کو ہوگی تب حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول بھی ہوگا۔ معراج میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام کو دیکھا تو قیامت کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ پہلے بات حضرت ابراہیم ؑ پر
ڈالی گئی انھوں نے فرمایا کہ مجھ کو خبر نہیں کہ قیامت کب ہو گی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بات ڈالی گئی تو انھوں نے بھی فرمایا کہ مجھ کو خبر نہیں۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ڈالی گئی انھوں نے فرمایا کہ قیامت کی تو مجھ کو بھی خبر نہیں مگر اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں زمین پر جا کر دجال کو قتل کروں گا۔ (ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ ابن مریم) اس حدیث سے ثابت ہے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور دجال بھی نکلے گا۔ پس ثابت ہوا کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
جواب......۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی بذریعہ بدلیوں کے ہوا جیسا کہ انجیل اعمال باب آیت ۹ میں لکھا ہے یہ کہ ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا۔ اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا یہ بدلی کا لفظ ثابت کر رہا ہے کہ رفع جسمانی، ورنہ روح کے واسطے بدلی کا ہوتا بالکل فضول ہے۔ کیونکہ روح خود عالم علوی سے ہے اور تمام جہاں جانتا ہے کہ روح اٹھانے کے واسطے بھی بدلی نہیں آتی۔ پس مسیح آسمان پر بدلی کے ذریعہ سے اٹھائے گئے ہیں۔
جواب......۵ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۴۵ برس زمین پر رہ کر فوت ہوں گے جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں۔ فیدفن معی فی قبری (مشکوٰۃ ص ۴۸۰) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے مقبرے میں مدفون ہوں گے چونکہ گنجائش ان مختصر جوابوں میں اس قدر نہیں کہ تمام حدیثیں لکھی جائیں۔ اگر کسی نے انکار کیا تو پھر پوری حدیثیں لکھی جائیں گی۔
جواب......۶ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اشراط الساعۃ میں سے ایک شرط ہے یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ انہ لعلم للساعۃ (الزخرف ۶۱) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یہ مسئلہ اصول کا ہے کہ اذا فات الشرط فات المشروط یعنی جب شرط فوت ہو تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے۔ جب نزول عیسیٰ علیہ السلام شرط ہے قیامت کی جب شرط یعنی نزول عیسیٰ سے انکار ہوا تو مشروط یعنی قیامت سے بھی انکار ہوا اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت کا انکار کفر ہے پس ثابت ہوا کہ نزول عیسیٰ کا منکر، منکر قیامت ہے اور قیامت کا منکر ہرگز مسلمان نہیں۔ نزول کے واسطے حیات شرط ہے کیونکہ طبعی مردے کبھی واپس نہیں آتے زندہ شخص دوبارہ واپس آ سکتا ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ حیات مسیح کا منکر نزول اصالتاً کا منکر ہے اور کافر ہے۔
جواب......۷ نبی اور رسول میں فرق ہے کہ نبی صاحب کتاب و شریعت نہیں ہوتا اور رسول صاحب شریعت ہوتا ہے۔ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اپنی کتاب فصوص الحکم فصل ۱۲ میں لکھتے ہیں ”نبی وہ ہے جو خلق کے پاس ہدایت کے لیے اور اس کمال کا راستہ بتلانے کے لیے بھیجا گیا ہو جو حضرت علمیہ میں ان کے اعیان ثابتہ کی استعداد کے مقتضاء پر ان کے لیے مقدر ہے اور وہ نبی کبھی صاحب شریعت ہوتا ہے جیسے رسل علیہم السلام ہیں اور کبھی صاحب شریعت جدید نہیں ہوتا بلکہ پہلی شریعت میں اس کے حقائق کو ان کی استعداد کے موافق تعلیم کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء ہیں ۔“ شیخ اکبر کی عبارت سے صاف ظاہر ہے رسول صاحب شریعت جدید ہوتا ہے اور نبی صاحب شریعت جدید نہیں ہوتا۔ یعنی نبی صرف نبی ہوتا اور رسول نبی بھی ہوتا اور رسول بھی۔ خلیفہ تو صاحب حکومت ہوتا ہے اور حدود شریعت کا نگہبان ہوتا ہے وہ رسول و نبی نہیں ہوتا۔ بعد خاتم النبیین کے صرف خلفاء ہوں گے جو شریعت کی حفاظت کریں گے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل ادب سکھاتے
جاتے تھے نبیوں سے جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی مبعوث ہوتا مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے یعنی غیر تشریعی نبی جو شریعت سابقہ کی پیروی کرے اور خود بھی نبی کہلائے نہ ہوگا اس لیے میری امت کے امیر یا خلیفے یعنی بادشاہ حدود شریعت کی نگہبانی کریں گے اور چونکہ میں خاتم النبیین ہوں اس واسطے نبی کوئی نہیں کہلائے گا۔ مشکوٰۃ شریف ص ۵۵۱ میں حدیث ہے مفصل دیکھنا ہو تو دیکھ لیں اور خلیفوں کی صفات وغیرہ کا بھی ذکر اس کتاب میں ہے۔ یہاں گنجائش نہیں کہ صفات خلیفہ لکھی جائیں۔ مختصر یہ ہے کہ بزدل نہ ہو بہادر ہو، تاکہ جنگ میں بھاگ نہ جائے اور اس قابل ہو کہ بیرونی دشمن اسلام کا مقابلہ کر سکے اور جنگ سے ہرگز نہ گھبرائے اور حدود شریعت کی نگہبانی کر سکے اور حدود جاری کرے تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔
جواب ...... ۸ مجدد کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرما دی ہے کہ من یجدد لھا دینھا یعنی مجدد ہر ایک صدی کے سر پر ہوا کرے گا جو دین اسلام کو تازہ کر دیا کرے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز مجدد نہ تھے کیونکہ دین محمدی کو ہرگز تازہ نہیں کیا اور نہ کسی مردہ سنت نبوی کو زندہ کیا بلکہ دین عیسوی کو زندہ کیا اور عیسائیوں کے مسئلہ ابن اللہ کی تصدیق کی دیکھو الہام مرزا قادیانی انت منی بمنزلۃ ولدی یعنی اے مرزا تو ہمارے ولد یعنی بیٹے کی جا بجا ہے۔ (دیکھو صفحہ ۸۶ حقیقۃ الوحی خزائن جلد ۲۲ ص ۸۹) دوسری طرف مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مثل عیسیٰ ہوں اور عیسیٰ بقول عیسائیوں کے خدا کا بیٹا ہے تو مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا ہونا اپنے الہام سے ثابت کر دیا کیونکہ جب مثل عیسیٰ بمنزلۃ یعنی بجائے خدا کے بیٹے کے ہے تو اصل عیسیٰ ضرور اصل بیٹا خدا کا ثابت ہوا کیونکہ جب مثیل مسیح (یعنی غلام قادیانی جو مثیل مسیح ہونے کا مدعی ہے) کو خدا کہتا ہے کہ تو میرے بیٹے کی جا بجا ہے تو ثابت ہو کہ اصل مسیح خدا کا اصلی بیٹا ہے۔ مجدد دین محمدی تو نص قرآن لم یلد ولم یولد کے برخلاف ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا نے مجھ کو الہام کیا ہے کہ تو میرے بیٹے کی جا بجا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے مجسم خدا جو کہ عیسائیوں کا مسئلہ تھا اس کو تازہ کیا ہے کہ آپ اپنی کتاب (کتاب البریہ ص ۸۵ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳) پر لکھتے ہیں کہ ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں“۔ جب مرزا قادیانی خود خدا بن گئے۔ پھر مرزا قادیانی نے تو یہ غضب کیا کہ خدا کے نطفہ سے حقیقی صلبی بیٹے بن بیٹھے۔ چنانچہ اپنی کتاب (اربعین نمبر ۳ ص ۳۴ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۳) پر لکھتے ہیں کہ مجھ کو الہام کیا کہ ”انت من ماء نا وھم من فشل“ یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے اس الہام میں تو مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ ؑ اور عیسائیوں کو بھی مات کر گئے اور خدا کے حقیقی بیٹے بن گئے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی دین محمدی کے مجدد ہیں یا دین عیسوی کے، جن جن باطل مسائل کو ۱۳ سو برس سے اہل اسلام نے مٹایا تھا وہ مرزا قادیانی نے اسلام میں داخل کیے اور پھر مجدد دین محمدی؎
گر ولی ایں است لعنت بر ولی
(مولانا روم کا شعر ہے کہ شیطانی کام کرے اور ولی کہلائے اگر یہ ولی ہے تو اس ولی پر لعنت)
اگر یہی مجدد کا نشان ہے تو بے شک ایسے مجدد کا نہ آنا امت محمدی کے واسطے بہتر ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا دعویٰ کرشن ہونے کا بھی ہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو الہام کیا ہے رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ دیکھو (لیکچر سیالکوٹ ص ۳۳ خزائن ج ۲۰ ص ۲۲۹) اگر مرزا قادیانی کا یہ الہام سچ ہے تو پھر مرزا قادیانی کھلے بندوں
اسلام سے خارج ہیں کیونکہ کرشن جی کا اوتار مرزا قادیانی تب ہی ہو سکتے ہیں جب ان کے مذہب کی پیروی کریں اور کرشن جی کا مذہب یہی تھا جو آج کل آریہ صاحبان اہل ہنود کا ہے۔ یعنی قیامت سے انکار اور آواگون یعنی تناسخ کا اقرار اور قیامت کا انکار صریح کفر ہے۔ پس مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ اصولوں سے کہ میں متابعت تامہ محمد ﷺ کے باعث محمد ہو گیا ہوں درستی اصول کی پابندی سے یعنی متابعت تامہ کرشن سے کرشن ہوئے۔ جب کرشن ہوئے تو تناسخ کے قائل ہوئے اور کافر ثابت ہوئے۔ میں نیچے کرشن کا مذہب لکھتا ہوں۔ کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں۔ سوچ لو ہم تم اور سب راجے مہاراجے کبھی تھے یا نہیں۔ آئندہ ان کا کیا جنم ہوگا۔ ہم سب گذشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں پیدا ہوں گے۔ جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن جوانی اور بڑھاپا ہوا کرتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔ دیکھو (گیتا مصنفہ کرشن جی مہاراج اشلوک ۲۲ ادھیائے ۲) شیخ فیضی نے بھی گیتا کا ترجمہ کیا ہے وہ بھی سن لو۔
بقعر جہنم برو در کار زشت
بقید تناسخ کند داورش
بانواع قالب دراں آروش
بتہائے معبود در میروند
بتجسم سگ و خوک در میروند
(صفحہ ۱۴۶ گیتا مترجمہ فیضی تقطیع خورد) اب صاف ہو گیا کہ کرشن جی قیامت کے منکر تھے جب مرزا قادیانی قیامت کے منکر ہوئے تو کافر ہوئے۔ کیونکہ متابعت تامہ سے یہ درجہ پایا ہے اور متابعت تامہ یہ ہے کہ پورا پورا پیرو ہو پس کرشن جی کی پیروی یہی ہے کہ قیامت سے انکار کیا جائے اور تناسخ مانا جائے وغیرہ وغیرہ۔
جواب ...... ۹ جب مرزا قادیانی اصول اسلام کے پابند ہی نہیں رہے جس امر کے واسطے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے تو قیامت کی خبر دیتے آئے اور تناسخ کی تردید کرتے آئے۔ پھر جب مرزا قادیانی نے قیامت سے انکار کر دیا تو مسلمان کیسے؟ اب تو یہ معاملہ ہے۔ مصرع
یعنی تناسخ اور مرزا قادیانی کے مرید بھی اسی اعتقاد کے ہوں گے۔ کیونکہ پیر و مرید کا اعتقاد ایک ہی ہوتا ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی کا یہ الہام سچا ہے کہ میں کرشن ہوں تو پھر ہرگز مسلمان نہیں اور مریدوں کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبے ہیں۔ پس ان سے لین دین اور معاملات مسلمانوں والے نہیں ہو سکتے تاوقتیکہ توبہ نہ کریں اور تجدید اسلام نہ کریں۔ المجیب پیر بخش، الجواب صحیح نظام الدین ملتانی
(فتاویٰ نظامیہ ج ۲ ص ۱۹۸ تا ۲۰۳)
باب یازدهم
نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام
سوال...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کب آسمان سے نازل ہوں گے؟ جواب...... قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے۔ لیکن جس طرح قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ’’اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی۔ پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو۔‘‘ (سورۃ زخرف) بہت سے اکابر صحابہؓ و تابعین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے اور صحیح ابن حبان میں خود آنحضرت ﷺ سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔
(موارد الظمان ص ۴۲۵ حدیث نمبر ۱۷۵۸)
حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں۔ ’’یہ تفسیر حضرت ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابو مالکؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ اور دیگر حضرات سے مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے اس مضمون کی متواتر احادیث وارد ہیں کہ آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل تشریف لانے کی خبر دی ہے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ص ۴۳۲ ج ۴)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ شب معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ (علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات) سے ہوئی تو آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا کہ کب آئے گی؟ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں پھر موسیٰ علیہ السلام سے पूछा گیا، انھوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انھوں نے فرمایا کہ قیامت کے وقوع کا ٹھیک وقت تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ میرے رب کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے جب دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لیے نازل ہوں گا وہ مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ سے ہلاک کر دیں گے۔ یہاں تک کہ شجر و حجر بھی پکار اٹھیں گے کہ اے مسلم! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے اس کو قتل کر دے۔ قتلِ دجال کے بعد لوگ اپنے اپنے علاقے اور ملک کو لوٹ جائیں گے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد یاجوج ماجوج نکلیں گے، وہ جس چیز پر سے گزریں گے اسے تباہ کر دیں گے تب لوگ میرے پاس ان کی شکایت کریں گے، پس میں اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں بددعا کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ ان پر یکبارگی موت طاری کر دیں گے۔ یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے متعفن ہو جائے گی۔ پس اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائیں گے جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گی۔ پس میرے
رب کا مجھ سے یہ عہد ہے کہ جب ایسا ہوگا تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ اونٹنی کی سی ہوگی جس کے بارے میں اس کے مالک نہیں جانتے کہ اچانک دن میں یا رات میں کسی وقت اس کا وضع حمل ہو جائے ۔“ (مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵، ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب خروج الدجال وعیسیٰ بن مریم، مستدرک حاکم ج ۵ ص ۶۸۷ حدیث ۸۵۴۹ باب مذاکرۃ الانبیاء فی امر الساعۃ، ابن جریر ج ۱۷ ص ۹۱ الانبیاء ۹۶ زیر آیت وھم من کل حدب ینسلون)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد سے جو آنحضرت ﷺ نے نقل کیا ہے، معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قرب قیامت میں ہوگی ۔
سوال ...... نیز آپ کی کیا کیا نشانیاں دنیا پر ظاہر ہوں گی؟
جواب ...... آپ کے زمانہ کے جو واقعات، احادیث طیبہ میں ذکر کیے گئے ہیں ان کی فہرست خاصی طویل ہے، مختصراً !
- آپ سے پہلے حضرت مہدی کا ظہور ۔
- آپ کا عین نماز فجر کے وقت اترنا ۔
- حضرت مہدی کا آپ کو نماز کے لیے آگے کرنا اور آپ کا انکار فرمانا ۔
- نماز میں آپ کا قنوت نازلہ کے طور پر یہ دعا پڑھنا ...... قتل اللہ الدجال ۔
- نماز سے فارغ ہو کر آپ کا قتل دجال کے لیے نکلنا ۔
- دجال کا آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگنا ۔
- "باب لد" نامی جگہ پر (جو فلسطین شام میں ہے) آپ کا دجال کو قتل کرنا، اور اپنے نیزے پر لگا ہوا
دجال کا خون مسلمانوں کو دکھانا ۔
- قتل دجال کے بعد تمام دنیا کا مسلمان ہو جانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا عام حکم دینا ۔
- آپ کے زمانہ میں امن و امان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑیئے، بکریوں کے ساتھ اور چیتے گائے
بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں ۔
- کچھ عرصہ بعد یاجوج ماجوج کا نکلنا اور چار سو فساد پھیلانا ۔
- ان دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رفقاء سمیت کوہ طور پر تشریف لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی
پیش آنا ۔
- بالآخر آپ کی بددعا سے یاجوج ماجوج کا یکدم ہلاک ہو جانا اور بڑے بڑے پرندوں کا ان کی لاشوں کو
اٹھا کر سمندر میں پھینکنا ۔
- اور پھر زور کی بارش ہونا اور یاجوج ماجوج کے بقیہ اجسام اور تعفن کو بہا کر سمندر میں ڈال دینا ۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلہ بنو کلب میں نکاح کرنا اور اس سے آپ کی اولاد ہونا ۔
- فج الروحا نامی جگہ پہنچ کر حج و عمرہ کا احرام باندھنا ۔
- آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر پر حاضری دینا اور آپ ﷺ کا روضہ اطہر کے اندر سے جواب دینا ۔
- وفات کے بعد روضہ اطہر میں آپ کا دفن ہونا وغیرہ وغیرہ ۔
- آپ کے بعد مقعد نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی وفات کے بعد قرآن کریم کا
سینوں اور صحیفوں سے اٹھ جانا۔
- اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا۔ نیز دابۃ الارض کا نکلنا اور مومن و کافر کے درمیان امتیازی
نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔
شبہات
نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ان کی پہچان کیونکر ہوگی؟
سوال....... یہ کس طرح ظاہر ہوگا کہ آپ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟
جواب....... آپ کا یہ سوال عجیب دلچسپ سوال ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپ صرف دو باتیں پیش نظر رکھیں۔
اوّل....... کتب سابقہ میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیش گوئی کی گئی تھی، اور آپ ﷺ کی صفات و علامات ذکر کی گئی تھیں، جو لوگ ان علامات سے واقف تھے ان کے بارے میں قرآن کریم کا بیان ہے کہ وہ آپ ﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔ اگر کوئی آپ سے دریافت کرے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کو کیسے پہچانا تھا کہ آپ ﷺ ہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ کیا فرمائیں گے۔ یہی نا کہ آنحضرت ﷺ کی صفات جو کتب سابقہ میں مذکور تھیں وہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر منطبق کرنے کے بعد ہر شخص کو فوراً یقین آ جاتا تھا کہ آپ وہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو صفات آنحضرت ﷺ نے ذکر کی ہیں ان کو سامنے رکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی تعیین میں کسی کو ادنیٰ سا شبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ہاں! کوئی شخص ان ارشادات نبویہ ﷺ سے ناواقف ہو یا کج فطری کی بنا پر ان کے چسپاں کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو، یا محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سے پہلو تہی کرے تو اس کا مرض لاعلاج ہے۔
دوم....... بعض قرائن ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں آدمی یقین لانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اسے مزید دلیل کی احتیاج نہیں رہ جاتی۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ کسی مکان کے سامنے محلے بھر کے لوگ جمع ہیں، پورا مجمع افسردہ ہے، گھر کے اندر کہرام مچا ہوا ہے، درزی کفن سی رہا ہے، کچھ لوگ پانی گرم کر رہے ہیں، کچھ قبر کھودنے جا رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد آپ کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کیا یہاں کسی کا انتقال ہو گیا ہے؟ اور اگر آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ فلاں صاحب کافی مدت سے صاحب فراش تھے اور ان کی حالت نازک تر تھی تو آپ کو یہ منظر دیکھ کر فوراً یقین آ جائے گا کہ ان صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی خاص کیفیت، خاص وقت، خاص ماحول اور خاص حالات میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ جب وہ پورا نقشہ اور سارا منظر سامنے آئے گا تو کسی کو یہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ یہ واقعی عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا نہیں؟
تصور کیجیے! حضرت مہدی عیسائیوں کے خلاف مصروف جہاد ہیں اتنے میں اطلاع آتی ہے کہ دجال نکل آیا ہے۔ آپ اپنے لشکر سمیت بہ عجلت بیت المقدس کی طرف لوٹتے ہیں اور دجال کے مقابلے میں صف آراء ہو جاتے ہیں۔ دجال کی فوجیں اسلامی لشکر کا محاصرہ کر لیتی ہیں۔ مسلمان انتہائی تنگی اور سراسیمگی کی حالت میں محصور
ہیں۔ اتنے میں سحر کے وقت ایک آواز آتی ہے۔ ”قد اتاکم الغوث“ (تمھارے پاس مددگار آ پہنچا) اپنی زبوں حالی کو دیکھ کر ایک شخص کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ یہ ”کسی پیٹ بھرے کی آواز معلوم ہوتی ہے۔“ پھر اچانک حضرت عیسیٰ ؑ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے سفید منارہ کے پاس نزول فرماتے ہیں اور عین اس وقت لشکر میں پہنچتے ہیں جبکہ صبح کی اقامت ہو چکی ہے اور امام مصلیٰ پر جا چکا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ تمام کوائف جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں جب وہ ایک ایک کر کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آئیں گے تو کون ہوگا جو حضرت عیسیٰ ؑ کی شناخت سے محروم رہ جائے گا؟ آنحضرت ﷺ نے سیدنا عیسیٰ ؑ کی صفات و علامات، ان کا حلیہ اور ناک نقشہ، ان کے زمانہ نزول کے سیاسی حالات اور ان کے کارناموں کی جزئیات اس قدر تفصیل سے بیان فرمائی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جب یہ پورا نقشہ لوگوں کے سامنے آئے گا تو ایک لمحہ کے لیے کسی کو ان کی شناخت میں تردد نہیں ہوگا۔ چنانچہ کسی کمزور سے کمزور روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ ان کی تشریف آوری پر لوگوں کو ان کے پہچاننے میں دقت پیش آئے گی۔ یا یہ کہ ان کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہو جائے گا کوئی ان کو مانے گا اور کوئی نہیں مانے گا۔ اس کے برعکس یہ آتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان، دجال کے لشکر سے نمٹنے کے بعد، غیر مذاہب کے لوگ بھی سب کے سب مسلمان ہو جائیں گے اور دنیا پر صرف اسلام کی حکمرانی ہوگی۔
یہ بھی عرض کر دینا مناسب ہوگا کہ گزشتہ صدیوں سے لے کر اس رواں صدی تک بہت سے لوگوں نے مسیحیت کے دعوے کیے اور بہت سے لوگ اصل و نقل کے درمیان تمیز نہ کر سکے اور ناواقفگی کی بنا پر ان کے گرویدہ ہو گئے۔ لیکن چونکہ وہ واقعتاً ”مسیح“ نہیں تھے۔ اس لیے وہ دنیا کو اسلام پر جمع کرنے کے بجائے مسلمانوں کو کافر بنا کر ان کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈال کر چلتے بنے۔ ان کے آنے سے نہ فتنہ فساد میں کمی ہوئی نہ کفر و فسق کی ترقی رک سکی۔ آج زمانے کے حالات بانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اس تاریک ماحول میں اتنی روشنی بھی نہ کر سکے جتنی کہ رات کی تاریکی میں جگنو روشنی کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھے کہ ان کی من مانی تاویلات کے ذریعہ ان کی مسیحیت کا سکہ چل نکلے گا لیکن افسوس کہ ان پر حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ارشاد فرمودہ علامات اتنی بھی چسپاں نہ ہوئیں جتنی کہ ماش کے دانے پر سفیدی۔ کسی کو اس میں شک ہو تو آنحضرت ﷺ کے ارشاد فرمودہ نقشہ کو سامنے رکھے اور آپ ﷺ کی ارشاد فرمودہ ایک ایک علامت کو ان مدعیوں پر چسپاں کر کے دیکھے، اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے مگر ان مدعیوں پر حضرت عیسیٰ ؑ کی صفات و علامات منطبق نہیں ہوسکتیں۔ کاش ان لوگوں نے بزرگوں کی یہ نصیحت یاد رکھی ہوتی۔
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۱ تا ۲۴۷)
حضرت عیسیٰ ؑ کس عمر میں نازل ہوں گے؟
سوال....... ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ حدیث کی روشنی میں بیان کریں کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں پیدا ہوں گے یا پھر اس عمر میں تشریف لائیں گے۔ جس عمر میں آپ کو آسمان پر اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا۔ میں ایک مرتبہ پھر آپ سے گزارش کروں گا کہ جواب ضرور دیں اس طرح ہو سکتا
ہے کہ آپ کی اس کاوش سے چند قادیانی اپنا عقیدہ درست کر لیں ۔ یہ ایک قسم کا جہاد ہے آپ کی تحریر ہمارے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔
جواب....... حضرت عیسیٰ ؑ جس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے اسی عمر میں نازل ہوں گے۔ ان کا آسمان پر قیام ان کی صحت اور عمر پر اثر انداز نہیں ۔ جس طرح اہل جنت، جنت میں سدا جوان رہیں گے اور وہاں کی آب و ہوا ان کی صحت اور عمر کو متاثر نہیں کرے گی۔
حضرت عیسیٰ ؑ جہاں اس وقت قیام فرما ہیں وہاں زمین کے نہیں آسمان کے قوانین جاری ہیں۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ”تیرے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کے برابر ہے۔“ اس قانون آسمانی کے مطابق ابھی حضرت عیسیٰ ؑ کو یہاں سے گئے ہوئے دو دن بھی نہیں گزرے۔
آپ غور فرما سکتے ہیں کہ صرف دو دن کے انسان کی صحت و عمر میں کیا کوئی نمایاں تبدیلی رونما ہو جاتی ہے؟
مشکل یہ ہے کہ ہم معاملات الٰہیہ کو بھی اپنی عقل و فہم اور مشاہدہ و تجربہ کے ترازو میں تولنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ایک مومن کے لیے فرمودہ خدا اور رسول سے بڑھ کر یقین و ایمان کی کوئی بات ہو سکتی ہے؟
حضرت عیسیٰ ؑ کے دوبارہ پیدا ہونے کا سوال تو جب پیدا ہوتا کہ وہ مر چکے ہوتے ۔ زندہ تو دوبارہ پیدا نہیں ہوا کرتا اور پھر کسی مرے ہوئے شخص کا کسی اور قالب میں دوبارہ جنم لینا تو ”آواگون“ ہے جس کے ہندو قائل ہیں۔ کسی مدعی اسلام کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی روحانیت نے اس کے قالب میں دوبارہ جنم لیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۵۔۲۴۶)
قادیانی عقیدے میں مسیح کی روحانیت کے متعدد نزول
سوال....... قادیانیوں کے لٹریچر سے حضرت مسیح ؑ کے بارے میں کیا نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں؟ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب....... قادیانیوں کے لٹریچر کا ماحصل نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح ایک روح کے لیے ایک بدن ضروری نہیں ، وہ مختلف اوقات میں مختلف اجسام میں اتر سکتی ہے۔ پس قادیانیوں کے نزدیک مسیح ایک فرد کا نام نہیں۔ یہ ایک روح ہے جو مختلف اوقات میں مختلف اجسام میں اترتی رہی ہے اور یہ ممکن ہے کہ قرب قیامت میں وہ کسی بدن میں جلدی طور پر ظاہر ہو اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔ ”غور سے اس معرفت کے دقیقہ کو سنو کہ حضرت مسیح کو جو دو دفعہ یہ موقع پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔ اوّل جبکہ ان کے فوت ہو جانے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ بدکار مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا۔ اس لیے وہ مصلوب ہوا....... تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی بریت ہمارے نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوئے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۴۲ خزائن ج ۵ ص ۳۴۲)
الغرض قادیانی عقیدے کے مطابق روح مسیح کا پہلا جوش نبی اکرم ﷺ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ دوسرا جوش مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں قادیان میں اترا۔ (العیاذ باللہ ) اور مسیح کی روحانیت کا تیسرا جوش قیامت کے قریب ایک جلالی صورت میں ظاہر ہوگا۔ تب دنیا کا اختتام ہوگا۔ اس بات کے بارے میں
مرزا نے لکھا ہے کہ یہ بات کشف کے ذریعہ مجھ پر منکشف ہوئی ۔ قادیانیوں کے لٹریچر سے یہ چیز عیاں ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود لکھا ہے۔ "ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آئے ۔"
(ازالہ اوہام ص ۱۵۵ خزائن ج ۳ ص ۱۷۹)
ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں ۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔
(ازالہ اوہام ص ۲۰۰ خزائن ج ۳ ص ۱۹۷۔۱۹۸)
قادیانیوں کا لٹریچر خود مرزا کے دعوؤں کی تردید کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا ایک نشان ہیں اور جب تک وہ نشان ظاہر نہ ہو اور تمام اہل کتاب ان پر ایمان نہ لے آئیں وہ علامات پوری نہ ہوں گی جو قرآن نے ان کی آمد کی بتلائی ہیں اور اس پر چودہ سو سال سے امت کا اجماع چلا آ رہا ہے پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قول سے مرزا قادیانی کے لیے مسیح کی سیٹ خالی نہیں کرائی جا سکتی ۔ یہ قادیانیوں کی دھوکہ دہی اور ڈھکوسلہ بازی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قادیانیوں کے جدید حملوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین ۔ (مزید دلائل کا ذوق ہو تو اعلیٰ حضرت گولڑویؒ کی تصانیف کا مطالعہ کریں ۔ انشاء اللہ ایمان و ایقان میں اضافہ ہوگا ) واللہ و رسولہ اعلم بالصواب ۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۲۹۔۳۳۰)
احادیث اور نزول مسیح علیہ السلام
سوال ...... حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو احادیث کتب میں وارد ہیں کیا یہ صحت کے اعتبار سے درست ہیں؟ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کی کیا حکمتیں ہو سکتی ہیں ۔ مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں ۔
الجواب ...... پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام ائمہ حدیث نے نزول مسیح کے بارے میں وارد شدہ احادیث کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔ اکثر احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ لہٰذا نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔ باقی چند احادیث کو نقل کرنے کے بعد چند حکمتیں عرض کرتے ہیں ۔
حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام حدیث کی روشنی میں
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔
"لينزلن ابن مريم حكما عادلا فليكسرن الصليب و ليقتلن الخنزير و ليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد."
(رواہ مسلم ج ۱ ص ۸۷)
بخدا عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہوگا۔ جو عدل و انصاف سے فیصلے فرمائیں گے۔ صلیب توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اونٹوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے کوئی شخص کام نہیں لے گا۔ لوگوں کے دلوں سے کینہ، بغض اور حسد نکل جائے گا۔ انھیں مال لینے کے لیے بلایا جائے گا اور کوئی مال لینے والا نہیں آئے گا۔ اس حدیث میں جزیہ موقوف کرنے کا بھی بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا یاد رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں
آتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دین اسلام کے بعض احکام کو منسوخ کر دیں گے بلکہ آنحضرت ﷺ خود اس کے ناسخ ہیں کیونکہ آپ نے خود جزیہ کی مدت نزول مسیح تک بیان فرمائی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام کفار اور مشرکین مسلمان ہو جائیں گے تو جزیہ عائد کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔ قرآن حکیم نے بھی تصریح کر دی ہے۔
”وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ“ (النساء ۱۵۹) ترجمہ: ”اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصال سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔“
اور ابھی تک یہودی ایمان نہیں لے آئے اور نہ ہی عیسائیوں کا اس پر ایمان ہے۔ بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ضروری ہے تاکہ یہودی ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم.“
(رواہ مسلم ج ۱ ص ۸۷)
”اس وقت کیا شان ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور امام تم میں سے کوئی شخص ہوگا۔“
حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
”لاتزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء. تكرمة لهذه الامة.“ (رواہ مسلم ج ۱ ص ۸۷) ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور قیامت تک حق پر قائم رہے گا اور ثابت رہے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آئیے نماز پڑھائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ نہیں تمھیں میں سے بعض بعض کی امامت کریں گے۔“
آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول اس امت کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
”میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان نبی نہیں۔ اور وہ اتریں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لو، وہ قامت کے درمیانے ہیں۔ سرخ و سفید ہیں۔ دو زرد کپڑوں میں اتریں گے۔ سر کے بال ایسے معلوم ہوں گے کہ گویا ان سے پانی ٹپکتا ہے۔ اگرچہ پانی نہیں ہوگا۔ لوگوں سے جہاد کریں گے۔ صلیبی قوت توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے۔ اس وقت سوائے اسلام کے تمام ادیان کا خاتمہ ہوگا۔ دجال کو ختم کریں گے۔ زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔“
(ابوداؤد ۲/ ۲۳۸)
حضرت عبداللہ ابن عمروؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم زمین پر اتریں گے۔ شادی کریں گے اور اولاد پیدا ہوگی۔ پینتالیس سال زمین پر ٹھہریں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ قیامت کے دن ہم اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ایک مقبرے سے اکٹھے اٹھیں گے اور ہمارے دائیں بائیں ابوبکرؓ وعمرؓ ہوں گے۔
حضرت علامہ محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں۔
”في حديث معراج فلما دخل بجسده فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء. واسكنه بها و حكمه فيها وهو شيخنا الذى رجعنا على يده وله بنا عناية عظيمة ولا يفضل
عنا ساعة وارجو ان ادركه فى نزوله انشا اللہ تعالیٰ“ (فتوحات مکیہ ج ۲ ص ۳۴۱ باب ۳۶۷) حدیث معراج میں ہے کہ وہ داخل ہوئے تو ان کو حضرت عیسیٰ جسم کے ساتھ ملے کیونکہ وہ اب نہیں مرے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان تک اٹھایا اور اس میں بسایا اور اس کا حکم اس میں چلتا رہا۔ اور وہ ہمارے سچے شیخ ہیں۔ جن کے ہاتھ پر ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ ان کو ہم پر مہربانی ہے اور ہم سے وہ غفلت نہیں کرتے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں ان کے زمین پر نازل ہونے کا زمانہ پالوں گا۔
حکمت نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلحاظ ختم نبوت
عالم ارواح میں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں انبیاء کرام سے عہد لیا گیا اس کا ذکر قرآن یوں کرتا ہے۔ ” وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّيْنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِه وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِىْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّاهِدِيْنَo“ (آل عمران ۸۱) ”یاد کرو اس وقت کو جب لیا اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد کہ جو کچھ میں نے دیا کتاب اور حکمت اور پھر آئے تمھارے پاس عظیم الشان رسول تصدیق کرے تمھارے پاس والی کتاب کی۔ تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر ہمارا عہد قبول کر لیا بولے ہم نے اقرار کر لیا۔ فرمایا تم اب گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں“ اس نصرۃ کے مطابق تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے خاتم النبیین کی نبوۃ کو اعتقاداً اور اقراراً تسلیم کیا اور نصرت بالواسطہ بھی آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء کرام علیہ السلام نے تصدیق کر دی اور اپنی امتوں کو آپ ﷺ کے نبی ہونے اور امداد دینے کی تاکید فرمائی۔ تمام انبیاء کرام آنحضرت ﷺ کے بارے میں بشارات بعثت دیتے رہے جو کتب سماویہ میں موجود ہیں۔ حدیث معراج میں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی امامت فرمائی۔ دوسری عملی صورت یہ ہوئی کہ آپ ﷺ سے قریب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ تک زندہ رکھ کر نبی ہونے کے باوجود امتی کی پوزیشن میں خدمت دین محمدی ﷺ کے لیے آسمان سے نازل فرمانا طے کیا گیا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء کرام علیہ السلام سابقین کے نمائندہ کے طور پر شرع محمدی ﷺ کی خدمت و نصرت عملی رنگ میں انجام دیں اور آنحضرت ﷺ کے فیضان نبوت کو نمایاں کر دیں یہ عملی تکمیل آئندہ کسی نبی کے ذریعہ ممکن نہ تھی کیونکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے پس اس طرح نصرت دین محمدی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا۔
حکمت نزول مسیح علیہ السلام بلحاظ فتن عالمی و اصلاح عمومی
- ۱.... آپ علیہ السلام کے نزول کا ایک مقصد دجالی فتنے کا استیصال اور قتل دجال ہے دجال مدعی الوہیت ہوگا اس جرم
میں اسے قتل کریں گے اور اس سے آپ کو اللہ ماننے والی قوم بھی باطل قرار پائے گی اور نصاریٰ کو ذہن نشین ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اللہ ماننا ایسا عقیدہ ہے جو موجب سزا قتل ہے۔ ۲.... یہود آپ علیہ السلام کے قتل اور مصلوب ہونے کے مدعی تھے جب آپ کے ہاتھوں دجال یہودی اور اس کے ماننے والے قتل کیے جائیں گے تو یہ عملاً یہود کے اس جھوٹے دعویٰ کی تردید اور سزا ہوگی۔ ۳.... کفر و طاغوت کی انتہا ہو چکی ہوگی اصلاح احوال کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہوں گی پس اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تا کہ آپ کی ذات سے کفر و طاغوت کا خاتمہ ہو کیونکہ جتنی بڑی برائی ہوگی اس طرح کی روحانی قوت درکار ہوتی ہے جس سے برائی کا خاتمہ ہو سکے گا۔ دجالی فتنہ بہت بڑا ہوگا۔ ”مابین خلق آدم الی قیام الساعۃ امر اکبر من الدجال“ (رواہ مسلم ج ۲ ص ۴۰۵)
”دجالی فتنہ سے بڑا کوئی فتنہ پیدائش حضرت آدم ؑ سے قیامت تک نہیں۔“
- موجودہ دور کے عالمی فتنوں اور ایٹمی تباہیوں کے بانی یہود اور نصاریٰ ہیں۔
- اشتراکیت کا بانی کارل مارکس یہودی ہے۔
- ایٹم بم کا موجد شوہن ہار یہودی ہے۔
- سامراجیت کی بنیاد مسیحی طاقتوں نے قائم کی ہے۔
- مسلمانوں کو بگاڑنے والی بھی عیسائی قومیں ہیں۔
اس لیے ضروری ہوا کہ ایک اسرائیلی پیغمبر ؑ جو مسیحی اقوام کا پیشوا ہے انہی کے ہاتھوں ان کی امت کے پیدا کردہ فساد کا خاتمہ ہو۔ الغرض عیسائی اقوام نے مادی اور سائنسی اور ایٹمی جو فساد بپا کیا ہے اور زمینی قوتیں اس کے مقابلہ سے عاجز ہیں اور اب بجز حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بغیر اس کی اصلاح ناممکن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے یہ سارا انتظام پہلے سے کر رکھا ہے جو آج عملاً واضح ہوتا جا رہا ہے کہ نزول مسیح ؑ ضروری ہے۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۳۴ تا ۳۳۷)
نزول مسیح ؑ قرآن و سنت کی روشنی میں
سوال....... قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ نزول مسیح کی حقیقت کیا ہے؟ ایک مسلمان کو اس پر کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟ اور قادیانی جن احادیث اور آیات سے اپنے موقف کا استدلال کرتے ہیں ان کا کیا جواب ہے؟ مہربانی فرما کر تفصیلی جواب سے نوازیں۔
الجواب....... سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دین اسلام عقلی نہیں بلکہ نقلی ہے یعنی عقلاً نہیں پہنچا بلکہ نقلاً پہنچا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جن ذرائع سے دین ہم تک پہنچا ہے ان پر اعتقاد کرنا ضروری ہے کیونکہ قرآن و سنت، فقہ، اصول فقہ، وغیرہ جملہ علوم، جو دین کی معرفت کا سبب ہیں۔ یہ سب ان کی وساطت سے ملے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ قرآن وسنت کو اسلاف نے ہم سب سے بہتر سمجھا ہے اور وہ سب سے بہتر اور مخلص تھے کیونکہ حدیث نبوی ﷺ ہے۔
”خیر امتی قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم“
(مشکوٰۃ باب مناقب الصحابہ ص ۵۵۳)
چوتھی بات یہ ہے کہ جن مسائل وعقائد پر پوری امت کا اجماع و اتفاق آ رہا ہو اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے لہٰذا ان سب باتوں کو سمجھنے کے بعد اب ہم تفصیلی جواب عرض کرتے ہیں اور ان کے ممکنہ اعتراضات کا جواب بھی دیتے ہیں۔
نزول عیسیٰ ؑ پر اجماع امت
حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان کو اٹھایا جانا اور اس وقت زندہ ہونا اور آخری زمانے میں نزول فرمانا اس پر اجماع امت ہے۔ امام ابن عطیہ سے اجماع کے یہ الفاظ منقول ہیں۔
”حیات المسیح بجسمہ الی الیوم و نزولہ من السمآء بجسمہ العنصری مما اجمع علیہ الامۃ و تواتر بہ الاحادیث“ (تفسیر المحیط ۵۶/۲) حضرت مسیح ؑ کا جسم کے ساتھ اس وقت زندہ ہونا اور جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان سے اتر کر آنا ایسا عقیدہ ہے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے اور آنحضرت ﷺ کی متواتر
احادیث سے ثابت ہے۔ ”تفسیر جامع البیان میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے تحت یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں۔ ”والاجماع علی انه حی فی السما ینزل یقتل الدجال و یؤید الدین۔“
(تفسیر جامع البیان ج ۳ ص ۲۹۱ بالفاظ غیرہ)
حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔ ”الاجماع علی انه رفع ببدنه حیا۔“ کہ اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بدن کے ساتھ زندہ اٹھائے گئے ہیں۔
قرآن اور حیات مسیح علیہ السلام
”مَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَo“
(آل عمران ۵۴/۳)
یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بچانے کی تدبیر کی، اللہ تعالیٰ کی تدبیر سب تدبیر کرنے والوں کی تدبیر سے بہتر ہے۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف تدبیر کی کہ ان کو بے عزت کر کے سولی پر چڑھا دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر بچانے کی تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب رہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود ان کا بال تک بیکا نہ کر سکے۔
”اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔“ (آل عمران ۵۵/۳) ”جس وقت کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا تجھ کو اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان لوگوں پر جو انکار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن تک پھر میری طرف تم سب کو آنا ہے۔ پھر میں فیصلہ کروں گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔“
لفظ توفی کی تفسیر
”التوفی الاماتة و قبض الروح و علیه استعمال العامة والاستیفاء۔ واخذ الحق و علیه استعمال البلغاء“ توفی کا لفظ عوام کے نزدیک موت دینے اور جان لینے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا ہے۔ گویا موت پر توفی کا اطلاق اس حیثیت سے ہے کہ اس میں کسی خاص عضو سے نہیں بلکہ پورے بدن سے جان لی جاتی ہے تو اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لی تو اس پر توفی کا اطلاق بطریق اولیٰ ہوگا۔ روح مع الجسم لینا توفی کے مفہوم میں داخل ہے۔ عام طور پر چونکہ روح بدن کے بغیر لی جاتی ہے اس لیے موت پر توفی کا اطلاق کثرت سے آیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لفظ توفی کے استعمال کی حکمت
قرآن حکیم نے لفظ توفی اس لیے استعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت چونکہ عام حالات سے مختلف تھی۔ اس لیے اہم ترین موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں موت کا اطلاق نہیں کیا بلکہ لفظ توفی کا استعمال کیا جو بیک وقت قبض روح اور قبض روح مع الجسم دونوں کو شامل ہے۔ یہ استدلال غلط ہے کہ جب فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح ہو تو توفی موت کے معنی میں ہوگا۔ (نوٹ) بالفرض اگر موت کے معنی کے اندر بھی مان لیا جائے تو حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد ضحاک نے معالم میں تقدم و تاخیر کا قول نقل کیا ہے۔
”متوفیک“ ”میں تم کو موت دوں گا زمین پر اتارنے کے بعد۔“
اس کی دلیل یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ”اَللّٰهُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا.“ (الزمر ۴۲/۳۹) ”اللہ تعالیٰ جان لیتا ہے موت کے وقت اور وہ جان بھی لیتا ہے جو نیند کی حالت میں مرے نہیں۔“
فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول ذی روح ہے مگر لفظ توفی کا اطلاق نیند پر ہو رہا ہے۔ یعنی توفی عدم موت پر دلالت کر رہا ہے پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق توفی کے لفظ میں موت کا معنی مراد نہیں بلکہ اٹھا لینے کا معنی مراد ہے۔
یہودی محاصرہ کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پریشانی کی وجوہات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی محاصرہ کے وقت جو پریشانی لاحق تھی اس کی وجوہات درج ذیل امور کی وجہ سے تھیں۔ کہ میں یہود کی دست برد اور جور و ستم سے بچ جاؤں گا یا نہیں اس کے جواب میں فرمایا گیا۔
”یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ.“ (آل عمران ۵۵/۳) ”میں تم کو لے لوں گا اور ان کی دست برد سے بچا لوں گا۔“
”وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ“ میں میں بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روکوں گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوسری یہ تشویش لاحق تھی کہ میرا بچانا زمین کے کسی حصہ میں ہوگا۔ یا کوئی اور صورت ہوگی۔ اس کے جواب میں فرمایا۔ وَرَافِعُکَ کہ میں تجھ کو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لوں گا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ آپ اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں پریشان تھے کہ خاندان والے حضرت مریم علیہا السلام پر داغ لگاتے تھے اس کے متعلق کیا انتظام ہوگا؟ اس کے متعلق فرمایا گیا۔
”وَمُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا.“ (آل عمران ۵۵/۳) ”میں منکرین سے تم کو اور تمہاری والدہ کو پاک کر دوں گا۔“
کہ میرے اٹھائے جانے کے بعد میرے متبعین یعنی امت کا منکرین کے مقابلہ میں کیا حال ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا۔
”وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَوْمَ الْقِیَامَةِ“ (آل عمران ۵۵/۳) ”کہ قیامت تک تیرے متبعین تیرے منکرین پر غالب ہوں گے۔“
یہ وعدہ آج بھی ایک حقیقت کی طرح زندہ ہے۔ قرآن حکیم نے یہودیت کے ناپاک عزائم کا انکشاف کر کے حیات مسیح علیہ السلام پر روشنی ڈالی ہے۔
”وَبِکُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًا وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًاo بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ وَکَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَکِیْمًاo وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا.“ (النساء ۱۵۶/۴ تا ۱۵۹) ”یہود نا مسعود کے دلوں پر بندش ہدایت کی مہر لگ چکی ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم علیہا السلام پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو جو اللہ تعالیٰ کے رسول تھے قتل کر ڈالا اور انھوں نے ان کو قتل نہ کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا لیکن شبہ پڑ گیا ان کو اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اختلاف کرتے تھے وہ شک میں ہیں ان کو علم نہیں صرف اٹکل پچو پر چلتے ہیں اور انھوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ ان کو
اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اور اہل کتاب کا کوئی گروہ نہیں مگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے وصال سے پہلے ایمان لائے گا اور وہ ان کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔“
آیت کے چند امور
آیت کے مندرجہ ذیل امور قابل توجہ ہیں۔
- ....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اور نہ ہی سولی پر چڑھائے گئے۔ قتل اور صلیب کے قائل قطعاً غلطی پر
ہیں۔ جیسے یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ ”وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا کے بعد بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ“ فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ مَا قَتَلُوْهُ اور بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ“ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور عیسیٰ علیہ السلام نام ہے جسم اور روح کا یعنی عیسیٰ علیہ السلام جو مجموعہ روح و جسم کا ہے اس پر قتل واقع نہیں ہوا، بلکہ بجائے قتل کے رفع الی اللہ واقع ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت نفس الامری ہے کہ یہاں جس ذات سے قتل کی نفی ہو رہی ہے اس کے لیے رفع کا اثبات ہو رہا ہے اور قتل نہ صرف جسم کا ممکن ہے اور نہ صرف روح کا بلکہ جسم اور روح دونوں کے مجموعہ پر قتل واقع ہو سکتا ہے اور قتل کا مفہوم بھی واضح ہے۔ ”کہ کسی خارجی موثر سے الگ کیا جائے“ پس جب غیر مقتول جسم مع روح ہے تو مرفوع الی اللہ بھی جسم روح کا مجموعہ ہوگا۔ روحانی رفع مراد لینا بھی درست نہیں ہے کیونکہ رفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واقع ہوا ہے تو جب تک اس کے خلاف قرینہ نہ ہو تو جسمانی ہی مراد ہوگا۔ جیسے ”وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ“ (یوسف) حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھا لیا جس کا معنی و مفہوم جسم و روح دونوں کا اٹھانا ہے نہ کہ والدین کی روح کو اٹھانا ہے۔
”وَرَفَعْنَا لَكَ ذِکْرَکَ“ (الم نشرح ۴/۹۴) ”اے نبی ﷺ ہم نے آپ کے ذکر کو آپ کے لیے بلند کیا۔“ اس آیت میں بھی جہاں روحانی طور پر مراد ہوگا وہاں روح اور جسم دونوں بھی مراد ہوں گے واقعہ معراج اس کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسم مع الروح دونوں کو بلند کیا ویسے بھی آنحضرت ﷺ روح مع الجسم پوری امت پر بلند ہیں۔ اگر روحانی رفع مراد لیا جائے تو کئی وجوہات کی بناء پر غلط ہے ہم یہاں پر چند وجوہات کا ذکر کرتے ہیں۔ مجاز کو بلا قرینہ اختیار کرنا درست ہے اس کے برعکس قرینہ کی موجودگی کے باوجود مجاز کا اختیار کرنا غلط ہے۔ عدم قرینہ کی بناء پر مجاز کا اختیار کرنا۔ درست ہے لیکن قرآن حکیم میں جہاں بھی رفع استعمال ہوا ہے وہاں اس کا قرینہ موجود ہے۔
”يَرْفَعِ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ“
(المجادلہ ۱۱/۵۸)
اس مقام پر جسمانی رفع مراد ہی نہیں بلکہ روحانی یعنی دینی رفع مراد ہے لہٰذا یہاں پر درجات بطور لفظ قرینہ موجود ہے۔
”تلک الرسل فضلنا بعضهم علی بعض o منهم من کلم الله ورفع بعضهم درجات.“ (البقرہ ۲۵۳/۲) اس آیت میں بھی رفع جسمانی مراد نہیں بلکہ درجات بطور لفظ قرینہ موجود ہے۔ ”وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ“ (الشوریٰ ۳۲) یہاں بھی درجات بطور قرینہ لفظاً موجود ہے۔ اس کے برعکس۔ ”وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ.“ کا مطلب واضح ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اگر روحانی رفع مراد لیا جائے تو معنی یہ ہوا کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا مرتبہ بلند کیا جو خلاف حقیقت ہونے کے ساتھ قرآن میں تحریف ہوگی۔
نکتہ...... میرا روحانی رفع مراد لینے والوں سے سوال ہے کہ کیا حضرت عیسیٰ ؑ اس واقعہ سے چالیس سال قبل پیغمبر ؑ کی حیثیت سے زمین پر نہیں رہے تھے؟ جب رہے تھے تو اس وقت ان کو مرتبہ کی بلندی حاصل نہیں تھی؟ ہر حال میں تھی اور جب یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر ؑ کو آغاز سے ہی مرتبہ کی بلندی حاصل ہوتی ہے تو پھر اس کڑے وقت میں محض روحانی بلندی کی تخصیص کا کیا فائدہ؟ امید قوی ہے کہ عقل سلیم رکھنے والوں کے لیے اس میں وافر مقدار میں نصیحت و عبرت موجود ہے جو وہ سمجھنے کے بعد حق کو پا لیتے ہیں۔ آغاز سے ہی مرتبے کی بلندی ہونے کے باوجود یہاں پر بھی محض مرتبہ کی بلندی مراد لینے سے ایسی تخصیص بے فائدہ ہوگی۔
(النساء ۱۵۸)
میں لفظ بل کا استعمال بھی قابل توجہ ہے لفظ بل کا استعمال دو مقابل چیزوں میں ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں اگر رفع سے روحانی رفع اور مرتبہ کی بلندی مراد لی جائے تو مقابلہ فوت ہو جائے گا جس سے لفظ بل کا استعمال غلط ہونے پر معنی یہ ہوگا۔ ”کہ یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ کو مصلوب و مقتول نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا مرتبہ بلند کیا۔ اس وجہ سے کہ اگر کوئی پیغمبر ؑ یا مومن ناحق مقتول و مصلوب ہو جائے تو وہ شہید ہوگا اور شہید کا مرتبہ بلند ہوتا ہے تو اس کا مقابلہ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ کے لیے درست ہوگا۔ یہ مرزا قادیانی کی بدترین تحریف ہے جو آیت کے خلاف جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روحانی رفع ہر نبی و رسول کو عطا کیا ہے۔ خصوصاً نبی اکرم ﷺ کو پوری کائنات میں سب سے بڑھ کر روحانی رفع عطا فرمایا۔ اگر روحانی رفع عام ہوتا اور رفع جسمانی مراد نہ ہوتا تو بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ کے الفاظ ہر نبی کے حق میں مذکور ہوتے۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ کے حق میں یہ الفاظ وارد نہ ہونا اس چیز کی دلیل ہے کہ اس آیت سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی ہے اور یہ رفع جسمانی حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ ہی خاص ہے۔ اس آیت کے آخری الفاظ بھی دال ہیں۔
”وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزاً حَكِيْمًا“ اس میں قدرت وقوت کا اظہار کیا گیا ہے لفظ عزیز رفع جسمانی پر دلالت کر رہا ہے لفظ حکیماً بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا آسمان پر اٹھانا حکمت پر مبنی ہے۔ آیت کریمہ کا خاتمہ خود دلیل ہے۔
(النساء ۱۵۹)
یعنی اہل کتاب کا کوئی فرقہ نہ ہوگا مگر حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائیں گے موت سے پہلے بہ اور موتہ دونوں ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہے۔ لفظ لیؤمنن میں نون تاکید ثقیلہ ہے اور فعل مضارع کو مستقبل سے مختص کرتا ہے۔ لہٰذا اس مضمون آیت کا تعلق نزول قرآن کے مابعد زمانے سے ہے اور ایسے زمانے سے ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو اہل کتاب سے زمینی تعلق قائم رہے تاکہ وہ آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر سکیں۔ پس ہمارا دعویٰ آیت کریمہ سے ہی ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح ؑ کا نزول برحق ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں۔
(رواہ البخاری ومسلم)
اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ نزول مسیح من السماء کے بعد اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹانا صحیح نہیں ہے۔
وجہ...... اہل کتاب کی طرف نہ لوٹانے کی وجہ یہ ہے۔ انتشار ضمائر شان بلاغت کے خلاف ہے۔ موتہ کی قید لگانے سے معنی یہ ہوگا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے گا۔ حالانکہ ایمان تو مرنے
سے پہلے لایا جاتا ہے، جیسے نماز، روزہ کو مرنے سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ مرنے سے پہلے ایمان لائیں گے ایسا ہے جیسے کوئی یہ کہے ”کہ میں نے روٹی کھائی مرنے سے پہلے۔“ ”پانی پیا مرنے سے پہلے“ یہ ایک حقیقت کے خلاف ہے کہ حالت نزع میں ایمان لانا تو معتبر بھی نہیں ہے اگر حالت نزع کے وقت ایمان کو معتبر تسلیم کر لیا جائے تو فرعون کا ایمان بھی معتبر تسلیم کرنا پڑے گا جس کا تصور کرنا بھی عبث ہے۔ اس کے علاوہ نزع کے وقت تو ہر کافر اپنے نبی پر ایمان لاتا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ اس امر کی تخصیص کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ لہٰذا موتہٖ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ کو ہی ماننے سے قرآنی مفہوم صحیح ہوگا ورنہ نہیں۔
”وَإِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ؕ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ O وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ.“ (الزخرف ۶۱) ”(حضرت عیسیٰ ؑ) قیامت کی نشانی ہیں۔ قیامت میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے۔ شیطان تم کو اس بات کے ماننے سے نہ روکے، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
حضرت عیسیٰ ؑ کا قیامت کی علامت ہونے کی وجہ
حضرت عیسیٰ ؑ کے قیامت کی علامت ہونے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جو یہ ہیں۔ ۱...... بلا باپ پیدائش۔ ۲...... مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا۔ ۳...... نزول یعنی آسمان سے نازل ہونا ان تینوں وجوہات کی بناء پر آپ کی شخصیت کا آسمان سے نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ٹھہرایا گیا۔ اِنَّہٗ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ علامہ ابن جریرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک متواتر حدیث نقل کی ہے کہ آسمان سے حضرت عیسیٰ ؑ کا قیامت سے پہلے نزول ہوگا۔ اسی وجہ سے آپ ؑ کے آسمان سے نازل ہونے کو علامت قربِ قیامت قرار دیا گیا ہے۔ محض بلا باپ ہونے کی بناء پر نہیں بلکہ آسمان سے نازل ہونے کی بناء پر حضرت عیسیٰ ؑ کو قربِ قیامت کی علامت ٹھہرایا گیا اور یہی مدعا الٰہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان سے قربِ قیامت میں نزول ہے جو اس عقیدے سے روک دے وہ شیطان ہے۔ ”يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ.“ تم کو حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے سے شیطان روک نہ دے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان سے نازل ہونے کو نہ ماننا فعلِ شیطانی ہے اور روکنے والا اور نہ ماننے والا شیطان ہے۔
”وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اِسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ O“ (آل عمران ۴۵) ”اس وقت کو یاد کرو جب کہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بے شک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں۔ ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہی ہوگا۔ اس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ با آبرو ہوں گے دنیا میں اور آخرت میں اور منجملہ مقربین میں سے ہوں گے۔“
اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کو مقرب فرمایا گیا ہے۔
”لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ.“ (النساء ۱۷۲) ”مسیح کو اللہ تعالیٰ کے بندے ہونے سے عار نہیں اور نہ ملائکہ مقربین کو عار ہے۔“
قرب سے مراد جسمی وحسی و سماوی ہے۔ علامہ فخر الدین رازی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو مقربین میں سے لیا گیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر ملائکہ کی صحبت میں ہیں۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۲۳۸_۲۴۴)
نزول عیسیٰ ؑ کا ثبوت تواتر سے
سوال..... نزول عیسیٰ ؑ بوقت قیامت کیا آیت قرآنیہ سے ثابت ہے۔ اگر ثابت ہے تو کس آیت سے؟ اگر نہیں ثابت ہے اس پر تواتر ہے یا اجماع ہے یا نہیں؟ اس کا انکار باعث کفر ہے یا نہیں؟
الجواب ..... حامداً ومصلیاً۔ اکثر مفسرین نے آیت قرآنی وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہ قَبْلَ مَوْتِہ وَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً. (النساء آیہ ۱۵۹) میں ضمیر کو حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف راجع قرار دے کر اس سے نزول عیسیٰ ؑ مراد لیا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ عن ابن شھاب ان سعید بن المسیب سمع ابا ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل بینکم ابن مریم حکما عدلا ینکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب و یفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد حتّٰی تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرة واقرؤا قرآنا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ یوم القیامة یکون علیھم شھیداً.
(بخاری ج ۱ ص ۴۹۰)
اور آیت قرآنی وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا و اتبعون ھذا صراط مستقیم (الزخرف ۶۱) کی ایک قرأت لَعَلَم للساعة (بفتح اللام) ہے یعنی نزول عیسیٰ ؑ علامات قیامت میں سے ہے۔ قال مجاھد وانہ لعلم للساعة ای آیة للساعة خروج عیسیٰ بن مریم ؑ قبل یوم القیامة وھکذا روی عن ابی ھریرہ وابن عباس وابی العالیة و ابی مالک و عکرمة والحسن وقتادة و ضحاک و غیرھم. (عقیدة الاسلام)
نیز احادیث متواترہ سے بھی نزول عیسیٰ ؑ ثابت ہے۔ چنانچہ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ وانہ سینزل قبل یوم القیامة کما دلت علیہ الاحادیث المتواترة التی سنوردھا ان شاء اللہ قریباً. (تفسیر ابن کثیر مع البغوی ج ۲ ص ۱۴۳) اس مسئلہ سے متعلق بہت سے رسائل چھپ چکے ہیں۔ مثلاً التصریح بما تواتر فی نزول المسیح، عقیدة الاسلام فی حیات عیسیٰ ؑ وغیرہ کا مطالعہ کر لیا جائے۔
عقیدہ نزول عیسیٰ ؑ پر ایمان لانا فرض ہے، اس کا انکار کفر ہے، اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔ فالایمان واجب والانکار عندنا کفر والتاویل فیھا زیغ وضلال والحاد ۔ کذا فی عقیدة الاسلام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام. مقدمہ عقیدة الاسلام ص ۳۱۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۸ - ۱ - ۸۸ ھ
الجواب صحیح بندہ نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۸ - ۱ - ۸۸ ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۴ ص ۱۴۶ تا ۱۴۸)
نزول روحانی کی نہیں جسمانی کی ضرورت ہے
سوال ..... اسلامی دوران یعنی رسالت محمدیہ میں نزول جسمانی ابن مریم کی کیا ضرورت ہے۔ بنی آدم پر تسلط شیطانی روحانی ہے۔ جس کے دفعیہ کے لیے نزول مسیح بھی روحانی ہونا چاہیے۔ مسیحیوں کا خود عقیدہ ہے کہ مسیح کا نزول ثانی جلالی ہوگا۔ (شیخ قاسم علی اورسیر)
جواب ..... جتنے انبیاء کرام علیہم السلام آئے ہیں وہ ایسے ہی اوقات میں آئے کہ شیطان کا لوگوں پر غلبہ تھا۔ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ (المجادلة ۱۹) تو کیا انبیاء کی پیدائش جسمانی تھی یا روحانی (وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً) الرعد ۳۸) مسیحیوں کا عقیدہ جلالی کے معنی ہیں۔ باحکومت۔ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے بلکہ ہمارے زمانہ کے
غیر اصلی مسیح قادیانی کا بھی یہی عقیدہ ہے۔
(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ ص ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳ اور ازالہ اوہام ص ۱ خزائن ج ۳ ص ۵۱، فتاویٰ ثنائیہ ج ۲ ص ۱۵۲۔۱۵۳)
نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن وحدیث کی وضاحت
سوال ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں میرے اور بہت سے احباب کے ذہنوں میں کافی الجھن پائی جاتی ہے۔ میں نے اس موضوع پر تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے، قرآن کا بھی، لیکن میں نے ان دونوں چیزوں میں بڑا تضاد پایا ہے یا پھر ہماری عقل ناقص کا قصور ہے۔
قرآنی آیات واحادیث سے قطع نظر سب سے پہلے اگر ہم عقلی دلائل سے اسی عقیدے کا جائزہ لیں تو کیا یہ بات سامنے نہیں آتی کہ یہ عقیدہ شیعوں اور یہودیوں سے منتقل ہو کر ہماری جماعت میں آ گیا ہے۔ تمام مذاہب میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ نزول عیسیٰ اور زندہ اٹھائے جانے کے بارے میں قرآن خاموش ہے اور احادیث میں ملتا ہے لیکن تضاد ہے۔
امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی وغیرہ جیسی اہم شخصیات بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی منکر ہیں۔ میرے خیال میں عقیدہ ختم نبوت اور عقیدہ نزول مسیح ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ بات اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر تو ہمارے پاس نہیں آ گئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور سولی پر چڑھانے کی سمجھ آتی ہے مگر رفع کی سمجھ نہیں آتی۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو کیا کریں گے۔
میری گزارش پر تنقیدی نگاہ ڈال کر قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے حتمی خیالات سے آگاہ فرمائیں۔ ڈاکٹر ہمایوں مرزا، سیالکوٹ
جواب ...... محترم ڈاکٹر ہمایوں مرزا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے خط میں اٹھائے گئے نکات پر ہماری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ آپ نے صرف ایک پہلو پر نظر فرمائی ہے جو منفی ہے اور مثبت پہلو سے صرف نظر فرمائی ہے جبکہ ناقد کے لیے دونوں پر نظر رکھنا لازم ہوتا ہے۔ میں مختصراً ہی کچھ لکھ سکوں گا۔ تفصیلاً ان موضوعات پر سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آپ جیسے حساس آدمی کی نظر سے اوجھل نہ ہونا چاہیے۔ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی جس الجھن کا ذکر فرمایا ہے اگر اس کے بارے میں قرآنی آیات، احادیث یا باقی معلومات جو آپ کے ذہن اور مطالعہ میں محفوظ ہیں، اگر آپ ان کو ذکر فرما دیتے تو غور و فکر کی راہیں کھلتیں اور افہام و تفہیم میں سہولت ہوتی۔ آپ کے دلائل کا وزن بھی معلوم ہوتا اور ہمیں غور کرنے کے لیے کوئی نکتہ ہاتھ آتا۔ آپ نے لکھا ہے ”میں نے اس موضوع کی تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے اور اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے، وہ بھی میری نظر سے گزرا ہے لیکن میں نے ان دونوں میں بڑا تضاد پایا ہے۔“ ملخصاً۔ لیکن آپ نے پورے خط میں کوئی ایک تضاد بھی ثبوت میں پیش نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ”آیات واحادیث میں ہرگز کوئی تضاد نہیں۔ تضاد آپ کے ذہن اور فہم میں ہے۔“
قرآنی آیات واحادیث سے قطع نظر ...... آپ مسلمان ہیں۔ قرآنی آیات واحادیث سے آپ ایک آن کے لیے بھی قطع نظر نہیں کر سکتے تاوقتیکہ اللہ و رسول ﷺ کے حکم سے آزاد ہو جائیں۔ عقلی دلائل قرآن وسنت کے بعد آتے ہیں۔ یاد رکھیں عقل چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے۔ بہت افسوس ہے کہ آپ بلا دلیل ان عقائد کو یہودیوں کی طرف سے فرما رہے ہیں۔ جناب یہود و نصاریٰ ہوں یا کوئی اور، اسلام دوسروں کی ہر بات کو رد نہیں
کرتا۔ وہ تو اہلِ کتاب کو دعوت دیتا ہے۔
تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ...... (آل عمران، ۶۴) ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں (مشترک) ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنائے اللہ کے سوا۔‘‘
دیکھا کتابی کافروں سے ایک نکتہ وحدت پر متحد ہونے کی فرمائش ہو رہی ہے۔ کیا یہود و نصارٰی یا ہندو، پارسی کوئی بھی خدا کو ماننے کا اعلان کرے تو ہم اس کی اس بات سے انکار کریں گے؟ اگر وہ جان و مال، عزت کی حرمت کا اعلان کریں تو ہم مخالفت کریں گے؟ اگر وہ انبیائے کرام کی نبوت و رسالت اور قیامت پر ایمان لانے کا اعلان کریں تو ہم ان باتوں میں بھی ان کی مخالفت کریں گے؟ اگر کوئی یہودی بدکاری، شراب، جوا، قتل ناحق، سود، رشوت وغیرہ کے خلاف تحریک چلائے تو ہم ان برائیوں کی حمایت کریں گے کہ یہودیت ہے؟ قرآن کریم نے واضح حکم دیا ہے:
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ۲) ”نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ و زیادتی میں ایک دوسرے کی مذمت کرو۔‘‘
پس اسرائیلی روایات تمام کی تمام نہ قابلِ رد ہیں نہ قابلِ تسلیم، جو اسلامی احکام و روایات کے موافق ہیں ان کو تسلیم کیا جائے گا جو مخالف ہیں ان کو رد کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
حدثوا عن بنى اسرائيل ولا حرج. (ترمذی ج ۲ ص ۹۱) بنی اسرائیل سے باتیں نقل کرو، کوئی حرج نہیں۔
کیا یہ عقیدہ یہود یا شیعہ سے نقل ہوکر ہمارے ہاں آگیا ہے؟
آپ کا یہ فرمانا کہ ”حیات مسیح یا امام مہدی کا عقیدہ شیعہ اور یہود سے ہوکر ہماری جماعت میں آ گیا ہے“ درست نہیں۔ نہ اس پر آپ نے کوئی ثبوت دیا نہ حوالہ، جبکہ صحیح احادیث سے یہ دونوں باتیں ثابت ہیں اور حیات مسیح کا مسئلہ تو خود قرآن کریم میں موجود ہے۔ آپ کا یہ فرمانا بھی غلط ہے کہ ”قرآن کریم حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں صرف اور صرف احادیث میں ملتا ہے۔“ جی نہیں۔ آپ کو مغالطہ ہوا ہے۔ یہودی مسیح ؑ کے دشمن تھے۔ انھوں نے آپ کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ناکام کر دیا۔ قرآن میں ان کے اس قول کو رد کیا گیا ہے کہ
إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ....... بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ. (النساء ۱۵۷، ۱۵۸) ”ہم نے مسیح ؑ اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ آپ کو سولی دی بلکہ ان کے لیے ان کی شبیہہ کا ایک بنا دیا گیا...... (پھر فرمایا) بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔‘‘
پھر ارشاد فرمایا:
وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ. (النساء ۱۵۹) کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے۔
رفع یعنی اٹھانے کا لفظ قرآن میں کہیں وفات اور موت کے معنی میں استعمال نہیں ہوا تو یہاں بھی موت
کے معنی میں نہیں بلکہ رفع یعنی اوپر اٹھانے کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے جو اس کا حقیقی معنی ہے۔
احادیث مقدسہ حضرت النواس بن سمعانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علامات قیامت میں سے دجال کا ذکر فرمایا، اس کے شعبدے بیان فرمائے...... اسی اثناء میں آگے چل کر آپ نے فرمایا:
هو کذلک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عند المناره البیضاء شرقی دمشق بین مهر و ذتین و اضعا کفیه علی اجنحة ملکین اذا طاطا راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان کاللو لو فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسه الا مات و نفسه ینتهی حیث ینتهی طرفه فیطلبه حتی یدرکه بباب لد فیقتله ثم یاتی عیسی قوم قد عصمهم اللہ منه فیمسح عن وجوههم و یحدثهم بدرجاتهم فی الجنه......
(صحیح مسلم ج ۲ ص ۴۰۱)
”دجال اسی حال میں ہوگا کہ اچانک اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا۔ وہ جامع دمشق کے سفید مشرقی منارے کے پاس اتریں گے۔ زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس، دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے، سر جھکائیں تو پسینے کے قطرے گریں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح قطرے جھڑیں گے۔ ان کے سانس کی خوشبو جو کافر سونگھے گا، مر جائے گا۔ ان کے سانس وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی۔ آپ دجال کو تلاش کریں گے۔ باب لد کے پاس اسے پکڑ کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس تشریف لائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بچایا ہوگا۔ ان کے چہروں سے غبار پونچھیں گے اور جنت میں ان کے درجے انھیں بتائیں گے۔“
علامات قیامت کے بارے میں طویل حدیث کا صرف متعلقہ حصہ ہم نے نقل کر دیا ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔
لا یدخل المدینه رعب المسیح الدجال ولها یومئذ سبعة ابواب علی کل باب ملکان۔
(صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۰۵۵)
”مسیح دجال کا رعب مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوگا۔ اس دن مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے پہرہ دیں گے۔“
آقائے دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح دجال مدینہ منورہ کے نواح میں آئے گا۔
ترجف ثلث رجفات فیخرج الیه کل کافر و منافق۔
(ایضاً)
”مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے جن کے نتیجہ میں ہر کافر و منافق اس کی طرف چل نکلے گا۔“
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد و ثناء فرمائی پھر دجال کا ذکر فرمایا۔ میں تمھیں اس کے بارے میں خبردار کرتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے خبردار نہ کیا ہو لیکن میں تمھارے سامنے اس کے متعلق ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔
انه اعور و ان اللہ لیس باعور۔ (ایضاً) ”بے شک وہ کانا ہے جبکہ اللہ اس عیب سے پاک ہے۔“
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
فینزل عیسی بن مریم فاذا راہ عدو اللہ ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلوترکه الماء فلوترکه
لانذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه فى حربته. (صحیح المسلم ج ۲ ص ۳۹۲)
”عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے لوگوں کی امامت فرمائیں گے۔ جب ان کو اللہ کا دشمن (دجال) دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک حل ہوتا ہے۔ اگر آپ اسے چھوڑ دیں تو پگھل کر ہی ہلاک ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے ہاتھ سے قتل کرے گا۔ پھر اس کا خون نیزے میں لگا ہوا لوگوں کو دکھائے گا۔“
اختصار کے پیش نظر یہ چند صحیح احادیث پیش کی گئیں۔ اب ایک مسلمان تو اپنے نبی ﷺ کے فرمان پر اعتماد و یقین کرتا ہے۔ رہے آپ کے امامان انقلاب، تو ان کے دلائل آپ تلاش کر کے ہمیں بھی بتائیں۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ کے فرمان پر اطمینان ہے اور ہم اس کے خلاف کسی رائے کو ذرہ بھر وقعت نہیں دیتے بلکہ بالکل سرے سے وقعت ہی نہیں دیتے اور اسے پائے حقارت سے ٹھکراتے ہیں۔
آپ کے تمام خدشات کا جواب ہو گیا ہے لیکن حرف بحرف ظاہر ہے کہ ہمیں بیسیوں صفحات پر کرنا پڑے، جس کے لیے ہمارے پاس وقت بھی نہیں، فرصت بھی نہیں اور کسی اصول کی پابندی نہ کرنے والے حضرات کی آراء پر وقت ضائع کرنا ضروری بھی نہیں۔ اگر ان باتوں پر کسی کے پاس قرآن وسنت سے یا کم از کم عقل سے ہی کوئی مضبوط دلیل ہے تو پیش کرے۔
ویسے بولتے چلے جانا اور نصوص کی پرواہ نہ کرنا کسی مسلمان کی روش نہیں۔ ہم نے جو لکھا باحوالہ لکھا ہے۔ ہم اپنے عقائد پر مطمئن ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت و اطمینان دے۔ آمین۔ واللہ اعلم ورسولہ۔
عبدالقیوم خان (منہاج الفتاویٰ ج اول ص ۴۴۷۔۴۵۳)
نوٹ ...... مولانا ابوالکلام آزادؒ یا مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی طرف نزول مسیح کے انکار کی نسبت بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ یہ دونوں حضرات جمیع امت مسلمہ کی طرح حیات ونزول مسیح کے قائل تھے۔ (مرتب)
بیان امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ
عرصہ ہوا۔ میں نے مرزا قادیانی کا نوشتہ (براہین احمدیہ ص ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) میں پڑھا تھا کہ آیت ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله سیاسی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے تو سب ادیان پر اسلام کو غلبہ ہوگا۔“ میں بلکہ بہت سے مسلمان مرزا قادیانی کی اس تحریر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے منتظر رہے۔ جب ہماری آنکھیں پتھرا گئیں تو خدا خدا کر کے قادیان سے آواز آئی کہ جس عیسیٰ موعود کے تم منتظر تھے وہ میں ہوں۔ تو بیساختہ ہمارے منہ سے نکلا
آب از جوئے رفتہ باز آمد
اس لیے ہم اس سیاسی غلبہ کے منتظر رہے۔ جو جناب مرزا قادیانی کے (براہین احمدیہ کے ص ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) پر مسیح موعود (کی آمد سے متعلق) لکھا تھا اور ہم بہت خوش تھے کہ اب مسلمانوں کو ایک ایسا روحانی لیڈر مل گیا جو ان کو اسلام کے پہلے عروج پر بلکہ اس سے بھی اوپر پہنچائے گا۔ مگر واقعات نے ثابت کر دیا کہ
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو
آہ ۔ ہماری بدنصیبی اور سیاہ بختی کی کوئی حد نہیں رہی۔ جب کہ ہم نے اس مسیح موعود کو یہ کہتے سنا جو ہم کو غیروں کی غلامی سے آزاد کرانے اور دین اسلام کو بام عروج پر پہنچانے کو آیا تھا۔ اس کی قلم کے لکھے ہوئے الفاظ جب ہم نے پڑھے کہ ”انگریزوں کی حکومت کو اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کی حکومت سمجھو۔“
(رسالہ ضرورت امام بتصریح یہ الفاظ ص ۲۳ خزائن ج ۱۳ ص ۴۹۴)
ساتھ ہی اس کے یہ امر ہماری حیرت میں اضافہ کرنے کو کافی سے زیادہ ثابت ہوا۔ جب ہم نے ان کی تحریروں میں یہ بھی پڑھا کہ ”اِن یاجوج وماجوج ھم النصاریٰ من الروس والاقوام البرطانیۃ انگریزی قوم یاجوج ماجوج ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ۲۸ خزائن ج ۷ ص ۲۰۹-۲۱۰)
ہم حیران ہوئے کہ الٰہی یہ دو مقدمات کیسے صحیح ہیں۔
- (۱)...... انگریز یاجوج ماجوج ہیں۔ (۲)...... انگریز ہمارے اولی الامر منکم ہیں۔
ان دونوں مقدموں کا نتیجہ منطقی اصول سے تو یہی برآمد ہوتا ہے کہ ”ہم (مرزائی یا مرزا کو ماننے والے) یاجوج ماجوج کے متبع ہیں۔ واللہ یہ نتیجہ سمجھ کر ہمارے دل کانپ اٹھے کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے۔ وہ عیسیٰ مسیح موعود جو مسلمانوں کے سیاسی غلبہ اور دینی ترقی کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے آج اپنے اتباع کو یاجوج ماجوج کے ماتحت رہنے کا۔ بلکہ ان کو اپنے میں سے جاننے کا حکم دیتے ہیں۔ یاللعجب۔
اس کے علاوہ ہم نے دنیا کے واقعات پر غور کیا تو ناقابل تردید صداقت یہ پائی کہ مرزا قادیانی کے پیدا ہونے اور دعوٰیٰ مسیحیت کرنے سے پہلے مسلمانوں کی سیاسی حالت جو تھی وہ آج سے بہت اچھی تھی۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں ان کی آزاد حکومتیں تھیں۔ ان کو سیاسی اعزاز حاصل تھا۔ مگر جوں ہی اس مسیح موعود نے ظہور فرمایا۔ وہ سیاسی کیفیت تبدیل ہونے لگی۔ یہاں تک کہ یہ منحوس آواز بھی ہم نے سنی کہ قسطنطنیہ پر غیر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا جو بہادر جوانمرد (غیر مسیح موعود) کی ہمت سے اٹھ گیا۔ لِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
یہ تو ہوئی مسلمانوں کی سیاسی کیفیت۔ اس کے علاوہ مذہبی کیفیت میں بھی اسلام کچھ ترقی نہ کرسکا۔ نہ مسلمانوں کی مردم شماری میں نمایاں ترقی ہوئی۔ نہ اقتصادی امور میں کچھ کامیاب ہوئے بلکہ جس مذہب عیسویت کو مٹانے کے لیے (فرضی) حضرت مسیح موعود تشریف لائے تھے۔ اس کی دن دگنی، رات چوگنی ترقی ہوئی۔ دور نہ جائیں اور کبوتر کی طرح ہم آنکھیں بند نہ کریں۔ تو ہم کو مسیح موعود مرزا قادیانی کے اپنے ملک میں نظر آتا ہے۔ کہ ان کے دعوے سے پہلے عیسائی چند نفوس تھے۔ مگر آج صرف پنجاب میں نصف کروڑ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
یہ ہیں واقعات جو ہم کو مرزا قادیانی کے مذہبی اور ملکی رہنما بنانے میں مانع ہیں اور بیساختہ ہمارے قلم سے یہ شعر نکل رہے ہیں ؎
جب جانیں کہ درد دل عاشق کی دوا ہو
اہلحدیث امرتسر ص ۴ ۔ ۱۲ صفر ۱۳۴۳ھ (فتاویٰ ثنائیہ ج اوّل ص ۲۷۵ تا ۲۷۷)
خروج دجال و نزول عیسیٰ علیہ السلام:
سوال:...... پنجاب کے بعض عالم کہتے ہیں، کہ دجال کا کچھ وجود نہیں، دجال یہی حاکم ظالم ہیں اور جنت و نار اس کی ہی ریل گاڑی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ عیسیٰ موعود میں ہوں، اس واسطے علمائے دیندار
اہلسنت والجماعت سے استفتاء ہے کہ پنجاب کے اس عالم کے یہ اقوال سچ ہیں یا محض غلط، بیان کرو، کہ عوام کا شک و شبہ رفع و دفع ہو جائے۔
الجواب...... آنحضرت ﷺ سے بارہ تیرہ صحابی و صحابیہ حذیفہ بن اسید الغفاری و ابو ہریرہ و عمران بن حصین و عبداللہ بن مسعود و انس بن مالک و حذیفہ بن یمان و نواس بن سمعان و ابو سعید خدری و ابی بکرہ و فاطمہ بنت قیس و عبداللہ بن عمرو ابی عبیدۃ بن الجراح و اسماء بنت یزید بن السکن و مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہم) روایت کرتے ہیں کہ قرب قیامت کے دجال ظاہر ہوگا اور شبیہ عبدالعزی بن قطن کے ہوگا، کہ یہ مشرکین میں سے گزرا ہے۔ اور وہ مثل ابر کے تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور قیام اس کا چالیس دن ہوگا۔ ایک دن مثل برس کے، اور ایک دن مہینے بھر کا ہوگا اور ایک دن ہفتہ بھر کا ہوگا۔ باقی دن اپنے حال پر بدستور رہیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا، کہ برس دن کی نماز کیوں کر ادا ہوگی۔ آیا ایک دن کی نماز کافی ہوگی، فرمایا نہیں، وقت کا اندازہ کر کے پانچوں نمازیں پڑھتے رہنا، اور (مشکوٰۃ شریف باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجال ص ۴۷۲) میں دجال کا احوال دیکھنا چاہیے، یہاں ایک دو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں، اور دجال کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور مشکوٰۃ میں ایک خاص باب نزول عیسیٰ علیہ السلام کا منعقد کیا ہے سب احوال عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا اس باب میں دیکھنا چاہیے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بیان صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں مفصلاً مذکور ہے اور قرآن شریف میں سورہ زخرف سے نازل ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صاف واضح ہوتا ہے۔ وانہ ای عیسی لعلم للساعة تعلم بنزوله و قرأ ابن عباس بفتحتین للمبالغة کذافی الکمالین اور اسی طرح سے تفسیر مدارک و بیضاوی و کبیر و معالم وغیرہ میں مذکور ہے۔
وانہ بدرستیکہ عیسیٰ علیہ السلام لعلم للساعة علم است مر ساعت را یعنی بدو بدانند، کہ نزدیک است قیامت چہ یکے از علامات قیامت نزول عیسیٰ علیہ السلام است کہ بعد از تسلط دجال از آسمان بر زمین فرود آید، نزدیک منارۂ بیضاء در طرف شرقی دمشق و جامہ رنگین پوشیدہ باشد و ہر دو کف دست خود را بر بالہائے دو فرشتہ نہادہ در رخسارہ مبارکش عرق کردہ چون سر در پیش افگند قطرات از و ریش ریزان گردد و چون سر بالا کند آن قطرہا بر روئے وے چون مروارید روان شود، و نفس وے بر ہر کافر کہ رسد، بمیرد، و ہر جا کہ چشم وے افتد نفس وے برسد، پس در طلب دجال رواں گردد، در باب لُد کہ موضعے است در ولایت شام بدو رسد و او را بکشد انگہ یاجوج ماجوج بیروں آیند، و عیسیٰ علیہ السلام بکوہ طور برد مومناں را و آنجا متحصن گردد، القصہ چوں معلوم شد، کہ عیسیٰ علیہ السلام نشانہ قرب قیامت است کذافی التفسیر الحسینی۔
اور اس آیت کی مفسر حدیثیں صحاح ستہ کی ہیں۔ کما لا یخفی علی الماہر بہذا الفن، پس منکر نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فاسق ہے، بلکہ کافر، کیونکہ صریح نص کا منکر ہے اور تاویل اس کی باطل اور مردود و خلاف سبیل مومنین کے ہے۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی و یتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی و نصلہ جہنم۔ (النساء آیہ ۱۱۵) کا مصداق اور وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں۔ آپ کے نازل ہونے سے قیامت کے وقت کا قرب معلوم ہو جائے گا۔ عبداللہ بن عباس لعلم کو مبالغہ کے لیے بفتحتین پڑھتے تھے۔ کمالین میں ایسا ہی منقول ہے۔ جو آدمی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کی نافرمانی کرے اور ایمانداروں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راہ اختیار کرے تو ہم اس کو جدھر جاتا ہے جانے دیں گے اور بالآخر اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔
(مشکوۃ کے باب العلامات بین یدی الساعة و ذكر الدجال ص۴۷۳) میں ہے عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله ﷺ الدجال فقال ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم و ان يخرج و لست فيكم فامرء حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافية كانى اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف وفى رواية فليقرء عليه بفواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا و عاث شمالا يا عبادالله فاثبتوا قلنا يارسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوما يوم كسنة و يوم كشهر و يوم كجمعة وسائرا يامه كا يامكم قلنا يارسول الله فذلك اليوم الذى كسنة ايكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يارسول الله وما اسراعه فى الارض قال كالغيث استد برته الريح فياتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيأمر السماء فتمطرو الارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ماكانت ذرى و اسبغه ضرو عاوا مده خواصر ثم ياتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شئ من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزک فتتبعه كنوزها كيعا سيب النحل ثم يدعو رجلا ممتليا.
اور وہ قیامت کا ایک نشان ہیں یعنی عیسیٰ ؑ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں، ان کے آنے سے قیامت کا وقت قریب ہونا معلوم ہو جائے گا، شرط دال علی الشی کو علم سے تعبیر کیا کیونکہ ان کے آنے سے قیامت کا علم ہو جائے گا۔ عبداللہ بن عباسؓ نے اس کو علم پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی ہیں۔ تفسیر کبیر کا خلاصہ ختم ہوا عیسیٰ ؑ کا نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ عبداللہ بن عباسؓ ابو ہریرہؓ، قتادہؓ وغیرہ نے اس کو علم پڑھا ہے۔ جس کے معنی علامت اور نشانی ہے۔
شابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحک فبينما هو کذلک اذبعث الله المسيح بن مريم فينزل عندالمنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطاء رأسه قطرو اذا رفعه تحدر منه مثل جمان كا للؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الامات و نفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم ياتى عيسى قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم و يحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذالک ذا وحى الله الى عيسى انى قد اخرجت عبادالى لا يدان لا حد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور فيبعث الله ياجوج وماجوجوهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون مافيها ويمر اخرهم فيقول لقد كان بهذه مرة ماء و يحصر نبى الله عيسى عليه السلام واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرا من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسى و اصحابه فيرسل الله عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الله عيسى واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر الاملاہ زهمهم و نتنهم فيرغب نبى الله عيسى و اصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كا عناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله مطرا لايكن منه بيت مدرولا و برفيعسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتى ثمرتک وردى بركتک فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة و يستظلون
بقحفها ويبارك في الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفي الفا من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبينما هم كذلك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهم تحت اباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم و يبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة (رواه مسلم ج ۲ ص ۴۰۱، ۴۰۲) باب ذكر الدجال الرواية الثانية وهى قولهم تطرحهم النهبل الى قوله سبع سنين رواه الترمذى.
حضرت نواس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کا ذکر کیا، پس فرمایا اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو تم سب کی طرف سے میں اس سے جھگڑوں گا۔ اگر میرے بعد نکلا، تو ہر ایک شخص خود اس سے جھگڑے گا اور اللہ میرا خلیفہ ہے، ہر مسلمان پر، وہ دجال جوان ہوگا، گھونگریالے بال والا، اس کی آنکھ نکلی ہوئی ہوگی، یعنی کانا ہوگا، بس ایسا ہوگا، جیسے عبدالعزیٰ بن قطن کو جانتے ہو، سو جو اس کو پائے، تو اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں ضرور پڑھ لے کیونکہ وہ اس کے فتنہ سے اس کو بچائیں گی، وہ شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلنے والا ہے، اور داہنے بائیں (گویا ہر طرف) دوڑنے والا ہے۔ سو اللہ کے بندو ثابت رہنا ہم نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ زمیں میں کس قدر ٹھہرا رہے گا، فرمایا چالیس دن، ایک دن سال بھر کا۔ ایک دن مہینہ بھر کا۔ ایک دن ہفتہ بھر کا اور باقی دن یہ تمھارے معمولی دن ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا، یا حضرت تو اس سال بھر کے دن میں ایک دن کی نماز ہم کو کافی ہوگی یا نہ فرمایا نہیں، ان معمولی دنوں کے اندازے سے پڑھتے رہنا (اور مہینے اور ہفتے بھر کا دن بھی اسی قیاس پر) ہم نے پوچھا، حضرت اس کا جلد جلد پھرنا زمین میں کیسا ہوگا، فرمایا جیسے ہوا ابر کو پھیلاتی ہے، سو وہ دجال ایک قوم کے پاس آئے گا، اور ان کو اپنے دین کی طرف بلائے گا۔ وہ اس کا کہنا مان لیں گے، تو آسمان کو حکم کرے گا، خوب بارش ہوگی اور زمین میں سبزی خوب اُگے گی، اور ان کے مویشی کھا کھا کر خوب پلیں گے، اور دودھیلے ہوں گے۔ اور ایک قوم کے پاس آئے گا، ان کو بھی اپنی طرف بلائے گا۔ وہ اس کا کہنا نہ مانیں گے، وہاں سے چلا آئے گا، اور وہاں بارش بند ہو جائے گی اور وہ لوگ نہایت مفلس ہو جائیں گے، پاس کچھ بھی تو نہ رہے گا اور کھنڈرات میں جائے گا، اس کو کہے گا، اپنے سب خزانے نکال، تو سب کے سب دفینے نکل کر اس کے ساتھ شہد کی مکھیوں کی طرح ہولیں گے۔ اور پھر ایک جوان کو بلائے گا، اور پھر اس کو تلوار سے مار کر دو ٹکڑے کر دے گا، اور ادھر ادھر نشانے کی طرح پھینک دے گا، اور پھر اس کو بلا کر دوبارہ مارے گا، اور وہ شخص منہ چمکتا ہوا ہنسے گا، سو دجال اسی اوج موج میں ہوگا، کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو (آسمان سے) اتارے گا، سو وہ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔ دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے سر کو جھکالیں گے، تو پسینے کے قطرے گریں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کے سے قطرے اتریں گے۔ سو جس کافر کو ان کے سانس کی بو پہنچے گی، بس مر ہی جائے گا، اور جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی وہیں تک ان کا سانس پہنچے گا، سو اس کو باب لُد پر پا کر مار ڈالیں گے۔ فقط
یہ ترجمہ ہم نے نواس بن سمعانؓ کی حدیث کا بقدر ضرورت کیا ہے۔ سو سائل کو ثبوت خروج دجال لعنہ اللہ اور نزول حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام میں کافی وافی شافی ہے۔ جس کو تفصیل درکار ہو، مشکوٰۃ شریف میں پورے باب کو تحقیق کی نظر سے دیکھ لے، یہی خلاصہ صحاح ستہ وغیرہ کتب حدیث کا ہے۔ اگر کوئی نہ مانے تو اس کو اختیار ہے اور وہ بعض عالم پنجاب کے جو اس کے خلاف کے قائل ہیں، وہ نادان، جاہل و پاگل اور کاذب
ہیں۔ بلکہ اہل علم کے زمرے کی بو سے بھی بے نصیب اور محروم ہیں، اور منجملہ فرق اہل الحاد ہیں۔ نعوذ باللہ من شرہ۔ (حررہ ابو اسمعیل یوسف حسین الخانفوری عفی عنہ.)
وانہ لعلم للساعة، اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام خبر دینے والے ہیں۔ قیامت کی ، یعنی ان کا اترنا آسمان سے ایک نشانی ہے قیامت کی، دجال کے پیدا ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، اور دجال کو قتل کریں گے، پھر یاجوج ماجوج پیدا ہو کر سارے عالم کو خراب کریں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام مومنوں کو لے کر کوہ طور پر جا کر چھپیں گے، غرضیکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہیں قیامت کی ، تمام ہوئی عبارت شاہ عبدالقادر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی، پس پنجاب کا وہ عالم بلاشبہ نصوص مذکورہ بالا کا منکر ملحد ہے، بلکہ کافر کما لا یخفی علی الماهر بالشريعة الغراء۔ حررہ خادم العلماء الطاف حسین فاضلپوری۔
فی الواقع جواب اول و دوم بلاریب صحیح ہے، کیونکہ قریب قیامت کے ظاہر ہونا دجال کا بعد اس کے اترنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور قتل کرنا دجال کا برحق ہے اور منکر اس کا ضال و مضل و ملحد و بددین اور مخالف اجماع مسلمین کے ہے، چنانچہ کتب صحاح ستہ و دیگر کتب سیر اس پر شاہد عدل ہیں، اور تاویل مرزا قادیانی اور اس کے حواری کی نزدیک اہل حق کے باطل و مردود ہے۔ سید محمد نذیر حسین
(فتاویٰ نذیریہ ج اول ص ۱۲ تا ۱۷)
باب دوازدہم
بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت نبی کی یا امتی؟
عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت امتی کے؟
سوال....... حضور ﷺ کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور ﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے۔ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور ﷺ خاتم النبیین کیسے ہوئے؟
جواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہوگئی اور ان کی نبوت کا دور ختم ہوگیا۔ اس لیے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت ﷺ کی شریعت کی پیروی کریں گے اور آنحضرت ﷺ کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی آخرالزمان آنحضرت ﷺ ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آنحضرت ﷺ سے پہلے مل چکی تھی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۶)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی ہوں گے یا امتی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ استفتاء کے۔
- (۱)....... کیا حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا اور اس دعویٰ کی تصدیق
کرنے والا مومن ہے یا کافر؟
- (۲)....... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ اٹھایا گیا اگر اٹھایا گیا ہے تو آپ قرب قیامت میں نزول فرمائیں
گے اگر ہاں، تو بحیثیت امتی کے یا نبی کے۔
نوٹ....... جوابات قرآنی دلائل سے دیے جائیں۔
حکیم سید عبدالمجید دہلوی مالک شاہی مطب منڈی پھلروان، شاہ پور، صوبہ، پنجاب، پاکستان۔
الجواب....... حامداً و مصلیاً۔ (۱)....... حضرت محمد ﷺ کا خاتم النبیین ہونا۔ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ (الاحزاب ۴۰) لہٰذا جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ شخص نص قرآنی کا منکر ہے اور قرآن شریف کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کفر ہے۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو ایسے مدعی نبوت پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔
- (۲)....... حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (النساء
۱۵۷) اور قرب قیامت آپ نزول فرمائیں گے۔ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے اور آپ اس وقت اپنی نبوت کی دعوت نہیں دیں گے بلکہ حضور ﷺ کی ملت کی دعوت دیں گے اور خود ان کی نبوت بھی مسلوب نہیں ہوگی
بلکہ وہ محفوظ رہے گی۔ اخرج الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی البعث بسند جید عن عبداللّٰہ بن معقل قال قال رسول اللّٰہ ﷺ یلبث الدجال فیکم ماشاء اللّٰہ ثم ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقا بمحمد و علیٰ ملته امامًا مھدیا و حکمًا عدلاً فیقتل الدجال.
(الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۲۷۹)
ان عیسیٰ علیه السلام مع بقائه علیٰ نبوته معدود فی امة النبی ﷺ و داخل فی زمرة الصحابة فانه اجتمع بالنبی ﷺ وهو حی مومنا به و مصدقا و کان اجتماعه به مرات فی غیر لیلة الاسراء من جملتها بمکة روی ابن عدی فی الکامل عن انسؓ قال بینا نحن مع النبی ﷺ اذا رائینا بردا ویدا وقلنا یارسول اللّٰہ ﷺ ماهذا البرد الذین رائینا والید قال قدرأیتموہ قلنا نعم قال ذلک عیسیٰ ابن مریم سلم علیہ.
(الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۲۸۸)
انما یحکم عیسیٰ بشریعة نبینا ﷺ بالقرآن والسنة عن ابی هریرةؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ الا ان ابن مریم لیس بینی و بینه نبی ولا رسول الا انه خلیفتی فی امتی من بعدی.
(الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۲۸۸)
قال الذهبی فی تجرید الصحابة عیسیٰ ابن مریم ؑ نبی و صحابی فانه رای النبی ﷺ فهو آخر الصحابة موتا (الحاوی للفتاویٰ ج ۲ ص ۲۸۹) اس مسئلہ پر علماء حق کے مستقل رسائل شائع شدہ ہیں۔ علامہ سیوطیؒ کا ایک رسالہ ہے ”کتاب الاعلام بحکم عیسیٰ ؑ “ علامہ سبکیؒ کا ایک رسالہ ہے مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ کا بھی ایک رسالہ ہے عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ ؑ ۔ نیز شروح حدیث بذل المجہود۔ فتح الباری، عینی وغیرہ میں بھی اس کی تصریح ہے۔ فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
حررہ العبد محمود عفا اللّٰہ عنہ گنگوہی معین مفتی مظاہر علوم سہارنپور ۳ ج ۱، ۷۱ھ
الجواب صحیح: سعید احمد غفرلہ مفتی مظاہر علوم سہارنپور ۲۰ ج ۱ / ۷۱ھ۔
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱ ص ۱۱۲ تا ۱۱۴)
بعد نزول حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کی حیثیت
سوال....... حضرت عیسیٰ ؑ جب آسمان سے تشریف لائیں گے، تو کیا وہ اس وقت بھی نبی رہیں گے اور ان پر وحی آئے گی یا وہ نبوت سے معزول ہوکر آئیں گے؟
ایضاً سوال....... جب حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ تابع شریعت محمدیہ ہوں گے یا صاحب شریعت نبی ہوں گے؟ اگر وہ تابع شریعت محمدیہ ہوں گے تو شرعی احکام یعنی قرآن کریم میں درج شدہ اور امر و نواہی اور سنت رسول کریم ﷺ کا علم انھیں کیونکر حاصل ہوگا۔ اگر زبانِ عربی اور شریعت کے احکام کسی مولوی صاحب سے پڑھیں تو یہ امر ایک نبی کی شان کے خلاف نظر آتا ہے۔ اور پڑھیں بھی تو کس فرقہ کے مولوی سے؟ تمام اسلامی فرقوں کا آپس میں اختلاف ہے، حتیٰ کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اگر اس دنیا میں وہ وحی کے ذریعہ شریعت اسلامی کے احکام حاصل کریں، جس طرح ہمارے حضور اکرم ﷺ حاصل کیا کرتے تھے یعنی وحی سے یا پردہ کے پیچھے سے یا فرشتہ کی وساطت سے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ ماکان لبشر ان یکلمه اللّٰہ الا وحیاً او من وراء حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنه مایشاء انه علی حکیم و کذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا. (سورہ شوریٰ آیة ۵۱-۵۲) تو اس صورت میں وہ بھی ایک صاحب شریعت نبی بن جائیں گے۔ یا اگر آسمان پر بھی شریعت کے احکام کا علم حاصل کریں تو بھی بشر ہونے کے لحاظ سے
مندرجہ بالا انھیں تین صورتوں سے حاصل کریں گے۔ پس شریعت کے احکام یعنی اوامر و نواہی براہ راست بذریعہ وحی حاصل کرنے کی وجہ سے صاحب شریعت نبی بن جائیں گے۔ حالانکہ ہمارے نبی ﷺ آخری شریعت والے نبی ہیں۔ اس اشکال کا تفصیلی جواب دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔
الجواب ...... ان کی نبوت سلب نہیں ہوگی، بلکہ وہ محفوظ رہے گی اور وہ احکام اپنی سابقہ محفوظ نبوت کے تحت جاری نہیں فرمائیں گے جو ان کی امت کے ساتھ مخصوص تھے بلکہ حضور اکرم ﷺ کی شریعت کے موافق جاری فرمائیں گے۔
ممکن ہے کہ عین وقت پر شریعت محمدیہ کے متعلق ان کو بذریعہ وحی علم ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت اقدس ﷺ سے علم حاصل کریں کیونکہ قبر اطہر میں حئ ہیں۔ یا روح عیسوی روح محمدی سے مستفیض ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خود انجیل میں اس شریعت کے احکام کا علم ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کی ملاقات جب ہوئی اس وقت علم حاصل کر لیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ براہ راست قرآن کریم سے ان کو علم حاصل ہو جائے۔ ثم علمه باحکام شرعنا اما بعلمها من القرآن فقط اذ لم يفرط فيه من شئ انما احتجنا الى غيره لقصورنا وقد كانت احکام نبینا ﷺ كلها ماخوذة من القرآن ومن ثم قال الشافعى كل ماحكم به النبي ﷺ فهو مما فهمه من القرآن فلا يبعد ان عيسىٰ ﷺ يكون كذلك او برواية السنة عن نبینا ﷺ اخرج ابن عدی عن انس بینما نحن مع رسول اللہ ﷺ اذرأينا برداً ويداً فقلنا يارسول اللہ ﷺ ماهذا البرد الذی رأينا واليد قال قدرأيتموه قلنا نعم قال ذلك عيسى بن مريم سلم على وفی رواية ابن عساكر عنه كنت اطوف مع النبي صلى الله عليه وسلم حول الكعبة اذرأيته صافح شيئًا ولم اره قلنا يارسول الله رأيناك صافحت شيئًا ولا نراه قال ذلك اخى عيسى بن مريم انتظرته حتى قضى طوافه فسلمت عليه و حينئذ فلا مانع انه حينئذ تلقى عن النبي ﷺ احکام شريعته المخالفة لشريعة الانجيل لعلمه انه سينزل وانه يحتاج لذلك فاخذها منه بلا واسطة و في حدیث ابن عساکر الا ان ابن مریم لیس بینی و بینه نبی ولا رسول الا انه خليفة فى امتى من بعدى وقد صرح السبكى بانه يحكم بشريعة نبينا صلى الله عليه وسلم بالقرآن والسنة اما لكونه يتعلمها من نبينا ﷺ شفاها بعد نزوله من قبره ويؤيده حديث ابی یعلی والذى نفسى بيدى لينزلن عيسىٰ بن مريم ثم لئن قام على قبرى و قال يامحمد لأجيبنه اما بكونه اوحاها اليه فى كتابه الانجيل اوغيره الى قوله يوحى اليه وحى حقيقى كما فى حديث مسلم وغيره عن النواس بن سمعان وفى رواية صحيحة نعنی هو كذلك اذ اوحى اليه ياعيسىٰ انى قد اخرجت عباداً لى لا يدان لاحد بقتالهم حرز عبادى الى الطور وذلك الوحى على لسان جبريل الى قوله و عیسی بن مريم باق على نبوته و رسالته الی آخر ما قال اھ ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم.
(فتاویٰ حدیثیہ ص ۱۵۴)
حررہ العبد محمود غفرلہ، دارالعلوم دیوبند ۸/ ۸/ ۱۳۹۳ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۵ ص ۱۲۶ تا ۱۳۰)
حضرت عیسیٰ ؑ وقت نزول نبی ہوں گے یا امتی
سوال ...... میرا ایک قادیانی سے واسطہ پڑا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے لیے دلیل دی کہ حضور
نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین نہیں بلکہ نبی آتے رہیں گے جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کا تشریف لانا مسلمہ عقائد میں سے ہے۔ پھر ختم نبوت کیسی۔ آیا حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ آئیں گے اور وہ نبی ہوں گے یا امتی، وضاحت فرمادیں۔
زاہد الحق کامونکی
جواب ...... محترم زاہد الحق صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی ہاں حضرت عیسیٰ ؑ جب قرب قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے تو نبی ہی ہوں گے۔ ان کو قرآن کی تعلیم وہی خدا دے گا جس نے پہلے ان کو تورات وانجیل کی تعلیم دی ہے۔ قادیانی جھوٹے دجال کی طرح، سکول ماسٹروں سے نہ پڑھیں گے، نہ کسی انسان کی شاگردی کریں گے۔ نبی صرف خدا کے شاگرد ہوتے ہیں کسی مخلوق کے نہیں۔ قرآن کریم میں سورۃ النساء میں ہے۔
بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ. (النساء ۱۵۸) بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔
وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْداً (النساء ۱۵۹)
کوئی اہل کتاب (کتابی) ایسا نہیں جو ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔
حالانکہ آج سے دو ہزار سال پہلے تمام کتابی آنجناب پر ایمان نہیں لائے۔ کوئی ایک یہودی بھی آپ پر ایمان نہیں لایا بلکہ یہود نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ پس یہ پیشین گوئی ابھی پوری ہونی ہے۔ رہی یہ بات کہ دنیا میں دوبارہ کب تشریف لائیں گے؟ سو یہ بات اللہ ہی جانے کب تشریف لائیں گے۔ ہاں ان کا تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ہم اللہ کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیسے آئیں گے، جو اللہ لے گیا ہے وہی فرشتوں کے ہمراہ بادلوں کے درمیان ان کو دوبارہ لائے گا۔
محترم آپ مرزائیوں سے ایسی باتوں میں نہ الجھیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ جھوٹا، لعنتی، مرتد، جہنمی تھا۔ رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا، نہ ہی بنایا گیا ہے۔ واللہ اعلم و رسولہ عبد القیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج ۱ ص ۴۵۳۔۴۵۴)
رفع ونزول مسیح ؑ ختم نبوت کے منافی؟
سوال ...... مسلمانوں کا عام عقیدہ ہے کہ مسیح ؑ بجسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور واپس تشریف لائیں گے۔ برائے رفع شبہ سوالات ذیل کا جواب مطلوب ہے۔
(۱)...... مخالفین نے سب نبیوں کو تکلیف دی۔ در پے قتل ہوئے۔ لیکن آسمان پر کوئی نہ اٹھایا گیا۔ مسیح ؑ کے لیے ضرورت رفع کیا تھی۔ (۲)...... مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب ۴۰) حدیث لا نبي بعدي (ترمذی) اس حدیث اور آیت نے کسی نئے اور پرانے نبی کے آنے کی نفی کر دی۔ اس لیے عہد رسالت محمدیہ ﷺ میں حضرت مسیح ؑ کا نزول جسمانی ممتنع اور محال ہے۔ رہا یہ خیال کہ ابن مریم ؑ بحیثیت امام نازل ہوں گے۔ سو یہ گمان بھی دو وجہ سے ناجائز ہے۔ (۱)...... یہ کوئی نبی اپنے منصب نبوت سے معزول ہوکر معطل نہیں ہوسکتا۔ (۲)...... یہ کہ اس خاص زمانہ میں امامت مہدی کے لیے مقرر ہے۔ لہٰذا ابن مریم ؑ جو اسرائیلی نبی ہیں امت محمدیہ کی ظاہری امامت کے لیے مستحق نہیں ہوسکتے۔
شیخ قاسم علی
اور پیغمبر
جواب ...... پہلے نبی کو دوبارہ بھیجنا منظور خدا تھا۔ حضرت مسیح ؑ کو دوبارہ بھیجنا ہے تاکہ ان کے ہاتھ سے اشاعت اسلام ہو۔ پچھلی مسلسل زندگی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ حضرت مسیح ؑ دوبارہ آکر نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ بحال رہیں گے۔ ان کا کام قرآن کی تبلیغ بتفہیم الٰہی جیسے حضرت ہارون ؑ کی تھی۔ اس پر کیا سوال، نبوت سے معزول کیسے ہوئے؟ انبیاء کی جماعت اللہ کے نزدیک سب ایک ہے۔ تلک امۃ قد خلت۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج اول ص۳۷۲۔۳۷۳)
نزول مسیح ختم نبوت کے منافی نہیں
سوال ...... اگر حضرت عیسیٰ ؑ نزول خواہد فرمود و باز خواہد آمد آنحضرت ﷺ چگونه خاتم الانبیاء شد؟ جواب ...... معنی خاتم النبی آنست کہ بعد از نبوت محمد ﷺ نبی پیدا نشود، نبوت سابقہ مستمرہ مخالف ختم نبوت نیست۔
(فتاویٰ علماء حدیث ص۱۰۲)
قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارہ میں کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کے قریب آسمانوں سے نزول فرمائیں گے تو بحیثیت پیغمبر نزول فرمائیں گے یا امام الانبیاء ﷺ کے امتی کی حیثیت سے؟ الجواب ...... حضرت عیسیٰ ؑ کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا اور قیامت کے قریب ان کا نازل ہونا اور پھر متبع شریعت محمدی بن کر کچھ عرصہ اس دنیا میں رہنا امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔ قرآنی آیات اور احادیث متواتر المعنیٰ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ذاتی حیثیت یقیناً نبی اور پیغمبر کی ہوگی۔ انبیاء سابقین کی طرح آپ پر اللہ کی طرف سے وحی بھی ہوگی، اس کے باوجود آپ شریعت محمدی کے تابع ہوں گے البتہ یہ وحی شریعت محمدی کو بدلنے کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے ضروری احکام ہوں گے۔ لہٰذا آپ نزول کے بعد دو صفات کے ساتھ متصف ہوں گے، ایک شان نبوت اور دوسرا شان امت محمدیہ، لیکن آپ کی یہ شان نبوت حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہوگی، اس لیے کہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کو بھی منصب نبوت سے نہیں نوازا جائے گا اور حضرت عیسیٰ ؑ آنحضرت ﷺ سے پہلے نبی بن کر آئے تھے۔
کما قال الامام فخرالدین الرازیؒ : تحت قولہ تعالیٰ : وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسی المراد ان اہل الکتاب الذین یکونون موجودین فی زمان نزولہ لابد ان یؤمنوا بہ قال بعض المتکلمین انہ لا یمنع نزولہ من السماء الی الدنیا الا انہ انما ینزل عند ارتفاع التکالیف او بحیث لا یعرف اذ لو نزل مع بقاء التکالیف علٰی وجہ یعرف انہ عیسٰی علیہ السلام لکان اما ان یکون نبیًا ولا نبی بعد محمد ﷺ او غیر نبی وعزلہ غیر جائز علٰی الانبیاء وھٰذا اشکال عندی ضعیف لان انتھاء الانبیاء الی مبعث محمد ﷺ فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ فلا یبعد ان یصیر بعد نزولہ تبعًا لمحمد ﷺ۔
(تفسیر کبیر ج۱۱۔۱۲ ص ۱۰۴ سورۃ النساء ۱۵۹)
قال العلامۃ ابن البزاز الکردریؒ : واما الایمان بسیدنا عیسٰی علیہ السلام فیجب بانہ ینزل فی
الحال و خاتم الانبياء والرسل فاذا آمن بانه رسول ولم يؤمن بانه خاتم الرسل لا ينسخ دينه الى يوم القيامة لايكون مؤمنا و عيسىٰ ؑ ينزل الى الناس و يدعوا الى شريعته وسائق لامته الى دينه. (فتاوىٰ بزازية على هامش الهندية ج ٦ ص ٣٢٧ نوع فيما يتصل بها مما يجب اكفاره من اهل البدع. الثالث فى الانبياء. ومِثْلُهُ فى شرح الفقه الاكبر ص ١١٢)
(فتاوٰی حقانیہ ج ۱ ص ۲۲۸)
سوال...... اگر حضرت عیسیٰ ؑ باز نزول فرماید از عہدۂ نبوت معزول شده باز آید یا چہ؟ جواب...... نی زیرا کہ آں نبوت سابقہ خادمۂ نبوت محمدیہ ہست؟
(فتاوٰی علماء حدیث ص ۱۰۲)
حضرت عیسیٰ ؑ کا بعد از نزول تعلیم حاصل کرنا؟
سوال...... در آیت کریمہ یُعَلِّمُهُ التَّوْرٰةَ وَالاِنْجِیْل ثابت است کہ حضرت عیسیٰ ؑ بجز تورایت دیگر کتاب نخوانده پس تبلیغ قرآن چگونه خواهد کرد؟
جواب...... بعد نزول از سما بوحی الٰہی تعلیم یابد چنانکہ تعلیم تورایت ہم بوحی الٰہی حاصل کردہ بود۔ واللہ اعلم اہل حدیث امرتسر ۲۶ جمادی الاول ۱۳۴۵ھ
(فتاوٰی علماء حدیث ص ۱۰۳)
باب سیزدہم
قادیانی شبہات کے جوابات
علمائے حق کی کتب سے تحریف کر کے قادیانیوں کی دھوکہ دہی
مکرمی ومحترمی مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
سوال...... ملتان سے آپ کا ایڈریس منگوایا۔ اس سے قبل بھی میں نے آپ کو خط لکھے تھے شاید آپ کو یاد ہو مگر اب آپ کا ایڈریس بھول جانے کی وجہ سے ملتان سے منگوانا پڑا۔ عرض ہے کہ میں ایف ایس سی (میڈیکل) کر لینے کے بعد آج کل فارغ ہوں۔ میڈیکل کالج میں ایڈمشن میں ابھی کافی دیر ہے۔ اس لیے جی بھر کر مطالعہ کر رہا ہوں۔ مجھے شروع ہی سے مذہب سے لگاؤ ہے۔ ایک دوست (جو کہ احمدی ہے) نے مجھے اپنے لٹریچر سے چند رسائل دیے میں نے پڑھے۔ مولانا مودودی مرحوم کے رسائل ”ختم نبوت“ اور ”قادیانی مسئلہ“ بھی پڑھے اور احمدیوں کی طرف سے ان کے جوابات بھی۔ مولانا کے دلائل وشواہد کمزور دیکھ کر بڑی پریشانی ہوئی۔ آپ کا پمفلٹ ”شناخت“ بھی پڑھا مگر اس کا جواب نہیں ملا۔ البتہ آج کل قاضی محمد نذیر (قادیانی) کی کتاب ”تفسیر خاتم النبیین“ پڑھ رہا ہوں جو آپ کی شائع کردہ آیت خاتم النبیین کی تفسیر کا جواب ہے۔ جس میں آپ نے مولانا محمد انور شاہ صاحب کے فارسی مضمون کا ترجمہ وتشریح کی ہے۔ اصل کتاب نہیں پڑھ سکا اس لیے جواب کے استحکام کو محسوس کرنا قدرتی امر ہے۔ بہر حال احمدی لٹریچر پڑھ کر میں یہ سمجھ سکا ہوں کہ ہمارے علماء کوئی ایسی بات پیش نہیں کرتے جس سے احمدی لاجواب ہو جائیں۔ وہ ہر ایک بات کا مدلل جواب دیتے ہیں۔ وہ مشائخ کی عبارت دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ان کا نظریہ وہی ہے جو ان مشائخ عظام کا تھا۔ اس بات سے بڑی الجھن ہوتی ہے۔ کیا ہم ان شواہد کو جھٹلا سکتے ہیں۔ آخر ایسی باتیں لکھنے کا کیا فائدہ ہے جن کا مدلل جواب دیا جا سکتا ہے۔ آخر ایسی باتیں کیوں نہیں لکھی جاتیں جن سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ پھر کسی کو دودھ میں پانی ڈالنے کی جسارت نہ ہو۔ اگر ہم سچے ہیں تو ہماری سچائی مشکوک کیوں ہو جاتی ہے؟ جواب کا انتظار رہے گا۔ احقر عبدالقدوس ہاشمی
جواب...... اس ناکارہ نے قادیانیوں کی کتابیں بھی پڑھی ہیں اور قادیانیوں سے زبانی اور تحریری گفتگو کا موقع بھی بہت آتا رہا ہے، قادیانی غلط بیانی اور غلط مبحث کر کے ناواقفوں کو دھوکا دیتے ہیں، ہمارے اور ان کے بنیادی مسئلے دو ہیں۔ ایک ختم نبوت دوسرا نزول عیسیٰ علیہ السلام ۔ یہ دونوں مسئلے ایسے قطعی ہیں کہ بزرگان سلف میں ان میں کبھی اختلاف نہیں ہوا بلکہ ان کے منکر کو قطعی کافر اور خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے۔ قادیانی صاحبان اپنا کام چلانے کے لیے اکابر کے کلام میں سے ایک آدھ جملہ جو کسی اور سیاق میں ہوتا ہے۔ نقل کر لیتے ہیں۔ کبھی کسی نے غلطی سے کسی بزرگ کا قول غلط نقل کر دیا اسی کو اڑا لیتے ہیں، ان کے ناواقف قاری یہ سمجھ کر کہ جن بزرگوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ بھی قادیانیوں کے ہم عقیدہ ہوں گے دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں یہاں اس کی صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا
ہوں، آپ نے بھی پڑھا ہوگا کہ قادیانی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی کتاب ”تحذیر الناس“ کا حوالہ دیا کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے اور یہ کہ یہ امر خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ حالانکہ حضرتؒ کی تحریر اسی کتاب میں موجود ہے کہ جو شخص خاتمیت زمانی کا قائل نہ ہو وہ کافر ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
”سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو خاتمیت زمانی ظاہر ہے، ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل: ”انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى او كما قال“ (مشکوٰۃ ص ۵۶۳ باب مناقب علی بن ابی طالب) جو بظاہر بطرز مذکورہ اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا۔ گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ، باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہو گا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ۔ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔“
(تحذیر الناس طبع جدید ص ۱۸ طبع قدیم ص ۱۰)
اس عبارت میں صراحت فرمائی گئی ہے کہ:۔
- (الف)..... خاتمیت زمانی، یعنی آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا۔ آیت خاتم النبیین سے ثابت ہے۔
- (ب)..... اس پر تصریحات نبوی ﷺ متواتر موجود ہیں اور یہ تواتر رکعات نماز کے تواتر کی مثل ہے۔
- (ج)...... اس پر امت کا اجماع ہے۔
- (د)....... اس کا منکر اسی طرح کافر ہے۔ جس طرح ظہر کی چار رکعت فرض کا منکر اور پھر اسی تحذیر الناس میں ہے۔
”ہاں اگر بطور اطلاق یا عموم مجاز اس خاتمیت کو زمانی اور مرتبی سے عام لے لیجئے تو پھر دونوں طرح کا ختم مراد ہوگا۔ پر ایک مراد ہو تو شایان شان محمدی ﷺ خاتمیت مرتبی ہے نہ زمانی۔ اور مجھ سے پوچھئے تو میرے خیال ناقص میں تو وہ بات ہے کہ سامع منصف انشاء اللہ انکار ہی نہ کر سکے۔ سو وہ یہ ہے کہ۔“
(طبع قدیم ص ۹ طبع جدید ص ۱۵)
اس کے بعد یہ تحقیق فرمائی ہے کہ لفظ خاتم النبیین سے خاتمیت مرتبی بھی ثابت ہے اور خاتمیت زمانی بھی۔ اور ”مناظرہ عجیبہ“ میں جو اسی تحذیر الناس کا تتمہ ہے ایک جگہ فرماتے ہیں:
”مولانا! حضرت خاتم المرسلین ﷺ کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ آپ ﷺ اول المخلوقات ہیں۔.....“
(مناظرہ عجیبہ صفحہ ۹ طبع جدید)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:۔
”البتہ وجوہ معروضہ مکتوب تحذیر الناس تولد جسمانی کی تاخیر زمانی کے خواستگار ہیں۔ اس لیے کہ ظہور تاخر زمانی کے سوا تاخر تولد جسمانی اور کوئی صورت نہیں۔“
(مناظرہ عجیبہ ص ۱۰)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:۔
”اور اگر مخالفت جمہور اس کا نام ہے کہ مسلمات جمہور باطل اور غلط اور غیر صحیح اور خلاف سمجھی جائیں۔ تو آپ ہی فرمائیں کہ تاخر زمانی اور خاتمیت عصر نبوت کو میں نے کب باطل کیا؟ اور کہاں باطل کیا؟
”مولانا! میں نے خاتم کے وہی معنی رکھے جو اہل لغت سے منقول ہیں اور اہل زبان میں مشہور ہیں کیونکہ تقدم و تاخر مثل حیوان، انواع مختلفہ پر بطور حقیقت بولا جاتا ہے، ہاں تقدم و تاخر فقط تقدم و تاخر زمانی ہی میں منحصر
ہوتا تو پھر درصورت ارادۂ خاتمیت ذاتی و مرتبی البتہ تحریف معنوی ہو جاتے۔ پھر اس کو آپ تفسیر بالرائے کہتے تو بجا تھا۔
(مناظرہ عجیبہ ص۵۲)
مولانا! خاتمیت زمانی کی میں نے تو توجیہ کی ہے تغلیط نہیں کی۔ مگر ہاں آپ گوشہ عنایت و توجہ سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔ اخبار بالعلۃ مکذب اخبار بالمعلول نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مصدق اور مؤید ہوتا ہے۔ اوروں نے فقط خاتمیت زمانی اگر بیان کی تھی تو میں نے اس کی علت یعنی خاتمیت مرتبی کو ذکر اور شروع تحذیر ہی میں ابتدائے مرتبی کا بہ نسبت خاتمیت زمانی ذکر کر دیا۔‘‘
(مناظرہ عجیبہ ص ۵۳)
ایک جگہ لکھتے ہیں:۔ ’’مولانا! معنی مقبول خدام و الامقام...... مختار احقر سے باطل نہیں ہوتے، ثابت ہوتے ہیں۔ اس صورت میں بمقابلہ ’’قضایا قیاساتہا معہا‘‘ اگر منجملہ ’’قیاسات قضایا ہامعہا‘‘ معنی مختار احقر کو کہئے تو بجا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر لیجئے، صفحہ نہم کی سطر دہم سے لے کر صفحہ یازدہم کی سطر ہفتم تک وہ تقریر لکھی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں بدلالت مطابقی ثابت ہو جائیں اور اسی تقریر کو اپنا مختار قرار دیا ہے، چنانچہ شروع تقریر سے واضح ہے۔
سو پہلی صورت میں تو تاخر زمانی بدلالت التزامی ثابت ہوتا ہے اور دلالت التزامی اگر دربارۂ توجہ الی المطلوب، مطابقی سے کمتر ہو مگر دلالت ثبوت اور دل نشینی میں مدلول التزامی مدلول مطابقی سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کسی چیز کی خبر تحقق اس کے برابر نہیں ہو سکتی کہ اس کی وجہ اور علت بھی بیان کی جائے۔‘‘ ’’حاصل مطلب یہ کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہئے کہ منکروں کے لیے گنجائش انکار نہ چھوڑی۔ افضلیت کا اقرار ہے بلکہ اقرار کرنے والوں کے پاؤں جما دیے۔‘‘
(مناظرہ عجیبہ ص ۷۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:۔ ’’اپنا دین و ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں۔ جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
(مناظرہ عجیبہ ص ۱۴۴)
حضرت نانوتویؒ کی یہ تمام تصریحات اسی تحذیر الناس اور اس کے تتمہ میں موجود ہیں۔ لیکن قادیانیوں کی عقل و انصاف اور دیانت و امانت کی داد دیجئے کہ وہ حضرت نانوتویؒ کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتے ہیں۔ جبکہ حضرت نانوتویؒ اس احتمال کو بھی کفر قرار دیتے ہیں اور جو شخص ختم نبوت میں ذرا بھی تامل کرے اسے کافر سمجھتے ہیں۔
اس ناکارہ نے جب مرزا قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تو شروع شروع میں خیال تھا کہ ان کے عقائد خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں مگر کسی کا حوالہ دیں گے تو وہ تو صحیح ہی دیں گے لیکن یہ حسن ظن زیادہ دیر قائم نہیں رہا۔ حوالوں میں غلط بیانی اور کتر بیونت سے کام لینا مرزا قادیانی کی خاص عادت تھی اور یہی وراثت ان کی امت کو پہنچی ہے اس عریضہ میں، میں نے صرف حضرت نانوتویؒ کے بارے میں ان کی غلط بیانی ذکر کی ہے۔ ورنہ وہ جتنے اکابر کے حوالے دیتے ہیں سب میں ان کا یہی حال ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ جھوٹی نبوت جھوٹ ہی کے سہارے چل سکتی ہے۔ حق تعالیٰ شانہٗ عقل و ایمان سے کسی کو محروم نہ فرمائیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۱۳ تا ۲۱۷)
قادیانی اپنے کو ”احمدی“ کہہ کر فریب دیتے ہیں
سوال ...... آپ کے موقر جریدہ کی ۲۹ دسمبر کی اشاعت میں یہ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جہاں قادیانی حضرات کے مذہب کا شناختی کارڈ فارم میں اندراج ہوتا ہے وہاں شناختی کارڈ میں اس کا کوئی اندراج نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی فروگزاشت ہے جس سے فارم میں اندراج کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے یہاں میں یہ گزارش کروں گا کہ قادیانیوں کے لیے لفظ ”احمدی“ کا اندراج کسی طور جائز نہیں۔ یہ غلطی اکثر سرکاری اعلانات میں بھی سرزد ہوتی ہے۔ اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ بہت سے حضرات اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ قادیانیوں نے لفظ ”احمدی“ اپنے لیے کیوں اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو الفاظ ”اسمہ احمد“ آئے ہیں وہ دراصل مرزا قادیانی کی مراجعت کی پیش گوئی ہے حالانکہ چودہ سو سال سے جملہ مسلمین کا یہی اعتقاد رہا ہے لفظ ”احمد“ حضور مقبول رسول اللہ ﷺ کے لیے آیا ہے اور آپ کا نام احمد مجتبیٰ بھی تھا اور شاید مرزا قادیانی کے والد بزرگوار کا بھی یہی اعتقاد ہو، جنھوں نے آپ کا نام ”غلام احمد“ رکھا تھا۔ اسی طرح انجیل میں لفظ ”فارقلیط“ علمائے اسلام کے نزدیک حضور ﷺ ہی کی آمد کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ فارقلیط معرب ہے یونانی لفظ ”پیری کلی ٹاس“ کا جو بذات خود ترجمہ ہے عبرانی زبان میں ”احمد“ کا جس زبان میں پہلے انجیل لکھی گئی تھی اسے بھی حضورؐ کے ورود مسعود کی پیش گوئی شمار کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن قادیانی حضرات اسے بھی مرزا قادیانی کی آمد کی پیش گوئی شمار کرتے ہیں چنانچہ بجائے قادیانی کے لفظ ”احمدی“ کا استعمال قادیانی حضرات کے موقف اور ان کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے میرا ادنیٰ مشورہ یہ ہے کہ اس جماعت کے لیے لفظ قادیانی ہی استعمال کرنا مناسب ہے۔
جواب ...... آپ کی رائے صحیح ہے۔ قادیانیوں کا ”اسمہ احمد“ کی آیت کو مرزا قادیانی پر چسپاں کرنا ایک مستقل کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی (تحفہ گولڑویہ ص ۹۶ خزائن ج ۱۷ ص ۲۵۴) میں لکھتا ہے۔ ”یہی وہ بات ہے جو میں نے اس سے پہلے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔“
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۰۴۔۲۰۵)
ایک قادیانی کا خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے گمراہ کن استدلال
بخدمت جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہ
السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
جناب عالی! گذارش ہے کہ جناب کی خدمت میں مکرم و محترم جناب بلال انور صاحب نے ایک مراسلہ ختم نبوت کے موضوع پر لکھ کر آپ کی خدمت میں ارسال کیا تھا آپ نے اس مراسلہ کے حاشیہ پر اپنے ریمارکس دے کر واپس کیا ہے یہ مراسلہ اور آپ کے ریمارکس خاکسار نے مطالعہ کیے ہیں۔ چند ایک معروضات ارسال خدمت ہیں آپ کی خدمت میں مؤدبانہ اور عاجزی سے درخواست ہے کہ خالی الذہن ہو کر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرتے ہوئے ایک خدا ترس اور محقق انسان بن کر ضد و تعصب، بغض و کینہ دل سے نکال کر ان معروضات پر غور فرما کر اپنے خیالات سے مطلع فرمائیں یہ عاجز بہت ممنون و مشکور ہوگا۔
سوال ... ۱۔ جناب بلال صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید پر، جو خدا تعالیٰ کا آخری کلام ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو خاتم
النبیین مانتے ہیں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہیں، تمام آسمانی کتابیں، جن کی سچائی قرآن مجید سے ثابت ہے، ان سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج تمام ارکان اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام پر کاربند ہیں۔
آپ نے ریمارکس میں لکھا ہے کہ ”منافقین اسلام بھی اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے“۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو منافق قرار دیا ہے۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے ۔“
مکرم جناب مولانا صاحب یہ آپ کی بہت بڑی زیادتی، جسارت اور ناانصافی ہے اور ضد و تعصب اور بغض و کینہ کی ایک واضح مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف میں منافق ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے وہ کسی مولوی یا مفتی کا قول نہیں ہے اور نہ ہی آنحضرت ﷺ نے ان کے منافق ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا تھا۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا اور ان کو منافق کہنے والی اللہ تعالیٰ کی علیم و خبیر ہستی تھی جو کہ انسانوں کے دلوں سے واقف ہے کہ جس کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود یا آپ کے خلفاء نے اپنے زمانہ میں کسی کے متعلق کفر یا منافق کا فتویٰ صادر کیا ہو۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی مثال ہو تو تحریر فرمائیں یہ عاجز بے حد آپ کا ممنون و مشکور ہوگا۔
سوال ......۲ مکرم مولانا اگر آپ کے اس اصول کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ کسی انسان کا اپنے عقیدہ کا اقرار تسلیم نہ کیا جائے تو مذہبی دنیا سے ایمان اٹھ جائے گا۔ اس حالت میں ہر فرقہ دوسرے فرقہ پر کافر اور منافق ہونے کا فتویٰ صادر کر دے گا اور کوئی شخص بھی دنیا میں اپنے عقیدہ اور اپنے ایمان کی طرف منسوب نہ ہو سکے گا، اور ہر ایک شخص کے بیان کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص اپنے بیان میں جھوٹا اور منافق قرار دیا جائے گا اور یہ سلوک آپ کے مخالفین آپ کے ساتھ بھی روا رکھیں گے اور آپ کو بھی اپنے عقیدہ اور ایمان میں مخلص قرار نہ دیں گے کیا آپ اس اصول کو تسلیم کریں گے۔
کیا خدا تعالیٰ اور اس کے مقدس رسول آنحضرت ﷺ نے آپ کو ایسا کہنے کی اجازت دی ہے؟ دنیا کا مسلمہ اخلاقی اصول جو آج تک دنیا میں رائج ہے اور مانا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا جو عقیدہ اور مذہب بیان کرتا ہے اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ ایک مسلمان کو مسلمان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، ایک ہندو کو ہندو اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہندو کہتا ہے اسی طرح ہر سکھ کہلانے والے عیسائی کہلانے والے اور دیگر مذہب کی طرف منسوب ہونے والوں سے معاملہ کیا جاتا ہے اور اس اخلاقی اصول کو دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے اور ساری دنیا اس پر کاربند ہے۔ پس جب تک احمدی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ
- (۱)...... ۱...... اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔
- ۲...... اس کے سب رسولوں کو مانتے ہیں۔
- ۳...... اللہ تعالیٰ کی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
- ۴...... اللہ تعالیٰ کے سب فرشتوں کو مانتے ہیں۔
- ۵...... اور بعث بعد الموت پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
اور اسی طرح پانچ ارکان دین پر عمل کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور اسلام کو آخری دین مانتے ہیں اور قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس
وقت تک دنیا کی کوئی عدالت، دنیا کا کوئی قانون، دنیا کی کوئی اسمبلی اور دنیا کا کوئی حاکم اور کوئی مولوی، ملاں اور مفتی، جماعت کو اسلام کے دائرہ سے نہیں نکال سکتی اور نہ ہی ان کو کافر یا منافق کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی دل و جان سے پیارے آقا حضرت خاتم النبیین ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل ؑ نے حضور سے پوچھا ”ایمان“ کیا ہے؟ حضور نے فرمایا:
(۲)....... اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا درست ہے۔
پھر حضرت جبرائیل ؑ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اسلام کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، قائم کرنا نماز کا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور اگر استطاعت ہو تو ایک بار حج کرنا۔ حضرت جبرائیل ؑ بولے درست ہے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ جبرائیل ؑ تھے جو انسان کی شکل میں ہو کر تمھیں تمہارا دین سکھلانے آئے تھے۔
(ملاحظہ ہو صحیح بخاری کتاب الایمان ج ۱ ص ۱۲ باب سوال جبرائیل)
(۳)...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔
- ۱....... یہ ماننا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
- ۲...... نماز قائم کرنا۔
- ۳...... رمضان کے روزے رکھنا۔
- ۴...... زکوٰۃ دینا۔
- ۵...... زندگی میں ایک بار حج کرنا۔
(صحیح بخاری کتاب الایمان ج ۱ ص ۶)
(۴)...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے۔ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے اور ہمارے ذبیحہ کو کھاتا ہے وہ مسلمان ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت اس کو حاصل ہے پس اے مسلمانو! اس کو کسی قسم کی تکلیف دے کر خدا تعالیٰ کو اس کے عہد میں جھوٹا نہ بناؤ۔
(بخاری ج اول باب فضل استقبال القبلۃ کتاب الصلوٰۃ ص ۵۶)
(۵)...... حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا: ”ایمان کی تین جڑیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہہ دے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہ کر اور اس کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ بنا اور اسلام سے خارج مت قرار دے۔
پس مسلمان کی یہ وہ تعریف ہے جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی اور جس کی تصدیق حضرت جبرائیل ؑ نے کی۔
اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہے اور مسلمان اور مومن ہے۔ اب انصاف آپ کریں کہ آپ کا بیان کہاں تک درست اور حق پر مبنی ہے۔
دوبارہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ پر غور کر لیجئے۔
جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا
تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر حق، اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے وہ حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا زیادہ کرے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے اور ہم ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہیں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض جانتے ہیں۔
اور ہم آسمان اور زمین کو گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتا ہے اور قیامت کے دن ہمارا اس پر دعویٰ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کرکے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔
ان حالات میں اب کس طرح ہم کو منکر اسلام کہہ سکتے ہیں۔ اگر تحکم سے ایسا کریں گے تو آپ ضدی اور متعصب تو کہلا سکیں گے مگر ایک خدا ترس اور متقی انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ امید ہے کہ آپ انصاف کی نظر سے اس مکتوب کا مطالعہ فرما کر اس کے جواب سے سرفراز فرمائیں گے۔ محمد شریف
جواب......
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکرم و محترم ھدانا اللہ و ایاکم الی صراط مستقیم. جناب کا طویل گرامی نامہ طویل سفر سے واپسی پر خطوط کے انبار میں ملا۔ میں عدیم الفرصتی کی بناء پر خطوط کا جواب ان کے حاشیہ میں لکھ دیا کرتا ہوں۔ جناب کی تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ جب آپ دین کی ساری باتوں کو مانتے ہیں تو آپ کو خارج از اسلام کیوں کہا جاتا ہے؟
میرے محترم! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ آپ کے اور مسلمانوں کے درمیان بہت سی باتوں میں اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اس کے منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اگر واقعتاً نبی ہیں تو ان کا انکار کرنے والے کافر ہوئے اور اگر نبی نہیں تو ان کو ماننے والے کافر۔ اس لیے آپ کا یہ اصرار تو صحیح نہیں کہ آپ کے عقائد ٹھیک وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں، جبکہ دونوں کے درمیان کفر و اسلام کا فرق موجود ہے، آپ ہمارے عقائد کو غلط سمجھتے ہیں اس لیے ہمیں کافر قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور دین قادیانی، مرزا محمود قادیانی اور مرزا بشیر احمد قادیانی، نیز دیگر قادیانی اکابر کی تحریروں سے واضح ہے اور اس پر بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں۔
اس کے برعکس ہم لوگ آپ کی جماعت کے عقائد کو غلط اور موجب کفر سمجھتے ہیں، اس لیے آپ کی یہ بحث تو بالکل ہی بے جا ہے کہ مسلمان، آپ کی جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کیوں کہتے ہیں؟ البتہ یہ نکتہ ضرور قابل لحاظ ہے کہ آدمی کن باتوں سے کافر ہو جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جو آنحضرت ﷺ سے تواتر کے ساتھ منقول چلی آتی ہیں اور جن کو گذشتہ صدیوں کے اکابر مجددین بلا اختلاف و نزاع، ہمیشہ مانتے چلے آئے ہیں (ان کو ضروریات دین کہا جاتا ہے) ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے اور منکر کافر ہے کیونکہ ’’ضروریات دین‘‘ میں سے کسی ایک کا انکار آنحضرت ﷺ کی تکذیب اور پورے دین کے انکار کو مستلزم ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا انکار پورے قرآن مجید کا انکار ہے اور یہ اصول کسی آج کے ملا، مولوی کا نہیں بلکہ
خدا اور رسول ﷺ کا ارشاد فرمودہ ہے اور بزرگان سلف ہمیشہ اس کو لکھتے آئے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کے عقائد میں بہت سی ”ضروریات دین“ کا انکار پایا جاتا ہے اس لیے خدا اور رسول ﷺ کے حکم کے تحت مسلمان ان کو کافر سمجھنے پر مجبور ہیں۔ پس اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کا حشر اسلامی برادری میں ہو تو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے جو نئے عقائد ایجاد کیے ہیں ان سے توبہ کر لیجئے ورنہ ”لکم دینکم ولی دین.“ ”والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ.“
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۰۷ تا ۲۱۲)
قرآن پاک میں احمد کا مصداق کون ہے؟
سوال...... قرآن پاک میں ۲۸ ویں پارے میں سورہ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا اس سے مراد کون ہیں جبکہ قادیانی، مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔
جواب....... اس سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں۔ کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔ (مشکوٰۃ ص ۵۱۵ باب اسماء النبی ﷺ وصفاتہ) قادیانی چونکہ حضور ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۸۔۲۲۹)
قادیانی کے دروازہ نبوت تا قیامت کھولنے کے معنی
سوال..... فتنہ قادیان کے سلسلہ میں ایک مسئلہ محض اپنی تشفی قلب کے لیے دریافت کر لینا چاہتا ہوں۔ یہ جو الزام ہے کہ انھوں نے اجراء نبوت کا دروازہ کھول کر فتنہ عظیم برپا کر دیا اس کے جواب میں وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اجراء نبوت یعنی ظہور مسیح تو اہل سنت کا متفقہ مسئلہ ہے اب گفتگو صرف تعیین شخصی میں رہ جاتی ہے کہ اس دعویٰ مسیحیت کا مصداق کون شخص ہے اور اس میں خطائے اجتہادی کی پوری گنجائش ہے اس پر کچھ مختصراً ارشاد فرما دیجئے۔
جواب....... اس کا دعویٰ صرف مسیح ہی کے ساتھ خاص نہیں جس میں شبہہ مذکورہ فی السوال کی گنجائش ہو وہ تو مسیح غیر مسیح سب کے لیے نبوت کو ممکن کہتا ہے اس کے رسائل میں اس کی تصریح ہے پھر مسیح میں بھی بقائے نبوۃ سابقہ (جو کہ موصوف کا کمال ذاتی ہے جو بعد عطا کے سلب نہیں ہوتا بدوں ظہور آثار خاصہ تشریع وغیرہ جیسا خود عالم برزخ میں یہ کمال سب حضرات کے ذوات میں باقی ہے) عطائے نبوت کو مستلزم نہیں اور منافی ختم نبوت کے عطائے نبوت ہے جس کا وہ اپنی ذات کے لیے مدعی ہے کیونکہ پہلے موجود نہ تھا تا کہ اس نبوت کو نبوت سابقہ کہا جاسکے نہ بقابہ شان مذکور اور یہ بالکل ظاہر ہے۔ (النور ص ۸ صفر المظفر ۱۳۵۵ھ)
(امداد الفتاویٰ ج ۶ ص ۱۱۵)
قادیانیوں کے دلائل اور ان کے جوابات
سوال..... ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے ثبوت اور حقانیت کے لیے مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے۔
قادیانی کے دلائل مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.
(سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۴۰)
ہمارا عقیدہ واضح ہو کہ یہ قرآن پاک کی آیت ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس کے کل یا جز سے انکار کرنا
ہمارے نزدیک موجب کفر ہے، پس ہم جماعت احمدیہ والے سیدنا حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں اور جو آپ ﷺ کو خاتم النبیین نہ مانے وہ ہمارے نزدیک مسلمان ہی نہیں لیکن لفظ خاتم کا حقیقی معنی و مفہوم سمجھنا ضروری ہے، یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ دنیا کی کسی بھی لغت میں لفظ ختم مقام مدح میں آ کر خاتم کا معنی بند کرنے والا یا روکنے والا نہیں ہے، حضرت محمد ﷺ سے پہلے کا محاورہ یا عرب کا مقولہ یا کسی عرب شاعر کا کوئی شعر تمام عربی لٹریچر میں موجود نہیں اور نہ ہی حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی عربی کتاب میں خاتم کا لفظ بند کرنے اور روکنے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے، چنانچہ لغات کی چند مشہور کتابیں ملاحظہ ہوں۔
لفظ معنی نام کتب لغت نمبر۱: خاتم نگینہ، مہر، جس پر نام وغیرہ کندہ کیے لسان العرب، تاج العروس، صحاح جاتے ہیں۔ قاموس جوہری۔ نمبر۲: خاتم انگشتری: مثل خاتم الذھب یعنی سونے لسان العرب، تاج العروس، صحاح قاموس کی انگوٹھی۔ جوہری۔ نمبر۳: خاتم گھوڑے کی جو تھوڑی سی سفیدی ہوتی ہے۔ قاموس، تاج العروس، منتہی الادب نمبر۴: خاتم گھوڑی کے تھنوں کے پاس کا حلقہ بھی خاتم قاموس، تاج العروس، منتہی الادب کہلاتا ہے۔ نمبر۵: خاتم گدی کے نیچے جو گڑھا ہوتا ہے۔ اس کو بھی قاموس، تاج العروس، منتہی الادب خاتم کہتے ہیں۔ نمبر۶: خاتم مہر کا نقش جو کاغذ پر اتر آتا ہے۔ لسان العرب وغیرہ نمبر۷: خاتم النبیین نبیوں کی زینت اور رونق مجمع البحرین ج نمبر۱
- (۱)...... اسی طرح ملا علی قاریؒ (موضوعات کبیر ص ۲۹) میں خاتم النبیین کا یہ معنی کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد
کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ ﷺ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ ﷺ کی امت سے نہ ہو۔
- (۲)...... شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ”تفہیمات الٰہیہ“ میں فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر نبیوں کے ختم ہونے سے
مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے شارع نبی بنا کر بھیجے۔
- (۳)...... ”مجمع البحار“ مصنفہ شیخ محمد طاہرؒ میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ یہ تو کہو کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین
ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
- (۴)...... ”تفسیر صافی“ میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اے علیؓ ! میں خاتم الانبیاء ہوں اور تو خاتم
الاولیاء ہے۔ تو کیا اس سے مراد یہ لیا جائے کہ حضرت علیؓ کے بعد کوئی ولی نہیں ہوگا؟
- (۵)...... ”دیلمیؒ “ کی حدیث ہے کہ میں فقراء المومنین کے ساتھ سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور میں اپنے
سے پہلے اور بعد کے سب نبیوں کا سردار ہوں۔
- (۶)...... حضرت محمد ﷺ نے حضرت عباسؓ کو خاتم المہاجرین کہا ہے، تو کیا حضرت عباسؓ کے بعد کسی نے
ہجرت نہیں کی؟
- (۷)....... سیدنا حضرت محمد ﷺ خاتم بمعنی مہر کے ہیں اور مہر کا کام تصدیق کرنا ہے، ایک سرکاری ملازم اس لیے مہر
لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ رقم یا تنخواہ میں نے وصول کی ہے نہ کہ کسی اور نے۔
- (۸)....... ایک عدالت کا حاکم اس لیے مہر لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ نوشتہ یا پروانہ میرے علم اور حکم
سے جاری ہوا ہے۔
- (۹)....... ایک بادشاہ اس لیے مہر لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ فرمان یا تحریر میرے علم اور حکم سے لکھا
یا جاری ہوا۔
- (۱۰)....... ایک ڈاکخانہ خط پر اس لیے مہر لگاتا ہے کہ تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ خط فلاں مقام سے فلاں تاریخ اور
وقت پر روانہ ہوا یا پہنچا۔
- (۱۱)....... ایک اپیل نویس اپنی مہر اس واسطے لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ مندرجہ وثیقہ کی عبارت میری تحریر
کردہ ہے۔
- (۱۲)....... کسی پارسل، بوتل یا بند خط پر مہر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ یہ چیزیں میں نے بند کی ہیں، اگر مہر سلامت نہ
رہے تو اس کے اندر کی چیز کے سلامت ہونے کا اعتبار جاتا رہتا ہے۔
- (۱۳)....... کسی مہر کے واسطے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی تحریر کے لازماً آخر میں ہو، خواہ آغاز پر خواہ انجام پر، مراد اس
سے مہر کنندہ کی تصدیق ہوتی ہے نہ کہ اس تحریر کا بند ہونا اور بند کرنا۔
یہ تو قادیانی کے دلائل تھے، آپ حضرات سے استدعا ہے کہ ان دلائل کے دندان شکن جوابات تحریر فرما کر اس نو پید فتنہ کا قلع قمع کرنے میں تعاون فرمائیں۔
الجواب....... تمام امت مسلمہ کا یہ اجماعی اور متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضور سید دو عالم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا سوائے حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کے، وہ قرب قیامت میں آسمانوں سے نزول فرمائیں گے اور دین محمدی کی احیاء اور تجدید کریں گے اور شریعت محمدی کے تابع ہوں گے۔ باقی قادیانی بدبخت اس اجماعی عقیدہ کو چھوڑ کر لفظ خاتم کے غیر مرادی اور غیر معتبر معانی کے پیچھے لگ گئے اور خاتم النبیین کا جو اجماعی معنی ہے جس پر تمام امت کا اتفاق ہے، جو آنحضرت ﷺ نے خود سمجھایا اور صحابہ کرامؓ نے سمجھا تھا اور امت کے تمام محققین، محدثین، مفسرین، ائمہ کرام اور علماء حق کا اسی پر اتفاق ہے، لیکن بدبخت قادیانیوں نے ان کا سمجھا ہوا معنی جھٹلایا اور خود اپنے من گھڑت معنی کو معتبر قرار دیا۔
قال اللہ تعالیٰ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِيْمًا.
(الاحزاب نمبر ۴۰)
فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اَنَا خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّةَ بَعْدِیْ....... یہ کئی احادیث کا مجموعہ ہے اور یہ مضمون کئی احادیث میں وارد ہوا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم ج ۴ ص ۱۷۴) لا نفی جنس ہے، جب یہ اپنے مدخول پر آ جاتا ہے تو اس کا بیخ نکال جاتا ہے، یعنی حضور انور ﷺ نے خاتم النبیین کا معنی نبیوں کا خاتمہ کرنے کا لیا، اسی لیے فرمایا لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ الخ کہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، نہ تشریعی نہ ظلی نہ بروزی مگر قادیانی بدبختوں علیہم ماعلیہم نے خاتم النبیین سے مراد حضور ﷺ کا لیا ہوا معنی چھوڑ کر اور خود بھی لغت کے تمام معنوں کو چھوڑ کر صرف تصدیق اور مہر کا معنی لیا جو امت کے لیے ہوئے معنی سے مخالف اور
متضاد ہے۔
ملا علی قاریؒ نے جو ”موضوعات کبیر“ میں آیت خاتم النبیین کا معنی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں آئے گا جو آپ ﷺ کے دین کو منسوخ کر دے اور آپ ﷺ کی امت سے نہ ہو ۔“ تو یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی طرف اشارہ ہے کہ آئیں گے مگر شرعی نبی نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے دین کے حامی بن کر آئیں گے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا قول ”تفہیمات الکبیر“ میں بھی بالکل ٹھیک ہے قادیانی اس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ وہ پھر نئے نبی کے آنے کے قائل ہیں۔
ضروری انتباہ قادیانیوں کی تحریرات میں سب دھوکہ ہے، سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ سے بے دینی کی طرف مائل کرتے ہیں، خاتم النبیین اور ختم نبوت کے اجماعی عقیدہ کے یہ لوگ منکر ہیں، لوگوں میں خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور عوام الناس کو اپنے دام میں پھنسانے کے لیے اس قسم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں تا کہ ان سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دے سکیں، ان کے پلید مذہب کی حقیقت خود ان کی اپنی تحریر کردہ کتابوں سے واضح ہوتی ہے، اگر آپ قادیانی مذہب کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنا چاہیں تو مندرجہ ذیل کتابیں منگوا کر مطالعہ کریں تا کہ ایمان بھی تازہ ہو اور دین و ایمان کے ڈاکوؤں کے فریب سے بھی نجات ملے۔ (۱)...... عشرہ کاملہ (۲)...... ختم نبوت (۳)...... تحقیق الکفر و الایمان بآیات القرآن (۴)...... دعاوی مرزا (۵)...... مسیح موعود کی پہچان (۶)...... قادیانیوں کے کفر پر علماء اسلام کا فتویٰ۔ یہ کتابیں طبع شدہ ہیں اور عام ملتی ہیں، کسی بھی مشہور کتب خانہ سے منگوا کر ضرور مطالعہ کریں۔
لفظ خاتم کی لغوی تحقیق خاتم کا معنی لغت کی رو سے: (۱)...... صراح ص ۲۸۸ میں ہے: ”ختم کردن، مہر کردن، ختمت الشی فھو مختوم، ختم شد و تمام گردانیدن یقال خَتَمَ اللّٰهُ لَهُ بِالْخَيْرِ، اتمام خواندن قرآن، اختتام بپایان بردن، نقیض الافتتاح، خاتم بفتح التاء و کسر ہا، ختام بالتاء خاتام بالالف انگشتری جمع خواتیم، خاتم الشی آخرہ، و محمد ﷺ خاتم الانبیاء بالفتح صلوٰۃ اللہ علیہ وعلیہم اجمعین: نگینے و موم مہر کنندہ وقولہ تعالیٰ: خِتٰمُهُ مِسْكٌ ۔“ (۲)...... اور ”غیاث“ ص ۱۵۳ پر: ختام بکسر موم و لک وغیرہ کہ براں مہر کنندہ (۳)...... المنجد ص ۱۶۵ الختم مایتختم به الختام الطین او کل ما یتختم بہ علی الشی جمع ختم الختم کل ما یتختم بہ الخاتم جمع خواتیم، الختام ما یختم بہ وعاقبت کل شیء، جو آنحضرت ﷺ پر صادق آتا ہے۔ (۴)...... مفردات القرآن لامام راغب اصفہانی ص ۱۴۲ پر ہے: و خاتم النبیین لانہ ختم النبوۃ ای ختمھا بمجیئہ.
مذکورہ بالا حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ خاتم ختم کرنے اور منتہیٰ الشی کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور خبیث قادیانی کے دھوکہ کو دیکھو کہ یہ لفظ کہیں بھی ختم کرنے اور انتہاء و اختتام الشی کے معنی میں نہیں لایا، خاص کر امام راغب اصفہانیؒ کی تصریح کے الفاظ۔ المنجد کا مصنف تو عیسائی ہے مسلمان نہیں، اس عیسائی کے الفاظ دیکھیں کہتا ہے۔ عاقبت کل الشی اور یہ معنی آنحضرت ﷺ پر صادق آتا ہے۔ اگر بالفرض کسی لغت میں لفظ خاتم بمعنی ختم کرنے والا نہ بھی ہو تب بھی ہمارے مدعا اور اجماعی عقیدہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ہمارے نزدیک لغات کی کتابیں معتبر ہی نہیں ہیں اور نہ ہم اپنے مدعا کے ثبوت کے لیے ان سے استدلال کرنے کے پابند ہیں، بلکہ ہمارا یہ دعویٰ قرآن پاک کے قطعی اور یقینی نصوص، احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے،
قرآن و حدیث کو چھوڑ کر لغات کی کتابوں سے استدلال کرنے والا حد درجہ کا زندیق اور ملحد ہے، اسلام سے کوسوں دور ارتداد کی شدید ظلمات میں پڑا ہوا ہے، اسلامی حکومت پر واجب کہ جو شخص قادیانی مذہب اختیار کرے تو عدم رجوع کی صورت میں اسے سزائے موت دے۔
قال الله تعالى: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ط وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا.
(الاحزاب ۴۰)
قال الحافظ ابن کثیرؒ : تحت هذه الآية فهذه الآية نص فى انه لانبى بعده واذا كان لانبى بعده فلا رسول بعده بالطريق الاولى، والاحرى لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة فان كل رسول نبی ولا ينعكس وبذلک وردت الاحادیث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة.
(تفسير القرآن العظیم ج ۳ ص ۴۹۳ مطبوعہ مصطفیٰ محمد مصر، فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۳۹۲ تا ۳۹۶)
غلام احمد قادیانی کے وسوسوں کا جواب
سوال ...... مرزا قادیانی کے بارے میں شرعی حکم اور اس کے بیان کیے گئے وسوسوں کا جواب نیز یہ کہ اس کے عقائد فاسدہ کیا تھے اور اس بدبخت شخص کا پس منظر کیا ہے اور اصولاً مسلمانوں کا ان سے کیا اختلاف ہے۔ تفصیل تحریر فرمائیں۔ ساجد گیلانی لاہور
جواب ...... محترم ساجد گیلانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! قادیانی کافر و مرتد ہیں۔ مرزا قادیانی ذہناً نیم پاگل اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا۔ قادیانی وسوسوں کا مختصر جواب حاضر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو قرآن کریم میں آخری نبی بتایا گیا ہے۔ نبی شریعت والا اور بلا شریعت کی کوئی بات قرآن و حدیث میں نہیں۔ یہ قادیانی مرتدین کی باطل تاویلیں ہیں چونکہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں لہٰذا مردود ہیں۔
حضور ﷺ نے اپنے کسی صاحبزادے کو نبی نہیں فرمایا۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ ثبوت دیں۔ اگر زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ تعلیق المحال بالمحال ہے۔ یعنی اللہ کے علم میں نہ انھوں نے زندہ رہنا تھا نہ نبی ہونا تھا جیسے قرآن میں ہے۔
قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (الزخرف ۸۱) یا رسول اللہ ﷺ! آپ فرمائیں اگر اللہ رحمٰن کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔
تو کیا اس سے اللہ کے بیٹے کا جواز نکل آیا؟ نہ بیٹا ممکن، نہ اس کی عبادت کرنا، یونہی نہ آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؑ کا زندہ رہنا ممکن، نہ نبی بننا، کیونکہ اللہ کے علم میں یہی طے تھا۔ لا نبی بعدی والی حدیث پاک کا جواب مرتد کے پاس نہ تھا اس لیے اس نے جھلا کر پوچھا اس کا کیا تک تھا؟ اس سے پوچھیں اس آیت کا کیا تک ہے کہ بیٹا ہوتا تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اللہ کا بیٹا ہو سکتا ہے؟
قرآن کریم میں حضور ﷺ کو خاتم النبیین، یعنی آخری نبی کہا گیا ہے۔ حدیث پاک میں لا نبی بعدی سے اس کی تشریح و تفسیر کر دی گئی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے یہی کافی ہے۔
اللہ نے کہیں بھی قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اس طرح وفات دی جس طرح باقی نبیوں کو۔ پس یہ مرزائی مرتد کا جھوٹ ہے۔ وہ زندہ آسمان پر ہیں اور قیامت کے قریب تشریف لائیں گے جیسا
کہ قرآن وحدیث میں وضاحت ہے۔ اس مختصر میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔
قرآن کریم میں اسریٰ بعبدہ فرمایا گیا ہے یعنی اللہ نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور بندہ مکمل زندہ انسان پر بولا گیا ہے۔ صرف روح کو معراج ہوتی تو بروحہ کہہ دینا کوئی مشکل نہ تھا۔ اللہ کو عربی زبان خوب آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان حضور ﷺ کی امت کے مجدد اور مصلح ہوں گے۔ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک کیسے ہو گئیں؟ قادیانی چونکہ اپنے مرتد کو کبھی مسیح اور کبھی مہدی کہتے ہیں جیسا کہ اس نے خود ایسے دعویٰ کیے ہیں اس لیے وہ دونوں کو ایک کہتے ہیں حالانکہ قادیانی مرتد ایک پاگل بیوقوف شخص تھا۔ اس نے تو اپنی کتاب براہین وغیرہ میں اپنے آپ کو آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، مریم اور نہ جانے کیا کیا لکھا ہے۔ کیا ان تمام پاکیزہ ہستیوں کو بھی ایک ہی کہا جائے گا؟ اگر ایمان نہیں تو کم از کم عقل کو ہی استعمال کر لیتے۔ اگر یہ تمام حضرات ایک نہیں تو مرزا ان سب کا معجون ومرکب کیسے بن گیا؟ کیا ایک ہی شخص کبھی موسیٰ، کبھی عیسیٰ، کبھی داؤد، کبھی ابراہیم، کبھی یہ کبھی وہ بن سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس قادیانی مرتد کے پاگل ہونے اور گمراہ ہونے میں کیا شک رہ گیا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین والسلام۔
واللہ اعلم ورسولہ عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج ۱ ص ۳۵۷-۳۵۹)
مسئلہ ختم نبوت پر ایک دلچسپ مناظرہ
جمع و ترتیب: احتشام الحق آسیا آبادی
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَكَفٰى وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى . اما بعد
میرے مربی روحانی حضرت مفتی (رشید احمد لدھیانویؒ) صاحب دامت برکاتہم کی ابتدائی تدریس کے زمانے میں ایک قادیانی مناظر سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی، قادیانی کے ساتھ ان کا ایک شاگرد بھی تھا، ملتے ہی قادیانی مناظر نے اپنی تعریف اور مہارت پر کافی تقریر کی اور کہا کہ میں نے بوعلی سینا کی کتابیں پڑھی ہیں، عیسائیوں اور آریوں سے بہت سے مناظرے کیے ہیں، خوب اپنی قابلیت اور مہارت جتاتا رہا اور حضرت والا خاموشی سے سنتے رہے، اس کے بعد مسئلہ جریانِ نبوت پر بات شروع کر دی۔ ذیل میں اس مختصر مگر دلچسپ مناظرے کی روئیداد پیش کی جا رہی ہے جس میں خاص طور سے حضرات علماء کرام کے لیے بڑی کارآمد اور مفید باتیں آگئی ہیں۔ اختصار کی خاطر حضرت والا کو مفتی صاحب اور قادیانی کو قادیانی مناظر کے عنوان سے ذکر کیا جائے گا۔
(آسیا آبادی)
حضرت مفتی صاحب آپ کا اصل دعویٰ تو اثباتِ نبوت مرزا ہے، مسئلہ جریانِ نبوت آپ کے دعویٰ نبوت پر دلیل کے لیے صغریٰ کا کام دیتا ہے یا کبریٰ کا؟
قادیانی مناظر یہ ہماری دلیل نہیں ہے، بلکہ اس مسئلہ کو ہم اس لیے بیان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی نبوت پر بحث کرتے ہوئے اکثر علماء یہ بحث از خود چھیڑ دیتے ہیں کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ بحث کرنا پڑتی ہے۔
مفتی صاحب یہ بحث آپ اس عالم سے کریں جو اسے چھیڑے، مجھ سے براہِ راست اپنے دعویٰ نبوت مرزا پر
بحث کریں، اس لیے کہ میں تو اس کا قائل ہوں کہ بفرض محال اگر نبوت جاری ہو تو بھی مرزا قادیانی نبی نہیں ہو سکتے۔ حضرت والا کے اس اصرار کے باوجود قادیانی مناظر جریان نبوت ہی پر بحث کرنے پر مصر رہے، اصل وجہ یہ ہے کہ قادیانی مناظر اس مسئلہ میں اصل مدعا کی طرف آتے ہوئے گھبراتے ہیں، انہیں یہ معلوم ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کو ثابت کرنے کے آگے کانٹوں کا انبار ہے۔ اس لیے حضرت والا ارخاء عنان کے لیے جریان نبوت ہی پر بحث کرنے پر رضامند ہو گئے کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ کسی کمزوری کی بناء پر اس بحث سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ چنانچہ اب بحث شروع ہوتی ہے۔
حضرت مفتی صاحب یہ بحث ہے تو بالکل فضول مگر جب آپ اپنے اصل مدعا کی طرف نہیں آنا چاہتے اور اسی پر مصر ہیں کہ جریان نبوت ہی پر بحث ہو تو چلئے اس پر فرمائیے۔
قادیانی مناظر حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور اکرم ﷺ تک بالاتفاق نبوت جاری رہی، حضور ﷺ کے بعد آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ نبوت ختم ہو گئی۔ جو شخص متفق علیہ حقیقت کے خلاف کا قائل ہوتا ہے وہ مدعی کہلاتا ہے اور مدعی کے ذمہ دلیل بیان کرنا ہوتا ہے، آپ مدعی ہیں، لہٰذا ختم نبوت پر دلیل بیان کریں۔
حضرت مفتی صاحب آپ میرا مدعی ہونا تسلیم کرتے ہیں؟
قادیانی مناظر (ذرا ہچکچا کر) ہاں! اس حیثیت سے کہ آپ متفق علیہ حقیقت کے خلاف کے قائل ہیں۔
حضرت مفتی صاحب آپ حیثیت وغیرہ چھوڑیں اور صاف اس کا اقرار کریں کہ آپ مجھے مدعی مانتے ہیں۔
قادیانی مناظر (دبی ہوئی زبان میں) ہاں آپ مدعی ہیں۔
قادیانی مناظر کو حضرت مفتی صاحب مدظلہم کے مدعی تسلیم کرنے میں تردد اس لیے ہو رہا تھا کہ مناظرہ میں ہر شخص مدعی بننے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہاں خود حضرت مفتی صاحب اپنے مدعی ہونے کا ان سے اقرار لے رہے ہیں۔
حضرت مفتی صاحب یہ بتائیے کہ آپ کے ہاں نبوت بشرط لاشی جاری ہے یا لا بشرط شی؟
قادیانی مناظر آپ علمی اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ عام فہم زبان میں بات کرنا چاہیے۔
حضرت مفتی صاحب یہاں عوام کا کوئی ایسا مجمع نہیں اس لیے علمی اصطلاحات کے استعمال میں کوئی حرج تو نہیں، معہذا آپ کی خواہش کی رعایت کرتا ہوں، میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں مطلق نبوت جاری ہے یا النبوۃ المطلقۃ؟
قادیانی مناظر دونوں میں کیا فرق ہے؟
حضرت مفتی صاحب میں نے خیال کیا کہ آپ بوعلی سینا کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں اس لیے سمجھ جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں نبوت کی دو قسمیں ہیں، تشریعی اور ظلی، یہ دونوں قسمیں جاری ہیں یا ایک؟
قادیانی مناظر ایک قسم جاری ہے، یعنی ظلی، تشریعی نبوت ختم ہو گئی۔
حضرت مفتی صاحب حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور اکرم ﷺ تک نبوت تشریعی جاری تھی آپ اس
کے ختم ہو جانے کے قائل ہیں، متفق علیہ حقیقت کے خلاف کہہ رہے ہیں، اس لیے آپ مدعی ٹھہرے۔ آپ اس پر دلیل بیان کریں۔
قادیانی مناظر میں مدعی نہیں ہوں۔
حضرت مفتی صاحب بعینہ جس طریقے سے آپ نے مجھے مدعی ٹھہرایا، اسی طریقے سے آپ مدعی بن رہے ہیں۔
قادیانی مناظر میں کسی طرح مدعی نہیں ہوں۔
حضرت مفتی صاحب جس طریقے سے مجھے مدعی بنایا تھا بعینہ اسی طریقے سے آپ مدعی بن گئے اب اگر آپ مدعی نہیں تو میں بھی مدعی نہیں، قصہ ہی ختم ہو گیا۔
قادیانی مناظر (مجبور ہو کر اپنے مدعی ہونے کا بادل ناخواستہ اقرار کرتے ہوئے دلیل پیش کرتے ہیں) نبوت تشریعیہ کے لیے کچھ شرائط ہیں (ان شرائط کی تفصیل بیان کرنے سے بچنے کے لیے کہا کہ) یہ شرائط آپ کو معلوم ہی ہیں۔
حضرت مفتی صاحب مجھے ان شرائط کا علم نہیں آپ ہی بیان کریں، نیز یہ بھی بتائیے کہ ان شرائط کا وجود ممکن ہی نہیں یا ممکن تو ہے واقع نہیں؟
قادیانی مناظر ممکن ہے مگر واقع نہیں۔
حضرت مفتی صاحب اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت تشریعی ممکن تو ہے مگر واقع نہیں۔
قادیانی مناظر حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت تشریعی ممکن ہی نہیں۔
حضرت مفتی صاحب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شرط ممکن ہو اور مشروط ممتنع؟
قادیانی مناظر کافی دیر تک اس بحث میں الجھتے رہے کہ شرائط ممکن ہیں اور نبوت تشریعی ممکن نہیں، مگر بالآخر اس کا اعتراف کرنا پڑا کہ نبوت تشریعی کے شرائط بھی ممکن نہیں۔
حضرت مفتی صاحب اب دو دعوؤں کا اثبات آپ کے ذمہ ہو گیا، ایک تو یہ کہ جو چیز آپ بیان کریں اس کی شرطیت دلیل سے ثابت کریں۔ دوسرا یہ کہ اس شرط کا ممتنع ہونا بھی ثابت کریں۔
قادیانی مناظر (ایک آیت پڑھ کر) اس سے یہ ثابت ہوا کہ تشریعی رسول تب آتا ہے جبکہ اس سے پہلی کتاب میں تحریف ہونے لگے۔ چونکہ قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہو سکتی اس لیے تشریعی رسول بھی نہیں آسکتا۔
حضرت مفتی صاحب اس آیت سے تو سببیت ثابت ہوئی نہ کہ شرطیت، تحریف ماقبل نئی رسالت کا سبب ہے، شرط نہیں، یعنی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بغیر تحریف ماقبل کے کوئی نیا رسول نہیں آ سکتا، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام تشریعی نبی تھے، مگر آپ سے قبل کسی دین کی تحریف نہیں ہوئی۔ کیا نیا رسول آنے کی یہ وجہ نہیں ہو سکتی کہ دین ماقبل میں کوئی تحریف نہ بھی ہو مکمل طور پر صحیح طریقے پر موجود ہو، اس کے باوجود اس کے احکام طبائع کے مناسب نہ رہے ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نئے رسول کے ذریعہ اس زمانہ کے طبائع کے مطابق احکام میں ترمیم فرمائیں۔ بہر حال
شرطیت ثابت نہیں ہوتی۔
قادیانی مناظر (شرمندگی کی ہنسی طاری کر کے کہنے لگا کہ) شرطیت ہو یا سببیت بات یوں ہی ہے۔ یہ کہہ کر اپنی چھیڑی ہوئی بحث کو خود ہی ختم کر دیا اور حضرت مفتی صاحب مدظلہم کے بار بار اصرار کے باوجود نہ اصل مدعا یعنی اثبات نبوت مرزا پر بات کرنے کو تیار ہوئے اور نہ ہی مسئلہ جریان نبوت پر مزید کلام کیا، بالکل ہی خاموش ہو گئے۔ حضرت مفتی صاحب مدظلہم نے فرمایا کہ ”ہم نے کبھی کسی مناظر کو اس طرح خاموش ہوتے ہوئے نہ دیکھا نہ سنا۔ یہ صاحب اپنی خاموشی میں منفرد ہیں۔“ ۳ ربیع الاول ۹۶ھ
(احسن الفتاویٰ ج ۱ ص ۴۴ تا ۴۵)
حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر اشکال اور اس کا جواب
سوال...... بلاشبہ حضور اقدس ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا اب کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ لیکن اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ قادرِ مطلق ہے اور اس نے جس طرح پہلے انبیاء بھیجے اب بھی ان کے بھیجنے پر قادر ہے۔ پھر اب وہ نبی کیوں نہیں بھیجے گا۔ براہِ کرم اس اشکال کو دور فرمادیں؟
جواب...... اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک نبی ﷺ کو آخری نبی اور خاتم النبیین قرار دے دیا ہے۔ اس لیے وہ قادرِ مطلق ہونے کے باوجود اب کسی نبی کو پیدا نہیں فرمائے گا۔
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۵ ص ۱۰۹۔۱۱۰)
عقیدہ اجرائے نبوت اور شیخ ابن عربی کا قول
سوال...... شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ: ”لانبی بعدی“ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی۔ لیکن غیر تشریعی نبوت ختم نہیں ہوئی یہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب...... شیخ محی الدین ابن عربی کا قول استدلال میں پیش کرنا اولاً! تو اصولاً غلطی ہے کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہو سکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت کے سوا کوئی نہیں۔ ابن عربی کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لیے اس استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔ ثانیاً خود ابن عربیؒ اپنی اسی کتاب فتوحات (ج ۳ ص ۳۸ مطبوعہ دارالکتب مصر) میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہو چکی ہے اور جس عبارت کو سوال میں پیش کیا ہے۔ اس کا صحیح مطلب خود فتوحات کی تصریح سے یہ ہے کہ نبوت غیر تشریعی ایک خاص اصطلاح شیخ اکبرؒ کی ہے جو مرادف ولایت ہے۔ نہ وہ نبوت جو مصطلح شرع ہے کیونکہ جمیع اقسام نبوت کے انقطاع پر خود فتوحات کی بے شمار عبارتیں شاہد ہیں۔ ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح و صاف رسائل مذکورۃ الصدر میں کچھ مذکور ہیں اور قلمی احقر کے پاس منقول لیکن سب کے نقل کرنے کی فرصت و ضرورت نہیں۔
اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے۔ یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۳۴)
دفع شبہ قادیانی و تفسیر آیت
سوال...... مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہ جو مولوی لوگ کہتے ہیں کہ نبوت جزئی اور کلی طور پر ختم ہو چکی
ہے۔ یہ بات غلط ہے، حالانکہ اس آیت کے لفظی ترجمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسالت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ وہ آیت سورہ اعراف میں یہ ہے، یابنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی. (الاعراف ۳۵) اس آیت سے ضرور یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے، اگر منقطع ہو چکا ہے تو اس آیت کا کیا مطلب ہے۔ اس کا جواب تسلی بخش ارقام فرمائیں۔
الجواب ...... آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ آیت متصل ہے قصہ آدم علیہ السلام کے ساتھ بعد خطاب ”اہبطوا“ کے، یہ بھی ارشاد ہوا کہ اما یاتینکم رسل چنانچہ اس خطاب کے بعد بہت سے رسل آئے، گو بعد ختم نبوت پھر نہیں آئے۔ ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۲۵ھ (امداد، ج ۳ ص ۱۴۷)
(امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۵۵۹)
مرزا قادیانی کا ولو تقول علینا بعض الاقاویل سے استدلال باطل ہے
سوال ...... مرزا قادیانی اپنے دعوے کی سچائی میں اس کو پیش کرتا رہا ہے اور اس کے مرید پیش کرتے ہیں۔ ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین (الحاقہ ۴۴۔۴۵) وہ کہتا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو کوئی الہام کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ پکڑا جاتا ہے اور ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس آیت میں خاص حضرت رسول مقبول ﷺ کا ذکر ہے اور ان کی سچائی کی دلیل بیان کی گئی ہے کہ یہ افترا کرتے تو ہم پکڑتے اور قطع وتین کر دیتے۔ مگر یہ دلیل اس وقت ہوسکتی ہے کہ سنت اللہ اس طرح جاری ہو کہ جھوٹوں پر اخذ ہوا ہو اور قطع وتین یعنی ہلاک کر دیے گئے ہوں اگر پہلے ایسا نہ ہوا اور خاص جناب رسول مقبول ﷺ کی نسبت ارشاد ہو رہا ہے تو منکرین پر حجت کس طرح ہوسکتی ہے اسی بنیاد پر مرزا کہتا ہے کہ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو ہمارے ساتھ بھی معاملہ ہوتا، ہمیں اس قدر ترقی وقبولیت نہ ہوتی بہت جلد یا کچھ مہلت کے بعد ہلاک کر دیے جاتے اور ایسا نہیں ہوا بلکہ دعویٰ کے بعد ۲۳ برس سے زیادہ آرام کے ساتھ رہا۔ اس لیے یہ آیت ہماری حقانیت کی دلیل ہے تامل کر کے اس کا جواب شافی عنایت فرمایا جائے اس کی بھی شرح سمجھ میں نہیں آتی کہ اخذ بالیمین اور قطع وتین سے کیا مراد ہے۔ اگر موت مقصود ہے تو سچے اور جھوٹے سب مرتے ہیں موت کی کیفیتیں بھی ہر ایک میں مختلف ہوتی ہیں۔ عمر میں بھی بیشی اور کمی ہر ایک کے ہوتی ہے۔ یعنی کسی کا سن زیادہ ہوتا ہے اور کسی کا کم۔ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ تقول کے بعد ہی معاً اخذ ہوتا ہے یا کچھ مہلت بھی ہوتی ہے اگر مہلت ہوتی ہے تو اس کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں۔ مرزا ۲۳ برس اس کی حد بیان کرتا ہے، بہر حال جو کچھ ہو اس کی سند بھی بیان فرمائیں۔
جواب ...... اس آیت میں نہ کسی مدت کی حد ہے نہ خاص موت کی نص ہے۔ مدت کی تعیین بلا دلیل ہے اور یہ دلیل کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نبوت ۲۳ برس تھا اس لیے کافی نہیں کہ اگر ایسا ہو تو اس مدت کے اندر سخت تلبیس کو جائز رکھا جائے گا۔ وہو باطل اس آیت کا حاصل تو جیسا خازن میں ہے یہ ہے کہ مدعی کاذب کی اماتت کی جاتی ہے خواہ ہلاک سے یا مغلوبیت فی الحجہ سے پس اب دعویٰ مرزا کا باطل ہو گیا اس لیے کہ اماتت بالحجہ ان کی ظاہر ہے اور عاقل کے لیے یہ تقریر کافی ہے اور عوام کے لیے بہتر ہو کہ کچھ تاریخی نظائر بھی پیش کیے جائیں جن کا پتہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے ملنا آسان ہے مجھ کو تاریخ پر نظر نہیں ہے۔ فقط ۲ شوال ۱۳۲۹ھ (تتمہ اولیٰ ص ۲۶۱)
(امداد الفتاویٰ ج ۶ ص ۲۷۳۔۲۷۴)
إِزَالَةُ الأَوْهَامِ عَنْ خَتْمِ النُّبُوَّةِ وَالرِّسَالَةِ وَمَعْنَى الْوَحْيِ وَالْإِلْهَامِ
فرقہ قادیانیہ کے اقوال کی تردید میں
سوال ...... ذوالمجد والکرم حضرت اقدس مولانا صاحب مدظلکم العالی، بعد سلام مسنون آنکہ یہاں ایک مسجد پر قادیانیوں اور اہل اسلام میں آج کل مقدمہ چل رہا ہے، قادیانی مدعی اور اہل اسلام مدعا علیہم ہیں، عدالت میں تمام امور مختلف فیہا زیر بحث آگئے ہیں، چند سوالات بغرض تحقیق و مزید اطمینان خدمت والا میں ارسال کیے جاتے ہیں، امید ہے کہ جوابات سے سرفراز فرمائیں گے۔ مفصل جوابات تحریر کرنے کے لیے تو بہت وقت اور دفتر چاہیے، آنجناب بقدر ضرورت اختصار کو مدنظر رکھ کر جوابات تحریر فرمائیں تاکہ ہم لوگوں کے لیے مشعل راہ ہوسکیں، ضرورتاً قلت وقت کی وجہ سے ایک مکتوب میں کئی سوال درج کر دیے گئے، امید کہ معاف فرمائیں گے۔
سوالات
- نمبر١...... نبی اور رسول کی جامع مانع تعریف کیا ہے، ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟
- نمبر٢...... فصوص الحکم، فتوحات مکیہ، الیواقیت والجواہر وغیرہ میں صوفیائے کرام نے نبی تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم کی
ہے یا نہیں؟ اگر کی ہے تو ان حضرات کی اس سے کیا مراد ہے؟
- نمبر٣...... کیا مولانا ئے روم اور دوسرے بزرگوں نے کسی ولی کو نبی اور ان کے الہام کو وحی کہہ دیا ہے، اور اگر کہا
ہے تو ان کی اس سے کیا مراد ہے؟
- نمبر٤...... الہام، وحی غیر نبوت، وحی نبوت کی جامع مانع تعریف کیا ہے، ان میں جو کچھ فرق ہو بیان فرما دیا جائے؟
- نمبر٥...... حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں بحیثیت نبی ہونے کے نازل ہوں گے یا بحیثیت امتی محض اپنے فرائض
نبوت انجام دیں گے یا نہیں، ان پر جو وحی نازل ہوگی وہ وحی نبوت بواسطۂ جبرئیل ہوگی یا کیا؟
- نمبر٦...... حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے مرثیہ میں حضرت اقدس مولانا گنگوہی قدس سرہٗ کی تعریف میں جہاں نبی
کریم ﷺ اور حضرت مسیح ؑ کا اسم گرامی آیا ہے ان مواقع کو ملاحظہ فرما کر یہ بیان فرما دیا جائے کہ اس سے مخالف نبی کریم ﷺ اور حضرت مسیح علیہما السلام کی اہانت پر تو نہیں استدلال کر سکتا وغیرہ وغیرہ۔
جواب ۱...... نبی کی تعریف شریعت میں یہ ہے: واما فی الشرع فقال اہل الحق من الاشاعرۃ ہو من قال اللہ تعالیٰ لہ ممن اصطفاہ من عبادہ انا ارسلتک الی قوم کذا او الی الناس جمیعاً او بلغہم عنی ونحوہ من الالفاظ الدالۃ علی ہذا المعنی کَبَعَثْتُکَ و نَبَّأْتُکَ، قیل النبوۃ عبارۃ عن ہذا القول مع کونہ متعلقا بالمخاطب.
(کشاف اصطلاحات الفنون ص ۱۳۵۹)
اور رسول کی تعریف یہ ہے: والرسول انسان بعثہ اللہ تعالیٰ الی الخلق لتبلیغ الاحکام (شرح عقائد نسفیہ ص ۳۱) اور یہ تعریف خاص اصطلاح شرعی ہے ورنہ لغۃً رسول ہر قاصد کو عام ہے، جیسے رسول الملک و رسول الخلیفہ اور اسی لغوی معنی کے اعتبار سے بعض نصوص میں ملائکہ کو بھی رسل کہا گیا ہے، مگر جس طرح شریعت نے زکوٰۃ وصلوٰۃ وحج وصوم کو معنی لغوی عام سے منتقل کر کے خاص معانی و افعال کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے، یونہی لفظ نبی اور رسول میں بھی تصرف کیا ہے، اب اس میں اختلاف ہے کہ نبی و رسول شرعاً متحد ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے، بعض اہل علم اتحاد کے قائل ہیں اور جمہور اہل سنت و جماعت کے نزدیک نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔
فَكُلُّ رَسُوْلٍ نَبِيٌّ وَّلَا عَكْسَ پھر اس میں اختلاف ہے کہ رسول کی وہ خصوصیت کیا ہے جس کے ساتھ وہ نبی سے ممتاز ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ رسول کے لیے صاحب کتاب ہونا ضروری ہے، اور نبی کے لیے نہیں، قال التفتازانی فى شرح العقائد النسفية وقد يشترط فيه الكتاب بخلاف النبى فانه اعم (ص ۱۳۲) اور بعض نے شریعت متجددہ کی قید لگائی ہے، کما فى (حاشية العصام على شرح العقائد ص مذکور) مگر ان میں سے ہر ایک قید پر اشکال ہے۔ كما صرح (به الخیالی فى حاشية شرح العقائد ص ۱۳۰) وقال بعضهم الرسول من بعث الى قوم كافرين مشركين لدعوتهم الى التوحيد والرسالة والنبى اعم منه وممن بعث الى قوم موحدين متبعين لرسول متقدم لتقرير شرعه بوحى من الله منزل عليه و يؤيده ما فى البخاری فى حديث الشفاعة فياتون نوحًا فيقولون انت اول الرسل فى الارض فاشفع لنا الى ربنا فقيل لنوح اول الرسل مع تقدم الانبياء عليه مثل ادم و شيث و ادريس لانهم لم يكونو ارسلاً لكونهم بعثوا الى قوم موحدين مؤمنين و نوح ارسل بعد ما ابتلى الناس بالشرك بالله و تركوا سبيل من تقدم من الانبياء، ولا يرد على ذلك مايرد على التقييد بالكتاب والشرع المتجدد من زيادة عدد الرسل على عدد الكتب ومن كون اسمعيل عليه السلام رسولا مع اتحاد شرعه بشريعة ابراهيم عليه السلام فان اسمعيل كان مبعوثا الى قوم جرهم وكانوا مشركين فكان رسولاً و على هذا...... فالنبى انسان بعثه الله تعالى الى الخلق لتبليغ الاحكام وهو معنى قول اهل الحق من الاشاعرة هو من قال الله له ممن اصطفاه من عباده انا ارسلتك الى قوم كذا او الى الناس جميعا و نحو ذلك كبعثتك او نبئهم...... والرسول انسان بعثه الله تعالى الى قوم مشركين كافرين لتبليغ التوحيد والرسالة والاحكام.
اور حق یہ ہے کہ جمہور کا یہ قول تو صحیح ہے کہ رسول خاص اور نبی عام ہے، کیونکہ دلائل قرآنیہ و حدیثیہ اس پر شاہد ہیں۔ اما الكتاب فقوله تعالى وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تمنى القى الشيطان فى امنية (الحج ۵۲) واما الحديث فما اخرجه ابن حبان فى صحيحه و صحه الحافظ ابن حجر فى الفتح واخرجه ايضاً اسحق بن راهويه وابن ابى شيبة ومحمد بن ابی عمرو وابو يعلى عن ابی ذر عن رسول الله ﷺ قال كان الانبياء مأة الف و اربعة و عشرين الفا وكان الرسل خمسة عشر و ثلثمائة رجل منهم اولهم ادم الى قوله و أخرهم محمد ﷺ.
(من هدية المهديين في اية..... خاتم النبيين ص ۲۰)
باقی یہ کہ رسول کی خصوصیت کیا ہے اور نبی و رسول میں ما بہ الفرق کیا ہے اس سے نصوص ساکت ہیں، اس لیے اس میں سکوت ہی اسلم ہے، اپنی رائے سے بدون تصریح کے وجہ فرق متعین نہ کرنا چاہیے، کیونکہ مقامات انبیاء میں نبی کے سوا کوئی تکلم نہیں کر سکتا، واللہ اعلم۔
جواب...... ۲ حدیث بخاری و مسلم میں ہے: لَوْ عَاشَ ابنی ابراهیم لکان نبیا ولكن لانبى بعدى، اس کی شرح میں بعض مصنفین نے تبرعاً یہ بات لکھی ہے کہ اگر بالفرض ابراہیم صاحبزادہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہتے اور نبی ہوتے تو وہ کیسے نبی ہوتے؟ پھر اس سوال کا جواب دیا ہے کہ نبی غیر تشریعی ہوتے جیسا کہ بنی اسرائیل میں موسیٰ ؑ کے بعد انبیاء غیر تشریعی ہوئے ہیں کہ وہ صاحب شریعت مجددہ و صاحب کتاب نہ تھے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعیہ کسی کو حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی نفی تو خود اسی حدیث میں لکن لانبی بعدی سے ہو چکی ہے، کہ چونکہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اس
لیے ابراہیم زندہ نہیں رہ سکے، اگر نبوت غیر تشریعیہ حضور ﷺ کے بعد باقی ہوتی تو ابراہیم بن محمد ﷺ کے زندہ نہ رہنے کی علت میں ولکن لانبی بعدی کیونکر صحیح ہوگا؟ بہرحال یہ تو صحیح ہے کہ نبوت کی دو قسمیں ہیں، نبوت تشریعی جس میں نبی صاحب شرع مستقل ہو، دوسرے نبوت غیر تشریعی، جس میں نبی صاحب شرع مستقل نہ ہو، لیکن رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہ رہی، اگر باقی ہوتی تو آپ کے صاحبزادہ ابراہیم ضرور زندہ رہتے اور نبی ہوتے، حیرت ہے کہ ابراہیم بن محمد ﷺ کو تو اس لیے دنیا سے اٹھا لیا جائے کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور ایک مغل بچہ قادیانی کو نبوت مل جائے اور اس کی نبوت خاتم النبیین اور لانبی بعدی کے منافی نہ ہو، اسی طرح بعض علماء نے نزول عیسیٰؑ اور حدیث لانبی بعدی پر سے ایک اشکال کو رفع کیا ہے وہ یہ کہ عیسیٰؑ بوقت نزول نبی ہوں گے یا امتی محض ہوں گے اور عہدہ نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ وہ اس وقت نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ نبی ہوں گے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے تو وہ نبی تشریعی تھے اور حضور ﷺ کے بعد جو نازل ہوں گے وہ نبی غیر تشریعی ہو کر آئیں گے کیونکہ اس وقت وہ شریعت محمدیہ ﷺ کا اتباع کریں گے، پس مقصود اس قائل کا صرف عیسیٰؑ کی شان نزول کو بتلانا ہے کہ وہ اس وقت نبوت سے معزول نہ ہوں گے، یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعیہ کا انقطاع نہیں ہوا، اور یہ نبوت کسی کو آپ ﷺ کے بعد مل سکتی ہے۔ حاشا وکلا، رہا یہ کہ عیسیٰؑ کو تو حضور ﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعیہ ملی اس کا جواب بالکل ظاہر ہے کہ ان کو کسی قسم کی نبوت بھی حضور ﷺ کے بعد نہیں ملی، بلکہ ان کو تو حضور ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہے، اور خاتم النبیین و لانبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں۔ وَلَا يُنَبَّأُ اَحَدٌ بَعْدَهُ کہ آپ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا ہاں یہ ممکن ہے کہ انبیاء سابقین میں سے کوئی نبی آپ ﷺ کے بعد تک زندہ رہے۔ جیسا کہ حیات خضر کے بہت لوگ قائل ہیں اور ان کو نبی بھی مانتے ہیں اسی طرح عیسیٰؑ کو سمجھو کہ ان کی نبوت حضور ﷺ سے پہلے ظہور میں آچکی اور حضور ﷺ کے بعد تک وہ زندہ رہیں گے، سو یہ امر لانبی بعدی کے خلاف نہیں، اور نہ اس حالت میں نبی کا عزل نبوت سابقہ سے لازم آیا، بلفظ دیگر یوں کہیے کہ خاتم النبیین و لانبی بعدی سے حدوث عطاء نبوت بعدہ ﷺ کی نفی ہوتی ہے بقاء نبوت حاصلہ قبلہ کی نفی نہیں ہوتی، کما سنوضحہ بعدہ، اور مرزا کا دعویٰ نبوت یقیناً ان نصوص کے خلاف ہے، کیونکہ وہ مردود، حضور ﷺ کے بہت بعد پیدا ہوا ہے، اور اپنے لیے نبوت کا مدعی ہے، اس سے حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت دیا جانا لازم آتا ہے جس کو ملا علی قاری اور شیخ ابن عربی وغیرہ کسی نے بھی جائز نہیں رکھا بلکہ مقصود ان کا صرف یہ ہے کہ جس نبی کو آپ ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہو اس کا حضور ﷺ کے بعد زندہ رہنا اور نبوت تشریعیہ سے نبوت غیر تشریعیہ کی طرف منتقل ہو کر نازل ہونا اور آپ ﷺ کا متبع بن کر دنیا میں آنا لانبی بعدی اور خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔ قال الزمخشری امام اللغۃ والعربیۃ فی تفسیرہ خاتم بفتح التاء بمعنی الطابع وبکسرھا بمعنی الطابع وفاعل الختم وتقویہ قراءۃ بن مسعودؓ ولکن نبیا ختم النبیین فان قلت کیف کان آخر الانبیاء وعیسیٰ علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان قلت معنی کونہ اخر الانبیاء انہ لاینبأ احد بعدہ و عیسیٰ ممن نبئ قبلہ.
(ص ۵۴۳ ج ۳ دار الکتاب العربی بیروت)
وقال العلامۃ النسفی فی تفسیرہ مدارک التنزیل خاتم النبیین بفتح التاء عاصم بمعنی الطابع ای اخرھم یعنی لاینبأ احد بعدہ و عیسیٰؑ ممن نبئ قبلہ (ص ۲۳۴ ج ۳) وقال افضل
متأخرى المفسرين صاحب روح المعانى والمراد بكونه عليه الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة فى احدى الثقلين بعد تحلية عليه الصلوة والسلام بها فى هذه النشأة ولا يقدح فى ذلك ما اجمعت عليه الامة واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى و نطق به الكتاب على قول وجب الايمان به واكفر منكره كالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام فى اخر الزمان لانه كان نبيا قبل تحلى نبينا ﷺ بالنبوة فى هذه النشأة.
(روح المعانى، ص ۳۲ ج ۸ ادارة الطباعة المنيريه)
وقال الزرقانى فى (شرح المواهب ص ۲۶۷ ج ۵) ومنها (اى من خصائصه عليه السلام) انه خاتم الانبياء والمرسلين كما قال تعالى ولكن رسول الله و خاتم النبيين. اى اخرهم الذى ختمهم او ختموا به على قراءة عاصم بالفتح و روى احمد والترمذى والحاكم باسناد صحيح عن انس مرفوعا ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولانبى ولا يقدح نزول عيسى عليه السلام بعده لانه يكون على دينه مع ان المراد انه اخر من نبى.
وقال الشيخ محی الدين ابن العربى فى الباب الرابع عشر من الفتوحات ثم اعلم ان حقيقة النبى الذى ليس برسول هو شخص يوحى الله بامر يتضمن ذلك شريعة يتعهد بها فى نفسه فان بعث به بها الى غيره كان رسولاً ايضاً واطال فى ذلك ثم قال واعلم ان المَلَك ياتى النبى بالوحى على حالين تارة ينزل بالوحى على قلبه و تارة يأتيه فى صورة جسدية من خارج وهذا باب اغلق بعد موت محمد ﷺ فلا يفتح لاحد الى يوم القيمة ولكن بقى للاولياء الالهام الذى لا تشريع فيه انما هو بفساد حكم قال بعض الناس بصحة دليله و نحو ذلك فيعمل به فى نفسه (اليواقيت ص ۱۴۹ . ۱۵۰ ج ۱) وفيه ايضا اعلم ان الاجماع قد انعقد على انه ﷺ خاتم المرسلين كما انه خاتم النبيين وفيه ايضا وقال الشيخ فى الباب الحادى والعشرين من الفتوحات من قال ان الله تعالى امره بشئ فليس ذلك بصحيح انما ذلك تلبيس لان الامر من قسم الكلام و صفته وذلك باب مسدود دون الناس فانه مابقى فى الحضرة الالهية امر تكليفى الا وهو مشروع فما بقى للاولياء و غيرهم الاسماع امرها ولكن لهم المناجاة الالهيه وذلك لا امر فيه وانما هو حديث و سمر و كل من قال من الاولياء انه مامور بامر الهى فى حركاته وسكناته مخالف لا مر شرعى محمد ﷺ تكليفى او موافق له فقد التبس عليه الامر وان كان صادقا فيما قال انه سمعه فليس ذلك عن الله وانما هو عن ابليس فظن انه عن الله لان ابليس قد اعطاه الله تعالى ان يصور عرشا وكرسياً و سماء و يخاطب الناس منه.
(ص ۳۸ ج ۲)
یہ شیخ کی تصریحات ہیں جو اجماع امت کے موافق ہیں، اور اسی پر تمام امت صوفیہ اور علماء کا اجماع ہے کہ رسالت و نبوت حضور ﷺ پر ختم ہو چکی، اب کسی کے لیے باب نبوت مفتوح نہیں ہو سکتا، اور شیخ کی طرف جو یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔ اعلم ان النبوة لم ترتفع مطلقا بعد محمد ﷺ وانما ارتفع نبوة التشريع اس کا مطلب یا تو وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کیا ہے کہ شیخ کا مقصود عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے اشکال کو دفع کرنا ہے، کہ آیت خاتم النبیین وحدیث لانبی بعدی سے عیسیٰ علیہ السلام کا نبوت سے معزول ہو کر نازل ہونا لازم نہیں آتا،
يا اس کا مطلب وہ ہے جو شرح قصیدہ فارضیہ میں مذکور ہے۔ واما الولاية فهى التصرف فى الخلق بالحق وليست فى الحقيقة الا باطن النبوة لان النبوة ظاهرها الانباء وباطنها التصرف فى النفوس باجراء الاحكام عليها والنبوة مختومة من حيث الانباء اى الاخبار اذ لانبى بعد محمد ﷺ وائمة من حيث الولاية والتصرف لان نفوس الانبياء من امة محمد ﷺ حملة تصرف ولايته يتصرف بهم فى الخلق بالحق الى قيام الساعة فباب الولاية مفتوح و باب النبوة مسدود وعلامة صحة الولى متابعة النبى فى الظاهر.
(کشاف اصطلاحات الفنون ص ۱۵۲۹)
جس کا حاصل یہ ہے کہ صوفیہ اپنی اصطلاح میں ولایت کو باطنِ نبوت کہتے ہیں، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ولایت نبوت کی فرد یا قسم ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ نبوت کے کمالات اور اجزاء میں سے ہے، اور ظاہر ہے کہ جز پر کل کا اطلاق صحیح نہیں، جیسے نمک کو پلاؤ نہیں کہہ سکتے، آخر حدیث میں مبشرات کو نبوت کا چھیالیسواں جزء کہا گیا ہے، کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ مبشرات پر نبوت کا اور صاحب مبشرات پر نبی کا اطلاق جائز ہے؟ ہرگز نہیں، اسی طرح ولایت بھی نبوت کا جز ہے، مگر اس پر اطلاق نبوت جائز نہیں، اللّٰهم الا ان يكون مجاز القيام القرائن على عدم ارادة الحقيقة جس کی دلیل خود شرح قصیدہ فارضیہ کا یہ قول ہے۔ فباب الولاية مفتوح و باب النبوة مسدود اگر ولایت نبوت کی فرد یا قسم ہوتی تو باب النبوۃ کو مسدود کیوں کہتے، اور اس سے معلوم ہوا کہ ولایت پر نبوت کا اطلاق صحیح نہیں ہے، پس شیخ کے کلام میں نبوت غیر تشریعیہ سے ولایت مراد ہے، چنانچہ فصوص الحکم میں فص عزیری میں لکھتے ہیں: واعلم ان الولاية هى الفلك المحيط العالم ولهذا لم تنقطع ولها الانباء العام واما نبوة التشريع والرسالة فمنقطعة وفى محمد ﷺ فقد انقطعت الى ان قال فابقى لهم النبوة العامة التى لاتشريع فيها من الحق الا قوم.
(ص ۲۵)
اس میں تصریح ہے کہ نبوت عامہ سے شیخ کی مراد ولایت عامہ ہے، جس کو اوپر انباء عام کہا ہے، اور اس کو نبوت غیر تشریعیہ اسی وجہ سے کہا گیا کہ وہ نبوت کے کمالات اور اجزاء میں سے ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نعوذ باللہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی یا صاحب نبوۃ ہو سکتا ہے، بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ اولیاء اللہ بطریق وراثت کے اس کمال نبوت سے جس کا نام ولایت ہے متصف ہوتے ہیں اور اس معنی کا مراد لینا اس لیے ضروری ہے کہ شیخ کی دوسری تصریحات انقطاع نبوت پر صراحۃً دال ہیں، چنانچہ شیخ نے (فتوحات مکیہ ص ۵۱۰ ج ۳) میں فرمایا ہے:۔
فما بقى للاولياء بعد انقطاع النبوة الا التعريفات وانسدت ابواب الا وامر الا لهيه والنواهى فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدعى شريعة اوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا او خالف كذا نقله بعض المعاصرين الثقات فى رسالته له، وقال الشعرانى فى اليواقيت بعد ذكر معناه فان كان مكلفاً ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحًا (ج ۲ ص ۳۷) وفى العبقات للشاه محمد اسمعيل الدهلوى الشهيد فالاتصاف بكمالات النبوة لا يستلزم الاتصاف بالنبوة من نقل هذا البعض ايضاً.
اور اس سے زیادہ واضح علامہ شعرانیؒ کا قول ہی جو کہ شیخ ابن عربی کے کلام کو بہت زیادہ سمجھنے والے ہیں، وہ فرماتے ہیں :۔
ان الولاية وان جلت مرتبتها و عظمت فهى اخذة عن النبوة فلا تلحق نهاية الولاية بداية
النبوة ابداً او لو ان وليا تقدم الى العين التي ياخذ منها الانبياء لاحترق فغاية امر الاولياء انهم يتعبدون بشريعة محمد ﷺ قبل الفتح عليهم و بعده فلا يمكنهم ان يستقلوا بالاخذ عن الله ابداً.
(ص ۷۱ ج ۲)
پھر علامہ نے شیخ ابن عربیؒ کے چند اقوال اس مضمون کے تحت نقل فرمائے ہیں جو ان کی مراد کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں، فقال قال الشيخ فى الباب الرابع عشر من الفتوحات اعلم ان الحق تعالى قسم ظهور الاولياء بانقطاع النبوة والرسالة بعد موت محمد ﷺ و ذلك لفقدهم الوحي الرباني الذي هو قوت ارواحهم الى ان قال وانما غاية لطف الله بالاولياء..... انه ابقى عليهم المبشرات فى المنام ليستانسوا برائحة الوحى.
(اليواقيت ص ۷۳ ج ۲)
اس میں نبوت اور رسالت کے انقطاع کا صاف اقرار ہے اور یہ کہ اولیاء کی کمر کو اس انقطاع نے توڑ دیا، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شیخ کے دوسرے قول کا یہ مطلب نکالا جائے کہ وہ حضور ﷺ کے بعد بقاء نبوت کے قائل ہیں، نعوذ باللہ منہ، بلکہ ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ نبوت تو منقطع ہو چکی لیکن اس کے بعض اجزاء و کمالات و روائح باقی ہیں جن کو ولایت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور کبھی مقام ارث سے، چنانچہ چند اقوال اور ملاحظہ ہوں۔ وقال ايضاً فى الكلام على التشهد من الفتوحات اعلم ان الله تعالى قد سد باب الرسالة عن كل مخلوق بعد محمد ﷺ الى يوم القيمة وانه لا مناسبة بيننا و بينه صلى الله عليه وسلم لكونه فى مرتبة لا ينبغى ان تكون لنا وقال فى شرحه لترجمان الاشواق اعلم ان مقام النبى ممنوع لنا دخوله وغاية معرفتنا به من طريق الارث النظر اليه كما ينظر من هو فى اسفل الجنة الى من هو فى اعلى عليين وكما ينظر اهل الارض الى كواكب السماء وقد بلغنا عن الشيخ ابى يزيد انه فتح له من مقام النبوة قدر خرم ابرة تجلياً لا دخولاً فكاد ان يحترق وقال فى الباب الثاني والستين واربعمائه من الفتوحات اعلم انه لا ذوق لنا فى مقام النبوة لنتكلم عليه وانما نتكلم على ذلك بقدر ما اعطينا من مقام الارث فقط لانه لا يصح لاحد منا دخول مقام النبوة وانما نراه كالنجوم على السماء.
(اليواقيت ص ۷۴ ج ۲)
پس جو لوگ شیخ کے اس قول سے واعلم ان النبوة لم تنقطع مطلقاً بموت محمد ﷺ بل انقطعت نبوة التشريع فقط یہ مطلب نکالتے ہیں کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت من کل الوجوہ منقطع، نہیں ہوئی بلکہ من وجہ منقطع ہوئی اور من وجہ باقی ہے، اور حضور ﷺ کے بعد کسی دوسری قسم کا نبی ہونا ممکن ہے۔ وہ شیخ کے ان دوسرے اقوال سے اس مطلب کو منطبق کریں جن میں صاف تصریح ہے کہ باب نبوت و رسالت مسدود ہو چکا، اور یہ کہ اب مقام نبوت میں کسی کے لیے دخول ممکن نہیں بلکہ دخول تو کیا مقام نبوت کی تجلی بھی کسی پر نہیں ہوتی، اور شیخ ابو یزید پر بقدر سوئی کے ناکہ کے مقام نبوت کی صرف تجلی ہی ہوئی تھی، بغیر دخول کے تو وہ جلنے کے قریب ہو گئے پس لا محالہ یہی کہنا پڑے گا کہ شیخ کا مطلب عبارت مذکورہ سے وہ ہرگز نہیں جو بعض نادانوں نے سمجھا ہے بلکہ اس سے یا تو نزول عیسیٰ ؑ پر سے اشکال کو رفع کرنا منظور ہے جس کو کبھی اس عنوان سے تعبیر کرتے ہیں جو نادانوں کو چکر میں ڈال رہا ہے، اور کبھی اس عنوان سے تعبیر کرتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ وقت نزول من السماء کے جماعت اولیاء میں داخل ہو کر نازل ہوں گے نہ کہ جماعت رسل میں، و عبارت الشيخ فى الباب الثالث والتسعين من الفتوحات اعلم انه ليس فى امة محمد ﷺ من هو افضل من ابى بكر غير عيسى عليه السلام و ذلك انه اذا نزل بين يدى الساعة لا يحكم الا بشرع محمد ﷺ فيكون له يوم
القيامة حشران حشر في زمرة الرسل بلواء الرسالة و حشر في زمرة الاولياء بلواء الولاية.
(اليواقيت ص ۷۳، ج ۲)
یا یہ مطلب ہے کہ نبوت کے منقطع ہونے سے یہ مت سمجھو کہ اس کی برکات اور روائح اور کمالات بھی منقطع ہو گئے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت تشریع یعنی وحی منقطع ہو چکی ہے اور نبوت کا باطنی جزو یعنی وہ نسبت باطنیہ جو رسول اللہ ﷺ کے قلب میں تھی جس کو ولایت کہتے ہیں۔ منقطع نہیں ہوئی، بلکہ اولیاء کو اس نسبت باطنیہ سے حصہ ملتا ہے، پھر اولیاء اس نسبت باطنیہ کے حامل ہو کر مقام نبوت کے قریب بھی نہیں ہوتے، بلکہ صرف دور سے اس کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں جس طرح زمین والے آسمان کے تارے دیکھتے ہیں، بتلائیے اس توضیح و تفصیل کے بعد شیخ کے کلام سے یہ کیونکر مفہوم ہو سکتا ہے کہ وہ حضور ﷺ کے بعد بقاء نبوت کے قائل ہیں؟ حاشا وکلا اور اگر اس پر بھی کوئی ہٹ دھرمی کرے تو اس کے لیے دوسرا جواب یہ ہے کہ:۔
ختم نبوت و انقطاع رسالت کا مسئلہ قرآن و احادیث میں نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے، اب تم اس کے خلاف اس دعوے پر کہ حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کو کسی قسم کی نبوت مل سکتی ہے کوئی نص قطعی پیش کرو، کیونکہ قطعی کی تخصیص قطعی ہی سے ہو سکتی ہے، اور شیخ ابن عربی یا کسی اور بزرگ کا قول نص قطعی نہیں، بلکہ کسی درجہ میں بھی حجت نہیں کیونکہ شیخ ابن عربی کے اقوال میں بعض یہودیوں کا خلاف شرع اقوال ٹھونسنا درجہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے، جیسا کہ علامہ شعرانیؒ نے یواقیت و بحر مورود و عہود محمدیہ میں اس کی تصریح کی ہے، نیز صوفیہ نے اس کی بھی تصریح کی ہے کہ ہم بہت سی باتیں رموز میں کہا کرتے ہیں جن کو دیکھنا اور بیان کرنا ہر شخص کو جائز نہیں، انہی وجوہ سے بہت سے مسائل میں صوفیہ پر زندقہ و کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے، کیونکہ یہودیوں کے دس و خلط کی وجہ سے بعض اقوال خلاف شرع ان کی طرف منسوب کیے گئے تھے، یا رموز کے نہ سمجھنے سے غلط مطلب ان کی طرف منسوب کیا گیا، پس ایسی حالت میں ان حضرات کی کتابوں سے کوئی قول نکال کر نصوص قطعیہ و مسئلہ اجماعیہ کے معارضہ میں پیش کرنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے، بلکہ ہم کو یہ کہنے کا حق ہے کہ جو قول نصوص قطعیہ و اجماع کے خلاف ہے وہ کسی کا الحاق ہے، جس کی دلیل خود ان حضرات کے وہ اقوال ہیں جو نصوص و اجماع کے موافق اور اس قول موہم کے خلاف ہیں، پھر خصوصاً مرزا قادیانی کو شیخ کا یہ قول تو کسی طرح بھی مفید نہیں ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ تو اپنے لیے نبوت تشریعیہ و رسالت کا مدعی ہے، اس کے اقوال ملاحظہ ہوں، لعنہ اللہ ولعن اتباعہ و اخزاہم و شرذمہم و بددہم اجمعین۔
- نمبر ۱...... ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا ہے، جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کیے، اور
اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا ہے، وہی صاحب الشریعہ ہو گیا، پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی، مثلاً یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَهُمْ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے، اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی، اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔
(دیکھو اربعین ص ۶ نمبر ۴ خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵)
- نمبر ۲...... رسالہ (نزول المسیح مصنفہ مرزا، ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷۔۴۷۸) میں ہے ؎
ہمچو قرآن منزہش دانم از خطا ہمین ست ایمانم
اور اسی کتاب کے صفحہ مذکورہ میں ہے ۔
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہرکہ گوید دروغ ہست لعین
ان تصریحات کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزا نبوت تشریعیہ کا مدعی نہ تھا۔ اسی رسالہ نزول المسیح کے صفحہ مذکورہ میں کہتا ہے ۔
(در ثمین فارسی ص ۱۷۱)
کیا اس میں تصریح نہیں ہے کہ مرزا اپنے کو تمام انبیاء سے افضل کہتا ہے کہ جو تمام کمالات سارے انبیاء علیہم السلام میں تقسیم ہوئے تھے وہ سب تنہا اس کو دئے گئے، نعوذ باللہ من ھذہ الکفریات والھذیانات۔
اور اوپر ہم شیخ ابن عربی کا قول نقل کر چکے ہیں کہ جو شخص حضور ﷺ کے بعد اپنے لیے حق تعالیٰ کی طرف سے امر و نہی کا دعویٰ کرے وہ تلبیس ابلیس میں مبتلا ہے، پس مرزا کے متبعین اگر مرزا کو شیخ ؒ کے کسی قول سے نبی بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شیخ ؒ کے اس قول سے اس کی تشریح بھی کر دیں کہ وہ نبی تو ہے مگر خدا کی طرف سے نہیں بلکہ ابلیس کی طرف سے اور وہ وحی کو تو سنتا ہے مگر خدا کی وحی کو نہیں بلکہ شیطانی وحی کو (فاعتبروا یا اولی الابصار) (اخبار البدر مورخہ ۵ مارچ ۱۹۰۸ء) میں ہے جو قادیان سے شائع ہوتا تھا۔
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول ہیں اور نبی ہیں ۔“
- نمبر ۳...... (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) میں ہے: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
جواب سوال سوم مولانا رومیؒ یا اور کسی بزرگ نے کسی ولی کو نبی نہیں کہا، اور نہ الہام کو وحی کہا، ہاں مولانائے رومؒ کا ایک مصرعہ مرزائیوں کی زبان زد ہے اور کہتے ہیں کہ یہ مثنوی میں ہے ۔
جس میں مرشد کو نبی وقت کہا ہے، مگر ان ناقلین سے تصحیح نقل کا مطالبہ کرنا چاہیے، اگر یہ مصرعہ مثنوی میں نکل آیا تو اسی مقام پر سیاق و سباق میں اس کا مطلب بھی مل جائے گا کہ مراد نائب نبی ہے جس کو مجازاً نبی کہہ دیا گیا اور مجازاً تو بعض دفعہ اس سے زیادہ کہہ دیا جاتا ہے۔ خود قرآن میں ہے۔ اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ (الجاثیہ۲۳) کیا تم نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو الہ بنایا ہے، تو کیا اس مجاز سے کوئی شخص دعویٰ مصاحبت الوہیت کو جائز کرلے گا کہ میں بھی صاحبِ ہویٰ ہوں اور ہویٰ کو قرآن میں الہ کہا گیا ہے تو میں بھی صاحب الہ ہوں ، یا اگر کسی کلکٹر کو مجازاً بادشاہ کہہ دیا جائے کہ وہ بھی اپنے ضلع میں بادشاہ کی مثل ہے، کیونکہ اس کا نائب ہے، تو کیا اس سے کلکٹر کو دعویٰ سلطنت جائز ہوگا؟ ہرگز نہیں، اسی طرح بزرگوں نے الہام کو وحی ہرگز نہیں کہا، ہاں بعض کے کلام میں ”وحی الالہام“ کا لفظ وارد ہے جس میں تقیید موجود ہے اور قید کے ساتھ وحی کا اطلاق غیر وحی حقیقی پر جائز ہے، جیسے ”وحی الشیطان“ وغیرہ، اور اگر کسی کے کلام میں بغیر قید کے بھی غیر وحی کو وحی کہا گیا ہو تو وہاں معنی لغوی مراد ہوں گے، نہ کہ اصطلاحی معنی، جس کا قرینہ یہ ہوگا کہ اس شخص نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا اور جو شخص اپنے الہام کو وحی کہہ کر دعویٰ نبوت کرے گا اس کے کلام میں یہ تاویل نہیں ہوسکتی۔
جواب سوال چہارم الہام اور وحی کی تعریف حسب ذیل ہے۔
الوحی بالفتح والسكون فی الاصل الاعلام فی خفاء وقيل الاعلام فی سرعة وكل مادلّت به من كلام او كتابه او اشارة او رسالة فهو وحی (ای لغة) وفى اصطلاح الشريعة هو كلام الله تعالى المنزل علی نبی من انبيائه، كذافى الكرماني والعينی وقال صدر الشريعة فی التوضیح فی ركن السنة الوحى ظاهر و باطن الی ان قال وكل ذلک حجة مطلقاً بخلاف الالهام فانه لايكون حجة على غيره (كشاف اصطلاحات الفنون للعلامة التهانویؒ ص ۱۵۲۳) اور وحی انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے اسی لیے کسی کا یہ دعویٰ کرنا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے، موجب کفر و ردت ہے، شفاء قاضی عیاض میں ہے: ومن ادعى النبوة لنفسه او جوّز اكتسابها والبلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذلك من ادعی منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة وهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبی ﷺ لانه اخبر انه خاتم النبيين وانه لانبی بعده و اخبر عن الله وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على ان هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد منه دون تاويل و تخصيص فلا شک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعًا و اجماعًا و سمعًا
(من شرح الشفاء للخفاجی ج ۳، ص ۵۳۲ و ۵۷۳)
ملاحظہ ہو رسالہ اکفار الملحدین، جس میں دیگر ائمہ سے اسی کی مثل تصریح مذکور ہے۔
اگر اس پر کوئی یہ کہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنے کو مجازاً نبی کہا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ مجاز کا دعویٰ بدون قرائن کے قبول نہیں ہوسکتا اور مرزا کے اقوال میں ارادۂ مجاز کا کوئی قرینہ نہیں، بلکہ وہ تو صاف صاف اپنے کو نبی بلکہ رسول اور نبی تشریعی کہتا ہے اور جو اس کی نبوت کو نہ مانے اسے کافر کہتا ہے اور اپنے لیے جملہ انبیاء سے زیادہ معجزات کا دعویٰ کرتا ہے، ملاحظہ ہو (رسالہ ہدیۃ المہدیین مطبوعہ قاسمی دیوبند) دوسرے ارادہ مجازاً کے معنی تو یہ ہیں کہ متکلم عدم ارادۂ حقیقت کا مقر ہو یا اگر کوئی حقیقت کی نفی کرے تو اس پر نکیر نہ کرے، جیسے: زیدٌ اسدٌ کہا جائے تو متکلم زید لیس باسدٍ کا بھی اقرار کرے گا اور اس کی نفی نہ کرے گا، پس اگر مرزا نے اپنے کو مجازاً نبی کہا، بمعنی وارثِ نبی یا نائبِ نبی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے سے نبوت کی نفی نہیں کرتا اور نفی کرنے والوں کی تکفیر کرتا ہے اور جب اس کی نبوت سے آیت خاتم النبیین و حدیث لانبی بعدی کا معارضہ ہوا تو قرآن وحدیث میں تحریف کرنے لگا اور نبوت کی قسمیں اور انواع نکالنے لگا، صاف یونہی کیوں نہ کہہ دیا کہ میں نبی نہیں ہوں ویسے ہی مجازاً میری زبان سے نبی کا لفظ نکل گیا تھا۔
والالهام بالهاء لغة الاعلام مطلقا و شرعًا، القاء معنى فی القلب بطريق الفيض ای بلا اكتساب و فكر ولا استفاضة بل هو وارد غيبی ورد من الغيب كذافی (الكشاف المذكور ص ۱۳۰۸) قال وهو اى الالهام ليس سببًا يحصل به العلم لعامة الخلق و يصلح للالزام على الغير لكن يحصل به العلم فی نفسه هكذا يستفاد من شرح العقائد النسفيه و حواشيه.
(ص مذکور)
مگر اس تعریف میں ایک قید مذکور نہیں یعنی ”قلب غیر النبی“ اور بدون اس قید کے تعریف الہام نبی کے الہام کو بھی شامل ہے۔ اور نبی کا الہام اگر تعریف میں داخل ہوا تو آگے یہ قول مطلقاً صحیح نہ ہوگا ۔ وهو ليس سببًا يحصل به العلم لعامة الخلق ۔ کیونکہ نبی کا الہام وحی ہے اور وہ حجت ہے جیسا کہ اوپر گزرا، پس تعریف جامع مانع یوں ہے۔ هو القاء معنى فى قلب غير النبی بطريق الفيض.
اور صوفیہ نے یہ فرق کیا ہے کہ وحی وہ ہے جو بواسطہ جبرئیل کے ہو اور الہام وہ ہے جو بواسطہ ملک الہام
کے ہو جو دوسرا فرشتہ ہے، مگر یہ تعریف جامع مانع نہیں، کیونکہ نبی کا منام اور رائے اس تعریف وحی سے خارج جاتے ہیں، حالانکہ وہ بھی وحی میں داخل ہیں اور وحی غیر نبوت شرعاً کوئی چیز نہیں، بعضے صوفیہ الہام ہی کو وحی الالہام سے تعبیر کر دیتے ہیں، جس میں وحی سے مراد معنی لغوی ہیں نہ کہ معنی شرعی جس کا قرینہ خود یہی قید ہے۔ اگر مرزا قادیانی بھی اس کا دعویٰ کرے کہ میں نے بھی الہام کو مجازاً یا لغۃً وحی کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تیرے صریح اقوال اس تاویل کو رد کر رہے ہیں۔ اوّل تو ان کے غلط اور کذب ہونے کا اقرار کرو، وقد ذکرناها قبل پھر تو اپنے اقرار سے نبی نہ ہوگا، بلکہ مدعی ولایت ہوگا، اور مدعی ولایت کاذب ہوا کرتا ہے، کیونکہ دعویٰ کرنا نبی کے لیے مخصوص ہے ولی دعویٰ نہیں کیا کرتا۔ قال فی کشاف اصطلاحات الفنون نقلاً عن النفحات والرسالة القشیریة ونیز از شروط ولی آنست کہ اخفائے حال خود کند چنانکہ از شروط نبی آنست کہ اظہارِ حال خود کند وعن خلاصة السلوک الولی علی ماقال البعض هوالذی یکون مستور الحال ابداً والکون کله ناطقا علی ولایته والمدعی الذی ناطق بالولایة والکون کله ینکر عليه.
جواب سوال پنجم حضرت عیسیٰ ؑ بوقت نزول تبع شریعت محمدیہ ﷺ بن کر تشریف لائیں گے، لیکن یہ اتباع ان کی شانِ نبوت کا منقص نہیں، بلکہ مکمل ہے، پس عیسیٰ ؑ اس وقت نبی بھی ہوں گے اور امتی بھی، مگر نبی صاحب شرع نہ ہوں گے بلکہ نبی متبع ہوں گے، جیسے موسیٰ ؑ کے بعد بہت سے انبیاء متبع تورات ہوئے ہیں، اور گو اس وقت عیسیٰ ؑ پر وحی بواسطہ جبریل ؑ توضیح مراد قرآن وحدیث نبوی ﷺ کے لیے نازل ہونے میں بھی کوئی اشکال نہیں، مگر شیخ ابن عربی کے بعض اقوال سے جو کشف پر مبنی ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ ؑ کے پاس اس وقت جبرئیل ؑ کے واسطہ سے وحی نہ آئے گی۔
(کما یفہم من الیواقیت ص ۳۸ ج ۲)
اور صورتِ اولیٰ کے موجب اشکال نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ آخر النبیین ہیں، جیسے کہا جاتا ہے فلاں خاتم الراکبین وآخر الراحلین، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص صفت رکوب و ارتحال سے سب کے بعد موصوف ہوا اس کے لیے یہ لازم نہیں کہ اس سے پہلے راکبین و راحلین اس کے رکوب وارتحال کے وقت فنا ومعدوم ہو چکے ہوں بلکہ ان کے بقاء کے ساتھ بھی یہ خاتم الراکبین و آخر الراحلین ہوگا، پس عیسیٰ ؑ کا حضور ﷺ سے پہلے نبوت سے متجلی ہو کر حضور ﷺ کے بعد تک رہنا خاتم النبیین اور لانبی بعدی کے منافی نہیں، اور یہی معنی انقطاعِ وحی کے ہو سکتے ہیں، کہ حضور ﷺ کے بعد ابتداءً کسی پر وحی نہ آئے گی، اور جس پر آپ ﷺ سے پہلے آچکی ہو اس پر وحی کا آتا رہنا اس کے خلاف نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جو نبی سابق یا وحی سابق باقی رہے، وہ حضور ﷺ کی نبوت و وحی کے تابع ہوگی، ورنہ اس کا نسخ لازم آئے گا، حالانکہ یہ دین اسلام اجماعاً ناسخ الادیان کلہا ہے، اور اس کو کوئی نبی یا وحی منسوخ نہ کر سکے گی، اور آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ ﷺ بکثرت اس پر شاہد ہیں، اگر تفصیل مطلوب ہو تو رسالہ ختم النبوة فی القرآن و ختم النبوة فی الحدیث وختم النبوة فی الآثار، وہدیة المهدیین فی آیة خاتم النبیین و اکفار الملحدین فی شئ من ضروریات الدین، مطبع قاسمی دیوبند سے طلب کر کے ملاحظہ ہوں۔
جواب سوال ششم میں نے مرثیہ تمام دیکھا مجھے تو کوئی لفظ توہین کا موہم بھی نہیں ملا اگر آپ کے نزدیک کچھ ایہام ہو تو اس کی تشریح فرما کر سوال کریں۔ ۶ جمادی الثانی ۱۳۴۵ھ از تھانہ بھون، خانقاہ امدادیہ
(امداد الاحکام ج ۱ ص ۱۵۱ تا ۱۶۷)
دفعہ شبہ قادیانی
سوال....... عبارت (تذکرۃ الشہادتین ص ۲۲ مصنفہ مرزا قادیانی) قرآن شریف اور احادیث میں لکھا ہے کہ اس زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو آگ سے چلے گی اور اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔
جواب....... اس مضمون کی تصریح کہاں ہے جس سے اونٹوں کے بیکار ہونے کو مستنبط کیا گیا ہے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اونٹوں کے بیکار ہونے کے معنی اس میں منحصر ہیں، ۲۶ شوال ۱۳۲۱ھ۔
(امداد الفتاویٰ ج ۶ ص ۱۰۰)
دعوٰی نبوت کے بعد زندہ رہنے والا
سوال....... تاریخ کی رو سے کیا کسی شخص کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جس نے جناب پیغمبر اسلام کے بعد نبوت کا دعوٰی کیا ہو اور پھر آخر عمر تک وہ باعزت اور محفوظ رہا ہو۔ یہاں تک کہ اس کا سلسلہ اس کے بعد بھی چلتا رہا ہو۔ اس کی بھی تحقیق مطلوب ہے؟
فضل رحیم از شیخوپورہ
جواب....... انتہائے مغرب میں برغواطہ قوم کا ایک شخص صالح بن طریف گزرا ہے جس نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور یہ بھی دعوٰی کیا تھا کہ اس پر ایک قرآن بھی اترتا ہے۔ اس کے قرآن کی بعض سورتوں کے نام یہ تھے۔ سورۃ الدیک، سورۃ النمر، سورۃ آدم، سورۃ ہاروت و ماروت، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ صالح کا یہ بھی دعوٰی تھا کہ میں مہدی اکبر ہوں جس کی خبر خود آنحضرت ﷺ نے دی ہے۔ دعوٰی نبوت کے ساتھ اسے اتنا فروغ ہوا کہ اپنے پورے علاقہ کا بادشاہ بن گیا۔ پینتالیس سال کے قریب اس نے حکومت کی اور اپنی تمام سیاسی اور مذہبی مہمات کا سربراہ رہا۔ اس کے بعد سرداری اس کے بیٹے الیاس کو ملی، اس نے پچاس سال کے قریب حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یونس برسر اقتدار آیا۔ جس نے اپنے دادا صالح بن طریف کے مذہب کو بہت ترقی دی اور چوالیس برس کے قریب حکومت کی۔ صالح بن طریف کے زمانے میں خلافت بغداد پر ہشام بن عبدالملک کا قبضہ تھا۔ مورخ شہیر علامہ ابن خلدونؒ لکھتے ہیں:
زعم انه المهدی الاکبر الذی یخرج فی آخرالزمان وان عیسٰی یکون صاحبه و یصلی خلفه و ان اسمه فی العرب صالح و فی سریانی مالک و فی العجمی عالم و فی العبرانی روبیا و فی البربری دربا و معناه الذی لیس بعدہ نبی.
(تاریخ ابن خلدون ج ۶ ص ۲۰۹)
”اس کا دعوٰی تھا کہ وہی مہدی اکبر ہے جو قرب قیامت میں ظاہر ہوگا اور حضرت عیسٰی ؑ اس کے ساتھی ہوں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ عرب میں اس کا نام صالح تھا، سریانی میں مالک، عجمی میں عالم، عبرانی میں روبیا اور بربری میں دربا تھا اور اس کا معنی ہے الذی لیس بعدہ نبی اس کے بعد اب کوئی اور نبی نہ ہوگا۔“
یونس کے بعد صالح کا پڑپوتا ابوغفیر برسر حکومت آیا (یہ معاذ بن الیسع بن طریف تھا) اس کے متعلق فاضل ابن خلدون لکھتے ہیں۔
واشتدت شوکته وعظم امرہ۔ اسے عظیم شوکت حاصل تھی اور اس کی حکومت بلند پایہ تھی۔
- ابوغفیر کے بعد ابو الانصار برسر اقتدار آیا۔ جس نے اپنے باپ دادا کے مذہب کو بہت فروغ دیا۔ اس کے بعد ابو منصور عیسٰی کا دور آیا جو برغواطہ کا ساتواں بادشاہ تھا۔ اس نے بھی دعوٰی نبوت کیا۔ ابن خلدون لکھتے ہیں:۔
وادعى النبوة والكهانة واشتد امره وعلا سلطانه و دانت له قبائل المغرب .
(تاریخ ابن خلدون ج ۶ ص ۲۱۰)
”اس نے بھی نبوت اور غیب دانی کا دعویٰ کیا۔ اس کی حکومت اور سطوت بہت زور کی تھی اور مغرب کے تمام قبائل اس کے آگے سرنگوں تھے۔“
اس کے بعد اس خاندان کا سلسلہ نہایت ذلت سے ختم ہوا۔
ان حقائق سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ دعویٰ کہ مفتری کے سلسلے کو بقاء نہیں ہوتی یا ضروری ہے کہ وہ تئیس سال کے اندر اندر ہلاک ہو جائے۔ اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
مقام غور علاوہ ازیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی مدعی نبوت کا لازمی طور پر قتل ہونا اگر اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہو تو پھر وہ پیغمبرانِ کرام جو سچے ہو کر بھی مقامِ شہادت پاگئے اور انھیں ان کے مخالفین نے قتل کیا۔ ان کی صداقت کیونکر مشتبہ نہ ہو جائے گی۔ جب لازم ممکن نہیں تو ملزوم بالبداہت خود بخود باطل ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ۳۲ سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں ۔
قتل یحییٰ قبل رفع عیسیٰ علیہ السلام .
(تفسیر ابی السعود ج ۲ ص ۵۰ تفسیر کبیر ج ۲ ص ۲۶۳)
”حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوپر اٹھائے جانے سے بہت پہلے۔“
ایسا ہی (تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۳ الاخبار الطوال ص ۱۱۴، تاریخ کامل ج ۱ ص ۱۰۴، فتوحات الہیہ ج ۱ ص ۷۲، ص ۲۶۲، تفسیر فتح البیان ج ۱ ص ۱۲۰، بحر محیط ج ۱ ص ۲۳۶، تفسیر جمل ج ۱ ص ۷۲، کشاف ص ۷۹، در منثور ج ۴ ص ۲۶۲ اور تفسیر مراح لبید الامام النووی) میں مذکور ہے۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ
(عبقات ص ۲۲۱ تا ۲۲۳)
نبوت تشریعی اور غیر تشریعی میں فرق
سوال ....... ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ۔ ”قولوا انه خاتم النبیین ولا تقولوا لانبی بعدہ“
جواب ....... (تکملہ مجمع البحار ج ۵ ص ۵۰۲) میں علامہ محمد طاہر پٹنی نے یہ قول نقل کر کے لکھا ہے۔ ”وهذا ناظر الى نزول عيسى .“ یعنی یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پیشِ نظر فرمایا۔
سوال ....... امام عبدالوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں ”مطلق نبوت نہیں اٹھائی گئی محض تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے۔ جس کی تائید حدیث من حفظ القرآن الخ“ سے بھی ہوتی ہے (جس کے معنی یہ ہیں کہ جس نے قرآن حفظ کر لیا اس کے دونوں پہلوؤں میں نبوت بلاشبہ داخل ہو گئی) اور آنحضرت ﷺ کے قول مبارک ”لانبی بعدی ولا رسول“ سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو شریعت لے کر آئے۔ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں ”جو نبوت رسول اکرم ﷺ کے آنے سے منقطع ہوئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقامِ نبوت“ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اس لیے اس نے ان کی خاطر غیر تشریعی نبوت باقی رکھی۔ مذکورہ بالا دو اقوال واضح فرمادیں۔ تشریعی اور غیر تشریعی بھی واضح فرمادیں۔ کیا اس کو اپنے لیے دلیل بنا سکتے ہیں؟
جواب ....... شیخ ابن عربیؒ اولیاء اللہ کے کشف و الہام کو ”نبوت“ کہتے ہیں اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو جو منصب عطا کیا جاتا ہے اسے ”نبوت تشریعی“ کہتے ہیں ۔ یہ ان کی اپنی اصطلاح ہے۔ چونکہ انبیاء کرام کی نبوت ان کے نزدیک تشریع کے بغیر نہیں ہوتی اس لیے ولایت والی نبوت واقعتاً نبوت ہی نہیں۔ علامہ شعرانیؒ اور شیخ ابن
عربی بھی انبیاء کرام ؑ والی نبوت (جو ان کی اصطلاح میں نبوت تشریعی کہلاتی ہے) کو ختم مانتے ہیں اور ولایت کو جاری۔ اور یہی عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے فرق صرف اصطلاح کا ہے۔ واللہ اعلم
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۳۔۲۳۴)
نبوت تشریعی و غیر تشریعی
سوال ...... حسب تصریحات شیخ اکبر محی الدین بن عربی رضی اللہ عنہ در مواضع کثیرہ از فتوحاتِ مکیہ و امام شعرانی در یواقیت سلسلہ نبوت تشریعیہ منقطع شدہ است نہ مطلق نبوت۔ پس جائز باشد کہ بعض کمل را ازیں امت مرحومہ نبی غیر مشرع گفتہ شود۔
جواب ...... اصلاً جائز نیست قال ﷺ لعلی کرم اللہ وجہہ انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی۔ اینجا سلب اطلاق اسم نبی مطلق مشرعاً کان اوغیر مشرع فرمودہ اند اگر گوئی پس صاحب فتوحات و یواقیت چرا خلاف ایں حدیث گفتہ اند۔ گوئم غرض ایں بزرگواران آنست کہ دریں امت مرحومہ گروہ اہل اللہ ہستند کہ بذریعہ الہام یا کشف یا مطالعہ لوح محفوظ اطلاع دادہ مے شوند بر اسرار کتاب وسنت و غیرہانہ آنکہ مجرد حصول ایں معنی اوشاں را دخول در مقام نبوت و استحقاق اطلاق اسم نبی حاصل گردد و صاحب فتوحات خود در فتوحات مے فرماید۔ لا یصح لاحد ان ینال مقام النبوۃ و انما نراہ کالنجوم علی السماء انتہٰی۔ کذا فی الیواقیت۔ خلاصہ آنکہ، بعد آنحضرت ﷺ اطلاق رسول و نبی براحدے ازیں امت مرحومہ جائز نیست۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ایں امر موہوبی است نہ کسبی۔ و فی القصیدہ :۔
و فی کتب العقائد۔ ولا یبلغ ولی درجۃ الانبیاء و فی ھذا کفایۃ لمن لہ ادنی درایۃ واللہ یقول الحق ویھدی السبیل ولہ الحمد فی الاولیٰ والآخرۃ والصلوٰۃ والسلام علی حبیبہ المصطفیٰ وآلہ واصحابہ البررۃ اھل التقی والنقی۔ (العبد الملتجی الی اللہ ان یغنیہ عمن سواہ المدعو بہ مہر علی شاہ جعل آخرتہ خیر امن الاولیٰ)
(فتاویٰ مہریہ ص ۲۸)
کیا نبوت جاری ہے؟
سوال ...... سورۂ اعراف کی آیت یا بنی آدم اما یأتینکم رسل منکم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پاک ﷺ کے بعد قیامت تک نبی آتے رہیں گے کیونکہ بنی آدم سے یوم قیامت تک آنے والے تمام افراد مراد ہیں ان کے انبیاء بھی قیامت تک آنے چاہئیں۔
جواب ...... یہاں دو عموم ہیں۔ ایک افراد انسانی کا عموم۔ دوسرا تمام اوقات میں عموم و احاطۂ رسل۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی قیامت تک، ظاہر ہے کہ پہلا عموم دوسرے عموم کو مستلزم نہیں۔ بایں طور ہر دور میں نئے نئے رسول آتے رہیں بلکہ یہ چیز امکانِ وقوعی کے طور پر ثابت ہے کہ ایک ہی رسول قرونِ کثیرہ کے افرادِ انسانی کے لیے کافی ہو جیسا کہ عیسیٰ ؑ امت عیسویہ کے قرونِ کثیرہ کے لیے کافی ہوئے (یعنی حضور ﷺ کی بعثت سے قبل پانچ صد سال) یہ معاملہ باری تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ہر ایک کے لیے جس قدر چاہتا ہے حد مقرر فرماتا ہے۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہمعصروں کے لیے اور مابعد میں قیامت تک آنے والوں کے
لیے کافی ہوں۔ پس آیت مذکورہ سے مستدل کا استدلال کوئی قوت نہیں رکھتا بلکہ حضورﷺ کے بعد سلسلہ نبوت و رسالت کا انقطاع نص قرآنی ”خاتم النبیین“ سے ثابت ہے۔
سوال ..... شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربیؒ نے فتوحات میں اور امام شعرانی نے یواقیت والجواہر میں کئی مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ نبوت تشریعی کا سلسلہ منقطع ہوا ہے مطلق نبوت کا نہیں۔ لہٰذا جائز ہے کہ بعض کاملین امت کو نبی غیر تشریعی کہا جائے۔
جواب ..... ایسا کہنا بالکل جائز نہیں۔ حضورﷺ حضرت علیؓ سے ارشاد فرماتے ہیں۔ انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی. (مشکوٰۃ ص۵۶۳) تم مجھ سے قرب ومنزلت میں اس طرح ہو جس طرح موسیٰ علیہ السلام سے ہارون علیہ السلام تھے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہاں مطلقاً اسم نبی کے اطلاق کی نفی فرما دی خواہ وہ تشریعی کہلائے یا غیر تشریعی۔ اگر کہا جائے کہ پھر صاحب فتوحات وصاحب یواقیت نے اس حدیث کی خلاف ورزی کیوں کی ہے تو جواباً یہ کہا جائے گا کہ ان اکابر کی غرض یہ ہے کہ اس امت مرحومہ میں اہل اللہ کا ایسا گروہ موجود ہے جنھیں کشف یا الہام یا لوح محفوظ کے مطالعہ کے ذریعے کتاب وسنت وغیرہ کے اسرار سے مطلع کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اس معنی کے حصول سے انھیں نبوت کا مقام مل جاتا ہے۔ یا ان پر اسم نبی کا اطلاق صحیح ہے بلکہ صاحب فتوحات خود فتوحات میں تصریح فرماتے ہیں۔ لا یصح لاحد ان ینال مقام النبوۃ انا نراہ کالنجوم علی السماء. کہ اب کسی کے لیے نہیں ہو سکتا کہ وہ نبوت کا مقام پائے ہم تو نبوت کے مقام کو اپنے سے اتنا دور دیکھتے ہیں جتنا کہ آسمان کی بلندی پر دور سے ستارے نظر آتے ہیں۔ یواقیت میں بھی اسی طرح منقول ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد رسول ونبی کا اطلاق امت مرحومہ کے کسی فرد پر جائز نہیں۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء یہ وہی چیز ہے کسبی نہیں۔ قصیدہ بردہ میں ہے ؎ تبارک اللہ ما وحی بمکتسب یعنی وحی کسبی چیز نہیں۔ شرح عقائد وغیرہ میں ہے کہ کوئی ولی درجہ انبیاء تک نہیں پہنچ سکتا۔ صاحب سمجھ کے لیے یہی کچھ کافی ہے۔ واللہ یقول الحق و یھدی السبیل والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد ﷺ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین.
(فتاویٰ مہریہ ص ۲۸-۲۹)
ختم نبوت کے متعلق چند شکوک کا ازالہ
سوال ..... از آیۂ ذیل معلوم می شود کہ پس از حضرت خاتم النبیین ﷺ رسولان تا ساعت قیامت خواہند آمد قال اللہ تعالیٰ یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی و ینذرونکم لقاء یومکم ھذا. (الاعراف ۳۵) چہ مراد از بنی آدم ہمہ افراد نوع انسانی اند الیٰ یوم القیامۃ۔
جواب ..... اینجا دو عموم اند یکی عموم افراد انسانی۔ دوئم عموم و احاطہ آمدن رسل ہمہ ازمان را حتیٰ کہ بعد آنحضرت ﷺ نیز الیٰ یوم القیامۃ و ظاہر است کہ عموم اوّل مستلزم نیست عموم ثانی را بوجہیکہ تجدد افراد انسانی مثلاً در ہر قرن ملزوم نباشد برائے تجدد اتیان رسل و انزال اوشاں بلکہ ممکن بامکان وقوعی است کفایت یک رسول برائے افراد انسانی اہل قرون کثیرہ ببین کہ مثلاً امت عیسویہ را آمدن یک رسول یعنی عیسیٰ علیہ السلام در قرون کثیرہ کفایت کرد و ایں امریست موقوف برمشیئت ایزدی بہر قدر کہ خواہد تحدیدش فرماید۔ بناء علیہ ممکن است کہ اتیان آنحضرت ﷺ کافی باشد برائے ہمعصراں و تابعانش الیٰ یوم القیامۃ لا کما زعم المستدل۔ الحاصل آیت مسطورہ بالا دلیل نیست بر عموم بلکہ
ثابت است بقولہ تعالیٰ (خاتم النبیین) انقطاع سلسلہ رسالت ونبوت بعد آنحضرت ﷺ۔ (فتاویٰ مہر یہ ص ۱۷۔۲۸)
جھوٹا مدعی نبوت اور طوالت عمر
سوال ...... مرزا قادیانی کے سچے نبی ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اس کو عمر نبوت میں لمبی دی گئی قرآن مجید اس بات پر شاہد ہے۔
جواب ...... یہ بات کئی وجہ سے غلط ہے۔ دیکھو عبداللہ مہدی نے دعویٰ ۲۹۶ھ میں کیا اور ۳۲۴ھ میں اپنی موت سے مرا اور اس نے طرابلس و مصر بھی فتح کیا۔ تاریخ کامل ابن اثیر ج ۸ صفحہ ۹۰ اور اکبر بادشاہ نے ۱۵۸۱ء میں دعویٰ نبوت کا کیا اور نبوت کے دعویٰ میں ۲۵ برس برابر جیتا رہا۔ تاریخ ہند عبدالقادر صالح بن ظریف ۱۲۵ھ میں دعویٰ نبوت کر کے برابر ۴۷ برس اپنا کام چلاتا رہا۔ آخر الامر اپنی موت سے مرا۔
علاوہ اس کے فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی صادق نہیں آئے گا اور میرے بعد نبی ہوتا تو حضرت عمر فاروقؓ ہوتے اور قرآن مجید اسی بات پر شاہد ہے اور جو نبی ہوتا ہے وہ تمام جہاں کے علماء سے علم و اتقا میں زیادہ ہوتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی علم معقول سے جاہل تھا۔ (دیکھو اعجاز المسیح صفحہ ۲۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳) تنکرون بااعجازی یہاں پر تنکرون اعجازی ہونا چاہیے اور (صفحہ ۹ خزائن ج ۱۸ ص ۱۱) قالوا مفتری یہاں مفتر ہونا چاہیے تھا اور اسی صفحہ اعجاز المسیح ایضاً میں واعطی ماطلبوہ یہاں واعطو ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس کا پہلا مفعول نائب عن الفاعل ہونے کا زیادہ مستحق ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے مسیح کنجروں میل جول رکھتا تھا۔ اس کی تین دادیاں نانیاں زنا کار تھیں، زنا کی کمائی کا عطر جو ان عورتوں سے منگواتا تھا۔ دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱) میں لکھا ہے۔
مرزا نے لکھا
داد آں جام مرا بہ تمام
(درثمین فارسی ص ۱)
اور کتاب (اعجاز المسیح صفحہ ۳۰) میں لکھا ہے کہ ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن مجید پر۔“ پس ان عبارات مرزا قادیانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان بھی نہ تھا نبی اور مجدد کا درجہ کجا۔ فقط
(فتاویٰ نظامیہ ج ۴ ص ۴۱۳۔۴۱۴)
حیات عیسیٰ ؑ کا عقیدہ اہلسنت کا عقیدہ ہے
سوال ...... (۱)...... فرقہ قادیان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات ہو چکی ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور قریب قیامت حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول آسمان سے ہوگا اور زمین پر تشریف لا کر خلیفہ وقت ہوں گے اور دجال کو ماریں گے۔ آپ آسمان پر زندہ تشریف رکھتے ہیں یا انتقال فرما گئے ۔؟ (۲)...... فرقہ قادیان کہتے ہیں کہ من بعدی اسمہ احمد جو آیت قرآن شریف کی ہے، وہ غلام احمد قادیانی کی نسبت ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اس کے مصداق حضرت محمد ﷺ ہیں اور آپ کی ہی تشریف آوری کی بشارت حضرت عیسیٰ ؑ نے دی تھی۔ (۳)...... قادیانی کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود ۱۳۰۰ ہجری کے
نبی تھے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین اس حالت میں غلام احمد نبی کیسے ہوئے جبکہ نبوت کے ختم ہونے کا ثبوت قرآن شریف دیتا ہے؟
جواب ...... صرف حنفیہ کا نہیں بلکہ تمام فرقہ ہائے اہلسنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ آسمان پر تشریف رکھتے ہیں اور بے شک قریب قیامت نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے جو شخص ان کی وفات کا دعویٰ کرے وہ زمرۂ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے۔ ایسا شخص ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کے قول پر کان لگایا جائے۔ (۲)...... آیت شریفہ ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کو مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے لیے بتلانا بالکل غلط ہے کیونکہ اول تو باتفاق مفسرین یہ آیت حضرت رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے متعلق ہے جس میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی وہ بشارت نقل فرمائی ہے جو انھوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق بطور پیشگوئی اپنی امت کو دی تھی تو اب آیت میں آنحضرت ﷺ کے سوا کسی دوسرے کو مراد لینا اجماع مفسرین کا خلاف کرنا ہے۔ دوم! ...... یہ کہ مرزا غلام احمد کے متعلق یہ آیت کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں آنے والے رسول کا نام احمد بتایا گیا ہے اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ہے نہ احمد۔ تو ایسی صورت میں ان کا یہ دعویٰ کہ یہ آیت میرے متعلق ہے صراحۃً غلط اور کھلم کھلا باطل ہے۔ سوم! ...... یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے جس آنے والے کی بشارت دی ہے اس کو رسول کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور ان کے بعد جو رسول آئے وہ حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ روحی فداہ ہیں اور آپ خاتم النبیین اور خاتم الرسل ہیں اور مرزا قادیانی یقیناً و بداہۃً آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہوئے۔ پس اگر مرزا قادیانی کو دعویٰ رسالت نہ ہو تو وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشگوئی کا مصداق اس لیے نہیں ہو سکتے کہ یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد آنے والے رسول کے متعلق ہے اور مرزا قادیانی رسول نہیں اور اگر ان کو دعوائے رسالت ہو تو یہ دعویٰ صراحۃً آیت قرآنی ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین کے خلاف اور حدیث رسول مقبول انا خاتم النبیین لانبی بعدی کے مخالف ہونے کی وجہ سے باطل اور مردود ہے۔ چہارم! ...... یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ پیشین گوئی اور بشارت جس نبی کے متعلق ارشاد فرمائی ہے اسے اپنے بعد آنے والا بتایا ہے اور بعدیت سے ظاہر اور متبادر بعدیت متصلہ ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد ایک رسول یعنی آنحضرت ﷺ تشریف لائے جن کی رسالت کو قادیانی بھی مانتے ہیں تو حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت و پیشگوئی کا مصداق تو پورا ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق بتانا تو جب صحیح ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے اس کلام میں ایک سے زائد رسولوں کے آنے کی بشارت ہوتی حالانکہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف ایک رسول کے آنے کا ذکر ہے جو آچکے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد ایک رسول کے آنے کو تسلیم کرتے ہوئے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہرانا صریح ہٹ دھرمی اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ یادرہے کہ ان کے اس دعویٰ میں حضور انور نبی ہاشمی ﷺ کی توہین بھی مضمر ہے۔ اور وہ منجر الی الکفر ہے۔ (۳)...... اس سوال کا جواب بھی مندرجہ بالا جواب کے ضمن میں آ گیا ہے۔
(کفایت المفتی ج۱ ص ۳۶۰ تا ۳۶۲)
نزول مسیح کے وقت ساتھ آنے والے فرشتوں کی پہچان
سوال ...... اور پھر بوقت نزول حضرت مسیح موعود دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔ (ملاحظہ ہو ص ۱۷ علامت نمبر ۶۲) اس کی بھی تاویل ہی کرنی پڑے گی، ورنہ فرشتے کون دیکھے گا اور اگر وہ انسانی شکل
اختیار کر کے اتریں گے تو پھر یہ جھگڑا قیامت تک ختم نہیں ہو گا کہ وہ واقعی فرشتے تھے یا محض انسان تھے اور اس کھینچ تان سے مولوی صاحب خوب واقف ہوں گے ۔
جواب ...... کیوں تاویل کرنا پڑے گی؟ اس لیے کہ غلام احمد قادیانی اس سے محروم رہے؟ رہا وہ جھگڑا جو آپ کے دماغ نے گھڑا ہے، یہ بتائیے کہ جب جبرئیل ؑ پہلی بار آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لے کر آئے تھے آپ ﷺ نے ان کو کس طرح پہچانا تھا؟ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہم السلام کو کس طرح یقین آ گیا تھا کہ یہ واقعی فرشتے ہیں؟
آپ کا یہ اعتراض ایسا مہمل ہے کہ اس سے سلسلہ وحی مشکوک ہو جاتا ہے۔ ایک دہریہ آپ ہی کی دلیل لے کر یہ کہے گا کہ ”انبیاء کے پاس جو فرشتے آتے تھے وہ انسانی شکل میں ہی آتے ہوں گے اور یہ جھگڑا قیامت تک ختم نہیں ہو سکتا کہ وہ واقعی فرشتے تھے یا انسان تھے، اور جب تک یہ جھگڑا طے نہ ہو سلسلہ وحی پر کیسے یقین کر لیا جائے گا؟“ تعجب ہے کہ قادیانی تعلیم نے دین تو سلب کیا ہی تھا عقل و فہم کو بھی سلب کر لیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۶-۲۲۷)
دفع شبہ قادیانی متعلقہ دعویٰ علامت مسیح درخود
سوال ...... عبارت (تذکرۃ الشہادتین ص ۳۴ و ۳۵ خزائن ج ۲۰ ص ۳۵-۳۶) ”یہ سولہ مشابہتیں ہیں جو مجھ میں اور مسیح میں ہیں“ دس ہزار نفوس کے قریب یا اس سے زیادہ لوگوں نے پیغمبر ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے میری تصدیق کی، اور اس ملک میں جو بعض نامی اہل کشف تھے جن کا تین تین چار چار لاکھ مرید تھا ان کو خواب میں دکھلایا گیا کہ یہ انسان خدا کی طرف سے ہے۔ یہ مسلم ہے کہ حضور ﷺ کی شبیہہ مبارک کوئی نہیں بن سکتا خواب میں بھی اس لیے اس کا جواب بعد غور عنایت فرمائیں؟
الجواب ...... ایسی مشابہتیں کھینچ تان کر ہر شخص اپنے اندر بتلا سکتا ہے، علاوہ اس کے اس پر کوئی دلیل عقلی نقلی قائم نہیں ہے، کہ دو چیزیں اگر بعض صفات میں ایک دوسرے کی مشابہ ہوں تو بقیہ صفات میں بھی ان کا اشتراک ضروری ہو یہ محض مغالطہ ہے، جس کی مثال منطقیوں نے یہ لکھی ہے كما يقال لصورة الفرس على الجدار هذا فرس وكل فرس صهال فهذا صهال اس پر تمام ادلہ قطعیہ و اجماع متفق ہیں، کہ کشف و منام گو لاکھوں آدمیوں کا ہو دلائل شرعیہ کتاب وسنت و اجماع و قیاس پر تعارض کے وقت راجح نہیں ، اگر ان میں تعارض ہوگا تو اگر مدعی غیر ثقہ ہے تو اس کو کاذب و مفتری کہیں گے اور اگر صالح ہے تو اشتباہ والتباس کے قائل ہوں گے، جیسا کسی نے خواب میں حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا اشرب الخمر، علمائے عصر نے بالاتفاق یہ کہا تھا کہ اس کو شبہ ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے کچھ اور فرمایا ہوگا، اور اس کا تعجب کیا ہے، جب بیداری میں ایسے اشتباہات احیاناً واقع ہو جاتے ہیں تو خواب کا کیا تعجب، بالخصوص جب خواب کا دیکھنے والا متہم ہو کسی عقیدۂ فاسدہ کے ساتھ، تو اس کا کذب یا اشتباہ دونوں غیر بعید ہیں۔
اس تقریر سے سب منامات و مکاشفات کا جواب ہو گیا، اور بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھنا حق اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو اصلی حلیہ میں دیکھے تو اس شرط پر دائرہ جواب کا اور وسیع ہوگا۔ علاوہ اس کے علماء باطن نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک برزخ میں مثل آئینہ کے ہے، کہ بعض اوقات
دیکھنے والے خود اپنے حالات و خیالات کا آپ ﷺ کے اندر مشاہدہ کر لیتے ہیں، بہر حال اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے دلائل شرعیہ صحیحہ کو چھوڑنا کیسے ممکن ہے۔ ۲۶ شوال ۱۳۲۱ھ (امداد ج ۳ ص ۱۰۲)
(امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۱۶ ، ۱۷ ، ۳۷)
نزول عیسیٰ اور ”ورافعک“ پر مطابقت
سوال...... اگر مسیح ابن مریم اور مسیح موعود ایک ہی وجود کا نام ہے (اور محض دوبارہ نزول کے بعد نبیؑ بن مریم نے ہی مسیح موعود کہلانا ہے) اور اس نے نازل ہوکر خود بھی قرآن وحدیث پر عمل کرنا ہے اور دوسروں کو بھی اسی راہ پر چلانا ہے (ملاحظہ ہو ص ۲۲ علامت نمبر ۹۹) تو بقول مولوی صاحب جب عیسیٰ ؑ کا آسمان پر زندہ اٹھایا جانا وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں۔ انی متوفیک و رافعک الی (آل عمران ۵۵) (ص ۱۶ علامت نمبر ۴۹) تو کیا مولوی صاحب بتائیں گے کہ کیا یہ آیت قرآن مجید میں قیامت تک نہیں رہے گی اور اس کا مطلب و مفہوم عربی زبان اور الٰہی منشاء کے مطابق وہی نہیں رہے گا جو اب تک مولوی صاحب کی سمجھ میں آیا ہے اور اگر ایسا ہی ہے کہ نزول کے وقت بھی تو یہ آیت یہی اعلان کر رہی ہوگی کہ عیسیٰ بن مریم کو آسمان پر اٹھا لیا، اٹھا لیا تو پھر واپسی کے لیے کیا یہ آیت منسوخ ہو جائے گی، یا عیسیٰ ؑ اسے خود ہی منسوخ قرار دے کر اپنے لیے راستہ صاف کر لیں گے کیونکہ قرآن مجید میں تو کہیں ذکر نہیں کہ کوئی بھی آیت کبھی بھی منسوخ ہوگی۔ لہٰذا یہ آیت عیسیٰ ؑ کی واپسی کا راستہ قیامت تک روکے رکھے گی اور یہ وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہے اور مولوی صاحب خود بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ذکر ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے لہٰذا کسے حق حاصل ہے کہ اس میں یعنی اس کے متن میں ردو بدل کر سکے۔
جواب...... یہ آیت تو ایک واقعہ کی حکایت ہے اور اسی حکایت کی حیثیت سے اب بھی غیر منسوخ ہے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کے بعد بھی غیر منسوخ رہے گی جیسا کہ:
انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ ۳۰) واذ قلنا للملائکۃ اسجدوا لآدم (البقرہ ۳۴) وغیرہ
بے شمار آیات ہیں۔ سائل بے چارا یہ بھی نہیں جانتا کہ نسخ امر و نہی میں ہوتا ہے اور یہ آیت امر و نہی کے باب سے نہیں بلکہ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوا کرتی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۰ ۔ ۲۲۱)
خاتم النبیین اور حضرت عیسیٰ ؑ
سوال...... خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں۔ آخری نبی یعنی آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں عطا کی جائے گی۔ مولانا صاحب اگر خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو حضرت عائشہؓ کے قول کی وضاحت کر دیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ”اے لوگو یہ تو کہو کہ آپ ﷺ خاتم النبیین تھے مگر یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
(حضرت عائشہؓ، تکملہ مجمع البحار)
جواب...... اس (تکملہ مجمع البحار ج ۴ ص ۵۰۲) میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد، حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کے پیش نظر فرمایا ہے چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کو نبوت آپ ﷺ سے پہلے ملی تھی اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا منشا یہ ہے کہ کوئی بددین خاتم النبیین کے لفظ سے حضرت عیسیٰ ؑ کے نہ آنے پر استدلال نہ کرے جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آیت خاتم النبیین حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے کو روکتی
ہے۔ پس حضرت عائشہؓ کا یہ ارشاد مرزا قادیانی کی تردید وتکذیب کے لیے ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۴۲)
حضرت عیسیٰ آسمان پر نماز وزکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہیں؟
سوال..... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو قرآن مجید کی رو سے وَاَوْصَانِيْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا کے مطابق ہر وقت جب تک وہ زندہ ہیں نماز اور زکوٰۃ فرض ہے اگر وہ اب آسمانوں پر زندہ ہیں تو وہاں نماز اور زکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہوں گے اور زکوٰۃ کون لیتا ہوگا؟ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب..... سب سے پہلے تو آیت قرآنیہ کا سمجھنا ضروری ہے۔
(مریم ۳۱)
”وَاَوْصَانِيْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَادُمْتُ حَيًّا“
”اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا جب تک میں زندہ ہوں۔“
اسی مفہوم کی دوسری آیت جس میں مومنین کے بارے میں فرمایا۔
(المعارج ۲۳)
”الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلٰوتِهِمْ دَائِمُوْنَ“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں۔ اور اس کی برکات وانوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے؟ کہ ہر وقت نماز پڑھتا رہے۔ ہر وقت زکوٰۃ دیتا رہے خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو۔ ہر وقت روزہ رکھتا رہے۔ ہر وقت حج کرتا رہے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی مَادُمْتُ حَيًّا کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہیے۔ لفظ صلوٰۃ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ لفظ ”صلوٰۃ“ کچھ اصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قرآن حکیم نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف ”صلوٰۃ“ کی نسبت کی ہے۔
”أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰفّٰتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلٰوتَهُ وَ تَسْبِيْحَهُ“ (النور ۴۱) اس سے ثابت ہوا کہ ہر چیز کی تسبیح وصلوٰۃ کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ وتسبیح کس رنگ کی ہے۔
زکوٰۃ اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نماز، برکت و مدح کے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک معنی کا استعمال قرآن وسنت میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رکوع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ”غُلَامًا زَكِيًّا“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو زکوٰۃ سے مشتق ہے پس ”مَادُمْتُ حَيًّا“ سے زمینی حیات مراد ہے۔ اگر اس آیت سے یہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تمام زندگی نماز پڑھتے رہیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں اور ہر وقت ان کی جیب روپوں سے بھری رہے تو یہ الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی صغر سنی میں کہے تھے تو اس وقت بھی زندہ تھے۔ تو اب بتائیے اس وقت وہ کونسی نماز پڑھتے تھے؟ ان کے پاس کتنے روپے تھے؟ اور کونسے مستحقین ان سے زکوٰۃ وصول کیا کرتے تھے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت میں کسی امر کا حکم ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر وقت دن، رات، سوتے، جاگتے، بیٹھتے اور اٹھتے اس پر عمل کرتے رہیں۔ بلکہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور شریعت میں اس کی حدود مقرر ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ۔ ۔
”اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ“ یعنی نماز پڑھو تو کیا اس حکم کی تعمیل میں ہر وقت نماز پڑھتے رہیں؟ یہ مراد ہرگز
نہیں بلکہ "إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتٰبًا مَّوْقُوتًا" (النسا۱۰۳) جب نماز کا وقت آئے گا تب نماز پڑھی جائے گی اور اس کے علاوہ نماز بعد بلوغت اور زکوٰۃ بعد مال فرض ہوتی ہے جب حضرت مسیح علیہ السلام بچے تھے نماز فرض نہ تھی جب بالغ ہوئے تو حکم بجا لائے اسی طرح جب مال تھا زکوٰۃ دیتے تھے۔ اب آسمان پر ان کے پاس مال ہی نہیں، زکوٰۃ کیسے دیں؟ منکرین حیات مسیح علیہ السلام کا فرض ہے کہ آسمان پر پہلے ان کے ہاں مال زکوٰۃ ہونا ثابت کریں پھر پوچھیں کہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ یہ سب عقلی ڈھکوسلے اور راہ فرار کے جھوٹے راستے ہیں جن کی اہل حق کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔
(فتاویٰ عطیہ ص ۳۳۲، ۳۳۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث ”لا نبی بعدی“ کے منافی نہیں
سوال ...... کیا حضرت محمد ﷺ نبی آخر الزمان ہیں آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا اور اس دعویٰ کی تائید کرنے والا مومن ہے یا کافر؟
- ۲ ...... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور آپ قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے تو بحیثیت
نبی کے یا امتی کے؟
- الجواب ...... ۱ ...... حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نبی آخر الزمان ہیں ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا خواہ کسی قسم کا
ہو کافر ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اس دعویٰ نبوت پر ایمان لائے وہ بھی کافر ہے۔
- ۲ ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے۔ ان کی تشریف
آوری یقینی ہے۔ مرزائی جو دھوکہ دیتے ہیں کہ ان کی تشریف آوری حدیث ”لا نبی بعدی“ کے مخالف ہے۔ غالباً اس کے ماتحت آپ نے یہ سوال تحریر فرمایا ہے کہ وہ نازل ہوں گے تو بحیثیت نبی کے ہوں گے یا امتی کے؟
جناب والا ! اس سوال کو مرزائی یوں رنگ دے کر بیان کرتے ہیں کہ اگر نبی ہو کر آئیں گے تو ختم نبوت باطل ہوتی ہے اور اگر معزول ہو کر آئیں گے تو ایک پیغمبر کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ یہ ایک اغلوطہ، اور دھوکہ ہے اس کو ہم اس مثال سے واضح کرتے ہیں کہ ایک صوبہ کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبہ کے اندر جاتا ہے جہاں دوسرے وزیر اعلیٰ کی حکومت ہے۔ کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ جو دوسرے صوبہ میں گئے ہوئے ہیں اپنی وزارت سے معطل ہو کر اپنے عہدہ سے گر گئے ہیں۔ یا یہ کہنا درست ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ اپنے علاقہ کے حاکم اور افسر اعلیٰ ہیں ایک مقصد اور کام کے سلسلہ میں دوسرے صوبہ میں گئے ہیں۔ جتنے دن دوسرے صوبہ میں رہیں گے وہاں کی حکومت اور قوانین کا احترام ان پر لازم ہوگا۔ باوجود اس بات کے کہ وہ اپنے عہدہ اور اعزاز کو بھی اپنے اندر باقی رکھے ہوئے ہیں اور اس سے کسی صورت میں معزول نہیں۔
محترم! اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سابقہ انبیاء علیہم السلام میں سے ہیں اپنے عہدہ اور اعزاز پر قائم ہیں ان کا اپنے عہدہ سے معطل ہونا لازم نہیں آتا۔ اور نہ ان کے آنے سے ختم نبوت پر اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ تو پہلے کے نبی ہیں۔ مکان نبوت میں ان کا پہلے سے مقرر شدہ درجہ و منصب ہے ان کا آنا اس امت میں ایک سبب اور مقصد کے لیے ہوگا اور وہ ہے قتل دجال۔ جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ تشریف لانے کے بعد نبی ہوتے ہوئے قانون محمدیہ ﷺ کا اتباع کریں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے ان کا آنا ”لا نبی بعدی“ کے منافی نہیں کیونکہ ”لا نبی بعدی“ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت ملنے کی نفی کرتا ہے۔ ان کو تو پہلے سے نبوت ملی ہوئی
ہے حضور ﷺ کے بعد تو نبوت نہیں دی جا رہی۔ اور دجال قادیانی تو حضور ﷺ کے بعد اپنے اوپر نبوت کے نزول کا مدعی ہے جو تمام اسلامی اجماعی عقیدہ کے منافی ہے اور آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کے ماتحت کہ ”لاتقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لانبى بعدى.“ (ابوداؤد ج ۱ ص ۱۲۷ مطبوعہ نور محمد کراچی) کا استعمال ان لوگوں کے لیے حضور ﷺ نے فرمایا۔ جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرتے ہیں ان کو دجال بھی کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی سابقہ نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں۔ یہ جو وزیر اعلیٰ کی مثال دی ہے بطور توضیح مثال دی ہے۔ کہیں کوئی شخص اس تشبیہ کو حقیقت نہ سمجھ لے اور اعتراض شروع کر دے۔ فقط واللہ اعلم۔ الجواب صحیح ۶ / ۶ بندہ محمد عبداللہ غفرلہ خیر محمد مہتمم خیر المدارس ملتان ۶ / ۱ / ۱۳۷۱ھ خادم دارالافتاء خیر المدارس ملتان ۶ / ۱ / ۱۳۷۱ھ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۱۵۰، ۱۵۱)
نزول مسیح اور مسلمانوں کے سخت فقر و فاقہ اور مال وزر کی کثرت پر تعارض کا اشکال
سوال....... ”مال و زر لوگوں میں اتنا عام کر دیں گے کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔“
(۲۲ علامت نمبر ۳۳)
”ہر قسم کی دینی و دنیوی برکات نازل ہوں گی۔“
(ص ۲۲ علامت نمبر ۱۰۰)
”ساری زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔“
(ص علامت نمبر ۱۰۹)
”صدقات کا وصول کرنا چھوڑ دیا جائے گا۔“
(ص ۲۶ علامت نمبر ۱۱۰)
”چونکہ اشیاء بوجہ مال و زر اتنا عام کر دیں گے کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔“
(از....ص ۲۲ علامت نمبر ۹۳)
”اس وقت مسلمان سخت فقر و فاقہ میں مبتلا ہوں گے۔ یہاں تک کہ بعض اپنی کمان کا چلہ جلا کر کھا جائیں گے۔“
(ص ۲۶ علامت نمبر ۱۲۴)
ملاحظہ فرمایا کہ ابھی ابھی تو مسلمان صدقہ دینا چاہتے تھے اور لینے والا کوئی نہیں تھا، مال و زر اتنا عام تھا کہ کوئی قبول کرنے والا نہیں تھا اور ابھی مسلمانوں ہی کی یہ حالت بتائی جا رہی ہے کہ وہ کمان کے چلے بھی جلا کر کھائیں گے تاکہ پیٹ کی آگ کسی طور ٹھنڈی ہو۔
کیا یہی وہ تحقیق ہے جس پر مولوی صاحب کو فخر ہے!
جواب....... ان احادیث میں تعارض نہیں، سلب ایمان کی وجہ سے سائل کو صحیح غور و فکر کی توفیق نہیں ہوئی مسلمانوں پر تنگی اور ان کے کمان کے چلے جلا کر کھانے کا واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ذرا پہلے کا واقعہ ہے جبکہ مسلمان دجال کی فوج کے محاصرے میں ہوں گے اور خوشحالی و فراخی کا زمانہ اس کے بعد کا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۷، ۲۲۸)
حیات مسیح اور توفی کے معنی
سوال....... مرزائی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔
جواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر ہیں چنانچہ جلد چہارم میں مفصل بحث اس کی گزر چکی ہے اور
علاوہ اس کے خود مرزا قادیانی اپنی کتاب (براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ صفحہ ۱۰۳، ۳۶۱ خزائن ج ۱ ص ۴۳۱) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔ فافہم فتاٴمل۔
سوال....... توفی کے کیا معنی ہیں کیونکہ مرزائی لوگ کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہر جگہ موت کے آتے ہیں۔
جواب....... یہ کہنا ان کا باطل غلط ہے متوفی کئی معنی پر آتا ہے چنانچہ
- ١....... توفی بمعنی نیند یتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت منامها
- ۲....... توفی بمعنی بدلہ ثم توفی کل نفس ما کسبت وهم لایظلمون
- ۳....... توفی بمعنی رفع توفیتی یعنی رفعتنی من بینهم
(تفسیر عباس از ابن عباس)
- ۴....... توفی بمعنی موت المجاز ادرکته الوفاة ای الموت.
(تاج العروس)
- ۵....... توفی بمعنی قبض قدیکون الوفات قبضا لیس بموت.
(از مجمع البحار)
- ٦....... توفی بمعنی سوال اذا جاء تهم رسلنا یتوفونهم ای سالهم ملائکة الموت.
- ٧....... توفی بمعنی گفتی توفیت عدد القوم مر از لسان العرب.
- ٨....... توفی بمعنی عذاب اذا جاء تهم ملائکة العذاب یتوفونهم عذاباً.
- ٩....... توفی بمعنی ایک چیز کو تمام پکڑنا توفیت المال منه و استوفیت اذا اخذت کله غرضیکہ توفی کئی معنوں پر
آتا ہے اور اس کا ذکر مفصل کسی اور جلد میں ہوگا۔ فقط
تقریظ عالم باعمل و فاضل بے بدل سید عبدالخالق بن غلام محمد القادری سجادہ نشین درگاہ ہائے گا حضرت محمد دانا عرف حضرت شاہ حبیب صاحب قدس اللہ سرہ سکنہ موضع مدارس ضلع امرتسر۔
(فتاویٰ نظامیہ ج ۵ ص ۴۱۴۔ ۴۱۵)
حیات و نزول عیسیٰ پر بارہ اشکالات و جوابات
- (۱)....... امتی کی صحیح تعریف کیا ہے؟
- (۲)....... حضرت عیسیٰ ؑ کو امتی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ امتی ماننا جزو ایمان ہے یا نہ؟
- (۳)....... حضرت عیسیٰ ؑ بعد نزول نبی رہیں گے یا نہ؟ اگر ان کو کوئی نبی نہ مانے تو کیا وہ اسلام سے خارج ہوگا؟
- (۴)....... حضرت عیسیٰ ؑ پر بعد نزول وحی آئے گی یا نہیں؟ اگر آئے گی تو وہ وحی نبوت ہوگی یا وحی الہام؟
- (۵)....... حضرت عیسیٰ ؑ بعد نزول مثل دیگر انبیاء کے معصوم تسلیم کیے جائیں گے یا نہیں؟
- (۶)....... حضرت عیسیٰ ؑ کو حسب سابق نبی کی حیثیت سے ماننے میں اور ان پر وحی آنے کے قائل ہونے سے
ختم نبوت کے مسئلہ پر اثر پڑنے کا اشکال صحیح ہے یا غلط؟
- (۷)....... جو یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ شریعت محمدیہ ہی کا اتباع کریں گے مگر امتی نہ ہوں گے تو وہ اسلام سے
خارج ہوگا یا نہیں؟
- (۸)....... حضرت ابوبکر صدیقؓ افضل الامتہ ہیں یا حضرت عیسیٰ ؑ ، جنھوں نے دنیوی زندگی میں حضور ﷺ کو
بحالت ایمان معراج کی رات دیکھا تھا؟
- (۹)....... حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ ؑ ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں یا یہ دو علیحدہ علیحدہ اشخاص ہیں؟
- (۱۰)....... حضرت عیسیٰ ؑ کا قبلہ تو بیت المقدس تھا۔ آپ نازل ہونے کے بعد کس طرح حج کریں گے اور مکہ
آئیں گے؟
- (۱۱)......کیا یہ حدیث صحیح ہے۔ لوکان موسٰی و عیسٰی حیین لما وسعهما الا اتباعی اگر یہ حدیث ہو تو کیا
اس میں صاف مذکور نہیں کہ حضرت عیسٰی اب زندہ نہیں ہیں؟
- (۱۲)......حضرت عیسٰی ؑ کے نازل ہونے پر یہود و نصارٰی ہر دو امتیں ختم ہو جائیں گی تو کیا حنفی، مالکی، شافعی،
حنبلی کے فقہی امتیازات باقی رہیں گے یا نہیں یا سب کا مسلک فقہی بھی ایک ہو جائے گا؟
آپ کے سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں
حامداً و مصلیاً و مسلماً اما بعد
- (۱)......امت سے مراد مقتدی ہیں جو لوگ کسی مقتدا کی اقتداء پر جمع ہوں وہ اس کے امتی ہوں گے۔ جس طرح
نخبہ کے معنی منتخب کے اور رحلہ کے معنی مرحول الیہ کے ہیں۔ اسی طرح لفظ امت فعلۃ کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہے۔ جس کی امامت کی گئی وہ امت ہے۔
اقتداء کرنے والے جب کسی مقتداء پر اتفاق کر لیں تو جماعت بنتی ہے۔ اس پہلو سے امت اور جماعت الجیل من الناس کو کہا جاتا ہے۔ حق پر جمع ہونے والے افراد بھی ایک امت شمار ہوتے ہیں کما نص علیہ صاحب القاموس۔ لیکن یہ معنی مجازی ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا تو جن لوگوں کے لیے آپ کی بعثت ہوئی وہ سب آپ کی امت ہیں۔ آپ جن لوگوں کے لیے پیشوا قرار پائے وہ سب آپ کی امت دعوت ہیں اور مکلف ہیں کہ آپ کی بات مانیں۔ جنھوں نے مان لیا وہ امت اجابت بن گئے۔ امت اجابت سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کی دعوت اور آپ کی تعلیمات پر جمع ہو گئے۔ امتی وہ ہے جس کو علم دین پیغمبر سے ملے اور پیغمبر وہ ہے جسے علم دین خدا سے ملے۔ اگر کوئی امتی دعویٰ کرے کہ مجھے علم خدا سے ملتا ہے اور علم دینی نوعیت کا ہے تو وہ امتی ہونے سے نکل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے دو ہی صورتیں ہیں یا وہ پیغمبر ہو یا کذاب....... امتی وہ کسی صورت میں نہیں رہا۔
- (۲)......حضرت عیسٰی ؑ مستقل صاحب شریعت اور صاحب امت نبی تھے۔ قیامت سے پہلے دنیا میں ایک دفعہ
پھر تشریف لائیں گے۔ آپ کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو آپ کی امت ختم ہو گئی نئے نبی پر نئی امت بنتی ہے۔ جب نیا نبی آئے تو ایک اور امت بن جاتی ہے۔ اب اس دور کے لیے صاحب امت نبی حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ مگر چونکہ پہلے نبی حضرت عیسٰی ؑ پر ابھی وفات نہیں آئی اور قیامت سے پہلے آپ کی دوبارہ تشریف آوری بھی مقدر تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو ایک درجے میں باقی رکھا۔ وہ درجہ اہل کتاب کا ہے۔ آپ چونکہ شریعت تورات کے بھی کسی حد تک پیرو تھے اس لیے اہل تورات کو بھی اہل کتاب میں رکھا گیا۔ یہود و نصارٰی کی دونوں امتیں حضرت عیسٰی ؑ کی دوبارہ تشریف آوری پر آپ پر ایمان لے آئیں گی اور مسلمان ہو جائیں گی۔ اسی طرح حضرت عیسٰی کی امت کلیتۃً ختم ہو جائے گی۔ سب اہل کتاب آپ پر صحیح تفصیل سے ایمان لا کر امت محمدی میں شامل ہو جائیں گے اور یہ دور دور محمدی ہوگا۔ قرآن کریم میں ہے۔ وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته و یوم القیامة یکون علیهم شهیدا. (النساء ۱۵۹) "اور اہل کتاب سے کوئی باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ حضرت عیسٰی پر ان کی وفات سے پہلے وہ ضرور ایمان لے آئے گا اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے ۔"
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک صاحب امت نبی جب صاحب امت نہ رہے اور زندہ بھی ہو تو وہ کس درجے میں شمار ہوگا۔ کیا وہ نبی ہوگا یا اپنے وقت کے نبی کا تابع ہوگا؟ جواب یہ ہے کہ وہ اپنی پوری امت کے ساتھ امت محمدی میں شامل ہو جائے گا اور اپنے اسی نئے دورِ زندگی میں حضور ﷺ کی اقتداء کرے گا اور آپ کی امت ہو کر رہے گا۔ نبی ہونے کے باوجود اس کی نبوت نافذ نہ ہوگی۔ یہ نہیں کہ ان حالات میں ان سے نبوت واپس لے لی جائے۔ شرح مواقف میں ہے۔
لا يتصور عزله عن كونه رسولاً.
(شرح مواقف ص ۷۶۲)
”آپ کے رسالت سے معزول کیے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی تشریف آوری کے فوراً ساتھ مسلمانوں کی امامت فرماتے تو اس میں دورِ محمدی کے ختم ہونے کا ایہام تھا۔ آپ دوسری تشریف آوری پر پہلی نماز حضور ﷺ کے امتی کی اقتداء میں پڑھیں گے اور اس سے آپ خود بھی امتی ہو جائیں گے۔ آپ کا حضور ﷺ کے امتی کی اقتداء کرنا گویا اعلان ہوگا کہ یہ دور دورِ محمدی ﷺ ہے اور پچھلے ایک نبی کے آنے پر بھی وہ دورِ محمدی ﷺ ہی رہے گا۔ تاہم آپ رسالت سے معزول نہ ہوں گے جب موت پر بھی رسالت منقطع نہیں ہوتی، تو اگر موت بھی نہ آئی ہو تو رسالت کے ختم ہونے کا سوال بالکل بے موقع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کریم ہے۔ کوئی مرتبہ عطا کر کے چھین لینا اس کی شانِ کریمی کے خلاف ہے۔ سو حق یہ ہے کہ ان کی آمدِ ثانی پر نبوت آپ سے مسلوب نہ ہوگی، صرف اس کا حکم نافذ نہ ہوگا کیونکہ یہ دور دورِ محمدی ﷺ ہے اور اس میں حضور ﷺ کی ہی روحانی بادشاہی ہے۔ ایک بادشاہ کسی دوسرے ملک میں جائے تو وہ بادشاہ تو رہتا ہے لیکن اس کی بادشاہی وہاں نافذ نہیں ہوتی۔ اس کا حکم نہیں چلتا۔ وہاں اسی کی بادشاہی ہی چلے گی۔ جس کا وہ ملک ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نبی کے الفاظ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے اس دورِ ثانی میں نبی اور وحی کے الفاظ حدیث شریف میں ملتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔
ثم يأتي عيسىٰ قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم و يحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هو كذلك اذا وحى الله الى عيسىٰ عليه السلام...... ثم يهبط نبي الله عيسىٰ عليه السلام و اصحابه الى الارض فلا يجدون في الارض.
(مسلم شریف ج ۲ ص ۴۰۱)
اس حدیث میں صریح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے وحیِ خداوندی آنے اور آپ کے لیے نبی اللہ کے الفاظ ملتے ہیں۔
- (۴)...... معلوم رہے کہ یہ قانونی وحی نہیں کہ آپ اس کی تصدیق کی کسی کو دعوت دیں اور اس پر ایمان لانا ضروری
قرار پائے۔ بلکہ یہ وحیِ عملی ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حجت ہوگی اور آپ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ اس قسم کی وحی کے لیے جبرئیل کی آمد کا کتب حدیث میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ سو یہ وحیِ الہامی ہے وحیِ رسالت نہیں۔ آپ شریعت کے طور پر حضور ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات و انجیل کے ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم بھی دے دی تھی۔ قرآنِ کریم میں ہے۔
ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل.
(آل عمران)
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو سکھائے گا قرآن و حدیث اور تورات و انجیل۔
حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ دور محمدی پانا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن و حدیث کی تعلیم نہ دیتے۔ کتاب وحکمت قرآن کے محاورے میں کتاب و سنت کا نام ہے۔ قدوۃ المتکلمین الشیخ ابو منصور البغدادی (۴۲۹ھ) لکھتے ہیں:۔
کل من اقر بنبوۃ نبینا محمد اقر بانہ خاتم الانبیاء والرسل و اقر بتایید شریعتہ ومنع من نسخہا وقال ان عیسیٰ علیہ السلام اذا نزل من السماء ینزل بنصرۃ شریعۃ الاسلام.
(اصول الدین ص ۱۶۲)
”ہر وہ شخص جس نے حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار کر لیا۔ اس نے مان لیا کہ حضور خاتم الانبیاء والرسل ہیں۔ اس نے مان لیا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ تک رہے گی کبھی منسوخ نہ ہوگی سو اس نے یہ بھی مان لیا کہ حضرت عیسیٰ جب آسمان سے نازل ہوں گے تو حضور ﷺ کی شریعت کی نصرت کے لیے آئیں گے اپنی نبوت کی دعوت نہ دیں گے“۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں:۔
اجتہاد حضرت روح اللہ موافق اجتہاد امام اعظمؒ خواہد بود نہ آنکہ تقلید ایں مذہب خواہد کرد کہ شانِ او ازاں بلند تر است کہ تقلید علمائے امت فرماید۔
(مکتوبات دفتر دوم مکتوب ص ۱۵۲، ۱۵۳ ایچ ایم سعید کمپنی)
”حضرت عیسیٰ ؑ کا اجتہاد امام ابوحنیفہؒ کے اجتہاد کے موافق ہوگا نہ یہ کہ وہ حنفی مذہب کے مقلد ہوں گے آپ کی شان اس سے بہت بلند ہے۔ آپ اس امت کے علماء کی تقلید کریں“۔
اس عبارت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ آپ عام علماء امت کی طرح اس امت میں شامل نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ طے شدہ ہے کہ آپ روایۃً اور اجتہاداً شریعتِ محمدی کے تابع ہی ہوں گے۔ ایک دوسرے مکتوب میں حضرت مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں:۔
عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعتِ او خواہد کرد و بعنوانِ امت او خواہد بود۔
(مکتوب دفتر دوم مکتوب نمبر ۶۷ ص ۱۸۲ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
اس میں تصریح ہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ ؑ) حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ ؑ آمد ثانی پر ایک جلالی شان سے تشریف لائیں گے۔ سب یہود و نصاریٰ آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ کی تشریف آوری علاماتِ قیامت میں سے ہوگی۔ سو یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اس آمد ثانی پر آپ پر ایمان نہ لائے۔ قرآنی آیت لیؤمنن بہ قبل موتہ میں آپ پر صحیح ایمان لے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اس وقت کوئی کافر نہ رہے گا۔ ہر کچے پکے مکان میں کلمہ اسلام داخل ہوجائے گا۔
- (۵) معصومیت لوازمِ رسالت میں سے ہے اور یہ لوازمِ ذات میں سے ہے۔ جب نبوت آپ سے مسلوب
نہیں تو ظاہر ہے کہ عصمت بھی آپ سے منتفی نہ ہوگی۔ آپ سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہوگا جو نبی کی شانِ عصمت کے خلاف ہو۔
- (۶) آپ کی دوبارہ تشریف آوری عقیدہ ختمِ نبوت کے ہرگز خلاف نہیں۔ سیدنا ملا علی قاریؒ (۱۰۱۴ھ) لکھتے ہیں:۔
اقول لا منافاۃ بین ان یکون نبيًّا ویکون متابعًا لنبینا ﷺ فی بیان احکام شریعتہ واتفاق طریقتہ ولو بالوحی الیہ کما یشیر الیہ قولہ ﷺ لو کان موسیٰ حيًّا لما وسعہ الا اتباعی
مع
وصف النبوة والرسالة والا مع سلبها لا يفيد زيادة المزية فالمعنى انه لا يحدث بعده نبی لانه خاتم النبیین السابقین.
(مرقات ج ۵ ص ۵۶۳)
”حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر موسیٰ ؑ بھی زمین پر زندہ ہوتے تو انھیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا یعنی وہ نبوت اور رسالت سے موصوف ہونے کے باوجود میری اطاعت کرتے کیونکہ نبوت اور رسالت کے بغیر حضرت موسیٰ کے آپ ﷺ کا مطیع ہونے سے حضور تاجدار ختم نبوت کے مطاع ہونے میں کسی فضیلت کا اظہار نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ مقام مدح ہے۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی پر ان کا نبی ہونا آیت ”خاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ کے خلاف نہیں۔ ان دونوں کا صحیح مطلب جو امت نے سمجھا ہے یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔“
- (۷)...... حضرت عیسیٰ ؑ اپنی اس آمد ثانی پر نبی بھی ہوں گے اور حضور ﷺ کے امتی بھی۔ امتی نہ بھی کہیں تو
حرج نہیں۔ معین تسلیم کرنا اور آپ کو تابع شریعت محمدی ماننا ضروری ہوگا۔ جو یہ کہے کہ آپ شریعت محمدی کا اتباع تو کریں گے لیکن امتی نہ ہوں گے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ آپ کی ذات گرامی میں چونکہ یہ دونوں وصف شامل ہوں گے۔ یعنی نبی بھی اور امتی بھی۔ تو مناسب تھا کہ اس امت میں افضل الامۃ علی الاطلاق حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی سمجھے جائیں۔ اس واسطے کہ حضرت عیسیٰ ؑ صرف امتی نہیں۔ ساتھ نبی بھی ہوں گے، گو ان کی نبوت نافذ نہ ہو اور جو افراد صرف امت ہیں ان سب کے سردار حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی ہیں۔
- (۸)...... آپ کے لیے امتی ہونا یا معین الامۃ ہونا علماء اسلام کے ہاں مختلف فیہ تعبیریں ہیں۔ کسی نے آپ کے
امت ہونے کا انکار کیا اور معین الامۃ وغیرہ کی تعبیر اختیار فرمائی۔ سو اس اختلاف کے پیش نظر مناسب تھا کہ آپ کو علی الاطلاق افضل الامۃ کہا جائے۔ سو اس خطاب کے لائق حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی رہے۔
حضور ﷺ کی ساری امت کا حشر آپ کے ساتھ ہوگا۔ دیگر سب امتیں اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گی۔ قرآن کریم میں ہے۔
فكيف اذا جئنا من كل امة بشهيد و جئنا بك على هؤلاء شهيدا.
(پ ۵ النساء ع ۶)
”پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہی دینے والا لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والا کر کے لائیں گے۔“
اس آیت کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا حشر اپنی امت سابقہ کے ساتھ ہی ہوگا۔ حضور ﷺ کی امت میں نہ ہوگا۔ الا یہ کہ بعض علماء کی بات مان لی جائے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے دو حشر ہوں گے۔ یہ قول بے شک موجود ہے جو لوگ حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی آمد ثانی پر ایمان لائیں گے گو اس کے معاً بعد وہ لوگ امت محمدی ﷺ میں داخل ہو جائیں گے اور آپ کی امت ختم ہوگی۔ لیکن ان کے ایمان لانے کی گواہی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ ہی دیں گے۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔
و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. و يوم القيامة يكون عليهم شهيدا.
(النساء ۱۵۹)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علیحدہ حشر پر جو آپ کا اپنی امت کے ساتھ ہوگا ایک اور شہادت ملتی ہے۔ آنحضرت ﷺ ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں۔ فاقول کما قال العبد الصالح و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم۔
(صحیح بخاری ج ۲ ص ۶۶۵)
”سو میں کہوں گا وہی بات جو عبد صالح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پہلے کہہ چکے ہوں گے کہ میں ان پر (عیسائیوں پر) اسی مدت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔“
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی امت پر گواہی دیں گے گو وہ اس دور تک کی ہی ہو جب تک وہ ان میں رہے تھے اور حضور ﷺ اپنی امت پر گواہی دیں گے۔ حضرت عیسیٰ کے لیے قال کا صیغہ ماضی اقول کی نسبت سے ہے کہ حضور جب یہ کہیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ اپنی بات کہہ چکے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ اپنی آمد ثانی کے بعد کے کسی حال پر اس لیے گواہی نہ دیں گے کہ یہ دور محمدی ﷺ ہے۔ اس پر کوئی اور نبی گواہی کیسے دے سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ خود حضور ﷺ کی امت میں شامل ہوں گے۔
ملحوظ رہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں تشبیہ صرف اس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اس وقت تک کے گواہ ہوں گے جب تک وہ ان میں رہے اور حضور ﷺ نے بھی اسی وقت تک کے حالات براہِ راست دیکھے ہوں گے۔ جب تک آپ ان میں رہے۔ باقی رہی اگلی بات کہ بعد کے حالات دونوں پیغمبروں کے اپنے اپنے تھے اور دونوں کی توفی اپنے اپنے طور پر ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی پہلے زندہ اٹھا کر ہوئی اور حضور ﷺ کی اس کے بغیر۔ سو اس میں یہاں تشبیہ نہیں ہے مشبہ اور مشبہ بہ میں کسی پہلو سے تشبیہ ہو جائے تو ارادہ تشبیہ پورا ہو جاتا ہے۔ ہر پہلو سے مشابہت ضروری نہیں۔ کما لا یخفی علی من لہ ادنی معرفۃ فی العلم۔
- (۹) ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدی دو علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں
گے اور حضرت مہدی اس امت میں پیدا ہوں گے۔ مگر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی کی ولادت نہیں ہوگی۔ ظہور ہوگا۔ ولادت ان کی ہزار سال پہلے سے ہو چکی ہوئی ہے اور اس وقت وہ کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ آپ قیامت سے پہلے ظہور کریں گے۔ اہلسنت والجماعت کے عقیدہ میں امام مہدی عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے۔ کسی غار سے نہ نکلیں گے۔
آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:۔ کیف انتم اذا انزل فیکم ابن مریم فامکم منکم۔
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷)
ترجمہ : تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہاری امامت وہ کرائے گا جو تم میں سے ہوگا۔
پھر دونوں کا امامت کے لیے ہم کلام ہونا بھی حدیث میں مذکور ہے۔ جب حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ یہ اس امت کا اعزاز و اکرام ہے کہ امامت اسی کی رہے تو اس سے صریح طور پر دونوں کا علیحدہ علیحدہ شخصیت ہونا مفہوم ہوتا ہے۔
- (۱۰) ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے اسرائیلی نبی تھے۔ اسرائیلی شریعت میں بیت اللہ شریف کا حج نہیں۔ کعبہ مشرفہ
اسماعیلی تعمیر ہے اور اسی کی تولیت اور تعمیر اس سلسلہ میں رہی ہے۔ حضور ﷺ اسماعیلی ہیں اور آپ کی شریعت میں حج اسی گھر کا قصد کرنا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس آمد ثانی پر اس گھر کا حج اور عمرہ کریں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آپ فج روحاء کے مقام سے احرام باندھیں گے اور تلبیہ پکاریں گے۔ آپ نے فرمایا:۔
والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمراً او لیثنینھما.
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۰۸)
”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ابن مریم ضرور لبیک پکاریں گے فجّ روحاء کے مقام سے حج کا تلبیہ یا عمرے کا یا وہ دونوں کو جمع کریں گے۔“
اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد شریعت محمدی ﷺ کی اتباع کریں گے۔ نماز میں بیت اللہ شریف کا رخ کریں گے اور اسی کے گرد طواف فرمائیں گے اور آپ حضور ﷺ کی تابعداری کرنے والے ایک فرد ہوں گے۔ اس حیثیت میں آپ انھیں حضور ﷺ کا امتی بھی کہہ سکتے ہیں اور آپ کی شریعت کا متبع اور معین بھی ...... یہ مختلف تعبیرات ہیں۔ حقیقت اپنی جگہ ایک ہے کہ یہ دور دورِ محمدی ﷺ ہے اور آپ کے دور میں اس زمین پر حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوئے تو آپ کو ان کی اتباع سے چارہ نہ تھا حضور اکرم ﷺ بھی فرماتے ہیں۔
والذی نفس محمد بیدہ لو اصبح فیکم موسیٰ ثم اتبعتموہ، وترکتمونی لضللتم انتم حظی من الامم وانا حظکم من النبیین.
(المصنف عبدالرزاق ج ۶ ص ۱۱۳)
”قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم میں موسیٰ آ جائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تم گمراہ ہو گے۔ امتوں میں تم میرا حصہ ہو اور نبیوں میں میں تمہارا حصہ ہوں۔“
آنحضرت ﷺ یہ بھی فرماتے ہیں۔
والذی نفسی بیدہ لو اتاکم یوسف و انا فیکم فاتبعتموہ و ترکتمونی لضللتم.
(ایضاً ص ۱۱۴)
”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام بھی آ جائیں اور میں تم میں موجود ہوں اور تم اس کی اتباع کرنے لگو اور مجھے چھوڑ دو۔ پھر بھی تم گمراہ شمار ہو گے۔ (گو ایک پیغمبر کی اتباع کر رہے ہو گے)“
- (۱۱) ...... یہ روایت کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام زندہ ہوتے تو انھیں میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا۔ حدیث کی
کسی کتاب میں موجود نہیں اور نہ اس کی کوئی سند صحیح یا ضعیف کہیں ملتی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت بھی ہوتی تو معنی یہی تھا کہ یہ دونوں پیغمبر اگر اس زمین پر زندہ ہوتے تو انھیں میری شریعت کی اتباع ہی کرنی پڑتی۔ ظاہر ہے کہ زمین پر دونوں حضرات میں سے کوئی زندہ نہیں۔ حضرت موسیٰ تو ویسے ہی وفات پا چکے ہیں۔ رہے حضرت عیسیٰ تو وہ آسمان پر زندہ ہیں نہ کہ زمین پر۔ اور جب زمین پر اتریں گے تو وہ حضور ﷺ کی اتباع ہی کریں گے اور واقعی انھیں حضور ﷺ کی پیروی سے چارہ نہ ہوگا۔ حدیث کے جو اصل الفاظ ملتے ہیں صرف اتنے ہیں۔
لو کان موسیٰ حیاً ما وسعہ الا اتباعی رواہ احمد و البیہقی.
(مشکوٰۃ ص ۳۰)
اور حضرت ملا علی قاریؒ نے شرح شفا میں بھی اس پر بحث کی ہے، اور پھر شرح فقہ اکبر میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ شرح فقہ اکبر کے مصری نسخے اور ہندی نسخے میں اختلاف ہے۔ ایک نسخے میں لو کان موسیٰ و عیسیٰ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک نسخہ میں صرف لو کان موسیٰ حیاً کے الفاظ ہیں۔ ایسے موقع پر حدیث کی اصل کتابوں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ محدث عبدالرزاق (۲۱۱ھ) امام احمد (۲۴۱ھ) امام بیہقی (۴۵۸ھ) صرف
موسیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف میں بھی یہی ہے۔ اب ملا علی قاری (۱۰۱۴ھ) کی نقل میں اگر کہیں موسیٰ اور عیسیٰ کے الفاظ ملیں تو ظاہر ہے کہ اصل کتابوں کی روشنی میں اس کی اصلاح کی جائے گی۔ پھر جب شرح فقہ اکبر کا دوسرا نسخہ بھی اس سے اختلاف کرے تو وہی نسخہ صحیح سمجھا جائے گا جو پہلوں کے مطابق ہو۔ پھر ملا علی قاریؒ خود اس میں اپنی کتاب شرح شفاء کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔ اس کی طرف مراجعت کریں تو اس میں بھی صرف لوکان موسیٰ کے الفاظ ملتے ہیں۔ موسیٰ وعیسیٰ کے الفاظ نہیں۔
سو شرح شفا کی طرف مراجعت کرنے سے شرح فقہ اکبر طبع ہند کا نسخہ صحیح قرار پاتا ہے۔ پس حدیث میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے حضرت عیسیٰ کا نہیں اور اگر ہو بھی تو ہم اس کی مراد پہلے واضح کر آئے ہیں۔
- (۱۲)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر مسلمانوں کا فقہی مسلک ایک ہوگا یا وہ اسی طرح مختلف
مسالک پر عمل کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ آج مختلف چار طریق عمل رائج ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی اتباع کا کامل نمونہ صحابہ کرامؓ ہیں۔ جب صحابہؓ کے دور میں بھی جو اس امت کے بہترین افراد تھے۔ مختلف فقہی مسلک قائم رہے تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر بھی یہ مختلف پیرایہ عمل قائم رہیں گے۔ اس لیے کہ ان میں صرف افضل ومفضول کا فرق ہے...... حق وباطل کا فاصلہ نہیں...... حضور ﷺ کی اپنی سنن میں بہت وسعت تھی اگر آپ ﷺ کی ہر ادا امت کے مختلف طبقوں میں معمول بہ رہے اور آپ ﷺ کی ہر سنت زندہ وقائم ہو تو اس سے آپ ﷺ کی شریعت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ صحابہ کرامؓ بے شک معیار حق ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر اگر مختلف فقہی مسلک ایک ہو جائیں تو امت کا یہ نقشہ عمل پھر صحابہؓ کی ترتیب پر نہ ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طریق پر معمول بہ ٹھہرے گا اور یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ تابع شریعت محمدی ﷺ ہوں گے اور ظاہر ہے کہ شریعت محمدی ﷺ کے اصل علمبردار صحابہ کرامؓ ہیں۔ اس لیے انہی کا نقشہ عمل تا قیام عالم باقی رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پہلی نماز میں حضرت مہدی کی اقتداء کرنا اس طرف مشیر ہے کہ شریعت محمدی ﷺ کی تفصیلات میں آپ صحابہ کرامؓ کے نقشہ عمل کی ہی تائید کریں گے اور فقہی مسالک میں وہی انداز عمل قائم رہے گا جو صحابہ کرامؓ کے دور میں تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت مسیح کا اپنا فقہی مسلک کسی امام کے اجتہاد سے توارد رکھتا ہو اور اس کے مطابق ہو۔ اور یہ صحیح ہے کہ وہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے موافق ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
خالد محمود عفا اللہ عنہ
(عبقات ص ۴۶۲ تا ۴۷۱)
بحث توفی عیسیٰ علیہ السلام
- سوال...... (۱)...... کیا قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چوتھے آسمان پر مجسم اٹھایا جانا ثابت ہے اور پھر
زمین پر اترنا، اگر یہ صحیح ہے تو پھر وہ آیت نقل فرمادیں۔
- (۲)...... ہمارے یہاں مسلمانوں میں یہ جھگڑا چل رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات شدہ ہیں یا حیات از روئے قرآن
درست کیا ہے۔
- (۳)...... زید کہتا ہے کہ توفی باب تفعل سے ہے اور اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور حضرت عیسیٰ ذی روح ہیں اور
مفعول ہیں ایسی صورت میں توفی کے معنی سوائے قبض روح کے اور کچھ نہیں ہوتے اس کے خلاف قرآن سے کوئی مثال دیجئے۔
- (۴)...... زید کہتا ہے کہ قرآن مجید، احادیث، تفاسیر اور محاورہ عرب کی رو سے لفظ رفع جب بھی اللہ تعالیٰ کی
طرف یا کسی انسان کی نسبت بولا جائے گا، تو اس کے معنی ہمیشہ بلندی درجات اور قرب روحانی کے ہوتے ہیں۔
گزارش یہ ہے کہ کلام عرب سے کوئی ایسی مثال دیں کہ لفظ رفع کا فاعل اللہ تعالیٰ مذکور ہو اور کوئی ذی روح اس کا مفعول ہو اور رفع کے معنی جسم سمیت آسمان پر اٹھا لینے کے ہوں۔
المستفتی ضلع سنگھ محلہ بڑا کنواں قصبہ بگھرا، ضلع مظفر نگر
الجواب...... حامداً و مصلیاً
جواب سے پہلے اوّلاً بطور تمہید ایک بات ذہن نشین کرلیں، اس کے بعد جواب سمجھنے میں سہولت ہوگی۔
اصالۃً ہدایت کا سرچشمہ قرآن پاک ہے۔ ھُدیً لِّلنَّاسِ (بقرہ ۱۸۵) لیکن اس میں عموماً بنیادی اصول دینی امور کو بطور ضابطہ کلیہ مختصراً بیان کیا گیا ہے، تفصیلات وتشریحات کا بیان کرنا حضرت نبی اکرم ﷺ کے سپرد ہے۔
لتبین للناس مانزل الیھم مثلاً قرآن پاک میں ہے۔ (۱) ”اقیموا الصلوٰۃ“ (نماز قائم کرو) اس کی پوری تفصیل کہ کس نماز میں کتنی رکعات ہیں یا کس رکعت کے بعد قعدہ ہے یا کس رکعت میں صرف الحمد پڑھی جاتی ہے کس میں آہستہ سے قرأت کی جاتی ہے اور کس میں آواز سے اور کس میں سورۃ ملائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ حتیٰ کہ کس نماز کے وقت کی ابتدا کب سے ہے انتہا کہاں پر ہے اس سب کا براہ راست قرآن کریم سے بغیر حدیث کی مدد کے سمجھنا دشوار ہے، اس کو حضور اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
مثال (۲)...... ”و اتوا الزکوٰۃ“ (اور زکوٰۃ ادا کرو) اس کی تفصیل کہ چاندی کی کتنی مقدار میں زکوٰۃ لازم ہے، سونے کی کتنی مقدار میں۔ بکری، گائے، اونٹ وغیرہ کی کس حساب سے زمین کی پیداوار میں کس حساب سے، یہ سب احادیث سے معلوم ہوئی۔ قرآن کریم میں اسکا ذکر نہیں۔
مثال (۳)...... ”ولِلّٰہِ علی الناس حج البیت“ (آل عمران ۹۷) (اور لوگوں کے ذمہ اللہ کے گھر کا حج کرنا لازم ہے) اس کی تفصیل کہ طواف کا کیا طریق ہے، کتنے چکر ہیں، عرفات، مزدلفہ، منیٰ، رمی جمار وغیرہ کے مسائل کو حضور اکرم ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔
قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے حدیث شریف کی روشنی حاصل کرنا ضروری ہے، حدیث سے بے نیاز ہو کر قرآن شریف کو صحیح طور پر سمجھنا ناممکن ہے۔ امت کو حکم ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی بیان فرمودہ تفصیلات کے تحت قرآن شریف سے ہدایت حاصل کریں۔ اسی سلسلہ میں حضور اکرم ﷺ کی اطاعت اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہی اطاعت ہے۔ ”ومن یطع الرسول فقد اطاع اللّٰہ“ (النساء ۸۰) (جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی) اس لیے کہ یہ تفصیل وتشریح بھی وحی ہی کے ذریعے ہے۔
”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ (النجم ۳،۴) قرآن پاک عربی میں نازل ہوا، صحابہ کرامؓ عربی زبان اور محاورات کو خوب سمجھتے تھے، ان کی مادری زبان تھی مگر یہ نہیں فرمایا گیا کہ جس طرح تمہاری سمجھ میں قرآن سے آئے اس طرح نماز پڑھا کرو بلکہ ارشاد ہے۔ ”صلوا کما رأیتمونی اصلی“ (بخاری شریف ص ۱۰۷) یعنی جس طرح تم مجھ کو (حضور اکرم ﷺ کو) نماز پڑھتا دیکھو اسی طرح نماز پڑھو۔
الحاصل یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہر چیز کی پوری تفصیل وتشریح قرآن پاک میں ہے۔ حدیث کی ضرورت نہیں اور یہ مطالبہ قابل تسلیم نہیں کہ ہر چیز کو صرف قرآن سے ثابت کیا جائے اور حدیث کی طرف التفات نہ کیا جائے اور یہ بات کہ جو چیز پوری تفصیل کے ساتھ قرآن پاک میں مذکور نہ ہو اور احادیث سے ثابت ہو، وہ قابل تسلیم نہیں،
صحیح نہیں بالکل غلط ہے، ورنہ صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج اور اس طرح بے شمار دینی امور کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ اس بنیادی تمہید کے بعد آپ کے سوالات کا جواب عرض ہے۔
(۱)...... قرآن کریم میں رفع مسیح علیہ السلام کا مختصراً تذکرہ ہے۔ جیسے کہ آتوا الزکوٰۃ میں زکوٰۃ کا تذکرہ ہے۔ باقی تفصیلات احادیث کے سپرد ہیں اسی طرح پر زمین پر اترنا بڑی تفصیل کے ساتھ احادیث میں مذکور ہے اور یہ احادیث درجہ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، جیسا کہ حافظ بن حجر نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ نیز حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں تصریح کی ہے۔ نیز حافظ ابن حجر نے (تلخیص الحبیر ج ۳ ص ۴۶۲) میں لکھا ہے۔ ”اما رفع عیسیٰ فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ.“ حافظ ابن کثیر نے دس صفحات میں وہ احادیث جمع کی ہیں جس میں حضرت عیسیٰ کا زندہ مع جسم عنصری کے آسمان پر موجود ہونا قرب قیامت میں ان کا اترنا مذکور ہے دونوں چیزیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم عنصری کے زندہ اٹھایا جانا اور قرب قیامت کے زمین پر اترنا، اجماعی، اتفاقی، قطعی ہیں ان میں اختلاف نہیں، گذشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اس اجماعی عقیدہ کی مخالفت کی ہے اور تیرہ سو سال کے اجماعی عقیدہ کو غلط کہا ہے جس کی تردید میں مستقل کتابیں تصنیف کر کے دلائل جمع کر دیئے گئے۔
(۲)...... ان کا اٹھایا جانا قرآن پاک میں ہے تشریح احادیث میں ہے جیسا کہ جواب نمبر ۱ میں گزرا، اس کے خلاف کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔
(۳)...... زید کا لفظ توفی کے متعلق یہ دعویٰ کہاں سے ماخوذ ہے اس کے بالمقابل یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک میں جہاں لفظ توفی باب تفعل سے آئے اور اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور معین شخص (عیسیٰ) مفعول ہیں تو اس کے معنی جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھا لینے کے ہوں گے، اس کے خلاف کوئی ثابت ہی نہیں کر سکتا تو کیا زید کے پاس اس کے خلاف کا ثبوت ہے۔
علاوہ ازیں جب کہ زندہ جسم عنصری کے ساتھ خاص طریقہ سے آسمان پر اٹھا لینے کا واقعہ بطور معجزہ و خرق عادت صرف ایک دفعہ ایک شخص کے ساتھ پیش آیا ہے تو پھر اس کی نظیریں تلاش کرنا یا نظیروں کا مطالبہ کرنا بے محل ہے۔
(حضرت محمد ﷺ کو جو معراج جسمانی ہوئی ہے اس کی شان جدا گانہ ہے)
قرآن پاک میں ہے۔ ”الله یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا.“
(الزمر ۴۲)
آیت پاک میں اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور ذی روح مفعول ہے۔
کیا یہاں بھی یتوفی موت کے معنی میں ہے اور نوم کی حالت میں روح قبض ہو جاتی ہے اور کیا سونے والے پر میت کے احکام، نماز جنازہ، تدفین، عدت زوجہ، تقسیم میراث وغیرہ سب جاری ہوں گے۔ یہاں تک لفظ توفی کے متعلق زید کے مخصوص نظریہ کا جواب تھا اب اصل وضع محاورات عرب استعمال کی روشنی میں اس کی حقیقت عرض ہے، (و، ف، ی) وفی، یفی، وفا، ثلاثی مجرد، اوفی، یوفی، ایفاء، باب افعال سے، توفی، یتوفی، توفیاً تفعل سے استوفی، یستوفی، استیفاء، استفعال سے وفی یوفی توفیۃً تفعیل سے، سب طرح یہ لفظ مستعمل ہے، اس کے معنی ہیں پورا کرنا، پورا لینا، پورا وصول کرنا، پورا دینا اسی سے ہے وفاءً (عہد) وفاءً وعدہ عرب بولتے ہیں۔ جیسے ”کیل واف“ (پورا پیمانہ) اوفیت الکیل والوزن. میں نے ناپ تول پورا کر دیا۔ یعنی کچھ کمی نہیں کی، قرآن پاک میں
ہے ۔ ” واوفوا الکیل اذا کلتم “ (الاسراء ۳۵) یعنی جب تم کسی کے لیے تول کرو تو پورا پورا کیل کر کے دو، ”اوفو بعہدی“ و اوف بعہدکم (البقرہ ۴۰) تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا، یوفون بالنذر (الدھر ۷) نذر پوری کرتے ہیں۔ وفیت کل نفس ما کسبت (آل عمران ۲۵) ہر ایک نے جو کچھ (دنیا میں) کمایا یا عمل کیا اس کو پورا دے دیا جائے گا۔ ”انما توفون اجورکم“ (آل عمران ۱۸۵) تم کو بلاشبہ تمہارا اجر پورا کر دیا جائے گا۔ وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم۔ (الانفال ۶۰) جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو تم کو (اس کا پورا اجر دے دیا جائے گا) فوفاہ حسابہ (النور ۳۹) اس کا حساب پورا پورا کیا۔ ”انی متوفیک“ (آل عمران ۵۵) میں تجھ کو پورا پورا لے لوں گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن قتل کے درپے تھے اور منصوبہ بنا رہے تھے تو اللہ پاک نے فرمایا کہ میں تجھ کو پورا پورا لے لوں گا، ان دشمنوں کو تجھ پر قتل کے لیے تجھ پر قابو نہیں دوں گا۔ یہ چیز بطور تسلی کے فرمائی گئی ہے اور تسلی کی صورت یہی ہے کہ دشمن قتل کرنے یا سولی دینے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا اور دشمن اشتباہ میں رہے اس کو فرمایا ہے۔ ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ“ (النساء ۱۵۷) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں نے بالیقین قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اگر توفی سے مراد یہاں موت لی جائے تو اس میں تسلی کی کونسی بات ہے اس وقت تو مطلب یہ ہو جائے گا۔ کہ یہ لوگ آپ کو قتل نہیں کریں گے بلکہ میں آپ کو موت دوں گا۔ موت سے تسلی کیا ہو سکتی ہے، علاوہ ازیں اگر وہ دشمنی میں قتل کر دیتے تو یہ چیز باعث ترقی درجات ہوتی۔ شہید کا درجہ بہت بلند ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے شہادت کی تمنا کا ذکر خاص انداز میں فرمایا ہے۔ درجہ بلند سے بچا کر عام موت کا وعدہ خاص اہمیت نہیں رکھتا پھر یہ کہ لفظ موت یا اماتت سے کیوں تعبیر نہیں کیا، توفی میں کیا نکتہ ہے۔ توفی کے اصل معنی موت کے نہیں۔ ہاں کبھی موت کا مفہوم اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح بولتے ہیں (فلان توفی عمرہ) فلاں شخص نے اپنی عمر پوری کر لی۔ جب عمر پوری کر لی تو موت آ ہی جائے گی آیت ”انی متوفیک“ کا مفہوم یہ بھی ہے کہ تیری عمر پوری کروں گا اور ان کی اسکیم فیل ہو جائے گی۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جتنی عمر یہاں ہوئی اس کے بعد اٹھا لیا گیا پھر زمین پر نزول ہوگا اس وقت بقیہ عمر پوری ہوگی جیسا کہ احادیث میں تفصیل مذکور ہے۔ یہاں تک کہ جب اس وقت انتقال ہوگا۔ تو قبر کی جگہ بھی بتا دی گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے قریب ایک قبر کی جگہ باقی ہے وہاں دفن ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجموعی حالات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نزول کے بعد شادی کریں گے۔
اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہو چکی ہے وہ آسمان پر زندہ موجود نہیں اور قریب قیامت زمین پر نہیں اتریں گے تو وہ اجماعی عقیدہ کا منکر ہے، قرآن پاک کی آیات کا منکر ہے اور احادیث متواترہ کا منکر ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱ ص ۹۵ تا ۱۰۰)
وفات عیسیٰ علیہ السلام پر چند اشکالات اور ان کا جواب
- سوال...... (۴)...... لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیّین لما وسعهما الا اتباعی (ابن کثیر برحاشیہ فتح
البیان ص ۳۷۸ ج ۱ الیواقیت والجواھر ج ۲ ص ۲۱ شرح فقہ اکبر ص ۱۰) میں بھی یہی مضمون ہے۔
- (۵)...... ”ان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ.“
(الحدیث کنز العمال ص ۱۲۰ ج ۶ ، جلالین ص ۵۲)
زیر آیت ”فیوفیھم اجورھم“ (آل عمران) حاشیہ پر حدیث نقل کی ہے۔ اس حدیث سے وفات ثابت
ہوتی ہے۔
- (۶)...... خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہمارے حضرت ﷺ کی وفات کیوں ہوئی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح آسمان پر
کیوں نہ اٹھائے گئے؟
- (۷)...... ”ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ (المائدہ ۷۵) اس آیت سے وفات
عیسیٰ ؑ پر استدلال کرنا کیسا ہے؟
- (۸)...... ”اموات غیر احیاء“ سے وفات عیسیٰ ؑ ثابت ہوتی ہے؟
- (۹)...... شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ ”لانبی بعدی“ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی۔ لیکن
غیر تشریعی نبوت ختم نہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟
- جواب...... (۱)...... حدیث ”لو کان موسیٰ عیسیٰ حیّین“ دو تین کتابوں میں مذکور ہے۔ مگر سب میں
بلاسند لکھی ہے اور جب تک سند معلوم نہ ہو کیسے یقین کر لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح قابل عمل ہے؟ اگر اسی طرح بلاسند روایات پر عمل کریں تو سارا دین برباد ہو جائے۔ اسی لیے بعض اکابر محدثین نے (غالباً حضرت عبداللہ ابن مبارک نے فرمایا) ”لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء“ دوسرے! اگر بالفرض سند موجود بھی ہو اور مان لو کہ صحیح بھی، تو غایت یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث سے جو حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی پر صریح ہیں اور درجہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ان کی معارض ہوگی اور تعارض کے وقت شرعی اور عقلی قاعدہ یہی ہے کہ اقویٰ کو ترجیح ہوتی ہے ظاہر ہے کہ ایک غیر معروف حدیث ان تمام صحیح اور قوی متواتر روایات پر راجح نہیں ہو سکتی۔ یہ قادیانی ہی مذہب کی خصوصیت ہے کہ مطلب کے موافق نہ ہو تو صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کو معاذ اللہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیں اور مطلب کے برعکس خود موافق ہو تو ضعیف روایت کو ایسا اہم بنائیں کہ صحیح اور متواتر روایات پر ترجیح دے دیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔
حدیث عاش مائۃ و عشرین سنۃ سے وفات مسیح کا شبہ اور اس کا جواب
- (۲)...... اس حدیث سے وفات کا ثابت کرنا قادیانی فراست ہی کی خصوصیات سے ہے۔ اولاً: اس لیے کہ حدیث
خود متکلم فیہ ہے۔ بعض محدثین نے اس کو قابل اعتماد نہیں مانا۔ ثانیاً: اگر حدیث ثابت بھی ہو جائے تو صحاح ستہ میں جو قوی اور صریح و صحیح روایات حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی اور نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہیں۔ یہ حدیث ان کا معارضہ عقلاً و اصولاً نہیں کر سکتی۔ ثالثاً: حدیث کی مراد صاف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زمین پر ایک سو بیس سال زندہ رہے۔ آسمان پر زندہ رہنا چونکہ بطور معجزہ ہے۔ اس لیے اس حیات کو حیات دنیوی میں شمار نہ کرنا چاہیے تھا اور نہ کیا گیا۔ اور اس حدیث میں زمین اور اس عالم عناصر کی حیات کا ذکر ہے بطور اعجاز، جو حیات کسی کے لیے ثابت ہو۔ اس کا اس میں شمار کرنا اور داخل سمجھنا عقل ونقل کے خلاف ہے۔
آنحضرت ﷺ کو آسمان پر کیوں نہ اٹھایا گیا؟
- (۳)...... حق تعالیٰ کے معاملات ہر شخص کے ساتھ جدا جدا گانہ ہیں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال
کرے کہ جو معاملہ نوح ؑ کے ساتھ کیا وہی موسیٰ ؑ کے ساتھ کیوں نہ کیا اور جو ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا وہی ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیوں نہ کیا اور صرف ان معاملات و واقعات سے ایک نبی کو دوسرے نبی پر نہ
کوئی ترجیح و تفصیل دی جاسکتی ہے۔ جب تک دوسری صحیح و صریح روایات تفصیل پر دلالت نہ کریں۔ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ بعض انبیاء کو آروں کے ذریعہ دو ٹکڑے کر دیا گیا اور بعض کو آگ میں ڈالا گیا اور بعض کو خندق وغیرہ میں پھر کسی پر آفات و مصائب اول جاری کر دیے۔ پھر آخر الامر بچا لیا اور کسی کو اول ہی سے محفوظ رکھا۔ اب یہ سوال کرنا کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا کر زندہ رکھا گیا ہے۔ ایسا ہی حضرت نبی کریم ﷺ کے ساتھ معاملہ کیوں نہ کیا گیا۔ یہ تو ایسا ہی سوال ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ جو معاملہ موسیٰ علیہ السلام اور لشکر فرعون کے ساتھ بنص قرآن کیا گیا۔ وہی معاملہ نبی کریم ﷺ اور کفار مکہ کے ساتھ کیوں نہ ہوا کہ جنگ احد میں حضور ﷺ کا دندان مبارک شہید ہونے اور چہرہ انور زخمی ہونے کی نوبت آئی۔ آپ ﷺ کو ہجرت کر کے وطن اور مکہ چھوڑنا پڑا۔ غار میں چھپنا پڑا۔ سب کفار قریش پر ایک دفعہ ہی آسمانی بجلی کیوں نہ آگئی۔ یا دریا میں غرق کیوں نہ ہو گئے۔ جیسے یہ سوال حضرت حق تعالیٰ کے معاملات میں بے جا ہیں ایسے ہی یہ بھی بالکل بے جا اور نامعقول سوال ہے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا آپ ﷺ کو بھی زندہ آسمان پر رکھنا چاہیے تھا کیونکہ زیادہ دنوں تک زندہ رہنا یا آسمان پر رہنا ان سے کوئی فضیلت نبی کریم ﷺ پر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ زیادتی عمر فضیلت ہوتی تو بہت سے صحابہ کرام اور عوام امت کی عمریں آپ ﷺ سے دوگنی چوگنی ہوئی ہیں۔ ان کو بھی افضل کہہ سکیں گے اور اسی طرح اگر آسمان میں رہنا یا چڑھنا ہی مدار فضیلت ہو تو فرشتوں کو حضور ﷺ سے افضل ماننا لازم آئے گا جو نصوص شرعیہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔
آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ اور ”اموات غیر احیاء“ سے وفات مسیح پر استدلال صحیح نہیں۔
- (۴)...... ”قد خلت من قبلہ الرسل“ سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر استدلال کرنا انھیں لوگوں کا کام ہے جنھیں عربی عبارت سمجھنے سے کوئی علاقہ نہیں اور جو محاورات زبان سے بالکل واقف نہیں کیونکہ اول تو اس جیسے عمومات سے کسی خاص واقعہ مشہورہ پر کوئی اثر محاورات کے اعتبار سے نہیں پڑتا بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بیمار طبیب سے پوچھے کہ پرہیز کس چیز کا ہے؟ وہ کہہ دے کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ۔ ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، مضر نہیں۔ اب اگر یہ بیوقوف جا کر پتھر یا لوہا کھائے یا سنکھیا کھائے اور استدلال میں قادیانی مجتہدین کا سا استدلال پیش کرے کہ حکیم صاحب نے کہا تھا کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ۔ ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ۔ کوئی مضر نہیں اور ساری چیزوں میں پتھر اور لوہا اور سنکھیا (زہر) بھی داخل ہے۔ لہٰذا میں جو کچھ کھاتا ہوں حکیم صاحب کے فرمانے سے کھاتا ہوں۔ انصاف کیجئے کہ کوئی عقلمند اس کو صحیح العقل سمجھے گا؟ اور پھر یہ بھی انصاف کیجئے کہ اس قادیانی استدلال میں اور اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔ ذرا غور سے معلوم ہو جائے گا کہ اگر بالفرض خلت کے معنی موت ہی ہوں تو بھی اس سے ان انبیاء کی موت ثابت نہیں ہو سکتی جن کے لیے قرآن و حدیث کی دوسری نصوص حیات ثابت کرتی ہیں۔ جیسے سب چیز کھاؤ کے قول سے پتھر اور زہر کا کھانا داخل مراد نہیں۔ اس کے علاوہ خلت کے معنی لغت میں موت کے نہیں بلکہ گزر جانے کے ہیں۔ خواہ مر کر خواہ کسی دوسرے طریقہ سے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ہوا۔ امام راغب اصفہانی مفردات القرآن میں اس لفظ کے یہی معنی لکھتے ہیں:
”والخلو یستعمل فی الزمان والمکان لکن لما تصور فی الزمان المضی فسر اھل اللغۃ خلا الزمان بقول مضی الزمان وذھب قال تعالیٰ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔“
(مفردات القرآن ص۱۵۸)
یہ لفظ صریح ہیں کہ خلت کے معنی قرآن شریف میں چلے جانے اور گزر جانے کے ہیں جس میں
عیسیٰ ؑ اور دوسرے انبیاء بلاشبہ برابر ہو گئے۔ تعجب ہے کہ قادیانی خانہ ساز پیغمبر کے صحابی اتنی سی بات کو کیوں نہیں سمجھتے اور اگر حق تعالیٰ ان کو چشم بصیرت عطا فرمائے اور وہ اب بھی غور کریں تو سمجھیں گے کہ آیت بجائے وفات عیسیٰ ؑ پر دلیل ہونے کے حیات کی طرف مشیر ہے۔ کیونکہ صریح لفظ ماتت وغیرہ چھوڑ کر خلت شاید اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اختیار فرمایا ہے کہ کسی بے وقوف کو موت عیسیٰ ؑ کا شبہ نہ ہو جائے۔ اگر چہ محاورہ شناس کو تو پھر بھی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔
- (۵)...... ”اموات غیر احیاء“ کی تفسیر بہ اعتبار لغت بھی اور جو کچھ مفسرین نے تحریر فرمایا ہے۔ اس کے اعتبار سے
بھی یہی ہے کہ یہ سب حضرات ایک معین مدت کے بعد مرنے والے ہیں۔ نہ یہ کہ بالفعل مرچکے ہیں اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے: ”انک میت وانہم میتون“ تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ معاذ اللہ آپ ﷺ اس وقت وفات پا چکے ہیں۔ بلکہ بالاتفاق وہی معنیٰ مذکور مراد ہیں کہ ایک وقت معین میں وفات پانے والے ہیں۔ یہ بھی جھوٹی نبوت کی نحوست ہے کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہ آئی۔
- (۶)...... شیخ محی الدین ابن عربی کا قول استدلال میں پیش کرنا اول تو اصولا غلطی ہے۔ کیونکہ مسئلہ ختم نبوت عقیدہ
کا مسئلہ ہے۔ جو باجماع امت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہو سکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع امت کے سواء کوئی نہیں۔ ابن عربی کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لیے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔ ثانیا خود ابن عربی اپنی اسی کتاب فتوحات میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوت شرعی ہر قسم کی ختم ہو چکی ہے۔ ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح و صاف رسائل ذیل میں مذکور ہیں: ”عقيدة الاسلام فى حيات عيسى عليه السلام التنبيه الطربى فى الذب عن ابن العربی وغیره.“
اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اسی کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے۔ یعنی ہر قسم کی نبوت ختم ہوچکی ہے۔ آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔
(امداد المفتین ص ۱۲۹ تا ۱۳۳)
ایضاً سوال...... استدلال القادیانی علی موت عیسیٰ ؑ بقول تعالیٰ وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابكم (آل عمران ۱۴۴) بان خلت بمعنى ماتت والرسل جمع معرف بلام الاستغراق فلذا فرع عليه افائن مات الخ اذ لو لم يكن الخلو بمعنى الموت او لم يكن الرسول جمعا مستغرق لما صح التفريع اذ صحته موقوفة علی اندراج نبینا ﷺ فى لفظ الرسل المذكور قطعا وذلك بالاستغراق وكذا صحته موقوفة على كون الخلو بمعنى الموت اذ على تقدير التغاير و عموم الخلو من الموت يلزم تفريع الاخص على الاعم مع ان التفريع يقتضى استلزام ما يتفرع عليه المتفرع ومن المعلوم عدم استلزام الاعم للاخص فالتفريع الواقع فى قوله تعالى يستدعى تحقق كلا الامرين من كون الخلو بمعنى الموت ومن كون الجمع مستغرقاً وبعد كلتا المقدمتين يقال ان المسيح رسول وكل رسول مات وينتج هذا القياس المؤلف من المقدمتين القطعيتين ان المسيح مات وهو المطلوب والدليل على الصغرى قوله تعالى ورسولا الى بنی اسرائيل وقوله ما المسيح بن مريم الا رسول ومثالهما من الايات و تسليم جميع الفرق الاسلامية برسالته عليه السلام والدليل على الكبرى المقدمتان الممهدتان المذكورتان لانه متى
كان الخلو بمعنى الموت وقد اسند الى الرسل وثبت كونه جمعا فيندرج فيه المسيح عليه السلام قطعا فيلزم ثبوت الموت له فى ضمن الكبرى فثبت مانحن بصدہ.
الجواب....... الخلو عام لكل مضى من الدنيا اما بالموت او بغير الموت فصح التفريع وان لم يمت عيسى عليه السلام كما هو ظاهر. ۲۶ جمادى الاول ۱۳۳۳ھ (ترجيح ثالث ص ۱۳۸)
(امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۳۱)
ايضاً سوال...... استدل الكاديانى على موت عيسىٰ ؑ بقوله تعالىٰ وما جعلنا هم جسد الا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين بانه لوكان المسيح حيا فى السماء لزم كونه جسد الا ياكل الطعام و كونه خالد وقد نفى الله تعالىٰ ذلك فان مفاد الآية الكريمة سلب كلى اى لاشئ من الرسل بجسده ياكل ولا احد منهم بخالد و من المقرر ان تحقق الحكم الشخصى مناقض للسلب الكلى والدليل على كون المفاد سلبا كليا قوله تبارك و تعالىٰ وما جعلنا لبشر من قبلك الخلدا فاين مت فهم الخلدون فانه صريح فى السلب الكلى فاذا ثبت الرفع والسلب كليا بالنص ارتفع الحكم الشخصى المستلزم الايجاب الجزئ المناقض لذلك السلب المدلول بالنص فان احد المتناقضين لا يجامع النقيض الآخر كما لا يرتفع معه وهذا بديهى.
الجواب....... هذان حكمان مقيدان بقيد فى الدنيا فلم يبق استدلال ولا اشكال. جمادى الاول ۱۳۳۳ھ (ترجيح ثالث ص ۳۸)
(امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۳۱، ۴۳۲)
ايضاً سوال...... استدل الكاديانى على موت عيسىٰ ؑ بقول تبارك و تعالىٰ ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكيلا يعلم بعد علم شيئا (الحج ۵) بان هذا التقسيم حاصر لجميع افراد البشر كحصر الزوج والفرد لجميع افراد العدد بحيث لا يجتمع وصفا التوفى والردأ الى ارذل العمر فى فرد من البشر ولا يخلو فرد من كليهما كما لايجتمع الزوج الفرد فى عدد ولا يخلوا العدد من كليهما فالقضية منفصلة حقيقية فاذا لم يمت المسيح ولم يعرضه ارذل العمر لزم ارتفاع كلا جزئ الحقيقية وذا غير ممكن فهذا المحال انما لزم من فرض عدم موته فيكون باطلا فيثبت نقيضه وهو موت المسيح فذلك هو المطلوب.
الجواب....... لادليل على الحصر اولا لعدم كلمة دالة عليه وانما هو بيان للعادة الاكثرية ويخص منها مايدل دليل على تخصيصه ثم لادليل على كون التوفى مراد فالموت بل يحتمل كونه بمعنى القبض مطلقا اما بالموت او بغيره و اذا انهدم البناء انعدم المبتنى. ۲۶ جمادى الاول ۱۳۳۳ھ
(ترجيح ثالث ص ۱۳۹، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۳۲)
شبه وفات عیسیٰ کی حقیقت
سوال...... (از اخبار الجمعية مورخہ ۱۳ نومبر ۱۹۳۴ء)
- (۱)...... یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ ومطهرک اس آیت میں متوفیک کے کیا معنی ہیں؟
- (۲)...... مرج البحرین یلتقیانo بینهما برزخ لا یبغیانo یخرج منهم اللؤلؤ والمرجانo ایک مولوی
صاحب نے آیات مذکورہ کی تشریح میں بحوالہ تفسیر روح البیان یہ بیان کیا ہے کہ اول سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ (حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہیں اور آیت ثانی کا تعلق حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟
جواب....... (۱)....... آیت شریفہ کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ میں ہی تم کو وفات دینے والا ہوں۔ یہود تم کو قتل نہیں کر سکتے جب وفات کا وقت آئے گا تو میں تم کو قبض کروں گا اور تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تم کو کفار کی تہمت سے پاک کروں گا۔
- (۲)....... یہ مطلب لغت اور محاورے کے لحاظ سے نہیں بلکہ ایک تخیل ہے جو کسی طرح حجت نہیں ہو سکتا۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(کفایت المفتی ج ۲ ص ۹۱۔۹۲)
جواب بعض شبہات قادیانی
سوال....... قوله تعالى يا عيسى انى متوفيك و رافعك الى (آل عمران ۵۵) وما قتلوه يقينا (النساء ۱۵۷) بل رفعه الله اليه (النساء ۱۵۸) وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (النساء ۱۵۷) وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن (النساء ۱۵۹) به قبل موته فلما توفيتني كنت انت الرقيب.
(المائده ۱۱۷)
الجواب....... ان التوفي عام لكل قبض: ان كان مع الجسد ثم لادلالة فى الواو على الترتيب و يقع الموت اجماعا بعد النزول وكذا الرفع عام لما هو بالجسد والنص الرابع لما احتمل عود الضمير فى موته الى عيسى عليه السلام فكيف يدل على المدعى وقد ذكر عموم معنى التوفى فلم يصح الاستدلال بشئ من الآيات. ۲۶۔۱۳۳۳ھ
(ترجیح ثالث ص ۱۴۷، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۴۰۔۴۴۱)
سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور انبیاء کی لغزش قرآن میں مذکور ہونے سے فضیلت پر استدلال کا جواب الزامی و تحقیقی
سوال....... ایک شخص نے یہ شبہ پیش کیا کہ قرآن پاک میں سب نبیوں کی لغزش کا ذکر تھوڑا بہت آیا ہے، حتیٰ کہ ہمارے رسول مقبول ﷺ کی لغزش کا ذکر بھی بعض جگہ آیا ہے، سوا حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہ ان کی لغزش کا ذکر قرآن پاک میں کہیں نہیں ہے۔ اس سے ایک طرح کی فضیلت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسرے نبیوں پر پائی جاتی ہے اور فریق مخالف اس کو فضیلت حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں پیش کر سکتا ہے، اس شبہ کے متعلق مختلف تقریریں ہوئیں لیکن کوئی تشفی دہ فیصلہ نہ ہوا، لہٰذا حضور کی طرف رجوع کرتا ہوں، آپ تشفی دہ تقریر فرما دیں، فقط
الجواب....... مناظرانہ جواب تو یہ ہے کہ اگر لغزش کا مذکور نہ ہونا دلیل افضیلت کی ہو تو بعضے ایسے انبیاء علیہم السلام کی بھی لغزشیں مذکور نہیں ہیں جو یقیناً بعض ایسے انبیاء سے درجہ متاخر میں ہیں جن کی لغزشیں مذکور ہیں مثلاً اسمعیل و اسحق علیہما السلام کی کوئی لغزش مذکور نہیں تو کیا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہو جائیں گے، اور مثلاً حضرت ہارون علیہ السلام و یوشع علیہ السلام و ذوالکفل علیہ السلام جو کہ خلفائے موسویہ ہیں۔ ان کی کوئی لغزش مذکور نہیں تو کیا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو جائیں گے، اسی طرح اگر لغزش کا مذکور نہ ہونا دلیل افضیلت کی ہے تو معتوبیت کا مذکور نہ ہونا بدرجہ اولیٰ دلیل افضیلت کی ہوگی، کیونکہ لغزش کا ضرر یہی معتوبیت ہے و بس، پس اس بناء پر حضرت یحییٰ علیہ السلام افضل ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جن کا قصہ قرآن مجید میں بصورت باز پرس مذکور ہے۔ اأنت
قلت للناس اتخذونی الخ (المائدہ ۱۱۶) حالانکہ اس کا کوئی عیسائی بھی قائل نہیں ہو سکتا۔ اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ یہ افضلیت جزئی ہے، اور مدار قرب و افضلیت کا فضیلت کلیہ ہے جس کے لیے دوسرے انبیاء ؑ کے حق میں دلائل مستقلہ موجود ہیں۔ فقط ۴ محرم ۱۳۲۵ھ
(تتمہ اولیٰ ص ۲۴۷، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۰۰۔۴۰۱)
رجوع موتی پر شبہ کا جواب
السوال ...... گذارش یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے عدم رجوع موتی فی الدنیا پر سورۃ الانبیاء پارہ نمبر ۱۷ رکوع نمبر ۷ کی آیت نمبر ۹۵ وحرام علی قریۃ اہلکنہا انہم لایرجعون اور مشکوٰۃ باب جامع المناقب فصل ثانی ص ۵۷۹ کی حدیث (عن جابرؓ قال لقینی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا جابر مالی اراک منکسرا قلت استشہد ابی وترک عیالا ودینا قال افلا یسرک بما لقی اللہ بہ اباک قلت بلیٰ یارسول اللہ، قال ما کلمہ اللہ احدا قط الا من وراء حجاب و احییٰ اباک فکلمہ کفاحا قال یاعبدی تمن علی اعطک قال یارب تحیینی فاقتل فیک ثانیۃ قال الرب تبارک و تعالیٰ انہ قد سبق منی انہم لایرجعون فنزلت ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا الآیۃ رواہ الترمذی) پیش کی ہے اور فرقان حمید کی آیات مبارکہ (جن میں احیاء موتی کا ذکر ہے) سے مراد بے ہوشی سے ہوش میں آنا نیز کشف وغیرہ لیا ہے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے معجزات (واحیی الموتی باذن اللہ) کے معنی یہ کرتے ہیں کہ کافروں کو مسلمان و مومن کرنا برائے مہربانی اس آیت مبارکہ اور حدیث شریف کا صحیح مطلب تحریر فرمائیے۔
الجواب ...... اول چند مقدمات ضروریہ تمہیدا بیان کرتا ہوں۔ پھر آیت کے متعلق عرض کروں گا۔
- مقدمہ اولیٰ کسی نص کی تفسیر میں ضروری ہے، اس کے سیاق و سباق میں بھی نظر کرنے کی اور سیاق و سباق
کے خلاف محض ایک دھوکے سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
- مقدمہ ثانیہ تعارض کے وقت عبارۃ النص کو اشارۃ النص پر مقدم کہا جائے گا۔
- مقدمہ ثالثہ خاص کے انتفاء سے عام کا انتفاء لازم نہیں آتا۔
- مقدمہ اربعہ اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال۔
- مقدمہ خامسہ مستدل مدعی ہوتا ہے اس کو احتمال مضر ہے، اور مانع طالب دلیل ہوتا ہے اس کو احتمال مفید ہے۔
اب اس آیت کا صحیح مطلب سیاق و سباق پر نظر کر کے بیان کرتا ہوں۔ قال تعالیٰ ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ واناربکم فاعبدون (الانبیاء ۹۲) الیٰ قولہ تعالیٰ بل کنا ظالمین۔ (الانبیاء آیت ۹۷) تفسیر از بیان القرآن: اے لوگو! اوپر جو انبیاء علیہم السلام کا طریقہ توحید کا معلوم ہوا۔ الیٰ قولہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع ٭ کے قائل ہو جائیں گے۔ (ج ۷ ص ۵۸، ص ۲ تا ۱۷) اس تقریر سے معلوم ہوا کہ آیت میں مطلق رجوع کی نفی نہیں بلکہ رجوع خاص للحساب والکتاب کی نفی ہے، جیسا سیاق و سباق سے معلوم ہوا۔ پس اس سے مطلق رجوع کی نفی پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ للمقدمۃ الثالثۃ اور صرف بیچ کا ایک حصہ لے کر استدلال کرنا صحیح نہیں للمقدمۃ الاولیٰ اور اگر بالفرض اگر اس خاص حصہ کی دلالت کو مان بھی لیا جائے تو وہ اشارۃ النص کا مدلول ہوگا اور مدلول مذکور بالا جو
کہ سیاق و سباق سے مسوق لہ الکلام ہے عبارۃ النص کا مدلول ہے اور وہ اشارۃ النص پر مقدم ہے۔ للمقدمة الثانية، اور بالفرض تقدیم بھی نہ ہو تو دونوں مدلول محتمل ہو جائیں گے اور احتمال ہوتے ہوئے استدلال نہیں ہو سکتا للمقدمة الرابعة اور یہ احتمال ہم کو مضر نہیں، کیونکہ ہم مستدل نہیں بلکہ مانع ہیں۔ للمقدمة الخامسة اور یہ آیت اگر اس مدعاء میں قطعی الدلالۃ ہو تو کیا جمہور قائلین برجوع المسیحؑ کی تکفیر کا التزام کیا جا سکتا ہے۔ جو آیت پر مطلع ہو کر بھی رجوع مذکور کے قائل ہیں۔ باقی حدیث سو اس میں عادت کی نفی ہے یعنی خاص وقوع معتاد مستمر کی نفی ہے نہ کہ مطلق وقوع کی پس خرقِ عادت کے طور پر کسی مادہ میں اس کا واقع ہو جانا اس کے معارض نہیں، جیسے ان حزب اللہ ہم الغالبون میں اشکال مشہور کا ایک جواب یہ بھی دیا گیا ہے کہ مقصود اس سے عادت کا بیان کرنا ہے۔...... یا جیسے یہود کی مغلوبیت یوم القیامۃ تک ارشاد فرمائی گئی ہے اور درمیان میں چالیس روز دجال کا غلبہ ہوگا، جو کہ یہودی ہے اس کو بھی عادۃ اکثریہ پر محمول کیا گیا ہے۔ یعنی مغلوبیت کو عادت غالبہ اور غالبیّت کو عارض کہا جائے گا، اور آیات میں جو احیاء کی تاویل ہے ہم کو اس لیے مضر نہیں کہ ہم امکان رجوع پر ان سے استدلال نہیں کرتے، بلکہ امکان عقلی کے ساتھ خاص مستقل دلیل نقلی سے وقوع کا اثبات کرتے ہیں۔ کما ہو مبسوط فی کلام العلماء رداً علیٰ اہل الاہواء، واللہ اعلم۔ اشرف علی ۱۷ صفر ۱۳۵۶ھ۔ (النور ص ۹ ربیع الثانی ۱۳۵۷ھ)
(امداد الفتاویٰ ج ۴ ص ۶۴۰۔۶۴۱)
دفع شبہ قادیانی متعلقہ وفات مسیحی
سوال ...... تذکرۃ الشہادتین مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی میں عبارۃ مندرجہ ذیل لکھی ہے، اس کا جواب ارقام فرما دیں۔
صفحہ نمبر ۲ خزائن ج ۲۰ ص ۲۲ ”مگر اس میں شک نہیں کہ اس وعظ صدیقی کے بعد کل صحابہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ آنحضرت ﷺ کے پہلے جتنے نبی تھے سب مر چکے ہیں۔“
الجواب ....... اس اجماع کا کہیں پتہ نہیں، محض دعویٰ بلا دلیل ہے، مقصود وعظ صدیقی کا یہ تھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کوئی امر عجیب نہیں، کیونکہ آپ سے پہلے سب انبیاء و رسل دنیا سے جا چکے خواہ وفات سے خواہ دوسرے طریق سے، بہرحال دنیا میں کوئی نہیں رہا، پھر اگر آپ بھی نہ رہیں تو کیا تعجب ہے، رہا یہ کہ آپ ﷺ کا نہ رہنا کس طریق سے ہے، سو چونکہ موت ایک امر محسوس ہے اور آپ ﷺ میں اس کے سب آثار مشاہدہ کیے گئے، لامحالہ اس طریق کی تعیین ہو گئی کہ وفات ہے بخلاف حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ ان میں یہ آثار مشاہدہ نہیں کیے گئے بلکہ برخلاف اس کے ان کا مرفوع الی السماء ہونا منصوص قرآنی ہے۔ ان میں یہ طریقہ ذہاب من الدنیا کا متعین ہو گیا، پس دنیا سے جانا امر مشترک تھا، اور طریق مختلف اور اجماع اسی امر مشترک پر تھا، جو اس وقت مقصود تھا نہ کہ وفات عیسیٰ پر اور یہ بالکل ظاہر ہے۔ ۲۶ شوال ۱۳۲۱ھ
(امداد الفتاویٰ، ج ۴ ص ۱۰۱، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۳۶۶)
دفع شبہ عدم حیات عیسوی از حدیث از واقعہ وفات نبینا ﷺ
سوال ...... قادیانیوں نے بذریعہ اشتہار ایک حدیث شائع کی ہے اس کا اثر بہت بڑا پڑا ہے، وہ یہ ہے، لو کان موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ حیین لما وسعہما الا اتباعی (تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۲۲۶، تفسیر ترجمان القرآن نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم ج ص ۲۶۱ کتاب الیواقیت والجواہر امام سید عبدالوہاب شعرانی ص ۲۰۳، کتاب مدارج السالکین امام ابن قیم ج ۲ ص ۳۱۳ شرح مواہب لدنیہ ج ۶ ص ۷ اور
تفسیر ابن کثیر مذکور حافظ ابو الفداء عمر قرشی دمشقی) میں تحریر فرمائی ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ حدیث اگر صحیح ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب ...... غالباً اس سے عدم حیات عیسویہ پر استدلال کیا ہوگا، لیکن جواب ظاہر ہے کہ حیات سے مراد حیات متعارفہ ہے یعنی حیات فی الارض کہ دارالتکلیف ہے، چنانچہ خود حدیث میں لفظ اتباعی اس پر صریح دلیل ہے، کیونکہ تکلیف اتباع اسی دارالتکلیف میں ہے، اور ان کے لیے ثابت حیاۃ فی السماء ہے، جیسا قرآن مجید میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول منقول ہے۔ وَاَوْصَانِی بِالصَّلوٰۃِ وَالزَّکوٰۃِ مَا دُمْتُ حَيًّا (مریم ۳۱) کہ یہاں بھی ظاہر ہے کہ تکلیف بالصلوٰۃ والزکوٰۃ اسی حیاۃ فی الارض کے ساتھ خاص ہے۔ ۱۴ صفر ۱۳۳۴ھ۔
(تتمہ رابعہ ص ۱۲، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۴۲۲۔۴۲۳)
دفع شبہ از آیت بر وفات عیسیٰ علیہ السلام
سوال ...... زید اس آیت قرآنی سے ثبوت وفات حضرت مسیح علیہ السلام کا دیتا ہے اس کا کیا جواب ہے۔ والذین یدعون من دون الله لايخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون، ايان يبعثون. (النحل ۲۱) آج کل روئے زمین پر سب سے بڑھ کر مسیح کی پرستش ہو رہی ہے، اور معبود قرار دیا گیا ہے، خود لقد کفر الذین قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم (المائدہ ۱۷) سے بھی ثابت ہے، اللہ تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے مردے ہیں زندہ نہیں۔ اموات پھر غیر احیاء ڈبل تاکید، یہ آیت صرف بتوں کے حق میں نہیں ہو سکتی، حضرت رسول اللہ ﷺ کی رسالت عام تھی کوئی قرینہ اس پر دال نہیں ہم متکلفون سے بھی یہی نتیجہ نکل سکتا ہے، کیونکہ مسیح علیہ السلام پیدا کیے گئے ہیں۔ ایان یبعثون پر غور ہو بقول شخصے کہ یہ ایسے معبودوں کے متعلق ہے جو قبر میں مدفون ہیں چونکہ یہ آیت ہے اس کا جواب آیات قرآنی سے دیا جاتا ہے تبياناً لكل شئ پر بھی نظر کرتے ہوئے کسی تفسیر کا حوالہ دینے کے بجائے قرآن کی تفسیر قرآن ہی سے کرنا بہتر ہے، جواب میں کسی فرقہ کے بزرگ کو برا نہ کہا جائے، جو کچھ لکھیں انصاف سے، تعصب کا مطلقاً دخل نہ ہو، رائے آزاد نہ ہو، تقلید کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی نہ ہو، ہر لفظ پر محققانہ بحث ہو، تمام ممکن الوقوع سوالوں کو پیش نظر رکھا جائے؟
الجواب ...... اس میں بت مراد ہوں اور الوہیت مسیح علیہ السلام کی دوسری آیت سے باطل ہو تو عموم رسالت کے کیا خلاف ہوا۔ ۲۴ رجب ۱۳۴۲ھ
(امداد ج ۳ ص ۱۰۳، امداد الفتاویٰ ج ۵ ص ۳۷۱)
کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیر مسلم بنایا ہے
سوال :...... لا اكراه في الدين یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بنا سکتے ہیں اور نہ ہی جبراً کسی مسلمان کو آپ غیر مسلم بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعہ غیر مسلم کہلوایا ؟
جواب ...... آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جا سکتا، یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا اس کو غیر مسلم بھی نہیں کہا جا سکتا، دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم نہیں بنایا۔ غیر مسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں، البتہ
مسلمانوں نے غیر مسلم کو غیر مسلم کہنے کا ”جرم“ ضرور کیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۸)
قد خلت من قبلہ الرسل کا صحیح مفہوم
سوال ...... کیا مذکورہ بالا آیت سے وفات مسیح علیہ السلام کا استدلال نہیں ہوتا؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں۔ الجواب ...... سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ خلت کا معنی ماتت اور توفت خود تصریحات مرزا قادیانی کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ ”کہ وہ ایک رسول ہیں اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے“ خلت کا معنی آتے رہنا کیا ہے ماتت نہیں کیا۔ باقی رہا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خطبہ سے ثابت کرنا کہ جملہ انبیاء کرام علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں اور اسی پر اجماع صحابہ بھی ہے۔ منجملہ ازاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہو چکے ہیں۔ یہ تصریحات خود مرزا کی تحریروں کے خلاف ہیں مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشینگوئی ایک اول درجہ کی پیشینگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح ستہ میں پیشینگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشینگوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے اور انجیل اس کی مصدق ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ خزائن ج ۳ ص ۴۴۰)
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام رفع جسمانی کے بارہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رفع جسمانی کی طرف متوجہ کیا ہوا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ الشریف آسمان پر زندہ ہیں اور قربِ قیامت نزول فرمائیں گے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باقی انبیاء علیہم السلام کی طرح وفات پا چکے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ خلت خلو سے مشتق ہے۔ جس کا معنی ہے تنہا ہونا، جدا ہونا، جگہ خالی کرنا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ”وَإِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ“ دوسرا معنی گزرنا ہے۔
جیسا کہ فرمایا ”ایام الخالیہ قرون خالیہ“ سال گذشتہ اب آیت مبارک کا معنی یہ ہے کہ گزر چکے ہیں قبل اس کے رسول اور یہ معنی ہر دو پر صادق آتا ہے جو مر چکے ہوں ان پر بھی اور جو زندہ ہوں مگر فریضہ رسالت سے فارغ ہو۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فلاں شہر میں ایک گورنر یا صدر مملکت ہو گزرا ہے۔ یہ ہر دو صورت میں صادق ہے۔ اگر مر گیا ہو تب بھی اگر ملازمت سے علیحدہ ہو یعنی بقید حیات موجود ہو تب بھی الرسل کے الف لام کو بآیت بل رفعہ اللہ الیہ سے مخصوص البعض ماننا پڑے گا۔ جیسا کہ ۔ ”نخلقکم من ماءٍ مهین“ مخصوص ہے آیت مبارکہ ”خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ“ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مادہ منویہ نہیں ہے بلکہ وہ حکم باقی انسانیت کا ہے۔ اگر خلت کا معنی توفت اور ماتت کریں اور ان کے سوا دوسرا نہ کریں تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ رب العزت نے فرمایا۔ ”سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ“ یعنی سنت خداوندی مر چکی اور دوسری جگہ فرمایا۔ ”وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا وَّلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا“
(فاطر ۴۳)
”اللہ تعالیٰ کی سنت نہ تو تبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی تحویل۔“ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق عقائد و نظریات رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۳۳۔۳۳۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کا عقیدہ رکھنا کفر ہے
سوال ...... مرزائیوں نے کتابیں چھپوا کر بستی میں تقسیم کی ہیں جس میں انھوں نے قرآن کی آیات سے ثابت
کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودیوں نے شہید کیا ہے۔ کچھ مسلمان اس عقیدے کی طرف رجوع بھی ہو گئے تو ان مسلمانوں کو مرتد خارج از اسلام اور کافر سمجھا جائے یا ضعیف الایمان مسلمان؟ بینوا توجروا.
الجواب...... باسم ملہم الصواب. حضرت عیسیٰ ؑ کی شہادت کا عقیدہ رکھنے والے خارج از اسلام اور بلاشبہ کافر ہیں اس لیے کہ نص قرآن سے ثابت ہے کہ کوئی حضرت عیسیٰ ؑ کو شہید نہیں کر سکا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما ہ (النساء ۱۵۷- ۱۵۸) جب تک یہ لوگ توبہ و استغفار کر کے تجدید ایمان نہ کریں ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جیسا کہ قادیانی و دیگر مرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہر قسم کا تعلق و کاروبار وغیرہ ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں مرتد کا حالت ارتداد میں کمایا ہوا مال اس کے وارثوں کو نہیں مل سکتا بلکہ مسلمانوں کا حق ہے اس لیے بیت المال کے مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔ نیز مرتد کے تصرفات نکاح، شرکت مفاوضہ، ولایۃ علی الولد الصغیر، ہبہ، اجارہ، قبض دین وغیرہ نافذ نہیں ہوتے اور احد الزوجین کے ارتداد سے نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ قال فی التنویر و یبطل منہ النکاح والذبیحۃ والصید والشہادۃ والارث و یتوقف منہ المفاوضۃ والتصرف علی ولدہ الصغیر والمبایعۃ والعتق والتدبیر والکتابۃ والہبۃ والاجارۃ والوصیۃ ان اسلم نفذ و ان ہلک او لحق بدار الحرب وحکم بطل. (ردالمختار ج ۳ ص ۳۳۰ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۱۴ محرم سنہ ۹۶ھ ۔
( احسن الفتاویٰ ج ۱ ص ۴۷ مثلہ فی فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۳۰-۳۳۱)
باب چہار دہم
کلمات کفر ارتداد
آنحضرت ﷺ کی شان میں فحش کلمات کہنے والا مرتد ہے
سوال ..... ایک شخص آنحضرت ﷺ کی شان مبارک میں نہایت فحش کلمات کہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک سور کا گوشت جناب کے دشمنوں نے کھایا ہے وغیرہ وغیرہ ایسے شخص کے بارہ میں کیا حکم ہے۔
الجواب ..... وہ شخص مرتد ہو گیا اگر وہ تجدید اسلام اور توبہ نہ کرے تو اس سے مسلمان بالکل قطع تعلق اور متارکت کردیں اگر حکومت اسلام ہوتی تو اس کو سخت سزا دی جاتی مگر اب سوائے قطع تعلق کے مسلمان کیا کر سکتے ہیں کیونکہ حدود و تعزیرات اسلامی حاکم اسلام ہی جاری کر سکتا ہے۔ (درمختار ج ۳ ص ۳۱۷ باب المرتد)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۴۸۷)
انبیاء علیہم السلام کی شان میں سب وشتم کرنے والا کافر ہے
سوال ..... ماقولكم من سب وشتم الانبياء عليهم السلام كلهم عامداً صريحًا و سب كتابًا فيه ذكرهم سبابا قبيحا فی جماعة من المسلمين وای الاحكام جارية عليه مع كونه مسلمًا.
الجواب ..... لاریب فی کفر من تفوہ بھذا الکلام. (جو شخص ایسی ہفوات بکے اس کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ ناقل)
(فتاویٰ عالمگیری ج ۲ ص ۲۶۳، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۳۶۲، ۳۶۳)
حضور ﷺ کی ادنیٰ گستاخی بھی کفر ہے
سوال ..... رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کے باوجود بھی کیا کوئی مسلمان رہ سکتا ہے؟
جواب ..... آنحضرت ﷺ کے بال مبارک کی توہین بھی کفر ہے فقہ کی کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کسی نے آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک کے لیے تصغیر کا صیغہ استعمال کیا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۵۱۔۵۲)
شان اقدس ﷺ میں گستاخی
سوال ..... ایک مسلمان جس کے ہوش و حواس صحیح ہیں، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی نہیں تھے اور داستان یوسف کتاب جھوٹی کتاب ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتا ہے کہ نعوذ باللہ حضور لگائی باز تھے، شہوت پرست تھے، ان کی گیارہ بیویاں تھیں۔ تو یہ شخص مسلمان کہلائے گا یا کافر؟ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ یہ شخص اگر انتقال کر جائے تو اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی یا نہیں؟
الجواب....... حامدا و مصلیا۔ جس کے دل میں ایمان ہے وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ اس لیے کہ اس سے ایمان جاتا رہتا ہے، نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس کی تجہیز وتکفین بھی اسلامی طریقہ پر نہیں کی جاتی، اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی، جب تک پوری طرح یقین کے ساتھ کسی کا ایسا کہنا ثابت نہ ہو جائے کوئی سخت حکم لگانے میں پوری احتیاط لازم ہے، مبادا یہ حکم کہیں حکم لگانے والے پر نہ لوٹ جائے۔ اگر خدانخواستہ کسی مسلمان سے غلبہ جہالت و ضلالت کی بنا پر ایسی بات نکلے تو فوراً اس کو تجدید ایمان نکاح اور توبہ کرادی جائے۔ فقط واللہ اعلم حررہ العبد محمود غفرلہ دارالعلوم دیوبند ۸۹/۲/۸ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۲ ص ۵۳-۵۴)
حضور ﷺ کی توہین کرنا ارتداد ہے
سوال....... ایک صوفی کے مکان پر وعظ ہوا جس میں حضور ﷺ کی شان مبارک میں توہین کے الفاظ استعمال کیے گئے اور اہل مجلس میں سے ایک نے اٹھ کر کہا کہ جو کچھ انھوں نے فرمایا ہے بہت صحیح و درست ہے اور پھر ان تینوں شخصوں نے ایک جلسہ عام میں توبہ کی آیا ان کی توبہ قابل یقین ہے یا نہیں اور نکاح رہا یا نہیں۔
الجواب....... اگر کوئی ایسا کلمہ زبان سے نکلا جو شرعاً توہین کا کلمہ ہے اور حکم ارتداد اس پر ہوسکتا ہو تو ایسی حالت میں نکاح ان کا باقی نہیں رہا اور توبہ و اسلام لانا ان کا قبول ہے بعد توبہ کے تجدید نکاح کرنی چاہیے۔ (درمختار ج ۳ ص ۳۱۷ باب المرتد) اور پوری بات جبھی معلوم ہو کہ آیا اس میں تاویل ممکن ہے یا نہیں۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۳۳۸)
شاتم رسول مرتد و مباح الدم ہے
سوال....... کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان ممتحن نے زیر نگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کے لیے مرتب کیا جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھے، حضرت رسالتمآب ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کیے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہو کر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب ﷺ کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتویٰ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
”ابن عبداللہ نے اس قبیلہ میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصلی زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی با موقع سکوت پر عمل کرنے سے صحیح اور ترقی ہوتی رہی باوجود اس فصاحت کے محمد ایک ناخواندہ وحشی تھا بچپن میں اسے نوشت و خواندگی تعلیم نہیں دی گئی تھی عام جہالت نے اسے شرم اور ملامت سے مبرا کر دیا تھا مگر اس کی زندگی ایک ہستی کے تنگ دائرہ میں محدود تھی اور وہ اس آئینہ سے (جس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں پر عقلمندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے) محروم رہا تاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور انسان کا مشاہدہ کرتا کچھ تمدنی اور فلسفی توہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کیے جاتے ہیں پیدا ہوگئے تھے۔“
جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں نے اس کی نظر ثانی کی وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شان حضور ﷺ میں کیے گئے وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے یا نہیں اور ان کی کیا سزا ہے اور ان کی بابت شرع شریف کا کیا حکم ہے فقط راقم مسلمانان جون پور
الجواب ...... شخص مذکور فی السوال شرعاً ملعون و کافر و مرتد ہے۔
في الاشباه والنظائر كل كافر تاب فتوبته مقبولة في الدنيا والآخرة الا جماعة الكافر يسب النبي ﷺ او يسب الشيخين او احدهما.
(الاشباه والنظائر ص ۱۰۰ مطبوعہ ایچ ۔ ایم ۔ سعید کمپنی)
اشباہ و نظائر میں ہے ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور ﷺ اور شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دی ہو۔
(ت)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی مقبول نہیں، (شفاء ج ۲ ص ۱۱۰) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو برا کہنے والا کافر ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے، منجملہ ان علماء کے امام مالک اور امام لیث بن سعد مصری اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل و امام ابو یوسف و امام محمد وزفر و سفیان ثوری و اہل کوفہ و امام اوزاعی اور علمائے اسلام مکہ و مدینہ و بغداد و مصر ہیں اور اس میں سے کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیا۔ واللہ اعلم
كتبه الفقير الى اللہ عزوجل عبدالاول الحنفی الجونپوری ۱۳ شعبان ۱۳۳۵ھ
ساب رسول اللہ ﷺ ، کافر ہے، بغیر تجدید ایمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، صحیح یہ ہے کہ تجدید ایمان کے بعد سزائے قتل نہ ہوگی جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہے، ہاں اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر سے ایمان لائے اور اپنا اسلام اور حال ٹھیک رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا جیسا کہ تنقیح میں ہے۔
ويكتفى بالتعزير والحبس تاديبا. ادب کے پیش نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اکتفاء کیا جائے گا۔
(ت)
رقمه راجی رحمۃ رب العباد محمد حماد نجل الشیخ عبدالاول الحنفی الجونپوری ۲۵ شعبان ۱۳۳۵ھ
ساب رسول اللہ ﷺ قطعی دین سے خارج و مرتد ہو جاتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز مجدد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ ساب رسول ﷺ کو سزائے قتل دی جائے مگر جب کہ تجدید ایمان وحسن اسلام لائے۔ حررہ عبدالباطن بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونپوری
الجواب ...... رب اعوذبك من همزات الشيطن واعوذبك رب ان يحضرون
(المومنون آیۃ ۹۷۔۹۸)
اے میرے رب تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب اليم O (التوبۃ ۶۱) ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة واعدلهم عذابا مهينا O (الاحزاب ۵۷) الا لعنة الله على الظلمين O (ھود ۱۸) اور جو رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ارے ظالموں پر خدا کی لعنت۔
(ت)
ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا وہ کافر مرتد ہے، جس جس نے اس پر نظر ثانی کر کے برقرار رکھا وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا وہ کافر مرتد، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انھوں نے بخوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے یا اسے ہلکا جانا یا اسے اپنے نمبر گھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں خواہ نابالغ، ان چاروں فریق میں ہر شخص
سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام، نشست و برخاست حرام، بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام، اس کا جنازہ اٹھانا حرام، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام، مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حرام، اسے مٹی دینا حرام، اس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام، بلکہ خود کفر و قاطع اسلام، جب ان میں کوئی مر جائے اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکم شرع نہ مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لیے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھوا کر کسی تنگ گڑھے میں ڈلوا کر اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں پھینک پھانک کر پاٹ دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو، یہ احکام ان سب کے لیے عام ہیں اور جو جو ان میں نکاح کیے ہوئے ہوں۔ ان سب کی جورویں (بیویاں) ان کے نکاحوں سے نکل گئیں اب اگر قربت ہوگی حرام حرام حرام و زنائے خالص ہوگی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی ولدالزنا ہوگی، عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدت گزر جانے پر جس سے چاہیں نکاح کر لیں ان میں جسے ہدایت ہو اور توبہ کرے اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گے، اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی جب بھی باقی رہے گی یہاں تک کہ اس کے حال سے صدقِ ندامت و خلوصِ توبہ وصحتِ اسلام ظاہر و روشن ہو مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں آ سکتیں انھیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں دوسرے سے نکاح کر لیں یا کسی سے نہ کریں ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا ہاں ان کی مرضی ہو تو بعد اسلام ان سے بھی نکاح کر سکیں گی۔
(شفاء شریف ص ۱۹۰ ج ۲ مطبوعہ مکتبہ مصطفیٰ البابی مصر)
اجمع العلماء ان شاتم النبی ﷺ المتنقص لہ کافر والوعید جار علیہ بعذاب اللہ تعالیٰ لہ و حکمہ عند الامۃ القتل و من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر.
یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے بیشک وہ بھی کافر ہو گیا۔
نسیم الریاض میں امام ابن حجر مکی سے ہے۔ ماصرح بہ من کفر الساب والشاک فی کفرہ ھو ما علیہ ائمتنا و غیرھم.
(ص ۴۳۸ ج ۴ دارالفکر بیروت)
یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر۔ یہی مذہب ہمارے ائمہ و غیرہم کا ہے۔
لو ارتد والعیاذ باللہ تعالیٰ تحرم امرأتہ و یجدد النکاح بعد اسلامہ والمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولد زنا ثم ان اتی بکلمۃ الشھادۃ علی العادۃ لا یجدیہ مالم یرجع عما قالہ لان باتیانھما علی العادۃ لا یرتفع الکفر الا اذا سب الرسول ﷺ او واحدا من الانبیاء علیھم الصلوۃ و السلام فلا توبۃ لہ واذا شتمہ علیہ الصلوۃ والسلام سکران لا یعفی واجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر.
(وجیز امام کردری ج ۳ ص ۳۲۱)
یعنی جو شخص معاذ اللہ مرتد ہو جائے اس کی عورت حرام ہو جاتی ہے، پھر اسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے اس سے پہلے اس کلمہ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ ہوگا حرامی ہوگا اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمہ شہادت پڑھتا رہے کچھ فائدہ نہ دے گا جب تک اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے
کلمہ پڑھنے سے اس کا کفر نہیں جاتا جو رسول اللہ ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے دنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزا دی جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر نشہ کی بیہوشی میں کلمۂ گستاخی بکا جب بھی معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (ت)
(فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ج ۵ ص ۳۳۲ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
کل من ابغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق اولى (......) وان سب سكران لايعفى عنه.
یعنی جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ سے کینہ ہو وہ مرتد ہے تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ کافر ہے اور اگر نشہ بلا اکراہ پیا اور اس حالت میں کلمۂ گستاخی بکا جب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔
بحرالرائق جلد پنجم ص ۱۲۶ میں بعینہ کلمہ مذکور ذکر کر کے فرمایا:
سب واحد من الانبياء كذلك فلا يفيد الانكار مع البينة لانا نجعل انكار الردة توبة ان كانت مقبولة. ”یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے اور بعد ثبوت اس کا انکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا ارتداد سے مکرنا تو دفع سزا کے لیے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں توبہ سنی جائے اور نبی ﷺ خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں اس سے یہاں اصلاً معافی نہ دیں گے ۔“
درالحکام علامہ مولی خسرو جلد اول ص ۲۹۹: اذا سبه ﷺ او واحدا من الانبياء صلوات الله تعالى عليهم اجمعين مسلم فلا توبة له اصلا واجمع العلماء ان شاتمه كافر ومن شك فى عذابه وكفره كفر. ”یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلا کر حضور اقدس ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اسے ہرگز معافی نہ دیں گے اور تمام علمائے امت مرحومہ کا اجماع ہے اس پر کہ وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“
غنیۃ ذوالاحکام ص ۳۰۱ میں ہے۔
محل قبول توبة المرتد مالم تكن ردته بسب النبي ﷺ فان كان به لاتقبل توبته سواء جاء تائبا من نفسه او شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات. ”یعنی نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے مگر اس کافر مرتد کے لیے اس کی اجازت نہیں ۔“
اشباہ والنظائر ص ۱۰۰۔ ۱۰۱ پر باب الردۃ:
لاتصح ردة السكران الا الردة بسب النبي ﷺ فانه لايعفى عنه كذافى البزازية وحكم الردة بينونة امرأته مطلقا...... (اى سواء رجع اولم يرجع غمز العيون) ... واذا مات على ردته لم يدفن فى مقابر المسلمين والا اهل ملة وانما يلقى فى حفرة كالكلب، والمرتد اقبح كفرا من الكافر الاصلى...... واذا شهدوا على مسلم بالردة وهو منكر لا يتعرض له لا لتكذيب الشهود العدول بل لان انكاره توبة...... و رجوع، فتثبت الاحكام التى للمرتد لوتاب من حبط الاعمال و بينونة الزوجة وقوله لايتعرض له انما هو فى مرتد تقبل توبته فى الدنيا لا الردة بسب النبى ﷺ
الاولى تنكير النبى كما عبر به فيما سبق اه ملخصا غمز العيون. ”یعنی نشہ کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بیہوشی سے بھی صادر ہوا تو اسے معافی نہ دیں گے کذا فی البزازیہ اور معاذ اللہ ارتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فوراً اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے اگر یہ بعد کو پھر اسلام لائے جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی اور جب وہ اسی ارتداد پر مر جائے والعیاذ باللہ تعالیٰ تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں نہ کسی ملت والے مثلاً یہودی یا نصرانی کے گورستان میں دفن کیا جائے وہ تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے مرتد کا کفر اصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے اور اگر کسی مسلمان پر گواہان عادل شہادت دیں کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد ہو گیا اور وہ اس سے انکار کرتا ہو تو اس سے تعرض نہ کریں گے نہ اس لیے کہ گواہان عادل کو جھوٹا ٹھہرایا بلکہ اس لیے کہ اس کا مکرنا اس کفر سے توبہ و رجوع سمجھیں گے ولہذا گواہان عادل کی گواہی اور اس کے انکار سے یہ نتیجہ پیدا ہوگا کہ وہ شخص مرتد ہو گیا تھا، اور اب توبہ کر لی تو مرتد تائب کے احکام اس پر جاری کریں گے کہ اس کے تمام اعمال حبط ہو گئے اور جورو نکاح سے باہر، باقی سزا نہ دی جائے گی، مگر نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کہ یہ وہ کفر ہے جس کی اور یہ قول کہ اس سے تعرض نہ کیا جائے اس مرتد سے متعلق ہے جس کی توبہ دنیا میں مقبول ہے، نہ وہ مرتد جو نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرے کہ یہ وہ کفر ہے جس کی سزا یہ ہے کہ دنیا میں بعد توبہ بھی معافی نہیں، یونہی نبی کی شان میں گستاخی علیہم الصلوٰۃ والسلام، اولیٰ یہ تھا کہ لفظ نبی کو نکرہ ذکر کرتے جیسا کہ گزشتہ عبارت میں تعبیر کیا ہے۔ ملخصاً غمز العیون ۔ (ت)
فتاویٰ خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار جلد اوّل ص ۹۵: من سب رسول الله ﷺ فانه مرتد و حكمه حكم المرتدين و يفعل به مايفعل بالمرتدين ولا توبة له اصلا واجمع العلماء انه كافر ومن شک فی کفره كفر اه ملتقطا. ”جو نبی ﷺ کی شان کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے اس کا وہی حکم ہے جو مرتدوں کا ہے اس سے وہی برتاؤ کیا جائے جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے اور اسے دنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔“
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد اوّل ص ۶۱۸: اذا سبه ﷺ او واحدا من الانبیاء مسلم ولو سکران فلا توبة له تنجيه كالزنديق ومن شک فی عذابه و کفره فقد کفر. یعنی جو مسلمان کہلا کر حضور اقدس ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ نشہ کی حالت میں تو اس کی توبہ پر بھی دنیا میں اسے معافی نہ دیں گے جیسے دہریے بے دین کی توبہ نہ سنی جائے گی، اور جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شک لائے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔
ذخیرۃ العقبیٰ علامہ اخی یوسف ص ۲۴۰: قد اجمعت الامة على ان الاستخفاف بنبينا ﷺ وبای نبی كان عليهم الصلوة والسلام کفر سواء فعله علی ذلک مستحلا ام فعله معتقد الحرمة وليس بين العلماء خلاف فی ذلک ومن
شک فی کفره و عذابه کفر.
’’یعنی بیشک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضور انور ﷺ خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے، خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کر، بہرحال جمیع علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔‘‘
لایغسل ولا یصلی علیه ولا یکفن اما اذا تاب و تبرأ عن الارتداد و دخل فی دین الاسلام ثم مات غسل و کفن وصلی علیه و دفن فی مقابر المسلمین.
یعنی وہ گستاخی کرنے والا جب مرجائے تو نہ اسے غسل دیں نہ کفن دیں نہ اس پر نماز پڑھیں، ہاں اگر توبہ کرے اور اپنے اس کفر سے برأت کرے اور دین اسلام میں داخل ہو اس کے بعد مرجائے تو غسل، کفن، نماز، مقابر مسلمین میں دفن سب کچھ ہوگا۔
تنویر الابصار شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی:
کل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا الکافر بسبب نبی. الخ
(درمختار ص ۳۱۷ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
’’یعنی ہر مرتد کی توبہ قبول ہے مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے تو دنیا میں سزا سے بچانے کے لیے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔‘‘
الکافر بسبب نبی من الانبیاء لاتقبل توبته مطلقا ومن شک فی عذابه و کفره کفر.
(درمختار ص ۳۱۷ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
یعنی کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح معافی نہ دیں گے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے خود کافر ہے۔
کتاب الخراج سیّدنا امام ابو یوسفؒ ص ۱۹۷۔۱۹۸:
قال ابویوسف و ایما رجل مسلم سب رسول اللہ ﷺ او کذبه او عابه او تنقصه فقد کفر بالله تعالیٰ وبانت زوجته.
یعنی جو شخص کلمہ گو ہو کر حضور اقدس ﷺ کو برا کہے یا تکذیب کرے یا کوئی عیب لگائے یا شان گھٹائے وہ بلاشبہ کافر ہوگیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔
بالجملہ اشخاص مذکورین کے کفر و ارتداد میں اصلاً شک نہیں، دربارۂ اسلام و رفع دیگر احکام ان کی توبہ اگر سچے دل سے ہو ضرور مقبول ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ سلطانِ اسلام انھیں بعد توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۲۹۶ تا ۳۰۴)
رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کا حکم
سوال...... اگر کوئی مسلمان العیاذ باللہ حضرت نبی اکرم ﷺ کی نسبت ناجائز دشنام (گالی) دے، بصورتِ شرع محمد ﷺ کے اس شخص کا اب کیا حکم ہے؟ لائق توبہ واستغفار ہے یا کہ لائقِ قتل ہے؟
الجواب...... حامداً و مصلیاً: جو شخص شانِ اقدس ﷺ میں (نعوذ باللہ) گالی بکے وہ مرتد اور خارج از اسلام
ہے، اس کو توبہ اور تجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔ (درمختار ج ۳ ص ۳۰۹ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) میں اس پر مفصل بحث مذکور ہے۔ علامہ شامیؒ نے ایک رسالہ مستقل لکھا ہے، دیگر اکابر علماء کے بھی رسائل ہیں۔ الصارم المسلول فی شاتم الرسول وغیرہ۔ لیکن اس حکم پر عمل کے لیے شرائط ہیں ان کا بھی لحاظ چاہیے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود غفرلہ، دارالعلوم دیوبند ۱۹-۳-۹۰ھ۔
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۲ ص ۱۶۲، ۱۶۳)
وجوہ ارتداد
سوال..... جو شخص ہمارے نبی محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذات سے کچھ ذرہ بھی بغض رکھے اور تمامی جہان پر آنحضرت کے بزرگ وافضل ہونے کا قائل نہ ہو، اور شفاعت کا اور آنحضرت کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کرتا ہو، وہ کافر ہے یا نہیں بینوا۔
الجواب..... جس نے ایسا اعتقاد رکھا۔ وہ کافر ہے، جنت اس پر حرام ہے، ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، جو رسول اللہ ﷺ کا دوست، وہ اللہ کا دوست اور کوئی چاہے، کہ بعد بعثت رسول اللہ ﷺ کے بلاوساطت آنحضرت ﷺ کے اللہ سے دوستی رکھے، وہ مردود ہے، ایسے ہی لوگوں کے واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران ۳۱) اور فضیلت و بزرگی آنحضرت ﷺ کی تمام جہان پر قرآن و حدیث سے صاف ظاہر و باہر ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کسی نبی کو اس لقب سے یاد نہیں فرمایا ہے، وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء ۱۰۷) اے نبی ہم نے تم کو سب کے واسطے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور (صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ج ۱ ص ۱۹۹) میں ہے۔
عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا و ارسلت الی الخلق کافة و ختم بی النبیون وفي رواية اعطيت الشفاعة اور دوسرے مقام میں ہے۔ انا سید ولد ادم اور خاتم الانبیاء ہونا بھی آنحضرت ﷺ کا مثل آفتاب نیم روز کے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ سے واضح ولائح ہے۔
(آپ کہہ دیں اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا۔ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، مجھے دوسرے انبیاء پر چھ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں۔ میں جامع کلمات عطا کیا گیا ہوں۔ رعب سے میری مدد کی گئی ہے میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں، میرے لیے تمام زمین وضو کے قائم مقام اور مسجد بنا دی گئی ہے۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔ میں آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں۔۔)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔
(الاحزاب ۴۰) عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ﷺ قال مثلی ومثل الانبياء من قبل كمثل رجل بنی بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به و يعجبون له و يقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبیین وفي رواية فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبیاء علیھم السلام۔
(مسلم ج ۲ ص ۲۴۸ باب ذکر كونہ ﷺ خاتم النبیین)
اور آنحضرت ﷺ کا شفاعت کرنا قیامت میں اپنی امت کے لیے بلکہ تمام امتوں کے واسطے قرآن و
حدیث سے خوب صاف ہر کسی کو معلوم ہو جاتا ہے، کچھ پوشیدہ امر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (الاسراء ۷۹) اور فرماتا ہے ولسوف یعطیک ربک فترضی (الضحیٰ ۵) حدیث میں ہے۔ وعن عوف بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ اتانی آت من عند ربی فخیرنی بین ان یدخل نصف امتی الجنۃ و بین الشفاعۃ فاخترت الشفاعۃ وھی لمن مات لا یشرک باللہ شیئا (رواہ الترمذی و ص ۷۰ ج ۲ ابواب القیامۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ ابن ماجۃ) وعن انس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال شفاعتی لاهل الکبائر من امتی۔
(رواہ الترمذی ص ۷۰ ج ۲ ابواب صفۃ القیامۃ باب ماجاء فی الشفاعۃ و ابوداؤد و ابن ماجہ)
(محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک آدمی جیسی ہے، جس نے ایک عمارت بنایا اور اچھا بنایا اور بہت خوبصورت بنایا، مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس کے گرد پھرنے لگے۔ اور اس کی خوبصورتی سے تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے کاش اس جگہ اینٹ لگا دی جاتی تو آپ نے فرمایا، میں وہ اینٹ ہوں، میں خاتم النبیین ہوں، اور ایک روایت میں ہے، میں اس اینٹ کی جگہ آ گیا ہوں، سو میں نے نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ تم کو تمہارا رب مقام محمود میں پہنچائے گا۔ آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ اور عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھ کو اختیار دیا کہ یا تو میری امت میں سے نصف امت جنت میں داخل ہو جائے گی اور یا پھر آپ شفاعت کرلیں، سو میں نے شفاعت کو پسند کر لیا اور وہ ہر اس آدمی کے لیے ہوگی جو اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا اور انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں ۔)
اور ایک بڑی حدیث میں بخاری ومسلم کے آیا ہے کہ قیامت یعنی حشر کے روز سب لوگ واسطے طلب شفاعت کے آدم و نوح و موسیٰ و عیسیٰ تمام انبیاء علیہم السلام کے پاس جاویں گے۔ وہ سب اپنا اپنا قصور بیان کریں گے، شفاعت نہیں کریں گے، حضرت عیسیٰ فرماویں گے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، حضرت کے پاس آئیں گے، پہلے دروازہ شفاعت کا ہمارے رسول اللہ ﷺ کھولیں گے، بعدہ سب شفاعت کریں گے، حضرت کے آگے کسی کی دم مارنے کی طاقت نہیں رہے گی، اللہ تعالیٰ حد مقرر فرما دے گا، اس کے موافق حضرت بار بار حکم اللہ کا لینے جائیں گے، سجدہ کرتے جائیں گے، اور شفاعت کرتے جائیں گے، اور صدہا احادیث اسی مضمون کی صحاح ستہ وغیرہ میں موجود ہیں، جس کا جی چاہے، وہ دیکھ لے، اور بعد اس کے بھی جو شخص پھر حضرت ﷺ کی بزرگی اور خاتم ہونے کا، اور قیامت میں شفاعت کرنے کا منکر ہو، تو بموجب آیت ماذا بعد الحق الا الضلال گمراہ، کافر، خالد مخلد دوزخ کا کندہ بن رہے گا۔
المجیب ابو البرکات محمد عبدالحی تقی عرف صدر الدین احمد حیدر آبادی۔ الجواب صحیح والراى نجیح و منکرها مردود و کافر ۔ حرره العاجز محمد نذیر حسین عفی عنہ۔
(فتاویٰ نذیریہ ج ۱ ص ۱۰ تا ۱۲)
نبوت کو کسبی کہنا کفر ہے
سوال ....... جو شخص نبوت کو کسبی کہے اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
الجواب ....... ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا اس کے لیے ضروری ہے، واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ رحیمیہ ص ۳۲۹)
آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے
سوال ....... اگر کوئی شخص سرکارِ مدینہ کی تشریف آوری کے بعد مندرجہ ذیل عقائد میں سے کسی ایک عقیدے کا معتقد ہو تو وہ اہل کتاب میں داخل ہوگا یا نہیں اور اس کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور ہمارے لیے حلال ہے یا نہ۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت فرمائیں۔
- ١...... حضور پیغمبر عربی ﷺ کے بعد اور نبی بھی پیدا ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ نبی صاحب کتاب ہو۔
قرآن پاک بیشک سچی اور حق کتاب ہے۔ مگر اب یہ منسوخ ہے اور اس کے احکام اب باقی نہیں؟
- ٢...... حضور پیغمبر عربی ﷺ کے بعد ایسا نبی پیدا ہو سکتا ہے جو حضور ﷺ کی شریعت کے تابع ہو کر رہے۔ حضور ﷺ
پر ختم نبوت ہونے کا یہ معنی ہے کہ حضور ﷺ کے مرتبے کا کوئی پیدا نہ ہوگا؟
- ٣...... حضور پیغمبر عربی ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کا معنی صرف یہ ہے کہ آپ کے بعد نبی کا
نام یا نبی کا لفظ کسی نئے آنے والے کے لیے نہیں۔ نبوت کی شرائط اور صفات (جیسے معصوم ہونا، مامور من اللہ ہونا، مفترض اطاعت ہونا، حلال و حرام میں لسانِ فیصل ہونا، یہ سب امور خاتم النبیین ﷺ کے بعد بھی باقی اور جاری ہیں۔ ختم نبوت صرف لفظ نبوت کی لفظی روک ہے صفات نبوت بہر صورت باقی ہیں اور ان کے حامل ائمہ کرام اور اولو الامر حضرات ہیں؟
- ۴...... حضور پیغمبر عربی ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔ البتہ پہلے پیغمبروں میں سے اگر کوئی زندہ ہو اور وہ
آپ کے عہد مبارک میں دوبارہ آ جائے تو اس کی آمد عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہ ہوگی۔
سائل: نذیر احمد مدرس مدرسہ عربیہ خیر العلوم کمالیہ
الجواب ....... سوال مذکور الصدر کی پہلی تینوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے اور یہ تینوں طبقے ختم نبوت کے اسلامی معنوں کے منکر ہیں ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین میں تاویل قطعاً معتبر نہیں۔ مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں صرف تاویل اور تعبیر کا اختلاف ہے۔ حقیقت میں ختم نبوت کے اسلامی معنوں کے تینوں نہایت واضح طور پر خلاف ہیں۔ پہلی صورت کے قائل ختم زمانی کے منکر ہیں۔ ظاہر ہے کہ عقیدہ نبوت کے لیے صرف ختم نبوت مرتبی کا اقرار کافی نہیں، ختم نبوت زمانی کا اقرار بھی لازمی ہے۔ اور وہ اس عقیدے کا اساسی جزو ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی اور نیا نبی پیدا ہو اور وہ حضور ﷺ کے ماتحت ہو کر رہے تو ختم نبوت مرتبی کے عقیدہ پر براہِ راست زد نہیں پڑتی لیکن ختم نبوت زمانی کے انکار سے عقیدہ ختم نبوت بری طرح زخمی ہو جاتا ہے۔ ختم نبوت کے اسلامی اعتقاد کا تقاضا ہے کہ ختم نبوت مرتبی ختم نبوت زمانی اور ختم نبوت مکانی کے ہر مفہوم کو آنحضرت ﷺ کی ختمی مرتبت پر ختم مانا جائے۔ بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں۔
اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔
(جوابات محذورات ص ۱۰۳)
تیسری صورت کے منکر عنوان ختم نبوت کے منکر نہیں۔ لیکن درحقیقت، ختم نبوت کے صریحا منکر ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کوئی لفظوں کا کھیل نہیں کہ لفظ نبی کی روک تو تسلیم کر لی جائے اور نبوت کی حقیقت اور معنویت امامت کے نام سے جاری رکھی جائے۔
حجۃ الہند حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی شرح موطا میں لکھتے ہیں۔ او قال النبی ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لا يجوز ان يسمى بعده احد بالنبی ﷺ واما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثا من الله تعالى الى الخلق المفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطاء فيما يرى فهو موجود فى الائمة بعده فذلك الزنديق وقد اتفق جماهير المتاخرين من الحنفية والشافعية على قتل من يجرى هذا المجرى.
(المسوی شرح موطا ج ۲ ص ۱۳۰)
حضرت شاہ صاحبؒ کے اس فیصلے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کچھ ایسے افراد بھی اس امت میں پیدا ہوں گے جو مامور من اللہ اور معصوم ہوں تو ایسا اعتقاد رکھنے والا عقیدہ ختم نبوت کا قطعا قائل نہیں۔ خواہ زبان سے ہزار دفعہ حضور ﷺ کو خاتم النبیین کہتا رہے۔
چوتھی صورت کے قائل اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد اگر کوئی پرانا نبی اس زمین پر دوبارہ آجائے تو خواہ اس کی اپنی پرانی شریعت ”شریعت محمدیہ“ سے مختلف ہی تھی۔ لیکن اب وہ اس پر عمل پیرا نہیں ہو گا بلکہ حضور اکرم ﷺ کے تابع ہو کر رہے گا تو بے شک ایسا عقیدہ رکھنے والا ختم نبوت کے اسلامی معنوں کا پورا قائل ہے اور عقیدہ ختم نبوت سے خارج نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی پرانے نبی کی آمد کا اس صورت میں قائل ہو کہ وہ حضور ﷺ کے تابع شریعت نہ رہے گا۔ تو یہ صورت بھی عقیدہ ختم نبوت کے صریح طور پر خلاف ہے۔ محدث شہیر حضرت علامہ سید انور شاہ صاحبؒ اپنی فارسی کتاب ”خاتم النبیین“ میں اس اعتقاد کو بھی لوازم ختم نبوت سے قرار دیتے ہیں کہ پرانا آنے والا نبی بھی ضروری ہے کہ حضور ﷺ کے تابع شریعت ہو کر رہے۔ اس کے بغیر ختم نبوت زمانی کا اقرار تو ہو جاتا ہے لیکن ختم نبوت مرتبی کا اقرار قائم نہیں رہتا اور مفہوم ختم نبوت کا تقاضا ہے کہ نبوت ہر اعتبار سے حضور ﷺ کی ذات اقدس پر ختم مانی جائے۔
پہلی تینوں صورتوں کے قائل قطعی طور پر اسلام کے عقیدہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور ہرگز ہرگز اہل کتاب میں شامل نہیں۔ قرآن پر عنوانی اعتقاد رکھتے ہوئے زندقہ و الحاد کی راہ چلنا اہل کتاب کے حکم میں آنے کا موقع ہرگز نہیں دیتا، کتابی وہی ہے جو قرآن سے پہلے کی کسی ایسی کتاب پر ایمان رکھتا ہو جو اب منسوخ ہو چکی ہے۔
علامہ ابوالبقاء کتابی ہونے کی یہ تعریف بیان کرتے ہیں۔ الكافر ان كان متدينا ببعض الاديان والكتب المنسوخة فهو الكتابی.
(کلیات ص ۵۵۳)
”کافر اگر پہلے کے کسی آسمانی دین اور پہلے کی کسی آسمانی کتاب کا قائل ہو تو وہ کتابی ہے۔“
قرآن عزیز آخری اور دائمی کتاب ہے جو ہرگز منسوخ نہیں۔ جس شخص کا اعتقاد اس پر صحیح ہو گا وہ مومن اور مسلم قرار پائے گا اور جو شخص اس کے اساسی معنوں میں غلط راہ چلے گا وہ زندیق اور ملحد سمجھا جائے گا، کتابی اسے
کسی صورت میں بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ کتابی صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ کسی منسوخ کتاب پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے مصداق اس وقت صرف یہود اور نصاریٰ ہی ہیں۔ علامہ شامی لکھتے ہیں:
الكتابي من يعتقد ديناً سماوياً اى منزلاً بكتاب كاليهود والنصارىٰ.
(شامی ج٣ص٢٧٠)
پس وہ زنادقہ وملحدین جو کتابی تعریف میں نہیں آتے۔ ان کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا ہرگز جائز نہیں ہے۔
اہل کتاب کا ذبیحہ صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ اصالتاً اہل کتاب ہوں ارتداداً نہ ہوں۔ اگر کوئی مسلمان عیسائی ہو جائے تو اب اس کا ذبح کیا ہوا جانور ذبیحہ کتابی نہیں ہوگا بلکہ ذبیحہ مرتد ہوگا۔ کتابی وہ اسی صورت میں تھا کہ پہلے مسلمان نہ ہو۔ جو پہلے مسلمان ہو اور بعد ازاں کسی اور دین میں منتقل ہو جائے تو خواہ وہ نیا دین مسیحی اور یہودی دین ہی کیوں نہ ہو وہ شخص بہر صورت مرتد سمجھا جائے گا۔
علامہ ابو البقاء فرماتے ہیں:۔
الكافر ان طرأ كفره بعد الايمان فهو المرتد.
(کلیات ابی البقاء ص٥٥٣)
اور حضرت علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:۔
الرجوع عن دين الاسلام وركنها اجراء بكلمة الكفر على اللسان بعد الايمان.
(شامی ج٣ص٣٠٩۔٣١٠)
پس مرتد ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ سارے اسلام کا ہی انکاری ہو۔ کسی ایک ایسے امر کا انکار جس کا اسلام کی تعلیم ہونا قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہو۔ جیسا کہ عقیدہ ختم نبوت قطعی اور یقینی درجہ رکھتا ہے تو اس کے اسلامی مفہوم کا انکار بھی انسان کو دائرہ اسلام سے یقیناً دور کر دیتا ہے۔ ایمان شرعی کے لیے تو ضروری ہے کہ تمام قطعی تعلیماتِ اسلام کا اقرار ہو، لیکن کفر اور ارتداد کے لیے جمیع کی قید نہیں۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے اور کسی ایک قطعی عقیدہ اسلام کا انکار بھی انسان کو اسی طرح ارتداد کے جال میں لے آتا ہے جس طرح کہ پورے اسلام کا انکار ارتداد تھا۔
حاصل اینکہ سوال مذکورہ کی پہلی تینوں صورتیں عقیدہ ختم نبوت کا قطعی انکار ہیں۔ پس ان میں سے کوئی بھی کتابی کی تعریف کے تحت نہیں آتا اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔
علامہ شامیؒ فرماتے ہیں:۔
وشرط كون الذابح مسلماً حلالاً خارج الحرم ان كان صيداً فصيد الحرم لا تحله الزكوة في الحرم مطلقاً او كتابيا ذميا او حربيا الا اذا سمع منه عندالذبح ذكر المسيح.
(ج٥ص٢٠٨)
”اور ذابح کے لیے شرط ہے کہ وہ مسلمان ہو، احرام میں نہ ہو۔ حدود حرم سے باہر ہو حرم کے اندر شکار کو ذبح کرنا اسے حلال نہیں کر سکتا۔ کتابی ذمی ہو یا حربی اس کا ذبیحہ بھی جائز ہے مگر جب کہ وہ ذبح کے وقت مسیح کا نام لے۔“
ولا تحل ذبيحة غير كتابى من وثنى و مجوسى و مرتد.
(درمختار بحاشیہ ردالمحتار ج٥ص٢٠٩)
مرتد ہونے کو علامہ شامیؒ نے عدم حلت کی علت قرار دیا ہے۔ اس عبارت پر لانہ صار کمرتد لکھتے ہیں۔ ”علة لعدم الحل“ واللّٰہ اعلم بالصواب و علمه اتم واحكم في كل باب.
خالد محمود عفا اللہ عنہ ۲۷ دسمبر ۶۳ء۔
(عبقات ص ۲۳۸ تا ۲۴۱)
آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر و ارتداد ہے
سوال ...... جس شخص کا قول اپنی نسبت یہ ہو کہ جس کو امن و ایمان اور صراطِ مستقیم درکار ہو تو وہ سلطان الاولیاء خاتم الولایت علیہ الصلوٰۃ کے موجودہ خلیفہ احمد زماں نامی کے پاس آ کر صراطِ مستقیم کا راستہ دیکھیں۔ شخص مذکور اور اس کے معاونین کی نسبت شرعاً کیا حکم ہے اور اس دعوٰی کے ضمن میں مہدی موعود اور رسالت کے بھی دعوٰی ہیں۔ ایسا شخص مسلمان رہ سکتا ہے یا نہ۔ اور وہ شخص مریدوں سے احمد زماں رسول اللہ ﷺ کہلاتا ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب ...... وعن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آباء کم فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم. (رواہ مسلم ج ۱ ص ۱۰ باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء) اور بعض روایات میں ہے کہ تیس دجال ہوں گے ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوت کرے گا۔ الحدیث، پس شخص مذکور جو کہ اپنے مریدوں سے اپنی نسبت رسول اللہ ﷺ کہلاتا ہے اور اس کلمہ سے ان کو منع نہیں کرتا اور ہدایت صراطِ مستقیم کو اپنے اتباع میں منحصر جانتا ہے اور کہتا ہے وہ بالیقین دجال و کذاب ہے۔ اور اہل باطل اور ضال و مضل ہے، مسلمانوں کو اس کی صحبت سے اور اس کی گمراہی سے احتراز لازم ہے، زیادہ لکھنے کی اس میں ضرورت نہیں ہے کیونکہ بطلان اس کا اور اس کے طریقہ کا اظہر من الشمس ہے جبکہ حق تعالٰی کا ارشاد صریح ہے۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (الاحزاب ۴۰) اور جناب رسول اللہ ﷺ صاف فرماتے ہیں فلا نبی بعدی کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو پھر مدعی نبوت کے اہل باطل و اہل ضلال ہونے میں کسی مسلمان کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور اس کے کفر و ارتداد میں کیا ریب و تردد ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۲۳۸۔ ۲۳۹)
حضور ﷺ کے منکر کا کیا حکم ہے؟
سوال ...... ایک آدمی اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین رکھتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں کرتا نماز بھی پڑھتا ہے لیکن وہ حضور ﷺ کو نہیں مانتا تو کیا وہ آدمی جنت کا حق دار ہے؟
جواب ...... جو شخص آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا وہ خدا پر یقین کیسے رکھتا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۵۲)
شاتم رسول کی توبہ مقبول ہے
سوال ...... اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گالی دے اور بعد میں پشیمان ہو اور توبہ بھی کرے تو از روئے شریعت اس کی توبہ مقبول ہے کہ نہیں؟
الجواب ...... جناب رسالتمآب ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
قال العلامۃ ابن عابدین: اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر و حکمہ القتل.
(ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۷ مکتبہ رشیدیہ باب المرتد، مطلب مہم فی حکم ساب الانبیاء)
تاہم اگر شاتم رسول اپنے اس فعل پر نادم ہو کر توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے اور تجدید ایمان کے بعد دوبارہ مسلمان سمجھا جائے گا۔
قال ابوالحسن علی بن الحسین اسعدی: من سب رسول اللّٰہ فانہ مرتد و یفعل بہ ما یفعل بالمرتد۔
(النتف فی الفتاویٰ ج ۲ ص ۶۹۴ باب المرتد)
قال العلامۃ ابن عابدین: ظاہر فی قبول توبتہ کما لا یخفی۔
(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج ۵ ص ۱۳۵ باب المرتد) (فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۱۳۹)
رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ
سوال:…… ایک مقام پر ایک گستاخ کافر نے حضور اقدس ﷺ کی جناب میں گستاخانہ مقالات شائع کیے تھے۔ مسلمانوں کے مواخذہ پر اس نے علماء کی ایک باقاعدہ جمعیت سے معافی چاہی اور آئندہ احتیاط رکھنے کا، اور فی الحال اپنی اس غلطی و درخواست معافی کا اخباروں میں اعلان کر دینے کا وعدہ کیا، اس میں اکثر مسلمانوں کی رائے اس کو منظور کر لینے کی ہوگئی، اور بعض نے اختلاف کیا اور حکومت موجودہ میں استغاثہ دائر کرنے کی رائے دی، اور استغاثہ کے ناکام ہونے کے احتمال پر بھی استغاثہ ہی کو ترجیح دی، اور دلیل یہ بیان کی کہ یہ حق اللہ کا ہے، اس کی معافی کا حق صرف سلطانِ اسلام کو ہے، اس کے متعلق سوال آیا تھا، جس کا جواب حسبِ ذیل لکھا گیا۔
الجواب:…… معافی کی جو حقیقت صاحب شبہ نے سمجھی ہے اس معنی کو یعنی بعد معافی کے ناگواری نہ رہنا، یہ معافی مذکور فی السوال صورۃً معافی ہے، اسی لیے بعض حضرات کو شبہ ہو گیا کہ حق اللہ کے معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں، مگر واقع میں معافی نہیں، بلکہ صلح ہے، اور صلح سے کوئی امر مانع نہیں، اور صلح جیسے بلا شرط ہوسکتی ہے، اسی طرح شرط پر بھی ہوسکتی ہے، جیسے یہاں یہ شرط مقرر کی جاتی ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے، البتہ صلح میں شرعاً یہ قید ہے کہ مسلمانوں کے حق میں وہ مصلحت ہو اور یہاں مصلحت ہونا ظاہر ہے کہ فی الحال اسلام کا اعزاز اور کفر کا اذلال ہے اور فی المآل ایک منکر قبیح کفری کا انسداد ہی خود معاہدہ میں بھی اور امید ہے کہ دوسرے متمردین میں بھی، کہ اس منکر کا نتیجہ دیکھ کر بعضے عبرت پکڑیں گے اور بعضے مسلمانوں کی رواداری سے متاثر ہوں گے اور یہ توقّعات حکومت سے استغاثہ میں مظنون بھی نہیں، بلکہ مشکوک ہیں، چنانچہ فضائے موجود اس کی شاہد ہے، پھر اگر خدا نہ کردہ استغاثہ میں کامیابی نہ ہوئی تو اس پر جو مفاسد یقیناً مرتب ہوں گے، ان کے انسداد پر مسلمانوں کو کوئی کافی قدرت نہیں، ہمیشہ کے لیے ایسے لوگوں کی جرأت بڑھ جائے گی، بلکہ ترقی کر کے کہا جاسکتا ہے کہ اگر کامیابی بھی ہو گئی تو ظاہر ہے کہ سزائے موت کا تو احتمال بھی نہیں، صرف قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ سو بہت سے مفسد ایسے ہیں کہ قید و جرمانہ کی پروا بھی نہیں کرتے، ان کو ایک نظیر ہاتھ آ جائے گا اور گو اس صلح کے بعد بھی ایسے واقعات محتمل ہیں مگر مفاسد کی قلت و ضعف و مشکوکیت اور کثرت و شدت و مظنونیت کا تفاوت ضرور قابلِ نظر و قابلِ عمل ہے، رہا یہ شبہ کہ معافی کا حق صرف سلطانِ اسلام کو ہے، عامہ مسلمین کو نہیں، سو شبہ میں جو دلیل بیان کی گئی ہے کہ یہ حق اللہ ہے، اس کا مقتضاء تو یہ ہے کہ سلطان کو بھی یہ حق نہیں، کیونکہ سلطان حقوق اللہ کو معاف نہیں کر سکتا، باقی اگر اس دلیل سے قطع نظر کر کے اور اس معافی کو صلح قرار دے کر یا معافی کی تفسیر عدمِ انتقام فی الدنیا قرار دے کر یہ حکم کیا جائے تو اول تو اس حکم کے لیے ایسی دلیل کی حاجت ہے جو سلطان کے ساتھ خاص ہو، سلطان اور عامہ مسلمین میں مشترک ہو، دوسرے خود شریعت نے بہت سے احکام میں ضرورت کے وقت عامہ مسلمین کو قائم مقام سلطان کے
ٹھہرایا ہے، جیسے نصب امام و خطیب جمعہ و نصب متولی وقف اور یہاں اس معاملہ کا اہتمام مذکورہ بالا سے زیادہ مہتمم بالشان اور ضروری بھی ہونا ظاہر ہے لفقدان السلطان المسلم، واللہ اعلم۔ ۲۶ جمادی الاخریٰ ۱۳۵۰ھ
(النور ص ۱۰، ذی الحجہ ۱۳۵۰ھ، امداد الفتاویٰ ج ۳ ص ۱۶۶۔۱۶۷)
بلاوجہ توہین رسالت کے بارے میں سوال بھی توہین ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک پروفیسر نے اپنی کلاس میں طلباء سے سوال کیا کہ کوئی شخص حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو مسلمانوں کا اس شخص سے کیا معاملہ ہوگا؟ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس پروفیسر کے بارہ میں کیا حکم ہے؟
الجواب ...... آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے اور آپ ﷺ کی توہین کرنے کو کتب مذہب میں اشد ترین جرائم میں سے شمار کیا گیا ہے اور ایسے گھناؤنے جرم کے ارتکاب پر حکومت مرتکب کو قتل یا پھانسی تک سزا دے سکتی ہے۔ لیکن یہ حکومت کا کام ہے عوام اس کے مجاز نہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں مسلمانوں کا ردعمل یہ ہونا چاہیے کہ حکومت کے متعلقہ محکمہ میں مجرم کے خلاف شکایت کر دیں۔
نفس مسئلہ معلوم کرنے کی غرض سے مناسب طریق پر یہ سوال دریافت کرنے میں حرج نہیں۔ لیکن بلاضرورت نامناسب طریق پر اس سوال کو چھیڑنا سوء ادبی سے خالی نہیں۔ فقط واللہ اعلم۔ بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ: ۱۳۷۹/۱/۷ھ
ساتھ ہی ہمارے کالج کے نوجوانوں کو بھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا لازم ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ علماء تنگ دل ہیں ان کو وسیع الظرف اور فراخ دل ہونا چاہیے۔ چاہے کسی قسم کا سوال ہو اس پر ناراض نہ ہوں وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے عزیز و محترم نوجوانوں کو معلوم ہو کہ سوال بھی نصف علم ہے۔ غلط سوال پر تنبیہاً ناراض ہونا، طبعاً غصہ آنا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سوال کیا ہے۔ بطور مثال اگر کسی شخص کو کہا جائے کہ اگر میں تیرے باپ کو گدھا کہوں تو تیرا رویہ کیا ہوگا۔ تو کیا وہ شخص ایسے سوال سے خوش ہوگا اور ایسے سائل کو عقل مند کہے گا؟
تعجب ہے کہ ایک پروفیسر یہ سوال کرے کہ مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین ہو تو مسلمانوں کا کیا ردعمل ہوگا اور ایسے سوال نامہ کو اخبارات میں شائع کرے اس پر طبیعت کو اشتعال نہ ہو۔ یہ تو کوئی انتہائی بے غیرت آدمی ہوگا کہ اس قسم کے سوال کو سن کر خاموش رہ جائے۔ پیغمبر ﷺ کی شان تو بہت اعلیٰ و ارفع ہے اگر کوئی شخص یہ سوالنامہ شائع کرے کہ پاکستان میں ایک آدمی مسٹر محمد علی جناح کو خوب دل کھول کر گالیاں دے یا اقبال مرحوم کو برا بھلا کہے تو بتلاؤ اے پاکستانیو! تمہارا کیا ردعمل ہوگا؟ کیا یہ سوال مسلمانوں کو چڑانے کے مترادف نہ ہوگا؟ اور ایسے سائل پر غصہ آئے گا یا نہیں؟
اس لیے یہ سوال سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ ہمیں تو تعجب ہوتا ہے کہ پاکستان کے کالجوں میں کیا ایسے عقل مند پروفیسر موجود ہیں غالباً وہ انتہائی ملحد اور بے دین ہیں جو مسلمانوں کی رگِ ایمان کو دکھانا چاہتے ہیں۔
والجواب صحیح: محمد عبداللہ غفرلہ مفتی خیر المدارس ملتان ۱۳۷۹/۱/۷ھ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۳۲۰۔۳۲۱)
کیا گستاخ رسول کو حرامی کہہ سکتے ہیں؟
سوال ...... بعض لوگ سورۂ قلم کی آیت ۱۳ (زنیم) سے استدلال کر کے گستاخ رسول کو حرامی کہتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب ...... آنحضرت ﷺ کی یا کسی بھی رسول کی گستاخی کرنا بدترین کفر ہے (نعوذ باللہ) مگر قرآن کریم کی اس آیت کریمہ میں جس شخص کو ”زنیم“ کہا گیا ہے اس کو گستاخی رسول ﷺ کی وجہ سے ”زنیم“ نہیں کہا گیا۔ بلکہ یہ ایک واقعہ کا بیان ہے کہ وہ شخص واقعتاً ایسا ہی بدنام اور مشکوک نسب کا تھا۔ اسلیے اس آیت کریمہ سے یہ اصول نہیں نکالا جا سکتا کہ جو شخص گستاخی رسول کے کفر کا ارتکاب کرے اس کو ”حرامی“ کہہ سکتے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۵۲)
اجزائے نبوت کے قائل کا حکم؟
سوال ...... مولانا صاحب! آج کل ایک نیا فتنہ قرآن ریسرچ سینٹر کے نام سے بہت زوروں پر ہے، (بلکہ اب اس کا نام انٹرنیشنل اسلامک پروپیگیشن سنٹر رکھ دیا گیا ہے، ناقل) اس کا بانی محمد شیخ انگلش میں بیان کرتا ہے، اور ضروریات دین کا انکار کرتا ہے۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ میں آپ کی کوئی مفصل تحریر شائع ہوگی مگر آپ کے مسائل میں ایک خاتون کے سوال نامہ کے جواب میں آپ کا مختصر سا جواب پڑھا، اگرچہ وہ تحریر کسی حد تک شافی تھی مگر اس سلسلہ کی تفصیلی تحریر کی اب بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے ایسی کوئی تحریر لکھی ہو یا کہیں شائع ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی فرمادیں یا پھر ازراہ کرم امت مسلمہ کی اس سلسلہ میں راہنمائی فرمادیں۔
جواب ...... آپ کی بات درست ہے، ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ میں میرا نہایت مختصر سا جواب شائع ہوا تھا، اور احباب کا اصرار تھا کہ اس سلسلہ میں کوئی مفصل تحریر آنی چاہیے، چنانچہ میری ایک مفصل تحریر ماہنامہ بینات کراچی کے ”بصائر و عبر“ میں شائع ہوئی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے افادہ عام کے لیے قارئین ...... کی خدمت میں پیش کر دیا جائے، جو حسب ذیل ہے:
”مسلمانان ہندوستان کی دلی خواہش اور چاہت تھی کہ ایک ایسی آزاد ریاست اور ملک میسر آ جائے جہاں مسلمان آزادی سے قرآن و سنت کا آئین نافذ کرسکیں اور انھیں دین اور دینی شعائر کے سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، چونکہ مسلمانوں کا جذبہ نیک تھا، اس لیے اس میں جوان، بوڑھے، عوام و خواص اور عالم و جاہل سب برابر کے متحرک و فعال تھے۔ بالآخر لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی کے بعد ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ قیام پاکستان کا مقصد اسلامی نظام حکومت یعنی حکومت الٰہیہ کا قیام باور کرایا گیا تھا۔ جس کا عنوان تھا ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ اور یہ ایسا نعرہ تھا جس کے زیر اثر تمام مسلمان مر مٹنے کے لیے تیار تھے، حتیٰ کہ وہ مسلمان جن کے علاقے تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کی حدود میں آتے تھے وہ بھی اس کے قیام میں پیش پیش تھے، لیکن ؎
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
کے مصداق، آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستانی مسلمانوں کو اسلامی نظام حکومت
نصیب نہیں ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
الٹا پاکستان روز بروز مسائلستان بنتا چلا گیا، اس میں مذہبی، سیاسی، روحانی غرض ہر طرح کے فتنے پیدا ہوتے چلے گئے، ایک طرف اگر انگلینڈ میں مرتد رشدی کا فتنہ رونما ہوا، تو دوسری طرف پاکستان میں یوسف کذاب نام کا ایک بد باطن دعویٰ نبوت لے کر میدان میں آ گیا۔ اسی طرح بلوچستان میں ایک ذکری مذہب ایجاد ہوا جس نے وہاں کعبہ اور حج جاری کیا۔ یہاں رافضیت اور خارجیت نے بھی پر پرزے نکالے، یہاں شرک و بدعات والے بھی ہیں اور طبلہ سارنگی والے بھی۔ اس ملک میں ایک گوہر شاہی نام کا ملعون بھی ہے جس کے مریدوں کو چاند میں اس کی تصویر نظر آتی ہے۔ اور خود اس کو اپنے پیشاب میں اپنے مصلح کی شبیہ دکھائی دیتی ہے۔ اس میں ایک بدبخت عاصمہ جہانگیر بھی ہے جو تحفظ حقوق انسانیت کی آڑ میں کتنی لڑکیوں کی چادر عفت کو تار تار کرچکی ہے۔
اسی طرح اس ملک میں ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی ایک جماعت بھی ہے جو پوری امت کی تجہیل و تحمیق کرتی ہے۔ یہاں ڈاکٹر مسعود کی اولاد بھی ہے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان ماننے کے لیے تیار نہیں، یہاں غلام احمد پرویز کی ذریت بھی ہے جو امت کو ذخیرہ احادیث سے بدظن کر کے اپنے پیچھے لگانا چاہتی ہے، اور ان سب سے آگے اور بہت آگے ایک نیا فتنہ اور نئی جماعت ہے جس کے تانے بانے اگرچہ غلام احمد پرویز سے ملتے ہیں مگر وہ کئی اعتبار سے غلام احمد پرویز کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، غلام احمد پرویز نے امت کو احادیث سے برگشتہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، ہاں البتہ اس نے چند آیات قرآنی پر بھی اپنی تاویلات باطلہ کا تیشہ چلایا تھا، مگر اس نئی جماعت اور نئے فتنہ کے سربراہ محمد شیخ نامی شخص نے تقریباً پورے اسلامی عقائد کی عمارت کو منہدم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے، چنانچہ وہ توراۃ، زبور، انجیل اور دوسرے صحف آسمانی کے وجود اور حضور ﷺ کی دوسرے انبیاء پر فضیلت و برتری اور انبیاء کرام کے مادی وجود کا منکر ہے، بلکہ وہ بھی اصل میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مدعی نبوت ہے۔ مگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ناکام حکمت عملی کو دہرانا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح براہ راست نبوت اور عقیدۂ اجراء وحی کا دعویٰ کر کے قرآن و سنت اور علماء امت کے شکنجہ میں نہیں آنا چاہتا، یہ تو وہ بھی جانتا ہے کہ وحی نبوت بند ہوچکی ہے، اور جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد اپنے لیے اجراء وحی کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب اور واجب القتل ہے۔ اس لیے محمد شیخ نامی اس شخص نے اس کا عنوان بدل کر یہ کہا کہ: ’’جو شخص جس وقت قرآن پڑھتا ہے اس پر اس وقت قرآن کا وہ حصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے اور جہاں قرآن مجید میں ’’قل‘‘ کہا گیا ہے وہ اس انسان ہی کے لیے کہا جا رہا ہے، یوں وہ ہر شخص کو نزول وحی کا مصداق بنا کر اپنے لیے نزول وحی اور اجراء نبوت کے معاملہ کو لوگوں کی نظروں میں ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کو یوں بھی تعبیر کرتا ہے کہ:
’’انبیاء اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور میں بھی یہی کام انجام دے رہا ہوں۔‘‘
نعوذ باللہ۔ منصب نبوت کو اس قدر خفیف اور ہلکا کر کے پیش کرنا اور یہ جرأت کرنا کہ میں بھی وہی کام کر رہا ہوں جو (نعوذ باللہ) انبیاء کرام کیا کرتے ہیں۔ کیا یہ دعویٰ نبوت اور منصب نبوت پر فائز ہونے کی ناپاک کوشش نہیں؟
لوگوں کی نفسیات بھی عجیب ہے، اگر وہ ماننے پر آئیں تو ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے قابل اعتماد نہیں، جس کی شکل و شباہت مسلمانوں جیسی نہیں، جس کا رہن سہن کسی طرح اسلاف سے میل نہیں کھاتا، ابلیس مغرب کی نقالی اس کا شعار ہے، اسوہ نبوی ﷺ سے اسے ذرہ بھر مناسبت نہیں، اس کی چال ڈھال، رفتار و گفتار
اور لباس و پوشاک سے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ شخص مسلمان بھی ہے کہ نہیں؟ پھر طرہ یہ کہ وہ نصوص صریحہ کا منکر ہے، اور تاویلات فاسدہ کے ذریعہ اسلام کو کفر، اور کفر کو اسلام باور کرانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کان کاٹتا ہے، فلسفہ اجراء نبوت کا نہ صرف وہ قائل ہے بلکہ اس کا داعی اور مناد ہے۔
وہ تمام آسمانی کتابوں کا یکسر منکر ہے، وہ انبیاء کے مادی وجود کا قائل نہیں، آنحضرت ﷺ کے روحانی وجود کی بھول بھلیوں کے گورکھ دھندوں سے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور مادی وجود کا انکاری ہے، انبیاء بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ پر ترجیح دیتا ہے۔
ذخیرہ احادیث کو من گھڑت کہانیاں کہہ کر ناقابل اعتماد گردانتا ہے، غرضیکہ عقائد اسلام کے ایک ایک جز کا انکار کر کے ایک نیا دین و مذہب پیش کرتا ہے، اور لوگ ہیں کہ اس کی عقیدت و اطاعت کا دم بھرتے ہیں، اور اس کو اپنا پیشوا اور راہ نما مانتے ہیں۔
اس کے برعکس دوسری جانب اللہ کا قرآن ہے، نصوص صریحہ اور احادیث نبوی ﷺ کا ذخیرہ ہے، آنحضرت ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور حضرات صحابہ کرام کی سیرت و کردار کی شاہراہ ہے، اور اجماع امت ہے، جو پکار پکار کر انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے خطوط متعین کرتے ہیں، مگر ان ازلی محروموں کے لیے یہ سب کچھ ناقابل اعتماد ہے۔
کس قدر لائق شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم ﷺ کی اطاعت و فرماں برداری کی بجائے اپنے گلے میں اس ملحد و بے دین کی غلامی کا پٹہ سجانے اور اس کی امت کہلانے میں ”فخر“ محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دین و مذہب پر جس کی بنیاد الحاد و زندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے ایک جاہل مطلق کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجہ استناد حاصل ہو۔ سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہو جاتی ہے۔
گزشتہ ایک عرصہ سے اس قسم کی شکایات سننے میں آ رہی تھیں کہ سیدھے سادھے مسلمان اس فتنے کا شکار ہو رہے ہیں، چنانچہ اس سلسلہ میں کچھ لکھنے کا خیال ہوا تو ایک صاحب راقم الحروف اور دارالعلوم کراچی کے فتاویٰ کی کاپی لائے اور فرمائش کی کہ اس فتنہ کے خلاف آواز اٹھائی جائے، اس لیے کہ حکومت اور انتظامیہ اس فتنہ کی روک تھام کے لیے نہایت بے حس اور غیر سنجیدہ ہے۔ جبکہ یہ فتنہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ کس قدر لائق افسوس ہے کہ اگر کوئی شخص بانی پاکستان یا موجودہ وزیر اعظم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو جائے تو حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن یہاں قرآن و سنت، دین متین اور حضرات انبیاء اور ان کی نبوت کا انکار کیا جاتا ہے، ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے ہیں، مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی، اور انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۹ ص ۲۹۴ تا ۳۰۰)
باب پنجم و دہم
موجبات کفر و وجوہ کفر
ضروریات دین جن کا انکار کفر ہے
آج کل کفر سازی کا بازار خوب گرم ہے۔ مسلمان فرقے ایک دوسرے کی تکفیر میں نہایت بے احتیاطی سے کام لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تکفیر کو اظہارِ حق قرار دیتے ہیں، اپنے آپ کو بہادر اور حق گو گردانتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی پود خصوصیت سے کالج اور یونیورسٹی کے طلباء اور دیگر جدید تہذیب سے آراستہ مسلمان ان سے متنفر ہو کر الحاد و زندقہ، مرزائیت و پرویزیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس بارے میں کچھ پریشان ہیں۔ اس لیے خیال آیا کہ اپنے ان اکابر کی طرف رجوع کیا جائے جن کے علم و اخلاص پر ہمیں اعتماد ہے۔ لہٰذا ہم آپ کے سامنے ’’ضروریاتِ دین‘‘ کی فہرست پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تصدیق اور قابلِ اصلاح چیزوں کی اصلاح کے متمنی ہیں۔ اور ثانیاً بعض چیزوں کے بارے میں استفسار کرتے ہیں کہ آیا یہ بھی ضروریاتِ دین میں سے ہیں اور انھیں بھی مدارِ ایمان و کفر قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
ضروریاتِ دین: توحید باری تعالیٰ، انبیاء علیہم السلام کا بشر ہونا، کتب الٰہیہ منزل من اللہ ہیں، حیات مسیح علیہ السلام، نزول مسیح علیہ السلام، جنت و دوزخ وغیرہ۔
اب ہم ان چیزوں کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن کے متعلق ہمیں دریافت کرنا ہے کہ آیا یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کا انکار باعث کفر ہے؟
- ۱...... عصمتِ انبیاء علیہم السلام۔ ۲...... عدالتِ صحابہؓ (ان کی عدالت فی الروایات تو مسلم ہے لیکن زید ان کے
ذاتی افعال پر تنقید کرتا ہے اور ان کو ان کے افعال و معاملات میں عادل قرار نہیں دیتا، تو آیا ایسا عقیدہ باعث کفر ہے یا نہیں؟ ۳...... حرمتِ متعہ۔ ۴...... سنتِ لحیہ۔
ثانی الذکر امور کے بارے میں باحوالہ تحریر فرمائیں کہ آیا یہ بھی ضروریاتِ دین ہیں یا نہیں؟ نیز آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صدر کے حلف اٹھاتے وقت اقرار کے الفاظ درج ذیل ہیں، اس بارے میں فرمائیں کہ اتنے اقرار سے اسے مسلمان کہہ سکتے ہیں یا بقیہ ضروریاتِ دین کی وضاحت بھی ضروری ہے؟
’’میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور خدا پر میرا یقین کامل ہے اور اس کی کتاب قرآن پاک آخری کتاب ہے۔ آخری نبی محمد ﷺ ہیں جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا۔ قیامت کے دن پر، رسول کی سنت حدیث پر، قرآن پاک کے احکامات پر۔‘‘
(آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ص ۱۴۳)
مستفتی (مولانا) عبدالمجید (صاحب) شیخ الحدیث و صدر مدرس باب العلوم کہروڑ پکا، ملتان
الجواب...... ضروریات دین کا انکار کفر ہے اور منکر کا تاویل کرنا معتبر نہیں۔ یہ دونوں امر مسلمہ ہیں۔ اسی بناء پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ مرزائی کافر ہیں۔ اسی طرح پرویزیوں کا کفر وارتداد بھی مسلمہ ہے۔
ضروریات دین کی جو فہرست آپ نے پیش فرمائی ہے باستثناء چند باقی صحیح ہے۔ ان ضروریات دین کی تفصیل جن کا انکار کفر ہے ان کے لیے معیار کیا ہے؟ بندہ اس سلسلہ میں دو کتابوں کے نام پیش کرتا ہے۔ ایک عربی ہے۔
”اکفار للملحدین فی شئ من ضروریات الدین“ دوسری اردو میں ہے۔ ”ایمان وکفر“ مصنفہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب (مدظلہ) اس کا مطالعہ فرمایا جائے۔
بہر حال علماء کرام کا مل کر فیصلہ کرنا مناسب ہے اور خود ہم اس کی جرأت مناسب خیال نہیں کرتے۔ کیونکہ تکفیر مسلمین کے مسئلہ میں ہمارے اکابر نے احتیاط برتی ہے۔
باقی صدر کے حلف اٹھانے کے لیے جو الفاظ ذکر کیے گئے ہیں وہ جامع مانع ہونے کی وجہ سے اجمالی ایمان کے لیے کافی ہیں۔ کھود و کرید کے بعد تو بہت کم لوگ مومن نکلیں گے۔ ایمان کے لیے اجمالی ایمان بھی کافی ہے۔
محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ: مفتی خیر المدارس ملتان ۱۳۹۲.۲.۸ھ الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ نائب مفتی الجواب حق: بندہ محمد اسحاق غفرلہ نائب مفتی
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۲۰۵ تا ۲۰۷)
کافر کی قسمیں اور مرزائیوں کو کیوں اقلیت قرار دیا گیا
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ آج احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے کل شیعوں کو کافر قرار دینے اور پرسوں وہابیوں کو مرتد قرار دینے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، مسلمانوں کے تمام فرقے اہل قرآن، اہل حدیث، اہل سنت، دیوبندی، اہل سنت والجماعت بریلوی، شیعہ و شیعہ اسماعیلی، پرویزی، مودودی وغیرہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ہر ایک دوسرے کو بدعتی، مشرک، منافق، کافر، مرتد، قابل گردن زدنی وغیرہ سمجھتے ہیں تو پھر قادیانی فرقہ کے جرم کی نوعیت کیا ہے، مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی جگہ آنحضرت ﷺ کی تعریف کی ہے مثلاً ؎
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا وہی ہے
(درثمین اردو ص ۷۷)
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
(درثمین فارسی ص ۸۱)
مصطفےٰ مارا امام و پیشوا
(درثمین فارسی ص ۱۱۴)
بر نبوت را برو شد اختتام
(درثمین فارسی ص ۱۱۴)
دل سے ہیں خدام ختم المرسلین
(درثمین اردو ص ۱۱۱)
کیوں نہیں آتا تمھیں خوف عذاب
(درثمین اردو ص ۱۱۱)
اس لیے لاہوری مرزائی مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ سنیوں کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں لہٰذا فرمایا جائے کہ کیا وجہ ہے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی اور اگر باری باری وہابی شیعہ کو اقلیت قرار دیا گیا تو کون مسلمان رہے گا۔
السائل: محمد انور آفیسر مسلم کمرشل بینک منگلا کالونی براستہ دینہ ضلع جہلم
الجواب ...... بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَهَّابِ ط
قانون شریعت کے مطابق کافر دو قسم کے ہیں:۔ (۱)...... کافر عنداللہ (۲)...... کافر عندالشریعت:۔ وہ لوگ جو عندالشریعت کافر نہیں مگر عنداللہ کافر ہیں۔ جیسے بعض شیعہ، چکڑالوی اور اہل قرآن وغیرہ ان کے متعلق شریعت کا حکم اور قانون دوسرے کفار کے قوانین اور احکام سے مختلف ہیں اور مندرجہ ذیل چند قوانین کی بنا پر ان پر شرعی فتوے کی نوعیت کچھ اس طرح ہوگی۔ (۱)...... شرعاً ان کو اجتماعی طور پر کافر نہیں کہا جاسکتا بلکہ ہر شخص کی علیحدہ علیحدہ کفر لزومی کی تحقیق ہوگی۔ (۲)...... شرعی طور ان کو قومی کافر نہیں کہا جائے گا۔ نہ کہ اجتماعی:۔ (۳)...... یہی وجہ ہے کہ ان کو کسی بھی دارالاسلام میں اقلیت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اقلیت صرف اجتماعی اور قومی کافروں کے لیے ہوتی ہے۔ (۴)...... اس قسم کے کافر کے ہر لفظ پر شرعی طور پر مفتی اسلام خوب غور و فکر اور علمی تحقیق کرے گا۔ اگر ایسے شخص کے بولے ہوئے لفظ پر کوئی پہلو اسلام کا نہیں نکلتا۔ ہر طرف سے کفر ہی ثابت ہوتا ہے۔ تب اس کے لیے انفرادی طور پر فتویٰ کفر جاری کیا جائے گا۔ مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو شیعہ یا وہابی یا چکڑالوی یا پرویزی کہتا ہے تو اس وقت یہ لفظ کہنے سے ہی اس کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ اس کے عقائد اس کے منہ سے سنے جائیں گے اور پھر وہ عقائد اگر شرعی طور پر صرف کفر ہی ثابت ہو تو اس کو شرعاً کافر کہہ دیا جائے گا۔ دین اسلام کے تمام فرقوں کا یہی حکم ہے۔ اس لیے ہر شیعہ یا دیگر فرقہائے باطلہ کو اجتماعی طور پر کافر نہیں کہا جاسکتا۔ بخلاف دیگر کفار کے کہ وہ لوگ شرعی کافر ہیں شرعی کافر اجتماعی اور قومی کافر ہوتا ہے۔ ایسے کافروں کے عقائد اور الفاظ کی تحقیق یا تفتیش نہیں کی جاسکتی۔ یہ قومیت کے لحاظ سے کافر ہیں۔ مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو ہندو، سکھ، عیسائی یا یہودی کہتا ہے تو اس اقرار سے ہی اس پر کفر کا فتویٰ جاری کر دیا جائے گا۔ وہاں لفظی چھان بین نہ ہوگی۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم ص ۲۷۹ پر ہے۔ مُسْلِمٌ قَالَ اَنَا مُلْحِدٌ يَكْفُرُ. (ترجمہ)...... مسلمان نے کہا میں ملحد ہوں اتنا کہتے ہی کافر ہو جائے گا۔ ایسے کفار کو اقلیت
قرار دیا جاتا ہے۔ ہر دو کفر میں مندرجہ ذیل تین بنیادی اصول ہیں۔
- (۱)...... نبوت (۲)...... کتاب: (۳)...... شریعت
موجودہ دور کے مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی، ان تین اصول کی بنا پر قومی اور اجتماعی کافر ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ اسلامی فرقوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے حق مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مرتد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کلمہ پڑھنا بھی شرعی طور پر منافقت ہے نہ کہ اسلام، اور منافق کافر مطلق ہوتا ہے۔ نہ کہ مرتد بے دین بدیں وجہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانا شرعی حکم ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی فرق کہ جس کی بنا پر یہ اسلامی فرقوں سے ممتاز ہے قادیانی فرقہ مرزے کو نبی اور اس کی تصنیفات کو اللہ کی وحی، اس کے اقوال بے ہودہ کو نئی شریعت مان کر کافر، مرتد شرعی ہوئے اور لاہوری فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے کافر کو جس کو شرعی مرتد کی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمان کہہ کر کافر ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر اور ارتداد ان ہی تین مندرجہ بالا بنیادی اصول سے ہے کہ اس نے پہلے اپنے آپ کو صحیح شرعی مسلمان بنا کر پھر اپنے لیے نبوت نئی کتاب اور نئی شریعت کا دعویٰ کیا۔ مرزا غلام احمد کا نبی پاک ﷺ کی کچھ نعتیں لکھنا۔ اس کے اسلام کی سند نہیں ہو سکتی اس لیے کہ ہمارے آقا دو عالم ﷺ کی نعتیں تو ہندوؤں، سکھوں نے لکھی ہیں۔ وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ.
(فتاویٰ نعیمیہ جلد دوم ص ۱۹۲ تا ۱۹۴)
قادیانی کفریات
مسئلہ ۴۷۔۴۸...... مرسلہ عبدالواحد خاں صاحب مسلم بمبئی اسلام پورہ معرفت عبداللطیف ہیڈ ماسٹر میونسپل اردو اسکول، ۴ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ۔
- (۱)...... قادیانیوں سے کس طرح کس پیرایہ میں بحث کی جائے، یعنی ان کی تردید کے بھاری ذرائع کیا ہیں؟
- (۲)...... کیا حدیثوں کے انکار سے انسان کافر ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو کن حدیثوں کے انکار سے؟
الجواب...... (۱)...... سب سے بھاری ذریعہ اس کے ردّ کا اوّل اوّل کلمات کفر پر گرفت ہے جو اس کی تصانیف میں برساتی حشرات کی طرح پھیلے ہوئے پھر رہے ہیں، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہینیں، عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
ان کی ماں طیبہ طاہرہ پر طعن، اور یہ کہنا کہ یہودی کے جو اعتراض عیسیٰ اور ان کی ماں پر ہیں ان کا جواب نہیں اور یہ کہ نبوت عیسیٰ پر کوئی دلیل قائم نہیں بلکہ عدم نبوت پر دلیل قائم ہے۔ (اعجاز احمدی ص ۱۳ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰) یہ ماننا کہ قرآن نے ان کو انبیاء میں گنا ہے اور پھر صاف کہہ دینا کہ وہ نبی نہیں ہو سکتے، معجزات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے صراحتاً انکار، اور یہ کہنا کہ وہ مسمریزم سے یہ کچھ کیا کرتے تھے۔ (ازالہ اوہام حاشیہ ۳۰۳ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶) اور یہ کہ میں ان باتوں کو مکروہ نہ جانتا تو آج عیسیٰ سے کم نہ ہوتا، تو وہ روشن معجزے جن کو قرآن مجید آیات بینات فرما رہا ہے۔ یہ ان کو مسمریزم و مکروہ مانتا ہے، اپنے آپ کو اگلے انبیاء سے افضل بتانا اور یہ کہنا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (درثمین اردو ص ۵۳) اور یہ کہنا کہ اگلے چار سو انبیاء کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے۔ (ازالہ اوہام ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) اور یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چار دادیاں نانیاں معاذ اللہ زانیہ تھیں اور یہ کہ اسی خون سے عیسیٰ کی پیدائش ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
اپنے آپ کو نبی کہنا، اپنی طرف وحی الٰہی کا ادّعا کرنا، اپنی بنائی ہوئی کتاب کو کلام الٰہی کہنا۔ (خطبہ الہامیہ
ص ۲۱ خزائن ج ۱۶ ص ۲۱) اور یہ کہ آیہ کریمہ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔) سے میں مراد ہوں۔ (ازالہ اوہام ص ۱۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) اور یہ کہ مجھ پر اترا ہے انا انزلناہ بالقادیان و بالحق نزل (ہم نے اسے قادیان میں اور حق کے ساتھ نازل کیا ۔) (حقیقۃ الوحی ص ۸۸ خزائن ج ۲۲ ص ۹۱) اور دوسرا بھاری ذریعہ اس خبیث کی پیشگوئیوں کا جھوٹا پڑنا جن میں بہت چمکتے روشن حرفوں سے لکھنے کے قابل دو واقعے ہیں:
ایک! اس کے بیٹے کا جس کی نسبت کہا تھا، انبیاء کا چاند پیدا ہوگا اور بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے، مگر شان الٰہی کہ چوں دم برداشتم مادہ برآمد (جب میں نے دم اٹھا کر دیکھا تو مادہ پایا۔) بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کے اوپر کہا کہ وحی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی اب کی جو ہوگا وہ انبیاء کا چاند ہوگا۔ بیٹی، بیٹے ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں اب کے ہوا بیٹا مگر چند روز جی کر مر گیا، بادشاہ کیا کسی محتاج نے بھی اس کے کپڑوں سے برکت نہ لی۔
دوسری! بہت بڑی بھاری پیشگوئی آسمانی جورو کی اپنی چچازاد بھائی احمد بیگ کو لکھ کر بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی میرے نکاح میں دے دے، اس نے صاف انکار کر دیا۔ اس پر پہلے طمع دلائی پھر دھمکیاں دیں پھر کہا کہ وحی آ گئی کہ زوجناکھا ہم نے تیرا نکاح اس سے کر دیا، اور یہ کہ اس کا نکاح اگر تو دوسری جگہ کرے گا تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مر جائے گا۔ مگر اس خدا کے بندے نے ایک نہیں سنی، سلطان محمد خاں سے نکاح کر دیا، وہ آسمانی نکاح دھرا ہی رہا، نہ وہ شوہر مرا، کتنے بچے اس سے ہو چکے اور یہ چل دیے۔ غرض اس کے کفر و کذب حد شمار سے باہر ہیں کہاں تک گنے جائیں، اور اس کے ہوا خواہ ان باتوں کو ٹالتے ہیں، اور بحث کریں گے تو کاہے میں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے انتقال فرمایا مع جسم کے اٹھائے گئے یا صرف روح، مہدی وعیسیٰ ایک ہیں یا متعدد۔ یہ ان کی عیاری ہوتی ہے، ان کفروں کے سامنے ان مباحث کا کیا ذکر، فرض کیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں، فرض کیجئے کہ وہ مع جسم نہیں اٹھائے گئے، فرض کیجئے کہ مہدی وعیسیٰ ایک ہیں، پھر اس سے وہ تیرے کفر کیونکر مٹ گئے؟ کلام تو اس میں ہے کہ تو کہتا ہے میں نبی ہوں ہم کہتے ہیں تو کافر، اس کا فیصلہ ہونا چاہیے، انبیاء کی توہینیں، انبیاء کی تکذیبیں، معجزات سے استہزاء، نبوت کا ادعاء، اور پھر دوسرے درجہ میں انبیاء کے چاند والا بیٹا، آسمانی جورو، یہ تیری تکفیر و تکذیب کو کافی ہیں۔
(۲)...... حدیث متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر باللفظ ہو یا متواتر المعنی، اور حدیث ٹھہرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقاً کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۲۷۹۔۲۸۰)
کافر بودن پیروان مرزا غلام احمد قادیانی
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کافر ہیں یا نہیں۔
(۲).....کیا کسی مسلمان کو حق ہے کہ ان کو مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روکے۔ بینوا و توجروا۔
جواب ....... خود مرزا کے بقاء اسلام کے قائل ہونے کی تو اس کے اقوال دیکھنے کے بعد کچھ گنجائش نہیں، چنانچہ خود مرزا کے رسائل اور اس کے رد کے رسائل میں وہ اقوال بکثرت موجود ہیں جن میں تاویل کرنا ایسا ہی ہے جیسے بت پرستی کو اس تاویل سے کفر نہ کہا جائے کہ توحید وجودی کی بناء پر یہ شخص غیر خدا کا عابد نہیں اب رہ گئے اس کے پیرو تو قادیانی پارٹی تو ان اقوال کو بلا تامل مانتے ہیں ان پر بھی حکم بالاسلام کی کچھ گنجائش نہیں۔ باقی لاہوری پارٹی
کے متعلق شاید کسی کو تردد ہو کیونکہ وہ مرزا کے دعویٰ نبوت میں کچھ تاویل کرتے ہیں۔ سو اس تاویل کا صادق ہونا مرزا کے کاذب ہونے کو مستلزم ہے جیسا کہ اوپر اس تاویل کا محتمل نہ ہونا مذکور ہوا ہے اور مرزا کا صادق ماننا اس تاویل کے باطل ہونے کو مستلزم ہے پس اس جماعت پر حکم بالاسلام کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ مرزا کو کاذب کہیں اور اگر اس کو صادق کہیں گے تو پھر ان پر بھی اسلام کا حکم نہیں کیا جاسکتا اور جب ان سے نفی اسلام کی ثابت ہوچکی تو ان کے ساتھ کوئی معاملہ اہل اسلام کا کرنا جائز نہ ہوگا۔ اور رسائل مذکورہ جا بجا ملتے ہیں۔ اس وقت ایک چھوٹا سا رسالہ میرے سامنے موجود ہے کہ وہ بھی اس باب میں کافی ہے، اس کا نام صحیفہ رنگون ہے جو غالباً ذیل کے پتہ سے مل سکے یا اگر رسالہ...... نہ مل سکے تو اس کے ملنے کا پتہ مل سکے (پتہ) حاجی داؤد ہاشم رنگون نمبر ۴۸ مرچنٹ اسٹریٹ۔
۹ ذوالحجہ یوم عرفہ ۱۳۳۱ھ (تتمہ خامسہ ص ۲۴۸، امداد الفتاویٰ ج ۶ ص ۴۹)
قادیانی کسی غیر مسلم کی سند سے مسلمان نہیں ہو سکتے
استفتاء نمبر ۱۹۵۲ء مکرم و محترم حضرت مولانا مفتی سید عبدالرحیم لاجپوری صاحب، دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ ۔
جنوبی افریقہ ایک عیسائی ملک ہے، یہاں کی عدالت میں اسلامی قانون کا کوئی لحاظ نہیں ایسی خالص غیر اسلامی عدالت میں ایک مرزائی احمدی نے یہ دعویٰ دائر کیا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور دوسرے مسلمان ان کو کافر و مرتد کہتے ہیں اور اپنی مساجد میں عبادت نہیں کرنے دیتے لہٰذا اس نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ:
- (۱)...... یہ غیر مسلم جج اس مرزائی احمدی کو مسلمان ہونے کا قطعی فیصلہ دے۔
- (۲)...... یہ غیر مسلم جج اس مرزائی احمدی کو اسلامی حقوق دلوائے تاکہ وہ مسلمانوں کی مسجد میں عبادت کر سکے اور
مسلمانوں کی قبرستان میں مدفون بھی ہو سکے۔
عدالت نے مسلمانوں کو طلب کیا کہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنے دلائل پیش کریں کہ وہ مرزائی احمدی کو کیوں مسلمان قرار نہیں دیتے، اور مرزائی احمدی بھی آ کر اپنے دلائل پیش کرے کہ وہ کس بنا پر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
یہ غیر مسلم یہودی یا عیسائی جج دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ وہ مرزائی احمدی مسلمان ہے یا نہیں؟
اب جواب طلب امر یہ ہے کہ:
- ۱...... غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین دائرہ اسلام میں داخل ہیں یا نہیں؟
- ۲...... اسلامی حقوق ان کو حاصل ہیں یا نہیں؟
- ۳...... کیا غیر مسلم جج اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ وہ مرزائی قادیانیوں کے مسلمان ہونے کا فیصلہ دے؟
- ۴...... مسلمانوں کی جماعت کے لیے شرعاً کیا یہ جائز ہے کہ وہ ایسے مقدمہ میں حاضر ہو کر ایک غیر مسلم عیسائی یا
یہودی جج کو یہ موقع دے کہ وہ مسلمانوں کے خالص دینی و اعتقادی معاملہ میں فیصلہ کرے، براہ کرم مدلل جواب تحریر فرما کر کرم فرمائیں۔ بینوا توجروا ۔
الجواب........ حامداً و مصلیاً و مسلماً و باللّٰہ التوفیق:. مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ اہلسنّت والجماعت کا اختلاف اصولی اختلاف ہے۔ فروعی اور اجتہادی اختلاف نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کیا جا سکے، پوری امتِ اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہو گیا ہے، آپ ﷺ
کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور یہ عقیدہ قرآن وحدیث سے ایسے قطعی طریقہ پر ثابت ہے کہ اس میں ذرہ برابر شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور خود آپ ﷺ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے میں خاتم النبیین ہوں اور اب میرے بعد کوئی نیا نبی، اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کے بعد صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت سے لے کر آج تک پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ جس طرح توحید و رسالت قیامت و آخرت اور قرآن کے کلام اللہ ہونے کا منکر پنجگانہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بھی کسی حال میں مسلمان نہیں ہو سکتا، ایسا شخص کذاب ہے ملعون ہے۔ دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ پہلے مسلمان تھا تو اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جائے گا۔
امت کی پوری تاریخ میں عملاً یہی ہوتا رہا ہے مثلاً سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے ماننے والوں کے متعلق یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا، حالانکہ یہ بات متفق ہے کہ وہ لوگ توحید و رسالت کے قائل تھے ان کے یہاں اذان بھی ہوتی تھی اور اذان میں اشہد ان لا الہ الا اللہ اور اشہد ان محمداً رسول اللہ بھی کہا جاتا تھا، ختم نبوت سے متعلق یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔
لیکن غلام احمد قادیانی نے اس بنیادی اور اجماعی عقیدہ سے بغاوت کی ہے اور اپنے لیے ایسے الفاظ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی تاویل اور توجیہ کی گنجائش نہیں ہے اور اس کے معتقدین اس کو دیگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مثل ”نبی“ کہتے ہیں، اور اس غلط عقیدہ پر ان کو بے حد اصرار بھی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے حقیقۃ النبوۃ ایک کتاب شائع کی تھی جس کا موضوع ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو ثابت کرنا تھا اور اس کتاب میں مرزا قادیانی کے نبوت کے دلائل خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لیے مسیحیت اور مہدویت کا اتنی کثرت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا انکار یا اس کی تاویل ناممکن ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام جو بالاجماع معصوم ہیں ان کی بہت سخت توہین کی ہے اور بہت سے مقامات پر خود کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل بلکہ تمام انبیاء کی روح بتلایا ہے، نیز معجزات کا استہزاء کیا ہے، قرآن میں تحریف کی ہے، احادیث کی بے حرمتی کی ہے وغیرہ وغیرہ۔
دعویٰ نبوت و اقوال کفریہ قادیانی کی تحریر کے آئینہ میں
- (۱)...... ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۶ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۶)
- (۲)...... ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ۸ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۱ حقیقت النبوۃ ص ۲۶۵)
- (۳)...... ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی
نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸ خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳)
- (۴)...... ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
(۵)...... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“
(مرزا قادیانی کا آخری خط مندرجہ اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء حقیقۃ النبوۃ ص ۲۷۰)
(۶)...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول و نبی ہیں۔“
(بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷)
(۷)...... ”پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشین گوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لیے ایک نشانی ہے۔ یادر ہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس کی تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۱ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۵)
(۸)...... ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا (الاسراء ۱۵) پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو تلاش کرو شاید تم میں کوئی خدا کی طرف سے نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ۸، ۹ خزائن ج ۲۰ ص ۴۰۰۔ ۴۰۱)
(۹)...... ”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔“
(دافع البلاء ص ۸ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۹)
(۱۰)...... ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ۱۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰)
(۱۱)...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار کہا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ۶۲ خزائن ج ۱۱ ص ۶۲)
(۱۲)...... ”انا ارسلنا احمد الی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر.“
(اربعین نمبر ۳۔ ص ۳۳ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۳)
(۱۳)...... ”فکلمنی ونادانی وقال انی ارسلک الی قوم مفسدین و انی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین.“
(انجام آتھم ص ۷۹ خزائن ج ۱۱ ص ۷۹)
(۱۴)...... ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی اس طرح آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں مگر پیشین گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۶ خزائن ج ۸ ص ۲۱۰ ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ ص ۲۶۳)
(۱۵)...... ”آپ (یعنی مرزا قادیانی) نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسول نے ان ہی الفاظ میں آپ کو نبی کہا ہے جس میں قرآن کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ۷۰)
(۱۶)...... ”پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود قرآن کریم کے معنوں کی رو سے بھی نبی ہیں اور لغت کے معنوں سے بھی نبی ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۱۶)
(۱۷)...... ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس معنی کو حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ۱۷۴)
- (۱۸) ’’بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا قادیانی کو پہلے نبیوں کے مطابق نبی مانتے ہیں۔‘‘
(حقیقتہ النبوۃ ص ۲۹۲)
مسیح ہونے کا دعویٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہمارا (یعنی اہل سنت والجماعت کا) عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے اور قیامت کے قریب آپ تشریف لائیں گے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میرا بھی پہلے یہی عقیدہ تھا۔ مگر بعد میں ان کا یہ خیال ہو گیا کہ اللہ نے اس کو بذریعہ وحی یہ بتلایا کہ یہ سراسر غلط خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور کسی وقت وہ دنیا میں دوبارہ آئیں گے بلکہ وہ مسیح اور عیسیٰ علیہ السلام جو آنے والا تھا وہ خود تو ہی ہے تیرا ہی نام ابن مریم رکھا گیا ہے، اس سلسلہ میں خود مرزا قادیانی کا بیان ملاحظہ ہو۔
’’اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی تو فوت ہو چکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا اس زمانہ اور اس امت کے لیے تو ، تو ہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ج پنجم ص ۸۵ خزائن ج ۲۱ ص ۱۱۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ پہلے تو مرزا قادیانی مسیح موعود اور عیسیٰ ابن مریم ہی بنے تھے، لیکن پھر وہ اور آگے بڑھے اور انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت کا اعلان شروع کر دیا، ان کے لڑکے مرزا بشیر احمد نے مرزا قادیانی کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ’’میں مسیح علیہ السلام کی خدائی کا منکر ہوں ہاں بے شک وہ خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا مگر مجھے خدا نے اس سے برتر مرتبہ عطا کیا ہے۔‘‘ (تبلیغ ہدایت ص ۱۶۹) ’’اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
مرزا قادیانی کا درج ذیل شعر بہت مشہور ہے اور خود مرزا قادیانی کو اپنا یہ شعر بہت پسند تھا۔ اس لیے انھوں نے بار بار اپنی تصنیفات میں اس کو نقل کیا ہے۔ شعر یہ ہے ۔
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
مرزا قادیانی کا دوسرا شعر ہے ۔
میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار
(درثمین اردو ص ۱۳۹)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ’’ہاں آپ کو (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ نمبر ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
’’یہ بھی یاد رہے کہ (آپ کو) کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘ (استغفر اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(حاشیہ صفحہ ۶ ضمیمہ انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن کریم میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نسبت مرزا قادیانی کے خیالات
”کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیا بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ کل کے ذریعہ سے بعض چڑیا پرواز بھی کرتی ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام حصہ اوّل ص ۳۰۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵)
”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک کے مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ۳۰۳۔ ۱۲۸۔ ۱۲۹ خزائن ج ۳ ص ۲۵۴)
نوٹ ..... اس حوالہ میں آخری عبارت پر غور کیجئے، حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر کس قدر گندہ بہتان لگایا ہے، قرآن مجید کی بیان کی ہوئی اس حقیقت پر تمام اہل اسلام کا بلا کسی شک و شبہ کے ایمان ہے کہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بلا کسی شخص کی وساطت کے امر ”کن“ سے پیدا فرمایا تھا حضرت مریم عفیفہ اور پاکدامن تھیں، آپ کا کسی شخص سے تعلق قائم نہیں ہوا تھا، قرآن کی اس صریح وضاحت کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے کس قدر غلط بات لکھی ہے، یہ قرآن کے بالکل خلاف ہے، اور قرآن کا انکار ہے، اس کے باوجود اس کو مسلمان سمجھنا اور اس کے متبعین کا اپنے کو مسلمان کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟
”اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے، وہ خدا کے نبی ہیں اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳۔۱۵۴)
”اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ وھذا تحدیث نعمۃ اللّٰہ ولا فخر۔
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۲ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۷)
حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ
’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچا لیا گیا مگر یوسف ابن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ ج پنجم ص ۹۹ خزائن ج ۲۱ ص ۹۹)
میں سب کچھ ہوں
مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام نبیوں کی روح اور ان کا خلاصہ ہوں، میری ہستی میں تمام انبیاء سمائے ہوئے ہیں، چنانچہ اس نے لکھا ہے۔
’’میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں، میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔....... سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۱)
معجزات کی کثرت
جب مرزا قادیانی نے پیغمبری اور نبوت کا دعویٰ کیا تو معجزات کا دعویٰ بھی لازم تھا چنانچہ انھوں نے معجزات کا دعویٰ بھی معمولی انداز سے نہیں کیا بلکہ اللہ کے تمام نبیوں کو معجزات کے معاملہ میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ چنانچہ لکھتا ہے۔
’’اللہ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ۳۱۷ خزائن ج ۲۳ ص ۳۳۲)
’’ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنھوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۶ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۴)
’’اور خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۷ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۵)
’’ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہے جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گی اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر فائق ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۶ خزائن ج ۲۱ ص ۷۲)
’’اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۶ خزائن ج ۲۱ ص ۷۲)
احادیث کے متعلق مرزا قادیانی کا خیال
’’ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف
کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۶ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
شیخ المحدثین حضرت مولانا ادریس کاندھلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں۔
فرقہ قادیانیہ و مرزائیہ اس زمانے کے گمراہ ترین فرقوں میں سے ایک فرقہ قادیانیہ اور مرزائیہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی ساکن قصبہ قادیان ضلع گورداسپور کا پیرو ہے، اس کا دعویٰ یہ تھا کہ میں مسیح موعود اور مہدی منتظر ہوں اور نبی اور رسول ہوں اور تمام پیغمبروں کا ظل اور بروز ہوں اور سب سے افضل واکمل ہوں ؎
و ز ہمہ پیغمبران بالا ترم
اور نہایت ڈھٹائی اور بے حیائی سے یہ کہتا تھا کہ میں وہی رسول موعود اور مبشر معہود ہوں جس کی قرآن پاک میں بدیں الفاظ بشارت موجود ہے۔ واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ و مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (الصف ۶) گویا کہ مرزائے قادیان کے گمان میں یہ آیت محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ قادیان کے ایک دہقان کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسی طرح بہت سی آیات جو سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازل ہوئیں ان کے متعلق کہتا ہے کہ یہ آیتیں میرے بارے میں نازل ہوئیں کوئی دیوانہ ہی ہوگا جو اس بات کو مانے گا کہ قرآن کی آیتیں مرزائے قادیان کے بارے میں نازل ہوئیں ؎
اور کہا کہ میں کلمۃ اللہ ہوں اور روح اللہ اور عیسیٰ ہوں بلکہ اس سے بڑھ کر ہوں جیسا کہ خود اس کا قول ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین اردو ص ۵۳)
اور جب مرزا نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مثیل مسیح ہوں تو سوال ہوا کہ آپ عیسیٰ ابن مریم جیسے معجزات دکھلائیے جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور کوڑھیوں اور اندھوں کو اچھا کرتے تھے، تو جواب میں یہ بولا کہ عیسیٰ کا یہ تمام کام مسمریزم تھا میں ایسی باتوں کو مکروہ جانتا ہوں ورنہ میں بھی کر دکھاتا۔
اور مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا بتاتا تھا اور بغیر باپ کے پیدا ہونے کا منکر تھا اور طرح طرح سے ان کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتا تھا۔
علمائے ربانیین نے اس مسیلمہ پنجاب کے رد میں بے مثال کتابیں لکھیں، مرزائے غلام احمد قادیانی کی مایہ ناز کتاب ازالۃ الاوہام ہے، حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدر آبادی نے اس کی تردید میں بے مثال کتاب لکھی جس کا نام ”افادۃ الافہام“ رکھا اور اس ناچیز نے بھی متعدد رسائل اس مسیلمہ پنجاب کے رد میں لکھے جو چھپ چکے ہیں، اے مسلمانو! عہد رسالت سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں مدعی نبوت و رسالت اور مدعی عیسویت اور مہدویت گزر چکے ہیں جو مرزائیوں کے نزدیک بھی کافر اور مرتد اور ملعون تھے جس دلیل سے گذشتہ مدعیان نبوت مرزا کے نزدیک کافر اور مرتد تھے، اسی دلیل سے یہ جدید مدعی نبوت مرزائے قادیان بھی کافر و مرتد ہے۔
(عقائد الاسلام ص ۱۸۱۔۱۸۲ حصہ اوّل از حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی)
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال کفریہ میں سے چند اقوال کفریہ بطور نمونہ نقل کیے گئے ہیں ان سے صراحۃً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ نبوت کا مدعی ہے اور اس کے معتقدین بھی اس کی نبوت کے قائل ہیں، لہٰذا غلام احمد قادیانی قطعی طور پر اسلام سے خارج اور اس کے متبعین بھی جو اس کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں یا دعویٰ نبوت کے باوجود اسے دائرہ اسلام میں سمجھتے ہیں وہ لوگ بھی قطعی طور پر کافر مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔
علمی لطیفہ موقعہ کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا، رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا، بڑا عیار چالاک اور چالباز تھا، اس نے اہل رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہیں، اور یہ بات قسمیہ کہتا (جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً لاہوری کہتے ہیں) خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے، حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں، قرآن کو مانتے ہیں، حضور اکرم ﷺ کو اللہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں، عوام اس کی باتوں میں آ گئے، اس کی تقریریں ہونے لگیں بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی، جمعہ تک پڑھایا رنگون کے ذمہ دار بہت فکر مند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنہ سے محفوظ رکھیں، عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی مگر اپنی چالبازی کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔
مشورہ کر کے یہ طے پایا کہ امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کو مدعو کیا جائے، چنانچہ تار دے دیا گیا اور وہاں اس کی شہرت بھی ہو گئی کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحبؒ تشریف لا رہے ہیں وہ اس سے گفتگو کریں گے، خواجہ کمال الدین نے جو مولانا کا نام سنا تو راہ فرار اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی چنانچہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلا گیا، مولانا تشریف لے گئے، مولانا کی تقریریں ہوئیں، عوام کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرات نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا قائل نہیں مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا جو جواب بھی دیتا پکڑا جاتا وہ مرزا کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا، ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے۔ میں اس سے یہی سوال کرتا، اور انشاء اللہ اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہو جاتا اور اس کا راز فاش ہو جاتا یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا اس لیے آپ لوگ پریشان رہے۔
بہر حال یہ ایسا ظاہر و باہر مسئلہ ہے کہ اس میں کسی کو فیصل بنانے اور اس سے فیصلہ کرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا مرزائی احمدی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے جا کر اس سے اپنے مسلمان ہونے کی سند حاصل کرے اور ایسی سند سے وہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا، اس کو سچا اور پکا مسلمان ہونا ہے تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے اس کو چھوڑ کر صدق دل سے توبہ کرے اور اس کا اعلان کرے، مرزا غلام احمد کی نبوت کا انکار کرے، اور اس کی تکفیر کرے اور اس کے تمام عقائد باطلہ سے یکسر توبہ کرے، اور اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق تجدید ایمان و تجدید نکاح کرے، جب وہ مسلمان ہی نہیں ہے تو اسلامی حقوق بھی اس کو حاصل نہیں ہوں گے اور اسلامی اصطلاحات کا استعمال بھی اس کے لیے جائز نہ ہوگا، لہٰذا اس کافر و مرتد فرقہ کو اہل سنت والجماعت کی مسجد میں نماز پڑھنے اور مدارس میں داخلہ لینے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کا قطعاً حق حاصل نہیں ہے اور اس کا یہ مطالبہ بالکل غلط ہے۔
یہ مسلمانوں کا خالص دینی و اعتقادی مسئلہ ہے ایسے معاملہ میں جو دین کے ماہر ہیں انہی کا فیصلہ قابل
قبول ہو سکتا ہے، اس لیے عدالت کو چاہیے کہ اس معاملہ کو علمائے محققین کی کمیٹی کے سپرد کر دے۔ اس لیے کہ فیصلہ نافذ کرنے اور قاضی بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے اندر تمام شرائط شہادت موجود ہوں، اور شرائط شہادت میں سے پہلی شرط اسلام ہے، جب پہلی ہی شرط مفقود ہو تو وہ شرعی طور پر قاضی نہیں ہو سکتا اور اس کا فیصلہ شرعی فیصلہ نہیں کہا جاسکتا، یہ شرط فقہ کی تمام کتابوں میں درج ہے، مثلاً البحر الرائق میں ہے۔
(قوله اهله اهل الشهادة) اى اهل القضاء اى من يصح منه او من تصح توليته له (الى قوله) وهو ان يكون حرًا مسلمًا بالغًا عاقلاً عدلا (الى قوله) فلا تصح تولية كافر وصبى یعنی قاضی وہ شخص بن سکتا ہے جس میں (مسلمانوں کے باہمی معاملات میں) شہادت دینے کی صلاحیت ہو، اور صلاحیت اس شخص کے اندر ہو سکتی ہے جو آزاد ہو (غلام نہ ہو) مسلمان ہو (غیر مسلم نہ ہو) بالغ ہو (نابالغ نہ ہو) عاقل ہو (مجنون اور دیوانہ نہ ہو) عادل اور ثقہ ہو (فاجر اور فاسق نہ ہو) الیٰ قولہ اسی بنا پر کافر اور بچہ کو عہدۂ قضاء سپرد کرنا صحیح نہیں ہے۔‘‘
(ص ۲۶۰ ج ۶ کتاب القضاء)
اور کسی کمیٹی کو بھی اسلامی حیثیت اسی وقت حاصل ہوگی۔ جب اس کے تمام ارکان میں شرائط شہادت مجتمع ہوں لہٰذا اگر کمیٹی کا ایک رکن بھی غیر مسلم ہوگا تو کمیٹی کی اسلامی حیثیت باقی نہ رہے گی اور اس کا فیصلہ اسلامی فیصلہ نہ ہوگا۔
مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدالت میں اپنا موقف ظاہر کر دیں اور یہ بتلا دیں کہ یہ ہمارے خالص ایمان وعقائد کا مسئلہ ہے اور اس خالص دینی واعتقادی مسئلہ میں ہمارے لیے ماہرین دین وعلمائے اسلام ہی کا فیصلہ قابل قبول ہو سکتا ہے اور مسلمہ اصول ہے کہ ہر مسئلہ اور ہر معاملہ کے حل کے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں اور مسئلہ انھیں ضوابط واصول کے ماتحت حل کیا جاتا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے ہم اپنے اصول وضوابط کی پابندی کر رہے ہیں اس لیے عدالت کو چاہیے کہ اس مسئلہ کے حل میں شریعت اسلام کے اصول وضوابط کی قدر کرے اور یہ مسئلہ مسلمانوں کی کمیٹی کے حوالہ کردے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔ احقر سید عبدالرحیم لاجپوری ثم راندیری غفرلہ راندیر۔ مورخہ ۲۵ جمادی الاولی ۱۴۰۶ھ
(فتاویٰ رحیمیہ ج ۷ ص ۲۵ تا ۳۹)
قادیانی اور لاہوری دونوں کافر، قادیانی کے تفصیلی احکام
سوال....... ۱....... قادیانی مذہب کی لاہوری، محمودی دونوں جماعتیں کافر ہیں یا کوئی ایک۔ ۲....... مرزا قادیانی کی جماعت کیوں کافر ہوئی حالانکہ وہ ایمان مفصل کی تمام باتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ ۳....... قادیانی کو لڑکی دینا لینا ان کو اپنی قوم میں داخل وشامل رکھنا ان کی غمی وشادی میں خود شریک ہونا یا اپنی شادی وغیرہ میں ان کو برادری کی طرف سے شرکت کی دعوت دینا ان کے اموات اپنے قبرستان میں داخل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ۴....... ایک مسلمان کا اگر قادیانی سے کچھ نسبتی رشتہ ہو تو اس کو برقرار رکھنا اور رشتہ داری کے حقوق اپنے اوپر عائد جان کر ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ۵....... قادیانی سے اپنے تمام نسبتی تعلقات اور برادری وقومیت کے علاقے منقطع کرنا جب تک کہ وہ تائب نہ ہو، از روئے شرع شریف ہر مسلمان کو ضروری ہے یا نہیں؟ مدلل تحریر ہو۔ محمد ولی اللہ غفرلہ
الجواب....... حامداً و مصلیاً اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر اہل حق متدین علماء نے کی ہے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ فی الحال قادیانیوں کی دو پارٹیاں ہیں۔ ایک مرزا غلام
احمد قادیانی کو نبی اعتقاد کرتی ہے دوسری مجدد اور بہت بڑے درجہ کا ولی مانتی ہے۔ یہ بھی آپ پر شاید مخفی نہیں کہ اسباب تکفیر کیا ہیں؟ جگہ جگہ نبوت کا دعویٰ اپنے اوپر وحی کا نزول، کتب سابقہ سماویہ میں اپنی نبوت کی بشارت، حضرت نوح علیہ السلام کے معجزات پر اپنے معجزات کی زیادتی اور فوقیت، انبیاء سابقین علیہم السلام کی توہین و تحقیر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب وسب وشتم اور آپ کے خاندان پر زنا کا افتراء، اللہ پاک سے اپنی ہمبستری وغیرہ وغیرہ جیسا کہ اعجاز احمدی، ازالۃ الاوہام، حقیقۃ الوحی، ضمیمہ انجام آتھم، دافع البلاء، حاشیہ کشتی نوح وغیرہ کتب کے مطالعہ سے ظاہر ہے۔ اگر ان اشیاء میں سے کوئی شے فی الحال آپ کے علم میں نہ ہو تو کتب بالا کے مطالعہ سے استحضار ہو سکتا ہے۔ آپ کے استفتاء سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر منشاء شبہ دو چیزیں ہیں۔ اوّل! یہ کہ ایمان مفصل کا قائل ہو کر آدمی کیسے کافر ہوسکتا ہے۔ دوم! یہ کہ جو پارٹی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی وہ کس بناء پر کافر ہے۔ سو امر اوّل! کے متعلق عبارات ذیل ملاحظہ فرمائیے۔ ۱...... من انکر شیئا من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا اله الا الله. (السیر الکبیر ج ۳ ص ۳۶۵ جز ۶۰ باب ما یکون رجل بہ مسلما) ۲...... اذا لم یعرف الرجل ان محمدًا ﷺ اخر الانبیاء علیھم و علی نبینا السلام فلیس بمسلم کذافی الیتیمیة اھ قال ابو حفص الکبیر کل من اراد بقلبه بغض نبی کفر و کذالو قال انا رسول الله او قال بالفارسیة من پیغام برم یرید من پیغام می برم یکفر و لو انه حین قال ھذہ المقالة طلب غیرہ منہ المعجزة قیل یکفر الطالب والمتاخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ وافتضاحہ لا یکفر. (فتاوی عالمگیری ج ۲ ص ۲۶۳) ۳...... وفی البزازیة یجب الایمان بالانبیاء بعد معرفة معنی النبی وھو المخبر عن الله تعالیٰ باوامرہ و نواحیہ و تصدیقہ بکل ما اخبر عن الله تعالیٰ واما الایمان بسیدنا محمد ﷺ یجب بانہ رسولنا فی الحال و خاتم الانبیاء والرسل فاذا امن بانہ رسول ولم یومن بانہ خاتم الانبیاء لایکون مؤمنا و فی فصول العمادی من لم یقر ببعض الانبیاء بشئ اولم یرض بسنة من سنن المرسلین علیھم السلام فقد کفر (مجمع البحار ج ۱ ص ۲۹۹) ۴...... ولو عاب نبیًا کفر (اوجز ج ۳ ص ۳۲۷) ۵...... دعوی النبوة بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع. (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲) ثم لا نزاع فی ان من المعاصی ماجعلہ الشارع امارة التکذیب و علم کونہ کذلک بالادلة الشرعیة کسجود الصنم والقاء المصحف فی القاذورات والتلفظ بکلمة الکفر و نحو ذلک مما ثبت بالادلة انہ کفر و بھذا یندفع ما یقال ان الایمان اذا کان عبارة عن التصدیق والاقرار فینبغی ان لایصیر المقر باللسان المصدق بالجنان کافرا بشئ من افعال الکفر والفاظہ مالم یتحقق منہ التکذیب او الشک۔‘‘ (شرح فقہ اکبر ص ۹۳) دیکھئے اس میں کتنی صورتیں ہیں کہ باوجود ایمان مفصل کی تمام باتوں پر ظاہراً اعتقاد رکھتے ہوئے فقہاء نے اجماعاً تکفیر فرمائی ہے۔ اگر محض آمنت باللہ کا اعتراف زبان سے کافی ہوتا اور یہ کفر کے منافی ہو تو فقہاء قاطبہ کیوں تکفیر فرماتے ہیں۔ اگر دعوٰی نبوت منافی ایمان نہیں تو مسیلمہ کذاب کی تکفیر بھی بے محل ہوگی اور پھر اس کا قتل جو اکابر صحابہؓ کے ارشاد سے قرونِ اولیٰ میں ہوا ہے محتاج تامل ہوگا حالانکہ وہ اجماعی ہے، اس نے چند آیات بنائی تھیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی قصیدہ اعجازیہ پیش کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور بغیر باپ کے پیدا ہونا قطعی اور اجماعی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصانیف میں متعدد مقامات پر ہر دو کا انکار کیا ہے۔ ملائکہ کے متعلق بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بہت سی تحریرات میں خلافِ تصریحات اسلام خرافات موجود ہیں۔ اگر بعض
شرائع کو تسلیم بھی کیا ہے اور بعض کا انکار کیا ہے یہ بالکل وہی شان ہے۔ یقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض و یریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلاً اولئک ھم الکافرون حقا واعتدنا للکفرین عذاباً مھیناً۔ (النساء ۱۵۰) جو شخص ملائکہ اور رسل کو سب وشتم کرے اور ان سے عداوت رکھے اس کے متعلق کلام پاک میں ارشاد ہے۔ من کان عدو اللّٰہ و ملائکتہ ورسلہ و جبریل و میکائیل فان اللّٰہ عدو للکفرین۔ (البقرہ ۹۸) امید ہے کہ اب دل میں کوئی شبہ نہیں رہا ہوگا۔ اگر اب بھی کوئی شبہ ہو تو شرح شفا خفاجی، الصارم المسلول، ردالمحتار، شرح مقاصد کو تفصیل سے دیکھئے کہ کن اشیاء سے ارتداد کا حکم ہو جاتا ہے اور خصوصیت سے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق اکفار الملحدین اور فیصلہ مقدمہ بہاولپور میں کافی تفصیل موجود ہے جو جماعت مرزا کی ہم عقیدہ ہے اور اس کو نبی مانتی ہے اس کا حکم عبارات مذکورہ سے ظاہر ہو گیا۔
امر دوم! جس شخص کی تکفیر کے متعلق نصوص بالا ناطق ہوں اس کو مجدد ولی اعتقاد کرنا بھی کفر ہے۔ خود خیال کیجئے کہ اللہ تعالیٰ جس کے عدو ہوں اس سے محبت اور اعتقاد صراحۃً اللہ تعالیٰ کی مخالفت ہے یا نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت صرف کافر اصلی کی نہیں بلکہ مرتد کی تھی اور ارتداد بھی وہ جو کہ زندیق میں ہوتا ہے۔ آج بھی جو شخص مرزا کے عقائد کو اختیار کرے گا اس پر بھی شریعت مرتد کا حکم لگائے گی۔ زندیق اور مرتد کے احکام (ردالمحتار ص ۴۵۷) میں دیکھئے۔ اجمالی طور پر آپ کے جملہ سوالات کا جواب ظاہر ہو گیا۔ تاہم تفصیل سے نمبروار سنئے۔
- (۱)...... ہر دو کا حکم ایک ہے۔ (۲)...... قطعیات اور اجماعیات کے انکار کی وجہ سے۔ (۳)...... یہ
جملہ امور شرعاً ناجائز ہیں۔ اما الوثنیات وھو بالاجماع والنص و یدخل فی عبدۃ الاوثان عبدۃ الشمس والنجوم والصور التی استحسنوھا والمعطلۃ والزنادقۃ الباطنیۃ والاباحیۃ و فی شرح الوجیز و کل مذھب یکفر بہ معتقدہ (فتح القدیر ج ۳ ص ۱۳۷) ولا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ وکذلک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط (ھندیۃ ج ۱ ص ۲۸۲) موتی المسلمین اذا اختلطوا بموتی الکفار او قتلی المسلمین بقتلی الکفار ان کان للمسلمین علامۃ یعرفون بھا یمیز بینھم و ان لم تکن علامۃ ان کانت الغلبۃ للمشرکین فانہ لا یصلی علی الکل ولکن یغسلون و یکفنون و یدفنون فی مقابر المشرکین (عالمگیری ج ۱ ص ۱۰۹) مختصراً اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب۔
(درمختار ج ۱ ص ۶۳۰)
- (۴)...... مرتد کا رشتہ تو باقی رہتا ہے مگر حقوق رشتہ داری منقطع ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ اگر کسی کا کوئی رشتہ
دار نعوذ باللہ قادیانی ہو تو اس کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ ولا نفقۃ مع الاختلاف دیناً الا للزوجۃ والاصول والفروع الذمیین الخ تنویر قولہ مع الاختلاف دیناً ای کالکفر والاسلام فلا یجب علی احدھما الانفاق علی الاخر وفیہ اشعار بان نفقۃ السنی علی الموسر الشیعی کما اشیر الیہ فی التکمیل قہستانی والمراد الشیعی المفضل بخلاف الساب القاذف فانہ مرتد یقتل ان ثبت علیہ ذلک فان لم یقتل تساہلاً فی اقامۃ الحدود فالظاھر عدم الوجوب لان مدار نفقۃ الرحم المحرم علی اھلیۃ الارث ولا توارث بین مسلم ومرتد نعم لو کان یجحد ذلک ولا بینۃ یعامل بالظاھر وان اشتھر حالہ بخلافہ واللّٰہ اعلم۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۴۳۲ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) (۵)...... اگر تعلقات باقی رکھنے سے ان کی اصلاح اور ہدایت کی توقع ہو تو تعلقات کو برقرار رکھنا مناسب ہے۔ اور ایسی حالت میں نرمی و تلطف سے ان کے
عقائد کی خرابی کو آہستہ آہستہ ان پر ظاہر کرتے رہنا چاہیے۔ اگر تعلقات رکھنے سے اپنے اوپر خراب اثر پڑنے کا اندیشہ ہو یا ان کی اصلاح کی توقع نہ ہو یا دوسرے لوگوں کی بدگمانی کا خطرہ ہو یا ترک تعلق سے ان کی توبہ اور اصلاح کی توقع ہو تو تعلق منقطع کر دیا جائے۔ یہ چیز ایسی ہے کہ ہر شخص کے لیے یکساں نہیں بلکہ ماحول کے اختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے۔ جس صورت میں اُخروی نفع کی توقع ہو اس کو اختیار کرنا چاہیے اور دنیاوی نفع کو اُخروی نفع پر ترجیح دینا درست نہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمن سے قلبی محبت رکھنا حرام ہے۔ قال تبارک و تعالی یا ایها الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیهم المودة (الممتحنه ۱) روی انها فی حاطب ابن ابی بلتعة حین کتب الی کفار قریش ینصح لهم فاطلع الله نبیه علی ذلک فدعاه النبی ﷺ فقال انت کتبت هذا الکتاب قال نعم قال وما حملک علی ذلک قال اما والله ما ارتبت فی الله مذ اسلمت ولکنی کنت امراً غریباً فی قریش وکان لی بمکة مال وبنون فاردت ان ادفع بذلک عنهم فقال عمرؓ ائذن لی یا رسول الله فاضرب عنقه فقال النبی ﷺ مهلا یا ابن الخطاب انه قد شهد بدراً وما یدریک لعل الله قد اطلع علی اهل بدر فقال اعملوا ما شئتم فانی غافر لکم (احکام القرآن ج ۳ ص ۵۲۳) وفیه دلیل علی ان الکبیرة لا تسلب اسم الایمان (مدارک التنزیل ج ۴ ص ۱۸۶) فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ۔ الجواب صحیح سعید احمد غفرلہٗ مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۲۸ صفر ۲۴/۲/۶۱ھ۔
صحیح ،عبداللطیف مدرسہ مظاہر علوم
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۰ ص ۳۳۔۳۸)
نماز کا انکار کرنے والا انسان کافر ہے
سوال ....... ایک شخص جو کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا ”خاص بندہ“ کہتا ہے اس کے بقول ہمارا کلمہ نعوذ باللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں ہے بلکہ کلمہ کچھ یوں ہے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ۔۲....... پورے دن میں صرف ایک مرتبہ خدا تعالیٰ کو سجدہ کر لیا جائے بہت ہے، یعنی پانچ وقت کی نماز فرض نہیں ہے نماز پڑھنے کا رخ کعبۃ اللہ کی مخالف سمت میں ہے۔ ۳....... رمضان کے روزے فرض نہیں ہیں بلکہ سب دن اللہ کے ہیں۔ جب چاہیں روزہ رکھیں۔ ۴....... فطرہ اور زکوٰۃ واجب نہیں ہیں۔ ۵....... اس وقت جو حج ہو رہا ہے وہ ایک نعوذ باللہ دکھلاوا اور ڈھکوسلا ہے۔ ۶....... بنک میں پیسہ فکسڈ ڈیپازٹ کروانے سے جو سود یا (منافع) ملتا ہے وہ جائز ہے۔ ۷....... حضور اقدس ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں لیکن یہ بات خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کوئی نبی آئے گا یا نہیں۔ ۸....... قرآن شریف میں تحریف ہو چکی ہے۔ ۹....... ولی اللہ نبی کی امت میں سے نہیں ہیں۔ یہ میں نے صرف چند موٹی موٹی باتیں لکھی ہیں جبکہ تفصیلاً اس سے بہت کچھ زیادہ ہے۔
جواب ....... یہ شخص جس کے عقائد آپ نے لکھے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے دین کا منکر اور خالص کافر ہے اور ”خاص بندہ“ ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام آتے ہیں تو یہ شخص نبوت کا مدعی اور مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی کا چھوٹا بھائی ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۵۱)
غیر مسلم کے زمرے میں کون لوگ آتے ہیں
سوال....... بجمعہ مورخہ ۲۳ فروری کے جنگ میں زیرعنوان ”غیر مسلم کے لیے مسجد کی اشیاء کا استعمال“ آپ نے
دو سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ غیر مسلم کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، غیر مسلم کی میت کو غسل دینا جائز نہیں، غیر مسلم کو مسلم قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ یہ سب کچھ کرنے سے کرنے والے اور شرکاء کا ایمان جاتا رہا اور نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ براہ کرم یہ بات صاف کر دیں کہ کیا غیر مسلم کی اس تعریف میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالنے سے مرتے دم تک دہریہ رہے یا کافی عرصے تک اسلام کی پابندی اور پیروی کی پھر اسلام کو ترک کر دیا۔ دونوں طرح کے لوگ علی الاعلان، کہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ سور کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں کیا یہ لوگ بھی غیر مسلموں کے زمرے میں آتے ہیں اور کیا ان کے جنازوں کے معاملے میں بھی وہی قباحتیں موجود ہیں، یعنی ایمان اور نکاح کی تجدید لازم ہو جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں میرے یورپ کے دوران قیام ایسے لوگوں کی وہاں آؤ بھگت بھی ہوتی رہی ہے میں نے ان کو دیکھا ہے اور بہت سوں کو جانتا ہوں چنانچہ اس استفسار کا جواب معاشرتی حیثیت رکھتا ہے۔
جواب....... اسلام نام ہے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تمام باتوں کو ماننے کا، اور کفر نام ہے کسی ایک بات کو نہ ماننے کا، جس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو بیان فرمایا، پس جو شخص ایسی قطعیات اور ضروریات دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو، یا وہ علی الاعلان کہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے، اس کا حکم مرتد کا ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہو، اور اس کا نام بھی مسلمانوں جیسا ہو۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۸ ص ۴۰۹ ۔ ۴۱۰)
معاش کے لیے کفر اختیار کرنا
سوال...... میرے ایک محترم دوست نے چند دن پہلے معاشی حل کے لیے قادیانیت کو قبول کیا ان سے بات کرنے پر انھوں نے کہا کہ قادیانیت کا جو فارم میں نے پڑھا ہے اس کی شرائط میں کہیں بھی کفریہ کلام نہیں مثلاً زنا نہ کرنا، بد نظری نہ کرنا، رشوت نہ لینا، جھوٹ نہ بولنا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی ماننا اور اس نے صرف ضرورت پوری ہونے تک قادیانیت قبول کی ہے اور بعد میں وہ لوٹ آئے گا کیا اس کے اس فعل کے بعد اسلام رہا، اگر نہیں تو بیوی بچوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اگر گھر والوں کو چھوڑنے پر بھی تیار نہ ہو اور اس کی چند جوان اولاد بھی ہیں اور جو مال وہ دے تو اسے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب....... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے کافر و مرتد ہونے میں کسی قسم کا شبہ اور تردد نہیں، اللہ تعالیٰ کی عدالت بھی ان کو کافر و مرتد قرار دے چکی ہے، اور عالم اسلام کی اعلیٰ عدالتیں بھی، اس شخص کو اگر اس مسئلہ میں کوئی شبہ ہے تو وہ اہل علم سے تبادلہ خیال کرے۔
قادیانیت کا فارم پُر کرنا اپنے کفر و ارتداد پر دستخط کرنا ہے، جہاں تک معاشی مسئلہ کا تعلق ہے معاش کی خاطر ایمان کو فروخت نہیں کیا جاسکتا، اور ان صاحب کا یہ کہنا کہ وہ بعد میں لوٹ آئے گا قابل اعتبار نہیں۔ جب ایک چیز صریح کفر ہے تو اس کو اختیار کرنا ہی ناروا ہے، اور اس کو اختیار کرتے ہی آدمی دین سے خارج ہو جاتا ہے، تو اس کے واپس لوٹنے کی کیا ضمانت؟
اس شخص کو قادیانیت کی حقیقت اور ان کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا جائے، اگر اس کی سمجھ میں آجائے
اور وہ ان سے توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ اس کے بیوی بچوں کا فرض ہے کہ اس شخص سے قطع تعلق کر لیں اور یہ سمجھ لیں کہ وہ مر گیا ہے۔
چونکہ یہ شخص قادیانی فارم پُر کر چکا ہے، اس لیے اگر یہ تائب ہو جائے تو اس کو اپنے ایمان کی بھی تجدید کرنی ہوگی، اور نکاح بھی دوبارہ پڑھوانا ہوگا۔ (جس کی تفصیل میرے رسائل ”تحفہ قادیانیت“ اور ”خدائی فیصلہ“ وغیرہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۶ ص ۲۵۹-۲۶۰)
شہریت کے حصول کے لیے اپنے کو کافر لکھوانا
سوال...... یورپ کے کچھ ممالک کی حکومتوں کی یہ پالیسی ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے ان لوگوں کو سیاسی پناہ دیتے ہیں جو اپنے ملک میں کسی زیادتی یا امتیازی سلوک کے شکار ہوں، ہمارے کچھ پاکستانی بھی حصولِ روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور مستقل قیام یا شہریت حاصل کرنے کے لیے وہاں کی حکومت کو تحریری درخواست دیتے ہیں کہ وہ قادیانی ہیں چونکہ پاکستان میں قادیانیوں سے زیادتی کی جاتی ہے اس لیے ان کو وہاں پر سیاسی پناہ دی جائے۔ اس طرح وہاں پر قیام کرنے کی اجازت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد ان کو وہاں کی شہریت بھی مل جاتی ہے۔
ان لوگوں کو اگر سمجھایا جائے کہ اس طرح قادیانی بن کر روزگار حاصل کرنا شرعی طور پر گناہ ہے اور اس طرح وہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں مگر ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ صرف روزگار حاصل کرنے کے لیے قادیانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ورنہ وہ اب بھی دل و جان سے اسلام پر قائم ہیں۔
وہاں کی شہریت حاصل کر کے وہ پاکستان آ کر یہاں مسلمان گھرانوں میں شادی بھی کر لیتے ہیں، اور لڑکی والوں سے یہ بات چھپائی جاتی ہے کہ لڑکے نے قادیانی بن کر غیر ملکی شہریت حاصل کی ہے اور لڑکے والے بھی اس لالچ میں کہ ان کی لڑکی کو بھی یورپ کی شہریت مل جائے گی، کوئی تحقیق نہیں کرتے۔ حالانکہ لڑکے کے قریبی عزیز و اقارب کو یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح جھوٹ موٹ اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنے سے چاہے وہ صرف وہاں رہائش حاصل کرنے کے لیے بولا گیا ہو کیا وہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں؟
جواب...... جو شخص جھوٹ موٹ کہہ دے کہ میں ہندو ہوں یا عیسائی ہوں یا قادیانی ہوں وہ اس کہنے کے ساتھ ہی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس کا حکم مرتد کا حکم ہے۔
نکاح
سوال...... ایسے لوگ اگر کسی مسلمان لڑکی سے شادی کریں تو کیا ان کا نکاح جائز ہے؟ اگر ان کا نکاح جائز نہیں تو اب ان کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب...... ایسے شخص سے کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوتا اگر دھوکے سے نکاح کر دیا گیا تو پتہ چلنے کے بعد اس نکاح کو کالعدم سمجھا جائے اور لڑکی کا عقد دوسری جگہ کر دیا جائے چونکہ نکاح ہی نہیں ہوا اس لیے طلاق لینے کی ضرورت نہیں۔
سوال...... کیا لڑکی کے والدین اور لڑکی جس کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں وہ بھی گناہ میں شامل ہیں؟
جواب ...... جی ہاں! وہ بھی گناہگار ہوں گے، مثلاً مسلمان لڑکی کا نکاح کسی سکھ سے کر دیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ کام کرنے والے عنداللہ مجرم ہوں گے۔
سوال ...... لڑکے کے وہ عزیز و اقارب جو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی لڑکی والوں سے بات چھپاتے ہیں اور نکاح میں شریک ہوتے ہیں کیا وہ بھی گناہگار ہوں گے؟
جواب ...... جن عزیز و اقارب نے صورت حال کو چھپایا وہ خدا کے مجرم ہیں، اور اس بدکاری کا وبال ان کی گردن پر ہوگا۔
مرتد کی توبہ قبول ہے
سوال ...... کیا وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں اگر ہاں تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور کیا کوئی کفارہ بھی دینا ہوگا؟
جواب ...... دوبارہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اعلان کر دیں کہ وہ قادیانی نہیں اور وہاں کی حکومت کو بھی اس کی اطلاع کر دیں۔
فسخ نکاح
سوال ...... جو شادی شدہ آدمی وہاں جا کر یہ حرکت کرتے ہیں کیا ان کا نکاح قائم ہے، اگر نہیں تو ان کو کیا کرنا چاہیے تا کہ ان کا نکاح بھی قائم رہے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو سکیں؟
جواب ...... چونکہ ایسا کرنے سے وہ مرتد ہو جاتے ہیں اس لیے ان کا پہلا نکاح فسخ ہو گیا۔ تجدید اسلام کے بعد نکاح کی بھی تجدید کریں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۸ ص ۳۵۲ تا ۳۵۴)
باب شش دہم
مرتد و ارتداد کے احکام
سوال ......
(از اخبار الجمعیۃ سہ روزہ دہلی مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۲۸ء)
یہ گروہ جو قادیانی اور احمدی کے نام سے مشہور ہے حقیقۃً مرتد ہے؟ اگر مرتد ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے؟
جواب ...... جو شخص پہلے مسلمان ہو پھر قادیانی ہو جائے وہ مرتد کے حکم میں ہے اور جو ابتدائے شعور سے ہی قادیانی ہو وہ اگرچہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے مگر مرتد کے حکم میں نہیں ہے۔ محمد کفایت اللہ غفرلہٗ۔
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۹-۳۲۰)
کافر، زندیق، مرتد کا فرق
سوال ...... (۱)...... کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟
- (۲)...... جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟
- (۳)...... اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے؟ اور کافر کی کیا سزا ہے؟
جواب ...... (۱)...... جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافر اصلی کہلاتے ہیں، جو لوگ دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہو جائیں وہ ’’مرتد‘‘ کہلاتے ہیں، اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کر کے انھیں اپنے عقائد کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں انھیں ’’زندیق‘‘ کہا جاتا ہے اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان کا حکم بھی ’’مرتدین‘‘ کا ہے بلکہ ان سے بھی سخت۔
- (۲)...... ختم نبوت اسلام کا قطعی اور اٹل عقیدہ ہے اس لیے جو لوگ دعویٰ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعی نبوت کو
مانتے ہیں اور قرآن وسنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں وہ مرتد اور زندیق ہیں۔
- (۳)...... مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے
اگر ان تین دنوں میں وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے پکا سچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کر دیا جائے لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کر دیا جائے، جمہور ائمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبس دوام کی سزا دی جائے۔
زندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا
کوئی اعتبار نہیں، وہ بہر حال واجب القتل ہے، امام احمدؒ سے دونوں روایتیں منقول ہیں ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی سزا بہر صورت قتل ہے خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے از خود توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہو جائے گی۔ لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زندیق، مرتد سے بدتر ہے، کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے، لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اختلاف ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۴۵۔۴۶)
مرتد اور زندیق میں فرق
سوال ...... اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ مرتد تو وہ ہوتا ہے جو دین اسلام سے پھر جائے، یعنی پہلے مسلمان تھا بعد میں نعوذ باللہ کافر ہو گیا۔ اس لیے جو شخص پہلے مسلمان تھا پھر اس نے مرزائی مذہب اختیار کر لیا وہ تو مرتد ہوا۔ لیکن جو شخص پیدائشی قادیانی ہو وہ تو مرتد نہیں کیونکہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی کفر اختیار نہیں کیا بلکہ وہ ابتدا ہی سے کافر ہے۔ وہ مرتد کیسے ہوا؟
جواب ...... اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ہر قادیانی ”زندیق“ ہے اور ”زندیق“ وہ شخص ہے جو اسلام کے خلاف عقائد رکھتا ہو، اس کے باوجود اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اور تاویلات باطلہ کے ذریعہ اپنے عقائد کو عین اسلام قرار دیتا ہو۔ اور ”زندیق“ کا حکم بعینہ مرتد کا ہے۔ البتہ ”زندیق“ اور ”مرتد“ میں یہ فرق ہے کہ مرتد کی توبہ بالاتفاق لائق قبول ہے اور زندیق کی توبہ کے قبول کیے جانے یا نہ کیے جانے میں اختلاف ہے۔ اس ایک فرق کے علاوہ باقی تمام احکام میں مرتد اور زندیق برابر ہیں۔ اس لیے قادیانی مرزائی خواہ پیدائشی مرزائی ہوں یا اسلام کو چھوڑ کر مرزائی بنے ہوں دونوں صورتوں میں ان کا حکم مرتد کا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۷۱)
اپنے کو خدا اور رسول کہنے والا کافر و مرتد وملحد ہے
سوال ...... یحییٰ خان ایک جاورہ میں مقیم ہے پہلے اس نے مہدی موعود، پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد رسول بنا اور اپنے نام کا کلمہ بنایا لا الہ الا اللہ ہو یحییٰ عین اللہ اور اپنے کو عین اللہ کہتا ہے اور ایک کتاب لکھی ہے اس کا نام ”فرمان بالمقابل“ قرآن رکھا ہے اور خود کو فرمانروا کہتا ہے اور اب اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے آیات قرآنی کم و زیادہ کر کے پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن میں غلطی ہے اور اللہ تعالیٰ کو لہو ولعب کرنے والا کہتا ہے۔ نعوذ باللہ یحییٰ خان کے لیے کیا حکم ہے اور جو مسلمان اس کو واجب التعظیم سمجھیں اور اس کے اقوال کی تصدیق کریں اور اس کی اعانت کریں اور اس کے ساتھ خوردونوش کریں ان کے لیے کیا حکم ہے۔
الجواب ...... یحییٰ خان مذکور کا مرتد ہونا اس کے اقوال سے ثابت ومحقق ہے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کو ملنا اور اس کی محبت و اعانت کرنا حرام ہے۔ اور جو لوگ اس کو بزرگ اور واجب التعظیم سمجھیں اور اس کی تصدیق کریں وہ بھی کافر ہیں اس میں کچھ شک نہیں ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (الاحزاب ۴۰) وقال اللہ تعالیٰ ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جہنم
کذلک نجزی الظالمین. (الانبیاء ۲۹) فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۴۰۶)
مرتد ہونے کے لیے شرائط
سوال ...... کیا مرزائی کافر ہیں یا مرتد؟ ارتداد کے لیے کن شرائط کا ہونا ضروری ہے؟
جواب ...... ہر مرتد کافر ہوتا ہے۔ مرزائی ہر صورت میں کافر ہیں خواہ مرتد ہوں یا نہ جو اسلام سے نکل کر مرزائی ہو گئے وہ مرتد ہیں اور جو مرزائیوں کے گھر پیدا ہوئے یا کسی اور دین سے نکل کر مرزائی ہوئے وہ اہل کتاب کے حکم میں ہیں۔ ارتداد کے لیے صرف اتنی شرط ہے کہ پہلے اسلام میں ہو پھر اس سے نکل جائے قرآن مجید میں ہے۔ ومن يرتد منكم عن دينه. (البقرہ ۲۱۷)
(فتاویٰ اہلحدیث ج ۱ ص ۹)
(نوٹ از مرتب) ہر قادیانی چاہے ان کی نسلیں بھی بدل جائیں سب زندیق ہیں۔ اس لیے کہ وہ اپنے کفر کو اسلام ثابت کرتے ہیں۔ وہ اہل کتاب کے حکم میں قطعاً نہیں جیسا کہ جگہ جگہ اس کتاب میں دوسرے فتاویٰ موجود ہیں۔ یہ اہل حدیث فقہ کا سہو یا تفرد ہے لائق قبول نہیں۔
آنحضرت ﷺ کے بعد جو لوگ مرتد ہو گئے
سوال ...... عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے چند لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے یہاں تک کہ میں ان کو (کوثر کا) پیالہ دینا چاہوں گا تو وہ لوگ میرے پاس سے کھینچ لیے جائیں گے میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار یہ لوگ تو میرے صحابی ہیں تو خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ انھوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں کی ہیں۔
(صحیح بخاری کتاب الحوض ج ۲ ص ۹۷۳۔۹۷۴ باب قول اللہ تعالیٰ انا اعطیناک الکوثر)
ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے اور ہوشیار رہو چند آدمی میری امت کے لائے جائیں گے اس وقت میں کہوں گا اے رب یہ تو میرے صحابی ہیں اللہ کی جانب سے ندا آئے گی کہ تو نہیں جانتا انھوں نے تیرے بعد کیا کیا۔ یہ لوگ (اصحاب) تیرے (محمد ﷺ ) جدا ہونے کے بعد مرتد ہو گئے تھے۔“
(صحیح بخاری ج ۲ ص ۶۹۳ کتاب التفسیر باب قولہ کما بدانا اول خلق نعیدہ)
مذکورہ بالا دو احادیث مبارکہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیں ان احادیث مبارکہ میں جن اصحاب کو صاف لفظوں میں مرتد اور بدعتی کہا گیا ہے وہ اصحاب کون ہیں؟
جواب ...... ان کا اولین مصداق وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بعد مرتد ہو گئے تھے اور جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا ان کے علاوہ وہ تمام لوگ بھی اس میں داخل ہیں جنھوں نے دین میں گڑبڑ کی نئے نظریات اور بدعات ایجاد کیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۴۶، ۴۷)
مرتد سے سمجھوتہ
سوال ...... اگر کوئی مسلمان کسی مرزائی یا دوسرے مرتد کی پرورش یا حمایت کرے یا کسی قسم کا سمجھوتہ کرے یا پھر وہ مسلمان شخص، مرتد کو کافر نہ کہتا ہو، جبکہ وہ شخص یہ بھی جانتا ہے کہ مرتد کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور
پھر سمجھانے کے باوجود باز نہ آئے اور مرتد کو کافر نہ کہتا ہو اور وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرے خواہ وہ کسی سطح کا ہو یا حمایت کرے اس کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا اس شخص کو دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑے گا اور کیا اس کا سوشل بائیکاٹ بھی کرنا پڑے گا؟ واضح رہے کہ اسلام میں کسی مرتد کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور نہ اسلام کسی مرتد سے دوستی کی اجازت دیتا ہے۔ اور سمجھوتہ اسی وقت ہوتا ہے جب دوستی پیدا ہو اور دوستی بھی اسی وقت ہوتی ہے جب مرتد کو کافر نہ کہا جائے۔
الجواب...... حامداً و مصلیاً. آپ سوال بھی کر رہے ہیں اور خود جواب بھی بتا رہے ہیں۔ جب آپ کو جواب معلوم ہے تو دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
تنبیہ...... ہر سمجھوتہ کے لیے دوستی کہاں ضروری ہے۔ صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے سمجھوتہ کیا گیا تھا حالانکہ وہ اس وقت بھی دشمن تھے، رسول کے بھی دشمن تھے، اسلام کے بھی دشمن تھے، مسلمانوں کے بھی دشمن تھے۔ اسی سمجھوتہ کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے اور اس کو فتح فرمایا گیا۔ آپ کے یہاں کس طرح اور کن شرائط پر سمجھوتہ کیا ہے مجھے اس کا علم نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اس کے متعلق وہیں کے باخبر حضرات سے استصواب رائے کریں۔ فقط واللہ اعلم
حررہ العبد محمود غفرلہ دارالعلوم دیوبند ۱۳۹۰/۹/۲۰ھ
الجواب صحیح بندہ نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۱۳۹۰/۹/۲۰ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۳ص ۹۳۔۹۴)
مرزائیت سے توبہ کی ضروری شرط
مسمی مشتاق احمد جو مرزائی جماعت سے تعلق رکھتا ہے وہ پچاسوں مسلمانوں کی موجودگی میں میرے ہاتھ پر مسلمان ہوا اور اس نے یہ کہا کہ آپ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ لعنتی ہے۔ اس نے مرزا قادیانی کا نام لے کر کافر یا لعنتی نہیں کہا۔ اب شہر میں کچھ لوگ ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ یہ آدمی مسلمان نہیں ہوا۔ کیونکہ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر نہیں کہا۔ صرف مدعی نبوت کو لعنتی کہا ہے جبکہ لاہوری مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی مدعی نبوت ہی نہیں تھا۔ جب تک یہ مرزا غلام احمد کا نام لے کر اس کو کافر، مرتد، لعنتی نہ کہے اور اس کے پیروکار دونوں جماعتوں لاہوری اور قادیانی کو کافر نہ کہے تو یہ مسلمان نہیں۔ اس نے دھوکا دیا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ یہ آدمی مسلمان ہوا ہے یا کہ نہیں؟
الجواب...... صورتِ مسئولہ میں اس شخص سے صراحۃً مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں پوچھا جائے۔ اگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کی ہر دو جماعت کو برملا کافر اور ان کے مرتد ہونے کا اعلان کر دے، اور مرزائیت اور ہر دین باطل سے توبہ کرے تو مسلمان سمجھا جائے وگرنہ اس کا صرف اتنا کہہ دینا ”کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں ۔“ اس پر مسلمان کا حکم لگانے کے لیے کافی نہیں۔
وفی الخامس بہما مع التبری عن کل دین یخالف دین الاسلام بدائع واخر کراہیۃ الدرر وحینئذ یستفسر من جہل حالہ بل عم فی الدرر اشتراط التبری من یہودی و نصرانی و مثلہ فی فتاوی المصنف.
(درمختار ج ۳ ص ۳۱۴، ۳۱۵ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
اگر یہ شخص مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اسلام قبول بھی کر لے تو اسے ایک عرصہ تک کوئی دینی، اجتماعی یا
انفرادی ذمہ داری نہ سونپی جائے اور اس کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم محمد انور عفا اللہ عنہ نائب مفتی خیر المدارس ملتان ۱۴۰۴/۴/۴ھ الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ مفتی خیر المدارس ملتان
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۸۰ - ۸۱)
مرتد کی توبہ کے شرائط
زید عرصہ دراز سے اسلام چھوڑ کر مرزائیت کی طرف ارتداد اختیار کر چکا تھا اب دوست و احباب کے افہام و تفہیم سے مرزائیت سے علیحدگی کا اعلان و اظہار کرتا ہے اور اعلان میں حضورﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتا ہے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کوئی اظہار نفرت یا اس سے اعلان برأت نہیں کرتا۔ اور باوجود اصرار کے یہ کہتا ہے کہ میں کسی کو برا کہنے کے لیے تیار نہیں۔ اب زید کو مسلمان سمجھا جائے یا نہ؟ المستفتی ۔ فاضل حبیب اللہ جالندھری ناظم جمعیۃ علماء اسلام و ناظم اعلیٰ جامعہ رشیدیہ منٹگمری
الجواب .... مرزائی کا اسلام میں آنا صرف کلمہ شہادت کے پڑھنے سے اور حضور علیہ السلام کو آخری نبی ماننے سے مکمل نہیں ہوتا اور نہ اس طرح اسے مسلمان سمجھا جائے گا بلکہ اس کی توبہ کے صحیح ہونے اور اسلام لانے کے لیے لازم ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت و مجددیت کا کھلے لفظوں میں انکار کرے اور اس کے کذاب و دجال ہونے کی تصریح کرے تب مسلمان سمجھا جائے گا۔ ورنہ منافقت اور دھوکہ بازی ہے۔ واسلامہ ای المرتد ان یأتی بکلمۃ الشہادۃ و یتبرأ عن الادیان کلہا سوی الاسلام و ان یتبرأ عما انتقل الیہ اھ ۔
(عالمگیری ج ۲ ص ۲۵۳ مطبوعہ ماجدیہ کوئٹہ)
الجواب صحیح: خیر محمد عفا اللہ عنہ ۱۷/ ۷/ ۱۳۷۱ھ فقط واللہ اعلم، بندہ محمد عبداللہ غفرلہ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۱۴۵)
باب ہفت دہم
ارتداد کی سزا
منکرین ختم نبوت کے لیے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟
سوال ...... خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں۔ لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ’’غیر مسلم اقلیت‘‘ دینے پر ہی اکتفا کیا اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ ’’اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیے ہیں وہ حقوق انھیں پورے پورے دیے جائیں گے‘‘۔ ہم نے قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کیے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟
جواب ....... منکرین ختم نبوت کے لیے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیق اکبرؓ نے عمل کیا، پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی مملکت میں مرتدین اور زنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۰۳۔۲۰۴)
جنگ یمامہ مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے تھی
سوال ...... مرزائی کمپنی کے ایجنٹ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو چڑھائی کی تھی وہ اس کی بغاوت کی بناء پر کی تھی۔ اس کے دعویٰ نبوت کی بناء پر نہ تھی۔ اس کی تحقیق مقصود ہے کہ کس بناء پر وہ چڑھائی کی گئی تھی؟ سائل: ماسٹر محمد ابراہیم
جواب ....... حضرت ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو چڑھائی کی وہ بغاوت کی بناء پر نہ تھی۔ انکار ختم نبوت کی بناء پر تھی۔ مسیلمہ کے ایلچی ایک مرتبہ خود حضور ختمی مرتبت ﷺ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے تھے اور اپنے مسیلمہ کذاب پر ایمان لانے کا اقرار کیا تھا۔ اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما.
(سنن ابی داؤد ج ۲ ص ۳۸۰)
ترجمہ: اگر ایلچیوں کا قتل کرنا خلاف اصول نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔
ان کا سرغنہ اور مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ جب آنحضرت ﷺ کی وفات شریفہ کے مدتوں بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی عدالت میں پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: سمعت رسول الله ﷺ يقول لولا انك رسول لضربت عنقك فانت اليوم لست برسول.
(معجم طبرانی ج ۹ ص ۱۹۴)
ترجمہ: میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تو اگر ایلچی نہ ہوتا تو تیری گردن اڑا دیتا۔ لیکن آج تو تو ایلچی نہیں ہے۔ پھر آپ نے امیر کوفہ قرظہ بن کعب کو حکم دیا اور انھوں نے اسے برسر عام قتل کر دیا۔ اس طرح وہ سالہا سال پہلے کا منشاء رسالت، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہاتھوں پر پورا ہوا۔
سنن دارمی کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان مرتدین کی مسجد کے بھی گرانے کا حکم دیا اور وہ نام نہاد مسجد منہدم کر دی گئی۔
(جمع الفوائد من جامع الاصول و مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۸۳ طبع میرٹھ)
اب سوال یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے انھیں باغی سمجھا ہوا تھا یا مرتدین؟ اس کے لیے ہمیں ان کے بارے میں صراحت سے مرتدین کے الفاظ ملتے ہیں۔ صحیح بخاری کتاب الکفالہ میں ہے: قال جرير و الاشعث لعبد الله بن مسعود فى المرتدين استتبهم وكفلهم فتابوا وكفلهم عشائرهم.
(بخاری ج ۱ ص ۳۰۶)
ترجمہ: جریر اور اشعث نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی توجہ اس طرف منعطف کرائی کہ آپ ان مرتدین کو توبہ کی طرف بلائیں اور ان کی کفالت کریں۔ پس وہ تائب ہو گئے اور آپ نے ان کے کنبوں کی کفالت فرمائی۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ جنھیں مرزائی حضرات اپنے وقت کا مجدد تسلیم کرتے ہیں لکھتے ہیں: انما قاتل بنى حنيفة لكونهم امنوا بمسيلمة الكذاب واعتقدوا بنبوته.
(منہاج السنۃ ج ۲ ص ۲۳۰، مطبوعہ مصر)
ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے بنی حنیفہ سے اس لیے جہاد کیا تھا کہ وہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے ہوئے تھے اور اس کی نبوت کے قائل تھے۔
پس یہ خیال غلط ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کی مذکورہ بالا چڑھائی بنی حنیفہ کی بغاوت کی بناء پر تھی۔ دعویٰ نبوت کی بناء پر نہ تھی۔ حافظ ابن تیمیہؒ یہ بھی لکھتے ہیں: فان الصديق لم يقاتل احدًا على طاعته ولا الزم احدًا بيعته.
(ایضاً ج ۲ ص ۲۳۱)
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کسی شخص کے ساتھ اس کی بغاوت پر یا اپنی خلافت منوانے کے لیے جہاد نہیں کیا۔
اس سے پہلے حافظ ابن تیمیہؒ اس پر اجماع ان لفظوں میں نقل کر چکے ہیں: فلم نعلم احدا انكر قتال اهل اليمامة وان مسيلمة الكذاب ادعى النبوة وانهم قاتلوه على ذلك.
(ایضاً ج ۲ ص ۲۳۰)
ترجمہ: آج تک کسی نے اس امر سے انکار نہیں کیا کہ حضرت ابوبکرؓ کا بنی حنیفہ سے جہاد مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کی بناء پر ہی تھا۔
پس مرزائی مبلغ کی مذکور فی السوال تاویل نہایت رکیک اور خبط بے ربط کی غماز ہونے پر مبنی ہے۔ واللہ اعلم
بالصواب۔ کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ
(عبقات ص ۳۲۲ تا ۳۲۳)
گستاخ رسول اللہ ﷺ واجب القتل ہے
سوال...... گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش ہے؟ کیا گستاخانہ کلام میں نیت کا اعتبار کیا جائے گا۔ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔ (اکرام حسین / جہلم)
الجواب...... نبی اکرم ﷺ کی توہین کرنا بالاجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے۔ توہین کا تعلق آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ ﷺ کے نسب کے ساتھ ہو یا آپ ﷺ کی کسی صفت کے ساتھ ہو اور یہ اہانت خواہ صراحۃً ہو کنایۃً ہو یا تعریضاً ہو یا تلویحاً جس شخص سے ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ ﷺ کی اہانت ظاہر ہو وہ کافر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔ علامہ قاضی عیاض مالکیؒ لکھتے ہیں۔
”قال محمد بن سحنون اجمع العلماء علی ان شاتم النبی ﷺ المنقص له کافر والوعید جار عليه بعذاب الله له وحکمه عندالامۃ القتل ومن شک فی کفره و عذابه کفر۔“ (الشفاء ۲/ ۱۹۰)
محمد بن سحنون نے کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی اہانت کرنے والا اور آپ ﷺ کی تنقیص یعنی آپ ﷺ کی شان میں کمی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے اور جو کوئی شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ گستاخ رسول کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب میں مختلف قول ہیں بعض فقہائے احناف کے نزدیک گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفیؒ لکھتے ہیں۔
”والکافر بسب نبی من الانبیاء فانه يقتل ولا يقبل توبته مطلقاً ولو سب الله تعالى قبلت انه حق الله تعالى والاول حق عبد و من شک فی عذابه و کفره کفر۔“
(درمختار علیٰ ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
”جو کوئی شخص کسی نبی کو گالی دینے سے کافر ہو گیا اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلق قبول نہیں ہے۔ (یا خود توبہ کرے یا توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو کوئی شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا ۔“ بعض فقہائے شافعیہ کا بھی یہی قول ہے کہ گستاخ رسول کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی شافعیؒ لکھتے ہیں۔
”وقد نقل ابن المنذر الاتفاق علی ان من سب النبی ﷺ صريحاً وجب قتله ونقل ابوبکر الفارسی احد ائمۃ الشافعية فی کتاب الاجماع ان من سب النبی ﷺ مما هو قذف صريح کفر باتفاق العلما. فلو تاب لم يسقط عنه القتل لان حد قذفه القتل و حدالقذف لايسقط بالتوبۃ.“
(فتح الباری شرح صحیح بخاری ج ۱۲ ص ۲۳۸ مطبع دار المعرفہ بیروت)
”علامہ ابن منذر نے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کسی شخص نے نبی اکرم ﷺ کو صراحۃً گالی دی اس کو قتل کرنا واجب ہے اور ائمہ شافعیہ میں سے علامہ ابوبکر فارسی نے کتاب الاجماع میں لکھا ہے کہ جس شخص نے نبی اکرم ﷺ کو قذف صریح کے ساتھ گالی دی اس کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے۔ اگر وہ توبہ کرے گا تب بھی اس سے قتل ساقط نہیں ہوگا کیونکہ یہ حد قذف ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ۔“ علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ
لکھتے ہیں۔ ”ومن سب الله تعالى كفر سوا كان مازحا او جادا او كذلك من استهزا بالله تعالى او بذاته او برسله او كتبه قال الله تعالى (ولئن سالتهم ليقولن انما كنا نخوض ونلعب قل ابا الله واياته ورسوله كنتم تستهزؤن لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم.“
(توبہ ۶۵) (المغنی ۳۴/۹)
”جس کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہو گیا خواہ مذاق سے یا سنجیدگی سے اور جس کسی شخص نے اللہ تعالیٰ سے استہزاء کیا یا اس کی ذات سے یا اس کے رسولوں سے یا اس کی کتابوں سے وہ کافر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ کہیں گے ۔ ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے۔ آپ کہیئے کیا تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کا استہزاء کر رہے تھے۔ اب عذر نہ کرو کیونکہ ایمان لانے کے بعد یقیناً کافر ہو چکے ہو۔“ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں۔
”وقال محمد بن سحنون : اجمع العلماء على ان شاتم النبى ﷺ والمنتقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله له وحكمه عند الامة القتل ومن شك فى كفره و عذابه كفر و تحرير القول فيه ان الساب ان كان مسلما فانه يكفر و يقتل بخلاف وهو مذهب الائمة الاربعة و غيرهم و قد تقدم ممن حكى الاجماع على ذلك اسحق بن راهويه و غيره ان كان ذميا فانه يقتل ايضا فى مذهب مالک واهل المدينة حكاية الفاظهم وهو مذهب احمد و فقهاً. الحديث وقدنص احمد على ذلك فى مواضع متعددة قال حنبل سمعت ابا عبدالله يقول كل من شتم النبى ﷺ او تنقصه مسلما كان او كافر فعليه القتل وارى ان يقتل ولا يستتاب.“
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول ۸۷، مکتبہ عباس احمد الباز مکۃ المکرمۃ)
”محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ علماء امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کے متعلق عذاب الٰہی کی وعید ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے اور جو کوئی شخص اس کے کفر اور اس کے عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کو بالاتفاق قتل کیا جائے گا اور یہی ائمہ اربعہ وغیرہ کا مذہب ہے اسحاق بن راہویہ وغیرہ نے اس اجماع کو بیان کیا ہے اور اگر گالی دینے والا ذمی ہو تو حضرت امام مالک اور اہل مدینہ کے نزدیک اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور عنقریب ہم ان کی عبارت نقل کریں گے۔ اور امام احمد اور محدثین کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد نے متعدد مقامات پر اس بات کی تصریح کی ہے۔ امام حنبل کہتے ہیں۔ میں نے ابو عبداللہ (امام احمد) سے سنا وہ فرماتے تھے جس کسی شخص نے نبی اکرم ﷺ کو گالی دی یا آپ ﷺ کی تنقیص کی خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ۔“ خلاصہ بحث یہ ہوا کہ ائمہ اربعہ میں گستاخ رسول ﷺ کی توبہ قبول کرنے کے بارے میں معمولی اختلاف ہے لیکن ہمارے نزدیک اس آدمی کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر قتل نہ کیا گیا تو گستاخیوں کا دروازہ کھل جائے گا لہٰذا گستاخی و بے ادبی کی تحقیق کرنے کے بعد اسے قتل کیا جائے گا۔ اب ہم سوال کے دوسرے جزو کا جواب عرض کرتے ہیں۔
گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش
عام طور پر مشہور یہ ہے کہ کلام میں ننانوے (۹۹) احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو اس کلام کو اسلام پر محمول کیا جائے گا اور قائل کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ علامہ علاؤ الدین حنفی حصکفی لکھتے ہیں۔
وفی الخلاصة وغيرها اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر واحد يمنعه فعلى المفتى ان الميل لما يمنعه ثم لو نية ذلك فمسلم الا لم ينفعه حمل المفتى.
(درمختار علی ردالمحتار ص ۱۲ مکتبہ رشیدیہ)
در وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلہ میں کچھ وجوہ کفر کو واجب کرتی ہوں اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر واجب ہے کہ اس کو منع عن الکفر پر محمول کرے۔ بشرطیکہ قائل کی بھی وہی نیت ہو۔ ورنہ مفتی عن الکفر پر محمول کرنے سے کچھ نہیں ہوگا لیکن ساتھ اس کے یہ شرط بھی ہے کہ قائل کی نیت بھی وہی ہو۔ ہاں اگر قائل کی نیت فی الواقع گستاخی کی ہو اور گواہ بھی موجود ہوں تو ایسے آدمی کو قتل کرنا واجب ہے۔
وفی الخلاصة وغيرها اذا كان فى المسئلة وجوه توجب التكفير وجه يمنع التكفير فعلى المفتى ان يميل الى الوجه الذى يمنع التكفير تحسنا للظن بالمسلم زاد فى البزازية الا اذا صرح بارادة موجب الكفر فلا ينفعه التاويل حينئذ وفى التاتار خانية لا يكفر بالمحتمل لان الكفر نهاية فى العقوبة فيستدعى نهاية فى الجناية ومع الاحتمال.
(ردالمحتار علی درمختار ج ۳ ص ۳۱۲)
خلاصہ وغیرہ میں ہے جب کسی مسئلہ میں متعدد وجوہ سے کفر لازم ہو اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اس وجہ کی طرف میلان کرے جو کفر سے روکتی ہو کیونکہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہیے اور بزازیہ میں ہے کہ جب قائل خود اس احتمال کا التزام کرے جس وجہ سے تکفیر ہو تب تاویل سے فائدہ نہیں ہوگا اور تاتار خانیہ میں ہے۔ جس کلام میں کئی احتمال ہوں اس پر تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ کفر انتہائی سزا ہے جو انتہائی جرم کا تقاضا کرتی ہے اور دوسرا احتمال موجود ہو تو یہ انتہائی جرم نہیں ہے دونوں عبارات کا خلاصہ یہ ہوا کہ جس لفظ یا جس جملہ میں متعدد احتمالات ہوں اور ان احتمالات میں سے کچھ کفریہ ہوں اور کچھ غیر کفریہ تو اس وقت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مفتی کو چاہیے کہ وہ قائل کے کلام کو غیر کفریہ معنی پر محمول کرے۔ لیکن اگر کسی کلام کے متعدد احتمالات نہ ہوں بلکہ صرف ایک معنی ہو اور وہ معنی کفریہ ہو تو اب مفتی کے لیے قائل کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اب ہم تیسرے سوال کا جواب عرض کرتے ہیں۔
کیا گستاخانہ کلام میں نیت کا اعتبار ہوگا؟
فرض کیا کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمہ بولتا ہے اور جب اس کی تکفیر کی جائے تو وہ اپنے دفاع میں کہتا ہے کہ اس کلمہ سے میری نیت یہ نہیں تھی تو اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ جس لفظ کے متعدد معنی ہوں اس کے متعلق تو قائل یہ کہہ سکتا ہے کہ میری نیت میں فلاں گستاخانہ معنی نہیں تھا بلکہ یہ تھا جو درست ہو لیکن جس لفظ کا از روئے لغت یا عرف عام یا شریعت میں ایک ہی معنی ہو اور وہ معنی ہو بھی گستاخانہ اور کفریہ تو اب قائل کی تکفیر کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ مثلاً لفظ طلاق عرف عام اور شرع میں عورت کی جدائی کے لیے معین ہے اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو انت طالق کہہ دے تو طلاق واقع ہو جائے گی اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ لفظ صریح میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح فقہاء نے لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ولد الحرام یا حرام زادہ کہتا ہے تو اس پر تعزیر لگائی جائے گی اور اگر قائل یہ کہے کہ حرام سے میری نیت ناجائز نہیں بلکہ حرمت اور کراہت تھی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عرف عام میں یہ الفاظ ناجائز اولاد کے لیے معین ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو غصہ میں کافر کہہ دے تو اس کو تعزیر لگائی جائے گی۔ اس میں بھی اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عرف عام میں کافر، کافر باللہ کے لیے
معین ہے۔ پس ان تصریحات کے پیش نظر جو کوئی شخص آپ ﷺ کی شان میں ایسا کلام کہتا ہے جو عرف عام میں توہین کے لیے معین ہیں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ خواہ اس نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں ۔
"ان ماكان دليل الاستخفاف يكفر به وان لم يقصد الاستخفاف.“ (رد المحتار ۴۱۱/۳) جو چیز توہین کی دلیل ہو اس پر تکفیر کی جائے گی خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔“
علامہ ملا علی قاریؒ حنفی اور علامہ شہاب الدین خفاجی فرماتے ہیں کہ صریح لفظ میں تاویل قبول نہیں ہوتی۔ (شرح شفا علی ہامش نسیم الریاض ۲/ ۳۳۵) علامہ وشتانی مالکی لکھتے ہیں کہ لفظ صریح میں گستاخی کی توبہ قبول نہیں ہوتی کیونکہ صریح لفظ تاویل کو قبول نہیں کرتا۔
(اکمال المعلم ۱۹۲/۳)
علامہ قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے جائیں، توہین کا قصد ہو یا نہ ہو قائل کی تکفیر کی جائے گی۔
”ان يكون القائل لما قا فى جهة ﷺ غير قاصد للسب والازدرا. ولا معتقد له ولكنه تكلم فى جهة ﷺ بكلمة الكفر من لعنه اوسبه او تكذيبه او اضافة مالا يجوز عليه اونفى مايجب له مما هو فى حقه ﷺ نقيصة مثل ان ينسب اليه اتيان كبيرة او مداهنة فى تبليغ الرسالة او فى حكم بين الناس او يغض من مرتبة اوشرف نسبه اووفور علمه اوزهده اويكذب بما اشتهر من امور اخبربها ﷺ و تواتر الخبر بها عن قصد لرد خبره اوياتى بسفه من القول او قبيح من الكلام و نوع من السب فى جهته وان ظهر بدليل حاله انه لم يعتمد ذمه ولم يقصد سبه اما لجهالة حملته على ماقاله او لضجر او سكر اضطره اليه اوقلة مراقبة او ضبط لسانه و عجرفة وتهور فى كلامه فحكم هذا الوجه حكم الوجه الاول القتل دون تلعثم اذلايعذر احد فى الكفر بالجهالة ولا بدعوى زلل اللسان ولا بشی مما ذكرناه اذا كان عقله فى فطرته سليما الا من اكره و قلبه مطمئن بالايمان.“
(الشفا ۲/ ۲۰۲۔۲۰۳)
”جو کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی شان میں کوئی بات کہے اور اس کا ارادہ گالی دینے کا نہ ہو اور نہ آپ ﷺ کی توہین کا اور نہ وہ اس کا اعتقاد کرتا ہو۔ لیکن آپ ﷺ کی شان میں ایسا کلمہ کفریہ کہے جس میں لعنت یا گالی ہو۔ یا آپ ﷺ کی تکذیب ہو۔ یا آپ ﷺ کی طرف کسی ایسی چیز کی اضافت کرے جو ناجائز ہو یا اس چیز کی نفی کرے جو آپ ﷺ کے لیے واجب ہو، یا وہ بات کہے جو آپ ﷺ کے حق میں نقص ہو۔ یا آپ ﷺ کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت کرے یا تبلیغ رسالت میں مداہنت کی نسبت کرے یا آپ ﷺ کے مرتبہ اور شرف نسب یا آپ ﷺ کے علم کی عظمت یا آپ ﷺ کے زہد میں کمی کرے یا جو آپ ﷺ کے اوصاف مشہور اور متواتر ہیں ان کی تکذیب کرے یا آپ ﷺ کی شان میں کوئی نازیبا بات کہے جو گالی کی قسم ہو۔ اس کے حال سے یہ ظاہر ہو کہ وہ آپ ﷺ کی توہین کا ارادہ نہیں کرتا۔ نہ اس پر اعتقاد کرتا ہے۔ یا اس نے جہالت کی وجہ سے کہا ہو یا رنج اور قلق کی بناء پر یا نشہ کی وجہ سے کہا ہو یا سبقت لسانی سے ایسا کہا ہو ۔ یا یوں ہی بے سوچے سمجھے یا جوش غضب سے ایسا کہہ دیا ہو تو ایسے شخص کا بلا توقف یہ حکم ہے کہ اس کو قتل کیا جائے کیونکہ جہالت تکفیر میں عذر نہیں ہے۔ نہ سبقت لسانی کا دعویٰ نہ مذکور الصدر اسباب میں سے کوئی اور سبب جب کہ اس کی عقل صحیح ہو سوا اس شخص کے جس کو ان
کلمات کے کہنے پر مجبور کیا گیا ہو اور اس کے دل میں ایمان ہو۔“ علامہ قاضی عیاض مالکی کی عبارت کا خلاصہ یہ ہوا کہ جس کسی شخص نے آپ ﷺ کی ذات یا آپ ﷺ کی صفات مثلاً کمالِ علم، کمالِ تصرف، کے متعلق کوئی نازیبا بات کہی خواہ اس کا ارادہ اور نیت توہین نہ ہو اور نہ وہ اس کا اعتقاد رکھتا ہو بلکہ وہ آپ ﷺ کے کمالات کا قائل ہو پھر بھی اس نازیبا بات کی وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا اور اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہوا۔ گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے جیسا کہ تفصیل ائمہ کے اقوال میں بیان ہو چکی ہے۔ صریح الفاظ میں کوئی گنجائش نہیں ہاں غیر واضح الفاظ میں تاویل کی گنجائش ہے۔ اس کا بھی جواب تفصیلاً ہو چکا ہے۔ نیت کے اعتبار کے بارے میں بھی واضح کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تعظیم رسول ﷺ کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔ اور تمام تر بے ادبیوں اور گستاخیوں سے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے۔ آمین۔ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۱۷۸ تا ۱۸۲)
گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے کی وجوہات
سوال....... گستاخ رسول کو علماء اسلام بڑی سزا سناتے ہیں؟ اس سے قرآنی آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ”دین میں جبر نہیں“ کی شدید مخالفت ہوتی ہے اور گستاخ رسول کی سزا کیا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔ زبیر احمد زبیری مالاکنڈ ایجنسی
جواب...... محترم زبیر احمد زبیری صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
”دین میں جبر نہیں“ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لانا چاہے لائے اگر نہیں لانا چاہتا نہ لائے، جبر نہیں لیکن جبر نہ ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ آپ مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیں، جو چاہیں کریں۔ ہر حکومت اپنے شہریوں کی عزت، جان اور مال کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ ملکی قوانین کی حفاظت کرتی ہے۔ قانون شکنی کی کسی کو اجازت نہیں دیتی۔ قانون شکنی یا بغاوت کرنے پر بڑی سے بڑی سزا دیتی ہے۔ آئین و قانون پر زبردستی عملدرآمد کرواتی ہے اور کوئی شخص اسے جبر و جور کا نام نہیں دیتا بلکہ چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بڑی سے بڑی سزا دے کر معاشرے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک و پاکیزہ کر دیا جائے۔ اسلامی حکومت کا جواز یہ ہے کہ اس میں خدا اور رسول کی عزت محفوظ ہو، اسلامی نظام ریاست قائم ہو اور لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ گستاخ رسول بیک وقت آئین کی خلاف ورزی، قانون شکنی اور قرآنی حکم سے بغاوت کرتا ہے۔
لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ. (المنافقون ۸) عزت اللہ، اس کے رسول اور ایمان والوں ہی کے لیے ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔ ارشاد ہے۔
إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا. (الاحزاب ۵۷) بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیں (بے ادبی کریں) ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کر دی اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ آگے چل کر وہ رسوا کن عذاب ان الفاظ میں بیان فرمایا۔
مَلْعُونِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَقُتِلُوْا تَقْتِيلا. (الاحزاب ٦١) ”لعنتی، جہاں پائے جائیں پکڑ لیے جائیں اور ذلت کے ساتھ قتل کر دیے جائیں۔“
اسلامی ریاست کا ایک نظریہ ہے اور وہ ہے اسلام کی سربلندی، اور اس کی بنیاد، توحید، رسالت اور عقیدہ آخرت ہے تو جو شخص نبی کی شان میں گستاخی کرے وہ دراصل اسلامی ریاست کی جڑ کاٹ رہا ہے لہٰذا واجب القتل
ہے ۔ دنیا کا ہر ملک اور ہر حکومت کسی بنیاد پر قائم ہے اور اس بنیاد پر وار کرنے والا باغی کہلاتا ہے اور واجب القتل قرار پاتا ہے۔ اسلام غیر مسلموں کی جان، مال اور عزت کا محافظ ہے مگر یہ ذمہ مشروط ہے کہ وہ لوگ ہماری بنیاد پر وار نہ کریں۔ بصورت دیگر مباح الدم ہیں۔ اس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے قائد محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری دام فیوضاتہ کا پمفلٹ ”گستاخ رسول کی سزا قتل ہے“ ادارہ منہاج القرآن کی کسی بھی شاخ سے یا براہ راست مرکز سے منگوا کر مطالعہ فرمائیں۔ واللہ اعلم ورسولہ۔ عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج اول ص ۲۶۵۔۲۶۶)
مرزائی مرتد ہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ مرزائی کافر مرتد اور واجب القتل ہیں؟
جواب ...... مرزائی کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اسی پر اجماع امت ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۲)
قتل مرتد
قتل مرتد کا مسئلہ اگرچہ غیر مسلموں کی نظر میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے لیکن چونکہ افغانستان میں نعمت اللہ خاں کو جو قادیانی ہو گیا تھا سنگسار کیا جا چکا تھا اس وجہ سے ذہنوں پر پھر مسلط ہو گیا اور منظم تبلیغ اگرچہ شدھی کے جواب میں ارتداد کے سدباب کے طور پر تھی مگر ناگوار ہو رہی تھی۔
جب قرارداد کی پہلی تجویز حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کے علم میں آئی تو ان کا دل تڑپ اٹھا اور مولانا نے فوراً پے در پے مندرجہ ذیل مسلم و غیر مسلم زعما کو تار اور خطوط بھیجے۔ مدیر اخبار شوکت بمبئی۔ مہاتما گاندھی۔ پنڈت موتی لال نہرو۔ مولانا محمد علی۔ مولانا کفایت اللہ۔ مولانا شوکت علی۔ مولانا حسین احمد ۔ مولانا حفیظ اللہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔
یہ تمام مفصل خط و کتابت ایک رسالہ کی صورت میں بنام ”سر الاصلاح“ منشی مظفر علی نے مرتب کر کے شائع کر دی تھی۔ یہاں صرف چند خطوط درج کیے جاتے ہیں۔
خط از مولانا عبدالباریؒ بنام مولانا حسین احمدؒ (دہلی)
مکرمی دام مجدہ ۔ السلام علیکم۔ آپ کا تار آیا۔ مجھے تعجب ہے کہ میرا مقصد صاف و واضح غالباً آپ حضرات تک نہیں پہنچا۔ میں ابھی تک یہ نہ سمجھ سکا کہ کس سبب سے مبحث عنہ تحریک مذہب کے خلاف نہیں ہے اگر اس کے الفاظ کا مفہوم غلط ہے تو یہ بات مانی جاسکتی ہے اگر شائع شدہ الفاظ صحیح ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس کو ہم مذہب کے احکام کے خلاف نہ سمجھیں۔
مولانا ! نفس مسئلہ حکم قتل مرتد میں موجودہ حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلام نہیں ہے۔ اگر کوئی سزا دے مرتد کو تو اس پر نفرت کی جائے یہ مابہ النزاع ہے۔ اس میں تو تمام افعال و اقوال و احکام اگلے پچھلے اندرون ہند بیرون ہند سب داخل ہیں اور فرض کیا جائے کہ اندرون ہند اور وہ بھی برٹش انڈیا کے ساتھ تحریک مخصوص ہے تو اس میں بھی ایسی صورت داخل ہے کہ جس میں کسی کا لڑکا مرتد ہو جائے (والعیاذ باللہ ) اور وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کو چند دن اپنے گھر میں باندھ رکھے اور فہمائش کرے اس کو گمان غالب ہے کہ اگر ایسا کیا جائے وہ دین میں پھر
واپس آ جائے گا جیسا کہ خود موتی لال صاحب کی لڑکی کے بارے میں گاندھی صاحب نے کیا تھا۔ اب یہ صورت بھی اس ریزولیشن میں قابل نفرت و ملامت ہے۔ لیکن اس پر خاک ڈالیے اور اس تاویل سے مان بھی لیجیے تو میں اس پر کد نہ کروں گا۔ اگر قدمائے مقدمین کے افعال کو کسی طرح مستثنیٰ کر دیا جاتا۔ مجھے بھائی محمد علی وشوکت علی صاحبان سے فروگذاشت پر تعجب نہیں ہے۔ مگر آپ ایسے علمائے متبحرین سے اس فروگذاشت کو سخت قابل تعجب سمجھتا ہوں پھر اگر مان بھی لیا جائے کہ ہم قتل مرتد بلکہ کوئی سزا مرتد کو ہم نہیں دے سکتے۔ غور فرمائیے کہ اگر کوئی ادنیٰ سزا دے اور سمجھے کہ اس سزا کو دینا مرتد کی اصلاح کا باعث ہوگا تو اس پر بھی آپ کی نفرت و ملامت موجود ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کسی نصرانی حربی مثل دھوبی کے قاتل پر اگر کسی نے نفرت کی حالانکہ ہندوستان میں اس قسم کے قتل کی فرضیت کا کوئی قائل نہیں اور اصول ترک موالات بلا تشدد مجوزہ گاندھی جی کے بھی خلاف ہے اس پر اظہار نفرت کرنا برا ہوا اور اس قسم کی سزا مرتد کو دینا جس سے اصلاح کی امید ہے قابل نفرت سمجھا جائے بلکہ اس پر مجمع میں نفرت کی جائے۔ صاف اور واضح بات کو چھوڑ کر کہ ”ہم ہندوستان میں نہ قبل سوراج نہ بعد سوراج قتل مرتد کرنے کا حکم نہیں دیتے ۔“ ایسی لغو اور بے معنی عام تحریک کرنا کیا ضروری تھا اور اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ مانا کہ اس ریزولیشن سے فتنہ ارتداد رفع ہوتا ہے گو اس کی امید نہیں لیکن مقصود اس کا یہی سمجھا جائے تو بھی جملہ مابہ النزاع سے جو مذہبی خرابی اب پیش ہے اس سے تو فتنہ ارتداد بڑھا جاتا ہے۔
گو مشت خاک ماہم برباد رفتہ باشد
ایک فتویٰ جو علمائے ندوہ نے آج بھیجا ہے اس کی نقل مرسل ہے۔
فقیر محمد عبدالباری ۲ ربیع الاول ۱۳۴۳ھ
خط از مولانا شوکت علیؒ بنام مولانا عبدالباریؒ
دہلی یکم اکتوبر ۱۹۲۳ء۔ حضور والا۔ السلام علیکم۔ کل ایک تار پنڈت موتی لال نہرو، محمد علی اور مولانا کفایت صاحب کے نام آیا۔ جب میں لکھنؤ حاضر ہوا تھا تو عرض کیا تھا کہ اس وقت لکھنؤ حاضر ہونے کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ موجودہ کانفرنس میں پیش ہونے والے مسائل کے بارے میں شرعی احکام کے متعلق حضور کی یا کم از کم مولوی عنایت اللہ صاحب کی اعانت حاصل کروں۔ ابتدائے تحریک سے بار بار اور مسلسل عرض کرتا رہا ہوں کہ میں فقہ سے اور احکام شرعیہ کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوں اس لیے ہمیشہ ہر مسئلے میں حضور کی رائے دریافت کر لیا کرتا ہوں۔ یہ ایک نازک موقع تھا جس میں اکثر مذہبی امور پر بحث ہونے والی تھی اس لیے میں نے چاہا تھا کہ مولوی عنایت صاحب ضرور شریک ہوں مگر وہ تشریف نہیں لائے۔ اب مجبوراً ہم کو یہاں ان علماء کی رائے پر اعتماد کرنا پڑا جو کانفرنس میں تشریف رکھتے ہیں۔ مولانا کفایت اللہ صاحب، مولانا حسین احمد صاحب، مولانا احمد سعید صاحب وغیرہ اس لیے ہم لوگوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ جیسا علماء نے یہاں فتویٰ دیا اس پر عمل کر کے تحریک پیش کی گئی۔ پاس کی گئی۔ جس وقت یہ تحریک پیش کی گئی تو سب سے پہلے علماء کی رائے اس مسئلہ میں دریافت کی گئی۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے بلا کسی شرط یا مشتبہ الفاظ کے صاف اور واضح طور پر بیان کیا کہ مرتد کی سزا یقیناً از روئے شرع شریف قتل ہے۔ مگر اس سزا کا نفاذ ہندوستان میں اب یا بعد حصول سوراج نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس کے نفاذ کے لیے سلطان کی موجودگی، قانون اسلام کا نفاذ اور محکمہٴ قضاۃ وغیرہ وغیرہ کا موجود ہونا ضروری ہے
جو یہاں نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔ پھر ان سے سوال کیا گیا کہ کوئی سزا علاوہ قتل کے دی جا سکتی ہے یا نہیں اس کا بھی انھوں نے یہی جواب دیا۔ اب انھیں کے الفاظ ریزولیشن میں رکھ دیئے گئے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں حضور کو شاید یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس ریزولیشن کا کسی طرح کا بھی تعلق اس قانون مرتد سے ہے جس کا اس وقت نفاذ ریاست بھوپال میں ہے۔ اس کے متعلق شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ریاستوں سے ہم کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے کسی ریزولیشن کا کوئی اثر ریاست کے قوانین پر نہ اب پڑ سکتا ہے اور نہ آئندہ کبھی پڑنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر ریاست نظام میں اس وقت چور کا ہاتھ کاٹنے یا مرتد کے قتل کا حکم جاری کر دیا جائے تو ہم کو اس سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اسی طرح ریاست جیپور میں گاؤکشی پر پھانسی کی سزا کا حکم ہے مگر ہم کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اس وقت مسئلے کی نوعیت صرف اس قدر ہے کہ ہندوؤں کی طرف سے ایک سوال قتل مرتد یا سزائے مرتد کے بارے میں کیا جاتا ہے ہم اس کے جواب میں جو صحیح حکم شریعت ہے اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ نہ ہندوؤں کو اس وقت اس سوال سے زائد کا حق تھا اور نہ ہم کو حق تھا کہ کوئی قانون بناتے۔ کانفرنس کا کوئی فیصلہ ناطق نہیں ہے سزائے مرتد یا قتل مرتد کے بارے میں اگر کوئی سوال پیدا بھی ہو سکتا ہے تو بعد سوراج۔ مسلمانوں کو پورا حق ہے کہ جس وقت چاہیں گے پارلیمنٹ میں جو قانون چاہیں پاس کرائیں اس کانفرنس میں صاف صاف برابر اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ اس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ موجودہ فسادات کے رفع کرنے اور ان کے اسباب کے دریافت پر غور کیا جائے۔ ہندو مسلمانوں میں کوئی دوامی شرائط صلح نہیں طے کیے جا رہے ہیں۔ قتل مرتد کے بارے میں اس وقت ایک جماعت کو فکر تھی کہ اس کے متعلق مسئلے کو واضح کیا جائے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ لکھنؤ کی حاضری کا ایک سبب اس مسئلہ کو دریافت کرنا بھی ہے۔ مجھ کو یاد ہے اور اسی بناء پر میں نے یہاں حضور کے مشورہ کا حوالہ دے کر اعلان کیا کہ مسئلہ یوں ہی ہے۔ جس طرح مولانا کفایت اللہ صاحب نے بیان کیا۔ آخر میں نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کروں گا کہ حضور اس وقت تک سکوت فرمائیں جب تک یہاں کے حالات مولانا کفایت اللہ صاحب اور دیگر حاضرین سے سن نہ لیں اور صحیح حالات معلوم نہ کر لیں۔ دو چار روز کی تاخیر میں کوئی نقصان نہ ہوگا اور حضور ہم پر کم سے کم یہ تو بھروسہ کر لیں کہ ہم اپنی موجودگی میں شریعت کی تحقیر نہ ہونے دیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ حضور کو کس درجہ ہندو مسلمان کے اتحاد کا خیال ہے اس لیے ہم کو تو اس کے خلاف گمان کرنا بھی اب نادانی اور جہالت ہے۔ واقعات صحیح آپ کو سب معلوم ہو جائیں گے اور اس وقت باقی ماندہ شکوک اور دقتیں باہمی حالت رواداری کے ساتھ فیصلہ پا جائیں گی۔ از حد مصروف ہوں اور تھکا ہوا، حضور کا خادم۔ خادم کعبہ شوکت علی
خط مولانا حسین احمد بنام مولانا عبدالباری
کجا دانند حال ما سبکباران ساحلہا
مولانا المحترم زیدت معالیکم۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ والا نامہ مع تار باعث سرفرازی ہوا۔ مولانا: ایک دو امر ہوں تو ان کو ذکر کیا جائے۔ دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ صنف علماء کی خود پسندی، تشتت، خودرائی، حب جاہ و مال، خوف اغیار کی تاریک گھٹاؤں نے عرصہ دراز سے جو کچھ نہ دیکھنا تھا وہ دکھا ہی رکھا تھا۔ مگر اس زمانہ پر آشوب میں اس صنف کے استغناء اور غفلت نے تو اساس اسلام کے کھود ڈالنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس مؤتمر اتحاد نے ہر طبقے اور ہر صنف اور ہر فریق کے لوگوں کو دعوت دی۔ قریب اور بعید کے تقریباً چار سو ستر یا زیادہ
آدمیوں کو بلایا۔ مگر اوّل تو مسلمان بہت کم آئے پھر ان میں علماء کی جماعت اقل قلیل تھی۔ علماء دیوبند کو متعدد تار گئے کوئی نہیں آیا۔ علماء بدایوں میں سے کوئی نہیں آیا اور علیٰ ہذا القیاس دوسرے مقامات سے بھی کوئی نہیں آیا۔ فقط سید سلیمان ندوی تشریف لائے تھے۔ جو فقط دو تین دن ٹھہر کر چلے گئے کوئی معتد بہ دلچسپی انھوں نے نہیں لی۔ مولانا! مجمع اغیار تھا۔ ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی مجتمع تھے۔ قادیانی، روشن خیالی کے مدعی انگریزی خوان حضرات جو بزعم خود اپنے سامنے ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اور شافعی و مالک واحمد حنبل وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ کو نہ صرف طفل مکتب بلکہ مضر للدین والاسلام سمجھتے اور کہتے ہیں۔ موجود تھے۔ ہر فریق نے اپنے چیدہ چیدہ متکلم اشخاص کو بھیجا اور جمع کیا تھا۔ مگر کیا اسلام کے مذہبی اور علمی طبقے کو اس کی کوئی پرواہ ہوئی تھی۔ اس کا جواب سوائے نفی کے اور کچھ نہیں۔
مولانا! اس مجمع میں جو کچھ مشکلات ہم کو پیش آئیں اس کو ہم ہی اندازہ کر سکتے ہیں اور آپ اتنی دور بیٹھے ہوئے اندازہ نہیں کر سکتے۔ ہر ہر لفظ اور ہر ہر مسئلے پر دشواریوں کے پہاڑ اڑ جاتے تھے جن کا اٹھانا بھی دشوار اور ہٹانا بھی دشوار تر ہوتا تھا۔ نہ کوئی صحیح مشورہ دینے والا ہوتا تھا نہ کوئی ہمدردی اور اعانت کرنے والا۔ خود ہمارے معزز لیڈروں کے بات بات پر حملے اور سخت جملے ہوتے رہے۔ اگر مجمع اغیار میں ان کا جواب دیں تو اسلام، مسلمانوں، علماء کی توہین ہوتی ہے اور اگر چپ رہیں تو مداہنت کا دھبہ۔ عجب کشمکش کا عالم تھا۔ شیرنری کا دعویٰ کرنے والے اغیار کے سامنے بزاخفش بنے ہوئے نظر آتے تھے آپ خود خیال فرما سکتے ہیں کہ مخالف فریق اور مدعیان اجتہاد و علمیت پر جماعت کا جو اثر پڑ سکتا ہے وہ ایک دو کا نہیں ہو سکتا۔ پھر چند دماغ جو چیز پیدا کر سکتے ہیں ان کے لیے ایک یا دو دماغ کافی نہیں ہو سکتے اور جبکہ اپنوں ہی میں ایسے حضرات ہوں جو کہ دوسروں کے سیلاب میں اپنے آپ اور اپنی قوم کو بہا دینے کے لیے تیار ہوں تو اس کا کیا حشر ہوگا۔
فلئن رمیت یصیبنی سہمی
ولئن عفوت لا عفون جذلا
ولئن کسرت لا وھنن عظمی
مولائی المحترم۔ پہلے ہی دن فریق غیر کی طرف سے مجھ سے کہا گیا کہ یہ صلح کس طرح ہو سکتی ہے جبکہ تمہارے مذہب میں مرتد کے لیے سزائے قتل ہے۔ میں نے جواب دیا کہ بیشک یہ حکم مذہب کا ہے مگر ہم ہندوستان کے لیے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ بصورت برٹش راج یا سوراج اس مسئلے کا ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ کہا گیا کہ بصورت سوراج خالص اسلامی ریاستیں ممکن ہے کہ اس پر عمل کریں۔ میں نے جواب دیا کہ یہ ریاستیں غالباً اس وقت بھی اسی قسم کی خودمختار ہوں گی جیسی کہ اب ہیں یا جمہوریت کے اعضاء میں سے ہو کر خالص اسلامی خودمختار کامل نہ ہوں گی اس لیے وہ بھی ہمارے مسئلے سے خارج ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد اجلاس شروع ہوا۔ تمہیدی تقاریر شروع ہوئیں۔ چند انگریزی تقریروں کے بعد پنڈت مالویہ جی نے تقریر کی اور اشتراک مذہب اتحاد عمل کی ضرورت اور فوائد وغیرہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے مذہب میں سے سزائے مرتد اور تبلیغ کو نکال ڈالیں تاکہ امن و اتحاد قائم ہو۔ یہ تقریر غالباً آدھ گھنٹے ہوئی تھی۔
مجھ کو کہا گیا کہ تو اس کے بعد تقریر کر۔ مگر مولانا کفایت اللہ کے موجود ہوتے ہوئے ان کی قوت تقریر و
تبحر ذکاوت و فطانت علمی بلند پایگی وغیرہ مجھ کو ہر طرح مجبور کرتی تھی کہ میں اس کی اپیل ان کی خدمت میں کروں۔ چنانچہ مولانائے موصوف کھڑے ہوئے اور نہایت واضح اور روشن طریقے پر ثابت کیا کہ مختلف المذاہب اور متبائن الاعتقاد اقوام و ادیان ایک سرزمین میں کس طرح بسر کر سکتے ہیں اور ان کے لیے طرز عمل کیا کیا اختیار کرنا ضروری ہے۔ آخر میں مولانائے موصوف نے فرمایا کہ بے شک شریعت اسلامیہ میں یہ مسئلہ مسلم ہے کہ مرتد کو سزائے قتل دی جائے۔ مگر اس کا تعلق ہندوستان سے نہیں۔ اس سزا کا اختیار سلطان اسلام کو ہے۔ وہ اپنی قلمرو میں اس کو جاری کر سکتا ہے۔ موجودہ حالت میں اور بعد از سوراج ہندوستان اس سے خارج ہے۔ اس بیان کو وضاحت کے ساتھ مولانا نے روشن فرمایا جس پر تمام حاضرین کی کامل توجہ منعطف تھی۔
اس پر پنڈت رام چندر نے یہ کہا کہ جہاں سلطان اسلام نہ ہو یا حکم نہ دے وہاں کوئی مسلمان فرد یا جماعت خود کسی مرتد کو قتل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ مولانا نے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کی کیا سزا ہے۔ مولانا نے کہا کہ یہ امر مفوض الیٰ رأی السلطان ہے۔ یہ گفتگو جب ہو رہی تھی اس پر مالویہ جی اور دوسرے لیڈر ہندو بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ اس کی تنقیح کی اب ہم کو ضرورت نہیں جبکہ ہم کو یہ معلوم ہو گیا کہ اس مسئلے کا تعلق ہندوستان کی موجودہ اور مستقبلہ حالت سے نہیں تو ہم کو کافی ہے۔ مولانا کفایت اللہ نے اس وقت کہا بھی کہ اگر اس مسئلے کے متعلق اور کچھ کسی کو پوچھنا یا کہنا ہو تو پوچھے میں جواب کے لیے تیار ہوں۔ اس پر ان کے عام لیڈروں نے خصوصاً بڑوں نے کہا کہ نہیں یہ قدر ہم کو کافی ہے۔ مسئلہ تبلیغ کے متعلق مولانا نے فرمایا کہ مذہب اسلام ابتدا ہی سے تبلیغی مذہب ہے اور ہمیشہ سے وہ تبلیغ کا کام کرتا رہا اور یہی اس کی تعلیم ہے مگر نہایت حکیمانہ اور عادلانہ طریقے پر بلا اکراہ و اجبار وغیرہ۔
غرضیکہ اس مفصل تقریر پر سبھوں کو اطمینان ہوا۔ اس میں مولانا آزاد نے فرمایا کہ مولانا یہ تفصیل کر دیجئے کہ یہ حکم قضاء ہے یا تشریعاً۔ مگر مولانا موصوف کی گزشتہ تقریر پر سبھوں نے کہا کہ اب اس کی کوئی حاجت نہیں۔ محمد علی (لاہوری مرزائی) بولے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق قادیانی کھڑے ہوئے۔ اور انھوں نے اپنی تقریر میں بھی یہ کہا کہ حقیقت میں مسئلہ مرتد ہندوستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ یہاں کوئی سزا انھیں نہیں دی جا سکتی۔ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہندوستان کے باہر بھی اس کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔ اور نہ سلطان اسلام کو اس کا اختیار ہے۔ اس پر میں نے تڑپ کر کہا کہ یہ محض آپ کی رائے ہے مذہب اسلام میں یہ نہیں ہے۔ سید سلیمان صاحب ندوی نے مجھے روکا اور یہ کہا کہ یہ بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ میں کہتا ہوں۔
خلاصہ یہ کہ ان مباحث پر جن میں یہ تسلیم کر لیا گیا تھا کہ مذہب اسلام میں یہ سزا مقرر ہے مگر یہاں بوجہ مانع اس کا اجراء نہیں ہو سکتا۔ جملہ حضار جلسہ کو اطمینان ہو گیا۔ اس کے بعد مختلف اشخاص کی تقریریں ہوئیں۔
صدر جلسہ اور دیگر مقررین نے بار بار یہ الفاظ کہے کہ اس جلسے میں گزشتہ اعمال و افعال کی تحقیق و تفتیش کرنی مطلوب نہیں ہے اور نہ ان کی نسبت کوئی فیصلہ ظاہر کرنا ہے بلکہ آئندہ کے متعلق ایک نظام عمل تیار کرنا ہے تا کہ وہ امور جن کی وجہ سے فضاء ہندوستان مکدر ہو گئی ہے ظاہر نہ ہوں اسی بنا پر متعدد اوقات میں جبکہ سوامی شردھانند نے اپنی کتاب اور اخبار لے کر میرے فتویٰ قتل مرتد پر اظہار رائے کرنا اور اسپیچ دینا چاہا۔ صدر جلسہ نے روک روک دیا۔ ہم سب تیار تھے کہ اگر سوامی جی نے تقریر کی تو انشاء اللہ پوری وضاحت کے ساتھ جواب دیں گے۔ مگر چونکہ صدر جلسہ نے یہ بھی کہا تھا کہ عنقریب اس کے متعلق خاص طور سے ریزولیشن آنے والا ہے۔ اس
وقت آپ کو جو کچھ فرمانا ہے فیصلہ کے بعد آپ فرمائیں۔ تو ہم نے بھی یہ مناسب سمجھا کہ اب اس وقت ہم کو الجھنا نہ چاہیے ورنہ ہم بھی روک دیے جائیں گے۔
اور ہم بعد ممانعت صدر گزشتہ امور پر تبصرہ کرنا بھی غیر ضروری خیال کرتے تھے۔ اسی طرح جبکہ ریزولیشن نمبر ۱ میں منادر کے متعلق اظہار افسوس کا جملہ آیا اور اس میں ترمیم زیادت لفظ مساجد یا ابدال لفظ معابد کی احقر نے پیش کش کی اور بحث جاری ہوئی تو میں نے مساجد بھرت پور کا ذکر کیا۔ اس پر کہا گیا کہ وہ معاملہ اسٹیٹ کا ہے۔ ہم اسٹیٹ کے افعال میں حسب اصول کانگریس کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔
الحاصل اس کانفرنس کے اصول وقواعد میں سے جن کا بار بار تذکرہ آ چکا تھا یہ چند امور تھے۔
- نمبر ۱...... امور استقبالیہ کے متعلق فیصلہ اور غور۔ نمبر ۲...... جو امور باعث فساد و فتنہ ہیں ان کا تصفیہ۔
- نمبر ۳...... امور متعلقہ برٹش ہند پر اتفاق۔ گزشتہ امور پر نہ تبصرہ و تنقید تھی اور نہ ممالک خارجہ از ہند یا ریاستیں ان میں
داخل ہیں۔ اس لیے ذبیحہ گاؤ و دیگر حیوانات یا آرتی اور اذان وغیرہ کے متعلق تصفیہ جات ریاستوں سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے جہاں پر کہ یہ اعمال جبراً روکے جا رہے ہیں اور ریواں راج وغیرہ میں تبدیل مذہب پر سزائیں مقرر ہیں۔
مولائے محترم ! ریزولیشن نمبر ۳ کے تمہید کے ان الفاظ کو بھی مدنظر رکھیں جن کا تعلق خاص ریزولیشن نمبر ۱ سے ہے اور وہ اس پر پوری روشنی ڈالتے ہیں۔ ”ریزولیشن نمبر ۱ میں ہندوستان کی مختلف قوموں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو عام اصول قرار دیے گئے ہیں ان کو مدنظر رکھ کر اور تمام مذاہب، عقائد و اعمال مذہبی کے لیے کامل رواداری حاصل کرنے کی غرض سے یہ کانفرنس اپنی یہ رائے قائم کرتی ہے کہ۔“
مولانا المحترم ! جب آنجناب ان الفاظ پر غور فرمائیں گے تو کسی طرح بھی زمانہ اسلاف کرام رضی اللہ عنہم پر ریزولیشن نمبر ۱ کے الفاظ کو اگرچہ وہ کسی درجہ میں موہم یا صریح بھی ہوں صادق نہ فرما سکیں گے اور نہ بیرون ہند کسی کو اس کا مصداق بنا سکیں گے بلکہ اندرون ہند بھی ریاستیں بالاتفاق اس سے خارج ماننی پڑیں گی۔
مولانا المحترم ! ہم نے حتی الوسع جہاں تک بھی ممکن ہوا اپنی پوری سعی اصلاح میں صرف کی ہے اور اس کی پوری رعایت کی ہے کہ اپنے حقوق شرعیہ اور ارکانات مذہبیہ محفوظ رہیں۔ جس میں ہم کو احباب سے بہ نسبت اغیار زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً مولانا کفایت اللہ نے اس میں نہایت زیادہ جانفشانی کی (فشکر اللہ مسعاہ) ہم یقیناً کہتے ہیں کہ اگر ان کی ذات اس میں سعی بلیغ نہ کرتی یا موجود نہ ہوتی تو خدا جانے کیا ہو جاتا۔
مولانا ! ضروری ہے کہ علماء کرام ذرا توجہ کریں اور اسلام کے سنبھالنے کی کوشش اور اتحاد صنفی میں پورا اجتہاد صرف کریں۔ ورنہ یہ ایک یا دو باہمت حضرات بھی تھک کر بیٹھ جائیں گے کہاں تک گالیوں اور الزامات لا یعنی کا بوجھ اٹھائیں گے۔ گورنمنٹ کے نمک خوار علیحدہ ان کے بدنام کرنے کی کوششیں عمل میں لا رہے ہیں۔ پبلک کے کج فہم کج رائے اشخاص علیحدہ ان پر بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ حضرات علیحدہ طرح طرح کی لسانی تحریری عملی کارروائیاں پیش کر رہے ہیں۔ پھر بھی ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ ایک دوسرے کی نہ رواداری کرتا ہے نہ ہمدردی اور خبر گیری کے لیے تیار ہے۔ دشمن ہر طرح نورِ اسلام کو بجھانے پر تلا ہوا ہے۔ اور ہم اپنے زاویہ میں آرام کر رہے ہیں۔ اگر آپ جیسی مقدم ہستیاں جنھوں نے جمعیت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی تھی وہ بالکل علیحدہ رہا کیں تو کیونکر نتیجہ نکل سکتا ہے اور اس کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی نہیں ہے تو بند کر دیجئے قبل اس کے کہ اغیار و احباب اس کی کوچیں کاٹ کر اس کو ہباء منثوراً کر دیں۔ فان کنت ماکولا فکن خیر آکل والافاد
رکنی و لما امزق۔ پھر میں عرض کرتا ہوں کہ ریزولیشنوں میں اس کا بھی بہت زیادہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور افزونی میں موجودہ کشمکش کو لحاظ رکھتے ہوئے کونسی صورت مفید ہو سکتی ہے۔ اپنے فہم و تجربہ کے مقدور پر کوشش کی گئی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب و الیہ المرجع والماب۔ وما ابرئ نفسی ان النفس لامارة بالسوء۔ والسلام خیر ختام۔ دستخط۔ حسین احمد
جواب خط مذکور از مولانا عبدالباری بنام مولانا حسین احمد
مولانا المحترم! السلام علیکم۔ مکرمت نامہ صادر ہوا۔ میں تاسف کرتا ہوں کہ میرے پہلے تار کا جواب مختصر دینے کے بجائے تھوڑی بات طویل کر دی گئی۔ یہی جواب تھا اس کا جو بعد کو موتی لال صاحب نے اور مولانا کفایت اللہ صاحب نے دیا۔ حسب اطلاع جناب کے اس کی وضاحت بعد کے ریزولیشنوں میں کر دی گئی۔ لیکن جس وقت صدر کا پیش کردہ ریزولیشن گاندھی صاحب کی فاقہ شکنی کی استدعا میں شائع ہوا تھا اس وقت کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی اور اس وقت تک وہ مباحث ہی نہیں ہوئے تھے جو بعد کو ہوئے۔ اس وقت تو علماء کی موجودگی بھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ اس واسطے یہ تو خیال میں بھی نہیں آ سکتا کہ آپ حضرات اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ میں مولانا کفایت اللہ صاحب کی مشکلات کو اچھی طرح احساس کرتا ہوں۔ ان کو جیسا میں بے نظیر سمجھتا ہوں اس کے ظاہر کرنے میں مجھے کبھی کوئی تامل نہیں ہوا مجھے یقین ہے اور ایسا ہی مجھے صبح اخبارات سے بھی معلوم ہوا کہ مولانا کفایت صاحب نے جو خدمات اسلام کی اس کانفرنس میں انجام دیے وہ ہماری جماعت علماء کے مباہات و افتخار کا باعث ہے۔ سوائے اس کے کہ ہم عرض کریں کہ اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کو ہمیشہ امت محمدی کی اعانت کے لیے زندہ سلامت رکھے۔ انھیں کی ایک ذات جمعیۃ علماء سے مراد ہو سکتی ہے اور کیا کہا جائے۔
مولانا! جلسہ دہلی کی وہ وقعت جو اس کے بانیین نے سمجھی تھی ہمارے ذہنوں میں نہ تھی۔ اس میں ہمارے علماء نے اگر شرکت نہیں کی تو الزام کے قابل نہیں ہیں اور جو شریک ہوئے وہ خود اس شرکت سے دشواریوں میں گرفتار ہوئے۔ اور امتحان ہو گیا کہ کون علماء باللہ ہیں۔ بہرحال معاملہ بہت تھوڑا تھا۔ موتی لال صاحب کے تار میں تاخیر ہوئی بڑھ گیا۔ مگر تار آ جانے سے اطمینان ہو گیا۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے قتل مرتد کے بارے میں جو کچھ خیال ظاہر فرمایا وہ بالکل صحیح ہے۔ اس میں مجھے کوئی کلام نہیں۔ مجھے اس عام اور بے قید ریزولیشن پر اعتراض تھا اور ان الفاظ کے ساتھ اب بھی میں قابل اعتراض سمجھتا ہوں۔ لیکن وضاحت کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا۔ والسلام فقیر محمد عبدالباری عفا عنہ
خط از مولانا کفایت اللہ بنام مولانا عبدالباری فرنگی محلی دہلی ۱۱ ربیع الاول ۱۳۴۳ھ
مولانا المحترم۔ دامت فیوضکم۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مجھے سخت ندامت اور افسوس ہے کہ میں مفصل طور پر جناب کے تاروں کا جواب اس سے قبل نہ دے سکا۔ ایک اجمالی تار ارسال خدمت اقدس کر دیا تھا۔ جناب کے تاروں سے جناب والا کا تیقظ اور اسلامی غیرت اس پایہ کا ثابت ہو گیا کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔
مولانا! واقعہ یہ ہے کہ پہلے دن کے اجلاس مؤتمر میں خاکسار اگرچہ شریک تھا۔ مگر پہلا ریزولیشن انگریزی میں پڑھا گیا اور اس کا اردو ترجمہ یا حاصل مطلب بیان کیا گیا مگر میں حلفاً عرض کرتا ہوں کہ مجھے اس فقرے کا جو سزائے ارتداد کے متعلق ہے اس وقت بالکل علم اور احساس نہ ہوا۔ واللہ اعلم کہ اردو میں وہ بیان سے رہ گیا یا میں نے نہیں سنا۔ تجویز پاس ہو گئی۔
دوسرے روز جناب کا تار ملا۔ اس سے مجھے فوری خیال ہوا اور میں نے پہلی تجویز کو تلاش کر کے دیکھا تو اس میں وہ الفاظ موجود تھے۔ سخت افسوس ہوا۔ اگرچہ معاملہ سب کا سب ہندوستان کے متعلق تھا تاہم الفاظ میں عموم ضرور تھا۔ میں سخت کشمکش میں پڑ گیا۔ بالآخر سوائے اس کے کوئی تدبیر نہ کر سکا کہ ریزولیشن نمبر ۴ کی تمہید میں میں نے اپنی ترمیم بایں الفاظ پیش کی اور صدر صاحب کو معاملہ سمجھا کر اور ہاؤس اور اپنے بعض مہربانوں سے بحث مباحثہ کر کے یہ الفاظ بڑھوائے کہ ”ریزولیشن نمبر ۱ میں ہندوستان کی مختلف قوموں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو عام اصول قرار دیئے گئے ہیں الخ۔“ اب ریزولیشن نمبر ۴ بتاتا ہے کہ ریزولیشن نمبر ۱ کا عموم مطلقا نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہندوستان کے ساتھ مقید ہے اور ہندوستان سے بھی برٹش انڈیا مراد ہے۔ ہندوستانی ریاستیں بھی اس میں داخل نہیں ہیں۔ نیز جبکہ بعض ہندو مقررین کی طرف سے یہ مضمون بیان کیا گیا کہ جب تک مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ مرتد کو واجب القتل سمجھتے رہیں گے اور گویا قتل کرتے رہیں گے اس وقت تک ہندو مسلمانوں میں نباہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے بھرے مجمع میں اس کا جواب دیا کہ بیشک اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور ارتداد اسلام کے نزدیک ہولناک گناہ اور بدترین جریمہ ہے اور یہ اسلام کا ایک کھلا ہوا روشن اصول ہے۔ میں اس کے ظاہر کرنے اور بیان کرنے میں کسی قسم کا تامل نہیں۔ مگر یہ کہنا کہ ہندوستان کے فسادات اس عقیدے کے نتائج ہیں اور مسلمان اس لیے ہندوؤں سے لڑتے ہیں کہ ان کو ارتداد یا اشاعت ارتداد کی سزا دیں غلط ہے۔ اس لیے کہ جیسا یہ اسلام کا مستحکم اصول ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ اسی طرح یہ بھی اسلام کا اصول ہے کہ اس سزا کو جاری کرنے کا اختیار سلطان اسلام کو ہے پس موجودہ حالت میں ہندوستان میں مرتد کی سزا قتل ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح تمام حدود اور قصاص یہاں جاری نہیں اسی طرح مرتد کی سزا بھی جاری نہیں اور نہ مسلمان اس پر قادر ہیں۔
اس پر مولانا ابوالکلام صاحب نے فرمایا کہ مولانا یہ تو فرمائیے کہ بعد سوراج کیا ہوگا؟ میں نے کہا کہ سوراج کے بعد واضعان قانون کے اختیارات کی جو نوعیت ہو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اگر سوراج کے بعد اسلامی قانون کی ترویج کا کوئی موقع ہوا تو یقیناً اس کے موافق احکام جاری ہوں گے اور نہ ہوا تو حالت جس کی مقتضی ہوگی وہ ہوگا۔
تبلیغ کے متعلق میں نے صاف کہہ دیا کہ اسلام کی بنیاد تبلیغ پر ہے اور اس کے خمیر میں تبلیغ داخل ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا تبلیغی مذہب ہے۔ اس کا دروازہ تمام دنیا کے لیے کھلا ہوا ہے اور اس کے دامن کے نیچے تمام بنی آدم آ سکتے ہیں۔ اس کو حق تبلیغ سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور ہندوستان کی موجودہ فضا میں مسلمانوں کو بھی یہ موقع نہیں کہ وہ کسی کو تبلیغ مذہب سے روک سکیں، ہاں جس طرح اسلام کی تبلیغ جبر و اکراہ، اطماع و خداع وغیرہ سے پاک ہے اسی طرح دوسرے بھی ان ذمائم سے علیحدہ رہ کر صرف تبلیغ کر سکتے ہیں۔ یہ ذمائم درحقیقت تبلیغ مذہب کے لیے نہیں بلکہ اغراض نفسانی کے لیے کام میں لائے جاتے ہیں۔
ان مضامین کو میں نے بھرے مجمع میں پوری بلند آہنگی اور وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا حتیٰ کہ سوامی شردھانند اور پنڈت مدن موہن مالویہ وغیرہ بڑے بڑے ہندوؤں نے بھی کہہ دیا کہ اب ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہاں پنڈت رام چندر جی نے کہا کہ کیوں صاحب اگر سلطان اسلام کے حکم کے بغیر کوئی مسلمان مرتد کو قتل کر دے تو اس کی کوئی سزا ہے؟ میں نے کہا ہاں وہ افتیات علی السلطان کے جریمہ کا مرتکب ہے اور اس کی سزا بادشاہ کی رائے پر ہے۔
ہاں! مفتی صادق قادیانی نے کہا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ اسلام ہر شخص کو ضمیر کی آزادی دیتا ہے تو اس پر مولانا حسین احمد صاحب نے نہایت بلند آہنگی سے اور میں نے بھی کہہ دیا کہ یہ آپ کی رائے ہے اسلامی اصول نہیں ہے۔ اسلام میں بیشک مرتد کی سزا قتل ہے۔
مولانا ! ایک ہفتے تک رات دن معاملات کو سلجھانے اور حقوق اسلامیہ و قومیہ کی حفاظت کی غرض سے کام کرنے میں جن دقتوں کا سامنا ہوا اس کا بیان مشکل ہے۔ جن حضرات نے دیکھا ہے وہی اندازہ کر سکتے ہیں۔ میں صرف اس قدر عرض کر سکتا ہوں کہ میری شرکت شخصی حیثیت سے تھی۔ اور اس کی تصریح بھی کر دی گئی تھی اور میں نے اپنی عقل فاتر و فہم قاصر اور اپنی بساط کے موافق مذہبی اور قومی حقوق کی حفاظت میں کوئی فروگذاشت نہیں کی۔ اپنوں سے بھی اور غیروں سے بھی پوری نبرد آزمائی ہوئی۔ ہاؤس میں تقریراً و بحثاً ہر طرح حقوق کی حفاظت کا مطمح نظر صرف یہ تھا کہ ہندوستان میں آپس کا نفاق اور جنگ و جدل بند ہو اور ہر فریق اپنی جگہ اپنے فرائض مذہبی میں آزاد ہو اور دوسروں کے لیے رکاوٹ نہ ڈالے۔ ہندوستان کی موجودہ حالت میں یہی ہماری پوزیشن ہے اور اس کو پیش نظر رکھ کر تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔ باوجود اس کے اگر مجھ سے کوئی غلطی یا فروگذاشت ہوئی ہو تو میں اس کے اعتراف کے لیے تیار ہوں۔ امید کہ جناب والا دعا سے فراموش نہ فرمائیں گے۔
(خاکسار محمد کفایت اللہ غفرلہ کفایت المفتی ج ۹ ص ۳۴۹ تا ۳۶۱)
مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھنے پر سزا کا گمراہ کن پروپیگنڈہ
سوال....... میرے ساتھ ایک عیسائی لڑکی پڑھتی ہے وہ اسلام میں دلچسپی رکھتی ہے میں اسے اسلام کے متعلق بتاتی ہوں لیکن جب میں نے اسے اسلام قبول کرنے کو کہا تو وہ کہنے لگی تمھارے یہاں تو کلمہ پڑھنے پر سخت سزا دی جاتی ہے اخبار میں بھی آیا تھا برائے مہربانی مجھے بتائیں میں اسے کیا جواب دوں۔
جواب....... اسے یہ جواب دیجئے کہ اسلام قبول کر کے کلمہ پڑھنے سے منع نہیں کرتے نہ اس پر سزا دی جاتی ہے البتہ وہ غیر مسلم جو منافقانہ طور پر اسلام کا کلمہ پڑھ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ان کو سزا دی جاتی ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۰۰)
وفاقی شرعی عدالت پاکستان کا حکم شرعی
سوال... محترم مفتی صاحب! السلام علیکم!
رسول اللہ ﷺ نے کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف اور صرف اسلام کی بقاء کے لیے قتال کا حکم دیا۔ خلفائے راشدین بھی اسی سنت رسول ﷺ پر عمل کرتے رہے۔ قتل کی سزا اس شخص کو دی جاتی ہے جو رسول اللہ ﷺ کو آخری پیغمبر تسلیم نہ کرے اور اپنی طرف سے کوئی متبادل پیغمبر تجویز کر دے لیکن وفاقی شرعی عدالت نے قادیانیوں کے لیے موت کی شرعی سزا تجویز نہیں کی ہے۔ مندرجہ بالا ٹھوس حقیقت کے پیش نظر وفاقی شرعی عدالت کا قادیانیوں کی تردید رسالت کے ناقابل معافی جرم کو نظر انداز کر دینا۔ توہین سنت اور توہین خلفائے راشدین ہے۔ اگر ہم وفاقی شرعی عدالت کی اس توہین سنت اور توہین خلفائے راشدین کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کرتے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کو لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف جانا ہے۔ فقط والسلام
الجواب..... وباللہ التوفیق: قادیانیوں کا تردید رسالت کا جرم ناقابل معافی جرم ہے اس کو نظر انداز کرنا شرعاً
ہرگز جائز نہیں ہے اور ایسے مجرم کو شرعاً ثبوت جرم ہو جانے کے بعد سزائے موت دے دینا توہین سنت اور توہین خلفائے راشدین نہیں ہے بلکہ سنت صدیق کے عین مطابق ہوگا۔ کما یظھر من ھذہ العبارۃ، فقاتلھم ابوبکر قتل اللّٰہ مسیلمۃ بالیمامۃ والاسود العنسی بصنعاء۔
(نووی شرح مسلم ج۱ ص ۳۸)
اور اس سنت صدیق کی اور ان دونوں مجرموں کے کیفر کردار تک پہنچنے اور پہنچانے کی مزید کیفیت و تفصیل (البدایۃ والنہایۃ کی جلد ششم کے ص ۳۰۵ اور ص ۳۴۰) پر دیکھی جا سکتی ہے۔ لہٰذا شرعی ضابطہ سے قابو پانے کے بعد کوتاہی کرنا عند اللّٰہ ناقابل معافی جرم ہوگا اور آخرت میں جواب دہی بھاری ہو جائے گی اور حضرت رسول اللّٰہ ﷺ کو منہ دکھانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم
کتبہ العبد! نظام الدین مفتی دارالعلوم دیوبند ۱۴۱۱/۵/۱۷ھ
(نظام الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۰)
آئین پاکستان میں گستاخی رسول ﷺ ایکٹ میں ترمیم کا حکم
سوال...... جناب مفتی صاحب! پاکستانی آئین میں رسول اللّٰہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے جس میں اب ارباب اقتدار ترمیم کر کے اس سزا کو کم یا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیا شرعاً ارباب اقتدار کو یہ سزا کم یا ختم کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور جو شخص کسی گستاخ رسول ﷺ کے کفر میں شک کرے تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
الجواب...... پیغمبر خدا ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ کہنا ایک ناقابل معافی جرم ہے اس لیے علماء امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ گستاخ رسول مرتد اور واجب القتل ہے۔ فتاویٰ شامیہ میں ہے کہ اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر (ج ۳ ص ۳۱۷ باب المرتد) یعنی نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللّٰہ) گالی دینا بالا جماع کفر ہے اور الدر المختار میں ہے صح فی آخر الشفاء بان حکمہ کالمرتد، یعنی نبی کریم ﷺ کے گستاخ کا حکم مرتد کا ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری کیے جائیں گے۔
(الدر المختار علی ہامش ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۸ باب المرتد)
قال العلامۃ ابن عابدینؒ: قال ابوبکر بن المنذر اجمع عوام اھل العلم علی ان من سبّ النبی ﷺ یقتل وممن قال ذلک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق و مذہب الشافعی وھو مقتضی قول ابی بکر ولا تقبل توبتہ عند ھؤلاء وبمثلہ قال ابو حنیفۃ واصحابہ والثوری واھل الکوفۃ والاوزاعی فی المسئلۃ لکنھم قالوا ھی ردۃ وروی مثلہ الولید بن مسلم عن مالک وروی الطبرانی مثلہ عن ابی حنیفۃ واصحابہ فیمن ینتقصہ ﷺ او برئ منہ او کذبہ اھ۔ وحاصل انہ نقل الاجماع علی کفر ساب ثم نقل عن مالک ومن ذکر بعدہ انہ لا تقبل توبتہ فعلم ان المراد من نقل الاجماع علی قتلہ قبل التوبۃ ثم قال و بمثلہ قال ابوحنیفۃ واصحابہ الخ قال انہ یقتل لعینہ قبل التوبۃ لا مطلقا الخ.
(ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۸ باب المرتد)
حاصل ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کا گستاخ بالا جماع کافر، مرتد اور واجب القتل ہے ہاں اختلاف اس میں ہے کہ گستاخ رسول ﷺ توبہ سے قتل سے بچ جاتا ہے یا نہیں! نیز (ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۷) میں ہے: اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر و حکمہ القتل ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر، یعنی گستاخ رسول ﷺ کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرتا ہو وہ بھی کافر ہے۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ اہانت النبی ﷺ
بالاجماع کافر اور مرتد ہے۔
(ج ۲ ص ۲۶۳ باب المرتد)
ان حوالہ جات مذکورہ اور عبارت مسطورہ سے واضح ہوا کہ گستاخ رسول بالاجماع کافر اور مرتد ہے اس کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر اور خارج عن الاسلام ہے، اور مرتد کی سزا قتل ہے لہٰذا گستاخ رسول ﷺ کی سزا بھی قتل ہی ہے۔ حدیث میں ہے: من بدل دينه فاقتلوه۔ (الدر المختار ج ۳ ص ۳۱۳ باب المرتد ...... بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴) نیز احیاء العرب لما ارتدت بعد وفات النبی ﷺ اجمعت الصحابة على قتلهم (ج ۷ ص ۱۳۴) اور (رسائل ابن عابدین ج نمبر ۱ ص ۳۱۸ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ) میں ہے ۔ اعلم ان المرتد يقتل بالاجماع كما مر يعنى اس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہی ہے۔
راقم الحروف کہہ رہا ہے کہ اس سے پہلے یہ گزر چکا ہے کہ امت کا اس پر بھی اجماع ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کافر اور مرتد ہے۔ نیز العقود الدرية فى تنقيح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے: فمن سب النبی ﷺ او احد من الانبیاء صلوات اللہ علیہم وسلامہ فانہ يكفر و يجب قتله شاتم النبی ﷺ او نبی من الانبیاء علیهم الصلوة والسلام کافر اور مرتد ہے اور دونوں واجب القتل ہیں۔ (ج ۱ ص ۱۰۴ باب المرتد) وقال ابن نجيم: كل من ابغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتد افالساب بطريق الاولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته فى اسقاطه القتل. (البحر الرائق ج ۵ ص ۱۲۵، ۱۲۶ باب المرتد) یعنی جو شخص پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ بغض رکھے یا آپ ﷺ کو سب وشتم کرے تو وہ شخص کافر، مرتد اور واجب القتل ہے اور کفایت المفتی میں ہے کہ جناب رسالت مآب روحی فداہ ﷺ یا ام المؤمنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان رفیع میں گستاخی کرنے والا یا کسی گستاخی کرنے والے سے ناراض نہ ہونے والا کافر ہے۔ فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین اس پر متفق ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔ (ج ۱ ص ۷۱ باب المرتد) اور فتاویٰ محمودیہ میں ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں (نعوذ باللہ، استغفر اللہ) گالی بکے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس کو چاہیے کہ فوراً توبہ اور تجدید اسلام وتجدید نکاح لازم ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔ (ج ۱۲ ص ۱۶۲) اور امداد الفتاویٰ میں ہے: ”اہانت و گستاخی کردہ جناب انبیاء علیہم السلام کفر است“ (ج ۵ ص ۳۹۱ باب العقائد) اور (فتاویٰ دارالعلوم دیو بند ج ۲ ص ۳۵۹ باب المرتد) میں ہے کہ ”سب النبی کفر ہے“ اور الاشباہ والنظائر میں ہے: لاتصح ردة السكران الا الردة بسبب النبي ﷺ فانه يقتل ولا يعفى عنه. كذافى البزازية كل كافر تاب فتوبة مقبولة في الدنيا و الآخرة الا جماعة الكافر بسبب النبی ﷺ و سائر الانبیاء ۔ یعنی سب النبی کفر ہے اگرچہ حالت سکر میں ہو اور ساب النبی کی توبہ قبول نہیں۔ (ص ۱۰۰) نیز فتاویٰ بزازیہ علی ہامش الہندیہ میں ہے کہ استخفاف النبی ﷺ کفر ہے۔ (ج ۶ ص ۳۳۸) اور فتاویٰ قاضی خان علی ہامش الہندیہ میں ہے: اذا عاب الرجل النبي عليه السلام في شئ كان كافرا. الى قوله و يكفر فى الخلاصة ان شتم النبی ﷺ کفر. (ج ۳ ص ۵۷۴) یعنی استخفاف و اہانت النبی ﷺ اور نبی کریم ﷺ کو گالی دینا کفر و ارتداد ہے۔
(فتاوی حقانیہ ج ۲ ص ۳۷۴ تا ۳۷۷)
۞ ۞ ۞
باب اوّل
کتاب الصلوٰۃ
مرزائی اور تعمیر مسجد
سوال ...... کیا غیر مسلم اپنی عبادت گاہ تعمیر کر کے اس کا نام مسجد رکھ سکتا ہے؟
جواب ...... مسجد کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں اور اسلام کی اصطلاح میں مسجد اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لیے وقف کر دی جائے۔ ملا علی قاریؒ ”شرح مشکوٰۃ“ میں لکھتے ہیں۔ والمسجد لغة محل السجود و شرعاً المحل الموقوف للصلوة فيه.
(مرقاة الفاتیح ج ۲ ص ۱۸۲، باب المساجد وموضع الصلوٰۃ)
”مسجد لغت، میں سجدہ گاہ کا نام ہے اور شریعت اسلام کی اصطلاح میں وہ مخصوص جگہ جو نماز کے لیے وقف کر دی جائے۔“
مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے
مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ”مسجد“ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے۔
ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع وبيع وصلوات و مساجد يذكر فيها اسم الله كثيراً.
(الحج: ۴۰)
”اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوت خانے، عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرا دی جاتیں۔“
اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ صوامع سے راہبوں کے خلوت خانے ”بیع“ سے نصاریٰ کے گرجے، ”صلوات“ سے یہودیوں کے عبادت خانے اور ”مساجد“ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔
امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ”احکام القرآن“ میں لکھتے ہیں۔
وذهب خصيف الى ان القصد بهذه الاسماء تقسيم متعبدات الامم. فالصوامع للرهبان والبيع للنصارى والصلوات لليهود والمساجد للمسلمين.
(ص ۱۲/۷۲ دارالکاتب العربی، القاهره)
”امام خصیفؒ فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذکر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے۔ چنانچہ ”صوامع“ راہبوں کی، ”بیع“ عیسائیوں کی، ”صلوات“ یہودیوں کی اور ”مساجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔
اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ”تفسیر مظہری“ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذکر
کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ومعنى الآية: لولا دفع الله الناس لهدمت في كل شريعة نبي مكان عبادتهم فهدمت في زمن موسى الكنائس وفي زمن عيسى البيع والصوامع وفي زمن محمد ﷺ المساجد.
(مظہری ج ۶ ص ۳۲۳، ندوۃ المصنفین، دہلی)
”آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو ان کی عبادت گاہ تھی اسے گرا دیا جاتا چنانچہ موسیٰ ؑ کے زمانہ میں کنیسے، عیسیٰ ؑ کے دور میں گرجے اور خلوت خانے اور محمد ﷺ کے زمانے میں مسجدیں گرا دی جاتیں۔“
یہی مضمون (تفسیر ابن جریر ص ۱۱۴/ ۱۹، تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابن جریر ص ۶۳ / ۱۹، تفسیر خازن ص ۲۹۱ / ۳، تفسیر بغوی ص ۵۹۴ / ۵ ، برحاشیہ ابن کثیر اور تفسیر روح المعانی ص ۱۶۴/ ۱۷) وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت اور حضرات مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ”مسجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور یہ نام دیگر اقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداءِ اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے علاوہ کسی غیر مسلم فرقہ کی عبادت گاہ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ”غیر مسلم فرقہ“ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔
مسجد اسلام کا شعار ہے جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص ہو وہ اس کا شعار اور اس کے تشخص کی خاص علامت سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ مسجد بھی اسلام کا خصوصی شعار ہے۔ یعنی کسی قریہ، شہر یا محلہ میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔ امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں ۔
فضل بناء المسجد و ملازمته وانتظار الصلوة فيه ترجع الى انه من شعائر الاسلام وهو قوله ﷺ اذا رايتم مسجداً، او سمعتم مؤذناً فلا تقتلوا احداً وانه محل الصلوة ومعتكف العابدين ومطرح الرحمة و يشبه الكعبة من وجه.
(حجۃ اللہ البالغہ ج ۱ ص ۱۹۲، نور محمد کتب خانہ کراچی)
”مسجد بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو یا وہاں مؤذن کی اذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اذان کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں) اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اعتکاف کا مقام ہے۔ وہاں رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔“
اگر فوج کا شعار غیر فوجی کو اپنانا جرم ہے اور حج کا شعار کسی دوسرے شخص کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو یقیناً اسلام کا شعار بھی کسی غیر مسلم کو اپنانے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر غیر مسلموں کو کسی اسلامی شعار مثلاً تعمیر مسجد اور اذان کی اجازت دی جائے تو اسلام کا شعار مٹ جاتا ہے اور مسلم و کافر کا امتیاز اٹھ جاتا ہے۔ اسلام اور کفر کے نشانات کو ممتاز کرنے کے لیے جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان کفر کے کسی شعار کو نہ اپنائیں ۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ غیر مسلموں کو کسی اسلامی شعار کے اپنانے کی اجازت نہ دی جائے۔
تعمیر مسجد عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں
نیز مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اسلامی عبادت ہے۔ اور کافر اس کا اہل نہیں چونکہ کافر میں تعمیر مسجد کی اہلیت
ہی نہیں، اس لیے اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہو سکتی۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد ہے۔
ماکان للمشركين ان يعمروا مساجد الله شهدين على انفسهم بالكفر. اولئك حبطت عمالهم وفى النار هم خالدون.
(التوبہ ۱۷)
”مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں درآں حالانکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے عمل اکارت ہو چکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔“
اس آیت میں چند چیزیں توجہ طلب ہیں۔ اوّل یہ کہ یہاں مشرکین کو تعمیر مسجد کے حق سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ وہ کافر ہیں، شهدين على انفسهم بالكفر ”اور کوئی کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں۔“ گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیر مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائد کفر کا اقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیر مسجد کے اہل نہیں، نہ انھیں اس کا حق حاصل ہے۔
امام ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفی (م۳۷۰ھ) لکھتے ہیں ۔
عمارة المسجد تكون بمعنيين احدهما زيارته والكون فيه والآخر ببنائه و تجديد ما استرم منه. فاقتضت الآية منع الكفار من دخول المسجد ومن بنائها و تولى مصالحها والقيام بها لانتظام اللفظ لامرين.
(احکام القرآن ص ۲۸۷ ج ۳، سہیل اکیڈمی لاہور)
”یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں ایک مسجد کی زیارت کرنا اس میں رہنا اور بیٹھنا دوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اصلاح کرنا، پس یہ آیت اس امر کی متقاضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہوسکتا ہے نہ اس کا بانی و متولی اور خادم بن سکتا ہے کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیر ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔“
دوم: اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا کافر ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ”کافر“ کہتے ہیں کیونکہ دنیا میں کوئی کافر بھی اپنے آپ کو ”کافر“ کہنے کے لیے تیار نہیں بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کا برملا اعتراف کرتے ہیں جنھیں اسلام، عقائد کفر قرار دیتا ہے یعنی ان کا کفریہ عقائد کا اظہار اپنے آپ کو کافر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے۔
سوم: قرآن کریم کے اس دعویٰ پر کہ کسی کافر کو اپنے عقائد کفریہ پر رہتے ہوئے تعمیر مسجد کا حق حاصل نہیں۔ یہ سوال ہو سکتا تھا کہ کافر تعمیر مسجد کی اہلیت سے کیوں محروم ہیں؟ اگلے جملہ میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ اولئک حبطت اعمالهم کہ ”ان لوگوں کے عمل اکارت ہیں۔“ چونکہ کفر سے انسان کے تمام نیک اعمال اکارت اور ضائع ہو جاتے ہیں اس لیے کافر نہ صرف تعمیر مسجد کا بلکہ کسی بھی عبادت کا اہل نہیں۔ یہ کفر کی دنیوی خاصیت تھی اور آگے اس کی اخروی خاصیت بیان کی گئی ہے۔ وفى النار هم خالدون ”کہ کافر اپنے کفر کی بنا پر دائمی جہنم کے مستحق ہیں۔“ اس لیے ان کی اطاعت و عبادت کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ پس یہ آیت اس مسئلہ میں نص قطعی ہے کہ غیر مسلم کافر تعمیر مسجد کے اہل نہیں اس لیے انھیں تعمیر مساجد کا حق حاصل نہیں۔ اس سلسلہ میں حضرات مفسرین کی چند تصریحات حسب ذیل ہیں۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبریؒ لکھتے ہیں۔
يقول ان المساجد انما تعمر لعبادة الله فيها. لا للكفر به فمن كان بالله كافر أفليس من
شاہد ان یعمر مساجد الله۔
(تفسیر ابن جریر ص ۸۳ ج ۱۰ دار الفکر بیروت)
”حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لیے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ کفر کے لیے تو تعمیر نہیں کی جاتی پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔“
امام عربیت جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری (م ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں ۔
و المعنى ما استقام لهم ان يجمعوا بين امرين متنافيين عمارة متعبدات الله مع الكفر بالله و بعبادته ومعنى شهادتهم على انفسهم بالكفر ظهور كفرهم.
(تفسیر کشاف، ص ۲۵۳ ج ۲)
”مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے کسی طرح درست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔“
امام فخر الدین رازی (م ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں۔
قال الواحدى دلت على ان الكفار ممنوعون من عمارة مسجد من مساجد المسلمين ولو اوصى بها لم تقبل وصيته.
(تفسیر کبیر، ص ۷ ج ۱۶ مطبوعہ مصر )
”واحدیؒ فرماتے ہیں۔ یہ آیت اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔“
امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی (م ۶۷۱ھ) لکھتے ہیں۔
فيجب اذا على المسلمين تولى احكام المساجد و منع المشركين من دخولها.
(تفسیر قرطبی ص ۸۹ ج ۸ دارالکاتب العربی القاہرة)
”مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انتظام مساجد کے متولی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔“
امام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (م ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں۔
اوجب الله على المسلمين منعهم من ذالك لان المساجد انما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافراً بالله فليس من شانه ان يعمرها. فذهب جماعة الى ان المراد منه العمارة المعروفة من بناء المسجد و مرمته عند الخراب فيمنع منه الكافر حتى لو اوصى به لا يمتثل. وحمل بعضهم العمارة ههنا على دخول المسجد والقعود فيه.
(تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج ۲ ص ۷۰، پر مطبوعہ بمبئی)
”اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیر معروف ہے یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست و ریخت کی اصلاح و مرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کر کے مرے تو پوری نہیں کی جائے گی اور بعض نے عمارۃ کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔“
شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (م ۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلہ کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔
مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں۔
فانه يجب على المسلمين منعهم من ذالك لان مساجد الله انما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافراً بالله فليس من شانه ان يعمرها.
(تفسیر مظہری ص ۱۴۶ ج ۴ ندوۃ المصنفین دہلی)
”چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مساجد ہیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کہ کافر ہو وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔“
اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (م ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں۔
”اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بنا دے اس کو منع کریئے۔“
(موضح قرآن)
ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔
تعمیر مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے
قرآن کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں۔ وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیر مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔
انما یعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر. واقام الصلوٰۃ واتى الزکوٰۃ ولم يخش الا الله فعسى اولئک ان يكونوا من المهتدين.
(التوبہ ۱۸)
”اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نماز ادا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ پس ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔“
اس آیت میں جن صفات کا ذکر فرمایا وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دین محمدی پر ایمان رکھتا ہو اور کسی حصہ دین کا منکر نہ ہو اسی کو تعمیر مسجد کا حق حاصل ہے۔ غیر مسلم فرقے جب تک دین اسلام کی تمام باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تعمیر مسجد کے حق سے محروم رہیں گے۔
غیر مسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ”مسجد ضرار“ ہے
اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کبھی کسی غیر مسلم نے یہ جرأت نہیں کی کہ اپنا عبادت خانہ ”مسجد“ کے نام سے تعمیر کرے۔ البتہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بعض غیر مسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی جو ”مسجد ضرار“ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت ﷺ کو وحی الٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا۔ قرآن کریم کی آیات ذیل اسی واقعہ سے متعلق ہیں۔
والذین اتخذوا مسجداً ضراراً و كفراً و تفریقاً بين المؤمنين وارصاداً لمن حارب الله ورسوله من قبل و ليحلفن ان اردنا الا الحسنى والله يشهد انهم لكذبون لاتقم فيه ابداً. الى قوله لايزال بنيانهم الذى بنوا ريبة فى قلوبهم الا ان تقطع قلوبهم والله عليم حكيم.
(التوبہ ۱۰۷۔۱۱۰)
”اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہل ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ و رسول کے دشمن کے لیے ایک کمین گاہ بنائیں اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ ﷺ اس میں کبھی
قیام نہ کیجیے ان کی یہ عمارت جو انھوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دل کا کانٹا بنی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔“
ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ
- ا...... کسی غیر مسلم گروہ کی اسلام کے نام پر تعمیر کردہ ”مسجد“ ، ”مسجد ضرار“ کہلائے گی۔
- ب....... غیر مسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسب ذیل ہوں گے ۔
- ۱....... اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔
- ۲....... عقائد کفر کی اشاعت کرنا ۔
- ۳....... مسلمانوں کی جماعت میں انتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا ۔
- ۴....... خدا اور رسول کے دشمنوں کے لیے ایک اڈہ بنانا۔
- ج....... چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابل برداشت ہیں اس لیے حکم دیا گیا کہ ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کر دیا
جائے ۔ تمام مفسرین اور اہل سیر نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم سے ”مسجد ضرار“ منہدم کر دی گئی اور اسے نذر آتش کر دیا گیا۔ مرزائی منافقوں کی تعمیر کردہ نام نہاد مسجدیں بھی ”مسجد ضرار“ ہیں اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو آنحضرت ﷺ نے ”مسجد ضرار“ سے روا رکھا تھا۔
کافر ناپاک ، اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع
یہ امر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ قرآن کریم نے کفار و مشرکین کو ان کے ناپاک اور گندے عقائد کی بنا پر نجس قرار دیا ہے۔ اور اس معنوی نجاست کے ساتھ ان کی آلودگی کا تقاضا یہ ہے کہ مساجد کو ان کے وجود سے پاک رکھا جائے ۔ ارشاد خداوندی ہے ۔
يايها الذين امنوا انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا. (توبہ ۲۸) ”اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں ۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
امام ابو بکر جصاص رازی (م۳۷۰ھ) لکھتے ہیں ۔
اطلاق اسم النجس على المشرک من جهة ان الشرك الذي يعتقده يجب اجتنابه كما يجب اجتناب النجاسات والاقذار فلذالک سماهم نجسا. والنجاسة فى الشرع تصرف على وجهين احدهما نجاسة الاعيان والآخر نجاسة الذنوب وقد افاد قوله انما المشرکون نجس منعهم عن دخول المسجد الا لعذر. اذ كان علينا تطهير المساجد من الانجاس.
(احکام القرآن ص ۱۰۸ ج ۳، سہیل اکیڈمی لاہور)
”مشرک پر ”نجس“ کا اطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا، اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے ۔ اسی لیے ان کو نجس کہا اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک نجاست جسم ، دوم نجاست گناہ....... اور ارشاد خداوندی ”انما المشرکون نجس“ بتاتا ہے، کہ کفار کو دخول مسجد سے باز رکھا جائے گا۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔“
امام محی السنۃ بغوی (م ۵۱۶ھ) معالم التنزیل میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں۔
( جملة بلاد الاسلام فى حق الكفار على ثلاثة اقسام. احدها الحرم فلا يجوز للكافر ان يدخله بحال ذميا كان او مستامنا بظاهر هذه الآية...... وجوز اهل الكوفة للمعاهد دخول الحرم دون الحربى والقسم الثانى من بلاد الاسلام الحجاز فيجوز للكافر دخولها بالاذن. ولكن لايقيم فيها اكثر من مقام السفر . وهو ثلاثة ايام...... والقسم الثالث سائر بلاد الاسلام يجوز للكافر ان يقيم فيها بذمة او امان. ولكن لا يدخلون المساجد الا باذن مسلم.
(تفسير بغوی ص ۷۵ ج ۲، مطبوعہ اچھورہ، بمبئی)
”اور کفار کے حق میں تمام اسلامی علاقے تین قسم پر ہیں۔ ایک حرم مکہ پس کافر کو اس میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں، خواہ کسی اسلامی مملکت کا شہری ہو یا امن لے کر آیا ہو، کیونکہ ظاہر آیت کا یہی تقاضا ہے۔ اور اہل کوفہ نے ذمی کے لیے حرم میں داخل ہونے کو جائز رکھا ہے۔ اور دوسری قسم حجاز مقدس ہے، پس کافر کے لیے اجازت لے کر حجاز میں داخل ہونا جائز ہے۔ لیکن تین دن سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور تیسری قسم دیگر اسلامی ممالک ہیں، ان میں کافر کا مقیم ہونا جائز ہے بشرطیکہ ذمی ہو یا امن لے کر آئے، لیکن وہ مسلمانوں کی مسجدوں میں مسلمان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے۔“
اس سلسلہ میں دو چیزیں خاص طور سے قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ آیت میں صرف مشرکین کا حکم ذکر کیا گیا ہے مگر مفسرین نے اس آیت کے تحت عام کفار کا حکم بیان فرمایا ہے کیونکہ کفر کی نجاست سب کافروں کو شامل ہے۔ دوم یہ کہ کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں تو اختلاف ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک کسی مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز نہیں۔ امام شافعیؒ کے نزدیک مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کفار کو مسلمان کی اجازت سے داخل ہونا جائز ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بوقت ضرورت ہر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔ (روح المعانی ص ۱۱/۶۹) لیکن کسی کافر کا مسجد کا بانی، متولی یا خادم ہونا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد ۹ھ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے انھیں مسجد کے ایک جانب ٹھہرایا اور مسجد نبوی ہی میں انھوں نے اپنی نماز بھی ادا کی۔
حافظ ابن قیم (م ۷۵۱ھ) اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
فصل فی فقه هذه القصة ففيها جواز دخول اهل الكتاب مساجد المسلمين. وفيها تمكين اهل الكتاب من صلاتهم بحضرة المسلمين وفي مساجدهم ايضاً. اذا كان ذالك عارضاً ولا يمكنوا من اعتياد ذالك.
(زاد المعاد، ص ۲۳۸، ج ۳، مطبوعہ مکتبۃ المنار الاسلامیہ کویت)
”فصل اس قصہ کے فقہ کے بیان میں، پس اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب کا مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونا جائز ہے اور کہ ان کو مسلمانوں کی موجودگی میں اپنی عبادت کا موقع دیا جائے گا اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی۔ جبکہ یہ ایک عارضی صورت ہو لیکن ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس کو اپنی مستقل عادت ہی بنالیں۔“
اور قاضی ابوبکر ابن العربی (م ۵۴۳ھ) لکھتے ہیں۔
دخول ثمامة في المسجد فى الحديث الصحيح. ودخول ابي سفيان فيه على الحديث الآخر كان قبل ان ينزل. يا ايها الذين امنوا انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا. فمنع الله المشركين من دخول المسجد الحرام نصاً. ومنع دخول سائر المساجد
تعلیلاً بالنجاسة و لوجوب صيانة المسجد عن کل نجس وهذا كله ظاهر لا خفاء به.
(احکام القرآن ص ۲/۹۰۲ دارالمعرفۃ بیروت)
”ثمامہ کا مسجد میں داخل ہونا اور دوسری حدیث کے مطابق ابوسفیان کا اس میں داخل ہونا، اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ ’اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں پس اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘ پس اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے صاف صاف منع کر دیا اور دیگر مساجد سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ناپاک ہیں اور چونکہ مسجد کو نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے اس لیے کافروں کے ناپاک وجود سے بھی اس کو پاک رکھا جائے گا اور یہ سب کچھ ظاہر ہے جس میں ذرا بھی خفا نہیں۔“
منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے
جو شخص مرزائیوں کی طرح عقیدہ رکھنے کے باوجود اسلام کا دعویٰ کرتا ہو وہ اسلام کی اصطلاح میں منافق ہے اور منافقین کے بارے میں یہ حکم ہے کہ انھیں مسجدوں سے نکال دیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا ”اے فلاں اٹھ، یہاں سے نکل جا کیونکہ تو منافق ہے۔ او فلاں! تو بھی اٹھ، نکل جا، تو منافق ہے۔“ اس طرح آپ ﷺ نے ایک ایک کا نام لے کر ۳۶ آدمیوں کو مسجد سے نکال دیا۔ حضرت عمرؓ کو آنے میں ذرا دیر ہوگئی تھی چنانچہ وہ اس وقت آئے جب یہ منافق مسجد سے نکل رہے تھے تو انھوں نے خیال کیا کہ شاید جمعہ کی نماز ہوچکی ہے اور لوگ نماز سے فارغ ہو کر واپس جا رہے ہیں لیکن جب اندر گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی، مسلمان ابھی بیٹھے ہیں۔ ایک شخص نے بڑی مسرت سے حضرت عمرؓ سے کہا ”اے عمر! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آج منافقوں کو ذلیل و رسوا کر دیا اور آنحضرت ﷺ نے نام لے لے کر بیک بینی و دو گوش انھیں مسجد سے نکال دیا۔“
(تفسیر روح المعانی ص ۱/۱۱۰)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو غیر مسلم فرقہ منافقانہ طور پر اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اس کو مسجدوں سے نکال دینا ہی سنت نبوی ﷺ ہے۔
منافقوں کی مسجد، مسجد نہیں فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم مرتد کا ہے۔ اس لیے نہ تو انھیں مسجد بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو مسجد کا حکم دیا جاسکتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں۔
ولو بنوا مسجداً لم يصر مسجداً ففى تنوير الابصار من وصايا الذمى وغيره و صاحب الهوى اذا كان لا يكفر فهو بمنزلة المسلم فى الوصية وان كان يكفر فهو بمنزلة المرتد.
(اکفار الملحدین طبع جدید ص ۱۲۸)
”ایسے لوگ اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی۔ چنانچہ ”تنویر الابصار“ کے وصایا ذمی وغیرہ میں ہے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی اگر حد کفر کو پہنچی ہوئی نہ ہو تب تو وصیت میں ان کا حکم مسلمان جیسا ہے اور اگر حد کفر کو پہنچی ہوئی ہو تو بمنزلہ مرتد کے ہیں۔“
منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط
یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ کسی گمراہ فرقے کا دعویٰ اسلام کرنا یا اسلامی کلمہ پڑھنا، اس امر کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام عقائد سے توبہ کا اعلان
کرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔
چنانچہ حافظ بدر الدین عینیؒ عمدۃ القاری شرح بخاری میں لکھتے ہیں۔ يجب عليهم ايضا عند الدخول فى الاسلام ان يقروا ببطلان ما يخالفون به المسلمين فى الاعتقاد بعد اقرارهم بالشهادتين.
(ص ۱۴۵، الجزء الرابع مطبوعہ دار الفکر)
”ان کے ذمہ یہ بھی لازم ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے توحید و رسالت کی شہادت کے بعد ان تمام عقائد و نظریات کے باطل ہونے کا اقرار کریں جو وہ مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں۔“
اور حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری شرح بخاری میں قصہ اہل نجران کے ذیل میں لکھتے ہیں۔ وفى قصة اهل نجران من الفوائد ان اقرار الكافر بالنبوة لا يدخله فى الاسلام حتى يلتزم احکام الاسلام.
(صفحہ ۷۴ ج ۸ دار النشر الکتب الاسلامیہ لاہور)
”قصہ اہل نجران سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار اسے اسلام میں داخل نہیں کرتا، جب تک کہ احکام اسلام کو قبول نہ کرے۔“
علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں۔ لا بد مع الشهادتين فى العيسوى من ان يتبرأ من دينه۔
(ردالمحتار ص ۲۵۹ / ۱ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
”عیسوی فرقہ کے مسلمان ہونے کے لیے اقرار شہادتین کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے برأت کا اعلان کرے۔“
ان تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی فرقہ اس وقت تک مسلمان تصور نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اہل اسلام کے عقائد کے صحیح اور اپنے عقائد کے باطل ہونے کا اعلان نہ کرے۔ ورنہ اگر وہ اپنے عقائد کفر کو صحیح سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد کو غلط تصور کرتا ہے تو اس کی حیثیت مرتد کی ہے اور اسے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی حیثیت سے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
کسی غیر مسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا
اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے کہ کیا کوئی غیر مسلم اپنی عبادت گاہ (مسجد کے نام سے نہ سہی لیکن) وضع و شکل میں مسجد کے مشابہ بنا سکتا ہے؟ کیا اسے یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں قبلہ رخ محراب بنائے، مینار بنائے اس پر منبر رکھے اور وہاں اسلام کے معروف طریقہ پر اذان دے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: ”وہ تمام امور جو عرفاً و شرعاً مسلمانوں کی مسجد کے لیے مخصوص ہیں، کسی غیر مسلم کو ان کے اپنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس لیے کہ اگر کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر تعمیر کی گئی ہو، مثلاً اس میں قبلہ رخ محراب بھی ہو، مینار اور منبر بھی ہو، وہاں اسلامی اذان اور خطبہ بھی ہوتا ہو تو اس سے مسلمانوں کو دھوکا اور التباس ہوگا۔ ہر دیکھنے والا اس کو ”مسجد“ ہی تصور کرے گا۔ جبکہ اسلام کی نظر میں غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد نہیں بلکہ مجمع شیاطین ہے۔“
(شامی ۳۸۰ /۱ مطلب، تکره الصلوۃ فی الکنیسة، ایچ ایم سعید کراچی، البحر الرائق ص ۲۱۴ / ۷ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)
حافظ ابن تیمیہ (م ۷۲۸ھ) سے سوال کیا گیا کہ آیا کفار کی عبادت گاہوں کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں فرمایا:
ليست بيوت الله وانما بيوت الله المساجد بل هى بيوت يكفر فيها بالله وان كان قد يذكر فيها. فالبيوت بمنزلة اهلها واهلها كفار فهى بيوت عبادة الكفار.
(فتاویٰ ابن تیمیہ ۱۱۲ ج ۱ مطبوعہ مصر قدیم)
”یہ بیت اللہ نہیں، بیت اللہ مسجدیں ہیں۔ یہ تو وہ مقامات ہیں جہاں کفر ہوتا ہے اگرچہ ان میں بھی ذکر ہوتا ہو۔ پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے۔ ان کے بانی کافر ہیں، پس یہ کافروں کی عبادت گاہیں ہیں۔“
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰ھ) ”مسجد ضرار“ کے بارے میں نقل کرتے ہیں ۔ عمد ناس من اهل النفاق فابتنوا مسجداً بقباء ليضاهوا به مسجد رسول ﷺ.
(تفسیر ابن جریر ۱۱/۲۵ مطبوعہ مصر)
”اہلِ نفاق میں سے چند لوگوں نے یہ حرکت کی کہ قبا میں ایک مسجد بنا ڈالی جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد سے مشابہت کریں۔“
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے منافقانہ طور پر ”مسجد ضرار“ بنائی تھی ان کا مقصد یہی تھا کہ اپنی نام نہاد مسجد کو اسلامی مساجد کے مشابہ بنا کر مسلمانوں کو دھوکا دیں لہٰذا غیر مسلموں کی جو عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر ہوگی وہ ”مسجد ضرار“ ہے۔ اور اس کا منہدم کر دینا لازم ہے۔ علاوہ ازیں فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں کا لباس اور ان کی وضع قطع مسلمانوں سے ممتاز ہونی چاہیے۔ (یہ مسئلہ فقہ اسلامی کی ہر کتاب میں باب احکام اہل الذمہ کے عنوان کے تحت موجود ہے)
چنانچہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ملک شام کے عیسائیوں سے جو عہد نامہ لکھوایا تھا، اس کا پورا متن (امام بیہقی کی سنن کبری (۹-۲۰۲) اور کنز العمال ج چہارم ص ۵۰۲، میں حدیث نمبر ۱۱۴۹۳) کے تحت درج ہے۔ اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں ۔
ولا نتشبه بهم فى شى من لباسهم من قلنسوة ولا عمامة ولا نعلين ولا فرق شعر. ولا نتكلم بكلامهم ولا نكتنى بكناهم.
”اور ہم مسلمانوں کے لباس اور ان کی وضع قطع میں ان کی مشابہت نہیں کریں گے۔ نہ ٹوپی میں، نہ دستار میں، نہ جوتے میں، نہ سر کی مانگ نکالنے میں اور ہم مسلمانوں کے کلام اور اصطلاحات میں بات نہیں کریں گے اور نہ ان کی کنیت اپنائیں گے۔“
اندازہ فرمائیے جب لباس، وضع قطع، ٹوپی، دستار، پاؤں کے جوتے اور سر کی مانگ تک میں کافروں کی مسلمانوں سے مشابہت گوارا نہیں کی گئی تو اسلام یہ کس طرح برداشت کر سکتا ہے کہ غیر مسلم کافر، اپنی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجد کی شکل و وضع پر بنانے لگے۔
مسجد کا قبلہ رخ ہونا اسلام کا شعار ہے
اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ مسجد اسلام کا بلند ترین شعار ہے۔ ”مسجد“ کے اوصاف و خصوصیت پر الگ الگ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ایک ایک چیز مستقل طور پر بھی شعار اسلام ہے۔ مثلاً استقبالِ قبلہ کو لیجئے، مذاہبِ عالم میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس کی اہم ترین عبادت ”نماز“ میں بیت اللہ شریف کی طرف منہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے استقبالِ قبلہ کو اسلام کا خصوصی شعار قرار دے کر اس شخص
کے جو ہمارے قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتا ہو، مسلمان ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔
من صلى صلوتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذالك المسلم الذى له ذمة الله وذمة رسوله، فلا تخفروا الله ذمته.
(صحیح بخاری ص ۱/۵۶)
”جو شخص ہماری جیسی نماز پڑھتا ہو، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہو، ہمارا ذبیحہ کھاتا ہو۔ پس یہ شخص مسلمان ہے، جس کے لیے اللہ کا اور اس کے رسول کا عہد ہے۔ پس اللہ کے عہد کو مت توڑو۔“
ظاہر ہے کہ اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ ایک شخص خواہ خدا اور رسول ﷺ کا منکر ہو۔ قرآن کریم کے قطعی ارشادات کو جھٹلاتا اور مسلمانوں سے الگ عقائد رکھتا ہو تب بھی وہ ان تین کاموں کی وجہ سے مسلمان ہی شمار ہوگا؟ نہیں، بلکہ حدیث کا منشا یہ ہے کہ نماز، استقبال قبلہ اور ذبیحہ کا معروف طریقہ صرف مسلمانوں کا شعار ہے جو اس وقت کے مذاہب عالم سے ممتاز رکھا گیا تھا۔ پس کسی غیر مسلم کو یہ حق نہیں کہ عقائد کفر رکھنے کے باوجود ہمارے اس شعار کو اپنائے۔ چنانچہ حافظ بدر الدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔
واستقبال قبلتنا مخصوص بنا.
(عمدة القاری ص ۲/۲۹۶)
”اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرنا ہمارے ساتھ مخصوص ہے۔
اور حافظ ابن حجر لکھتے ہیں۔
وحكمة الاقتصار على ما ذكر من الافعال ان من يقر بالتوحيد من اهل الكتاب وان صلوا واستقبلوا وذبحوا لكنهم لا يصلون مثل صلوتنا ولا يستقبلون قبلتنا ومنهم من يذبح لغير الله ومنهم من لا ياكل ذبيحتنا والاطلاع على حال المرء فى صلاته واكله يمكن بسرعة فى اول يوم بخلاف غير ذالك من امور الدين.
(فتح الباری ص ۱/۴۷، دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور)
”اور مذکورہ بالا افعال پر اکتفا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ توحید کے قائل ہوں وہ اگرچہ نماز بھی پڑھتے ہوں، قبلہ کا استقبال کرتے ہوں اور ذبح بھی کرتے ہوں لیکن وہ نہ تو ہمارے جیسی نماز پڑھتے ہیں نہ ہمارے قبلہ کا استقبال کرتے ہیں اور ان میں سے بعض غیر اللہ کے لیے ذبح کرتے ہیں۔ بعض ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے اور آدمی کی حالت، نماز پڑھنے اور کھانا کھانے سے فوراً پہلے دن پہچانی جاتی ہے۔ دین کے دوسرے کاموں میں اتنی جلدی اطلاع نہیں ہوتی۔ اس لیے مسلمان کی تین نمایاں علامتیں ذکر فرمائیں۔“
اور شیخ ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں۔
انما ذكره مع اندراجه فى الصلوة لان القبلة اعرف. اذ كل احد يعرف قبلته وان لم يعرف صلوته ولان فى صلوتنا ما يوجد فى صلاة غيرنا و استقبال قبلتنا مخصوص بنا.
(مرقاة المفاتیح ص ۱۷۲ ج ۱، طبع بمبئی)
”نماز میں استقبال قبلہ خود آ جاتا ہے مگر اس کو الگ ذکر فرمایا کیونکہ قبلہ اسلام کی سب سے معروف علامت ہے کیونکہ ہر شخص اپنے قبلہ کو جانتا ہے۔ خواہ نماز کو نہ جانتا ہو اور اس لیے بھی کہ ہماری نماز کی بعض چیزیں دوسرے مذاہب کی نماز میں بھی پائی جاتی ہیں مگر ہمارے قبلہ کی جانب منہ کرنا یہ صرف ہماری خصوصیت ہے۔“
ان تشریحات سے واضح ہوا کہ ”استقبال قبلہ“ اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کی معروف ترین علامت ہے۔ اسی بناء پر اہل اسلام کا لقب ”اہل قبلہ“ قرار دیا گیا ہے۔ پس جو شخص اسلام کے قطعی، متواتر اور مسلمہ
عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھتا ہو، وہ ”اہل قبلہ“ میں داخل نہیں، نہ اسے استقبال قبلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
محراب اسلام کا شعار ہے مسجد کے مسجد ہونے کے لیے کوئی مخصوص شکل و وضع لازم نہیں کی گئی لیکن مسلمانوں کے عرف میں چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں۔ ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے جو قبلہ کا رخ متعین کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔ حافظ بدرالدین عینیؒ عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں ۔
ذكر ابو البقاء ان جبریل علیہ الصلاة والسلام وضع محراب رسول الله ﷺ مسامة الكعبة وقيل كان ذالك بالمعاينة بان كشف الحال وازيلت الحوائل فرای رسول الله ﷺ الكعبة فوضع قبلة مسجده عليها.
(عمدة القاری شرح بخاری ۱۲۶، الجزء الرابع طبع دارالفکر بیروت)
”اور ابوالبقاء نے ذکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبہ کی سیدھ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے محراب بنائی اور کہا گیا کہ یہ معاینہ کے ذریعہ ہوا۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے سامنے سے پردے ہٹا دیے گئے اور صحیح حال آپ ﷺ پر منکشف ہو گیا۔ پس آنحضرت ﷺ نے کعبہ کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رخ متعین کیا ۔“
اس سے دو امر واضح ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ محراب کی ضرورت تعین قبلہ کے لیے ہے تا کہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رخ متعین کر سکے۔ دوم یہ کہ جب سے مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگا دیا گیا۔ خواہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کی نشاندہی کی ہو۔ یا آنحضرت ﷺ نے بذریعہ کشف خود ہی تجویز فرمائی ہو۔
البتہ یہ جوف دار محراب جو آج کل مساجد میں ”قبلہ رخ“ ہوا کرتی ہے، اس کی ابتدا خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے ۔
(وفاء الوفا
یہ صحابہ و تابعین کا دور تھا اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔
ص ۵۲۵ و مابعد)
فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔
وجهة الكعبة تعرف بالدليل والدليل فى الامصار والقرى المحاريب التى نصبتها الصحابة والتابعون رضی اللہ عنہم اجمعین. فعلينا اتباعهم فى استقبال المحاريب المنصوبة.
(البحر الرائق ص ۲۸۵ / ۱، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)
”اور قبلہ کا رخ کسی علامت سے معلوم ہو سکتا ہے اور شہروں اور آبادیوں میں قبلہ کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم نے بنائیں۔ پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔“
یعنی یہ محرابیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہ و تابعین کے زمانے سے چلی آتی ہیں، دراصل قبلہ کا رخ متعین کرنے کے لیے ہیں اور اوپر گزر چکا ہے کہ استقبال قبلہ ملت اسلامیہ کا شعار ہے اور محراب جہت قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے۔ اس لیے کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ میں محراب کا ہونا ایک تو اسلامی شعار کی توہین ہے۔ اس کے علاوہ ان محراب والی عبادت گاہوں کو دیکھ کر ہر شخص انھیں ”مسجد“ تصور کرے گا اور یہ اہل اسلام کے ساتھ فریب اور دغا ہے لہٰذا جب تک کوئی غیر مسلم گروہ مسلمانوں کے تمام اصول و عقائد کو تسلیم کر کے مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا، تب تک اس کی ”مسجد نما“ عبادت گاہ عیاری اور مکاری کا بدترین اڈہ ہے۔ جس کا اکھاڑنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ فقہاء امت نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بے وقت اذان دیتا ہے تو یہ اذان سے مذاق ہے۔
ان الكافر لو اذن فى غير الوقت لا يصير به مسلماً لانه يكون مستهزأ.
(شامی ص ۱/۲۵۹، آغاز کتاب الصلوۃ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
”کافر اگر بے وقت اذان کہے تو وہ اس سے مسلمان نہیں ہوگا کیونکہ وہ دراصل مذاق اڑاتا ہے۔“
ٹھیک اسی طرح سے کسی غیر مسلم گروہ کا اپنے عقائد کفر کے باوجود اسلامی شعائر کی نقالی کرنا اور اپنی عبادت گاہ مسجد کی شکل میں بنانا دراصل مسلمانوں کے اسلامی شعائر سے مذاق ہے اور یہ مذاق مسلمان برداشت نہیں کر سکتے۔
اذان ...... مسجد میں اذان نماز کی دعوت کے لیے دی جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اطلاع کے لیے کوئی صورت تجویز ہونی چاہیے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپ نے اسے یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجا دیا جائے۔ آپ نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلہ پر برخاست ہوئی کہ ایک شخص نماز کے وقت کا اعلان کر دیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعدازاں بعض حضرات صحابہؓ کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا جو انھوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ اور اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اذان رائج ہوئی۔
(فتح الباری ص ۶۴-۲/۶۵ دار المعرفۃ بیروت)
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس واقعہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
وهذه القصة دليل واضح على ان الاحكام انما شرعت لاجل المصالح وان لاجتهاد فيها مدخلا. وان التيسير اصل اصيل. وان مخالفة اقوام تمادوا فى ضلالتهم فيما يكون من شعائر الدين مطلوب وان غير النبى ﷺ قد يطلع بالمنام والنفث فى الروع على مراد الحق لكن لا يكلف الناس به ولا تنقطع الشبهة حتى يقرره النبى ﷺ واقتضت الحكمة الالهيه ان لايكون الاذان صرف اعلام و تنبيه. بل يضم مع ذالك ان يكون من شعائر الدين بحيث يكون النداء به على رؤس المحافل والتنبيه تنويها بالدين ويكون قبوله من القوم اية انقيادهم لدين الله.
(حجۃ اللہ البالغہ ص ۴۷۳ / ۱ مترجم)
”اس واقعہ میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے۔ اوّل یہ کہ احکام شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرر ہوئے ہیں۔ دوم یہ کہ اجتہاد کا بھی احکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ احکام شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائرِ دین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں، شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیر نبی کو بھی بذریعہ خواب یا القاء فی القلب کے مراد الٰہی کی اطلاع مل سکتی ہے۔ مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بنا سکتا اور نہ اس سے شبہ دور ہو سکتا ہے جب تک کہ آنحضرت ﷺ اس کی تصدیق نہ فرمائیں اور حکمت الٰہی کا تقاضا ہوا کہ اذان صرف اطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائرِ دین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اذان کہنا تعظیم دین کا ذریعہ ہو اور لوگوں کا اس کو قبول کر لینا ان کے دین خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔“
حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اذان اسلام کا بلند ترین شعار ہے اور یہ کہ اسلام نے اپنے اس شعار میں گمراہ فرقوں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔ (فتح القدیر ص ۱/۱۶۷، فتاویٰ قاضی خان اور البحر الرائق ص
۲۵) وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار ہے۔ فقہائے کرام نے جہاں مؤذن کے شرائط شمار کیے ہیں، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذن مسلمان ہونا چاہیے۔
واما الاسلام فينبغى ان يكون شرط صحة فلا يصح اذان كافر على اى ملة كان.
(البحر الرائق ص ۱/۲۷۳، دار المعرفة بيروت)
”مؤذن کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ضروری ہے پس کافر کی اذان صحیح نہیں خواہ کسی مذہب کا ہو۔“ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذن اگر اذان کے دوران مرتد ہو جائے تو دوسرا شخص اذان کہے۔
ولو ارتد المؤذن بعد الاذان لا يعاد وان اعيد فهو افضل. كذا فى السراج الوهاج. واذا ارتد فى الاذان فالاولى ان يبتدى غيره وان لم يبتدى غيره و اتمه جاز. كذا فى فتاوى قاضی خان.
(فتاویٰ عالمگیری ص ۱/۵۴، مطبوعہ مصر ۱۳۱ھ)
”اگر مؤذن اذان کے بعد مرتد ہو جائے تو اذان دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ اگر لوٹائی جائے تو افضل ہے اور اگر اذان کے دوران مرتد ہو گیا تو بہتر یہ ہے کہ دوسرا شخص نئے سرے سے اذان شروع کرے تاہم اگر دوسرے شخص نے باقی ماندہ اذان کو پورا کر دیا تب بھی جائز ہے۔“
مسجد کے مینار مسجد کی ایک خاص علامت، جو سب سے نمایاں ہے، اس کے مینار ہیں۔ میناروں کی ابتداء بھی صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانہ سے ہوئی۔ مسجد نبوی ﷺ میں سب سے پہلے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے مینار بنوائے۔ (وفاء الوفا ص ۵۲۵) حضرت مسلمہ بن مخلد انصاریؓ جلیل القدر صحابی ہیں وہ حضرت معاویہؓ کے زمانہ میں مصر کے گورنر تھے۔ انھوں نے مصر کی مساجد میں مینار بنانے کا حکم فرمایا۔ (الاصابہ ص ۳/۴۱۸) اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں مسجد کے لیے مینار ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مسجد کے مینار دو فائدوں کے لیے بنائے گئے۔ اوّل یہ کہ بلند جگہ نماز کی اذان دی جائے۔ چنانچہ امام ابوداؤدؒ نے اس پر ایک مستقل باب باندھا ہے۔ الاذان فوق المنارة. حافظ جمال الدین الزیلعیؒ نے نصب الرایہ میں حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے۔ من السنة الاذان فى المنارة والاقامة فى المسجد.
(ص ۲۹۳ / مجلس علمی بالہند)
”سنت یہ ہے کہ اذان مینارہ میں ہو اور اقامت مسجد میں۔“
مینار مسجد کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ مینار دیکھ کر ناواقف آدمی کو مسجد کے مسجد ہونے کا علم ہو سکے۔ گویا مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رخ محراب ہو، منبر ہو، مینار ہو، وہاں اذان ہوتی ہو۔ اس لیے کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوں کا پایا جانا اسلامی شعار کی توہین ہے اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم تسلیم کیا جا چکا ہے اور ان کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تو انھیں مسجد یا مسجد نما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اذان و اقامت کہنے کی اجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار اور عدلیہ کا فرض ہے کہ غیر مسلم قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روکیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوت اور شدت سے اس مطالبہ کو منوائیں۔ حق تعالیٰ شانہ اس ملک کو منافقوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۲ ص ۱۱۳ تا ۱۳۳)
قادیانیوں کو مسجد بنانے سے جبراً روکنا کیسا ہے
سوال ...... احمدیوں کو مسجدیں بنانے سے جبراً روکا جا رہا ہے، کیا یہ جبر اسلام میں آپ کے نزدیک جائز ہے؟
جواب ....... آنحضرت ﷺ نے مسجد ضرار کے ساتھ کیا کیا تھا؟ اور قرآن کریم نے اس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ شاید جناب کے علم میں ہوگا، اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ حضرات دراصل معقول بات پر بھی اعتراض فرماتے ہیں۔ دیکھئے! اس بات پر تو غور ہو سکتا تھا (اور ہوتا بھی رہا ہے) کہ آپ کی جماعت کے عقائد مسلمانوں کے سے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ اسلام میں ان عقائد کی گنجائش ہے یا نہیں؟ لیکن جب یہ طے ہو گیا کہ آپ کی جماعت کے نزدیک مسلمان، مسلمان نہیں اور مسلمانوں کے نزدیک آپ کی جماعت مسلمان نہیں، تو خود انصاف فرمائیے کہ آپ مسلمانوں کو اور مسلمان آپ کو اسلامی حقوق کیسے عطا کر سکتے ہیں؟ اور از روئے عقل و انصاف کسی غیر مسلم کو اسلامی حقوق دینا ظلم ہے؟ یا اس کے برعکس نہ دینا ظلم ہے؟
میرے محترم! بحث جبر و اکراہ کی نہیں، بلکہ بحث یہ ہے کہ آپ نے جو عقائد اپنے اختیار و ارادے سے اپنائے ہیں ان پر اسلام کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ان پر اسلام کا اطلاق ہوتا ہے تو آپ کی شکایت بجا ہے، نہیں ہوتا تو یقیناً بے جا ہے۔ اس اصول پر تو آپ بھی اتفاق کریں گے اور آپ کو کرنا چاہیے۔
اب آپ خود ہی فرمائیے کہ آپ کے خیال میں اسلام کس چیز کا نام ہے؟ اور کن چیزوں کے انکار کر دینے سے اسلام جاتا رہتا ہے ...... اس تنقیح کے بعد آپ اصل حقیقت کو سمجھ سکیں گے جو غصہ کی وجہ سے اب نہیں سمجھ رہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۳)
قادیانی کی بنائی ہوئی مسجد کے بارے میں
سوال ...... ایک قادیانی نے مسجد بنائی ہے کیا یہ مسجد کے حکم میں ہے؟ اور اس کا گرانا جائز اور ضروری ہے یا نہیں؟
الجواب ...... غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر مسجد کا اطلاق درست نہیں ہے۔ ایسے ہی غیر مسلموں کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنے عبادت خانوں کی تعمیر مساجد کی طرز پر کریں یا ان کا نام مسجد رکھیں۔ ولو جعل ذمی دارہ مسجدا للمسلمين و بناہ كما بنى المسلمون واذن لهم بالصلوٰة فيه فصلوا فيه ثم مات يصير ميراثاً لورثته وهذا قول الکل۔ (عالمگیری ج ۲ ص ۳۵۲) احقر محمد انور عفا اللہ عنہ ۱۶ / ۴ / ۱۳۹۶ھ (خیر الفتاویٰ ج ۲ ص ۷۶۰)
قادیانیوں کا مسجد کے نام سے عبادت گاہ بنانا
سوال ...... کیا مرزائی مسجد کے نام سے اپنی کوئی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں؟
جواب ...... الحمد للہ وحدہ والصلوٰة والسلام علی من لانبی بعدہ. مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کسی بھی کافر کو مسجد کے نام سے کوئی عمارت بنانا جائز نہیں۔ قرآن کریم کی آیات کی تصریحات اور احادیث رسول اللہ ﷺ کے منطوقات اس کے شاہد عدل ہیں۔ مسجد ضرار کی تعمیر اور پھر اسے گرانا اور جلانا ثابت کرتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے کافروں اور منافقوں کی اس تعمیر شدہ مسجد کو مسجد تسلیم نہ فرمایا۔ اگرچہ انھوں نے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسے تعمیر کیا تھا۔ لہٰذا مرزائیوں کی بنائی ہوئی مسجد کو بھی مسجد تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ اسلام کا ظاہری دعویٰ کرنے کے باوجود بھی وہ دستور پاکستان کی دوسری ترمیم کی رو سے کافر ہیں اور ان کی تعمیر کردہ مسجد ، مسجد ضرار کے ساتھ پوری مماثلت و مشابہت بلکہ یگانگت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس کا بھی شرعی حکم وہی ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان شہر
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۴۵۰، ۴۵۱)
مسلمانوں کے چندہ سے بنائی گئی مسجد پر قادیانیوں کا کوئی حق نہیں
سوال ...... (۱)...... مرزائی خواہ وہ انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور سے تعلق رکھتے ہوں یا انجمن احمدیہ قادیان سے، مسلمان ہیں یا نہیں؟ (۲)...... انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور نے تمام مسلمانوں سے روپیہ اکٹھا کر کے برلن میں ۱۹۲۷ء میں مسجد تعمیر کی لیکن وہ مسجد جناب صدر الدین صاحب نمائندہ جماعت احمدیہ لاہور کی ذاتی ملکیت ہے۔ کیا از روئے احکام اسلام مسجد کسی شخص کی ذاتی جائیداد ہو سکتی ہے۔ (۳)...... کیا اس مسجد کا امام ایسا شخص ہو سکتا ہے جس نے اکثر دفعہ مرزائی اخبار پیغام صلح کے ذریعے برلن مشن کے بارے میں محض اس لیے جھوٹ بولا ہو کہ آمدنی اچھی ہو اور ہندوستان سے زیادہ رقم آئے۔ (۴)...... کیا اس مسجد کے امام کو حق ہے کہ ایک جرمن نومسلم کو مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت کر دے۔ (۵)...... کیا یہ جائز ہے کہ برلن کی مسجد میں جرمنوں کو چائے کی دعوت دی جائے اور مسجد میں کرسیاں بچھا دی جائیں اور سگریٹ نوشی ہو۔ (۶)...... کیا یہ جائز ہے کہ مسجد کا امام اکثر احمدی رسالوں میں یہ پروپیگنڈا کرے کہ برلن میں اس مسجد میں پانچوں وقت نماز و اذان ہوتی ہے حالانکہ درحقیقت جمعہ تک کی نماز نہیں ہوتی۔
(المستفتی نمبر ۶۲۳ حبیب الرحمٰن سیکرٹری جماعت اسلامیہ برلن ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۵۴ھ ۲۴ ستمبر ۳۵ء)
جواب ...... (۱)...... مرزائی فرقہ ضالہ کی دونوں شاخیں لاہوری اور قادیانی جمہور علمائے اسلام کے متفقہ فتوے کے بموجب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ یہ دعویٰ ان کی تالیفات میں اتنی کثرت اور صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ کسی شخص کو اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ قادیانی جماعت تو اس کا التزام ہی کرتی ہے اور مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے اور لاہوری جماعت اگرچہ التزام نہیں کرتی اور مرزا قادیانی کی عبارتوں کی تاویلیں کرتی ہیں۔ مگر وہ تاویلیں کسی حالت میں بھی مقبول نہیں ہو سکتیں اس لیے ان کا نبوت مرزا اور ادعائے نبوت سے انکار کرنا مفید نہیں۔ اس کے علاوہ اس فرقہ ضالہ کے خارج از اسلام ہونے کی اور بھی وجوہ ہیں۔
(۲)...... اگر کوئی شخص اپنے ذاتی روپے سے بھی مسجد تعمیر کر کے وقف کر دے اور وہ مسجد باقاعدہ مسجد ہو جائے تو اس کو بھی وہ اپنی ذاتی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔ بانی جبکہ وہ خود واقف بھی ہو انتظام کے بعض حقوق رکھتا ہے لیکن اگر وہ مالکانہ حقوق کا مدعی ہو تو خائن قرار دیا جائے گا اور مسجد اس کے قبضہ تولیت سے نکال لی جائے گی اور مسجد جبکہ عام مسلمانوں کے چندے سے تعمیر ہوئی ہو تو پھر تو بنانے والے کو کوئی مزید حقوق حاصل ہی نہیں ہو سکتے بلکہ چندہ دینے والوں کی مرضی سے کوئی جماعت یا کوئی فرد انتظام کے لیے مقرر یا معزول کیا جا سکتا ہے۔
(۳)...... اگر امام کا کاذب ہونا اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنا ثابت ہو جائے تو وہ امامت کا اہل نہیں۔
(۴)...... مسجد میں آنے سے کسی کو روکنے کا بلاوجہ شرعی کسی کو حق نہیں۔ اگر کسی کو دخول مسجد سے روکا جائے تو اس کے لیے کوئی شرعی وجہ بیان کرنی لازم ہوگی۔
(۵)...... سگریٹ نوشی مسجد میں حرام ہے اور چائے کی پارٹی دینی بھی ان لوازم کے ساتھ جو فی زماننا مروج ہیں اور جو احترام مسجد کے منافی ہیں مکروہ ہے۔
(۶)...... اگر مسجد میں پنجوقتہ نماز جماعت بلکہ جمعہ کی نماز بھی التزام کے ساتھ نہیں ہوتی تو یہ شائع کرنا کہ مسجد مذکور
میں پانچوں وقت اذان و نماز ہوتی ہے کذب صریح اور دھوکہ دہی ہے اور کسی طرح اس جھوٹے پروپیگنڈے کی شریعت مقدسہ اجازت نہیں دے سکتی۔ اور اگر اس جھوٹے پروپیگنڈے سے جلب زر مقصود ہو تو اس کی قباحت دو چند ہو جاتی ہے۔ محمد کفایت اللہ
(کفایت المفتی ج ۳ ص ۱۵۷۔۱۵۸)
قادیانیوں کا شعائر اسلام کا استعمال کرنا
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مرزائیوں کے دونوں فرقوں کو تین ماہ کی کامل تحقیق و تفتیش کے بعد آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ مگر وہ بدستور اپنی عبادت گاہیں مسجد کے نام سے تعمیر کرتے ہیں۔ اور وہاں مسلمانوں کی سی اذانیں دیتے ہیں۔ جس سے بسا اوقات ایک نو وارد اور ناواقف اسے مسلمانوں کی عبادت گاہ سمجھ کر وہاں چلا جاتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی اسلامی حکومت میں کسی غیر مسلم گروہ کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ مسجد کے نام سے تعمیر کریں اور اس میں اسلامی اذان کہیں۔ سائل: راؤ عبدالمنان سرگودھا
جواب...... حامداً و مصلیاً و مسلماً۔ مسجد شعائر اللہ اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ جو صرف اہل اسلام کی عبادت گاہ ہو سکتی ہے۔ قرآن کریم نے یہ اصول وضع کیا کہ کوئی غیر مسلم کافر اس کی تعمیر و تولیت کا اہل نہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے۔
ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد الله شہدین علی انفسہم بالکفر اولئک حبطت اعمالہم و فی النار ہم خلدون انما یعمر مساجد الله من امن بالله والیوم الاخر. (توبہ ۱۷) ”مشرکوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال حبط ہو چکے ہیں اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر وہی شخص کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر (غرض پورے دین محمدی پر) ایمان رکھتا ہو۔“
پھر دور نبوی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے اس امر کا دو ٹوک فیصلہ ہو گیا کہ اگر کوئی غیر مسلم اسلام کا دعویدار بن کر کوئی جگہ مسجد کے نام سے تعمیر کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اور اسلامی حکومت اس سے کیا معاملہ کرے گی۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں ”مسجد ضرار“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ منافقین مدینہ نے جو اپنے عقائد کفریہ کے باوجود قسمیں کھا کھا کر اسلام کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ اسلام کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کی جماعت کے درمیان تفریق ڈالنے کی غرض سے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی تھی۔ اور آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ برکت کے لیے وہاں ایک نماز ادا فرمالیں۔ قرآن کریم نے ان کی اس ناپاک سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے اس نام نہاد مسجد پر بلیغ تبصرہ فرمایا وہ یہ تھا:
والذین اتخذوا مسجدا ضرارا و کفرا و تفریقا بین المؤمنین و ارصادا لمن حارب الله ورسوله من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنیٰ والله یشهد انهم لکاذبون. لاتقم فیه ابدا. (توبہ ۱۰۷) ”اور جن لوگوں نے اس غرض کے لیے مسجد بنا کر کھڑی کر دی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ خدا اور رسول کے ساتھ کفر کریں۔ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں۔ اور جو شخص خدا اور رسول کے ساتھ پہلے ہی لڑ چکا ہے۔ اس کے لیے ایک اڈا بنالیں۔ وہ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا قصد کیا ہے۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ قطعاً
جھوٹے ہیں۔ آپ اس میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوں۔"
یہ آیات نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے چند صحابہ کو حکم فرمایا اور اسے نذر آتش کر کے پیوند زمین کر ڈالا۔ قرآن کریم کی یہ آیات بینات اور حضرت خاتم رسالت ﷺ کا یہ طرزِ عمل اس امر کا صاف فیصلہ کر دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ٹولہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسجد کے نام سے کوئی مکان تعمیر کرتا ہے تو اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس مسجد ضرار کو کفر و بددینی کا اڈا بنایا جائے۔ مسلمانوں میں تفریق ڈالی جائے اور کفر کے سرغنہ کے لیے ایک پناہ گاہ مہیا کر دی جائے اور یہ کہ اسلام اس کھیل کو برداشت نہیں کرتا بلکہ اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کفر کے ان اڈوں کو مسمار کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں (اس واقعہ کے بعد) کبھی کسی غیر مسلم منافق کو یہ جرأت نہیں ہوسکی کہ وہ اپنی عبادت گاہ کے لیے ”مسجد“ کا مقدس نام استعمال کرے۔
مرزائی گروہ کا کفر و ارتداد آفتاب نصف النہار کی طرح کھل چکا ہے اور آئینی طور پر انھیں قطعی غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ان کا ادعائے اسلام انھیں منافقین مدینہ کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے اور ان کی بنائی ہوئی مسجد مسجد ضرار کا حکم رکھتی ہے۔ اب یہ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ انھیں اپنی عبادت گاہیں مسجد کے نام پر تعمیر کرنے سے باز رکھے۔ اور مسجد کے تقدس کی بے حرمتی کو برداشت نہ کرے۔
یہی حکم ”مسجد“ کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر اور اسلامی اصطلاحات کا ہے ان کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے اور اسلام بھی اس امر کو برداشت نہیں کرتا کہ اس کی مقدس اصطلاحات و علامات کو منافقین و مرتدین کی دستبرد کا کھلونا بنا ڈالا جائے۔ فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیر مسلم باشندوں کا لباس، وضع قطع اور مکان تک مسلمانوں سے ممیز ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شامی باب احکام الجزیۃ ج ۴ ص ۲۰۶) اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی شعائر کے معاملہ میں اسلام کے احساسات کس قدر نازک ہیں۔
علماء اسلام نے تصریح کی ہے کہ غیر مسلموں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر وہ یہ حرکت کریں تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ انھیں اس سے باز رکھیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (المتوفی ۱۲۲۵ھ)
فانه یجب علی المسلمین منعهم من ذلک لان مساجد الله انما یعمر لعبادة الله وحده فمن کان کافر بالله فلیس من شانه ان یعمرها.
(تفسیر مظہری ج ۳ ص ۱۴۶)
”مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ کفار کو تعمیر مساجد سے باز رکھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مسجدیں صرف عبادت الٰہی کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں۔ پس کسی کافر کا یہ کام نہیں کہ انھیں تعمیر کرے۔“ امام قرطبی لکھتے ہیں:
فیجب اذا علی المسلمین تولی احکام المساجد و منع المشرکین من دخولها.
(تفسیر قرطبی ج ۸ ص ۸۹)
”اندریں صورت مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ خود احکام مساجد کے متولی ہوں۔ اور کافروں کو ان میں مداخلت سے باز رکھیں۔“ شیخ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں۔
ولو بنوا مسجدا لم یصر مسجداً ففی تنویر الابصار من وصایا الذمی وغیره و صاحب الهوی ان کان لا یکفر فهو بمنزلة المسلم فی الوصیة وان کان یکفر فهو بمنزلة المرتد.
(اکفار الملحدین ص ۱۲۸ طبع جدید)
”اور ملحدین اگر کوئی مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی چنانچہ ”تنویر الابصار“ کے باب الوصایا الذمی وغیرہ میں لکھا ہے۔ اہل ہوا کے عقائد اگر کفر کی حد تک پہنچے ہوئے نہ ہوں تو اس کا حکم ”تعمیر مسجد کی“ وصیت میں مسلمان
جیسا ہے اور کفر کے عقائد رکھتا ہو تو وہ بمنزلہ مرتد کے ہے۔“
اور مرتد کا حکم ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اسے اسلامی مملکت میں آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں چہ جائیکہ اسے اسلامی شعائر کو پامال کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔ بہرحال مرزائیوں کا، اپنے عقائد کفریہ کے باوجود مسجد، اذان اور دیگر اسلامی شعائر کو استعمال کرنا درحقیقت اسلام سے کھلا مذاق ہے۔ جس کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔ تاہم یہ فرض حکومت پر عائد ہوتا ہے کہ وہ مساجد اور دیگر اسلامی شعائر کے تقدس کو قادیانیوں کی دستبرد سے بچانے کا فرض انجام دے، عام مسلمانوں کو ہم مشورہ دیں گے کہ وہ ازخود براہ راست ان امور میں مداخلت کر کے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ اور ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اس کے لیے اسلامی عدالت کی طرف رجوع کریں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۴۵۲ تا ۴۵۴)
مرزائی کی تعمیر کردہ مسجد میں نماز کی ادائیگی
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ مرزائی کی خرید شدہ زمین مسجد تعمیر شدہ میں زید امامت کرتا ہے۔ مسلمان اہل سنت جماعت نماز پڑھتے ہیں۔ آیا اس مسجد میں نماز ہوگی یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
جواب...... اگر اس شخص نے قربت کی نیت سے مسجد تعمیر کی ہے تو اس میں نماز جائز ہے اور زید کی امامت درست ہے۔ قال فی النہر نیة (الوقف) فطلب الزلفى (الى قوله) واما الاسلام فلیس بشرط وفی کتاب الوقف من شرح التنویر ذکره بدلیل صحته من الکافر و فی الشامیة حتّى یصح من الکافر (الى قوله) بخلاف الوقف فانه لا بد فیه من ان یکون فى صورة القربة وهو معنى ما یاتى فى قوله و یشترط ان یکون قربة فى ذاته اذ لو اشترط کونه قربة حقیقة لم یصح من الکافر (شامی ج ۳ ص ۳۹۲-۳۹۳) فقط واللہ تعالیٰ اعلم.
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۴۵۱)
مسجد کی بجلی سے قادیانی کو کنکشن دینا
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کا متولی برضا مندی مقتدیوں کے قریبی ایک مرزائی قادیانی دکاندار سے تعاون بایں معنی کرتا ہے کہ مسجد سے مرزائی مذکور کی دکان کو بجلی کا کنکشن دیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں چند مقتدیوں کے اس مرزائی سے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ان سے علیک سلیک اور ان کو مذکورہ بالا تعاون میں رضا مندی کی وجہ سے کوئی شرعی عذر یا عدم جواز اور حرج تو واقع نہیں ہوگا۔ ایسی حالت میں اس دکاندار سے سودا وغیرہ خرید کرنے اور مسجد کے متولی سے روابط قائم رکھنا صحیح ہوگا یا نہیں۔ فقط
جواب...... بشرط صحت متولی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسجد کی بجلی سے کسی مرزائی کو کنکشن دے۔ لہٰذا متولی پر لازم ہے کہ وہ مرزائی کی دکان سے کنکشن منقطع کر دے باقی اس مسجد میں نماز جائز ہے۔ نماز میں کوئی حرج نہیں آتا...... نیز مرزائیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنا جائز نہیں۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نخلع و نترک من یفجرک پر عمل کرتے ہوئے مرزائی سے دوستانہ تعلقات منقطع کر دیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۵۸۲، ۵۸۳)
قادیانی کا مسجد کے لیے جائیداد وقف کرنا
سوال...... ایک نقشہ میں ایک مسجد کی جائیداد ظاہر کی گئی ہے اس میں آٹھ دکانیں ہیں جو آٹھ نمبروں سے
ظاہر کی گئی ہیں۔ درمیان میں مسجد ہٰذا کا دروازہ ہے دوکانوں کے سامنے کچھ زمین ہے جو ایک صاحب کی ہے جو قادیانی مذہب کا ہے۔ اور قادیانی مذہب کا پکا پیرو بھی ہے۔ وہ صاحب اس زمین کو مسجد ہٰذا کو وقف کرتے ہیں۔ قادیانی صاحب کا یہ وقف ہماری مسجد یا جائیداد مسجد کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اگر وہ صاحب یہ جائیداد وقف یا کسی طرح مسجد کی زمین نہ دیں تو مسجد یا دوکانوں کا راستہ بند ہو سکتا ہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ یہ زمین مسجد میں کس صورت میں جائز ہے؟
الجواب....... حمداً و مصلیاً. جو مسلمان اپنا اصلی مذہب اسلام چھوڑ کر قادیانی ہو جائے وہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد قرار دیا جاتا ہے، مرتد کی کوئی عبادت قبول نہیں۔ امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ جس فرقہ میں داخل ہوا ہے اس فرقہ کے نزدیک جن امور میں وقف صحیح ہوتا ہے ان امور میں اس کا وقف صحیح ہے۔ اس طرح مسجد اس کا وقف بھی معتبر ہے۔ علاوہ ازیں جب اس نے اپنے مالکانہ حقوق ختم کر دیے اور مسجد کے حوالہ زمین کر دی اور یہ شخص خود قادیانی نہیں ہوا بلکہ اس کا والد قادیانی ہوا تھا اس سے یہ پیدا ہوا ہے تو اس کا وقف بھی معتبر ہوگا۔ فقط۔ واللہ سبحانہٗ تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود غفرلہٗ دارالعلوم دیوبند۔
الجواب صحیح بندہ نظام الدین غفرلہٗ دارالعلوم دیوبند
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۵ ص ۲۳۵۔۲۳۶)
لاہوری مرزائی کا مسجد کے لیے چندہ
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایک امام مسجد نے اپنی ایک مسجد کے لیے مرزائی جماعت کے لاہوری فرقہ کے ایک مالدار سے مسجد کے لیے چندہ حاصل کیا ہے۔ کیا اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے۔ نیز وہ مسجد جس میں لاہوری مرزائی کا روپیہ صرف کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں مسلمانوں کا نماز پڑھنا کیسا ہوگا؟
بینوا توجروا
جواب...... فی نفسہ جس کافر کے نزدیک مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کرانا کارخیر ہو تو وہ مسجد بھی تعمیر کرا سکتا ہے اور اس کا چندہ مسجد کی تعمیر میں بھی لگ سکتا ہے اور مسجد مذکور مسجد کے حکم میں ہی ہوگی۔ اور مسلمانوں کا اس میں نمازیں پڑھنا بلاشبہ جائز ہے۔ قال فی (العالمگیریه ج ۲ ص ۳۵۳) ولو جعل الذمی داره علی بیعة او کنیسة او بیت نار فهو باطل کذا فی المحیط و کذا علی اصلاحها ودهن سراجها ولو قال يسرج به بیت المقدس اويجعل فی مرمة بیت المقدس جاز.
لیکن اگر مسلمانوں پر کل کو اس کے احسان جتلانے کا اندیشہ ہو تو ایسے کافر کا چندہ لینے سے احتراز کرنا چاہیے۔ (فتاویٰ رشیدیہ ص ۴۰۹) تعمیر و مرمت مسجد میں شیعہ و کافر کا روپیہ لگانا درست ہے اور (امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۶۰۴) پر ہے۔ (الجواب) اگر یہ احتمال نہ ہو کہ کل اہل اسلام پر احسان رکھیں گے اور یہ احتمال ہو کہ اہل اسلام ان کے ممنون ہو کر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت کریں گے یا ان کی خاطر سے اپنے شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے۔ اس شرط سے قبول کر لینا جائز ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۳۵۰)
قادیانی کا چندہ مسجد میں لگانا
سوال...... اگر کوئی قادیانی مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹیں وغیرہ دے تو کیا ان اینٹوں کو مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... قادیانی چونکہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد کی حالت ارتداد میں کیے ہوئے تصرفات موقوف ہوتے ہیں، اگر وہ دوبارہ مسلمان ہو جائے تو حالت ارتداد میں کیے ہوئے اس کے تصرفات صحیح ہو جائیں گے اور اگر وہ حالت ارتداد میں ہی مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا دارالحرب چلا جائے تو حالت ارتداد کے تصرفات باطل ہو جائیں گے۔ لہٰذا کسی بھی قادیانی مرتد کی طرف سے دی ہوئی اینٹیں اور دوسرا تعمیراتی سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائے۔
قال العلامۃ برہان الدین المرغینانی: وما باعہ او اشتراہ او اعتقہ او وہبہ او رہنہ او تصرف فیہ من اموالہ فی حال ردتہ فہو موقوف فان اسلم صحت عقودہ و ان مات او قتل او لحق بدار الحرب بطلت۔ (الہدایۃ ج ۲ ص ۵۶۸۔۵۶۹ کتاب الجہاد، باب المرتد، فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۳۴۔۳۳۵)
مسجد کے لیے قادیانی سے چندہ لینا
سوال ...... تعمیر مسجد کے لیے قادیانی سے چندہ وصول کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب ...... باسم ملہم الصواب. قطعاً حرام ہے، قادیانی زندیق ہیں، اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاملہ جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ۲۷ رجب سنہ ۱۳۹۵ھ
(احسن الفتاویٰ ج ۶ ص ۴۶۰)
مسجد کے لیے قادیانی چندہ کا حکم
مسئلہ ۱۰۴....... بخدمت شمس العلماء رأس الفقہاء اعنی جناب مولانا مولوی حاجی ومفتی اعلیٰ حضرت مدظلہ العالی! حضور کی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض ہے کہ اگر کوئی قادیانی مسجد کے خرچ کے واسطے روپیہ وغیرہ دے یا کسی طالب علم یا اور شخص کو مکان پر بلا کر کھانا کھلائے یا بھیج دے، ان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ یا وہ روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب ...... نہ وہ روپے لیے جائیں، نہ کھانا کھایا جائے اور اس کے یہاں جا کر کھانا سخت حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۲۴ ص ۳۲۸)
مرتدوں کو مساجد سے نکالنے کا حکم
سوال ...... اگر کوئی قادیانی، ہماری مساجد میں آ کر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے کیا ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ ہماری مسجد میں اپنی مرضی سے نماز پڑھے۔
جواب ...... کسی غیر مسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوا تھا انھوں نے مسجد نبوی (علیٰ صاحبہ الف الف صلوٰۃ وسلام) میں اپنی عبادت کی تھی...... یہ حکم تو غیر مسلموں کا ہے۔ لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہو گیا ہو اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح جو مرتد اور زندیق اپنے کفر کو اسلام کہتے ہوں (جیسا کہ قادیانی، مرزائی) ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۷۱)
دارالاسلام میں غیر مسلمین کوئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں
سوال...... کیا اسلامی ریاست میں غیر مسلم اپنی عبادت گاہیں تعمیر کر سکتے ہیں؟ واضح رہے کہ نئی عمارت کی تعمیر مقصود ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب باسم ملہم الصواب غیر مسلمین کو دارالاسلام میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، پرانی عبادت گاہیں باقی رکھ سکتے ہیں۔ ان کی مرمت بھی کر سکتے ہیں، مگر قدیم عمارت پر اضافہ نہیں کر سکتے، اسی طرح ان کا کوئی شہر فتح ہونے کے وقت اس میں اگر کوئی عبادت گاہ ویران تھی تو اسے از سر نو آباد کرنے کی اجازت نہیں ۔ قال العلامة العثمانی رحمه الله تعالى معزيا الاصحاب الحديث حدثنا عبدالله بن صالح عن الليث بن سعد حدثنى توبة بن النمر الحضرمي قاضی مصر عمن اخبره قال قال رسول الله ﷺ لاخصاء فى الاسلام ولا كنيسة رواه ابوعبيد فى الاموال و توبة بن النمر قال الدار قطنى كان فاضلا عابدا (تعجيل المنفعة) فالحديث حسن الاسناد مرسل وجهالة الصحابى لا تضره اخرجه البيهقى فى سننه عن ابن عباس مرفوعا وضعفه واخرجه ابن عدى فى الكامل عن عمر رضى الله تعالى عنه مرفوعا باسناد ضعیف (زیلعی) و تعدد الطرق يفيد الحديث قوة۔ حدثنى ابو الاسود عن ابن لهيعة عن يزيد بن ابى حبيب عن ابى الخير قال قال عمر بن الخطاب لا كنيسة فى الاسلام ولاخصاء، رواه ابو عبيد ايضاً و سنده حسن و ابو الخير هو مرثد بن عبدالله اليزنى المصرى ثقة فقيه من الثالثة (تقريب) ورواه ابن عدى عن عمر مرفوعا بلفظ لايبنى كنيسة فى الاسلام ولا يجد ماخرب منها (التخليص لاجبير) وسقط الحافظ عنه۔ وفى الحاشية و تجديد ماكان خرابا عندالفتح احداث ايضاً فيمنع منه وهو محمل مارواه ابن عدى بلفظ ولا يجدد ماخرب منها واما ماكان عامرا عندالفتح و خرب بعده فتجديده بناء لما استهدم فاشبه بناء بعضها اذا انهدم ورم شعثها فلا يرد علينا ما اورده الموفق فى (المغنى ص ۴۱۲ ج ۱۰ اعلاء السنن ص ۴۶۸ ج ۱۲) وقال فى التنوير ولا يجوز ان يحدث بيعة ولا كنيسة ولا صومعة ولا بيت نار ولا مقبرة فى دارالاسلام ويعاد المنهدم من غير زيادة على البناء الاول (ردالمحتار ص ۲۹۶ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ ۴ صفر سنہ ۱۴۰۰ھ
(احسن الفتاویٰ ج ۶ ص ۱۹۔۲۰)
اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حکم
سوال...... کیا اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلانیہ تبلیغ کریں یا کوئی نئی عبادت گاہ تعمیر کریں یا اپنے مذہب کے مطابق جملہ رسومات ادا کرتے رہیں۔
الجواب...... ایک اسلامی مملکت میں مسلمان حاکم پر لازم ہے کہ غیر مسلم اقلیت کی جان و مال کا تحفظ کرے، لیکن شریعت نے غیر مسلموں کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ بازاروں اور محلوں اور دیگر پبلک مقامات میں اپنے مذہب کا پرچار کریں، غیر مسلموں کی عبادت اپنے گھروں اور اپنی قدیم عبادت گاہوں (مندروں، گرجا گھروں اور چرچوں) تک محدود رہے گی۔ اسی طرح غیر مسلم اپنے لیے کوئی نئی عبادت گاہ تعمیر نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی نیا قبرستان یا اپنے مردوں کو جلانے کے لیے کوئی نئی جگہ تعمیر کر سکتے ہیں۔
لما قال العلامة علاؤ الدین الحصکفی رحمه الله: ولا یجوز ان یحدث بیعة ولا کنیسة ولا صومعة ولا بیت نارو لا مقبرة ولا صنماً حاوی فی دارالاسلام ولو قریة فی المختار.
(الدرالمختار علی هامش ردالمحتار ج ۳ ص ۲۹۶ کتاب السیر )
تاہم جہاں کہیں غیر مسلموں کی کوئی عبادت گاہ یا قبرستان وغیرہ ان کی کثرتِ آبادی اور مردم شماری کی زیادت کی وجہ سے ناکافی ہو جائے تو اس ضرورت کے تحت وہ نئی عبادت گاہ اور قبرستان وغیرہ صرف ایسے دیہاتوں میں تعمیر کر سکتے ہیں جہاں پر جمعہ اور عیدین کی نمازیں نہیں پڑھی جاتی ہوں۔
لما قال العلامة علاؤ الدین الکاسانی رحمه الله: ولا یمکنون من اظهار صلیبهم فی عیدهم لانه اظهار شعائر الکفر فلا یمکنون من ذلک فی امصار المسلمین ولو فعلوا ذلک فی کنائسهم لا یتعرض لهم وکذالوضربوا الناقوس فی جوف کنائسهم القدیمة لم یتعرض کذلک لان اظهار الشعار لم یتحقق فان ضربوا به خارجًا منها لم یمکنوا منه لما فیه من اظهار الشعائر...... وانما لکنائس والبیع القدیمة فلا یتعرض لها ولا یهدم شئ فیها واما احداث کنیسة اخرى فیمنعون عنه فیما صار مصراً من امصار المسلمین.
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۱۴، ۱۱۳ کتاب السیر ) (فتاویٰ حقانیہ ج ۲ ص ۴۳۸ تا ۴۴۰)
غیر مسلم متروکہ اراضی پر مسلمان مسجد بنالیں تو وہ شرعاً مسجد ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کشنری بازار میں ایک پلاٹ سکھوں کی ملکیت تھا جو انھوں نے گردوارہ اور شادی گھر رفاہِ عامہ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ تقسیم کے بعد بطور مسجد کے مہاجر مسلمانوں نے اس پر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اسی دور میں مجاہدِ ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی وہاں تقریر بھی ہوئی۔ پھر ۱۹۵۲ء میں انتظامیہ نے مرزائیوں کو یہ پلاٹ بطور مسجد کے ناجائز قبضہ کے طور پر دے دیا۔ جبکہ محکمہ متروکہ وقف املاک بھی نہیں بنا تھا۔ مگر ۱۹۸۲ء میں انتظامیہ نے مرزائیوں کو نکال دیا جس کے بعد مسلمانوں نے اس میں نمازیں ادا کیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر مولا بخش نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد جو درخواست دی اس میں تصریح ہے کہ ہم نے ناجائز قبضہ کیا تھا دراصل یہ مسلمانوں کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے ایک حکم کے ذریعہ غیر مسلم متروکہ اوقاف پر تعمیر شدہ مساجد، مدارس، امام باڑے اور دینی ادارے منتظمین کو دینے کا حکم دیا۔ جس پر چیف سیکرٹری متروکہ اوقاف لاہور پاکستان نے عمل درآمد کرایا۔
اب انتظامیہ (غیر مسلم اوقاف) مسلمانوں کو مسجد کا قبضہ نہیں دے رہی اور بجائے مسجد کے (۱۴/ ۷/ اے) میں دفتر بنانا چاہتی ہے۔ جبکہ موقعہ پر ”مسجد ختم نبوت، محراب و منبر، مینار اور حجرہ سب چیزیں موجود ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کہ مذکورہ جگہ اور تعمیر شدہ مسجد شرعاً مسجد ہے یا نہیں؟ نیز محکمہ متروکہ وقف املاک کو کیا مداخلت کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ المستفتی: محمد ریاض الحسن گنگوہی۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ضلع ڈیرہ اسمعیل خان
الجواب...... والله هو الملهم للحق والصواب. امابعد! مسئولہ مسجد، شرعاً مسجد ہے اس لیے کہ شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی ابتدائی بنیاد مسلمانوں کی ہی رکھی ہوئی ہے اور اس کی قدیم سے نسبت اسماعیل خان نامی شخص کی طرف اس کے بانی اول پر دلیل ہے اور اس نوع کے مسائل میں اتنی کچھ ترجیح شرعاً مکمل شہادت ہے۔ کما لایخفی علیٰ من به ممارسة فی ضوابط الشرع......
مسلمانوں کے تعمیر کردہ شہروں میں غیر مسلم عبادت گاہوں کی کوئی وجودی حیثیت نہیں نہ ابتداء نہ بقاء۔
امصار المسلمين ثلاثة احدها ما مصره المسلمون كالكوفة والبصرة و بغداد والواسطة فلا يجوز فيها احداث بيعة ولا كنيسة ولا مجتمع صلوتهم ولا صومعة باجماع اهل العلم.
(فتح القدیر ج ۵ ص ۳۰۰ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، وغیرہ ذلک من کتب المذہب)
تو اس قطعہ کی شرعی حیثیت گوردوارہ کی نہ تھی بلکہ املاکِ متروکہ میں سے ایک سفید قطعہ غیر مملوکہ کی تھی جو کہ مسلم آبادی دیہہ کے وسط میں واقع تھی اور ایسے قطعات پر سربراہی مسلم حقوق شہریت کے اندر رہتے ہوئے مسلم سرکار کو حاصل ہے۔ کما فی کتب احیاء الموات۔
تو ابتداءً اس قطعہ کو مسلمانوں کے جائے نماز مقرر کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہ تھی۔ پھر مسلم سرکار کی اس قطعہ کی تقرری برائے مسجد صحیح ہے کہ اسے یہ اختیار حاصل ہے اور اس مسجد پر تولیت (سربراہی) جو گورنمنٹ نے غیر مسلموں کو سونپی صحیح نہیں کالعدم ہے کہ یہ معاملہ گورنمنٹ کے اختیار سے باہر ہے۔ پھر ۱۹۸۲ء میں جو غیر مسلموں کی مسجد پر تولیت ختم کر دی گئی، صحیح ہے رجوع الی الاصل ہے کہ غیر مسلم مسجد کی تولیت کا اہل ہی نہیں ہے۔
(توبہ ۱۷، ۱۸ و ہکذا فی التفاسیر)
اور اس مسجد پر جو قادیانیوں نے خرچ کیا ہے اس کی وجہ سے اس خطہ کے مسجد ہونے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا کیونکہ قادیانی ایک ایسا غیر مسلم فرقہ ہے کہ جس کے بنیادی، مذہبی دستور میں مسجد بنانا کارِ ثواب ہے۔ (قربتہ ہے) بعینہ ایسے جیسا کہ یہودی و عیسائی بیت المقدس پر خرچ کرنا قربتہ سمجھتے ہیں یا کفار مکہ بیت اللہ شریف پر خرچ کرنا قربتہ سمجھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ کفار کے حق میں باعث اجر نہیں لیکن جو شئے مسلم اور غیر مسلم دونوں کے نزدیک کارِ ثواب ہے۔ اس پر غیر مسلم کے خرچ کر لینے سے اس شئے کی حیثیت میں فرق نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ بیت اللہ شریف کی کافروں والی تعمیر کو باقی رکھا گیا اور یہی شرعی قانون ہے۔
بخلاف الذمى لما في البحر غيره ان شرط وقف الذمى ان يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء او على مسجد القدس.
(شامی ج ۳ ص ۳۹۵ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ و فتاویٰ عالمگیری)
اگر قادیانی غیر مسلم فرقہ کے بنیادی عقائد میں اسلامی طرز کی مساجد بنانا قربتہ نہ ہوتی تو پھر اس مسجد کے تعمیری سامان میں قادیانیوں کی خرچ کرنے والوں کی ملکیت ہوتی اور وہ اپنی تعمیر کو اٹھا لیتے۔
كما في العالمگیریہ ولو جعل الذمى داره مسجدا.
(ج ۲ ص ۳۵۳)
تاہم اس خطہ زمین کا بحق مسجد ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ جعلتہ مسجداً کہہ دینے سے مسجد ہو جاتی ہے اور یہی معتبر محکم ہے۔ بشرطیکہ قائل اس کا اہل ہو کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ نیز یہ مسجد ظاہری مبینہ طور پر بندہ باسلام کے خلاف قلعہ کفر و کمین گاہ کے طور پر بھی نہ ہو۔ لہٰذا مسجد مسئولہ مسجد ہی ہے کیونکہ اس وقت کی مسلم گورنمنٹ نے مسجد بنوائی تھی نہ کہ کفریہ قلعہ، یہ باعتبار ظاہر کے ہے اور شرعی احکام کا محل ورود بھی ظاہری حالات ہی ہوتے ہیں۔ واما في الحقيقة فهو الله تعالى اعلم. عبدالرحمن غفرلہ الجواب صحیح صدر تخصص فی الفقہ کمافی فتاویٰ دارالعلوم دیوبند و کفایت المفتی و جامعہ قاسم العلوم ملتان عزیز الفتاویٰ و فتاویٰ محمودیہ وغیرہ فقط۔ العبد منظور احمد نائب مفتی جامعہ قاسم العلوم ۴ جمادی الاولٰی ۱۴۱۰ھ۔
الجواب...... واقعاتی لحاظ سے جبکہ مسلمانوں کو مسجد کی ضرورت اور انھوں نے اس غیر مملوکہ پلاٹ کو اپنی انتہائی
ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مخصوص کر لیا اور اس پر باقاعدہ نماز باجماعت ہوتی رہی اور اس سے رفاہ عامہ کے مفادات پر کوئی زد نہیں پڑتی تو شرعی اصول و قواعد کے مطابق مذکورہ جگہ مسجد شرعی بن گئی۔ لہذا اب اسے بدستور مسلمانوں کے لیے مسجد ہی باقی رکھنا ضروری ہے۔ (بحرالرائق ج ۵ ص ۲۵۵) میں ہے۔
وفى الخانية طريق بلا عامة وهى واسع فبنى فيه اهل المحلة مسجدا للعامة ولا يضر ذلك بالطريق قالوا لا بأس بها وهكذا روى عن ابى حنيفة و محمّد ان الطريق للمسلمين والمسجد لهم ايضاً.
”اور خانیہ میں ہے کہ عوام کا ایک راستہ ہے اور وہ وسیع ہے محلہ والے اگر اس میں مسجد تعمیر کر لیں اور اس تعمیر سے راستہ کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو تو فقہاء اس کو جائز سمجھتے ہیں امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ سے بھی یہی مروی ہے کہ راستہ بھی مسلمانوں کا ہے اور مسجد بھی انھیں کی ہے۔“
(فتاویٰ عالمگیری ج ۲ ص ۴۵۶ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ) میں مرقوم ہے۔
ذكر فى المنتقى عن محمّد فى الطريق الواسع بنى فيه اهل المحلة مسجدا و ذلك لا يضر بالطريق فمنعهم رجل فلا بأس ان يبنوا.
”منتقٰی میں امام محمدؒ سے روایت ہے کہ ایک وسیع راستہ ہے محلہ والوں نے اس میں مسجد تعمیر کر لی اور راستہ کی آمد و رفت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو اگر کوئی شخص منع بھی کرے تب بھی مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں۔“
(فتاویٰ حمادیہ ج ۱ ص ۳۳۸) میں ہے۔ ”نهر للعامة فهو لا هل قرية فاراد جماعة ان يبنوا عليه مسجدا فلا بأس به.“
”فتاویٰ غیاثیہ میں ہے کہ کسی گاؤں کی نہر ہے ایک جماعت اس کے اوپر ایک مسجد تعمیر کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
جزئیاتِ بالا کے تحت جب یہ جگہ مسلمانوں کی مسجد بن چکی تو اب احمدی فرقہ کا ناجائز طور پر اپنے حق میں الاٹ کرانا یا اپنا معبد بنانا جائز نہ تھا۔ اور پھر خصوصاً جبکہ انتظامیہ نے ۱۹۸۲ء میں انھیں ناجائز قابض سمجھتے ہوئے بے دخل کر دیا اور قبضہ کسی اور کو دلا دیا۔ پھر اس کے بعد ۱۹۸۹ء کے آخر تک اس پر مسجد ختم نبوت کا بورڈ آویزاں رہا ہے تو اب حق یہی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں اس کی وہی اولین پوزیشن یعنی مسجد والی بحال رہنی چاہیے۔ تفصیل بالا سے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی قانونی موشگافی سے اس کی مسجدیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور اسے دفتری مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست نہ ہوگا۔ مروجہ قانون کے مطابق اس کی الاٹمنٹ وغیرہ میں اگر کوئی قانونی کمی ہو تو اس کا ازالہ کر دیا جائے نہ یہ کہ اس کی مسجدیت کو ہی ختم کر دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم۔
احقر محمد انور عفا اللہ عنہ مفتی جامعہ خیر المدارس ملتان
الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ رئیس الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان۔
الجواب صحیح: محمد صدیق غفرلہ مدرس و ناظم اعلیٰ جامعہ خیر المدارس ملتان۔
الجواب صحیح: بندہ محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ نائب مفتی خیر المدارس ملتان۔
الجواب صحیح: محمد حنیف جالندھری مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان۔ (خیر الفتاویٰ ج ۲ ص ۷۹۸ تا ۸۰۲)
باب دوم
امامت اور جماعت کے متعلق احکام
منکر رسالت کی نجات کا عقیدہ رکھنے والے کی امامت کا حکم
سوال ...... زید توحید و رسالت اور جمیع ضروریاتِ دین کو تسلیم کرتے ہوئے اور عمل کرتے ہوئے یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ جو شخص صرف توحید کا قائل ہو اور رسالت اور قرآن کو نہ مانتا ہو وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا بلکہ آخر میں اس کی بھی مغفرت ہو جائے گی۔ زید کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں؟
(استفتی نمبر ۹۲ محمد ابراہیم خاں ضلع غازیپور ۔ ۹ رجب ۱۳۵۲ھ م ۳۰ اکتوبر ۱۹۳۳ء)
جواب ...... جو شخص آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کو نہ مانے اور قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم نہ کرے وہ جماہیر امت محمدیہ علی صاحبہا ازکی السلام والتحیۃ کے نزدیک ناجی نہیں ہوگا۔ ایسا شخص جو اس کی نجات کا عقیدہ رکھتا ہو اس کو امام بنانا جائز نہیں ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہٗ ۔
(کفایت المفتی ج ۳ ص ۴۰)
اپنے کو مرزائی کہنے والے کی امامت
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ایک امام مسجد جس نے گذشتہ دنوں اپنے مقتدیوں کے سامنے اعلان کیا کہ میں مرزائی ہو گیا ہوں۔ میرا مسلک وہی ہے جو مرزائیوں کا ہے۔ اب امامت بھی کر رہا ہے اور توبہ نامہ تحریری کسی عالم کے پاس جا کر تائب ہونے کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز جائز ہے۔ شرعاً وہ امام مسلمان ہے۔
(۲)...... شیعہ حضرات میں سے کسی نے صف خرید کر سنیوں کی مسجد میں ڈال دی۔ کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کو برا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا ہماری مسجد پر پیسہ لگانا ناجائز ہے۔ سنیوں کی مسجد پر پیسہ خرچ کرنے والا کہتا ہے کہ میں صحابہ کو گالیاں نہیں دیتا ہوں بلکہ صحابہ کی تعریف کرتا ہوں اور مدح کا قائل ہوں۔ دلائل سے روشنی ڈالیں۔
(۳)...... کنجر جس کی آمدنی قطعی طور پر حرام کی ہے۔ وہ رقم مسجد پر لگ سکتی ہے۔ دلائل سے واضح فرمائیں جس مسجد میں پانچوں وقت کی نماز باجماعت نہ ہوتی ہو اس مسجد میں نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب ...... (۱)...... اس امام کے بارے میں تحقیق کی جائے اگر واقعی اس نے مرزائیوں والے عقیدے اختیار کر لیے ہوں تو جب تک وہ توبہ تائب نہ ہو اس کی امامت جائز نہیں ہے۔
(۲)...... اگر واقعی یہ شیعہ سنیوں جیسا عقیدہ رکھتا ہو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا یا نہ کہتا ہو جیسے کہ وہ کہتا ہے تو اس کی خرید کردہ صف پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ بشرطیکہ مال حلال سے خرید کی ہو۔
(۲)...... حرام مال مسجد پر صرف کرنا جائز نہیں۔ لحدیث ان الله طیب لا یقبل الا طیبا۔
(مشکوۃ ص ۱۶۷ باب فضل الصدقة )
(۳)...... ایسی مسجد میں نماز جمعہ جائز ہے۔ بشرطیکہ جمعہ کے دیگر شروط پائے جائیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس مسجد کو پانچ وقتہ نماز کے ساتھ آباد کریں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوی محمود ج ۲ ص ۵۷، ۵۸)
قادیانی کی امامت درست نہیں ہے
سوال ...... فرقہ قادیان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ الجواب ...... درست نہیں ہے کیونکہ ان کے کفر پر فتویٰ ہے۔ فقط
(الدرالمختار باب الامامة ج ۱ ص ۴۱۵ مکتبہ رشیدیہ، فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۲۱۰)
قادیانی کی امامت درست ہے یا نہیں
سوال ...... جو لوگ مرزا قادیانی کے مرید ہوں یا اس کو اچھا سمجھتے ہوں ان کی امامت جائز ہے یا نہیں۔ ان کے پیچھے ادا کردہ نماز کا اعادہ واجب ہے یا کیا کچھ۔ الجواب ...... جائز نہیں۔
(فتاوی شامی باب الامامة ج ۱ ص ۴۱۴۔۴۱۵، فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۲۲۵)
قادیانی کی امامت
سوال ...... قادیانیوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ الجواب ...... قادیانیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔
(فتاوی شامی باب الامامة ج ۱ ص ۴۱۴۔۴۱۵، فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۱۶۰)
دین دار انجمن کا امام کافر مرتد ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی
سوال ...... نیو کراچی میں قادیانیوں کی عبادت گاہ فلاح دارین میں ”دین دار جماعت“ کا قادیانی یاسین پیش امام ہے جو بہت چالاک جھوٹا مکار اور غاصب ہے اس نے مکاری سے کئی کوارٹر حاصل کر رکھے ہیں کئی غریب او کمزور لوگوں کے کوارٹروں پر خود قبضہ کر رکھا ہے اور کئی غریب اور کمزور لوگوں کے کوارٹروں کے تالے توڑ کر اپنے پالتو بدمعاشوں کا قبضہ کروا رکھا ہے اور کئی مسلمانوں کو دھوکہ دے کر مسجد کے نام سے رقم وصول کی اور مسجد میں لگانے کے بجائے اپنے گھر میں خرچ کی۔ اور اپنے پالتو بدمعاشوں کی سرپرستی اور عیاشی پر خرچ کی۔ براہ کرم آپ یہ بتائیں جن لوگوں نے لاعلمی میں مسجد کے نام پر اس کو رقم دی اس کا ثواب ان کو ملے گا یا وہ رقم برباد ہو گئی۔ اور ہمارے محلہ کے کچھ لوگ لاعلمی میں اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب ان کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہوا تو نماز چھوڑ دی اب لوگ قریبی بلال مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں جو نمازیں ہم لوگ اب تک قادیانی یاسین کے پیچھے لاعلمی میں پڑھ چکے ہیں وہ نمازیں ہوگئیں یا ان کی قضا کرنا پڑے گی یا کوئی اور طریقہ ہے۔
الجواب ...... ”دین دار انجمن“ قادیانیوں کی جماعت ہے اور یہ لوگ کافر و مرتد ہیں، کسی غیر مسلم کے پیچھے پڑھی گئی نماز ادا نہیں ہوتی۔ جن لوگوں نے غلط فہمی کی بنا پر یاسین مرتد کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں وہ اپنی نمازیں لوٹائیں
اور مسلمانوں کو لازم ہے کہ ”دین دار انجمن“ کے افراد جہاں جہاں مسلمانوں کو دھوکہ دے کر امامت کر رہے ہوں ان کو مسجد سے نکال دیں ان کی تنظیم کو چندہ دینا اور ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۵-۲۳۶)
مرزائیوں کو کافر نہ سمجھنے والے کی امامت کا حکم
سوال...... ایک شخص اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کہے اور ظاہراً نمازیں پڑھتا ہو اور روزے رکھتا ہو اور شکل مسلمانوں والی ہو اور حافظ قرآن ہو اور دیوبندی ہو لیکن مرزا ملعون اور اس کے متبعین کو کافر نہ کہے بلکہ اصلی مسلمان سمجھے اور اس کے گھر میں شادی کی ہو اور اس کے ساتھ تعلق اور برت برتاؤ ہو اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہو اور نبی ﷺ کی جسمانی معراج کا منکر ہو اور شفاعت اور کرامت اولیاء اللہ کا منکر ہو، آیا ایسے عقیدہ والا شخص عنداللہ شریعت محمدیہ میں مسلمان ہے یا کافر ہے اور اس کے پیچھے نماز جمعہ وعید وغیرہ پڑھنی درست ہے یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۲۱۶ خلیل الرحمٰن (منڈی بہاؤالدین) ۲۸ شوال ۱۳۵۶ھ م یکم جنوری ۱۹۳۸ء
جواب...... جو شخص مرزا اور مرزائی جماعت کو کافر نہ سمجھے اور مرزائیوں سے رشتہ ناتا رکھتا ہو اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہو اور معراج جسمانی کا منکر ہو اور شفاعت کا منکر ہو وہ گمراہ اور بددین ہے۔ اس کی امامت جائز نہیں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔
(کفایت المفتی ج ۳ ص ۷۱-۷۲)
قادیانی کو مسلمان کہنے والے کی امامت
سوال...... جس شخص کا عقیدہ حسب ذیل ہو اس کو امام بنانا کیسا ہے۔ تقلید ناجائز اور بدعت ہے۔ مرزائی اور مرزا مسلمان ہیں۔ مقلدوں کا مذہب قرآن میں نہیں۔ ایسے شخص کو امام بنانا اور ترجمہ قرآن شریف اس سے پڑھنا کیسا ہے۔
الجواب...... ایسے شخص کو امام بنانا جس کے عقائد سوال میں درج کیے ہیں درست نہیں ہے اور اس سے ترجمہ قرآن شریف بھی نہ پڑھنا چاہیے۔ فقط (الدرالمختار باب الامامۃ ج ۱ ص ۳۴-۳۵ مکتبہ رشیدیہ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۱۰۶)
قادیانی سے لڑکی کی شادی کرنے والے کی امامت
سوال...... جس کا داماد احمدی ہو اور وہ اس سے تعلق رکھے اس کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟
الجواب...... وہ شخص لائق امام بنانے کے نہیں ہے تاوقتیکہ اس کا داماد توبہ و تجدید ایمان کر کے دوبارہ نکاح نہ کرے یا وہ شخص اپنی دختر کو اس سے علیحدہ کرے۔ فقط (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ج ۱ ص ۳۱۴-۳۱۵ باب الامامۃ مکتبہ رشیدیہ) (احمدی، (قادیانی) متفقہ طور پر کافر ہے۔ لہٰذا اس سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز نہیں ہے اور نہ اس سے اپنا دینی تعلق ہی قائم رکھنا درست ہے۔ ظفیر)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۱۴۲)
لاہوری مرزائی کی امامت کا حکم
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ کل مورخہ ۸ ستمبر ۱۹۷۳ء بوقت سوا چار بجے دن سابق امام مسجد ووکنگ مسمی محمد طفیل ایم اے متعلقہ مرزائی فرقہ لاہوری کی ساس کا جنازہ مسجد ہٰذا میں لایا گیا۔ اور یہاں کے
سرکاری امام خواجہ قمر الدین نے جو کہ اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت ظاہر کرتے ہیں۔ مرزائی سابق امام محمد طفیل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔ جب چند معززین نے اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمر الدین سرکاری امام دوکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لیے جنازہ میں شرکت کی ہے کیونکہ مرزا محمد طفیل بسا اوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں اور دوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا کیونکہ وہ مرزا غلام احمد کو صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں اور ہم کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتویٰ سے کماحقہ مطلع فرمادیں۔
دستخط کنندگان عینی شاہد صابر حسین، محمد شریف، عبدالرحمان، ملک احمد خان سکنائے لندن، دوکنگ مسجد وہ مسجد ہے جس پر مرزائیوں نے پچاس سال غاصبانہ قبضہ رکھا۔ مولانا لال حسین مرحوم کے تبلیغی دورہ کے وقت آج سے پانچ برس قبل اہل اسلام کو دوبارہ قبضہ ملا۔ حاجی محمد اشرف گوندل، لندن، انگلینڈ
جواب....... مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اس کی کتابوں سے ظاہر ہے اور تواتر سے ثابت ہے۔ مدعی نبوت کو مجدد تسلیم کرنا تو کجا اسے مسلمان خیال کرنا بھی کفر ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس پر قرآن وسنت سے قطعی دلائل علماء امت نے پیش کیے ہیں۔ مسئلہ بہت واضح ہے علماء امت کا اس پر اجماع ہے۔
بنابریں اگر ثابت ہو جائے کہ دوکنگ مسجد کا سرکاری امام خواجہ قمر الدین، لاہوری مرزائیوں کو (جو مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتے ہیں) مسلمان یقین کرتا ہے تو وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی اقتداء میں نماز نہ پڑھیں اور اسے دوکنگ مسجد کی امامت سے فوراً علیحدہ کردیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۲۴ رمضان ۱۳۹۳ھ مطابق ۲۲ اکتوبر ۷۳ء
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۱۹۹، ۲۰۰)
مرزائی سے تنخواہ لے کر امامت کرانا
سوال....... کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ یہاں ہمارے شہر میں ایک کپڑے کا کارخانہ ہے جس کا مالک مرزائی ہے کارخانہ کے قریب جتنی مسجدیں آباد ہیں، ان کے اماموں کی تنخواہ کارخانہ ہٰذا دیتا ہے وہ اس طرح کہ ہر روز امام صاحب کارخانہ ہٰذا کے دفتر میں صرف حاضری دے دیتے ہیں اور یہی مل مالک ایک جامع مسجد بھی تیار کر رہا ہے۔ جیسے مظفر آباد میں ہوچکی ہے آپ فوراً جواب دیجئے کہ امام کو کارخانہ کی روزانہ حاضری کی شرط پر تنخواہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہ اور تعمیر مسجد مرزائی کرائے تو ہم اس میں نماز ادا کریں یا نہ۔ بینوا توجروا
جواب....... اگر یہ احتمال ہو کہ امام مسجد اس مرزائی کا ممنون ہو کر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت یا ان کی خاطر اپنے مذہبی شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے تو اس وقت ان اماموں کے لیے مرزائی سے تنخواہ لینا ٹھیک نہیں۔ نیز تعمیر مسجد میں بھی ان امور کا خاص خیال رکھا جائے گا اگر یہ مذکورہ بالا احتمال ہو۔ یعنی اگر کوئی مرزائی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھے اور اس پر مرزائی احسان رکھے یا اس تعمیر مسجد کے ذریعے اہل اسلام کو اپنے دین کی طرف مائل کرنا چاہے تو اس میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے اگر یہ احتمال نہ ہو تو درست ہے۔ الغرض کافر کا احسان اہل اسلام پر جائز نہیں۔ مسلمان اس احسان کو ہرگز نہ اٹھائیں۔ ولا یجوز ان یصیر الکافر صاحب المنة علی المسلمین
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۴۲)
امام کا مرزائی سے تنخواہ لینے کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں ایک مولوی صاحب امامت کرتے ہیں اور اس کی ماہوار تنخواہ مرزائی ادا کرتا ہے۔ کیا مرزائی سے چندہ لینا درست ہے یا نہ۔
جواب ...... نظرا الى بعض العوارض كالاحسان على اهل الاسلام من اهل الكفر. یعنی بوجہ احتمال احسان علی المسلمین فی امر الدین کے مرزائی کا چندہ یا تنخواہ لینا درست نہیں۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ اہل اسلام ان کے ممنون ہو کر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت یا ان کی خاطر سے اپنے شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے۔ اس لیے مرزائی کی تنخواہ قبول کرنا مناسب نہیں۔ فان الاسلام یعلو ولا یعلی۔ (کنز العمال ج ۱ ص ۶۶ حدیث ۳۴۶) والیدا العليا (المعطيه) خير من اليد السفلى (السائلة والاخذه) (مشکوٰۃ ص ۱۶۲ باب من لا تحل لہ المسئلۃ) مسلمانوں کو چاہیے کہ خود اپنی حلال کمائی سے چندہ کریں امام کی تنخواہ ادا کریں اور مسجد کے انتظام کے لیے خود کمیٹی مقرر کریں اور اس مرزائی سے بیزاری اختیار کریں۔ اس سے جو تیری نافرمانی کرے (ترجمہ) دعائے قنوت پر عمل کرتے ہوئے ان سے دور رہیں۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۵۲)
مرزائی کا نکاح پڑھانے والے کی امامت کا حکم؟
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ زید خطیب وامام ہے قوم کا اور اس کو سردار پور میں مقتدا سمجھا جاتا ہے اور قصبہ سردار پور میں ایک مرزائی قادیانی آدمی رہتا ہے۔ وہ نہری محکمہ میں افسر ہے۔ اس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا ہے۔ خدا جانے وہ عورت کس قسم کی ہے۔ زید مذکور معہ چند چیدہ مسلمانوں کے اس مجلس میں شریک ہو کر نکاح خواں بنا ہے اور دس روپے عوض بھی وصول کیا ہے اور مٹھائی و چائے بھی تناول کی۔ اب مسلمانوں کو بڑی پریشانی ہے کہ ہمارے مقتداء صاحب نے کیا کیا ہے۔ لہٰذا شریعت صافیہ کے مطابق جواب عنایت فرماویں جو ممانعت ہو اور جس قسم کا گناہ ہو اور جو تعزیر مناسب ہو۔ پوری تفصیل سے جواب فرماویں۔ بینوا وتوجروا۔
الجواب ...... مرزائی بالاجماع دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے نکاحوں میں شریک ہونا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ چہ جائیکہ خطیب قوم ان کے نکاح میں شرکت کرے یا ان سے میل جول رکھے۔ بوجوہ مذکورہ جب خطیب کا فسق متیقن ہو جائے تو اس کی امامت ناجائز ہے اور اس کا عزل مسلمانوں پر لازم ہے۔ عامۃ المسلمین پر لازم ہے کہ اس کی تعظیم نہ کریں اور تعلقات اس سے منقطع کرکے اسے توبہ کرنے پر مجبور کریں۔ اس کی امامت اور تعظیم کے بارہ میں حوالہ ذیل شامی کا ملاحظہ ہو۔ (رد المحتار ص ۳۱۴ ج ۱) میں لکھا ہے۔ فقد عللوا كراهة تقديمه (اى فاسق) بانه لايهتم لامر دينه وبان فى تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً والله اعلم وعلمه اتم واحكم.
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۵۳، ۵۴)
مرزائی متولی کی ولایت میں امامت درست نہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ ایک جگہ نماز پڑھانی ہے۔ نماز پڑھنے والے تو سب اہل سنت والجماعت ہیں۔ لیکن جو آدمی تنخواہ دیتا ہے اور جس کے اختیار میں امام مقرر کرنا اور
ہٹاتا ہے وہ ایک مرزائی ہے جو اپنی گرہ سے رقم دیتا ہے اور جو امام رکھتا ہے اس کو یہ حکم دیتا ہے کہ کوئی اختلافی مسئلہ نہ بیان کرنا۔ اس حکم سے اصل مقصد اس کا یہ ہے کہ مرزائیوں وغیرہ کو کچھ نہ کہنا۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی امامت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی شرط کے موافق کوئی اختلافی مسئلہ نہ بیان کرنا خواہ وہ مسئلہ ختم نبوت کیوں نہ ہو۔ یہ کتمانِ حق ہے یا نہیں ۔ بینوا بالکتاب و توجروا یوم الحساب.
جواب...... مرزائی چونکہ بالاتفاق مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ اس لیے ان سے عقد اجارہ کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ ان کا احسان لینا مسلمان کے لیے خلاف مروت ہے۔ جس سے بچنا لازم ہے اور کتمانِ حق بہت بڑا گناہ ہے۔ اس لیے اس صورت میں امامت کرنا جائز نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمود عفا اللہ عنہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان شہر
(فتاویٰ مفتی محمود ج۲ ص۵۷)
مرزائی سے تعلق رکھنے والے کی امامت
سوال...... اگر کوئی مرزائی مسجد کے حجرہ میں امام مسجد کے پاس بیٹھ کر نمازیوں میں نفاق پیدا کرا کر گروہ بندی کرائے اور امام جو اس کی باتوں پر عمل کرتا ہے نمازیوں کے روکنے پر بھی نہ مانے تو ایسا امام مسجد میں رکھنے کے لائق ہے یا نہیں۔
الجواب...... امام مذکور سے صاف کہا جائے کہ اگر تو نے مرزائی کے ساتھ تعلق اور ربط رکھا اور اس کو اپنے پاس رکھا تو تجھ کو امامت سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔ اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس کو امامت سے علیحدہ کر دیا جائے۔
(الدر المختار ج ۱ ص ۴۱۴۔ ۴۱۵ باب الامامۃ مکتبہ رشیدیہ)
اور اس مرزائی کو مسجد کے حجرہ میں نہ رکھا جائے فوراً نکال دیا جائے۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۳ ص ۱۸۱۔۱۸۲)
مرزائیوں سے میل ملاپ والے کی امامت
سوال...... (۱)...... ایک بستی کے مسلمانوں نے ایک شخص کو امام بنایا۔ پھر امام کے حالات خراب ہو گئے۔ لوگ شک کی نظر سے دیکھنے لگے اور علاوہ ازیں امام مذکور کا مرزائیوں کے ساتھ بہت میل ملاپ ہے۔ ایسا کئی دفعہ عید کے موقع پر بستی کے شریف مسلمانوں نے اپنا امام اور مقرر کر لیا۔ کیا امام اول کو امامت سے ہٹانا اور دوسرا مقرر کرنا درست ہے۔ (۲)...... کوئی مسلمان کہلانے والا شخص کسی مسجد کے مالک ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ امام اول اس مسجد کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ (۳)...... کیا کسی بستی کے اکثر مسلمان بستی کی کچی مسجد کو گرا کر اس جگہ پر پہلے کی نسبت مضبوط اور پختہ مسجد بنوا سکتے ہیں۔ (۴)...... اگر کوئی امام مسجد جس کا کریکٹر (چال چلن) خراب ہو۔ اور مرزائیوں کے ساتھ سخت میل جول رکھتا ہو وہ بلا ثبوت مسجد کے متولی ہونے کا دعویٰ کرے تو شریف اہل محلہ اس کو امامت اور خود ساختہ تولیت سے ہٹا سکتے ہیں؟
المستفتی نمبر ۲۱۹۵ قاضی محمد شفیع صاحب لاہور ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۵۶ھ ۱۸ جنوری ۱۹۳۸ء
جواب...... (۱)...... ان حالات میں پہلے امام کو علیحدہ کر دینا اور دوسرا امام مقرر کر لینا جائز ہے۔ (۲)...... مسجد کا مالک کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہاں متولی کو تولیت کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں مگر ملکیت کا دعویٰ کوئی
نہیں کر سکتا۔
- (۳)...... ہاں بستی والوں کو یہ حق ہے کہ وہ کچی مسجد کو پختہ بنانے کے لیے گرا دیں اور پختہ بنالیں۔
- (۴)...... استحقاق تولیت کا ثبوت نہ ہو تو متولی ہونے کے مدعی کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ بالخصوص جبکہ اس کے حالات
بھی صلاحیت کے خلاف ہوں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۳ ص ۷۳، ۷۴)
مرزائیوں سے تعلقات رکھنے والے کی امامت کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص امام مسجد ہے اور اس کے اعتقادات علماء دیوبند کی طرح ہیں۔ مگر اس کے رشتہ دار مرزائی ہیں۔ جن کے ساتھ اس مولوی امام کا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا عموماً ہوتا رہتا ہے۔ اب آیا اس مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں۔ بینوا وتوجروا۔
جواب ...... مرزائی مرتد ہیں۔ اسلام سے خارج ہیں۔ اسلام سے خارج ہو جانے کے بعد ان سے سارے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ تعلقات رکھنا۔ رشتہ ناتہ کرنا ناجائز ہے۔ اگر سوال میں مذکورہ صورت حال صحیح ہے تو مولوی صاحب مذکور کو لازم ہے کہ اس سے توبہ کرے۔ ورنہ اس کو امامت سے معزول کر دیا جائے۔ واللہ اعلم محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان۔ ۲۷ ذوالقعدہ ۱۳۷۲ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۵۴، ۵۵)
مرزائیوں سے تعلق رکھنے والے کی امامت کا حکم؟
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین (۱)...... ایسے عالم دین کے بارے میں جو ایک مرکزی جامع مسجد کا خطیب ہو۔ اور تنخواہ دار ہو، مرزائیوں کے ساتھ پر تپاک انداز میں ملتا جلتا ہو بڑی عزت اور احترام بجا لاتا ہو۔ جب موصوف سے عرض کرتے ہوئے دریافت کیا گیا ہو کہ آپ کا دشمن ختم نبوت سے اس انداز میں میل جول رکھنا عوام کے لیے نہایت ناپسندیدہ و ناگوار ہے تو جواباً کہتا ہے کہ ہم علماء کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ اور عوام کے لیے جائز نہیں کیا ان کا یہ جواب درست ہے اگر نہیں تو خدا کے لیے شرعی دلائل سے فتویٰ فرما کر مشکور فرماویں۔
- (۲)...... تنخواہ دار عالم دین کے لیے فتویٰ لکھ کر دینے کی فیس لینی جائز ہے۔
- (۳)...... آیا ایسے عالم دین کے لیے بازار میں چلتے پھرتے چیز کھانا جائز ہے۔ اگر نہیں تو پھر ایسے امام کی امامت
میں نماز ادا کرنی جائز ہے۔ لہذا عرض ہے کہ از راہ کرم شرعی دلائل سے فتویٰ صادر فرما کر مشکور فرمائیں تاکہ عوام کی عبادت میں فرق نہ آئے۔
جواب ...... (۱)...... اگر یہ عالم دین مستقل طبیعت کا پختہ کار عالم ہے اور وہ اپنے اخلاق کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت کرتا ہے اس کے ایسے برتاؤ سے منکر ختم نبوت متاثر ہو کر صحیح العقیدہ بن سکتا ہے تو جائز ہے اور یہ رویہ اس کا درست ہے ورنہ نہیں۔
- (۲)...... اگر تنخواہ فتویٰ نویسی کی لیتا ہے تو فتویٰ نویسی کی فیس جائز نہیں ہے۔ اور اگر تنخواہ کسی دوسرے عمل کی ہے
اور اس کے علاوہ اپنے مخصوص اوقات میں فتویٰ نویسی کرتا ہے تو فیس لینا جائز ہے۔ بازار میں چلتے پھرتے کھانے کی عادت غلط اخلاق کی علامت ہے۔ مروت کے خلاف ہے امام کو ایسی عادت ترک کرنی چاہیے۔ اگر ترک نہ
کرے تو کسی ایسے شخص کو جو زیادہ باوقار اور بااخلاق ہو امام بنا لیا جائے لیکن اس کے باوجود بھی اس کے پیچھے نماز جائز ہے۔ واللہ اعلم محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم
(فتاوی مفتی محمود ج۲ ص۵۸، ۵۹)
مرزائیوں کے رکھے ہوئے امام کے پیچھے نماز کا حکم
سوال....... کارخانہ میں ایک مسجد ہے جس کی سرپرستی فرقہ مرزائیہ لاہوری پارٹی کو حاصل ہے ان کی جانب سے با تنخواہ امام مقرر ہے۔ ایسے امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب...... اگر امام کے عقائد اہلسنت والجماعت کے مسلک کے مطابق ہیں تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے۔ اہل سنت پر لازم ہے کہ مسجد کا انتظام اپنے ذمہ لے لیں۔ فقط واللہ اعلم: بندہ اصغر علی غفرلہ نائب مفتی خیر المدارس ملتان الجواب صحیح: بندہ محمد عبداللہ غفرلہ مفتی خیر المدارس ملتان
(خیر الفتاوی ج ۲ ص ۳۷۴)
مرزائیوں کے خلاف تحریک میں جیل جانے کے بعد معافی پر رہائی حاصل کرنے والے کی امامت کا حکم؟
سوال....... کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ہمارے چک کے امام مسجد صاحب جو کہ عالم فاضل ہیں اور ان میں امامت کی صلاحیت بھی ہے، مظاہر العلوم سہارن پور کے مستند بھی ہیں وہ تحریک خلاف مرزائیت ستر میں رضا کاروں کے ساتھ جیل میں گئے تھے۔ پھر وہ معافی مانگ کر باہر آ گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اور بیماری کی وجہ سے میں معذور تھا۔ اب چند لوگوں کو یہ بہانہ مل گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، دریافت طلب یہ امر ہے کہ جن لوگوں نے معافیاں مانگی تھیں وہ مسلمان ہیں یا نہیں اور ان کی امامت نماز شرعاً جائز ہے یا نہیں۔
جواب....... اگر امام مذکور میں اور کوئی خلاف شرع باتیں نہ ہوں تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے۔ فقط واللہ اعلم
(فتاوی مفتی محمود ج ۲ ص ۱۷۵)
مرزائیوں کے لیے امام بننے کا حکم
سوال...... ایک گاؤں میں تین مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ شیعہ، مرزائی، اہل سنت والجماعت، مگر امام حنفی عقیدہ رکھتا ہے یعنی اہل سنت والجماعت ہے۔ کیا وہ امام ہر سہ مذہب کے لوگوں کی امامت کر سکتا ہے اور ان کی شادی، غمی و دیگر مواقع پر شریک ہو سکتا ہے یا نہیں، جواب بسند ہو، مرزائی و شیعہ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانے میں استعمال کرنا امام کے لیے جائز ہے یا نہیں۔
الجواب...... حامداً و مصلیاً۔ شیعہ اور مرزائی اپنے مذہب والوں سے خود دریافت کریں گے کہ حنفی امام کے پیچھے ان کی نماز درست ہے یا نہیں۔ آپ کو ان کی کیا فکر پڑی اور وہ آپ کے مذہبی مسائل کو تسلیم ہی کب کریں گے، علماء اہل سنت والجماعت کے فتویٰ کے مطابق مرزائی عقیدہ والے کافر ہیں ان کی شادی غمی میں شرکت ان کی میت پر نماز جنازہ ان کے امام کا اقتداء کرنا وغیرہ جملہ امور ناجائز و ممنوع ہیں۔ ان کا ذبیحہ بھی ناجائز ہے۔ شیعہ کا جو فرقہ نصوص قطعیہ کا منکر ہے اس کا بھی یہی حکم ہے اور جو فرقہ نصوص قطعیہ کا منکر نہیں وہ کافر نہیں۔ اس کا ذبیحہ درست ہے لیکن حتی الوسع اختلاط اس سے بھی نہیں چاہیے کہ فساد عقائد کا قوی اندیشہ ہے۔
نعم لا شک فی تکفیر من قذف السيدة عائشة رضی الله تعالى عنها او انکر صحبة الصديق رضى الله عنه او اعتقد الا لوهية فى على رضى الله تعالى عنه او ان جبرئیل علیه السلام غلط فى الوحى او نعوذبک من الكفر الصريح المخالف للقرآن اه (شامی ج ۳ ص ۳۲۱ مکتبہ رشیدیہ) ومنها اى من شرائط الذكوة ان يكون مسلماً او كتابياً فلا تؤكل ذبيحة اهل الشرک والمرتد اه هندية ج ۵ ص ۲۸۵ فقط والله سبحانه تعالى اعلم حرره العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۔
الجواب صحیح : سعید احمد غفر لہ مفتی مدرسہ مظاہر علوم ۲۴ / ج ۲ / ۵۹ھ صحیح : عبداللطیف ۲۴ / ج ۲ / ۵۹ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۷ ص ۶۷۔۶۸)
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم؟
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص (جو کہ امام بھی ہے ) نے ایک مرزائی کی نماز جنازہ پڑھائی کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں۔
جواب ...... باوجو د اس بات کے جاننے کے کہ یہ مرزائی ہے اس کی نماز جنازہ پڑھنے والا شخص عاصی و فاسق ہے۔ اس کو امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ توبہ تائب ہو جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ محمد انور شاہ غفرلہ ۱۷ ذو الحج ۱۳۹۰ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۵۲)
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں (۱) ...... ایک شخص جو غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے یا اس کے تابع ہے وہ فوت ہو گیا اس کا جنازہ اہل سنت والجماعت کے امام صاحب نے پڑھایا اس بنا پر کہ میت کے وارثوں میں سے کچھ لوگ مسلمان تھے۔ جو غلام احمد کو نبی نہیں مانتے تھے نہ اس کے پیروکار تھے ان کے کہنے پر پڑھایا گیا۔ (۲) ...... امام صاحب نے اس بات سے توبہ کر لی ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں اس بات کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں کیا اتنی بات کرنے سے یہ امام امامت کے قابل ہے یا نہیں کیا حکم ہے۔ (۳) ...... وہ لوگ جو اس میت کے وارثوں کے برادر مسلمان تھے۔ انھوں نے اس امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھا امام اہل سنت والجماعت تھا اور میت مرزائی تھی ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔ (۴) ...... میت مرزائی کے وارثوں نے مسلمان امام کے پیچھے نماز جنازہ نہیں پڑھا بلکہ اپنا امام مرزائی مقرر کر کے نماز جنازہ دوبارہ پڑھا نہ مسلمان اس میں شامل ہوئے اور نہ مرزائی مسلمانوں کے ساتھ جنازہ میں شامل ہوئے۔ لہٰذا مہربانی فرما کر جو بھی حکم ہو اہل سنت والجماعت کے نزدیک وہ تحریر فرمایا جائے۔ امام کے بارے میں اور لوگوں کے بارے میں جنھوں نے نماز جنازہ پڑھا۔
جواب ...... غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے باجماع امت کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور اگر مرے تو اس کی جنازہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔ بقولہ تعالیٰ ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وما تواوهم فاسقون . (توبہ ۸۴)
وفى الدر المختار اما المرتد فيلقى فى حفرة كالكلب (درمختار ص ۲۵۷ ج ۱) اى لايغسل ولا يكفن (در المختار باب صلوة والجنازة) بنا بریں صورۃ مسئولہ میں دوسرے مسلمانوں کے کہنے کے باوجود بھی ان پر نماز
جنازہ پڑھنا جائز نہ تھا جن مسلمانوں نے اس پر نماز جنازہ پڑھ لیا ہے۔ وہ سب گنہگار ہو گئے ہیں سب کو توبہ کرنا لازم ہے امام صاحب جبکہ اپنی غلطی کا اعتراف واقرار کرتے ہوئے توبہ تائب ہو گیا ہے تو اس کی امامت بلا کراہت درست ہے۔ لقوله عليه السلام التائب من الذنب كمن لا ذنب له الحديث (۲:۳) ان کا جواب اوپر کے جوابات میں آ چکا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۵۹، ۶۰ )
قادیانی کا جنازہ پڑھانے والے امام کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے شہر مری کی ایک مسجد کے پیش امام مولوی صدیق اکبر نے ایک ایسے متمول مقامی مرزائی کی نماز جنازہ کی امامت کی جو عرصہ قریباً پچاس سال سے اس شہر میں سکونت پذیر تھا اور شہر کا بچہ اور بوڑھا بخوبی اسے پہچانتا تھا۔ شہر بھر کے عوام اور مقتدی مولوی صاحب کی امامت سے سخت متنفر اور حد درجہ مشتعل ہیں کیا ایسا شخص اہل سنت والجماعت کی مسجد کا امام باقی رہ سکتا ہے۔ (۲)...... سائل مولوی صاحب مذکور نے مبینہ گراں قدر رقم لے کر یہ خدمت انجام دی ہے۔ اس قسم کی اجرت کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اور ایسا کرنے والا شریعت حقہ کے نزدیک کیسا ہے۔
جواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور اس کے پیروکار یعنی اس کو اپنے دعاویٰ میں سچا سمجھنے والے کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھنا بالکل درست نہیں ہے۔ اور کسی امام مسجد کا یہ فعل بالکل قبیح ہے۔ اور اگر در پردہ امام بھی ایسے ہی عقائد رکھتا ہے تو اسلام سے خارج ہوگا۔ (۲)...... ایسے شخص کی امامت صحیح نہیں جب تک کہ اس فعل سے اعلانیہ توبہ نہ کرے اور مرزائیوں کے کافر ہونے کا صحیح اقرار نہ کرے یوں بھی کسی کے لیے جائز نہیں کہ نماز جنازہ کی اجرت لے اور بدوں مقتدیوں کی رضا مندی کے امامت کروائے جبکہ دین کی وجہ سے اس کی امامت کو ناپسند کرتے ہیں، فقط واللہ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۶)
مرزائی کے لیے دعا مغفرت کرنے والے کی اذان کا حکم
سوال ...... ایک آدمی جو کہ احمدی جماعت کا تھا۔ وہ مر گیا اس کو کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتا ہے کہ میری قبر پر دو رکعت نفل پڑھیں اور مغفرت کی دعا مانگیں اسی کا ماموں اہل سنت والجماعت کا تھا۔ اس نے قبرستان پر جا کر اس کی قبر پر نفل ادا کی اور دعا مانگی اس مرزائی کے لیے، جب پھر واپس آیا تو مولوی صاحب نے ان کو کہا کہ تمہارا عقیدہ ٹھیک نہیں مرزائی تو کافر ہیں۔ کافر کے لیے دعا مغفرت مانگنا ٹھیک نہیں بالکل گناہ ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ کلمہ پڑھنے والوں کو کافر نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ مرزائی بھی ہے اس پر مولوی صاحب نے ان کو اذان اور تکبیر پڑھنے سے روکا۔ آئندہ اذان اور تکبیر ہماری مسجد میں نہ پڑھا کریں۔ جب تک تم اپنا عقیدہ ٹھیک نہ کرو، اور توبہ نہ کرو۔ تب تک تم اہل سنت کی مسجد میں نہ اذان نہ تکبیر پڑھا کرو۔ اس کے متعلق آپ فتویٰ دیں کہ اس آدمی کو اہل سنت کی مسجد میں اذان و تکبیر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب ...... مرزائی چونکہ باتفاق جمیع علماء اسلام کافر ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج ہیں جو شخص ان کو اپنی جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے مسلمان سمجھتا ہے تو اگرچہ ان کے معتقدات کو اچھا نہیں سمجھتا تب بھی بہت بڑا گناہگار بنتا ہے۔ جب تک وہ اس سے توبہ نہ کرے۔ اسے اذان و تکبیر نہ کہنے دی جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۶۲۰، ۶۲۱ )
مرزائی اگر جماعت میں شریک ہو جائے تو نماز مکروہ نہیں ہوگی
سوال...... لاہوری جماعت کے مرزائی حنفیوں کی جماعت نماز میں شریک ہو جاتے ہیں تو نماز میں کوئی کراہت آتی ہے یا نہیں۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ حنفی ایسے جاہل ہوں کہ اگر امام مرزائی کو روکے تو خوف فتنہ کا ہو؟
جواب...... نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔ البتہ مسلمانوں کی جماعت میں تابمقدور ان کو شریک نہ ہونے دیا جائے کیونکہ اس سے عام مسلمان ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے دھوکے میں آ جاتے ہیں اور ان کو اپنی مفسدانہ ریشہ دوانیوں کا موقع مل جاتا ہے۔ ہاں اگر ان کے منع کرنے میں فتنہ کا اندیشہ شدید ہو تو چندے صبر کیا جائے اور آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کے عقائد باطلہ اور مکائد پر مطلع کرتے رہنا چاہیے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)
(امداد المفتین ج ۲ ص ۴۳۲)
(الحمد للہ اب قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائیوں کا کفر بھی امت مسلمہ کے سامنے الم نشرح ہو چکا ہے۔ پوری دنیا میں کہیں کوئی لاہوری یا قادیانی مسلمانوں کے ساتھ کسی دینی امر میں اتحاد نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود اب بھی اگر کہیں لاہوری مرزائی مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوتا ہو تو ان کو علیحدہ کرنا مسلمانوں پر ضروری ہے۔ اب چپ رہنا دینی و ایمانی غیرت کے منافی ہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے بعد مصلحت کوشی کفر و اسلام کی حدود کو خلط ملط کرنا ہے جو حرام ہے۔ مرتب)
قادیانی کا مسجد میں نماز کے لیے آنا
سوال...... قادیانی مذہب کے اشخاص بروقت ہونے جماعت اہلسنت والجماعت علیحدہ کھڑے ہو کر نماز خود ادا کرتے ہیں اور وضو بھی آفتابہ مسجد و پانی مسجد سے کرتے ہیں بوجہ فتویٰ کفر ہونے کے قادیانی فرقہ کے لوگ نماز مسجد اہلسنت والجماعت میں ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اور ادا کر سکتے ہیں تو اہل سنت والجماعت پر تو کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ ریاض الحق کلیانوی از تھانہ بھون
جواب...... قادیانی جب مسلمان نہیں تو ان کی نماز نہیں ان کو مسجد میں آ کر نماز ادا کرنے سے روک دینا چاہیے اگر اندیشہ فساد نہ ہو۔ حررہ العبد محمود گنگوہی غفرلہ ۲۳/۳/۵۳ھ صحیح: سعید احمد غفرلہ۔ صحیح: عبداللطیف عفا اللہ عنہ ۲۶/ ربیع الاول ۵۳ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۵ ص ۳۰۷۔۳۰۸)
جمعہ کے خطبہ میں ’’منکرین ختم نبوت‘‘ کی تردید کرنا
اس موجودہ پرفتن دور میں عام طور پر مسلمانوں کو حضور ﷺ کی ختم نبوت کی اہمیت بتلانے اور صحیح اعتقاد پر قائم رہنے کی خاطر کیا اس وقت خطباء اپنے خطبات میں جمعہ کے روز فقط عربی زبان میں مندرجہ ذیل الفاظ بڑھا سکتے ہیں تاکہ مذہب اہل السنّت والجماعت کی پوری ترجمانی ہو سکے۔ جو درحقیقت اسلام اور دین حق ہے۔ خطبہ معروفہ کے اولیٰ خطبہ میں ونشہد ان من ادعی النبوۃ بعد سیدنا ﷺ سواء کان تشریعیا وغیر تشریعی کمسلیمۃ الکذاب و غلام احمد القادیانی کذاب دجال کافر مرتد خارج عن الاسلام لانبی بعد سیدنا ﷺ تسلیما کثیرا کثیرا اور دوسرے خطبہ میں بھی مندرجہ ذیل الفاظ قابل اضافہ ہیں۔
اللہم اشدد وطأتک علی المرزائیین ومن یتولہم من المنافقین والکافرین اعدائک اعداء الدین اللہم انا نجعلک فی نحورہم و نعوذبک من شرورہم۔
الجواب...... خطبہ جمعہ کے اندر الفاظ مندرجہ بالا جن میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہو اور دیگر مدعیان نبوت کی تردید ہو پڑھنا جائز ہے بلکہ جس ملک یا علاقہ میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف کوششیں ہو رہی ہوں وہاں اس قسم کے الفاظ ضرور پڑھنے چاہئیں اور مسلمانوں کو خصوصاً حکام اسلام کو ان الفاظ پر اعتراض نہ کرنا چاہیے۔ ورنہ ان کے ایمان کے سخت ضعف کا خطرہ ہے۔ جمعوں، خطبوں اور دعاؤں میں اللہ سے موجودہ دور کے فتنوں سے پناہ مانگنا عین عبادت ہے۔ اور عبادات سے روکنا کسی مسلمان کے لیے لائق نہیں۔ فقط واللہ اعلم۔ بندہ محمد عبداللہ خادم الافتاء، خیر المدارس، ملتان
(خیر الفتاویٰ ج ۳ ص ۹۲۔۹۳)
ایک ہی مسجد میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی نماز
سوال...... از شاہجہاں پور محلہ خلیل مسئولہ امیر خاں مختار عام ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہجہاں پور میں ایک مسجد ہے اس میں یہ قرار پایا کہ اول ہر وقت یہاں تک کہ جمعہ کی نماز قادیانی پڑھیں، بعد کو اہلسنت مع خطبہ جمعہ کے، تو حضور فرمائیے کہ ہماری نماز ہوگی یا نہیں؟ پہلے قادیانی خطبہ پڑھ چکے ہم دوبارہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب...... نہ قادیانیوں کی نماز ہے نہ ان کا خطبہ، خطبہ کہ وہ مسلمان ہی نہیں۔ اہلسنت اپنی اذان کہہ کر اسی مسجد میں اپنا خطبہ پڑھیں اپنی جماعت کریں یہی اذان و خطبہ و جماعت شرعاً معتبر ہوں گے اور اس سے پہلے جو کچھ قادیانی کر گئے باطل ومردود محض تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۸ ص ۳۶۶)
باب اوّل
کتاب الجنائز
قادیانی جنازہ
قادیانیوں کا جنازہ جائز نہیں
سوال ..... موضع داتہ ضلع مانسہرہ جو کہ ربوہ ثانی ہے۔ میں ایک مرزائی مسمی ڈاکٹر محمد سعید کے مرنے پر مسلمانان ”داتہ“ نے ایک مسلمان امام کے زیر امامت اس قادیانی کی نماز جنازہ ادا کی اور اس کے بعد قادیانیوں نے دوبارہ مسمی مذکور کی نماز جنازہ پڑھی۔ شرعاً امام مذکور اور مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے؟
مسلمان لڑکیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیوی کے طور پر رہ رہی ہیں اور مسلمان والدین کے ان قادیانیوں کے ساتھ داماد اور سسرال جیسے تعلقات ہیں۔ کیا شریعت محمدی ﷺ کی رو سے ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد حلالی ہوگی یا ولد الحرام کہلائے گی؟
عام مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ کافروں جیسے تعلقات نہیں، بلکہ مسلمانوں جیسے تعلقات ہیں، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور ان کی شادیوں اور ماتم میں شرکت کرتے ہیں اور جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو السلام علیکم کہہ کر ملتے ہیں۔ شادی، ماتم میں کھانے دیتے ہیں، فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں۔ شریعت محمدیہ ﷺ کی رو سے وہ قابل مواخذہ ہیں یا کہ نہیں؟ اور شرع کی رو سے وہ مسلمان بھی ہیں یا کہ نہیں؟
جواب ...... جواب سے پہلے چند امور بطور تمہید ذکر کرتا ہوں۔
- ۱..... جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور نصوص شریعہ کی غلط سلط
تاویلیں کر کے اپنے عقائد کفریہ کو اسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ”زندیق“ کہا جاتا ہے۔ علامہ شامی ”باب المرتد“ میں لکھتے ہیں۔
فان الزندیق یموہ کفرہ و یروج عقیدتہ الفاسدۃ و یخرجہا فی الصورۃ الصحیحۃ وھذا معنی ابطان الکفر.
(شامی ص ۳۲۴ ج ۳ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
”کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدہ فاسدہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔“
اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ مسوّیٰ شرح عربی موطّا میں لکھتے ہیں۔
بیان ذالک ان المخالف للدین الحق ان لم یعترف بہ ولم یذعن لہ لا ظاہرا ولا باطنا فہو کافر و ان اعترف بلسانہ و قلبہ علی الکفر فہو المنافق۔ و ان اعترف بہ ظاہرا لکنہ یفسر بعض ماثبت من
الدین ضرورة بخلاف مافسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الامة فهو الزنديق.
(صفحہ ۱۳۰ ج ۲ مطبوعہ رحیمیہ دہلی)
”شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو، اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر تو وہ کافر کہلاتا ہے اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے۔“
آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
ثم التاويل تاويلان، تاويل لا يخالف قاطعاً من الكتاب والسنة واتفاق الامة و تاويل يصادم ماثبت بقاطع فذالك الزندقه.
(صفحہ ۱۳۰ ج ۲)
”پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں ایک وہ تاویل جو کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلہ کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تاویل ”زندقہ“ ہے۔“
آگے زندیقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں۔
اوقال ان النبى ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لايجوز ان يسمى بعده احد بالنبى واما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثا من الله تعالى الى الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطا فيما يرى فهو موجود فى الامة بعده فهو الزنديق.
(مسویٰ ج ۲ ص ۱۳۰ مطبوعہ رحیمیہ دہلی)
”یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم ﷺ بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا۔ آپ ﷺ کے بعد بھی امت میں موجود ہے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے۔“
خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن وسنت کی تاویلیں کرتا ہو ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے۔
دوم...... یہ کہ زندیق مرتد کے حکم میں ہے بلکہ ایک اعتبار سے زندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائق قبول ہے لیکن زندیق کی توبہ قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ درمختار میں ہے۔
(و) كذا الكافر بسبب (الزندقة) لا توبة له وجعله فى الفتح ظاهر المذهب لكن فى حظر الخانية الفتوى على انه (اذا اخذ) الساحر او الزنديق المعروف الداعى (قبل توبته) ثم تاب لم تقبل توبته و يقتل ولو اخذ بعدها قبلت.
(شامی ص ۳۲۴ ج ۳ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
”اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو اس کی توبہ قابل قبول نہیں اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زندیق جو
معروف اور داعی ہوں توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔“
البحر الرائق میں ہے ۔
لا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدین...... وفى الخانية قالوا ان جاء الزندیق قبل ان يوخذ فاقر انه زندیق فتاب عن ذالك تقبل توبته وان اخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل.
(ص ۱۲۶، ج ۵، دار المعرفہ بیروت)
”ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو..... اور فتاویٰ قاضی میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آ کر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔“
سوم ...... قادیانیوں کا زندیق ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ ان کے عقائد اسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں اور وہ قرآن و سنت کی نصوص میں غلط سلط تاویلیں کر کے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں ان کے سوا باقی پوری امت گمراہ اور کافر و بے ایمان ہے جیسا کہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود لکھتے ہیں کہ
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
مرزائیوں کے ملحدانہ عقائد حسب ذیل ہیں
- ۱....... اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز
نہیں ہو سکتا اس کے برعکس، قادیانی نہ صرف اسلام کے اس قطعی عقیدے کے منکر ہیں، بلکہ نعوذ باللہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بغیر اسلام کو مردہ تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کا کہنا ہے کہ:
”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لیے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے۔“
(ملفوظات مرزا ج ۱۰ ص ۱۲۷ طبع شدہ ربوہ)
- ۲....... اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ وحی نبوت کا دروازہ آنحضرت ﷺ کے بعد بند ہو چکا ہے اور جو شخص آپ ﷺ
کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے لیکن قادیانی مرزا غلام احمد کی خود تراشیدہ وحی پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے قرآن کریم کی طرح مانتے ہیں۔ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ”تذکرہ“ ہے۔ قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی ”وحی“ کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا ہے اور اس کا نام ”تذکرہ“ رکھا ہے یہ گویا قادیانی قرآن ہے۔ نعوذ باللہ اور یہ قادیانی وحی کوئی معمولی قسم کا الہام نہیں جو اولیاء اللہ کو ہوتا ہے بلکہ ان کے نزدیک یہ وحی قرآن کریم کے ہم سنگ ہے ملاحظہ فرمائیے۔
- ۱..... ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی
پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۶ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۰)
- ۲...... ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین ص ۱۱۲ خزائن ج ۱۷ ص ۴۵۴)
- ۳...... ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف
پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۲۲۰ خزائن ج ۲۲ ص ایضاً)
- ۴...... اسلام کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد معجزہ دکھانے کا دعویٰ کفر ہے کیونکہ معجزہ دکھانا صرف نبی کی
خصوصیت ہے پس جو شخص معجزہ دکھانے کا دعویٰ کرے، وہ مدعی نبوت ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔ (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲) میں علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
التحدی فرع دعوی النبوۃ و دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع. ”معجزہ دکھانے کا دعویٰ فرع ہے دعویٰ نبوت کی اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی ﷺ کے بعد بالاجماع کفر ہے۔“
اس کے برعکس قادیانی، مرزا غلام احمد کی وحی کے ساتھ اس کے ”معجزات“ پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے معجزات کو نعوذ باللہ قصے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کو اسی صورت میں نبی ماننے کے لیے تیار ہیں جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی مانا جائے ورنہ ان کے نزدیک نہ تو آنحضرت ﷺ نبی ہیں اور نہ دین اسلام، دین ہے۔ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں۔
”وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہی سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر (یعنی اسلامی شریعت پر جو آنحضرت ﷺ سے منقول ہے، ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔..... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔“
(خزائن ص ۳۰۶ ج ۲۱) (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۹)
”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے کہ جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳ خزائن ص ۳۵۴ ج ۲۱)
”اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر رسول کریم ﷺ پر بھی اسی (مرزا) کے ذریعے ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لیے یقین کرتے ہیں کہ ان کے ذریعے آپ (مرزا) کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد ﷺ کی نبوت پر اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ (مرزا) کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا) کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآن کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا اور محمد ﷺ کی نبوت پر یقین اس (مرزا) کی نبوت سے ہوا ہے۔“
(مرزا بشیر الدین کی تقریر اخبار الفضل قادیان پرچہ نمبر ۳ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۲۵ء)
مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے واضح ہے کہ اگر مرزا قادیانی پر وحی الہی کا نزول تسلیم نہ کیا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانا جائے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت بھی ان کے نزدیک نعوذ باللہ باطل ہے اور دین اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ مرزا قادیانی ایسے اسلام کو لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں بلکہ سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو نظر عبرت سے دیکھنا چاہیے کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر و الحاد اور زندقہ اور بددینی ہو سکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور دین اسلام کو اس طرح پیٹ بھر کر گالیاں نکالی جائیں۔
- ۴...... مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ”محمد رسول اللہ“ ہیں لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اشتہار ”ایک
غلطی کا ازالہ“ میں اپنے الہام کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے نعوذ باللہ۔ چونکہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کی ”وحی“ پر قطعی ایمان رکھتے ہیں، اس لیے وہ مرزا آنجہانی کو ”محمد رسول اللہ“ مانتے ہیں اور جو شخص مرزا کو ”محمد رسول اللہ“ نہ مانے اسے کافر سمجھتے ہیں۔
- ۵...... قرآن کریم اور احادیث متواترہ کی بنا پر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمانوں پر اٹھایا
گیا اور وہ قرب قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ لیکن مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، عیسیٰ ہے اور قرآن وحدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کی جو خبر دی گئی ہے اس سے مراد، مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
قادیانیوں کے اس طرح بے شمار زندیقانہ عقائد ہیں جن پر علماء نے بہت سی کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ اس لیے مرزائیوں کا کافر و مرتد اور ملحد و زندیق ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
- چہارم...... نماز جنازہ صرف مسلمانوں کی پڑھی جاتی ہے کسی غیر مسلم کا جنازہ جائز نہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔
(التوبہ ۸۴)
”اور ان میں کوئی مر جائے تو اس (کے جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ (دفن کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں۔“ اور تمام فقہاء امت اس پر متفق ہیں کہ جنازہ کے جائز ہونے کے لیے شرط ہے کہ میت مسلمان ہو، غیر مسلم کا جنازہ بالا جماع جائز نہیں نہ اس کے لیے دعاء مغفرت کی اجازت ہے اور نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنا ہی جائز ہے۔
ان تمہیدات کے بعد اب بالترتیب سوالوں کا جواب لکھا جاتا ہے۔
جواب، سوال اوّل جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے اگر وہ اس کے عقائد سے ناواقف تھے تو انھوں نے برا کیا اس پر ان کو استغفار کرنا چاہیے کیونکہ مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھ کر انھوں نے ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کیا ہے۔
اور اگر ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہے، اس کی ”وحی“ پر ایمان رکھتا ہے اور عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کا منکر ہے، اس علم کے باوجود انھوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازہ میں شریک تھے، اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے کیونکہ ایک مرتد
کے عقائد کو اسلام سمجھنا کفر ہے اس لیے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہو گیا۔ ان میں سے کسی نے اگر حج کیا تھا تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کا جنازہ جائز نہیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے معصوم بچے کا جنازہ بھی قادیانیوں کے نزدیک جائز نہیں۔ چنانچہ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتے ہیں۔
”ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی (یعنی مسلمان) تو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں؟
میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ غیر احمدی ہوا اس لیے اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پس ماندگان کے لیے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں، بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔ اس لیے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“
(انوار خلافت ص ۹۳)
اخبار الفضل مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود کا ایک فتویٰ شائع ہوا کہ:
”جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا ہے اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔“
چنانچہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا اور منیر انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو انھوں نے کہا۔
”نماز جنازہ کے امام مولانا شبیر احمد عثمانی، احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے اس لیے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کرسکا۔ جس کی امامت مولانا کر رہے تھے۔“
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب، ص ۲۱۲)
لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو اس نے جواب دیا۔
”آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔“
(زمیندار، لاہور ۸ فروری ۱۹۵۰ء)
اور جب اخبارات میں چوہدری ظفر اللہ خان کی اس ہٹ دھرمی کا چرچا ہوا تو جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا۔
”جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“
(ٹریکٹ ۲۲، احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، ناشر مہتمم نشر و اشاعت انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)
قادیانیوں کے اخبار الفضل نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے۔
”کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسول خدا نے۔“
(الفضل ربوہ، ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۲ء)
کس قدر لائق شرم بات ہے کہ قادیانی تو مسلمانوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح کافر سمجھتے ہوئے نہ ان کے بڑے سے بڑے آدمی کا جنازہ پڑھیں اور نہ ان کے معصوم بچوں کا ...... کیا ایک مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھے؟ کیا اس کی غیرت اس کو برداشت کرسکتی ہے؟
جواب، سوال دوم جب یہ معلوم ہوا کہ قادیانی، کافر و مرتد ہیں تو اسی سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی مرتد سے نہیں ہوسکتا بلکہ شرع اسلام کی رو سے یہ خالص زنا ہے اگر کسی مسلمان نے لاعلمی اور بے خبری کی وجہ سے کسی مرزائی کو لڑکی بیاہ دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ علم ہو جانے کے بعد اپنے گناہ سے توبہ کرے اور لڑکی کو قادیانیوں کے چنگل سے واگزار کرائے۔
واضح رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے نزدیک یہودیوں اور عیسائیوں کی ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں سے لڑکیاں لینا تو جائز ہے لیکن مسلمانوں کو دینا جائز نہیں۔ مرزا محمود کا فتویٰ ہے ۔
”جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں، کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔ سوال: ...... جو نکاح خواں ایسا پڑھائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب: ...... ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے۔ جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔ سوال: ...... کیا ایسا شخص جس نے غیر احمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے، وہ دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر سکتا ہے؟ جواب: ...... ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان، ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)
پس جس طرح مرزا محمود کے نزدیک وہ شخص مرزائی جماعت سے خارج ہے جو کسی مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی بیاہ دے اسی طرح وہ مسلمان بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہونے کے بعد کسی مرتد مرزائی کو اپنی لڑکی دینا جائز سمجھے اور جس طرح مرزا محمود کے نزدیک کسی مرزائی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان لڑکے سے پڑھانا ایسا ہے جیسا کہ کسی ہندو یا عیسائی سے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی مرزائی مرتد کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ، چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔
جواب، سوال سوم کسی مسلمان کے لیے مرزائی مرتدین کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرنا حرام ہے ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، ان کی شادی غمی میں شرکت کرنا یا ان کو اپنی شادی غمی میں شریک کرانا حرام اور قطعی حرام ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں رواداری سے کام لیتے ہیں وہ خدا اور رسول کے غضب کو دعوت دیتے ہیں ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیے اور مرزائیوں سے اس قسم کے تمام تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ قادیانی خدا اور رسول کے دشمن ہیں اور خدا اور رسول کے دشمنوں سے دوستانہ تعلق رکھنا کسی مومن کا کام نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید میں ہے۔
لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حآد الله ورسوله ولو كانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشيرتهم اولئك كتب فى قلوبهم الايمان وايدهم بروح منه و يدخلهم
جنت تجری من تحتها الانهار خالدین فیها. رضی الله عنهم و رضوا عنه اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون.
(المجادلہ ۲۲)
”جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے۔ اور ان (کے قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔۔ (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔“ (حضرت تھانویؒ)
اخیر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دیا گیا، لیکن قادیانیوں نے تاحال نہ تو اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور نہ انھوں نے پاکستان میں غیر مسلم شہری (ذمی) کی حیثیت سے رہنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس لیے ان کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ ”محارب کافروں“ کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
قادیانی کا جنازہ پڑھنا
سوال...... ایک شخص جو مرزائی عقائد رکھتا تھا مگر نہایت نیک اور پابند صوم وصلوٰۃ علم احادیث و فقہ سے واقف عالم ربانی کے خصائل و شمائل سے متصف مغرب کی نماز کے لیے وضو کیا اور روزہ افطار کرنے کے انتظار میں مصلے پر دو زانو ہو کر بیٹھا کہ اچانک دل میں گھبراہٹ ہوئی اور بآواز بلند اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً عبده و رسوله پڑھا۔ حالت بدل گئی اور اسی حالت میں روزہ افطار کیا۔ پھر دو چار منٹ میں ہی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اہل سنت و الجماعت نے اس کا جنازہ پڑھا۔ کیا جنازہ پڑھنے والوں پر کوئی شرعی تعزیر عائد ہو سکتی ہے یا نہیں۔ نیز فرمان نبوی ﷺ الصلوٰۃ علی بروفاجر کیسے لوگوں کے لیے ہے۔
(المستفتی نمبر ۲۰۵۱ محمد اسماعیل صاحب (جہلم) ۱۵ رمضان ۱۳۵۶ھ مطابق ۲۰ نومبر ۱۹۳۷ء)
جواب...... مرزائی عقائد رکھنے والا یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لانے والا اسلامی اصول سے خارج از اسلام ہے۔ اس کے جنازے کی نماز پڑھنا درست نہیں تھا۔ اس کے انتقال کے وقت کے یہ حالات جو سوال میں مذکور ہیں اس کے غیر اسلامی عقیدے کو بدل نہیں سکتے۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۹)
کافر کی صرف تعزیت جائز ہے جنازہ پڑھنا یا قبرستان جانا جائز نہیں
سوال...... ہمارے ہاں ایک مرزائی فوت ہو گیا ہے لوگ اس کے جنازہ میں بھی شریک ہوئے اس کے گھر تعزیت کے لیے بھی گئے اور قبرستان بھی ساتھ گئے۔ ان کا یہ عمل کیسا ہے؟
الجواب...... کافر کی صرف تعزیت جائز ہے اس کا جنازہ پڑھنا یا اس کے لیے دعاء مغفرت کرنا ناجائز ہے۔ ایسے ہی اس کی قبر پر جانا بھی جائز نہیں جن لوگوں نے ایسا کیا ہے وہ مجمع عام کے سامنے سخت شرمندگی کے ساتھ اللہ سے توبہ کریں۔ وفى النوادر جار يهودى او مجوسى مات ابن له او قريب ينبغى ان يعزيه و يقول
اخلف الله علیک خیرا منک و اصلحک وکان معناه اصلحک الله بالاسلام یعنی رزقک الاسلام و رزقک ولدا مسلما کفایۃ۔ (شامی ج ۵ ص ۲۷۴ مکتبہ رشیدیہ عالمگیری ج ۳ ص ۳۲۸ مکتبہ ماجدیہ)
(۲)....... بیان القرآن میں ہے کافر کے جنازے پر نماز اور اس کے لیے استغفار جائز نہیں۔ (ج ۲ ص ۱۳۱)
روح البیان میں ہے۔ ولا تقم علی قبرہ ای ولا تقف عند قبرہ للدفن او للزیارۃ والدعاء اھ
(ص ۴۷۸ ج ۳)
فقط واللہ اعلم، احقر محمد انور عفا اللہ عنہ ۱۴۰۹/۱۱/۱۰ھ
(خیر الفتاویٰ ج ۳ ص ۲۲۵۔۲۲۶)
ایسے کلمہ پڑھنے کا اعتبار نہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مثلاً زید اپنی زندگی میں ختم نبوت کا منکر تھا اور غلام احمد کو نبی مانتا تھا اور چندہ بھی ربوہ (چناب نگر) میں بھیجتا رہتا تھا اور جب مرنے لگا تو وصیت بھی کی کہ مجھے ربوہ (چناب نگر) میں دفن کرنا اور دفن کے لیے زمین بھی قیمتاً ربوہ (چناب نگر) میں بطور دستور مرزائیوں کے لے رکھی تھی۔ اور مرنے سے قبل زید کا رشتہ دار گھر آیا اور اس نے کہا توبہ کر لو لیکن اس نے جواب دیا کہ مجھے درد ہے چھوڑو۔ اور جب مر گیا تو اس کے لڑکوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ وہ کلمہ پڑھ رہا تھا اور ایک مولوی صاحب نے اس کا جنازہ پڑھا دیا کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ کلمہ پڑھ رہا تھا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کا جنازہ پڑھنا جائز تھا یا نہ اور جائز نہ تھا تو مولوی صاحب کو کیا کرنا چاہیے اور اس کے لڑکوں کے سوا کوئی بھی شہادت نہیں دیتا کہ شہادت قبول ہو یا نہ، آیا اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہ۔ بینوا توجروا عند اللہ
جواب ...... ختم نبوت کا انکار کفر ہے جو شخص اس کفر کا آخر دم تک (العیاذ باللہ) اظہار کرتا رہے اسے کافر سمجھ کر ہی اس کے ساتھ معاملہ تجہیز و تکفین و تدفین وغیرہ کیا جائے گا۔ اس کی جنازہ کی نماز پڑھنی مسلمانوں کے لیے جائز نہ ہو گی۔ نفس کلمہ شریف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے پڑھ لینے اور اس کے ثابت ہو جانے کے باوجود اس پر مسلمان کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ مرزائی تو توحید کے بھی قائل ہوتے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کو بھی مانتے ہیں اور اس کلمہ شریف کا مطلب تو اتنا ہی ہے۔ اس کے تو وہ مرزائی ہو کر بھی قائل تھے۔ مرزائی کا کفر تو حضور ﷺ کے بعد کسی کاذب مدعی نبوت کی نبوت کے اقرار سے لازم آیا تھا اور اس کلمہ شریف کے پڑھنے سے اس مذکور کفر کی برأت لازم نہیں آتی لہٰذا اس کلمہ کو ایسے مبینہ کفر سے بیزاری کا قرینہ نہیں قرار دیا جائے گا البتہ اگر اس نے ختم نبوت کا اقرار اور مدعی نبوت کی نبوت سے انکار کا اظہار کیا ہو اور اس پر گواہ ہوں خواہ اس کے لڑکے ہی کیوں نہ ہوں تو اس صورت میں مسلمان ہوگا۔ اور اس کا جنازہ پڑھنا درست ہوگا۔ مولوی صاحب مذکور نے یقیناً غلطی سے اس کا جنازہ پڑھا ہوگا اسے کافی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور اس گزشتہ غلطی سے توبہ کرنی چاہیے۔ غلطی کا اقرار کرنے کی صورت میں توبہ کر کے اس کی امامت درست ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۷)
مرزائی کا جنازہ پڑھنے والے مسلمان کو توبہ کرنا ضروری ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک مرزائی فوت ہو گیا جو کہ مرزائیت کا بڑا پرچار بھی کرتا رہا اور مسلمانوں میں تفریق بھی ڈالتا رہا۔ تو اس کی نماز جنازہ جب کہ ان کی پارٹی کے امام نے پڑھائی تو کئی مسلمانوں نے اس میں شرکت کی۔ تو اب جن مسلمانوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ان کے بارے میں جو شرعی حکم
ہے بتلایا جائے؟
جواب ...... مرزائی شرعاً و قانوناً دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں جو مسلمان ان کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ گنہگار ہیں۔ ان پر توبہ تائب ہونا لازم ہے اور و نخلع و نترک من یفجرک کے عہد پر قائم رہنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۵۵، ۵۶)
کسی مرزائی کے قبول اسلام کے حق میں گواہیوں کے سبب جنازہ پڑھانے کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے مرزائی (جو کہ متفقہ طور پر کافر ہے) کا جنازہ پڑھایا۔ جب اس شخص سے پوچھا گیا کہ تو نے کافر کا جنازہ کیوں پڑھا ہے تو اس نے جواب دیا کہ چار پانچ آدمیوں نے گواہی دی ہے کہ وہ مرزائی شخص ہمارے سامنے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تھا۔ لیکن لوگوں نے اس سے کہا کہ جو لوگ گواہی دیتے ہیں۔ ان سے یہی گواہی لکھوا کر واضح کرو۔ تو اس شخص کے کہنے پر گواہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا کہ ہم لکھ کر نہیں دیتے۔ اب غور طلب یہ بات ہے کیا وہ شخص جس نے جنازہ پڑھایا ہے۔ وہ مسلمان رہا ہے یا نہیں اور اس کا نکاح باقی ہے یا نہیں۔ مہربانی فرما کر قرآن وسنت کی روشنی میں اس امر کی وضاحت فرمائیں۔
جواب ...... اگر واقعی اس شخص کے مسلمان ہو جانے پر پانچ آدمیوں کی شہادت دینے کی بنا پر امام نے اس کا نماز جنازہ پڑھایا ہے تو شرعاً گنہگار نہیں ہوگا۔ اگر گواہ زبانی شہادت دیتے ہیں تو بھی شہادت کافی ہے۔ گواہوں پر تحریری شہادت لازم نہیں۔
اس امام نے مرزائی کو اس شہادت کی بنا پر مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھایا ہے لہٰذا اس امام کے کفر یا فسخ نکاح کا حکم نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے مسلمان ہونے کی کوئی شہادت موجود نہیں تو مرزائی کو مسلمان سمجھنا کفر ہے اور مرزائی کو کافر سمجھتے ہوئے اس کا نماز جنازہ پڑھانا فسق اور گناہ کبیرہ ہے۔ بہر حال امام پر کفر کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ مرزائی بالاتفاق کافر ہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا پڑھانا اور ان سے میل جول رکھنا حرام اور ناجائز ہے۔ اس لیے آئندہ پوری احتیاط کریں کہ جب تک مسلمان ہونے کا یقینی ثبوت نہ ہو جنازہ نہ پڑھایا جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۶۴)
جنازہ پڑھانے والا خود گواہ ہے کہ متوفی مرزائیت سے تائب ہو گیا تھا
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے مرزائی کا جنازہ پڑھایا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مرتے وقت میرے سامنے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا اور کہا کہ جو شخص نبی ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ نیز اس مرزائی کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ متوفی نے کلمہ نہیں پڑھا بلکہ کافر مرا ہے۔ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھانے والے امام کا نکاح باطل ہوتا ہے۔ یا نہیں یا اس کا نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے۔ ویسے مرزائی کے نماز جنازہ پڑھانے والے کے لیے کیا حکم ہے۔
جواب ...... مرزائی بالاتفاق اہل سنت والجماعۃ کی نظر میں کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ان کی نماز جنازہ پڑھنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ لہٰذا جس مولوی صاحب نے دیدہ دانستہ مرزائی کی نماز جنازہ پڑھی ہے۔ اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔ اور اگر مرزائی مذکور نے مرنے سے قبل ہوش کی حالت میں کلمہ طیبہ پڑھ لیا ہے
اور حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کافر کہا ہے تو پھر وہ شرعاً مسلمان ہو گیا تھا۔ تمام مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ فقط واللہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۶۵)
مرزائی کے جنازے کا حکم
سوال...... مرزائیوں کے جنازہ میں مسلمانوں کا شامل ہونا کیسا ہے؟ ۲...... مرزائی کے مرنے کے بعد مرزائی کے وارثوں کے پاس فاتحہ خوانی کے لیے جانا کیسا ہے؟ ۳...... اہل السنت والجماعت کے جنازہ میں مرزائی کا شامل ہونا کیسا ہے۔ ۴...... مسلمانوں کے قبرستان میں مرزائی کا دفن کرنا کیسا ہے؟ ۵...... پہلی صورت میں مرزائی کا جنازہ پڑھنے والوں کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟
الجواب...... ۱...... اگر مرنے والے کا مرزائی ہونا معلوم تھا۔ تو اس کا جنازہ پڑھنے والوں نے سخت غلطی کی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ہندو سکھ کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ ان مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے اور مجمع عام کے سامنے اس فعل پر ندامت کا اظہار کر کے توبہ کریں۔
- ۲...... اگر پڑوسی ہو تو تعزیت کی کچھ گنجائش ہے فاتحہ ہرگز نہیں پڑھنی چاہیے۔
- ۳...... وہ شامل ہو کر یہ دھوکہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں لہٰذا ان کو شامل نہ کیا جائے۔
- ۴...... ناجائز ہے۔ شرعاً کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔
- ۵...... اگر انھوں نے مرزائیوں کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو وہ احتیاطاً اپنے اپنے ایمان و نکاح کی تجدید
کریں۔ فقط واللہ اعلم۔ محمد انور عفا اللہ عنہ
الجواب صحیح: بندہ محمد عبدالستار عفا اللہ عنہ
(خیر الفتاویٰ ج ۲ ص ۳۰۷۔۳۰۸)
قادیانی کی نماز جنازہ درست نہیں
سوال...... ایک شخص قادیانی ہو گیا اس کے مرنے پر نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہیں اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے یا نہیں۔
الجواب...... وہ کافر و مرتد ہے اگر مرے تو اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں، اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن نہ کریں۔ فقط
(شامی ج ۱ ص ۶۵۷ باب صلوٰۃ الجنائز، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۵ ص ۲۹۰۔۲۹۱)
قادیانیوں پر نماز جنازہ پڑھنے اور ان سے مناکحت جائز قرار دینے والے شخص کا حکم
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ قادیانی و احمدیہ لاہوری شریعت غراء کی نگاہ میں کیسے ہیں۔ (۱)...... آیا وہ کافر ہیں یا نہیں (۲)...... ان پر جنازہ پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں (۳)...... ان پر نماز جنازہ کی امامت کیسی ہے اور اس امام کا جس کو وہ جائز قرار دیتا ہے۔ کیا حکم ہے؟ (۴)...... ان کے ساتھ نکاح کیسا ہے اور نکاح کا جائز قرار دینے والے کا کیا حکم ہے۔
جواب...... حضور نبی کریم ﷺ کے بعد جدید نبوت کا مدعی یقیناً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اسے نبی ماننے والے قادیانی ہوں یا مجدد اور مسلمان ماننے والے لاہوری ہوں۔ دونوں طرح کے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھانی یا پڑھنی جائز نہیں ہے۔ ان سے کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اگر
نکاح کے بعد خاوند مرزائی مذہب اختیار کر لے۔ تب بھی بوجہ مرتد ہونے کے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کے ساتھ نکاح جائز قرار دینے والا شخص یا ان کی نماز جنازہ کے جواز کا قائل اگر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جان کر یہ فتویٰ اس بنا پر دیتا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ اس کے نزدیک اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں ہے۔ تو وہ بھی کافر ہے اور اگر ختم نبوت کا اجماعی عقیدہ جو کتاب وسنت سے صراحتاً ثابت ہے۔ اس پر کامل عقیدہ رکھ کر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت یا اس کے عقائد باطلہ اور اس کے ضلال سے مطلع نہیں ہے ...... تو وہ کافر نہیں ہے۔ البتہ اس کا فرض ہے کہ بغیر تحقیق مذہب قادیانی اس طرح کا فتویٰ نہ دے۔ اور اس فتویٰ سے رجوع کر کے توبہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۵۷، ۵۸)
مرزائیوں اور شیعوں کی نماز جنازہ پڑھانے والوں اور پڑھنے کا حکم؟
سوال ...... مسلمانوں کے بعض چکوں میں ایک ایک یا دو دو گھر مرزائیوں اور بددین شیعوں کے ہیں جب ان میں سے کوئی مرتا ہے تو امام مسجد ان کے چھوٹوں اور بڑوں کی نماز جنازہ پڑھاتا ہے اور چک والے مسلمان امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ امام کا نظریہ اپنا فصلانہ ہوا کرتا ہے۔ اگر جنازہ نہ پڑھا دیں تو مرزائیوں اور شیعوں کا فصلانہ بند، سوال یہ ہے کہ امام اور مسلمانوں کو یہ فعل درست ہے یا کہ اس فعل سے اجتناب اور توبہ کریں۔
جواب ...... مرزائی جو ختم نبوت کے قطعی مسئلہ سے جو ضروریات دین میں سے ہے انکار کرتے ہیں نیز وہ شیعہ جو نصوص قرآنیہ کے منکر ہیں۔ مثلاً قول بالافک فی حق سیدتنا عائشة رضی اللہ عنھا (شامی ج ۳ ص ۳۲۱ مطبوعہ: مکتبہ رشیدیہ) وہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا اور پڑھانا ناجائز ہے۔ بالخصوص جب طمع دنیوی اور حرص کی وجہ سے اس فعل شنیع کا ارتکاب کر رہے ہوں ایسے پیش امام اور مقتدیوں کو جو جنازہ میں شریک ہوتے ہیں سب کو توبہ کرنا لازم ہے۔ اگر پیش امام توبہ نہ کرے تو اسے امامت سے معزول کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۵۸، ۵۹)
قادیانی کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والا توبہ و تجدید نکاح کرے
سوال ...... قادیانی کی نماز جنازہ پڑھانے اور پڑھنے والوں کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا توبہ سے تجدید ایمان و تجدید نکاح ہو جائے گا؟ اور کیا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ شکریہ محمد ثاقب علی شاہ لاہور
جواب ...... محترم ثاقب علی شاہ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قرآن کی نصوص قطعیہ، سنت متواترہ متوارثہ اور صحابہ کرامؓ کے دور سے آج تک تمام امت کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول۔ اگر کوئی شخص حضور ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے خواہ کسی معنی میں ہو، وہ کافر، مرتد، خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر و مرتد ہے۔
مرزائے قادیانی نے یقیناً اپنی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا جو اس کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس دعویٰ کے بعد اس نے توبہ نہیں کی لہٰذا وہ قرآن، سنت اور امت کے متفقہ فیصلے کی بناء پر کافر و مرتد ہے۔
جو لوگ مرزائے قادیانی مذکور کے کفر و عذاب میں شک کرے۔۔ وہ بھی کافر و مرتد جہنمی ہے۔
علم کے باوجود جن لوگوں نے قادیانی کی نماز جنازہ پڑھی وہ احکام قرآنی، حدیث اور اجماع امت کے باغی ہیں۔ وہ فوری طور پر توبہ کریں اور ازسرنو ایمان لائیں۔ چونکہ جان بوجھ کر کفر اختیار کرنے والا کافر و مرتد ہو جاتا ہے جبکہ اس کی بیوی مسلمان تھی اور مسلمان کا نکاح کافر و مرتد سے نہیں ہوتا۔ اور اس جرم کے ساتھ ہی وہ لوگ کافر و مرتد ہو گئے۔ پس ان کے مسلمان بیویوں سے نکاح فوراً ٹوٹ گئے لہٰذا وہ عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔
اگر یہ لوگ اپنے فعل پر نادم ہوں اور صدق دل سے توبہ کر کے تجدید ایمان کر لیں تو دوبارہ ان بیویوں کی رضامندی سے نکاح کر سکتے ہیں۔ ورنہ ان کی بیویاں شرعاً آزاد ہیں، جہاں چاہیں نکاح کر لیں۔ یہی حکم شرعی ہے اور یہی ملکی قانون ہے۔ قادیانی جیسا کہ ذکر ہوا کافر و مرتد ہیں لہٰذا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں ینفسخ النکاح بالردۃ مرتد ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
(فتح القدیر ۳۶۰:۵)
اذا ارتد المسلم عن الاسلام والعياذ بالله عرض عليه الاسلام فان كانت له شبه كشفت عنه و یحبس ثلاثه ایام فان اسلم والا قتل.
(ہدایہ مع فتح القدیر، ۳۰۷:۵، ۳۰۸)
جب مسلمان، اسلام سے نعوذ باللہ پھر جائے اس پر اسلام پیش کیا جائے اگر کوئی شبہ ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ اسے تین دن قید کیا جائے۔ اگر مسلمان ہو جائے تو بہتر ورنہ قتل کر دیا جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ أَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ.
(توبہ ۸۴)
اے محبوب! ان میں سے کوئی مر جائے تو اس پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور فسق ہی میں مر گئے۔ واللہ اعلم ورسولہ۔
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج ۱ ص ۳۶۰ ۔ ۳۶۱)
قادیانیوں کا جنازہ پڑھنے والوں کا حکم
الاستفتاء...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ:
- ۱...... مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے قادیانی یا لاہوری مسلمان ہیں یا کافر۔
- ۲...... ان کو مسلمان سمجھنے والے کیسے ہیں، قادیانی یا لاہوری مرزائیوں کی نماز جنازہ پڑھنی یا پڑھانی جائز ہے کہ ناجائز۔
نیز نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے والوں کو کوئی سزا یا کفارہ تو ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پڑھنے والوں کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں۔
مذکورہ سوالات کے جوابات شریعت محمد مصطفیٰ ﷺ اور فقہ حنفیہ کی روشنی میں فتویٰ کی صورت میں حل فرمائیں۔ سائل: محمد علی مستری آرے والا، نارووال ضلع سیالکوٹ
الجواب....... بعونہ تعالیٰ قانون شریعت اسلامیہ اور قانون پاکستان کے مطابق قادیانی مرزائی جو مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں مطلقاً کافر ہیں۔ اسی طرح لاہوری جو کہ مرزا کو مجدد مانتے ہیں بھی قطعاً کافر ہیں۔ یہ لوگ ہرگز مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر، مرتد، خارج از اسلام ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے: ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانہ انکر النص.
”جو شخص ہمارے نبی کے بعد کسی اور کو نبی تسلیم کرے وہ کافر ہے کیونکہ وہ نص قطعی کا منکر ہے اور نص قطعی کا منکر کافر ہے۔“ تفسیر روح البیان میں ہے:
ومن ادعى النبوة بعد موت محمد لا يكون دعواه الا باطلاً.
اور جس شخص نے محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ جھوٹا اور کذاب ہے چونکہ مرزائی تمام کافر ہیں جو ان کو مسلمان سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ جن لوگوں نے ان کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے وہ کافر ہو گئے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کریں اور جن لوگوں نے ان کا جنازہ ان کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے پڑھا ہے ان کا یہ جنازہ پڑھنا بھی ممنوع اور حرام اور ناجائز ہے۔ لانھا غیر مشروعة لقولہ تعالیٰ ولا تصل علی احد منہم مات ابداً. (التوبۃ ۸۴)
”اگر کافروں سے کوئی مر جائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھیے۔“ اور جنازہ میں شرط اول میت کا مسلمان ہونا ہے۔ فتاویٰ شامیہ ج ۱ ص ۶۴۰ میں ہے۔ وشرطھا الاسلام المیت.
”کہ میت کا مسلمان ہونا نماز جنازہ کے لیے شرط ہے“ اور مرزائی چونکہ کافر ہیں لہٰذا ان کا جنازہ پڑھنا ناجائز ہے۔ جن لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی ہے ان کو چاہیے کہ توبہ علی الاعلان کریں اور احتیاطاً اپنے اپنے نکاح اور ایمان کی یہ لوگ بھی تجدید کریں۔ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب. (فتاویٰ ثنائیہ ص ۲۰۹ تا ۲۱۱)
بدعقیدہ سے میل جول اور نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم
سوال....... میرا ایک دوست ہے جو قادیانی ہے لیکن اس کا عقیدہ درست ہے یعنی وہ نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین اور افضل الانبیاء مانتا ہے۔ کیا میں ایسے شخص کے ساتھ میل جول رکھ سکتا ہوں اور اس کے عزیز واقارب کا نماز جنازہ پڑھ سکتا ہوں۔ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب....... سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قادیانی اپنی خباثت کو چھپانے کے لیے ہر دن اپنی تبلیغ کی پالیسی بدلتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے ایمان کو لوٹنے کا انھوں نے یہی انداز اختیار کر رکھا ہے۔ بہرحال ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی بدترین آدمی تھا کہ جس نے نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر اپنے آپ کو آگ کا ایندھن بنایا۔ اس نے ۱۹۰۱ء میں نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا اس سے پہلے وہ خود اس شخص کو کافر سمجھتا تھا جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔ پس مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ اب جدید لٹریچر میں مرزا کی وہی تحریریں شائع کر رہے ہیں جو درست ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسایا جاسکے۔ پس جو شخص مرزا قادیانی کو نبی اور رسول تو نہ سمجھے لیکن اسے خلیفہ یا صالح انسان سمجھے اور یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تو ہمارے نزدیک ایسا آدمی بھی سخت قابل نفرت ہے یا تو وہ ناواقف ہے اور سادہ لوح آدمی ہے اسے ان کی ناپاک سازشوں سے آگاہی نہیں ہے اسے سمجھایا جائے۔ یا ایسا آدمی جو سمجھنے و جاننے کے باوجود اسے اچھا سمجھتا ہے پس ایسا آدمی حیلہ ساز آدمی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا ایمان معتبر نہیں ہے لہٰذا ایسے آدمی سے قطع تعلق کر لینا ہی ایمان کی سلامتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی صحبت ومجلس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ آیٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَ يُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا
مَعَهُمْ حَتّٰی يَخُوْضُوْا فِیْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ .“
(النساء ۱۴۰/۴)
”اور بے شک کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو حتیٰ کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں (ورنہ) بلاشبہ تم بھی انہی کی مثل ہو جاؤ گے۔“
”عن ابی ھریرة یقول قال رسول اللہ ﷺ یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اباء کم فایاکم وایاہم لا یضلونکم یفتنونکم.“
(صحیح مسلم ۱۰/۱)
”حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا آخر زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے جو تم سے ایسی احادیث بیان کریں گے جو پہلے تم نے سنی ہوں گی نہ تمھارے باپ دادا نے سو تم ان سے دور رہو، وہ تم سے دور رہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔“ مرزا قادیانی سے بڑھ کر اور کون بڑا دجال ہو سکتا ہے کہ جس نے انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کے اجماعی نظریہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال کر دنیا و آخرت میں اپنے آپ کو رسوا کیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو خلیفہ یا صالح آدمی سمجھنے ماننے والوں کی صحبت سے اجتناب کرنا واجب ہے کیونکہ نبوت کے منکر کی تکذیب کرنا بھی واجب ہے۔ پس جس طرح مسلمان کو مسلمان کہنا ضروری ہے اسی طرح کافر کو کافر کہنا بھی ضروری ہے اللہ تعالیٰ کو معبود حقیقی مانتے ہوئے دوسرے جھوٹے الٰہ کی نفی کرنا واجب ہے۔ آپ ﷺ کو خاتم النبیین سمجھتے ہوئے اس عقیدے کے منکر کو کافر کہنا بھی واجب ہے۔ آپ صاحب علم و فکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ لہٰذا اس سوال کا القاء ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے اپنے آپ کو محفوظ کر لو ورنہ ایمان خطرے میں رہے گا کیونکہ قادیانی چال باز ہیں ان کی چال بازیوں سے اجتناب واجب ہے جو شخص ان سے اجتناب نہیں کرتا گویا کہ وہ ان کی چال بازیوں پر راضی ہے۔ اور ان کی چال بازیوں پر راضی رہنا کفر پر راضی رہنا ہے کیونکہ منکرین ختم نبوت کافر ہیں۔ بازی گروں کا نوجوانوں کو پھنسانے کا یہی طریقہ کار ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک ان کا نماز جنازہ پڑھنا بھی اسی حکم میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا انکم اذا مثلھم سو ہر وہ شخص جو کسی ایسی مجلس میں بیٹھا اور اس نے ان کی خباثتوں یعنی مرزا قادیانی کی تعریف پر تکذیب نہ کی تو وہ ان لوگوں کے جرم میں برابر کا شریک ہے۔ اس پر لازم ہے کہ جب قادیانی مرزا کی تعریف کریں تو ان پر انکار کیا جائے اگر انکار کی قدرت نہیں رکھتا تو اٹھ جائے تاکہ اس آیت کا مصداق نہ بنے۔ پس ایسے شخص اور اس کے عزیز و اقارب کی نماز جنازہ پڑھنا شرعاً ممنوع ہے۔ ایسے لوگوں کی شرعاً عیادت کرنا، جنازہ پڑھنا، شادی بیاہ میں شریک ہونا سلام کرنا یعنی میل جول رکھنا منع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو استقامت کے ساتھ بدعقیدہ لوگوں کی نحوست سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
(فتاویٰ حلیمیہ ص ۳۲۴۔۳۲۶)
قادیانی کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال ...... ایک شخص قادیانی کی لڑکی فوت ہو گئی اس نے اور اس کے باپ نے بیٹی اور پوتی کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ اس لیے کہ امام و مقتدی اہل سنت والجماعت تھے کیا قادیانی مذہب کے اولاد یا عورت کی نماز جنازہ اہل سنت والجماعت کو پڑھنی چاہیے یا نہیں اگر نہیں تو جنھوں نے بخیال برادری نماز ادا کی ان پر کچھ سزا شرعی عائد ہوئی یا نہیں۔
الجواب ...... ھوالموفق للصواب. (۱)...... قادیانی لوگ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں اور نماز مسلمان ......... جنازہ کی پڑھی جاتی ہے کافر کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی، جس کے متعلق معلوم ہو کہ یہ قادیانی ہے اس کے جنازہ کی نماز درست نہیں اس کی عورت اگر مسلمان ہے تو اس کی نماز اور اس کے نابالغ بچے کی نماز درست ہے کیونکہ نابالغ اولاد خیرالابوین کے تابع ہوتی ہے البتہ بالغ میں مسلمان ہونے کے لیے ماں باپ کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ وہ خود اگر مسلمان ہے تو اس کی نماز جنازہ جائز ہوگی ورنہ نہیں۔ جن لوگوں نے غیرمسلم کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے۔ ان کو توبہ کرنا لازم ہے اگر مسئلہ سے ناواقفیت کی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا ہے تو ان کے لیے اور کوئی سزا نہیں اگر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو برادری کو بعد تفہیم کوئی مناسب تدارک مثل ترک تعلقات کرنے میں مضائقہ نہیں۔
(فتاویٰ محمودیہ ج۵ ص۴۰۷-۴۰۸)
قادیانی کے ساتھ تعلقات اور اس کا جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال ...... اگر کوئی شخص اہلسنت، قادیانی ہو جائے تو وہ خارج از اسلام ہو جاتا ہے یا نہیں اس شخص سے رسم و تعلقات باقی رکھنا اس کی دعوت کھانا اس کے یہاں تقریبات نکاح وغیرہ میں شریک ہونا یا اس کو اپنے یہاں دعوت کھلانا اگر وہ انتقال کر جائے تو اس کی تجہیز و تکفین میں شرکت کرنا یا کسی عالم کو باوجود جملہ حالات معلوم ہونے کے اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور اس کو مسلمانوں کے مدفن میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں۔ عالم صاحب کے واسطے کیا حکم ہے کیونکہ عوام الناس کی شرکت کا بھی باعث ہوا۔ فقط
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. علمائے اسلام کے فتویٰ کے مطابق قادیانی کافر ہیں جو شخص قادیانی ہو جائے وہ مرتد کے حکم میں ہے اس سے تعلق رکھنا اس کے نکاح وغیرہ میں شریک ہونا یا اپنے یہاں اس کو شریک کرنا ناجائز ہے اس کے جنازہ میں شرکت اور نماز جنازہ بھی منع ہے۔ جو شخص باوجود علم کے قادیانی کے جنازہ کی نماز پڑھے یا پڑھائے وہ گنہگار ہے۔ اس کو توبہ لازم ہے قادیانی کو اہل اسلام کے قبرستان میں بھی دفن نہیں کرنا چاہیے۔ والحو حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر درمختار و شرطھا (ای صلوۃ الجنازۃ) اسلام المیت الخ (درمختار ج۱ ص ۶۴۰) تنویر اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب ای ولا یغتسل ولا یکفن ولا یدفن الی من انتقل الی دینھم. بحر عن الفتح (ردالمحتار ج۱ ص۶۵۷) فقط۔ واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود گنگوہی معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۵۵/۱۱/۲۸ھ۔ (فتاویٰ محمودیہ ج۵ ص۴۰۸-۴۰۹)
قادیانی کے جنازہ کی نماز
سوال ...... جس امام نے پہلے بھی غلطی کی، اسی نے ایک قادیانی کی نماز پڑھائی مگر لوگوں نے کہا کہ اس کی نماز پڑھانی جائز نہ تھی کہہ دیا ضرور مگر بلائے تھے تو میں نے اس وجہ سے نماز پڑھائی تاکہ قادیانی اس کی عورت سے نہ کہلوائیں کہ جنازہ ہمیں ملے۔ قادیانی آئے اور دعائے خیر مانگ کر چلے گئے، مگر عورت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرا مذہب قادیانی نہیں اس بات پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ بعض اپنے قیاس سے جائز کہتے ہیں۔ جو قادیانی تھا اس نے اپنے ماں باپ سے کہہ دیا تھا کہ میری نماز قادیانی پڑھیں اور ان کو بلانا، اس وجہ سے ان کو بلایا گیا تھا۔ فقط
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. اگر واقعۃً وہ شخص قادیانی تھا تو امام اس کی نماز پڑھانے سے سخت گنہگار ہوا،
اس کو علی الاعلان توبہ لازم ہے۔ قادیانی پر کفر کا فتویٰ ہے اور کافر کی نماز پڑھانا اور اس کے لیے دعاء مغفرت کرنا حرام ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور ۶۰/۱۲/۲۲ھ الجواب صحیح: سعید احمد غفرلہ۔ صحیح، عبداللطیف مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور ۲۳ ذی الحجہ ۶۰ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۳ ص ۴۳۷، ۴۳۸)
قادیانی کی نماز جنازہ کا حکم
سوال...... میرے رشتہ داروں میں ایک شخص قادیانی ہے، اس کے مرنے کے بعد میرے لیے اس کے جنازہ میں شرکت کرنا اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب...... چونکہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اس بناء پر ان میں سے کسی کی بھی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہی قادیانیوں کے مذہب کے مطابق موت کی رسومات میں ان کے ساتھ شامل ہونا جائز ہے، اور اگر ایسے رشتہ دار کی تدفین کے لیے اس کا ہم مذہب کوئی آدمی نہ ہو تو تدفین کے شرعی طریقہ سے ہٹ کر صرف زمین میں گڑھا کھود کر اسے دفن کیا جائے گا۔
کما قال العلامۃ علاؤ الدین الحصکفیؒ: اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب. والدر المختار علی ھامش ردالمحتار ج ۱ ص ۶۵۷ باب صلوۃ الجنازۃ)
(فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۳۵)
مرزائی کو مسلمان سمجھنے والا نکاح کی تجدید کرے
ایک سنی مسلمان شخص نے مرزائی کے جنازہ میں شرکت کی۔ کیا مرزائی کے جنازہ میں شرکت سے اس کا نکاح باقی رہا ہے یا نہیں؟
الجواب...... اگر اس نے مرزائی کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو وہ اپنے ایمان و نکاح کی تجدید کرے، قال خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ رئیس المحدثین بجامعہ دارالعلوم دیوبند. من ذب عنہ او تاوّل قولہٗ. یکفر قطعاً لیس فیہ توان. فقط واللہ اعلم۔ محمد انور عفا اللہ عنہ ۱۴۰۳/۴/۲۱ھ الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ
(خیر الفتاویٰ ج ۴ ص ۵۹۳۔ ۵۹۴)
جس کی نماز جنازہ غیر مسلم نے پڑھائی، اس پر دوبارہ نماز ہونی چاہیے
سوال...... نئی کراچی سیکٹر ۵ ڈی میں ایک غیر مسلم گروہ کی مسجد ہے، فلاح دارین، اس کے پیش امام کا تعلق ایک دیندار جماعت سے ہے جو چن بسویشور کو مانتے ہیں لیکن یہ ظاہر نہیں کرتے ہیں، لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں جب ان کو علم ہوتا ہے تو پچھتاتے ہیں۔ یہاں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا جو سنی عقیدہ تھے ان کی نماز جنازہ اس مسجد کے امام صاحب نے پڑھائی۔ آپ یہ بتائیں کہ سنی عقیدہ رکھنے والوں کی نماز جنازہ قادیانی امام پڑھا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو دوبارہ نماز کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب...... دیندار انجمن کے لوگ قادیانیوں کی ایک شاخ ہے، اس لیے یہ لوگ مسلمان نہیں۔ اس امام کو امامت سے فوراً الگ کر دیا جائے غیر مسلم، مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھا سکتا اگر کسی غیر مسلم نے مسلمان کا جنازہ
پڑھایا ہو تو دوبارہ جنازہ کی نماز پڑھنا فرض ہے اور اگر بغیر جنازے کے دفن کر دیا گیا ہو تو تمام مسلمان گنہگار ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۳ ص ۱۶۱)
لاہوری مرزائی کی اقتداء میں جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ کل مورخہ ۸ ستمبر بوقت ساڑھے چار بجے دن سابق امام مسجد ووکنگ مسٹر محمد طفیل متعلقہ مرزائی لاہوری فرقہ کی ساس کا جنازہ مسجد ہذا میں لایا گیا اور یہاں کے سرکاری امام خواجہ قمر الدین جو کہ اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت ظاہر کرتے ہیں، مرزائی سابق امام محمد طفیل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی، جبکہ چند معززین نے ان کی اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمر الدین سرکاری امام ووکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لیے جنازہ میں شرکت کی ہے کیونکہ مرزا محمد طفیل بسا اوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، اور دوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں اور ہم کو کافر نہیں سمجھتے، لہٰذا آپ مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتویٰ سے کماحقہ مطلع فرمائیں۔
الجواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ اپنے دعاوئ باطلہ کے قرآن وسنت کی واضح اور بدیہی نصوص اور اجماع امت کی بناء پر قطعی کافر اور مرتد ہے، انہی وجوہات کی وجہ سے مرزا کے ایسے معتقدات کو اپنانے والے یا اس کی اتباع کرنے والے یا اس کی تصدیق وتائید یا کسی طرح تاویل کرنے والے بھی قطعی کافر اور مرتد ہیں۔
متنبی کذاب مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ان کے متبعین کی ایک جماعت نے (جو لاہوری مرزائی جماعت کہلاتی ہے اور جس کی قیادت مولوی محمد علی لاہوری نے کی) مرزا کے واضح بدیہی اور غیر مبہم دعاوی کے باوجود اس کی تکفیر کرنے کی بجائے (جو ہر مسلمان کا لازمی عقیدہ ہونا چاہیے) ایسے تمام دعاوی اور اقوال کفریہ کی تاویل شروع کر دی جبکہ وہ خود اپنے دعوؤں میں پکار پکار کر کہتا ہے کہ میں نبی ہوں تشریعی بھی اور غیر تشریعی بھی، سارے انبیاء علیہم السلام بشمول حضور خاتم النبیین ﷺ پر اپنی برتری کا دعویٰ کرتا رہا، اپنے منکر تمام مسلمانوں کو جہنمی اور کافر قرار دیتا رہا۔ مگر مولوی محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی نے مرزا قادیانی کو کافر سمجھنے کی بجائے چودھویں صدی کا مجدد اعظم، مصلح اکبر اور اس سے بڑھ کر مسیح موعود تک مانا۔ (ملاحظہ ہو اس کی تفسیر بیان القرآن حصہ اول ص ۳۷۱، ریویو آف ریلیجنز ج ۵ ص ۴۱۳، ج ۱۲ ص ۴۶۵ وغیرہ) اس نے اپنی تفسیر میں بیشمار مقامات پر تحریف معنوی اور ایسے تلاعب سے کام لیا جو کہ الحاد کا دروازہ کھولتا ہے، پھر بظاہر مرزا سے انکار اور مصلح و مجدد کہنے کا بھی راستہ جان بوجھ کر نفاق و تلبیس اور مسلمانوں کو فریب دینے کے لیے اختیار کیا گیا ورنہ درحقیقت لاہوری اور قادیانی ہر دو پارٹیوں کے معتقدات میں کوئی فرق نہیں۔ ملاحظہ ہو (پیغام صلح ۷ نومبر ۱۹۶۲ء) جو کہ لاہوری پارٹی کا ترجمان ہے اس میں مرزا قادیانی کو رسول ماننے کا اعلان موجود ہے۔ اپنے رسالہ (ریویو ج ۳ نمبر ۱۱ ص ۴۱۱) میں مرزا کو نہ صرف رسول اللہ اور نبی بلکہ سارے رسولوں سے افضل کہا۔ بہر حال اگر حقیقت حال یہ ہوتی کہ وہ مرزا کو صرف مصلح و مجدد سمجھتے تب بھی ان کی تکفیر میں کوئی پس و پیش نہ ہوتی۔ برصغیر کے محقق عالم، خصوصاً علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ نے اس فریب و نفاق کا پردہ بھی قطعی دلائل سے چاک کیا اور لاہوری گروپ کی تکفیر ہی کے ضمن میں ”اکفار الملحدین فی ضروریات الدین“ جیسی معرکۃ الآراء کتاب لکھی جس میں واضح فرمایا کہ قطعی، یقینی اور متواتر عقائد اور ضروریات دین میں
تاویل و تحریف و انکار قطعی کفر ہے اگر چہ ایسا کرنے والا خود اپنے آپ کو مسلمان کہے اور اپنے کو اہل قبلہ میں سے سمجھے اور سارے ارکان اسلام عبادات وغیرہ بھی ادا کیوں نہ کرے۔
مسلمانوں کے لیے تو مرزائیوں کا لاہوری فرقہ قادیانی اور ربوائی جماعت سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے کہ عام مسلمان انھیں نمازوں وغیرہ میں شرکت کرتے دیکھ کر ان پر حسن ظن کر لیتے ہیں اور بالآخر ان کے مکائد اور خبائث کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی زبانی مرزا قادیانی کے محامد اور محاسن سن سن کر اس کے بارہ میں بھی خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں جو ضیاع دین و ایمان بن کر رہ جاتا ہے۔
الحاصل لاہوری مرزائی بھی قادیانی مرزائیوں کی طرح قطعی کافر ہیں، نہ تو کسی مسلمان کے پیچھے ان کا نماز پڑھنا ان کے مسلمان ہونے کی دلیل بن سکتا ہے نہ ان کا یہ کہنا کہ ہم تو مسلمانوں کو کافر نہیں سمجھتے اور اب تو قادیانیوں کی ربوہ جماعت کے امام نے بھی از راہ تقیہ مسلمانوں کو دھوکہ اور فریب دینے کی خاطر اپنے متبعین کو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور معاشرتی و سماجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے، کیا ان کا اس طرح کرنے سے وہ مسلمان کہلا سکیں گے؟ اگر مرزائی ہم مسلمانوں کو کافر نہ بھی کہیں تو کیا وہ دائرہ کفر سے نکل سکیں گے؟ ہرگز نہیں! بلکہ جب تک وہ مرزا کے بارے میں اپنے کفریہ عقائد سے رجوع نہ کرلیں اسلام انھیں کافر، مرتد، واجب القتل اور جہنمی قرار دے گا، آپ نے اپنے سوال میں جس شخص (سرکاری امام خواجہ قمرالدین) کا ذکر کیا ہے اگر اس نے غلط فہمی اور لاعلمی کی وجہ سے لاہوری مرزائی کی اقتداء کی یا اسے مسلمان سمجھتا رہا تو اسے نادم اور تائب ہو کر اپنے موقف سے رجوع کرنا چاہیے اور اگر اب بھی وہ لاہوری مرزائیوں کے بارہ میں اپنی رائے پر مصر ہے تو اسے منصب امامت سے ہٹانا اور معزول کرنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ حقانیہ ج ۱ ص ۳۹۸۔۳۹۹)
باب دوم
قادیانی مردے کا حکم
قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور فاتحہ دعا و استغفار کرنا حرام ہے
سوال ...... قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا جانا، فاتحہ پڑھنا، گھر میں جا کر سوگ اور اظہار ہمدردی کرنا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی میں شرکت کرنا کیسا ہے؟
جواب ...... قادیانی، کافر و مرتد اور زندیق ہیں ان کے دفن میں شرکت کرنا، ان کی فاتحہ پڑھنا، ان کے لیے دعا و استغفار کرنا حرام ہے۔ مسلمانوں کو ان سے مکمل قطع تعلق کرنا چاہیے۔
قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ناجائز ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس سلسلہ میں کہ بعض دفعہ قادیانی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کر دیتے ہیں اور پھر مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان کو نکالا جائے۔ تو کیا قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں؟ اور مسلمانوں کے اس طرز عمل کا کیا جواز ہے؟
جواب ...... قادیانی غیر مسلم اور زندیق ہیں۔ ان پر مرتدین کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ کسی غیر مسلم کی نماز جنازہ جائز نہیں، چنانچہ قرآن کریم میں اس کی صاف ممانعت موجود ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ولا تصل على أحد منهم مات ابداً ولا تقم على قبره، انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون.
(التوبہ ۸۴)
”اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر، وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان۔“ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
اسی طرح کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ جیسا کہ آیت کریمہ کے الفاظ ”ولا تقم علی قبرہ“ سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قبرستان ہمیشہ الگ الگ رہے۔ پس کسی مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ علامہ سعد الدین مسعود بن عمر بن عبداللہ التفتازانی (المتوفی ۷۹۱ھ) ”شرح المقاصد“ میں ایمان کی تعریف میں مختلف اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ایمان دل و زبان سے تصدیق کرنے کا نام ہو تو اقرار رکن ایمان ہوگا۔ اور ایمان تصدیق مع الاقرار کو کہا جائے گا لیکن اگر ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہو۔
فان الاقرار حينئذ شرط لاجراء الاحكام عليه فى الدنيا من الصلاة عليه و خلفه، والدفن فى مقابر المسلمين والمطالبة بالعشور والزكاوات ونحو ذلك.
(شرح المقاصد ۲۔ ۲۴۸ مطبوعہ دار المعارف النعمانیہ لاہور)
”تو اقرار اس صورت میں، اس شخص پر دنیا میں اسلام کے احکام جاری کرنے کے لیے شرط ہوگا۔ یعنی اس کی نماز جنازہ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا، اس سے زکوٰۃ وعشر کا مطالبہ کیا جانا اور اس طرح کے دیگر امور۔“
اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی ان اسلامی حقوق میں سے ایک ہے جو صرف مسلمان کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ کہ جس طرح کسی غیر مسلم کی اقتدا میں نماز جائز نہیں، اس کی نماز جنازہ جائز نہیں اور اس سے زکوٰۃ وعشر کا مطالبہ درست نہیں، ٹھیک اسی طرح کسی غیر مسلم مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دینا بھی جائز نہیں اور یہ کہ یہ مسئلہ تمام امت مسلمہ کا متفق علیہ اور مسلمہ مسئلہ ہے۔ جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ ذیل میں مذاہب اربعہ کی مستند کتابوں سے اس مسئلہ کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں۔
واللہ الموفق۔
فقہ حنفی..... شیخ زین الدین ابن نجیم المصری (المتوفی ۹۷۰ھ ) ”الاشباہ والنظائر“ کے فن اول قاعدہ ثانیہ کے ذیل میں لکھتے ہیں۔
قال الحاكم في الكافی من كتاب التحرى: واذا اختلط موتى المسلمين و موتى الكفار فمن كانت عليه علامة المسلمين صلى عليه ومن كانت عليه علامة الكفار ترك. فان لم تكن عليهم علامة والمسلمون اكثر غسلوا وكفنوا وصلى عليهم، و ينوون بالصلاة والدعاء للمسلمين دون الكفار، و يدفنون في مقابر المسلمين. وان كان الفريقان سواء أو كانت الكفار اكثر لم يصل عليهم، و يغسلون و يكفنون و يدفنون في مقابر المشركين.
(۱: الاشباہ والنظائر ج ۱ ص ۱۵۲ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)
”امام حاکم ”الکافی“ کی کتاب التحری میں فرماتے ہیں اور جب مسلمان اور کافر مردے خلط ملط ہو جائیں تو جن مردوں پر مسلمانوں کی علامت ہو گی ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور جن پر کافر کی علامت ہوئی ان کی نماز جنازہ نہیں ہو گی اور اگر ان پر کوئی شناختی علامت نہ ہو تو اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو سب کو غسل و کفن دے کر ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نیت یہ کی جائے گی کہ ہم صرف مسلمانوں پر نماز پڑھتے اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان سب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور اگر دونوں فریق برابر ہوں یا کافروں کی اکثریت ہو تو ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ ان کو غسل وکفن دے کر غیر مسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔“
نیز دیکھئے ”نفع المفتی والسائل“ از مولانا عبدالحی لکھنوی (المتوفی ۱۳۰۴ھ) اواخر کتاب الجنائز“
مندرجہ بالا مسئلہ سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان اور کافر مردے مختلط ہو جائیں اور مسلمانوں کی شناخت نہ ہو سکے تو اگر دونوں فریق برابر ہوں۔ یا کافر مردوں کی اکثریت ہو تو اس صورت میں مسلمان مردوں کو بھی اشتباہ کی بناء پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہ ہوگا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ جو مردہ قطعی طور پر غیر مسلم، مرتد قادیانی ہو اس کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں، اور کسی صورت میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نیز ”الاشباہ“ فن ثانی، کتاب السیر، باب الردۃ کے ذیل میں لکھتے ہیں۔
واذا مات أو قتل على ردته لم يدفن في مقابر المسلمين ولا أهل ملة وانما يلقى في حفرة كالكلب.
(الاشباہ والنظائر (۱، ۱۰۱) مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
”اور جب مرتد مر جائے یا ارتداد کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو اس کو نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ کسی اور ملت کے قبرستان میں۔ بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔“
مندرجہ بالا جزئیہ قریباً تمام کتب فقہیہ میں کتاب الجنائز اور کتاب السیر ”باب المرتد“ میں ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً (درمختار ص ۶۵۷ ج ۱ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) میں ہے۔
أما المرتد فيلقى في حفرة كالكلب.
”لیکن مرتد کو کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔“
علامہ محمد امین بن عابدین شامیؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں۔
ولا يغسل ولا يكفن ولا يدفع الى من انتقل الى دينهم. بحر عن الفتح.
(ردالمحتار ۲، ۲۳۰ مطبوعہ کراچی)
”یعنی نہ اسے غسل دیا جائے۔ نہ کفن دیا جائے۔ نہ اسے ان لوگوں کے سپرد کیا جائے جن کا مذہب اس مرتد نے اختیار کیا۔“
قادیانی چونکہ زندیق اور مرتد ہیں اس لیے اگر کسی کا عزیز قادیانی مرتد ہو جائے تو نہ اسے غسل دے، نہ کفن دے، نہ اسے مرزائیوں کے سپرد کرے بلکہ گڑھا کھود کر اسے کتے کی طرح اس میں ڈال دے۔ اسے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ بلکہ کسی اور مذہب و ملت کے قبرستان یا مرگھٹ مثلاً یہودیوں کے قبرستان اور نصرانیوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔
فقہ مالکی...... قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المالکی الاشبیلی المعروف بابن العربی (المتوفی ۵۴۳ھ) سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۲ کے تحت متأولین کے کفر پر گفتگو کرتے ہوئے ”قدریہ“ کے بارے میں لکھتے ہیں۔
اختلف علماء المالكية فى تكفيرهم على قولين. فالصريح من أقوال مالك تكفيرهم.
”علمائے مالکیہ کے ان کی تکفیر میں دو قول ہیں۔ چنانچہ امام مالکؒ کے اقوال سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہ کافر ہیں۔“
آگے دوسرے قول (عدم تکفیر) کی تضعیف کرنے کے بعد امام مالکؒ کے قول پر تفریع کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
فلا يناكحوا ولا يصلى عليهم فان خيف عليهم الضيعة دفنوا كما يدفن الكلب. فان قيل: وأين يدفنون؟ قلنا: لا يؤذى بجوارهم مسلم. (احکام القرآن لابن العربی مطبوعہ بیروت ج دوم صفحات مسلسل ۸۰۶)
”پس نہ ان سے رشتہ ناتا کیا جائے نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ اور اگر ان کا کوئی والی وارث نہ ہو اور ان کی لاش ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اگر یہ سوال ہو کہ انھیں کہاں دفن کیا جائے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو ان کی ہمسائیگی سے ایذا نہ دی جائے یعنی مسلمانوں کے قبرستانوں میں انھیں دفن نہ کیا جائے۔“
فقہ شافعی...... الشیخ الامام جمال الدین ابو اسحاق ابراہیم بن علی بن یوسف الشیرازی الشافعی (المتوفی ۴۷۶ھ) اور
امام محی الدین یحییٰ بن شرف النووی (المتوفی ۶۷۶ھ) لکھتے ہیں ۔
قال المصنف رحمه الله ولا يدفن كافر في مقبرة المسلمين ولا مسلم في مقبرة الكفار . الشرح : اتفق أصحابنا رحمهم الله على أنه لا يدفن مسلم في مقبرة كفار، ولا كافر في مقبرة مسلمين، ولو ماتت ذمية حامل بمسلم ومات جنينها فى جوفها ففيه أوجه . (الصحيح) أنها تدفن بين مقابر المسلمين والكفار، ويكون ظهرها الى القبلة، لأن وجه الجنين الى ظهر أمه هكذا قطع به ابن الصباغ والشاشی وصاحب البيان وغيرهم وهو المشهور .
(شرح مہذب ۵۔ ۲۸۵ مطبوعہ بیروت)
”مصنف فرماتے ہیں اور نہ دفن کیا جائے کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں اور نہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں ۔ شرح ۔ اس مسئلہ میں ہمارے اصحاب (شافعیہ) کا اتفاق ہے کہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں اور کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ذمی عورت مر جائے جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر جائے تو اس میں چند وجہیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس کو مسلمانوں اور کافروں کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے گا اور اس کی پشت قبلہ کی طرف کی جائے گی۔ کیونکہ پیٹ کے بچے کا منہ اس کی ماں کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔ ابن الصباغ، شاشی صاحب البیان اور دیگر حضرات نے اسی قول کو جزماً اختیار کیا ہے اور یہی ہمارے مذہب کا مشہور قول ہے ۔“
فقہ حنبلی ...... الشیخ الامام موفق الدین ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفی ۶۲۰ ھ) المغنی میں اور امام شمس الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفی ۶۸۲ھ) الشرح الکبیر میں لکھتے ہیں۔
مسألة . قال : وان ماتت نصرانية وهى حاملة من مسلم دفنت بين مقبرة المسلمين و مقبرة النصارى، اختار هذا أحمد، لأنها كافرة لا تدفن في مقبرة المسلمين فيتأذوا بعذابها، ولا في مقبرة الكفار لأن ولدها مسلم فيتأذى بعذابهم، وتدفن منفردة، مع أنه روى عن واثلة بن الأسقع مثل هذا القول، وروى عن عمر أنها تدفن في مقابر المسلمين، قال ابن المنذر لا يثبت، ذلك قال أصحابنا و يجعل ظهرها الى القبلة على جانبها الأيسر ليكون وجه الجنين الى القبلة عَلى جانبه الأيمن لأن وجه الجنين الى ظهرها .
(المغنی مع الشرح الکبیر ۲۔ ۴۳۳ مطبوعہ بیروت ۱۴۰۳ھ)
”اور اگر نصرانی عورت، جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی مر جائے تو اسے (نہ تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ نصاریٰ کے قبرستان میں، بلکہ) مسلمانوں کے قبرستان اور نصاریٰ کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے۔ امام احمدؒ نے اس کو اس لیے اختیار کیا ہے کہ وہ عورت تو کافر ہے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا کہ اس کے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایذا نہ ہو۔ اور نہ اسے کافروں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا کیونکہ اس کے پیٹ کا بچہ مسلمان ہے۔ اسے کافروں کے عذاب سے ایذا ہوگی اس لیے اس کو الگ دفن کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی حضرت واثلہ بن الاسقعؓ سے اسی قول کے مثل مروی ہے اور حضرت عمرؓ سے جو مروی ہے کہ ایسی عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ یہ روایت حضرت عمرؓ سے ثابت نہیں۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس نصرانی عورت کو بائیں کروٹ پر لٹا کر اس کی پشت قبلہ کی طرف کی جائے تاکہ بچے کا منہ قبلہ کی طرف رہے اور وہ داہنی کروٹ کی طرف کی جائے تاکہ بچے کا
منہ قبلہ کی طرف رہے۔ اور وہ داہنی کروٹ پر ہو۔ کیونکہ پیٹ میں بچے کا چہرہ عورت کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت اسلامی کا متفق علیہ اور مسلم مسئلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت اسلامی کا یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے ۔
’’حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعویٰ پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افترا اور جھوٹے دعویٰ نبوت پر مرے اور ان کا کسی اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیے گئے ۔‘‘
(تحفۃ الندوۃ ص ۱۲ خزائن ج ۱۹ ص ۹۶‘ مطبوعہ لندن)
اسی رسالہ میں آگے چل کر لکھا ہے۔
’’پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لیے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرض محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آئے۔ جس کو وہ قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعویٰ ہے) خدا کی ایسی وحی کہتا ہوں۔ جس کی صفت میں لاریب فیہ ہے۔ جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیر توبہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا ۔‘‘
(تحفۃ الندوۃ ص ۱۲۔ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۹۹۔۱۰۰‘ مطبوعہ لندن)
مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دونوں عبارتوں سے تین باتیں واضح ہوئیں۔
- ایک ! یہ کہ جھوٹا مدعی نبوت کافر و مرتد ہے، اسی طرح اس کے ماننے والے بھی کافر و مرتد ہیں ۔ وہ کسی
اسلامی سلوک کے مستحق نہیں۔
- دوم! یہ کہ کافر و مرتد کی نماز جنازہ نہیں اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے ۔
- سوم! یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اور وہ اپنی شیطانی وحی کو نعوذ باللہ قرآن کریم کی
طرح سمجھتا ہے۔
پس اگر گزشتہ دور کے جھوٹے مدعیان نبوت اس کے مستحق ہیں کہ ان کو اسلامی برادری میں شامل نہ سمجھا جائے ۔ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے تو مرزا غلام احمد قادیانی (جس کا جھوٹا دعویٰ نبوت اظہر من الشمس ہے) اور اس کی ذریت خبیثہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے ۔
رہا یہ سوال کہ اگر قادیانی چپکے سے اپنا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا کیا کیا جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ علم ہو جانے کے بعد اس کا اکھاڑنا واجب ہے اور اس کی چند وجہیں ہیں ۔
- اول ! یہ کہ مسلمانوں کا قبرستان مسلمانوں کی تدفین کے لیے وقف ہے۔ کسی غیر مسلم کا اس میں دفن کیا
جانا ’’غصب‘‘ ہے اور جس مردہ کو غصب کی زمین میں دفن کیا جائے اس کا نبش (اکھاڑنا) لازم ہے ۔ جیسا کہ کتب فقہیہ میں اس کی تصریح موجود ہے کیونکہ کافر و مرتد کی لاش، جبکہ غیرمحل میں دفن کی گئی ہو۔ لائق احترام نہیں ۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ میں باب باندھا ہے ۔ ’’باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ‘‘
اور اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے کہ مسجد نبوی کے لیے جو جگہ خریدی گئی اس میں کافروں کی قبریں تھیں۔
فامر النبى بقبور المشركين فنبشت.
(صحیح بخاری ص ۶۱ ج ۱ باب هل نبش قبور مطبوعہ حاجی نور محمد اصح المطابع)
"پس آنحضرت ﷺ نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم فرمایا، چنانچہ وہ اکھاڑ دی گئیں۔" حافظ ابن حجر، امام بخاری کے اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں۔
أى دون غيرها من قبور الأنبياء و أتباعهم لما فى ذلك من الاهانة لهم بخلاف المشركين فانهم لا حرمة لهم.
(فتح الباری ۱-۴۲۷ مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)
"یعنی مشرکین کی قبروں کو اکھاڑا جائے گا۔ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کی قبروں کو نہیں کیونکہ اس میں ان کی اہانت ہے۔ بخلاف مشرکین کے، کہ ان کی کوئی حرمت نہیں۔"
حافظ بدرالدین عینی (المتوفی ۸۵۵ھ) اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں۔
(فان قلت) كيف يجوز اخراجهم من قبورهم والقبر مختص بمن دفن فيه فقد حازه فلا يجوز بيعه ولا نقله عنه. (قلت) تلك القبور التى أمر النبى ﷺ بنبشها لم تكن أملاكا لمن دفن فيها بل لعلها غصبت، فلذلك باعها ملاكها، وعلى تقدير التسليم أنها حبست فليس بلازم، انما الازم تحبيس المسلمين لا الكفار، ولهذا قالت الفقهاء اذا دفن المسلم فى أرض مغصوبة يجوز اخراجه فضلا عن المشرك.
(عمدة القاری ص ۳۵۹ ج ۲ طبع دار الطباع العامره)
"اگر کہا جائے کہ مشرک و کافر مردوں کو ان کی قبروں سے نکالنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ جبکہ قبر، مدفون کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ اس لیے نہ اس جگہ کو بیچنا جائز ہے اور نہ مردہ کو وہاں سے منتقل کرنا جائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبریں جن کے اکھاڑنے کا نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا غالباً دفن ہونے والوں کی ملک نہیں تھیں۔ بلکہ وہ جگہ غصب کی گئی تھی۔ اس لیے مالکوں نے اس کو فروخت کرایا اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ جگہ ان مردوں کے لیے مخصوص کر دی گئی تھی تب بھی یہ لازم نہیں کیونکہ مسلمانوں کا قبروں میں رکھنا لازم ہے کافروں کا نہیں۔ اسی بناء پر فقہاء نے کہا ہے کہ جب مسلمان کو غصب کی زمین میں دفن کر دیا گیا ہو تو اس کو نکالنا جائز ہے چہ جائیکہ کافر و مشرک کا نکالنا۔"
پس جو قبرستان کہ مسلمانوں کے لیے وقف ہے۔ اس میں کسی قادیانی کو دفن کرنا اس جگہ کا غصب ہے کیونکہ وقف کرنے والے نے اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کیا ہے۔ کسی کافر و مرتد کو اس وقف کی جگہ میں دفن کرنا غاصبانہ تصرف ہے اور وقف میں ناجائز تصرف کی اجازت دینے کا کوئی شخص بھی اختیار نہیں رکھتا۔ بلکہ اس ناجائز تصرف کو ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے اس لیے جو قادیانی، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہو اس کو اکھاڑ کر اس غصب کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ اور اگر مسلمان اس تصرف بے جا اور غاصبانہ حرکت پر خاموش رہیں گے اور اس غصب کے ازالہ کی کوشش نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے اور اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوگی کہ جگہ مسجد کے لیے وقف ہو، اس میں گرجا اور مندر بنانے کی اجازت دے دی جائے۔ یا اگر اس جگہ پر غیر مسلم قبضہ کر کے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کر لیں تو اس ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کا ازالہ مسلمانوں پر فرض ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کے قبرستان میں، جو کہ مسلمانوں کے لیے وقف ہے۔ اگر غیر مسلم قادیانی ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کر لیں تو اس کا ازالہ بھی واجب ہوگا۔
دوسری وجہ! یہ ہے کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا مسلمان مردوں کے لیے ایذا کا سبب ہے کیونکہ کافر اپنی قبر میں معذب ہے اور اس کی قبر محل لعنت وغضب ہے۔ اس کے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایذا ہو گی۔ اس لیے کسی کافر کو مسلمانوں کے درمیان دفن کرنا جائز نہیں، اور اگر دفن کر دیا گیا ہو تو مسلمانوں کو ایذا سے بچانے کے لیے اس کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے۔ اس کی لاش کی حرمت کا نہیں بلکہ مسلمان مردوں کی حرمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ امام ابوداؤدؒ نے کتاب الجہاد باب ”علی ما یقاتل المشرکین“ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے۔
أنا برئ من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين. قالوا يا رسول الله! لم؟ قال لا تراءا نارهما.
(ابوداؤد ص ۳۵۶ ج ۱ مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی)
”میں بری ہوں ہر اس مسلمان سے جو کافروں کے درمیان مقیم ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیوں؟ فرمایا، دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہیں آنی چاہیے۔“
نیز امام ابوداؤدؒ نے آخر کتاب الجہاد ”باب فی الاقامة بارض الشرک“ میں یہ حدیث نقل کی ہے۔
من جامع المشرك وسكن معه فانه مثله.
(ابوداؤد ص ۳۹ ج ۲ ایچ ایم سعید کراچی)
”جس شخص نے مشرک کے ساتھ سکونت اختیار کی وہ اسی کی مثل ہوگا۔“
پس جبکہ دنیا کی عارضی زندگی میں کافر و مسلمان کی اکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اجتماع کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے؟
تیسری وجہ! یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان کی زیارت اور ان کے لیے دعا و استغفار کا حکم ہے۔ جبکہ کسی کافر کے لیے دعا و استغفار اور ایصال ثواب جائز نہیں۔ اس لیے لازم ہوا کہ کسی کافر کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں نہ رہنے دی جائے، جس سے زائرین کو دھوکہ لگے اور وہ کافر مردوں کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا و استغفار کرنے لگیں۔
مرزا غلام احمد کے ملفوظات میں ایک بزرگ کا حسب ذیل واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔
”ایک بزرگ کسی شہر میں بہت بیمار ہو گئے اور موت تک کی حالت پہنچ گئی۔ تب اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا دوست حیران ہوئے کہ یہ عابد زاہد آدمی ہیں۔ یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی کیوں خواہش کرتے ہیں شاید اس وقت حواس درست نہیں رہے۔ انھوں نے پھر پوچھا کہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ بزرگ نے کہا کہ تم میرے فقرہ پر تعجب نہ کرو۔ میں ہوش سے بات کرتا ہوں اور اصل واقعہ یہ ہے کہ تیس سال سے میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے موت طوس کے شہر میں آئے۔ پس اگر آج میں یہاں مرجاؤں تو جس شخص کی تیس سال کی مانگی ہوئی دعا قبول نہیں ہوئی وہ مسلمان نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس صورت میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو کر اہل اسلام کو دھوکا دوں اور لوگ مجھے مسلمان جان کر میری قبر پر فاتحہ پڑھیں۔“
(مرزا غلام احمد قادیانی کے ملفوظات ج ۷ صفحہ ۳۹۶ مطبوعہ لندن)
اس واقعہ سے بھی معلوم ہوا کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کو دھوکہ ہوگا اور وہ اسے مسلمان سمجھ کر اس کی قبر پر فاتحہ پڑھیں گے۔
حضرات فقہاء نے مسلم و کافر کے امتیاز کی یہاں تک رعایت کی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم کا مکان مسلمانوں کے محلے میں ہو تو اس پر علامت کا ہونا ضروری ہے کہ یہ غیر مسلم کا مکان ہے تاکہ کوئی مسلمان وہاں کھڑا ہو کر دعا و سلام نہ کرے۔ جیسا کہ (کتاب السیر باب احکام اہل الذمہ) میں فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔
خلاصہ یہ کہ کسی غیر مسلم کو خصوصاً کسی قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں اور اگر دفن کر دیا گیا ہو تو اس کا اکھاڑنا اور مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کرنا ضروری ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۳ ص ۱۳۲ تا ۱۵۶)
دین دار انجمن کے پیروکار مرتد ہیں ان کا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے
سوال....... ہمارے محلے میں دین دار انجمن کے نام سے ایک تنظیم کام کر رہی ہے جس کے نگران اعلیٰ سعید بن وحید صاحب ہیں جو کہ ہمارے علاقے میں ہی رہائش رکھتے ہیں ان کے صاحب زادے کا حال ہی میں حادثہ کی وجہ سے انتقال ہو گیا علاقے کے مسلمانوں کے ردّعمل کی وجہ سے اس کی نماز جنازہ علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں نماز جنازہ پڑھانے کے بعد اسی قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب....... دین دار انجمن کے حالات و عقائد پروفیسر الیاس برنی مرحوم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں ذکر کیے ہیں۔ اور جناب مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس فرقہ کے عقائد پر مستقل رسالہ ’’بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔
یہ جماعت، قادیانیوں کی ایک شاخ ہے اور اس جماعت کا بانی بابو صدیق دین دار ’’چن بسویشور‘‘ خود بھی نبوت بلکہ خدائی کا مدعی تھا، بہرحال یہ جماعت مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ ان سے مسلمانوں کا سا معاملہ جائز نہیں۔ ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ان مرتدین کا جو مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے اس کو اکھاڑنا ضروری ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کریں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۶)
مرزائی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا
سوال....... کیا مرزائی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے؟ از دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت۔ ملتان
الجواب....... ۱ آنحضرت ﷺ کے دور سے لے کر آج تک تعامل مسلمین یہی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے قبرستان علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ اور تعامل امت حجۃ قطعیہ ہے لہٰذا مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔
- ۲...... قبرستان میں داخلہ کے وقت سلام سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا دفن مسلمانوں کے قبرستان میں جائز نہیں،
وہ الفاظ یہ ہیں۔ ’’السلام علیکم دار قوم مؤمنین.‘‘ اضافت دار، مؤمنین کی طرف علامت تخصیص ہے اور یہ الفاظ حدیث میں وارد ہیں۔
(شامی ج ۱ ص ۶۶۵ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
- ۳..... اگر اتفاقاً چند مسلمان اور کافر مردے باہم مل جائیں اور کوئی امتیازی علامت موجود نہ ہو تو فقہاء نے لکھا ہے
کہ ان کو بھی علیحدہ دفن کیا جائے۔ ہر چند ان میں مسلمان بھی ہیں لیکن مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے لامحالہ کافر بھی وہیں دفن ہوں گے (اور یہ جائز نہیں ہے)
- ۴..... اگر کوئی ذمیہ عورت مسلمانوں سے حاملہ ہو اور بحالت حمل اس کا انتقال ہو گیا تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو
مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ یہ صراحت ہے اس بات کی کہ غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے۔
لو اختلط موتانا بكفار ولا علامة اعتبر الاكثر قالوا والاحوط دفنها عليحدة. (درمختار )
قوله كدفن ذمية جعل الاول شبهاً بهذا الخ اختلف فيها الصحابة رضى الله تعالى عنهم على ثلاثة اقوالٍ فقال بعضهم تدفن فى مقابرنا ترجيحًا لجانب الولد و بعضهم فى مقابر المشركين لان الولد فى حكم جزء منها مادام فى بطنها وقال واثلة بن الاسقع يُتخذ لها مقبرةٌ على حدة قال فى الحلية وهذا احوط. (شامی ج ۱ ص ۶۳۵ مکتبہ رشیدیہ ) فقط واللہ اعلم.
الاحقر محمد انور عفا اللہ عنہ نائب مفتی خیرالمدارس۔ ملتان ۲۵/ ۷/ ۹۷۔
الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ مفتی خیرالمدارس۔ ملتان (خیر الفتاویٰ ج ۳ ص ۴۴۱۔۴۴۲)
مرزائی کا جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ایک مرزائی فوت ہوا ہے۔ اس کی قبر مسلمانوں نے کھودی ہے اور اس کا جنازہ مسلمانوں اور مرزائیوں نے الگ الگ اپنے مسلک کے مطابق پڑھا۔ جنازہ قبر تک مرزائی اٹھا کر لے گئے اور لحد میں اتارنے والے مسلمان تھے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ مسلمان مرزائیوں کے ساتھ ماتم وغیرہ میں بھی شریک رہے۔ گھر سے کھانا پکوا کر مرزائیوں کو دیا ہے۔ اب شرعاً اس مدفون کو قبرستان سے نکال کر باہر کرنا چاہیے یا نہیں اور جن مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی ہے ان سے شرعی بائیکاٹ جائز ہے یا نہیں، اور ان کی سزا کیا ہے۔
جواب ...... مرزائی باتفاق اہل سنت والجماعة کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ میں شرکت جائز نہیں ہے اور نہ ہی مرزائی میت کو اہل اسلام کے قبرستان میں دفنانا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۳ ص ۵۵)
قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم
سوال ...... قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... قادیانی ضروریاتِ دین سے انکار کی بناء پر کافر اور مرتد ہیں ان کو اہل اسلام کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ کما قال العلامة ابن نجيم المصرى رحمه الله: اما المرتد فلا يغسل ولا يكفن وانما يلقى فى حفيرة كالكلب ولا يدفع الى من انتقل الى دينهم.
(البحر الرائق ج ۲ ص ۱۹۱ کتاب الجنائز ۔ فصل فی السلطان احق بصلاتہ ، فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۳۶)
باب سوم
قادیانی وراثت کے احکام
ارتداد کی وجہ سے مال ملک سے نکل جاتا ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ میرا بیٹا اور اس کی بیوی دونوں قادیانی (مرتد) ہو گئے ہیں اور اپنے قادیانی ہونے کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے ورثاء کے مال کے وارث ہو سکتے ہیں؟ اس کی بیوی کا جہیز اور سامان میرے پاس ہے۔ اس کا وارث کون ہے۔ میں اپنے لڑکے سے اس حالت میں تعلق رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟
الجواب ...... تنبیہاً ان سے رشتہ نہ رکھیں۔ مرتد رہتے ہوئے جائیداد کے وارث نہیں ہو سکتے۔ ہر دو کی ملکیت اپنے مملوکہ اموال سے زائل ہو چکی ہے۔ اگر وہ اسلام لے آئیں تو دوبارہ لے سکتے ہیں اور اگر معاذ اللہ ان کا اس میں انتقال ہو جائے تو ان کا مال ہر دو کے ورثاء کو منتقل ہو جائے گا۔ ویزول ملک المرتد عن مالہ زوالاً موقوفاً فان اسلم عاد ملکہ و ان مات او قتل علی ردتہ ورث کسب اسلامہ وارثہ المسلم. فقط واللہ اعلم. (شامیہ ج ۳ ص ۳۲۸ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) محمد انور جامعہ خیر المدارس ملتان ۱۴۰۶/۹/۲۵ھ الجواب صحیح: بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۸۰)
قادیانی، مسلمانوں کے ترکہ کے وارث نہیں بن سکتے
سوال ...... بی بی زینب حنفی المذہب نے انتقال کیا اور جائیداد منقولہ و غیر منقولہ و مندرجہ ذیل ورثا کو چھوڑا (تین لڑکی و ایک شوہر قادیانی المذہب) اور تین بھائی جن میں سے ایک قادیانی اور دو حنفی المذہب کو چھوڑا۔ واضح رہے مسمات بی بی زینب کے شوہر نے درمیان میں تبدیل مذہب کر لیا مگر بحیثیت زن و شوہر کے تادم آخر باوجود اختلاف مذہب کے رہے۔ بیان کیا جائے کہ ان ورثا میں کس کو کتنا حصہ ملے گا کس کو نہیں ملے گا۔ المستفتی نمبر ۲۵۳۵ عبدالرحمن عرف ناکو میاں (مونگیر) ۲۹ جمادی الثانی ۱۳۵۸ھ م ۱۷ اگست ۱۹۳۹ء۔
جواب ...... چونکہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لیے ایک حنفی مسلمہ عورت کی میراث قادیانیوں کو نہیں ملے گی۔ پس اس زینب بی بی کی میراث اس کے قادیانی شوہر اور قادیانی بھائی کو نہیں ملے گی۔ اس کی لڑکیوں کو ۲/۳ دے کر باقی ۱/۳ دونوں سنی المذہب بھائیوں کو دیا جائے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔
(کفایت المفتی ج ۸ ص ۴۰۶)
مرتد مسلمانوں کے ترکہ کا وارث نہیں
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکی نہایت متقی حنفی المذہب مسلمان (مرحوم) کی بیٹی ہے۔ اسلامی قانون وراثت کے تحت مرحوم کی متروکہ جائیداد میں سے کچھ غیر منقولہ جائیداد لڑکی کو حصہ میں مل سکتی ہے، اگر یہ خاتون اپنے خاوند کے مرزائی قادیانی ہونے کی وجہ سے خود بھی قادیانی ہو جائے یا قادیانی نہ ہو مگر اپنے مرتد خاوند کا ساتھ نہ چھوڑے تو کیا بموجب شرع محمدی بدستور جائیداد کی وارث بن سکتی ہے اور کیا ایک مسلمان کی متروکہ جائیداد ایک مرتد کو منتقل ہو سکتی ہے؟ جب کہ مرحوم کی اور اولاد نرینہ اہل سنت
والجماعت موجود ہو؟ بینوا توجروا. و بالله التوفيق
الجواب....... جو شخص (مرد یا عورت) پہلے مسلمان تھا پھر قادیانی ہو گیا وہ مرتد ہے اور جو شخص (مرد یا عورت) پیدائشی طور پر قادیانی ہو وہ غیر مسلم (کافر) ہے اور جب وارث اور مورث میں دین کا اختلاف کفر و اسلام سے ہو تو وراثت نہیں ملتی۔ پس کوئی وارث نہیں ہو سکتا۔ سراجی موانع الارث میں مانع وراثت اختلاف الدین لکھا ہے۔ وهكذا في عامة كتب الفقه اور یہ اجماعی مسئلہ ہے۔ لقوله تعالى ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا (نساء ۱۴۱) ولقوله عليه السلام لا يتوارث اهل ملتين شتی (رواہ ابو داؤد ص ۴۷ ج ۳ باب ھل یرث المسلم الكافر والدارمی و غيرهما) پس یہ لڑکی جو قادیانی کے ساتھ کی وجہ سے خود بھی قادیانی ہو گئی اور تائب ہو کر اسلام میں لوٹ کر نہیں آئی وہ اپنے باپ کے ترکہ میں ہرگز وارث نہیں ہو سکتی۔ قطعاً محروم رہے گی۔ نیز مرتدہ تو شرع اسلامی میں کسی سے وراثت نہیں پاسکتی۔ هكذا فى الشامى. فقط والله اعلم بالصواب۔
کتبہ الاحقر نظام الدین عفی عنہ مفتی دارالعلوم دیوبند
(نظام الفتاوی ج ۲ ص ۲۶۰-۲۶۱)
قادیانی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا
سوال....... اگر کوئی شخص قادیانی ہو اور اس کا بیٹا مسلمان ہو تو بیٹے کے فوت ہو جانے کے بعد باپ اس کے مال میں میراث کا حقدار بن سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب....... قادیانی اور مسلمان ایک دوسرے کی میراث کے حقدار نہیں بن سکتے مذکورہ بالا صورت میں قادیانی مرتد کی میراث بیت المال میں داخل کی جائے گی، اسی طرح کوئی قادیانی کسی مسلمان کی میراث میں حقدار نہیں بن سکتا بلکہ مسلمان کی میراث اس کے مسلمان ورثاء میں قاعدہ شرعی کے مطابق تقسیم ہو گی۔
لما قال الشيخ سراج الدين السجاوندى: واما المرتد فلا يرث من احد لا من مسلم ولا من مرتد مثله. (السراجی ص ۷۵ فصل فی المرتد)
(فتاوی حقانیہ ج ۵ ص ۳۴۶)
قادیانی کی وراثت کا حکم
سوال....... زید مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد و مثیل مسیح سمجھتا تھا۔ بعدۂ بعض علماء کی ہمکلامی سے اس کے خیالات میں تبدیلی ہو کر وہ اس عقیدہ سے رجوع کر لیا، زید مقر ہے کہ وہ اہل سنہ حنفی الملۃ ہے، زید کا رجوع اور اقرار شرعاً درست ہے یا نہیں؟ نمبر ۲....... زید کے خدمات موروثی جو حسب قوانین سلطنت توریثاً اجراء ہوتے ہیں زید کے وارث خالد پر جو کہ اہل سنت حنفی المشرب ہے بحال ہو سکتے ہیں یا نہیں، اور زید کی جائیداد کا خالد (فرزند زید) وارث ہو سکتا ہے یا نہیں، بینوا توجروا؟
الجواب....... نمبر ۱....... جب زید نے اپنے عقیدۂ سابقہ سے رجوع کر لیا اور وہ اقرار کرتا ہے کہ میں اہل سنت حنفی المذہب ہوں تو شرعاً اس کا رجوع اور اقرار معتبر ہے، اس کو مسلمان سنی المذہب سمجھنا چاہیے۔ نمبر ۲....... جب زید شرعاً مسلمان ہے تو اس کی خدمات موروثی خالد کو جو اس کا وارث ہے ۔ دے دینا جائز ہے، اور خالد زید کی جائیداد کا بھی وارث ہوگا۔ واللہ اعلم ۶ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۰ھ ۔
(امداد الاحکام ج ۱ ص ۱۵۱)
باب اول
کتاب الذبائح
قادیانی ذبیحہ
مرزائی کا ذبیحہ حرام ہے
سوال ...... جو شخص احمدی فرقہ (المعروف مرزائی فرقہ) سے تعلق رکھتا ہو۔ خواہ مرزا آنجہانی کو نبی مانتا ہو یا نہ مجدد وغیرہ۔ کیا اس کے ہاتھ کا مذبوحہ حلال ہے یا حرام؟
مستفتی نمبر ۴۶۹ عبداللہ (بھاول پور) ۲۰ محرم ۱۳۵۴ھ م ۲۵ اپریل ۱۹۳۵ء۔
جواب ...... اگر یہ شخص خود مرزائی عقیدہ اختیار کرنے والا ہو یعنی اس کے ماں باپ مرزائی نہ تھے تو یہ مرتد ہے اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست نہیں۔ لیکن اگر اس کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک مرزائی تھا تو یہ اہل کتاب کے حکم میں ہے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہٗ
(کفایت المفتی ج ۸ ص ۲۶۸)
(نوٹ از مرتب۔ کفایت المفتی کا یہ مسئلہ بوجہ تسامح غلط ہے۔ جبکہ ذیل کے فتویٰ میں وضاحت ہے)
قادیانیوں کا کیا حکم ہے؟ اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟
سوال ...... محترمی و معظمی حضرت مولانا مفتی سید عبدالرحیم لاجپوری صاحب دامت فیوضہم و برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، خدا کرے مزاج گرامی بعافیت ہو، ایک مسئلہ کی تحقیق مطلوب ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص پہلے سے مسلمان تھا بعد میں قادیانی ہوا تو وہ مرتد ہے اور اس پر مرتدین ہی کے احکام جاری ہوں گے، لیکن جو شخص شروع ہی سے قادیانی ہے (یعنی پیدائش سے قادیانی ہے جو آج کل کے اکثر قادیانیوں کا حال ہے) تو وہ اہل کتاب کے حکم میں ہیں ۔“ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر یہ بات صحیح ہو تو ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہوگا؟ امید ہے کہ اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے۔ بینوا، توجروا.
الجواب ...... قادیانیوں کی اولاد (نسلی مرزائی قادیانی) غلام احمد قادیانی کو نبی یا کم از کم مسلمان مانتی ہو تو بھی وہ کافر ہیں، ان کا ذبیحہ حرام اور مردار ہونا چاہیے، ان کو اہل کتاب کے حکم میں قرار دینا سمجھ میں نہیں آتا ہے، علامہ شامی غالی روافض کو کافر مانتے ہیں اور ان کو اہل کتاب نہیں سمجھتے تو قادیانیوں کی اولاد کا شمار اہل کتاب میں کیسے ہوگا؟ والظاهر ان الغلاة من الروافض المحكوم بكفرهم لاينفكون عن اعتقادهم الباطل فی حال اتيانهم بالشهادتين وغيرهما من احكام الشرع كالصوم والصلوة فهم كفار لامرتدون ولا اهل کتاب (رسائل ابن عابدین ص ۴۷۰، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم جو
اس موضوع پر کافی بصیرت رکھتے ہیں رد قادیانیت پر کئی رسائل تصنیف فرمائے ہیں وہ تحریر فرماتے ہیں ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے۔
- جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا وہ مرتد بھی ہے اور زندیق بھی۔
- اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زندیق بھی۔
- اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں بلکہ خالص زندیق ہے۔
- مرتد اور زندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے،
اس لیے کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔
(رسالہ قادیانی ذبیحہ ص ۲۴، ۲۵، شائع کردہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان، فتاویٰ رحیمیہ ج ۷ ص ۶۸۔ ۶۹)
قادیانیوں کو قربانی کے جانور میں شریک کرنا اور اس کا ذبیحہ
سوال...... وہ لوگ جو اس وقت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے دنیا میں بھیجے جانے کے قائل ہوں اور بالفعل کسی ایسے شخص کو نبی اور رسول قرار دیں جو پیغمبر اسلام کے سینکڑوں سال بعد پیدا ہوا، تو سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا کیسا ہے؟ اور ان میں سے اگر کوئی شخص دوسرے مسلمان کے ساتھ گائے کی قربانی میں شریک ہو تو باقی چھ مسلمانوں کی قربانی شرعاً جائز سمجھی جائے گی یا نہیں؟ اس مسئلے کو تشریح کے ساتھ بیان کریں؟ سائل: عزیز احمد از نواب شاہ سندھ
جواب...... مسئلہ کی تفصیل سے پہلے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ شریعت کی رو سے ان منکرین ختم نبوت کا کیا حکم ہے؟ سو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ اکابر علمائے اسلام (خصوصاً شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ) کے متفقہ فیصلے کی رو سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان میں سے جو لوگ پہلے مسلمان تھے اور بعد میں وہ کسی نئی نبوت کے قائل ہوئے۔ شریعت اسلام انھیں مرتد قرار دیتی ہے اور جو عیسائیوں یا ہندوؤں سے اس نئے مسلک میں آئے جو ان کے ہاں ہی پیدا ہوئے وہ شریعت کی رو سے زندیق ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ مرتد اور زندیق کی سزا شرع میں ایک ہے۔
(المسویٰ عربی شرح موطا ج ۲ ص ۱۲۷)
اگر کہا جائے کہ یہ حضرات اگرچہ دین کے بعض ضروری مسائل کا انکار کرتے ہیں لیکن جب کہ کلمہ پڑھتے ہیں اور اہل قبلہ میں سے ہیں تو مرتد کیسے ہو گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ جمیع امور دینیہ پر ایمان ہو۔ لیکن کافر ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تمام امور دینیہ کا ہی انکار ہو بلکہ ضروریات دین میں نے کسی ایک کا انکار کر دینے سے بھی انسان مرتد ہو جاتا ہے۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے ایمان میں جمیع کی قید ہے اور کفر میں یہ قید نہیں۔ شامی میں مرتد کی تعریف یہ ہے۔
الراجع عن دین الاسلام و رکنہا اجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الایمان،
(شامی ج ۳ ص ۳۰۹۔۳۱۰)
”دین سے ہٹ جانے والا مرتد ہے اور اس کی بنیاد مسلمان ہونے کے بعد کسی ایک کفریہ کلمہ کو اپنی زبان پر لانا ہے۔“
حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے اسلام کے صرف ایک رکن (زکوٰۃ) کا انکار کیا تھا۔ نمازوں اور روزوں کو وہ بدستور مانتے تھے مگر بایں ہمہ صحابہ کرامؓ نے انھیں مرتد قرار دیا ہے۔ امام بخاریؒ نے مانعین زکوٰۃ اور قتال ابی بکر کے واقعہ پر مندرجہ ذیل باب باندھا ہے۔ باب قتل من ابٰی قبول الفرائض وما
نسبوا الى الردة۔
(صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳)
یہاں صریح طور پر ردت اور ارتداد کے الفاظ موجود ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں۔
السلف قد سموا مانعى الزكوة مرتدين مع كونهم يصومون و يصلون۔
(فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۴ ص ۲۹۱)
”سلف نے زکوٰۃ روکنے والوں کا نام مرتد رکھا ہے حالانکہ وہ روزے بھی رکھتے تھے اور نمازیں بھی پڑھتے تھے۔“
امام الائمہ امام محمدؒ جن پر فقہ حنفی کا مدار ہے۔
من انكر شياء من شرائع الاسلام فقد ابطل قول لا اله الا الله۔
(سیر کبیر ج ۳ الجزء ۵ ص ۳۶۸)
”جو شخص اسلام کی شرائع میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرے اس نے اپنا کلمہ پڑھنے کو باطل کر لیا۔“
امام ابن حزم علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
وصح الاجماع ان كل من جحد شيئاً صح عندنا بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتى به فقد كفر و صح بالنص ان كل من استهزأ بالله تعالى او بملك من الملائكة او بنبى من الانبياء او بآية من القرآن او بفريضة من فرائض الدين فهى كلها آيات الله بعد بلوغ الحجة اليه فهو كافر و من قال نبى بعد النبى عليه الصلوة والسلام او جحد شيئا صح بان النبى صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر۔
(کتاب الفصل ج ۳ ص ۲۵۵)
”اس بات پر اجماع درست ہو چکا ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے جو اجماعی طور پر حضور ﷺ کی تعلیم ہو وہ کافر ہے اور یہ امر نص کے ساتھ ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرے یا اس کے فرشتے کے ساتھ یا قرآن پاک کی کسی آیت کے ساتھ یا نبیوں میں سے کسی نبی کے ساتھ یا دین کے فرائض میں سے کسی ایک فریضہ کے ساتھ استہزاء کرے اس کے بعد کہ اس تک حجت شرع پہنچ چکی ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص سرورِ دو عالم کے بعد کسی اور نبی کے پیدا ہونے کا قائل ہو یا ایسی بات کا انکار کرے جو اس کے ہاں حضور کی تعلیم ہو تو وہ کافر ہے۔“
ایسے لوگوں کا ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا انھیں اہل قبلہ میں داخل نہیں کر دیتا۔ جب تک کہ تمام ضروریاتِ دین پر ایمان نہ لے آئے۔ امام المتکلمین ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں۔ اعلم ان المراد من اهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين۔
(شرح فقہ اکبر ص ۱۸۹)
”اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ساری ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ ذرا تفصیل فرماتے ہیں۔“
اهل القبلة فى اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين اى الامور التى علم ثبوتها فى الشرع واشتهر فمن انكر شيئا من الضروريات كحدوث العالم و حشر الاجساد و علم الله سبحانه بالجزئيات و فرضية الصلوة والصوم لم يكن من اهل القبلة ولو كان مجاهداً بالطاعات۔
(الفصل ج ۴ ص ۵۷۵)
”متکلمین اسلام کی اصطلاح میں اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ساری ضروریاتِ دین کو سچا مانیں اور ضروریاتِ دین سے وہ امور مراد ہیں جن کا ثبوت شرع میں اس طرح ہو کہ انھیں اسلام میں شہرت کا درجہ حاصل ہو۔ پس جو کوئی ایسے ضروری مسئلوں سے انکار کرے جیسے دنیا کا حادث ہونا۔ قیامت کے دن تمام جسموں کا اکٹھا ہونا، خدا
تعالیٰ کے علم کا محیط ہونا، نمازوں اور روزوں کا فرض ہونا تو ایسے مسائل کا منکر اہل قبلہ میں سے نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ عبادات میں وہ کسی قدر مجاہد ہی کیوں نہ ہو۔“
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں۔
ولا نكفر احداً من اهل القبلة الا بما فيه نفى القادر للمختار او عبادة غير الله او انكار المعاد والنبى و سائر ضروريات الدين.
(العقیدۃ الحسنۃ ص ۹)
اب دیکھنا چاہیے کہ یہ منکرین ختم نبوت کسی ایسے امر کا انکار کرتے ہیں یا نہیں جس کے نہ ماننے کی وجہ سے انسان کافر ہو جاتا ہے سو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں تقریباً وہ تمام وجوہ موجود ہیں جو امام ابن حزمؒ کی تحریر میں موجود ہیں۔ لیکن ان سب میں نمایاں ختم نبوت کے اسلامی معنوں کا انکار ہے۔ ہمارا ان پر الزام ہے کہ تم خاتم النبیین کے بعد ایک نئے نبی کے قائل ہو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں ہم ایک نئے نبی کی پیدائش کے بے شک قائل ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ حضورﷺ کے بعد کسی دوسرے شخص کو نبی ماننے والے کا حکم شرعاً کیا ہے؟ علامہ ابوشکور السالمیؒ لکھتے ہیں۔
ومن ادعى النبوة فى زماننا فانه يصير كافراً ومن طلب منه المعجزات فانه يصير كافراً لانه لاشك فى النص ويجب الاعتقاد بانه ماكان لاحدٍ شركة فى النبوة لمحمد ﷺ بخلاف ماقالت الروافض ان علياً كان شريكاً لمحمد ﷺ وهذا منهم كفر.
(التمہید ص )
”جو شخص اس زمانے میں نبوت کا دعویٰ کرے یا اس سے معجزہ طلب کرے وہ کافر ہو جاتا ہے کیونکہ خاتم النبیین کی نص میں کوئی شک نہیں ہے اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے کہ حضورﷺ کی نبوت میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے بخلاف شیعوں کے جو حضرت علیؓ کو آنحضرتﷺ کی نبوت میں شریک مانتا ہو وہ سب کافر ہیں۔“
شرح فقہ اکبر میں ہے۔
دعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفرٌ بالاجماع.
(شرح فقہ ص ۲۰۲)
یعنی حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا اجماعی طور پر کفر ہے وہ اجماع مراد ہے جو صحابہ کرامؓ کا مسیلمہ کذاب کے بارے میں منعقد ہوا تھا۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند ارشاد فرماتے ہیں۔
اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہﷺ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔
(جوابات محذورات ص ۱۰۳)
اس بات کے واضح ہونے کے بعد ایسے حضرات قطعاً مسلمان نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرتد کے ذبیحہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔ درمختار میں ہے۔
لا تحل ذبيحة غير كتابى من وثنى ومجوسى و مرتد.
(شامی ج ۵ ص ۲۰۹)
”کتابی کے سوا کسی بت پرست، مجوسی، آتش پرست اور مرتد کا ذبیحہ مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے۔“
اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا حرام قطعی ہے کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے۔ اسے یا تو واپس کر دینا چاہیے یا دفن کر دینا چاہیے۔ حرام چیز کو عمداً جانوروں کو بھی کھلانا درست نہیں۔
وشرط كون الذابح مسلماً حلالاً خارج الحرم ان كان صيد فصيد الحرم لا تحله الزكوة في الحرم مطلقاً او كتابياً ذمياً او حربياً الا اذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح.
(شامی ج ۵ ص ۲۰۸ و نحوہ فی البخاری ج ۲ ص ۸۲۸)
آپ نے جن منکرین ختم نبوت کے متعلق پوچھا ہے وہ کتابی کے ذیل میں بھی نہیں آسکتے کیونکہ کتابی وہ ہے جو قرآن پاک سے پہلے کی کسی کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔ قرآن پاک، میں متعدد مقامات پر اوتوا الکتاب کے ساتھ من قبلکم موجود ہے۔ جو شخص قرآن پاک پر ایمان کا اظہار کرتا ہے تو اگر اس کا ایمان صحیح معنوں میں ہے تو وہ مسلمان ہے اور اگر صحیح معنوں میں نہیں تو کافر ہے کتابی نہیں ہوسکتا۔ کتابی یہود اور نصاریٰ ہی ہیں۔
شامی میں ہے۔ الکتابی من يعتقد ديناً سماوياً اى منزلاً بكتاب كاليهود والنصارى.
(شامی ج ۳ ص ۳۸۰)
اسی طرح کلیات ابوالبقاء میں ہے۔
الکافر ان كان متديناً ببعض الاديان والكتب المنسوخة فهو الكتابی. (کلیات ص ۵۵۳)
"کتابی اس کافر کو کہتے ہیں جو کسی پرانے دین اور منسوخ کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔"
پس جبکہ منکرین ختم نبوت کتابی کے ذیل میں بھی نہیں آسکتے تو ان کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے کسی طرح بھی حلال نہیں ہوسکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے مجوسیوں کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے صاف لفظوں میں حرام فرمایا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عقائد کفریہ کا اثر ذبیحہ پر بھی ضرور پڑتا ہے۔ امام عبدالرزاق اور امام ابن ابی شیبہؒ حضرت حسنؓ سے مرسلاً نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے "ہجر" کے مجوسیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا۔
من لم يسلم ضربت عليه الجزية غير ناكحى نسائهم ولا اكلى ذبائحهم.
"ان میں سے جو شخص مسلمان نہ ہو اس پر جزیہ لگایا جائے۔ ہاں ان کی عورتوں سے نکاح درست نہیں اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لیے کھانا حلال نہیں ۔"
شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانیؒ اس حدیث کے اسناد کو جید قرار دیتے ہیں۔
(الدرایہ ص ۳۸)
سیدنا حضرت امام بخاری اپنی کتاب خلق افعال عباد میں جو مسائل کلامیہ میں اہل علم کی بہت راہنمائی کرتی ہے۔ فرقہ جہمیہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں۔
لا يسلم عليهم ولا يعادون ولا يناكحون ولا توكل ذبائحهم.
اس میں ایسے لوگوں کے ذبیحہ کے ناجائز ہونے پر صاف تصریح موجود ہے۔
نوٹ ...... یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جو شخص اسلام سے اہل کتاب کے دین میں چلا جائے تو باوجودیکہ وہ اہل کتاب کے دین میں ہے اسے حکم شرع میں کتابی نہیں کہا جائے گا۔ وہ مرتد کہلائے گا۔ کتابی وہ اسی صورت میں تھا کہ پہلے اسلام پر نہ ہوتا۔ پس ایسے شخص کا ذبیحہ کتابی کا ذبیحہ نہیں ہوگا بلکہ اسے مرتد کا ذبیحہ کہا جائے گا جو مسلمان کے لیے حرام ہے پس ایسے حضرات کتابی بھی نہیں کہلا سکتے کیونکہ وہ دین اسلام سے تاویلاً منحرف ہو کر اس نئے دین میں گئے ہیں۔
خلاصہ مافی الباب یہ ہے کہ جس طرح ذبح ہونے والے جانور کے لیے کچھ شرطیں ہیں کہ حرام جانور نہ ہو۔ جیسے کتا، بلی، بندر وغیرہ اور نیز یہ کہ حدود حرم میں نہ ہو۔ اسی طرح ذبح کرنے والے کے لیے بھی کچھ شرطیں
ہیں کہ وہ مسلمان ہو اور یہ کہ حالت احرام میں نہ ہو۔ اس کے علاوہ صرف کتابی کا ذبیحہ جائز ہے۔ بشرطیکہ بوقت ذبح مسیح کا نام نہ لیا گیا ہو۔ جب تک ذبح کرنے والے میں ذبح کرنے کی شرطیں نہ پائی جائیں گی اس کا ذبح کیا ہوا جانور وہی حکم رکھتا ہے جو مردار کے گوشت یا حرام جانور کے ذبیحہ کا ہے۔ پہلے معاملہ میں ذابح ہونے کی اور دوسرے معاملہ میں مذبوح ہونے کی اہلیت مفقود ہے۔ بناء علیہ مرتد کے ذبیحہ میں اور ذبح کیے ہوئے حرام جانور میں حکماً کوئی فرق نہیں ہے۔ کھانا دونوں کا ایک مسلمان کے لیے حرام ہے۔
جس طرح مسلمان ان منکرین ختم نبوت کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور اسے بے جا تعصب یا منافرت پر محمول نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح انصاف یہ ہے کہ ان کے ذبیحہ کو بھی حرام سمجھا جائے اور اسے بے جا تعصب اور شرانگیزی پر محمول نہ کیا جائے۔ اگر وہ لوگ ہمارا ذبیحہ کھا لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں اہل کتاب میں سے شمار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک ہمارا دین دین سماوی ہے اور چونکہ ہمارے نزدیک وہ کتابی نہیں اور ان کا دین ہمارے دین سے پہلے کا نہیں بلکہ بعد کا ہے۔ اس لیے ہمارا اپنے عمل کو ان کے عمل پر قیاس کرنا درست نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب
قربانی کرنا ایک خالص اسلامی عبادت ہے۔ گائے کی قربانی میں جو سات افراد شریک ہیں ان کی اس مجموعی عبادت کے سارے شرکاء کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ان میں سے اگر ایک بھی ختم نبوت کے اسلامی معنوں کا منکر ہوگا تو قربانی کسی کی ادا نہ ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
کتبہ: خالد محمود عفا اللہ عنہ ۳ اپریل ۶۲ء
(عبقات ص ۳۰۲ تا ۳۰۷)
قربانی کی کھال بیچ کر رد قادیانیت کی کتابیں منگوانا
سوال ...... میں سید ہوں۔ صاحب نصاب ہوں۔ قربانی کا چمڑا گاؤں والوں نے مجھے دیا اس کو فروخت کر کے رد قادیانیت کی کتابیں منگا لیں۔ کیا یہ جائز ہے۔ اس میں غریب کو مالک بنانا شرط ہے یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۱۷۹، احمد النبی صاحب (ضلع پوری) ۲۵ شوال ۱۳۵۲ھ ۔ ۱۰ فروری ۱۹۳۴ء۔
جواب ...... گاؤں والے قربانی کی کھالیں جو آپ کو دیتے ہیں وہ آپ کی ملک ہو جاتی ہیں آپ ان کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے کتابیں منگا سکتے ہیں۔ محمد کفایت اللہ
(کفایت المفتی ج ۸ ص ۲۴۲)
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
- ۱۔ کیا قادیانی کا ذبیحہ جائز ہے یا ناجائز؟
- ۲۔ کیا اس مسئلہ میں قادیانی یا اس کے اولاد کے ذبیحے میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ مولانا
مفتی کفایت اللہ صاحب نے کفایت المفتی میں قادیانیوں کی اولاد کو اہل کتاب قرار دے کر ان کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے۔ لیکن اس سے تسلی نہیں ہوتی کیونکہ اہل کتاب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ایمان لائے ہیں، جن پر ہم بھی ایمان لائے ہیں تورات اور انجیل کو ہم بھی مانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا کو نبی مانتے ہیں اور براہین احمدیہ اور دیگر خود ساختہ الہامات پر بھی یقین رکھتے ہیں کیا یہ قیاس مع الفارق نہیں؟۔
یہاں پر ایک مولوی صاحب نے، جو کہ امام مسجد بھی ہیں، قادیانیوں کے ذبیحہ کے حلال ہونے کا مطلق فتویٰ دیا ہے۔ اور وجہ یہ بتائی ہے کہ ذبیحہ کا تعلق عقیدہ رسالت سے نہیں، عقیدہ توحید سے ہے۔ اور چونکہ قادیانی لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ان کا ذبیحہ جائز ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟۔
اگر ان کا ذبیحہ جائز ہے تو پھر ان کے ساتھ رشتہ ناطہ بھی صحیح ہو گا۔ اور دیگر کئی مسائل متفرع ہوں گے اور اس سے قادیانیوں کو ایک قانونی دلیل بھی مل جائے گی کہ وہ بھی اسلامی معاشرہ میں مدغم ہو سکتے ہیں۔ مہربانی فرما کر تفصیل سے جواب دیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
المستفتی محمد ادریس امام — مرکز ثقافت اسلامیہ کوپن ہیگن۔ ڈنمارک
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ وکفی والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ
آپ کے دونوں سوالوں کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔ خواہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کیا ہو، یا قادیانی والدین کے یہاں پیدا ہوا ہو۔
مگر چونکہ اس مسئلہ میں عوام ہی نہیں، بلکہ بہت سے اہل علم کو بھی اشتباہ ہو جاتا ہے (جیسا کہ سوال میں دیئے گئے دو فتووں سے ظاہر ہے) اس لئے مناسب ہو گا کہ اس مسئلہ پر کسی قدر تفصیل سے لکھا جائے، تاکہ قادیانیوں کی حیثیت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے اور کسی صاحب فہم کو اس میں اشتباہ کی گنجائش نہ رہے۔
مرتد کے احکام
جو شخص پہلے مسلمان تھا، بعد میں اس نے (نعوذ باللہ) قادیانی مذہب اختیار کر لیا وہ بغیر کسی شک و شبہ کے مرتد ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے۔ مرتد کے ضروری احکام حسب ذیل ہیں:
(۱) مرتد واجب القتل ہے
مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، اس عرصہ میں اسے توبہ کر کے دوبارہ اسلام لانے کی دعوت دی جائے گی اور اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اگر وہ تین دن کے اندر اپنے کفر و ارتداد سے تائب ہو کر مسلمان ہو جاتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔
اس مسئلہ پر کہ مرتد واجب القتل ہے تمام فقہائے امت اور مذاہب اربعہ کا اجماع ہے۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
فقہ حنفی
ہدایہ میں ہے:
«وإذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله-عرض عليه الإسلام فإن كانت له شبهة كشفت عنه ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل»
(هداية أولين ص ۵۸۰ ج ۱)
اور جب کوئی مسلمان نعوذ باللہ اسلام سے پھر جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے اس کو کوئی شبہ ہو تو دور کیا جائے، اس کو تین دن قید رکھا جائے اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔
(ہدایہ اولین ص ۵۸۰ ج ۱)
فقہ شافعی
المجموع شرح المہذب میں ہے:
«إذا ارتد الرجل وجب قتله سواء كان حرا أو عبدا.......وقد انعقد الإجماع على قتل المرتد»
(المجموع شرح المهذب ص ۲۲۸ ج ۱۹)
اور جب آدمی مرتد ہو جائے تو اس کا قتل واجب ہے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام............
اور قتل مرتد پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔
(المجموع شرح المہذب ص ۲۲۸ ج ۱۹)
فقہ حنبلی
المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:
«وأجمع أهل العلم على وجوب قتل المرتد وروى ذلك عن أبي بكر وعمر وعثمان وعلي ومعاذ وأبي موسى وابن عباس وخالد وغيرهم ولم ينكر ذلك فكان إجماعا» (المغنى مع الشرح الكبير ص ٧٤ ج ١٠)
قتل مرتد کے واجب ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، یہ حکم حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاذ، ابی موسیٰ، ابن عباس، خالد اور دیگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے اور اس کا کسی صحابی نے انکار نہیں کیا، اس لئے یہ اجماع ہے۔
(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۷۴ ج ۱۰)
فقہ مالکی
ابن رشد مالکی ”بدایۃ المجتہد“ میں لکھتے ہیں:
«والمرتد إذا ظفر به قبل أن يحارب فاتفقوا على أنه يقتل الرجل لقوله عليه الصلاة والسلام: ”من بدل دينه فاقتلوه“» . (بداية المجتهد ص ٣٤٣ ج ٢)
اور مرتد جب لڑائی سے قبل پکڑا جائے تو تمام علمائے امت اس پر متفق ہیں کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ”جو شخص اپنا مذہب بدل کر مرتد ہو جائے اس کو قتل کر دو۔“
(بدایۃ المجتہد ص ۳۴۳ ج ۲)
- (۲) زوجین میں سے ایک مرتد ہو جائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ارتداد کی حالت میں
مرتد کا نکاح کسی عورت سے صحیح نہیں، نہ کسی مسلمہ سے، نہ غیر مسلمہ سے، نہ مرتدہ سے۔ اگر وہ کسی عورت سے نکاح کرے گا تو اس کا نکاح کالعدم ہو گا اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد ولد الحرام ہو گی۔
- (۳) مرتد کا ذبیحہ مردار ہے، عام اس سے کہ مرتد نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف
ارتداد اختیار کیا ہو یا کسی اور مذہب کی طرف۔۔۔۔۔۔ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے لیکن جس شخص نے مرتد ہو کر اہل کتاب کا مذہب اختیار کر لیا ہو اس کا ذبیحہ حلال نہیں بلکہ مردار ہے۔
ان دونوں مسئلوں میں فقہاء کی تصریحات حسب ذیل ہیں :۔
فقہ حنفی
تنویر الابصار متن درمختار میں ہے:
«ويبطل منه النكاح، والذبيحة، والصيد، والشهادة، والإرث»
(شامى ص ٢٤٩ ج ٤)
اور ارتداد سے نکاح، ذبیحہ، صید، شہادت اور وراثت باطل ہو جاتی ہے۔
(شامی ص ۲۴۹ ج ۴)
«أخبرت بارتداد زوجها فلها التزويج بآخر بعد العدة»
(شامی
ص ٢٥٢ ج ٤)
کسی عورت کو خبر دی گئی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا ہے تو اس عورت کو عدت کے بعد دوسری جگہ عقد کر لینا جائز ہو گا۔
(شامی ص ۲۵۲ ج ۴)
ہدایہ میں ہے:
«إعلم أن تصرفات المرتد على أقسام ....... وباطل بالاتفاق كالنكاح والذبيحة لأنه يعتمد الملة ولا ملة له»
(هداية أولين ص ٥٨٣)
جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات چند قسموں پر ہیں .......... اور ایک قسم وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہے جیسے نکاح اور ذبیحہ کیونکہ نکاح اور ذبیحہ مبنی ہے ملت پر، اور مرتد کا کوئی دین نہیں ہوتا۔
(ہدایہ اولین ص ۵۸۳)
«ولا تؤكل ذبيحة المجوسى ........ والمرتد لأنه لا ملة له، فإنه لا يقر على ما انتقل إليه»
(هداية أخيرين كتاب الذبائح ص ٤٣٢)
اور مجوسی کا ذبیحہ حلال نہیں .......... اور مرتد کا بھی، کیونکہ اس کا کوئی دین و مذہب نہیں کیونکہ اس نے جو مذہب اختیار کیا ہے اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
(ہدایہ اخیرین کتاب الذبائح ص ۴۳۲)
«لا تحل ذبيحة غير كتابي من وثنى ومجوسى ومرتد»
(الشامى
مع الدر المختار ص ٢٩٨ ج ٦)
اور کتابی کے سوا کسی غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں، جیسے بت پرست، مجوسی اور مرتد۔
(الشامی مع الدر المختار ص ۲۹۸ ج ۶)
فقہ شافعی
«ذبيحة المرتد حرام عندنا وبه قال أكثر العلماء منهم أبو حنيفة
وأحمد وأبو يوسف وأبو ثور . ( المجموع شرح المهذب ص ۷۹، ج۹)
مرتد کا ذبیحہ ہمارے نزدیک حرام ہے اور اکثر علماء اسی کے قائل ہیں، جن میں ابو حنیفہ، امام احمد، امام ابو یوسف اور ابو ثور بھی شامل ہیں۔
(المجموع شرح المهذب ص ۷۹، ج۹)
فقہ حنبلی
«ذبيحة المرتد حرام وإن كانت ردته إلى دين أهل الكتاب هذا قول مالك والشافعى وأصحاب الرأى» (المغنى مع الشرح الكبير ص
۸۷ ، ج ۱۰)
اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے، خواہ اس نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو، یہی امام شافعی اور اصحاب الرائے (احناف) کا قول ہے۔
(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۸۷ ج ۱۰)
«ولا تحل ذبيحته ولا نكاح نسائهم وإن انتقلوا إلى دين أهل الكتاب» (المغنى مع الشرح الكبير ص ۱۷۰، ج۷)
مرتد کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے خواہ انہوں نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو۔
(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۱۷۰ ج ۷)
«ولا يؤكل صيد مرتد ولا ذبيحته وإن تدين بدين أهل الكتاب»
(المغنى مع الشرح الكبير ص ۳۲ ، ج ۱۱)
مرتد کا ذبیحہ اور اس کا شکار کیا ہوا گوشت نہ کھایا جائے چاہے اس نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو۔
(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۳۲ ج ۱۱)
فقہ مالکی
«وأما المرتد فإن الجمهور على أن ذبيحته لا تؤكل» (بداية المجتهد
ص ۳۳۰ ، ج ۱)
لیکن مرتد پس جمہور اس پر ہیں کہ اس کا ذبیحہ حلال نہیں۔
ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ مرتد کا ذبیحہ کسی حالت میں بھی حلال نہیں، خواہ اس نے کوئی سا مذہب بھی اختیار کیا ہو۔ اس لئے جن مولوی صاحب نے قادیانیوں کے ذبیحہ کو جائز کہا ہے ان کا یہ فتویٰ بالکل غلط اور قواعد شرعیہ کے خلاف ہے۔
مرتد کی اولاد کا حکم
جس نے خود ارتداد اختیار کیا ہو وہ اصلی مرتد ہے، اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر وہ اسلام نہ لائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
مرتد والدین کی صلبی اولاد بھی والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد کہلاتی ہے، اس لئے ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ حبس و ضرب کی سزادی جائے گی۔
البتہ تیسری پشت میں مرتد کی اولاد پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہوتے، بلکہ کافر اصلی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ چنانچہ در مختار میں ہے
"زوجان ارتدا ولحقا فولدت المرتدة ولد أو ولد له أى لذلك المولود ولد فظهر عليهم جميعا فالولدان فئ كأصلهما والولد الأول يجبر بالضرب -أى وبالحبس نهر- على الإسلام وإن حبلت به ثمة لتبعيته لأبويه لا الثانى لعدم تبعية الجد على الظاهر فحكمه كحربى"
(الشامى مع الدر المختار ص٢٥٦، ج٤)
میاں بیوی مرتد ہو کر دار الحرب چلے گئے، وہاں مرتد عورت نے بچہ جنا، اور آگے اس لڑکے کے لڑکا ہوا، پھر یہ سب جہاد میں مسلمانوں کے قابو میں آگئے تو مرتد جوڑے کی طرح ان کا بیٹا اور پوتا بھی مال غنیمت ہیں۔ ان کے بیٹے کو تو ضرب (و حبس) کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا خواہ وہ دار الحرب میں حاملہ ہوئی تھی، کیونکہ وہ اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے۔ مگر پوتے کو مجبور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ظاہر روایت کے مطابق پوتا دادے کے تابع نہیں ہوتا، پس اس کا حکم عام حربی کافر کا حکم ہے۔
مرتد کی اولاد کا ذبیحہ
اور جب یہ معلوم ہو چکا کہ تیسری پشت میں جاکر مرتد کی اولاد کا حکم عام کافروں کا ہو جاتا ہے۔ تو دیکھنا یہ ہو گا کہ اس نے کونسا دین و مذہب اختیار کیا ہے؟ اور یہ کہ اس مذہب کے لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟
سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے صرف اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے ۔ اور بت پرستوں اور مجوسیوں کا ذبیحہ حلال نہیں، پس اگر مرتد نے اہل کتاب کا مذہب اختیار کر لیا تھا تو تیسری پشت میں جاکر اس کی اولاد کا حکم اہل کتاب کا ہو گا اور ان کا ذبیحہ حلال ہو گا۔
اور اگر اس نے ہندوؤں، سکھوں یا مجوسیوں کا مذہب اختیار کر لیا تھا تو تیسری پشت میں اس کی اولاد بھی ہندو یا سکھ یا مجوسی شمار ہوگی اور اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا۔
اور اگر اس نے ان مذاہب معروفہ میں سے کوئی مذہب بھی اختیار نہیں کیا، بلکہ یا تو لامذہب اور دہریہ بن گیا یا اس نے کوئی نیا مذہب ایجاد کر لیا تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہو گا، پس یہ جو مشہور ہے کہ مرتد کی اولاد کا ذبیحہ جائز ہے یہ مطلقاً صحیح نہیں، بلکہ اس میں مندرجہ بالا تفصیل کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قادیانیوں نے اہل کتاب کا مذہب اختیار نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایک نیا دین اختیار کیا ہے لہٰذا ان کی اولاد کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں ہو گا۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کے فتویٰ میں قادیانی اور اس کی اولاد میں جو فرق کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں۔
کفر زندقہ
مندرجہ بالا تفصیل سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں، خواہ انہوں نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو، یا وہ قادیانیوں کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے ”پیدائشی قادیانی“ ہوں، دونوں صورتوں میں ان کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔
اس مسئلہ کے سمجھنے کے لئے ایک اور نکتہ پر غور کرنا بھی ضروری ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے کفر و ارتداد کی نوعیت معلوم کی جائے۔
اہل علم جانتے ہیں کہ کفر کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے ایک کا نام ”کفر زندقہ“ ہے اور جو لوگ ایسے کفر کو اختیار کرتے ہیں انہیں ”زندیق“ کہا جاتا ہے فقہی اصطلاح میں ”زندیق“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو، مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو، اور اپنے کفر کو اسلام کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہو۔
علامہ تفتازانیؒ شرح مقاصد میں کافروں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
وإن كان مع اعترافه بنبوة النبی ﷺ وإظهاره شعائر الإسلام
يبطن عقائد هی كفر بالإتفاق خص باسم الزنديق» (ص ٢٦٩ ، ج ٢)
اور اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا قائل ہونے اور اسلامی شعائر کا اظہار کرنے کے باوجود ایسے عقائد کو چھپاتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں، تو ایسے شخص کا نام ”زندیق“ ہے۔
اسلام کے پردے میں کفر کو چھپانے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ وہ کسی کو ان عقائد کی ہوا ہی نہ لگنے دے، عام لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان ہے اور مسلمانوں ہی کے عقائد رکھتا ہے، حالانکہ وہ درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہے (جن کا اظہار کبھی بے ساختہ ہو جاتا ہے) جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقین کا حال تھا، عہد نبوی ﷺ کے بعد ایسے منافق بھی (جن کے نفاق کا علم کسی ذریعہ سے ہو جائے) ”زندیق“ شمار کئے جائیں گے۔
حافظ ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ”المغنی“ میں لکھتے ہیں
«والزنديق الذی يظهر الإسلام ويستسر الكفر وهو الذی كان يسمى منافقا فی عصر النبی ﷺ ويسمى اليوم زنديقا»
اور ”زندیق“ وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، ایسے شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”منافق“ کہا جاتا تھا اور آج اس کا نام زندیق رکھا جاتا ہے۔
(المغنی ص ۱۷۱، ج ۷۔ الشرح الکبیر ۱۷۱ ج ۷)
«والزنديق هو الذی يظهر الإسلام ويبطن الكفر فمتى قامت بينة أنه تكلم بما يكفر به فإنه يستتاب وإن تاب وإلا قتل» (مجموع شرح
المهذب ص ۲۳۲ ، ج ۱۹)
اور ”زندیق“ وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب شہادت قائم ہو جائے کہ اس نے کلمہ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ لی جائے گی، اگر وہ توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔
حافظ بدر الدین عینیؒ لکھتے ہیں
«واختلف في تفسيره؛ فقيل هو المبطن للكفر المظهر للإسلام كالمنافق» (عمدة القاری ص ۷۹ ، ج ٢٤)
زندیق کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قول یہ ہے کہ زندیق وہ شخص ہے جو منافق کی طرح کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کا اظہار کرتا ہو۔
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ زندیق دراصل ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو دیصان، مانی اور مزدک کے پیرو کار تھے۔
«وأظهر جماعة منهم الإسلام خشية القتل ومن ثم أطلق الإسم على كل من أسر الكفر وأظهر الإسلام حتى قال مالك الزندقة ما كان عليه المنافقون وكذا أطلق جماعة من الفقهاء الشافعية وغيرهم أن الزنديق هو الذى يظهر الإسلام ويخفى الكفر فإن أرادوا اشتراكهم في الحكم فهو كذلك وإلا فأصلهم ما ذكرت» (فتح الباری ص ۲۷۱، ج ۱۲)
اور ان میں سے ایک جماعت نے قتل کے اندیشے سے اسلام کا اظہار کیا تھا، اسی بنا پر ”زندیق“ کا لفظ ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کا اظہار کرتا ہو۔ یہاں تک کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ زندقیت وہی ہے جس پر منافق تھے۔ اسی طرح فقہائے شافعیہ اور دیگر حضرات نے ”زندیق“ کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال کیا ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم بھی زندیق کا ہے تو یہ صحیح ہے ورنہ زندیقوں کی اصل میں ذکر کر چکا ہوں۔
کفر کو چھپانے کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کفریہ عقائد کا تو برملا اظہار کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی دعوت بھی دیتا ہے، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا لیبل چپکاتا ہے۔ کتاب وسنت کی غلط تاویل کے ذریعہ اپنے عقائد فاسدہ کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور لوگوں کے سامنے ایسی ملمع سازی کرتا ہے کہ ناواقف لوگ ان عقائد باطلہ ہی کو اسلام سمجھنے لگیں۔
درمختار میں ہے کہ ”جو زندیق کہ معروف اور داعی ہو اگر وہ پکڑا جائے تو اس کی توبہ نہیں۔“ اس کے ذیل میں علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:۔
«قوله المعروف أى: بالزندقة الداعى الذى يدعو الناس إلى زندقته، فإن قلت: كيف يكون معروفا داعيا إلى الضلال، وقد اعتبر في مفهومه الشرعى أن يبطن الكفر قلت: لا بعد فيه، فإن الزنديق يموه كفره، ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر» (شامی ص ۲۴۲، ج ۴)
معروف سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زندقہ میں معروف ہو اور داعی کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے زندقہ کی دعوت دیتا ہو۔
اگر تم کہو کہ زندیق معروف اور داعی الی الضلال کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ زندیق کے مفہوم شرعی میں یہ بات ملحوظ ہے کہ کفر کو چھپاتا ہو،
میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی بعد نہیں، کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدہ باطلہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور وہ اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔
امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ”مسویٰ شرح عربی موطا“ میں منافق اور زندیق کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
بيان ذلك أن المخالف للدين الحق إن لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهرا ولا باطنا فهو كافر وإن اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاهرا، لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق . شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ کافر کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہ کرام و تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔
آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
ثم التأويل تأويلان: تأويل لا يخالف قاطعا من الكتاب والسنة واتفاق الأمة وتأويل يصادم ما ثبت بقاطع فذلك الزندقة.
پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تاویل جو کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تاویل ”زندقہ“ ہے۔
آگے زندیقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:۔
أو قال إن النبى ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام أنه لا يجوز أن يسمى بعده أحد بالنبي وأما معنى النبوة وهو كون الإنسان مبعوثا من الله تعالى إلى الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطأ فيما يرى فهو موجود فى الأئمة بعده، فذلك هو الزنديق . مسوى ج١٣٠/٢
یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا لیکن نبوت کا مفہوم کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہو اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا۔ یہ آپؐ کے بعد بھی اماموں میں موجود ہے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے۔
اکابر امت کی مندرجہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایسا شخص شرعی اصطلاح میں ”زندیق“ کہلاتا ہے۔
- ....... جو اسلام کا اظہار کرتا ہو۔
- ....... جو دعویٰ اسلام کے باوجود کفریہ عقائد رکھتا ہو۔
- ....... اور جو اپنے کفریہ عقائد کو تاویل باطل کے پردہ میں چھپاتا ہو، اور کتاب و سنت
کے نصوص کو توڑ مروڑ کر ان سے اپنا عقیدہ باطلہ کشید کرتا ہو یا اسلام کے عقائد متواترہ پر طعن کرتا ہو۔
قادیانی زندیق ہیں
زندیق کی یہ تعریف قادیانیوں پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔ وہ خالص کفریہ عقائد رکھتے ہیں جن کا اسلام کے ساتھ ذرا بھی تعلق نہیں، مثلاً:
- وہ ختم نبوت کے منکر ہیں جو اسلام کا قطعی عقیدہ ہے اور وہ اس اسلامی عقیدہ کو
”لعنت“ قرار دیتے ہیں نعوذ باللہ
- وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کے منکر ہیں، جو اسلام کا قطعی عقیدہ
ہے۔
- وہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال کو مسیح موعود، مہدی معہود، نبی و رسول اور ظلی ”محمد
رسول اللہ“ مانتے ہیں، جو سراسر کفر ہے۔
- وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات مع نبوت محمدیہ کے لعین قادیاں
کے لئے ثابت کرتے ہیں۔
- وہ غلام احمد قادیانی کو معاذ اللہ صاحب تجدید شریعت نبی مانتے ہیں۔
- وہ غلام احمد قادیانی پر وحی قطعی کا نزول مانتے ہیں، اسے تورات و انجیل اور قرآن کی
طرح واجب الایمان کہتے ہیں اور اس میں شک و تردد کو موجب کفر قرار دیتے ہیں
- وہ مرزا قادیانی الدجال الاعور کی وحی و تعلیم اور اس کی تجدید شریعت کو تمام انسانیت
کے لئے واجب الاتباع اور مدار نجات قرار دیتے ہیں۔
- ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں، پہلی
بعثت مکہ میں ہوئی اور دوسری بعثت مرزا قادیان کی بروزی شکل میں۔ قادیان میں ہوئی۔
تیرہ صدیوں تک پہلی بعثت کا دور رہا اور چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا دور شروع ہوا۔
- وہ ان خالص کفریہ عقائد کے باوجود بڑی شدومد سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے
ہیں اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین جس کے مسلمان قائل ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک طبقہ در طبقہ متواتر چلا آرہا ہے، وہ قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔
- ان کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان
نہیں ہوتا جب تک کہ مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ مان کر اس کا کلمہ نہ پڑھے۔ گویا قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہو چکا، جیسا کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا کلمہ منسوخ ہے۔ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے:
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے، مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ الفصل ص ۱۱۰) مرزا بشیر احمد دوسری جگہ لکھتا ہے:
”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں! محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی فتدبر۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
- ان کا یہ عقیدہ ہے کہ شریعت محمدیہ کی پیروی موجب نجات نہیں۔ جب تک کہ
مرزا قادیانی کی وحی و تعلیم کی پیروی نہ کی جائے، پس جس طرح کہ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حضرات انبیاء سابقین علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں اور اب ان کی پیروی موجب نجات نہیں۔ اسی طرح قادیانیوں کے نزدیک شریعت محمدیہؐ بھی منسوخ ہوچکی ہے اور مرزا قادیانی کی پیروی کے بغیر نجات نہیں۔
- قادیانیوں کے اس طرح کے سیکڑوں کفریہ عقائد ہیں، مثلاً ملائکہ کا انکار، حشر
جسمانی کا انکار، معراج جسمانی کا انکار۔ وغیرہ۔ جن کی تفصیل علمائے امت مختلف کتابوں میں فرما چکے ہیں۔ اور اس ناکارہ نے ان کے مندرجہ بالا عقائد اپنے رسالہ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ میں باحوالہ درج کر دیئے ہیں، اس کا مطالعہ ضرور کیا جائے اور اسے زیر نظر تحریر کا ایک حصہ تصور کیا جائے۔ ان تمام کفریات
کے باوجود وہ پوری ڈھٹائی اور بیحیائی کے ساتھ، قرآن وسنت میں تحریف اور تاویل باطل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور دین مرزائیت کو اسلام اور دین محمدیؐ کو کفر ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر الحاد و زندقہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس لئے قادیانی بلا شبہ ملحد و زندیق ہیں اور ان کا وہی حکم ہے جو علامہ شامیؒ نے دروزیہ، تیامنہ، نصیریہ اور قرامطہ کا لکھا ہے کہ یہ واجب القتل ہیں اور ان کی توبہ قابلِ قبول نہیں۔
علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:-
«يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم فى البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلوة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر فى شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلوة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون فى جناب نبينا ﷺ كلمات فظيعة، وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادى فيهم فتوى مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف، ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم فى ديار الإسلام بجزيه ولا غيرها . ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم وفيهم فتوى فى الخيرية أيضاً فراجعها . والحاصل أنهم يصدق عليهم إسم الزنديق والمنافق والملحد، ولا يخفى أن إقرارهم بالشهادتين مع هذا الإعتقاد الخبيث لا يجعلهم فى حكم المرتد لعدم التصديق، ولا يصح إسلام أحدهم ظاهراً إلا بشرط التبرى عن جميع ما يخالف دين الإسلام لأنهم يدعون الإسلام ويقرون بالشهادتين وبعد الظفر بهم لا تقبل توبتهم أصلاً» . (در المختار للشامى ص٢٤٤، ج٤)
یہیں سے دروزیہ اور تیامنہ کا حکم معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ شام کے علاقوں میں اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ نماز روزہ کرتے ہیں، حالاں کہ وہ تناسخ ارواح کے قائل ہیں اور خمر اور زنا کو حلال سمجھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ الوہیت یکے بعد دیگرے مختلف اشخاص میں ظہور کرتی ہے، وہ حشر ونشر، نماز روزہ اور حج کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسمّٰی بہ معنی مراد کے علاوہ ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ کی جناب میں ناشائستہ کلمات بکتے ہیں۔ علامہ محقق عبدالرحمن عمادیؒ کا ان کے بارے میں
ایک طویل فتوی ہے اس میں موصوف نے ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ نصیری اور اسماعیلی لوگوں کے عقائد رکھتے ہیں جن کو قرامطہ اور باطنیہ کہا جاتا ہے اور جن کا ذکر صاحب مواقف نے کیا ہے۔ اور انہوں نے مذاہب اربعہ کے علماء سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا حلال نہیں، نہ جزیہ لے کر اور نہ اس کے بغیر، نہ ان سے رشتہ ناطہ جائز ہے اور نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے ان کے بارے میں فتاویٰ خیریہ میں بھی ایک فتوی ہے اس کی طرف مراجعت کی جائے۔
حاصل یہ ہے کہ ان پر ”زندیق“ ”منافق“ اور ”ملحد“ کا مفہوم صادق آتا ہے ظاہر ہے کہ ان خبیث عقائد کے باوجود ان کا شہادتین کا اقرار کرنا ان کو مرتد کے حکم میں قرار نہیں دیتا، کیونکہ یہاں تصدیق مفقود ہے اور ان میں سے کوئی شخص اسلام کا اظہار کرے تو وہ قابل قبول نہیں جب تک کہ ان تمام عقائد سے برات کا اظہار نہ کرے جو دین اسلام کے خلاف ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی سے اسلام کے مدعی ہیں اور شہادتین کا اقرار کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ قابو میں آجائیں تو ان کی توبہ قطعاً قبول نہیں۔
زندیق کا حکم
تمام ائمہ کے نزدیک زندیق کا حکم وہی ہے جو مرتد کا ہے، چنانچہ
- (۱) زندیق مرتد کی طرح واجب القتل ہے۔
- (۲) اس سے رشتہ ناطہ ناجائز اور باطل ہے۔
- (۳) اور اس کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔
بلکہ ایک اعتبار سے زندیق کا کفر، مرتد سے بھی بدتر ہے کیونکہ باجماع امت مرتد کو توبہ کی تلقین کی جاتی ہے اور اگر وہ توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہو جائے تو اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔ ........... لیکن زندیق کی توبہ میں اختلاف ہے، امام شافعیؒ اور مشہور روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ سچے دل سے تائب ہو جائے تو اس سے قتل ساقط ہو جائے گا۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں، یعنی وہ توبہ کا اظہار کرے تب بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ امام ابو حنیفہؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ زندیق کی توبہ نہیں، امام احمدؒ سے بھی ایک روایت یہی ہے ۔۔۔۔۔ فتاویٰ قاضی خان، بحر الرائق اور درمختار وغیرہ میں یہ تفصیل ذکر کی گئی کہ اگر زندیق از خود آکر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں اور وہ واجب القتل ہے فقہ مالکی کی معروف کتاب المواہب الجلیل میں بھی یہی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔
اس سلسلہ میں فقہاء کی درج ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں امام ابو بکر جصاصؒ لکھتے ہیں
قال أبو حنيفة اقتل الزنديق سرا فإن توبته لا تعرف. قال مالك يقتل الزنادقة ولا يستتابون . (أحكام القرآن للجصاص
ص۲۸۶، ج۲)
امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ زندیق کو موقع پا کر چپکے سے قتل کر دو کیونکہ اس کی توبہ معروف نہیں، امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زندیقوں کو قتل کیا جائے گا اور ان سے توبہ نہیں لی جائے گی۔
درمختار میں ہے
« وكذا الكافر بسبب الزندقة لا توبة له وجعله في الفتح ظاهر المذهب لكن في حظر الخانية الفتوى على أنه إذا أخذ الساحر أو الزنديق المعروف الداعي قبل توبته ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل؛ ولو أخذ بعدها قبلت » . (در المختار ص۲۴۲ ، ج۴)
اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو اس کی توبہ قابل قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے لیکن فتاویٰ قاضی خاں کتاب الحظر والاباحتہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زندیق جو معروف اور داعی ہو توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جائے اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تو توبہ قبول کی جائے گی۔
البحرالرائق میں ہے
" لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدين .... في الخانية قالوا إن جاء الزنديق قبل أن يؤخذ فأقر أنه زنديق فتاب عن ذلك تقبل توبته، وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل" . (البحر
الرائق ص۱۳۶ ، ج۵)
ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو
دین کا قائل نہ ہو...... اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اقرار کر لے کہ وہ زندیق ہے، پس اس سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔
(البحر الرائق ۔ ص ۱۳۶ ج ۵)
فقہ مالکی کی کتاب مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل میں ہے۔
«الزنديق وهو من يظهر الإسلام ويسر الكفر فإذا ثبت عليه الكفر لم يستتب ويقتل ولو أظهر توبته لأن إظهار التوبة لا يخرجه عما يبديه من عادته ومذهبه فإن التقية عند الخوف عين الزندقة أما إذا جاء بنفسه مقرا بزندقته ومعلنا توبته دون أن يظهر عليه فتقبل توبته» .
(مواہب الجليل شرح مختصر الخليل ص ۲۸۲، ج ۶ بحوالة التشريع
الجنائى الإسلامي ص ۷۲۶، ج ۲)
زندیق وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس کا کفر ثابت ہو جائے تو اس سے توبہ نہیں لی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا خواہ وہ توبہ کا اظہار کرے کیونکہ توبہ کا اظہار اس کو اس کی اس عادت و مذہب سے نہیں نکالتا جس کو وہ ظاہر کیا کرتا ہے کیونکہ خوف کے وقت بچاؤ کے لئے توبہ کا اظہار عین زندقہ ہے۔ البتہ اگر وہ گرفتار ہوئے بغیر خود آکر اپنے زندقہ کا اقرار کرے اور توبہ کا اعلان کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے (اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی)
(مواہب الجلیل ص ۲۸۲ ج ۶ بحوالہ التشریع الجنائی الاسلامی ص ۷۲۴ ج ۲)
فقہ شافعی کی کتاب المجموع شرح المہذب میں ہے
«المرتد إذا أسلم ولم يقتل صح إسلامه سواء كانت ردته إلى كفر مظاهر به أهله كاليهودية والنصرانية وعبادة الأصنام أو إلى كفر يستتر به أهله كالزندقة، والزنديق هو الذي يظهر الإسلام ويبطن الكفر فمتى قامت بينة أنه تكلم بما يكفر فإنه يستتاب وإن تاب وإلا قتل، فإن استتيب فتاب قبلت توبته، وقال بعض الناس إذا أسلم المرتد لم يحقن دمه بحال لقوله ﷺ: "من بدل دينه فاقتلوه" وهذا قد بدل وقال مالك
وأحمد وإسحاق لا تقبل توبة الزنديق ولا يحقن دمه بذلك وهو إحدى الروايتين عن أبى حنيفة والرواية الأخرى كمذهبنا . (المجموع شرح
المهذب ص۲۳۳، ج۱۹)
مرتد جب مسلمان ہو جائے اور اسے قتل نہ کیا جائے تو اس کا اسلام صحیح ہے۔ خواہ وہ ایسے کفر کی طرف مرتد ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ ظاہر کرتے ہیں جیسے یہودیت نصرانیت، بت پرستی۔ خواہ اس کا ارتداد ایسے کفر کی طرف ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ چھپاتے ہیں، جیسے زندقہ۔ اور زندیق وہ ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس پر شہادت قائم ہو جائے کہ اس نے کلمہ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ کے لئے کہا جائے گا اگر وہ توبہ کرے ٹھیک۔ ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اگر اس سے توبہ لی گئی اور اس نے توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جب مرتد مسلمان ہو جائے تو اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جو شخص اپنے دین کو بدل لے یعنی مرتد ہو جائے اس کو قتل کر دو۔“ اور اس نے دین بدل لیا تھا امام مالک، امام احمد اور امام اسحاق فرماتے ہیں کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
(المجموع شرح المهذب ص۲۳۳ ج۱۹)
اور فقہ شافعی میں بھی ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کفر خفی کی طرف مرتد ہو جائے اس کی توبہ قبول نہیں جیسے زنادقہ اور باطنیہ۔ امام نوویؒ منہاج میں لکھتے ہیں:۔
«وقيل لا يقبل إسلامه، إن إرتد إلى كفر خفى كزندقة وباطنية» . (نهاية المحتاج شرح المنهاج ص۳۹۹، ج۷)
اور ایک قول یہ ہے کہ مرتد کا اسلام قبول نہیں کیا جائے گا اگر اس نے کفر خفی کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو مثلاً اس نے زندقہ، یا باطنیت اختیار کر لی ہو۔ فقہ حنبلی کی کتاب المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:۔
«إذا تاب (المرتد) قبلت توبته ولم يقتل أى كفر كان وسواء كان زنديقا ويستسر بالكفر أو لم يكن وهذا مذهب الشافعى والعنبرى ويروى ذلك عن على وابن مسعود وهو إحدى الروايتين عن أحمد واختيار أبى بكر الخلال وقال أنه أولى على مذهب أبى عبد الله
والرواية الأخرى لا تقبل توبة الزنديق ومن تكررت ردته وهو قول مالك والليث وإسحاق وعن أبي حنيفة روايتان كهاتين، واختيار أبو بكر أنه لا تقبل توبة الزنديق» .
(المغنی ص ۸۷ ، ج ۱۰ - الشرح الكبير ص ۸۹ ، ج ۱۰)
مرتد جب توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل نہیں کیا جائے گا۔ خواہ اس نے کوئی سا کفر اختیار کیا ہو، خواہ زندیق ہو اور کفر کو چھپاتا ہو یا زندیق نہ ہو۔ یہ امام شافعیؒ اور عنبریؒ کا مذہب ہے اور یہ حضرت علیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے اور یہی ایک روایت امام احمدؒ سے ہے ابو بکر خلال نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امام احمدؒ کے مذہب میں یہی روایت راجح ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق اور جو شخص بار بار مرتد ہوتا ہو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
یہی قول ہے امام مالکؒ، امام لیثؒ اور امام اسحاقؒ کا۔ اور امام ابو حنیفہؒ سے دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ اور ابو بکرؒ کے نزدیک مختار یہی ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
امام شمس الدین ابن قدامہ مقدسی مرتد کے نکاح کے باطل ہونے اور اس کے ذبیحہ کی حرمت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں ۔
والزنديق كالمرتد فيما ذكرنا
(المغنی مع شرح الكبير ص ۱۷۱ ج ۷)
اور مذکورہ بالا احکام میں زندیق، مرتد کی طرح ہے۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں
«وحكم سائر الكفار من عبدة الأوثان والزنادقة وغيرهم حكم المجوس في تحريم ذبائحهم وصيدهم».
اہل کتاب کے علاوہ باقی کفار، بت پرست اور زندیق وغیرہ کا حکم مجوسیوں کا حکم ہے کہ ان کا ذبیحہ اور شکار حرام ہے۔
(المغنی مع الشرح الكبير ص ۳۹ ج ۱۱)
المجموع شرح مہذب میں ہے۔
«ولا تحل ذبيحة المرتد ولا الوثنى ولا المجوسى لما ذكره المصنف وهكذا حكم الزنديق وغيره من الكفار الذين ليس لهم كتاب».
اور حلال نہیں ذبیحہ مرتد کا، نہ بت پرست کا، نہ مجوسی کا۔ اور یہی حکم ہے زندیق وغیرہ ان کفار کا جن کے پاس آسمانی کتاب نہیں۔
(المجموع شرح المهذب ص ۷۵ ج ۹)
خلاصہ بحث
ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ
- جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا ہو وہ مرتد بھی ہے اور زندیق بھی۔
- اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور
زندیق بھی۔
- اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں بلکہ خالص زندیق ہے۔
- مرتد اور زندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا
ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔ اس لئے کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔
قادیانیوں کے معاملہ میں اشکال کی وجہ
جن حضرات نے قادیانیوں کے یا ان کی اولاد کے ذبیحہ کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے انہیں قادیانی مذہب کی حقیقت سمجھنے میں اشکال پیش آیا۔ اور اس اشکال کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی امت دجل و تلبیس کے فن میں ماہر ہے۔ وہ عام مسلمانوں کے سامنے اپنے اصل عقائد کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنی تقریر و تحریر میں مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں، بس ذرا سا اختلاف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی ابھی آنے والا ہے اور قادیانیوں کے نزدیک جس کو آنا تھا وہ آگیا۔ اس نکتہ کے سوا ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں........... قادیانیوں کے اس دجل و تلبیس سے نہ صرف عام مسلمانوں کو قادیانیوں کی اصل حقیقت کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ وہ اہل علم، جنہوں نے قادیانی لٹریچر کا گہرا مطالعہ نہیں کیا وہ اشکال اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جن حضرات نے قادیانی لٹریچر کا بغور مطالعہ کیا ہو اور انہیں قادیانیوں سے گفتگو اور بحث و مناظرہ کا موقع ملا ہو ان کے سامنے یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو جاتی ہے۔ کہ
- قادیانیت، اسلام کے متوازی ایک مستقل دین و مذہب ہے۔
- قادیانی نبوت، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ایک نئی متوازی نبوت
ہے۔
- قادیانیوں کے نزدیک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ اور شریعت منسوخ ہیں اور
نبوت محمدیہ کو ماننے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے سب کافر ہیں۔
اس لئے اسلام اور قادیانیت کا اختلاف چند مسائل یا نکات کا اختلاف نہیں، بلکہ قادیانیت نے نبوت محمدیہ کے بالمقابل ایک نئی نبوت، شریعت محمدیہ کے مقابلے میں ایک نئی شریعت اور اسلام کے مقابلے میں ایک نیا دین تصنیف کیا ہے۔ کیا دنیا کا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا مسلمانوں کے ساتھ معمولی سا اختلاف تھا؟ کیا کوئی عالم دین یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال اور ان سے رشتہ ناطہ جائز تھا؟ جو حکم مسیلمہ کذاب کا تھا ٹھیک وہی حکم مسیلمہ پنجاب غلام احمد قادیانی کا ہے۔ اور جو حکم مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کا تھا وہی مسیلمہ پنجاب کے ماننے والوں کا ہے۔ ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کے جائز ہونے اور ذبیحہ کے حلال ہونے کا سوال ہی خارج از بحث ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين.
باب اوّل
کتاب النکاح
قادیانی کا مسلمان سے نکاح
قادیانی لڑکے سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز نہیں
سوال...... مسلمان لڑکی (جانتے ہوئے بھی) اگر قادیانی لڑکے کے ساتھ عشق میں مبتلا ہو کر اس سے شادی کی خواہش ظاہر کرے، اس صورت میں لڑکی اپنے مذہب پر رہے اور لڑکا اپنے مذہب پر، نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر لڑکی شادی کر لیتی ہے تو آخرت میں کن لوگوں میں شامل ہوگی؟
جواب...... قادیانی مرتد ہیں۔ ان سے نکاح نہیں ہوگا۔ لڑکی ساری عمر زنا کے گناہ میں مبتلا رہے گی۔ جیسے کسی سکھ کے عشق میں مبتلا ہو کر اس سے شادی کر لے۔
سوال...... شادی کے لیے لڑکی کی معاونت و حمایت کرنے والے کے لیے (جبکہ قادیانی لڑکا از خود شادی کرنے سے کئی بار انکار کر چکا ہو) اور اسے عاشق لڑکی کی سہیلی وغیرہ نے کسی طور پر رضا مند کیا ہو، جس میں لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا، اور خود لڑکی کے لیے شریعت میں سزا کی حد کیا ہے؟ کیا لڑکی جبکہ مسلم گھرانے کی ہے اور غیر مسلم لڑکے سے شادی کا ارادہ کرنے کے شرعی جرم میں اور معاونت کرنے والے بھی واجب القتل نہیں ہیں؟
جواب...... غیر مسلم کے ساتھ شادی کو جائز سمجھنا کفر ہے۔ لڑکی کی معاونت و حمایت کرنے والوں نے اگر اس شادی کو جائز سمجھا تو ان کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے۔
قادیانی کی منگنی کی مٹھائی
سوال...... بات چیت طے ہونے یعنی منگنی وغیرہ ہونے پر قادیانی لڑکے یا مسلم لڑکی کی طرف سے یا دونوں کی طرف سے مشترکہ طور پر تقسیم کی گئی مٹھائی کھانا اور انھیں مبارکباد دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مٹھائی کھا سکتے ہیں اور مبارکباد دے سکتے ہیں تو کیوں؟ جبکہ نکاح ہی جائز نہ ہو اور یہ ایک ناجائز فعل کی ابتدا کے شگون میں تقسیم کی گئی ہو؟
جواب...... مٹھائی کھانا اور مبارکباد دینا بھی رضا کی علامت ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے۔
سوال...... اس سلسلے کی مٹھائی کو جائز قرار دینے کے لیے میرے ایک دوست نے دلیل دی کہ ہندوستان میں
لوگ (مسلمان) اپنے ہندو پڑوسی کے یہاں شادی وغیرہ کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے اور کھاتے تھے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کی آپس کی شادی ہوتی تھی، ایک ہی مذہب کا معاملہ تھا۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان لڑکی بھی اب مرتد ہو گئی یا ہو جائے گی۔ لہٰذا یہ ایک مرتد اور زندیق میں اضافہ پر یا لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے، اسلام سے پھر جانے کی خوشی میں مٹھائی ہوگی۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ جنھوں نے مٹھائی کھائی اور اس فعل پر لڑکی لڑکے کو (منگنی کے بندھن میں بندھنے پر) مبارکباد دی، اب وہ کیا کریں؟ اگر انھوں نے انجانے میں ایسا کیا، اگر انھوں نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ ناجائز فعل ہے، ایسا کیا، اب وہ کیا کریں؟
جواب...... غیر مسلموں کی آپس کی شادی میں مبارکباد دینے کا تو معمول رہا ہے۔ لیکن کسی مسلمان لڑکی کا عقد کسی غیر مسلم سے کر دیا جائے یا نعوذ باللہ کسی مسلم لڑکی کو مرتد کر کے غیر مسلم سے اس کی شادی کر دی جائے تو اس صورت میں کسی مسلمان کو کبھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ بلکہ غیرت مند مسلمانوں میں ایسے خبیث جوڑے کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی مثالیں موجود ہیں۔ بہرحال جو لوگ اس میں ملوث ہوئے ہیں ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہیے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۷۱ تا ۷۳)
مرزائی اور سنی میں مناکحت کا حکم
سوال...... مناکحت باہم ایسے مرد وعورت کی کہ ایک ان میں سے سنی حنفی اور دوسرا مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد اور متبع ہو اور ان کے جملہ دعاوی اور الہامات کی تصدیق کرتا ہو جائز ہے یا نہیں اور اگر یہ دونوں یا ایک ان میں سے نابالغ ہو تو بولایت والدین جو ایسے ہی مختلف العقیدہ ہوں کیا حکم ہے امید ہے کہ تشریح وبسط سے جواب مدلل مرحمت ہو۔ بینوا توجروا۔
الجواب...... مرزا کے بعض اقوال حد کفر تک پہنچے ہوئے ہیں مگر یہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی معتقد خاص اس قول کی خبر نہ رکھتا ہو اس لیے مرزا کا معتقد ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ خاص اس کفر کا بھی معتقد ہے (اب مرزائیت کا کفر الم نشرح ہے ایسی استثناء کا اب جواز نہیں مرتب) پس اگر یہ مرزائی خواہ مرد ہو یا عورت بالخصوص اس قول کفری کا بھی معتقد ہو تو اس کا نکاح مسلمان مرد یا عورت سے نہیں ہو سکتا لیکن اگر یہ مرزائی بالغ ہے تو خود اس کا عقیدہ دیکھا جائے گا اور اگر نابالغ ہے تو اس کے ماں باپ کا عقیدہ دیکھا جائے گا۔ یعنی اگر ماں باپ دونوں مرزائی ہوں گے تو اس نابالغ کو مرزائی قرار دیں گے اور اگر ایک بھی غیر مرزائی ہے تو اس کو غیر مرزائی قرار دے کر یہ حکم مذکور ثابت نہ کریں گے اور اگر یہ مرزائی خاص کسی ایسے امر موجب کفر کا معتقد نہیں تو مبتدع ہے (اب یہ استثناء نہیں بلکہ کل القادیانیین ھم الکافرون والزندیقون حقا) اور سنی حنفی قادیانیت میں کفو نہیں۔ پس اگر یہ عورت ہے تو مرد سنی حنفی کا نکاح اس سے درست نہیں ہے اور اگر یہ مرد ہے اور عورت سنیہ حنفیہ ہے تو اگر یہ عورت بالغ ہے اور اس کی اجازت سے نکاح ہوا ہے تو نکاح ہو گیا اور اسی طرح اگر نابالغ ہے اور باپ دادا نے کر دیا تب بھی ہو گیا اور اگر باپ دادا کے سوا کسی اور نے کیا یا باپ دادا کچھ شفیق و خیرخواہ نہیں ہیں تو سوال میں اس کی تصریح ہونے سے جواب دیا جائے گا۔ فقط۔
۱۰ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۷ھ (تتمہ اولیٰ ص ۷۸)
(امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۲۱۔۲۲۲)
عدم جواز نکاح زن مسلمہ با قادیانی
سوال...... بخدمت شریف علمائے اسلام، سلمکم اللہ الیٰ یوم القیام کیا فرماتے ہیں اساطین دین متین و
مفتیان شرع مبین اس امر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
- (۱)...... ”آیت مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد کا مصداق میں ہوں۔“
(ازالۃ اوہام طبع اول ص ۶۷۳ ملخصاً خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)
- (۲)...... ”مسیح موعود جن کے آنے کی خبر حدیث میں آئی ہے میں ہوں۔“
(ازالۃ اوہام ص ۶۶۵ ملخصاً خزائن ج ۳ ص ۴۵۹)
- (۳)...... ”میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔“
(معیار الاخیار مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۸)
- (۴)...... ”ان قدمی علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ.“
(خطبہ الہامیہ ص ۳۵ ملخصاً خزائن ج ۱۶ ص ۱۹)
- (۵)...... ”لا تقیسونی باحد ولا احداً بی.“
(خطبہ الہامیہ ص ۱۹ خزائن ج ۱۶ ص ۵۲)
- (۶)...... ”میں مسلمانوں کے لیے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لیے کرشن ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ۳۳ ملخصاً خزائن ج ۲۰ ص ۲۲۸)
- (۷)...... ”میں امام حسین سے افضل ہوں۔“
(دافع البلاء ص ۱۳ ملخصاً خزائن ج ۱۸ ص ۲۵۸)
- (۸)...... ”وانی قتیل الحب لکن حسینکم قتیل العدا فالفرق اجلی واظھر.“
(اعجاز احمدی ص ۸۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۳)
- (۹)...... ”یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زناکار تھیں۔“ (معاذ اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- (۱۰)...... ”یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
- (۱۱)...... ”یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے اس کے پاس بجز دھوکہ کے اور کچھ نہ تھا۔“
(ازالہ ص ۳۰۳ و ۳۲۲ ملخصاً ج ۳ ص ۲۵۹)
- (۱۲)...... ”میں نبی ہوں اس امت میں نبی کا نام میرے لیے مخصوص ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۳۹۱ ملخصاً خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶ ، ۴۰۷)
- (۱۳)...... ”مجھے الہام ہوا۔ یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا.“
(معیار الاخیار مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۰)
- (۱۴)...... ”میرا منکر کافر ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ ملخصاً خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
- (۱۵)...... ”میرے منکروں بلکہ مقابلوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ۱ ص ۱۵)
- (۱۶)...... ”مجھے خدا نے کہا ہے اسمع ولدی“ (اے میرے بیٹے سن)
(البشری ص ۴۹)
- (۱۷)...... ”لولاک لما خلقت الا فلاک.“
(حقیقۃ الوحی ص ۹۹ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۲)
- (۱۸)...... ”میرا الہام ہے۔ وما ینطق عن الھویٰ.“
(اربعین نمبر ۳ ملخصاً خزائن ج ۱۷ ص ۳۸۵)
- (۱۹)...... ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین.“
(حقیقۃ الوحی ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵)
- (۲۰)...... ”انک لمن المرسلین.“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- (۲۱)...... ”اتانی مالم یوت احداً من العالمین.“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰)
- (۲۲)...... ”مجھے حوض کوثر ملا ہے۔ انا اعطیناک الکوثر.“
(انجام آتھم ص ۸۵ ملخصاً خزائن ج ۱۱ ص ۵۸)
- (۲۳)...... ”ان اللہ معک ان اللہ یقوم اینما قمت.“
(انجام آتھم ص ۶۲ خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۱)
- (۲۴)...... ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں ہو بہو اللہ ہوں۔ (رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی
هو فخلقت السموات والارض)
(آئینہ کمالات ص ۵۶۴، ۵۶۵ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
(۲۵) ..... ”میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ۲ ص ۷)
جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلمہ غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں اور تصدیق بعد نکاح موجب افتراق ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا.
الجواب ..... جو مسلمان ایسے عقائد بالا اختیار کرے جن میں بعضے یقینی کفر ہیں وہ بحکم مرتد ہے اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں اور نکاح ہو جانے کے بعد اگر عقائد کفریہ اختیار کرے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔
(تتمہ خامسہ ص ۵۵، امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۲۲ تا ۲۲۴)
قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح جائز نہیں
سوال ..... حنفی کا نکاح قادیانی سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب ..... مرزا قادیانی کے متبعین خواہ قادیانی پارٹی سے متعلق ہوں یا لاہوری سے جمہور علماء امت اہل ہندوستان و حجاز و مصر و شام کے اجماع و اتفاق سے خارج از اسلام ہیں جس کی وجہ مفصل و مدلل حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تبلیغ دارالعلوم دیوبند کے رسالہ ”اشد العذاب“ میں مذکور ہے اور فتاویٰ علمائے ہندوستان کے مہری اور دستخطی جداگانہ چھپے ہوئے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو ان دونوں رسالوں کو ملاحظہ فرما لیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ فرقہ قادیانی مسلمان نہیں۔ اس لیے کسی مسلمان مرد و عورت کا نکاح ان سے جائز نہیں۔ اور اگر کسی نے پڑھ بھی دیا تو شرعاً معتبر نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ! (نوٹ : رسالہ ”اشد العذاب“ احتساب قادیانیت کی جلد دہم میں چھپ چکا ہے ۔ مرتب !)
(امداد المفتین ج ۲ ص ۵۸)
مرزائی کی لڑکی سے نکاح اور اس سے تعلقات کا کیا حکم ہے؟
سوال ..... ایک شخص نے مرزائیوں کے یہاں اپنے لڑکے کی شادی کر لی ہے اور جو شخص مرزائی کی لڑکی کو بیاہ کر لایا ہے اس سے مسلمانوں کو تعلقات رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ..... اگر اس مرزائی لڑکی کا عقیدہ بھی مرزائی ہے تو اس سے مسلمان سنی کا نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اس شخص مسلمان سے کہہ دیا جائے کہ مرزائی عورت کو علیحدہ کر دے یا اس کو اسلام کی تلقین کر کے اور مسلمان کر کے تجدید نکاح کرے۔ فقط (قادیانی کے کفر پر علماء امت متفق ہیں)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۴۵۶)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح
سوال ..... (الجمعیۃ مورخہ یکم جنوری ۱۹۳۹ء) اہل سنت والجماعت لڑکی کا نکاح ایک مرزائی سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب ..... اہل سنت والجماعت لڑکی کا نکاح مرزائی سے جائز نہیں کیونکہ مرزائی باتفاق علماء دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۲۶)
مسلمان خاتون کسی قادیانی کے نکاح میں نہیں رہ سکتی
سوال ..... (الجمعیۃ مورخہ ۹ اگست ۱۹۲۹ء) زید قادیانی ہو گیا ہے۔ اس کی منکوحہ بیوی بوجہ غیرت و اسلامی
حمیت اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی اور نکاح فسخ کرانا چاہتی ہے۔
جواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق جماہیر علمائے اسلام کا فتویٰ شائع ہو چکا ہے کہ یہ لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے مسائل میں جو اسلام کے قطعی اور یقینی مسائل ہیں انھوں نے انکار کیا ہے یا ایسی تاویلات باطلہ کی ہیں جو کفر کے حکم سے نہیں بچا سکتیں۔ مثلاً حضور خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کے ختم نبوت سے انکار کرنا حالانکہ ختم نبوت کا مسئلہ قطعی اجماعی ہے۔ مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت، دعوائے رسالت، دعوائے معجزات وغیرہ توہین انبیاء علیہم السلام، تکفیر امت محمدیہ کہ ان کے نزدیک تمام غیر احمدی مسلمان کافر ہیں۔ اس بنا پر کوئی مسلم عورت کسی قادیانی کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ شوہر کے قادیانی بن جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ہائی کورٹ بہار و مدراس فسخ نکاح کے فیصلے بھی کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم، محمد کفایت اللہ غفرلہ
(کفایت المفتی ج ۶ ص ۱۳۰)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح نہیں ہو سکتا
سوال ...... زید ایک سنی المذہب اور حنفی المشرب شخص ہے۔ اس کے ایک دختر نیک اختر ہے جو باخدا ہے اور باپ ہی کے مذہب پر ہے۔ اور ایک شخص بکر احمدی مذہب کا ہے اور نئے پیدا شدہ فرقہ قادیانی سے تعلق رکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی رسول برحق مانتا ہے اور وہی عیسیٰ ؑ تسلیم کرتا ہے جن کا ذکر احادیث میں ہے کہ قریب قیامت کے آسمان سے نازل ہوں گے۔ مگر قرآن مجید کو منزل من اللہ اور حضرت رسول مقبول ﷺ کو سچا رسول یقین کرتا اور اسلام کے تمام اوامر ونواہی پر سچے دل سے ایمان رکھتا ہے۔ باقاعدہ طور سے نماز پڑھتا اور اسلام کے دیگر تمام احکام کو بجا لاتا ہے۔ اس کا کوئی نیا کلمہ بھی نہیں بلکہ ان کا امام (مرزا قادیانی) اپنے آپ کو نہایت سچا اور بڑا پکا مسلمان سمجھتا ہے اور لکھتا ہے کہ
مصطفیٰ مارا امام و پیشوا
(درثمین فارسی ص ۱۱۴)
ایک دوسری جگہ ان کا امام (مرزا قادیانی) بڑے زور شور سے لکھتا ہے کہ
کیا یہی تعلیم فرقاں ہے بھلا کچھ تو آخر چاہیے خوف خدا
ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دین دل سے ہیں خدام ختم المرسلین
شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راہ احمد مختار ہیں
سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے دے چکے دل اب تن خاکی رہا
ہے یہی خواہش کہ ہو یہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب
کیوں نہیں لوگو تمھیں خوف عقاب
(درثمین اردو ص ۱۱)
اس کا ایک لڑکا ہے جو اپنے باپ ہی کے دین پر ہے اور فرقہ قادیانی سے تعلق رکھتا ہے۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا شرع شریف کے بموجب اور قرآن مجید کے ماتحت ان ہر دو کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے یا
نہیں؟ اور یہ رشتہ مناکحت شریعت محمدی کی رو سے جائز ہوگا یا نہیں؟ نہایت ادب سے عرض ہے کہ جواب باصواب نہایت جلد مرحمت فرمائیں۔ ساتھ ہی گزارش ہے کہ ضرورت صرف اس قدر ہے کہ اس معاملے میں خدا اور رسول کیا فرماتے ہیں کسی کی ذاتی رائے درکار نہیں۔ براہ کرم قرآن وحدیث سے جو کچھ اس معاملے میں حق ہو خدا کو حاضر و ناظر جان کر وہی تحریر فرما کر داخل حسنات ہوں اور اس بات سے ڈر کر کہ ایک روز ضرور ایسا آنے والا ہے جس دن سب کو خداوند کریم کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی اور وہ دن بڑا سخت ہوگا اور موت سے خوف کھا کر کہ ایک روز مرنا یقینی ہے۔ آپ فتویٰ دیں۔ حق بات کے کہنے میں کسی کا خوف یا ڈر یا مذہبی تعصب آپ کو نہ روکے ورنہ خوب سمجھئے کہ قیامت میں خداوند کریم کا غصہ سب سے زیادہ انھیں لوگوں پر نازل ہوگا جو دانستہ حق کو چھپائیں گے۔
جواب...... اللهم ربنا الهمنا الصدق والسداد و اتباعه و جنبنا الكفر والالحاد وارزقنا اجتنابه لك الحمد حمدا ترتضيه والصلوة على نبيك صلوة ترضيه وعلى مقتفی اثاره و متبعیه اجمعین. امابعد. مستفتی کی نصیحت کہ حق بات صاف صاف ظاہر کر دی جائے۔ بسر و چشم مقبول ومنظور ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی باوجود اتباع قرآن وحدیث کے طویل وعریض دعوؤں کے قرآن وحدیث کے منکر محرف و مبدل ہیں۔ انبیاء کی توہین، قرآن پاک کی توہین، رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی توہین، علمائے مجتہدین پر سب وشتم ان کے کلام میں اس قدر ہے کہ آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہے۔ اجماع کے وہ مخالف ہیں اور جو شخص کہ قرآن و حدیث کے احکام منصوصہ صریحہ کا خلاف کرے، انبیاء علیہم السلام کی توہین کرے، قرآن پاک کی اہانت کرے، قرآن مجید کے مضامین متفق علیہا کو بدل دے، اجماع کا خلاف کرے وہ یقیناً کافر ہے اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا کتنا ہی لمبا چوڑا دعویٰ کرے۔
مرزا قادیانی خود اپنی تصنیفات میں تمام مسلمانوں کو جو ان کے دعوؤں کو نہیں مانتے بلکہ منکر یا متردد بھی ہیں کافر کہتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مرزائیوں کے لیے ناجائز و حرام بتاتے ہیں۔ (دیکھو حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۸ خزائن ج ۱۷ ص ۶۴) ان کے جانشین خلیفہ ثانی مرزا محمود قادیانی نے اخبار ”فاروق“ میں جو قادیان سے نکلتا ہے اپنا مضمون شائع کرایا ہے۔ اس میں احمدیوں کو فرماتے ہیں کہ تمھارے لیے قطعی حرام ہے کہ مرزا قادیانی کے منکروں کے جنازے کی نماز پڑھو اور ان کے ساتھ مناکحت یعنی رشتے ناطے کرو۔
پھر تعجب ہے کہ مرزائی کس منہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کو باوجود اقرار قرآن وحدیث وتوحید و رسالت کے کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ وہ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ انھوں نے کروڑوں مسلمانوں کو جو توحید و رسالت وضروریاتِ اسلام کے معتقد و مقر ہیں اور ان میں ہزاروں لاکھوں علماء ومشائخ اور صوفیہ ہیں کیسے کافر بنا دیا۔
اس سوال کے جواب کے لیے جو مستفتی نے دریافت کیا ہے مرزا محمود قادیانی کا فتویٰ کافی ہے کہ کسی احمدی لڑکے کا غیر احمدی لڑکی سے نکاح نہیں ہو سکتا قطعی حرام ہے اور مرزائیوں پر اس فتوے کا تسلیم کرنا لازم ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنے تمام منکرین اور مترددین کو کافر بتا چکے ہیں۔ واللہ اعلم
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۱۹۶ تا ۱۹۸)
مرزائی کو بیٹی کا رشتہ دینے والے کا حکم
سوال...... زید نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح مرزائی سے کر رکھا ہے اور وہ بچی صاحب اولاد ہے اور زید کا
مرزائیوں سے ملنا جلنا جاری ہے شنید میں ہے کہ ایک بچی کا رشتہ زید نے شیعہ سے کر رکھا ہے۔ براہ کرم تحریر فرمائیں کہ زید جو خود مدعی اہل سنت والجماعت ہے اس کے بیٹے کے ساتھ کسی مسلمان بچی کا نکاح درست ہے؟
الجواب ...... ایسے مرزائیت پسند لوگ بھی عجب نہیں کہ مرزائیوں کے زمرہ میں شامل کر دیئے جائیں۔ قال تعالی ومن یتولہم منکم فانہ منہم یہودیوں اور نصرانیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں کے بارے میں وعید فرمائی گئی ہے اور مرزائی بھی چونکہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ پس ان کے ساتھ یا مرزائیت پسند لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا یا رشتہ داری کے تعلقات پیدا کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ لہٰذا زید کے بیٹے کے ساتھ کسی مسلمان بچی کا نکاح نہ کیا جائے تاوقتیکہ وہ قطعی طور پر اپنے والدین سے برأت و علیحدگی اختیار نہ کرے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔ الجواب صحیح : محمد عبد اللہ عفا اللہ عنہ بندہ عبد الستار عفا اللہ عنہ
(خیر الفتاویٰ ص ۴۴ ج ۱)
مرزائی سے سنیہ کا نکاح درست نہیں ہے
سوال ...... کچھ عرصہ ہوا کہ ایک عقد نکاح مابین مرزائی و اہل سنت والجماعت کے ہو گیا تھا اور زوجین بوقت نکاح نابالغ تھے اور اب بھی نابالغ ہیں مگر اس وقت لڑکی کے والد سنی نے لڑکے کے والد کو جو سخت بدعقیدہ مرزائی ہے دیکھ کر یہ چاہا کہ یہ نکاح فسخ ہو جائے اور اسی وجہ سے وہ لڑکی کو رخصت نہیں کرتا اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواب ...... اس صورت میں نکاح مذکور منعقد نہیں ہوا۔ سنی کو چاہیے کہ اپنی دختر کو وہاں رخصت نہ کرے اور اہل سنت والجماعت میں نکاح کر دے کیونکہ اس جماعت مرزائیہ کی تکفیر کا فتویٰ جمہور علماء کا ہے اور مابین کافر و مسلم نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اولاد نابالغ تابع والدین کے ہوتی ہیں۔ ولا يصح ان ينكح مرتداً و مرتدة احد من الناس در مختار و فى الشامى لانه قبل البلوغ تبع لابويه (ص ۳۳۰ ج ۲ شامی) فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۴۵۷)
مسلم عورت سے قادیانی کے نکاح کا حکم
مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
- (۱)...... ماقولكم ايها العلماء الكرام مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد، مہدی، مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی و الہام
ماننے والے مسلم ہیں یا خارج از اسلام اور مرتد۔
- (۲)...... بہ شکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعاً درست ہے یا نہیں؟
- (۳)...... بہ صورت ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ
بغیر طلاق لیے اور بلا عدت کسی مرد مسلم سے نکاح کرلیں۔ بینوا آجرکم علی اللہ تعالیٰ.
الجواب ...... (۱)...... لا اله الا الله محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا جو قائل ہو وہ تو مطلقاً کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے۔ قال اللہ تعالیٰ: ولكن رسول الله وخاتم النبيين.
(الاحزاب ۴۰)
وقال ﷺ: انا خاتم النبيين لا نبى بعدى. (ترمذی ج ۲ ص ۴۵ ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعة)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ت) لیکن قادیانی تو ایسا مرتد ہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ من شک فی کفرہ فقد کفر (شامی ص ۳۱۷ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) (جس نے اس کے کفر میں شک کیا وہ کافر ہو گیا۔ ت) اسے معاذ اللہ مسیح موعود یا مہدی یا مجدد یا ایک ادنیٰ درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں ادنیٰ شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
- (۲) ..... قادیانی عقیدے والے یا قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کا نکاح اصلاً ہرگز زنہار کسی مسلم
کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالف العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیاطین کسی سے نہیں ہو سکتا جن سے ہو گا زنائے خالص ہوگا۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے: لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا کافرة اصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد، كذا فى المبسوط.
(عالمگیری ص ۲۸۲ ج ۱ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ)
”مرتد کو کسی مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، ایسے ہی مرتدہ کو کسی مرد سے نکاح جائز نہیں۔ جیسا کہ مبسوط میں ہے۔“
اسی میں دربارۂ تصرفات مرتد ہے:
منها ماهو باطل بالاتفاق نحو النكاح فلا يجوز له ان يتزوج امراة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية ولا حربية ولا مملوكة. والله تعالی اعلم. (فتاویٰ عالمگیری ص ۲۵۵ ج ۲ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
”بعض وہ چیزیں جو بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح تو اس کے لیے کسی مسلمہ مرتدہ اور اصلی کافرہ اور ذمی عورت، حربیہ اور لونڈی سے نکاح باطل ہے۔“ واللہ تعالیٰ اعلم
- (۳) ..... جس مسلمان عورت کا غلطی خواہ جہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے
کہ فوراً فوراً اس سے جدا ہو جائے کہ زنا سے بچے اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں بلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیں، طلاق تو جب ہو کہ نکاح ہوا ہو، نکاح ہی سرے سے نہ ہوا، نہ اصلاً عدت کی ضرورت کہ زنا کے لیے عدت نہیں، بلا طلاق و بلا عدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ درمختار میں ہے:
نکح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لانه نكاح باطل.
(شامی ص ۳۸۰ ج ۲ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
”کافر نے مسلمان عورت سے نکاح کیا جس سے اولاد ہوئی تو اس سے نسب ثابت نہ ہوگا۔ عورت پر عدت واجب نہ ہوگی کیونکہ یہ نکاح باطل ہے۔“
ردالمحتار میں ہے:
ای فالوطی فیه زنا لا یثبت به النسب. والله تعالی اعلم. (ردالمحتار ص ۶۸۷ ج ۲ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
”یعنی اس میں وطی زنا ہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔“ واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ ج ۱۱ ص ۵۱۴ تا ۵۱۶)
مرزائی کے ساتھ نکاح بالاتفاق ناجائز ہے
سوال ..... (الف) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل صورت میں کہ سنی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی کے ساتھ جائز ہے یا نہ۔ اگر کوئی سنی مسلمان اپنی لڑکی کا نکاح کسی مرزائی کے ساتھ کر دے تو ایسی
صورت میں ایسے شخص کا ایمان رہ جاتا ہے یا نہیں۔
- (ب)...... مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی کے ساتھ کیا جا رہا ہو ایسی شادی میں شامل ہونا جائز ہے یا ناجائز اور اس
شادی کا ولیمہ کھانا حرام ہے یا حلال۔
- (ج)...... اور ایسے نکاح میں وکیل ہونا یا گواہ ہونا یا ایسے نکاح میں شامل ہو کر نکاح خوانی کرنا جائز ہے یا ناجائز۔
- (د)...... بالامذکورہ محفل میں فقط شامل ہونے والے پر یا وکیل ہونے والے پر یا گواہ ہونے والے پر یا نکاح خوانی
کرنے والے پر از روئے شرع شریف کوئی نقص ہے یا نہ۔ بینوا توجروا
جواب ...... (الف)...... مرزائی بالاتفاق مرتد خارج از اسلام ہیں۔ ان سے مسلمان لڑکی کا نکاح ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر غلطی سے کر دے تو توبہ کر لینا چاہیے اور اگر ان کے عقائد کا علم ہوتے ہوئے ان کو کافر نہ مانے یا ان کو کافر مان کر ان کے ساتھ نکاح جائز سمجھے تو اس کا ایمان بھی ختم ہو جانے کا عظیم خطرہ ہے۔ اسے جلدی تجدید اسلام کر کے توبہ کرنا چاہیے۔ (ب)...... شامل ہونا اور ولیمہ کھانا ناجائز ہے۔ (ج)...... قطعاً ناجائز۔ (د)...... اگر غلطی سے شریک ہو گئے تو بھی توبہ کر لیں اور اگر جان کر ان سے نفرت نہ کریں اور ان کو مسلمان جانیں یا اس فعل کو جائز کہیں تو تجدید اسلام کرنی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ واللہ اعلم
محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۴ ص ۶۰۸، ۶۰۹)
مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہے مناکحت جائز نہیں ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے دو ہمشیرگان اور ایک لڑکی مرزائیوں کو بیاہ رکھی ہے اور ان کے مرنے جینے میں باقاعدہ شریک ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ چک کے مسلمانوں کو کیا معاملہ کرنا چاہیے۔ شادی غمی وغیرہ میں شریک ہونا چاہیے یا قطع تعلق کرنا چاہیے اور دنیاوی معاملات میں بھی کس حد تک مسلمانوں کو اس سے تعلق رکھنا چاہیے۔ بینوا توجروا
جواب ...... مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کا نکاح حرام ہے اور ان سے میل جول رکھنا بھی درست نہیں جو شخص ان سے برادری کے تعلقات رکھتا تھا اس پر لازم ہے کہ وہ مرزائیوں سے قطع تعلق کرے اور اگر وہ باز نہ آئے تو دوسرے مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ ان کو برادری کے تعلقات خوشی غمی میں شریک نہ کریں اور ان کو مجبور کریں کہ وہ مرزائیوں سے قطع تعلق کریں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
حررہ محمد انور شاہ غفرلہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۴ ص ۶۰۷)
مرتد کسی سے نکاح نہیں کر سکتا
سوال ...... مسمی رفیق رضیہ سے شادی کرنے کے لیے مرزائی بن گیا۔ شادی کے دو سال بعد مسماۃ رضیہ مرزائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئی اور مسمی رفیق بدستور مرزائی ہے اس کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواب ...... مذکورہ مرد و عورت کا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا کیونکہ مرتد کا نکاح کسی صورت میں منعقد ہی نہیں ہوتا۔
اعلم ان تصرفات المرتد علی اربعۃ اقسام الی قولہ و یبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وھی
نفس النکاح (درمختار) قوله النکاح اى ولو لمرتدة مثله (شامیہ ج ۳ ص ۳۲۹ مکتبہ رشیدیہ) و فی العالمگيرية ومنها ماهو باطل بالاتفاق نحو النکاح فلا يجوز له ان يتزوج امرأة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية لاحرة ولا مملوكة (ج ۲ ص ۲۵۵ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ) فقط واللہ اعلم محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ الجواب صحیح: عبدالستار عفا اللہ
(خیر الفتاویٰ ج ۴ ص ۳۲۴)
قادیانی باتفاق امت کافر ہیں ان کے ساتھ مناکحت ناجائز ہے
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک عورت جو کہ خاص مسلمان اور حنفی عقیدہ رکھتی ہے جہالت کی وجہ سے اس کا نکاح ایک قادیانی سے پڑھایا گیا اس قادیانی سے اس کے دو بچے پیدا ہو چکے ہیں وہ بچے بھی شادی شدہ ہو چکے ہیں تو اب اس عورت کو کیا کرنا چاہیے۔
جواب...... قادیانی باتفاق امت کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا عورت مذکورہ کا اس کے ہمراہ عقد نکاح نہیں ہوا۔ اس لیے یہ عورت شخص مذکور سے طلاق حاصل کیے بغیر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اور عورت مذکورہ پر لازم ہے کہ اس مرد کے گھر سے فوراً علیحدہ ہو جائے۔ فقط واللہ اعلم بندہ محمد اسحاق غفر اللہ لہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
مقامی طور پر معتمد علیہ علماء کے سامنے اس واقعہ کو پیش کرو اگر واقعی یہ شخص قادیانی ہو تو اس کی عورت کو اس سے الگ کر دیا جائے۔ تحقیق ضروری ہے۔ محمد انور شاہ غفرلہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان (فتاویٰ محمودیہ ج ۳ ص ۶۰۷، ۶۰۸)
مرزائی اور مسلمان کا باہم نکاح حرام ہے
سوال...... کیا مرزائی لڑکے کا مسلمان لڑکی سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے؟ مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں۔
الجواب...... جماعت مرزائیہ کی تکفیر کا فتویٰ جمہور علماء کا ہے اور مابین کافر و مسلم نکاح منعقد نہیں ہوتا پس سرے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا لہٰذا مسلمان لڑکی کو رخصت نہ کیا جائے اور فسخ کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دشمنانِ اسلام کی صحبت ومجلس سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۴۱)
مرزائی سے نکاح کا حکم
سوال...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان عظام ان مسائل کے بارے میں (۱)...... کیا مرزائی (احمدی) فرقہ اسلام سے خارج ہے اور اگر ہے تو کن وجوہات کی بنا پر (۲)...... کیا اہل سنت والجماعت کی لڑکی کا نکاح ایک مرزائی سے ہو سکتا ہے یا نہ۔ اور کیا مرزائی لڑکی کا نکاح اہل سنت والجماعت کے لڑکے کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ (۳)...... اگر نکاح ہو چکا ہو تو کیا وہ نکاح درست ہے یا نہیں۔ (السائل: شریف احمد آزاد کشمیر ضلع میر پور)
جواب...... مرزائی (احمدی) کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ یہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ حالانکہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے آپ کے بعد کوئی نبی (نیا) نہیں آئے گا اور یہ عقیدہ قرآن وحدیث سے بالتصریح ثابت ہے اور اس کا انکار کفر و ارتداد ہے لہٰذا یہ لوگ مسلمان نہیں۔ (۲)...... مسلمان اہل سنت والجماعت لڑکی کا نکاح مرزائی سے بالکل ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اور ایسے
ہی مرزائی لڑکی کا نکاح مسلمان لڑکے کے ساتھ بھی جائز نہیں۔ (۳)....... اور جو نکاح ہو چکا ہو ۔ وہ صحیح نہیں، فوراً ان دونوں ناکح و منکوحہ کے درمیان جدائی کر دی جائے۔ فقط والسلام واللہ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۵، ۲۰۶)
لاہوری مرزائی سے نکاح کا حکم
سوال....... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ قادیانی واحمدیہ لاہوری شریعت غرا کی نگاہ میں کیسے ہیں۔ (۱)....... آیا وہ کافر ہیں یا نہیں؟ (۲)....... ان پر نماز جنازہ پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ (۳)....... ان پر نماز جنازہ کی امامت کیسی ہے اور اس امام کا جس کو وہ جائز قرار دیتا ہے کیا حکم ہے؟ (۴)....... ان کے ساتھ نکاح کیسا ہے۔ اور نکاح کے جائز قرار دینے والے کا کیا حکم ہے۔
جواب....... حضور نبی کریم ﷺ کے بعد جدید نبوت کا مدعی یقیناً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اسے نبی ماننے والے قادیانی یا مجدد اور مسلمان ماننے والے لاہوری ہوں ۔ دونوں طرح کے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پڑھانی یا پڑھنی جائز نہیں ہے۔ ان سے کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر نکاح کے بعد خاوند مرزائی مذہب اختیار کر لے۔ تب بھی بوجہ مرتد ہونے کے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کے ساتھ نکاح جائز قرار دینے والا شخص یا ان کی نماز جنازہ کے جواز کا قائل اگر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو جان کر یہ فتویٰ اس بنیاد پر دیتا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ اس کے نزدیک اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں ہے۔ تو وہ بھی کافر ہے اور اگر ختم نبوت کا اجماعی عقیدہ جو کتاب وسنت سے صراحتاً ثابت ہے۔ اس پر کامل عقیدہ رکھ کر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت یا اس کے عقائد باطلہ اور اس کے ضلال سے مطلع نہیں ہے....... تو وہ کافر نہیں ہے۔ البتہ اس کا فرض ہے کہ بغیر تحقیق مذہب قادیانی اس طرح کا فتویٰ نہ دے اور اس فتویٰ سے رجوع کر کے توبہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ محمود عفا اللہ عنہ مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان (۲۷-۲-۱۳۸۸ھ)
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۲-۲۰۳)
قادیانیوں سے رشتہ قائم کرنے والے کا حکم
مسئلہ ۲-۷۴:....... از بدایون مرسلہ نتھو ونثار احمد سوداگران چرم ۱۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۶ھ۔ (۱)....... کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے باوجود اس علم کے کہ مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے کافر ملحد ہونے کا فتویٰ تمام علمائے اسلام دے چکے ہیں۔ پھر بھی اپنی لڑکی کا نکاح ایک مرزائی کے لڑکے کے ساتھ کر دیا اب زید کو گمراہ اور بدعقیدہ سمجھا جائے یا نہیں اور زید کے ساتھ کھانا پینا اور اس کی شادی غمی میں شریک ہونا اپنے یہاں اس کو شریک کرنا جائز ہے یا نہیں اور جولوگ ایسا کریں ان کے لیے کیا حکم ہے؟
(۲)....... مرزائیوں کے لڑکوں کو جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے اور اپنے ماں باپوں کے رنگ میں رنگے ہیں اور ہر امر میں انھیں کے ماتحت ہیں کیا سمجھنا چاہیے مرزائی یا غیر مرزائی؟
الجواب....... (۱)....... اگر وہ لڑکا اپنے باپ کے مذہب پر تھا اور اسے یہ معلوم تھا کہ اس کا یہ مذہب ہے اور دانستہ لڑکی اس کے نکاح میں دی تو یہ لڑکی کو زنا کے لیے پیش کرنا اور پرلے سرے کی دیوثی ہے، ایسا شخص سخت فاسق ہے اور اس کے پاس بیٹھنا تک منع ہے۔
قال الله تعالى واما ينسينك الشيطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمين. (الانعام)
۶۸) ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔‘‘ ورنہ اس کے سخت بے احتیاط اور دین میں بے پروا ہونے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اگر ثابت ہو کہ وہ واقعی مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے اس بنا پر یہ تقریب کی تو خود کافر مرتد ہے، علمائے کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایا کہ:
من شک فی عذابہ و کفرہ فقد کفر.
(درمختار ص ۳۱۷ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
’’جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر۔‘‘
اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت حیات کے سب علاقے اس سے قطع کر دیں، بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام، مر جائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمان کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔
قال اللہ تعالٰی ولا تصل علٰی احد منھم مات ابداً ولا تقم علٰی قبرہ. (التوبہ ۸۴) ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔‘‘
(۲)...... وہ سب مرزائی ہیں مگر وہ کہ عقل و تمیز کی عمر کو پہنچا اور اچھے برے کو سمجھا اور مرزائیوں کو کافر جانا اور ٹھیک اسلام لایا وہ مسلمان ہے، یہ اس حالت میں ہے کہ ماں مرزائی ہو، اور اگر ماں مسلمان ہو اگرچہ اپنی شامت نفس یا اپنے اولیاء کی حماقت یا ضلالت سے مرزائی کے ساتھ نکاح کر کے زنا میں مبتلا ہے، اب جو بچے ہوں گے جب تک ناسمجھ رہیں گے اور سمجھ کی عمر پر آ کر خود مرزائیت اختیار نہ کریں گے اس وقت تک وہ اپنی ماں کے اتباع سے مسلمان ہی سمجھے جائیں گے۔ فان الولد یتبع خیرالابوین دینا فکیف من لیس لہ الا الام فان ولد الزنا لا اب لہ. واللہ تعالٰی اعلم. بچہ والدین میں سے اس کے تابع ہوتا ہے جس کا دین بہتر ہو تو اس وقت کیا حال ہوگا جب اس کی صرف ماں ہی ہو کیونکہ ولد زنا کا باپ نہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۳۲۰۔۳۲۲)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح کرنے والے ملّا کے ایمان و نکاح کا حکم
سوال....... ایک ملا نے ایک دختر سنیہ کا نکاح ایک مرزائی عقیدہ سے کر دیا۔ یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں اور ملا و حاضرین کا نکاح ٹوٹا یا نہیں اور اس ملا کی بیعت و امامت کا کیا حکم ہے؟
الجواب....... دختر سنیہ کا نکاح مرزائی عقیدے کے شخص سے جائز نہیں ہے۔ پس ملا نے فساد عقیدہ اس مرزائی کے جاننے کے باوجود نکاح پڑھا وہ گنہگار و فاسق ہے اور اس کی بیعت درست نہیں اور امامت اس کی مکروہ تحریمی ہے مگر اس کا نکاح باقی ہے اور حاضرین کا نکاح بھی باقی ہے ان سب کو توبہ کرنا چاہیے اور ظاہر کر دینا چاہیے کہ یہ نکاح جو مرزائی سے ہوا صحیح نہیں ہوا۔ یہ اس صورت میں جبکہ اس ملا نے اور حاضرین نے اس قادیانی کو مسلمان نہ جانا ہو، اسی طرح کافر و مسلمان کے نکاح کو جائز نہ تصور کیا ہو، ورنہ سب کو تجدید ایمان و نکاح کرنا ہوگی۔ فقط
(درمختار ج ۲ ص ۴۳۰ باب نکاح الکافر، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۴۵۸)
قادیانی عورت سے نکاح حرام ہے
سوال....... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے متعلق کہ کیا کسی قادیانی عورت سے نکاح جائز ہے؟
جواب....... قادیانی زندیق اور مرتد ہیں اور مرتدہ کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہو سکتا ہے نہ کسی کافر سے اور نہ
کسی مرتد سے ۔ ’’ہدایہ‘‘ میں ہے:
اعلم ان تصرفات المرتد على أقسام نافذ بالاتفاق كالاستيلاء والطلاق .... و باطل بالاتفاق كالنكاح والذبيحة لأنه يعتمد الملة ولا ملة له.
(ہدایہ ج ۲ ص ۵۶۹ مطبوعہ مطبع مجید باب احکام المرتدین)
’’جاننا چاہیے کہ مرتد کے تصرفات کی چند قسمیں ہیں۔ ایک قسم بالاتفاق نافذ ہے۔ جیسے استیلاء اور طلاق۔ دوسری قسم بالاتفاق باطل ہے۔ جیسے نکاح اور ذبیحہ، کیونکہ یہ موقوف ہے ملت پر اور مرتد کی کوئی ملت نہیں۔‘‘
درمختار میں ہے:
ولا يصلح (أن ينكح مرتد أو مرتدة أحدا) من الناس مطلقا وفى الشامية (قوله مطلقا) أى مسلما أو كافرا أو مرتدا.
(فتاوی شامی باب نکاح الکافر ج ۲ ص ۴۳۰)
’’اور مرتد یا مرتدہ کا نکاح کسی انسان سے مطلقاً صحیح نہیں۔ یعنی نہ مسلمان سے نہ کافر سے اور نہ مرتد سے۔‘‘
فتاویٰ عالمگیری میں مرتد کے نکاح کو باطل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
فلا يجوز له أن يتزوج امرأة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية ولا حرة ولا مملوكة.
(حاشیہ فتاویٰ عالمگیری ج ۳ ص ۵۸۰)
’’پس مرتد کو اجازت نہیں کہ وہ نکاح کرے کسی مسلمان عورت سے، نہ کسی مرتدہ سے، نہ ذمی عورت سے، نہ آزاد سے اور نہ باندی سے۔‘‘
فقہ شافعی کی مستند کتاب ’’شرح مہذب‘‘ میں ہے۔
لا يصح نكاح المرتد والمرتدة لأن القصد بالنكاح الاستمتاع ولما كان دمهما مهدراً ووجب قتلهما فلا يتحقق الاستمتاع ولأن الرحمة تقتضى ابطال النكاح قبل الدخول فلا ينعقد النكاح معها.
(شرح مہذب ج ۱۶ ص ۲۱۴)
’’اور مرتد اور مرتدہ کا نکاح صحیح نہیں کیونکہ نکاح سے مقصود نکاح کے فوائد کا حصول ہے۔ چونکہ ان کا خون مباح ہے اور ان کا قتل واجب ہے۔ اس لیے میاں بیوی کا استمتاع متحقق نہیں ہو سکتا اور اس لیے بھی کہ تقاضائے رحمت یہ ہے کہ اس نکاح کو رخصتی سے پہلے ہی باطل قرار دیا جائے۔ اس بنا پر نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔‘‘
فقہ حنبلی کی مشہور کتاب ’’المغنی مع الشرح الکبیر‘‘ میں ہے:
والمرتدة يحرم نكاحها على أى دين كانت لأنه لم يثبت لها حكم أهل الدين الذى انتقلت اليه فى اقرارها عليه ففى حلها أولى.
(المغنی مع الشرح الکبیر ج ۷ ص ۵۰۳)
’’اور مرتد عورت سے نکاح حرام ہے خواہ اس نے کوئی سا دین اختیار کیا ہو کیونکہ جس دین کی طرف وہ منتقل ہوئی ہے اس کے لیے اس دین کے لوگوں کا حکم ثابت نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے وہ اس دین پر برقرار رکھی جائے تو اس سے نکاح کے حلال ہونے کا حکم بدرجہ اولیٰ ثابت نہیں ہوگا۔‘‘
ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قادیانی مرتد کا نکاح صحیح نہیں بلکہ باطل محض ہے۔
سوال ..... اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
جواب ..... جب اوپر معلوم ہوا کہ یہ نکاح صحیح نہیں تو ظاہر ہے کہ قادیانی مرتدہ سے پیدا ہونے والی اولاد بھی جائز اولاد نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس لڑکی کے باپ کے مسلمان ہونے کے شبہ کی بناء پر اس سے نکاح کیا گیا تھا تو
یہ ’’شبہ کا نکاح‘‘ ہوگا۔ اور اس کی اولاد جائز ہوگی۔ اور یہ اولاد مسلمان باپ کے تابع ہو تو مسلمان ہوگی۔
قادیانی عورت سے نکاح کرنے والے سے تعلقات کا حکم
سوال...... اس شخص سے معاشرتی تعلق روا رکھنا جائز ہے یا نہیں جسے علاقے کے لوگ مختلف اداروں میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی بیوی قادیانی ہے؟ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اس کا مذہب اس کے ساتھ ہے ہمیں اس کے مذہب سے کیا لینا، یہ ہمارے مسائل حل کراتا ہے تو از روئے شریعت اس کا کیا حکم ہے؟
جواب...... یہ شخص جب تک قادیانی عورت کو علیحدہ نہ کر دے اس وقت تک اس سے تعلقات رکھنا جائز نہیں۔ جو لوگ مذہب سے بے پروا ہو کر محض دنیوی مفادات کے لیے اس سے تعلقات رکھتے ہیں، وہ سخت گنہگار ہیں۔ اگر انھیں اپنا ایمان عزیز ہے اور اگر وہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے خواستگار ہیں تو ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیے اور جب تک یہ شخص اس قادیانی مرتدہ کو علیحدہ نہیں کر دیتا اس سے تمام معاشرتی تعلقات منقطع کر لینے چاہئیں۔ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:
لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حآد الله ورسوله ولو كانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشيرتهم اولئک کتب في قلوبهم الايمان وايدهم بروح منه ويدخلهم جنت تجرى من تحتها الانهر خلدين فيها رضى الله عنهم ورضوا عنه اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون. (المجادلہ ۲۲) ’’جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں۔ گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے۔‘‘
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۶۸ تا ۷۱)
مسلمان کا قادیانی لڑکی سے نکاح جائز نہیں، شرکاء توبہ کریں
سوال...... ہمارے علاقہ میں ایک زمیندار کی قادیانی کے گھر شادی ہوئی۔ مگر دولہا مسلمان ہونے کا دعویدار ہے۔ ان کا شرعاً نکاح ہوا ہے یا نہیں اور دعوت ولیمہ میں شریک لوگوں کا نکاح برقرار ہے یا نہیں یا گنہگار ہیں۔ آئندہ شریک ہوں یا نہیں؟
جواب...... قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے۔ ان کی تقریبات میں شریک ہونا اور اپنی تقریبات میں ان کو شریک کرنا جائز نہیں۔ جو لوگ اس معاملہ میں چشم پوشی کرتے ہیں، قیامت کے دن خدائے ذوالجلال کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی ناراضی اور عتاب کے مورد ہوں گے۔ قادیانیوں سے رشتہ ناتا جائز نہیں۔ اگر وہ لڑکی مسلمان ہوگئی ہے تو نکاح صحیح ہے اور اگر مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے تو نکاح باطل ہے۔ جس طرح کسی سکھ اور ہندو سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح کسی قادیانی سے بھی جائز نہیں۔ اس شخص کو لازم ہے کہ قادیانی عورت کو الگ کر دے جو لوگ ان کے نکاح میں شریک ہوئے وہ گنہگار ہیں ان کو توبہ کرنی چاہیے۔ آئندہ ہرگز ایسا نہ کریں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۴۷)
اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کر لے تو اس کا شرعی حکم
سوال ...... اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے عقد کر لیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں اور اس شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟
جواب ...... قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ:
- (الف)...... اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا
- (ب)...... اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا...... تو ان دونوں صورتوں میں
اس شخص کو خارج از ایمان نہیں کہا جائے گا البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو فوراً علیحدہ کر دے اور آئندہ کے لیے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے اور اس فعل پر توبہ کرے اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج از ایمان ہے کیونکہ عقائد کفریہ کو اسلام سمجھنا خود کفر ہے اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۲)
قادیانی عورت سے نکاح جائز نہیں
سوال ...... اہل کتاب عورت سے تو مسلمان مرد نکاح کر سکتا ہے تو کیا ایک قادیانی عورت سے بھی مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... قادیانی چونکہ باجماع امت مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لیے ان سے کسی قسم کا رشتہ ناتہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔ جس طرح کسی قادیانی سے مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا ایسے ہی کوئی مسلمان شخص کسی قادیانی عورت سے نکاح نہیں کر سکتا، اس لیے کہ قادیانی اہل کتاب کے حکم میں نہیں بلکہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
کما قال شیخ الاسلام برہان الدین المرغینانیؒ: ان تصرفات المرتد علیٰ اقسام نافذ بالاتفاق کالاستیلاء والطلاق لانہ لا یفتقر الیٰ حقیقۃ الملک و تمام الولایۃ وباطل بالاتفاق کالنکاح والذبیحۃ لانہ یعتمد الملۃ. (الہدایۃ ج ۲ ص ۵۶۹ مطبوعہ مجیدی کانپور باب المرتد) (فتاویٰ حقانیہ ج ۴ ص ۳۴۱۔۳۴۲)
قادیانی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح باطل ہے
سوال ...... زید جو کہ حنفی مذہب رکھتا ہے ایک قادیانی المذہب عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے ایک حنفی مفتی سے سوال کیا گیا تو جواز کا فتویٰ دیا جو درج ذیل ہے ان کا جواب بعینہ حضور کی خدمت میں پیش کر کے استصواب چاہتا ہوں۔
نقل فتویٰ جواز مکرم برادرم السلام علیکم۔ قادیانی مذہب کی عورت سے نکاح جائز ہے جو قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے قائل ہیں وہ اگرچہ کافر ہیں مگر اہل کتاب ضرور ہیں تو اہل کتاب عورت سے مسلم کا نکاح جائز ہے لاہوری مرزائی غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے صرف مجدد مانتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں ہو سکتی بہرحال
قادیانی عورت سے جب نکاح جائز ہوا تو اس کی لڑکی سے بھی خواہ متزلزل عقیدہ رکھتی ہو ایک حنفی مسلمان کا نکاح بالکل درست و جائز ہے ہرگز شک نہ کیجئے۔
جواب جو یہاں سے گیا میرے نزدیک قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے جب ان کا کفر مسلم ہے اور مرتد بحکم کتابی نہیں ہوتا اس لیے اہل کتاب میں ان کو داخل نہیں کر سکتے اور لاہوری گو مرزا کو نبی نہ کہیں لیکن اس کے عقاید کفریہ کو کفر نہیں کہتے کفر کو کفر نہ سمجھنا یہ بھی کفر ہے کیا اگر کوئی شخص مسیلمہ کذاب کو نبی نہ مانتا ہو مگر اس کے عقاید کو کفر بھی نہ کہتا ہو تو کیا اس شخص کو مسلمان کہا جائے گا۔ ۳۰ ذی قعدہ ۱۳۵۱ھ
(النور رجب ۱۳۵۲ھ ص ۸، امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۲۴)
مسلمان لڑکے کا مرزائی کی لڑکی سے نکاح
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور اس لڑکی کا والد مرزائی ہے اور وہ لڑکی والد کے تابع ہے۔ اگر کوئی شخص اس امید سے اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے کہ نکاح کرنے کے بعد وہ لڑکی مسلمان ہو جائے گی۔ کیا وہ اس بنا پر نکاح و شادی کر سکتا ہے۔ بینوا توجروا
جواب...... پہلے لڑکی مذکورہ کو مسلمان بنالے اس کے بعد اس کے ساتھ نکاح کرے۔ مسلمان بنائے بغیر اس کے ساتھ عقد نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بندہ محمد اسحاق غفر اللہ لہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان الجواب صحیح: محمد انور شاہ غفر اللہ لہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۱۷ صفر ۱۳۹۶ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۲۰۵، ۲۰۶)
ملاحدہ اور زنادقہ سے نکاح کا حکم
سوال...... ایک پیر صاحب اپنے دادا پر اس طرح درود پڑھاتے ہیں۔ اللھم صلی علی محمدِ الزمان السندی اللواری. اپنے دادا کے نام کے ساتھ جل جلالہ و جل شانہ کہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک قصبہ کو مکہ اور اس کے نزدیک ایک گاؤں کو مدینہ اور ایک کنوئیں کو چاہ زمزم اور ایک میدان کو عرفات اور ایک قبرستان کو جنتہ البقیع کے نام سے موسوم کر کے ۹ ذی الحجہ کے دن ۳ بجے ایک کثیر اجتماع کے سامنے ایک بڑے ممبر پر خطبہ حج پڑھتے ہیں اور بطور سند مریدوں کو حج مبارک کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں اور اپنے دادا کے مقبرہ کا طواف و سجدہ کراتے ہیں وغیرہ۔
- (۱)...... ایسے پیر اور ان کے مریدوں سے رشتہ ناتا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ (۲)...... اور جن سے رشتہ
ناتا ہو چکا ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
المستفتی نمبر ۱۶۶۱ احمد صدیق مدیر اخبار ”رہبر سندھ“ کراچی۔ ۵ اگست ۱۹۳۷ء م ۲۷ جمادی الاوّل ۱۳۵۶ء
جواب...... یہ پیر اور اس کے مرید جو ان عقائد شنیعہ کے معتقد ہوں ملحد اور زندیق ہیں۔ ان زنادقہ سے علیحدہ رہنا واجب ہے اور ایسے فاسد العقیدہ لوگوں سے رشتہ ناتا کرنا ناجائز ہے لیکن اس کے اقارب میں سے اگر کوئی شخص ان عقائد شنیعہ کا معتقد نہ ہو تو محض پیر کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اس پر یہ حکم عائد نہ ہوگا۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۳۱۸)
مرزائی مرتدین کا کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا
سوال ...... از روضہ حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف مسئولہ عبدالقادر مدرس درگاہ شریف ۳۰ رمضان شریف ۱۳۴۹ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرزائی مذہب شخص کی دختر نابالغہ سے جو عقد نکاح ہو گیا ہے وہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ دختر مذکورہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے، والد اس کا انتقال کر چکا ہے صرف اس کی والدہ نے نکاح ایک حنفی مذہب سے کر دیا ہے، ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے اس کو علیحدہ کر دیا جائے یا تاوقت بلوغ رکھا جائے۔ بینوا توجروا
الجواب ...... مرزائی مرتد ہیں کما ھو مبین فی حسام الحرمین (جیسا کہ حسام الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔) اور مرتد مرد ہو یا عورت اس کا نکاح کسی مسلمان یا کافر اصلی یا مرتد غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہو سکتا، جس سے ہو گا زنائے محض ہو گا۔ عالمگیری میں ہے:
لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا کافرة اصلیة وکذلک لایجوز نکاح المرتدة مع احد کذافی المبسوط.
(فتاویٰ عالمگیری ص ۲۸۲ ج ۱ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
”مرتد کے لیے مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، اور اسی طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، جیسا کہ مبسوط میں ہے۔“
عورت اگرچہ نابالغہ ہے سال دو سال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل و تمیز کے بعد اسلام و ارتداد صحیح ہیں۔ تنویر الابصار میں ہے:
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامه.
(فتاویٰ شامی ص ۳۳۵ ج ۳ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
”بچہ اگر مرتد ہو جائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔“
سمجھ دار ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتنا ہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا تو اسی قدر اس کے مرتد ہونے کو بس ہے۔ تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بہت بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائد کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے بعید از قیاس ہے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابت قریبہ رکھنا بارہا منجر بہ فتنہ و فساد مذہب ہوتا ہے، والعیاذ باللہ تعالیٰ، تو سلامت اسی میں ہے کہ اس کو فوراً جدا کر دیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۱ ص ۵۰۷ ۔ ۵۰۸)
قادیانی سے نکاح کا حکم
سوال ...... دادون ضلع علی گڑھ، مرسلہ مولانا مولوی عماد الدین صاحب یکم محرم الحرام ۱۳۴۶ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین، اس مسئلہ میں کہ ایک شخص پہلے قادیانی تھا اب قادیانی ہونے سے انکار کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں ”بہائی ہوں“ یعنی بہاء اللہ کا معتقد اور اس کے مذہب پر ہوں، بہاء اللہ وہ شخص ہے جس کی نسبت اخبار وغیرہ میں لکھا ہے اور بہت مشہور ہے کہ وہ مدعی نبوت تھا، جس کا زمانہ عنقریب گزرا ہے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایک مسلمہ سنیہ حنفیہ عفیفہ سیدانی لڑکی کا نکاح شخص مذکور سے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب ...... حضور اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ عزوجل نے خاتم النبیین و آخر الانبیاء کیا، حضور کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہوسکتا، بکثرت احادیث صحیح اس پر ناطق اور خود قرآن عظیم کی نص قطعی ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین (الاحزاب ۴۰) اس مدعا پر شاہد، جو شخص حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی جدید کے آنے کا قائل ہو یا اسے جائز مانے، قطعاً یقیناً کافر و مرتد ہے۔ اگر وہ شخص قادیانی تھا تو کافر تھا اور اب بہائی ہے اور بہاء اللہ کو نبی مانا جب بھی کافر ہے، امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ، شفا شریف میں فرماتے ہیں ۔ وكذالك من ادعى نبوة احد مع نبينا عليه الصلوة والسلام او بعده ...... او من ادعى النبوة لنفسه او جوّز اكتسابها ...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ لانه اخبر ﷺ انه خاتم النبيين لانبى بعده و اخبر عن الله تعالى، انه خاتم النبيين و انه ارسل كافة للناس و اجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان المفهوم المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شک فی کفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا وسمعاً (ج ۲ ص ۲۴۶۔ ۲۴۷) بلاشبہ ایسے شخص کا نکاح کسی مسلمہ سے نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً سنیہ، جو شخص نکاح کرائے گا، سخت کبیرہ شدیدہ کا مرتکب اور زنا کا دلال ہوگا۔ فتاویٰ عالمگیری احکام المرتدین میں ہے۔ منها ما هو باطل بالاتفاق نحو النكاح فلا يجوزله ان يتزوج امرأة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية و لاحرة ولا مملوكة (فتاویٰ قاضی خان ج ۳ ص ۵۳۰) واللہ تعالیٰ اعلم.
(فتاویٰ امجدیہ ج ۲ ص ۷۴)
قادیانیت سے تائب مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح
سوال ...... (۱)......ایک لڑکی نابالغہ مسماۃ ہندہ کے والدین فوت ہو چکے تھے اور بھائی نے ہندہ مذکورہ کا نکاح ایک نابالغ لڑکے سے کر دیا تھا۔ نیز واضح رہے کہ زوجین کے متولی مرزائی تھے۔ جب لڑکی بالغہ ہوئی تو بھائی مرزائی نے لڑکے نابالغ مرزائی کے ساتھ شادی کر دی۔ ایک ہفتہ لڑکی آباد رہی بعدہ انکار کر دیا کہ میں مرزائی نہیں ہوں اگرچہ میرے والدین و باقی رشتہ داران مرزائی ہیں۔ میں مرزائی مرد کے ساتھ آباد ہونے سے انکاری ہوں۔ اب لڑکی بھائی مرزائی کے گھر ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ میرا سابقہ نکاح فسخ کیا جائے تاکہ دوسری جگہ نکاح کروں۔ لڑکا مذکور ابھی تک نابالغ ہے اور وہ بھی اور اس کے والدین سب مرزائی ہیں۔ اب شرعی فیصلہ کرنا ہے اور لڑکا حکم شرعی کے سامنے پیش بھی نہیں ہوتا فقط لڑکی پیش ہوتی ہے فیصلہ کی کیا صورت ہے مفصلاً مرقوم فرما کر مشکور فرمائیں۔ اگر یہ صورت ہو تو پہلے بوجہ مطابقت والدین دونوں کافر تھے۔ اب لڑکی بعد بلوغت کے مسلمان ہوگئی تو کیا لڑکے کے بالغ ہونے تک انتظار کرنا ضروری ہوگا یا قبل از بلوغ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ فیصلہ کی تمام صورتوں کو بیان فرما کر مشکور فرمائیں۔
(۲)......حیلہ ناجزہ میں ارتداد کی بعض صورتوں میں یہ لکھا ہے کہ اگر خاوند مرتد ہو گیا تو دارالحرب میں تفریق کی ضرورت نہیں تین حیض کے بعد جدا ہو جائے گی اور دارالاسلام میں تفریق شرط ہے۔ کیا بموافق فتوٰی دارالحرب عمل کیا جائے یا احتیاطاً تفریق کی جائے۔ المستفتی نمبر ۲۶۶۱ محمد اسحاق ملتانی (دہلی) ۴ صفر ۱۳۶۰ھ م ۳ مارچ ۱۹۴۱ء
الجواب ...... تحکیم تو فریقین کی رضا مندی سے ہوتی ہے۔ جب ایک فریق (شوہر) کی طرف سے ثالثی منظور نہیں ہوئی تو ثالثی کا فیصلہ بھی متصور نہیں۔ رہا نکاح کا قصہ تو صورت مسئولہ میں قابل تحقیق یہ امر ہے کہ لڑکی کا باپ جس وقت مرزائی ہوا اس وقت یہ لڑکی پیدا ہو چکی تھی یا نہیں؟ اگر پیدا ہو چکی تھی اور بعد میں اس کا باپ مرزائی ہوا
تو یہ لڑکی مسلمہ قرار دی جائے گی کیونکہ باپ کے ارتداد سے لڑکی پر جو پہلے مسلمہ قرار دی جا چکی، حکم ارتداد نہ ہوگا اور اس صورت میں اس کے مرتد بھائی نے اس کا جو نکاح کیا وہ نکاح ہی صحیح نہیں ہوا کیونکہ کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں۔ لیکن اگر لڑکی حال ارتداد پدر میں پیدا ہوئی اور اس کی ماں بھی مرزائیہ تھی تو لڑکی بھی کافرہ ہی قرار پائے گی۔ مگر اس حال میں اس کے مرتد بھائی کا کیا ہوا نکاح موقوف رہے گا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ لیکن جبکہ وہ مسلمان نہ ہوا اور لڑکی مسلمان ہوگئی اور اس نے اس نکاح موقوف کو رد کر دیا تو نکاح رد ہو گیا۔ کیونکہ نکاح موقوف قبل اجازت مجیز بحکم عدم میں ہوتا ہے۔ فقط محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۶ ص ۱۵۲۔۱۵۳)
باپ کی رضا مندی پر قاضی (مرزائی) کا پڑھایا ہوا نکاح صحیح ہے
سوال....... بخدمت جناب مکرم ومحترم حضرت مفتی محمود صاحب زید مجدہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مزاج شریف خیریت الجانبین مسئول من اللہ مندرجہ ذیل صورت کے متعلق تحقیقی جواب سے ممنون فرمائیں۔
سوال۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے اپنی نابالغہ لڑکی کے نکاح کرنے کا دوسرے کو کہا کہ آپ میری لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے کر دیں۔ یعنی اس آدمی کو نکاح خوان تجویز کیا۔ جیسا کہ آج کل رواج ہے اور اسی لڑکی کا باپ بھی مجلس عقد میں موجود تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نکاح خوان جس کو عرف میں قاضی کہتے ہیں مرزائی قادیانی تھا۔ تو بیان فرمائیں کہ یہ نکاح شرعاً معتبر ہوگا یا نہ۔ باحوالہ تحریر فرمائیں۔ بینوا وتوجروا
الفقیر الی الصمد غلام احمد از مدرسہ عربیہ محمدیہ ژہال
جواب..... قواعد کی رو سے یہ نکاح جائز معلوم ہوتا ہے کیونکہ باپ کی موجودگی میں نکاح خوان ایک معبر اور سفیر محض سمجھا جائے گا اور اس کے یہ الفاظ منتقل ہوں گے باپ کی طرف سے، عاقد باپ ہی ہوگا کیونکہ اصل اور معبر جہاں دونوں موجود ہوں وہاں عقد نکاح اصل کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ و نظیرہ ما فی (الدر المختار ص ۲۹۷ ج ۲) امر الاب رجلاً ان یزوج صغیرتہ فزوجها عند رجل او امرأتین والحال ان الاب حاضر صح لان یجعل عاقداً حكما والا لا، اس پر شامی نے لکھا ہے۔ قوله لان یجعل عاقداً حكماً لان الوكيل في النكاح سفير معبر ينقل عبارة الموكل فاذا كان الموكل حاضراً كان مباشراً لان العبارة تنقل اليه وهو في المجلس اسی طرح اگلے صفحہ پر ہے۔ ولو زوج بنته البالغة العاقلة بمحضر شاهد جاز انکانت ابنته حاضرة لانها تجعل عاقدة والا لا الاصل ان الاب متى حضر جعل مباشراً (ج ۲ ص ۲۹۸) تردد اس میں ہے کہ کافر کی وکالت صحیح ہوگی یا نہیں تو اس میں یہ حکم ہے کہ مرتد آدمی کو اگر وکیل بنائے تو اس کی یہ توکیل جائز ہے اور نافذ ہے۔ (کما فی الدر المختار ص ۵۱۱ ج ۳) وتوقف توكيل مرتد اس پر شامی نے (ص ۵۱۱ ج ۳) لکھا ہے۔ بخلاف توکله عن غیره کما سنذكره و فی الدر بعد هذه العبارة اذا كان الوكيل يعقل العقد الخ. اسی پر علامہ شامی نے لکھا ہے۔ ان یعقل ان البيع سالب للمبيع جالب للثمن وان الشراء بالعكس وفي البحر ما يرجع الى الوكيل فالعقل فلا يصح توكيل مجنون وصبي لا يعقل لا البلوغ والحرية و عدم الردة فيصح توكيل المرتد ولا يتوقف الى آخره ماقال. فقط واللہ تعالیٰ اعلم.
عبدالرحمن نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۲۵ ذوالقعدہ ۱۳۷۹ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۲ ص ۳۴۶، ۳۴۷)
توہین رسالت کرنے والے کے نکاح کا حکم
سوال ...... از ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ ملا محمد رمضان پیش امام مسجد نیا پورہ مورخہ ۲ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ عبدالقادر نے حضور سرور عالم ﷺ کی توہین کی ہے اور اس پر علماء کا فتویٰ کفر کا آ چکا ہے اور وہ توبہ سے انکار کرتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں، اور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے معاون ہیں ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یا نہیں، اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یا نہیں اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ عطا فرمایا جائے، عنداللہ ماجور ہوں گے۔
الجواب ...... جو شخص حضور اقدس ﷺ کی توہین کرے یقیناً کافر ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اور جو اس کی توہین پر مطلع ہو کر اسے مسلمان جانے وہ بھی کافر ہے ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں اور فی الحال وہ اپنے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہیں، ان عورتوں کو اختیار ہے کہ عدت کے بعد جس مسلمان سے چاہیں نکاح کرلیں، واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۳۲۔۳۳)
مرزائی کی مسلمان اولاد سے رشتہ کرنا
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ باپ کٹر مرزائی احمدی ہے اس کی اولاد جو کہ بالغ ہے اپنی والدہ کے ساتھ انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ کٹر مرزائی باپ کچھ دنوں سے یہاں اس ملک میں آیا ہوا ہے۔ اولاد کے خطوط سے معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ہم شرع کے مطابق جو کچھ کہلوانا چاہیں ان کو کہلایا جاسکتا ہے۔ ہم احمدی نہیں ہیں نہ ہم احمدیوں سے رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسے کٹر مرزائی کی اولاد جو کہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اور جو یہ کہے کہ شرع محمدی کے مطابق جو کچھ مسلمان ثابت ہونے کے لیے شرائط ہیں۔ وہ ہم سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کیا ایسے اولاد کے رشتے ناطے کروانا رشتہ ناطہ میں معاون بننا شرعاً جائز ہے۔ نیز یہ بھی تحریر فرمائیں کہ شرع محمدی میں مرزائی کی اولاد کے لیے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ مگر پھر بھی پرکھنے کے لیے کیا ضابطے ہیں۔
جواب ...... اگر اس مرزائی کی اولاد غلام احمد مرزا کو کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج مانتے ہیں اور حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔ اور دیگر ایمان و اسلام کے تمام ضروری عقائد رکھتے ہیں تو وہ مسلمان شمار ہوں گے اور جو معاملات مسلمانوں کے ساتھ جائز ہیں وہ ان کے ساتھ جائز ہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۱)
مشتبہ مرزائی کی پہلے تحقیق
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص مرزائی ہے۔ اس نے اپنے بھائی کو مرزائیت کی طرف دعوت دی۔ چنانچہ وہ اس طرف مائل ہوگیا۔ اور ربوہ (چناب نگر) بھی گیا تھا اور اس کو مجدد بھی ماننے لگا۔ بعدہ اس کے سسرال والوں نے اس کے تبدیلی عقائد کی وجہ سے اس کی بیوی اور بچوں کو اپنے گھر میں روک لیا ہے۔ سنا ہے کہ وہ اس اعتقاد سے رجوع کرکے پھر اسلام میں داخل ہوگیا ہے لیکن اسکے سسرال والے یہ سنی سنائی بات پر اعتبار نہیں کرتے اور لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ وہ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے اس کے سسرال والے
اس کی بیوی بچوں کو اس کے گھر واپس نہیں بھیج رہے لیکن اس شخص نے کہا تھا کہ میں نے مرزائیت چھوڑ دی ہے۔ اور مسلمان ہو گیا ہوں چنانچہ اس نے نکاح ثانی بھی کیا تھا۔ لیکن سسرال والوں نے اعتبار نہیں کیا۔ اس کی بیوی کو اس کے گھر نہیں بھیجا۔ اب سوال یہ ہے کہ نکاح اس کا شرعاً باقی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
جواب ...... تحقیق کی جائے ایسے خفیہ طور پر کہ اسے معلوم نہ ہو کہ اس شخص کے عقائد موجودہ کیا ہیں۔ اگر واقعی صدق دل سے تائب ہو چکا ہے تو نکاح ثانی بھی درست ہے اور بیوی بھی اس کے حوالہ کر دی جائے۔ اگر معلوم ہو کہ اس نے دھوکہ کیا ہے اور اس کے عقائد اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے تو یہ نکاح ثانی بھی غلط ہوا اور بیوی اس کے حوالہ نہ کی جائے۔ بہرحال خوب تحقیق کی جائے۔ محض خیالات وشبہات کی بنا پر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۲،۲۰۱)
مرزائی کے پڑھائے ہوئے نکاح کا حکم
سوال ...... زید نے اپنی لڑکی نابالغہ کے نکاح کے لیے مجلس منعقد کروائی اور ایک مولوی صاحب کو برائے عقد نکاح بلایا۔ اس مولوی صاحب نے باپ سے اجازت لے کر نکاح کر دیا۔ اس وقت معلوم نہ تھا بعدہ معلوم ہوا کہ وہ مولوی مرزائی تھا۔ پھر نکاح بھی اس طرح کیا کہ گواہ وغیرہ بالکل متعین نہ کیے۔ ویسے اس مجلس نکاح میں باپ بھی موجود تھا اور سامعین ایجاب وقبول بھی موجود تھے فقط گواہوں کی تعیین نہیں کی گئی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں جبکہ ناکح ومنکوحہ ومتولیان وغیرہ مسلم ہیں تو اس مرزائی ملاں کا باپ سے اجازت لے کر ایجاب وقبول کر دینے سے اور عدم تعیین گواہوں سے نکاح میں کوئی خلل آیا یا نہ یہ نکاح معتبر ہے۔ کالعدم ہے کہ دوبارہ کیا جائے یا دوسری جگہ کر دیا جائے۔ مستفتی (مولانا منظور الحق مدرس مدرسہ دارالعلوم کبیر والہ)
الجواب ...... شامی میں ہے (ج ۲ ص ۲۹۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) قولہ لانہ یجعل عاقداً حکماً، لان الوکیل فی النکاح سفیر و معبر ینقل عبارة الموکل فاذا کان الموکل حاضراً کان مباشرا لان العبارة تنتقل الیہ وہو فی المجلس و لیس المباشر سوی ہذا بخلاف ما اذا کان غائباً لان المباشر ماخوذ فی مفہومہ الحضور فظہر ان انزال الحاضر مباشراً جبری.
صورتِ مسئولہ میں مذکور مرزائی مولوی، زید کی طرف سے اس کی لڑکی مذکورہ کے نکاح کا وکیل تھا پس جب اس نے زید کی موجودگی میں نکاح پڑھایا ہے تو وہ سفیر محض تھا حقیقت میں نکاح پڑھانے والا زید خود ہی تھا (بحوالہ بالا) اس لیے اس کے نکاح پڑھانے سے نکاح کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نکاح کے لیے گواہوں کا مقرر اور متعین ہونا ضروری نہیں صرف مجلس نکاح میں دو گواہوں کی حاضری ضروری ہے اس لیے عدم تعیین گواہوں کی وجہ سے نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا۔ فقط واللہ اعلم
بندہ محمد اسحاق غفرلہ ۳۰ محرم الحرام ۱۳۸۰ھ الجواب صحیح: عبداللہ غفر اللہ لہ
(خیر الفتاویٰ ج ۴ ص ۴۰۹،۴۱۰)
نکاح خواں کا کافر ہونا نکاح کے لیے مضر نہیں ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ عام مسلمانوں میں بھی دستور ہے کہ مجلس نکاح میں ایک شخص نکاح خوانی کے لیے تو ضرور ہی چاہتے ہیں تاکہ مولوی صاحب ناکح منکوحہ یا دونوں کے ولی یا وکیل کو شرائط
نکاح اور الفاظ نکاح کہلوائیں۔ بموافق ہدایت مولوی صاحب ایجاب و قبول کراتے ہیں۔ اس صورت میں سوال پھر یہ ہے کہ اگر مولوی نکاح پڑھانے والا مرزائی مذہب کا ہو تو اس کی وجہ سے اصل نکاح میں کسی قسم کا خلل آتا ہے یا نہ۔ بینوا توجروا
جواب ...... جب ایجاب و قبول خود ناکح اور منکوحہ نے یا ان کے اولیاء نے کیا ہے تو نکاح صحیح ہے۔ نکاح خواں معروف کا کافر ہونا نکاح کے لیے مضر نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم محمود عفا اللہ عنہ خادم الافتاء مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۲۳ ذی قعدہ ۱۳۷۱ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۴ ص ۳۴۷)
نابالغ اولاد مذہب میں باپ کی تابع ہوتی ہے، مرزائی باپ کے لڑکے سے مناکحت جائز نہیں ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس صورت مسئلہ میں کہ ایک نابالغہ لڑکی کا نکاح اس کے باپ حقیقی نے ایک نابالغ لڑکے سے کر دیا جس لڑکے نابالغ مذکور سے اس لڑکی نابالغہ مذکورہ کا نکاح ہوا اس لڑکے کا باپ مرزائی تھا اب جبکہ دونوں لڑکی اور لڑکا بالغ ہو چکے ہیں تو لڑکی مذہب اہل سنت والجماعت پر پختہ اعتقاد رکھتی ہے اور لڑکا مرزائی بن گیا ہے اور لاہوری جماعت سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ لڑکے مذکور نے اب تک باپ سے نہ علیحدگی اختیار کی ہے اور نہ مرزائیت سے نفرت کرتا ہے بلکہ ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں آیا شرعاً اس لڑکی مذکورہ کا نکاح مرزائی لڑکے سے باقی ہے یا نہیں اگر نکاح باقی نہیں ہے تو لڑکی مذکورہ اب جہاں چاہے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا
جواب ...... شرعاً نابالغ لڑکا لڑکی دین میں تابع ماں باپ کے ہوتے ہیں۔ تو صورت مسئولہ میں جبکہ نابالغی میں مرزائی کے لڑکے کا نکاح ایک اہل سنت والجماعت لڑکی سے اس کے باپ نے کیا اور اس لڑکے کے ماں باپ مرزائی تھے تو یہ لڑکا بھی والدین کے تابع ہو کر مرزائی شمار ہوگا اور مرزائی کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح منعقد نہیں ہوتا کیونکہ مرزائی خواہ قادیانی ہو یا لاہوری جملہ علماء کے نزدیک کافر و مرتد ہیں جن حضرات علماء کو ان کے مذہب پر اطلاع ہوئی سب نے باجماع ان کی تکفیر کی ہے اور مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے کسی طرح جائز و حلال نہیں۔ لقولہ تعالیٰ لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا. (درمختار ص ۳۳۰ ج ۲) میں ہے کہ ولا يصلح ان ينكح مرتدا او مرتدة احدا من الناس اور شامی میں ہے لانہ قبل البلوغ تبع لابویہ. لہٰذا اس لڑکی سے مرزائی لڑکے کا نکاح نابالغی میں منعقد ہی نہیں ہوا تو عورت جہاں چاہے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ بندہ احمد عفا اللہ عنہ نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان ۲۳ شوال ۱۳۸۳ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۴ ص ۶۰۶ ، ۶۰۷)
کیا قادیانی نکاح کا وکیل ہو سکتا ہے؟
سوال ...... ہمارے اطراف میں نکاح کی مجلس اس طرح منعقد ہوتی ہے کہ لڑکی کا باپ یا چچا نانا وغیرہ میں سے کوئی ایک دو گواہوں کو لے کر لڑکی کے پاس جاتا ہے اور لڑکی سے یوں کہتا ہے کہ میں تمہارا وکیل بن کر فلاں کا لڑکا فلاں سے مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں کے رو برو نکاح کر دوں ۔ جب لڑکی ہاں کہہ دیتی ہے تو یہ وکیل اور دونوں گواہ مجلس میں آتے ہیں۔ بعدہ محلہ کا پیش امام خطبہ نکاح پڑھتا ہے اور وکیل سے کہتا ہے یوں کہو میں نے
اپنی وکالت سے فلاں کی لڑکی فلانہ کو مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں اور حاضرین مجلس کے سامنے تمھارے عقد میں دیا، تم نے قبول کیا۔ تو وہ لڑکا کہتا ہے کہ میں نے قبول کیا۔ صورت بالا پیش نظر رکھتے ہوئے اگر لڑکی کا نانا قادیانی مذہب کا ہے، وہ وکالت کرتا ہے اور دونوں گواہ مسلمان اہل سنت والجماعت ہیں وہ قادیانی ایجاب وقبول کراتا ہے تو ایسی صورت میں نکاح ہو گیا یا نہیں؟ واضح ہو کہ بہشتی زیور میں ہے کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ولی نہیں بن سکتا ہے؟ لہٰذا برائے مہربانی اس صورت پر نظر فرما کر جواب سے مطلع فرمادیں۔
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. ولی اور وکیل میں فرق ہے نکاح میں وکیل کا کام صرف الفاظ کی تعبیر تک رہتا ہے اصل ایجاب وقبول زوجین کا ہوتا ہے۔ بیان کردہ صورت میں نکاح منعقد ہو گیا، قادیانی کی وکالت بیکار گئی۔ اگر لڑکی کی طرف سے اصالۃً یا وکالۃً یا دلالۃً کسی کا ایجاب نہ بھی تسلیم کیا جائے تب بھی اس نکاح پر لڑکی کا راضی ہونا اور اس کے لوازمات کو بجا لانا یہ اجازت فعلی ہے جو کہ شرعاً معتبر ہے۔ فقط واللہ اعلم حررہٗ، العبد محمود غفرلہٗ دارالعلوم دیوبند الجواب صحیح : بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۳ ص ۲۱۹۔۲۲۰)
قادیانی کی وکالت سے نکاح
سوال ...... ایک شخص اہل سنت والجماعت سے ہے، اس نے اپنی لڑکی کا نکاح بھی اہل سنت والجماعت میں کیا۔ لیکن اپنی لڑکی کے نکاح کا وکیل ایک قادیانی کو بنا دیا۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اس قادیانی کی وکالت بالنکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بصورتِ ثانی نکاح درست ہے یا نہیں؟
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. اگر لڑکی نابالغہ تھی اور مجلس عقد میں اس کا باپ موجود ہے، اس کی موجودگی میں قادیانی نے ایجاب وقبول کرایا تو عاقد باپ ہی کو قرار دیا جائے گا اور قادیانی کی وکالت بیکار ہے اور نکاح صحیح ہو گیا اور اگر لڑکی بالغہ تھی اور لڑکی کی رضا مندی سے عقد کرایا تو بھی نکاح ہو گیا۔ فقط واللہ اعلم۔ حررہٗ العبد محمود غفرلہٗ دارالعلوم دیوبند ۵/ ۱۱/ ۸۸ھ۔ الجواب صحیح بندہ نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۵/ ۱۱/ ۱۳۸۸ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۳ ص ۲۲۰)
مرزائی باپ نابالغہ کا ولی نہیں ہوسکتا
سوال ...... ایک کنواری لڑکی عاقلہ بالغہ کے جس کے (والدین اور دادا اور دیگر رشتہ دار موجود ہیں) اپنے دادا کو ولی بنا کر اپنا نکاح اپنی برادری کے ایک لڑکے سے احکام شرعی کے مطابق کر لیا ہے لڑکی کا باپ کچھ عرصہ سے مرزائی ہو گیا ہے وہ کہتا ہے کہ میں لڑکی کسی مرزائی کو دوں گا۔ قادیان والوں نے حکم دیا ہے کہ اگر لڑکا مرزائی مذہب اختیار کرے تب لڑکی دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں جو نکاح لڑکی کا دادا کی ولایت سے ہوا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... اس صورت میں اول تو لڑکی خود بالغہ عاقلہ ہے تو خود اس کی اجازت سے اس کا نکاح کفو میں صحیح ہے کسی ولی کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ وهو الولی شرط صحة نكاح صغير الخ لا مكلفة فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا رضى ولی. (شامی ج ۲ ص ۳۲۱۔۳۲۲ مکتبہ رشیدیہ) ثانیاً یہ کہ اگر ولی کے ذریعہ سے ہی نکاح اس کا کیا جائے جیسا کہ سنت ہے تو ولی اس کا اس صورت میں اس کا دادا ہے باپ بوجہ مرزائی ہو جانے کے ولی نہیں رہا ولایت اس کی باطل ہوگئی۔ (درمختار ج ۲ ص ۳۳۹ باب الولی) پس دادا نے جو نکاح اس بالغہ کا اس کی اجازت
سے کیا وہ صحیح ہو گیا باپ کو اس نکاح کو توڑنے کا اختیار اور دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار نہیں ہے اور مرزائی لڑکے سے نکاح صحیح نہیں ہو گا، الحاصل جو نکاح بولایت دادا ہو گیا وہ صحیح ہے، قادیان والوں کا حکم باطل ہے۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۱۲۵۔۱۲۶)
قادیانی سے بیع شرع اور مناکحت کا حکم
سوال ...... ایک شخص جو پہلے سے پختہ مسلمان تھا وہ اب قادیانی ہو گیا ہے اور اپنی بہن کو زبردستی کر کے قادیانی بنا لیا اور اپنی والدہ کو بھی قادیانی ہو جانے پر مجبور کر رہا ہے اور بیوی کو بھی قادیانی کر لیا ہے۔ صرف ایک چھوٹا بھائی قادیانی نہیں ہے۔ گذارش یہ ہے کہ قادیانی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا وہ مرتد ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں؟
اگر کوئی قادیانی ہو جانے کے بعد توبہ کر لے تو اس کا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ قادیانی کے ساتھ بیع و شرع اور کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. مرزا غلام احمد قادیانی نے عقائد کفریہ اختیار کیے جس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہو گیا جو شخص بھی اس کے کفریہ عقائد کی تصدیق کرے گا اس کا بھی حکم یہی ہوگا۔ اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے، بیوی نکاح سے خارج ہو جاتی ہے، ایسے شخص سے سلام و کلام بیع و شرع سب ختم کر دینا لازم ہے، اس کو مسجد میں آنے سے بھی روک دیا جائے ، اس سے وہ شخص بات کرے جو اس کے غلط عقائد کی تردید کر سکتا ہو۔ اگر وہ توبہ کر کے اسلام میں دوبارہ داخل ہو چکا ہے تو نکاح دوبارہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم، حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند الجواب صحیح: بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۸۸/۱/۱۹ھ (فتاویٰ محمودیہ ج ۱۲ ص ۷۸۔۷۹)
”دین دار انجمن“ اور ”میزان انجمن“ والے قادیانیوں کی بگڑی ہوئی جماعت ہیں
کافر و مرتد ہیں ان سے کسی مسلمان کا نکاح حرام ہے
سوال ...... اللہ کے فضل سے ہمارے گھرانے میں بڑے چھوٹے سب نماز کے پابند ہیں اور ہمارا گھرانہ مذہبی گھرانہ ہے ”میزان انجمن“ کراچی میں قائم ہے۔ اس انجمن کے بانی اور اراکین ”صدیق دین دار چن بسویشور“ کے ماننے والے پیروکار ہیں۔ یہ لوگ لمبی داڑھیاں۔ سر کے لمبے عورتوں جیسے بال رکھے ہوئے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد اور موجودہ مرزا طاہر احمد ”مامور من اللہ“ ہیں ان کے اپنے ایک آدمی شیخ محمد ہیں۔ شیخ محمد کو مظہر خدا مان کر ان کو نماز کی طرح سجدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیخ محمد پر الہام ہوتا ہے جو الہام ہوئے ہیں اب تک وہ ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کی تبلیغ کراچی کورنگی میں زور وشور سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کی جماعت کے اراکین میں ہر ایک کا مقام بلند ہے ایک صاحب جن کی عمر ۸۰ سال ہے ...... خود کو ”نرسیواوتار“ اور روح مختار محمدی کہتے ہیں۔ ایک بدیع الزمان قریشی ہیں جو نائب صدر ہیں خود کو خلیفۃ الارض کہتے ہیں کراچی کے اہل سنت سرمایہ دار چند ایسے ہیں جو ان کی صورت اور حلیہ سے متاثر ہو کر ماہانہ اشاعت اسلام کے نام پر چندہ معقول رقم بھی دیتے ہیں یہ پورا گروہ خود کو مبلغ اسلام کہتا ہے۔
ہمارے چند رشتہ داروں کو ان لوگوں نے اپنا ہم عقیدہ بنا لیا ہے۔ ہر جمعہ ہمارے رشتہ دار ماموں ممانی
ان کے بچے ہمارے گھر آتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ میزان انجمن کے رکن بن جاؤ۔ دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ ہندوؤں کا اوتار چن بسویشور مر گیا۔ اس کی روح صدیق دین دار میں آ گئی صدیق دین دار مرے نہیں اور وہ خدا کی اصلی صورت میں نہیں بلکہ اور روپ میں آئے تھے اب لطیف آباد سندھ میں جدید دنیا کا آدم اور خدا شیخ محمد ہے ان کی مذہبی انجمن میزان کے رکن بن جاؤ۔ شنکر کرشن، نرسیو، ہنومان، کالی دیوی، رام۔ یہ سب پیغمبر تھے اور شنکر کی قوت زبردست تھی رسول مقبول محمد رسول اللہ کو اپنی تمام طاقت شنکر نے دی تھی۔ محمد رسول اللہ میں شنکر کی روح منتقل ہو گئی۔ سورۃ اخلاص صدیق دین دار چن بسویشور نے خود نازل کی تھی اور انھوں نے تفسیر بھی لکھی ہے۔ آپ کو اللہ اور رسول کا واسطہ ہے جلدی جواب سے مطلع فرمائیے۔ ہماری ممانی کہتی ہیں ”میزان انجمن دنیا کے مسلمانوں کو حق کا راستہ بتانے کے لیے وجود میں آئی ہے پاکستان میں حق کی جماعت میزان انجمن ہی ہے اور صدیق دین دار چن بسویشور دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔“
آپ یہ بتائیں کہ قرآن کریم اور احادیث سے کیا یہ تمام باتیں درست ہیں؟ ہندو اوتاروں کی یا مسلمان پیغمبروں کی روح کا ایک دوسرے میں یا جس میں چاہے منتقل ہونا صحیح ہے؟
صدیق دین دار چن بسویشور کی اصلیت و حقیقت کیا ہے کیا تھی؟ ضروری بات یہ ہے کہ یہ جماعت نماز بھی پڑھتی ہے اور نام مسلمانوں ہندوؤں کے ملے ہوئے رکھے ہیں جیسے سید سراج الدین نرسیو اوتار یا صدیق دین دار چن بسویشور ان کے نام ہیں امید ہے کہ ہمارے لیے زحمت کریں گے ہمارے گھر والے ماموں، ممانی ان کے بچوں کے ہر جمعہ آ کر تبلیغ کرنے سے حیران ہیں کیا ہم ان کی باتوں کو مانیں یا نہ مانیں گھر میں آنے سے منع کر دیں؟ اپنے بیٹوں کے لیے رشتہ مانگتے ہیں کیا ہم اپنی بہنوں کو جو کنواری ہیں اپنے صدیق دین دار چن بسویشور کے پیرو ماموں کے بیٹوں کو دے سکتے ہیں شرعی حیثیت سے جوابات عنایت فرما کر ہمارے ایمان کو محفوظ رکھنے میں معاون بنیں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے والدہ سنی ہیں ہم سب سنی ہیں اور بڑے چھوٹے سب مذہبی ہیں۔ مذہبی گھرانا ہے۔
جواب...... ”میزان انجمن“ قادیانیوں کی بگڑی ہوئی جماعت ہے۔ یہ لوگ مرزا قادیانی کو ”مسیح موعود“ مانتے ہیں۔ حیدر آباد دکن میں مرزا قادیانی کا ایک مرید بابو صدیق تھا اس کو مامور من اللہ، نبی، رسول، یوسف موعود اور ہندوؤں کا چن بسویشور اوتار مانتے ہیں۔ بابو صدیق کے بعد شیخ محمد کو مظہر خدا، اور تمام رسولوں کا اوتار مانتے ہیں، اس لیے ”دین دار انجمن“ اور ”میزان انجمن“ کے تمام افراد مرزائیوں کے دوسرے فرقوں کی طرح کافر و مرتد ہیں۔ یہ لوگ قادیانی عقائد کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے تناسخ کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں، اس انجمن کے افراد کو ان کے عقائد جاننے کے باوجود مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ کسی مسلمان لڑکی کا ”میزان انجمن“ کے کسی مرتد سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ اگر لڑکی ایسے مرتد کے حوالے کر دی گئی تو ساری عمر زنا اور بدکاری کا وبال ہو گا۔ اس انجمن کو چندہ دینا اور ان سے سماجی و معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔ الغرض یہ مرتدوں کا ایک ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے حالانکہ ان کے عقائد خالص کفریہ ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۳ تا ۲۲۵)
باب دوم
قادیانی سے فسخ نکاح کے احکام
شادی کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو مرتد بنانے کا حال
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
- ۱...... ایک بالغ نوجوان اپنی مرضی اور خوشی سے ایک نوجوان قادیانی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ بقول نوجوان کے، لڑکی خفیہ طور پر مسلمان ہونے کا وعدہ کر رہی ہے اس انداز میں کہ لڑکی کے والدین اور خاندان والے اس کے مسلمان ہونے سے آگاہ نہ ہوں۔
- ۲......لڑکی کے ماں باپ نوجوان سے اپنے احمدی طریقہ کار سے نکاح کرنا چاہتے ہیں بعد میں اسلامی اور شریعت محمدی ﷺ کے مطابق بھی نکاح کرنے پر تیار ہیں۔ (احمدی حضرات کے نکاح نامہ کی فوٹوسٹیٹ برائے ملاحظہ منسلک ہے)۔
- ۳......مسلم نوجوان کا بھی اصرار ہے کہ لڑکی کے ماں باپ احمدی طریقہ سے نکاح کرتے رہیں، ہم بعد میں اسلامی طریقہ سے نکاح کر لیں گے۔
- ۴...... ہر دو صورتوں میں کیا دونوں یا ایک، کون سا طریق کار شرعی حیثیت رکھتا ہے؟ اور کیا دونوں طریقوں پر نکاح جائز ہے؟ یا کون سا نکاح اول ہو اور کون سا بعد میں؟ کیا یہ طریقہ کار شریعت میں جائز ہے؟
قادیانیوں کے نکاح نامہ کے مرسلہ فوٹوسٹیٹ سے ظاہر ہے کہ قادیانی طریقہ کار میں لڑکے کی طرف سے اس کے باپ کی شرکت لازمی ہے اور دو گواہ بھی ضروری ہیں کیا لڑکے کے باپ اور گواہان نیز لڑکے کے بھائی بہن والدہ اور دیگر عزیز و اقارب کی قادیانی طریقہ پر نکاح میں شرکت سے شرکت کرنے والوں کی دینی، ایمانی اور اسلامی حیثیت برقرار رہے گی؟ نیز آئندہ زندگی کا لائحہ عمل کیسے طے کیا جائے؟ نکاح کے لیے آمادہ نوجوان اور ماں باپ کے ساتھ آئندہ تعلقات کی شرعی نوعیت کیا ہوگی؟ باقی اولاد اور افراد خاندان کی بقیہ زندگی میں مذکورہ لوگوں سے بھی کاروباری اور معاشرتی زندگی کے تعلقات کس بنیاد پر استوار ہوں گے؟
تمام متعلقہ امور پر سیر حاصل شرعی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ کیا متعدد نوجوانوں اور دیگر افراد خانہ کو ”قادیانی چنگل“ میں جانے سے بچانے کے لیے کوئی ”حیلہ“ کی شکل ہو سکتی ہے؟
جواب ...... سوالنامہ کے نمبر ۲ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ”لڑکی کے ماں باپ نوجوان لڑکے سے اپنے احمدی طریقہ پر نکاح کرنا چاہتے ہیں۔“ اور نمبر ۳ میں لکھا گیا ہے کہ مسلم نوجوان بھی احمدی طریقہ پر تیار ہے اور یہ کہ بعد میں اسلامی طریقہ پر نکاح کرلیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ”احمدی طریقہ نکاح“ کیا ہے؟ آپ نے قادیانیوں کے نکاح کا فارم جو ساتھ بھیجا
ہے، اس میں آٹھویں نمبر پر ”تصدیق امیر یا پریذیڈنٹ“ کے عنوان کے تحت یہ عبارت درج ہے: مسمی....... (یہاں دولہا کا نام ہے)....... پیدائشی احمدی ہے یا....... فلاں تاریخ سال سے احمدی ہے۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی جب کسی کو اپنی لڑکی دیتے ہیں تو پہلے لڑکے سے اس کے قادیانی ہونے کا اقرار کرواتے ہیں۔ اور ان کا امیر یا پریذیڈنٹ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ لڑکا پیدائشی قادیانی ہے یا فلاں وقت سے قادیانی چلا آتا ہے۔ گویا کسی لڑکے کو قادیانیوں کا لڑکی دینا اس شرط پر ہے کہ لڑکا پیدائشی قادیانی ہو، یا فلاں وقت سے قادیانی چلا آتا ہو، اور قادیانیوں کے ذمہ دار افراد اس کے قادیانی ہونے کی باقاعدہ تصدیق کریں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قادیانیوں کا کسی مسلمان لڑکے کو لڑکی دینا دراصل اس کو قادیانی بنانے کی ایک چال ہے۔ یہ مسلم نوجوان جب قادیانیوں کا فارم پر کر کے ان کے طریقہ پر نکاح کرے گا تو آپ ہی بتائیے کہ اس کا ایمان کہاں رہا؟
علاوہ ازیں چونکہ قادیانیوں کی تبلیغ پر پابندی ہے۔ اس لیے قادیانیوں نے ایک خفیہ اسکیم چلائی ہے کہ مسلم نوجوانوں کو لڑکیوں کے جال میں پھنسا کر قادیانی بناؤ، اس لیے قادیانیوں کی لڑکی جب تک اعلانیہ مسلمان ہو کر اپنے قادیانی والدین اور عزیز و اقارب سے قطع تعلق نہیں کر لیتی کسی مسلم نوجوان کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ اور لڑکے کو، لڑکے کے والدین کو اور دیگر عزیز و اقارب کو ایسے نکاح میں شرکت کرنا جائز نہیں جس کی وجہ سے ایمان ضائع ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو۔
اور قادیانی لڑکی کا یہ وعدہ کرنا کہ وہ نکاح کے بعد یا نکاح سے پہلے خفیہ طور پر مسلمان ہو جائے گی، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خفیہ طور پر مسلمان ہو جانے کا وعدہ کرنے کے باوجود ظاہری طور پر قادیانی ہی رہے گی۔ یہ بھی قادیانیوں کی ایک گہری چال اور سوچی سمجھی سازش ہے۔ جس کے ذریعہ وہ بھولے بھالے نوجوانوں کا شکار کرتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ نکاح کے بعد لڑکے کو بتدریجاً قادیانی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر وہ قادیانی بن جائے (جیسا کہ اکثر یہی ہوتا ہے) تو قادیانیوں کی مراد حاصل ہوئی اور اگر لڑکا قادیانی نہ بنے تو قادیانیوں کی طرف سے اس کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس میں یہ لڑکی ان کی پوری پوری مدد کرتی ہے اور لڑکے کو ایسے مخمصہ میں پھنسا دیا جاتا ہے جس سے وہ ساری عمر نہ نکل سکے۔ میرے سامنے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے کسی مسلمان نوجوان کو قادیانی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنا ایمان ضائع نہیں کرنا چاہیے اور لڑکی کے اس عیارانہ وعدہ پر کہ ”وہ خفیہ طور پر مسلمان ہو جائے گی“ قطعاً اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۲۰۳ تا ۲۰۶)
خاوند مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح جاتا رہا
سوال...... ایک مولوی صاحب نے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اپنے ایک رشتہ دار سے کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد زوج مرزائی ہو گیا۔ منکوحہ نے بلوغت کے بعد عدالت میں فسخ نکاح کے لیے دعویٰ دائر کر دیا۔ آیا اس کا نکاح فسخ ہو گیا۔ یا نہیں؟
جواب...... ان (مرزائی) عقائد کی وجہ سے زید کافر اور مرتد ہو گیا اور نکاح اس کا مسماۃ ہندہ سے فسخ ہو گیا۔ خاوند کے مرتد ہو جانے سے فوراً بلا قضاء قاضی فسخ ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ درمختار میں باب نکاح الکافر میں ہے: ”و ارتداد احدھما فسخ عاجل بلا قضاء (قولہ بلا قضاء) ای بلا توقف علی قضاء القاضی و کذا بلا
توقف على مضى عدة فى المدخول بها.“
(شامی ص ۴۲۵ ج ۲/ امداد المفتین ج ۲ ص ۶۳۸، ۶۳۹)
مرزائی کا دھوکہ دے کر سنی عورت سے نکاح کرنا
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مرزائی شخص نے اپنے کو سنی المذہب ہونے کا یقین دلا کر نکاح کیا۔ لڑکی اگرچہ نکاح سے مطلقاً متنفر تھی۔ لیکن اس کے والد نے نکاح اس سے کر دیا۔ تین ماہ خاوند کے گھر رہی۔ ہمبستری بھی ہوئی۔ حمل ٹھہر گیا۔ بعدش بعض شرائط نکاح کے پورا نہ کرنے پر و نیز اچھا سلوک نہ کرنے پر لڑکی اپنے والدین کے گھر آئی۔ وہ شخص کہ جب تک لڑکی اس کے گھر میں تھی اسے سنیوں کے مترجم قرآن پڑھنے سے منع کرتا تھا۔ منکوحہ کو بایں وجہ بھی زید سے نفرت ہے اور تھی۔ اور کہتی ہے کہ خنزیر کے یہاں میں جانا نہیں چاہتی ہوں۔ پس اندریں صورت کیا حکم ہے کہ آیا اس کا نکاح زید سے فسخ ہو گیا یا شرعاً کیا صورت ہے اور نیز زید لاہور میں ہے اور اس کی منکوحہ اور اس کے والد ملتان میں اور وضع حمل ملتان میں ہوا۔ اس نے اس مدت میں اپنی بیوی کی خیر خبر بھی نہیں لی؟
جواب ...... مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری جمہور علماء کے نزدیک کافر و مرتد ہیں۔ ہندوستان اور بیرون ہند میں جن علماء حضرات کو ان کے مذہب پر اطلاع ہوئی ۔ سب نے باجماع ان کی تکفیر کی ہے اور مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے کسی طرح حلال نہیں: ”لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا“ اسی لیے عورت کا نکاح مرزائی سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اب دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ قانونی گرفت سے بچنے کے لیے حکام وقت سے اجازت لے لی جائے۔ فقط والله سبحانہ و تعالیٰ اعلم!
(امداد المفتین ج ۲ ص ۵۸، ۵۹)
اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمان لڑکی سے قادیانی کا نکاح کرنا
سوال ...... ایک شخص جس کی تحریر موجود ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں اور نہ میرا لڑکا احمدی ہے۔ نکاح میرے لڑکے سے کر دو۔ جب نکاح ہو چکا تو معلوم ہوا کہ اب تک احمدی ہے اور لڑکا بھی احمدی ہے اور ہماری لڑکی کو بھی احمدی کرنا چاہتے ہیں۔ آیا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ جب نکاح ہوا لڑکی نابالغ تھی۔ اب بالغ ہے؟
جواب ...... جمہور علماء جو مرزا قادیانی کے عقائد پر مطلع ہوئے سب کے نزدیک وہ کافر مرتد ہے اور اسی طرح وہ لوگ جو اس کو باوجود ان عقائد کے معلوم ہونے کے مسلمان سمجھے خواہ نبی کہے یا مسیح یا جو کچھ بھی کہے بہر حال کافر و مرتد ہے۔ اس کی تحقیق کی ضرورت ہو تو مطبوعہ رسالہ ”فتاویٰ تکفیر قادیان“ جس میں سینکڑوں علماء ہندوستان کے دستخط ہیں منگوا کر ملاحظہ فرمائیے اور مرتد کا نکاح کسی طرح صحیح نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر بعد نکاح مرتد ہو جائے تو فسخ ہو جاتا ہے: ”قال فى الدر المختار و يبطل منه اتفاقاً ما يعتمد الملة وهى خمس النكاح والشهادة.......“
(حاشیہ شامی من باب المرتد ص ۳۳۰ ج ۳)
اس لیے اس لڑکی کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔ دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست ہے۔ اس کے علاوہ صورت مذکورہ میں تو اگر قادیانی کو مرتد کافر بھی نہ مانا جائے تب بھی لڑکی اور اس کے اولیاء کو فسخ نکاح کا اختیار ہے کیونکہ خاوند وغیرہ نے بوقت نکاح ان کو دھوکہ دیا ہے: ”قال الشامى لو تزوجه على انه حرا وسنی او قادر على المهر والنفقة فبان بخلافه الى قوله لها الخيار ثم قال بعد اسطر لو زوج بنته الصغيرة من ينكر انه يشرب المسكر فاذا هو مدون له وقالت بعد ما كبرت لا ارضى بالنكاح ان لم يكن يعرفه
الا بشرطه و كان غلبة اهل بيته صالحين فالنكاح باطل.“ (شامی باب الکفاءۃ ص۳۶۲ ج۲ مصری) عبارات مذکورہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر بالفرض قادیانی کو کافر نہ مانیں تب بھی صورت مذکورہ میں لڑکی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ بذریعہ حاکم مسلم اپنا یہ نکاح فسخ کرا لے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم! (امداد المفتین ص ۵۰۷، ۵۰۸)
شوہر مرزائی ہو گیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا نہیں
سوال...... زید کا نکاح زینب سے ہوا بعد نکاح زید عقائد مرزائیہ کا پیرو ہو گیا اور بجز مرزائیوں کے سب مسلمانوں کو کافر کہتا ہے، یا زید پہلے ہی سے عقائد مرزائیہ کا تھا مگر زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے باعث اپنے اس عقیدہ کو پوشیدہ رکھتا تھا بعد نکاح ظاہر کیا، دونوں صورتوں میں زید کا نکاح زینب سے رہ سکتا ہے یا نہیں اور زینب بلا طلاق نکاح ثانی کر سکتی ہے یا نہ۔
الجواب...... ہر دو صورت مذکورہ میں زینب کا نکاح زید سے فسخ ہو گیا اور زینب اگر مدخولہ ہے تو بعد عدت گزارنے کے دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے اور اگر مدخولہ وغیرہ نہیں ہے تو بلا عدت گزارنے کے دوسرا نکاح کر سکتی ہے کما فی الدر المختار و ارتداد احدهما فسخ عاجل بلا قضاء وفى رد المحتار قوله و عليه نفقة العدة ای لو مدخولا بها اذ غيرها لاعدة عليها و افاد وجوب العدة سواء ارتد او ارتدت (شامی ج ثانی ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر مکتبہ رشیدیہ) فقط۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۳۴۳)
نکاح کے بعد شوہر قادیانی ہو جائے تو کیا حکم ہے
سوال...... میرے باپ نے اپنی چھوٹی لڑکی یعنی میری چھوٹی ہمشیرہ کا ایجاب و قبول جبار خاں سے کر دیا تھا مگر رسومات شادی ابھی تک انجام نہیں دی تھی کہ جبار خاں احمدی ہو گیا، تو نکاح قائم رہا یا نہیں۔
الجواب...... جو شخص احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہے یعنی قادیانی ہو جاتا ہے اور قادیانی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ مرتد و کافر ہو جاتا ہے اور نکاح اس کا مسلمہ عورت سے باقی نہیں رہتا، لہٰذا سائل اپنی ہمشیرہ کو جبار خاں احمدی کے پاس نہ بھیجیں اور اس کو جبار خاں کی منکوحہ نہ سمجھیں، اور رخصت نہ کریں دوسری جگہ نکاح کر دیں۔ فقط
(درمختار ج ۲ ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر مکتبہ رشیدیہ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۳۲۱)
عورت مرزائی ہو جائے تو نکاح فسخ ہو گا یا نہیں
سوال...... ایک عورت منکوحہ حنفیہ مرزائی عقیدہ پر ہو گئی، تو اس کا نکاح جو مرد حنفی سے ہوا تھا وہ فسخ ہو گیا یا نہیں زوجہ اور اس کے ورثاء نے شوہر سے طلاق لینے کی بھی تدبیر کی تھی۔
الجواب...... اس صورت میں جس وقت وہ عورت مرزائی عقیدہ پر ہو گئی اسی وقت نکاح اس کا فسخ ہو گیا دوبارہ طلاق لینے کی ضرورت نہ تھی، کما فی الدر المختار و ارتداد احدهما فسخ عاجل. (درمختار ج ۲ ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر مکتبہ رشیدیہ) (قادیانی کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے اکفار الملحدین) ظفیر
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۳۲۳)
سنی لڑکی کا نکاح قادیانی سے درست نہیں شوہر اگر بعد نکاح قادیانی ہو گیا تو نکاح باطل ہو گیا
سوال...... زید حنفی نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح عمر سے کیا۔ اگر عمر بوقت نکاح قادیانی تھا تو نکاح صحیح ہوا یا نہیں
اور اگر بوقت نکاح حنفی تھا بعد کو قادیانی ہو گیا تو نکاح قائم رہا یا نہیں اور ہندہ حنفیہ کسی دوسرے حنفی سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب ...... شوہر کے قادیانی ہونے کی صورت میں ہندہ سنیہ حنفیہ کا نکاح اس کے ساتھ صحیح نہیں ہوا۔ (فتاوی شامی ج ۲ ص ۴۱۳ مکتبہ رشیدیہ) اور اگر شوہر بعد نکاح کے قادیانی ہو گیا تو نکاح باطل ہو گیا۔ لان ارتداد احد الزوجين موجب لفسخ النکاح. (فتاویٰ شامی ج ۲ ص ۴۲۵ مکتبہ رشیدیہ) پس اس صورت میں بعد عدت کے ہندہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۳۵۵)
شوہر کے قادیانی ہونے سے فسخ نکاح
سوال ...... زید کہتا ہے کہ میری لڑکی کی عمر پانچ سال کی تھی اور جب اس کی شادی کی تو لڑکے کی عمر بھی پانچ سال کی تھی، چونکہ اب دونوں بالغ ہو گئے ہیں جن کی عمر تقریباً اٹھارہ اٹھارہ سال ہے۔ میں نے ہر چند لڑکے والے کو کہا کہ لڑکی بالغ ہے لہٰذا اپنے گھر لے جاؤ مگر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے چونکہ میں بالغ لڑکی کو گھر رکھنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا ہم نے چند لوگوں میں بھی پنچایت کر کے ان کو کہا کہ لڑکی لے جاؤ، مگر وہ انکار کر گئے۔ لڑکے والوں کا خاندان مع لڑکے کے مرزائی ہو گئے ہیں۔ چونکہ لڑکی بالغ ہے، لڑکی کہتی ہے کہ میں مرزائی خاوند کے گھر نہیں جاؤں گی۔ نہ لڑکی نے لڑکا دیکھا اور نہ لڑکے نے لڑکی دیکھی۔ اب لڑکی کہتی ہے کہ شریعت کے حکم کے مطابق میرا کوئی نہ کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دوسری جگہ لڑکی کا رشتہ ہونے پر مرزائی خاوند سے طلاق لینے کی ضرورت ہے، یا نہیں لڑکی کا نکاح دوسری جگہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. مرزا غلام احمد قادیانی نصوص قطعیہ کے انکار اور خلاف شرع عقائد کی وجہ سے کافر اور مرتد ہے اور جو شخص اس کے عقائد کو اختیار کرے وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ طلاق کی ضرورت نہیں رہتی اور بغیر خلوت صحیحہ کے جب شوہر کا ارتداد وغیرہ کی وجہ سے نکاح فسخ ہو جائے تو عدت واجب نہیں ہوتی اور صورت مسئولہ میں چونکہ مرتد ہوا ہے۔ لہٰذا نصف مہر ہی واجب ہوگا۔ ثم ان کان الزوج هو المرتد فلها کل المهر ان دخل بها و نصفها ان لم يدخل بها (فتاویٰ عالمگیری ج ۱ ص ۳۳۹) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم.
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور ۶۲/۶/۲۲ھ الجواب صحیح: سعید احمد غفر لہ مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور ۱۳۶۲/۶/۲۲ھ صحیح: عبد اللطیف مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور ۶۲/۶/۲۲ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۳ ص ۳۱۷ - ۳۱۸)
قادیانی سے جس عورت نے نکاح کیا وہ بغیر طلاق دوسرے مسلمان سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں
سوال ...... مسماۃ ہندہ زید مرزائی کے نکاح میں عرصہ سے ہے مگر ہندہ زید کے گھر سے دو سال سے چلی گئی ہے۔ اب ایک مسلمان اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ کیا مرزائی سے طلاق لینے کی ضرورت ہے۔
الجواب ...... مرزائی چونکہ کافر ہے اس لیے ہندہ کا نکاح اس سے منعقد نہ ہوا تھا۔ لہٰذا مرزائی کی طلاق کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندہ کو دوسرے مسلمان سے نکاح کرنا درست ہے۔ فقط
(فتاویٰ شامی ج۲ ص۳۱۳ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ باب المحرمات) (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج۷ ص۲۷۳)
احدالزوجین کے ارتداد سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے
سوال....... اگر وہ لڑکی جس نے مذہب قادیانی اختیار کر کے اپنا نکاح کسی احمدی سے کر لیا ہے اگر پھر مسلمان کر لی جائے تو اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا یا نہیں۔
الجواب....... اس صورت میں اس کا نکاح قادیانی شخص سے ٹوٹ جائے گا کیونکہ قادیانی مرتد ہیں اور احد الزوجین کا ارتداد نکاح کے منافی ہے۔ (درمختار ج۲ ص۴۲۷ باب نکاح الکافر) میں ہے وفسد ان اسلم احدهما قبل الآخر. بحر الرائق میں ہے۔ لان ردة احدهما منافية للنكاح ابتداء فكذا بقاءً لوانی وقال به يعلم حكم البينونة باسلام احدهما فقط بالاولی. (فی الدرالمختار ج۲ ص۴۲۷) (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج۱۲ ص۴۰۴)
ارتداد سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے
ایضاً سوال....... میری لڑکی شادی شدہ ہے حاملہ ہے مگر بدقسمتی سے میرے داماد اور اس کے سب گھر والے قادیانی ہو گئے ہیں تو اب شرعاً لڑکی کا نکاح باقی ہے یا فسخ ہو گیا۔ اب ہماری لڑکی کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب....... حامداً و مصلیاً : مرزا غلام احمد قادیانی پر علماء اسلام کی طرف سے کفر کا فتویٰ ہے۔ اس لیے کہ اس کے عقائد قرآن و حدیث کے خلاف تھے۔ وہ ختم نبوت کا منکر تھا۔ اس لیے انبیاء علیہم السلام کی شان میں سخت قسم کی گستاخیاں کی ہیں وہ اپنے لیے نبوت کا مدعی تھا۔ اس کے عقائد کو تفصیل سے لکھ کر اس پر کفر کا فتویٰ دیا گیا ہے کہ ایسا شخص مرتد اور اسلام سے خارج ہے۔ جو شخص اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کو اپنا مقتدیٰ تسلیم کرتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ قادیانی مذہب اختیار کرتے ہی نکاح فسخ ہو گیا۔ ہرگز ہرگز اس کے یہاں اپنی لڑکی کو نہ بھیجیں تین حیض گزرنے پر اس کی شادی دوسری جگہ کر دیں۔ ارتداد احدهما فسخ فی الحال (کنز) قال فی الجامع الصغير و تعتد بثلاث حیض ۔ (ص۲۱۵ ج۳) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود غفرلہ دارالعلوم دیوبند ۸۸/۱/۲۸ھ (فتاویٰ محمودیہ ج۱۲ ص۷۹-۸۰)
قادیانی ہو جانے پر نکاح کا حکم
مسئلہ....... از ریاست بھاول پور محلہ موری دروازہ، مرسلہ مولوی محمد صادق صاحب معلم جامعہ عباسیہ، ۱۷ رجب المرجب ۱۳۵۰ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلاً زید نے ہندہ سے نکاح کیا، کچھ عرصہ بعد قبل زفاف زید مرزائی ہو گیا، ہندہ نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا۔ زید نے عدالت میں بیان کیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور مسیح موعود مانتا ہوں، میں مرزا قادیانی کو اس معنی میں نبی مانتا ہوں، جس معنی میں قرآن عظیم نے نبوت کو پیش کیا ہے، مرزا قادیانی دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرح نبی تھے، ان پر دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرح نزول جبرئیل ؑ ہوتا تھا، آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم نہ ہوئی بلکہ حضور ﷺ کے بعد بھی نبی ہو سکتے ہیں، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ (۱)....... کیا شرعاً زید ایسا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے مسلمان رہ جاتا ہے یا مرتد ہو گیا ہے؟
- (۲)....... کیا شرعاً زید کا نکاح ہندہ سے باقی یا بوجہ ارتداد فسخ ہو گیا ہے؟
الجواب ...... جو شخص حضور اقدس سرور عالم ﷺ کے بعد کسی جدید نبی کا قائل ہو، بلکہ اگر کسی کو نبوت ملنا جائز جانے وہ قطعاً کافر مرتد ہے، اس کے کفر میں ہرگز شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ قرآن مجید نے ثابت کر دیا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ حدیث میں موجود ہے۔ لانبی بعدی (مشکوۃ ص ۵۶۳) کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور فرمایا: لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (مشکوۃ ص ۵۵۸) جب صحابہ میں کوئی نبی نہ ہوا، خلفائے راشدین میں سے کسی کو نبوت نہ ملی، تو اب کون نبی ہو سکتا ہے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔ سمعت بعضہم یقول اذا لم یعرف الرجل ان محمدا ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم. (ج ۲ ص ۲۶۳) یہاں تک اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا دوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا اگر مقصود تعجیز نہ ہو یہ بھی کافر ہو جائے گا۔ عالمگیری میں ہے۔ ولوانہ حین قال ہذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب. (ج ۲ ص ۲۶۳) (۲)...... زید چونکہ مرتد ہو گیا، لہٰذا اس کا نکاح باطل ہو گیا، ہندہ پر اب اس کو کوئی حق نہیں۔ درمختار میں ہے۔ ویبطل منہ النکاح (ج ۲ ص ۴۳۰) واللہ تعالیٰ اعلم.
(فتاویٰ امجدیہ ج ۲ ص ۸۳۔۸۴)
مرزائی سے نکاح
سوال ...... ایک لڑکی ...... کا نکاح ایک لڑکے ...... کے ساتھ منعقد کرنے کی تاریخ مقرر ہوئی۔ برات آنے کے وقت لڑکی کے والدین کو شبہ پڑ گیا کہ یہ لڑکا مرزائی ہے اس لیے انھوں نے نکاح سے انکار کیا۔ لڑکے نے ان سے کہا کہ اگرچہ میری ماں اور ماموں وغیرہ مرزائی ہیں، لیکن میں مرزائی نہیں ہوں، چنانچہ اس کے ساتھ نکاح کر دیا گیا اور لڑکی رخصت کر دی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد لڑکی کو معلوم ہوا کہ اس کا خاوند مرزائی ہے اور رفتہ رفتہ بالکل ظاہر ہوگیا کہ وہ پہلے ہی سے مرزائی تھا۔ لڑکی اور اس کے والدین مرزائیوں کو کافر و مرتد سمجھتے ہیں اور خود صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ یہ نکاح فسخ ہو جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے لڑکی کی طرف سے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ لڑکا اب بھی مرزائی ہونے کا خود اقرار و اظہار کر چکا ہے، تو اس صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں بتا دیا جائے کہ آیا شرعاً یہ نکاح باقی رہ سکتا ہے؟ (سائل)
الجواب ...... مرزا غلام احمد قادیانی دوسرے عقائد باطلہ اور خصوصاً دعویٰ نبوت کی بنا پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق کافر و مرتد ہے اور اس کے معتقدین و مریدین اور اس کو جس معنی میں بھی ہو نبی یا مجدد، بلکہ مسلم تسلیم کرنے والے قادیانی اور لاہوری مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہیں۔ مرزائیوں کا کفر و ارتداد قطعی دلائل و براہین کی بنا پر ثابت ہے اور اس پر جمہور علمائے اسلام کا اجماع و اتفاق ہے۔ گذشتہ پچاس برس میں پاکستان و ہند اور اسلامی دنیا کے ہر مسلک و مکتب خیال کے علماء کرام نے بالاتفاق ان کو خارج از اسلام قرار دیا ہے، لہٰذا کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی مرزائی کے ساتھ شریعت محمدی کی رو سے نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ لڑکا ...... بوقت نکاح مرزائی تھا اور قادیانیت کے عقائد خبیثہ کا معتقد تھا تو اس کا نکاح اس وقت ہی اس کے ساتھ منعقد نہ ہوا۔ لڑکی بالکل آزاد ہے اور اگر جیسا اس نے بیان کیا، وہ اس وقت مرزائی نہ تھا۔ اب اس کے بعد مرزائی بنا ہے، تو جس وقت اس کا عقیدہ خراب ہوا اور قادیانی بنا بس اسی وقت ارتداد کی بنا پر وہ نکاح فسخ ہوگیا ہے ...... عدالت کو شرعاً اس کے سوا اور کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس نکاح کو فسخ قرار دے۔
”قرارداد مقاصد“ کی رو سے مملکت پاکستان کی جو حیثیت متعین ہو گئی ہے اس کی بنا پر اب گویا سرکاری
طور سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ مرزائی کافر و مرتد ہیں اور مسلمان عورت کا نکاح مرزائی مرد کے ساتھ منعقد نہیں ہو سکتا اور ہوا ہو تو مرزائی ہو جانے کے بعد وہ فسخ ہوگا۔ مفتی سید سیاح الدین کاکاخیل
(فتاویٰ تفہیم الاحکام ج ۱ ص ۱۵۰ تا ۱۵۲)
(فائدہ)...... یہ فتویٰ ۱۹۵۰ء میں دیا گیا تھا۔ ستمبر ۱۹۷۴ء میں پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء میں بالاتفاق ترمیم کر کے پاکستان نیشنل اسمبلی نے بالاتفاق مرزائیوں کو (قادیانی اور لاہوری دونوں کو) غیر مسلم قرار دیا اور پھر ۱۹۸۴ء میں اس دستوری بنیاد پر کہ مرزائی غیر مسلم ہیں، قادیانیوں اور لاہوریوں کے خلاف قانون سازی کی گئی کہ نہ وہ اذان دے سکتے ہیں نہ کسی عمارت کو مسجد کا نام دے سکتے ہیں، لہٰذا اب قانونی طور پر بھی مرزائی لڑکے یا لڑکی سے نکاح منعقد نہیں ہو سکتا اور عدالتوں کو یہی فیصلہ دینا پڑے گا۔
چار بچوں کے بعد معلوم ہوا شوہر قادیانی ہے کیا کرے؟
سوال...... (الجمعیۃ مورخہ ۱۶ جولائی ۱۹۳۱ء) ایک عورت کا عقد ایک شخص کے ساتھ ہوا جس کو عرصہ نو سال کا ہوا اور چار لڑکیاں بھی ہوئیں۔ اب معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے اور لڑکیوں کو قادیان میں دینا چاہتا ہے۔ عورت علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔
جواب...... ہاں اس صورت میں عورت کو حق ہے کہ وہ اپنا نکاح فسخ کرالے کیونکہ قادیانی فرقہ جمہور علمائے اسلام کے فتوے کے بموجب اسلام سے خارج ہے۔ محمد کفایت اللہ غفرلہٗ ۔
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۲۳)
قادیانیوں کو لڑکی دینا ناجائز ہے
سوال...... زید فرقہ قادیان سے اور بکر حنفی ہے۔ زید کا لڑکا ہے اور بکر کی لڑکی ہے ان کا نکاح باہم شرعاً جائز اور درست ہے یا ناجائز ہے اور نکاح کرنے میں کوئی نقصان عائد ہوگا یا نہیں؟
جواب...... قادیانیوں کو اپنی لڑکی دینا یا ان کی لڑکی خود کرنا جائز نہیں۔
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۱۹۹)
کسی قادیانی کا اپنا مذہب چھپا کر مسلمان لڑکی سے نکاح کرنا
سوال...... زید نے اپنی لڑکی مسماۃ ہندہ جو سنی المذہب ہے کا عقد خالد (جس نے بوقت عقد نیز اس سے چند روز پیشتر مسماۃ ہندہ کے والد زید کے اس شبہ کو کہ خالد قادیانی مذہب رکھتا ہے بایں عبارت میں حنفی المذہب اہل سنت والجماعت ہوں۔ اگر میرے خسر مجھ کو اس کے برعکس دیکھیں تو وہ اپنی لڑکی کو علیحدہ کراسکتے ہیں۔ تحریراً وتقریراً زائل کر دیا تھا) سے کر دیا۔ اب دو ماہ کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں تو قادیانی ہوں اور بوقت عقد بھی قادیانی تھا۔ اگرچہ مصلحۃً میں نے اپنے قادیانی ہونے کو چھپا لیا تھا۔ (الف)...... یہ عقد ہندہ کا خالد سے درست ہوا یا نہیں۔ (ب)...... اگر جائز و درست ہوا تو اب اس کے اس اقرار سے کہ میں قادیانی ہوں نکاح فسخ ہوا یا نہیں۔ (ج)...... اگر فسخ ہوا تو محض اس کے اس اقرار پر خود بخود یا کسی دیگر شخص سے فسخ کرایا جائے گا یا نہیں۔ (د)...... کیا اس کی اس تحریر سے کہ جو مذکور الصدر ہے کہ اگر میرے خسر مجھ کو اس کے برعکس دیکھیں تو اپنی لڑکی کو علیحدہ کراسکتے ہیں۔ طلاق واقع ہوئی یا نہیں جبکہ وہ اس وقت برعکس ہے۔
(ز)...... اگر طلاق ہوگئی یا نکاح خود بخود فسخ ہوگیا یا دوسرے سے فسخ کرایا گیا تو اب ہندہ کا نکاح دوسرے شخص سے کر سکتے ہیں یا زید سے طلاق لینے کی ضرورت ہوگی۔ المستفتی نمبر ۲۷۰ حافظ احمد سعید (حیدر آباد دکن) ۲۳ رمضان ۱۳۵۶ھ م ۲۸ نومبر ۱۹۳۷ء۔
جواب....... (الف)...... یہ عقد درست نہیں ہوا۔ (ج)...... قانونی مواخذہ سے بچنے کے لیے بذریعہ حاکم فسخ کرا لیا جائے۔ ورنہ شرعاً فسخ کرانے کی ضرورت نہیں۔ (د)...... یہ تحریر تو وقوع طلاق کے لیے کافی نہیں ہے۔ (ز)...... دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے لیے صرف قانونی طور پر اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۶ ص ۱۱۱-۱۱۲)
قادیانی سے مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے تفریق لازم، شرکت کرنے والے گنہگار ہیں
سوال...... ایک شخص مسلمان اہل سنت والجماعت نے اپنی لڑکی مسلمان اہل سنت کا عقد ایک مرزائی قادیانی کے مرزائی لڑکے کے ساتھ دیدہ و دانستہ باوجود منع کرنے ایک عالم کے کر دیا۔ برادری کے تمام لوگ مرد و زن اس شادی میں شریک ہوئے اور عقد پڑھایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ عقد نکاح جائز ہے اور نکاح ہو گیا یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۱۹۷۶ مولوی محبوب عالم صاحب (بھٹنڈہ) ۱۷ شعبان ۱۳۵۶ھ م ۲ نومبر ۱۹۳۷ء۔
جواب...... حنفی سنی لڑکی کا نکاح مرزائی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ نکاح کرنے والے اور شریک ہونے والے سب گنہگار ہوئے۔ اس نکاح کی تفریق کرانی لازم ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۰۹)
شوہر کے ظلم سے جو عورت قادیانی ہوئی...... پھر مسلمان...... اس کی شادی
سوال...... ہندہ زوجہ زید نے مذہب قادیانی اختیار کر لیا، علماء نے حکم ارتداد جاری کر کے فسخ نکاح کا حکم کیا، اب جبکہ ہندہ اپنے عقائد کفریہ سے تائب ہو گئی اس سے تجدید نکاح کے لیے کہا گیا جس کے جواب میں ہندہ نے کہا کہ بوجہ ناراضگی اپنے شوہر کے کہ مجھ کو نان ونفقہ نہیں دیتا تھا اور نہ طلاق دیتا تھا مذہب قادیانی اختیار کیا تھا لہٰذا اگر مجھ کو اسی شخص سے نکاح کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو میں پھر اس مذہب کو اختیار کر لوں گی اور کسی قادیانی سے عقد کر لوں گی، اس صورت میں ہندہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں۔
الجواب...... اقول وباللہ التوفیق، ارتداد سے بچانے کے لیے روایت شامی وظاہرہ ان لھا التزوج بمن شاءت (شامی نقص ج ۲ ص ۴۳۲ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) پر عمل کیا جائے اور یہ مسئلہ جو محتالہ کے لیے ہے کہ جبراً اس کو مسلمان کر کے شوہر اوّل کے ساتھ تجدید نکاح کیا جائے یہ دارالاسلام میں ہو سکتا ہے نہ کہ دارالحرب میں کما ہو ظاہر۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۳۴۷)
مرزائی شوہر سے فسخ نکاح کے بعد عدت و مہر کا کیا حکم ہے
سوال...... ہندہ اور خالدہ نے اپنے اپنے شوہروں سے جو مرزائی تھے فسخ نکاح کر لیا اس وجہ سے کہ وہ کافر اور مرتد ہیں کیا فی الواقع علماء کا ایسا فتویٰ ہے اور مہر وعدت و وراثت کے متعلق کیا حکم ہے۔
الجواب...... فی الواقع مرزائیوں کے بارے میں ایسا ہی فتویٰ ہے ان کا کافر و مرتد ہونا متفق علیہ ہو گیا ہے۔
لہٰذا کوئی عورت سنیہ مسلمہ ان کے نکاح میں نہیں رہ سکتی علیحدگی ضروری ہے اور مہر و عدت لازم ہے اور وراثت ثابت نہ ہو گی۔ فقط
(درمختار ج ۲ ص ۲۸۱ تا ۲۸۳ باب المہر مکتبہ رشیدیہ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۸ ص ۲۶۰)
قادیانی کی بیوی کا مسلمان رہنے کا دعویٰ غلط ہے
سوال...... ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں۔ جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں۔ نیز محلہ کی مستورات تعویز گنڈے اور دینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رجوع کرتی ہیں۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا، میں تو مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ آپ سے یہ دریافت کرنا مطلوب ہے کہ:
- ۱......کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی کے مذہب کے حامل افراد سے زن وشوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟
- ۲......اہل محلہ کے شرعی معاملات میں ان خاتون سے رجوع کرنا نیز معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب...... کسی مسلمان خاتون کا کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ نہ قادیانی سے نہ کسی دوسرے غیر مسلم سے، اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون جس کا سوال میں ذکر کیا گیا اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو یہ مسئلہ بتا دیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہیے کہ وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کر لے اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے۔ محض بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآن کریم پڑھوانا ،تعویز گنڈے لینا، دینی مسائل میں اس سے رجوع کرنا اور اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۵ ص ۷۳۔۷۴)
قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے
سوال...... زید جبکہ اہل سنت والجماعت تھا اس کا نکاح ایک اہل سنت والجماعت عورت سے ہوا تھا۔ آج وہ اپنے آپ کو مرزائی کہتا ہے اور مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی سمجھتا ہے اب اس کا نکاح قائم رہا یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۶۰۸ حکیم نبی بخش (ضلع جالندھر) ۱۳ جمادی الثانی ۱۳۵۴ھ م ۱۲ ستمبر ۱۹۳۵ء
جواب..... زید کے قادیانی ہو جانے سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا کیونکہ قادیانی ہونے سے وہ مرتد ہو گیا اور ارتداد سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ عورت بذریعہ کسی مسلمان حاکم کے اس سے علیحدگی اور تفریق کا فیصلہ حاصل کر سکتی ہے۔ فقط محمد کفایت اللہ
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۰۳۔۲۰۴)
مرزائی کا نکاح مسلمان عورت سے جائز نہیں
سوال...... ایک شخص کا باپ احمدی ہے اور وہ خود بھی احمدی ہے۔ اس شخص کی شادی ایک اہل سنت والجماعت لڑکی سے ہوئی ہے۔ شادی ہونے سے پہلے اس شخص کے احمدی خیالات پوشیدہ تھے۔ شادی ہونے کے بعد اس
نے اپنے خیالات ظاہر کیے۔ اس کا باپ اپنی احمدیت نہیں چھوڑتا ہے مگر وہ شخص توبہ کرنے کے لیے تیار ہے اور علمائے دین کے فتوے کو بھی ماننے کے لیے تیار ہے مگر اپنی زبان سے مرزا قادیانی کو کافر نہیں کہتا ہے۔ اب اگر وہ اپنا قادیانی عقیدہ چھوڑ کر دائرہ اسلام میں آتا ہے اور اپنی زبان سے مرزا قادیانی کو کافر نہیں کہتا اس کو مسلمان سمجھا جائے یا نہیں اور اس کے ساتھ رشتہ داری رکھی جائے یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۸۱۴ عبدالظہور خاں (ریاست جیند ) ۲۲ ذی الحجہ ۱۳۵۴ھم ۱۷ مارچ ۱۹۳۶ء
جواب ...... قادیانی کا نکاح اہل سنت والجماعت لڑکی سے درست نہیں ہوتا۔ اگر ایسا نکاح ہو گیا ہے تو وہ ناجائز اور باطل ہے۔ اب اگر خاوند قادیانی مذہب اور اس کے عقائد سے تائب ہو کر مذہب اہل سنت والجماعت اختیار کرے اور مرزا غلام احمد کو کاذب اور ضال ومضل سمجھنے لگے تو جب بھی از سر نو نکاح کی تجدید کرنی ہوگی۔ مرزا قادیانی کو اپنی زبان سے کافر نہ کہے تو نہ کہے مگر یہ اقرار کرنا لازم ہوگا کہ جو علماء مرزا قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں وہ حق پر ہیں۔ اس کے ساتھ اہل سنت والجماعت کے عقائد کو مانے اور ان کے اعمال میں شریک رہے تو دوبارہ نکاح کر دیا جائے۔ محمد کفایت اللہ
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۰۵)
مرتد ہونے اور پھر تجدید اسلام کرنے والے کے نکاح کا حکم
سوال ...... زید ایک قادیانی عقائد کے باپ کا بیٹا ہے جس نے قادیانی عقائد میں پرورش پائی اور قادیانی رہا۔ اس کی والدہ حنفی العقیدہ ہے۔ زید کا نکاح بھی ایک حنفی العقیدہ لڑکی سے ہوا اور ایک ہزار روپیہ مہر مؤجل مقرر ہوا۔ اس کے بعد زید قادیانی لوگوں کی بعض حرکات سے اس قدر متنفر ہوا کہ نہ صرف قادیانی مذہب سے بلکہ اسلام سے ہی بدظن ہو گیا اور آخر آریہ بن گیا۔ کچھ عرصے کے بعد مشرف باسلام ہوا۔ اب بحمد اللہ وہ عقائد حقہ رکھتا ہے اور قادیانیت سے متنفر ہے۔ مندرجہ بالا واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے سسرال والوں نے بوجہ ارتداد اس کے نکاح کو فسخ شدہ قرار دے کر مہر کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
- (۱)...... آیا ایک حنفی العقیدہ لڑکی کا نکاح ایک قادیانی شوہر سے شرعاً جائز ہے یا فاسد و باطل؟
- (۲)...... اگر فاسد و باطل ہے تو آیا مہر پھر بھی واجب ہے؟ (تعلقات زنا شوئی کئی سال تک جاری رہے)
- (۳)...... صورت زیر بحث میں اگر یہ زوجین تعلقات زنا شوئی کو جاری رکھنا چاہیں تو ان کے لیے تجدید نکاح
ضروری ہے؟
- (۴)...... بصورت تجدید نکاح آیا حلالہ ضروری ہے؟ یہ ملحوظ رہے کہ زید نے طلاق نہیں دی فسخ نکاح بوجہ ارتداد سمجھا
جارہا ہے۔
المستفتی نمبر ۳۶۰ سید غلام بھیک نیرنگ ایڈووکیٹ انبالہ ۔ ۱۷ ربیع الاول ۱۳۵۳ھ ۳۰ جون ۱۹۳۴ء
جواب ...... (۱)...... نکاح ناجائز ہے یعنی فاسد ہے۔
- (۲)...... اگر زوجین میں تعلقات زنا شوئی واقع ہو چکے ہیں تو مہر مثل لازم و واجب ہے۔
- (۳)...... اگر یہ زوجین تجدید اسلام زوج کے بعد باہم زنا شوئی کے تعلقات رکھنا چاہیں تو ان کو ازسرنو نکاح کرنا
لازم ہوگا۔ لیکن نکاح سے پہلے حلالہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
- (۴)...... حلالہ کی ضرورت نہیں کیونکہ حلالہ تین طلاق دینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ نہ کہ نکاح فسخ ہونے کی
صورت میں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۰۲۔۲۰۳)
شوہر کے قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے
سوال...... از شاہجہاں پور محلہ بارہ دری مرسلہ عبداللہ خاں صاحب ۵ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ۔
زید نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا اور اس کی عورت بدستور اپنے اصلی مذہب حنفی پر رہی گو زید نے مذہب قادیانی گوارا کرنے میں اپنی عورت کو مجبور نہیں کیا لہٰذا ایسی حالت میں کہ جب مابین زن وشوہر کے اختلاف مذہب ہو گیا از روئے حکم شرع شریف کیا بحالت طرز معاشرت درمیان زن و شوہر جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب...... صورت مستفسرہ میں عورت فوراً نکاح سے نکل گئی ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا مرد محض بیگانہ ہو گیا اب اس سے قربت زنائے خالص ہوگی۔ تنویر الابصار میں ہے:
وارتداد احدهما فسخ عاجل (شامی ص ۴۲۵ ج ۲ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) والله سبحنه و تعالى اعلم.
خاوند بیوی میں سے کسی ایک کے مرتد ہو جانے سے اسی وقت نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۲ ص ۲۶۱)
قادیانی ہو جانے سے نکاح فسخ ہو گیا
سوال...... زید نے جو اہل سنت مسلمان تھا یا اپنے آپ کو سنی مسلمان ظاہر کرتا تھا، کئی سال پہلے ایک سنی لڑکی سے شادی کی، نکاح حنفی المذہب عالم نے پڑھایا، کچھ عرصہ کے بعد مختلف اثرات کے ماتحت زید پکا مرزائی قادیانی ہو گیا۔ اس عرصہ میں اس کی اولاد بھی ہوئی جس میں دو لڑکے اور لڑکیاں بقید حیات ہیں۔ اس کی بیوی بدستور سنی رہی اور ہے، کئی دفعہ اسے ربوہ (چناب نگر) جا کر مرزائی خلیفہ سے بیعت کرانے پر مجبور کیا مگر اس نے انکار کر دیا، اب ملک کی نمائندہ جماعت اور جمہور اہل اسلام کے فیصلہ کے بعد جب مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے زید کو توبہ کرنے کا مشورہ دیا گیا مگر وہ اپنے مرتد رہنے پر مصر ہے۔ کیا اس کے بعد زید کا نکاح مسلمان خاتون سے قائم رہے گا اور کیا یہ ضروری ہے زید اسے طلاق دے یا طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی۔
الجواب...... حاصل سوال یہ ہے کہ بوقت نکاح زوجین مسلمان تھے بعد میں شوہر قادیانی ہو کر مرتد ہو گیا، اس کا حکم شرعی اسلام میں یہ ہے کہ شوہر کے مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح ٹوٹ گیا اور منکوحہ مسلمہ اس کے نکاح سے خود بخود بالکل خارج ہو گئی۔ طلاق وغیرہ کے دینے کی حاجت یا شرط نہیں رہی بلکہ منکوحہ اس کے نکاح سے نکل کر آزاد ہو گئی اور نفقہ عدت اور کامل مہر کی بھی مستحق رہی۔ (فی الدر المختار علی هامش ردالمحتار ج ۲ ص ۴۲۵) ارتداد احدهما فسخ عاجل بلا قضا فلموطوءة کل مهرها و لغيرها نصفه لو ارتد ولها عليه نفقة العدة بالخصوص جب کہ سمجھانے اور توبہ کا مشورہ دینے کے بعد بھی وہ مرتد (قادیانی) رہنے پر مصر رہا تو یہ حکم اور بھی واضح ہو گیا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم، کتبہ الاحقر نظام الدین غفرلہ مفتی دارالعلوم دیوبند۔
(نظام الفتاویٰ ج ۲ ص ۱۸۸۔ ۱۸۹)
شوہر مرزائی یا عیسائی ہو جائے تو عورت پر عدت واجب ہے
سوال...... اگر کسی عورت کا شوہر عیسائی، قادیانی یا یہودی ہو جائے جس کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کیا ایسی عورت پر عدت واجب ہے یا نہیں؟
الجواب...... شریعت اسلامی میں ہر اس جدائی پر عدت واجب ہے جو میاں بیوی کے مابین کسی وجہ سے آ
جائے، صورت مسئولہ میں چونکہ خاوند کے بوجہ غیر مسلم ہو جانے کے دونوں کے درمیان جدائی خود بخود آ گئی لہٰذا اس عورت سے عدت لازمی ہے۔
قال فی الهندية: وان أخبرت المرأة ان زوجها قد ارتدّ لها ان تتزوج باخر بعد انقضاء العدة فى رواية الاستحسان وفى رواية السير ليس لها ان تزوج قال شمس الائمة السرخسى الاصح رواية الاستحسان.
(الفتاوی الہندیہ ج ۱ ص ۳۳۰ باب النکاح الکافر، فتاوی حقانیہ ج ۴ ص ۵۴۷۔۵۴۸)
لاعلمی میں قادیانی سے نکاح کا حکم
سوال....... ایک مسلمان عورت کا نکاح لاعلمی میں کسی قادیانی سے ہو گیا، یعنی نکاح کے وقت مرد نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا لیکن نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص قادیانی ہے، اندریں صورت یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟
الجواب....... قادیانی چونکہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اس لیے جس شخص کا قادیانی ہونا قطعی اور یقینی ہو تو اس کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح شرعاً جائز نہیں اور لاعلمی میں کیا ہوا نکاح کالعدم رہے گا۔ كما فى الهندية: ارتد احد الزوجين عن الاسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال.
(الفتاوی الہندیہ ج ۱ ص ۳۳۹ الباب العاشر فی نکاح الکفار، فتاوی حقانیہ ج ۴ ص ۳۴۲۔۳۴۳)
خاوند کے قادیانی ہو جانے سے نکاح کا حکم
سوال....... میاں بیوی دونوں مسلمان تھے اور خوشگوار زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک خاوند قادیانیوں کا شکار ہو کر مرتد ہو گیا جبکہ عورت دین حق یعنی اسلام پر قائم ہے، ایسی حالت میں اس عورت کو کیا کرنا چاہیے؟
الجواب....... قادیانی چونکہ مرتد کے حکم میں ہیں، اس لیے صورت مسئولہ میں خاوند کے مرتد ہو جانے سے مسلمان بیوی سے اس کا رشتہ نکاح ختم ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ قال الحصكفى: وارتدا احدهما اى الزوجين فسخ عاجل.
(الدر المختار علی ہامش رد المحتار ج ۲ ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر، فتاوی حقانیہ ج ۴ ص ۳۴۲)
جو شخص قادیانی ہو جائے اس کا نکاح برقرار نہیں رہتا
سوال....... زید حنفی سنی صحیح العقیدہ آدمی تھا۔ خدا جانے کن اثرات کے ماتحت وہ قادیانی بن گیا اور اپنا قدیم مسلک ترک کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ اس حالت میں اس کی بیوی اس کے نکاح میں باقی رہی اور اس کے ذمہ شوہری حقوق کو ادا کرنا لازم رہا یا نکاح ختم ہو کر تعلق زوجیت ختم ہو گیا اور بیوی اپنے شوہر پر حرام ہو گئی؟
الجواب....... حامداً و مصلياً. قادیانی نے ختم نبوت اور بہت سے بنیادی عقائد اسلام کے خلاف کا ارتکاب کیا اور بار بار متنبہ کرنے پر اپنی بات سے رجوع نہیں کیا۔ اس لیے علماء اسلام کے فتویٰ کی رو سے وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے، جو شخص اس کے مسلک کو قبول کرتا ہے اور اس کے عقائد کو اختیار کرتا ہے اس کا حکم بھی وہی ہے کہ شوہر کے مرتد ہو جانے کی وجہ سے مسلمان بیوی نکاح سے خارج ہو گئی۔ اب اس کے ساتھ رہنا سہنا اور شوہر بیوی جیسا معاملہ کرنا ہرگز جائز نہیں رہا بلکہ پورا پردہ لازم ہے۔ قادیانی سے متعلق بہت تفصیل سے کتابیں موجود ہیں۔ فقط واللہ اعلم۔ حررہ العبد محمود غفر لہٗ دارالعلوم دیوبند ۹۰/۲/۱۰ھ
(فتاوی محمودیہ ج ۱۳ ص ۲۱۸۔۲۱۹)
قادیانیت سے جو توبہ کر چکا اس سے نکاح جائز ہے
سوال ...... زید کی نسبت یہ بات مشہور تھی کہ زید مرزائی ہے، مگر پھر اس نے توبہ کر لی تھی۔ اسی بناء پر ایک لڑکی کا اس سے نکاح کر دیا تھا۔ نکاح کے بعد ایک مولوی صاحب کو زید کے پاس تحقیق کے لیے بھیجا تو زید نے بڑے زور شور سے تردید کی کہ میرا مذہب قادیانی نہیں ہے، اور بہت زمانہ گزرا میں توبہ کر چکا ہوں اور ابتداء میں اگر میں مرزا کو مانتا بھی تھا تو ایک مجدد بزرگ مانتا تھا، نبی نہیں مانتا تھا۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں۔
الجواب ...... تحریر سوال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ زید صحیح العقائد ہے اور اس کا عقیدہ صحیح موافق مذہب اہل سنت والجماعت کے ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد نہیں ہے۔ لہٰذا نکاح اس لڑکی کا اس شخص یعنی زید سے درست اور صحیح ہو گیا۔ نکاح کے صحیح ہونے میں اس وقت کوئی تردد نہیں ہے۔ البتہ اگر خدانخواستہ کسی وقت میں زید نے مذہب اہل سنت والجماعت سے طرف مذہب قادیانی کے رجوع کیا تو اس وقت فوراً نکاح باطل ہو جائے گا۔
(فتاویٰ شامی ج۲ ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۲۸۸۔۲۸۹)
مرزائی کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا
سوال ...... ہندہ کی شادی عمرو کے ساتھ کی گئی۔ بعد نکاح عمرو مرزائی خیال کا ثابت ہوا قریباً عرصہ دو سال بعد اور ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی۔ اب ہندہ کے والدین ہندہ کو عمرو کے ساتھ روانہ نہیں کرتے، نہ ہی طلاق دیتا ہے اور نہ ہی وہ اپنا مسلمان ہونا ثابت کرتا ہے۔ ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے؟
جواب ...... مرزائی کافر ہیں۔ ان کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں ہے۔ ولا تمسکوا بعصم الکوافر (الممتحنہ ۱۰) یعنی کافرہ عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو، اور دوسری آیت میں ہے۔ ولا تنکحوا المشرکین (البقرہ ۲۲۱) یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔
مرزائی از روئے شریعت مشرک بھی ہیں اور کافر بھی۔ انھوں نے خاتم النبیین ﷺ کے بعد نیا نبی کھڑا کر لیا ہے جو شرک فی الرسالۃ ہے اور کفر بھی ہے، پس لڑکی کو جہاں چاہے بغیر فسخ نکاح کے بٹھا دیا جائے۔ کیونکہ کافر کے ساتھ نکاح ہی نہیں رہتا تو فسخ کی کیا ضرورت ہے؟ عدالت میں بھی کافر کا نکاح فسخ ہے۔ (عبداللہ امرتسری از روپڑ)
(فتاویٰ اہلحدیث ج ۱ ص ۸)
کسی کو قادیانی کہنے والے کے نکاح کا حکم
سوال ...... ایک عالم دوسرے عالم کو اختلاف کی وجہ سے قادیانی کہتا ہے ایسے شخص کا کیا حکم ہے اور کیا اس کا نکاح باقی رہا؟
جواب ...... ۱...... حدیث میں ہے کہ جس نے دوسرے کو کافر کہا ان میں سے ایک کفر کے ساتھ لوٹے گا، اگر وہ شخص جس کو کافر کہا واقعتاً کافر تھا تو ٹھیک ورنہ کہنے والا کفر کا وبال لے کر جائے گا۔ کسی کو کافر کہنا گناہ کبیرہ ہے۔
۲...... وہ خود عالم ہے۔ اپنے نکاح کے بارے میں خود جانتا ہوگا۔ اوپر لکھ چکا ہوں کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور ایک عالم کا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہونا بے حد افسوس ناک ہے، ان صاحب کو توبہ کرنی چاہیے اور مظلوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۸ ص ۳۵۴)
مرزائی لڑکے سے مسلمان عورت کا نکاح حرام اور باطل ہے
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین ومفتی اعظم پاکستان اس مسئلہ میں کہ میں مسماۃ فہمیدہ بیگم بنت اللہ دتہ قوم کمہار سکنہ وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کا نکاح میرے والد اللہ دتہ نے ایک لڑکے مسمی محمد اشرف ولد غلام احمد قوم کمہار سکنہ مقام پیرم تحصیل حافظ آباد کے ساتھ میرے آبائی گاؤں باؤلے تحصیل وزیر آباد میں آج سے تقریباً تین سال پیشتر کر دیا۔ نکاح برات کے ساتھ بڑی مجلس میں ہوا۔ لڑکی والوں میں سے کسی کو یہ پتہ نہیں تھا کہ لڑکا اور اس کا باپ سخت ترین مرزائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے ہیں۔ نکاح اس لاعلمی اور دھوکے میں ہو گیا۔ اسی دن میں اپنے سسرال چلی گئی۔ دوسرے دن پھر اپنے میکے واپس آئی اور آٹھ دن رہ کر پھر اپنے سسرال گئی۔ اسی طرح دو تین پھیرے کیے مگر لڑکے کے مرزائی ہونے کا کوئی پتہ نہ لگ سکا۔ اور اپنے مذہب کو انھوں نے کافی چھپایا ڈیڑھ مہینے کے بعد پھر میں اپنے سسرال میں ہی تھی کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ہم نے ایک جلسے میں جانا ہے اور وہاں جانا ہمارا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم نے منت مانی ہے۔ اس وقت بھی مجھے نہ بتلایا گیا کہ جلسہ کہاں ہے اور کیسا ہے مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ وہاں پہنچ کر اور راستے میں لوگوں کی باتوں سے مجھے پتہ چلا کہ یہ ربوہ (چناب نگر) آئے ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کا یہ جلسہ ہے۔ میرے خاوند نے مجھ پر یہ زور دیا کہ تو بھی مرزائی ہو جا اور مرزا کی بیعت کر لے مگر میں نے صاف انکار کر دیا اس وقت مجھ کو پتہ لگا کہ میرا یہ خاوند مسلمان نہیں ہے اور میرا نکاح ایک غیر مسلم مرزائی سے ہوا ہے۔ میں نے وہاں سے آ کر فوراً اپنے گھر اطلاع دی کہ فوراً مجھے آ کر لے جاؤ۔ میں یہاں نہیں رہوں گی۔ میری والدہ آئیں اور کافی لڑائی جھگڑے کے بعد مجھ کو میرے سسرال سے واپس لے گئیں۔ اب میں صرف اس لیے کہ وہ مرزائی ہے اور میں جانتی ہوں کہ مرزائی کافر ہوتے ہیں۔ اسی لیے میں اس کے ساتھ ہرگز نہیں رہنا چاہتی۔ سارا گاؤں جانتا ہے کہ محمد اشرف سخت مرزائی ہے۔ اس نے خود بھی اپنی تحریر سے انگوٹھا لگا کر اقرار کیا ہے اور اس کے چچا نظام علی نے بھی اس بات پر دستخط کیے کہ وہ اور اس کا بھتیجا محمد اشرف مرزائی احمدی ہیں۔ یہ تحریر اور بہت سے گواہوں کی تحریر حاضر خدمت ہے۔ وہاں کے مرزائی امام محبوب علی محمد نے بھی اس چیز کی گواہی دی ہے کہ محمد اشرف مرزائی ہے اور سب لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ میں اور میرا والد اللہ دتہ صحیح العقیدہ سنی مسلمان ہیں۔ سب گواہی دے سکتے ہیں اور اس کے آبائی گاؤں میراں پور کے لوگ عبدالرشید مرزائی اور احمد وغیرہ نے بھی تحریری گواہی دی ہے کہ محمد اشرف واقعی مرزائی احمدی ہے اور میرا والد اور چار گواہ حاضر خدمت ہیں جو باوضو کلمہ پڑھ کر حلفیہ گواہی دیتے ہیں کہ محمد اشرف مدعا علیہ مرزائی احمدی ہے، فرمایا جائے کہ کیا شریعت اسلامیہ میں میرا نکاح صحیح ہوا یا غلط۔ اور کیا محمد اشرف شرعاً میرا خاوند بن سکتا ہے؟ اور اگر نکاح غلط ہے تو کیا میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں؟ خدا کے لیے اس مرزائی سے میری جان چھڑائی جائے اور شرعی فتویٰ عطا فرمایا جائے۔ السائلہ: مورخہ ۱/۴/۷۱ء بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ ط
الجواب...... قانون شریعت اسلامیہ اور قانون پاکستان کے تحت میں مفتی اسلام ہونے کی حیثیت سے حنفی مسلک کے مطابق فتویٰ جاری کرتے ہوئے سائلہ حنفیہ مسلمہ فہمیدہ بیگم بنت اللہ دتہ قوم کمہار کا نکاح باطل قرار دیتا ہوں اور یہ نکاح جو دھوکہ اور فریب سے مسمی محمد اشرف مرزائی احمدی قادیانی ولد غلام احمد نے فہمیدہ بیگم سے کیا ہے وہ شرعاً اور قانوناً ہوا ہی نہیں بالکل باطل محض ہے۔ میں نے بحیثیت مفتی ہونے کے محمد اشرف کے مرزائی ہونے کی
کافی تحقیق کی ہے۔ مندرجہ بالا گواہوں کے حلفیہ بیان لیے ہیں۔ نیز محمد اشرف کے علاقے کے معتبر حضرات کے تحریری حلفیہ بیان لیے۔ خود محمد اشرف کی زیر دستخطی نشان انگوٹھے والی تحریر میرے پاس موجود ہے۔ جس میں اس نے اپنے احمدی مرزائی ہونے کا اقرار کیا ہے۔ میں نے مدعیہ اور اس کے لواحقین کے ذریعہ مدعا علیہ محمد اشرف کو بیان صفائی دینے کی اطلاع بھیجی مگر خود حاضر نہ ہوا۔ اس نے اپنی انگوٹھا شدہ تحریر میرے پاس بھیج دی۔ اس میں اپنے احمدی یعنی مرزائی ہونے کا اقرار ہے۔ اس بستی کے مرزائی امام متعلقہ ربوہ (چناب نگر) کی تحریر بھی محمد اشرف کے احمدیت مرزائیت کے ثبوت میں میں نے مہیا کیں۔ اس کے علاوہ بہت سے مرزائی و غیر مرزائی حضرات سے میں نے محمد اشرف کے مرزائی ہونے کا ثبوت مانگا۔ سب کی حلفیہ تحریریں میرے پاس موجود ہیں۔ اتنی چھان بین اور تحقیق کے بعد یہ شرعی فتویٰ صادر کیا جا رہا ہے چونکہ مدعیہ خود حنفی مسلمان ہے۔ اسی لیے حنفی مسلک کے مطابق فتویٰ دیا جا رہا ہے۔ قانون شریعت کے مطابق تمام امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مرزائی احمدی قادیانی ہرگز ہرگز مسلمان نہیں ہیں بلکہ مرتد خارج از اسلام ہیں۔ اس لیے کہ تمام مرزائی احمدی مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں اور اسلامی عقیدہ کے مطابق جو شخص نبی کریم محمد مصطفیٰ عربی تاجدار ﷺ کے بعد کسی شخص کی نبوت کو تسلیم کرے وہ سب مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے مجتہدین شریعت اور علمائے امت محمد رسول اللہ ﷺ کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم کے بعد کسی کو کسی طرح کا نبی ماننے والا کافر ہے۔ چنانچہ (تفسیر ابن کثیر ج سوم ص ۴۹۴) اور اسی طرح (تفسیر روح البیان جلد ہفتم ص ۱۸۸) پر ہے۔ وَمَنْ قَالَ بَعْدَ نَبِيِّنَا نَبِيٌّ يَكْفُرُ لِاَنَّهٗ اَنْكَرَ النَّصَّ اور جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بھی قرآن وحدیث اور تمام اہل اسلام وعلمائے کرام کے نزدیک کافر گمراہ ہے۔ چنانچہ تفسیر روح البیان اسی جگہ اور دیگر تفاسیر میں ہے۔ وَمَنِ ادَّعَى النُّبُوَّةَ بَعْدَ مَوْتِ مُحَمَّدٍ لَّا يَكُوْنُ دَعْوَاهُ اِلَّا بَاطِلاً : (تفسیر ابن کثیر جلد سوم ص ۴۹۳) پر ہے۔ وَقَدْ اَخْبَرَ اللّٰهُ فِيْ كِتَابِهٖ وَرَسُوْلُهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ عَنْهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ لِيَعْلَمُوْا اَنَّ كُلَّ مَنِ ادَّعٰى هٰذَا الْمَقَامَ بَعْدَهٗ فَهُوَ كَذَّابٌ اَفَّاكٌ دَجَّالٌ ضَالٌّ مُّضِلٌّ: ان دلائل و عقیدۂ اسلامی سے ثابت ہوا کہ مرزائی غلام احمدی مرتد و کافر ہیں۔ ان کو اہل کتاب بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے کہ شریعت میں اہل کتاب وہ شخص ہے کہ جو نبی کریم ﷺ پر کامل ایمان نہ لائے اور ایسے نبی کو مانے جس کو سب مسلمان بھی نبی تسلیم کرتے ہوں خواہ وہ نبی صاحب کتاب ہو یا نہ ہو جیسے یہودی کہ حضرت عزیر ؑ پر ایمان لاتے ہیں۔ حالانکہ آپ صاحب کتاب نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو کوئی مسلمان نہیں مانتا اس لیے اس کے متبعین کو اہل کتاب ہرگز نہیں کہا جا سکتا بلکہ ان کا شمار مرتدین میں ہوگا اور یہ بھی مسلمہ اسلامی عقیدہ ہے اور تمام امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ مسلمان عورت سے کافر مرد کا نکاح قطعاً نہیں ہو سکتا۔ خاوند کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ چنانچہ (فتاویٰ فتح القدیر جلد دوم ص ۴۲۲) پر ہے۔ لِاَنَّ مُطْلَقَ الدِّيْنِ هُوَ الْاِسْلَامُ وَلَا كَلَامَ فِيْهِ لِاَنَّ اِسْلَامَ الزَّوْجِ شَرْطُ جَوَازِ نِكَاحِ الْمُسْلِمَةِ ”اس لیے کہ مطلق دین وہ اسلام ہے اور نہیں ہے کلام اس میں اس لیے کہ خاوند کا اسلام مسلمان عورت کے نکاح کے لیے شرط ہے۔“ اس سے ثابت ہوا کہ غیر مسلم سے مسلمان عورت کا نکاح ہوتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کافر مرد مسلمان عورت کا کفو نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ ہم قوم یا ہم قبیلہ ہو اور قانون شرع کے مطابق غیر کفو میں نکاح باطل ہے جب تک کہ ولی ابعد اور شریعت اجازت نہ دے۔ چنانچہ (فتاویٰ قاضی خان جلد اوّل ص ۳۳۵) پر ہے۔ وَاِنْ لَّمْ يَكُنْ كُفُواً لَّا يَجُوْزُ النِّكَاحُ اَصْلاً. اور (فتاویٰ عالمگیری میں ہے ص ۲۹۲) جلد اوّل عَنْ اَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى اَنَّ النِّكَاحَ لَا يَنْعَقِدُ اور جس طرح کافر سے مسلمہ کا نکاح ناجائز ہے اسی طرح مرتد
سے بھی نکاح غلط ہے۔ چنانچہ (فتاویٰ ہندیہ جلد اول ص ۲۸۲ پر ہے۔ لَا يَجُوزُ لِلْمُرْتَدِّ اَنْ يَتَزَوَّجَ مُرْتَدَّةً وَلَا مُسْلِمَةً اور (فتاویٰ قاضی خان میں ہے جلد سوم ص ۵۸۰) وَمِنْهَا مَاهُوَ بَاطِلٌ بِالْاِتِّفَاقِ نَحْوَ النِّكَاحِ لَا يَجُوزُ لَهُ اَنْ يَّتَزَوَّجَ اِمْرَاءَةً مُسْلِمَةً یعنی مرتد اگر مسلمان عورت سے نکاح کرے تو وہ باطل ہے تمام فقہاء کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ ہر مرتد کا نکاح مسلمہ سے باطل ہے نہ کہ فاسد۔ کیونکہ فاسد نکاح وہ ہے جس میں علمائے کرام کا اختلاف ہو کہ جائز ہے یا ناجائز چنانچہ (فتاویٰ شامی جلد دوم ص ۳۸۰) پر ہے۔ فِي الْبَحْرِ هُنَاكَ عَنِ الْمُجْتَبَى اِن كُلَّ نِكَاحٍ اِخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِيْ جَوَازِهِ كَالنِّكَاحِ بِلَا شُهُودٍ فَالدخول فيه موجب للعدة. نکاح باطل وہ ہے جس کے ناجائز ہونے پر سب علمائے امت کا اتفاق ہو اور وہ نکاح سب کے نزدیک نہ ہونے کی طرح ہو۔ چنانچہ (درمختار جلد دوم ص ۳۸۰) پر ہے۔ والظاهر ان المراد بالباطل ماوجوده كعدمه ولذالا يثبت النسب به. (صاحب ردالمحتار ص ۳۸۰) پر فرماتے ہیں کہ کافر نے مسلمان عورت سے نکاح کیا تو وہ نکاح قطعاً باطل ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ نَكَحَ كَافِرٌ مُّسْلِمَةً فَوَلَدَتْ مِنْهُ لَا يَثْبُتُ النَّسَبُ وَلَا تَجِبُ الْعِدَّةُ لِاَنَّهُ نِكَاحٌ بَاطِلٌ ثابت ہوا کہ محمد اشرف مرزائی کا نکاح فہمیدہ کے ساتھ باطل ہے۔ اس لیے کہ سب مسلمانوں کے عقیدہ سے مرزا غلام احمد کو نبی مان کر سب مرزائی مرتد کافر ہو چکے ہیں۔ چنانچہ (جواہر البحار ص ۲۶۲) پر ہے۔ فَقَدْ اِتَّفَقَتِ الْأُمَّةُ عَلَى ذَالِكَ وَعَلَى تَكْفِيْرِ مَنِ ادَّعَى النُّبُوَّةَ بَعْدَهُ اسی طرح (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲) پر ہے۔ وَدَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا كُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ. ان تمام دلائل شرعیہ سے ثابت ہوا کہ فہمیدہ بیگم کا نکاح باطل ہے، ہوا نہیں۔ نکاح فاسد اور باطل کے حکم میں بھی فرق ہے۔ نکاح فاسد کا حکم یہ ہے کہ قاضی اسلام یا عدالت کا جج نکاح فسخ کرے۔ چنانچہ (شامی شریف جلد دوم ص ۳۸۲) پر ہے۔ بَلْ يَجِبُ عَلَى الْقَاضِي التَّفْرِيْقُ بَيْنَهُمَا لٰكِن نکاح باطل میں یہ بھی نہیں۔ لہٰذا فہمیدہ بیگم پر نہ عدت واجب نہ طلاق نہ تفریق۔ بلکہ وہ سابقہ باطل نکاح سے شرعاً بالکل آزاد ہے اور پاکستانی عدالت کے قانون کے مطابق بھی یہ نکاح باطل ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۵ء میں عدالت پاکستان کے ڈسٹرکٹ جج شیخ محمد اکبر نے مرزائی فرقے کو قانونی طور پر غیر مسلم قرار دیتے ہوئے مدعیہ امت الکریم اور لیفٹیننٹ نذیر الدین کے نکاح کو باطل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے ۱۹۳۵ء میں ٹرائل کورٹ کے ڈسٹرکٹ جج نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ بہاول نگر عدالت میں ہوا اور وہ دوسرا فیصلہ ۵۵-۶-۳ کو راولپنڈی میں ہوا تھا چند روز پیشتر اخبار امروز میں ۴ ستمبر ۱۹۷۱ء کو چنیوٹ کی ایک خبر اس طرح شائع ہوئی۔ موضع خانکے چک نمبر ۲۰ نواب دین کے پورے خاندان نے احمدیت (مرزائیت) سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا اور مشرف با اسلام ہوئے ان تمام باتوں اور فیصلوں اور دلائل سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزائی احمدی مسلمان نہیں۔ لہٰذا میں شرعی فتویٰ جاری کرتے ہوئے واضح کرتا ہوں کہ فہمیدہ بیگم چونکہ مسلمان ہے اس لیے اس کا نکاح محمد اشرف مرزائی سے قطعاً باطل ہے اور فہمیدہ بیگم سابقہ نکاح سے بالکل آزاد ہے۔ محمد اشرف کا اس پر کوئی حق یا اختیار نہیں ہے۔ فہمیدہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے شریعت اسلامیہ کے مطابق نکاح کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ فتویٰ میری اسی تحقیق کے مطابق ہے جو مدعیہ اور اس کے لواحقین کے ذریعہ کی گئی۔ یہ فتویٰ تحقیق بالا کے درست ہونے کی صورت میں بالکل درست اور قابلِ عمل ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم۔
(فتاویٰ نعیمیہ جلد اوّل ص ۳۱۹ تا ۳۲۳)
مسلمان، قادیانی ہو کر پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے نکاح کا حکم
سوال........ ایک شخص پہلے اہل سنت والجماعت تھا۔ پھر مرزائی عقائد کا پابند ہو گیا تھا۔ اب وہ پھر اہل سنت
والجماعت میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ اس کی بیوی اس کے عقائد کی پابند رہی۔ اب اس کو دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ المستفتی نمبر ۳۱۲ علی حسین امروہوی (دہلی) ۲۹ صفر ۱۳۵۳ھ م ۱۳ جون ۱۹۳۴ء۔
جواب....... اگر وہ شخص سچے دل سے توبہ کرے اور اقرار کرے کہ مرزائی عقیدہ غلط اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے جھوٹے تھے اور ان کے دونوں فریق لاہوری اور قادیانی گمراہ ہیں۔ میں دونوں سے بیزار ہوں تو وہ اہل سنت والجماعت میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی ایک ہی وقت میں ساتھ ساتھ قادیانی یا احمدی ہوئے تھے اور پھر ایک ہی وقت میں دونوں نے توبہ کی ہو جب تو ان کے نکاح کی تجدید لازم نہیں ہے اور وہ اپنے سابقہ نکاح پر رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر قادیانی یا احمدی ہونے میں تقدم و تاخر ہوا ہے یا توبہ کرنے اور واپس آنے میں آگے پیچھے ہو گئے ہیں تو نکاح کی تجدید بھی لازم ہوگی۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(کفایت المفتی ج ۶ ص ۱۴۴)
بیوی قادیانی ہوگئی قادیانی سے شادی کر لی اب اس کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں
سوال...... ایک شخص کی عورت قادیانی ہوگئی اور قادیانی سے نکاح کر لیا اس سے لڑکی پیدا ہوئی اس لڑکی سے اس کی ماں کا پہلا خاوند نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب...... نہیں کر سکتا لقولہ تعالیٰ وربائبكم اللاتی فی حُجُورِكُمْ مِّنْ نِّسَائِكُمُ اللّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ (سورة نساء الآیة) قال فی الدر المختار و بنت زوجتہ الموطؤتہ وام زوجتہ و جداتھا مطلقاً.
(فتاوی شامی ج ۲ ص ۳۰۲ مکتبہ رشیدیہ، فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۳۸۱)
غلام احمد قادیانی کو جو پیغمبر مانے وہ مرتد ہے اس سے نکاح درست نہیں
سوال...... زوجین میں اس قسم کی گفتگو ہوئی جس نے مرد پر قادیانی ہونے کا شبہ ہوتا ہے مثلاً یہ کہ مرد نے کہا کہ نبوت ختم ہو چکی ہے یا نہیں عورت نے کہا نبوت ختم ہو چکی مرد نے کہا نہیں ان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی بھی پیغمبر ہوا ہے۔
الجواب...... الفاظ و کلمات مذکورہ کی وجہ سے معلوم ہوا کہ وہ مرد قادیانی ہے اور قادیانی مرتد و کافر ہے لہٰذا ان میں نکاح قائم نہیں رہا۔ عورت کو چاہیے کہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اگر وہ اپنے عقائد باطلہ کفریہ سے توبہ کرے اور تجدید ایمان کرے تو اگر عورت راضی ہو تو از سر نو ان میں نکاح ہونا ضروری ہے۔
(فتاوی شامی ج ۲ ص ۳۱۳ فصل فی المحرمات، فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ۷ ص ۳۵۴، ۳۵۵)
قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح
سوال...... زید مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید ہو گیا ہے اور اس کی بی بی اہل سنت کے عقیدے پر قائم ہے اس صورت میں نکاح شرعاً قائم رہا یا نہیں۔ (۲)...... اور اہل سنت کے عقیدہ والی صبیہ کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی عقیدہ والے کے ساتھ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب...... (۱)...... اس مرید سے پوچھنا چاہیے کہ وہ مرزا کے تمام اقوال کا معتقد ہے یا نہیں اگر وہ اقرار کرے کہ وہ تمام اقوال کا معتقد ہے تو یہ شخص مسلمان نہیں رہا اور نکاح اس کا اہل سنت و جماعت بی بی سے باقی نہیں رہا اور اگر وہ کہے کہ میں سب اقوال کا معتقد نہیں ہوں تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ کس کس قول کے معتقد نہیں
ہو اس کی تفصیل کے بعد استفتاء کرنا چاہیے۔ (۲)....... اگر اس شخص کے اقرار سے اس کا تمام اقوال مرزائیہ کا معتقد ہونا ثابت ہو تب تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا اور اگر بعض کا معتقد ہو بعض کا نہ ہو تو اس سے تفصیل پوچھ کر سوال کرنا چاہیے اور بالفرض اگر اس کا مسلم ہونا بھی ثابت ہو جائے تب بھی مبتدع اور ضال ہونے میں تو شبہ ہی نہیں اس لیے ہر حال میں ولی گنہگار ہوگا اگر اس شخص کے ساتھ نکاح کرے گا لہٰذا اس ولی پر واجب ہے کہ قطعاً انکار کر دے (نکاح سے پہلے) فقط ۱۴ صفر ۱۳۳۰ھ
(تتمہ اولیٰ ص ۹۰، امداد الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۱۴۔ ۲۱۵)
قادیانی میاں بیوی ایک ساتھ مسلمان ہوئے تو نکاح باقی رہے گا
سوال...... اگر دونوں اشخاص ساتھ ہی احمدی سے مسلمان ہو جائیں تو ان کے نکاح کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب...... (۲)....... اگر دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئے ہیں تو ان کا نکاح باقی بحالہ ہے ورنہ فسخ ہو جائے گا۔
(درمختار ج ۲ ص ۴۲۷ باب نکاح الکافر مکتبہ رشیدیہ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۲ ص ۴۰۴)
بیان مفتی اعظمؒ مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ...... بمقدمہ فسخ نکاح بوجہ ارتداد
بند سوالات بنام گواہ نمبر ۳ مفتی کفایت اللہ مدرسہ امینیہ دہلی بمقدمہ حسین بی بی بنام خان محمد از ڈیرہ غازی خاں
سوال...... ۱ آپ کتنے عرصہ سے حدیث تفسیر وغیرہ علوم عربیہ کا درس دیتے ہیں؟ جواب...... ۱ تقریباً اڑتیس برس سے۔ سوال...... ۲ افتا کا کام کتنے عرصہ سے کرتے ہیں؟ جواب...... ۲ اسی قدر عرصہ سے۔ سوال...... ۳ مفصلہ ذیل امور کی بابت بتلائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بانی فرقہ احمدیہ کے عقائد وہی ہیں؟ جو قرآن مجید و احادیث صحیحہ مشہورہ سے ثابت ہیں اور جو معتمد مشاہیر علماء مفتیانِ اسلام کا عقیدہ اب تک رہا ہے۔ اگر وہ نہیں تو مرزا قادیانی موصوف کا کیا عقیدہ تھا؟ اور ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص مسلمان ہے یا کافر؟ اپنے بیان میں قرآن مجید و احادیث صحیحہ و کتب عقائد و کتب جماعت احمدیہ کا جن پر آپ کے بیان کا انحصار ہو حوالہ دیں۔
- (الف)...... وجود و ذات وصفات باری تعالیٰ۔
- (ب)...... وجود ملائکہ۔
- (ج)...... کتب سماویہ سابقہ و قرآن مجید۔
- (د)...... قیامت۔
- (ہ)...... انبیائے کرام، خصوصاً عیسیٰ ؑ اور محمد صاحب نبی کریم ﷺ۔
- (و)...... حیات عیسیٰ ؑ۔
- (ز)...... نبوت و رسالت کی تعریف۔
- (ح)...... ختم نبوت
(نوٹ)...... تمام سوالات میں الفاظ مرزا قادیانی سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی بانی فرقہ احمدیہ ہے۔
جواب ..... ۳ مرزا قادیانی کے بہت سے عقیدے قرآن مجید و احادیث صحیحہ و جمہور امت محمدیہ کے عقائد کے خلاف ہیں۔ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ایسی باتیں کہیں جن سے انبیائے سابقین بلکہ آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام سے بعض پیغمبروں کی توہین بھی ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی اپنے متبعین کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبروں اور آنحضرت ﷺ اور قرآن پر ایمان لانا بھی مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں رہا جب تک مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لایا جائے۔ یہ اور اسی قسم کی وجوہ ہیں جن کی بنا پر مرزا غلام احمد کو جمہور علمائے اسلام خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔
- (الف)..... مرزا غلام احمد گو خدا کے وجود کے قائل ہیں لیکن خدا کی صفات میں ان کی بہت سی تصریحات شریعت
کی تعلیم سے باہر ہیں۔
- (ب)..... ملائکہ کے وجود کے وہ اس طرح قائل نہیں جس طرح کہ سلف صالحین اور جمہور امت محمدیہ کا عقیدہ ہے۔
- (ج)..... اس کے متعلق میری نظر میں کوئی تصریح نہیں ہے۔
- (د)..... قیامت کا بظاہر اقرار ہے۔
- (ہ)..... انبیائے کرام کے متعلق ان کے عقائد اور تصریحات جمہور امت محمدیہ کے خلاف موجود ہیں۔ حضرت
عیسیٰ ؑ کے متعلق ان کی تصریحات بہت گمراہ کن اور موجب توہین ہیں۔
- (و)..... حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کے وہ قائل نہیں، کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ وفات پاچکے بلکہ ان کی قبر
بھی کشمیر میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
- (ز)..... نبی اور رسول کی تعریفیں بھی وہ ایسی کرتے ہیں جس میں ان کی نبوت کی گنجائش نکل سکے۔
- (ح)..... ختم نبوت کے وہ اس معنی میں قائل نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔
سوال ..... ۴ کیا مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت مطلقہ و تشریعیہ کیا؟ اور حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد مدعی نبوت کا کیا حکم ہے؟ اور علاوہ ازیں اور بھی مرزا قادیانی نے ایسے دعاوی کیے؟ جن سے کفر لازم آئے۔ مثلاً دعویٰ الوہیت و دعویٰ وحی جس کو قرآن کے برابر قرار دیا و دعویٰ فضیلت از انبیاء۔ اور ایسے مدعی کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب ..... ۴ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا ہے۔
(اس موقع پر گواہ نے کہا کہ بہت سے سوالات کے جوابات بہت طویل طویل ہوں گے اور کئی روز خرچ ہوں گے اس لیے سو روپے ان کی فیس ہونی چاہیے۔ میں نے ان کو کہہ دیا ہے کہ وہ لکھ کر بھیج دیں)
بیان مولوی کفایت اللہ باقرار صالح:۔
مرزا قادیانی کے دعوؤں میں نبوت مطلقہ اور تشریعیہ دونوں کا دعویٰ موجود ہے اور جو شخص کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام میں ایسی باتیں موجود ہیں جن کی بنا پر ان کو خارج از اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً وحی کا دعویٰ جو قرآن کے برابر درجہ رکھتی ہے اور بعض انبیاء علیہم السلام کی توہین۔ آنحضرت ﷺ کی برابری کا دعویٰ۔ اور جو شخص کہ کسی نبی کی توہین کرے یا قرآن کے برابر وحی کا دعویٰ کرے یا آنحضرت ﷺ سے برابری کا مدعی ہو وہ کافر ہے۔
سوال...... ۵ کیا مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی؟
جواب...... ۵ ہاں توہین کی ہے۔
سوال...... ۶ کیا مرزا قادیانی نے آنحضور محمد ﷺ کی توہین کی؟
جواب...... ۶ مرزا قادیانی کے کلام سے آنحضرت ﷺ کی توہین لازم آتی ہے اور حضور کی برابری بلکہ حضور ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔
سوال...... ۷ جو شخص انبیائے کرام کی توہین کرے حقیقتاً یا الزاماً یا استہزاء مسلمان ہے یا کافر؟ اس لحاظ سے مرزا قادیانی مسلمان تھے یا کافر؟
جواب...... ۷ جو شخص انبیاء کی توہین کرے یا استہزاء کرے وہ کافر ہے۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کافر تھے۔
سوال...... ۸ کیا مرزا قادیانی اپنے منکر کو کافر کہتا تھا؟ یعنی ساری امت کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہتا تھا؟
جواب...... ۸ مرزا قادیانی کے کلام میں اس طرح کی تصریحات موجود ہیں کہ وہ اپنے متبعین کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو کافر کہتے تھے۔
سوال...... ۹ جو شخص مسلمان کو کافر کہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب...... ۹ جو شخص مسلمانوں کو اس بنا پر کافر کہے کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے حالانکہ اس کا دعویٰ ہی غلط و باطل ہے تو یہ شخص کافر ہے۔
سوال...... ۱۰ کیا مرزا قادیانی کے الہامات اس قسم کے ہیں جس سے مرزا قادیانی پر کفر عائد ہوتا ہے؟ اور وہ کیا کیا ہیں؟
جواب...... ۱۰ مرزا قادیانی کے بہت سے الہامات اس قسم کے ہیں کہ ان پر کفر عائد ہوتا ہے جو ان کی کتابوں میں دیکھ کر بتائے جاسکتے ہیں۔ آئندہ تاریخ پر حوالے پیش کروں گا۔
سوال...... ۱۱ کیا انبیائے کرام صادق اور معصوم ہوتے ہیں؟ اور کیا مرزا قادیانی صادق اور معصوم تھے؟ اگر نہیں تو ان کے غیر معصوم ہونے کے وجوہ بیان فرماویں۔
جواب...... ۱۱ انبیائے کرام یقیناً صادق اور معصوم ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نہ صادق تھے نہ معصوم۔ ان کے کذب کے ثبوت کے لیے بہت سے شواہد ان کی کتابوں میں موجود ہیں جو آئندہ پیش کروں گا۔
سوال...... ۱۲ کیا مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق تمام مشاہیر علمائے اسلام نے بالاتفاق کفر کا فتویٰ دیا ہے یا نہیں؟
جواب...... ۱۲ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق عام طور پر علمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
سوال...... ۱۳ کیا مرزا قادیانی دعوائے نبوت سے پیشتر ختم نبوت مطلق یا تشریعی کے قائل تھے؟ اور منکر ختم
نبوت کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟
جواب ...... ۱۳ مرزا قادیانی دعوائے نبوت سے پہلے ختم نبوت کے قائل تھے اور منکر ختم نبوت باتفاق علماء کافر ہے۔
سوال ...... ۱۴ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت معجزات انبیائے کرام کے قائل ہیں یا انکاری ہیں؟ اگر انکاری ہیں تو شرع میں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور کیوں؟
جواب ...... ۱۴ مرزا قادیانی نے بہت سے معجزات کا انکار کیا ہے اور ان کی صورتیں بدل دی ہیں۔ حالانکہ قرآن و احادیث کی تصریحات ان کی تاویلوں کی صراحتاً تردید کرتی ہیں۔ بلکہ بعض معجزات کا انکار اس پیرایہ میں کیا ہے جس سے اصل معجزہ کی تحریف اور اس کا استہزاء لازم آتا ہے۔ جو شخص کہ معجزات انبیاء کا اس طرح انکار کرے کہ اس سے استہزاء پیدا ہوتا ہو تو وہ اس بنا پر کافر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے متعلق اس کا عقیدہ انکار ثبوت کا مقتضی ہے یا قصداً انبیاء کا استہزاء کرتا ہے۔
سوال ...... ۱۵ مرزا قادیانی اجماع امت کے اصول کو تسلیم کرتے تھے، یا انکار کرتے تھے؟
جواب ...... ۱۵ مرزا قادیانی اجماع امت کے اصول کو عملاً تسلیم نہیں کرتے تھے۔
سوال ...... ۱۶ اجماع امت کے منکر کے متعلق اسلام میں کیا حکم ہے؟
جواب ...... ۱۶ اجماع امت اگر حقیقی ہو تو اس کا منکر کافر ہوتا ہے۔
سوال ...... ۱۷ اگر سوالات مذکورہ کا حکم اثبات میں ہو تو علمائے کرام کے فتوے اگر آپ کے پاس موجود ہوں تو پیش کریں۔
جواب ...... ۱۷ اس امر پر فتوے عام ہندوستان میں شائع ہو چکے ہیں۔ میرے پاس کوئی نقل اس وقت موجود نہیں ہے آئندہ پیش کروں گا۔
سوال ...... ۱۸ اخبار الجمعیۃ دہلی مورخہ یکم جنوری ۱۹۳۹ء کے صفحہ ۴ کالم نمبر ۱ پر آپ کے نام سے جو فتویٰ نسبت نکاح اہل سنت والجماعت و مرزائی درج ہے دیکھ کر بتلائیں کہ یہ فتویٰ آپ نے دیا تھا؟ فتویٰ مولوی محمد یوسف مدرسہ امینیہ دہلی منسلکہ بند سوالات آپ نے پڑھا اور اس پر الجواب صحیح آپ کے تحریر کردہ ہیں اور مہر دارالافتاء مدرسہ اسلامیہ دہلی کی ہے؟
جواب ...... ۱۸ اخبار الجمعیۃ دہلی مورخہ ۱۔۱۔۱۹۳۹ء کے صفحہ ۴ کالم نمبر ۱ پر جو فتویٰ تحریر ہے اور جس پر نشان C1 کمشنر نے ڈالا ہے صحیح ہے اور میرا ہی دیا ہوا ہے۔
(نوٹ) ...... ایسا کوئی فتویٰ جو مولوی محمد یوسف کا لکھا ہوا ہو اور جس پر ”الجواب صحیح“ مولوی مفتی کفایت اللہ صاحب نے لکھا ہو اور دارالافتاء کی مہر ہو شامل بند سوالات نہیں ہے۔
سوال ...... ۱۹ احمدیہ یعنی مرزائی مرد اور غیر احمدی مسلمان عورت کے مابین نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب ...... ۱۹ احمدی مرد اور غیر احمدی مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں ہے۔
سوالات جرح
سوال......۱ سوال نمبر تین مندرجہ فرد سوالات منجانب مدعیہ (الف) تا (ح) کے جوابات میں آپ نے اگر مرزا قادیانی کی کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے تو آپ بتلائیں کہ آپ نے وہ ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے اور کیا اس کتاب میں اور مرزا قادیانی کی دیگر کتابوں میں جو تصریحات ان امور (مندرجہ الف تا ح) کے متعلق ہیں ان کو اپنے جوابات میں ملحوظ رکھا ہے؟
جواب......۱ سوال نمبر تین کے جواب میں میں نے کسی مخصوص کتاب کا حوالہ نہیں دیا ہے باقی حصہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا جو جواب دیا جائے۔ حوالہ جات آئندہ پیش کروں گا۔
سوال......۲ کیا آپ نے بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جملہ تصانیف کو پڑھا ہے؟ اور آپ بتا سکتے ہیں جو مطبوعہ فہرست کتب سوالات جرح ہذا کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی تصنیفات کے نام درست طور پر درج ہوئے ہیں؟ اگر آپ نے مرزا قادیانی کی تمام تصنیفات کو نہیں پڑھا تو جو تصنیفات مرزا قادیانی کی آپ نے اوّل سے لے کر آخر تک پڑھی ہیں۔ فہرست مطبوعہ کو دیکھ کر ان تصنیفات پر نشان مع دستخط خود لگا دیں۔
جواب......۲ مرزا قادیانی کی جو تصنیفات میں نے پوری پڑھی ہیں فہرست مطبوعہ میں (جس پر نشان A ڈالا گیا ہے) ان کے ناموں پر میں نے دستخط کر دیے ہیں۔ اُن کے علاوہ ان کی بہت سی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔
سوال......۳ آپ نے جو عقائد مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی طرف منسوب کیے ہیں کیا ان عقائد اور مسائل کو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت تسلیم کرتی ہے؟ یا ان عقائد اور مسائل کو وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں رد کرتے ہیں؟
جواب......۳ جو مسائل و عقائد میں نے مرزا قادیانی کی طرف منسوب کیے ہیں اُن کو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت تسلیم کرتی ہے۔
سوال......۴ کیا مرزا قادیانی کی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی ذات اور اس کی صفات پر اور ملائکہ کے وجود اور صفات پر قرآن مجید اور دوسری پچھلی آسمانی کتابوں پر اور قیامت پر اور حضرت عیسیٰ ؑ اور نبی کریم ﷺ پر اور دیگر انبیاء کی نبوت پر اپنا ایمان ظاہر نہیں کیا گیا؟
جواب......۴ مرزا قادیانی کی تصنیفات میں ان چیزوں کا جن کا سوال میں ذکر ہے بیان ضرور آیا ہے مگر ان کی حقیقت شرعی بہت سے مقامات میں بدل دی گئی ہے۔
سوال......۵ کیا حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کا عقیدہ ایسا عقیدہ ہے کہ اس عقیدہ کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں رہ سکتا؟
جواب......۵ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات کا عقیدہ جمہور اہل اسلام کے نزدیک مسلمہ عقیدہ ہے اور جو شخص ان کی حیات کا عقیدہ نہ رکھے وہ جمہور کے نزدیک اسلام سے خارج ہے۔
سوال......۶ الف...... کیا آپ کو معلوم ہے کہ سرسید احمد خاں بانی علی گڑھ کالج اور ان کے معتقدین حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں؟
جواب...... ۶...... الف....... سید احمد خاں یا ان کے متبعین کی وہ تصریحات سامنے لائی جائیں جس میں انھوں نے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح کی ہو تو جواب دیا جا سکتا ہے۔
سوال...... ب...... کیا آپ کو علم ہے کہ شیخ محمد عبدہٗ مصری مرحوم جو ملک مصر کے مفتی اعظم تھے ان کا اور ان کے معتقدوں کا بھی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔
جواب...... ب...... ایضاً۔
سوال...... ج...... کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت امام مالکؒ اور امام ابن حزمؒ بھی وفات عیسیٰ کے قائل تھے؟
جواب...... ج...... ان دونوں محترم اماموں کی تصریح پیش کرنی چاہیے۔
سوال...... د...... کیا آپ نے سرسید احمد خاں کی تفسیر القرآن اور شیخ محمد عبدہٗ مصری مفتی اعظم کی تفسیر جسے محمد رشید رضا ایڈیٹر المنار مصر نے شائع کیا ہے۔ پڑھی ہے؟
جواب...... د...... میں نے یہ دونوں تفسیریں پڑھی ہیں مگر ان کا ایک ایک حرف نہیں پڑھا۔
سوال...... ہ...... کیا آپ نے مجمع بحار الانوار مصنفہ شیخ محمد طاہر گجراتی میں حضرت امام مالکؒ کا یہ مذہب پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔
جواب...... ہ...... مجمع البحار میں امام مالکؒ کا یہ قول مذکور ہونا مجھ کو یاد نہیں۔ ”مالک“ کا قول مذکور ہے مگر مالک سے خدا جانے کون مراد ہے۔
سوال...... و...... کیا آپ نے امام ابن حزم کی کتاب المحلّٰی پڑھی ہے؟ جو مصر سے چھپ کر شائع ہوئی ہے؟ کیا اس میں یہ مسئلہ درج ہے یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں؟
جواب...... و...... میں نے المحلّٰی پوری نہیں پڑھی اور اس میں یہ قول میرے مطالعہ میں نہیں آیا بلکہ المحلّٰی ج ۱ اول کی ابتدا میں یہ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے کے نبی ہیں۔
سوال...... ز...... آپ کے نزدیک سرسید احمد خاں حضرت امام مالکؒ حضرت امام ابن حزمؒ اور مفتی محمد عبدہٗ اور ان کے معتقدین مسلمان ہیں یا نہیں؟
جواب...... ز...... سرسید احمد خاں کے بہت سے عقائد جمہور علمائے اسلام کے خلاف ضرور ہیں مگر ان پر تکفیر کا حکم کرنے میں احتیاط کی جاتی ہے اور حضرت امام مالکؒ اہل سنت والجماعت کے مسلم امام ہیں اور ابن حزم اور مفتی محمد عبدہٗ مصری کے متعلق بھی میرے علم میں کوئی وجہ تکفیر نہیں ہے۔
سوال...... ح...... کیا مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شریعت کا آنا یا آنحضرت ﷺ کی شریعت کا منسوخ کیا جانا یا اس کے بعض حصوں کا منسوخ کیا جانا یا کسی ایسے نبی کا آ جانا جو آپ کی امت سے باہر ہو اور جس نے آنحضرت ﷺ کی پیروی سے تمام فیض حاصل نہ کیا ہو اپنی کسی کتاب میں جائز لکھا ہے؟
جواب...... ۷...... مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کا آنا جائز رکھا ہے اور خود تشریعی نبوت کا دعویٰ کر کے ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نئی شریعت آسکتی ہے اور حکم جہاد کے خلاف اپنا حکم دے کر یہ ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی شریعت محمدیہ کے احکام کو منسوخ کر سکتے تھے۔
سوال...... ۸...... الف...... اگر کسی کتاب میں مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں ہے یا آپ پر نبوت ختم نہیں ہے تو اس کا حوالہ دیں۔
جواب...... ۸...... الف...... خاتم النبیین کے معنی مرزا قادیانی نے ایسے بیان کر دیے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین بھی کہتے رہیں اور اپنی نبوت بھی منوالیں۔ حوالہ جات آئندہ دوں گا۔
سوال...... ب...... مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین پر اپنا ایمان ظاہر فرمایا ہے یا نہیں؟
جواب...... ب...... اسی طرح کا ایمان ظاہر کیا ہے جو اوپر لکھایا جا چکا ہے۔
سوال...... ج...... مرزا قادیانی ہر اس شخص کو جو حضرت نبی کریم ﷺ سے علیحدہ ہو کر اور نبی کریم ﷺ کی پیروی کو چھوڑ کر دعوائے نبوت کرے اسے ملعون سمجھتے ہیں یا نہ؟
جواب...... ج...... صرف یہی کافی نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے باہر ہو کر جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہی ملعون ہے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ ملعون ہے اور یہ بات مرزا قادیانی نے تسلیم کی ہے۔
سوال...... ۹...... اے...... نبوت مطلقہ اور نبوت تشریعی سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب...... ۹...... اے...... نبوت مطلقہ سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کو حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت عطا کیا جائے۔ خواہ اس کو جدید شریعت دی جائے یا نہ دی جائے اور تشریعی نبوت سے یہ مراد ہے کہ منصب نبوت کے ساتھ اس کو جدید شریعت بھی عطا کی جائے۔
سوال...... بی...... کیا کسی ایسے نبی کا نام آپ بتا سکتے ہیں جس نے آنحضرت ﷺ کے بعد یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں آنحضرت ﷺ کا پیرو اور آپ کی شریعت کے تابع ہوں اور پھر اس کی نسبت یہ فتویٰ دیا گیا ہو جو آپ نے بیان کیا ہے۔
جواب...... بی...... ایسے نبی بھی ہوئے ہیں جنھوں نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کیا مگر آپ کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کافر قرار دیے گئے جن میں سے ایک شخص اخرس کا واقعہ مشہور ہے۔
سوال...... سی...... کیا آپ قرآن مجید کی کسی آیت سے دکھا سکتے ہیں جس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی پیروی کرتے ہوئے اور آپ کی شریعت کے تابع رہتے ہوئے آپ کی امت میں سے کوئی شخص درجہ نبوت تابع آنحضرت ﷺ نہیں پا سکتا۔
جواب...... سی...... قرآن شریف کی آیت خاتم النبیین ہی اس معنی کے لیے نص صریح ہے کہ اس میں تمام
انبیاء کا خاتم حضور ﷺ کو قرار دیا گیا ہے اور تشریعی و غیر تشریعی نبوت کا فرق نہیں کیا گیا۔
سوال ...... ڈی ..... کیا آپ کو علم ہے کہ شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رحمہ اللہ نے کتاب فتوحات مکیہ میں یہ تحریر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت کے ختم ہونے اور آپ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کے یہ معنی ہیں کہ ایسی نبوت اور ایسا نبی نہ ہوگا جو آنحضرت ﷺ کی شریعت کو منسوخ کرے یا آپ کی شریعت کے خلاف کوئی شریعت لائے اور شیخ اکبر موصوف نے کیا اپنی کتاب مذکورہ میں یہ تحریر نہیں کیا کہ غیر تشریعی نبوت بند نہیں ہے۔
جواب ...... ڈی ..... شیخ اکبر کی کوئی عبارت اس مطلب میں صریح نہیں ہے۔
سوال ...... ای ..... کیا آپ کو علم ہے کہ علی بن محمد سلطان القاری رحمہ اللہ جو ملا علی قاری کے نام سے مشہور ہے انھوں نے اپنی کتاب ...... موضوعات کبیر میں لکھا ہے کہ آیۃ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے مذہب کو منسوخ کرے اور آپ کی امت سے نہ ہو۔
جواب ...... ای ..... ملا علی قاری کی عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کو جائز سمجھتے ہوں۔
سوال ...... ایف ..... کیا مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم نانوتویؒ بانی مدرسہ دیوبند نے اپنی کتاب تحذیر الناس میں یہ لکھا ہے کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبی ﷺ کوئی نبی پیدا ہوا تو پھر بھی خاتمیت نبوت محمد ﷺ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
جواب ...... ایف ..... مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی کتاب تحذیر الناس کی عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آپ کی امت میں سے آسکتا ہے۔
سوال ...... جی ..... کیا آپ کو علم ہے کہ مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحی لکھنوی مرحوم نے اپنے رسالہ موسومہ دافع الوسواس فی اثر ابن عباس میں لکھا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے یا زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔
جواب ...... جی ..... مولانا عبدالحی صاحب کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا ہو سکتا ہے۔
سوال ...... ایچ ..... کیا آپ نے تکملہ مجمع بحارالانوار مصنفہ شیخ محمد طاہر گجراتی پڑھا ہے؟ جس میں حضرت عائشہؓ کا یہ قول درج ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
سوال ...... آئی ..... قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین کس سن میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھی اور کیا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ کے فرزند ابراہیم علیہ السلام نے وفات پائی تھی؟ اس وقت آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔
جواب ...... ایچ ..... حضرت عائشہؓ کا یہ قول میں نے پڑھا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی جو کہ پہلے کا نبی ہو جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا محال نہیں۔
آئی...... اگر آیت خاتم النبیین نازل ہو چکی تھی اور اس کے بعد میں حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ لو عاش ابراہیم لکان نبیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کو یہ بتلانا تھا کہ چونکہ میرے بعد نبوت نہیں ہو سکتی تھی اس لیے تقدیر الہی یہی تھی کہ میرا بیٹا زندہ نہ رہے۔
سوال...... ۱۰ عربی محاورہ خاتم المحدثین، خاتم المفسرین، خاتم الاولیاء، خاتم الفقہاء کے کیا معنی ہوتے ہیں؟
جواب...... ۱۰ اس لفظ کے تو یہی معنی ہوتے ہیں کہ جس کو خاتم الفقہاء کہا جائے وہ گویا آخری فقیہ ہو جس کو خاتم المفسرین کہا جائے وہ آخری مفسر ہو۔ مگر اس کا اطلاق مبالغۃ یا مجازاً کسی بڑے فقیہ یا مفسر پر کر دیا جاتا ہے۔ گو اس کے بعد اور فقیہ ومفسر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن خاتم النبیین کا اطلاق آنحضرت ﷺ پر مبالغۃ یا مجازاً نہیں کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ حقیقی اور واقعی طور پر خاتم ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
سوال...... ۱۱ کیا آپ نے کتاب کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق مصنفہ امام مناویؒ پڑھی ہے؟ اور اس میں یہ حدیث دیکھی ہے کہ ابوبکر افضل ھذہ الامۃ الا ان یکون نبی. ان الفاظ کا اردو ترجمہ کر دیجئے۔
جواب...... ۱۱ اس کتاب کو میں نے دیکھا ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ابوبکرؓ اس امت میں سب سے افضل ہیں مگر یہ کہ نبی نہیں۔ یہ جبکہ لفظ نبیاً ہو۔ اور اگر نبیٌّ ہو تو پھر حدیث کی صحیح عبارت وہ ہے جو جامع صغیر میں ہے۔ یعنی ابوبکر افضل الناس الا ان یکون نبیٌّ یعنی نبیوں کے سوا ابوبکرؓ تمام لوگوں سے افضل ہیں۔
سوال...... ۱۲ آپ کے نزدیک شیخ محی الدین ابن عربیؒ ، علی بن محمد سلطان القاریؒ ، مولوی محمد قاسم دیوبندیؒ ، مولوی عبدالحی لکھنویؒ ، شیخ محمد طاہرؒ گجراتی کس درجہ کے مسلمان تھے؟
جواب...... ۱۲ یہ سب عالم اور بزرگ مسلمان تھے۔
سوال...... ۱۳ کیا مرزا قادیانی نے کسی جگہ اپنا یہ عقیدہ ظاہر فرمایا ہے کہ میں تمام انبیاء سے افضل ہوں۔
جواب...... ۱۳ ہاں مرزا قادیانی نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں جن سے یہ مطلب سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً ان کا اپنا شعر ہے۔
داد آں جام را مرا بہ تمام
(درثمین ص ۱۷۱ نزول مسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
اور ان کا دوسرا شعر ہے ۔
غسا القمران المشرقان اتنکر
(اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)
یعنی آنحضرت ﷺ کے لیے تو صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں پر گرہن پڑا۔ مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی نبوت کی نشانی کے طور پر تو صرف چاند گرہن کا ظہور ہوا اور میری (نبوت کی) نشانی کے لیے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا۔
اور مرزا قادیانی لکھتا ہے۔ ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لیے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص ۲۶۶ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
ایک اور جگہ لکھتا ہے۔ ”غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے لیکن ہمارے نبی ﷺ کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا۔“
(اشتہار منارۃ المسیح مرزا قادیانی مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۰۰ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد نہم ص ۴۴ حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۹۲)
نیز مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ پس انہیں معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ۔
(خطبہ الہامیہ ص ۲۷۵، ۲۷۶ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
ان عبارتوں کا اور ان کے علاوہ ان کی بیسیوں عبارتوں کا مطلب صاف ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ بھی روحانی ترقیات کا انتہائی زمانہ نہ تھا بلکہ ابتدائی تھا اور مرزا قادیانی کے ذریعہ سے وہ معراج کمال پر پہنچا۔ یعنی مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے بھی اعلیٰ اور افضل و اکمل ہیں اور جب حضور ﷺ سے بھی افضل ہوئے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام انبیاء سے افضل و اکمل ہوئے۔
سوال.......۱۴ کیا مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ نہیں لکھا کہ میں آنحضرت ﷺ کا غلام اور آپ کا امتی اور آپ کی شریعت کا متبع ہوں۔
جواب.......۱۴ مرزا قادیانی کی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے اور اس کے خلاف یہ بھی لکھا ہے جو نمبر ۱۳ کے جواب میں میں نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ روحانی ترقی کے پہلے قدم پر تھے اور مرزا قادیانی معراج کمال پر۔ جب مسلمان مرزا قادیانی پر اعتراض کرتے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد تم نبی کیسے ہو گئے تو ان سے جان بچانے کے لیے وہ کہہ دیا کرتے تھے کہ میں تو آنحضرت ﷺ کا غلام اور امتی ہوں اور حضور ﷺ کے اتباع کی بدولت مجھ کو نبوت ملی ہے اور جب اپنی تعلی میں آتے تو پھر صاحب وحی اور صاحب شریعت نبی بننے کے لیے مضامین کا طوفان برپا کر دیتے۔
سوال.......۱۵ قرآن شریف کی رو سے کسی نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے یا نہیں؟
جواب.......۱۵ قرآن شریف میں ہے۔ تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض۔
سوال.......۱۶ کیا آپ کے نزدیک مہدی معہود اور مسیح موعود کا درجہ عام امتیوں کے برابر ہے؟
جواب.......۱۶ مہدی موعود اور مسیح معہود کا رتبہ بہت بڑا ہے کیونکہ مسلمان تو حضرت مسیح موعود کو وہی نبی عیسیٰ بن مریم مانتے ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور ان کی نبوت کا دور ختم ہو گیا۔ اب وہ اس امت میں بطور ایک خلیفہ آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہوں گے۔ یہ بعثت بعثت نبوت نہ ہوگی اور نہ وہ نبوت سابقہ سے معزول ہوں گے بلکہ ان کی نبوت کا دور ختم ہو چکا ہے اس لیے وہ بحیثیت نبی مبعوث نہ ہوں گے بلکہ اس امت میں خلیفہ
خاتم المرسلین ہوں گے جو پہلے اپنی امت میں نبی تھے۔ اور مہدی موعود بھی آنحضرت ﷺ کے خلیفہ اور ولی کامل ہوں گے اور یہ دونوں علیحدہ علیحدہ شخص ہوں گے۔
سوال.......۱۷ کیا آپ کو علم ہے کہ شیعوں کے نزدیک شیعہ مذہب کے بارہ امام آنحضرت ﷺ کے سوا تمام انبیاء سے افضل ہیں؟
جواب.......۱۷ اگر ان میں سے غالی فرقوں کا یہ عقیدہ ہو تو ان کی گمراہی اور ضلالت کا نتیجہ ہوگا۔
سوال.......۱۸ اگر آپ کے پاس کتاب بحار الانوار جلد نمبر ۷ مصنفہ محمد باقر مجلسی مطبوعہ ایران موجود ہے تو اس کے صفحہ ۳۴۵ ”باب تفضيلهم على الانبياء و على جميع الخلق“ کو دیکھ کر بتلائیں کہ اس میں یہ عبارت موجود ہے؟ اعلم ما ذكره رحمة الله من فضل نبينا وائمتنا صلوات الله عليهم على جميع المخلوقات و كون ائمتنا عليهم السلام افضل من سائر الانبياء هو الذى لا يرتاب فيه من تتبع اخبارهم.
جواب.......۱۸ یہ کتاب میرے پاس موجود نہیں۔
سوال.......۱۹ کیا سنی مرد کا شیعہ عورت سے اور شیعہ مرد کا سنی عورت سے نکاح ہو سکتا ہے؟
جواب.......۱۹ شیعوں میں سے جو فرقے غالی ہیں اور ان پر کفر کا حکم کیا گیا ہے ان میں سے کسی شیعہ مرد کا نکاح سنی عورت سے جائز نہیں۔ البتہ سنی مرد کا نکاح شیعہ عورت سے جائز ہے۔
سوال.......الف....... مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا نبی مانا ہے یا نہیں اور اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہے یا نہیں کہ میں حضرت عیسیٰ ؑ سے محبت کرتا ہوں اور ان کی وہ عزت کرتا ہوں جیسی نبیوں کی عزت کرنی چاہیے۔
جواب.......الف....... ہاں مرزا قادیانی کی کتابوں میں یہ مضمون بھی ہے اور ابتدا میں وہ اسی قسم کے مضامین لکھتے تھے مگر ان کی کتابوں میں ایسے مضامین بھی بکثرت موجود ہیں جن سے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین ہوتی ہے۔ مثلاً ان کا قول ہے:
”تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو وہ فطری طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے تھے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۷)
اور لکھتے ہیں: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ؑ ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۸ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲)
اور مرزا کا شعر ہے:۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پابمنبرم
(ازالۃ الاوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۱۹۱) میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تین دادیوں اور نانیوں کو زنا کار اور کسبی عورتیں بتا کر یہ فقرہ لکھا۔ ”جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ اور کنجریوں سے میل ملاپ ہونا اور اس کی وجہ جدی مناسبت درمیان میں ہونا قرار دی ہے۔ یہ بھی لکھا کہ آپ کو (یعنی مسیح کو) کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔
سوال......۲۰ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے یا نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بنا کر بھیجا ہے۔
جواب......۲۰ مرزا قادیانی کا یہی دعویٰ نہیں کہ وہ مثیل مسیح ہو کر آئے ہیں بلکہ وہ مثیل آدم، مثیل نوح، مثیل ابراہیم، مثیل موسیٰ، مثیل عیسیٰ، مثیل محمد رسول اللہ ﷺ بلکہ عین محمد رسول اللہ ﷺ ہو کر آئے ہیں۔ یہ سب باتیں ان کی کتابوں میں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً ان کا بیان ہے۔ ”خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النبیین اور سیدالمرسلین کا بروز بنایا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ۲۵۴ خزائن ج ۱۶ ص ۲۵۴)
اور ان کا قول ہے: ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں (یعنی مرزا قادیانی) آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۸۴ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۱ حاشیہ)
سوال......۲۱ اگر مرزا قادیانی کی کسی کتاب سے یا کسی عبارت سے آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نکلتی ہے تو کیا مرزا قادیانی نے اس کے متعلق بار بار یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہرگز نہیں کی گئی بلکہ ان حملوں کے جواب میں جو عیسائیوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کیے ہیں عیسائیوں کو الزامی رنگ میں جواب دیے گئے ہیں۔
جواب......۲۱ مرزا قادیانی نے یہ عذر کیا ہے مگر یہ عذر غلط ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں اس طرح توہین موجود ہے کہ وہاں...... عیسائیوں کو الزامی رنگ میں جواب دینے کا عذر چل ہی نہیں سکتا۔
سوال......۲۲ کیا آپ مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی مرحوم کو جنھوں نے کتاب ازالۃ الاوہام فارسی میں لکھی تھی، جانتے ہیں؟
جواب......۲۲ ہاں مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی کا نام اور کچھ حالات سنے ہوئے ہیں۔
سوال......۲۳ کیا آپ مولوی آل حسن صاحب مرحوم کو جانتے ہیں؟ جو مولوی رحمت اللہ کے ہم عصر تھے اور عیسائیوں کے جواب میں انھوں نے کتاب استفسار لکھی تھی۔
جواب......۲۳ مولوی آل حسن صاحب مرحوم کے نام سے واقف ہوں۔
سوال......۲۴ کیا آپ کو علم ہے کہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم اور مولوی آل حسن مرحوم نے اپنی کتابوں میں عیسائیوں کی تردید کرتے ہوئے الزامی رنگ میں اس قسم کی عبارت کا استعمال کیا ہے جیسے کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کی تردید میں بعض عبارات لکھی ہیں۔ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم مہاجر مکی اور مولوی آل حسن صاحب مرحوم کی نسبت آپ کا کیا اعتقاد ہے؟
جواب ...... ۲۴ ان کی عبارتیں پیش کرو تاکہ مرزا قادیانی کی عبارتوں سے ان کا مقابلہ ہو سکے۔ مولانا رحمت اللہ صاحب ایک بزرگ عالم تھے۔ مولوی آل حسن صاحب سے میں زیادہ واقف نہیں ہوں۔
سوال ...... ۲۵ جس شخص نے مندرجہ ذیل عبارت اپنی کتاب میں لکھی ہے اس کی نسبت آپ کا کیا فتویٰ ہے؟
A...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ ہونا تو عقلاً مشتبہ ہے اس لیے کہ حضرت مریم یوسف کے نکاح میں نہیں تھی۔ چنانچہ اس زمانہ کے معاصرین لوگ یعنی یہود جو کہتے ہیں وہ ظاہر ہے۔
B...... تربیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی از روئے حکمت بہت ناقص ٹھہری۔
C...... اکثر پیشگوئیاں انبیائے بنی اسرائیل اور ان کے حواریوں کی ایسی ہیں جیسے خواب اور مجذوبوں کی بڑ۔ اگر انھیں باتوں کا نام پیشگوئی ہے تو ہر ایک آدمی کے خواب اور ہر دیوانہ کی بات کو ہم پیشگوئی ٹھہرا سکتے ہیں۔
D...... عیسیٰ بن مریم آخر درماندہ ہو کر دنیا سے انھوں نے وفات پائی۔
E...... سب عقلا جانتے ہیں کہ بہت سے اقسام سحر کے مشابہ ہیں معجزات سے۔ خصوصاً معجزات موسویہ و عیسویہ۔
F...... اشعیاہ اور ارمیاہ اور عیسیٰ کی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں بلکہ اس سے بہتر۔
G...... حضرت عیسیٰ کا معجزہ احیائے میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا بعد اس کے سب کے سامنے دھڑ سے دھڑ ملا کر کہا اٹھ کھڑا ہو! وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
H...... معجزات موسویہ و عیسویہ کے بسبب مشاہدہ کارخانہ سحر اور نجوم وغیرہ کے کسی کی نظر میں ان کا اعجاز ثابت نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ معجزات موسویہ اور عیسویہ کی سی حرکات یہاں بہتوں نے کر دکھائیں۔
I...... یسوع نے کہا کہ میرے لیے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا قبیح ترین ہے۔
J...... جوان ہو کر اپنے بندے یحییٰ کا مرید ہوا اور آخر کار ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا۔
K...... جس طرح اشعیاہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی بعض بلکہ اکثر پیشگوئیاں ہیں جو صرف بطور معمے اور خواب کے ہیں جس پر چاہو منطبق کر لو باعتبار ظاہری معنوں کے محض جھوٹ ہیں یا مانند کلام یوحنا کے محض مجذوبوں کی سی بڑ ہیں۔ ویسی پیشگوئیاں البتہ قرآن میں نہیں ہیں۔
L...... حضرت عیسیٰ نے یہودیوں کو جو حد سے زیادہ گالیاں دیں تو ظلم کیا۔
M...... کافروں نے معجزہ مانگا۔ حضرت عیسیٰ نے ان کافروں کو جھڑک دیا اور تہدید بوعید الہی کی، یا کچھ نہیں بولے، چپکے بیٹھے رہے اور ان کے ہاتھوں ذلتیں اٹھائیں۔
N...... جناب مسیح اقرار می فرمایند کہ یحییٰ نہ نان می خوردند نہ شراب می آشامیدند و آنجناب شراب می نوشیدند و یحییٰ در بیابان می ماندند و ہمراہ جناب مسیح بسیار زناں ہمراہ می گشتند و مال خود را می خورانیدند و زنان فاحشہ پاہائے آنجناب را می بوسیدند و آنجناب مرتا و مریم را دوست می داشتند و خود شراب برائے نوشیدن دیگر کساں عطا می فرمودند۔
O...... وقتیکہ یہودا فرزند سعادت مند شاں از زوجہ پسر خود زنا کرد و حاملہ گشت و قارض را کہ از آباؤ اجداد سلیمان علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام بود زائید۔ یعقوب علیہ السلام ہیچ کس را ازینہا سزائے ندادند۔
جواب......۲۵ یہ تمام اقتباسات اصل کتابوں اور ان کے سیاق و سباق سے ملا کر پڑھے جائیں جب کچھ خیال قائم کیا جا سکتا ہے۔
سوال......۲۶ کیا آپ مولانا عبدالرحمٰن جامی مرحوم کو جانتے ہیں؟ اور کیا آپ کو علم ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب سلسلۃ الذہب میں فارسی میں مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے؟ اگر آپ کو علم نہ ہو کہ یہ نظم کس نے لکھی ہے تو یہ فرما دیجئے کہ جس شخص نے یہ نظم الزامی رنگ میں حضرت علیؓ کی شان میں لکھی ہے وہ مسلمان ہے یا کافر ہو گیا؟
باز گو رمزے از علی ولی کہ ترا یافتم ولی علی
گفت کائے در ولائے من واہی از کدا میں علی سخن خواہی
زاں علی کش توئی ظہیر و معین یا ازاں کش منم رہی و رہین
گفت من گرچہ اند کے دانم در دو عالم علی یکی دانم
شرح ایں نکتہ را تمام بگو آں کدا مست و ایں کدام بگو
گفت آں کو بود گزیدۂ تو نیست بجز نقش تو کشیدۂ تو
پیکرے آفریدۂ بخیال گزرانیدۂ برو احوال
پہلوا نے بروت مالیدہ بہر کیں دروغا سگالیدہ
گربزے پر تہور و بیباک کینہ خوی و مفتن و سفاک
بندۂ نفس خویش چوں من و تو فارغ از دین و کیش چوں من و تو
در خیبر بزور خود کندہ بزدہ تا دوش دورش افگندہ
بخلافت دلش بسے مائل شد ابوبکرؓ درمیاں حائل
بعد بو بکرؓ خواست دیگر بار لیکن آں بر عمرؓ گرفت قرار
چوں ازیں ورطہ رخت بست عمرؓ شد خلافت نصیب یار دگر
در تگ و پوئے بہر ایں مطلوب ہمہ غالب شد بدو او مغلوب
با چنیں وہم و ظن ز نادانی اسد اللہ غالبش خوانی
ایں علی در شمارۂ کہ ومہ خود نہبود است ورنہ باشد بہ
واں علی کش منم بجاں بندہ سیرت نفس شوم را کندہ
بر صف اہل زیغ با دل صاف بہر اعدائے دیں کشید مصاف
بودہ از غایت فتوت خویش خالی از حول خویش و قوت خویش
ایں علی در کمال خلق و ہنر عین بوبکرؓ بود و عین عمرؓ
نیست در ہیچ معنی و جہتے رافضی را با و مشابہتے
او بموہوم خویش دارد رُو زانکہ موہوم است در خور او
علیے بہر خود تراشیدہ خاطر از مہر او خراشیدہ
جواب......۲۶ مجھے معلوم نہیں کہ یہ نظم کس کی ہے؟ اور شیعہ سنی سے اس میں کون اشخاص مراد ہیں۔ نیز اس کا مضمون صاف ہے ایک موہوم ”علی“ کو کہا گیا ہے جو کچھ کہا گیا ہے اور دونوں پہلو آمنے سامنے موجود ہیں۔ اس میں غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں۔
سوال......۲۷ کیا مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی بیحد تعریفیں نہیں کیں؟
جواب......۲۷ آنحضرت ﷺ کی تعریف بیشک کی ہے لیکن جبکہ خود بھی آنحضرت ﷺ کے بروز بلکہ عین محمد ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا گیا بلکہ آنحضرت ﷺ سے بھی اپنے آپ کو بڑھا دیا تو حضور ﷺ کی تعریف گویا اپنے آپ کو انتہائی معراج ترقی پر پہنچانے کی تمہید تھی۔
(دیکھو جواب نمبر ۱۳)
سوال......۲۸ کیا مرزا قادیانی نے انبیاء کی تحقیر کرنا اپنی کتابوں میں ناجائز قرار نہیں دیا؟
جواب......۲۸ یہی تو لطف ہے کہ ایک جگہ جس چیز کو ناجائز قرار دیتے ہیں دوسری جگہ اس ناجائز کا ارتکاب اس جرأت و دلیری سے کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
سوال......۲۹ یہ درست ہے یا نہیں کہ مرزا قادیانی کے مخالفوں نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کا الزام آپ پر لگایا تھا اور آپ نے اپنی کتابوں میں بار بار اس کی تردید کی ہے۔
جواب......۲۹ انھوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ مگر تردید ناقابل قبول اور ناقابل اعتماد ہے۔ جیسا کہ میں نمبر ۲۱ کے جواب میں کہہ چکا ہوں۔
سوال......۳۰ مرزا قادیانی کے دعوے سے پہلے جو لوگ اس امت کے گزرے ہیں ان کے متعلق مرزا قادیانی کا کوئی فتویٰ اگر آپ نے مرزا قادیانی کی کسی کتاب میں پڑھا ہے تو اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب......۳۰ اس سوال کا مفہوم صاف نہیں۔
سوال......۳۰/۱ اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو مفتری قرار نہیں دیتا اور آپ کی تکفیر و تکذیب نہیں کرتا اور جو لوگ آپ پر کفر کا فتویٰ دینے والے ہیں ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا اور اہل قبلہ میں سے ہے تو ایسے شخص کے متعلق مرزا قادیانی نے وہی فتویٰ دیا ہے جو آپ کی تکفیر و تکذیب کرنے والوں اور آپ کو مفتری قرار دینے والوں کے متعلق ہے تو اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب......۳۰/۱ ہاں مرزا قادیانی کی عبارتوں میں مرزا قادیانی کے اوپر ایمان نہ لانے والوں کو خدا رسول پر ایمان نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ دیکھئے مرزا قادیانی کا قول ہے۔
”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول ﷺ کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۸)
اور ان کا الہام ہے:۔ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد نہم ص ۲۷ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵ مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے خلیفہ مرزا محمود احمد کا فتویٰ یہ ہے:۔ ”آپ (مرزا قادیانی مسیح موعود) نے اس شخص کو جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لیے اس بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر ٹھہرایا ہے۔“
(مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان مندرجہ تشحیذ الاذہان ج ۶ نمبر ۴ اپریل ۱۹۱۱ء)
منقول از قادیانی مذہب ص ۲۴۹ طبع پنجم۔
مرزا قادیانی کا قول ہے:۔ بس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمھارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“ (اربعین نمبر ۳ ص ۲۸ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۴۱۷) (مرزا قادیانی سے) سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں یا نہ پڑھیں۔
حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ پہلے تمہارا فرض ہے اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق نہ کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۶ ملفوظات ج ۳ ص ۲۷۷)
سوال ...... ۳۱ کیا یہ درست نہیں کہ مرزا قادیانی کے بعض مخالف مولویوں نے بعض دوسرے مولویوں کے پاس پہنچ کر آپ کے خلاف فتویٰ حاصل کیا اور مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے فتویٰ دینے میں ابتداء نہیں کی۔
جواب ...... ۳۱ علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ اور توہین انبیاء اور تاویلات مردودہ کی بنا پر ان کے خلاف فتوے دیے۔ مگر مرزا قادیانی نے علماء کے خلاف زہر افشانی اور سب و شتم بہت پہلے سے شروع کر رکھا تھا۔
سوال ...... ۳۲ کیا آپ شیخ الاسلام ابوالعباس المعروف ابن تیمیہ کو جانتے ہیں؟ آپ کے نزدیک وہ کیسے عالم تھے؟ کیا آپ نے ان کی کتاب منہاج السنۃ ج ۳ پڑھی ہے جس میں انھوں نے ص ۶۱ و ۶۲ میں بیان کیا ہے کہ خوارج حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ اور ان کی ساری جماعت کو کافر کہتے تھے مگر حضرت علیؓ اور ان کی جماعت خارجیوں کو کافر نہیں کہتے تھے۔ اگر اس کا علم نہ ہو تو بتلا دیجئے کہ بطور امر واقعہ یہ درست ہے یا نہیں کہ حضرت علیؓ اور ان کی جماعت خارجیوں کو کافر نہیں کہتے تھے۔
جواب ...... ۳۲ منہاج السنۃ میں نے پڑھی ہے مگر اس کا نسخہ اس وقت موجود نہیں ہے تا کہ حوالے کی صحت کی جانچ اور ان کی عبارت کا مطلب بیان کیا جا سکے۔
سوال ...... ۳۳ مرزا قادیانی نے الہامات کے جو معنی اور تشریح آپ کرتے ہیں کیا مرزا قادیانی بھی ان الہامات کے وہی معنی اور تشریح کرتے ہیں؟ یا ان معنوں اور تشریح کو جو آپ کرتے ہیں مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں رد کیا ہے؟
جواب ...... ۳۳ مرزا قادیانی کے الہامات بہت ہیں اور ممکن ہے کہ بعض الہامات کے معنی و مطلب بیان کرنے میں مرزا قادیانی اور دوسرے علماء متفق ہوں اور بعض الہامات ایسے بھی ہیں کہ خود مرزا قادیانی بھی اس کے معنی سمجھنے سے قاصر رہے اور بعض الہامات کے معنی خود بدولت غلط سمجھے اور بعض الہامات کے معنی میں مرزا قادیانی
اور دوسرے علماء آپس میں مختلف ہیں۔
سوال......۳۴ مرزا قادیانی سے پہلے جو اولیاء اللہ اس امت میں ہوئے ہیں کیا ان پر بھی اس وقت کے علماء کی طرف سے اعتراضات ہوتے رہے ہیں یا نہ؟
جواب......۳۴ بعض بزرگوں پر ان کے زمانے کے مخالفین نے اعتراضات کیے ہیں۔
سوال......۳۵ کیا آپ کوئی حوالہ پیش کرسکتے ہیں جس میں مرزا قادیانی نے اپنا یہ عقیدہ لکھا ہو کہ انبیاء علیہم السلام صادق اور معصوم نہیں ہوتے۔
جواب......۳۵ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ ان کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔
(دیکھو جواب نمبر ۱۹ الف)
سوال......۳۶ مرزا قادیانی سے پہلے جو مقبولان الٰہی اس امت میں گزرے ہیں کیا ان میں سے اکثر پر علمائے وقت کی طرف سے کفر کے فتوے نہیں لگائے جاتے رہے؟
جواب......۳۶ بعض بزرگوں کے متعلق تو ایسا ہوا ہے مگر یہ کلیہ نہیں کہ ہر بزرگ پر کفر کا فتویٰ لگا ہے۔ نیز کیا یہ قاعدہ اُلٹا نہیں ہوسکتا کہ کاذب اور جھوٹے مدعیان نبوت اور دجالوں کی تصدیق کرنے والے بھی ہوتے رہے ہیں اور آج بھی صریح کفر کے مرتکبین کی جماعتیں موجود ہیں۔
سوال......۳۷ جن علماء نے مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا ہے کیا وہ علماء آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے نہیں دیتے۔
جواب......۳۷ اگر ایسا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے کفر پر مختلف العقائد علماء بھی متفق ہیں۔
سوال......۳۸ مرزا قادیانی کے مخالف علماء نے جو غلط عقائد مرزا قادیانی کی طرف منسوب کیے ہیں ان کی تردید مرزا قادیانی کی تصانیف میں موجود ہے یا نہیں؟
جواب......۳۸ غلط عقائد کون سے منسوب کیے ہیں؟ ان کی تفصیل بیان کرکے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ ان کا رد مرزا قادیانی کی کتابوں میں ہے یا نہیں؟
سوال......۳۹ واضح کیجئے کہ نبوت مطلقہ اور نبوت تشریعیہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب......۳۹ نبوت اور رسالت کے اندر اصطلاحی فرق کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ نبی وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ منصب نبوت عطا فرمائے، وحی و الہام سے نوازے مگر کتاب عطا نہ ہو اور رسول وہ ہے کہ اس کو نبوت عطا ہو، وحی و الہام سے نوازا جائے اور اس کو کتاب بھی عطا کی جائے۔ اگر نبوت تشریعیہ سے مراد رسالت ہو تو اس کی تعریف یہ ہوگی جو اوپر مذکور ہوئی اور اس کے مقابل محض نبوت کو نبوت مطلقہ کہہ دیا جائے تو یہ ایک اصطلاحی بات ہوگی۔ ورنہ نبوت حقیقیہ جو اللہ کی طرف سے ایک منصب عظیم ہے۔ اس میں حقیقۃً نبوت تشریعیہ اور نبوت مطلقہ یا غیر تشریعیہ کا کوئی فرق نہیں ہے۔
سوال......۴۰ نبوت مطلقہ اور نبوت تشریعی کا دعویٰ جس کتاب میں مرزا قادیانی نے کیا ہے اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب ...... ۴۰ مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت ان کی کئی کتابوں میں صراحۃً موجود ہے۔ تتمہ حقیقۃ الوحی، اربعین، دافع البلاء وغیرہ۔
”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے، اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸ خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳)
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
مرزا قادیانی کا الہام:- ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (ای مرسل من اللہ)“
(البشریٰ ج دوم ص ۵۶)
”ہلاک ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔“
(کشتی نوح ص ۵۶ خزائن ج ۱۹ ص ۶۱)
مرزا قادیانی کا الہام ہے:- ”انا ارسلنا احمد الی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر.“
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۳ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۴)
سوال ...... ۴۱ کوئی ایسا حوالہ دیجئے کہ جس میں مرزا قادیانی نے ختم نبوت کے منکر پر اس فتوے کے خلاف فتویٰ دیا ہو جو آپ کے خیال میں دعوے سے پہلے دیتے تھے۔
جواب ...... ۴۱ ختم نبوت کے منکرین کے بارے میں مرزا قادیانی کی پہلی تحریریں یہ ہیں:-
”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
(انجام آتھم ص ۲۷ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
”میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(اشتہار مرزا تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۴۴ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۵۵)
”ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(اشتہار مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ۶ ص ۲ مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۲۹۷)
”میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“
(اشتہار مرزا تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۲۰ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۳۰، ۲۳۱)
اس کے بعد جب خود نبی بنے تو ختم نبوت کے معنی بدلنے لگے اور اپنی نبوت کا اعلان ہونے لگا۔ مثلاً
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ
ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی امید بھی نہیں۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳ خزائن ج ۲۱ ص ۳۵۴)
”اور آنحضرت ﷺ کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات ومخاطبات الہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنی ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دور ومہجور ہوتی۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳ خزائن ج ۲۱ ص ۳۵۳)
یعنی منکرین ختم نبوت کو یا تو پہلے کافر اور کاذب اور ملعون اور دائرہ اسلام سے خارج کہتے تھے یا اب خود ہی نبی اور رسول بن گئے اور ختم نبوت کے عقیدہ کو لعنتی قرار دے دیا۔
سوال .......۴۲ کوئی ایسا حوالہ دیجئے جس میں مرزا قادیانی نے لکھا ہو کہ میں معجزات انبیاء کا قائل نہیں ہوں۔
جواب ......۴۲ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزات کا انکار ان الفاظ میں کیا ہے۔ ”حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرامکار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
”اور یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انھیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب (یعنی مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۲۲ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۶۳)
اسی طرح معجزہ شق القمر وغیرہ کا انکار بھی مرزا قادیانی کی کتابوں میں موجود ہے۔
سوال ......۴۳ کیا یہ درست ہے یا نہیں کہ جن لوگوں نے مرزا قادیانی پر الزام لگایا کہ آپ انبیاء کے معجزات کا انکار کرتے ہیں آپ نے اپنی کتابوں میں ان کی تردید کی؟
جواب ......۴۳ ہاں تردید بھی کرتے گئے اور خود انکار بھی کرتے رہے۔
سوال ......۴۴ باوجود اس اقرار کے کہ انبیاء علیہم السلام سے معجزات ظاہر ہوتے ہیں کسی شخص کا ایک خاص امر کی نسبت یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ معجزہ نہیں اور دوسرے کا اس خاص امر کے متعلق یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ معجزہ ہے۔ کیا ایسا بیان کفر ہے؟
جواب ......۴۴ اگر کوئی معجزہ متفق علیہا ہو تو اس کو معجزہ تسلیم نہ کرنا انکار ہی قرار دیا جائے گا۔
سوال ......۴۵ کیا یہ درست ہے کہ بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ قرآن مجید کی فلاں آیت میں فلاں معجزے کا ذکر ہے اور دوسرے علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ ان آیات میں معجزے کا ذکر نہیں۔ گو اس بات میں ان کا اختلاف نہیں ہے کہ انبیاء سے معجزات ظاہر ہوتے ہیں۔
جواب ......۴۵ خاص حوالہ دے کر اتفاق یا اختلاف کا سوال کرنا چاہیے۔
سوال ......۴۶ کیا یہ درست ہے کہ سرسید احمد خاں بانی علی گڑھ کالج معجزات کے قائل نہ تھے؟
جواب ......۴۶ سرسید احمد خاں بہت سے معجزات کا انکار کرتے تھے۔
سوال......۴۷ کیا یہ صحیح ہے کہ اجماع کی تعریف میں خود علمائے اسلام کا سخت اختلاف ہے؟
جواب......۴۷ اجماع کی تعریف میں، اس کے شرائط میں، اس کے احکام میں گو کچھ اختلاف ہے مگر وہ ایسا اختلاف نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اجماع غیر معتبر ہو جائے۔ قول صحیح اور راجح کی تعیین دلائل سے ہو سکتی ہے اور جو قول صحیح اور راجح ہے اس کے موافق اجماع کو حجت اور دلیل قرار دیا جا سکتا ہے۔
سوال......۴۸ کیا حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمایا ہے کہ ومن ادعی الاجماع ھو کاذب۔ جو شخص اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
جواب......۴۸ امام احمد بن حنبل کے اس قول کا حوالہ دیا جائے تو اس کے متعلق کچھ کہا جا سکتا ہے۔
سوال......۴۹ اجماع امت کے حجۃ شرعیہ ہونے میں علمائے اسلام کا اختلاف ہے یا نہیں؟
جواب......۴۹ اجماع کی کئی قسمیں ہیں۔ بعض قسموں کے حجت ہونے میں بیشک اختلاف ہے مگر اجماع قطعی کے حجت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
سوال......۵۰ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر اجماع ہے؟ اگر یہ درست ہے تو فرمائیے وہ لوگ جو شیعہ مذہب رکھتے ہیں اور حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے منکر ہیں وہ مسلمان ہیں یا کافر؟
جواب......۵۰ ہاں خلافت صدیق پر اجماع ہے اور جو لوگ کہ خلافت صدیقؓ کے منکر ہیں یعنی یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ ابوبکر صدیقؓ پہلے خلیفہ ہوئے وہ نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج بلکہ جاہل اور قطعیات کے منکر ہیں۔
سوال......۵۱ جو حکم اجماع امت کے منکر کا آپ بیان کرتے ہیں کیا اس حکم پر سب علمائے امت کا اتفاق ہے؟
جواب......۵۱ اجماع قطعی کے منکر کا حکم متفق علیہ ہے۔
سوال......۵۲ آپ مرزا قادیانی کا کوئی ایسا حوالہ پیش کریں جس میں انھوں نے لکھا ہو کہ میں اجماع امت کا کلی منکر ہوں۔
جواب......۵۲ بعینہ اس عبارت کا کوئی حوالہ تو مجھے یاد نہیں مگر مرزا قادیانی نے اجماعیات کا انکار کیا ہے۔
سوال......۵۳ ایک فرقہ کے علماء جو دوسرے فرقہ کے لوگوں کو کافر کہتے ہیں کیا باوجود ان کے دعوٰی اسلام کے ان کی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب......۵۳ تکفیر کے مختلف وجوہ ہیں۔ بعض صورتوں میں ارتداد کا حکم یقینی ہوتا ہے اور بعض میں ظنی، اس لیے اس کے احکام بھی مختلف ہیں۔
سوال......۵۴ مرزا قادیانی اور آپ کے متبعین اپنی کتابوں میں اللہ تعالیٰ پر فرشتوں پر اور خدا تعالیٰ کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور نبیوں پر اور قیامت پر اور تقدیر پر اور حشر و نشر اور جنت و دوزخ پر اور قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ محمد مصطفیٰ کی نبوت پر اور کلمہ شریفہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اپنا ایمان ظاہر کرتے ہیں یا نہیں؟ اور اسی طرح نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور شریعت اسلامیہ کی پابندی کے متعلق مرزا قادیانی کی اور آپ کے متبعین کی
کتابوں میں ہدایات اور تاکیدات درج ہیں یا نہیں؟
جواب......۵۴ ان چیزوں پر ایمان کا دعویٰ ان کی کتابوں میں ہے۔ مگر بعض ایمانیات کی صورتیں انھوں نے بدل دی ہیں اور بعض میں تحریف کر کے ان کو مسخ کر دیا ہے۔
سوال......۵۵ بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یا نہیں؟
جواب......۵۵ یہ لوگ اپنے مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔
سوال......۵۶ آپ نے کسی سرکاری یونیورسٹی سے کوئی سند تحصیل علوم عربی کی حاصل کی ہے؟ اگر حاصل کی ہے تو کونسی؟ اور اس کی سند پیش کیجئے۔
جواب......۵۶ میں نے کسی سرکاری یونیورسٹی سے کوئی سند حاصل نہیں کی۔
سوال......۵۷ آپ کس فرقہ اسلام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟
جواب......۵۷ میں اہل السنّت والجماعت حنفی مسلمان ہوں۔
سوال......۵۸ جس مدرسہ میں آپ مدرس ہیں وہ سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟
جواب......۵۸ یہ مدرسہ سرکاری نہیں۔ قومی ہے۔
سوال......۵۹ آپ ماہوار تنخواہ کیا لیتے ہیں؟
جواب......۵۹ میں صرف (پچھتر روپے) ماہوار پاتا ہوں۔
سوال......۶۰ کیا آپ کا تعلق دیوبندی جماعت سے نہیں ہے؟
جواب......۶۰ ہاں میری تعلیم دارالعلوم دیوبند کی ہے۔
سوال......۶۱ کیا دیوبندی خیالات کے لوگوں پر علماء کی کسی جماعت نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا؟
جواب......۶۱ اس جماعت کے بعض افراد کے خلاف بعض لوگوں نے کفر کا فتویٰ دیا ہے مگر جن عقائد کی ان کی طرف نسبت کر کے کفر کا فتویٰ دیا ہے وہ درحقیقت ان کے عقائد نہیں ہیں۔ غلط طور پر ان کی طرف منسوب کر دیئے ہیں۔
سوال......۶۲ مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے ہم خیال علماء دیوبندی خیالات کے علماء اور لوگوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں یا نہ؟
جواب......۶۲ بعض علماء نے ایسا کیا ہے۔
سوال......۶۳ کیا دیوبندی خیال کے علماء نے مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے ہم خیال لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہوا ہے یا نہ؟
جواب......۶۳ تمام دیوبندی علماء، مولوی احمد رضا خاں اور ان کی جماعت کی تکفیر نہیں کرتے۔
سوال....... ۶۴ کیا یہ درست نہیں ہے کہ موٹے موٹے فرقہ ہائے اسلام مثلاً سنی، شیعہ، اہل حدیث وغیرہ کے علماء نے ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگایا ہوا ہے یا نہ؟
جواب....... ۶۴ کسی فرقہ کے بعض افراد نے دوسرے فرقہ کے بعض افراد پر مخصوص عقیدہ کی بنا پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
مکرر سوالات متعلقہ جرح
(۱) متعلقہ جرح نمبر ۴
اگر سوال نمبر ۴ کا جواب اثبات میں ہو تو یہ بتلائیں کہ
سوال....... الف ....... یہود و نصاریٰ اور مشرکین اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور آسمانی کتابوں اور انبیائے کرام کے وجود کے قائل تھے یا نہ؟ اور اگر قائل تھے تو بایں ہمہ وہ از روئے قرآن مجید مسلمان ہیں یا کافر؟ اور اگر کافر ہیں تو کیوں؟
(۱) متعلقہ جرح نمبر ۴
جواب....... الف ....... یہود و نصاریٰ اور مشرکین ان سب پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اس لیے کافر ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور انھوں نے مسیح کو خدا یا خدا کا بیٹا یا حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔ یا غیر اللہ کی عبادت کی۔
سوال....... ب ....... مرزا قادیانی کی کتب ہائے ذیل دیکھ کر بتلائیں کہ ان میں عقیدہ ہائے ذیل درج ہیں یا نہ؟
- ۱....... (توضیح المرام ص ۷۵ خزائن ج ۳ ص ۹۰) ’’ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک وجود اعظم ہے جس کے بیشمار
ہاتھ اور بیشمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہیں کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔‘‘
- ۲....... (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۳ ج ۲۲ ص ۱۰۶) میں ہے۔ ’’میں (خدا تعالیٰ) خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔ یعنی جو میں
چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں۔ میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔‘‘
- ۳....... (حقیقۃ الوحی ص ۷۴ خزائن ج ۲۲ ص ۷۷) میں ہے۔ ’’انت منی وانا منک تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔‘‘
- ۴....... (حقیقت الوحی ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۸۹) میں ہے۔ انت منی بمنزلۃ اولادی۔ ’’اے مرزا تو میری اولاد
کے بمنزلہ ہے۔‘‘
- ۵....... (توضیح المرام ص ۲۴ خزائن ج ۳ ص ۶۳) میں ہے۔ ’’فرشتے، روح کی گرمی کا نام ہے۔‘‘
- ۶....... (توضیح المرام ص ۷۹ خزائن ج ۳ ص ۹۲) میں ہے۔ ’’جبرئیل فرشتہ خدا کا عضو ہے۔‘‘
- ۷....... (حقیقۃ الوحی ص ۸۴ خزائن ج ۲۲ ص ۸۷) میں ہے۔ ’’قرآن مجید خدا کی کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
- ۸....... (ازالۃ اوہام ص ۲ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵) میں ہے۔ ’’قرآن شریف سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔‘‘
- ۹....... (ازالۃ اوہام ص ۳۰۵ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶) میں ہے۔ ’’حضرت مسیح ؑ عمل الترب میں کمال رکھتے تھے
یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب کے۔‘‘
- ۱۰...... (ازالہ اوہام ص ۴۰۹ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸) میں ہے۔ ”معجزات مسیح مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔“
- ۱۱...... (دافع البلاء ص ۱۵ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۵) میں ہے۔ ”جس (مسیح) کے فتنہ نے دنیا کو تباہ کر دیا۔“
- ۱۲...... (دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰) میں ہے۔ ”عیسیٰ ؑ نے یحییٰ کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔“
- ۱۳...... (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) میں ہے۔ ”میں اس (عیسیٰ ؑ ) سے بڑھ کر ہوں۔“
- ۱۴...... (ازالہ اوہام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) میں ہے۔ ”مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔“
- ۱۵...... (حقیقۃ الوحی ص ۸۹ خزائن ج ۲۲ ص ۹۲) میں ہے۔ ”تیرا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کا) تخت سب سے
اوپر بچھایا گیا۔“
- ۱۶...... (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۷۰ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۲۰۵) میں ہے۔ ”خدا نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے
ایک ذلیل جگہ تجویز کی جو متعفن اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“
- ۱۷...... (ازالہ اوہام ص ۱۴۶ خزائن ج ۳ ص ۱۶۹) میں ہے۔ ”خدا کے تائید یافتہ بندے قیامت کا روپ بن کر آتے
ہیں اور انھیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے۔“
اگر عقیدہ ہائے مذکورۂ بالا کتب ہائے مذکورۂ بالا میں درج ہیں تو ایسے عقیدے رکھنے والا شخص مسلمان کہلا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کہلا سکتا تو کیوں؟ حالانکہ وہ خدا کے وجود اور فرشتوں کے اور قیامت کے وجود کا بھی قائل ہے۔ سب جواب قرآن مجید کی آیات اور احادیث صحیحہ کے حوالہ سے دیں۔
جواب....... ب....... یہ مضمون توضیح المرام میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ الہام ان کی کتاب (الاستفتاء کے ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۴) میں موجود ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے:۔ انی مع الرسول اجیب، اخطی واصیب یعنی خدا فرماتا ہے میں رسول کے ساتھ ہوں قبول کرتا ہوں، خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی۔ اور (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۶) میں ہے۔ انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب۔ اور اس کا ترجمہ بین السطور میں اس طرح لکھا ہے۔ ”میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ اپنے ارادے کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی پورا کروں گا۔“ یہ الہام (الاستفتاء کے ص ۸۰ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰۶) میں موجود ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے۔ یاقمر یاشمس انت منی وانا منک۔ نیز (دافع البلاء کے صفحہ ۶ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۷) میں بھی یہ الہام موجود ہے مگر یاقمر یاشمس کے الفاظ نہیں ہیں اور (حقیقۃ الوحی کے ص ۷۴ خزائن ج ۲۲ ص ۷۷) میں الاستفتاء کی عبارت کے موافق موجود ہے۔
(دافع البلاء ص ۶ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۷) میں یہ الہام موجود ہے۔ انت منی بمنزلۃ اولادی اور یہ بھی ہے انت منی وانا منک توضیح المرام کے ص ۲۳ خزائن ج ۳ ص ۶۳ میں یہ عبارت ہے۔ ”جب خدا تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واطمینان اور کبھی فرشتہ وملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔“
(توضیح المرام کے ص ۱۸ خزائن ج ۳ ص ۶۲) میں یہ عبارت ہے۔ سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبرئیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔“
(الاستفتاء ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰۹) پر موجود ہے۔ ان القران کتاب اللہ وکلمات خرجت من فوهی۔ اور حقیقۃ الوحی کے ص ۸۴ خزائن ج ۲۲ ص ۸۷ میں یہ عبارت ہے۔ ”اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۶۔۲۷ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵، ۱۱۶) حاشیہ میں یہ عبارت اس طرح ہے۔ ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔“ نیز اسی میں کہا ہے۔ ”ایسا ہی ولید مغیرہ کی نسبت (قرآن نے) نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کیے ہیں۔“
ہاں یہ مضمون (ازالہ اوہام کے ص ۳۰۵، ۳۰۹ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶، ۲۵۷) میں موجود ہے۔ اس کے آخر میں مرزا قادیانی نے کہا ہے۔ ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۰۹ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸)
یہ اسی حوالہ کا خلاصہ ہے جو اوپر نمبر ۹ میں بیان ہوا۔ ہاں (دافع البلاء کے ص ۱۵ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۵) میں یہ عبارت موجود ہے۔ ”لیکن ایسے شخص (یعنی مسیح) کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“ (دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰) حاشیہ میں یہ مضمون موجود ہے۔ ”اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔“
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) میں یہ مضمون موجود ہے۔ عبارت یہ ہے:۔ ”اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا (یعنی مسیح کا) ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔“
(ازالہ اوہام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) میں یہ عبارت موجود ہے۔ ”حضرت مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔“ اور (ازالہ اوہام ص ۷ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) میں ہے۔ ”اس سے زیادہ قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔“
یہ الہام عربی عبارت میں (الاستفتاء کے ص ۸۳ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰۹) پر موجود ہے۔ عبارت یہ ہے۔ ”ولکن سريرک وضع فوق کل سرير.“ ترجمہ: ”لیکن تیرا تخت ہر تخت سے اوپر رکھا گیا۔“ اور (حقیقۃ الوحی کے ص ۸۹ خزائن ج ۲۲ ص ۹۲) میں بھی یہ لفظ ہیں۔ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
ہاں یہ عبارت (تحفہ گولڑویہ ص ۶۹ خزائن ج ۱۷ ص ۲۰۵) کے حاشیہ پر موجود ہے۔ ”اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۸ خزائن ج ۳) میں یہ عبارت موجود ہے۔ مرزا قادیانی ان عبارتوں اور عقیدوں اور ان کے علاوہ اور بھی عقائد ایسے ہیں جن کی وجہ سے خارج از اسلام ہیں۔ اور کوئی شخص جو ان جیسے عقائد رکھتا ہو مسلمان نہیں رہ سکتا۔
(۲) متعلقہ جرح نمبر ۵، ۶
سوال ...... الف ...... مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۵۵۶) پر تواتر کو حجت تسلیم کیا ہے یا نہیں؟ اور کیا رسالہ عقائد احمدیت ص ۱۲ پر مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ درج ہے کہ ”سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تواتر رکھتا ہے جو آنحضرت ﷺ نے جاری کیا اور یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے۔
(۲) متعلقہ جرح نمبر ۵، ۶
جواب....... الف....... ہاں (ازالہ اوہام ص ۵۵۶ خزائن ج ۳ ص ۳۹۹) پر مرزا قادیانی نے تواتر کو حجت تسلیم کیا ہے۔ رسالہ عقائد احمدیت اس وقت موجود نہیں ہے۔
سوال....... ب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ آنحضور ﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک مروج ہے اور معمولِ خاص و عام چلا آتا ہے یا نہیں؟ اور کتب عقائد مذکور تواتر کی حد تک پہنچتا ہے یا نہیں؟
جواب....... ب....... حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ امت میں آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے آج تک چلا آتا ہے۔ کتب عقائد میں بھی اس کو بیان کرتے ہوئے چلے آتے ہیں۔
سوال....... ج....... عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے تواتر کے منکر کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب....... ج....... ایسا شخص جاہل اور معاند ہے اور اس کے لیے وہی فتویٰ ہو سکتا ہے جو مرزا قادیانی نے خود (ازالہ اوہام کے ص ۵۵۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰۰) میں دیا ہے۔ وہ یہ ہے:۔ ’’اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرتِ دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘
سوال....... د....... کیا وفات مسیح کا عقیدہ بھی کتب عقائد میں درج ہو کر اس کی تعلیم دی جاتی ہے یا نہ؟
جواب....... د....... وفات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کتب عقائد میں مذکور نہیں اور نہ اس کی تعلیم دی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے۔
سوال....... ہ....... سرسید اور ابن حزم و سید رضا اور محمد طاہر گجراتی کے ذاتی خیالات و عقائد اجماع امت کے مقابلہ میں اسلام کے لیے حجت ہو سکتی ہے یا نہ؟ اور مفسرین مذکورین مسلمانوں کے پیشوا معتمد علیہ ہیں یا نہیں؟
جواب....... ہ....... سرسید احمد خاں اور ابن حزم اور سید (رشید) رضا اور محمد طاہر گجراتی کے ذاتی خیالات حجت شرعیہ نہیں۔
سوال....... و....... شیخ محمد عبدہ کی تفسیر اور کتاب محلی مسلمانوں میں مروج اور مدارس اسلامیہ میں زیر تعلیم ہے یا نہ؟
جواب....... و....... شیخ محمد عبدہ کی تفسیر اور کتاب محلی یہاں مسلمانوں میں مروج نہیں نہ مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔
سوال....... ز....... مجمع البحار عقائد کی کتاب ہے یا لغت کی؟ کتاب ہذا میں امام مالکؒ کے قول (مات عیسیٰ) کے کیا معنی کیے گئے ہیں؟
جواب....... ز....... مجمع البحار لغات کی کتاب ہے۔ عقائد یا حدیث کی کتاب نہیں۔ احادیث کا ذکر لغات کے ضمن میں تبعاً آ جاتا ہے۔ امام مالکؒ سے یہ قول ثابت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ مالک سے امام مالک مراد ہیں یا اور کوئی۔
سوال ...... ح ....... (کتاب مذکور ج ۱ ص ۲۸۶) میں تحریر ہے کہ ”عیسیٰ ؑ کا نزول حد تواتر کو پہنچتا ہے۔“
جواب ........ ح ....... ہاں (مجمع البحار ج ۱ ص ۲۸۶) میں یہ عبارت موجود ہے۔ لتواتر خبر النزول یعنی عیسیٰ ؑ کے نازل ہونے کی خبر متواتر ہونے کی جہت سے۔ نیز اسی کتاب کے (تکملہ کے ص ۸۵) میں ہے۔ ”بان یتزوج ویولد لہ وکان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء“ (انتہی مختصراً) یعنی حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہو کر نکاح کریں گے اور اولاد بھی ہوگی۔ کیونکہ آسمان پر جانے سے پہلے انھوں نے نکاح نہیں کیا تھا۔
سوال ...... ط ....... قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اور تواتر کے مقابلہ میں چند اشخاص کے خیالات درست عقیدہ قائم کرنے کے لیے حجت ہو سکتے ہیں؟
جواب ........ ط ....... نہیں۔
(۳) متعلقہ جرح نمبر ۷
سوال ...... الف ...... مرزا قادیانی کا فتویٰ (فتاوی احمدیہ ج ۲ ص ۸۱) میں تحریر ہے۔ ”(جنگ) جہاد کا فتویٰ فضول ہے۔ اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے۔“ نیز رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد میں مرزا قادیانی نے جہاد کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ کیا یہ عقیدہ قرآن شریف کے عقیدے کے موافق ہے یا برخلاف؟
(۳) متعلقہ جرح نمبر ۷
جواب ........ الف ...... جہاد کے فضول ہونے کا عقیدہ جو مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے قرآن و حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے شریعت محمدیہ کے ایک قطعی حکم کو منسوخ کر دیا جو صریح کفر ہے۔
(۴) متعلقہ جرح نمبر ۱۸ اے۔ بی
سوال ...... الف ...... (ازالۃ اوہام ص ۴۲۲ و ص ۶۱۷ خزائن ج ۳ ص ۵۱۱ اور حمامۃ البشریٰ ص ۹۶ خزائن ج ۷ ص ۳۲۵) کی عبارت پڑھ کر کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ختم نبوت کو تسلیم کیا یا نہیں؟ اور اپنی نبوت کی نفی کی یا نہیں؟
(۴) متعلقہ جرح نمبر ۱۸ اے۔ بی
جواب ........ الف ...... (ازالۃ اوہام ص ۶۱۷ خزائن ج ۳ ص ۵۱۱) میں ہے۔ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
اور (حمامۃ البشریٰ ص ۲۰ خزائن ج ۷ ص ۲۰۰) پر لکھتے ہیں۔ ”وکیف یجیء نبی بعد رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ و ختم اللہ بہ النبیین.“ یعنی ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی کس طرح آ سکتا ہے حالانکہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور حضور ﷺ پر اللہ نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔
سوال ...... ب ....... (نزول مسیح نمبر ۲ خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۰ و تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۸ خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳) دیکھ کر بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا یا نہیں؟ اور اگر کیا تو کیا یہ دعویٰ ختم نبوت کا عملاً و عمداً انکار ہے یا نہیں؟
جواب ...... نمبر ۴۱ کے جواب میں مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں نقل کر چکا ہوں جن سے ان کا دعوائے نبوت ثابت ہوتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ پہلے وہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے تھے اور بعد میں انھوں نے ختم نبوت کا انکار کر دیا بلکہ ختم نبوت کے عقیدے پر اعتراض جڑے اور اس کی ہنسی اڑائی۔
(۵) متعلقہ جرح نمبر ۹
سوال ...... الف ...... کیا چراغ دین ساکن جموں نے جو متبع شریعت محمدیہ ہونے کے علاوہ مرزا قادیانی کا مرید بھی تھا۔ دعویٰ نبوت کا مرزا قادیانی کے دائرہ ارادت میں کیا۔ مرزا قادیانی نے اس کے متعلق (دافع البلاء ص ۲۱) پر لعنۃ اللہ علی الکافرین کا تمغہ عطا کر کے کفر کا فتویٰ دیا یا نہیں؟ اس کے علاوہ مختار ثقفی اور ابو الطیب متنبی وغیرہ نے دعوائے نبوت عہد اسلام میں آنحضور ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے کیا۔ ان کی بابت شرع نے کیا حکم دیا اور ان کا کیا حشر ہوا؟
(۵) متعلقہ جرح نمبر ۹
جواب ...... الف ...... ہاں (دافع البلاء ص ۱۹ ملخص خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۹،۲۴۰) میں چراغ دین کو مدعی رسالت ہونے کی بنا پر لعنۃ اللہ علی الکافرین کا حکم لگایا ہے اور اس کی رسالت کو ناپاک رسالت قرار دیا ہے۔ اسلام نے حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو کاذب اور ملعون قرار دیا اور مدعیان نبوت سے اکثر ذلت اور خواری سے قتل کیے گئے۔
سوال ...... ب ...... کیا قرآن مجید کے الفاظ خاتم النبیین (جس کا معنی مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۶۱۵ خزائن ج ۳ ص ۴۳۳) میں ختم کرنے والا نبیوں کا کیا ہے) کے متعلق قرآن مجید میں یہ بتلایا گیا ہے کہ بعض قسم کے نبیوں کی تعداد ختم ہوگئی ہے اور بعض قسم کی ختم نہیں ہوئی۔ اگر یہ نہیں بتلائی گئی تو پیروی کرنے والے اور غیر پیروی کرنے والے ہر قسم کے نبیوں کی تعداد ختم مانی جائے گی یا نہیں؟
جواب ...... ب ...... مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۶۱۴ خزائن ج ۳ ص ۴۳۱) میں خاتم النبیین کے معنی خود یوں کیے ہیں۔ ”ختم کرنے والا نبیوں کا اس کی تشریح خود یوں بیان کی۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“
اس کے علاوہ ہم جواب نمبر ۴۱ کے ماتحت مرزا قادیانی کی عبارت نقل کر چکے ہیں جس میں انھوں نے خود حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر قرار دیا ہے اور قرآن مجید کی آیت ”خاتم النبیین“ کا یہ مفہوم کہ آنحضور ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آ سکتا۔ مرزا قادیانی نے اہل السنت والجماعت کا مسلم الثبوت عقیدہ تسلیم کیا ہے اور فی الحقیقت تمام امت محمدیہ کا یہی عقیدہ ہے کہ نبوت بالکلیہ ختم ہو چکی۔
سوال ...... ج ...... کیا شیخ ابن عربی اور ملا علی قاری اور مولانا محمد قاسم اور مولانا عبدالحئی اور شیخ محمد طاہر یا کسی اور معتبر عالم نے اپنی کسی کتاب میں یہ اعتقاد ظاہر کیا ہے کہ آنحضور ﷺ کے بعد نیا نبی پیدا ہوگا یا ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ اعتقادی بات لکھی ہو۔ نہ کہ فرضی یا شرعی۔ نیز نبی کے ساتھ جدید کی صفت بھی ایزاد کی ہو نہ کہ پرانا۔
جواب ...... ج ...... ان بزرگوں نے اور کسی معتبر عالم نے یہ نہیں لکھا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت
عطا ہوگا اور کوئی نبی بن کر مبعوث ہو سکے گا۔
سوال ...... و ...... (مجمع البحار ص ۸۵) پر درج ہے یا نہیں کہ آنحضور ﷺ کے بعد نبی کے آنے سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔
جواب ...... و ...... (تکملہ مجمع البحار ص ۸۵) میں ہے۔ وھذا ناظر الی نزول عیسیٰ یعنی حضور ﷺ کے بعد جو نبی آنے والا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو نازل ہوں گے اور وہ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل کے نبی ہیں۔ یعنی حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ان کو منصب نبوت عطا نہیں ہوگا۔
سوال ...... ہ ...... کیا رسالہ (عقائد احمدیہ ص ۱۴) میں مرزا قادیانی کا اصول درج ہے کہ ”جو حدیث قرآن مجید اور صحیح بخاری کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔“ کیا اصولِ مذکورہ کے مطابق حدیث مندرجہ سوال بوجہ مخالفت آیتِ قرآن (خاتم النبیین) اور حدیث صحیح (بخاری ص ۵۸ ج ۲ مطبوعہ مصر اور ابن ماجہ) (لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ ولکن لانبی بعدہ) کے قابلِ رد ہے یا نہیں؟ و نیز حدیث مندرجہ سوال کے متعلق حاشیہ ابن ماجہ میں مرقوم ہے کہ حدیث مندرجہ سوال ہذا کا راوی متروک ہے۔ (قابلِ قبول نہیں) اور کیا جس طرح آیت ان کان للرحمٰن ولد فانا اول العابدین توحیدِ باری تعالٰی و الفاظِ سورۃ اخلاص لم یلد کے منافی نہیں۔ اسی طرح حدیث مندرجہ سوال بفرضِ صحت ختمِ رسالت کے منافی نہیں یا ہے؟
جواب ...... ہ ...... کتاب عقائدِ احمدیت تو موجود نہیں۔ مگر یہ اصول مرزا قادیانی نے کئی کتابوں میں لکھا ہے۔ مثلاً (حمامۃ البشریٰ ص ۱۱ خزائن ج ۷ ص ۱۸۸) میں لکھتے ہیں۔ ولا اظن احداً من العالمین العاملین المتقین ان یقدم غیر القرآن علی القرآن او یضع القرآن تحت حدیث مع وجود التعارض بینہما و یرضی لہ ان یتبع احاد الاثار و یترک بینات القرآن۔ ”یعنی میں تو کسی عالم باعمل پر بدگمانی نہیں کر سکتا کہ وہ غیر قرآن کو قرآن پر مقدم کرے اور باوجود تعارض کے قرآن کو حدیث کے قدموں کے نیچے ڈال دے اور اپنے لیے پسند کرے کہ ان آثار کا متبع ہو کر جو آحاد ہیں قرآن کے بینات کو ترک کرے۔“ پس اس قاعدہ کے ماتحت حدیث لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ صحیح اور درست ہے اور لو عاش کان نبیا والی روایت ناقابلِ اعتماد ہے۔
کتاب تمیز الطیب من الخبیث میں حدیث لو عاش ابراہیم لکان نبیا کے متعلق لکھا ہے قال النووی فی تھذیبہ ھذا الحدیث باطل یعنی امام نووی نے اپنی کتاب ”تہذیب“ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ الغرض حدیث لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا اول تو صحیح نہیں اور بفرضِ صحت اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ آیت خاتم النبیین قطعی ہے اور ختم نبوت کا مسئلہ اجماعی مسئلہ ہے۔ مرزا قادیانی نے خود اسی مضمون کو اپنی پہلی کتابوں میں تسلیم کیا ہے کہ ”تمام اہل السنۃ والجماعت کا مسلم الثبوت عقیدہ یہی ہے۔ وہ (حمامۃ البشریٰ ص ۲۰ خزائن ج ۷ ص ۲۰۰) میں لکھتے ہیں۔
”وکیف یجیئ نبی بعد رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ و ختم اللہ بہ النبیین۔“ یعنی اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آئے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحیِ نبوت منقطع ہو گئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔“
اس سے پہلے لکھ چکے ہیں (حمامۃ البشری ص ۲۰ خزائن ج ۷ ص ۲۰۰) ”الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء بغیر استثناء و فسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین.“ ”یعنی کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازے کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں۔“ ان عبارتوں سے مرزا قادیانی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی حتیٰ کہ عیسیٰ بن مریم بھی نہیں آ سکتے کیونکہ یہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے خلاف ہے۔ اور اس میں صاف اقرار ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد وحی نبوت بند ہو چکی اور اب اس کا دروازہ کھلنا محال اور باطل ہے۔
(۵) متعلقہ جرح نمبر ۱۰
سوال ...... اگر کوئی شخص کسی عالم یا محدث کو دنیا کا آخری عالم یا آخری محدث بتائے اس کا یہ کہنا اپنی دانست کے مطابق اور اپنی معلومات کی بنا پر ہوگا یا خدا کے علم کے مطابق کہا ہوگا۔ اور کیا قرآن مجید میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے اور لوگوں کے ایسے الفاظ بولنے سے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے قانون مقرر کردہ میں کچھ فرق آ جائے گا یا نہ؟
(۵) متعلقہ جرح نمبر ۱۰
جواب ...... میں جواب نمبر ۱۰ میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارا کسی کو خاتم المحدثین یا خاتم الفقہا کہنا مبالغہ کی جہت سے ہوتا ہے نہ کہ حقیقت کے لحاظ سے۔ مگر حضور ﷺ کا لقب خاتم الانبیاء یا خاتم النبیین حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کو مبالغہ پر حمل نہیں کر سکتے۔
(۶) متعلقہ جرح نمبر ۱۳
سوال ...... (حقیقتہ الوحی ص ۸۹ حاشیہ خزائن ج ۲۲ ص ۹۲) دیکھ کر بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے اس میں لکھا ہے یا نہیں؟ کہ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت (یعنی مرزا قادیانی کا) سب سے اوپر بچھایا گیا ہے۔“ نیز (تتمہ حقیقتہ الوحی ص ۱۳۶ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۴) میں لکھا ہے یا نہیں کہ ”میرے معجزات اس قدر ہیں کہ بہت کم نبی ایسے آئے جنھوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔“ اور (نزول مسیح ص ۱۰۰۔۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷،۴۷۸) میں لکھا ہے یا نہیں:۔
در برم جامہ ہمہ ابرار
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
اور (تحفہ گولڑویہ خورد ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۵۳) پر مرزا قادیانی نے یہ تحریر کیا ہے کہ ”آنحضور کے تین ہزار معجزات تھے۔“
اور (براہین احمدیہ جلد پنجم ص ۵۶ خزائن ج ۲۱ ص ۷۲) پر یہ تحریر ہے کہ ”مرزا قادیانی کی نشانیاں اور معجزات دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔“
کیا عبارات مندرجہ بالا سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء سے افضل ہیں؟
(۶) متعلقہ جرح نمبر ۱۳
جواب ...... مرزا قادیانی کے یہ اقوال میں اوپر بھی بتا چکا ہوں اور مزید حوالے بھی اب بتاتا ہوں۔ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۸۹ خزائن ج ۲۲ ص ۹۲) ”نزلت سرر من السماء ولكن سريرك وضع فوق كل سرير.“ (الاستفتاء ۸۳ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰۹) یعنی آسمان سے کئی تخت اترے لیکن تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ ”خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنھوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۳۶ خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۴)
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷) میں یہ شعر موجود ہیں اور (تحفہ گولڑویہ کے ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳) میں یہ مضمون ہے کہ آنحضرت ﷺ سے تین ہزار معجزات ظہور میں آئے۔ اور (براہین احمدیہ پنجم ص ۵۶ خزائن ج ۲۱ ص ۷۲) پر یہ مضمون ہے:۔
”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر خارق عادت ہیں۔“ اور (حقیقۃ الوحی ص ۶۷ خزائن ج ۲۲ ص ۷۰) پر لکھتے ہیں کہ ”میری تائید میں اس نے (خدا نے) وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶ جولائی ۱۹۰۶ء ہے اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
ان عبارتوں سے اور نیز ان عبارتوں سے جو ہم نے سوال نمبر ۱۳ کے جواب میں لکھوائی ہیں یہ بات آفتاب کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء اور آنحضرت ﷺ سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضور ﷺ کی روحانیت کو ہلال اور اپنی روحانیت کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دیتے تھے۔
(۷) متعلقہ جرح نمبر ۱۷ و ۱۸
یہ جرح متعلق بمقدمہ ہذا نہیں ہے اور نہ گواہ سے تعلق رکھتا ہے۔
(۷) متعلقہ جرح نمبر ۱۷ و ۱۸
............
(۸) متعلقہ جرح نمبر ۱۹
یہ جرح بھی غیر متعلق ہے۔ فریق مقدمہ میں سے کوئی شیعہ نہیں ہے۔
(۸) متعلقہ جرح نمبر ۱۹
(۸) متعلقہ جرح نمبر ۱۹ (الف)
سوال...... کیا ایک شخص باوجود کسی کے دعویٰ محبت کرنے کے اس کی توہین کر سکتا ہے یا نہ؟ مرزا قادیانی نے آپ کے علم میں عیسیٰ ؑ کی توہین کی ہے یا نہ؟ کیا مرزا قادیانی نے (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) میں یہ تحریر کیا ہے کہ:۔
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو:۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“ اور کیا منافق لوگ دعویٰ ایمان کے باوجود آنحضور ﷺ کی شان میں توہین کے الفاظ استعمال کرتے تھے یا نہیں؟ اور کیا مرزا قادیانی نے (کشتی نوح کے ص ۱۶ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸) پر حضرت عیسیٰ کی عزت کا دم بھر کے ان کی والدہ ماجدہ پر ناپاک اتہام لگایا ہے کہ انھوں نے حمل کی حالت میں نکاح کیا تھا۔ اس کی خصوصیت کے متعلق قرآن میں کیا ذکر ہے؟
(۹) متعلقہ جرح نمبر ۱۹ (الف)
جواب...... بہت سے دعویٰ محبت کرنے والے بھی توہین کرتے ہیں خصوصاً جبکہ یہ دعویٰ صدق و اخلاق پر مبنی نہ ہو۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی ہے جیسا کہ ہم سوال نمبر ۱۹ کے جواب میں لکھوا چکے ہیں۔ (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) میں یہ شعر موجود ہے:۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے نیز اسی (دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) پر ہے۔ ”اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔“
اور (ازالۃ الاوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۱۰) پر ہے:۔
عیسیٰ کجاست تا نہد پا بہ منبرم
(۱۰) متعلقہ جرح نمبر ۲۰
سوال...... اگر زید یہ دعویٰ کرے کہ میں انگلستان کے بادشاہ کا مثیل ہوں یا در حقیقت شاہ انگلستان ہوں۔ کیا یہ شاہ انگلستان کی توہین نہیں۔ کیا مرزا قادیانی مثیل مسیح کا دعویٰ ترک کر کے خود مسیح موعود بنے یا نہیں؟ اس کے متعلق (ازالۃ الاوہام ص ۱۹۰ خزائن ج ۳ ص ۱۹۲) اور (نزول المسیح ص ۴۸ خزائن ج ۱۸ ص ۳۷۶ اور دافع البلاء ص ۱۸ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) کا ملاحظہ کر کے جواب دیں۔ مثیل مسیح موعود اور خود مسیح موعود میں فرق بتلا دیں۔
(۱۰) متعلقہ جرح نمبر ۲۰
جواب...... ہم سوال نمبر ۲۰ کے جواب میں لکھوا چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نہ صرف مثیل مسیح بنے بلکہ وہ تمام انبیاء کے مثیل بنے۔ بجز آنحضرت ﷺ کے بروز بن گئے۔ یہاں تک کہ پکار اٹھے:۔ من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی وما رانی.
(خطبہ الہامیہ ص ۲۵۹ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
”یعنی جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہ دیکھا اور نہ پہچانا اور ایک جگہ لکھتے ہیں۔ ”میں محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۱)
غرضیکہ مثیل مسیح موعود سے ترقی کر کے مسیح موعود بلکہ آنحضرت ﷺ کے بروز بن گئے بلکہ حضور ﷺ
سے افضلیت کا دعویٰ کر دیا اور اس سے بڑھ کر انبیا اور آنحضرت ﷺ کی توہین اور کیا ہو گی۔
(۱۱) متعلقہ جرح نمبر ۲۱
سوال ...... کیا کسی مخالفت کی وجہ سے کسی معزز کی توہین کرنا درست ہے یا نہ؟ کیا قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں ہے کہ ”کسی قوم کی دشمنی تمھیں مجرم نہ بنادے۔“ کیا مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱) میں لکھا ہے کہ آپ کا یعنی عیسیٰ ؑ کا خاندان بھی نہایت ناپاک ہے۔ تین دادیاں، نانیاں زنا کار کسبیاں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ نیز (صفحہ ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹) میں لکھا ہے کہ ”آپ کو یعنی عیسیٰ ؑ کو جھوٹ بولنے کی بھی کسی قدر عادت تھی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(۱۱) متعلقہ جرح نمبر ۲۱
جواب ...... الزامی رنگ میں بھی ایسا جواب نہیں دیا جاسکتا جس سے کسی معزز نبی یا ولی کی توہین ہوتی ہو۔ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”ایسا کرنا سفاہت اور جہالت ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت جلد دہم ص ۱۰۲ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۴۴)
(۱۲) متعلق جرح نمبر ۲۲ تا ۲۶
سوال ...... کیا مولوی رحمت اللہ یا مولوی آل حسن اور مولوی جای معصوم تھے؟ ان کے اقوال کسی مذہب کے لیے حجت ہو سکتے ہیں؟ اور کیا مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا؟ اور (نزول مسیح ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۲) میں لکھا ہے کہ جو میرے مخالف تھے ان کا نام بجائے عیسائی یہودی اور مشرک رکھا گیا ہے اور اگر مولوی رحمت اللہ یا مولوی آل حسن یا کوئی مولوی کسی نبی کی توہین کرے تو مسلمان رہ سکتا ہے یا نہ؟
متعلق جرح نمبر ۲۲ تا ۲۶
جواب ...... مولوی رحمت اللہ، مولوی آل حسن اور مولانا جای معصوم نہیں تھے۔ نہ ان کے اقوال حجت ہو سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یقیناً دعوائے نبوت کیا اور (نزول المسیح ص ۴ حاشیہ خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۲) میں یہ عبارت موجود ہے۔
اگر خدانخواستہ یہ لوگ بھی کسی نبی کی توہین کرتے تو یہ بھی مسلمان نہیں رہ سکتے تھے۔
(۱۳) متعلقہ جرح نمبر ۲۷ تا ۳۰
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے دیباچہ (براہین احمدیہ ص ۱۵ خزائن ج ۱ ص ۲۳) میں تحریر کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص آنحضور ﷺ کو کثیف کہے وہ بدکار ہے۔ اور پھر (ازالہ اوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶ حاشیہ) میں تحریر کیا ہے کہ ”معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں ہوا۔“ اور (ازالہ اوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۴) میں لکھا ہے کہ ”آنحضور سرور کائنات ﷺ کو حقیقت دجال وغیرہ کی پوری معلوم نہ ہوئی تھی۔“ نیز (صفحہ ۳۳۶) میں لکھا ہے کہ ”ابن مسعود ایک معمولی آدمی تھا۔“ اور (ازالہ اوہام ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) پر لکھا ہے کہ ”چار سو نبی کی پیشگوئی غلط نکلی۔“ کیا یہ اندراجات نبی کریم اور دیگر انبیائے کرام کی توہین کے محتمل ہیں؟
(۱۳) متعلقہ جرح نمبر ۲۷ تا ۳۰
جواب...... ہاں دیباچہ (براہین کے صفحہ ۱۵ خزائن ج ۱ ص ۲۲) میں یہ شعر ہے:۔
زیں چہ کاہد قدر روشن جوہرے
طعنہ بر پاکاں نہ بر پاکاں بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے
اور (ازالہ اوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶) کے حاشیہ میں یہ عبارت موجود ہے۔ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ اور (ازالہ اوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۲) میں یہ عبارت موجود ہے:۔ ’’اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو (الیٰ قولہ) تو کچھ تعجب کی بات نہیں ۔‘‘ اور (ازالہ اوہام ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) میں لکھا ہے کہ ’’ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی الخ‘‘ یہ عبارتیں یقیناً توہین ضمنی یا توہین صریح میں داخل ہیں۔
(۱۴) متعلق جرح نمبر ۳۰
سوال...... کیا مرزا قادیانی نے (آئینہ کمالات ص ۵۴۷ خزائن ج ۵ ص ایضاً) میں لکھا ہے کہ ’’ہر مسلم مجھے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد نہیں قبول کرتی۔‘‘ (انجام آتھم ص ۲۶۸ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) میں لکھا ہے کہ ’’منکر کتے اور کتے کے بچے ہیں ۔‘‘ اور کیا (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷) میں لکھا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(۱۴) متعلق جرح نمبر ۳۰
جواب....... ہاں (آئینہ کمالات اسلام کے ص ۵۴۷، ۵۴۸ خزائن ج ۵ ص ایضاً) میں یہ عبارت ہے:۔ ”تلک کتب ینظر الیها کل مسلم بعین المحبة والمودة و ینتفع من معارفها و یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریة البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون.“ ترجمہ...... یہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان محبت اور دوستی کی نظر سے دیکھتا اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے، مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے وہ قبول نہیں کرتے۔‘‘ نیز (الاستفتاء کے ص ۹۰ خزائن ج ۲۲ ص ۷۱۸) میں ہے۔ ”من انکر الحق المبین فانہ کلب و عقب الکلب سرب ضراء.“ یعنی جو کھلے ہوئے حق کا انکار کرے وہ کتا اور کتے کی اولاد ہے۔‘‘ الخ نیز اسی قصیدہ میں (ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۷۳۵) پر ہے:۔
ان لم تمت بالخزى یا ابن بغاء
یعنی اپنے ایک منکر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”تو نے مجھے ستایا ہے اپنی خباثت سے تو میں سچا نہ ہوں گا اگر تو ذلت سے نہ مرا اے کنجری بچے یا اے حرام زادے‘‘ نیز (حقیقۃ الوحی کے ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷) میں مرزا قادیانی کا یہ قول موجود ہے۔ ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(۵) متعلقہ جرح نمبر ۳۱ و ۳۲
سوال نمبر ۳۱ و ۳۲ غیر متعلق مقدمہ ہے۔
(۱۶) متعلقہ جرح نمبر ۳۳
سوال ....... کیا مرزا قادیانی کے الہامات بھی ہیں جن کی تشریح مرزا قادیانی نے خود کی اور بعد میں اس تشریح سے منحرف ہو گئے۔ کیا مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۳۹۶ خزائن ج ۳ ص ۳۰۵) میں احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح اپنے ساتھ ہونے کی بابت پیش گوئی کی اور الہام مفصل و مشرح درج کیا اور پھر اس تشریح کے پابند رہے۔ کیا مرزا قادیانی نے (حقیقۃ الوحی ص ۴۳۹ خزائن ج ۲۲ ص ۴۵۲) میں صاف الفاظ لکھے ہیں کہ ”پہلے میرا نام مریم رکھا گیا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا۔“ اور (ص ۷۶ خزائن ج ۲۲ ص ۷۹) پر یہ الہام درج ہے کہ :۔ ”یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔ اے مریم تو اور تیرے دوست جنت میں داخل ہوں۔“ اور (کشتی نوح ص ۹۵ خزائن ج ۱۹ ص ۵۳) میں لکھا ہے کہ ”وضع حمل روحانی ہوا۔“
کیا مرزا قادیانی بعد میں ایسے الہامات پر قائم رہے؟ اور کیا (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸) میں یہ الہام درج ہے کہ ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون۔ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فوراً ہو جاتا ہے۔“ اور (ص ۲۵۵ خزائن ج ۲۲ ص ۲۶۷) پر لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے سرخی سے دستخط کر دیے اور چھینٹیں بھی پڑیں۔“ اور کتاب البریہ و آئینہ کمالات میں مفصل کہا ہے کہ ”میں خود خدا ہوں۔“ کیا ایسے الہامات کے متعلق مرزا قادیانی کا اعتقاد پختہ ہے؟
(۱۶) متعلقہ جرح نمبر ۳۳
جواب ...... ہاں ایسے الہام ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ۳۹۶ خزائن ج ۳ ص ۳۰۵) میں یہ الہام درج ہے :۔ ”خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا، باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے، اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا، کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
پھر دوسرا الہام (تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۸۵ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۳۰۱) پر یہ ہے۔ ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین زوجنا کھا لا مبدل لکلماتہ۔ ”اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے (محمدی بیگم سے) نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔“
پھر جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ ہو گیا تو مرزا قادیانی کو دوسری طرح الہام ہونے لگے۔ (انجام آتھم ص ۲۱۶ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) میں ان کا یہ الہام ہے :۔ فیسکفیکھم اللہ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ”بین السطور۔ و برائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد و آن زن را کہ زن احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو خواہم آورد۔“
اسی طرح ایک اور (الہام انجام آتھم ص ۲۲۳ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) میں درج ہے۔ ”بل الامر قائم علی
حاله ولا يرده احد باحتياله والقدر قدر مبرم من عند الرب العظيم. ’’بلکہ اصل امر برحال خود قائم است وہیچ کس باحیلہ خود اورا رد نتواند کرد و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است۔‘‘ ان الہاموں کے باوجود مرزا قادیانی مر گئے اور محمدی بیگم اپنے شوہر کے پاس رہی۔ یہ سارے الہام غلط اور جھوٹے نکلے۔
(حقیقۃ الوحی ص ۳۳۹ خزائن ج ۲۲ ص ۳۵۲) میں یہ درج ہے کہ (خدا نے) ’’پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا۔‘‘ اور (ص ۷۲ خزائن ج ۲۲ ص ۷۹) پر یہ الہام بھی درج ہے۔ ’’یامریم اسکن انت و زوجک الجنۃ‘‘ اور پھر مرزا قادیانی نے (کشتی نوح ص ۴۶ خزائن ج ۱۹ ص ۵۳) میں وضع حمل روحانی کا ذکر کیا ہے اور (ص ۴۷ خزائن ج ۱۹ ص ۵۰) پر یہ عبارت درج ہے:۔ ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر (براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ۱۵۶) میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی کے ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸ اور الاستفتاء کے ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۱۷۲) پر یہ الہام درج ہے:۔ ’’انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول له کن فیکون.‘‘ اور (حقیقۃ الوحی ص ۲۵۵ خزائن ج ۲۲ ص ۲۶۷) پر درج ہے:۔ ’’اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ (الیٰ قولہ) سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے۔‘‘
مرزا قادیانی اپنی وحی اور الہام پر ایسا ہی ایمان رکھتے تھے جیسا کہ قرآن پر۔ ان کا قول ہے۔ ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر۔ اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
دوسری جگہ کہتے ہیں۔ ’’میں خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ (تبلیغ رسالت جلد ہشتم ص ۶۹ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۵۴)
ایک اور جگہ لکھا ہے۔ ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔‘‘
(اربعین چہارم ص ۱۹ خزائن ج ۱۷ ص ۴۵۴)
حوالہ جات سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے الہاموں کو یقینی اور قطعی سمجھتے تھے اور قرآن کی طرح ان پر ایمان رکھتے تھے۔
(۱۷) متعلق جرح نمبر ۳۵
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے (ازالۃ الاوہام ص ۴۰۰ خزائن ج ۳ ص ۳۰۷) پر لکھا ہے کہ آنحضور نے بھی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔ (ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) میں لکھا ہے کہ چار سو نبیوں نے پیشگوئیاں کیں اور جھوٹے نکلے اور (ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶) میں تحریر ہے کہ مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے بھی زیادہ غلط نکلیں۔
(۱۷) متعلق جرح نمبر ۳۵
جواب ...... ہاں (ازالۃ الاوہام ص ۴۰۰ خزائن ج ۳ ص ۳۰۷) میں لکھا ہے۔ ’’بعض پیشگوئیوں کی نسبت
آنحضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“ نیز یہ بھی لکھا ہے۔ ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۲۹ خزائن ج ۳ ص ۳۲۹)
”اور لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۱۰۶)
یہ تمام مرزا قادیانی کا افترا اور اتہام ہے جو نبیوں پر باندھا گیا ہے۔
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے (کشتی نوح ص ۵ خزائن ج ۱۹ ص ۵) میں لکھا ہے کہ قرآن شریف بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں یہ چیز موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ کیا مرزا نے یہ حوالہ نہیں دیا ہے؟
جواب ...... مرزا قادیانی نے (کشتی نوح کے ص ۵ خزائن ج ۱۹ ص ۵) پر لکھا ہے۔ ”قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“ حالانکہ یہ قرآن پر بہتان ہے اور نرا جھوٹ ہے۔
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰) میں یہ خواب درج کیا ہے کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ درج ہے مکہ، مدینہ، قادیان، کیا یہ حوالہ و خواب سچا ہے یا جھوٹا؟
جواب ...... مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰) پر اپنا یہ کشف لکھا ہے کہ اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کشف جھوٹا ہے۔ قرآن شریف میں حقیقتاً قادیان کا نام نہیں۔
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے البشریٰ وغیرہ میں یہ الہام درج کیا ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ کیا یہ الہام سچا ہے؟
جواب ...... کتاب (البشریٰ ص ۱۰۵ ج ۲) میں مرزا قادیانی کا یہ الہام درج ہے۔ ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ حالانکہ یہ الہام بالکل جھوٹا ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی لاہور میں مرے اور قادیان میں دفن ہوئے۔
سوال ...... کیا مرزا قادیانی نے (براہین احمد ص ۴۹۸ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) میں لکھا ہے کہ ”عیسیٰ ؑ بحالت زندگی آسمان سے نازل ہوں گے۔“ اور پھر (ازالہ اوہام ص ۱۹۷ بار سوم) پر لکھا ہے کہ ”عیسیٰ ؑ فوت ہو کر وطن گلیل میں فوت ہو گیا۔“ اور (ست بچن ص ۳ خزائن ج ۱۰ ص ۳۰۷) میں لکھا ہے کہ عیسیٰ ؑ کی قبر ملک شام میں ہے۔“ اور (کشتی نوح ص ۳۵ خزائن ج ۱۹ ص ۵۷، ۵۸) میں تحریر کیا ہے کہ ”ان کی قبر ملک کشمیر میں ہے۔“ ان میں سے کونسی بات سچی ہے؟
جواب ...... مرزا قادیانی نے (حقیقۃ الوحی ص ۱۴۹ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳) پر خود لکھا ہے۔ ”اگر چہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول ﷺ نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔“ پھر (ازالہ اوہام ص ۴۷۳ خزائن ج ۳ ص ۲۵۳) میں ہے۔ ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“ پھر (تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۲ خزائن ج ۱۷ ص ۲۶۳) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں۔ ”یہ ثبوت بھی نہایت روشن دلائل سے مل گیا کہ آپ کی قبر سری نگر علاقہ کشمیر خان یار کے محلہ میں ہے۔“ اور (کشتی نوح ص ۱۵ خزائن ج ۱۹ ص ۱۶) میں ہے ”اور تم یقیناً سمجھو کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہو گیا ہے اور کشمیر
سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔“
ان مختلف تحریرات اور بیانات کا تناقض ظاہر ہے اور پہلے اعتقاد کے سوا کہ وہ تمام مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق ہے پچھلے بیان غلط اور باطل ہیں۔
(۱۸) متعلقہ جرح نمبر ۳۶ تا ۳۸
سوال....... کیا نبی اور بزرگ اور ولی کا درجہ ایک ہے؟ مرزا قادیانی پر یہ فتویٰ کفر جو علمائے اسلام نے دیے ہیں وہ ضد کی بنا پر ہیں یا ان کے عقائد فاسدہ کی بنا پر؟ کیا فتوے مذکور سچ ہیں یا غلط؟ کیا مرزا قادیانی نے مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی جماعت الگ بنائی ہے یا نہیں؟ کیا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت باقی مسلمانوں کے برخلاف اجرائے نبوت اور وفات مسیح اور نبوت مرزا قادیانی کے علی الاعلان قائل ہیں یا نہ؟ اور کیا مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر علمائے اسلام نے بالاتفاق دیا ہے یا بالاختلاف؟
(۱۸) متعلقہ جرح نمبر ۳۶ تا ۳۸
جواب....... نبی اور ولی کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ نہ کوئی ولی کسی نبی سے افضل ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی پر کفر کے فتوے علماء نے ان کے عقائد فاسدہ کی وجہ سے دیے ہیں۔ اور وہ فتوے صحیح ہیں۔ مرزا قادیانی خود اپنے اقرار کے بموجب کاذب اور جھوٹے ٹھہرے کہ محمدی بیگم کا نکاح ان کے ساتھ نہیں ہوا اور وہ وفات پاگئے۔ اقرار یہ ہے کہ ”وانی اجعل ھذا النبأ معيار الصدقی او کذبی.“ (انجام آتھم ص ۲۲۳ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً) ”یعنی اس خبر کو کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ یہ خدا کا طے کردہ فیصلہ ہے تقدیر مبرم ہے کوئی اس کو بدل نہیں سکتا میں اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں۔“
مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان کی جماعت اس دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے اور مرزا قادیانی کو نبی اور رسول کہتی ہے۔ تمام مسلمانوں سے علیحدہ رہتی اور ان کو کافر سمجھتی ہے اور علمائے اسلام نے بالاتفاق مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کو خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ میں ایک مطبوعہ فتویٰ جس میں بہت سے علماء کے دستخط منقول ہیں پیش کرتا ہوں۔
(۱۹) متعلق جرح نمبر ۳۹ تا ۴۰
سوال....... کیا مرزا قادیانی نے (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸) میں یہ الہام لکھا ہے کہ ”تیرا حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے“۔ اس الہام سے مرزا قادیانی کا درجہ نبوت تشریعی و غیر تشریعی سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ کیا مرزا قادیانی نے ان انبیاء سے جو نئی شریعت لائے مثلاً عیسیٰ ؑ بہتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ کیا مرزا قادیانی لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لیے قسم قسم کی تاویلات کیا کرتے تھے یا نہیں؟ کیا مرزا قادیانی نے (نزول مسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۸) میں اپنی وحی کو قرآن کی طرح منزہ لکھا ہے یا نہیں؟ اور (اربعین نمبر ۴ ص ۶، ۷ خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵، ۴۳۶) میں دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ کہ میں صاحب شریعت ہوں اور (حقیقۃ الوحی ص ۲۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰) میں لکھا ہے یا نہیں کہ اپنے الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جس طرح قرآن پر؟ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک اصول دین وہی رہے جو اس وقت تک تمام مسلمانوں کے رہے؟
(۱۹) متعلق جرح نمبر ۳۹ و ۴۰
جواب....... (حقیقۃ الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸) پر یہ الہام درج ہے۔ انما امرك اذا اردت شيئا ان
تقول له كن فيكون . ”تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے ۔“ اس الہام سے تو مرزا قادیانی کا درجہ نبوت کیا درجہ الوہیت کا ادّعا ثابت ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جیسا کہ سوال نمبر ۱۳ اور سوال نمبر ۱۹ (الف) کے جواب میں بیان ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کے اقوال کے حوالے دیے جا چکے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اعتراضات سے بچنے کے لیے ایسی دور از کار تاویلیں کی ہیں جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے کلام میں تناقض اور اختلاف ہے۔ انھوں نے بیشک دعویٰ کیا کہ ان کی وحی اور الہام قرآن کی طرح یقینی ہے۔ ان کا قول ہے:۔
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآں منزہش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
اور ان کا قول ہے: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین چہارم ص ۱۹ خزائن ج ۱۷ ص ۴۵۴)
مرزا قادیانی اس اصول کی رو سے جماعت مسلمین سے خارج ہو گئے۔
(۲۰) متعلق جرح نمبر ۴۷ تا ۵۲
سوال ...... نور الانوار، قمر الاقمار وغیرہ کتب اصول دین دیکھ کر بتلا دیں کہ ائمہ اربعہ جن میں امام احمد بھی شامل ہیں اجماع امت کے قائل ہیں یا نہیں؟ کیا کتب اصول میں منکر اجماع کو کفر کا حکم دیا گیا ہے؟ ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے یا نہیں؟
(عقائد احمدیت ص ۲۳) دیکھ کر بتلا دیں کہ مرزا قادیانی نے ائمہ اربعہ کی شان کو تسلیم کیا ہے یا نہیں؟
(۲۰) متعلق جرح نمبر ۴۷ تا ۵۲
جواب ...... اجماع حجت شرعیہ ہے۔ اس کے حجت ہونے میں ائمہ اربعہ کا اختلاف نہیں ہے۔ نامی شرح حسامی میں ہے۔ فاتفق جمہور المسلمین علی حجیته خلافا للنظام والشیعۃ و بعض الخوارج. (نامی ج ۲ ص ۲) یعنی اجماع کے حجت ہونے پر جمہور مسلمین کا اتفاق ہے۔ البتہ نظام اور شیعہ اور بعض خوارج کا اختلاف ہے۔ اور منکر اجماع قطعی کے کافر ہونے میں بھی اختلاف نہیں ہے۔
(۲۱) متعلق جرح نمبر ۵۳ تا آخر
سوال ...... کیا ایک شخص کلمہ گوئی اور دعویٰ اسلام کے باوجود قرآن مجید اور احادیث صحیحہ متواترہ کے برخلاف اعتقاد رکھے وہ مسلمان ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا جو شخص اپنا اعتقاد قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے مطابق رکھے کافر ہے۔ اور کیا فریق اوّل کے مرد کا فریق ثانی کی عورت سے نکاح جائز ہے یا نہیں۔ اور جماعت احمدیہ مرزا قادیانی بھی غیر احمدی مرد مسلمان سے احمدیہ عورت کا نکاح جائز سمجھتے ہیں یا نہیں؟
(۲۱) متعلق جرح نمبر ۵۳ تا آخر
جواب ...... جو شخص کلمہ گوئی کے باوجود نماز کی فرضیت کا انکار کر دے، زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کر دے، روزے
کی فرضیت کا انکار کر دے یا نبوت کا دعویٰ کر دے یا کسی نبی کی توہین کرے یعنی کسی ایسی چیز کا انکار کرے جس کا دین میں سے ہونا بالیقین ثابت ہو وہ یقیناً کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ دیکھو! خود مرزا قادیانی نے اور ان کی جماعت نے تمام دنیا کے کلمہ گویوں کو اسلام سے اس بنا پر خارج کر دیا کہ وہ مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ حالانکہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ کلمہ گو ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر فرائض و واجبات کو مانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو رسول، نبی، خاتم الانبیاء والمرسلین اعتقاد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ اور ان کی جماعت ان تمام مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں۔
مرزا قادیانی کا قول یہ ہے۔ ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا مسلمان نہیں ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں۔ ”کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل ...... ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم ...... یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔
(حقیقۃ الوحی ص ۱۷۹ خزائن ج ۲۲ ص ۱۸۵)
اس کا مطلب صاف ہے کہ دوسری قسم کا کفر مرزا قادیانی نے ان تمام مسلمانوں اور کلمہ گویوں کے لیے ثابت کیا ہے جو اسلام پر اور آنحضرت ﷺ پر ایمان رکھنے کے باوجود مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) پر ایمان نہ لائیں۔
اسی عبارت سے آگے یہ بھی لکھا ہے کہ ”اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“ اور وہ یہ کہ مرزا قادیانی کا انکار یا تکذیب خدا اور رسول کے انکار و تکذیب کی طرح کفر ہے۔
اور مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد نہم ص ۲۷ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)
اور ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کو قطعی اور یقینی اور قرآن کی طرح منزہ عن الخطا سمجھتے تھے۔ پس ان کے اس الہام کے بموجب ہر وہ مسلمان جو تمام ایمانیات پر ایمان رکھتا ہو حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان رکھتا ہو ان کے نزدیک بلاشبہ قطعی جہنمی ہے۔ پس مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے نزدیک تمام غیر قادیانی مسلمان کافر اور جہنمی ہیں۔ اور اسی بنا پر مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے فتویٰ دیا ہے کہ قادیانیوں اور غیر قادیانیوں میں باہم رشتہ ناتا یعنی شادی مناکحت جائز نہیں ہے۔
”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت ص ۷۵ منقول از قادیانی مذہب)
ہمارا یعنی مسلمانوں کا متفقہ مسئلہ ہے کہ جو مسلمان کافر ہو جائے وہ مرتد ہے اور مرتد کے ساتھ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہو سکتا اور اگر غیر قادیانی ہونے کی حالت میں نکاح ہوا تھا بعد میں قادیانی بن گیا تو فی الفور نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ خاوند کے ارتداد پر نکاح فسخ ہو جانا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ وارتداد احدهما فسخ عاجل (درمختار)
(کفایت المفتی ج ۶ ص ۱۵۷ تا ۲۰۹)
باب سوم
قادیانی سے ثبوت نسب کے احکام
قادیانی سے نکاح اور ثبوت نسب
سوال ...... بکر قادیانی کا نکاح ایک صحیح العقیدہ عورت زاہدہ سے درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو ثبوت نسب کس سے متعلق ہوگا؟ (۲)...... وہ صحیح العقیدہ زاہدہ اور بکر کا نکاح ہو گیا، اس کے بعد بکر قادیانی ہو گیا تو اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑا یا نہیں؟ ہر دو صورت میں نسب کا تعلق کس سے ہوگا؟ (۳)...... مندرجہ بالا ہر دو صورت میں جبکہ عورت زاہدہ صحیح العقیدہ ہے نیز اس کا ایک لڑکا زید بھی صحیح العقیدہ ہے۔ ایک صحیح العقیدہ عورت عابدہ کا نکاح اس لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟
الجواب ...... حامداً و مصلیاً. (۱،۲)...... اہل سنت والجماعت کے فتوؤں کے مطابق قادیانی اسلام سے خارج ہیں۔ نہ مسلمان صحیح العقیدہ عورت کا نکاح کسی قادیانی سے درست ہوسکتا ہے نہ بعد میں شوہر کے قادیانی ہو جانے سے وہ نکاح باقی رہ سکتا ہے۔ بلکہ قادیانی ہوتے ہی فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ اولاد مسلمان شمار ہوگی۔ (۳)...... شرعاً یہ نکاح صحیح ہو جائے گا مگر اس کا خیال رہے کہ ماحول کے اثر سے کہیں اس لڑکی کے عقائد پر خلافِ شرع قادیانی اثر نہ پڑے اس کا پورا انتظام کر لیا جائے۔ واللہ اعلم۔ حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند الجواب صحیح: بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۸۷/۷/۹ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۱۰ ص ۴۳۰)
قادیانی سے نکاح درست نہیں اور نہ اس سے بچہ کا نسب ثابت ہوگا
سوال ...... ایک شخص نے جو ابتداء سے قادیانی مذہب رکھتا تھا تقیہ کر کے یعنی چھپا کر مذہب کو ایک اہل السنّت والجماعت مسلمان کی لڑکی سے عقد کیا لیکن قادیانی شخص ہنوز مذہب قادیانی رکھتا ہے۔ آیا یہ نکاح ابتداءً صحیح ہوا یا نہیں اور مہر و نفقہ عورت کو ملے گا یا نہیں اور بچہ کا نسب ثابت اور صحیح ہوگا یا نہیں اور بچہ کا خرچ اور پرورش کس کے ذمہ ہوگی۔
الجواب ...... نکاح مذکور صحیح نہیں ہوا، اور مہر و نفقہ کچھ لازم نہ ہوگا۔ اور اولاد صحیح النسب اور ثابت النسب نہ ہوگی۔ البتہ ماں سے اولاد کا نسب ثابت ہوگا اور ماں کے ذمہ پرورش اور نفقہ بچہ کا لازم ہوگا اور وراثت ماں سے جاری ہوگی۔ کما فی الدرالمختار و یرث ولد الزنا واللعان بجهة الام فقطلمـا قدمناه فی العصبات انه لا اب لهما. فقط.
(درمختار ج ۵ ص ۵۶۵ باب فی المعرفی والعرفی مکتبہ رشیدیہ)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج ۱۱ ص ۳۵، ۳۶)
مرزائیہ سے نکاح کر لے تو اولاد کے نسب کا حکم
سوال...... مرزائی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں۔ اس نکاح کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ۔ اولاد جائز ہے یا ناجائز ؟
الجواب...... صورت مسئولہ میں ان بچوں کا نسب ثابت ہوگا۔ درمختار میں ہے۔ ولاحد ايضاً بشبهة العقد اى عقد النكاح عنده اى الامام كوطئ محرم نكحها الى ان قال وحرر في الفتح بانها من شبهة المحل وفيها يثبت النسب اهـ .
(درمختار علی رد المحتار ج ۳ ص ۱۶۸ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
قال الشامى صوابه في النهر فانه بعد ماذكر ما قدمناه عن الفتح قال وهذا انما يتم بناء على انها شبهة اشتباه قال في الدراية وهو قول بعض المشائخ والصحيح انها شبهة عقد لانه روى عن محمد انه قال سقوط الحد عنه بشبهة حكمية فيثبت النسب اهـ وهذا صريح بان الشبهة في المحل وفيها يثبت النسب على مامر اهـ وفى مجمع الفتاوى يثبت النسب عنده خلافا لهما . ( ج ۳ ص ۱۶۹) محرم کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شامی نے تزوج مجوسیہ کو بھی داخل کیا ہے اور عالمگیری میں مجوسیہ و مرتدہ کا ایک حکم لکھا ہے ۔ فقط واللہ اعلم ۔ بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ ۹۹/۷/۲۸ھ
(خیر الفتاویٰ ج ۵ ص ۲۰۷)
مرزائی سے نکاح کیا تو اولاد ثابت النسب نہ ہوگی
سوال...... مرزائی مرد اور مسلمان عورت کا نکاح ہو سکتا ہے؟ مرزائیوں سے تعلقات رکھنا کیسا ہے؟ مسمی دلاور نے اپنی بیٹی کا نکاح عنایت (قادیانی) سے کیا جبکہ وہ گیارہ سال کی تھی دس سال آباد رہی پھر اس کو والد نے گھر بلایا اور دوسری جگہ بغیر طلاق لیے نکاح کر دیا۔ یہ نکاح کیسے ہے؟ اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے نسب کا حکم کیا ہے؟
الجواب...... یہ نکاح ایسے ہے جیسے کسی عیسائی چوہڑے کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح کر دیا جائے یہ بالکل کالعدم ہے اور یہ اولاد بھی ولد حرام ہے۔ نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اهـ .
(شامی ج ۲ ص ۴۲۰۔۴۲۱ مکتبہ رشیدیہ )
- ۲...... ان سے تعلقات رکھنے جائز نہیں اور ان کے جنازوں ونکاحوں میں شرکت کرنا بھی ممنوع ہے۔
- ۳...... دوسرا نکاح جائز نہیں لہذا زوجین میں تفریق کرانا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم۔
بندہ عبدالستار عفی عنہ الجواب صحیح: بندہ محمد اسحاق غفر لہ ۱۳۹۵/۴/۲۵ھ ۔
(خیر الفتاویٰ ج ۵ ص ۳۱۰)
باب اوّل
کتاب الحظر والاباحة
جائز و ناجائز
قادیانیوں سے میل جول رکھنا
سوال....... میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے۔ محلہ کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی غمی میں شریک ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ والد صاحب انتقال کر چکے ہیں۔ والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے۔ میرا اصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی گھر کو مدعو نہ کریں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اب سوال ہے کہ میرے لیے شریعت اور اسلامی احکامات کے رو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا۔ اس صورتحال میں جو بات صائب ہو۔ اس سے براہ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔
جواب...... قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں۔ ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ ﷺ کے مجرم ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۹۔۲۳۰)
مرتد کے ساتھ تعلقات قائم کرنا
سوال....... جو شخص اسلام چھوڑ کر ہندو یا قادیانی مذہب اختیار کرلے تو اس سے دوستی اور محبت رکھنا اور خندہ پیشانی سے ملنا اور اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب...... وہ شخص جو دین اسلام چھوڑ کر ہندو یا قادیانی مذہب اختیار کرلے مرتد ہے، اس سے تعلقات اور میل جول رکھنا صحیح نہیں، اسی طرح اس سے خندہ پیشانی سے پیش آنا، مصافحہ کرنا، ملنا جلنا اور اس کے ساتھ کھانا پینا، رشتہ عقد و مناکحت قائم کرنا ناجائز اور ممنوع ہے۔
کما قال العلامۃ محمد بن عبداللہ التمر تاشیؒ: ومن ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام استحباباً..... وتکشف شبہۃ و یحبس وجوباً ثلاثۃ ایام فان اسلم فیہا والاقتل لحدیث من بدل دینہ فاقتلوہ۔
(تنویر الابصار علیٰ ہامش ردالمحتار ج ۳ ص ۳۱۲،۳۱۳ مطلب فی منکر الاجماع) (فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۳۴)
ف
قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات قائم کرنا ناجائز ہے
سوال...... ہمارے علاقہ میں کچھ قادیانی رہتے ہیں، تو کن امور میں ہم مسلمانوں کو ان کے ساتھ تعلق رکھنا چاہیے اور کن امور میں قطع تعلق کرنا چاہیے؟
الجواب...... قادیانیوں کے تمام دعوے جھوٹ اور لغویات پر مبنی ہیں، باجماع امت یہ لوگ کافر اور مرتد ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات (مناکحت، مواکلت، مشاربت وغیرہ) قائم کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ لما قال اللہ تعالیٰ: وَلَا تَرْكَنُوْا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّار.
(هود ۱۱۳) (فتاوی حقانیہ ج ۱ ص ۳۵)
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان
سوال...... ایک شخص مرزائیوں (جو بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یعنی مرزائی ہے مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختم نبوت اور حیات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ وفرضیت جہاد وغیرہ تمام عقائد اسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروہوں کو کافر کذاب، دجال خارج از اسلام سمجھتا ہوں تو کیا وجوہ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا۔ اگر از روئے شریعت وہ کافر نہیں ہے تو اس پر فتویٰ کفر لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے جبکہ ان کے عقائد مذکورہ معلوم ہونے پر بھی تکفیر کرتا ہو اور کفار والا ان کے ساتھ سلوک کرتا ہو اور اس کی نشر واشاعت کرتا ہو۔
جواب...... ایسے شخص سے اس کے مسلمان رشتہ دار بائیکاٹ کریں سلام وکلام ختم کریں اس کو علیحدہ کردیں اور بیوی اس سے علیحدہ ہوجائے تاکہ یہ شخص اپنی حرکات سے باز آئے۔ اگر باز آ گیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو کافر سمجھ کر کافروں جیسا معاملہ کیا جائے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۰)
قادیانیوں کے ساتھ تعلقات
سوال...... قادیانیوں کو ملک میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اب یہ ذمی کافر ہیں، سوال یہ ہے:
- ۱...... اگر کوئی قادیانی مہمان آئے تو اس کا اکرام اور مہمانی جائز ہے یا نہیں؟
- ۲...... اگر کوئی قادیانی کسی مقصد سے درود شریف یا قرآن مجید کا ختم کرائے تو کسی مسلمان کو اس میں شرکت جائز
ہے یا نہیں؟
- ۳...... قادیانی کسی مسلمان کی دعوت کریں جس میں ذبیحہ بھی قادیانیوں کا ہو تو ایسی دعوت قبول کرنا جائز ہے یا
نہیں؟ بینوا توجروا.
الجواب باسم ملہم الصواب قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے باوجود ذمی نہیں اس لیے کہ یہ زندیق ہیں اور زندیق کسی صورت بھی ذمی نہیں قرار پاتا بہر صورت واجب القتل ہے، اس لیے قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں۔ مذکورہ الصدر تینوں سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(احسن الفتاویٰ ج ۶ ص ۳۵۹ ۔ ۳۶۰)
قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے
سوال مثل بالا: سوال....... قادیانیوں کے بارے میں چند سوالات ہیں:
- ۱....... قادیانی مسلمان کے جنازہ کو کندھا دے سکتا ہے یا نہیں؟
- ۲....... قادیانی کے ساتھ بیٹھ کر مسلمان کھانا کھا سکتا ہے یا نہیں؟
- ۳....... شادی یا کسی دیگر تقریب میں قادیانی مسلمانوں کو مدعو کر سکتا ہے یا نہیں؟
- ۴....... قادیانی مسلمان کو سلام کرے تو جواب میں کیا کہا جائے؟ بینوا توجروا۔
الجواب باسم ملہم الصواب قادیانیوں کے ساتھ اس قسم کے تعلقات قطعاً ناجائز ہیں، یہ عام کفار سے بدتر زندیق اور واجب القتل ہیں، ان کی شادی غمی میں شرکت کرنا یا اپنی شادی غمی میں انھیں شریک کرنا، ان سے سلام و کلام غرض کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں، مسلمان کے جنازہ کے ساتھ ایسے مغضوب لوگوں کو چلنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۳ جمادی الاخرہ ۱۳۹۵ھ
(احسن الفتاویٰ ج ۶ ص ۲۶۰)
قادیانیوں سے تعلقات رکھنے کا حکم
سوال....... ایک شخص صحیح العقیدہ ہے۔ صوم، صلوٰۃ و زکوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے دنیوی تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں۔ کیا ایسے شخص سے مسجد کے لیے چندہ لینا اور ایسے شخص سے تعلقات رکھنا جائز ہے، اور ایسے شخص کو خنزیر سے بدتر کہنا اور سمجھنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب باسم ملہم الصواب ایسا شخص جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے لیکن اس کے تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ دل سے بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو تو وہ مرتد ہے اور بلاشبہ خنزیر سے بدتر ہے، اس سے تعلقات رکھنا ناجائز ہے، اگر وہ مسجد کے لیے چندہ دیتا ہے تو اسے وصول کرنا جائز نہیں۔ اور اگر وہ قادیانیوں کے عقائد سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کو اچھا سمجھتا ہے، بلکہ صرف تجارت وغیرہ، دنیوی معاملات کی حد تک ان سے تعلق رکھتا ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ قادیانی جس سے ان کے تجارتی تعلقات ہیں اگر پہلے مسلمان تھا، بعد میں العیاذ باللہ مرتد ہوا یا اس کا باپ مرتد ہوا تو وہ قادیانی چونکہ خود اپنے مال کا مالک نہیں ہے اور اس کا کوئی عقد صحیح نہیں۔ اس لیے یہ شخص اگر ان سے تجارت کرتا ہے تو یہ تجارت ہی صحیح نہ ہوگی۔ كما فی الدرالمختار و يتوقف منه عندالامام و ينفذ عندهما كل ما كان مبادلة مال بمال او عقد تبرع۔ (شامیہ ج ۳ ص ۳۳۰ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) اور اگر وہ قادیانی مرتد یا مرتد کا بیٹا نہیں بلکہ باپ دادا سے اس باطل عقیدہ پر ہے تو ایسے قادیانی سے تجارت کرنے سے مال کا مالک تو ہو جائے گا، لیکن ایسے لوگوں سے تجارت کا معاملہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے ان کے ساتھ ایک قسم کا تعاون ہو جاتا ہے۔ نیز اس قسم کے معاملات میں یہ قباحت بھی ہے کہ عوام قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں، علاوہ ازیں اس طرح قادیانیوں کو اپنا جال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں، اس لیے قادیانی سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں قطع تعلق رکھنا ضروری ہے۔ ان سے تعلقات رکھنے والا آدمی اگرچہ ان کو برا سمجھتا ہے قابل ملامت ہے ایسے شخص کو سمجھانا دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ ۲۱ محرم سنہ ۱۳۹۶ھ
(احسن الفتاویٰ ج ۶ ص ۴۶)
قادیانیوں سے تعلق
سوال....... بدقسمتی سے ہمارے قصبہ کے دو تین شخص مرتد ہو کر مرزائی فرقہ ضالہ میں شریک ہو گئے اور ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح ہمارے قصبہ میں بھی ابتداء اس فرقہ کے استیصال کی طرف توجہ نہ کی گئی اور مرتدین کے ساتھ خلط ملط اور اکل وشرب وغیرہ کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ تقریباً دس سال ہوئے مولانا مولوی محمد ایوب صاحب بیگ فاضل دیوبند نے اہل قصبہ کو اس فرقہ کے دجل سے آگاہ کرتے ہوئے اہل قصبہ کو ان سے انقطاع تعلقات کی تلقین فرمائی۔ بحمد اللہ تعالیٰ اس مرد حق کی پند و نصیحت کا اچھا اثر ہوا اور اہل قصبہ نے مرتدین سے یہاں تک مقاطعہ کیا کہ قصبہ میں ان کے لیے رہنا دشوار ہو گیا اور کچھ عرصہ کے لیے قصبہ چھوڑ کر مرتدین کے چلے جانے سے قصبہ پاک ہو گیا ، عوام ان کے دام تزویر سے بچ گئے اور آج تک قصبہ میں مرتدین کو کسی نے رشتہ وغیرہ نہیں دیا۔ اب کچھ عرصہ سے مرتدین کے رشتہ دار اور دیگر ضعیف الایمان لوگ چھپ چھپ کر مرتدین سے ملتے ہیں، اور سوائے تعلقات مناکحت کے جو آشکارا کیے بغیر نہیں ہو سکتے دیگر ہر قسم کے تعلقات رکھتے ہیں بظاہر مقاطعہ کیے ہوئے ہیں۔ چند خدام دین جو یہ چاہتے ہیں کہ یہ دجل وضلالت کا پودا اس قصبہ میں نشو و نما نہ پائے بلکہ ہر ممکن کوشش سے قصبہ کو اس فتنہ سے پاک کیا جائے عوام کو مرتدین سے مقاطعہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ جو لوگ مرتدین سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں ان سے بھی مقاطعہ کرنے کو کہتے ہیں۔ براہ نوازش اپنا قیمتی وقت اس کار خیر میں صرف فرما کر تمام مضمون کو بغور ملاحظہ فرما دیں اور مندرجہ ذیل مسائل کا مفصل جواب حوالہ جات کے ساتھ فرما کر عند اللہ ماجور و عند الناس مشکور ہوں۔
نمبر ۱....... وہ لوگ جو مرتدین سے تعلقات اکل و شرب اور ہر قسم کے تعلقات رکھتے ہیں آیا وہ بھی مرتد ہو جاتے ہیں یا صرف گنہگار؟ اگر گنہگار ہوتے ہیں تو کس درجہ میں؟ آیا عام فاسق فاجر یا بے نمازیوں اور ان لوگوں میں کچھ فرق ہے یا سب یکساں گنہگار ہیں؟ ایسے لوگوں سے جو مرتدین سے میل جول اور اکل وشرب وغیرہ تعلقات رکھتے ہیں۔ قصبہ کے عام مسلمان میل ملاپ رکھیں یا اس غرض سے تعلقات منقطع کر دیں کہ وہ مرتدین سے میل جول چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
نمبر ۲....... وہ لوگ جو مرتدین سے تعلقات اکل وشرب و مناکحت وغیرہ تو نہیں رکھتے لیکن نشست و برخاست گفت و شنید اور خلط ملط رکھتے ہیں وہ کس درجہ میں گنہگار ہیں، عام گنہگاروں اور ان میں کیا فرق ہے اور اس کے ساتھ قصبہ کے دیگر مسلمان تعلق رکھیں یا نہیں؟
نمبر ۳....... ایک شخص جس کا داماد مرزائی ہے، برادری کے انقطاع تعلقات کی وجہ سے متعدد بار توبہ کر چکا ہے اور قسم کھا چکا ہے کہ میں اپنی بیٹی اور داماد سے آئندہ کوئی تعلق نہ رکھوں گا لیکن ہر توبہ کے بعد یہ ہوتا ہے کہ داماد اور بیٹی کے پاس آتا جاتا ہے اور ان سے ہر قسم کے تعلقات رکھتا ہے، ایسے شخص کی توبہ پر کب تک اعتماد کیا جائے؟
نمبر ۴....... ایک لڑکی جس کا خاوند مرتد ہو گیا وہ برادری کے شور و غوغا کی وجہ سے اپنے والد اور تایا سے کہتی ہے کہ اگر میرے نان نفقہ کا انتظام کر دو تو میں اپنے خاوند کو جو مرتد ہونے کی وجہ سے خاوند بھی شرعاً نہیں رہا چھوڑ دوں گی لیکن اس کا باپ اور تایا باوجود قدرت رکھنے کے اس کے نان نفقہ کی کفالت سے انکار کرتے ہیں، یہ دونوں کس درجہ کے گنہگار ہیں اور ان سے قصبہ کے عام مسلمان تعلقات رکھیں یا منقطع کر دیں اور اگر رکھیں تو کس قسم کے تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ احقر یار محمد عفی عنہ، برائے نوازش بغور مطالعہ فرمانے کے بعد تمام سوالات کا مفصل جواب علیحدہ
علیحدہ تحریر فرمائیں۔ قرآن وحدیث کا حوالہ حتی الامکان دیا جائے۔ مسلم جنرل ٹریڈنگ کمپنی پوسٹ نمبر ۱ کراچی۔
الجواب....... حامداً و مصلیاً. قال الله تعالى ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار الايه والركون الى الشئ هو الركون اليه بالانس والمحبة فاقتضى ذلك النهي عن مجالسة الظالمين و موانستهم ولا انصات اليه هو مثل قوله تعالى فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين۔ (احکام القرآن ج ۳ ص ۲۰۵) وقال تعالى يايها الذين امنوا لا تتخذوا الذين اتخذوا دينكم هزواً ولعباً (المائده ۵۷) وقال تعالى فاعرض عمن تولى عن ذكرنا ولم يرد الا الحيوة الدنيا ذلك مبلغهم من العلم ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين.
(النجم ۲۹۔۳۰)
مرزائی لوگ بفتوائے علماء حق کافر و مرتد ہیں ان کے ساتھ رشتہ مناکحت قطعاً ناجائز ہے اور ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ وہ زنا کے حکم میں ہے جتنے لوگ ایسے نکاح میں شریک ہوں یا باوجود قدرت کے ایسے نکاح کو نہ روکیں وہ سب حسب حیثیت گنہگار ہوں گے۔
مرتد کے ساتھ اکل وشرب ومجالست وغیرہ بھی ناجائز ہے قلبی محبت بھی قطعاً ممنوع ہے جو مسلم عورت کسی مرزائی کے نکاح میں ہے تمام اہل قدرت پر حسب قدرت اس کو چھڑانا واجب ہے خاص کر جبکہ وہ خود بھی اس سے علیحدہ ہونے کی خواہش مند ہو جو شخص جس قدر صاحب اختیار ہے اور اس کے چھڑانے میں کوتاہی کرے اسی قدر وہ گنہگار ہے۔ اگر کوئی مرتد صدق دل سے توبہ کرے اور تجدید ایمان کرے تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔ اگر ترک تعلقات کے ذریعہ سے اس کی توقع ہے کہ کوئی مسلمان کسی مرزائی سے تعلق نہیں رکھے گا تو ضرور ایسے شخص سے ترک تعلقات کر دیا جائے۔ اگر یہ خیال ہے کہ نرمی سے سمجھانے اور اخلاق کے ساتھ پیش آنے پر اپنی حرکت سے باز آ جائے گا اور ترک تعلق سے اس کی ضد اور زیادہ ہو گی تو اس سے نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ الغرض مرتد خدا کے دشمن ہیں ان سے جس قدر کوئی محبت کا تعلق رکھے گا اسی قدر وہ خدا کی رحمت سے دور ہوگا۔ المرء مع من احب کے ماتحت اسی جماعت میں اس کا حشر ہوگا اور دنیا و آخرت میں خدا کے دشمنوں کا شریک و رفیق سمجھا جائے گا اور یہ گناہ ان گناہوں سے بڑھ کر ہے جن کا تعلق محض اپنے نفس سے ہے کیونکہ ایسا شخص خدائی باغیوں کا ہم پلہ ہے والعیاذ باللہ فقط واللہ سبحانہٗ تعالیٰ اعلم۔
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۱۳۶۴/۸/۹ھ صحیح عبداللطیف مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور الجواب صحیح سعید احمد غفرلہٗ مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
(فتاویٰ محمودیہ ص ۶۳ تا ۶۶)
قادیانیوں سے تعلقات کا حکم
سوال....... ایک شخص صحیح العقیدہ ہے، صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے لیکن اس کے دنیوی تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں کیا ایسے شخص سے مسجد کے لیے چندہ لینا اور تعلقات رکھنا جائز ہے؟ ایسے شخص کو خنزیر سے بدتر کہنا اور سمجھنا کیسا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب سے نوازیں۔
الجواب....... ایسا شخص جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے لیکن اس کے تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں اگر وہ دل سے بھی ان کو اچھا سمجھتا ہے تو وہ مرتد ہے اور بلاشبہ خنزیر سے بدتر ہے اس سے تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔ اس
سے مسجد کے لیے چندہ لینا بھی جائز نہیں ہے اور اگر وہ قادیانیوں کے عقائد ونظریات سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کو اچھا سمجھتا ہے بلکہ صرف تجارت وغیرہ دنیوی معاملات کی حد تک ان سے تعلق رکھتا ہے تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ وہ قادیانی جس سے ان کے تجارتی تعلقات ہیں اگر پہلے مسلمان تھا بعد میں مرتد ہوا یا اس کا باپ مرتد ہوا تو وہ قادیانی چونکہ خود اپنے مال کا مالک نہیں ہے اور اس کا کوئی عقد ہی صحیح نہیں۔ اس لیے یہ شخص اگر ان سے تجارت کرتا ہے تو یہ تجارت صحیح نہ ہوگی اور اگر وہ قادیانی مرتد یا مرتد کا بیٹا نہیں بلکہ باپ دادا سے اس باطل عقیدہ پر ہے تو ایسے قادیانی سے تجارت کرنے سے مال کا مالک مرتد ہو جائے گا۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے تجارت کا معاملہ جائز نہیں۔ اس میں قادیانیوں کے ساتھ تعاون ہے۔ اس قسم کے لین دین اور معاملات میں لوگ قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کو اپنا جال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں۔ پس قادیانیوں سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں قطع تعلق ضروری ہے۔ ان سے تعلقات رکھنے والا اگرچہ ان کو برا سمجھتا ہو قابل ملامت ہے ایسے شخص کو سمجھانا دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے۔ واللہ رسولہ اعلم بالصواب۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص ۳۳۱)
نوٹ...... بعینہ یہی فتویٰ پہلے احسن الفتاویٰ سے نقل ہوا۔ یہ فتاویٰ حکیمیہ نے ان کے فتویٰ کو اپنا فتویٰ ظاہر کیا ہے؟ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
قادیانیوں سے دوستی کا حکم
سوال....... کلمہ گو مسلمان اور کافر کو اپنی نشست و برخاست میں دوست سمجھنا کیسا ہے اور کافر کسے کہتے ہیں کیا مسلمان کلمہ گو بھی کافر ہیں یا فاسق و فاجر ہیں؟
الجواب...... کافر دشمن خدا ہے اور مسلمان کا دشمن۔ اسے دوست بنانا حرام، مسلمان کو صرف مسلمان ہی سے دوستی کرنا چاہیے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے۔ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاءَ (الممتحنہ ۱) اور فرماتا ہے۔ لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ (النساء ۱۴۴) کافر اس کو کہتے ہیں جو ضروریات دین میں سے کسی ضروری دین کا منکر ہو، مجرد کلمہ گوئی سے مومن نہیں ہو سکتا جبکہ کسی ضروری دین کا باوجود ادعائے ایمان، منکر ہو جیسے قادیانی باوجود کلمہ گوئی و ادعائے ایمان، ختم نبوت کے منکر ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرتے ہیں لہٰذا اس قسم کی کلمہ گوئی مومن ہونے کے لیے کافی نہیں اور ایسا کلمہ گو اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ امجدیہ ج ۴ ص ۲۸۹ تا ۲۹۱)
قادیانی فتنہ کا ضرر
سوال...... (۱)....... جماعت لاہوری و قادیانی کے رشتہ دار اپنے رشتہ دار مرزائیوں کو مسلمان اور مذہب حنفی میں مسلمان تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ بروئے شریعت و فتویٰ ہائے علماء دین، مرزائی اور ان کے حامی و رشتہ دار اور جو ان کو مسلمان جانیں وہ سب خارج از اسلام و کافر ہیں اور یہ بھی ہم کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کو مسجد اہل اسلام میں بھی داخل نہ ہونے دیں۔ مگر ہم لوگ ان کو مسجد میں آنے سے روکنے میں سخت مجبور ہیں۔ اگر روکتے ہیں تو وہ آمادہ فساد ہوتے ہیں اور مسجد میں جنگ و جدال کی نوبت ہو جاتی ہے۔ اب جماعت مرزائی کے رشتہ دار ہماری مسجد میں آتے ہیں۔ اور جس لوٹے سے وہ وضو کرتے ہیں اور مسجد میں جن گھڑوں سے ہم پانی پیتے ہیں وہ بھی پیتے ہیں اور ہماری جماعت نماز میں شریک نہیں ہوتے جو کہ مؤذن مسجد پڑھاتا ہے اور ان کی ضد یہ ہے کہ اگر امام صاحب معین
جماعت کرائیں گے تو ہم بھی شریک جماعت ہوں گے کیونکہ ہمارا چندہ مشترکہ ہے (یہ چندہ اس وقت کا ہے جبکہ یہ اہل سنت والجماعت شمار کیے جاتے تھے) ایسی صورت میں اگر یہ لوگ ہماری جماعت فرض و واجب میں شامل ہو جائیں اور ہم ان کو علیحدہ کرنے کی طاقت نہ رکھیں تو نماز سب کی درست ہو جائے گی یا نہیں۔ اور امام کی امامت کرانی درست ہے یا نہیں۔ (۲)...... جو لوگ باوجود واقف ہونے اس امر کے کہ ان کا مسجد میں آنا از روئے شریعت منع ہے اور وہ لوگ بوجہ کسی خوف کے مسجد میں آنے سے نہ روکیں یا بوجہ لحاظ و رشتہ داری کے چشم پوشی کریں تو ایسے لوگ نمازی کسی جرم شرعی کے مرتکب ہیں یا نہیں۔ (۳)...... امام معین مسجد نے فتاویٰ علماء اہل اسلام کہ متعلق قادیانیوں کے جاری تھے مسجد میں محلہ والوں کو سنائے اور یہ کہا کہ قادیانی یا ان کے رشتہ داران جو ان کے ساتھ شامل ہیں وہ ہماری جماعت نماز میں شریک ہوں گے تو میں نماز نہیں پڑھاؤں گا۔ جس کو سن کر اہل محلہ نے مرزائیوں کے رشتہ داروں سے باوجود سمجھانے اور ان کا کہنا نہ ماننے کے قطع تعلق ان سے کر دیا۔ اسی وجہ سے مرزائیوں کے رشتہ دار امام صاحب ہی کے مخالف ہو گئے اور وہ چاہتے ہیں کہ امام معین کسی طرح امامت سے جدا ہو جائیں۔ اس واسطے جب امام صاحب جماعت کراتے ہیں تو ضداً یہ لوگ شامل جماعت نماز ہوتے ہیں جیسا کہ سوال نمبر ۱ سے واضح ہے۔ اور اگر نائب امام جو مؤذن بھی ہے وہ جماعت کرائے یا دیگر شخص جماعت کرائے تو وہ شریک جماعت نماز نہیں ہوتے۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ ذاتی نقصان تنخواہ کا امام کو پہنچانا ہے۔ ہم اہل محلہ نے امام صاحب کو نہ امامت سے علیحدہ کیا ہے نہ انھوں نے استعفا دیا ہے بلکہ ہر نماز میں امام صاحب حاضر رہتے ہیں لیکن بوجہ فساد کے ہم لوگ نائب امام صاحب سے جماعت کراتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسجد فنڈ سے تنخواہ امام صاحب کو دینی اور امام صاحب کو لینی درست ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر ۱۱۴۱ عبدالرحمٰن صاحب (چاندنی چوک) ۵ جمادی الثانی ۱۳۵۵ھ ۲۳ اگست ۱۹۳۶ء
جواب....... قادیانی فتنہ بہت زیادہ مضر اور مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی بلکہ سیاسی حالت کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ اگر مسلمان ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں تو اس میں وہ حق بجانب ہیں۔ باقی رہا امام کا معاملہ تو اگر اہل مسجد امام سے کسی شرعی ضرورت کے ماتحت نماز نہ پڑھوائیں تو مضائقہ نہیں اور امام جب تک امام ہے اس کو مسجد فنڈ سے تنخواہ دی جاسکتی ہے جبکہ اس کی نیابت میں دوسرا شخص اہل مسجد کی رضامندی سے اس کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔ فقط محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(کفایت المفتی ج ۳ ص ۵۲۔۵۳)
قادیانی سے مقاطعہ جائز ہے؟
سوال....... زید نے کہا کہ کمیٹی مجھ کو چھوڑ دے مگر قادیانیوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس وجہ سے کمیٹی نے زید سے ترک موالات کر لیا۔ اسی باعث کمیٹی والے تقریب وغیرہ میں نہ زید کو بلاتے ہیں۔ نہ زید کے یہاں جاتے ہیں۔ مگر زید کے ساتھ کمیٹی والے ہمدردی ہی کرتے ہیں۔ زید کے ساتھ نشست اور خلا ملا (ملا جلا) ہی ہے تو آیا ترک موالات کامل ہے یا ناقص۔ ترک موالات کی تعریف مشرح طور سے تحریر فرمائی جائے تاکہ اس پر عمل کیا جائے؟
جواب....... زید کا ایسا کہنا سخت گناہ ہے اور کفر کا اندیشہ ہے۔ لیکن فقط اتنی بات سے خارج نہیں ہوا۔ لہٰذا جو حقوق عام مسلمانوں کے ہیں ان کا وہ بھی حقدار ہے۔ مثلاً مل جائے تو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا، بیمار ہو تو عیادت کرنا وغیرہ۔ اس لیے ایسے حقوق عامہ کو ترک نہ کیا جائے۔ مگر خصوص تعلقات نکاح شادی وغیرہ بالکل قطع کر دیے جائیں اور اگر
یہ خیال ہو کہ مکمل ترک موالات کرنے اور قطع تعلق کرنے سے وہ راہ راست پر آ جائے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں کہ چند روز کے لیے بالکل قطع تعلقات کر دیا جائے۔ مگر اس صورت کو ہمیشہ نہ رکھیں۔ وقد صرح العينى فى شرح المنية بكراهة معاشرة تارك الصلوة فهذا اولى. والله تعالیٰ اعلم!
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۰۲۳)
قادیانیوں سے میل جول کی ممانعت
سوال ...... از کوہ سری مرسلہ باشندگان کوہ سری بذریعہ حکیم عبدالخالق صاحب ۱۸ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۹ھ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ کوہ سری کے انتخاب میں دو امیدوار ممبری جن میں سے ایک احمدی ہے، جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتا ہے اور دوسرا فری مشن یعنی جادوگر کا ممبر ہے، مسلمانان کوہ سری نے ہر دو کو حسب رسوخ پرچیاں دیں، اب احمدی لاہوری کے حق میں جن مسلمانان اہلسنت و جماعت نے پرچیاں دی ہیں ان کے برخلاف مشورہ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھی مرزائی ہو گئے ہیں کیا صرف پرچی دینے سے اور وہ بھی اس لیے کہ ایک تعلیم یافتہ اور مسلمانوں کے ہمدرد کو دی جائیں کوئی شخص مرزائی ہو سکتا ہے؟ جبکہ اس کے عقائد اہلسنت و جماعت کے ہوں؟ بینوا توجروا
جواب ...... اس میں شک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کی سخت سے سخت توہین کی ہے اور دعویٰ نبوت کیا۔ اس وجہ سے یقیناً وہ شخص کافر ہے، اس کے اقوال پر مطلع ہو کر مجدد تو مجدد اسے مسلمان جاننا بھی کفر ہے، مگر کسی غیر مسلم کو ممبری کی رائے دینا کفر نہیں، نہ فقط اتنی بات سے رائے دہندگان مرزائی ہوئے۔ مگر مرزائیوں سے میل جول رکھنا سخت دینی مضرت کا سبب ہے، حدیث میں ہے۔ ایاکم و ایاهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم. (صحیح مسلم ج ۱ ص ۱۰) والله تعالى اعلم. (فتاویٰ امجدیہ ج ۴ ص ۱۶۸۔۱۶۹)
دین و ایمان کے تحفظ کے لیے مرزائیوں سے قطع تعلق کیا جائے
سوال ...... (۱)...... علمائے اسلام مطابق شریعت مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟ (۲)...... ان کا پیرو کیسا ہوگا؟ (۳)...... مسلمانوں کو مرزائیوں سے قطع تعلق کرنا ضروری ہے یا نہیں۔ (۴)...... اور قطع تعلق کہاں تک ہے؟ المستفتی نمبر ۷۴۳ مسلمانان بھدراول ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ مطابق ۱۳ فروری ۱۹۳۶ء
جواب ...... (۱)...... جمہور علمائے اسلام مرزا غلام احمد قادیانی کو بوجہ ان کے دعوائے نبوت اور توہین انبیاء کے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ (۲)...... ان کے پیروؤں اور ان کو سچا ماننے والوں کا بھی یہی حکم ہے۔ (۳)...... ہاں اگر دین کو فتنہ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں تو قطع تعلق کر لینا چاہیے۔ (۴)...... ان سے رشتہ ناتا کرنا ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا جس کا دین اور عقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۶)
قادیانیوں سے اختلاط
سوال ...... مرزائیوں کے دونوں فریق قادیانی و لاہوری بالیقین مرتد خارج عن الاسلام ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو مرتد کا کیا حکم ہے۔ مرتدین کے ساتھ اختلاط برتاؤ کرنا عوام کو ان کی باتیں سننا، جلسوں میں شریک ہونا، ان سے
مناکحت کرنا، ان کی شادی و غمی میں شریک ہونا، ان کے ساتھ کھانا پینا، تجارتی تعلقات قائم رکھنا، ان کو ملازم رکھنا۔ یہ امور جائز ہیں یا نہیں؟
جواب ....... مرزا غلام احمد قادیانی کا کافر مرتد ہونا اور ان کے اقوال و کلمات غیر محصورہ کا غیر محتمل للتاویل ہونا اظہر من الشمس ہو چکا ہے۔ اور اسی لیے جمہور علمائے امت ان کی تکفیر پر متفق ہیں۔ اس کی مفصل تحقیق کرنا ہو تو مستقل رسائل مثل "اشد العذاب" مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اور "القول الصحیح فی مکائد المسیح" مصنفہ مولانا محمد سہول صاحب اور مطبوعہ "فتاوٰی علمائے ہند در بارہ تکفیر قادیانی" جس میں ہر ضلع وصوبہ کے علماء کے سینکڑوں دستخط و تصدیق ہیں۔ ملاحظہ فرمائے جائیں۔ پھر مرزائیوں کے دونوں فرقے قادیانی اور لاہوری اتنی بات پر متفق ہیں کہ وہ (مرزا قادیانی) اعلیٰ درجہ کا مسلمان بلکہ مجدد و محدث اور مسیح موعود تھے اور ظاہر ہے کہ کسی کافر مرتد کے متعلق بعد اس کے عقائد معلوم ہو جانے کے ایسا عقیدہ رکھنا خود کفر و ارتداد ہے۔ اس لیے بلاشبہ دونوں فرقے کافر و مرتد ہیں اور اب تو لاہوریوں نے جو تحریف قرآن اور انکار ضروریات دین کا خاص طور پر بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے سبب اب وہ اپنے کفر و ارتداد میں مرزا قادیانی کے تابع ہونے سے مستغنی ہو کر خود بالذات ارتداد کے علمبردار ہیں۔ اس لیے دونوں فریق سے عام مسلمانوں کا اختلاط اور ان کی باتیں سننا جلسوں میں ان کو شریک کرنا یا خود ان کے جلسوں میں شریک ہونا۔ شادی و غمی اور کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا سخت گناہ ہے اور مناکحت قطعاً حرام ہے اور جو نکاح پڑھ بھی دیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا بلکہ اگر بعد انعقاد نکاح مرزائی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔ البتہ تجارتی تعلقات اور ملازمت میں رہنا یا ملازم رکھنا بعض صورتوں میں جائز ہے۔ بعض میں وہ بھی ناجائز ہے۔ اس لیے بلا ضرورت شدیدہ اس سے بھی احتراز ضروری ہے۔
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۰۲۴، ۱۰۲۵)
قادیانیوں سے میل جول کی حرمت
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قادیانی مذہب ایسی جگہ آباد ہوا جہاں بالکل قطعاً مسلمان رہتے ہیں وہ قادیانی مسلمانوں کو بہکانا چاہتا ہے، نیز ان کے یہاں کا اصول بھی یہی ہے کہ ناسمجھ مسلمانوں کو اخلاق نرمی سے اپنی طرف کھینچ کر بہکا لیتے ہیں اس خوف سے جمیع مسلمانوں نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی اور کسی نے اس سے میل جول نہ رکھا مگر اسی محلہ کا ایک سقہ اس قادیانی سے مانوس ہو گیا اس کی بی بی نے اپنے شوہر سقہ کو منع کیا اور کہا ہم کو تم کو خدا اور رسول سے کام پڑے گا۔ ایسے بد مذہب سے علیحدہ رہو اور پانی بھی اس کے یہاں نہ بھرو ایک روپیہ مہینہ نہ سہی اس پر وہ سقہ اپنی بی بی کو طلاق دینے کے لیے تیار ہو گیا اور کہنے لگا تو میرے مکان سے نکل جا، میں تو اس قادیانی سے ایسا ہی ملوں گا اور پانی بھروں گا گو میرے تمام ٹھکانے چھوٹ جائیں مگر میں اس کو نہ چھوڑوں گا ہاں اگر سارے شہر کے بہشتی ایسا ہی کریں اور چھوڑ دیں تو میں بھی چھوڑ دوں، ورنہ میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا، بلکہ اگر وہ قادیانی سؤر کھائے گا تو میں بھی سؤر کھاؤں گا۔
سوال یہ ہے کہ جن مسلمانوں نے اس سے ترک سلام و کلام کر دیا ہے ان کے واسطے از روئے شریعت کیا جزا ملے گی اور سقہ کے واسطے شریعت پاک کا کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا
الجواب ...... مسلمانوں کے لیے ثواب عظیم اور اس فعل سے اللہ و رسول کی رضا ہے اور وہ سقہ اشد گنہگار و مستحق
عذاب نار ہے سقاؤں اور ان کے چودھری کو لازم ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے برادری سے نکال دیں اللہ عزوجل فرماتا ہے۔ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسكم النار. (ھود ۱۱۳) واللہ تعالیٰ اعلم.
(احکام شریعت ص ۱۹۷۔۱۹۸)
قادیانیوں سے تعلقات
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ مرزائیوں سے لین دین، نشست و برخاست برادری کے تعلقات کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب ...... نخلع و نترک من یفجرک کے تحت ان کے باطل اعتقادات و رسومات سے الگ تھلگ رہنا ضروری ہے ان سے برادری اور دوستانہ تعلقات رکھنا درست نہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۵)
قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا
سوال ...... اگر پڑوس میں زیادہ اہلسنت جماعت رہتے ہوں چند گھر قادیانی فرقہ کے ہوں ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھانا پینا یا ویسے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں۔
جواب ...... قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا یا ان کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں قیامت کے دن خدا اور رسول ﷺ کے سامنے اس کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۱)
مسلمان ہونے والے قادیانی کا اپنے خاندان سے تعلق
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ دو حقیقی بھائیوں میں سے ایک نے قادیانی عقائد اختیار کر کے کفر و ارتداد قبول کر لیا ہے اور دوسرا بھائی ابھی تک اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور مسلک اہل سنت والجماعت ظاہر کرتا ہے۔ اس کو ہر چند سمجھایا گیا کہ مرزائی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اپنے بھائی سے ہر قسم کا قطع تعلق کرے مگر وہ اپنے قادیانی بھائی سے قطع تعلق نہیں کرتا بلکہ رشتہ ناتہ بھی رکھ رہا ہے اور شادی بیاہ خوشی غمی میں بھی قادیانی بھائی کے ساتھ شریک ہوتا رہتا ہے۔ اب اس شخص کے بارے میں اس کی مسلمان برادری پریشان ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کیا ایسے آدمی سے مسلمان برادری قطع تعلق کرے اور اس کو اپنی خوشی و غمی میں شریک نہ کرے۔ کیا ایسا کرنے کی شرع شریف میں اجازت ہے۔ بینوا توجروا.
جواب ...... مرزائیوں کے ساتھ برادری کے تعلقات قائم کرنا یا رشتہ کرنا ناجائز و حرام ہے۔ لہٰذا اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اس مرزائی کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دے اور نخلع و نترک من یفجرک پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے اس کے بندوں کی رضا مندی کچھ نہیں۔ لاطاعة المخلوق فی معصیة الخالق. (کنز العمال ج ۵ ص ۷۹۲ حدیث نمبر ۱۴۴۰۱) دوسرے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کو مزید سمجھانے کی کوشش کریں اور اس شخص کو بچانے کی کوشش کریں تاکہ یہ مرزائی کے ساتھ تعلقات ختم کر دے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۳)
قادیانیوں سے میل جول کا شرعی حکم؟
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہٰذا میں کہ ایک شخص جو کہ خود ہمیشہ تبلیغ کرتا رہا ہے کہ غیر مسلم یعنی مرزائی سے کھانا جائز نہیں اور وہ مبلغ کنندہ یونین کونسل کا ممبر ہے اور قادیانی بھی یونین کونسل کا ممبر ہے۔ اب اسی دیہات میں پوری یونین کا اجتماع ہوتا ہے اور وہی مبلغ کنندہ سب کی دعوت کرتا ہے جس میں اسی دیہات کا وہ قادیانی بھی شامل ہے۔ اور پھر اسی طرح دوبارہ اجتماع ہوتا ہے تو وہ قادیانی دعوت کرتا ہے۔ جس میں وہ مبلغ کنندہ بھی شامل ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شمولیت مشروط ہے کہ اخراجات میں سے نصف خرچ میرا ہوگا کیونکہ ہم دونوں کے مشترکہ مہمان ہیں اور وہ اس صورت میں رضامند ہو جاتا ہے۔ اس دعوت میں کسی قسم کا کوئی جانور قادیانی کا مذبوحہ نہیں ہے۔ جانور مذبوحہ کا گوشت مسلمان سے خریدا گیا ہے اور مسلمان ہی پکانے والا ہے۔ البتہ باقی روٹی اور برتن وغیرہ اس کے ہیں اور وہی مبلغ کنندہ باقی ممبران یونین کے مجبور کرنے پر کہ اب دونوں کے ملنے سے دنیاوی کاموں میں عوام کا بہت فائدہ ہے تو وہ کھانا کھا لیتا ہے۔ کھانے کے برتن میں مرزائی شریک نہیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ بعدازاں وہ قادیانی قیمت نہیں لیتا۔ جواب یہ دیتا ہے کہ پہلے آپ نے انتظام کیا میں نے کچھ نہیں دیا۔ اب میں نے انتظام کیا ہے آپ سے کچھ نہیں لوں گا۔ کیونکہ اس وقت بھی مشترکہ خرچ ہونا تھا۔ اب اس شخص کے حق میں شرعی فیصلہ کیا ہے اور کس قدر مجرم ہے اور بعدازاں ایک مولوی صاحب یا کوئی شخص جو کہ ایک ایسی پارٹی کے پاس مہمان ہوتا ہے جسکا ہر قسم کا لین دین حتیٰ کہ دعوتوں میں شمولیت بھی کرتے ہیں اس قادیانی کے ساتھ ہے اور وہ مبلغ یا شخص اس کو کافروں سے مشابہت اور کتوں سے مشابہت دیتا ہے۔ کیا اس مبلغ نے قرآن و حدیث کی رو سے ٹھیک کہا یا غلط۔ اگر غلط ہے تو اس کی سزا کیا ہے۔
جواب...... صورت مسئولہ میں مبلغ کنندہ کا پہلا رویہ درست تھا کہ ان کا کھانا اہل اسلام کے لیے درست نہیں۔ اس لیے کہ ان مرزائیوں کے تعلقات میل جول مفاسد سے خالی نہیں لہٰذا بعد میں مرزائی کی دعوت کو قبول کر لینا کھلی ہوئی غلطی اور بے شرمی اور حمیت اسلامیہ کے خلاف ہے۔ نیز خاتم النبیین ﷺ سے عدم محبت کا اظہار ہے۔ دعوت میں شرکت کرنے والے اور مرزائی کو دعوت دینے والے دونوں مجرم ہیں۔ جلد از جلد توبہ کرنا لازم ہے۔ واضح رہے کہ تمام مسلمان مل کر اس برائی کو دور کریں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
- (۲)...... چونکہ مرزائی کافر ہیں اور مذکورہ مسلمان ان سے میل جول تعلقات رکھتے ہیں اور مرزائی اور وہ مسلمان
ایک دوسرے کی دعوت وغیرہ میں شریک ہوتے ہیں۔ اس بنا پر مولوی کا کہنا کوئی غلط نہیں۔ البتہ مولوی کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ سمجھائیں۔ لیکن اگر مذکورہ ممبران وغیرہ باوجود حکمت کے ساتھ سمجھانے کے بھی تعلقات نہیں توڑتے تو کسی مصلحت کی بنا پر (مسلمان مرزائیوں کے شر سے محفوظ رہیں) مولوی کا کہنا بجا اور صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۱۹۸، ۱۹۹)
مرزائیوں سے دوستی ممنوع ہے
سوال...... اگر کوئی آدمی کسی مرزائی، قادیانی یا عیسائی سے دوستی کرتا ہے تو کیا یہ درست ہے؟ اور آدمی مسلمان ہے لیکن اگر مسلمان اس نیت سے دوستی کرے تاکہ اس مرزائی، عیسائی یا قادیانی کی اصلاح ہو جائے تو کیا یہ درست ہے؟ عثمان غنی لاہور
جواب....... کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں مومن اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں، اللہ تعالیٰ کا دوست اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دوستی کیونکر کرسکتا ہے؟ کفار کی دوستی سے ممانعت کی آیات کئی ہیں ان میں سے ایک مندرجہ ذیل ہے۔ (يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ) (الآیۃ آل عمران ۲۸) (مسلمانوں مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ) دوست کے بغیر ان کی اصلاح کرے ان کو تبلیغ کرے۔ ۱۴۱۷/۷/۴ھ
(احکام ومسائل ص ۵۴۶)
خوش اخلاقی قادیانیوں کا دام فریب ہے
سوال....... قادیانیوں سے میل جول اور عام زندگی میں تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ خاص طور پر جب وہ خوش اخلاق اور خدمت گار ہو؟ جبکہ خوش اخلاقی اچھی عادت ہے۔ محمد رشید چنیوٹ
جواب....... محترم محمد رشید صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قادیانی علی العموم کفار و مرتدین ہیں۔ ان سے سلام، کلام، کھانا، پینا، بیاہ شادی، لین دین کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں، حرام حرام قطعی حرام ہے۔ کوئی شخص کسی لحاظ سے بہترین صفات کا حامل ہو، اس کا اللہ، رسول اور قرآن، اسلام اور اہل اسلام کا دشمن ہونا اور ان سے بغاوت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی ذاتی خوبی، اس کا مداوا نہیں کر سکتی۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَ هُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ خَلِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. (المجادلہ ۲۲)
”تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی۔ اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔ یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انھیں باغوں میں لے جایا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اللہ کی جماعت ہے، سن لو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب رہے گی۔“
یہ ہے اہل ایمان کا عمل، کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے محبت نہیں کرتے۔ خواہ باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، دوست ہو لہٰذا آپ قادیانی سے ہر قسم کی قطع تعلقی کریں۔ وہ اتنا ہی خوش اخلاق ہے تو کفر و ارتداد کو چھوڑے، قادیانی مرتد پر لعنت بھیجے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے، مرتد ہونا اخلاق نہیں بداخلاقی ہے۔ جو شخص خود جہنم کا ایندھن بن جائے اور دوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچے۔ اس کی بہترین خدمات نہیں، بدترین مہلکات ہیں۔ والله الهادی و صلی الله علی خیر خلقه و نور عرشه قاسم رزقه محمد واله و صحبه وسلم. عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ص۳۵۶، ۳۵۷)
قادیانیوں سے خاندانی و اخلاقی روابط حرام ہیں
سوال....... میرے خالو کراچی میں طویل عرصہ سے ایک اعلیٰ رہائشی علاقے میں مقیم ہیں۔ چند سالوں سے وہ
مرزائی (احمدی) ہو گئے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر ڈال دیا ہے وہ لوگ ہمارے گھر آتے جاتے ہیں۔ آیا ہم ان سے تعلقات منقطع کریں یا نہ کریں اور شادی بیاہ، اکٹھے کھانا وغیرہ کیسا ہے؟ وضاحت فرما دیں۔ ان مرتدین اسلام کی سزا کیا ہے اور کیا میں انفرادی طور پر ان کو کوئی سزا دے سکتا ہوں۔ تفصیلاً جواب مرحمت فرمائیں۔ عامر اقبال، واہ کینٹ
جواب ...... محترم عامر اقبال صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے خالو نعوذ باللہ اگر احمدی یا قادیانی ہو گئے ہیں تو یقیناً وہ اسلام سے خارج، مرتد اور کافر ہو گئے۔ آپ کا اور ہر مسلمان کا ان سے ملنا جلنا، کھانا پینا اور کسی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے۔ صحابہ کرامؓ کو دیکھیں انھوں نے اپنے حقیقی رشتہ داروں اور عزیزوں کو کس طرح عقیدے کی بناء پر ترک کر دیا تھا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ . (مجادلہ ۲۲)
’’تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے محبت رکھے۔ خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں یا بھائی اور قبیلہ والے ہوں۔‘‘
بدر اور احد کی لڑائیوں میں آمنے سامنے کون تھے؟ اپنے ہی نسبی، حسبی بھائی، باپ، بیٹے، ماموں، چچے، خالہ زاد، عم زاد، دوست، عزیز اور رشتے دار وغیرہ۔ پس آپ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور رشتہ ایمان پر تمام رشتے قربان کر دیں۔ مرتدوں کا آپ سے ہنس کے بولنا اخلاق نہیں، طنز ہے جو آپ کے خدا و رسول کا لحاظ، پاس نہ کریں ان سے نہ شرمائیں۔ وہ آپ کے خیر خواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ اپنے ایمان کا ثبوت دیں اور ان تمام لوگوں سے، اللہ و رسول ﷺ کی رضا کے لیے تعلقات ختم کردیں۔ نہ دنیاوی معاملات میں نہ دینی معاملات میں۔ ان سے بیاہ شادی حرام، حرام قطعی حرام ہے۔ ان کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، رشتہ ناطہ رکھنا، تعلقات رکھنا، سب حرام اور کفر ہے۔ ان مرتدین کی سزا شرعاً قتل کرنا ہے مگر یہ سزا صرف حکومت دے سکتی ہے، عام آدمی نہیں۔ واللہ اعلم ورسولہ۔ عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ جلد اوّل ص ۳۵۱۔۳۵۳)
قادیانیوں سے میل جول کا حکم
سوال ...... آج کل نئے فیشن کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو اپنے مذہب و عقائد کی تو بہت کم خبر ہوتی ہے، بسا اوقات وہ لوگ آج کل کے عقائد باطلہ وافعال ممنوعہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں چنانچہ فی زمانہ قادیانیوں کا سلسلہ عام ہو رہا ہے اور عموماً ان کو لوگ کلمہ گو کہہ کر مسلمان سمجھتے ہیں اور باوجود ان کے عقائد کفریہ عام ہو جانے کے پھر بھی ان سے پرہیز اور اجتناب نہیں کرتے اور اگر ان سے کہا جائے ان لوگوں سے بچنا چاہیے کیونکہ ان کی صحبت کا برا اثر پڑتے پڑتے ایک روز ان کے عقائد کی خرابی کا دل میں احساس بھی باقی نہیں رہتا۔ لیکن یہ لوگ نہیں مانتے اور ان کو برا بھی نہیں سمجھتے بلکہ اپنی رشتہ داری یا ذاتی اغراض کی وجہ سے خلا ملا رکھتے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کے اس قدر حامی اور مددگار ہو جاتے ہیں کہ اصل قادیانی بھی ان سے زیادہ ان کے عقائد باطلہ کی تائید نہیں کر سکتے۔ لہٰذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ (۱) آیا قادیانی یا جو ان کو اچھا سمجھیں ان سے میل جول رشتہ ناطہ کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اور ان کی اعانت و مدد کرنا کیسا ہے؟
- (۲)....... نیز جو رشتے ایسے لوگوں کے ساتھ ہو گئے ہیں ان کو باقی رکھنا بہتر ہے یا ان سے تعلق منقطع کر کے اچھے
اور نیک دیندار مسلمانوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا بہتر ہے؟
- (۳)....... اگر کوئی شخص باوجود سمجھانے اور باوجود شرعی حکم پہنچانے اور باوجود قادیانی کے عقائد باطلہ کو جان لینے کے
بھی ان کے ساتھ خلا ملا رکھے اور ان کو اچھا سمجھے اور ان سے علیحدگی کو گوارا نہ کرے بلکہ سچے پکے دیندار مسلمانوں کو برا سمجھے ، ایسے شخص سے میل جول رکھنا چاہیے یا نہیں؟
المستفتی نمبر ۵۶۸ عبدالرحمن (ریاست جیند ) ۱۰ جمادی الاول ۱۳۵۴ھ مطابق ۱۱ اگست ۱۹۳۵ء
جواب ...... (۱)...... قادیانی فرقہ جمہور علمائے اسلام کے فتوے کے بموجب دائرہ اسلام سے باہر ہے۔ اس لیے اس فرقہ کے ساتھ میل جول اور تعلقات رکھنا سخت، مضر اور دین کے لیے تباہ کن ہے۔ اس حکم میں قادیانی اور لاہوری دونوں برابر ہیں۔
- (۲)...... اگر نادانستگی سے ان لوگوں کے ساتھ رشتہ ہو گیا ہو تو معلوم ہونے پر اسے منقطع کر دینا لازم ہے تا کہ خدا و
رسول کی ناخوشی اور آخرت کے وبال سے نجات ہو۔
- (۳)...... جو لوگ کہ قادیانیوں کے عقائد کفریہ سے واقف ہوں اور پھر بھی ان کو مسلمان سمجھیں وہ گویا خود بھی ان
عقائد کفریہ کے معتقد ہیں۔ اس لیے وہ بھی اسلام سے خارج اور قادیانیوں کے زمرے میں شمار ہوں گے۔ دیندار مسلمانوں کو ان سے بھی علیحدگی اور بیزاری کا سلوک کرنا چاہیے۔ فقط محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ
(شائع شدہ اخبار الجمعیۃ ۲۰ اگست ۳۵ء)
جواب ...... قادیان کے نبی کے مقلد (دونوں لاہوری احمدی اور قادیانی ) اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور بہت سے کام مسلمانوں کے مذہب کے خلاف کیے۔ ان وجوہ سے وہ تمام علمائے اسلام کے نزدیک اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں اور دونوں فرقے جو کہ یقین کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہادی تھے یا مسیح موعود تھے یا مہدی تھے یا امام وقت تھے اس لیے وہ لوگ اپنے مقتدا کے مانند ہیں اور وہ لوگ کافر ہیں۔ اور لاہوری جماعت بھی یقین کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی قابل تقلید تھے وہ بھی کافر ہیں۔ محمد کفایت اللہ (صدر جمعیۃ علمائے ہند ) ۲۶ جمادی الثانی ۱۳۵۴ھ مطابق ۲۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۴ تا ۳۱۶)
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات کے مفصل احکام
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ فرقہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد جبکہ شرعاً، عقلاً، نقلاً نصف النہار کی طرح روشن اور واضح ہو چکا ہے تو اس صورت میں اہل اسلام فرقہ مرزائیہ کے ساتھ حدود شرعیہ میں رہتے ہوئے کس حد تک معاملات و برتاؤ کر سکتے ہیں۔ مرزائیوں کی دعوتیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، کاروبار، لین دین حتیٰ کہ ان کے ساتھ نشست و برخاست تک کے مسائل پر روشنی ڈالیں۔
الجواب ...... واضح رہے کہ موالات یعنی دلی محبت ومودّت کسی غیر مسلم سے کسی بھی حال میں قطعاً جائز نہیں۔ لقولہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء۔ (الممتحنۃ ۱) البتہ مواسات یعنی ہمدردی، خیر خواہی، نفع رسانی کی اجازت ہے۔ لیکن جو کفار برسر پیکار ہوں تو ان کے ساتھ اس کی بھی اجازت نہیں۔ تعلقات کا
تیسرا درجہ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ ہے۔ یہ بھی غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے بشرطیکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا نہ ہو۔ یا وہ بحیثیت مہمان آئے ہوں۔ یا ان کے شر اور فتنہ سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔ آخری درجہ معاملات ہے۔ یعنی کفار سے تجارت، اجارات، صنعت و حرفت کے معاملات۔ یہ بھی جائز ہیں۔ بجز ایسی حالت کے کہ ان سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو یہ بھی جائز نہیں۔
مذکورہ بالا توضیح سے نتیجہ یہ نکلا کہ اگر مرزائیوں کے ساتھ نشست و برخاست، کھانا پینا، آمد و رفت، میل جول، دلی محبت اور دوستی کی بناء پر ہو تو ناجائز اور حرام ہے۔ اگر کسی دینی و شرعی غرض کے تحت ہو تو جائز ہے مگر چونکہ عام طور پر اس قسم کے تعلقات دلی دوستی کی بناء پر ہوتے ہیں اور ان تعلقات کی خاصیت بھی یہ ہے کہ یہ دلی قرب پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں عوام الناس میں صحیح نیت کا بھی اہتمام نہیں ہوتا اس لیے اس قسم کے تعلقات کو علی الاطلاق منع کیا جاتا ہے۔ لیسد باب المفاسد. قال اللہ تعالیٰ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار.
(ھود ۱۱۳)
تعلقات کی یہ تفصیل مختلف آیات قرآنی کا خلاصہ ہے۔ تاہم مرزائیوں کی تقریبات میں شمولیت اور ان کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بن کر رہنا جائز نہیں۔ کیونکہ اس کا انجام خود مرزائی بن جانا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ اس لیے سخت احتراز لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم
محمد انور عفا اللہ عنہ ۲۰/ ۷/ ۱۳۹۸ھ الجواب صحیح: بندہ عبد الستار عفا اللہ عنہ
(خیر الفتاویٰ ج ۱ ص ۳۸۶۔۳۸۷)
قادیانی مذہب والوں سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟
سوال...... میرے ہمسائے قادیانی ہیں۔ وہ ہم سے دودھ خریدتے ہیں۔ میں پڑھی لکھی ہوں اور جانتی ہوں کہ شرعاً کسی طرح ان سے تعلق جائز نہیں لیکن میری والدہ صاحبہ ان پڑھ ہیں۔ وہ میرے منع کرنے پر بھی نہیں رکتیں اور ان کو بدستور دودھ دیتی رہتی ہیں۔ آیا میں اپنی والدہ سے خدمت گزاری والا طریقہ بھی رکھوں اور ان مرزائیوں سے بھی مکمل قطع تعلق رہوں۔ میری والدہ کہتی ہے وہ مرزائی لوگ قرآن بھی پڑھتے ہیں نماز روزہ سب عبادتیں کرتے ہیں وغیرہ۔ میں نوکری کرتی ہوں۔ میں نے امی کو کہا کہ آپ بھی ان بدبختوں سے تعلق چھوڑ دیں ورنہ میں نوکری چھوڑ دوں گی۔ کیا میں نوکری چھوڑ دوں جبکہ میری والدہ نے میری بات نہیں مانی۔ تمام گوشوں پر تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔
رفعت نذیر نارووال
جواب...... محترمہ رفعت نذیر صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے جو حالات لکھے ان سے کئی لوگوں کو سابقہ ہے۔ آپ مبارکباد کی مستحق ہیں کہ آپ نے پوری تفصیل سے وضاحت کی اور ایک عظیم ذہنی خلش کا اظہار اور اس کا حل دریافت کیا۔ امید ہے کہ دیگر حضرات مرد و خواتین بھی اس وضاحت سے مستفید ہوں گے۔
آپ نے دونوں باتوں کا احتیاط سے خیال رکھنا ہے۔ ایمان کی حفاظت اور ماں کی خدمت۔ عقیدہ اپنا رکھیں اور اس سلسلہ میں کسی سے کبھی نرمی نہ کریں۔ مضبوطی سے اس پر قائم رہیں۔
ماں کا ادب اور خدمت کریں اور نرمی سے اسے حق کی دعوت دیں۔ نہ مانے تو بھی اس کی خدمت کرتی
رہیں اور عقیدہ و ایمان اپنا رکھیں۔ اس سے وہ ناراض ہوں تو سو بار ہوں اس کی فکر نہ کریں۔ حضرت اویس قرنیؒ نے ماں کی خدمت کی ہے۔ اس پر ایمان قربان نہیں کیا۔ آپ بھی یہی کچھ کریں۔ اپنی ملازمت جاری رکھیں اور ترقی کے لیے مزید محنت کریں۔ مرزائی قرآن، صاحب قرآن اور اسلام کے باغی، دشمن اور بدخواہ ہیں۔ ان کا قرآن پڑھنا نرا دھوکہ اور فریب ہے۔ وہ تو اس کتاب مقدس کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعہ ۷۹) اس کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگائیں۔
نماز تراویح، روزہ وغیرہ اس کا قبول ہے جو ایمان والا ہو۔ مرتدین اور کفار کی تو کوئی عبادت قبول ہی نہیں جیسے ہندو، عیسائی، یہودی کی نماز، روزہ ناقابل قبول ایسے ہی مرزائی مرتدوں کا۔ آپ چاہیں تو اس تمام کارروائی کو اسلام اور قرآن کی توہین قرار دے کر ان لوگوں پر کیس کر سکتے ہیں۔ وہ قانونی طور پر نہ مسلمان کہلوا سکتے ہیں نہ اسلامی عبادات ادا کر سکتے ہیں۔ نہ اسلامی اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور دیگر مسلمانوں نے ایمان کی خاطر تمام رشتے ناتے قربان کر کے اور غلامی رسول ﷺ کا رشتہ اختیار کر کے ہمارے لیے بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ باقی سب رشتے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا رشتہ سب سے پہلے۔ واللہ اعلم ورسولہ۔ عبد القیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج اول ص ۴۳۷۔ ۴۳۸)
قادیانی کو سلام اور جواب
سوال ...... قادیانی لوگوں کو سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا شرع شریف میں کیسا ہے؟ الجواب ...... حامداً و مصلیاً. ان لوگوں کو سلام نہیں کرنا چاہیے اگر یہ لوگ سلام کریں تو جواب میں فقط ہداک اللہ کہہ دینا چاہیے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۱۴-۹-۵۵ھ الجواب صحیح: سعید احمد غفرلہ۔ صحیح: عبد اللطیف ۱۶ رمضان ۵۵ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۵ ص ۲۲۱)
بیمار قادیانی کی تیمارداری
سوال ...... مرزائی مفلوج الجسم اور مفلس، تنگ دست رشتہ دار کی خدمت جسمانی یا امداد مالی (مثلاً ماموں ہے) کرنا اور کوئی اس کا رشتہ دار خدمت کرنے والا نہ ہو محض مخلوق خدا کافر اور پلید سمجھ کر جیسے کتے وغیرہ کی خدمت ہے جائز ہے یا نہیں۔ سائل صوفی علی محمد مسجد نور جالندھر شہر ۳۱ مارچ ۴۵ء الجواب ...... حامداً و مصلیاً. مرزائی صرف کافر ہی نہیں بلکہ مرتد ہیں، جو معاملہ دیگر کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے، مرتد کے ساتھ شرعاً نہیں کیا جاتا اس لیے مرتد کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں چاہیے البتہ اگر یہ توقع ہو کہ وہ خوش اخلاقی اور تیمارداری سے متاثر ہو کر ارتداد سے تائب ہو جائے گا اور اسلام قبول کر لے گا تو پھر یہ تیمارداری مستقل تبلیغ کا حکم رکھتی ہے۔ بشرطیکہ نیت یہی ہو۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔ حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ، معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور الجواب صحیح: سعید احمد غفرلہ، مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور صحیح: عبد اللطیف مدرسہ مظاہر علوم ۲۴ ربیع الثانی ۱۳۶۴ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج ۸ ص ۲۹۲)
قادیانی کی تجہیز تکفین اور ان کے نکاح میں شرکت
- سوال...... (۱)......کسی قادیانی کی تجہیز وتکفین میں دیدہ و دانستہ حصہ لینے والے مسلمان کے حق میں کیا حکم ہے؟
- (۲)......قادیانی کی شادی میں شریک ہونا اور امداد کرنا کیسا ہے؟
- (۳)......دعوت قادیانی کی مسلمان کے لیے کیسی ہے؟
- (۴)......علمائے دین کے فتویٰ کو غلط بتانے والا اور توہین کرنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟
- (۵)......عزیز و اقارب دوست آشنا نیز برادری کے بھائی اور مسلمانان قصبہ، قادیانیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کریں
تاکہ وہ عنداللہ ماخوذ نہ ہوں؟
- (۶)......قادیانی کی شادی کرنا کیسا ہے؟
- جواب...... (۱)......مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ کسی پارٹی کے ہوں جمہور علمائے اسلام کے اتفاق
سے کافر و مرتد ہیں۔ ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا یا شریک ہونا ہرگز جائز نہیں اور جو کوئی مسلمان شریک ہو وہ گناہگار ہے۔ توبہ کرنی چاہیے۔
- (۲)......یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ اس سے لوگ ان کو مسلمان سمجھنے لگتے ہیں اور ان کو اپنی گمراہی پھیلانے کا موقع ملتا
ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ”فلا تقعد بعد الذکری (الانعام ۶۸) ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار.“ (ھود ۱۱۳)
- (۳)......ہرگز نہ کھانی چاہیے۔ بالخصوص ذبیحہ ان کا بالکل مردار ہے۔ اس سے پرہیز ضروری ہے۔
- (۴)......ایسا شخص سخت گناہگار ہے بلکہ اندیشہ کفر ہے توبہ کرنی چاہیے۔ ”صرح بہ فی کلمات الکفر من
جامع الفصولین و البحر.“
- (۵)......مسلمانوں کو قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق شرکت شادی وغمی وغیرہ کا ہرگز نہ رکھنا چاہیے۔ اگرچہ رشتہ داری و
قرابت بھی ہو۔ رشتہ اسلام کے قطع کرنے والے کے ساتھ رشتہ قرابت کوئی چیز نہیں۔
- (۶)......قادیانی مرد یا عورت کا کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مرتد ہیں اور مرتد کا نکاح کسی سے منعقد نہیں ہو
سکتا۔ ”قال فی الدر المختار ولا یصح ان ینکح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقاً.“
(امداد المفتین ج ۲ ص ۱۰۲۳ ص ۱۰۲۴)
قادیانی کے گھر مسلمان کے لیے فاتحہ خوانی کا شرعی حکم
سوال...... عرض ہے کہ ایک قادیانی آدمی کی مسلمان بہن فوت ہو گئی۔ ہمارے محلہ کے امام صاحب اور کئی لوگوں نے ان کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی۔ آیا قادیانی کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے جانا درست ہے۔ لوگ امام صاحب کو اس وجہ سے کافر کہہ رہے ہیں۔ شرعی مسئلہ واضح فرمائیں۔ محمد ذیشان ملتان
جواب...... محترم ذیشان صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! قادیانی کی بہن مسلمان تھی اس کے لیے فاتحہ خوانی بالکل صحیح ہے البتہ اس مرزائی کے گھر نہ جانا چاہیے تھا کیونکہ مرزائی سے سلام، کلام، کھانا پینا، میل ملاپ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ پس مسلمان مرحومہ کی فاتحہ خوانی کسی مسلمان عزیز کے گھر بھی ہو سکتی تھی۔ نیز کسی کے گھر جانا ممکن نہ تھا تو اپنی جگہ یا اپنے گھر بیٹھ کر دعائے مغفرت کی جا سکتی تھی۔ مرزائی سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنا ضروری ہے۔ بہرحال امام مسجد اور جن دوسرے مسلمانوں نے
مرحومہ کی فاتحہ خوانی بھی جائز ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اس امام کو معاذ اللہ کافر کہنا یا اس قسم کی گفتگو کرنا بیہودہ وحرام ہے۔ مسلمان عام طور پر اور علمائے کرام خاص طور پر ایسے مواقع پر سخت احتیاط کریں کہ کسی قسم کا شک وشبہ پیدا نہ ہو اور لوگ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ واللہ اعلم ورسولہ۔ عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج ۱ ص ۳۵۳)
قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ حرام ہے
سوال ...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں! قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور ارتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے چونکہ قادیانی مرتد کافر اور دائرہ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں۔ تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دکانوں سے خرید وفروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ ورسم رکھنا از روئے اسلام جائز ہے؟
جواب ...... صورت مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ تجارت کرنا خرید وفروخت کرنا ناجائز وحرام ہے، کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی، غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اختلاط، ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا یہ سب کچھ حرام بلکہ دینی حمیت کے خلاف ہے۔ فقط واللہ اعلم
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۲۹)
قادیانیوں سے لین دین کرنے کا حکم
سوال ...... مسلمانوں کے لیے قادیانیوں کے ساتھ لین دین یعنی تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ...... اگر چہ غیر مسلموں سے دنیاوی معاملات کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے بسا اوقات ان کے کفریہ عقائد مخفی رہ جاتے ہیں، اس لیے یہ مرتدین کے حکم میں ہو کر ان سے کسی قسم کی تجارت کرنا جائز نہیں۔
قال العلامۃ برہان الدین المرغینانی: ویزول ملک المرتد عن اموالہ بردته زوالا مراعی فان اسلم عادت الی حالھا.
(الہدایۃ ج ۲ ص ۵۶۶ کتاب السیر مطبع مجیدی کانپور، فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۳۳۔۳۳۴)
سوال ...... از بریلی محلہ گھیر جعفر خاں مسئولہ قدرت حسین صاحب ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب ...... قادیانی مرتد ہیں، ان کے ہاتھ نہ کچھ بیچا جائے نہ ان سے خریدا جائے، ان سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں۔ ایاکم و ایاھم ان سے دور بھاگو انھیں اپنے سے دور رکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۵۹۸)
قادیانی کی زمین اجارہ پر لینا
سوال....... ایک شخص تقریباً تیس سال سے قادیانی ہو گیا ہے اور شخص مذکور ضلع پشاور میں مالک زمین و بھٹہ جات ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان اس قادیانی کا زمین اجارہ پر لے یا نصف حصہ پر کاشت کرے تو بروئے شرع شریف وہ اجارہ گیرندہ یا کاشت کنندہ شخص پر کوئی گناہ تو نہ ہوگا؟ المستفتی نمبر ۷۷۰ حکیم عبدالرؤف پشاور۔ ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۵۴ھ ۱۹ فروری ۱۹۳۶ء
جواب....... قادیانی کی زمین اجارے پر یا تقسیم پیداوار پر لینے والا خارج از اسلام تو نہ ہوگا لیکن اگر قادیانی کی زمین نہ لے تو ایک مسلمان کے لیے یہ اچھا ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ج ۲ ص ۳۴۴)
مرزا کے نام کی مشابہت سے احتراز
سوال....... (الجمعیۃ مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۲۷ء) میں نے اپنے نومولود لڑکے کا نام غلام احمد رکھا ہے۔ چند بزرگ کہتے ہیں کہ یہ نام نہ رکھو کیونکہ غلام احمد قادیانیوں کے سردار کا نام تھا۔
جواب....... ایک نام کے ہزاروں آدمی ہوتے ہیں۔ بعض ان میں سے اچھے اور بعض برے ہوتے ہیں۔ یہ نام اس وجہ سے ناجائز نہیں ہو سکتا کہ قادیانی فرقہ کے پیشوا کا نام تھا۔ تاہم اگر آپ بجائے غلام احمد کے محمد احمد نام بدل کر رکھ دیں تو بہتر ہے۔ محمد کفایت اللہ غفرلہ
(کفایت المفتی ج ۵ ص ۲۵۸)
قادیانیوں کے مرتب کردہ قاعدہ یسرنا القرآن سے احتراز کیا جائے
سوال....... (الجمعیۃ مورخہ ۱۴ دسمبر ۱۹۲۵ء) ایک شخص پیرزادہ منظور محمد نام نے ایک طویل قاعدہ بچوں کی تعلیم کے لیے بنایا ہے جس کا نام قاعدہ یسرنا القرآن ہے۔ یہ شخص قادیانی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور صاحب وحی مانتا ہے۔ اس قاعدہ کو پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص قاعدہ لکھے اور قاعدہ کا نام یسرنا القرآن رکھ دے تو جائز ہے یا نہیں؟
جواب....... میں نے قاعدہ یسرنا القرآن اب تک نہیں دیکھا۔ اگر اس قاعدہ میں قادیانی مشن کی باتیں لکھی ہوں تو یقیناً اسے بچوں کو پڑھانا نہیں چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ابتدا ہی سے ان کے دل میں گمراہی کی طرف میلان ہو جائے۔ بہر صورت اس سے احتراز اولیٰ و انسب ہے کیونکہ بچوں کی تعلیم کے لیے دوسرے قاعدے بہت اچھے اچھے (مثلاً نورانی قاعدہ وغیرہ) موجود ہیں۔ قاعدہ کا نام یسرنا القرآن رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ محمد کفایت اللہ غفرلہ
(کفایت المفتی ج ۲ ص ۴۶)
قاعدہ یسرنا القرآن کے اثرات
سوال....... قاعدہ یسرنا القرآن جو قادیانیوں کا بنایا ہوا ہے جس میں کوئی عقیدہ قادیانی کی بات نہیں کہ جس سے فساد عقیدہ اور فساد عمل شرعی ہوتا ہو بلکہ اس کی ترکیب و ترتیب اور ہدایات بابت طریقہ تعلیم ایسی ہے جس کے باعث بچہ بسہولت پانچ چھ ماہ میں بلکہ اس سے کم مدت میں ناظرہ ختم کر لیتا ہے۔ چنانچہ راقم کا خود تجربہ ہے کہ
بہت سے بچوں کو تین تین چار چار ماہ میں ختم کرایا ہوں۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس قاعدہ کا پڑھنا جائز ہے، اور کیا کفار کی بنائی ہوئی چیز کو اس کے کمال اور کسی خوبی اور عمدگی کی وجہ سے عمدہ اور اچھا کہنا جائز ہے یا نہیں۔ مثلاً یوں کہنا کہ متھرا کا پیڑا اور بھگوان پور کا پیڑا بہت اچھا ہے اس لیے کہ اچھا مشہور ہے تو اچھا کہنا کیسا ہے کیونکہ اس کے بنانے والے کافر ہیں، یا یوں کہنا کہ امریکن مشین یا جرمنی کوئی چیز اچھی ہے تو اس کو اچھا کہنا کیسا ہے؟
الجواب....... حامداً و مصلیاً: امریکن مشین اور قاعدہ یسرنا القرآن میں بہت فرق ہے۔ اول خالص دنیاوی چیز ہے۔ اور ثانی تعلیم قرآن اور دینیات کی ابتداء و اجراء ہے۔ اوّل کی تعریف سے کفار کے دین کی تعریف نہیں ہوتی ہے اور ثانی کی تعریف سے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جن لوگوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اتنا بہترین انتظام کیا ہے جس سے بچہ بہت جلد ناظرہ رواں اور حفظ پڑھنے پر قادر ہو جاتا ہے اور اس کا وقت ضائع ہونے سے محفوظ رہتا ہے وقت جیسی قیمتی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کو ضائع ہونے سے بچانا لوگ خوب جانتے ہیں۔ لامحالہ دینی اصول و فروع میں بھی یہ لوگ ماہر ہوں گے اور ان کا طریقہ تعلیم بہت اچھا ہے لہٰذا ان کو اپنے مدارس میں ملازم رکھنا چاہیے یا ان کے مدارس میں اپنے بچوں کو داخل کرنا چاہیے۔ علیٰ ہٰذا القیاس بچہ جو کہ عقائد قادیانی سے بالکل بے خبر ہے جب وہ ان کا بنایا ہوا قاعدہ پڑھے گا پھر آئندہ وہ دوسرے قواعد یا کتب میں وہ سہولت نہ پائے گا اور بعد میں معلوم کرے گا کہ وہ پہلا قاعدہ قادیانی کا تصنیف کردہ ہے تو لامحالہ اس کی طبیعت میں قادیانی کی نہ صرف تعریف بلکہ قدر پیدا ہوگی اور یہ خواہش کرے گا کہ میں ان کی دوسری تصانیف بھی پڑھوں، وہ بھی اسی طرح سہل اور دل نشین طریق پر ہوں گی اور ان کی کتابیں پڑھنے سے جو نتیجہ ہوگا وہ ظاہر ہے۔ پھر اگر خراب نتیجے سے والدین منع بھی کریں اور قادیانی کی برائی بھی سمجھائیں تب بھی بچہ کہے گا کہ یہ کسی عداوت نفسانی کی وجہ سے منع کر رہے ہیں ورنہ واقعتاً اگر قادیانی خراب ہوتا تو اس کا بنایا ہوا قاعدہ کیوں پڑھاتے؟ اور جب اس قاعدہ سے اس قدر نفع ہوا جس کا میں تجربہ کر چکا ہوں اور اس کی تعریف اپنے ابتدائی استاذ صاحب قاری خدا بخش سے سن چکا ہوں تو لامحالہ دوسری کتابیں بھی ایسی ہی ہوں گی۔ تلبیس کی بناء پر روحانی اور معنوی غیر محسوس طریقہ پر جو اثر پڑتا ہے وہ غلط ہے۔ اس لیے اہل تقویٰ کفار کی دوکانوں سے اشیاء خریدنے سے احتراز کرتے ہیں اور اہل اسلام کی دوکانوں سے خریدتے ہیں۔
پھر جب آپ اس قاعدہ یسرنا القرآن کو رواج دے کر سب جگہ شائع کر دیں گے تو اس سے قادیانیت کی بہت بڑی تبلیغ ہوگی اس لیے کہ یہ قاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ کوئی دوسرا اس کو نہیں چھپوا سکتا اور لامحالہ قادیانیوں سے خریدنا ہوگا اور وہ روپیہ مبلغین کو دیا جائے گا کہ اہل اسلام کی تردید کر کے قادیانی مذہب کو پھیلایا جائے۔ اور مسلمانوں سے مجمع عام میں مناظرہ کیا جائے اور اہل اسلام کے خلاف کتابیں چھپوا کر شائع کی جائیں نیز بغدادی قاعدہ اور نورانی قاعدہ جن کو مخلص دینداروں نے تصنیف کیا ہے وہ بیکار اور موقوف ہو جائیں گے۔ آج آپ کو یہ قاعدہ پسند آیا اس کے نتائج یہ ہیں۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللہ عنہ۔ معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
(فتاویٰ محمودیہ ج ۸ ص ۴۰۳ تا ۴۰۶)
قادیانی قاعدہ کے پڑھانے کا حکم
سوال....... از باسنی ناگور مارواڑ مرسلہ محمد غیاث الدین کمہاروی ۳ صفر ۴۵ھ ۔ قادیانی ضلع گرداسپور پنجاب سے جو
قاعدہ یسرنا القرآن چھپ کر شائع ہوا ہے بچوں کو پڑھانا کیسا ہے؟ الجواب ...... مذہب قادیانی رکھنے والے یقیناً اجماعاً بلاشک وشبہ کفار مرتدین ہیں۔ ایسے لوگوں کی کتابیں بچوں کو پڑھانا ناجائز ہے اگرچہ ان کتابوں میں ان کی گمراہی کی باتیں نہ ہوں مگر مصنف کی عزت دل میں پیدا ہوگی اور ان کی باتیں قبول کرنے کا مادہ پیدا ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کو کہتے ہیں، یہ شخص کھلا ہوا کافر و مرتد تھا۔ اس نے وحی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیاء کرام علیہم السلام خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ حضرت مریم کی شان رفیع وجلیل میں طرح طرح کی گستاخیاں، بیہودہ کلمات استعمال کیے، اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے ضروریات دین سے انکار کیا ہے، نیز انبیاء کرام کی تکذیب وتوہین کی اور قرآن عظیم کا بھی انکار کیا ہے۔
اس کے مختصر عقائد و اباطیل یہ ہیں
(ازالہ اوہام ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۴۸۶) میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔
خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔ اسی (کتاب کے ص ۲۸۸ خزائن ج ۳ ص ۴۷۰) میں ہے۔
’’حضرت رسول خدا ﷺ کے الہام و وحی غلط نکلی تھیں۔‘‘ ملخصاً اسی کے (ص ۲۶، ۲۸ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵، ۱۱۶) میں لکھتا ہے۔
’’قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبان کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔‘‘
- (۴).......حضور اقدس ﷺ کی شان اقدس میں جو آیتیں تھیں۔ مرزا قادیانی نے انھیں اپنے اوپر چسپاں کر لیا۔
چنانچہ مرزا لکھتا ہے۔
’’وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔‘‘ تجھ کو (غلام احمد کو) تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا۔ (حقیقۃ الوحی ص ۸۲ خزائن ج ۲۲ ص ۸۵) اور آیت کریمہ ’’ومبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد‘‘ سے اس نے اپنی ذات مراد لی۔
(ازالہ اوہام ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳)
- (۵).......(اربعین نمبر ۲ ص ۱۳ خزائن ج ۱۷ ص ۳۶۰) پر لکھا ’’کامل مہدی نہ موسیٰ تھا نہ عیسیٰ‘‘ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت
کا انکار کرتے ہوئے، (اعجاز احمدی کے ص ۱۳ خزائن ج ۹ ص ۱۲۰) پر لکھا ’’یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور ان کی پیشین گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔ اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔‘‘ اسی (کتاب کے صفحہ ۱۴ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۱) پر حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے لکھا ہے ’’عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں۔‘‘
اس طرح کے توہین آمیز کلمات اور انکار ضروریات دین سے مرزا قادیانی کی کتابیں بھری ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کا اعلان کر کے حضور ﷺ کے بعد نیا نبی پیدا ہونے کو واقع تسلیم کر لیا۔ اس کے متبعین اسے علی الاعلان نبی مانتے اور اس کی نبوت کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین (قادیانی کہلانے والے) ضروریات دین کا انکار کرنے، انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کرنے، اور قرآن کریم کا انکار کرنے کی وجہ سے یقیناً اجماعاً بلاشک وشبہ کافر و مرتد ہیں۔ ایسے کہ مَنْ شَکَّ فِیْ کُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ فَقَدْ کَفَرَ جو
ان کی کفریات پر مطلع ہو کر ان کے کافر و مرتد ہونے اور عذاب دیے جانے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، ایسے عقیدہ والوں کی کتابیں بچوں کو پڑھانا ان کے عقیدہ و عمل کے فساد کا باعث ہے۔ معروف محدث امام ابن سیرین علیہ الرحمہ کے پاس دو بد مذہب نے آ کر عرض کی کہ۔ ہم آپ سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتے ہیں آپ نے منع فرمایا۔ انھوں نے کہا تو پھر آپ ہی کوئی حدیث ہمیں پڑھ کر سنائیے۔ فرمایا یہ بھی نہیں۔ یا تو تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ یا میں چلا جاؤں گا۔ وہ دونوں نکل گئے، لوگوں نے امام موصوف سے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا۔ اِنِّیْ خَشِيْتُ اَنْ يَّقْرَاَ عَلَىَّ اٰيَةً فَيُحَرِّفَا بِهَا فَيَقِرَّ ذَالِكَ فِىْ قَلْبِىْ۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں آیت پڑھ کر اس کے معنی میں کچھ تحریف کر دیں اور میرے دل میں وہ بات گھر کر جائے۔ جب ایک امام وقت اور محدث عصر کا یہ حال تو ہمہ شما کا کیا ٹھکانا، وہ بھی بچوں کا۔ لہٰذا مذہب قادیانی رکھنے والوں کی کتابوں کا بچوں کو پڑھانا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم آل مصطفیٰ مصباحی۔
(فتاویٰ امجدیہ ج ۴ ص ۱۰۹ تا ۱۱۱)
قادیانی کو کسی اسلامی جلسہ یا ادارہ میں شریک کار بنانا !
سوال ....... قادیانیوں، مرزائیوں احمدی ہو یا محمودی، میل جول رکھنا ان کے ساتھ کھانا، پینا، اٹھنا، بیٹھنا، شادی بیاہ کرنا، ان سے مسلمانوں کو اپنی مساجد اور قبرستانوں کے لیے چندہ لینا یا ان کو اشاعت اسلام کی غرض سے چندہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
- (۲)....... وقتی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی انجمنوں مجلسوں وغیرہ کا قادیانیوں کو ممبر عام اس سے کہ
وہ خصوصی ہوں یا عمومی بنا کر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
- (۳)....... کچھ لکھے پڑھے کہتے ہیں کہ قادیانی یہاں صرف نام ہی تو ہیں۔ اگر ان کو شامل کر لیا جائے تو کیا حرج
ہے؟ مسلمانوں کی شان نہیں کہ وہ اس قلیل مقدار سے خوف زدہ ہو کر اس اشتراکِ عمل سے باز رہیں۔ یہ ایک مولوی صاحب کا مقولہ ہے۔ لہٰذا ہم کو بتایا جائے کہ یہ مولوی صاحب ٹھیک فرماتے ہیں یا نہیں؟
جواب ....... مرزا غلام احمد قادیانی باتفاق امت کافر ہیں۔ ان کے وجوہ کفر اور عقائد کفریہ کو علماء نے مستقل رسالوں میں جمع کر دیا ہے۔ ضرورت ہو تو رسائل ذیل میں دیکھ لیا جائے۔ ”اشد العذاب“ مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب ”القول الصحیح“...... ”فتاویٰ تکفیر قادیان“ اور جب کہ یہ لوگ کافر و مرتد ٹھہرے تو ان کو اسلامی اداروں کا رکن بنایا جائے گا تو گویا خود علماء اسلام ان کو ایک عزت دینے کے عہدہ پر جگہ دے رہے ہیں۔ اس سے عوام پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو مثل علمائے اسلام کے مقتداء سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے فتوے ماننے لگتے ہیں۔ جو سراسر ضلالت و گمراہی ہے اور جس قدر مصالح ان لوگوں کی شرکت میں پیش نظر ہیں اس سے بہت زیادہ نقصانات شدیدہ کا خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے۔ اس لیے ہرگز ان لوگوں کو اسلامی مجالس میں شریک نہ کرنا چاہیے ہمارے اکابر و اساتذہ نے بہت غور و فکر اور تجارب کے بعد ہی رائے قائم کی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم! (امداد المفتین ج ۲ ص ۱۰۲۲)
مسلمانوں اور مرزائیوں کی متحدہ جماعت کو ووٹ دینے کی شرعی حیثیت
سوال ....... ایک مسلم پارٹی کا قادیانیوں سے انتخابی اتحاد ہوا ہے، ایسی متحدہ جماعت کو ووٹ دینا مسلمانوں کے لیے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب ....... قادیانی چونکہ مرتد اور خارج من الاسلام ہیں، ان سے اتحاد کرنے سے اگرچہ کسی وقتی مصلحت کی
بناء پر کچھ معمولی فائدے حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے ارتداد اور کفر کی وجہ سے ان کے جو مذموم مقاصد ہیں اتحاد کی صورت میں وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اس لیے قادیانیوں سے اتحاد کرنے میں فائدہ کم اور نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ یہودیوں سے اتحاد کیا تھا لیکن اس سے کوئی اسلامی شعائر متاثر نہیں ہوا تھا۔ تاہم صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسلمان کسی نیک مقصد کی تکمیل کے لیے قادیانیوں سے اتحاد کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بنیادی طور پر کفار اور مشرکین سے اتحاد کرنا ممنوع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُہ
(سورۃ آل عمران آیت نمبر ۲۸)
لیکن جہاں کہیں مسلمانوں کو کفار اور مشرکین سے دینی اور دنیوی فائدہ ہو تو ایسی صورت میں ان سے اتحاد کرنا مرخص ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں آنے کے بعد یہودیوں کے دو مشہور قبائل بنو نضیر اور بنو قریظہ سے اتحاد کیا تھا، اور صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کے اتحاد اور معاہدہ کی ایک کڑی تھی۔ اسی طرح آج بھی حالات کو دیکھا جائے گا کہ اگر مسلمانوں اور اسلام کو کفار کے ساتھ اتحاد کرنے میں کوئی معقول فائدہ ہو تو ان سے اتحاد کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
لما قال الامام شمس الدين السرخسى: ولان رسول الله ﷺ صالح اهل مكة عام الحديبية على ان وضع الحرب بينه و بينهم عشر سنين فكان ذلك نظراً للمسلمين لمواطنة كانت بين اهل مكة واهل خيبر وهى معروفة ولان الامام نصب ناظراً ومن النظر حفظ قوة المسلمين اولاً فربما ذلك فى الموادعة اذا كانت للمشركين شوكة.
(المبسوط للسرخسى ج ۱۰ ص ۸۶ کتاب السير)
وقال الامام ابوبكر جصاص فى تفسير هذه الآية: "وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا" قال ابوبكر قد كان النبى ﷺ عاهد حين قدم المدينة اصنافاً مِّنَ المشركين منهم النضير و بنو قينقاع و قريظة وعاهد قبائل من المشركين.
(احکام القرآن ج ۳ ص ۸۶ سورۃ الانفال)
(فتاویٰ حقانیہ ج ۲ ص ۳۰۸ تا ۳۱۰)
قادیانی کسی اسلامی انجمن کے ممبر نہیں بن سکتے
سوال....... (۱)....... کسی اسلامی انجمن میں قادیانیوں کو ممبر بنانا شرعاً کیا حکم ہے۔ (۲)....... اگر کثرتِ رائے اور متفقہ رائے سے یہ تجویز منظور ہو جائے کہ قادیانیوں کو بھی ممبر بنایا جائے پھر اس انجمن میں شریک ہونا یا اس کی امداد کرنا کیسا ہے۔ المستفتی نمبر ۱۴۴۲ احمد صدیق (کراچی) ۱۳ رمضان ۱۳۵۶ھ مطابق ۱۸ نومبر ۱۹۳۷ء۔
جواب....... (۱)....... قادیانیوں کو کسی انجمن میں ممبر نہ بنایا جائے۔ (۲)....... ہرگز نہیں۔ بلکہ اس انجمن سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی
(کفایت المفتی ص ۳۱۹)
قادیانی نواز وکلاء کا حشر
سوال...... کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان دین متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمہ طیبہ کے بیج بنوائے، پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دکانوں پر لگا
کر کلمہ طیبہ کی توہین کی اس حرکت پر وہاں کے علماء کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کر دیا اور فاضل جج نے ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ان وکلاء صاحبان میں ایک سید ہے۔ برائے کرم قرآن اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمائیں کہ شریعت محمدی ﷺ کی رو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟
جواب ...... قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ کا کیمپ ہوگا اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء جنھوں نے دین محمدی ﷺ کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے۔ قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے۔ لیکن شعائر اسلامی کے مسئلہ پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت ﷺ کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ کا دین ہے اور دوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دین محمدی ﷺ کے مقابلہ میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے وہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل نہیں ہوگا خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر، یا حاکم وقت۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۱ ۔ ۲۳۲)
قادیانی جماعت کو چندہ دینا
سوال ...... کسی فنڈ میں سے کچھ رقم تبلیغ اسلام کے لیے مندرجہ ذیل انجمن کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر دیا جائے تو جائز ہے یا ناجائز جبکہ ان کے عقائد یہ ہیں۔ فریق اوّل۔ مولوی محمد علی کی پارٹی جو لاہور میں ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ کے نام سے موسوم ہے اور برلن ایشیا و افریقہ میں اس مشن کے ذریعہ تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔ فریق ثانی۔ خواجہ کمال الدین کی پارٹی جو لندن میں دوکنگ مشن کی بنیاد قائم کر کے لندن اور اس کے قرب و جوار میں اشاعت اسلام کا کام انجام دے رہی ہے۔ ہر دو فریق مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد ہیں۔ فریق اوّل مرزا غلام احمد قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں، نبی نہیں مانتے اور ان کا اعتقاد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مجدد آئیں گے نبی نہیں آئیں گے۔ حدیثوں میں جو نزول مسیح کا ذکر ہے اسے وہ درست مانتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن کریم حضرت مسیح کی وفات کا ذکر صاف الفاظ میں فرماتا ہے اس لیے وہ اس سے مراد ایک مجدد کا مثیل مسیح ہو کر ظاہر ہونا لیتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد اور نزول مسیح کی پیشین گوئی کا مصداق مانتے ہیں اور یہ اشعار حسب ذیل مرزا غلام احمد قادیانی کی شان میں فرماتے ہیں۔ آں مسیحا کہ بر افلاک مقامش گویند۔ لطف کر دی کہ ازیں خاک نمایاں کر دی۔ فریق ثانی قریب قریب یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ خود کو پکا سنی حنفی المذہب کہتے ہیں۔ صحیح صورتوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو کیا ان ہر دو فریقین میں سے کوئی اسلام کی تبلیغ کا کام صحیح معنوں و صورتوں میں انجام دے رہا ہے۔ کیا ان ہر دو فریقین میں سے کسی بھی ایک فریق کو تبلیغ کے لیے کچھ رقوم اس فنڈ میں سے دی جائے تو کیا مسلمانان عالم و علمائے اسلام کے نزدیک مذہبی نقطہ نظر سے خلاف سمجھا جائے گا۔ المستفتی نمبر ۱۱۳۵ متولیان اوقاف حاجی اسماعیل حاجی یوسف احمد آبادی۔ میمن ایجوکیشنل ٹرسٹ فنڈ بمبئی ۲۸ جمادی الاوّل ۱۳۵۵ھ مطابق ۱۷ اگست ۱۹۳۶ء
جواب...... یہ دونوں جماعتیں احمدی قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک ایسے شخص سے مسلمانوں کو روشناس کراتی اور اس کے حلقہ ارادت میں داخل کرتی ہیں جس نے جمہور اسلام کے علم وتحقیق کے بموجب نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور اس کے مرکزی مقام میں اس کے جانشین اور خلفا اس کو نبی اور رسول ہی مانتے ہیں اور منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا اپنا لٹریچر دعوائے نبوت میں اتنا صاف اور واضح اور روشن ہے کہ محمد علی پارٹی یا خواجہ کمال الدین پارٹی کی تاویلات تحریف سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں اور یہ دونوں پارٹیاں ممالک یورپ میں احمدی تبلیغ کرتی ہیں۔ اسلامی تبلیغ کا محض نام مسلمانوں سے چندہ لینے کے لیے ہے۔ ورنہ ان کا ذاتی نصب العین قادیانی مشن کی تبلیغ ہے۔ پس مسلمانوں کو ہرگز جائز نہیں کہ وہ کسی قومی تعلیمی فنڈ سے بلکہ اپنی جیب خاص سے بھی ان کو چندہ دیں۔ ایسا کرنے میں وہ قادیانی نبوت کاذب کی اعانت وامداد کے گنہگار اور مؤاخذہ دار ہوں گے۔ محمد کفایت اللہ۔ کان اللہ لہ۔ دہلی۔
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۷۔ ۳۱۸)
مختلف مذاہب کے لوگوں کا اکٹھے کھانا کھانا
سوال...... اگر سو آدمی اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور برتن سٹیل کے ہیں یا چینی کے اور ان کو صرف گرم پانی سے دھویا جاتا ہے۔ سو آدمیوں میں عیسائی، ہندو، سکھ، مرزائی ہیں۔ برتن ایک دوسرے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر عیسائی، سکھ، ہندو، مرزائی کا برتن کسی مسلم کے پاس آجائے تو کیا جائز ہے؟ اگر نہیں تو مسلح افواج میں ایسا ہوتا ہے۔ حکومت اس سے پرہیز کرتی ہے تو فوج میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے یا فوجیوں کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی بات بیٹھ سکتی ہے۔
جواب...... غیر مسلم کے ہاتھ پاک ہوں تو اس کے ساتھ کھانا بھی جائز ہے اور اس کے استعمال شدہ برتنوں کو دھو کر استعمال کرنے میں بھی مضائقہ نہیں۔ ہمارا دین اس معاملہ میں تنگی نہیں کرتا۔ البتہ غیر مسلموں کے ساتھ زیادہ دوستی کرنے اور ان کی عادات واطوار اپنانے سے منع کرتا ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۶۹)
مرزائیوں سے خلط ملط ناجائز ہے
سوال...... (اخبار الجمعیۃ مورخہ ۱۸ جون ۱۹۲۷ء) قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب...... کھانا پینا تو جبکہ کوئی ناجائز اشیا اور ناجائز طریقے سے نہ ہو غیر مسلم کے ساتھ بھی جائز ہے۔ ہاں خلا ملا رکھنا اور ایسی معاشرت جس سے عقائد و اعمالِ مذہبیہ پر اثر پڑے ناجائز ہے۔ جمہور علمائے ہندوستان کے فتویٰ کے بموجب قادیانی کافر ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا اگر احیاناً اتفاقاً ہو تو مضائقہ نہیں۔ لیکن ان کے ساتھ خلا ملا اور اسلامی تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔ محمد کفایت اللہ غفرلہ۔
(کفایت المفتی ج ۹ ص ۹۶)
مرزائی کے گھر افطاری کرنا
سوال...... ایک مرزائی رمضان المبارک میں افطاری کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کے ہاں اس کے گھر جا کر روزہ افطار کرنا جائز ہے؟ جن لوگوں نے روزہ افطار کیا کیا اُن کا روزہ ہو گیا یا وہ دوبارہ روزہ رکھیں جبکہ روزہ کھولنے والے لوگ مرزا قادیانی اور مرزائیت سے پوری طرح واقف بھی ہوں۔
(ڈاکٹر حفیظ اللہ، وسانوالہ ۲۰/۳/۱۹۹۴)
جواب...... یہ ان لوگوں کی خطا ہے وہ اس سے توبہ کریں اور آئندہ کے لیے ایسا نہ کریں پھر وہ غور کریں اگر
کوئی نصرانی عیسائی انھیں اپنے گھر بلا کر روزہ افطار کروائے تو وہ ایسا کرنے کو تیار ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ) الآیۃ (آج حلال ہوئیں تم کو سب پاک چیزیں اور اہلِ کتاب کا کھانا تم کو حلال ہے) اور مرزائی عیسائیوں سے بھی بدتر ہیں۔ ۱۴۳۴/۱۰/۱۱ھ
(احکام و مسائل ص ۴۵۵)
قادیانی کی دعوت کھانا
سوال....... کیا فرماتے ہیں علماء کرام اگر کوئی مرزائی مسلمانوں کو کھانے کی دعوت دے تو ان کے گھر کھانا جائز ہے یا نہ؟ اگر کوئی دعوت کھائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے۔ فضل الرحمٰن محلہ.....
جواب....... مرزائی کی دعوت کھانا عوام المسلمین کے لیے جائز نہیں۔ اس طرح دھوکہ دیتے ہیں۔ مفتی محمد عبداللہ ۵ شوال ۱۳۹۴ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج ۱ ص ۲۰۰)
قادیانیوں کی دعوت کھانا جائز نہیں
سوال....... قادیانیوں کی دعوت کھا لینے سے نکاح ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ نیز ایسے انسان کے لیے حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہو سکتی ہے یا نہیں؟
جواب....... اگر کوئی قادیانی کو کافر سمجھ کر اس کی دعوت کھاتا ہے تو گناہ بھی ہے اور بے غیرتی بھی، مگر کفر نہیں، جو شخص حضور ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھے اس کو سوچنا چاہیے کہ حضور ﷺ کو کیا منہ دکھائے گا۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۱)
دانستہ قادیانی کے گھر کھانا کھانے والے کا حکم
مسئلہ ۲۴۲....... ۱ جمادی الاخریٰ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درمیان اس مسئلہ کے زید خاندان قادریہ و چشتیہ میں خلیفہ ہے اور مولود خواں بھی ہے اور علمِ فارسی میں دخل رکھتا ہے، علاوہ ازیں کلام نعتیہ میں اس کی تصنیفات بھی موجود ہیں اور حاجی بھی ہے، اور یہ زید کو علم تھا کہ بکر قادیانی ہے دانستہ اس کے مکان پر واسطے کھانا کھانے گیا لہٰذا اس کی نسبت از روئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ اور زید سے محفل مولود شریف پڑھوانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب....... زید گنہگار ہوا، اس نے حکم شریعت کے خلاف کیا، اس سے علانیہ توبہ لی جائے، اگر نہ مانے تو اس سے محفل شریف نہ پڑھوائی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین. (الانعام آیۃ ۶۸) واللہ تعالیٰ اعلم.
(فتاویٰ رضویہ ج ۲۱ ص ۶۴۸)
قادیانی کی دعوت اور اسلامی غیرت
سوال....... ایک ادارہ جس میں تقریباً ۲۵ افراد ملازم ہیں اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اظہار بھی کیا ہوا ہے اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام اسٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور اسٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں۔ جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد،
دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دعوت قبول کرنا درست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کر دیں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے تا کہ آئندہ کے لیے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہو سکے۔
جواب...... مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں ۔“ جو شخص آپ کو کتا ، خنزیر، حرامزادہ اور کافر یہودی کہتا ہو اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۳۰۔۲۳۱)
قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا خطرناک ہے
سوال...... یہاں قادیانی لوگ ہیں۔ مگر بڑے بے شرم ہیں۔ ان کو کتنا جواب دیں مگر وہ لوگ نہیں مانتے اور ان کے ہاں جو شخص کھانا کھا آیا اس کے لیے کیا سزا ہونی چاہیے؟ المستفتی نمبر ۸۰۶ منشی مقبول احمد (پھگوڑی) ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۵۴ھ مطابق ۱۲ مارچ ۱۹۳۶ء
جواب...... قادیانیوں کے یہاں جس شخص نے کھانا کھایا ہے اس سے توبہ کرالی جائے کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔
(کفایت المفتی ج ۱ ص ۳۱۶۔۳۱۷)
مرزائی کی دعوتِ طعام قبول کرنا
سوال...... ہمارے محلے میں چند مرزائی رہتے ہیں، وہ کبھی کبھی کسی خوشی کے موقعہ پر دعوت کرتے ہیں اور اس میں ہم مسلمانوں کو بھی بلاتے ہیں، کیا مرزائیوں کی دعوت کو قبول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب...... مرزائی مرتد ہو کر واجب القتل ہیں، اس لیے مرتد سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا یا اس کے ہاں دعوت کھانا جائز نہیں۔
لما قال شیخ الاسلام حافظ الدین النسفی: یعرض الاسلام علی المرتد و تکشف شبهته و یحبس ثلاثة ایام فان اسلم والا قتل.
(کنز الدقائق علی ہامش البحر الرائق ج ۵ ص ۱۲۵ باب احکام المرتدین) (فتاویٰ حقانیہ ج ۵ ص ۳۴۷)
کسی کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد معلوم ہو کہ وہ قادیانی تھا تو کیا کیا جائے
سوال...... کسی فرد کے ساتھ کھانا کھا لینا بعد میں اس فرد کا یہ معلوم ہونا کہ وہ قادیانی تھا پھر کیا حکم ہے؟
جواب...... آئندہ اس سے تعلق نہ رکھا جائے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۱ ص ۲۱۳)
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے توبہ کے بعد الزام نہ دیا جائے
مسئلہ...... از شہر عقب کوتوالی مسئولہ ولایت حسین و عبدالرحمٰن ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ۔
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ میں ایمان سے کہتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوں، قادیانی پر لعنت کرتا ہوں، میں اہل سنت و جماعت ہوں اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ
کرنے کے الزام دے تو وہ مواخذہ دار ہو گا یا نہیں؟ یا اگر غیر اصیل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کا مواخذہ دار ہوں گا، قادیانی کو کافر جانتا ہوں۔ العبد ولایت حسین
گواہان ..... عبد الرحمٰن بقلم خود، مسیح اللہ بقلم خود، قادر حسین بقلم خود، امانت حسین بقلم خود، مولوی محمد رضا خاں بقلم خود، صادق حسین بقلم خود، محمد محسن بقلم خود، لیاقت حسین بقلم خود، فقیر محمد حشمت علی خاں رضوی، فقیر ایوب علی رضوی بقلم خود، قناعت علی قادری رضوی بقلم خود۔
الجواب ...... اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں۔ التائب من الذنب كمن لا ذنب له.
(ابن ماجہ ص ۳۲۳ باب ذکر التوبۃ کتاب الزہد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
”گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔“
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انھوں نے پہلے بھی ایک مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایک مجمع میں توبہ کی تھی۔ پھر ایک مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کی، توبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی الزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہو گا اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پر گناہ عظیم کا بار ہو گا مگر بلاوجہ توبہ کے بعد الزام رکھنا سخت جرم ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۳ ص ۳۸۳۔۳۸۴)
محمد علی لاہوری قادیانی کی تفسیر کا حکم
سوال ...... مولوی محمد علی ہندی نے جو انگریزی تفسیر لکھ کر شائع کی ہے اس پر اعتماد عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس تفسیر کا ترجمہ انگریزی سے ملاوی زبان میں حاجی عثمان جوکر وامینوٹو نے کیا ہے جس کی وجہ سے علماء جاوہ میں سخت نزاع پیدا ہو گیا ہے۔ اور اکثر علماء نے اس تفسیر پر مدلل اور معقول اعتراض کیے ہیں لیکن جاوی قرآن کے مترجم حاجی عثمان کہتے ہیں کہ مجھے اس تفسیر میں کوئی غلطی نہیں معلوم ہوتی پس آپ کا فرض ہے کہ اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرمائیں۔
جواب ...... یہ بات مشہور ہے کہ مولوی محمد علی جو اس تفسیر کے مصنف ہیں۔ قادیانی عقائد کے مبلغ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ تفسیر مذکور میں بعض آیات میں مضحکہ خیز معنوی تحریف کی گئی ہے۔ وہ آیات جن کا تعلق حضرت مسیح ؑ سے ہے یا وہ آیات جن کو زبردستی مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود پر چسپاں کیا گیا ہے ہمارے دعویٰ کا کھلا ہوا ثبوت ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر جامع ازہر کے شیوخ اور بیروت کے مفتی نے اس کے انگریزی ترجمہ کی مصر اور شام میں داخلہ کی ممانعت کر دی ہے تاکہ لوگ تحریف وتسویل سے گمراہ نہ ہوں اور ان کے سلفی عقائد پر زد نہ پڑے۔ قادیانی بیشک دائرہ اسلام سے خارج ہیں کیونکہ وہ مسیح دجال کے حق میں وحی اور رسالت کے مجوز ہیں۔ ان کو قرآن حکیم کی معنوی تحریف میں وہ ملکہ حاصل ہے جن کے مقابلہ میں باطنی عقائد کے پیرو اور فارس کے زندیق کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک سورۂ فاتحہ میں استمرار وحی الیٰ آخر الزمان منجملہ نکات و معارف قرآن سے ہے۔ قادیانی مدعی کے فاسد عقائد اور جاہلانہ غلط نویسی کی تردید ہم نے اس کی زندگی میں بھی کی ہے اور اس کی موت کے بعد ہم اس امر سے غافل نہیں ہیں اور انشاء اللہ ہم باطل کا مقابلہ حق وانصاف کے ساتھ تا مقدور کرتے رہیں گے۔
میری تحقیق میں اس ترجمہ پر ہرگز اعتبار نہ کرنا چاہیے اور نہ فہم کا کوئی خاکہ اور عمل وسعی کا کوئی نقشہ اس کج اور ناہموار سطح پر تیار ہو سکتا ہے رہا یہ امر کہ یہ تفسیر غیر اقوام میں اشاعت اسلام کے سلسلہ میں بہت مفید ہے سو
حقیقت میں یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کو مطالب قرآن پر عبور نہ ہو اور نہ وہ لغت عربی اور اسالیب قرآن پر کوئی ادنیٰ سی بھی واقفیت رکھتا ہو سلف کی تفسیر سے واقف انسان کبھی اس لغو گوئی کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔
(المنار، صفر، ۱۳۴۷ھ ص ۴۸ مطبوعہ مصر، احقر محمد عثمان فارقلیط دہلوی۔ دفتر جمعیۃ علماء ہند دہلی)
اہلحدیث ....... مرزا قادیانی ان کے نزدیک مسیح موعود اور مجدد تھے جو طریق ترجمہ یا تفسیر انھوں نے اختیار کیا ہے اس کے اتباع کا اسی روش پر چلنا لابد و ضروری ہے۔ (۷ ستمبر ۱۹۲۸ء) (فتاویٰ ثنائیہ ج ۲ ص ۸۴ - ۸۵)
قادیانی روزہ
سوال ...... اسلام میں روزے کی کیا حدود ہیں۔ اگر کوئی شخص دوپہر کو روزہ کھول لے اور کھانے کے بعد دوسرے روزے کی نیت کرے تو اس کے کتنے روزے شمار ہوں گے۔ ہمارے علاقے میں چھوٹے چھوٹے بچے اس طرح دن میں کئی روزے رکھتے ہیں۔ دعوت کے ذریعہ مطلع کریں کہ اس طرح کے روزے کن لوگوں کے نزدیک جائز ہیں؟ سائل: عبدالحمید فرسٹ ائیر اسلامیہ کالج چنیوٹ
جواب ...... روزے کی ابتداء پو پھٹنے سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا غروب آفتاب ہے۔ روزہ دار کے لیے پو پھٹنے سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک کھانا پینا قطعاً حرام ہے۔ آپ نے جس صورت کے متعلق سوال کیا ہے اس میں دو روزے تو درکنار ایک روزہ بھی شمار نہیں ہوگا۔ روزے کی حدود میں کھانا پینا روزے کا اتمام نہیں، روزے کا توڑنا ہے۔ یہ جواب شریعت اسلام کی روشنی میں ہے۔ ہاں مرزائی حضرات کی شریعت جدا ہے ان کے نزدیک ایک دن میں سات سات روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ۶ اپریل ۱۹۴۶ء کو قادیان میں ایک خطبہ میں کہا تھا:۔
میں نے جماعت کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ہر جمعرات کو سات نفلی روزے رکھے۔
(اخبار الفضل ربوہ ص ۳ کالم ۱ ۱۱ مارچ ۱۹۶۴ء)
کیا پُر لطف روزے ہیں، روزے کے روزے اور بچوں کا کھیل۔ شریعت ہو تو ایسی ہو۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(عبقات ص ۳۰۲)
غیر مسلموں کو زکوٰۃ دینا
سوال ...... کیا غیر مسلم (ہندو، سکھ، عیسائی، قادیانی، پارسی وغیرہ) کو زکوٰۃ دینا جائز ہے جبکہ سینکڑوں مستحقین مسلمان موجود ہوں۔
حکومت بینکوں میں جمع شدہ رقوم سے صرف مسلمانوں کے اکاؤنٹوں سے زکوٰۃ منہا کرتی ہے جبکہ اس زکوٰۃ میں سے کچھ حصہ کالجز کے طلبہ کو بطور اعانت دیا جاتا ہے ان طلبہ میں مسلمان طلبہ کے علاوہ قادیانی، ہندو بھی شامل ہوتے ہیں آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا زکوٰۃ کا یہ مصرف اسلام کے عین مطابق ہے یا اس میں اختلاف ہے۔
جواب ...... زکوٰۃ کا مصرف صرف مسلمان ہیں کسی غیر مسلم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اگر حکومت زکوٰۃ کی رقم غیر مسلموں کو دیتی ہے اور صحیح مصرف پر خرچ نہیں کرتی تو اہل زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج ۳ ص ۴۰۴)
باب چہارم ...... (قادیانیوں کا شرعی حکم)
کافر کو کافر کہنا حق ہے ۵۴ مرزائی کافر ہیں ۵۴ باتفاق علماء قادیانی کافر ہیں ۵۵ قادیانی اور اس کے پیروکار کافر ہیں ۵۵ قادیانیوں کا کفر قرآن وحدیث کی روشنی میں ۵۵ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر میں شبہ نہیں ہے ۵۶ مرزائیوں کا لاہوری فرقہ بھی کافر ہے ۵۷ قادیانی کافر ہیں روافض میں تفصیل ہے ۵۷ قادیانی اہل کتاب نہیں ہیں ۵۸ مذاہب ...... مرزائی، رافضی، چکڑالوی وغیرہ کافر ہیں یا نہیں؟ ۶۰ صحیح العقیدہ مسلمان کو بلا تحقیق قادیانی کہنا صحیح نہیں ہے ۶۱ اہل قبلہ کو کافر کہنے کا مطلب ۶۱ اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب ۶۲ دارالسلام میں غیر مسلمین کو تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں ۶۳ مدینہ منورہ کے علاوہ کسی دوسرے شہر کو (منورہ) کہنا؟ ۶۳ جھوٹے نبی کا انجام ۶۳ جھوٹے مدعی مسیحیت کا شرعی حکم ۶۴ حکم قائل بوفات مسیح علیہ السلام ۶۴
باب پنجم ...... (لاہوری مرزائیوں کے متعلق شرعی حکم)
مجدد کو ماننے والوں کا کیا حکم ہے ۶۵ چودھویں صدی کے مجدد حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تھے ۶۵ مرزا قادیانی کو مجدد اور فیض نبوت سے مستفیض سمجھنے والے بھی کافر ہیں ۶۵ وحی، کشف والہام کی تعریف مجدد اور مہدی کی علامات ۶۶ تجدید دین اور مرزا قادیانی؟ ۶۹ مرزا قادیانی مجدد نہیں، کافر و مرتد تھا ۷۳
باب ششم ...... (قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والوں کے بارے میں حکم)
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم ۷۴ مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا حکم ۷۴ مرزا قادیانی کو سچا ماننے والے کا حکم ۷۴
مرزائی کو کافر نہ سمجھنے والے کا حکم ۷۴ مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت و مہدویت سے واقف ہونے کے باوجود اس کو مسلمان کہنے والے کا حکم ۷۵ مرزا قادیانی کی تعریف کرنے والے کا حکم ۷۶ قادیانیوں سے نرمی کرنے والے کا حکم ۷۶ مسلمان کو مرزائی کہنے والے کا حکم ۷۶
باب ہفتم ........ (ظہور مہدی وفتنہ دجال)
حضرت مہدی کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ ۷۷ حضرت مہدی کا ظہور کب ہوگا اور وہ کتنے دن رہیں گے ۷۸ حضرت مہدی کا زمانہ ۷۸ حضرت مہدی کے ظہور کی کیا نشانیاں ہیں؟ ۸۹ مرزا قادیانی کے علاوہ پوری امت نے مہدی اور مسیح کو الگ قرار دیا ۸۰ فرقہ مہدویہ کے عقائد ۸۰ الامام المہدی..... سنی نظریہ ۸۰ کیا امام مہدی کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہوگا ۸۵ کیا حضرت مہدی و عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟ ۸۵ ظہور مہدی اور چودھویں صدی ۸۵ پہلی نماز کے علاوہ باقی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے ۸۶ مہدی اور مسیح علیہ السلام دو الگ شخصیتیں ۸۷ حضرت مہدی کے کارنامے ۸۷ بعد میں پیدا ہونے والوں کو پیشگی رضی اللہ عنہ کہنا ۸۷ حضرت مہدی کی پیدائش کی سند؟ ۸۸ نزول مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہی حضرت مہدی کے مشن کی تکمیل ۸۸ امام مہدی کے آنے کے منکر کا حکم ۸۸ امام مہدی کے بارے میں روایات کی تحقیق ۸۹ امام مہدی علیہ الرضوان ۸۹ علامات ظہور مہدی ۸۹ رفع عیسیٰ علیہ السلام وظہور مہدی علیہ الرضوان کے دلائل ۹۲ دجال کی آمد ۹۳ ایک قادیانی کے پرفریب سوالات کے جوابات ۹۴ ظہور مہدی کے بعد دجال کا خروج اور اس کے فتنہ و فساد کی تفصیل ۹۵
بسم الله الرحمن الرحيم
مفصل فہرست فتاویٰ ختم نبوت جلد اول
انتساب ۳
حرف چند ۴
کتاب العقائد..... باب اول! ۷
قادیانی اور کلمہ طیبہ ۷
کلمہ شہادت اور قادیانی ۷
مسلمان اور قادیانی کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق ۸
باب دوم..... (قادیانیوں کا انکار ختم نبوت) ۱۲
نبوت کے متعلق عقائد کی وضاحت ۱۲
معجزہ کی اصولی قسمیں ۱۳
معجزہ، کرامت اور سحر میں فرق ۱۳
خاتم النبیین کا صحیح مفہوم وہ ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۱۴
ختم نبوت یا اجرائے نبوت ۱۴
ختم نبوت کے وقت کے تعین کی تحقیق ۱۵
ختم نبوت ۱۶
تکمیل نبوت ۱۷
قرآن اور ختم نبوت ۱۷
خاتم النبیین ہونا کمالِ جامعیت کی دلیل ہے ۱۷
فتنۂ انکار ختم نبوت ۱۹
نبوت تشریعی و غیر تشریعی ۱۹
مرزا ظلی و بروزی نبی؟ ۱۹
مہاتما بدھ کے متعلق عقیدہ نبوت درست نہیں ہے ۲۱
منکرین ختم نبوت کو مسلمان سمجھنا کفر ہے ۲۲
باب سوم..... (قادیانی عقائد) ۲۳
قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ ہیں ۲۴
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ۲۵
قادیانی عقائد ۲۶
مرزا قادیانی کا معراج جسمانی کا انکار و اقرار ۲۷ قادیانی عقائد ۲۷ قادیانی کے جھوٹے خدا ۲۸ قادیانی اور اس کی کتابیں ۲۹ مرزا کا قول کہ اللہ نے مجھ سے ہمبستری کی اور مجھے حمل قرار پایا ۳۰ مرزا کا حیض اور بچہ ۳۱ اللہ تعالیٰ کا نطفہ ۳۱ اللہ تعالیٰ سے ہمبستری (نعوذ باللہ) ۳۱ استقرار حمل ۳۱ یہ دعویٰ کہ مجھ میں رسول اللہ کی روح حلول کر گئی ہے کفر ہے ۳۱ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دعویٰ کرنا ۳۱ مرزا قادیانی کا اپنی عمر کے بارہ میں جھوٹا الہام ۳۲ مرزا قادیانی کی عمر پر پہلا استدلال ۳۲ مرزا قادیانی کی عمر پر دوسرا استدلال ۳۳ مرزائیوں سے سوال ۳۵ قادیانی عقائد ۳۵ قادیانی شبہات! (مفتری علی اللہ کے خائب ہونے کا مفہوم) ۳۶ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے کفر کے اسباب ۳۷ چودھویں صدی ہجری کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں ۳۸ کیا چودھویں صدی آخری صدی ہے ۳۸ پندرھویں صدی اور قادیانی بدحواسیاں ۳۹ کیا آنحضرت ﷺ کی گہن پڑنے والی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی؟ ۳۹ مباہلہ اور خدائی فیصلہ ۴۰ قادیانی تحریک کی بنیاد ۴۱ مرزا قادیانی کی تردید عیسائیت کی غرض ۴۲ علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی ۴۳ معراج نبویؐ سیر روحانی تھا یا جسمانی؟ ۴۵ ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ کی روایات کا جواب ۴۶ معراج خواب یا حقیقی رؤیت ۴۸ خواب میں زیارت نبوی ﷺ اور مرزا قادیانی ۴۸
کیا پاکستانی آئین کے مطابق کسی کو مہدی مصلح یا مجدد ماننا کفر ہے؟ ۹۶
فرقہ ذکریان ۹۷
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت و نبوت جھوٹا ہے ۹۸
باب ہشتم...... (مسیح موعود کی پہچان) ۹۹
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روح اللہ ہونا ۱۰۲
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس طرح پہچانا جائے گا؟ ۱۰۳
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن کہاں ہوگا؟ ۱۰۳
حضرت مریم کے بارے میں عقیدہ ۱۰۴
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند شبہات کا ازالہ ۱۰۴
مسیح موعود سے عیسیٰ ابن مریم ہی مراد ہیں ۱۰۶
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثل آدم علیہ السلام ہونا ۱۰۶
حدیث لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین کی تحقیق ۱۰۷
تحقیق استدلال بر بطلان دعویٰ مرزا بآیت فلما جآءہم ! ۱۰۸
دفع ترددات بعض مائلین سوئے قادیانی ۱۰۹
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ احیاء موتی کا کیوں منکر تھا؟ ۱۱۰
مسیح موعود کا دعویٰ کرنے والے کا حکم ۱۱۱
ظہور امام مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فتویٰ ۱۱۲
کیا قتل تعزیر نبوت کے منافی ہے؟ ۱۱۵
عیسیٰ موعود کا دعویٰ کرنے والے کا حکم ۱۱۵
ایک قادیانی کے چند سوالات مع جوابات ۱۱۶
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے ۱۱۷
باب نہم...... (حیات عیسیٰ علیہ السلام)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول قرآن و حدیث کی روشنی میں ۱۲۰
حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات ۱۲۵
حیات عیسیٰ علیہ السلام ۱۲۸
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ۱۲۹
سیدنا مسیح علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش ۱۳۰
ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں ۱۳۰
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن کیا ہوگا؟ ۱۳۲
حیات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام ۱۳۳
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانوں پر زکوٰۃ و نماز کی ادائیگی؟ ۱۴۷ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ نص قرآنی سے ثابت ہے ۱۴۸ فرقہ مرزائیہ کے آٹھ اہم اشکالات کے جوابات ۱۴۸ اسی مضمون کا ایک اور خط اور اس کا جواب ۱۴۷ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ۱۴۹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کیسی ہے؟ ۱۵۰ رفع کے کیا معنی ہیں؟ ۱۵۱ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیق ۱۵۴ حیات عیسیٰ کے متعلق اشکال کا جواب ۱۵۵ لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین کی تحقیق ۱۵۵ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر شبہ کا جواب ۱۵۶ ایضاً السوال ۱۵۷ حیات عیسیٰ و ادریس علیہما السلام ۱۵۷
باب دہم ....... (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور قرآن ۱۵۹ رفع عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن سے ثبوت ۱۵۹ قادیانیوں سے سوال ۱۶۰ مفتی اعظم استاذ العلماء شیخ حسنین محمد مخلوف کا علمی و تحقیقی فتویٰ ۱۶۱ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع آسمانی اور کفریات مرزا غلام احمد قادیانی ۱۶۳ حیات و رفع الی السماء پر اشکال کا جواب ۱۶۳ رفع الی السماء کے وقت عمر عیسیٰ پر اشکال کا جواب ۱۶۴ رفع و نزول مسیح علیہ السلام ....... قادیانی نظریات ۱۶۵
باب یازدہم ..... (نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام)
نزول من السماء کا تعین ۱۶۹ احادیث طیبہ کی روشنی میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے حالات ۱۷۰ شبہات ۱۷۱ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ان کی پہچان کیونکر ہوگی؟ ۱۷۱ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس عمر میں نازل ہوں گے؟ ۱۷۲ قادیانی عقیدہ میں مسیح کی روحانیت کے متعدد نزول ۱۷۳ احادیث اور نزول مسیح علیہ السلام ۱۷۴
حکمت نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلحاظ ختم نبوت ۱۷۶ حکمت نزول مسیح علیہ السلام بلحاظ فتن عالمی و اصلاح عمومی ۱۷۶ نزول مسیح علیہ السلام قرآن وسنت کی روشنی میں ۱۷۷ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع امت ۱۷۷ قرآن اور حیات مسیح علیہ السلام ۱۷۸ لفظ توفی کی تفسیر ۱۷۸ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لفظ توفی کے استعمال کی حکمت ۱۷۸ یہودی محاصرہ کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پریشانی کی وجوہات ۱۷۹ آیت کے چند امور ۱۸۰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی علامت ہونے کی وجہ ۱۸۲ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت تواتر سے ۱۸۳ نزول روحانی کی نہیں، جسمانی کی ضرورت ہے ۱۸۳ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن وحدیث کی وضاحت ۱۸۴ کیا یہ عقیدہ یہود یا شیعہ سے نقل ہو کر ہمارے ہاں آ گیا ہے؟ ۱۸۵ خروج دجال ونزول عیسیٰ علیہ السلام ۱۸۸
باب دوازدهم...... (بعد نزول عیسیٰ ؑ کی حیثیت نبی کی یا امتی کی)
عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت امتی کے؟ ۱۹۳ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی ہوں گے یا امتی ۱۹۳ بعد نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی حیثیت ۱۹۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وقت نزول نبی ہوں گے یا امتی؟ ۱۹۵ رفع ونزول مسیح علیہ السلام ختم نبوت کے منافی؟ ۱۹۶ نزول مسیح ختم نبوت کے منافی نہیں ۱۹۷ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں ۱۹۷ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بعد از نزول تعلیم حاصل کرنا؟ ۱۹۸
باب سیزدهم...... (قادیانی شبہات کے جوابات)
علمائے حق کی کتب سے تحریف کر کے قادیانیوں کی دھوکہ دہی ۱۹۹ قادیانی اپنے کو احمدی کہہ کر فریب دیتے ہیں ۲۰۲ ایک قادیانی کا خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے گمراہ کن استدلال ۲۰۳ قرآن پاک میں احمد کا مصداق کون ہے؟ ۲۰۶ قادیانی کے دروازہ نبوت تا قیامت کھولنے کے معنی ۲۰۶
قادیانیوں کے دلائل اور ان کے جوابات ۲۰۶ لفظ خاتم کی لغوی تحقیق ۱۰۹ غلام احمد قادیانی کے وسوسوں کا جواب ۲۱۰ مسئلہ ختم نبوت پر ایک دلچسپ مناظرہ ۲۱۱ حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر اشکال اور اس کا جواب ۲۱۴ عقیدہ اجرائے نبوت اور شیخ ابن عربی کا قول ۲۱۴ دفع شبہ قادیانی وتفسیر آیت ۲۱۴ مرزا قادیانی کا ولو تقول علینا بعض الاقاویل سے استدلال باطل ہے ۲۱۵ ازالۃ اوہام عن ختم النبوۃ والرسالۃ ومعنی الوحی والالہام ۲۱۶ فرقہ قادیانیہ کے اقوال کی تردید میں ۲۱۶ دفع شبہ قادیانی ۲۲۶ دعویٰ نبوت کے بعد زندہ رہنے والا ۲۲۶ نبوت تشریعی اور غیر تشریعی میں فرق ۲۲۷ نبوت تشریعی و غیر تشریعی ۲۲۸ کیا نبوت جاری ہے؟ ۲۲۸ ختم نبوت کے متعلق چند شکوک کا ازالہ ۲۲۹ جھوٹا مدعی نبوت اور طوالت عمر ۲۳۰ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اہل سنت کا عقیدہ ہے ۲۳۰ نزول مسیح کے وقت ساتھ آنے والے فرشتوں کی پہچان ۲۳۱ دفع شبہ قادیانی متعلقہ دعویٰ علامت مسیح در خود ۲۳۲ نزول عیسیٰ اور ورافعک پر مطابقت ۲۳۳ خاتم النبیین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۲۳۳ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نماز وزکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہیں ۲۳۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث لا نبی بعدی کے منافی نہیں ۲۳۵ نزول مسیح اور مسلمانوں کے سخت فقر و فاقہ اور مال وزر کی کثرت پر تعارض کا اشکال ۲۳۶ حیات مسیح اور توفی کے معنی ۲۳۶ حیات و نزول عیسیٰ پر بارہ اشکالات و جوابات ۲۳۷ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبی کے الفاظ ۲۳۹ بحث توفی عیسیٰ علیہ السلام ۲۴۴ وفات عیسیٰ علیہ السلام پر چند اشکالات اور ان کا جواب ۲۴۷
حدیث عاش مائتہ وعشرین سنہ سے وفات مسیح کا شبہ اور اس کا جواب ۲۴۸ آنحضرت ﷺ کو آسمان پر کیوں نہ اٹھایا گیا؟ ۲۴۸ شبہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت ۲۵۱ بعض شبہات قادیانی ۲۵۲ رجوع موتی پر شبہ کا جواب ۲۵۳ دفع شبہ قادیانی متعلقہ وفات مسیح علیہ السلام ۲۵۴ دفع شبہ عدم حیات عیسوی از حدیث از واقعہ وفات نبینا علیہ السلام ۲۵۴ دفع شبہ از آیت بر وفات عیسیٰ علیہ السلام ۲۵۶ کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیر مسلم بنایا ہے؟ ۲۵۶ قدخلت من قبلہ الرسل کا صحیح مفہوم ۲۵۶ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کا عقیدہ رکھنا کفر ہے ۲۵۶
باب چهاردهم..... (کلمات کفر و ارتداد)
آنحضرت ﷺ کی شان میں فحش کلمات کہنے والا مرتد ہے ۲۵۸ انبیاء علیہم السلام کی شان میں سب وشتم کرنے والا کافر ہے ۲۵۸ حضور ﷺ کی ادنیٰ گستاخی بھی کفر ہے ۲۵۸ شان اقدس ﷺ میں گستاخی ۲۵۸ حضور ﷺ کی توہین کرنا ارتداد ہے ۲۵۹ شاتم رسول مرتد و مباح الدم ہے ۲۵۹ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کا حکم ۲۶۴ وجوہ ارتداد ۲۶۵ نبوت کو کسبی کہنا کفر ہے ۲۶۷ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے ۲۶۷ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کفر و ارتداد ہے ۲۷۰ حضور ﷺ کے منکر کا کیا حکم ہے؟ ۲۷۰ شاتم رسول کی توبہ قبول ہے؟ ۲۷۰ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ؟ ۲۷۱ بلاوجہ توہین رسالت کے بارے میں سوال بھی توہین ہے ۲۷۲ کیا گستاخ رسول کو حرامی کہہ سکتے ہیں؟ ۲۷۳ اجرائے نبوت کے قائل کا حکم؟ ۲۷۳
باب پنج دہم ...... (موجبات کفر‘ وجوہ کفر)
ضروریات دین جن کا انکار کفر ہے ۲۷۶ کافر کی قسمیں اور مرزائیوں کو کیوں اقلیت قرار دیا گیا؟ ۲۷۷ قادیانی کفریات ۲۷۹ کافر بودن پیروان مرزا غلام احمد قادیانی ۲۸۰ قادیانی کسی غیر مسلم کی سند سے مسلمان نہیں ہو سکتے ۲۸۱ دعویٰ نبوت و اقوال کفریہ قادیانی تحریر کے آئینہ میں ۲۸۲ مسیح ہونے کا دعویٰ ۲۸۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ ۲۸۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ۲۸۴ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نسبت مرزا قادیانی کے خیالات ۲۸۵ حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ ۲۸۶ (مرزا) میں سب کچھ ہوں ۲۸۶ معجزات کی کثرت ۲۸۶ احادیث کے متعلق مرزا قادیانی کا خیال ۲۸۶ فرقہ قادیانیہ و مرزائیہ ۲۸۷ علمی لطیفہ ۲۸۸ قادیانی اور لاہوری دونوں کافر‘ قادیانیوں کے تفصیلی احکام ۲۸۹ نماز کا انکار کرنے والا انسان کافر ہے ۲۹۲ غیر مسلم کے زمرے میں کون لوگ آتے ہیں ۲۹۲ معاش کے لئے کفر اختیار کرنا ۲۹۳ شہریت کے حصول کے لئے اپنے کو کافر لکھوانا ۲۹۴ مرتد کی توبہ قبول ہے؟ ۲۹۴ فسخ نکاح ۲۹۵
باب شش دہم ...... (مرتد و ارتداد کے احکام)
کافر‘ زندیق‘ مرتد کا فرق ۲۹۶ مرتد اور زندیق میں فرق ۲۹۷ اپنے کو خدا اور رسول کہنے والا کافر و مرتد و ملحد ہے ۲۹۷ مرتد ہونے کے لئے شرائط ۲۹۸
آنحضرت ﷺ کے بعد جو لوگ مرتد ہو گئے ۲۹۸ مرتد سے سمجھوتہ ۲۹۸ مرزائیت سے توبہ کی ضروری شرط ۲۹۹ مرتد کی توبہ کے شرائط ۳۰۰
باب ہفت دہم ...... (ارتداد کی سزا)
منکرین ختم نبوت کے لئے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟ ۳۰۱ جنگ یمامہ مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کی وجہ سے تھی ۳۰۱ گستاخ رسول واجب القتل ہے ۳۰۳ کیا گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش ہے؟ ۳۰۴ کیا گستاخانہ کلام میں نیت کا اعتبار ہوگا؟ ۳۰۵ گستاخ رسول کے واجب القتل ہونے کی وجوہات ۳۰۷ مرزائی مرتد ہیں ۳۰۸ قتل مرتد ۳۰۸ مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھنے پر سزا کا گمراہ کن پروپیگنڈہ ۳۱۶ وفاقی شرعی عدالت پاکستان کا حکم شرعی ۳۱۶ آئین پاکستان میں گستاخی رسول ایکٹ میں ترمیم کا حکم ۳۱۷
کتاب الصلوٰۃ ...... باب اول ...... (مرزائی اور تعمیر مسجد)
مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے ۳۱۹ مسجد اسلام کا شعار ہے ۳۲۰ تعمیر مسجد عبادت ہے‘ کافر اس کا اہل نہیں ۳۲۰ تعمیر مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے ۳۲۳ غیر مسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ”مسجد ضرار“ ہے ۳۲۳ کافر ناپاک اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع ۳۲۴ منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے ۳۲۶ منافقوں کی مسجد‘ مسجد نہیں ۳۲۶ منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط ۳۲۶ کسی غیر مسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا ۳۲۷ مسجد کا قبلہ رخ ہونا اسلام کا شعار ہے ۳۲۸ محراب اسلام کا شعار ہے ۳۳۰ اذان ۳۳۱
مسجد کے مینار ۳۳۲ قادیانیوں کو مسجد بنانے سے جبراً روکنا کیسا ہے؟ ۳۳۲ قادیانی کی بنائی ہوئی مسجد کے بارے میں حکم ۳۳۳ قادیانیوں کا مسجد کے نام سے عبادت گاہ بنانا ۳۳۳ مسلمانوں کے چندہ سے بنائی گئی مسجد پر قادیانیوں کا کوئی حق نہیں ۳۳۴ قادیانیوں کا شعائر اسلام کا استعمال کرنا ۳۳۵ مرزائی کی تعمیر کردہ مسجد میں نماز کی ادائیگی ۳۳۷ مسجد کی بجلی سے قادیانی کو کنکشن دینا ۳۳۷ قادیانی کا مسجد کے لئے جائیداد وقف کرنا ۳۳۷ لاہوری مرزائی کا مسجد کے لئے چندہ ۳۳۸ قادیانی کا چندہ مسجد میں لگانا ۳۳۸ مسجد کے لئے قادیانی سے چندہ لینا ۳۳۹ مسجد کے لئے قادیانی چندہ کا حکم ۳۳۹ مرتدوں کو مساجد سے نکالنے کا حکم ۳۳۹ دارالاسلام میں غیر مسلمین کو نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں ۳۴۰ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حکم ۳۴۰ متروکہ اراضی پر مسلمان مسجد بنائیں تو وہ شرعاً مسجد ہے ۳۴۱
باب دوم ..... (امامت اور جماعت کے متعلق احکام)
منکر رسالت کی نجات کا عقیدہ رکھنے والے کی امامت کا حکم ۳۴۴ اپنے کو مرزائی کہنے والے کی امامت ۳۴۴ قادیانی کی امامت درست نہیں ہے ۳۴۵ قادیانی کی امامت درست ہے یا نہیں ۳۴۵ قادیانی کی امامت ۳۴۵ دین دار انجمن کا امام کافر مرتد ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ۳۴۵ مرزائیوں کو کافر نہ سمجھنے والے کی امامت کا حکم ۳۴۶ قادیانی کو مسلمان کہنے والے کی امامت ۳۴۶ قادیانی سے لڑکی کی شادی کرنے والے ۳۴۶ لاہوری مرزائی کی امامت کا حکم ۳۴۶ مرزائی سے تنخواہ لے کر امامت کرانا ۳۴۷ مرزائی کا نکاح پڑھانے والے کی امامت کا حکم؟ ۳۴۸
مرزائی متولی کی ولایت میں امامت درست نہیں ۳۴۸
مرزائی سے تعلق رکھنے والے کی امامت ۳۴۹
مرزائیوں سے میل ملاپ والے کی امامت ۳۴۹
مرزائیوں سے تعلقات رکھنے والے کی امامت کا حکم ۳۵۰
مرزائیوں کے رکھے ہوئے امام کے پیچھے نماز کا حکم ۳۵۱
مرزائیوں کے خلاف تحریک میں جیل جانے کے بعد معافی پر رہائی حاصل کرنے والے کی امامت کا حکم ۳۵۱
مرزائیوں کے لئے امام بننے کا حکم ۳۵۱
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم؟ ۳۵۲
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی امامت کا حکم؟ ۳۵۲
قادیانی کا جنازہ پڑھانے والے امام کا حکم ۳۵۳
مرزائی کے لئے دعائے مغفرت کرنے والے کی اذان کا حکم ۳۵۳
مرزائی اگر جماعت میں شریک ہو جائے تو نماز مکروہ نہیں ہوگی ۳۵۴
قادیانی کا مسجد میں نماز کے لئے آنا ۳۵۴
جمعہ کے خطبہ میں منکرین ختم نبوت کی تردید کرنا ۳۵۴
ایک ہی مسجد میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی نماز ۳۵۵
کتاب الجنائز ...... باب اول
قادیانی جنازہ ۳۵۶
قادیانیوں کا جنازہ جائز نہیں ۳۵۶
مرزائیوں کے ملحدانہ عقائد حسب ذیل ہیں ۳۵۸
قادیانی کا جنازہ پڑھنا ۳۶۳
کافر کی صرف تعزیت جائز ہے جنازہ پڑھنا یا قبرستان جانا جائز نہیں ۳۶۳
ایسے کلمے پڑھنے کا اعتبار نہیں ۳۶۴
مرزائی کا جنازہ پڑھنے والے مسلمان کو توبہ کرنا ضروری ہے ۳۶۴
کسی مرزائی کے قبول اسلام کے حق میں گواہیوں کے سبب جنازہ پڑھانے کا حکم ۳۶۵
جنازہ پڑھانے والا خود گواہ ہے کہ متوفی مرزائیت سے تائب ہو گیا تھا ۳۶۵
مرزائی کے جنازہ کا حکم ۳۶۶
قادیانی کی نماز جنازہ درست نہیں ۳۶۶
قادیانیوں پر نماز جنازہ پڑھنے اور ان سے مناکحت جائز قرار دینے والے شخص کا حکم ۳۶۶
مرزائیوں اور شیعوں کی نماز جنازہ پڑھانے والوں اور پڑھنے والوں کا حکم؟ ۳۶۷
قادیانی کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والا توبہ و تجدید نکاح کرے ۳۶۷
قادیانیوں کا جنازہ پڑھنے والوں کا حکم ۳۶۸ بدعقیدہ سے میل جول اور نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم ۳۶۹ قادیانی کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم ۳۷۰ قادیانی کے ساتھ تعلقات اور اس کا جنازہ پڑھنے کا حکم ۳۷۱ قادیانی کے جنازہ کی نماز ۳۷۱ قادیانی کی نماز جنازہ کا حکم ۳۷۲ مرزائی کو مسلمان سمجھنے والا نکاح کی تجدید کرے ۳۷۲ جس کی نماز جنازہ غیر مسلم نے پڑھائی اس پر دوبارہ نماز ہونی چاہئے ۳۷۲ لاہوری مرزائی کی اقتداء میں جنازہ پڑھنے کا حکم ۳۷۳
باب دوم ...... (قادیانی مردے کا حکم)
قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور فاتحہ دعا واستغفار کرنا حرام ہے ۳۷۵ قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ناجائز ہے ۳۷۵ فقہ حنفی ۳۷۶ فقہ مالکی ۳۷۷ فقہ شافعی ۳۷۷ فقہ حنبلی ۳۷۸ دین دار انجمن کے پیروکار مرتد ہیں ان کا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے ۳۸۲ مرزائی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ۳۸۲ مرزائی کا جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں ۳۸۳ قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم ۳۸۳
باب سوم ...... (قادیانی وراثت کے احکام)
ارتداد کی وجہ سے مال ملک سے نکل جاتا ہے ۳۸۴ قادیانی مسلمانوں کے ترکہ کے وارث نہیں بن سکتے ۳۸۴ مرتد مسلمانوں کے ترکہ کا وارث نہیں ۳۸۴ قادیانی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا ۳۸۵ قادیانی کی وراثت کا حکم ۳۸۵
کتاب الذبائح ...... باب اول ...... (قادیانی کا حکم ذبیحہ)
مرزائی کا ذبیحہ حرام ہے ۳۸۶ قادیانیوں کا کیا حکم ہے؟ اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ ۳۸۶ قادیانیوں کو قربانی کے جانور میں شریک کرنا اور اس کا ذبیحہ ۳۸۷
قربانی کی کھال بیچ کر رد مرزائیت کی کتابیں منگوانا ۳۹۱
باب دوم ..... (قادیانی کا ذبیحہ)
مرتد واجب القتل ہے ۳۹۲ فقہ حنفی ۳۹۳ فقہ شافعی ۳۹۳ فقہ حنبلی ۳۹۴ فقہ مالکی ۳۹۴ فقہ حنفی ۳۹۵ فقہ شافعی ۳۹۵ فقہ حنبلی ۳۹۶ فقہ مالکی ۳۹۶ مرتد کی اولاد کا حکم ۳۹۷ مرتد کی اولاد کا ذبیحہ ۳۹۷ کفر زندقہ ۳۹۸ قادیانی زندیق ہیں ۴۰۲ زندیق کا حکم ۴۰۵ قادیانیوں کے معاملہ میں اشکال کی وجہ ۴۱۰
کتاب النکاح باب اول ..... (قادیانی کا مسلمان سے نکاح)
قادیانی لڑکے سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز نہیں ۴۱۲ قادیانی کی منگنی کی مٹھائی ۴۱۲ مرزائی اور سنی میں مناکحت کا حکم ۴۱۳ عدم جواز نکاح زن مسلمہ با قادیانی ۴۱۴ قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح جائز نہیں ۴۱۵ مرزائی کی لڑکی سے نکاح اور اس سے تعلقات کا کیا حکم ہے؟ ۴۱۵ مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح ۴۱۵ مسلمان خاتون کسی قادیانی کے نکاح میں نہیں رہ سکتی ۴۱۵ مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح نہیں ہو سکتا ۴۱۵ مرزائی کو بیٹی کا رشتہ دینے والے کا حکم ۴۱۷ مرزائی سے سنیہ کا نکاح درست نہیں ہے ۴۱۸ مسلم عورت سے قادیانی نکاح کا حکم ۴۱۸
مرزائی کے ساتھ نکاح بالاتفاق ناجائز ہے ۴۱۹
مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہے مناکحت جائز نہیں ہے ۴۲۰
مرتد کسی سے نکاح نہیں کر سکتا ۴۲۰
قادیانی باتفاق امت کافر ہیں ان کے ساتھ مناکحت ناجائز ہے ۴۲۱
مرزائی اور مسلمان کا باہم نکاح حرام ہے ۴۲۱
مرزائی سے نکاح کا حکم ۴۲۱
لاہوری مرزائی سے نکاح کا حکم ۴۲۲
قادیانیوں سے رشتہ قائم کرنے والے کا حکم ۴۲۲
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح کرنے والے ملا کے ایمان ونکاح کا حکم ۴۲۳
قادیانی عورت سے نکاح حرام ہے ۴۲۳
قادیانی عورت سے نکاح کرنے والے سے تعلقات کا حکم ۴۲۵
مسلمان کا قادیانی لڑکی سے نکاح جائز نہیں شرعاً و توبہ کریں ۴۲۵
اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کر لے تو اس کا شرعی حکم ۴۲۶
قادیانی عورت سے نکاح جائز نہیں ۴۲۶
قادیانی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح باطل ہے ۴۲۶
مسلمان لڑکے کا مرزائی کی لڑکی سے نکاح ۴۲۷
ملاحدہ اور زنادقہ سے نکاح کا حکم ۴۲۷
مرزائی مرتدین کا کسی سے نکاح نہیں ہو سکتا ۴۲۸
قادیانی سے نکاح کا حکم ۴۲۸
قادیانیت سے تائب مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح ۴۲۹
باپ کی رضامندی پر قاضی (مرزائی) کا پڑھایا ہوا نکاح صحیح ہے ۴۳۰
توہین رسالت کرنے والے کے نکاح کا حکم ۴۳۱
مرزائی کی مسلمان اولاد سے رشتہ کرنا ۴۳۱
مشتبہ مرزائی کی پہلے تحقیق ۴۳۱
مرزائی کے پڑھائے نکاح کا حکم ۴۳۲
نکاح خواں کا کافر ہونا نکاح کے لئے مضر نہیں ۴۳۲
نابالغ اولاد مذہب میں باپ کی تابع ہوتی ہے مرزائی باپ کے لڑکے سے مناکحت جائز نہیں ۴۳۳
کیا قادیانی نکاح کا وکیل ہو سکتا ہے ۴۳۳
قادیانی کی وکالت سے نکاح ۴۳۴
مرزائی باپ نابالغہ کا ولی نہیں ہو سکتا ۴۳۴ قادیانی سے بیع شرا اور مناکحت کا حکم ۴۳۵ دین دار انجمن اور پیغام انجمن والے قادیانیوں کی بگڑی ہوئی جماعت ہیں کافر و مرتد ہیں ان سے کسی مسلمان کا نکاح حرام ہے ۴۳۵
باب دوم ...... (قادیانی فسخ نکاح کے احکام)
شادی کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو مرتد بنانے کا جال ۴۳۷ خاوند مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح جاتا رہا ۴۳۸ مرزائی کا دھوکہ دے کر سنی عورت سے نکاح کرنا ۴۳۹ اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمان لڑکی سے قادیانی کا نکاح کرنا ۴۳۹ شوہر مرزائی ہو گیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا نہیں؟ ۴۴۰ نکاح کے بعد شوہر قادیانی ہو جائے کیا حکم ہے؟ ۴۴۰ عورت مرزائی ہو جائے تو نکاح فسخ ہو گیا یا نہیں؟ ۴۴۰ سنی لڑکی کا نکاح قادیانی سے درست نہیں شوہر اگر بعد نکاح قادیانی ہو گیا تو نکاح باطل ہو گیا ۴۴۰ شوہر کے قادیانی ہونے سے فسخ نکاح ۴۴۱ قادیانی سے جس عورت نے نکاح کیا وہ بغیر طلاق دوسرے مسلمان سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں ۴۴۱ احد الزوجین کے ارتداد سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۴۴۲ ارتداد سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے ۴۴۲ قادیانی ہو جانے پر نکاح کا حکم ۴۴۲ مرزائی سے نکاح ۴۴۳ چار بچوں کے بعد معلوم ہوا کہ شوہر قادیانی ہے کیا کریں؟ ۴۴۴ قادیانیوں کو لڑکی دینا ناجائز ہے ۴۴۴ کسی قادیانی کا اپنا مذہب چھپا کر مسلمان لڑکی سے نکاح کرنا ۴۴۴ قادیانی سے مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے تفریق لازم ہے شرکت کرنے والے گنہگار ہیں ۴۴۵ شوہر کے ظلم سے جو عورت قادیانی ہوئی ...... پھر مسلمان ...... اس کی شادی ۴۴۵ مرزائی شوہر سے فسخ نکاح کے بعد عدت و مہر کا کیا حکم ہے ۴۴۵ قادیانی کی بیوی کا مسلمان رہنے کا دعویٰ غلط ہے ۴۴۶ قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے ۴۴۶ مرزائی کا نکاح مسلمان عورت سے جائز نہیں ۴۴۶
مرتد ہونے اور پھر تجدید اسلام کرنے والے کے نکاح کا حکم ۴۴۷ شوہر کے قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے ۴۴۸ قادیانی ہو جانے سے نکاح فسخ ہو گیا ۴۴۸ شوہر مرزائی یا عیسائی ہو جائے تو عورت پر عدت واجب ہے؟ ۴۴۸ لاعلمی میں قادیانی سے نکاح کا حکم ۴۴۹ خاوند کے قادیانی ہو جانے سے نکاح کا حکم ۴۴۹ جو شخص قادیانی ہو جائے اس کا نکاح برقرار نہیں رہتا ۴۴۹ قادیانیت سے جو توبہ کر چکا اس سے نکاح جائز ہے ۴۵۰ مرزائی کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا ۴۵۰ کسی کو قادیانی کہنے والے کے نکاح کا حکم ۴۵۰ مرزائی لڑکے سے مسلمان عورت کا نکاح حرام اور باطل ہے ۴۵۱ مسلمان قادیانی ہو کر پھر مسلمان بن جائے تو اس کے نکاح کا حکم ۴۵۳ بیوی قادیانی ہو گئی قادیانی سے شادی کر لی اب اس کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ ۴۵۴ مرزا غلام احمد قادیانی کو جو پیغمبر مانے وہ مرتد ہے اس سے نکاح درست نہیں ۴۵۴ قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح ۴۵۴ قادیانی میاں بیوی ایک ساتھ مسلمان ہوئے تو نکاح باقی رہے گا؟ ۴۵۵ بیان در عدالت ڈیرہ غازی خان حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ ۴۹۳تا۴۵۵
باب سوم...... (قادیانی سے ثبوت نسب کے احکام)
قادیانی سے نکاح اور ثبوت نسب ۴۹۴ قادیانی سے نکاح درست نہیں اور نہ اس سے بچے کا نسب ثابت ہوگا ۴۹۴ مرزائیہ سے نکاح کرے تو اولاد کے نسب کا حکم ۴۹۵ مرزائی سے نکاح کیا تو اولاد ثابت النسب نہ ہوگی ۴۹۵
کتاب الحظر والاباحۃ...... باب اوّل...... (جائز و ناجائز)
قادیانیوں سے میل جول رکھنا ۴۹۶ مرتد کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ۴۹۶ قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات قائم کرنا ناجائز ہے ۴۹۷ مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان ۴۹۷
قادیانیوں کے ساتھ تعلقات ۴۹۷
قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا نا جائز ہے ۴۹۸
قادیانیوں سے تعلقات رکھنے کا حکم ۴۹۸
قادیانیوں سے تعلق ۴۹۹
قادیانیوں سے تعلقات کا حکم ۵۰۰
قادیانیوں سے دوستی کا حکم ۵۰۱
قادیانی فتنہ کا ضرر ۵۰۱
قادیانی سے مقاطعہ جائز ہے؟ ۵۰۲
قادیانیوں سے میل جول کی ممانعت ۵۰۳
دین و ایمان کے تحفظ کے لئے مرزائیوں سے قطع تعلق کیا جائے ۵۰۳
قادیانیوں سے اختلاط ۵۰۳
قادیانیوں سے میل جول کی حرمت ۵۰۴
قادیانیوں سے تعلقات ۵۰۵
قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا ۵۰۵
مسلمان ہونے والے قادیانی کا اپنے خاندان سے تعلق ۵۰۵
قادیانیوں سے میل جول کا شرعی حکم؟ ۵۰۶
مرزائیوں سے دوستی ممنوع ہے ۵۰۶
خوش اخلاقی قادیانیوں کا دام فریب ہے ۵۰۷
قادیانیوں سے خاندانی و اخلاقی روابط حرام ہیں ۵۰۷
قادیانیوں سے میل جول کا حکم ۵۰۸
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات مفصل احکام ۵۰۹
قادیانی مذہب والوں سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ ۵۱۰
قادیانیوں کو سلام اور جواب ۵۱۱
بیمار قادیانی کی تیمارداری ۵۱۱
قادیانی کی تجہیز و تکفین اور ان کے نکاح میں شرکت ۵۱۲
قادیانی کے گھر میں مسلمان کے لئے فاتحہ خوانی کا شرعی حکم ۵۱۲
قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ حرام ہے ۵۱۳
قادیانیوں سے لین دین کرنے کا حکم ۵۱۳ قادیانی کی زمین اجارہ پر لینا ۵۱۴ مرزائی نام کی مشابہت سے احتراز ۵۱۴ قادیانیوں کے مرتب کردہ قاعدہ یسرنا القرآن سے احتراز کیا جائے ۵۱۴ قاعدہ یسرنا القرآن کے اثرات ۵۱۴ قادیانی قاعدہ کے پڑھانے کا حکم ۵۱۵ قادیانی کو کسی اسلامی جلسہ یا ادارہ میں شریک کار بنانا ۵۱۷ مسلمانوں اور مرزائیوں کی متحدہ جماعت کو ووٹ دینے کی شرعی حیثیت ۵۱۷ قادیانی کسی اسلامی انجمن کے ممبر نہیں بن سکتے ۵۱۸ قادیانی نواز وکلا کا حشر ۵۱۸ قادیانی جماعت کو چندہ دینا ۵۱۹ مختلف مذاہب کے لوگوں کا اکٹھے کھانا کھانا ۵۲۰ مرزائیوں سے خلط ملط ناجائز ہے ۵۲۰ مرزائی کے گھر افطاری کرنا؟ ۵۲۰ قادیانی کی دعوت کھانا؟ ۵۲۱ قادیانیوں کی دعوت کھانا جائز نہیں ۵۲۱ دانستہ قادیانی کے گھر کھانا کھانے والے کا حکم ۵۲۱ قادیانی کی دعوت اور اسلامی غیرت ۵۲۱ قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا خطرناک ہے ۵۲۲ مرزائی کی دعوت طعام قبول کرنا ۵۲۲ کسی کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد معلوم ہو کہ وہ قادیانی تھا تو کیا کیا جائے؟ ۵۲۲ قادیانیوں کے ساتھ میل جول پر توبہ کے بعد الزام نہ دیا جائے ۵۲۲ محمد علی لاہوری قادیانی کی تفسیر کا حکم ۵۲۳ قادیانی روزہ؟ ۵۲۳ غیر مسلموں کو زکوٰۃ دینا؟ ۵۲۳
بسم الله الرحمن الرحيم!
نام کتاب : فتاویٰ ختم نبوت جلد اوّل ترتیب و تبویب : حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری مدظلہ اشاعت اول : جون 2005ء صفحات : 546 قیمت : 250/- مطبع : اصغر پریس لاہور ناشر و ملنے کا پتہ : دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4514122-061 فیکس نمبر: 4542277
سٹاکسٹ
مکتبہ لدھیانوی مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی فون نمبر: 2780337-021 فیکس نمبر: 2780380-021
مکتبہ ختم نبوت/ ادارہ تالیفات ختم نبوت غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور فون نمبر: 7232936-042