مجاہدین
ختم نبوت کی
داستانیں
ترتیب و تحقیق
مُحَمَّد طَاہِر رَزَّاق
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز ۱۱
مجاہدینِ ختمِ نبوت
کی
داستانیں
ترتیب و تحقیق
مُحَمَّد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انتساب
گلاب کی خوشبو
شجر سایہ دار کی گھنی چھاؤں
شبنم کی پاکیزگی
ابر نیساں کی پھوار
محبت کی آبشار
الحاج بشیر احمد مغل (مرحوم)
کے نام
چراغ سینکڑوں جلتے ہیں روشنی کم ہے
آئینہ مضامین
حضور ! ہمیں معاف کر دیں —— محمد طاہر رزاق 8 داستان غم —— الحاج محمد نذیر مغل 13 محمد طاہر رزاق —— غواص بحر محبت —— حافظ شفیق الرحمن 15 مولانا ظہور احمد بگوی کا تعاقب قادیانیت 21 ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان سے ملاقات 22 اور قادیانی عبادت گاہ نہ بن سکی؟ 23 تحریک ختم نبوت جہلم 24 سنٹرل جیل منٹگمری کے نظر بند 25 رد مرزائیت میں علمائے اہل سنت کا حصہ 26 ایک عبرت آموز واقعہ 39 قادیانی نوجوان نے اسلام قبول کر لیا —— (اب میں عمر بھر 40 مرزائیت کے خلاف جہاد کروں گا) ایک گریجوایٹ خاتون کی مرزائیت سے توبہ 43 صاحب ختم نبوت کی جامعیت 56 خاتم النبیینؐ کے حقوق 57 خاتم النبیینؐ کے اعضائے مبارکہ کا ذکر قرآن کریم میں 58 ذکر حماد اس جی یا۔ را۔ کی غلط معلومات کا 58
شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ 60
حضرت شاہ عبدالقادرؒ رائے پوری اور احرار 62
خان لیاقت علی خان سے ملاقات 64
ایک قادیانی کی مرمت 67
حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزائیت 68
مولانا لال حسین اخترؒ 73
قادیانی لطائف 87
سامان عبرت 89
ہم نے بھی ربوہ دیکھا — آنکھیں میری باقی ان کا 90
قاضی صاحبؒ کی استقامت 98
قازقستان میں چند روز 99
عقیدہ ختم نبوت پر مولانا لال حسین اخترؒ کی تقریر 104
مولانا تاج محمودؒ کی کوشش سے ایک مرزائی کا قبول اسلام 112
ربوہ — ایک نیا قادیان 113
تحریک تحفظ ختم نبوت 1974ء بقلم علامہ یوسف بنوریؒ 114
مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قادیان میں 127
حضرت حکیم الامت تھانویؒ کا ایک نادر مکتوب 129
بے کل مرزا 134
میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی؟ 136
رد مرزائیت میں صوفیائے کرام کا حصہ 138
آٹھواں عجوبہ مرزا قادیانی 149
مجاہد ختم نبوت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ 150
کنری میں ایک اہم قادیانی کمانڈو کی قادیانیت سے توبہ 154
دھر رگڑا مست قلند روا 157
آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کی الہامی شادی پر تاریخی شعری تبصرہ 159
تحریک ختم نبوت اور مولانا ظفر علی خان 161
ذمہ دار 180
شیخ بنوریؒ کی ایمان پرور باتیں 180
پھول 181
وہ کیا جذبہ تھا 181
ٹائم بم 182
مولانا ظفر علی خانؒ کو علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا خراج تحسین 183
عشق رسولؐ ــــ میری متاع حیات ہے 183
عاشق رسولؐ 185
قبول سب سزائیں 185
جانباز کی فدا کاریاں 186
علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے علامہ اقبالؒ کا عشق 187
مناظرہ نظم میں ہوگا 188
قادیانی مسئلہ اور امریکی دباؤ 190
احرار قادیان میں 191
حضرت دین پوریؒ کی محبت 192
احرار کی جانفشانیاں 193
حضرت گولڑویؒ اور شاہ جیؒ 195
شہیدان ختم نبوت 196
آواز حق 197
آپ کون؟ 199
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصۂ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا‘ جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
حضور! ہمیں معاف کردیں!
حضور صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ماں سے زیادہ مہربان ہیں— حضور! آپ باپ سے زیادہ شفیق ہیں— حضور! آپ ہمارے لیے راتوں کے پچھلے پہر اٹھتے رہے— آپؐ کے مبارک ہاتھ ہمارے لیے دعاؤں کے لیے بلند ہوتے رہے— آپؐ کے مطہر لبوں سے ہمارے لیے دعاؤں کے پھول برستے رہے— آپؐ کی مقدس آنکھوں سے ہمارے لیے آنسوؤں کی جھڑیاں لگتی رہیں— زندگی کے ہر موقع پر آپؐ نے ہمیں یاد رکھا— حتیٰ کہ وقت وصال بھی آپؐ کو ہماری فکر دامن گیر تھی—!!! حضور! کل جب حشر کا میدان ہوگا— ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا— انسان بھوک پیاس اور خوف سے بے حال ہوں گے— جب ماں بچے کو دیکھ کر بھاگ جائے گی— جب باپ بیٹے کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کر جائے گا— جب جگری یار آنکھ چرا کر دوڑ جائیں گے— جب خدام و نوکر ٹکا سا جواب دے دیں گے— جب دنیاوی رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ پھوٹ جائیں گے— حضور! اس وقت آپؐ ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں بھاگ دوڑ رہے ہوں گے— کبھی میزان پر اپنے سامنے ہمارے اعمال تلوا رہے ہوں گے— کبھی پل صراط پر، ہمیں پل صراط پار کروا رہے ہوں گے—
کبھی حوض کوثر پر کھڑے اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر پلا رہے ہوں گے۔
آپ کی مہمان نوازی کا یہ عالم ہو گا— کہ آپ کے حوض کوثر کے جام آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے— اور جو آپ کے حوض کوثر سے ایک جام پی لے گا— اسے پھر میدان حشر میں پیاس نہ لگے گی۔
حضور! میدان حشر میں جب سارے نبی ”نفسی نفسی“ کہہ رہے ہوں گے— اس وقت آپ ”امتی امتی“ پکار رہے ہوں گے۔
حضور! اس وقت آپ کے جھنڈے تلے ہی ہمیں پناہ ملے گی۔
حضور! آپ ہمارے لیے سحاب کرم ہیں۔
حضور! آپ کی ذات ہمیں اللہ کے عذاب سے بچائے ہوئے ہے۔
حضور! اگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی ذات اقدس کا لحاظ نہ ہوتا— تو ہم پہ پتھروں کی بارش ہوتی—
ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا—
بپھری ہوئی آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں—
ہولناک زلزلے ہمارے پاپی وجودوں کو تہہ زمین میں لے جاتے—
سیلاب ہمیں کوڑے کرکٹ کی طرح بہا لے جاتے— اور ہماری پھولی ہوئی بدبودار لاشیں عبرت کی تاریخ بن جاتیں—
ہماری فصلیں برباد کر دی جاتیں— اور ہم پر بھوک اور قحط کے عذاب ٹوٹ پڑتے—
ہماری شکلیں مسخ کر دی جاتیں—
ہم پہ قوم عاد و ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی—
حضور! ہم صرف آپ کی وجہ سے— اور آپ کے گنبد خضراء کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں—
کسی عاشق صادق نے کہا ہے کہ اللہ کا عذاب آج بھی آتا ہے— لیکن گنبد خضراء کی وجہ سے واپس چلا جاتا ہے۔
حضور! ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے—— وہ آپؐ کی ذات کا صدقہ ہے—— حضور! ہم انگریزوں کے غلام تھے—— ذلیل و رسوا تھے—— خائب و خاسر تھے—— بے وقعت و بے قدر تھے—— ہماری قوم نے مل کر—— آپؐ کی ذات کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کی——
اے اللہ! ”تو ہمیں زمین کا ایک ٹکڑا دے دے—— ہم اس زمین پر تیرے پیارے نبی حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی حکومت قائم کریں گے—— اس کے آسمانوں تلے تیرے حبیب تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا ڈنکا بجے گا—— اس کی عدالتوں میں قرآن و سنت سے فیصلے ہوں گے—— اس دھرتی پر تیرے اور تیرے حبیبؐ کے گستاخ کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی“۔
حضور! اللہ نے بحرمت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دعا سن لی—— ہماری گردن سے غلامی کے پٹے اتر گئے—— رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں ہمیں پاکستان کا تحفہ مل گیا—— ہم غلامی کی بدبودار فضا سے آزادی کی باد نسیم کے جھونکوں میں آگئے——
لیکن—— حضور! ہم نے اللہ سے—— اور—— آپؐ سے بدعہدی کی—— مکاری کی—— عیاری کی——!!!
ہم نے آپؐ کے دین کو پاکستان میں نافذ نہ کیا—— اسلام روتا رہا—— ہم بدمست رہے—— دین کراہتا رہا—— لیکن ہمارے کان بے سماعت بن گئے—— ہم نے ختم نبوت کے باغیوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا—— ان کے ہاتھوں میں زمام اقتدار دی—— پاکستان میں آپ کی ختم نبوت کا مذاق اڑایا گیا—— باغیان ختم نبوت کو تحفظ عطا کیا گیا—— آپ کے قرآن میں قطع و برید کی گئی—— آپ کے اسلام کے مقابل قادیان کا جعلی اسلام لایا گیا—— آپؐ کی نبوت کے متوازی قادیانی نبوت چلانے کی ناپاک جسارت کی گئی—— اس ظلم عظیم پر احتجاج کرنے والوں کو حوالہ زنداں کیا گیا—— منکرین ختم نبوت کے خلاف نعرہ جہاد بلند کرنے والوں کی زبان بندی کی گئی—— ان پر ہولناک تشدد کیا گیا—— معاشرے میں انہیں مجرم گردانا گیا——
حضور! ہمیں معاف کر دیں—
حضور! ہم پرنم آنکھوں سے درخواست کرتے ہیں—
حضور! ہم ہاتھ باندھ کر عرض کرتے ہیں—
حضور! ہم آنسوؤں کی زبان میں معافی مانگتے ہیں—
حضور! یہ سارے جرائم بد معاش حکمرانوں کے ٹولوں نے کیے ہیں— عوام تو آج بھی آپ کے غلام ہیں— ان کے دل آپ کی محبت میں دھڑکتے ہیں— وہ آج بھی آپ کی عزت و ناموس پر سو جان سے قربان ہیں— حضور! یہ عوام ہی تھے— جنہوں نے 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ کے تاج ختم نبوت کو دس ہزار شہیدوں کی سلامی پیش کی تھی— دو لاکھ سے زائد حوالہ زنداں ہو گئے تھے— آپ کے عشاق قیدیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی— کہ جیلیں کم پڑ گئیں— اور ظالم حکمرانوں کو کھلے میدانوں میں باڑیں لگا کر عارضی جیلیں بنانا پڑیں۔
حضور! یہ آپ کے ہی غلام تھے— جنہوں نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت چلا کر قادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے ذریعے بھی کافر قرار دلوایا—
حضور! آج بھی آپ کے عاشق پوری دنیا میں سارقان ختم نبوت قادیانیوں سے برسر پیکار ہیں— آپ کی ختم نبوت کے پرچم کو پوری قوت سے بلند کیے ہوئے ہیں— اور اس راہ عشق میں آنے والی ہر تکلیف کو خوش دلی سے برداشت کر رہے ہیں—
حضور! ان شہیدوں کے صدقے— ان غازیوں کے صدقے— ان مجاہدوں کے صدقے— حضور! ہمیں معاف کر دیں— ہماری طرف نظر کرم سے دیکھ لیں۔
حضور! اگر آپ کا دامن— ہاتھوں سے چھوٹ گیا— تو پھر ہم کہیں کے بھی نہیں— دنیا میں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں— ہم خارش زدہ کتے سے زیادہ بے وقعت— اور غلیظ نالیوں میں رینگنے والے کیڑے سے زیادہ بے قدر ہو جائیں گے۔
حضور! اگر آپ نے اپنی نظر رحمت پھیر لی— تو پھر دنیا و آخرت کے
سارے عذاب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے—— حضور! ہمیں معاف کر دیں—— آپؐ کو اپنی رحمتہ اللعالمینی کا واسطہ—— آپؐ کو مجاہد اعظم ختم نبوت سیدنا صدیق اکبرؓ کا واسطہ—— آپؐ کو تحریک ختم نبوت کے پہلے شہید حضرت حبیبؓ بن زید انصاری کا واسطہ—— آپؐ کو جنگ یمامہ کے شہیدوں کا واسطہ—— حضور! ہمیں معاف کر دیں—— حضور! ہمیں معاف کر دیں——
قلب کی آواز حضورؐ روح کا مدعا حضورؐ
میرے لیے خدا کے بعد سب کچھ انہی کی ذات ہے
عشق کی ابتدا حضورؐ عشق کی انتہا حضورؐ
میرے لیے چراغ راہ‘ میرے لیے راہ عمل
آپؐ نے جو کہا حضورؐ‘ آپؐ نے جو کیا حضورؐ
آپؐ کی ذات پاک کا کتنا بڑا ہے یہ کرم
آپؐ کی ذات پاک سے ہم کو ملا خدا حضورؐ
خادم تحریک ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور
داستان غم
وطن عزیز پاکستان کے حصول کے لیے مسلمانان ہند نے ناقابل فراموش قربانیاں اس وقت پیش کی تھیں جب انہیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
مسلمانوں کے قلوب و اذھان نے یہ آس و امید لے کر پاکستان کی طرف سفر کیا تھا کہ وہاں اس اسلام کا نفاذ ہوگا جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام ہے۔ وہ اسلام جس کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، جس کا قبلہ مکہ مکرمہ میں موجود کعبۃ اللہ ہے، جس کی کتاب قرآن مجید ہے اور جس کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جس کا اللہ وہ اللہ ہے جو محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ ہے مگر جب مسلمان سب کچھ لٹا کے پاکستان پہنچے تو ان پر یہ اندوہناک انکشاف ہوا کہ یہاں پر تو کچھ خفیہ کالے ہاتھ اسلام کے نام پہ اک ایسے "اسلام" کے نفاذ کے لیے سرگرداں ہیں جس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ ان ہاتھوں کی رسائی اقتدار کے بالا خانوں تک بھی تھی اور ان کی شنوائی کفر کے عالمی ٹھیکیداروں تک بھی۔ یہ عوام کے اندر گھسنے کے لیے بھی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے اور خواص کو شکار کرنے میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ یہ قادیان کی سرزمین پہ پیدا ہونے والے ایک غبی اور مجہول شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرار دے رہے تھے۔ اور اس کی خرافات اور ہفوات کو اسلام کا نام دے رہے تھے۔ یہ اس فضول شخص کے ساتھیوں کو صحابہ کہہ رہے تھے اور اس کی بیوی کو معاذ اللہ ام المومنین قرار دے رہے تھے۔ یہ اس قادیانی کی مغلظات کو حدیث کہہ رہے تھے اور اس کے مراقی کلام کو وحی و الہام کا نام دے رہے تھے۔ یہ لوگ اس کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہہ رہے تھے اور اس
کے گاؤں کو مکہ و مدینہ سے بھی افضل قرار دے رہے تھے۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی رات کا چاند اور اس مکروہ شخص کو چودھویں رات کا چاند کہہ رہے تھے۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور مشن و مقصد کو نامکمل اور مرزا قادیانی کے مشن کو اکمل ترین سمجھا رہے تھے۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کو معاذ اللہ بدبو کا ڈھیر اور اس کے مقابلے پر اس مرقع بدبو کو کستوری اور مشک و زعفران قرار دے رہے تھے۔ غرض کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے کے پورے اسلام کو یہ مردہ قرار دے کر اپنی خرافات اور ہذیان کو زندہ اسلام قرار دیتے ہوئے اس کی ترویج و اشاعت اور اس کے نفاذ و اجراء کے لیے ہر سطح پر سرگرم عمل تھے۔ اور اس کے لیے ہر حربہ بروئے کار لانے پر آمادہ تھے۔ یہ صورت حال یقیناً مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے تو اپنی جانیں، عزتیں، اموال و اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کے لیے نچھاور کی تھیں۔ نہ کہ اس خبیث کے مکروہ نظام کے لیے۔ چنانچہ ان لوگوں کی سازشیں جب حد سے بڑھ گئیں تو مسلمانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور جب اقتدار کے ایوان بھی ان کی سر میں سر ملانے لگے تو مسلمانوں کے پاس اس امر کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اپنی لاشوں اور خون سے اس شگاف کو پر کریں جو مکہ و مدینہ والے اسلام کے قلعے میں ڈالا جا رہا تھا۔ انہی گرتی لاشوں اور بہتے خون کی داستان سنانے اور آپ تک پہنچانے کے لیے محمد طاہر رزاق صاحب میدان تحریر میں آئے ہیں۔ تاکہ کل اللہ کے حضور آپ یہ عذر پیش نہ کر سکیں کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی اور پھر جب آپ کو اس کی خبر ہو ہی گئی ہے تو اب پھر اس راہ پہ کسی نہ کسی درجہ میں قدم بڑھانا یقیناً ہم سب کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ کیونکہ پھر اللہ کے حضور یہ عذر بھی کام نہ آسکے گا کہ جی یہ راہ تو ہماری بساط میں نہ تھی۔ کیونکہ یہ واضح ہے کہ یہ قربانیاں پیش کرنے والے مجاہد بھی گوشت پوست کے ویسے ہی انسان تھے، جیسے کہ ہم ہیں۔ اللہ ہمیں فہم سلیم اور عزم و یقین سے نواز دے۔ آمین۔
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل
محمد طاہر رزاق —— غواص بحر محبت
ادب و صحافت کے پرت در پرت منطقوں اور فکر و نظر کی سربستہ و ملفوف کائناتوں اور محجوب و مستور دنیاؤں میں ذہنی گلگشت کرنے والے سیاح قارئین کے لئے محمد طاہر رزاق کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں —— عصر حاضر کی سب سے بڑی اسلام دشمن تحریک‘ قادیانیت چہرے پر پڑے دجل و فریب اور مکر و ریا کے نقابوں کے تار و پود بکھیرنے اور آغوش استعمار کے پروردہ پنڈتوں کے طاغوتی سومناتوں کو بلڈوز کرنے کے لیے اس جوان رعنا نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں‘ اسلام دوست اردو خواں طبقہ ان سے بخوبی واقف ہے —— جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بیسویں اور اکیسویں صدی کا سنگم ہے۔ —— یہ دور تخصص اور تخصیص کا دور ہے‘ اس دور میں فکر و نظر اور اکتشاف و انکشاف کی کائنات کا افق حیران کن حد تک لمحہ بہ لمحہ‘ ساعت بہ ساعت اور دم بدم توسیع پذیر ہے۔ صدائے کن فیکون کی تخلیقی ضربیں ہر فیمٹو سیکنڈ میں حقائق کی نئی کھربوں دنیاؤں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہیں —— ایسے میں ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے جامع العلوم‘ کامل الفن اور استاذ الکل ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ ہمکتی‘ کروٹیں بدلتی‘ انگڑائیاں لیتی اور دم بدم بوئے گل کی طرح پھیلتی اس کائنات میں صہیونی و صلیبی سامراج اپنے مذموم سائنسی‘ مدقوق تہذیبی‘ مسموم تمدنی‘ مہلک اسلحی‘ مفلوج ثقافتی اور مجہول ابلاغیاتی و نشریاتی غلبہ و استیلا کا پرچم ہر نو دریافت شدہ فکری و نظری سیارے کے سینے میں خنجر کی طرح گاڑنے پر مصر ہے۔ سامراجی‘ استحصالی اور توسیع پسندانہ عزائم کی حامل یہ انسانیت دشمن وحشی طاقتیں اور
درندہ قوتیں دریافت شدہ براعظموں کو پھاڑ کر اس کے سینے پر کابوس کی طرح دباؤ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ تمام باطل مذاہب و مسالک ان کے سامنے ہتھیار پھینک چکے ہیں۔۔۔ صرف ایک سخت جان ہے‘ جس کی مزاحمت نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام اور دنوں کا سکون غارت کر رکھا ہے۔۔۔ اور وہ ہے دین حق۔۔۔ اسلام۔۔۔ الحاد‘ لادینیت اور مادیت کے چنگھاڑتے سیلابوں اور دھاڑتے طوفانوں کی کف در دہاں موجیں اور بپھری لہریں حدید و سنگ کے اس آسماں خراش قلعے کی فصیلوں سے سر پھوڑ پھوڑ کر دم توڑ چکی ہیں۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ قلعہ اس ہلاکت بار طوفان اور مرگ پرور سیلاب میں ”سفینہ نوح“ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سخت جان مجاہد کے اعضاء کو مضمحل اور قویٰ کو مضمحل کرنے کے لئے صلیبی و صہیونی سامراج گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مختلف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے جال بن رہا ہے۔ ان طاقتوں کو اس امر کا ادراک ہے کہ وہ اس ناقابل تسخیر قلعے کو اس وقت تک فتح نہیں کر سکتے جب تک وہ قلعے کے مکینوں کی اپنی صفوں میں انتشار کے بیج بو کر اپنے گماشتے پیدا نہیں کر لیتے۔ سو انہوں نے قلعے کے مکینوں میں سے مٹھی بھر ایسے کوتاہ نظر اور پست قامت بالشتیوں کا انتخاب کیا جو سیم و زر کی بیساکھیوں کے سہارے اپنا قد کاٹھ بڑھانے کے خواہاں تھے۔۔۔۔۔ برصغیر میں لارڈ کلائیو اور میجر ہڈسن کے ہم زادوں اور عم زادوں نے ہدف تک رسائی کے لیے شبانہ روز ”جدوجہد“ کی۔ ان کی کرگسی نگاہیں ادھر ادھر اپنا ”شکار“ تلاش کرتی رہیں۔ آخرکار ان کے نصیبے نے یاوری کی اور قادیان کے ڈسٹ بن میں پڑی غلاظت کی ایک سانس لیتی پوٹلی نے چند پھوٹی کوڑیوں کے عوض ان کے مذموم عزائم کو بام تکمیل تک پہنچانے کی حامی بھری۔۔۔۔۔
کرگسوں کو ”شکارِ مردہ“ مل چکا تھا۔ اس ”کامیابی“ پر وہ اتراتے نہ تھکتے تھے۔ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اٹھانے کے بعد انہوں نے اس کی ”ڈرائی کلیننگ“ کی۔ اپنے تئیں نہلانے‘ دھلانے کے بعد اس ”موذی“ کو اس نے ”مصلح“ کے
روپ میں میدان عمل میں اتار دیا۔ برعکس نہند نام زنگی کافور کے مصداق برطانوی سازشوں کی لیبارٹری کے تخلیق کردہ اس ٹیسٹ ٹیوب بے بی نے خود کو غلام احمد کہنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ عبدالسامراج اور غلام استعمار تھا۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال مرحوم چونکہ فتنہ قادیانیت کے ”شان نزول“ سے بخوبی واقف تھے، اس لیے پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط میں انہوں نے قادیانیوں کو اسلام اور ملک دونوں کا غدار قرار دیا تھا۔۔۔۔۔۔
بالغ نظر مفکر، راست فکر مصنف اور نابغہ دانشور قادیانیت کو اسلامی قلعے کی بنیادوں میں بچھی ایک ایسی بارودی سرنگ سے تعبیر کرتے رہے ہیں جس کا فلیتہ اور ریموٹ کنٹرول صلیبی و صیہونی سامراج کے خونیں ہاتھوں میں ہے۔
محمد طاہر رزاق کا یہ کارنامہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں کہ اس نے اس بارودی سرنگ کو بے اثر بنانے اور ڈی فیوز کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل مختص کر رکھے ہیں۔ بحمد للہ! وہ اس سعی جمیل میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ قادیانی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور بھولے بھالے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو قادیانیت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے اس نے جو لائق رشک، جرات مندانہ کوششیں اور جسارت آفریں کاوشیں کی ہیں، بلا امتیاز مسالک و مذاہب مسلمانوں کے تمام مکتبہ ہائے فکر کے جید زعماء نے اسے تحسین و ستائش کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
قادیانیت بلاشبہ ایک موذی روگ اور مہلک مرض ہے۔ یہ آدم خور مرض، کینسر کی طرح خوفناک اور بھیانک ہے۔ جیسا کہ میں نے ابتدائی سطور میں عرض کیا تھا کہ یہ دور اسپیشلائزیشن کا دور ہے۔۔۔۔۔۔ یہ امر محمد طاہر رزاق کی دستار فضیلت میں طرۂ افتخار کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ فتنہ قادیانیت کا سپیشلسٹ ہے۔۔۔۔۔۔ جس طرح جسم انسانی کے گوناگوں عوارض اور بوقلموں امراض کے ماہر ڈاکٹروں میں کینسر کے مرض کی تشخیص، جراحی اور معالجے پر کام کرنے والے ماہرین کو اطباء کے ہجوم میں امتیازی حیثیت حاصل ہوتی ہے اسی طرح اسلامی ادب و تاریخ کے محققین میں جو محقق
قادیانیت کے تدارک اور سدباب کے لیے سوز و ساز رومی کی طاقوں میں پیچ و تاب رازی کے دیے جلانے کے لیے خون تمنا، خون آرزو اور خون جگر کا سحر تاب روغن فراہم کرتا ہے، لاریب محققین کی صف میں منفرد مقام اور ممتاز مرتبہ اس کا مقدر بن جاتا ہے ..... دریں چہ شک کہ قادیانیت ایک کینسر ہے۔ اس کینسر کے جرثوموں، خلیوں اور بافتوں کو جسد ملت اسلامیہ سے نکال باہر پھینکنے کے لیے جن ”مجاہد اطباء“ کی ٹیم ”فکری و نظری کیمو تھراپی“ اور ”قلمی و قرطاسی ریڈی ایشن“ کے عمل خیر میں ایکسپرٹ گردانی گئی ہے، محمد طاہر رزاق اس ٹیم کے سرخیل ہیں ..... حلیف و حریف، اغیار و احباب، اپنے و بیگانے سبھی ان کے تخیل کی موثر فکری ریڈی ایشن اور ان کے قلم کی تیر بہدف اور زود اثر نشتر زنی کے دل و جان سے معترف و مداح ہیں۔ یوں تو محمد طاہر رزاق ایک رحم دل طبیب ہے لیکن قادیانیت کا آپریشن مطلوب ہو تو وہ ایک ایسا سخت گیر سرجن بن جاتا ہے کہ فاسد مادوں کے اخراج کے لیے نشتر زنی سے قبل ”مریض“ کو کلوروفارم دینا بھی پسند نہیں کرتا —— خواب گراں کے مزے لوٹنے والوں کے ہجوم میں اس کا قلم صور اسرافیل کا فریضہ ادا کر رہا ہے —— رواداری، برداشت اور روشن خیالی کے ”اصحاب الفیل“ کے لیے اس کے قلم سے ٹپکنے والے الفاظ ”حجارہ ہائے سجیل“ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس کی کتابوں کی ہر سطر عصر حاضر کے ابرھوں کے لشکروں کے لیے ”طیر ابابیل“ کی حیثیت رکھتی ہے۔
کون نہیں جانتا کہ شیخ محمد اکرم نے آب کوثر، رود کوثر اور موج کوثر کے نام سے برصغیر میں اسلامی سلطنت اور مسلم حکمرانوں کے عروج و زوال کی مستند تاریخ مرتب کی ہے۔ بے لاگ تاریخ کا ہر غیر جانبدار طالب یہ تسلیم کرتا ہے کہ شیخ محمد اکرم کی اس تاریخی اور تحقیقی کاوش نے اپنی ثقاہت کا لوہا ہر کسی سے منوایا ہے۔ قادیانیت کے محاکمے اور محاسبے اور تحریک ختم نبوت کے مجاہدین اور شہداء کے روشن کارناموں کو اجاگر کرنے کے لیے محمد طاہر رزاق نے تحقیق و تصنیف اور تالیف و ترتیب کا ایک سلسلۃ الذہب شروع کیا ہے۔ یہ ایک طولانی سفر ہے ..... یہ ہمالیائی چوٹیوں کو سر
کرنے کی ایک تھکا دینے والی مہم ہے۔۔۔۔ یہ ماہ و سال کی گرد اور غفلت و تغافل کی دھول میں لپٹے نئے منطقوں کی دریافت کا استعجاب خیز عمل ہے۔۔۔۔ مقام حیرت ہے کہ یہ مہم‘ یہ عمل اور یہ سفر محمد طاہر رزاق نے تن تنہا طے کیا ہے۔۔۔۔ آفریں باد بر ایں ہمت مردانہ تو۔۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ محمد طاہر رزاق تاریخ ختم نبوت کا شیخ محمد اکرم ہے۔۔۔۔ یہ ایک انسائیکلوپیڈیائی کام ہے۔۔۔ مجاہدین ختم نبوت کے اس دائرۃ المعارف کو ترتیب کا جمال اور تصنیف کا سحر حلال دینے پر میں محمد طاہر رزاق کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔۔۔ تصنیف و تخلیق کی دنیا کے باسیوں کو یہ تسلیم کرنے میں یقیناً کوئی تامل نہیں ہو گا کہ یہ کام جو محمد طاہر رزاق نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے‘ فرد واحد کا کام نہیں۔۔۔۔ لیکن یہ مانے بنا بھی چارہ نہیں کہ یہ سب کرامت ہے عشق رسالت مآب کی‘ یہ سب فیضان ہے بادۂ حب نبیؐ کا۔
پیارے قارئین!
آئیے ”مجاہدین ختم نبوت کی داستانیں“ ملاحظہ فرمائیے۔ ان داستانوں کو پڑھتے ہوئے یہ امر ملحوظ خاطر رکھئے گا کہ یہ وامق و عذرا‘ فرہاد و شیریں‘ لیلیٰ مجنوں‘ رومیو جولیٹ‘ ہیر رانجھا‘ سوہنی مہینوال اور سسی پنوں کی تخیلاتی و تصوراتی داستانیں نہیں اور نہ ہی یہ رستم و سہراب کا قصہ اور سکندر و دارا کا رزمیہ ہے۔۔۔۔ یہ جریدۂ عشق پر ثبت مہر دوام ہے نہ کہ لوح جہاں پہ کندہ حرف مکرر ہے۔
از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس
مجاہدین ختم نبوت کی داستانیں۔۔۔۔ عام انسانوں کی داستانیں نہیں۔۔۔۔ یہ چنیدہ و برگزیدہ ہستیوں کا ذکر ہے۔۔۔۔ یہ ان فخر ملائک انسانوں کا ذکر ہے جو انجیل کے الفاظ میں زمین کا نمک‘ زیتون کی ڈالی اور پہاڑی کا چراغ تھے۔ ان داستانوں کی تلاش و جستجو اور ترتیب و تحقیق کے دوران محمد طاہر رزاق کو جرائد و رسائل اور کتب کے ہزاروں صفحات کا مطالعہ کرنا پڑا۔ یہ مطالعہ روایتی مطالعہ نہیں تھا۔۔۔۔ کتنے ہیں کھرے
سمندروں کی غواصی جان جوکھوں کا عمل ہے۔۔۔۔۔ اگر یہ درست ہے تو دوران غواصی خس و خاشاک کے فلک بوس انباروں میں سے لعل و مرجان کا چناؤ دشوار ترین کام ہے اور یہ کام بلا کی دیدہ ریزی کا متقاضی ہے۔ پیارے قارئین! یقین کیجئے غواصِ بحر محبت یہ مشکل ترین کام بھی سرمستی و سرشاری کی لہروں پر تیرتے ہوئے باسانی کر لیتا ہے۔ میں اسے مبالغے پر محمول نہیں کرتا کہ الیاس برنی‘ مولانا ظفر علی خاں‘ آغا شورش کاشمیری‘ مولانا مرتضیٰ احمد میکش‘ اسماعیل قریشی جیسے اکابرین و مشاہیر کے بعد جن معدودے چند جگر دار مجاہدوں نے محاذ ختم نبوت پر اپنے قلم کو ذوالفقار حیدری بنا کر داد شجاعت دی ہے ان میں اس کتاب کے مرتب و محقق جناب محمد طاہر رزاق کا نام ”السابقون الاولون“ ہی میں ہوتا ہے۔ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاںؒ کی ہمہ نوائی میں وہ بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ
مرے مضموں ہیں جب سے شعر کہنے کا شعور آیا
حافظ شفیق الرحمٰن روزنامہ ”دن“ لاہور‘ پاکستان
مولانا ظہور احمد بگویؒ کا تعاقب قادیانیت
۱۹۳۲ء میں مرزا محمود نے اپنے مبلغوں کو حکم دیا کہ تم لوگ ضلع سرگودھا جا کر جہاں جہاں مرزائی ہوں‘ وہاں مسلمانوں کو مناظرہ کے لئے چیلنج کرو۔ محمد سلیم لائل پوری‘ عبدالرحمٰن خادم گجراتی اور مبارک احمد پر مشتمل قادیانی وفد براستہ ملک وال میانی پہنچا۔ وہاں اس وقت کوئی مقامی عالم نہیں تھا۔ مولانا ظہور احمد بگوی مرحوم میانی پہنچے اور فرمایا‘ بھیرہ چلو‘ وہاں تمہاری بھی جماعت ہے‘ ہمارا بھی شہر ہے۔ مولانا بگوی مرحوم نے مولانا محمد حسین کولو تاڑوی مرحوم اور حافظ محمد شفیع مرحوم سکھتری کو بلوایا۔ بھیرہ میں صدق و کذب مرزا‘ حیات مسیح اور ختم نبوت کے موضوع پر مناظرے ہوئے۔ مرزائیوں کو بری طرح شکست ہوئی۔ مرزائی چوری چوری خوشاب پھر جوکہ اس کے بعد سرگودھا وہاں سے چک نمبر ۳۷ جنوبی وہاں سے مڈھ رانجھا۔ آگے آگے مرزائی پیچھے علمائے حق کی جماعت رہی۔ خوشاب سے مولانا محمد شفیع سرگودھوی مرحوم ساتھ ہوگئے۔ سارے سفر میں ساتھ رہے۔ مڈھ رانجھا سے مرزائی رات و رات بذریعہ کشتی دریا عبور کر کے پنڈی بھٹیاں سے ہوتے ہوئے قادیان دفع ہو گئے۔ مولانا ظہور احمد بگوی مرحوم نے ساری روداد ”برق آسمانی بر خرمن قادیانی“ کتابی شکل میں مرتب کر کے شائع کر دی۔ غالباً حزب الانصار بھیرہ سے آج بھی مل سکے گی۔ اس کے بعد مولانا مرحوم نے ان کا تعاقب رنگون تک کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی‘ جلد ۶ شمارہ ۳۹‘ از قلم مولانا محمد رمضان علویؒ)
اندھیروں میں اجالا بولتا ہے (مؤلف)
ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان سے ملاقات
ملک امیر محمد خان بحیثیت انسان ایک مردم شناس، بہادر اور خود دار شخص تھے۔ بحیثیت منتظم سخت گیر انسان تھے۔ ایوب خانی دور میں انہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اپنے عہد میں ملک کا نظم و نسق پورے نظم و ضبط کے ساتھ چلایا۔ کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ کسی کام کو اپنی مرضی سے چلائے۔ امیر محمد خان کا دبدبہ اعلیٰ افسر سے لے کر عام شہری کی زندگی تک نظر آتا تھا۔ وہ پکے مسلمان تھے۔ صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔ ان کے زمانہ میں گورنر ہاؤس شراب و کباب کی بزم آرائیوں سے الگ تھلگ رہا۔ وہ اکیلے رہتے تھے۔ ان کے اپنے بیٹوں تک کو کھلم کھلا گورنر ہاؤس میں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
موسیقی و طرب کی محفلیں دور دور تک نظر نہیں آتی تھیں۔ ان کے سامنے ہر وقت مصلا بچھا رہتا تھا۔ ان کے زمانہ میں مغربی پاکستان میں عصمت فروشی کا کاروبار بند ہو گیا اور جسم فروشی قانوناً ممنوع قرار دے دی گئی۔
ان کی مردم شناسی اور تحریک آزادی میں کام کرنے والوں کے متعلق عزت افزائی کی داستان ”قاضی صاحب کے آخری لمحات“ میں لکھ آئے ہیں۔ ملک صاحب نظریاتی طور پر احرار کے مخالف تھے۔ مگر بایں ہمہ ان کو عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
مرزائیوں کے وہ سخت مخالف تھے۔ ان کی ملک دشمنی اور اسلام دشمنی سے پوری طرح آشنا تھے۔ قاضی صاحب نے ایک ملاقات میں مرزا غلام احمد کی کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ دکھائی اور اس کے مندرجات پڑھ کر سنائے تو امیر محمد خان آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے فوراً اس کتاب کو خلاف قانون قرار دیا۔ قاضی صاحب نے انہیں مبارکبادی کا تار بھیجا۔ مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف زور و شور سے آواز بلند کی اور ایوب خان تک رسائی کی۔ جس نے بالآخر کتاب پر سے پابندی اٹھادی۔
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، ص ۳۸۵ تا ۳۸۶، از نور الحق قریشی)
اور قادیانی عبادت گاہ نہ بن سکی
احقر ۱۹۵۶ء میں اپنے برادر بزرگ مولانا عزیز الرحمن خورشید کے ہمراہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورہ حدیث کا طالب علم تھا۔ وہاں کے قادیانیوں نے ڈیوڑھا پھاٹک کے نزدیک مین سنی آبادی میں مسجد کا پروگرام بنایا، جسے بعد میں ہال میں تبدیل کرنا چاہا۔ مقامی انتظامیہ کے بے ننگ و نام افسروں نے ان کی پشت پناہی کی لیکن مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور بالخصوص مولانا محمد سعید مرحوم مظفر گڑھی اور استاذی مولانا عبد القیوم ہزاروی کی محنت وسعی سے سارا شہر اٹھ کھڑا ہوا۔ شیرانوالہ باغ میں ایک عظیم الشان کانفرنس میں حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نے آگ برسانے والی تقریر فرمائی تو اور زیادہ شہری اٹھ کھڑے ہوئے، مرزائیوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور اس سے بالکل متصل ۲ کنال کے رقبہ میں راتوں رات علماء اور طلباء اور شہریوں نے مل کر ”مسجد ختم نبوت“ کھڑی کر کے شب بھر میں مسجد بنانے کی روایت پوری کر دی۔ اس سعادت میں احقر بھی شامل تھا۔ رات بھر ہم نے اللہ کی مدد و نصرت کے نظارے دیکھے۔ اینٹوں کے ٹرک آرہے ہیں۔ دوسرا میٹیریل آرہا ہے اور لانے والا بتاتا نہیں کہ وہ کہاں سے آیا؟ صبح کی نماز وہاں ادا ہوئی۔ مولانا عبد القیوم نے درس دیا، کئی ماہ تک مختلف حضرات یہاں جمعہ پڑھانے آتے رہے۔ ایک جمعہ کے لئے مولانا بھی تشریف لائے۔ بے پناہ مجمع تھا۔ فرمایا کہ ۱۹۴۱ء میں اپنے بزرگوں کے حکم سے ملتان کا جمعہ شروع کیا، جیل جیسی مجبوریوں کے علاوہ کبھی ناغہ نہیں کیا۔ اتنے عرصہ کے بعد آج ملتان کا ناغہ اہل گوجرانوالہ کی دینی غیرت کو سلام کرنے کی غرض سے کیا۔
(سوانح مولانا محمد علی جالندھری، ص ۶۵-۶۴، از سعید الرحمن علوی)
تحریک ختم نبوت جہلم
ضلع جہلم میں تحریک کا مرکز مولانا عبد اللطیف صاحب جہلمی کی جامع مسجد گنبد والی تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ ہر جمعہ کو جامع مسجد گنبد والی سے احتجاجی جلوس نکال کر گرفتاریاں دی جائیں گی۔
- ۱- ۶ مارچ ۱۹۵۳ء کو جامع مسجد گنبد والی میں مولانا جہلمی نے ختم نبوت کے موضوع پر
زبردست تقریر کی اور پھر احتجاجی جلوس نکال کر گرفتاری پیش کی۔
- ۲- میں ان دنوں اپنے گاؤں بھیں (تحصیل چکوال) میں رہتا تھا۔ حسب پروگرام ۱۳
مارچ کے جمعہ پر جامع مسجد گنبد والی میں بندہ نے تقریر کی اور احتجاجی جلوس نکال کر گرفتاری پیش کی۔
- ۳- ۲۰ مارچ کے جمعہ پر حضرت مولانا حکیم سید علی شاہ صاحب فاضل دارالعلوم امینیہ
دہلی (ڈومیلی ضلع جہلم) کا پروگرام تھا۔ لیکن وہ بھول گئے اور ۱۳ مارچ کے جمعہ پر ہی گرفتاری کے لئے گھر سے روانہ ہوگئے۔ تھانیدار بھی ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا اور ان کو سیدھا ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں لے گئے اور وہ احتجاجی جلوس نہ نکال سکے۔
- ۴- جہلم میں بریلوی علماء میں سے مولوی محمد صادق صاحب اور مفتی اعجاز ولی صاحب کو
بھی گرفتار کر کے جیل میں لے گئے۔
- ۵- چکوال سے مولانا حافظ غلام حبیب صاحب مرحوم خطیب جامع مسجد دارالعلوم حنفیہ
کو ہم سے پہلے گرفتار کر کے ۱۱ مارچ کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم لے گئے۔
- ۶- دو دن کے بعد مولانا عبد اللطیف صاحب جہلمی، مولانا حکیم سید علی شاہ صاحب،
مولانا محمد صادق صاحب (بریلوی) میاں کرم الہی صاحب مجاہد چکوال اور بندہ کو ڈسٹرکٹ جیل سے نکال کر لاہور لے گئے اور پھر لاہور سے ہی سنٹرل جیل منٹگمری (ساہیوال) منتقل کر دیا گیا۔
- ۷- مولانا حافظ غلام حبیب صاحب مرحوم کو سنٹرل جیل جہلم میں ہی رکھا گیا اور پھر ۹
جون ۱۹۵۳ء کو ان کی رہائی ہوئی۔
سنٹرل جیل منٹگمری (موجودہ نام ساہیوال) کے نظربند
سنٹرل جیل منٹگمری میں منٹگمری ، جہلم ، سرگودھا اور کیمبل پور (اٹک) کے اضلاع کے نظر بندوں کو رکھا گیا تھا۔ ختم نبوت کے نظر بندوں کو بی کلاس دی گئی۔ جہلم کے نظر بندوں میں مولانا جہلمی کے ساتھ شاعر جوہر جہلمی ، غازی عبدالرحمن مرحوم احراری ، چوہدری محمد شریف صاحب ٹھیکیدار احراری وغیرہ بھی تھے۔ ضلع منٹگمری سے شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد و مرید مولانا ضیاء الدین اوکاڑوی (فاضل دیوبند) رحمتہ اللہ علیہ اور بریلوی مسلک کے مولانا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی بھی تھے۔ اس وقت وہ طالب علم تھے ، بعد میں وہ کراچی میں مقیم ہو گئے تھے۔
مولانا ضیاء الدین مرحوم نے فرمایا کہ جب انہوں نے حضرت مدنیؒ کی خدمت میں بیعت کے لئے عرض کیا تو حضرت نے فرمایا کہ میری بیعت میں تو جیلیں کاٹنی پڑیں گی تو عرض کیا کہ حضرت یہ مجھے منظور ہے۔
(۲) سرگودھا سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور کیمبلپور (اٹک) سے حضرت مولانا نصیر الدین صاحب محدث غورغشتوی اور حضرت مولانا عبدالحنان صاحب (تلمیذ علامہ محمد انور شاہ صاحب محدث کشمیری) بھی تھے جو ان دنوں اوکاڑہ ضلع منٹگمری میں مدرس تھے۔
جیل میں مولانا جہلمی ، مولانا حکیم سید علی صاحب اور بندہ کی کوٹھڑیاں ساتھ ساتھ تھیں اور اسی لائن پر میرے ساتھ آخری کوٹھڑی میں شیخ الحدیث صاحب غورغشتوی تھے۔ کوٹھڑیاں دن رات کھلی رہتی تھیں ، صرف سرکلر کے باہر کا بڑا گیٹ بند رہتا تھا۔ مولانا جہلمی کو امام نماز بنایا گیا تھا۔ نظر بندی کا یہ عرصہ مولانا جہلمی کی معیت میں گزرا۔ حضرت شاہ صاحب اور مولانا مرحوم بالکل مطمئن رہے۔ کبھی ان کو پریشان نہیں دیکھا تھا۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
ڈسٹرکٹ جیل جہلم سے منتقل کرکے جب ہمیں سنٹرل جیل لاہور لایا گیا اور ہم جیل کی ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو چونکہ میں نے قریباً ۵ سال اسی جیل میں گزارے تھے تو سنٹرل جیل کے پرانے اہلکاروں نے مجھے پہچان لیا اور کہا کہ آپ تو جیل میں رہ چکے ہیں۔
ان ساتھ والے مولوی صاحبان سے کہیں کہ ثابت قدم رہنا۔
(ماہنامہ حق چار یار‘ مولانا عبد اللطیف جہلمی نمبر‘ ص ۲۸-۲۹‘ از مولانا قاضی مظہر حسین)
رد مرزائیت میں علمائے اہلسنّت کا حصہ
محمد منشا تابش قصوری
علماء و مشائخ کا مقدس گروہ نہایت نامساعد اور حوصلہ شکن مراحل میں بھی ہمیشہ پرچم اسلام بلند کرنے میں کوشاں رہا ہے۔ یہ علماء و مشائخ ہی کا نورانی گروہ تھا جنہوں نے دین اسلام کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا قلع قمع کیا۔ گاندھی کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنایا۔ شدھی کی تحریک کو موت کے گھاٹ اتارا۔ تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جہاد کشمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ نظریہ پاکستان کے لئے پیش پیش رہتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تحریک ختم نبوت کے لئے متاع زیست کو وقف کر دیا۔
اور حقیقتاً اسلام میں یہی وہ مرکزی مسئلہ ہے جس کے گرد جملہ مسائل (دینی و دنیوی) طواف کرتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ مولانا عبد الستار خاں صاحب نیازی مدظلہ کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ آپ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و نزاکت پر نہایت موثر انداز میں اظہار خیال فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”ہر محب اسلام کا یہ فرض ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو تمام دوسرے مسائل پر ترجیح دے۔ اگر ہم ناموس ختم نبوت کو محفوظ رکھنے کے ذریعے اپنی بقا کا اہتمام کر لیتے ہیں تو توحید‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوۃ‘ قرآن‘ شریعت کسی اصول دین کو ضعف نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن خدانخواستہ مستشرقین یا منافقین اس تعریف کو ہماری لوح قلب سے ذرا بھی اوجھل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں (کہ اسلام محمد علیہ الصلوۃ والسلام پر جو کچھ نازل ہوا‘ اس کی غیر مشروط اتباع کا نام ہے) تو پھر نہ ناموس صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہمارا ایمان برقرار
رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، نہ ولائے اہل بیت ہماری نجات کے لئے کافی ہو سکتی ہے، نہ ہی قرآن کے اوراق میں ہمارے لئے ہدایت باقی رہ جاتی ہے اور نہ ہی اولیاء کرام اور مشائخ عظام کی نسبتیں جاری رہ جاتی ہیں، نہ ہی علماء کرام کی تدریس ووعظ میں اثر باقی رہ جاتا ہے۔
نہیں نہیں صرف یہی نہیں خاکم بدہن امت محمدیہ (ﷺ) ملل میں تقسیم ہو جاتی ہے، ملتیں حکومتوں میں بٹ جاتی ہیں اور حکومتیں گروہوں کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ فقط اتنا ہی نہیں، خاندان ملت سے خارج ہو جاتے ہیں خود خاندان کے اندر صلہ رحمی، قطع رحمی سے مبدل ہو جاتی ہے۔ اس لئے اگر خاتم النبیین (ﷺ) ایک نہیں تو پھر شریعت ایک نہیں۔ جب شریعت ایک نہیں تو حرام و حلال کی تمیز نہیں اور جب حرام و حلال میں تمیز نہیں تو باپ، بیٹے، ماں، بہن، خاوند، بیوی غرض دنیا کے سب رشتے اپنی تقدیس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ختم نبوت کا انکار آسمان پر فرشتوں کا انکار ہے، زمین پر قبلہ اور حج کا انکار ہے۔ سیاست میں مسلمانوں کے غلبے اور جداگانہ وجود کا انکار ہے۔ غرض ختم نبوت کے انکار سے مسلمان کے مسلمان ہونے کا انکار ہے۔ یہاں پہنچ کر زبان گنگ ہو جاتی ہے، قلم ٹوٹ جاتا ہے اور الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے۔“
مرزا قادیانی نے اس مسئلہ کے تار و پود بکھیرنے کی مکروہ سازش کی تو علماء اہل سنت نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا تعاقب کیا۔ ہرچند فتنہ مرزائیت کے استیصال کے لئے علماء اہلسنت و جماعت کی خدمات جلیلہ کا احاطہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے تاہم اپنی بساط کے مطابق اکابر اہلسنت و جماعت نے رد مرزائیت میں جو کردار انجام دیا، اس کی ہلکی سی تصویر پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔
حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے قادیانیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی طرح ڈالتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت اور رد مرزائیت کے موضوع پر کئی بلند پایہ کتب تصنیف فرمائیں۔ یہاں صرف ان تصانیف کا تعارف پیش کیا جائے گا جو مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں اس کی تردید
کے لئے زیور اشاعت سے طبع ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکی تھیں۔ مگر مرزا صاحب کو زندگی بھر جواب لکھنے کی جرات نہ ہو سکی۔
جزاء اللہ عدوہ بآیۂ ختم النبوہ (۱)
اس بے نظیر کتاب میں اعلیٰ حضرت بریلوی علیہ الرحمۃ نے ختم نبوت کے ثبوت میں ایک صد مرفوع احادیث پیش کی ہیں۔ باقی ادلہ ان کے علاوہ ہیں۔ پاک و ہند میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ پہلا ایڈیشن ۱۳۱۵ھ میں مطبع اہل سنت و جماعت بریلی شریف سے شائع ہوا جبکہ اس کا آخری ایڈیشن مکتبہ نبویہ لاہور کو شائع کرنے کا شرف نصیب ہوا۔ تحریک کے رہنماؤں نے اس سے کافی استفادہ کیا۔
السوء العقاب علی المسیح الکذاب (۲)
فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کی یہ تصنیف اپنے نام سے موضوع کا اظہار کر رہی ہے۔ پہلی بار یہ مبارک تصنیف ۱۳۲۰ھ میں مطبع اہل سنت و جماعت بریلی شریف سے شائع ہوئی اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اس کے آخری ایڈیشن کی اشاعت کا شرف بھی مکتبہ نبویہ کو حاصل ہوا۔ یہ مبارک کتاب پہلی کتاب ختم نبوت کے ساتھ شائع ہوئی ہے اور قابل دید ہے۔
حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین
فاضل بریلوی نے حضرت شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ (۱۲۸۹ھ مطابق ۱۸۷۲ء) کی تصنیف ”المعتقد المنتقد“ (۱۲۷۰ھ بمطابق ۱۸۵۳ء) پر تعلیقات و حواشی کا اضافہ فرمایا اور اس کا نام ”المعتمد المستند“ (۱۳۲۰ھ بمطابق ۱۹۰۲ء) رکھا۔ اس زمانے میں ان تعلیقات کا خلاصہ علماء حجاز کی خدمت میں تصدیقات کے لئے پیش کیا۔ چنانچہ حرمین شریفین کے علماء و فضلا نے ان کو اپنی تقاریظ اور تصدیقات سے مزین فرمایا۔ خود فاضل بریلوی نے ان تقاریظ و تصدیقات کو مرتب فرما کر ”حسام الحرمین“ نام رکھا۔ مفید اضافے کئے اور شائع کیا۔
خلاصہ فوائد فتاویٰ (۲)
مذکورہ بالا تصنیف علماء حرمین شریفین کے فتاویٰ کا خلاصہ ہے جو ۱۳۲۴ھ میں مطبع اہل سنت بریلی سے شائع ہوا۔
قہر الدیان علیٰ مرتد بقادیان (۳)
خبائثات قادیانی کا رد بلیغ ۱۳۲۳ھ میں منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ یہ تصنیف حنفیہ مطبع اہل سنت بریلی سے شائع ہوئی۔ پھر اسی نام سے اعلیٰ حضرت نے مرزا قادیانی کے مستقل رد کے لئے ماہوار رسالہ جاری فرمایا۔
المبین خاتم النبیین (۴)
۱۳۲۵ھ کی تصنیف ہے، جس میں خاتم النبیین میں کلمہ ”لام“ کی تحقیق درج ہے۔ مولانا محمد ظفر الدین بہاری کی تحریر کے مطابق اس کتاب نے ۱۳۲۷ھ تک اشاعت کا لباس نہ پہنا بلکہ مسودہ کی شکل میں بریلی شریف اعلیٰ حضرت کے ذاتی کتب خانہ میں محفوظ تھی۔ الغرض اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف تھا۔
- ۲۔ مولانا حامد رضا خان صاحب قادریؒ
آپ اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت بریلویؒ کا آئینہ تھے۔ مسئلہ ختم نبوت پر آپ کی نہایت عمدہ تصنیف ”الصارم الربانی علیٰ اسراف القادیانی“ ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے شائع ہوئی، پھر بریلی اور لاہور سے شائع ہوتی رہی۔
- ۳۔ حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری قریشی ہاشمی کی تبلیغ اسلام میں خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تذکرہ اکابر اہل سنت میں مولانا شرف قادری ؒ نے آپ کی تیرہ عدد تصانیف کے نام درج کئے ہیں۔ جن میں:
”فتح الرحمانی بہ دفع کید قادیانی“ بھی ہے جو رد مرزائیت میں بڑی مدلل اور عمدہ تصنیف ہے۔ مرزا قادیانی نے جن اکابر علماء کو اپنے مقابل چیلنج دیا۔ ان میں مولانا غلام دستگیر قصوری کا نام بھی ہے۔
حضرت مولانا غلام قادر بھیرویؒ
رد مرزائیت میں پنجاب میں سب سے پہلے آپ نے ہی یہ فتویٰ جاری فرمایا کہ قادیانیوں کے ساتھ مسلمان مرد یا عورت کا نکاح حرام و ناجائز ہے۔
بعد میں علماء دین و مفتیان شرع متین نے اسی فتویٰ مبارکہ سے استفادہ کرتے ہوئے مرزائیوں سے مناکحت، تزویج کو ناجائز اور ان سے میل جول اور ذبیحہ تک کو حرام قرار دیا۔ مرزا نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور حکیم نور الدین نے اس کی تائید کی تو آپ نے حکیم نور الدین کا ایسا ناطقہ بند کیا کہ آپ کی موجودگی میں اسے کبھی بھیرہ میں داخل ہونے کی جرات نہ ہوئی۔
مجاہد اسلام مولانا فقیر محمد جہلمیؒ
حضرت مولانا فقیر محمد صاحب جہلمیؒ نے ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۰۳ھ میں جہلم سے ایک ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ کے نام سے جاری کیا۔ اس اخبار نے اپنے دور کے اعتقادی فتنوں خاص طور پر فتنہ مرزائیت کی تردید میں بڑا کام کیا۔ مرزا قادیانی اور اس کے حواری ”سراج الاخبار“ کے کارناموں سے سٹپٹا اٹھے چنانچہ انہوں نے ہر امکانی کوشش سے ”سراج الاخبار“ کو بند کرانے کے حربے استعمال کئے۔ آپ اور آپ کے رفیق کار حضرت مولانا محمد کرم دین صاحب مدیر پر مقدمات کا دور شروع ہوا۔ مگر یہ عالی قدر ہستیاں ان مصائب و آلام سے گھبرانے والی نہ تھیں۔ ابتلاء و آزمائش کی آندھیاں ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکیں۔ گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چلا جو قادیانی اور اس کے حواریوں کی شکست پر منتج ہوا۔ مرزا قادیانی کی خوب گت بنی اور اللہ تعالیٰ نے مجاہد اسلام مولانا فقیر محمد جہلمیؒ اور مولانا کرم دین صاحب کو باعزت بری فرمایا۔ آپ نے بڑی اہم کتابیں یادگار چھوڑی ہیں۔ جن میں ”حدائق حنفیہ“ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔
استاد العلماء مولانا حکیم محمد عالم صاحب آسی امرتسریؒ
حضرت مولانا محمد عالم آسی حضرت مولانا مفتی غلام قادر بھیروی سے شرف تلمذ رکھتے تھے۔ تبلیغ سنت اور رد مرزائیت میں آپ نے دو ضخیم جلدوں میں (۱۳۵۲ھ ربیع الاول بمطابق ۱۹۳۳ء جولائی) وہ عظیم الشان تاریخی تصنیف "الکاویہ علی الغاویہ" (چودھویں صدی کے مدعیان نبوت) عربی اور اردو علیحدہ علیحدہ شائع فرمائی۔ یہ نادر روزگار کتاب ایک ہزار چھیاسٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ پہلی جلد ۱۸×۲۲ / ۸ سائز کے چار سو صفحات پر مشتمل ہے دوسری جلد اسی سائز کے چھ سو پچاس صفحات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ اس تصنیف میں یہ بڑی خوبی ہے کہ بڑی آزادی کے ساتھ مرزائی مذہب کا جتنا لٹریچر ہے (مع پوسٹر اشتہار وغیرہ) سب کا خلاصہ مع تنقیدات اہل اسلام درج کیا گیا ہے۔ علمائے امت اور اہل قلم حضرات نے اسے کمال نظر تحسین سے دیکھا۔
چنانچہ مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری اس پر تقریظ لکھتے ہوئے اپنے خیالات کا یوں اظہار کرتے ہیں۔
"کتاب "الکاویہ علی الغاویہ" (چودھویں صدی کے مدعیان نبوت) مصنفہ جامع المعقول والمنقول جناب مولانا محمد عالم آسی میں نے دیکھی۔ اپنے مضمون میں جامع ہے۔ اسلامی دنیا میں بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی نے جو تہلکہ مچا رکھا ہے، آج اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان حالات اور مقالات کی جامع کتاب چاہئے تھی، مصنف علامہ نے اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ (۷) جزاہ اللہ، ثناء اللہ، ۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء۔"
حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب علیہ الرحمۃ میانی ضلع شاہ پور کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں، جس نے فتنہ قادیانیت کا قلع قمع کرنے میں بے نظیر کارنامے انجام دیئے۔ آپ کو حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ کئی سال مدرسہ نعمانیہ لاہور کے اول مدرس رہے۔ ۱۴ یا ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو حکیم نور الدین
صاحب بھیروی سے مولانا ابراہیم قادیانی کے مکان واقع کشمیری بازار میں حیات مسیح ابن مریم پر تاریخی مکالمہ ہوا۔ حکیم نورالدین بھیروی خلیفہ اول مرزا قادیانی، آپ سے سخت مرعوب ہو گیا اور ایسی کوئی دلیل پیش نہ کر سکا جس پر اسے خود تسلی ہوتی، آخر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ یہ تاریخی مکالمہ الفیض الرحمانی میں آپ نے درج فرمایا۔
۱۸، ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب کا مولوی جلال الدین شمس قادیانی سے بمقام ہریا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات تاریخی مناظرہ ہوا۔ مسلمانوں کی طرف سے صدر جلسہ حضرت مولانا مفتی غلام محمد صاحب گھوٹوی ملتانی علیہ الرحمۃ تھے، جب کہ قادیانیوں نے پہلے دن کرم داد صاحب اور دوسرے روز حاکم علی قادیانی کو صدر جلسہ بنایا۔
اس تاریخی مناظرہ کی کارروائی سننے کے لئے ہر مذہب و مسلک کے لوگ دور دور سے آئے۔ مناظرہ دو روز تک جاری رہا، مناظر اسلام حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ نے تحریری و تقریری دلائل کے انبار لگا دیئے۔ آپ کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ مد مقابل مولوی شمس صاحب کی کوئی پیش نہ گئی اور گھبراہٹ کے عالم میں قادیانیوں نے جلسہ کو درہم برہم کرنے کی بھی ناکام کوشش کی، مگر حسن انتظام اور مفتی اسلام کے پرجوش خطاب سے ان کے سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے مفتی غلام مرتضیٰ علیہ الرحمۃ کے باعث اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور باطل ناکام و نامراد ہوا۔ قادیانی مناظر بڑی ذلت کی شکست سے دوچار ہوئے۔ حضرت مولانا مفتی محمد صاحب گھوٹوی صدر مناظرہ، مفتی غلام مرتضیٰ کے جوابی دلائل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پکار اٹھے:
"میرا دل اس وقت یہ گواہی دیتا ہے کہ مفتی صاحب کی تقریر مرزا صاحب خود سنتے تو مسلمان ہو جاتے، مگر ہدایت مقدر نہ تھی۔"
اس تاریخی مناظرہ کے اختتام پر حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب نے مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی مرزا قادیانی کو لاہور میں مناظرہ کا چیلنج دیا۔ (۹) مگر وہ بھی اپنے باپ کی طرح نام نہاد دارالامان قادیان سے باہر نہ نکل سکا۔ قادیانیوں پر اس مناظر اسلام کے علم و فضل اور مناظرہ کی دھاک بیٹھ گئی۔
۲۰ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو حضرت مولانا مفتی غلام محمد صاحب گھوٹوی فتح کی خوشخبری سنانے
حضرت پیر مہر علی شاہ کی خدمت میں گولڑہ شریف حاضر ہوئے۔ مناظرہ کی مفصل کارروائی اور فتح کی نوید سن کر حضرت قبلہ عالم پیر صاحب قدس سرہ نے حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ علیہ الرحمۃ کی طرف مبارکباد کا مکتوب گرامی ارسال فرمایا جو من و عن یہاں درج کیا جاتا ہے:(۱۰)
مخلص فی اللہ مفتی غلام مرتضیٰ حفظکم اللہ تعالیٰ۔
بعد سلام و دعا کے الحمد للہ علیٰ منتہ کہ او سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو توفیق اظہار حق بوجہ اتم عنایت فرمائی۔ مخلصی مولوی غلام محمد صاحب سے مفصل کیفیت معلوم ہوئی۔ بل کے بل نے سب بل مبطلین کے نکال دیئے۔ اللہم وفقنا لما تحب و ترضیٰ و صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا محمد و آلہ و صحبہ والحمد لک اولاً و آخر سب احباب سے مبارک بادی۔“
العبد الملتجی والمشتکی الی اللہ المدعو بمہر علی شاہ بقلم خود۔
اس مناظرہ کی مفصل کارروائی حضرت مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب علیہ الرحمہ نے ”الظفر رحمانی“ نامی کتاب میں جمع فرمائی۔ یہ کتاب ۱۸ × ۲۲ / ۸ کے ۲۲۲ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب قادری علیہ الرحمۃ
آپ علماء میں واحد ہستی تھے‘ جن کو تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے قائد تسلیم کیا۔ آپ نے اس تحریک میں پرجوش حصہ لیا اور تمام مسلمانوں کو دعوت عمل دی اور حکومت کے سامنے مذہبی مطالبات پیش کئے۔ آپ نے بحیثیت صدر مجلس عمل ان مطالبات کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ سید مظفر علی شمسی بیان کرتے ہیں کہ (۱۱) ”میں اس وقت مجلس عمل کا سیکرٹری تھا۔ ہر جلسہ میں مجھے موصوف کے قریب رہنے کا موقع ملا۔ میں ان سے بہت متاثر تھا۔ انہیں ہر سٹیج پر باعمل پایا۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم وزیر اعظم سے ہر ملاقات میں مولانا کے ہمراہ رہا‘ جس شان سے موصوف نے قوم کے مطالبات پیش کئے‘ انہی کا حصہ تھا۔ ہر ملاقات کے بعد خواجہ صاحب اکثر حضرت مولانا کے پیچھے نماز ادا کرتے‘ ان کی شخصیت اور علم و فضل کا اقرار کرتے۔ مولانا ہر ملاقات میں ان سے ایک ہی خواہش کا اظہار کرتے کہ شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کے مطالبات تسلیم
کرلیں ۔ اس سلسلہ میں مولانا نے پورے ملک کا دورہ کیا اور ختم نبوت کے سلسلے میں لاکھوں مسلمانوں سے خطاب کیا۔ میں حیران تھا کہ ایک گوشہ نشین عالم کس طرح اس مسئلہ کے لئے بے قرار ہے۔ میں نے اکثر موصوف کو مسلمانوں کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتے دیکھا ۔"
حکومت نے جب کوئی بات تسلیم نہ کی تو کراچی میں مجلس عمل نے ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کیا، جس کا ایک طریق یہ تھا کہ کارکن کتبے ہاتھ میں لئے گورنروں اور وزیر اعظم پاکستان کے بنگلوں پر خاموش احتجاج کریں۔ حکومت نے اسی رات حضرت مولانا کی قیادت میں ان کے رفقاء کو گرفتار کرلیا اور کراچی سنٹرل جیل میں بھیج دیا۔ اس گرفتاری کے بعد پورے ملک میں تحریک نے زور پکڑا۔ پنجاب سے روح فرسا خبریں پہنچنا شروع ہوئیں۔ آپ کو اچانک ایک دن اطلاع ملی کہ حضرت مولانا خلیل احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان کو مارشل لاء حکومت نے پھانسی کی سزا سنادی ہے۔ مولانا اپنے اکلوتے فرزند کے متعلق یہ المناک خبر سن کر سجدے میں گر گئے ۔۔۔۔۔ اور عرض کیا، 'الہی میرے بچے کی قربانی کو منظور فرما۔ ڈیڑھ ماہ تک کراچی میں قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار رہنے کے بعد سکھر سنٹرل جیل میں نظر بند کر دیئے گئے۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، آٹھ مربع فٹ کوٹھڑی میں علامہ ابو الحسنات، مولانا عبد الحامد بدایونی، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور سید مظفر علی صاحب شمسی بند تھے۔ حیدر آباد جیل میں بھی قید رہے ۔ چھ ماہ سی کلاس میں گزارنے کے بعد اے کلاس ملی۔ بعد ازاں لاہور منتقل کر دیئے گئے جہاں تحقیقاتی عدالت میں پیش ہوئے۔ (۱۲) جناب مظفر علی صاحب شمسی بیان کرتے ہیں کہ:
"جس ہمت اور اولوالعزمی سے علامہ ابوالحسنات نے قید میں دن گزارے، اس کی مثال ملنی بہت مشکل ہے۔ نازو نعم میں پلا ہوا انسان، لاکھوں انسانوں کے دلوں کا بادشاہ، علم و عمل کا شہنشاہ، مگر محبت رسول نے امتحان چاہا تو بے دریغ قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور اس شان سے قید کاٹی کہ مثال بن گیا۔ کیا مجال، جو کسی سے شکایت کی یا کسی سے شکوہ کیا ہو یا اپنے مشن سے دستبرداری کا ارادہ کیا ہو۔ جیل میں آپ کا بہترین مشغل قرآن کریم کی تفسیر لکھنا تھا، کئی برس قید کاٹے اور بہت شدت کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں
برداشت کیں۔ جن کے باعث آپ کی زندگی پر بڑا برا اثر پڑا۔ رد مرزائیت کے سلسلہ میں آپ نے رسائل و جرائد اور اخبار و اشتہارات کے ذریعہ بھی بڑی خدمت انجام دی ہے۔ قادیانیت کے رد میں ذیل کی دو کتابیں، آپ کی مستقل یادگار ہیں:
- ۱۔ مرزائیت پر تبصرہ۔
- ۲۔ قادیانی مذہب کا فوٹو۔
مولانا عبد الحامد بدایونیؒ
حضرت مولانا بدایونی علیہ الرحمتہ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت تھا۔ چنانچہ اس تحریک میں آپ نے بڑا نمایاں حصہ لیا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کی حمایت اور مرزائیت کی تردید کی پاداش میں حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ایک سال تک سکھر اور کراچی کی جیلوں میں علامہ ابو الحسنات قادری کے ساتھ نظر بند رہے۔ قید و بند کی سخت صعوبتوں کو بڑی جوانمردی سے برداشت کیا۔ ان کی مدبرانہ فراست نے پورے ملک میں اس تحریک کو مقبول بنایا۔
مولانا محمد عمر صاحب اچھرویؒ
رد مرزائیت میں آپ کی معرکہ آراء تصنیف ”مقیاس النبوت“ شامل ہے۔ تین ضخیم حصوں میں بڑے سائز کے تقریباً ڈیڑھ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ پہلی جلد مقیاس النبوۃ فی حقیقت من عاد الی غیر الابوۃ: ۴۲۴ صفحات پر مشتمل‘ دوسری جلد مقیاس النبوۃ فی ثبوت انقطاع النبوۃ ۲۸۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ تیسری جلد: مقیاس النبوۃ فی رد مدرار النبو ۃ ۷۵۳ صفحات پر مشتمل ہے۔
حضرت مولانا مفتی مسعود علی صاحب قادری فرماتے ہیں کہ: ”اس موضوع پر اتنی مفصل کتاب میری نظر سے نہیں گزری، پوری کتاب کی کتابت و طباعت معقول ہے۔ میرے خیال میں جس کسی کے پاس یہ کتاب ہو‘ اسے قادیانیت کے خلاف کوئی دوسری کتاب خریدنے کی زحمت گوارا نہ کرنا
پڑے گی۔ مولانا مرحوم نے اہل سنت کی طرف سے عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے۔“ (۱۳)
مولانا عبدالستار خان صاحب نیازیؒ
آپ نے تحریک ختم نبوت کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے جب ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت چلی تو آپ کراچی میں تھے۔ ۱۳ فروری کو تحریک شروع ہوئی۔ ۲۴-۲۵ فروری کو گرفتاریوں کا آغاز ہوا چنانچہ آپ پولیٹیکل ورکرز کنونشن کے دورہ سے لاہور واپس آئے اور ۲۷ فروری کو جامع مسجد داتا گنج بخش میں جمعہ کے بعد جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے کہ اطلاع ملی:
”تحریک کے تمام رہنما گرفتار کر لئے گئے ہیں۔“
رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ پرامن تحریک تشدد کی راہ اختیار کر لے گی۔ چنانچہ آپ نے ۱۴ مارچ ۱۹۵۳ء کو مسجد وزیر خاں میں تحریک کے مرکزی نظام کا دفتر قائم کیا اور حضرت مولانا مفتی محمد حسین صاحب نعیمی مدظلہ کے تعاون سے چار ہزار کاپیاں تحریک کے اغراض و مقاصد کی شہر اور مضافات میں تقسیم کیں۔ (۱۴)
ان دنوں روزانہ دو جلسے ہوا کرتے تھے۔ مسجد وزیر خاں کے جلسہ سے زیادہ تر آپ ہی خطاب کرتے تھے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس فردوس شاہ پولیس فورس کے ساتھ آپ کو گرفتار کرنے آرہا تھا کہ کسی نوجوان نے چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا۔
مارشل لاء لگا دیا گیا اور اس میں سب سے زیادہ ہاتھ اس وقت کے وزیر داخلہ سکندر مرزا کا تھا۔ ۹ مارچ کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا تھا۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ مسجد وزیر خاں سے اسمبلی پہنچنا مشکل تھا کیونکہ جگہ جگہ پولیس اور ملٹری کا پہرہ تھا۔ آپ قصور ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہیں سے کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی اور آپ ۱۶ مارچ کی صبح نماز فجر کے وقت گرفتار کر لئے گئے۔“ (۱۵)
گرفتاری کے بعد مولانا عبدالستار خاں نیازی کو شاہی قلعہ لاہور میں منتقل کر دیا گیا‘ جہاں پولیس نے ۲۳ مارچ سے ۱۹ اپریل تک ایک لمحہ بھی سونے نہ دیا۔ ۱۶ اپریل سے آپ کو پتہ چلا کہ آپ کے خلاف ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس فردوس علی شاہ کے قتل اور بغاوت کا
مقدمہ بنا دیا گیا ہے۔ ۲۷‘۲۸ اپریل کو ملٹری عدالت نے مقدمہ کی سماعت کی۔ ۷ مئی کو فیصلہ سنا دیا گیا اور آپ کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت کا حکم ہوا۔ جب عدالت کے ایک رکن نے پوچھا کہ آپ کو موت کا کوئی خوف نہیں؟ تو آپ نے جواب دیا ”سرور کائنات ﷺ پر ایسی ہزاروں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔“ اسی شام آپ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں منتقل کردیا گیا۔ آپ ۷ دن اور ۸ راتیں اس کوٹھڑی میں رہے۔
خود فرماتے ہیں کہ ۱۴ مئی کو عصر کی نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ اطلاع ملی ”سزائے موت ۱۴ سال قید میں بدل دی گئی ہے۔ ۱۰ مئی کو صبح آپ مچھ جیل منتقل کر دیئے گئے‘ جہاں مولانا خلیل احمد قادری‘ مولانا نصر اللہ خاں عزیز‘ سید نقی علی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اکٹھے ہو گئے تھے۔ پھر آپ کو راولپنڈی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ چودہ سال کی سزا بعد میں جسٹس شریف نے تین سال میں بدل دی۔ پھر آپ ۲ سال بعد ۲۹ اپریل ۱۹۵۵ء کو ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔
۸ جولائی ۱۹۵۵ء کو رہائی سے صرف دو ماہ بعد شیرانوالہ گیٹ کی مسجد میں مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کی‘ جس پر سکندر مرزا (وزیر داخلہ) نے بنگال ریگولیشن کے تحت گرفتار کر لیا اور ساہیوال جیل میں بھیج دیئے گئے۔ ۲۶ جولائی کو جسٹس کیانی کے حکم سے رہائی ملی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت سے لے کر ۱۹۷۴ء کی تحریک تک آپ نے اپنے نصب العین کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں اور آخر اپنی زندگی میں ۷ ستمبر کا دن بھی دیکھ لیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں بھی آپ نے دن رات کام کیا۔
حضرت مولانا سید محمود احمد صاحب رضویؒ
آپ کی ذات والا برکات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں کراچی سے پشاور تک‘ لاہور سے کوئٹہ تک جگہ جگہ دورے کئے۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے دن رات آپ نے ایک کر رکھا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کیا۔ آپ نے رد مرزائیت میں قلمی جہاد بھی فرمایا‘ خصوصاً رد مرزائیت میں ہفت روزہ ”رضوان“ لاہور کا ختم نبوت نمبر تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک میں حصہ لینے پر آپ تین ماہ شاہی قلعے میں بھی محبوس رہے۔
ابوالنصر منظور احمد صاحب ہاشمیؒ
آپ جامعہ فریدیہ ساہیوال کے بانی و مہتمم ہیں۔ تردید قادیانیت میں آپ نے مثالی کارنامے انجام دیئے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ساہیوال (منٹگمری) میں مجلس عمل کے صدر تھے اور تحریک کے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گرفتار کرلئے گئے۔ ساڑھے سات ماہ تک ساہیوال جیل میں قید بامشقت کی سزا ہوئی۔
۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران ساہیوال میں بھی آپ نے بڑا مجاہدانہ کارنامہ سرانجام دیا۔ سوشل بائیکاٹ کے جواز پر آپ نے سب سے پہلے رسالہ تصنیف فرمایا اور تحریک کے دوران پینتالیس ہزار کاپیاں چھپوا کر پورے ملک میں تقسیم کرائیں۔
حواشی
- ۱۔ مقالہ : عالمی مسائل اور پیغمبر عالم (ﷺ) از مولانا عبدالستار خاں صاحب نیازی
(ایم اے) مطبوعہ سیرت النبی نمبر ضیائے حرم، جلد ۳ شمارہ نمبر ۸، مئی ۱۹۷۳ء، ص ۱۵۴، و دسمبر ۱۹۷۴ء)
- ۲۔ محمد ظفر الدین مولانا الجمل المعدد لتالیفات المجدد مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور،
(۱۶
- ۳۔ حوالہ ایضاً، ص۱۹)
- ۴۔ محمد عمر نعیمی علیہ الرحمۃ، تاج العلما: تاجدار اہل سنت حضرت صدر الافاضل
(مقالہ) مطبوعہ سواد اعظم ”کاحیات صدرالافاضل نمبر‘ جلد ۲، شمارہ ۲۳۔۲۴، جون ۱۹۵۹ء ص ۵۔
- ۵۔ الجمل المعدد، ص ۲۲۔
- ۶۔ ایضاً ص ۲۶۔
- ۷۔ ایضاً ص ۲۴۔
- ۸۔ الکاویۃ علی الغاویہ (اردو) مطبوعہ امرتسر، ص ۶۵۰۔
- ۹۔ ختم نبوت نمبر، ترجمان اہل سنت، اگست دسمبر ۱۹۷۲ء، ص ۱۰۷۔
- ۱۰۔ ماہ نامہ رضائے حبیب (علماء اہل سنت نمبر) ص۲۱۔
- ۱۱۔ ایضاً‘ ص۲۱۔
- ۱۲۔ غلام مرتضیٰ مولانا‘ اکفر الرحمانی فی کشف القادیانی مطبوعہ لاہور پرنٹنگ پریس‘
ص۲۰۴ تا۲۰۷۔
- ۱۳۔ اکفر الرحمانی کشف القادیانی‘ ص۲۰۷‘۲۲۰۔
- ۱۴۔ ایضاً‘ ص۴۔
- ۱۵۔ روزنامہ مشرق‘ لاہور‘ ۵ نومبر ۱۹۷۶ء‘ ص۳۔
- ۱۶۔ مولانا ابوالحسنات‘ سید محمد احمد قادری‘ از مظفر علی شمسی۔
- ۱۷۔ روزنامہ مشرق ۵ نومبر ۱۹۷۶ء‘ ص۳
ایک عبرت آموز واقعہ
کہروڑ پکا ضلع ملتان میں واقع ہے۔ یہاں علماء دین نے جہالت کے اندھیروں‘ شرک و بدعت کی ضلالتوں اور رسوم و رواج کی قباحتوں کے خاتمہ کے لئے زبردست محنت کی ہے۔ خصوصاً حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مجلس احرار اسلام کے دیگر اکابر نے نصف صدی تک یہاں توحید و ختم نبوت کی صدائے حق بلند کی اور یہ علاقہ مجاہدین احرار کے رجزیہ ترانوں سے گونجتا رہا۔ یہاں دین اسلام کی مسلسل تبلیغ کے ذریعہ مسلمان کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان کے قلب و ذہن میں انگریز کے خلاف بغاوت اور اس کے خودکاشتہ پودے ”مرزائیت“ کے احتساب کا جذبہ اور شعور پیدا کرنا صرف احرار کا ہی حصہ ہے۔
۱۷ مئی ۱۹۶۶ء کا ذکر ہے۔ میں اپنے کسی کام سے کہروڑ پکا گیا تو صابر میڈیکل سٹور پر مڈل سکول ”دھنوٹ“ کے استاد ماسٹر طالب حسین صاحب حال ساکن بستی پکہ تحصیل لودھراں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مرزائی چیتھڑے روزنامہ ”الفضل“ کی بابت اپنا
ایک عبرت آموز واقعہ بیان کیا۔ میں نے ان کی زبانی واقعہ سن کر فوراً قلمبند کر لیا اور ان کے دستخط کے ساتھ اسے محفوظ کر لیا۔ مرزائی چیتھڑے ”الفضل“ کے دجل و تلبیس اور خدع و فریب کے اس مذموم کاروبار سے عامتہ المسلمین کو خبردار کرنے اور مرزائیوں کے دھوکے سے بچانے کی غرض سے طالب حسین صاحب کا بیان من و عن پیش خدمت ہے۔
”۷۴ء میں بندہ مڈل سکول دھنوٹ میں تعینات تھا۔ وہاں اتفاق سے ایک مرزائی پٹواری غلام حسین نامی بھی رہا کرتا تھا۔ اس کا لڑکا مدرسہ میں زیر تعلیم تھا اور وہ اپنے ہمراہ اکثر اوقات ”الفضل“ لایا کرتا تھا۔ میں نے دو چار بار ”الفضل“ دیکھا تو اس میں بیرونی ممالک میں تبلیغی سرگرمیوں کی خبری غرض سے اسے دیکھنے کا اشتیاق ترقی پانے لگا۔ ایک شب کو میں اسے مطالعہ کرتے ہوئے سرہانے رکھ کر لیٹ گیا۔ نصف شب کے قریب انتہائی درجہ کی عفونت سے میری نیند کھل گئی۔ ہر چند ادھر ادھر دیکھا‘ بستر کا جائزہ لیا‘ کوئی چیز دیکھنے میں نہ آئی۔ جونہی بستر کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے میں نے ”الفضل“ کو ہاتھ میں لیا تو عفونت سے دماغ پھٹنے لگا۔ میں نے اسے دور پھینکا تو گندگی کی بو کم ہونا شروع ہو گئی لیکن اس کے اثرات صبح تک دماغ پر قائم رہے۔ اس کے بعد میں نے اس گندگی کے پلندے کو ایک نظر دیکھنے سے بھی ہمیشہ کے لئے توبہ کر لی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے باطل کی طرف مائل ہونے سے بچا لیا۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ۔۔۔۔۔ مئی ۱۹۹۰ء‘ از قلم محمد حسن چغتائی)
قادیانی نوجوان نے اسلام قبول کر لیا
اب میں عمر بھر مرزائیت کے خلاف جہاد کروں گا
میم الف۔ معاویہ‘ چیچہ وطنی
مرکزی جامع مسجد عثمانیہ چیچہ وطنی میں حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ صاحب بخاری نے خطبہ جمعتہ الوداع ارشاد فرمایا‘ اس موقع پر شاہ جی کے ہاتھ پر ایک مرزائی محمود
احمد نے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ محمود احمد نے اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا‘ کافر‘ مرتد اور واجب القتل سمجھتا ہے۔ محمود احمد نے وضاحت کی کہ وہ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور حضور ( ﷺ ) کے بعد ہر مدعی نبوۃ کو مرتد سمجھتا ہے۔
نو مسلم محمود احمد نے نمائندہ نقیب ختم نبوۃ چیچہ وطنی کو اپنے مرزائیت سے تائب ہونے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے موقع پر مرزا طاہر نے لندن سے تمام مرزائیوں کو حکم بھیجا کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں۔ مجھے پیپلز پارٹی سے طبعی نفرت تھی‘ لہٰذا میرے دل میں شکوک و شبہات نے جنم لیا۔ اسی طرح میں ایک دفعہ غلہ منڈی کی مسجد چلا گیا۔ وہاں تبلیغی جماعت کے احباب موجود تھے۔ انہوں نے مجھے دعوت تبلیغ دی۔ وہ میرے ساتھ اس طرح پیار محبت سے پیش آئے کہ میں مرزائیت سے نفرت اور اسلام سے محبت کرنے لگا۔ اسلام سے محبت کی وجہ سے میں مولانا یار محمد صاحب (خطیب جامع مسجد غلہ منڈی) کے پاس گیا۔ ان سے سوال و جواب ہوتے رہے اور یہ سلسلہ چند دن چلتا رہا۔ اس دوران میں اپنے گاؤں (۳۰- ۱۱ ایل) گیا تو نماز پڑھنے کے لئے مرزائیوں کے مرزواڑے چلا گیا۔ وہاں ایک ماسٹر صاحب ملے‘ انہوں نے پوچھا‘ تم کہاں رہتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ میں چیچہ وطنی شہر میں کام کرتا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ تم کسی مولوی کے پاس بھی جاتے ہو؟ میں نے کہا‘ ہاں! اگر کوئی مولوی دین اسلام کی بات بتائے تو اس کے پاس چلا جاتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تم مولویوں سے بچا کرو۔ آئندہ کسی مولوی کے پاس نہ جانا۔
محمود احمد نے بتایا‘ اس موقعہ پر اس ماسٹر سے اور بھی بات چیت ہوتی رہی۔ دوران گفتگو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ چھڑ گیا۔ وہ کہنے لگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ کوئی ثبوت۔ وہ کہنے لگا کہ میں تمہیں قرآن پاک کے اندر دکھاتا ہوں چنانچہ وہ اپنا قرآن پاک اٹھا لایا۔ اس میں جب دیکھا تو واقعی اسی طرح تھا‘ جس طرح ماسٹر نے کہا۔ میں چپ ہوگیا کیونکہ میں کوئی عالم تو تھا نہیں۔ گھر آکر میں نے اپنی بیوی سے اس بات کا تذکرہ کیا تو اس نے قرآن پاک اٹھا کے دکھایا۔ اس میں لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ مرزائی اپنے ہم مذہب لوگوں کو تحریف شدہ قرآن پاک پڑھاتے ہیں۔ یہ
دیکھنے کے بعد مجھے مرزائیت سے بہت نفرت ہو گئی اور میں سمجھنے لگا کہ مرزائی جھوٹے ہیں۔ مولانا یار محمد صاحب نے دوسری ملاقات میں مجھے دفتر احرار (چیچہ وطنی) میں بھیج دیا، یہاں میری ملاقات مجاہد ختم نبوۃ جناب عبد اللطیف خالد چیمہ صاحب سے ہوئی۔ ان سے تفصیل کے ساتھ ختم نبوۃ اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر بات چیت ہوئی۔ بعد میں وقتاً فوقتاً دو ہفتے جناب چیمہ صاحب سے ملتا رہا۔ اس دوران مجھے مولانا سید عطاء المحسن شاہ صاحب بخاریؒ کی ایک کیسٹ سنائی گئی، جس میں حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کی گئی تھی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کا پورا پول کھولا گیا تھا۔ ان ملاقاتوں سے میرا ذہن بتدریج پختہ ہوتا گیا۔ یہ بات راسخ ہو گئی کہ مرزائی جھوٹے اور مرتد ہیں۔ ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ لہٰذا اب میں نے پورے شرح صدر کے ساتھ حضرت شاہ صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
محمود احمد نے اپنی ملاقات کے دوران بتایا کہ اس کی بیوی مسلمان ہے۔ اس طرح ان کے دادا سے اوپر تمام خاندان مسلمان تھا۔ لیکن جس چک میں ہم رہتے ہیں (۳۰۔۱۱ ایل) وہاں بڑے بااثر جاگیردار رہتے ہیں، جنہوں نے میرے دادا کو ان کی معاشی مجبوریوں کی بنا پر مرزائی مذہب میں داخل کر لیا۔ یہ صرف کسی ایک فرد کے ساتھ ان کا معاملہ نہیں بلکہ ۳۰ چک کے اور بھی بہت سے افراد کو جاگیرداری نظام کے تحت مرزائی بنا رکھا ہے۔ محمود احمد نے بتایا کہ مرزائیوں نے وہاں ایک عبادت گاہ بھی قائم کر رکھی ہے، موصوف نے بتایا کہ جمعہ کو قبول اسلام کا اعلان کر کے جب میں اپنے گاؤں مسجد میں تراویح پڑھنے کے لئے گیا تو تمام مسلمان مجھے حیرت سے تکنے لگے۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ موصوف نے کہا میں اب تہیہ کر چکا ہوں کہ اپنے علاقہ میں مرزائیت کے خلاف جدوجہد کروں گا اور لوگوں کو مرزائیوں کے مکر و فریب سے آگاہ کروں گا۔
محمود احمد کے مسلمان ہونے پر شہر کے تمام دینی، سیاسی، جماعتی حلقوں نے مبارکباد پیش کی اور خوشی کا اظہار کیا۔ دوسرے دن محمود احمد نے مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنے قبول اسلام پر قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بیان حلفی دائر کیا۔
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ ملتان‘ مئی ۱۹۹۰ء)
ایک گریجویٹ خاتون کی مرزائیت سے توبہ
یہ ایک تعلیم یافتہ خاتون کی داستان عبرت ہے۔ جو قادیانیت کے جال میں پھنس چکی تھی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دھوکہ باز پیروکاروں کی چکنی چپڑی باتوں میں آچکی تھی لیکن اللہ رب العزت کی بے پایاں رحمت نے آغوش میں لے لیا، خوش بختی نے دامن تھاما، ایک عالم دین کی پرخلوص کوشش سے وہ خاتون قادیانیت سے تائب ہو گئی اور رسول آخرین محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت پر پختہ یقین کر کے نیک بختی کو سمیٹ لیا۔ (ادارہ)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اس دور پرفتن میں جہاں دیگر بہت سے فتنے جنم لے رہے ہیں وہیں ایک خطرناک فتنہ مذہبی آزادی اور بے راہروی کا بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں میں پھیل رہا ہے۔ باطل قوتیں اجتماعی طور پر مسلمانوں کے در پے ایمان ہیں اور مختلف انداز سے ان کا ایمان برباد کر رہی ہیں، المیہ ہے کہ اچھے اچھے دیندار گھرانے اس کی زد میں آرہے ہیں اور اس میں جہاں ہمارے تعلیمی اور معاشرتی ماحول کا قصور ہے، وہیں والدین کی بے اعتنائی اور بے پروائی کا بھی دخل ہے۔ راقم الحروف کے ساتھ چند روز پیشتر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ چونکہ عبرت انگیز بھی ہے، اور اس میں والدین کے لیے دعوت فکر بھی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔ شاید کوئی اس واقعہ سے سبق حاصل کر کے اپنا رخ صحیح کر لے۔
واقعہ یہ ہے کہ راقم الحروف مورخہ ۱۷ نومبر بروز پیر شام کو جب گھر پہنچا تو اپنی مسجد کے قاری صاحب کو انتظار کرتے ہوئے پایا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی پاس آئے اور فرمانے لگے کہ آپ سے ایک بہت ہی ضروری کام ہے۔ وہ یہ کہ جو صاحب جمعہ کی نماز کے لیے سب سے
پہلے ہماری مسجد میں آتے ہیں اور اکثر ذکر اذکار میں مشغول رہتے ہیں، وہ دوپہر کو میرے پاس آئے تھے اور بہت پریشان تھے۔ وہ اس لیے آئے تھے کہ ان کی ایک ہی بیٹی ہے اور تین بیٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی سالی کے لڑکے (لڑکی کے خالہ زاد بھائی) سے کیا ہے اور ۲۲ نومبر کو رخصتی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ رات کو لڑکے والے یعنی لڑکا اور اس کی والدہ، پھوپھی اور دو بہنوئی اور دو ایک افراد، وہ سب مل کر آئے اور آکر کہنے لگے کہ نکاح پڑھانے کے لیے ہم اپنا مولوی لائیں گے، میں نے کہا کہ ہوتا تو یوں ہے کہ مولوی صاحب کو لڑکی والے لاتے ہیں اور ان کی فیس وغیرہ بھی وہی ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مولوی صاحب کو آپ لائیں تو لے آئیں۔ جو فیس وغیرہ ہو گی، وہ ہم ادا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ لڑکا احمدی (مرزائی) ہے اس لیے مولوی بھی خود لائے گا۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ میرے تو ہوش اڑ گئے کہ لڑکا مرزائی ہو اور میں اس کو اپنا داماد بناؤں؟ میں نے کہا کہ آپ نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی کہ لڑکا مرزائی ہے؟ مرزائی تو کافر ہوتے ہیں اور میں تو اپنی لڑکی کسی کافر کو نہیں دے سکتا، اس پر لڑکے نے کہا کہ آپ اپنی لڑکی سے پوچھ لیں، وہ بھی احمدی (مرزائی) ہے۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ میرے تو اوسان خطا ہو گئے کہ میری لڑکی جو میری تربیت میں رہی، وہ مرزائی ہو! میں نے فوراً اسے بلا کر پوچھا تو میری وہ لڑکی جس نے کبھی میرے سامنے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کی تھی، وہ صاف بولی کہ ”ہاں میں احمدی ہوں اور آپ کو کافر سمجھتی ہوں“۔
میرے، میرے بیٹوں اور اہلیہ کے لیے یہ قیامت تھی۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں دفن ہو جاؤں۔ الغرض میں نے ان آنے والوں کو تو اس جھگڑے میں رفع دفع کیا اور اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تو نے یہ کس طرح کہہ دیا؟ تو اس نے بتایا کہ ”مجھے میرے منگیتر (خالہ زاد بھائی جس سے نکاح ہونا تھا اس نے) مرزائیوں کا لٹریچر لا کر دیا اور میری رہنمائی کی“ میں نے اسے بہت سمجھایا، لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئی۔ ہمارے لیے وہ رات انتہائی غم کی رات تھی۔ ہم بالکل نہیں سوئے اور اس کا بھائی بھی پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا، اور کھانا بھی ہم نہیں کھا سکے۔ اس لیے آپ میرے ساتھ چلیں اور اسے سمجھائیں۔
قاری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انہیں جواب دیا کہ خطیب صاحب عالم ہیں۔ وہ
رات کو آٹھ بجے آتے ہیں۔ میں ان کو ساتھ لے کر آؤں گا‘ لہٰذا اب آپ میرے ساتھ چلیں‘ جلدی سے کھانا کھا لیں‘ چنانچہ میں نے جلدی سے کھانا کھایا اور دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھ کر اس لڑکی کے لیے خصوصاً اور پورے عالم کے لیے عموماً ہدایت کی دعا کی اور نو ساڑھے نو بجے کے قریب ان کے گھر گئے۔ وہاں جا کر لڑکی کے والد صاحب سے ملاقات کی۔ انہوں نے ساری صورت حال بتائی۔ پھر اس لڑکی کو بلایا‘ اس لڑکی کی والدہ‘ والد اور بھائی سب بیٹھے۔ ان سب کی موجودگی میں‘ میں نے لڑکی سے یہ سوال کیا کہ ساری امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا اور جو شخص کسی طرح بھی نبوت کا دعویٰ کرے‘ وہ جھوٹا ہے۔ آپ کو اس عقیدہ میں کوئی اشکال ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ میں آپ سے سوال کرتی ہوں آپ مجھے جواب دیجئے۔
سوال: نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟
جواب: نبی اور رسول میں یہ فرق ہے کہ رسول کو نئی شریعت اور نئی کتاب دے کر مبعوث کیا جاتا ہے جبکہ نبی اپنے سے پہلے آنے والے رسول ہی کی شریعت کو لے کر مخلوق کی ہدایت کا کام کرتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہر رسول تو نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور یہ بھی تغلیبی قاعدہ ہے۔ ورنہ بسا اوقات نبی کو رسول بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
اس لڑکی نے کہا کہ میں مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتی۔ بلکہ نبی مانتی ہوں۔ وہ بھی غیر تشریعی نبی کہ وہ بھی آپ ﷺ پر ایمان لا کر آپ ہی کا کام کرتے ہیں۔
میں نے جواب میں کہا کہ آپ کی بات کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی دین کا کام کرے‘ تو وہ نبی ہو جائے گا؟ لہٰذا پھر تو بہت سے علماء اور تبلیغی جماعت والے نبی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی کہا کہ پھر آپ ﷺ کے اس فرمان کے کیا معنی ہوں گے ”انا خاتم النبيين لا نبی بعدی؟“
(رواہ مسلم)
وہ کہنے لگی کہ اس حدیث شریف میں تشریعی نبی کی نفی ہے۔ مرزا تو غیر تشریعی نبی ہے۔
میں نے کہا کہ تشریعی نبی کو تو رسول کہتے ہیں۔ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ لا نبی بعد میں لا نفی جنس کے لیے ہے۔ (جیسا کہ لا الہ الا اللہ میں) جس سے ہر قسم کی نبوت کی نفی ہوتی
ہے ۔ خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی۔ ضمنی ہو یا غیر ضمنی۔ ظلی ہو یا بروزی۔ اس صورت میں حدیث شریف کا معنی یہ ہو گا کہ میرے بعد کسی بھی قسم کا نبی تشریعی ، غیر تشریعی ، ظلی بروزی کوئی بھی پیدا نہیں ہو گا۔ اس موقع پر احقر کو حضرت مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ علیہ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ موقع کی مناسبت سے ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے صاحبزادے مولانا حفیظ الرحمٰن واصف مرحوم رقم طراز ہیں:
ایک مرتبہ راقم الحروف (واصف) ریل کے سفر میں حضرت والد ماجد کا ہم رکاب تھا۔ جس ڈبے میں ہم دونوں تھے ، اس میں دہلی کے سوداگروں میں سے دو معزز دولت مند حضرات بھی ہم سفر تھے اور ان کے قریب دو تین بھاری بھر کم قادیانی مولوی بھی بیٹھے تھے اور مرزا غلام احمد کی صداقت اور نبوت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ان میں سے ایک بڑا مولوی بڑے زور و شور سے بول رہا تھا۔ بڑا لسان اور طرار معلوم ہوتا تھا۔ حضرت والد ماجد کچھ فاصلے پر تھے اور ان لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے۔ قادیانیوں کے مخاطب کبھی کبھی جواب دیتے تھے ، مگر پھر لاجواب ہو جاتے تھے۔ آخر حضرت نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کی گفتگو میں دخل انداز ہونا نہیں چاہتا تھا مگر یہاں معاملہ دین کا ہے اس لیے خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جو ابھی یہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور مرزا صاحب کی نبوت سے ختم نبوت میں کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا صاحب کی نبوت حضور ہی کی نبوت کا ایک جزو اور ضمیمہ ہے تو یہ تو فرمائیے کہ حضور ﷺ کے اس قول لا نبی بعدی میں تو کسی خاص قسم کی نبوت کی تخصیص نہیں ہے ، مطلق نبوت کی نفی ہے۔ ضمنی ، غیر ضمنی اور ظلی ، بروزی کی تخصیص کا ثبوت کہیں نہیں ملتا۔ لائے نفی جنس نے نبوت کے تمام اقسام و اصناف کی نفی کر دی ہے۔ پھر بیچ میں نبوت ضمنی کیسی؟
قادیانی مولوی نے جواب دیا کہ جس طرح سچا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہوتا ہے ، اسی طرح ضمنی نبوت بھی ہوتی ہے۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا دائرہ عمل قیامت تک ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لیے آپ کے ہی دین کی تجدید کے لیے نبی آ سکتا ہے اور اس سے آپ کی ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حضرت مفتی اعظمؒ نے فرمایا ”نبوت کا چالیسواں حصہ اگر کسی کو عطا فرمایا جائے تو وہ
شخص نبی نہیں بن جائے گا۔ انسان کی ایک انگلی کو انسان کا لقب نہیں دیا جا سکتا“۔ اور آنحضرت ﷺ تو آپ کے دعوے کے مطابق قیامت تک کے لیے نبی ہیں۔ پھر حضور کا یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا؟ بولئے جواب دیجئے؟
حضرت نے کئی مرتبہ فرمایا بولئے جواب دیجئے، مگر ادھر ایسا سناٹا چھا گیا کہ صدائے برنخاست۔ قادیانی اک دم مبہوت ہو گئے۔ بالکل جواب نہ دے سکے۔
پھر فرمایا کہ آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ حضور ﷺ قیامت تک کے لیے نبی ہیں، خود اس امر کا اقرار ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا عہدہ کبھی کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا، دوران نبوت کسی اور نبی کی بعثت کے کیا معنی؟ اور اس کی ضرورت کیوں؟ بولئے جواب دیجئے مگر صدائے برنخاست۔
قادیانیوں پر اوس پڑ گئی اور شکست خوردگی کی وجہ سے چہرے زرد اور ہونٹ خشک ہو گئے اور بالکل ساکت و صامت ہو گئے تو حضرت والد ماجد نے تقریباً ایک گھنٹے تک قادیانیت کے رد میں مسلسل تقریر کی۔
اس کے بعد دلی کے ہم سفر حضرات نے دریافت کیا کہ حضرت آپ اپنا تعارف تو فرمائیے۔ فرمایا کہ مجھے کفایت اللہ کہتے ہیں، مدرسہ امینیہ کا مدرس ہوں۔
اس وقت کا منظر بڑا عجیب تھا۔ ڈبے کے تمام ہم سفر مسلمانوں نے بھی یہ تمام گفتگو سنی تھی۔ بہت شکریہ ادا کیا اور ان دولت مند حضرات نے کہا کہ حضرت ہم تو متذبذب ہو گئے تھے۔ آپ نے بروقت ہماری دستگیری کی اور اپنی کوتاہی پر بڑے نادم ہوئے کہ دلی میں رہتے ہوئے ہم شرف ملاقات سے محروم تھے۔
ادھر قادیانی مولویوں کا یہ حال تھا کہ آپس میں ادھر ادھر کی باتیں کرنا بھی بھول گئے تھے۔ اس وقت غالباً راقم الحروف کی عمر تیرہ چودہ برس کی تھی۔ (اور اب غفلت و معصیت کی اٹھاون منزلیں طے ہو چکی ہیں) افسوس کہ والد ماجد کی بحث اور محققانہ تقریر نہ تو میں سمجھ سکتا تھا نہ یاد رہ سکتی تھی۔ اتنا خوب یاد ہے کہ بحث تو کچھ زیادہ ہوئی ہی نہیں دو چار جملوں میں ہی قادیانی مولویوں کا کام تمام ہو گیا۔ البتہ بعد میں تقریر خاصی طویل اور مفصل تھی۔ واقعہ کا ایک خانہ ذہن میں محفوظ تھا جو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں تحریر کر دیا ہے۔
(مفتی اعظم کی یاد، ص ۱۰۴)
ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
وہ کہنے لگی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
میں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے شر سے بچانے کے لیے زندہ و سلامت آسمانوں پر اٹھا لیا تھا۔ اب وہ قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
وہ کہنے لگی کہ مرزا ہی عیسیٰ ہے۔
میں نے کہا کہ مرزا قادیان میں پیدا ہوا، وہیں پرورش پائی اور وہیں زندگی گزاری جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحیح احادیث میں آتا ہے کہ وہ شام کے شہر دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارے پر نازل ہوں گے۔ عصر کی نماز کا وقت ہو گا، سیڑھی لائی جائے گی۔ نیچے تشریف لائیں گے، لوگ کہیں گے آپ نماز پڑھائیے وہ فرمائیں گے " امامکم منکم" (تمہارا امام تمہی میں سے ہے) پھر اس کے بعد وہ دجال کو قتل کریں گے، شادی کریں گے، ان کی وفات ہو گی۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔
دجال کی ساری علامات احادیث میں مذکور ہیں کہ وہ مشرق سے مغرب تک کا چکر لگائے گا۔ بہت سے یہودی اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ جنت و جہنم ہو گی۔ غرض بہت سی علامات گنوائی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی میں ان میں سے ایک بات بھی نہیں پائی جاتی۔
کہنے لگی کہ وہ دجال جس کا عیسیٰ علیہ السلام مقابلہ کریں گے، وہ ایک سپر پاور کے روپ میں ہے اور ایک آنکھ سے کانا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق سے آنکھ بند کیے ہوئے ہے۔
میں نے جواباً کہا کہ عربی کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ جب تک کسی لفظ کے حقیقی معنی مراد لیے جا سکتے ہوں، اس وقت تک اس لفظ کے مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں ہوتا، آپ کیوں اس کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی کی طرف جارہی ہیں؟ نیز مرزا نے کون سی سپر پاور کا
مقابلہ کیا؟ بلکہ وہ تو خود انگریز کا خود ساختہ پودا تھا۔ انگریز کی حکومت کو رحمت الٰہیہ کہتا رہا اور اس کے مقابلہ میں جہاد کو حرام کہتا رہا۔ ساری زندگی انگریز کی وفاداری میں گزاری۔
کہنے لگی کہ وہ مہدی ہے۔
میں نے کہا کہ حضرت امام مہدی کے بارے میں بھی احادیث معتبر اسناد سے مروی ہیں کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے۔ والدہ کا نام آمنہ اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوں گے اور اس خوف سے کہ مدینہ منورہ کے لوگ انہیں خلیفہ بننے پر مجبور نہ کریں‘ وہاں سے مکہ مکرمہ چلے آئیں گے۔ وہاں طواف کر رہے ہوں گے کہ اس زمانے کے اولیاء کرام انہیں پہچان لیں گے اور غیب سے ایک آواز آئے گی ”هذا خلیفه الله المهدی“ (یہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں) وغیرہ وغیرہ جبکہ مرزا مغل ہے۔ قادیان میں پیدا ہوا‘ وہاں رہا۔ مکہ مکرمہ کبھی دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔ نہ کسی یہودی سے اس کا مقابلہ ہوا۔
کہنے لگی کہ حدیث میں آتا ہے کہ مسیح موعود کی عمر چھ سو سال ہوگی۔ یعنی ان کی خلافت چھ سو سال تک رہے گی۔ اب ان کا خلیفہ چہارم چل رہا ہے اور سب علامتیں بھی آہستہ آہستہ پوری ہوں گی۔
میں نے جواباً کہا کہ یہ حدیث سرے سے ثابت ہی نہیں۔
پھر اس لڑکی نے کچھ کتابیں لا کر دکھلائیں جو اس قسم کی بہت سی خرافات پر مشتمل تھیں۔ غرض بات چلتی رہی حتیٰ کہ آخر میں اس نے یہ طے کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں پیش کردہ احادیث اصل کتابوں سے باحوالہ دکھا دی جائیں اور قادیانیوں کی طرف سے چھاپے گئے ایک پمفلٹ ”ختم نبوت اور بزرگان امت“ کا جواب دے دیا جائے تو میں قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو جاؤں گی‘ ہم نے اس کی حامی بھر لی اور کہا کہ ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ اس لیے ہم واپس چلے آئے۔ ہم نے اس لڑکی کے والد سے یہ بات کی کہ لڑکی تائب ہو یا نہ ہو‘ آپ نے اس کا رشتہ اب اس لڑکے سے نہیں کرنا۔ لڑکی کے والد صاحب نے اس سے اتفاق کیا۔ صبح کو میں اپنی کتابیں دیکھنے لگا کہ قادیانیت کے بارے میں کوئی کتاب ہو تو اس کا مطالعہ کروں۔ ان کے متعلق مستقل کتاب تو کوئی نہ ملی۔ البتہ انوار مدینہ میں (جو
ہمارے جامعہ کا ماہانہ رسالہ ہے) گزشتہ پانچ ماہ سے حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ”الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ“ مع ترجمہ کے شائع ہو رہی تھی۔ میں نے وہ سارے شمارے لا کر قاری صاحب کو دیے کہ یہ اس لڑکی کو پہنچا دیں۔ اور میں جامعہ چلا آیا۔ یہاں میں نے اپنے استاذ محترم مولانا نعیم الدین صاحب سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بھی بہت فکر مند ہوئے اور اس سلسلہ میں ہر طرح سے میری معاونت کی۔ میں نے ان سے کہا کہ عشاء کے بعد اس لڑکی سے فیصلہ کن بات ہونی ہے۔ آپ بھی چلیں۔ اولاً تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں تیاری کروا دیتا ہوں۔ لہٰذا بات تم خود ہی کرو لیکن جب میں نے اصرار کیا تو آپ نے چلنے کی ہامی بھر لی۔
چنانچہ آپ میرے ساتھ عشاء کے بعد مکتبہ سے سیدھے گھر تشریف لائے۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ہم قاری صاحب کی معیت میں حسب وعدہ ان صاحب کے گھر پہنچے۔ گھنٹی بجائی تو وہ صاحب باہر آئے اور بڑی خوشی سے ملے اور میرے ہاتھ میں کتابیں دیکھ کر کہنے لگے کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔ وہ تو رات ہی کو ساری بات سمجھ گئی تھی اور مان گئی تھی۔ مزید آپ کی صبح کی بھیجی ہوئی کتابوں سے اس کو تسلی ہو گئی۔ اب وہ مطمئن ہے۔ اب صرف اس کو مشرف بہ اسلام کر دیجئے۔ ہمیں اس کے والد سے یہ خوشخبری سن کر بہت خوشی ہوئی۔ ہمیں ان صاحب نے بیٹھک میں بٹھایا اور وہ صاحب مع اپنے کنبہ کے بیٹھے۔ استاذ محترم نے انتہائی جامع الفاظ میں مختصر طور پر اور مشفقانہ انداز میں بات فرمائی۔
مضمون کی طوالت کے خوف سے ان کا پورا بیان تو نہیں لکھتا مختصراً یہ کہ آپ نے پہلے عقیدہ کے مدار نجات ہونے کا ذکر کیا، پھر موجودہ پر فتن دور میں عقیدہ کی حفاظت کی اہمیت بیان کر کے فتنہ مرزائیت پر تفصیل سے بات فرمائی جس میں یہ نکتہ خاص طور پر سامنے رکھا کہ ہمیں حیات عیسیٰ اور ختم نبوت کی تشریح جو کہ علمی باتیں ہیں، ان سے صرف نظر کرتے ہوئے پہلے اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ کتاب وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی شخصیت کے پہچاننے کا معیار اس شخصیت کے حالات زندگی ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار مکہ کے سامنے اپنی زندگی کو پیش کر کے فرمایا تھا فقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون دیکھو میں دعوائے نبوت سے پہلے تم میں اپنی زندگی کا ایک طویل ترین حصہ گزار چکا ہوں (میرے سارے
حالات تم پر کھلے ہوئے ہیں) ان حالات کو جاننے کے باوجود بھی تم نہیں سمجھتے (تو تم پر حیرت ہے)۔ ہمیں اس معیار کے مطابق علمی بحثوں کو چھوڑ کر مرزا صاحب کے حالات زندگی دیکھنے چاہئیں۔ چنانچہ جب ہم ان کے حالات زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کا نبی یا مہدی و مسیح یا مجدد ہونا تو بہت دور رہا، ان کا معمولی درجہ کا مسلمان ہونا بھی نظر نہیں آتا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی تھے۔ جھوٹے دعوے اور جھوٹی پیشین گوئیاں کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ وہ دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کے لیے مریدوں سے چندہ لیا اور صرف چار لکھ کر بس کر دیا۔ جب ان کے مریدوں نے مزید کا تقاضا کیا تو پانچویں جلد لکھ کر ان سے کہا کہ پانچ سے پہلے صفر لگاؤ پچاس ہو جائے گا۔
وہ گالیاں دینے کے عادی تھے۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو ایسی ایسی غلیظ گالیاں دی ہیں کہ کسی بازاری آدمی سے بھی ان کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی سخت توہین کی ہے۔ اسی پر بس نہیں، انہوں نے جناب نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام والتسلیم اور دیگر انبیاء و صالحین کی بھی توہین کی ہے اور نہایت نازیبا کلمات سے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن وحدیث کے معانی و مفہوم میں تحریف کی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
دیکھئے یہ ایک کتاب مرزا صاحب کے حالات زندگی پر میں ساتھ لایا ہوں۔ یہ ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھی ہے اور اس کا نام ”سیرت المہدی“ ہے۔ اس میں سے چند مقامات میں جناب کو پڑھ کر سناتا ہوں۔
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ ماجدہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول..... کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا“ (سیرت المہدی، ج ۱، ص ۱۶)
موصوف آگے لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی، ج ۲، ص ۵۵)
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب ہسٹریا اور مراق کے مریض تھے۔ آپ جانتی ہیں کہ ایسے مریض کی دماغی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ اور اس سے کیسی کیسی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس کے چند نمونے اسی کتاب سے میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ دیکھئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں اتنے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی ہدیتا لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں پاؤں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے“۔ (سیرت المہدی‘ ج ۲‘ ص ۵۸)
ڈاکٹر اسماعیل تو اسے عقیدت میں مرزا صاحب کی جسمانی سادگی سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مرزا صاحب کی اسی دماغی کیفیت کے اثرات ہیں کہ ان سے صحیح طرح جراب پاؤں میں نہیں ڈالی جاتی۔ انہیں الٹے سیدھے جوتے کا پتہ نہیں چلتا۔ اسی طرح انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کھا کیا رہے ہیں۔
مرزا صاحب کے ایک مرید معراج الدین عمر قادیانی مرزا صاحب کے حالات میں لکھتے ہیں کہ ”آپ کو میٹھا کھانے کا بہت شوق تھا اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی تھی تو گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلے ایک ہی جیب میں رکھتے تھے۔ کیونکہ پیشاب آپ کو کثرت سے آتا‘ ڈھیلے استعمال کرنے کی نوبت پیش آتی‘ کبھی کبھی آپ گڑ سے استنجا کر لیتے اور مٹی کے ڈھیلے کھا لیتے تھے“ (مرزا صاحب کے حالات‘ مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی‘ تتمہ براہین احمدیہ‘ ج ۱‘ ص ۶۷)
اور سنئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ‘ صدری‘ ٹوپی‘ عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے
نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ الگ جگہ کھونٹے پر ٹانگ دیتے ہیں‘ وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے“۔
(سیرت المہدی‘ ج ۲‘ ص ۱۲۸)
غور کیجئے مرزا صاحب کی تو یہ حالت تھی اور دعوے تھے مہدیت‘ مسیحیت اور نبوت کے۔ اسے ہم مالیخولیا کی کیفیات کے اثرات نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ ایسا شخص نبی و مہدی تو بہت دور رہا‘ معمولی درجہ کا بزرگ کہلانے کا مستحق بھی ہو سکتا ہے؟“
مرزا صاحب کو افیون مرغوب تھی۔ اس لیے وہ اس کی تعریف کرتے تھے۔ اور ہینگ والی دوائیاں کھاتے تھے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد ڈاکٹر اسماعیل کے حوالے سے مرزا صاحب کی دوائیوں کی فہرست لکھتے ہوئے جن میں ہینگ بھی شامل ہے‘ رقم طراز ہیں:
”فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غرباء کی مشک ہے اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔ اسی لیے اسے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے ان میں سے بعض دوائیں اپنے لیے ہوتی تھیں اور بعض دوسروں کے لیے“۔
(سیرت المہدی‘ ج ۳‘ ص ۴۴)
مرزا صاحب کو قرآن کی بڑی سورتیں تک یاد نہ تھیں۔ چنانچہ مرزا صاحب کے صاحبزادے لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا“۔ سیرت المہدی‘ ج ۳‘ ص ۴۴)
مرزا صاحب کی یہ حالت تھی کہ ان سے رمضان کے روزے رکھنا مشکل تھا۔ وہ روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ دیا کرتے تھے۔
مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں:
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کیے مگر آٹھ نو
روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لیے باقی چھوڑ دیے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ الخ“ (سیرت المہدی ‘ج ۱‘ ص ۶۵)
مرزا صاحب نے زندگی بھر حج نہ کیا نہ اعتکاف کیا نہ زکوٰۃ دی۔ دیکھئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا‘ اعتکاف نہیں کیا‘ زکوٰۃ نہیں دی‘ تسبیح نہیں رکھی“۔ (سیرت المہدی ‘ج ۲‘ ص ۱۱۹)
غور کیجئے کیا مہدی و مسیح کی یہی شان ہوتی ہے؟
مرزا صاحب کی نماز کا حال سنیں۔ ان کی نماز کیسی تھی؟ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی۔ ایسی کہ دم نہ آتا تھا۔ البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی تاکہ آرام سے پڑھ سکیں“ (سیرت المہدی ‘ج ۳‘ ص ۱۰۳)
مرزا بشیر احمد مزید لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے‘ حضرت خلیفہ المسیح اول بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لیے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا‘ ہاں حضور‘ فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔ آپ پڑھائیے“۔ (سیرت المہدی ‘ج ۳‘ ص ۱۱۱)
ملاحظہ فرمائیے؟ کیا مہدی و مسیح کی نماز کی یہی شان ہوتی ہے؟
مرزا صاحب کو غیر محرم خاتون سے خدمت لینے اور تنہائی میں رہنے سے بھی عار نہ تھا۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت بجالاتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی، مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لیے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں“۔ (سیرت المہدی، ص ۲۷۳، ج ۳)
یہ تو تھے مرزا صاحب کی زندگی کے مختصر حالات جو ان کے صاحبزادے کی لکھی ہوئی کتاب میں درج ہیں۔ اب اسی کتاب کے حوالے سے مرزا صاحب کی موت کی حالت بھی سن لیں۔ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں:
”اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی“۔ (سیرت المہدی، ج ۱، ص ۱۱)
اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ مرزا صاحب ہیضہ کے مرض میں اور ایسی بری حالت میں مرے تھے، العیاذ باللہ۔
استاذ محترم مولانا نعیم الدین صاحب بڑے تسلسل کے ساتھ یہ حوالے اس لڑکی اور اس کے گھر والوں کو سنا رہے تھے اور وہ سب یہ حوالے حیرت سے سنتے جاتے تھے اور مرزا
پر لعنت بھیجتے جاتے تھے۔ آخر میں استاذ محترم نے اس لڑکی سے پوچھا کہ اب آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ بولی کہ اب میری تسلی ہو گئی ہے‘ مجھے قطعاً ان باتوں کا علم نہیں تھا۔ میں مرزائیت سے توبہ کرتی ہوں۔ اس کے بعد استاذ محترم نے اس لڑکی سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ختم نبوت کی مبلغہ بنے گی اور چند کتابیں ہدیتاً دیں اور آخر میں دعا فرمائی۔ ہم لوگ خوشی خوشی ان کے گھر سے واپس آئے۔ اس لڑکی کے والدین اور بھائیوں نے ہمارا انتہائی شکریہ ادا کیا۔ اس سارے واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی طرف توجہ دیں اور انہیں ایسی آزادی نہ دیں جس سے ان کے اخلاق خراب ہونے کے ساتھ ساتھ دین بھی برباد ہو جائے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۱۶‘ شمارہ ۴۴۔ از قلم: مولانا محمد زکریا)
صاحب ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ذات کو صرف کسی خاص شعبہ زندگی کا نمونہ نہیں بنایا تھا بلکہ جو کچھ قرآن میں کہا گیا تھا‘ وہ سب یہاں دکھلا دیا گیا تھا۔ ایک شخص نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ ﷺ کے اخلاق کیا تھے۔ فرمایا کہ یہ قرآن ہی آپ کا خلق تھا۔ خلق میں اقوال و افعال سب داخل ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کا کوئی قول‘ کوئی فعل ایسا نہ تھا جو قرآن سے باہر ہو۔ گویا اسوہ رسول ﷺ کی جامعیت بھی کتاب اللہ کے ہم رنگ تھی۔ اسی لیے آپ کی ذات کو بلا کسی تفصیل کے تمام عالم کے لیے اسوہ بنا دیا گیا تھا۔ ایک طرف خدا کی یہ جامع کتاب موجود تھی‘ دوسری طرف یہ جامع اسوہ موجود تھا۔ خلاصہ یہ کہ ایک قرآن بشکل مصحف تھا اور دوسرا بشکل اسوہ رسول۔ فرق یہ تھا کہ وہ خاموش تھا اور یہ ناطق۔
(محدث شہیر حضرت مولانا سید بدر عالم مہاجر مدنی
رحمہ اللہ)
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق بنیادی طور پر تین ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک عظمت، ایک محبت ایک متابعت۔ عظمت یہ کہ آپ کو اتنا بڑا مانا جائے کہ کائنات میں کوئی اتنی بڑی ہستی نہیں ہے جتنی آپ کی ہے۔
دوسری چیز محبت ہے۔ اگر محبت نہیں ہو گی تو ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ آپ کا یہ حق ہے کہ ہم آپ سے محبت کریں۔ محبت کا خاصہ یہ ہے کہ فقط محبوب ہی محبوب نہیں ہوتا، محبوب کی ادائیں بھی محبوب ہو جاتی ہیں۔ جس سے محبت ہوتی ہے تو آدمی یہ چاہتا ہے کہ میں صورت بھی ایسی بنالوں، جیسی محبوب کی ہے۔ میں چال ڈھال بھی ایسی بنالوں جیسی محبوب کی ہے۔ میں رہن سہن کا ڈھنگ بھی وہ بنالوں جو میرے محبوب کا ہے۔ محبوب سے جب محبت ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
تیسرا حق متابعت ہے۔ یعنی جو قانون آپ نے لا کے دیا ہے، اس کی پیروی اور اطاعت کریں۔ جو سنتیں آپ سے ثابت ہیں، ان کی اتباع کریں۔ ایک ایک سنت کی پیروی میں جو نورانیت اور برکت ہے، ہم اپنی عقل سے ہزار قانون بنالیں۔ اس میں وہ خیر و برکت نہیں آسکتی جو آپ کی ایک ایک سنت کی ادائیگی میں برکت ہو سکتی ہے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین حقوق ہوئے۔ عظمت، محبت، متابعت۔ محبت میں فنائیت ہوتی ہے کہ آدمی محبوب میں فنا ہو جائے۔ متابعت میں قدم بہ قدم چلنے کا جذبہ ہوتا ہے کہ ایک ایک چیز میں پیروی نصیب ہو۔ عظمت سے اعتقاد پیدا ہوتا ہے۔ اگر بڑائی دل میں نہ ہو تو عقیدت نہیں ہو سکتی اور عقیدت و اعتقاد نہیں ہو گا تو ایمان نہیں بنے گا۔ اس واسطے ان تینوں حقوق کی ضرورت ہے۔ (حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ)
خاتم النبیین ﷺ کے اعضائے مبارکہ کا ذکر
قرآن کریم میں
حضرت علامہ عبدالروف مناوی (۱۰۰۳ھ) لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بے شمار خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ کے ایک ایک عضو مبارک کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ آپ کے چہرہ انور کے بارے میں ارشاد ہے قد نری تقلب وجهک، آنکھوں کے بارے میں ہے ولا تمدن عینیک اور زبان مبارک کے بارے میں فرمایا یسرناه بلسانک اور ہاتھ اور گردن کا ذکر ایک ساتھ ہے ولا تجعل یدک مغلوله الی عنقک اسی طرح سینے اور پشت کا ذکر مبارک سورہ الم نشرح میں ایک ساتھ کیا گیا ہے الم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظهرک اور قلب مبارک کا ذکر اس آیت میں ہے نزل به الروح الامین علی قلبک
(مناوی شرح شمائل علی ھامش جمع الوسائل، ص ۴۵)
ذکر جمنا داس جی یا ”را“ کی غلط معلومات کا
یہ پرانی ضرب المثل اب بے معنی ہو چکی ہے کہ جنگ کا سب سے پہلا شکار سچ ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ آج زمانہ امن میں بھی اس بیچارے کی گردن پر میڈیا کی چھری چلتی ہے اس سلسلے کی تازہ واردات ہندوستان کے مشہور صحافی جمنا داس اختر کا وہ مضمون ہے جو پچھلے دنوں انڈیا کے ”ہند سماچار“ نامی اخبار کی زینت بنا۔ جمنا داس جی نے اپنے مضمون میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان نے آج تک کسی ایسی تحریک، ایسے فرد یا ایسی پارٹی کی کوئی مدد نہیں کی جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہو۔ اس ضمن میں انہوں نے دو چار ایسے پاکستانیوں کے نام بھی گنوائے، جو ان کے بقول ہندوستان سے مدد حاصل کرنے دہلی پہنچے لیکن انہیں
"ناکام" لوٹنا پڑا۔ مقام حیرت ہے کہ اس قسم کے غیر مستند حوالوں سے جمنا داس جی ایسا دانشور یہ سطحی نتیجہ اخذ کر لے کہ پنڈت نہرو، مسز گاندھی اور راجیو گاندھی نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کا جیسے حلف اٹھا رکھا تھا۔ جمنا داس جی نے اپنے مضمون کی ابتداء احرار کے مرد مجاہد شیخ حسام الدین کے دورۂ ہندوستان سے کی۔ (یہ غالباً ۱۹۵۳ء کا واقعہ ہے) ان کے بیان کے مطابق..... ”شیخ حسام الدین پنڈت نہرو سے ملے اور انہیں کہا کہ وہ چودھری ظفر اللہ کے حوالے سے حکومت پاکستان کے خلاف قادیانی ایجی ٹیشن شروع کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں ان کی حمایت کے طالب ہیں۔ نہرو نے کسی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ اس پر شیخ حسام الدین نے دوبارہ کہا ”اگر آپ ہماری حمایت نہیں کر سکتے تو مخالفت بھی نہ کریں“۔
تحریک احرار برصغیر کی تاریخ کا باب حریت ہے۔ اگر اسے صفحات تاریخ سے خارج کر دیا جائے تو پھر انگریز کی خوشامد اور کاسہ لیسی کے سوا پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ جن لوگوں نے عمر بھر انگریزی راج کا سینہ تان کر مقابلہ کیا، جنہیں کوئی لالچ اور کوئی دباؤ سرنگوں نہ کر سکا، یہ فولادی لوگ نہرو کے سامنے کیوں دوزانو ہوتے، یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ تقسیم ہند کے چھ برس بعد پاکستان کے عوام پر پنڈت نہرو کا کتنا کچھ اثر ہوا ہو گا کہ شیخ حسام الدین کو ان سے یہ درخواست کرنے دہلی جانا پڑا کہ اگر وہ ان کی حمایت نہیں کر سکتے تو مخالفت بھی نہ کریں۔ مجھے تو یہ سارا مکالمہ ہی تاریخی سیاق و سباق سے اکھڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جمنا داس جی نے بطل حریت شیخ حسام الدین سے منسوب اس جھوٹے سچے واقعہ کو تو لکھ مارا لیکن انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کا کہیں ذکر نہیں کیا اور نہ عوامی لیگ کا جسے ۱۹۷۱ء میں بھارت کی بے پناہ حمایت حاصل رہی۔ بنگلہ دیش کی فوج آزادی (مکتی باہنی) کا صدر دفتر کلکتہ میں قائم تھا۔ اس وقت کے مشرقی پاکستان کی سرزمین پر مکتی باہنی کے سارے آپریشنز انڈین آرمی کی ایسٹرن کمانڈ کی نگرانی میں ہوتے رہے۔ یہ باتیں کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ ان تصدیق شدہ تاریخی حقائق پر خود ہندوستان میں صدہا کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مشرقی پاکستان کا استحصال، اس کی محرومیاں اور ملک کے دونوں بازوؤں کے مابین داخلی تضادات کا وجود ایک اٹل حقیقت سہی لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انڈین مداخلت جائز قرار پا گئی تھی۔ جمنا داس جی ۱۹۷۱ء کے سال سے یوں پہلو بچا کر گزر گئے جیسے یہ سال کبھی آیا ہی نہ
تھا۔ (شکریہ روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۱۲ مئی ۱۹۹۸ء۔ از قلم: راجہ انور)
شیخ حسام الدین رحمہ اللہ
شیخ حسام الدین مرحوم نے جس دور میں سیاسیات کا سفر شروع کیا‘ اس دور کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔ کیا لوگ تھے وہ جو برطانوی استعمار کے خلاف سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے اور کیا زمانہ تھا کہ اس آزادی کے حصول کی نیو رکھی گئی۔ شیخ صاحب اس عظیم قافلہ کے برگزیدہ رہنماؤں کی یادگار تھے۔ ان کا وجود ان تحریکوں کا سرمایہ تھا جنہیں اس زمانے کے لوگ پہچانتے ہی نہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کا دل اسلام کے لیے دھڑکتا رہا۔ اب وہ افراد رہے نہ جماعت اور نہ وہ دل ہی رہے کہ دھڑکیں۔ اس دور میں بہت کچھ ہے لیکن وہ لوگ نہیں ہیں جن کے پہلو میں دھڑکتا ہوا دل ہو۔ آزادی کا ولولہ ہی جاتا رہا ہے۔ پرانی قدریں بدل گئی ہیں اور ان کی جگہ جو نئی قدریں پیدا ہوئی ہیں‘ ان کا حدود اربعہ ہی مختلف ہے۔ سوال شیخ حسام الدین کا نہیں‘ یہ لوگ تو اب جا ہی رہے ہیں۔ ایک آدھ چراغ کسی گم شدہ طاق پر جل رہا ہے تو موت کی صرصر اسے بھی بجھا دے گی۔ اب سوال اس روایت کا ہے جس کو ان لوگوں نے اپنے خون جگر سے پیدا کیا اور جس کے ادا شناسوں سے یہ زمانہ خالی ہو چکا ہے۔ ان لوگوں کو اسلام نے پیدا کیا اور یہ لوگ اسلام کے لیے تھے۔ جہاں تہاں اسلام کو گزند پہنچا‘ یہ ماہی بے آب ہو گئے۔ آج اسلام تفسیروں کی زد میں ہے۔ قیادت کی کلاہ ان لوگوں کے سر پر بندھی ہوئی ہے جن کی سیاسی پیدائش اتفاقی اور حادثاتی ہے۔ جنہیں معلوم ہی نہیں کہ جس آزادی سے وہ متمتع ہو رہے ہیں‘ اس کا خمیر کن لوگوں کے خون سے تیار ہوا تھا۔
زمانہ نیا داستانیں نئی
شیخ صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو جس زمانہ سے اب گزرنا پڑا‘ حقیقتاً وہ زمانہ ان کے لیے نیا تھا اور وہ اس زمانے کے لیے بڑے پرانے تھے۔ دونوں میں سنگم نہ ہو سکا۔ زمانہ کی بے بصری اور ان کی تیز قدمی میں تصادم رہا۔ نتیجتاً سیاسیات کے اس بیاباں میں وہ اجنبی
ہو گئے۔ نئی پود کے لیے بھی وہ اجنبی ہی تھے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے اور ان کے جنون و شوق کی وسعتیں کہاں تک تھیں۔ ان کا زمانہ پہلے مر گیا۔ انہوں نے بعد میں وفات پائی۔ آزادی کے بعد اقوام و ملل کے حوصلے صیقل شمشیر ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حوصلے دو لخت ہو چکے بلکہ ان کی خاکستر اڑ رہی ہے۔ لوگ شراروں سے ڈرتے اور سایوں سے بھاگتے ہیں۔ زمانہ تھا کہ لوگ آگ میں کودتے اور کلمہ الحق کی پشت بانی کرتے تھے۔
شیخ صاحب کا سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ بڑے ہی بہادر انسان تھے۔ پندرہ بیس برس میں ان کا سارا قافلہ منتشر ہو گیا۔ چودھری افضل حقؒ بہت پہلے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ چودھری عبد العزیز بیگوالیہ کو قضا کھا گئی، آزادی کے بعد مولانا حبیب الرحمٰنؒ رخصت ہوئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو بلاوہ آگیا۔ قاضی احسان احمدؒ جواں مرگ ہو گئے، شیخ صاحب......
اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
اس گئے گزرے دور میں بھی پرانا دم خم باقی تھا۔ حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ میں شامل ہو گئے۔ ایک دن سہروردی صاحب نے ان سے کہا ”شیخ صاحب! اسکندر مرزا (تب صدر مملکت) کو احرار کے بارے میں غلط فہمی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس کا ذہن صاف ہو جائے لیکن آپ کی اس سے ملاقات مفید ہوگی۔
غرض شیخ صاحب اور ماسٹر تاج الدین انصاری اسکندر مرزا سے ملاقات کے لیے گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں گئے۔ اسکندر مرزا اپنے صدارتی جاہ و جلال کے ساتھ برآمد ہوا اور شاہانہ بے نیازی کے ساتھ فروکش ہو گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب صوبہ کے وزیر اعلیٰ ہمراہ تھے۔ سہروردی نے مرزا سے کہا ”دونوں احرار رہنما شیخ صاحب اور ماسٹر جی آئے ہیں“ مرزا نے حقارت سے جواب دیا ”احرار پاکستان کے غدار ہیں“۔
ماسٹر جی ٹھنڈی طبیعت کے مالک، کہنے لگے غدار ہیں تو پھانسی پر کھنچوا دیجئے لیکن الزام کا ثبوت ہونا چاہیے۔ اسکندر مرزا نے اسی رعونت سے جواب دیا ”بس میں نے کہہ دیا ہے کہ احرار غدار ہیں“۔
ماسٹر جی نے تحمل کا رشتہ نہ چھوڑا لیکن مرزا نے سرکش گھوڑے کی طرح پٹھے پر ہاتھ
ہی دھرنے نہ دیا۔ وہی ڈانٹ کھائی۔
شیخ صاحب نے غصہ میں کروٹ لی۔ مرزا سے پوچھا 'کیا کہا آپ نے؟
میں نے؟
جی ہاں!
”احرار پاکستان کے غدار ہیں.....“ مرزا نے مٹھی بھینچتے ہوئے کہا۔
شیخ صاحب کہاں رکتے۔ گورنمنٹ ہاؤس‘ گورنر موجود‘ وزیر اعلیٰ موجود‘ وزیر اعظم موجود‘ صدر مملکت کی بارگاہ؟ فوراً جواب دیا:
”احرار غدار ہیں کہ نہیں؟ اس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی۔ تمہارا فیصلہ تاریخ کر چکی ہے کہ تم غدار ابن غدار ہو۔ تمہارے جد امجد میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کی تھی‘ تم اسلام کے غدار ہو“۔
ڈاکٹر خان صاحب نے شیخ صاحب کو آغوش میں لے لیا اور اسکندر مرزا سے پشتو میں کہا میں نے تمہیں پہلے کہا تھا ان لوگوں کے ساتھ شریفانہ لہجے میں بولنا۔ یہ بڑے بے ڈھب لوگ ہیں۔ ظاہر ہے، کہ بلی ایک ہی جھٹکے میں سپر انداز ہو جاتی ہے۔ یکا یک اس کا لہجہ ہی بدل گیا۔
اور یہ تھے مجلس احرار اسلام کے صدر شیخ حسام الدین۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے..... ۲۱ جون ۱۹۶۷ء کی صبح چھ بجے پیمانہ عمر لبریز ہو گیا۔ ۷۱ برس عمر پائی۔ ان کے انتقال سے قربانی و ایثار‘ جرات و استقامت‘ حوصلہ و اعتماد اور تحریک آزادی کا ایک روشن باب ختم ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ جون ۱۹۹۸ء۔ از قلم: آغا شورش کاشمیریؒ)
حضرت شاہ عبد القادرؒ رائے پوری اور احرار
جماعت احرار کا نام آفتاب نصف النہار کی طرح تاریخ انسانی میں درخشاں اور تابندہ رہے گا۔ کیونکہ احرار نے مخلصانہ مردانہ ہمت سے ملک کو آزادی اور برطانوی
سامراج سے نجات دلانے کے لیے جو بے مثل قربانیاں پیش کی ہیں‘ وہ ملک کی بڑی سے بڑی جماعت نے نہیں کیں۔ نہ تختہ دار کی پروا کی اور نہ قید و بند کی۔ بلکہ قید و بند تو اس جماعت کا مشغلہ تھا۔ دین کی محبت اور ملک کا استخلاص ان کی فطرت میں خالق کون و مکاں نے ودیعت کیا ہوا تھا۔ ہنستے مسکراتے فرنگی کے دور میں جیل خانوں میں رہنا‘ یہ اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے اور عقبیٰ کے لیے نجات۔ بقول میرے روحانی پیشوا حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے:
ایک دن لاہور میں ان کی صحبت میں موجود تھا کہ ضیغم احرار‘ بطل حریت‘ پیکر شجاعت جناب شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے کچھ جماعتی احباب حضرت موصوف سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو حضرت اپنی نشست سے ان کے استقبال اور ملاقات کے لیے کھڑے ہو گئے اور معانقہ سے مشرف فرماتے ہوئے اپنے حلقہ کے موجودہ احباب کو ارشاد فرمایا کہ:
”آپ حیران ہوں گے کہ میرے ہاں بڑے سے بڑا بزرگ یا جو سیاسی آدمی آئے تو میں ان کا اس طرح استقبال نہیں کرتا۔ میں ان لوگوں کے لیے مجبور ہوں کہ انتہائی عزت و احترام سے پیش آؤں کیونکہ موجودہ وقت میں یہ لوگ صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔
صحابہ عظامؓ جان و مال۔۔۔۔۔ دین کی بقاء کے لیے پیش کر دیتے تھے اور یہ لوگ بھی بے دریغ برطانوی سامراج کے مقابلہ میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ نہ پھانسی کے تختے کا خوف نہ قید و بند کا ڈر‘ نہ اہل و عیال کی فکر۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہوئے قلبی مسرت حاصل کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔ اور والسابقون الاولون ۔۔۔۔۔۔ الخ کی آیت کے اس دور میں مصداق بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے ان کی بے مثال اور لازوال قربانیوں کے سامنے شرمندگی ہوتی ہے کہ جو کام مجھے اور وقت کے پیشوا اور خلفاء کو کرنا چاہیے‘ وہ کام یہ لوگ کر رہے ہیں“۔
(مولانا عبدالرحمن میانوی‘ ۸ جنوری ۱۹۷۰ء‘ منقول پندرہ روزہ ”الاحرار“ لاہور‘
ص ۷-۸‘ ۱۵ فروری ۱۹۷۰ء)
خان لیاقت علی خان سے ملاقات
اس ملاقات کے عینی شاہد برادرم جناب حفیظ رضا پوری ہیں۔ انتخابی مہم میں احراری رہنما مختلف حلقوں کے دورے کر رہے تھے۔ خاص طور پر وہ حلقے جہاں مرزائی امیدوار‘ لیگ کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے تھے‘ احرار کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکے تھے۔ سیالکوٹ کے قصبہ سمبڑیال میں ایک مرزائی امیدوار انتخاب لڑ رہا تھا جس کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا امیدوار بھی موجود تھا۔ ان دنوں حضرت قاضی احسان احمدؒ اور خان لیاقت علی خاں سیالکوٹ کا دورہ کر رہے تھے۔ قاضی صاحب سیالکوٹ انتخابی مہم کے سلسلہ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کا قیام محترم جناب ماسٹر تاج دین کے مکان پر تھا۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خواجہ صفدر صاحب‘ جنرل سیکرٹری مسلم لیگ سیالکوٹ‘ قاضی صاحب کے پاس آئے اور درخواست کی کہ کل ۴ بجے سمبڑیال میں مسلم لیگ کا جلسہ ہے‘ جہاں خان لیاقت علی خاں وزیر اعظم بھی تشریف لا رہے ہیں۔ آپ وہاں تقریر کریں۔ اس جلسہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مسلم لیگی امیدوار کے مقابلہ میں ایک مرزائی امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہا ہے۔ چونکہ مقابلہ سخت ہے اس لیے احرار کی طرف سے آپ کی تقریر ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ آپ نے خان صاحب سے پوچھ لیا ہے کہ مجھے تقریر کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ خواجہ صفدر نے کہا قاضی صاحب! یہ میری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب‘ اپنے ساتھیوں‘ جناب حافظ محمد صادق صاحب اور سالار بشیر کی معیت میں ایک تانگہ پر سوار ہو کر سمبڑیال گئے۔ سمبڑیال‘ سیالکوٹ سے ۱۴ میل کے فاصلہ پر ہے۔ راستے میں قاضی صاحب نے ”اگوکی“ نامی قصبہ میں بھی تقریر کی۔
۴ بجے شام سمبڑیال پہنچے‘ جلسہ کی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ جب قاضی صاحب‘ حافظ محمد صادق صاحب اور سالار بشیر کے ساتھ جلسہ گاہ میں پہنچے تو جلسہ گاہ میں‘ مجلس احرار اسلام زندہ باد‘ قاضی احسان احمد زندہ باد‘ مسلم لیگ زندہ باد کے نعرے بلند کیے گئے۔ لیگی اراکین نے بڑی گرم جوشی سے آپ کا استقبال کیا۔ خواجہ محمد صفدر‘ محمد اقبال
چیمہ و دیگر شہری و ضلعی اراکین مسلم لیگ نے آگے بڑھ کر قاضی صاحب کو اسٹیج پر بٹھا دیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ لیاقت علی خاں صاحب تشریف لائے۔ سارے مجمع میں نعروں کی گونج پیدا ہو گئی۔ خواجہ صفدر نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ سب سے پہلے قاضی صاحب کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ آپ نے اپنی تقریر کے دوران مجلس احرار اسلام کا نپے تلے انداز میں تعارف کرایا۔ احرار نے استحکام و دفاع پاکستان کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دیں‘ ان کا ذکر کیا۔ آخر میں آپ نے محتاط انداز میں مسلم لیگی امیدوار کی حمایت میں عوام سے پرزور اپیل کی۔ آپ کی تقریر دس منٹ تک جاری رہی۔ بعد میں لیاقت علی خاں کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ جلسہ کے اختتام پر سٹیج پر ہی لیاقت علی خاں نے خواجہ صفدر سے پوچھا کہ یہ مولوی صاحب کون ہیں؟ خواجہ صفدر نے لیاقت علی خان سے قاضی صاحب کا تعارف کرایا۔ جس پر خان صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دو گھنٹے بعد سیالکوٹ شہر میں جو لیگ کا جلسہ ہو رہا ہے اور جس سے وہ خطاب کر رہے ہیں۔ اس سے قاضی صاحب بھی خطاب فرمائیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے لیاقت علی خاں کی یہ دعوت منظور کرلی۔
سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا۔ جونہی اہل شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی احسان احمد بھی تقریر کرنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ سیالکوٹ حلقہ کا انتخاب اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا کہ اس حلقہ سے خواجہ محمد صفدر کے مقابلہ میں نواب افتخار حسین ممدوٹ بنفس نفیس الیکشن لڑ رہے تھے۔ قاضی صاحب اور لیاقت علی خاں کی زبردست تقاریر ہوئیں۔ نعرہ ہائے تکبیر‘ ختم نبوت‘ مجلس احرار اسلام‘ مسلم لیگ‘ لیاقت علی خاں‘ قاضی احسان احمد زندہ باد کے نعروں سے سرزمین سیالکوٹ گونج اٹھی۔ جلسہ کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خاں سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ میں آپ سے بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں جس پر لیاقت علی نے کہا کہ آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لائیں۔ قاضی صاحب نے کہا آدھ گھنٹہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ قاضی صاحب فوراً حفیظ رضا کے گھر پہنچے۔ مرزائیوں کی کتابوں کا ایک صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں‘ اٹھانے کو کہا۔ حفیظ صاحب صندوق اٹھائے قاضی صاحب کے ساتھ چل دیے۔ اسٹیشن پہنچے۔ پلیٹ
فارم پر وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لیے صوبہ بھر کے ممتاز لیگی لیڈر موجود تھے اور انتظار میں تھے کہ لیاقت علی خاں کب ملاقات کے لیے انہیں اپنے سیلون میں بلاتے ہیں۔ جب قاضی صاحب اسٹیشن پر ہجوم کو چیرتے ہوئے لیاقت علی خاں کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے دیر کر دی۔ قاضی صاحب اندر جانے لگے تو صدیق علی خاں نے کہا کہ ملاقات کے لیے دس منٹ مقرر ہیں۔ حفاظتی گارڈ نے آپ کی تلاشی لی۔ پھر اندر جانے دیا۔ لیاقت علی خاں نے اپنی کرسی کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھا لیا۔ حفیظ صاحب فرش پر بیٹھ گئے۔
قاضی صاحب نے ابتدائی بات چیت میں احرار اسلام کا تعارف کرایا۔ نیز بتایا کہ احرار‘ استحکام پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ مزید بتایا کہ جب سے آپ نے بھارت کو ”تاریخی مکہ“ دکھایا ہے‘ اس وقت سے احرار ملک کے طول و عرض میں جہاد کانفرنسوں میں مصروف ہے۔ برصغیر کی آزادی کے لیے علماء نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے‘ ان کا ذکر کیا۔ مرزائیت کا پس منظر بیان کیا۔ سب سے پہلے مرزائیوں کی مشہور کتاب ”تذکرہ“ دکھائی اور صفحہ ۱۴ پڑھا۔ جس پر لکھا تھا کہ ”نبی کریم ﷺ پہلی رات کا چاند تھے اور میں (مرزا غلام احمد) چودھویں رات کا چاند ہوں“۔ لیاقت نے اس جملہ پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور کتاب میز پر رکھ دی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے مرزا غلام احمد کی وہ تمام تصانیف دکھائیں جن میں حضور نبی کریم علیہ السلام‘ حضرت فاطمہؓ‘ حضرات حسنینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خاں ان تمام عبارات کو انڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔
حفیظ رضا سہروردی حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خاں کو اکمل قادیانی کا یہ شعر۔
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
پڑھ کر سنایا تو خود تو زار و قطار رو ہی رہے تھے‘ لیاقت علی خاں کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور
پر نم آنکھوں سے فرمایا کہ قاضی صاحب ! آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ کراچی چلیں۔ میں چند مزید باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی صاحب نے اپنے جماعتی پروگراموں کو منسوخ نہ کرنے کی بنا پر ساتھ چلنے سے معذوری ظاہر کی۔ البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہو کر مزید ملاقات کروں گا۔ لیاقت و قاضی کی یہ ملاقات بجائے دس منٹ کے پورے پینتالیس منٹ جاری رہی۔ رخصت ہوتے وقت لیاقت علی خاں نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ :
”مولانا! آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین“۔
ایک ملاقات میں چودھری محمد علی سابق وزیر اعظم نے قاضی صاحب سے کہا کہ جب سے لیاقت علی خاں نے آپ سے ملاقات کی ہے 'اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفر اللہ خاں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں بلکہ سنا ہے کہ ایک میٹنگ میں ظفر اللہ خاں کو ان الفاظ میں لیاقت علی خاں نے مخاطب کیا ”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں“۔
حفیظ رضا کا کہنا ہے کہ قاضی صاحب نے لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد ایک ملاقات میں بتایا کہ لیاقت علی خاں کا پروگرام یہ تھا کہ مرزائیوں کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دے دیا جائے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اس ملاقات کے تھوڑے عرصہ بعد لیاقت علی خاں کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی، ص ۳۶۷ تا ۳۷۱، از نور الحق قریشی)
ایک قادیانی کی مرمت
ایک مرتبہ میں لاہور میں تھا۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے ہاں پڑھتے تھے۔ دھرم پورہ جا رہے تھے تو میرے سامنے ایک قادیانی بیٹھا ہوا تھا اور وہ غلام احمد قادیانی کے اشعار پڑھ رہا تھا اور مجھے سنا رہا تھا۔ میں نے کہا خاموش ہو جاؤ۔ پھر میں نے اس کو مارا تو کچھ
لوگ میرے ساتھ لڑنے جھگڑنے لگے ۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک قادیانی میرے سامنے کذاب غلام احمد قادیانی کے اشعار پڑھ رہا ہے اور میری غیرت کہاں گئی ہے کہ میں اسے کچھ نہ کہوں تو اس بات پر اور لوگوں کی بھی غیرت جاگی اور اس قادیانی کو خوب مارا اور دوسرے سٹاپ پر اس کو گھسیٹ کر باہر پھینک دیا۔ مسلمانوں میں یہ جذبہ ہونا چاہیے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(ماہنامہ ”القاسم“ تقریر ڈاکٹر سید شیر علی شاہ صاحب)
حضرت خواجہ غلام فرید اور مرزائیت
گزشتہ دنوں قادیانی امت نے اپنی روایتی فریب کاری سے صدر الشریعہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی نسبت جھوٹ و افترا کا ایک پلندہ ”شہادات فریدی“ کے نام سے شائع کر کے کثیر تعداد میں مسلمانوں میں تقسیم کیا۔ جس میں مسلمانوں کو یہ مذموم تاثر دینے کی کوشش کی کہ حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ مرزا قادیانی کے دعوائے مجددیت، مہدویت اور نبوت کے مصدق اور پیرو تھے۔ (نقل کفر، کفر نباشد)
شہادات فریدی میں قادیانیوں نے حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی مرزا قادیانی کے ساتھ جعلی اور خانہ ساز خط و کتابت شائع کی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ان کی نبوت جعلی اور خانہ ساز ہے۔
اس کتاب میں حضرت خواجہ صاحبؒ کے ملفوظات ”اشارات فریدی“ سے (جو حضرت کے وصال کے کئی سال بعد میں شائع ہوئے) ایک عربی خط کا حوالہ دیا ہے۔ جو ”حضرت خواجہ صاحبؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو لکھا اور اس میں مرزا قادیانی کو من عباد اللہ الصالحین لکھا۔ اس سے معلوم ہوا خواجہ صاحب موصوف مرزا کو برحق تسلیم کرتے تھے۔
مرزائیوں کا یہ مکارانہ شاہکار کوئی نیا نہیں بلکہ بہت پرانا اور بدبودار جھوٹ ہے۔
جو آج سے چالیس برس قبل بھی جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولنگر کی عدالت میں قادیانی امت نے پیش کیا تھا اور حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ کو مرزائی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے اثبات میں ”ارشادات فریدی“ نامی کتاب کو پیش کیا تھا۔
الحمد للہ ہمارے علماء کرام مولانا غلام محمد گھوٹوی مرحوم، سابق شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہاولپور، مولانا قاضی غوث بخش واعظ جامع مسجد بہاولپور، مولانا محمد صادق صاحب ناظم امور مذہبیہ ریاست بہاولپور نے قادیانی امت کی اس کذب بیانی کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اور مرزائی فریب کاری کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ جس کی تفصیل ”فیصلہ مقدمہ بہاول پور“ نامی کتاب میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اس مقدمہ میں مرزا کی ایک کتاب کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ اس کی نبوت کے مکفر اور مکذب تھے۔ مقدمہ بہاولپور کا یہ اقتباس پڑھ لیجئے۔ انشاء اللہ تمام شکوک رفع ہو جائیں گے۔
حضرت خواجہ غلام فرید صاحب علیہ الرحمہ کہ جن کا نہ صرف ریاست بہاولپور کا ایک حصہ معتقد اور مرید ہے، بلکہ جن کے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بکثرت مرید پائے جاتے ہیں، کی ایک کتاب اشارات فریدی سے یہ دکھلایا ہے کہ ان کے نزدیک مرزا صاحب کسی عقیدہ اہل سنت و الجماعت اور ضروریات دین میں سے کسی چیز کے منکر نہیں پائے جاتے بلکہ آپ ان کے متعلق یہ لکھتے ہیں کہ وہ اپنے اوقات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں اور حمایت دین پر کمر بستہ ہیں اور کہ علمائے وقت تمام مذاہب باطلہ کو چھوڑ کر اس نیک آدمی کے پیچھے پڑ گئے ہیں جو اہل سنت و الجماعت میں سے ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے۔
اور خواجہ صاحب کی اس تحریر پر بڑی شرح اور بسط سے بحث کر کے یہ دکھلایا ہے کہ یہ الفاظ خواجہ صاحب کے اپنے ہی ہیں اور انہوں نے مرزا صاحب کی کتابیں دیکھنے کے بعد یہ رائے قائم کی تھی۔ مدعیہ کی طرف سے بھی اس کا مفصل جواب دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب کی جو کتابیں خواجہ صاحب نے اس وقت تک دیکھی تھیں، ان میں مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت درج نہ تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی ایک تحریر سے جو آپ کی کتاب انجام آتھم، صفحہ ۶۹ پر درج ہے، پایا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب بھی بعد میں مرزا
صاحب کے مکفر اور اور مکذب ہو گئے تھے۔ مرزا صاحب اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ اب ہم ان مولوی صاحبان کے نام ذیل میں لکھتے ہیں کہ جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔ اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لیے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر اور مکذب ہیں۔ اور اس کے ساتھ مرزا صاحب نے ہر دو گروہوں کی فہرستیں دی ہیں۔ اس فہرست میں میاں غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں‘ علاقہ بہاولپور کا نام بھی درج ہے۔ (فیصلہ مقدمہ بہاولپور‘ ص ۱۶۰)
علمائے کرام کے دندان شکن جواب کے باوجود مرزائی ابھی تک وہی راگ الاپ رہے ہیں کہ حضرت خواجہ صاحب مرزائی تھے۔ پس ضرورت ہے کہ ایک مرتبہ پھر قادیانی اقلیت کو آئینہ دکھایا جائے۔
مولانا نور احمد خاں نازکی فریدی لکھتے ہیں کہ اشارات فریدی (ملفوظ شریف) میں مطبوعہ خط محض افترا‘ جعلی اور الحاقی ہے۔ جو دھوکہ سے منشی رکن دین نے شامل کیا ہے۔ منشی رکن دین‘ جس نے ”اشارات فریدی“ کی کتابت کا کام سرانجام دیا ہے‘ اپنے آپ کو مکاری سے حضرت خواجہ صاحب کا معتقد ظاہر کرتا تھا مگر دراصل مرزائی تھا اور قادیانیوں کی طرف سے اسی کام کے لیے مامور تھا کہ جس طرح ہو سکے‘ حضرت اقدس کی طرف سے مرزا صاحب کی تائید کرائے۔ لیکن جب کوشش کے باوجود کسی طرح کامیاب نہ ہوا تو ملفوظ شریف ”اشارات فریدی“ کی طباعت کے وقت اس نے اس خط کو شامل کر دیا جس کے جعلی ہونے کی تردید ذمہ دار حضرات کی طرف سے فوراً کر دی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت خواجہ صاحب کی کبھی کوئی خط و کتابت مرزا قادیانی سے نہیں ہوئی۔ (ملاحظہ ہو ماہنامہ ”الفرید“ جنوری ۱۹۳۳ء‘ ص ۱۴ تا ۱۹)
مرزائی امت کے بیانات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب مرزا کو خادم اسلام سمجھتے تھے اور اس کے علم و فضل کے معترف تھے۔ لیکن اس کے خلاف اسلام عقائد اور دعاوی پر مطلع ہونے کے بعد اسے کافر فرمایا کرتے تھے۔
حضرت خواجہ صاحب اگر مرزا قادیانی کو مجدد‘ مہدی‘ مسیح موعود یا نبی سمجھتے تو اس سے ملاقات کرتے۔ قادیان تشریف لے جاتے‘ لیکن آپ نے متعدد بار فرمایا ”مرزا قادیانی
کافر ہے"۔
ذیل میں صدر الشریعہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ کی تصنیف مبارک "فوائد فریدیہ" کا ایک اقتباس قابل غور ہے جس سے حضرت موصوف کے عقیدۂ صادقہ کی صاف صاف وضاحت ہوتی ہے۔
"سرور کائنات ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا البتہ امت محمد ﷺ میں ولایت باقی ہے"۔ (فوائد فریدیہ‘ ص ۱۳)
اب کیونکر ممکن ہے کہ ختم نبوت کے اعلان کے بعد حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ منکر ختم نبوت اور مدعی نبوت کو مسلمان سمجھتے۔
حضرت خواجہ صاحب کی تصنیف فوائد فریدیہ اس سلسلہ میں قابل دید ہے۔ آپ نے اپنی اس تصنیف میں جابجا ختم نبوت‘ ظہور مہدی‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا ذکر کیا ہے اور مرزائیت کے خوب بخیئے ادھیڑے ہیں۔ قادیانی امت کے صراحتاً کفر کے علاوہ آپ نے احمدی فرقہ کو ناری اور جہنمی لکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو "فوائد فریدیہ" ص ۲۷‘ ۳۰)
حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ کے لخت جگر اور سجادہ نشین حضرت خواجہ نازک کریم صاحب کی خدمت میں حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی خود تشریف لے گئے اور اقتباسات "اشارات فریدی" کے متعلق استفسار فرمایا۔ کیونکہ "ارشادات فریدی" حضرت خواجہ صاحب کی وفات کے بعد شائع ہوئی تھی۔
حضرت خواجہ نازک کریم صاحب نے فرمایا کہ میاں رکن دین نے ملفوظ شریف "اشارات فریدی" جمع کر کے اپنی نجات کا اچھا سامان کیا تھا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق افترا درج کر کے اپنی تمام محنت رائیگاں کر لی اور آخرت بھی خراب کر لی۔ ہم نے ملفوظ شریف سے ایسی عبارات نکال دی ہیں جو رکن دین نے دھوکہ سے شامل کر دی ہیں۔ حضرت اقدس عالی خواجہ فرید الملۃ والدین‘ ختم نبوت پر انتہائی پختہ ایمان رکھتے تھے اور مرزا قادیانی کو اس دعویٰ نبوت کی وجہ سے خارج از اسلام سمجھتے تھے جس کا ثبوت خود مرزا کی تحریروں سے ملتا ہے۔ الحمد للہ نہ ہم نہ ہماری اولاد نہ ہمارے متعلقین میں سے کوئی مرزائی ہے۔ ہم مرزا اور مرزا کے مقلدین کو کافر سمجھتے ہیں اور مرزا کے باطل مذہب کے
پوری شدت کے ساتھ منکر ہیں۔ اس قدر وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی کذاب حضرت خواجہ صاحب موصوف پر اتہام تراشی کرے تو اس سے بڑھ کر جھوٹا اور ملعون کوئی نہیں ہو سکتا۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کیا پتے کی بات کہی تھی۔
ہست او بے گماں یزید پلید
(ماہنامہ ”ضیائے حرم“ ختم نبوت نمبر ۱۹۷۴ء۔ از قلم : قاضی محمد غوث منصور)
مسلمانوں کے ایمان کا محافظ
مولانا محمد علی (مونگیری) کا ایک اہم کارنامہ جس کے ذکر کے بغیر ان کی تاریخ نامکمل رہے گی‘ قادیانیت کا مقابلہ اور سرکوبی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی اور جب تک اس مہم میں کامیاب نہ ہوئے‘ اطمینان کی سانس نہ لی۔ انہوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں سے صرف ۴۰ کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے نام سے۔ انہوں نے اس کو وقت کا افضل ترین جہاد قرار دیا اور اس کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور بڑی دلسوزی کے ساتھ اس کی اہمیت سمجھائی۔ ان کوششوں سے بہار (جس پر قادیانیوں نے اس زمانہ میں بھرپور حملہ کیا تھا اور بڑی تعداد میں مسلمان اس کا شکار ہو رہے تھے) اس خطرہ سے محفوظ ہو گیا اور ہندوستان کے اور دوسرے علاقوں میں بھی جہاں کہیں مولانا کی تصنیفات پہنچیں یا مولانا کے مبلغین پہنچے قادیانیت کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں پر اس نئے دین کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس فتنہ سے محفوظ ہو گئے۔
(”سیرت مولانا محمد علی مونگیری“ ص ۲۹۱-۲۹۲ از سید محمد الحسنی)
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
مولانا لال حسین اختر
مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اپنے وقت کی جامع صفات شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موصوف کو گوناگوں خوبیوں اور اوصاف سے نوازا تھا۔ آپ کی پوری زندگی احقاق حق‘ ابطال باطل‘ اسلام کی تبلیغ‘ حق و صداقت کی حمایت‘ دینی اقدار و اخلاق کے فروغ کے لیے وقف رہی۔ خصوصاً ختم نبوت کی سربلندی اور منکرین ختم نبوت کی سرکوبی زندگی بھر آپ کا مشن رہا۔
مولانا کا وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور تھا۔ گگھے زئی خاندان کے آپ چشم و چراغ تھے۔ بچپن ہی سے آپ کے دل میں دین کی خدمت کی بے پناہ لگن اور تڑپ تھی۔ ناظرہ قرآن مجید اور ابتدائی تعلیم آپ نے ہری پور ہزارہ میں حاصل کی۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور داخل ہو گئے۔ یہ تقریباً ۱۹۲۲ء کے ابتدائی ایام تھے۔ ان دنوں تحریک خلافت زوروں پر تھی۔ علماء کرام نے فتویٰ دیا تھا کہ انگریز کی درسگاہوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ چنانچہ مولانا اس فتویٰ کی تکمیل میں کالج کو خیر آباد کہہ کر اپنے وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور چلے آئے اور تحریک خلافت میں شمولیت اختیار کر لی۔ ۷‘ ۸ ماہ ضلع گورداسپور میں خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایات آنریری کام کرتے رہے۔ سارے ضلع کا پر زور تبلیغی دورہ کیا۔ خلافت کمیٹی کے اغراض و مقاصد کی وضاحت کے لیے مولانا مظہر علی اظہر کے ہمراہ دھواں دھار خطاب کیا۔ مولانا کی ان سرگرمیوں سے عوام بیدار ہو گئے اور انگریز نے انتقام لینے کا پروگرام بنایا۔ گورداسپور میں حکومت کے خلاف منافرت کا الزام عائد کر کے آپ کی تقریروں کو قابل اعتراض قرار دیا گیا۔ عدالت میں کیس چلا۔ سرسری طور پر سماعت ہوئی۔ ایک سال قید بامشقت کا آرڈر ملا۔ گورداسپور جیل بھیج دیے گئے۔
مولانا جیل میں تھے۔ آپ کو اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ سوامی شردھانند اور آریہ سماج نے فتنہ و فساد کا علم بلند کر دیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو چیلنج دینا اور
علماء کو للکارنا شروع کر دیا ہے اور شدھی کی تحریک بڑے زور شور سے شروع کر دی گئی ہے۔ مولانا نے فیصلہ کیا کہ رہائی کے بعد آریہ سماج اور دیگر دشمنان اسلام کے تعاقب کے لیے اپنے آپ کو وقف کر کے خدمت دین متین کروں گا۔ ان دنوں مرزائی بھی اسلام کی نام نہاد نمائندگی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے۔ رہائی کے کچھ دنوں بعد لاہوری مرزائیوں کے چند مبلغ مولانا سے ملے اور انہوں نے مولانا کے سامنے اپنی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو نہایت ہی مبالغہ سے بیان کیا اور مرزا قادیانی آنجہانی کی خدمات کے بڑھ چڑھ کر افسانے سنائے۔ مقصد ایک ہو تو شناسائی جلدی ہو جایا کرتی ہے۔ مرزائیوں نے مولانا کو جھانسہ دیا کہ اگر آپ آریہ سماج کی تردید چاہتے ہیں تو ہماری جماعت کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔ آپ کو تربیت دیں گے کتابیں مہیا کریں گے۔ مسلمان علماء نے خواہ مخواہ مرزا صاحب کو بدنام کر رکھا ہے۔ وہ صرف خادم اسلام تھے اور دھوکہ دیتے ہوئے اپنے اس بیان کو درست ثابت کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی ابتدائی کتابوں سے چند حوالے بھی پڑھ کر سنائے۔ چونکہ مرزائی مذہب کے متعلق آپ کا مطالعہ بالکل نہیں تھا اور اس سے بالکل نابلد تھے۔ اسلام کے نام پر ان کے جھانسے میں آگئے اور لاہوری گروپ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
یہ ۱۹۲۴ء کا واقعہ تھا۔ شمولیت کے فورا بعد آپ کو انجمن کے تبلیغی کالج میں داخل کرا دیا گیا۔ تین سال تک مرزائیوں نے تعلیم دلائی۔ تیس طالب علم رکھے گئے تھے۔ سنسکرت زبان کی مشکل گردانیں دیکھ کر سب چھوڑ گئے۔ ایک مولانا اور مظفر علی رہ گئے۔ ان دونوں کی تعلیم پر اس دور میں پچاس ہزار روپیہ خرچ کیا گیا۔ دو استاد ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار تنخواہ پر عبرانی زبان پڑھانے والے تھے۔ ان سے توریت، انجیل اور زبور پڑھیں۔ دو استاد سنسکرت پڑھانے والے تھے۔ ان سے وید اور ہندوؤں کی دوسری مذہبی کتابیں پڑھیں۔ دو استاد حدیث پڑھانے والے تھے اور ایک استاد تفسیر پڑھانے والا تھا۔ مدت معینہ میں کورس ختم کرنے کے بعد بحیثیت ایک کامیاب مبلغ کے، مولانا کو تبلیغ و اشاعت کے کام پر لگا دیا گیا۔ چونکہ آپ بلا کے ذہین تھے، نتیجتاً آپ کو بہت جلد مرزائیوں میں بلند مقام حاصل ہو گیا۔
چنانچہ اس شعبہ تبلیغ و مناظرہ کے علاوہ اخبار پیغام صلح کا آپ کو ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح "احمدیہ ایسوسی ایشن" کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ مسلسل آپ نے آٹھ سال
مرزائیت میں گزارے۔ انسان کچھ سوچتا ہے لیکن قدرت ہی کے پروگرام کچھ اور ہوا کرتے ہیں۔ فرعون کے گھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش، جس کی واضح دلیل ہے۔ چنانچہ مولانا صاحب کو خواب آنا شروع ہوئے۔ ایک رات میں دو دو تین تین خواب آتے اور بہت برے برے خواب آتے۔ آپ آیت الکرسی، معوذتین، لاحول پڑھ کر سوتے لیکن پھر پہلے سے زیادہ برے اور ڈراؤنے خواب آتے۔ مولانا فرماتے ہیں میں سمجھتا شیطانی خواب ہیں۔ کبھی کہتا چونکہ مسلمانوں کے ساتھ مناظرے رہتے ہیں اس لیے وہی خیالات خواب میں آتے ہیں۔ اگرچہ مرزا قادیانی کے بعض ”الہامات“ اور پیش گوئیاں اس وقت بھی میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں لیکن حسن عقیدت اور غلو محبت کی طاقتیں ان خیالات کو فوراً دبا دیتی تھیں۔ لیکن خوابوں کا سلسلہ لگاتار جاری رہا۔ ۱۹۳۱ء کے وسط میں چند خواب ایسے دیکھے جن میں مرزا قادیانی کی نہایت ہی گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ ان خوابوں میں صرف ۲ خواب جو آپ اکثر تقریروں میں بیان کیا کرتے تھے اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کی مجلس میں بھی بیان کیا تھا، یہاں درج کر رہے ہیں۔
پہلا خواب
”ایک دفعہ ایک خواب آیا کہ ایک صاف چٹیل میدان ہے اور زمین شور یعنی کلر والی ہے۔ وہاں ایک کمرہ ہے اور بہت لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا تم یہاں کیوں جمع ہوئے ہو۔ انہوں نے کہا ہم یہاں مرزا غلام احمد صاحب کو دیکھنے آئے ہیں۔ میں نے کہا پھر تم اندر کیوں نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا ہمیں اجازت نہیں ہے۔ میں نے کہا مجھے اجازت ہے، میں جاتا ہوں۔ چنانچہ میں کمرے میں داخل ہو گیا۔ دیکھا کہ ایک لمبا چوڑا پلنگ ہے جو سارے کمرے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس پر مرزا صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور اوپر ایک سفید چادر لپٹی ہوئی ہے۔ میں جاکر پلنگ کے پاس ادب سے کھڑا ہو گیا۔ مرزا صاحب نے منہ سے کپڑا ہٹا دیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا منہ تین بالشت لمبا ہے اور شکل خنزیر کی ہے۔ ایک آنکھ کانی ہے، دوسری چھوٹی ہے۔ مجھ سے کہنے لگے، میں تو برے حال میں ہوں تم یہاں کیوں آئے ہو۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی“۔
دوسرا خواب
اور ایک خواب یوں دیکھا کہ ایک شخص میرے آگے آگے جا رہا ہے۔ اس کی کمر میں ایک تانت ہے جیسے دھننے کی ہوتی ہے۔ اور اس کی کمر کے ساتھ بندھی ہوئی اور پیچھے میری گردن کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور دونوں آگے پیچھے چل رہے ہیں۔ سامنے سے سفید ریش اور سفید لباس میں ملبوس ایک شخص نمودار ہوئے۔ مجھ سے کہنے لگے تم کہاں جا رہے ہو۔ میں نے کہا اس شخص کے پیچھے پیچھے جا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا یہ تو غلام احمد قادیانی ہے اور یہ دوزخ میں جا رہا ہے۔ تم اس کے پیچھے کیوں جاتے ہو۔ میں نے کہا ”کیا کوئی شخص از خود بھی دوزخ میں جاتا ہے اور دوسرے کو بھی لے جاتا ہے۔ اس نے کہا اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو آگے دیکھ۔ میں نے دیکھا تو دور سے سارے آسمان کے کنارے سرخ نظر آئے۔ اس نے کہا یہ جہنم کی شعاعیں ہیں اور یہ تمہیں وہیں لے جا رہا ہے۔ میں نے کہا یہ مجھ سے دور ہے۔ جب یہ جہنم میں گرنے لگے گا تو میں بھاگ جاؤں گا۔ آخر اس شخص نے خواب ہی میں چاقو یا چھری کو زور سے تانت پر مارا اور وہ کٹ گئی۔ اس کے کٹنے سے میری گردن کو جھٹکا لگا جس سے میری آنکھ کھل گئی۔
اس قسم کے خوابوں کے بعد اپنے دل سے فیصلہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ یہ خواب کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر مرزائیوں کے سامنے بیان کرتا تو وہ کہتے یہ شیطانی خواب ہیں۔ مسلمانوں سے اس لیے نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان سے میرے مناظرے ہوا کرتے تھے۔ میں بڑی سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔
آخر مولانا نے فیصلہ کر لیا کہ مرزا قادیانی کی محبت اور عداوت دونوں کو بالائے طاق رکھ کر ان کی صداقت کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ آپ نے ان لوگوں سے چھ ماہ کی رخصت لی اور دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ مجھے خالی الذہن ہو کر قادیانی مذہب اور اسلام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ حق کس طرف ہے۔ چنانچہ آپ نے مرزا غلام احمد کی اپنی تمام مشہور تصانیف اور قادیانی و لاہوری ہر دو پارٹیوں کی چیدہ چیدہ تمام کتابیں جمع کیں اور مسلمان علماء کی تفسیروں اور احادیث کا بھی خالی الذہن ہو کر مطالعہ کرنا شروع کیا۔ یہ مطالعہ بنظر غائر اور ایک محقق کے طور پر کیا۔ جتنا زیادہ آپ نے مطالعہ کیا‘ اتنی ہی مرزا
قادیانی کی صداقت آپ پر مشتبہ ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آپ کو یقین کامل ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ الہام‘ مجددیت‘ مسیحیت‘ نبوت وغیرہ میں سچے نہیں تھے۔ اب آپ کے لیے ایک نہایت مشکل صورت حال پیدا ہو چکی تھی۔ ایک طرف ملازمت تھی‘ قادیانی جماعت کے معزز ارکان اور افراد جماعت سے آٹھ سال کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات تھے‘ بحیثیت ایک کامیاب مبلغ ہونے کے جماعت میں عزت اور رسوخ بھی حاصل تھا۔ لیکن جب دوسری طرف مرزا قادیانی کے عقائد قرآن مجید کے بالکل الٹ دیکھتے تھے تو مرزا جی کے الہامات کی پیش گوئیوں کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ قیامت کے دن اور ان عقائد باطلہ کی باز پرس کا نقشہ جب آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا تو مولانا لرزہ براندام ہو جاتے تھے۔ ایک طرف حق تھا اور دوسری طرف باطل۔ ایک طرف تاریکی تھی تو دوسری طرف مشعل نور۔ ایک طرف معقول تنخواہ کی ملازمت اور آٹھ سال کے دوستانہ تعلقات‘ تو دوسری طرف دولت ایمان لیکن ساتھ ہی دنیوی مشکلات اور مصائب کا سامنا۔
آخر آپ نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے ہزار ہا تکالیف اٹھانی پڑیں‘ میں انہیں بخوشی برداشت کروں گا۔ کیونکہ حق کے اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ سے تکالیف اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ آپ نے یکم جنوری ۱۹۳۲ء کو انجمن احمدیہ کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ جسے جماعت نے ۲۶ جنوری ۱۹۳۲ء کو بادل نخواستہ قبول کر لیا۔ آپ نے جماعت سے ایک تحریر لی جس میں واضح طور پر اقرار تھا کہ مولانا لال حسین کے ذمہ جماعت کا کوئی فنڈ نہیں۔ اس تحریر کا فائدہ یہ تھا کہ مرزائیت سے توبہ کے بعد آپ پر کوئی کیس نہ کر سکے۔
قبولیت اسلام اور اعلان توبہ
مولانا موصوف نے مرزائیوں سے تحریر حاصل کرنے کے بعد لاہور کے ایک جلسہ عام میں اپنی توبہ کا اعلان کیا۔ آپ کی توبہ کے جلسے کی روئیداد اس وقت کے ماہنامہ رسالہ ”تائید الاسلام“ لاہور میں چھپی جو ہم من و عن نقل کر رہے ہیں۔ ”۷ مئی ۱۹۳۲ء کا دن اسلامیان پنجاب کے لیے عموماً اور اسلامیان لاہور کے لیے خصوصاً ایک تاریخی دن تھا۔ کیونکہ اس دن امت مرزائیہ کی لاہوری پارٹی کے ممتاز مبلغ
جناب مولانا لال حسین صاحب اختر نے ترک مرزائیت کا اعلان کیا۔ مولوی صاحب موصوف آٹھ سال تک جماعت مرزائیہ لاہور کے مبلغ رہ چکے ہیں۔ اسی دوران میں کچھ عرصہ مرزائیوں کے اخبار ”پیغام صلح“ کے ایڈیٹر اور احمدیہ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ زندہ دلان لاہور کو وہ رات ایک مدت تک یاد رہے گی جس میں مسلمانان لاہور کا عظیم الشان جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ زیر صدارت حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب خطیب شاہی مسجد منعقد ہوا تھا اور مکرم و محترم جناب مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر نے تین گھنٹے ترک مرزائیت کے موضوع پر ایک پر زور اور مرزائی عقائد کے پرخچے اڑا دینے والی تقریر فرمائی تھی اور مرزائی عقائد و الہامات کے ان رازہائے درون پردہ کا انکشاف فرمایا کہ جنہیں مرزائی عیب کی طرح چھپاتے ہیں۔ مولوی صاحب نے مرزائیوں کو بڑے زور سے چیلنج دیا اور للکارا کہ اگر قابلیت اور جرات ہے تو میدان میں سامنے آؤ اور اپنے ظلی اور بروزی نبی کی صداقت کا ثبوت دو۔
باوجودیکہ مرزائیوں کے مبلغ اور مناظر اس جلسہ میں موجود تھے لیکن کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ مولوی صاحب کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر مرزائے قادیانی کی صداقت ثابت کر سکتا۔ سچ ہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
دوسرے دن شہر کے ہر حصے اور اس کے مضافات میں مولوی صاحب کی باطل شکن تقریر اور مرزائیوں کی بزدلی اور شکست کا عام چرچا ہو گیا۔ (ماہنامہ رسالہ ”تائید الاسلام“ اچھہرہ لاہور، جلد ۱ شمارہ ۱ بابت ماہ جون ۱۹۳۲ء، ص ۴‘ ۵)
انہی دنوں مولانا موصوف نے رد مرزائیت پر ”ترک مرزائیت“ کے نام سے ایک زبردست اور لاجواب کتاب تصنیف فرمائی جس میں مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے مرزائیت کا پوری طرح ابطال کیا گیا اور مرزا قادیانی کے باطل عقائد، انٹ سنٹ الہامات اور پیش گوئیوں کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے گئے ہیں۔ مولانا کی طرف سے اس کتاب کے صفحہ اول پر اعلان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی لاہوری جماعت کا مرزائی ۶ ماہ کے اندر اس کتاب کا جواب شائع کرے گا تو اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا مگر آج تک کسی مرزائی کو جرات نہ ہوئی کہ اس کا جواب لکھ سکے۔
رسالہ تائید الاسلام
۱۹۱۱ء میں لاہور سے ایک ماہنامہ جاری کیا گیا جس کا نام ”تائید الاسلام“ تھا۔ جس کا مقصد جہاں مخالفین اسلام کے اعتراضات کے جوابات دینے تھے‘ وہاں اس کا مرکزی نقطہ مرزائیت اور مذاہب باطلہ کی تردید تھی۔ اس رسالہ کے بانی جناب میاں پیر بخش صاحب تھے۔ ان کی ذاتی قابلیت نے اس رسالہ کو یہاں تک ترقی دی کہ رسالہ نہ صرف انڈیا بلکہ بیرون ہند افغانستان‘ ایران‘ افریقہ‘ مصر‘ شام وغیرہ ممالک میں کثرت سے جانے لگا۔ میاں صاحب نے اپنے مشن کو رسالہ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ تردید مرزائیت میں کئی کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ عربی اور انگریزی میں رسالے شائع کیے۔ تاکہ اسلامی ممالک اور یورپ کے مرزائی حقیقت سے پورے طور پر آگاہ ہو جائیں۔ میاں صاحب پیرانہ سالی کے باوجود تندہی کے ساتھ سولہ برس تک اس عظیم الشان کام کو سرانجام دیتے رہے۔ آپ کا مشن دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہا۔ مرزائی میاں صاحب کے مقابلہ میں ہر میدان میں ذلیل ترین شکست کھاتے رہے۔
مئی ۱۹۲۷ء کو آپ نے اس دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرمائی۔ وفات سے پہلے میاں صاحب نے رسالہ‘ فنڈز اور کتب خانہ پر ٹرسٹیز مقرر فرمانے کے بعد ان تمام امور کو جناب میاں قمر الدین صاحب رئیس اچھرہ کے سپرد فرمایا۔
ماہنامہ تائید الاسلام مولانا لال حسین کی ادارت میں
۱۹۲۷ء سے لے کر ۱۹۳۲ء تک میاں قمر الدین صاحب تمام امکانی کوشش صرف فرماتے رہے لیکن رسالہ کسی قابل اور مرزائی مذہب سے آگاہی رکھنے والے ایڈیٹر کے نہ ملنے کی وجہ سے اپنی امتیازی حیثیت کو قائم نہ رکھ سکا۔
جب میاں قمر الدین کو مولانا لال حسین اختر کے مرزائیت سے تائب ہونے کی اطلاع ملی تو آپ نے حضرت مولانا صفدر حسین صاحب کے مشورہ سے مولانا لال حسین اختر کو بلایا اور ماہنامہ تائید الاسلام کی ادارت کے فرائض ان کے سپرد کر دیے۔
آپ نے ادارتی منصب سنبھالتے ہی نہایت تندہی‘ جانفشانی اور احسن طریقے سے
کام کیا کہ چند ہی مہینوں میں پرچے کی ساکھ بحال ہو گئی اور بلحاظ عمدگی ترتیب‘ مضامین کتابت اور طباعت کے بلند معیار پر پہنچا دیا۔
اس دوران آپ کے گراں قدر اور وقیع مضامین اس میں شائع ہوتے رہے اور ان مناظروں کی روئیداد بھی تفصیلی طور پر شائع ہوتی رہی جو ان دنوں آپ نے قادیانیوں کے ساتھ کیے تھے۔ ان میں سے چند واقعات قارئین ختم نبوت کی دلچسپی کے لیے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔
شیخوپورہ میں مولانا لال حسین اختر کی للکار
۲۷‘ ۲۸‘ ۲۹ مئی ۱۹۳۲ء انجمن اہل السنت والجماعت شیخوپورہ کے زیر اہتمام شیخوپورہ شہر میں دوسرا عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی‘ مولانا غلام محمد گھوٹوی‘ مولانا کریم بخش ایم اے‘ مولانا امین الحق شیخوپورہ‘ مولانا عبدالعزیز گوجرانوالہ‘ مولانا محمد حسین کوہو تاڑوی‘ مولانا لال حسین اختر‘ بابو حبیب اللہ کلرک اور دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔ یہ رسالہ تائید الاسلام کی رپورٹ کے مطابق:
مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۳۲ء کی صبح کو مرزائیوں کے ساتھ زیر صدارت خان بہادر احمد خان صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس‘ حیات و ممات مسیح علیہ السلام و ختم نبوت پر (قادیانیوں سے) مناظرہ ہوا انجمن اہل السنت والجماعت کی طرف سے مولانا مولوی محمد سلیم صاحب اور مولانا محمد حسین صاحب مناظر تھے جن کے دلائل قاطع نے مرزائیوں کو اس حد تک ساکت کر دیا کہ انہیں اپنی شکست تسلیم کیے بغیر چارہ نہ رہا۔
مناظرہ کے بعد مرزائیوں کی کتب سے بابو حبیب اللہ امرتسری اور مولانا لال حسین اختر نے مرزائیت کے زہر آلودہ پروپیگنڈہ کا اپنی تقاریر میں اس حد تک سدباب کیا کہ عوام کو مرزائیت کے بطلان کا اعلان کرتے دیکھا گیا۔ (تائید الاسلام‘ جون ۱۹۳۲ء‘ ص ۲۲)
چیچہ وطنی میں عظیم الشان مناظرہ اور مرزائیوں کو شکست فاش
۳ جون ۱۹۳۲ء کا دن اسلامیان چیچہ وطنی ضلع منٹگمری کے لیے نہایت مسرت بخش ثابت ہوا۔ کیونکہ اس دن مرزائی مذہب کی وہ صداقت جسے اس کے مبلغ ناواقف لوگوں کو
گمراہ کرنے کے لیے فخریہ پیش کیا کرتے ہیں، اس کی قلعی اچھی طرح کھل گئی۔ مرزائی جماعت کی طرف سے اشتہار شائع کیا گیا جس میں اعلان کر دیا گیا تھا کہ ۳ جون سے لے کر ۵ جون تک جماعت مرزائیہ قادیانیہ کا جلسہ ہو گا اور غیر مذہب کو سوال و جواب کا موقع دیا جائے گا۔
مسلمانان چیچہ وطنی نے محترم و مکرم جناب مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر کو چیچہ وطنی بلا لیا۔ ۳ جون کو حیات و وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر پہلا مناظرہ ہوا۔ مرزائیوں کی طرف سے مولوی علی محمد امیری مولوی فاضل اور اہل سنت و الجماعت کی طرف سے مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر مناظر مقرر ہوئے۔ مناظرہ سننے والے حضرات اس بات کے شاہد ہیں کہ قادیانیوں کو اس مسئلہ پر جس قدر ناز ہے، اس مناظرہ میں انہیں اس سے بدرجہا زیادہ شکست فاش اٹھانی پڑی۔ مولوی صاحب نے قرآن مجید، احادیث صحیحہ، اقوال آئمہ اور تحریرات مرزا سے اس بات کو صراحت سے ثابت کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آپ قرب قیامت میں نازل ہو کر تمام دنیا میں اسلام کو پھیلادیں گے اور اس وقت سوائے اسلام کے دوسرا کوئی مذہب نہ رہے گا۔ دوسرے دن مرزائیوں نے مناظرہ سے گریز کرتے ہوئے حیلے بہانے تلاش کرنے شروع کر دیے۔ لیکن مسلمانوں کے اصرار نے انہیں مناظرہ کے لیے مجبور کر دیا۔ چنانچہ تیسرے دن پہلا مناظرہ صداقت مرزا پر میاں مولوی علی محمد مرزائی اور مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر مبلغ اسلام ہوا۔
مولوی علی محمد نے مرزا صاحب کی صداقت کو ثابت کرنے اور ملازمت کا حق نمک ادا کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن شیر پنجاب ثانی کی گرفت نے انہیں بے حس و حرکت کر دیا۔ محترم مولانا اختر صاحب نے مرزا صاحب کی پیشگوئیاں مرزا صاحب کے اٹ سنٹ الہامات اور ان کی قرآن دانی کے وہ نمونے پیش کیے کہ سامعین عش عش کر اٹھے۔ دوران مناظرہ قادیانی مناظر نے ایک حدیث پیش کی کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کے وقت میں چاند اور سورج کو رمضان میں گرہن لگے گا۔ مولوی صاحب نے اس کے جواب میں پچاس روپے انعام کا اعلان کر دیا اور مرزائی مناظرہ کو چیلنج کیا کہ اگر تم اس خود ساختہ حدیث کا سلسلہ روایت حضرت نبی کریم ﷺ
تک پہنچا دو تو تمہیں پچاس روپے انعام دوں گا۔ لیکن جھوٹے مدعی نبوت کے چیلے نے جو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کے عادی ہیں، باوجود مولوی صاحب کی تحدی اور اصرار کے سلسلہ روایت کا نام تک نہ لیا۔ مولوی صاحب نے اپنی باطل شکن تقریروں میں دلائل قاطع اور براہین ساطع سے مرزا صاحب کے دعویٰ مہدویت، مسیحیت اور نبوت کے پرخچے اڑا دیے۔ متنبی قادیان کے کذبات وافترات کو اچھی طرح سامعین کے ذہن نشین کر دیا اور مرزائی دلائل کو جو تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے تھے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ اس تین گھنٹے کے معرکہ حق و باطل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اہل سنت والجماعت کو عظیم الشان فتح عطا فرمائی۔ اختتام مناظرہ پر مسلمانوں نے فتح کی خوشی میں اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور چند جوشیلے مسلمانوں نے مولانا لال حسین صاحب اختر کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔
اسی دن تیسرا مناظرہ ختم نبوت پر ہوا۔ مسلمانوں کی طرف سے مولانا نور حسین صاحب گھرجاکھی اور مرزائیوں کی طرف سے مولوی علی محمد مناظر تھے۔ مولانا نور حسین صاحب نے قرآن شریف کی آیات اور احادیث صحیحہ سے ختم نبوت کو ثابت کر دیا۔ قادیانی مناظر نے اپنی عادات کے مطابق بہت ہیر پھیر کیے لیکن مولوی صاحب کے زبردست دلائل کے سامنے اس کی کوئی تاویل نہ چل سکی اور مولوی نور حسین صاحب نے قادیانی نبوت کاذبہ کا بھانڈا چیچہ وطنی کے چوراہے میں پھوڑ کر رکھ دیا۔
غرضیکہ ان تینوں مناظروں میں مرزائیوں کو وہ شکست فاش ہوئی کہ امید نہیں اب وہ چیچہ وطنی میں مناظرہ کا نام تک لیں۔
(رسالہ ”تائید الاسلام“ جون ۱۹۳۲ء‘ ص۱۹‘ ۲۰)
خانیوال میں مرزائیوں کو عبرت ناک شکست
جون ۳۲ء کے اوائل میں قادیانیوں نے اپنے باطل مذہب کو پھیلانے کے لیے خانیوال شہر میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں ان مار آستینوں نے حسب عادت مسلمانوں کے خلاف خوب زہر اگلا۔ علماء کرام پر آوازیں کسی گئیں، صوفیاء کرام کی ہنسی اڑائی گئی۔ مسلمانان عالم کو مردوں سے تعبیر کیا گیا۔ مرزا قادیانی کی نام نہاد مسیحیت کا ڈھنڈورا زور شور
سے پیٹا گیا۔ اس پر اکتفاء کیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا اگر مسلمان دنیا میں فلاح اور نجات چاہتے ہیں تو مرزا جی کی نبوت کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیں۔
قادیانیوں کے جلسے کے دوسرے دن معززین شہر جمع ہوئے اور انہوں نے ایک عظیم الشان اسلامی جلسے کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ غور و خوض کے بعد ۲۵‘ ۲۶ جون ۱۹۳۲ء کی تاریخیں مقرر کی گئیں۔ علماء کرام کی خدمت میں دعوت نامے جاری کیے گئے۔ ایک نمائندہ مولانا لال حسین اختر کو لینے کے لیے لاہور بھیج دیا گیا۔
۲۵ جون بروز ہفتہ صبح سات بجے پہلا اجلاس شروع ہوا۔ کئی حضرات نے تقریریں فرمائیں۔ آخری تقریر مولانا عبد العزیز نے بطالت مرزا پر کی۔ مرزائیوں کو سوال و جواب کے لیے وقت دیا گیا۔ مرزائی مناظر نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن مولوی صاحب نے مرزائی مبلغ کے چھکے چھڑا دیے۔
اسی دن دوسرا اجلاس بعد از نماز ظہر شروع ہوا۔ مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر نے دوران تقریر عقائد مرزا پر روشنی ڈالتے ہوئے مرزائیوں کو متواتر چیلنج کیے اور فرمایا اگر تمہارے پاس صداقت ہے‘ اگر تم متنبّی قادیاں کے مقرر کردہ معیاروں سے اس کی صداقت کو ثابت کر سکتے ہو تو میرے مقابل پر آؤ۔ مولانا کی زبردست للکار کو سن کر مرزائی مبلغ بادل ناخواستہ اسلامی جلسہ میں آگئے اور باقاعدہ گفتگو شروع ہو گئی۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ تمہارے نبی نے لکھا ہے:
- (الف) جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘ حاشیہ ص۱۹)
- (ب) جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں ۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی‘ ص۲۶)
- (ج) غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔ (آریہ
دھرم‘ ص۱۹)
مولانا نے فرمایا کہ مرزا کے ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں۔ جھوٹ بولنا اسلام سے مرتد ہو جانے کے مترادف ہے۔ غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔ کرشن قادیانی کا یہ کلیہ پیش کر دینے کے بعد حضرت مولانا نے مندرجہ ذیل کذبات مرزا پیش کر دیے ۔
- (۱) اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔ (تحفہ الندوہ)
مولانا نے فرمایا کہ میں علی وجہ البصیرت ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتا ہوں کہ کرشن قادیانی کا کوئی چیلہ قرآن مجید کی ایسی کوئی آیت ہمیں نہیں بتا سکتا جس میں ان کے کرشن رودر گوپال مرزا غلام احمد کا نام ابن مریم رکھا ہو۔ یہ مرزاجی کا سیاہ جھوٹ ہے۔
- (۲) "قرآن شریف میں تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور
قادیان" (ازالہ اوہام)
مولوی صاحب نے مرزائی مبلغ کو چیلنج دیا کہ تم قیامت تک بھی قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا نہ بتا سکو گے۔ اور جب نہ بتا سکو تو لعنت اللہ علی الکاذبین کہہ دو اور تسلیم کر لو کہ مرزا صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔
- (۳) ھذا خلیفہ اللہ المھدی یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے۔ (شہادت
القرآن)
حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ مرزاجی کا افترا ہے۔ بخاری شریف میں یہ حدیث ہرگز موجود نہیں۔ اگر بخاری میں یہ الفاظ دکھا دو تو دس روپے نقد انعام لو اور اگر نہ دکھا سکو اور یقیناً نہ دکھا سکو گے تو صاف کہہ دو کہ مرزا صاحب نے جھوٹ لکھ کر اپنے مرتد ہونے پر مہر توثیق ثبت کر دی ہے۔
- (۴) حضرت مجدد صاحب سرہندی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ جسے کثرت سے مکالمہ و
مخاطبہ ہو، وہ نبی کہلاتا ہے۔ (حقیقۃ الوحی)
مولانا نے اعلان کر دیا کہ یہ حضرت مجدد صاحب سرہندی کے متعلق مرزا صاحب کی بہتان طرازی ہے۔ حضرت مجدد صاحب سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوبات میں تحریر فرمایا ہے کہ جس کو کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ ہو وہ محدث کہلاتا ہے۔ مرزا جی نے اپنی نبوت کاذبہ کو ثابت کرنے کے لیے اس حوالہ میں صریح خیانت کی ہے۔ اگر اپنے کرشن جی مہاراج کی عزت رکھنی ہے تو مکتوبات کے محولہ بالا حوالہ میں لفظ نبی دکھاؤ۔
- (۵) مرزا صاحب کی حاجت براری کرنے والے ٹچی فرشتہ کا جھوٹ۔ (مکاشفات)
حضرت مولانا نے مرزا صاحب کے ان پانچ جھوٹوں کی اچھی طرح وضاحت فرمائی اور مرزائی مناظر سے ان کا جواب دریافت فرمایا۔ مرزائی مبلغ نے کھڑے ہوتے ہی حسب عادت بکنا شروع کر دیا کہ انبیاء بھول جاتے تھے۔ غلطی نبیوں سے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر مرزا
صاحب نے بھی چند غلط باتیں کہہ دیں تو ان سے درگزر کرنا چاہیے اور نظر انداز کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ مرزا صاحب نے کیا کام کیا ہے۔ آپ کے لاکھوں مرید ہیں۔ غرض ایسے مفاخر بے جا کے میدان میں وقت گزار دیا اور جناب مولانا لال حسین صاحب اختر کے پانچوں اعتراضات کا کوئی جواب نہ دیا۔ مولوی صاحب نے اپنی تقریروں میں مرزائی مناظر کی تاویلات کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے اور اپنے سوالات کو دوبارہ سہ بارہ بڑی تحدی کے ساتھ پیش کیا اور مرزاجی کی غلط بیانیاں اور بہتان طرازیاں اچھی طرح حاضرین کے ذہن نشین کر دیں۔ متنبئ قادیان کے کذبات کے پردہ کو چاک کر کے رکھ دیا۔ خداوند کریم کے فضل و کرم سے اس مناظرہ کا عام پبلک پر بہت اچھا اثر ہوا۔ مناظرہ کے اختتام پر ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر مرزاجی کے کذبات کا ذکر تھا۔
تیسرا اجلاس بعد از نماز عشاء شروع ہوا۔ پہلی تقریر جناب مولوی محمد حسین شاہ صاحب نے اصلاح رسوم پر فرمائی۔ ان کے بعد مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر‘ اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان سٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ نے مرزا صاحب کے بعض عقائد جو آریہ سماج سے مطابقت رکھتے ہیں‘ بیان فرمائے۔ مولوی صاحب نے دوران تقریر ازالہ اوہام کا ایک حوالہ بیان فرمایا جس کے یہ الفاظ ہیں:
”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو تمہیں دکھائی دے مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک بھی ہندو تمہیں نظر نہیں آئے گا“۔
یہ الفاظ سنتے ہی مرزائی ایجنٹ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ازالہ اوہام میں ”عنقریب“ لفظ نہیں ہے۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مولوی صاحب نے فرمایا اگر ازالہ اوہام میں ”عنقریب“ کا لفظ نہ ہو تو میں تمہیں پچاس روپے ابھی انعام دیتا ہوں اور اگر ”عنقریب“ موجود ہوا تو تم صرف اتنا ہی لکھ دینا کہ مرزاجی نے جھوٹ بولا ہے۔ لیکن مرزائی مبلغ برابر رٹ لگاتا گیا کہ نہیں ہے نہیں ہے۔ اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مرزاجی کی عبارت پیش کرتے۔
آخر مولانا صاحب نے فرمایا کہ کوئی ہندو سکھ یا عیسائی آئے اور ازالہ اوہام کی مذکورہ بالا عبارت پڑھ کر حاضرین کو سنادے۔ حاضرین میں سے ایک عیسائی سٹیج پر آیا۔ ازالہ اوہام سے مرزاجی کی عبارت با آواز بلند پڑھی۔ اس میں عنقریب موجود تھا۔ مرزاجی
کی اصل عبارت سننے سے مرزائی مبلغ پر سکتہ کی حالت طاری ہو گئی۔ اس کے بعد مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر نے مرزائی عقائد کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور مرزائیت کی ایسی زبردست تردید کی کہ لوگ حیران رہ گئے۔
دوسرے دن پہلا اجلاس صبح آٹھ بجے شروع ہوا۔ پہلی تقریر سید مبارک شاہ صاحب کی ہوئی۔ ان کے بعد مولانا مولوی عبدالعزیز اور مرزائی مبلغ کے درمیان مرزا صاحب کے نکاح آسمانی پر مناظرہ ہوا۔ مولوی صاحب نے کتب مرزا سے حوالہ جات پیش کیے جن میں مرزا جی نے لکھا ہے کہ اگر محمدی بیگم کے ساتھ میرا نکاح ہو جائے تو میں سچا اور اگر نہ ہو تو میں جھوٹا ہی نہیں بلکہ ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا۔
مولوی صاحب نے فرمایا چونکہ محمدی بیگم سے مرزا صاحب کا نکاح نہیں ہوا اس لیے مرزا جی بقول خود جھوٹے ٹھہرے۔ مرزائی مناظر مبارک احمد نے نکاح ثابت کرنے کی بجائے الٹی سیدھی تاویلیں کرنی شروع کر دیں۔ جس سے جوش میں آکر مولانا مولوی لال حسین صاحب اختر اٹھے۔ آپ نے نکاح آسمانی کی کچھ ایسی تشریح فرمائی کہ جس سے صداقت مرزا کے پرخچے اڑ گئے اور مرزا جی نے نکاح آسمانی کے لیے جتنی کوششیں کی تھیں، اور جتنے بہروپ بھرے تھے، انہیں بالتفصیل بیان فرمایا۔ اگرچہ مرزائی مناظر نکاح آسمانی کو ثابت کرنے کے لیے حضرت نبی کریم ﷺ پر بھی حملہ کرنے سے باز نہ رہ سکا لیکن شیر اسلام کی گرفت نے اسے بے حس و حرکت کر دیا۔ آخر مرزائی مناظر کو بھی اپنی شکست تسلیم کیے بغیر چارہ کار نہ رہا۔
دوسرا اجلاس بعد از نماز ظہر شروع ہوا۔ اس اجلاس میں ختم نبوت پر زبردست مناظرہ ہوا۔ اہل سنت والجماعت کی طرف سے مولانا مولوی عبدالعزیز صاحب نے قرآن مجید کی پندرہ آیات، دس احادیث ختم نبوت کے اثبات میں پیش کیں۔ جن کا مرزائی مناظر اخیر تک کچھ جواب نہ دے سکا۔ دوران مناظرہ اس سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں جو ہزیمت خوردہ مناظر سے ہوا کرتی ہیں۔ اس مناظرہ کا بھی عوام پر بہت اچھا اثر ہوا۔
ان تینوں مناظروں کو سن کر تمام مسلمانوں کو یقین کامل ہو گیا کہ مرزائی مذہب بالکل جھوٹا اور باطل ہے۔
(ماہنامہ ”تائید الاسلام“ جولائی ۱۹۳۲ء، صفحہ ۲۰، ۲۱، ۲۲، ۲۳)
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۲۸ تا ۳۰، جنوری ۱۹۸۷ء)
(از قلم: مولانا منظور احمد الحسینی)
قادیانی لطائف
ظاہر ہے کہ آپ کا یہ ظریفانہ انداز مجالس مناظرہ ہی تک محدود نہیں رہ سکتا تھا بلکہ اس خصوصیت کا ظہور ہر طرح کی مجالس میں ہوتا تھا۔ بے جا نہ ہو گا اگر آپ کی ظرافت کے بھی دو چار واقعات درج کر دیئے جائیں۔
- ١- ایک دفعہ کسی تقریب کے سلسلے میں آپ لاہور تشریف فرما تھے۔ انہی دنوں
قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کا جلسہ تھا۔ مولانا چونکہ نہایت وسیع الظرف تھے اور تمام فرقوں کے اکابر سے۔۔۔۔ مناظرانہ نوک جھونک کے باوجود۔۔۔۔ نہایت اچھے‘ دوستانہ اور فیاضانہ مراسم رکھتے تھے۔ اس لیے منتظمین جلسہ نے آپ کو بھی تقریر کے لیے مدعو کیا۔ آپ اپنے احباب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ کو اچانک دعوت نامہ ملا۔ آپ فوراً احمدیہ بلڈنگز روانہ ہو گئے۔ لاہوریوں نے آپ کو دیکھ کر مسیح موعود زندہ باد اور احمدیت پائندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے۔ درحقیقت وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ آج مولانا کو دام فریب میں پھانسنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ صدر جلسہ نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لیے زحمت دی ہے کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے اخلاق و عادات پر کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ آپ موقع کی مناسبت سے مرزا صاحب کی کچھ نہ کچھ مدح و توصیف کر ہی دیں گے لیکن مولانا بھی غضب کے موقع شناس‘ معاملہ فہم اور برجستہ گو تھے۔ اٹھے اور حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا:
”احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل کیا بیان کروں‘ جہاں تک مجھے یاد ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے محاسن و محامد کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں۔
مولانا نے اس مصرعہ کو چند بار دو انگلیاں اٹھا کر دہرایا۔ جب مرزائی سامعین دوسرے مصرعے کے لیے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا:
زباں پر گالیاں، مجنوں سی باتیں
یہ سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں نیچی گئیں اور مولانا اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔
۲۔ ایک بار آپ بٹالہ میں ایک جلسہ کی صدارت فرمارہے تھے۔ ایک قادیانی مولوی کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ وہ باہر گئے اور فارغ ہو کر ازار بند پکڑے ہوئے جلسہ گاہ میں آ گئے۔ حاضرین جلسہ کو ان کی اس حرکت سے گدگدی سی ہونے لگی۔ مولانا نے حاضرین کی کیفیت تاڑ لی۔ اٹھے اور فرمایا کہ "آپ لوگ مولوی صاحب کی اس حرکت پر حیران کیوں ہیں۔ موصوف تو اپنے پیغمبر کی پیشگوئی پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ یہ شاعر قادیان ہی کا ارشاد ہے کہ ع
اس پر سامعین لوٹ پوٹ ہو گئے اور مولوی صاحب محترم اس طرح روپوش ہوئے کہ پھر ان کا سراغ نہ لگ سکا۔
۳۔ ایک مناظرے میں مبحث کے تعین پر گفتگو چل رہی تھی۔ مرزائی ”حیات و وفات مسیح“ کو موضوع بحث بنانے پر مصر تھے اور مولانا ”آسمانی نکاح بابت محمدی بیگم“ کو زیر بحث لانا چاہتے تھے۔ قادیانی مناظر نے طنزاً کہا! میں نہیں سمجھتا مولوی ثناء اللہ کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے کہ انہیں اس کی اتنی حمایت مقصود ہے۔ مولانا نے فوراً فرمایا کہ محمدی بیگم زیادہ سے زیادہ ہماری اسلامی بہن ہو سکتی ہے۔ مگر وہ تو تمہاری (قادیانی امت کی) ماں ہے، اگر غیور ہو تو اپنی ماں کو گھر بٹھاؤ۔ دوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے“۔ اس ظریفانہ نکتہ سنجی اور حاضر جوابی پر پوری مجلس قہقہہ زار بن گئی اور فریق مقابل بہت خفیف ہوا۔
۴۔ پنجاب میں سکھ مسلم فساد کے ایام میں سکھوں کی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی نے گورداسپور میں ملکی اتحاد و اتفاق کی تلقین کے لیے ایک جلسہ منعقد کیا اور تقریر کے لیے مولانا کو بھی مدعو کیا۔ آپ نے اس وقت کے حالات کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے نہایت پر اثر تقریر فرمائی۔ دوران تقریر آپ کی رگ ظرافت پھڑکی اور آپ نے سکھوں سے کہا کہ وہ ہز ہائینس مہاراجہ صاحب قادیان کا احترام کریں اور ان کی امت کے ساتھ ادب سے پیش آئیں۔ کیونکہ پیغمبر قادیان بھی سکھوں سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر
قادیانی سامعین بھڑک اٹھے اور شور مچایا کہ آپ اپنے الفاظ واپس لیجئے اور تحریری معافی مانگئے ورنہ آپ کے خلاف دعویٰ دائر کیا جائے گا۔
مولانا مسکرائے اور فرمایا میں نے مرزا صاحب کو ”مہاراجہ“ اور ”سکھوں سے قریبی تعلق رکھنے والا“ کہا ہے تو کچھ بے جا نہیں کہا ہے۔ بلکہ ان کے ایک الہامی نام کی مناسبت سے کہا ہے۔ آپ نے البشریٰ ’جلد دوم، ص ۱۱۸ میں لکھا ہے کہ خدا نے آپ کا نام ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ رکھا ہے۔ اگر میرا حوالہ غلط ہو تو الفاظ واپس لینے اور تحریری معافی مانگنے کو تیار ہوں۔
- ۵۔ ایک دفعہ آریہ سماجی اور ایک قادیانی آپس میں جھگڑ پڑے۔ مولانا نے سماجی سے
فرمایا بھئی! توبہ کرو اور مرزائیوں سے نہ جھگڑو۔ کیونکہ یہ تمہارے فرمانروا ہیں۔ آپ کی اس بات پر دونوں کو حیرت ہوئی۔ آپ نے فرمایا بھئی! تعجب کیوں کرتے ہو؟ مرزا صاحب نے البشریٰ (جلد ۱، ص ۶۵) میں اپنے آپ کو ”آریوں کا بادشاہ“ لکھا ہے۔ یہ سن کر سماجی تو ہنس پڑا اور مرزائی کو بڑی خفت ہوئی۔
(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری، ۲۱۷ تا ۲۱۹، از صفی الرحمٰن الاعظمی)
سامان عبرت
میرے قادیان جانے سے کچھ پہلے ایک واقعہ عجیب رقت انگیز ہوا۔ ایک احمدی لڑکا عبدالرحمٰن لوہار، عمر شاید ۱۴-۱۵ سال ہوگی۔ ایک ڈنڈا ہاتھ میں لیے ہوئے گھر سے یہ کہتا ہوا بازار میں نکلا کہ ”یہ ڈنڈا میں ثناء اللہ کے سر پر ماروں گا“ قادیان کی آبادی سے باہر آٹا پیسنے کی ایک مشین ہے۔ عبدالرحمٰن مذکور اسی مشین میں (شاید کسی کام کو) گیا۔ جاتے ہی مشین میں پھنس کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ انا للہ
(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری، ص ۱۷۷، از صفی الرحمٰن الاعظمی)
ہم نے بھی ربوہ دیکھا
آنکھیں میری باقی ان کا
غالباً ۱۹۵۸ء کی بات ہے مرزائی روزنامہ الفضل (ربوہ) میرے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ ربوہ کا سالانہ جلسہ جسے قادیانی حج کا درجہ دیتے ہیں، بچشم خود دیکھنا چاہیے۔ اور امت مرزا اور ان کے کارناموں کا قریب سے مشاہدہ ہونا چاہیے۔ تب ربوہ میں کسی مسلمان کے بلا اجازت رہنے کا تصور بھی نہ تھا۔ چنانچہ میں نے پہلے ایک خط دفتر جلسہ سالانہ کو لکھا کہ:
- ۱۔ میں ایک سنی العقیدہ مسلمان ہوں۔ ختم نبوت کا قائل ہوں۔ کیا مجھے تمہارے
سالانہ جلسہ میں شرکت اور شمولیت کی اجازت ہو گی۔
- ۲۔ چونکہ میں مسلمان ہوں مجھے وہ ذبیحہ چاہیے جو ایک مسلمان کے ہاتھ کا ذبیحہ ہو۔
مرزائیوں کو میں غیر مسلم سمجھتا ہوں، کیا مجھے تمہارے شہر ربوہ میں کسی مسلمان کا ذبیحہ اور طعام میسر ہو سکے گا۔
- ۳۔ میں چونکہ ناواقف ہوں، کیا ہوٹل یا سرائے یا قریب رہائش کے لیے کوئی مکان
میسر آ سکے گا۔
- ۴۔ اور مجھے اپنی نماز اور عبادت ادا کرنے کی اجازت بھی ہو گی۔
یہ خط میں نے افسر جلسہ سالانہ کو ارسال کیا جو اس وقت مرزا طاہر تھا اور جو اب خلیفہ ہے۔ مجھے مولوی عبداللہ تونسوی، مولوی فاضل جو نائب افسر جلسہ سالانہ تھے، نے جواب بھیجا کہ:
- ۱۔ آپ بلا تامل جلسہ میں تشریف لائیں، کوئی رکاوٹ نہ ہو گی۔
- ۲۔ ہمارے جلسہ کا جملہ انتظام ٹھیکیداری سنی العقیدہ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
آپ کو حلال ذبیحہ بلا تکلیف ملے گا۔ (واللہ اعلم یہ صحیح تھا یا نہیں)
- ۳۔ آپ ہمارے مہمان ہوں گے۔ آپ کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔ آپ کا نمبر
آپ کو ارسال ہے۔
- ۴۔ آپ اپنی عبادت ادا کرنے میں آزاد ہوں گے۔
امت قادیانیہ کے اس نظم اور رواداری پر حیران ہوا۔ ارادہ سفر کر لیا اور مولانا قاری محمد عبد اللہ صاحب (حال خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد) میرے رفیق سفر تھے۔ ہم ملتان پہنچے۔ جاتے ہوئے حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جالندھری، شیخ الحدیث و مہتمم خیر المدارس کو ملنے کے لیے چلے گئے اور شرف ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت کے پوچھنے پر جملہ پروگرام ان سے ذکر کیا۔ حضرت نے چنیوٹ میں مولانا محمد حسین کے نام خط دے دیا اور وہیں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی۔ براستہ لائل پور (فیصل آباد) ہم روانہ ہوئے۔ مرزائیوں کے زنانہ و مردانہ قافلے عقیدت سے ربوہ جا رہے تھے اور بڑی مسرت و شادمانی ان کے چہروں پر تھی۔ اپنے خلیفہ کی زیارت کا شوق ان کو کشاں کشاں لیے جا رہا تھا۔ ان کی عقیدت اور فرط شوق کو دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلا:
لقد زین الشیطان اعمالہم۔ ”بے شک شیطان نے ان کے اعمال سنوار سجا کے پیش کیے ہیں“۔
جمعہ کا دن تھا۔ ہم چنیوٹ پہنچے۔ رفقاء سفر کو معلوم نہ تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے ”حضرت صاحب“ کے پیچھے نماز جمعہ کا شرف حاصل کریں اور حضرت خلیفہ صاحب کی زیارت جملہ گناہوں کا کفارہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے کہا کہ ہماری نماز وہاں نہیں ہوتی اور چنیوٹ اتر گئے۔ جمعہ ادا کیا۔ شام کو ربوہ چلے گئے اور واپس آگئے۔
اگلے دن صبح ہفتہ کو ہم ان خطوط کو لے کر افسر جلسہ سالانہ کا شکریہ ادا کرنے گئے تو وہ ہمارے انتظار میں تھے۔ ہمیں خوش آمدید کہا اور ہماری بڑی آؤ بھگت کی اور اصرار کیا کہ آپ یہاں ٹھہریں۔ ہم نے بہت معذرت کی لیکن ان کا شدید اصرار تھا کہ کم از کم ان سے چائے پی لیں۔ چنانچہ ان کے ہمراہ کیفے فردوس میں گئے اور بڑی میز کے سامنے بیٹھ گئے۔ تقریباً چھ افراد جو مولوی فاضل یا گریجویٹ معلوم ہوتے تھے، ہمارے ساتھ چلے۔ میزبان کی عیاری و مکاری بھی دیکھے یا میزبان کی پختہ زناری بھی دیکھے۔ ہم آٹھ افراد میز کے گرد بیٹھ گئے۔ چائے پیسٹریاں اشیاء خوردنی رکھے گئے۔ اب ارشاد ہوا ذرا ٹیبل ٹاک تو ہونی چاہیے۔ مولوی عبداللہ (مرزائی) کہنے لگے میں بھی ڈیرہ غازی خان کا ہوں۔ حب الوطن من الایمان۔
آپ ہمارے علاقہ اور ضلع کے ہیں۔ ہم نے کہا فرمائیے۔ ارشاد ہوا کہ ہمیں اسلام کا ایک فرقہ مان لو جس طرح دیوبندی، بریلوی، حنفی، شافعی، اہل حدیث وغیرہ ایک فرقہ ہیں (اور ہماری بڑی تعریف کرنے لگے کہ تم نے صاف صاف ہمیں کہہ دیا کہ ہم غیر احمدی ہیں وغیرہ وغیرہ) ہم نے کہا فرمائیے! زبان مناظرانہ ہوگی یا پارلیمانی؟ جواب ملا نہیں پارلیمانی اور محبت کی زبان ہو۔
ہم نے کہا جب تک درخت کا تنا ایک نہ ہو کبھی بھی متفرق شاخوں میں وحدت نہیں ہوگی۔ اگر کیکر کا درخت شیشم کے ساتھ کھڑا ہے، شاخیں ملی ہوئی ہیں تو وہ دونوں درخت علیحدہ علیحدہ کہلائیں گے۔ کبھی بھی ایک درخت نہیں کہلائے گا۔ تمہارا اور ہمارا تنا (اصل بنیاد) متفرق ہے۔ لہٰذا وحدت نہیں ہو سکتی تو پھر آپ کو اسلام کا فرقہ کس طرح تسلیم کریں۔
اس پر نائب افسر جلسہ سالانہ نے کہا بنیاد یا تنا کیا ہے۔ اس کی تشریح کریں۔ جبکہ ہم بھی تمہاری طرح اسلام کے مدعی ہیں۔ ہم نے کہا کہ بنیاد (تنا) نبوت ہے۔ عیسائیت، یہودیت، اسلام نبوت کی بنیاد کی شاخیں ہیں۔ ورنہ اہل کتاب ہونے میں یہ بھی مشترک ہیں۔ خاص حالات میں اہل کتاب سے نکاح بھی جائز ہے۔ لیکن وحدت نہیں ہے۔ چونکہ تمہارا نبی مرزا غلام احمد آنجہانی ہے، تم نے اپنا تشخص عام مسلمانوں سے علیحدہ کر رکھا ہے۔ تمہارے رشتے ناطے مسلمانوں سے نہیں ہوتے، تم مسلمانوں کا جنازہ تک نہیں پڑھتے، تمہاری عیدیں علیحدہ ہیں پھر کیا یہی وحدت ہے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔
مولوی عبداللہ مرزائی نے کہا، ہم احمدی ہیں۔ ہماری نسبت حضور کی طرف ہے۔ ہمارے نبی کا نام غلام احمد تھا۔ وہ ظلی بروزی نبی تھے۔ حضور کے صدقہ اور طفیل ان کو نبوت ملی۔ یہ نبوت کے منافی نہیں ہے۔ ہم نے کہا تمہارا احمدی ہونا ایک فریب ہے۔ تم نسبت مرزا صاحب کی طرف کرتے ہو اور مرزا صاحب کا نام تو غلام احمد تھا۔ احمد مضاف الیہ ہے نسبت مضاف کی طرف ہوتی ہے، مضاف الیہ کی طرف نہیں۔ کیا عبداللہ کا باغ خدا کا باغ کہلائے گا؟ خلیفہ اللہ کی بیوی مضاف الیہ کی بیوی کہلائے گی؟ مضاف اور مضاف الیہ میں تغایر ہوتا ہے اور موصوف صفت میں وحدت ہوتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ احمد کوئی اور ہے اور غلام کوئی اور۔ اور غلام کبھی بھی اصل کی مسند پر جانشین نہیں ہو سکتا۔ اگر تمہیں مرزا صاحب آنجہانی کی طرف نسبت مطلوب ہے تو تم ”غلامی“ تو کہلا سکتے ہو احمدی
نہیں ۔ یہ سب ایک دھوکہ ہے جس سے یورپ اور ایشیاء میں تم شکار کھیل رہے ہو ۔ رہا مرزا صاحب کا ظلی‘ بروزی نبی ہونا‘ یہ اسلامی عقائد کی اصطلاحات میں تحریف ہے۔ اس کا کوئی اصل ثابت نہیں۔
لو كان بعدى نبيا لكان عمر ۔ (الحديث)
وہاں ظلی بروزی کیوں نہیں فرمایا ۔ پیغمبر خدا ﷺ کی نبوت کے بعد دوسری نبوت کا تصور مطلق حرام ہے۔ اکمل دین کے خلاف ہے۔ اچھا بتائیے مرزا صاحب نبی تھے تو کوئی کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔
نائب افسر جلسہ سالانہ نے کہا کہ حضرت نے مسلمانوں کے اندر جو ایک فرسودہ مسئلہ حیات مسیح چل رہا تھا اس کی وضاحت کی اور اس کو غلط بتلایا۔ تم تو علماء ہو ان کی ریسرچ کی داد دو۔
ہم نے کہا آپ اس عمر میں کیوں دھوکا دیتے ہو۔ میں خطبات احمدیہ سرسید احمد خان مرحوم کو تازہ پڑھ کے آیا ہوں۔ سرولیم میور کے جواب میں یہ تحقیق سرسید مرحوم کی ہے۔ یہ اس کا چبایا ہوا لقمہ ہے کچھ تو لحاظ کرو۔ اس پر ایک مرزائی مندوب نے کہا کہ حضرت نے نظام خلافت قائم کیا ہے اور میاں محمود احمد صاحب ہمارے خلیفہ ہیں۔ ہم ستر ہزار آدمیوں کو روٹی ایک وقت میں کھلا دیتے ہیں۔
اس پر میں نے کہا میاں صاحب کے کارنامے تاریخ احمدیت میں پڑھے ہیں۔ مولانا عبدالکریم مباہلہ اور فخرالدین ملتانی کے مکتوبات بھی پڑھ چکا ہوں۔ کیا ان کارناموں پر تم فخر کرتے ہو یہ تمہارا نظام خلافت ہے۔ رہا ستر ہزار کو روٹی کھلا دینا‘ یہ ٹھیکہ مجھے دے دو میں کھلا دوں گا۔ تیمور لنگ جب بایزید یلدرم کے مقابلے کے لیے گیا تو نو لاکھ فوج ساتھ تھی۔ وہ ان کو کتنی جلدی کھانا کھلا دیتا تھا اور سائنسی ترقی نہ ہونے کے باوجود کتنی جلدی سفر کر رہا تھا۔
بایزید یلدرم رحمۃ اللہ علیہ عیسائیت کے محاذ سے پلٹا اور اتنی تیزی سے فتوحات کر چکا تھا کہ اس کا لقب یلدرم (بجلی) پڑ چکا تھا۔ کیا اس دور میں یہی نظام خلافت تمہاری صداقت کی دلیل ہے۔
اس پر وہ لوگ چونک اٹھے۔ کہنے لگے اچھا جی چلیں ہم آپ کو تعلیم الاسلام کالج اور
دیگر مقامات کی سیر کرائیں اور غیر ملکی مہمانوں سے متعارف کرائیں۔ بحث کو ہم ختم کرتے ہیں۔ کیونکہ دکھتی رگ پر ہاتھ پڑ گیا تھا۔ اب ہم پر یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ اخلاص اور محبت کی دعوت نہ تھی بلکہ ہمیں شکار کرنا ہی مقصود تھا۔
غرہ شو کہ گربہ زاہد نماز کرد
اب چونکہ ہم نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ بھلا ”تاریخ احمدیت“ اور فخر الدین ملتانی اور عبدالکریم مجاہد کے مضامین دیکھنے کے بعد کون ان کے فتنہ میں آسکتا تھا اور کون ایسی خلافت کی حرکات اور دام تزویر میں پھنس سکتا تھا۔ مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کا گراؤنڈ کافی وسیع و عریض تھا۔ تقریباً ستر ہزار سے ایک لاکھ تک سامعین و زائرین موجود تھے۔ رضا کار فورس نے جلسہ کا انتظام سنبھال رکھا تھا۔ عورتوں کے اجتماع میں کافی گہما گہمی تھی۔ ”لجنہ اماء اللہ نے (جو کالج اور سکولوں کی ینگ لڑکیاں تھیں) انتظامات سنبھال رکھے تھے۔ دفتر تبلیغ میں لوگ جوق در جوق چندہ دے رہے تھے۔ قصر خلافت میں خلیفہ سے ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ کالج اور سکولوں میں مہمان ٹھہرے ہوئے تھے اور ان سب کا خوردنی انتظام وہیں تھا۔ سب لوگ نظم سے کھانا کھا رہے تھے۔ اب ذرا تفصیل ملاحظہ ہو:
ربوہ شہر پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔ مشرقی جانب دریائے چناب بہہ رہا ہے۔ یہ زمین آنجہانی ظفر اللہ خان نے مرکزی حکومت سے انجمن احمدیہ کے نام کرائی۔ یہ کروڑوں روپے کی جائیداد غالباً تین پائی فٹ یا فی مرلہ کے حساب سے ان کو دے دی گئی۔ یہ شہر تقریباً پچاس ہزار آبادی پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک مرلہ زمین کسی غیر کی نہیں جس پر خلیفہ قادیان قابض ہے۔ اس شہر میں فلک شگاف کوٹھیاں اور ایوان محمود‘ قصر خلافت‘ دفاتر‘ پریس‘ کالج‘ سکولز اور تجارتی مراکز ہیں۔ جب کسی مرزائی کو زمین الاٹ کر دی جاتی ہے‘ وہ تعمیر کرتا ہے تو وہ ملکیت بدستور انجمن احمدیہ کی رہتی ہے۔ وہ صرف قابض ہوتا ہے۔ اگر وہ مذہب تبدیل کرے تو اس مکان تعمیر شدہ یا کوٹھی سے خود بخود محروم ہو جائے گا۔ وہ مکین جب ملازمت یا کسی کاروبار میں چلا جائے گا تو کچھ فیصد آمدنی انجمن کو دینی پڑے گی۔ مرنے کے بعد قبرستان ٹیکس (بہشتی مقبرہ) کے لیے تقریباً ۱/۱۶ حصہ جائیداد دینی پڑے گی۔ مرد‘ عورتیں‘ بچے‘ ملازم‘ تاجر سب پر ٹیکس (چندہ) لازم ہوتا ہے۔ اب فرمائیے یہ مجبور بندے
جو ملازمت یا کاروبار یا کسی جھانسے میں پھنس گئے ہیں، کب اس دلدل سے نکل سکتے ہیں۔ پھر ان کے مستقبل کا کاروبار، شادیاں، مکانات، رشتہ داریاں، ان سے ہو جاتی ہیں۔ ہم سوچتے تھے شاید ہی کسی دن کا سورج اس ربوہ کو آزاد دیکھ سکے گا۔ بھلا ہو مجلس احرار اسلام کا اور تحفظ ختم نبوت کا اور ان مظلوم طلباء کا جن کی قربانیوں سے اتنا ہوا کہ اب ربوہ میں مسئلہ ختم نبوت کا اعلان تو سنا جاتا ہے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی جماعت مجلس احرار اسلام نے سب سے پہلے ۱۹۷۶ء میں اس سر زمین کفر پر مسلمانوں کی پہلی جامع مسجد قائم کی اور اب وہاں مسلمانوں کی مساجد آباد ہیں۔ جن سے توحید و ختم نبوت کے ایمان افروز نعرے بلند ہوتے ہیں۔ سارے ملک میں یہ واحد بد نصیب شہر ہے جو صرف اور صرف کفر کی ملکیت ہے۔ پرستاران حق نے کبھی سوچا بھی ہے کہ کس طرح سے مظلوم پھنس چکے ہیں اور کفر کے نظام نے اسلامی سٹیٹ میں حق کی آواز کو مفلوج کر رکھا ہے۔ یہ حکومت کے اندر حکومت ہے۔ اس ربوہ کی عدالت اپنی ہے۔ یہ پوپ (خلیفہ) جو اپنی من مانی کرتا ہے اور یہاں جو مذہب، اخلاق، عصمت، دولت اور تقدس پامال کیا جاتا ہے۔ اس کی نظیر شاید دنیا میں کہیں نہ مل سکے گی۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
جلسہ میں مقررین کے خطبات
مختلف عنوانوں پر تقریریں جاری تھیں۔ دوسرے دن شام، تقریر کا عنوان تھا ”کمالات مصطفیٰ“ اس تقریر پر تقریباً ۱۴ لوگ حاضر ہوئے۔ گراؤنڈ خالی رہا۔ لوگ چل پھر رہے تھے اور مقرر نے کوئی خاص دلسوزی اور عقیدت نہ دکھائی۔ دوسرے دن تقریر کا عنوان ٹھہرا ”کمالات حضرت صاحب“ (مرزا غلام احمد) پھر کیا تھا گراؤنڈ بھر گیا۔ قطار در قطار سامعین آ رہے تھے اور سر دھن رہے تھے۔ یہ حالت دیکھ کر خود سمجھیں ایک مسلمان کے دل پر کیا بیتی ہو گی۔ سید الانبیاء ﷺ کے کمالات سننے کے لیے تو کوئی شوق نہیں، ’ظلی‘ بروزی طفیلی پیغمبر کے لیے (بقول ان کے) یہ مجمع سر دھن رہا ہے۔ اس فریب کاری کو دیکھ کر ان کی تبلیغ اور خدمت اسلام کی حقیقت واضح ہو گئی۔ یہ لوگ تبلیغ اسلام کے نام پر یورپ، ایشیا، امریکہ، مشرق وسطیٰ میں پیسہ کماتے ہیں اور یہ ان کی حقیقت ہے۔
لوائے احمدیت کی پرچم کشائی
ظہر کے بعد خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ آگے پیچھے محافظ فورس تھی۔ جس طرح ایک ہز ہائی نس (والی ریاست) دربار میں تشریف لاتا ہے اور پھر لوائے احمدیت (مرزائیوں کا مخصوص جھنڈا یا علم) لایا گیا۔ خلیفہ نے اس کی پرچم کشائی کی۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ بڑی عقیدت اور جوش سے مرزائی اس پر فریفتہ ہو رہے تھے۔ خلیفہ صاحب نے دیدار کرایا اور آخری تقریر کی۔ اس مصنوعی خلیفہ کے یہ عادات اور اطوار قابل دید تھے۔ واقعی سچ ہے۔ زین لھم الشیطان اعمالھم ۔ یہی وہ خلیفہ تھا جس کی داستان روحانیت تاریخ احمدیت وغیرہ میں مرقوم ہے۔ جس کے عینی شاہد مولانا عبد الکریم مباہلہ (سابق امام مسجد قادیان اور صحابی مرزا) اور فخر الدین ملتانی، عبد الرحمن مصری اور ارکان جماعت لاہوری و کارکنان مجاہدین احرار اسلام ہیں۔ سلطنت برطانیہ کی تدبیر اور ہماری غفلت نے آج یہ دن ہمیں دکھلائے۔ (اس لوائے احمدیت پر قادیان کا منارہ چھاپا ہوا ہے)
خبیث اصطلاح
عالم اسلام میں سرکار دو جہاں جناب آقائے کل محمد مصطفیٰ ﷺ کو بوجہ مدینہ شریف کے مکین ہونے کے مدنی کہا جاتا ہے اور ابتدائی زندگی اور پیدائش مکہ کی وجہ سے مکی کہا جاتا ہے۔ اب ذرا ان آئمہ تلبیس کی شقاوت ملاحظہ کریں کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد کو حضرت قدنی کہتے تھے۔ چونکہ ہم نبی کریم کو مدنی کہتے ہیں اس کے بالمقابل یہ مرزا کو قادیان کی نسبت سے اور حضور کے تقابل کے پیش نظر ”مرزائے قدنی“ یا حضرت قدنی کہہ کر پکار رہے تھے۔ حالانکہ قادیانی تو نسبت ہو سکتی ہے، قدنی کہاں۔ کیا یہ طفیلی کی شان ہے کہ اصل کے مقابل اعزاز حاصل کرے۔ یہ اسلام کے باغی، نبوت نبوی کے منکر، نئی نبوت کے قائل۔ حضور کے دشمن تو ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ایمان تو حضرت مدنی ﷺ پر ہے، ہم قدنی کی نبوت کو کفر اور لعنت سمجھتے ہیں اور اس اصطلاح کو بغاوت تصور کرتے ہیں۔ اعاذنا الله منھم بلکہ یہ طبقہ یہاں تک چلا گیا ہے کہ اکمل مرزا شاعر ہے۔ وہ اپنے جذبات کو
اس انداز میں بیان کرتا ہے (جس پر مرزائی سر دھنتے ہیں)
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قادیانی)
بلکہ مرزا غلام آنجہانی کی بیوی کو (نعوذ باللہ) ام المومنین کے نام سے پکارا جاتا ہے اور مرزا کے دیکھنے والوں کو صحابی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ امہات المومنین کے متعلق ارشاد خداوندی ہے لستن کاحد من النساء احد نکرہ ہے۔ النساء معرف بالام ہے۔ الف لام استغراق کا ہے۔ یعنی دنیا کی کوئی بھی عورت تمہارے برابر نہیں۔ (خواہ سیدہ مریم، خواہ آسیہ، خواہ سیدہ فاطمہ کیوں نہ ہوں) یہ مرزائی ام المومنین ایسی ہے جس سے جھنڈا سنگھ (سکھ) روایت کرتا ہے۔ یہ نسبت اور یہ حدیث اور یہ تعلق۔ ہم اس تہہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ دریں ورطہ شد غرق کشتی ہزار
مسجد اقصیٰ بھی ہے بہشتی مقبرہ بھی
مرزائیوں کی فریب کاری
غیر ملکی یا ملکی مہمان جب بھی ان کے مہمان خانہ پہنچتے ہیں تو پہلے ان کو تبلیغ اسلام کرتے ہیں۔ یہ تصور دلاتے ہیں کہ ہم نے یورپ ایشیاء، افریقہ، مشرق وسطیٰ میں عیسائیت سے محاذ قائم کر رکھا ہے اور اس قسم کا لٹریچر پیش کرتے ہیں۔ ہمہ قسم کی مہمان نوازی کے بعد اگر ملازمت یا تعلیم یا تجارت یا رشتہ کی ضرورت ہو تو امداد کی پیش کش کرتے ہیں۔ پھر ایسا جال میں پھنساتے ہیں کہ اس کے لیے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے یکیدون کیدا کی عملی تصویر ہیں۔ اس سلسلہ میں جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ربوہ سے خط ملا کہ آپ اپنے تاثرات بھیجیں۔ فرمائیے ہمارا کیا تعلق لے کر آئے اور گئے۔ مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی عنوان
ایسا ملے گا جس میں ہماری مہمان نوازی کی یا تبلیغ کی یا نظم کی یا ہماری اجتماعیت کی تعریف ہوگی تو اسے خوب اچھالیں گے۔ دوسرا تعلق پیدا ہو جائے گا۔ آئندہ ہو سکتا ہے کہ شکار ہاتھ آ جائے لیکن میں نے جواب میں واضح لکھا کہ تم ایک شاطر وکیل کی طرح ہو جو موکل کو صرف باتوں باتوں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسے مقصد سے ذرا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یورپ اور دیگر غیر ممالک میں تم نے اسلام کے نام پر بھاری چندے وصول کیے۔ وہاں انجمن احمدیہ کو ایک اسلامی انجمن قرار دیا۔ ربوہ کو ایک اسلامی جماعتی مرکز قرار دیا ورنہ حقیقت میں تمہیں مرزائے قادیانی سے جو ربط ہے، وہ سرکار مدنی سے نہیں ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت وہ جلسہ اور لوائے احمدیت اور تحریک خلافت ہے جسے چشم گنہگار نے بچشم خود ملاحظہ کرلیا۔ لاکھوں غریب، بے کس طلباء، ملازمین، سادہ لوح ان کے فریب میں آچکے ہیں۔ خدا بھلا کرے مجلس احرار اسلام کا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا اور کارکنان تحریک تحفظ ختم نبوت کا اور دیگر علماء کا، جنہوں نے اس فتنہ کو واضح کیا ہے اور ان کو کافر قرار دلوایا۔ اگرچہ قانون تو بن گیا لیکن زیر زمین یہ آگ بدستور جل رہی ہے اور اپنی لپیٹ میں کئی سادہ لوحوں کو لے رہی ہے۔ ہمیں اس سے ہوشیار ہونا چاہیے۔ وما علینا الا البلاغ۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، مارچ ۱۹۹۱ء۔ از قلم : مولانا عبدالحی)
قاضی صاحب کی استقامت
آپ کے والد ماجد حضرت قاضی محمد امین صاحب مرحوم و مغفور کی وفات حسرت آیات کی خبر وحشت اثر جیل میں پہنچی۔ ہم حیران ہو گئے حضرت قاضی صاحب رحمتہ اللہ علیہ شجاعت و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ صبر و حوصلہ اور استقلال کی کیفیات دیکھ کر ہمارے ایمان تازہ ہوگئے اور مجھے تو بہت عبرت حاصل ہوئی۔ یہ ضرور ہوا کہ وہ ضابطہ کے مطابق پیرول پر جنازہ اور آخری زیارت کے لیے اجازت چاہتے تھے۔ جیل والے یا دیگر لوگ ”دوسرے طریقہ“ پر رہائی کے لیے پیش کش کرنے لگے۔ مگر حضرت قاضی صاحب رحمتہ اللہ علیہ، حضرت امیر شریعت رحمتہ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ تھے اور ختم نبوت کا تحفظ ان کا مشن اور ایمان تھا۔
ہم تعزیت کناں تھے اور آپ کی زباں پر اس وقت مولانا ظفر علی خان کے اشعار تھے۔
اے شہہ دیں تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
یہ سب کچھ ہے گوارا پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے
مجھے فرمانے لگے۔ میرے حبیب وہ رباعی سناؤ جو تم پڑھا کرتے ہو۔ میں نے عرض کیا۔
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحاء کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ ص ۴۱‘ از محمد اسماعیل شجاع آبادی)
قازقستان میں چند روز
قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے قادیانی سالانہ جلسہ منعقدہ یو۔ کے مورخہ ۲۹ جولائی ۱۹۹۵ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”سابقہ سوویت یونین سے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں میں قادیانیت کا نفوذ ہو رہا ہے۔ اس جلسے میں ۱۲۵ افراد پر مشتمل قازقستان کا بھرپور وفد آیا ہے۔ ایک شخص کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہاں آبائی تقریب کے سلسلے میں جب قازقستان کے صدر یہاں تشریف لائے تھے تو یہ بھی شامل تھے“۔ اس کے علاوہ قازقستان سے مسلسل ایسی اطلاعات مل رہی تھیں کہ وہاں قادیانیوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں کو مرتد بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے۔ یہاں تک کہ وہاں کے لوگوں پر اپنی تجوریوں کے دروازے کھول دیے گئے۔ قادیانیوں نے ہمیشہ عیسائی مشنری کی طرح اپنے مذہب کے فروغ کے لیے زن اور زر کا ہتھیار استعمال کیا۔ اس کی تصدیق ایک جگہ سے نہیں‘ بارہا کئی
جگہ سے ہوتی ہے۔ بہرحال حالات کا جائزہ لینے نیز قازقستان کے مسلمانوں تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے اور ان کو عقیدہ ختم نبوت و قادیانیت کے کفریہ عقائد اور مرزائیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے باخبر کرنے کے لیے قازقستان سفر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسلم امت کی اس سلسلے میں ہمیشہ رہنمائی کی ہے۔ قادیانیت نے جہاں بھی جڑ پکڑنے کی کوشش کی‘ چاہے اندرون ملک ہو یا بیرون ملک‘ ہر جگہ نہ صرف ان کا تعاقب کیا بلکہ اس کے سدباب کے لیے کوششیں کیں۔ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ جمہوریہ مالی میں جب وہاں کے ۳۰ ہزار مسلمانوں کو دھوکے سے قادیانی بنالیا گیا تو پھر فوری طور پر سفر کیا گیا۔ وہاں پہنچ کر وہاں کے مسلمانوں کو ان کے ارتدادی اور زندیقانہ عقائد سے آگاہ کیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ تمام مسلمان جو قادیانی بن گئے تھے‘ بفضل تعالیٰ قادیانیت سے توبہ کر کے دوبارہ داخل اسلام ہوئے۔ بخارا میں قادیانیوں کو ایک پرانی مسجد کی چابی دی جارہی تھی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد وہاں گیا اور وہاں کے حکام سے ملاقات کر کے قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ کیا تو الحمدللہ قادیانیوں کو مسجد کی چابی نہیں دی گئی۔
اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں۔ طوالت کے خوف سے اسے چھوڑتا ہوں۔ غرضیکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی یہ ذمہ داری رہی ہے اور ان شاء اللہ ہم اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہروقت تیار ہیں۔
قازقستان کو آزاد ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ معاشی حالت انتہائی خراب ہے۔ دینی‘ مذہبی و اخلاقی قدریں مٹ گئیں ہیں۔ سنٹرل ایشیاء کی تمام ریاستوں کا حال تقریباً ایک جیسا ہے۔ اگرچہ بعض جگہ علماء کام کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ روسی جبر و استبداد کے دور میں بھی علماء کرام‘ اندرون خانہ دین کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ریاستوں میں دین کی ہلکی جھلک نظر آتی ہے۔ ورنہ عمومی حالات تو یہ ہیں کہ وہاں کے مسلمان اتنا تو جانتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں لیکن بے چارے کلمہ تک پڑھنا نہیں جانتے۔ شہر میں‘ بسوں اور ٹیکسیوں میں سفر کے دوران لوگوں سے گفتگو کرتے کلمہ پڑھایا۔ بعض لوگ پڑھ لیتے اور بعض شرماتے تھے۔ بہت کم لوگ کلمہ پڑھنا جانتے تھے۔ بہرحال یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
قازقستان میں قازق و روسی زبانیں بولی اور پڑھی جاتی ہیں۔ ان زبانوں میں اسلامی لٹریچر عقائد، عبادات، فقہ، سیرت رسول کے موضوع پر کتابوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ صدیقی ٹرسٹ اور جمعیت تعلیم القرآن کراچی نے اگرچہ نماز اور تعلیم الاسلام جیسی کتب کا قازق و روسی زبان میں ترجمہ کر کے پورے سینٹرل ایشیاء میں پھیلایا ہے لیکن یہ ابھی ناکافی ہے۔ اس سلسلے میں ایک حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ قازقستان کے ایک ممتاز عالم دین شیخ خلیفہ السلطانی جو میرے داعی تھے، نے مجھے بتایا کہ یہاں روسی و قازق زبانوں میں سیرت رسول کے موضوع پر کتاب نہ ہونے کی وجہ سے ایک یہودی نے اس عنوان پر ایک ایسی کتاب شائع کی جو رطب و یابس سے بھری ہوئی ہے اور لوگ اسے خرید رہے ہیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں نے ٹی وی و ریڈیو پر اس کتاب کو دکھا کر لوگوں کو خریدنے سے منع کیا لیکن اس کے باوجود وہ کتاب فروخت ہو رہی ہے۔
قازقستان کے دارالحکومت الماتا کے بارے میں مجھے بتایا کہ وہاں تقریباً ۶۰ فیصد مسلمان اور ۴۰ فیصد روسی ہیں۔ یہ شہر بہت بڑا ہے۔ لیکن اندرون شہر مسجدیں غالباً ۱۰ سے زائد نہیں۔ اور وہ بھی خستہ حالت میں۔ ان میں ایک دو مسجدیں ایسی ہیں جن میں پنج وقت نمازوں کا اہتمام ہے۔ ورنہ صرف صبح اور عشاء کی نماز میں چند لوگ ہوتے ہیں۔ الماتا شہر کی سب سے بڑی مسجد، جو سینٹرل مسجد کہلاتی ہے اور حکومت کی نگرانی میں ہے، ابھی زیر تعمیر ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ اتنی بڑی مسجد کی تعمیر میں چند مزدور نظر آئے۔ نہ معلوم وہ کب پایہ تکمیل تک پہنچے گی۔ کسی مسجد میں بچوں کا مکتب نہیں ہے۔
یہ وہ حالات ہیں جن کی بناء پر مسلمانوں کی دین سے بے خبری کا فائدہ اٹھا کر عیسائی، یہودی، ہندو اور قادیانی، مسلمانوں کو ترنوالہ سمجھ کر ان کا شکار کر رہے ہیں۔ وہاں غربت بھی ہے اور غربت تو انسان کو ہر کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
قادیانیوں نے سب سے پہلے ایک ایسے شخص پر ہاتھ ڈالا جو ایک شاعر اور ملک کے صدر کا کلچرل مشیر ہے۔ اس کا نام دولینڈ کٹھین باتی ہے۔ اس کو اپنی کتاب شائع کرنے کے لیے قادیانیوں نے بڑی رقم دی۔ اس شخص نے کتاب کے اخیر میں قادیانی مذہب کے سچا ہونے کا اعلان کیا۔
میں نے قازقستان کا سفر اکتوبر کے آخری ہفتے میں کیا۔ اپنے قیام کے دوران
قازقستان کے ممتاز عالم دین شیخ خلیفہ السلطانی‘ ورلڈ ایسوسی ایشن آف قازق کے نائب صدر سلطان علی ہلفا باٹف‘ قازقستان میں پاکستان کے سفیر عزت مآب جناب سلطان حیاتعان‘ قازقستان حکومت کے مذہبی امور کے رئیس ڈاکٹر بختیار عثمانوف کے علاوہ الما تا کے آئمہ مساجد‘ دینی تنظیموں کے رہنماؤں‘ دانشوروں‘ قازق زبان کے ہفت روزہ اخبار ترکستان کے مدیر اور قازقستان میں مقیم پاکستانی تاجروں وقازق شہریوں سے ملاقات کر کے ان کو اسلام‘ عقیدہ ختم نبوت اور قادیانی فتنے کے بارے میں ملت اسلامیہ کا موقف پیش کیا اور ان کو بتایا کہ قادیانیت کے بارے میں مسلمان کتنے حساس ہیں۔ انہیں یہ بھی بتایا کہ پوری ملت اسلامیہ‘ قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دیتی ہے۔ اسی لیے حرمین شریفین میں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے ۱۹۷۴ء کے اپنے ایک اجلاس میں مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ قادیانیوں کو اپنے اپنے ملکوں میں غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔ مجمع الفقہ الاسلامی نے بھی ۱۹۸۵ء میں قادیانیت کو کفر قرار دیا۔ حکومت پاکستان نے بھی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کیا اور ۱۹۸۴ء میں ان کی غیر اسلامی سرگرمیوں پر پابندی لگائی۔ میں نے ان تمام حضرات کے سامنے قازقستان میں قادیانی سرگرمیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ پوری مسلم امت قازقستان میں قادیانی مسئلے پر کتنی متفکر ہے۔ ان سے درخواست کی گئی کہ ملت اسلامیہ کے یہ جذبات حکومت تک اور قازقستان کے صدر تک پہنچائیں۔ میری ان گزارشات پر شیخ خلیفہ السلطانی نے کہا کہ فکر کی بات نہیں۔ جونہی یہاں کے مسلمانوں پر قادیانیت کی اصلیت ظاہر ہو جائے گی‘ وہ اسے پنپنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے مسلمانوں میں دینی ومذہبی شعور پیدا کیا جائے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے۔ صحیح اسلامی لٹریچر مہیا کیا جائے تاکہ وہ حق وباطل میں تمیز کر سکیں۔ اس سلسلے میں‘ میں نے انہیں یقین دلایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر ممکن تعاون کرے گی اور قازق و روسی زبان میں عقیدہ ختم نبوت وقادیانیت کے موضوع پر لٹریچر تیار کرے گی۔ مذہبی امور کے رئیس ڈاکٹر بختیار نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے ہیں۔ قادیانی سرگرمیوں پر میری گہری نظر ہے اور حکومت کو قادیانیت کے سلسلے میں شرعی نکتے کی بنیاد پر تجاویز مرتب کر کے دوں گا۔ اس کے علاوہ ان سے مفصل گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر موصوف نے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات پر اسے خراج تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو کامیاب کرے۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف قازق کے نائب صدر سلطان علی بلغابائف نے بھی انہی جذبات کا اظہار کیا۔ ممتاز دینی تنظیموں کے رہنماؤں، آئمہ مساجد، پاکستانی و قازق شہریوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اس کو مشن کے طور پر اپنائیں گے۔
قازقستان کے ممتاز عالم دین شیخ خلیفہ السلطانی کے مختصر تعارف کے بغیر میرا یہ سفر نامہ نامکمل رہے گا۔ شیخ خلیفہ السلطانی کا تعلق قازق قوم سے ہے۔ وہ چین میں ۱۹۱۷ء میں پیدا ہوئے۔ کمیونسٹ انقلاب کے بعد ترکی آگئے۔ انہوں نے پہلے بھوپال میں پھر راولپنڈی جامعہ تعلیم القرآن میں تعلیم حاصل کی۔ مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے شاگرد ہیں۔ اردو بولتے ہیں۔ عربی اور قازق پر عبور حاصل ہے۔ قازق زبان میں انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر لکھی، جو خادم الحرمین الشریفین الملک فہد بن عبدالعزیز نے شائع کی۔ قازق زبان میں یہ واحد ترجمہ ہے اور قازقستان میں مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ علامہ صاحب قازق زبان میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ تقریباً ۸۰ سال عمر ہے لیکن اس کے باوجود بڑی تندہی سے خدمات انجام دیتے ہیں اور روزانہ دفتر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ سے نوازے۔
قازقستان کے دورے کے اختتام پر جب میں واپس لندن آرہا تھا تو جہاز میں تھوڑی دیر کے لیے سوچتا رہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان کی صورت میں ایک ایسا ملک بطور نعمت عطا فرمایا ہے جہاں مسلمانوں کو دین کا فہم و شعور بھی ہے۔ یہاں مدارس، مکاتیب و جامعات اور بڑی بڑی مساجد بھی ایک ایک شہر میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ہم اس کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ لیکن ایک نامعلوم طاقت نے ملک کے استحکام کے خلاف سازشیں کر کے مسلمانوں کو باہمی جنگ و جدل میں جھونک دیا ہے۔ کاش مسلمان آپس میں لڑنے کے بجائے اس نامعلوم طاقت کے خلاف صف آراء ہو جائیں اور اس کا قلع قمع کر دیں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کی کوشش کریں۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۴، شمارہ ۲۹۔ از قلم: عبدالرحمن یعقوب باوا)
عقیدہ ختم نبوت پر مولانا لال حسین اخترؒ کی تقریر
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے مسودہ جات سے مسئلہ ختم نبوت پر خالصتاً ایک علمی‘ جامع اور مختصر تقریر حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کی دستیاب ہوئی ہے جو حضرت مولانا عبدالجبار ابو ہریؒ کی ضبط کردہ معلوم ہوتی ہے۔ قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لیے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)
خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا!
حضرات! عقیدہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا اور جس طرح اللہ اپنی الوہیت میں وحدہ لاشریک ہیں‘ نبی کریم ﷺ بھی اپنی رسالت میں وحدہ لاشریک ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا بنی الاسلام علی خمس شہادہ ان لا الہ الا اللہ (الخ) پہلی چیز جو فرمائی گئی وہ کلمہ شہادت ہے جس کے دو حصے ہیں ”توحید و رسالت“ دونوں حصوں پر ایمان لانا نہایت ضروری ہے۔ صرف توحید پر ایمان ہو‘ رسالت پر ایمان نہ ہو تو دائرہ اسلام سے خارج۔ اسی طرح توحید و رسالت دونوں پر ایمان ہو لیکن ختم رسالت پر ایمان نہ ہو تو بھی دائرہ اسلام سے خارج۔
مسئلہ ختم نبوت بہت اہم مسئلہ ہے جس کے بغیر دین مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبرؓ نے سب سے پہلے اسی مسئلہ کی طرف توجہ فرمائی اور ہزاروں صحابہ کرامؓ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے ان کو نبی بنایا۔ نیز آدم علیہ السلام کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری کیا اور اس سلسلہ کو حضور ﷺ پر ختم فرمادیا۔
چونکہ حضور ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کو نہیں آنا تھا اس لیے حضور ﷺ نے
اسلام میں قیامت تک برپا ہونے والے فتنوں کی خبر دے دی۔ تاکہ امت مسلمہ ان سے خبردار رہے۔ چنانچہ ایک عظیم فتنہ کے متعلق خبر دیتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی ”یعنی میری امت میں تیس بڑے کذاب ہوں گے جن کی علامات یہ ہوں گی کہ امتی ہوتے ہوئے بھی دعویٰ نبوت کریں گے“۔ یاد رکھئے کہ حضور ﷺ نے جن کے متعلق دجال کا لفظ استعمال فرمایا ہے‘ ہم ان کے دجل و فریب کا اندازہ ہرگز ہرگز نہیں کر سکتے۔
ایمان یہ ہے کہ سورج اور چاند بے نور ہو سکتے ہیں‘ زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں‘ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں‘ ہر چیز بدل سکتی ہے‘ لیکن نبی کے فرمان میں کسی قسم کا کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان بھی وحی الٰہی سے ہوتا ہے وما ینطق عن الہوی یہ سوال کہ شارح مسلم نے اکمال الاکمال میں تصریح کی ہے کہ تیس دجال جن کی خبر حضور ﷺ نے دی تھی‘ پورے ہو چکے ہیں‘ غلط ہے۔ کیونکہ تیس سے مراد بڑے بڑے دجال ہیں۔ چھوٹے چھوٹے تو ہزاروں گزرے ہیں اور موجود ہیں۔ شارح مسلم نے شاید ہر صغیر و کبیر کو شمار کر کے تیس کی تعداد پوری کی ہے۔ اس لیے شارح بخاری نے فتح الباری میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ثلثون دجالون کا مفہوم تیس بڑے دجال ہیں جو کہ قیامت تک آتے رہیں گے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تصنیفات انجام آتھم اور ازالہ اوہام وغیرہ میں تصریح کی ہے کہ دجال قیامت تک آئیں گے۔ جب حضور ﷺ نے جھوٹے مدعیان نبوت کی خبر دی‘ اگر کوئی سچا نبی پیدا ہونا ہوتا تو ضرور اس کی خبر دی جاتی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ارشاد ہے قولوا خاتم النبیین ولا تقولوا لانبی بعدی اس لیے نہیں کہ آپ ختم نبوت کی قائل نہیں تھیں بلکہ یہ قول نزول عیسیٰ علیہ السلام کے پیش نظر تھا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ نے تکملہ میں اس کی تصریح کی ہے۔
یہ سوال کہ لانبی بعدی میں لا نفی کمال کے لیے ہے‘ جیسا کہ لا صلوه الا بفاتحہ الکتاب ولا صلوه لجار المسجد الا فی المسجد میں اس سے استدلال غلط ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو لاریب فیہ
اور لا الہ الا اللہ میں بھی لا نفی کمال کے لیے ہونا چاہیے۔ یعنی قرآن کے بعد کوئی دوسرا قرآن اور خدا کے بعد کوئی دوسرا خدا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لا نبی بعدی میں لا نفی جنس کے لیے ہے اور خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ایام صلح وغیرہ میں وضاحت کی ہے کہ لا نفی عام کے لیے ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اب لا صلوہ الا بفاتحۃ الکتاب یا لا سیف الا ذو الفقار یا اس کے امثال میں لا نفی جنس کا مراد نہیں لے سکتے۔ کیونکہ قرائن عقلیہ اور نقلیہ موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے ”لا“ کو اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے نماز میں فاتحہ کے علاوہ کوئی اور آیت پڑھ لی جائے تو فرضیت ادا ہو جاتی ہے۔ اس طرح حضرت علی ؓ کی تلوار کے علاوہ اور بہت سی تلواریں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان جیسی صورتوں میں لا نفی کمال کا مراد لیا جاتا ہے۔
یہ سوال کہ فبای حدیث بعدہ یومنون میں بعد کے معنی مقابلہ کے ہیں۔ یعنی قرآن کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب نہیں ہے۔ اسی طرح سے لا نبی بعدی میں بعد کے معنی مقابلہ کے ہیں۔ یعنی حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے مقابلہ و مخالفت میں کوئی نبی نہ ہو گا بلکہ بغیر کسی مخالفت اور مقابلہ کے نبی آسکتے ہیں، غلط ہے۔ کیونکہ بعدہ کے معنی مقابلہ اور مخالفت کی لغت میں نہیں کیے گئے اور فبای حدیث بعدہ کے معنی مفسرین نے یوں بیان فرمائے ہیں۔ اسے بعد کتاب اللہ یعنی بعد کے معنی مقابلہ اور مخالفت لینا سراسر غلط ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدا و مبشرا ونذیرا و داعیا الی اللہ باذنہ وسراج منیرا۔ اس آیت میں حضور ﷺ کو سراج منیر فرمایا گیا ہے۔ سراج کے معنی سورج اور منیر کے معنی روشنی دینے والا۔ مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ روشنی دینے والے سورج ہیں۔ یعنی جس طرح تمام ملکوں کے لیے ایک مادی سورج ہے، اور کوئی دوسرا سورج نہیں۔ اسی طرح تمام عالم روحانیت کے لیے ایک ہی روحانی سورج ہے، کوئی دوسرا روحانی سورج نہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ رات کو گاؤں گاؤں قریہ قریہ ہر جگہ چراغ روشن کرنے کی
ضرورت ہوتی ہے مگر سورج نکلنے کے بعد کسی قسم کے چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ حضور ﷺ سے پہلے کا زمانہ ایسا تھا کہ جیسا رات جہاں ہر جگہ چراغ روشن کرنے کی ضرورت ہوتی تھی اس لیے مختلف اوقات میں انبیاء علیہم السلام کو لوگوں کی طرف بھیجا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کے سورج کا طلوع ہوا اور اب کسی قسم کے روحانی چراغ یعنی پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ کے امتی ہوں گے اور خود امام نہیں ہوں گے۔ بلکہ حضرت امام مہدی کے پیچھے مقتدی ہو کر پہلی نماز پڑھیں گے۔
یہ سوال کہ جب حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیوں آئیں گے، غلط ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد قرب قیامت اور قول یہودی انا قتلنا المسیح کی تردید و قتل یہود اور یضع الحرب وغیرہ کے لیے ہو گی۔ یہ سوال کہ سورج کے لیے چاند اور ستاروں کا ہونا لازمی ہے لہٰذا حضور ﷺ جو کہ سورج کی مثال رکھتے ہیں، ان کے ستارے صحابہ کرامؓ اور چاند مرزا غلام احمد قادیانی ہے، غلط ہے۔ کیونکہ یہ چاند تو اس وقت کا ہے جب سے سورج ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اب آیا ہے۔ نیز چاند سورج کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے مگر حضور ﷺ کا سورج تو ہر وقت ہر جگہ طلوع رہتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں لنا شمس و للافاق شمس، وشمس خیر من شمس السماء یعنی میرا بھی ایک سورج (حضور ﷺ) ہیں۔ اور مخلوق کا بھی ایک شمس (سورج) ہے لیکن میرا سورج مخلوق کے سورج سے ہزارہا درجے افضل اور برتر ہے۔ اس کی تشریح میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے فرمایا افلت شموس الاولین و شمسنا ابدا علی الافق العلیٰ لا تغرب یعنی دنیا کا سورج ڈوب جاتا ہے اور ہمارے سورج (حضور ﷺ) کو کبھی غروب نہیں ہونا۔ معلوم ہوا جس طرح حضور ﷺ کے سورج کا کوئی چاند نہیں ستارے بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو نجوم نہیں فرمایا بلکہ کالنجوم فرمایا ہے۔ یعنی حضور ﷺ کے سورج کی طرف راستہ بنانے والے۔ عین نجوم نہیں فرمایا۔ کیونکہ ستاروں سے راستہ معلوم ہوتا ہے و ہم بالنجم یہتدون یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے صراط مستقیم کا تعین کرتے ہوئے فرمایا میری امت میں تہتر
فرقے ہوں گے۔ ان میں صرف ایک جماعت ناجی ہوگی۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سی جماعت ہوگی۔ فرمایا ما انا علیہ واصحابی ”جو میرے اور میرے صحابہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں گے۔
اسی آیت میں ایک اور شبہ کا ازالہ کیا گیا۔ وہ یہ کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ حضور ﷺ کی تابعداری اور فیض سے نبوت مل سکتی ہے‘ غلط ہے۔ کیونکہ سورج ہزارہا برس سے روشن اور فیض پہنچاتا آ رہا ہے۔ لیکن اس کے فیض سے کسی کو بھی یہ نہیں کہا گیا کہ وہ سورج بن گیا ہے تو کیونکر یہ ہو سکتا ہے کہ حضور ﷺ کی تابعداری سے کوئی آدمی نبی بن جائے۔ غرض یہ کہ جس طرح دنیا کے تمام چراغ سورج کی ایک کرن کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ اسی طرح دنیا کے تمام متقی اور صلحا حضور ﷺ کی ایک رکعت اور ایک سجدہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ خود حضور ﷺ نے فرمایا انا سید ولد آدم ولا فخر تمام اولادِ آدم کا میں سردار ہوں۔ یہ کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ اظہارِ نعمت مقصود ہے۔ ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین وكان الله بکل شئی علیما اس آیت میں ایک دعوٰی ہے اور ایک دلیل ہے۔ دعوے کو دلیل سے مقدم رکھا گیا ہے۔ یعنی حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (آخری نبی ہیں) بہت سے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ما کان محمد ابا احد یعنی حضور ﷺ کسی جوان بیٹے کے باپ نہیں ہیں۔
توضیح
جب حضور ﷺ کی نرینہ اولاد کا وصال ہو گیا تو کفار نے یہ شور و غل برپا کیا کہ حضور ﷺ کے بعد آپ کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔ تو اللہ رب العزت نے کفار کو جواب دیا کہ اگرچہ حضور ﷺ کی نسلی اولاد نہیں ہے ولکن رسول اللہ یعنی حضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تمام امت حضور ﷺ کی روحانی اولاد موجود ہے لیکن اس جملہ سے حضور ﷺ کی فضیلت دوسرے انبیاء کرام پر معلوم نہیں ہوتی کیونکہ انبیاء سابقہ کی روحانی اولاد کے علاوہ جسمانی اولاد بھی تھی۔ اور بعض کی نسلی اولاد کو نبوت کی نعمت سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا و خاتم النبیین یعنی
حضور ﷺ کی اگر نرینہ اولاد ہوتی اور حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے باوجود ان کو نبوت نہ ملتی یہ حضور ﷺ کی شان کے خلاف تھی۔ کیونکہ جب انبیاء سابقہ کی اولاد کو نبوت ملی تو حضور ﷺ کی اولاد کو بدرجہ اولیٰ نبوت ملنی چاہیے تھی۔ اس لیے حضور ﷺ کی اولاد کو دنیا میں باقی ہی نہ رکھا گیا تاکہ یہ بات تصور سے بھی ہٹ جائے کہ انبیائے سابقین کی طرح حضور ﷺ کی اولاد کو نبوت ملنی چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے والد محترم کو نبوت نہیں دی گئی یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ حضور ﷺ کو کسی نبی کے گھر پیدا نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں حضور کو ایک دوسرے نبی کی تابعداری میں چالیس سال تک رہنا پڑتا جو کہ آپ ﷺ کی فضیلت کے خلاف تھی۔ گویا نہ کسی نبی کے گھر پیدا کیا اور نہ آپ ﷺ کی اولاد سے کسی کو نبوت دی گئی۔ آپ ﷺ کی نرینہ اولاد کا بلوغ کو پہنچنے سے قبل وفات پانا ختم نبوت کی وجہ سے ہے۔ لو قضی ان یکون بعد نبی لعاش ابنه اس پر دلیل ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا لو قضی ان یکون بعد نبیا عاش ابنه ابراهیم ولکن لا نبی بعده یعنی اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنی مقدر ہوتی تو حضور ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم زندگی پاتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے لو کان بعدی نبیا لکان عمر یعنی اگر میرے بعد کسی کو نبوت ملنی ہوتی تو حضرت عمر ؓ کو ملتی۔ بیٹا ابراہیم زندہ نہ رکھا گیا بوجہ ختم نبوت کے اور حضرت عمر ؓ زندہ ہونے کے باوجود نبی نہ بن سکے۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ ایک مقام پر فرمایا گیا انت منی بمنزله هارون ولکن لا نبی بعدی یعنی اے علی ؓ تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارونؑ ، موسیٰؑ کے لیے، جن کو نبوت دی گئی تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
ان جملہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے اگر کسی کو نبوت ملنی ہوتی تو حضور ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم ؓ ، حضرت عمر ؓ اور علی ؓ کو ضرور ملتی اور ہندوستان میں حضرت سرہندی، خواجہ اجمیریؒ ، خواجہ شکر گنجؒ کوئی نبی نہ ہوئے۔ لہٰذا یہ امر قطعی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔
لفظ خاتم کی تحقیق
خاتم بالفتح ہو یا بالکسر ہو اگر جمع کی طرف مضاف ہو تو آخر کے معنی ہو گا۔ جیسا خاتم الشرائع، خاتم الکتب اور خاتم النبیین میں خاتم آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری نبی کے معنی ہیں۔
تنبیہہ
ختم جہاں بھی استعمال کیا گیا ہے، وہاں مطلب یہ ہوتا ہے کہ اندر کی چیز باہر نہ نکل سکے اور باہر کی چیز اندر نہ جاسکے۔ قرآن مجید میں لفظ ختم ”سات“ جگہ استعمال ہوا ہے۔ (۱) ختم اللہ علی قلوبہم (پ۱) ’ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ایمان اندر نہیں جاسکتا اور کفر باہر نہیں نکل سکتا (۲) فان یشاء یختم علی قلبک (پ۲۰) اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تیرے دل میں کوئی بات اندر نہ جائے اور دل کی کوئی بات باہر نہ نکلے (۳) وختم علی سمعہ وقلبہ (پ۲۰) یعنی اس کے کان اور دل کی یہ حالت ہے کہ اسلام کی کوئی بات نہ سن سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے اور کفر کی بات نکال نہیں سکتا۔ (۴) الیوم نختم علی افواھہم (پ۲۳) یعنی قیامت کے دن منکرین کی یہ حالت ہو گی کہ زبان سے اندر کی بات ظاہر نہ کریں گے اور خارج کی چیز داخل نہیں ہوگی۔ (۵) یسقون من رحیق مختوم (پ۳۰) یعنی بہشتی لوگوں کو ایسی سربند شراب دی جائے گی جس سے نہ کچھ نکالا گیا ہو گا اور نہ ہی خارج سے کسی قسم کا کھوٹ داخل کیا گیا ہو گا۔ (۶) وختامہ مسک (پ۳۰) یعنی بہشتی شراب کی مہر مسک کستوری سے ہو گی۔ اس کو توڑ کر نہ کوئی چیز نکالی گئی ہو گی نہ داخل کی گئی ہو گئی (۷) خاتم النبیین (پ۲۲) یعنی حضور ﷺ سے پیشتر انبیاء کرام کی فہرست سے کسی کو خارج نہیں کیا جاسکتا اور حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبیوں کی فہرست میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔
سوال
جیسا خاتم الفصحاء، خاتم الشعراء، خاتم المحدثین وغیرہ کے خاتم افضل کے معنی میں ہیں اسی طرح خاتم النبیین ﷺ میں خاتم معنی افضل نہیں، آخری نبی کے ہیں۔
جواب
جہاں خاتم کا استعمال خاتم الشعراء وغیرہ میں حقیقی معنی کے اعتبار سے متعذر اور دشوار ہے اور جہاں حقیقی معنی دشوار ہوں وہاں مجازی معنی مراد لیے جاتے ہیں اور خود خاتم الشعراء کہنے والا بھی آخری شاعر مراد نہیں لیتا بلکہ افضل شاعر مراد لیتا ہے۔ جیسا کہ حماسہ کے مصنف کی تعریف کرتے ہوئے ایک شاعر کہتا ہے فجع القريض بخاتم الشعراء وغدير روضتها حبیب الطائی اگر خاتم الشعراء سے مراد آخری شاعر ہی ہوتا تو بعد میں کوئی شاعر نہ ہونا چاہیے تھا حالانکہ اس کو خاتم الشعراء کہنے والا خود شاعر ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں خاتم سے مراد فضیلت ہے۔ آخری معنی مراد نہیں۔ اور انت خاتم المہاجرین میں خاتم کے حقیقی معنی مراد ہے اور آخری مہاجر کے ہیں کیونکہ افضل مہاجرین مراد لیا جائے تو لازم آتا ہے کہ ابن عباس تمام مہاجرین خلفائے راشدین حتیٰ کہ حضور ﷺ سے بھی افضل ہوں حالانکہ یہ محال ہے اسی لیے یہاں خاتم المہاجرین سے مراد آخری مہاجر ہوں گے۔ کیونکہ یہاں ہجرت سے مراد ہجرت مکہ الی المدینہ ہے۔ جو کہ مسلمانوں پر فرض کی گئی تھی۔ اور اسی کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا لا ہجرت بعد الفتح فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت ختم ہو گئی اور اس ہجرت کے آخری فرد حضرت ابن عباس ؓ ہیں۔ اب فتح مکہ سے ہجرت کی فرضیت تو ختم ہو گئی ”فی نفسہ“ ہجرت کرنے کی کوئی بندش نہیں ہے۔
حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ حضور ﷺ سے پہلے تمام انبیاء وصال پا چکے ہوں کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے کہ میں خاتم الاولاد ہوں یعنی اپنے والدین کے گھر میں آخری لڑکا ہوں۔ اس کے باوجود مرزا کی بہن جنت جو کہ مرزا سے پہلے پیدا ہوئی تھی، زندہ تھی۔
اگر خاتم النبیین کا معنی وہ مراد لیا جائے جو مرزائی کرتے ہیں یعنی نبیوں کی مہر‘ یعنی خود حضور نبی بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی سے قبل حضور ﷺ بھی خاتم النبیین نہ ہوئے کیونکہ مرزا قادیانی سے پہلے بالاتفاق کوئی نبی نہ تھا اور یہ معنی مرزائی مفہوم کے خلاف نہیں۔ تو پھر قادیانیوں کے معنی کے مطابق حضور ﷺ خاتم النبی ہوئے‘ خاتم النبیین نہ ہوئے۔ غرض قادیانی ترجمہ سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا عقیدہ غلط ہے۔ اور صحیح و سالم سلامتی و راستی کا عقیدہ وہ ہے جس پر امت کا ایمان ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد ینبا احد بعدہ کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ وما علینا الا البلاغ۔
(ماہنامہ ”لولاک“ ملتان‘ اگست ۱۹۹۸ء)
مولانا تاج محمود کی کوشش سے
ایک مرزائی کا قبولِ اسلام
میرے ایک عزیز چودھری مختار احمد ایڈووکیٹ مرحوم و مغفور چک نمبر ۳ شمالی بھلوال کے صاحب اثر زمیندار‘ بی ڈی کے سابق چیئرمین اور نون شوگر ملز کے لیگل ایڈوائزر تھے۔ ان کے بڑے بھائی چودھری غلام احمد بڑے پکے قادیانی تھے لیکن چودھری مختار احمد‘ چودھری غلام احمد کے زیر اثر ہونے کے باوجود حقیقت کے متلاشی تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کی وجہ سے ختم نبوت کے مسئلہ پر بات ہوتی تو وہ بغور سنتے۔ میں نے مولانا سے مشورہ کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ جیسا آپ نے بتایا ہے چودھری مختار احمد صاحب باوقار اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ ان کو لٹریچر دیں اور ان کو پڑھنے کا موقع دیں۔ بحث میں الجھنے سے پرہیز کریں۔ اتنا ضرور کہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ لا تجتمع امتی علی الضلالہ یعنی میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو گی۔ اس کے بعد انہیں بتائیں کہ آپ خود ہی غور فرمائیں کہ روس چین اور دنیا کے دیگر مختلف ممالک کے رہنے والے مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف رنگ و نسل کے مسلمان نبی اکرم
ﷺ کی ختم نبوت پر کسی مولوی کے کہنے پر تو اکٹھے نہیں ہو گئے۔ اس عقیدہ کی بنیاد قرآن و حدیث ہی ہے اور مندرجہ بالا متفق علیہ حدیث بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔
میں نے جب ان سے بات کی تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ مجھے اتنے اچھے انداز میں آج تک کسی نے دعوت فکر نہیں دی۔ میں مطالعہ بھی کروں گا اور غور و فکر بھی کروں گا۔ میں تو بھائی صاحب کی وجہ سے ہی اس جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ میں نے غور و خوض نہیں کیا۔ نہ ہی کسی نے اس طرح مجھے اس کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔
چنانچہ بعد میں چودھری مختار احمد مرحوم بیمار ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے گاؤں کی مسجد کے مولوی صاحب کو بلا کر کہا کہ میں اب مسلمان ہو گیا ہوں۔ میری نماز جنازہ آپ خود پڑھائیں۔ میں نے قادیانیت سے توبہ کر لی ہے۔ چودھری مختار احمد کی وفات پر ان کی وصیت کے مطابق مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا۔ میں نے مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کو جب تمام حالات سے آگاہ کیا تو مولانا چودھری مختار احمد کے چالیسویں پر چک نمبر ۳ شمالی بھلوال میرے ساتھ گئے اور ان کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی۔ ان کے بھائی چودھری غلام احمد نے قادیانی ہونے کی وجہ سے ان کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔
آج اللہ کے فضل سے چودھری مختار احمد کی اولاد مسلمان ہے اور ان کے بڑے لڑکے نے تایا چودھری غلام احمد کی لڑکی سے مرزائی ہونے کی وجہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کیونکہ مسلمان سے کسی مرزائی کا نکاح جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ چودھری مختار کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور چودھری مختار احمد مرحوم و مغفور کے درجات کو مزید بلند فرمائے۔ آمین۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر، ص ۶۵-۶۶، از محمد اشرف ہاشمی)
ربوہ... ایک نیا قادیان
پاکستان میں ایک نیا قادیان بسانے کے لیے ایک علیحدہ خطہ ”ربوہ“ کے نام سے حاصل کیا گیا اور اس کے لیے اس وقت کے انگریز گورنر پنجاب نے خاص کارنامہ یہ انجام دیا کہ پاکستان کے قلب میں ایک وسیع خطہ ”قادیانی ریاست“ کے لیے مخصوص کر دیا اور
”ربوہ کے قادیانیوں کو ایسی آزادی دی گئی کہ عملاً پاکستان کی حکومت وہاں نہیں تھی۔ گویا پنجاب میں اس کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت حاصل تھی جسے ریاست در ریاست کہنا صحیح ہو گا۔ ”تبلیغ اسلام“ کے نام پر دو لاکھ سالانہ زر مبادلہ قادیانی وصول کرتے رہے جس کے ذریعہ مشرقی افریقی ممالک میں وسیع پیمانے پر مرزائیوں نے اپنے مبلغ بھیجے اور ارتداد کا جال پھیلایا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی یہودی حکومت سے حکومت پاکستان کا کوئی تعلق اور رابطہ نہیں تھا مگر مرزائیوں نے ان کے مرکز تل ابیب اور حیفہ میں مراکز قائم کیے اور اس طرح برطانیہ کا خود کاشتہ پودا نہ صرف پاکستان میں بلکہ تمام اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں بھی ایک تن آور درخت بن گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سکندر مرزا اور ایوب کی غفلتوں یا غداری کی وجہ سے پاکستان کے کلیدی مناصب پر مرزائی چھا گئے۔ اس طرح مٹھی بھر مرزائی پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ حکومت نے محکمہ اوقاف کے ذریعہ مسلمانوں کے تمام اوقاف ”وقف ایکٹ“ کے ماتحت قبضہ میں لے لیے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں کے اوقاف کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ جس کے ذریعہ نہ صرف ان کی مالی حیثیت مزید قوی ہو گئی بلکہ ان میں ”خود مختار ریاست“ کا تصور شدت سے ابھرا۔ علاوہ اس کے بین الاقوامی سطح پر دشمنان اسلام اسرائیل و برطانیہ وغیرہ کی جانب سے ان کی جو مخفی اعانت ہوتی رہی اور سر ظفر اللہ نے اپنی پوری زندگی میں اقوام متحدہ کی نمائندگی کے دوران باہر کی دنیا میں مرزائیت کی جڑوں کو جو مضبوط کیا، وہ اس پر مستزاد ہے جس سے مرزائیوں کو اپنی بین الاقوامی پوزیشن کے مضبوط ہونے کا گھمنڈ ہونے لگا۔ الغرض ان متعدد عوامل کے تحت یہ فتنہ روز بروز قوی تر ہوتا گیا جس کی تفصیلات حیرت ناک بھی ہیں اور درد ناک بھی۔
(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ۲۲۹‘ ۲۳۰‘ از علامہ یوسف بنوریؒ )
تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۷۴ء۔ بقلم علامہ یوسف
بنوریؒ
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ کا حادثہ پیش آیا اور حالات نے نازک صورت اختیار کی۔ مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے اور حکومت نے بروقت صحیح قدم نہیں اٹھایا۔ ۳ جون
۷۴ء کو پنڈی میں علماء کرام اور مختلف فرقوں کا نمائندہ اجتماع ہوا۔ اس کو بھی ناکام بنانے کے لیے تین مندوبین مولانا مفتی زین العابدین ، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور مولانا تاج محمود کو لالہ موسیٰ کے اسٹیشن پر روک کر ٹرین سے اتار لیا گیا۔ ۳ جون کے اجتماع کو ناکافی سمجھ کر ۹ جون کو راقم الحروف کی طرف سے لاہور میں اجتماع رکھا گیا اور تمام اسلامی فرقوں اور جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے تمام فرقے اور جماعتیں دیو بندی‘ بریلوی‘ اہل سنت‘ شیعہ‘ اہل حدیث‘ مسلم لیگ‘ جمعیت علمائے اسلام‘ جمعیت علمائے پاکستان‘ جماعت اسلامی وغیرہ وغیرہ شریک ہوئیں۔ بیس جماعتوں کا نمائندہ اجتماع ہوا۔ راقم الحروف نے مختصر سی تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لیے ہے۔ یہ اجتماع "ختم نبوت" کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دینی رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہیے۔ جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں، ان کا مطمح نظر دین ہی ہو گا اور حزب اقتدار و حزب اختلاف کی کشمکش سے بالا تر ہو گا۔
تحریک ختم نبوت کا طریق کار
ختم نبوت کی تحریک کا طریق کار نہایت پر امن ہو گا اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لیے اس کو برداشت کرنا ہو گا اور صبر کرنا ہو گا۔ مظلوم بن کر رہنا ہو گا اور ہمارے مد مقابل صرف مرزائی امت ہو گی، حکومت نہ ہو گی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔ اس کے بعد مولانا مفتی محمود صاحب نے تائیدی تقریر فرمائی۔ پھر جناب نوابزادہ نصراللہ خاں اور دیگر مختلف نمائندوں نے تقریریں کیں۔ تحریک کو نظم وضبط کے تحت رکھنے کے لیے ایک مجلس عمل وجود میں آئی اور راقم الحروف کو عارضی طور پر اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ میری آرزو اور خواہش یہی تھی کہ آئندہ اجتماع میں مجھے اس بوجھ سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کی گئی اور ۱۴ تاریخ کو ملک میں مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ امت مرزائیہ سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا
گیا۔ اس دوران وزیر اعظم بمقصد مذاکرات لاہور میں قیام پذیر ہوئے۔ مجلس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر وزیر اعظم کی جانب سے ملاقات اور مذاکرات کی دعوت دی گئی خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی‘ اسے قبول کر لینا چاہیے کہ شاید افہام و تفہیم سے کوئی راستہ نکل آئے۔
۱۱ جون ۷۴ء وزیر اعظم صاحب بھٹو نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا اور بعد میں مجلس عمل کے دیگر افراد کو یکے بعد دیگرے فرداً فرداً بلایا۔ راقم الحروف نے بہت صفائی اور سادگی کے ساتھ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں جو کچھ کہا‘ اس کا حاصل یہ تھا کہ قادیانی مسئلہ بلا شبہ پاکستان میں روز اول سے موجود ہے۔ پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ شہید ملت (خان لیاقت علی خاں مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کر لیا تھا لیکن افسوس کہ وہ شہید کر دیے گئے اور ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب بنا ہو‘ اس وقت جو جرات مرزائی کو ہوئی ہے‘ اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیے گئے تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی جان و مال کی حفاظت حکومت کے لیے مشکل ہوگی۔ اقلیت قرار دیے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ”ذمی“ کی ہوگی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہوگی۔ اس طرح ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔
میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی (غیر اسلامی) حکومتوں کا دباؤ ہو گا لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ خارجی دنیا میں غیر اسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لیے اتنی بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرنا دانش مندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل و اعتماد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتی اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔ غلام محمد‘ سکندر مرزا اور ایوب خان کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور شہید ملت‘ شہید ہو گئے۔ الغرض گفتگو بہت طویل تھی۔ میں ٹھیک ۳۲ منٹ تک بولتا رہا۔ درمیان میں ایک آدھ سوال وزیر اعظم صاحب نے کیا جس کا جواب
شافی فوراً دے دیا گیا اور ان کو خاموش ہونا پڑا۔ بقیہ حضرات نے بھی فرداً فرداً ملاقات کی اور اپنے تاثرات پیش کیے۔ ۱۳ جون کو وزیر اعظم صاحب نے اردو میں لمبی تقریر کی، جو ریڈیو پر نشر ہوئی، جس میں حادثہ ربوہ پر ایک حرف بھی نہیں فرمایا۔ البتہ ختم نبوت پر اپنا ایمان ظاہر فرمایا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں لیکن یہ مسئلہ بہت پرانا ہے۔ اتنا جلد کیسے حل ہو سکتا ہے؟ ۱۴ جون ۱۹۷۴ء کو درۂ خیبر سے کراچی تک اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملے گی۔
۱۶ جون کو راقم الحروف نے فیصل آباد میں اجتماع رکھا تھا جس میں وزیر اعظم صاحب کی تقریر پر تبصرہ ہوا اور تنقید کی گئی کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کے مطالبہ سے کچھ زیادہ ہمدردی کا ثبوت نہیں دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نیشنل اسمبلی میں صرف ایک قرارداد پیش کرنے کے خواہش مند ہیں اور پھر اس قرارداد کو سپریم کورٹ یا مشاورتی کونسل کے حوالے کر کے سرد خانے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ قرارداد خواہ صوبائی اسمبلی کی ہو یا قومی اسمبلی کی، آئینی طور پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کی حیثیت صرف ایک مشورے اور سفارش کی ہے جبکہ مسلمانوں کے ملی مطالبہ کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ جلد سے جلد آئین اور دستور میں واضح طور پر ختم نبوت پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیا جائے اور جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا، اسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے اور نیشنل اسمبلی میں ترمیمی بل اس مقصد کے لیے پاس کرایا جائے۔ وزیر اعظم صاحب چونکہ اکثریت کے لیڈر بھی ہیں، اس لیے ان پر سب سے پہلے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان کو اس مسئلہ میں آزاد نہ چھوڑیں بلکہ انہیں ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی خاطر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر مامور و مجبور کریں۔ نیز مسئلہ کی اہمیت اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا تقاضا یہ ہے کہ بجٹ سیشن کو ملتوی کر کے سب سے پہلے اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔
مجلس عمل کے لاہور کے اجلاس میں راقم الحروف کو مجلس کا عارضی صدر مقرر کیا گیا۔ میری خواہش تھی کہ اس نازک ذمہ داری کے لیے کسی اور موزوں شخصیت کو صدارت کے لیے منتخب کر لیا جائے۔ مگر ع
اب کے مجلس عمل کا مستقل صدر پھر راقم الحروف کو باتفاق حاضرین منتخب کیا گیا۔ بہر حال یہ طے کیا گیا کہ پر امن طریقے پر تحریک کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کی جائے اور قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہرقیمت بچایا جائے۔ ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہرصورت گریز کیا جائے۔ ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔ پریس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ انتظامیہ نے اشتعال انگیز کارروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ چنانچہ سینکڑوں اہل علم اور طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں ناروا ایذائیں دی گئیں۔ کبیر والا، اوکاڑہ، سرگودھا، فیصل آباد، کھاریاں ضلع گجرات وغیرہ میں دردناک واقعات رونما ہوئے جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا۔ صرف ایک شہر اوکاڑہ میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر کتنا ظلم اور اس کے خلاف احتجاج ہوا؟ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخ دلی سے کیا گیا۔ مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر خدا تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔ جن کی تفصیل کی ان اوراق میں گنجائش نہیں۔
وزیر اعظم بھٹو صاحب مشرقی پاکستان (حال بنگلہ دیش) کے دورے سے جب واپس آئے تو پوری قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کی حیثیت دے کر اس کے سامنے دو قراردادیں پیش کی گئیں کہ اسمبلی بحیثیت خصوصی کمیٹی کے ان پر غور و فکر کرے۔
- ا۔ کہ آئین میں مسلمان کی تعریف کی جائے (پھر اس کے نتیجہ کے طور پر یہ فیصلہ کرنا
سپریم کورٹ یا مشاورتی کونسل کا کام ہو گا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں یا نہیں)
- ۲۔ کہ مرزائیوں کو دستوری حیثیت سے غیر مسلم اقلیت قرار دے کر غیر مسلم اقلیت
کی فہرست میں ان کا نام درج کیا جائے۔
پہلی قرارداد حزب اقتدار کی جانب سے جناب وزیر قانون نے پیش کی اور دوسری حزب اختلاف کے ارکان نے، یہ بھی طے کر دیا گیا کہ کمیٹی کے لیے چالیس اشخاص کا کورم
ہوگا۔ ان میں سے ۳۰ ممبر حزب اقتدار کے اور ۱۰ حزب اختلاف کے لازماً ہوں گے۔ گویا اصولی طور پر طے ہو گیا کہ جب تک حزب اختلاف کے دس ارکان کمیٹی کے فیصلہ کی تصدیق نہیں کریں گے‘ وہ فیصلہ کالعدم ہوگا۔ بہر حال ایک رہبر کمیٹی بنی اور خوشی کی بات ہے کہ سفارشات کے تمام مراحل اتفاق رائے سے طے ہوتے چلے گئے۔ اس دوران حکومت نے مرزائیوں کو صفائی پیش کرنے کا موقع دینا ضروری سمجھا۔ چنانچہ مرزا ناصر نے ۱۹۲ صفحے کا صفائی نامہ پیش کیا اور مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے صدر صدر الدین نے تحریری بیان پیش کیا۔ گیارہ دن تک مرزا ناصر پر جرح ہوتی رہی اور تین دن صدر الدین پر جرح ہوئی۔ جرح کے دوران تمام اراکین اسمبلی کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ مرزا غلام احمد مدعی نبوت دجال ہے اور نبی اور مجدد تو کیا ایک شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔ دوسری قرارداد جو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی تھی‘ اس کی تشریح و توضیح کے لیے دو صد صفحے کی ایک کتاب جو جدید طرز پر مرتب کی گئی تھی‘ ان ارکان کی جانب سے پیش کی گئی اور ایوان میں سنائی گئی جس سے تمام ممبران اسمبلی کو مرزائیوں کی مذہبی حیثیت اور ان کے سیاسی عزائم سے آگاہی ہوئی اور ان کی آنکھیں کھل گئیں۔
بہر حال مسلمانوں کی کوششیں نیشنل اسمبلی کی سطح پر اور باہر مسلمانوں کی عام سطح پر پر امن طریقے سے جاری رہیں۔ آخر جناب وزیر اعظم بھٹو صاحب نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء آخری فیصلہ کے اعلان کی تاریخ مقرر کر دی۔ حالات آخر تک مایوس کن تھے اور توقع نہ تھی کہ مطالبہ کا احترام کیا جائے گا۔ اس لیے کہ تین ماہ کے عرصہ میں تحریک کو کچلنے کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی لیکن (واللہ غالب علی امرہ) حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ قلوب بھی حق تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور زبانیں بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ خوف و رجا کے بہت سے مراحل آتے رہے۔ بالآخر وزیر اعظم بھٹو صاحب نے چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات کو بارہ بجے کے بعد مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ اگلے دن ۷ ستمبر کو اڑھائی بجے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ساڑھے چار بجے نیشنل اسمبلی کا اجلاس ہوا اور ساڑھے سات بجے ایوان اعلیٰ کا اجلاس ہوا۔ تمام حاضر اراکین کے اتفاق سے مسلمانوں کا مطالبہ منظور ہو گیا۔ اور آخری اعلان آٹھ بجے کی خبروں میں ہو گیا اور اس طرح الحمد للہ یہ مسئلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا۔ جب سے پاکستان بنا ہے مسلمانوں کو کبھی اتنی مسرت اور خوشی
نہیں ہوئی جتنی اس خبر سے ہوئی کہ اس سرزمین پاک میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر پاکستان کے مسلمانوں نے تاریخ اسلام میں ایک زریں باب کا اضافہ کیا۔ اب ان گزشتہ باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہ تھی مگر یہ چند اجمالی اشارے دو وجہ سے ضروری سمجھے گئے۔ اول یہ کہ مسلمان یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ ان کی ملی تحریک کن مراحل سے گزری اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دوم یہ کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ مسلمان مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر کے خدانخواستہ ظلم کر رہے ہیں۔ حالانکہ تحریک کو اول سے آخر تک دیکھا جائے تو قدم قدم پر مسلمانوں کی مظلومیت کے نقوش ثبت ہیں۔ مظلوم کو فریاد کرنے کی بھی اجازت نہ دینا کہاں کا انصاف ہے۔
سپاس و تشکر
اس موقعہ پر ہم سب کو اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ محض اسی نے اپنے فضل و احسان سے اپنے حبیب پاک ﷺ کی ختم نبوت کی لاج رکھ لی اور اس تحریک کو کامیابی عطا فرمائی۔ اسی نے اس کے فوق العادت اسباب مہیا کیے۔ مسلمانوں کے تمام طبقوں کو متحد اور مجتمع فرمایا اور اسی نے اراکین اسمبلی کے دل میں صحیح فیصلہ ڈالا الحمد للہ وحدہ‘ لا الہ الا اللہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ (اعنی سیدنا محمد ﷺ) و ھزم الاحزاب وحدہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندوں نے اس موقعہ پر دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ سے التجائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول فرمالیں۔ جو کچھ ہوا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے تکوینی طور پر ہوا۔ وہم و گمان سے بالا تر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا۔
مجلس عمل کے خادم کی حیثیت سے میں یہ فرض سمجھتا ہوں کہ جناب وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کو مبارک باد اور ہدیہ تشکر پیش کروں۔ اگر موصوف نے آخری مرحلہ میں تدبر سے کام نہ لیا ہوتا اور گزشتہ حکمرانوں کی طرح نشہ اقتدار میں مسلمانوں کے ملی مطالبہ کو خدانخواستہ ٹھکرا دیا جاتا تو شاید ہم سب غضب الٰہی کی لپیٹ میں آگئے ہوتے اور پاکستان میں پھر ۵۳ء کی یاد تازہ ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ یہ مسئلہ ان کے دور اقتدار میں
حل ہوا۔ اگرچہ مسلمانوں کو ابتلا سے گزرنا پڑا لیکن بالاخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ وزیر اعظم صاحب کے دل میں صحیح بات ڈال دی۔ بہرحال وہ اس جرات مندانہ اقدام پر تمام عالم اسلام کی جانب سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
نیز میں قومی اسمبلی کے سپیکر اور معزز مسلمان اراکین کو تمام مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مرزائیت کے تمام مالہ وماعلیہ کو بڑی محنت اور جانفشانی سے پڑھا اور پوری بصیرت سے صحیح فیصلہ صادر کیا۔
ملت اسلامیہ نے جس بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کیا اور تمام مسلمانوں نے جس عزم و استقلال کے ساتھ تحفظ ناموس رسالت (علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) کی خاطر ہر قسم کی گروہ بندیوں سے بالاتر ہو کر ایثار و قربانی کا نمونہ پیش کیا اس کی تحسین کے لیے الفاظ کا دامن تنگ ہے۔ جن جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ اس میں حصہ لیا، وہ اپنا اجر اللہ تعالیٰ کے یہاں پائیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے مستحق ہوں گے۔ حق یہ ہے کہ اس موقعہ پر ملت اسلامیہ کا ایک ایک فرد مبارک باد کا مستحق ہے۔
اس حادثہ ربوہ کا آغاز عزیز طلبہ پر ظلم و ستم سے ہوا اور انہوں نے ایک طرف تحریک کے لیے قربانیاں پیش کرنے کا عزم کیا تو دوسری طرف اپنے جوش و خروش کو مجلس عمل کی ہدایات کے مطابق بے جا استعمال کرنے سے حتی الوسع پرہیز کیا۔ ورنہ نوجوان طبقہ صبر و تحمل کی تلقین کو مشکل ہی سے سننے کا عادی ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے عزیز طلبہ دو گونہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر ان نوجوانوں کی ہمت و ارادہ کے دھارے صحیح رخ پر بہنے لگیں اور ان کی ایسی تربیت ہو کہ وہ اس پاکستان کی پاک سرزمین میں ہر قسم کی گروہ بندیوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر محنت کرنے والے بن جائیں تو اس ملک کا نقشہ ہی بدل جائے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز۔
اس موقعہ پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے کردار کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کا مزاج ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی مناسب موقعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتیں۔ مگر ہماری تحریک بحمد اللہ خالص دینی تھی۔ صرف آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کی ختم نبوت کی آئینی حفاظت اس کا مشن تھا۔ اس لیے جو جماعتیں
بھی مجلس عمل میں شامل ہوئیں۔ انہوں نے پوری شدت کے ساتھ اس مقدس تحریک کو سیاسی آلائشوں سے پاک رکھنے کا عزم کیا اور عملی طور پر اس کا پورا پورا مظاہرہ بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔
قومی پریس پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ تحریک کی خبروں کی اشاعت چھن چھن کر ہوتی تھی۔ اس کے باوجود قومی پریس نے مسلمانوں کی ملی تحریک سے حتی الامکان ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ خصوصیت کے ساتھ ”نوائے وقت“ لاہور نے بڑے بصیرت افروز اداریے اور مقالے شائع کیے۔ انصاف یہ ہے کہ دیگر دینی جرائد کے ساتھ ”نوائے وقت“ کا اس مقدس تحریک میں بہت ہی بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذمہ دار اصحاب کو بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
ناسپاسی ہوگی‘ اگر ہم اس موقعہ پر عالم اسلام کی ان مایہ ناز اور پروقار شخصیتوں کا ذکر نہ کریں جنہوں نے اس نازک موقعہ پر پاکستان کے مسلمانوں سے ہمدردی فرمائی اور ارباب حل و عقد کو اپنے قیمتی مشوروں سے مستفید کیا۔ میں ان کی خدمت میں پاکستان کے تمام مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
اس مسرت و شادمانی کے موقعہ پر ہمیں اپنے بزرگوں کی یاد آتی ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی اس کے لیے بے چینی میں گزاری۔ حضرت الاستاذ امام العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ ‘ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ‘ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ‘ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ‘ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ ‘ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ‘ مولانا محمد علی جالندھریؒ ‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ‘ مولانا لال حسین اخترؒ اور دیگر بہت سے اکابر نے اپنے وقت میں مرزائی فتنہ کے استیصال کے لیے اپنی ہمتیں صرف فرمائیں۔ حق تعالیٰ ان کو بہترین درجات عطا فرمائے کہ انہی کی جوتیوں کے طفیل آج مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ یہاں خصوصیت سے علامہ اقبالؒ مرحوم کا تذکرہ ضروری ہے کہ سب سے اول انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ اٹھایا۔
۵۳ء کی تحریک میں یا تحریک کے موجودہ مرحلے میں جن حضرات نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر اپنی جان نثار کی اور جام شہادت نوش فرمایا‘ ہم ان کی ارواح طیبہ پر بھی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں رنگ لائیں اور جس مقصد کے
لیے انہوں نے اپنی جان کا ہدیہ پیش کیا تھا‘ بالآخر اللہ تعالیٰ نے وہ مقصد عطا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بلند درجے عطا فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔
(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ۲۲۳ تا ۲۳۸‘ از علامہ یوسف بنوریؒ)
مرزائیوں سے متعلق مسلمانوں اور حکومت کے کرنے کا اصل کام
حکومت اور عام مسلمان دونوں سے متعلق جو چیز ہے وہ یہ کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمارا مشن پورا نہیں ہو جاتا بلکہ یہ تو اس کا نقطہ آغاز ہے۔ اصل کام جو ہمارے کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی مادی غرض یا کسی غلط فہمی کی بنا پر اس مرزائیت سے وابستہ ہوئے‘ انہیں آنحضرت ﷺ کے دامن ختم نبوت میں لانے کے لیے محنت کی جائے۔ ان کے اگر کچھ شبہات ہوں تو ان کو زائل کیا جائے۔ ان کی کچھ مجبوریاں ہوں تو ان کو رفع کیا جائے۔ مرزائیوں نے عام طور پر مسلمانوں ہی کو شکار کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو پوری ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ جہنم سے نکالنے کی فکر کی جائے۔ پاکستان کے اندر اور باہر جس قدر لوگ مرتد ہوئے ہیں‘ انہیں پھر سے اسلام کی دعوت دی جائے۔ مرزائیوں کو ”خارج از اسلام“ قرار دینا اصل مقصد نہیں تھا‘ بلکہ انہیں ”داخل در اسلام“ کرنا اصل مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں انشاء اللہ ایک وسیع ارادہ ہے۔ جو صالحین اس کے لیے قربانیاں دینے کو تیار ہوں گے‘ ان کے لیے انشاء اللہ بڑی ہی بشارتیں ہیں۔ راقم الحروف کے ایک نہایت مخلص دوست جناب شیخ محمود حافظ مدنی نے جو ان دنوں دمشق میں ہیں‘ ایک گرامی نامہ تحریر فرمایا ہے۔ اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں:
فانی ابشركم انی رایتكم فی المنام لیلہ ۳ شعبان ۹۴ھ رویا طیبہ جدا اھنئكم بھا‘ واختصرھا لكم‘ رایتكم مع جماعہ علیھم سیما الصلاح و التقوی متقدمین فی السن‘ وكلھم یعملون فی جمع صفحات القرآن الذی كتبتموہ بخطكم و قلمكم الجمیل بمداد لونہ زعفرانی و قصدكم
طباعہ ھذا القرآن و نشرہ بین الناس لتعمیم الفائدہ ھکذا سمعت منکم وانتم تشیرون الی فی غایہ من الفرح والسرور والابتھاج وعندما تیقظت لصلاہ الفجر قمت متفائلا والفرحہ تملا قلبی و ایقنت بان اللہ تعالی کلل اعمالکم بالفوز و النجاح، و الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات انتھی باختصار۔
”میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ میں نے ۳ شعبان ۱۳۹۴ھ کی رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے۔ جس کی آپ کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ اس کو یہاں مختصراً نقل کرتا ہوں۔ میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ہمراہ دیکھا جو سن رسیدہ ہیں اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں ہیں۔ یہ سب حضرات اس قرآن کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ جو آپ نے اپنے قلم سے سنہری زعفرانی رنگ کی روشنائی سے خود تحریر کیا ہے اور آپ کا قصد یہ ہے کہ اس کو عام فائدہ کے واسطے لوگوں میں شائع کیا جائے۔ آپ نے اپنے اس قصد کا اظہار نہایت مسرت و شادمانی اور سرور کی حالت میں میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، صبح کو نماز فجر کے لیے اٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے اعمال کو حق تعالیٰ نے کامیابی و کامرانی کا تاج پہنایا ہے، اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے جس کی نعمت سے تمام خوبیاں تکمیل پذیر ہوتی ہیں۔ خواب مختصر الفاظ میں ختم ہوا“۔
اہل فہم جانتے ہیں کہ ملاحدہ نے قرآن کریم کی آیات کو جس طرح مسخ کیا اور ان میں تاویل و تحریف کر کے ان کے مفہومات کو بگاڑا ہے، قرآن کو سنہری حروف میں لکھ کر تمام عالم میں شائع کرنے کی تعبیر اس کے سوا کیا کی جائے کہ ان ملاحدہ کی تحریفات دنیا کے جس جس خطے تک پھیلی ہوئی ہیں، ان کے اثرات وہاں سے مٹائے جائیں اور قرآن کریم کی سنہری تعلیمات کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے۔ کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کمزور، نالائق اور پست ہمت بندوں سے بھی اس سلسلہ میں کچھ خدمت لے لیں۔ و
ما ذلک علی اللہ بعزیز اب دیکھئے وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو قرآن کے ان سنہری صفحات کو جمع کرنے کے لیے میدان میں آتے ہیں
کس بمیدان در نمے آید سواراں راچہ شد
والحمدللہ اولاً واخراً والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ صفوۃ البریۃ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین ۔ (رمضان المبارک و شوال المکرم ۱۳۹۴ھ ، اکتوبر ۱۹۷۴ء، بصائر و عبر، حصہ دوم ، ص ۲۳۹ تا ۲۴۱، از علامہ یوسف بنوریؒ)
ملاقات
ہمارے بازار کا ایک تاجر ایک دن پریشانی کی حالت میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آپ مہربانی فرما کر میرے ساتھ چلئے..... آپ تو جانتے ہی ہیں، میرا سوت کا کاروبار ہے..... میں جس سے سوت خریدتا ہوں، وہ مرزائی ہے..... کئی دن سے وہ مجھے پریشان کر رہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ جن کے آنے کی پیش گوئی حضور نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے، وہ دراصل ہمارے مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ لہٰذا جب تک ان کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا..... آدمی جنت میں نہیں جائے گا۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا....... میں آپ کے پاس آگیا ہوں...... ویسے اس نے ایسے انداز میں باتیں کی ہیں کہ کچھ کچھ مجھے بھی یقین ہونے لگا ہے..... مرزا غلام احمد کہیں نبی ہی تو نہیں تھا“۔
یہ کہہ کر وہ میری طرف دیکھنے لگا۔
”مختار صاحب..... کیا وہ اس وقت بھی آپ کی دکان پر موجود ہے؟“
”ہاں بالکل..... اسی لیے تو میں آیا ہوں“۔
”چلئے پھر..... بات کرلیتے ہیں“۔
میں اس کے ساتھ ہولیا..... اس کی دکان پر ایک بوڑھا سا آدمی بیٹھا تھا..... میں نے
اس سے پوچھا ”ہاں جناب اب فرمائیں، آپ کیا کہتے ہیں، شیخ مختار صاحب تو ان باتوں سے ناواقف ہیں ..... آپ مہربانی فرما کر مجھے بتائیں۔ اس نے وہی الفاظ دہرا دیے ..... میں نے فوراً کہا۔
”لیکن جناب حضور نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کی تمام تر نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں“
اس پر اس نے کہا ”آپ کسی حدیث میں آسمان سے نازل ہونے کا ذکر دکھا دیں“۔
میں نے جواب میں کہا ”یہ کیا مشکل ہے ..... کنز العمال میں حدیث موجود ہے ..... اگر آپ پسند کریں تو میں ابھی لا کر دکھا سکتا ہوں“۔
اس پر وہ بولا ..... ”جی نہیں ..... آپ صحاح ستہ میں سے دکھائیں“۔
”کیا آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ صحاح ستہ میں آسمان سے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہوا؟“
”ہاں! بالکل“۔
”لیکن جناب! ہم آپ کو صحاح ستہ سے بھی آسمان سے نازل ہونا دکھا سکتے ہیں“۔
”ہرگز نہیں دکھا سکتے“۔
”تب پھر اسی پر فیصلہ ٹھہرا ..... کیا خیال ہے“۔
”ہاں بالکل“ اس نے فوراً کہا۔
اب میں شیخ مختار کی طرف مڑا۔
”شیخ صاحب! آپ گواہ ہیں اس بات کے“۔
”جی ہاں بالکل“۔
”تب پھر میں حدیث کی کتاب لاتا ہوں“۔
”واضح رہے ..... میں نے صحاح ستہ کا لفظ بولا ہے“۔
”جی ہاں ..... صحاح ستہ میں سے ہی لاؤں گا ..... ویسے ابن ماجہ کو تو آپ صحاح ستہ میں شامل سمجھتے ہیں یا نہیں“
”بالکل ..... ابن ماجہ صحاح ستہ کی کتاب ہے“۔
”شکریہ!“ میں نے کہا اور پھر واپس آیا ..... ابن ماجہ کی جلد اٹھائی اور لے گیا، معراج کے باب سے میں نے یہ حدیث پڑھ کر سنائی:
"حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو معراج ہوئی۔ آپ ﷺ نے ملاقات کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے..... ان سب نے قیامت کا ذکر کیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سب نے پوچھا، لیکن انہیں قیامت کا کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، انہیں بھی کوئی علم نہیں تھا..... آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے وعدہ ہوا ہے قیامت سے کچھ پہلے دنیا میں بھیجے جانے کا، لیکن قیامت کا ٹھیک وقت کوئی نہیں جانتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے، پھر انہوں نے دجال کے نکلنے کا حال بیان کیا اور کہا، میں اتروں گا دنیا میں اور اس کو قتل کروں گا....." (آگے بہت طویل حدیث ہے..... وضاحت سے علامات قیامت کا ذکر ہے)
یہ حدیث سن کر مرزائی اس طرح خاموش ہوا کہ پھر اس نے کوئی بات نہ کی..... اور اٹھ کر چلا گیا..... اس روز کے بعد میں نے کئی مرتبہ شیخ مختار صاحب سے پوچھا..... اب تو وہ مرزائی آپ سے مرزائیت پر بات نہیں کرتا..... شیخ صاحب نے ہر مرتبہ یہی بتایا "اس روز کے بعد اس نے پھر کبھی کوئی بات نہیں کی"۔
(ماہنامہ "لولاک" ملتان، فروری ۱۹۹۹ء، از قلم اشتیاق احمد)
خود الٹ دیں گے یہ مجرم اپنے چہروں سے نقاب (مولف)
مولانا ثناء اللہ امرتسری قادیان میں
اس جلسہ کے کچھ عرصہ بعد ایک صاحب (حکیم عبدالعزیز قریشی ستیانوی ضلع گوجرانوالہ) نے اپنی کسی ضرورت کے تحت قادیان کے اطراف میں بعض مقامات کا سفر کیا۔ انہوں نے جلسہ کے جو اثرات دیکھے، اس کی ایک جھلک آپ بھی ملاحظہ فرماتے چلئے۔ لکھتے ہیں:
"موضع راجووال میں چودھری گوہر علی..... وغیرہم بڑی جماعت نے بیان کیا کہ
ہمارا عقیدہ مذبذب مدت سے ہو رہا تھا۔ کبھی ہم قادیان کی طرف برائے بیعت مرزا صاحب قدم اٹھاتے۔ کبھی پھر رک جاتے۔ نہایت تشویش میں گھبرا رہے تھے۔ ہم سب کے سب ساٹھ آدمی جلسہ مذکور پر پہنچے۔ علماء کی تقریریں خصوصاً مولانا فاتح قادیان کی تقریر نے ہمارے دلوں کو مستقل کر کے ہمارے دماغوں میں نقشہ توحید و رسالت کھینچ دیا۔
موضع گھمن خورد میں بھی بیان مندرجہ بالا ہی سنا بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی سے سنا رہے تھے۔..... کہتے تھے کہ ہمیں اس جلسہ کی برکت سے استقلال حاصل ہوا۔
اس کے بعد موضع سروالی میں خاکسار پہنچا تو مولوی عبدالرحیم صاحب نے حلفی بیان کیا کہ میں بمعہ اپنے اسٹاف کے مرزا محمود صاحب کی بیعت کرنے کو تیار ہو رہا تھا مگر بعض اوقات متردد ہو جاتا تھا۔ اس جلسہ کی برکت سے ہمارے شکوک دور ہو گئے۔
بعدش موضع سٹھیالی خاکسار پہنچا..... تو چودھری امام دین صاحب (وغیرہ) نے بیان کیا کہ ہمارا نمبردار عرصہ سے احمدی ہو گیا ہوا ہے اور خواندہ آدمی ہے۔ ہمیں بہت ترغیب دلاتا رہا کہ اگر احمدی نہ ہوگے تو کافر مرو گے ۔ دوزخی ہو جاؤ گے۔ ہم بے علم لوگ ڈر کر گھبرا رہے تھے بلکہ بیعت کرنے کو مستعد تھے۔ کہ ایک اشتہار آن پہنچا کہ محمدی جلسہ قادیان میں ہوگا۔ لہٰذا ہم سب آدمی جلسہ پر گئے تو رنگ رنگ کی وعظیں، تردیدیں اور خصوصاً مولانا فاتح قادیان کی تقریریں زبردست سن کر ہمارے دلوں سے تمام فاسدہ شکوک جاتے رہے۔ مولانا صاحب کی تقریریں ہم بے علم لوگوں کے دماغوں میں نقشہ جمائے ہوئے ہیں..... مولانا صاحب کی مضبوط اور زبردست تقریر نے ایک مستقل اثر بفضلہ تعالیٰ بخش دیا۔ ہم سب لوگ اس خیال فاسدہ سے نادم ہو کر تائب ہوئے۔
...... بوقت روانگی جب خاکسار گھوڑی پر سوار ہوا تو چودھری عظیم بخش، چودھری اللہ دتہ نے با آواز بلند کہا کہ اب ہم احمدی نہیں رہے۔ ہم کو اب احمدی نہ شمار کیا جائے۔ (یاد رہے کہ پہلے یہ دونوں بڑے مستعد قادیانی تھے)
اس کے بعد خاکسار موضع بھانبڑی پہنچا تو وہاں بھی توحید کے نعرے اور سب بچے بوڑھے جلسہ محمدی قادیان کے گیت گا رہے تھے اور نہایت خلوص دل سے دعا گو تھے کہ جلسہ محمدی کا درخت ہمیشہ پھل دیا کرے اور اس کے حامیان کو خداوند کریم جملہ مصائب ارضی و سماوی سے محفوظ رکھ کر اس کی تکمیل کرے۔
مندرجہ بالا بیان میری معلومات سے بہت کم ہے جو میں اس علاقہ میں دیکھ اور سن آیا ہوں۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ نظر آئے جو مرزائی خیالات سے سخت متنفر ہو گئے ہیں اور جلسہ کی آواز (دوبارہ) سننے کی ہمہ تن کوشش میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے۔
یہ صرف چند گاؤں کی داستان ہے۔ اس طرح کے اثرات کہاں کہاں تک پہنچے ہوں گے' خدا ہی جانتا ہے۔ اس مفید تجربہ کے بعد قادیان اور اس کے گردو پیش کے مسلمانوں نے یہ طے کیا کہ وہ آئندہ بالالتزام سالانہ جلسے کیا کریں گے اور جب تک اس راہ میں سخت ترین رکاوٹیں قائم نہیں ہو گئیں' وہ اپنے اس عزم پر قائم اور عامل رہے۔
(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری' ص ۱۳۱ تا ۱۳۳' از صفی الرحمن الاعظمی)
حضرت حکیم الامت تھانویؒ کا ایک نادر مکتوب
مجلس احرار اسلام نے قادیان میں شعبہ تبلیغ کا اجراء کیا تھا۔ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے اس کے لیے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں ایک عریضہ تحریر کیا جس میں حضرت حکیم الامت سے اس شعبہ تبلیغ کے لیے اعانت کی اپیل کی درخواست کی گئی۔ جس کے جواب میں حضرت نے درج ذیل مکتوب گرامی تحریر فرمایا۔ یہ مکتوب حسن العزیز حصہ دوم کی حیثیت سے ماہنامہ ”النور“ تھانہ بھون بابت ماہ ربیع الثانی ۱۳۵۴ھ میں شائع ہوا۔
اس میں ”مضمون“ کے لفظ سے مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کا خط درج کیا گیا ہے اور ”جواب“ کے لفظ سے حضرت حکیم الامت کا اتنے حصہ کے بارے میں جواب۔
خط کے جواب کے بعد حضرت حکیم الامت نے مکتوب ہی کی شکل میں مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی تحریر فرمائی اور خود بھی پچیس روپے اس مد میں عنایت فرمائے۔
یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے سابق ناظم
اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کراچی تشریف لائے تو حضرت اقدس عارف باللہ سیدی و مرشدی ڈاکٹر عبدالحئی عارفی کی زیارت کے لیے حضرت کے مطب (پاپوش نگر) میں حاضر ہوئے۔ اس مجلس میں انہوں نے ذکر فرمایا کہ ایک بار حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، حضرت حکیم الامت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجلس احرار اسلام کا ایک شعبہ تبلیغ ، تحفظ ختم نبوت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت حکیم الامت نے دریافت فرمایا کہ اس کی رکنیت کی سالانہ فیس کتنی ہے؟ عرض کیا ایک روپیہ سالانہ ۔ حضرت حکیم الامت نے پچیس روپے عنایت فرمائے اور فرمایا کہ پچیس سال کے لیے رکنیت کی فیس قبول فرمائیں۔ بعد میں اگر زندگی رہی تو پھر سہی ۔ یہ سن کر حضرت ڈاکٹر صاحب نے بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک معقول رقم پیش فرمائی۔
اس ناکارہ نے حضرت مولانا محمد شریف جالندھری سے جیسا واقعہ سنا تھا اسے من و عن نقل کر دیا ۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ پچیس روپے وہی تھے جن کا اس خط میں ذکر ہے (اور روایت کے نقل کرنے میں سہو ہوا ہے) یا حضرت شاہ صاحب کو پچیس روپے عطا کرنے کا واقعہ الگ ہے ..... (محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ)
(بہر حال ذیل میں حضرت کا نادر مکتوب گرامی مطالعہ فرمائیے ۔
خط مولوی حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار اسلام ہند
(مضمون) بخدمت حضرت حکیم الامت دامت برکاتہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ چند یوم سے دہلی میں آیا ہوں۔ بعض لوگوں کا خیال اور یقین ہے کہ اگر آپ چند فقرے تحریر فرمائیں جن کا منشاء یہ ہو کہ ” قادیان میں شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام نے فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لیے جو کام شروع کر رکھا ہے ، اس کی ہر قسم کی امداد کی جائے ، خصوصاً وہ لوگ جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اس بارہ میں خاص امداد کریں“ اعلان کے الفاظ کی عبارت آپ کے اختیار میں ہے ۔ جس طرح آپ مناسب خیال فرمائیں تحریر فرمادیں۔
(جواب) کچھ مضمون (ترغیبی) لکھ دیا ہے ، اور بعنوان خط اس لیے لکھا ہے کہ
بعنوان اعلان لکھنے کی عادت نہیں۔ نیز اس طرز کا سلیقہ بھی نہیں۔ خصوصاً سطر ۶ کی خط کشیدہ عبارت سے ”یعنی وہ لوگ جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں“ شرم سی دامن گیر ہے، طبیعت میں ایک خاص ضعف ہے جس سے ایسی نسبتوں کے جتلانے کی ہمت نہیں۔ کس زبان سے اپنے کو اس قابل کہوں کہ مجھ سے کوئی تعلق رکھتا ہو، اگر خلاف مصلحت نہ ہو میرا خط ہی شائع فرما دیجئے جو ہمراہ حاضر ہے۔ (اس کی نقل آگے ہے، بعنوان خط ترغیبی)
(مضمون) تجربہ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ قادیان سے باہر قادیانیوں کے خلاف جو کام کیا جاتا ہے، وہ ایک روپیہ میں ایک آنہ اثر رکھتا ہے اور قادیان کے اندر روپیہ میں ۱۵ آنے۔
(جواب) صحیح تجربہ ہے۔ میں نے خط میں اس کی ایک تائید بھی نص سے لکھ دی ہے۔
(مضمون) شعبہ تبلیغ کی طرف سے جو کام اس وقت قادیان میں ہو رہا ہے، اس نے مرزا محمود کو نیم پاگل کر دیا ہے، مگر اس وقت ہمارے پاس اپنی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں، قصبہ قادیان کے اندر جگہ کی ضرورت ہے، جس میں کہ سالانہ کانفرنس ہو سکے، قادیانی صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم قادیان میں نہ رہیں، اور وہاں کانفرنس نہ ہو سکے، اس وقت مبلغ ۶۰ روپیہ ماہوار ہم قادیان پر خرچ کر رہے ہیں۔
(جواب) اللہ تعالیٰ مدد فرمائے۔
(مضمون) الحمد للہ آپ کی دعا سے اس تھوڑے سے عرصہ میں مرزائیت کو جو دھکا لگا ہے، وہ گزشتہ پچاس سال میں بھی نہ لگا تھا، اور جس دن ہم زمین خرید لیں گے، تو میرا یقین ہے کہ حق تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ظہور میں آئے گا جس کا ہم اس وقت خیال نہیں کر سکتے۔
(جواب) خدا تعالیٰ ان سب امیدوں سے زیادہ کامیاب فرمائے۔
(مضمون) کسی وقت موقع ملا تو حاضر ہو کر زبانی عرض کروں گا، کیونکہ سب باتیں تحریر میں نہیں آ سکتی ہیں۔
(جواب) میں ابھی اس شرف کا تحمل نہیں کر سکتا، ہاں مجھ سے ممکن خدمات لیجئے۔
(مضمون) میں خط لکھنے کی جرات نہ کرتا، لیکن آپ کے بعض معتقدین نے مجھ کو
مجبور کیا کہ میں آپ سے اس قسم کے اعلان کی درخواست کروں، جو کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں۔
(جواب) کیا حرج ہے، بے تکلف لکھئے جو چاہیں اور مجھ کو بھی جواب میں بے تکلفی کی اجازت دیجئے۔
(مضمون) یہ عرض کرنا بھول گیا کہ ہم قادیان میں ”ختم نبوت“ کے نام سے ایک اخبار نکال رہے ہیں اور اگر حق تعالیٰ نے توفیق دی تو ایک ۱۵ یومیہ انگریزی اخبار بھی نکالا جائے گا۔
(جواب) نمبر ۱ اور نمبر ۲ یہ دونوں اخبار انشاء اللہ بہت نافع ہوں گے، آج کل اس سے زیادہ توجہ ہوتی ہے مگر تیزی نہ ہو۔
نقل خط مضمون ترغیبی جس کا حوالہ اوپر کے مضمون کے جزو اول میں آیا ہے
از ناکارہ اشرف علی عفی عنہ، بخدمت مکرمی مولانا حبیب الرحمٰن صاحب دام فیضھم۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ محبت نامہ پہنچا۔ مجلس احرار کا شعبہ تبلیغ دفع مضرت قادیانیت کے لیے جو نصرت اسلام کر رہا ہے۔
- ۱۔ وہ سب اہل اسلام کا فریضہ ہے جس کو مجلس احرار نے اپنے ذمہ لیا ہے۔
- ۲۔ خصوصاً اس کی یہ تجویز کہ قادیان کے اندر مسجد و مدرسہ و دفتر ہو اور قادیان کے
قریب جلسہ کی جگہ ہو نہایت مصلحت ہے۔
- ۳۔ مقصود بالا میں اس کی امداد تمام مسلمانوں پر بقدر استطاعت واجب ہے۔ یہ تینوں
دعوے نصوص سے متاید ہیں۔ اما الاول، فلقولہ تعالیٰ و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی و لم یوح الیہ شئی الایہ بانضمام قولہ علیہ السلام ”من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ الحدیث“ آیت سے غیر نبی کے دعوے نبوت کرنے کا جو کہ افتراء علی اللہ ہے، ظلم عظیم ہونا اور اس ظلم کا منکر شدید ہونا اور حدیث سے اس منکر کے تغیر کا بقدر استطاعت واجب ہونا ظاہر ہے۔
اما الثانی فلقوله تعالی و لا یزال الذین کفروا تصیبہم بما صنعوا قارعہ او تحل قریب من دارہم الایہ و دلالتہ غیر خفی علی اہل علم۔
واما الثالث فلقوله تعالی وامر بالمعروف وانہ عن المنکر ہے۔ مع الحدیث المذکور اور اعانت بانفاق مال کی (کہ وہ بھی ایک سہل فرد ہے تغییر بالید کی‘ چنانچہ مال کو ذات الید بھی کہا جاتا ہے) استطاعت کا عام ہونا ظاہر ہے۔ کیونکہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو ایک پیسہ بھی نہ دے سکے اور بفرض محال اگر کوئی ایسا ہو بھی تو وہ دعائے قلبی سے تغییر بالقلب پر عمل کر سکتا ہے۔ بہرحال اس طرح سے اس تغییر و اعانت کے سب مکلف ہوئے‘ میں بھی ایک حقیر رقم پچیس روپیہ مجلس کی نذر کرتا ہوں اور کامیابی کی دعاء بھی کرتا ہوں اور عمال مجلس کی خدمت میں خیر خواہی سے مشورہ بھی عرض کرتا ہوں کہ اس خدمت میں بھی مثل دیگر خدمات کے حدود شرعیہ کو محفوظ رکھیں۔ خصوص تقریر و تحریر میں ظاہرا امن و سکون کا اور باطنا صدق و خلوص کا التزام رکھیں۔ جس سے یہ خدمت اپنی ہیئت میں ادع الی سبیل ربک بالحکمہ والموعظہ الحسنہ و جادلہم بالتی ھی احسن کا نمایاں نمونہ ہو جائے بلکہ اگر دوسری جانب سے کچھ ناگواری بھی پیش آئے تب بھی ادفع بالتی ھی احسن السیئہ کو دستور العمل بنایا جائے اور اگر نفس میں ہیجان بھی ہو تو اسی تعلیم اخیر کے تتمہ پر عمل کیا جائے۔ یعنی قل رب اعوذبک من ھمزات الشیاطین واعوذبک رب ان یحضرون اب شعبہ کی کامیابی کے ساتھ اس کی اعانت کرنے والے حضرات کے لیے دارین کی صلاح و فلاح و نجاح کی دعا پر اس معروضہ کو ختم کرتا ہوں‘ والسلام۔ (۱۵ ذی قعدہ ۱۳۵۳ھ‘ النور بابت ماہ ربیع الثانی‘ ۱۳۵۴ھ)
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۱‘ شمارہ ۲۹)
بے کل مرزا
جب بھی میں اونٹوں کو دیکھتا ہوں‘ مجھے مرزا کا خیال آ جاتا ہے اور ساتھ ہی بے ساختہ ہنسی آ جاتی ہے۔..... آپ سوچ رہے ہوں گے..... کہ بھلا اونٹوں کا مرزا سے کیا تعلق..... بہت گہرا تعلق ہے۔..... بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کا اور اونٹوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔..... اور وضاحت کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح اونٹوں کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی‘ بالکل اسی طرح مرزا کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔
یہ اور بات ہے کہ یہ اونٹ بھی مرزا کے جھوٹے ہونے کا ثبوت بن گئے..... اب آپ کی حیرت اور بڑھ گئی ہو گی۔..... اور آپ یہ کہہ اٹھے ہوں گے کہ وہ کیسے۔..... لیجئے ثبوت حاضر ہے۔
مرزا پر جن دنوں پیش گوئیاں کرنے کا بھوت سوار تھا‘ انہی دنوں اس نے کہیں یہ سن لیا کہ مکے اور مدینے کے درمیان ریل کی پٹڑی بچھائی جائے گی۔..... بس اسے ایک عدد پیش گوئی سوجھ گئی‘ لہٰذا ان الفاظ میں اعلان کیا:
”مکے اور مدینے کے درمیان ریل جاری ہو جائے گی اور اونٹنیاں بیکار بھی ہو جائیں گی“۔
”آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی میں یہ بھی تھا کہ مسیح کے وقت میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے“۔
”ایک اور نشان اس زمانے کا وہ نئی سواری تھی جس نے اونٹوں کو بیکار کر دینا تھا“۔
”چند سالوں میں اونٹ کی سواری کا نام و نشان نہیں ملے گا“۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا..... مرزا کے یہ الفاظ اس کی اپنی کتابوں کے ہیں۔ مرزا کو مرے نوے سال ہو گئے..... لیکن ابھی تک مکے اور مدینے کے درمیان ریل جاری نہیں
ہوئی..... پوری دنیا میں اونٹوں کا استعمال آج تک جاری و ساری ہے..... ان سے بار برداری کا کام بھی لیا جاتا ہے اور سواری کا بھی۔ ریگستان میں تو یہ سواری کے اور بھی زیادہ کام آتا ہے..... جبکہ مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ چند سالوں میں اونٹ کی سواری کا نام و نشان نہیں ملے گا..... نوے سال گزرنے پر بھی اگر مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تو پھر انہیں اپنی عقلوں کا علاج کرانا چاہیے..... اور اگر وہ کہتے ہیں کہ نہیں..... نوے سال میں چند سال شامل ہیں تو مرزائیت سے تائب ہو جانا چاہیے..... اور خود کو عقل مندوں میں شمار کرا لینا چاہیے..... کیا خیال ہے آپ کا اس بارے میں..... اس کو کہتے ہیں..... جھوٹ کے پاؤں کہاں..... اور مرزا کے اپنے الفاظ ہیں 'جھوٹ بولنا گو کھانے کے برابر ہے..... جس کی ایک بات بھی جھوٹ ثابت ہو جائے ' اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے..... ہم تو خیر پہلے ہی مرزا کی کسی ایک بات کا بھی اعتبار نہیں کرتے..... اب تو اعتبار نہ کرنے کی باری مرزائیوں کی ہے۔
(ماہنامہ ”لولاک“ ملتان جنوری ۱۹۹۸ء ' از قلم اشتیاق احمد)
وفا کے نام پر خون تک اچھال دیتے ہیں (مولف)
میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی؟
میرا نام رشید احمد خالد ہے۔ میں قادیانی گھرانے میں پیدا ہوا۔ قادیان کی کفریہ اور غلیظ فضا میں آنکھ کھولی۔ باپ سے مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ اور خرافات وراثت میں حاصل کیں اور بالغ ہونے پر ایک کٹر اور متعصب قادیانی تھا۔ میں نے مرزائیت کا لٹریچر خوب پڑھا اور قادیانیت کے بارے میں اچھی خاصی معلومات حاصل کر لیں۔ پاکستان بننے کے بعد میں دارالکفر ربوہ منتقل ہو گیا۔ یہاں میں نے بڑے زور و شور سے قادیانیت کا پرچار شروع کر دیا۔ میری خدمات کو دیکھتے ہوئے مجھے مرزا ناصر کے ذاتی سٹاف میں شامل کر لیا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور میں کفر و الحاد کی دلدل میں دھنستا گیا۔ لیکن ایک اہم نکتہ بیان کرتا جاؤں جس نے میری کایا پلٹ دی کہ قادیانی ہونے کے باوجود مجھے حضرت علی ہجویریؒ سے بے پناہ عقیدت تھی اور میں اکثر ان کے مزار اطہر پر حاضری دیا کرتا تھا۔ آج سے تقریباً تین سال پہلے مجھے درد گردہ شروع ہو گیا۔ بڑے بڑے قادیانی ڈاکٹروں سے علاج کروایا لیکن تکلیف بڑھتی گئی۔ اس پریشانی کے عالم میں ایک رات سو گیا لیکن میرے بخت جاگ اٹھے۔ خواب میں مجھے حضرت علی ہجویریؒ کی زیارت نصیب ہوئی۔ انہوں نے پوچھا ”کیوں پریشان ہو؟“ میں نے نہایت مودبانہ انداز میں جواب دیا ”درد گردہ نے ناک میں دم کر رکھا تھا“ حضرت نے دعا کی اور جب میں خواب سے بیدار ہوا تو درد گردہ سے مکمل نجات پا چکا تھا۔
ایک رات پھر مجھے حضرتؒ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ حضرت نے پوچھا ”کیوں پریشان ہو؟“ میں نے جواباً عرض کیا ’بچوں کے کچھ معاملات ہیں۔ اس سلسلے میں بڑا فکر مند ہوں۔ حضرت نے دعا فرمائی اور میری وہ مشکلات بھی چند دنوں میں حل ہو گئیں۔ ایک رات پھر مجھے حضرت کی زیارت نصیب ہوئی اور حضرت نے مجھے حکم دیا کہ مرزائیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جا۔ صبح بیدار ہوا تو میں نے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور میرے
ساتھ میرے بیوی بچے بھی مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گئے۔ ہمارے مسلمان ہونے کی خبر رائیل فیملی پر برق بن کر گری اور جھوٹی نبوت کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔ قادیانی میری جان لینے کے درپے ہو گئے۔ قادیانی قواعد کے مطابق پہلے لالچ دیا گیا‘ میں نے انکار کر دیا ۔ پھر دھمکایا گیا‘ خوفناک مستقبل کی پیشگوئیاں کی گئیں لیکن میں نے نبوت کے ان قذاقوں سے ببانگ دہل کہہ دیا یہ گردن کوئی کفری گردن نہیں، جو جھک جائے۔ اب اس جسم میں جناب خاتم النبین ﷺ کی محبت سے بھرا ہوا خون دوڑتا ہے۔ یہ گردن کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی اور میں نے نبوت کے لٹیروں کو للکار کے یہ بھی کہہ دیا میں ربوہ نہیں چھوڑوں گا اور یہیں ختم نبوت کا مورچہ قائم کر کے تمہاری جعلی نبوت کا پول کھولوں گا۔ گھر کا بھیدی ہونے کے ناطے تمہارے سیاہ کرتوتوں سے لوگوں کو آگاہ کروں گا۔ میری کھری کھری باتیں سن کر قادیانیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور ایک رات جب میں چنیوٹ سے گھر واپس ربوہ آ رہا تھا تو راستے میں مجھ پر فائرنگ کی گئی لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ میں صاف بچ گیا۔ تھانے میں میں نے ابتدائی رپورٹ درج کروادی اور ان کے خلاف تھوڑی بہت کارروائی بھی ہوئی۔
قابل صد احترام جناب رشید احمد خالد صاحب نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ میں نے اب قادیانیوں کو واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے میری ایک جان کیا‘ اگر رب العزت مجھے ہزار جانیں بھی عطا کرے تو میں آمنہؓ کے لال ﷺ کی ختم نبوت پر نچھاور کر دوں گا لیکن تمہاری انگریزی نبوت کا تعاقب کرنا نہیں چھوڑوں گا۔
انہوں نے بتایا کیونکہ میں قادیانیوں کا تربیت یافتہ آدمی تھا اور ان کے کفر کے داؤ پیچ اچھی طرح سمجھتا ہوں لہٰذا اب میں ان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہوں۔ انہوں نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب تک میں تینتیس قادیانیوں کو اسلام قبول کروا چکا ہوں اور انشاء اللہ زندگی کے آخری سانس تک ہر قادیانی تک جناب خاتم النبین ﷺ کا پیغام پہنچاتا رہوں گا۔
اس کے بعد حضرت مولانا خان محمد صاحب نے نو مسلم کے لیے استقامت کی دعا کی۔ جلسہ کے بعد مسلمان اپنے بھائی سے جوق در جوق بغلگیر ہو رہے تھے اور ہر طرف سے مبارک ہو‘ مبارک ہو کی صدائیں آ رہی تھیں اور رشید احمد خالد صاحب اپنے چہرے پر
ایمان کی روشنی سجائے اپنے مداحوں کے جھرمٹ میں مسکرا رہے تھے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۶، شمارہ ۱۳۔ از قلم: محمد طاہر رزاق)
رد مرزائیت میں صوفیائے کرام کا حصہ
صوفیائے کرام نے ہر دور میں باطل قوتوں اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف علم جہاد بلند رکھا ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ، حضرت مرزا مظہر جانجاناں شہیدؒ، حضرت امام علی الحق سیالکوٹی اور مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی رحمتہ اللہ علیہم کی مثالیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ انگریزی دور میں جب برصغیر میں دینی اقدار کو پامال کرنے کی سازشیں کی گئیں تو بھی صوفیائے کرام میدان عمل میں آئے اور سر پر کفن باندھ کر دین وملت کا تحفظ کیا۔ انگریز کے خودکاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ صوفیاء ہی تھے جنہوں نے اس کے مکر و فریب کے جال کو تار تار کیا۔ ذیل میں مختصراً ان صوفیائے کرام کی کوششوں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے مرزا قادیانی کے خلاف جہاد کر کے اہم دینی فریضہ انجام دیا۔
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ
مرزا قادیانی نے عیسائیوں اور آریوں سے مناظرے کر کے غیر معمولی شہرت حاصل کر لی تو اس نے ملک کے مشہور مشائخ کو دعوت نامے ارسال کیے۔ جن کا مضمون یہ تھا کہ ”میں مسیح موعود ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے احیائے دین اور عروج اسلام کے لیے مامور کیا گیا ہوں۔ آپ اس مشن میں میری اعانت کریں۔“
جب یہ دعوت نامہ حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے یہ جواب لکھوایا کہ ”میں آپ کو مسیح موعود اور مامور من اللہ نہیں مانتا۔ آپ اپنی توجہ حسب سابق غیر مسلموں کے ساتھ مناظرات اور تبلیغ اسلام پر مرکوز رکھیں اور عنداللہ ماجور ہوں“ جب یہ خط مرزا صاحب کو پہنچا تو وہ بہت بوکھلائے۔ کیونکہ ہر طرف سے مرزا صاحب کے اس دعوے کی تردید کی گئی تھی۔ چنانچہ ہر طرف سے مایوس ہو کر ”ایام الصلح“ میں مرزا صاحب نے مشائخ پر بہ طریق ذیل اپنا غبار نکالا:
"ایں وقت زیر سقف نیلگوں ہیچ متنفّس قدرت ندارد کہ لاف برابری بامن زند من آشکار می گویم و ہرگز باک ندارم اے اہالیان اسلام ، در میان شما جماعتے می باشند کہ گردن بدعویٰ محدثیت و مفسری بر می فرازند و طائفہ اند کہ از نازش ادب پا بر زمین نگذارند و گروہے اند کہ دم بلند از خدا شناسی زنند و خود را چشتی و قادری و نقشبندی و سہروردی چہا چہاے گویند ایں جملہ طوائف را نزد من بیارید۔
یعنی اس وقت آسمان کے نیچے کسی کی مجال نہیں جو میری برابری کی لاف مار سکے۔ میں اعلانیہ اور بلا کسی خوف کے کہتا ہوں کہ اے مسلمانو ! تم میں بعض لوگ محدثیت و مفسریت کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور بعض از راہ ناز زمین پر پاؤں بھی نہیں رکھتے اور کئی خدا شناسی کا دم مارتے ہیں وہ چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی اور کیا کیا کہلاتے ہیں۔ ذرا ان سب کو میرے سامنے تو لاؤ"۔
جب مرزا صاحب کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہو گئی اور ظاہر بین اور کم علم لوگ متاثر ہونے لگے تو علماء کی درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے حضرت قبلہ عالم گولڑویؒ اس فتنے کی طرف متوجہ ہوئے اور ۱۳۱۷ھ مطابق ۱۸۹۹-۱۹۰۰ء ماہ شعبان و رمضان المبارک میں اوراد و اشغال روزمرہ سے کچھ وقت بچا کر ایک رسالہ بعنوان "شمس الہدایت فی اثبات المسیح" تحریر فرمایا ، جو رمضان شریف ہی میں زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہو کر برصغیر کے علماء و مشائخ میں تقسیم ہوا اور ایک کاپی بذریعہ رجسٹری مرزا صاحب کو بھی قادیان بھیج دی گئی۔
اس کتاب میں حضرت گولڑویؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب بجسد عنصری زمین پر نازل ہو کر اسلام کی نصرت کا باعث ہونے کو قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت فرمایا اور اس عقیدہ کو امت اسلامیہ کے اجماعی اور متفق علیہ عقائد میں سے قرار دیا۔ نیز ثابت کیا کہ ان کے مثیل کے دنیا میں بطور مسیح موعود آنے کے قادیانی عقائد غلط اور باطل ہیں۔ آغاز کتاب میں آپ نے مرزا صاحب کی "ایام الصلح" والی مباہلہ (جس کا ذکر ہو چکا ہے) کے مقابلہ میں ان سے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے معنی دریافت کیے تھے۔
کتاب کا منصہ شہود پر آنا تھا کہ قادیان میں تہلکہ مچ گیا۔ خصوصاً کلمہ طیبہ کے معانی
کے سوال پر علمائے اسلام بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ اس کتاب کی مقبولیت اور قدردانی کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ملک کے طول و عرض سے حضرت قبلہ عالم کو مبارک باد کے خطوط آنے لگے۔ مشہور اہل حدیث مولانا عبد الجبار غزنوی کا خط قابل ذکر ہے۔ لفظ لفظ سے حضرت قبلہ عالم سے عقیدت و محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
اس کے بعد حکیم نور الدین نے ۲۰ فروری ۱۹۰۰ء کو حضرت قبلہ عالم کی خدمت میں بارہ سوالات بھیجے۔ حضرت نے ان کے جوابات ارسال کر دیے اور حکیم نور دین پر ایک سوال کیا؟ مگر وہ جواب نہ دے سکا۔ حضرت نے یہ خط و کتابت بصورت اشتہار شائع کرائی۔ حضرت کے جوابات نے ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچ کر علماء و فضلاء سے تحریری و تقریری خراج تحسین حاصل کیا۔ اس پر عوام کی طرف سے ”شمس الہدایت“ کے جواب پر مطالبہ زور پکڑ گیا تو مرزا صاحب نے جوش میں آکر حضرت کو مناظرہ کی دعوت دے دی کہ میرے ساتھ عربی زبان میں تفسیر نویسی کا مقابلہ کر لو! چنانچہ مرزا صاحب نے ۲۲ جولائی ۱۹۰۰ء کو بذریعہ اشتہار مقابلہ تفسیر نویسی کی دعوت دے دی۔
گولڑہ شریف میں مرزا صاحب کی دعوت کا اشتہار ۲۵ جولائی ۱۹۰۰ء کو موصول ہوا۔ حضرت نے اگلے ہی روز اس دعوت کا جواب پانچ ہزار کاپیوں کی صورت میں چھپوا کر ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیا اور مرزا صاحب کو بھی بذریعہ رجسٹرڈ ارسال کیا۔ حضرت نے بمقام لاہور ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء تاریخ مقابلہ مقرر کر دی۔ ملک کے تمام علماء و مشائخ نے حضرت قبلہ عالم کی حمایت میں اشتہار شائع کیے اور تقریری مقابلے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاکہ فیصلہ واضح طور پر ہو سکے لیکن قادیانی نہ مانے۔
جوں جوں مقابلے کا دن نزدیک آ رہا تھا، ملک کے اطراف و اکناف سے مسلمان لاہور پہنچ رہے تھے۔ تمام فرقوں کے رہنماؤں نے حضرت کو اپنا قائد منتخب کر لیا۔ ۲۴ اگست کو حضرت لاہور پہنچ گئے اور آتے ہوئے راولپنڈی اور لالہ موسیٰ سے مرزا کو بذریعہ تار اپنی آمد کی اطلاع دے دی۔ جب آپ لاہور تشریف لائے تو لاکھوں مسلمان دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھے۔ مباحثہ کا انعقاد شاہی مسجد میں قرار پایا۔ ۲۵ اگست کو پولیس نے حفظ امن کے تمام انتظامات کر رکھے تھے لیکن مرزا صاحب کو میدان میں آنے کی جرات نہ ہوئی۔ حضرت کو جب معلوم ہوا کہ مرزا نے قادیان سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا ہے تو آپ
قادیان جانے کے لیے تیار ہونے لگے مگر مسلمانوں کی کثیر تعداد کے منع کرنے سے رک گئے۔
مرزا صاحب نے یہ کہا کہ ”میں کسی قیمت پر بھی لاہور آنے کو تیار نہیں ہوں‘ کیونکہ مولوی لوگ مجھے دعویٰ نبوت میں کاذب ثابت کرنے کے بہانے قتل کرانا چاہتے ہیں“ جب قادیان کا وفد یہ پیغام لے کر لاہور پہنچا تو قادیانی جماعت میں شدید انتشار پیدا ہو گیا۔ بعض لوگوں نے اسی وقت توبہ کر لی اور بعض لوگ مایوس ہو کر خانہ نشیں ہو گئے۔ جب مرزا صاحب کی آمد سے قطعی مایوسی ہو گئی تو ۲۷ اگست کو شاہی مسجد میں مسلمانوں کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں ممتاز علماء نے ختم نبوت پر تقاریر فرمائیں۔ مقررین حضرات میں حضرت محمد علی پوری‘ مفتی محمد عبد اللہ ٹونکی پروفیسر اورینٹل کالج‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا عبد الجبار غزنوی قابل ذکر ہیں۔
حضرت قبلہ عالم ۲۴ اگست تا ۲۶ اگست لاہور میں قیام فرما کر واپس گولڑہ شریف چلے گئے تو ۳۰ یا ۳۱ اگست کو مرزا صاحب نے ایک اشتہار لاہور میں تقسیم کروایا کہ پیر صاحب مقابلہ سے بھاگ گئے ہیں۔ اور الٹا یہ مشہور کروا دیا ہے کہ مرزا بھاگ گیا ہے اور میدان میں نہیں آیا۔ اگر اب بھی میری جان کے تحفظ کا بندوبست کیا جائے تو میں میدان میں آنے کو تیار ہوں۔ ملک کے علماء و مشائخ اور عوام نے چونکہ شاہی مسجد والے واقعے ہی سے مرزا صاحب کو مخاطب نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لہٰذا حضرت نے مرزا صاحب کے اس اشتہار کا نوٹس نہ لیا۔ مورخہ ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء کو مرزا صاحب نے ایک اور اشتہار نکالا جس میں لکھا تھا کہ ” آج میرے دل میں ایک تجویز خدائے تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت کے لیے پیش کرتا ہوں اور وہ تدبیر یہ ہے کہ ” آج میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں‘ یہ جواب دیتا ہوں کہ ..... میں اسی جگہ بجائے خود سورۂ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعویٰ کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورۂ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں۔ یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ء کی پندرہ تاریخ سے ۷۰ دن تک چھپ کر تیار ہو جانی چاہئیں۔ تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔ ساتھ ہی مرزا صاحب نے مبلغ پانچ صد روپیہ
انعام رکھا کہ اگر حضرت صاحب کی تفسیر مقابلہ میں بہتر قرار دے دی جائے تو انعام ان کا حق ہو گا۔ حضرت کی ذات گرامی پر اس نئے چیلنج کا ذرہ بھر بھی اثر نہ ہوا۔
مرزا صاحب نے ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء کے ستر دن بعد ”اعجاز المسیح“ کے نام سے سورۂ فاتحہ کی تفسیر شائع کی۔ اس تفسیر نے مرزا صاحب کے تمام دعوؤں پر پانی پھیر دیا۔ اس تفسیر کی زبان محاورہ سے محروم‘ لغوی اور نحوی اغلاط سے مملو اور مسروقہ عبارات سے پر تھی۔ اس تفسیر سے مرزا صاحب کی مراد نہ بر آئی اور مسلمانوں نے شدید مطالبہ کیا کہ مرزا صاحب حیلوں بہانوں کو چھوڑ کر حضرت کی کتاب ”شمس الہدایت“ کا جواب دیں۔ چنانچہ مجبور ہو کر مرزا صاحب نے مولوی محمد احسن امروہوی سے ”شمس بازغہ“ لکھوائی۔
اس کی اشاعت کے بعد حضرت نے ”اعجاز المسیح“ اور ”شمس بازغہ“ کے جواب میں اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”سیف چشتیائی“ تصنیف فرمائی جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہو کر برصغیر کے علماء و مشائخ‘ دینی مدارس اور مذہبی اداروں میں مفت تقسیم کی گئی۔ اس میں حضرت نے مرزا صاحب کی تفسیر پر تقریباً ایک سو اعتراضات فرمائے۔ ”سیف چشتیائی“ کی اشاعت کے موقعہ پر حضرت نے ایک بیان جاری فرمایا جسے یہاں تبرک کے طور پر نقل کیا جاتا ہے۔ اس بیان سے تمام معرکہ کا پس منظر سامنے آجاتا ہے۔
قابل توجہ اہل اسلام
اس ہیچمدان‘ خوشہ چین علمائے کرام کو مطابق قول السلامه فی الوحده گوشہ نشینی پسند رہی ہے۔ تصنیف و تالیف کا شوق نہیں۔ کیونکہ یہ امور یا تو بغرض شہرت و نام آوری یا بغرض حصول دولت کیے جاتے ہیں۔ سو اس خاکسار کو ان دونوں امور سے نفرت ہے۔ آج کل کے ابنائے زمان ان کمالات کو پسند کرتے ہیں جو منجملہ تعلیمات یورپ کے ہیں اور جس سے یہ عاجز ناواقف ہے۔ اس طرز قدیم سے جس پر زمانہ سلف کے بزرگان دین تصنیف و تالیف کرتے آئے ہیں اور جس سے اس ہیچمدان کو قدرے موانست ہے‘ نفرت رکھتے ہیں۔
باوجود ان موانعات کے چند احباب کے اصرار پر رسالہ ”شمس الہدایت“ لکھا گیا تھا جس سے مراد نہ تو طلب شہرت اور نہ حصول دولت تھی۔ بلکہ اصل غرض یہ تھی کہ اعلاء
کلمہ الحق میں کوتاہی نہ ہو اور قیامت میں باز پرس سے بچ جاؤں تو عنداللہ مستحق ثواب ٹھہروں۔
اس رسالہ کے شائع ہونے سے کچھ مدت بعد مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی طرف سے بجائے کسی جواب کے مباحثہ کے لیے اشتہار شائع ہونے شروع ہوئے۔ ہر چند مباحثہ کے لیے کل شرائط مرزا قادیانی نے خود ہی تجویز کی تھیں۔ اس طرح سے نہ تو کوئی شرط پیش ہوئی اور نہ کسی شرط کی ترمیم کی درخواست کی گئی اور یہ خادم الفقراء معہ علمائے کرام اور مشائخ عظام تاریخ مقررہ پر لاہور پہنچ کر کئی روز تک محمڈن ہال انجمن اسلامیہ پنجاب لاہور میں بغرض انتظار مرزا قادیانی ٹھہرا رہا مگر مرزائے قادیانی، قادیان سے باہر نہ نکلا۔ اس تمام واقعہ کی عوام نے بلا اطلاع میری کے تشہیر کر دیا تھا۔ اس لیے اب اس تشریح کی ضرورت نہیں۔
بہت دیر بعد ”شمس الہدایت“ کے جواب میں مرزا قادیانی اور امروہوی مرید نے ”شمس بازغہ“ لکھی اور مرزا نے ”تفسیر فاتحہ“ چھپوائی تو دوبارہ اہل اسلام اور میرے احباب نے مجھے مجبور کیا کہ اس کے جواب میں قلم فرسائی کروں۔ گو بہت انکار کیا گیا اور کہا گیا کہ :۔
آں است جوابش کہ جوابش نہ دہی
لیکن پھر بھی سوال پیش آیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں سے کیا غرض ہے۔ عوام مسلمانان ہند و پنجاب کے فائدے کے لیے ہی سہی لہٰذا یہ چند اوراق لکھ کر مولوی محمد غازی صاحب کے حوالہ بغرض طبع کر دیے کہ وہ اسے کتاب کی صورت میں چھپوا کر میرے پاس لائیں تاکہ یہ علمائے کرام اور معززین اسلام میں بدستور سابق مفت تقسیم کی جائے۔ کیونکہ مجھے اس کی اشاعت سے مقصود نفع اہل اسلام ہے نہ کہ تجارت۔ وما علینا الا البلاغ۔
محب الفقراء مہر علی شاہ عفی عنہ
حضرت پیر سید جماعت علی شاہ
حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمتہ اللہ علیہ نے رد مرزائیت میں عظیم الشان کردار ادا کیا۔ جب مرزا قادیانی نے اپنے بال و پر نکالے تو حضرت نے مندرجہ ذیل اعلان جاری فرمایا:
- ١۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا‘ اس کا علم لدنی ہوتا ہے وہ روح قدس سے تعلیم
پاتا ہے۔ بلا واسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدوس سے ہوتی ہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے۔
- ٢۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم بحکم رب العالمین مخلوق کے
روبرو دعوائے نبوت کر دیتا ہے اور بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت نہیں ملتا۔ وہ نبی ہوتا ہے‘ وہ پیدائش سے نبی ہوتا ہے۔ جھوٹا نبی برخلاف اس کے آہستہ آہستہ دعاوی کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث‘ مجدد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
- ٣۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء تک جتنے نبی ہوئے‘ تمام
کے نام مفرد تھے۔ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا۔
- ٤۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا ہے اور جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو
محروم الارث کرتا ہے۔
- ٥۔ مرزائی جو مرزا غلام احمد کے پیرو ہیں‘ وہ ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں اور حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت و نبوت میں کمی کرنے والے ہیں اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مدارج کو مرزا غلام احمد کے لیے مانتے ہیں۔
(بحوالہ ماہنامہ انوار الصوفیہ‘ قصور‘ اپریل‘ مئی ١٩٦١ء‘ ص ٣٣)
اس کے بعد حضرت نے مرزائی فتنہ کی سرکوبی کے لیے ملک گیر دورے کیے اور مرزا قادیانی کی عیاریوں کو بے نقاب کیا۔ آپ کے دو خلفاء حضرت مولانا غلام احمد احقر امرتسری‘ مدیر ”الفقیہ“ امرتسر اور سید محبوب احمد شاہ المعروف خیر شاہ امرتسری نے بارہا قادیان میں جاکر مرزائی عقائد کی تردید فرمائی۔ مرزا صاحب کو یا ان کے کسی حواری کو ان
حضرات کے مد مقابل آنے کی جرات نہ ہو سکی۔ اگست ۱۹۰۰ء میں جب مرزا صاحب نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو دعوت مناظرہ دی تھی تو حضرت امیر ملت محدث علی پوری قدس سرہ بھی حضرت گولڑویؒ کے ساتھ لاہور میں موجود تھے۔ مرزا صاحب کے فرار کے بعد بادشاہی مسجد لاہور میں حضرت گولڑویؒ کے اعزاز میں جو جلسہ منعقد ہوا تھا‘ اس میں بھی حضرت امیر ملت نے ایک ایمان افروز اور باطل سوز تقریر فرمائی تھی۔ اسی طرح جب مرزا صاحب کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے نارووال ضلع سیالکوٹ میں اپنا تبلیغی کیمپ لگایا اور سادہ لوح لوگ اس کے دام فریب میں پھنسنے لگے تو حضرت امیر ملت اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن آپ نے حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر ہی نارووال لے چلو کہ اس فتنہ کی سرکوبی میں اپنا فرض ادا کر سکوں۔ چنانچہ متواتر چار جمعے آپ کی چارپائی نارووال اٹھا کر لے جاتے رہے اور آپ خطبہ جمعہ میں مرزائی عقائد کا تار و پود بکھیرتے رہے۔ ناچار حکیم نور الدین کو راستہ ناپنا پڑا۔
۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو مرزا بذات خود اپنے حواریوں کے انبوہ کثیر کے ساتھ سیالکوٹ میں اپنے مذہب کی تشہیر و اشاعت کے لیے وارد ہوئے۔ ان دنوں یہاں مرزائیوں کا خوب شہرہ تھا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ مرزائی تھا لہٰذا مرزا صاحب کو اپنے مشن میں کامیابی و کامرانی کی غالب امید تھی۔ حضرت امیر ملت نے سیالکوٹ میں تشریف لاکر تین ہفتے قیام فرمایا اور رد مرزائیت پر روزانہ شہر کے مختلف حصوں میں اپنے مخصوص مجاہدانہ انداز میں مجالس وعظ میں خطاب فرمایا۔ مرزا نے مقابلہ کی ٹھانی مگر ہمت نہ ہو سکی۔ مرزا کے ان کرتوتوں کو دیکھ کر بہت سے لوگ حضرت کے دست حق پر بیعت ہو کر تائب ہو گئے اور مرزا کو اپنا بوریا بستر لپیٹ کر راہ فرار اختیار کرنا پڑا۔
۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا صاحب اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے لاہور میں خواجہ کمال الدین کے مکان پر مقیم ہوئے تو ساتھ ہی اپنا دام تزویر بھی پھیلانے لگے۔ ان کے ساتھیوں نے لاہور شہر کے مختلف گوشوں میں تبلیغی کام شروع کر دیا تو اہالیان لاہور نے حضرت محدث علی پوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچ کر مرزائیت کے سدباب کی درخواست کی۔ حضرت لاہور تشریف لائے اور موچی دروازہ کے باہر مرزا کی قیام گاہ کے سامنے کئی روز تک مجالس وعظ و تقریر منعقد کر کے معتقدات مرزائیت کی تردید فرماتے رہے اور مرزا
صاحب کو مقابلے میں آ کر اپنی صداقت کا ثبوت بیان کرنے کی دعوت دی اور پانچ ہزار روپے انعام کا اعلان بھی فرمایا۔ لیکن مرزا کو مقابلہ میں آنے کی سکت نہ تھی‘ لہٰذا نہ آ سکے۔
کسی نے مرزا کے گوش گزار یہ بات کی کہ پیر جماعت علی شاہ لاہور میں اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ مرزا بھاگ جائے۔ مرزا صاحب یہ وہ شخص نہیں جو بھاگ جائے گا بلکہ اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو قدم نہ ہلے گا۔ یہ خبر کسی نے حضرت امیر ملت کو پہنچا دی تو آپ نے فرمایا اگر وہ بارہ برس ٹھہر سکتا ہے تو ہم چوبیس برس کا ڈیرہ جمائیں گے۔ مگر مرزا کا تو خدائی فیصلہ ہو چکا ہے۔
جب مرزا اپنے بانگ دہل دعوؤں اور بے شمار لاف زنیوں کے باوجود میدان میں نہ آیا تو پھر ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو ہندوستان کے عظیم مسلمان فرمانروا حضرت ابو المظفر محی الدین اورنگ زیب عالمگیر غازی رحمتہ اللہ علیہ کی بنا کردہ شاہی مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد ہوا۔ اس جلسہ میں برصغیر کے نامور علماء بھی موجود تھے۔ آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا صاحب تو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنی فوقیت جتاتے ہیں لیکن میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام ہوں۔ وہ تو اعلان کرنے پر بھی مقابلے کے لیے نہ آئے‘ لہٰذا آپ سب دیکھ لیں گے کہ وہ جلد ہی ذلیل و خوار ہو کر اس دنیا سے جائیں گے۔ پھر ۲۵‘ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کی درمیانی شب کو بوقت دس بجے رات بدوران وعظ اسی مسجد میں آپ نے فرمایا کہ میں پیشگوئیاں نہیں کیا کرتا۔ ایک دفعہ آگے کی تھی اور آج پھر کہتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے مقابلہ کے لیے تیار ہوں۔ زبانی اور روحانی طور پر‘ اگر اس میں کوئی روحانیت موجود ہے تو وہ سامنے آئے اور اس کو چوبیس گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں لیکن مسلمانو! یاد رکھو وہ میرے مقابلے پر نہ آ سکے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مرزا صاحب ۲۶ مئی کی صبح کو دس بج کر دس منٹ پر راہی ملک عدم ہوئے۔ مرزا کی موت بہت بری ہوئی۔ چھ گھنٹے پہلے زبان بند ہو گئی اور خدا جانے ہیضہ تھا یا پلیگ‘ مگر ڈاکٹر نے ایسی دوا دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا‘ اوپر کو ہو گیا۔ جس وقت مرزا کی لاش کو نہایت بے کسی کی حالت میں بٹالہ کی طرف لے گئے تو اہل اسلام نے نہایت تذلیل و تحقیر کی۔
حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی
حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ، شمس العارفین سراج السالکین حضرت خواجہ محمد شمس الدین سیالوی قدس سرہ کے پوتے اور حضرت شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ کے والد گرامی تھے۔ آپ بیک وقت شیخ طریقت، عالم دین، مصنف اور سیاسی لیڈر تھے۔ آپ نے تحریک خلافت میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ رد مرزائیت میں آپ نے شاندار خدمات سرانجام دیں۔ ایک معرکۃ الارا کتاب ”معیار المسیح“ مطبوعہ ۱۳۲۹ھ کے نام سے بھی لکھی جو اپنی مثال آپ ہے۔
پیر محمد شاہ ساہنپالوی (متوفی ۱۳۳۷ھ)
پیر محمد شاہ سجادہ نشین درگاہ حضرت نوشہ گنج قادری نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد مرزائیت میں کافی کام کیا تھا۔ ایک مرتبہ عیدالفطر کے دن نماز عید کے بعد مشہور مرزائی مبلغ مولوی احمد بخش مولوی فاضل ساکن رکن مل ضلع گجرات سے حلقہ دربار حضرت نوشہ گنج میں برگد کے درخت کے نیچے مناظرہ ہوا۔ بہت سے مواضعات مثلاً ساہن پال شریف، رن مل، کوٹ گلے شاہ، سارنگ، اگرویہ اور بھاگٹ کے لوگ اس مناظرہ کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ آپ نے مرزائی مبلغ کو بالکل لاجواب کر دیا اور وہ راہ فرار اختیار کر گیا۔ (نقل از کتاب فیض محمد شاہی خطی از مولانا سید غلام مصطفیٰ نوشاہی ساہنپالوی مملوکہ سید شریف احمد شرافت نوشاہی مدظلہ)
خواجہ غلام دستگیر قصوریؒ
مشہور صوفی، بے مثال عالم دین کتب کثیرہ کے مصنف، سنیوں کے مناظر بے بدل، خواجہ غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ سے کون واقف نہیں۔ آپ کی کتاب ”تقدیس الوکیل“ رہتی دنیا تک یادگار رہے گی۔ آپ نے فتنہ مرزائیت کی تردید میں بھی عربی زبان میں ایک مایہ ناز کتاب لکھی تھی۔ جس کا جواب مرزائی حلقے آج تک نہیں دے سکے۔
پیر ظہور شاہ سجادہ نشین جلالپور جٹاں
پیر ظہور شاہ رحمتہ اللہ علیہ جلالپور جٹاں ضلع گجرات کے سجادہ نشین تھے۔ آپ شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مصنف بھی تھے۔ فتنہ مرزائیت کی تردید میں آپ نے ایک کتاب ”قہر یزدانی بر سر دجال قادیانی“ لکھی تھی۔
مولانا خواجہ محمد ابراہیم مجددی
آپ موضع سیتمل ضلع گجرات کے رہنے والے تھے اور خواجہ غلام نبی للہ شریف ضلع جہلم سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ نے قادیانیت کے رد میں ایک کتاب ”رد مرزا قادیانی“ لکھی تھی مگر افسوس کہ وہ زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ افروز نہ ہو سکی۔
حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی
حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی نے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے عصر حاضر میں جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں وہ دوسرے صوفیہ کے لیے روشن مثال ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے علمائے اہل سنت کے شانہ بشانہ بلکہ بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ ملک گیر دورے فرما کر قادیانی مسئلہ کی اہمیت کو واضح کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں پیرانہ سالی کے باوجود جگہ جگہ دورے کیے۔ مسلمانوں کو قادیانیوں سے سماجی بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی اور حکومت سے پرزور مطالبے کیے کہ مرزائیوں کو جلد از جلد اقلیت قرار دیا جائے۔ یکم ستمبر کو بادشاہی مسجد لاہور میں کل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے جلسہ عام میں آپ نے جو شاندار تقریر کی۔ وہ آپ کی ایمانی قوت اور عشق رسول ﷺ کے جذبہ کی شاہکار ہے۔
(ماہنامہ ”ضیائے حرم“ ختم نبوت نمبر ۱۹۷۴ء ۔ از قلم: محمد صادق قصوری)
آٹھواں عجوبہ مرزا
مرزا کو یہ یاد نہیں رہتا تھا کہ وہ فلاں کتاب میں کیا بات لکھ آیا ہے..... اور موجودہ کتاب میں کیا لکھ گیا ہے..... نتیجہ یہ کہ اس سے زبردست قسم کی گڑبڑیں ہوئیں اور ہوتی کیوں نہ..... وہ تو تھا ہی گڑبڑ کی پیداوار..... اس طرح اس کی حساب میں کمزوری بھی ثابت ہے..... ایک میٹرک پاس طالب علم بھی حساب میں اتنی بڑی غلطیاں نہیں کر سکتا جتنی بڑی مرزا نے کیں..... ثبوت ملاحظہ ہوں:
. مرزا نے اپنی کتاب اعجاز احمدی صفحہ ۳ پر لکھا:
- ۱۔ اس وقت میری عمر (۱۸۹۶ء میں) ۶۳ برس کی ہے۔
پھر ضمیمہ حقیقت الوحی کے صفحہ ۵ پر لکھا:
- ۲۔ اس وقت میری عمر (۱۹۰۳ء میں) ۷۰ برس کی ہے۔
پھر ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم میں لکھا:
- ۳۔ اس وقت میری عمر (۱۹۰۳ء میں) ۶۵ برس کی ہے۔
- ۴۔ اس وقت (۱۹۰۵ء میں) میری عمر ۷۰ برس کے قریب ہے۔
پھر حقیقت الوحی کے صفحہ ۲۰۱ پر لکھا:
- ۵۔ اس وقت (۱۹۰۷ء میں) میری عمر ۶۸ برس ہے۔
اب ذرا غور کریں اور خوب ہنسیں..... (مرزا کی باتوں پر ہنسنا ثواب ہے) کہ اگر ۱۸۹۶ء میں عمر ۶۳ سال ہے تو ۱۹۰۳ء میں ۶۵ کیسے ہو گئی۔ کیا آٹھ برس بعد مرزا کی عمر میں صرف ایک برس کا اضافہ ہوا تھا..... اگر ایسا ہوا تھا تو یہ پھر ایک عجوبہ بات ہو گئی..... اور مرزائیوں کو مرزا کو نبی نہیں 'دنیا کا آٹھواں عجوبہ ماننا چاہیے..... پھر ۱۸۹۶ء میں عمر اگر ۶۳ برس ہے تو ۱۹۰۵ء میں ۷۰ کیسے ہو گئی..... ۷۲ ہونی چاہیے تھی..... اسی طرح اگر ۱۹۰۳ء میں عمر ۷۰ ہے تو ۱۹۰۵ء میں بھی ۷۰ کیسے ہو گئی..... کیا مرزا کی عمر کو بریک لگ گیا تھا..... اب اس سے بھی مزے کی بات ۱۹۰۳ء میں عمر اگر ۷۰ تھی تو ۱۹۰۷ء میں ۶۸ کیسے ہو گئی..... کیا مرزا کی عمر ریورس گیئر لگا رہی تھی..... یعنی واپس ہو رہی تھی..... اگر ایسا ہے..... تب بھی
مرزا دنیا کا آٹھواں عجوبہ تھا۔
مرزائی اگر ان شہادتوں کی بنیاد پر اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ مان لیں اور نبی ماننا چھوڑ دیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا...... بلکہ خوشی ہو گی۔ شکریہ۔
(ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان‘ اپریل ۱۹۹۸ء‘ از قلم اشتیاق احمد)
جس کو غیرت نہ ہو دریا کا دہانہ ڈھونڈے (مولف)
مجاہد ختم نبوت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ
لدھیانہ کے مشہور علمی ادبی خاندان کی خصوصیات میں دو کارنامے ایسے ہیں کہ پورے برصغیر میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ اور مرزا قادیانی کی تکفیر وارتداد پر مہر کا اثبات۔
اس خاندان میں بیسویں صدی کے اول نصف میں مولانا حبیب الرحمٰن کا نام نامی و اسم گرامی اہم خصوصیات کا حامل ہے۔ وہ ایک حق گو‘ بہادر اور زیرک عالم دین تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تحریک خلافت سے کیا پھر جمعیۃ العلماء ہند کی برپا کردہ تحریکوں میں شامل رہے اور بالاخر ۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام ہند کی بنیاد پڑنے پر اس کے بانی اور فعال رہنماؤں میں شامل تھے۔ ۱۹۳۱ء سے ۱۹۴۵ء تک مجلس احرار اسلام کی مرکزی صدارت کے عہدہ پر متمکن رہے۔ متعدد بار جیل یاترا کی۔۔۔۔۔ اور آخری بار مجلس احرار اسلام کی فوجی بھرتی کی مخالفانہ تحریک میں ۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۵ء تک فرنگی حکمرانوں‘ سروں اور خان بہادروں کے غصہ کا شکار ہو کر پابند جیل رہے۔ یہاں تک ظلم روا رکھا گیا کہ باوجود پیرانہ سالی کے سردیوں میں دھرم شالہ جیل اور گرمیوں میں منٹگمری جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے کرتے کئی امراض کا شکار ہو گئے۔
آپ کی فراست کا ایک واقعہ پچھلے دنوں میں نے ایک مجلس میں بیان کیا تو اس کے
شرکاء میں سے صاحب الرائے اصحاب کا تقاضا ہوا کہ اسے شائع ہونا چاہیے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفیض ہو سکیں۔
برصغیر کی تاریخ آزادی میں مہاتما گاندھی کا نام انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ کی حیثیت سے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ بظاہر ہندوستان میں بسنے والی تمام قوموں سے ہمدردی رکھنے کی صلاحیت کے مالک سمجھے جاتے تھے جبکہ دراصل انہیں اپنی ہندو جاتی کی فوقیت کا خبط تھا۔ ہندوستان میں صدیوں سے اچھوت قوموں کا وجود چلا آتا تھا۔ جن سے عام ہندو اور بالخصوص برہمن جانوروں سے بدتر سلوک کرتے چلے آ رہے تھے۔ ۱۹۳۰ء کے بعد ہندوستان کے انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی منزل قریب آتی ہوئی دکھائی دی تو گاندھی جی کے دل میں معاً اچھوتوں سے ہمدردی کا جذبہ چٹکیاں لینے لگا اور ہندوؤں کو ان سے برادرانہ سلوک کا درس دینے لگے۔ جس سے ان کا مقصد محض یہ تھا کہ ہندو جاتی کے ووٹوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو جائے۔ جبکہ عیسائی پادری‘ آریہ سماجی پنڈت اور سکھوں کے گرو اچھوتوں کو اپنے اپنے مذہب کی دعوت دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی فکر میں تھے۔ اسی طرح سے بعض مسلمان علماء نے بھی اس مقصد کے تابع کئی ایک تنظیمیں بنا رکھی تھیں۔ جن میں ”تبلیغ اسلام انبالہ“ کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ جبکہ امیر شریعت اور ان کے جگردار ساتھیوں کی تقاریر اور عملی اقدامات سے متاثر ہو کر بعض اچھوتوں کے قبول اسلام کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔۔۔۔۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے جس میں تین صد اچھوت افراد کا بیک وقت قبول اسلام کا کارنامہ انجام پایا۔
مولانا موصوف اپنے جماعتی پروگرام کے سلسلہ میں اسٹیشن جالندھر سے گزر رہے تھے۔ ٹرین کے رکنے پر کسی ضرورت کے لیے پلیٹ فارم پر اترے تو جالندھر کی اچھوت آبادی کے ایک نواحی چک میں عیسائی، مسلم، سکھ اور آریہ سماجی مبلغین کے اسی روز کے ایک تبلیغی اجتماع کے اشتہار پر ان کی نظر پڑی۔ جس پر آپ نے اپنا پروگرام ملتوی کر دیا اور اس چک کی جانب فی الفور روانہ ہو گئے۔ اس اجتماع کا پس منظر یہ تھا کہ اس چک کے اچھوتوں میں سے دو تین نوجوان کچھ لکھ پڑھ گئے تھے جبکہ ان دنوں مختلف مذاہب کے مبلغین اس چک میں آ جا رہے تھے۔ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں نے سب مبلغین اور مشنریوں سے یہ کہا
کہ ہم کسی نہ کسی مذہب کو قبول کر کے انسانوں جیسی زندگی بسر کرنے کے ضرور خواہش مند ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سبھی مذاہب کے مبلغین بیک وقت اپنے اپنے مذہب کے خصائص اور اعتقادات سے ہمیں آگاہ کریں تاکہ ہم موازنہ کر کے کسی مذہب کو قبول کرلیں۔ اس تحریک پر اجتماع کا انتظام ہوا تھا۔
مولانا جب چک میں پہنچے تو جلسہ جاری تھا اور ایک عیسائی مشنری اس وقت بیان کر رہا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے سٹیج پر مولانا محمد بخش مسلم مرحوم اور ان کے دو تین ساتھی موجود تھے۔ اسی طرح سے ہندو، سکھ، عیسائی مبلغین اور مشنری بھی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو لوگ مولانا کو جانتے تھے وہ مولانا کو دیکھ کر ان کی طرف بھاگے اور اسٹیج پر لانا چاہا لیکن مولانا نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ”میں تو اپنے ان بھائیوں کے پاس بیٹھوں گا جو اس اجتماع کے منتظم ہیں۔ یہ کہہ کر اچھوتوں کے مجمع پر نگاہ دوڑائی۔ پھر جہاں غلیظ ترین اور شکل و صورت کے قبیح ترین اشخاص کو بیٹھے دیکھا، ان کے درمیان جا کر بیٹھنے لگے۔ چونکہ وہ بیچارے اپنے آپ کو گھٹیا مخلوق سمجھتے تھے اس لیے ادھر ادھر سمٹنے لگے۔ لیکن مولانا نے سب کو پکڑ پکڑ کر اپنے اردگرد اس طرح بٹھا دیا کہ وہ مولانا سے چمٹے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ تھوڑی دیر میں نشست ختم ہوئی تو مولانا کی مسلمان علماء کرام اور دیگر مذاہب کے مشنریوں سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اب دوسرے اجلاس میں جو تھوڑی دیر میں منعقد ہو گا، صرف مسلمان مبلغین کی تقاریر ہوں گی۔ جبکہ باقی سب مذاہب کے مشنری پہلے اجلاس میں اپنے اپنے مذاہب کی خصوصیات بیان کر چکے ہیں۔ مولانا محمد بخش مسلم مرحوم نے از خود ہی مولانا سے فرمایا کہ سب سے پہلے آپ کا خطاب ہو گا۔ چنانچہ دوسرے اجلاس کی رسمی کارروائی کے بعد مولانا کا خطاب شروع ہوا۔ مولانا نے مختصر خطبہ پڑھنے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل دنیا کے حالات پر کچھ روشنی ڈالی اور پھر نبی اکرم ﷺ کے دور کا نقشہ کھینچنا شروع کیا۔ عین تقریر کے دوران فرمایا کہ مجھے پیاس لگی ہے جس پر مسلم، ہندو، عیسائی پانی پلانے والے سبھی دوڑنے لگے کہ پانی لا کر مولانا کو پلائیں لیکن مولانا نے ان سب کو روک دیا اور کہا کہ بھائی میں جن لوگوں کا مہمان ہوں، ان کے ہاتھ سے پانی پیوں گا لیکن اچھوت لوگ تو سہمے ہوئے بیٹھے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کون پانی پلائے۔ اس دوران مولانا نے مجمع میں بیٹھے ہوئے ایک غلیظ ترین کالے کلوٹے شخص کی
طرف اشارہ کر کے اسے اپنے پاس بلایا اور ان کے دور رکھے ہوئے ایک میلے کچیلے مٹکے کی طرف نگاہ کر کے اس سے کہا کہ بھائی مجھے اپنے ہاں سے پانی لا کر پلاؤ ۔۔۔۔۔ اس نے وہاں جا کر ایک میلی کچیلی مٹی کی ٹھوٹی میں پانی لیا ۔۔۔۔۔ اور اس انداز سے سٹیج کی طرف بڑھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بلکہ پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اور کانپتے ہاتھوں سے ٹھوٹی مولانا کی طرف بڑھا دی۔ مولانا نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ ”بھائی میں نے تمہیں زحمت دی ہے کافی دور سے پانی لائے ہو۔ گرمی کا وقت ہے تمہیں بھی پیاس لگ رہی ہو گی‘ تھوڑا سا پانی خود پی لو“ یہ سن کر وہ اس قدر کانپا ۔۔۔۔۔ قریب تھا کہ ٹھوٹی اس کے ہاتھ سے گر پڑے۔ کہنے لگا ”مہاراج میرا جھوٹا آپ کس طرح پئیں گے“ مولانا نے فرمایا ”بھائی تم میری طرح انسان ہو‘ کوئی خوف نہ کرو“ بہر حال ڈرتے ڈرتے اس نے ایک گھونٹ پانی پی لیا تو مولانا نے اس کے ہاتھ سے ٹھوٹی لے لی اور اس کو اسٹیج پر موجود عیسائی‘ آریہ سماجی‘ ہندو اور سکھ مشنریوں کو باری باری پیش کر کے کہا کہ ”بھائی آپ کو بھی پیاس لگ رہی ہو گی۔ تھوڑا تھوڑا پی لیں تو باقی میں پی لوں گا“ جس پر سب نے معذوری کا اظہار قریباً ایک ہی جیسے ملتے جلتے الفاظ میں اس طرح کیا کہ ”اس میں تو جراثیم ہوں گے‘ یہ تو جھوٹا ہے‘ برتن بہت خراب ہے۔ ایک ملیچھ کا اس کو ہاتھ لگ گیا ہے ہم تو بیمار ہو جائیں گے۔ ہمارا دھرم بھرشٹ ہو جائے گا وغیرہ“ جب سب کی طرف سے ٹکا سا جواب ملا تو مولانا نے خود بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر ایک گھونٹ پی لیا اور الحمد للہ کہا ۔۔۔۔۔ اور پھر باقی پانی مولانا محمد بخش مسلم مرحوم کی طرف بڑھا دیا اور انہوں نے بھی جب پی لیا تو مولانا مرحوم نے انسانیت کے مقام اور اسلامی مساوات کی تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد نبوی: سور الانسان طاہر وسور المومن شفاء۔ ”انسان کا جھوٹا پاک اور مومن کا جھوٹا شفا ہے“۔ کی سیر حاصل تشریح فرمائی ۔۔۔۔۔ ابھی مولانا کی تقریر جاری تھی کہ وہ تین تعلیم یافتہ اچھوت نوجوان کھڑے ہو گئے اور مولانا سے باادب مخاطب ہو کر عرض کیا کہ حضرت ہم نے سب مذاہب کے نمائندگان کی تقاریر سن لی ہیں اور اب ہمیں نتیجہ پر پہنچنے کے لیے اپنی میٹنگ کرنی ہے۔ اس لیے جلسہ فی الحال ملتوی کر دیا جائے۔ ہم ایک گھنٹہ کے اندر اندر فیصلہ کر کے اعلان کریں گے۔ چنانچہ جلسہ ملتوی ہونے پر انہوں نے اپنی میٹنگ منعقد کی اور
تھوڑی دیر بعد ان تینوں نوجوانوں نے اپنے چند معمر بزرگوں کے ہمراہ سٹیج پر نمودار ہو کر یہ اعلان کیا کہ ”تمام مذاہب کے سکالرز کی تقاریر پر ہم نے غور کیا اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی مضمر ہے“ جس پر ”اسلام زندہ باد“ کے نعرے بلند ہوئے۔ علماء کرام نے سب کو کلمہ کی تلقین فرمائی اور اس طرح سے بیک وقت تین صد افراد جن میں مرد عورتیں اور بچے شامل تھے، مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ اپریل ۱۹۹۰ء۔ از قلم: محمد حسن چغتائی)
کنری میں ایک اہم قادیانی کمانڈو کی
قادیانیت سے توبہ
۶ نومبر ۱۹۸۷ء جمعتہ المبارک کا دن مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی کا دن تھا۔ کیونکہ اس دن کنری کے ایک قادیانی نوجوان عبدالحئی نے مرزا قادیانی پر ہزاروں لعنتیں بھیج کر بخاری مسجد کنری میں بہت سے کارکنان ختم نبوت یوتھ فورس اور معززین شہر کی موجودگی میں نماز جمعتہ المبارک پر مولوی غلام نبی کے ہاتھوں دین اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کر قبول کر لیا۔ (الحمد للہ)
اس سے بڑی ہم مسلمانوں کے لیے اور کیا کامیابی ہوگی؟ یعنی ایک قادیانی نوجوان قادیانیت پر لعنت ڈال کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح ایک شخص کے مسلمان ہونے سے اس کی آئندہ آنے والی پوری نسل مسلمان ہو گی۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب سب قادیانی مرزا مردود قادیانی پر لعنت بھیج کر دین اسلام قبول کر لیں گے یا پھر۔۔۔۔۔
میں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس کنری اور وہ تمام مسلمان جو کہ اللہ اور اس کے آخری نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔ عبدالحئی صاحب کو جو کہ نئے مسلم ہیں، اس ایمان افروز اقدام پر مبارک باد دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ خدا ہر قادیانی کو عبدالحئی جیسی سمجھ بوجھ عطا کر دے
تاکہ وہ اچھے، برے، سچے اور جھوٹے کی پہچان کرسکیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہو کر حضور اکرم ﷺ کے سامنے قیامت کے روز سرخرو ہو سکیں۔ میں نے اس نو مسلم سے ایک انٹرویو بھی لیا جو ذیل میں پیش کر رہا ہوں۔
سجاد: عبدالحئی صاحب! آپ ماشاء اللہ اب مسلمان ہوچکے ہیں۔ کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کو قادیانیت سے نفرت کب اور کیوں ہوئی؟
عبدالحئی: دیکھئے سجاد صاحب الحمدللہ میں اب مسلمان ہوچکا ہوں۔ جہاں تک قادیانیت سے نفرت کا تعلق ہے تو مجھے تقریباً عرصہ دو سال سے نفرت محسوس ہونا شروع ہوئی۔ نفرت ہونے کی چند ایک وجوہات ہیں۔
میں کافی عرصہ سے ربوہ یعنی صدیق آباد میں قادیانیوں کے گڑھ دارالضیافت میں کتابت کا کام کرتا رہا ہوں۔ انہی کتابوں میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ مرزا مردود نے کہیں کچھ لکھا ہے اور کہیں کچھ۔ جھوٹی پیشین گوئیاں اس کے علاوہ ہیں۔ اس کی باتوں کے تضاد نے میرے اندر ایک طوفان برپا کر دیا۔ مثال کے طور پر کہیں تو وہ اپنے آپ کو نبی اللہ (نعوذ باللہ) کہتا ہے، کہیں مسیح اللہ، کہیں مجدد، کہیں کرشن تو کہیں موسیٰ، تو کہیں مریم۔ اور بھی بہت بکواس لکھی ہے۔ اس نے حضرت فاطمہؓ پر بھی کیچڑ اچھالا ہے (نعوذ باللہ) اسی تضاد نے مجھے یہ سب کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اور اس کا رزلٹ آپ کے سامنے ہے۔
سجاد: کیا آپ کے مسلمان ہونے میں کسی خاص واقعہ کا بھی دخل ہے؟
عبدالحئی: جی ہاں بالکل ہے۔ میں یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ مجھے صحیح رستے پر لانے میں ایک خواب کا گہرا تعلق ہے۔ خواب کچھ یوں ہے کہ ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں، عبدالغفار مغل (ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے صدر) محمد صفدر صاحب (نائب صدر) اور تیسرا کوئی اور مسلمان لڑکا ہے، ان کے ساتھ ساتھ ایک میرا سابقہ دوست قادیانی ہے۔ میں بیٹھا ہوا ہوں جبکہ یہ چاروں نماز پڑھ رہے ہیں۔ باقی سب یعنی تینوں کا رخ قبلہ کی طرف ہے جبکہ قادیانی لڑکے کا رخ مشرق کی طرف ہے۔ میں صبح بہت پریشان ہوا۔ ایک کتاب جو کہ ایک قادیانی مربی کی لکھی ہوئی ہے خوابوں کی تعبیر کے متعلق ہے، اس میں پڑھا۔ اس میں تعبیر لکھی ہوئی تھی کہ جن کا رخ قبلہ اول کی طرف تھا، وہ صحیح ہیں جبکہ مشرق والا غلط۔ اس خواب نے میری زندگی تک بدل دی۔
سجاد: کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ربوہ جو کہ قادیانیوں کا گڑھ ہے‘ وہاں آپ نے بہ نسبت یہاں کے کیسا ماحول پایا؟
عبدالحئی: یوں تو گندگی ہر جگہ ہوتی ہے، مگر جتنی گندگی میں نے قادیانیوں میں دارالضیافت میں دیکھی‘ خاص کر لڑکیوں کی‘ میرا خیال ہے ان کا ذکر اس دینی رسالہ میں زیب نہیں دیتا بہر حال میں اسے بے حیائی کا نام ضرور دوں گا۔
سجاد: عبدالحئی صاحب ! آپ تو مرزا طاہر کے کمانڈوز میں رہے ہیں‘ میرا مطلب ہے آپ نے تربیت بھی لی تھی کیا آپ اس کے متعلق کچھ وضاحت فرمائیں گے؟
عبدالحئی: ہاں سجاد صاحب ! واقعی میں ان کے کمانڈوز میں بھی رہا ہوں‘ وہاں میں اس لیے بھرتی ہوا تھا کہ شاید مجھے سکون مل جائے۔ کیونکہ وہ اس وقت میرے آقا تھے (نعوذ باللہ) مگر ہوا اس کے بالکل برعکس‘ کیونکہ مجھے سکون کے بجائے بے سکونی زیادہ ملی اور اسی بے سکونی نے مجھے قادیانیوں کی کتابیں پڑھنے پر مجبور کیا۔ جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
سجاد: آپ کی کوئی خاص تمنا یا خواہش؟
عبدالحئی: یوں تو دل میں کئی خواہشیں ہوتی ہیں مگر میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کاش مرزا مردود طاہر جلد واصل جہنم ہو۔ اس کے علاوہ دلی خواہش ہے کہ میری والدہ اور بھائی سب مرزا پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جائیں۔
سجاد: آپ کا قادیانیوں کے لیے کوئی پیغام؟
عبدالحئی: میرا ان کے لیے پیغام ہے کہ قادیانیو ! تم لوگوں کو اب تو غور ضرور کرنا چاہیے کیونکہ تم لوگوں میں سے بہت سے پڑھے لکھے بھی ہیں مگر عقلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ بنا سوچے سمجھے مسلمان ہو جاؤ بلکہ یہ ضرور کہوں گا کہ اپنی ہی کتابوں کا غور سے مطالعہ کرنے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا اور یقیناً تم مسلمان ہونا پسند کرو گے اور مرزا دجال پر لعنت ڈالو گے۔ یہ نہیں سوچتے کہ مرزا طاہر ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے لندن میں بیٹھا عیاشی کر رہا ہے۔ تف ہے تم لوگوں پر جس راستے پر تم لوگ چل رہے ہو‘ وہ سیدھا جہنم پر جا کر ختم ہوتا ہے‘ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ سنبھلنے کا وقت اب بھی ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔
سجاد: شکریہ بہت آپ کا‘ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے۔ (آمین)
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۶، شمارہ ۲۸۔ از قلم: محمد سجاد۔ کنری)
دھر رگڑا مست قلندر دا
۵۴ء یا ۵۵ء کی بات ہے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے اثرات باقی تھے۔ میں ان دنوں مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم بمقام بھلوال سرگودھا میں زیر تعلیم تھا۔ مدرسہ کے مہتمم و بانی حضرت مولانا جلیل الرحمٰن صاحبؒ جامع مسجد گول چوک کے خطیب تھے۔ وہ اکثر و بیشتر عصر اور مغرب کی نماز جامع مسجد گول چوک میں ادا کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ مجھے بھی اپنے ہمراہ لے جاتے۔ ایک دن میں ان کے ہمراہ گیا۔ نماز عصر کے بعد انہوں نے مجھے کسی کام سے بھیجا۔ گول چوک سے ایک سڑک رحمٰن پورہ کوٹ فرید کی طرف جاتی ہے۔ میں جب اس سڑک سے بلاک نمبر ۴ کی نکڑ پر پہنچا تو میں نے دیکھا دائرے کی شکل میں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہے۔ میں اس خیال سے کہ یہ ہجوم کیوں جمع ہے، دیکھنے کے لیے گیا تو کیا دیکھتا ہوں ایک بزرگ پاؤں تک لمبا سبز کرتا، سر پر سبز عمامہ، ہاتھ میں بہت بڑا سوٹا، جس میں گھنگھرو لگے ہوئے ہیں، لیے کھڑا ہے۔ زمین پر سوٹا مارتا ہے۔ گھنگھرو بجتے ہیں تو وہ اپنی لے میں مست ہو کر یہ نظم سناتا ہے۔
بھن بوتھا مرزے کنجر دا
سامعین خوب داد دے رہے ہیں اور عش عش کر رہے ہیں۔ میں بھی خوب محظوظ ہوا۔ اس اللہ کے بندے نے کسی سے کوئی سوال وغیرہ نہیں کیا اور چلا گیا۔ مجھے اس نظم سے اتنی دلچسپی ہوئی کہ کئی دن تک نظم سننے کے لیے اس ”ختم نبوت کے ملنگ“ کو تلاش کرتا رہا لیکن مجھے اس کا کہیں نام و نشان نہ ملا۔ میں اس سے یہ نظم لکھوانا چاہتا تھا۔
اس کے بعد ۷۳ء یا ۷۴ء کی بات ہے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں راولپنڈی سے شائع ہونے والے رسالے ”الجمعیۃ“ کا ایڈیٹر تھا۔ ایک دن سرگودھا سے بذریعہ ٹرین راولپنڈی جا رہا تھا۔ غالباً بھلوال یا
منڈی بہاءالدین کے قریب ایک بڑے میاں گاڑی میں سوار ہوئے اور آتے ہی زور دار انداز میں السلام علیکم کہا۔ سب نے یہی خیال کیا کہ یہ بابا کوئی سوالی ہے۔ خلاف توقع اس نے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرتا۔ میری چند گزارشات سن لیں۔ بس پھر کیا تھا اس نے فتنہ قادیانیت کے بخیے ادھیڑنے شروع کر دیے۔ اور تو کسی کو دلچسپی تھی یا نہیں‘ مجھے چونکہ دلچسپی تھی اس لیے اپنی طبیعت کے برعکس جھوم اٹھا اور خوب داد دی۔ تقریر کے بعد میں نے اس سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور پکڑ کر اپنی سیٹ پر بٹھا دیا۔ جب اس سے بات چیت ہوئی تو اس نے صرف اتنا کہا: ”میں ختم نبوت کا پروانہ اور عطاء اللہ شاہ بخاری کا رضا کار ہوں“۔
باباجی! آپ کو یہ شوق کیسے لگا؟ میں نے اس سے پوچھا۔
اس نے کہا ”بخاری نے لگا دیا“ پہلے میں ایک نظم سنایا کرتا تھا اور میں نے وہ نظم ربوہ میں جاکر سنائی تو مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں لہولہان ہو گیا۔ جتنا مزا مجھے اس مار میں آیا‘ کبھی نہیں آیا۔ میں مار بھی کھاتا اور نظم بھی سناتا رہتا تھا۔ مرزائیوں کے بچے میرا مذاق اڑاتے اور پتھر بھی مارتے تھے۔
میں نے کہا بابا جی! وہ نظم کیا تھی تو انہوں نے کہا:
بھن بوتھا مرزے کنجر دا
یہ مصرعہ سن کر مجھے خیال آیا کہ شاید یہ وہی ختم نبوت کا ملنگ ہے جس نے بلاک نمبر ۴ کی نکڑ پر لوگوں کے ہجوم میں یہ نظم سنائی تھی۔ خدا جانے وہ ملنگ کون تھا اور کہاں کا رہنے والا تھا۔ سرگودھا کے حضرات کو شاید اس کے بارے میں کچھ علم ہو۔ اب حضرت مولانا محمد رمضان علوی مدظلہ نے یہ بھولی بسری نظم بھیج کر پرانی یاد تازہ کر دی۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۶‘ شمارہ ۳۹ از قلم محمد حنیف ندیم)
آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کی الہامی شادی پر
تاریخی شعری تبصرہ
غالباً ۱۹۴۴-۴۵ء کی بات ہے کہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے ایک سرکردہ مرزائی کی دو بیٹیوں کی بیک وقت شادی کے سلسلے میں موسیو مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی ڈسکہ آئے اور قادیانی جماعت کے سربراہ ہونے کے ناطے رسم معاہدہ شادی بھی انہوں نے ادا کرنا تھی۔ اس رسم سے قبل لڑکیوں کے قادیانی والد نے سلام تعظیم پیش کرنے کے لیے دونوں لڑکیوں کو مرزا کے سامنے پیش کیا۔ قبولیت سلام کے دوران مرزا کی نگاہ غلط انداز نے ایک لڑکی امتہ الحفیظ کو پسند کر لیا۔ اگلے روز شادی ہونے والی تھی مگر ایک خود ساختہ "الہام" کے ذریعہ شادی کو اگلے روز پر ملتوی کروا دیا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا نے اپنے عقل سے عاری مریدوں سے کہا کہ "اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ امتہ الحفیظ کا نکاح اس خاکسار (بشیر الدین محمود) کے ساتھ کر دیا جائے۔ اور اس کے بطن سے جو بیٹا پیدا ہو گا‘ وہ بڑے مرتبہ پر فائز ہو گا۔ مرزا کے اس حکم پر قادیانی عقل کے اندھوں نے ہاں کر دی اور اس طرح "امتہ الحفیظ" کی شادی مرزا سے کر دی گئی۔
اس زمانے میں لاہور سے دوسرے اخبارات کے علاوہ ایک اخبار "ویر بھارت" نکلا کرتا تھا۔ اس کے ایڈیٹر پریم چتائی اور پنڈت میلا رام وفا تھے۔ حضرت رئیس امروہوی کی طرح "ویر بھارت" میں پنڈت میلا رام وفا جو ایک نغز گو اردو شاعر تھے‘ روزانہ کے اہم واقعات پر دو شعروں میں شعری تبصرہ کیا کرتے تھے۔ مرزا کی شادی پر پنڈت میلا رام وفا نے جو تبصرہ کیا‘ وہ اب تک میرے حافظہ میں محفوظ ہے۔ قارئین ختم نبوت کی دلچسپی کے لیے میں اسے ہدیہ قارئین کر رہا ہوں۔ پنڈت جی نے لکھا۔
بڑھاپے میں سولہ برس کی بیائی
یہی تو خدائی ہے اے "نیک بندے"
نہ منزل رہے گی نہ رہبر نہ راہی
(پنڈت میلا رام وفا، مدیر "ویر بھارت" لاہور، ۲۵-۱۹۴۴ء)
قادیانی سربراہوں کی تحریک جنسی لذتوں سے بھری پڑی ہے اور خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ان کی زندگیوں اور تصنیفوں کو "کوک شاستر" سے تعبیر کیا کرتے تھے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ اس فرقہ کے بانی اور اس کے فرزندان روسیاہ، شباب اور شراب کے رسیا رہے ہیں۔ خود مرزا غلام احمد پلومر کی وہسکی کا اعتراف کرتا ہے اور طاقت کی دوائیوں کے کثرت استعمال کی جگہ جگہ بات کرتا ہے۔ مندرجہ بالا شادی ہو تو گئی ..... مگر مرزا بشیر الدین محمود کو اس مظلوم عورت کے بطن سے اولاد نرینہ نصیب نہ ہو سکی۔ اس سب کے باوجود عقل و خرد سے بے بہرہ لوگ قادیانی ارتداد کا شکار ہیں۔ اس واقعہ کو جلسوں میں بیان کر کے قاضی جی اکثر بابا فرید کا یہ قول بیان کرتے تھے
(جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو عقل چھن جاتی ہے)
(غالباً مرزا کی بیاہی دلہن کا نام امۃ الحفیظ تھا۔ اگر اس میں غلطی ہو تو ممکن ہے مگر واقعہ کی حقیقت اپنی جگہ قائم ہے)
(ہفت روزہ "ختم نبوت" جلد ۶، شمارہ ۲۲، از قلم ابن فیض، کراچی)
تحریک ختم نبوت اور مولانا ظفر علی خان
تاریخ اسلام کے ہر طالب علم کو یہ معلوم ہے کہ رحمتہ للعالمین ، شفیع المذنبین ، سرور کائنات ، فخر موجودات ، سرور دو عالم ، نازش عرب و عجم ، خیر البشر ، ساقی کوثر ، سید الانبیاء ، شاہ دو سرا ، دانائے سبل ، مولائے کل اور ختم الرسل حضرت محمد ﷺ کے بعد جس شخص نے اپنی باطل نبوت کا دعویٰ کیا، وہ جلد یا بدیر اپنے کیفر کردار تک ضرور پہنچا۔ اللہ تعالیٰ کی پاک اور سچی کتاب قرآن عظیم کا ضابطہ یہی ہے کہ:
مرزا غلام احمد قادیانی ( آنجہانی) سے پہلے تاریخ اسلام کے اوراق میں جن مدعیان نبوت اور ان کے انجام بد کا ذکر موجود ہے، ان میں بنو عنس کے سردار اسود عنسی، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، مسیلمہ بن حبیب، عرف مسیلمہ کذاب اور سجاح بنت الحارث کے نام خصوصا لوگوں کو معلوم ہیں۔ ان جھوٹے نبیوں کی جھوٹی نبوتوں کا انجام اس قدر عبرت ناک تھا کہ صدیوں تک کسی شخص کو یہ جرات و جسارت نہ ہو سکی کہ وہ اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے ختم نبوت کے مضبوط و مستحکم قلعے میں نقب زنی کے بارے میں سوچ بھی سکے لیکن برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے دور غلامی میں اہل اسلام کو دانستہ جو نقصانات پہنچائے گئے، ان میں سب سے بڑا دینی نقصان یہ تھا کہ خود انگریزی حکومت نے مرزائے قادیانی کی گمراہ کن تحریک کو آب و دانہ مہیا کیا۔ اس باطل تحریک کے ساتھ انگریزی حکومت کے جو مفادات وابستہ تھے، ان میں مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنا اور اپنے مؤید پیدا کر کے اس طرح انہیں غلامی کی مضبوط زنجیروں میں جکڑنا سر فہرست تھا۔ مرزائیوں نے انگریزوں کے وفادار بن کر ان کے ایجنٹوں کا کردار انجام دیا اور اس طرح اسلام کا دعویٰ کر کے اسلام کو ہر ممکن نقصان پہنچایا ۔ گویا مرزائیت کے درخت کی آبیاری کا مقصد انگریز کے جاسوس پیدا کرنا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ علمائے اسلام نے روز اول ہی سے اس گمراہ کن
تحریک کا محاسبہ شروع کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں جن علمائے کرام کی مخلصانہ مساعی کا ذکر خاص طور پر تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو چکا ہے‘ ان میں مولانا احمد رضا خاں بریلوی‘ پیر مہر علی شاہ گولڑوی‘ پیر جماعت علی شاہ‘ مولانا انور شاہ کشمیری‘ مولانا عبدالجبار غزنوی‘ مولانا محمد حسین بٹالوی‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ مولانا داؤد غزنوی‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اور ان کے رفقاء‘ مولانا احمد علی لاہوری‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے رفقاء‘ مولانا ابوالحسنات قادری‘ مولانا عبد الستار خاں نیازی‘ حافظ کفایت حسین اور مولانا محمد الیاس برنی کے اسمائے گرامی فراموش نہیں کیے جا سکیں گے۔ اسی طرح موجودہ دور میں جن لوگوں کو مرزائیت کی حد تک تحریک ختم نبوت کو منزل تکمیل تک پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی‘ ان میں مولانا شاہ احمد نورانی‘ مولانا محمد یوسف بنوری‘ مولانا مفتی محمود احمد‘ پروفیسر عبدالغفور‘ علامہ پیر محمد کرم شاہ‘ نوابزادہ نصر اللہ خاں‘ مولانا محمود احمد رضوی اور مولانا محمد عطاء اللہ حنیف کے نام مدتوں یاد رہیں گے۔
مذکورہ علمائے کرام اور راہنمایان عظام کے علاوہ مشاہیر اسلام میں دو نام اس قدر امتیاز و انفرادیت کے حامل ہیں کہ وہ ہر دور میں نمایاں طور پر دلوں اور ذہنوں میں رہیں گے۔ ان میں سے ایک حضرت علامہ اقبالؒ اور دوسرے مولانا ظفر علی خان مرحوم ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور رد مرزائیت کی تحریک میں جو علامہ اقبالؒ کا حصہ ہے‘ وہ الگ تفصیل کا متقاضی ہے۔ میرے پیشِ نظر اس وقت صرف مولانا ظفر علی خان مرحوم کی خدمات کا مختصر تذکرہ ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ رد مرزائیت کے سلسلے میں صحافت کے میدان میں مشاہیر اسلام میں سے جس شخصیت نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے‘ وہ مولانا ظفر علی خان تھے تو اس میں مبالغے کا شائبہ تک نہیں ہو گا۔
خدا کا ہزار شکر ہے کہ تقریباً ایک صدی پرانا مرزائیت کا دل آزار اور تکلیف دہ مسئلہ اب حل ہو چکا ہے اور مرزائیوں کو پاکستان نیشنل اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں جملہ اراکین کے متفقہ فیصلے کے مطابق غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ اس موقعے پر آپ اس دور کا تصور کیجئے جب اس باطل عقیدے کو انگریز کی مکمل حمایت اور پشت پناہی حاصل تھی اور انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا رفتہ رفتہ ایک تناور درخت بن کر اپنے برگ و بار
پھیلا رہا تھا۔ انگریزی حکومت کے اس دور میں ہر قسم کے خوف و خطر سے بے نیاز ہو کر مولانا ظفر علی خان نے اپنی البرز شکن نظم و نثر سے مرزائیت کے قلعے کو پاش پاش کر دیا۔ مولانا ظفر علی خان جب یہ کہتے ہیں تو اپنے دعوے میں بالکل سچے ہیں کہ
میں نے ہی آخر کو حل کی چیستان قادیاں
یہ اس دور کی بات ہے کہ جب مرزائی گھر گھر اس باطل عقیدے کی اشاعت و تبلیغ کر رہے تھے۔
بیچتے پھرتے ہیں گھر گھر استخوان قادیاں
مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر میں صرف و نحو اور قواعد کی جو اغلاط ہیں جو کسی بھی زبان شناس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے اس طرف بھی نشاندہی فرمادی تھی
ان سب اجزاء سے مرکب ہے زبان قادیاں
ہر باطل تحریک مکر و فریب اور کذب و افتراء کے زور پر آگے بڑھتی ہے۔ مرزائیت نے بھی ایسے ہر ناجائز حیلے سے کام لیا۔ اس لیے اگر کچھ سادہ لوح اس کے دام فریب میں آ گئے تو اس میں چنداں حیرت کی بات بھی نہیں۔ ظفر علی خاں سے اس سوال کا جواب سنئے۔
ہو گئی پھر اتنی اونچی کیوں دکان قادیاں
جو فروشی کے لیے گندم نمائی شرط تھی
تھا بڑا ہی کائیاں بازارگان قادیاں
قادیانیت کی تحریک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بانی مرزائے قادیانی نے پہلے پہل اپنے آپ کو اسلام کے ایک مبلغ کی حیثیت سے روشناس کرایا۔ پھر اس نے اپنے آپ کو مجدد قرار دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ مسیح موعود اور مہدی موعود بن بیٹھا اور اپنے آپ کو ظلی و بروزی نبی کہنے لگا۔ جب کچھ سریع الاعتقاد لوگ اس کی حلقہ فریب میں
شامل ہو گئے تو اس نے ”ظلی نبی“ کی جگہ پر ”نبی“ کی اصطلاح آزادانہ استعمال کرنا شروع کر دی۔ اس قسم کے غلیظ عقیدے پر عمل پیرا لوگوں کا انجام کیا ہو گا اور
قبر میں خود دیکھ لیں گے منکران قادیان
”منکران قادیان“ سے مراد ”قادیان کا انکار کرنے والے“ نہیں بلکہ قادیان کے انکار کرنے والے ہیں۔ یہ ترکیب بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ کفار مکہ کی ترکیب ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے رد مرزائیت کے سلسلے میں اپنی طبع رسا کا جو رنگ جمایا ہے‘ اور اپنی شوخی تحریر کا جو اعجاز دکھایا ہے‘ اس مضمون میں آپ اس کی متعدد مثالیں دیکھیں گے۔
اور شوخی تحریر کا اعجاز دکھا دوں
پہلے سبق حق تجھے قرآں سے پڑھا دوں
تنہا تجھے پھر لشکر باطل سے لڑا دوں
اک گرز کی قدرت ہے مرے خامے کے اندر
اس گرز سے البرز کو بھی سرمہ بنا دوں
اکملت لکم پڑھ کے زبان عربی میں
ظلی و بروزی کی نبوت کو مٹا دوں
جن کو نہ ہو کچھ پاس پیمبر کے ادب کا
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
”خلافت قادیانیہ“ کے زیر عنوان مولانا ظفر علی خان نے طنزاً کہا:
کہ مضمون غیب سے کوئی نہ کوئی آ ہی جاتا ہے
بشیر الدین محمود اس دبستاں کے معلم ہیں
مقنع جس میں فرط عجز سے گردن جھکاتا ہے
دوسرے شعر کے مصرع ثانی میں مقنع کا مطلب ”نقاب پوش“ ہے۔ یہ شخص نہایت بد شکل‘ پست قامت اور کانا تھا۔ اس نے اپنے چہرے پر سونے کا خول چڑھا رکھا تھا۔ اس
نے اپنے چہرے کی بدصورتی کو چھپانے کے لیے یہ تدبیر کی تھی لیکن بے وقوف لوگ اس کے ظاہری رعب و جمال کے شیدا ہو گئے تھے۔ یہ شخص خلیفہ مہدی کے زمانے میں خراسان میں تھا۔ اس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ہزاروں بیوقوف اس کے پیرو ہو گئے جن میں بعض عالم و فاضل بھی شامل تھے۔ جب اس نے کچھ لوگوں کی مدد سے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا تو خلیفہ مہدی نے اس کے خلاف لشکر کشی کی۔ اس پر وہ سیام کے قلعے میں محصور ہو گیا۔ جب ہر طرف سے ناامید ہو گیا تو اس نے اپنی بیویوں اور بچوں کو زہر دے دیا اور لکڑیاں جمع کر کے ایک بہت بڑا الاؤ بنایا۔ پھر اس میں آگ لگا دی اور اعلان کیا کہ میں اس آگ میں کود کر خدا کے پاس جا رہا ہوں۔ جو میرے ساتھ جانا چاہے‘ وہ بھی اس آگ میں کود جائے اس پر کئی بے مغز لوگ اس کے ساتھ آگ میں کود کر جہنم رسید ہو گئے۔
مرزائے قادیان نے ایک قصیدے میں ایک زلزلے کی پیش گوئی کی تھی اور اس زلزلے کی ہلاکت خیزیاں بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اس گھڑی زار روس بھی باحال زار ہو گا“۔
اس میں یہ بھی شرط تھی کہ یہ پیش گوئی مرزا صاحب کی زندگی میں ہی پوری ہو گی۔ لیکن یہ زلزلہ آنجہانی کی زندگی میں نہ آیا۔ مدت بعد انقلاب روس آیا تو مرزائیوں نے اسے اسی پیشگوئی کا نتیجہ قرار دیا۔ مرزا کی اس پیشگوئی کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے ایک طویل نظم کہی جس کے بعض اشعار درج ذیل ہیں:
پادشاہی اور گدائی پر ہے جس کا اختیار
لیکن ان باتوں سے مطلب قادیاں والوں کو کیا
جن کی منطق نے کیا دامان دانش تار تار
موسیو محمود کہتے ہیں کہ زار روس پر
ان کے ابا کے قصیدے کی پڑی ہے آ کے مار
کوئی ان حضرت سے پوچھے ہے گر ایسا ہی تو کیوں
آپ ولیم کو نہیں دیتے ہیں گدی سے اتار
فرڈنینڈ اس وقت تک کیوں صوفیہ میں ہے مقیم
زار کی تو آپ نے پہلے ہی دے دی تھی خبر
بلجیم کا قادیاں نے کیوں نہ بانٹا اشتہار
مانٹی نگرو کی نسبت کیا ہے ارشاد آپ کا
غیب دانی آپ کی، اس کی ہوئی کیوں پردہ دار
اب بھی اس ہذیاں سے للہ دست کش ہو جائیے
ورنہ کھو بیٹھیں گے سب آپ اپنا جلوتی وقار
ان اشعار میں جس ولیم کا ذکر ہے وہ جرمنی کا بادشاہ تھا اور پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا اسی طرح فرڈنینڈ آسٹریا کا بادشاہ تھا۔ وہ جرمنی کا حلیف تھا۔ بلجیم پہلی جنگ عظیم میں تباہ ہو گیا تھا اور یورپ کی ریاست مانٹی نگرو کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا۔
مرزائیت کے علمبردار قرآن حکیم کی بعض آیات کا عجیب مطلب بیان کرتے تھے۔ انہوں نے لیس کمثلہ شئی کی شرح بھی اپنے مطلب کے مطابق فرمادی۔ اس پر مولانا ظفر علی خان نے اس طرح گرفت فرمائی
یعنی آپ اللہ میاں کے باپ ہیں
عرش کو جس نے کیا ہے پے سپر
آپ اس گھوڑے کی برقی ٹاپ ہیں
جو سبق بھی دے دیا طاغوت نے
موسیو محمود دیتے چھاپ ہیں
قادیاں ہے چشمہ آب حمیم
باپ پانی تھے تو بیٹے بھاپ ہیں
فاتبعہ کی انگیٹھی گرم ہے
آگ اس کی آپ لیتے تاپ ہیں
دیکھئے ملتی ہے کب ان سے نجات
اور کب کٹتے ہمارے پاپ ہیں
آج یقیناً مولانا ظفر علی خاں کی روح جنت میں خوش ہو گی کہ مرزائیت کے علمبرداروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔
مرزائیت، دین کے پردے میں دراصل ایک سیاسی تحریک تھی۔ اس کی تاریخ شاہد ہے کہ مرزائیوں نے سیاسی حالات سے ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک بار مرزا بشیر الدین محمود ایک خاص مقصد لے کر لندن گئے تو مولانا ظفر علی خان نے لکھا
گئے لندن بشیر الدین محمود
یہ مقصد آپ کا ہے اس سفر سے
کہ سرحد پر بچھا دی جائے بارود
دکھائے یورپ اس کو آ کے بھٹی
جہنم کی لپٹ جس میں ہو موجود
یہ ساری سرزمیں پھر بھک سے اڑ جائے
اور افغانوں کی جمعیت ہو نابود
مرزائیت کی تحریک حقیقتاً نکوکاری کے پردے میں سیاہ کاری کا حیلہ تھی اور اس باطل نبوت کا مقصد دراصل نصاریٰ کی رضا جوئی تھا۔ مولانا ظفر علی خان نے ”حدیث قادیاں“ کے عنوان سے آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر اس راز سے پردہ اٹھا دیا تھا۔
نکوکاری کے پردے میں سیہ کاری کا حیلہ ہے
یہ وہ تلبیس ہے ابلیس کو خود ناز ہے جس پر
مسلمانوں کو اس رندے نے اچھی طرح چھیلا ہے
پلی ہے مغربی تہذیب کی آغوش عشرت میں
نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے
نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا
اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلہ ہے
قادیانیوں نے انگریزی حکومت کے زیر سایہ اپنے مسلسل پروپیگنڈے سے
مسلمانوں میں جا جا کر ایسا جال بچھایا کہ ان کی چالوں سے غافل اور سادہ لوح مسلمان دامے درمے بھی مرزائیوں کی مدد کرتے رہے۔ مولانا ظفر علی خان نے ایک موقعہ پر ایسی ہی صورت حال دیکھ کر مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ:
کچھ یہود آتے ہیں دو جون کو چندے کے لیے
شاہ برطانیہ کی سالگرہ ہے اس دن
یہ اشارہ ہے ہر اللہ کے بندے کے لیے
گردن امت مرحوم کو پھر تاکا ہے
نام توحید پہ تثلیث کے پھندے کے لیے
ایک موقعہ پر مولانا ظفر علی خان نے مسلمانوں کو انگریزوں اور قادیانیوں سے اس طرح خبردار کیا:
تو قادیانیوں کے تیر بے کماں سے بچو
دمشقیوں سے خطرناک تر ہیں اندلسی
گر ان کی ”ایں“ سے بچے ہو تو ان کی ”آں“ سے بچو
جو بات بات پہ تم کو حرامزادہ کہے
ہر ایسے سفلہ بد اصل و بد زباں سے بچو
نبی کے غصے میں ڈوبی ہوئی نگہ سے ڈرو
عتاب حضرت آقائے دو جہاں سے بچو
مندرجہ بالا اشعار میں سے دوسرے شعر میں دمشقی اور اندلسی دونوں لفظ خاص اصطلاحوں کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ بنو امیہ کے دور خلافت میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی حکومت دو حصوں میں منقسم تھی۔ ایک کا دارالحکومت دمشق (شام) تھا اور دوسری اندلس (ہسپانیہ یا سپین) میں تھی۔ مولانا ظفر علی خان مرزائیوں کی قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے لیے بالترتیب دمشقی اور اندلسی کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ اس سے پہلے یہ ذکر آ چکا ہے کہ مرزائیت کی تحریک ایک سیاسی تحریک تھی۔ اس کے
ثبوت میں متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ مشہور ہے۔ جس زمانے میں غازی امان اللہ خان حکمران تھے‘ ان دنوں علمائے اسلام نے ایک قادیانی مبلغ کو سنگسار کرا دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد اہل قادیاں غازی امان اللہ خان کے دشمن ہوگئے۔ جب کچھ مدت کے بعد غازی امان اللہ خان کی حکومت کو زوال آیا تو قادیانیوں نے خوشی کی تقریب منائی۔ مولانا ظفر علی خان نے قادیانیوں کے اس ظاہر و باطن خبث پر لکھا کہ:
قادیاں میں چراغ گھی کے جلے
موسیو میرزا بشیر الدین
سجدہ کرنے کلیسا کو چلے
مغربیت ہے آپ کی انا
دودھ پی پی کے جس کے آپ پلے
زندہ کیوں رہ گیا امان اللہ
موسیو اس سوال سے نہ ٹلے
جاں بچا کر نکل گیا اسلام
کف افسوس کفر کیوں نہ ملے
بٹالہ ضلع گورداسپور کے پرجوش رضا کاران اسلام کے سالار ایک نوجوان حاجی محمد حسین تھے۔ ایک اسلام دشمن مرزائی محمد علی نے اسے خنجر کے وار سے شہید کردیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قاتل کو ”غازی“ کا خطاب دیا اور اس کی جان بچانے کے لیے پریوی کونسل تک مقدمہ لڑتے رہے لیکن آخر قاتل اپنے انجام بد تک پہنچا اور پھانسی لٹکایا گیا۔ مرزا محمود نے خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اسے اپنے نام نہاد ”بہشتی مقبرہ“ میں دفنایا۔ مولانا ظفر علی خان نے محمد حسین شہید کے بارے میں یہ ایمان افروز اشعار کہے:
نشاں ظالموں کے مٹایا کرے گا
کہاں تک مسلماں کے قاتل کو شیطاں
خدا کے غضب سے بچایا کرے گا
حریفوں کے چھکے چھڑایا کرے گا
دکھایا کرے گا جلال محمد
علم قادیاں کا جھکایا کرے گا
مغلوں کے گھرانے میں ایک عزت دار خاتون محمدی بیگم تھیں۔ مرزا غلام احمد آنجہانی نے اس پاک باز خاتون کے بارے میں مشہور کر دیا کہ اس کے ساتھ آسمان پر مرزا صاحب کا نکاح ہوچکا ہے۔ حالانکہ آسمان پر تو کیا زمین پر بھی یہ نکاح کبھی عمل میں نہ آیا اور مرزا صاحب ناکام و نامراد آنجہانی ہو گئے۔ مرزا غالب نے کہا تھا:
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
ظفر علی خان نے پہلے مصرعے پر یوں گرہ لگائی ہے:
مرے گر کعبے میں‘ لندن میں گاڑو قادیانی کو
مرزا غلام احمد نے اپنی باطل نبوت کے پرچار کے ساتھ ساتھ مختلف انبیائے صادقین کا استخفاف کیا اور اس اہانت کے سلسلے میں رسول مقبول ﷺ کی آل مبارک کو بھی نہ چھوڑا۔ ظفر علی خان مرزائے قادیانی کی ان گستاخیوں پر علمائے امت سے شکوہ کرتے ہیں:
کہ تیری کیا روش ہے اور ہے کیا رفتار دنیا کی
ادھر دنیا و مافیہا سے تو اس وقت تک غافل
ادھر اسلام پر برسوں سے پیہم یورش اعدا کی
بشیر الدین محمود اٹھ کے پھیلاتا ہے بے کھٹکے
فرنگستاں کے سائے میں خرافات اپنے باوا کی
چھپے ہیں سو حسین ابن علی جس کے گریباں میں
رسائی جس کی منزل تک نہیں ہوتی مسیحا کی
کبھی حج ہوگیا ساقط‘ کبھی قید جہاد اٹھی
قیامت بن چلا یہ فتنہ اور خاموش بیٹھے ہو
نہیں اے عالمان دیں! میں تم سے بے سبب شاکی
مرزا غلام احمد نے ایک مصرعے میں کہا:
اور دوسری جگہ دعویٰ کیا ہے کہ ع
اوپر کے چوتھے شعر میں مرزا کے انہی جاہلانہ اور احمقانہ دعاوی کی طرف اشارے ہیں ۔
مرزائیوں کے بعض عقائد اس قدر مضحکہ خیز ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی بھی فرقہ ان کی تائید نہیں کرسکے گا۔ مثلاً حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مرزائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بھاگ کر کشمیر میں آگئے تھے اور ان کی قبر بھی وہیں ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے ”قادیانی خرافات“ کے عنوان سے مذکورہ عقیدے کی طرف اس طرح نشاندہی فرمائی ہے:
کیا دھرا اس نیلے نیلے گنبد بے در میں ہے
آ بسا تھا بھاگ کر کنعاں سے وہ کشمیر میں
آخری اس کا ٹھکانا بھی اسی کشور میں ہے
مولانا ظفر علی خان اس نشاندہی کے بعد مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
ایک مدت سے سمایا قادیاں کے سر میں ہے
چھپ رہے ہیں جس کے اندر محشر ستاں سینکڑوں
اے مسلمانو وہ فتنہ خود تمہارے گھر میں ہے
مرزا قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے میں نے انگریزوں کی تائید و حمایت اور تعریف و توصیف میں اس قدر لکھا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر گئی ہیں لیکن اس کے باوجود انگریزی حکومت نے میری خدمات کا اعتراف اس حد تک نہیں کیا جس قدر اسے کرنا
چاہیے تھا۔ مولانا ظفر علی خان نے اسی نظم کے ایک شعر میں کہا:
حشر ان کا کاتب تقدیر کے دفتر میں ہے
مرزائیوں کے مشہور اخبار ”الفضل“ میں کسی مرزائی شاعر نے مولانا ظفر علی خان کے بارے میں جلے دل کے پھپھولے اس طرح پھوڑے کہ:
سمجھ پہ کیوں پڑ گئے ہیں پتھر، یہ کیسے فتنے اٹھا رہے ہیں
جناب محمود کو برا کہہ کے کیا ملے گا سوائے ذلت
یہی نہ جو کچھ رہی تھی عزت اسے بھی دل سے گنوا رہے ہیں
وہ اپنی مسجد الگ چنیں گے ہزار دنیا بنے مخالف
انہیں یہ ضد ہے کہ کیوں مسلمان ایک مرکز پہ آ رہے ہیں
سات اشعار کی یہ نظم اسی طرح کے خرافات کا مجموعہ ہے۔ مولانا ظفر علی خان کب خاموش رہنے والے تھے۔ انہوں نے اسی زمین میں آٹھ شعروں کی نظم سے جواب دیا۔ ان میں سے پانچ اشعار پیش خدمت ہیں:
ادھر رقیبوں سے مل رہے ہیں، ادھر ہمارے گھر آ رہے ہیں
منافقوں کی ہے یہ نشانی، زباں پہ دیں ہو تو کفر دل میں
اسی نشانی سے قادیانی تعارف اپنا کرا رہے ہیں
رسول مقبول کی شریعت کے نام پر دیں ہمیں نہ دھوکا
اسی شریعت کی آڑ لے کر وہ سب کو الو بنا رہے ہیں
خبر پیمبر نے جس کی دی تھی وہ فتنہ اٹھا ہے قادیاں سے
خلیفہ محمود قادیانی اسے قیامت بنا رہے ہیں
ظفر علی خاں کی آبرو کو نہ حرف آیا نہ آسکے گا
خدا نے دی ہے جب اس کو عزت تو آپ کیوں تلملا رہے ہیں
ایک مجاہد مسلمان کے علاوہ ممتاز اور منفرد شاعر کی حیثیت سے بھی مولانا ظفر علی خاں
کو جو بلند مرتبہ اور آبرومندی حاصل ہے اس کا انکار ان کے دشمن بھی نہیں کر سکیں گے۔ مولانا مرحوم نے مرزائیت کی مذمت کے سلسلے میں جو منظومات سپرد قلم کی ہیں، ان کی زباندانی کے علاوہ ان کی مشاقی اور قادر الکلامی کے بھی بہترین نمونے موجود ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں ایسے ایسے ادق قافیے لاتے ہیں کہ کسی نقاد کے قول کے مطابق انہیں شہنشاہ قوافی تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں ان کی مختلف نظموں سے متفرق اشعار ملاحظہ ہوں:
گر یہ ڈھینچوں ڈھینچوں سننی ہو تو جاؤ قادیاں
عیسیٰ مریم کو گالی قادیاں دے لے مگر
یاد رکھے اس کی بھی ہیں نانیاں اور دادیاں
------O------
قادیاں کا اس میں ہیکل ہو کہ ہو متھرا کا دیر
بولہب کی شان ہو یا ہو غلام احمد کی آن
ملت بیضا کے ساتھ ان کا ہے پہلے دن سے بیر
ہم نے ان کے ساتھ نیکی کی انہوں نے کی بدی
اور کر سکتے تھے کیا اسلام سے برتاؤ غیر
------O------
بروز اس عہد میں ان کا غلام احمد سپیرا ہے
ہوئی ہے قادیاں کی مادیاں کی پرورش جس میں
بشیر الدین محمود اس طویلے کا بچھیرا ہے
------O------
مرا سینہ ہے چکلا اور چوڑا
غلام احمد مرا لوہا گیا مان
اٹھایا میں نے جب دیں کا ہتھوڑا
ہر اک میداں سے بھاگے قادیانی
کہ ان کا پیشوا بھی تھا بھگوڑا
بشیر الدین کا ٹٹو تھا مریل
لگے چابک نہ لیکن پھر بھی دوڑا
چلی پنجاب میں جب دیں کی گاڑی
تو اٹکا قادیانیت کا روڑا
کیا مرزا نے بدنام انبیاء کو
محمد ﷺ تک کو نہ چھوڑا
دیے اسلام کو چرکے جنہوں نے
انہی سے اس نے اپنا رشتہ جوڑا
نبوت لنگڑی اور اندھی خدائی
ملا ہے خوب ان دونوں کا جوڑا
یہی اس کی نبوت کی ہے پہچان
کہ مر کر بھی نہ منہ لندن سے موڑا
مرزائیت کی گزشتہ تاریخ میں کشمیر کمیٹی کا واقعہ بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ حسن اتفاق (مرزائیوں کے حق میں سوء اتفاق) سے اس کمیٹی کے صدر علامہ اقبال تھے۔ علامہ مرحوم نے ایک موقعہ پر اس کمیٹی کو محض اس لیے توڑ دیا کہ اس پر قادیانی چھا رہے تھے اور ان پر کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کا الزام تھا۔
مولانا ظفر علی خان نے کشمیر کمیٹی کے بارے میں بھی ایک سے زائد نظمیں کہیں۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں:
قائم ہوئی جس دن نئی کشمیر کمیٹی
نابود ہوئے اندلسی اور دمشقی
دونوں نے بساط اپنی نحوست کی لپیٹی
مرزا کی نبوت کے لیے کھودی گئی قبر
گاڑی گئی جس میں یہ خرافات کی بیٹی
آخر آ ہی گئی کشمیر میں فوج انگریز
اگر انگریز ہے دولہا تو ہے تو اس کی دلہن
مل گیا تجھ کو ہری سنگھ کی دولت کا جہیز
کیوں نہ اب اڑنے لگے تیری نبوت کا سمند
چھیڑتی ہے جسے یورپ کی صلیبی مہمیز
خون اسلام سے چندے کا نہ کر لقمہ طلب
جبکہ چن دی گئی ہے تیرے لیے کفر کی میز
دھجیاں نامہ سرکار دو عالم کی اڑا
اے کہ تجھ کو نہ رہا یاد مآل پرویز
آج تک خاک میں ملتی ہی چلی آئی ہے
ہر وہ طاقت جو مسلماں سے ہوئی گرم ستیز
مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ساتھ ان کے ”تقدس مآب“ صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی رنگین شخصیت اور ان کے سنہری کارناموں کا ذکر مولانا ظفر علی خان کے اشعار میں جابجا ملتا ہے۔ بعض حد سے متجاوز روادار قسم کے لوگوں کو مولانا مرحوم کے کلام پر یہ اعتراض رہا ہے کہ وہ مرزا محمود کی ذاتی زندگی کے بعض مشاغل کا ذکر بھی نہایت واشگاف طور پر کر دیتے ہیں۔ اگر غور فرمایا جائے تو معلوم ہو گا کہ نبوت اور خلافت نبوت کے دعویداروں کے معاملے میں یہ طریقہ کسی طرح قابل اعتراض نہیں ہونا چاہیے تاکہ
عام لوگوں کو ان کے دعاوی کی صداقت کو جانچنے کا موقعہ مل جائے اور وہ ان کے اخلاق کو مسلمہ معیار پر پرکھ سکیں۔ مرزا بشیر الدین محمود کی سیرت میں مس روفو کا ”اغوا“ یقیناً کوئی قابل تقلید یا قابل توصیف کارنامہ نہیں ہے۔ اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ لاہور کے سیسل ہوٹل میں ایک اطالوی حسینہ مس روفو مقیم تھیں۔ مرزا بشیر الدین نے ایک موقعے پر صرف ایک روز کے لیے وہاں قیام فرمایا۔ دوسرے روز وہ حسینہ ہوٹل سے غائب تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مرزا محمود کے بچوں کی گورنس کے طور پر قادیاں میں ملازم ہو گئی ہے۔ اگر مولانا ظفر علی خاں، مرزا محمود کی اس ”خوش ذوقی“ کی داد نہ دیتے تو یہ مولانا مرحوم کی ”بے ذوقی“ کا ثبوت ہوتا۔ ”داد“ ملاحظہ فرمائیے:
لاہور کا دمن ہے ترے فیض سے چمن
پیغمبر جمال تری دلربا ادا
پروردگار عشق ترا چلبلا چلن
پروردۂ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار
آوردۂ جنوں ہے تری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تری ساق صندلی
بیعانہ سرور ترا مرمری بدن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشہ نبوت نقلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر افسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن
مس روفو کے اچانک ہوٹل سے غائب ہو جانے کے بعد لوگوں کے دلوں میں یہ سوال ابھرا کہ آخر وہ ”برق“ کہاں گری ہے۔ اس پر مولانا ظفر علی خان نے لکھا:
ہوٹل سسل کی ”رونق عریاں“ کہاں گئی
اس کے جلو میں جاں گئی ایماں کے ساتھ ساتھ
ردا سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی
اب کس حریم ناز میں وہ جان جاں گئی
یہ چیستاں سنی تو "زمیندار" نے کہا
اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی
اس سے پہلے اس بات کا ذکر اشارۃً آ چکا ہے کہ مرزائی مسلمانوں سے اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے نام پر چندہ اکٹھا کرتے تھے اور بعض لوگ جو ان کے دام ہمرنگ زمیں سے بے خبر تھے۔ انہیں چندہ دے دیا کرتے تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے "چندے کا دھندا" کے عنوان سے جو نظم کہی ہے، وہ اپنی فنی خوبیوں اور خاص طور پر لطف قوافی کے اعتبار سے ایسی ہے کہ وہ ان صفحات میں مکمل نقل کرنے کو جی چاہتا ہے پڑھئے اور داد دیجئے:
بغیر اس ڈھنگ کے چندہ مہیا ہو نہیں سکتا
سنا ہے قادیاں میں بانسری بجتی ہے گوکل کی
مگر یہ بانسری والا کنہیا ہو نہیں سکتا
یہ آساں ہے کہ بدلے جوں اور مچھر بنے لیکن
کبھی بھی شہد کی مکھی مکھیا ہو نہیں سکتا
مجدد الف ثانی سے غلام احمد کو کیا نسبت
ثریٰ کتنا بھی اونچا ہو ثریا ہو نہیں سکتا
اگر مکے سے بھی ہو کر وہ ڈھینچوں ڈھینچوں آ جائے
یہ ظاہر ہے خر عیسیٰ گویا ہو نہیں سکتا
برادر خواندگی کی شرط اگر ہو میرزائیت
قیامت تک بھی ہم سے یہ تو بھیا ہو نہیں سکتا
سرشت مرد مومن کا بدلنا غیر ممکن ہے
چنبیلی کا یہ پودا بھٹ کٹیا ہو نہیں سکتا
وطن کے پوجنے والو! تعلق نوع انساں کا
جسے اسلام کی عزت پہ کٹ مرنا نہ آتا ہو
مسلمانوں کے بیڑے کا کھیویا ہو نہیں سکتا
پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر جو فرشتہ وحی لاتا تھا اس کا نام ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ وہ جبرئیل تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی پر جو فرشتہ وحی لاتا تھا، اس کا نام ”ٹیچی ٹیچی“ تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی ایک نظم کا عنوان یہی ہے:
یہ پودا اسی کا ہے خود کاشتہ
پلومر کی بھٹی سلامت رہے
ہے جس کی صبوحی مرا ناشتہ
کنھیا بھی ہوں اور مہدی بھی ہوں
ہے دونوں کی عزت مری داشتہ
دکھائے نہ توحید آنکھیں مجھے
کہ تثلیث ہے پرچم افراشتہ
یہ ہے ٹیچی ٹیچی کی ہر وقت ٹک
جو ہے میری تھیلی زر انباشتہ
اس نظم میں پلومر سے مراد مال روڈ لاہور کی مشہور دکان ای پلومر ہے۔ اس دکان میں انگریزی ادویہ کے علاوہ اعلیٰ درجہ کی غیر ملکی شرابیں بکتی تھیں۔ آخری شعر میں ٹیچی ٹیچی نامی جس فرشتے کا ذکر ہے اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آسمان قادیان سے اتر کر مرزا صاحب کی جیب روپوں اور نوٹوں سے بھر دیا کرتا تھا۔
مولانا ظفر علی خان نے باقاعدہ نظموں کے علاوہ مرزا اور مرزائیت کے بارے میں متفرق اشعار بھی کہے ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر جو کچھ اس موضوع پر کہا ہے، اس کا مفصل ذکر ایک کتاب کی ضخامت کا طالب ہے۔ مرزائیت کے موضوع پر مولانا کے بعض متفرقات بھی خوب ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
طوق استعمار مغرب خود کیا زیب گلو
اور گواہ اس پر ہیں مرزا کی پچاس الماریاں
تو قادیاں کی نبوت کی روک تھام کرو
آخر میں مرزائے قادیانی کی موت پر ظفر علی خان نے جو معرکہ آرا نظم کہی ہے، اس کے بھی چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
احمدی فرقے کا بانی مر گیا
ہوگیا اسلام کا ایک رخنہ بند
سنتے ہیں دجال ثانی مر گیا
لے کے اپنے دل کے اندر سینکڑوں
آرزو ہائے جوانی مر گیا
کرتے ہیں مرزائی تاویلیں عبث
آئی مرگ ناگہانی‘ مر گیا
المختصر مولانا ظفر علی خان نے اہل اسلام کو مرزائیت کے فتنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش فرمائی۔ ع
(ماہنامہ ”ضیائے حرم“ ختم نبوت نمبر‘ ۱۹۷۴ء ۔ از قلم: پروفیسر خالد بزمی)
ذمہ دار
جو لوگ تحریک ختم نبوت میں جہاں تہاں شہید ہوئے ہیں ان کے خون کا جواب دہ میں ہوں‘ وہ عشق رسالتؐ میں مارے گئے‘ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں جذبہ شہادت میں نے پھونکا تھا۔ جو لوگ ان کے خون سے دامن بچانا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں ان سے کہتا ہوں کہ حشر کے روز بھی اس خون کا ذمہ دار میں ہوں گا۔ اگر ان دانشوران بے دین یا دینداران بے عشق کے نزدیک ان کا جان دینا غلطی تھی تو اس غلطی کا ذمہ دار بھی میں ہوں۔ وہ عشق نبوتؐ میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خاں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے بھی تو سات سو حفاظ صحابہؓ کو ختم نبوت کی خاطر شہید کرایا تھا۔
(خطاب امیر شریعت‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
شیخ بنوریؒ کی ایمان پرور باتیں
مولانا نے فرمایا کہ تحریک کے بعد جب تبلیغی سلسلہ میں لندن گیا تو وہاں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا سٹیج ہے جس کی خوب سج دھج ہے۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ حضرت سید انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ اس پر تشریف فرما ہیں۔ احباب ان سے مل رہے ہیں۔ سب لوگ فارغ ہو گئے تو میں (حضرت بنوری) حاضر ہوا۔
آپ دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور بغلگیر ہوئے‘ مجھے سینے سے لگایا۔ وہ بے پناہ خوشی و شادمانی کے عالم میں میری داڑھی کے بوسے لینے لگے اور میں نے خوشی و شادمانی کے عالم میں ان کی داڑھی مبارک کے بوسے لیے۔
دوسرا خواب میں نے دیکھا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ کسی جگہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی بے پناہ مسرت میں ”واہ میرے پھول‘ واہ میرے پھول“ کہتے ہوئے سینہ سے لگا لیا۔
حضرت امیر شریعت رحمتہ اللہ علیہ آبدیدہ تھے۔ چہرے پر مسرت نمایاں
تھی۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں جب طلباء‘ جلسہ و جلوس میں حصہ لینے لگے تو حضرت بنوریؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ضرورت پڑی تو سب سے پہلے بنوریؒ اپنی گردن کٹوائے گا‘ پھر آپ کی باری آئے گی۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۲۵۶-۲۵۵‘ از مولانا اللہ وسایا)
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے (مولف)
پھول
مولانا تاج محمود نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی کے بعد فیصل آباد کے بڑے قبرستان میں شہدائے ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھول ڈالتے ہوئے لوگوں کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قبرستان کی دیوار پر چڑھ گئے۔ لوگ جمع تھے۔ فرمایا لوگو! آج کے تمہارے اس عمل کو دیکھ کر مجھے مولانا محمد علی جالندھری کی بات یاد آگئی جب ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ہمارے ساتھیوں اور کارکنوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تو اس کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ آج جن پر حکومت نے مظالم ڈھائے ہیں‘ ایک وقت آئے گا کہ لوگ ان کی قبروں کو تلاش کر کے ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۲۱۶‘ از مولانا اللہ وسایا)
وہ کیا جذبہ تھا؟
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت سے رہائی کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اپنے گاؤں باڑہ واقع صادق آباد تشریف لائے۔ باڑہ صادق آباد سے ۱۴ میل کے فاصلہ پر ہے۔ ایک دن لاہور سے مولانا عبد الرحیم اشعر کا گاؤں میں شام کے قریب تار آیا کہ نہر کے بنگلہ پر آدمی بھیجا مگر اسے پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ پورے گاؤں میں انگریزی جاننے
والا کوئی نہ تھا۔ بالآخر ہندوستان کے بارڈر پر واقع پاکستان کی ہیڈ چوکی کے انچارج سے جاکر چٹھی پڑھوائی تو اس میں تھا کہ ۹ تاریخ (مہینہ یاد نہیں رہا) کو سر ظفر اللہ خان، منیر انکوائری میں پیش ہو گا۔ اس کی گواہی کے وقت مولانا کا ہونا ضروری تھا۔ کیونکہ تنقیحات و جرح وکلاء کے لیے آپ کی نگرانی میں تیار ہونی تھی۔ چنانچہ اسی وقت گھوڑی پر صادق آباد کے لیے اکیلے روانہ ہوئے لیکن وقت اتنا ہو چکا تھا کہ ہزار تیز رفتاری کے باوجود گھوڑی پر پہنچنا مشکل تھا۔ گاڑی بھی وقت پر آئی، مولانا بھی سوار ہو گئے۔ یہ کیسے ہوا، آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔
صادق آباد اسٹیشن کے قریب ایک دوست کے ڈیرہ پر گھوڑی باندھ دی خود ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ہم لوگ صبح جاکر لے آئے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ۲۱۶‘ از مولانا اللہ وسایا)
جن کو آنا تھا وہ منجدھار تک آ پہنچے ہیں (مولف)
ٹائم بم
تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے بعد ایک افسر نے طنزاً کہا ”شاہ جی! آپ کی تحریک کا کیا بنا؟ شاہ جیؒ نے برجستہ فرمایا کہ میں نے اس تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک ٹائم بم فٹ کر دیا ہے۔ جو وقت آنے پر چل جائے گا۔ اس وقت مرزائیت کو اقتدار کی کوئی طاقت نہ بچا سکے گی۔ چنانچہ یہ ٹائم بم خود قادیانیوں کے ہاتھوں ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پھٹا اور نتیجتاً قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ۱۹۰-۱۹۴‘ از مولانا اللہ وسایا)
جرم اتنا تھا کہ حق گوئی میرا مسلک رہی (مولف)
مولانا ظفر علی خانؒ کو علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا خراج تحسین
علمائے اسلام نے انفرادی حیثیت سے متواتر کوششیں اس فتنہ کے استیصال کے لیے کیں لیکن دور حاضر میں جناب ظفر الملت والدین مولانا ظفر علی خاں کا اقدام یقیناً لطف الہیہ ہے۔ ان کی یہ جدوجہد اور ان کے رفقاء کی قربانی خدا کے نزدیک انشاء اللہ مقبول ہو گی۔ دعا ہے کہ وہ خدا جس نے پیغمبر آخرالزمان ﷺ کے لائے ہوئے دین مبارک کے لیے قرآن حکیم میں الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ارشاد فرمایا ان کو ثواب دارین عطا فرمائے۔ ”ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد“
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۰۰‘ عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ)
ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد (مولف)
عشق رسولؐ میری متاع حیات ہے
چودھری محمد علی صاحب کے ایک لڑکے کی شادی ایم۔ ایچ صوفی‘ سی ایس پی کی دختر نیک اختر سے ہوئی۔ قاضی صاحب کا تعلق صوفی صاحب سے نہایت دوستانہ رہا ہے۔ صوفی صاحب نہایت متین‘ ذہین اور قابل افسر ہیں۔ ان کا دامن کبھی داغدار نہیں رہا ہے۔ جن دنوں صدر ایوب خاں تازہ تازہ مارشل لاء لائے تھے‘ ان دنوں یہ بات مشہور تھی کہ ملک بھر میں کوئٹہ کا کمشنر ہی رات کو چین کی نیند سوتا ہے۔ صوفی محمد حسین ان دنوں کوئٹہ کے کمشنر تھے۔ اس بات کا میں خود گواہ ہوں کہ جن دنوں صوفی صاحب‘ چیف سیٹلمنٹ کمشنر مغربی پاکستان تھے‘ میں‘ قاضی صاحب کے ساتھ صوفی صاحب کو ملنے ان کے بنگلہ پر گیا ہوا تھا۔ تو قاضی صاحب کے ساتھ صوفی صاحب کے ڈرائیور کی بات چل نکلی۔ ڈرائیور نے کہا کہ آج ہی کئی لاکھ روپے مل رہے تھے۔ اگر صوفی صاحب ایک کلیم پر دستخط کر دیتے مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ صوفی صاحب سے جب کبھی ملاقات ہوئی تو انہوں نے قاضی صاحب کا نام نہایت احترام سے لیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ خیر چودھری
صاحب کے لڑکے کی شادی کی تقریب میں قاضی صاحب بھی مدعو تھے بلکہ نکاح بھی قاضی صاحب نے ہی پڑھایا۔
چودھری محمد علی‘ تحریک ختم نبوت کے دوران حکومت پاکستان کے سیکرٹری جنرل تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور یہ عہد ایسا تھا کہ جس کا تعلق پالیسی میٹر (Policy Matter) سے براہ راست تھا۔ قاضی صاحب نے چودھری صاحب سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ چودھری صاحب نے وقت دے دیا۔ قاضی صاحب اپنے ساتھ کتابوں کا ایک صندوق لے کر چودھری صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔ خادم ساتھ تھا سب سے پہلے چودھری صاحب کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت بتلائی۔ اس کے بعد قادیانیوں کی سازشوں سے نقاب کشائی کی۔ پاکستان‘ اسلام اور مسلمانوں سے ان کی دشمنی کا پس منظر واضح کیا۔ اکھنڈ بھارت کے سلسلہ میں مرزا محمود کے رویا دکھائے۔ مرزا غلام احمد کی وہ تمام تحریریں دکھائیں جن میں انبیاء‘ صحابہ کرام‘ اہل بیت اور اہل اللہ کی توہین کے پہلو نکلتے تھے۔ چودھری صاحب بہت متاثر ہوئے۔ یہ ملاقات رات کے دو بجے جا کر کہیں ختم ہوئی۔ سخت سردی کا عالم تھا۔ دوستوں نے خیال کیا کہ چودھری صاحب‘ اب قاضی صاحب کو واپس نہیں جانے دیں گے۔ اور اصرار کریں گے کہ وہ چودھری صاحب کی سرکاری کوٹھی پر ہی آرام فرمالیں مگر چودھری صاحب کو شاید سر ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ کی خشمگیں نگاہیں نظر آ رہی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے قاضی صاحب کو اپنے ہاں رات کے کچھ حصہ کے لیے بستر اور چارپائی مہیا نہ کی۔ نتیجتاً قاضی صاحب کو اپنے ساتھی کے ساتھ رات کے دو بجے چودھری صاحب نے از راہ شفقت اپنی سٹاف کار پیش کرنا چاہی جسے قاضی صاحب نے بڑی "شرافت" سے ٹھکرا دیا اور بس سٹاپ پر پہنچ گئے۔ دو گھنٹے تک بس سٹاپ پر‘ بس کے انتظار میں سردی میں ٹھٹھرتے رہے۔ چونکہ کوئی کمبل یا اوور کوٹ ساتھ نہیں لائے تھے اس لیے سخت سردی کے عالم میں بس سٹاپ پر رکے رہے۔ صبح ۴ بجے پہلی بس ملی تو قاضی صاحب دفتر ختم نبوت پہنچے۔ یہ تھی چودھری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم سے ایک تاریخی اور یادگار ملاقات کی تفصیل۔
("قاضی احسان احمد شجاع آبادی" ص ۳۷۴-۳۷۵‘ محمد نور الحق قریشی)
ہم ان میں نہاں رنگ سحر دیکھ رہے ہیں (مولف)
عاشق رسولؐ
قاضی صاحب کی سب سے نمایاں خوبی میرے نزدیک ان کا عاشق رسولؐ ہونا ہے۔ ان کی وفات کے بعد بعض مخالفوں تک نے اپنے خواب مجھ سے بیان کیے ہیں جن میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں قاضی صاحب کی شخصیت کا اندازہ بعد از وفات ہوا۔ ایک صاحب نے کہا مجھے خواب میں قاضی صاحب ایک جگہ خوش و خرم بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ خواب میں ایسا معلوم ہوا کہ نورانی چہروں کا مجمع لگا ہے اور ایک صاحب درمیان میں بڑی شان کے ساتھ بیٹھے خطاب کر رہے ہیں۔ تو قاضی صاحب بھی اسی مجمع میں بڑے پر تپاک طریق سے ملے۔ میرے استفسار پر قاضی صاحب نے کہا کہ حضور پر نور ﷺ تشریف فرما ہیں اور ہمیں خطاب فرما رہے ہیں۔
(”قاضی احسان احمد شجاع آبادی“ ص ۳۵‘ محمد نور الحق قریشی)
ان کا دامن تھام لو جن کا محمد ﷺ نام ہے (مولف)
قبول سب سزائیں
یہ ماہ رمضان تھا کہ قاضی صاحب گورداسپور جیل میں داخل ہوئے۔ یہ وہی دن تھے جب ان کا بایاں بازو ایک سفر کے دوران ٹوٹ گیا تھا۔ جیل کی رات ان کی زندگی میں ایک کیف پرور رات تھی۔ اگرچہ اس سے قبل ۲۸ء میں مغل پورہ انجینئرنگ کالج لاہور کے پرنسپل وکنز کے خلاف ایجی ٹیشن میں بھرپور حصہ لینے کی پاداش میں جہلم کی جیل میں چھ ماہ کی نظربندی کی سزا کاٹ چکے تھے‘ تاہم کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کے نوجوان عالم دین کو جب دوسری بار جیل کی پہلی رات میسر آئی اور انگریزی قانون نے قادیان کی حفاظت میں اپنے مخالف کو ان رعایتوں سے محروم کر دیا جس کا کہ وہ مستحق تھا تو
نصف رات جب قاضی صاحب نے پہلو بدلنے کے لیے کروٹ لی تو وہ کھڈی (مٹی کا تھڑا جس پر قیدی سوتا ہے) سے نیچے گر گئے۔ اس سے ان کا بایاں بازو جو معالج نے درست کر دیا تھا، پھر ٹوٹ گیا اور ایسا ٹوٹا کہ عمر بھر درست نہ ہو سکا۔ سی کلاس کی خوراک بھی قاضی صاحب کے لیے نئی خوراک تھی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی آبرو کے لیے انہوں نے اس خوراک پر کبھی ناک بھوں نہیں چڑھائی تھی لیکن جیل کی دال، سبزی اور آدھ پکی روٹی اور ایسی سبزی جو مویشیوں کو کھلانے کے قابل بھی نہ ہوتی تھی، قاضی صاحب کو پیش کی جاتی تھی، جسے وہ خندہ پیشانی سے کھاتے تھے۔
(قاضی احسان احمد شجاع آبادی" ص ۵۲' محمد نور الحق قریشی)
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے (مولف)
جانباز کی فداکاریاں
چنانچہ ۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۵ء تک انگریزی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں جانباز اتنی قید کاٹ چکا ہے جتنی مدت کہ ابھی سردار شوکت حیات، میاں ممتاز دولتانہ اور خان ممدوٹ کو پالیٹکس میں حصہ لیتے ہوئے نہیں ہوئی ہے لیکن وہ کسی شمار و قطار میں نہیں۔ اس کے ساتھی اس کو ”مرد کات سخن“ میں سے سمجھتے ہیں اور پرایوں کے دروازے پر دستک دینے کا وہ عادی نہیں۔ وہ جی ہی جی میں موم بتی کی طرح گھلتا اور شبنم کی طرح روتا ہے۔ اس کا گھلنا اور رونا کسی کام کا نہیں۔ اس کے آنسو بیکار ہیں اور چہرہ نادار۔ اس نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ احرار رہنماؤں کی معیت میں گزارا ہے۔ میں نے پہلے پہل اس کو مغل پورہ ایجی ٹیشن کے دنوں میں انجینئرنگ کالج کے دروازے پر پکٹنگ کرتے دیکھا تھا۔ جب پکٹنگ نے زور پکڑا اور پولیس کی لاٹھیاں تن گئیں تو جانباز صدر دروازے پر ہاتھوں کی زنجیر بنائے کھڑا تھا۔ ایک سب انسپکٹر نے جو آج کل پولیس میں سپرنٹنڈنٹ ہو گئے ہیں، جانباز کو اپنے ہنٹر سے اتنا پیٹا کہ اس کا بازو ٹوٹ گیا اور آج تک جانباز اپنے اس بازو کا علاج نہیں کرا سکا۔ اس کا دایاں بازو کافی سے زیادہ ناکارہ ہے۔ غالباً شانے کا جوڑ ٹوٹ
چکا ہے۔
(”کاروان احرار“ جلد پنجم، ص۱۶-۱۷’ جانباز مرزا، مضمون آغا شورش کاشمیری)
انجام کی مت سوچ تو حق بات کہے جا
(مولف)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے علامہ اقبال کا عشق
ڈاکٹر صاحب مرحوم کو حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ سے اس قدر شغف اور تعلق ہو گیا تھا کہ حضرت سے ملاقات کا ہر وقت اشتیاق لگا رہتا تھا۔ مقدمہ بہاولپور کے سفر میں جب کہ احقر بھی ہمراہ تھا، لاہور ورود ہوا۔ آسٹریلیا بلڈنگ میں قیام فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو جب میزبان کی طرف سے اطلاع پہنچی فوراً کار سے تشریف لائے۔ کئی گھنٹے مختلف مسائل میں حضرت سے استفادہ فرماتے رہے۔ اکثر رقت طاری ہو جاتی تھی۔ پھر وصال سے چند ایام قبل جب لاہور تشریف لے گئے ڈاکٹر صاحب مرحوم نے خود قیام کا انتظام کرایا۔ اپنے احباب سمیت ہر وقت حاضر خدمت رہتے تھے۔ حضرت کی مجالس میں اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کو حاضر ہونے کی دعوت دیتے۔ پھر برکت علی محمڈن ہال میں اپنے اہتمام سے جلسہ کا انعقاد کیا۔ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر حضرت کا بیان ہوا۔ ڈاکٹر صاحب پر اس قدر اثر ہوا کہ رد قادیانیت کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب کا آخری دور کا کلام نظم و نثر اردو و فارسی ان حقائق کی ترجمانی کر رہا ہے۔ رد قادیانیت میں نہایت بلند پایہ مضامین سپرد قلم فرمائے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے انجمن حمایت اسلام لاہور سے انجمن کے کالج اور تمام سکولوں سے قادیانی لاہوری تمام ملازمین برطرف کرائے۔ یہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی کھلی کرامت ہے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم اس کی سعی فرماتے رہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ کو لاہور لایا جائے۔ فرمایا کرتے تھے دیوبند میں بعض جزوی اختلافات کے رونما ہونے کو ہم اپنے لیے نیک فال سمجھتے ہیں۔ یہ تو احقر کے سامنے لاہور میں حضرت سے عرض کرتے تھے
کہ میں نے اپنی ذاتی سعی سے احباب کو کئی ہزار کی رقم جمع کرنے کے لیے کہا ہے کہ جناب کے لیے ایک کوٹھی تعمیر کرائی جائے اور کتب مہیا کی جائیں تاکہ آپ کی ذات سے قدیم و جدید تعلیم یافتہ حضرات استفادہ کریں اور مسائل جدیدہ جس قدر سامنے آ رہے ہیں ان کے حل کی کوشش کی جائے اور علم الفقہ کی از سر نو ترتیب دی جائے۔
حضرت شاہ صاحب مرحوم لاہور کے آخری سفر میں رسالہ خاتم النبیین کا مسودہ ساتھ لے گئے تھے۔ اس کے بعض مقامات ایک مجلس میں سنائے۔ ڈاکٹر صاحب نہایت محظوظ ہوئے اپنے دوستوں کو بلا بلا کر لاتے اور بار بار سنانے کا تقاضا کرتے۔
حضرت کے وصال کی خبر لاہور میں سن کر ڈاکٹر صاحب بے حد مغموم ہوئے۔ تعزیتی جلسہ اپنے اہتمام سے کرایا۔ خود صدارتی تقریر میں بھرائی ہوئی آواز میں جو الفاظ ادا فرمائے، فضا میں اب تک گونج رہے ہیں۔ فرمایا ”مولانا محمد انور شاہ صاحب کی مثال پیش کرنے سے اسلام کی پانچ سو سال کی تاریخ عاجز ہے“۔
(”اقبال کے ممدوح علماء“ ص ۴۶۔۴۷’ از قاضی افضل حق قرشی)
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان (مولف)
مناظرہ نظم میں ہوگا
الحب لله والبغض فی الله کے تحت حضرت شاہ صاحب کو قادیانیت سے کس قدر نفرت ہو چکی تھی اور آپ کے لب ولہجہ سے آپ کا مرزا غلام سے بغض اس قدر نمایاں تھا کہ راقم الحروف نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ مرزا قادیانی کا جب بھی ذکر کرتے تو قادیانی کذاب یا لعین یا شقی جیسی صفت کے بغیر کبھی اس کا نام نہ لیتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب کشمیری کا ذکر آگیا ہے تو ایک دو واقعات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہو گا۔ جو میں نے اپنے اساتذہ سے سنے ہیں۔ میرے محبوب اور شفیق استاد حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی ثم مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے دورانِ درس ایک دفعہ قادیانی مناظرین کا ذکر فرمایا کہ مرزائی کم بخت دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد میں مناظرے کرنے کے لیے پہنچ گئے۔ غالباً
ان میں عبدالرحمن مصری بھی تھا جو اصلاً تو ہندی تھا مگر کچھ عرصہ مصر رہا تھا۔ ان قادیانیوں کا اصرار تھا کہ مناظرہ عربی زبان میں ہو ۔ ہمارے حضرات نے فرمایا کہ عربی زبان میں کیا فائدہ ہو گا؟ عوام تو سمجھیں گے نہیں ۔ جب بہت ہی اصرار بڑھا تو حضرت شاہ صاحبؒ نے جو مسجد کے ایک کونہ میں بیٹھے یہ تمام کارروائی سن رہے تھے برملا فرمایا کہ ان صاحبوں سے کہہ دو کہ ”مناظرہ عربی زبان میں ہو گا اور نظم میں ہو گا“ اگر عربی میں اپنی علمیت ظاہر کرنا ہے تو پھر عربی نظم میں سوال و جواب کریں۔ تاکہ عربی پر قدرت و علمیت کا پتہ چلے ۔ قادیانیوں نے جب شاہ صاحب کی یہ بات سنی تو بھاگ گئے ۔
(”چراغ ہدایت“ ص ۳۳‘ از مولانا محمد چراغ)
قادیانی مسئلہ ، امریکی دباؤ
دوسرے روز جمعرات مولانا محمد شریف جالندھری گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ ان کے چہرے پر رونق تھی۔ میں نے ان سے صدر محمد ضیاء الحق سے ملاقات کے حوالے سے پوچھا کہ آپ تنہا تھے یا کوئی اور بھی شامل تھا؟ فرمانے لگے ”میرے ساتھ راجہ ظفر الحق صاحب تھے“۔
آپ کی صدر ضیاء الحق سے کیا بات ہوئی ؟ میں نے سوال کیا ۔
فرمانے لگے :
بھائی ہم سادہ لوگ ہیں۔ ہم نے تو سیدھی سیدھی بات کی تھی۔ راجہ ظفر الحق صاحب آگے اور میں ان کے پیچھے تھا۔ جب کمرے میں داخل ہوئے تو اچانک میرے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے صوفے پر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ زمین پر صدر صاحب کے قدموں میں بیٹھنا چاہیے۔ اگر اس نے اٹھا کر صوفے پر بٹھا دیا تو سمجھوں گا کہ میری بات کا کوئی اثر ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ میں زمین پر بیٹھ گیا تو وہ فوراً اٹھے اور مجھے فوراً زمین سے اٹھا کر کہنے لگے مولانا! یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ میں تو پہلے ہی بہت گناہ گار ہوں اور مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور کہا کہ میرے لیے کیا حکم ہے ؟ میں نے کہا حضرت میں غیر سیاسی آدمی ہوں ۔ مجھے سیاست کی بات نہیں آتی۔ میں سیدھا سادا سا آدمی ہوں ۔ آپ آرائیں برادری سے
تعلق رکھتے ہیں۔ میں بھی آرائیں ہوں۔ آپ جالندھر کے رہنے والے ہیں میں بھی جالندھر کا رہنے والا ہوں۔ آپ کا اور میرا گاؤں ایک ہی ہے۔ آپ کے آباء و اجداد اور میرے آباء و اجداد میں بہت اچھے تعلقات تھے۔ آپ کا مکان اور ہمارا مکان آمنے سامنے تھا۔ خوشی اور غمی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھی ہوا کرتے تھے۔ یہ تو تھا میرا تعارف! اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ جناب آپ ہر سال حج اور عمرہ کے لیے جاتے ہیں۔ آپ خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر روتے بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا ”ہاں“۔ میں نے کہا۔ پھر آپ حضور رسول اکرم ﷺ کے روضہ مبارک کی جالی پکڑ کر بھی ضرور روتے ہوں گے۔ جواب پھر ملا ”ہاں“۔ میں نے کہا تو میں آپ کو اس روضہ اقدس میں سوئے ہوئے اللہ کے نبی ﷺ کا واسطہ دیتا ہوں (کاغذ آگے رکھتے ہوئے) یہ ہمارے مطالبات ہیں، مان لیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اقتدار دیا ہے۔ آپ کی قلم چلے گی اور امت مسلمہ کا بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ بھی خوش ہو گا۔
میں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا جب آپ جنرل تھے تو آپ کو کبھی یہ خیال بھی آیا تھا کہ آپ پاکستان کے صدر بنیں گے؟ انہوں نے کہا ”نہیں“۔ پھر بتائیں کہ آپ کو اس کرسی پر بٹھانے والے خداوند کریم قیامت کے روز جب آپ سے پوچھیں گے کہ میں نے تمہیں اقتدار دیا اور طاقت بخشی تھی۔ جب تمہارے سامنے ختم نبوت کا مسئلہ رکھا گیا تو پھر تم نے کیا کیا؟ تو پھر اس وقت آپ کے پاس کوئی جواب نہ بن پائے گا۔ آپ مسئلہ حل کر دیں تو اللہ بھی راضی ہو گا اور اللہ کا نبی بھی اور قیامت کے روز بھی آپ سرخرو ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ پر برطانیہ اور امریکہ کا پریشر ہے۔ تو صدر ضیاء الحق کہنے لگے مولانا! آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ مجھ پر قادیانیوں کے سلسلہ میں کتنا پریشر ہے۔ یہ میں ہی جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے۔ انہوں نے کاغذ پڑھا اور کہا لو مولانا! اب میں اللہ اور اس کے نبی ﷺ کو راضی کرتا ہوں اور دستخط کر دیے۔
اونچی سیاست کی بات
میں نے کہا ”نہیں جناب ایسے نہیں۔ اس وقت میری آپ کے ساتھ اکیلے میں ملاقات ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی کو میری طرف سے غلط فہمی ہو جائے۔ آپ مجلس
کے عہدیداروں کو بلائیں۔ ان سب کے سامنے دستخط کریں آپ کی بھی عزت ہو گی اور جو ہم نے راولپنڈی میں جلسہ رکھا ہوا ہے‘ اس میں ہم اعلان کریں گے کہ صدر صاحب نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں۔ اس طرح ہم سب کی عزت رہ جائے گی۔ یہ بات سن کر صدر صاحب نے کہا مولانا آپ کہتے تھے کہ ہم غیر سیاسی آدمی ہیں۔ آپ نے تو بہت اونچی سیاست کی بات کی ہے۔ انہوں نے میری بات مان لی۔ مجلس عمل کو بلایا‘ اس کے سامنے دستخط کیے اور خبر جاری کر دی گئی۔ ہم نے صبح حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی زیر صدارت منعقدہ جلسہ میں اعلان کیا کہ صدر صاحب نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں اور مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا بھی وعدہ کیا۔
مولانا محمد شریف جالندھری جوں جوں بات کرتے جاتے‘ ان کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوتے جاتے۔ پھر کہنے لگے:
”میاں غلام نبی اب میرے دل میں کوئی ارمان نہیں ہے۔ اب اللہ پاک مجھے اپنے پاس بلالے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مجھے سرخرو فرمائیں گے۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ۳۳۰ تا ۳۳۳‘ از چودھری غلام نبی)
احرار قادیان میں
اکتوبر ۱۹۳۴ء میں قادیان میں سہ روزہ احرار تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی تو قادیانیت کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ آنجہانی موسیو مرزا بشیر الدین اور مسٹر ظفر اللہ آنجہانی وائسرائے ہند کے دربار میں حاضر ہوئے اور کورنش بجالائے۔ ان دونوں نے منتیں سماجتیں کر کے کانفرنس پر پابندی لگوانے کی بھرپور کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ انگریز حکومت نے قادیان میں مجوزہ جلسہ گاہ میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت اجتماع منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ احرار رہنماؤں نے حدود قادیان سے باہر جلسہ گاہ تجویز کر لی اور ایک مقامی سکھ کی اس پیشکش کو قبول کر لیا کہ اس کی زمین پر کانفرنس کا پنڈال بنائیں۔ چنانچہ اسی جگہ کانفرنس منعقد ہوئی اور ہندوستان بھر سے لاکھوں مسلمان جوق در جوق کانفرنس میں شریک ہوئے۔
کانفرنس میں جن اہم رہنماؤں نے شرکت فرمائی ان میں مولانا سید حسین احمد مدنی‘ مولانا ظفر علی خان اور مولانا ابو الوفا شاہجہان پوری کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جناب چودھری نذیر احمد صاحب (ساکن ساہیوال) کی روایت کے مطابق وہ کانفرنس میں شریک تھے اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر عروج پر تھی۔ قادیانیت اور انگریزی اقتدار کے بخیے ادھیڑ رہے تھے۔ شاہ جی تقریر کے لیے مائیک پر تشریف لائے تو عجیب سماں تھا۔ لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع میں نعرہ ہائے تکبیر اللہ اکبر اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کی گونج نے فضا میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔ شاہ جی نے خطبہ مسنونہ پڑھا تو فضا ساکت ہو گئی اور ہو کا عالم تھا۔ لاکھوں انسان گوش بر آواز تھے۔ شاہ جی کے دائیں اور بائیں ان کے قد کے برابر روزنامہ زمیندار لاہور کے پرچوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ شاہ جی نے اعلان کیا کہ شرکاء کانفرنس ان تمام پرچوں کو فوراً خرید لیں۔ چنانچہ آن واحد میں یہ تمام پرچے تین تین روپے میں فروخت ہو گئے۔ زمیندار نے کانفرنس کے حوالے سے خصوصی نمبر شائع کیا تھا۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ اس زمانہ میں فی پرچہ تین روپے میں شاہ جی کے حکم پر فوراً نکل گیا۔ یہ ایک ریکارڈ سیل تھی۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص ۲۹۹)
حضرت دین پوریؒ کی محبت
بیسیوں حضرات کا مشاہدہ ہے کہ سراج السالکین حضرت خلیفہ غلام محمد قدس سرہ العزیز دین پوری کی خدمت میں جب حضرت امیر شریعت نے حاضری دی تو حضرت خلیفہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ ان کی تعظیم میں باوجود ضعف پیری کے بھی سروقد کھڑے ہو گئے اور امیر شریعت کو اپنی دعاؤں اور نوازشات خصوصی کا مستحق جانا۔ ایک صاحب ولایت و منبع روحانیت کا امیر شریعت سے اس طرح کا سلوک کرنا اور ان کو دل سے چاہنے کا مقصد بجز اس کے اور کوئی نظر نہیں آتا کہ حضرت دین پوری رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہ معرفت نے ان کی خصوصیات خفی و جلی کو پہچان لیا تھا۔
(”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ۲۱۱-۲۱۲)
احرار کی جانفشانیاں
جب ملک کے اندر ضمنی انتخاب کا مرحلہ آیا تو مسلم لیگ نے احرار کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بعض قادیانیوں کو بھی مسلم لیگ کے ٹکٹ دیے۔ جن پر احرار نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ اور اعلان کر دیا کہ وہ قادیانی امیدواروں کی مخالفت کرے گی۔ خواہ ان کے پاس مسلم لیگ کا ہی ٹکٹ کیوں نہ ٹکٹ ہو۔ ہر اس قادیانی کی مخالفت ہوگی جو الیکشن میں مسلمانوں کے نمائندہ بن کر اسمبلی کا ممبر بننے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ احرار اسلام نے چک جھمرہ کے حلقے سے بھی ایک قادیانی امیدوار عصمت اللہ کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے حلقوں میں بھی قادیانی امیدوار کھڑے کیے گئے۔ ہر جگہ ہر قادیانی کے مقابلے میں احرار ڈٹ گئے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے کوششیں شروع کر دی گئیں۔ چک جھمرہ کے حلقے میں قادیانی امیدوار کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی جلسوں کا اہتمام کیا گیا جن میں سے کئی جلسوں سے امیر شریعت نے بھی خطاب فرمانا تھا۔ شاہ جی نے ریل گاڑی کے ذریعے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر اترنا تھا۔ انسانوں کا جم غفیر آپ کے استقبال کے لیے وہاں موجود تھا۔ استقبال کرنے والے خوش نصیبوں میں، میں بھی تھا۔ جب آپ کی گاڑی ریلوے اسٹیشن پر آ کر رکی تو فضا نعرۂ تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ امیر شریعت زندہ باد کے نعروں سے ماحول تھرا گیا۔
گاڑی کے جس ڈبے میں امیر شریعت موجود تھے، اس کے ساتھ والے ڈبے میں علاقے کے بہت بڑے پیر جو مولوی قطبی کے نام سے معروف تھے، بھی موجود تھے۔ انہیں بھی کسی کام کے سلسلے میں فیصل آباد میں ہی اترنا تھا۔ ان کی نگاہ جب امیر شریعت پر پڑی تو انہوں نے ازراہ احترام شاہ جی سے فرمائش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آپ کا بستر میں اٹھا لیتا ہوں۔ شاہ جی (جو غالباً انہیں پہلے سے ہی جانتے تھے) نے جواب میں فرمایا کہ یہ بوجھ تو میں اکیلا بھی اٹھالوں گا تم اس بوجھ میں میرا ہاتھ بٹاؤ جو رد قادیانیت کے سلسلے میں مجھ پہ آن پڑا ہے۔ آؤ میرے ساتھ مل کر قادیانی امیدوار کے خلاف تقریریں کرو اور اسے ناکام
بنانے میں میرا ساتھ دو۔ سنا ہے اس علاقے میں تمہارے مریدوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ انہیں منع کرو کہ قادیانی امیدوار کو ووٹ نہ دیں، تاکہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت میں ان کے ووٹوں کے ذریعے اسمبلی کے رکن ہیں۔ چنانچہ پیر قطبی نے حامی بھر لی اور دوسرے روز ہم نے دیکھا کہ جلسہ گاہ میں وہ بھی موجود تھے۔ یہ خوبی تو حضرت شاہ جی میں بدرجہ اتم موجود تھی کہ وہ راہ جاتے ایک فرد کو اپنے ساتھ ملا لیتے تھے اور اس سے دین کی خدمت کا کام لیتے تھے۔
چنانچہ یہ انتخابی معرکہ آج تک لوگوں کو یاد ہے۔ میں خود روزانہ سائیکل پہ سوار ہو کر علاقے کے اندر ہمیشہ جلسوں میں احرار رضا کاروں کے ساتھ شریک ہو کر لوگوں کے جذبہ ایمانی سے اپنے ایمان کو تازہ کرتا۔ مسلمانوں کا جذبہ ان کا ولولہ اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ شاہ جی پر نچھاور ہوتے جاتے اور کہتے کہ انشاء اللہ ہم اس قادیانی کو مسلمانوں کا نمائندہ نہیں بننے دیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ چک جھمرہ کے ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں اور احرار رضا کاروں کے درمیان ایک زبردست لڑائی بھی ہوئی تھی۔ جس میں قادیانی امیدوار عصمت اللہ خود بھی زخمی ہوا تھا۔
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
اسی انتخابی معرکہ کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان لائل پور ریلوے اسٹیشن پر ایک سپیشل سیلون کے ذریعے پہنچے۔ ان کے پروگرام میں قادیانی مسلم لیگی امیدوار کے حق میں تقریر کرنا تھی۔ اس پروگرام پر علاقے کے مسلمان اچھے خاصے مشتعل تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لیاقت علی خان عصمت اللہ کے حق میں انتخابی تقریر کریں۔ لیکن احراری حلقے اس بات پر متفکر بھی تھے کہ اگر لیاقت علی یہ تقریر کر گئے تو الیکشن میں ہمارے خلاف ایک غلط تاثر قائم ہوگا۔ اور شاید قادیانی امیدوار جیت بھی جائے۔ اس طرح امیر شریعت کی اس تحریک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھر احراری حلقے اس سوچ میں تھے اور ادھر قدرت کاملہ بھی اپنا کام کر رہی تھی۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے ریلوے اسٹیشن پر خان لیاقت علی خان کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات کی۔ تاکہ وزیر اعظم کو قادیانیت کے خدوخال سے آگاہ کر کے
انہیں جلسے میں خطاب سے باز رکھیں۔ چنانچہ اس کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے۔ دس منٹ کی ملاقات تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات میں تبدیل ہو گئی۔ قاضی صاحب نے اتنی خوبصورتی کے ساتھ قادیانیت کا تار و پود ان کے سامنے بکھیرا کہ وہ اس بات پر متفق ہو گئے اور تقریر کیے بغیر واپس چلے گئے۔ خان لیاقت علی خان نے قاضی صاحب سے وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف اس حلقے میں بلکہ ملک بھر میں کسی قادیانی امیدوار کے حلقے میں تقریر نہیں کریں گے۔ انہیں قادیانیت اور اس کی در پردہ سازشوں سے واقفیت ہو چکی تھی۔
ان دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ ایسے وعدے بھی ہوئے جو مستقبل قریب میں قادیانیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے تھے۔ اس بات کا علم جب قادیانیوں کو ہوا تو وہ پھر خبردار ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی اس سازش میں برابر کے شریک تھے جو لیاقت علی خان کو شہید کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ اگر اس مقدمہ شہادت میں دیانت داری سے کام لیا جاتا اور مقدمہ کی ساری فائل کو ضائع نہ کیا جاتا تو قادیانی سازش اسی وقت طشت از بام ہو جاتی۔ بہرحال وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے واپس چلے جانے سے قادیانی حلقے پر اوس پڑ گئی اور وہ بری طرح مایوس ہو گئے۔ انتخاب کے نتائج کا جب اعلان ہوا تو پورے ملک کے اندر ایک قادیانی بھی منتخب نہ ہو سکا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا کرم اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں مجلس احرار اسلام کا پاکستان میں قادیانی اور قادیانی نواز حکمرانوں کے خلاف پہلا کارنامہ تھا جس پر ملت اسلامیہ امیر شریعت کی ممنون ہے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ دوم، ص ۱۱۱-۱۱۲)
مجھے تلوار کی جھنکار بھی ٹھہرا نہیں سکتی (مولف)
حضرت گولڑویؒ اور شاہ جیؒ
حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اپنے آغاز شباب میں حضرت پیر سید مہر علی صاحب گولڑہ شریف قدس سرہ العزیز کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو کئی دن تک آستانے میں رکنا پڑا۔ لوگ آتے، بیعت ہوتے اور چلے جاتے۔ حضرت پیر
صاحبؒ شاہ جی کی طرف راجع ہی نہ ہوئے تو ایک دن حضرت پیر صاحب گھوڑے پر سوار ہو کر گاؤں سے باہر جا رہے تھے۔ شاہ جی پیچھے پیچھے ہو گئے۔ حضرت نے مڑ کر دیکھا تو شاہ جی متعاقب تھے۔ فرمایا آپ کہاں جا رہے ہیں؟ عرض کیا اتنے روز سے یہاں پڑا ہوں۔ اس اثناء میں آپ نے سینکڑوں لوگ بیعت کیے۔ مجھے یہ عزت نہ بخشی؟ بیعت فرما لیجئے۔ حضرت نے فرمایا کچھ دن ٹھہرو۔ جاتے کہاں ٹھہرے رہے۔ حتیٰ کہ حضرت نے بیعت فرما لیا۔ اور بعض قرآنی وظائف پڑھنے کی ہدایت فرما دی۔ شاہ جی نے عرض کیا کہ آپ اکثر قصیدہ غوثیہ پڑھنے کے لیے ہدایت فرماتے ہیں۔ مجھے نہیں بتایا؟ حضرت نے تبسم فرمایا اور کہا شاہ جی میں نے آپ کو وہ چیز بتائی ہے جسے پڑھ کر غوث، غوث ہو گئے ہیں۔ پھر فرمایا شاہ جی قدرت نے آپ کو لسان پیدا کیا ہے۔ اس میدان میں آپ کبھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ حضرت کا آخری وقت تھا۔ شاہ جی حاضر ہوئے عرض کیا کوئی نصیحت فرمائیے۔ عالم جذب میں تھے۔ فرمایا ”اتباع شریعت“
("چٹان" سالنامہ، ص ۱۲)
جو چہرے کم یاب تھے (مولف)
شہیدان ختم نبوت
ملتان میں ۱۸ جنوری ۱۹۵۲ء کو قادیانیت کے خلاف اجتماع کرنے پر پولیس نے مجمع پر بلا وارننگ گولی چلادی۔ دس منٹ تک ستر راؤنڈ چلائے گئے جس کے نتیجہ میں چھ مسلمان شہید اور کئی مسلمان زخمی ہوئے۔ ۲۵ جولائی ۱۹۵۲ء کو امیر شریعت نے شہدائے ملتان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام کے بنیادی عقیدہ کو گزند پہنچانے کی ناپاک کوشش کی تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے اس کاذب و مفتری سے کسی قسم کا مناظرہ کر کے دعویٰ نبوت کے جواز میں دلیل طلب نہیں کی۔ اگر کیا تو یہ کہ سات سو
سے زائد حافظ قرآن صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، ناموس رسالت اور تاج و تخت ختم نبوت پر قربان کر دیے۔ اور اس طرح مسلمانوں کی متاع دین و ایمان کو ایک عیار اور مکار کی دست برد سے بچالیا اور آئندہ کے لیے ملت اسلامیہ کو سبق دیا کہ جو شخص اس قسم کی ناپاک کوشش کرے اس کے لیے اسلام اور ملت اسلامیہ کا فیصلہ کیا ہے؟
ملتان کے غیور اور صاحب ایمان مسلمانوں نے بھی اس دور پر آشوب میں جبکہ کفر و ارتداد کی سیاہ گھٹاؤں نے ایمان و ایقان کو پریشان کر رکھا ہے، اسلام کی لاج رکھ لی اور اپنے جگر گوشوں کو شمع رسالت پر پروانہ وار نثار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان آج بھی فخر دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر گولیوں کی بارش میں مسکرا سکتا ہے۔
قربان جانے والے کے قربان جائیے
خدا کی نعمتیں نچھاور ہوں تم پر شہیدان ناموس رسالت، سلام ہو تم پر اے ختم المرسلین کی عزت و آبرو پر قربان ہونے والو، مبارک ہیں ان کے والدین کہ ان کے نذرانے سرکار رسالت مآب میں شرف قبولیت حاصل کر گئے۔
یوں تو اس دنیا میں ہزاروں بچے جنم لیتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ ہزاروں کلیاں کھلتی ہیں اور باد سموم کے تھپیڑوں کی تاب نہ لا کر مرجھا جاتی ہیں مگر وہ موت جو حق اور راستی کی راہ میں آئے، حیات جاوداں بن جاتی ہے۔۔
قضا کی نرالی ادا چاہتا ہوں
(”حیات امیر شریعت“ ص ۴۳۱-۴۳۲، از جانباز مرزا)
آواز حق
مسلمانو! مرزائیت کے یہی ناپاک ارادے مجھے گھر کی چار دیواری سے نکال کر تمہارے سامنے لے آئے ہیں ورنہ اب میں تھک چکا ہوں۔ رہی سہی کسر بیماری نے پوری کر دی ہے۔ میں ایک عظیم خطرے سے پھر تمہیں آگاہ کرنے آیا ہوں۔ مرزائیوں
کے ناپاک ارادے خدا جانے کیا رنگ لائیں گے۔ انگریز گورنر اپنی روحانی اولاد کو چناب کے اس پار جو قیمتی زمین کوڑیوں کے بھاؤ دے گیا ہے (مراد ربوہ کی زمین ہے) یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ انگریزوں کا یہ خود کاشتہ پودا پاکستان میں بیٹھ کر بھی برطانیہ کی جاسوسی کر رہا ہے۔ میری حکومت نے اگر اس طرف توجہ نہ دی تو مجھے ڈر ہے کہ اس مُلک پر مرزائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ میں اپنے پیارے وزیر اعظم کی خدمت میں گزارش کروں گا کہ وہ اس سیاسی ٹولے پر خصوصی نظر رکھیں۔
(شاہ جیؒ کے علمی و تقریری جواہر پارے” ص ۱۹۰‘ از اعجاز احمد سنگھانوی)
پھر سے دل حزیں کے غم و درد بانٹ لو (مولف)
نبوت اور رسالت
ایک موقعہ پر نبوت و رسالت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے شاہ صاحب نے فرمایا:
”حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں آیا جس نے اپنی تعلیمات میں اک جلا پیدا کرنے کے لیے اپنے دور کے کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ہو۔ نبی اور رسول براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں۔ نبی کی اللہ تعالیٰ خود رہنمائی کرتے ہیں۔ انبیاء کرام معصوم بھی ہوتے ہیں اور بہادر بھی۔
آپ انبیاء علیہم السلام کے احوال پر نگاہ ڈالیے جو نبی بھی دنیا میں تشریف لاتا ہے‘ اس کے ایک ہاتھ میں انعام الٰہی کی کڑکتی بجلیاں ہوتی ہیں اور دوسرے میں تلوار۔ وہ کاشانہ باطل پر برق بن کر گرتا ہے۔ اس کے جلو میں سمندروں کا شور اور طوفانوں کا زور ہوتا ہے۔ اس کی رفتار فرماں رواؤں کا دل دھڑکا دیتی ہے اور اس کی ایک للکار سے کائنات کا دل دہل جاتا ہے۔
(روزنامہ ”امروز“ ص ۱۱‘ ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۱ء)
آپ کون؟
آپ کون ہیں؟
”میں۔۔۔۔۔ میں انسان ہوں۔“
”آپ میرا مطلب نہیں سمجھے۔۔۔۔ آپ مذہب کی رو سے کیا ہیں؟
”میں عیسائی ہوں۔“
”اوہ اچھا‘ شکریہ۔۔۔۔۔ اب آپ فرمائیں۔۔۔۔ آپ کون ہیں؟“
”میں ایک ہندو ہوں۔“
”اوہ اچھا۔۔۔۔ آپ بتائیں۔۔۔۔ آپ کیا ہیں؟“
”میں ایک سکھ ہوں۔“
”اوہو اچھا۔۔۔۔ اب آپ بتائیں‘ آپ کون ہیں؟“
”میں ایک یہودی ہوں۔“
”آپ۔۔۔۔ آپ بتائیں۔“
”الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔“
”خدا کا شکر ہے۔۔۔۔ اچھا تو آپ جو اس طرف بیٹھے ہیں۔۔۔۔ آپ بتائیں نا۔“
”مم۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں۔“
”ہاں ہاں۔۔۔۔ بتایئے۔۔۔۔ آپ رک کیوں گئے۔“
”جی میں۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں وہ ہوں۔“
”وہ۔۔۔۔ وہ سے کیا مراد۔۔۔۔ کیا آپ بڑے وہ ہیں۔“
”ج۔۔۔۔ جی نہیں۔۔۔۔ میں وہ ہوں۔۔۔۔ احمدی۔“
”احمدی۔۔۔۔ احمدی کیا مطلب۔۔۔۔ احمدی تو ہر مسلمان ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن مسلمان اپنے آپ کو صاف طور پر مسلمان کہتا ہے۔۔۔۔ پھر آپ نے خود کو احمدی کیوں کہا؟“ ”جی۔۔۔۔
وہ----میں دراصل----م----مر----مرزا----مرزائی ہوں۔“ ملازمت کے لئے انٹرویو لینے والے آفیسر نے حیرت زدہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور بولے۔
”کوئی اپنا مذہب بتاتے ہوئے گھبرایا نہ شرمایا اور نہ ہچکچایا۔۔۔۔آپ گھبرائے بھی ہیں‘ ہچکچائے بھی ہیں اور شرمائے بھی۔۔۔۔اس کی وجہ؟“
”مرزائی نے پریشان ہو کر ادھر دیکھا‘ ادھر دیکھا اور پیشانی سے پسینہ پونچھا‘ پھر مشکل سے تھوک نگلا۔۔۔۔اور بولا۔
”پ----پتا نہیں جناب! یہی بات تو آج تک کسی مرزائی کی سمجھ میں نہیں آئی۔“
(ماہنامہ لولاک‘ اکتوبر ۱۹۹۸ء‘ از قلم اشتیاق احمد)
ہم پتھروں کو لعل و گہر کس طرح کہیں
(مؤلف)
فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیری کی نصیحت
۲۰ سال کی عمر میں دار العلوم دیوبند سے وہ مروجہ درس نظامی کی سند تکمیل لے کر نکلے اور یوں ان کی پر عبرت کتاب زندگی کا ایک سبق آموز باب مکمل ہو گیا۔ جس دن دارالعلوم سے نکل رہے تھے اس دن سید انور شاہ کشمیریؒ نے الگ بلا کر کہا ”تحفظ ختم نبوت کو اپنا مشن بنا لینا“ فرمایا کرتے تھے جب میں دارالعلوم سے نکلا تو میرے ذہن میں دو باتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایک انگریز سے نفرت‘ دوسرا مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کے خلاف جہاد کا جذبہ۔ گویا کہ میری سند میں انہیں دو مضمونوں سے فراغت کی شہادت درج تھی۔
(”حضرت مولانا محمد علی جالندھری“ ص ۴۰-۴۱ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)
تیری نظر نے جو بخشی تھی آنچ ہلکی سی