رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
- جناب سائیں آزاد قلندر حیدری قادری
- حکیم الاسلام حضرۃ مولانا قاری محمد طیّبؒ
- حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی
- جناب بابو پیر بخش لاہوری صاحب
- مولانا ملک نظیر اَحسَن بہاری
- جناب عبدالستار انصاری صاحب
- عالی جناب حضرۃ مولانا اللہ دتہ صاحب
- خواجہ ابوالکمال حضرۃ خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ
- جناب شیخ احمد حسین میرٹھی اور سلیم صاحب
- حضرت مولانا محمد مجتبیٰ حسن رامپوری
احتساب قادیانیت
جلد ٤٥
عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 061-4783486
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد پینتالیس (٤٥) مصنفین : حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری جناب سائیں آزاد قلندر حیدری قادری حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی جناب بابو پیر بخش لاہوری صاحب مولانا ملک نظیر احسن بہاری جناب عبدالستار انصاری صاحب عالی جناب حضرت مولانا اللہ دتہ صاحب خواجہ خواجگان حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی جناب شیخ احمد حسین میرٹھی اور سیکر صاحب حضرت مولانا محمد یحییٰ رازی راجپوری
صفحات : ٥٦٨ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : جولائی ٢٠١٣ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست رسائل مشمولہ ..... احتساب قا
عرض مرتب حضرت مولا
- ......١ وسيلة المبتلاء لدفع البلاء حضرت مولا
- ......٢ تبصرة العقلاء "
- ......٣ مہدی موعود "
- ......٤ مسیح موعود "
- ......٥ رگڑا مت قلندرو! سائیں آزاد ق
- ......٦ خاتم النبیین حضرت مولا
- ......٧ ختم نبوت "
- ......٨ اہل قبلہ کی تحقیق (مرزائی جماعت کی اسلام سے بغاوت) حضرت مولا
- ......٩ مرزائیوں کے بیس سوالات کے جوابات جناب بابو پی
- ......١٠ خدمات مرزا "
- ......١١ مسیح کاذب مولانا ملک ن
- ......١٢ تائید ربانی ١٣٣١ھ، بجواب ہزیمت قادیانی "
- ......١٣ چودھویں صدی کے مجددین جناب عبدال
- ......١٤ موضع پیکیان تھانہ کلانور کے جلسہ مابین عالی جناب ح
اہل اسلام و مرزائیان کا لب لباب
- ......١٥ معيار المسيح عليه السلام حضرت خواجہ
- ......١٦ اتمام البرهان على مخالفی جناب شیخ احم
الحديث والقرآن
- ......١٧ السفر لمن كفر الملقب به حضرت مولا
فتوحات محمدیہ برفرقہ غلمدیہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم !
فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٢٥
عرض مرتب حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ٤
- ١...... وسيلة المبتلاء لدفع البلاء حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری ١٣
- ٢...... تبصرة العقلاء " " " ٤١
- ٣...... مہدی موعود " " " ٤٧
- ٤...... مسیح موعود " " " ٥٧
- ٥...... رگڑا مت قلندرو! سائیں آزاد قلندر حیدری قادری ٧٩
- ٦...... خاتم النبیین حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ ٨٥
- ٧...... ختم نبوت " " " ١٣٧
- ٨...... اہل قبلہ کی تحقیق (مرزائی جماعت کی اسلام سے بغاوت) حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی ١٥٩
- ٩...... مرزائیوں کے بیس سوالات کے جوابات جناب بابو محمد بخش لاہوری ١٨٣
- ١٠...... خرافات مرزا " " " ٢١٤
- ١١...... مسیح کاذب مولانا ملک نظیر حسن بہاری ٢٢٣
- ١٢...... تائید ربانی ١٣٣١ھ، بجواب ہزیمت قادیانی " " " ٢٧٣
- ١٣...... چودھویں صدی کے مجددین جناب عبدالستار انصاری ٣٠٥
- ١٤...... موضع پیکوان تھانہ کلانور کے جلسہ مابین
اہل اسلام و مرزائیان کا لب لباب عالی جناب حضرت مولانا اللہ دتہ ٣٣١
- ١٥...... معيار المسيح عليه السلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ ٣٨٥
- ١٦...... اتمام البرهان على مخالفي
الحديث والقرآن جناب شیخ احمد حسین میرٹھی اوورسیئر ٤٣٣
- ١٧...... السقر لمن كفر الملقب به
فتوحات محمدیہ برفرقہ غلمدیہ حضرت مولانا محمد یحییٰ غازی رامپوری ٥٣٩
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عرض مرتب
الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى، امابعد!
لیجئے قارئین کرام! اللہ رب العزت کی توفیق وعنایت، فضل و کرم و احسان سے احتساب قادیانیت کی جلد پینتالیس (٤٥) پیش خدمت ہے۔
اس جلد میں جناب حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری، شیعہ رہنما، عالم دین، جنہیں شیعہ حضرات، حضرت حجۃ الاسلام والمسلمین، صدر المفسرین، سلطان المحدثین، محی الملۃ والدین، رئیس الشیعہ، مدار الشریعہ، نباض دہر، حکیم الامت الناجیہ، سرکار شریعت مدار، علامہ، قبلہ، مجتہد العصر والزمان جیسے القابات سے موسوم کرتے ہیں۔ جس سے یہ بات تو تقریباً طے سمجھی جاسکتی ہے کہ مولانا سید علی الحائری شیعہ حضرات کے نامور مذہبی سکالر تھے اور شیعہ حضرات میں ان کا مقام و منصب یقیناً بلند تھا۔
چنانچہ ملعون قادیان مرزا قادیانی نے ”دافع البلاء“ نامی کتاب لکھی۔ جس میں سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام اور سیدنا حسینؓ پر اپنی فضیلت ثابت کی۔ معاذ اللہ!
مرزا قادیانی کی اس ملعونانہ جرأت اور احمقانہ جسارت، رذیل حرکت، خبیث شرارت پر شیعہ حضرات میں سے مولانا علی الحائری نے مرزا قادیانی کے خلاف اس کے زمانہ حیات میں کتابیں تحریر فرمائیں۔ مولانا علی الحائری کی پانچ کتابیں رد قادیانیت پر فقیر کے علم میں آئیں۔ ان میں سے:
- ١/١...... وسيلة المبتلاء لدفع البلاء: ١٢/صفر ١٣٢٠ھ مطابق ٢٣ مئی ١٩٠٢ء کو
آپ نے تحریر فرمائی۔ اس کے سات صفحات تھے اور مفید عام پریس لاہور سے شائع ہوئی۔ اس میں موصوف نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور سیدنا حسینؓ کے حالات لکھ کر قادیانیوں کو دعوت دی کہ وہ سوچیں کہ ان مقدس حضرات کے عالی مقام سے ملعون قادیان کو کیا نسبت تھی؟ اس میں موصوف نے سیدنا حسینؓ کے حالات خالصتاً شیعہ نقطہ نظر سے تحریر کئے۔ اس لئے کہ مصنف خود شیعہ ہیں۔ لہذا مطالعہ کے وقت یہ بات پیش نظر رہے۔
- ٢/٢...... تبصرة العقلاء: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے
نے اس رسالہ کا تعارف تحریر کیا ہے: ”بتائید رب جلیل یہ رسالہ مرزا قاد کے حالات کا، قرآن مجید اور ملائکہ اور انبیاء سلف سے تقابل کر کے آ فضیلت کا ثبوت ہے۔“ یہ رسالہ چوالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ ٢/ر ٨/ جولائی ١٩٠٢ء کو آپ نے مکمل کیا۔ اس میں آپ نے خالصتاً شیعہ نقط مقام و منصب کو بیان کیا۔ ظاہر ہے کہ ان مباحث کا ہمارے موضوع ” تعلق نہ تھا۔ ہاں! البتہ رسالہ، ملعون قادیان کے رد میں لکھا گیا تھا۔ اس اس رسالہ سے ہم نے لے لیا۔ جو شیعی نقطہ نظر تھا۔ اسے حذف کر دیا حذف کیا اس کے لئے علامتی نشان ...... یعنی نقطے ڈال دیئے۔ خ ٢٦ صفحات ہم نے لئے۔ باقی کو ترک کر دیا۔ جو حصہ لیا اس میں بھی ش ہے۔ اس لئے کہ مصنف شیعہ ہے۔ لیکن رد قادیانیت پر شیعہ حضرات اس رسالہ کو ملخصاً احتساب قادیانیت کی اس جلد میں لے لیا ہے۔
- ٣/٣...... مہدی موعود: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے۔ یہ چ
آپ نے یہ رسالہ شعبان ١٣٣٤ھ میں تحریر کیا۔ گیلانی پریس لاہور سے کیا۔ اس میں بھی سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق تمام شیعہ نقطہ نظ قادیان کے دعویٰ مہدویت کو اس پر پرکھا ہے اور اسے خوب کذاب رسالہ بھی خاصہ حذف کرنا پڑا کہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق ہے؟ یہ ہمارے سلسلہ ”احتساب قادیانیت“ کا موضوع نہیں تھا۔ ل ٢٤ صفحات لئے۔ جہاں سے حذف کیا علامتی نشان ...... یعنی نقطے ڈا بعض چیزیں شیعہ نقطہ نظر کی بھی رہنے دی گئیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کی ج وہ بالکل سمجھ نہ آتی۔ یہ ناگزیر تھا۔ اس کو گوارا کر لیا گیا۔
- ٤/٤...... مسیح موعود: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے۔ اس ر
ٹائٹل پر یہ دیا: ”مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کا قرآن وحدیث سے مدلل
- ٢/٢...... تبصرۃ العقلاء: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے۔ اس کے ٹائٹل پر مصنف
نے اس رسالہ کا تعارف تحریر کیا ہے: ”بتائید رب جلیل یہ رسالہ مرزا قادیانی اور حضرت امام حسینؑ کے حالات کا قرآن مجید اور ملائکہ اور انبیاء سلف سے تقابل کر کے آنجناب (سیدنا حسینؑ) کی فضیلت کا ثبوت ہے۔“ یہ رسالہ چوالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ ٢؍ ربیع الثانی ١٣٢٠ھ مطابق ٨؍ جولائی ١٩٠٢ء کو آپ نے مکمل کیا۔ اس میں آپ نے خالصتاً شیعہ نقطہ نظر سے سیدنا حسینؑ کے مقام و منصب کو بیان کیا۔ ظاہر ہے کہ ان مباحث کا ہمارے موضوع ”احتساب قادیانیت“ سے تعلق نہ تھا۔ ہاں! البتہ رسالہ، ملعون قادیان کے رد میں لکھا گیا تھا۔ اس لئے رد قادیانیت کا حصہ تو اس رسالہ سے ہم نے لے لیا۔ جو شیعی نقطہ نظر تھا۔ اسے حذف کر دیا گیا اور جہاں جہاں سے حذف کیا اس کے لئے علامتی نشان ...... یعنی نقطے ڈال دیئے۔ غرض ٤٤ صفحات میں سے ٢٦ صفحات ہم نے لئے۔ باقی کو ترک کر دیا۔ جو حصہ لیا اس میں بھی شیعہ نقطہ نظر کی جھلک موجود ہے۔ اس لئے کہ مصنف شیعہ ہے۔ لیکن رد قادیانیت پر شیعہ حضرات کا موقف جاننے کے لئے اس رسالہ کو ملخصاً احتساب قادیانیت کی اس جلد میں لے لیا ہے۔
- ٣/٣...... مہدی موعود: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے۔ یہ چوبیس صفحات پر مشتمل ہے۔
آپ نے یہ رسالہ شعبان ١٣٢٤ھ میں تحریر کیا۔ گیلانی پریس لاہور سے خواجہ بک ایجنسی نے شائع کیا۔ اس میں بھی سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق تمام شیعہ نقطہ نظر آپ نے تحریر کر کے ملعون قادیان کے دعویٰ مہدویت کو اس پر پرکھا ہے اور اسے خوب کذاب و دجال ثابت کیا ہے۔ یہ رسالہ بھی خاصہ حذف کرنا پڑا کہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق شیعہ حضرات کا کیا موقف ہے؟ یہ ہمارے سلسلہ ”احتساب قادیانیت“ کا موضوع نہیں تھا۔ اس لئے اسے حذف کیا۔ ٢٤ صفحات میں سے جہاں سے حذف کیا علامتی نشان ...... یعنی نقطے ڈال دیئے۔ اس کے باوجود بعض چیزیں شیعہ نقطہ نظر کی بھی رہنے دی گئیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کی جو گرفت مصنف نے کی ہے وہ بالکل سمجھ نہ آتی۔ یہ ناگزیر تھا۔ اس کو گوارا کر لیا گیا۔
- ٤/٤...... مسیح موعود: یہ رسالہ بھی مولانا علی الحائری کا ہے۔ اس کا تعارف خود مصنف نے
ٹائٹل پر یہ دیا: ”مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کا قرآن و حدیث سے مدلل ثبوت اور مرزائیوں کے مایہ
نیز مسئلہ وفات مسیح کی مکمل تردید اور متعلقہ اعتراضوں کا مفصل فیصلہ“ یہ مکمل رسالہ من وعن لے لیا۔ خالصتاً حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر بحث ہے۔ ملعون قادیان کے دعویٰ مسیحیت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کہیں معمولی ترمیم و اضافہ شاید ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔ البتہ یہ رسالہ مکمل احتساب قادیانیت کی اس جلد میں آگیا ہے۔ مصنف نے مارچ ١٩٢٦ء میں رسالہ شائع کیا تھا۔ یاد رہے کہ رد قادیانیت پر موصوف کی ایک کتاب ”غایۃ المقصود“ چہار حصص پر مشتمل ہے۔ وہ چونکہ مکمل فارسی میں ہے۔ بغیر ترجمہ اس کی اشاعت اور وہ بھی ضخیم کتاب کی، سمجھ نہ آئی کہ کیا کروں۔ اس لئے اس جلد میں اسے شامل نہیں کیا۔ خیال تھا کہ احتساب کی ایک مکمل جلد میں شیعہ حضرات اور خارجی حضرات کے رد قادیانیت پر رسائل کو جمع کروں گا۔ تاکہ رد قادیانیت کا یہ گوشہ بھی سامنے آجائے۔ لیکن اتنی ”برکات“ شاید ایک جلد نہ برداشت کرپاتی۔ چنانچہ مولانا علی الحائری کے رسائل اس جلد میں جمع ہو جانے پر خوشی محسوس کرتا ہوں۔ باقی ...... باقی!
- ٭....... جناب سائیں آزاد قلندر حیدری قادری مقیم شاہی، بھیرہ کے رہائشی تھے۔ ان کی پنجابی
کی ایک نظم:
- ٭....... ٥ ....... رگڑا مست قلندر دا: نظم جو ملک فتح محمد اعوان کے پاس خاطر کے لئے آپ نے
تحریر فرمائی۔ اس کا قلمی نسخہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی مرکزی لائبریری میں موجود ہے۔ اسے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں محفوظ کر رہے ہیں۔
ہمارے مخدوم محترم حضرت مولانا محمد رمضان علوی مرحوم جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ آپ کے پاس بھی یہ نظم تھی۔ آپ نے اسے حضرت حافظ محمد حنیف ندیم مرحوم (جو کسی زمانہ میں ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے مدیر تھے) کو بھجوائی جو ہفت روزہ میں شائع ہوئی۔ یاد پڑتا ہے کہ حضرت علوی مرحوم نے تحریر فرمایا کہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں بھیرہ کے گردونواح میں یہ نظم اتنی مشہور ہوئی کہ گلی کوچوں میں نوجوان ترنم سے گروہ در گروہ جمع ہو کر پڑھتے تو ایک خوبصورت ماحول بن جاتا۔ رسالہ میں تو شائع ہوئی۔ کتابی شکل میں پہلی بار یہ اس جلد کا حصہ بن رہی ہے۔ فالحمد للہ تعالیٰ!
قلمی نسخہ جو مجلس کی لائبریری میں موجود ہے اس کے ٹائٹل پر قاری کا یہ شعر بھی درج ہے:
و مرزا در کفر خانہ نشین است
- ....... ٦/١ ....... خاتم النبیین: یہ کتاب مخدوم العلماء حضرت مولانا قاری
تصنیف ہے۔ جنوری ١٩٧٧ء کا ایڈیشن جو ادارہ اسلامیات ١٩٠۔ انار کلی لاہور اسے ہم نے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت اس ایڈیشن میں قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور عربی عبارات کا ترجمہ حاشیہ م نے اصل مقام پر ساتھ شامل کرکے حاشیہ سے ختم کردیا۔ تاہم ترجمہ یا توض بین القوسین کردیا ہے۔ تاکہ امتیاز قائم رہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر یہ ع درج کیا تھا: ”یہ کتاب جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے مخصوص کمالات کا ذات م جمع ہونے کی بے مثال تفصیلات پیش کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ آپ پر واضح کرے گا کہ آدم علیہ السلام کی توبہ، نوح علیہ السلام کی استجابت، نارابراہیم علیہ السلام کی گلزاری، یعقوب علیہ السلام کا گریہ، ایوب علیہ السلام کا صبر، موسیٰ علیہ السلام کا یدبیضاء اور عیسیٰ علیہ السلام کا رفع، یہ سب ذات اقدس محمدی ﷺ میں ظاہر و جلوہ گر ہوا:
آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
قاری محمد طیبؒ قاسمی دارالعلوم دیوبند کے پون صدی مہتمم رہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ صاحب کے آپ ترجمان و وارث تھے۔ ان کی آ واز سن کر دل پکارے گا کہ آپ ﷺ ایسے باکمال خاتم النبیین کے بعد کسی اور کی ق اس لئے آپؐ کے بعد کوئی بھی دعویٰ نبوت کرے لاریب، کافر ودائرہ اسلام س یہ کتاب ”خاتم النبیین“ حکیم الاسلام حضرت قاری محمد ط نے ١٣٧٧ھ کو مکمل فرمائی تھی۔ گویا آج ١٤٣٣ھ میں اس کتاب کی عمر پینسٹھ سا
- ....... ٧/٢ ....... ختم نبوت سورۂ کوثر کی روشنی میں: ہمارے مخدوم، مخد
حضرت مولانا محمد طیبؒ کی ایک تقریر جس میں سورۂ کوثر سے مسئلہ ختم نبوت
و مرزا در کفر خانہ نشین است
- ٦/١...... خاتم النبیین : یہ کتاب مخدوم العلماء حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کی تصنیف
لطیف ہے۔ جنوری ١٩٧٧ء کا ایڈیشن جو ادارہ اسلامیات ١٩٠۔ انار کلی لاہور نے شائع کیا تھا۔ اسے ہم نے احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اس ایڈیشن میں قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور عربی عبارات کا ترجمہ حاشیہ میں دیا گیا تھا۔ جسے ہم نے اصل مقام پر ساتھ شامل کرکے حاشیہ سے ختم کردیا۔ تاہم ترجمہ یا توضیحی حواشی کی عبارات کو بین القوسین کردیا ہے۔ تاکہ امتیاز قائم رہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر یہ تعارف ناشر نے درج کیا تھا: ”یہ کتاب جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے مخصوص کمالات کا ذات محمدی ﷺ میں بیک دم جمع ہونے کی بے مثال تفصیلات پیش کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ آپ پر واضح کردے گا کہ آدم علیہ السلام کی توبہ، نوح علیہ السلام کی استجابت، نار ابراہیم علیہ السلام کی گلزاری، یعقوب علیہ السلام کا گریہ، ایوب علیہ السلام کا صبر، موسیٰ علیہ السلام کا یدبیضاء اور عیسیٰ علیہ السلام کا احیاء موتی کس انداز سے ذات اقدس محمدی ﷺ میں ظاہر و جلوہ گر ہوا:
آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
قاری محمد طیبؒ قاسمی دارالعلوم دیوبند کے پون صدی مہتمم رہے۔ اپنے دور میں علوم مولانا محمد قاسم نانوتویؒ صاحب کے آپ ترجمان و وارث تھے۔ ان کی کتاب پڑھ کر ہر قاری کا دل پکارے گا کہ آپ ﷺ ایسے باکمال خاتم النبیین کے بعد کسی اور کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس لئے آپؐ کے بعد کوئی بھی دعویٰ نبوت کرے لاریب، کافر و دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
یہ کتاب ”خاتم النبیین“ حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب قاسمیؒ نے ١٧ شعبان ١٣٧٧ھ کو مکمل فرمائی تھی۔ گویا آج ١٤٣٣ھ میں اس کتاب کی عمر پینسٹھ سال ہوگئی ہے۔
- ٧/٢...... ختم نبوت سورۂ کوثر کی روشنی میں : ہمارے مخدوم، مخدوم العلماء، حکیم الاسلام
حضرت مولانا محمد طیبؒ کی ایک تقریر جس میں سورۂ کوثر سے مسئلہ ختم نبوت کا استنباط کیا گیا۔ جسے
دیوبند سے شائع کیا گیا۔ اس کا عکس صدیقی ٹرسٹ کراچی نے شائع کیا۔ جسے ہم احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ٨....... اہل قبلہ کی تحقیق (مرزائی جماعت کی اسلام سے بغاوت): یہ رسالہ حضرت
مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبند کا مرتب کردہ ہے۔ آپ کی ایک کتاب ”مسلم پاکٹ بک“ ہم احتساب قادیانیت کی جلد ٢٠ میں شائع کر چکے ہیں۔ اس رسالہ کو اس کے ساتھ شامل ہونا چاہئے تھا۔ مگر اس وقت یہ رسالہ دستیاب نہ ہوا۔ اب ملا ہے تو احتساب کی اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ٩/١....... مرزائیوں کے بیس سوالات کا جواب: مرزائیوں کے لاہوری گروپ کے مہنت
محمد علی لاہوری نے مسلمانوں سے بیس سوالات کئے۔ جو دجل و تلبیس کا شاہکار تھے۔ بابو پیر بخش صاحب لاہوری ، انجمن تائید الاسلام لاہور کے روح رواں نے ان کا جواب تحریر کیا۔ جو ماہوار رسالہ ”تائید الاسلام لاہور“ ج ٦ بابت جمادی الاول ١٣٣٧ھ مطابق فروری ١٩١٩ء میں شائع ہوا۔ یہ مکمل رسالہ انہیں جوابات پر مشتمل تھا۔ سوائے چند آخری صفحات کے جو علماء دیوبند کی قادیانیوں سے شرائط مناظرہ ومباہلہ کے بارہ میں گفتگو چل رہی تھی۔ اس پر ایڈیٹر نے رسالہ میں نوٹ لکھا۔ اس بحث کو بھی ہم نے شامل کر دیا۔ گویا مکمل رسالہ تائید الاسلام لاہور فروری ١٩١٩ء اس جلد میں شامل ہے۔
بابو پیر بخش کے رد قادیانیت کے تمام رسالہ جات و کتب ہم احتساب قادیانیت کی جلد ١١، ١٢ میں شائع کر چکے ہیں۔ یہ رسالہ بھی انہی جلدوں میں آنا چاہئے تھا۔ لیکن بعد میں دستیاب ہوا۔ لہٰذا یہاں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ١٠/٢....... خدمات مرزا: ماہنامہ تائید الاسلام لاہور میں ایک مضمون شائع ہوا۔ جس کی
سرخیاں یہ تھیں۔ (١) کیا کسی نبی کو ناجائز خوشامد کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟ (٢) پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی ٹوڈی پن کا ثبوت اس مضمون کو ”خدمات مرزا“ کے نام پر انجمن دعوت اسلام سنہری مسجد لاہور نے شائع کیا۔ ہم ایڈیٹر رسالہ کے نام پر اسے شامل کر رہے ہیں۔ یعنی بابو پیر بخش صاحب کا گویا مرتب کردہ ہے۔
- ١١/١....... مسیح کاذب: یہ کتاب سابق مرزائی جناب ملک نظیر احم
ہے ۔ ١٩١٣ء کی شائع کردہ ہے۔ اب ٢٠١٢ء میں مکمل ایک سو سال بعد شائ الٰہی کے شکر میں سراپا نیاز ہوں ۔ الحمدلله ! مصنف نے ٹائٹل پر پہلے اپن
بے حمل سن مسیح پیدا است از مصرعہ ثانیش ہو
١٣٣١ھ
این برق کند شرفشانی بر خرمن کذب م
١٩١٢ء
المسمّی به ”مسیح کاذب“
سلطان قلم کجا است آید شاید بفرار ر
گر قطع کن سر خلافت تاریخ بہم رسد
١٩٣٠ء ...... خان
اس مختصر رسالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دو درجن جھو اقوال کو واضح طور سے خود مرزا کی کتابوں سے چن کر بنظر آگاہی خاص سے اس کی جھوٹی مسیحیت اور مہدویت کا شیرازہ خود بخود ٹوٹ گ تاریخوں کا یہ رسالہ گنجینہ ہے۔ مصنف جناب مولانا مولوی ملک نظیر احم مرزا قادیانی، دی پرنٹنگ ورکس دہلی حوض قاضی میں چھپا ١٩١٣ء۔
- ١٢/٢....... تائید ربانی (١٣٣١ھ) بجواب ہزیمت قادیانی:
احسن بہاری سابق مرید خاص مرزا قادیانی کا ہے۔ حضرت مولانا مح تحریر فرمایا۔ ایک مرزائی ملک منصور نے ”نصرت یزدانی بجواب ہزی جواب ١٣٣١ھ میں ملک نظیر احسن بہاری نے ”تائید ربانی بجواب ١٣٣١ھ میں یہ رسالہ شائع ہوا۔ آج ١٤٣٣ھ ہے۔ ایک سو دو س قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت پر اللہ رب العز ربنا تقبل منا ۔ انک انت السمیع العلیم : آمین !
- ١١/١....... مسیح کاذب: یہ کتاب سابق مرزائی جناب ملک نظیر احسن بہاری کی مرتب کردہ
ہے ۔ ١٩١٣ء کی شائع کردہ ہے۔ اب ٢٠١٢ء میں مکمل ایک سو سال بعد شائع کرنے کی توفیق وانعام الہی کے شکر میں سراپا نیاز ہوں۔ الحمدللہ! مصنف نے ٹائٹل پر پہلے ایڈیشن میں تحریر کیا:
بے حیل من مسیح پیدا است از مصرعہ ثانیش ہویداست
١٣٣١ھ
١٩١٢ء
المسمی بہ ”مسیح کاذب“
گر قطع کن سر خلافت تاریخ بہم رسد ز ہجرت
١٩٣٠ء....... خارج:٦٠٠...... باقی ١٣٣٠ھ
اس مختصر رسالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دو درجن جھوٹی پیش گوئیاں اور الہامی اقوال کو واضح طور سے خود مرزا کی کتابوں سے چن کر بنظر آگاہی خاص و عام دکھائی گئی ہیں۔ جس سے اس کی جھوٹی مسیحیت اور مہدویت کا شیرازہ خود بخود ٹوٹ گیا اور اہل مذاق کے لئے تو تاریخوں کا یہ رسالہ گنجینہ ہے۔ مصنف جناب مولانا مولوی ملک نظیر احسن بہاری سابق مرید خاص مرزا قادیانی، دی پرنٹنگ ورکس دہلی حوض قاضی میں چھپا ١٩١٣ء۔
- ١٢/٢....... تائید ربانی (١٣٣١ھ) بجواب ہزیمت قادیانی: یہ رسالہ بھی مولانا ملک نظیر
احسن بہاری سابق مرید خاص مرزا قادیانی کا ہے۔ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے فیصلہ آسمانی تحریر فرمایا۔ ایک مرزائی ملک منصور نے ”نصرت یزدانی بجواب فیصلہ آسمانی“ تحریر کیا۔ اس کا جواب ١٣٣١ھ میں ملک نظیر احسن بہاری نے ”تائید ربانی بجواب ہزیمت قادیانی“ تحریر کیا۔ ١٣٣١ھ میں یہ رسالہ شائع ہوا۔ آج ١٤٣٣ھ ہے۔ ایک سو دو سال کے بعد دوبارہ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت پر اللہ رب العزت کا سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ ربنا تقبل منا ۔ انك انت السميع العليم ۔ آمین!
- ١٣...... چودھویں صدی کے مجددین: ضلع حافظ آباد کے جناب عبدالستار انصاری نے یہ
رسالہ مرتب کیا۔ مولانا عبدالغفور ہزاروی جو بریلوی مکتب فکر کے نامور عالم دین تھے۔ مصنف رسالہ ہذا ان کے تربیت یافتہ تھے۔ قادیانی محمد اعظم اکسیر نے ”چودھویں صدی کا مجدد کہاں ہے؟“ نامی رسالہ لکھا اس کا جواب یہ رسالہ ہے۔ اسی طرح مصنف رسالہ ہذا عبدالستار انصاری نے ١٩٧٤ء میں قومی اسمبلی کے ایک ممبر کی رہنمائی کے لئے ختمِ نبوت پر دلائل جمع کر کے ملعون قادیانی کی تحریرات سے اس کا دعویٰ نبوت کاذب ثابت کیا۔ اس رسالہ ”چودھویں صدی کے مجددین“ کے ساتھ اسے بھی شائع کر دیا۔ دونوں اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔ انصاری صاحب بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ تحریر میں جگہ جگہ یہ رنگینی بھی نظر آئے گی۔
- ١٤...... موضع پیکواں تھانہ کلانور کے جلسہ کا لب لباب: یہ مولانا اللہ دتہ ساکن سوہل ضلع
گورداسپور کا مرتب کردہ رسالہ ہے۔ موضع پیکواں تھانہ کلانور تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں ٣١؍ جنوری، یکم، ٢؍ فروری ١٩٠٢ء کو جلسہ ہوا۔ اس موقع پر قادیانیوں نے حسب عادت قادیان سے جمال الدین کشمیری قادیانی کو بلوا کر مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔ مولوی اللہ دتہ صاحب اتفاق سے آگئے، اہل اسلام کی طرف سے انہوں نے مناظرہ کیا۔ آپ نے تقریر کے بعد تحریر کا تحریری جواب دیا۔ قادیانی ہوا ہو گئے۔ قادیانیوں نے قادیان سے جا کر اشتہار شائع کیا۔ ظاہر ہے جو اشتہار مرکزِ تزویر (قادیان) کے مسند نشین (معلم ملکوت مرزا قادیانی) کے ہاں شائع ہوگا۔ اس میں دجل و تلبیس کے کیا کیا شاہکار ہوں گے؟ چنانچہ یہی ہوا۔ غرض قادیانی اشتہار کا جواب اور جلسہ و مناظرہ کی روئیداد مولانا اللہ دتہ صاحب نے مرتب کر کے شائع کرائی۔ ایک سو دس سال بعد دوبارہ شائع کرنے پر میری خوشی کو کوئی بھائی کیونکر جان سکتا ہے؟
- ١٥...... معیار المسیح: خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ نے
١٣٢٩ھ میں ”سردار خان بلوچ“ قادیانی کے رسالہ کے رد میں یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالویؒ اپنے دور کے نامور ولی اللہ تھے۔ ان کے قلم سے ملعون قادیان، مرزا قادیانی کی تردید ہمارے ایسے تہی دستان کے لئے مشعل راہ ہے۔ بہت ہی خوشی کا موجب ہے کہ ایک سو چار سال پرانا یہ رسالہ اس جلد میں شامل اشاعت ہو رہا ہے۔
- ١٦...... اتمام البرهان علي مخالفي الحديث والقرآن، لاثبات
الحق الصريح في حیات المسيح: احتساب قادیانیت کی جلد پینتالیس میں یہ
کتاب شامل کی جا رہی ہے۔ جناب شیخ احمد حسین میرٹھی رئیسِ میرٹھ کی تالیف ملعون قادیان، مرزا قادیانی کے زمانہ حیات میں ١٩٠٣ء میں شائع ہوئی۔ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر جو اعتراضات کئے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ شیخ احمد حسین میرٹھی اور سیٹھ مدار اللہ عرف بھیا تھے۔ اخبار شحنہ ہند کے مہتمم جناب ابوالدریس احمد حسن شوکت کے مطبع سے پہلی بار یہ کتاب شائع ہوئی۔ ایک سو نو سال بعد اس کتاب کی اشاعت فلحمد لله ! یہ کتاب مجلس کے کتب خانہ میں فوٹوسٹیٹ نسخہ سے فقیر نے فوٹو کراتے ہوئے صفحہ ٣٤، ٣٥ کا فوٹو رہ گیا۔ یہ صفحات فوٹوسٹیٹ کرانے والے ساتھیوں نے بھی جلد کراتے وقت صفحات کو چیک نہ کیا۔ جب اس پر کام کی توفیق ملی تو سرے سے یاد نہیں آ رہا کہ یہ کتاب کہاں سے فوٹو کر ائی تھی۔ اعلان کیا کہ جن کے پاس یہ کتاب ہے وہ ص ٣٤، ٣٥ کا فوٹو دے دیں تاکہ کتاب مکمل ہو جائے۔ مگر میری اس حماقت کا مداوا نہ ہو سکا۔ مجبوراً ان صفحات کی جگہ بیاض چھوڑ کر باقی کتاب مکمل پیش خدمت ہے۔ لیجئے! اس سا دگی پر مرنے لگ گیا ہوں۔ اسی پر بس کرتا ہوں۔ باقی کو اہل علم جانیں
- ١٧...... البقر لمن كفر الملقب به فتوحات
غلمدیه: ١٩٢٩ء کے نصف آخر میں انچولی میرٹھ میں قادیانیوں سے مناظرہ ہوا جس میں سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ جیسے مناظرین اسلام جن کا وجود اس دھرتی پر حجتہ اللہ کا درجہ رکھ تے تھے۔ اور من آیات اللہ تھے۔ ان حضرات نے اس مناظرہ میں اہل اسلام کی نمائندگی کی۔ مجاہد نامی جو الفضل قادیان کا ایڈیٹر بھی تھا۔ اس نے اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد الفضل ٥؍ نومبر ١٩٢٩ء میں اس مناظرہ کی رپورٹنگ میں دجل و تلبیس سے کام لیا۔ جس کی پردہ دری کے لئے مولانا محمد یحییٰ رازی رامپوری نے قلم اٹھایا اور الفضل کے جواب میں ”البقر لمن كفر، الملقب به فتوحات محمدیه برفرقه غـ لمدیہ“ شائع کی۔ ایک سو سال بعد اس کی اشاعت ثانی پر اللہ تعالیٰ کی عنایت و توفیق پر سجدہ شکر بجا
کتاب شامل کی جارہی ہے۔ جناب شیخ احمد حسین میرٹھی مرحوم کی تالیف لطیف ہے۔ یہ کتاب ملعون قادیان، مرزا قادیانی کے زمانہ حیات میں ١٩٠٣ء میں شائع ہوئی۔ اس میں زیادہ تر مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر جو جو اشکالات کئے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ شیخ احمد حسین میرٹھی مرحوم شیخ مدار اللہ عرف مدار بخش کے صاحبزادے تھے۔ اخبار شحنہ ہند کے مہتمم جناب ابوادریس احمد حسن شوکت کے تحت شوکت المطابع میرٹھ میں پہلی بار یہ کتاب شائع ہوئی۔ ایک سو نو سال بعد اس کتاب کی اشاعت ہم پر فضل ایزدی ہے۔ فللّٰہ الحمد! یہ کتاب مجلس کے کتب خانہ میں فوٹوسٹیٹ نسخہ ہے۔ فقیر نے کہیں سے حاصل کیا۔ اس کے فوٹو کراتے ہوئے صفحہ ٣٤، ٣٥ کا فوٹو رہ گیا۔ یہ صفحات فوٹوسٹیٹ سے غائب تھے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں نے بھی جلد کراتے وقت صفحات کو چیک نہ کیا۔ اب عرصہ بعد اس پر کام کی توفیق ملی تو سرے سے یاد نہیں آرہا کہ یہ کتاب کہاں سے فوٹو کرائی تھی؟ ماہنامہ لولاک میں اعلان کیا کہ جن کے پاس یہ کتاب ہے وہ ص ٣٤، ٣٥ کا فوٹو دے دیں۔ لیکن ”خود کردہ را علاج نیست“ میری حماقت کا مداوا نہ ہو سکا کہ فوٹو کراتے وقت صفحات کو چیک نہ کر پایا۔ مجبوراً ان صفحات کی جگہ بیاض چھوڑ کر باقی کتاب مکمل پیش خدمت ہے۔ لیجئے! اس سانحہ پر دماغ شائیں، شائیں کرنے لگ گیا ہے۔ اسی پر بس کرتا ہوں۔ تن لگی کو غیر کیا جانے؟
- ١٧....... السقر لمن کفر الملقب بہ فتوحات محمدیہ بر فرقہ
غلمدیہ : ١٩٢٩ء کے نصف آخر میں انچولی میرٹھ میں قادیانیوں سے مناظرہ ہوا۔ حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ سنبھلی ایسے مناظرین اسلام جن کا وجود اس دھرتی پر حجۃ اللہ کا درجہ رکھتا تھا۔ جو صحیح معنی میں آیات من آیات اللہ تھے۔ ان حضرات نے اس مناظرہ میں اہل اسلام کی نمائندگی کی۔ قادیانی مناظر مجاہد نامی جو الفضل قادیان کا ایڈیٹر بھی تھا۔ اس نے اپنی ذلت آمیز شکست کو چھپانے کے لئے الفضل ٥؍نومبر ١٩٢٩ء میں اس مناظرہ کی رپورٹنگ میں دجل وتلبیس سے کام لیا۔ جس کی جواب دہی کے لئے مولانا محمد یحییٰ رازی رامپوری نے قلم اٹھایا اور الفضل کے اس نوٹ کا یہ جواب لکھا۔ ”السقر لمن کفر، الملقب بہ فتوحات محمدیہ بر فرقہ غلمدیہ“ اس جلد میں تراسی سال بعد اس کی اشاعت ثانی پر اللہ تعالیٰ کی عنایت وتوفیق پر سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔
غرض یہ کہ احتساب قادیانیت کی اس جلد ٤٥ میں شامل مندرجہ ذیل حضرات کے رسائل کی تعداد یہ ہے:
- ١...... حضرت مولانا علی الحائری کے ٤ رسائل
- ٢...... جناب سائیں آزاد قلندر کا ١ رسالہ
- ٣...... حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی کے ٢ رسائل
- ٤...... حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی کا ١ رسالہ
- ٥...... جناب بابو پیر بخش لاہوری کے ٢ رسائل
- ٦...... مولانا ملک نظیر احسن بہاری سابق قادیانی کے ٢ رسائل
- ٧...... جناب عبدالستار انصاری کا ١ رسالہ
- ٨...... حضرت مولانا اللہ دتہ کا ١ رسالہ
- ٩...... حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی کا ١ رسالہ
- ١٠...... شیخ احمد حسین میرٹھی کی ١ کتاب
- ١١...... مولانا مجتبیٰ رازی رامپوری کا ١ رسالہ
گویا گیارہ حضرات کے کل ١٧ رسائل و کتب اس جلد میں شامل ہیں۔ لیجئے! اگلی جلد تک کے لئے اجازت چاہوں گا۔ امید ہے کہ قارئین! اپنی نیم شبانہ دعاؤں میں فراموش نہ فرماتے ہوں گے۔
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! مدرسہ ختم نبوت، مسلم کالونی چناب نگر ٢٦؍ شعبان المعظم ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٧؍ جولائی ٢٠١٢ء
نوٹ: آج سالانہ ختم نبوت کورس کی اختتامی دعا کے لئے یہاں جمع ہیں۔ مخدوم العلماء، شیخ الحدیث، حکیم العصر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم اپنے مبارک ہاتھوں سے کورس کے شرکاء کو اسناد عنایت فرمائیں گے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو آخرت میں تاجدار ختم نبوت کی شفاعت نصیب فرمائیں۔ آمین!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
وسیلۃ المب
لدفع البا
حضرت مولانا سید علی الحائری
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
وسيلة المبتلاء
لدفع البلاء
حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
للمؤلف
بے تکلف ابھی عیاں ہوگی قادیانی کی ساری شیطانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد لله على نواله والصلوة والسلام على محمد واله وبعد!
خادم شرع نبوی سید علی حائری لاہوری برادران اہل اسلام کی خدمت میں عرض رسان ہے کہ آج ایک رسالہ موسومہ بہ دافع البلاء میرے ملاحظہ سے گزرا۔ جس کے مصنف (مرزا قادیانی) نے ہر ملت ومذہب کے واجب التعظیم لازم التکریم بزرگوں کو سخت الفاظ سے یاد کیا ہے اور تو خیر۔ لیکن اب یہ نوبت آ پہنچی کہ نعوذ باللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور حضرت امام حسین فداہ روحی سے یہ مسیح مدعی کاذب بقول خود افضل بننے لگے۔ یہ آزادی کا نتیجہ ہے ان ناعاقبت اندیشوں کو بمفاد ”صاحب الغرض اعمى ولوکان بصيرا“ بغیر مطلب کے کچھ بھی نہیں سوجھا کرتا۔ دنیا میں شیطان دو قسم کے ہیں۔ شیاطین الجن اور دوسرے شیاطین الانس۔
پس صدر اوّل میں جنی شیطانی نے باوجود اس قدر عبادت واطاعت کے صرف اپنی برتری اور فضیلت کا دعوے حضرت آدم علیہ السلام پر کیا کہ میں ان سے بہتر ہوں۔ ”خلقتنی من نار وخلقته من طين“ جس کی وجہ سے وہ کافر اور ملائکہ کی صف سے خارج کیا گیا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام جیسے ابوالعزم پیغمبر پر مدعی کاذب مرزا قادیانی کو برتری اور فضیلت کا دعویٰ کرنا بجز تمثیل شیطانی اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
پس شیطان اوّل کی فضیلت کے دعوے کرنے سے جیسا کہ کفر نتیجہ ہوا۔ اس مرزا قادیانی کی برتری کے دعوے پر بھی اسی نتیجہ کا ہونا ”اظھر من الشمس وابيض من الامس“ ہے۔ اے مسلمانو! یاد رہے کہ شیطان ثانی بھی شیطان اوّل کی مانند بہت سے جاہل نا فہموں کو اپنی ضلالت کے جال میں پھنسانا چاہتا ہے۔ مگر جن کا ایمان کامل ہے وہ ہرگز ان کے دھوکوں میں نہیں آسکتے۔ اب رہا حضرت امام حسین فداہ روحی جیسا شہید کربلا، قتیل سر جدا، جس کے اہل بیت اور آل و عیال واطفال کو ایسے سخت ظلم وتعدی سے اپنی کمال رضا و رغبت کے
٢
ساتھ راہ خدا میں دیا ہو اور جن کی والدہ محترمہ رسول اللہ ﷺ کے جگر کا ٹکڑ عالمین اور باب نفس رسول امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب اور بھائی سید جو نانا رسول اللہ ﷺ جیسے حجۃ خدا لنگر ارض وسماء، خاتم النبوۃ، باعث ایجاد عالم انصاف سے دیکھ اے نفس امارہ کون شخص ایسا ان کے بغیر دنیا میں پیدا ہو ہرگز نہیں۔ قیامت تک کوئی ماں اب ایسا بیٹا نہیں جن سکتی۔ لہٰذا خاتمہ دن شہادت کی قائم ہوگی۔
پس اے مرزا قادیانی! کیا تو اسی خیالات فاسدہ کی وجہ سے پر فضیلت حاصل کر سکتا ہے کیا تجھے یہ کہتے ہوئے فاطمہ زہرا اور علی مرتضیٰ فاطمہ اور علی سے تجھے دشمنی تھی تو حضرت رسول اللہ ﷺ اور خدا کا ہی خ غیرت کیا ہوگئی۔ کیوں شرم کا پردہ رخ سے الٹ دیا۔ جی ہاں ! بمفاد ح خصلت حیا وغیرہ سب بالائے طاق، ورنہ کل آفاق میں آسمان کیونکر ہو سکتے تھے اور مرزا قادیانی کے لنگڑے لولے کانے گنجے بالکے حسین جیسے ہادی اور ابوالعزم شہید پر کیونکر تسلیم کر سکتے ۔” فوالله لیس لفرقة الضال المضلة الا حميته حباً للرياسة وط مايشترون“
اے مرزا قادیانی! اہل اسلام ایسے بھولے بھالے نہیں ہیں کذاب کے فریب وفسون پر ایمان لاویں۔ ان کا ایمان تو خدا اور خدا ر ہے۔ جیسے بلا تشبیہ آفتاب سے نور اور نور سے چمک، بھلا کب ممکن ہ ”خلقت انا وعلی من نور واحد“ چھوڑ کر تیرے جیسے مغ مطلق، مضل خلق، لنگڑے لولے اور گنجے کے پیرومرشد کو تسلیم کری ضلالت اور جہالت تمہارے ہی مریدوں پر مبارک ہو۔ تا بمفاد چاہ کن رسوا و خوار اور آخرت کی نار میں گرفتار رہیں۔
ضلالت ہے بغاوت ہے جہا
اور (دافع البلاء ص ٣٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٢) میں جو لکھا ہے کہ
٣
ساتھ راہ خدا میں دیا ہو اور جن کی والدہ محترمہ رسول اللہ ﷺ کے جگر کا ٹکڑا فاطمۃ زہرا سیدۃ نساء عالمین اور باپ نفس رسول امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب اور بھائی سید جوانان جنت حسن مجتبیٰ اور نانا رسول اللہ ﷺ جیسے حجۃ خدا لنگر ارض وسماء، خاتم النبوۃ، باعث ایجاد عالم و آدم ہوئے ہوں۔ نظر انصاف سے دیکھ اے نفس امارہ کون شخص ایسا ان کے بغیر دنیا میں پیدا ہوا یا پیدا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ قیامت تک کوئی ماں اب ایسا بیٹا نہیں جن سکتی۔ لہٰذا خاتمہ دنیا تک یہی ایک نظیر حسینی شہادت کی قائم ہوگی۔
بس اے مرزا قادیانی! کیا تو اسی خیالات فاسدہ کی وجہ سے حسین جیسے امام علیہ السلام پر فضیلت حاصل کر سکتا ہے کیا تجھے یہ کہتے ہوئے فاطمۃ زہرا اور علی مرتضیٰ سے شرم نہ آئی۔ خیر اگر فاطمہ اور علی سے تجھے دشمنی تھی تو حضرت رسول اللہ ﷺ اور خدا کا ہی خوف کیا ہوتا۔ ابے تیری غیرت کیا ہو گئی۔ کیوں شرم کا پردہ رخ سے الٹ دیا۔ جی ہاں ! بمفاد حب الدنیا راس کل خطیئة حیا وغیرہ سب بالائے طاق، ورنہ کل آفاق میں اصحاب، عمائم اور ارباب مکارم کیونکر ہو سکتے تھے اور مرزا قادیانی کے لنگڑے لولے کانے گنجے بالکے شیطان اُسی کی فضیلت کو حسین جیسے ہادی اور الوالعزم شہید پر کیونکر تسلیم کر سکتے۔ ”فوالله ليس هذا الا غلب الهوى لفرقة الضال المضلة الا حمية حباً للرياسة وطمعاً للسياسة فبئس ما يشترون“
اے مرزا قادیانی! اہل اسلام ایسے بھولے بھالے نہیں ہیں کہ تیرے جیسے مفتری اور کذاب کے فریب وحیوں پر ایمان لاویں۔ ان کا ایمان تو خدا اور خدا کے رسول پر ایسا لازم وملزوم ہے۔ جیسے بلا تشبیہ آفتاب سے نور اور نور سے چمک، بھلا کب ممکن ہے کہ اہل اسلام انوار الٰہیہ کو ”خلقت انا وعلی من نور واحد“ چھوڑ کر تیرے جیسے مفتری اور مدعی کاذب، جاہل مطلق، مضل خلق، لنگڑے لولے اور گنجے کے پیرومرشد کو تسلیم کریں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ تمہاری ضلالت اور جہالت تمہارے ہی مریدوں پر مبارک ہو۔ تا بمفاد چاہ کن را چاہ در پیش دنیا میں ذلیل وخوار اور آخرت کی نار میں گرفتار رہیں۔
اور (دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں جو لکھا ہے کہ (اور جو فرقے حضرت حسین
٣
یا علی کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں) سو اس کا جواب یہ ہے کہ فرقہ شیعہ حضرت امام حسین یا حضرت علی مرتضیٰ یا دیگر آئمہ اطہار علیہم السلام کو ہرگز قاضی الحاجات نہیں سمجھتے۔ یہ فرقہ غالیہ کا اعتقاد ہے۔ اے جاہل کیا اسی علم و فضل سے نبوت اور افضلیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
پس واضح ہو کہ البتہ آئمہ اطہار علیہم السلام کو بارگاہ الہی میں قرآن اور حدیث سے قضائے حوائج کا وسیلہ سمجھنا فرقہ شیعہ کا دین اور عین ایمان ہے۔ دیکھو سورہ انعام پارہ ششم ”یایھا الذین امنوا اتقوا الله وابتغوا الیہ الوسيلة“ یعنی اے مومنو! خدا کی طرف پہنچنے کے واسطے وسیلہ پیدا کرو۔ پس اے نادان ہم با دلیل دعویٰ سے کہہ دیتے ہیں کہ وہ وسیلہ صرف حسین اور اس کے آباء ہیں ...... کیونکہ (ایں خیال است و محال است و جنون ) ہماری دلیل اس دعوے کے ثبوت میں تہتر مذہب کے متفق علیہ اور متواتر حدیثین موجود ہیں۔ دیکھو کتاب الواحدہ میں ہے کہ حضرت امیر المؤمنین مکرر فرمایا کرتے تھے کہ ”ان الائمة من آل محمد الوسيلة الى الله والى عفوہ “ یعنی آل محمد خدا کی عفو اور بخشش کا وسیلہ، خدا اور اس کے بندوں کے درمیان میں ہیں۔
تفسیر برغانی میں وارد ہے کہ مکرر آل محمد فرمایا کرتے تھے ۔ ”نحن الوسيلة الى الله “ اور زیارتوں میں بھی وارد ہوا ہے۔ ”وجعلتم الوسيلة الى رضوانك“
کتاب مودۃ القربیٰ میں ہمدانی سنی حضرت جابر انصاری سے روایت کرتا ہے ۔ ”قال كان رسول الله ﷺ يقول توسلوا بمحبتنا الى الله تعالى واستشفعوا بنا فان بنا تكرمون وبنا تحيون وبنا ترزقون “ یعنی حضرت رسول اکرم ﷺ فداہ روحی ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ توسل کرو ہماری محبت سے اور ہمارے وجود سے شفاعت طلب کرو۔ کیونکہ تحقیق ہماری وجہ سے تم کو گرامی (عزت) حاصل ہوسکتی ہے اور ہماری برکت سے تم زندگی بسر کر سکتے ہو اور ہمارے ہی وجود سے تم کو خدا تعالیٰ روزی دیتا ہے۔
ارشاد دیلمی میں حضرت سلمان فارسی سے منقول ہے۔ یہ حدیث قدسی کہ حضرت رسول ﷺ نے فرمایا: ”ان الله يقول يا عبادى اوليس من له اليكم حاجة من كبار الحوائج لاتجود وبها الا اذا تحمل عليكم باحب الخلق اليكم تقضونها كرامة ليشفعهم الا فاعلموا ان اكرم الخلق على واحبهم الى وافضلهم لدى
٤
محمد واخوہ علی بعدہ والائمة الذین ہم الوصـ حاجتہ یرید نفعہا اودہمتہ داہیتہ یرید کشف ضـ اقضہا احسن ما یقضیہا من یستشفعون الیہ . با کہ خدا فرماتا ہے۔ اے میرے بندو! واضح ہو تم پر کہ سب سے میرے پاس محمد ﷺ اور اس کے بعد علی اور اس کے بعد آئمہ میرے بندوں کے درمیان خاص وسیلہ ہیں۔ پس جو شخص مجھ گرفتار ہو تو چاہئے کہ محمد ﷺ اور اس کی آل کو میرے اور اپنے د کل حاجتیں پوری کر دوں۔ جس کی وجہ ان کی حاجتیں پوری ہو تفسیر آیہ شریفہ ”فتلقی آدم من ربہ کلمات فتاب علـ علیہ السلام کی نظر سے کشف حجاب اور دل میں القاء ہوا تو آنحضر قلم نور سے لکھا ہوا دیکھا۔ ”انا المحمود وہذا محمد الفاطر وہذہ فاطمہ وانا المحسن وہذا الحسـ الحسین “ تب حضرت آدم علیہ السلام نے جانا کہ یہ نام ہوئے ہیں۔ نہایت اعظم فی المراتب اور اعلیٰ فی المدارج ہو انہیں ناموں کو بارگاہ الہی میں شفیع لایا۔ پس توبہ حضرت آدم عـ برکت و وسیلہ سے قبول ہوئی۔ جس کی طرف قرآن مجید میں تصـ کلمات فتاب علیہ “
دیکھو ثعلبی مجاہد سے روایت کرتا ہے ۔ آیت شریـ الکلمات التی تلقاہ آدم من ربہ اللہم بحق مـ والحسین الاتبت علی فتاب الله علیہ “ یعنی جو کـ خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوئے وہ آئمہ اطہار علیہم السلام لایا۔ پس توبہ آدم کی ان کی برکت سے قبول ہوئی۔
طبرانی معجم صغیر میں اور حاکم اور ابو نعیم اور امام بیہـ لائے ہیں کہ آدم نے توبہ کے وقت کہا۔ ”اللہم اسئلک بـ قولہ ولولا ہو ما خلقتک“
اور ابن مغازلی لکھتا ہے کہ ”سئلہ بحق مـ
٥
محمد واخوه على بعده والائمة الذين هم الوسائل الا فليد عنى من اهمته حاجته يريد نفعها اودهمته داهيته يريد كشف ضرها بمحمد واله الطاهرين اقضها احسن ما يقضيها من يستشفعون اليه . يا احب الخلق اليه ” خلاصہ یہ ہے کہ خدا فرماتا ہے۔ اے میرے بندو! واضح ہو تم پر کہ سب سے زیادہ فاضل اور گرامی تر اور درست میرے پاس محمد ﷺ اور اس کے بعد علیؑ اور اس کے بعد آئمہ اس کی اولاد میں سے میرے اور میرے بندوں کے درمیان خاص وسیلہ ہیں۔ پس جو شخص مجھے چاہتا ہو یا کسی سخت تکلیف میں گرفتار ہو تو چاہئے کہ محمد ﷺ اور اس کی آل کو میرے اور اپنے درمیان وسیلہ قرار دیوے تا کہ اس کی کل حاجتیں پوری کر دوں۔ جس کی وجہ ان کی حاجتیں پوری ہوویں۔ دیکھو متفق علیہ احادیث سے تفسیر آیہ شریفہ ”فتلقی آدم من ربه كلمات فتاب عليه“ میں ثابت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی نظر سے کشف حجاب اور دل میں القاء ہوا تو آنحضرت ﷺ نے عرش کی طرف نظر کی قلم نور سے لکھا ہوا دیکھا۔ ”انا المحمود وهذا محمد وانا الا على وهذا على وانا الفاطر وهذه فاطمه وانا المحسن وهذا الحسن وانا قديم الاحسان وهذا الحسين“ تب حضرت آدم علیہ السلام نے جانا کہ یہ نام جو قلم نور سے ایسے مقام عظیم پر لکھے ہوئے ہیں۔ نہایت اعظم فی المراتب اور اعلیٰ فی المدارج ہونے چاہئیں۔ تب آدم علیہ السلام انہیں ناموں کو بارگاہ الٰہی میں شفیع لایا۔ پس توبہ حضرت آدم علیہ السلام جیسے پیغمبر کی ان ناموں کی برکت و وسیلہ سے قبول ہوئی۔ جس کی طرف قرآن مجید میں تصریح ہے۔ ”فتلقی آدم من ربه كلمات فتاب عليه“
دیکھو نطنزی مجاہدؓ سے روایت کرتا ہے۔ آیت شریفہ ”فتلقی آدم“ کے ذیل میں ’ان الكلمات التى تلقاه ادم من ربه اللهم بحق محمد وعلى وفاطمه والحسن والحسين الا تبت على فتاب الله عليه “ یعنی جو کلمات کہ آدم علیہ السلام کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوئے وہ آئمہ اطہار علیہم السلام کے نام تھے۔ پس ان ناموں کو شفیع لایا۔ پس توبہ آدم کی ان کی برکت سے قبول ہوئی۔
طبرانی معجم صغیر میں اور حاکم اور ابو نعیم اور امام بیہقی دلائل النبوۃ میں حضرت عمرؓ سے لائے ہیں کہ آدم نے توبہ کے وقت کہا۔ ”اللهم اسئلك بحق محمد واله الا غفرت لى بقوله ولولا هو ما خلقتك“
اور ابن مغازلی لکھتا ہے کہ ”سئلہ بحق محمد وعلی وفاطمه والحسن
٥
والحسين الا ما تبت على فتاب عليه“ خصائص علویہ میں ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے۔ ”قال آدم يارب أسئلك بحق محمد وعلی وفاطمة والحسن والحسين لما غفرت لى فغفر الله له“ پس اے گروہ مرزائی دیدہ حق بین سے ملاحظہ کرو کہ ان تمام آئمہ اہل سنت کی حدیثوں کا خلاصہ یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے توبہ کے وقت انہیں حضرات ائمہ اطہار علیہم السلام کے ناموں کو وسیلہ قرار دیا۔ پس آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور وہ کلمات جو آدم علیہ السلام کے دل میں القاء ہوئے وہ یہی ائمہ اطہار کے نام تھے۔ اس کے علاوہ تہتر مذہبوں کی متفق علیہ حدیثوں سے یہی ثابت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت اور حضرت ابراہیم خلیل الرحمن نے آگ میں گرتے وقت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نے دریا کے پھاڑنے کے وقت فرعون سے نجات پانے کے واسطے اور حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ کے اندر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں میں گرفتاری کے وقت اور حضرت محمد ﷺ نے اکثر اپنی بیماری کے وقت اسی حضرت حسینؓ اور اس کے آباء کے ناموں کو اپنے اور خدا تعالیٰ کے درمیان وسیلہ قرار دیا اور ان کی کلی حاجتیں پوری ہوئیں۔ نظر بطوالت ان حدیثوں کو چھوڑے دیتا ہوں۔
پس اے مرزا قادیانی تو کس زبان نجس سے ایسے حسینؓ فداہ روحی سے خود کو افضل کہتا ہے (ذرا شرم، شرم، شرم) اور کون سی وجہ تیرے افضل ہونے کی ہے۔ اے عقل کے پتلے! اگر محض اپنے دعوے بے دلیل کی وجہ سے تو خود کو افضل کہتا ہے تو میں دعویٰ با دلیل سے کہہ دیتا ہوں کہ میرے اسطبل میں گائے، بکری، اونٹ، ہاتھی، گدھے موجود ہیں۔ وہ تیرے سے کئی درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔ کیونکہ الہام ان کو ہوتا ہے اور عبادت واطاعت خدا وہ کرتے ہیں۔ ذکر الہی سے غافل وہ نہیں رہتے۔ تیری طرح جھوٹ وہ نہیں بولا کرتے۔
پس اے قادیانی! اب انصاف سے کہو کہ وہ تیرے سے افضل ہوئے یا نہ ہوئے اور ان سے بھی تیرا مرتبہ بدتر ہونے پر آیۂ قرآن ناطق ہے۔ ”أنهم الا كالانعام بل هم اضل سبيلا۔ اللهم احفظنا والمؤمنين جميعاً من الضلالة والنفس الامارة بالسؤ“ اے مرزا اس منصب نبوۃ وامامت ومہدویت کے کاذب مدعی اس وقت تک کئی آچکے اور ابھی کئی آنے والے ہیں۔ مگر تجھے بھی یاد رہے کہ:
١؎ اس کے ثبوت میں اور حدیثیں تہتر مذہبوں کی بھی اگر مطلوب ہوں تو حجۃ الاسلام مولانا علام حاجی سید ابوالقاسم قمی کی تفسیر لوامع التنزیل سے معلوم ہو سکتی ہیں۔
٦
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے
اے مسلمانو! یہ تہتر مذہب کی متفقہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ حسینؑ اور اس کے اباء طاہرین علیہم السلام کو اپنے اور خدا کے درمیان شرعی طور پر صدق دل سے وسیلہ قرار دو۔ بخدا کہ ضرور تمام حاجتیں ان کے ناموں کی برکت سے پوری ہو جائیں گی۔ ایسے علانیہ کافر ومفتری وکذاب کے دھوکوں سے بچو۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اہل بیت اطہار کے دامن کو نہایت ہوشیاری سے محکم پکڑ لو۔ یہی اہل بیت بنص قرآن وحدیث صحیح ”تمسکوا بحبل اللہ“ خدا کی ریسمان ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایسے کافروں کے دھوکوں سے کہیں ہاتھ سے چھوڑ دو۔ ”ومن تمسک بھم نجی ومن تخلف عنھم فقد غرق وھوی“ اب آخر میں یہ بھی لکھے دیتا ہوں کہ آج شام کو مجھے بھی الہام ہوا۔ جس کو ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ وھو ھذا!
الہام جدید
”یا ایھا الذین آمنوا الا تحزنوا عن وسواس الکادیانی المدعی فانہ یوسوس فی صدور الناس فسیظھر کذبہ علی العوام والخواص بلا التباس ویحصل لہ الندامۃ والیاس فی الرائے والقیاس“ خلاصہ یہ کہ بسبب طویل ہونے کے ہم عربی عبارت کو چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف ترجمہ باقی الہام کا لکھ دیتے ہیں کہ اس عبارت کے بعد ہمیں الہام ہوا کہ ”اب مسلمانوں کو چاہئے مطمئن قلب رہنا کہ یہ طاعون اور وباء اور کل بیماریاں مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کرنے کی وجہ سے ہندوستان پر تنبیہا للعوام نازل کیا ہے کہ ایسے جاہل کی دھوکے بازیوں کو ایمان سمجھتے ہو۔ ایسے کذاب ومفتری کو سچا مانتے ہو۔ ”افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالھا“ کیوں خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھتے ہو۔“
اے مرزا قادیانی کے لنگڑے، لولے، کانے گنجے مریدو! ہم سچ لکھتے ہیں۔ اگر اب بھی مرزا قادیانی اس وقت ایسی بدگوئی اور کذب دعوے نبوت ومہدویت سے توبہ کرے تو ہم اپنے
٧
الہام سے کہتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ اپنے کل ملک اور خلقت سے اس طاعون کو یک قلم دور اور زائل کر دے گا۔ اگر اس صورت میں مائل نہ ہو تو ہم ذمہ دار ہیں اور اگر تائب نہ ہوگا تو خداوند تعالیٰ کبھی کبھی موسم اور غیر موسم میں تنبیہاً للفرقۃ المرزائیۃ اس طاعون کو بھیجا کرے گا۔ یہاں تک کہ مردود ازلی اپنے مقام استحقاق میں واصل ہو۔
پس فرقہ مرزائیہ کو اب لازم ہے کہ اپنے پیر و مرشد قادیانی کو گوشمالی سے بخوبی ہدایت کریں کہ ایسی علانیہ بدکلامی اور لاف زنی اور بزرگان دین کو برا کہنے سے جلدی دست بردار ہو جاوے۔ ورنہ ایں بلاء ناگہانی یعنی قہر ربانی بمریدان قادیانی گوشمالی مناسب خواہد کرد۔
خاتمہ
عام اہل اسلام کو بکمال مسرت اطلاع دی جاتی ہے کہ جن ایام میں مرض طاعون ہو، ان دنوں میں آیۂ شریفہ ”امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء“ کا عمل بنیت دفع طاعون ہر روز بعد ہر نماز کے ایک تسبیح پڑھا کریں۔ لیکن قبل شروع اور بعد ختم کے صلوات یعنی ”اللہم صل علی محمد وال محمد“ کی بھی ایک ایک تسبیح کا پڑھنا ضروری ہے۔ بعد از ختم آخر میں حضرت امام حسینؑ اور اس کے آباء کو اپنے اور خدا کے درمیان وسیلہ قرار دیوے۔ جیسا کہ مذکور متفق علیہ احادیث سے آدم ؑ علیہ السلام ابوالبشر پیغمبر کی توبہ ان کے وسیلہ سے قبول ہوئی۔ یقین کرو کہ ویسا ہی ہر شخص اس عمل کے کرنے سے اور ان کے ناموں کو وسیلہ شفاعت کرنے سے ہر بلاء اور وباء اور طاعون وغیرہ سے بالیقین محفوظ رہے گا۔ ”وما علینا الا البلاغ“ باقی اگر مرزا قادیانی کے کل لغویات کے مفصل جوابات اور حضرت امام مہدی موعود اور حضرت مسیح عیسیٰ مسعود اور دجال وغیرہ کے مفصل حالات کی تحقیق عقلی اور نقلی دلائل سے مطلوب ہو تو ہماری کتاب غایت المقصود کے چاروں حصوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔ ”فیکفی ما قررنا فی ہذہ المقالۃ وحررنا فی ہذہ العجالہ رداً علی الفرقۃ الاحمقیہ المضلۃ الضالۃ فی ساعۃ واحدۃ من یوم الجمعۃ المبارکہ صفر المظفر ١٣٢٠ھ من الہجرۃ النبویہ علی ہاجرہا الف سلام والتحیۃ البہیہ فی مبارک حویلی لاہور“ ٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سب سے آخری نبی ﷺ ۔ مسجد احمد مجتبیٰ شاہدرہ لاہور
تبصرۃ العقـ
حضرت مولانا سید علی الحائری لاـ
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
تبصرة العقلاء
حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لوليه والصلوة والسلام على محمد رسوله ونبيه واله الطاهرين الموصوفين بخير البرية اما بعد! اقل الخلیقہ ابو تراب سید علی حائری لاہوری عام اہل اسلام کی خدمت میں عرض رساں ہے کہ جب حقیر نے پہلا رسالہ موسومہ بوسیلۃ المبتلاء مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی افضلیت کے رد میں جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسینؑ پر لکھا تھا۔ بمفاد الکنایۃ ابلغ من التصریح نہایت مجمل لکھا۔ جس کے متعلق الحکم (قادیان) میں شائع ہوا کہ مرزا قادیانی اس کا جواب لکھ رہے ہیں۔ جس کا انتظار تقریباً ایک مہینہ کر کے رسالہ ہٰذا کو مفصل امام حسینؑ کے ثبوت افضلیت میں میں نے لکھنا شروع کر دیا۔ جیسا کہ ایڈیٹر صاحب (قادیانی) بیعت کنندگان کے نام لکھ دیا کرتے ہیں۔ شاید اسی طرح یہ خبر بھی مریدوں کی تسلی کے واسطے لکھ دی ہو۔ جس کا اثر ظاہر نہیں ہوا اور شاید آئندہ بھی ظاہر نہ ہو۔ پس اس رسالہ میں بغرض صیانت مذہب حق و حفاظت عوام الناس، مرزا قادیانی کے صرف ان چند مقال کا جو دافع البلاء میں دعوٰی کیا ہے۔ تحقیقی جواب لکھ کر حضرت امام حسینؑ کے حالات کا انبیاء سلف سے تقابل کر کے نتیجہ ثابت کر دوں گا۔ پس موسوم کیا میں نے رسالہ ہٰذا کو (تبصرۃ العقلاء) ”وما توفيقی الا بالله العظيم والصلوة علی محمد واله الكريم ولا عدائهم الجحيم والحرمان عن النعیم“
پس ہر با بصیرت پر اظہر من الشمس ہے کہ اس زمانہ فتن کاشانہ میں بمفاد حدیث ”لا یبقی من الاسلام الا اسمه ومن القرآن الا رسمه“ قرآن غریب اور اسلام ضعیف ہوتا جا رہا ہے۔ پس اے اہل اسلام آپ یقین کریں کہ اگر اور تھوڑی مدت اسلام کے کل فرقے غفلت کی وجہ سے باہمی ظاہری تعصب اور تفرقہ کو خود سے دور اور زائل نہ کریں اور آپس میں شیر و شکر کی مانند متفق نہ ہو جاویں تو یہ باقی رہا ہوا حصہ بھی دین محمدی کا ہاتھ سے جاتا ہے۔
اے مسلمانو! آؤ خدا سے ڈرو اور کل فرقے اسلام کے آپس میں اتحاد قلبی حاصل کر لو اور دین اسلام کے دامن کو مضبوط ہاتھوں سے پکڑ لو۔ باہمی تفرقہ اور تعصب نہ ڈالو۔ جس کی وجہ سے تمہارا پاک دین اور مقدس اسلام ضعیف اور قرآن واحادیث غریب اور تمہارے واجب التعظیم بزرگان دین، کفار کے حملوں اور طعنوں سے ذلیل ہوں، میں سچ کہتا ہوں۔ اگر تمہارا باہمی
٢
تفرقہ نہ ہوتا تو مرزا قادیانی جیسے کی کیا مجال تھی کہ شہسواران عرصہ رسالت و نبوت و امامت و فتوت سے ہم قلم یا ہمقدم ہو سکتا۔
علمائے ملت کا فرض انبیاء کی طرح کہہ دینا ہے۔ کرنا نہ کرنا تمہارا کام ہے۔ ”وما يكون للناس على الله حجة بعد الرسل“ اب قیامت کے روز کسی کی خدا پر حجّت باقی نہ رہی۔ مقدس اسلام کے ہر فرقے کے علمائے کرام نے خدا کی حجت کو پوری کر کے بری الذمہ کر دیا ہے۔ اب غور نہ کرنا تمہارا اپنا قصور ہے۔ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔
آپ بغور ملاحظہ کرنے سے معلوم کر سکتے ہیں کہ اس پاک اسلام کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ ہر شخص کے خیال خام میں ہوس آزادی سمائی ہوئی ہے۔ اپنے نفس امّارہ نے اس کی بو بسائی ہے۔ کسی کو نصوص قطعیہ سے انکار ہے کسی کا محض تقلید آبائی پر مدار ہے۔ کوئی اپنے کو امام زماں و مہدی دوراں جانتا ہے۔ کوئی دعوٰی نبوت و رسالت کرتا ہے۔ کوئی احادیث کو بیکار سمجھتا ہے اور عقل ہی کو ہادی محض ورسول برحق جانتا ہے اور کوئی معجزات انبیاء و کرامات اولیاء ثابتہ اس سب سے انکار کرتا ہے۔ غرض ”كل حزب بما لديهم فرحون“ کے مصداق ہیں اور ”اتخذ الهه هواه“ پر بھولے ہیں۔
عزیزان من! یہ تمام نتیجہ آزادی اور اس باہمی تفرقہ کا ہے۔ اگر اب بھی آپ مسلمانوں کے یہ خیالات ہوئے تو فرمائیے بیچارہ مقدس اسلام کس طرح ضعیف نہ ہو گا۔
بہ بیں چہ لذت شیریں در اتفاق نہاد
اب تو حضرات بقول شخصے ( مینڈک را ہم زکام شد ) مرزا غلام احمد قادیانی بھی اعتراض کرتے ہوئے نبوت و مہدویت و مسیحیت غرض کہ سب چیزوں کا دعوٰی کر کے اپنے آپ سے مدعی ہو بیٹھے اور بعض جہال عوام الناس کو شک و شبہ میں ڈال کر گمراہ کر دیا ہے۔ افسوس کہ مرزا قادیانی بڑی جرأت سے اہل بیت رسالت پر بھی حملے کرنے لگے۔ چنانچہ دافع البلاء میں ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری جگہ امام حسین علیہما السلام پر حملہ کیا ہے اور تیسری جگہ خدا کے بمنزلہ ولد کے بن گئے۔ ایسے فضول اور بے مغز دعووں سے جو کہ مقدس اسلام کو جس درجہ کا رنج و قلق پیدا ہوا ہے وہ بیرون احاطہ تحریر ہے۔ مرزا قادیانی کو کیا حق تھا کہ اپنے اس تجاوز اور تعدی سے کل مسلمانوں کے قلوب کو عموماً اور ہم سادات بنی فاطمہ
٣
تفرقہ نہ ہوتا تو مرزا قادیانی جیسے کی کیا مجال تھی کہ شہسواران عرصہ رسالت و نبوت اور نامداران بقعہ امامت وفتوت سے ہم قلم یا ہمقدم ہو سکتا۔
علمائے ملت کا فرض انبیاء کی طرح کہہ دینا ہے۔ کرنا نہ کرنا تمہارا اختیار ہے۔ ”لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل“ اب قیامت کے روز کسی شخص کی کوئی حجت خدا پر باقی نہ رہی۔ مقدس اسلام کے ہر فرقے کے علمائے کرام نے خدا کی حجت تم پر تمام کر کے خود کو بری الذمہ کر دیا ہے۔ اب غور نہ کرنا تمہارا اپنا قصور ہے۔ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔
آپ بغور ملاحظہ کرنے سے معلوم کر سکتے ہیں کہ اس پاک اسلام پر کس قدر حملے ہو رہے ہیں۔ ہر شخص کے خیال خام میں ہوس آزادی سمائی ہوئی ہے۔ اپنے اپنے دماغ میں لوگوں نے اسی کی بو بسائی ہے۔ کسی کو نصوص قطعیہ سے انکار ہے کسی کا محض تقلید آبائی پر دارو مدار ہے۔ کوئی اپنے کو امام زماں و مہدی دوراں جانتا ہے۔ کوئی دعویٰ نبوت و رسالت کرتا ہے۔ کوئی نبیوں ہی کو بیکار سمجھتا ہے اور عقل ہی کو ہادی سبل و رسول برحق جانتا ہے اور کوئی معجزات انبیاء و رسل و کرامات اولیاء ہادیان سبل سے انکار کرتا ہے۔ غرض ”کل حزب بما لديهم فرحون“ پر لوگ پھولے ہیں اور ”اتخذ الهه هواه“ پر بھولے ہیں۔
عزیزان من! یہ تمام نتیجہ آزادی اور اس باہمی تفرقہ کا ہے۔ کیوں حضرات جب مسلمانوں کے یہ خیالات ہوں تو فرمائیے بیچارہ مقدس اسلام کس طرح ضعیف نہ ہو۔
بہ بیں چہ لذت شیریں در اتفاق نہاد
اب تو حضرات بقول شخصے ( مینڈکے را ہم زکام شد ) مرزا غلام احمد قادیانی اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے نبوت ومہدویت و مسیحیت غرض کہ سب چیزوں کا خلطہ الہام اور خوابوں سے مدعی ہو بیٹھے اور بعض جہال عوام الناس کو شک وشبہ میں ڈال کر گمراہ کر دیا۔ اب اس کے علاوہ مرزا قادیانی بڑی جرات سے اہل بیت رسالت پر بھی حملے کرنے لگے۔ چنانچہ رسالہ دافع البلاء میں ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری جگہ امام حسین علیہما السلام پر مدعی افضلیت ہوئے۔ تیسری جگہ خدا کے بمنزلہ ولد کے بن گئے۔ ایسے فضول اور بے مغز دعوؤں سے مجھے اور کل اہل اسلام کو جس درجہ کا رنج و قلق پیدا ہوا ہے وہ بیرون احاطہ تحریر ہے۔ مرزا قادیانی نے حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے اس تجاوز اور تعدی سے کل مسلمانوں کے قلوب کو عموماً اور ہم سادات کے دلوں کو خصوصاً
٣
سخت مجروح کیا ہے۔ جس کا علاج ہی نہیں۔ علاج ہو کس طرح سکے۔ اجی حضرت زخم تیر و نیزہ تو نہیں ۔ جن کو مرہم عیسیٰ علیہ السلام سے اچھا کر دیں۔ یہ تو جراحات لسان ہیں۔ جو اندرونی اعضاء پر زخم کر گئے ہیں۔ جن کا علاج ہی نہیں ہو سکتا۔ پھر سچے مسلمانوں کے مجروح دل بھلا آپ سے کس طرح خوش ہو سکتے ہیں۔ مفصل تحقیقات تو آگے ملاحظہ فرما لیجئے گا۔ لیکن اگر آپ کو عظمت و جلالت خاندان رسالت کا خیال نہیں آیا جو ہر مسلمان کے لئے واجب ہے ، تو نہ سہی۔ مگر آپ اتنا تو خیال کر لیتے کہ آپ سے چند سادات کا معمولی درجہ کا راہ رسم ہے۔ شیوہ مروت اور اخلاق کے خلاف ہے کہ آپ ان کے ان اکابر اولوالعزم واجب التعظیم کے حق میں ایسے نامناسب بے ادبانہ کلمات کہیں جن کے گھر سے کل مسلمانوں نے اسلام و ایمان حاصل کیا ہو۔ پھر کیا آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو دلی صدمہ آپ کے بلا وجہ ان کلمات سے نہ پہنچا ہوگا۔ اگر ایک درجہ آپ کے خامہ مبارک نے اور ترقی پائی تو سال آئندہ آپ رسول اللہ ﷺ پر بھی دعویٰ افضلیت کر کے باغیرت مسلمانوں کی زیادہ دل آزاری کرنے کے واسطے اعلان کردیں گے۔ حضرت قومی خیر خواہوں کی صدا جو ہر چہار طرف بلند ہے۔ یہ ثابت کر رہی ہے کہ اتفاق کرو اسلام کے بلند نامے میں جان توڑ کر کوشش کرو۔ قوم بناؤ ، تفریق مٹاؤ۔ مگر یکا یک آپ کی بے نظیر تحریروں نے مجھے بھڑکا دیا کہ ساری قوم کا یہ ارادہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ اس کے خلاف بھی ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ قومی تفریق ترقی کرے۔ اسلام کی اتنی ہستی بھی نہ رہے۔ دعویٰ نبوت و مہدویت کو بعنوان تبلیغ لکھنا شاید مخصوص اسی غرض سے ایجاد کیا گیا ہے۔ جس کے موجد مرزا قادیانی ہیں۔ آج سے نہیں پندرہ بیس برس سے انہوں نے یہی رنگ اختیار کیا ہے کہ کچھ وقفہ دے کر اپنے دل لبھانے والی رنگیں تحریر میں بیخ کنی اسلام کی کریں۔
اس غرض کو بھی پورے طور پر ادا کریں کہ خاندان رسالت کی بھی توہین ہو اور اپنی فضیلت۔ ورنہ اگر آپ مسلمان خود کو سمجھتے ہیں تو بجائے اس کے اسلام میں اتفاق و اتحاد کی کوشش کریں۔ آپ کی تمام تحریریں نفاق انگیزی اسلام سے گزر کر حد محاربہ تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ کیا پاک اسلام کی بھی تعلیم ہے ہر گز نہیں۔ اسلام ہدایت کرتا ہے۔ ”واعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا“ یعنی خدا کے پاک دین کو سب اکٹھے ہو کر مضبوط پکڑ لو اور متفرق نہ ہو جاؤ۔ نیز آیہ ”ولا تكونوا كالذين تفرقوا واختلفوا“ یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے فراق اور اختلاف کیا۔ ان دونوں آیتوں کی تعمیل تو مرزا قادیانی آپ نے یہ کی کہ تمام
٤
اہل اسلام سے ایسی تفریق اور تخالف پیدا کر لئے کہ کسی کو بھی اپنے سا اکرم ﷺ سے لے کر آج تک کوئی بھی آپ کے عقائد کے ساتھ متفق ن پھر اگر کسی عالم نے بغرض اظہار حقیقت و اتمام حجت کوئی لکھا بھی تو آپ نے جواب میں زبان بے عنان سے ایسی فحش گالیاں مولوی صاحبان کو کتابوں میں دی ہیں، جن کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ جیسے لعین، شیطان، فرعون ، ہامان ، ظالم، یہودی، خبیث ، گدھے، کتے، س اور مہدی موعود کی تہذیب اور خواص ایسے ہی ہونے چاہئیں تو مرزا بخلاف علمائے اسلام کہ انہوں نے یا حقیر نے کسی جگہ بھی شرعی گالی آپ رہا کسی شیطانی کام کرنے والے کو شیطان یا کسی مضل خلق یا مخرب د اس کو استعمال اللفظ فیما وضع له کہتے ہیں۔ اجی حضرت! بیجا کی توہین انہوں نے کی۔ پاک اسلام پر صدہا حملے انہوں نے کئے طرف سے واقع ہوا۔ عترت رسول اللہ ان کے ہاتھ سے ذلیل ہوی ہی مہدی بنے جو حدیث صحیح متواتر ”انی تارك فيكم الثقلين برخلاف ہدایت کرنی شروع کردی ادھر کتاب اللہ کا ستیاناس ادھر عتر پر کمر بستہ کھڑے ہو گئے۔ مصرعہ
مرزا قادیانی کے عقائد فاسدہ کا صحیح نقشہ
ذیل میں ملاحظہ کریں:
- ١....... ”دعویٰ نبوت و رسالت مرزا قادیانی نے کیا۔“
(ایک غلطی
- ٢....... ”محدث ہونے کا دعویٰ انہوں نے کیا۔ جس کے م
ہے۔“
(تو
- ٣....... ”امور غیبیہ کے جاننے اور انبیاء کی طرح اپنے پر وحی م
(تو
- ٤....... ”مرسل یزدانی و مامور رحمانی بھی خود کو کہتے ہیں۔“
(ازا
٥
اہل اسلام سے ایسے تفریق اور مخالف پیدا کر لئے کہ کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ حتیٰ کہ رسول اکرم ﷺ سے لے کر آج تک کوئی بھی آپ کے عقائد کے ساتھ متفق نہیں ہوا۔
پھر اگر کسی عالم نے بغرض اظہار حقیقت و اتمام حجت کوئی مضمون آپ کی خدمت میں لکھا بھی تو آپ نے جواب میں زبان بے عنان سے ایسی فحش گالیاں مسلمان بھائیوں بالخصوص مولوی صاحبان کو کتابوں میں دی ہیں، جن کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ جیسے بدذات، بے ایمان، دجال، لعین، شیطان، فرعون، ہامان، ظالم، یہودی، خبیث، گدھے، کتے، سور وغیرہ وغیرہ۔ اگر مسیح موعود اور مہدی موعود کی تہذیب اور خواص ایسے ہی ہونے چاہئیں تو مرزا قادیانی آپ کو مبارک ہو۔ بخلاف علمائے اسلام کہ انہوں نے یا حقیر نے کسی جگہ بھی شرعی گالی آپ کے حق میں نہیں لکھی۔ باقی رہا کسی شیطانی کام کرنے والے کو شیطان یا کسی مضل خلق یا مخرب دین کو کافر کہنا تو وہ گالی نہیں بلکہ اس کو استعمال اللفظ فيما وضع له کہتے ہیں۔ اجی حضرت! بیچارے علماء اسلام تو درکنار انبیاء کی توہین انہوں نے کی۔ پاک اسلام پر صدہا حملے انہوں نے کئے۔ قرآن میں تغیر و تبدل ان کی طرف سے واقع ہوا۔ عترت رسول اللہ ان کے ہاتھ سے ذلیل ہوئے۔ واہ صاحب! واہ! خوب ہی مہدی بنے جو حدیث صحیح متواتر ”انى تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتى“ کے برخلاف ہدایت کرنی شروع کر دی ادھر کتاب اللہ کا ستیاناس ادھر عترت رسول ﷺ کی تحقیر تذلیل پر کمر بستہ کھڑے ہو گئے۔ مصرعہ
مرزا قادیانی کے عقائد فاسدہ کا صحیح نقشہ
ذیل میں ملاحظہ کریں:
- ١...... ”دعویٰ نبوت و رسالت مرزا قادیانی نے کیا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
- ٢...... ”محدث ہونے کا دعویٰ انہوں نے کیا۔ جس کے معنی لکھتے ہیں کہ وہ بھی نبی ہوتا
ہے۔“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٣...... ”امور غیبیہ کے جاننے اور انبیاء کی طرح اپنے پر وحی ہونے کے بھی مدعی ہیں۔“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٤...... ”مرسل یزدانی و مامور رحمانی بھی خود کو کہتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ٹائٹل پیج، خزائن ج ٣ ص ١٠١)
٥
- ٥...... ”آدم، یوسف، داؤد، ابراہیم، احمد یعنی محمدؐ کے مثیل ہونے کے مدعی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
- ٦...... ”آدم اور ابن مریم بھی عاجز ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
- ٧...... ”حضرت اقدس امام انام مہدی و مسیح موعود ہونے کے بھی مدعی ہوئے۔“
(آریہ دھرم ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ٨٨)
- ٨...... ”خود کو نبیوں کا چاند بھی بنالیا۔“
(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٩...... ”اپنا اور خدا کا بھید ایک جانتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ١٠...... ”خود کو نوح نبی بھی سمجھتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
- ١١...... ”خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین بھی خود کو ظاہر فرماتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ١٢...... ”جس نے میری بیعت کی اس کے ہاتھ پر خدا کا ہاتھ ہے۔“
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ١٣...... ”خود کو رحمۃ للعالمین بھی کہتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ١٤...... ”خود کو کلیم اللہ ظاہر کرتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ١١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ١٥...... ”مسیح کے زندہ کئے ہوئے مرگئے۔ میرے ہاتھ سے جام پئے ہوئے ہرگز نہ مریں
گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)
- ١٦...... ”مسیح کی پیش گوئیاں بہت غلط نکلیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ١٧...... ”حضرت موسیٰ کی بعض پیش گوئیاں بھی غلط ظاہر ہوئیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
- ١٨...... ”رسول اللہ ﷺ کے جسمانی معراج کے قائل نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
- ١٩...... ”حضرت مسیح کے معجزات کو مسمریزم کہتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
- ٢٠...... ”قرآن میں انا انزلناہ قریباً من القادیان ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
٦
- ٢١...... ”حضرت رسول اللہ ﷺ پر ابن مریم، دجال، یاجوج ماجوج کی
حقیقت ظاہر نہ ہوئی۔“
(ازالہ اوہام ص
- ٢٢...... ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کا معجزہ مسمریزم
(ازالہ اوہام ص
- ٢٣...... ”حضرت یسوع مسیح کی نسبت نعوذ باللہ شریر، مکار، موذی
گالیاں دینے والا، جھوٹا، علمی اور عملی قویٰ میں کچا، چور، شیطان کے پیچھے اس کے دماغ میں خلل تھا۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتوں کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان تھا ناری کا عطر ایک کنجری سے سر پر ملوایا۔ العیاذ باللہ! (نقل کفر کفر نباشد)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣ تا
- ٢٤...... ”فرشتوں کے قائل نہیں۔ تاثیر کواکب کے قائل ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣٨
- ٢٥...... ”جبرائیل انبیاء علیہم السلام کے پاس زمین پر کبھی نہیں آئے۔
(توضیح المرام ص ٣٨
- ٢٦...... ”نعوذ باللہ انبیاء علیہم السلام کے جھوٹے ہونے کے بھی قائل
(ازالہ اوہام ص ٨
- ٢٧...... ”معجزات سلیمان علیہ السلام وحضرت مسیح علیہ السلام کے ا
(ازالہ اوہام
- ٢٨...... ”حضرت رسول اللہ کے الہام سو وحی غلط نکلیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٤
- ٢٩...... ”یوسف نجار کے بیٹے ابن مریم تھے۔“
(ازالہ اوہام
- ٣٠...... ”قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں
(ازالہ اوہا
- ٣١...... ”قرآن شریف میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔“
(ازال
- ٣٢...... ”عیسیٰ فوت ہوچکے۔“
(ازالہ اوہا
٧
- ٢١...... "حضرت رسول اللہﷺ پر ابن مریم، دجال، یاجوج ماجوج، دابۃ الارض کی اصلی
حقیقت ظاہر نہ ہوئی۔"
(ازالۃ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
- ٢٢...... "حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کا معجزہ مسمریزم کا عمل تھا۔"
(ازالۃ اوہام ص ٦٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)
- ٢٣...... "حضرت یسوع مسیح کی نسبت نعوذ باللہ شریر، مکار، موٹی عقل والا، بدزبان، غصہ ور،
گالیاں دینے والا، جھوٹا، علمی اور عملی قویٰ میں کچا، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا، شیطان کا ملہم، اس کے دماغ میں خلل تھا۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان جدی مناسبت سے تھا۔ زنا کاری کا عطر ایک کنجری سے سر پر ملوایا۔ العیاذ باللہ! (نقل کفر کفر نباشد)"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣ تا ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧ تا ٢٩١)
- ٢٤...... "فرشتوں کے قائل نہیں۔ تاثیر کواکب کے قائل ہیں۔"
(توضیح المرام ص ٣٨ تا ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧٠، ٧١)
- ٢٥...... "جبرائیل انبیاء علیہم السلام کے پاس زمین پر کبھی نہیں آئے اور نہ آتے ہیں۔"
(توضیح المرام ص ٦٨ تا ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧)
- ٢٦...... "نعوذ باللہ انبیاء علیہم السلام کے جھوٹے ہونے کے بھی قائل ہیں۔"
(ازالۃ اوہام ص ٦٢٨، ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
- ٢٧...... "معجزات سلیمان علیہ السلام وحضرت مسیح علیہ السلام کے از قسم شعبدہ بازی تھے۔"
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
- ٢٨...... "حضرت رسول اللہ کے الہام بھی غلط نکلیں۔"
(ازالۃ اوہام ص ٦٨٩، ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
- ٢٩...... "یوسف نجار کے بیٹے ابن مریم تھے۔"
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٣٠...... "قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔"
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٧، خزائن ج ٣ ص ٥٠٣)
- ٣١...... "قرآن شریف میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔"
(ازالۃ اوہام ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٦)
- ٣٢...... "عیسیٰ فوت ہو چکے۔"
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
٧
- ٣٣...... ”چونکہ قائل ہیں کہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ
کھلا ہے تو ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین والمرسلین نہیں سمجھتے۔“
(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٣٤...... ”چونکہ مرزا قادیانی اپنا اعتقاد صرف اتنا ظاہر کرتے ہیں کہ آمنت بالله وملئكته
وكتبه ورسله والبعث بعد الموت (پورا ایمان نہیں) تو ثابت ہوا کہ قیامت وغیرہ کے قائل نہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٢)
- ٣٥...... ”حضرت امام مہدی کے آنے کے قائل نہیں ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)
- ٣٦...... ”دجال پادری ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
- ٣٧...... ”دجال کا یہی ریل گدھا ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
- ٣٨...... ”یاجوج و ماجوج کوئی قوم نہیں ہونے کے ان سے مراد انگریز و روس ہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)
- ٣٩...... ”دابۃ الارض علماء ہوں گے اور کچھ نہیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٤)
- ٤٠...... ”دخان کچھ نہیں ہوگا اس سے مراد قحط عظیم ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥)
- ٤١...... ”مغرب سے آفتاب نہیں نکلے گا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦)
- ٤٢...... ”قبر میں عذاب نہیں ہے۔ کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھا دو۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤١٩، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)
- ٤٣...... ”تناسخ کے بھی قائل ہیں۔“
(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
- ٤٤...... ”مریم کا بیٹا گھٹیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اے اہل اسلام! کہاں تک مرزا قادیانی کے عقائد لکھ کر اپنے اور آپ کے قیمتی اوقات کو ضائع کروں۔ مشتے نمونہ از خروار! فہرست عقائد کا ملاحظہ فرمالیا۔ کیوں حضرات کیسے کیسے جملے آپ کے پاک دین اور مقدس اسلام پر کسے ہیں۔ پھر کوئی باغیرت مسلمان کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ہاتھوں سے دین ضعیف اور اسلام غریب اور قرآن بے کس اور انبیاء علیہم السلام ذلیل نہیں ہوئے۔ اگر اب بھی کوئی شک رکھتا ہو تو کہہ دے۔ ہم شک وشبہ کے دور و زائل کرنے
٨
کے واسطے بسر و چشم حاضر ہیں۔ علماء اسلام دیدۂ گریاں وقلب بریاں سے آپ کی ان تعدیوں کے مقابلہ میں کون سے سخت کلمات سے آپ کو یاد کیا کرتے ہیں۔ اور جب آپ اسلام سے مخالف ہوئے تو علمائے اسلام بیچارے شرعاً مجبور ہیں کہ وہ صاف طور پر اشتہار دیں کہ آپ کی جماعت سے بالکلیہ مباشرت اور معاشرت ترک کریں۔ یہ کوئی گالی اور خفگی کی بات ہی نہیں۔ ”لکم دینکم ولی دین“ مسلمان کا ہرگز یہ شیوہ نہیں ہے کہ نجاست سے تلوث حاصل کرے۔ پھر کیونکر وہ شرعی حکم کو عام لوگوں میں ظاہر نہ فرماتے اور کافر کے کفر کا اظہار نہ کرتے تو مجرم الٰہی ہوتے۔
پس بیچارے علماء نے تو محض برأت ذمہ کی غرض سے جو کفر ان پر ثابت تھا اس کا اعلان کر دیا اور آپ اس شرعی حکم اور اپنے نقصان کے اندیشہ سے آپے میں نہیں رہے۔ واہ صاحب واہ مرزا قادیانی! آپ کو یہ خیال فرمالینا چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں ہیں۔ غلطی سے بڑے حکماء وعلماء کی تحریر و تقریر محفوظ نہیں۔ پس اپنے ہر رطب و یابس الہام و خواب پر اعتبار کر کے شریعت اسلام کے پاک اور اسلام کی تفضیح اور علماء کو سب وشتم کہنا دانشمندی کے خلاف ہے۔ دنیا میں اکثر و بیشتر انسان خواب دیکھا کرتا ہے۔ اگر آپ کو علم طبابت سے ذرا سا بھی مس ہو تو آپ اس قسم کی خوابوں کا اعتبار نہ کیا کرتے۔ مرزا قادیانی اکثر حکماء واطباء نے لکھا ہے کہ کثرت سوداء کے بعد بخارات معدے سے متصاعد ہو کر دماغ کی طرف پہنچتے ہیں اور ان بخارات کا دماغ پر غلبہ ہوا اس کا اثر ان بخارات میں مل جاتا ہے اور اسی اثر کے مطابق انسان خواب دیکھتا ہے۔ آپ نے کیونکر نعوذ باللہ! انبیاء اور ان کے ماں باپ پر بغیر سوچے سمجھے قلم اٹھایا۔ ایسی خرافات سن کر ہی تو آپ کی باتیں مضحکہ صبیان سے کمتر نہیں۔
دیکھئے مرزا قادیانی! میری اس تحریر کو تو ہر ایک دانشمند انسان تسلیم کرے گا۔ دوست دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ ایک بازاری دوست آپ کے حواری کہ جو آپ کی ان حرکات وسکنات پر بے ساختہ نعرہ تحسین و آفرین بلند کرتے ہیں، دوسرے عقلمند، دانا ہیں۔ جو تنخواہ یا خلافت سے حصہ لینے کی غرض سے آپ کو دام تزویر میں پھنسائے ہوئے ہیں اور ہر روز بلکہ ہر لحظہ آپ کے اخلاق کو بگاڑتے ہیں اور آپ کو حقیقی کمالات اور ترقی میں قدم رکھنے سے روکتے ہیں۔
٩
کے واسطے بسر و چشم حاضر ہیں۔ علماء اسلام دیدہ گریاں و قلب بریاں بیچاروں نے آپ کی ان تعدیوں کے مقابلہ میں کون سے سخت کلمات سے آپ کو یاد کیا ہے۔ جب آپ کے یہ عقائد پاک اسلام سے مخالف ہوئے تو علمائے اسلام بیچارے شرعاً مجبور ہوئے کہ وہ عام اہل اسلام کو اطلاع دیں کہ آپ کی جماعت سے بارطوبت مباشرت اور معاشرت نہ کیا کریں۔
حضرت یہ کوئی گالی اور خفگی کی بات ہی نہیں۔ ”لكم دینکم ولی دین“ پاک اسلام کا ہرگز یہ شیوہ نہیں ہے کہ نجاست تلوث حاصل کرے۔ پھر کیونکر پاک اسلام کے حامی اور ناصر اس شرعی حکم کو عام لوگوں میں ظاہر نہ فرماتے اور کافر کے کفر کا فتویٰ نہ دیتے۔ ورنہ عند اللہ ماخوذ ہوتے۔
پس بیچارے علماء نے تو محض برأت ذمہ کی غرض سے جو شرعی حکم آپ کے حق میں ثابت تھا اس کا اعلان کر دیا اور آپ اس شرعی حکم اور اپنے لقب کو گالی سمجھ بیٹھے۔ یہ تو آپ کی سمجھ ہے۔ واہ صاحب واہ مرزا قادیانی! آپ کو یہ خیال فرما لینا چاہئے کہ ہم اور آپ اپنی رائے میں معصوم نہیں ہیں۔ غلطی سے بڑے حکماء و علماء کی تحریر و تقریر محفوظ نہیں رہی تو ہم اور آپ کس شمار میں ہیں؟ پس اپنے ہر رطب و یابس الہام و خواب پر اعتبار کر کے قرآن کی تحریف اور انبیاء کی تذلیل اور اسلام کی تقبیح اور علماء کو سب و شتم کہنا دانشمندی کے خلاف ہے۔ کیونکہ پرمعدہ کی وجہ سے بھی انسان خواب دیکھا کرتا ہے۔ اگر آپ کو علم طبابت سے ذرا سا بھی مس ہوتا تو ہرگز ہر وقت اور ہر قسم کی خوابوں کا اعتبار نہ کیا کرتے۔ مرزا قادیانی اکثر حکماء و اطباء کا قول ہے کہ جب غذا کھانے کے بعد بخارات معدے سے متصاعد ہو کر دماغ کی طرف پہنچتے ہیں تو اخلاط اربعہ میں سے جس خلط کا غلبہ ہوا اس کا اثر ان بخارات میں مل جاتا ہے اور اسی اثر کے مطابق خواب دیکھتا ہے۔ پس آپ نے کیونکر نعوذ باللہ! انبیاء اور ان کے ماں باپ پر بغیر سوچے سمجھے حملے کرنے شروع کر دیئے۔ تب ہی تو آپ کی باتیں مضحکہ صبیان سے کمتر نہیں۔
دیکھئے مرزا قادیانی! میری اس تحریر کو تو ہر ایک دانشمند تسلیم کرلے گا کہ دنیا میں دوست دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ ایک بازاری دوست آپ کے حواریوں کی مانند جو کہ آپ کے جملہ حرکات و سکنات پر بے ساختہ نعرہ تحسین و آفرین بلند کرتے ہیں اور وہ حقیقت میں آپ کے دشمن ہیں۔ جو تنخواہ یا خلافت سے حصہ لینے کی غرض سے آپ کو دام فریب میں اسیر کر کے مغرور بناتے ہیں اور ہر روز بلکہ ہر لحظہ آپ کے اخلاق کو بگاڑتے ہیں اور آپ کی رائے صائب اور عقل کو میدانِ ترقی میں قدم رکھنے سے روکتے ہیں۔
ومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ
(س ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
منت بالله وملئکته ہوا کہ قیامت وغیرہ کے
(س ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٢)
(٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨)
(، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
(٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
ہیں۔“
(٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
(خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
(خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)
(خزائن ج ٣ ص ٤٧٦)
(خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
(خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
(، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
پ کے قیمتی اوقات رات کیسے کیسے جملے ان کہہ سکتا ہے کہ ور انبیاء علیہم السلام ے دور و زائل کرنے
٩
دوسرے میرے جیسے صادق دوست ہیں۔ جو نیک نیتی سے آپ کی غلطی کو ظاہر کر دیتے ہیں اور محبت سے آپ کے افعال پر نکتہ چینی کر کے آپ کی عقل کو روشن کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ناعاقبت اندیشوں سے بگڑے ہوئے آپ کے اخلاق کو جادہ استقامت پر لائیں۔ یہ دوست نہایت عزیز اور کبریت احمر کا حکم رکھتے ہیں۔ مجھے کسی طرح یہ منظور نہیں کہ آپ سے رنجش بے لطفی کی نوبت پہنچے۔ آپ پہلے ہی مرحلہ میں بھگوڑے ہو گئے۔ ابھی تو صرف میدان مناظرہ میں قدم ہی رکھا ہے۔ اگر آپ کو مناظرہ سے ایسی ہی گھبراہٹ ہونے لگی تو خدا حافظ۔ بالآخر خاموش ہو جاؤں گا۔ لیکن خدا سے عرض کروں گا۔ ”رب انی دعوت قومی لیلا ونهاراً فلم يزدهم دعائي الا فراراً“ ہماری یہ صلاح اگر مفید ہو تو مانیئے ورنہ آپ جانیئے ”وما علينا الا البلاغ فاعتبروا يا اولى الابصار“
زمن مرنج کہ مے خواہم آبروئے ترا
مخفی نہ رہے کہ مرزا قادیانی کے مفصل عقائد فاسدہ کے تحقیقی جوابات میں حقیر نے چار حصوں میں براہین عقلیہ ونقلیہ سے کتاب ”غایت المقصود“ لکھ دی ہے۔ جس کا جواب آج تک پانچ برس میں ان سے ممکن نہ ہو سکا۔ رسالہ ہذا میں حضرت امام حسین کا انبیاء سلف سے تقابل کر کے صرف مرزا قادیانی کے دعوئی افضلیت کا جواب دیا جاوے گا۔ ” بـعـونـه وصـونـه تبارك وتعالى وههنا اشرع في المقصود بعون الله المعبود “
مقدمہ
یہ مطلب اظہر من الشمس وابین من الامس ہے کہ شہزادہ کونین حضرت امام ابی عبداللہ الحسینؓ فداہ روحی کی شان اعلیٰ اور ارفع ہے کہ ان کا کسی صفت میں مرزا قادیانی سے مقابلہ کیا جائے۔ بلکہ آنجناب کے غلام پر بھی مرزا قادیانی کو فضیلت دینے میں اہل عرفان کو شرم دامنگیر ہوتی ہے۔ کیونکہ دو شخصوں کے مقابلہ میں ایک کی فضیلت دوسرے پر اس وقت ہو سکتی ہے جب ایک شئے ان دو شخصوں میں مشترک ہو۔ جیسے دو عالم، چونکہ علم ان دونوں میں مشترک ہے۔ لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ ایک میں زیادہ ہے، بہ نسبت دوسرے کے۔ اسی کے واسطے افعل التفضیل موضوع ہے بخلاف اس کے کہ مشترک دو شخصوں میں نہ ہو۔ بلکہ مختلف صفتیں دونوں میں ہوں۔ اس وقت تفضیل ایک کی دوسرے پر جائز نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تقابل درست نہیں۔ مثلاً کسی شریف کے بارے میں کہیں کہ فلاں چمار سے وہ افضل ہے تو یہ فضیلت اس کی نہیں۔ بلکہ انتہاء درجہ کی مذمت
١٠
ہے۔ جب عقلی طور پر یہ ثابت ہوا تو حسین جیسے ہادی اور اولوالعزم العقیدہ سے تقابل کر کے فضیلت ثابت کرنے میں با غیرت مسلما ہوگی؟ ہاں اگر ملائکہ اور انبیاء سے آنجناب علیہ السلام کا مقابلہ حالان جائے تو یہ جائز تقابل ہے۔
پس ہم ذیل میں آنجناب علیہ السلام کا ملائکہ اور انبی ہیں۔ جس کے ملاحظہ کے بعد مرزا قادیانی کے مریدان منصف م خواہ خود مرزا قادیانی یا اس کے مرید بمفاد ( پیران نمی پرند مریدان دیتے ہوئے کسی حد تک پہنچادیں۔ مگر حضرت امام حسین روحی فداہ قبول فرمالیں تو خود مرزا قادیانی اور ان کی ستر پشتوں کے واسطے ب ہے۔ با بصیرت کے سمجھ لینے کے واسطے تو اسی قدر کافی نکتہ ہے کہ مر کے باوا جان کا نام غلام مرتضیٰ علی جب قدرتی طور پر رکھا گیا ہے میں بھی اسی خاندان پر فضیلت کا دعویٰ کرنا مرزا قادیانی کے واس بات ہے؟
کہ بر جایگاہ اکابر
فضیلت نسبی
پس ہم اس رسالہ میں بالاجمال ایک حدیث پر آنحضر ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ حضرت رسول خداﷺ ”ايها الناس“ آیا خبر دوں تم کو جو کہ مادر اور پدر اور جد و جد ہیں۔ عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ۔ پس فرمایا آنجنابﷺ نے وہ جدا مجد رسول خدا جیسے سید الانبیاء ...... اور ان کی جدہ خدیجۃ الکبریٰ علیٰ جیسے ...... اور ان کی والدہ فاطمہ بنت محمدﷺ سید زنان عالمیان ہے کر سکتا۔ کیونکہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے کہ جہاں خاندانوں بہترین قبائل رہا۔
ہے۔ جب عقلی طور پر یہ ثابت ہوا تو حسینؓ جیسے ہادی اور اولوالعزم شہید کا مرزا قادیانی جیسے فاسد العقیدہ سے تقابل کر کے فضیلت ثابت کرنے میں با غیرت مسلمانوں کو کس طرح شرم دامنگیر نہ ہوگی؟ ہاں اگر ملائکہ اور انبیاء سے آنجناب علیہ السلام کا مقابلہ حالات فضائل خصائل وغیرہ میں کیا جائے تو یہ جائز تقابل ہے۔
پس ہم ذیل میں آنجناب علیہ السلام کا ملائکہ اور انبیاء اور قرآن سے تقابل کرتے ہیں۔ جس کے ملاحظہ کے بعد مرزا قادیانی کے مریدان منصف مزاج پر بھی واضح ہو جائے گا کہ خواہ خود مرزا قادیانی یا اس کے مرید بمفاد (پیران نمی پرند مریدان می پرانند) انہیں ترقی اور تعلی دیتے ہوئے کسی حد تک پہنچا دیں۔ مگر حضرت امام حسینؓ روحی فداہ ان کو اپنے غلاموں میں بھی اگر قبول فرمالیں تو خود مرزا قادیانی اور ان کی ستر پشتوں کے واسطے ہزار ہا فخر و مباہات سے زیادہ فخر ہے۔ بالبصیرت کے سمجھ لینے کے واسطے تو اسی قدر کافی نکتہ ہے کہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد اور ان کے باوا جان کا نام غلام مرتضیٰ علی جب قدرتی طور پر رکھا گیا ہے تو باوجود دعویٰ غلامی کے ناموں میں بھی اسی خاندان پر فضیلت کا دعویٰ کرنا مرزا قادیانی کے واسطے کس قدر نامناسب اور شرم کی بات ہے؟
کہ بر جایگاہ اکابر نشینی
فضیلت نسبی
پس ہم اس رسالہ میں بالاجمال ایک حدیث پر آنحضرت کی نسبت میں اکتفاء کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ حضرت رسول خداﷺ نے ایک دن بعد خطبہ کے فرمایا: ”ایھا الناس“ آیا خبر دوں تم کو جو کہ مادر اور پدر اور جد و جدہ کی وجہ سے بھی بہتر روئے زمین ہیں۔ عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔ پس فرمایا آنجنابﷺ نے وہ حسنؓ اور حسینؓ ہیں۔ کیونکہ ان کا جد امجد رسول خدا جیسے سید الانبیاء ...... اور ان کی جدہ خدیجہؓ کبریٰ بنت خویلد ...... ان کا باپ مرتضیٰ علیؓ جیسے ...... اور ان کی والدہ فاطمہؓ بنت محمدؐ سید زنان عالمیان ہے۔ کسی کا نسب ان سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے کہ جہاں خاندانوں میں افتراق ہوا وہاں وجود ہمارا بہترین قبائل رہا۔
کیوں اہل انصاف! اب آپ کا انصاف کیا فیصلہ کرتا ہے کہ رسول خدا کو حدیث مذکور میں سچا ہونا چاہئے یا مرزا قادیانی کو اپنے دعویٰ افضلیت میں۔ پس جن بے بصیرتوں نے مرزا قادیانی کی افضلیت کو حسینؓ پر مان لیا کیا وہ حدیث مذکور میں رسول خدا کے مکذب ہوئے یا نہ ہوئے اور آنحضرتﷺ فداہ روحی کا تکذیب کرنے والا کیونکر مسلمان کہلایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ غور سے ملاحظہ کریں تو صرف یہی نکتہ تکذیب مرزا قادیانی کے واسطے کافی ہے کہ مرزا قادیانی کا باپ دادا کیا حسینؓ کے باپ اور دادا کی طرح تھے یا نہیں۔ اجی! حضرت یہاں تو قدرتی طور پر ان کے بادا جان کا نام غلام مرتضیٰ علیؓ رکھا گیا ہے۔ غلام کو آقا سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے؟ حضرات ذرا تو انصاف کیجئے۔ مرزا قادیانی کے ذاتی فضائل تو بحث فضیلت ذاتی میں ملاحظہ فرماہی چکے اور نسبی فضائل میں تو ان کے بزرگ ابا عن جد اس خاندان رسالت کے اس وقت تک غلامی کا دم بھرتے آئے ہوں پھر نہیں معلوم کون سا فتور ان کی عقل میں آگیا۔ جس کی وجہ سے رسول اللہﷺ کے خاندان کی اس نے تذلیل کی اور آنحضرتﷺ کی حدیث مذکور میں تکذیب کی اور فاطمہؓ اور مرتضیٰ علیؓ سے انہیں شرم دامنگیر نہ ہوئی۔ بلکہ بیچارے اپنے بادا جان غلام مرتضیٰ کی روح کو بھی متاذی کیا۔ کیونکہ ان کو اس معصوم اور مطہر خاندان رسالت کی نسبت دعویٰ غلامی ہونے کی وجہ سے میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کی روح مرزا قادیانی سے کسی طرح بھی خوش ہوگی۔ خیر اگر اب ایسے دعویٰ کرنے سے خدا اور رسول اور اہل بیت کو اپنے سے ناراض کر دیا تھا تو بلاء سے۔ مگر بندۂ خدا عوام الناس کی زبان بندی کے واسطے کوئی دلیل تو پیش کر دی ہوتی کہ ذات یا صفات یا حسب یا نسب میں بایں دلیل میں حسینؓ سے بہتر ہوں۔ صرف بے دلیل دعویٰ کو آپ کے کون مانے گا۔ دیکھئے! حضرت امیر المؤمنین علیؓ نے جب اپنی بزرگی کا دعویٰ کل خاندانوں پر کیا کس طرح ثبوت اس کا دیا ہے۔ آپ بیچارے کس قطار میں۔ کل دنیا جمع ہوکر اگر چاہیں کہ ان کے خاندان کی فضیلت کو توڑ دیں تو محال عادی ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکتے......
یہ کیا سوجھا حسینؓ پر برتری کا دعویٰ کر بیٹھے اور یہ افضلیت صرف ساختہ پرداختہ اپنے الہاموں سے آپ کو حاصل ہوگئی۔ اجی مرزا قادیانی! میدان الہام تو وسیع ہے۔ ہر شخص دلی الہام سے افضلیت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ پھر آپ میں یہ خصوصیت کیا آگئی۔ جب آپ کو دلیل نہ ملی تو الہام کو سپر قرار دے دیا۔
در چنیں جاہا سپر انداختہ
١٢
٣٣
کیا آپ کو معلوم نہ تھا کہ جس حسینؓ کی طرف آپ نے تفضیل اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا۔ وہی بزرگوار زینت آسمان وزمین ہے۔ یہی اس کا ہے۔ یہی پیارا رسول اللہ اور خدا کا ہے۔ اسی کو پیغمبر خدا منبر پر اے لوگو! تفضیل دواس کو تمام خلائق پر جس طرح خدا نے اسے تفضیل د حالت سجدہ میں دوش رسول خدا پر سوار ہوا اور جبرائیل علیہ السلام وحی ل جب تک حسینؓ آپ سے نہ اترے تب تک سجدہ سے سر نہ اٹھانا۔ امام کہ ستر مرتبہ رسالت مآبﷺ نے ”سبحان ربی الاعلی وبح اور اس کے بھائی کو رسول خدا نے فرمایا..... اور انہیں کے واسطے فرمایا۔ سید شباب اہل الجنۃ“ اور اگر آپکو معلوم تھا تو کیوں ایسے غلط اسلام کے دل دکھائے۔
زین غزا صد شعلہ غم بردل بریاں ماس
مرزا قادیانی بہادر! آپ کی بہادری کا کیا کہنا نظر بد دور بقول خود افضل بن بیٹھے۔ اب ہم منتظر ہیں کہ دیکھیں اب کے آپ ک صرف رسول اللہﷺ اب باقی رہ گئے۔ دیکھیں اس پر آپ کی فضیلت ہوتا ہے۔.....
ایک دفعہ امام حسینؓ معاویہؓ کے پاس تشریف لائے۔ آپ اور معاویہؓ کے پاس بہت سے قریش جمع تھے تو معاویہؓ نے امام حسینؓ ہیں جو حسد کرتا ہے۔ بنی عبد مناف سے تو جھٹ ابن الزبیرؓ نے معاو امام حسینؓ کی افضلیت اور ان کے قرابت رسول اللہﷺ کا اقرار ہے۔ باپ زبیرؓ کے شرف کو بیان کروں جو کہ بہ نسبت تیرے باپ ابوسفیان غلام امام حسینؓ نے کہا ہمارے آقا وہ ہیں جو کلام کرتے ہیں بعلم اور س خود تم نے ان کی بزرگی کا اقرار کیا تو اب کلام کی ان کو حاجت نہیں۔ تاریخی واقعہ۔ اب مختصر اس ملعون کا بھی لکھے دیتا ہوں۔ تاکہ اہل اسل کی اور یزید پلید کا دعویٰ افضلیت یاد آجائے۔ جس وقت یزید نے ام
١٣
کیا آپ کو معلوم نہ تھا کہ جس حسین کی طرف آپ نے نظر حقارت سے اشارہ کر کے اپنی افضلیت کا دعویٰ کیا۔ وہی بزرگوار زینت آسمان و زمین ہے۔ یہی زینت عرش الہٰی اور گوشوارہ اس کا ہے۔ یہی پیارا رسول اللہ اور خدا کا ہے۔ اسی کو پیغمبر خدا منبر پر ہمراہ اپنے لے گئے اور فرمایا اے لوگو! تفضیل دو اس کو تمام خلائق پر جس طرح خدا نے اسے تفضیل دی ہے۔ یہی بزرگوار ہے جو حالت سجدہ میں دوش رسول خدا پر سوار ہوا اور جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے کہ خدا فرماتا ہے جب تک حسین آپ سے نہ اترے تب تک سجدہ سے سر نہ اٹھانا۔ امام شافعی لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ستر مرتبہ رسالت مآب ﷺ نے ”سبحان ربی الاعلی وبحمدہ“ فرمایا۔ اسی حضرت اور اس کے بھائی کو رسول خدا نے فرمایا...... اور انہیں کے واسطے فرمایا۔ ”الحسن والحسین سید شباب اہل الجنۃ“ اور اگر آپکو معلوم تھا تو کیوں ایسے غلط دعویٰ افضلیت سے کل اہل اسلام کے دل دکھائے۔
زین غزا صد شعلہ غم بر دل بریاں ماست
مرزا قادیانی بہادر! آپ کی بہادری کا کیا کہنا نظر بد دور کیا بے دھڑک امام حسینؓ پر بقول خود افضل بن بیٹھے۔ اب ہم منتظر ہیں کہ دیکھیں اب کے آپ کی بہادری کیا گل کھلاتی ہے۔ صرف رسول اللہ ﷺ اب باقی رہ گئے۔ دیکھیں اس پر آپ کی فضیلت حاصل ہونے کو کب الہام ہوتا ہے۔......
ایک دفعہ امام حسینؓ معاویہ کے پاس تشریف لائے۔ آپ کا غلام ذکوان بھی ساتھ تھا اور معاویہ کے پاس بہت سے قریش جمع تھے تو معاویہ نے امام حسینؓ سے کہا کہ ابن الزبیرؓ کو دیکھتے ہیں جو حسد کرتا ہے۔ بنی عبد مناف سے تو جھٹ ابن الزبیرؓ نے معاویہ کو جواب دے دیا کہ مجھے امام حسینؓ کی افضلیت اور ان کے قرابت رسول اللہ ﷺ کا اقرار ہے۔ لیکن اگر تو چاہے تو میں اپنے باپ زبیرؓ کے شرف کو بیان کروں جو کہ بہ نسبت تیرے باپ ابوسفیان کے ان کو حاصل تھا۔ زاکوان غلام امام حسینؓ نے کہا ہمارے آقا وہ ہیں جو کلام کرتے ہیں بعلم اور سکوت فرماتے ہیں بحلم جب خود تم نے ان کی بزرگی کا اقرار کیا تو اب کلام کی ان کو حاجت نہیں۔ اب لیجئے یزید پلید کا دعویٰ میں تاریخی واقعہ۔ اب مختصر اس ملعون کا بھی لکھے دیتا ہوں۔ تاکہ اہل اسلام کو وہ اصلی حالت امام حسینؓ کی اور یزید پلید کا دعویٰ افضلیت یاد آ جائے۔ جس وقت یزید نے اپنے تئیں تخت سلطنت پر دیکھا
١٣
pwd
اور سر اقدس امام حسین کا طشت طلاء میں سامنے رکھے دیکھا۔ پس خیال کیا کہ میں آنحضرت سے بایں دلیل افضل ہوں کہ خدا نے مجھے ملک عطاء فرمایا اور عزیز ومحترم کیا اور معاذ اللہ حسین کو ذلیل و خوار کیا۔ پس باد نخوت و غرور یزید کے کاخ دماغ میں بھر گئی تو اہل مجلس کی طرف خطاب کر کے حضرت سے شماتت اور مذمت کرنا اور اپنا فخر کرنا شروع کیا۔ پس اس سر اقدس کی طرف اشارہ کر کے بولا کہ یہ شخص ہمیشہ مجھ پر فخر ومباہات کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں افضل ہوں یزید پلید سے اور میری ماں افضل ہے یزید کی ماں سے اور جد میرے افضل ہیں یزید کی جد سے اور باپ میرا افضل ہے یزید کے باپ سے.......
پس مرزا قادیانی اب فرمائیے! آپ نے سنت یزیدی پر کیوں عمل کیا۔ کیوں اب بھی متمسک سنت یزیدی آپ نہ کہلائیں گے۔ مگر یہ کہ آپ کہہ دیں کہ تعظیم و توقیر ان کی تو اہل اسلام پر لازم و واجب ہے۔ نہ ہم پر جس پر ہمارا بھی صاد ہوگا۔
ورنہ بسیار اند در عالم یزید
اجی حضرت ! بغیر سوچے سمجھے کیوں ایسے دعوے کیا کرتے ہو۔ جس کی وجہ آپ کو تیر بہدف ہونا پڑتا ہے۔ واہ قادیانی واہ!
ریشت سفید گشت و دلت ہمچناں سیاہ
....... اگر آپ ایسے ہی بہادر ہیں تو آج کل نقل کیا جاتا ہے کہ حسین کا نام لیوا لاہور یا کسی اور شہر میں آگ پر چلنے لگا تو بمنادی اشتہار آپ کو اسی آگ پر پا برہنہ چلنے کے واسطے تحدی کر چکا ہے۔ مگر چونکہ آپ کو مارے خوف کے اس آگ کے چلنے پر جرات نہ ہوئی تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسے کے امتحان آتش اور حسین جلیل جیسے کے امتحان مصائب کا کب تقابل کر سکتے ہیں۔ پھر اسی قدر بے انصافی ہے کہ اگر حسین کے شرعی حقوق کے رو سے نہیں تو عرفی حقوق سے ہی ان کے مصائب کی داد دی ہوئی۔ جیسا کہ کل یہود و نصاریٰ و مجوس و ہنود نے بھی انصافاً حسین کے ان حالات عجیبہ اور مقالات غریبہ کا پرزور اعتراف اور اقرار کیا ہے۔ دیکھو تاریخ یہود ونصاریٰ
١٤
ہمارے مقال پر بصریح العبارۃ دون التلویح والاشارہ ناطق ہیں۔ اگر وحجت قاطعہ کے آنحضرت پر صرف خود ساختہ الہام سے بہتر اور افضل ہے۔ ''لم تكونوا بالغيه الا بشق الانفس'' یعنی ہرگز تم اس م پہنچ سکتے۔ مگر نفسوں کے توڑ ڈالنے سے واہ قادیانی واہ!
تا نہ بخشد خدائے بخ
....... مرزا قادیانی! اب کیوں نقاب منہ پر ڈال لیا۔ ذرا دیکھئے۔ آپ کو ایسے شہسواراں عرصہ صبر وشہادت سے کیا مناسبت اور تقابل۔ میں نہیں جانتا۔ پھر کیوں اور کس دلیل و برہان سے آپ حسی ہوئے۔ اگر محض الہام ہے جو آپ کے قول سے آپ کو ہوا تو اس کی کی
گر ہمیں مکتب وہمیں ملا
کار طفلاں تمام خواہد
اگر آپ کے قول سے بھی الہام کے یہی معنی ہیں کہ القا وطیور اور انسان کو نیک ہو یا بد ہوا کرتا ہے۔ پھر آپ کی کیا خصو المخلوقات ہونے کے بجائے خود، میں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ جانور ک صاف طور پر یہ مطلب واضح ہو جائے ۔ ہر خاص و عام دیکھ سکتا ہے ک ہے۔ جس میں خدا نے مطلق عقل نہیں پیدا کی جو ایک مسلم بات کے اگر اس کو خدا کی جانب سے الہام نہیں ہوتا ہے تو فرمائیے۔ ا خانہ ،خانہ وار یہ مکھی کس طرح بناسکتی ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہو نبوت ومہدویت کے اگر تمام عمر اپنی صرف کریں تو ان کے مکان سکتے۔ ویسا مکان بنانا تو درکنار اگر ایسا نہیں تو مرزا قادیانی بنا ک مکھیوں اور کیڑیوں کو بھی الہام ہوتا ہو تو مرزا قادیانی کی کیا خصوصیہ حاصل ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی! مناسب ہے کہ کوئی اور بات ان رکھیں۔ ورنہ مکھی کے بہتر الہام ہونے کی وجہ سے اس کا افضل ہونا اقسام الہام کی ہماری کتاب ''غایت المقصود'' کے حصہ اوّل سے م
١٥
ہمارے مقال پر بصریح العبارۃ دون التلویح والاشارہ ناطق ہیں۔ اگر آپ بالعکس بغیر کسی برہان و حجت قاطعہ کے آنحضرت پر صرف خود ساختہ الہام سے بہتر اور افضل بن بیٹھے حالانکہ خدا فرماتا ہے۔ ”لم تکونوا بالغیہ الا بشق الانفس“ یعنی ہرگز تم اس مرتبہ رفیعہ افضلیت تک نہیں پہنچ سکتے۔ مگر نفسوں کے توڑ ڈالنے سے واہ قادیانی واہ!
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
......مرزا قادیانی ! اب کیوں نقاب منہ پر ڈال لیا۔ ذرا میری طرف تو آنکھ اٹھا کر دیکھئے۔ آپ کو ایسے شہسواراں عرصہ صبر و شہادت سے کیا مناسبت اور نامداران بقعہ شجاعت سے کیا تقابل۔ میں نہیں جانتا۔ پھر کیوں اور کس دلیل و برہان سے آپ حسینؓ جیسے ممتحن پر مدعی افضلیت ہوئے۔ اگر محض الہام ہے جو آپ کے قول سے آپ کو ہوا تو اس کی کیا تصدیق۔
گر ہمیں مکتب وہمیں ملاست
کار طفلاں تمام خواہد شد
اگر آپ کے قول سے بھی الہام کے یہی معنی ہیں کہ القاء فی القلب تو ہر حیوان و وحوش وطیور اور انسان کو نیک ہو یا بد ہوا کرتا ہے۔ پھر آپ کی کیا خصوصیت۔ انسان بسبب اشرف المخلوقات ہونے کے بجائے خود میں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کی تمثیل دینا چاہتا ہوں۔ تا کہ صاف طور پر یہ مطلب واضح ہو جائے۔ ہر خاص و عام دیکھ سکتا ہے کہ شہد کی مکھی ایک ادنیٰ سا جانور ہے۔ جس میں خدا نے مطلق عقل نہیں پیدا کی جو ایک مسلم بات ہے۔ پس باوجود نہ ہونے عقل کے اگر اس کو خدا کی جانب سے الہام نہیں ہوتا ہے تو فرمائیے۔ ایسا عمدہ مکان، خوش شکل، برابر خانہ، خانہ دار یہ مکھی کس طرح بنا سکتی ہے۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی! باوجود دعویٰ نبوت ومہدویت کے اگر تمام عمر اپنی صرف کریں تو ان کے مکان کی ترتیب و ترکیب تک نہیں سمجھ سکتے۔ ویسا مکان بنانا تو درکنار اگر ایسا نہیں تو مرزا قادیانی بنا کر دکھا دیں۔ ورنہ فرمائیے جب مکھیوں اور کیڑوں کو بھی الہام ہوتا ہو تو مرزا قادیانی کی کیا خصوصیت اور ان کو اس الہام سے کیا فخر حاصل ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی! مناسب ہے کہ کوئی اور بات اب اپنی فضیلت کے واسطے سوچ رکھیں۔ ورنہ مکھی کے بہتر الہام ہونے کی وجہ سے اس کا افضل ہونا آپ سے لازم ہوگا۔ پوری تحقیق اقسام الہام کی ہماری کتاب ”غایت المقصود“ کے حصہ اوّل سے معلوم ہو سکتی ہے۔
١٥
......کیوں مرزا قادیانی ! فرمائیے کوئی آپ کا بھی ناقہ ہے اور وہ بھی کبھی پہاڑ پر چڑھا ہے ۔ جس کی وجہ آپ بھی تماثل حضرت سے کر سکیں ۔ اجی حضرت ! کہئے تو میں بتادوں ۔ یہ لیجئے بتائے دیتا ہوں ۔ اب آپ کو خوب ہی موقعہ حضرت کی مثیل بننے کا مل سکتا ہے۔ کیا آپ کا ناقہ ریل گاڑی تو نہیں ہے ۔ جس پر ہمیشہ آپ سوار ہوا کرتے ہیں جو ایک پہاڑ چھوڑ کر بیسیوں پہاڑوں میں گھستی ہے۔ لیجئے ! اب تو خوب ہی موقعہ آپ کو ریل کے ناقہ تاویل کرنے میں مل گیا۔ پس چونکہ ریل میں ہمیشہ آپ سوار ہوا کرتے ہیں ۔ لہٰذا ریل ہی آپ کا ناقہ ہوئی۔ مگر مرزا قادیانی آپ کو یہ بھی یاد ہے کہ آپ ریل کو خود دجال مان چکے ہیں ۔
( ازالہ اوہام ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
پس فرمائیے! انصاف سے کہ یہ ریل آپ کا ناقہ ہوا یا دجال کا گدھا۔ چہ خوش تحقیق کہ غایت مطلب کا تو آپ پر ہی ختم ہے کہ ریل کو دجال کا گدھا تو بنا ہی دیا ۔ مگر اس پر سوار خود ہو بیٹھے ۔ واہ قادیانی واہ !
......کیوں مرزا قادیانی! فرمائیے حضرت ایوب علیہ السلام کی توکل پر حسینی توکل نے ترجیح پائی یا نہ پائی اور آپ کا بھی کسی نے گلا گھونٹا یا نہیں۔ آپ تو ایسے گورنمنٹ عالیہ کے تحت سایہ ہیں۔ جس کے ملک میں شیر و بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پی سکتے ہیں ۔ باوجود اس کے آپ نقاب پوش ہو گئے ۔ آخر بھگوڑے ہی نکلے مرد میدان تو نہ بنے ۔ پھر جس شخص نے کہ خوشی قلب اور مردانہ دلیری سے رضائے خدا میں، محبت خدا کا جام پی کر اپنی جان اور مال اور زن و فرزند و برادر و انصار تک راہ خدا میں قربان کر دیے ہوں ذرا انصاف سے کہو کیونکر اس عظیم الشان خدمت گزاری کے عوض میں وہ افضل الناس اور احب الخلق نہ کہلاوے اور کس قدر بے انصافی ہے کہ آپ جیسے ناکارہ گھر بیٹھے نقاب پوش بغیر کسی معقول خدمت گزاری کے آنجناب پر مدعی افضلیت بن بیٹھیں ۔ یہ خلاف انصاف نہیں تو اور کیا ہے۔ واہ قادیانی واہ!......
امام حسینؓ کو حق تعالیٰ نے صابر بلکہ شاکر اور راضی پایا۔ اسی واسطے خدا تعالیٰ نے ان کی طینت کو نفس مطمئنہ راضیہ سے تعبیر فرمائی اور ان کو عباد مخصوصین میں داخل فرمایا اور عبد خاص الخاص سے ان کو شمار کیا ۔ امام حسینؓ ابدال حقیقی ہیں ۔ اس واسطے کہ جب ایک طاعت سے فارغ ہوئے دوسری کو شروع کر دیا جو کہ پہلی طاعت سے زیادہ شاق تھی ۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے تمام بلاؤں پر صبر کیا۔ لیکن شماتت اور برہنگی پر اپنی زوجہ رحیمہ کے ہر گز تحمل نہ کر سکے۔ امام حسینؓ نے کربلائے معلیٰ میں تمام مصیبتوں پر صبر کیا اور ان کی ہمشیرہ زینب خاتون جب کہ خیمہ سے قتل گاہ کی
١٦
طرف تشریف لائیں تو امام علیہ السلام نے کمال صبر وتحمل سے ان کو تسلی دی اور اپنی عباء ان پر ڈال کر ان کو خیمہ میں پہنچا دیا۔ کیوں صاحب حسین کا ایوب علیہ السلام نبی سے بھی تقابل ملاحظہ فرماچکے۔ کس کے صبر وتحمل کو ترجیح ہوئی۔ پھر مرزا قادیانی اپنے صبر وتحمل کو بھی ملاحظہ فرمالیں اور سنبھل کر میدان مناظرہ میں قدم رکھیں (ورنہ قدمش میلغزد) خدا انصاف دے ان بے بصیرتوں کو جو "یریدون ان یطفئو نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ المشرکون".......
مرزا قادیانی! بہادری تو تب تھی کہ آپ کا بھی امتحان صرف ایک مصیبت میں ہی کیا جاتا اور آپ پاس ہو جاتے تو اس وقت اپنے ابناء جنس پر مدعی افضلیت ہوتے تو عیب نہ تھا۔ "ودونه خرط القتاد جاحظ" تو یوں لکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ فرماتے تھے کہ ”نحن اهل البیت لا یقاس بنا احد فی شئی“ یعنی ہم وہ اہل بیت رسول اللہ ہیں کہ کوئی شخص بھی کسی شی میں ہمارے سے قیاس نہیں کرسکتا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نہ کوئی ان کی مانند خدا کی خدمت گذاری میں ایسا عظیم الشان امتحان دے سکتا ہے اور نہ کوئی خود کو ان کے ساتھ قیاس کرسکتا ہے۔ پھر فرمائیے بھلا آپ نے ان کی مانند بغیر کئے کسی معقول خدمت گذاری کے کیونکر ان سے قیاس کیا۔ ہاں اگر آپ بھی ان کی مانند کسی معقول عظیم الشان امتحان الٰہی میں پاس ہوئے ہوں تو ثابت کیجئے۔ بشرطیکہ الہام اور خواب و تاویل سے دست بردار ہو جاویں۔
اجی حضرت! خواب بینیاں تو رانڈ عورتوں کے کام ہیں۔ جو سچے جھوٹے رحمانی شیطانی خواب دیکھ کر دل اپنا خوش کر لیا کرتی ہیں۔ بھلا کبھی نبوت یا مہدویت یا دین وملت بھی کسی کی خوابوں سے ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ تو حضرت مسئلے نہ ہوئے ٹھسلے ہوئے۔ اہل اسلام جنہیں حضرت رسول اللہ ﷺ کے تصدق سے حکمت و کتاب خدا سے ملی ہو۔ کب ایسے ٹھسلوں کو جن کے ثبوت کا دار ومدار معدودے چند ضعیف العقل عورتوں کی خوابوں پر ہو، تسلیم کرسکتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی تو عورتوں کے مکر وفریب ہیں۔ ”ان کید کن عظیم“ کہ آج ہم نے مرزا قادیانی آپ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ایسے آپ ویسے۔ آپ کے پاس چار پیسے اور آپ اتنے میں ہی خوش ہوگئے۔ کسی کو کسی کو روپیہ عنایت فرمادئے۔ پھر فرمائیے۔ بھلا جن کے مکر وفریب وکید کو قرآن میں عظیم شمار کیا ہو وہ شب و روز آپ کو خواب میں کس طرح نہ دیکھیں گے۔ بندہ خدا یہ تو واضح ہے کہ حضرت روپیہ جھوٹوں کو دنیا میں سچا بنادیتا ہے۔ پہلے زمانوں میں بھی تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ فرعون ونمرود
١٧
وغیرہ نے بھی تو دولت سے ہی خدائی کا دعویٰ کیا اور ہزاروں نے نبوت و امامت و مہدویت کاذب کا دعویٰ کیا اور آپ کی طرح مریدوں کی تنخواہیں مقرر کر دیں۔ پھر جو جس کے دل میں آ گیا اس نے الہام اور خواب وغیرہ سے بیان کر دیا۔ جس کی وجہ سے بہت ضعیف العقل ان زمانوں میں بھی بے دین ہو گئے۔ اب خود ہی آپ انصاف سے کہہ دیں کہ آپ کے اور سابقہ زمانہ کے مدعیوں کے دعوؤں میں کیا فرق ہے۔ ہم اسی واسطے کہتے ہیں کہ نبی اور امام پر واجب ہے کہ کوئی برہان قاطع دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرے۔ جس کی وجہ سے بالاعلان بین الحق والباطل صاف طور پر تمیز حاصل ہو جائے۔ مرزا قادیانی! انصاف سے کہیے کہ آپ کے الہاموں پر کس طرح کسی کو یقین ہو سکتا ہے۔ جب آپ اثبات دعویٰ میں الہام یا خواب پیش کریں گے تو لوگ کہہ سکتے ہیں۔ جب کہ ابھی آپ کا سچا اور جھوٹا ہونا ہمیں معلوم نہیں ہے تو ہم کس طرح یقین کر سکتے ہیں کہ آپ کا یہ الہام یا خواب دعویٰ امامت کے ثبوت میں سچ ہے اور اگر فرضاً آپ کو اس الہام یا خواب میں سچا مان بھی لیا جائے تو اس خواب کا رحمانی یا شیطانی ہونا کس طرح معلوم ہو سکتا ہے۔ پس ”بمفاد بناء الفاسد على الفاسد فاسد“ یعنی بقاعدہ حکمی باطل امر کی باطل دلیلوں پر باطل ہے۔ آپ کا دعویٰ اور یہ دلیلیں سب فاسد اور باطل ہو گئیں۔ ہاں اگر کوئی معقول دلیل اور برہان آپ رکھتے ہوں۔ ”فعليك اتيانه وعلينا بيانه“ ......
اب فرمائیے کہ آپ کا ید بیضاء کہاں اور من و سلویٰ کدھر اور کوہ طور کس جگہ اور عصاء مبارک کیا ہو گیا۔ کون چور لے گیا۔ بندۂ خدا تو نے بھی کوئی ذاتی یا صفاتی کمال تو دکھا دیا ہوتا یا کہ آپ کے صرف الہام اور خواب ہی خواب ہیں۔ آخر کہاں تک رانڈ عورتوں کی مانند خواب ہی دیکھتا رہے گا۔ آپ بھی میدان کمالات میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ ہی جوہر دکھا دیں۔ تاکہ جوہر شناسوں میں آپ کا صدق و کذب ثابت ہو جائے۔ ورنہ مرزا قادیانی عوام انعام ”انهم الا كالانعام بل هم اضل سبيلا “ کا آپ کی تصدیق کر لینا، عقلاء جوہر شناس کے نزدیک کھیل اور مضحکہ صبیان نہیں۔ بھلا جب کہ آپ کو نورالدین اور عبد الکریم اور امروہی وغیرہم نے بے دلیل و برہان کے امام اور مسیح اور مہدی بنا دیا تو آپ کیسے انہیں اپنا خلیفہ نہ بناتے۔ ورنہ ضرور احتمال تھا کہ وہ آپ کی نبوت میں دست اندازی کرتے۔ کیونکہ ثبوت تو آپ کی نبوت اور ان کی خلافت کا الہام اور خوابوں پر مبنی ہے۔ پھر جب انہیں یہ خلافت نہ ملتی تو یہ الہام اور خواب بھی انہیں اپنی طرف ہی ہونے لگتے۔ اس خربازاری میں پوچھنے والا ہی کون تھا اور اگر کوئی پوچھتا تو نورالدین کہہ سکتے تھے ١٨
کہ مجھے اب اپنی ہی خلافت پر الہام ہونے لگا اور عبدالکریم کہہ سکتے خواب آنے لگے۔ پھر آپ یا اور کوئی ان کے الہام یا خواب کے
مرزا قادیانی واہ! آخر نبوت اور خلافت کو آپس میں تقسیم فرما ہی لیا۔ کوئی امام حسینؓ نے تو ایسے اعلیٰ سے اعلیٰ جوہر دکھائے۔ جس کی وجہ سے ان کے کمالات نے زمین آسمان اور حجر اور شجر اور ملائکہ و حیوانات قلوب پر ایسا اثر عظیم ڈالا کہ چالیس شبانہ روز تک ان کی شہادت پر اس کمال اور جوہر شہادت کے دکھانے کی وجہ سے تو آنحضرت کو خلافت خدا نے عطاء فرمائی۔
مرزا قادیانی! آپ نے بے فائدہ الہام اور خوابوں میں تو آپ کو بہت ہی اس کمال کے حاصل کرنے میں ہوئی ہوگی۔ جس کو اس کمال سے کیا فائدہ۔ جب کوئی آپ کے اس کمال کو مانتا ہی ن کوئی کمال حاصل کریں۔
...... پس مرزا قادیانی! آپ لڈو اور پیڑے اور پلاؤ بچارے دو چار غریب مزدوری پیشہ کے چندوں سے جمع ہو کر آپ مسند پر مدعی افضلیت بن بیٹھے۔ اگر ایسا نہیں تو آپ ثابت کرو ب کے آپ نے بھی ان کی مانند خدا کی کوئی عظیم الشان خدمت گزاری دکھائیں ہم تسلیم کر سکے۔ نہ ایسی خدمت گزاری کہ جس کو صرف آپ یا آ تسلیم کریں۔ ”ودونه خرط القتاد“ مگر چونکہ معلوم ہے آپ گزاری خدا کی نہیں کی۔ لہذا مرزا قادیانی! آپ اپنے دعوے میں خاص و عام پر صاف طور سے ثابت ہو گیا کہ ”بمفاد حب الدنی حب دنیا میں اس قدر مستغرق ہیں کہ خدا اور کسی پیغمبر و امام کی بھی فر کو ذرا سی بھی اسلام کی بو ہوگی۔ ہرگز اس رسالہ کے ملاحظہ کے بعد ١٩
کہ مجھے اب اپنی ہی خلافت پر الہام ہونے لگا اور عبدالکریم کہہ سکتے تھے کہ مجھے اپنی خلافت کے خواب آنے لگے۔ پھر آپ یا اور کوئی ان کے الہام یا خواب کے جواب میں کیا کہہ سکتا؟ واہ مرزا قادیانی واہ!
آخر نبوت اور خلافت کو آپس میں تقسیم فرمالیا۔ کوئی مانے نہ مانے آپ کی بلاء سے امام حسینؓ نے تو ایسے اعلیٰ سے اعلیٰ جوہر دکھائے۔ جس کی وجہ سے وہ تمام خلق پر افضل کہلائے اور ان کے کمالات نے زمین آسمان اور حجر اور شجر اور ملائکہ و حیوانات غرض جنوں اور انسانوں کے قلوب پر ایسا اثر عظیم ڈالا کہ چالیس شبانہ روز تک ان کی شہادت پر روتے اور نوحہ کرتے رہے اور اس کمال اور جوہر شہادت کے دکھانے کی وجہ سے تو آنحضرتﷺ کی ذریت میں امامت وخلافت خدا نے عطاء فرمائی۔
مرزا قادیانی! آپ نے بے فائدہ الہام اور خوابوں میں اس قدر کمال حاصل کیا زحمت تو آپ کو بہت ہی اس کمال کے حاصل کرنے میں ہوئی ہوگی۔ جس پر ہمارا بھی صاد ہے۔ مگر آپ کو اس کمال سے کیا فائدہ۔ جب کوئی آپ کے اس کمال کو مانتا ہی نہیں۔ پس بہتر یہ ہے کہ اب اور کوئی کمال حاصل کریں۔
…… پس مرزا قادیانی! آپ لڈو اور پیڑے اور پلاؤ وزردہ کھانے کی وجہ سے جو بیچارے دو چار غریب مزدوری پیشہ کے چندوں سے جمع ہوکر آپ کے ہاں پکتا ہے۔ حسینؓ جیسے ممتحن پر مدعی افضلیت بن بیٹھے۔ اگر ایسا نہیں تو آپ ثابت کر دیجئے کہ سوائے الہام اور خوابوں کے آپ نے بھی ان کی مانند خدا کی کوئی عظیم الشان خدمت گزاری بجالائی ہے۔ جس کو کہ ہر خاص وعام تسلیم کرسکے نہ ایسی خدمت گزاری کہ جس کو صرف آپ یا آپ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہی تسلیم کریں۔ ”ودونه خرط القتاد“ مگر چونکہ معلوم ہے آپ نے ادنیٰ سے ادنیٰ بھی خدمت گزاری خدا کی نہیں کی۔ لہٰذا مرزا قادیانی! آپ اپنے دعوے میں مطلق کاذب ہیں۔ پس آپ ہر خاص وعام پر صاف طور سے ثابت ہوگیا کہ ”بمفاد حب الدنيا رأس كل خطيئة“ آپ حب دنیا میں اس قدر مستغرق ہیں کہ خدا اور کسی پیغمبر و امام کی بھی ذرہ بھر پاس خاطر نہیں۔ ورنہ جس کو ذرا سی بھی اسلام کی بو ہوگی۔ ہرگز اس رسالہ کے ملاحظہ کے بعد ایسا غلط دعویٰ نہ کرے گا۔
١٩
جائے گل گل باش و جائے خار خار
بندہ خدا فرمائیے کیا اب بھی ہمارا دعویٰ صحیح نہ ہوا کہ حسینؓ اور اس کے آباء طاہرین کے غلاموں میں بھی اگر محسوب کئے جاؤ تو آپ اور آپ کی ستر پشتوں کے واسطے ہزار ہا فخر سے زیادہ فخر تھا۔ مگر مذکورہ تحقیقات سے مرزا قادیانی کے خیالات کا پورا حال ظاہر ہے کہ اولادِ رسول کے حالات میں ان کو کیسے کیسے مغالطہ پیش آئے ہیں اور حق بجانب بھی ہے۔ جب کہ آنحضرت (حسینؓ) کی نسبت مرزا قادیانی کا دل صاف ہی نہ ہوا تو اس کو آنحضرت (حسینؓ) کے حالات کیونکر معلوم ہوویں گے۔ یہ حالات تو ان واقعات صحیحہ کے ہیں۔ جس کی تحریف وتغیر سے ان کو چنداں غرض نہیں۔ بخلاف اپنے الہام اور خوابوں کے جس پر ان کے مذہب کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔ وہاں تو ہزاروں لاکھوں افتراء سے بھی ان کو پرہیز نہ ہوگا۔.....
بندہ خدا آپ کا تو دعویٰ افضلیت عیسیٰ علیہ السلام اور حسینؓ فداہ روحی پر کرنا درکنار اب تو ابن اللہ ہونے کا بھی دعویٰ آپ کر بیٹھے۔ دیکھو لکھتے ہیں۔ جو ان دنوں میں انہیں الہام ہوا ہے۔ "انی بایعتک بایعنی ربی انت منی بمنزلۃ اولادی" (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) بندہ خدا آپ کی ایمانداری کا کوئی ٹھکانا بھی ہے یا نہیں۔ کبھی مثیل مسیح بنتے ہیں۔ کبھی خود مسیح کبھی مہدی بنتے ہیں۔ کبھی مہدی بھی اور مسیح بھی۔ اب تو اپنے نفس کی تعریف کرتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام اور حسین شہید سے افضل بنے۔ ادھر ابن اللہ ہونے کا بھی دعویٰ کر بیٹھے۔ صرف ایک خدائی کا دعویٰ باقی رہ گیا۔ کہاں تک نفسانی فخر اور مدح وثناء کیجئے گا۔ قول حضرت امیر علیہ السلام ہے۔
ثناء خود بخود کردن نمی زیبد ترا صائب
کیوں مرزا قادیانی! آپ کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ خدا کی طرف حقیقتاً اس واسطے نسبت ولدیت ناجائز ہے کہ خدا جسم اور جسمانی لوازم سے منزہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر حقیقتاً خدا فرزند رکھتا ہو تو لازم آئے گا فرزند کے حادث ہونے کی وجہ سے خدائے قدیم بھی حادث "ھو اذ لا یولد الحادث الا من الحادث" کیونکہ حادث نہیں متولد ہوتا مگر حادث سے، اور یا خدا کے قدیم ہونے کی وجہ سے فرزند حادث بھی قدیم ہو تو یہ دونوں صورتیں باطل ٹھہریں۔ اب لیجئے مجازاً
٢٠
پس کسی غیر کے فرزند کو مجازاً اپنا فرزند اور متبنیٰ بنالینا حیوانات کی صفت ہے۔ بالاتفاق خدا پر ایسا بھی ناجائز ہے۔ ”تعالی الله عن ذلك علواً كبيراً “ اب فرمائیے! مرزا قادیانی آپ کس طرح بمنزلہ اولاد خدا کے مجازاً ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کہتے ہیں۔ ایک چیز کو کسی دوسری چیز سے تب ہی تشبیہہ دے سکتے ہیں جب کہ مشبہ بہ موجود یا اس کا وجود متصور ہو سکتا ہو۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ زید چاند کی مانند ہے۔ پس چونکہ چاند ایک موجود شے ہے۔ زید کو بمنزلہ چاند کے شکل وصورت میں تشبیہہ دینا یا مثلاً (زید کالاسد) زید کو شجاعت میں بمنزلہ شیر کے تشبیہہ دینا جو ایک موجود جانور ہے۔ بہت درست اور جائز تشبیہ ہے۔ لیکن اگر فرضاً چاند اور شیر کوئی شئے نہ ہوتی تو آپ کس طرح ایک لاشئے کو شئی فرض کر کے زید کو تشبیہہ دے سکتے ہیں اور فرضاً اگر تشبیہہ دیتے بھی تو لوگ ایسی نامعقول تشبیہہ سے جس کا مشبہ بہ لاشئے ہے۔ کیا سمجھ سکتے۔ پس مرزا قادیانی یہ تو ضرور آپ بھی مانتے ہوں گے کہ خدا کا حقیقی اور صلبی ولد کوئی بھی نہیں تو فرمائیے خدا کا ولد لاشئے ہوا یا نہ ہوا۔ اگر نہیں تو آپ پہلے خدا کا حقیقی ولد ثابت کر دیں اور لاشئے ہوا تو آپ کو اس الہام میں کہ ”انت منی بمنزلۃ اولادی“ (دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) خدا نے اپنے لاشئے ولد سے کیونکر تشبیہہ دی۔ پھر فرمائیے بدلیل مذکور یہ تشبیہہ غلط ہوئی یا نہ ہوئی اور یہ غلطی نعوذ باللہ خدا سے ہوئی یا آپ سے۔ اگر خدا سے ہوئی تو عمداً ہوئی یا سہواً اور یہ بھی فرما دیجئے کہ خدا پر عمداً یا بھولے غلطی کا صادر ہونا جائز ہے یا نہ، اور اگر یہ غلطی خدا کی نہیں بلکہ آپ کی ہے تو پھر فرمائیے آپ نے غلطی اپنے کو الہام نام کر کے کیوں خدا کی طرف نسبت دی اور جھوٹا الزام خدا پر کس واسطے لگایا۔ کیا نبوت کے یہی معنی ہیں اور آپ کی مہدویت کی یہی ہدایت ہے اور آپ کی مسیحیت کا ثبوت غلط اور محض کذب ایسے خود ساختہ الہام اور خوابوں پر مبنی ہے۔ صاحبان باتمیز و بصیرت کی غیرت کب مقتضی ہے کہ قرآن وحدیث وبراہین عقلیہ کو چھوڑ کر آپ کے علانیہ غلط الہاموں سے آپ کی تصدیق کر لیں۔ آپ با تمیز اہل اسلام سے قطعاً اس امید کو قطع فرمالیں۔ اس کے علاوہ ہم کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی خیر یہ تشبیہہ خواہ غلط ہو یا صحیح۔ آپ انصاف سے فرماویں کہ خدا کے ولد لاشئے ولد سے جب آپ کو تشبیہہ ہوئی تو لوگوں کو اب ایسی تشبیہہ سے آپ کی نسبت کیا سمجھ لینا چاہیے۔ کہیے تو ہم اس تشبیہہ کا منطوق بتا دیں۔ لیجئے! بتائے دیتے ہیں۔ لیکن بایں شرط کہ مصنفوں کی رائے سے آپ اس پر عمل کریں۔ پس سنئے کہ اس تشبیہہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ آپ لاشئے ہیں۔ بایں دلیل کہ جب خدا جسم اور جسمانی لوازم سے منزہ ہونے کی وجہ قطعاً ولد نہیں رکھتا تو خدا کا ولد لاشئے ٹھہرا اور آپ اس الہام میں خدا کے بمنزلہ ولد لاشئے
٢١
کے ہیں۔ پس چونکہ مشبہ اور مشبہ بہ کا بالاتفاق ایک ہی حکم ہوا کرتا ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ خدا نے لوگوں پر واضح کرنے کے واسطے اس الہام میں آپ کو لا شئے قرار دیا۔ یعنی مرزا قادیانی جیسا کہ خدا کا ولد کوئی شئے نہیں۔ اسی طرح آپ بھی کوئی شئے نہیں تو بندہ خدا اس الہام سے آپ کی خاک فضیلت ثابت ہوئی۔ جب آپ نے ایسے عظیم دعوے کرنے شروع کر دیئے تو لوگوں کے اعلان کے واسطے خدا نے آپ کو یہ الہام کر دیا کہ آپ مہربانی سے نبوت امامت مسیحیت مہدویت کا دعویٰ نہ کیجئے۔ آپ کوئی شئے نہیں کیوں مرزا قادیانی! اب تو آپ کے اقرار کے مطابق آسمانی فیصلہ ہو گیا کہ آپ کوئی شئے نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام حسینؑ فداہ روحی پر آپ جیسے لا شئے کا مدعی افضلیت ہونا منصفوں کے نزدیک محض حب دنیا اور نفس امارہ کی پیروی سے ہے۔ ”فافهم وتدبر“ کیوں مرزا قادیانی اس قدر رسوائی کے بعد بھی اگر تائب نہ ہوں تو سخت افسوس ہے۔
لیک بعد از ہزار رسوائی
”اللهم احفظنا والمؤمنين جميعًا من النفس الأمارة بالسوء والضلالة بعد الهدیٰ“
چراغ الدین ساکن جموں و مرزا قادیانی کی چالاکی
دیکھو (دافع البلاء ص ١٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٩) مرزا قادیانی ایک عام اطلاع چراغ الدین کی نسبت لکھتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”شخص مذکور پہلے ہماری جماعت میں داخل ہوا۔ ازاں بعد معلوم ہوا کہ وہ خود مدعی رسالت ہے۔ لہٰذا اپنی جماعت کو اطلاع دیتے ہیں کہ اس سے احتراز کریں۔“
مرزا قادیانی کی یہ بھی چالاکی ہے کہ انہوں نے پہلے اس کے اشتہارات کے طبع ہونے کی اجازت دے دی۔ ازاں بعد اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔
واہ رے چالاکی! مسلمانو یاد رہے کہ چراغ الدین کا پہلے مرید پھر مخالف مرزا قادیانی کے ہو جانا میرے خیال میں تین صورتوں سے خالی نہیں یا بایں خیال کہ اپنی رسالت کی بناء فاسد باندھنے کے واسطے مرزا قادیانی کی چالاکیوں کو ایک نظر دیکھ لیوے۔ تا کہ وہ بھی ویسی ہی چالاکیوں سے حشرات الارض کو اپنے جال میں پھنسا لیوے۔ چنانچہ وہ خود مرزا قادیانی کی طرح
٢٢
مدعی رسالت ہو، اور یا بایں غرض کہ نور الدین اور عبد الکریم کی مانند بصفا مجھے بھی خلافت مرزا قادیانی سے حصہ مل جائے۔ جب نہ ملا تو مخالف سے نبوت کے لینے کے واسطے ہاتھ لمبا کیا، یا بایں خیال کہ فی الحال ب مخالف ہو کر پھر اس سے شیر و شکر ہو کر ضعفاء عقول میں مرزا قادیانی کی ن میں نصف لی ونصف لک کے یہ دونوں صاحب بہم ہو جاویں۔ عزیزان جس کی وجہ سے بیچارے عوام الناس اس کے جال میں پھنس جاتے ہ آپ مذکور صفحہ میں فرماتے ہیں (اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے آپ کی نیک ظنی نہ ہوئی کوئی بلا ہو گئی۔ جس نے باقی رہا ہوا حصہ بھی د کوئی دلیل نہ ملی تو نیک ظنی کو ہی سپر قرار دے دیا۔ واہ صاحب واہ! ”کہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ قرآن تو ہدایت کرتا ہے۔ ”وان الظن لا یغ کہ ظن سے حق نہیں ثابت ہوا کرتا، اور آپ اپنی نیک ظنی کو ہی برخلاف قرار دیتے ہیں۔ بھلا کون اہل قرآن آیات وحدیث کو چھوڑ کر آپ تسلیم کر سکتا ہے؟
پس مرزا قادیانی! نور الدین اور عبد الکریم وامروہی وغیرہ آپ کو مسیح اور مہدی وغیرہ مان رہے ہیں۔ کیونکہ نیک ظنی سے ہی تو ای انہیں بھی حصہ مل گیا ہے۔ اگر انہیں یہ حصہ نہ ملتا تو آپ دیکھ ہی لیتے ک کی بھی نیک ظنی، سوء ظنی سے آپ کی نسبت بدل کر مسیحیت کے خود م ہو تو اب بھی انہیں معزول کر کے آزمالیں۔ بندہ خدا دلائل تو آپ ک محض الہام اور خواب ہیں۔ پھر مشکل ہی کیا ہے۔ اس وقت آپ کی ط ہی طرف الہام ہونے لگیں گے۔ پھر آپ یا اور کوئی ان کے قلبی برای لہٰذا آپ ان الہاموں اور خوابوں اور نیک ظنیوں سے باز نہیں آتے ت سے دست بردار ہوتے ہیں۔ غرض کہ آپ عجب مصیبت میں پڑ گئے ہ سے ترک کیا جاتا ہے کہ معتقدین برگشتہ ہو جائیں گے۔ پھر حلوہ و مان رو برو آپ کو ذلت، جہالت وضلالت کی ملے گی اور نہ باطل کا ہی احق لا تدرى فتلك مصيبة وان كنت تدرى فالمصيبة اع
٢٣
مدعی رسالت ہو، اور یا بایں غرض کہ نور الدین اور عبد الکریم کی مانند بمفاد (بدوز وطمع دیدۂ ہوشمند ) مجھے بھی خلافت مرزا قادیانی سے حصہ مل جائے گا۔ جب نہ ملا تو مخالف ہو گیا۔ پھر گذشتہ خلافت سے نبوت کے لینے کے واسطے ہاتھ لمبا کیا، یا بایں خیال کہ فی الحال چند مدت مرزا قادیانی کے مخالف ہو کر پھر اس سے شیر وشکر ہو کر ضعفاء عقول میں مرزا قادیانی کی نبوت کا اعلان دے کر آپس میں نصف لی ونصف لک کے یہ دونوں صاحب بہم ہو جاویں۔ عزیزان من یہی تو با ہمی چال ہے۔ جس کی وجہ سے بیچارے عوام الناس اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کیوں مرزا قادیانی پھر آپ مذکور صفحہ میں فرماتے ہیں ( اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے اجازت دی گئی ) آپ کی نیک ظنی نہ ہوئی کوئی بلا ہو گئی۔ جس نے باقی رہا ہوا حصہ بھی دین محمدی کا تباہ کر دیا۔ جب کوئی دلیل نہ ملی تو نیک ظنی کو ہی سپر قرار دے دیا۔ واہ صاحب واہ! کبھی اثبات دین میں ظن حجت ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ قرآن تو ہدایت کرتا ہے۔”وان الظن لا يغنى عن الحق شيئا “ کہ ظن سے حق نہیں ثابت ہوا کرتا ، اور آپ اپنی نیک ظنی کو مبنی بر خلاف حکم قرآن کے ہر جگہ برہان قرار دیتے ہیں۔ بھلا کون اہل قرآن آیات وحدیث کو چھوڑ کر آپ کے ظنی اور وہمی خیالات کو تسلیم کر سکتا ہے؟
پس مرزا قادیانی! نور الدین اور عبد الکریم داسروہی وغیرہ ہم بھی ایسی ہی نیک ظنی سے آپ کو مسیح اور مہدی وغیرہ مان رہے ہیں۔ کیونکہ نیک ظنی سے ہی تو اس ولایت وخلافت میں سے انہیں بھی حصہ مل گیا ہے۔ اگر انہیں یہ حصہ نہ ملتا تو آپ دیکھ ہی لیتے کہ چراغ الدین کی طرح ان کی بھی نیک ظنی، سوء ظنی سے آپ کی نسبت بدل کر مسیحیت کے خود ہی مدعی ہو بیٹھتے۔ اگر یقین نہ ہو تو اب بھی انہیں معزول کر کے آزمائیں۔ بندہ خدا دلائل تو آپ کی نبوت اور ان کی خلافت پر محض الہام اور خواب ہیں۔ پھر مشکل ہی کیا ہے۔ اس وقت آپ کی طرف نہ ہوں گے۔ انہیں اپنی ہی طرف الہام ہونے لگیں گے۔ پھر آپ یا اور کوئی ان کے قلبی براہین پر کیونکر جرح کر سکتا ہے۔ لہذا آپ ان الہاموں اور خوابوں اور نیک ظنیوں سے باز نہیں آتے اور نہ ہی ان بے سروپا دعووں سے دست بردار ہوتے ہیں۔ غرض کہ آپ عجب مصیبت میں پڑ گئے ۔ مذہب باطل کو ہٹ دھرمی سے ترک کیا جاتا ہے کہ معتقدین برگشتہ ہو جائیں گے۔ پھر حلوا و منڈا کھانے کو نہ ملے گا یا ان کے روبرو آپ کو ذلت، جہالت وضلالت ہی ملے گی اور نہ باطل کا ہی احقاق ہو سکتا ہے۔ ”فان کنت لا تدرى فتلك مصیبت وان كنت تدرى فالمصيبت اعظم “ مرزا قادیانی آپ کا یہ
٢٣
دعویٰ کہ میں امام حسینؓ سے افضل ہوں۔ ایسی دل آزار باتوں میں سے ہے۔ جن کو کوئی شریف مسلمان اپنے ذی عزت دشمن کے حق میں بھی پسند نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ رسول اللہ ﷺ کا نواسہ حسینؓ جیسا پیاسہ ممتحن بالایمان کے بارے میں سنے۔ جن کے ساتھ حسن عقیدت وارادت کو اپنا جزو ایمان سمجھتا ہو۔ ”جراحات السنان لها التیام ولا یلتام ماجرح اللسان“ یعنی تیر و نیزہ کے زخم اچھے ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن زبان کے زخموں کو التیام نہیں ہوا کرتا۔
پھر فرما دیجئے مرزا قادیانی ! امام حسینؓ کی نسبت آپ کی زبانی جراحتوں نے ترجیح پائی یا یزید کے تیر و نیزوں کے زخموں نے۔ ناظرین اب سوچنے کے لائق یہ بات ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کس غرض سے ہے۔ آیا منجملہ ان کی گذشتہ نیک ظنیوں کے یہ بھی نیک ظنی اور حسن عقیدت اس کا محرک ہے جو ہر فرد اسلامی پر لازم ہے کہ خاندان رسالت کے ساتھ ولا رکھے یا وہ بغض و عداوت ہے۔ جو اسلامی تفریق کے وقت سے مسلمانوں کا پولیٹیکل مسئلہ قرار پایا۔ پہلی صورت میں تو مسلمانوں کی ہی طرح مرزا قادیانی کی بھی روش ہونی چاہئے کہ رسول اللہ اور آنحضرت ﷺ کی معصوم ومطہر اہل بیت علیہم السلام کی تعظیم وتوقیر میں کم سے کم وہ آداب ملحوظ رکھے جو اپنے باپ دادا سے برتا ہے یا اپنے بزرگوں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔ جس سے ہر دیکھنے والا محسوس کر سکے کہ مرزا قادیانی انہیں واجب التعظیم سمجھتے ہیں۔ جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”لا یؤمن عبد حتى اکون احب الیه من نفسه وتکون عترتی احب الیه من عترته“ یعنی کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوتا ہے۔ جب تک کہ مجھے اپنے نفس سے اور میری عترت کو اپنی عترت سے زیادہ دوست نہ رکھے۔ ”اذ لیس فلیس فدونه خرط القتاد“ دوسری صورت دو طرح سے نمایاں ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ کھلم کھلا کسی کو برا کہے اور اظہار عداوت کرے۔ جیسا کہ یزید کے زمانہ میں عام طور پر اہل بیت رسالت کی نسبت کیا گیا۔ لیکن مرزا قادیانی بحمد اللہ مسلمانوں کے کمال اتفاق و یکجہتی سے تو یزید کی طرح علانیہ اظہار عداوت نہ کر سکا۔ باقی رہی دوسری صورت وہ یہ کہ دوستی کے پیرایہ میں اپنی عداوت ظاہر کرے اور دل کا بخار نکالے جو خاص طریقہ منافقوں کا ہے۔
پس مرزا قادیانی کا دعویٰ اس آخری سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔ مگر جوش عداوت نے پردہ فاش کر دیا ہے۔ جس سے ہر کس و ناکس پر ان کی عداوت حسین علیہ السلام سے ظاہر ہو گئی۔ ورنہ با غیرت مسلمان ایسی جرات ہر گز نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی میں نہایت خیر خواہی سے عرض کرتا
٢٤
٤٥ ہوں کہ آپ اپنے عقیدہ کی اصلاح فرمائیں۔ ایسا نہ ہو قیامت نبیوں کے سامنے آپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔ اگر آپ کسی خیال با تو ایسے امور کی نسبت ضد نہ کیجئے۔ جس سے خاندان رسالت کی ہے۔ شرافت خاندانی اور چیز ۔ اگر آپ نے دین بدل لیا تو اس آپ افضل ہوں۔ ورنہ کوئی دلیل ایسی قائم کریں جس سے خاص جائے۔ بغیر اس کے تو مخالف موالف سب یہی کہیں گے۔ صرف آزاری بلکہ اہل بیت رسول ﷺ کی عداوت ودشمنی نے آپ کے کی قلم و زبان مبارک سے ٹپک رہی ہے۔ زیادہ عرض نہیں کر سکتا۔
خاتمة الکتاب
اب میں آخر میں آپ کو دوستانہ رائے دیتا ہوں کہ آپ سلسلہ تحریر کو قطعاً قطع فرمائیے اور دوسرا سلسلہ شروع کیجئے۔ جس میں ہو۔ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اصرار کرنا کوئی جوہر انسانیت نہیں مجرد میری تحریر اوّل کے ”بمفاد الکنایة ابلغ من التصریح مجھے ممنون فرماویں گے اور اپنی حق پسندی کا کافی ثبوت دیں گے حسد نے بنا ہوا کام بگاڑ دیا۔ خیر آپ باز نہ آئے اور اس سے زیادہ میں یہ سمجھ لوں گا۔ ”لیس ذلک باول قارورة کسرت فی الاسل“
میلش اندر طعنہ نیکاں
ہائے غضب اور ستم ! کیا اسی کا نام اسلام ہے کہ ایسا حم پیاسے مظلوم امام حسینؓ پر کیا جاوے۔ نہیں ہر گز نہیں ! یہ گردن کشی
گردن کسی بخاک نشاند
مرزا قادیانی ! مجھے کسی طرح یہ منظور نہیں کہ آپ آپ پہلے ہی مرحلہ میں بھگوڑے ہو گئے۔ ابھی تو میدان مناظرہ
٢٥
ہوں کہ آپ اپنے عقیدہ کی اصلاح فرمائیں۔ ایسا نہ ہو قیامت کے روز ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے سامنے آپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔ اگر آپ کسی خیال سے اس دنیا داری کو نہیں چھوڑ سکتے تو ایسے امور کی نسبت ضد نہ کیجئے۔ جس سے خاندان رسالت کی توہین ہو۔ بندہ خدا ! دین اور چیز ہے۔ شرافت خاندانی اور چیز۔ اگر آپ نے دین بدل لیا تو اس کا یہ لازمہ نہیں کہ امام حسینؓ پر بھی آپ افضل ہوں۔ ورنہ کوئی دلیل ایسی قائم کریں جس سے خاص وعام پر آپ کا صدق معلوم ہو جائے۔ بغیر اس کے تو مخالف موالف سب یہی کہیں گے۔ صرف مسلمانوں کی عداوت اور دل آزاری بلکہ اہل بیت رسول ﷺ کی عداوت ودشمنی نے آپ کے دل میں جوش مارا ہے۔ جو آپ کی قلم و زبان مبارک سے ٹپک رہی ہے۔ زیادہ عرض نہیں کر سکتا۔ ”والعاقل تکفیہ الاشارۃ“
خاتمۃ الکتاب
اب میں آخر میں آپ کو دوستانہ رائے دیتا ہوں کہ آپ اپنی تصنیفات میں اس قسم کے سلسلہ تحریر کو قطعاً قطع فرمائیے اور دوسرا سلسلہ شروع کیجئے۔ جس میں بزرگان دین سے کچھ علاقہ نہ ہو۔ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اصرار کرنا کوئی جوہر انسانیت نہیں ہے۔ مجھے امید واثق تھی کہ آپ مجر دمیری تحریر اوّل کے ”بمفاد الکنایۃ ابلغ من التصریح “ اپنی رائے سے رجوع فرما کر مجھے ممنون فرماویں گے اور اپنی حق پسندی کا کافی ثبوت دیں گے۔ لیکن آپ کے غصہ اور اندرونی حسد نے بنا ہوا کام بگاڑ دیا۔ خیر آپ باز نہ آئے اور اس سے زیادہ صلح اہل بیت رسالت کیجئے۔ میں یہ سمجھ لوں گا۔ ”لیس ذلک باول قارورۃ کُسرت فی الاسلام“
میلش اندر طعنہ نیکاں برد
ہائے غضب اور ستم ! کیا اسی کا نام اسلام ہے کہ ایسا حملہ پیغمبر کے نواسے زمین کربلا کے پیاسے مظلوم امام حسینؓ پر کیا جاوے۔ نہیں ہر گز نہیں ! یہ گردن کشی ہے۔ مقدس اسلام کی تعلیم نہیں۔
گردن کسی بخاک نشاند نشانہ را
مرزا قادیانی ! مجھے کسی طرح یہ منظور نہیں کہ آپ سے رنجش بے لطفی کی نوبت پہنچے۔ آپ پہلے ہی مرحلہ میں بھگوڑے ہو گئے۔ ابھی تو میدان مناظرہ میں صرف قدم ہی رکھا ہے۔ اگر
آپ کو مناظرہ سے ایسی ہی گھبراہٹ ہونے لگی تو خدا حافظ بالاخر خاموش ہو جاؤں گا۔ لیکن خدا سے عرض کردوں گا۔ "رب اني دعوت قومي ليلاً ونهاراً فلم يزدهم دعائي الا فرار" آخر میں ہم صرف علماء اسلام سے بکمال ادب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ "جزاكم الله تعالى خيراً الجزاء المحسنين" واقعاً آپ حضرات نے پاک اسلام کی حفاظت اور مرزا قادیانی کے لغویات کے جواب دینے میں جان ومال وعلم کے بذل کرنے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں۔ کیا۔ خداوند عالم اس کے بالعوض آپ کو توفیقات خیر عطا فرمائے۔
عزیزان من! اگر مرزا قادیانی طالب حق ہوں تو ان کے لئے بس اسی قدر مضمون حق تسلیمی کے واسطے دلیل کافی اور برہان شافی ہے جو صاحب غیرت با معرفت و بصیرت دیدہ حق بیں اور قلب صالح الیقین سے اس حسینی تقابل کو انبیاء سلف سے ملاحظہ فرمالے گا۔ زنگ شبہات اہل شقاق قطعی قلب مظلم اس کے سے پاک وصاف ہو جائے گا اور گرد کدورت کفر والحاد بالکل دھل جائے گا۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کے قلوب چونکہ اہل شقاق کی طرح مختوم منجانب اللہ اور ظلمت وقساوت فطری سے سیاہ ہیں۔ لہٰذا ان سے اثر اس کا مفقود اور وہی کثافت و تیرگی مشہور وبقول قائل۔
لیک اندر شہر کوراں آمدہ
پس سنئے کہ اس معصوم اور پاک اسلام کو جو آپ کے آغوش میں حسن اتفاق تربیت پارہا ہے۔ نفاق اور تعصب کی آگ سے محفوظ رکھنا آپ کا پہلا فرض ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے جیسے چند نادان کی گرم جوشی اور آپ حضرات کی ذرا کم توجہی سے خدانخواستہ زمانہ کی ناموافق ہوا لگ گئی تو اس کا پھولنا پھلنا سخت دشوار بلکہ اتنی ہستی بھی نہ رہے گی۔ اس وقت آپ حضرات اپنی عرق ریزیوں کا ثمرہ پانے کی بجائے غفلت شعار مشہور ہوں گے۔
"وما علينا الا البلاغ فاعتبروا يا اولى الابصار واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين والصلوة على محمد واله الطاهرين ابد الآبدين ودهرا الدهرين وختمت في الثانى من ربيع الثانى ١٣٤٤ من الهجرة المنورة في مبارك حويلى لاهور حرره خادم الشريعة المطهرة سيد على حائرى لاهورى"
٢٦
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
سيدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
مہدی موعود
حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
ر خاموش ہو جاؤں گا۔ لیکن خدا سے فلم یزدھم دعائى الا فرارا“ کہ ”جزاکم الله تعالى خيراً لام کی حفاظت اور مرزا قادیانی کے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں۔
ں کے لئے بس اسی قدر مضمون حق نا بمعرفت وبصیرت دیدۂ حق ہیں حظہ فرمالے گا۔ زنگ شبہات اہل گرد کدورت کفر و الحاد بالکل دہل شتقاق کی طرح مختوم منجانب اللہ فقد و اور وہی کثافت و تیرگی مشہور
آمده
ے آغوش میں حسن اتفاق تربیت فرض ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے ، خدانخواستہ زمانہ کی ناموافق ہوا نا ۔ اس وقت آپ حضرات اپنی
الابصار واخر دعوانا ان آخرین ابدالابدین ودھرا ١ من الهجرة المنورة فى طهرة سید علی حائری
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ پر قربان جان و مال
مہدی موعود
حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله العلى العظيم والصلوة على رسوله الكريم واله مع التسليم ذوى الفضل والخلق العميم ولاعدائهم الجحيم والحرمان عن النعيم . اما بعد !
”قوله تعالى وله اسلم من فى السمٰوات والارض طوعاً وكرها واليه يرجعون (البقره:٨٣) “ ﴿یعنی جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ بارغبت یا باکراہت اسی کے مطیع ہوں گے اور اسی کے حضور میں پلٹ کر جائیں گے۔﴾
تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ آیت قائم آل محمد علیہ السلام (حضرت مہدی) کے بارے میں نازل ہوئی اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو تلاوت فرما کے یہ ارشاد فرمایا کہ جب قائم آل محمد (حضرت مہدی) کا ظہور ہوگا۔ تو زمین کا کوئی ایسا حصہ باقی نہ رہے گا۔ جس میں شہادت ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کی منادی نہ پکار دی جائے گی۔
اسم وکنیت ولقب
ان کا نام بھی پیغمبر اسلام کے نام پر ہوگا اور ان کی کنیت بھی آنحضرت ﷺ کی کنیت ہوگی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ” لولم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم الى ان يبعث فيه رجل من اهل بيتى يواطئ اسمه اسمى واسم ابيه يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجورًا (ابوداؤد ج٢ ص ١٣١) “ یعنی پیغمبر اسلام علیہ وآلہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر دنیا کا ایک آخری روز بھی باقی رہ جاوے تو اس دن کو خدا لمبا کر دے گا۔ یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے اس شخص کو مبعوث کرے گا جس کا نام میرا نام ہوگا اور جس کی کنیت بھی میری کنیت ہوگی۔ رہے القابات سو وہ بکثرت ہیں ......
امام مہدی کس کی نسل سے ہوگا
اس پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ امام مہدی علیہ السلام عربی النسل ہے نہ عجمی النسل ...... امام مہدی علیہ الرضوان نسل حسینؓ سے ہے۔ یہ امر غایت شہرت کی وجہ سے اس قدر عیاں ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ مگر باوجود اس کے مرزا قادیانی نے بعض سادہ لوح سنیوں کو دھوکا دے کر ایک عجیب وغریب حیلہ سے دام تزویر میں پھانس لیا ہے۔ وہ یہ کہ امام مہدی اہل
٢
البیت سے ہوگا۔ چونکہ سلمان فارسیؓ اہل البیت سے تھے اور میں بم حیثیت میں سلمان سے ملحق ہوتا ہوں۔ اس لئے میں بھی اہل البیت سے بن گیا۔ واہ سبحان الله !
لیجئے! حضرت اس کے متعلق بھی سن لیجئے کہ خود سلمان فارسی روز حسینؓ پیغمبر ﷺ کی ران پر بیٹھے ہوئے تھے کہ پیغمبر ﷺ اس کو چوم رہ اے حسینؓ تم سید ابن سید ہو تم امام برادر امام ہو تم حجت ابن حجت ہو اور کہ ان میں نواں امام مہدی موعود علیہ السلام ہے۔
(ینابیع
حذیفہؓ کہتا ہے کہ ایک روز پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”لولم یبق لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث رجلاً من ولدى اسم فقال يا رسول الله من اى ولدك هو قال من ولدى ه الحسين اخرجه ابونعيم فى عواليه ارجح المطالب ص. فرمایا کہ اگر ختم دنیا تک ایک روز بھی باقی رہ جائے تو ہر آئینہ خدائے تعا کر دے گا کہ میری اولاد میں سے ایک شخص مبعوث ہوگا۔ جس کا نام وقت سلمان فارسیؓ کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ حضور ﷺ! آپ کے کون سے پیغمبر ﷺ نے حسینؓ پر ہاتھ مارا کہ اس بیٹے سے ہوگا۔
اب فرمائیے جناب؟ مرزا قادیانی کو سلمانؓ کی نسل بننے اگر مہدی سلمانؓ کی نسل سے ہوتا تو سلمانؓ ہی کے سوال پر پیغمبر ﷺ اسے بتلاتے؟ مگر بے خبر مرزا قادیانی کو کیا معلوم تھا کہ قدرت نے اس کے خود سلمان فارسیؓ سے اس کے دعوے کی تکذیب کرا رکھی ہے .......
علاماتِ ظہورِ امام مہدی موعود
کتب حدیث (شیعہ) میں امام مہدی موعود علیہ السلام ب خاص علامتوں کا ظہور ہونا بیان کیا گیا ہے۔ زبردست آسمانی علام ”آيتان تكونان قبل قيام القائم كسوف الشمس فى وخسوف القمر فى آخره“ اور یہ جملہ بھی حدیثوں میں موجو تكونا منذ خلق الله السمٰوت والارض“ یعنی دو آیتیں ایسی السلام سے پہلے ظاہر ہو جائیں گی۔ ایک سورج گہن جو اوّل رمضان
٣
البيت سے ہوگا۔ چونکہ سلمان فارسیؓ اہل البیت سے تھے اور میں بھی فارسی النسل ہونے کی حیثیت میں سلمان سے ملحق ہوتا ہوں۔ اس لئے میں بھی اہل البیت سے ہوا۔ پس میں امام مہدی بن گیا۔ واہ سبحان اللہ!
لیجئے! حضرت اس کے متعلق بھی سن لیجئے کہ خود سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ ایک روز حسینؓ پیغمبرﷺ کی ران پر بیٹھے ہوئے تھے کہ پیغمبرﷺ اس کو چوم رہے تھے اور فرماتے تھے۔ اے حسینؓ تم سید ابن سید ہو تم امام برادر امام ہو تم حجت ابن حجت برادر حجت اور باپ ہو نو حجتوں کے ان میں نواں امام مہدی موعود علیہ السلام ہے۔
(ینابع المودۃ مطبوعہ قسطنطنیہ ص ٤٤٥)
حذیفہؓ کہتا ہے کہ ایک روز پیغمبرﷺ نے فرمایا: ”لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذالک الیوم حتی یبعث رجلاً من ولدی اسمہ اسمی فقام سلمان فقال یا رسول اللہ من ای ولدک ہو قال من ولدی ہذا وضرب بیدہ علی الحسین اخرجہ ابونعیم فی عوالیہ ارجح المطالب ص ٤٤٢“ یعنی پیغمبرﷺ نے فرمایا کہ اگر ختم دنیا تک ایک روز بھی باقی رہ جائے تو ہر آئینہ خدائے تعالیٰ اس روز کو اس قدر طویل کردے گا کہ میری اولاد میں سے ایک شخص مبعوث ہوگا۔ جس کا نام میرا ہی نام ہوگا۔ پس اس وقت سلمان فارسیؓ کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ حضورﷺ ! آپ کے کون سے بیٹے سے وہ شخص ہوگا۔ پس پیغمبرﷺ نے حسینؓ پر ہاتھ مارا کہ اس بیٹے سے ہوگا۔
اب فرمائیے جناب؟ مرزا قادیانی کو سلمانؓ کی نسل بننے سے کیونکر مہدویت مل گئی؟ اگر مہدی سلمانؓ کی نسل سے ہوتا تو سلمانؓ ہی کے سوال پر پیغمبرﷺ نے مہدی کو کیوں نسلِ حسینؓ سے بتلایا؟ مگر بے خبر مرزا قادیانی کو کیا معلوم تھا کہ قدرت نے اس کے دعوے کرنے سے پہلے ہی خود سلمان فارسیؓ سے اس کے دعوے کی تکذیب کرا رکھی ہے.......
علامات ظہور امام مہدی موعود
کتب حدیث (شیعہ) میں امام مہدی موعود علیہ السلام کے ظہور سے پہلے تقریباً چار سو خاص علامتوں کا ظہور ہونا بیان کیا گیا ہے۔ زبردست آسمانی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ: ”ایتان تکونان قبل قیام القائم کسوف الشمس فی الاول من شہر رمضان وخسوف القمر فی آخرہ“ اور یہ جملہ بھی حدیثوں میں موجود ہے: ”لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق اللہ السمٰوات والارض“ یعنی دو آیتیں اور علامتیں یہ بھی ظہور مہدی علیہ السلام سے پہلے ظاہر ہو جائیں گی۔ ایک سورج گہن جو اوّل رمضان میں واقع ہوگا دوسرا چاند گہن
٣
جو آخر ماہ رمضان میں ہوگا۔ اس روایت میں یہ عظیم الشان دونوں نشان ایک ہی ماہ رمضان میں ہونے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ مگر دو خصوصیتوں کے ساتھ ایک یہ کہ ظہور امام سے قبل یہ دونوں ظاہر ہوں گے۔ دوسری یہ کہ خلاف قانون مقررہ ظاہر ہوں گے۔ یعنی ایک ہی ماہ رمضان کے اوّل و آخر میں دونوں ظاہر ہوں گے اور اس میں علامت اور آیت قرار پانے کی خصوصیت یہی ہے کہ یہ خسوفین خلاف قاعدہ مستمرہ واقع ہوں گے۔ کیونکہ حدیث میں توضیح کی گئی ہے کہ خدا نے جب سے آسمان اور زمین پیدا کئے ہیں ان تواریخ میں کبھی کسوفین نہیں ہوئے۔
اب سنئے کہ مرزا قادیانی کے زمانے میں بھی ایک مرتبہ ماہ رمضان میں سورج اور چاند کو گرہن ہوا تھا۔ لگے ہاتھ مرزا قادیانی نے اس کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر عوام کو دھوکا دیا کہ دیکھو میری صداقت پر چاند اور سورج نے گواہی دی ہے اور روایت کسوفین کی پیشین گوئی میرے حق میں پوری ہو گئی۔ پس پھر کیا تھا پانچوں گھی میں۔
سنئے! مرزا قادیانی کی اس غلطی کا منشاء بھی ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ١٣٠٨ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا اور ١٣١٢ھ میں کسوفین ایک ماہ رمضان میں واقع ہوئے۔ مگر دو وجہوں سے ہم اس واقعہ کسوفین کو نشان تسلیم نہیں کر سکتے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ حدیث مذکور میں قبل قیام القائم کا جملہ موجود ہے اور یہ کسوفین مرزا کے دعویٰ مہدویت کے چار برس بعد واقع ہوا ہے۔ اس لئے مخالف حدیث ہونے کے سبب کسی طرح یہ نشان نہیں قرار پا سکتا۔
دوسری وجہ اس کے نشان قرار نہ پانے کی یہ ہے کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق مرزا قادیانی کے زمانے کا کسوفین ماہ رمضان کے اوّل و آخر میں واقع نہیں ہوا ہے اور یوں تو ماہ رمضان میں حسب قانون مقررہ ہمیشہ سے کسوفین ہوتے چلے آئے ہیں۔ پھر خلاف حدیث یہ کسوفین کس طرح نشان مہدویت قرار پا سکتا ہے۔
دیکھو! پینتالیس برس کے گہنوں کی فہرست جو کتاب حدائق النجوم فارسی میں مرقوم ہے اور رسالہ شہادت آسمانی، مطبوعہ رحمانیہ مونگیر میں بھی ان پینتالیس گہنوں کی فہرست بالتزام ومطابق سنین ہجری دی گئی ہے۔ جس کو مسٹر کیتھ کی کتاب ”یوز آف دی گلوبس“ سے نقل کیا گیا ہے۔ جس میں کسوف وخسوف کی جدول ص ٢٧٣ سے ص ٢٧٦ تک شائع کی ہے اور کلیہ قواعد بیان کئے ہیں۔ جن کی رو سے ابتدائی سنہ ہجری سے ١٣١٢ھ تک جن سالوں میں اسی التزام سے چاند وسورج گہن ماہ رمضان میں واقع ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد ٦٠ ہوتی ہے اور ١٧ کاذب مدعیان مہدویت کے زمانوں میں ماہ رمضان میں چاند وسورج گرہن اسی ترتیب سے ہوئے ہیں۔ جس ٤
ترتیب سے ١٣١٢ھ میں ہوا۔ اس اعتبار سے مرزا قادیانی نے مذکور دیا ہے۔ ”لا حول ولا قوة الا باللہ“ مدعی مہدویت اور س ، النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الہدٰی“ جملہ اہل اسلام کے لئے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے
پہلا کسوفین
١٢٧٦ھ میں مطابق ١٨٥١ء ہندوستان میں ہوا۔ اس موجود ہوں گے۔ ان گہنوں کی تاریخ ١٣ اور ٢٨ رمضان ہے۔ اس بارہ برس کی ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے (کتاب البریہ ص ١٤٩، خزا پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء بتائی ہے۔ اس حساب سے یہ کسوفین م بہت پہلے ہیں۔
دوسرا کسوفین
١٣١١ھ کے ماہ رمضان میں ہوا۔ جو ١٨٩٤ء کے مطا وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ہندوستان میں وہ کسوفین کی تاریخ ١٢ ہے، ١٣ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی ہندوستانی ہیں اور (حقیقت الوحی ص ١٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٤) میں اس کسوفی حوالہ دے دیا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون وارد نہیں ہوا ہے اور مزہ یہ ہ امریکہ میں ظاہر ہو رہا ہے۔ جہاں کے باشندوں کو اس کے وجو
تیسرا کسوفین
١٣١٢ھ کے ماہ رمضان کی ١٣ اور ٢٨ مطابق ٢٦ مار جسے مرزا قادیانی نے اپنے لئے آسمانی نشان مشہور کیا اور دان حالانکہ چالیس برس کے گہنوں میں یہ تیسرا کسوفین ہے۔ جو ا مطابق واقع ہوا۔ پھر یہ نشان اور آیت کیونکر قرار پاسکتا ہے؟ ہے کہ ”لم تکونا منذ خلق اللہ السمٰوت والارض ہے اور آخر میں بھی۔ ”لم تکونا“ کی ضمیر تثنیہ لازماً سور ٥
ترتیب سے ١٣١٢ھ میں ہوا۔ اس اعتبار سے مرزا قادیانی نے مذکورہ ١٧ کی تعداد میں ایک کا اضافہ کر دیا ہے۔ ”لا حول ولا قوة الا باللہ “ مدعی مہدویت اور سفید جھوٹ ”نعوذ باللہ من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الهدیٰ“
جملہ اہل اسلام کے لئے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ:
پہلا کسوفین
١٢٦٧ھ میں مطابق ١٨٥١ء ہندوستان میں ہوا۔ اس کے دیکھنے والے اس وقت تک موجود ہوں گے۔ ان گہنوں کی تاریخ ١٣ اور ٢٨ رمضان ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر گیارہ یا بارہ برس کی ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے (کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ حاشیہ) میں اپنی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء بتائی ہے۔ اس حساب سے یہ کسوفین رمضان ان کے دعوے کرنے سے بہت پہلے ہیں۔
دوسرا کسوفین
١٣١١ھ کے ماہ رمضان میں ہوا۔ جو ١٨٩٤ء کے مطابق ہے۔ یہ امریکہ میں ہوا۔ جس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ہندوستان میں دیکھا ہی نہیں گیا۔ جنتریوں میں اس کسوفین کی تاریخ ١٢ ہے، ١٣ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی ہندوستان میں ہو کر اس کی تاریخ ١٣ بتاتے ہیں اور (حقیقت الوحی ص ١٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٤) میں اس کسوفین کو بھی اپنا نشان بتایا ہے اور محض حوالہ دے دیا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت میں ایسے گہن دو مرتبہ ہوں گے۔ حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون وارد نہیں ہوا ہے اور مزہ یہ ہے کہ مدعی ہندوستان ہے اور نشان امریکہ میں ظاہر ہو رہا ہے۔ جہاں کے باشندوں کو اس کے وجود کا علم تک نہیں ہے۔
تیسرا کسوفین
١٣١٢ھ کے ماہ رمضان کی ١٣ اور ٢٨ مطابق ٢٦ مارچ ١٨٩٥ء کو ہوا۔ یہی کسوفین ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے اپنے لئے آسمانی نشان مشہور کیا اور دار قطنی کی روایت کا مصداق قرار دیا۔ حالانکہ چالیس برس کے گہنوں میں یہ تیسرا کسوفین ہے۔ جو ماہ رمضان میں قواعد مقررہ نجوم کے مطابق واقع ہوا۔ پھر یہ نشان اور آیت کیونکر قرار پاسکتا ہے؟ جب کہ حدیث میں یہ ارشاد موجود ہے کہ ”لم تکونا منذ خلق اللہ السمٰوت والارض“ یہ جملہ حدیث کے شروع میں بھی ہے اور آخر میں بھی۔ ”لم تکونا“ کی ضمیر تثنیہ لازماً سورج گہن اور چاند گہن دونوں کی طرف
٥
پھرتی ہے۔ کوئی دوسرا مرجع اس ضمیر کا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس جملہ کے یہی معنی ہیں کہ جب سے خدا تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اس وقت تک یعنی مہدی موعود بالحق کے وقت تک ایسا کسوفین کبھی نہ ہوا ہو گا اور اس سے پیشتر کسی وقت اس خارق عادت کسوفین کی نظیر نہیں مل سکتی۔
اور مرزا قادیانی کے زمانہ کے کسوفین واقعہ ١٣١٢ھ کی نظیر تو ایک نہیں دو مرتبہ اس چھیالیس برس کے دوران میں ملتی ہے۔ ایک ١٣١١ھ دوسری ١٢٦٨ھ تو پھر معلوم ہوا کہ ”لم تکونا منذ الخ “ کی شرط اس میں ثابت نہیں ہے۔ اس لئے یہ کسوفین آیت اور نشان نہیں قرار پا سکتا اور یہ مدعی مہدویت کاذب ہے۔
اس تحقیق پر ہم کہتے ہیں کہ مرزائیوں میں اگر کوئی دانشمند ہے تو اس کو اب لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ ١٣١٢ھ کا کسوفین ماہ رمضان مرزا قادیانی یا کسی دوسرے مدعی مہدویت کی صداقت کا نشان نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح ہے تو مرزا قادیانی نے اس کے معنی غلط سمجھے ہیں۔ حدیث میں جس کسوفین کو مہدی کا نشان بتایا گیا ہے وہ ایسا ہونا چاہئے جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور اجتماع کسوفین جو آدم سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں مرتبہ ہولیا وہ کسی کی صداقت یا کذب کا نشان کیونکر ہو سکتا ہے؟
مہدی کاذب کے عقائد فاسدہ
اب ذیل میں ہم مرزا قادیانی کاذب مدعی مہدویت کے بعض عقائد جو قرآن وحدیث اور جمہور اہل اسلام کے بالکل مخالف ہیں اسی کی مصنفات مشہورہ سے درج کرتے ہیں۔ تا کہ تمام اہل اسلام و ایمان واقف ہو جائیں کہ ایسا شخص نہ صرف دعویٰ مہدویت ہی میں کاذب ہے۔ بلکہ وہ مخرب اسلام اور مخالف دین مبین بھی ہے۔
- اوّل ...... مرزا قادیانی کا خدا (عاجی) ہے اور لغت میں عاجی، ہاتھی دانت یا گوبر کو کہتے ہیں۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج١ ص ٦٦٣) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”ہمارا خدا عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔“ انتہیٰ بلفظہ!
- دوم...... مرزا فرشتوں کا قائل نہیں اور حوادث عالم کو سیارات کی تاثیر مانتا ہے۔ لقولہ ”ملائکہ وہ
روحانیات ہیں کہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ یا دساتیر وید کے موافق ارواح کواکب ان کو نام زد کریں۔ یا پنہانی طریق سے ملائکۃ اللہ کا ان کو لقب دیں۔ درحقیقت یہ ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور عالم میں جو کچھ ہورہا ہے انہیں
٦
سیاروں کے قوالب اور ارواح کی تاثیرات سے ہورہا ہے۔“
(توضیح المرام
- سوم ...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ نبیوں نے جھوٹ بولا۔ ”ہم
اس کے فتح کے بارہ میں پیش گوئی کی۔ اس میں وہ جھوٹے نکلے میدان میں مارا گیا۔“
(ازا
- چہارم ...... مرزا قادیانی کے خیال میں حضرت سلیمان و جناب
عیسیٰ کے معجزات از قسم شعبدہ بازی اور لوگوں کو فریفتہ کرنے والے یہ حضرت مسیح علیہ السلام کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونکنا السامری کے معجزہ کی طرح عملی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے کرنے والے تھے۔“
(ازالۃ ا
- پنجم...... مرزا قادیانی کے عقیدہ میں پیغمبر اسلام علیہ وآلہ
کی پیشگوئیاں اور وحی غلط نکلیں تھیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص
”اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ا نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے باعث پوری منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دج اور نہ یاجوج ماجوج کے عمق تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو ا فرمائی گئی ہو۔“
- ششم ...... مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح علیہ السلام یوسف
اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری
- ہفتم...... مرزا قادیانی پیغمبر اسلام علیہ وآلہ السلام کے م
جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
- ہشتم ...... مرزا قادیانی کے خیال میں قرآن میں گالیاں
ہیں اور سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک اندھا بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذب
٧
سیاروں کے قوالب اور ارواح کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٣٣ تا ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٦٧ تا ٧١)
سوم ...... مرزا قادیانی کہتا ہے کہ نبیوں نے جھوٹ بولا۔ ”ایک بادشاہ کے وقت چار سو نبی نے اس کے فتح کے بارہ میں پیش گوئی کی۔ اس میں وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مارا گیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
چہارم ...... مرزا قادیانی کے خیال میں حضرت سلیمان و جناب مسیح علیہما السلام کے معجزات محض عقلی، بے سود از قسم شعبدہ بازی اور لوگوں کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ ”بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ حاشیہ)
پنجم ...... مرزا قادیانی کے عقیدہ میں پیغمبر اسلام علیہ وآلہ السلام کی بھی وحی غلط نکلی۔ ”حضرت رسول خدا ﷺ کی اور وحی غلط نکلیں تھیں۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٨٨، ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧١ ملخص)
”اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے مو بمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کے عمق تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی ہو۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
ششم ...... مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح علیہ السلام یوسف نجار کا بیٹا ہے۔ ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
ہفتم ...... مرزا قادیانی پیغمبر اسلام علیہ وآلہ السلام کے معراج سے منکر ہے۔ ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
ہشتم ...... مرزا قادیانی کے خیال میں قرآن میں گالیاں دی گئی ہیں۔ ”قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک
٧
سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنانا کہ ان پر لعنت بھیجتا ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٢٦، ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١١٥ حاشیہ)
’’اس نے (قرآن شریف نے) ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦ حاشیہ)
نہم ...... مرزا قادیانی کے اعتقاد میں نبوت ختم نہیں ہوئی۔ ’’اگر عذر ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔‘‘ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
دہم ...... مرزا قادیانی باوجود خود مدعی مہدویت ہونے کے امام مہدی کے آنے کا قائل نہیں ہے۔ ’’محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)
’’امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)
یازدہم ...... مرزا قادیانی پادریوں کو دجال مانتا ہے۔ ’’پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے۔ جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦، انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)
دوازدہم ...... مرزا قادیانی خر دجال ریل کو سمجھتا ہے۔ ’’وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
سیزدہم ...... مرزا قادیانی کے نزدیک یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں۔ ’’یاجوج و ماجوج سے دو قومیں انگریز و روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٧٩)
چہاردہم ...... مرزا قادیانی علماء کو دابۃ الارض مانتا ہے۔ ’’دابۃ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے۔ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی ۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
پانزدہم ...... مرزا قادیانی دخان کا بھی منکر ہے۔ ’’دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٥١٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٥)
٨
شانزدہم ...... مرزا قادیانی مغرب سے آفتاب نکلنے کا بھی منکر آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور سے حصہ ملے گا۔‘‘
(ازالۃ اوہام
ہفدہم ...... مرزا قادیانی کو عذاب قبر سے بھی انکار ہے۔ ’’کسی قبر میں
(ازالۃ او
ہجدہم ...... مرزا قادیانی تناسخ کو بھی صحیح مانتا ہے۔
بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ
(م
’’ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلۂ تحلیل جاری ہے ج و جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہ یا متحلل ہو جاتا ہے۔‘‘
(چش
غرض مرزا قادیانی کے ایسے ہفوات اس قدر ہیں کہ اگ کیا جائے تو کئی مجلد بھی اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ بطور نمونہ اس جگہ لکھ دیئے ہیں۔ تاکہ اہل اسلام ایسے مخربان دین کے دھوکہ کذاب نے توہین خدا، توہین انبیاء، توہین اسلام، توہین علماء اسلا کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی توہین کر
(نزول
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے۔
(از
اور انہوں نے ضمیمہ الہدیٰ میں پہلے تو مولوی صاح ہیں۔ مثلاً یہودی، بدذات، مردار خوار، گندی روح، بے ایمان، کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سخت زبان درازی کی ہے۔ جس
٩
شانز دہم ...... مرزا قادیانی مغرب سے آفتاب نکلنے کا بھی منکر ہے۔ ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٧)
ہفدہم ..... مرزا قادیانی کو عذاب قبر سے بھی انکار ہے۔ ”کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤١٥، خزائن ج ٣ ص ٣١٦)
ہجدہم ...... مرزا قادیانی تناسخ کو بھی صحیح مانتا ہے۔
بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ام
(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
”ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل جاری ہے۔ یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ وجدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل کر متحلل ہو جاتا ہے۔“
(جنگ مقدس ص ١٠، خزائن ج ٦ ص ٩٢)
غرض مرزا قادیانی کے ایسے ہفوات اس قدر ہیں کہ اگر اس کی کتابوں سے سب کو جمع کیا جائے تو کئی مجلد بھی اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ بطور نمونہ یہ چند عقیدے اس کے میں نے اس جگہ لکھ دیئے ہیں۔ تا کہ اہل اسلام ایسے مخربان دین کے دھوکوں سے بچیں۔ کیونکہ اس مہدی کذاب نے توہین خدا، توہین انبیاء، توہین اسلام، توہین علماء اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے لکھا ہے۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے۔
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
اور انہوں نے ضمیمہ الہامی میں پہلے تو مولوی صاحبان کو اس طرح سخت گالیاں دی ہیں۔ مثلاً یہودی، بدذات، مردار خوار، گندی روح، بے ایمان، اندھے، کتے وغیرہ وغیرہ! بعد اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سخت زبان درازی کی ہے۔ جس سے ہر سچے مسلمان کے سن کر
٩
رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ ایک اولوالعزم پیغمبر کی کیا توہین ہو سکتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”(معاذ اللہ) ایک زنا کار کنجری نے آپ (مسیح علیہ السلام) کے سر پر ناپاک اور حرام کی کمائی کا عطر ملا اور اس کو بغل میں لیا۔“ وغیرہ وغیرہ! (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”لا حول ولا قوة الا بالله“ ایسا شخص تو اسلام میں نہیں رہ سکتا۔ پھر اہل اسلام کا امام مہدی کیونکر بن سکتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام مذکورہ عقائد مرزا قادیانی کے بالاتفاق مخالف اسلام ہیں۔
اب ناظرین کو اس مختصر و مفید مضمون سے کم از کم مرزا کی حقیقت روشن ہو جائے گی کہ اس مدعی کاذب نے احکام الہی اور فرامین رسالت پناہی کی تخریب میں کس قدر کوشش بلیغ کر کے دنیا جمع کی ہے اور نفس امارہ کی پیروی میں کیا کچھ مرزا قادیانی نے نہیں کیا۔ مگر حشرات الارض ہیں۔ جو ایسے شخص کو بھی صادق سمجھ کر کیا کچھ نہیں مانتے۔
دوستو! غائر نظر ڈالو کہ حضرت امام مہدی موعود علیہ السلام کے اوصاف جو صحیح حدیثوں میں آئے ہیں۔ ان سے یہ واضح اور روشن ہے کہ ظہور موفورالسرور پر صلیب پرستی اور کفر، بنیاد سے مٹ جائے گا۔ بتاؤ! کہ اس مہدی کاذب نے عمر بھر میں ایک اینٹ بھی کفر یا صلیب پرستی کی گرائی۔ ان سے یہ بھی تو نہ ہو سکا کہ سودوسو صلیب پرست ہی ان پر ایمان لاتے۔ پھر انہوں نے کیا کیا بجز اس کے کہ تہتر فرقوں کی مختلف شاخوں میں مرزائیت کی اور ایک شاخ کا اضافہ کر دیا۔ پھر اس کو مہدی موعود مانیں تو کیوں۔ دوسروں سے اس کی مہدویت منواؤ تو کیسے۔ وعدہ ”یملاء الارض قسطاً وعدلاً“ تو پورا نہ ہوا۔ ” کما ملئت ظلماً وجوراً “ میں اضافہ ضرور ہوا۔
کس قدر افسوس ہے کہ ان کی جماعت میں جو نیک طبع لوگ ہیں۔ وہ اس میں غور نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی مجدد ہوئے، مہدی ہوئے، مسیح ہوئے، نبی ہوئے، رسول ہوئے، ابن اللہ بنے، غرض کیا تھے کیا بن گئے۔ مگر اس عرصہ دراز میں اسلام اور مسلمانوں کو ان سے کیا نفع پہنچا؟ سو پچاس کی بھی ترقی نہ ہوئی۔ بلکہ ان کو نہ ماننے والے چالیس کروڑ مسلمان بھی ان کے نزدیک کافر ہو گئے۔ ایسے روشن حالات کے ہوتے ہوئے بھی تعجب ہے کہ ان کی جماعت جو معدودے چند نفوس ہیں۔ ان باتوں کو نہیں سمجھتے اور ضد و ہٹ پراڑے ہوئے ہیں کہ ایمان جائے، مگر بات نہ جانے پائے۔ ”لا حول ولا قوة الا بالله، نعوذ بالله من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الہدیٰ“ رقمہ خادم الشریعۃ المطہرہ علی الحائری، محلہ شیعاں موچی دروازہ لاہور......... ماه شعبان ١٣٤٢ھ
١٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسیح موع
حضرت مولانا سید علی الحائر
یا توہین ہو سکتی ہے کہ وہ لکھتے کے سر پر ناپاک اور حرام کی ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) ”لا بل اسلام کا امام مہدی کیونکر اسلام ہیں۔ حقیقت روشن ہو جائے گی کہ کس قدر کوشش بلیغ کر کے س کیا۔ مگر حشرات الارض کے اوصاف جو صحیح حدیثوں ب پرستی اور کفر، بنیاد سے بھی کفر یا صلیب پرستی کی ن لاتے۔ پھر انہوں نے ایک شاخ کا اضافہ کر دیا۔ تو کیسے۔ وعدہ یملاء میں اضافہ ضرور ہوا۔ ہیں۔ وہ اس میں غور نہیں رسول ہوئے، ابن اللہ ان سے کیا نفع پہنچا؟ سو بھی ان کے نزدیک کافر عت جو معدودے چند مان جائے، مگر بات نہ نس الامارة بالسوء ی الحائری، محلہ شیعان ۔۔۔۔ ماہ شعبان ١٣٤٤ھ
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
اسمہ کاسمی وکنيتہ ککنیتی
مسیح موعود
حضرت مولانا سید علی الحائری لاہوری
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله على عميم الائه ، وجزيل نعمائه ، وله الشكر ملأ ارضه وسمائه ، وافضل صلواته وتسليماته ، على افضل انبيائه واشرف سفرائه محمد الهادى الى سبيل الرشد وسوائه ، اما بعد !
اہل اسلام کو عموماً اور اہل ایمان کو خصوصاً معلوم ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے پاس مایہ ناز صرف ایک مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام ہے۔ جس پر محمودی اور پیغامی دونوں پارٹیاں نازاں ہیں کہ مسلمانوں کے جملہ فرقے نہ مسئلہ وفات مسیح میں ہمارے دلائل کی تردید کرسکتے ہیں اور نہ حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کر سکتے ہیں۔ عام طور پر اس کے متعلق اطراف وجوانب سے میرے پاس بکثرت خطوط موصول ہو رہے ہیں کہ مسئلہ حیات وممات مسیح پر بدلائل وبراہین میں اپنے خیالات کا اظہار کروں اور اس کے متعلق قرآنی فیصلہ جو کچھ بھی ہو، لکھ دوں۔ تاکہ حیات ووفات مسیح میں مرزائیوں نے جس قدر پیچیدگیاں پیدا کر رکھی ہیں، زائل ہوں اور مسلمان ان کے ان ہتھکنڈوں سے بچ سکیں۔
اس لئے کثرت مشاغل شرعیہ اور عدیم الفرصتی کے باوجود میں اس مختصر رسالہ میں پہلے تاریخی واقعہ حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھ کر ذیل میں ازالہ اعتراضات کروں گا۔
تواریخ معتبرہ میں اسانید معتمدہ سے مرقوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک ظالم بادشاہ تھا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام خدا کی طرف سے مامور ہوئے کہ اس کو دین حق کی دعوت دیں اور صراط مستقیم بتائیں۔ وہ ططیانوس یا دائود بن لوازم کے نام سے مشہور تھا۔
بناء بریں جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اس کے پاس یہ ظاہر کیا کہ میں پیغمبر ہوں اور کتاب انجیل ہدایت خلق کے لئے خدا کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ جس میں اس زمانہ کے مصالح کے موافق احکام اور اوامر ونواہی سب موجود ہیں اور میں مامور کیا گیا ہوں کہ خدا کے احکام تم سب کو پہنچائوں۔ اس لئے تم کو چاہئے کہ میرے دین کی متابعت کرو اور اس کی پیروی میں خدا کی پرستش میں منہمک ہو جائو۔
ظالم بادشاہ نے نہ صرف دین عیسیٰ علیہ السلام سے ہی انکار کیا۔ بلکہ آنجناب کی تکلیف ٢
اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس ملعون نے یہ مصمم ارادہ کر لیا کہ جس طرح ہو سکے۔ جناب مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے۔ آنجناب علیہ السلام اس تبلیغ کرتے رہے۔
اسی اثناء میں آپ نے حواریوں سے ایک روز وصیت کی کہ قریش میں سے ایک آخری نبی امی العربی ﷺ آنے والا ہے۔ جس کو محمد سے پکارا جائے گا۔ وہ لوگوں کو دین اسلام کی طرف دعوت دے گا اور اس طرف مبعوث ہوگا۔ ان کا دین جملہ ادیان سلف کا ناسخ ہوگا اور ان کے بعد پیغمبر نہیں آئے گا اور اسی کی نبوت، دین اور شریعت قائم ودائم رہے گی اور مرتبہ انبیاء سلف کے برابر ہوگا۔ یہ میری وصیت ہے تم میں سے ہر شخص آگے بتاتے رہنا۔ یہاں تک کہ جو شخص آنجناب ﷺ کو پالے وہ فوراً اس پر ایمان
مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں ایک شخص جو منافق تھا حاضر ہوا اور جناب مسیح علیہ السلام کے مخفی ہونے اور اسرار سے بادشاہ کو بادشاہ کی طرف سے کچھ لوگ تاریکی شب میں جناب مسیح علیہ السلام کے اور مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر کے انہوں نے ایک مکان کے اندر قید کر دیا مکان کا محاصرہ کر لیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو اس ظالم بادشاہ کے حکم سے صلیب پر چڑھانے کے لئے ایک مکان کے اندر انتظام کیا گیا اور یہ ہو گیا۔ اس وقت جبرئیل علیہ السلام بحکم رب جلیل نازل ہوئے اور اس سے جناب مسیح علیہ السلام کو آسمان پر لے گئے۔ صبح جب آفتاب طلوع ہوا شخص کو اس قید خانہ میں اس غرض سے بھیجا کہ وہ مسیح علیہ السلام کو صلیب لائے۔ وہ شخص جب داخل ہوا تو مکان کو اس نے بالکل خالی پایا۔ خدا سے اسی وقت اس نجس اور منحوس شخص کو جناب مسیح علیہ السلام کا ہم شکل مسیح ، بے نیل مرام باہر آن کر جماعت سے کہنے لگا کہ مکان اور قید نہیں ہے۔ جماعت نے اس شخص کو مسیح کی شباہت کے سبب شبہ میں پکڑ ہم مامور ہیں کہ تجھے صلیب پر چڑھائیں۔ غرض اسی شبہ میں وہ شخص ٣
اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس ملعون نے یہ مصمم ارادہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو سکے۔ جناب مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے۔ آنجناب علیہ السلام اس ملعون کے خوف سے مخفی تبلیغ کرتے رہے۔
اسی اثناء میں آپ نے حواریوں سے ایک روز وصیت کی کہ یاد رکھو۔ میرے بعد قوم قریش میں سے ایک آخری نبی امی العربی ﷺ آنے والا ہے۔ جس کو محمد ﷺ اور احمد ﷺ کے نام سے پکارا جائے گا۔ وہ لوگوں کو دین اسلام کی طرف دعوت دے گا اور انس و جن اور سفید و سیاہ کی طرف مبعوث ہوگا۔ ان کا دین جملہ ادیان سلف کا ناسخ ہوگا اور ان کے بعد دامن قیامت تک کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور اسی کی نبوت، دین اور شریعت قائم و دائم رہے گی۔ اس کی امت کے علماء کا مرتبہ انبیاء سلف کے برابر ہوگا۔ یہ میری وصیت ہے تم میں سے ہر شخص بطناً بعد بطن اپنی اولاد کو بتاتے رہنا۔ یہاں تک کہ جو شخص آنجناب ﷺ کو پالیوے فوراً اس پر ایمان لائے۔
مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں ایک شخص جو منافق تھا اس ظالم بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور جناب مسیح علیہ السلام کے مخفی ہونے اور اسرار سے بادشاہ کو اس نے مطلع کیا۔ پس بادشاہ کی طرف سے کچھ لوگ تاریکی شب میں جناب مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لئے پہنچے اور مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر کے انہوں نے ایک مکان کے اندر قید کر دیا اور چاروں طرف سے اس مکان کا محاصرہ کر لیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو اس ظالم بادشاہ کے حکم سے جناب مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے لئے ایک مکان کے اندر انتظام کیا گیا اور یہودیوں کا انبوہ کثیر وہاں جمع ہو گیا۔ اس وقت جبرئیل علیہ السلام بحکم رب جلیل نازل ہوئے اور اس قید خانہ کی چھت کی طرف سے جناب مسیح علیہ السلام کو آسمان پر لے گئے۔ صبح جب آفتاب طلوع ہوا تو یہودیوں نے ایک شخص کو اس قید خانہ میں اس غرض سے بھیجا کہ وہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے لئے پکڑ لائے۔ وہ شخص جب داخل ہوا تو مکان کو اس نے بالکل خالی پایا۔ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسی وقت اس متجسس اور نجس شخص کو جناب مسیح علیہ السلام کا ہم شکل وصورت بنا دیا۔ یہ ہم شکل مسیح، بے نیل مرام باہر آن کر جماعت سے کہنے لگا کہ مکان اور قید خانہ کے اندر تو مسیح کا پتہ بھی نہیں ہے۔ جماعت نے اس شخص کو مسیح کی شباہت کے سبب شبہ میں پکڑ لیا اور کہا کہ تو ہی تو مسیح ہے ہم مامور ہیں کہ تجھے صلیب پر چڑھائیں۔ غرض اسی شبہ میں وہ شخص صلیب پر چڑھا دیا گیا اور مسیح
٣
آسمان پر چلے گئے اور آیت مجیدہ ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کا خلاصہ میں نے درج کر دیا ہے۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قتل ضرور واقع ہوا ہے۔ کیونکہ لفظ شبہ آیت میں موجود ہے۔ ”وما قتلوه وما صلبوه“ سے یہ واضح ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام یقیناً نہ تو قتل کئے گئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ ابن جریر، ابن منذر، عبد بن حمید، سعید بن منصور، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اس واقعہ کو تفصیل سے لکھا ہے اور جمہور اہل اسلام کا اسی پر اتفاق اور اجماع ہے۔
کلبی نے بروایت ابی صالح ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ اس ظالم بادشاہ کا نام ططیانوس تھا اور سیوطی نے تفسیر درمنثور میں بادشاہ کا نام داؤد بن لوزا لکھا ہے۔
وھب بن منبہ سے منقول ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رات کے وقت پکڑ لیا گیا کہ صبح ہوتے ہی صلیب پر چڑھا دیا جائے۔ مگر فرشتوں نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر پہنچا دیا اور یہودیوں کو اس کا پتہ بھی نہ لگ سکا اور وہ تکتے ہی رہ گئے۔
اختلاف ہے اس میں کہ جس کو شبہ میں سولی چڑھایا گیا منافق تھا، یا موافق۔ بعض نے لکھا ہے کہ وہ یہودی تھا اور مسیح کا سخت دشمن تھا۔
اور بعض لکھتے ہیں کہ وہ شخص جناب مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھا۔ لیکن بعد میں وہ بھی منافقوں میں مل گیا تھا اور مسیح علیہ السلام نے پہلے ہی حواریوں کو خبر دی ہوئی تھی کہ کل صبح تم میں سے ایک شخص دین کو دنیا سے بیچ دے گا۔ ایسا ہی ہوا کہ صبح ہوتے ایک حواریوں میں سے یہودیوں کے ہاں گیا اور تیس درہم لے کر مسیح علیہ السلام کے مخالف ہو گیا اور تمام راز یہودیوں سے کہہ کر مسیح علیہ السلام کو پکڑوایا۔ قدرت نے مسیح علیہ السلام کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور وہ شخص منافق شبہ میں خود گرفتار ہو کر سولی چڑھا دیا گیا۔
فخر رازی نے لکھا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام بحکم رب جلیل جب مسیح علیہ السلام کو آسمان پر لے گئے تو لوگ تین فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ ایک فرقہ تو مسیح علیہ السلام کو خدا سمجھنے لگا۔ دوسرا فرقہ ابن اللہ اور تیسرے فرقہ کا یہ عقیدہ ہوا کہ مسیح علیہ السلام نہ تو خدا ہے اور نہ ابن اللہ۔ ”ولکنہ عبداللہ ورسولہ“ بلکہ وہ خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے اور وہ زندہ ہے بوقت ظہور حضرت
٤
٦١
مہدی موعود زمین پر دوبارہ نازل ہو کر زمین کو عدل و ایمان سے بھر دیں گے۔
حیات اور صعودِ مسیح الی السماء کا قرآنی ثبوت
”قوله تعالى يعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ السلام کے حیات اور صعود الی السماء دونوں کا ثبوت موجود ہے۔ کیونکہ لفظ لسان کی محاورات میں قبض کے معنی میں مستعمل ہے اور عرف میں کہا جاتا ہے دراهمی“ یعنی فلاں شخص نے دراہم میرے قبضہ میں دے دیئے۔ لہذا ہو سکتے ہیں۔
نوم کے معنی میں بھی لفظ توفی استعمال ہوتا ہے۔ ”کما قا بالليل“ اور متوفیک ممیتک کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
وفات کے معنی لینے والوں کو اختلاف ہے کہ صعود الی السما فوت ہوئے تھے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر گئے۔ تاکہ آسمان پر پہنچانے اس میں بھی اختلاف ہے کہ مسیح علیہ السلام کتنے عرصہ کے بعد زندہ کئے گ ہے کہ تین گھنٹے یا سات گھنٹے ان پر موت واقع ہوئی اور بعض کہتے ہیں ک کئے گئے اور ایک جماعت اس بات کی بھی قائل ہے کہ وہ زندہ آسمان پر نے لکھا ہے کہ نوم (نیند) کی حالت میں وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ کیو استعمال ہوا ہے۔
”لقوله تعالى هو الذى يتوفكم بالليل اى ينيم يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها“
لیکن شان نبوت کے شایان اصح قول یہ ہے کہ مسیح علیہ ال گئے اور وہ اس وقت تک زندہ ہیں اور وقت موعود پر نازل ہو کر امام غائب السلام کے ساتھ اقتداء کریں گے۔
کتاب ”من لا یحضرہ الفقیہ“ میں امام زین العابدین علی آسمانوں میں کچھ بقعات خدا کے ہیں۔ جب کسی شخص کو خدا ان بو پہنچاتا ہے تو گویا خدا نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔ کیا تم نہیں سنتے کہ عی
٥
مہدی موعود زمین پر دوبارہ نازل ہو کر زمین کو عدل وایمان سے بھردیں گے۔ (یہی عقیدہ صحیح ہے)
حیات اور صعود مسیح الی السماء کا قرآنی ثبوت
"قوله تعالیٰ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی" اس آیت میں مسیح علیہ السلام کے حیات اور صعود الی السماء دونوں کا ثبوت موجود ہے۔ کیونکہ لفظ "توفی" عرب اہل لسان کی محاورات میں قبض کے معنی میں مستعمل ہے اور عرف میں کہا جاتا ہے۔ "وفانی فلان دراهمی" یعنی فلاں شخص نے دراہم میرے قبضہ میں دے دیئے۔ لہذا توفی کے معنی قبضہ کے بھی ہو سکتے ہیں۔
نوم کے معنی میں بھی لفظ توفی استعمال ہوتا ہے۔ "کما قال ہو الذی یتوفکم باللیل" اور متوفیک ممیتک کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
وفات کے معنی لینے والوں کو اختلاف ہے کہ صعود الی السماء سے پہلے مسیح علیہ السلام فوت ہوئے تھے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر گئے۔ یا کہ آسمان پر پہنچانے کے بعد زندہ کئے گئے اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ مسیح علیہ السلام کتنے عرصہ کے بعد زندہ کئے گئے۔ وہ کہتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ تین گھنٹے یا سات گھنٹے ان پر موت واقع ہوئی اور بعض کہتے ہیں کہ مجرد مر جانے کے وہ زندہ کئے گئے اور ایک جماعت اس بات کی بھی قائل ہے کہ وہ زندہ آسمان پر پہنچائے گئے...... اور بعض نے لکھا ہے کہ نوم (نیند) کی حالت میں وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ کیونکہ نوم بھی توفی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
"لقوله تعالیٰ ہو الذی یتوفکم باللیل ای ینیمکم ولقوله تعالیٰ اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا"
لیکن شان نبوت کے شایان اصح قول یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہ اس وقت تک زندہ ہیں اور وقت موعود پر نازل ہو کر امام ثانی عشر حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے ساتھ اقتداء کریں گے۔
کتاب "من لا یحضرہ الفقیہ" میں امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آسمانوں میں کچھ بقعات خدا کے ہیں۔ جب کسی شخص کو خدا ان بقعات میں سے کسی بقعہ تک پہنچاتا ہے تو گویا خدا نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔ کیا تم نہیں سنتے کہ عیسیٰ بن مریم کے قصہ میں فرمایا
٥
ہے ۔ ” بل رفعه الله اليه“ (بلکہ خدا نے اس کو اپنے پاس بلا لیا) تفسیر عیاشی میں ہے کہ جناب امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر بلائے گئے تو اون کا ایک چغہ پہنے ہوئے تھے۔ جسے حضرت مریم علیہا السلام نے اپنے ہاتھ سے کاتا تھا اور بنا تھا۔ رنگ اس کا سیاہ تھا۔ جب وہ آسمان پر پہنچ گئے تو آواز آئی کہ اے عیسیٰ علیہ السلام اب دنیا کی زینت کو دور کر دو۔ غرض مسیح علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے اور مصلوب و مقتول نہ ہونے کے ثبوت کے لئے مختلف وجوہ ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں۔
وجہ اوّل
مذکورہ آیت میں لفظ ”رافعك“ قرینہ صحیحہ ہے کہ متوفیک اس آیت میں ”انی عاصمك من تصلك الكفار ومؤخرك الى اجل اكتبه لك“ کے معنی رکھتا ہے۔ کیونکہ اگر ”متوفيك مميتك“ کے معنی میں ہو تو فقرہ رافعک بے معنی اور لغو قرار پاتا ہے اور دوسرا قرینہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ یقینا“ بھی موجود ہے۔ جس میں علانیہ صلیب کا سلب اور قتل کی نفی بلفظ یقیناً کی گئی ہے۔ اس لئے ”ممیتک“ کے معنی میں لفظ متوفیک لیا جا سکتا ہی نہیں۔
وجہ دوم
یہ ہے کہ قرآن میں آیا ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ کہ اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی باقی نہیں رہے گا۔ مگر یہ کہ اس کو مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لانا پڑے گا اور ظاہر ہے کہ ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ پس لازماً یہ ثابت ہوا کہ جناب مسیح علیہ السلام یقیناً مرے نہیں ہیں اور اس وقت تک برابر زندہ رہیں گے کہ تمام اہل کتاب ان پر ضرور ایمان لائیں۔ وہی زمانہ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ہوگا۔ روایتوں سے بھی اسی معنی اور مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ جیسا کہ (شیعہ) کی تفسیر قمی میں شہر بن حوشب سے منقول ہے کہ مجھ سے حجاج نے یہ کہا کہ اے شہر کتاب خدا کی ایک آیت نے مجھ کو پریشان کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اے امیر وہ کون سی آیت ہے تو اس نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور کہا کہ میں کسی یہودی یا نصرانی کی گردن مارنے کا جب حکم دیتا ہوں۔ پھر ذراسی اس کو مہلت دے دیتا ہوں۔ پھر اس کے ہونٹ بھی حرکت کرتے نہیں دیکھتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا پتہ چلے۔ شہر بیان کرتا ہے
٦
کہ میں نے کہا کہ خدا امیر کا بھلا کرے۔ اس آیت کی تاویل یہ نہیں ہے نے کہا پھر کیا ہے؟ ہم نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام قبل قیامت دنیا میں تشریف کوئی یہودی یا غیر یہودی ایسا باقی نہ رہے گا۔ جو ان کی موت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام خود جناب مہدی موعود علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں وائے ہو تجھ پر یہ تاویل تو نے کہاں سے پیدا کی۔ میں نے کہا کہ مجھ سے السلام نے بروایت اپنے آباء و اجداد کے بیان کی ہے۔ حجاج نے کہا کہ ہے۔ جس میں کوئی میل کچیل نہیں ہے۔ اہل سنت کے طریق میں یہ ر ابن سیرینؒ اور مجاہد سے تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازیؒ نے بھی نقل علیہ ہے۔ اس لئے صحیح اور یہی قابل عملدرآمد ہے اور اسی پر جمہور اہل اس
وجہ سوم
”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اس آیت م کو خدا تعالیٰ نے لفظ انی کے ساتھ اپنی ذات مقدسہ کی طرف نسبت صلیب سے قبل علم علیم متعال میں یہ قیل و قال گذر چکا تھا کہ لوگ شبہ م صلیب پر چڑھاویں گے اور اس مقتول کو مسیح سمجھ لیں گے۔ اس لئے کے متعلق یوں شہادت دی کہ ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن ہے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو سولی دی اور قتل کر دیا۔ حالانکہ مسیح علیہ نہ قتل کیا گیا۔ کیونکہ ”انی متوفیک بمعنى انی عاصمك بچانے والا ہوں۔ حدیثوں سے بھی اسی مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس شب کو خدا آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ اس شب کے متعلق آپ نے اپنے اصحاب و حضرت کے پاس جمع ہو گئے۔ ان سب کو حضرت نے ایک مکان م سے جو اس مکان کے کونے میں تھا۔ سر سے پانی جھاڑتے ہوئے ب ہے کہ وہ ابھی تھوڑی دیر میں مجھے اٹھانے والا ہے اور یہود کے شر سے کون شخص اس کو گوارا کرے گا کہ وہ میرا ہم صورت بنا دیا جائے
٧
کہ میں نے کہا کہ خدا امیر کا بھلا کرے۔ اس آیت کی تاویل یہ نہیں ہے جو آپ نے فرمائی۔ اس نے کہا پھر کیا ہے؟ ہم نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام قبل قیامت دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس وقت کوئی یہودی یا غیر یہودی ایسا باقی نہ رہے گا۔ جو ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور حضرت مسیح علیہ السلام خود جناب مہدی موعود علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوں گے۔ حجاج بولا وائے ہو تجھ پر یہ تاویل تو نے کہاں سے پیدا کی۔ میں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث امام محمد باقر علیہ السلام نے بروایت اپنے آباء واجداد کے بیان کی ہے۔ حجاج نے کہا کہ یہ گوہر تو ایسے چشمہ سے نکلا ہے۔ جس میں کوئی میل کچیل نہیں ہے۔ اہل سنت کے طریق میں یہ روایت مجاہدؒ، ضحاکؒ، سدیؒ، ابن سیرینؒ اور ابوہریرہؓ سے تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازیؒ نے بھی نقل کی ہے اور فریقین میں متفق علیہ ہے۔ اس لئے صحیح اور یہی قابل عملدرآمد ہے اور اسی پر جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔
وجہ سوم
”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اس آیت میں توفی جناب مسیح علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے لفظ انی کے ساتھ اپنی ذات مقدسہ کی طرف نسبت دی ہے۔ کیونکہ وقوع واقعہ صلیب سے قبل علم علیم متعال میں یہ قیل و قال گذر چکا تھا کہ لوگ شباہت کے شبہ میں ایک غیر مسیح کو صلیب پر چڑھا دیں گے اور اس مقتول کو مسیح سمجھ لیں گے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی حیات کے متعلق یوں شہادت دی کہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم“ یعنی ان کو شبہ ہوا ہے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو سولی دی اور قتل کر دیا۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام نہ تو سولی چڑھایا گیا اور نہ قتل کیا گیا۔ کیونکہ ”انی متوفیک بمعنی انی عاصمک“ ہے کہ میں دشمنوں سے تجھے بچانے والا ہوں۔ حدیثوں سے بھی اسی مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ جیسا کہ (شیعہ) تفسیر قمی میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس شب کو خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ اس شب کے متعلق آپ نے اپنے اصحاب سے وعدہ لیا تھا۔ چنانچہ وہ شام کو حضرت کے پاس جمع ہو گئے۔ ان سب کو حضرت نے ایک مکان میں پہنچایا اور خود ایک چشمہ میں سے جو اس مکان کے کونے میں تھا۔ سر سے پانی جھاڑتے ہوئے نکلے اور فرمایا کہ مجھے وحی خدا پہنچی ہے کہ وہ ابھی تھوڑی دیر میں مجھے اٹھانے والا ہے اور یہود کے شر سے مجھے بچانے والا ہے۔ تم میں سے کون شخص اس کو گوارا کرے گا کہ وہ میرا ہم صورت بنا دیا جائے۔ پھر وہ قتل کیا جائے۔ صلیب
٧
پر کھینچا جائے ۔ مگر آخرت میں میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو۔ ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا کہ یا روح اللہ وہ میں ہوں ۔ فرمایا تو ہی وہ ہوگا ۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ صبح ہونے سے پہلے بارہ مرتبہ کفر کرے گا۔ ایک شخص نے ان میں سے کہا کہ یا نبی اللہ وہ میں ہوں ۔ فرمایا اگر تو اپنے نفس میں یہ بات محسوس کرتا ہے تو وہ تو ہی ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے بعد تین فرقے ہو جاؤ گے ۔ دو تو خدا پر بہتان باندھیں گے اور جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ شمعون کی پیروی کرے گا اور وہ سچا ہوگا اور بہشت میں جائے گا ۔ پھر خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی گوشے کے راستہ سے اٹھا لیا اور اصحاب دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے ۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ یہودی شب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں آئے۔ پہلے تو ان یہودیوں نے اس شخص کو پکڑ لیا۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ایک شخص صبح ہونے سے پہلے پہلے بارہ مرتبہ کفر کرے گا۔ چنانچہ اس نے صبح ہونے سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بارہ مرتبہ انکار کیا۔ پھر اس نوجوان کو پکڑا۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم صورت ہو گیا تھا وہ قتل بھی کیا گیا اور سولی بھی دیا گیا۔
وجہ چہارم
آیت مذکورہ میں لفظ متوفیک صیغہ اسم فاعل ہے جو تینوں زمانوں ، ماضی ، حال، مستقبل پر شامل ہوتا ہے۔ پس اس لفظ متوفیک سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام مارے گئے۔ کیونکہ عربی قواعد کے لحاظ سے یہ معنی تب ہو سکتے اگر صیغہ ماضی کا استعمال ہوتا اور یہاں تو متوفیک اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ جس کے معنی یوں کئے جائیں گے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیرا مارنے والا ہوں اور مفہوم یہ ہوگا کہ میرے سوا تجھے نہ تو کوئی مار سکتا ہے اور نہ سولی پر چڑھا سکتا ہے۔ پس لازماً متوفیک اس جگہ عاصمک کے معنی میں استعمال ہونا چاہئے ۔ جیسا کہ شیعہ وسنی مفسرین ومحدثین نے بالاتفاق اسی معنی میں اس جگہ یہ لفظ استعمال کیا ہے ۔ ”وذالك كذالك وانا من المصدقين“
وجہ پنجم
لفظ متوفیک سے شہوات اور حظوظ بشریت کا ازالہ اور افناء بھی مراد لیا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ ابوبکر واسطی نے لکھا ہے کہ: ”یا عیسٰی انی متوفیک“ سے یہ مراد ہے کہ اے مسیح تجھ سے شہوات اور حظوظ بشریت کو میں سلب اور زائل کرنے والا ہوں ۔ کیونکہ کسی بشر کا باوجود شہوات کے
٨
آسمانوں پر صعود کرنا اور باوجود حظوظ نفسانیہ کے عالم قدوسیت خدا تعالیٰ نے اس لئے دنیاوی شہوات ولذات کو جناب مسیح علیہ سے وہ عالم السموات میں فرشتوں کے ساتھ بود و باش کرنے کے اسی مسکن اعلیٰ میں قیام پذیر رہے گا۔ جب تک کہ امام ثانی عشر مہ گے۔ تب حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر نازل ہو کر مہدی موع عدل و ایمان سے بھر دینے میں ان کے معاون و مددگار رہیں گے قرین صداقت ہے۔
وجہ ششم
توفی لغت عرب میں اخذ شئ بتمامه کے معنی تفسیر بیضاوی میں مرقوم ہے۔ ”التوفی اخذ اوفی وافیاً احتمال میں تھا کہ بعض جہال جناب مسیح علیہ السلام کے حق میں ی مع الروح کے ساتھ آسمانوں پر صعود نہ کریں گے۔ بلکہ گمان اس لئے ”رفعاً لهم ورداً عليهم“ اس آیت کریمہ میں لفظ مع الروح کے ساتھ ان کے صعود الی السماء پر دلیل اور حجت قرا
وجہ ہفتم
انسان موت کے بعد دنیا میں چونکہ منقطع الخبر والاثر آسمان پر صعود کرنے کے سبب چونکہ اہل زمین کے لئے ایک ح تھے ۔ اس لئے بھی ممکن ہے کہ کلمہ ”متوفيك“ ان کے حق میں فيه“
وجہ ہشتم
یہ صورت بھی ممکن ہے کہ لفظ متوفیک اس آیت میں خدا کا مقصود اس امر کو ظاہر کر دینا ہو کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ت وعدے کا جو تیرے متعلق میرے علم میں گزر چکا ہے کہ میں ت ادیان کے ایمان لانے کے لئے زندہ رکھوں گا اور خاص ا خصوصیت کے ساتھ آیت ”وان من اهل الكتاب الا لیو
٩
آسمانوں پر صعود کرنا اور باوجود حظوظ نفسانیہ کے عالم قدوسیت میں سکونت کرنا یقیناً ناممکن ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس لئے دنیاوی شہوات ولذات کو جناب مسیح علیہ السلام سے سلب کر دیا اور اس لحاظ سے وہ عالم السموات میں فرشتوں کے ساتھ بود و باش کرنے کے قابل ہو سکا اور اس وقت تک وہ اسی مسکن اعلیٰ میں قیام پذیر رہے گا۔ جب تک کہ امام ثانی عشر مہدی موعود علیہ السلام ظہور فرمائیں گے۔ تب حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر نازل ہو کر مہدی موعود کی اقتداء کریں گے اور زمین کو عدل و ایمان سے بھر دینے میں ان کے معاون و مددگار رہیں گے۔ یہ معنی اور مفہوم بھی معقول اور قرین صداقت ہے۔
وجہ ششم
توفی لغت عرب میں اخذ شئ بتمامہ کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں مرقوم ہے۔ ”التوفى اخذ الشئ وافياً “ پس وقوع واقعہ سے پیشتر علم علیم متعال میں تھا کہ بعض جہال جناب مسیح علیہ السلام کے حق میں یہ خیال کریں گے کہ وہ جناب جسد مع الروح کے ساتھ آسمانوں پر صعود نہ کریں گے۔ بلکہ تنہا ان کا روح بغیر جسم کے صعود کرے گا۔ اس لئے ”دفعاً لهم ورداً عليهم“ اس آیت کریمہ میں لفظ متوفیک استعمال کیا گیا۔ تا کہ جسد مع الروح کے ساتھ ان کے صعود الی السماء پر دلیل اور حجت قرار پا سکے۔
وجہ ہفتم
انسان موت کے بعد دنیا میں چونکہ منقطع الخیر والاثر ہوتا ہے۔ جناب مسیح علیہ السلام بھی آسمان پر صعود کرنے کے سبب چونکہ اہل زمین کے لئے ایک حد تک بمنزلہ منقطع الاثر ہونے والے تھے۔ اس لئے بھی ممکن ہے کہ کلمہ ”متوفيك“ ان کے حق میں استعمال کیا گیا۔ ”ھو فلا جناح فیہ“
وجہ ہشتم
یہ صورت بھی ممکن ہے کہ لفظ متوفیک اس آیت میں اس لئے استعمال ہوا ہو کہ اس سے خدا کا مقصود اس امر کو ظاہر کر دینا ہو کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں ایفا کرنے والا ہوں۔ اپنے اس وعدے کا جو تیرے متعلق میرے علم میں گزر چکا ہے کہ میں تجھے آخر زمان تک آسمان پر تمام اہل ادیان کے ایمان لانے کے لئے زندہ رکھوں گا اور خاص اہل کتاب کے ایمان لانے کی خبر تو خصوصیت کے ساتھ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ میں دی گئی
٩
ہے ۔ پس اس لئے بھی ایفاء وعدہ سے پہلے ان کا فوت ہونا کسی طرح قرین صحت نہیں ہو سکتا۔ ”فمالکم کیف تحکمون“
وجہ نہم
یہ بھی محتمل ہے کہ آیت مجیدہ میں مضاف اس جگہ محذوف ہو اور مطلب یہ ہو کہ ”یعیسیٰ انی متوفی عملک“ اس طرح قرآن مجید میں کمال فصاحت و بلاغت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں۔ جن میں مضاف محذوف اور مقدر ہے۔ لیکن ظاہر میں لوگ سطحی نظر سے قرآن میں تدبر اور غور کرنے کے سوا ہی آیتوں کے غلط سلط معنی کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور اسلام کی تخریب کرتے رہتے ہیں
وجہ دہم
یہ بھی محتمل ہے کہ متوفیک مؤخر ہو اور رافعک مقدم جیسا کہ ابن عباسؓ نے اپنی تفسیر میں بذیل آیت مجیدہ اس طرح فرمایا ہے۔ ”یعیسیٰ انی رافعک الی الان وممیتک بعد نزول علی الارض“ کہ اے عیسیٰ! اس وقت تو میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور پھر اس کے بعد زمین پر نازل ہونے کے وقت میں تجھے مارنے والا ہوں۔ اس قسم کی تاخیر و تقدیم بھی بکثرت آیتوں میں مسلمہ محدثین و مفسرین ہے۔ پس اس سے قطعاً انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تفسیر کبیر فخر الدین رازیؒ اور تفسیر درمنثور امام سیوطیؒ میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ اگر اس سے انکار کیا جائے گا تو بہت سی آیتوں کے معنی میں گڑ بڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
جیسا کہ مجمع البیان میں مرقوم ہے۔ ”اما النحویون یقولون علی التقدیم والتاخیر“ یعنی علماء نحو تقدیم اور تاخیر کے قائل ہیں اور اس آیت میں بھی ان کو تقدیم و تاخیر کا اعتراف ہے۔ جیسا کہ آیت ”فکیف كان عذابی ونذر“ میں نذر قبل العذاب مراد ہے۔ اسی طرح جناب خلیل اللہ کے قول ”بل فعله کبیرهم“ میں جمہور مفسرین نے تقدیم و تاخیر کا اعتراف کیا ہے۔ جیسا کہ (تفسیر کبیر ج ٦ مطبوعہ مصر ص ١٦٣ سطر ٢٤) میں فخر الدین رازی نے لکھا ہے کہ اس آیت میں تعلق بالشرط اور تقدیم و تاخیر مبتداء و خبر واقع ہوا ہے اور آیت میں تقدیر یوں ہے کہ ”بل فعله کبیرهم هذا ان کانوا ینطقون فاسئلوهم“ اسی طرح یہاں بھی تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔
١٠
معالم التنزیل میں امام بغویؒ نے ضحاکؒ وغیرہ جیسی ایک ان کا مذہب اور عقیدہ بھی یہی ہے کہ ”انی متوفیک“ مؤخر ہے۔ فخر رازی اور نیشا پوری نے بھی اس آیت میں تقدیم و تاخیر کا ذکر کیا ہ بھی تقدیم و تاخیر کا واقع ہونا مسلمہ مفسرین ثابت ہوا۔ اس لئے اس آی ثابت کرنے میں مرزا قادیانی نے صریح غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور ایک مسلمہ عقیدہ جمہور اہل اسلام کی مخالفت کی ہے اور صرف اپنے پ اختیار کئے ہیں۔ کیونکہ صحیح معنی کرنے میں ان کی مسیحیت ہباء منثوراً ہ من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الہدیٰ“
وفات مسیح کی کہانی مرزا قادیانی کی زبانی
مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے براہین ودلائل مرزا قادیانی کی کہانی وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق مع التردید ف مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت انہیں بے سروپا ڈھکوسلوں سے سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں۔ کلمہ فضل رحمانی نقل کرتا ہوں۔ ”فتدبروا ولا تکونوا من الغافلین“ مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں جناب مسیح علیہ ال ہفوات لکھے ہیں مع جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
- اول...... ”مجھ کو خدا نے خبر دی ہے۔ ’یعیسیٰ انی متوفیک
علیہ السلام مر چکے۔ اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔“ (ا
- دوم....... ”مرہم عیسیٰ یا مرہم حواریین میں ہے۔ یہ مرہم نہایت
جراحتوں اور نیز زخموں کے نشانوں کے نشان معدوم کرنے کے اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود علیہم اللعنہ کے پنجہ میں گرفتار ہوئے کو خفیف زخم بدن پر لگ گئے تھے۔ اس مرہم کے استعمال کرنے مٹ گئے تھے۔“ (
١١
معالم التنزیل میں امام بغویؒ نے ضحاکؒ وغیرہ جیسی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ ان کا مذہب اور عقیدہ بھی یہی ہے کہ ”انی متوفیک“ مؤخر ہے۔ اگرچہ مقدم مرتب ہو گیا ہے۔ فخر رازی اور نیشا پوری نے بھی اس آیت میں تقدیم و تاخیر کا ذکر کیا ہے۔ پس لازماً اس آیت میں بھی تقدیم و تاخیر کا واقع ہونا مسلمہ مفسرین ثابت ہوا۔ اس لئے اس آیت میں ممات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے میں مرزا قادیانی نے صریح غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور منشاء قرآن کے خلاف کہہ کر ایک مسلمہ عقیدہ جمہور اہل اسلام کی مخالفت کی ہے اور صرف اپنے کو مسیح بنانے کے لئے یہ غلط معنی اختیار کئے ہیں۔ کیونکہ صحیح معنی کرنے میں ان کی مسیحیت ہباء منثوراً ہو جاتی ہے۔ ”نعوذ باللہ من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الھدیٰ“
وفات مسیح کی کہانی مرزا قادیانی کی زبانی
مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے براہین والدلائل ثابت ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کی کہانی وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق مع التردید ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت انہی بے سروپا ڈھکوسلوں سے مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام میں سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں۔ کلمہ فضل رحمانی سے بعض اقتباسات ذیل میں نقل کرتا ہوں۔ ”فتدبروا ولا تکونوا من الغافلین“
مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں جناب مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق جو کچھ ہفوات لکھے ہیں مع جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
- اول ...... ”مجھ کو خدا نے خبر دی ہے۔ ’یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی‘ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام مر چکے۔ اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔“
(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ٨٠)
- دوم ...... ”مرہم عیسیٰ یا مرہم حواریین کہتے ہیں۔ یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے جو زخموں اور
جراحتوں اور نیز زخموں کے نشانوں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے۔ طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تیار کی تھی۔ یعنی جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود لئیم کے پنجہ میں گرفتار ہوئے اور صلیب چڑھانے کے وقت ان کو خفیف زخم بدن پر لگ گئے تھے۔ اس مرہم کے استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے اور نشان بھی مٹ گئے تھے۔“
(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠١)
سوم...... ”ہمارے متعصب مولوی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر بھی چڑھائے نہیں گئے۔ بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا۔ لیکن ان بیہودہ خیالات کے رد میں ایک قوی ثبوت یہ ہے کہ (صحیح بخاری ص ٤٣٩) میں یہ حدیث موجود ہے۔ ”لعنت الله علی الیہود والنصارٰی اتخذوا قبور انبیائهم مساجدا“ یعنی یہود ونصاریٰ پر خدا کی لعنت جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا ہے۔...... بلاد شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال جمع ہوتے ہیں۔ سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ در حقیقت وہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے۔“
(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ص ٣٠٩، ملخص حاشیہ در حاشیہ)
چہارم...... ”اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نوکر رہا ہوں۔ کشمیر میں ایک مشہور اور معروف مزار ہے۔ جس کو یوزاسف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ یہ لفظ عبرانی کے مشابہ ہے۔ دراصل یسوع اسف ہے یعنی یسوع غمگین، مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے۔ پھر اجنبی زبان میں مستعمل ہو کر یوزاسف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آصف اسم با مسمیٰ ہے...... حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے۔ کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک ان کی قبر کشمیر میں موجود ہے۔ ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بلاد شام میں قبر ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے۔ حضرت مولوی نورالدین فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز اسف کی قبر کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہے۔ عین کوچہ میں ہے۔ اس کوچہ کا نام خانیار ہے۔“
(کتاب ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ص ٣٠٦، ٣٠٧ ملخص حاشیہ)
پنجم...... ”مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ مرچکے اور اس دنیا سے اٹھائے گئے۔ پھر دنیا پر نہیں آئیں گے۔ خدا نے حکم موت کا اس پر جاری کیا اور پھر کر آنے سے روک دیا اور وہ مسیح میں ہی ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
١٢
ابطال دلائل فاسدہ مرزا قادیانی
نمبر اول ! میں مرزا قادیانی نے آیت مجیدہ ”انی متوفیک“ میں بخیال خود فوت ہو جانا حضرت مسیح علیہ السلام کا ثابت کرنا چاہا۔ مگر وہ ناکامیاب رہا اور بحمد اللہ ہم نے براہین عشرہ کاملہ سے اس مختصر میں مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کو ایسی طرح ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں سے آئیں، بائیں، شائیں کے سوا قیامت تک اس کا کوئی جواب نہ ہوسکے گا۔ رہا وفات مسیح علیہ السلام میں مرزا قادیانی کی چالاکی سو ان کے جواب وتردید میں اس آیت کا ترجمہ جو مرزا قادیانی اور ان کے حکیم نور الدین نے لیا ہے۔ اس کو پیش کرتا ہوں۔ جس سے ناظرین کو واضح ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کی دلیل باطل اور علیل ناقابل اعتماد وثوق ہے۔ جس سے وہ وفات مسیح یقیناً ثابت نہیں کر سکتے۔
الف...... ”مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین کتاب تصدیق براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں۔”اذ قال اللہ یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی“ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف۔“
(تصدیق براہین احمدیہ ص ٨ ، مصنفہ حکیم نور الدین)
ب...... ”پھر خود مرزا قادیانی دوسری جگہ لکھتے ہیں : ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٧ ، خزائن ج١ ص ٦٦٥)
ناظرین ! خود غور کر لیں کہ حکیم نور الدین تو متوفی کے معنی لینے والا ہوں ، پوری نعمت دوں گا، کرتے ہیں اور خود بدولت مرزا قادیانی پوری نعمت دوں گا اور کامل اجر بخشوں گا، لکھتے ہیں۔ فرمائیے ! کہ کس کے اور کون سے معنی صحیح سمجھے جائیں؟ اب مشکل یہ ہے کہ وہ تو مرزا قادیانی کے خلیفہ اصح ہیں اور خود مرزا قادیانی ملہم مسیح نبی اور مرسل کے مدعی ہیں۔ بہر حال مرزا قادیانی ہی مقدم سمجھے جانے چاہئیں۔ کیونکہ یہ اصل ہیں اور فرع تابع لیکن اور مشکل یہ پڑ گئی کہ جب براہین احمدیہ میں دو مرتبہ ترجمہ لکھا۔ وہ بھی الہام سے اور اب جو لکھا وہ بھی الہام سے تو کون سا الہام سچا سمجھا جائے اور کون سا جھوٹا۔ (دروغگو را حافظہ نباشد مشہور مثال ہے)
١٣
...... ”میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے۔ وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچا دے گا۔ سو حضرت مسیح علیہ السلام تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں میں جا بیٹھے۔“ (براہین احمدیہ ص ٤٦١، خزائن ج١ ص ٤٣١ حاشیہ) اس جگہ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں۔ (یہ ہے حق بر زبان جاری ) با دل ناخواہ حق قلم سے نکل ہی گیا۔
...... ”ایسے ایسے دکھ اٹھا کر باقرار عیسائیوں کے مرگیا۔“ بلفظہ (براہین احمدیہ ص٤٦٩، خزائن ج١ص٤٤٢) یہاں پر عیسائیوں کے اقرار کے مطابق مرنا حضرت مسیح علیہ السلام کا لکھا ہے۔ مسلمانوں کا اس میں اقرار یا اعتقاد نہیں اور نہ اپنا اعتقاد اس کو ظاہر کیا۔
...... مرزا قادیانی کا سب سے عمدہ اور مشرح و مصرح الہام یہ ہے: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ظہور میں آوے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جاوے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣)
لیجئے! اب تو سارے الہام مرزا قادیانی کے اس الہام کے نیچے دب گئے نا، اور ساری کارروائی مسیح موعود ہونے کی مٹ گئی۔ کیونکہ ان کے ہی الہام اور تحریر سے حیات مسیح علیہ السلام کی واضح طور پر صاف صاف ظاہر ہو گئی اور حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ اس دنیا پر تشریف لانا اظہر من الشمس بیان کر دیا۔ جب مرزا قادیانی خود اس امر کو تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دین اسلام دنیا میں پھیلائیں گے تو اب مرزا قادیانی کے کون سے خدا کا دوسرا الہام اس کے خلاف میں ہوا ہے۔ جو قابل پذیرائی ہے۔ اب الہاموں کے تناقض میں امید نہیں کہ کوئی تاویل چل سکے۔ ایسے ہی الہامات ہیں جن پر مرزا قادیانی عدم تعمیل کی وجہ سے لوگوں کو مستوجب سزا ٹھہراتے ہیں۔ ”فمالکم کیف تحکمون“
نمبر دوم! میں مرزا قادیانی نے بزعم خود یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام
١٤
٧١
صلیب پر ضرور چڑھادیئے گئے اور پھر اتار لئے گئے۔ بحالیکہ وہ ز حواریوں نے مرہم تیار کی۔ جس سے وہ اچھے ہو گئے اور کشمیر میں آ خلاف مندرجہ ثبوت نمبر سوم ایسا متناقض ہے کہ وہ اس بات کو بالک ہے۔ جس کا بیان آئے گا۔ فانتظر!
کاش مرزا قادیانی زندہ ہوتے تو ان سے دریافت کرلی یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے سولی پر چڑ اور زخم کو جو ان کو لگے تھے ان کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی اور اگر نہیں ہیں تو پھر آپ یہ حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ ان کو صلیب پر چڑھا تھی۔ رجماً بالغیب کسی بات کو بلا ثبوت کہہ دینے سے کسی مجہول دعو عقلاء کے نزدیک نہیں ثابت ہو سکتی۔
غرض اس مرہم میں لکھا ہے کہ یہ مرہم بارہ اقسام کے مسیح علیہ السلام کو ان بارہ اقسام کے امراض میں سے کوئی خاص م تھیں۔ اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ مرہم حضرت م گئی تھی۔ تب بھی اس سے یہ بات کہاں ثابت ہوئی کہ فی الواقع واسطے بنائی گئی تھی۔ تدلیس تلبیس یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ پڑتال ک
اب ان امراض کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں اور اس (کنٹھ مالا) طواعین (جمع طاعون) سرطان (ورم سوداوی) اوساخ (چرک) جہت رویانیدن گوشت تازہ، رفع شقاق و احار جرب (خارش کہنہ ) سعفہ (مرض سر گنج) بواسیر مشہور مرض ہے۔
جہاں سے یہ مرہم شروع ہوتی ہے۔ وہ الفاظ یہ بمرہم سلیخا و مرہم رسل نیز آن را مرہم عیسیٰ نامند ۔“ اب ظاہر اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے پیغمبروں کا یہ نسخہ ہے اور ا سلیخا، رسل، عیسٰی۔
باوجود اس کے مرزا قادیانی نے اس مرہم کو صرف
١٥
صلیب پر ضرور چڑھادیئے گئے اور پھر اتار لئے گئے ۔ بحالیکہ وہ زندہ تھے اور زخموں کے واسطے حواریوں نے مرہم تیار کی ۔ جس سے وہ اچھے ہو گئے اور کشمیر میں آ کر فوت ہو گئے ۔ مگر اس کے خلاف مندرجہ ثبوت نمبر سوم ایسا متناقض ہے کہ وہ اس بات کو بالکل باطل اور ہبا منثورا کئے دیتا ہے ۔ جس کا بیان آئے گا۔ فانتظر !
کاش مرزا قادیانی زندہ ہوتے تو ان سے دریافت کر لیا جاتا کہ آپ کی اس مرہم میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے سولی پر چڑھایا اور پھر جلدی سے اتار لیا تھا اور زخم کو جو ان کو لگے تھے ان کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی اور اگر یہ الفاظ اس مرہم پر لکھے ہوئے نہیں ہیں تو پھر آپ یہ حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ ان کو صلیب پر چڑھایا تھا اور اسی لئے یہ مرہم تیار ہوئی تھی ۔ رجماً بالغیب کسی بات کو بلا ثبوت کہہ دینے سے کسی محیل و دھوکا باز کی صداقت یا مسیحیت طبقہ عقلاء کے نزدیک نہیں ثابت ہو سکتی ۔
غرض اس مرہم میں لکھا ہے کہ یہ مرہم بارہ اقسام کے امراض کی دافع ہے ۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کو ان بارہ اقسام کے امراض میں سے کوئی خاص مرض تھی یا بارہ کی بارہ ہی بیماریاں تھیں ۔ اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ مرہم حضرت مسیح علیہ السلام کے واسطے ہی تیار کی گئی تھی ۔ تب بھی اس سے یہ بات کہاں ثابت ہوئی کہ فی الواقع وہ مرہم صلیب ہی کے زخموں کے واسطے بنائی گئی تھی ۔ اذلیس فلیس یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ پڑتال کتب طب ہی فضول ہے ۔
اب ان امراض کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں اورام جاسیہ ( جمع ورم ہا سخت ) خنازیر ( کنٹھ مالا ) طواعین ( جمع طاعون ) سرطان ( ورم سوداوی ) عفنہ جراحات ( زخموں کا عفنہ ) اوساخ ( چرک ) جہت رویانیدن گوشت تازہ ، رفع شقاق واظفار ( شگاف پاء ) حکہ ( خارش جدید ) جرب ( خارش کہنہ ) سعفہ ( مرض گنج ) بواسیر مشہور مرض ہے ۔
(قرابادین قادری ص ٤٨٧)
جہاں سے یہ مرہم شروع ہوتی ہے ۔ وہ الفاظ یہ ہیں ۔ ” مرہم حوارثین کہ مسمی است بمرہم سلیخا و مرہم رسل نیز آں را مرہم عیسیٰ نامند “ اب ظاہر ہے کہ لفظ رسل رسول کی جمع ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے پیغمبروں کا یہ نسخہ ہے اور اس نسخہ کے چار نام ہیں ۔ حوارثین ، سلیخا ، رسل ، عیسیٰ ۔
باوجود اس کے مرزا قادیانی نے اس مرہم کو صرف مسیح علیہ السلام کے صلیبی زخموں ہی
١٥
کے لئے کیونکر مخصوص کر دیا۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ان بارہ بیماریوں میں سے کوئی بیماری جناب مسیح علیہ السلام کو ہوئی ہو اور اس کے لئے یہ مرہم استعمال کی گئی ہو۔ کیونکہ آنجناب اکثر سفر کیا کرتے تھے۔ اس لئے ممکن ہے کہ ان کے پاؤں میں شقاق، ورم یا حکہ (خارش جدید) وغیرہ کی بیماری پیدا ہوگئی ہو اور اس وقت یہ مرہم آنحضرت (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے استعمال کی ہو۔ یہ الفاظ مرزا قادیانی نے اپنے پاس سے جوڑ لئے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے صلیب پر چڑھا دیا تھا اور پھر جلدی اتار لیا تھا۔ اس وقت ان کو زخم ہو گئے۔ ان زخموں کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی۔ یہ ڈھکوسلا مرزا قادیانی کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ ایسے افتراء پردازیوں سے وہ دھوکا دہی میں کامل مشاق تھے اور احمقوں کو پھانس کر مرید بنالیا کرتے تھے۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله فانہم قد ضلوا واضلوا“
- نمبر سوم! میں مرزا قادیانی نے جناب مسیح علیہ السلام کو صلیب چڑھائے جانے اور ان
کے فوت ہو جانے پر بہت زور دیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مسیح بلادِ شام میں دفن بھی کر دیئے گئے تھے اور اس قبر کی پرستش قوم نصاریٰ اب تک سال بسال ایک مقررہ تاریخ پر جمع ہو کر کرتے ہیں۔ صرف بخاری کی حدیث ”لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجداً“ کی بناء پر مرزا قادیانی نے جناب مسیح علیہ السلام کو سولی بھی چڑھایا، مار بھی دیا اور خاص بلادِ شام میں دفن کر کے ان کی قبر بھی بنادی نہ معلوم یہ سب باتیں مرزا قادیانی نے حدیث قبور انبیائھم والی حدیث بخاری کے کن الفاظ سے اخذ کئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ فی الواقع بات کو بتنگڑ بنانا مرزا قادیانی پر ختم تھا۔ دیکھئے حدیث کیا پیش کی ہے اور باتیں کس قدر بنائی ہیں۔ سچ ہے۔
انہی استعاروں سے انہوں نے مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا اور پھر مار کر بلادِ شام میں دفن بھی کر دیا اور نصاریٰ کو اس کی قبر پرستی کا الزام بھی لگا دیا۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ ملا آنست کہ بند شود، رطب گوید یا یابس!
- دوستو! غور کرو کہ مرزا قادیانی کہیں تو لکھتے ہیں کہ: ”جناب مسیح علیہ السلام کی قبر
بلادِ شام میں ہے۔“ اور کہیں لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح علیہ السلام اپنے ملک سے نکل گئے۔ کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک ان کی قبر کشمیر میں موجود ہے۔“
کیا مرزا قادیانی کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ بتاتے ان کی قبر پر کس قدر نصاریٰ جمع ہیں اور
١٦
اس کی قبر کی پرستش کر رہے ہیں۔ جو قبر کہ مرزا قادیانی نے کشمیر میں بتائی ہے۔ کے قلمرو میں ہے۔ وہاں تو نصاریٰ میں سے ایک صاحب بھی عبادت کو نہیں آتے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کشمیر میں قبر مانتے ہوئے بخاری کی حدیث پیش کر رہے ہیں؟ یعنی اگر حدیث مذکور میں مرزا قادیانی کی مراد نصاریٰ کی قبر پرستی کرنا ہے اور اس سے وہ وفات مسیح پر استدلال کرنا چاہتے ہیں تو یہ کشمیر میں مسیح علیہ السلام سے منسوب نہ تو کوئی قبر ہے اور نہ کشمیر میں نصاریٰ کسی کی قبر کی پرستش کرتے ہیں۔ پھر خواہ مخواہ اس فضول گوئی سے حاصل کیا؟
مزید برآں اس حدیث بخاری میں یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح علیہ یہ ضرور ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا ہے تو مرزا قادیانی کا فرض تھا کہ وہ ثابت کرتے کہ نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ حدیث کا لفظ ”قبور انبیائھم“ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی قبر اس حدیث میں مراد نہیں ہے۔ کیونکہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہیں بلکہ خدا تصور کرتے ہیں۔ پس دوسرے انبیاء مراد ہیں۔ جن کو یہود و نصاریٰ مانتے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں شاذ و نادر ہی کوئی ہوگا جس کو یہود و نصاریٰ بالاتفاق نبی نہ مانتے ہوں۔ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تورات کو پورا کرنے آیا ہوں۔ پس ان احکامات کو جو تورات میں ہیں، سب کو نصاریٰ مانتے ہیں اور جن انبیاء کا ذکر تورات میں موجود ہے ان کو انبیاء جانتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ”قبور انبیائھم“ سے مسیح علیہ السلام کے سوا (کیونکہ وہ فوت ہی نہیں ہوئے) دوسرے انبیاء مراد ہیں جن کو یہود و نصاریٰ بالاتفاق انبیاء مانتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ سراسر غلط اور عوام فریب اور دھوکا دہی پر مبنی ہے۔ ”سبحانک ھذا بہتان عظیم“
- نمبر چہارم! میں مرزا قادیانی نے اپنے خلیفہ حکیم نور الدین
کی تحقیق سے قبر مسیح کا کشمیر محلہ خانیار میں ہونا بیان کی ہے اور یوز اسف نام کو اپنے حق میں ثابت کرنے میں بہت چالاکی سے کام لیا ہے اور لفظ یوز اسف کو یسوع مسیح بنالیا ہے۔ جو قطعاً خلاف معقول و منقول ہے۔ اگر اس پر
١٧
اس کی قبر کی پرستش کر رہے ہیں۔ جو قبر کہ مرزا قادیانی نے کشمیر میں بتائی ہے۔ وہ ایک ہندو حکمران کے قلمرو میں ہے۔ وہاں تو نصاریٰ میں سے ایک صاحب بھی عبادت اور پرستش کرتے نظر نہیں آتے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کشمیر میں قبر مانتے ہوئے بخاری کی حدیث قبور ومساجد کیوں پیش کر رہے ہیں؟ یعنی اگر حدیث مذکور میں مرزا قادیانی کی مراد نصاریٰ کا عیسیٰ علیہ السلام کی قبر پرستی کرنا ہے اور اس سے وہ وفات مسیح پر استدلال کرنا چاہتے ہیں تو یہ سراسر غلط ہے۔ کیونکہ کشمیر میں مسیح علیہ السلام سے منسوب نہ تو کوئی قبر ہے اور نہ کشمیر میں نصاریٰ کسی قبر کی پرستش کرتے ہیں۔ پھر خواہ مخواہ اس فضول گوئی سے حاصل کیا؟
مزید برآں اس حدیث بخاری میں یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہود ونصاریٰ نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا ہے تو اس حدیث کو پیش کرنے پر مرزا قادیانی کا فرض تھا کہ وہ ثابت کرتے کہ نصاریٰ مسیح علیہ السلام کو اپنا پیغمبر مانتے ہیں۔ خدا یا خدا کا بیٹا تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ حدیث کا لفظ ”قبور انبیائہم“ ہے۔ پس اس سے بھی ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام کی قبر اس حدیث میں مراد نہیں ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو یہ تسلیم ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہیں بلکہ خدا تصور کرتے ہیں۔ پس قبور انبیائہم سے سوا مسیح کے دوسرے انبیاء مراد ہیں۔ جن کو یہود ونصاریٰ مانتے چلے آ رہے ہیں۔ کیونکہ جس قدر انبیاء گزرے ہیں۔ شاذونادر ہی کوئی ہوگا جس کو یہود ونصاریٰ بالاتفاق نبی نہ مانتے ہوں۔ بلکہ انجیل موجودہ میں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تورات کو باطل کرنے کے واسطے نہیں آیا۔ انہی دس احکامات کو جو تورات میں ہیں۔ سب کو نصاریٰ مانتے ہیں اور جن تمام انبیاء کا ذکر تورات میں موجود ہے ان کو انبیاء جانتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ”قبور انبیائہم“ سے سوا عیسیٰ علیہ السلام کے (کیونکہ وہ فوت ہی نہیں ہوئے) دوسرے انبیاء مراد ہیں۔ جن کو یہود ونصاریٰ بالاتفاق انبیاء مانتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس کے متعلق جو کچھ بھی لکھا ہے۔ سب غلط اور عوام فریبی و دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ ”فما ھذا الا بھتان عظیم“
نمبر چہارم میں مرزا قادیانی نے اپنے خلیفہ حکیم نورالدین کے حوالہ سے یسوع کی قبر کشمیر محلہ خانیار میں ہونا بیان کی ہے اور یوز آسف نام کی اپنے منشاء کے مطابق خواہ مخواہ تاویل کرنے میں بہت چالاکی سے کام لیا ہے اور لفظ یوز آسف کو یسوع آسف یا یسوع صاحب موڑ توڑ کر بنایا ہے۔ جو قطعاً خلاف معقول ومنقول ہے۔ اگر اس بری طرح صحیح لفظوں کو بگاڑنا ہی
مرزا قادیانی کی مسیحیت کا استدلال اور نشان ہے تو پھر قرآن وحدیث کی ہر بات اہل غرض بگاڑ کر اپنا مطلب بنا سکتے ہیں اور اس بناء تاویل بازی پر تو دین و دنیا کی ایک بات بھی اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہ سکتی۔
افسوس ہے کہ اس مدعی مسیحیت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ لفظوں کی تاویل کن صورتوں میں کی جاسکتی ہے۔ اس کی جانے بلا۔ اس نے مسیح اور مہدی بننے کے لئے جائز اور ناجائز دونوں ذرائع کو اختیار کر رکھا ہے۔ قرآن وحدیث میں تحریف ہو جائے۔ مگر مسیحیت و مہدویت ہاتھ سے نہ جائے۔ غرض ایسے خیالی ڈھکوسلوں سے وہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے وفات اور قبر مسیح کا مسئلہ ثابت کر دیا ہے۔ حالانکہ سوائے بیوقوف کے ایسی ہفوات کو کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا۔
اور مرزا قادیانی کی طرح نام بدل دینے میں اگر تاویل سے کام لینا ہو تو پھر مرزا قادیانی یوز اسف کو اگر اپنی منشاء کے مطابق یسوع اسف خواہ مخواہ تبدیل کر رہے ہیں تو کوئی دوسرے صاحب ان کی طرح کہہ سکتے ہیں کہ یوز اسف درحقیقت زوج آصف تھا۔ کیونکہ آصف بن برخیاء وزیر تھا۔ جناب سلیمان نبی کا، اور یہ مشہور ہے کہ جناب سلیمان علیہ السلام کشمیر میں تشریف لے گئے تھے۔ پس ناممکن نہیں ہے کہ اس وقت وزیر آصف کی زوجہ نے کشمیر میں انتقال کیا ہو اور اس مقبرہ میں دفن ہوئی ہو اور وہ مقبرہ زوج آصف کے نام سے مشہور ہو۔ بعد میں کثرت استعمال سے زوج تو یوز سے بدل گیا اور آصف اسف سے تبدیل ہو گیا ہو ۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“
مگر ایسی تاویلیں امور شرعیہ اور احکام دینیہ میں قابل اعتماد نہیں ہوسکتیں۔ مرزا قادیانی ہی ہیں جنہوں نے اپنے مذہب اور عقیدہ کا مدار ہی صرف ایسی رکیک تاویلوں، خوابوں اور الہاموں پر رکھا ہوا ہے اور ان کے مقابلہ میں عقل، قرآن اور حدیثوں کی بھی وہ پروا نہیں کیا کرتے۔
غرض مرزا قادیانی عجب دماغ کے مالک تھے۔ بقول شخصے کہ دروغگورا حافظہ نباشد! کہیں کچھ اور کہیں اس کے خلاف کچھ اور لکھ دیتے تھے۔ دور نہ جائیے۔ اسی موت اور قبر مسیح علیہ السلام کے متعلق دیکھئے۔ اس نے کئی پہلو بدلے ہیں۔
مثلاً ایک جگہ تو یہ لکھ دیا ہے کہ: ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا، لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا پھر زندہ ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
١٨
پھر دوسری جگہ بھی اسی کی تائید میں لکھا ہے: ”یہ تیسری آ کی طبعی موت کی نسبت گواہی دے رہی ہے۔ یہ گلیل میں اس کو پیش آ
(ازالہ اوہام ص٤٧٣
پھر ایک جگہ اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السـ جس کی پرستش عیسائی لوگ کرتے ہیں۔“
(ست بچن ص ١٦٤، خزائن
اب لیجئے۔ ان سب اقوال کے خلاف یوں رقمطراز ہیں میں ہے۔“
(ست بچـ
ناظرین! خود اندازہ لگالیں کہ اس شخص کے ان مختلف سے قول کو سچا مانا جائے؟ درحالیکہ ہر قول اس کا بقول اس کے بذریعہ خود جاہل ہے یا اس کا ملہم، اس طرح اس کے کذب کو طشت از بام کـ ایسی متضاد باتوں کو ہذیان اور ہفوات سے زیادہ وقیع نہیں سمجھ سکتا۔ کالانعام بل ہم اضل سبیلاً “ کا مصداق ہیں۔ ان کا قول ہوسکتا۔
نمبر پنجم ! یہ ہے۔ ملہم نے مرزا قادیانی کو اپنے الہام السلام فوت ہو گئے۔ دوبارہ آنے سے روک دیئے گئے اور آنے و نے خبر دی ہے۔“
اس کے متعلق ہم صرف اسی قدر کہیں گے کہ مرزا قادیـ انہیں کس زبان میں ہوا ہے۔ کشمیری، تبتی، لداخی، بلخی، بخارا کی میں۔ کیونکہ انہوں نے
(براہین احمدیہ ص٥٥٦، خزائن ج١ ص ٦٦
زبانوں کے الہامات درج کر کے لکھا ہے کہ ان کے معنی مجھے مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا وغیرہ وغیرہ !
اب غور فرمائیں کہ پنجابی نبی کو الہام انگریزی، عبرانـ کیونکہ وہ غیر زبانوں کو تو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ فرمائیے۔ پھر ایسے شـ یہ عجیب بات ہے کہ الہام تو ہوتا ہے نبی کو اور وہ اس کا مطلب سمـ کی طرف محتاج ہوتا ہے۔ ایسے الہام کرنے کی خدا کو ضرورت ہـ
١٩
پھر دوسری جگہ بھی اسی کی تائید میں لکھا ہے: ”یہ تیسری آیت باب اوّل اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی نسبت گواہی دے رہی ہے۔ یہ گلیل میں اس کو پیش آئی۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٤)
پھر ایک جگہ اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں ہے۔ جس کی پرستش عیسائی لوگ کرتے ہیں۔“
(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩، حاشیہ در حاشیہ)
اب لیجئے۔ ان سب اقوال کے خلاف یوں رقمطراز ہیں کہ: ”یسوع صاحب کی قبر کشمیر میں ہے۔“
(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧)
ناظرین! خود اندازہ لگا لیں کہ اس شخص کے ان مختلف اور متضاد اقوال میں سے کون سے قول کو سچا مانا جائے؟ درحالیکہ ہر قول اس کا بقول اس کے بذریعہ الہام ہوا کرتا ہے۔ نہ معلوم وہ خود جاہل ہے یا اس کا ملہم، اس طرح اس کے کذب کو طشت از بام کراتا ہے۔ عقلمند اور فہمیدہ شخص تو ایسی متضاد باتوں کو ہذیان اور ہفوات سے زیادہ وقیع نہیں سمجھ سکتا۔ رہے جاہل مرید! سو وہ ”انھم کالانعام بل ہم اضل سبیلاً“ کا مصداق ہیں۔ ان کا قول و فعل قابل وثوق اور حجت نہیں ہوسکتا۔
نمبر پنجم! میں ہے۔ ملہم نے مرزا قادیانی کو اپنے الہام سے واضح کیا ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ دوبارہ آنے سے روک دیئے گئے اور آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ یہ مجھے خدا نے خبر دی ہے۔“
اس کے متعلق ہم صرف اسی قدر کہیں گے کہ مرزا قادیانی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ یہ الہام انہیں کس زبان میں ہوا ہے۔ کشمیری، تبتی، لداخی، بلتی، پہاڑی، عربی، عبرانی، یا انگریزی زبان میں ۔ کیونکہ انہوں نے (براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢) میں انگریزی، عربی، عبرانی زبانوں کے الہامات درج کر کے لکھا ہے کہ ان کے معنی مجھے معلوم نہیں ہوئے۔ اس الہام کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا وغیرہ وغیرہ!
اب غور فرمائیں کہ پنجابی نبی کو الہام انگریزی، عبرانی، عربی زبان میں ہوتا معنی ندارد! کیونکہ وہ غیر زبانوں کو تو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ فرمائیے۔ پھر ایسے فضول الہام ہونے سے حاصل کیا؟ یہ عجیب بات ہے کہ الہام تو ہوتا ہے نبی کو اور وہ اس کا مطلب سمجھنے میں ایک انگریزی خواں طالب علم کی طرف محتاج ہوتا ہے۔ ایسے الہام کرنے کی خدا کو ضرورت ہی کیوں ہوئی۔ جس کے معنی اس کا
١٩
نبی سمجھ نہیں سکتا اور ایک غیر ذمہ دار شخص جو معنی اس کے بیان کر دیتا ہے۔ بے چون و چرا اس پر اعتبار کر لیا جاتا ہے۔ کیا آپ یقین کر لیں گے کہ ان غیر زبانوں میں الہامات ہوں ۔ جن کو مرزا قادیانی نہ جانتے ہوں اور نہ ان کا مطلب کسی کو سمجھا سکتے ہوں ۔ کیا ایسے الہام یقینی اور قطعی کہلا سکتے ہیں۔ کیا ایسے الہام کی بناء پر مرزا قادیانی مسیح موعود قرار پا سکتے ہیں۔ یہ باتیں سراسر سنت اللہ کے خلاف اور نا قابل عملدرآمد ہیں۔ مضحکہ صبیان سے قطعاً زیادہ وقیع نہیں ہو سکتیں۔
سنئے ! حضرت موسیٰ کلیم علیہ السلام ملک کنعان میں تھے اور ان کی زبان عبرانی تھی۔ اس لئے تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے ملک کی زبان سریانی تھی۔ اس لئے زبور سریانی زبان میں نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملک کی زبان یونانی تھی۔ اس لئے انجیل یونانی زبان میں نازل ہوئی۔ ہمارے مولا خاتم الانبیاء سید الرسل ہادی السبل محمد مصطفےٰ پیغمبر اسلام علیہ و آلہ السلام ملک عرب میں تھے۔ ان کی کتاب قرآن مجید بلسان عربی مبین نازل ہوئی۔ قرآن مجید میں بھی آیا ہے: ”وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُم (أبراهيم:٤)“ یعنی جب کبھی ہم نے کوئی پیغمبر بھیجا تو ( اس کو ) اس کی قومی زبان میں (بات چیت ) کرتا ہوا بھیجا۔ قومی زبان میں ہر پیغمبر کے آنے کی علت خود آیت نے لِيُبَيِّنَ لهم“ بیان کر دی ہے کہ وہ اس قوم کو اس کی زبان میں احکام خدا بیان کرے۔ پس پنجابی نبی ہو کر غیر زبان انگریزی میں الہام بیان کرنے، اس آیت قرآن کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہی سنت اللہ ہمیشہ سے چلی آئی ہے۔ جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔ ” ودونه خرط القتاد وموجب الفساد بين العباد“
پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ ملک پنجاب میں یہ سنت اللہ کیوں تبدیل ہو گئی ۔ حالانکہ اس کے متعلق نص موجود ہے۔ ”ولن تجد لسنة الله تبديلا“ اس حکم کے مطابق لازم اور نا قابل تغیر سنت اللہ یہ ہونی چاہئے تھی کہ پنجابی نبی کے لئے بھی تمام وحی والہام پنجابی زبان میں کئے جاتے۔ جب وہ نبی صادق ہوتا۔ مگر کذاب مدعی کا کذب پھر کیونکر ثابت ہوتا۔ یہ در حقیقت صداقت کا بین نشان ہے کہ اس کذاب کے دماغ میں اس کا خیال تک بھی پیدا نہ ہوا کہ جب میں پنجاب کی سرزمین میں دعویٰ نبوت کرنے لگا ہوں ۔ تو الہام بھی پنجابی زبان میں گھڑتا رہوں ۔ تا کہ سنت اللہ کی تبدیلی کا الزام عائد نہ ہو سکے۔ ”ولنعم من قال“
٢٠
میلش اندر طعنہ پاکان
جب اس کذاب نے اولوالعزم انبیاء علیہم السلام کی رویہ اختیار کیا۔ تو خدا نے اس کا کذب، افتراء اور بہتان ا از بام کر دیا۔
چالاک مرزا قادیانی کچھ ایسے غدر میں کہ اندھا دھند بے تکلف کہہ ڈالتے ہیں۔ جو کچھ نوک قلم سے نکل جائے۔ بس و ابن اللہ اور خدائی کا دعویٰ بھی اس لئے کر دیا کہ عیسائیوں کے خد دیا۔ بلکہ کشمیر میں اس کو قبر میں دفن بھی کر دیا۔ مرزا قادیانی جب ک مار نہیں ڈالتے ۔ اس کے عہدے کا خود مدعی نہیں ہوتے ۔ خیال کہیں معزول نہ ہونا پڑے ۔ اس لئے جب تک اس کو قبر میں دائ کاہی کام ہے۔ سچ ہے۔
مرزائیوں کی دو پارٹیاں
مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد اس کی جماعت ام محمودی اور دوسری پیغامی کے نام سے مشہور ہے۔ دونوں اپنی ا اشاعت میں منہمک ہیں۔
محمودی پارٹی
محمودی پارٹی کا مرکز تو قادیان ہے اور وہ مرزا محم اور خلیفہ المسیح مانتے ہیں۔ ان کے اعتقاد میں مرزا قادیانی نبی سب ہی کچھ ہیں۔ جن باتوں کا اس نے اپنی کتابوں میں دعویٰ کافر سمجھتے ہیں۔ یہ پارٹی مرزا محمود قادیانی کو اگر ” پدرنتواند پس بھی پدر بزرگوار کی طرح خودشان نبوت لئے ہوئے نظر آ مسلمانوں کو بچالے۔
٢١
میلش اندر طعنہ پاکان برد
جب اس کذاب نے اولوالعزم انبیاء علیہم السلام کی شان میں ناشایاں اور گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔ تو خدا نے اس کا کذب، افتراء اور بہتان اس کی اپنی ہی زبان سے طشت از بام کر دیا۔
چالاک مرزا قادیانی کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اندھا دھند جو چاہتے اور جو جی میں آتا ہے بے تکلف کہہ ڈالتے ہیں۔ جو کچھ نوک قلم سے نکل جائے۔ بس وہی الہام وحی سے تعبیر ہوتا ہے۔ ابن اللہ اور خدائی کا دعویٰ بھی اس لئے کر دیا کہ عیسائیوں کے خدا کو اپنی طرف سے نہ صرف مار ہی دیا۔ بلکہ کشمیر میں اس کو قبر میں دفن بھی کر دیا۔ مرزا قادیانی جب تک خدائی عہدہ داروں کو جان سے مار نہیں ڈالتے۔ اس کے عہدے کا خود مدعی نہیں ہوتے۔ خیال رہتا ہوگا کہ ان کے واپس آنے پر کہیں معزول نہ ہونا پڑے۔ اس لئے جب تک اس کو قبر میں داخل نہ کریں دم نہیں لیتے۔ یہ بھی کسی کا ہی کام ہے۔ سچ ہے۔
مرزائیوں کی دو پارٹیاں
مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد اس کی جماعت اب دو پارٹیوں میں تقسیم ہوئی۔ ایک محمودی اور دوسری پیغامی کے نام سے مشہور ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ مرزا قادیانی کے خیالات کی اشاعت میں منہمک ہیں۔
محمودی پارٹی
محمودی پارٹی کا مرکز تو قادیان ہے اور وہ مرزا محمود فرزند مرزا قادیانی کو ان کا جانشین اور خلیفۃ المسیح مانتے ہیں۔ ان کے اعتقاد میں مرزا قادیانی نبی، رسول اور مسیح و مہدی وغیرہ وغیرہ سب ہی کچھ ہیں۔ جن باتوں کا اس نے اپنی کتابوں میں دعویٰ کیا ہے اور وہ منکرین مرزا قادیانی کو کافر سمجھتے ہیں۔ یہ پارٹی مرزا محمود قادیانی کو اگر ”پدر نتواند پسر تمام کند“ کا مصداق سمجھتی ہے۔ وہ بھی پدر بزرگوار کی طرح خود شان نبوت لئے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ خدا ہی ہے جو اس سے مسلمانوں کو بچائے۔
٢١
پیغامی پارٹی
اس پارٹی کا مرکز لاہور ہے۔ ان کا امیر مولوی محمد علی ہے۔ یہ پارٹی تدریجاً مرزا قادیانی کے دعاوی کی تاویل کرکے مصلحتاً ان کی رسالت نبوت سے انکاری ہو گئی ہے اور فی الحال یہ پارٹی اگرچہ مرزا قادیانی کی حیثیت لفظاً ایک مجدد سے زیادہ نہیں مانتی۔ مگر اصول اور فروع میں وہ بھی اسی کے احکام کی پابند نظر آتی ہے۔
یہ مسلم ہے کہ یہ پارٹی باوجود تاویلوں کے مرزا قادیانی کو دعویٰ رسالت و نبوت سے کسی طرح بری الذمہ نہیں کر سکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ صریح لفظوں میں لکھا ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین، خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ، اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (رسالہ دعوت قوم) (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٨٠) اس کی تصانیف میں رسالت کے ایسے دعوے بکثرت ہیں۔
اب کون کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ان الفاظ میں کھلم کھلا پیغمبری کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ کیا پیغمبروں کے القاب سے وہ ملقب نہیں ہوئے۔ کیا خدا کا فرستادہ رسول نہیں۔ کیا خدا کا مامور پیغمبر نہیں۔ کیا خدا کا امین نبی نہیں۔ کیا جس پر ایمان لایا جائے وہ پیغمبر نہیں۔ ان دعاوی میں کوئی شبہ ہے کہ جس سے آپ مرزا قادیانی کو پیغمبر یا نبی یا رسول نہیں کہہ سکتے۔ اس پر جب مرزا قادیانی کو کوئی کہتا ہے کہ تم پیغمبری کا دعویٰ کرتے ہو تو فوراً کہتے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ یہی حال پیغاموں کا ہے۔
ایسی صورت میں انصاف سے کہیئے کہ پیغمبری، رسالت اور نبوت میں کچھ کسر باقی رہی۔ پھر ایسی وضعی لعنتیں کس پر ہوئیں۔ آؤ خدا کو مانو اور ایسی بے تکی ہانکنے سے باز آ جاؤ کہ موت کی گھڑی سر پر کھڑی ہے۔ ورنہ اسلام میں اس رخنہ اندازی سے تم یقیناً مشغول الذمہ رہو گے۔
"فتدبرو لا تكن من الغافلين"
شاید کہ نتواں یافتن دیگر چنیں ایام را
نمقہ ....... خادم الشریعۃ المطہرۃ علی الحائری! محلہ شیعان، موچی دروازہ لاہور ...... محررہ، ماہ مارچ ١٩٢٦ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
رگڑا
مست قلندر
جناب سائیں آزاد قلندر حیدری
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
رگڑا
مست قلندر دا
جناب سائیں آزاد قلندر حیدری قادری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
توں سمیع بصیر علیم صمد توں واقف باہر اندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
توں ساقی کوثر خیر امم توں فخر گداؤ سکندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
پیر میرے فداک امی ابی میں خادم شیر قلندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
بن کرشن پیا گوشالے دا پڑھ سبق شیطان مچھندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
کچھ خلقت کرماں ماری نوں کر دسیا کھیل بھندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
بنگالی منتر ٹھٹ لایا کم دسیا بکرے بندر دا
٢
بھن بت مرزے دے مندر
کر بیٹھا ناز معشوقاں دے گھت
دھر رگڑا مست قلندر
بھن بت مرزے دے مندر
ہو نور الدین میں در آیا چا بھار
دھر رگڑا مست قلندر
بھن بت مرزے دے مندر
منہ وعظ بیان مقبولاں دے دل ڈو
دھر رگڑا مست قلندر
بھن بت مرزے دے مندر
نہیں مول کسے تھیں ہرتاں میں ہے وڑ
دھر رگڑا مست قلندر
بھن بت مرزے دے مندر
کدی کیڑا مٹی دا بن دا ہے
دھر رگڑا مست قلندر
بھن بت مرزے دے مندر
پھر ٹیچی دے الہام ہوئے کم
٣
بھن بت مرزے دے مندر دا
کر چندے کل مخلوقاں دے بند کیتے قفل صندوقاں دے
کر بیٹھا ناز معشوقاں دے گھت تختہ جیل اندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
پھر شیطان آکے پھسلایا بن مہدی ہیں کیوں شرمایا
ہو نور الدین میں در آیا چا بھار کفر دے جنڈے دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
چک نقشے پتیاں رولاندے گر بن بیٹھے مجہولاں دے
منہ وعظ بیان مقبولاں دے دل ڈولے دیکھ بھوندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
یہ دیکھ میاں کی کرناں میں کس کس دے گانے پڑھناں میں
نہیں مول کسے تھیں ہرناں میں ہے ڈر مینوں ہر سندر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
کدی بندہ کدی خدا بن دا کدی آپے بالے شاہ بن دا
کدی کیڑا ٹٹی دا بن دا ہے پتر کھوتے ڈنگر دا
دھر رگڑا مست قلندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
جد کرشن مرار امام ہوئے کئی آ بے دین غلام ہوئے
پھر ٹینچی دے الہام ہوئے کم چل پیا پیرا ڈنڈر دا
٣
بھن بت مرزے دے مندر دا
پھر وضع حمل دا موضوع ہویا لے لڑکا باہر اندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
نہ جمیا ماں تے باپ وچوں گر مرزائیاں دے مندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
شیطان بھی اس نوں من بیٹھا چھڈ دعویٰ اپنے پھندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
بن بیٹھا شاہ مدنی صلعم باشندہ نرگ سمندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
ایہہ بھگسن ہتھ نانک سارے جد ٹٹسی ٹھیبہ چندر دا
بھن بت مرزے دے مندر دا
تک لیو نبی دیاں کاراں نوں ایہہ ٹھیکیدار سمندر دا
٤
بھن بت مرزے دے مندر بھن بت مرزے دے مندر
لے رقماں دا لیو عید ہوئی کھلا مکر
بھن بت مرزے دے مندر بھن بت مرزے دے مندر
بک رقم لگے بخساون دی در بکل
بھن بت مرزے دے مندر بھن بت مرزے دے مندر
ایہوہوں کم نبیاں دے گر سوچے
بھن بت مرزے دے مندر بھن بت مرزے دے مندر
جو پھس گئے اوہاں کھان گئے پئے
بھن بت مرزے دے مندر بھن بت مرزے دے مندر
گیا بوڑھا ترستا مر گئی آزاد کیا الٹی خدا کے ف
شہ ختم النبی کا دو جہاں میں بول بالا ہے کہ جن کی
کذب گر کرے آزاد پھر دعویٰ نبوت کا سمجھ لو لعن
٥
بھن بت مرزے دے مندر وا
کدی ایہہ بھی گفت شنید ہوئی وچ جنت زرخرید ہوئی
لے رقماں دا لؤ عید ہوئی کھلا ٹکٹ کراچی بندر وا
دھر رگڑا مست قلندر وا
بھن بت مرزے دے مندر وا
رہی لوڑ نہ پڑھن پڑھاون دی انج گوڈے پیر بھناون دی
بک رقم لگے بخشاون دی در کھل گیا چلو چلندر وا
دھر رگڑا مست قلندر وا
بھن بت مرزے دے مندر وا
لا دھوکے جنت بقیعاندے گھر لٹ لے کئی سودھیاں دے
ایہو ہوس کمینیاں دے گر سوچو جو کچھ پس پھنڈر وا
دھر رگڑا مست قلندر وا
بھن بت مرزے دے مندر وا
تک مکر فریب شیطان دے آزاد محمدی کون پھسے
جو پھس گئے اوہاں کھان گھٹے پئے لین سواد چھننڈر وا
دھر رگڑا مست قلندر وا
بھن بت مرزے دے مندر وا
شرم سے سنگ خارا پگھل کر مانند پانی ہو نبی ہوتے ہوئے زوجہ رقیبوں میں سمانی ہو
گیا بوڑھا ترستا مر گئی آزاد کیا الٹی خدا کے دستخط بھی ہوں نکاح بھی آسمانی ہو
شہ ختم النبی کا دو جہاں میں بول بالا ہے کہ جن کی شان میں لولاک کا گھر گھر اجالا ہے
مکذب گر کرے آزاد پھر دعویٰ نبوت کا سمجھ لو لعنتی ملعون ہے شیطان کا سالا ہے
٥
حاشیہ جات
- ١۔ شرارتی۔
- ٢۔ جس کا کوئی مخصوص نہ ہو۔
- ٣۔ طریقہ کفر۔
- ٤۔ کایا پلٹنا، نظر بندی، مداریوں کا کھیل۔
- ٥۔ ٹیچی ٹیچی ایک نام نہاد فرشتہ کا نام تھا جو مرزا قادیانی پر نازل ہوتا تھا۔
- ٦۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١، اربعین نمبر٤ حاشیہ ص١٩، خزائن ج١٧
ص٤٥٣)
- ٧۔ (کشتی نوح ص٤٧، خزائن ج١٩ص٥٠)
- ٨۔ ایک مخلص مرید قاضی یار محمد بی۔او۔ایل پلیڈر نور پور ضلع کانگڑہ اپنے ٹریکٹ ٣٤
موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض سندھ پریس امرتسر کے ص١٣ پر مرزا قادیانی کی اظہار رجولیت تحریر کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ!
- ٩۔ مکر وفریب۔
- ١٠۔ الہام مرزا قادیانی ”اخرج منه اليزیديون“ (ازالہ اوہام ص٧٢، خزائن ج٣
ص١٣٨ حاشیہ)
- ١١۔ دعویٰ کرشن ہونے سے قادیاں ٹھاکر دوآرا کہلا سکتا ہے۔
- ١٢۔ مرزا قادیاں نے ایک ٹکٹ جنت میں داخل ہونے کا قیمت پر کھول رکھا ہے جو وہ
ٹکٹ خریدے وہ بغیر اعمال صالح کے جنتی ہے۔
- ١٣۔ ووٹ، مفت، پاس۔
- ١٤۔ شکاری، فریب کمانے والا۔
- ١٥۔ خلاصی پانا۔ چھٹ جانا۔
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
خاتم
النبيين
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب
أنا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
خاتم
النبيين
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد!
ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين !
سرور دو عالم، فخر بنی آدم، آقائے دو جہاں، نبی عالمین، امام النبیین، شفیع المذنبین، رحمتہ للعالمین حضرت سیدنا ومولانا و شفیعنا محمد ﷺ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ وسلم محض نبی ہی نہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں اور ختم کے معنی انتہا کر دینے اور کسی چیز کو انتہا تک پہنچا دینے کے ہیں۔ اس لئے خاتم النبیین کے معنی نبوت کو انبیاء تک پہنچا دینے کے ہوئے اور کسی چیز کے انتہا تک پہنچ جانے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی آخری حد پر آجائے کہ اس کے بعد کوئی اور درجہ اور حد باقی نہ رہے جس تک وہ پہنچے۔ اس لئے ختم نبوت کے معنی یہ ہوئے کہ نبوت اپنے تمام درجات و مراتب کی آخری حد تک آگئی اور نبوت کا کوئی درجہ اور مرتبہ باقی نہیں رہا کہ جس تک وہ آئے اور اس کے لئے حرکت کر کے آگے بڑھے۔
اس لئے ”خاتم النبیین“ کے حقیقی معنی یہ نکلے کہ خاتم پر نبوت اور کمالات نبوت کے تمام مراتب پورے ہوگئے اور نبوت اپنے علمی واخلاقی کمالات کے ایک ایسے انتہائی مقام پر آگئی کہ بشریت کے دائرہ میں نہ علمی کمال کا کوئی درجہ باقی رہا، نہ اخلاقی قدروں کا کوئی مرتبہ کہ جس کے لئے نبوت خاتم سے گزر کر آگے بڑھے اور اس درجہ یا قدر تک پہنچے۔
اس سے واضح ہوگیا کہ ختم نبوت کے معنی قطع نبوت یا انقطاع رسالت کے نہیں بایں معنی کہ نبوت کی نعمت باقی نہ رہی یا اس کا نور عالم سے زائل ہوگیا بلکہ تکمیل نبوت کے ہیں جس کا حاصل یہ ہوا کہ خاتم النبیین ﷺ کی ذات پر تمام کمالات نبوت اپنی انتہا کو پہنچ کر مکمل ہوگئے جو اب تک نہ ہوئے تھے اور اب جو نبوت دنیا میں قائم ہے وہ خاتم کی ہے۔ اس کامل نبوت کے بعد کسی نئی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ نہ یہ کہ نبوت دنیا سے منقطع ہوگئی اور چھین لی گئی۔ معاذ اللہ ۔ اس کا قدرتی ثمرہ یہ نکلتا ہے کہ نبوت جب سے شروع ہوئی اور جن کمالات کو لے کر شروع ہوئی اور آخر کار جس حد پر آکر رکی اور ختم ہوئی اس کے اول سے لے کر آخر تک جس قدر بھی کمالات نبوت دنیا میں وقتاً فوقتاً آئے اور طبقہ انبیاء میں سے کسی کو ملے وہ سب کے سب خاتم النبیین میں آکر جمع ہوگئے۔ جو خاتم سے پہلے اس کمال جامعیت کے ساتھ کسی میں جمع نہیں ہوئے تھے۔ ورنہ جہاں
٢
بھی اجتماع ہوتا وہیں پر نبوت ختم ہوجاتی اور آگے بڑھ کر یہاں تک نوبت نہ پہنچتی کہ ”خاتم النبیین“ کا جامع علوم نبوت جامع اخلاق نبوت جامع احوال نبوت اور مقامات نبوت کا ہونا ضروری ٹھہرا جو غیر خاتم کے لئے نہیں ہوسکتا تھا ورنہ وہی خاتم بن جاتا۔
اور ظاہر ہے کہ جب ان ہی کمالات علم وعمل پر شریعتوں کا مدار ہے تو ان کمالات کے سب خاتم النبیین میں جمع ہوکر اپنے آخری کنارہ پر پہنچ گئے جن سے آگے پہنچنا اور پہنچانے کے لئے خدا کا کوئی اور نبی آئے تو اس کا صاف مطلب یہ نکلے گا کہ نبوت اپنے خاتم پر ختم یعنی مکمل ہوگئی اور شریعت ودین کا بھی کوئی تکمیل طلب حصہ باقی نہیں رہا جس کو شروع اور مکمل کرنے کے لئے کسی اور نبی کو دنیا میں بھیجا جائے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ خاتم الشرائع ، خاتم الادیان اور خاتم الکتب یا بالفاظ دیگر کامل الشریعت ہو۔ اور اس کی شریعت کا مکمل ہونا بھی ضروری اور قدرتی نکلا۔ ورنہ ختم نبوت کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ کیونکہ ناقص شریعت کامل کی ناسخ نہیں ہوسکتی۔ کامل ہی ناقص کے لئے ناسخ بن سکتا ہے نہ کہ برعکس۔ اس لئے شریعت محمدیہ کا ابدالآباد تک کے لئے ناقابل تغیر ہوکر سابقہ شرائع کو منسوخ کرنے کی حقدار ٹھہرتی۔ کامل شریعت ناقص کے بعد آتی ہے اور منسوخ اس سے مقدم ہوتا ہے۔ اس لئے اس شریعت کو لانے والے اور اس پر عمل کرنے والے کا سب کے آخر میں مبعوث ہونا بھی ضروری تھا۔ اس لئے آپ خاتم الشرائع کے ساتھ خاتم النبیین بھی ثابت ہوئے کہ آپ کا زمانہ سارے انبیاء کے زمانوں کو منسوخ کرتا ہے۔ جیسے آخری عدالت جو ابتدائی عدالت کے فیصلوں کو منسوخ کرتی ہے آخری ہی ہوتی ہے۔
پھر ساتھ ہی جب کہ خاتم النبیین کے معنی منتہائے کمال کے ہیں کہ جن پر آکر ہر کمال ختم ہوجاتا ہے تو یہ ایک طبعی اصول ہے کہ جو وصف کمال کسی چیز کا منتہی ہوتا ہے یعنی جو کسی چیز کا منتہاء ہوتا ہے وہی اس کا مبداء بھی ہوتا ہے اور وہی اس کے حق میں اول و اکمل ہوتا ہے۔ وہی اس کے حق میں فاتح اور سرچشمہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً سورج جو منبع الانوار ہے جس پر نور کے تمام مراتب ختم ہوجاتے ہیں تو قدرتاً یہ ماننا پڑے گا کہ نور کا آغاز اور پھیلاؤ بھی اسی سے ہوا ہے اور جہاں بھی نور پایا جاتا ہے وہ اس کے فیض سے ہے۔
اس لئے روشنی کے حق میں سورج کو خاتم کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ یا واٹر ورکس کو ہم خاتم المیاہ (پانیوں کی آخری حد) کہیں جس پر پانی کی ساری نہریں ختم ہوجاتی ہیں تو
٣
بھی اجتماع ہوتا وہیں پر نبوت ختم ہو جاتی اور آگے بڑھ کر یہاں تک نہ پہنچتی۔ اس لئے ”خاتم النبیین“ کا جامع علوم نبوت جامع اخلاق نبوت جامع احوال نبوت اور جامع جمیع شئون نبوت ہونا ضروری ٹھہرا جو غیر خاتم کے لئے نہیں ہو سکتا تھا ورنہ وہی خاتم بن جاتا۔
اور ظاہر ہے کہ جب ان ہی کمالات علم وعمل پر شریعتوں کی بنیاد ہے جو اپنی انتہائی حدود کے ساتھ خاتم النبیین میں جمع ہو کر اپنے آخری کنارہ پر پہنچ گئے جن کا کوئی درجہ باقی نہ رہا کہ اسے پہنچانے کے لئے خدا کا کوئی اور نبی آئے تو اس کا صاف مطلب یہ نکلا کہ شریعت اور دین بھی آ کر خاتم پر ختم یعنی مکمل ہو گیا اور شریعت و دین کا بھی کوئی تکمیل طلب حصہ باقی نہیں رہا کہ اسے پہنچانے اور مکمل کرنے کے لئے کسی اور نبی کو دنیا میں بھیجا جائے۔ اس لئے خاتم النبیین کے لئے خاتم الشرائع ، خاتم الادیان اور خاتم الکتب یا بالفاظ دیگر کامل الشریعت، کامل الدین اور کامل الکتاب ہونا بھی ضروری اور قدرتی نکلا۔ ورنہ ختم نبوت کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے تھے اور ظاہر ہے کہ کامل ہی ناقص کے لئے ناسخ بن سکتا ہے نہ کہ برعکس۔ اس لئے شریعت محمدی بوجہ اپنے انتہائی کمال اور ناقابل تغیر ہونے کے سابقہ شرائع کو منسوخ کرنے کی حقدار ٹھہرتی ہے اور ظاہر ہے کہ ناسخ آخر میں آتا ہے اور منسوخ اس سے مقدم ہوتا ہے۔ اس لئے اس شریعت کا آخر میں آنا اور اس کے لانے والے کا سب کے آخر میں مبعوث ہونا بھی ضروری تھا۔ اس لئے خاتم النبیین ہونے کے ساتھ آخر النبیین بھی ثابت ہوئے کہ آپ کا زمانہ سارے انبیاء کے زمانوں کے بعد میں ہو۔ کیونکہ آخری عدالت جو ابتدائی عدالت کے فیصلوں کو منسوخ کرتی ہے آخری میں رکھی جاتی ہے۔
پھر ساتھ ہی جب کہ خاتم النبیین کے معنی منتہائے کمالات نبوت کے ہوئے کہ آپ ہی پر آ کر ہر کمال ختم ہو جاتا ہے تو یہ ایک طبعی اصول ہے کہ جو وصف کسی پر ختم ہوتا ہے اس سے شروع بھی ہوتا ہے جو کسی چیز کا منتہاء ہوتا ہے وہی اس کا مبداء بھی ہوتا ہے اور جو کسی شے کے حق میں خاتم یعنی مکمل ہوتا ہے۔ وہی اس کے حق میں فاتح اور سرچشمہ بھی ہوتا ہے۔ ہم سورج کو کہیں کہ وہ خاتم الانوار ہے جس پر نور کے تمام مراتب ختم ہو جاتے ہیں تو قدرتاً اسی کو سرچشمہ انوار بھی ماننا پڑے گا کہ نور کا آغاز اور پھیلاؤ بھی اسی سے ہوا ہے اور جہاں بھی نور اور روشنی کی کوئی جھلک ہے وہ اسی کی ہے اور اس کے فیض سے ہے۔
اس لئے روشنی کے حق میں سورج کو خاتم کہہ کر فاتح بھی کہنا پڑے گا یا جیسے کسی بستی کے واٹر ورکس کو ہم خاتم المیاہ (پانیوں کی آخری حد) کہیں جس پر شہر کے سارے نلوں اور ٹینکیوں کے
٣
پانی کی انتہا ہو جاتی ہے۔ تو اس کو ان پانیوں کا سرچشمہ بھی ماننا پڑے گا۔ کہ پانی چلا بھی یہیں سے ہے جو نلوں اور نالیوں میں پانی آیا اور جس پرنالہ کو بھی پانی ملا وہ اس کے فیض سے ملا۔
جیسے ہم حضرت آدم علیہ السلام کو خاتم الآباء کہیں کہ باپ ہونے کا وصف ان پر جا کر ختم ہو جاتا ہے کہ ان کے بعد کوئی اور باپ نہیں نکلتا بلکہ سب باپوں کے باپ ہونے کی آخری حد سلسلہ وار پہنچ کر حضرت آدم علیہ السلام پر ختم ہو جاتی ہے تو قدرتی طور پر وہی فاتح الآباء بھی ثابت ہوتے ہیں کہ باپ ہونے کی ابتداء بھی ان ہی سے ہو۔ اگر وہ باپ نہ بنتے تو کسی کو بھی باپ بننا نہ آتا۔ یا جیسے ہم حق تعالیٰ شانہ کو خاتم الوجود جانتے ہیں کہ ہر موجود کے وجود کی انتہا اسی پر ہوتی ہے تو اصول مذکورہ کی رو سے وہی ذات واجب الوجود ان وجودوں کا سرچشمہ اور مبداء بھی ثابت ہوتی ہے کہ جسے بھی وجود کا کوئی حصہ ملا وہ اسی ذات اقدس کا فیض اور طفیل ہے۔ پس وجود کے حق میں ذات خداوندی ہی اول و آخر اور مبداء و منتہاء ثابت ہوتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح جب کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ”خاتم النبیین“ ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہوا اور اس کے معنی بھی واضح ہو گئے کہ نبوت اور کمالات نبوت آپ ﷺ پر پہنچ کر ختم ہو گئے اور آپ ﷺ ہی کمالات علم وعمل کے منتہاء ہوتے تو اصول مذکورہ کی رو سے آپ ﷺ ہی کو ان کمالات بشری کا مبداء اور سرچشمہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ ﷺ ہی سے ان کمالات کا افتتاح اور آغاز بھی ہوا اور جسے بھی نبوت یا کمالات نبوت کا کوئی کرشمہ ملا وہ آپ ﷺ ہی کے واسطہ اور فیض سے ملا ہے۔ پس جیسے آدم علیہ السلام کی ابوت اول بھی تھی اور وہی لوٹ پھر کر آخری بھی ثابت ہوتی تھی۔ ساتھ ہی اصلی اور بلاواسطہ بھی تھی۔ بقیہ سب باپوں کی ابوت ان کے واسطہ اور فیض سے تھی۔ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کی نبوت اول بھی ہوئی اور لوٹ کر پھر آخری بھی اور ساتھ ہی اصلی اور بلا واسطہ بھی ہے کہ بقیہ سب انبیاء کی نبوتیں آپ ﷺ کے واسطہ اور فیض سے ہیں۔ پس جیسے فلاسفہ کے یہاں ہر نوع کا ایک رب النوع مانا گیا ہے جو اس نوع کے لئے نقطہ فیض ہوتا ہے۔ ایسے ہی نبوت کی مقدس نوع کا نقطہ فیض اور جوہر فرد حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ اس لئے آپ ﷺ کی نبوت اصلی ہے اور دوسرے انبیاء کی نبوت بواسطہ خاتم النبیین ہے۔
پس ہر کمال نبوت خواہ علمی ہو یا عملی ، اخلاقی ہو یا اجتماعی حال کا ہو یا مقام کا ۔ وہ اولاً آپ ﷺ میں ہوگا اور آپ ﷺ کے واسطہ سے دوسروں کو پہنچے گا۔ اس لئے اصول مذکورہ کی رو سے دائرہ نبوت میں جب آپ ﷺ خاتم نبوت ہوئے تو آپ ﷺ ہی فاتح نبوت بھی ہوئے۔
اگر نبوت آپ ﷺ پر رکی اور ختم ہی ہوئی تو آپ ﷺ ہی سے یقیناً چلی بھی اور شروع بھی ہوئی اس لئے آپ ﷺ نبوت کے خاتم بھی ہیں اور فاتح بھی ہیں۔ آخیر بھی ہیں اور اوّل بھی ہیں۔ مبداء بھی ہیں اور منتہاء بھی ہیں۔ چنانچہ جہاں آپ ﷺ نے اپنے آپ کو خاتم النبیین فرمایا کہ:
- ...... "انی عبداللہ وخاتم النبیین (مستدرک حاکم ج٢ ص١٩٤) " ﴿میں اللہ
کا بندہ ہوں اور خاتم النبیین ہوں۔﴾
اور جہاں آپ ﷺ نے نبوت کو ایک قصر سے تشبیہ دے کر اپنے کو اس کی آخری اینٹ بتایا جس پر اس عظیم الشان قصر کی تکمیل ہوگئی۔
- ...... "فانا سددت موضع اللبنة وختم بی البنیان وختم بی الرسل
(کنز العمال ج١١ ص٤٥٣)
" ﴿پس میں نے ہی (قصر نبوت کی آخری اینٹ کی جگہ کو پر کیا اور مجھ ہی پر یہ قصر مکمل کر دیا گیا اور مجھ ہی پر رسول ختم کر دیئے گئے کہ میرے بعد اب کوئی رسول آنے والا نہیں۔﴾
وہیں آپ ﷺ نے اپنے کو قصر نبوت کی اولین خشت اور سب سے پہلی اینٹ بھی بتایا۔ ...... فرمایا:
- ...... "کنت نبياً وآدم بین الروح والجسد
(مسند احمد ج٤ ص٣٠١)
" ﴿میں اس وقت بھی نبی تھا جب کہ آدم ابھی روح و بدن کے درمیان ہی میں تھے۔﴾
یعنی ان میں ابھی روح بھی نہیں پھونکی گئی تھی کہ میں نبی بنا دیا گیا تھا۔ جس سے واضح ہے کہ آپ ﷺ خاتم ہونے کے ساتھ ساتھ فاتح بھی تھے۔ اول بھی تھے اور آخر بھی۔ چنانچہ ایک روایت میں اس فاتحیت اور خاتمیت کو ایک جگہ جمع فرماتے ہوئے ارشاد ہوا (جو حدیث قتادہ کا ایک ٹکڑا ہے) ...... کہ:
- ...... "جعلنی فاتحاً وخاتما (خصائص کبری ص١٩٧، ٣٧٠) " ﴿اور مجھے اللہ
تعالیٰ نے فاتح بھی بنایا اور خاتم بھی۔﴾
پھر چونکہ خاتم ہونے کے لئے اول و آخر ہونا بھی لازم تھا تو حدیث ذیل میں اسے بھی واضح فرما دیا گیا اور آدم علیہ السلام کو حضور کا نور دکھاتے ہوئے بطور تعارف کہا گیا کہ:
- ...... "هذا ابنک احمد هو الاول والاخر (کنز العمال) " ﴿یہ تمہارا بیٹا احمد ہے
جو (نبوت میں) اول بھی ہے اور آخر بھی ہے۔﴾
٥
پھر حدیث ابی ہریرہؓ میں اس اولیت و آخریت جیسی اضداد کے جمع ہونے کی نوعیت پر روشنی ڈالی گئی ۔ کہ:
- ٭...... ”كنت اول النبيين في الخلق وآخرهم في البعث (كنز العمال ج١١
ص٤٥٢)“ ﴿میں نبیوں میں سب سے پہلا ہوں بلحاظ پیدائش کے اور سب سے پچھلا ہوں بلحاظ بعثت کے۔﴾
اس لئے حقیقی طور پر آپ ﷺ کی امتیازی شان محض نبوت نہیں بلکہ ”ختم نبوت“ ثابت ہوتی ہے جس سے آپ ﷺ کے لئے یہ فاتح وخاتم اور اول و آخر ہونا ثابت ہے اور آپ ﷺ سارے طبقہ انبیاء میں ممتاز اور فائق نمایاں ہوئے اور ظاہر ہے کہ جب نبوت ہی سارے بشری کمالات کا سرچشمہ ہے اور اس لئے سارے انبیاء علیہم السلام سارے ہی کمالات بشری کے جامع ہوئے ہیں تو قدرتی طور پر ”خاتم نبوت“ کے لئے صرف جامع کمالات ہونا کافی نہیں۔ بلکہ خاتم کمالات ہونا بھی ضروری ہے یعنی آپ ﷺ کا ہر کمال انتہائی کمال کا نقطہ ہونا چاہئے۔ ورنہ ختم نبوت کے کوئی معنی ظاہر نہیں ہو سکتے۔ اندریں صورت جہاں یہ ماننا پڑے گا کہ جو کمال بھی کسی نبی میں تھا۔
وہ بلاشبہ آپ ﷺ میں بھی تھا وہیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ ﷺ میں وہ کمال سب سے پہلے تھا اور سب سے بڑھ چڑھ کر تھا اور امتیاز وفضیلت کی انتہائی شان لئے ہوئے تھا اور یہ کہ وہ کمال آپ ﷺ میں اصلی تھا اور اوروں میں آپ ﷺ کے واسطہ سے تھا۔ پس آپ ﷺ جامع کمالات ہی نہیں بلکہ خاتم کمالات اور خاتم کمالات ہی نہیں فاتح کمالات...... اور سرچشمہ کمالات اور فارع کمالات ہی نہیں بلکہ منتہائے کمالات اور منتہائے کمالات ہی نہیں بلکہ اعلیٰ الکمالات اور افضل الکمالات ثابت ہوئے کہ آپ ﷺ میں کمال ہی نہیں بلکہ کمال کا آخری اور انتہائی نقطہ ہے جس کے فیض سے اگلے اور پچھلے باکمال بنے۔
عقلی طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ جس پر عنایت ازلی سب سے پہلے اور بلاواسطہ متوجہ ہوئی ۔ وہ جس درجہ کا اثر اس سے قبول کرے گا یقیناً ثانوی درجہ میں اور بالواسطہ فیض پانے والے اس درجہ کا اثر نہیں لے سکتے۔ پس اول مخلوق یعنی ”اول ماخلق الله نوری“ کا مصداق، نور الٰہی کا جو نقش کامل اپنی استعداد کامل سے قبول کر سکتا ہے اس کی توقع بالواسطہ اور ثانوی نقوش سے اثر لینے والوں سے نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے
٦
سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح سامنے آجاتی ہے کہ جو کمالات انبیاء سابقین کو الگ الگ دیئے گئے وہ سب کے سب اکٹھے کر کے اور ساتھ ہی اپنے انتہائی اور فائق مقام کے ساتھ آپ ﷺ کو عطا کئے گئے اور جو آپ ﷺ میں مخصوص کمالات ہیں وہ الگ ہیں۔
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
چنانچہ ذیل کی چند مثالوں سے جو شان خاتمیت کی ہزاروں امتیازی خصوصیات میں سے چند کی ایک اجمالی فہرست اور سیرت خاتم الانبیاء کے بے شمار ممتاز اور خصوصی مقامات میں سے چند کی موٹی موٹی سرخیاں ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکے گا کہ اولین وآخرین میں سے جس باکمال کو جو کمال دیا گیا۔ اس کمال کا انتہائی نقطہ حضور ﷺ کو عطا فرمایا گیا۔ اپنی ہر جہتی حیثیت سے ممتاز وفائق اور افضل تر ہے۔ مثلاً:
- ١....... اگر اور انبیاء نبی ہیں تو آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ”ما کان محمد ابا احد من
رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ (نہیں تھے محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین تھے) اور حدیث سلمان کا حصہ ذیل کہ: ”ان كنت اصطفيت آدم فقد ختمت بك الانبياء وما خلقت خلقا اكرم منك على (خصائص کبریٰ ج٢ ص١٩٣)“ (اور ارشاد حدیث کہ جبرئیل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا پروردگار فرماتا ہے کہ اگر میں نے آدم کو صفی اللہ کا خطاب دیا ہے تو آپ پر تمام انبیاء کو ختم کرکے آپ کو خاتم النبیین کا خطاب دیا ہے اور میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی کہ جو مجھے آپ سے زیادہ عزیز ہو)
- ٢....... اگر اور انبیاء کی نبوتیں مرجع اقوام وملل ہیں تو آپ کی نبوت اس کے ساتھ ساتھ مرجع
انبیاء ورسل بھی ہے۔ ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١)“ (اور یاد کرو کہ جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا۔ کتاب ہو یا حکمت پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتادے تمہاری پاس والی کتاب کو تو اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ یہ مدد بلا واسطہ ہوگی اگر کوئی رسول دورِ محمدی کو پا جائیں۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام آپ ہی کی نبوت کے دور میں آسمان سے اترینگے اور اتباع محمدی کریں گے یا بواسطہ امم واقوام ہوگی اگر خود
٧
رسول دور محمدی نہ پائیں۔ جیسے تمام انبیاء سابقین جو دور محمد سے پہلے گزر گئے اور آپ کا دور شریعت انہوں نے نہیں پایا)
- ......٣ اگر اور انبیاء عابد ہیں تو آپ ﷺ کو ان عابدین کا امام بنایا گیا۔ ’’ ثم دخلت بیت
المقدس فجمع لى الانبياء فقد منى جبريل حتى امتهم (نسائی ج ١ ص ٤٧، عن انس) ‘‘ (شب معراج کے واقعہ کا ٹکڑا ہے کہ پھر میں داخل ہوا۔ بیت المقدس میں اور میرے لئے تمام انبیاء کو جمع کیا گیا۔ تو مجھے جبرائیل علیہ السلام نے آگے بڑھایا یہاں تک میں نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت کی )
- ......٤ اگر اور انبیاء اپنے ظہور کے وقت نبی ہوئے تو آپ اپنے وجود ہی کے وقت سے نبی
تھے جو تخلیق آدم کی تکمیل سے بھی قبل کا زمانہ ہے۔ ’’كنت نبيا وآدم بين الروح والجسد (مسند احمد ج ٤ ص ٣٠١) ‘‘ ( میں نبی تھا اور آدم ابھی تک روح اور بدن کے درمیان ہی تھے۔ یعنی ان کی تخلیق ابھی مکمل نہ ہوئی تھی )
- ......٥ اگر اوروں کی نبوت حادث تھی جو حضور کی نبوت عالم خلق میں قدیم تھی ۔ ’’قـال
ابوهريرة متى وجبت لك النبوة؟ قال بين خلق آدم ونفخ الروح فيه (مستدرك حاكم ج ٢ ص ٥٠٩، حديث نمبر ٤٢٦٦، بيهقى وابونعيم) ‘‘ (ابو ہریرہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کی نبوت کب ثابت ہوئی؟ آپ نے فرمایا: ’’آدم کی پیدائش اور ان میں روح آنے کے درمیان میں ۔‘‘)
- ......٦ اگر اور انبیاء اور ساری کائنات مخلوق ہیں تو آپ مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ سبب
تخلیق کائنات بھی ہیں۔ ’’ فلولا محمد ماخلقت آدم ولا الجنة ولا النار (مستدرك) ‘‘ (’’اگر محمد ﷺ نہ ہوں (یعنی میں انہیں پیدا نہ کروں) تو نہ آدم کو پیدا کرتا۔ نہ جنت ونار کو۔‘‘)
- ......٧ اگر عہد الست میں اور انبیاء مع تمام اولاد کے بلیٰ کے ساتھ مقر تھے تو حضور اوّل
المقرین تھے جنہوں نے سب سے پہلے بلیٰ کہا اور بلیٰ کہنے کی سب کو راہ دکھلائی ۔ ’’كان محمد ﷺ و اوّل من قال بلى ولذالك صار يتقدم الانبياء وهو آخر من بعث (خصائص الكبرى ج ١ ص ٩) ‘‘ (محمد ﷺ نے سب سے پہلے (عہد الست کے وقت) بلیٰ فرمایا: اسی لئے آپ تمام انبیاء پر مقدم ہو گئے درحال یہ کہ آپ سب کے آخر میں بھیجے گئے ہیں)
٨
- ......٨ اگر روز قیامت اور انبیاء قبروں سے مبعوث ہونگے تو
’’انا اوّل من تنشق عنه الارض (مسند احمد ج ١ ص ہوں گا کہ زمین اس کے لئے شق ہوگی۔ یعنی قبر سے سب سے پہل
- ......٩ اگر اور انبیاء ابھی عرصات قیامت ہی میں ہوں گے تو
جائے گا۔ کہ مقام محمود پر پہنچ کر اللہ کی منتخب حمد و ثناء کریں۔ ’’فی محمدﷺ فذالك قوله تعالى عسى ان يبعثك رب الكبرى ج ٢ ص ٢٣٠،٢٣١) ‘‘ (پس جنہیں (میدان محشر میں (کہ مقام محمود پر آجائیں اور حمد و ثناء کریں) وہ محمد ﷺ ہوں ۔ کے کہ قریب ہے بھیجے گا آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر)
- ......١٠ اگر اور انبیاء کو روز قیامت ہنوز سجدہ کی جرأت نہ ہوگی
جنہیں سجدہ کی اجازت دی جائے گی ۔ ’’انا اوّل من يوذن (مسند احمد عن ابى الدرداء) ‘‘ ( میں سب سے پہلا ہ اجازت دی جائے گی )
- ......١١ اگر اور انبیاء اجازت عامہ کے بعد ہنوز سجدہ ہی میں
سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ۔ ’’انا اول من يدی (خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ٢٢٥) ‘‘ وفی مسلم: ’’فی رأسك سل تعط واشفع تشفع ‘‘ (میں سب سے سامنے نظر کروں گا (جب کہ سب کی نگاہیں نیچی ہوں گی) کہا جا جائے گا۔ جس کی شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی )
- ......١٢ اگر اور انبیاء روز قیامت شافع اور مشفع ہوں گے تو
گے۔ ’’انا اوّل شافع ومشفع (مشكوة ص ٥١٤) ‘‘ سے پہلے مشفع ہوں گا۔ جس کی شفاعت قبول کی جائے گی )
- ......١٣ اگر اور انبیاء کو شفاعت صغریٰ یعنی اپنی قوموں کی
شفاعت کبریٰ۔ یعنی تمام اقوام دنیا کی شفاعت دی جائے گی۔ فيقولون يا محمدﷺ انت رسول الله وخاتم النب ذنبك وما تاخر فاشفع لنا الى ربك الحديث (خا
٩
- ٨....... اگر روز قیامت اور انبیاء قبروں سے مبعوث ہونگے تو آپ اول المبعوثین ہوں گے۔
”انا اوّل من تنشق عنه الارض (مسند احمد ج ١ ص ٢٨١) “ ( میں سب سے پہلے ہوں گا کہ زمین اس کے لئے شق ہوگی۔ یعنی قبر سے سب سے پہلے میں اٹھونگا )
- ٩....... اگر اور انبیاء ابھی عرصات قیامت ہی میں ہوں گے تو آپ کو سب سے پہلے پکار بھی لیا
جائے گا۔ کہ مقام محمود پر پہنچ کر اللہ کی منتخب حمد وثاء کریں۔ ”فـيـكـون اول مـن يـدعــى محمدﷺ فذالك قوله تعالى عسى ان يبعثك ربك مقام محمودا (خصائص الکبریٰ ج٢ ص ٢٣٠، ٢٣١)“ (پس جنہیں (میدان محشر میں ) سب سے پہلے پکارا جائے گا۔ (کہ مقام محمود پر آجائیں اور حمد وثناء کریں) وہ محمد ﷺ ہوں گے۔ یہی معنی ہیں اللہ کے اس قول کے کہ قریب ہے بھیجے گا آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر )
- ١٠....... اگر اور انبیاء کو روز قیامت ہنوز سجدہ کی جرات نہ ہوگی تو آپ سب سے پہلے ہوں گے
جنہیں سجدہ کی اجازت دی جائے گی ۔ ”انـا اوّل مـن يـوذن لـه بـالسجود يوم القيٰمة (مسند احمد عن ابی الدرداء) “ ( میں سب سے پہلا ہونگا ۔ جسے قیامت کے دن سجدہ کی اجازت دی جائے گی )
- ١١....... اگر اور انبیاء اجازت عامہ کے بعد ہنوز سجدہ ہی میں ہوں گے تو آپ کو سب سے اول
سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی۔ ”انـا اول من يرفع رأسه فانظر الى بين يدی (خصائص الکبریٰ ج٢ ص ٢٢٥) “ وفى مسلم :”فـيـقـال يــا محمدﷺ ارفع رأسـك سـل تـعـط واشـفـع تـشـفـع “ ( میں سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھاؤں گا اور اپنے سامنے نظر کروں گا (جب کہ سب کی نگاہیں نیچی ہوں گی ) کہا جائے گا۔ محمد ! سر اٹھاؤ جو مانگو گے دیا جائے گا۔ جس کی شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی )
- ١٢....... اگر اور انبیاء روز قیامت شافع اور مشفع ہوں گے تو آپ اول شافع اور اول مشفع ہوں
گے۔ ”انا اوّل شافع ومشفع (مشکوٰۃ ص ٥١٤) “ (میں سب سے پہلے شافع اور سب سے پہلے مشفع ہوں گا۔ جس کی شفاعت قبول کی جائے گی )
- ١٣....... اگر اور انبیاء کو شفاعت صغریٰ یعنی اپنی قوموں کی شفاعت دی جائے گی تو حضور کو
شفاعت کبریٰ ۔ یعنی تمام اقوام دنیا کی شفاعت دی جائے گی۔ ”اذهبـو الـى مـحمد فياتون فيقولون يا محمدﷺ انـت رسول الله وخاتم النبيين غفرلك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر فاشفع لنا الى ربك الحديث (خصائص الکبریٰ ج٢ ص ٢٢٥) “
٩
(شفاعت کے سلسلہ میں اس حدیث طویل میں ہے کہ جب اولین و آخرین کی سرگردانی پر اور طلب شفاعت پر سارے انبیاء جواب دیں گے کہ ہم اس میدان میں نہیں بڑھ سکتے اور لوگ آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیاء علیہم السلام ورسل تک سلسلہ وار شفاعت سے عذر سنتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچیں گے۔ اور طالب شفاعت ہوں گے تو فرمائیں گے کہ: ”جاؤ محمد ﷺ کے پاس تو آدم علیہ السلام کی ساری اولاد آپ کے پاس حاضر ہوگی اور عرض کرے گی کہ اے محمدﷺ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں (گویا آج سارے عالم کو رسالت محمدی اور ختم نبوت کا اقرار کرنا پڑے گا) آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں سب پہلے ہی معاف کر دی گئی ہیں۔ (یعنی آپ کے لئے اس عذر کا موقع نہیں جو ہر نبی نے کیا کہ میرے اوپر فلاں لغزش کا بوجھ ہے میں شفاعت نہیں کر سکتا کہیں مجھ سے ہی باز پرس نہ ہونے لگے) اس لئے آپ پروردگار سے ہماری شفاعت فرمائیں تو آپ اسے بلا جھجک اور بلا معذرت کے قبول فرمائیں گے اور شفاعت کبریٰ کریں گے)
- ١٤....... (الف) اگر تمام انبیاء قیامت کی ہولناکی کے سبب شفاعت سے بچنے کی کوشش کریں
گے اور لست لہا لست لہا (میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں) کہہ کر پیچھے ہٹ جائیں گے تو حضور کے دعوے کے ساتھ انا لہا انا لہا (میں اس کا اہل ہوں) کہہ کر آگے بڑھیں گے اور شفاعت عامہ کا مقام سنبھال لیں گے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ عن سلمان)
(اس روایت کی بھی وہی تفصیل ہے جو ١٣ میں گزری)
- ١٤....... (ب) اگر انبیاء ابھی میدان حشر میں ہوں گے تو آپ سب سے پہلے ہوں گے جو پل
صراط کو عبور بھی کر جائیں گے ۔ ”يضرب جسر جهنم فاكون اول من يجيز (خصائص الكبرى ج ٢ ص ٢٤٠، بخاري ومسلم عن ابي هريرة) ”(جہنم پر پل تان دیا جائے گا تو سب سے پہلے اسے عبور کرنے والا میں ہوں گا)
- ١٥....... اگر اور انبیاء اور اولین و آخرین ہنوز پیش دروازہ جنت ہی ہوں گے تو آپ سب سے
پہلے ہوں گے جو دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ”انا اوّل من يقرع باب الجنة (خصائص الكبرى ج ٣ ص ٢٤١) ”(میں سب سے پہلے دروازہ جنت کھٹکھٹاؤں گا)
- ١٦....... اگر اور انبیاء اور اقوام انبیاء ہنوز داخلہ جنت کی اجازت ہی کے مرحلہ پر ہوں گے تو
آپ کے لئے سب سے پہلے دروازہ جنت کھول بھی دیا جائے گا۔ ”انا اوّل من تفتح له ابواب الجنة (ابونعيم وابن عساكر عن حذيفه) ”(میرے لئے سب سے پہلے دروازہ
١٠
جنت کھولا جائے گا)
- ١٧....... اگر اور انبیاء باب جنت کھلنے پر ابھی داخلہ کے آرزو مند ہی
اول جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ ”وانا اوّل من يدخل الجنة (خصائص الكبرى ج ٣ ص ٢٤٢) ” (روز قیامت میں ہی سب ہوگا۔ مگر فخر سے نہیں کہتا)
- ١٨....... اگر اور انبیاء کو علوم خاصہ عطا ہوئے تو آپﷺ کو علم اولین
علم الاولين والاخرين (خصائص الكبرى ج ٣ ص ٢١٨) ”( گیا ہے جو الگ الگ انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا تھا جیسے آدم علیہ السلام کو کو علم تعبیر خواب، سلیمان علیہ السلام کو علم منطق الطیر ، خضر علیہ السلام کو حکمت وغیرہ)
- ١٩....... اگر اور انبیاء کو خلق حسن عطا ہوا حسن کے معنی معاملات میں
ہیں اور خلق کریم عطاء جس کے معنی عفو و مسامحہ کے ہیں تو آپ کو خلق دوسروں کی تعدی پر نہ صرف ان سے درگزر کرنے اور معاف کر دینے احسان کرنے اور حسن سلوک سے پیش آنے کے ہیں جو تمام محاسن اخلاق جامع ہے۔ ”وانك لعلى خلق عظيم (القرآن الحكيم) ”( والے سے اپنا حق پورا پورا لیا جائے۔ چھوڑا نہ جائے مگر عدل وانصاف زیادتی نہ ہو۔ یہ مساوات ہے اور خلاف رحمت نہیں۔ خلق کریم یہ ہے کر کے اپنا حق معاف کر دیا جائے۔ یہ کریم النفس ہے اور فی الجملہ رحمۃ للعالمین کے خلاف بھی نہیں اور خلق عظیم یہ ہے کہ ظالم سے نہ صرف اپنے حق کی ادائیگی سے اس کے ساتھ سلوک واحسان بھی کیا جائے جب کہ وہ حق تلفی کر رحمت و شفقت اور کمال ایثار ہے اسی کو فرمایا کہ اے نبی! آپ خلق عظیم
- ٢٠....... اگر اور انبیاء متبوع امم اقوام تھے تو حضور متبوع انبیاء و رسل ہیں۔ ”وما من نبى الا
حيا ما وسعه الاتباعی (مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٧) ”( بھی میری اتباع کے سوا چارہ کار نہ تھا)
- ٢١....... اگر اور انبیاء کو قابل نسخ کتابیں ملیں تو آپ کو ناسخ کتاب ملی۔ ”لو كان موسى حيا
النبى ﷺ بنسخة من التوراة فقال يا رسول الله هذه نسخة من التوراة
١١
جنت کھولا جائے گا )
- ١٧...... اگر اور انبیاء باب جنت کھلنے پر ابھی داخلہ کے آرزومند ہی ہوں گے تو آپ سب سے
اول جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ” وانا اوّل من يدخل الجنة يوم القيمة ولا فخر (خصائص الكبرى ج ٢ ص ٢٤٢) (روز قیامت میں ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگا۔ مگر فخر سے نہیں کہتا )
- ١٨...... اگر اور انبیاء کو علوم خاصہ عطا ہوئے تو آپ ﷺ کو علم اولین و آخرین دیا گیا ۔ ” اوتیت
علم الاولين والآخرين (خصائص الكبرى ج ٢ ص ٢١٨) (مجھے علم اولین و آخرین دیا گیا ہے جو الگ الگ انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا تھا جیسے آدم علیہ السلام کو علم اسماء ۔ یوسف علیہ السلام کو علم تعبیر خواب، سلیمان علیہ السلام کو علم منطق الطیر ، خضر علیہ السلام کو علم لدنی، عیسیٰ علیہ السلام کو حکمت وغیرہ )
- ١٩...... اگر اور انبیاء کو خلق حسن عطا ہوا حسن کے معنی معاملات میں حدود سے نہ گزرنے کے
ہیں اور خلق کریم عطاء جس کے معنی عفو و مسامحہ کے ہیں تو آپ کو خلق عظیم دیا گیا جس کے معنی دوسروں کی تعدی پر نہ صرف ان سے درگزر کرنے اور معاف کر دینے کے ہیں بلکہ ان کے ساتھ احسان کرنے اور حسن سلوک سے پیش آنے کے ہیں جو تمام محاسن اخلاق اور مکارم اخلاق دونوں کا جامع ہے۔ ”وإنك لعلى خلق عظيم (القرآن الحكيم) (خلق حسن یہ ہے کہ ظلم کرنے والے سے اپنا حق پورا پورا لیا جائے ۔ چھوڑا نہ جائے مگر عدل و انصاف جس میں کوئی تعدی اور زیادتی نہ ہو۔ یہ مساوات ہے اور خلاف رحمت نہیں ۔ خلق کریم یہ ہے کہ ظالم کے ظلم سے درگزر کر کے اپنا حق معاف کر دیا جائے۔ یہ کریم النفس ہے اور فی الجملہ رحمت بھی ہے کہ اگر دیا نہیں تو لیا بھی نہیں اور خلق عظیم یہ ہے کہ ظالم سے نہ صرف اپنے حق کی ادائیگی معاف کر دی جائے بلکہ اوپر سے اس کے ساتھ سلوک و احسان بھی کیا جائے جب کہ وہ حق تلفی کر رہا ہو ۔ اس خلق کی روح غلبہ رحمت و شفقت اور کمال ایثار ہے اسی کو فرمایا کہ اے نبی! آپ خلق عظیم پر ہیں )
- ٢٠...... اگر اور انبیاء متبوع امم اقوام تھے تو حضور متبوع انبیاء ورسل تھے۔ ”لو كان موسى
حيا ما وسعه الا تباعی (مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٧) (اگر موسیٰ آج زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ کار نہ تھا )
- ٢١...... اگر اور انبیاء کو قابل نسخ کتابیں ملیں تو آپ کو ناسخ کتاب عطاء ہوئی ۔ ” ان عمر اتی
النبی ﷺ بنسخة من التوراة فقال يا رسول الله هذه نسخة من التوراة
١١
فسكت. فجعل يقرأه ووجه رسول الله ﷺ يتغير فقال ابو بكر ثكلتك الثواكل ما ترى ما بوجه رسول الله ﷺ فنظر عمر الى وجه رسول الله ﷺ فقال اعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله رضينا بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبياً فقال رسول الله ﷺ والذى نفس محمد بيده لو بدالكم موسى فاتبعتموه وتركتمونى لضللتم عن سواء السبيل ولو كان حياً وادرك نبوتى لاتبعنى (دارمى ج ١ ص ١١٥، عن جابر) ” (حضرت عمرؓ تورات کا ایک نسخہ حضور ﷺ کے پاس لے آئے اور عرض کیا کہ یہ تورات ہے۔ آپ خاموش رہے تو انہوں نے اسے پڑھنا شروع کر دیا اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک غصہ سے متغیر ہونا شروع ہو گیا تو صدیق اکبرؓ نے حضرت عمرؓ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تجھے گم کریں گم کرنے والیاں کیا چہرہ نبوی کا اثر تمہیں نظر نہیں آرہا؟“ تب حضرت عمرؓ نے چہرہ اقدس ﷺ کو دیکھا اور دہل گئے، فوراً زبان پر جاری ہو گیا) میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے غضب سے اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے ہم راضی ہوئے اللہ سے بلحاظ رب ہونے کے اور راضی ہوئے اسلام سے بلحاظ دین ہونے کے اور راضی ہوئے محمد ﷺ سے بلحاظ نبی ہونے کے۔ تو رسول ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آج تمہارے پاس موسیٰ آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کا اتباع کرنے لگو تم بلاشبہ سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور اگر آج موسیٰ زندہ ہو کر آجائیں اور میری نبوت کو پالیں تو وہ یقینا میری ہی اتباع کریں گے ۔“)
- ٢٢....... اگر اور انبیاء کو دین عطا کیا گیا تو آپ ﷺ کو کمال دین دیا گیا جس میں نہ کمی کی گنجائش
ہے نہ زیادتی کی۔ ”اليوم اكملت لكم دينكم (مائدہ:٣)“ (آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا جس میں نہ اب کمی کی گنجائش ہے نہ زیادتی)
- ٢٣....... اگر اور انبیاء کو ہنگامی دین دیئے گئے تو حضور ﷺ کو دوامی دین عطا کیا گیا۔ ”اليوم
اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (مائدہ:٣)“ (آج کے دن میں نے دین کو کامل کر دیا۔ جس میں کوئی کمی نہیں رہی تو کسی نئے دین کی ضرورت نہیں رہی۔ پس وہ منسوخ ہو گیا جس سے اس دین کا دوامی ہونا ظاہر ہے۔ اور پہلے ادیان میں کمی تھی جس کی اس دین سے تکمیل ہوئی تو پچھلے کسی نا تمام دین کی اب حاجت نہیں رہی پس وہ منسوخ ہو گیا جس سے اس کا ہنگامی ہونا ظاہر ہے)
- ٢٤....... اگر اور انبیاء کو دین عطا ہوا تو آپ کو غلبہ دین کیا گیا۔ ”هو الذى ارسل رسوله
١٢
بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله (فتح: ٢٨) اپنا رسول بھیجا ہدایت و دین دے کر تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے
- ٢٥....... اگر اور انبیاء کے دین میں تحریف و تبدیل راہ پا گئی جس سے
دین میں تجدید رکھی گئی جس سے وہ قیامت تک تازہ بہ تازہ ہوتا رہے يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد ص ٣٦) ”(بلاشبہ اللہ تعالیٰ اٹھاتا رہے گا اس امت کے لئے وہ لوگ جو کو تازہ بتازہ کرتے رہیں گے)
- ٢٦....... اگر شریعت موسوی میں جلال اور شریعت عیسوی میں جمال
ایک ایک جانب کی رعایت تھی۔ تو شریعت محمدی میں جلال و جمال کا م کا نام اعتدال ہے۔ جس میں حکم کی دونوں جانبوں کے ساتھ درمیا توسط کہتے ہیں۔ ”جعلنکم امة وسطاً (بقرہ:١٤٣)“ (اور بنا کے امت اعتدال)
- ٢٧....... اگر دینوں میں تشدد اور تنگی اور شاق شاق ریاضتیں تھیں
دین میں نرمی اور توافق طبائع رکھ کر تنگ گیری ختم کر دی گئی ہے۔ ”لا فيشدد الله عليكم فان قوماً شدد وعلى انفسهم فشد هم في الصوامع والديار (ابوداؤد عن انس)“ (اپنے اپ اور ترک لذات میں مبالغے مت کرو۔ کہ اللہ بھی تم پر سختی فرمانے لگ اوپر تشدد کیا۔ رہبانیت سے یعنی یہود و نصاریٰ تو اللہ نے بھی ان خانقاہوں میں کچھ انہی کے بچے بچائے لوگ پڑے ہوئے ہیں)
- ٢٨....... اگر بسلسلہ خصومات شریعت موسوی میں تشدد ہے یعنی ان
نہیں ۔”وكتبنا عليهم فيها ان النفس بالنفس والعي (اور ہم نے ان بنی اسرائیل پر فرض کر دیا تھا تو رات میں کہ نفس کا شریعت عیسوی میں تساہل ہے یعنی عفو و درگزر فرض ہے انتقام جائز ن ہے کہ کوئی تمہارے بائیں گال پر تھپڑ مارے تو تم دایاں گال بھی پی خدا تیرا بھلا کرے گا) انجیل گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال بھی پیش واعتدال فرض ہے کہ انتقام جائز اور عفو و درگزر افضل ہے جس ک
١٣
بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله (فتح:٢٨) ” (وہی ذات ہے جس نے اپنا رسول بھیجا ہدایت و دین دے کر تا کہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے)
- ٢٥...... اگر اور انبیاء کے دین میں تحریف و تبدیل راہ پاگئی جس سے وہ ختم ہوگئے تو آپ کے
دین میں تجدید رکھی گئی جس سے وہ قیامت تک تازہ بہ تازہ ہو کر دواماً باقی رہے گا ۔ ” ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (مشكوة ج ١ ص ٣٦) ” (بلاشبہ اللہ تعالیٰ اٹھاتا رہے گا اس امت کے لئے وہ لوگ جو ہر صدی کے سرے پر دین کو تازہ بتازہ کرتے رہیں گے)
- ٢٦...... اگر شریعت موسوی میں جلال اور شریعت عیسوی میں جمال غالب تھا۔ یعنی حکم کی صرف
ایک ایک جانب کی رعایت تھی۔ تو شریعت محمدی میں جلال و جمال کا مجموعی کمال غالب ہے، جس کا نام اعتدال ہے۔ جس میں حکم کی دونوں جانبوں کے ساتھ درمیانی جہت کی رعایت ہے جسے توسط کہتے ہیں۔ ” جعلنكم امةً وسطاً (بقره:١٤٣) “ (اور بنایا ہم نے تم کو (بحیثیت دین) کے امت اعتدال )
- ٢٧...... اگر دینوں میں تشدد اور تنگی اور شاق شاق ریاضتیں تھیں ، جسے تشدد کہا جاتا ہے تو اس
دین میں نرمی اور توافق طبائع رکھ کر تنگ گیری ختم کر دی گئی ہے۔”لا تشددوا على انفسكم فيشدد الله عليكم فان قوماً شددوا على انفسهم فشدد الله عليهم فتلك بقايا هم في الصوامع والديار (ابوداؤد عن انس) “ (اپنے اوپر سختی مت کرو، ریاضت شاقہ اور ترک لذات میں مبالغہ مت کرو۔ کہ اللہ بھی تم پر سختی فرمانے لگے اس لئے کہ جنہوں نے اپنے اوپر تشدد کیا۔ رہبانیت سے یعنی یہود و نصاریٰ تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی سو یہ مندروں اور خانقاہوں میں کچھ انہی کے بچے بچائے لوگ پڑے ہوئے ہیں)
- ٢٨...... اگر بسلسلہ خصومات شریعت موسوی میں تشدد ہے یعنی انتقام فرض ہے۔ عفو و درگزر جائز
نہیں ۔ ”وكتبنا عليهم فيها ان النفس بالنفس والعين بالعين (مائده: ٤٥) “ (اور ہم نے ان بنی اسرائیل پر فرض کر دیا تھا تورات میں کہ نفس کا بدلہ نفس، آنکھ کا بدلہ آنکھ ) اور شریعت عیسوی میں تساہل ہے یعنی عفو و درگزر فرض ہے انتقام جائز نہیں۔ نص (انجیل میں فرمایا گیا ہے کہ کوئی تمہارے بائیں گال پر تھپڑ مارے تو تم دایاں گال بھی پیش کر کہ بھائی ایک اور مارتا چل ۔ خدا تیرا بھلا کرے گا ) انجیل گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال بھی پیش کر دو تو شریعت محمدی میں توسط واعتدال فرض ہے کہ انتقام جائز اور عفو و درگزر افضل ہے جس میں یہ دونوں شریعتیں جمع ہو جاتی
١٣
ہیں۔ ”وجزاء سيئة مثلها فمن عفا واصلح فاجره على الله انه لا يحب الظلمين (شوری:٤٠)“ (اور برائی کا بدلہ اسی جیسی اور اتنی ہی برائی ہے۔ یہ خلق حسن ہے اور جو معاف کرے اور درگزر کرے تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔ اور اللہ ظالموں کو (جو حدود سے گزر جانے والے ہوں) پسند نہیں کرتا)
- ٢٩...... اگر شریعت عیسوی میں صرف باطنی صفائی پر زور دیا گیا ہے خواہ ظاہر گندہ ہی کیوں نہ رہ
جائے نہ غسل جنابت ہے نہ تطہیر اعضاء، دوسری ملتوں میں صرف ظواہر کی صفائی پر زور دیا گیا ہے کہ غسل بدن روزانہ ضروری ہے خواہ باطن میں خطرات کفر و شرک کچھ بھی بھرے پڑے رہیں تو شریعت محمدی میں طہارت ظاہر و باطن دونوں کو جمع کیا گیا ہے۔ ”وثيابك فطهر (مدثر:٤)“ (اور اپنے کپڑوں کو پاک کرو) حضرت عمرؓ نے فرمایا ”فتی ارفع ازارک فانہ انقى لثوبك واتقى لربك“ ارشاد حدیث ہے۔ ”السواك مطهرة للفم مرضاة للرب“ (حضرت عمرؓ کی وفات کے قریب ایک نوجوان مزاج پرسی کے لئے حاضر ہوا جس کی ازار ٹخنوں سے نیچی زمین پر گھسٹتی ہوئی آرہی تھی۔ تو فرمایا کہ اے جوان لنگی ٹخنوں سے اوپر اٹھا کہ یہ کپڑے کے حق میں صفائی اور پاکی اور پروردگار کی نسبت سے تقویٰ (باطنی پاکی) کا سبب ہوگی۔ جس سے ظاہری و باطنی دونوں پاکیوں کا مطلوب ہونا واضح ہے اور حدیث میں ہے کہ مسواک کرنا منہ کی تو پاکی ہے اور پروردگار کی رضا ہے۔ یعنی مسواک ظاہری اور باطنی دونوں پاکیاں پیدا کرتی ہے۔ جس سے ظاہر و باطن کی صفائی اور پاکی کا مطلوب ہونا نمایاں ہے)
- ٣٠...... اگر اور ادیان میں اپنی اپنی قومیتوں اور ان ہی کے چھٹکارے کی رعایت ہے۔ مقولہ
موسوی ہے۔ ”ان ارسل معنا بنى اسرائيل ولا تعذبهم“ (بھیج میرے ساتھ بنی اسرائیل کو اور انہیں ستا مت) مقولہ عیسوی ہے کہ میں اسرائیلی بھیڑوں کو جمع کرنے آیا ہوں۔“ وغیرہ تو دین محمدی میں نفس انسانیت کی رعایت اور پورے عالم بشریت پر شفقت سکھلائی گئی ہے۔ ”الخلق عيال الله فاحب الخلق الى الله من يحسن الى عياله (مشكوة ص ٤٢٥)“ (ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ احسان سے پیش آئے)
- ٣١...... اگر اور انبیاء نے صرف ظاہر شریعت یا صرف باطن پر حکم کیا تو آپ ﷺ نے ظاہر
و باطن دونوں پر حکم کیا اور آپ کو شریعت و حقیقت دونوں عطا کی گئیں۔ ”عن الحارث بن حاطب ان رجلا سرق على عهد رسول الله ﷺ فاتى به فقال اقتلوه فقالوا
١٤
انما سرق قال فاقطعوه (فقطع) ثم سرق ايضا فقطع ثم بكر فقطع ثم سرق فقطع حتى قطعت قوائمه ثم سرق الخ كان رسول الله اعلم بهذا حيث امر بقتله اذهبوا به فاقتـ ج ٥ ص ٥٤٥)“ (خضر علیہ السلام نے صرف باطن شریعت یعنی حقیقت نا کردہ گناہ لڑکے کو قتل کر دیا یا بخیل گاؤں کی دیوار سیدھی کر دی اور موسیٰؑ شریعت پر حکم کیا کہ ان تینوں امور میں حضرت خضر علیہ السلام سے مو حقیقت حال ظاہر کی تب مطمئن ہوئے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے ظا جیسا کہ عام احکام شرعیہ ظاہری پر ہیں اور کبھی کبھی باطن اور حقیقت پـ میں اس کی نظیر یہ ہے کہ حارث بن حاطب ایک چور کو لائے تو حضور ﷺ حالانکہ چوری کی ابتدائی سزا قتل نہیں تو صحابہؓ نے موسیٰ صفت بن کر اس نے تو چوری کی ہے (کسی کو قتل نہیں کیا جو قتل کا حکم فرمایا جاوے دو۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا (بایاں پیر) کاٹ دیا۔ پھر حاضر ہو پھر چوری کی تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ چوتھی بار اس نے پھر دیا گیا۔ لیکن چاروں ہاتھ پیر کاٹ دیئے جانے کے باوجود اس نے صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ اس کے بارہ میں علم حقیقی رسول اللہ ﷺ ہی میں جان لیا تھا کہ چوری اس کا جزو نفس ہے۔ یہ چوروں کی سزا وا ہی میں اس کے باطن پر حکم لگا کر قتل کا حکم دے دیا تھا۔ ہمیں اب خبر سے قتل کے قابل بنا۔ لہذا اسے قتل کردو۔ تب وہ قتل کیا گیا۔ احادیث میں جا بجا ملتے ہیں)
- ٣٢...... (الف) اگر انبیاء سابقین کو شرائع اصلیہ دی گئیں تو
کے راسخین فی العلم کو شرائع وضعیہ یعنی اجتہادی مذاہب عطا کئے گـ ہے کہ آئمہ اجتہاد اصل شریعت کے احکام و علل واوصاف اور قـ و تدبر کر کے نئے نئے حوادث کے احکام کا استخراج کریں اور بـ ”لعلمه الذين يستنبطونه منهم (نساء:٨٣)“ (اور جـ یا خوف کی پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر اسے وہ ر پہنچا دیتے تو جو لوگ اس میں سے استنباط کرتے ہیں وہ اسے جـ
١٥
انما سرق قال فاقطعوه (فقطع) ثم سرق ايضا فقطع ثم سرق على عهد ابی بكر فقطع ثم سرق فقطع حتى قطعت قوائمه ثم سرق الخامسة فقال ابو بكر كان رسول الله اعلم بهذا حيث امر بقتله اذهبوا به فاقتلوه (مستدرك، حاكم ج٤ ص ٥٤٠) ” (خضر علیہ السلام نے صرف باطن شریعت یعنی حقیقت پر حکم کیا جیسے کشتی توڑ دی۔ ناکردہ گناہ لڑکے کو قتل کر دیا یا بخیل گاؤں کی دیوار سیدھی کر دی اور موسیٰ علیہ السلام نے صرف ظاہر شریعت پر حکم کیا کہ ان تینوں امور میں حضرت خضر علیہ السلام سے مواخذہ کیا۔ جب انہوں نے حقیقت حال ظاہر کی تب مطمئن ہوئے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے ظاہر شریعت پر بھی حکم فرمایا جیسا کہ عام احکام شرعیہ ظاہری پر ہیں اور کبھی کبھی باطن اور حقیقت پر بھی حکم فرمایا جیسا کہ حدیث میں اس کی نظیر یہ ہے کہ حارث بن حاطب ایک چور کو لائے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کردو حالانکہ چوری کی ابتدائی سزا قتل نہیں تو صحابہؓ نے موسیٰ صفت بن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس نے تو چوری کی ہے (کسی کو قتل نہیں کیا جو قتل کا حکم فرمایا جاوے) فرمایا اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا (بایاں پیر) کاٹ دیا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں اس نے پھر چوری کی تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ چوتھی بار اس نے پھر چوری کی تو دایاں پیر بھی کاٹ دیا گیا۔ لیکن چاروں ہاتھ پیر کاٹ دیئے جانے کے باوجود اس نے پانچویں دفعہ پھر چوری کی تو صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ اس کے بارہ میں علم حقیقی رسول اللہ ﷺ ہی تھا کہ آپ نے پہلی ہی بار ابتدا میں جان لیا تھا کہ چوری اس کا جزو نفس ہے۔ یہ چوروں کی سزاؤں سے باز آنے والا نہیں اور ابتدا ہی میں اس کے باطن پر حکم لگا کر قتل کا حکم دے دیا تھا۔ ہمیں اب خبر ہوئی کہ جب وہ ظاہر میں ضابطہ سے قتل کے قابل بنا۔ لہٰذا اسے قتل کر دو۔ تب وہ قتل کیا گیا۔ اس قسم کے بہت سے واقعات احادیث میں جا بجا ملتے ہیں)
- ٣٢....... (الف) اگر انبیاء سابقین کو شرائع اصلیہ دی گئیں تو آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی امت
کے راسخین فی العلم کو شرائع وضعیہ یعنی اجتہادی مذاہب عطا کئے گئے جن میں تشریع کی شان رکھی گئی ہے کہ آئمہ اجتہاد اصل شریعت کے احکام وعلل واوصاف اور اسرار وحکم میں شرعی ذوق سے غور وتدبر کر کے نئے نئے حوادث کے احکام کا استخراج کریں اور باطن شریعت کھول کر نمایاں کر دیں ”لعلمه الذين يستنبطونه منهم (نساء:٨٣)“ (اور جب ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر اسے وہ پیغمبر کی طرف یا راسخین فی العلم تک پہنچا دیتے تو جو لوگ اس میں سے استنباط کرتے ہیں وہ اسے جان لیتے ...... جس سے استنباطی اور
١٥
اجتہادی شرائع ثابت ہوتی ہیں)
- ٣٢...... (ب) اگر اور انبیاء کے ادیان میں ایک نیکی کا اجر ایک ہی ہے۔ تو آپ ﷺ کے دین
میں ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے اور ایک نیکی برابر دس نیکیوں کے ہے۔ ”من جاء بالحسنة فله عشر امثالها (انعام: ١٦٠)“ (جس نے ایک نیکی کی تو اس کے لئے دس گنا اجر ہے )
- ٣٣...... اگر اور انبیاء علیہم السلام کو ایک ایک نماز ملی تو حضور ﷺ کو پانچ نمازیں عطا ہوئیں۔
- ٣٤ عن محمد بن عائشة ان آدم لما تيب عليه عند الفجر صلى ركعتين
فصارت الصبح وفدى اسحق عند الظهر فصلى ابراهيم اربعا فصارت الظهر وبعث عزير فقيل له كم لبثت قال يوما فرأى الشمس فقال او بعض يوم فصلى اربع ركعات فصارت العصر وغفر لداؤد عند المغرب فقام فصلى اربع ركعات فجهد فجلس فى الثالثة فصارت المغرب ثلثا واول من صلى العشاء الآخرة نبينا محمد ﷺ (طحاوى بحوالہ خصائص الكبرى ج ٢ ص ٢٠٤) “
(محمد بن عائشہ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی توبہ جس دن فجر کے وقت قبول ہوئی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں تو صبح کی نماز کا وجود ہوا اور حضرت اسحق علیہ السلام کا جب ظہر کے وقت فدیہ دیا گیا تو اور انہیں ذبح سے محفوظ رکھا گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار رکعتیں بطور شکر نعمت پڑھیں تو ظہر ہوگئی اور حضرت عزیر علیہ السلام کو جب زندہ کیا گیا اور کہا گیا کہ تم کتنے وقت مردہ رہے؟ کہا، ایک دن، پھر جو سورج دیکھا تو کہا یا کچھ حصہ دن (جو عصر کا وقت ہوتا ہے) اور چار رکعت پڑھی تو عصر ہوگئی اور مغفرت کی گئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی غروب کے وقت تو وہ کھڑے ہوئے چار رکعت پڑھنے کے لئے تین پڑھی تھیں کہ تھک گئے تو تیسری ہی میں بیٹھ گئے تو مغرب ہو گئی اور سب سے پہلے جس نے عشاء کی نماز پڑھی وہ نبی کریم ﷺ ہیں اور مذکورہ چاروں نمازیں بھی آپ کو دی گئیں )
- ٣٤...... اگر اور انبیاء کی ایک نماز ایک ہی رہی تو حضور ﷺ کی پانچ نمازیں پچاس کے برابر
رکھی گئیں۔ ”هي خمس بخمسين (نسائی ج ١ ص ٧٨، عن انس)“ (شب معراج میں آپ کو پچاس نمازیں دی گئیں جن میں موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آپ ﷺ کمی کی درخواستیں کرتے رہے اور پانچ پانچ ہر دفعہ کم ہوتی رہیں جب پانچ رہ گئیں اور آپ نے حیاءً ان میں کمی کی درخواست نہیں فرمائی۔ تو ارشاد ہوا بس یہ پانچ نمازیں ہی آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی امت پر فرض ہیں مگر یہ پانچ پچاس کے برابر رہیں گی اجر وثواب میں )
١٦
- ٣٥....... اگر اور انبیاء نے بطور شکر نعمت خود سے اپنی اپنی نمازیں متعین کی تو آپﷺ کو آسمان
پر بلا کر اپنی تعین سے نمازیں خود حق تعالیٰ نے آپﷺ کو عنایت فرمائیں۔ ”کما فی حدیث المعراج المشہور“ (جیسا کہ حدیث معراج میں تفصیلاً مذکور ہے)
- ٣٦....... اگر اور انبیاء کی نمازیں مخصوص مواقع کے ساتھ مقید تھیں جیسے محراب یا صومعہ یا کنیسہ
وغیرہ تو حضورﷺ کی نماز کے لئے پوری زمین کو مسجد بنایا گیا۔ ”جعلت لی الارض مسجد او طهورا (بخاری ومسلم ج١ص١٩٩) و حدیث جابر: ولم يكن احد من الانبياء يصلى حتى يبلغ محرابه (خصائص الكبرى ج٢ ص١٨٧)“ (انبیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ اپنی محراب (مسجد) میں آئے بغیر نماز ادا کرتا ہو یعنی بغیر مسجد کے دوسری جگہ نماز ہی ادا نہ ہوتی تھی۔ لیکن حضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھے چیزیں دی گئیں ہیں جو سابقہ انبیاء کو نہیں دی گئیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میرے لئے ساری زمین کو مسجد اور ذریعۂ پاکی بنا دیا گیا ہے کہ اس سے تیمم کرلوں جو حکم میں وضو کے ہو جائے۔ یا تیمم جنابت کرلوں جو حکم میں غسل جنابت کے ہو جائے ہیں کہ پانی موجود نہ ہو یا اس پر قدرت نہ ہو)
- ٣٧....... اگر اور انبیاء اپنے اپنے قبیلوں اور قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تو آپﷺ تمام
اقوام اور تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔ ”كان النبى يبعث الى قومه خاصة وبعثت الى الناس كافة “ (بخاری و مسلم) عن جابر: ”وفی التنزيل وما ارسلنك الا كافة للناس “ (ہر نبی خصوصیت سے اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں سارے انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں اور قرآن شریف میں ہے اور نہیں بھیجا ہم نے تمہیں اے پیغمبر مگر سارے انسانوں کے لئے)
- ٣٨....... اگر اور انبیاء کی دعوت خصوصی تھی تو آپ کو دعوت عامہ دی گئی۔ ”یایها الناس
اعبدو ربکم (بقرہ: ٢١) وقال اللہ تعالیٰ: یایها الناس اتقوا ربکم (النساء: ١)“ (اے انسانو! اپنے رب کی عبادت کرو۔ اے انسانو! اپنے رب سے ڈرو)
- ٣٩....... اگر اور انبیاء محدود حلقوں کے لئے رحمت تھے تو آپ سارے جہانوں کے لئے رحمت
تھے۔ ”وما ارسلنك الا رحمة للعالمين (انبیاء: ١٠٧)“ (اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر جہانوں کے لئے رحمت بنا کر)
- ٤٠....... اگر اور انبیاء اپنے اپنے حلقوں کو ڈرانے والے تھے تو حضورﷺ جہانوں کے لئے نذیر
تھے۔ ”وان من امة الا خلا فيها نذير“ اور حضورﷺ کے لئے ”ليكون للعالمين
١٧
نذيراً (فرقان: ١) ”(اور کوئی امت نہیں گزری جس میں ڈرانے والا نہ آیا۔ اور حضور کے لئے فرمایا گیا تا کہ ہوں آپﷺ سارے جہانوں کے لئے ڈرانے والے)
- ٤١....... اگر اور انبیاء اپنی اپنی قوموں کے لئے مبعوث اور ہادی تھے ”ولکل قوم ھاد “ (ہر
ہر قوم کے لئے ایک ایک ہادی ضرور آیا) تو حضورﷺ سارے انسانوں کے لئے ہادی تھے۔ ”وما ارسلنك الا كافة الناس (القرآن الحکیم) وبعثت انا الى الجن والانس (خصائص الكبریٰ ج ٢ ص ١٣٤) “ (اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر سارے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے اور ارشاد حدیث ہے کہ میں بھیجا گیا ہوں، جنوں اور انسانوں سب کی طرف)
- ٤٢....... اگر اور انبیاء کو ذکر دیا گیا کہ مخلوق انہیں یاد رکھے تو آپﷺ کو رفعت ذکر دی گئی کہ
زمینوں اور آسمانوں ، دریاؤں اور پہاڑوں ، میدانوں اور غاروں میں آپ کا نام علی الاعلان پکارا جائے۔ اذانوں اور تکبیروں ، خطبوں اور ختموں ، وضو و نماز اور اوراد و اشغال اور دعاؤں کے افتتاح واختتام میں آپﷺ کے نام اور منصب نبوت کی شہادت دی جائے۔ ”ورفعنا لك ذكرك (الم نشرح : ٤) “وحديث ابوسعيد خدري ”قال لى جبريل قال الله اذا ذكرت ذكرت معی (ابن جریر ج ١٢ ص ٢٣٥ ، ابن حبان) “ (اور ہم نے اے پیغمبر تمہارا ذکر اونچا کیا۔ حدیث میں ہے کہ مجھے جبرائیل نے کہا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا (اے پیغمبر) جب آپ کا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ کیا جائے گا اور جب میرا ذکر ہوگا تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر ہوگا جیسا کہ اذانوں تکبیروں و خطبوں اور دعاؤں کے افتتاح واختتام کے درود شریف سے واضح ہے اور امت میں معمول یہ ہے جیسا فرمایا گیا۔ ”(١)اطيعو الله واطيعو الرسول۔ (٢)واطيعو الله ورسوله ان كنتم مومنين۔ (٣)ويطيعون الله ورسوله۔ (٤)انما المومنين الذين آمنو بالله ورسوله۔ (٥) براءة من الله ورسوله۔ (٦) واذان من الله ورسوله۔ (٧) استجيبو الله وللرسول۔ (٨) ومن يعص الله و رسوله۔ (٩)اذا قضى الله ورسوله امراً۔ (١٠) وشاقو الله ورسوله۔ (١١) ومن يشاقق الله ورسوله۔ (١٢) ومن يحادد الله ورسوله۔ (١٣) ولم يتخذوا من دون الله ورسوله۔ (١٤) يحاربون الله ورسوله۔ (١٥) ماحرم الله ورسوله۔ (١٦) قل الانفال لله وللرسول۔ (١٧) فان لله خمسه وللرسول۔ (١٨)فردوه الى الله والرسول۔ (١٩) ما اتاهم الله ورسوله۔ (٢٠)سيؤتينا الله من فضله ورسوله۔ (٢١)اغناهم الله ورسوله۔
١٨
(٢٢)كذبو الله ورسوله۔ (٢٣) انعم الله عليه يؤمنون بالله ورسوله۔ (٢٥) لا تقدموا بين يدى
- ٤٣....... اگر اور انبیاء کا محض ذکر حق تعالیٰ نے فرمایا تو آپ کا قـ
دیکھو حاشیہ کی دو درجن سے زائد آیتیں۔
- ٤٤....... اگر اور انبیاء نے روحانیت کے کمال کو خلوت وانقـ
تو آپﷺ نے اسے جلوتوں کے ہجوم جہاد، جماعت، سیاحت حکومت و سیاست کے سارے اجتماعی گوشوں میں سمو کر دکھلایا۔ (الحديث)”وسياحة امتى الجهاد“ (ابوداؤد ج ٢ ص ٢ (انعام: ١١)” “ لا اسلام الا بجماعة “(مقولہ عمر) انقطاع) نہیں۔ اور میری امت کی سیاحت و سیر جہاد ہے۔ کـ میں اور اسلام جماعتی اور اجتماعی چیز ہے)
- ٤٥....... اگر اور انبیاء کو عملی معجزات (عصاء موسیٰ، ید بیضاء
شعیب، قمیص یوسف وغیرہ دیئے گئے جو آنکھوں کو مطمئن کـ کے ساتھ علمی معجزہ (قرآن) بھی دیا گیا جس نے عقل، تفکـ قرآن عربياً لعلكم تعقلون (يوسف: ٢)”(ہم نے
- ٤٦....... اگر اور انبیاء کو ہنگامی معجزات ملے جو ان کی ذات
ہی کے اوصاف تھے تو حضورﷺ کو دوامی معجزہ قرآن کا د رہنے والا ہے۔ کیونکہ وہ خدا کا وصف ہے جو لازوال ہے ۔ لحافظون“(ہم نے ہی یہ قرآن اتارا ہے۔ اور ہم ہی
- ٤٧....... اگر اور حضرات کو وہ کتابیں ملیں جن کی حفاظـ
بدل گئیں تو آپﷺ کو وہ کتاب دی گئی جس کے وعدہ نہیں بدل سکتی ۔ ” انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحـ من بين يديه ولا من خلفه (فصلت : ٤٢)“ ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ اور فرمایا نہیں پیچھے سے )
- ٤٨....... اگر اور انبیاء سابقین کی کتابیں ایک ہی
١٩
(٢٢) كذبوا الله ورسوله. (٢٣) انعم الله عليه وانعمت عليه. (٢٤) الذين يؤمنون بالله ورسوله. (٢٥) لا تقدموا بين يدى الله ورسوله.)
- ٤٣...... اگر اور انبیاء کا محض ذکر حق تعالیٰ نے فرمایا تو آپ کا ذکر اپنے نام کے ساتھ ملا کر فرمایا۔
دیکھو حاشیہ کی دو درجن سے زائد آیتیں۔
- ٤٤...... اگر اور انبیاء نے روحانیت کے کمال کو خلوت وانقطاع اور رہبانیت کا پابند ہو کر دکھلایا
تو آپ ﷺ نے اسے جلوتوں کے ہجوم جہاد، جماعت، سیاحت وسفر، شہری زندگی، معاشرت اور حکومت وسیاست کے سارے اجتماعی گوشوں میں سمو کر دکھلایا۔ "لا رهبانية فى الاسلام" (الحديث) "وسياحة امتى الجهاد" (ابوداؤد ج ١ ص ٣٣٧) "قل سيروا فى الارض (انعام:١١)" "لا اسلام الا بجماعة “ (مقولہ عمرؓ) (اسلام میں رہبانیت (گوشہ گیری، انقطاع) نہیں۔ اور میری امت کی سیاحت وسیر جہاد ہے۔ کہہ دیجئے اے پیغمبر! کہ چلو پھرو زمین میں اور اسلام جماعتی اور اجتماعی چیز ہے)
- ٤٥...... اگر اور انبیاء کو عملی معجزات (عصاء موسیٰ، ید بیضاء، احیاء عیسیٰ، نار خلیل، ناقہ صالح، ظلہ
شعیب، قمیص یوسف وغیرہ دیئے گئے جو آنکھوں کو مطمئن کر سکے تو آپ کو ایسے سینکڑوں معجزات کے ساتھ علمی معجزہ (قرآن) بھی دیا گیا جس نے عقل، قلب اور ضمیر کو مطمئن کیا۔ "انا انزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون (يوسف: ٢)" (ہم نے قرآن اتارا۔ تاکہ عقل سے سمجھو)
- ٤٦...... اگر اور انبیاء کو ہنگامی معجزات ملے جو ان کی ذوات کے ساتھ ختم ہوگئے۔ کیونکہ وہ ان
ہی کے اوصاف تھے تو حضور ﷺ کو دوامی معجزہ قرآن کا دیا گیا جو تاقیامت اور بعد القیامت باقی رہنے والا ہے۔ کیونکہ وہ خدا کا وصف ہے جو لازوال ہے۔ "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون" (ہم نے ہی یہ قرآن اتارا ہے۔ اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں)
- ٤٧...... اگر اور حضرات کو وہ کتابیں ملیں جن کی حفاظت کا کوئی وعدہ نہیں تھا۔ اس لئے وہ بدل
سدل گئیں تو آپ ﷺ کو وہ کتاب دی گئی جس کے وعدہ حفاظت کا اعلان کیا گیا۔ جس سے وہ کبھی نہیں بدل سکتی۔ "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر:٩) لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه (فصلت:٤٢)" (ہم ہی نے یہ ذکر قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ اور فرمایا نہیں اس کے پاس بھٹک سکتا باطل، نہ آگے نہ پیچھے سے)
- ٤٨...... اگر اور انبیاء سابقین کی کتابیں ایک ہی مضمون مثلاً صرف تہذیب نفس یا صرف
١٩
معاشرت یا صرف سیاست مدن یا وعظ وغیرہ ایک ہی لغت پر نازل شدہ دی گئیں تو حضورﷺ کو سات اصولی مضامین پر مشتمل کتاب دی گئی جو سات لغات پر اتری۔ "كـان الكـتـاب الاول ينزل من باب واحد على حرف واحد ونزل القرآن من سبعة ابواب على سبعة احرف زاجر وآمر وحلال وحرام ومحكم ومتشابه وامثال (مستدرك حاكم ج ٣ ص ٥، وبيهيقى عن ابن مسعود) "(پہلی کتابیں ایک ایک خاص مضمون اور ایک ایک لغت میں اترتی تھیں اور قرآن سات مضامین میں سات لغت کے ساتھ اترا ہے۔ زجر امر حلال حرام، محکم متشابہ اور امثال)
- ٤٩...... اگر اور حضرات کو صرف اداء مطلب کے کلمات دیئے گئے تو آپ کو جوامع الکلم وجامع
اور فصیح و بلیغ ترین تعبیرات دی گئیں جس سے اوروں کی پوری پوری کتابیں آپ کی کتاب کے چھوٹے چھوٹے جملوں میں ادا کی گئیں اور ان میں سما گئیں۔”اعطيت جوامع الكلم (مسلم ج ١ ص ١٩٩، خصائص الكبرى ج ٢ ص ١٩٣) اعطيت مكان التوراة السبع الطوال ومكان الزبور المئين ومكان الانجيل....... المثاني وفضلت بالمفصل (بيهقى عن واثلة ابن الاسقع) (مجھے جوامع کلم دیئے گئے ہیں یعنی مختصر اور جامع ترین جملے جن میں تہ کی بات کہہ دی گئی ہو اور ارشاد حدیث ہے مجھے دیئے گئے توراۃ کی جگہ سبع طوال (ابتداء کی سات سورتیں) بقرہ، آل عمران، مائدہ، نساء، انعام، انفال، توبہ) اور زبور کی جگہ مئین (سوسو آیتوں والی سورتیں اور انجیل کی جگہ مثانی سورۃ فاتحہ ) اور صرف مجھے ہی جو فضیلت دی گئی ہے وہ مفصل کی جس میں طوال مفصل اوساط مفصل اور قصار مفصل سب شامل ہیں اور سورۃ ق یا سورۃ فتح یا سورۃ محمد سے علی اختلاف الروایات شروع ہو کر ختم قرآن تک چلی گئی ہیں )
- ٥٠...... اگر قرآن میں حق تعالیٰ نے اور انبیاء کی ذوات کا ذکر فرمایا۔ تو حضورﷺ ایک ایک
عضو اور ایک ایک اداء کا پیار ومحبت سے ذکر کیا گیا ہے چہرہ کا ذکر فرمایا۔ ”قــد نــرى تـقـلـب وجهك فــى السـمـاء“ (ہم دیکھ رہے ہیں تیرا چہرہ گھما گھما کر آسمان کو دیکھنا) آنکھ کا ذکر فرمایا: ”ولا تمدن عينيك“ (اور آنکھیں اٹھا کر مت دیکھ) زبان کا ذکر فرمایا: ”فـانـمـا يسـرنا بلسانك“ (بلاشبہ ہم نے (قرآن کو) آسان کر دیا ہے تیری زبان پر ) ہاتھ اور گردن کا ذکر فرمایا: ”ولا تجعل يدك مغلولة الى عنقك“ (اور مت کر اپنے ہاتھ کو سکڑا ہوا اپنی گردن تک) سینہ کا ذکر فرمایا: ”الم نشرح لك صدرك“ (کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا) پیٹھ کا ذکر فرمایا: ”ووضعنا عنك وزرك الذى انقض ظهرك“ (اور ہم نے اتار دیا تجھ سے بوجھ تیرا جس
٢٠
نے تیری کمر توڑ رکھی تھی) قلب کا ذکر فرمایا: ”نـزلـه عـلـى قـلـبـك دل پر ) آپﷺ کی پوری زندگی اور عمر کا ذکر فرمایا جس میں تمام ہیں۔ ”لـعـمـرك انـهـم لـفـى سـكـرتـهـم يـعـمـهـون“ (تیری زندگی کی ) مدہوشیوں میں پڑے بھٹک رہے ہیں )
- ٥١...... اگر اوروں کو انفرادی عبادتیں ملیں تو آپ کو ملائکہ
عبادت دی گئی جس سے یہ دین اجتماعی ثابت ہوا۔”فـضـلـت علـ وجـعـلـت صـفـوفـنـا كـصـفـوف المـلـئـكـة (بـيـهـقـى عـن حـ فضیلت دی گئی ہے لوگوں پر تین باتوں میں ...... جن میں سے صفیں (نماز میں ) مثل صفوف ملائکہ کے )
- ٥٢...... اگر اور انبیاء کے عملی معجزات اپنی اپنی قوموں کی
حضورﷺ کے تنہا ایک ہی علمی معجزے قرآن حکیم نے عالم کروڑوں ایمان لے آئے اور جو نہیں لائے وہ اس کے اصول انہیں اسلامی اصول کہہ کر تسلیم کیا اور بعض نے عملاً قبول کر لیا تـ ”مـا مـن الانـبـيـاء نـبـي الا اعـطـى مـا مـثـلـه آمـن عـلـيـه الـ وحـيـا اوحـاه الله الـى فـارجـو ان اكـون اكـثـرهـم بھی ایسا نہیں گزرا کہ اسے کوئی ایسا اعجازی نشان نہ دیا گیا ہو ج نے وہ اعجازی نشان وحی کا دیا ہے (یعنی قرآن حکیم ) جس والے اکثریت میں ہوں گے۔ (خصائص کبریٰ ٢/ ١٨٥))
- ٥٣...... (الف) اگر اور انبیاء کو عبادت الہی میں اس جہت
کو عین نماز میں تحیت وسلام میں مخاطب بنایا گیا ۔ ”السـلام وبـركـاتـه “ (سلامتی ہو تم پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور برکا
- ٥٣...... (ب) اگر محشر میں اور انبیاء کے محدود جھنڈے
قومیں اور قبیلے ہوں گے تو آپ کے عالمگیر جھنڈے کے نیچـ کی ساری ذریت ہوگی۔ ”آدم ومـن دونـه تـحـت لـوا احـمـد)“ (آدم اور ان کی ساری اولاد میرے جھنڈے کے فخر سے نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں )
٢١
نے تیری کمر توڑ رکھی تھی) قلب کا ذکر فرمایا: ”نزلہ علی قلبک“ (اتارا اللہ نے قرآن تیرے دل پر) آپ ﷺ کی پوری زندگی اور عمر کا ذکر فرمایا جس میں تمام ادائیں اور احوال بھی آجاتے ہیں۔ ”لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمہون“ (تیری زندگی کی قسم ! یہ (کفار) اپنی (بے عقلی کی) مدہوشیوں میں پڑے بھٹک رہے ہیں)
- ٥١...... اگر اوروں کو انفرادی عبادتیں ملیں تو آپ کو ملائکہ کی طرح صف بندی کی اجتماعی
عبادت دی گئی جس سے یہ دین اجتماعی ثابت ہوا۔ ”فضلت علی الناس بثلاث الی قولہ وجعلت صفوفنا کصفوف الملئکۃ (بیہقی عن حذیفہ رضی اللہ عنہ) “ (مجھے فضیلت دی گئی ہے لوگوں پر تین باتوں میں ...... جن میں سے ایک یہ ہے کہ کی گئی ہیں ہماری صفیں (نماز میں) مثل صفوف ملائکہ کے )
- ٥٢...... اگر اور انبیاء کے عملی معجزات اپنی اپنی قوموں کی اقلیتوں کو جھکا کر رام کر سکے تو
حضور ﷺ کے تنہا ایک ہی علمی معجزے قرآن حکیم نے عالم کی اکثریت کو جھکا کر مطیع بنالیا۔ کروڑوں ایمان لے آئے اور جو نہیں لائے وہ اس کے اصول ماننے پر مجبور ہو گئے پھر بعض نے انہیں اسلامی اصول کہہ کر تسلیم کیا اور بعض نے عملاً قبول کر لیا تو ان کی زبانیں ساکت رہیں۔ ٥٢ ”ما من الانبیاء نبی الا اعطی ما مثلہ آمن علیہ البشر وانما کان الذی او تیتہ وحیا اوحاہ اللہ الی فارجو ان اکون اکثرہم تابعاً. (بخاری عن ہریرہ) (کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا کہ اسے کوئی ایسا اعجازی نشان نہ دیا گیا ہو جس پر آدمی ایمان لا سکے اور مجھے خدا نے وہ اعجازی نشان وحی کا دیا ہے (یعنی قرآن حکیم) جس سے مجھے امید ہے کہ میرے ماننے والے اکثریت میں ہوں گے۔ (خصائص کبریٰ ١٨٥/٢)
- ٥٣...... (الف) اگر اور انبیاء کو عبادت الہی میں اس جہت سے بھی مخاطب نہیں بنایا گیا تو حضور
کو عین نماز میں تحیت و سلام میں مخاطب بنایا گیا۔ ”السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ “ (سلامتی ہو تم پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں)
- ٥٣...... (ب) اگر محشر میں اور انبیاء کے محدود جھنڈے ہوں گے جن کے نیچے صرف ان کی
قومیں اور قبیلے ہوں گے تو آپ کے عالمگیر جھنڈے کے نیچے جس کا نام لواء الحمد ہو گا ۔ آدم اور ان کی ساری ذریت ہوگی۔ ”آدم ومن دونہ تحت لوائی یوم القیمۃ ولا فخر (مسند احمد)“ (آدم اور ان کی ساری اولاد میرے جھنڈے کے تلے ہوں گے قیامت کے دن ۔ مگر میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ تحدیث نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں)
٢١
- ٥٤....... اگر انبیاء وامم سب کے سب قیامت کے دن سامع ہوں گے۔ تو آپ ﷺ اس دن
اولین وآخرین کے خطیب ہوں گے۔ ”فليراجع (خصائص الكبرى)“ (خصائص کبریٰ کی ایک طویل حدیث کا یہ ٹکڑا ہے)
- ٥٥....... اگر قیامت کے دن تمام انبیاء کی امتیں اپنے انبیاء کے نام اور انتساب سے پہچانی
جاویں گی تو آپ کی امت مستقلاً خود اپنی ذاتی علامت اعضاء وضو کی چمک اور نورانیت سے پہچانی جائے گی۔ ”قالوا يا رسول الله اتعرفنا يومئذ؟ قال نعم لكم سيما ليست لاحد من الامم تردون على غراً محجلين من اثر الوضوء (مسلم عن ابى هريره)“ (صحابہ نے عرض کیا جبکہ آپ ﷺ حوض کوثر کا ذکر فرمارہے تھے) یا رسول کیا آپ ہمیں اس دن پہچان لیں گے؟۔ (جبکہ اولین وآخرین کا ہجوم ہوگا) فرمایا ہاں تمہاری ایک علامت ہوگی جو امتوں میں سے کسی اور میں نہ ہوگی اور وہ یہ کہ تم میرے پاس (حوض کوثر پر) اس شان سے آؤ گے کہ تمہارے چہرے روشن اور پاؤں نورانی اور چمکدار ہوں گے وضو کے اثر سے یعنی اعضاء وضو کی چمک دمک سے میں تمہیں پہچان لوں گا)
- ٥٦....... اگر اور انبیاء کو حق تعالیٰ نے نام لے لے کر خطاب فرمایا کہ: ”ياآدم اسكن انت
وزوجك الجنة (اے آدم! تو اور تیری زوجہ جنت میں ٹھہرو) ينوح اهبط بسلام منا وبركت (اے نوح (کشتی سے) اتر ہماری ہوئی سلامتی اور برکات کے ساتھ) يا ابراهيم اعرض عن هذا۔ (اے ابراہیم! اس سے درگزر کر) يموسى انى اصطفيتك عن الناس برسلتی۔ (اے موسیٰ! میں نے تجھے لوگوں میں منتخب کیا اپنی پیغمبری کے ساتھ) يداؤد انا جعلنك خليفة فى الارض (اے داؤد! میں نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا) يزكريا انا نبشرك بغلم اسمه يحيى (اے زکریا! ہم تجھے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں) يايحيى خذ الكتاب بقوة (اے یحییٰ! کتاب کو مضبوط تھام) يعيسى انى متوفيك ورافعك الى“ (اے عیسیٰ! میں تجھے پورا پورا لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) تو حضور کو تکریماً نام کے بجائے آپ ﷺ کے منصبی القاب سے خطاب فرمایا جس سے آپ کی کامل محبوبیت عنداللہ نمایاں ہوتی ہے۔ ”يايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك (اے رسول ﷺ پہنچا دے اس چیز کو جو میں نے تیری طرف اتاری) ”يايها النبى انا ارسلنك شاهدا (اے نبی! میں نے تجھے گواہ بنا کر بھیجا ہے) ”يا ايها المزمل قم الليل الا قليلا “
٢٢
(اے کملی والے! قیام کر رات بھر۔ مگر کچھ کم) ”يايها المدثر (اے چادر والے! کھڑا ہو اور لوگوں کو ڈرا)
- ٥٧....... اگر اور انبیاء کو ان کی امتیں اور ملائکہ نام لے لے کر
اجعل لنا الهاكما لهم الهه (اے موسیٰ! ہمیں بھی والوں) کے ہیں) يعيسى ابن مريم هل يستطيع ربك رب اس کی قوت کرلیتا ہے) ”يلوط انا رسل ربك فرستادہ ہیں) تو اس امت کو ادبا حضور کا نام لے کر مخاطب بنان الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضاً“ (مت پکارا ایک دوسرے کو پکارنے کے بے تکلف نام لے لے کر خطاب منصبی خطابات یا رسول اللہ ﷺ، یا نبی اللہ، یا حبیب اللہ وغیر
- ٥٨....... اگر اور انبیاء کو معراج روحانی یا منامی یا جسمانی ا
حضرت مسیح کو چرخ چہارم تک، حضرت ادریس علیہ السلا معراجوں کے ساتھ جسمانی معراج کے ذریعہ ساتوں آسما تک پہنچا دیا گیا۔ ”ثم صعد بى فوق سبع السموت ج١ ص ٧٨، عن انس)“ (پھر مجھے چڑھایا گیا ساتوں تک پہنچ گیا)
- ٥٩....... اگر اور انبیاء نے اپنی مدافعت خود کی اور دشمنا
بیان کی۔ جیسے نوح علیہ السلام پر قوم نے ضلالت کا الزام لگا ضلالة“ (اے قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے۔ میں حضرت ہود علیہ السلام پر کم عقلی کا الزام لگایا تو خود ہی فرمایا قوم! مجھ میں سفاہت (کم عقلی) نہیں ہے۔ میں تو رب ا پر قوم نے شکست اصنام کا الزام لگا کر ایذا دینی چاہی تو ”بل فعله كبير هم هذا“ (بلکہ یہ بت شکنی تو ان بلحاظ بڑے بت کا) حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان صو کی تو خود ہی اپنے لیے قوت مدافعت کی آرزو ظاہر فرمائی ركن شديد“ (اے کاش! مجھے تمہارے مقابلہ میں ز
٢٣
(اے کملی والے! قیام کر رات بھر۔ مگر کچھ کم) ”یایھا المدثر۔ قم فانذر (القرآن الحکیم)“ (اے چادر والے! کھڑا ہو اور لوگوں کو ڈرا)
- ٥٧....... اگر اور انبیاء کو ان کی امتیں اور ملائکہ نام لے لے کر پکارتے تھے۔ کہ ”یموسیٰ
اجعل لنا الها كما لهم الهه (اے موسیٰ! ہمیں بھی ویسے ہی خدا بنا دے جیسے ان (صنعا والوں) کے ہیں) یعیسٰی ابن مریم هل یستطیع ربك؟“ (اے عیسیٰ! ابن مریم! کیا تیرا رب اس کی قوت کر لیتا ہے) ”یلوط انا رسل ربك“ (اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے فرستادہ ہیں) تو اس امت کو ادباً حضور کا نام لے کر مخاطب بنانے سے روکا گیا ”لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضاً“ (مت پکارو رسول کو اپنے درمیان مثل آپس میں ایک دوسرے کو پکارنے کے، بے تکلف نام لے لے کر خطاب کرنے لگو، بلکہ ادب و تعظیم کے ساتھ منصبی خطابات یا رسول اللہ ﷺ ، یا نبی اللہ، یا حبیب اللہ وغیرہ کہہ کر پکارو)
- ٥٨....... اگر اور انبیاء کو معراج روحانی یا منامی یا جسمانی مگر درمیانی آسمانوں تک دی گئی۔ جیسے
حضرت مسیح کو چرخ چہارم تک، حضرت ادریس علیہ السلام کو پنجم تک تو حضور ﷺ کو روحانی معراجوں کے ساتھ جسمانی معراج کے ذریعہ ساتوں آسمان سے گزار کر سدرۃ المنتہیٰ اور مستویٰ تک پہنچا دیا گیا۔ ”ثم صعد بی فوق سبع السمٰوت واتیت سدرة المنتهى (نسائی ج ١ ص٧٨، عن انس)“ (پھر مجھے چڑھایا گیا ساتوں آسمان سے بھی اوپر اور میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گیا)
- ٥٩....... اگر اور انبیاء نے اپنی مدافعت خود کی اور دشمنان حق کو خود ہی جواب دے کر اپنی برأت
بیان کی۔ جیسے نوح علیہ السلام پر قوم نے ضلالت کا الزام لگایا تو خود ہی فرمایا: ”یقوم لیس بی ضلالة“ (اے قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے۔ میں رب العالمین کا رسول ہوں) قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام پر کم عقلی کا الزام لگایا تو خود ہی فرمایا: ”یقوم لیس بی سفاهة“ (اے قوم! مجھ میں سفاہت (کم عقلی) نہیں ہے۔ میں تو رب العالمین کا فرستادہ ہوں) ابراہیم علیہ السلام پر قوم نے شکست اصنام کا الزام لگا کر ایذاء دینی چاہی تو خود ہی توریہ کے ساتھ مدافعت فرمائی۔ ”بل فعله كبیر ھم ھذا“ (بلکہ یہ بت شکنی تو ان میں کے بڑے کا کام ہے (یعنی میرا) مگر بلحاظ بڑے بت کا) حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان صورت فرشتوں کو قوم نے قبضانے کی کوشش کی تو خود ہی اپنے لیے قوت مدافعت کی آرزو ظاہر فرمائی۔ ”لو ان لی بکم قوة او اوى الی رکن شدید“ (اے کاش! مجھے تمہارے مقابلہ میں زور ہوتا یا جا کر بیٹھتا کسی مضبوط پناہ میں) تو
٢٣
حضورﷺ کی طرف سے ایسے مواقع پر مدافعت خود حق تعالیٰ نے فرمائی اور کفار کے طعنوں کی جواب دہی خود ہی کر کے آپ کی برأت بیان فرمائی، کفار مکہ نے آپ پر ضلالت گمراہی کا الزام لگایا تو فرمایا: ”ما ضل صاحبكم وما غوى“ (نہ تمہارا ساتھی گمراہ نہ کج راہ) کفار نے آپ کو بے عقل اور مجنوں کہا تو فرمایا ” ما انت بنعمة ربك بمجنون ( تم اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں سے مجنون نہیں اور تمہارا ساتھی جنونی نہیں ہے) اور وما صاحبكم بمجنون“۔ کفار نے آپ کی پاکیزہ باتوں کو ہوائے نفسانی کی باتیں بتلایا تو فرمایا: ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحٰی“ (اور پیغمبر ہوائے نفس سے کچھ نہیں کہتا۔ وہ تو وحی ہوتی ہے جو اس کی طرف کی جاتی ہے) کفار نے آپ کی وحی کو شاعری کہا۔ تو فرمایا: ”وما هو بقول شاعر “ اور فرمایا: ”وما علمنه الشعر وما ينبغى له“ (اور وہ قول شاعر کا نہیں اور ہم نے انہیں (حضورﷺ کو) شاعری کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی ان کی شان کے مناسب تھا) کفار نے آپ کی ہدایتوں کو کہانت کہا تو فرمایا: ”وما هو بقول كاهن“ (اور وہ قول کاہن کا نہیں ہے) کفار نے آپ کو مشقت زدہ اور معاذ اللہ شقاوت زدہ کہا تو فرمایا: ”وما انزلنا عليك القرآن لتشقٰی“ (ہم نے قرآن تم پر اس لئے نہیں اتارا کہ تم تعب اور محنت میں پڑ جاؤ)
- ٦٠....... اگر حضرت آدم علیہ السلام کی تحیت کے لئے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو حضورﷺ کی
تحیت بصورت درود و سلام خود حق تعالیٰ نے کی جس میں ملائکہ بھی شامل رہے اور قیامت تک امت کو اس کے کرتے رہنے کا حکم دیا اور اسے عبادت بنا دیا ۔ ”ان الله وملئکته يصلون على النبي يايها الذين آمنو صلوا عليه وسلموا تسليما (القرآن الحکیم)“ (اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پر ۔ اے ایمان والو! تم بھی درود و سلام اس نبی پر بھیجو ) اور السلام عليك يايها النبى ورحمته الله وبركاته“.
- ٦١....... اگر حضرت آدم علیہ السلام کا شیطان کافر تھا اور کافر ہی رہا تو حضورﷺ کا شیطان آپ
کی قوت تاثیر سے کافر سے مسلم ہو گیا۔ ”كما فی الرواية الاتية“ (جیسا کہ اگلی روایات میں آرہا ہے)
- ٦٢....... اگر حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ پاک (حوا) ان کی خطا میں معین ہوئیں تو حضورﷺ
کی ازواج مطہرات آپ کے کار نبوت میں معین ہوئیں ۔ ”فضلت علی آدم بخصلتین کان شیطانی کافر افاعاننی الله عليه حتى اسلم وكن ازواجی عونالی۔ وكان شيطان آدم كافر۔ وزوجته عونا على خطيئة (بيهقی عن ابن عمر)“ ٢٤
( مجھے دو باتوں میں آدم علیہ السلام پر فضیلت دی گئی ہے میرا اللہ نے میری مدد فرمائی یہاں تک کہ وہ اسلام لے آیا اور میر مددگار بنیں (حضرت خدیجہؓ نے احوال نبوت میں حضورﷺ ک لے گئیں۔ وقتاً فوقتاً آپﷺ کی تسلی تشفی کی۔ حضرت عائشہؓ ازواج مطہرات قرآن کی حافظ اور حدیث کی راوی ہوئیں) ا ہی تھا۔ اور کافر ہی رہا اور ان کی زوجہ ان کی خطیئہ میں ان ک ترغیب دی جس کو خطاء آدم علیہ السلام کہا گیا ہے)
- ٦٣....... اگر حضرت آدم علیہ السلام کو حجر جنت (حجر اسود
حضورﷺ کو روضئہ جنت عطا ہوا جو آپ کی قبر مبارک اور منبر ک بين بيتي ومنبرى روضة رياض الجنة (بخار قبر اور منبر کے درمیان ایک باغ ہے جنت کے باغوں میں س
- ٦٤....... اگر حضرت نوح علیہ السلام نے مساجد اللہ میں
تو حضورﷺ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت نکالے اور صرف بیت اللہ سے بلکہ اس کے حوالی اور مضافات سے بھی الهتکم ولا تذرن وداً ولا سواعا ولا يغوث الشيظن قد یئس ان يعبده المصلون في جز آمنو انما الخمر و والميسرو والانصاب والا فاجتنبوه (القرآن الحکیم)“ (اور (قوم نوح ن بتوں) ود، وسواع، یغوث یعوق اور نسر کو نوح کے کہنے س آنکہ طوفان میں غرق ہو گئے) اور حضورﷺ نے تین سو سا پھینکا ۔ جیسا کہ سیر میں مرقوم ہے)
- ٦٥....... اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مقام ابراہ
اونچی ہوئیں تو حضور کو مقام محمود عطا ہوا جس سے رب العا ان يبعثك ربك مقاماً محموداً“ (القرآن الحکیم) اور پوری امت کو مستفید کیا گیا۔ ”واتخذوا من مقام آپ کو (اے نبی کریم) مقام محمود پر بھیجے گا جس پر پہنچ ک ٢٥
(مجھے دو باتوں میں آدم علیہ السلام پر فضیلت دی گئی ہے میرا شیطان کافر تھا جس کے مقابلہ میں اللہ نے میری مدد فرمائی یہاں تک کہ وہ اسلام لے آیا اور میری بیویاں میرے (دین کے) لئے مددگار بنیں (حضرت خدیجہؓ نے احوال نبوت میں حضورﷺ کا ساتھ دیا۔ ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ وقتاً فوقتاً آپﷺ کی تسلی تشفی کی۔ حضرت عائشہؓ نصف نبوت کی حامل ہوئیں اور دوسری ازواج مطہرات قرآن کی حافظ اور حدیث کی راوی ہوئیں) درحالیکہ آدم علیہ السلام کا شیطان کافر ہی تھا۔ اور کافر ہی رہا اور ان کی زوجہ ان کی خطیۂ میں ان کی معین ہوئیں کہ شجرۂ ممنوعہ کھانے کی ترغیب دی جس کو خطاء آدم علیہ السلام کہا گیا ہے)
- ٦٣....... اگر حضرت آدم علیہ السلام کو حجر جنت (حجر اسود) دیا گیا جو بیت اللہ میں لگا دیا گیا۔
حضورﷺ کو روضۂ جنت عطا ہوا جو آپ کی قبر مبارک اور ممبر شریف کے درمیان رکھا گیا۔ ’’مــــا بین بیتی ومنبری روضة من ریاض الجنة (بخاری ج ١ ص ٢٥٣ و مسلم)‘‘ (میری قبر اور ممبر کے درمیان ایک باغ ہے جنت کے باغوں میں سے)
- ٦٤....... اگر حضرت نوح علیہ السلام نے مساجد اللہ میں سے پانچ بت نکلوانے چاہے مگر نہ نکلے
تو حضورﷺ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ بت نکالے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکل گئے۔ اور نہ صرف بیت اللہ سے بلکہ اس کے حوالی اور مضافات سے بھی نکال پھینکے گئے۔ ’’وقالوا لا تذرن الهتكم ولا تذرن وداً ولا سواعا ولا يغوث و يعوق ونسرا (القرآن الحکیم) ان الشيطن قد يئس ان يعبده المصلون فى جزيرة العرب (مشکوٰة) يايها الذين آمنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه (القرآن الحکیم)‘‘ (اور (قوم نوح نے) کہا کہ دیکھو اپنے خداؤں (یعنی پانچ بتوں) ود، سواع، یغوث یعوق اور نسر کو نوح کے کہنے سے ہرگز مت چھوڑنا (چنانچہ نہیں چھوڑا تا آنکہ طوفان میں غرق ہو گئے) اور حضورﷺ نے تین سو ساٹھ بتوں کی ناپاکی کو ہمیشہ کے لئے نکال پھینکا۔ جیسا کہ سیر میں مرقوم ہے)
- ٦٥....... اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مقام ابراہیم دیا گیا جس سے بیت اللہ کی دیواریں
اونچی ہوئیں تو حضور کو مقام محمود عطا ہوا جس سے رب البیت کی اونچائیاں نمایاں ہوئیں اور ’’عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا‘‘ (القرآن الحکیم) اور ساتھ ہی مقام ابراہیم کی تمام برکات سے پوری امت کو مستفید کیا گیا۔ ’’واتخذوا من مقام ابراهيم مصلی ‘‘ (قریب ہے کہ اللہ آپ کو (اے نبی کریم) مقام محمود پر بھیجے گا جس پر پہنچ کر حضورﷺ حق تعالیٰ کی عظیم ترین حمد وثنا ء
٢٥
کریں گے اور اس کی رفعت و بلندی بیان فرمائیں گے اور مقام ابراہیم کے بارے میں قرآن نے فرمایا: ”فيه آيات بينات مقام ابراهيم“ (بیت اللہ میں مقام ابراہیم ہے جو جنت سے لایا ہوا ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کرتے تھے اور جوں جوں تعمیر اونچی ہوتی جاتی وہ پتھر اتنا ہی اونچا ہو جاتا اور جب حضرت کا اترنے کا وقت ہوتا تو پھر اصلی حالت پر آجاتا)
- ٦٦....... اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حقائق ارض و سماء دکھلائی گئیں۔ ”وکذالك نرى
ابراهيم ملكوت السموت والارض “ تو حضور کو ان آیات کے ساتھ حقائق الہیہ دکھلائی گئیں۔ ”لنریه من آیتنا (القرآن الحكيم) “ (اور ایسے ہی دکھلائیں گے ہم ابراہیم کو آسمان و زمین کی حقیقتیں، اور تاکہ ہم دکھلائیں محمد ﷺ کو (شب معراج میں) اپنی خاص نشانیاں قدرت کی)
- ٦٧....... اگر حضرت خلیل اللہ کو آیات کونیہ زمین پر دکھلائی گئیں تو حضور ﷺ کو آیات الہیہ
(آیات کبریٰ) کا مشاہدہ آسمانوں میں کرایا گیا۔ ”لقد رأى من آيت ربه الكبری (القرآن الحکیم)“ (بلاشبہ محمد ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں)
- ٦٨....... اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نار نمرود اثر نہ کرسکی تو حضور ﷺ کے کئی صحابہ کو آگ نہ
جلاسکی جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”الحمد لله الذي جعل في امتنا مثل ابراهيم الخلیل (ابن رجب عن ابن لهيعه خصائص کبریٰ ج ٢ ص ٧٩)“ (خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہماری امت میں ابراہیم خلیل کی مثالیں پیدا فرمائیں۔ عمار بن یاسر کو مشرکین مکہ نے آگ میں پھینک دیا۔ حضور ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”یـنـار کـونـی برداً وسلاماً علی عمار كما كنت علی ابراهيم “ (عن عمر بن میمون خصائص کبریٰ ج ٢ ص ٨٠) اے آگ عمار پر برد وسلام ہو جا جیسے تو ابراہیم پر ہوگئی۔ ذویب ابن کلیب کو اسود عنسی نے آگ میں ڈال دیا۔ اور آگ اثر نہ کرسکی تو آپ نے وہ سابقہ جملہ ارشاد فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہماری امت میں ابراہیم علیہ السلام کی مثالیں پیدا فرمائیں۔ ایک خولانی شخص کو (جو قبیلہ خولان کا فرد تھا) اسلام لانے پر اس کی قوم نے اسے آگ میں ڈال دیا تو آگ اسے نہ جلاسکی (ابن عساکر عن جعفر ابی وثیمہ) وغیرہ)
- ٦٩....... اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محشر میں سب سے اول لباس پہنا کر ان کی کرامت کا
اعلان کیا جائے گا۔ تو حضور ﷺ کو حق تعالیٰ کی دائیں جانب ایسے بلند مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ
٢٦
اولین و آخرین آپ ﷺ پر غبطہ کریں گے جب کہ وہاں تک کوئی نہ پہنچ ابراهيم يقول الله تعالى اكسوا خليلى فيوتى بريطتين الجنة ثم اكسى على اثره ثم اقوم عن يمين الله م والآخرون (رواه الدارمي عن ابن مسعود) “ (سب سے پہلے روز محشر لباس پہنایا جائے گا۔ فرمائیں گے حق تعالیٰ میرے خلیل کو چادریں جنت سے لائی جاویں گی اور پہنائی جاویں گی پھر ان کے بعد گا۔ پھر میں کھڑا ہونگا۔ اللہ کی جانب یمین ایک ایسے مقام پر کہ اولین گے۔ یعنی میری کرامت سب پر فائق ہو جائیگی جن میں ابراہیم علیہ السلام
- ٧٠....... اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے پر جبریل سے مارے
سے وہ سیراب ہوئے تو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے پانی کے سوتے امام حسنؓ سیراب ہوئے۔ ”بينما الحسن مع رسول الله ﷺ فطلب له النبى ﷺ ماءً فلم يجده فاعطاه لسانه عساكر عن ابي جعفر)“ (اسی اثناء میں حضرت امام حسنؓ رسول اچانک انہیں پیاس لگی اور شدید ہوگئی تو حضور ﷺ نے ان کے لئے آپ ﷺ نے اپنی زبان ان کے منہ میں دے دی جسے وہ چوسنے لگے کہ سیراب ہوگئے)
- ٧١....... اگر حضرت یوسف علیہ السلام کو شطر حسن یعنی حسن جزئی دیا
یعنی حسن جامع عطا کر دیا گیا جس کی حقیقت جمال ہے جو سرچشمہ ”فلما اكبرنه وقطعن ايديهن “ (جب زنان مصر نے یوسف قلم کر ڈالے) جس کی شرح حضرت عائشہؓ نے فرمائی کہ زنان مصر ہاتھ قلم کرلئے۔ اگر میرے محبوب کو دیکھ پاتیں تو دلوں کے ٹکڑے و جمال کی افضلیت اور کلیت کی طرف اشارہ ہے۔ (مشکوۃ)
- ٧٢....... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حق تعالیٰ نے کوہ طور
حضور ﷺ سے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک کلام فرمایا ما أوحى (القرآن الحكيم) “ (سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اسے کرنا تھی)
٢٧
اولین و آخرین آپﷺ پر غبطہ کریں گے جب کہ وہاں تک کوئی نہ پہنچ سکے گا۔ ”اول من یکسی ابراهیم یقول الله تعالیٰ اکسوا خلیلی فیوتی بریطتین بیضاوین من رباط الجنة ثم اکسی علی اثره ثم اقوم عن یمین الله مقاماً یغبطنی الاولون والاخرون (رواہ الدارمی عن ابن مسعود) “ (سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو روز محشر لباس پہنایا جائے گا۔ فرمائیں گے حق تعالیٰ میرے خلیل کو لباس پہناؤ تو دو سفید براق چادریں جنت سے لائی جاویں گی اور پہنائی جاویں گی پھر ان کے بعد مجھے بھی لباس پہنایا جائے گا۔ پھر میں کھڑا ہونگا۔ اللہ کی جانب یمین ایک ایسے مقام پر کہ اولین و آخرین مجھ پر غبطہ کریں گے۔ یعنی میری کرامت سب پر فائق ہو جائیگی جن میں ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں)
- ٧٠...... اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے پر جبریل سے زمزم کا سوت جاری ہوا جس
سے وہ سیراب ہوئے تو حضورﷺ کی زبان مبارک سے پانی کے سوت پھوٹے جس سے حضرت امام حسنؓ سیراب ہوئے۔ ”بینما الحسن مع رسولﷺ اذ عطش فاشتد ظماہ فطلب له النبی ﷺ ماءً فلم یجدہ فاعطاہ لسانه فمصه حتی روی (ابن عساکر عن ابی جعفر) “ (اسی اثناء میں حضرت امام حسنؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک انہیں پیاس لگی اور شدید ہوگئی تو حضورﷺ نے ان کے لئے پانی طلب فرمایا مگر نہ مل سکا۔ تو آپﷺ نے اپنی زبان ان کے منہ میں دے دی جسے وہ چوسنے لگے اور چوستے رہے یہاں تک کہ سیراب ہو گئے)
- ٧١...... اگر حضرت یوسف علیہ السلام کو شطر حسن یعنی حسن جزئی عطا ہوا ۔ تو حضورﷺ کو حسن کل
یعنی حسن جامع عطا کر دیا گیا جس کی حقیقت جمال ہے جو سرچشمہ حسن اور صفت خداوندی ہے۔ ”فلما اکبرنہ وقطعن ایدیھن“ (جب زنان مصر نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو اپنے ہاتھ قلم کر ڈالے) جس کی شرح حضرت عائشہؓ نے فرمائی کہ زنان مصر نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ہاتھ قلم کرلئے۔ اگر میرے محبوب کو دیکھ پاتیں تو دلوں کے ٹکڑے کر ڈالتیں۔ جو حضور کے حسن و جمال کی افضلیت اور کلیت کی طرف اشارہ ہے۔ (مشکوۃ)
- ٧٢...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حق تعالیٰ نے کوہ طور اور وادی مقدس میں کلام کیا تو
حضورﷺ سے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک کلام فرمایا: ”فاوحٰی الٰی عبدہ ما اوحٰی (القرآن الحکیم) “ (سدرۃ المنتہیٰ کے پاس خدا نے اپنے بندے پر وحی کی جو اسے کرنا تھی)
٢٧
- ٧٣...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصاء سے بارہ چشمے جاری ہوئے تو حضورﷺ کی
انگشتان مبارک سے شیریں پانی کے کتنے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔ ”فرأیت الماء ینبع من بین اصابعه فجعل القوم يتوضأ ون فخرزت من توضأ ما بين السبعين الى الثمانين (بخارى ومسلم عن انس)“ (میں دیکھتا ہوں کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے جوش مار کر نکل رہا ہے۔ یہاں تک کہ پوری قوم نے اس سے وضو کر لیا تو میں نے جو وضو کرنے والوں کو شمار کیا تو وہ ستر اور اسی کے درمیان تھے)
- ٧٤...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کانوں کو لذت کلام دی گئی اور اگر حضرت ابراہیم علیہ
السلام کو مقام خلت سے نوازا گیا تو حضورﷺ کی نظروں کو دیدار جمال سے مشرف کیا گیا۔ ”ان الله اصطفى ابراهيم بالخلة واصطفى موسى بالكلام واصطفى محمد بالرّأيته “ (بیہقی عن ابن عباس) ”ماكذب الفؤاد مارای (القرآن الحکیم)“ (اللہ نے منتخب کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنانے کے لئے اور منتخب کیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے لئے اور منتخب کیا محمدﷺ کو دیدار کے لئے۔ قرآن نے فرمایا: ”محمدﷺ کے دل نے جو کچھ دیکھا غلط نہیں دیکھا)
- ٧٥...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوال دیدار پر بھی انہیں ”لن ترانی“ تم مجھے ہرگز
نہیں دیکھ سکتے کا جواب دے دیا گیا تو حضورﷺ کو بلا سوال آسمانوں پر بلا کر دیدار کرایا گیا۔ ”ما كذب الفؤاد ماراى قال ابن عباس راه مرة ببصره ومرة بفؤاده (فتح الملهم فى التفسير سورة النجم)“ (دل نے جو کچھ دیکھا غلط نہیں دیکھا اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حق تعالیٰ کو ایک بار آنکھوں سے اور ایک بار دل سے دیکھا)
تو عین ذات می نگری در تبسمی
- ٧٦...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحابہ کو بحر قلزم میں راستے بنا کر بمعیت موسیٰ گزار دیا
گیا تو حضورﷺ کے صحابہ کو بعد وفات نبوی دریائے دجلہ کے بہتے ہوئے پانی میں سے راہیں بنا کر گھوڑوں سمیت گزارا گیا۔ ”لما عبر المسلمون يوم مدائن اقتحم الناس دجلة الخ (خصائص کبریٰ ج٢ ص٢٨٣، كامل ابن اثیر عن العلا بن الحضرمی)“ (فتح مدائن کے موقع پر مسلمانوں نے دریائے دجلہ کو عبور کیا اور اس میں لوگوں نے ہجوم کیا تو صحابہ کی کرامتوں کا
٢٨
ظہور ہوا۔ اس میں روایت کی بقدر ضرورت تفصیل یہ ہے کہ جب کشی کی تو بغداد کے کناره پر اس ملک کا سب سے بڑا دریا دجلہ صحابہ کے پاس نہ کشتیاں تھیں اور نہ پیدل چل کر یہ گہرا پانی عبو اسباب ان حضرات کو فکر دامن گیر ہوا تو حضرت علاء بن الحضرمی لئے ہاتھ اٹھائے اور سارے صحابہ نے مل کر دعا کی۔ ختم دعا پر ح دریا میں ڈال دیں تو ان حضرات نے جوش ایمانی میں خدا پر بھ دیئے۔ گھوڑے ہانپ ہانپ گئے۔ پانی بہت زیادہ تھا تو حق ا مختلف سامان فرمائے بعض صحابہ کے گھوڑوں کے لئے جا بجا پانی گئی۔ بعض کے گھوڑے پانی ہی میں رک کر اور کھڑے ہو کر در بعض کے گھوڑوں کو پانی کی سطح کے اوپر سے اس طرح گزارا گیا پر اہل فارس نے ان مقدسین کی نسبت یہ کہا تھا کہ یہ انسان نہیں کہ صحابہ موسوی (بنی اسرائیل) کو بحر قلزم میں بمعیت موسیٰ اس امت میں اس کی نظیر یہ واقعہ ہے جس میں صحابہ نبوی کے ایک انداز کے نہیں۔ بلکہ مختلف اندازوں سے اور صحابہ بھی شکر نظیر ہی کے طور پر دیکھتے تھے۔ پس جو معاملہ بنی اسرائیل کے تھا اور یہاں وہی معاملہ بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر نبی خاتم بعد کیا گیا جس سے ان کی کرامت نمایاں ہوئی اور امت محمدی خاص میں بھی نمایاں رہی)
- ٧٧...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ارض مقدس (فلسطی
(زمین کی کنجیاں) عنایت کی گئیں۔ ”اوتیت مفاتيح خزانوں کی کنجیاں سپرد کر دی گئیں)
- ٧٨...... اگر عصاء موسوی کے معجزے کے مقابلہ میں ساح
سانپ بنا کر دکھلایا یا صورۃ معجزے کی نظیر لے آئے گو حقیقتاً حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم ان رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور دیکھنے والوں کے خیال میں رہی ہیں) تو معجزۂ نبوی قرآن حکیم کے مقابلہ میں اللہ کے
٢٩
ظہور ہوا۔ اس میں روایت کی بقدر ضرورت تفصیل یہ ہے کہ جب بغداد عراق پر مسلمانوں نے فوج کشی کی تو بغداد کے کنارہ پر اس ملک کا سب سے بڑا دریا دجلہ ہے جو بیچ میں حائل ہوا۔ حضرات صحابہ کے پاس نہ کشتیاں تھیں اور نہ پیدل چل کر یہ گہرا پانی عبور کیا جاسکتا تھا۔ اس موقع پر بظاہر اسباب ان حضرات کو فکر دامن گیر ہوا تو حضرت علاء بن الحضرمی نے دعا کا مشورہ دیا۔ خود دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور سارے صحابہ نے مل کر دعا کی۔ ختم دعا پر حکم دیا کہ سب مل کر ایک دم گھوڑے دریا میں ڈال دیں تو ان حضرات نے جوش ایمانی میں خدا پر بھروسہ کر کے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے۔ گھوڑے ہانپ ہانپ گئے۔ پانی بہت زیادہ تھا تو حق تعالیٰ نے ان کے دم لینے کے لئے مختلف سامان فرمائے بعض صحابہ کے گھوڑوں کے لئے جا بجا پانی کی گہرائیوں میں خشکی نمایاں کردی گئی۔ بعض کے گھوڑے پانی ہی میں رک کر اور کھڑے ہو کر دم لینے لگے اور پانی انہیں ڈبو نہ سکا۔ بعض کے گھوڑوں کو پانی کی سطح کے اوپر سے اس طرح گزارا گیا جیسے وہ زمین پر چل رہے ہیں جس پر اہل فارس نے ان مقدسین کی نسبت یہ کہا تھا کہ یہ انسان نہیں جنات معلوم ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ صحابہ موسوی (بنی اسرائیل) کو بحر قلزم میں بمعیت موسوی راستے بنا کر قلزم سے گزارا گیا تھا تو اس امت میں اس کی نظیر یہ واقعہ ہے جس میں صحابہ نبوی کے لئے دجلہ میں راستے بنائے گئے اور ایک انداز کے نہیں۔ بلکہ مختلف اندازوں سے اور صحابہ بھی شکر نعمت کے طور پر اس کو واقعہ موسوی کی نظیر ہی کے طور پر دیکھتے تھے۔ پس جو معاملہ بنی اسرائیل کے ساتھ نبی کی موجودگی میں کیا تو وہ معجزہ تھا اور یہاں وہی معاملہ بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر نبی خاتم کے صحابہ کے ساتھ نبی کی وفات کے بعد کیا گیا جس سے ان کی کرامت نمایاں ہوئی اور امت محمدیہ کی فضیلت امت موسوی پر اس واقعہ خاص میں بھی نمایاں رہی)
- ٧٦...... اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ارض مقدس (فلسطین) دی گئی تو حضورﷺ کو مفاتیح ارض
(زمین کی کنجیاں) عنایت کی گئیں۔ ”اوتیت مفاتیح خزائن الارض“ (مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں سپرد کردی گئیں)
- ٧٧...... اگر عصاء موسوی کے معجزے کے مقابلہ میں ساحران فرعون نے بھی اپنی اپنی لاٹھیوں کو
سانپ بنا کر دکھلایا یا صورۃً معجزے کی نظیر لے آئے گو حقیقتاً وہ تخیل اور شعبدہ ہی خیال تھی۔ ”فالقوا حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم انها تسعیٰ“ (ساحران فرعون نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور دیکھنے والوں کے خیال میں یوں گزرنے لگا کہ وہ سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں) تو معجزہ نبوی قرآن حکیم کے مقابلہ میں اللہ کے بار بار چیلنجوں کے باوجود آج تک جن
٢٩
وانس ساحر وغیر ساحر، کاہن و غیر کاہن، اور شاعر و غیر شاعر مل کر بھی اس کی کوئی نظیر ظاہری صورت کی بھی نہ لا سکے۔ ’’قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا (القرآن الحکیم)‘‘ (کہہ دیجئے اے پیغمبر کہ اگر جن وانس اس پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کا مثل لے آئیں گے تو وہ نہیں لاسکیں گے۔ اگر چہ سب مل کر ایک دوسرے کی مدد پر بھی کھڑے ہو جائیں)
- ٧٨....... اگر حضرت یوشع ابن نون کے لئے آفتاب کی حرکت روک دی گئی تو وہ کچھ دیر غروب
ہونے سے رکا رہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جانب نبویﷺ کے لئے غروب شدہ آفتاب کو لوٹا کر دن کو واپس کر دیا گیا۔ ”نام رسول الله ﷺ وراسه في حجر على ولم يكن صلى العصر حتى غربت الشمس فلما قام النبي ﷺ دعاله فردت عليه الشمس حتى صلى ثم غابت ثانيه (ابن مردويه عن ابى هريره وابن منده وابن شاهين والطبرانى عن اسماء بنت عميس)‘‘ (نبی کریمﷺ سوگئے اور آپ کا سرمبارک حضرت علیؓ کی گود میں تھا۔ حضرت علیؓ نے نماز عصر نہیں پڑھی تھی۔ یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔ اور وہ حضورﷺ کی نیند کے خیال سے نماز کے لئے نہ اٹھ سکے (جب نبی کریمﷺ جاگے اور یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی) تو حضرت علیؓ کے لئے دعا فرمائی۔ جس سے آفتاب لوٹا دیا گیا۔ دن نمایاں ہوا۔ یہاں تک کہ حضرت علیؓ نے نماز پڑھی اور سورج دوبارہ غروب ہوا)
- ٧٩....... اگر حضرت یوشع ابن نون کے لئے سورج روک کر اس کی روانی اور حرکت کے دو ٹکڑے
کر دیئے تھے تو حضورﷺ کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے کر ڈالے گئے۔ ’’اقتربت الساعة وانشق القمر (القرآن الحکیم)‘‘ (قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گئے)
- ٨٠....... اگر حضرت داؤد علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے ہوائے نفس کی پیروی سے روکا کہ ”لا تتبع
الهوى فيضلك عن سبيل الله‘‘ (اے داؤد علیہ السلام! ہوائے نفس کی پیروی مت کرنا کہ وہ تمہیں راہ حق سے بھٹکا دے گی) تو حضورﷺ سے اس ہوائے نفس کی پیروی کی نفی فرمائی اور خود ہی برأت ظاہر کی۔ ’’وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى (القرآن الحكيم)‘‘ (محمدﷺ ہوائے نفس سے نہیں بولتے۔ وہ وحی ہوتی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے)
- ٨١....... اگر انگشتری سلیمانی میں جنات کی تاثیر تھی کہ وہ کسی وقت گم ہوئی تو جنات پر قبضہ نہ رہا۔
تو انگشتری محمدی میں تسخیر قلوب وارواح کی تاثیر تھی کہ جس دن وہ عہد عثمانی میں گم ہوئی۔ اس دن سے قلوب وارواح کی وحدت میں فرق آگیا اور فتنہ اختلاف شروع ہو گیا۔ ”بئر اریس؟ وما
٣٠
بئر اریس؟ سوف تعلمون ! (نبی کریم ﷺ کے صحابی (.....) انتقال کے بعد جبکہ ان کا جنازہ رکھا ہوا تھا تو اچانک ان کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی یہ کلمات نکلے : ”اریس کا کنواں؟ کیا ہے وہ اریس کا کنواں؟ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا ۔“ صحابہ حیران تھے۔ کہ ان جملوں کا کیا مطلب ہے؟ کسی کی کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ دورِ عثمانی میں ایک دن حضرت ذی النورینؓ اریس کے کنویں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انگلی میں نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی تھی جسے آپ طبعی حرکت کے ساتھ ہلا رہے تھے کہ اچانک انگوٹھی چھٹک کر کنویں میں جا پڑی۔ قلوب عثمانی اور تمام صحابہ کے قلوب میں اضطراب و بے چینی پیدا ہوئی کنویں میں آدمی اترے۔ سارے کنویں کو کھنگال ڈالا۔ مگر انگشتری نہ ملنا تھی نہ ملی۔ آخر صبر کر کے سب بیٹھ رہے۔ اسی دن سے فتنوں کا آغاز ہو گیا اور بندھے ہوئے قلوب میں انتشار کی کیفیات آنے لگیں جو بعد کے فتنہ تحزب و اختلاف کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ اور نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ ”اذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنها الى يوم القيامة “ (میری امت میں جب تلوار نکل آئے گی) پھر قیامت تک میان میں نہ جائے گی) چنانچہ اس فتنہ کے سلسلہ میں سب سے پہلا مظاہرہ اور ہولناک ظلم حضرت ذی النورینؓ کی شہادت کی صورت میں نمایاں ہوا۔ اب سب کی سمجھ میں آیا کہ بئر اریس کا کیا مطلب تھا؟ یہ درحقیقت اشارہ تھا کہ قلوب کی وحدت انگشتری محمدی کی برکت سے قائم تھی۔ اس کا بئرِ اریس میں گم ہونا تھا کہ قلوب کی وحدت اور امت کی یگانگت پارہ پارہ ہو گئی۔ جو آج تک واپس نہیں ہوئی۔ پس جنات کا مسخر ہو جانا آسان ہے۔ جو آج تک بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن انسانوں کے دلوں کی تالیف مشکل ہے۔ جو گم ہو کر آج تک نہیں مل سکی)
٨٢......... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کو منطق الطیر کا علم دیا گیا جس سے وہ پرندوں کی بولیاں سمجھتے تو حضور ﷺ کو عام جانوروں کی بولیاں سمجھنے کا علم دیا گیا جس سے آپ ان کی فریادیں سنتے اور فیصلے فرماتے تھے۔ اونٹ کی فریاد سنی اور فیصلہ فرمایا (بیہقی عن حماد بن سلمہ) بکری کی فریاد سنی اور اسے تسلی دی (مصنف عبدالرزاق) ہرنی کی فریاد سنی اور حکم فرمایا (طبرانی عن ام سلمہ) چڑیا کی بات سنی اور مطالبہ فرمایا (بیہقی وابونعیم عن ابن مسعود) سیاہ گدھے سے آپ نے کلام فرمایا اور اس کا مقصد سنا۔ (ابن عساکر عن ابن منظور) (ان روایات کے تفصیلی واقعات یہ ہیں۔ نمبر ١...... ایک اونٹ آیا اور حضور اکرم ﷺ کے قدموں پر گر پڑا اور رونے لگا اور کچھ بلبلاتا رہا تو آپ نے اس کے مالک کو بلا کر فرمایا کہ یہ شکایت کر رہا ہے کہ تو اسے ستاتا ہے۔ اور اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادتا ہے۔ خدا سے ڈر۔ اس نے اقرار کیا اور توبہ کی۔ نمبر٢...... ایک بکری کو قصاب ذبح کرنا چاہتا تھا جو
٣١
جائز ذبیحہ تھا۔ وہ اس سے چھوٹ کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھاگ آئی اور پیچھے پیچھے ہولی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے بکری! صبر کر حکم خداوندی پر۔ اور اسے قصاب اسے نرمی سے ذبح کر۔
- نمبر ٣....... آپ ﷺ جنگل میں تھے کہ اچانک یا رسول اللہ ﷺ کی آواز آپ نے سنی۔ آپ نے
دیکھا کہ کوئی نظر نہ آیا ایک جانب دیکھا تو ایک ہرنی بندھی ہوئی دیکھی۔ جس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ذرا میرے قریب آئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا میرے دو بچے اس پہاڑی میں ہیں۔ ذرا مجھے کھول دیجئے کہ میں انہیں دودھ پلا دوں۔ اور میں ابھی لوٹ آؤں گی فرمایا تو ایسا کرے گی کہ لوٹ آئے؟ کہا اگر ایسا نہ کروں تو خدا مجھے عذاب دے۔ آپ ﷺ نے اسے کھول دیا اور وہ حسب وعدہ دودھ پلا کر لوٹ آئی اور آپ ﷺ نے اسے وہیں باندھ دیا۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک درخت پر چڑیا کے دو بچے گھونسلے میں دیکھے۔ ہم نے انہیں پکڑ لیا۔ تو ان کی ماں حضور ﷺ کے پاس آئی اور سامنے آکر فریاد کی سی صورت اختیار کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچوں کو پکڑ کر کس نے اسے درد میں مبتلا کیا ہے؟ عرض کیا گیا ہم نے۔ فرمایا جہاں سے یہ بچے پکڑے تھے وہیں چھوڑ آؤ۔ تو ہم نے چھوڑ دیئے۔
- ٨٣....... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام بعض حیوانات کی بولیاں سمجھ جاتے تھے تو حضور ﷺ کی
برکت سے جانور انسانی زبان میں کلام کرتے تھے۔ جسے ہر انسان سمجھتا تھا۔ بھیڑیئے نے آپ کی رسالت کی شہادت عربی زبان میں دی (بیہقی عن ابن عمر) گوہ نے فصیح عربی میں نبوت کی شہادت دی۔ (طبرانی و بیہقی) (بھیڑیئے نے حضور کی نبوت کی شہادت دی اور لوگوں کو اسلام لانے کی دعوت بھی دی۔ لوگ حیران تھے کہ بھیڑیا آدمیوں کی طرح بول رہا ہے۔ نیز ایک بھیڑیا بطور وفد کے خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور اپنے رزق کے بارے میں کہا۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ یا تو ان بھیڑیوں کے لئے اپنی بکریوں میں سے خود کوئی حصہ مقرر کر دو یا انہیں ان کے حال پر رہنے دو۔ صحابہؓ نے بات حضور پر چھوڑ دی۔ آپ نے رئیس الوفد بھیڑیئے کو کچھ اشارہ فرمایا اور وہ سمجھ کر دوڑتا ہوا چلا گیا)
- ٨٤....... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بات سمجھ لیتے تھے تو حضور ﷺ اپنی بات
حیوانات کو سمجھا دیتے تھے۔ بھیڑیئے کو آپ ﷺ نے بات سمجھا دی اور وہ راضی ہو کر چلا گیا۔
(طبرانی عن عمرؓ)
- ٨٥....... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بات سمجھ لیتے تھے تو حضور ﷺ کو پوری
٣٢
زمین کی کنجیاں سپرد کر دی گئیں جس سے مشارق و مغارب پر آپ کا اقتدار مفاتیح الارض
(مسند احمد عن علیؓ)
- ٨٦....... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملک یہ کہہ کر مانگا کہ وہ میرے
میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ چنانچہ ان کی امت اور رعیت میں سے کسی کو نہیں ملكا لا ينبغي لاحد من بعدى ”تو حضور کو مشارق و مغارب کا کے باوجود دیا گیا۔ جسے آپ نے اپنی امت کا ملک فرمایا جو آپ کے بعد کرتا رہا۔ اور دنیا کے آخری دور میں امت ہی کے ہاتھوں پوری دنیا پر زوى لى الارض مشارقها ومغاربها وسيبلغ ملك امـ (بخاری) ”(اللہ نے زمین کا مشرق و مغرب مجھے دکھلایا اور میری امـ کر رہے گا جہاں تک میری نگاہیں پہنچیں ہیں)
- ٨٧....... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا مسخر ہوتی کہ ا
اڑ کر پہنچ جائیں تو حضور ﷺ کے لئے براق مسخر ہوا کہ زمینوں سے آ جنتوں اور جنتوں سے مستوی تک پل بھر میں پہنچ جائیں۔ (جیسا کـ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں جن میں براق کی ہیئت اور قد و قامت دی گئی ہیں)
- ٨٨....... اگر سلاطین انبیاء کے وزراء زمین تک محدود تھے جو ان کـ
محدود ہونے کی علامت ہے تو حضور ﷺ کے دو وزیر زمین کے تھے اوـ کے تھے جبرئیل علیہ السلام ومیکائیل علیہ السلام جو آپ کے ملک کے زمـ ہوئے ہونے کی علامت ہے۔ ”ولی وزیر ای فی الارض فـ وزیر ای فی الارض فابو بکر وعمر . واما وزیر ومیکائیل (الرياض النضرة) ”(میرے دو وزیر زمین میں ہیں وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں اور آسمان کے وزیر جبرائیل علیہ السلام و میکائیل علیـ
- ٨٩....... اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو احیاء موتی کا معجزہ دیا گیا۔ جـ
تھے تو آپ ﷺ کو احیاء موتی کے ساتھ احیاء قلوب وارواح کا معجزہ
٣٣
زمین کی کنجیاں سپرد کر دی گئیں جس سے مشارق و مغارب پر آپ کا اقتدار نمایاں ہوا۔ ”اعطیت مفاتيح الارض (مسند احمد عن علی) “
- ٨٦...... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملک یہ کہہ کر مانگا کہ وہ میرے ساتھ مخصوص رہے
میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ چنانچہ ان کی امت اور رعیت میں سے کسی کو نہیں ملا۔ ”رب ھب لی ملكا لا ينبغی لاحد من بعدی“ تو حضور کو مشارق ومغارب کا ملک بے مانگے بلکہ انکار کے باوجود دیا گیا۔ جسے آپ نے اپنی امت کا ملک فرمایا جو آپ کے بعد امت کے ہاتھوں ترقی کرتا رہا۔ اور دنیا کے آخری دور میں امت ہی کے ہاتھوں پوری دنیا پر چھا جائے گا۔ ”ان الله زوى لى الارض مشارقھا ومغاربھا وسيبلغ ملك امتی مازوی لی منھا (بخاری) “ (اللہ نے زمین کا مشرق و مغرب مجھے دکھلایا اور میری امت کا ملک وہیں تک پہنچ کرے گا جہاں تک میری نگاہیں پہنچی ہیں)
- ٨٧...... اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا مسخر ہوئی کہ اپنے قلمرو میں جہاں چاہیں
اڑ کر پہنچ جائیں تو حضور ﷺ کے لئے براق مسخر ہوا کہ زمینوں سے آسمانوں اور آسمانوں سے جنتوں اور جنتوں سے مستوی تک پل بھر میں پہنچ جائیں۔ (جیسا کہ معراج کی مشہور حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں جن میں براق کی ہیئت اور قد و قامت تک کی بھی تفصیلات فرما دی گئی ہیں)
- ٨٨...... اگر سلاطین انبیاء کے وزراء زمین تک محدود تھے جو ان کے ملک کے بھی زمین تک
محدود ہونے کی علامت ہے تو حضور ﷺ کے دو وزیر زمین کے تھے ابو بکر و عمر اور دو وزیر آسمانوں کے تھے جبرئیل علیہ السلام و میکائیل علیہ السلام جو آپ کے ملک کے زمین و آسمان دونوں تک پھیلے ہوئے ہونے کی علامت ہے۔ ”ولی وزیرای فی الارض وزیرای فی السماء اما وزیرای فی الارض فابو بکر وعمر۔ واما وزیرای فی السماء فجبریل ومیکائیل (الرياض النضرة) “ (میرے دو وزیر زمین میں ہیں اور دو آسمان میں، زمین کے وزیر ابو بکر و عمر ہیں اور آسمان کے وزیر جبرائیل علیہ السلام ومیکائیل علیہ السلام ہیں)
- ٨٩...... اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو احیاء موتی کا معجزہ دیا گیا۔ جس سے مردے زندہ ہوجاتے
تھے تو آپ ﷺ کو احیاء موتی کے ساتھ احیاء قلوب وارواح کا معجزہ بھی دیا گیا جس سے مردہ دل
جی اٹھے اور صدیوں کی جاہل قومیں عالم و عارف بن گئیں۔ ”ولن یقبضه الله حتی یقیم به الملة العوجاء بان یقولوا لا اله الا الله ویفتح به اعينا عميا واذانا صماً قلوبا غلفا (بخاری عن عمرو ابن العاص)“ (حضرت عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی شان تورات میں یہ فرمائی گئی ہے کہ حق تعالیٰ آپ کو اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھائے گا جب تک کہ آپ کے ذریعہ سے ٹیڑھی قوم (عرب) کو سیدھا نہ کردے کہ وہ توحید پر نہ آجائیں اور کھولے گا آپ کے ذریعہ ان کی اندھی آنکھیں اور بہرے کان اور اندھے دل)
٩٠...... اگر حضرت روح اللہ کے ہاتھ پر قابل حیات پیکروں مثلاً پرندوں کی ہئیت یا انسانوں کی مردہ نعش میں جان ڈالی گئی تو حضورﷺ کے ہاتھ پر ناقابل حیات کھجور کے سوکھے تنہ میں حیات آفرینی کی گئی۔ ”فصاحت النخلة صياح الصبى (بخاری عن جابر)“ (حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ کھجور کا ایک سوکھا تنا جس پر ٹیک لگا کر حضورﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تھے جب ممبر بن گیا اور آپﷺ اس پر خطبہ دینے کے لئے چڑھے تو سوکھا ستون اس طرح رونے چلانے لگا اور سسکنے لگا جیسے بچے سسکتے ہیں۔ تو آپ نے شفقت و پیار سے اس پر ہاتھ رکھا تب وہ چپ ہوا۔ (خصائص الکبریٰ ج٢ ص٧٥)) نیز آپ کے اعجاز سے دروازہ کے کواڑوں نے تسبیح پڑھی اور دست مبارک میں کنکریوں کی تسبیح کی آوازیں سنائی دیں۔
(خصائص کبریٰ)
٩١...... اگر مسیح کے ہاتھ پر زندہ ہونے والے پرندوں میں پرندوں ہی کی سی حیات آئی اور وہ پرندوں ہی کی سی حرکات کرنے لگے تو آپﷺ کے ہاتھ پر جی اٹھنے والے کھجور کے سوکھے تنے میں انسانوں بلکہ کامل انسانوں کی سی حیات آئی کہ وہ عاشقانہ گریہ و بکاء اور عشق الہٰی میں فنائیت کی باتیں کرتا ہوا اٹھا۔ وہاں حیوان کو حیوان ہی نمایاں کیا گیا اور یہاں سوکھی لکڑی کو کامل انسان بنادیا گیا۔ ”كما فى الحديث السابق“ (جیسا کہ حدیث بالا میں گزرا)
نالہ ہا می زد چو ارباب عقول
٩٢...... اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمانوں میں رکھ کر کھانے پینے سے مستغنی بنادیا گیا تو حضرت خاتم الانبیاءﷺ کی امت کے لوگوں کو زمین پر رہتے ہوئے کھانے پینے سے مستغنی کردیا گیا۔ یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کے پوری زمین پر قابض ہوجانے کے وقت مسلمین ایک
٣٤
محدود طبقہ زمین میں پناہ گزیں ہوں گے تو ان کے بارہ میں آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا۔ ”قالو فما طعام المومنين يومئذ؟ قال التسبيح والتكبير والتهليل (مسند احمد عن عائشة)“ (لوگوں نے عرض کیا کہ آج کے دن یعنی یاجوج ماجوج کے قبضہ عمومی کے زمانہ میں مسلمانوں کے کھانے پینے کی صورت کیا ہوگی؟ فرمایا تسبیح و تکبیر اور تہلیل یعنی ذکر اللہ ہی غذا ہو جائے گا۔ جس سے زندگی برقرار رہے گی۔ اور اسماء بنت عمیسؓ کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی حد تک وہی چیز کفایت کرے گی جو آسمان والوں (ملائکہ) کو کفایت کرتی ہے۔ یعنی تسبیح و تقدیس)
”وفى روايت اسماء بنت عميس نحو وفيه يجزئهم ما يجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس (خصائص الكبرى ج ٢ ص ٢١٥)“
٩٣...... اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حفاظت کے لئے روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) مقرر تھے تو حضور ﷺ کی حفاظت خود حق تعالیٰ فرماتے تھے: ”والله يعصمك من الناس (القرآن الحکیم)“ (اور اللہ بچاؤ فرمائے گا تمہارا (اے محمد ﷺ) لوگوں (کے شر) سے)
خدا خود ہے نگہبان محمد ﷺ
(حضرت شیخ الہندؒ)
٩٤....... اگر اور انبیاء کی امتیں پابند رسوم وجزئیات اور بندھی جڑی رسموں کے اتباع میں مقلد جامد بنائی گئیں کہ نہ ان کے یہاں ہمہ گیر اصول تھے کہ ان سے ہنگامی احکام کا استخراج کریں اور نہ انہیں تفقہ کے ساتھ ہمہ گیر دین دیا گیا تھا کہ قیامت تک دنیا کا شرعی نظام اس سے قائم ہو جائے تو امت محمدی مفکر، فقیہ اور مجتہد امت بنائی گئی تاکہ اصول وکلیات سے حسب حوادث وواقعات احکام کا استخراج کرکے قیامت تک کا نظم اس شریعت سے قائم کرے جس سے اس کے فتاویٰ اور کتب فتاویٰ کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں تک پہنچی۔ ”وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم ولعلهم يتفكرون (القرآن الحکیم) فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا فى الدين “ (اور ہم نے آپ کی طرف اے پیغمبر ذکر (قرآن) اتارا تاکہ آپ کھول کھول کر لوگوں کے لئے وہ چیزیں بیان کردیں جو ان کی طرف اتاری گئیں اور تاکہ لوگ بھی (ان
٣٥
بین المراد امور میں) تفکر اور تدبر کریں اور فرمایا کیوں ایسا نہیں ہوتا۔ (یعنی ضرور ہونا چاہئے) کہ ہر جماعت اور ہر طبقہ میں سے کچھ کچھ لوگ نکلیں اور دین میں تفقہ اور سمجھ پیدا کریں)
- ٩٥...... اس لئے اگر انبیاء سابقین مفروض الطاعۃ تھے تو اللہ ورسول کے بعد اس امت کے
راسخین فی العلم علماء ہی مفروض الطاعۃ بنائے گئے۔ ”يـايـهـا الـذيـن آمـنـو اطـيـعـو الله واطيعو الرسول واولی الامر منکم۔ (القرآن الحکیم)
- ٩٦...... اگر علماء بنی اسرائیل کو احبار ورہبان کا لقب دیا جائے ”اتـخـذوا احـبـار هـم
ورهـبـانـهـم اربـابـاً من دون الله“ تو اس امت کے راسخین فی العلم کو کـانـبـیـاء بـنـی اسرائیل کا لقب دیا گیا۔ ”عـلـمـاء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ (میری امت کے علماء مثل بنی اسرائیل کے ہیں (نورانیت اور آثار کی نوعیت میں) یہ حدیث گو ضعیف ہے مگر فضائل اعمال میں قبول کی گئی ہے۔ چنانچہ امام رازیؒ نے اس سے دو جگہ استشہاد کیا ہے) اور انہیں انبیاء کی طرح دعوت عام اور تبلیغ عمومی کی طرح دعوت عام اور تبلیغ عمومی کا منصب دیا گیا۔ اسی لئے ایک حدیث میں علماء امت کے انوار کو انوار انبیاء سے تشبیہ دی گئی۔ ”ونـورهـم يـوم الـقـيـمـة مثل نـور الانـبـيـاء (بيهقی عن وهب ابن منبة)“ (یہ امت امت مرحومہ ہے میں نے اسے نوافل دیئے جیسے انبیاء کو دیئے۔ ان کے فرائض وہ رکھے جو انبیاء ورسل کے رکھے حتیٰ کہ جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو ان کی نورانیت انبیاء کی نورانیت جیسی ہوگی (جیسے اعضاء وضو چمکتے ہوئے ہونگے) کیونکہ میں نے ان پر پاکیزگی ہر نماز کے لئے وہی فرض کی ہے جو انبیاء پر فرض ہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ (هـذا وضـوئـى ووضـو الانـبـيـاء مـن قـبـل ) جس سے تین تین بار اعضاء وضو کا دھونا امت کے لئے سنت قرار دیا گیا جو اصل میں انبیاء کا وضو ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انبیاء کے اعضاء وضو بھی اس طرح چمکتے ہوں گے مگر یہ وضو اور امتوں کو نہیں دیا گیا۔ بجز امت مرحومہ کے تو اسی کا نور مشابہ ہو گیا انبیاء کے نور کے۔ اور میں نے امت کو امر کیا ہے غسل جنابت کا جیسا کہ انبیاء کو دیا تھا اور امت کو امر کیا حج کا جیسا کہ انبیاء کو کیا تھا، چنانچہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے حج نہ کیا ہو اور امر کیا امت کو جہاد کا جیسا کہ رسولوں کو امر کیا۔ حـدیـث عـلـمـاء امتی کـانـبـيـاء بـنـی اسـرائـيـل کا بعض علماء نے انکار کیا ہے لیکن اس انکار کا مطلب زیادہ سے زیادہ ان الفاظ کا انکار ہو سکتا ہے۔ لیکن حدیث کے معنی یعنی علماءِ امت بعد امت کی تشبیہ انبیاء سے
٣٦
بلحاظ مضمون ثابت شدہ ہے۔ اس لئے حدیث اگر لفظاً ثابت نہ ہو تو بھی مع علماء نے جگہ جگہ اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ جیسے امام رازیؒ نے آیۃ قـد جـاء تـکـم مـوعـظـة مـن ربـکـم کے تحت میں مراتب بیان کرتے استدلال کیا ہے۔ پھر ایسے ہی آیت کریمہ قـالـت لـهـم رسـلـهـم ان نـحـ نیچے مراتب و کمال و نقصان بیان کرتے ہوئے اس حدیث سے استدلال کتنے ہی اعمال کو اعمال انبیاء سے تشبیہ دی گئی کہ وہ اعمال یا انبیاء کو دئے ہوئے دوسری امتوں کو نہیں ملے۔ یعنی خصوصیات انبیاء سے صرف یہ امـت امـة مـرحـومـة اعـطـيـتـهـم مـن الـنـوافـل مـثـل اعـطـيـت الانـبـيـاء الـفـرائـض الـتـی افـتـرضـت عـلـى الانـبـيـاء والـرسـل ـ حـتـى ونـورهـم مـثـل نـور الانـبـيـاء وذالـك انـی افـتـرضـت عـلـيـهـ صـلـوة كـمـا افـتـرضـت عـلـى الانـبـيـاء وامـرتـهـم بـالـغـسـل ـ الانـبـيـاء وامـرتـهـم بـالـحـج کـمـا امـرت الانـبـيـاء وامـرتـهـم بـالـجـ
(بـيـهـقـی عـن وهـب ابـن مـنـبـة)“
- ٩٧...... اگر امم سابقہ (جیسے یہود) میں توبہ قتل سے ہوتی تھی۔ ”يـقـ
انـفـسـکـم بـاتـخـاذکـم الـعـجـل فـتـوبـو الـی بـارئـکـم فـاقـتـلـو انـفـسـ (اے قوم بنی اسرائیل ! تم نے گئو سالہ کو اپنا معبود بنا کر اپنے پیدا کرنـ والے کے آگے توبہ کر) تو اس امت کی توبہ قلبی ندامت رکھی گئی۔ ”الـنـ توبہ ہے جب بندہ دل میں پشیمان ہو گیا اور آئندہ اس بدی سے باز آ ہو گئی نہ قتل نفس کی ضرورت رہی نہ ترک مال کی)
- ٩٨...... اگر امت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کا صرف ایک قبلہ (بیـ
عرب کا صرف ایک قبلہ (کعبہ معظمہ) تھا تو امت محمدیہ کو یکے بعد دیـ گئے جس سے یہ امت جامع امم ثابت ہوئی۔ ”قـد نـرى تـقـلـب فـلـنـولـيـنـك قـبـلـة تـرضـهـا (القرآن الحکیم)“
- ٩٩...... اگر اور امتوں کی سیئات کا کفارہ دنیا یا آخرت کی رسوا
٣٧
بلحاظ مضمون ثابت شدہ ہے۔ اس لئے حدیث اگر لفظاً ثابت نہ ہو تو بھی معناً ثابت ہے۔ اس لئے علماء نے جگہ جگہ اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ جیسے امام رازیؒ نے آیت کریمہ یایها الناس قد جاء تکم موعظة من ربکم کے تحت میں مراتب بیان کرتے ہوئے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ پھر ایسے ہی آیت کریمہ قالت لهم رسلهم ان نحن الا بشر مثلنا کے نیچے مراتب وکمال و نقصان بیان کرتے ہوئے اس حدیث سے استدلال کیا ہے) نیز امت کے کتنے ہی اعمال کو اعمال انبیاء سے تشبیہ دی گئی کہ وہ اعمال یا انبیاء کو دیئے گئے یا اس امت کو عطا ہوئے دوسری امتوں کو نہیں ملے۔ یعنی خصوصیات انبیاء سے صرف یہ امت سرفراز ہوئی۔ ”وامتہ
امة مرحومة اعطيتهم من النوافل مثل اعطيت الانبياء وافترضت عليهم الفرائض التي افترضت على الانبياء والرسل حتى ياتوني يوم القيمة ونورهم مثل نور الانبياء وذالك اني افترضت عليهم ان يتطهروا في كل صلوة كما افترضت على الانبياء وامرتهم بالغسل من الجنابة كما امرت الانبياء وامرتهم بالحج كما امرت الانبياء وامرتهم بالجهاد كما امرت الرسل
(بیہقی عن وہب ابن منبہ)
- ٩٧...... اگر امم سابقہ (جیسے یہود) میں توبہ قتل سے ہوتی تھی۔ ”یقوم انکم ظلمتم
انفسكم باتخاذكم العجل فتوبو الى بارئكم فاقتلو انفسكم (القرآن الحكيم)“ (اے قوم بنی اسرائیل! تم نے گوسالہ کو اپنا معبود بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کر) تو اس امت کی توبہ قلبی ندامت رکھی گئی۔ ”الندم توبة “ (ندامت ہی توبہ ہے جب بندہ دل میں پشیمان ہو گیا اور آئندہ اس بدی سے باز رہنے کا عزم باندھ لیا تو توبہ ہو گئی نہ قتل نفس کی ضرورت رہی نہ ترک مال کی)
- ٩٨...... اگر امت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام کا صرف ایک قبلہ (بیت المقدس) تھا۔ اور اگر اہل
عرب کا صرف ایک قبلہ (کعبہ معظمہ) تھا تو امت محمدیہ کو یکے بعد دیگرے یہ دونوں قبلے عطا کئے گئے جس سے یہ امت جامع امم ثابت ہوئی۔ ”قد نری تقلب وجهک فی السماء فلنولینک قبلة ترضها (القرآن الحكيم)“
- ٩٩...... اگر اور امتوں کی سیئات کا کفارہ دنیا یا آخرت کی رسوائی بغیر نہ ہوتا تھا کہ وہ سیئہ
٣٧
در و دیوار پر ہر صورت کفارہ لکھ دی جاتی تھی تو اس امت کے معاصی کا کفارہ تو بہ استغفار اور ستاری و مسامحہ کے ساتھ نمازوں سے ہو جاتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”كانت بنو اسرائيل اذا اصاب احدهم الخطيئة وجدها مكتوبا على بابه وكفارتها فان كفرها كانت له خزي في الدنيا وان يكفرها كانت له خزى فى الآخرة و قد اعطاكم الله خيرا من ذالك قال تعالى ومن يظلم سوءا او يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما والصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة كفارات لما بينهن (ابن جرير عن ابي العاليه) “ (بنی اسرائیل جب گناہ کرتے تو ان کے دروازوں پر وہ گناہ اور اس کا کفارہ لکھ کر انہیں رسوا کر دیا جاتا تھا اگر کفارہ ادا کرتے تو دنیا کی اور نہ کرتے تو آخرت کی رسوائی ہوتی لیکن تمہیں اے امت محمد ﷺ اس سے بہتر صورت دی گئی اللہ نے فرمایا کہ جو کوئی بری حرکت کرے اور اپنے نفس پر ظلم کرے اور پھر سے مغفرت چاہے تو اللہ کو غفور رحیم پائے گا (عام رسوائی اور فضیحتی نہ ہوگی ) اور پھر پانچ نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہوں گے)
- ١٠٠....... اگر امت موسوی علیہ السلام نے دعوت جہاد کے جواب میں اپنے پیغمبر کو یہ کہہ کر صاف
جواب دے دیا کہ اے موسیٰ تو اور تیرا پروردگار لڑلو۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں تو امت محمدی ﷺ نے کمال اطاعت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے نہ صرف ارض حجاز بلکہ شرق وغرب میں دین محمدی ﷺ کے علم کو سر بلند کیا اور "اعظم درجة عند الله" کا بلند مرتبہ حاصل کیا۔
- ١٠١....... اگر اور انبیاء علیہم السلام کی امتیں محشر میں اپنی شہادت میں اپنے انبیاء علیہم السلام کو پیش
کریں گی تو انبیاء علیہم السلام اپنی شہادت میں اس امت کو اور یہ امت اپنی شہادت میں حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو پیش کرے گی ۔ "يـجـاء بـنـوح يـوم القيمة فيقال له هل بلغت؟ فيقول نعم يا رب فتسال امته هل بلغكم ؟ فيقولون ما جاء نا من نذير فيقول من شهودك؟ فيقول مـحـمـد ﷺ وامته فقال رسول الله ﷺ فـيـجـاء بـكـم فتشهدون انه قد بلـغ ثـم قـراء رسول الله ﷺ وكذلك جعلنكم امة وسطا لـتـكـونـوا شـهـداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا (بخارى عن ابي سـعـيـد)" (قیامت کے دن نوح علیہ السلام لائے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی
٣٨
امت کو تبلیغ کی؟ کہیں گے کی ہے اے میرے رب ! علیہ السلام نے تمہیں تبلیغ کی؟ وہ کہیں گے ہمارے السلام سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا گواہ کون ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم (اے امت وا علیہ السلام نے تبلیغ کی۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑ اور معتدل امت بنایا ہے تا کہ تم اقوام عالم پر گواہ بنو او
- ١٠٢....... اگر اور انبیاء علیہم السلام کی امتیں نہ اوّل
اوّل بھی ہوگی اور آخر بھی " جـعـل امـتـى هم الاخ میں دنیا میں اور اوّل قیامت میں حساب و کتاب "نــحــن الاخـرون مـن اهـل الـدنـيـا، وا الخلائق (ابن ماجه ابي هريرة وحذيفة)" دوسری حدیث ہے۔ ہم آخر ہیں دنیا میں اور اوّل فیصلہ سنایا جاوے گا )
- ١٠٣....... اگر موسوی امت کو اپنے دور کے لوگوں
الـعـلـمـیـن" تو امت محمدی ﷺ کو علی الاطلاق او گیا ۔ "كنـتـم خـيـر امـة اخـرجـت لـلـنـاس انسانوں کے لئے کھڑی کی گئی ہے اور حدیث ہے ہے زبور میں کہ حق تعالیٰ نے فرمایا۔ اے داؤد! میں کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی ہے ) وحدیث عـن ابـي هـريـرة)" "وحـديـث " وفــي الـزبـور الامـم كـلـهـم (خـصـائص الـكـبـرى ج ١ ص ١٤ )
صد شکر کہ ہستیم
- ١٠٤....... اگر صحابہ موسیٰ علیہ السلام باوجود معیت
٢٩
امت کو تبلیغ کی؟ کہیں گے کی ہے اے میرے رب! تو ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا نوح علیہ السلام نے تمہیں تبلیغ کی؟ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا گواہ کون ہے؟ عرض کریں گے محمد ﷺ اور ان کی امت۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم (اے امت والو) بلائے جاؤ گے اور تم گواہی دو گے کہ نوح علیہ السلام نے تبلیغ کی۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور ہم نے تمہیں اے امت محمدیہ! درمیانی اور معتدل امت بنایا ہے تا کہ تم اقوامِ عالم پر گواہ بنو اور وہ تم پر گواہ ہو )
- ١٠٢...... اگر اور انبیاء علیہم السلام کی امتیں نہ اوّل ہوں نہ آخر بلکہ بیچ میں محدود ہوں گی تو یہ امت
اوّل بھی ہوگی اور آخر بھی ”جعل امتی هم الآخرون وهم الاولون “ (ابونعیم عن انسؓ) آخر میں دنیا میں اور اوّل قیامت میں حساب و کتاب میں بھی اوّل اور داخلۂ جنت میں بھی اوّل۔ ”نحن الآخرون من اهل الدنياء والاولون يوم القيمة المقضى لهم قبل الخلائق (ابن ماجہ ابی هریرةؓ وحذیفةؓ)“ (میری ہی امت آخر بھی رکھی گئی اور اوّل بھی۔ دوسری حدیث ہے۔ ہم آخر ہیں دنیا میں اور اوّل ہیں آخرت میں کہ سب خلائق سے پہلے ہمارا فیصلہ سنایا جاوے گا)
- ١٠٣...... اگر موسوی امت کو اپنے دور کے لوگوں پر فضیلت دی گئی ”وانی فضلتکم علی
العلمین “ تو امتِ محمدی ﷺ کو علی الاطلاق اولین و آخرین پر فضیلت دے کر افضل الامم فرمایا گیا۔ ”کنتم خیر امة اخرجت للناس (القرآن الحکیم) “ (تم بہترین امت ہو جو انسانوں کے لئے کھڑی کی گئی ہے اور حدیث ہے میری امت بہترین امم بنائی گئی ہے اور حدیث ہے زبور میں کہ حق تعالیٰ نے فرمایا۔ اے داؤد! میں نے محمد ﷺ کو علی الاطلاق فضیلت دی اور اس کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی ہے) وحديث ”جعلت امتى خير الامم (مسند بزار عن ابی هريرةؓ) “ وحديث ”وفی الزبور يا داؤد انی فضلت محمدا وامته علی الامم كلهم (خصائص الكبریٰ ج ١ ص ١٤)“
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
- ١٠٤...... اگر صحابہ موسیٰ علیہ السلام باوجود معیت موسیٰ علیہ السلام کے بیتِ قدس یعنی خود اپنے
٣٩
قوم موسیٰ تو اپنے ہی وطن (یعنی فلسطین) کو بھی فتح کرنے سے جی چھوڑ بیٹھے اور صاف کہہ دیا ”اذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون “ (موسیٰ علیہ السلام! تو اور تیرا پروردگار لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں (ہم سے یہ قتال و جہاد کی مصیبت نہیں سہی جاتی ) اس امت کے بارے میں ہے کہ ہم نے تمہیں اے نبی! فتح مبین دی۔ (مکہ فتح ہو گیا ) اور آیت میں ہے کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امت محمد ﷺ کو زمین کی خلافت و سلطنت ضرور بخشے گا چنانچہ حضور ﷺ کے زمانہ میں پہلے مکہ فتح ہوا۔ پھر خیبر اور بحرین فتح ہوا۔ پھر پورا جزیرہ عرب کا اکثر حصہ فتح ہوا۔ پھر یمن کا پورا ملک فتح ہوا۔ پھر ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا گیا۔ اطراف شام و روم و مصر اسکندریہ و حبشہ پر اثرات قائم ہوئے کہ بادشاہ روم (قیصر) بادشاہ حبش (نجاشی) شاہ مصر واسکندریہ مقوقش شاہان عمان وغیرہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تحائف بھیج کر اپنی فرمانبرداری اور نیاز مندی کا ثبوت دیا۔ پھر صدیق اکبر خلیفہ رسول اللہ ﷺ نے جزیرہ عرب پورے کا پورا لے لیا۔ فارس پر فوج کشی کی۔ شام کے اہم علاقے بصریٰ وغیرہ فتح ہوئے۔ پھر فاروق اعظم کے زمانہ میں پورا شام پورا مصر، فارس و ایران اور پورا روم اور فلسطین فتح ہوا۔ پھر عہد عثمانی میں اندلس ، قبرص، بلاد قیروان و سقلیہ اقصائے چین و عراق و خراسان ، اہواز اور ترکستان کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا اور پھر امت کے ہاتھ پر ہند و سندھ، یورپ و ایشیاء کے بڑے بڑے ممالک فتح ہوئے۔ جن پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا اور بالآخر زمانہ آخر میں پوری دنیا پر بیک وقت اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔ یہ وعدہ امت کو دیا گیا۔ جو پورا ہو کر رہے گا (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے) تو صحابہؓ نے اپنے پیغمبر کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے وطن (حجاز ) کے ساتھ عالم کو فتح کر ڈالا ”انا فتحنالك فتحا مبينا “ کا ظہور ہوا اور ”ليستخلفنهم في الارض “ کا وعدہ خداوندی پورا کر دیا گیا ۔ (القرآن الحکیم)
- ١٠٥....... اگر جنت میں ساری امتیں ایک سو بیس صفوں میں ہوں گی تو حضور ﷺ کی تنہا امت
اسی (٨٠) صفیں پائے گی۔ ”اهل الجنة عشرون ومائة صف ثمانون منها من هذه الامة واربعون من سائر الامم (ترمذی و دارمی و بيهقى عن بريده)“
- ١٠٦....... اگر اور امتوں کے صدقات اور انبیاء علیہم السلام کے خمس نذر آتش کئے جانے سے قبول
ہوتے تھے جس سے امتیں مستفید نہیں ہو سکتی تھیں تو امت محمدی ﷺ کے صدقات و خمس خود امت کے غرباء پر خرچ کرنے سے قبول ہوتے ہیں جس سے پوری امت مستفید ہوتی ہے۔ ”وكانت
الانبياء يعزلون الخمس فتجئ النار وتأكله و ا امتی (بخارى فى تاريخه عن ابن عباس) “ (اگر اگلی دیتے تھے۔ تو آگ آتی تھی اور اسے جلا ڈالتی تھی (یہی اس کـ قرآن حکیم ”حتی یاتینا بقربان تاكله النار “ اور مجھے کر دوں اپنی امت کے فقراء میں ۔ (خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ١٨٧)
- ١٠٧....... اگر اور انبیاء علیہم السلام پر وحی آتی تھی جس سے امتی
ربانیوں پر الہام اترا جس سے اجتہادی شریعتیں کھلیں۔ ”واذا اوالخوف اذاعوا به ولو ردوه الى الرسول والى ا يستنبطونه منهم “ (اور جب ان کے پاس کوئی بات امـ دیتے۔ حالانکہ اگر وہ اسے رسول یا اپنے میں سے اولوالامر کی طـ استنباط کرنے والے جان لیتے ..... جو اس میں سے نئی چیزیں مـ
- ١٠٨....... اگر اور انبیاء کی امتیں ضلالت عامہ سے نہ بچ سکیں
ہمیشہ کے لئے مطمئن کر دیا گیا۔ ”لا تجمع امتى على الضـ کی ساری مل کر کبھی بھی ) گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی )
- ١٠٩....... اگر اور انبیاء کی امتوں کا مل کر کسی چیز پر جمع ہو
گمراہی عامہ سے محفوظ نہ تھیں تو امت محمدیہ ﷺ کا اجماع حجت سے محفوظ کی گئی ہے۔ ”ماراه المؤمنون حسناً فهـو شهداء الله فى الارض ولتكونوا شهداء على النـ عنداللہ بھی اچھا ہے اور حدیث تم اللہ کے سرکاری گواہ ہو زمیـ اور امت محمدیہ ﷺ کو درمیانی درجہ کی امت بنایا ہے (تمہیں بـ تم اللہ کے سرکاری گواہ ہو زمین پر ) اور آیت کریمہ ہم نے تمـ بنو دنیا کے انسانوں پر )
- ١١٠....... اگر اور انبیاء کی امتیں گمراہی عامہ کی وجہ سے معـ
محمدیہ ﷺ کو عذاب عام اور استیصال عام سے دائمی طور پر بچـ
٤١
الانبياء يعزلون الخمس فتجئ النار وتأكله و امرت انا ان اقسم بين فقراء امتی (بخارى فى تاريخه عن ابن عباس) ”(اگر اور انبیاء علیہم السلام اپنا خمس کا حق چھوڑ دیتے تھے۔ تو آگ آتی تھی اور اسے جلا ڈالتی تھی (یہی اس کی قبولیت کی علامت تھی۔ بحوالۂ قرآن حکیم ”حتى ياتينا بقربان تاكله النار“ اور مجھے امر کیا گیا ہے کہ میں اس خمس کو تقسیم کردوں اپنی امت کے فقراء میں۔ (خصائص الکبریٰ ج٢ ص١٨٧))
- ١٠٧...... اگر اور انبیاء علیہم السلام پر وحی آتی تھی جس سے اصلی تشریع کا تعلق تھا تو اس امت کے
رہنماؤں پر الہام اترا جس سے اجتہادی شریعتیں کھلیں۔ ”واذا جاء هم امر من الامن او الخوف اذاعوا به ولو ردوه الى الرسول والى اولى الامر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم“ (اور جب ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی آتی ہے تو اسے پھیلا دیتے۔ حالانکہ اگر وہ اسے رسول یا اپنے میں سے اولو الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اسے ان میں سے استنباط کرنے والے جان لیتے۔..... جو اس میں سے نئی چیزیں مستنبط کر کے نکال لیتے)
- ١٠٨...... اگر اور انبیاء کی امتیں ضلالت عامہ سے نہ بچ سکیں تو امت محمد ﷺ کو گمراہی عامہ سے
ہمیشہ کے لئے مطمئن کر دیا گیا۔ ”لا تجمع امتی علی الضلالة“ (میری ﷺ امت (ساری کی ساری مل کر کبھی بھی) گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی)
- ١٠٩...... اگر اور انبیاء کی امتوں کا مل کر کسی چیز پر جمع ہو جانا عند اللہ حجت شرعیہ نہیں تھا کہ وہ
گمراہی عامہ سے محفوظ نہ تھیں تو امت محمد ﷺ کا اجماع حجت شرعیہ قرار دیا گیا کہ وہ عام گمراہی سے محفوظ کی گئی ہے۔ ”مارأه المؤمنون حسناً فهو عندالله حسن (حديث انتم شهداء الله فى الارض ولتكونوا شهداء على الناس“ (جسے مسلمان اچھا سمجھ لیں وہ عنداللہ بھی اچھا ہے اور حدیث تم اللہ کے سرکاری گواہ ہو زمین میں۔ اور آیت کریمہ ہم نے تمہیں اے امت محمد ﷺ درمیانی درجہ کی امت بنایا ہے (تمہیں بھی اس کا دھیان چاہئے) اور حدیث تم اللہ کے سرکاری گواہ ہو زمین پر) اور آیت کریمہ ہم نے تمہیں درمیانی امت بنایا ہے تا کہ تم گواہ بنو دنیا کے انسانوں پر)
- ١١٠...... اگر اور انبیاء کی امتیں گمراہی عامہ کی وجہ سے معذب ہو ہو کر ختم ہوتی رہی ہیں تو امت
محمد ﷺ کو عذاب عام اور استیصال عام سے دائمی طور پر بچالیا گیا۔ ”وما كان الله ليعذبهم
٤١
و انت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون (القرآن الحکیم) “
- ١١١....... اگر اور انبیاء کی امتوں کو جنت میں نفس مقامات سے نوازا جائے گا تو امت محمدیہ کو ہر
مقام کا دس گنہ درجہ دیا جائے گا۔ تا آنکہ اس امت کے ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی کا ملک بہ نص حدیث دس دنیا کے برابر ہوگا۔” فما ظنک باعلاھم “ (جیسا کہ آیت کریمہ ”من جاء بالحسنة فله عشر امثالها“ اس پر شاہد ہے)
- ١١٢....... اگر امم سابقہ کی شفاعت صرف ان کے انبیاء ہی کریں گے تو اس امت کی شفاعت
حضور ﷺ کے ساتھ اس امت کے صلحاء بھی کریں گے اور ان کی شفاعت سے جماعتیں کی جماعتیں نجات پا کر داخل ہوں گی۔”ان من امتى من يشفع للفئام ومنهم من يشفع للقبيلة ومنهم من يشفع للعصبة ومنهم من يشفع للرجل حتى يدخلوا الجنة (ترمذی عن ابی سعید) “ (میری امت میں ایسے بھی ہوں گے جو کئی کئی شفاعتیں کریں گے اور ایک خاندان بھر کی ، بعض خاندان کے ایک حصہ کی اور بعض ایک شخص کی۔ تا آنکہ یہ لوگ اس کی شفاعت سے جنت میں داخل ہو جائیں گے)
- ١١٣....... اگر اور انبیاء علیہم السلام کی امتوں کے نام ان کے وطنوں اور قبیلوں یا انبیاء کے ناموں
سے رکھے گئے۔ جیسے عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ تو امت محمدیہ ﷺ کے دو نام اللہ نے اپنے ناموں سے رکھے۔”مسلم اور مؤمن، یا یهود تسم الله باسمين وسمى الله بهما امتى هو السلام وسمى بها امتى المسلمين وهو المؤمن وسمى بها امتى المؤمنين (مصنف ابن ابی شیبه عن مكحول) “(اے یہودی! اللہ نے اپنے دو نام رکھے۔ اور پھر ان دونوں ناموں سے نام میری امت کا رکھا۔ اللہ تعالیٰ سلام ہے تو اس نام پر اس نے میری امت کو مسلمین کہا۔ اور وہ مومن ہے تو اپنے اس نام پر اس نے میری امت کو مؤمنین فرمایا)
یہ سارے امتیازی فضائل و کمالات جو جماعت انبیاء میں آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی نسبت غلامی سے امتوں میں اس امت کو دیئے گئے تو اس کی بناء ہی یہ ہے کہ اور انبیاء علیہ السلام نبی ہیں اور آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور امتیں امم واقوام ہیں اور یہ امت خاتم الامم اور خاتم الاقوام ہے اور انبیاء علیہم السلام کی کتب آسمانی کتب ہیں اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب خاتم الکتب ہے اور ادیان ادیان ہیں اور یہ دین خاتم الادیان ہے اور شرائع شریعتیں ہیں اور یہ شریعت خاتم الشرائع ہے۔
٤٢
یعنی آپ ﷺ کی خاتمیت کا اثر آپ ﷺ کے سارے ہی کمالات و آثار میں رچا ہوا ہے۔ پس یہ امتیازی خصوصیت محض نبوت کے اوصاف نہیں بلکہ ختم نبوت کی خصوصیات ہیں۔ اس لئے جیسے آپ ﷺ تمام انبیاء میں ختم نبوت کے مقام سے ممتاز اور افضل ہیں۔ ایسے ہی آپ ﷺ کی یہ خاتمیت کی ممتاز سیرت تمام انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں سے ممتاز اور افضل ہے۔ چنانچہ خود حضور ﷺ نے بھی ختم نبوت اور خاتمیت کو اپنی خصوصیات میں شمار فرمایا۔ حدیث ابو ہریرہؓ میں آپ ﷺ نے جہاں اپنی چھ امتیازی خصوصیات جوامع الکلم اور غیر معمولی رعب وغیرہ ارشاد فرمائی۔ وہیں انہیں سے ایک خصوصیت یہ بھی فرمائی کہ: ”وختم بی النبیون“ (بخاری ومسلم) ”مجھ سے نبی ختم کر دیئے گئے۔“
اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضور ﷺ کی یہ خصوصیت اور ممتاز سیرت ختم نبوت کے تسلیم کئے بغیر زیر تسلیم نہیں آسکتی۔ ان خصوصی فضائل کو وہی مان سکے گا جو ختم نبوت کو مان رہا ہو۔ ورنہ ختم نبوت کا منکر درحقیقت ان تمام فضائل و کمالات اور خصوصیت نبوی کا منکر ہے۔ گو زبان سے وہ حضور ﷺ کی افضلیت کا دعویٰ کرتا رہے۔
مگر یہ دعویٰ ختم نبوت کے انکار کے ساتھ زمانہ سازی اور حیلہ سازی ہوگا۔ بہر حال حضور ﷺ کے کمالات کے دائرہ میں ہر کمال کا یہ انتہائی نقطہ نبوت کی خاتمیت کا اثر ہے نہ محض نبوت کا۔
اس سے یہ اصولی بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شے کی انتہا میں اس کی ابتداء لپٹی ہوئی ہے اور کمالات کے ہر انتہائی نقطہ میں اس کے تمام ابتدائی مراتب مندرج ہوتے ہیں۔ سورج کی روشنی سارے عالم میں درجہ بدرجہ پھیلی ہوئی ہے۔ جس کے مختلف اور متفاوت مراتب ہیں۔ لیکن اس کے انتہائی مرتبہ نور میں اس کے ابتدائی نور کے تمام مراتب کا جمع رہنا قدرتی ہے۔ مثلاً اس کے نور کا ادنیٰ درجہ ضیاء اور چاندنا ہے جو بند مکانوں میں بھی پہنچا ہوا ہوتا ہے۔
اس سے اوپر کا مرتبہ دھوپ ہے جو کھلے میدانوں اور صحنوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ جس سے میدان روشن کہلاتے ہیں۔ اس سے اوپر کا مرتبہ شعاعوں کا ہے جس کا باریک تاروں کی طرح فضائے آسمانی میں جال پھیلا ہوا ہوتا ہے اور فضا ان سے روشن رہتی ہے۔ اس سے بھی اوپر کا مرتبہ اصل نور کا ہے جو آفتاب کی ٹکیہ کے چوگرد اس سے لپٹا ہوا اور اس سے چمٹا ہوا ہوتا ہے جس سے آفتاب کا ماحول منور ہوتا ہے اور اس سے اوپر ذات آفتاب ہے جو بذات خود روشن ہے لیکن یہ ترتیب خود اس کی دلیل ہے کہ آفتاب سے نور صادر ہوا۔ نور سے شعاع برآمد ہوئی۔ شعاع سے
٤٣
دھوپ نکلی اور دھوپ سے چاند نکلا گویا ہر اعلیٰ مرتبہ کا اثر ادنیٰ مرتبہ ہے جو اعلیٰ سے صادر ہو رہا ہے۔ اس لئے بآسانی یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ضیاء و روشنی دھوپ میں تھی۔ جب ہی تو اس سے برآمد ہوئی، دھوپ شعاعوں میں تھی جب ہی تو اس سے نکلی۔
شعاعیں نور میں تھیں جب ہی اس سے صادر ہوا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ روشنی کے یہ سارے مراتب آفتاب کی ذات میں جمع تھے جب ہی تو واسطہ بلاواسطہ اس سے صادر ہو کر عالم کے طبقات کو منور کرتے رہے۔ پس آفتاب خاتم الانوار ہونے کی وجہ سے جامع الانوار ثابت ہوا۔ اگر نور کے سارے مراتب اس پر پہنچ کر ختم نہ ہوتے تو اس میں یہ سب کے سب مراتب جمع بھی نہ ہوتے تو قدرتی طور پر خاتمیت کے لئے جامعیت لازم نکلی۔
ٹھیک اسی طرح حضرت خاتم الانبیاء ﷺ جب کہ خاتم الکمالات ہیں جن پر نبوت کے تمام علمی وعملی اور اخلاقی واحوالی مراتب ختم ہوجاتے ہیں۔ تو آپ ہی ان سارے کمالات کے جامع بھی ثابت ہوتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبوت کا ہر کمال جس جس رنگ میں جہاں جہاں اور جس جس پاک شخصیت میں موجود تھا وہ آپ ﷺ ہی سے نکلا اور آخر کار آپ ﷺ ہی پر آکر منتہی ہوا تو یقیناً وہ آپ ﷺ ہی میں جمع بھی تھا۔
اس لئے وہ تمام امتیازی کمالات علم واخلاق اور کمالات احوال ومقامات جو مذکورہ بالا دفعات میں پیش کئے گئے ہیں اور جو آپ کے لئے وجہ امتیاز وفضیلت ہیں جب کہ آپ ﷺ ہی پر پہنچ کر ختم ہوئے تو وہ بلا شبہ آپ ہی میں جمع شدہ بھی تھے ورنہ آپ پر پہنچ کر ختم نہ ہوتے اور جب آپ ﷺ کی ذات بابرکات جامع الکمالات بلکہ منبع کمالات ثابت ہوئی اور آپ کے سارے کمالات انتہائی ہو کر جامع مراتب کمالات ثابت ہوئے۔
مستفیض غایت ہمہ غایات
تو یقیناً آپ کی شریعت جامع الشرائع آپ کا دین جامع الادیان، آپ کا لایا ہوا علم جامع علوم اولین و آخرین، آپ کا خلق خلق عظیم یعنی جامع اخلاق سابقین ولاحقین اور آپ کی لائی ہوئی کتاب جامع کتب سابقین ہے جو آپ کی خاتمیت کی واضح دلیل ہے۔ اس لئے آپ ﷺ کی خاتمیت کی شان سے آپ ﷺ کی جامعیت ثابت ہوئی۔
مصدقیت
اب اس جامع سے آپ ﷺ کی افضلیت کا ایک اور مقام نمایاں ہوتا ہے۔ اور وہ
٤٤
شان مصدقیت ہے کہ آپ ﷺ سابقین کی ساری شریعتوں اور ان کی تصدیق کنندہ ثابت ہوتے ہیں۔ جس کا دعویٰ قرآن حکیم نے فرمایا۔
- ﴿ ...... ”ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم“ ﴾
(پ ٣ آل عمران)
(الآیۃ) وہ عظیم رسول ﷺ آجائیں جو تمہارے ساتھ کی ہر چیز۔ ﴾ سماوی کتب نبوت، معجزات تعلیمات وغیرہ کی تصدیق ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا۔ اور فرمایا:
- ﴿ ...... ”بل جاء بالحق وصدق المرسلین“ ﴾
(پ ٢٣ الصافات)
تصدیق کرتے ہوئے۔ ﴾
وجہ ظاہر ہے کہ جب آپ کی شریعت میں تمام پچھلی شر ہوئی کتاب (قرآن) میں تمام پچھلی کتب سماویہ مندرج ہیں تو ان کی جس کی بناء سورج کی مثال سے کھل چکی ہے کہ جیسے ہر انتہاء مبد ہو جاتے ہیں۔ ویسے ہی وہ سارے ابتدائی مراتب نکلتے بھی اس انتہا اس لئے سابق شریعتیں درحقیقت اس انتہائی شریعت سبب اسی میں سے نکلی ہوئی مانی جاویں گی ورنہ یہ شریعت انتہائی اور اور عقل ونقل کیخلاف ہے۔ وہ اپنی جگہ مسلم شدہ ہے۔ پس اس جا ممکن ہی نہیں کہ ابتدائی شریعتوں کی تصدیق نہ کی جائے بلکہ خود ا ہیں۔ ورنہ خود اس شریعت کی تصدیق بھی باقی نہ رہے گی۔ اس شریعت آپ کے اندر سے ہو کر نکلی تو سابقہ شریعتیں بھی بالواسطہ آپ تسلیم کی جاویں گی۔
”وانہ لفی زبر الاولین“ اور یہ قرآن پچھلوں ک تھا) اس لئے اس شریعت کی تصدیق کے لئے پچھلی شریعتوں کی اجزاء واعضاء کی تصدیق اور ظاہر ہے کہ اپنے اعضاء واجزاء او کرسکتا ہے؟ ورنہ یہ معاذ اللہ خود اپنی شریعت کی تکذیب ہو جائے آخری شریعت کے مبادی ومقدمات اور ابتدائی مراتب تھے۔ تو اجزاء کی تصدیق ضروری ہے ورنہ وہ کل کی ہی تصدیق نہ رہے
٤٥
شان مصدقیت ہے کہ آپﷺ سابقین کی ساری شریعتوں اور ان کی لائی ہوئی ساری کتابوں کے تصدیق کنندہ ثابت ہوتے ہیں۔ جس کا دعویٰ قرآن حکیم نے فرمایا ہے۔
۞ ...... ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ ﴿پھر تمہارے پاس (اے پیغمبران الٰہی) وہ عظیم رسولﷺ آجائیں جو تمہارے ساتھ کی ہر چیز۔﴾ سماوی کتب نبوت، معجزات تعلیمات وغیرہ کے تصدیق کنندہ ہوں (تو تم ان پر) ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا۔ اور فرمایا:
۞ ...... بَلۡ جَآءَ بِالۡحَقِّ وَ صَدَّقَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿بلکہ محمدﷺ آئے اور رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے۔﴾
وجہ ظاہر ہے کہ جب آپ کی شریعت میں تمام پچھلی شریعتیں جمع ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) میں تمام پچھلی کتب سماویہ مندرج ہیں تو ان کی تصدیق خود اپنی تصدیق ہے۔ جس کی بناء سورج کی مثال سے کھل چکی ہے کہ جیسے ہر انتہاء میں اس کے ابتدائی مراتب جمع ہو جاتے ہیں۔ ویسے ہی وہ سارے ابتدائی مراتب نکلتے بھی اس انتہائی مرتبہ سے ہیں۔
اس لئے سابق شریعتیں درحقیقت اس انتہائی شریعت کے ابتدائی مراتب ہونے کے سبب اسی میں سے نکلی ہوئی مانی جاویں گی ورنہ یہ شریعت انتہائی اور وہ ابتدائی نہ رہیں گی جو مشاہدہ اور عقل و نقل کیخلاف ہے۔ وہ اپنی جگہ مسلم شدہ ہے۔ پس اس جامع شریعت کی تصدیق کے بعد ممکن ہی نہیں کہ ابتدائی شریعتوں کی تصدیق نہ کی جائے بلکہ خود اس مصدقہ شریعت میں جمع شدہ ہیں۔ ورنہ خود اس شریعت کی تصدیق بھی باقی نہ رہے گی۔ اس لئے جب یہ آخری اور جامع شریعت آپ کے اندر سے ہو کر نکلی تو سابقہ شریعتیں بھی بالواسطہ آپ ہی کے اندر سے ہو کر آئی ہوئی تسلیم کی جاویں گی۔
”وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ“ اور یہ قرآن پچھلوں کی کتابوں میں بھی (لکھا ہوا موجود تھا) اس لئے اس شریعت کی تصدیق کے لئے پچھلی شریعتوں کی تصدیق ایسی ہی ہو گی جیسے اپنے اجزاء واعضاء کی تصدیق اور ظاہر ہے کہ اپنے اعضاء واجزاء اور بالفاظ دیگر خود اپنی تکذیب کون کرسکتا ہے؟
ورنہ یہ معاذ اللہ خود اپنی شریعت کی تکذیب ہو جائے گی۔ جب کہ یہ ساری شریعتیں اسی آخری شریعت کے مبادی ومقدمات اور ابتدائی مراتب تھے۔ تو کل کی تصدیق کے اس کے تمام صحیح اجزاء کی تصدیق ضروری ہے ورنہ وہ کل کی ہی تصدیق نہ رہے گی۔ اس لئے سارے پچھلے ادیان
٤٥
کے حق میں آپ ﷺ کے مصدق ہونے کی شان نمایاں تر ہو جاتی ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ ”اسلام“ اقرار شرائع کا نام ہے۔ انکار شرائع کا نہیں۔ تصدیق مذاہب کا نام ہے۔ تکذیب مذاہب کا نہیں۔ توقیر ادیان کا نام ہے۔ تحقیر ادیان کا نہیں۔ تعظیم مقتدیان مذاہب کا نام ہے۔ توہین مقتدایان کا نام نہیں۔
اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلام کا ماننا در حقیقت ساری شریعتوں کا ماننا اور اس کا انکار ساری شریعتوں کا انکار ہے اور اسلام آجانے کے بعد اس سے منکر در حقیقت کسی بھی دین وشریعت کے مقر تسلیم نہیں کئے جاسکتے۔
اس بناء پر اگر ہم دنیا کے سارے مسلم اور غیر مسلم افراد سے یہ امید رکھیں کہ وہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی اس جامع و خاتم سیرت کے مقامات کو سامنے رکھ کر اس آخری دین کو پوری طرح سے اپنائیں اور اس کی قدر و عظمت کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں تو یہ بے جا آرزو نہ ہوگی۔ مسلمانوں سے تو اس لئے کہ حق تعالیٰ نے انہیں اسلام دے کر دین ہی نہیں دیا بلکہ سرچشمہ ادیان دے دیا اور ایک جامع شریعت دے کر دنیا کی ساری شریعتیں ان کے حوالہ کردیں۔ جب کہ وہ سب کی سب شاخ در شاخ ہو کر اسی آخری شریعت سے نکل رہی ہیں جس سے مسلمان بیک وقت گویا سارے ادیان و شریعت پر عمل کرنے کے قابل اور اس جامع عمل سے اپنے لئے جامعیت کا مقام حاصل کرنے کے قابل بنے ہوئے ہیں۔ اور اس طرح وہ ایک دین نہیں بلکہ تمام ادیان عالم پر مرتب ہونے والے سارے ہی اجر و ثواب اور درجات و مقامات کے مستحق ٹھہر جاتے ہیں۔
اندریں صورت اگر ہم یوں کہیں تو خلاف حقیقت نہ ہوگا۔ اگر وہ صحیح معنی میں عیسائی، موسائی، ابراہیمی اور نوحی بھی ہیں کہ آج انہی کے دم سے سچی نوحیت، ابراہیمیت، موسائیت اور عیسائیت دنیا میں زندہ ہے جب کہ بلا استثناء ان سب کے ماننے اور ان کی لائی ہوئی شرائع کو سچا تسلیم کرنے کی روح انہوں نے ہی دنیا میں پھونک رکھی ہے بلکہ اپنی جامع شریعت کے ضمن میں ان سب شریعتوں پر عمل پیرا بھی ہیں۔ ورنہ آج ابراہیم کے ماننے والے براہمہ اپنے کو اس وقت تک براہمہ نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ و محمد علیہم السلام کی تکذیب وتوہین نہ کرلیں۔
اسی طرح آج کی عیسائیت کو ماننے والے بزعم خود اپنی عیسائیت کو اس وقت تک برقرار نہیں رکھ سکتے جب تک کہ وہ محمدیت کی تکذیب نہ کرلیں۔ گویا ان کے مذاہب کی بنیاد ہی تکذیب پر ہے۔ تصدیق پر نہیں۔ انکار پر ہے اقرار پر نہیں۔ توہین پر ہے توقیر پر نہیں۔ جہالت پر ہے
٤٦
معرفت پر نہیں۔ حالانکہ مذہب نام اقرار کا ہے۔ انکار کا نہیں۔ نہیں۔ دین نام محبت کا ہے۔ عداوت کا نہیں۔ پس تسلیم واقرار ودین کا کارخانہ سنبھالا ہوا ہے تو صرف اسلام ہی سے سنبھالا ہوا اور اسی کی تسلیم عام اور تصدیق عام کی بدولت تمام ہے۔ ورنہ اقوام دنیا نے مل کر تعصبات کی راہوں سے اس کار اٹھا کر نہیں رکھی۔ بنابریں اسلام کے ماننے والے تو اس لئے ا زندگی بنائیں کہ اللہ نے انہیں تعصبات کی دلدل سے دور رکھ ک کے تمام مذاہب اور شریعتوں کا رکھوالا اور محافظ بنایا اور ان می کا راز داں تجویز کیا۔
دوسرے ان کا اقرار وتسلیم صرف ان ہی کی شریع کر دنیا کی تمام شریعتوں تک پھیلا دیا جس سے اگر ایک طر اور جامعیت نمایاں کی جو خود دین والوں کی جامعیت اور اسلامی دین کا غلبہ بھی تمام ادیان پر پورا کر دیا۔ جس کی قرآن (تاکہ اسلامی دین کو اللہ تمام دینوں پر غالب فرمائے) خبر د کیونکہ غلبہ دین کی اس سے زیادہ نمایاں اور واض تمام ادیان کا مصدق بن کر ان میں روح کی طرح دوڑا ہوا سنبھالنے والا ہے۔ اور اسی کے دم سے ان کی تصدیق وتوثیق تردید و تکذیب کر کے انہیں لاشے محض بنا چکی تھیں۔ وقالت علی شئ۔ وقالت النصاریٰ لیست اليهود علی محض ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود لاشے محض ہیں) مذاہب کو تردید و تکذیب سے دفن کر چکی تھی۔ مصدق عا نے ہر مذہب کی اصلیت نمایاں کرکے اس کی تصدیق ک سابقہ اپنا دورہ پورا کر دینے کے بعد بھی دلوں اور ایمانوں چیز کا سنبھالنے اور تھامنے والا ہی اس چیز پر غالب ہوتا تھامتا کیسے؟ اور تھی شے تھامنے والے کے سامنے مغلوب والے کے سہارے کی ضرورت کیوں پڑتی؟
٤٧
معرفت پر نہیں۔ حالانکہ مذہب نام اقرار کا ہے۔ انکار کا نہیں۔ ایمان نام معرفت کا ہے جہالت کا نہیں ۔ دین نام محبت کا ہے۔ عداوت کا نہیں۔ پس تسلیم واقرار، تعظیم وتوقیر، علم ومعرفت اور ایمان ودین کا کارخانہ سنبھلا ہوا ہے تو صرف اسلام ہی سے سنبھلا ہوا ہے۔
اور اسی کی تسلیم عام اور تصدیق عام کی بدولت تمام مذاہب کی اصلیت اور توقیر محفوظ ہے۔ ورنہ اقوام دنیا نے مل کر تعصبات کی راہوں سے اس کارخانہ کو درہم برہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا کر نہیں رکھی۔ بنا بریں اسلام کے ماننے والے تو اس لئے اسلام کی قدر پہچانیں اور اسے دستور زندگی بنائیں کہ اللہ نے انہیں تعصبات کی دلدل سے دور رکھ کر دنیا کی تمام قوموں، امتوں اور ان کے تمام مذاہب اور شریعتوں کا رکھوالا اور محافظ بنایا اور ان میں سے شور وغش کو الگ دکھا کر اصلیت کا راز داں تجویز کیا۔
دوسرے ان کا اقرار وتسلیم صرف ان ہی کی شریعت تک محدود نہیں بلکہ شاخ در شاخ بنا کر دنیا کی تمام شریعتوں تک پھیلا دیا جس سے اگر ایک طرف ان کے دین کی وسعت وعمومیت اور جامعیت نمایاں کی جو خود دین والوں کی جامعیت اور وسعت کی دلیل ہے تو دوسری طرف اسلامی دین کا غلبہ بھی تمام ادیان پر پورا کر دیا۔ جس کی قرآن نے ”لیظہرہ علی الدین کلہ“ (تاکہ اسلامی دین کو اللہ تمام دینوں پر غالب فرمائے) خبر دی تھی۔
کیونکہ غلبہ دین کی اس سے زیادہ نمایاں اور واضح دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ دین اسلام تمام ادیان کا مصدق بن کر ان میں روح کی طرح دوڑا ہوا انہیں تھامے ہوئے ہے ان کا قیوم اور سنبھالنے والا ہے۔ اور اسی کے دم سے ان کی تصدیق و توثیق باقی ہے ورنہ اقوام عالم تو مذاہب کی تردید و تکذیب کر کے انہیں لاشے محض بنا چکی تھیں۔ ”وقالت الیہود لیست النصارٰی علیٰ شئی۔ وقالت النصارٰی لیست الیہود علیٰ شئی“ (یہود نے کہا کہ نصارٰی لاشے محض ہیں اور نصارٰی نے کہا کہ یہود لاشئی محض ہیں) اور اس طرح ہر قوم اپنے سوا دوسرے مذاہب کو تردید و تکذیب سے دفن کر چکی تھی۔ مصدق عام اور قیوم عمومی بن کر تو اسلام ہی آیا جس نے ہر مذہب کی اصلیت نمایاں کر کے اس کی تصدیق کی اور اسے باقی رکھا جس سے، مذاہب سابقہ اپنا دورہ پورا کر دینے کے بعد بھی دلوں اور ایمانوں میں محفوظ رہے اور کون نہیں جانتا کہ کسی چیز کا سنبھالنے اور تھامنے والا ہی اس چیز پر غالب ہوتا ہے، جسے وہ تھام رہا ہے۔ ورنہ بلا غلبہ کے تھامتا کیسے؟ اور تھمی شے تھامنے والے کے سامنے مغلوب اور ضعیف ہوتی ہے۔ ورنہ اسے تھامنے والے کے سہارے کی ضرورت کیوں پڑتی؟
٤٧
پس جب کہ ادیان سابقہ کی اصلیت اسلام کے سہارے تھمی ہوئی ہے تو ادیان سابقہ اس کے محتاج ثابت ہوئے اور وہ ان کے لحاظ سے غنی رہا۔ اور ظاہر ہے کہ محتاج غنی پر غالب نہیں ہوتا۔ بلکہ غنی محتاج پر غالب ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام کا غلبہ اس قومیت کے سلسلہ سے تمام ادیان پر نمایاں ہو جاتا ہے۔
- ٭...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين
كله“ ﴿اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس اسلامی دین کو تمام دینوں پر غالب فرمائے۔﴾
پس اسلام کا غلبہ جہاں حجت و برہان سے اس نے دکھلایا۔ جہاں تیغ و سنان سے اس نے دکھلایا۔ جو باہر کی چیزیں ہیں وہیں خود دین کی ذات سے ہی دکھلایا اور وہ اس کی عمومیت، قومیت اور مصدقیت عام ہے جس سے اس نے روح بن کر ادیان کو سنبھال رکھا ہے۔ جس سے اس دین کا بین الاقوامی دین ہونا بھی واضح ہو جاتا ہے۔ بہر حال اسلام والے تو اس لئے اسلام کی قدر کرتے ہیں کہ وہ کامل، جامع مصدق عالمگیر دین اور روح ادیان عالم ہے جو انہیں پشتینی طور پر ہاتھ لگ گیا ہے۔
اور غیر مسلم اس لئے اس کی طرف بڑھیں اور اس کی قدر پہچانیں کہ آج کی ہمہ گیر دنیا میں اول تو جزوی اور مقامی ادیان چل نہیں سکتے۔ جیسا کہ مشاہدہ میں آ رہا ہے کہ ہر ایک مذہب کو یا منظر عام سے ہٹ کر چھپنے کے لئے پہاڑوں اور غاروں کی پناہ لینی پڑتی ہے اور یا باہر آ کر زمانہ کے تقاضوں کے مطابق اپنے اندر ترمیمیں کرنی پڑ رہی ہیں اور وہ بھی اسلام ہی سے لے کر تا کہ دنیا میں اس کے گاہک باقی رہیں۔ مگر ان میں سے کوئی چیز بھی ان ادیان کے محدود اور مقامی اور محض قومی ہونے کو نہیں چھپا سکتی۔
ان کے پیوندوں سے خود ہی پتہ چل جاتا ہے کہ لباس کو نمائش کی حد تک صحیح دکھلانے اور جاذب نظر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے ان قومیتوں کی حد بندیوں کے مذاہب سے دلوں کی توجہ ہٹتی جا رہی ہے۔ جیسا کہ مشاہدہ میں آ رہا ہے۔ اندریں صورت تقاضائے دانش و بینش اور مقتضائے فطرت صرف یہ ہے کہ اجزاء سے ہٹ کر کل اور مجموعہ کو اپنایا جائے جس کے ضمن میں یہ جزوی دین اپنی اصلیت کی حد تک خود بخود آجائیں اور ظاہر ہے کہ جب اصلیت کی حد تک اسلام نے تمام شرائع اور ادیان کو اپنے ضمن میں لے رکھا ہے تو اسلام قبول کرنے والے ان ادیان سے بھی محروم نہیں رہ سکتے۔
٤٨
بلکہ اگر وہ اپنے ادیان کی حفاظت چاہتے ہیں تو اب بھی اس چاہئے۔ کیونکہ اسلام ہی نے ان ادیان کو تا بحد اصلیت اپنے ضمن اپنے ادیان کی موجودہ صورتوں پر جمے رہتے ہیں تو اول تو وہ بے سند نہیں، اسلام ان کی سند تھا۔ تو اسے انہوں نے اختیار نہیں کیا۔
اسلام سے ہٹ کر دوسرے مذاہب میں دین کی سند ا سے ان کی اصلیت کا پتہ نشان لگ سکے اور ظاہر ہے کہ بے سند بات حد تک کوئی اپنی سلامت فطرت سے اصلیت کا کوئی سراغ نکال بھی جزئی، قومی اور مقامی دین کا پیرو رہا جو آج کے بین الاقوامی، بین ال دور میں چل نہیں سکتا۔ اسی لئے ارباب ادیان ایسے دینوں میں ترمی اور آئے دن اس قسم کی خبروں سے اخبارات کے کالم بھرے رہتے ہ
البتہ اگر وہ اسلام سنبھال لیں تو اس پر چلنا در حقیقت دین کی جتنی واقعی اصلیت ہے اسے تھامے رہنا ہے اس لئے نفس اپنے اپنے ادیان کا تھامنا ضروری ہے۔ تب بہر دو صورت اسلام نکلتا ہے۔
بہر حال نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے آ کتاب، قوم، امت، اصول قواعد اور احکام وغیرہ ساری چیزیں طرح آپ کو خاتم النبیین فرمایا گیا اسی طرح آپ کے دین کو خا ہے۔
- ٭...... ”اليوم اكملت لكم دينكم.“ ﴿آج کے دن
کر دیا۔
اور ظاہر ہے کہ اکمال اور تکمیل دین کے بعد نئے دین یہ کامل دین ہی خاتم الادیان ہوگا کہ کوئی تکمیل طلب ایسے ہی آئ جس کے بعد کوئی امت نہیں۔ حدیث قتادہ میں ہے۔
- ٭...... ”نحن اخرها وخيرها (در منثور)“ ﴿ہم
اور سب سے بہتر ہیں۔﴾
حدیث ابی امامہ میں ہے:
٤٩
بلکہ اگر وہ اپنے ادیان کی حفاظت چاہتے ہیں تو اب بھی انہیں اسلام ہی کا دامن سنبھالنا چاہئے۔ کیونکہ اسلام ہی نے ان ادیان کو تا بحد اصلیت اپنے ضمن میں سنبھال رکھا ہے۔ اگر وہ اپنے ادیان کی موجودہ صورتوں پر جمے رہتے ہیں تو اول تو وہ بے سند ہیں۔ ان کی کوئی حجت سامنے نہیں، اسلام ان کی سند تھا۔ تو اسے انہوں نے اختیار نہیں کیا۔
اسلام سے ہٹ کر دوسرے مذاہب میں دین کی سند استناد کا کوئی سسٹم ہی نہیں جس سے ان کی اصلیت کا پتہ نشان لگ سکے اور ظاہر ہے کہ بے سند بات پر بحث نہیں ہو سکتی اور اگر کسی حد تک کوئی اپنی سلامتی فطرت سے اصلیت کا کوئی سراغ نکال بھی لے تو زیادہ سے زیادہ وہ ایک جزئی، قومی اور مقامی دین کا پیرو رہا جو آج کے بین الاقوامی، بین الاوطانی اور عمومیت و کلیت کے دور میں چل نہیں سکتا۔ اسی لئے ارباب ادیان ایسے دینوں میں ترمیمات کے مسودے لا رہے ہیں اور آئے دن اس قسم کی خبروں سے اخبارات کے کالم بھرے رہتے ہیں۔
البتہ اگر وہ اسلام سنبھال لیں تو اس پر چلنا در حقیقت تمام ادیان پر چلنا ہے اور وہ ہر دین کی جتنی واقعی اصلیت ہے اسے تھامے رہنا ہے اس لئے نفس دین کا تھامنا ضروری ہو تب اور اپنے اپنے ادیان کا تھامنا ضروری ہو۔ تب بہر دو صورت اسلام ہی کا تھامنا عقلاً اور نقلاً ضروری لگتا ہے۔
بہر حال نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے آپ ﷺ کی لائی ہر چیز شریعت۔ کتاب، قوم، امت، اصول، قواعد اور احکام وغیرہ ساری چیزیں خاتم ٹھہرتی ہیں۔ اسی لئے جس طرح آپ کو خاتم النبیین فرمایا گیا اسی طرح آپ کے دین کو خاتم الادیان بتایا گیا۔ ارشاد ربانی ہے۔
٭...... ”اليوم اكملت لكم دينكم“ ﴿آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا۔
اور ظاہر ہے کہ اکمال اور تکمیل دین کے بعد نئے دین کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا اس لئے یہ کامل دین ہی خاتم الادیان ہوگا نہ کہ کوئی تکمیل طلب ایسے ہی آپ ﷺ کی امت کو خاتم الامم کہا گیا جس کے بعد کوئی امت نہیں۔ حدیث قتادہ میں ہے۔
٭...... ”نحن اخرها وخيرها (درمنثور)“ ﴿ہم (امتوں میں) سب سے آخر ہیں اور سب سے بہتر ہیں۔﴾
حدیث ابی امامہ میں ہے:
٤٩
- ❁ ...... ”يأيها الناس لا نبي بعدي لا امة بعدكم (مسند احمد، كنزالعمال ج١٠
ص ٢٩٤)“ ﴿اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔﴾ (یعنی میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ یہی وہ خاتمیت ہے)
آپ ﷺ اپنی مسجد کے بارے فرمایا جو حدیث عبداللہ بن ابراہیم میں ہے کہ:
- ❁ ...... ”فاني آخر الانبياء مسجدی آخر المساجد (مسلم)“ ﴿میں خاتم
الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔ (وہی آپ ﷺ کی خاتمیت مسجد میں آئی)﴾
حدیث عائشہ میں یہ دعویٰ خاتمیت کے الفاظ کے ساتھ ہے۔ ”انا خاتم الانبياء ومسجدی خاتم مساجد الانبياء (كنز العمال ج١٢ ص٢٧٠)“
اور جب کہ آپ ﷺ کی آوردہ کتاب (قرآن) ناسخ الادیان اور ناسخ الکتب ہے تو یہی معنی اس کے خاتم الکتب ہونے کے ہیں۔ کیونکہ ناسخ ہمیشہ آخر میں اور ختم پر آتا ہے اور اسی لئے آپ ﷺ کو دعوت عامہ دی گئی کہ دنیا کی ساری اقوام کو آپ ﷺ اللہ کی طرف بلائیں۔ کیونکہ اس دین کے بعد کوئی دین کسی خاص قوم یا دنیا کی کسی بھی قوم کے پاس آنے والا نہیں جس کی دعوت آنے والی ہو تو اسی ایک دین کی دعوت عام ہو گئی کہ وہ خاتم الادیان اور آخر ادیان ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ساری خاتمیتیں درحقیقت آپ ﷺ کی ختم نبوت کے آثار ہیں۔
خاتمیت سے جامعیت نکلی تو یہ تمام چیزیں جامع بن گئیں اور جامعیت سے آپ ﷺ کی مصدقیت کی شان پیدا ہوئی جو ان سب چیزوں میں آتی چلی گئی۔ قرآن کو ”مصدق لما معكم “ کہا گیا امت کو بھی مصدق انبیاء بنایا گیا کہ سب اگلے پچھلے پیغمبروں پر ایمان لاؤ۔ دین بھی مصدق ادیان ہو۔
یہی وہ سیرت نبوی کے جامع اور اعجازی نقاط ہیں جن سے یہ سیرت مبارک تمام سیر انبیاء علیہم السلام پر حاوی و غالب اور خاتم السیر ثابت ہوئی۔ اسی لئے آپ کی سیرت کا بیان محض کمال کا بیان نہیں بلکہ امتیازی کمالات اور ان کے بھی اعجازی نقاط کا بیان ہے جو اسی وقت ممکن ہے کہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کو مانا جائے کہ یہ امتیازات اور امتیازی کمالات مطلق نبوت کے آثار نہیں بلکہ ختم نبوت کے آثار ہیں۔ کیونکہ ختم نبوت خود ہی نفس نبوت سے ممتاز اور افضل ہے۔ کہ سرچشمہ نبوات ہیں۔ اس لئے اس کے امتیازی آثار بھی مطلق آثار نبوت سے فائق اور افضل ہونے ناگزیر تھے۔ پس سیرت خاتمیت کے چند نمونے ہیں جو اس مختصر سی فہرست میں پیش کئے گئے ہیں۔ جن کا عدد (١١٣) ہوتا ہے۔
٥٠
ان میں اولاً چند دفعات میں خاتم النبیین کے دین کا تفوق وا دکھلایا گیا ہے۔
پھر چند نمبروں میں طبقہ انبیاء علیہم السلام کے کمالات و کرا النبیین ﷺ کے کمالات و کرامات اور معجزات کی فوقیت دکھلائی گئی۔
پھر چند نمبروں میں خصوصی طور پر نام بنام حضرات انبیاء علیہم ال و آثار اور مقامات پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے احوال و آثار اور مقامات ہے۔
پھر چند شماروں میں اور انبیاء کی امتوں پر امت خاتم کی عظمت ہے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی ہر جہتی وفوقیت کاملیت و جامعیت، او کی طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے جو آپ کی خاتمیت کے آثار و لوازم ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کو آپ کی خاتمیت اہتمام ہے کہ ختم نبوت کا دعویٰ قرآن کریم میں کر کے سینکڑوں سے متجاو کے دلائل و آثار اور شواہد و نظائر شمار کرائے گئے ہیں جن میں سے چند کا ا پیش کیا گیا ہے۔ بس ختم نبوت سے متعلق پہلی قسم کی آیات و روایات پر مشتمل کے نمونے اور خصوصیات نبوت کے شواہد و نظائر پیش کئے گئے ہیں۔
دلائل ختم نبوت کی کتاب کہی جائے گی۔ جس سے صاف ر کا مسئلہ اسلام میں سب سے زیادہ اہم سب سے زیادہ بنیادی اور اساسی شریعت کی خصوصیت کی بنیاد قائم ہے اگر اس مسئلہ کو تسلیم نہ کیا جائے جائے تو اسلامی خصوصیت کی ساری عمارت آپڑے گی اور مسلم کے ہاتھ نہ رہے گا جس سے وہ اسلام کو دنیا کی ساری اقوام کے سامنے پیش کرس
نیز نبی کریم ﷺ اس کے بغیر قابل تسلیم ہی نہیں بن سکتے کہ اس پر خصوصیات نبوی کی عمارت بھی کھڑی ہوئی ہے۔
پس اس مسئلہ کا منکر در حقیقت حضور ﷺ کی فضیلت کا من ساعی، حضور اکرم ﷺ کے امتیازی فضائل کو مٹا دینے کی سعی میں لگا ہو
اس لئے جو طبقات بھی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ خواہ صرا
٥١
ان میں اولاً چند دفعات میں خاتم النبیین کے دین کا تفوق و امتیاز دوسرے ادیان پر دکھلایا گیا ہے۔
پھر چند نمبروں میں طبقہ انبیاء علیہم السلام کے کمالات و کرامات اور معجزات پر خاتم النبیینﷺ کے کمالات و کرامات اور معجزات کی فوقیت دکھلائی گئی۔
پھر چند نمبروں میں خصوصی طور پر نام بنام حضرات انبیاء علیہم السلام کے خصوصی احوال و آثار اور مقامات پر حضرت خاتم الانبیاءﷺ کے احوال و آثار اور مقامات کی عظمت واضح کی گئی ہے۔
پھر چند شماروں میں اور انبیاء کی امتوں پر امت خاتم کی عظمت و برگزیدگی واضح کی گئی ہے۔ جس سے آنحضرتﷺ کی ہر جہتی فوقیت کاملیت و جامعیت، اولیت و آخریت روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے جو آپ کی خاتمیت کے آثار ولوازم ہیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کو آپ کی خاتمیت کے اثبات میں کس درجہ اہتمام ہے کہ ختم نبوت کا دعویٰ قرآن کریم میں کر کے سینکڑوں سے متجاوز احادیث میں ختم نبوت کے دلائل و آثار اور شواہد و نظائر شمار کرائے گئے ہیں جن میں سے چند کا انتخاب ان مختصر اوراق میں پیش کیا گیا ۔ بس ختم نبوت سے متعلق پہلی قسم کی آیات و روایات پر مشتمل کتاب میں دعوائے ختم نبوت کے نمونے اور خصوصیات نبوت کے شواہد و نظائر پیش کئے گئے ہیں۔
غرض یہ ختم نبوت کی کتاب کہی جائے گی۔ جس سے صاف روشن ہو جاتا ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام میں سب سے زیادہ اہم‘ سب سے زیادہ بنیادی اور اساسی مسئلہ ہے۔ جس پر اسلامی شریعت کی خصوصیت کی بنیاد قائم ہے اگر اس مسئلہ کو تسلیم نہ کیا جائے یا اس میں کوئی رخنہ ڈال دیا جائے تو اسلامی خصوصیت کی ساری عمارت گر پڑے گی اور مسلم کے ہاتھ میں کوئی خصوصی طرہ باقی نہ رہے گا جس سے وہ اسلام کو دنیا کی ساری اقوام کے سامنے پیش کرنے کا حق دار بنا تھا۔
نیز نبی کریمﷺ اس کے بغیر قابل تسلیم ہی نہیں بن سکتے کہ ختم نبوت کو تسلیم کیا جائے کہ اس پر خصوصیات نبوی کی عمارت بھی کھڑی ہوئی ہے۔
پس اس مسئلہ کا منکر در حقیقت حضورﷺ کی فضیلت کا منکر اور اس مسئلہ کو مٹا دینے کا ساعی، حضور اکرمﷺ کے امتیازی فضائل کو مٹا دینے کی سعی میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے جو طبقات بھی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ خواہ صراحتاً اس کے منکر ہوں یا تاویل
٥١
کے راستہ سے۔ دین کے اس بدیہی اور ضروری مسئلہ کے انکار پر آئیں۔ ان کا اسلام سے شریعت اسلام اور پیغمبر اسلام سے کوئی تعلق نہیں مانا جاسکتا اور نہ وہ اسلامی برادری میں شامل سمجھے جاسکتے ہیں۔ جس طرح سے توحید کا منکر قولی ہو یا مصرح، اسلام سے خارج اور اس سے بے واسطہ ہے اسی طرح سے ختم رسالت کا منکر خواہ انکار سے ہو یا تاویل سے۔ اسلام سے خارج مانا جاوے گا۔ کیونکہ وہ صرف کسی ایک مسئلہ کا منکر نہیں بلکہ اسلام کے سارے امتیازات، سارے ممتاز فضائل، ساری ہی خصوصیات اور صدہا دینی روایات کا منکر ہے جن کا قدر مشترک توازن کی حد سے نیچے نہیں رہتا۔
بہر حال ختمِ نبوت کے درخشاں آثار اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے خصوصی شمائل وفضائل یا بالفاظِ دیگر آپ ﷺ کی خاتمیت کے ہزاروں وجوہ دلائل میں سے یہ چند نمونے ہیں جنہیں آیۂ خاتم النبیین کی تفسیر اور تشریح کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ مختصر رسالہ سیرت خاتم النبیین ﷺ نہیں بلکہ سیرت خاتمیت کی چند موٹی موٹی سرخیوں کی ایک مختصر سی فہرست ہے۔ جس کے نیچے اس بلند پایہ سیرت کی امتیازی حقائق و تفصیلات پیش کی جاسکتی ہیں۔ اگر ان روایات کی روشنی میں سیرت خاتمیت کی ان تفصیلات اور ان کے مالہ وماعلیہ کو کھولا جائے۔ تو بلاشبہ محدثانہ اور متکلمانہ رنگ کی ایک نادر سیرت مرتب ہوسکتی ہے۔ جو تاریخی رنگ کی تو نہ ہوگی اور تاریخ محض سیرت بھی نہیں۔ بلکہ پیغمبرانہ مقامات اور خاتمانہ امتیازات کی حامل محدثانہ رنگ کی سیرت ہوگی جو اپنے رنگ کی ممتاز سیرت کہلائی جائے گی۔
میں نے اس مختصر مضمون میں اس وقت صرف عنوانات سیرت کی نشاندہی کا فرض انجام دیا ہے۔ شاید کسی وقت ان تفصیلات کے پیش کرنے کی توفیق میسر ہو جائے جو ابھی تک ذہن کی امانت بنی ہوئی ہیں۔ جن سے حضرات انبیاء علیہم السلام کے متفاوت درجات ومراتب اور خاتمیت کے انتہائی درجات ومراتب کا فرق اور تفاضل باہمی بھی کھل کر سامنے آسکتا ہے۔ جس کی طرف ’’تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض‘‘ میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔
على حبيبك خير الخلق كلهم
محمد طیب غفرلہ، مدیر دارالعلوم دیوبند ١٧ شعبان ١٣٧٧ھ (یوم الاحد)
٥٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
ختم نبو
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد
کے انکار پر آئیں۔ ان کا اسلام سے شریعت وہ اسلامی برادری میں شامل سمجھے جاسکتے سے خارج اور اس سے بے واسطہ ہے اسی سے خارج اور اس سے بے واسطہ ہے اسی ہے۔ اسلام سے خارج مانا جاوے گا۔ سارے امتیازات، سارے ممتاز فضائل، ن کا قدر مشترک توازن کی حد سے نیچے
ت خاتم النبیین ﷺ کے خصوصی شمائل وجوہ دلائل میں سے یہ چند نمونے ہیں پیش کیا گیا۔ یہ مختصر رسالہ سیرت خاتم وں کی ایک مختصری فہرست ہے۔ جس ش کی جاسکتی ہیں۔ اگر ان روایات کی عطیہ کو کھولا جائے۔ تو بلاشبہ محدثانہ اور نی رنگ کی تو نہ ہوگی اور تاریخ محض حامل محدثانہ رنگ کی سیرت ہوگی جو
ات سیرت کی نشاندہی کا فرض انجام میسر ہو جائے جو ابھی تک ذہن کی کے متفاوت درجات و مراتب اور ی کھل کر سامنے آسکتا ہے۔ جس کی شارہ فرمایا گیا ہے۔ ـا ابداً كلهم طیب غفر لہ، مدیر دارالعلوم دیوبند ٧ شعبان ١٣٧٧ھ (یوم الاحد)
خاتم النبيين لا نبي بعدي
مسجد نبوی کی سنہری جالی پر لکھی ہوئی تحریر
ختم نبوت
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احیائے اموات
الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى ، اما بعد! گزشتہ نصف صدی میں برصغیر ہند و پاک میں جن علماء وفضلاء نے اپنی تقریر وتحریر سے دین وملت کی نمایاں ، موثر اور قابل قدر خدمت کی اور مسلمانوں کی صحیح خطوط پر ذہنی وعملی تربیت میں سرگرم حصہ لیا۔ ان میں حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی مرحوم ومغفور کا نام نامی بہت ہی ممتاز ہے۔
مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تقریر وتحریر کی یکساں صلاحیتوں سے نوازا تھا اور دونوں میدانوں میں ان کے آثار ونقوش بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ دیوبند میں ایک مستقل ادارہ ان کی تحریروں کو شائع کرتا تھا۔ مگر ان کی تقریریں ابھی بڑی تعداد میں غیر محفوظ اور غیر مطبوعہ ہیں جن کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر انہیں جلد شائع کرنا چاہئے۔ مولانا مرحوم کی تقریریں بڑی مدلل، حکیمانہ وفلسفیانہ ، منظم اور مرتب ہوتی تھیں اور ان میں ایک مخصوص ومنفرد ربط وتسلسل پایا جاتا تھا۔ انہوں نے اس دور میں قدیم منطق وفلسفہ سے جس طرح کام لیا اور اس کو دینی علوم کا آلہ کار بنایا وہ پرانے دینی مدارس کے علماء وفضلاء کے لئے ایک اچھا نمونہ ہے۔ مولانا مرحوم کی ایسی ہی تقریروں میں ”ختم نبوت“ سورۃ الکوثر کی روشنی میں بھی ہے جو شائع ہورہی ہے۔ اس میں بھی مولانا کی مسلمہ علمیت وذہانت، قوت استدلال اور حکیمانہ طرز بیان نمایاں ہے اور یہی حال تقریباً تمام تقریروں کا ہے۔
عزیز گرامی مولوی شعیب اویس صاحب ہم سب کے شکریہ اور تحسین کے مستحق ہیں کہ جناب صوفی عبدالرحمن صاحب کی نگرانی وسرپرستی میں مولانا مرحوم کی تقریروں کو کتابی شکل میں شائع کر رہے ہیں اور اس طرح ان بیش قیمت علمی ودینی مواعظ کی حفاظت واشاعت کا مبارک کام انجام دے رہے ہیں اور ایک ایسے دینی سرمایہ کو از سر نو منظر عام پر لا رہے ہیں جو زمانے کے دستبرد سے ضائع اور تلف ہونے کے قریب تھا۔ فقہی اصطلاح میں انہوں نے ”احیائے اموات“ کا جو قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ اس کے لئے وہ انشاء اللہ ! خدا کے نزدیک ماجور اور خلق خدا کی طرف سے مشکور ہوں گے۔
مخلص:...... (مخدومنا حضرت مولانا) سید ابوالحسن علی ندوی ..... لکھنؤ ١١؍ شوال المکرم ١٤٠٤ھ ٢
حیات طیبؒ
(از محمود خان دریا بادی)
گھنی سفید اور نورانی ریش مبارک، خندہ پیشانی، ابرو تک کے با رخسار سرخ، سفید اور پر گوشت، دبلے پتلے منحنی جسم رکھنے کے باوجود حسن وجما معصومیت اور سادگی کے ساتھ ساتھ فرشتوں جیسا تقدس اور پاکیزگی، سر پر ا اعلیٰ درجہ کی شاندار شیروانی اور ہاتھ میں بید کی نفیس چھڑی...... یہ ہیں وہ نقش و نگار جو خانوادہ قاسمیہ کے چشم و چراغ اور خانوادہ اشرفیہ کے گل سرسبد حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ ہی ذہن میں تازہ ہوجاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کی بے شمار خوبیا میانہ روی، اخلاص اور علمی تبحر وغیرہ بھی یاد آجاتے ہیں۔
ان کی ٨٦ سالہ زندگی کا ہر دن مختلف تجربات اور واقعات سے میں ان کی مکمل سوانح تو درکنار ان کا مکمل تعارف بھی نہیں کرایا جاسکتا۔ و ان کی شخصیت کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ کون ہے جو ان سے واقف نہیں؟ زیر نظر تحریر میں ان کی زندگی کے کچھ حالات اور واقعات صر کئے جارہے ہیں۔ اس سے حضرت کا تعارف مقصود نہیں، اور نہ ہی ا مکمل تعارف ہوسکتا ہے۔
جون ١٨٩٧ء مطابق محرم ١٣١٥ھ کو آپ نے اس جہان محمد طیب نام رکھا گیا۔ جبکہ تاریخی نام مظفر الدین ہے۔ ١٣٢٢ھ میں ج حسن صاحبؒ، مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمن صاحبؒ اور آپ کے وا صاحبؒ کے سامنے بسم اللہ ہوئی اور دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کا آغ حفظ قرآن مکمل کیا گیا۔ پھر فارسی درجات میں داخل ہوئے، پانچ سے سند فراغت حاصل کرلی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے عربی درجات سال میں عربی درجات سے فراغت حاصل کی۔ اس طرح ١٣٣٧ فضیلت سند سے نوازا۔
امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد ٣
حیات طیب
(از محمود خان دریابادی)
گھنی سفید اور نورانی ریش مبارک‘ خندہ پیشانی‘ ابرو تک کے بال سفیدی لئے ہوئے‘ رخسار سرخ‘ سفید اور پر گوشت‘ دبلے پتلے نحیف جسم رکھنے کے باوجود حسن و جمال کے پیکر‘ چہرے پر معصومیت اور سادگی کے ساتھ ساتھ فرشتوں جیسا تقدس اور پاکیزگی‘ سر پر اونچی دوپلی ٹوپی‘ جسم پر اعلیٰ درجہ کی شاندار شیروانی اور ہاتھ میں بید کی نفیس چھڑی ......
یہ ہیں وہ نقش و نگار جو خانوادہ قاسمیہ کے چشم و چراغ، علوم انوریہ کے جانشین اور خانقاہ اشرفیہ کے گل سرسبد حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تصور کرتے ہی ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کی بے شمار خوبیاں، طرز تکلم، نرم گفتاری، میانہ روی، اخلاص اور علمی تبحر وغیرہ بھی یاد آجاتے ہیں۔
ان کی ٨٦ سالہ زندگی کا ہر دن مختلف تجربات اور واقعات سے پر ہے۔ ان چند صفحات میں ان کی مکمل سوانح تو درکنار ان کا مکمل تعارف بھی نہیں کرایا جا سکتا۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے ان کی شخصیت کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ کون ہے جو ان سے اور ان کے علم سے واقف نہیں؟ زیر نظر تحریر میں ان کی زندگی کے کچھ حالات اور واقعات صرف تعارف کے طور پر درج کئے جا رہے ہیں۔ اس سے حضرت کا تعارف مقصود نہیں، اور نہ ہی ان چند صفحات میں حضرت کا مکمل تعارف ہو سکتا ہے۔
جون ١٨٩٧ء مطابق محرم ١٣١٥ھ کو آپ نے اس جہان فانی میں آنکھیں کھولیں۔ محمد طیب نام رکھا گیا۔ جبکہ تاریخی نام مظفر الدین ہے۔ ١٣٢٢ھ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحبؒ، مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمن صاحبؒ اور آپ کے والد ماجد مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ کے سامنے بسم اللہ ہوئی اور دارالعلوم دیوبند میں تعلیم کا آغاز ہوا۔ دو سال کے اندر حفظ قرآن مکمل کیا گیا۔ پھر فارسی درجات میں داخل ہوئے، پانچ سال میں فارسی درجات سے سند فراغت حاصل کرلی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے عربی درجات میں منتقل ہوئے۔ اور آٹھ سال میں عربی درجات سے فراغت حاصل کی۔ اس طرح ١٣٤٧ھ میں دارالعلوم دیوبند نے فضیلت سند سے نوازا۔
امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور آپ کے والد ماجد
٣
مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ جیسے یکتائے زمانہ اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ سہارنپوری اور مولانا عبداللہ صاحبؒ انصاری نے خصوصی سندوں سے بھی سرفراز فرمایا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد دارالعلوم ہی میں تدریس سے منسلک ہو گئے، مختلف علوم وفنون کی کتابیں بڑی شان سے اور حق ادا کر کے پڑھائیں اور یہ سلسلہ آخر تک بے پناہ مصروفیات کے باوجود جاری رہا۔
١٣٤٠ھ میں نیابت اہتمام کا عہدہ تفویض کیا گیا اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحبؒ کے انتقال کے بعد ١٣٤٨ھ میں دارالعلوم کے سالانہ اخراجات پچاس ہزار اور عملہ صرف ٤٥ افراد پر مشتمل تھا۔ بعد میں آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعہ اس دارالعلوم کو ایک بین الاقوامی یونیورسٹی بنا دیا۔ آج دارالعلوم کی بیشتر عمارات حضرت ہی کے دور کی تعمیر شدہ ہیں۔
دارالعلوم اور مسلک دارالعلوم کے تعارف کے سلسلہ میں اندرون ملک اور بیرونی ممالک کے بے شمار اسفار کئے۔ برصغیر کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں حضرت کے قدم نہ پہنچے ہوں۔ اس کے علاوہ ایشیاء کے دیگر ممالک افریقہ، یورپ اور امریکہ وغیرہ کے بھی متعدد تبلیغی دورے فرمائے۔ ١٣٥٨ھ میں دارالعلوم کے نمائندہ کے طور پر افغانستان کا دورہ فرمایا۔ جہاں آپ کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ دارالعلوم کے لئے یہ دورہ بہت مفید رہا۔ جسکا ثبوت دارالعلوم کا عظیم الشان دروازہ باب الظاہر ہے جو شہنشاہ افغانستان ظاہر شاہ کے عطیہ سے تعمیر کیا گیا۔ اسی طرح ١٣٤٥ھ میں ہندوستان کے ایک مؤقر وفد کی قیادت کرتے ہوئے حجاز کا دورہ فرمایا، اور سلطان ابن سعود کے دربار میں تقریر فرمائی، سلطان بہت متاثر ہوئے اور خلعت شاہانہ سے نوازا۔ حضرت کا طرز خطابت منفرد، اثر انگیز اور دل پذیر ہوتا تھا۔ سبھی اس کے معترف ہیں۔ ١٩٣٨ء میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی زیر صدارت لکھنؤ میں نیا نظام تعلیم رائج کرنے کے لئے ایک اجلاس ہوا، جس میں ملک کے بڑے بڑے زعماء لیڈران اور ماہرین تعلیم جمع ہوئے۔ جمیعۃ العلماء کے رہنما مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بھی شریک تھے۔ اس میں بیشتر مقررین نے نئے نظام تعلیم کی حمایت میں تقریریں کیں اور پرانے نظام کو دقیانوسی قرار دیا۔ مولانا آزادؒ نے بھی اشارۃً اس کی حمایت کی۔ ایسے میں مولانا مدنیؒ اور دیگر علماء نے قدیم طرز تعلیم کی حمایت میں جوابی تقریر کے لئے آپ کا انتخاب کیا۔ اور واقعی حضرتؒ نے حق ادا کر دیا خود مولانا آزادؒ جیسے شعلہ بیاں مقرر بھی حضرت کی مدلل تقریر سے بہت متاثر ہوئے اور سبھی نے خراج تحسین پیش کیا۔ ٤
١٤١
تقریر کے ساتھ ساتھ انداز تحریر بھی منفرد تھا۔ مضمو ہوئی اور پہلی تصنیف ”الکلمۃ فی الاسلام“ ہے۔ اس کے علاوہ درج مقالے نیز دوسروں کی کتابوں پر لاتعداد بیش قیمت مقدمے بھی تح
دنیائے تصوف میں بھی حضرت کا خاص مقام تھا۔ سے بیعت ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد قطب وقت حضر دیگر خلافت سے نواز دیا۔ اس کے بعد آپ کے ذریعہ بے شمار لوگ ہزاروں مریدین میں دیہات کے معمولی کسان سے لے کر یو حکومت تک شامل ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں ایک دن ایسا اختلافات کو بھلا کر اسلام اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے ای کیا۔ بمبئی میں ایک تاریخ ساز کانفرنس ہوئی جس میں سبھی مکتبہ فک فیصلہ کیا کہ شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے ایک بورڈ قائم کیا الاسلام کے سپرد کر دی جائے۔ اس طرح ملت اسلامیہ کے بم اظہار کیا ہے۔
تانہ بخشد خدائے
عمر کا آخری دور ایک دور ابتلاء تھا، اس دور میں ب جس صبر و تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اسے دیکھ کر بے ساختہ ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر آپ کا یہ جملہ آب زر سے لکھے جا لئے صبر وسکوت اور استغنا کو پسند کر لیا ہے،“ اور آخر وہ وقت سے کسی ذی روح کو مفر نہیں۔ ١٧ جولائی ١٩٨٣ء بروز اتوا خطیب، شیخ، مربی اور مرشد نے اپنی جان جاں آفریں کے سو راجعون “۔ تھوڑی دیر بعد ہی آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پا خبر نشر کی۔ پورے ملک کے دینی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ ہزارہا افراد شریک ہوئے۔ اس طرح علم، عمل، رشد اور ہدایت ٥
تقریر کے ساتھ ساتھ انداز تحریر بھی منفرد تھا۔ مضمون نگاری کی ابتداء ”القاسم“ سے ہوئی اور پہلی تصنیف ”التشبہ فی الاسلام“ ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں تصانیف، بے شمار مضامین اور مقالے نیز دوسروں کی کتابوں پر لاتعداد بیش قیمت مقدمے بھی تحریر فرمائے۔
دنیائے تصوف میں بھی حضرت کا خاص مقام تھا۔ اولاً ١٣٣٩ھ میں حضرت شیخ الہندؒ سے بیعت ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد قطب وقت حضرت تھانویؒ نے آپ کو اپنا مجاز قرار دیکر خلافت سے نواز دیا۔ اس کے بعد آپ کے ذریعہ بے شمار لوگ فیض یاب ہوئے۔ حضرت کے ہزاروں مریدین میں دیہات کے معمولی کسان سے لے کر یونیورسٹی کے پروفیسرز اور وزرائے حکومت تک شامل ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آیا ہے جب سب نے اپنے اختلافات کو بھلا کر اسلام اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا فیصلہ کیا۔ بمبئی میں ایک تاریخ ساز کانفرنس ہوئی جس میں سبھی مکتبہ فکر کے نمائندہ موجود تھے۔ سب نے فیصلہ کیا کہ شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے ایک بورڈ قائم کیا جائے اور اس بورڈ کی سربراہی حکیم الاسلام کے سپرد کر دی جائے۔ اس طرح ملت اسلامیہ کے سبھی مکاتب فکر نے حضرت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
عمر کا آخری دور ایک دور ابتلاء تھا، اس دور میں بھی حضرت نے اپنی ذات کی حد تک جس صبر و تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اسے دیکھ کر بے ساختہ امیر المومنین حضرت عثمانؓ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر آپ کا یہ جملہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ ”میں نے اپنے لئے صبر و سکوت اور استغنا کو پسند کر لیا ہے ۔“ اور آخر وہ وقت آ ہی گیا جو ہر جاندار پر آتا ہے جس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں ۔ ١٧ جولائی ١٩٨٣ء بروز اتوار ١١ بجے صبح اپنے وقت کے عظیم عالم، خطیب، شیخ، مربی اور مرشد نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کی۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“۔ تھوڑی دیر بعد ہی آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پاکستان نے اپنے بلیٹن میں یہ روح فرسا خبر نشر کی۔ پورے ملک کے دینی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ اسی دن شب میں تدفین عمل میں آئی۔ ہزار ہا افراد شریک ہوئے۔ اس طرح علم، عمل، رشد اور ہدایت کا ایک دور ختم ہو گیا۔
٥
بسم الله الرحمن الرحيم! ”الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له ونشهد ان سيدنا وسندنا ومولانا محمداً عبده ورسوله ارسله الله الى كافة الناس بشيراً ونذيراً وداعياً اليه باذنه وسراج منيراً، اما بعد: فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، ”بسم الله الرحمن الرحيم“
......”انا اعطيناك الكوثر فصل لربك وانحر ان شانئك هو الابتر“ بیشک ہم نے دی تجھ کو کوثر، سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے، اور قربانی پیش کر، بیشک جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھے کٹا۔
یہ سورۃ مبارکہ گویا سب سے زیادہ چھوٹی سورۃ ہے۔ یہ نازل کی گئی ہے ختم نبوت کے تحفظ اور اس کے بقاء اور اس کے اثبات کے لئے، تو نبی کریم ﷺ کی صرف نبوت ہی ثابت نہ ہو، بلکہ ختم نبوت ثابت ہو، اور آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا واضح ہوجائے۔
بنیادی عقیدہ
چونکہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اسی پر موقوف ہیں اسلام کی ساری خصوصیات اور امتیازات۔ آخر ختم نبوت کا انکار کر دیا جائے تو نہ اسلام کی خصوصیت باقی رہتی ہے نہ اس کا کمال باقی رہتا ہے، نہ اس کا دوام باقی رہتا ہے۔ اس لئے ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اول تو قرآن کریم کی آیت نے واضح فرما دیا کہ: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں۔﴾
محمد ﷺ ان انسانوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ البتہ خاتم النبیین ہیں اور اللہ کے رسول ہیں۔ تو قراءۃ مشہورہ تو یہی ہے۔ خاتَم النَّبیین (بفتح التاء) اور خاتم کے معنی مہر کے ہیں۔ جب کسی کاغذ پر مہر لگ جاتی ہے تو اس میں نہ کوئی چیز داخل کی جاسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی چیز خارج کی جاسکتی ہے۔ مہر کے معنی یہ ہیں کہ اب دستاویز مکمل ہوگئی۔ اس میں نہ اب کسی قسم کی گنجائش اضافہ کی ہے نہ کمی کی۔ اور شاذ روایت خاتِم (بکسر التاء) ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
٦
یعنی نبیوں کا اختتام ہو گیا ہے آپ کے اوپر۔ اب نبوت دنیا میں باقی نہیں رہی۔ ادھر احادیث بہت کثرت سے ہیں ختم نبوت کے بارے میں۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا کہ: ”انت منی بمنزلة هارون من موسى“ اے علی میری نسبت سے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہارون علیہ السلام۔ ”انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبی بعدی“ (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨) فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی آئے اور تقریباً چار ہزار کے قریب انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ بعض احادیث میں فرمایا گیا ہے، نبوت کی مثال ایک محل کی ہے جو تعمیر ہوا اور ایک ایک اینٹ اس میں لگ گئی، ایک اینٹ کی کمی تھی ”وانا اللبنة الآخر وأنا خاتم النبيين“ (بخاری ج ١ ص ٥٠١، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨) آخری اینٹ میں ہوں جس نے قصر نبوت کو مکمل کر دیا۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور بہت سی روایتیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں ختم نبوت کے بارے میں اور قرآن کریم نے اس کی بنیاد قائم کر دی۔
قادیانی مغالطہ
اس میں اکثر قادیانی یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ نبوت تو دنیا کے لئے رحمت ہے۔ جب نبوت ختم ہوگئی تو رحمت ختم ہوگئی اور زحمت پیدا ہوگئی۔ نبوت تو ایک نور ہے جب وہ نور نہ رہا تو دنیا میں ظلمت پیدا ہوگئی تو اس میں تو (معاذ اللہ) حضور ﷺ کی توہین ہے کہ آپ دنیا کو زحمت دینے کے لئے آئے یا دنیا میں (نعوذ باللہ) ظلمت پیدا کرنے کے لئے آئے۔ کہ نور ہی ختم کر دیا، اور زحمت ہی ختم کر دی۔ یہ ایک مغالطہ ہے۔ اور مغالطہ واقع ہوا ہے ختم نبوت کے معنی سمجھنے کے اندر یا تو سمجھا ہی نہیں ان لوگوں نے یا سمجھ کر جان بوجھ کر دغا اور فریب سے کام لیا ہے۔
حقیقی معنی
ختم نبوت کے معنی قطع نبوت کے نہیں ہیں کہ منقطع ہو گئی نبوت۔ ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے ہیں۔ کہ نبوت اپنی انتہاء کو پہنچ کر حد کمال کو پہنچ گئی ہے۔ اب کوئی درجہ نبوت کا ایسا باقی نہیں رہا۔ کہ بعد میں کوئی نبی لایا جائے۔ اور اس درجہ کو پورا کرایا جائے۔ ایک ہی ذات اقدس نے ساری نبوت کو حد کمال پر پہنچا دیا کہ کامل ہو گئی نبوت۔ تو ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے ہیں۔ قطع نبوت کے نہیں ہیں۔ اس لئے نبوت کے جتنے کمالات تھے وہ سب ایک ذات برکات میں جمع کر دیئے گئے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے آسمان پر رات کے وقت ستارے چمکتے ہیں۔ ایک ٧
نکلا، دوسرا، تیسرا ، پھر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ستارے جگمگاتے ہیں۔ بھرا ہوا ہوتا ہے آسمان ستاروں سے۔ اور روشنی بھی پوری ہوتی ہے۔ لیکن رات رات ہی رہتی ہے دن نہیں ہوتا، کروڑوں ستارے جمع ہیں مگر رات ہی ہے روشنی کتنی بھی ہو جائے۔ لیکن جوں ہی آفتاب نکلنے کا وقت آتا ہے۔ پوبھٹتی ہے۔ تو ایک ایک ستارہ غائب ہونا شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب آفتاب نکل آتا ہے تو اب کوئی بھی ستارہ نظر نہیں پڑتا، چاند بھی نظر نہیں پڑتا۔ تو یہ مطلب نہیں اس کا کہ ستارے غائب ہوگئے دنیا سے۔ بلکہ ان کا نور مدغم ہوگیا آفتاب کے نور میں کہ اب اس نور کے بعد سب کے نور دھیمے پڑگئے۔ اور وہ سب جذب ہوگئے آفتاب کے نور میں۔ اب پورے دن تک آفتاب ہی کا نور کافی ہے۔ کسی اور ستارے کی ضرورت نہیں۔ اور نکلے گا تو اس کا چمکنا ہی نظر نہیں آئے گا۔ آفتاب کے نور میں مغلوب ہوجائے گا۔ تو یوں نہیں کہیں گے کہ آفتاب نے نکلنے کے بعد دنیا میں ظلمت پیدا کردی۔ نور کو ختم کردیا۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ نور کو اتنا مکمل کردیا کہ اب چھوٹے موٹے ستاروں کی ضرورت باقی نہیں رہی، آفتاب کافی ہے، غروب تک پورا دن اسی کی روشنی میں چلے گا تو اور انبیاء بمنزلہ ستاروں کے ہیں۔ اور نبی کریمﷺ بمنزلہ آفتاب کے ہیں۔ جب آفتاب طلوع ہوگیا اور ستارے غائب ہوگئے، تو یہ مطلب نہیں کہ نبوت ختم ہوگئی بلکہ اتنی مکمل ہوگئی ہے کہ اب قیامت تک کسی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ گویا نبوت کی ایک فہرست تھی جس پر مہر لگ گئی، حضورﷺ نے آکر لگادی کہ اب کوئی نبی زائد ہوگا نہ کم ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ بیچ میں سے کسی نبی کو بعد میں لے آیا جائے، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد میں نازل ہوں گے۔ مگر وہ اسی فہرست میں داخل ہونگے۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی جدید نبی داخل ہو، پچھلے نبی کو اگر اللہ تعالیٰ لانا چاہیں تو وہ لائیں گے۔ حضورﷺ نے فہرست مکمل کردی کہ اب نہ کوئی نبی زائد ہوسکتا ہے نہ کم ہوسکتا ہے۔
دو بنیادیں
تو بہر حال ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے نکلے، قطع نبوت کے نہیں۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ نبوت کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔
- ١...... کمال علم ، جو قطعی علم ہو، جس میں شبہ کی گنجائش نہ ہو۔
- ٢...... کمال اخلاق، عمل پر بنیاد نہیں ہے۔ نبی کا ایک سجدہ پوری امت کے سارے سجدوں
سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس سجدے میں جو اخلاص، جو للہیت، جو معرفت حضورﷺ کے سجدے میں ہوگی، پوری امت کو مل کر وہ معرفت، وہ اخلاص نصیب نہیں ہوسکتا۔ تو نبی کا ایک سجدہ
٨
امت کے سارے سجدوں سے اونچا اور بڑا ہے۔ اس لئے اگر امت کے اندر کسی کا عمل اتنا زیادہ ہو کہ وہ رات بھر نفلیں پڑھے۔ دن بھر روزہ رکھے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نبی کریم ﷺ رات کو سوتے بھی تھے، اور نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ لیکن بعض لوگوں میں امت کے اگر پوری پوری رات کوئی سجدہ کرے تو ذرہ برابر بڑھنا تو بجائے خود ہے‘ نبی کے قدموں تک بھی نہیں پہنچ سکتا‘ اس لئے کہ ایک ہی سجدہ نبی کا کافی ہے۔ ساری امت کے سارے سجدوں سے۔ تو بہر حال نبوت کی بنیاد کثرت عمل پر نہیں ہے بلکہ کمال علم اور کمال اخلاق، ان دو چیزوں پر ہے۔ تو جو نبی ان دونوں چیزوں میں بڑا ہوگا‘ اس کی نبوت بھی سب سے بڑھی ہوئی ہوگی۔ جو انہیں حد کمال تک پہنچا دے، گا۔ اس کی نبوت حد کمال تک پہنچ جائے گی۔
کمال علم
تو نبی کریم ﷺ کا علم تو وہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”اوتیت علم الاولین والآخرین“ اگلوں اور پچھلوں کے تمام علوم میرے قلب میں جمع کر دیئے گئے ہیں تو پچھلے انبیاء کے جتنے علوم تھے وہ سب آپ کے قلب مبارک میں آگئے اور اگلوں کے علوم وہ تو حضور ﷺ ہی کا فیضان ہے۔ کوئی صدیق ہو، کوئی فاروق ہو، مجتہد ہو، تو ان سب کا علم تو حضور ﷺ کے علم کی ایک فرع ہے، ایک شاخ ہے۔ ایک جھلک ہے۔ تو پچھلوں کے علوم بھی آپ کے قلب مبارک میں جمع کر دیئے گئے اور اگلوں کے جتنے علوم ہونگے ان سب کا کمال آپ ﷺ کے قلب میں ہے۔ آپ ﷺ ہی کی بدولت تو صدیق اور فاروق بنے۔ صدیق اور فاروق اپنے گھر سے تھوڑا ہی لیکر آئے تھے صدیقیت اور فاروقیت۔ وہ تو حضور ﷺ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے کہ کوئی صدیق بنا۔ کوئی فاروق بنا، کوئی ذوالنورین بنا، کوئی ابوتراب بنا، ایک سے ایک بڑھ کر صحابہ ہیں۔ پھر امت میں لاکھوں علماء پیدا ہوئے۔ امت میں لاکھوں صوفیاء اور مشائخ پیدا ہوئے۔ ان سب کے کمالات حضور پرنور ﷺ کے کمالات کی ایک چھاؤں اور ایک سایہ ہیں۔ اور ایک پرتو ہیں۔ تو اگلوں کے علوم بھی جمع ہیں آپ ﷺ کے قلب میں، اور پچھلوں کے علوم بھی جمع ہیں۔ آپ ﷺ کے قلب میں ہیں:
ہر کجا می نگری انجمنِ ساختہ اند
ایک چراغ اللہ نے دنیا میں روشن کیا۔ جس کے پرتو سے دنیا میں انجمنیں بنتی چلی گئیں۔ کوئی علماء کی انجمن، صوفیاء کی انجمن، کوئی محدثین کی انجمن، کوئی
٩
اصولین کی انجمن۔ ہر کجا می نگری انجمنے ساختہ اند۔ ایک ہی چراغ کا پرتو ہے۔ گویا اس نبوت کا یہ عالم ہے کہ امتیوں سے وہ کام لے لیا جو نبیوں سے کام لیا جاتا ہے۔ ایک ایک محدث، ایک ایک فقیہ، ایک ایک صوفی، جہاں بیٹھ گیا ہزاروں کو ایمان سے رنگ دیا اس نے۔ خطوں کے خطے ایمان سے رنگے گئے۔ امام ابو حنیفہؒ بیٹھ گئے کوفہ میں تو سارا عراق اور خراسان، افغانستان اور ہندوستان میں اکثریت حنفیوں کی ہے۔
امام شافعیؒ کا ابتدائی دور گزرا ہے مکہ میں، تو اکثریت حجاز کی شافعیوں کی ہے۔ اخیر عمر گزری ہے مصر میں۔ تو مصر میں اکثریت شوافع کی ہے۔ تو جہاں بیٹھ گئے امام شافعیؒ نے ملکوں کو رنگ دیا ایمان سے عمل سے دین اور تقویٰ سے۔ امام احمد بن حنبلؒ یمن میں بیٹھ گئے تو نجد اور یمن کے سارے خطے حنبلی بنتے چلے گئے۔ اور لاکھوں کروڑوں کو ایمان سے رنگ دیا۔ امام مالکؒ ان کے اثرات پہنچے عرب کے مغربی خطوں میں۔ تو الجزائر اور تیونس سب ایمان سے رنگتے چلے گئے۔ جہاں اکثریت مالکیہ کی ہے۔ یہی صورت محدثین کی ہے۔ ایک محدث جہاں بیٹھ گیا تو ہزاروں کو حدیث پہنچ گئی۔
امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، امام ابن ماجہؒ، اور امام ابو داؤدؒ اور امام نسائیؒ اور حماد ابن سلمہؒ، اور سفیان ثوریؒ اور سفیان ابن عیینہؒ لاکھوں محدثین پیدا ہو گئے۔ جنہوں نے کلام رسول ﷺ کو دنیا میں پہنچایا۔ تو بہرحال ختم نبوت کی وہ نورانیت تھی کہ امتیوں سے وہ کام لئے جو کہ انبیاء کرتے تھے۔ اس لئے اب نبیوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ایک نبوت ہی اپنا کام چلائے گی۔ کہیں محدثین کے راستہ سے، کہیں فقہاء کے راستہ سے۔ کہیں علماء کے راستہ سے، ایک ہی نبوت کام دے گی۔ تو علم تو وہ ہے آپ کا کہ ”اوتیت علم الاولین والآخرین“۔ اگلوں اور پچھلوں کے سارے علوم میرے قلب میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔
کمال اخلاق اور اس کی قسمیں
اور جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے۔ تو اخلاق کے تین درجے ہیں:
- ١...... اخلاق حسنہ۔ ٢...... اخلاق کریمانہ۔ ٣......اخلاق عظیمانہ
اخلاق حسنہ
خلق حسن: یہ ابتدائی درجہ ہے اخلاق کا۔ جس کے معنی ہیں عدل کے۔ کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی ایک پیسہ کا احسان کرے تو تم بھی ایک پیسہ کا احسان کر دو۔ تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے تو تمہیں حق ہے کہ اتنی ہی برائی تم بھی کر دو۔ وہ تھپڑ مارے تم بھی تھپڑ مار دو۔ کوئی مکہ مارے
تم بھی ماردو۔ برابر برابر رہے قصہ عدل سے۔ اگر کسی نے تھپڑ مارا اور تم نے مار دیا مکہ۔ تو دنیا کہے گی یہ ظالم ہے۔ اس نے تو تھپڑ ہی مارا تھا اسے مکہ مارنے کا کیا حق تھا۔ لاٹھی مارنے کا کیا حق تھا۔ جتنی برائی وہ کرے اتنی کرنے کا حق تھا۔ وہ اخلاق کے خلاف نہ تھا: ’’فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ماعتدى عليكم واتقوا اللہ‘‘ اگر تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کرے تمہیں حق ہے کہ اتنی زیادتی تم بھی کر دو اس کے ساتھ۔ اس سے بڑھ کر کرنے کا حق نہیں وہ پھر بد اخلاقی ہوگی۔ تو حسن خلق کے معنی ہیں برابر سرابر کے۔ عدل وانصاف ہے نیکی اور بدی میں۔
اخلاق عظیمانہ
اور خلق عظیم اس سے بڑا درجہ ہے کہ ایک شخص تمہارے ساتھ برائی کرے، نہ صرف معاف بلکہ احسان بھی کرو اس کے ساتھ۔ یہ خلق عظیم ہے دوسرا گالیاں دے تم اسے دعائیں دینی شروع کر دو۔ یہ خلق عظیم ہے تو فقط ایثار نہیں بلکہ اوپر سے احسان بھی ہے۔ تو خلق عظیم کا مرتبہ سب سے اونچا ہے۔ اور خلق کریم کا مرتبہ درمیانہ ہے۔ اور خلق حسن کا مرتبہ ابتدائی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خلق حسن
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کو تربیت دی خلق حسن کے اوپر کہ برابر سرابر معاملہ رکھو۔ تمہارے ساتھ کوئی ایک پیسہ نیکی کرے، تم پر واجب ہے کہ تم بھی ایک پیسہ کی نیکی کرو، روپے کی کرے تو تم بھی کرو۔ کوئی اگر تمہارے ساتھ برائی کرے تو تم پر واجب ہے کہ تم بھی برائی کرو اتنی۔ کوئی ہاتھ کاٹ دے تمہارا فرض ہے کہ تم بھی ہاتھ کاٹ دو۔ کوئی ناک کاٹ دے تمہاری۔ تم بھی ناک کاٹو۔ آنکھ پھوڑ دے تمہارا فرض ہے کہ ایک آنکھ ضرور پھوڑ دو۔ تو شریعت موسوی میں معاف کرنا جائز نہیں تھا۔ انتقام لینا واجب تھا۔ مگر اتنا ہی انتقام جتنا دوسرے نے برائی کی ہو۔ جس کو قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ ’’وكتبنا عليهم فيها ان النفس بالنفس والعين بالعين والانف بالانف والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص‘‘ ہم نے واجب کر دیا تھا اہل توراۃ پر کہ نفس کے بدلہ میں نفس کو قتل کرو۔ ’’والعين بالعين‘‘ کوئی آنکھ پھوڑے تم پر واجب ہے کہ تم بھی آنکھ پھوڑ دو۔ ’’والانف بالانف‘‘ کوئی ناک کاٹ لے تم پر واجب ہے کہ تم بھی ناک کاٹ لو۔ ’’والسن بالسن‘‘ کوئی دانت توڑ دے تمہارا فرض ہے کہ تم بھی دانت توڑو۔ معاف کرنا جائز نہیں۔ ’’والجروح قصاص‘‘ کوئی زخم لگائے، اتنا ہی تم بھی لگاؤ۔ اسے یہ جائز نہیں ہے کہ معاف کر کے چھوڑ دو، انتقام واجب ہے۔ یہ تھی
توراۃ کی شریعت، تو توراۃ والوں کو موسیٰ علیہ السلام نے تربیت دی خلق حسن کے اوپر، کہ برابر سرابر رکھو معاملہ، نیکی میں بھی اور بدی میں بھی، یہ تو موسیٰ علیہ السلام نے تربیت دی۔
خلق کریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں خلق کریمانہ پر تربیت دی گئی ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے تو جائز نہیں ہے کہ تم اس سے بدلہ لو بدلہ لینا واجب نہیں ہے۔ معاف کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی تمہارے بائیں گال پر تھپڑ مار دے تو داہنا بھی اس کے سامنے پیش کر دو کہ ایک اور مارتا چل۔ اللہ تیرا بھلا کرے۔ تو واجب تھا وہاں معاف کرنا۔ انتقام لینا جائز نہیں تھا۔ تو خلق کریمانہ پر تربیت دی ہے امت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے۔
نبی کریم ﷺ اور خلق عظیم
اور نبی کریم ﷺ کے اخلاق سب سے بلند تھے تو آپ نے محض معاف کر دینا یا محض ایثار کر دینے پر قناعت نہیں کی بلکہ برائی کرنیوالوں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کیا۔ طائف والے گالیاں دے رہے ہیں اور آپ ﷺ دعائیں دے رہے ہیں۔ انہیں مکہ والے انتہائی ستا رہے ہیں اور آپ ﷺ دعائیں فرما رہے ہیں ان کے واسطے۔ تو یہ محض معاف کرنا نہیں تھا۔ ایثار کرنا نہیں تھا۔ بلکہ احسان بھی تھا ساتھ میں کہ برائی کا بدلہ احسان سے دیا جائے تو یہ ہے خلق عظیم۔ تو اس امت کو تربیت دی گئی ہے۔ خلق عظیم پر کہ احسان کا برتاؤ کریں۔ دوسرا اگر برائی بھی کرے تو محض معاف کرنا نہیں بلکہ دعائیں کرو کہ اللہ اس کو ہدایت دے۔ نیک راستے پر لگائے۔ تو انتقام لینا تو بجائے خود ہے معاف کرنا تو بجائے خود ہے۔ احسان کا برتاؤ بتلایا گیا ہے۔ جس کو ایک موقع پر قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ ”فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم“ اے پیغمبر ﷺ وہ رحمت جو ہم نے آپ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھر دی، اس کی وجہ سے آپ کا دل نہایت نرم اور رحیم ہے کہ کسی کا برا نہیں چاہتے آپ ﷺ میں ہر وقت شفقت کا جذبہ موجزن رہتا ہے۔ ”ولو کنت فظاً غلیظ القلب لا انفضوا من حولک “ اگر آپ ﷺ سخت دل ہوتے سخت برتاؤ ہوتا، تو سب اٹھ کے بھاگ جاتے آپ کے ارد گرد کوئی جمع نہ ہوتا۔ تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمت مجسم بنا کر ایک مقناطیس بنا دیا ہے کہ عالم کی کشش ہے۔ اور آپ ﷺ کے ارد گرد جمع ہیں مشرق اور مغرب کے لوگ۔ تو آپ ﷺ کا کیا معاملہ ہونا چاہئے۔ آگے آپ ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی، حسن خلق کی ہدایت نہیں کی۔ بلکہ خلق کریمانہ سے شروع کیا کہ آپ ﷺ بدلے لے لیا کریں۔ یہ نہیں
١٢
فرمایا گیا۔ چنانچہ عمر بھر آپ ﷺ عمر بھر آپ ﷺ کی عادت کریمہ یہ رہی کہ کبھی آپ ﷺ نے انتقام نہیں لیا، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا۔ ”فاعف عنھم“ معاف کرو۔ پھر آگے فرمایا کہ یہ درجہ بھی آپ کے مـ مقام اس سے بھی زیادہ بلند ہے۔ ”واستغفر لھم“ فقط معاف ہی نہ کر بھی کریں ان لوگوں کے لئے جو آپ کے ساتھ برائیاں کر رہے ہیں۔ پھر آگے فرمایا کہ اس سے بھی اونچا ہے آپ کا مقام جو برائی کرنے والـ کریں۔ فقط دعا ہی نہ دیں۔ بلکہ ”وشاورھم فی الامر“ کبھی کبھی بلا کریں، تاکہ یوں سمجھیں کہ ہمیں خالص اپنا سمجھا۔ تو یہ انتہائی مرتبہ ـ والوں کے ساتھ معاف کرنا، معاف کرنے سے زیادہ دعائیں دینا اور اپنے برابر بٹھا کر کچھ پوچھ گچھ بھی کرنا کہ بھئی تمہاری کیا رائے ہے اس مـ جس کو فرمایا گیا ہے۔ ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو اخلاق کا انتہائی مرتبہ ہے۔ تو یہ ظاہر بات ہے کہ خلق عظیم جس ذات ـ اس کے اندر ہے خلق حسن بھی اس کے اندر ہے۔ وہ جامع ہے تمام مقا اندر بھی آپ ﷺ جامع ہیں کہ اولین و آخرین کے علوم آپ ﷺ کے قـ بھی آپ ﷺ جامع کہ تمام مقامات اخلاق آپ ﷺ کے قلب مبار ہیں۔ تو علم کا بھی انتہائی مرتبہ دیا گیا کہ عالم بشریت میں اتنا بڑا عالم ہیں۔ ”علم الاولین والآخرین“ اخلاق میں وہ مرتبہ کہ اتنا خلیق نہیں گزرا۔ آپ ﷺ کا خلق نہایت ہی مکمل ہے۔
انتہائی نبوت
اب ظاہر ہے کہ جب نبوت کی بنیاد ان دو چیزوں پر تھی، ” اور یہ دونوں چیزیں انتہائی طور پر آپ ﷺ کو عطا کی گئیں تو نبوت بھی بعد میں کوئی درجہ ہی باقی نہ رہے نبوت کا، کہ کسی کو لایا جائے اور نبوت لئے نبوت ختم کر دی گئی۔ یعنی حد کمال تک پہنچا دی گئی۔ کہ کوئی درجـ جائے اور وہ مقام پورا کرایا جائے۔ امت میں بڑے سے بڑے ا پیدا ہوں گے۔ ابدال پیدا ہوں گے۔ انہیں کے ذریعے وہ کام لیا جا۔
١٣
فرمایا گیا۔ چنانچہ عمر بھر آپﷺ عمر بھر آپﷺ کی عادت کریمہ یہ رہی کہ کتنی برائی کی لوگوں نے۔ کبھی آپﷺ نے انتقام نہیں لیا، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا۔ تو ہدایت کیا ہے؟ فرمایا ”فاعف عنہم“ معاف کرو۔ پھر آگے فرمایا کہ یہ درجہ بھی آپ کے مقام سے نیچا ہے۔ آپ کا مقام اس سے بھی زیادہ بلند ہے۔ ”واستغفر لہم“ فقط معاف ہی نہ کریں، بلکہ دعائے مغفرت بھی کریں ان لوگوں کے لئے جو آپ کے ساتھ برائیاں کر رہے ہیں۔ انہیں دعائیں بھی دیں۔ پھر آگے فرمایا کہ اس سے بھی اونچا ہے آپ کا مقام جو برائی کرنے والے ہیں فقط معاف ہی نہ کریں۔ فقط دعا ہی نہ دیں۔ بلکہ ”وشاورہم فی الامر“ کبھی کبھی بلا کر ان سے مشورہ بھی کر لیا کریں، تاکہ یوں سمجھیں کہ ہمیں خالص اپنا سمجھا۔ تو یہ انتہائی مرتبہ ہے خلق کا کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ معاف کرنا، معاف کرنے سے زیادہ دعائیں دینا اور دعائیں دینے سے زیادہ اپنے برابر بٹھا کر کچھ پوچھ گچھ بھی کرنا کہ بھئی تمہاری کیا رائے ہے اس میں۔ تو یہ انتہائی مقام ہے جس کو فرمایا گیا ہے۔ ”انک لعلی خلق عظیم“ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم پر پیدا کیا ہے۔ جو اخلاق کا انتہائی مرتبہ ہے۔ تو یہ ظاہر بات ہے کہ خلق عظیم جس ذات کے اندر ہے تو خلق کریم بھی اس کے اندر ہے خلق حسن بھی اس کے اندر ہے۔ وہ جامع ہے تمام مقامات اخلاق کا۔ تو علوم کے اندر بھی آپﷺ جامع ہیں کہ اولین و آخرین کے علوم آپﷺ کے قلب میں ہیں۔ اخلاق میں بھی آپﷺ جامع کہ تمام مقامات اخلاق آپﷺ کے قلب مبارک میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔ تو علم کا بھی انتہائی مرتبہ دیا گیا کہ عالم بشریت میں اتنا بڑا عالم کوئی نہیں کہ جتنے آپﷺ ہیں۔ ”علم الاولین والآخرین“ اخلاق میں وہ مرتبہ کہ اتنا خلیق نہ اگلوں میں گزرا نہ پچھلوں میں گزرا۔ آپﷺ کا خلق نہایت ہی مکمل ہے۔
انتہائی نبوت
اب ظاہر ہے کہ جب نبوت کی بنیاد ان دو چیزوں پر تھی، ”کمال علم“ اور ”کمال اخلاق“ اور یہ دونوں چیزیں انتہائی طور پر آپﷺ کو عطا کی گئیں تو نبوت بھی انتہائی ملنی چاہئے کہ اس کے بعد میں کوئی درجہ ہی باقی نہ رہے نبوت کا، کہ کسی کو لایا جائے اور نبوت کا درجہ طے کرایا جائے، اس لئے نبوت ختم کر دی گئی۔ یعنی حد کمال تک پہنچا دی گئی۔ کہ کوئی درجہ اب باقی نہ رہا کہ نبی کو لایا جائے اور وہ مقام پورا کرایا جائے۔ امت میں بڑے سے بڑے اقطاب پیدا ہوں گے۔ اولیاء پیدا ہوں گے۔ ابدال پیدا ہوں گے۔ انہیں کے ذریعے وہ کام لیا جائے گا جو پچھلی امتوں میں انبیاء
١٣
کے ذریعے سے لیا جاتا رہا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں کہ گناہ سرزد ہی نہیں ہو سکتا تھا ان سے۔ اولیاء کرام معصوم تو نہیں ہوتے مگر محفوظ ہوتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان کی حفاظت کی جاتی ہے کہ وہ گرتے نہیں گناہ۔ نفس میں اتنی قوت ہے کہ وہ مقابلہ کرتے ہیں پوری طرح سے گناہ کا، آنے نہیں دیتے گناہ کو اپنے پاس۔ اور کبھی پھسل جائیں تو اللہ کی طرف سے حفاظت ہوتی ہے۔ انہیں ڈالا نہیں جاتا گناہ کے اندر۔ تو معصوم نہیں ہیں مگر محفوظ ہوتے ہیں منجانب اللہ۔ تو اگر یہ انبیاء معصوم تھے تو اس امت کے اولیاء محفوظ بنائے گئے۔ اگر انبیاء کے ہاتھوں پر معجزے ظاہر ہوتے تھے تو اولیاء کے ہاتھوں پر کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ جو معجزے کی ایک شاخ اور فرع ہے۔ وہ معصوم ہوتے ہیں۔ یہ محفوظ ہوتے ہیں۔ تو ایک قسم کی مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس امت کے اتقیاء کو انبیاء کے ساتھ۔ مقام نبوت کے تو نیچے ہیں۔ نبوت تو نہیں آسکتی۔ مگر کام جو نبیوں کے تھے وہ لئے گئے اس امت کے علماء سے۔
اس امت کے درویشوں نے، کام وہ کئے جو نبیوں کے ہیں۔ ایک نبی جہاں بیٹھ گئے۔ ملکوں کو ایمان سے رنگ دیا۔ تو ایک ربانی عالم جہاں بیٹھ گیا اس نے خطے کے خطے ایمان اور علم دین سے رنگ دیئے۔ کام کیا وہ جو نبیوں کا ہوتا ہے۔ بہر حال ختم نبوت کے معنی قطع نبوت کے نہیں نکلے کہ نبوت فنا ہوگئی۔ باقی نہیں رہی۔ بلکہ تکمیل نبوت کے ہوئے۔ کہ یہ نبوت اتنی قائم اور دائم ہے کہ قیامت تک کے لئے یہی نبوت کافی ہے۔
کامل نبوت
تو یہ مغالطہ ایک جاہلانہ مغالطہ ہوگا کہ جب نبوت ختم ہوگئی تو دنیا میں رحمت باقی نہ رہی۔ یوں کہا جائے گا کہ جب نبوت کامل ہوگئی تو رحمت بھی کامل ہوگئی۔ کہ انبیاء تو رحمت کے مجسمہ ہوتے ہی ہیں۔ اس امت کو بھی رحمت کا مجسمہ بنایا گیا اور حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا حدیث مبارکہ میں ”امتی ھذہ امۃ مرحومۃ“ یہ میری امت امت مرحومہ ہے کہ امتوں پر وہ رحم و کرم نہیں کیا گیا جو اس امت پر رحم و کرم کیا گیا۔ چونکہ یہ امت مجموعی حیثیت سے قائم مقام ہے۔ سارے انبیاء کی اور خاتم الانبیاء کی۔ تو جو رحمت خاتم النبیین کو دی گئی تھی اس رحمت کا پرتو اس پوری امت پر ڈال دیا گیا کہ یہ امت مرحوم بن گئی۔ تو معلوم ہوا کہ ختم نبوت کے وہ معنی نہیں ہیں جو مغالطہ دینے والے دیتے ہیں کہ نبوت قطع ہوگئی۔ ختم ہوگئی۔ بلکہ نبوت مکمل ہوگئی۔ تو ختم نبوت کے معنی قطع نبوت کے نہیں ہیں۔ تکمیل نبوت کے ہیں۔ کمال نبوت پیدا ہو گیا۔ جیسا میں نے عرض کیا کہ آفتاب نکل کر اگر یوں کہے کہ ”انا خاتم الانوار“ میں نے سارے نوروں کو ختم کر دیا۔ تو کیا یہ مطلب کہ
١٤
اب نور منقطع ہو گیا؟ دنیا میں اندھیرا پھیل گیا۔ آفتاب کے آنے سے؟ خاتم الانوار کہنے کے معنی یہ ہیں کہ نور مکمل کر دیا میں نے۔ سارے ستاروں کا نور میرے اندر موجود ہے۔ اب کسی ستارے کی ضرورت نہیں۔ تو نور اور زیادہ قوی ہو گیا نہ یہ کہ ظلمت پھیلی۔ تو خاتم النبیین کے آنے کے بعد نبوت کے آثار اتنے مکمل ہوئے کہ قیامت تک وہ چلیں گے اب کسی نبوت کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ سے ان انوار کو پیدا کیا جائے۔
ختم نبوت کا انکار، کمال اسلام کا انکار
بہر حال اس سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ اس کا انکار اگر کر دیا جائے تو اسلام کے کمال کا انکار ہو گا، اسلام کا کمال باقی نہیں رہے گا۔ اسلام کی خصوصیات باقی نہیں رہیں گی۔ اس کا امتیاز باقی نہیں رہے گا۔ تو جو نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام کو ناقص بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس امت کو ناقص کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ غلط ہو گا اس واسطے کہ یہ مغالطہ ہے۔ تو میں نے عرض کر دیا کہ اس مغالطہ کی حقیقت سمجھ لی جائے۔ یہ محض غلط اندازی ہے۔ ختم نبوت کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے۔ ختم نبوت کے معنی لے لئے انقطاع نبوت کے۔ قطع نبوت کے۔ حالانکہ ہیں تکمیل نبوت کے۔
انا لكم بمنزلة الوالد
تو بہر حال ثابت ہوا کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس کا ماننے والا ہی اسلام کا ماننے والا ہے۔ اور اس سے انکار کرنے والا اسلام کا منکر ہے تو حق تعالیٰ شانہ نے اس کی حفاظت فرمائی۔ دعویٰ کیا کہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ محمدﷺ تم میں سے کسی کے والد نہیں ہیں وہ صرف خاتم النبیین ہیں۔ اور خاتم النبیین کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک جتنی اقوام جتنی امتیں آنے والی ہیں ان سب کو اگر دین اور ہدایت ملے گی تو اسی نبوت کی وجہ سے ملے گی۔ تو وہ گویا بمنزلہ اولاد کے ہو گئے۔ اور حضورﷺ بمنزلہ والد ماجد کے ہو گئے۔ اسی کو آپﷺ نے فرمایا۔ ”انا لكم بمنزلة الوالد“ میں امتوں کے حق میں بمنزلہ باپ کے ہوں۔ اور سارے امتی میری اولاد کے درجہ میں ہیں۔ تو نسبی اولاد مراد نہیں بلکہ روحانی اولاد مراد ہے۔ تو سارے امتی روحانی اولاد ہیں نبی کریمﷺ کی۔ اور آپﷺ والد ہیں۔ یعنی والد سے تقسیم ہوتی ہے جو اولاد میں آتا ہے۔ اخلاق آتے ہیں۔ علم آتا ہے۔ تو حضورﷺ کی ذات بابرکات سے ساری امت میں علم اور اخلاق اور دین پھیلا۔
١٥
دو طریقوں سے ختم نبوت کی حفاظت
اس لئے ختم نبوت ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ جس کی حق تعالیٰ نے حفاظت فرمائی۔ تو ایک تو قول کے ذریعہ سے حفاظت فرمائی جیسے اس قول میں دعویٰ کیا اور اور احادیث میں دعویٰ کیا گیا۔ ”انا اعطینا“ میں بتلایا گیا کہ عملاً بھی ہم نے حفاظت کی ہے ختم نبوت کی۔ اور وہ کس طرح سے کہ حضورﷺ کے دو صاحبزادے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام ابراہیم اور ایک کا نام قاسم تھا۔ اور لقب تھا ان دونوں کا طیب و طاہر۔ یہ دو صاحبزادے پیدا ہوئے۔ ان دونوں کی وفات ہوگئی۔ باقی نہیں رہے۔ تو نرینہ اولاد نہ رہی۔ اولاد آپﷺ سے چلی ہے تو حضرت فاطمہؓ سے چلی ہے۔ جو حضرت علیؓ کی اولاد ہے۔ مگر ماں کی طرف سے وہ سب حضورﷺ کی اولاد ہے جن کو سادات کہا جاتا ہے۔ تو نرینہ اولاد نہ رہی آپﷺ کے۔ اور نہ رکھنے کا کیا مقصد تھا؟ حکمتیں تو ہزاروں ہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن کھلی حکمت یہ ہے کہ اگر صاحبزادے زندہ رہ جاتے تو آبائی کرامت اس سے مختلف تھی کہ انہیں نبی نہ بنایا جاتا۔ نبوت کا مقام نہ دیا جاتا۔ اور اگر نبوت کا مقام دیا جاتا تو ختم نبوت ختم ہو جاتی۔ اس لئے اولاد کا ختم کر دینا گوارا کیا گیا۔ مگر ختم نبوت کا باطل کرنا گوارا نہیں کیا گیا۔ تو اولاد نرینہ کو زندہ نہیں رکھا گیا۔ کہ اگر زندہ رکھتے اور نبی نہ ہوتے تو حضورﷺ کی شان میں توہین لازم آتی۔ اور بناتے نبی۔ تو ختم نبوت باقی نہ رہتی۔ تو حق تعالیٰ نے پہلے ہی اٹھا لیا۔ تو گویا مصلحت تھی۔
مشرکین کے طعنے
تو یہ ختم نبوت کی حفاظت ہوئی عملاً۔ آیتوں میں تو قولاً حفاظت کی گئی۔ اور عملاً حفاظت کی گئی۔ اس طرح کہ اولاد نرینہ زندہ نہیں رکھی گئی۔ اس سے مشرکین مکہ نے طعنہ زنی کرنا شروع کی اور کہا کہ بس جی نبوت تو ختم ہوگئی۔ وہ جو نبوت کے مدعی تھے۔ ان کی اولاد ہی زندہ نہیں رہتی۔ ایک پیدا ہوا وہ گزر گیا۔ دوسرا پیدا ہوا وہ گزر گیا۔ تو یہ مقطوع النسل ہوگئے۔ (العیاذ باللہ) اور دنیا والوں میں نسل اگر کسی کی منقطع ہو جائے تو وہ عیب سمجھا جاتا ہے کہ فلاں لاولد گزر گیا۔ تو مشرکین مکہ نے یہ طعنہ دینا شروع کیا کہ یہ نبی ہیں؟ یہ تو مقطوع النسل ہیں۔ اور قطع ہوگئی ان کی نسل، آگے ان کا نشان ہی نہیں رہے گا۔ آگے ان کا کوئی تذکرہ ہی نہیں رہے گا۔ جب اولاد باقی نہیں رہی۔
حق تعالیٰ کی تسلی
حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا۔ پہلی بات تو یہ فرمائی کہ آپﷺ دل گیر نہ ہوں۔ ان
١٦
کے طعنہ سے دل میں کوئی ملال نہ پیدا کریں۔ اگر اولاد اٹھالی تو مصلحت کے سبب سے تو ”انـــــا اعطينك الكوثر “ ہم نے آپﷺ کو کوثر عطا کیا۔ یہ کوثر ایک حوض ہے۔ قیامت کے دن تمام انبیاء کو حوض دیئے جائیں گے۔ اور میدان محشر میں پیاس انتہائی ہوگی۔ سورج آجائے گا سروں کے قریب اور سر کھولتے ہوں گے۔ اور پسینوں کا یہ عالم ہوگا کہ کوئی ٹخنوں تک غرق۔ کوئی ناف تک، کوئی گلے تک، کوئی بالکل سر تک، تو پسینہ انتہائی ہوگا۔ قبروں سے جب اٹھیں گے تو انتہائی پیاسے اٹھیں گے۔
لوگوں کے حلق میں خشکی ہوگی۔ زبان میں کانٹے پڑے ہوں گے۔ پیاس کا تقاضا ہوگا۔ تو پیاسے اٹھیں گے اور میدان حشر میں وہ پیاس اور بڑھ جائے گی۔ اوپر سے آفتاب کی گرمی اور نیچے سے زمین پر یہ سارے بنی آدم کھڑے ہوئے ہوں گے۔ اس طرح سے کہ کندھا سے کندھا جڑا ہوا ہوگا۔ جھکنے کی جگہ نہیں ہوگی۔ اربوں کھربوں بنی آدم اسی زمین کے اوپر ہونگے۔ زمین کے اوپر کوئی اونچائی نہیں ہوگی۔ پہاڑ نہیں رہیں گے۔ دریا نہیں رہیں گے۔
پوری زمین ایک تھالی کی طرح ہوگی۔ ”کانها سبيكة فضۃ لا ترى فیها عوجاً ولا امتا“ زمین میں نہ کوئی ٹیڑھ ہوگا، نہ کوئی اونچ نیچ ہوگی۔ طباق کی طرح زمین ہوگی، جیسے چاندی کی ایک پلیٹ اور اس پر سارے بنی آدم کھڑے ہوں گے۔ قبروں سے پیاسے اٹھیں گے۔ آفتاب کی گرمی سے پیاس اور بڑھے گی اور جب باہم ٹھس ہو کر کھڑے ہوں گے اور پسینوں میں تر، تو پیاس اور زیادہ بڑھے گی۔ تو بیتاب ہوں گے پیاس میں۔ اس میں جو مؤمن ہوں گے اور انبیاء علیہم السلام پر ایمان لائے ہوں گے۔ تو ہر نبی کو جو حوض دیا جائے گا وہ اس سے پانی پئیں گے۔ جس سے ان میں سیرابی پیدا ہوگی۔ نبی کریمﷺ کو عظیم ترین حوض دیا جائے گا۔ جس کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مکہ سے لیکر عدن تک جتنی مسافت ہے۔ اتنی مسافت کی لمبی اور چوڑی وہ حوض ہوگی۔ تو مکہ سے عدن تقریباً چار سو پانچ میل کے قریب ہے۔ تو اتنی ہی چوڑائی ہوگی۔ اور اتنی ہی لمبائی ہوگی اس حوض کی۔ اور فرمایا کہ اس حوض کے کنارے پر بڑے بڑے قبے ہونگے ایک ایک موتی کے۔ جن کے سائے بڑے بڑے محلات کی طرح سے ہوں گے اور وہ حوض کے کنارے پر کوزے ہونگے۔ پیالے ہوں گے۔ ستاروں کی مانند چمکتے ہونگے۔ اور اتنا ہی عدد ہوگا جتنا کہ ستارے ہیں۔
یہ مبالغۃً کہا گیا ہے۔ یا واقعی اتنا ہی عدد ہوگا جتنا ستاروں کا ہے۔ تو اس کے کناروں پر کوزے ہوں گے اور کنارے بھی سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ یہ نہیں ہے کہ پانی پھیلا ہوا
١٧
ہے ۔اور وہاں لوگوں کے چلنے سے پیر تر ہورہے ہیں۔ وہ حوض اپنی جگہ ہوگا۔ کناروں پر بڑے بڑے محلات موتیوں کے ہوں گے اور سجے ہوئے ہونگے۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام وہاں جا کر پانی پیئے گی۔
فرمایا گیا کہ اس حوض کا پانی سفیدی میں دودھ سے زیادہ سفید ہوگا۔ ٹھنڈک میں برف سے زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ اور مٹھاس میں شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ تو عجیب و غریب اس پانی کی خصوصیات یہ ہوگی۔ فرمایا گیا کہ جو ایک گھونٹ اور جام بھی اگر پی لے گا تو پھر وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا میدانِ حشر میں۔
پیاس اس کی بالکل ختم ہو جائے گی۔ وہ آپ ﷺ کا حوض ہوگا تو تمام انبیاء سے بڑھ کر ہوگا وہ۔ رقبہ کے لحاظ سے بھی، پانی کی خاصیت اور رنگ دونوں کے لحاظ سے بھی ایک امتیازی شان ہوگی حوض کی اور اس سے امتی پانی پیئیں گے۔ اس پہ آتے جائیں گے درجہ بدرجہ اور پانی پیتے جائیں گے۔ اور پیاس ان کی ختم ہوتی جائے گی۔ پھر میدانِ حشر میں کبھی انہیں پیاس نہیں لگے گی۔ حالانکہ میدانِ حشر میں پچاس ہزار سال کا ایک دن ہوگا۔ تو پچاس ہزار برس کی پیاس ایک دم زائل ہو جائے گی ایک جام میں۔ اور پھر اس میدان میں کبھی انہیں پیاس نہیں لگے گی۔ وہ یہ حوض ہوگا۔
مبتدعین کا حشر
آتے جائیں گے لوگ۔ بعض لوگ آئیں گے جماعتوں کی جماعتیں۔ اور آپ چاہیں گے کہ یہ پانی پیئیں۔ تو ملائکہ انہیں دھکے دے کر نکال دیں گے وہاں سے۔ آپ ﷺ فرمائیں گے کہ یہ تو کلمہ پڑھتے تھے میرا۔ ملائکہ کہیں گے کہ : ”انك لا تدري ما احدثوا بعدك“ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیا بدعات اور نئی نئی ایجادات نکالیں اور دین کی صورت مسخ کر دی ہے انہوں نے رسم و رواج کے تابع بنا دیا دین کو۔ آپ ﷺ کو علم نہیں ہے جو حرکتیں انہوں نے کی ہیں؟ اس لئے انہیں اجازت نہیں۔ تو آپ ﷺ فرمائیں گے ۔ ”سحقاً“ پھٹکار ہو ان پر لے جاؤ انہیں یہ اس قابل نہیں ہیں کہ میرے حوض سے پانی پیئیں۔ غرض وہاں چند ہی لوگ پانی پیئیں گے۔ جو دین کے پورے قائل، سنت کے قائل، احداث اور محدثات اور بدعات میں پڑے ہوئے نہ ہوں۔ ان کو دیا جائے گا پانی اور وہ سیراب ہوں گے۔
روحانی نسل
اور ظاہر بات ہے کہ اُس میں مشرق و مغرب کے لوگ ہوں گے۔ امت تو فقط ایک
١٨
عرب تک ہی تو محدود نہیں۔ وہ تو عرب سے نکل کر پوری دنیا کی اقوام آپ ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ اور ان میں مومن بھی ہیں۔ تو کوئی مومن مشرق کا، کوئی مغرب کا، کوئی جنوب کا، کوئی شمال کا، کوئی روم کا، کوئی چین کا، کوئی یورپ کا، کوئی ایشیاء کا۔ تو دنیا کے ہر خطہ کے انسان اس میں ہوں گے۔ اور وہ سب بمنزلۂ اولاد کے ہوگئے۔ تو فرمایا گیا کہ اگر نرینہ اولاد نہیں رہی تو اس سے بڑی اولاد جو آئے گی حوض کوثر پر اتنی تو کسی کو میسر ہی نہیں اولاد۔ تو آپ کو کاہے کا دکھ ہے۔ کیسے یہ کہا گیا کہ آپ ﷺ مقطوع النسل ہیں۔ آپ کی نسل تو اتنی بڑی ہے کہ سارے عالم میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور ایک ہی زمانہ میں نہیں بلکہ قیامت تک جتنی اقوام آئیں گی ان میں جو جو مومن بنتے جائیں گے۔ وہ سب آپ ﷺ کی اولاد میں داخل ہوں گے۔ آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا: ”انا لكم بمنزلة الوالد“ میں تم سب کے حق میں بمنزلۂ والد کے ہوں۔ تو جس والد کی اتنی اولاد ہو کہ اس کا شمار کرنا مشکل ہو۔ وہ مقطوع النسل کہلائیگا؟ اگر مادی نسل نہ دی تو ہم نے روحانی نسل وہ دی کہ عالم میں کسی کی نہیں۔
امت کی کثرت
چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں فخر کروں گا اپنی امت کی کثرت پر۔ انبیاء کو اتنے افراد نہیں دیئے جائیں گے امت میں جتنے مجھ کو دیئے جائیں گے اس امت میں۔ حتیٰ کہ جب صفیں باندھی جائیں گی تو اسی ٨٠ صفیں ہوں گی۔ ساری دنیا کی اقوام جو اہل جنت ہوں گے۔ تو اس میں دو تہائی صفیں میری امت کی ہوں گی۔ ایک تہائی میں سارے انبیاء شامل ہوں گے۔ تو جس ذات اقدس کی اتنی روحانی ذریت ہو کہ مشرق اور مغرب اور ماضی اور مستقبل اور حال سب پر پھیلی ہوئی ہو زمان میں اور مکان میں اسے مقطوع النسل کہا جائے گا؟ تو کفار کہتے تھے کہ آپ ﷺ کی نسل مقطوع ہوگئی اور آپ مقطوع النسل ہیں۔ حق تعالیٰ نے جواب دیا۔ ”ان شـــــانـئـك هو الابتر “ تمہارے دشمن مقطوع النسل ہیں۔ تم مقطوع النسل نہیں ہو۔ باوجود اولاد ہونے کے ان کا کوئی ذکر عالم میں نہیں۔ مکہ کے بڑے بڑے رؤساء، ان کی اولادیں ہوئیں۔ دولتیں ہوئیں آج کوئی نام نہیں جانتا۔ نام و نشان تک مٹ گیا۔
اور آپ ﷺ کی ذات ہے کہ آپ کا نام عالم میں ازل سے لیکر ابد تک مشہور ہے۔ قلب کے اندر موجود ہے۔ حتیٰ کہ دشمن بھی آپ کی حقانیت کے قائل ہیں۔ چاہے آپ کا دین مانیں یا نہ مانیں۔ تو ساری امتوں کے اندر آپ ﷺ کا چرچا پھیلا ہوا ہے۔
١٩
اور نہ صرف بعد والوں میں ہے کہ قیامت تک جو آئیں گے انہیں میں چرچا ہے پچھلوں میں بھی چرچا ہے۔ اس لئے کہ آپ ﷺ کے صحابہ کا چرچا پچھلی امتوں میں بھی ہے۔ توراۃ میں فرمایا گیا کہ ”ترهم ركعاً سجداً يبتغون فضلاً من الله ورضواناً“ صحابہؓ کی شان یہ ہے کہ جب دیکھو رکوع میں یا سجدے میں یا دین کے کاموں میں دین کے سوا کوئی کام نہیں۔ پیشانیوں پر ان کے نشان پڑ گئے۔ سجدے کی وجہ سے۔ تو اندر کا نور باہر تلک جھلک دیا تھا اور ”سيماهم في وجوههم من اثر السجود“ آگے فرماتے ہیں : ”ذلك مثلهم في التوراة ومثلهم فى الانجيل“ ان کا چرچا انجیل میں بھی ہے توراۃ میں بھی ہے۔ تو حضور ﷺ کی ذات بابرکات بجائے خود ہے، آپ ﷺ کے صحابہؓ تک کا چرچا ہے پچھلی کتابوں میں پچھلی امتوں میں اور بعد والے تو خدام اور غلام ہیں ہی۔ ان میں اگر چرچا ہو تو اپنے غلاموں میں چرچا ہونا اتنا عجیب نہیں جتنا پچھلوں میں چرچا ہونا عجیب ہے۔ توراۃ اور انجیل سب میں ان کا ذکر ہے۔ اور آپ ﷺ کا بھی ذکر مبارک موجود ہے۔
بعد از خدا بزرگ
تو ازل سے لیکر ابد تک آپ ﷺ کا نام روشن ہے تو یہ جو بڑی بڑی نسل والے ہیں۔ اولادیں زیادہ ہیں۔ مگر کوئی نام تک لینے والا نہیں۔ مٹ مٹا گئے۔ اور آپ ﷺ کے نرینہ اولاد نہیں مگر روحانی ذریت اتنی ہے کہ قیامت تک اسی طرح آپ کا نام زندہ ہے۔ جس طرح کہ پہلوں میں زندہ تھا۔ تو ”ان شانئك هو الابتر“ آپ کے دشمن مقطوع النسل ہیں۔ آپ ﷺ مقطوع النسل نہیں۔ ان کے چرچے ختم ہو گئے۔ آپ ﷺ کا چرچا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد آپ ﷺ ہی کے نام کا چرچا ہوگا۔ دنیا میں مؤذن اذان دیتا ہے۔ جہاں ”اشهد ان لا اله الا الله“ کہتا ہے وہاں ”اشهد ان محمدا رسول الله“ کہتا ہے۔ مکبر تکبیر کہتا ہے، تو جہاں جہاں شہادت توحید کی ہوتی ہے وہاں شہادت رسالت کی اور آپ کے نام پاک کی بھی ہوتی ہے۔ درود شریف پڑھا جاتا ہے تو اللہ کا نام آتا ہے۔ ”اللهم صل“ وہیں آپ ﷺ پر درود بھیجا جاتا ہے تو ”ورفعنا لك ذكرك“ ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا کہ ہمارے نام کے بعد آپ ﷺ کا ہی ذکر ہے۔ عالم کے اندر آپ ﷺ سے بڑھ کر کون ہے مشہور دنیا کے اندر کون ہے جس کا ذکر اتنا پھیلا ہوا ہو اور وہ جو بڑی بڑی نسلوں والے تھے۔ آج کوئی نہ انہیں جانتا ہے اور نہ ان کی نسلوں کو۔ تو وہ ہیں مقطوع النسل یا آپ ﷺ ہیں مقطوع النسل؟ تو تسلی دی اپنے پیغمبر کو،
٢٠
کہ ”ان شانئك هو الابتر“ آپ کے دشمن ہیں مقطوع النسل ہیں۔ یہ تو دنیا میں ہوا۔ اور آخرت میں یہ ہے کہ ہم نے حوض کوثر آپ ﷺ مغرب کی اقوام جو مومن ہیں وہ پانی پئیں گی۔ وہ آپ ﷺ کی ذریت آپ کی ذریت پھیلی ہوئی ہے۔ وہاں بھی آپ کا چرچا ہے فقط دنیا ہی میں تو آپ ﷺ کیسے مقطوع النسل ہوں گے؟ بکنے دیجئے جو بک رہے ہیں ہیں۔ آپ کی نسل تو ابدی ہے۔ اور ازلی ہے جو چل رہی ہے۔ اور جب یہ کوثر دیا گیا کہ محشر میں آپ کا ذکر بلند‘ آپ کو ذریت دی گئی کہ دنیا میں آ کا کام کیا ہونا چاہئے؟ اس سے ملال نہ رکھیں۔ آپ کا کام یہ ہو۔
توجہ الی اللہ اور قربانی
”فصل لربك وانحر“ آپ نمازیں بھی پڑھیں۔ توجہ الی اور قربانیاں بھی کریں۔ یہ نفس کی عبادت ہے۔ گویا اپنے نفس کو قربان کر تعالیٰ نے یہ تکلیف نہ دی کہ خودکشی کر کے اپنی نسل ختم کرو۔ بلکہ فدیہ د تمہارے نفس کا بدلہ سمجھا جائے گا۔ گویا تم نے اپنے ہی نفس کو ذبح کر دیا کریں اور نفسی عبادت بھی کریں۔ تو ”فصل لربك وانحر“ تو آپ اور ذبیحہ بھی کریں جو نفس کی قربانی ہے‘ اور یہ جان کی مصروفیت ہے نما چیزیں آپ ﷺ کے اوپر واجب کی گئیں یہ شکریہ کے لئے ہیں کہ آپ ﷺ کیا دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی ہم نے بلند کیا۔ تو ہمارے سامنے ہے نماز، اور ہمارے سامنے اپنے نفس کو قربان اور فدیہ دینا اور ذبیحہ کر اس سورہ مبارکہ میں ختم نبوت کی حفاظت عملاً کی گئی ہے۔ اور بتلایا گیا مسئلہ ہے کہ اللہ اسکی حفاظت کے درپے ہے۔ بندوں کا تو فرض ہے کہ اس کی حفاظت یہی ہے کہ اس کا عقیدہ مضبوط رکھیں دل کے اندر۔ کہ آنیوالا نہیں ہے نبیوں کی جو فہرست ہے وہ مکمل ہوچکی ہے۔ اب نہ ہوگا۔ یہ حاصل ہے اس سورۃ کا۔
کمال اسلام
تو ”لایلٰف“ میں واقعاتی تاریخ‘ سبب نزول تھا۔ اور ”ان
٢١
کہ ”ان شانئك هو الابتر“ آپ کے دشمن ہیں مقطوع النسل، آپ مقطوع النسل نہیں ہیں۔ یہ تو دنیا میں ہوا۔ اور آخرت میں یہ ہے کہ ہم نے حوض کوثر آپ ﷺ کو عطا کیا۔ مشرق اور مغرب کی اقوام جو مومن ہیں وہ پانی پئیں گی۔ وہ آپ ﷺ کی ذریت ہوں گی۔ تو قیامت تک آپ کی ذریت پھیلی ہوئی ہے۔ وہاں بھی آپ کا چرچا ہے فقط دنیا ہی میں آپ کا چرچا نہیں ہے۔ تو آپ ﷺ کیسے مقطوع النسل ہوں گے؟ بکنے دیجئے جو بک رہے ہیں کہ آپ مقطوع النسل ہیں۔ آپ کی نسل تو ابدی ہے۔ اور ازلی ہے جو چل رہی ہے۔ اور جب یہ بات ہے کہ آپ کو حوض کوثر دیا گیا کہ محشر میں آپ کا ذکر بلند، آپ کو ذریت دی گئی کہ دنیا میں آپ کا نام بلند۔ تو پھر آپ کا کام کیا ہونا چاہئے؟ اس سے ملال نہ رکھیں۔ آپ کا کام یہ ہو۔
توجہ الی اللہ اور قربانی
”فصل لربك وانحر“ آپ نمازیں بھی پڑھیں۔ توجہ الی اللہ رکھیں۔ ”وانحر“ اور قربانیاں بھی کریں۔ یہ نفس کی عبادت ہے۔ گویا اپنے نفس کو قربان کر دینا۔ یہ تھا اصل۔ لیکن حق تعالیٰ نے یہ تکلیف نہ دی کہ خودکشی کر کے اپنی نسل ختم کرو۔ بلکہ فدیہ دے دیا کہ قربانیاں کرو وہ تمہارے نفس کا بدلہ سمجھا جائے گا۔ گویا تم نے اپنے ہی نفس کو ذبح کر دیا۔ تو جانی عبادت بھی آپ کریں اور نفسی عبادت بھی کریں۔ تو ”فصل لربك وانحر“ تو آپ نمازیں بھی پڑھیں اور نحر اور ذبیحہ بھی کریں جو نفس کی قربانی ہے اور یہ جان کی مصروفیت ہے نماز میں۔ تو نماز اور قربانی دو چیزیں آپ ﷺ کے اوپر واجب کی گئیں یہ شکریہ کے لئے ہیں کہ آپ ﷺ کا نام پاک ہم نے بلند کیا دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی ہم نے بلند کیا۔ تو ہمارے سامنے جھکنا یہی اس کا شکر ہے وہ ہے نماز، اور ہمارے سامنے اپنے نفس کو قربان اور فدیہ دینا اور ذبیحہ کرنا یہ ہے آپ ﷺ کا شکر۔ تو اس سورہ مبارکہ میں ختم نبوت کی حفاظت عملاً کی گئی ہے۔ اور بتلایا گیا ہے کہ ختم نبوت ایسا بنیادی مسئلہ ہے کہ اللہ اسکی حفاظت کے درپے ہے۔ بندوں کا تو فرض ہے کہ اس کی حفاظت کریں۔ اور اس کی حفاظت یہی ہے کہ اس کا عقیدہ مضبوط رکھیں دل کے اندر۔ کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنیوالا نہیں ہے نبیوں کی جو فہرست ہے وہ مکمل ہو چکی ہے۔ اب نہ کوئی زائد ہوگا اس میں نہ کم ہوگا۔ یہ حاصل ہے اس سورۃ کا۔
کمال اسلام
تو ”لایلف“ میں واقعاتی تاریخ، سبب نزول تھا۔ اور ”ارء یت الذی“ میں اسلام
٢١
کی اخلاقی تاریخ سبب نزول تھا۔ اور ”انا اعطینا“ میں آپ کی ذات سبب نزول ہے۔ آپ کا معجزہ ختم نبوت ہے۔ تو تینوں چیزیں مکمل ہوگئیں۔ کہ تاریخ بھی مکمل۔ اسلام کی واقعاتی یا اخلاقی تاریخ بھی مکمل۔ کہ کوئی مذہب نہ لاسکا۔ تاریخ اور ذات بھی اتنی مکمل کہ ختم نبوت ہوگئی۔ اور کمالات نبوت ختم کردیئے گئے۔ تو تینوں اعتبار سے اسلام کا کمال ثابت ہوا۔ اور فرمادیا گیا۔
”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا“
آج کے دن ہم نے اسلام کو تمہارے لئے مکمل کردیا۔ نعمتیں بھی اپنی تمام کردیں تمہارے اوپر۔ اور جب یہ بات ہے تو اب ہم اسلام کے سوا کسی دین سے راضی نہیں ہیں۔ نجات منحصر ہے اسلام لانے میں۔ غیر اسلام میں نجات کی کوئی صورت نہیں۔ پچھلے ادیان کی حفاظت کے لئے آیا ہے اسلام۔ تو پچھلے ادیان میں جتنی خوبیاں تھیں وہ سب اسلام نے جمع کردی۔ اور جتنی خرابیاں امتیوں نے ڈالی تھیں ان سب کو ختم کرکے جو پھر سے لیا۔ تو اسلام جامع ہے تمام سابقہ ادیان کا اور سابقہ شریعتوں کا اور آنیوالی شریعتیں وہی ہونگی جو آئمہ مجتہدین نکالیں گے اور وہ خود اس قرآن کی ذات بابرکات میں موجود ہیں۔ تو اگلی شریعتیں بھی آپ ﷺ ہی کے نور سے پیدا ہوئیں۔ اور اگلی شریعتیں جو نئی ہیں اور اجتہادی ہیں وہ بھی آپ ہی کے نور سے پیدا ہوئیں۔ تو اسلام ہر لحاظ سے کامل ومکمل ہے اور نعمتیں تمام کردی گئیں۔ اس لئے مدار نجات اسلام ہے۔
اسلام آنے کے بعد کسی اور دین میں نجات نہیں ہے۔ پچھلے ادیان کے اگر انبیاء بھی آجائیں تو انہیں بھی اتباع کرنی پڑے گی حضور ﷺ کی۔ اس شریعت کی پابندی کرنی پڑے گی۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”لو کان موسیٰ حیاً“ اگر حضرت موسیٰ بھی آج زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری شریعت کا اتباع کرنا پڑتا۔ اور حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے تو اس شریعت کے مجدد کی حیثیت سے آئیں گے۔ اسی شریعت پر خود بھی عمل کریں گے اور اسی شریعت پر دوسروں سے بھی عمل کرائیں گے۔
اس واسطے یہ شریعت بھی جامع، نبی بھی جامع، اور اسلام بھی جامع۔ کسی میں کوئی گنجائش نہیں ہے کمی اور بیشی کی کہ ہم اسلام کے اندر کچھ چیزیں اضافہ کریں اور یوں سمجھیں کہ اب اسلام مکمل ہوا ہے۔ یہ طعن ہوگا ختم نبوت پر۔ تو یہ حاصل ہے اس سورۃ کا۔
بس جتنا اجمالاً بیان ہوسکتا تھا۔ وہ بیان کردیا گیا۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اس دین پر، پورا ثبات اور استقلال اور اسی دین پر زندگی دے اور اسی دین پر موت نصیب فرمائے۔ آمین!
٢٢
خاتم النبیین
اہل قبلہ کی تکفیر
(مرزائی جماعت کی اسلام
حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
نبی آخر الزمان ﷺ کا ارشاد گرامی
اہل قبلہ کی تحقیق
(مرزائی جماعت کی اسلام سے بغاوت)
حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم!
اس زمانہ میں مسلمانوں کی بدقسمتی یا مذہبی ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کے دماغوں میں یہ خیال کسی قدر راسخ ہو چلا ہے کہ جو شخص زبان سے ایک دفعہ کلمہ شہادت جاری کر دے۔ یا قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے۔ وہ ایسا پختہ اور راسخ العقیدہ مسلمان بن جاتا ہے کہ اسلامی تعلیم اور مذہبی عقائد کی کھلم کھلا مخالفت اور انکار کرنے کے باوجود بھی اس کے ایمان میں کسی قسم کا خلل یا فتور واقع نہیں ہوتا۔ اس خیال کی تائید میں بعض غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اہل قبلہ کی عدم تکفیر والی حدیث پیش کر دی جاتی ہے اور کبھی اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے۔ ”ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مؤمنا“ یعنی جو شخص تم سے السلام علیکم کہتا ہے۔ اس کو شبہ کی وجہ سے کافر نہ کہو۔
اس خیال کی وجہ سے بعض ناواقف لوگوں کی ذہنیت اس درجہ بگڑ گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اس موقعہ پر مذہبی تعلیم اور اسلامی روایات سے متاثر ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو وہ ان کی نظر میں تنگ دل، مذہبی دیوانہ، ناعاقبت اندیش، اسلامی اخوت کا دشمن، نظام ملی کا مخالف سمجھا جاتا ہے اور بعض تو اس کی بات سننا اور اس کی کسی تحریر کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ایسے دوستوں کی خدمت میں باادب التماس ہے کہ وہ حق اور انصاف کو دل میں رکھتے ہوئے ہماری معروضات پر بغور توجہ فرماویں اور جو بات سچی ہو اس کو اختیار کریں۔
اس بات سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ اسلام دنیا میں ایک اصولی مذہب ہے۔ دیگر مذاہب کی طرح انسانی خیالات اور قومی یا ملکی رسومات کے ساتھ ساتھ نہیں چلتا۔ اس کے فیصلے اٹل اور اس کے ضابطے ہر قسم کے تغیرات سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ اس کے ہر حکم کو تسلیم کرنا اور اس کو سچے دل سے ماننا ہی ایمان ہے۔ ان میں سے کسی فیصلے کو بدل دینے اور بعض کو ماننے یا بعض سے انکار کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ما کان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضی الله ورسوله امراً ان یکون لهم الخیرة“ کسی مرد مسلمان یا عورت مسلمہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ جس حکم کے متعلق خدا تعالیٰ یا اس کا رسول کوئی فیصلہ سنائے وہ اس میں کسی قسم کا
٢
تغییر یا تبدیلی پیدا کرے یا اس کے بعض حصہ کو مانے اور بعض سے صاف دوسری جگہ اس طرح فرمایا گیا ہے۔ ”تلک حدود اللّٰه فاولئک هم الظالمون“ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابط فیصلوں سے تجاوز یا انکار کرنے والا ظالم اور بے دین ہے۔ ایک اور آی الرسول فخذوه وما نهاکم عنه فانتهوا“ اور خدا کا رسو فرمائے۔ اس کو بجا لاؤ اور جس چیز سے روکے، اس سے رک جاؤ۔ ی امورات اور منہیات، حلال و حرام یا جائز و ناجائز کا ماننا ہر مسلمان ک علاوہ جب دنیا کے کسی قانون کو تسلیم کرنے کے لئے اس کی تمام دفع کہ ہم دور حاضر میں دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص تعزیرات کی سینک قانون نمک کی خلاف ورزی کرنے سے حکومت کا باغی کہلایا جاتا ہ کا احترام باقی رکھنے کے لئے اس کو قید و بند کی سخت ترین سزائیں اسلام جو اصولی مذہب ہے اور چند قوانین اور ضابطوں کے مجموع قاعدے پر ایمان لانا اور اس کو صدق دل سے تسلیم کرنا ضروری نہی مجموعہ قوانین میں سے کسی ایک ضابطے اور قاعدے کا انکار کرنے وال اور نافرمان نہیں سمجھا جاتا اور کیوں اسلام کی عزت اور اس کا احترام سزائیں دی جاتی۔ غرض جس طرح توحید اور نبوت کے اقرار کر اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح شریعت محمدی کے کسی قطعی اور یقینی ق مسئلہ اور اسلام کا ایک حکم سمجھتا ہے انکار کرنا۔ خدا اور رسول سے ص کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے یہی معنی ہیں ک درست تسلیم کرتے ہوئے بصورت انکار کبھی ان کی مخالفت نہ کر اور جس شخص نے کسی ایسے فیصلے کے متعلق جس کا خدا ت امر ہے۔ انکار کیا یا اس کو بدل کر دوسرے رنگ میں پیش کرنا چاہ رسول کا کھلا ہوا دشمن اور ان کی تعلیم کا صریح مخالف سمجھا جائے گا۔
اس لئے یہ خیال کرنا کہ توحید اور نبوت کے اقرار کر
٣
تغییر یا تبدیلی پیدا کرے یا اس کے بعض حصہ کو مانے اور بعض سے صاف انکار کر دے۔
دوسری جگہ اس طرح فرمایا گیا ہے۔ ”تلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فاولئك هم الظالمون“ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے اور اصول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں سے تجاوز یا انکار کرنے والا ظالم اور بے دین ہے۔ ایک اور آیت میں ہے۔ ”ما اتاكم الرسول فخذوہ وما نهاكم عنه فانتهوا“ اور خدا کا رسول جس کام کے کرنے کا حکم فرمائے۔ اس کو بجا لاؤ اور جس چیز سے روکے، اس سے رک جاؤ۔ یعنی شریعت کے دونوں حصوں امورات اور منہیات، حلال و حرام یا جائز و ناجائز کا ماننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جب دنیا کے کسی قانون کو تسلیم کرنے کے لئے اس کی تمام دفعات کا ماننا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم دور حاضر میں دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص تعزیرات کی سینکڑوں دفعات میں سے صرف قانون نمک کی خلاف ورزی کرنے سے حکومت کا باغی کہلایا جاتا ہے اور اس کی طرف سے قانون کا احترام باقی رکھنے کے لئے اس کو قید و بند کی سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اسلام جو اصولی مذہب ہے اور چند قوانین اور ضابطوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس کے ہر دفعہ اور قاعدے پر ایمان لانا اور اس کو صدق دل سے تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے اور کس لئے اسلام کے مجموعہ قوانین میں سے کسی ایک ضابطے اور قاعدے کا انکار کرنے والا خدا اور اس کے رسول کا باغی اور نافرمان نہیں سمجھا جاتا اور کیوں اسلام کی عزت اور اس کا احترام باقی رکھنے کے لئے ایسے شخص کو سزائیں دی جاتی۔ غرض جس طرح توحید اور نبوت کے اقرار کرنے سے ضمنی طور پر تمام شریعت کا اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح شریعت محمدی کے کسی قطعی اور یقینی فیصلے سے جس کو ہر آدمی مذہبی مسئلہ اور اسلام کا ایک حکم سمجھتا ہے انکار کرنا۔ خدا اور رسول سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے یہی معنی ہیں کہ ان کی تعلیم اور فیصلوں کو صحیح اور درست تسلیم کرتے ہوئے بصورت انکار کبھی ان کی مخالفت نہ کرے۔
اور جس شخص نے کسی ایسے فیصلے کے متعلق جس کا خدا اور رسول کی طرف سے ہونا یقینی امر ہے۔ انکار کیا یا اس کو بدل کر دوسرے رنگ میں پیش کرنا چاہا۔ ایسا آدمی یقیناً خدا اور اس کے رسول کا کھلا ہوا دشمن اور ان کی تعلیم کا صریح مخالف سمجھا جائے گا۔
اس لئے یہ خیال کرنا کہ توحید اور نبوت کے اقرار کرنے یا قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز
٣
پڑھنے کے بعد کسی شے کے انکار کرنے سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ قرآن کی صدہا آیتوں اور احادیث نبوی ﷺ کے سراسر خلاف ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے:۔ ”ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون“ ”جو لوگ خدا کے اس حکم کے موافق فیصلہ نہیں کرتے جس کو اس نے نازل فرمایا ہے وہ کافر ہیں۔“
لفظ ما عربی زبان میں تعمیم کو چاہتا ہے جس کے یہ معنی ہوئے کہ جو شخص قرآن عزیز کے ہر فیصلہ کے آگے گردن نہیں جھکاتا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام نہیں سمجھتا۔ یا کسی فرض کی فرضیت سے انکار کرتا ہے وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں جس میں صاف طور پر یہ فرمایا گیا ہے۔ ”قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الاخر ولا يحرمون ماحرم الله (توبه)“ ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے حرام کیا ہے ان کو حرام نہیں جانتے۔“
”ولقد انزلنا اليك آيات بينات وما يكفر بها الا الفاسقون“ ”ہم نے آپ ﷺ پر ظاہر اور کھلی کھلی باتیں اتاری ہیں۔ جن کا انکار کر کے کافر نہیں بنتے۔ مگر فاسق اور نافرمان لوگ۔“
اسی سورۃ میں دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”والذين كفروا وكذبوا باياتنا اولئك اصحاب النارهم فيها خالدون“ ”جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔“
ایک جگہ یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ”وآمنوا بما انزلت مصدقاً لما معكم ولا تكونوا اول کافر به“ ”قرآن پر ایمان لاؤ۔ جو تمہاری آسمانی کتاب توریت کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس کا انکار کر کے کافر نہ بنو۔“
ان تینوں آیتوں سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہو رہی ہے کہ قرآن عزیز کی کسی ایک آیت کے انکار کرنے سے آدمی کافر ہو جایا کرتا ہے۔ ”وما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله وبرسوله ولا ياتون الصلوة الا وهم كسالى ولا ينفقون الا وهم كارهون“ ”ان کے صدقات اور خیرات خدا کے نزدیک اس لئے قبول نہیں کئے جاتے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے اور نماز بے ادبی سے پڑھتے اور دباؤ کی وجہ سے صدقہ اور خیرات کرتے ہیں۔“
٤
١٦٣
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ نماز پڑھنے یا زکوٰۃ ہوتا۔ جب تک ایمانیات کے متعلق اپنے عقیدے کی اصلاح نہ کر ل طرح توحید اور نبوۃ کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ ل کافر ہی قرار دیئے گئے اور کسی دن بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھا گیا۔
- ٤...... ”يحلفون بالله ما قالوا ولقد قالو
اسلامهم“ ”وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہ یقیناً کفریہ کلمہ زبان پر جاری کیا اور وہ ایسا کرنے سے مسلمان ہو
عام مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان منافقوں کے نے اپنی مجلس میں نبی عربی ﷺ کی شان مبارک میں بے ادبی جب حضور ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو منافقین نے اس کو چ کھائیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اصل ح حلف اٹھانے میں جھوٹا قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ و مسلمان نہیں رہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السل کرنے سے آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ بلکہ فوراً کافر ہو جاتا ہے ۔
- ٥...... ”ولئن سالتهم ليقولون انما كنا نخو
ورسوله كنتم تستهزؤن لا تعتذروا قد كفرتم بعـ جب قیصر روم سے لڑنے کے لئے ٩ ہجری میں لے کر مدینہ سے باہر نکلے اور تبوک کی طرف روانہ ہوئے مسلمانوں کے ہمراہ تھے یہ کہا کہ اب اس شخص یعنی رسول اللہ زبردست سلطنت سے لڑنے کے لئے چلا ہے۔ جب آپ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ بات دل سے نہ لئے دل لگی اور مذاق کے طور پر کہی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے یہ معنی ہیں۔ ”اے محمدؐ ان لوگوں سے کہہ دو تم اللہ اور اس کے ساتھ مذاق کرتے ہو، اب تمہاری جھوٹی عذر خواہی فضو
٥
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ نماز پڑھنے یا زکوۃ دینے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا۔ جب تک ایمانیات کے متعلق اپنے عقیدے کی اصلاح نہ کرے۔ منافقین مخلص مسلمانوں کی طرح توحید اور نبوۃ کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن عقیدہ صحیح نہ رکھنے کی وجہ سے کافر ہی قرار دیئے گئے اور کسی دن بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھا گیا۔
- ٤...... ”يحلفون بالله ما قالوا ولقد قالوا كلمة الكفر وكفروا بعد
اسلامهم“ ﴿وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہرگز نہیں کہا۔ باوجودیکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر زبان پر جاری کیا اور وہ ایسا کرنے سے مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے ہیں۔﴾
عام مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جنہوں نے اپنی مجلس میں نبی عربی ﷺ کی شان مبارک میں بے ادبی اور گستاخی کے الفاظ نکالے تھے۔ جب حضور ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو منافقین نے اس کو چھپانے کی غرض سے جھوٹی قسمیں کھائیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اصل واقعہ کی اطلاع دیتے ہوئے ان کو حلف اٹھانے میں جھوٹا قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ وہ ایسا کہنے کی وجہ سے کافر ہوگئے، مسلمان نہیں رہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی توہین کرنے سے آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ بلکہ فوراً کافر ہوجاتا ہے۔
- ٥...... ”ولئن سالتهم ليقولون انما كنا نخوض ونلعب قل ابالله واياته
ورسوله كنتم تستهزؤن لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم (توبہ)“
جب قیصر روم سے لڑنے کے لئے ٩ ہجری میں رسول خدا ﷺ مسلمانوں کی جمعیت لے کر مدینہ سے باہر نکلے اور تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو بعض منافقین نے جو اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ تھے یہ کہا کہ اب اس شخص یعنی رسول اللہ ﷺ کے حوصلے بہت بڑھ گئے جو ایسی زبردست سلطنت سے لڑنے کے لئے چلا ہے۔ جب آپ کو اس بات کی اطلاع ہوگئی تو منافقین نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ بات دل سے نہیں کہی تھی۔ بلکہ راستہ طے کرنے کے لئے دل لگی اور مذاق کے طور پر کہی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ بالا نازل فرمائی۔ جس کے یہ معنی ہیں۔ ”اے محمدؐ ان لوگوں سے کہہ دو تم اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کی آیتوں کے ساتھ مذاق کرتے ہو، اب تمہاری جھوٹی عذر خواہی فضول ہے۔ ایسا کرنے کی وجہ سے تم ایمان
٥
لانے کے بعد کافر ہو گئے۔“ اس آیت میں قرآن شریف اللہ یا اس کے رسول کا استہزاء کرنے اور انکار مذاق اڑانے کی وجہ سے کافر ہو جانے کا حکم سنایا گیا ہے۔
- ٦...... ”فان تابوا واقاموا الصلوة وأتوا الزكوة فاخوانكم في الدين
ونفصل الآيات لقوم يعلمون وأن نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا ائمة الكفر انهم لا ايمان لهم لعلهم ينتهون (توبه) “ ”اگر وہ کفر سے توبہ کر کے نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ہم اپنی آیتیں سمجھداروں کے لئے تفصیل کے ساتھ کھول کر بیان کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہیں اور تمہارے دین و مذہب کے کسی حکم پر طعن کریں اور اس میں عیب نکالیں تو ایسے لوگ کفر کے امام اور پیشوا ہیں ۔ ان سے لڑو اور جہاد کرو۔ ان کے عہدوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ شاید کہ وہ اس سے ڈر کر اسلام کے متعلق بدزبانی کرنا چھوڑ دیں۔“
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسائل دینیہ اور اسلامی اصول اور ضابطوں کے بارے میں نکتہ چینی کرنی اور گستاخی سے پیش آنا انتہائی درجہ کی بے ایمانی ہے۔
- ٧...... ”ان الذين يكفرون بالله ورسله ويريدون ان يفرقوا بين الله
ورسوله ويقولون نؤمن ببعض ونكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذالك سبيلا اولئك هم الكفرون حقاً“ ”جولوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں یا اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے رسول کو نہیں مانتے یا رسولوں میں سے بعض کو سچا اور بعض کو جھوٹا کہتے ہیں اور ان کو نہیں مانتے یا مذہب میں ایک درمیانی راستہ نکالتے ہیں ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں۔“
اس آیت میں چار قسم کے لوگ بتائے گئے ہیں۔ چوتھا گروہ کافروں کا وہ ہے جو اسلام کے اصولوں میں سے بعض کو مانے اور بعض سے انکار کرے اور مذہب میں ایک ایسا درمیانی راستہ عمل کا تجویز کرے جس میں نہ کلیتہً اسلام سے انکار ہو اور نہ کامل طور پر اس کا اقرار ۔ ایسا آدمی قرآن عزیز کی تصریح کے موافق اسی طرح کافر ہے جیسے خدا اور اس کے رسول سے انکار کرنے والا کافر اور بے دین ہے۔
- ٨...... ”آمن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله
٦
وملائکته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله“ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان پر خدا کی طرف سے نازل اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اصولوں پر ایمان کرتے۔“
اس آیت میں اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام آسمانی کتا اور ان کو اور ان کی کتابوں کے غیر محرف حصہ کو منزل من اللہ اور سچا جا صاف اور ظاہری معنی یہ ہوئے کہ ان میں سے کسی ایک چیز کا انکا آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جس طرح یہودی تورا بعض کا انکار کرنے کی وجہ سے اس آیت میں کافر قرار دیئے گئے۔
اسی طرح وہ مسلمان جو قرآن عزیز کے صریح احکام میں کافر اور بے دین ہے۔
”قولوا امنا بالله وما انزل الينا وما انز واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيس ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فـ فقد اهتدوا وان تولوا فانماهم في شقاق“
اس آیت میں امر کے صیغہ کے ساتھ جو وجوب اور فرز کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ زبان سے اس بات کا اقرار جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو حضرت ابراہیم اور السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی گئی تھیں، ایمان لائے اور جو کچھ دیا گیا اور جو دوسرے انبیاء علیہم السلام خدا کی طرف سے لائے ۔ اور ان میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے اور ہم اس اقرار میں سچے طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ ہدایت پر ہیں اور اختلافات میں پڑے ہوئے اور گمراہ ہیں۔
علامہ ابو سعودؒ نے اپنی تفسیر میں آیت ”ما اوتی
٧
وملئکته وکتبه ورسله لا نفرق بین احد من رسله ”رسول اللہ ﷺ اور مومنین ان تمام باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان پر خدا کی طرف سے نازل کی گئی اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور کسی کا انکار نہیں کرتے۔﴾
اس آیت میں اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا اور ان کو اور ان کی کتابوں کے غیر محرف حصہ کو منزل من اللہ اور سچا جاننا ضروری بتایا ہے۔ جس کے صاف اور ظاہری معنی یہ ہوئے کہ ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار کرنے یا ایمان نہ لانے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جس طرح یہودی توریت کے بعض حصہ کو ماننے اور بعض کا انکار کرنے کی وجہ سے اس آیت میں کافر قرار دیئے گئے۔
اسی طرح وہ مسلمان جو قرآن عزیز کے صریح احکام میں سے بعض کا انکار کرے وہ قطعاً کافر اور بے دین ہے۔
”قولوا امنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسمعيل واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتی موسى وعيسى وما اوتی النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فان أمنوا بمثل ما أمنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم فی شقاق“
اس آیت میں امر کے صیغہ کے ساتھ جو وجوب اور فرضیت کے لئے آتا ہے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ زبان سے اس بات کا اقرار کرو کہ ہم اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی گئی تھیں، ایمان لائے اور جو کچھ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا گیا اور جو دوسرے انبیاء علیہم السلام خدا کی طرف سے لائے۔ ہم ان سب کی تصدیق کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے اور ہم اس اقرار میں سچے اور مخلص مسلمان ہیں۔ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ ہدایت پر ہیں اور اگر وہ اس سے اعراض کریں تو وہ اختلافات میں پڑے ہوئے اور گمراہ ہیں۔
علامہ ابوسعودؒ نے اپنی تفسیر میں آیت ”ما اوتی موسىٰ وعيسىٰ“ کی تشریح
٧
کرتے ہوئے اس سے توریت اور انجیل اور وہ معجزات مراد لئے ہیں جو ان کے مبارک ہاتھوں سے ظاہر ہوئے اور ان کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جس طرح تمام نبیوں اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنی ضروری ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا قرآن کی تصریحات کے موافق تسلیم کرنا بھی ایمان کا ایک جزو ہے۔ معجزات کو قرآنی فیصلے کے مطابق نہ ماننے والا ایسا ہی کافر ہے۔ جیسا کہ کسی نبی کے انکار کرنے والا مردود اور کافر ہے۔
- ٩....... ”وقولهم على مريم بهتاناً عظيماً“
یہودی حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی وجہ سے کافر قرار دیئے گئے۔ اس آیت میں حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی وجہ سے یہودیوں کو کافر بتایا گیا ہے۔ اگر آج بھی کوئی بدبخت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کے ساتھ اس قسم کی بدزبانی سے پیش آئے تو وہ قرآنی فیصلہ کے مطابق یقیناً کافر اور بے دین سمجھا جائے گا۔
- ١٠....... ”قال رسول اللہ ﷺ من قال فی القرآن برأیہ فلیتبوء مقعدہ من
النار“ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن شریف کی تفسیر اپنی رائے سے کرے وہ جہنمی ہے۔ (رواہ الترمذی) یعنی قرآن مجید کے اس حصہ کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا جس کا تعلق نقل سے ہے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے معنی اور مطلب کو ظاہر فرمایا ہے۔ رسول خدا ﷺ کی مخالفت کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ کے بتائے ہوئے معنوں کو چھوڑ کر اپنی طرف سے معنی گھڑ کر پیش کرنے والا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو مٹانا چاہتا ہے جو یقیناً کفر ہے۔
چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے: ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم“ یعنی وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے۔ جب تک وہ ہر شئی کا فیصلہ کرانے کے لئے آپ کو حاکم تجویز نہ کریں اور اس فیصلہ کے آگے گردن نہ جھکائیں۔
اس کے علاوہ رسول خدا ﷺ امت کے لئے معلم بنا کر کتاب اللہ سکھانے کے واسطے بھیجے گئے۔ جیسا کہ آیت ”یعلمھم الکتاب والحکمۃ“ سے ظاہر ہے۔ اس لئے آپ ﷺ کی تعلیم اور ہدایت کو بعینہ تسلیم کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور جو شخص اس کے خلاف اپنی رائے کو شریعت کے فیصلوں میں دخل دیتا ہے وہ زندیق اور بے ایمان ہے۔ اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ البتہ تفسیر کا وہ حصہ جو عربیت سے تعلق رکھتا ہے اس میں اپنی رائے سے عجیب نکتے
٨
پیش کرنے اور آیت کے متعلق فوائد اور حکمتیں بیان کرنے میں کوئی حرج
مذکورہ بالا آیات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ ضروری ہے ان میں سے کسی ایک شئی کے انکار کرنے سے انسان کافر ہو زبان پر جاری کرنا یا نماز پڑھنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اجمالی یا تفصیلی طور یقینی فیصلوں کو ماننا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اور ان میں سے آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ مگر انکار دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔
- ١....... صاف اور صریح طور پر کسی چیز کو ماننے سے انکار کرنا اسلام
اور مشرکین کیا کرتے ہیں۔
- ٢....... آیت قرآنی اور شریعت کے قطعی فیصلوں کے جو معنی اور م
ثابت ہیں یا آپ کے بعد صحابہؓ اور ائمہ مجتہدینؒ نے وہ معنی لئے ہیں مطلب اس شرعی فیصلے کے متعلق بیان کرے تو ایسا انکار بھی قرآنی فی طرح کفر ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے: ”فلا وربك لا يؤمنون حتى بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت و پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک وہ آپ کو ہر بات میں اپنا حکم تجویز نہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی گردن نہ جھکائیں وہ کبھی مسل
”لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم ر اياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا جو ان میں سے ایک پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور نفوس کو شبہات اور گناہوں کی پلیدی سے پ معانی اور مطالب بیان کرتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔
اس آیت میں نبی عربی ﷺ کو قرآن شریف کے سکھا اسی صورتوں میں ہو سکتی ہے جب کہ آپ کے بیان کردہ معانی اور ورنہ آپ کا معلم قرآن ہونا باقی نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ کسی مس
٩
پیش کرنے اور آیت کے متعلق فوائد اور حکمتیں بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مذکورہ بالا آیات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک شے کے انکار کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ محض کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنا یا نماز پڑھنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اجمالی یا تفصیلی طور پر شریعت کے تمام قطعی اور یقینی فیصلوں کو ماننا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنے سے آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ مگر انکار دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔
- ١....... صاف اور صریح طور پر کسی چیز کو ماننے سے انکار کرنا اسلام سے ایسا انکار یہود و نصاریٰ
اور مشرکین کیا کرتے ہیں۔
- ٢....... آیت قرآنی اور شریعت کے قطعی فیصلوں کے جو معنی اور مطلب رسول خدا ﷺ سے
ثابت ہیں یا آپ کے بعد صحابہؓ اور ائمہ مجتہدینؒ نے وہ معنی لئے ہیں ان کے خلاف کوئی اور ہی مطلب اس شرعی فیصلے کے متعلق بیان کرے تو ایسا انکار بھی قرآنی فیصلے کے مطابق پہلے انکار کی طرح کفر ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے: ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما“ ”تیرے پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک وہ آپ کو ہر بات میں اپنا حکم تجویز نہ کریں اور اپنے ہر فیصلہ کو بخوشی تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی گردن نہ جھکائیں وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے۔
”لقد من الله على المؤمنين اذ بعث فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين“ اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا جو ان میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو اس کی آیتیں پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور نفوس کو شبہات اور گناہوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے۔ قرآن عزیز کے معانی اور مطالب بیان کرتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔
اس آیت میں نبی عربی ﷺ کو قرآن شریف کے سکھانے والا فرمایا گیا ہے۔ یہ بات اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب کہ آپ کے بیان کردہ معانی اور مطالب کو بعینہ قائم رکھا جائے۔ ورنہ آپ کا معلم قرآن ہونا باقی نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ کسی مسلمان مرد یا عورت کو یہ اختیار نہیں
٩
دیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے صریح فیصلوں کو چھوڑ کر اسلام میں کوئی نیا راستہ تجویز کرے۔ لہٰذا اگر کوئی بد باطن اسلام میں درمیانی راستہ نکال کر اس کا نام اسلام رکھے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے تو ایسا خود ساختہ اسلام بعینہ نبی کریمﷺ کا پیش کردہ اسلام ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ رسول خداﷺ ہی کے بتائے ہوئے اصول اور ضابطوں میں نجات ہے۔ باقی راستے تمام ضلالت اور گمراہی کے ہیں۔ بلکہ قرآن مجید میں ایسے شخص کو جو اسلامی تعلیم کو نئے رنگ میں پیش کر کے مذہب میں ایک درمیانی راستہ نکالنا چاہتا ہے۔ کافر اور بے دین فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت: ”يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا اُولٰئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا“ سے ظاہر ہے۔ یعنی جو لوگ اسلام کی بعض باتوں کا انکار اور بعض کا اقرار کرتے ہوئے دین میں ایک درمیانی راستہ تجویز کرنا چاہتے ہیں وہ قطعاً کافر اور بے دین ہیں۔
اس قسم کی آیتوں سے اب تک یہ بات معلوم ہوئی کہ:
- ......١ اللہ یا اس کے رسول کا انکار کرنے۔
- ......٢ قرآن کی کسی آیت کو جھٹلانے۔
- ......٣ یا ان میں سے کسی ایک کا استہزاء اور مذاق اڑانے۔
- ......٤ اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک رسول کی شان میں گستاخی کرنے۔
- ......٥ قطعی حکم کو نہ ماننے۔
- ......٦ حلال کو حرام یا حرام کو حلال جاننے۔
- ......٧ اسلام کے کسی حکم یا فیصلے کے متعلق نکتہ چینی یا عیب جوئی کرنے۔
- ......٨ فرشتوں کے وجود یا انبیاء علیہم السلام کے پاس ان کی آمدورفت کا انکار کرنے۔
- ......٩ کسی نبی کے ان معجزات کو جن کا ذکر قرآن مجید میں صاف اور صریح طور پر آیا ہے نہ
ماننے۔
- ......١٠ قرآن شریف کے صریح احکام کے خلاف اپنی طرف سے ایسی تاویلات گھڑنے سے
آدمی کافر ہو جاتا ہے جو نبی کریمﷺ اور صحابہ کی تصریحات کے مخالف ہیں۔ پھر اسلام سے خارج ہونے کے لئے ان تمام وجوہوں کا جمع ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ان میں سے ایک وجہ بھی کسی شخص میں یقیناً موجود ہوگی وہ اسلام سے خارج اور قطعی طور پر کافر سمجھا جائے گا۔
١٠
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین قرآن اور حدیث کے خلاف ایسے خیالات اور عقیدے ظاہر کرت سے نہیں بلکہ متعدد وجوہات سے کفر عائد ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن مجی وجيهاً ”عیسیٰ بن مریم علیہا السلام اللہ کی نظر میں بزرگ اور محترم
......١ ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ ش
کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت ا خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ سے مانع تھے۔“
”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حض گوئیاں صاف طور پر جھوٹ نکلیں۔ آج کون زمین پر ہے جو ا
......٢ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔
اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہ (حاشی
اس قسم کی لغویات سے اس کی کتابیں بھری پڑی چند بیان کی ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں حضرت ہستی کے متعلق تین قسم کی گستاخیاں بیان کی ہیں۔
......١ العیاذ باللہ! آپ کی دادیوں و نانیوں کو کسبی کہ
بتایا۔ باوجودیکہ قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کے ہے۔ جیسا کہ آیت ”يَا اُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ ا سے ظاہر ہے۔ یعنی اے مریم تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا مرزا قادیانی قرآن کریم کی مخالفت کرتے ہوئے خدا کے غض
١١
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی۔ قرآن اور حدیث کے خلاف ایسے خیالات اور عقیدے ظاہر کر رہے ہیں جن سے ان پر ایک وجہ سے نہیں بلکہ متعدد وجوہات سے کفر عائد ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن میں فرماتا ہے۔ ”وكان عند الله وجیہاً“ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اللہ کی نظر میں بزرگ اور محترم تھے۔ مگر مرزا قادیانی کہتا ہے:
- ١...... ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا
کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں یا ان پر اپنے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس واسطے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص٤، خزائن ج١٨ ص٢٢٠)
”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹ نکلیں۔ آج کون زمین پر ہے جو اس عقدے کو حل کرے۔“
(اعجاز احمدی ص١٤، خزائن ج١٩ ص١٢١)
- ٢...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں ان کی زنا کار
اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)
اس قسم کی لغویات سے اس کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ہم نے طوالت کے خوف سے چند بیان کی ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس اور بزرگ ہستی کے متعلق تین قسم کی گستاخیاں بیان کی ہیں۔
- ١:...... العیاذ باللہ! آپ کی دادیوں و نانیوں کو کسبی کہا اور آپ کو کسبیوں کے خاندان سے
بتایا۔ باوجودیکہ قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کے والدین کو صالح اور نیک بخت کہا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت ”یا اخت ہارون ماکان ابوک امراسوء وما کانت امک بغیا“ سے ظاہر ہے۔ یعنی اے مریم تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا اور تیری ماں بھی زنا کار نہ تھی۔ مگر مرزا قادیانی قرآن کریم کی مخالفت کرتے ہوئے خدا کے غصہ اور غضب سے نہیں ڈرتا۔
١١
دوسری اور تیسری گستاخی یہ کی کہ آپ کو فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھنے والا، ان کی کمائی کھانے والا، شرابی اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس بدزبانی سے ایک برگزیدہ رسول کی توہین کے علاوہ آیت "وكان عند الله وجيهاً" ﴿عیسیٰ بن مریم اللہ کی نظر میں بزرگ اور محترم تھے۔﴾ کی تکذیب کی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ فاسق اور گنہگار کو رسول بنا کر بھیجتا رہا ہے۔ ایسا ملحد اور بدزبان آدمی قرآنی فیصلے کے مطابق یقینی طور پر مردود اور کافر ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپ کو ولد الزنا اور آپ کی والدہ محترمہ کو زنا کار کہا ہے۔
ملاحظہ ہو:
- .......١ "اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر
بزرگان قوم کی ہدایت اور اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ہے۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے ساتھ نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔"
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
- .......٢ "یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی
بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔"
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
ان دونوں عبارتوں سے صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو یوسف نجار کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے زنا کا حمل ہو گیا تھا۔ لعنت بوے!
مرزا قادیانی نے اس بیہودہ گوئی میں خدا کے ایک بزرگ اور اولو العزم رسول کی توہین کرنے کے علاوہ قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلایا ہے۔ "والتي احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلناها وابنها آية للعالمين" "وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کو مرد سے بچا کر رکھا۔ ہم نے اس کے رحم میں ایک پاک روح پھونکی۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو عالم کے واسطے نشانی بنایا۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی نیک چلنی اور پاکدامنی کی تعریف کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق سورہ آل
١٢
عمران میں اس طرح ارشاد ہوا ہے۔ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل ادم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون“
عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم علیہ السلام کی طرح ہے۔ جس طرح آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے بنایا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے لفظ کن یعنی محض ارادہ کے ساتھ پیدا کیا۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش آدم علیہ السلام کی طرح بغیر باپ کے بتلائی ہے۔ بلکہ حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کا بہتان باندھنے والوں یہودی صفتوں کو قرآن مجید میں کافر کہا ہے۔ ایک نبی کی توہین اور قرآن کریم کی تکذیب کرنا کافر ہونے اور جہنم میں جھکنے کے لئے کافی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ سید الانبیاء شفیع روز جزا کی ہمسری کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ حتیٰ کہ بعض جگہ افضلیت کا دعویٰ دار بن گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- .......1 ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز نبی مقدس نبی گزر چکے
ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جاویں۔ سو وہ میں ہوں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص١١٨)
گویا عیاذ باللہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی بزرگیاں جن میں رسول خدا ﷺ بھی ہیں۔ مرزا قادیانی میں جمع ہو گئیں اور اس طرح مرزا قادیانی تمام نبیوں سے خاکم بدہن بڑھ گیا۔
- ......٢ ”اور مجھے بتلایا گیا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا
مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسوله بالھدى ودین الحق لیظهره علی الدین کله“
(اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج١٩ ص١١٣)
تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ آیت رسالت پناہ ﷺ کی شان عالی میں نازل ہوئی ہے اور رسول سے آپ کی ہی ذات گرامی مراد ہے اور آپ ہی سے اسلام کے غلبہ کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کہتا ہے کہ تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ یعنی رسول اکرم ﷺ مراد نہیں ہیں۔ (لعنت ہوئے)
اگرچہ اس میں بھی گستاخی کا پہلو نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ لیکن دوسری جگہ کھلم کھلا بے ادبی اور گستاخی پر اتر آیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- .......1 ”حضرت محمد ﷺ کی وحی بھی غلط نکلی۔“
(ازالہ اوہام ص٦٨٧، خزائن ج٣ ص٤٧٢،٤٧٣)
١٣
- ٢....... ”آنحضرت ﷺ نے زلزال کے معنی غلط سمجھے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٢٨، خزائن ج ٣ ص ١٦٧)
- ٣....... ”آنحضرت کو ابن مریم اور دجال اور خردجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی وحی
نے خبر نہیں دی۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ دجال، خردجال، دابۃ الارض وغیرہ علاماتِ قیامت کا بیان صحیح مشہور حدیثوں میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی کی اس دریدہ دہنی کا یہ مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال اور خردجال، دابۃ الارض یاجوج ماجوج سے جو مراد ظاہر فرمائی ہے وہ نعوذ باللہ صحیح اور درست نہیں اور مرزا قادیانی نے خردجال سے ریل یاجوج ماجوج سے قوم نصاریٰ دجال سے پادری مراد لئے ہیں۔ وہ صحیح ہیں جو بے ادب اور گستاخ اپنی تحقیق کو درست اور رسول خدا ﷺ کے ارشاد کو غلط بتائے وہ یقینا کافر اور جہنمی ہے۔
پھر اس پر ہی بس نہیں کی۔ بلکہ اسلام اور قرآن کریم کی توہین کرتا ہوا کہتا ہے۔
- ١....... ”قرآن مجید میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ١١، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
- ٢....... ”قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(لیکھرام کی موت کا اشتہار، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣٧، حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
مرزا قادیانی کا قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں کہنے کا یہ مطلب ہے کہ ایسا کلام میں بھی بنا سکتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے اس یاوہ گوئی سے قرآن شریف کی اس آیت کو جھٹلانا چاہا ہے۔ ”قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا“ اگر تمام جن وانسان متفقہ طور پر قرآن مجید کی مانند کلام بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔
اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار
ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں
محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفان سے پار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٧، خزائن ج ٢١ ص ١٣٧)
١٤
کر دیا قصوں پہ سارا ختم دین کا کا
مغز فرقان مطہر کیا یہی ہے زہر
کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ
گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی امت
کس طرح راہ مل سکے جب دین ہو تاریک
(براہین احمدیہ
مرزا قادیانی کی اس نظم کا یہ مطلب ہے کہ اگر آج ہم پہلے تھا۔ تو اس میں روحانیت کا ملنا بہت دشوار ہے۔ کیونکہ قرآن م انبیاء سابقین کے حالات ہیں یا نبی عربی ﷺ پر نازل شدہ وحی ک تلقین ہے۔ یہ سب باتیں تیرہ سو برس گزر جانے کی وجہ سے قصے قصوں اور کہانیوں میں روحانیت تلاش کرنی بے فائدہ اور فضول حقانیت ثابت کرنے کے لئے نبوت اور وحی کا دروازہ ہمیشہ ک چاہئے۔ تاکہ اسلام میں تازہ بتازہ روحانیت کا ثبوت ملتا رہے۔ نہیں رہ سکتی۔ (نعوذ بالله من هذا الخرافات) اور مرزا فرشتوں کی حقیقت اور دنیا میں ان کے آنے کے بھی منکر ہیں۔ ملا
- ١....... ”فرشتے نفوس فلکیہ اور کواکب کا نام ہے جو کچھ ہوت
ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔“ (توضیح الم
- ٢....... ”جبرائیل کبھی زمین پر نہیں آئے اور نہ آتے ہیں۔“ (ا
نفوس فلکیہ اور کواکب کو فرشتے کہنا اور سیارات کو م صد ہا تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے قطعی طور پر کفر ہے کوسیاروں کی تاثیرات کی وجہ سے مانتے ہیں۔ وہ اللہ کے منکر الایمان ،صحیح مسلم) دوسرے جبرائیل علیہ السلام کی دنیا میں تشریف ہیں کہ آج تک دنیا میں نہ کوئی رسول ہوا اور نہ کسی پر وحی الہی ١٥
کر دیا قصوں پہ سارا ختم دین کا کاروبار
مغز فرقان مطہر کیا یہی ہے زہد خشک
کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار
گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی امت ہلاک
کس طرح راہ مل سکے جب دین ہو تاریک و تار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٢، خزائن ج ٢١ ص ١٣٢)
مرزا قادیانی کی اس نظم کا یہ مطلب ہے کہ اگر آج بھی وہی اسلام ہے جو تیرہ سو برس پہلے تھا۔ تو اس میں روحانیت کا ملنا بہت دشوار ہے۔ کیونکہ قرآن عزیز اور دیگر اسلامی روایات میں انبیاء سابقین کے حالات ہیں یا نبی عربی ﷺ پر نازل شدہ وحی کا بیان اور مسلمانوں کو مسائل کی تلقین ہے۔ یہ سب باتیں تیرہ سو برس گزر جانے کی وجہ سے قصص اور کہانیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ قصوں اور کہانیوں میں روحانیت تلاش کرنی بے فائدہ اور فضول کام ہے۔ اس لئے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے نبوت اور وحی کا دروازہ ہمیشہ کے واسطے مفتوح اور کھلا ہوا رہنا چاہئے۔ تاکہ اسلام میں تازہ بتازہ روحانیت کا ثبوت ملتا رہے۔ ورنہ اسلام میں روحانیت باقی نہیں رہ سکتی۔ (نعوذ باللہ من ھذا الخرافات) اور لیجئے مرزا قادیانی اور اس کے متبعین فرشتوں کی حقیقت اور دنیا میں ان کے آنے کے بھی منکر ہیں۔ ملاحظہ ہو:
- ١....... ”فرشتے نفوس فلکیہ اور کواکب کا نام ہے جو کچھ ہوتا ہے وہ سیارات کی تاثیرات سے
ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔“
(توضیح المرام ملخصاً ص ٣٣، خزائن ج ٣ ص ٧٦)
- ٢....... ”جبرائیل کبھی زمین پر نہیں آئے اور نہ آتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦)
نفوس فلکیہ اور کواکب کو فرشتے کہنا اور سیارات کو موثر حقیقی جاننا قرآن اور حدیث کی صد ہا تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے قطعی طور پر کفر ہے۔ صحیح مسلم میں ہے۔ جو لوگ بارش کو سیاروں کی تاثیرات کی وجہ سے مانتے ہیں۔ وہ اللہ کے منکر اور کفر کرنے والے ہیں۔ (کتاب الایمان، صحیح مسلم) دوسرے جبرائیل علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے انکار کرنے کے یہ معنی ہیں کہ آج تک دنیا میں نہ کوئی رسول ہوا اور نہ کسی پر وحی الٰہی نازل ہوئی۔ کیونکہ جبرائیل ہی وحی
١٥
پہنچانے پر مامور ہیں اور وہ دنیا میں تشریف نہیں لاتے۔
اس کے علاوہ قرآن کی آیت ”فتمثل لھا بشراً سویا“ کا بھی انکار ہوا۔ جس میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس جبرائیل امین کا انسانی شکل میں آنا مذکور ہے۔
نیز اس آیت سے بھی انکار ہوا جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس خدا کے چند فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو انسان سمجھنے کی وجہ سے بھنا ہوا گوشت ان کے کھانے کے واسطے پیش کیا تھا اور حضرت لوط علیہ السلام ان کو نو عمر لڑکے سمجھ کر دیر تک اپنی قوم سے لڑتے اور جھگڑتے رہے تھے۔ مرزائی جماعت اس قسم کی تمام آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے یقیناً اسلام سے خارج اور جہنمی ہے۔
اس کے علاوہ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین نے قرآن کریم کی ان تمام آیتوں کا انکار کیا ہے۔ جن میں انبیاء علیہ السلام کے معجزات کا ذکر ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے:
- .......١ ”قرآن شریف میں جو معجزے ہیں وہ مسمریزم ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٢ تا ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ تا ٢٦١)
- .......٢ ”حضرت مسیح علیہ السلام مسمریزم میں مشق کرتے اور کمال رکھتے تھے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٦، ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ حاشیہ)
- .......٣ ”اور لوگ ان کو شناخت کرلیں کہ درحقیقت یہ لوگ مرچکے تھے اور اب زندہ ہوگئے
ہیں۔ وعظوں اور لیکچروں سے شور مچادیں کہ درحقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے سچا ہے۔ سو یاد رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے اور جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہوچکے ہیں۔ وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے۔“
(نصرۃ الحق ص ٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤٢)
- .......٤ ”بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی
رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣ حاشیہ)
نیز مرزا قادیانی نے معجزہ شق القمر کو چاند گرہن بتایا ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٢، خزائن ج ٢١ ص ٨٢، اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
نیز قرآن مجید کی اس آیت سے بھی انکار ہے۔ جس میں ایک رات کے اندر رسول
١٦
خدا ﷺ کا مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک جانا مذکور ہے۔ بلکہ قادیان میں آکر یہ ظاہر کیا کہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی پہلے محمد ﷺ اب قادیان کی مسجد اقصیٰ میں آگیا۔ اسی کا نام حلول ہے۔ چنانچہ بروزت کا دعویٰ اسی پر مبنی ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا باتفاق علماء اسلام کفر ہے۔ اس موقعہ کی مناسبت سے
- .......١ ”وہ محمدؐ ہی ہے۔ گو ظلی طور پر۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص
- .......٢ ”یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہوکر ان
مسمی ہوکر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص
ظاہر ہے کہ جو شخص قرآنی معجزات کو نہ مانے وہ قرآن مجید کی وجہ سے جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یقیناً کافر اور بے دین ہے۔
نیز مرزائی جماعت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی اپنے مرشد مرزا تفسیر کرنے میں نبی عربی ﷺ کی تلقین اور صحابہؓ کی تشریحات کی پابند نہیں اس کے موافق قرآن کی تاویل اور توضیح بیان کرتا ہے۔ حالانکہ احادیث و نقلیات میں قرآن شریف کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنی موجب کفر (براہین احمدیہ حصہ ٤ ص ٩١، خزائن ج ٢١ ص ١١٩) پر اس آیت کی تفسیر کرتا ہوا لکھتا ہ
الارض وآتينه من كل شئی سبباً “ یعنی مسیح موعود کو جزو القر زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“
یعنی تمام سورت کو مسخ کرکے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ نی مرزا قادیانیت اس قسم کی لغویات سے بھری پڑی ہے۔ حیات مسیح علیہ السل کے متعلق جملہ آیات کی غلط تاویلیں کی ہیں اور احادیث نبی کریم ﷺ کی پرواہ نہیں کی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ حضور ﷺ کو ان کی صحیح اطلاع ہی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کے بتائے ہوئے معنوں کے موافق نہی اس کے علاوہ آج کل مرزائی جماعت کا طرز عمل اور ان ک ہمارے اس دعویٰ پر کھلی ہوئی شہادت ہیں۔ جس کا جی چاہے ان کی مع لے۔ نیز جنگ جارحانہ جو اسلام کی عزت اور وقار کو قائم رکھنے اور کفر کا زور توڑنے اور تبلیغی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ جس کے
١٧
محمدﷺ کا مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک جانا مذکور ہے۔ بلکہ قادیان میں ایک مسجد اقصیٰ تیار کر کے یہ ظاہر کیا کہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی پہلے محمدﷺ بن کر مکہ میں پیدا ہوا اور اب قادیان کی مسجد اقصیٰ میں آگیا۔ اسی کا نام حلول ہے۔ چنانچہ نبوت کا دعویٰ عقیدہ حلول ہی پر مبنی ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا باتفاق علماء اسلام کفر ہے۔ اس موقعہ کی مناسبت چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:
- ١...... ”وہ محمدؐ ہی ہے۔ گو ظلی طور پر۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢٠٩)
- ٢...... ”یعنی محمد مصطفےٰﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد اور احمد سے
مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٧، خزائن ج١٨ ص٢١١)
ظاہر ہے کہ جو شخص قرآنی معجزات کو نہ مانے وہ قرآن مجید کی آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ یقیناً کافر اور بے دین ہے۔
نیز مرزائی جماعت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی اپنے مرشد مرزا کی طرح قرآن عزیز کی تفسیر کرنے میں نبی عربیﷺ کی تحقیق اور صحابہؓ کی تشریحات کی پابند نہیں ہے۔ جو دل میں آتا ہے اس کے موافق قرآن کی تاویل اور توضیح بیان کرتا ہے۔ پہلے اچھی طرح ثابت ہو چکا ہے کہ قطعیات میں قرآن شریف کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنی موجب کفر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی (براہین احمدیہ حصہ ٥ ص٩١، خزائن ج٢١ ص١١٩) پر اس آیت کی تفسیر کرتا ہوا لکھتا ہے: ”انا مکنا لہ فی الارض واتیناہ من کل شئ سبباً “یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“
یعنی تمام سورت کو مسخ کر کے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ نیز شہادت القرآن مصنفہ مرزا قادیانی اس قسم کی لغویات سے بھری پڑی ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام اور معجزات انبیاء کرام کے متعلق جملہ آیات کی غلط تاویلیں کی ہیں اور ان میں نبی کریمﷺ کی تحقیقات کی مطلقاً پرواہ نہیں کی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ حضورﷺ کو ان کی صحیح اطلاع ہی نہیں دی گئی اور حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کے بتائے ہوئے معنوں کے موافق نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ آج کل مرزائی جماعت کا طرز عمل اور ان کے مطبوعہ تراجم اور تفسیریں ہمارے اس دعویٰ پر کھلی ہوئی شہادت ہیں۔ جس کا جی چاہے ان کی معنوی تحریفات کو اٹھا کر دیکھ لے۔ نیز جنگ جارحانہ جو اسلام کی عزت اور وقار کو قائم رکھنے اور کفر کا غلبہ اٹھانے حق وانصاف کو پھیلانے تبلیغی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ جس کے ثبوت میں احادیث نبویہ
١٧
قرآن کی صد ہا آیتیں موجود ہیں اور صحابہ کو قیصر و کسریٰ سے ان کے ملکوں میں جا کر جنگ کرنا اس پر شاہد عادل ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کو اس سے صاف انکار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے متعلق قرآن عزیز کی آیتوں اور صحیح حدیثوں کے غلط معنی بیان کرنا ختم نبوت اور معراج جسمانی سے انکار کرنا اس کے علاوہ ہیں۔
مرزا قادیانی جس عقیدے پر مرے ہیں اور جو اسلام آج بھی مرزائی جماعت لوگوں کے سامنے پیش کر رہی ہے وہ یہ ہے۔
- .......١ "فرشتے کواکب اور نفوس فلکیہ کا نام ہے۔"
- .......٢ "ملائکہ کسی نبی کے پاس وحی لے کر زمین پر نہیں آئے اور نہ وہ کسی انسان کی شکل
اختیار کرتے ہیں۔"
- .......٣ "اسلام میں جنگ جارحانہ یا جہاد فی سبیل اللہ کوئی چیز نہیں بلکہ گناہ ہے۔"
- .......٤ "قرآن عزیز کی تفسیر اور کسی آیت کے معنی اور مطلب بیان کرنے میں رسول اللہ ﷺ
کی تفسیر پر چلنا ضروری نہیں ہے اور نہ صحابہ کا اتباع لازمی ہے۔"
- .......٥ "کبھی کسی نبی سے خرق عادت معجزہ ظاہر نہیں ہوا اور جن معجزات کا قرآن کریم میں
ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں۔ جیسا کہ آج تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں۔ بلکہ ان سے مرزا قادیانی کے بیان کردہ تاویلی معنی مراد ہیں۔"
- .......٦ "عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے اور نہ
مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے۔ جن آیات یا حدیثوں سے حیات مسیح اور ظہور مہدی کا پتہ چلتا ہے۔ وہ قابل اعتبار نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے بیان کردہ معنی کے خلاف ہیں۔"
- .......٧ "عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ حضرت مریم کا نکاح سے پہلے
ناجائز تعلق یوسف نجار کے ساتھ ہوگیا تھا۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔"
(لعنت اللہ علیہ)
- .......٨ "یاجوج ماجوج دجال دابۃ الارض وغیرہ کا مطلب جو رسول خدا ﷺ نے بیان فرمایا
ہے صحیح نہیں۔ کیونکہ حضور کو ان چیزوں کی صحیح اطلاع نہیں دی گئی۔ اس کے حقیقی معنی مرزا قادیانی کو بتائے گئے ہیں۔ یہ تمام عقیدے لاہوری اور قادیانی جماعت میں مشترک ہیں۔ یہی وہ اسلام ہے جس کو ان کی تبلیغی مشنریاں یورپ وامریکہ میں پیش کرتی ہیں۔ جن پر ان کو بڑا ناز ہے اور ہمارے
١٨
١٧٧ فریب خوردہ ناواقف مسلمان بھائی ان کی کوششوں کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں علاوہ قادیانی جماعت کو ختم نبوت سے بھی انکار ہے اور آج بھی نبوت جاری سمجھتے ہیں۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبیوں کی طرح اب بھی آتے رہنا مانتے ہیں۔
تمام دنیا کے مسلمانوں کا عقیدہ بروے قرآن وحدیث ان مسائل کے متعلق یہ رہا ہے۔
- .......١ "فرشتے خدا کی ایک مخلوق ہے جو نور سے پیدا کی گئی۔ نہ ان میں مذکر
مؤنث اور نہ انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں۔ زمین پر آتے جاتے ہیں انبیاء علیہم السلام کے پاس آتے رہے اور کبھی اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوکر ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں۔"
- .......٢ "جہاد کرنا اسلام کی عزت اور وقار کے لئے ضروری ہے۔ جہاد میں
کٹ مرنا قرب الٰہی کا بڑا درجہ ہے۔"
- .......٣ "قرآن مجید کی تفسیر میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق اور صحابہ کرام کی رائے کے خلاف اپنی
رائے کو دخل دینا کفر ہے اور اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔"
- .......٤ "انبیاء علیہم السلام سے بہت سی خرق عادت باتیں ظاہر ہوئی ہیں جن کا
ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان سے وہ ہی معنی مراد ہیں۔ جو قرآن مجید میں بیان کئے جارہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر دوسرے معنی اپنی طرف سے گھڑنا کفر ہے۔"
- .......٥ "عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے
قرآن شریف اور صد ہا حدیثوں سے ایسا ہی ثابت ہے اور اسی پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔" صاحب الیواقیت والجواہر)
- .......٦ "عیسیٰ علیہ السلام قدرت الٰہی سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت مریم
عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ ان پر زنا کی تہمت لگانے والا بروے قرآن مجید کافر ہے۔"
- .......٧ "یاجوج ماجوج، دجال، خروج دجال، دابۃ الارض اور اسی طرح کی دیگر
نشانیاں اپنی حقیقت پر محمول ہیں اور ان سے وہی مراد ہے جو رسالت مآب ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ اس کے خلاف کہنے والا یقینی اور قطعی طور پر جہنمی ہے۔"
- .......٨ "آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے اور ایسا ہی قرآن مجید سے ثابت ہے۔"
١٩
فریب خوردہ ناواقف مسلمان بھائی ان کی کوششوں کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ ان عقائد باطلہ کے علاوہ قادیانی جماعت کو ختم نبوت سے بھی انکار ہے اور آج بھی نبوت غیر تشریعی کا دروازہ مفتوح سمجھتے ہیں۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبیوں کی طرح اس امت میں بھی نبیوں کا آتے رہنا مانتے ہیں۔"
تمام دنیا کے مسلمانوں کا عقیدہ بروئے قرآن وحدیث ہر زمانہ میں ان چیزوں کے متعلق یہ رہا ہے۔
- ......١ "فرشتے خدا کی ایک مخلوق ہے جو نور سے پیدا کی گئی۔ نہ ان میں کوئی مذکر ہے اور نہ
مؤنث اور نہ انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں۔ زمین پر آتے جاتے ہیں۔ کبھی انسانی شکل میں انبیاء علیہم السلام کے پاس آتے رہے اور کبھی اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوئے۔ خدا کی نافرمانی اور ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں۔"
- ......٢ "جہاد کرنا اسلام کی عزت اور وقار کے لئے ضروری ہے۔ دین اسلام کی حمایت میں
کٹ مرنا قرب الٰہی کا بڑا درجہ ہے۔"
- ......٣ "قرآن مجید کی تفسیر میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق اور صحابہ کرام کی اتباع کو چھوڑ کر اپنی
رائے کو دخل دینا کفر ہے اور اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔"
- ......٤ "انبیاء علیہم السلام سے بہت سی خارق عادت باتیں ظاہر ہوئیں اور ان میں سے جن کا
ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان سے وہ ہی معنی مراد ہیں۔ جو قرآن کے ظاہری الفاظ سے سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر دوسرے معنی اپنی طرف سے گھڑنے کفر ہیں۔"
- ......٥ "عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانہ میں زمین پر اتریں گے۔
قرآن شریف اور صدہا حدیثوں سے ایسا ہی ثابت ہے اور اسی پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔" (نقلہ صاحب الیواقیت والجواہر)
- ......٦ "عیسیٰ علیہ السلام قدرت الٰہی سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ان کی والدہ ماجدہ
عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ ان پر زنا کی تہمت لگانے والا بروئے قرآن شریف کافر ہے۔"
- ......٧ "یاجوج ماجوج، دجال، خر دجال، دابۃ الارض اور اسی طرح کی دوسری قیامت کی
نشانیاں اپنی حقیقت پر محمول ہیں اور ان سے وہی مراد ہے جو رسالت پناہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ اس کے خلاف کہنے والا یقینی اور قطعی طور پر جہنمی ہے۔"
- ......٨ "آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے اور ایسا ہی قرآن اور حدیث سے ظاہر ہے۔
١٩
آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص تشریعی یا غیر تشریعی نبی بن کر نہیں آئے گا اور جو ایسا عقیدہ رکھے گا وہ یقیناً ملحد اور بے دین ہے۔ لیکن پہلے نبیوں میں سے کسی نبی کی موجودگی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے عطاء نبوت کے سلسلہ کو بند کرنا مراد ہے۔ نبوت سابقہ کا چھین لینا مراد نہیں۔ ورنہ اس کا نام سلب نبوت ہوگا۔ ختم نبوت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہی معنی ختم نبوت کے نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے روز تمام انبیاء نبوت کے ساتھ متصف ہوں گے۔ مگر اس سے حضور ﷺ کی ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔"
مرزائی صاحبان خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی جن عقائد دینیہ میں وہ مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اگر آج وہ ایسے عقیدوں کی اصلاح نبی کریم ﷺ کی اتباع اور صحابہؓ کے طریق عمل میں تلاش کریں اور رسول خدا ﷺ کی غلامی اور ان کی تعلیم و تربیت ہی میں نجات کو منحصر جانیں تو دنیا کا ہر سچا مسلمان ان کو اپنے گلے سے لگانے کے لئے تیار ہے۔ لیکن اگر وہ رسالت پناہ ﷺ کی ہدایات اور آپ کے بیان کردہ معانی اور تشریحات کے خلاف اپنی طرف سے کوئی معنی اور مطلب گھڑ کر اس کا نام اسلام رکھ لیں تو مسلمان ایسی ملحد اور بے دین جماعت کو قرآنی فیصلے کی وجہ سے مردود اور کافر کہنے پر مجبور ہیں۔
کیونکہ اگر نفوس فلکیہ اور کواکب کا نام فرشتہ رکھ لیا گیا۔ تو اس سے فرشتوں کے وجود کا اقرار نہیں سمجھا جا سکتا اور اگر سیاروں کی تاثیرات کو نزول ملائک سے تعبیر کیا گیا تو اس سے فرشتوں کی زمین پر آمدورفت کا اقرار نہیں کہہ سکتے۔ ملائکہ کے وجود اور ان کے نزول وصعود کا اقرار اسی وقت صحیح ہوگا۔ جب کہ قرآن وحدیث کی تصریحات کے موافق اس کو تسلیم کر لیا گیا۔ ورنہ ان کا یہ فعل شریعت محمدی کی مخالفت اور دین الہی کے مسخ و تبدیل کرنے پر محمول ہوگا۔ اسی طرح معجزہ کا اقرار اسی صورت میں مانا جائے گا۔ جب کہ خارق عادت امور کا ظہور تسلیم کر لیا گیا اور عصاء موسوی کا اژدھا بن جانا احیاء موتی اور شق القمر وغیرہ معجزات کو ایسے معنی پر اتارا گیا۔ جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ سے ثابت ہیں۔ ورنہ اگر قحط سالی اور زلزلہ وغیرہ حوادثات دنیوی میں معجزہ کو منحصر سمجھا گیا اور خارق عادت امور کے وقوع سے انکار کر کے قرآن کریم کی تکذیب کی گئی تو اس حالت میں کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔
اسی طرح آیات قرآنیہ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کی تحقیق پر نہ چلنا جہنم میں داخل کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ کیونکہ اسلام اور ایمان وہی ہے جو رسول خدا ﷺ نے بیان فرمایا اور صحابہؓ نے اس کو اختیار کیا۔ لہذا اگر آج کوئی شخص عقائد دینیہ اور آیات قرآنیہ کے معنی اور مطالب
٢٠
صحابہؓ کی تحقیقات کے موافق تسلیم کرتا ہے تو ایسا ایمان اور اسلام بالکل صحیح ان کی تشریح اور تحقیق کے خلاف دوسرے معنی بیان کرے تو ایسا آدمی یقیناً کہ قرآن کی اس آیت سے ظاہر ہے۔ "فان آمنوا بمثل ما آمن تولوا فانماهم فی شقاق"
اس آیت میں صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا طرح ایمان لائیں یعنی جن چیزوں کو جس طرح تم مانتے ہو اسی طرح پر ہیں اور اگر وہ تمہاری طرح ایمان نہ لائیں اور اس سے اعراض کر گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک اور جگہ یہ ارشاد ہوا ہے۔ "ومن بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله وسأت مصيرا"
جو شخص حق ظاہر ہونے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کر کر کوئی اور راستہ عمل کا تجویز کرے ہم اس کو حق سے ہٹا کر جہنم میں جھو
اس آیت میں مومنین سے مراد صحابہؓ کی جماعت ہے۔ انہی کا راستہ سب گمراہی ہے۔
سورۃ توبہ میں ہے۔ "والسابقون الاولون من والذين اتبعوهم باحسان رضی الله عنهم ورضوا والے مہاجرین اور انصار اور ان کی سچی اتباع کرنے والوں سے ال راضی ہو گئے ہیں۔
ایک آیت میں یوں آیا ہے۔ "والذين آمنوا وهاجر الله والذين اوو ونصروا اولئك هم المؤمنون حقاً"
یعنی مہاجرین اور انصار ہی سچے مؤمن ہیں۔ جنہوں نے خدا کے رسول کو جگہ دی اور ان کی ہر طرح مدد فرمائی۔ معلوم ہوا کہ منحصر ہے۔ جس کو صحابہؓ اور ان کے متبعین نے اختیار کیا۔ اس لئے جہنمی اور کافر ہے۔ مرزائی جماعت نے فرشتوں، دجال، خردجال، جو معنی بیان کئے ہیں اگر اس کا ثبوت صحابہؓ کی تحقیقات سے پی بالرائے کا جواز قرآن اور حدیث سے ثابت کر دیں تو ہم بھی یہی کہ
٢١
صحابہ کی تحقیقات کے موافق تسلیم کرتا ہے تو ایسا ایمان اور اسلام بالکل صحیح اور درست ہے اور اگر کوئی ان کی تشریح اور تحقیق کے خلاف دوسرے معنی بیان کرے تو ایسا آدمی یقیناً جہنمی اور کافر ہے۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت سے ظاہر ہے۔ ”فان آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم فی شقاق“
اس آیت میں صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لوگ تمہاری طرح ایمان لائیں یعنی جن چیزوں کو جس طرح تم مانتے ہو اسی طرح وہ بھی مانیں تو وہ ہدایت پر ہیں اور اگر وہ تمہاری طرح ایمان نہ لائیں اور اس سے اعراض کریں تو پھر وہ اختلاف اور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک اور جگہ یہ ارشاد ہوا ہے۔ ”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيراً“
جو شخص حق ظاہر ہونے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ عمل کا تجویز کرے ہم اس کو حق سے ہٹا کر جہنم میں جھونک دیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں مؤمنین سے مراد صحابہ کی جماعت ہے۔ انہی کا راستہ ہدایت کا راستہ ہے۔ باقی سب گمراہی ہے۔
سورۂ توبہ میں ہے: ”والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه“ نیکی کی طرف دوڑنے والے مہاجرین اور انصار اور ان کی سچی اتباع کرنے والوں سے اللہ راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں۔
ایک آیت میں یوں آیا ہے: ”والذين آمنوا وهاجروا وجاهدوا فی سبيل الله والذين آووا ونصروا اولئك هم المؤمنون حقاً“
یعنی مہاجرین اور انصار ہی سچے مؤمن ہیں۔ جنہوں نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور خدا کے رسول کو جگہ دی اور ان کی ہر طرح مدد فرمائی۔ معلوم ہوا کہ سچائی اور حقانیت اسی راستہ میں منحصر ہے۔ جس کو صحابہ اور ان کے متبعین نے اختیار کیا۔ اس لئے اس کو چھوڑنے والا قطعی طور پر جہنمی اور کافر ہے۔ مرزائی جماعت نے فرشتوں، دجال، خر دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ عقائد کے جو معنی بیان کئے ہیں اگر اس کا ثبوت صحابہ کی تحقیقات سے پیش کر دیں اور نقلیات میں تفسیر بالرائے کا جواز قرآن اور حدیث سے ثابت کر دیں تو ہم بھی یہی کیش و ملت اختیار کرنے کے لئے
٢١
تیار ہیں اور ایک صد روپیہ انعام اس کے علاوہ ہے اور اگر وہ اس کا ثبوت پیش نہ کر سکیں اور یقیناً نہ کر سکیں گے تو پھر مخلص مسلمان بنیں اور عقائد باطلہ سے توبہ کریں یا مسلمانی کا دعویٰ کرنا چھوڑ دیں اور اپنا جتھہ الگ قائم کریں اور اپنی منافقانہ چالوں سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیں۔ ورنہ منتقم حقیقی کے غصہ اور غضب سے ڈرتے رہیں۔ جس کے یہاں دیر ہے۔ مگر اندھیر نہیں۔
رہا یہ شبہ کہ اہل قبلہ کی تکفیر شرعاً ممنوع اور ناجائز فعل ہے اور ہر کلمہ گو کو مسلمان جاننا ضروری ہے۔ اس کے متعلق اس قدر عرض کر دینا کافی ہے کہ جس حدیث کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہوا ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں: ”عن انس قال قال رسول الله ﷺ امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله ويقيموا الصلوة ويؤتوا الزكوة فاذا فعلوا ذلك عصموا منى دماءهم واموالهم الا بحق الاسلام (رواہ البخاری) ”جو شخص کلمہ شہادت زبان پر جاری کرے۔ نمازیں پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اس کا جان و مال محفوظ ہو جائے گا اور وہ مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر اسلام اس کے قتل کا فیصلہ کرے تو وہ اس سزا کا مستحق ہوگا۔
اس حدیث میں ”الا بحق الاسلام“ کی تصریح بتا رہی ہے کہ اہل قبلہ ہونا مسلمان ہونے کے لئے قطعی اور یقینی فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے اس کی مسلمانی پر اسی وقت استدلال کیا جائے گا۔ جب کہ دوسرے حالات اس کے کفر پر صراحتاً دلالت نہ کریں اور اگر اس کا کافر ہونا قطعی طور پر معلوم ہو جائے تو پھر اس پر کافر ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں سے پہلے ثابت ہو چکا ہے اور اس حدیث میں ”الا بحق الاسلام“ کے ساتھ استثناء کرنے کا بھی یہی منشاء ہے۔ اگر مسلمانی ایک مرتبہ ظاہر ہونے کے بعد کسی عقیدے کے انکار یا مخالفت سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے تو استثناء کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت نے زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کیا اور ابو بکر صدیقؓ نے ان کو مرتد قرار دیتے ہوئے ان سے جہاد کی تیاری فرمائی تو حضرت عمرؓ نے روکا اور ان کو کلمہ گو اور اہل قبلہ سمجھتے ہوئے اس امر سے مانع ہوئے لیکن جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اس حدیث کے آخری الفاظوں کی طرف توجہ دلائی تو فوراً انہوں نے تسلیم کر لیا اور صحابہؓ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے پر متفق ہو گئے اور اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ کسی فرض کی فرضیت سے انکار کرنے پر ایک مسلمان باجماع صحابہؓ کافر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اہل قبلہ ہونا کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنا، مسلمان ہونا یہ سب شریعت اسلامیہ کے تسلیم کر لینے کے عنوانات ہیں۔ اس قسم کی حدیثوں کا یہ
٢٢
منشاء ہرگز نہیں کہ ایک آدمی مسلمانوں کا ذبیحہ کھا لینے یا کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنے سے مسلمان ہو جاتا ہے اور آئندہ اسے جنت، دوزخ، قیامت یا شریعت کی دوسری تصریحات پر اجمالی یا تفصیلی ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جو منافقین زبان سے کلمہ جاری کرتے اور نمازیں پڑھتے تھے۔ کبھی دائرہ اسلام سے خارج نہ سمجھے جاتے اور نہ صحابہ محض زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والوں سے جہاد کرتے۔
اور کبھی مرزائی جماعت عدم تکفیر کے ثبوت میں یہ آیت پیش کیا کرتی ہے۔ ”ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مؤمناً“ جو شخص تم سے سلام علیکم کہہ کر اپنی مسلمانی ظاہر کرتا ہے تم اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ اگر مرزائی صاحبان دیانت سے کام لے کر اس آیت کے پہلے الفاظ کو دیکھ لیتے تو ان کو اس سے استدلال کرنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی۔ کیونکہ اس تمام آیت کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ جس کا کفر مشتبہ ہو اور ظاہری علامات سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوتا ہو تو اس کو کافر کہنا ہرگز جائز نہیں۔ اس سے یہ کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ جو شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا صاف طور پر انکار کرے۔ وہ بھی کافر نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس آیت کے پورے الفاظ یہ ہیں: ”یٰا ایھا الذین اٰمنوا اذا ضربتم فی سبیل اللّٰہ فتبینوا ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام“ یعنی اے مسلمانو! جب تم جہاد کرنے کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلو اور کوئی آدمی تمہیں ملے تو پہلے اس کے مسلمان یا کافر ہونے کی پوری تحقیق کرلو۔ اگر وہ اپنا اسلام ظاہر کرتا ہو تو محض ناواقفیت یا شبہے کی وجہ سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ مرزائی صاحبان ”لا تقولوا لمن القی“ کو تو دیکھتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ”فتبینوا“ پر نظر نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ مذکورہ بالا آیات کو سامنے رکھنے والا انسان اسی نتیجہ پر پہنچے گا۔ جو ہم نے بیان کیا ہے۔
اور علماء کے اس قول کا بھی یہی مطلب ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ کسی شخص کے کلام میں ننانوے احتمالات کفر کے اور اسی کلام سے ایک وجہ اس کے ایمان کی ظاہر ہوتی ہو تو اس کو کافر نہ کہو۔ یعنی کسی کو محض شبہ کی وجہ سے کافر نہ کہو۔ جب تک اس کی طرف سے کفر کا صاف طور پر اقرار نہ پایا جائے۔
مرزائی عام طور پر یہ شبہ بھی ظاہر کیا کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہر فریق اپنے مخالف کو کافر کہتا ہے تو اس صورت میں سب کافر ہوئے۔ مسلمان کوئی بھی نہ رہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جن الزامات کے ماتحت ایک فریق دوسرے فریق پر کفر کے فتوے لگاتا ہے۔ فریق مخالف اس
٢٣
سے قطعاً اپنی بے زاری کا اعلان کرتا ہوا صاف طور پر کہہ دیتا ہے کہ اگر میری کسی عبارت سے ایسا مطلب سمجھا گیا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو میری اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔ میں ان باتوں کو ضرور کفر تسلیم کرتا ہوں جو تم نے الزامات میں بیان کی ہیں۔ لیکن میں ان کفریہ باتوں سے بیزار ہوں اور میری اس عبارت سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس کا فلاں فلاں مطلب ہے جس سے کفر ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی اور اس کے متبعین ایسا نہیں کرتے۔ بلکہ وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہم معجزات کو اس رنگ میں ہرگز نہیں مانتے۔ جس طرح دوسرے مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ احیاء موتی اور شق القمر وغیرہ خارق العادات معجزوں سے وہ مراد نہیں ہے۔ جو نصوص کے ظاہر سے سمجھ میں آرہی ہے اور جس پر صحابہ اور ان کے بعد کے آنے والے مسلمان آج تک ایمان رکھتے ہیں۔ بلکہ ان معجزوں سے فلاں فلاں روحانی باتیں مراد ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر یوں نہیں جیسا کہ عام مفسرین لکھ رہے ہیں۔ باوجودیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ معنی جو مرزائی بیان کر رہے ہیں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی تحقیقات کے بالکل خلاف ہیں۔ مگر وہ ان باتوں کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے۔ اسی طرح فرشتوں سے نفوس فلکیہ اور کواکب مراد لیتے ہیں اور اس طرح نہیں مانتے جس طرح آج تک مسلمان مانتے چلے آئے ہیں۔ ایسا ہی جن آیتوں سے صحابہ کرام نے حیات مسیح کو ثابت کیا ہے۔ مرزا انہی سے توڑ مروڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نکالتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کفریہ عقائد سے انکار نہ ہوا بلکہ ان کو تسلیم کر لیا گیا اور التزام کفر کفر ہے۔ لزوم کفر کفر نہیں ہے۔ یعنی کفر کے الزامات سے اپنی بیزاری ظاہر کرنے والا کافر نہیں سمجھا جاتا اور ان الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے تاویلات رکیکہ کی آڑ لے کر اپنے کفر کو چھپانے والا قطعاً کافر ہے۔ جب تک اس کے تمام عقیدے صحابہ کے عقیدوں کے موافق نہیں ہوں گے اور وہ ان کو اسی رنگ میں تسلیم نہیں کرے گا۔ جس رنگ میں سلف صالحین بیان کرتے چلے آئے ہیں تو وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ اس موقعہ پر مسئلے کی تحقیقات کرنے کی وجہ سے کلام میں طوالت پیدا ہو گئی ہے۔ مگر اس طوالت کے بغیر اصل حقیقت ظاہر ہونی بہت مشکل تھی۔ اس لئے ہمیں امید ہے کہ قارئین کرام خاکسار کو اس سمع خراشی میں معذور سمجھتے ہوئے دعائے خیر سے نہ بھولیں گے۔
والسلام وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين! خاکسار: محمد مسلم عثمانی دیوبندی
٢٤
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
مرزائیوں کے
بیس
سوالات کے جوابات
جناب بابو پیر بخش
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مرزائیوں کے
بیس
سوالات کے جوابات
جناب بابو پیر بخش لاہوری
بسم الله الرحمن الرحيم
قارئین کرام !
انجمن تائید اسلام لاہور کی طرف سے مرزائیوں کے بیس سوالات کا جواب
مولوی محمد علی مرزائی نے ان سوالات کی تمہید میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے معاملہ میں افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ یعنی ایک جماعت نے ان کو نبی ورسول یقین کرنے میں افراط کیا ہے۔ اور وہ قادیانی جماعت ہے جو تمام مسلمانوں کو جو مرزا قادیانی کو نبی ورسول نہیں کہتے ان کو کافر سمجھتی ہے۔ اور دوسرا گروہ علمائے اسلام اور عوام اہل اسلام کا ہے۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کو مجدد نہ مانا اور انکار کر کے مرزا قادیانی سے دشمنی وعداوت کی رو سے ان کی تکفیر کی ہے۔ اسی بناء پر مولوی صاحب مذکور نے اہل اسلام کے علماء سے بیس سوال کئے ہیں۔ جن کا جواب انجمن تائید اسلام لاہور کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جس میں علمائے اسلام شامل ہیں اور جس انجمن کے پریذیڈنٹ مولانا مولوی اصغر علی صاحب روحی پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ہیں۔
مولوی محمد علی لاہوری مرزائی کے تمہیدی مضمون کا جواب تو ہم پہلے مرزا قادیانی کے الہامات اور دعاوی سے دیتے ہیں جن سے ثابت ہے کہ نہ تو قادیانی جماعت کا کچھ قصور ہے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو نبی ورسول مانا۔ اور نہ علمائے اسلام کا قصور ہے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو کافر کہا۔ کیونکہ اس پر اجماع امت ١٣ سو برس سے چلا آتا ہے کہ خاتم النبیین کے بعد جو شخص مدعی وحی ہو وہ کافر ہے۔ پس مرزا قادیانی چونکہ مدعی وحی ونبوت اور رسالت ہیں۔ اس لئے علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کو کافر کہا ہے۔
دیکھو الہام مرزا قادیانی جو کہ ان کی کتاب تذکرہ میں ہے: ” انك لمن المرسلين “ (تذکرہ ص ٤٧٩، طبع سوم) یعنی خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو فرماتا ہے۔ کہ اے مرزا تو رسولوں میں سے ایک رسول ہے۔ دوسرے الہام میں مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” قل يأيها الناس انى رسول الله اليكم جميعا “ یعنی اے مرزا تم ان لوگوں کو کہہ دو کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری سب کی طرف آیا ہوں۔ یہ الہام مرزا قادیانی کی کتاب (معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج سوم ص ٢٧٠) میں ہے۔ تیسرا الہام ۔ یعنی مرزا قادیانی کو خدا فرماتا ہے۔ ” قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى “ یعنی اے مرزا تو کہہ دے ان لوگوں کو میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں وحی کیا جاتا ہوں۔
(دیکھو حقیقت الوحی ص ٨١، ج ٢٢ ص ٨٥)
اب مولوی محمد علی صاحب فرماویں کہ اگر قادیانی جما ورسول تسلیم کیا تو مرزا قادیانی کی پیروی کی۔ اور علمائے اسلام نے ان کی تکفیر کی تو حق بجانب ہیں۔ کیونکہ بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ باجماع امت کافر ہے۔ پس افراط وتفریط کا باعث مرزا قادیانی ا کے مرید ہو کر ان کی نبوت ورسالت سے انکار کریں تو احمدی نہیں بـ اختیار کر کے ان کو مسیح موعود یقین کرتے ہیں۔ تو مسلمان بھی نہیں یقین کرتے ہیں اور مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ دوسری طر رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا جس کے اور میرے نزول فرمائیں گے۔ مگر آپ مرزا قادیانی کے دعوے اور تحریرات حدیثات رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں اور من گھڑت اعتراضات ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو رسول ونبی یقین نہیں کرتے صرف مجدد مـ گزرے ہیں۔ کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور سب مریم کا انتظار رہا۔ مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں: ” حضرت عیسیٰ علی سے نزول فرمائینگے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی متابعـ
اب مجددوں میں ایک مجدد تو بتاؤ جس نے اصالتاً نزو اور خود مسیح موعود بن بیٹھا۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ مرزا قـ تھے۔ تب تک دعویٰ بے دلیل ہے کسی گوشہ نشین کو جرنیل نہیں کـ جرنیل نہ ہوں۔ اب ہم مختصر طور پر مجدد کی تعریف جو رسول اللہ ہے۔ لکھ کر مرزا قادیانی کے ماننے والوں سے پوچھتے ہیں کہ مرز ان کو مجدد کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ مجددوں کے برخلاف ہیں۔
- ١...... کسی مجدد کو الہام ہوا ہے کہ: ”انت منی بمنزلة
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن
”انت منی بمنزلة اولادى“
- ٢...... کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”میں کرشن جی کا بروز یعنی
(تحفہ گولڑ
اب مولوی محمد علی صاحب فرماویں کہ اگر قادیانی جماعت نے مرزا قادیانی کو نبی ورسول تسلیم کیا تو مرزا قادیانی کی پیروی کی۔ اور علمائے اسلام نے مرزا قادیانی سے دشمنی کی اور ان کی تکفیر کی تو حق بجانب ہیں۔ کیونکہ بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نبوت ورسالت کا مدعی باجماع امت کافر ہے۔ پس افراط وتفریط کا باعث مرزا قادیانی خود ہی ہیں۔ آپ مرزا قادیانی کے مرید ہو کر ان کی نبوت ورسالت سے انکار کریں تو احمدی نہیں ہیں۔ اور مرزا قادیانی کی مریدی اختیار کر کے ان کو مسیح موعود یقین کرتے ہیں۔ تو مسلمان بھی نہیں رہے کیونکہ مدعی نبوت کو سچا ملہم یقین کرتے ہیں اور مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ دوسری طرف حضرت خلاصۂ موجودات محمد رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اصالتاً نزول فرمائیں گے۔ مگر آپ مرزا قادیانی کے دعوے اور تحریرات اور تاویلات کے مقابل صحیح حدیثات رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں اور من گھڑت اعتراضات کر کے مسلمانوں کو دھوکے دیتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو رسول و نبی یقین نہیں کرتے صرف مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ مجدد جس قدر گزرے ہیں۔ کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور سب مجددوں کو اصالتاً نزول عیسیٰ بن مریم کا انتظار رہا۔ مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جو آسمان سے نزول فرمائینگے تو حضرت خاتم الرسل ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔
(مکتوب ٦٧ دفتر سوم ص ٢٠٥)
اب مجددوں میں ایک مجدد تو بتاؤ جس نے اصالتاً نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کیا ہو اور خود مسیح موعود بن بیٹھا۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ مرزا قادیانی میں مجدد کے صفات موجود تھے۔ تب تک دعویٰ بے دلیل ہے کسی گوشہ نشین کو جرنیل نہیں کہہ سکتے جب تک اس میں صفات جرنیل نہ ہوں۔ اب ہم مختصر طور پر مجدد کی تعریف جو رسول اللہ ﷺ نے اسی حدیث میں فرمائی ہے، لکھ کر مرزا قادیانی کے ماننے والوں سے پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کونسی صفت سے آپ ان کو مجدد کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ مجددوں کے برخلاف ہیں۔
- ......١ کسی مجدد کو الہام ہوا ہے کہ: ”انت منی بمنزلۃ ولدی“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، تذکرہ ص ٥٢٦ بطبع سوم)
”انت منی بمنزلۃ اولادی“
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
- ......٢ کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”میں کرشن جی کا بروز یعنی اوتار ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
٣
- ......٣ کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میری زبان اس
کی زبان اور میرے کان اس کے کان میرے ہاتھ اس کے ہاتھ بن گئے اور الوہیت میرے میں موجزن ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات الاسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً میں کہا ہے)
- ......٤ کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ کی تندوے کی طرح تاریں ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
- ......٥ کسی مجدد نے کہا کہ: ”خدا تعالیٰ کے اعضاء ہیں اور انہی اعضاء کے ذریعہ سے وہ تمام
کام کرتا ہے۔“ جیسا کہ (توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠) میں مرزا قادیانی نے کہا ہے۔
- ......٦ کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”دین کے واسطے جہاد حرام ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ......٧ کسی مجدد نے کہا ہے کہ سب نبیوں سے اجتہادی غلطی ہوا کرتی ہے اور اس میں سب
ہمارے شریک ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣، ملفوظات ج ١ ص ٤٥٥)
- ......٨ کسی مجدد نے لکھا ہے کہ: ”حضرت محمد ﷺ نے امت کو سمجھانے کے واسطے خود اپنا
غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔“ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٤٠٧، خزائن ج ٣ ص ٣١١) میں لکھا ہے۔
- ......٩ کسی مجدد نے حضرت عیسیٰ کی نسبت ایسا لکھا ہے کہ: ”ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر
اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اسکو نبی قرار دیں۔“ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ) پر لکھا ہے۔
- ......١٠ کسی مجدد نے کہا ہے کہ: ”ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ (غلام احمد) اس کو چھوڑ کر
مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (اخبار الحکم ١٧ جون ١٩٠٠ء) میں لکھا ہے۔
- ......١١ کسی مجدد نے کہا ہے:
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی کربلا کی سیر مجھ کو ہر وقت ہے اور سو ١٠٠ حسین میرے گریبان میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک حسین کیا مجھ کو سو حسین جیسے واقعہ پیش آتے ہیں اور ہر وقت مجھ کو کربلا جیسی مصیبتیں
٤
برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
ناظرین! سچا اور جھوٹا اسی سے پہچانا جا سکتا ہے مگر عشرت قادیان میں امن وامان سے زیر حکومت گورنمنٹ انگریزی عیش کرتے ہیں کہ خس کی ٹٹیاں اور برف کے پانی اور ملذذ ومکلف ا ہیں مگر راست گو ایسے ہیں کہ کہتے ہیں کہ میں وہ شخص ہوں بلکہ نے ایک ظالم بادشاہ یعنی یزید کے وقت تمام بال بچوں سمیت کربلا میں شہادت پائی تھی۔ آپ نے قادیان میں بیٹھے بیٹھے دروغ گو کو کبھی ایک سوئی کا زخم بھی نہ لگا اور نہ کبھی کانٹا تک چبھا باتوں کو ان کی راستی پر قیاس کرلو۔ ایسی عیش و آرام کی زندگی ہو کہ جس راستہ سے مرزا قادیانی گزریں وہ عطر سے معطر ہو کثرت استعمال کہ گاگروں کی گاگریں ہضم کی جاویں اور حکیم اور عنبر وغیرہ کا استعمال کرتا ہوا جو شخص شہید کربلا بن جاوے ا گوئی کے ذریعہ بن بیٹھے تو ”ہر کہ شک آرد کافر گردد“ نہ ہو تو کے افعال واقوال والہامات مجددوں کے برخلاف ہیں تو پھر م ”برعکس نہند نام زنگی کافور“ نہیں تو اور کیا ہے۔
حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول ﷺ نے مجدد کی يجددلها دينها ”یعنی مجدد وہ ہے جو دین کو تازہ کر دیا کر محمدی کو جو صحابہ کرامؓ وسلف صالحینؒ کے وقت تھا تازہ کیا ہے قادیانی نے بجائے تجدید دین کے بدعات اور باطل مسائل ج قرار دیا۔ ان مسائل کو دین اسلام میں داخل کیا تو پھر وہ کسی ط مرزا قادیانی نے مفصلہ ذیل باطل عقائد ومسائل اسلام میں د
- ......١ ابن اللہ کا مسئلہ جو قرآن شریف کے صریح برخلاف
)
- ......٢ اوتار و بروز کا مسئلہ جو شریعت محمدی کے رو سے سرت
- ......٣ حلول کا مسئلہ جو بالکل باطل عقیدہ ہے اور شار
٥
برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
ناظرین! سچا اور جھوٹا اسی سے پہچانا جا سکتا ہے مگر عقل سلیم درکار ہے۔ مرزا قادیانی قادیان میں امن وامان سے زیر حکومت گورنمنٹ انگریزی عیش و آرام سے زندگی بایں طور بسر کرتے ہیں کہ خس کی ٹٹیاں اور برف کے پانی اور ملذذ و مکلف اور مقوی غذائیں استعمال کرتے ہیں مگر راست گو ایسے ہیں کہ کہتے ہیں کہ میں وہ شخص ہوں بلکہ اس سے سو درجہ زیادہ ہوں جس نے ایک ظالم بادشاہ یعنی یزید کے وقت تمام بال بچوں سمیت تین دن کے پیاسے نے دشت کربلا میں شہادت پائی تھی۔ آپ نے قادیان میں بیٹھے بیٹھے سو حسین کی شہادت پالی حالانکہ دروغگو کو کبھی ایک سوئی کا زخم بھی نہ لگا اور نہ کبھی کانٹا تک چبھا۔ اس پر مرزا قادیانی کی دوسری باتوں کو ان کی راستی پر قیاس کرلو۔ ایسی عیش و آرام کی زندگی جو کسی امیر الامراء کو بھی نصیب نہ ہو کہ جس راستہ سے مرزا قادیانی گزریں وہ عطر سے معطر ہو جائے۔ اور بیدمشک و کیوڑہ کی وہ کثرت استعمال کہ گاگروں کی گاگریں ہضم کی جاویں اور حکیم نور الدین کی ایجاد کردہ یا قوتیاں اور عنبر وغیرہ کا استعمال کرتا ہوا جو شخص شہید کربلا بن جاوے اگر وہ رسول و نبی بھی اسی راست گوئی کے ذریعہ بن بیٹھے تو ”ہر کہ شک آرد کافر گردد“ نہ ہو تو اور کیا ہو۔ مختصر یہ کہ مرزا قادیانی کے افعال واقوال والہامات مجددوں کے برخلاف ہیں تو پھر مرزا قادیانی مجدد کس طرح ہوئے؟ ”برعکس نہند نام زنگی کافور“ نہیں تو اور کیا ہے۔
حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول ﷺ نے مجدد کی خود صفت بیان کر دی ہے۔ ”من یجددلها دینها “ یعنی مجدد وہ ہے جو دین کو تازہ کر دیا کرے۔ پس اگر مرزا قادیانی نے دین محمدی کو جو صحابہ کرام وسلف صالحین کے وقت تھا تازہ کیا ہے تو بیشک مجدد ہو سکتے ہیں اور اگر مرزا قادیانی نے بجائے تجدید دین کے بدعات اور باطل مسائل جن کو قرآن اور شریعت محمدی نے باطل قرار دیا۔ ان مسائل کو دین اسلام میں داخل کیا تو پھر وہ کسی طرح مجدد کا لقب نہیں دیئے جاسکتے۔ مرزا قادیانی نے مفصلہ ذیل باطل عقائد و مسائل اسلام میں داخل کئے ہیں۔
- ......١ ابن اللہ کا مسئلہ جو قرآن شریف کے صریح برخلاف ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ......٢ اوتار و بروز کا مسئلہ جو شریعت محمدی کے رو سے مردود ہے۔
(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)
- ......٣ حلول کا مسئلہ جو بالکل باطل عقیدہ ہے اور شان خداوندی کے برخلاف کہ غیر محدود
٥
واجب الوجود ہستی ایک محدود ممکن الوجود ہستی میں داخل ہو اور سما سکے۔
(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)
- ٤....... مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) میں لکھا ہے کہ مجھ کو تمثیلی
طور پر خدا کی زیارت ہوئی اور میں نے پیش گوئیوں پر دستخط کرائے۔ اور خدا نے قلم جھاڑا تو سرخی کے چھینٹے میرے کرتے اور عبداللہ کے ٹوپی پر پڑے۔ کرتہ تبرکاً موجود ہے۔
- ٥....... ”خدا تعالیٰ کے اعضاء اور عضو اور بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر اور تیندوے کی طرح بے
شمار تاروں کا ہونا ۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
غرض مرزا قادیانی مجدد ان معنوں میں کہ انہوں نے اسی دین کو تازہ کیا جو رسول اللہ ﷺ کے وقت میں تھا ہرگز درست نہیں۔ ہاں اگر مجدد کے معنے نیا دین بنانے والا اور باطل دینوں کے مسائل کو اسلام میں داخل کرنے والا ہوں تو مرزا قادیانی ضرور مجدد ہیں۔ کیونکہ ہندوؤں کے اوتار اور تناسخ و بروز کے مسئلہ کو اسلام میں داخل کیا۔ اور عیسائیوں کی الوہیت اور ابنیت اور مجسم خدا کے مسائل کو اسلام میں داخل کر کے اسلام کو بگاڑا۔ تو اس صورت میں وہ پولوس محمدی کہلا سکتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح پولوس نے مسیحی دین میں عیسوی دین کے خیر خواہ ہونے کے لباس میں کفر و شرک کے مسائل عیسوی دین میں داخل کئے ایسا ہی مرزا قادیانی نے اسلام کی حمایت کے بہانہ سے اسلام میں کفر و شرک کے مسائل داخل کئے پس مرزا قادیانی کو مجدد کہنا گندم نمائی اور جو فروشی ہے۔ کسی بخیل کو سخی اور کسی دروغگو کو راست باز نہیں کہہ سکتے۔ ایسا ہی کسی مفسد دین کو مصلح دین و مجدد دین نہیں کہہ سکتے۔ یا مولوی صاحب بتائیں کہ مرزا قادیانی نے کونسی سنت نبوی کو جو مردہ تھی تازہ کیا اور کونسے مسائل اسلام کی تجدید کی۔ اگر کوئی تجدید نہیں کی (اور یقیناً نہیں کی) تو پھر وہ مجدد ہرگز نہیں ہو سکتے۔ بلا دلیل کوئی دعویٰ قابل قبولیت نہیں جو کچھ مرزا قادیانی نے کیا اپنی دکان پیری مریدی چلانے کی خاطر کیا۔ کوئی خدمت اسلام نہیں کی۔ وفات مسیح اس غرض سے ثابت کرتے رہے کہ میں مسیح موعود مانا جاؤں اس کو خدمت اسلام کہنا غلط ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت میں ہی جوش ہے۔ ہر ایک کاذب مدعی جو امت محمدی میں گزرا ہے۔ سب نے حمایت اسلام کا بہانہ بنا کر مرید بنائے اور ان میں اس قدر جوش تھا کہ مرزائیوں میں اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ محمد علی باب کے مریدوں میں اس قدر جوش تھا کہ بادشاہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اور سید محمد جونپوری مہدی کے مرید اس قدر جوشیلے تھے کہ جس نے انکار کیا اس کو قتل کر دیتے۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی میں جوش تھا۔ اب مولوی صاحب کے ہر ایک سوال کا
٦
جواب دیا جاتا ہے۔
سوال اوّل...... ”کیا یہ حدیث مجدد والی موضوع ہے۔ اور حضرت مجدد الف ثانی و شاہ ولی اللہ صاحب جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر مجددیت کا دعویٰ کیا وہ سب مفتری تھے۔ اور مرزا غلام احمد کے سوا مجدد ہونے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا اس لئے مرزا قادیانی سچے مجدد ہیں۔“
الجواب...... مرزا قادیانی میں مجدد کی کوئی صفت نہیں۔ حدیث میں مجدد کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دی ہے کہ تاکہ امت ٹھوکر نہ کھاوے۔ اور وہ صفت یہ ہے کہ ”دین کو تازہ کرے گا“ برخلاف اس کے مرزا قادیانی نے دین کو خراب کیا ہے۔ جیسا کہ مذکور ہوا۔ اور جب مرزا قادیانی میں مجدد کی صفت نہیں تو وہ مجدد نہ ہوئے۔ مجدد الف ثانی و شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہم کا آپ نے خود ہی نام لکھا ہے تو کیا ان مجددوں نے کبھی دعویٰ رسالت و نبوت کا کیا ہے؟ کیا ان کو بھی قرآن کی آیات میں مخاطب کر کے کہا گیا کہ ”انک لمن المرسلین“ اگر نہیں (اور یقیناً نہیں) تو ثابت ہوا کہ وہ مجدد نہ تھے کہ ان کو قرآن کی آیات دوبارہ نازل نہ ہوئیں یہ مرزا قادیانی ایسے مجدد نہیں۔
سوال ٢...... یہ کہ: ”مرزا قادیانی کے سوا اگر کسی ایک نے بھی روئے زمین پر دعویٰ مجدد ہونے کا کیا ہے تو اس کا نام بتاؤ؟۔“
الجواب...... مرزا قادیانی نے مجدد ہونے کا جو دعویٰ کیا ہے اس مجددیت سے بھی ان کی مراد نبوت و رسالت ہی ہے۔ کیونکہ وہ (ضرورة الامام ص٢٤، خزائن ج١٣ ص٤٩٥) پر لکھتے ہیں کہ امام زمان و مجدد نبی و رسول کے ایک ہی معنے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی ”یاد رہے کہ امام زمان کے لفظ میں نبی رسول محدث مجدد سب داخل ہیں“ اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میں امام زمان ہوں۔ اس قسم کا دعویٰ تو بیشک مرزا قادیانی نے ہی کیا ہے یا مسیلمہ کذاب واسود عنسی وغیرہم مدعیان نبوت نے کیا تھا۔ ہاں جائز مجدد مخبر صادق ﷺ کے فرمان کے مطابق ضرور کوئی نہ کوئی ہوگا۔ اگر آپ کو اس کا علم نہ ہو تو یہ عدم مجدد کی دلیل نہیں۔ کیونکہ عدم علم شے عدم وجود شے کی دلیل نہیں۔ سنو ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ سوڈان میں محمد احمد سوڈانی نے مرزا قادیانی سے پہلے بموجب حدیث کے صدی کے سر پر ماہ مئی ١٨٨١ء میں دعویٰ مجدد ہونے کا کیا۔
(مذاہب اسلام ص ٧٩٦)
اخبار پایونیر میں لکھا ہے کہ محمد احمد نے مجدد ہونے کا دعویٰ ١٨٨١ء میں کیا۔
اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں بتاؤ۔ تو وہ بھی سن لیجئے۔ نواب صدیق حسن خان صاحبؒ والی بھوپال کو مجدد مانا گیا کیونکہ احیائے دین میں وہ کوشش کی، کہ کئی سو کتاب احیائے
٧
سیرت نبوی میں تالیف کیں۔ اور طبع کرا کر مفت تقسیم کیں۔ دوسرے صاحب مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی مجدد زمانہ تھے ان کی ہر ایک کتاب کے سرورق پر لکھا جاتا تھا۔ ”مجدد زمانہ“ اور انہوں نے اسلام کی حمایت میں دو سو سے اوپر کتابیں مخالفین کی رد میں لکھیں۔ تیسرے صاحب مولانا مولوی محمد علی صاحب مونگیری ہیں جنہوں نے آریوں اور عیسائیوں کی رد میں بہت سی کتابیں لکھیں اور مفت تقسیم کیں۔
مجالس الابرار میں لکھا ہے کہ علمائے زمان جس کو ناقد احادیث نبوی سمجھیں اور جو علم و فضل سرآمد علمائے زمانہ ہو اس کو علماء خود مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو علمائے زمانہ نے قرآن اور احادیث سے ناواقف مانا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کسی اسلامی درسگاہ کے سند یافتہ نہ تھے۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے سوا کوئی مجدد نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کے ہمعصر چار مجدد تو صرف ہندوستان میں ہوئے۔ علیٰ ہذا القیاس دوسری ولایتوں میں بھی اس صدی کے کئی مجدد ہوں گے۔ اگر مولوی محمد علی (مرزائی) کو معلوم نہیں تو ان کا عدم علم مجدد وجود مجدد کے عدم پر دلیل نہیں ہو سکتا۔
جس پریشان طریق سے مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مجدد ہوں۔ امام زماں ہوں۔ نبی ہوں۔ رسول ہوں۔ رجل فارسی ہوں۔ مسیح موعود ہوں۔ مریم ہوں۔ آدم ہوں۔ کرشن ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس طریق سے تو کسی نے دعویٰ نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجدد نہ تھے۔
مرزا قادیانی کے ہمعصر محمد احمد سوڈانی، ملا صومالی لینڈی، امام یحییٰ، شیخ ادریسی اور سنوسی عین اللہ مدعیان مہدویت تھے۔ مولوی صاحب نے لکھ تو دیا کہ روئے زمین پر کسی نے دعویٰ مہدویت ومجددیت نہیں کیا۔ مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرزا قادیانی کے سامنے ہی کتنے ایک مدعیان موجود تھے جن کے مرید جوشیلے اور ان کے بعد ان کے مذاہب کو ترقی دے رہے ہیں۔ مولوی صاحب کو یہ کیونکر معلوم ہوا کہ اسلامی دنیا میں روم و روس شام و ترکستان اور عربستان وغیرہ وغیرہ میں کوئی مجدد نہیں لہٰذا مرزا قادیانی کو ضرور ہی مجدد مان لو اور لطف یہ ہے کہ ہندوستان تک ہی آپ کی معلومات محدود ہے کیا مجدد الف ثانی و شاہ ولی اللہ صاحب جس زمانہ میں ہوئے وہ کل دنیا کے لئے کافی تھے؟
ہرگز نہیں پس یہ غلط ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی کے سوا کوئی مدعی نہیں۔ اس واسطے مرزا قادیانی کو ہی مجدد مان لو۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مقولہ انہیں بھولنا نہ چاہئے کہ: ”محال است
٨
١٩١
یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی لائق نہ ہو تو خواہ مخواہ کسی نالائق بجائے اصلاح دین کے دین کی خرابی کرتا ہو۔
سوال ٣...... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً تشریف لا گے یا نہ لائیں گے اگر لائیں گے تو ختم نبوت ٹوٹے گی۔ اور اگر نہ وحی سے معزول ہوں گے۔
الجواب...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وحی نبو قرآنی ”اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣)“ دین کامل ہے بلاضرورت کام کرنا شان خداوندی کے خلاف ہے۔ حضرت عیسیٰ علی خوب سمجھیں کہ اگر کسی نبی پر وحی رسالت نہ آوے تو وہ نبوت سے معزو آپ کی اس ایجاد بندہ سے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی کبھی مع سے بھی معزول ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے موقوف رہتا تھا۔ اس وقت مولوی محمد علی جیسے فاضل، رسول اللہ ﷺ سمجھتے ہوں گے۔ افسوس! مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی تقلید کہ یہ اعتراض کسی سند شرعی سے نہیں کیا گیا۔ ایک نبی دوسرے نبی نبوت بحال رہتی ہے۔ شریعت موسوی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت نبی گزرے اور نہ ہوئی ہو۔ کیا وہ نبوت سے معزول ہو گئے تھے۔ ہرگز نہیں۔ تو پھر رسالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نہ آئی اور وہ شریعت محمدی ﷺ جاتی رہے گی۔
سوال ٤...... کیا نبوت کا کوئی کام باقی ہے جس کے کر رکھا گیا اور محمد ﷺ سے وہ کام نہ ہو سکا اور ان سے تکمیل نہ ہو سکی جس گے؟
الجواب...... رسول اللہ ﷺ بہتر جانتے تھے کہ عیسیٰ علی ٹوٹتی ہے یا نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت بھی جاتی ہے یا نہیں۔ السلام کے آنے سے ناقص ہوتا ہے یا نہیں۔ غرض خلاصہ موجو
٩
یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی لائق نہ ہو تو خواہ مخواہ کسی نالائق کو ہی مجدد مان لو حالانکہ وہ بجائے اصلاح دین کے دین کی خرابی کرتا ہو۔
سوال ٣....... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً تشریف لائیں گے تو وحی نبوت لائیں گے یا نہ لائیں گے اگر لائیں گے تو ختم نبوت ٹوٹے گی۔ اور اگر وحی نبوت نہ لائیں گے تو نبوت و وحی سے معزول ہوں گے۔
الجواب....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وحی نبوت نہ لائیں گے۔ کیونکہ بحکم قرآنی ”اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣)“ دین کامل ہے اور وحی نبوت کی حاجت نہیں۔ بلاضرورت کام کرنا شانِ خداوندی کے خلاف ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معزولی آپ نے خوب سمجھی کہ اگر کسی نبی پر وحی رسالت نہ آوے تو وہ نبوت سے معزول سمجھا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ۔ آپ کی اس ایجاد بندہ سے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی کبھی عہدہ نبوت پر بحال اور کبھی اس سے بھی معزول ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کتنی کتنی مدت تک وحی کا آنا موقوف رہتا تھا۔ اس وقت مولوی محمد علی جیسے فاضل، رسول اللہ ﷺ کو نبوت کے عہدہ سے معزول سمجھتے ہوں گے۔ افسوس! مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کی تقلید میں اعتراض تو کر دیا مگر نہ سمجھے کہ یہ اعتراض کسی سند شرعی سے نہیں کیا گیا۔ ایک نبی دوسرے نبی کی پیروی کرے تو اس کی اپنی نبوت بحال رہتی ہے۔ شریعت موسوی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماتحت حضرت ہارون علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت نبی گزرے اور کسی پر وحی رسالت و نبوت نازل نہ ہوئی ہو۔ کیا وہ نبوت سے معزول ہو گئے تھے۔ ہرگز نہیں۔ تو پھر کس قدر پھیکی بات ہے کہ اگر وحی رسالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نہ آئی اور وہ شریعت محمدی ﷺ پر عمل کریں گے تو ان کی نبوت جاتی رہے گی۔
سوال ٤....... کیا نبوت کا کوئی کام باقی ہے جس کے کرنے کے لئے حضرت مسیح کو زندہ رکھا گیا اور محمد ﷺ سے وہ کام نہ ہو سکا اور ان سے تکمیل نہ ہو سکی جس کی عیسیٰ علیہ السلام تکمیل کریں گے؟
الجواب....... رسول اللہ ﷺ بہتر جانتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے مہر نبوت ٹوٹتی ہے یا نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت بھی جاتی ہے یا نہیں۔ اور میرا کامل دین اسلام عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے ناقص ہوتا ہے یا نہیں۔ حضرت خلاصۂ موجودات ﷺ کی فراست کے مقابلہ
٩
میں ہماری عقلوں کا کیا منصب ہے کہ ہم اعتراض کریں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے دین اسلام ناقص ہوگا۔ چونکہ یہ اعتراض ایک عقلی ڈھکوسلا ہے اس واسطے ہم اس کا جواب عقلی دلائل سے دیتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علت غائی احکام دین اسلام کی تنسیخ یا شریعت محمدی کی کمی پوری کرنی نہیں۔ دیکھو قرآن مجید فرما رہا ہے کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ یعنی مسیح کی موت سے پہلے اہل کتاب اس پر ایمان لائیں گے۔ اور اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور صلیب توڑیں گے۔ الخ۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود اور نصاریٰ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے۔ اور نہ کہ دین اسلام اور امت محمدی کی اصلاح کے واسطے۔
سوال ٥....... حضرت عیسیٰ کا کام کوئی مجدد کیوں نہیں کر سکتا؟
الجواب....... چونکہ مجدد صاحب حکومت و جلال نہیں ہوتا اور اسلامی امت کا وہ صرف ایک فرد ہوتا ہے اس لئے اس کا کہنا صرف مسلمانوں پر ہی اثر کرتا ہے اور ارادہ خداوندی میں کسر صلیب واصلاح یہود ہے۔ اس لئے (اسی پیغمبر کو جسے ایک گروہ خدا بنا کر گمراہ ہوا۔ اور دوسرا گروہ جس نے ”انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم (نساء: ١٥٧)“ کا اعتقاد رکھا اور اس کی نبوت سے انکار کیا جب وہ زندہ خود ہی آسمان سے اتر کر انکو سمجھاوے گا تو وہ آسانی سے سمجھ جائینگے اور ایسا کھلا معجزہ اور کرشمہ قدرت دیکھ کر سب اہل کتاب یہود و نصاریٰ ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ یہ کہاں لکھا ہے۔ کہ امت محمدی کی اصلاح کے واسطے آئینگے۔ حدیثوں میں بصراحت موجود ہے کہ حضرت مہدی فتنہ سفیان کو دور کرنے کی غرض سے آئینگے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے واسطے اور صلیب کے توڑنے کے لئے آئینگے۔ آپ کے پاس کوئی سند شرعی ہے تو اس کا حوالہ دو ورنہ اپنے قیاس سے اعتراض کرنا دینداری کے برخلاف ہے۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے نبی تبلیغ دین کرتے تھے۔ اسی طرح میرے علماء امت تبلیغ دین کیا کریں گے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ نہیں کہ علمائے امت بنی اسرائیل کے نبیوں کے ہم مرتبہ ہوں گے یا کسی قسم کی نبوت کے مدعی ہوں گے۔
سوال ٦....... آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے بڑے بڑے عظیم الشان آدمی پیدا
١٠
کئے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سا کام کرنے والے پیدا نہیں کر سکتی؟
الجواب....... حضرت خاتم النبیین کی قوت قدسی کے ذریعہ عظیم الشان انسان پیدا ہوئے اور ہوتے رہینگے۔ جو اشاعت اسلام کا عیسائیوں اور یہودیوں کا اختلاف تھا۔ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح دوبارہ آئینگے۔ اور زندہ آسمان پر ہیں اور یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فیصلہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور صنعت تلمیح کے طور پر ”بل (نساء: ١٥٨)“ فرما کر ساتھ ہی ”فاسئلوا اهل الذكر (انبیاء کیفیت رفع و نزول کی اہل کتاب سے پوچھو۔
پس چونکہ حدیثوں میں اناجیل کے موافق بتایا گیا ہے کہ السلام اخیر زمانہ میں اصالتاً نزول فرماویں گے۔ اور اہل کتاب ان پر کہ انجیل میں جلال کے ساتھ آنا لکھا ہے ایسا ہی حضور علیہ السلام نے السلام حاکم عادل ہو کر آئیں گے۔ اور یہود و نصاریٰ کا فیصلہ کریں گے نزول مسیح کا مسئلہ پیش گوئی ہے اور پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں کا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ہے نہ کہ پیش گوئی کی ہے۔ پیش گوئی ظہور سے پہلے کی جائے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور سرور عالم میں آ کر آسمان پر جا چکے تھے اور یہ تمام حالات آسمانی کتاب انجیل وقت موجود تھی مذکور تھے۔ اس لئے حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ اخیر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔
اس فیصلہ نبوی ﷺ کے سامنے تمام امت کا سرخم چلا آیا اجماع امت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اصالتاً ہوگا۔ محال علیہ السلام سے انکار کیا جاتا ہے۔ تو کیوں قیامت اور حشر و نشر و عذا نکلنے وغیرہ علامات قیامت سے محالات عقلی سمجھ کر انکار نہ کیا جائے حدیثوں میں فرمایا ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی محال عقلی نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہے وہی محال عقلی قیامت اور ا اور اگر اصالتاً نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار ہے اور
١١
کئے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سا کام کرنے والے پیدا نہیں کر سکتی؟ الجواب...... حضرت خاتم النبیین کی قوت قدسی کے ذریعہ سے تو بیشک بڑے بڑے عظیم الشان انسان پیدا ہوئے اور ہوتے رہینگے۔ جو اشاعت اسلام کا کام کریں گے۔ مگر چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کا اختلاف تھا۔ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح دوبارہ اخیر زمانہ میں اس دنیا میں آئینگے۔ اور زندہ آسمان پر ہیں اور یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فیصلہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور صنعت تلمیح کے طور پر ”بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ (نساء:١٥٨)“ فرما کر ساتھ ہی ”فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ (انبیاء:٧)“ فرما دیا یعنی مفصل کیفیت رفع ونزول کی اہل کتاب سے پوچھو۔
پس چونکہ حدیثوں میں اناجیل کے موافق بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اخیر زمانہ میں اصالتاً نزول فرماویں گے۔ اور اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ اور جیسا کہ انجیل میں جلال کے ساتھ آنا لکھا ہے ایسا ہی حضور علیہ السلام ﷺ نے بھی فرمایا کہ مسیح علیہ السلام حاکم عادل ہو کر آئیں گے۔ اور یہود ونصاریٰ کا فیصلہ کریں گے۔ یہ بالکل غلط تاویل ہے کہ نزول مسیح کا مسئلہ پیش گوئی ہے اور پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔ کیونکہ نزول مسیح کا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ہے نہ کہ پیش گوئی کی ہے۔ پیش گوئی وہ ہوتی ہے جو کسی وجود کے ظہور سے پہلے کی جائے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور سرور عالم ﷺ سے چھ سو برس پہلے دنیا میں آکر آسمان پر جاچکے تھے اور یہ تمام حالات آسمانی کتاب انجیل میں جو حضور علیہ السلام کے وقت موجود تھی مذکور تھے۔ اس لئے حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے وحی پاکر یہ فیصلہ دیا کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ اخیر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔
اس فیصلہ نبوی ﷺ کے سامنے تمام امت کا سرخم چلا آیا ہے اور ١٣ سو برس سے اس پر اجماع امت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اصالتاً ہوگا۔ محالات عقلی کہہ کر اگر آج نزول مسیح علیہ السلام سے انکار کیا جاتا ہے۔ تو کیوں قیامت اور حشر ونشر وعذاب قبر وسورج کے مغرب سے نکلنے وغیرہ علامات قیامت سے محالات عقلی سمجھ کر انکار نہ کیا جائے۔ جن کا ذکر مخبر صادق ﷺ نے حدیثوں میں فرمایا ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی علامات قیامت سے ہے اور جو محال عقلی نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہے وہی محال عقلی قیامت اور اس کی دیگر علامات میں بھی ہے۔
اور اگر اصالتاً نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار ہے اور نزول بروزی مراد لیا جاتا ہے تو
١١
قیامت سے بھی آپ کی مراد بروزی قیامت ہوگی جس کا دوسرا نام تناسخ ہے اور یہ صریح کفر ہے کہ قیام قیامت سے انکار کیا جاوے۔ اگر اصالتاً نزول باطل تھا تو قرآن شریف دوسرے عقائد ابن اللہ کی طرح اس کو بھی باطل قرار دے دیتا۔ اس قدر حدیثوں میں ذکر کی کیا ضرورت تھی؟
سوال ٧...... کیا اس بات میں امت محمدیہ کی جو خیر الامت ہے ہتک نہیں ہے کہ اصلاح امت محمدیہ کے لئے ایک نبی آوے۔ امت میں کوئی لائق نہیں کہ اصلاح کرے۔ اور خدا کو نبی بھیجنا پڑا؟
الجواب...... حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کا امام عرض کرے گا کہ جماعت کھڑی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ نہیں اور آپ مسلمانوں کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ یہ امت محمدی کا فخر ہے اور عزت ہے کہ اس میں ایک اولوالعزم پیغمبر شامل ہوتا ہے اور دعا سے شامل ہوتا ہے۔ دیکھو انجیل برنباس۔ ”اے اب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ) کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“
(فصل ٢١٢ ص ١٩٤)
اب بتاؤ کہ یہ امت محمدیہ کی ہتک ہے یا علو درجہ کا ثبوت ہے۔ کہ ایک نبی دعا کرتا ہے کہ اے خدا مجھ کو امت محمدی میں ہونا نصیب فرما۔ دوم! کس قدر عالی مرتبہ اس امت کا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس کا ایک فرد ہو کر آتا ہے۔ مگر تعصب بھری آنکھ کو یہ عزت ہتک نظر آتی ہے۔ سچ ہے۔
نشان صورت یوسف دہد بنا خوبی
بلندی شان محمدیﷺ آپ کو ہتک نظر آتی ہے۔ یہ نظر کا قصور ہے۔ آہ۔ کس قدر کج فہمی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے تو ہتک ہے۔ مگر عیسیٰ کے بروز کے آنے سے ہتک نہیں۔ حضرت اس کی کیا ضرورت ہے کہ محمدی صفت نہ آوے اور عیسیٰ صفت آوے۔ عیسیٰ صفت تو عیسائیوں کے لئے آنا چاہئے۔ پس مرزا قادیانی عیسیٰ صفت کیوں ہوں؟ خود عیسیٰ علیہ السلام ہی امتی ہوں تو امت کی فضیلت ہے۔
سوال ٨...... کیا ختم نبوت کے مقابل جو محکمات قرآنی و حدیثی پر مبنی ہے ضروری نہیں کہ ایک پیش گوئی کی تاویل کی جائے؟
الجواب...... یہ پیش گوئی نہیں رسول اللہﷺ کا فیصلہ ہے۔ اور فیصلہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نبی ناصری کی بابت ہے۔ اگر اس فیصلہ سے انکار کر کے مرزا غلام احمد کو مسیح موعود مانا جاوے
١٢
تو محمد رسول اللہﷺ کی سخت ہتک ہے کہ حضور کے دربار میں تنازعہ تو ہو ایک مغل کے حق میں صادر کریں کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نہیں آئے گا ایک مغل غلام احمد مسیح کی صفات پر آئے گا۔ یہ ایک ایسا خلاف عقل ا باللہ) جج کی نالائقی ثابت ہوتی ہے۔ دوم! پیش گوئی تب ہوتی ہے وجود پہلے نہ ہوتا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام چھ سو برس پہلے ہو گزرا او ہے اور وہ خود فرما گئے کہ میں دوبارہ آؤں گا۔ دیکھو آیت ٢٨۔ انجیل نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں ۔“ اس انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی پھر دوبارہ آئیں گے۔ لہٰذا یہ پیش گوئی نہیں رہی ہے۔ یا نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نبی اور حضرت محمد رسول اللہﷺ پر وحی ہوا ہے۔ اس کے معنے نہ تو رسول سمجھا۔ اور اب وہ معلوم ہوئے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے مراد ف مرتضیٰ ہے۔ سوم! انجیل میں کس نبی کا نزول مذکور ہے۔ نبی ناصری کا قرآن میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور نبی اللہ اور روح اللہ کے معنے ہے کہ نزول کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام و نبی اللہ و روح اللہ کے معنے کئے جائیں۔ چہارم! ختم نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ام رہتی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت محمد رسول اللہﷺ چکی ہے۔ البتہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نبی اللہ ماننے سے ختم نبوت سے بعد کے نبی ماننے پڑتے ہیں۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تو م کے آنے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔
سوال ٩...... اس امت کے تمام بزرگوں کے مزکی او لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد آنحضرتﷺ معلم ہ عیسیٰ علیہ السلام معلم ومزکی ہوں گے۔
الجواب...... جب حضرت محمد رسول اللہﷺ نے خود فر نزول شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے تو پھر یہ اعتراض غلط ہے شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور کرائینگے تو پھر سب کے مزکی وم پھیلے گی۔
١٣
تو محمد رسول اللہ ﷺ کی سخت ہتک ہے کہ حضور کے دربار میں تنازعہ تو ہو مسیح ناصری کا اور آپ فیصلہ ایک مغل کے حق میں صادر کریں کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نہیں آئے گا۔ بلکہ میری امت میں سے ایک مغل غلام احمد مسیح کی صفات پر آئے گا۔ یہ ایک ایسا خلاف عقل فیصلہ ہے کہ جس سے (نعوذ باللہ ) جج کی نالائقی ثابت ہوتی ہے۔ دوم! پیش گوئی تب ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود پہلے نہ ہوتا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام چھ سو برس پہلے ہو گزرا اور اس کی کتاب و امت موجود ہے اور وہ خود فرما گئے کہ میں دوبارہ آؤں گا۔ دیکھو آیت ٢٨۔ انجیل یوحنا۔ ”تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔“ اس انجیل کے بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی پھر دوبارہ آئیں گے۔ لہٰذا یہ پیش گوئی نہیں پھر اس کو پیش گوئی کہنا دھوکہ دہی ہے۔ یا نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام جس کا قرآن نے بارہا ذکر کیا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی ہوا ہے۔ اس کے معنے نہ تو رسول اللہ ﷺ سمجھے اور نہ خود خدا ہی سمجھا۔ اور اب یہ معلوم ہوئے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے مراد قرآن میں مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے۔ سوم! انجیل میں کس نبی کا نزول مذکور ہے۔ نبی ناصری کا یا نبی قادیانی کا۔ اگر انجیل اور قرآن میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور نبی اللہ اور روح اللہ کے معنی وہی نبی ناصری ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ نزول کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام و نبی اللہ و اصلی عیسیٰ کے معنی بدل کر غلام احمد اس کے معنے کئے جائیں۔ چہارم! ختم نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصالۃ نزول سے بالکل سلامت رہتی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے نبوت مل چکی ہے۔ البتہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود نبی اللہ ماننے سے ختم نبوت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ وہ ختم نبوت سے بعد کے نبی ماننے پڑتے ہیں۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تو ختم نبوت سے پہلے کے ہیں ان کے آنے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔
سوال ٩ ...... اس امت کے تمام بزرگوں کے مزکی اور معلم تو محمد رسول اللہ ﷺ ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد آنحضرت ﷺ معلم و مزکی نہ رہیں گے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام معلم و مزکی ہوں گے۔
الجواب ...... جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے تو پھر یہ اعتراض غلط ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور کرائیں گے تو پھر سب کے مزکی و معلم محمد ﷺ رہیں گے جن کی تعلیم پھیلے گی۔
١٣
آپ (مریدان مرزا) صاحبان جو مرزا قادیانی کی تعلیم پھیلاتے ہیں۔ اور مرزا قادیانی فوت ہوچکے ہیں کیا آپ کے تعلیم پھیلانے سے مرزا قادیانی احمدیت کے بانی اور احمدیوں کے معلم نہیں رہے؟ اس کا جواب اثبات میں ہی دیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول جب شریعت محمدی کے تابع ہوں گے۔ تو پھر سب کے مزکی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہوں گے۔ بلکہ ایک پہلو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معلم بھی محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہوں گے جن کے دین کی اشاعت بعد نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔
سوال ١٠....... پادری کا سوال ہے کہ دجال کا فتنہ فرو کرنے کے لئے اخیر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرماویں گے اور دجال کے فتنہ کو دور کریں گے تو محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل متصور ہوں گے اور اس طرح محمد ﷺ آخری نبی نہیں رہتے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے مثیل مسیح مراد لیں جیسا کہ انجیل میں فیصلہ ہے کہ الیاس کی دوبارہ آمد سے یوحنا یعنی یحییٰ اسکا مثیل مراد ہے تو یہ اعتراض اٹھ جاتا ہے؟
الجواب...... پادری کا جواب تو کئی دفعہ ہوچکا ہے صرف آپ کی تسلی کے واسطے بار بار کہنا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ آخری نبی تو محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول شریعت محمدی کے تابع ہوں گے تو اس میں شان محمد ﷺ دوبالا ہوگی کیونکہ عیسائیوں کا خدا محمد ﷺ کی تابعداری کرتا ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محمد ﷺ پر بعد نزول کوئی فضیلت نہ ہوگی۔ کیونکہ جو فرق تابع اور متبوع میں ہوتا ہے وہی فرق شان احمدی اور شان عیسوی میں ہوگا۔
آپ کا یہ اعتراض کہ جو فتنہ دجال کو دور کرے گا وہ محمد ﷺ سے افضل سمجھا جائے گا۔ غلط ہے۔ ورنہ آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل ہیں۔ کیونکہ آپ کے زعم میں مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور ان کے وقت میں فتنہ دجال دور ہوا۔ آپ کا اعتراض تو بحال رہا۔ بلکہ زیادہ ہتک ہے کہ جو کام محمد ﷺ سے نہ ہوسکا وہ غلام احمد قادیانی نے کیا پس وہی افضل نبی ہوا۔ نبی کا کام اگر نبی کردے تو کوئی ہتک نہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام آپس میں بھائی ہیں۔ اگر ان کا کام غلام اور امتی ہی کرے تو بہت ہی ہتک ہے۔
جواب دیتے وقت یہ امر ذہن میں حاضر کرلیں کہ ایلیا کے یوحنا (یحییٰ) میں ہونے کی تردید حکیم نور الدین خود کرچکے ہیں۔ وهو ھذا ۔ "یوحنا اصطباغی کا ایلیا میں ہونا بالکل ہندوؤں کے مسئلہ اواگون کے ہم معنے یا اس کا نتیجہ ہے۔"
(فصل الخطاب ص ١٣٤ مصنفہ حکیم نورالدین)
١٤
اب بتاؤ آپ کا کہنا تسلیم کریں یا مرزا قادیانی کے خلیفہ اول کے یوحنا میں آنے کو اواگون یعنی تناسخ کہتے ہیں۔ اخیر فیصلہ قرآن شریف ہے۔ "یا زکریا انا نبشرک بغلام ن اسمه یحیی۔ لم نجعل "اے زکریا ہم تم کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے پہلے اس نام کا ہم نے کبھی کوئی آدمی نہیں پیدا کیا ۔" اور انجیل کے اس ب میں ایلیا نہیں ہوں۔ قرآن شریف بھی تصدیق کرتا ہے کہ یحییٰ کبھی پہ پہلے پیدا ہو چکا تھا۔
اب تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ یوحنا یعنی یحییٰ مثیل کے جس بیان کی قرآن تصدیق کرے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسی ک قرآن کے پیرو ہیں تو یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ایلیا یوحنا میں آیا۔
مثیل مسیح تو مرزا قادیانی سے پہلے کئی گزر چکے ہیں کیا و رنگ میں ہو چکا یا نہیں ۔ اگر بروز کا مسئلہ درست ہے تو پھر کیا وجہ جھوٹے سمجھے جائیں اور مرزا قادیانی سچے مسیح موعود سمجھے جائیں کوئی مع
تورات سلاطین ٢ باب ٢ آیت ١٥ ظاہر کرتی ہے کہ ایلیا الیس ہے۔
"اور جب ان انبیاء زادوں نے جو یریحو سے دیکھنے نکلے کی روح الیسع پر اتری اور وے اس کے استقبال کو آئے اور اس کے س
پس حضرت مسیح کا یہ ہرگز فیصلہ نہیں ہے۔ یہ صرف عیسائی کا اعتراض رفع کرنے کے لئے انہوں نے یہ فقرہ الحاق کر دیا۔ ور دونوں نبی ہیں ایک کا کہنا بھی جھوٹ ہو۔ کسی مسلمان کا ایمان اجاز کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔ یا مسیح نے غلط کہا کہ یوحنا ایلیا ہیں ۔ بہر حال ا فقرہ "ایلیا یوحنا ہے" الحاق کیا گیا ہے۔ اگر یوحنا ایلیا ہوتا تو قرآن ی آدمی پہلے دنیا میں نہیں بھیجا۔" مرزا قادیانی اپنے مثیل مسیح ہونے متفقہ بیان سے انکار کرکے محرف انجیل کا سہارا لیتے ہیں۔ اور آپ غل موعود یقین کرتے ہیں۔ کیونکہ مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ اور ر درجہ کا نہیں ہوتا۔ اگر کسی مجدد نے کہا ہے کہ میں مسیح نبی اللہ ہوں تو بتاؤ
١٥
اب بتاؤ آپ کا کہنا تسلیم کریں یا مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور دین کا جو کہ ایلیا کے یوحنا میں آنے کو اواگون یعنی تناسخ کہتے ہیں۔ اخیر فیصلہ قرآن شریف کو دیکھ لو جو سورہ مریم میں ہے۔ ”یاذکریا انا نبشرک بغلام ن اسمه یحی۔ لم نجعل له من قبل سمیا“ یعنی ”اے زکریا ہم تم کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اور جسے یوحنا کہتے ہیں اور پہلے اس نام کا ہم نے کبھی کوئی آدمی نہیں پیدا کیا۔“ اور انجیل کے اس بیان کی تصدیق کہ یحییٰ نے کہا میں ایلیا نہیں ہوں۔ قرآن شریف بھی تصدیق کرتا ہے کہ یحییٰ کبھی پہلے نہیں پیدا کیا گیا۔ اور ایلیا پہلے پیدا ہو چکا تھا۔
اب تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ یوحنا یعنی یحییٰ مثیل و بروز ایلیا نہ تھا۔ اور انجیل کے جس بیان کی قرآن تصدیق کرے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسی کو قبول کریں۔ پس اگر آپ قرآن کے پیرو ہیں تو یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ایلیا یوحنا میں آیا۔
مثیل مسیح تو مرزا قادیانی سے پہلے کئی گزر چکے ہیں کیا سب میں نزول عیسیٰ بروزی رنگ میں ہو چکا یا نہیں۔ اگر بروز کا مسئلہ درست ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے مدعیان مسیحیت جھوٹے سمجھے جائیں اور مرزا قادیانی سچے مسیح موعود سمجھے جائیں کوئی معیار امتیاز قائم کریں۔
تورات سلاطین ٢ باب ٢ آیت ١٥ ظاہر کرتی ہے کہ ایلیا الیسع میں آچکا۔ اصل عبارت یہ ہے۔
”اور جب ان انبیاء زادوں نے جو یریحو سے دیکھنے نکلے تھے اسے دیکھا تو بولے ایلیا کی روح الیسع پر اتری اور وے اس کے استقبال کو آئے اور اس کے سامنے زمین پر جھکے۔“
پس حضرت مسیح کا یہ ہرگز فیصلہ نہیں ہے۔ یہ صرف عیسائیوں کی تحریف ہے کہ یہودیوں کا اعتراض رفع کرنے کے لئے انہوں نے یہ فقرہ الحاق کر دیا۔ ورنہ ممکن نہیں کہ مسیح ویحییٰ جو کہ دونوں نبی ہیں ایک کا کہنا بھی جھوٹ ہو۔ کسی مسلمان کا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ یوحنا نے غلط کہا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔ یا مسیح نے غلط کہا کہ یوحنا ایلیا ہیں۔ ہر حال میں یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ فقرہ ”ایلیا یوحنا ہے“ الحاق کیا گیا ہے۔ اگر یوحنا ایلیا ہوتا تو قرآن یہ نہ فرماتا کہ ”ہم نے ایسے نام کا آدمی پہلے دنیا میں نہیں بھیجا۔“ مرزا قادیانی اپنے مثیل مسیح ہونے کی خاطر انجیل اور قرآن کے متفقہ بیان سے انکار کر کے محرف انجیل کا سہارا لیتے ہیں۔ اور آپ غلطی پر ہیں کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود یقین کرتے ہیں۔ کیونکہ مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں اور مجدد کبھی اس درجہ کا نہیں ہوتا۔ آخر کسی مجدد نے کہا ہے کہ میں مسیح نبی اللہ ہوں تو بتائیں؟
١٥
سوال ١١...... حدیثوں میں مسیح کے دو حلیے بیان ہوئے ہیں۔ دو حدیثوں میں گورا رنگ والا اور گھنگریالے بال۔ اور دوسری دو حدیثوں میں گندمی رنگ اور سیدھے بال حلیہ بیان کیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح اور اسرائیلی مسیح دو الگ الگ ہیں۔
الجواب...... حدیثوں کا بیان راویوں کے بیانوں پر منحصر ہے۔ ان کی تطبیق کچھ مشکل نہیں، علماء اسلام نے یہ تطبیق دی ہے کہ گندمی رنگ اور گورا رنگ ایک ہی ہے۔ جب انسان خوش ہو تو رنگ سرخ دکھائی دیتا ہے ورنہ دونوں رنگ ایک ہی ہیں ایسا ہی لمبے بال کانوں تک ہوں تو مڑ جاتے ہیں۔ یہ راویوں کے بیان میں اختلاف ہے۔ اور اس اختلاف سے یہ استدلال غلط ہے کہ جن کے حلیہ میں اختلاف ہو وہ دو تین الگ الگ شخص سمجھے جائیں۔ اس طرح تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دو ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ معراج والی حدیث میں ان کا حلیہ ایک مرد گندم گون دراز قد جعد یعنی گھنگروالے بالوں والا مذکور ہے۔ اور ذکر الانبیاء میں جو حدیث ہے اس میں لکھا ہے کہ ایک مرد ہیں مضطرب رجل الشعر یعنی وہ بال کہ نہ بہت سیدھے ہیں اور نہ بہت گھنگروالے ہوں۔
دوسری حدیث جو ابن عباسؓ سے ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ دیکھا میں نے موسیٰ علیہ السلام کو شب معراج میں ایک مرد گندم گوں دراز قد جعد یعنی ایک روایت میں رجل الشعر آیا ہے اور دوسری میں جعد۔ کیا اس اختلاف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام دو ہو گئے۔ ہرگز نہیں۔ تو پھر اختلاف حلیہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دو نہیں ہیں اور اسی شک کے دور کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت عروہ بن مسعودؓ سے فرمادی ہے۔ تا کہ شک نہ رہے کیونکہ گندم گوں رنگ کبھی احمر دکھائی دیتا ہے جبکہ انسان عین صحت اور خوشی کی حالت میں ہو۔ اور جب طبیعت غم اور فکر میں ہو تو سرخی سفیدی مائل ہو جاتی ہے اور ایسا ہی بال بھی کبھی لمبے ہوتے ہیں اور کبھی گھنگروالے اس لئے شک مٹانے کے واسطے حضرت مخبر صادق ﷺ نے مشابہت فرما دی کہ عروہ بن مسعودؓ سے مسیح علیہ السلام کی مشابہت تھی۔ جس بخاری کا حوالہ دیتے ہو اسی بخاری نے نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام جو بتایا ہے وہ عیسیٰ بن مریم کون تھا۔ اب جو آپ مدعی ہیں کہ آنے والے مسیح غیر عیسیٰ بن مریم ہے تو آپ بتائیں کہ اس کی مشابہت کس سے ہے۔ اور شب معراج میں جس عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت سے کہا تھا کہ میں دجال کو قتل کرنے آؤں گا۔ وہ تو اسرائیلی نبی تھا۔ پس نزول بھی اسرائیلی نبی کا ہوگا۔ مرزا قادیانی تو کبھی مکے بھی نہ گئے تھے۔ ان کا طواف کرنا غلط ہے۔
سوال ١٢...... کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مسیح کے بارے میں پہلے بھی اختلاف رہا ہے۔ اور امام مالکؒ جیسا
١٦
عظیم الشان امام آپ کی وفات کا قائل ہے اور مسلمانوں کو علم نہیں ہے کہ اس کے رسول یعنی قرآن وحدیث کی طرف رجوع کرو؟
الجواب...... بیشک یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بارے میں مسیحی حضرات کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ گئے اور تین دن تک مرے رہے اور پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے، جیسا کہ ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو یہود کے ہاتھ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اور ا قیامت میں ہوگا۔ جیسا کہ انجیل برنباس میں ہے۔ ہم دعویٰ سے کہتے بات کا قائل نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو کر پھر زندہ ہو کر نہیں مدفون ہیں۔ امام مالکؒ کا بھی یہی مذہب ہے کہ فوت ہو کر پھر زندہ کئے گئے۔ یہ امام مالکؒ پر افتراء ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے اور اصلا ثبوت ہے تو پیش کرو کہ امام مالکؒ مثیل مسیح کے نزول کے قائل تھے اور ق نزول کرے گا اگر کوئی ثبوت ہے تو آپ بتاویں۔
ہم کہتے ہیں کہ امام مالکؒ کا بھی یہی مذہب ہے چنانچہ حما مجتہد اصالتاً نزول کے قائل ہیں اور اصالتاً نزول بغیر حیات مسیح کے نہیں کی تین دن کی موت کے قائل تھے۔ پس اجماع امت اسی پر ہے کہ حض زندہ ہیں اور خدا تعالیٰ کو اختیار ہے کہ جس کو جب تک چاہے زندہ رکھے نہیں دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بیل کی پیٹھ پر ہاتھ ر کے نیچے آئیں گے۔ اسی قدر تم کو عمر دراز دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ ا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت، تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آجائے۔
آپ (مرزائی صاحبان) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دراز ہیں۔ وہ قادر مطلق ”علی کل شئی قدیر“ اس پر قادر ہے کہ دے سکتا ہے۔ عوج بن عنق کی عمر تین ہزار سال کے قریب تھی۔ (مع وفات عیسیٰ علیہ السلام میں اختلاف صرف اس بات کا ہ ساعت مرا رہا یا تین ساعت مرا رہا۔ مگر پھر زندہ ہو کر آسمان پر صعود ک
١٧
عظیم الشان امام آپ کی وفات کا قائل ہے اور مسلمانوں کو حکم نہیں ہے کہ جب تنازعہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول یعنی قرآن وحدیث کی طرف رجوع کرو؟
الجواب ....... بیشک یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات علی الصلیب کے بارے میں مسیحی حضرات کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے گئے اور تین دن تک مرے رہے اور پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے، جیسا کہ اناجیل مروجہ میں ہے اور ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تو یہود کے ہاتھ آئے اور نہ صلیب دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اور انہیں کا نزول اصالتاً قرب قیامت میں ہوگا۔ جیسا کہ انجیل برنباس میں ہے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ایک شخص بھی اس بات کا قائل نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو کر پھر زندہ ہو کر نہیں اٹھائے گئے اور کشمیر میں مدفون ہیں۔ امام مالکؒ کا بھی یہی مذہب ہے کہ فوت ہو کر پھر زندہ کئے گئے اور آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ یہ امام مالکؒ پر افتراء ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے اور اصالتاً نزول کے منکر تھے۔ کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو کہ امام مالکؒ مثیل مسیح کے نزول کے قائل تھے اور فرماتے تھے کہ کوئی مثیل مسیح نزول کرے گا اگر کوئی ثبوت ہے تو آپ بتاویں۔
ہم کہتے ہیں کہ امام مالکؒ کا بھی یہی مذہب ہے چنانچہ تمام مالکی مذہب کے امام اور مجتہد اصالتاً نزول کے قائل ہیں اور اصالتاً نزول بغیر حیات مسیح کے نہیں ہوسکتا۔ پس امام مالکؒ مسیح کی تین دن کی موت کے قائل تھے۔ پس اجماع امت اسی پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تا نزول زندہ ہیں اور خدا تعالیٰ کو اختیار ہے کہ جس کو جب تک چاہے زندہ رکھے۔ حدیث میں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ جس قدر بال تیرے ہاتھ کے نیچے آئیں گے۔ اسی قدر تم کو عمر دراز دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت، تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پھر ابھی موت آجائے۔
(مشکوٰۃ ذکر الانبیاء)
آپ (مرزائی صاحبان) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی درازی عمر سے کیوں گھبراتے ہیں۔ وہ قادر مطلق ”علیٰ کل شئی قدیر“ اس پر قادر ہے کہ جس کو جس قدر عمر دینا چاہے دے سکتا ہے۔ عوج بن عنق کی عمر تین ہزار سال کے قریب تھی۔ (مطمح العلوم ص٤٠٨ مطبوعہ نولکشور)
وفات عیسیٰ علیہ السلام میں اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ تین دن مرا رہا یا سات ساعت مرا رہا یا تین ساعت مرا رہا۔ مگر پھر زندہ ہو کر آسمان پر صعود کر گیا۔ صعود کرنے اور تا نزول
١٧
زندہ رہنے میں کسی کا اختلاف نہیں ایک شخص تو بتاؤ کہ جس کا مذہب یہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ان کا نزول نہ ہوگا اور ایک شخص امت محمدی میں سے عیسیٰ بن مریم ہوگا۔
مگر واضح رہے کہ کاذب مدعیان مسیحیت کی سند آپ پیش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی مسیحیت منوانے کی خاطر جھوٹ لکھا ہوگا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی مسیح کی وفات فقط اس لئے ثابت کرتے ہیں کہ خود اس کے گدی نشین بن کر مسیح کہلائیں۔ ہاں سلف صالحین میں سے صحابہ کرام تابعین تبع تابعین میں سے کوئی ایک شخص تو بتاؤ جس نے کہا ہو کہ مسیح فوت ہو گئے۔ ان کا اصالتاً نزول نہ ہوگا۔ اور کوئی محمدﷺ کا امتی مسیح موعود بن کر نبوت اور رسالت کا مدعی ہوگا۔ اور وہی سچا ہوگا۔ کیونکہ مسیح موعود کے واسطے نبی اللہ ہونے کی شرط ضروری ہے۔
ہم تو قرآن اور احادیث پیش کرتے ہیں اور آپ کلام خدا اور کلام رسول کے مقابل محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کے اعتراضات پیش کر کے قرآن اور احادیث پر ہنسی اڑاتے ہیں۔ بسم اللہ! آؤ قرآن اور احادیث سے فیصلہ کرلو۔ اگر اصالتاً نزول اور حیات مسیح حدیثوں اور قرآن سے ہم ثابت نہ کریں تو ہم جھوٹے ورنہ خدا تعالیٰ آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ سوچو کہ قیامت کے دن خدا آپ کو پوچھے گا کہ تم نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے عوض غلام احمد بن غلام مرتضیٰ کو کیوں مسیح موعود تسلیم کیا تو آپ سے کوئی جواب نہ بن پڑے گا اب وقت ہے کہ سچا راہ قبول کرلو۔
سوال ١٣....... کیا قرآن کریم کی کوئی آیت پیش کی جاسکتی ہے جس میں صراحت کے ساتھ مذکور ہو کہ حضرت عیسیٰ زندہ جسم آسمان پر اٹھائے گئے؟
الجواب....... قرآن مجید کی آیت ”بل رفعه الله“ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اوّل! دلیل یہ ہے کہ عیسیٰ جسم اور روح دونوں کی مرکبی حالت کا نام ہے۔ صرف روح کو عیسیٰ نہیں کہتے۔ اور اس آیت میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا ذکر ہے کہ یہودی کہتے ہیں ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کو مار ڈالا ہے۔ غلط ہے۔ نہ یہود نے اس کو قتل کیا اور نہ یہود نے اس کو صلیب دیا بلکہ خدا نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور بطور تاکید کے فرمایا۔ ”وما قتلوه یقیناً “ یعنی یقینی امر یہ ہے کہ وہ قتل نہیں ہوا یعنی فوت نہیں ہوا۔ اس کو اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حیات مسیح خود ثابت کر دی کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا نازل ہوگا زمین پر ثم یموت پھر مرے گا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرا نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسی حدیث میں فرمایا ”فيدفن معی فی قبری“ یعنی بعد نزول فوت ہو کر میرے مقبرہ میں دفن
١٨
ہوگا۔ مولوی صاحب یہ تو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کامل و قطعی ثبوت ہے۔ اگر آپ نہ مانیں تو قرآن اور حدیث کا فیصلہ آپ کو منظور نہیں۔ میری عقلی اور فلسفی دلیل یہ ہے کہ روح ایک جوہر لطیف ہے۔ اس کے اوپر کسی کی حکومت اور قبضہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کا نہیں ہو سکتا۔ صرف روح کو یہود نہ تو پکڑ سکتے ہیں اور نہ صلیب دے سکتے ہیں۔ صلیب پر لٹکنے والی چیز جسم عیسیٰ علیہ السلام تھا جو کہ صلیب سے بچایا گیا اور اٹھایا گیا۔ یعنی جس چیز نے صلیب دیا جانا اور قتل ہونا تھا وہ جسم تھا نہ کہ روح اور اللہ تعالیٰ صلیب اور قتل کی تردید فرما کر کہتا ہے کہ عیسیٰ نہ قتل ہوا نہ صلیب دیا گیا۔ وہ اللہ کی طرف اٹھایا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ جسم و روح دونوں حسب وعدہ ”انی رافعک“ اٹھائے گئے۔ جب جسم و روح دونوں کا اٹھایا جانا ثابت ہوا تو اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ مسیح زندہ بجسد عنصری اٹھایا گیا۔ کیونکہ قتل و صلب کا فعل جسم پر وارد ہو سکتا ہے اور جسم ہی قتل و صلب سے بچا کر اٹھایا گیا۔
تیسری دلیل! قرآن کریم میں حکم ہے کہ اگر تم کسی امر کو پورا پورا نہیں جانتے تو اہل کتاب سے دریافت کرو۔ اب چونکہ قرآن شریف نے ”رفعہ اللہ الیہ“ فرمایا اور زیادہ تفصیل رفع کی نہیں فرمائی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم انجیل سے رفع کی کیفیت دیکھیں۔ کہ صرف روح کا رفع ہوا یا جسم و روح دونوں کا رفع ہوا۔ دیکھو انجیل لوقا باب ٢٤ آیت ٥٠ سے ٥٢ تک۔ ”تب وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام انہیں وہاں سے باہر بیت عنیا تک لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کے انہیں برکت دی اور ایسا ہوا کہ جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا۔ ان سے جدا ہوا اور آسمان پر اٹھا لیا گیا۔“
یہاں پر انجیل نے قرآن کی آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ کی تفسیر کر دی ہے۔ یا یوں کہو کہ قرآن شریف نے انجیل کی ان آیات کی تصدیق فرمادی۔ یعنی اول انجیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بجسد عنصری اٹھایا جانا مذکور ہے اور قرآن نے بھی تصدیق فرمادی ہے۔ اب کسی مسلمان کا کام نہیں کہ انکار کرے۔ کیونکہ ہر ایک مسلمان سب سے پہلے اسی پر ایمان لاتا ہے کہ خدا اور اس کے فرشتے اور کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ”آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ“ سب سے پہلی اسلامی تعلیم ہے اب کوئی نہ مانے تو اس کا اختیار ہے۔
سوال ١٤....... ”ما قتلوہ وما صلبوہ“ سے یہ استدلال کہ فوت ہی نہیں ہوئے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ کسی شخص کی نسبت یہ کہنے سے کہ وہ قتل نہیں ہوا یا صلیب پر نہیں مرا یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ مرا بھی نہیں (آگے چل کر مولوی صاحب تمسخر سے کہتے ہیں کہ) مزعومہ دوبارہ آمد اور آخر وفات پانے کے بعد بھی ان الفاظ سے یہی نتیجہ نکلے گا یا آیات منسوخ ہو جائیں گی۔ یا اس
١٩
وقت بھی لوگ اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کا نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں گے۔
الجواب....... جب قتل سے اور صلیب پر فوت نہیں ہوا تو زندہ رہنا ثابت ہے اور یہی ہمارا مقصود ہے اور آسمان پر جانا بحالت زندگی انجیل اور قرآن سے ثابت ہے تو اب بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے کہ آسمان پر کب فوت ہوا اور فرشتوں نے ان کو کس آسمان پر دفن کیا اور کب جنازہ پڑھا گیا۔ زمین پر جو ان کی قبر ہونے والی ہے حسب فرمودہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں ہے جب وہ خالی ہے اور حاجی لوگ شہادت دیتے ہیں کہ ایک قبر کی جگہ درمیان قبور ابوبکر عمرؓ کے ابتک خالی ہے تو اس سے بالبداہت حیات ثابت ہے۔ اگر فوت ہو چکا ہے تو کوئی آیت یا حدیث پیش کرو کہ مسیح فلاں تاریخ اور فلاں ملک میں فوت ہو کر مدفون ہے۔
مگر واضح رہے کہ جس طرح ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں انجیل اور قرآن اور حدیثوں سے حضرت عیسیٰ کی زندگی ثابت کی ہے اسی طرح قرآن وحدیث سے آپ ان کی وفات ثابت کریں۔ اور جو تیس آیات مرزا قادیانی نے اور ساٹھ آیات مرزا خدا بخش نے عسل مصفیٰ میں لکھی ہیں ایک بھی ظاہر نہیں کرتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ ان تمام آیات سے موت کا لازم ہونا ثابت ہوتا ہے جس کو تمام مسلمان مانتے ہیں کہ بیشک ”کل نفس ذائقة الموت“ حق ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ضرور فوت ہوں گے۔ اور خدا تعالیٰ عمر دراز دینے سے عاجز نہیں۔ نظیریں موجود ہیں کہ آدم اور نوح علیہم السلام اور عوج بن عنق کو اس قدر عمریں دراز دیں کہ آج کل محالات میں سے ہیں۔ یعنی حضرت آدم اور حضرت نوح علیہا السلام کی عمریں قریب ایک ایک ہزار سال اور عوج بن عنق کی عمر دو ہزار سال سے اوپر تھی۔
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تا نزول زندہ رہنا خدا تعالیٰ کی لامحدود قدرت کے آگے مشکل اور محالات سے نہیں۔ جب قرآن، حدیث اور انجیل مسیح کو زندہ بتاتے ہیں تو آپ کا کوئی منصب نہیں کہ اپنے قیاس سے ان کا رد کریں اور فلسفیوں کی پیروی میں آسمانی کتابوں اور احادیث نبوی سے انکار کریں۔
باقی رہا مولوی صاحب کا یہ اعتراض کہ بعد نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ آیت قرآن منسوخ ہوگی یا پھر بھی مسیح زندہ مانا جائے گا۔ اس کا جواب دینے سے پہلے مجھے تعجب آتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب جب ایم اے اور مفسر و مدرس قرآن اور یہ اعتراض؟ پہلے ہم پوچھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے ”یأتی من بعدی اسمه احمد“ قرآنی آیت کو منسوخ کر کے قرآن سے
٢٠
خارج کر دیا ہے؟ کیونکہ وہ رسول تو آگیا پھر یہ آیت قرآن میں کیوں بیسیوں اس قسم کی ہیں کہ ان کی تعمیل ہو چکی ہے۔ مگر قرآن میں موجود ہیں ولادت مسیح کی بشارت دی گئی تھی تو ولادت مسیح کے بعد قرآن سے روم کے مغلوب ہونے کے بعد قرآن سے غلبت الروم نکالی گئی؟ آدم ونوح کے قصے قرآن سے نکالے گئے؟ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ اس اعتراض پر۔ پس جو جواب مولوی صاحب کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔
سوال ١٥....... کیا صلیب کے معنی لغت عرب کی سب سے کتاب لسان العرب میں یہ معنی لکھے کہ صلب جان سے مارنے کا مشہور طریقہ الجواب....... یہ حوالہ تو آپ کے مدعا کے برخلاف ہے مارتا ہے۔ اور قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت صلب کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مارے نہیں گئے۔ جب مارے نہیں گئے تو
”والحمد لله“
سوال ١٦....... ”ولکن شبه لهم“ میں ضمیر شبہ میں کس جا سکتی ہے۔ اور اس کے یہ معنی کہ کوئی شخص مسیح کا ہم شکل بنایا گیا بالکل الجواب....... شبہ کی ضمیر تو اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے کے مقابل آپ کا کہنا کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ کیونکہ تفسیر بالرائے ہیں۔
جب انجیل برنباس میں صاف لکھا ہے کہ ”پس اے یسوع اپنی حفاظت کرنا واجب ہے۔ اور عنقریب میرا ایک شاگرد مجھے بیچ ڈالے گا اور اس بناء پر مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے کیا جائے گا۔ اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھالے گا اور یہاں تک کہ ہر ایک اس کو یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔“ (
چنانچہ یہودا اسکر یوطی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل اور یہ وہ انجیل ہے جسے مرزا قادیانی نے اصلی انجیل قبول کیا ہے تو اور تمام مفسرین کے برخلاف کس طرح ایک تیسری بات اپنی رائے اناجیل سے تمسک کر کے دو ہی قسم کی تفسیر کی ہے۔ ایک گروہ تو یہ
٢١
خارج کر دیا ہے؟ کیونکہ وہ رسول تو آگیا پھر یہ آیت قرآن میں کیوں ہے؟ بہت سی آیات قرآن میں اس قسم کی ہیں کہ ان کی تعمیل ہو چکی ہے۔ مگر قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً مریم علیہ السلام کو جو ولادت مسیح کی بشارت دی گئی تھی تو ولادت مسیح کے بعد قرآن سے وہ آیت نکالی گئی ہے؟ اور روم کے مغلوب ہونے کے بعد قرآن سے غلبت الروم نکالی گئی؟ آدم وحوا وابراہیم وموسیٰ وغیرہم انبیاء کے قصے قرآن سے نکالے گئے؟ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ نکالا جائے گا؟ افسوس ایسے اعتراض پر۔ پس جو جواب مولوی صاحب کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔
سوال ١٥...... کیا صلیب کے معنی لغت عرب کی سب سے بڑی کتاب تاج العروس اور لسان العرب میں یہ نہیں لکھے کہ صلب جان سے مارنے کا مشہور طریق ہے۔
الجواب...... یہ حوالہ تو آپ کے مدعا کے برخلاف ہے۔ کیونکہ صلب کے معنی جان سے مارنا ہے۔ اور قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت صلب کی نفی کی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مارے نہیں گئے۔ جب مارے نہیں گئے تو زندہ ہیں۔ اور یہی مقصود تھا۔ ”والحمد للّٰہ “
سوال ١٦...... ”ولکن شبہ لہم “ میں ضمیر شبہ میں مضمر ہے وہ حضرت عیسیٰ کی طرف جا سکتی ہے۔ اور اس کے یہ معنی کہ کوئی شخص مسیح کا ہم شکل بنایا گیا بالکل غلط ہے؟
الجواب...... شبہ کی ضمیر تو اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے جیسا کہ مفسرین کا اتفاق ہے ان کے مقابل آپ کا کہنا کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ کیونکہ تفسیر بالرائے کفر ہے اور آپ رائے سے کہتے ہیں۔
جب انجیل برنباس میں صاف لکھا ہے کہ ”پس اے برنباس معلوم کر ایسی وجہ سے مجھ پر اپنی حفاظت کرنا واجب ہے۔ اور عنقریب میرا ایک شاگرد مجھے تیس سکوں کے ٹکڑوں کے بالعوض بیچ ڈالے گا اور اس بناء پر مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا۔ اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھالے گا اور بے وفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ ہر ایک اس کو یہی خیال کرے گا کہ میں ہوں۔“
(انجیل برنباس فصل ١١٢ آیت ١٣، ١٤، ١٥)
چنانچہ یہودا اسکریوطی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈالی گئی اور وہ صلیب دیا گیا۔ اور یہ وہ انجیل ہے جسے مرزا قادیانی نے اصلی انجیل قبول کیا ہے تو آپ کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔ اور تمام مفسرین کے برخلاف کس طرح ایک تیسری بات اپنی رائے سے کہہ سکتے ہیں۔ مفسرین نے اناجیل سے تمسک کر کے دو ہی قسم کی تفسیر کی ہے۔ ایک گروہ تو مسیح کے صلیب دیئے جانے اور پھر
٢١
تین دن کے بعد زندہ ہو کر اٹھائے جانے کا قائل ہے جو اناجیل اربعہ سے تمسک کرتے ہیں۔ اور دوسرا گروہ بموجب تحریر انجیل برنباس کے مسیح کو بغیر صلیب کے صحیح و سلامت آسمان پر اٹھائے جانے کا مذہب رکھتے ہیں۔ یہ تیسرا مذہب کہ مسیح صلیب دیئے گئے اور جان نہ نکلی مرزا قادیانی اور آپ نے کہاں سے لیا ہے۔ جب تک کوئی سند شرعی نہ ہو قابل تسلیم نہیں۔
سوال ١٧...... کیا یہ سچ نہیں کہ ”رافعک الی یا رفعه الله الیه“ سے یہ نتیجہ نکالنا ہے کہ مسیح زندہ معہ جسد عنصری آسمان پر چلا گیا خلاف لغت وخلاف قرآن ہے۔
الجواب...... رفعہ کے معنی بلند کرنے اور اٹھانے کے ہیں۔ یہ آپ نے غلط فرمایا ہے کہ رفع کے معنی خلاف قرآن ہے اور قرآن میں ہمیشہ جس جگہ رفع کا استعمال ہوا ہے۔ رفع روحانی مراد ہے۔ رفع کے معنی قرآن میں ہمیشہ رفع روحانی اور علو درجات کے نہیں ہیں۔ دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ورفع ابویہ علی العرش (یوسف: ١٠٠)“ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اپنے تخت کے اوپر اٹھایا۔ دوسری جگہ قرآن میں ”ورفعنا فوقکم الطور“ یعنی ”تمہارے سروں پر طور کو اٹھایا۔“
کیا یہاں بھی رفع کے معنی یہ کرو گے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین کا رفع روحانی ہوا تھا؟ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین فوت ہو کر یوسف علیہ السلام کے تخت پر بیٹھے تھے اور پہاڑ کا رفع بھی بنی اسرائیل کے سروں پر رفع روحانی تھا۔ یعنی پہاڑ کی جان نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کے سروں پر کھڑی کی تھی۔
پس مندرجہ بالا قرآن کی آیات سے ثابت ہے کہ رفع کے معنی مع جسم اٹھانے کے بھی ہیں۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کی نسبت روحانی رفع خیال کرنا مفصلہ ذیل دلائل سے غلط ہے۔
- ١...... جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی موت کے سامان دیکھے اور صلیب کے عذاب
ایسے سخت تھے کہ ایک نبی اللہ کو دیئے جانے خدا اور اس کے رسول کی تذلیل تھی۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ یہ پیالہ عذاب مجھ سے ٹال دے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”انی متوفیک ورافعک“ یعنی اے عیسیٰ میں تجھ کو صلیب کے عذابوں سے بچانے کی خاطر حفاظت میں لیکر اپنی طرف اٹھالوں گا۔ اور پاک کروں گا یہود کی صحبت سے۔
اب اس موقع پر اگر روح کا اٹھانا مراد لیں تو بالکل غلط ہے۔ کیونکہ روح کو نہ تو صلیب دی جاسکتی ہے اور نہ کوئی صلیب کا عذاب روح کو دے سکتا ہے۔ پس حفاظت جسمانی کے واسطے
٢٢
دعا تھی اور اس کی تسلی کے واسطے رافعک فرمایا گیا جس سے جسمانی رفع لازم ہے نہ روحانی۔ اور ”مُطَهِّرُكَ“ کا قرینہ موجود ہے۔ یعنی یہود کی خطرناک صحبت سے تم کو پاک کروں گا۔
- ٢...... اگر روحانی رفع مراد لیں تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک ہے کہ اس کو اپنے
رفع روحانی میں شک تھا جب ایک اولوالعزم پیغمبر کو اپنے رفع روحانی میں شک ہو تو پھر امت کا رفع کیوں کر ہو سکتا ہے؟ روحانی رفع تو ہر ایک مومن کا ہوتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ کو اپنے رفع روحانی کے واسطے دعا کرنی بالکل فضول اور غلط ہے۔
- ٣...... جب رفع روحانی ہر ایک مومن کی ہوتی ہے تو قرآن مجید کا فرمانا فصاحت و بلاغت
کے خلاف ہے کہ ماحصل کا وعدہ کرے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جس کا رفع روحانی پہلے ہی سے حاصل تھا قرآن مجید کا یہ فرمانا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے رفع روحانی دوں گا بالکل خلاف فصاحت قرآن ہے۔ اور نیز یہ ثابت ہوگا کہ رفع روحانی کسی پیغمبر کا نہیں ہوا۔ سوائے عیسیٰ اور ادریس علیہم السلام کے۔ اور یہ غلط عقیدہ ہے۔
- ٤...... یہ وعدہ روحانی فطرت انسانی دعا اور تسلی سائل کے بالکل خلاف ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ
کی بے قراری صرف صلیب کے عذابوں کے باعث تھی نہ کہ وہ ”نعوذ باللہ“ موت سے ڈرتے تھے۔ خدا کو سوال کا جواب سائل کی تسلی کا دینے والا دینا چاہئے تھا۔ اور وہ یہی تھا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو سلامت رکھوں گا اور اپنی حفاظت میں لیکر اٹھالوں گا کہ یہودی تجھ کو صلیب نہ دے سکیں گے۔ اور اگر خدا کہے کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ پہلے یہودیوں کے عذاب تجھ کو دیئے جائیں گے اور تجھ کو صلیب پر لٹکایا جائے گا۔ کوڑے پڑوائے جائیں گے۔ لمبے لمبے کیل تیرے اعضاء میں ٹھوکے جائیں گے۔ جن سے خون جاری ہوگا۔ ان عذابوں سے تیری جان بھی نہ نکلنے پائے گی تاکہ عذاب منقطع نہ ہو جائیں۔
اب کوئی عقل مند تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ جواب خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت کے مطابق ہے اور مہربانی ظاہر کرتا ہے؟ ہر گز نہیں! اس جواب سے تو ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ یہود کا طرف دار ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات صلیب پر نہ دے گا تا کہ عذاب سے نجات نہ پا جائے اور یہود ناراض نہ ہوں۔
رفع روحانی تسلیم کرنے میں اس قدر نقص ہیں۔ پس رفع جسمانی سے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت ہو سکتی تھی اور ہوئی۔ خیال تو کرو کہ ایک شخص بادشاہ کے حضور نالش کرتا ہے کہ حضور مجھ کو میرے دشمن صلیب دے کر مارنا چاہتے ہیں آپ میری امداد فرماویں ۔ اس کے جواب
٢٣
میں بادشاہ کہتا ہے کہ ”میں تجھ کو مارنے والا ہوں“ کس قدر بے محل ہوگا۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا جواب کہ میں تجھے مارنے والا ہوں بے محل ۔ حوصلہ شکن اور نامعقول ہے۔ پھر غور کرو کہ ایک مظلوم کہتا ہے ”حضور ظالم لوگ مجھے مارتے ہیں“ اور حضور بھی جواب دیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں کس قدر غلط جواب ہے۔
سوال ١٨...... کیا یہ سچ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلہ کی بنیاد توفی یا وفات کے اس معنی پر منحصر ہے۔ کہ مع جسم ایک انسان کو کہیں لے جانا۔ حالانکہ توفی کا لفظ کبھی بھی لغت عرب و قرآن شریف وحدیث میں اس معنے پر نہیں بولا گیا۔
الجواب...... توفی کا مادہ وفا ہے۔ اور وفا کے معنی پورا لینے اور قبضہ کرنے کے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں متوفيك کے معنی پورا پورا لے لینے اور قبضے میں کر لینے کے ہیں۔ کیونکہ اگر جسم کو چھوڑ کر روح کو قبض کیا جاوے تو یہ ”اخذ شئی وافیا“ نہیں۔ ”اخذ شئی وافیا“ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ سب اجزاء شے کے قبضہ میں کر لئے جائیں۔
پس اگر خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو چھوڑ کر صرف روح کا توفی و رفع کرے تو یہ غلط ہے اور اس پر جملہ کتب لغات وتفاسیر کا اتفاق ہے کہ توفی کے معنی ”اخذ شئی وافیا“ ہیں یعنی کسی چیز کا پورا پورا لے لینا اور موت بھی مجازاً توفی کی ایک قسم ہے۔ حقیقی معنی توفی کے موت نہیں۔ قرآن میں ہے ”ثـم توفی كل نفس ما كسبت (آل عمران:١٦١)“ دیکھو کہ توفی کے معنے پورا پورا دینے کے ہیں نہ کہ موت کے۔
سوال نمبر ١٩...... کیا ”توفاه الله“ کے معنے لغت کی کتابوں میں قبض نفس یا قبض روح لکھے ہیں یا نہیں۔ اللہ کا انسان کو توفی دینا؟
الجواب...... یہ غلط ہے کہ انسان کو اللہ کا توفی دینا ہمیشہ قبض نفس قبض روح کے لئے آتا ہے۔ بلکہ دیگر معنوں میں بھی آتا ہے۔ دیکھو ”ثم توفی کل نفس ما کسبت وهم لا يظلمون“ یہاں توفی کا لفظ ہے مگر معنی قبض نفس و روح کے ہرگز نہیں۔ یہاں پورا پورا صلہ دینے کے معنی ہیں۔ توفی کے معنی قبض شئی وافیا ہیں اور ”والموت نوع منه“ یعنی توفی کے حقیقی معنی کسی چیز کو اپنے قبضہ میں کر لینے کے ہیں اور موت بھی توفی کی ایک مجازی قسم ہے۔ کیونکہ توفی کا مادہ وفا ہے اور وفا کے معنی موت کے ہرگز نہیں۔ ”اوفوا بعهدی اوف بعهدکم“ کے کیا معنی کرو گے اور ”الكريم اذا وعد وفا“ کے کیا معنی کرو گے کہ سخی اپنے وعدہ کو ماردیا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ کہ ”پورا کرتا ہے۔“
٢٤
سوال ٢٠...... کیا آیت ”فلما توفیتنی (مائده: ١١٧) کرتی ہے کہ نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد عیسائی آنحضرت ﷺ کا اس آیت کی تفسیر ان الفاظ سے کرنا کہ جب میں گے اور اللہ فرمائے گا کہ تیرے بعد وہ بگڑے تو میں یہ کہوں گا: ”کنت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم“ یہ دلیل السلام فرماتے ہیں۔ غلط ٹھہرے گا یا نہیں۔ حالانکہ یہ تفسیر بخاری میں
الجواب...... یہ سچ ہے کہ عیسائیوں کا عقیدہ حضرت عیسیٰ غلط خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعدیت حضرت عیسیٰ علی کیونکہ بعدیت کے واسطے ضروری نہیں کہ موت ہی سے ہو کیونکہ رف ولایت یا ایک شہر سے غیر حاضر و بعید تو ہو جاتا ہے۔ مگر مرتا نہیں ولایت سے لاہور چلا آوے تو بعدیت تو واقع ہو جاتی ہے لیکن وہ زند
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا بعدیت مستلزم نہیں کہ ضرور مر کر ہی اپنی امت سے ان کو علیحدگی و بعدیت بعدیت ہوتی ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ”جـ شاہد تھا اور جب تو نے مجھ کو ان کی نظروں سے غائب کر دیا ت بالکل سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب زمین سے آسم والوں کے شاہد حال کس طرح نہیں ہو سکتے تھے۔ کیونکہ روز مر اگر ایک شہر سے دوسرے شہر میں کوئی چلا جائے تو اس کو اس رہتی۔ بلکہ ایک محلہ والوں کی دوسرے محلہ والوں کو خبر نہیں رہت بھی بعد رفع اپنی امت کی نگہبانی نہیں کر سکتے تھے اور یہ ان کا نہ تھا تو ان کے بگڑنے کا ذمہ دار نہیں۔
حضرت ابن عباسؓ جنہوں نے ”متوفيك“ کے ”فلما توفیتنی“ کے معنی ”رفعتنی“ کرتے ہیں۔ ہو جاتا ہے کیونکہ آسمان پر جانے کی حالت میں وہ امت کے گوا بھی مانتے ہیں کہ ان کے رفع کے بعد امت بگڑی۔ مگر یہ کیونکہ امت کا بگڑنا ان کی وفات قبل از نزول کی دلیل ہے۔ کوئی دلیل
٢٥
سوال ٢٠...... کیا آیت ”فلما توفیتنی (مائدہ:١١٧)“ (مائدہ آیت ١١٧) یہ ثابت کرتی ہے کہ کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد عیسائیوں کا عقیدہ بگڑا۔ اگر نہیں تو آنحضرتﷺ کا اس آیت کی تفسیر ان الفاظ سے کرنا کہ جب میرے بعض صحابی پکڑے جائیں گے اور اللہ فرمائے گا کہ تیرے بعد وہ بگڑے تو میں یہ کہوں گا:’’کنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ‘‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ غلط ٹھہرے گا یا نہیں۔ حالانکہ یہ تفسیر بخاری میں ہے۔
الجواب...... یہ سچ ہے کہ عیسائیوں کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بگڑا۔ مگر یہ غلط خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعدیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے ہوئی۔ کیونکہ بعدیت کے واسطے ضروری نہیں کہ موت ہی سے ہو کیونکہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص ولایت یا ایک شہر سے غیر حاضر و معدوم تو ہو جاتا ہے۔ مگر مرتا نہیں زندہ رہتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ولایت سے لاہور چلا آوے تو بعدیت تو واقع ہو جاتی ہے لیکن وہ زندہ رہتا ہے۔
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا بعدیت تو واقع کرتا ہے مگر موت کا مستلزم نہیں کہ ضرور مر کر ہی اپنی امت سے ان کو علیحدگی و بعدیت ہوئی۔ کیونکہ زندگی میں بھی بعدیت ہوتی ہے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ”جب تک میں ان میں رہا اس پر شاہد تھا اور جب تو نے مجھ کو ان کی نظروں سے غائب کر دیا تب تو ہی ان پر نگہبان تھا ۔“ یہ بالکل سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب زمین سے آسمان پر اٹھائے گئے تو پھر زمین والوں کے شاہد حال کس طرح بن سکتے تھے۔ کیونکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ اس دنیا میں اگر ایک شہر سے دوسرے شہر میں کوئی چلا جائے تو اس کو اس شہر کے باشندوں کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ بلکہ ایک محلہ والوں کی دوسرے محلہ والوں کو خبر نہیں رہتی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بعد رفع اپنی امت کی نگہبانی نہیں کر سکتے تھے اور یہ ان کا کہنا بجا ہو گا کہ جب میں ان میں نہ تھا تو ان کے بگڑنے کا ذمہ دار نہیں۔
حضرت ابن عباسؓ جنہوں نے ”متوفیک“ کے معنی ”ممیتک“ کے کیے ہیں وہی ”فلما توفیتنی“ کے معنی ”رفعتنی“ کرتے ہیں۔ جس سے آپ کا تمام استدلال غلط ہو جاتا ہے کیونکہ آسمان پر جانے کی حالت میں وہ امت کے گواہ نہیں ان کے بعد امت بگڑی۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ ان کے رفع کے بعد امت بگڑی۔ مگر یہ کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ ان کے بعد امت کا بگڑنا ان کی وفات قبل از نزول کی دلیل ہے۔ کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔
٢٥
باقی رہا آپ کا اس حدیث سے تمسک کرنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی ایسا ہی کہوں گا جیسا کہ عبد الصالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام کہے گا۔ کہ جب تک میں ان میں تھا ان کا نگہبان تھا۔ جب آپ نے مجھ کو وفات دی تو آپ ان کے نگہبان تھے۔ یہ بیان آنحضرت ﷺ کا صرف غیر حاضری کے عذر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس حدیث کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی غیر حاضری کا عذر کریں گے۔ میں بھی اپنی غیر حاضری کا عذر کروں گا۔ نہ کہ وہی الفاظ کہوں گا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہے ہوں گے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوگا ”أ أنت قلت للناس اتخذو نی وامی الهین (مائدہ:١١٦)“ یعنی اے عیسیٰ تم نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود بناؤ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے ان کو وہی کہا ہے جو تو نے فرمایا۔ یعنی اللہ جو تمہارا معبود ہے اسی کی عبادت کرو اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ جواب اور الفاظ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ خدا کے فضل سے امت محمدی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اور نہ ان کی والدہ کو خدا اور معبود یقین کرتی ہے۔ پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ جواب ہرگز نہ ہوگا جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ کیونکہ وہ لوگ بدعتی ہوں گے۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نیا طریقہ نکالا اور مسائل دین کو بدلا یہ مرتد ہوئے اس لئے حضرت صرف یہ فرمائیں گے کہ یہ لوگ میرے بعد بگڑے بعدیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور محمد رسول اللہ ﷺ اشتراک رکھتے ہیں جو کہ غیر حاضری ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ دونوں کا توفیٰ ایک ہی قسم کا ہے۔ بالکل غلط ہے۔
کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا توفیٰ نہایت کامیابی اور اقبال مندی سے طبعی موت سے ہوا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا توفیٰ رفع آسمانی سے ہوا۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ”ماقال عبد الصالح“ نہیں ہے۔ ”کما قال عبد الصالح“ ہے۔ کما صرف تشبیہ ہے اور یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مماثلت تامہ ہو صرف وجہ شبہ میں اشتراک ہوا کرتا ہے۔ مثلاً اگر زید کو شیر سے تشبیہ دی جائے تو ضروری نہیں کہ زید ہر ایک جہت سے شیر ہو جاوے اور اس کی دم اور پنجے بھی نکل آئیں۔
صرف وجہ شبہ یعنی قوت میں اشتراک جزوی ہوگا ایسا ہی کما قال عبد الصالح میں وجہ شبہ غیر حاضری ہے۔ یہ نہیں ہے کہ جو جو الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے میں بھی وہی کہوں گا۔ کیونکہ جب سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام والا حضرت محمد ﷺ سے نہ ہوگا تو جواب بھی حضرت عیسیٰ
٢٦
علیہ السلام والا محمد ﷺ کی طرف سے نہ ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مانند کہوں گا۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہی کہوں گا۔
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ڈر پیر صاحب قبول کر چکے ہیں۔
”عیسائی مذہب تین سو برس کے بعد بگڑا۔“ تو ح السلام کا تین سو برس تک زندہ رہنا ثابت ہوا۔ کیونکہ شکل منطق ہے وفات مسیح کی۔ مگر چونکہ تین سو برس تک عیسائی نہیں بگڑ عیسیٰ علیہ السلام بھی تین سو برس تک نہ فوت ہوئے۔ جب فو سو برس تک عیسائی نہیں بگڑے۔ پس نتیجہ صاف ہے کہ مسیح آیت ”یا عیسی انی متوفیک“ کہ اے عیسیٰ میں تیر مرزا قادیانی مانتے ہیں۔
تو قرآن سے ثابت ہوا کہ زمانہ نزول قرآن بلکہ کیونکہ اگر مر گیا ہوتا تو قرآن شریف وعدہ کے رنگ میں متوف مات“ فرماتا۔ مگر چونکہ وفات کا وعدہ فرمایا جس کو مرزا قاد ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام چھ سو برس تک تو فوت نہیں ہو میں تیرے مارنے والا ہوں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے ( میں کئے ہیں غلط ہیں یا اس آیت کے نزول تک عیسیٰ زندہ ر
بلائے صحبت لیلے وفر
دونوں صورتوں میں حیات مسیح ثابت ہے۔ جس فوت ہونا اور کشمیر میں مدفون ہونا غلط ثابت ہوا کیونکہ تین عیسائی نہیں بگڑے تھے۔ پس یہ منطق مرزائیوں کا غلط ہے۔
اگر کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ جیسے حضرت
٢٧
علیہ السلام والا محمد ﷺ کی طرف سے نہ ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ما قال نہیں فرمایا بلکہ کما قال فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مانند کہوں گا۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے میں بھی وہی کہوں گا۔
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٣٩، خزائن ج ١١ ص ٣٩ حاشیہ ) پر بحوالہ ڈریر صاحب قبول کر چکے ہیں۔
”عیسائی مذہب تین سو برس کے بعد بگڑا۔“ تو اس منطقی دلیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تین سو برس تک زندہ رہنا ثابت ہوا۔ کیونکہ شکل منطق یوں ہوئی۔ عیسائیوں کا بگڑنا دلیل ہے وفات مسیح کی۔ مگر چونکہ تین سو برس تک عیسائی نہیں بگڑے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تین سو برس تک نہ فوت ہوئے۔ جب فوت نہ ہوئے تو زندہ رہے۔ کیونکہ تین سو برس تک عیسائی نہیں بگڑے۔ پس نتیجہ صاف ہے کہ مسیح تین سو برس تک زندہ رہا اور قرآن کی آیت ”يا عيسى اني متوفيك“ کہ اے عیسیٰ میں تیرے مارنے والا ہوں۔ وعدہ ہے جس کو مرزا قادیانی مانتے ہیں۔
تو قرآن سے ثابت ہوا کہ زمانہ نزول قرآن بلکہ اس آیت کے نزول تک مسیح نہیں مرا۔ کیونکہ اگر مر گیا ہوتا تو قرآن شریف وعدہ کے رنگ میں متوفيك نہ فرماتا بلکہ ”ان عيسیٰ مات“ فرماتا۔ مگر چونکہ وفات کا وعدہ فرمایا جس کو مرزا قادیانی بھی وعدہ وفات تسلیم کرتے ہیں تو ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام چھ سو برس تک تو فوت نہیں ہوئے تھے۔ پس یا تو متوفیک کے معنی کہ میں تیرے مارنے والا ہوں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٥٩٨، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) میں کئے ہیں غلط ہیں یا اس آیت کے نزول تک عیسیٰ زندہ رہے۔
بلائے صحبت لیلئے وفرقت لیلئے
دونوں صورتوں میں حیات مسیح ثابت ہے۔ جس سے ایک سو بیس برس کی عمر پا کر مسیح کا فوت ہونا اور کشمیر میں مدفون ہونا غلط ثابت ہوا کیونکہ تین سو برس تک تو مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ عیسائی نہیں بگڑے تھے۔ پس یہ منطق مرزائیوں کا غلط ہے کہ عیسائیوں کا بگڑنا وفات مسیح کی دلیل ہے۔
اگر کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوڑے پڑوائے گئے اور
٢٧
طمانچے مارے گئے۔ صلیب کے عذاب دیئے گئے۔ اور صلیب پر اس کی جان نکلی تھی جیسا کہ انا جیل میں ہے کہ یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دی اور اس کا توفی وقوع میں آیا اس طرح نعوذ باللہ حضرت محمد ﷺ کا توفی ہوا ہوگا اور یہی آپ کی دلیل پیش کرے کہ جیسا مسیح ”فلما توفیتنی“ کہے گا۔ تو ثابت ہوا کہ دونوں کا توفی ایک ہی تھا۔ تو مولوی صاحب بتا دیں کہ اس عیسائی کو وہ کیا جواب دیں گے؟ آیا ایسی تذلیل اور عذاب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہوئے۔ ویسے ہی حضرت خلاصہ موجودات افضل الرسل ﷺ کے واسطے ہونے قبول کریں گے یا اپنی اس دلیل کی اصلاح کریں گے کہ دونوں کا توفیٰ ایک ہی قسم کا نہ تھا۔
تہمت
دیوبند کے علمائے اسلام اور قادیانی چالیں
جیسا کہ مرزا قادیانی کا طرز عمل یہ تھا کہ پہلے زور وشور سے مخالفین کو مناظرہ ومباہلہ کے واسطے للکار کر ایسے پر زور اور شاعرانہ لفاظی اور مبالغہ آمیز الفاظ میں بلاتے کہ کوئی سمجھے کہ آپ ضرور بحث کے لئے تیار ہیں اور شرائط ومباحثہ ومباہلہ ایسے طریق پر مکمل کر کے لکھتے ہیں کہ گویا سچ مچ بحث کے لئے آمادہ ہیں مگر جب مخالفین کی طرف سے قبول دعوت بحث کا جواب جاتا تو پھر اپنی ہی تردید کر کے حیلہ سازی سے ٹال دیتے۔ جس سے ثابت ہو چکا ہے کہ ان کا اس للکار اور دعوت سے صرف اپنے مردوں کو قابو میں رکھنا منظور ہوتا تھا نہ کہ تحقیق حق۔
جیسا کہ انہوں نے حضرت علامہ خواجہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ (دامت برکاتہم) کے ساتھ کیا تھا کہ پہلے خود ان کو دعوت مناظرہ ومباہلہ دی اور زعم یہ تھا کہ پیر صاحب میرے مقابلہ پر نہ آئیں گے۔ خوب دل کھول کر شرائط مناظرہ ومباہلہ لکھیں اور یہاں تک لکھ دیا کہ جو فریق لاہور میں نہ آوے اس کی گریز سمجھی جائے گی۔ مگر خدا کی شان جب پیر صاحب لاہور میں تشریف لائے تو مرزا قادیانی گھر سے نہ نکلے۔ ہر چند حضرت شاہ صاحب کی طرف سے اشتہار پر اشتہار اور نوٹس پر نوٹس دیا گیا مگر ”صدائے برنخاست“ کا مضمون صادق آیا۔ جب حضرت شاہ صاحب تمام لاہور کو گواہ کر کے ایک معقول عرصہ انتظار کرنے کے بعد واپس چلے گئے تو مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کی تسلی کے واسطے اشتہار دے دیا کہ: ”چونکہ مجھ کو لاہور میں جانے سے خطرہ جان ہے اور پیر صاحب کے ساتھ سرحدی پٹھان تھے۔ اس لئے میں لاہور نہ گیا۔ یہ صرف رکیک عذر اپنے قابو یافتگان کی خاطر کیا گیا۔ ورنہ گورنمنٹ انگریزی کے
٢٨
٢١١
عہد حکومت کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ مجمع عام ہو اور اس مرزا قادیانی کے اس عذر سے عقلمند تاڑ گئے تھے کہ؎
کنجے گرفت وترس خدا بہانہ ساخت
یہ صرف بہانہ تھا۔ ورنہ مثل مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ ہوتے اور اہل علم کے سامنے اپنے دعاوی نصوص شرعی سے ثابت کر نہ آنا تھا نہ آئے۔
وہی چال یا سنت اب مرزا قادیانی کی امت (مریدوں) تو بڑے زور وشور سے دے دیتے ہیں۔ مگر جب آگے سے تیار وہی ناممکن القبول شرائط پیش کرنے لگتے ہیں۔ آندم بر سر مطلب ۔
اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩١٨ء میں زیر عنوان مباہلہ کریں گے، علمائے دیوبند کو دعوت مناظرہ ومباہلہ دی۔ ”آ مناظرہ ہوگا۔ اگر مناظرہ سے اور متنازعہ کا تصفیہ نہ ہو تو پھر بعد تصفیہ عبارت ہے۔
”ان کا یعنی علمائے دیوبند کا کوئی زعیم اپنے دلائل دئے اور پھر ہمارا جواب سنے۔ اس کے بعد پھر بھی اگر اسے یقین سے نہیں بلکہ اس کا امام (نعوذ باللہ) مفتری اور کذاب اپنے دعویٰ حسب سنت رسول اللہ ﷺ بعد تصفیہ شرائط مباہلہ کرلے۔“
جس کا جواب علمائے دیوبند کی طرف سے اشتہار نمبر ”نہایت صدق واخلاص اور متانت کے ساتھ اولاً اس بات کا قادیانی جن کو آپ نے (معاذ اللہ) خدا کا برگزیدہ نبی لکھا ہے کہ ان کے مخالف کہتے ہیں۔ وہ ایک مفتری اور کذاب شخص تھا۔ پر حق واضح نہ ہو تو پھر آخری صورت مباہلہ ہے جو اسی وقت کسی سر
مرزائیوں نے جب دیکھا کہ علمائے دیوبند مناظرہ اشتہار مورخہ ٢٦؍ ربیع الثانی میں جھٹ لکھ دیا کہ: ”افسوس علمائے طرف آنے کے اس سے ہٹ کر مناظرہ کی طرح ڈالی ہے۔ جس
٢٩
عہد حکومت کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ مجمع عام ہو اور اس جرم کا ارتکاب ہو۔ مرزا قادیانی کے اس عذر سے عقلمند تاڑ گئے تھے کہ
کنجے گرفت و ترس خدا بہانہ ساخت
یہ صرف بہانہ تھا۔ ورنہ مثل مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ اگر اپنے دعاوی میں سچے ہوتے اور اہل علم کے سامنے اپنے دعاوی نصوص شرعی سے ثابت کر سکتے تو ضرور لاہور آتے۔ لیکن نہ آنا تھا نہ آئے۔
وہی چال یا سنت اب مرزا قادیانی کی امت (مریدوں) میں جاری ہے۔ پہلے اشتہار تو بڑے زور وشور سے دے دیتے ہیں۔ مگر جب آگے سے تیار پاتے ہیں تو بات ٹالنے کے لئے وہی ناممکن القبول شرائط پیش کرنے لگتے ہیں۔ آدم بر سر مطلب۔
اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٠؍ستمبر ١٩١٨ء میں زیر عنوان ’’کیا علمائے دیوبند ہم سے مباہلہ کریں گے، علمائے دیوبند کو دعوت مناظرہ ومباہلہ دی‘‘ جس کا مطلب صاف تھا کہ پہلے مناظرہ ہوگا۔ اگر مناظرہ سے امر متنازعہ کا تصفیہ نہ ہو تو پھر بعد تصفیہ شرائط مباہلہ ہوگا۔ الفضل کی عبارت ہے۔
’’ان کا یعنی علمائے دیوبند کا کوئی زعیم اپنے دلائل جو ہماری تردید میں رکھتا ہے سنا دے اور پھر ہمارا جواب سنے۔ اس کے بعد پھر بھی اگر اسے یقین رہے کہ سلسلہ احمدیہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ اس کا امام (نعوذ باللہ) مفتری اور کذاب اپنے دعوے میں غیر مصدق تھا۔ تو ہم سے حسب سنت رسول اللہ ﷺ بعد تصفیہ شرائط مباہلہ کر لے‘‘
۔ جس کا جواب علمائے دیوبند کی طرف سے اشتہار نمبر ٢ مورخہ ١٨؍ربیع الثانی دیا گیا کہ:
’’نہایت صدق واخلاص اور متانت کے ساتھ اولاً اس بات کا فیصلہ کر لیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جن کو آپ نے (معاذ اللہ) خدا کا برگزیدہ نبی لکھا ہے۔ وہ فی الواقعہ ایسے ہی تھے یا جیسا کہ ان کے مخالف کہتے ہیں۔ وہ ایک مفتری اور کذاب شخص تھا۔ اور اگر بعد مناظرہ بھی نمایاں طور پر حق واضح نہ ہو تو پھر آخری صورت مباہلہ ہے جو اسی وقت کسی میدان میں عمل آئیگا۔
مرزائیوں نے جب دیکھا کہ علمائے دیوبند مناظرہ ومباہلہ کے واسطے تیار ہیں تو اپنے اشتہار مورخہ ٢٦؍ربیع الثانی میں جھٹ لکھ دیا کہ: ’’افسوس علمائے دیوبند نے بجائے مباہلہ کی طرف آنے کے اس سے ہٹ کر مناظرہ کی طرح ڈالی ہے۔‘‘ جس کو پڑھ کر علمائے دیوبند نے
٢٩
اشتہار نمبر ٣ میں مرزائی دروغ بیانی ثابت کر کے جماعت مرزائیہ کی بخوبی قلعی کھول دی ہے۔
(دیکھو اشتہار علمائے دیوبند مورخہ ٢٨ ربیع الثانی مطابق ٣١ جنوری ١٩١٩ء)
لہٰذا ہم علمائے دیوبند کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت میں سے کوئی ایک بھی اصل بحث پر مناظرہ نہ کرے گا۔ یہ ہماری پیش گوئی لکھ رکھیں۔ صرف شرائط کے تصفیہ میں وقت ضائع کر کے بیٹھ جائیں گے۔ بلکہ اپنی فتح کا اشتہار دے دیں گے جیسا کہ ان کا مرشد اور وہ ہمیشہ کرتے رہے۔ جس طرح الفضل (مرزائی اخبار) خود ہی لکھ کر مناظرہ کے بعد مباہلہ ہوگا۔ پھر خود ہی اس سے روگرداں ہوا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب دامت برکاتہم کے مقابلہ میں مباحثہ سے پہلو تہی کی تھی۔ یہ ایک نہایت معمولی چال یا سنت قادیانی ہے۔
مرزا قادیانی بے چارہ ایک ہی مرید دہلوی کہیں بھولے بھٹکے اس قادیانی سنت کے برخلاف بمقام لدھیانہ مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل ایڈیٹر اہلحدیث امرتسر سے شرطیہ مناظرہ کر بیٹھا جس کا نتیجہ وہی ہوا جو دنیا کو پہلے ہی سوجھ گیا تھا۔ یعنی یہ مرزائی صاحب شرطیہ مناظرہ میں مولوی صاحب موصوف سے ہار گئے اور شکست فاش کھائی۔ کئی سو روپیہ شرط کا ادا کرنا پڑا جس کا اب تک ان کو درد ہوگا۔
پھر مرزائی علمائے اسلام سے کس برتے پر مناظرہ کریں۔ یہ فقط بیوقوفوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے وہ کبھی کبھی اشتہار بازی کر دیا کرتے ہیں کہ ”ہم سے مناظرہ کرلو۔ ہم سے مباہلہ کرلو“ وغیرہ حافظ نے سچ کہا ہے۔
چیست یاران طریقت بعد از ایں تدبیر ما
یہ ان کے پیر کی قدیم سنت اور طریقہ ہے کہ مخالف کو پہلے بحث کے واسطے بلانا۔ جب وہ تیار پایا جائے تو کہہ دیا کہ ہم کو الہام ہوا ہے کہ اس سے بحث مت کرو۔ یہ اشتہار بازی صرف سادہ لوحوں کے واسطے کی جاتی ہے کہ مبادا حق کی بات سن کر قابو سے نہ نکل جائیں۔ مباحثہ و مناظرہ تو رہا درکنار وہ تو انہیں اہل حق کی تحریر بھی نہیں دیکھنے دیتے اور یہ چال علمائے اسلام سے ہی نہیں بلکہ میاں محمود اور مولوی محمد علی صاحباں کے درمیان بھی یہی روش جاری ہے۔ اگر مرزائیوں نے علمائے اسلام دیوبند سے حسب تحریر خود مناظرہ کیا تو ہم اپنے اس خیال کو واپس لے لیں گے۔ لیکن لم یفعلوا ولن یفعلوا!
٣٠
خاتم النبیین ﷺ
خدمات
جناب بابو پیر بخش
بخوبی قلعی کھول دی ہے۔ ج الثانی مطابق ٣١/جنوری ١٩١٩ء) قادیانی جماعت میں سے کوئی ہے۔ صرف شرائط کے تصفیہ میں گے جیسا کہ ان کا مرشد اور وہ یہ مناظرہ کے بعد مباہلہ ہوگا۔ حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ یہ ایک نہایت معمولی چال یا
چکے اس قادیانی سنت کے اہلحدیث امرتسر سے شرطیہ ئی یہ مرزائی صاحب شرطیہ گئی سو روپیہ شرط کا ادا کرنا
یہ فقط بیوقوفوں کو اپنے دام ”ہم سے مناظرہ کر لو۔ ہم
ما ما بحث کے واسطے بلانا۔ جب درو۔ یہ اشتہار بازی صرف سے نہ نکل جائیں۔ مباحثہ یہ چال علمائے اسلام سے جاری ہے۔ اگر مرزائیوں ل کو واپس لے لیں گے۔
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
خدمات مرزا
جناب بابو پیر بخش لاہوری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا کسی نبی کو ناجائز خوشامد کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی ٹوڈی پن کا ثبوت
مرزا غلام احمد قادیانی ماہ جون ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے۔ مرزے نے ١٨٦٤ء میں سیالکوٹ میں بطور اہلمد ملازمت اختیار کی۔ ترقی کے خیال سے ١٨٦٨ء میں مختاری کا امتحان دیا لیکن فیل ہو گئے۔ اس ناکامی سے بددل ہوکر اور ملازمت چھوڑ کر اپنے وطن قادیان میں چلے آئے۔ شہرت طلبی کی تدابیر سوچنے لگے۔ اتفاق یا مرزا قادیانی کی خوش قسمتی سے یہ وہ وقت تھا کہ عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے اسلام پر اعتراضات اور حملے ہو رہے تھے۔ مرزا قادیانی نے موقع کو غنیمت سمجھ کر قلم ہاتھ میں لیا اور ١٨٨٠ء میں براہین احمدیہ نامی کتاب کی تالیف و ترتیب شروع کی۔ جس کے لئے اسلام کے نام پر چندے کی اپیلیں شائع کی گئیں۔ ان اپیلوں کے جواب میں مسلمانوں نے فراخ دلی سے روپیہ دیا۔ اس کتاب کی تالیف کا سلسلہ ١٨٨٤ء میں ختم ہوا۔ اس دوران میں مرزا قادیانی نے پروپیگنڈا کے فن میں مہارت تامہ پیدا کرنے کے علاوہ کافی شہرت بھی حاصل کرلی۔
مختلف دعاوی
مرزا قادیانی نے اس اثناء میں ایران کے مدعی مہدویت علی محمد باب اور مدعی نبوت اور مسیحیت بہاء اللہ کی تالیفات اور ان کے دعاوی و دلائل کا مطالعہ شروع کیا۔ جن سے مرزا قادیانی کو اپنے عزائم و مقاصد میں بڑی مدد ملی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں ”مسیح“ اور ”مہدی“ ہونے کا اعلان کر دیا اور اس کو کافی نہ سمجھ کر ١٩٠١ء میں صریح الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ عیسائیوں کا ”مسیح“ اور مسلمانوں کا ”مہدی“ اور ”نبی“ بننے کے بعد مرزا قادیانی نے ہندوؤں پر بھی کرم فرمائی ضروری سمجھی۔ چنانچہ ١٩٠٤ء میں کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ فرمایا۔ اس کے بعد اس قدر گوناگوں دعاوی کئے کہ بس وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔
حکومت کی چوکھٹ پر جھکنے کی ضرورت
نبوت و رسالت کا عظیم الشان دعویٰ (جس کے مدعی کو محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد امت
٢
٢١٥
مرحومہ کے تمام اکابر واصاغر اور اولین و آخرین کافر سمجھتے رہے ہیں) تسلیم کر لیتے۔ دوسری طرف کرشن اوتار اور مسیحیت کا دعویٰ بھی ہندوؤں کے مسلمہ عقائد کے خلاف تھا۔ اس لئے سب قوموں نے مرزا قادیانی کی مخالفت کی اور ان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مرزا قادیانی اپنے ان دعاوی میں سچے ہوتے تو مخلوق سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کئے جاتے۔ لیکن چونکہ ان دعاوی کی بنیاد جھوٹ پر تھی اس لئے آپ کو ایک ایسے مادی سہارے کی تلاش ہوئی۔ جس کے بل پر انہیں جاری رکھ سکتے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ نے حکومت وقت (جس کو آپ ظل اللہ اور اولی الامر کے پاک ناموں سے ملقب کر چکے تھے) کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد کا پیشہ اختیار کیا اور کیا کہ جہاد جیسے اسلام کے قطعی مسئلہ کا (جس کو اسلامی مسائل کی روح کا عمر بھر میں جس قدر کتابیں، رسالے، اشتہار اور اخبار شائع کئے ان کا اکثر حصہ اس میں صرف کر دیا کہ گورنمنٹ کی ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری جز و ایمان ہے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جاویں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم میں پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ بن جائیں اور مہدی سودانی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٧)
ایک قابل غور نکتہ
ہندوستانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے انگریزی اطاعت کا درس دیا۔ اس پر نظر کر کے سوال یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انگریزی اطاعت اور مخالفت کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا وہاں کے مسلمان بھی انگریزی رعایا تھے؟ کہ ان کو بھی ”اطاعت“ کا سبق پڑھانا تکمیل ایمان کے لئے لازمی سمجھا گیا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس پروپیگنڈا کا بجز اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ مرزا صاحب تمام دنیا کے مسلمانوں کی روح جہاد کو بھی کچلنے کا تہیہ کر چکے تھے اور آپ اسلامی
٣
مرحومہ کے تمام اکابر واصاغر اور اولین و آخرین کافر سمجھتے رہے ہیں) ایسا نہ تھا کہ مسلمان اس کو تسلیم کر لیتے۔ دوسری طرف کرشن اوتار اور مسیحیت کا دعویٰ بھی ہندوؤں اور عیسائیوں کے نزدیک مضحکہ خیز تھا۔ اس لئے سب قوموں نے مرزا قادیانی کی مخالفت کی اور ان کے من گھڑت دعاوی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مرزا قادیانی اپنے ان دعاوی میں سچے اور مامور من اللہ ہوتے تو تمام مخلوق سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کئے جاتے۔ لیکن چونکہ ان دعاوی کی بنیاد نفسانیت پر قائم تھی۔ اس لئے آپ کو ایک ایسے مادی سہارے کی تلاش ہوئی۔ جس کے بل بوتے پر آپ اپنے مشن کو جاری رکھ سکتے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے آپ نے حکومت وقت (جس کو آپ دجال کے لقب سے ملقب کر چکے تھے) کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد کا پیشہ اختیار کیا اور اس معاملہ میں اس قدر غلو کیا کہ جہاد جیسے اسلام کے قطعی مسئلہ کا (جس کو اسلامی مسائل کی روح کہنا چاہئے) انکار کر دیا اور عمر بھر میں جس قدر کتابیں، رسالے، اشتہار اور اخبار شائع کئے ان کا اکثر و بیشتر حصہ یہی تعلیم دینے میں صرف کر دیا کہ گورنمنٹ کی ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری جزو ایمان ہے اور جہاد حرام ہے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جاویں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)
ایک قابل غور نکتہ
ہندوستانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے انگریزی اطاعت کا جو درس دیا ہے اسے قطع نظر کر کے سوال یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انگریزی اطاعت اور مخالفت جہاد کا پروپیگنڈا کرنے کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا وہاں کے مسلمان بھی انگریزی رعایا میں داخل تھے کہ ان کو ”اطاعت“ کا سبق پڑھانا تکمیل ایمان کے لئے لازمی سمجھا گیا۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس پروپیگنڈا کا بجز اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اسلامی ممالک کے مسلمانوں کی روح جہاد کو بھی کچلنے کا تہیہ کر چکے تھے اور آپ اسلامی ممالک کو بھی برطانیہ کے
٣
زیرنگین دیکھنے کے لئے بے تاب و بے قرار تھے۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“
بیعت کا واحد مقصد
اس نہایت ہی ناپاک مقصد کی تکمیل کے لئے مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کو تیار کیا اور عملی طور پر بتا دیا کہ مرزائی مذہب کے عالم وجود میں آنے کی غرض وغایت کیا ہے۔ چنانچہ آپ اپنی پچاس الماریوں والی کتابوں میں لکھتے ہیں: ”وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)
- ……٢ ”اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ
گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
کیا آج تک کسی نبی کو اس قسم کا الہام ہوا ہے؟ مرزائی صاحبان جواب دیں۔
- ……٣ ”اس لئے خدا تعالیٰ نے اس قضیہ کی صورت کو مسلمانوں کے سر پر سے بہت جلد اٹھا لیا
اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا اور وہ تلخی اور حرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)
مرزا قادیانی نے اپنی ذریت کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی یہ فرض قرار دے دیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے سچے خیر خواہ اور دلی جاں نثار ہو جائیں۔ اگر وہ اس سے انکار کریں تو خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں۔ جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے۔ جس کے ترک کرنے سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جاں نثار ہو جائیں۔“
(ضمیمہ نمبر ٣ تریاق القلوب ص ب، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٨)
- ……٤ جمہور اہل اسلام کے نزدیک اولی الامر منکم سے اسلامی حکومت مراد ہے۔ لیکن
٤
مرزا قادیانی اپنے گھر کی منطق پر استدلال کرتے ہوئے اس میں انگریزوں کو شامل کر رہے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”جسمانی طور پر اولی الامر سے مراد بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔“
(ضرورة الامام ص ٢٢، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)
- ٥...... ”اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس
انہیں اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس میں میری نظیر اور مثیل نہیں۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٤٤، ٤٥، خزائن ج ٨ ص ٤٤، ٤٥)
- ٦...... ”اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے
ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ ان خدمات کو بھلا دے گی۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٦)
- ٧...... ”میرا باپ اور بھائی مفسدہ ١٨٥٧ء میں گورنمنٹ کی خدمت اور گورنمنٹ کے
باغیوں کا مقابلہ کر چکے ہیں اور میں بذات خود سترہ برس سے گورنمنٹ کی یہ خدمت کر رہا ہوں کہ بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں یہ مسئلہ شائع کر چکا ہوں کہ گورنمنٹ سے مسلمانوں کو جہاد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور میں گورنمنٹ کی پولیٹکل خدمت اور حمایت کے لئے ایسی جماعت تیار کر رہا ہوں۔ جو آڑے وقت میں گورنمنٹ کے مخالفوں کے مقابلہ میں نکلے گی اور گورنمنٹ کے متعلق مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ ”وما کان الله لیعذبهم وانت فیهم اینما تولوا فثم وجه الله“ یعنی جب تک تو گورنمنٹ کی عملداری میں ہے۔ خدا گورنمنٹ کو کچھ تکلیف نہیں پہنچائے گا اور جدھر تیرا منہ ہو گا اسی طرف خدا کا منہ ہو گا اور چونکہ میرا منہ گورنمنٹ انگلیشیہ کی طرف ہے اور اس کے اقبال و شوکت کے لئے دعا میں مصروف ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦ تا ٣٦٨ ملخص)
٥
- ......٨ ”ہر ایک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔
کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں۔ وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے۔ ہرگز نہیں پاسکتے۔“
(ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
”میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں ۔ جس نے زمانہ میں ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٢، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
”میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے خدا اس کو سلامت رکھے۔ رومیوں کی نسبت قوانین معدلت بہت صاف اور اس کے احکام پیلاطوس سے زیادہ تر زیر کی اور فہم اور عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل کا شکر ہے کہ اس نے ایسی سلطنت کے ظل حمایت کے نیچے مجھے رکھا ہے۔ جس کی تحقیق کا پلہ شبہات کے پلے سے بڑھ کر ہے۔“
(کشف الغطاء ص ١١، ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٢)
”ہمیں سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور اطاعت دکھلانی چاہئے۔ اس سلطنت کے ہمارے سر پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے۔ ہرگز نہیں ہو سکتے۔“
(کشف الغطاء ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٠٢)
- ......٩ ”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر
ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کر دیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٨، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)
- ......١٠ مرزا قادیانی اپنے والد صاحب کا واسطہ دے کر لکھتے ہیں: ”میرا باپ مرزا غلام مرتضیٰ
اس نواح میں ایک نیک نام رئیس تھا اور گورنمنٹ کے اعلیٰ افسروں نے پرزور تحریروں کے ساتھ لکھا کہ وہ اس گورنمنٹ کا سچا مخلص اور وفادار ہے اور میرے والد صاحب کو دربار گورنری میں کرسی ملتی
٦
تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے۔ میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ بھولے گی کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنے گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں امداد کے لئے دیئے تھے۔ چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں اور میرا بھائی مرزا غلام شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔ غرض اس طرح میرے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کیا۔ سو انہیں خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے
(رسالہ کشف
طائفہ مرزائیہ ٭ پنجابی نبی کے نقش قدم
ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں مراسلہ
یہ اس ایڈریس کی نقل ہے جو مرزائیوں نے ٢٧ فروری پنجاب پیش کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امت مرزائیہ بھی اب قادیانی کی سنت کے مطابق حکومت برطانیہ کی فرمانبرداری میں اپنا بلکہ جزو ایمان سمجھتی ہے۔
”جناب شہزادہ ویلز ! ہم نمائندگان جماعت احمدیہ جنوب ورود ہندوستان پر تہہ دل سے خوشامد ید کہتے ہیں اور اگرچہ ہم وہ الفاظ کے خاندان سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کما حقہ کر سکیں۔ لیکن مختصراً دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو کہ ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے حضور عالی! چونکہ ہماری جماعت نئی ہے اور تعداد میں میں کم ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ جناب کو پوری طرح ہماری جماعت اپنے متعلق جناب کو کچھ علم دے دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک
٧
تھی اور ہمیشہ اعلیٰ حکام عزت کی نگاہ سے ان کو دیکھتے تھے اور اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حکام ضلع اور قسمت کبھی کبھی ان کے مکان پر ملاقات کے لئے بھی آتے تھے۔ کیونکہ انگریزی افسروں کی نظر میں وہ ایک وفادار رئیس تھے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ ان کی اس خدمت کو کبھی نہیں بھولے گی کہ انہوں نے ١٨٥٧ء کے ایک نازک وقت میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار اپنے عزیزوں اور دوستوں سے مہیا کر کے گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے تھے۔ چنانچہ ان سواروں میں سے کئی عزیزوں نے ہندوستان میں مردانہ وار لڑائی مفسدوں سے کر کے اپنی جانیں دیں اور میرا بھائی مرزا غلام قادر تموں کے پتن کی لڑائی میں شریک تھا اور بڑی جانفشانی سے مدد دی۔ غرض اس طرح میرے بزرگوں نے اپنے خون سے اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی متواتر خدمتوں سے اپنی وفاداری کو گورنمنٹ کی نظر میں ثابت کیا۔ سو انہیں خدمات کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ ہمارے خاندان کو معمولی رعایا میں سے نہیں سمجھے گی اور اس کے اس حق کو کبھی ضائع نہیں کرے گی جو بڑے فتنہ کے وقت میں ثابت ہو چکا ہے۔"
(رسالہ کشف الغطاء ص ٣، خزائن ج ١٤ ص ١٨٠)
طائفہ مرزائیہ پنجابی نبی کے نقش قدم پر
ہز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں مرزائیوں کا ایڈریس
یہ اس ایڈریس کی نقل ہے جو مرزائیوں نے ٢٧ فروری ١٩٢٢ء کو بوساطت گورنمنٹ پنجاب پیش کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امت مرزائیہ بھی اپنے سرکاری نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت کے مطابق حکومت برطانیہ کی فرمانبرداری میں اپنا مال و جان قربان کرنا فخر ہی نہیں بلکہ جزو ایمان سمجھتی ہے۔
”جناب شہزادہ ویلز! ہم نمائندگان جماعت احمدیہ جناب کی خدمت میں جناب کے ورود ہندوستان پر تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور اگرچہ ہم وہ الفاظ نہیں پاتے جن میں جناب کے خاندان سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کر سکیں۔ لیکن مختصر لفظوں میں ہم جناب کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک معظم کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو بلا کسی عوض اور بدلہ کے خیال کے ہم لوگ اپنا مال اور اپنی جانیں ان کے احکام کی بجا آوری کے لئے دینے کے لئے تیار ہیں۔
حضور عالی! چونکہ ہماری جماعت نئی ہے اور تعداد میں بھی دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ جناب کو پوری طرح ہماری جماعت کا علم نہ ہو۔ اس لئے ہم مختصراً اپنے متعلق جناب کو کچھ علم دے دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ
٧
کے فضل سے اس وسیع ملک کی حکومت کی باگ آپ کے ہاتھ میں آنے والی ہے اور بادشاہ کی حکومت کے استحکام میں جو امور بہت ہی ممد ہوتے ہیں ان میں سے اپنی رعایا کے مختلف طبقوں کا علم بھی ہے۔ حضور عالی! ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور ہمیں دوسری جماعتوں سے امتیاز اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ہے۔ ہم دوسرے مسلمان ہیں اور ہمیں اس نام پر فخر ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں ایک عظیم الشان خندق حائل ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس سو سال پہلے خدا کے ایک برگزیدہ کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ اس وقت کے مامور حضرت مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور کے ماننے والے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے دوسرے بھائی ان لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت مسیح کا انکار کر دیا تھا، اس کے منکر ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ آنے والا مسیح مسیح کے رنگ میں آنے والا تھا نہ کہ خود مسیح نے آنا تھا۔
ہمارے سلسلہ کی بنیاد اکتیس سال سے پڑی ہے اور باوجود سخت سے سخت مظالم کے جو ہمیں برداشت کرنے پڑے ہیں۔ اس وقت ہندوستان کے ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت نہیں ہے۔ بلکہ سیلون، افغانستان، ایران، عراق، عرب، روس، ماریشس، نیپال، ایسٹ افریقہ، مصر، سیرالیون، گولڈ کوسٹ، نائجیریا، یونائیٹڈ سٹیٹس ۔ خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ دنیا میں نصف ملین کے قریب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ صرف مختلف ممالک کے ہندوستانی ساکنین ہی اس جماعت میں شامل ہیں۔ بلکہ خود ان ممالک کے رہنے والے اس جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ لندن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور ایک مسجد بھی ہے اور انگلستان کے قریباً دو سو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہو چکے ہیں اور اسی طرح یونائیٹڈ سٹیٹس کے لوگوں میں یہ سلسلہ پھیل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ سلسلہ سب جہاں میں پھیل جائے گا۔
حضور عالی! ان مختصر حالات بتانے کے بعد ہم جناب کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ہماری وفاداری جناب کے والد مکرم سے کسی دنیاوی غرض پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیاوی طمع اس کا موجب ہے جو خدمات گورنمنٹ کی بحیثیت جماعت ہم کرتے ہیں۔ اس کے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے طالب نہیں ہوئے۔ ہماری وفاداری کا موجب ایک اسلامی حکم ہے۔ جس کے متعلق بانی سلسلہ نے ہمیں سخت تاکید کی ہے کہ کبھی اسے نظر انداز نہ ہونے دیں اور وہ حکم یہ ہے کہ جو حکومت ہمیں مذہبی آزادی دے اس کی ہمیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اگر کوئی حکومت ہمارے
٨
مذہبی فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے ملک میں سے ہمیں نکل جانا چاہئے۔ ہمارے تجربہ نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ تخت کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ حتیٰ کہ اکثر اسلامی کہلانے والے م نہیں کر سکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خ تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے م کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ ا میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود ا گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔
حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آز چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی رکھ سکتی۔ ہم نے بارہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف ب دیا ہے اور اگر ہزار ہا دفعہ پھر ایسا موقعہ پیش آئے تو پھر ثابت اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دع زیادہ توفیق دے گا۔ جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے۔ کہ اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے۔ ہمار اگر مذہبی ظلم بھی ہو۔ تب بھی اس ملک کا امن برباد نہ کرو۔ بلکہ اس ان خیالات پر ہمیں قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ بیوقوف یا موقعہ کا متلاشی قرار دیتے ہیں۔ مگر اے شہزادہ مکرم ! ہ چھوڑ سکتے۔ دنیا ہمیں کچھ کہے۔ جب کہ ہمارے خدا نے ہمیں ی ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر قائم کریں اور تمام بنی نوع انسان میں تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم بہر حال اپنے بادشاہ احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔
حضور عالی! آپ نے اس قدر دور و دراز کا سفر اخت
٩
مذہبی فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے ملک میں فساد ڈلوانے کے اس کے ملک سے ہمیں نکل جانا چاہئے۔ ہمارے تجربہ نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیر سایہ ہمیں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ حتیٰ کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہم خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں ان کے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اس قدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیر جانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو حضور عالی، ہماری فرمانبرداری مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے گو ہم حکومت وقت کی پالیسی سے کس قدر ہی اختلاف کریں۔ کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کے رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے گا۔
حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے۔ جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ہم نے بارہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزارہا دفعہ پھر ایسا موقعہ پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت ہمیں اس دعویٰ کے ثابت کرنے کی اس سے زیادہ توفیق دے گا۔ جیسا کہ وہ پہلے اپنے فضل سے دیتا رہا ہے۔ ہم اس امر کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ اختلاف سیاسی کی بناء پر ملک کے امن کو برباد کیا جائے۔ ہمارا مذہب تو ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر مذہبی ظلم بھی ہو۔ تب بھی اس ملک کا امن برباد نہ کرو۔ بلکہ اسے چھوڑ کر چلے جاؤ۔ لوگ ہمارے ان خیالات پر ہمیں قوم اور ملک کا بدخواہ کہتے ہیں اور بعض گورنمنٹ کا خوشامدی سمجھتے ہیں اور بعض بیوقوف یا موقعہ کا متلاشی قرار دیتے ہیں۔ مگر اے شہزادہ مکرم ! ہم لوگوں کی باتوں سے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دنیا ہمیں کچھ کہے۔ جب کہ ہمارے خدا نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم امن کو برباد نہ ہونے دیں اور صلح کو دنیا پر قائم کریں اور تمام بنی نوع انسان میں محبت پیدا کر کے انہیں باہم ملائیں تو ہم صلح اور محبت کا راستہ نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم بہرحال اپنے بادشاہ کے وفادار رہیں گے اور اس کے احکام کی ہر طرح فرمانبرداری کریں گے۔
حضور عالی ! آپ نے اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے جو ان لوگوں کے حالات
سے آگاہی حاصل کرنی چاہیئے۔ جن پر کسی آئندہ زمانہ میں حکومت کرنا آپ کے لئے مقدر ہے۔ اس قربانی و ایثار کو ہم لوگ شکر اور امتنان کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی شخص جو ذرہ بھر بھی حق اور اس کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے۔ آپ کے سفر کو کسی اور نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پس ہم لوگ آپ کی اس ہمدردی اور ہمارے حالات سے دلچسپی رکھنے پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اپنے باپ کی رعایا کی طرف محبت کی نظر ڈالی ہے۔ وہ بھی آپ پر اپنی محبت کی نظر ڈالے۔
حضور عالی! ہماری جماعت نے جناب کے ورود ہندوستان کی خوشی میں جناب کے لئے ایک علمی تحفہ تیار کیا ہے۔ یعنی اس سلسلہ کی تعلیم اور اس کے قیام کی غرض اور دوسرے سلسلوں سے اس کا امتیاز اور باقی سلسلہ کے مختصر حالات اس رسالہ میں لکھے ہیں اور اس میں جناب ہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سلسلہ کے موجودہ امام نے اسے لکھا ہے اور بتیس ہزار آدمیوں نے اس کی چھپوائی میں حصہ لیا ہے۔ تاکہ ان کے خلوص کے اظہار کی یہ علامت ہو اور ابھی وقت کی قلت مانع رہی ہے۔ ورنہ اس سے بہت زیادہ لوگ اس میں حصہ لیتے۔
حضور شہزادہ والا تبار! ہم یہ تحفہ بوساطت گورنمنٹ پنجاب حضور میں پیش کرتے ہیں اور ادب و احترام کے ساتھ ملتجی ہیں کہ کچھ وقت اس کے ملاحظہ کے لئے وقف فرمایا جاوے۔
آخر میں پھر ہم جناب کو تہہ دل سے ورود ہندوستان اور پھر ورود پنجاب پر جو مرکز سلسلہ احمدیہ ہے خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے والد مکرم سے ہماری طرف سے عرض کر دیں کہ ہماری جماعت باوجود اپنی کمزوری ناطاقتی اور قلت تعداد کے ہر وقت جناب کے لئے اپنا مال و جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر حالت میں آپ اس جماعت کی وفاداری پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے قدم کو اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلائے اور ہر ایک آفت زمانہ سے آپ کو محفوظ رکھے۔ بلکہ اپنی مدد اور نصرت کا دامن آپ کے سر پر پھیلائے۔
(الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٧٢ ص ٣،٤ ، مورخہ ١٦ مارچ ١٩٢٢ء)
حق و باطل کی پہچان
انصاف کی کسوٹی پر اس چیز کو پرکھا جائے کہ غیر اللہ کی کاسہ لیسی اور ذلیل خوشامد جس خانہ ساز نبوت کا فرض اولین اور جزو ایمان ہو کیا اسلام جیسے پاکیزہ دین اور خدا تعالیٰ جیسی بلند ترین ہستی کے ساتھ اس کو دور کا تعلق بھی ہو سکتا ہے؟ ”وما علينا الا البلاغ“
(ماخوذ از تائید اسلام)
١٠
لا اله الا الله محمد رسول الله
خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ وسلم
مسیح کاذب
حضرت مولانا ملک نظیر احمد
خاتم النبیین
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسیح کاذب
حضرت مولانا ملک نظیر حسن بہاری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لسان الغیب
حضرت خواجہ حافظ شیرازی کا کلام لسان الغیب کے نام سے مشہور ہے۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی کے معاملات میں یہ شعر صائب کا
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِ چند
خدا جانے کس ساعت سعید میں بطور تفال اور پیش گوئی کے صائب مرحوم کی زبان حق بیان سے نکلا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کی مسیحیت پر بے تکلف چسپاں ہو گیا۔ جس کو تضمین کے طور پر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔
شد بر محک عقل ہمہ کذب ہویدا بنمائے بصاحب نظری گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِ چند
گر کوریِ چشم دل خویش تو بکشا برباد دہی دین خودت از پے دنیا
بنمائے بصاحب نظری گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِ چند
ہر چند کہ آں مدعی خام نماندہ آں فتنہ برہم کن اسلام نماندہ
ہیہات کنوں ماند مگر فتنہ گرِ چند
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِ چند
ہر آنکہ پسندید زخود قعر ضلالت صد دفتر طومار نیرزد بشقاوت
٢
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِ چند
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حامداً و مصلیاً ومستغفراً
کہاں رہا نہیں معلوم وہ جواب
عرصہ سے سن رہا ہوں کہ فیصلہ آسمانی کے جواب میں خلیفۃ المسیح قادیان کا بنام نامی مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری ہوا ہے اور شاید وہ اس کے جواب میں مصروف بھی ہوچکے ہیں۔ چشم بانتظار ہوں کہ دیکھئے فیصلہ آسمانی کا جواب بھاگلپوری (باقی ہے اور برہان قاطع کا جواب مرزائیوں کی طرف سے کیسا دیا جاتا جناب خلیفۃ المسیح صاحب نے تو اپنے کو اس بارِ (عہدہ ومنصب تھا) خدا جانے کس خوف سے سبکدوش فرما کر ہمارے دوست کو اس اہم کام کے لئے اپنے لاکھوں مرزائیوں میں سے صرف ہدف ملامت بنا کر انتخاب کیا اور حضرت خالد صف شکن وغیرہ وغیرہ خلیفۃ المسیح صاحب نے اس مہتم بالشان کام کے لائق نہ سمجھا۔ ”ف القادیان“
١۔ اتفاقاً مرزا قادیانی کی طرح ایک الہامی مضمون ہے ۔ بلکہ راسخ فن تاریخ گوئی کا کمال مولوی صاحب ملاحظہ کریں۔ الہام قادیانی دعویٰ مسیح کاذب اور صائب مرحوم کے مصرعہ سے بے کم وکاست اتحاد رکھتا ہے۔ ١٢٨٥ باقی در خاتمہ کتاب راقم اثیم مؤلف
٢۔ اس تعداد بے اصل کی صحت مرزائیوں کے ذمہ
٣
عیسیٰ ١؎ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
راقم: ایک مورخ شاطر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حامداً ومصلیاً ومستغفراً
کہاں رہا نہیں معلوم وہ جواب ان کا
عرصہ سے سن رہا ہوں کہ فیصلہ آسمانی کے جواب کے لئے فرمان واجب الاذعان خلیفۃ المسیح قادیان کا بنام نامی مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری (احاطہ بنگال) کے نزول اجلال ہوا ہے اور شاید وہ اس کے جواب میں مصروف بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کو بھی بہت دن گزرے۔ چشم بانتظار ہوں کہ دیکھئے فیصلہ آسمانی کا جواب بھاگلپوری (بنگال کی سرزمین) سے کیا لکھا جاتا ہے اور برہان قاطع کا جواب مرزائیوں کی طرف سے کیسا دیا جاتا ہے؟
جناب خلیفۃ المسیح صاحب نے تو اپنے کو اس بار عظیم سے (جو انہیں کا خاص فرض و منصب تھا) خدا جانے کس خوف سے سبکدوش فرما کر ہمارے وطنی بھائی پوربی ہی مولوی صاحب کو اس اہم کام کے لئے اپنے لاکھوں مرزائیوں میں سے صرف انہیں ایک کو تاک کر ہدف تیر ملامت بنا کر انتخاب کیا اور حضرت خالد صف شکن وغیرہ وغیرہ تجربہ کاران کہن سال اشخاص کو خلیفۃ المسیح صاحب نے اس مہتم بالشان کام کے لائق نہ سمجھا۔ ’’فیہ سر من اسرار نبوۃ القادیان‘‘
١؎ اتفاقاً مرزا قادیانی کی طرح ایک الہامی مضمون ہاتھ آگیا ہے وہ بھی ہدیہ ناظرین ہے۔ ملکہ راسخہ فن تاریخ گوئی کا کمال مولوی صاحب ملاحظہ کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی سلطان القلم قادیانی مدعی منصب مسیح کاذب اور صائب مرحوم کے مصرعہ (عیسیٰ نتواں گشت) پورا پورا بلاکم و کاست اتحاد رکھتا ہے۔ ٢٨٥٠ باقی در خاتمہ کتاب راقم ایک مورخ شاطر!
٢؎ اس تعداد بے اصل کی صحت مرزائیوں کے ذمہ ہے۔
٣
خیر جو کچھ بھی ہو اس انتخاب سے میری بھی خوشی کی بات ہے کہ یا تو بنگالی مولوی کا اپنے اشتہار واخبار میں مرزائی مذمت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں یا اب وقت نے ایسا مجبور کیا کہ خلیفہ المسیح نے بھی پوربی ہی مولوی ہمارے وطنی بھائی کو تا کا اور ان کا دامن پکڑا۔ لیکن یہ انتخاب بھی شطرنج کی چال سے خالی نہیں۔ اس لئے کہ درحقیقت فیصلہ آسمانی کا جواب عقلاً محالات سے خیال کر کے حضرت خلیفہ المسیح نے اپنے شیران نامور اور بہادران تجربہ کار کو بخیال بدنامی الگ ہی رہنے دیا کہ جو کچھ جواب ناصواب کا الزام ہو وہ بیچارے پوربی ہی مولوی کے سر رہنے دیا جائے اور آئندہ اخباروں میں لن ترانیوں کا بھی موقع باقی رہے کہ ایک پوربی مولوی نے جواب دیا ہے۔ قادیانی شیروں نے تھوڑا ہی جواب دیا۔ خیر جیسا کچھ بھی ہو اس انتخاب پر حکیم خلیفہ المسیح کے جو عین حکمت ہے میں بھی صاد کرتا ہوں۔
ہر چند مجھ کو پہلے ہی افواہاً معلوم ہوا ہے کہ ہمارے مولوی صاحب نے فیصلہ آسمانی کے جواب میں مہذبانہ طرزِ تقریر کو بدل کر اخباری لہجہ غیر مہذب پہنا چاہا ہے۔ کہاں تک یہ امر سچ ہے۔ بغیر جواب دیکھے کوئی رائے قائم نہیں ہو سکتی۔
اب مسئلہ یہ زیرِ نظر ہے کہ آسمانی فیصلہ کا جواب تو امر محال ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس رسالہ میں تو صرف مرزا قادیانی کی ان ہی پیشین گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو مرزا قادیانی نے بہت ہی مہتم بالشان قرار دے کر اشتہاروں کے ذریعہ سے اپنی نبوت وصدق یا کذب کا معیار ٹھہرایا ہے (جو کسی طرح پوری نہ ہوئیں) اور مرزا قادیانی کا انتقال بھی ہو گیا۔
(مولانا محمد علی مونگیریؒ) حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی مدظلہ العالی نے بڑی وضاحت اور دیانت سے صرف برادران اسلام کی خیر خواہی کی غرض سے ثابت کر دکھایا کہ جن پیشین گوئیوں کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار ٹھہرایا تھا انہیں کو پیش نظر رکھ کر اور ان واقعات الہامی کے وقوع میں نہ آنے سے مرزا قادیانی خود اپنے صریح اقرار کے موافق صادق نہ ٹھہرے۔ بلکہ جیسا انہوں نے اقرار فرمایا تھا کہ اگر یہ سب امور مطابق الہام کے واقع نہ ہوں تو میں مفتری اور کذاب اور بد سے بدتر ہوں اور خدا کی طرف سے نہیں ہوں، اسے ظاہر کر کے دکھا دیا۔
حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی ”متع اللہ المسلمین بطول بقائہ“ نے تو اپنی طرف سے مرزا قادیانی کے رد میں کچھ بھی نہیں لکھا بلکہ مرزا قادیانی ہی کے متفرق اقوال کو اکٹھا کر کے نہایت نیک نیتی و دیانت شعاری سے بغیر تحریف لفظی بہت صفائی سے بغرض خیر خواہی اسلام یاد دلا کر مرزائی حضرات کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اب بموجب اقرار خود مرزا قادیانی کے (اگر
٤
مرزائی جماعت مرزا قادیانی کو سچا سمجھتے ہیں اور ان کے قول پر ا حجت کریں۔ کیونکہ مشیت ایزدی نے ان امور بیان کردہ، مرزا بلکہ ان کو جھوٹا کر دیا اور خدائے تعالیٰ اپنے رسولوںؐ کو ہرگز جھو الہامات مرزا قادیانی کے رحمانی نہ تھے۔ بلکہ صریح شیطانی یا دو خواہشوں کے جذبات واہمہ تھے۔
میں نہایت زور سے اور بڑے دعوے سے کہتا ہوں ان پیش گوئیوں کی تصدیق کے لئے تو فقط امور مندرجہ ذیل ع اور اس کے سوا جو کچھ جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے گا وہ بم آوازہ اس جواب کا نہیں ہو سکتا۔
- .......١ محمدی بنت مرزا احمد بیگ مرز اغلام احمد قادیانی کے
- .......٢ مرزا سلطان محمد بیگ محمدی مسطورہ کا خاوند مرزاغ
ہی مر گیا۔ مگر نہ یہ ہوا نہ وہ ہوا۔
١؎ (١) ”فلا تحسبن الله مخلف وعده ر وگمان بھی نہ کر کہ خدا اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ انك لا تخلف الميعاد (آل عمران: ١٩٤) ”اے ہے اس کو عطا کر کیونکہ تو وعدہ خلافی تو کرتا ہی نہیں ۔ ٢؎ (٣) اكثر الناس لا يعلمون (یونس: ٥٥) ”یاد رکھو کہ خ لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ پھر اور بھی بہت سی آیتیں قرآن ٣؎ جس کا نکاح آسمان پر اللہ تعالیٰ نے مرزا قاد ٤؎ جیسا کہ (انجام آتھم حاشیہ ص ٣١،خزائن ج١١ ص ای پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“ پھر (ضمیہ انجام آتھم ص٥٤، خ ہیں: ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ یعنی ا ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ (آگے چل کر) یقیناً سمجھو کہ یہ خ نہیں ٹلتیں ۔“ یہ کیسے بدیہی ثبوت مرزا قادیانی کے کاذب ہونے
٥
مرزائی جماعت مرزا قادیانی کو سچا سمجھتے ہیں اور ان کے قول پر اعتبار کرتے ہوں ) تو اب بھی رجوع بحق کریں۔ کیونکہ مشیت ایزدی نے ان امور بیان کردہ، مرزا قادیانی کو وقوع وظہور میں نہ لائی۔ بلکہ ان کو جھوٹا کر دیا اور خدائے تعالیٰ اپنے رسولوں کو ہرگز جھوٹا نہیں کرتا۔ پس متحقق ہو گیا کہ وہ الہامات مرزا قادیانی کے رحمانی نہ تھے۔ بلکہ صریح شیطانی یا دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ نفسانی خواہشوں کے جذبات واہمہ تھے۔
میں نہایت زور سے اور بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ پبلک کی تشفی اور مرزا قادیانی کی ان پیش گوئیوں کی تصدیق کے لئے تو فقط امور مندرجہ ذیل ہی فیصلہ آسمانی کا جواب ہو سکتے ہیں اور اس کے سوا جو کچھ جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے گا وہ بمصداق مثل مشہور ...... شتر سے زیادہ آوازہ اس جواب کا نہیں ہو سکتا۔
- ١...... محمدی بنت مرزا احمد بیگ مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح میں آ گئی۔
- ٢...... مرزا سلطان محمد بیگ محمدی مسطورہ کا خاوند مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے سے پہلے
ہی مر گیا۔ مگر نہ یہ ہوا نہ وہ ہوا۔
١؎ (١) ”فلا تحسبن الله مخلف وعدہ رسلہ (ابراهيم: ٤٧)“ ﴿یہ وہم گمان بھی نہ کر کہ خدا اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔﴾ (٢)”ربنا واتناما وعدتنا انک لا تخلف الميعاد (آل عمران: ١٩٤) “ ﴿اے ہمارے رب تو نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے اس کو عطاء کر کیونکہ تو وعدہ خلافی تو کرتا ہی نہیں۔﴾ (٣)”الا ان وعد الله حق ولكن اكثر الناس لا يعلمون (یونس: ٥٥) “ ﴿یاد رکھو کہ خدا کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا اگرچہ بہت لوگ اس سے ناواقف ہیں۔﴾ اور بھی بہت سی آیتیں قرآن مجید میں ایسی ہیں۔
٢؎ جس کا نکاح آسمان پر اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے پڑھا دیا۔
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
٣؎ جیسا کہ (انجام آتھم حاشیہ ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“ پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ (آگے چل کر) یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“ کیسے بدیہی ثبوت مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کے ہیں مگر مرزائی کچھ نہیں دیکھتے۔
٥
اس کے علاوہ اور بھی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور مولوی ثناء اللہ صاحبان کی نسبت بھی ایسی ہی موت وغیرہ کی پیش گوئیاں کر کے معیار صدق یا کذب اپنا مرزا قادیانی نے ٹھہرایا ہے۔ وہ اپنی اپنی جگہ پر دکھائے جائیں گے۔ یہاں فقط منکوحہ آسمانی کے متعلق جھوٹی پیش گوئی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس کو ہمارے دوست مولوی عبد الماجد (قادیانی) اپنے جواب میں ثابت کر دکھائیں کہ یہ دونوں امور تنقیح طلب متذکرہ بالا وقوع میں آگئے؟ اگر درحقیقت یہ امور وقوع میں آگئے ہوں تو ضرور جواب دیجئے اور نقارہ کی چوٹ اخباروں میں اشتہاروں میں فیصلہ آسمانی کی تکذیب ثابت کیجئے کہ یہ واقعی وقوع میں آگئے اور مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئیاں سچی ہوئیں۔ (سب سے پہلے میں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہو جاؤں گا۔ آپ ان امور کو سچ بھی تو کر دکھایئے)
چونکہ یہ بالکلیہ محال ہے۔ کیونکہ نہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی نہ اس کا خاوند سلطان محمد بیگ مرزا قادیانی کے سامنے مرا۔ (جس کو مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم الہام سے فرمایا تھا) بلکہ خود مرزا قادیانی ہی پیش از وقوع امور متذکرہ بالا، عالم بالا کو تشریف لے گئے۔ اس لئے آپ اس کے ثابت کرنے سے قدرتاً مجبور ہیں تو پھر راستی اور انصاف پسندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ان پیش گوئیوں ہی کو غلط مانئے اور کہئے کہ مرزا قادیانی بھی انسان تھے۔ مرزا قادیانی کو ایک ذی علم بشر مانتے، ان سے غلطی ہوگئی۔ رگڑا جھگڑا آپ لوگوں سے باقی نہیں رہنے کا۔
قصہ یہ طول مختصر بھی ہے
انسان ضعیف البنیان غلطی کا پتلا ہے۔ کمال نفس یہی ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔ جس طرح ہمارے دادا حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی لغزش پر گرویدگی اختیار کر کے ”ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنكونن من الخاسرین (اعراف:٢٣)“ کہہ کر سجدے میں گر گئے اور بخشش الٰہی نے الحاح وزاری ان کی قبول فرما کر خلعت توبہ سے سرفرازی بخشی۔ حضرات مرزائی بھی اس عمل کو خلوص سے کر کے تماشا دیکھ لیں کہ کس طرح دریائے رحمت اس مفیض حقیقی کا جوش مارتا ہوا اپنے پیاسوں کو دور دور سے سمیٹ لاتا ہے۔
مرزا قادیانی کو چاہے جس تقدس کا آپ لوگ شایاں سمجھیں سمجھئے ۔ اس کے ذمہ دار
٦
آپ لوگ ہیں۔ مگر خدا کے لئے ان کو خدا اور رسول و مہدی م وقت ان کے تقدس کی مخیلہ صورت پیش نظر آ جائے تو مناسب لگا کر غور سے دیکھئے اور میزان عقل پر تولئے۔ کیونکہ ذاتی حالات شہادت انسان کے لئے نہیں ہو سکتی۔
جناب قادیانی مولوی صاحب جواب لکھتے وقت بنانے کا سلسلہ تو بات بنانے والے کے نزدیک کبھی منقطع نہ (محمدی) کے معنی کوئی عورت (مرزا قادیانی) سے مراد کوئی (زندگی) کے معنی کوئی زمانہ قبل از موت (مرنے) کے معنی در حقیقت اب جواب ہو یا نہ ہو ہم چپ تو نہ رہے۔
جناب من! یہ ہیں نفسانی شرارتیں (اللہ تعالیٰ اسلام کو ایسی شرارتوں سے بچائے) آمین!
اگر ایسا ہی جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے جیسا دیکھے مان لینے کو تیار ہیں کہ واہ وا صد مرحبا خوب جواب دیا کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ محمدی کے نکاح میں آجانے کے جائے۔ یا اس کے خاوند کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اقرار ہندوستان مرزائیوں ہی کے اشتہارات سے اور رسالوں محمدی کا نکاح سلطان محمد بیگ سے ہوا اور مرزا قادیانی اس میں انتقال کر گئے۔ جس کو اب پانچواں سال ہے کہ مرزا اور ابھی تک سلطان محمد بیگ مع اپنی آل واولاد کے بفضلہ اس کا تو مجھے یقین ہے کہ اصل امور متعلقہ فیصلہ مشیت الٰہی نے مطلق محال کر دیا ہے کہ زمانہ ہزار پلٹا کھائے لئے میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ اصل مطالب فیصلہ البتہ فضولیات اور خارج از بحث اور خارجی امور سے جائیں گے۔ جیسا کہ ان کے خطوط سے مترشح ہوا ہے جو کے پاس مولوی صاحب نے بھیجے تھے۔
ے
آپ لوگ ہیں۔ مگر خدا کے لئے ان کو خدا اور رسول و مہدی موعود، مسیح مسعود نہ بنائیے۔ بلکہ جس وقت ان کے تقدس کی مخیلہ صورت پیش نظر آ جائے تو مناسب ہے کہ ان کے ذاتی حالات کو عینک لگا کر غور سے دیکھئے اور میزان عقل پر تولئے۔ کیونکہ ذاتی حالات اور کریکٹر سے بڑھ کر کوئی اور سچی شہادت انسان کے لئے نہیں ہو سکتی۔
جناب قادیانی مولوی صاحب جواب لکھتے وقت یہ ضرور خیال رکھیں گے کہ بات بنانے کا سلسلہ تو بات بنانے والے کے نزدیک کبھی منقطع ہی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ فرض کیجئے کہ (محمدی) کے معنی کوئی عورت (مرزا قادیانی) سے مراد کوئی مرد (سلطان محمد) کا مفہوم کوئی مغل (زندگی) کے معنی کوئی زمانہ قبل از موت (مرنے) کے معنی رات کا سوجانا چلئے بات بنا دی گئی۔ درحقیقت اب جواب ہو یا نہ ہو ہم چپ تو نہ رہے۔
جناب من! یہ ہیں نفسانی شرارتیں (اللہ تعالیٰ ہم کو آپ کو اور سارے حلقہ بگوشان اسلام کو ایسی شرارتوں سے بچائے ) آمین!
اگر ایسا ہی جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے تو ہم بغیر جواب دیکھے مان لینے کو تیار ہیں کہ واہ وا صد مرحبا خوب جواب دیا گیا ہے اور ایسے ہی جواب کی امید تھی۔ کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ محمدی کے نکاح میں آجانے کا مرزا قادیانی کی طرف سے اقبال کیا جائے۔ یا اس کے خاوند کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اقرار کر سکیں۔ اس لئے کہ قریب قریب سارا ہندوستان مرزائیوں ہی کے اشتہارات سے اور رسالوں کے ذریعہ سے جان گیا کہ ١٨٩٢ء میں محمدی کا نکاح سلطان محمد بیگ سے ہوا اور مرزا قادیانی اس نکاح کی ناکامی کی حسرت لے کر ١٩٠٨ء میں انتقال کر گئے۔ جس کو اب پانچواں سال ہے کہ مرزا قادیانی کی جھوٹی مسیحیت کا زمانہ گزر گیا اور ابھی تک سلطان محمد بیگ مع اپنی آل و اولاد کے بفضلہ صحیح و سالم موجود ہیں۔
اس کا تو مجھے یقین ہے کہ اصل امور متعلقہ فیصلہ آسمانی کا جواب تو مولوی صاحب کے لئے مشیت الٰہی نے مطلق محال کر دیا ہے کہ زمانہ ہزار پلٹا کھائے تو بھی اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اس لئے میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ اصل مطالب فیصلہ آسمانی سے جواب ان کو اچھوتا رہے گا۔ البتہ فضولیات اور خارج از بحث اور خارجی امور سے ان کے جواب کے صفحے زیادہ سیاہ پائے جائیں گے۔ جیسا کہ ان کے خطوط سے مترشح ہوا ہے جو بنظر تحقیق نام جناب مؤلف مدظلہ العالی کے پاس مولوی صاحب نے بھیجے تھے۔
٧
مولوی صاحب نے پہلے ایک خط بھاگلپور سے لکھا اور مؤلف موصوف سے دریافت کیا کہ یہ فیصلہ آسمانی کیا آپ کی تالیف ہے۔ بجواب اس کے ان کو اطلاع دی گئی کہ: ”انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال “ جس کا مفہوم ظاہر ہے کہ: ”الكناية ابلغ من الصراحة “ مگر اس پر بھی نہ سمجھے اور پھر دوسرے خط میں اسی مضمون کا تکرار کیا۔ جس سے نفس مطلب کو کوئی سروکار نہیں ہے۔
یہ کس قدر لچر بات ہے کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعووں کا جواب مرزا قادیانی کے قول سے نہ دیا جائے۔ بلکہ کسی مصنف یا مؤلف کے نام کا سہارا ڈھونڈھا جائے۔ وہی مثل ہے ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ غنیمت ہے۔ غالباً مولوی صاحب ایسی ہی خارجی بحثوں سے زیادہ کام لیں گے اور نام نہادی جواب کے جزوں کو موٹا بنا کر ضخیم کریں گے۔ جس میں قیمت بھی اچھی رہے گی اور جاہلوں میں فوق البھڑک بھی ہو۔
غرض ایسی ہی فضولیات میں بہت کچھ مصالحہ لگا کر پیٹ پٹا بنانے کی کوشش کریں گے اور شاید یہ بھی فرمائیں گے کہ مولانا سید ابواحمد رحمانی مؤلف رسالہ نے فقط اپنی کنیت ہی لکھ کر کیوں بس کر دیا اپنا پورا نام ونشان وسکونت معہ محلہ و پرگنہ و ضلع وغیرہ کیوں نہ لکھا اور عجب نہیں کہ یہ بھی کہیں کہ اپنا نسب نامہ پورا کیوں نہ شائع کیا۔
مولوی صاحب ان امور کو جواب سے کیا تعلق؟ یہ تو کوئی ضروری امر نہیں اور نہ دینی فرض یا واجب ہے کہ مرزا قادیانی کی طرح سے اپنی تعلی کے لئے موٹے موٹے حرفوں میں اپنا نام نمائش کی غرض سے ظاہر کیا جائے اور جھوٹی نبوت کی بگھار دور دور پہنچائی جائے۔ یہاں تو مقصود اس کام کا صرف خالصتاً لوجہ اللہ ہے۔ کسی دنیاوی غرض یا حب جاہ و ناموری کے لئے بحمدہ تعالیٰ ذریعہ بنانا نہیں چاہئے۔ اسی لئے سلف صالحین کا طرز اس کار خیر میں بھی اختیار کیا اور آج سے نہیں بلکہ ایک زمانہ دراز سے جب سے اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطاء کی کہ نفس کے غرور اور مکر سے ہر وقت ہوشیار رہنا ضروریات درویشی اور خصوصیات اہل اللہ سے ہے۔ اکثر تصانیف روئے زمین میں یا اور مسائل مختلفہ میں علماء اسلام سے مناظرہ و تحقیق کی نظر سے شائع کیں اور اکثر اپنے شاگردان ذی علم ومریدین ومتوسلین کی طرف سے شائع ہوتی گئیں اور کمال انکساری اور تادیب نفس کی غرض سے جو اہل اللہ کا ظاہر و باطن یہی شیوہ رہتا آیا ہے اپنی ناموری کا اخفا کیا ہے۔
٨
میں نے سنا ہے کہ مولوی صاحب سے کسی نے پوچھ دریافت میں اس قدر اصرار ہی کیوں ہے تو اس کے جواب میں کہ سے جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے گا۔ یہ تو وہی مثل ہے کہ سوال ا بس اب مجھے کوئی تردد نہ رہا کہ مجیب کے عجز نے حقیق اس لئے وہ مسلمات سے الزامی جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں سے یہ نکل گیا کہ الزامی جواب کا اثر تو مؤلف ہی تک محدود رہ کیونکہ وہ کافی اور مفید ہو سکتا ہے۔ خیر یہ بھی دیکھ لیا جائے گا۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا
لیجئے! اب اس کو بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ ابتدائے اسلا کتنے اکابر مصنفین نے اپنا نام ظاہر نہ کیا اور فقط ان کی کنیت تصانیف از شرق تا غرب بعد ان کے آج تک مشہور ہیں۔ میں ا کی تفسیر ہی سے شروع کرتا ہوں۔
تفسیر حدیث جلالین بخاری شریف بیضاوی مسلم کشاف ترمذی کبیر نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ کلام ادب وغیرہ شرح مقاصد مجمع البحار لغت میں تذکرۃ الحفاظ فن رجال میں متنبی، حماسہ، نہایہ
کچھ دن ہوئے ایک اشتہار حکیم خلیل احمد مونگی اشتہار فیصلہ آسمانی شائع ہو کر میری نظر سے گزرا۔ جس کی سر
٩
میں نے سنا ہے کہ مولوی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو مؤلف کے نام کے دریافت میں اس قدر اصرار ہی کیوں ہے تو اس کے جواب میں کہا گیا کہ خود مؤلف کے مسلمات سے جواب فیصلہ آسمانی کا دیا جائے گا۔ یہ تو وہی مثل ہے کہ سوال از آسمان و جواب از ریسمان۔ بس اب مجھے کوئی تردد نہ رہا کہ مجیب کے عجز نے تحقیقی جواب سے اس کو مجبور کر دیا۔ اس لئے وہ مسلمات سے الزامی جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شاید میرے دوست کے ذہن سے یہ نکل گیا کہ الزامی جواب کا اثر تو مؤلف ہی تک محدود رہ سکتا ہے۔ پبلک کی تشفی کے لئے کیونکر وہ کافی اور مفید ہو سکتا ہے۔ خیر یہ بھی دیکھ لیا جائے گا۔
آگے آگے دیکھ تو ہوتا ہے کیا
لیجئے! اب اس کو بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ ابتدائے اسلام سے اخیر زمانہ سلطنت اسلام تک کتنے اکابر مصنفین نے اپنا نام ظاہر نہ کیا اور فقط ان کی کنیت یا دوسری نسبت اضافی سے ان کی تصانیف از شرق تا غرب بعد ان کے آج تک مشہور ہیں۔ میں ایسی تصانیف کا نام تیمناً قرآن مجید کی تفسیر ہی سے شروع کرتا ہوں۔
تفسیر حدیث فقہ جلالین بخاری شریف منیۃ المصلی بیضاوی مسلم فتح القدیر کشاف ترمذی زیلعی کبیر نسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ بحر الرائق کلام ادب وغیرہ نحو شرح مقاصد مجمع البحار، لغات میں کافیہ تذکرۃ الحفاظ فن رجال میں متنبی، حماسہ، نہایہ شافیہ
کچھ دن ہوئے ایک اشتہار حکیم خلیل احمد مونگیری (قادیانی) کی طرف سے بجواب اشتہار فیصلہ آسمانی شائع ہو کر میری نظر سے گزرا۔ جس کی سرخی نشان آسمانی بر تکذیب ابو احمد رحمانی
٩
تھی۔ اگر چہ افواہاً یہی سنا جاتا ہے کہ یہ اشتہار بھی مولوی عبد الماجد صاحب (قادیانی) کی فکر سلیم کا ذخیرہ ہے۔ چونکہ وہ اشتہار اس قدر لچر اور پوچ اور جھوٹ کی بھر مار سے معمور ہے اور لہجہ بھی اس کا شائستگی سے دور، بلکہ بدتہذیبوں سے بھر پور ہے۔ اس لئے میرا گمان مولوی صاحب کی طرف کم جاتا ہے۔’واللہ اعلم بالصواب‘‘
اس کی ابتداء بھی جھوٹ ہی سے شروع ہوئی ہے اور سرخی ہی میں (نصیب دشمناں) حضرت مؤلف کی تکذیب پر نشان آسمانی کا دعویٰ تو بڑی ڈھٹائی سے کیا گیا ہے اور ڈیڑھ فٹ کا ایک طویل اشتہار (بالکل زٹل قافیہ آئیں بائیں شائیں) جھوٹی باتوں سے بھر کر ناحق اپنے اشتہار کا منہ کالا کر کے ہولی کا سوانگ نکالا ہے۔ لیکن مشتہر کو ایک کذب بھی حضرت مؤلف (مولانا محمد علی مونگیری) کی نہ مل سکا کہ اپنے اشتہار میں اس کے ظاہر کرنے کی جرات کر سکتے اور دعوے کے ساتھ دلیل لا سکتے اور ثبات قدمی کے ساتھ پبلک میں پیش کرتے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی آنجہانی کے صریح جھوٹ کو ان کے مخالفین بڑے زوروں سے علیٰ رؤس الاشہاد بغیر ایچ پیچ کے صاف صاف روز روشن کی طرح دکھاتے رہتے ہیں۔ مگر اس پر بھی جھوٹ بکنے سے وہ باز نہیں آتے۔
بات یہ ہے کہ مرزائی حضرات کو جھوٹ سے اس قدر رغبت ہو گئی ہے کہ اس کی برائی اور وعید پر مطلق نظر نہیں۔ اس لئے کہ سارا دارو مدار قادیانی نبوت کا اسی پر ہے۔ لہٰذا جب ان کی زبان یا قلم سے کوئی بات نکلتی ہے تو جھوٹ سے خالی نہیں رہتی۔ یہی ان کے جھوٹے نبی کا فیضان ہے۔ جس کو شیطان بحکم ”یوسوس فی صدور الناس“ ان کے متبعین کی رگ و پے میں ٹھونستا رہتا ہے۔
آگے چل کر بطن اشتہار میں مشتہر نے بڑی ڈھٹائی سے حضرت مؤلف (حضرت مونگیری) کی نسبت کذب بیانی کا جھوٹا دعویٰ بے دلیل کیا اور غصے میں آکر اپنے نبی کی سنت کو دانتوں سے پکڑ کر جھوٹ کا طومار ایسا باندھا ہے کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہو جاتی ہے۔
کیا ان کے مادہ عنصری میں جھوٹ کا خمیر اس قدر غالب ہو گیا ہے کہ سوائے جھوٹ کے سچ بولنا کبھی جانتے ہی نہیں۔ حکیم صاحب! ذرا ہوش میں آویں اور مزاج کو معتدل رکھ کر ذرا حواس درست کر کے اس طرف کان دھریں کہ حضرت مولانا سید ابواحمد رحمانی مدظلہ العالی کی پاک نفسی، بے ریائی، صدق شعاری، سلامت روی، انکساری، خالص درویشی، نیک نیتی، دیانت،
اتباع سنت محمدی، تبحر علمی، شریعت کے ساتھ سلوک طریقت و م رنگون سے لے کر بمبئی تک اور حرمین الشریفین اور بیت المقدس بڑے بڑے علماء ومشائخ ومحدثین ذوی الکرام پورے طور سے (چھوٹا منہ بڑی بات) ان کو کیا جان سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ پنجاب طلب منفعت کی غرض سے مرزا قادیانی کے ساتھ رنگ آمیزی کاغذی گھوڑے دوڑا کر اخباروں کے ذریعہ سے دکانداری کی خیر باد کہہ کر مرزا قادیانی کی گرم بازاری کرائی گئی۔ استغفر اللہ پناہ آخر کار باخدا وند!
اب ذرا مرزائی حضرات ایمان سے بتاویں کہ حضر بھی باایں ہمہ تقدس ذاتی وصفاتی کے کبھی اپنی تعلیوں کے اشتہا باللہ مہدویت کے دعویدار بنے (خاکم بدہن) نبوت کا ادعا کیا رسالہ شائع کیا۔ اپنے نشانات کی گنتی گنوائی۔ (حالانکہ روزان کرتے ہیں) کسی کو فریب دے کر جھوٹی بشارت فرزند نرینہ دے دی۔ مہمان مسجد یا منارہ کی تعمیر کے حیلے سے ابلہ فریبی کر حاصل کیا۔ کسی سے دعا کرنے کے صلہ میں کچھ نقدی پیشگی و کی طرح اشتہار دے کر جھوٹا وعدہ شائع کر کے مسلمانوں کا تدارک کیا۔ پھر آپ ہی کہئے کہ آپ لوگ کون سی تکذیب کا اظہ
مقصود آپ کا لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ ایسی کی جائے۔ سو اس سے ہاتھ اٹھا رکھئے۔ جب تک دم میں دم ہے حق سے اہل حق درگزر نہیں کر سکتے اور امر بالمعروف کا سلسل کبھی تو آپ لوگ خواب غفلت سے ہوشیار ہوں گے اور راس (اگر خدا کی مشیت ہے) رجوع کریں گے۔ بس اسی قدر ب دینی کام جان کر دین اسلام کی خدمت شروع کی ہے۔ حاش تک بھی دل میں نہیں ہے۔ اس لئے مجھ کو یقین ہے کہ میر لا يضيع اجر العاملين“۔
١١
اتباع سنت محمدی، تبحر علمی، شریعت کے ساتھ سلوک طریقت وعرفان حقیقت سے سارا ہندوستان رنگون سے لے کر بمبئی تک اور حرمین الشریفین اور بیت المقدس و شام وقسطنطنیہ وملک مغرب کے بڑے بڑے علماء ومشائخ و محدثین ذوی الکرام پورے طور سے واقف ہیں۔ بھلا آپ بیچارے (چھوٹا منہ بڑی بات) ان کو کیا جان سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ پنجاب کے معدودہ چند ڈھلمل یقین اپنی طلب منفعت کی غرض سے مرزا قادیانی کے ساتھ رنگ آمیزی میں شریک کارو بار رہ کر خانہ ساز کاغذی گھوڑے دوڑا کر اخباروں کے ذریعہ سے دکانداری کی رونق بڑھاتے ہیں۔ خدا ورسول کو خیر باد کہہ کر مرزا قادیانی کی گرم بازاری کرائی گئی۔ استغفر اللہ! خدا سے ڈرنا چاہئے۔ دنیا روزے چند آخر کار باخداوند!
اب ذرا مرزائی حضرات ایمان سے بتادیں کہ حضرت مؤلف (حضرت مونگیریؒ) نے کبھی باایں ہمہ تقدس ذاتی وصفاتی کے کبھی اپنی تعلیوں کے اشتہار چھپوائے۔ اپنے کو مجدد بنایا، عیاذاً باللہ مہدویت کے دعویدار بنے (خاکم بدہن) نبوت کا ادعا کیا۔ اپنے جھوٹے الہامات کا اشتہار یا رسالہ شائع کیا۔ اپنے نشانات کی گنتی گنوائی۔ (حالانکہ روزانہ ایسے تصرفات درویشانہ بکثرت ہوا کرتے ہیں) کسی کو فریب دے کر جھوٹی بشارت فرزند نرینہ ہونے کی دے کر کچھ روپے کسی سے لے لئے۔ مہمان مسجد یا منارہ کی تعمیر کے حیلہ سے ابلہ فریبی کر کے بندگان خدا کا روپیہ چندہ کر کے حاصل کیا۔ کسی سے دعا کرنے کے صلہ میں کچھ نقدی پیشگی وصول کی۔ براہین احمدیہ اور سراج منیر کی طرح اشتہار دے کر جھوٹا وعدہ شائع کر کے مسلمانوں کا روپیہ پیشگی وصول کر کے ایفاء وعدہ ندارد کیا۔ پھر آپ ہی کہئے کہ آپ لوگ کون سی تکذیب کا اظہار کر سکتے ہیں؟
مقصود آپ کا لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ ایسی گیدڑ بھبکیوں سے اظہار حق سے باز رکھا جائے۔ سو اس سے ہاتھ اٹھا رکھیئے۔ جب تک دم میں دم ہے اور توفیق الٰہی شامل حال ہے۔ اظہار حق سے اہل حق درگزر نہیں کر سکتے اور امر بالمعروف کا سلسلہ بتوفیقہ تعالیٰ حتی الوسع جاری رہے گا۔ کبھی تو آپ لوگ خواب غفلت سے ہوشیار ہوں گے اور راست بازی اور انصاف پسندی کی طرف (اگر خدا کی مشیت ہے) رجوع کریں گے۔ بس اسی قدر میرا مقصود ہے۔ ہم نے اس کو ایک اہم دینی کام جان کر دین اسلام کی خدمت شروع کی ہے۔ حاشا وکلا کسی زید وبکر کی دل آزاری کا خیال تک بھی دل میں نہیں ہے۔ اس لئے مجھ کو یقین ہے کہ میری سعی رائیگاں نہ جائے گی۔”ان اللہ لا یضیع اجر العاملین“۔
دربند ایں مباش کہ نشنید یا شنید
مرزا قادیانی کے دو درجن جھوٹے اقوال کی فہرست خود ان کی تصنیفات سے کتابوں کا حوالہ ہر قول میں دیا گیا ہے۔ حکیم خلیل احمد صاحب اور ان کے مرزائی بھائی کہاں ہیں؟ ذرا ادھر کان لگا کر اپنے مرزا قادیانی کے جھوٹ کی تفصیل سنیں اور یہی نہیں کہ ان کے جھوٹ صرف اسی فہرست کے اندر محدود ہیں۔ بلکہ سوائے ان کے اور بھی ان کے جھوٹے اقوال کا ایک بڑا ذخیرہ انہیں کی تصانیف میں موجود ہے۔ یہ تو بطور نمونہ کے صرف اشتہاری جھوٹ کی فہرست ہے۔ مگر خدا کے لئے دل میں شرما کر سنتے سنتے بھاگ نہ جائیے گا بلکہ مرزا قادیانی کی سنت پر قائم رہ کر بے شرمی کا دامن پکڑے ڈٹے رہیے گا اور سمجھ لیجئے گا کہ؎
١٢ جولائی ١٩٠٦ء میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن نے جو مرزا قادیانی کے بست سالہ مرید اور رفیق اور جلیل القدر صحابی تھے۔ مولوی نور الدین صاحب کو اطلاع دی کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ یعنی تین سال کے اندر میرے سامنے مرزا قادیانی مر جائیں گے۔ اس کے بعد ١٦ اگست ١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی نے مفصلہ ذیل اشتہار دیا۔
کہ: ”میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔ کوئی مجھ پر غالب نہیں آ سکتا۔ بلکہ خود عبدالحکیم خاں میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہو جائے گا۔ خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دے گا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ شریف اور مفتری کے سامنے صادق اور مصلح فنا ہو جائے۔ یہ کبھی نہ ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں بلکہ عبدالحکیم خاں کی پیش گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩ حاشیہ)
(راقم) مرزا قادیانی ہوا تو ایسا ہی۔ اب خدا سے جھگڑا کیجئے۔
مرزا قادیانی کی تکذیب ثابت ہونے کے لئے صرف یہی ایک امر کافی ہے کہ مطابق میعاد پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے اور برخلاف دعوائے الہام اپنے مرزا قادیانی کی ہلاکت اور اندر میعاد پیش گوئی ڈاکٹر صاحب تاریخ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو واقع ہوئی۔ جس کو بڑے زور
١٢
سے دعوے کر کے مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا صادق اور مصلح فنا ہو جائے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور عبدالحکیم کی پیش گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔ مگر خدا تعالیٰ نے الباطل ويحق الحق بكلماته انه عليم بذات الصدور ( اب کدھر بھاگے جھوٹی نبوت کی شیخی بگھارنے والے۔ پبلک کے سامنے اپنے جھوٹے نبی قادیانی کے جھوٹ کی تردید کریں لڑکوں کا کھیل نہیں ہے۔ ابلہ فریبی کا جال نہیں ہے۔ جھوٹی تاویل نہیں جھوٹ پر خاک ڈالنے سے چھپ سکے۔ یہ تو روز روشن کی طرح سچ ک مرزا قادیانی کی ہی زبان سے۔ اس پر بھی کچھ نہ دکھائی دے تو ا ظاہری عیب کا ستر پوش چشمہ اتار پھینکیں اور اس آیہ کریمہ کی تلاوت کریں ولهم اذان لا يسمعون بها ولهم اعين لا يبصرون بها اولئك (اعراف:١٧٩) ”اس پر بھی نہ سمجھیں تو خدا ان سے سمجھے۔ میر ہدایت اور ضلالت میرے اختیار میں تو ہے نہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی جس کو چاہے ہدایت کرے اور جس کو چاہے گمراہ رکھے۔“ وما علی اب ذرا ہوش سنبھال کر صرف اسی بحث میں مرزا قاد صریح طور سے ظاہر ہو گئے۔ ان کو اپنے دلوں کی پاکٹ بک پر روشنائی سے ٹانکتے جائیے کہ نقش کالحجر ہو جائے۔ شاید اس مفصل جھوٹ اور سچ کو سچ سمجھنے کی استعداد بہم پہنچ جائے اور صراط مستقیم ک
١؎ یہاں مرزا قادیانی نے شریر اور مفتری کا اشارہ ڈاکٹر ٢؎ اور صادق اور مصلح کا اشارہ اپنی ذات کی طرف ک واقعہ کی رو سے عبدالحکیم خاں کو صادق و مصلح اور مرزا قادیانی کو شریر ا مرزا قادیانی ہی ڈاکٹر عبدالحکیم کے سامنے ہلاک اور فنا ہو گئے۔ فاع ٣؎ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں سے حق کو روشن اور باطل کی ق وہ دلوں کے راز خوب جانتا ہے۔
١٣
سے دعوے کر کے مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ شریر ١؎ اور مفتری کے سامنے صادق ٢؎ اور مصلح فنا ہو جائے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں کہ عبدالحکیم کی پیش گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔ مگر خدا تعالیٰ نے بموجب ارشاد ٣؎ ويمح الله الباطل ويحق الحق بكلماته انه عليم بذات الصدور (شوری:٢٤)“
اب کدھر بھاگے جھوٹی نبوت کی شیخی بگھارنے والے۔ ذرا آویں اور مرد میدان بن کر پبلک کے سامنے اپنے جھوٹے نبی قادیانی کے جھوٹ کی تردید کریں۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی۔ یہ کچھ لڑکوں کا کھیل نہیں ہے۔ ابلہ فریبی کا جال نہیں ہے۔ جھوٹی تاویل نہیں ہے کہ چرب زبانی کر کے جھوٹ پر خاک ڈالنے سے چھپ سکے۔ یہ تو روز روشن کی طرح سچ کا سچ ظاہر ہو گیا اور طرفہ یہ کہ خود مرزا قادیانی کی ہی زبان سے۔ اس پر بھی کچھ نہ دکھائی دے تو اپنی آنکھوں کا علاج کریں اور ظاہری عیب کا ستر پوش چشمہ اتار پھینکیں اور اس آیہ کریمہ کی تلاوت کریں۔”ولهم آذان لا يسمعون بها ولهم اعين لا يبصرون بها اولئك كالانعام بل هم اضل (اعراف:١٧٩)“ اس پر بھی نہ سمجھیں تو خدا ان سے سمجھے۔ میرا جو کام اظہار حق تھا وہ کر دیا۔ ہدایت اور ضلالت میرے اختیار میں تو ہے نہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی توفیق اور خذلان پر منحصر ہے۔ جس کو چاہے ہدایت کرے اور جس کو چاہے گمراہ رکھے۔”وما علينا الا البلاغ المبين“
اب ذرا ہوش سنبھال کر صرف اسی بحث میں مرزا قادیانی کے پانچ جھوٹ بین اور صریح طور سے ظاہر ہو گئے۔ ان کو اپنے دلوں کی پاکٹ بک پر (پنسل سے نہیں) بلکہ مصفاء روشنائی سے ٹانکتے جائیے کہ نقش کالحجر ہو جائے۔ شاید اس مفصل تحقیق کے فضل سے جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ سمجھنے کی استعداد بہم پہنچ جائے اور صراط مستقیم کا سیدھا رستہ دور ہی سے جھلکنے
١؎ یہاں مرزا قادیانی نے شریر اور مفتری کا اشارہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کی طرف کیا ہے۔
٢؎ اور صادق اور مصلح کا اشارہ اپنی ذات کی طرف کیا ہے۔ مگر مشیت الٰہی نے واقعہ کی رو سے عبدالحکیم خاں کو صادق و مصلح اور مرزا قادیانی کو شریر اور مفتری ثابت کر دکھایا۔ کیونکہ مرزا قادیانی ہی ڈاکٹر عبدالحکیم کے سامنے ہلاک اور فنا ہو گئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
٣؎ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں سے حق کو روشن اور باطل کی ظلمت کو دور کرتا ہے اور بے شک وہ دلوں کے راز خوب جانتا ہے۔
١٣
لگے ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے۔ آپ لوگ بھی دل سے آمین کہئے۔ اللهم اهدهم انهم لا يعلمون ووفقهم انهم لا يفقهون!
پہلا جھوٹ
قوله ...... ”میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔“
(اشتہار خدا سچے کا حامی ہو ملحقہ حقیقت الوحی ص ١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٩)
یعنی جیسا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے میری نسبت پیش گوئی کی ہے۔ میں اس کی میعاد پیش گوئی کے اندر نہیں ہلاک ہونے کا بلکہ سلامتی کے ساتھ رہوں گا۔ جیسا کہ آئندہ جملہ میں خود اس کی تفصیل کرتے ہیں۔
راقم ...... اب اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالئے اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر ایمان سے فرماتے جائیے کہ سلامتی کے شہزادہ کا کیا حشر ہوا اور کس طرح سے سلامتی کے ساتھ ذلت اور لعنت کی موت اندر میعاد مذکورہ بقول ان کے مرزا قادیانی آنجہانی کو واقع ہوئی۔ فرمائیے! اب بھی مرزا قادیانی کی سلامتی میں کچھ کسر باقی رہ گئی۔ کیا آپ لوگوں کو اب بھی ان کی دروغ بیانی اور الہامات شیطانی پر کچھ شبہ رہ سکتا ہے۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی !
دوسرا جھوٹ
قوله ...... ”کوئی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔“
(اشتہار ملحقہ حقیقت الوحی ص ، خزائن ج ٢٢ ص ٤١١)
حالانکہ یہ بھی جھوٹ نکلا بموجب دعویٰ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے میعاد پیش گوئی کے اندر ہی ہلاک ہو کر اپنے الہامی دعوے میں مغلوب ہوئے اور ڈاکٹر صاحب ہی کو غلبہ رہا۔ کہئے اس میں بھی کچھ ایچ پیچ کی گنجائش باقی ہے؟
راقم ...... ہر گز نہیں۔ واللہ ہر گز نہیں! ثم باللہ ہرگز نہیں۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد۔
تیسرا جھوٹ
قوله ...... ”بلکہ خود عبدالحکیم خاں میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہو جائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
راقم ...... مگر مشیت الٰہی بالکل مرزا قادیانی کے الہام کے برعکس ظہور میں لائی۔
١٤
یہ جملہ مرزا قادیانی کا نہایت ہی صفائی سے معتبر شہادت دیتا ہے کہ مرزا قادیانی ہرگز سچے نہ تھے اور ان کا الہام شیطانی تھا جو جھوٹا ثابت ہوگیا۔ کیونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق ان کے سامنے ہلاک نہ ہوئے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کے سامنے ان کی پیش گوئی کے مطابق ہلاک ہوئے۔ جس کو مرزا قادیانی بھی ذلت اور لعنت کی موت خود اپنے الہام سے فرما چکے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کا الہام جھوٹ ثابت ہوگیا۔
جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے
جناب حکیم خلیفہ المسیح اور مولوی عبد الماجد قادیانی سرسری ہی طور سے ملاحظہ کریں۔ اس میں کوئی دقیق مسئلہ حکمت کا نہیں ہے۔ جس میں زیادہ غور اور فکر درکار ہو۔ مرزا قادیانی نے جس قول کو الہام فرما دیا ہے۔ اس کے نتیجہ کو دیکھیں کہ ان کے الہامی قول کے موافق وقوع میں آیا یا نہیں؟ چونکہ اس کا جواب نفی کے سوائے اور کچھ نہیں ہے۔ اس لئے اثبات کی طرف ضد نہ کیجئے اور خدا کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیجئے۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی۔
چوتھا جھوٹ
قولہ..... ”یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ شریر اور مفتری کے سامنے صادق اور مصلح فنا ہو جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ایضا، خزائن ج٢٢ ص٤١١)
اے مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ الخ ! سچ ہوا اور ایسا صاف ظاہر ہو کر رہا کہ کسی تاویل کی ذرہ سی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔ شریر اور مفتری یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے صادق اور مصلح یعنی عبدالحکیم فنا ہو جائے۔ یہ قول مرزا قادیانی کا بالکل سچ اور ٹھیک ہوا نہایت جرات سے میں مصنف سے عرض کرتا ہوں کہ گو آپ کے نزدیک یہ جھوٹ ہو۔ مگر میں اس قول میں مرزا قادیانی کو سچا مانتا ہوں اور احمدی حضرات بالخصوص جناب حکیم نورالدین صاحب بھی اس ماننے میں میرا ضرور ساتھ دیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا بھلا کرے گا۔ مرزا قادیانی کا اشتہار خدا سچے کا حامی ہے۔ مطبوعہ ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٧)
١٥
راقم ...... بہت اچھا مجھ کو بھی اس قول کے ماننے میں مطلق عذر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے قول بالا کے قضیہ کو صغریٰ کبریٰ کرنے کے بعد نتیجہ بھی نکلے گا کہ شریر اور مفتری کے سامنے صادق اور مصلح فنا نہیں ہو سکتا۔ الحمدلله على ذلك فهو المراد !
واضح طور پر عام فہم شرح دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کے الہامی قول سے ثابت ہوا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم صادق اور مصلح ٹھہرے اور مرزا قادیانی شریر اور مفتری۔ کیونکہ مرزا قادیانی ہی ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے سامنے فنا ہو گئے تو اب مرزا قادیانی ہی کے اس جملہ نے بلا کسی قسم کی تاویل اور شک کے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے اقرار کے بموجب شریر اور مفتری تھے۔ کوئی صاحب امر حق کے ظاہر کرنے میں خفا نہ ہوں۔ کسی کی دل آزاری کے خیال سے یہ سب کچھ نہیں لکھا جاتا ہے۔ بلکہ اظہار حق کے خیال سے، خفا ہونے کی بات بھی نہیں۔ کیونکہ میں نے اپنی طرف سے کوئی لفظ نیا گستاخی کا نہیں نکالا۔ بلکہ خود مرزا قادیانی ہی کے قول واقرار کا نتیجہ انہیں کے فرمائے ہوئے الہامی لفظوں میں اعادہ کیا ہے۔ غصہ نہ فرمائیے۔ غصہ کا منہ کالا ۔ غصہ آدمی کو انصاف سے دور کر دیتا ہے۔ یہ انصاف کا وقت ہے۔ ذرا غور کر کے تحمل سے آپ ہی تجویز فرمائیے کہ بقول مرزا قادیانی کے اس جملہ کا مصداق شریر اور مفتری کون ہوا ؟ مرزا قادیانی یا کوئی دوسرا ؟ اور صادق اور مصلح کا مفہوم ڈاکٹر عبدالحکیم خاں ہوئے یا مرزا قادیانی ؟ ضرور آپ لوگ بھی دل میں وہی کہئے گا جیسا کہ میں نے قبل میں ذکر کر کے ساکت کر دیا ہے۔ گو زبان سے اپنی بات کی ضد یا خجالت سے نہ کہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ اس قسم کے جھوٹ کا کچا چٹھا بڑے دعوے اور زور وشور کے ساتھ پبلک میں اس غرض سے پیش کیا جاتا ہے کہ ارباب عقل سلیم ان معتبر شہادتوں سے مرزا قادیانی کی دروغ گوئیوں اور جھوٹے الہاموں کا اندازہ کر سکیں اور جن صاحبوں کو اب تک مرزا قادیانی کے حالات دوکانداری اور جو فروشی و گندم نمائی سے پوری پوری واقفیت نہ تھی۔ واضح طور پر ظاہر ہو جائے کہ آئندہ پھر کوئی نیا بندہ خدا ان کے دام تزویر میں نہ آ جائے۔
پانچواں جھوٹ
قولہ ..... ”یہ کبھی نہیں ہوگا کہ میں ذلت اور لعنت کی موت سے مروں کہ عبدالحکیم خاں کی پیش گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔“
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص، خزائن ج ٢٢ص٤١٠)
راقم ..... مرزا قادیانی نے تو ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے بچنے کے لئے اپنے شیطانی الہام ١٦
کے بھروسہ پر بڑا زور دار دعویٰ کیا تھا۔ مگر جس کے ہاتھ میں موت اور حیات ہے اور جو بڑا علیم اور حکیم بھی ہے۔ اس کی حکمت بالغہ اس کی مقتضی تھی کہ ان جیسے جھوٹے مسیح کی موت ذلت اور لعنت ہی کے ساتھ ہونی چاہئے تھی۔
جناب حکیم صاحب! یہ ہے فیصلہ آسمانی۔ بھلا اس کا جواب آپ کیا دیں گے۔ مشیت الٰہی سے جھگڑنا کسی عقل والے کا کام نہیں ہے۔ زیادہ حد ادب!
بھائیو! دوڑو اور مرزا قادیانی کی جھوٹی لفاظیوں اور بڑے زور دار دعوؤں کے پاش پاش ہونے کا تماشا ایک نظر دیکھ لو کہ جس ذلت اور لعنت کی موت سے اپنے مرنے کی نفی الہامی طور پر فرماتے تھے مشیت ایزدی نے اسی ذلت اور لعنت کی موت میں مبتلا کر دیا اور ”لو تقول علینا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقه:٤٤ تا ٤٦)“ کا راز خدائے ذوالجلال نے اپنی مخلوق پر واضح طور سے کھول دیا۔ دیکھا اس منتقم حقیقی کی شان جبروتی کو کہ خود بقول مرزا قادیانی کے ان کو اسی ذلت اور لعنت کی موت سے اندر میعاد پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے ہلاک اور فنا کر دیا۔ جس کی بڑے زور وشور سے مرزا قادیانی نے نفی فرمائی تھی کہ یہ کبھی نہ ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں۔
اب اس بین شہادت مقبولہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں مرزائی حضرات کیا جواب پیش کر سکتے ہیں؟ یہ ہے فیصلہ آسمانی اگر کسی کو جرأت ہو تو اس کا جواب باصواب دے۔ ورنہ آفتاب پر خاک ڈالنے سے کہیں روشنی چھپ نہیں سکتی۔
یہ پانچ معتبر شہادتیں مقبولہ مرزا قادیانی آنجہانی کی ناظرین کی خدمت میں پیش کر کے التجا کے ساتھ متوجہ کرتا ہوں کہ خدا کے لئے ان مقبولہ شہادتوں پر غور کامل فرما کر مرزا قادیانی کی جھوٹائی پر اپنا اپنا ناطق فیصلہ کرتے جائیں کہ عقل سلیم کے نزدیک باوجود جھوٹا ثابت ہونے اور ایسے جھوٹ الہامی دعوؤں کے کون خارج العقل مرزا قادیانی کو نبی یا مسیح موعود یا مہدی مسعود مان سکتا ہے۔
ہاں ! ایک جملہ اس بحث کا اور باقی رہ گیا کہ خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دے گا۔ میں نہایت راستی سے تسلیم کرتا ہوں اور اس خدائے قدوس کا ہزار ہزار شکر کرتا ہوں کہ جیسا مرزا قادیانی نے فرمایا تھا ویسا ہی اللہ تعالیٰ نے صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا دیا کہ صادق
١٧
کے سامنے کاذب ہلاک اور فنا کر دیا گیا۔ (یہ ہے تفسیر ”ثم لقطعنا منه الوتین“ کی) اس پر بھی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں خود بقول مرزا قادیانی کوئی کسر باقی رہ گئی ہو تو جواب دیجئے۔ ورنہ صاف صاف اعتراف فرمائیے کہ مرزا قادیانی سے غلطی ہوئی اور مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ کرنے میں شیطان نے ان کو دھوکے میں ڈالا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے (ضرورۃ الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٧) میں لکھا ہے کہ: ”یسوع نے اپنے نور کے تازیانہ سے شیطانی خیال کو دفع کیا اور اس کی الہام کی پلیدی فوراً ظاہر کر دی۔ ہر ایک زاہد وصوفی کا یہ کام نہیں۔“
مرزا قادیانی کا یہ لکھنا اور بزرگوں کے قول کی نقل فرمانا بالکل صحیح ہے کہ شیطان کے دھوکے اور فریب سے بچنا و محفوظ رہنا ہر ایک زاہد وصوفی کا کام نہیں۔ خاص کر کسی تعلی پسند ہوا پرست، خود غرض، کم تجربہ، بے رہبر ملہم کا شیطانی دھوکے کو پہنچ کر اس سے بچنا مشکل بلکہ قریب قریب ناممکن کے ہے اور خاص ایسے دھوکے ومغالطہ کے امتیاز وشناخت ہی کے لئے رہبر کامل ومرشد سالک کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اسی لئے خادمان دین متین اور حاملان شریعت سید المرسلین نے کتابیں ”تلبیس ابلیس“ وغیرہ کے نام سے تصنیف فرمائی ہیں۔ لیکن افسوس کہ مرزا قادیانی تو ان متقدمین کی تصانیف کی کچھ پرواہ ہی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ شیطان نے کچھ کان میں پھونک کر ان کو اپنے ہی علم پر نازاں اور مغرور بنا دیا تھا۔ جس کے سبب سے ہر ہر قدم پر ٹھوکر پر ٹھوکر کھاتے رہے اور گرے تو پھر سنبھلنے تک کی قوت باقی نہیں رہی۔
مجھ کو حقیقتاً بڑا افسوس ہے۔ کاش وہ متقدمین کی کتابیں دیکھتے یا کسی تجربہ کار کامل مرشد کی صحبت سے چندے فیضیاب ہوتے اور استقامت کے ساتھ فضل رحمان کے متلاشی رہتے تو البتہ کچھ ان شیطانی الہام کی کیفیت سے واقفیت ہو جاتی اور پھر ہرگز ٹھوکر نہ کھا سکتے۔ جیسا کہ خود ہی آگے چل کر مرزا قادیانی اسی (ضرورۃ الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٧) میں فرماتے ہیں کہ: ”ایک دفعہ شیطانی الہام (حضرت سیدنا غوث الاعظم) شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو بھی ہوا تھا۔ شیطان نے آپ سے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں۔ اب جو کہ دوسروں پر حرام ہے۔ تیرے پر حلال اور نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے۔ جو چاہے کر۔“ تب حضرت نے فرمایا کہ شیطان دور ہو۔ وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو سکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔ تب شیطان بھاگ گیا۔
١٨
مرزائی حضرات اور خصوصاً جناب حکیم نور الدین سوچ سمجھ کر غور فرماویں کہ یہ جواب اور سرزنش مرزا قادیانی کو کاملین اولیاء اللہ کی یہی شان ہوتی ہے اور ہمارے سید الطا حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم قطب یز بڑے کامل اور مکمل اور نہایت درجہ کے متبع کتاب اللہ وسنت رس الاعظم با ایں ہمہ فضل وکمال اور قرب الی اللہ واتباع سنت مص کیوں قبول کرتے۔ اسی لئے انوار محمدی کے فیضان سے فوراً ح دیا کہ اے شیطان دور ہو، وہ باتیں میرے لئے کب روا ہو س ہوئیں۔ فافہم وتدبر!
برادران اسلام! اب آپ ہی غور سے انصاف ک عبارتیں ضرورۃ الامام کی ص ١٧ میں لکھی ہیں۔ یعنی حضرت رکھ کر اور معیار قرار دے کر مرزا قادیانی کے حال اور دعوے حضرت پیران پیرؒ نے تو شیطانی الہام کو کتاب اللہ اور اتباع س تمیز کر کے نور کا تازیانہ لگا دیا اور اس کے الہام کو رد کر د مرزا قادیانی نے اسی مضمون کے اپنے الہام ”أعمل ما ش١؎ منی بمنزلة لا يعلمها الخلق“ (براہین احمدیہ ص ٥٦٠، کے قبول کر لیا اور شیطانی الہام کے تمیز کرنے سے بالکل مجبور عمل کیا۔ بظاہر یہی سبب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں تعل کا غلبہ تھا۔ اس لئے شیطان مردود کا (جو انسان کا ظاہر دشمن وتکریم شریعت مصطفوی اور احادیث نبوی ﷺ کی کچھ بھی حرم کامل ان کا ہوتا تو یہ صورت پیش نہ آسکتی اور تمیز کر لیتے کہ یہ ش
١؎ یعنی جو تو چاہے کر تحقیق میں نے تجھے بخش دیا۔ ت خلقت کو معلوم نہیں۔
بجا ہے اسی لئے تو آپ ایک جگہ (نعوذ باللہ) خدا کے باپ ب الہام ہوا ہے۔
١٩
مرزائی حضرات اور خصوصاً جناب حکیم نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح قادیان اس جگہ سوچ سمجھ کر غور فرمادیں کہ یہ جواب اور سرزنش مرزا قادیانی کی کس قدر صحیح اور درست ہے۔ واقعی کاملین اولیاء اللہ کی یہی شان ہوتی ہے اور ہمارے سید الطائفہ روحنا فداہ سیدنا ومرشدنا ومولانا حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم قطب یزدانی کی تو بالخصوص بڑی شان تھی اور بڑے کامل اور مکمل اور نہایت درجہ کے متبع کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ تھے تو پھر ہمارے غوث الاعظم با ایں ہمہ فضل و کمال اور قرب الی اللہ واتباع سنت مصطفویہ کے ایسے صریح شیطانی الہام کو کیوں قبول کرتے۔ اسی لئے انوار محمدی کے فیضان سے فوراً حضرت موصوف نے شیطان کو پھٹکار دیا کہ اے شیطان دور ہو، وہ باتیں میرے لئے کب روا ہوسکتی ہیں جو نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔ فافہم وتدبر!
برادران اسلام! اب آپ ہی غور سے انصاف کریں اور مرزا قادیانی نے جو اوپر کی عبارتیں ضرورۃ الامام کی فصل ٥٧ میں لکھی ہیں۔ یعنی حضرت پیران پیر دستگیرؒ کے واقعہ کو پیش نظر رکھ کر اور معیار قرار دے کر مرزا قادیانی کے حال اور دعوے پر نظر عمیق اور غور کامل فرمادیں کہ حضرت پیران پیرؒ نے تو شیطانی الہام کو کتاب اللہ اور اتباع سنت رسول اللہ ﷺ کی توفیق سے فوراً تمیز کر کے نور کا تازیانہ لگا دیا اور اس کے الہام کو رد کر کے فرما دیا کہ دور ہو شیطان۔ لیکن مرزا قادیانی نے اسی مضمون کے اپنے الہام ١ ”اعمل ما شئت فانی قد غفرت لك انت منی بمنزلة لا یعلمها الخلق“ (براہین احمدیہ ص ٥٦٠، خزائن ج ١ ص ٦٦٨ حاشیہ) کو آنکھ بند کر کے قبول کر لیا اور شیطانی الہام کے تمیز کرنے سے بالکل مجبور رہے۔ یہ کیوں مرزا قادیانی نے ایسا عمل کیا۔ بظاہر یہی سبب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں تعلیوں کا زور وشور اور خواہشات نفسانی کا غلبہ تھا۔ اس لئے شیطان مردود کا (جو انسان کا ظاہر دشمن ہے) پورا پورا قبضہ ہو گیا اور اگر تعظیم وتکریم شریعت مصطفوی اور احادیث نبوی ﷺ کی کچھ بھی حرمت ان کے دل میں رہتی اور کوئی رہبر کامل ان کا ہوتا تو یہ صورت پیش نہ آسکتی اور تمیز کر لیتے کہ یہ شیطانی الہام ہے۔
ا۔ یعنی جو تو چاہے کر تحقیق میں نے تجھے بخش دیا۔ میری طرف سے تیرا ایسا مرتبہ ہے کہ خلقت کو معلوم نہیں۔
(تذکرہ ص ١٠٧ طبع سوم)
بجا ہے اسی لئے تو آپ ایک جگہ (نعوذ باللہ) خدا کے باپ بنے ہیں اور انت منی وانا منك الہام ہوا ہے۔
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
١٩
اب مرزا قادیانی کا وقت ہاتھ سے نکل گیا۔ بقول مثل مشہور۔ اب پچھتائے کیا ہوت کہ چڑیا چگ گئیں کھیت! مگر مرزائیوں کو ابھی تک وقت اصلاح والحاح باقی ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔ مگر اس کی توفیق اور اس کا فضل درکار ہے۔ آپ لوگ ہمت کیجئے اور اس کی درگاہ میں توبہ اور اخلاص کو اپنا شفیع بنائیے۔ سب کام بن جائے گا۔ اے اللہ اپنی خدائی کا صدقہ اور اپنے حبیب کریم خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل میں اور بحرمت سیدنا ومولانا ومرشدنا جناب غوث الاعظم سید شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ (جن کا ذکر اس بحث میں آگیا ہے) ہمارے بچھڑے ہوئے بھائیوں کو اپنی رحمت کاملہ سے توفیق رفیق عنایت کر کے ہم سے ملا دے۔ آمین ثم آمین! ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم!
ناظرین! مجھے معاف فرماویں میں کہاں سے کہاں چلا آیا اور اثناء ذکر میں اقوال غلط بیانیہ مرزا قادیانی کے ایک دوسرا ذکر مستقل طور پر خود مرزا قادیانی کی تحریر کے موافق آ پڑا۔ جس کو ادھورا چھوڑنا بنظر فائدہ عام مناسب نہ سمجھا۔ اب پھر اسی فہرست اقوال کذب کی تفصیل شروع کی جاتی ہے۔ شمار کرتے جائیے اور ملاحظہ فرمائیے کہ ایک دو جھوٹ ہوں تو ان کا ذکر ہی کیا ۔ یہاں تو جھوٹ کا دفتر کھلا ہوا ہے۔ گنتے گنتے دل گھبرا جاتا ہے کہ الٰہی یہ کون سی قسم کی مسیحیت اور مہدویت ہے کہ کوئی الہام جھوٹ سے خالی نہیں جاتا۔ لیجئے اب غور سے شمار کرتے جائیے۔ پھر مرزا قادیانی نے ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء کو یعنی اپنے مرنے کے دن سے سات مہینے اکیس روز قبل ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور اپنے دوسرے مخالفین کی نسبت ایک طویل الہامی اشتہار شائع کیا۔ جس کا نام تبصرہ رکھا اور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ اس پیش گوئی کو خوب شائع کریں اور ان کے مریدین نے بھی بموجب حکم مرزا قادیانی کے خوب اچھی طرح سے شائع کیا۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
قولہ ...... ’’اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ میں تیری عمر بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا۔ دشمن جو تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔ تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے والے سلامت نہیں رہیں گے۔ تیرے مخالفوں کا اخڑا اور فنا تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
١؎ مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی پر اس قدر وثوق کامل تھا جس کی اشاعت کے لئے تاکیدی فرمان جاری فرمایا۔ مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔ سب کے سب جھوٹ ہی ثابت ہوئے۔ یہ ہے شیطانی الہام۔
٢٠
راقم ....... ہندو فقیروں میں کبیر داس کی الٹی بانی مشہور تھی اس کو اب بھول جانا چاہئے۔ کیونکہ امتداد زمانہ سے تمادی مؤثر ہے۔ اب اس کی جگہ پر مرزا قادیانی کی الٹی الہامی تک بندی ملاحظہ ہو۔ جتنے الہام ہیں سب الٹے ہوئے۔ حکیم مؤمن خاں مرحوم دہلوی کا یہ مصرع مرزا قادیانی کے ساتھ برجستہ چسپاں ہوتا ہے۔ پہلا مصرع بڑھا کر ہم نے ربط دے دیا ہے۔ ناظرین کی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
ہم الٹے بات الٹی یار الٹا ١؎
ناظرین! پچھلی پیش گوئیوں کے جھوٹ کا نمبر ذہن نشین رکھیں کہ وہ پانچ نمبر تک گذشتہ صفحوں میں ذکر ہو چکا ہے۔ اب اسی سلسلہ کے لحاظ سے چھ نمبر سے پھر شروع کیا جاتا ہے۔ ان پیش گوئیوں کو بھی مرزا قادیانی نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار ٹھہرایا تھا۔
(اشتہار تبصرہ مذکور اور علاوہ اس کے چشمہ معرفت ص ٢، خزائن ج ٢٣ ص ١٣ اور اخبار البدر مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء)
راقم ....... یعنی مرزا قادیانی کے مرنے سے دو روز قبل کا البدر کیونکہ جس روز مرزا قادیانی یعنی تاریخ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو انتقال کرتے ہیں۔ اس کے دو روز قبل ٢٤ مئی ١٩٠٨ء کا پرچہ ہے۔ مرتے وقت بھی اس قدر جھوٹ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ بس نبوت کاذبہ کا خاتمہ ہو گیا۔
چھٹا جھوٹ
قولہ ....... ”میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) ان جملوں کی صراحت اوپر کی گئی ہے اور اس پر نمبردار ہندسہ پڑا ہوا ہے۔ مرزائی حضرات دیکھ کر فرما دیں کہ الہام کے بموجب مرزا قادیانی کی کتنی عمر بڑھادی گئی یا دشمن کی بتائی ہوئی میعاد کے اندر مرزا قادیانی ہلاک ہو گئے؟ اب بھی اس کے شیطانی الہام ہونے میں آپ لوگوں کو کچھ تردد باقی ہے؟ آئیے دل صاف کر کے مصافحہ کر لیجئے اور قدیم کدورت کو دل سے نکال پھینکئے۔
ساتواں جھوٹ
قولہ ....... ”ان سب کو (یعنی تیرے دشمنوں کو جنہوں نے پیش گوئی کی تھی) جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
١؎ کچھ دماغ درست ہو تو اس پہیلی کو نکالئے۔ ساڑھے تین چیرا آپ کو دئے جائیں گے۔
٢١
ناظرین! اس مکرر تاکیدی الہام کے ٹکڑے کو ذہن میں رکھیے گا۔ جس پر دوسرا خط کھینچا گیا ہے۔ آخر وہی ہو کر رہا جو ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے کہا تھا اور جو مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا وہ نہیں ہوا۔ بلکہ الہام کا الٹا ہوا۔ اس لئے بلاشک و شبہ ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام نہ تھا بلکہ شیطانی اوہام تھا جو تمیز نہ کر سکے۔
مرزائیو! یہ ہے فیصلہ آسمانی! اس کا جواب دینا تو وہی مثل جولاہوں کا تیر یاد دلاتا ہے کہ تیر نے تو چھید چھاد کے وار پار کر دیا۔ مگر نادان کہہ رہے ہیں کہ خدا کرے جھوٹ ہو جائے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی آنجہانی اب دوبارہ اس جہاں میں تشریف لاویں اور اپنی عمر بڑھواویں۔ جس وقت الہام ہوا تھا اس وقت تو عمر بڑھائی نہیں گئی۔
اب کون صاحب عقل ایسے لچر جواب کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب! یہ ہے فیصلہ آسمانی! دوکانداری کا وقت گیا۔ ابلہ فریب وعظ و اسپیچ کی حقیقت دنیا پر کھل گئی۔ اب جھوٹی چرب زبانیوں سے کام نہیں نکلتا۔ اگر آپ میں قدرت ہو تو مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کو سچ کر دکھائیے۔ بس یہی جواب فیصلہ آسمانی ہے۔ ابلہ فریب وعظ کی نسبت حضرت خواجہ حافظ کا شعر کبھی تو ذہن نشین کر لیجئے۔
چوں بخلوت می روند آں کار دیگر می کنند
اب ناظرین ہی فیصلہ کریں کہ مطابق الہام مرزا قادیانی کے دشمن اس پیش گوئی میں جھوٹے ہوئے یا مرزا قادیانی؟ کیونکہ مرزا قادیانی تاریخ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو اندر میعاد پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے ہلاک ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب بفضلہ اب تک زندہ صحیح و سالم موجود ہیں۔ اب فیصلہ نہایت آسان ہو گیا کہ یہ الہام رحمانی نہیں تھا، بلکہ شیطانی تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے دشمن ہی اس میں سچے رہے اور مرزا قادیانی کی عمر مطابق الہام مذکورہ ہرگز نہ بڑھی بلکہ اندر میعاد مقررہ ان کے دشمن کے انتقال کر گئے۔ اسی سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ یہ الہام رحمانی نہ تھا۔ اگر رحمانی الہام ہوتا تو آسمان ٹل جاتا۔ مگر خدائے قدوس اپنے وعدہ سے نہ ٹلتا۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ اپنے رسولوں کے ساتھ جھوٹا وعدہ کر کے (نعوذ بالله من ذلك) اپنے رسولوں کو ہرگز ہرگز ذلیل اور رسوا نہیں کرتا ہے۔
مرزائیو! یہ ہے فیصلہ آسمانی۔ اتنی صفائی سے سمجھانے پر بھی بیجا تعصب اور ہٹ دھرمی
٢٢
باوجود علم ہو جانے کے انسان ضعیف البنیان کو لازم نہیں۔ کیو سرکشی اور بغاوت ہے۔ ”اللهم اهدنا الصراط المستقیم
آٹھواں جھوٹ
قولہ ...... ”دشمن جو تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھ نابود اور تباہ ہوگا۔“
راقم ...... مگر ہوا الٹا۔ مشیت الٰہی سے کون لڑ سکتا ہے۔ مرز عبدالحکیم خان صاحب تھے۔ جنہوں نے ان کی موت چاہی تھی کے پہلے ہی مشتہر کر دیا تھا کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے مرزا قادیانی کو اس کے خلاف میں الہام بھی ہوا کہ تیرا دشمن خو نابود و تباہ ہوگا اور تیری عمر بڑھا دوں گا۔ مگر یہ سب کچھ نہ ہو سامنے تباہ ہوئے، نہ مرزا قادیانی کی عمر بڑھائی گئی۔ بلکہ خو مرزا قادیانی کی ہلاکت (جس کو ذلت اور لعنت کی موت الہا اور ڈاکٹر صاحب ہنوز موجود ہیں۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی بھلا مرزا ہو چکی وہ کس طرح جھٹلا سکتے ہیں؟ اور چاند پر خاک ڈال کر چھ
نواں جھوٹ
قولہ ...... ”تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے وال
١؎ اگر الہام ہی فرض کر لیا جائے تو میری رائے ناقص م ان دونوں جملوں کے مخاطب صحیح ڈاکٹر عبدالحکیم ہوں گے۔ مرز مخاطب کر لیا۔ کیونکہ ہوا ویسا ہی جیسا میرا گمان ہے کہ ڈاکٹر سا کرنے والے (یعنی مرزا قادیانی) سلامت نہ رہیں گے اور ت مرزا قادیانی کی رسوائی اور ہلاکت) اے عبدالحکیم خاں میری ہی ت مشیت الٰہی نے ظہور کر دکھایا۔ فحوائے آیہ کریمہ ”يمح الله الباط الكافرون“ یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو نیست و نابود کرتا ہے اور حق کو ظاہ
٢٣
باوجود علم ہو جانے کے انسان ضعیف البنیان کو لازم نہیں۔ کیونکہ یہ خدائے پاک کی جناب میں سرکشی اور بغاوت ہے۔ ”اللهم اهدنا الصراط المستقيم“
آٹھواں جھوٹ
قولہ ...... ”دشمن جو تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
راقم ...... مگر ہوا الٹا۔ مشیت الٰہی سے کون لڑ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے بڑے مخالف تو ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب تھے۔ جنہوں نے ان کی موت چاہی تھی اور ان کی موت کی میعاد بھی مقرر کر کے پہلے ہی مشتہر کر دیا تھا کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک ان کی موت ہوگی۔ باوجودیکہ مرزا قادیانی کو اس کے خلاف میں الہام بھی ہوا کہ تیرا دشمن خود تیرے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود و تباہ ہوگا اور تیری عمر بڑھا دوں گا۔ مگر یہ سب کچھ نہ ہوا۔ نہ ان کے دشمن مرزا قادیانی کے سامنے تباہ ہوئے، نہ مرزا قادیانی کی عمر بڑھائی گئی۔ بلکہ ٹھیک میعاد مقررہ دشمن کے اندر ہی مرزا قادیانی کی ہلاکت (جس کو ذلت اور لعنت کی موت الہام میں فرما چکے ہیں) وقوع میں آئی اور ڈاکٹر صاحب ہنوز موجود ہیں۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی بھلا مرزائی حضرات مشیت یزدانی کو جو واقع ہو چکی وہ کس طرح جھٹلا سکتے ہیں؟ اور چاند پر خاک ڈال کر چھپا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
نواں جھوٹ
قولہ ...... ”تجھ سے لڑنے والے اور تیرے پر حملہ کرنے والے سلامت نہیں رہیں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٠)
١؎ اگر الہام ہی فرض کر لیا جائے تو میری رائے ناقص میں یہ آتا ہے کہ غالباً مرزا قادیانی کے ان دونوں جملوں کے مخاطب صحیح ڈاکٹر عبدالحکیم ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو غلطی سے مخاطب کر لیا۔ کیونکہ ہوا ویسا ہی جیسا میرا گمان ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے لڑنے والے اور ان پر حملہ کرنے والے (یعنی مرزا قادیانی) سلامت نہ رہیں گے اور تیرے مخالفوں کا افترا اور افتاء (یعنی مرزا قادیانی کی رسوائی اور ہلاکت) اے عبدالحکیم خاں میری ہی پیش گوئی سے مقدر تھا۔ چنانچہ ایسا ہی مشیت الٰہی نے ظہور کر دکھایا۔ بفحوائے آیہ کریمہ ”يمح الله الباطل ويحق الحق ولو کرہ الکافرون“ یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو نیست و نابود کرتا ہے اور حق کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ منکروں کو برا لگے۔
٢٣
دسواں جھوٹ
قولہ....... ”تیرے مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہاتھ سے مقدر تھا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٠)
راقم....... مرزا قادیانی کے بڑے مخالف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی ثناء اللہ امرتسری وغیرہ مشاہیر بزرگان مشہور مخالفوں میں ہیں (اور بڑے بڑے زور دار حملے ان کے مرزا قادیانی پر برابر ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ ان کا دم ناک میں کر دیا) بفضلہ وہ سب سلامتی سے اب تک موجود ہیں اور مرزا قادیانی ہی عبدالحکیم خاں کی پیش گوئی کی میعاد میں اخزاء ہو کر اس جہان فانی سے کوچ کر کے زمین کے اندر جا چھپے۔ یا یوں کہئے کہ ہلاک و فنا ہو گئے۔ پھر مخالفوں کا اخزاء اور افناء جو مرزا قادیانی کے ہاتھ سے الہامی طور پر مقدر ہونا کہا گیا تھا بالکل جھوٹ ثابت ہوا۔ کیونکہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو خود قادیان کی نبوت کاذبہ کا طلسم ٹوٹ گیا اور خدا تعالیٰ نے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ وہ آخری الہام بھی نبی کاذب کا ٢٣؍ مئی ١٩٠٨ء والا یعنی دو روز قبل موت کا الہام جس کو البدر نے بڑے اہتمام اور دعوے سے شائع کیا تھا جھوٹ ہی ثابت ہو کر اظہر من الشمس ہو گیا۔ نہ عمر بڑھائی گئی نہ جوانی عود کر آئی، نہ سلطان محمد بیگ مرا، نہ منکوحہ آسمانی ہاتھ آئی، نہ مرزا قادیانی کا دشمن عبدالحکیم خاں جس نے ان کی موت چاہی تھی اصحاب فیل کی طرح نابود و تباہ ہوا۔ نہ مرزا قادیانی کو اپنے مخالفین کو اخزاء اور افناء کا موقع دیا گیا (جو ان کے الہام نے ان کے ہاتھ سے مقدر کیا تھا) انہیں سب ناکامیوں اور حرمان کے سبب سے بتقاضائے غیرت افغانی مرزا قادیانی اندر پیش گوئی عبدالحکیم خاں کے ذلت اور لعنت کی موت خود اختیار کر کے فنا ہو گئے۔ اگر چہ مخلوق میں رسوا تو ہوئے۔ مگر غیرت انسانی سے ہمیشہ کے لئے زیر زمین روپوش ہو گئے۔ بقول شخصے: یا مظہر العجائب سلطان قلم معہ بستہ الہام غائب۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی!
ان صریح اور بے میل کذب بیانیوں کا جواب اور تو کوئی کیا دے سکتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی اپنی پنجابی مسیحیت کے زور سے پہلوانی دکھا کر قبر سے بھی نکل آویں اور اپنے گروہ مسیحائیوں کو اپنا نیا معجزہ دکھلاویں تو بھی فیصلہ آسمانی کے جواب سے ضرور عاجز رہیں اور کچھ بھی نہ بن سکے۔ مخالف ہی کے ہاتھ میں دنگل رہے اور ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب ہی کے سر پر ظفر مندی اور فتح و فیروزی کا سہرا بندھے، مشیت الٰہی نے جس کو وقوع میں لا کر دکھا دیا۔ اس کا بطلان محالات سے ہے۔
٢٤
مرزائیو! آپ لوگ اس خاکسار کے التماس اور عرضداشت واقعات سے خدا کے لئے مطلق خفا نہ ہوں۔ کیونکہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یا آگے لکھوں گا فقط اسلامی اور درد دل کی وجہ سے بنظر حفاظت اسلام خدائے تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر محض اپنی نیک نیتی اور صفائی باطن سے بلا رو رعایت کسی کے امر حق کے ظاہر ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ تلخ دوائیں ذائقہ میں کڑوی تو ہوتی ہیں۔ مگر دفع مرض کے لئے اکسیر کا خواص رکھتی ہیں اور خود بقول مرزا قادیانی کے ”اظہار امور حقہ کے لئے کسی قدر حرارت بھی لازمہ حق گوئی ہے“ اس لئے راقم باادب گزارش کرتا ہے کہ ہرگز ہرگز مجھ ناچیز، گنہگار، سیاہ کار سے کسی طرح بدظن نہ ہوں اور اس کا ہمیشہ خیال رکھیئے کہ خدا نخواستہ کسی ذاتی امور میں مرزا قادیانی کے ساتھ کچھ رنجش تو تھی نہیں اور نہ ان سے مجھے کسی ذاتیات کی حیثیت سے کچھ دنیاوی بغض وعناد یا حسد ہے۔ بلکہ ایک زمانہ دراز تک ان کے عقائد کا دلدادہ رہا ہوں۔ وہ بیچارے مر گئے اور سب کو مرنا ہے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے کس کو معلوم کہ کیسا بھگت رہے ہیں۔ مگر جو سمی مادہ اسلام میں چھوڑ گئے ہیں جس کی وجہ سے جاہلوں میں طاعونی وباء کا انتشار ہو چلا تھا الحمد للہ! کہ فیصلہ آسمانی نے بہت کچھ اس مادہ خبیثہ کا ازالہ کر دیا ہے۔ بدیں سبب دیندار مسلمان حق پسند کو اس سمی مادہ کے فنا کرنے کے لئے حتی الوسع کوشش کرنی ضرور ہے۔ ”اللهم احفظنا من سوء الاعتقادات“
مجھ کو اور ہر سچے مسلمان متبع کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کو جو کچھ دلی صدمہ اور خلش ہے ان کی جھوٹی نبوت اور مسیحیت اور مہدویت سے ہے۔ ورنہ قطع نظر ان دعاوی اور فضولیات کے اگر مرزا قادیانی اپنے کو قطب الاقطاب فرماتے یا مجدد عصر، مجتہد زمانہ، ولایت کے دعویدار ہوتے تو کسی مسلمان کو اس کی چھان بین کرنے کے لئے شریعت نے مجبور تو کیا نہیں۔ پھر کسی کو ان سے غرض کیا تھی کہ اس کی تحقیق میں بے سود اپنا وقت عزیز خراب کرتا اور بے فائدہ کار گزا جھگڑا اپنے سر مول لیتا۔ کیا آج کل جس قدر مشائخان مدعیان تصوف دنیا میں موجود ہیں۔ سب کے سب ولایت کے مدارج اور مقامات کو طے و تکمیل کئے ہوئے مسند فقر پر تکیہ لگائے رونق افروز ہیں۔ حاشا وکلا! سب کے سب ایسے ہرگز نہیں۔ الا ماشاء اللہ ذالك فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
لیکن بات یہ ہے کہ ان بزرگواروں کے مشائخانہ دعویٰ فقر و درویشی وتصوف سے چاہے وہ جیسے بھی ہوں ہمارے نفس اسلام اور توحید حقیقی و رسالت میں کچھ مضرت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ بزرگان اسلامی حدود کے اندر ہیں۔ جادہ اعتدال مصطفویہ سے ان کا قدم باہر نہیں ہے۔ ادعاء نبوت باطلہ کی
٢٥
ابلہ فریبوں سے (معاذ اللہ) ان کے دامن پاک وصاف ہیں۔ رشد و ہدایت میں علی قدر حال ممتاز ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض مسائل جزئیہ تصوف میں کسی کو کچھ اختلاف ہو ورنہ مسلک اور مذہب ایک ہی شریعت مصطفویہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے اس طرف ہمارے علمائے کرام اور دیگر بزرگان کو کچھ اعتناء بھی نہیں۔ خصوصاً ایسے وقت میں کہ اسلام کا شیرازہ بالکل ٹوٹا جا رہا ہے اور اجتماعی قوت اسلام کی ضعیف ہوگئی اور افتراقی مصیبت مسلمین پر ہماری نحوست اور شامت اعمال سے روز بروز برسر ترقی ہے اور اس کیفیت کو مخالفین اسلام اور توحید نے پورے طور سے احساس کر کے ہر طرف سے ہم مسلمانوں پر بڑے زور وشور سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے اور ہم سے کچھ بن نہیں سکتا۔
میرا حسن ظن ہے کہ اگر یہ وقت بد جو آج کل ہم لوگ دیکھ رہے ہیں کاش مرزا قادیانی اس وقت موجود رہتے اور وہ اپنی آنکھوں سے ان مصائب پر نظر فرماتے تو ضرور وہ بھی موجود زمانہ کی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر کوئی ایسا اعلان علیٰ رؤس الاشہاد ضرور دے دیتے کہ ان کے جن دعاوی سے عام مسلمانوں کو برہمی ہو رہی ہے وہ رفع ہو جاتی۔ افسوس ان کا تو وقت اب نہ رہا۔ مگر دوسرے حضرات جو مرزائی گروہ میں مقتدر اور بااثر لوگ ان کے بعد ہیں میں سب سے تو واقف نہیں۔ مگر چند حضرات جیسے حکیم خلیفہ المسیح صاحب و مولوی محمد سرور شاہ صاحب و خواجہ کمال الدین صاحب و مولوی عبد الماجد صاحب وغیرہم جو اب تک بفضلہ تعالیٰ موجود ہیں خدا کے لئے اس اختلاف کے دور کرنے کی کوشش کریں اور ہمت راستہ عمل میں لاویں اور جو امور اور دعاوی باعث عناد عام ہو گئے ہیں۔ اس کی نفی کا اعلان فرما کر اس عناد قلبی اور بغض دلی کو عام مسلمین کے دلوں سے نکال کر اتفاق اور یکجہتی کا تخم بوویں۔ خدا ان لوگوں کو اجر عظیم دے گا اور سارے ہندوستان کے مسلمان ایک ہو جائیں گے۔
خدا کے واسطے اب ضد چھوڑیئے اور اختلاف باہمی کی صورتیں محو کر ڈالئے۔ اب اس کا وقت آگیا کہ اسلامی ضعف و نقاہت کا علاج فرمائیے اور طبیبان حاذق نسخہ مجرب تجویز کر کے اپنے بیمار کی خبر لیں۔ ورنہ اسلام ہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر مسیحیت اور مہدویت کس کام آئے گی۔
گزشتہ تفصیل دروغ بیانیوں کی تعداد پچھلے صفحوں میں دس تک آ چکی ہیں۔ اب کچھ اور بھی ملاحظہ ہو۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے اور مرزا قادیانی سے بہت زوروں کا مقابلہ رہا ہے اور مولوی صاحب نے متعدد رسالے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں لکھے ہیں۔ جن کا جواب اس وقت تک نہ تو سلطان القلم نہ ان کے اور کسی مریدین سے ہوسکا۔ آخر مرزا قادیانی نے تنگ آکر مولوی صاحب کو ایک خط لکھا جس کا عنوان جلی قلم سے مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے۔
٢٦
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
اس عنوان میں مرزا قادیانی بہت زور سے خبر دے کا مضمون لکھا جائے گا وہی فیصلہ ہے۔ ہمارے اور مولوی ثناء اللہ میں کسی کی منظوری اور نامنظوری کو کچھ دخل نہیں ہے اور اہل علم یہ ہوتی۔ حضرات مرزائی اگر واقعی مرزا قادیانی کو اپنا نبی اور سچ موع ہے کہ جیسا مرزا قادیانی نے اس عنوان کے نیچے لکھا ہے۔ ویسا فیصلہ سمجھیں۔
مرزا قادیانی کے آخری فیصلہ کا مضمون حسب ذیل اشتہاروں کے ذریعہ سے شیطان سے زیادہ مشہور ہو چکا ہے خراشی نہ کی گئی۔ فقط ضروری مضمون الہام مندرجہ خط مذکور پر اکتفا کیا گیا ہے۔ التفصیل ”مرزا قادیانی اپنے خط میں مولوی ثناء اللہ صا فرماتے ہیں۔
قولہ..... ”اگر میں کذاب ومفتری ہوں تو میں آپ کی زندگی
راقم..... اس قول کو میں نے جھوٹ کی فہرست سے الگ کیا ہے کہ مرزا قادیانی کوئی جھوٹ نہ بولے بلکہ اگر مرزائیوں کو کچھ بھی ح حسن اعتقاد ہو تو فوراً بلا کسی قسم کے شک وشبہ کے اقرار کر لیں کہ وہ اس
اب اس جملہ سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں مرجاؤ
خدا تعالیٰ نے آفتاب صداقت کو چمکا کر کذاب مرزا قادیانی کو ہلاک کر دیا اور دنیا پر ظاہر کر دیا کہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں ان کی زندگی میں مر گئے اور پھر کسی ایسی دلیل وبرہان سے فیصلہ نہیں ہوا جس میں تاویل کی ذرہ برابر بھی گنجائش باقی رہی ہو۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کا یہ فیصلہ خدا نے کر دیا اور جو علامت اور معیار کذاب اور مفتری کی اس نے فرمائی تھی۔ وہ پوری پوری مرزا قادیانی میں پائی گئی اور مولوی
٢٧
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
اس عنوان میں مرزا قادیانی بہت زور سے خبر دے رہے ہیں کہ اس کے نیچے جو مضمون لکھا جائے گا وہی فیصلہ ہے۔ ہمارے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے درمیان میں۔ اس میں کسی کی منظوری اور نامنظوری کو کچھ دخل نہیں ہے اور اہل علم یہ بھی جانتے ہیں کہ خبر منسوخ نہیں ہوتی۔ حضرات مرزائی اگر واقعی مرزا قادیانی کو اپنا نبی اور مسیح موعود اعتقاد کرتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ جیسا مرزا قادیانی نے اس عنوان کے نیچے لکھا ہے۔ ویسا ہی مرزا قادیانی کے حق میں کامل فیصلہ سمجھیں۔
مرزا قادیانی کے آخری فیصلہ کا مضمون حسب ذیل ہے۔ خط چونکہ طویل ہے اور اشتہاروں کے ذریعہ سے شیطان سے زیادہ مشہور ہو چکا ہے۔ اس لئے کل خط کی نقل سے سمع خراشی نہ کی گئی۔ فقط ضروری مضمون الہام مندرجہ خط مذکور پر اکتفاء کیا گیا۔ ”وهو بهذه التفصيل “ مرزا قادیانی اپنے خط میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کر کے حسب ذیل فرماتے ہیں۔
قولہ ...... ”اگر میں کذاب و مفتری ہوں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)
راقم ...... اس قول کو میں نے جھوٹ کی فہرست سے الگ کر لیا ہے۔ کیونکہ اس قول میں مرزا قادیانی کوئی جھوٹ نہ بولے بلکہ اگر مرزائیوں کو کچھ بھی مرزا قادیانی کی راستی پر ایمان اور اعتقاد ہو تو فوراً بلا کسی قسم کے شک و شبہ کے اقرار کر لیں کہ وہ اس قول میں ٹھیک اترے۔
اب اس جملہ سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی خبر دے رہے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں مر جاؤں گا۔
خدا تعالیٰ نے آفتاب صداقت کو چمکا کر کذاب اور مفتری کا فیصلہ خود بقول مرزا قادیانی کے کر دیا اور دنیا پر ظاہر کر دیا کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی بھی مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مر گئے اور پھر کسی ایسی دلیل و برہان سے فیصلہ نہیں ہوا۔ جس میں کسی طرح گفتگو اور تاویل کی ذرہ برابر بھی گنجائش باقی رہی ہو۔ بلکہ خود مرزا قادیانی ہی کے صاف اور صریح کلام سے یہ فیصلہ خدا نے کر دیا اور جو علامت اور معیار کذاب اور مفتری ہونے کی اس خبر میں مرزا قادیانی نے فرمائی تھی۔ وہ پوری پوری مرزا قادیانی میں پائی گئی اور مولوی ثناء اللہ کو خدا تعالیٰ نے عزت کے
٢٧
ساتھ اس الزام سے پاک وصاف بری کر کے دنیا کو دکھلا دیا اور ہنوز بفضلہ وہ صحیح و سالم موجود ہیں۔ اب مرزائی برادران کو اس فیصلہ کے ماننے میں کیا عذر باقی رہا۔ مہربانی فرما کر جیسا مرزا قادیانی کا یہ قول سچ ہو گیا وہ بھی صفائی سے اس قول کی تصدیق فرمادیویں کہ خود مرزا قادیانی کے فرمانے کے مطابق ان کے سوا کاذب اور مفتری کون ٹھہرا۔ فاعتبروا یا اولوالابصار!
گیارھواں جھوٹ
قولہ ...... ’’اگر طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
راقم ....... مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی اپنے خط میں مولوی ثناء اللہ کی نسبت فرمائی تھی اور حفظ ماتقدم کو راہ دے کر اپنے الہام کے جھوٹے ہونے سے خود بھی ڈر کر پنجابی کشتی کی ایک استادانہ پیچ کا اڑنگا آخر لگا ہی دیا کہ یہ پیش گوئی کسی الہام یا وحی کی بناء پر نہیں۔ مگر دروغ گورا حافظہ نہ باشد! استاد جی کہاں بچ کر نکل سکتے ہیں۔ انہیں کے رسالہ البدر (مرقومہ ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء) میں صاف لکھا ہے کہ: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اس کی بناء ڈالی گئی ہے۔‘‘
فیصلہ ...... چونکہ یہ قول آخر ہے۔ اس لئے اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور مرزا قادیانی کے پنجابی پیچ کا اڑنگا صاف کٹ گیا اور اس کا یقینی نتیجہ یہی ہوگا کہ مرزا قادیانی کے الہامی قول سے ظاہر ہو گیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھے۔ کیونکہ مولوی ثناء اللہ تو اس وقت بفضلہ صحیح و سالم موجود ہیں اور مرزا قادیانی ہی کو ہیضہ یا اسہال میں ہمیشہ کے لئے دنیا کو چھوڑنا پڑا اور راہی برزخ ہو گئے۔
بارھواں جھوٹ
قولہ ....... ’’خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس کے (طاعون کے) خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
راقم ....... مرزا قادیانی کا تخت گاہ بھی طاعون میں مبتلا ہوا اور کیسا کہ سارے قادیان کے لوگ تباہ ہوکر پریشان ہوتے پھرے اور جب تک کہ طاعون نے جھوٹے رسول کے تخت گاہ سے اپنی پوری بھینٹ یا رسد مردوں کی نہ لے لی۔ غضب الٰہی فرو نہ ہوئی۔ اس کی پوری تشریح (الہامات مرزا، مندرجہ احتساب قادیانیت ج ٢ ص ١٢٤) میں ہے۔ ملاحظہ فرما لیجئے۔ مختصراً یہ ہے کہ قادیان کی کل آبادی
٢٨
٢٨٠٠ ہے۔ اس میں سے ١٣١٣ اموات طاعون مارچ واپریل ١٩٠٤ء میں ظاہر ہوئیں۔ بات تیرے جھوٹے کی دم میں نمد!
یہاں تک جھوٹے اقوال الہامی کی فہرست پوری ہوئی۔ اس کے بعد ایک لطیفہ مذاقیہ ہوگا اور پھر دوسرے درجن جھوٹی پیشگوئیوں میں سے میرا تو ارادہ تھا کہ مرزا قادیانی کے کل جھوٹے اقوال کا ذخیرہ ایک خاص کتاب میں پیش کرتا۔ مگر وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ برائے خاص ایک موٹی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اس لئے میں نے فضول سمجھ کر صرف درجن بھر پر اکتفاء کیا ہے۔ جو کہ اسی قدر تازیانہ بہت ہے اور ناظرین با تمکین کے اندازہ کرنے کے لئے کہ وہ کیا کم ہوں گے۔ قانون شہادت سرکاری کی رو سے بھی جس گواہ کا ایک جھوٹ ثابت ہو جائے۔ پھر اس کی گواہی مردود ہوتی ہے۔
اب مرزائی برادران ایمان سے خدا کا خوف کر کے بتلائیں کہ ان کے جھوٹے اور مفتری ہونے میں بقول انہیں کے کیا شک اور تامل رہا ہے۔ اور کبریائی اور جلال سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا خود ان کی زبان اور قلم سے ثابت ہو چکا تو کسی طرح مرزا قادیانی کے جھوٹے اور مفتری ہونے میں ذرا بھی پس و پیش نہ رہی اور نہ مرزائیوں کو کسی اہل حق سے مناظرہ اور مباحثہ کی گنجائش رہی۔ حضرات آیہ شریفہ ’واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون‘ کو پیش نظر رکھیں۔
لطیفہ ...... مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے خط کے اخیر میں جو چند دعاؤں کا ذکر کر دینا خالی از لطف نہ ہوگا اور مجھ کو بہر نوع تسلیم کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کی ایک دعا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور قبول فرمائی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨) میں لکھا ہے کہ: ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری پچاس ہزار کے قریب دعا قبول ہوچکی ہیں۔‘‘
١؎ چونکہ یہی ایک دعا جو نہایت مہتم بالشان ہے اور لاجواب ہے وہ قبول ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بصیغہ مبالغہ اسی ایک دعا کو قائم مقام پچاس ہزار کے کیا ہے۔ میں بھی حلفاً اس کی قبولیت اور صحت مبالغہ کی تصدیق کرتا ہوں کہ وہ ایک دعا مرزا قادیانی کی لاکھوں دعاؤں سے زیادہ ہے۔ بس اب دعاؤں کی تفصیل پر اوقات نہ کریں۔
٢٩
٢٨٠٠ ہے۔ اس میں سے ١٣١٣ اموات طاعون مارچ واپریل ١٩٠٢ء دو مہینے میں معتبر شہادت سے ظاہر ہوئیں۔ ہات تیرے جھوٹے کی دم میں نمدا!
یہاں تک جھوٹے اقوال الہامی کی فہرست پوری ایک درجن ناظرین شمار کرلیویں۔ اس کے بعد ایک لطیفہ مذاقیہ ہوگا اور پھر دوسرے درجن جھوٹی پیش گوئیوں کا بنڈل کھولا جائے گا۔ میرا تو ارادہ تھا کہ مرزا قادیانی کے کل جھوٹے اقوال کا ذخیرہ ایک جگہ اسی طور پر جمع کر کے پبلک میں پیش کرتا۔ مگر وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ برائے خاص ایک موٹی کتاب براہین احمدیہ سے بھی بڑھ جائے گی۔ اس لئے میں نے فضول سمجھ کر صرف درجن بھر پر اکتفاء کیا۔ مرزائیوں کے لئے صرف اسی قدر تازیانہ بہت ہے اور ناظرین باتمکین کے اندازہ کرنے کو اس قدر جھوٹ مرزا قادیانی کے کیا کم ہوں گے۔ قانون شہادت سرکاری کی رو سے بھی جس گواہ کی جھوٹائی واقعات میں ثابت ہو جائے۔ پھر اس کی گواہی مردود ہوتی ہے۔
اب مرزائی برادران ایمان سے خدا کا خوف کر کے دل سے فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے اور مفتری ہونے میں بقول انہیں کے کیا شک اور تردد باقی رہا۔ خدائے تعالیٰ نے اپنی کبریائی اور جلال سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا خود ان کی زبان سے دنیا پر ظاہر کر دیا۔ اب اہل حق کو کسی طرح مرزا قادیانی کے جھوٹے اور مفتری ہونے میں ذرہ برابر شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہ رہی اور نہ مرزائیوں کو کسی اہل حق سے مناظرہ اور مباحثہ کی آئندہ جرات ہو سکتی ہے۔ اب یہ حضرات آیہ شریفہ ”والله متم نوره ولو كره الكافرون“ کی تلاوت فرمائیں۔
لطیفہ ..... مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے خط کے اخیر میں جو اپنی دعا لکھی ہے۔ اس کا بھی ذکر کر دینا خالی از لطف نہ ہوگا اور مجھ کو بہر نوع تسلیم کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کی یہ الحاح وزاری کی دعا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور قبول فرمائی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے خود (حاشیہ ضمیمہ نزول المسیح ص ٢٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٧) میں لکھا ہے کہ : ”میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں۔“
١؎ چونکہ یہی ایک دعا جو نہایت مہتم بالشان ہے اور لاکھوں بندگان خدا کے حق میں مفید ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بصیغہ مبالغہ اسی ایک دعا کو قائم مقام تیس ہزار دعاؤں کا مجموعہ تحریر کیا ہے۔ میں بھی حلفاً اس کی قبولیت اور صحت مبالغہ کی تصدیق کر کے عرض کرتا ہوں کہ یہی ایک دعا مرزا قادیانی کی لاکھوں دعاؤں سے زیادہ ہے۔ بس اب دوسری دعا کے اثبات میں ہرج اوقات نہ کریں۔
٢٩
اور مرزا قادیانی ومولوی ثناء اللہ صاحب کے درمیان میں سچا فیصلہ مطابق استدعا مرزا قادیانی کے اللہ تعالیٰ نے فرما کر مفسد وکذاب کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی دعا بلفظہ درج ذیل ہے۔
دعا مرزا قادیانی
”اے میرے بھیجنے والے میں تیری ہی تقدیس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں مفسد وکذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٩)
راقم ...... ہوا تو جناب ایسا ہی۔ اگر اس پر بھی مرزائی نہ سمجھیں تو میرا ان پر کچھ زور نہیں۔
یہ دعا بعینہ ایسی ہے جیسے کوئی بیوہ عورت اپنے کسی حریف زبردست کے حملوں سے عاجز اور تنگ آ کر بڑی اضطراری حالت میں کوسنے لگتی ہے اور غصہ کے جوش میں کبھی حریف کو کبھی اپنے کو بددعا کرتی ہے۔ مرزا قادیانی بھی اسی طرح دعا فرما رہے ہیں۔ چونکہ مضطر کی دعا اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ اس لئے یہ دعا مرزا قادیانی کی تیر ہدف اجابت ہوگئی۔ اگر چہ نتیجہ اس دعا کا ان کے مخالف ہوا۔
اس دعا سے ایک بات اور بھی غور کرنے سے معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی واقعی ابتلاء میں پھنس گئے۔ جیسا کہ بے رہبر کامل کے سلوک والوں کو پیش آیا کرتا ہے۔ اسی مقام کے لئے ”الرفیق ثم الطريق“ کی ضرورت ہوتی ہے۔
وگرنہ کون ہے ساقی سنبھال لینے کو
اور شیطانی الہام کے فریب میں آگئے اور اس کو تمیز کرنے سے معذور رہے۔ ورنہ کوئی شخص جو خدائے عزوجلالہ کو قادر وقیوم قہار سمیع وعلیم و بصیر جانتا ہو۔ پھر دعا میں ایسے الفاظ دیدہ و دانستہ نکالنے کی جرات نہ کرے گا۔ جو اسی پر عائد ہو سکے۔ یہ ہرگز ہو نہیں سکتا۔ میں اس وقت بڑے حسن ظن سے ان کی نسبت لکھ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ سرزد ہوا وہ شیطانی الہام کے دھوکے سے ہوا اور اس کو وہ رحمانی سمجھتے رہے۔
٣٠
اب دوسرے درجن کی ابتداء مرزا قادیانی کی جھوٹی سے شروع ہوتی ہے۔ شمار دانہ رکھتے جائیے کہ سہو نہ ہونے پائے۔
تیرھواں جھوٹ
قولہ ...... ”اصلها ثابت في الارض وفرعها في السماء“
راقم ...... میر عباس علی لدھیانہ کے ایک بزرگ مرزا قادیانی (جیسا کہ میں بھی پھنسا تھا) ان کی شان میں یہ الہام مرزا قادیانی کے مخلص خاص تھے۔ بعد کو مرزا قادیانی کی بیجا تعلیوں اور اولوا العزم دیندار شخص ہاشمی غیرت اور اتباع شریعت کے سبب سے مرزا قادیانی سے تنفر شدید کر کے ایک دم منحرف ہو گئے اور تلافی مافات کے لئے بڑے زوروں سے بلاتے اور للکارتے رہے اور اشتہار پر اشتہار دیتے رہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اس ہاشمی شیر کے مقابلہ میں سونگھنے کی ناس سونگھ لی اور ان کے مقابلہ میں نہ آئے پر نہ آئے۔
چودھواں جھوٹ
مرزا قادیانی کا الہام و رویا جو اپنی نسبت تھا۔ یعنی ہوئی لڑکی۔ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٢٧) جب منشی الہی بخش نے معارضہ کیا کہ آپ نے تو فرزند نرینہ کا حلیہ بھی مجھ سے بیان کیا تھا۔ تو بس بات بنادی کہ علم تعبیر میں ایسا ہی ہے۔ جب لڑکا دیکھا جائے تو مراد لڑکی
راقم ...... اگر در حقیقت ایسا ہی تھا تو پہلے مرزا قادیانی نے یہ کیوں نہ بیان کیا۔ کیا اس وقت علم تعبیر رویا کا درس حضرت نے نہ لیا تھا؟ سچ ہے دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔ بس بات بنادی جواب ہو گیا۔ سوائے بجا ارشاد کے اور کوئی جواب بن نہ آیا۔ ورنہ کیا مجال تھی کہ اصلاح کرتے۔
پندرھواں جھوٹ
مرزا قادیانی کا بہت لمبا چوڑا الہام اپنے دوسرے لڑکے کی نسبت تھا۔ خدا جانے اس مولود کے لئے کیسے کیسے چست فقرات طولانی
٣١
اب دوسرے درجن کی ابتداء مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیوں اور اقوال کی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ شمار دانہ رکھتے جائیے کہ سہو نہ ہونے پائے۔
تیرھواں جھوٹ
قولہ ..... ”اصلہا ثابت فی الارض وفرعہا فی السماء“
(آسمانی فیصلہ، خزائن ج٤ ص٣٤٣)
راقم ....... میر عباس علی لودھیانہ کے ایک بزرگ مرزا قادیانی کے دام میں پہلے پھنس گئے تھے۔ (جیسا کہ میں بھی پھنسا تھا) ان کی شان میں یہ الہام مرزا قادیانی کو ہوا تھا۔ یہ دہ سالہ مرید اور مخلص خاص تھے۔ بعد کو مرزا قادیانی کی بیجا تعلیوں اور اولوالعزمی کے دعوؤں کی وجہ یہ بیچارے دیندار شخص ہاشمی غیرت اور اتباع شریعت کے سبب سے مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ سے مخالفت شدید کر کے ایک دم منحرف ہو گئے اور تلافی مافات کے لئے اپنی زندگی تک برابر مرزا قادیانی کو بڑے زوروں سے بلاتے اور للکارتے رہے اور اشتہار پر اشتہار دیتے رہے۔ مگر مرزا قادیانی نے سونٹھ کی ناس سونگھ لی اور ان کے مقابلہ میں نہ آئے پر نہ آئے۔
(عصائے موسیٰ ص٣٩)
چودھواں جھوٹ
مرزا قادیانی کا الہام در رؤیا جو اپنی نسبت تھا۔ یعنی فرزند اوّل ہونے کی نسبت مگر پیدا ہوئی لڑکی۔ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١١٧) جب منشی الٰہی بخش صاحب نے امرتسر میں ان سے معارضہ کیا کہ آپ نے تو فرزند نرینہ کا حلیہ بھی مجھ سے بیان کیا تھا۔ اس پر انہوں نے فوراً بات بنادی کہ علم تعبیر میں ایسا ہی ہے۔ جب لڑکا دیکھا جائے تو مراد لڑکی ہوتی ہے۔
(عصائے موسیٰ ص٤٠)
راقم ....... اگر درحقیقت ایسا ہی تھا تو پہلے مرزا قادیانی نے یہ مراد اور مفہوم کیوں غلط اور الٹا ظاہر کیا۔ کیا اس وقت علم تعبیر رؤیا کا درس حضرت نے نہ لیا تھا؟ پیچھے سے معلم الملکوت نے سمجھایا۔ بس بات بنادی جواب ہو گیا۔ سوائے بحر ارشاد کے حاشیہ نشینان میں جرات ہی کہاں تھی کہ اصلاح کرتے۔
پندرھواں جھوٹ
مرزا قادیانی کا بہت لمبا چوڑا الہام اپنے دوسرے فرزند کی نسبت جس کو بشیر موعود اور خدا جانے اس مولود کے لئے کیسے کیسے چست فقرات طولانی بشارتیں لکھی تھیں کہ ایسا ہوگا اور ایسا
٣١
ہوگا۔ جس کو ظریفانہ لہجے میں مصنف چودھویں صدی کا مسیح نے کچھ اور بڑھا کر لکھا ہے کہ ایسا ہوگا، ویسا ہوگا، ایسے کا تیسا ہوگا، اس کی دم پر دو پیسہ ہوگا۔ مرزا قادیانی نے ٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو بڑی دھوم دھام سے پیشین گوئی کے ظہور کا اشتہار دیا تھا۔ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١١٦، ١١٧) (رسالہ چودھویں صدی کا مسیح اس کی تفصیل کے لئے قابل دید ہے) مگر مولود بیچارے کو پیدا ہوئے چند دن گذرے تھے کہ سخت بیمار ہوگیا۔ ہرچند مرزا قادیانی نے مولود کی والدہ سے زور دار الہامی جملے مولود کی صحت عاجل و شفاء کامل کے فرمائے۔ مگر بی بی صاحبہ کی مطلق تشفی نہ ہوئی۔ آخر بیچارہ مولود بغیر پوری کرنے بشارتوں کے ایام طفولیت ہی میں وفات کر گیا اور مرزا قادیانی کی کل الہامی بشارتیں خاک میں مل گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
سولہواں جھوٹ
سید امیر شاہ صاحب رسالہ دار میجر سردار بہادر کے گھر میں فرزند ہونے کی بشارت مرزا قادیانی نے اپنے دستخطی خط مورخہ ١٥؍اگست ١٨٨٨ء میں دی تھی اور ایک برس کی میعاد مقرر کر کے تحریر فرمایا تھا کہ اس میعاد کے اندر کھلی کھلی بشارت جو مقرون بصدق ہو آپ کی نسبت نہ پائی یا اس بشارت کے موافق نتیجہ ظہور میں نہ آیا تو پھر میری نسبت آپ (یعنی امیر شاہ صاحب موصوف) جس طور کا بد اعتقاد چاہیں اختیار کریں اور یقین کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ یہ تاریخ ١٥؍اگست ١٨٨٨ء کتاب میں لکھ لیں اور یاد داشت کرلیں۔ میں نے بھی کتاب میں لکھ لی ہے۔ میرے وعدہ کے منتظر رہیں۔ جس وقت سال کے عرصہ میں میری طرف سے کوئی بشارت ملے تو اس کو فوراً اخبار میں چھپوا دیں اور اگر وہ بات جھوٹی نکلے تو پھر مجھ سے مواخذہ کریں اور میرا دامن پکڑیں۔
(عصائے موسیٰ ص٢٢)
راقم...... مرزا قادیانی نے جس قدر وثوق سے تاریخ مقررہ یاد داشت میں رسالدار صاحب سے زبردستی لکھوائی اور خود بھی نہ معلوم کس کتاب میں لکھ چھوڑی۔ جس سے پورا یقین بھی ہوجائے اور اس یقین کے ساتھ مرزا قادیانی کی مٹھی بھی گرم ہوجائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ سیدھے سید، فوجی افسران کو مرزا قادیانی کی کتر بیونت کی کیا خبر۔ جھٹ اس بشارت پر پانچ سو کا توڑہ پیشگی نذر کر دیا اور تاریخ بشارت کا سال بھر تک انتظار کرتے رہے۔ جب میعاد ختم ہوگئی اور مدتوں اس بشارت کا ثمرہ ظاہر نہ ہوا تب مرزا قادیانی کی جھوٹی بشارت یا شیطانی الہام تمام پنجاب میں طشت از بام ہوگیا۔ لیکن مرزا قادیانی نے پیشگی لیا ہوا نذرانہ واپس نہ کیا اور اپنی کتاب جس میں تاریخ
بشارت لکھی تھی جلا دی۔ خیریت ہوئی کہ پھر اس دن سے مرزا قادیانی نے اپنی صورت رسالہ دار میجر صاحب کو نہ دکھائی۔ ورنہ کہیں وہ ان کو پکڑ پاتے تو خدا جانے کیسی مناسبانہ خدمت ہوتی اور لینے کے دینے پڑتے اور ہضم کئے ہوئے روپے کو الٹی کر کے نکالنے پڑتے۔
بھائیو! خفانہ ہو! یہی ہے منہاج نبوت اور طریق مہدویت اور روش مسیحیت کہ آبلہ فریبی سے بندگان خدا کو الٹے استرہ سے مونڈو۔ میں تو صاف کہوں گا کہ ایسے کرتوت والوں سے دنیا کے چور جیب کترے دغاباز پھر بھی اچھے ہیں۔ کیونکہ وہ جاہل ہیں اور حاجت مند!
ناظرین! ضرور اس فیصلہ میں میری تائید کریں گے کہ بزرگان دین کی روش سے مرزا قادیانی کی یہ چال کس قدر دور ہے۔
سترھواں جھوٹ
مسٹر عبداللہ آتھم والا الہام خود مرزا قادیانی نے اس قدر مشہور کر رکھا ہے کہ پنجاب کے ہندو، آریہ، عیسائی اور مسلمان سب کوئی واقف ہے کہ جو میعاد موت کی آتھم صاحب کی مرزا قادیانی نے اپنے الہام کاذبہ سے فرمائی تھی۔ اس کے ختم ہو جانے کے بعد آتھم کی موت میعاد مقررہ میں نہ ہوئی جو ٦؍ستمبر مقرر تھی تو اس روز امرتسر و لدیہانہ کے شہروں میں رسوائی اور ذلت کی موت ہر طرف سے مرزا قادیانی کو پکار پکار کر مخالفوں کی طرح للکارتی تھی اور اس وجہ سے سارے مسلمانوں کو شرمندگی اور خجالت کا سامنا تھا۔ خصوصاً اس منظر کے وقت جب کہ عیسائیوں نے اپنی فتح مندی اور مرزا قادیانی کی ہزیمت پر مضحکہانہ سوانگ نکال کر فحش اور نامہذب نظم کے بند ان کی شان میں ہر گلی و کوچوں میں ڈنڈوں کو بجا بجا کر مشہور کیا تھا۔
١؎ الہامات مرزا مطبوعہ امرتسر ١٩٠٤ء میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس نظم کی تفصیل بخوبی لکھی ہے۔ بطور نمونہ کے محض مختصر طور پر یہاں دو ایک شعر لکھے گئے ہیں۔ باقی ملاحظہ کرنا ہو تو رسالہ مذکور کو دیکھئے۔
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیش گوئی جو تھا شیطان کا الہام مرزا
(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
یہ ہے ”خسر الدنیا و الآخرة“ یہ ہے ابدی ذلت کی موت اور لعنت کا کرشمہ۔ جس کو مرزا قادیانی اپنے ساتھ لے گئے۔
(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج٦ ص ٢٩٢)
ناظرین اور بھی ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے ایسی پیش گوئیوں کی نسبت بڑے دعوے اور زور سے ذیل کا مضمون تحریر فرمایا ہے کہ: ”یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء و اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو۔ خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
صاحبو! مرزا قادیانی کے اس قول سے خود نتیجہ نکال لو۔ ان کی نسبت اگرچہ وہ الفاظ واقعی ہیں۔ مگر پھر بھی بار بار جھوٹ اور افتراء کی نسبت کرتے میرا دم گھبراتا ہے۔ مرزا قادیانی نے آتھم والے معاملہ میں کس قدر زور دیا تھا کہ: ”اگر ایسا نہ ہو تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، گلے میں رسا ڈالا جائے، پھانسی دیا جائے۔“
(شہادۃ القرآن ص، خزائن ج٦ ص٢٩٣)
اور پھر بھی آتھم صاحب کی موت کی پیش گوئی ان کے الہام کے مطابق نہ ہوئی اور اس وجہ سے خود ہی ذلیل ہوئے، روسیاہ بھی ہوئے، باقی رہا گلے میں رسا ڈالا جانا اور پھانسی دیا جانا وہ اس دنیا میں اٹھا رکھا گیا۔ عاقبت کی خبر سوائے خدا کے کس کو ہے کہ وہاں وہ کیا بھگت رہے ہیں۔
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ولہ
ذلیل وخوار ندامت چھپا رہی تھی کہ تھا ترے مریدوں پر محشر چھٹی ستمبر کی
مسیح ومہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی ہے گھر گھر چھٹی ستمبر کی
عیسائیوں کی طرف سے رباعی
خاتمہ ہو گا اب نبوت کا پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
٣٤
ناظرین ! مرزا قادیانی کی تحریر بالا کے وثوق اور اصرار شدید پر ضرور توجہ فرما کر خیال رکھیں کہ کس زور سے ایسی پیش گوئیوں کو اپنے صدق یا کذب اور نہایت درجہ مقبول خدا اور منجانب اللہ وصادق ہونے کا معیار قرار دیا ہے۔ مگر یہ آتھم والی پیش گوئی کی میعاد ختم ہو گئی اور بات پوری نہ ہوئی تو پھر سوائے بات بنانے کے اور کچھ بھی دیکھا نہ گیا۔ اب آپ لوگ خود فیصلہ مرزا قادیانی کے معیار کا فرماتے جائیے کہ وہ صادق اور منجانب اللہ مقبول بارگاہ ایزدی ٹھہرے یا اس کے برعکس۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی!
اٹھارواں جھوٹ
(عصائے موسیٰ ص ٣٤، ٣٣) شیخ مہر علی صاحب رئیس ضلع ہوشیار پور کو ایک اشتہار مرقومہ فروری ١٨٩٣ء بذریعہ ڈاک رجسٹری شدہ بھیجا گیا۔ جس میں خوف دلانے والے الہامات کی دھمکیاں درج ہیں۔ مرزا قادیانی نے لکھا کہ : ”اگر ایک ہفتہ میں معافی طلب خط چھپوانے کے لئے نہ بھیج دیں تو پھر آسمان پر میرا اور ان کا مقدمہ دائر ہوگا اور میں اپنی دعاؤں کو جو ان کی بحالی عمر عزت و آرام کے لئے کی تھیں ، واپس لے لوں گا ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٧٩)
راقم ....... شاباش میرے شیر! فقرہ بھی دیا تو ایسا بودا۔ جس کو محض کم عقل آدمی بھی مضحکہ میں اڑا دے۔ آپ کی دعا کیا ہوئی کہ موم کی ناک ہو گئی۔ جب چاہا اس کو قبول کرا دیا اور جب چاہا اس کو واپس لے لیا۔ حضرت جی! اس سے تو یہ مستنبط ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی قدرت معطل ہو گئی اور آپ ہی قدرت کی جگہ بحال ہو گئے۔ مگر یہ خیال نہ آیا کہ جن کو یہ بودا فقرہ دیا جاتا ہے وہ بھی تو اسی پنجاب کا پانی پیتے ہیں۔ وہیں کی آب و ہوا سے ان کے دماغ میں تروتازگی آئی ہے۔ کیا ایسا موٹا اور بھدا چکمہ وہ سمجھنے سے عاجز رہتے۔ اس واسطے تاریخ تحریر مذکور سے پندرہ برس تک مرزا قادیانی زندہ رہے۔ مگر شیخ صاحب موصوف کا کوئی معافی نامہ شائع نہ ہوا اور اب مرزا قادیانی کو مرے ہوئے بھی پانچ برس ہوئے۔ مگر خدا جانے مرزا قادیانی کے آسمانی مقدمہ کی کس اجلاس میں بصیغہ ملتویات پڑ گئی کہ بیس سال گزر گئے مگر فیصلہ ندارد ، اور نہ وہ دعائیں واپس لے لی گئیں۔
لطیفہ ....... غالباً مرزا قادیانی نے مسیحانہ شفقت سے اپنے آسمانی مقدمہ کو یک طرفہ راضی نامہ دے کر خارج کرا دیا ہوگا۔ مگر پھر بھی ان پر لازم تھا کہ جس طرح دائری مقدمہ آسمانی کا اشتہار دیا تھا۔ اسی طرح خارجی مقدمہ کا بھی ضرور نوٹس دیتے۔ شاید بھول گئے ہوں گے۔
انیسواں جھوٹ
(عصائے موسیٰ ص ٣٤) خان بہادر ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب کی اوّل زوجہ کے بیمار ہونے
٣٥
پر حسب استدعائے ان کے مرزا قادیانی نے بہت کچھ تحریری بشارتیں اپنے الہام کے بموجب دیں اور سب پر مزید برآں طرفہ یہ ہوا کہ اس بیچاری کے انتقال کے بعد بھی اپنی الہامی بشارت کے موافق بوجہ لاعلمی خبر انتقال کے ڈپٹی صاحب سے خط کے ذریعہ سے صحت کا حال دریافت کرتے ہیں۔ اس پر جو مضحکہ اور رسوائی ان کے انکشاف باطن پر ہوئی ہوگی وہ اندازہ سے باہر ہے۔ جب مرزا قادیانی کو ان کے وفات پانے کی خبر دی گئی تو فرمانے لگے کہ: ”ہم نے بھی ایک بکری سلخ ہوتے دیکھی تھی۔“ راقم...... اگر مرزا قادیانی کا یہ بیان سچ ہے تو پہلی صحت کی بشارت چہ معنی دارد!
بیسواں جھوٹ
(عصائے موسیٰ ص ٣٨) منشی محمد رمضان کے نکاح والا الہام اور منشی نبی بخش ملازم ریلوے کے یہاں فرزند نرینہ پیدا ہونے کا الہام دونوں کے دونوں جھوٹ ہوئے۔ نکاح والا تو سرے سے جھوٹ ثابت ہوا اور فرزند نرینہ والے میں بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی۔
کار طفلاں تمام خواہد شد
لطیفہ...... ہمارے ملک میں پرانے زمانہ کے چند کٹھ ملا گنڈہ تعویذ والوں کی نقل مشہور ہے کہ جب کسی حمل کی نسبت ان جھوٹے ملاؤں سے بطور تفاول پوچھا گیا تو انہوں نے جھٹ فال دیکھ کر بنظر ابلہ فریبی ایک تعویذ لکھ دیا اور بڑی تاکید سے کہہ دیا کہ خبردار اس تعویذ کو محفوظ رکھنا چاہئے۔ اسی کے مطابق ولادت ہوگی۔ بعد وضع حمل کے اس تعویذ کو میرے پاس لانا۔ اس تعویذ میں یہ ذومعنی جملہ لکھا جاتا تھا۔ ”بیٹا نہ بیٹی“ اگر لڑکا پیدا ہوا تو کہہ دیا کہ ہم نے تو فال سے لکھ دیا ہے کہ بیٹا، نہ بیٹی۔ اگر لڑکی ہوئی تو کہہ دیا کہ بیٹا نہ، بیٹی۔ ذرا پہلے لفظ کو الگ کر کے اور اگر اسقاط وغیرہ ہو گیا تو پھر بے تکلف کہہ دیا کہ بیٹا نہ بیٹی۔ یعنی کچھ بھی نہیں۔ پھر تو ملا جی کی ہر طرح جیت تھی۔ خوب پھبتے رہے۔ مگر کن میں؟ گنواروں میں۔ غرض مرزا قادیانی کے الہام اور بشارتوں کا یہ کرشمہ تھا۔
اکیسواں جھوٹ
(عصائے موسیٰ ص ٤٧، ٤٨) ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء کو ایک اشتہار مرزا قادیانی نے شائع کیا اور اس کی پیشانی پر لکھا کہ: ”ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں اور مبارک وہ جو خدا کے فیصلہ کو عزت کی نظر سے دیکھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧)
٣٦
اور اس اشتہار میں اپنے کو ایک طرف اور مولوی محمد حسین دے کر (قصہ مختصر) ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء ١٣؍ماہ کی لکھا کہ: ”جو لوگ سچے کی ذلت کے لئے بدزبانی کر رہے ہیں اور منصو کو ذلیل کرے گا۔“ راقم...... مرزا قادیانی کے اس الہامی اشتہار کا اثر اندر زمانہ میعاد ایک جگہ اور جو مولوی صاحب پر ہوا وہ دوسرے کالم میں بتفصیل تمام اور فیصلہ کیجئے کہ کون ذلیل ہوا۔
فریق اوّل مرزا قادیانی کے آثار فریق دوم مو
- (١) خونی مہدی کے بارہ میں مرزا قادیانی پر
الحاد کا فتویٰ ہوا۔
- (١) چار سو مشائخ ز
سے مہر جناب پر
- (٢) مرزا قادیانی پر مقدمہ چلتا رہا۔
- (٢) مولوی محمد ح
گواہ ٹھہرے۔
- (٣) مرزا قادیانی سے حلفی اقرار (مچلکہ) لیا
گیا کہ آئندہ کسی کی توہین نہ کریں اور ذلیل پیش گوئی شائع نہ کریں۔
- (٣) مولوی محم
وغیرہ مرزا قادیا جائے۔
- (٤) مرزا قادیانی کا اشتہار مرہم عیسیٰ حکماً بند
کیا گیا۔
- (٤) مولوی مح
و پیروؤں کو مرزا بلائیں اور اس یعنی حلفی اقرار ل
- (٥) مرزا قادیانی کا ایک خاص زردار مرید جو
معقول رقم نذرانہ ماہوار بھیجتا تھا مر گیا اور وہ رقم بند ہو گئی۔
١؎ مربع ایک پیمانہ اراضی سرکاری بندوبست میں مقرر پچیس بیگھوں کے مساوی ہے۔
٣٧
اور اس اشتہار میں اپنے کو ایک طرف اور مولوی محمد حسین وغیرہ کو دوسری طرف قرار دے کر (قصہ مختصر) ١٥ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء ١٤ ماہ کی میعاد الہام سے مقرر کر کے لکھا کہ: ”جو لوگ سچے کی ذلت کے لئے بد زبانی کر رہے ہیں اور منصوبہ باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل کرے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٢)
راقم ..... مرزا قادیانی کے اس الہامی اشتہار کا اثر اندر زمانہ میعاد کے جو خود مرزا قادیانی پر ہوا ایک جگہ اور جو مولوی صاحب پر ہوا وہ دوسرے کالم میں بتفصیل تمام لکھا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے اور فیصلہ کیجئے کہ کون ذلیل ہوا۔
فریق اول مرزا قادیانی کے آثار فریق دوم مولوی محمد حسین کے آثار (١) خونی مہدی کے بارہ میں مرزا قادیانی پر (١) چار مربع ١؎ زمین سرکار انگریزی کی طرف الحاد کا فتویٰ ہوا۔ سے نہر چناب پر عطاء ہوئی۔ (٢) مرزا قادیانی پر مقدمہ چلتا رہا۔ (٢) مولوی محمد حسین مقدمہ سے بری ہو کر بطور گواہ ٹھہرے۔ (٣) مرزا قادیانی سے حلفی اقرار (مچلکہ) لیا (٣) مولوی محمد حسین کی نسبت لفظ کافر و دجال گیا کہ آئندہ کسی کی توہین نہ کریں اور ذلیل وغیرہ مرزا قادیانی کی طرف سے استعمال نہ کیا پیش گوئی شائع نہ کریں۔ جائے۔ (٤) مرزا قادیانی کا اشتہار مرہم عیسیٰ حکماً بند (٤) مولوی محمد حسین یا ان کے دوست کیا گیا۔ و پیروؤں کو مرزا قادیانی مباہلہ کے لئے ہرگز نہ بلائیں اور اس پر بھی مرزا قادیانی سے (مچلکہ) یعنی حلفی اقرار لیا گیا۔ (٥) مرزا قادیانی کا ایک خاص زر دار مرید جو معقول رقم نذرانہ ماہوار بھیجتا تھا مر گیا اور وہ رقم بند ہوگئی۔
١؎ مربع ایک پیمانہ اراضی سرکاری بندوبست میں مقرر ہے۔ جس کو یہاں قریب قریب پچیس بیگھوں سے مناسبت ہے۔
٣٧
اب خود ناظرین دونوں کالموں کے عبارات کا موازنہ کر کے فیصلہ کر لیں کہ کون فریق ذلیل ہوا اور کون فریق مظفر و منصور۔ غالباً پبلک کی میجارٹی یہی فیصلہ کرے گی کہ اس معاملہ میں بھی حسب حال معاملہ آتھم صاحب کے مرزا قادیانی ہی کی ذلت اور مولوی محمد حسین فریق دوم کو عزت ہوئی۔
راقم ...... با وجود ان واقعات صریحہ کے خدا جانے مرزائیوں کی آنکھوں پر کیسا گہرا گھٹا ٹوپ کا پردہ پڑ گیا ہے کہ ہزار عینک لگائیں۔ کحل الجواہر استعمال کریں۔ مگر بینائی کافور ہو گئی اور بے غیرتی سے اپنی ڈھٹائی پر اڑے ہوئے ہیں اور ہمارے مہربانوں کے دلوں میں ذرا خوف خدا باقی نہیں رہا۔ افسوس صد افسوس۔
تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہرباں کے لئے
بائیسواں جھوٹ
(عصائے موسیٰ ص ٥٠، فصل ٢٠ رسالہ ضرورت الامام) میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے ڈھارس باندھنے کو اور ان کے قیام کی خاطر جب مذکورہ بالا میعاد مولوی محمد حسین والی پیش گوئی کی ختم ہونے کو آئی اور کچھ ہوا نہیں تو ایک دوسرا اشتہار ٥؍ نومبر ١٨٩٩ء کو جاری فرمایا اور اب تین برس کی میعاد ١٩٠٢ء تک اور بڑھائی۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٨)
راقم ...... اس دوسری میعاد کے بعد بھی مرزا قادیانی قریب چھ برس کے زندہ رہے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب کا بفضلہ تعالیٰ کچھ بال تک بیکا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو اس جہان سے خفا ہو کر اپنی پیش گوئی پوری کرانے کی تحریک کے لئے اصالتاً آسمانی عدالت کی طرف کوچ کر گئے۔ مگر کچھ خبر نہیں کہ وہاں کیا کر رہے ہیں اور کیسی گزر رہی ہے۔
کچھ لب گور سے فرمائیے گا
اب جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مذکور میں یہ فیصلہ خدا پر چھوڑ کر اپنے صدق یا کذب کا معیار ٹھہرایا تھا اور لکھا تھا کہ : ”اگر میں جھوٹا، دجال، ظالم ہوں تو فیصلہ شیخ محمد حسین کے حق میں ہوگا۔ اگر محمد حسین ظالم ہے تو فیصلہ میرے حق میں ہوگا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩٢ تا ٢١٧)
٣٨
اب ناظرین مرزا قادیانی کے الہامی قول و قرار سے مجھ کو بار بار صراحت کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ مرزا قادیانی ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ اس مقدمہ میں بھی شیخ محمد حسین ہی ب مرزا قادیانی کے حق میں کیا وہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو دنیا پر ظاہر ہو گیا راجعون“
اس جگہ ناظرین کی اطلاع کے لئے اتنا اور بھی مرزا قادیانی کی یہ عادت مثل طبیعت ثانیہ ہو گئی تھی کہ ہر وقت بڑے بڑے زور دار لفظوں سے مؤکد اقرار باصرار تمام فرمایا گزرتی گئی اور الہام وقوع میں آنے سے محروم القسمتی رہا تو مرید ہونے کے اپنے عہد و پیمان و اقرار مؤکد کا کچھ بھی لحاظ نہ کر کے بانی کی اپنی طبعی عادت کے موافق اپنے مریدوں کی دل بستگی اشتہار دیتے تھے۔ مگر اس پر بھی ان کے الہام کی روسیاہی نہ مٹی
گلیم بخت کسے را کہ باف
تئیسواں جھوٹ
(اشتہار مرقومہ ١٧؍ دسمبر ١٨٩٩ء) میں مرزا قادیانی ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر و جہا ایمان نہیں کہتا۔ میں کبھی کسی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا۔ ان کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف ہیں۔ ماسوا اس کے ملہم و محدث کیسی ہی اعلیٰ شان رکھتے ہو ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص
ناظرین ذرا توجہ کر کے مرزا قادیانی کے اوپر کے کے دوسرے مخالف قولوں کی بھی سیر کریں کہ پہلے تو آبلہ فریب اور صاف جتلا دیا کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی
٣٩
اب ناظرین مرزا قادیانی کے الہامی قول و قرار سے اس معیار کا نتیجہ خود نکال لیویں۔ مجھ کو بار بار صراحت کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ مرزا قادیانی ایسے ٹھہرے، ویسے ٹھہرے۔ مگر ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ اس مقدمہ میں بھی شیخ محمد حسین ہی سچے رہے اور جو فیصلہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے حق میں کیا وہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو دنیا پر ظاہر ہو گیا۔ ” انا لله وانا اليه راجعون “
اس جگہ ناظرین کی اطلاع کے لئے اتنا اور بھی ضرور ہم التماس کریں گے کہ مرزا قادیانی کی یہ عادت مثل طبیعت ثانیہ ہو گئی تھی کہ ہر وقت اشاعت الہام کے اشتہار میں تو بڑے بڑے زور دار لفظوں سے مؤکد اقرار باصرار تمام فرمایا کرتے تھے۔ لیکن جب میعاد الہام گزرتی گئی اور الہام وقوع میں آنے سے محروم القسمۃ رہا تو میعاد گزر جانے پر یا اس کے قریب ختم ہونے کے اپنے عہد و پیمان و اقرار مؤکد کا کچھ بھی لحاظ نہ کر کے جھٹ ایک دوسری لمبی تاریخ میعاد ثانی کی اپنی طبعی عادت کے موافق اپنے مریدوں کی دل بستگی کی خاطر ، الہام تصنیف کر کے مکرر اشتہار دیتے تھے۔ مگر اس پر بھی ان کے الہام کی روسیاہی نہ مٹتی تھی۔
گلیم بخت کسے راکہ بافند سیاہ
تیئیسواں جھوٹ
(اشتہار مرقومہ ١٧؍نومبر ١٨٩٩ء) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر و دجال نہیں ہو سکتا۔ میں اس کا نام بے ایمان نہیں کہتا۔ میں کبھی کسی کلمہ گو کا نام کافر نہیں رکھتا۔ اپنے دعوے سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدید لاتے ہیں۔ ماسوا اس کے ملہم و محدث کیسی ہی اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠٠، ٢٠١)
ناظرین ذرا توجہ کر کے مرزا قادیانی کے اوپر کے اقوال کو خوب ذہن نشین رکھ کر انہیں کے دوسرے مخالف قولوں کی بھی سیر کریں کہ پہلے تو آبلہ فریبی کر کے اس طرح کا سبز باغ دکھایا اور صاف جتلا دیا کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر ، دجال نہیں ہو سکتا۔ جس کا
٣٩
صریح مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے کہ یہی قول مرزا قادیانی کا خواص وعوام مسلمانوں کو دھوکے میں ڈالے ہوئے تھا اور اسی سبب سے ان کی ساری تعلیوں کے دعوے کو علماء و بزرگان قوم نے محض بے اعتنائی سے خیال کر کے ان کی باتوں کو ایک گم گشتہ مجذوب کی بڑ سے زیادہ وقعت کی نگاہ سے نہ دیکھتے تھے۔ مگر جب دنیا کے ٢٣ کروڑ مسلمانوں کو جو مرزا قادیانی کی نبوت کے منکرین ہیں۔ سب کے سب کو کافر و مردار کہا اور جو لوگ معدودے چند مرزا قادیانی کے مرید اور معتقد ہیں۔ بس وہی مسلمان ٹھہرے۔ تب تو سارے علماء کرام اور عامہ اہل اسلام کی آنکھیں کھلیں کہ اب تو مرزا قادیانی نے بڑے دون بلکہ چوگوں کا سر لگایا ہے اور بھیربی راگ کا الاپ شروع کرنے لگے۔ کہیں کرشن جی کا اوتار لیا۔ کبھی (نعوذ باللہ منہا) محمد ﷺ بنے، اس سے زیادہ عروج کیا تو خدا بلکہ (خاکم بدہن) خدا کے باپ بنے۔ بقول خواجہ وزیر وحدت وجودی روپ بھرا ؎
بصر انکھوں میں گویائی زباں میں دل میں جاں ہوکر
دیکھئے مرزا قادیانی کی تصانیف کثیف
(رسالہ توضیح المرام، خزائن ج ٣، حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ اور ازالۃ الاوہام، خزائن ج ٣)
اب آسانی سے فیصلہ کر لیجئے کہ ان دونوں متضاد اقوال میں سے ایک تو ضرور بغیر شک وشبہ کے جھوٹا ہے۔ اب دوحال سے یہ متضاد اقوال مرزا قادیانی کے خالی نہیں ہو سکتے یا تو مرزا قادیانی نے واقعی اپنا مذہب حسب صراحت بالا اس حالت میں زیب قلم فرمایا۔ جب کہ مسیحیت کاذبہ کا بھوت ان پر سوار نہ تھا۔ اس لئے صاف صاف بغیر کسی شرط کے لکھ دیا کہ میرے دعوے کے انکار کرنے سے کوئی کلمہ گو کافر نہیں ہو سکتا۔ یا جیسی ان کی عادت شریف تھی۔ کسی پیچیدہ پالیسی سے اپنے بعض مریدوں اور معتقدوں کو فریبی جال میں پھنسائے رکھنے کی غرض سے یہ بھی
- ١؎ کتاب البریہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ:
”میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٢؎ ”انت منی وانا منک“ (دفع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) نعوذ باللہ! یہ
مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ یعنی خدا کہتا ہے مرزا قادیانی سے کہ میں تم سے ہوں۔ سوائے پاگلوں کے اور کسی کی زبان سے ایسا کلمہ نہیں نکل سکتا۔
٤٠
لکھ دیا کہ جب جیسی ضرورت پڑے ویسا عمل کیا جائے۔ غرض مآل یہی نکلے گا کہ ان میں سے ایک ضرور جھوٹ ثابت ہو کر رہے گا۔ صاحبزادے جو بالکل ابھی محض بچہ ہیں اور بضرورت زمانہ دوسروں کے قلم میں ان کی زبان ہو۔ ایک رسالہ بنام تحیۃ الاخیار اسی مضمون سے سراپا سیاہ کیا گیا ہے کہ منکرین مرزا قادیانی کا اس الصدر مذہب کے بطلان میں خلف رشید بن کر مرزا قادیانی کی شائع کیا گیا ہے۔ جس کا لب لباب مضمون اسی قدر ہے۔ سچ ہے پنجابی مثل ٹھیک ہے: ”مچھلی کے جائے کن نوں
چوبیسواں جھوٹ
مولوی محمد حسین صاحب کے والد ضعیف العمر کو بھی اور ان کی وفات کی پیش گوئی کی تھی۔ ایک سال کی میعاد ظاہر کہ اندر میعاد کیا ایک زمانہ دراز تک بڑے میاں صاحب مرزا غرض سے زبردستی زندہ رہ کر سارے پنجاب میں مرزا قادیانی پر اسیٹک ایسڈ (سرکہ کا تیزاب) کا پانی پھیر دیا۔ جس سے ١٩٠٨ء کو قبر کے تنگ محبس میں ڈال دیئے گئے۔ یہ ہے فیصلہ
زانکہ بسیار مال مرد
راقم ...... شاید مرزائی حضرات اس میں بھی عبداللہ آتھم والا کہ ”انابت“ اور استغفار کی وجہ سے بڑے میاں کی عمر بڑھ کافی ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر (باوجود وعدہ الہامی و تقدس مسیح اندر میعاد مقررہ دشمن کے خود کوچ فرما گئے اور ان کے دشمنوں جائے۔ یہ کون سا نشان صداقت ہے؟ فافھم وتدبر!
ناظرین کی خدمت میں عموماً اور مرزائی برادران فہرست پیش کرتا ہوں اور ہر ہر مد کی کسی قدر صراحت تفصیل نکال لیویں کہ جس شخص کے اس قدر متعدد جھوٹ ثابت ہو
٤١
لکھ دیا کہ جب جیسی ضرورت پڑے ویسا عمل کیا جائے۔ غرض ماحصل نتیجہ ان دونوں متضاد قولوں کا یہی نکلے گا کہ ان میں سے ایک ضرور جھوٹ ثابت ہو کر رہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے چھوٹے صاحبزادے جو بالکل ابھی محض بچہ ہیں اور ضرورت زمانہ نے ان کو اس کا محتاج بنا دیا ہے کہ دوسروں کے قلم میں ان کی زبان ہو۔ ایک رسالہ بنام تشحیذ الاذہان نمبر وار ماہواری نکالا ہے۔ جو اسی مضمون سے سراپا سیاہ کیا گیا ہے کہ منکرین مرزا قادیانی کافر ہیں اور اپنے ابا جان کے مذکورہ الصدر مذہب کے بطلان میں خلف رشید بن کر مرزا قادیانی کی تکذیب مذہب میں علانیہ رسالہ شائع کیا گیا ہے۔ جس کا لب لباب مضمون اسی قدر ہے۔ سچ ہے پنجابی مثل ٹھیک ہے : ”مچھلی کے جائے کن تیراکے۔“
چوبیسواں جھوٹ
مولوی محمد حسین صاحب کے والد ضعیف العمر کو بھی مرزا قادیانی کے الہام نے تاکا تھا اور ان کی وفات کی پیش گوئی کی تھی۔ ایک سال کی میعاد ظاہر کی تھی۔ اس کی بھی وہی حالت ہوئی کہ اندر میعاد کیا ایک زمانہ دراز تک بڑے میاں صاحب مرزا قادیانی کی پیش گوئی جھوٹی کرنے کی غرض سے زبردستی زندہ رہ کر سارے پنجاب میں مرزا قادیانی کو رسوا کیا اور ان کی الہامی پیش گوئی پر اسیٹک ایسڈ (سرکہ کا تیزاب) کا پانی پھیر دیا۔ جس سے خود ملہم مع بچہ الہام تاریخ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو قبر کے تنگ محبس میں ڈال دیئے گئے۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی۔
زانکہ بسیار مال مردم خورد
راقم...... شاید مرزائی حضرات اس میں بھی عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کی طرح یہی فرمائیں گے کہ ”انابت“ اور استغفار کی وجہ سے بڑے میاں کی عمر بڑھادی گئی۔ مگر تردید کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر (باوجود وعدہ الہامی و تقدس مسیحیت و نبوت کے) تو بڑھائی نہ گئی اور اندر میعاد مقررہ دشمن کے خود کوچ فرماگئے اور ان کے دشمنوں کی عمر انابت اور استغفار سے بڑھائی جائے۔ یہ کون سا نشان صداقت ہے؟ فافهم وتدبر!
ناظرین کی خدمت میں عموماً اور مرزائی برادران کے لئے خصوصاً یہ دو درجن جھوٹ کی فہرست پیش کرتا ہوں اور ہر ہر مد کی کسی قدر صراحت تفصیل بھی کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرما کر مختصر نتیجہ نکال لیویں کہ جس شخص کے اس قدر متعدد جھوٹ ثابت ہوں وہ قطع نظر تقدس باطنی اور دعوائے
٤١
مسیحیت وغیرہ کے دنیا دارانہ حیثیت سے ہم چشموں میں کس قدر توقیر اور وزن رکھ سکتا ہے۔ چونکہ حکیم خلیل احمد صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ مونگیر نے اشتہار مذکورہ بالا کی سرخی میں دکھلایا تھا کہ نشان آسمانی بر تکذیب ابواحمد رحمانی۔ مگر نہ تو اشتہار میں مطابق دعوے کے کوئی تکذیب کرنے کی ان کو جرأت ہوئی نہ جواب فیصلہ آسمانی کا اب تک دیا گیا۔ اس لئے راقم نے پبلک کی اطلاع کے لئے ابھی دو درجن جھوٹی پیش گوئیوں اور اقوال کی فہرست شائع کی ہے۔ اس پر بھی اگر مرزائی حضرات کی پوری سیری نہ ہو تو فقرہ "هل من مزيد" ان کے لئے آئندہ بھی موجود ہے۔
مرزا قادیانی کے تمام جھوٹ کا ڈبل باوا یا بیتائی کا گروگھنٹال
ناظرین سراپا تمکین! غالباً آپ لوگوں کو اس کے عنوان سے ایک قسم کا مضحکہ و تعجب ہوگا کہ یہ نیا مضمون جھوٹ کا ڈبل باوا کس بلا کا متعجب الخلقت شخص ہوگا۔ حضرات یہ کوئی شخص نہیں ہے۔ بلکہ شخص کے عالم مثالی کا فوٹوگرافی عکس ہے۔ اس کو خوب غور سے ذرہ بین کا شیشہ لگا کر دیکھئے کہ یہ بارہ روپا کا سارنگ بدلا کرتا ہے اور ہرگز تھکتا ہی نہیں۔
گاہ ابن اللہ گاہے خود خدا خواہد شدن
جناب معلیٰ القاب مسیح کذاب مہدی پنجاب حکیم مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما یستحقہ اپنی تصنیف کثیف کتاب (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤) میں حسب ذیل گلریزی فرماتے ہیں جو بلفظہ و بعینہ واسطے آگاہی خاص و عام ان کی عبارت نقل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی ڈبل جھوٹائی ظاہر ہو جائے گی۔ وهو هذا!
"اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کے رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت "وانا علی ذهاب لقادرون" جس کے بحساب جمل ١٢٧٤ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کے اشارات چھپے ہوئے ہیں جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائے جاتے ہیں۔"
میرے پیارے ناظرین! اب میری طرف متوجہ ہو کر مرزا قادیانی کی رام کہانی سن لیں۔ مرزا قادیانی نے اوپر کی عبارت میں دو دعوے کئے ہیں۔
٤٢
- ......١ ”مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف
- ......٢ ”قرآن شریف نے مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت
تحریف کر کے اپنے دعوے کے استدلال میں پیش کیا ہے۔ آیت مو بہ“ ہے۔ اس کو عدد مفروضہ صحیح کرنے کی غرض سے تحریف کر کے ذہـ آئندہ کی جائے گی اور بہ کے لفظ کو اس آیت سے تحریف کر دیا۔
پہلے امر کی نسبت مجھ کو صرف اسی قدر کہنا ضرور ہے کہ قـ حضرت مسیح ابن مریم کی تشریف آوری میں بطور پیش گوئی موجود سو برس گزر جانے کے نہ تو مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اور رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سلف صالحین نے اس پیش گوئی کو ظاہـ بفحوائے ”المعنى فی بطن الشاعر“ اپنے پیٹ سے نکالنے کی علمی مضمون اس کے متعلق میں نے علمائے کرام کے لئے چھوڑا۔
رہا امر دوم کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی مدت قرآن کریم
صاحبو! یہی ہے مرزا قادیانی کے جھوٹ کا ڈبل باوا یا طرہ مرزا قادیانی نے اور بھی لگایا ہے کہ بہت سے اولیاء بھی اس تصدیق کرتے ہیں۔ غالباً اولیاء سے مراد انہوں نے اپنی نسبت کی
العجب بين الجمادى والرجب“
اولیائے کرام کے ملفوظات اردو، فارسی میں بھی کثرت مگر جھوٹ کے ڈبل باوا کو کسی اولیاء کا نام بھی یاد نہ پڑا جو حوالہ د ١٤٠٠ برس کا استدلال بحساب جمل ١٢٧٤ عدد آیت ”و انا علـی نکالا ہے۔ حالانکہ نہ تو آیت ہی صحیح لکھی ہے اور نہ اعداد صحیح ہیں ابجدی ہے۔ مرزا قادیانی کی بے حیائی سلامت رہے۔ پھر جھوٹ صحیح اس کے ١٢٦٧ ہوتے ہیں۔
صحیح آیت شریف یوں ہے۔ ”وانا عـلـی ذهـاب اعداد بحساب جمل ابجدی معروف ١٢٧٥ ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی ہے اور اپنے نام (غلام احمد قادیانی) کے ساتھ قادیانی کے لفظ کا ا کی کوشش تو کی۔ مگر استادی سے حساب میں (بقول شخصے دروغگورا
٤٣
- ......١ ”مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔“
- ......٢ ”قرآن شریف نے مسیح کے نکلنے کی ١٤٠٠ برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔“ اور آیہ کریمہ کو
تحریف کر کے اپنے دعوے کے استدلال میں پیش کیا ہے۔ آیت موصوف میں ”علیٰ ذھاب بہ“ ہے۔ اس کو عدد مفروضہ صحیح کرنے کی غرض سے تحریف کر کے ذھاب لکھ دیا۔ اس کی تشریح بھی آئندہ کی جائے گی اور بہ کے لفظ کو اس آیت سے تحریف کر دیا۔
پہلے امر کی نسبت مجھ کو صرف اسی قدر کہنا ضرور ہے کہ وہ کون سی آیت صراحۃً یا کنایۃً حضرت مسیح ابن مریم کی تشریف آوری میں بطور پیش گوئی موجود ہے۔ جس کو آج تک باوجود تیرہ سو برس گزر جانے کے نہ تو مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اور نہ صحابہ کبار یا اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سلف صالحین نے اس پیش گوئی کو ظاہر نہ فرمایا اور مرزا قادیانی بھی بمقتضائے ”المعنٰی فی بطن الشاعر“ اپنے پیٹ سے نکالنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ (بقیہ علمی مضمون اس کے متعلق میں نے علمائے کرام کے لئے چھوڑا۔ کیونکہ میرا منصب نہیں ہے) باقی رہا امر دوم کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی مدت قرآن کریم نے ١٤٠٠ برس ٹھہرائی ہے۔
صاحبو! یہی ہے مرزا قادیانی کے جھوٹ کا ڈبل باوا یا بے حیائی کا گرو گھنٹال۔ اس پر طرہ مرزا قادیانی نے اور بھی لگایا ہے کہ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ غالباً اولیاء سے مراد انہوں نے اپنی نسبت کی ہو تو تعجب نہیں۔ ”العجب ثم العجب بین الجمادی والرجب“
اولیائے کرام کے ملفوظات اردو، فارسی میں بھی کثرت سے تمام دنیا میں شائع ہیں۔ مگر جھوٹ کے ڈبل باوا کو کسی اولیاء کا نام بھی یاد نہ پڑا جو حوالہ دیتا۔ یہ ہے جھوٹ کا ڈبل باوا اور ١٤٠٠ برس کا استدلال بحساب جمل ١٢٧٤ عدد آیت ”وانا علی ذھاب بہ لقادرون“ سے نکالا ہے۔ حالانکہ نہ تو آیت ہی صحیح لکھی ہے اور نہ اعداد صحیح ہیں۔ خدا جانے کس مدرسہ کا یہ جمل ابجدی ہے۔ مرزا قادیانی کی بے حیائی سلامت رہے۔ پھر جھوٹ لکھ دینے میں کیا باک ہے۔ عدد صحیح اس کے ١٢٦٧ ہوتے ہیں۔
صحیح آیت شریف یوں ہے۔ ”وانا علی ذھاب بہ لقادرون“ جس کے صحیح اعداد بحساب جمل ابجدی معروف ١٢٧٥ ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی نے ایک عدد کم کر کے ١٢٧٤ لکھا ہے اور اپنے نام (غلام احمد قادیانی) کے ساتھ قادیانی کے لفظ کا دم چھلا لگا کر مساوی العدد بنانے کی کوشش تو کی۔ مگر استاد جی سے حساب میں (بقول شخصے دروغگو را حافظہ نباشد) پھر غلطی قائم رہی۔
٤٣
کیونکہ ان کے مذکورہ نام کے اعداد قادیانی کے دم چھلے سمیت ١٣٠٠ ہوتے ہیں جو نہ تو تحریفی آیت کے ہم عدد ہیں اور نہ صحیح آیت کے برابر ہیں۔ جیسا کہ اوپر صفائی سے علیحدہ علیحدہ ظاہر کر دیا گیا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹائی اور بے حیائی کی کچھ بھی حد ہے۔ انہوں نے سب کو اپنا سا کور چشم خیال کر کے جو جی میں موج آئی انٹ کا سنٹ لکھ مارا۔ انہوں نے خیال کر لیا ہو گا کہ کس کو اتنی فرصت کہ میرے لکھے ہوئے اعداد کی بھی جانچ و پڑتال کرے گا اور یہ خیال نہ کیا کہ ان کے حریف ان کی جھوٹائی ثابت کرنے کے لئے ان کے ہر قول کو پڑتال کئے بغیر اعتبار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کی جھوٹائی کثرت سے ثابت ہو چکی ہے۔ اس لئے راقم نے اس جملہ محرفہ آیہ قرآنی کو اور صحیح آیت کو بقاعدہ حساب جمل ابجدی ہر طرح سے ملان اور پڑتال کر کے مرزا قادیانی کا ڈبل جھوٹ دکھلا دیا۔ جس کا حوالہ مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) میں دیا ہے۔ میں بڑے زور وشور سے حکیم خلیفہ المسیح مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الماجد بھاگلپوری کو چیلنج دیتا ہوں کہ سات روز کے اندر اس کا جواب دیں یا اپنے مرزا قادیانی کی جھوٹائی کا اعتراف کریں۔ ورنہ بعد انقضائے میعاد کوئی عذر ان کا قابل سماعت نہ ہوگا۔ مگر میں ناظرین کو مطمئن کر دیتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی بھی خود اپنے اعجاز مسیحی سے سہ بارہ زندہ ہو کر اس کا جواب لکھنا چاہیں تو ناممکن ہے کہ اس ڈبل باوا کی صورت مثالیہ ٹھوکر سکیں۔ مرزا قادیانی کو ہر جگہ ٹھوکر پر ٹھوکر درپیش ہوتی رہی۔ مگر نہ سنبھلے۔ آخر گری پڑے۔ اسی صفحہ میں بعد آیت محرفہ کے دوسری سطر میں لکھتے ہیں۔ بحساب جمل ١٢٧٤ھ کوئی ذرا حضرت جی کے خلیفہ صاحب سے یہ تو پوچھے کہ ١٢٧٤ھ میں مرزا قادیانی کا وجود بے جود کس لامکان میں روپوش تھا۔ جو اس وقت جس کو آج سے ٦٣٩ برس گزر گئے۔ اس وقت کے چھپے چھپے انیسویں صدی عیسوی میں قادیان میں ظہور فرمایا۔ یہ ہے جھوٹ کا ڈبل باوا اور بے حیائی کا گروگھنٹال۔
باقی رہا مرزا قادیانی کے نام سے پورے طور پر کون کون آیت قرآنی اور دوسرے جملے متحد الاعداد ہوتے ہیں وہ خاتمہ کتاب میں ملاحظہ فرما کر تفریح خاطر فرمادیں اور مرزا قادیانی کی روح پر فتوح کو اس کا ثواب پہنچا دیں۔ کیونکہ (ازالہ اوہام ص ٦٥٧ حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) میں اتحاد اعداد سے مرزا قادیانی نے استدلال کیا ہے۔
جھوٹ کے ڈبل باوا کی عکسی تصویر کو تو ناظرین دیکھ چکے۔ اب بے حیائی کے گروگھنٹال کا بھی درشن کرلیویں۔ ان کی شرح میں فقط ایک حکایت لکھنؤ کے مشہور شخص یعنی مرزا لیموں نچوڑ کی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی کے حالات سے خوب چسپاں ہوتی ہے۔
٤٤
چونکہ مرزا قادیانی عمدہ غذاؤں کے حریص تھے تھے اس لئے ان کا نام لیموں نچوڑ پڑ گیا۔ وہ ہمیشہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ کہاں کوئی بڑی دعوت ہے۔ پتا لگا کر موقع پر کھڑے رہتے تھے۔ جب کوئی مہمان چلتا جھٹ مرزا قادیانی بھی ہمزاد کی طرح پیچھے ہولئے۔ ان مہمان کو انہوں نے باور کرایا کہ میزبان کا کوئی آدمی ہے اور بیچارہ میزبان یہ سمجھا کہ مہمان کا ساتھی ہے۔ گو مگو میں دونوں مروت سے ٹوک نہ سکے اور مرزا قادیانی مزے سے اچھے اچھے کھانوں کو زہر مار کر کے چل دیئے۔ غرض اسی طرح بہت سے لوگوں سے کام لیا گیا وہاں سے ذلیل ہو کر نکالے بھی جاتے رہے جن میں مار پیٹ بھی کی گئی اور خدا جانے کیسی کیسی ذلتیں نصیب مرزا ہوئیں۔
اسی طرح ایک دفعہ کسی بیڈھب صاف مزاج دیندار کے ہاں ایک بڑی دعوت ہوئی۔ مرزا قادیانی حسب عادت معہودہ قریب پہنچ کر ایک معزز صاحب کے دخل در معقولات کرتے ہوئے پیچھے ہو لئے وہ معزز صاحب کشف قلوب سے اس کے بطون پر واقف ہو کر پہنچتے ہی میزبان سے ملے۔ میزبان نے بھی ان سے کہہ دیا کہ آپ کی دعوت میرے ہاں شرعاً ممنوع ہے۔ مرزا قادیانی نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا کہ یہاں تو مجھ کو مولوی صاحب کی تمنائے زیارت لے آئی ہے اور وہیں فرش پر جمے رہے۔ جب دستر خوان بچھا اور ہاتھ دھلوانے کے لئے ایک خادم نے مولوی صاحب کی طرف اشارہ کیا اور مولوی صاحب کا ہاتھ دھلانے کے لئے ان کے سامنے چلمچی رکھ دی۔ مولوی صاحب دستر خوان پر میزبان کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ مرزا بسلامت خود ہی اپنے ہاتھ سے ہاتھ دھو کر دستر خوان پر بیٹھ گئے۔ طفیلیہ مہمان را با فضولی چہ کار ۔ مولوی صاحب تو مرزا قادیانی کو دیکھتے رہے اور مرزا قادیانی بقول شخصے چپڑ و چار بگھار و پانچ جوں کھانے لگے۔ میزبان تھے رئیس یہ بد تمیزی کیونکر گوارا کر سکتے۔ انہوں نے ملازموں سے کہا کہ اس کے کان پکڑ کر احاطہ سے باہر کر دو۔ آخر ایسا ہی ہوا اور مرزا قادیانی ادب سے فرشی تسلیم کر کے بڑی متانت سے کہنے لگے کہ حضور مجھے تو پاپوش خوری نصیب ہو چکا ہے۔ آپ نے تو پھر رعایت
٤٥
ایک مرزا قادیانی عمدہ غذاؤں کے حریص تھے جن کا نام ان کی بے حیائی سے آخر مرزا لیموں نچوڑ پڑ گیا۔ وہ ہمیشہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ آج کس رئیس کے ہاں کسی معزز شخص کی دعوت ہے۔ پتا لگا کر موقع پر کھڑے رہتے تھے۔ جب مہمان موصوف میزبان کے یہاں پہنچا تو جھٹ مرزا قادیانی بھی ہمزاد کی طرح پیچھے ہولئے۔ اپنی چالاکی اور دیدہ دلیری سے مہمان کو یہ باور کرایا کہ میزبان کا کوئی آدمی ہے اور بیچارہ میزبان سمجھتا رہا کہ مہمان کے ساتھ ہے۔ غرض اسی گو مگو میں دونوں مروت سے ٹوک نہ سکے اور مرزا قادیانی بے حیائی کی جیب سے لیموں نکال لذیذ کھانوں کو زہر مار کر کے چل دیئے۔ غرض اسی طرح سے دعوتیں کھاتے رہے اور جہاں کچھ تفتیش سے کام لیا گیا وہاں سے ذلیل ہو کر نکالے بھی جاتے رہے۔ مگر بے حیائی سلامت عادت کا چسکا نہ گیا اور خدا جانے کیسی کیسی ذلتیں نصیب مرزا ہوئیں۔
ایک دفعہ کسی بیڈھب صاف مزاج دیندار رئیس کے یہاں ایک مولوی صاحب کی دعوت ہوئی۔ مرزا قادیانی حسب عادت معہودہ قریب مکان میزبان کے سلام فراشی کر کے مولوی صاحب سے دخل در معقولات کرتے ہوئے پیچھے ہو لئے۔ مولوی صاحب نے اپنی فراست علمی سے اس کے بطون پر واقف ہو کر پہنچتے ہی میزبان سے کہہ دیا کہ یہ صاحب میرے ساتھ شامل نہیں ہیں۔ میزبان نے بھی ان سے کہہ دیا کہ آپ کی دعوت نہیں ہے اور بغیر دعوت کے شریک طعام ہونا شرعاً ممنوع ہے۔ مرزا قادیانی نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ حضرت میں بھی یہ مسئلہ جانتا ہوں۔ یہاں تو مجھ کو مولوی صاحب کی تمنائے زیارت لے آئی ہے۔ یہ کہہ کر کچھ دیر اسی بے شرمی کی امید پر جمے رہے۔ جب دستر خوان بچھا اور ہاتھ دھلوانے کو چلمچی نوکر نے حاضر کی تو میزبان نے مولوی صاحب کی طرف اشارہ کیا اور مولوی صاحب کا ہاتھ دھلا کر نوکر نے مرزا قادیانی کو چھانٹ دیا اور چلمچی رکھ دی۔ مولوی صاحب دستر خوان پر میزبان کے ساتھ آئے۔ مرزا قادیانی کی بے غیرتی سلامت خود ہی اپنے ہاتھ سے ہاتھ دھو کر دستر خوان پر جا دھمکے۔ مہمان تو کچھ بولے نہیں۔ کیونکہ مہمان را با فضولی چہ کار۔ مولوی صاحب تو مرزا قادیانی کی بے غیرتی سے شرمندہ ہو گئے۔ لیکن مرزا قادیانی بقول شخصے چیرہ چہار بھار دباج جوں کے توں نہایت فراخ دلی سے جمے رہے۔ آخر میزبان تھے رئیس یہ بدتمیزی کیونکر گوارا کر سکتے۔ اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ کوئی ہے؟ مرزا قادیانی کے کان پکڑ کر احاطہ سے باہر کر دو۔ آخر ایسا ہی ہوا تو چلتے وقت مرزا قادیانی لیموں نچوڑ نہایت ادب سے فراشی تسلیم کر کے بڑی متانت سے کہنے لگے کہ اس عاجز کو تو سیکڑوں جگہ اس سے بڑھ کر پاپوش خوری نصیب ہوچکا ہے۔ آپ نے تو پھر رعایت رئیسانہ مرعی رکھی۔ میں اپنی کمبخت عادت
٤٥
سے مجبور ہوں۔ مگر میرے نفس امارہ کی برابر یہی ہدایت ہوتی ہے کہ میاں؟ ایں ہمہ در عاشقی بالا غمہائے دگر۔ بے حیائی میں تو ذلت ازلی انعام ہے۔ اس سے کوئی دنیا دار گھبراتا ہے؟
مرزا قادیانی کا بعینہ یہی حال ہے۔ اپنے خیال کے مطابق اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے جاہلوں کو پھانسنے کے لئے جو جی میں آیا قرآن کریم اور احادیث نبویہ کا جھوٹ حوالہ دے دیا اور دیدہ و دانستہ یہ دروغ بانی کا ہتھکنڈا نکالا۔ یہ سمجھ کر کہ ہماری جھوٹی کہانیوں کی کون تصدیق کرتا اور تطبیق دیتا پھرے گا اور بالفرض اگر کسی نے جھوٹ ظاہر کر کے میری بے حیائی کو پبلک میں مشہور بھی کیا تو مجھ کو اس سے کیا ڈرنا۔ میں تو اس میں کمال درجہ کا ڈپلوما پا چکا ہوں۔ لیکن جس جگہ نری جہالت ہی جہالت ہے۔ وہاں اگر بے حیائی کی چل گئی تو پو بارہ، بقول شخصے لگا تو تیر نہیں تو تکا۔
اب اس قصہ کو چاہے جیسا کچھ ہو زبان حال سے مرزا قادیانی کے ساتھ تطبیق دے کر ناظرین فرماویں کہ چسپاں ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ ہے بے حیائی کا گروگھنٹال۔
بے حیا باش آنچہ خواہی کن
یہاں تک یہ رسالہ لکھا گیا تھا کہ ہمارے ایک مکرم ومحترم دوست نے عند الملاقات ایک رسالہ مؤلفہ حکیم خلیل احمد قادیانی مونگیری بنام ”برق آسمانی“ مطبوعہ مطبع مونگیر جس کو حکیم صاحب نے اپنے زعم میں فیصلہ آسمانی کے اشتہاروں کا جواب لکھا ہے دکھایا۔ مگر حکیم صاحب کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ اس رسالہ کو اپنی طرف سے اور کسی کے پاس نہ سہی میرے پاس تو ضرور بھیج دیتے۔ کیونکہ میں نے بھی ان کی خدمت میں نمک سلیمانی و تنبیہ قادیانی وغیرہ ہدیۃً مکرمی حاجی ابو المجد محمد عبد الرحمن صاحب المتخلص بہ شور عظیم آبادی سے ارسال کرا دیا ہے۔ جس کی رسید میرے پاس موجود ہے۔ خیر یہ تو مخلصانہ شکایت تھی۔ جو دوستوں سے اکثر دنیاوی امور میں ہوتی رہتی ہے۔ الغرض میں نے وہ رسالہ دیکھا۔ غالباً مولوی عبد الماجد قادیانی کی شکم زاد تصنیف ہے جو حکیم صاحب کی طرف سے متبنیٰ نامزد ہو کر شائع ہوا ہے۔ مگر مولوی صاحب کا انداز بیان اور بھاگلپوری لب ولہجہ کہیں چھپ سکتا ہے۔ تاڑنے والے تاڑ جاتے ہیں اور پہچاننے والے پہچان لیتے ہیں۔
من انداز قدت را می شناسم
مولوی صاحب کی زبان پر جو الفاظ چڑھے ہوئے ہیں انہی لفاظیوں اور فضولیات کا
٤٦
ذخیرہ اس میں بھی ہے۔ سوال از آسمان جواب از ریسمان کا اس رسالہ کا بھی وہی حال ہے کہ ڈھاک کے تین پات۔ پیش گوئی یا احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیش گوئی جواب باصواب ندارد۔ آئیں ، بائیں ، شائیں، فضولیات او کیا ہے۔ خیر اس کا بھی جواب علیحدہ بتفصیل تمام دیا جائے ہو جائے گا۔ اس رسالہ میں قطع نظر اور سب فضولیات جاہلا اور ذکاوت کا اظہار اپنے زعم باطل میں مصنف نے کیا ہے ک ایک متحد العدد جملہ سقیم بڑی تلاش اور فخر ومباہات سے شا درج رسالہ کیا ہے۔ صد مرحبا! اسی کو جواب فیصلہ آسمانی ک قادیانی مولوی صاحب کے جواب کی نسبت اپنی رائے ظا آسمانی کا جواب محالات سے ہے۔ مگر مولوی صاحب زیاد ہی ہوا۔ قبل اس کے کہ مولوی صاحب فیصلہ آسمانی کا جوا صاحب کی طرف سے مقدمۃ الجیش بنا کر سوانگ نکالا ہ ظاہر ہوتی ہے۔
میں خیر خواہانہ اور مخلصانہ کہتا ہوں کہ ایسی باتی جواب سے مولوی صاحب عاجز ہو گئے۔ ورنہ متحد الاعذار اس کو خوب یاد رکھیئے کہ مجھ کو اس فن تاریخ میں ید طولیٰ حا سے پھڑکتے ہوئے متحد الاعداد جملوں کی ایک موٹی کتاب سکتا ہوں۔ جس کو ملاحظہ کر کے مرزائیوں کے حواس درس پر پہلے حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے نام کے متحد الاعد مصدق ہیں۔ لکھے جاتے ہیں اور اس کے نیچے کے جدو الفاظ کی سیر کیجئے اور داد طباعی دیجئے کہ یہ کس قدر پھڑکتے از ماست کہ بر ماست کو خوب یاد رکھ لیجئے۔
نام عدد
- (١) مولانا ابواحمد ١٨٠ کوکب اسلام
- (٢) ابواحمد ٦٢ حمید، جہد کل
٤٧
ذخیرہ اس میں بھی ہے۔ سوال از آسمان جواب از ریسمان کا مقولہ سچ ہے۔
اس رسالہ کا بھی وہی حال ہے کہ ڈھاک کے تین پات۔ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی والی پیش گوئی یا احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیش گوئی جو صریح جھوٹی ہوچکیں۔ ان کا کچھ جواب باصواب ندارد۔ آئیں، بائیں، شائیں، فضولیات اور بیہودہ خرافات سے رسالہ کا منہ کالا کیا ہے۔ خیر اس کا بھی جواب علیحدہ بتفصیل تمام دیا جائے گا اور تا بدر خانہ باید رسانید کا مقولہ سچ ہو جائے گا۔ اس رسالہ میں قطع نظر اور سب فضولیات جاہلانہ کے ایک نئی طباعی اور جدت پسندی اور ذکاوت کا اظہار اپنے زعم باطل میں مصنف نے کیا ہے کہ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے نام کا ایک متحد العدد جملہ سقیم بڑی تلاش اور فخر و مباہات سے شاید اپنے اظہار قابلیت کے لئے نکال کر درج رسالہ کیا ہے۔ صد مرحبا! اسی کو جواب فیصلہ آسمانی ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ میں نے قبل میں قادیانی مولوی صاحب کے جواب کی نسبت اپنی رائے ظاہر کی ہے کہ نفس مطالب سے تو فیصلہ آسمانی کا جواب محالات سے ہے۔ مگر مولوی صاحب زیادہ کام خارجی امورات سے لیں گے ویسا ہی ہوا۔ قبل اس کے کہ مولوی صاحب فیصلہ آسمانی کا جواب شائع کریں یہ رسالہ برق آسمانی حکیم صاحب کی طرف سے مقدمۃ الجیش بنا کر سوانگ نکالا ہے۔ جس سے جواب کی عاجزی ان کی ظاہر ہوتی ہے۔
میں خیر خواہانہ اور مخلصانہ کہتا ہوں کہ ایسی باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ اصل باتوں کے جواب سے مولوی صاحب عاجز ہو گئے۔ ورنہ متحد الاعداد جملے کی طرف وہ میلان نہ کرتے۔ مگر اس کو خوب یاد رکھئے کہ مجھ کو اس فن تاریخ میں یدطولیٰ حاصل ہے اور صرف مرزا قادیانی کے نام سے پھڑکتے ہوئے متحد الاعداد جملوں کی ایک موٹی کتاب درست کر کے ان کے لئے مفت ہدیہ کر سکتا ہوں۔ جس کو ملاحظہ کر کے مرزائیوں کے حواس درست ہو جائیں گے۔ بطور نمونہ سرسری طور پر پہلے حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے نام کے متحد الاعداد الفاظ مدحیہ جو واقعی صفات صحیحہ کے مصدق ہیں۔ لکھے جاتے ہیں اور اس کے نیچے کے جدول میں اپنے مسیح قادیانی کے متحد الاعداد الفاظ کی سیر کیجئے اور داد طباعی دیجئے کہ یہ کس قدر پھڑکتے ہوئے جملے بے تکلف نکل آئے۔ لیجئے از ماست کہ بر ماست کو خوب یاد رکھ لیجئے۔
نام عدد ہم عدد الفاظ
- (١) مولانا ابواحمد ١٨٠ کوکب اسلام، امام زمان، قدوسی
- (٢) ابواحمد ٦٢ حمید، جہد کل، موج جود
٤٧
- (٣) مولانا سید ابواحمد رحمانی ٥٧٣ مرجع کرم، شب زندہ دار، رکن الارکان
- (٤) مؤلف فیصلہ آسمانی ٥٣٣ تائید حق، سیادت پناہ، نجم گیتی
یہ تو حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے چند الفاظ ہم عدد لکھے گئے۔ ایک پورا صفحہ اس صنعت میں الفاظ نکالے گئے تھے۔ وہ سب محفوظ رکھے گئے ہیں۔
اب اپنے مرزا قادیانی کی خبر لیجئے کہ ان کے نام کے ہم عدد الفاظ مختلف طور سے کیسے بے تکلف نکل آئے۔
نام عدد ہم عدد الفاظ
- (١) مرزاغلام احمد ١٣٧٢ جد المسيلمة الكذاب
- (٢) جناب مرزا غلام احمد صاحب ١٥٣٩ لعنة الله على الكذبين
- (٣) جناب مرزاغلام احمد ١٧٠٧ خالية من نور الرحمن (خود بقول مرزا قادیانی) ظل
صاحب بقادیاں بدماغ شیطان غالب شد۔
- (٤) دعوائے وحی غلام احمد قادیانی ١٤١٥ الذی یوسوس فی صدور الناس
- (٥) مرزاغلام احمد پاپا مسیح ١٤٩٦ من شر الوسواس الخناس
- (٦) ڈوئی مسیح کاذب قادیان ١٠٣٧ خالدین فی النار
- (٧) مرزاصاحب قادیان ٥١٥ مجسم بشیطان
- (٨) مسیح بقادیان ٢٨٦ دیو گمراہ، لومڑی (خود بقول مرزا قادیانی)
- (٩) مرزاصاحب ٣٤٩ کافر ازلی، عربدہ ساز، امیر دام بلا
جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب کی خدمت میں پہلے معذرت ہے کہ یہ سب طریقہ مناظرہ کا آپ کے مولوی عبد الماجد قادیانی بھاگلپوری کا ایجاد کیا ہوا ہے۔ مـن سـن سـنـة حدیث شریف یاد فرما کر راقم کو معذور سمجھیں۔
نام عدد ہم عدد الفاظ
- (١) جناب خلیفة المسیح صاحب ١٤٤٦ قست قلوبكم، كما هي عادة النوكى
- (٢) نورالدین ٣٥١ هامان الوزیر، ہوریس الدجال، مراقی، فریفتہ، مقہور
- (٣) خلیفہ جی صاحب پنجاب ٨٩٧ جیسی تانی ویسی بھرنی
- (٤) مولوی عبد الماجد ٣٢٨ ابو جہل کافر
- (٥) عبد الماجد ١٥٤ ان ابلیس
٤٨
- (٦) عبد الماجد بقاعدہ زبر بینات ٦٣٨ فتنۃ ابلیس، مرکوب شیطاں
- (٧) قادیان بقاعدہ زبر بینات ٥٥٥ باب مسکن شیطان، مولد
فیلسوف دہر
- (٨) جناب ملک عبدالرحمن منصور ٩٣٨ خرلنگ دجال
- (٩) حکیم خلیل احمد ٨٠١ خناس جاہلاں
- (١٠) بلند جناب حکیم خلیل احمد ١٦٤٨ يتخبطه الشيطان م
صاحب مرائی مونگیری
نمونہ کے طور پر فی البدیہہ تو اس قدر حاضر کرتا ہوں۔ ایک اچھی کتاب بہت جلد کہہ سکتا ہوں۔ مگر سوائے عوام کی واہ واہ کے
تـمـت
خاتمہ کتاب
اسی برق آسمانی میں حکیم صاحب نے ایک جگہ مرزا جواب میں صرف اسی قدر لکھتا ہے کہ اگر ان کو مقابلہ کرنے کی جرأ اپنے خلیفہ المسیح حکیم نورالدین صاحب اور مہذب فہمیدہ بی اے بی ایل کو حکم مقرر کریں ادھر سے بھی مولوی مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب جانچ پڑتال کے لئے منتخب کئے جا فیصلہ آسمانی کا جو جواب لکھا پیش کیجئے۔ ایک ہزار کا توڑہ موجود طرفین سے اس امر کا فیصلہ کر لینا لازم ہوگا کہ جو شخص تجویز ثالثی مـ معاہدہ کے قانوناً لازم ہوگا کہ اپنے عقائد سے اسی وقت توبہ کر موصوف جلسہ عام میں مرتب ہو کر شائع کیا جائے۔ بس اب زیادہ جرأت ہو تو ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ہو جائے۔ روز روز کی تو تو میں می مذکورہ بالا جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب کی طرف سے اس کی م سے نہ آئی تو علی العموم بغیر کسی تاویل کے یہی سمجھا جائے گا کہ دیکھئے یہ آخری فیصلہ ہے اس موقعہ کو ہاتھ سے نہ دیجئے۔ احقاق پورے طور سے کھولی جائے گی۔ مرزا قادیانی کی طرح سے مناط خدا کے واسطے ایسا ہرگز نہ کیجئے۔ ورنہ قادیانی نبوت برباد ہو جائے
٤٩
(٦) عبد الماجد بقاعدہ زبر بینات ٦٣٨ قبة ابلیس، مرکوب شیطان، مرزائی شیطان (٧) قادیان بقاعدہ زبر بینات ٥٥٥ باب مسکن شیطان، مولد بدطینت، مکان خلیفہ کفار، مولد فیلسوف دہر (٨) جناب ملک عبدالرحمٰن منصور ٩٣٨ خرلنگ دجال (٩) حکیم خلیل احمد ٨٠١ خناس جاہلاں (١٠) پلید جناب حکیم خلیل احمد ١٦٤٨ یتخبطہ الشیطان من المس صاحب مرزائی مونگیری نمونہ کے طور پر فی البدیہہ تو اس قدر حاضر کرتا ہوں۔ اگر پسند ہوں تو بس ہے۔ ورنہ ایک اچھی کتاب بہت جلد کہہ سکتا ہوں۔ مگر سوائے عوام کی واہ واہ کے اور اس کا حاصل ہی کیا ہے۔
تمت
خاتمہ کتاب
اسی برق آسمانی میں حکیم صاحب نے ایک جگہ مزخرفانہ تحدی بھی کی ہے۔ اس کے جواب میں صرف اسی قدر لکھتا ہوں کہ اگر ان کو مقابلہ کرنے کی جرأت ہو سکے تو اندر پندرہ روز کے اپنے خلیفہ المسیح حکیم نورالدین صاحب اور مولوی عبدالماجد صاحب کو ایک جا ملا کر کسی غیر مذہب فہمیدہ بی اے بی ایل کو حکم مقرر کریں ادھر سے بھی مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب جانچ پڑتال کے لئے منتخب کئے جائیں گے اور حسب اشتہار سابق فیصلہ آسمانی کا جو جواب لکھا پیش کیجئے۔ ایک ہزار کا توڑہ موجود ہے۔ مگر پہلے بذریعہ اقرار تحریری طرفین سے اس امر کا فیصلہ کر لینا لازم ہوگا کہ جو شخص عجزاً یا بحثاً مغلوب ہو جائے۔ اس پر از روئے معاہدہ کے قانوناً لازم ہوگا کہ اپنے عقائد سے اسی وقت توبہ کر کے تحریری توبہ نامہ بدستخط ثالث موصوف جلسہ عام میں مرتب ہو کر شائع کیا جائے۔ بس اب زیادہ حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر جرأت ہو تو ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ہو جائے۔ روز روز کی تو تو میں میں سے کیا حاصل۔ اگر اندر میعاد مذکورہ بالا جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب کی طرف سے اس کی منظوری رجسٹری ڈاک کے ذریعہ سے نہ آئی تو علی العموم بغیر کسی تاویل کے یہی سمجھا جائے گا کہ ان کو تاب مقابلہ ہرگز نہیں۔ بس دیکھئے یہ آخری فیصلہ ہے اس موقعہ کو ہاتھ سے نہ دیجئے۔ احقاق حق اور جھوٹی پیش گوئیوں کی قلعی پورے طور سے کھولی جائے گی۔ مرزا قادیانی کی طرح سے مناظرہ سے بھاگنے کی کوشش صحیح نہیں خدا کے واسطے ایسا ہرگز نہ کیجئے۔ ورنہ قادیانی نبوت برباد ہو جائے گی۔ پس دونوں صاحب تشریف
٤٩
لاویں اور اصالتاً معرکہ میں ڈٹ جائیں۔ کسی اور زید و بکر سے مجھ کو غرض نہیں۔ کیونکہ یہ منصب تو خلیفۃ المسیح کا ہے۔ زیادہ حد ادب!
باللّٰه التوفيق وبه نستعين والسلام على من اتبع الهدىٰ!
راقم: آپ کا سچا خیرخواہ ملک نظیر حسن (سابق مرید مرزا قادیانی)
قطعہ تاریخ طبع رسالہ مسیح کاذب از فکر صائب
حاجی محمد عبدالرحمٰن المتخلص به شور عظیم آبادی
چٹ پٹا اس کا ایسا مضمون ہے کہ مخالف ہوئے ہیں جل کے کباب
جھوٹے الہام مرزا جی کے درجنوں دو گنا دیئے بحساب
سارے مرزا کے جھوٹ دکھلائے آئینہ کی طرح سے باصد آب
سارے ہندوستان میں ہلچل ہے کیا اڑیسہ بہار کیا پنجاب
کہتی پبلک ہے دیکھ کر اس کو جھوٹ کا اب تو ہو گا سد باب
مرزائی نہ سر اٹھائیں گے اب بات کرنے کی پھر نہ ہوگی تاب
شرم سے دشمنوں کے چہروں پر پڑ گیا ہے فسردگی سے حجاب
زور تحریر سے مصنف کے کانپ اٹھیں گے رستم و سہراب
کر دیا زور خامہ سے اپنے قادیاں کا مسیح خانہ خراب
کٹ گئی ناک دشمن دیں کی خوش مگر سن کے ہو گئے احباب
فکر تاریخ شور نے جب کی ہاتف غیب کا ہوا یہ خطاب
پڑھ کے سیفی لکھو مسیحی سال قادیانی مسیح خانہ خراب
١٩١٣ء باعدد سیفی
دیگر
سابقاً کہ مرید مرزا بود شکر لله کہ توبہ کرد شتاب
از سر قہر شد سن طبعش آل کذاب را سزد قبقاب
١٣٣١ھ، از سر قہر یعنی قاف = ١٠٠
٥٠
خاتم النبیین
تائید ربانی
بجواب
ہزیمت قادیانی
حضرت مولانا ملک نظیر حسن
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم
تائید ربانی ١٣٣١ھ
بجواب
ہزیمت قادیانی
حضرت مولانا ملک نظیر حسن بہاری
نظم جو مرزا قادیانی کے جھوٹے کلام ...... مندرجہ تعلیم المہدی ص ٦ پر ہے
اس پر دلچسپ خمسہ!
قول ہے کچھ فعل ہے کچھ پالیسی ان کی سنو گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھا دو انکسار
مرزا صاحب یہ کیسا جھوٹ کرتے ہیں رقم چپ رہو تم دیکھ کر ان کے رسالوں میں ستم
دم٣ نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حال زار
اپنے منہ سے کہتے ہو ایسا مجھ پر تیری مار کون سلطان القلم ایسا لکھے گا دل فگار
شرم کی یہ بات ہے ہم کیا جتائیں بار بار
مفتری، صادق کے آگے ہو گیا ہرگز تباہ مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں روسیاہ
جلد تر ہوتا ہے برہم افتراء کا کاربار
تنگ آکر ان کے حملوں سے یہی کہتے نبی تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی
چھوڑ دو ان کو کہ چھپوا دیں وہ ایسے اشتہار
١؎ سراج المنیر اور براہین احمدیہ کا روپیہ پیشگی لیا ہوا۔ جب مطابق وعدہ کتاب نہ ملی۔
مانگنے پر مرزا قادیانی نے کوئی خباثت طبیعت اپنی اٹھا نہ رکھی۔ (عصائے موسیٰ، چودھویں صدی کا مسیح)
٢؎ مفتوح۔
٣؎ یہ پانچوں مصرعے مصنف کی طرف سے بطور شرح مصرعہ مذکورہ بالا مصنفہ
مرزا قادیانی لکھے گئے۔ ذرا ارباب مذاق سلیم مرزا قادیانی کی اس بھونڈی تحریر پر (دم نہ مارو گر وہ
ماریں) غور کریں اور اس کے نازک اور شرمناک تیور۔
٢
دیباچہ کتاب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وآلہ واصحابہ اجمعین /
ناظرین! انصاف پسند کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک طالب العلم صاحب مسمی بہ ملک عبدالرحمٰن منصور (قادیانی) کی طرف سے ایک رسالہ بنام نصرت یزدانی بجواب فیصلہ آسمانی مطبع کلیمی کلکتہ سے چھپ کر شائع ہوا ہے۔ مصنف نے ٹائٹل پیج پر اپنی طالب العلمی کی سند میں مدرستہ تعلیم الاسلام قادیان کا تعلیم یافتہ ہونا اپنا ظاہر کیا ہے۔ کون اس کا انکار کرسکتا ہے کہ جیسا مدرسہ ہوگا ویسی تعلیم بھی ہوگی۔ مرزا قادیانی کی رام کہانیاں اور جھوٹے افسانے دنیا پر روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو چکے۔ ان کے دہرانے کی اس رسالہ میں اب ضرورت باقی نہیں رہی۔ پھر جس یونیورسٹی کے پرنسپل (یعنی مرزا قادیانی) ہوں۔ جن کی کذب بیانی خود انہیں کے متضاد اقوال سے ثابت ہوچکی ہو تو ان کے یونیورسٹی قادیان کے تعلیم یافتہ اور ڈپلومہ یافتہ طالب العلم کا کیا پوچھنا ہے کہ کیسے راست باز ہوں گے۔ قادیانی یونیورسٹی کی تو بنا ہی جھوٹ پر ٹھہری ہوئی ہے۔ پھر بیچارہ طالب العلم سچائی کی تعلیم کہاں سے حاصل کرے۔ علاوہ اس کے ان کی طفلانہ کم استعدادی تو خود ان کی کتاب مذکور کے ص ١٢ سطر آخر کے اوپر والی عبارت سے ظاہر ہوتی ہے کہ بیچارہ کو ابھی تک روز مرہ کے عام لفظوں کی صحت تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ”جوق در جوق“ کی جگہ ”جوک در جوک“ لکھ دیا ہے۔ میاں صاحبزادہ سے کوئی اتنا تو پوچھ لے کہ یہ لغت پنجابی ہے یا جاپانی۔ کیونکہ غالباً آپ حضرات ناظرین کے کان بھی اس نئی لغت سے ناآشنا ہوں گے۔ یہ تو میاں صاحب کی استعداد کا حال اس پر یہ حوصلہ کہ فیصلہ آسمانی کا جواب لکھتا ہے۔ بعینہ وہی مثل ہے کہ مینڈکی کو زکام اور اس پر طرہ یہ ہے کہ مفتی صادق صاحب ایڈیٹر البدر نے اس رسالہ کی ریویو لکھ کر بڑی تعریف کی ہے یا تو بغیر دیکھے بھالے بقول شخصے من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو۔ اپنے ہم مشرب بھائی کے لئے صدائے آفرین بلند کردی۔ یا دیدہ و دانستہ منصب ایڈیٹری کے خلاف اپنے اخبار کا منہ کالا کیا۔ ٹائٹل پیج میں وہ شعر شاید آپ نے کسی اکابر کے نتیجہ فکر سلیم سے لکھا ہے اور کنایۃً مرزا قادیانی کی راستی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ درج ذیل ہے۔ چونکہ مضمون اس کا ناتمام رہ گیا تھا۔ اس لئے راقم نے تیسرا شعر اضافہ کر دیا۔ اب اربابِ ذوق سلیم انصاف کریں کہ میاں طالب العلم کی کیسی مرمت ہوئی۔
٣
قولہ
جس بات کو کہے گا کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
اقول
فالحمد لله على ذالك! کہ جس امر کو میں نے مرزا قادیانی کے رد میں ظاہر کرنا چاہا ہے اور فیصلہ آسمانی وغیرہ رسائل میں ظاہر کر دیا گیا ہے۔ اس کو میاں طالب العلم نے اپنے متذکرہ صدر دونوں شعر میں قبول کر لیا۔ اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہزیمت قادیانی ہو سکتا ہے۔
میاں صاحب! فیصلہ آسمانی میں تو اسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو الہام کا دعویٰ مرزا قادیانی نے بڑے زوروں سے کیا اور صاف صاف اقرار کیا کہ یہ سب خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو میں مفتری اور کذاب اور ہر بد سے بدتر ہوں۔ پھر وہ الہام مرزا قادیانی کا وقوع میں نہ آیا۔ اس لئے مرزا قادیانی مفتری اور کذاب ٹھہرے۔ کیونکہ اگر وہ الہام واقعی منجانب اللہ ہوتا تو آسمان ٹل جاتا۔ مگر وہ خدائی وعدہ نہ ٹلتا۔ جیسا کہ خود مصنف نے اپنے دونوں شعروں میں ظاہر کر دیا ہے۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی!
مصنف کی دعا سے (جو دیباچہ میں ہے کسی قدر ترمیم کے ساتھ) مجھ کو بھی اتفاق ہے کہ ایک شخص (جھوٹا مسیح اور نبی بن کر) سادہ لوحوں کی آنکھوں پر اپنے فریب اور ضلالت کی پٹی باندھ کر گمراہی کے قعر تاریک میں دھکیل چکا ہے۔ اے رب ذوالجلال! تیرے فضل سے کچھ دور نہیں کہ ان کو اب بھی اس مہلکہ سے نجات دیوے اور اپنے آسمانی فیصلہ سے ان کی نصرت کرے۔
آمین! یا ارحم الرحمین، وما توفیقی الا بالله العلی العظیم!
مصنف نے ص ٢ سے تمہید اٹھا کر انقلابات زمانہ سے ڈرا کر ص ٤ کی سطر ١٣، ١٤ میں لکھا ہے کہ: ”ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاں سے اس کو حق اور نیکی ملے، لے لے۔ خواہ ایک عیسائی یا یہودی سے یا بیجان دیوار سے خواہ کہیں بھی ہو۔“
شاید بیچارے طالب العلم کی نظر قرآن مجید کی اس پاک آیت ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا “ پر نہیں پڑی۔ ورنہ یوں
٤
بیباک ہو کر نہ کہتے کہ حق اور نیکی کسی عیسائی یا یہودی یا بے جان د اول تو اشارہ کے طور پر مرزا قادیانی کی مثال ان تینوں سے دی ہے کہ اپنے نبی کو عیسائی اور یہودی اور بے جان دیوار سے تشبیہ دینا مرز بہر حال اس کو وہ جانیں اور ان کے نبی۔ اس کی نسبت مجھ کو کچھ زیا جو بڑی اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ بموجب آیت شریف مرقومہ با بدرجہ اتم اس ذات مقدس نبویہ مصطفویہ علیہ الصلوۃ والسلام پر خیمہ چکا۔ اب اس کے سوا اور کسی قسم کا حق یا نیکی طلب کرنے والا کسی جان سے بجز کسی بوالہوس خارج العقل کے کوئی دوسرا فہمیدہ مسلما اب اس جملہ کا زیب قلم فرمانا طالب العلم مصنف کا سوائے تقاضا جاسکتا ہے۔ خدا ان کو تمیز اور شعور عطاء کرے اور سچے اسلام کی قابلی
آگے چل کر میاں صاحبزادہ نے ص ٥ کی سطر ٥ لغای پن ظاہر کر کے تحریر کیا ہے کہ: ”حشر کے دن جب تم سے سوال کیا جا نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور اس نے یہ کہا کہ وہ مسیح محمدی اور موع بروز ہو کر آنے کو تھا وہ میں ہوں۔ کیا تم نے اس کی کوئی تحقیق کی ت تھی۔ اس سے سوچا اگر وہ سچا تھا تو کیا تم نے اس کی بیعت کی یا م بوجھ کر آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور لوگوں کو گمراہ کرتے رہے تو کیا جو میرے عزیز ملک جی! بڑے غور اور توجہ سے میرا سنہ سے سن کر نقش کالحجر کر لیں۔ غالباً یہ جواب باصواب انشاء اللہ السمی
١ ایسا تو کسی ناقص الاستعداد طالب العلم کا البتہ تقاض بے جان چیز یا عیسائیت و یہودیت کے گندے کھنڈروں میں تلا میں سوائے گندگی، بول و براز کے اور کیا رکھا ہوا ہے۔
٢ بروزی اور ظلی نبوت و مہدویت کے ثبوت میں کو سلف صالحین نے استنباط کیا ہو تو حکیم خلیفہ المسیح صاحب اس کا اگر بروز سے مطلب رام کا اوتار لینا جیسا کہ ہندؤوں میں ہے ت بھگت بن جایئے۔
٥
بیباک ہو کر نہ کہتے کہ حق اور نیکی کسی عیسائی یا یہودی یا بے جان دیوار سے بھی ملے تو لے لے۔ اوّل تو اشارہ کے طور پر مرزا قادیانی کی مثال ان تینوں سے دی ہے۔ جو ان کے عقیدہ کے موافق اپنے نبی کو عیسائی اور یہودی اور بے جان دیوار سے تشبیہ دینا مرزا قادیانی کی خلاف شان تھا۔ بہر حال اس کو وہ جانیں اور ان کے نبی۔ اس کی نسبت مجھ کو کچھ زیادہ سوجھانے کا حق نہیں ہے۔ مگر جو بڑی اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ بموجب آیت شریف مرقومہ بالا کے ہمارے اسلام کا اکمال بدرجہ اتم اس ذات مقدس نبویہ مصطفویہ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر تیرہ سو برس سے زائد ہوئے کہ ہو چکا۔ اب اس کے سوا اور کسی قسم کا حق یا نیکی طلب کرنے والا کسی عیسائی یا یہودی یا کسی شئے بے جان سے بجز کسی بوالہوس خارج العقل کے کوئی دوسرا فہمیدہ مسلمان صاحب قلب سلیم نہیں ہوسکتا۔ اب اس جملہ کا زیب قلم فرمانا طالب العلم مصنف کا سوائے تقاضائے سن اور ناواقفیت کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ خدا ان کو تمیز اور شعور عطا کرے اور سچے اسلام کی قابلیت کا مادہ عنایت کرے۔
آگے چل کر میاں صاحبزادہ نے ص ٥ کی سطر ٥ لغایت ٩ میں بچوں کی طرح اپنا بھولا پن ظاہر کر کے تحریر کیا ہے کہ: ”حشر کے دن جب تم سے سوال کیا جائے گا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور اس نے یہ کہا کہ وہ مسیح محمدی اور مہدی جو کہ حضرت سرور کائنات کا بروز ہو کر آنے کا تھا وہ میں ہوں۔ کیا تم نے اس کی کوئی تحقیق کی۔ میں نے تم کو عقل سلیم عطاء کی تھی۔ اس سے سوچا اگر وہ سچا تھا تو کیا تم نے اس کی بیعت کی یا محض ضد و تعصب کی وجہ سے جان بوجھ کر آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور لوگوں کو گمراہ کرتے رہے تو کیا جواب دو گے۔“
میرے عزیز ملک جی ! بڑے غور اور توجہ سے میرا سیدھا سادا جواب بھی گوش ہوش سے سن کر نقش کالحجر کرلیں۔ غالباً یہ جواب باصواب انشاء اللہ المستعان ان کو اور سب برادران
١؎ ایسا تو کسی ناقص الاستعداد طالب العلم کا البتہ تقاضا ہو سکتا ہے کہ امیدوار بن کر ایک بے جان چیز یا عیسائیت و یہودیت کے گندے کھنڈروں میں حق کا متلاشی رہے۔ ورنہ کھنڈروں میں سوائے گندگی، بول و براز کے اور کیا رکھا ہوا ہے۔
٢؎ بروزی اور ظلی نبوت و مہدیت کے ثبوت میں کوئی آیت قرآنی یا حدیث صحیح سے سلف صالحین نے استنباط کیا ہو تو حکیم خلیفۃ المسیح صاحب اس کا اعلان کیوں نہیں فرماتے ہیں اور اگر بروز سے مطلب رام کا اوتار لینا جیسا کہ ہندؤں میں ہے خیال کرتے ہیں تو پھر کشن کنہیا بھگت بن جائیے۔
٥
اسلام گم شدگان بادیہ ضلالت کے لئے (قسم ہے ۔ اسی ذات واجب الوجود عالم الغیوب مالک یوم الدین کی) بلاشک وشبہ باعث نجات ہو جائے گا اور مرزا قادیانی کے الزام دعویٰ سے بری الذمہ ہو جائیں گے۔ خدا کے لئے اس کو اپنے دلی ایمان سے یقین کر کے میرے جواب کو سرسری نظر سے بناوٹ نہ سمجھئے۔ میں حلفاً خدا کو حاضر و ناظر جان کر اپنے دلی ایمان سے عرض کرتا ہوں کہ جو کچھ جواب میں لکھا جاتا ہے وہ لفظ بلفظ میں اسی ایمان اور یقین قلبی سے لکھتا ہوں ۔ جس طرح مجھ کو اللہ تعالیٰ جل شانہ کی مقدس توحید اور حضرت سرور کائنات سید المرسلین خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت اور ختم نبوت اور ان کے لائے ہوئے احکام پر ایمان ہے۔
میرے پیارے عزیز! اس سے اور زیادہ کوئی طریقہ آپ لوگوں کے باور کرانے کا اور اپنی صداقت کے اظہار کا نہیں ہو سکتا کہ خدا بزرگ و دانا کو اس وقت اپنے قلب کی صفائی اور صداقت پر گواہ کرتا ہوں۔ ”وکفٰی بالله شہیداً“
پیارے عزیزو خدا تم کو اور سب برادران اسلام کو توفیق راستی عنایت کرے۔
جواب راقم بروز حشر
مصنف کے قول کو مان کر میں التماس کرتا ہوں کہ جب مجھ سے سوال ہوگا تو انشاء اللہ تعالٰی محض بے ترددی سے یہی جواب دوں گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت ومہدویت کو میں نے منکوحہ آسمانی والی پیش گوئی نمبر (١) اور مرزا سلطان محمد بیگ کی موت کی پیش گوئی نمبر (٢) اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری والی پیش گوئی نمبر (٣) اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی موت کی پیش گوئی نمبر (٤) میں سچا نہ پایا۔ میں نے اس کے رسالے دیکھے۔ اس کی روش، اس کے افعال واقوال کا موازنہ کیا۔ خود اسے مرزا قادیانی کے قول اور الہام مزعومہ کے مطابق اس کو جھوٹا پایا۔ لہٰذا ہم نے اس کی بیعت نہ کی۔ اے میرے مالک عالم الغیوب تو میرے جواب کی سچائی سے پورا پورا واقف ہے اور تیرے سامنے ذرہ برابر کسی کے دل کی بات چھپ نہیں سکتی ۔ تیرا ہی ارشاد پاک ہے کہ ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ اس لئے بموجب تیرے ارشاد کے ہم نے (اس مرزا غلام احمد قادیانی کو) جھوٹا مسیح اور کذاب ومفتری سمجھا۔
تیرا ہوں میں اک کمینہ بندہ اسی قدر ہے جواب میرا
پیارے عزیز! تم نے میرا جواب سن لیا۔ اب میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ جب تم لوگوں سے اس میدان حشر میں یہ سوال ہوگا کہ ہم نے تو اپنے حبیب کریم محمد مصطفٰےﷺ کو سید
المرسلین وخاتم النبیین بنا کر بھیجا تھا اور اسلام کو کامل کر کے اپنی توحید اور اپنے کلام میں صاف صاف بتا دیا تھا کہ ہمارے حبیب پاکﷺ باوجود اس قدر صریح ارشاد کے تم نے ایک جھوٹے مفتری کو دنیا کا مہدی اور جھوٹا نبی مان کر ہمارے ہزاروں بندوں کو گمراہ کیا۔ تب تم جواب جو یہاں جھوٹ بک رہے ہو وہاں بکار آید نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ تمہارے کرتوت کے گواہ بن کر تمہیں جھٹلائیں گے اور خود احکم الحا سے ذرہ ذرہ واقف ہے تم کو بات بنانے کی مجال نہ ہوگی اور بے مصطفٰےﷺ اور سچے عیسیٰ (علیہما الصلوٰۃ والسلام) یہ ہیں نہ مرزا غلام یارو مبارک وہ ہیں جو وہاں کے واقعات کو مدنظر رکھ کر ا لغزش اور غلط فہمی سرزد ہوگئی ہے اس سے صدق دل کے ساتھ نادم لئے تیار ہو جائے۔
اس کے بعد اسی ص ٥ کی سطر ١٤ لغایت ١٦ میں شاید مرزا کہ: ”مجھ کو حقیر سمجھ کر نفرین کی اور ایک گٹھلی سمجھ کر کوئی پرواہ نہ کی۔ مگ والنوی“ نے اس ذلیل گٹھلی کو کتنا عروج دیا اور اس میں سے کی
میرے پیارے عزیز! خدا کے لئے ذرا غور کر کے یہ تو تھا یا فرعون کا ۔ خیر چونکہ یہ بہت گزرے ہوئے زمانہ کی تاریخ ہے واقعہ پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے عروج اور سوامی دیانند سرسوتی اور جانچو کہ آریوں کے عروج کے مقابلہ میں بیچارے مرزا قادیانی کو سخت دشوار ہوگا۔ اس لئے میں جھوٹے مسیح اور مہدی کو انہیں کے سید محمد جون پوری سے مقابلہ کر کے دکھا دیتا ہوں۔ جس نے نوی اور نبوت کی اشاعت ایسے زور سے کی کہ باوجود امتداد زمان کثیر کے نام لیوا موجود ہیں اور اس کے زمانہ میں تو اس کی گرم بازاری رؤسا اور اہل علم اس کے مطیع ہو کر اس کی نبوت کی اشاعت میں لاکھوں کو اس کا مطیع و منقاد بنا دیا تھا۔ چار سو برس کا زمانہ گز ہندوستان کے مختلف مقاموں میں مثل حیدرآباد و سندھ وغیرہ
٧
المرسلین وخاتم النبیین بنا کر بھیجا تھا اور اسلام کو کامل کر کے اپنی توحید ان کے ذریعہ سے پھیلائی تھی اور اپنے کلام میں صاف صاف بتا دیا تھا کہ ہمارے حبیب پاک ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ پھر باوجود اس قدر صریح ارشاد کے تم نے ایک جھوٹے مفتری کو دنیا کمانے کی غرض سے کیوں مسیح اور مہدی اور جھوٹا نبی مان کر ہمارے ہزاروں بندوں کو گمراہ کیا۔ تب تم کیا جواب دو گے۔ یہ دنیا کا جواب جو یہاں جھوٹ بک رہے ہو وہاں بکار آمد نہ ہوگا۔ کیونکہ وہاں خود تمہارے اعضاء اعضاء تمہارے کرتوت کے گواہ بن کر تمہیں جھٹلائیں گے اور خود احکم الحاکمین جو تمہارے دل کی باتوں سے ذرہ ذرہ واقف ہے تم کو بات بنانے کی مجال نہ ہوگی اور بے حجاب دکھلا دیا جائے گا کہ محمد مصطفےٰ ﷺ اور سچے عیسیٰ (علیہما الصلوٰۃ والسلام) یہ ہیں نہ مرزا غلام احمد قادیانی مفتری کذاب۔ یارو مبارک وہ ہیں جو وہاں کے واقعات کو مدنظر رکھ کر ابھی سے ہوشیار ہو جائیں اور جو لغزش اور غلط فہمی سرزد ہوگئی ہے اس سے صدق دل کے ساتھ نادم ہوکر توبہ کرے اور جواب کے لئے تیار ہو جائے۔
اس کے بعد اسی ص ٥ کی سطر ١٤ لغایت ١٦ میں شاید مرزا قادیانی کا مقولہ نقل کیا گیا ہے کہ: ”مجھ کو حقیر سمجھ کر نفرین کی اور ایک ٹھٹھولی سمجھ کر کوئی پرواہ نہ کی۔ مگر دیکھو اس ”خالق الحب والنوی“ نے اس ذلیل مصلی کو کتنا عروج دیا اور اس میں سے کیسے کیسے کرشمہ دکھائے۔“ میرے پیارے عزیزو! خدا کے لئے ذرا غور کر کے یہ تو بتاؤ کہ مرزا قادیانی کا عروج بڑا تھا یا فرعون کا۔ خیر چونکہ یہ بہت گزرے ہوئے زمانہ کی تاریخ ہے۔ اس کو بھی جانے دو۔ حال ہی کا واقعہ پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے عروج اور سوامی دیانند سرسوتی کے دنیاوی عروج سے مقابلہ کرو اور جانچو کہ آریوں کے عروج کے مقابلہ میں بیچارے مرزا قادیانی کی کساد بازاری کا ذکر کرنا آپ کو سخت دشوار ہوگا۔ اس لئے میں جھوٹے مسیح اور مہدی کو انہیں کے ہم منصب مدعی نبوت کاذبہ یعنی سید محمد جون پوری سے مقابلہ کر کے دکھا دیتا ہوں۔ جس نے نویں صدی میں اپنی مسیحیت کا اعلان اور نبوت کی اشاعت ایسے زور سے کی کہ باوجود امتداد زمان کثیر آج تک ہزاروں در ہزاروں اس کے نام لیوا موجود ہیں اور اس کے زمانہ میں تو اس کی گرم بازاری اس قدر ہوگئی تھی کہ بڑے بڑے رؤسا اور اہل علم اس کے مطیع ہوکر اس کی نبوت کی اشاعت میں سینکڑوں رسالے سیاہ کر دیئے اور لاکھوں کو اس کا مطیع ومنقاد بنا دیا تھا۔ چار سو برس کا زمانہ گزرا کہ اب تک اس کے متبعین اسی ہندوستان کے مختلف مقاموں میں مثل حیدرآباد و سندھ وغیرہ کے اس کے مذہب کے حامی ہیں تو
٧
کیا اس کا عروج اہل حق کے لئے نبوت کی نشانی ہو جائے گا ، ہرگز نہیں۔ اگر یہ دعویٰ آپ کا صحیح ہو تو سب سے پہلے مرزا قادیانی ہی پر سید محمد جونپوری کی نبوت اور مہدویت کی بیعت لازم آوے گی۔ ورنہ بقول خود ”اوّل الکافرین“ کا خطاب خود بدولت پر ہی صادق آوے گا اور کرشموں کا ذکر جو کیا گیا ہے اس کا حال تو دنیا پر ان کی دو درجن جھوٹی پیشین گوئیوں سے بخوبی معلوم ہو چکا ہے۔ جس کو بطور نمونہ کے راقم نے رسالہ مسمی بہ ”مسیح کاذب“ میں بڑی صفائی سے پبلک میں پیش کیا ہے۔
میرے عزیز مصنف ! ذرا متوجہ ہو کر مرزا قادیانی کے صریح جھوٹ کے کرشمے ملاحظہ کریں۔ ناواقف حضرات جن کو مرزا قادیانی کی تصانیف پر مطلق نظر نہیں وہ بیچارے اس حال سے بالکل لاعلم ہیں کہ حضرت جی نے صریح جھوٹ دعویٰ کر کے اپنی برگزیدگی اور تقدس کا اظہار کیا ہے۔ جب ہی تو مصنف نے آگے چل کر لکھا ہے (یہ بھی مرزا قادیانی ہی کا مقولہ اعادہ ہوا ہے) ”تم ہم کو گالیاں دیتے ہو مگر ہم تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ تم لعنت بھیجتے ہو ہم تمہارے لئے رحمت مانگتے ہیں۔ تم ہم سے نفرت کرتے ہو ہم تم سے پیار کرتے ہیں۔ تم ہماری مذمت کرتے ہو ہم تمہاری تعریف کرتے ہیں۔“
راقم ...... جس کسی اجنبی اشخاص کی نظر ان جملوں پر پڑے گی مجرد ان جملوں کی سچائی ذہن نشین کر کے خیال کرلے گا کہ واقعی ایسا لکھنے والا کس قدر عالی ظرف کریم النفس بے کینہ مقدس بزرگ ہے کہ گالی کے بدلے دعا۔ لعنت کے بدلے رحمت اور مذمت کے عوض میں تعریف کرتا ہے۔
لیکن ناظرین ذرا صبر کریں۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں اور فقط کہتا نہیں خود مرزا قادیانی کی چند مغلظ اور فحش گالیوں کی سیر بھی کرا دیتا ہوں۔ اس وقت آپ لوگ فیصلہ کرلیں گے کہ لکھنے والا ان جملوں کا ”اکذب الکذبین“ ہے اور اسی قسم کی ابلہ فریبیوں کا نام اس نے سلطان القلمی رکھا ہے اور میں مرزا قادیانی کی تصنیفات کا حوالہ دے کر لکھتا ہوں کہ ان کی جھوٹائی کی پڑتال کرلیجئے اور میں بڑی جرأت سے مرزائیوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اگر کوئی مرزائی مفصلہ ذیل مغلظ اور فحش گالیوں کو خود مرزا قادیانی کی تصانیف سے ثابت ہونا انکار کرے اور اپنے انکار کو ثابت کرسکے یعنی راقم کی مندرجہ بالا سطروں کو غلط ثابت کرے تو فی گالی دس دس روپیہ تاوان مجھ سے بلاعذر وصول کرلے۔
لیجئے ! اب ناظرین راقم کی طرف مخاطب ہوجائیں اور مرزا قادیانی کی کذب بیانی اور مکاری کا تماشا دیکھیں۔ پہلے رسالہ جات (انجام آتھم ، ضمیمہ آتھم ، ازالہ اوہام، توضیح المرام، یہ
٨
سب مرزا قادیانی کی تصانیف ہیں) ملاحظہ کر جائیے مرزا قادیانی کی طبعزاد و مغلظ شکم زاد فحش گالیوں کی تو کے قریب ہیں۔
اگر چہ وہ فحش گالیاں نقل کرنے کے قابل لئے اور مرزا قادیانی کو اس کا ثواب پہنچانے کے لئے جاتی ہیں۔
مرزا قادیانی کی شکم زاد مغلظ گالیوں کا نمونہ
اے بدذات فرقہ مولویاں، اندھیرے دجال، اوّل الکافرین، بے ایمان، اندھے مولویو جذام، بدچلن، بددیانت، بے حیا انسان، خنزیروں خالی گدھے، سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں پر سور کیسی جھوٹ کی قلعی کھلی) رئیس الدجالین، روسیاہ الکلب (یعنی سگ بچگان کہنے مرزا قادیانی یہ سب (مرزا قادیانی نے چن چن کر گالیاں تصنیف کی مرزا قادیانی نے موت کا مزہ چکھا ہوگا) فرعونی رنگ نے ایسی غلیظ غیر مہضم مادہ خبیثہ کا استفراغ کیا ہے چودھویں صدی کے مسیح کی ڈکشنری شائع ہوگی۔
(نوٹ: مرزا کی گالیوں پر مشتمل کتاب
شائع ہوچکی ہے۔ وہ ملاحظہ کی جائے)
ناظرین! غور فرمائیں کہ میں نے بہت با کراہ تمام دکھایا ہے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ جس نکلی ہوں اور خود اسی جھوٹے کی تصانیف ایسے بیہو سے جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ تم ہم کو گالیاں دیتے ہو ہم ہم رحمت مانگتے ہیں۔
ہات تیرے جھوٹے کی دم میں نمد!۔
٩
سب مرزا قادیانی کی تصانیف ہیں ) ملاحظہ کر جائیے تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ خود بدولت مرزا قادیانی کی طبعزاد و مغلظ شکم زاد فحش گالیوں کی تعداد خدا جھوٹ نہ بلوائے تو شمار میں پانچ سو کے قریب ہیں۔
اگرچہ وہ فحش گالیاں نقل کرنے کے قابل نہیں۔ مگر مرزائیوں کی زبان بند کرنے کے لئے اور مرزا قادیانی کو اس کا ثواب پہنچانے کے لئے بدل ناخواستہ ان میں سے بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں۔
مرزا قادیانی کی شکم زاد مغلظ گالیوں کا نمونہ
اے بدذات فرقہ مولویاں، اندھیرے کے کیڑو، اندھے، نیم دھریہ، ابولہب، پلید دجال، اول الکافرین، بے ایمان، اندھے مولویو، بدذات جھوٹا، بدگوہری ظاہر کرنے، باطنی جذام، بدچلن، بددیانت، بے حیا انسان، جیتے جی مر جانا، یہودیت کا خمیر، خنزیر سے زیادہ پلید، خالی گدھے، سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں پر سوروں اور بندروں کی طرح (کہئے مرزا قادیانی کیسی جھوٹ کی قلعی کھلی) رئیس الدجالین، روسیاہ، راس الغاوین، زندیق، شیخ نجدی، عقیب الکلب (یعنی سگ بچگان کہئے مرزا قادیانی یہ سب سچ ہے نا) غول الاغوی، جھوٹ کا گوہ کھایا (مرزا قادیانی نے چن چن کر گالیاں تصنیف کی ہیں) شریر، مکار، عقاب، فیمت (اب تو مرزا قادیانی نے موت کا مزہ چکھا ہوگا) فرعونی رنگ، کتے، گدھا، غرض ہزاروں جگہ مرزا قادیانی نے ایسی غلیظ غیر معلم مادہ خبیثہ کا استفراغ کیا ہے جو برائے خود ایک کتاب کی صورت میں بنام چودھویں صدی کے مسیحی ڈکشنری شائع ہوگی۔
(نوٹ: مرزا کی گالیوں پر مشتمل کتاب مغلظات مرزا احتساب قادیانیت میں پہلے شائع ہو چکی ہے۔ وہ ملاحظہ کی جائے)
ناظرین! غور فرمائیں کہ میں نے بہت ہی مختصر طور پر نمونہ مرزا قادیانی کی گالیوں کا باکراہ تمام دکھایا ہے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ جس جھوٹے مفتری کی زبان سے ایسی ایسی گالیاں نکلی ہوں اور خود اسی جھوٹے کی تصانیف ایسے بیہودہ فحش سے بھری ہوں وہی جھوٹا کتنی دریدہ دہنی سے جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ تم ہم کو گالیاں دیتے ہو ہم تمہارے لئے دعا کرتے ہیں تم لعنت بھیجتے ہو۔ ہم رحمت مانگتے ہیں۔
بات تیرے جھوٹے کی دم میں نمدا۔ ایسی بے پر کی کوئی اڑاتا ہے۔ آپ کو ذی ہوش
ہوں سلطان القلمی کے دعوے دار ہوں۔ مگر دروغگو را حافظہ نباشد صحیح نکلا۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے۔
پھر بقول صاحب (عصائے موسیٰ ص ١٤٧) ان ہی الفاظ پر کفایت و بس نہیں فرماتے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے عربی عبارات میں عجیب لعنتیں تصنیف کر کے لکھی ہیں۔ مثلاً رئیس الدجالین اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن الله الف الف مرة !
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
راقم ...... ”ذلك خسران الدنيا والآخرة“ کہ مرزا قادیانی کی زبان سے بجائے درود ہزارہ کے ہزاروں لعنتیں نکلی ہیں۔ یعنی مسلمان مؤمنین تو درود ہزارہ پڑھتے ہیں اور مرزا قادیانی کے یہاں ہزار لعنتوں کی پھنکار برس رہی ہے۔ اپنا اپنا نصیب ۔
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
لعنة الله علیٰ الکاذبین کے سوا اور کیا کہیں گے۔
اس کے بعد ص ٢٦ تا ٢٧ تک جھوٹی من گھڑت کہانی صوبہ بنگال کے مسلمانوں کی لکھی ہے۔ جس کا (خلاصہ یہ ہے کہ نعوذ باللہ منہا) قولہ کیا امراء کیا عوام قریباً سب کالی مائی کی پرستش کرتے ہیں اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس قدر شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ انہوں نے پرستش کے لئے گھر میں کالی کا بت رکھ چھوڑا ہے۔
اقول ناظرین! ذرا مرزائی طالب العلم کے سفید جھوٹ کو ملاحظہ کریں کہ صوبہ بنگال میں کوئی مسلمان نہیں۔ قریباً سب کے سب مشرک ہیں اور کالی کی پوجا کرتے ہیں۔ ”فلعنة الله على الكاذبين “ ان کو مجسم جھوٹ کہوں یا جھوٹ کی مشین ۔ کس بیدردی سے صوبہ بنگال کے مسلمانوں پر شرک کا الزام دے رہا ہے۔ کیوں نہ ہوتا قادیان کی تعلیم اور خلیفہ المسیح کی صحبت کا اثر اتنا بھی نہ ہوتا پھر مرزائی کیسے ۔ مگر جھوٹے کو اس کا مطلق خیال نہ رہا کہ خود یہی ملک جی صوبہ بنگال ہی کے ایک نہایت ہی کور دہ قریہ کوی کے رہنے والے ہیں۔ شاید ان کے یہاں تقریبات میں کالی جی بھی پجتی ہوں تو یہ دوسری بات ہے۔ اسی پر سارے بنگال کے مسلمانوں کو قیاس کرنا بالکل لڑکپن ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بنگال کی سرزمین خصوصاً اور سارا ہندوستان عموماً قدوم میمنت لزوم سے حضرت امام المسلمین سید احمد شہید اور ان کے خلیفہ مولوی کرامت علی صاحب جونپوری کے سارا بنگال بفضلہ تعالیٰ اسلام آباد ہو گیا اور ان بزرگان کے فیضان سے شرک اور بدعت جس قدر خدا
١٠
نے چاہی مٹ گئی اور اب تک بھی دوسرے بزرگواروں کے فیض بنگال کے اضلاع جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ سیر کرو اور اپنی بعد مسلمانوں کی تاریخ اسلام لکھنے کا حوصلہ کرو۔ فقط اپنے خاندانی نے جو شرک عالمگیر قیاس کر لیا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیا ضلع بـ ملکوں کی بستیوں میں جو مشرکانہ رسم شادی بیاہ میں باوجود تعلیم ا اس کا وہ انکار کر سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں اور سب رسومات بدعیہ کو تو کہیں کہ دادا غوم ان کے کون تھے۔ جس کا روٹ وزنی دہ سیر ہـ کے ساتھ چڑھایا جاتا ہے۔
ساڑھے بیس گز
بھر کے لایا ہے
دادا غوم
راقم ...... کہئے ملک جی ! کیسے پتے کی سنائی ۔ ہوش تو آ گیا تھوپ دیا تھا۔ مگر میں نے تو اس شرک کا خوانچہ آپ ہی کے ماتھے تھوپا ۔ چونکہ میں بھی ملک ہوں مجھ کو اس سے انکار نہیں میرے یہاں بھی ہوئی ہوگی ۔ مگر ایک زمانہ گزرا کہ بندگانِ دیـ شرفائے ملک زادگان کی بستی سے بحمدہ مفقود ہو گیا ہے اور شرفـ طرح سے ہوئی اور ہو رہی ہے۔ ہاں چند کور دہ قریوں میں اہـ جیسے کوی، آڑھا، وانکڑ وغیرہ وغیرہ جہاں ملک جی کا وطن مالوف
اس کے بعد ص ٧ میں میاں صاحبزادہ نے ایک قابل دید ہے۔ قولہ کہ جس کو ایک غیور مسلمان سن کر ضرور افسو اول مرزا قادیانی کے واقعات روزمرہ کو پیش نظر ر نہ ہوتا ۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو ایسے ہی کسب حلال پر ادھار کھایا وہ دستار خلافت بندھ گئی ہے۔ میاں ! ذرا اپنی آنکھ کے شہتیر کہانی جماؤ۔ کیا تم نے رسالہ دار المہجر سید امیر شاہ صاحب کا مرزا قادیانی نے بیٹا دینے کی بشارت دی اور ایک سال کی
١١
نے چاندی مٹ گئی اور اب تک بھی دوسرے بزرگواروں کے فیضان سے مٹ رہی ہے۔ ذرا جا کر بنگال کے اضلاع جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ سیر کرو اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ پھر اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ اسلام لکھنے کا حوصلہ کرو۔ فقط اپنے خاندان کے کرتوت پر میاں صاحبزادے نے جو شرک عالمگیر قیاس کر لیا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیا ضلع پٹنہ اور مونگیر اور گیا کے بعض بعض ملکوں کی بستیوں میں جو مشرکانہ رسم شادی بیاہ میں باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے رائج الوقت ہے۔ اس کا وہ انکار کر سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں اور سب رسومات بدعیہ کو تو بالائے طاق رکھو۔ مگر ملک جی یہ تو کہیں کہ دادا غوم ان کے کون تھے۔ جس کا روٹ وزنی دہ سیر بڑے شدومد سے بت پرستانہ گیت کے ساتھ چڑھایا جاتا ہے۔
ساڑھے بیس گز لنگوٹ
بھر کے لایا ہے کٹھوت
دادا غوم
راقم ....... کہئے ملک جی! کیسے پتے کی سنائی۔ ہوش تو آ گیا ہوگا۔ تم نے تو بنگال پر مشرکانہ الزام تھوپ دیا تھا۔ مگر میں نے تو اس شرک کا خوانچہ آپ ہی کے سامنے پیش کر دیا۔ عطائے خواجہ وبلقائے خواجہ۔ چونکہ میں بھی ملک ہوں مجھ کو اس سے انکار نہیں کہ کسی زمانہ میں بایام جاہلیت یہ رسم میرے یہاں بھی ہوتی ہوگی۔ مگر ایک زمانہ گزرا کہ بندگان دین کے فیضان سے یہ سب رسوم قبیحہ شرفائے ملک زادگان کی بستی سے بحمدہ مفقود ہو گئی ہے اور شریعت و اتباع سنت کی اشاعت پوری طرح سے ہوئی اور ہو رہی ہے۔ ہاں چند کوردہ قریوں میں ابھی تک دادا غوم کا روٹ جاری ہے۔ جیسے کوسی، آڑھا، دانگڑ وغیرہ وغیرہ جہاں ملک جی کا وطن مالوف ہے۔
اس کے بعد ص ٧ میں میاں صاحبزادہ نے ایک چشم دید واقعہ بھی تصنیف کیا ہے۔ وہ قابل دید ہے۔ قولہ کہ جس کو ایک غیور مسلمان سن کر ضرور افسوس کر لے گا۔
اول مرزا قادیانی کے واقعات روزمرہ کو پیش نظر رکھتے تو ملک جی کو ہرگز افسوس کا مقام نہ ہوتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو ایسے ہی کسب حلال پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ اب خلیفہ جی کے سر پر وہ دستار خلافت بندھ گئی ہے۔ میاں ! ذرا اپنی آنکھ کے شہتیر کو دیکھ لو۔ پھر دوسرے پر من گھڑت کہانی جماؤ۔ کیا تم نے رسالہ دار میجر سید امیر شاہ صاحب کا واقعہ بالکل اپنے دل سے بھلا دیا کہ مرزا قادیانی نے بیٹا دینے کی بشارت دی اور ایک سال کی میعاد مقرر کی اور پانچ سو روپیہ کا توڑہ
١١
نتیجہ نکلا۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کے الفاظ پر کفایت و بس نہیں فرماتے۔ تہمتیں تصنیف کر کے لکھی ہیں۔ مثلاً افتراء!
(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
مرزا قادیانی کی زبان سے بجائے ن تو درود ہزارہ پڑھتے ہیں اور پنالصیب۔ شانہ کیا زمانہ کیا
صوبہ بنگال کے مسلمانوں کی لکھی ام قریباً سب کالی مائی کی پرستش میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ انہوں
ت کو ملاحظہ کریں کہ صوبہ بنگال ہ جا کرتے ہیں۔ فلعنۃ اللہ س بیدردی سے صوبہ بنگال کے اور خلیفہ المسیح کی صحبت کا اثر اتنا خود یہی ملک جی صوبہ بنگال ہی کے یہاں تقریبات میں کالی جی مانوں کو قیاس کرنا بالکل لڑکپن ن عموماً قدوم میمنت لزوم سے علی صاحب جونپوری کے سارا شرک اور بدعت جس قدر خدا
پیشگی وصول کرلیا۔ مگر جھوٹے اور مکاروں کا خدا ناس کرے کہ ١٥؍ اگست ١٨٨٨ء جس تاریخ کو زبردستی مرزا نے یادداشت میں لکھوائی تھی۔ اس کو آج ٢٣ سال گزر گئے کہ جھوٹا روسیاہ رہا مگر توشہ جہنم ہو گیا۔
اسی طرح کے ایک دو نہیں بہت سے ہتھکنڈے مرزا قادیانی کے مشہور ہیں۔ اگر اس کی تفصیل دیکھنا چاہتے ہو تو رسالہ ’’مسیح کاذب‘‘ اور ’’چودھویں صدی کا مسیح‘‘ اور ’’عصائے موسیٰ‘‘ اور ’’الذکر الحکیم‘‘ وغیرہ منگا کر دیکھ لو۔ تب تمہاری آنکھ کی شہتیر کا پتہ چل جائے گا۔
لالچ اور زرطلبی کا ذکر مصنف کی زبان سے نکلتے ہوئے اگر شرم ہوتی تو مرزا قادیانی کے کارناموں کو یاد کرکے سراج المنیر اور براہین احمدیہ کا پیشگی چندہ فریب سے لے کر مرزا قادیانی کا زر کثیر ہضم کر جانا اور وعدہ کے مطابق کتابوں کو چھاپ کر شائع نہ کرنا بھول نہ جاتا اور اپنے گریبان میں منہ چھپا لیتا۔
میرے عزیز! خفا نہ ہونا۔ یہ اظہار حق ہے۔ بھلا تم نے مرزا قادیانی کے خسر کا قصیدہ بھی قادیان میں ہنگام طالب العلمی بلدۂ قنوج سنا ہے؟ یار چھپانا نہیں۔ مجھ کو بھی دو چار شعر اس کے یاد ہیں۔ لو اگر تم کو یاد نہ ہو تو میں یاد دلاتا ہوں۔ (اشعۃ السنۃ نمبر ١٢ ج١٤ ص ٣٧١) میں چھپ کر مرزا قادیانی کے ملاحظہ سے گزر چکا ہے اور اس پر گویا ان کی منظوری ہوچکی ہے۔ کیونکہ اس کا کچھ جواب نہ دیا گیا۔
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
آج دنیا مکر سے لبریز ہے اب دغابازی پہ ہر اک تیز ہے
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے نومسلم آج احمد بن گئے
قولہ ...... حدیثوں میں بالکل ٹھیک آیا کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ مسلمان یہودی اور نصرانی ہو جائیں گے۔
اقول ...... یہ تو آپ نے ٹھیک لکھا۔ آپ ہی کے ایک بھائی ملک جی کوسی والے یہودی تو کیوں ہوتے اس لئے کہ کچھ اس میں فائدہ ہی کیا ہوتا۔ مگر ہاں عیسائی ضرور ہو گئے اور بپتسمہ لے کر
١٢
معہ بی بی کے کرسچان ہو گئے۔ کہو یار کیسی سچی حدیث ہوئی ا
آنچہ خواہی کن پر عمل کرو۔
قولہ ...... کہاں تک اس بات کو روؤں۔
اقول ...... اب رونے سے کیا ہوتا ہے چڑیا چگ گئی کھیت بندگان خدا اور مسلمانوں کو دھوکہ میں نہ ڈالو۔ میاں صاحب نے اپنے جھوٹے الہاموں سے ایسی اڑائی ہیں کہ ہرگز قا الہام سے واقف نہیں ہو کہ مرزا قادیانی خود خدا، خدا کے با بن گئے ہیں۔ دیکھو ان کا الہام مندرجہ ذیل۔
- .......١ کتاب البریہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’
خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔‘‘
- .......٢ ’’انت منی وانا منک‘‘
یعنی خدا کہتا ہے کہ مرزا قادیانی تو مجھ سے ہے او
- .......٣ ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘ (تتمہ
یعنی تو مجھ سے میری اولاد کے برابر ہے۔
ناظرین آپ ملاحظہ فرماویں کہ میاں منصور صا نکالا ہے۔ کہاں تک اس پر قائم ہیں۔ جب کہ ان کے گرو کے اپنے جاہل مریدوں کو تباہ اور گمراہ کر ڈالا ہو۔
قولہ ...... ص١٣ میں ملک منصور صاحب یوں گلریز ادا ہیں جب کہ صرف وہی شخص ایماندار رہ سکے گا جو ایک بکری چراوے اور اس کے دودھ سے گزارا کرے۔
اقول ...... کیا مرزا قادیانی میں یہ بات تم نے دیکھی تھی نے کبھی پائی تھی کہ فقر اور تذلل اور مسکینیت وانکساری کی طر تم نے محض زبانی جمع خرچ لگا دیا۔ اب ہم سے سنو کہ مرزا اس بیچارے کو ایسی پاک اور مخلصانہ زندگی کی ہوا ہی نہیں میں رئیسانہ امارت، پرائے مال سے رغبت، درویشی اور لا نے ان کی شان میں یہ سب صفات سچ لکھے ہیں۔ جناب
١٣
معہ بی بی کے گڑھے میں گر گئے۔ کہو یار کیسی سچی حدیث ہوئی۔ غیرت ہو تو شرماؤ۔ ورنہ بے حیا باش آنچہ خواہی کن! پر عمل کرو۔
قولہ ....... کہاں تک اس بات کو روؤں۔
اقول ....... اب رونے سے کیا ہوتا ہے چڑیا چگ گئی کھیت! توحید کا تو خدا کے لئے نام لے کر بندگان خدا اور مسلمانوں کو دھوکہ میں نہ ڈالو۔ میاں صاحب! توحید کی دھجیاں تو خود مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹے الہاموں سے ایسی اڑائی ہیں کہ ہرگز قابل رفو نہیں۔ کیا تم مرزا قادیانی کے الہام سے واقف نہیں ہو کہ مرزا قادیانی خود خدا، خدا کے باپ، خدا کا بیٹا (معاذ اللہ) سبھی کچھ بن گئے ہیں۔ دیکھو ان کا الہام مندرجہ ذیل۔
- ١...... کتاب البریہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں
خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- ٢...... ”انت منی وانا منك“
(دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
یعنی خدا کہتا ہے کہ مرزا قادیانی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
- ٣...... ”انت منی بمنزلة اولادی“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
یعنی تو مجھ سے میری اولاد کے برابر ہے۔
ناظرین آپ ملاحظہ فرماویں کہ میاں منصور صاحب نے جو توحید کا ذکر اپنے منہ سے نکالا ہے۔ کہاں تک اس پر قائم ہیں۔ جب کہ ان کے گرو جی نے توحید حقیقی کا اس طرح خون کر کے اپنے جاہل مریدوں کو تباہ اور گمراہ کر ڈالا ہو۔
قولہ ....... ص ١٣ میں ملک منصور صاحب یوں گہر فشاں ہیں کہ ایک ایسا فتنہ کا زمانہ آنے والا ہے۔ جب کہ صرف وہی شخص ایماندار رہ سکے گا جو ایک بکری لے کر جنگل میں چلا جاوے۔ اس کو چراوے اور اس کے دودھ سے گزارا کرے۔
اقول ....... کیا مرزا قادیانی میں یہ بات تم نے دیکھی تھی یا اس طرح کی روش مرزا قادیانی میں تم نے کبھی پائی تھی کہ فقر اور تذلل اور مسکینیت وانکساری کی طرف مرزا قادیانی کبھی مائل بھی ہوئے یا تم نے محض زبانی جمع خرچ لگا دیا۔ اب ہم سے سنو کہ مرزا قادیانی کیسے تھے۔ افسوس تو یہی ہے کہ اس بیچارے کو ایسی پاک اور مخلصانہ زندگی کی ہوا ہی نہیں لگی تھی۔ مزاج میں فرعونیت، ظاہرداری میں رئیسانہ امارت، پرائے مال سے رغبت، درویشی اور انکساری سے کراہت، البتہ ان کو تھی۔ کسی نے ان کی شان میں یہ سب صفات سچ لکھے ہیں۔ جناب معلی القاب آکل الپلاؤ والکباب، شائق
١٣
الاحقر ثم الاصغر، عاشق المسک والعنبر ۔ حضرت مسیح زمان عیسیٰ دوران حکیم مولوی مرزاغلام احمد قادیانی، مجدد، محدث، مہدی، نبی، رسول ومعاذ اللہ! بلکہ خود خدا، خدا کے باپ، خدا کے بیٹے، گرمیوں میں بغیر تہ خانہ کے زندگی دشوار، بادہ ہائے شربت برف سے مست و سرشار۔ لو اب تمہیں اپنے ایمان سے حضرت سرور کائنات ﷺ کے ارشاد کا موازنہ کرو کہ مرزا قادیانی کا طرز عمل ویسا تھا۔ جیسا تم نے ص ١٢٣ میں لکھا ہے؟ ہرگز نہیں، واللہ ہرگز نہیں۔ انہیں سب اسباب سے تو میں اور سب ارباب طبع سلیم مرزا قادیانی کا انکار بہزار اصرار کر کے ان کی مخالفت کرنے لگے اور بحمدہ متحقق ہو گیا کہ وہ بڑے پکے دوکاندار تھے اور لطف کہ یہ سب بھید مرزا قادیانی کا کسی غیر احمدی نے نہیں کھولا۔ اجی وہی مخلص احمدی بیس برس کے رفیق خاص اور مریدان با اخلاص جنہوں نے اپنا مال مرزا قادیانی کی دوکانداری کے پیچھے ہزاروں در ہزار لٹا دیا اور ذرہ بھی جبین پر شکن نہ لائے۔ ہاں جب حد سے زیادہ مرزا قادیانی بڑھنے لگے اور اپنی نبوت اور مسیحیت بگھارنے لگے تو انہیں لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق رفیق بخشی کہ مرزا قادیانی کے سب راز نہانی اور الہامات شیطانی اور چرب زبانی کا پورا فوٹو کھینچ کر عالم میں دکھا دیا۔ لو مجھ سے ان حضرات بابرکات کے نام بھی سنو۔ جناب منشی الہی بخش صاحب اکاونٹنٹ لاہور، ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ، میر عباس علی صاحب لدھیانہ، فتح خاں صاحب، منشی غلام قادر صاحب، حکیم مظہر حسن صاحب، حافظ حامد علی صاحب وغیرہ وغیرہ۔
دیکھو (عصائے موسیٰ ص ٩٧) جو مرزا قادیانی کے بست سالہ مرید تھے اور مخلصین تھے اور ان کے سوا ہزاروں ایسے ہیں کہ قبل میں خوش اعتقادی کے ساتھ مرزا قادیانی کے طرفدار تھے۔ جب ان کا حال پر ضلال کھلا تو سب کے سب ان سے بیزار ہو گئے۔ راقم بھی ایک ان کے باخلاص مریدوں میں تھا اور حین اقامت ضلع فتح پور ان کے ساتھ راسخ الاعتقادی کا دم مارتا تھا۔ مگر ہزار ہزار شکر اس پاک بے نیاز خدائے ذوالجلال کا جس نے اس خاکسار کو اپنے فضل و کرم سے مرزا قادیانی کی کارستانیوں پر جلد مطلع و آگاہ کر دیا اور ان کی نبوت باطلہ کو دور ہی سے سلام کر کے مراد آباد جا کر حضرت مولانا و مرشدنا شاہ فضل الرحمٰن قدس اللہ سرہ العزیز کے ہاتھ پر اپنے سابق اعتقادات باطلہ سے توبہ کر کے داخل سلسلہ رحمانیہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سابق اعمال باطلہ کو بخشے اور جو لوگ ابھی تک بادیہ ضلالت میں گم گشتہ ہیں ان کو بھی سیدھی راہ دکھا دے۔
پیارے عزیز! آپ نے حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی مدظلہ العالی کی طرف اشارہ کر کے
١٤
لکھا ہے کہ: ”ہمارے علماء اور آئمہ کا یہ حال ہے کہ اپنا الو سیدھا کر کے حق کو جھوٹ دکھانا چاہتے ہیں تو عوام کا پھر اللہ حافظ“
میں بھی قسم ہے خدا کی آپ کے قول سے بالکل موافق ہوں بالکل یہی حال ہے کہ راست اور حق کو جھوٹ دکھاتے ہیں یا جھو ٹ کی کوشش کرتے ہیں۔ غرض نتیجہ دونوں کا ایک ہے۔ اس کے ثبو ت پر نظر ڈالئے۔
اب (کشتی نوح) سے مرزا قادیانی کے چار سفید جھوٹ سنئے لکھتے ہیں: ”یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ تورات کے صحیفوں میں مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
اسی کتاب کے (حاشیہ) میں لکھتے ہیں۔ مسیح موعود کے وقت طاعو ن کا زور ہوگا۔“
پہلا جھوٹ مرزا قادیانی کا
اولاً قرآن شریف میں کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ مسیح موعو د کے وقت طاعون پڑے گی۔ میں بڑے زور سے مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر مرزائی سچے ہ یں تو ایک ماہ کے اندر قرآن شریف سے ثبوت اس کا شائع کریں۔ ورنہ جہالت کی باتیں نہ بنائیں اور کبھی مرزا قادیانی کی مسیحیت نہ بگھاریں۔
دوسرا جھوٹ مرزا قادیانی کا
تورات (کتاب زکریا نبی باب ١٤، آیت ١٢) میں یہ ہرگز نہیں آ یا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔ بلکہ اس میں تو اس قوم پر مری پڑنے کا ذکر ہے۔ جو ی روشلم پر حملہ کرے گی۔ لے یہاں آکر خود بخود مرزا قادیانی کی زبان سے یہ سبقت اللسان“ آخر بک ہی گیا کہ پیش گوئی انبیاء علیہم السلام کی ٹل جایا کرتی ہیں۔ ورنہ تو مرزا قادیانی اپنی پیشین گوئیاں جو ٹل گئیں۔ اس میں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس بے سروپا قصہ کو جاہلوں کے ڈھارس باندھنے کے لئے کیوں تصنیف فرمایا اور ناحق خدا نے قوم کی ہلاکت فرمائی تھی۔
١٥
لکھا ہے کہ: ”ہمارے علماء اور آئمہ کا یہ حال ہے کہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے راست اور حق کو جھوٹ دکھانا چاہتے ہیں تو عوام کا پھر اللہ حافظ“
میں بھی قسم ہے خدا کی آپ کے قول سے بالکل موافق ہوں کہ آپ کے علماء اور آئمہ کا بالکل یہی حال ہے کہ راست اور حق کو جھوٹ دکھاتے ہیں یا جھوٹ پر ملمع سازی کر کے سچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غرض نتیجہ دونوں کا ایک ہے۔ اس کا ثبوت ہم سے لیجئے اور اپنے گریبان میں منہ ڈالئے۔
(کشتی نوح) سے مرزا قادیانی کے چار سفید جھوٹ بڑے زور سے ظاہر کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
(حاشیہ) میں لکھتے ہیں۔ مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی کتابوں میں موجود ہے۔“
(زکریا باب ١٤ آیت ١٢، انجیل متی)
پہلا جھوٹ مرزا قادیانی کا
قرآن شریف میں کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔ میں بڑے زور سے مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر مرزائی سچے ہیں تو اپنے خلیفہ سے آج سے ہفتہ کے اندر قرآن شریف سے ثبوت اس کا شائع کریں۔ ورنہ جہالت اور کور باطنی کا علاج کریں اور پھر کبھی مرزا قادیانی کی مسیحیت نہ بگھاریں۔
دوسرا جھوٹ مرزا کا
(کتاب زکریا نبی باب ١٤، آیت ١٢) میں یہ ہرگز نہیں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔ بلکہ اس میں تو اس قوم پر مری پڑنے کا ذکر ہے۔ جو یروشلم پر چڑھ آویں گے۔
١ ؎ یہاں آ کر خود بخود مرزا قادیانی کی زبان سے بمصداق ”الحق یجری علی اللسان“ آخر بک ہی گیا کہ پیش گوئی انبیاء علیہم السلام کی ممکن نہیں کہ ٹل جائیں۔ پھر بقول مرزا قادیانی ان کی پیشین گوئیاں جو ٹل گئیں۔ اس میں جھوٹ موٹ حضرت یونس علیہ السلام کے بے سر و پا قصہ کو جاہلوں کے ڈھارس باندھنے کے لئے کیوں پیش کرتے ہیں۔ کہاں حضرت یونس نے قوم کی ہلاکت فرمائی تھی۔
١٥
راقم ....... واہ مرزا قادیانی! کیا بے پرکی اڑائی ہے کہ ہر صحیح الحواس اس جھوٹ کی عفونت سے پریشان ہے۔ مگر مرزائی ہیں کہ ان کو عطر کا کام دے رہا ہے۔
تیسرا ڈبل جھوٹ مرزا قادیانی کا
(انجیل متی باب ٢٤ آیت ٨) میں یہ نہیں لکھا ہے کہ: ”مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“ بلکہ اس کے برعکس اس میں لکھا ہے کہ: ”جب جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آویں گے۔ تب مری پڑے گی اور بھونچال آویں گے۔“ (انجیل متی باب ٢٤ آیت ٨) اور جھوٹے لکھنے والے پر اور تو کیا خود بدولت ہی کی تصنیف کردہ ہزار لعنت کا ورد کرو۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی کہ ہر طرف سے مرزا قادیانی کے جھوٹ کی ٹونڈی کسی گئی کہ کسی طرف بھاگ نہیں سکتے۔
چوتھا جھوٹ مرزا قادیانی کا
(مکاشفات یوحنا باب ٢٤ آیت ٨) میں یہ ہرگز نہیں لکھا ہے کہ: ”مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گا۔“ میرے پیارے عزیز ملک منصور صاحب اپنے امام یعنی مرزا قادیانی کے صریح جھوٹ کو دیکھو واقعی بھائی تم نے سچ لکھا کہ جب ہمارے علماء اور ائمہ کا یہ حال ہے کہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے سچ کو جھوٹ دکھانا چاہتے ہیں۔
اب خدا کے لئے ذرا ایمان سے کہہ دو کہ مرزا قادیانی نے کیسا ڈبل جھوٹ لکھا اور اپنے مریدوں کو کیسا اندھا بنا چھوڑا۔ کسی نے بھی تو جرأت نہ کی کہ مرزا قادیانی کو ذرا ٹوکتے کہ حضرت جی یہ کیا غضب ڈھا رہے ہو۔ مخالف آپ کی دھجیاں اڑا دیں گے۔ نعوذ باللہ! اس قدر موٹا اور سفید جھوٹ کہ ریلوے اسٹیشن کے سگنل پوسٹ کی طرح دور ہی سے دکھائی دیوے۔ کیا آپ کے مخالف بھی آپ کے مریدوں کی طرح نشیب وفراز پر نظر نہ ڈالیں گے اور حضرت جی کے جھوٹی ہانک پر سب بجا اور درست کا نعرہ لگا کر لقمہ چرب کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ افسوس بلکہ ڈبل افسوس ہے ایسے شخص کی دلیری پر جو دیدہ و دانستہ لوگوں کو دھوکہ میں ڈالنے کے لئے جھوٹ کے کاغذی گھوڑے خانہ ساز مطبع سے دوڑایا کرے اور خدا اور اس کے رسولوں پر تہمت دھرے۔ فلعنة اللہ علی الکاذبین!
میرے عزیز! تم توریت کے حوالہ دینے سے شاید بہت خفا ہو گئے۔ کیونکہ توریت کے احکام کے مطابق مرزا قادیانی کے ایسے جھوٹے ملہم اور کاذب نبی کی سزا قتل مقرر ہے۔ تم تو اس کے ورقوں میں توریت وانجیل اور قرآن شریف کے متعلق مرزا قادیانی کے چار صریح جھوٹ دیکھ چکے۔ پھر حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی پر اپنے جلے پھپھولے یوں توڑتے ہو، کہ مؤلف
١٦
موصوف کا دامن صدق و صفا آج تک تحریف وابلہ فریبی ومکر و دجل سے پاک وصاف ہے۔
بھائی صاحب! اگر آپ کے نزدیک چند اخبار کے ایڈیٹروں کا آپ کے بودے اعتراضات آریہ کا جواب دینا ہی مرزا قادیانی کی سچی نبوت کو کافی ہے تو پھر صائب کا کلام اس کے رد میں پیش گوئی کا کام دے
کیا کہئے کور باطنوں کو اتنا بھی تو معلوم نہیں کہ عیسائیوں کو جواب (جن کا مرزا قادیانی کے کبھی خیال میں بھی نہیں گزرا ہوگا) کب سے دیا جاتا ہے۔
میاں! پادری فنڈر اور پادری عمادالدین اور منشی صفدر علی کو جواب کیا مرزا قادیانی نے بھی کبھی دیا ہے۔ اس وقت ان کی سلطان القلمی اور مسیحائی تار برقی کس حجلہ عروسی ١؎ میں زیر نقاب تھیں کہ میدان میں اپنے حریفوں کو منہ دکھانے سے شرماتی تھیں۔ اگر کوئی کتاب ان کے جواب میں لکھی ہو تو کیوں چھپ کر چھپ گئیں۔ لو مجھے سنو بیچارہ مرزا قادیانی کو کہاں ایسا مادہ تھا کہ ان کے سامنے لن ترانیاں بگھارتے۔ پادری فنڈر صاحب کو مولانا رحمت اللہ علیہ نے دہلی میں مناظرہ کر کے سخت عاجز اور ایسا ساکت کیا کہ اسی وقت ہندوستان سے لندن (جہاں سے مناظرہ کے لئے تیاری کر کے آئے تھے۔ وہیں بھاگ گئے۔ آپ کو یہ علم ہی نہ ہو تو یہ دوسری بات ہے۔ ورنہ ہندوستان کے ہر ذی علم ارباب اس کو خوب جانتے ہیں۔ جس کی کیفیت مولانا موصوف نے رسالہ ”اظہار الحق“ میں لکھ کر شائع کی اور وہ ایسی مقبول ہوئی۔ حتیٰ کہ متعدد یورپ کی زبانوں میں ترجمہ ہو کر از گنگ تا سنگا پھیل گئی۔ اور کسی عیسائی سے ولایت کے بھی نہ بن سکا۔ پادری عمادالدین اور منشی صفدر علی کا منہ بند کرنا مصنف فیصلہ آسمانی ہی کے فیضان اور تقریر کا نتیجہ ہے۔ جس کا جواب آج تک کسی دوسرے عیسائی سے نہ دیا گیا۔ حالانکہ ایک مدت دراز ہوگئی۔ (دیکھو رسالہ الہامات، آئینہ اسلام) وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بڑے زور کی تحریریں قوم کے سامنے ہیں۔
١؎ کہیں کوئی مرزائی اس کتاب کے نام سے گھبرا نہ جاوے کہ اس میں محمدی بیگم کی طرف تو کنایہ نہیں۔ حاشا وکلا! یہ تو اس زمانہ کی کتاب ہے جب کہ محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام بھی نہ گیا تھا۔
١٧
موصوف کا دامن صدق وصفا آج تک تحریف وابلہ فریبی ومکر ودروغگوئی سے بحمدہ تعالیٰ بالکل پاک وصاف ہے۔
بھائی صاحب! اگر آپ کے نزدیک چند اخبار کے ایڈیٹروں کے ریمارک اور بقول آپ کے بودے اعتراضات آریہ کا جواب دینا ہی مرزا قادیانی کے لئے نشان مسیحیت اور تصدیق نبوت کافی ہے تو پھر صاحب کا کلام اس کے رد میں پیش گوئی کا کام دے گا۔
کیا کہیئے کور باطنوں کو اتنا بھی تو معلوم نہیں کہ عیسائیوں کا جواب دندان شکن (جو مرزا قادیانی کے کبھی خیال میں بھی نہیں گزرا ہوگا) کب سے دیا جاتا ہے اور دیا جا چکا ہے۔
میاں! پادری فنڈر اور پادری عمادالدین اور منشی صفدر علی عیسائی کا جواب سچ کہنا مرزا قادیانی نے کبھی بھی دیا ہے۔ اس وقت ان کی سلطان القلمی اور مسیحیت اور من گھڑت الہامی تار برقی کس حجلہ عروسی میں زیر نقاب تھیں کہ میدان میں اپنے حریف کے مقابل آنے اور منہ دکھانے سے شرماتی تھیں۔ اگر کوئی کتاب ان کے جواب میں لکھی ہو تو بتاؤ۔ وہ کون سے مطبع میں چھپ کر چھپ گئیں۔ لو مجھ سے سنو بیچارہ مرزا قادیانی کو کہاں ایسا مادہ تھا کہ ان جیسے پادریوں کے سامنے لن ترانیاں بگھارتے۔ پادری فنڈر صاحب کو مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانویؒ نے آگرہ میں مناظرہ کر کے سخت عاجز اور ایسا ساکت کیا کہ اسی وقت ہندوستان سے ولایت چلتا کیا۔ جہاں سے مناظرہ کے لئے تیاری کر کے آئے تھے۔ وہیں بھاگ گئے۔ آپ لوگوں کو یہ واقعہ نہ معلوم ہو یہ دوسری بات ہے۔ ورنہ ہندوستان کے ہر ذی علم ارباب اس کو خوب جانتے ہیں۔ اس مناظرہ کی کیفیت مولانا موصوف نے رسالہ ”اظہار الحق“ میں لکھ کر شائع کی ہے۔ جس کو بڑی قبولیت ہوئی۔ حتیٰ کہ متعدد یورپ کی زبانوں میں ترجمہ ہو کر از گنگ تا فرنگ پھیل گیا اور کچھ جواب کسی عیسائی سے ولایت کے بھی نہ بن سکا۔ پادری عمادالدین اور منشی صفدر عیسائیوں کا جواب حضرت مصنف فیصلہ آسمانی ہی کے فیضان اور تقریر کا نتیجہ ہے۔ جس کا جواب آج تک ان لوگ سے یا کسی دوسرے عیسائی سے نہ دیا گیا۔ حالانکہ ایک مدت دراز ہوگئی۔ (دیکھو ترانہ حجازی، پیغام محمدی، دفع البلیات، آئینہ اسلام) وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بڑے زور کی تحریریں قوی استدلات سے لکھی گئی ہیں
١؎ کہیں کوئی مرزائی اس کتاب کے نام سے گھبرا نہ جائیں کہ پھر منکوحہ آسمانی والی محمدی کی طرف تو کنایہ نہیں۔ حاشا وکلا! یہ تو اس زمانہ کی کتاب ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام بھی نہ کیا تھا۔
١٧
ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت مصنف مدظلہ العالی پوری خدمت اسلام کی بجا لائے ۔ جس سے ہزاروں مترددین مذہب کی تشفی ہوگئی اور عیسائیت کے دام تزویر سے مخلصی پائی ۔
تو پھر کیا آپ لوگوں کے عقائد کے موافق ایسے جواب دندان شکن اور مسکت کے دینے سے مسیحیت اور مہدویت لازم ہو جاتی ہے ۔ نعوذ باللہ منہا! ایسے ڈھلمل یقین نہ ہوتے تو مرزا قادیانی کو مسیح ہی کیوں مانتے ۔
جاہل عیسائیوں اور چند نا تجربہ کار آریوں کے جواب میں باتیں بنالینی اور جھوٹی پیش گوئی آتھم کی موت کی سنانی اور میعاد ختم ہونے پر ٦ ستمبر کی پشیمانی مرزا قادیانی کو مبارک ہے ۔
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
میاں صاحب ! آپ کو اتنا بھی تو معلوم نہیں کہ اوپر کے سب رسالے حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کے پر زور قلم کا نتیجہ ہیں ۔ جب ہی تو آپ نے لکھا کہ جس وقت عیسائیوں کا مناظرہ ہوا اس وقت حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کہاں چھپے ہوئے تھے ۔ کیوں نہیں جواب دیا ۔ ذرا مہربانی کر کے اپنے حکیم خلیفہ المسیح سے پوچھئے اور ان کو ضرور معلوم ہوگا ۔ کیونکہ ان کو بھی ہر چند عیسائیوں کے مناظرہ سے کچھ دلچسپی تو ضرور تھی مگر وہ بھی ان پادریوں کے جواب میں سوائے سکوت کے حمایت اسلام کی طرف کسی وجہ سے جرات نہ کر سکے۔
تو پھر کیا عیسائیوں اور آریوں کا جواب شافی دینا آپ کے نزدیک ملہمانہ شان اور لازمہ مہدویت و مسیحیت ہے؟ استغفر الله من هذا الاباطیل ! میاں صاحبزادہ توبہ کیجئے اور مرزا قادیانی کو مسیح بنا کر مہدی مان کر ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا نہ لگائیے ۔
اور سنو لالہ اندرمن کے اعتراضات واہیہ کا جواب مرزا قادیانی نے دیا یا کسی دوسرے نے ”خلاصۃ الہنود“ مصنفہ مولانا سید حسن شاہ صاحب کشمیری جس نے اندرمن کے دانت کھٹے کر دیئے ۔ بڑی وضاحت اور خوبی سے دلائل قاطعہ سے لکھ کر شائع ہوئی ہے ۔ جی چاہے تو دیکھ لو اور ساتھ ہی اس کے مولانا مولوی محمد علی صاحب مچھلی شہری کی تصنیف نامی ”صمصام الجہاد“ کو بھی دیکھ سکو تو دیکھ آؤ ۔ یا حکیم صاحب سے پوچھ آؤ اور غور سے موازنہ اور مقابلہ فرما کر انصاف کرو کہ اس طرح کا شافی اور مسکت جواب مرزا قادیانی نے کوئی بھی لکھا ہے یا ہر گز نہیں ۔ ہاں یہ ضرور ہم کہیں گے کہ گالیاں دینے میں نئی نئی فحش بد زبانی تصنیف کرنے میں جھوٹی شیخی بگھارنے میں ۔ ان کو البتہ ید طولیٰ تھا۔ یہ اور بات ہے اور مرد میدان بن کر حریف کو شائستگی سے جواب دینا اور بات
خدمت اسلام کی بجالائے۔ جس سے دیر سے مخلصی پائی۔ ایسے جواب دندان شکن اور مسکت کے اللہ منہا ! ایسے ڈھیٹ یقین نہ ہوتے تو
جواب میں باتیں بنالینی اور جھوٹی پیش پشیمانی مرزا قادیانی کو مبارک ہے۔ برا فسانہ کیا غائبانہ کیا اوپر کے سب رسالے حضرت مؤلف لکھا کہ جس وقت عیسائیوں کا مناظرہ تھے۔ کیوں نہیں جواب دیا۔ ذرا مہربانی ہوگا۔ کیونکہ ان کو بھی ہر چند عیسائیوں اس کے جواب میں سوائے سکوت کے
تا آپ کے نزدیک ملہمانہ شان اور طیل ! میاں صاحبزادہ تو یہ کہیئے اور باندھ لگائیے۔
مرزا قادیانی نے دیا یا کسی دوسرے جس نے اندر من کے دانت کھٹے کر مانع ہوئی ہے۔ جی چاہے تو دیکھ لو اور تالیف بھی ”صوت اللہ الجہاد“ کو بھی موازنہ اور مقابلہ فرما کر انصاف کرو کہ لکھا ہے یا ہرگز نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہم انے میں جھوٹی شیخی بگھارنے میں۔ کو شائستگی سے جواب دینا اور بات
ہے ۔ آپ لوگ دل میں تو ضرور اعتراف کریں گے کہ واقعی بڑی غلطی میں پڑے ہوئے ہیں کہ مرزا قادیانی کو سلطان القلم وغیرہ وغیرہ کہا جائے۔ اگر چہ زبان سے کسی شرم ولحاظ اور بیجا مروت سے اس کا اقرار نہ کریں۔ مگر یاد رکھیئے کہ آج دنیا کے چند روزہ شرم و لحاظ کی خاطر اپنا دین خود اپنے ہاتھوں آپ لوگ تباہ کر رہے ہیں۔ جس وقت اس خدائے قدوس مالک یوم الدین کے سامنے آپ کے ہاتھوں میں یہ فرد قرار داد جرم ۔
دیا جائے گا تو مرزا قادیانی یا خلیفہ اس کا کوئی کام نہ آویں گے۔ خدا کے واسطے ذرا تو تخلیہ میں دو منٹ ان امور کو سوچئے۔ اب تک وقت باقی ہے۔ میرا آپ پر کچھ زور نہیں ہے۔ صرف وہی اخوت اسلامی یا انسانی ہمدردی رہ رہ کر دل میں ابھارتی ہے کہ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کو سختی سے نرمی سے جس طرح ہو سکے بلاؤں وہ جامع المتفرقین اگر چاہے گا تو ملا ہی دے گا۔ و ما علینا الا البلاغ !
ص ١٧١ میں میرے دوست نے لکھا ہے کہ وفات مسیح کے مسئلہ کے انکار کی وجہ سے لاکھوں مسلمان عیسائی ہوئے۔
یہ نئی تک بندی آپ کی آج سننے میں آئی۔ شاید اس کی رپورٹ آپ کے مسیحی دربار میں بذریعہ ٹیلی گرافک الہامی مسیح کے قادیان کی گورنمنٹ میں پہنچی ہو۔ جو ابھی تک بصیغہ راز کسی پولیٹیکل مصالح سے اخبار البدر یا الحکم کے دفتر میں بھی اس کی خبر نہ دی گئی۔ جو ہندوستان کی عام پبلک کے گوش زد ہوتا۔ ورنہ لاکھوں مسلمان عیسائی ہو جائیں اور کسی عیسائی مشن ڈیپارٹمنٹ کو خبر نہ ہو۔ مگر ایک قادیانی طالب العلم کو اس کی پوری پوری آگاہی ہو۔ کیوں نہ ہو۔ اے سبحان اللہ ! میاں صاحبزادے کی دور بین ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرض کابوس میں کچھ بڑبڑا رہے ہیں ۔ جلد اپنا علاج کیجئے۔ یہ مہلک عارضہ ہے۔ ایک مختصر علاج تو میں ہمدردانہ ہدیہ کرتا ہوں کہ اپنے جھوٹے مسیح کا پورا نام بھوج کے پتے پر لکھ کر ببول کی لکڑی میں جلا کر اپنی ناک میں دھونی لیجئے۔ ایک ہی دفعہ یہ عمل کرنے سے پھر کبھی بدخوابی اور اول فول بکنے کا اثر باقی نہ رہے گا۔ مجرب نسخہ ہے ہر کہ شک آرد (خدا جانے کیا) گردد !
خیر یہ تحقیقی جواب تھا جو لکھا گیا۔ اب الزامی جواب اس جملہ کا آپ کے یہ ہے کہ شاید مفہوم آپ کا اس جملہ سے کہ لاکھوں مسلمان عیسائی ہو گئے ۔ یہ ہو کہ آپ لوگ جو بہت سے مسلمان اب حیات مسیح کا انکار کر کے مرزائی مسیحی مذہب ہو گئے ۔ اسی کو آپ نے اس جملہ
١٩
میں عیسائی سے تعبیر کیا ہے۔ تو البتہ یہ ٹھیک ہے اور بہت درست ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی مسیحیت اور مہدویت کسی کرسٹان یا آریہ ہندو کو مسلمان بنانے سے تو واقعی عاجز اور مجبور رہی۔ مگر البتہ لاکھوں مسلمانوں کو خلاف ارشاد قرآن کریم و احادیث نبویہ کے ممات مسیح کا مسئلہ وہ بھی سرسید مرحوم کے اوگالدان سے چرا کر تحفہ و تبرک پیش کر کے اچھے خاصے مسلمانوں کو مسیحائی بنا کر رموز حقائق اور معارف قرآنی کے گلے پر کند چھری پھیر کر حلال و خستہ حال کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اصلی حضرت مہدی موعود امام آخرالزمان علیہ الف الف تحیۃ والسلام ( روحی فداہ ) کی تشریف آوری سے تو دنیا میں خیر و برکت اور ہدایت اس قدر پھیل جائے گی کہ کسی کو بھی مجال انکار باقی نہ رہے گا اور ہر طرف اسلام ہی اسلام دکھائی دے گا۔ مسلمانوں میں خیر کثیر اور دولت کی استغنائی اس قدر ہوگی کہ کوئی بھیک لینے والا نہ رہے گا۔ مگر مرزا قادیانی کے مہدویت اور مسیحیت کا عجیب الٹا اثر ہو گیا کہ ہدایت کے بدلے ضلالت میں مسلمان مبتلا ہو گئے کہ لاکھوں قدیم الاسلام ان کی وجہ کر کے جدید عیسائی بن گئے اور تمول کی جگہ مفلس قلندر ہو گئے۔ عاقبت ندارد، وباء، ہیضہ، بلاء طاعون، لال بخار، بھونچال اس قدر کثرت سے ہے کہ اللہ کی پناہ۔
گر بہ دریا رود بر آرد دود
ص ١٩ میں میرے نو آموز مصنف نے لکھا ہے کہ: ” کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کتابوں کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کے مؤرخ ( یہ مؤلف کی خرابی ہے ) تو بولے نہیں اور آپ نے اپنی ہانک دی۔“
میرے عزیز منصور بیگ صاحب! زیادہ بات نہ بنائیے۔ مجھ کو سب حقیقت مرزا قادیانی کی معلوم ہے اور اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی جس کا نام قصیدۂ اعجازیہ رکھا گیا ہے اور جس شخص سے پورے پانچ سو روپیہ دے کر لکھوائے گئے ہیں۔ مجھ پر پورے طور سے ظاہر ہے۔ میں بھی مرزا قادیانی کے راز داروں میں پہلے بہت دن تک رہ چکا ہوں۔ گھر کا بھیدی ہوں۔ حکیم خلیفۃ المسیح صاحب سے اگر چاہو حلفاً پوچھ دیکھو۔ لو مجھ سے اس کی حقیقت سن لو۔ بھوپال میں جناب نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کے یہاں جو ایک عرب کا شاعر شیخ سعید بن محمد طرابلسی وارد تھا اور واقعی نظم ونثر میں عربی کے اگرچہ ہندوستان کے اعتبار سے تو البتہ ممتاز شخص تھے۔ مگر عرب میں شعراء اہل فن کے خوشہ چین تھے۔ شیخ عبدالقادر طرابلسی مہاجر مدینہ طیبہ جو قطع نظر اور
٢٠
علوم دینیہ کے خاص علم ادب اور شاعری میں مرجع خاص و عام سے زیادہ وقعت ان کی نہ تھی۔ بضرورت دنیا عرب سے ہند قادیان میں ملے۔ ضرورت تو ان کو دامنگیر تھی ہی۔ مرزا قادیا پھوٹی عربی نثر میں ادا کر کے ان سے قصیدہ کی فرمائش کی او سراسری طور پر یہ دو قصیدہ اس نے لکھ دیئے اور رسالہ دار میجر سی کی رقم ( جو مرزا قادیانی نے جھوٹ فرزند ہونے کے الہام قصیدہ کے محنتانہ میں نذر ہوئی۔
کا مضمون بھی ٹھیک ہو گیا۔ یہ انہیں عرب کی اکل سلطان القلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میاں صاحبزادہ! آپ بگڑ کو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ رسالہ الہامات مرزا کے م ہر ہر شعر کی نحوی وصرفی وعروضی غلطیاں نکال کر طبع اوّل پر ( یا ( پورے ہزار کا ) اور طبع ثالث ١٩٠٤ء میں ڈبل انعام دو ہزار ر کے بعد مرزا قادیانی جیتے رہے۔ مگر انعام پانے کی جرات سکے۔ آپ بیچارے عربی سے نابلد اس کو آپ کیا جان سک
مرزا قادیانی کی اور دوسری عبارتیں جو ایک سطری دو سطری خ سے ان دونوں کتابوں کا مقابلہ وموازنہ کوئی اہل فن ادی مرزا قادیانی کا کرشمہ کھل جاتا ہے اور فسانہ عجائب کا طلسم ٹوٹ بات ہے۔ آپ بیچارے اس کو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کو تو اِ ملاء ہی معلوم نہیں جو صحیح صحیح ملکوں کا نام بھی املاء کر سکیں کام ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسی ص ١٩ سطر ٩ میں لکھا ہے کہ م عرب وشام مصر وطوران سب جگہ گئی۔
راقم ...... بھیا گھبراؤ نہیں۔ ذرا جغرافیہ کے نقشہ میں دیکھ کر طور کے نزدیک تو نہیں؟ کیونکہ تم نے طور ان کو شاید اسی کا مشتق
١؎ میاں تم کو مؤمن جان کا مصرعہ بھی یاد نہ رہا۔ جو لفظ کو میں ہم“ اسی پر اہل تصنیف بننے کا نزلہ اپنے اوپر نازل کر لیا۔ آخر الدیبا
٢١
علوم عربیہ کے خاص علم ادب اور شاعری میں مرجع خاص وعام ہیں۔ ان کے سامنے ایک ہندی سے زیادہ وقعت ان کی نہ تھی۔ بضرورت دنیا عرب سے ہند میں آئے اور مرزا قادیانی سے بھی قادیان میں ملے۔ ضرورت تو ان کو دامنگیر تھی ہی۔ مرزا قادیانی نے اپنے ملہمانہ مضامین کو ٹوٹی پھوٹی عربی نثر میں ادا کر کے ان سے قصیدہ کی فرمائش کی اور آخر تھے اہل زبان۔ فی البدیہہ سراسری طور پر یہ دو قصیدہ اس نے لکھ دیئے اور رسالدار میجر سید امیر علی شاہ صاحب والی (پانچ سو کی رقم) (جو مرزا قادیانی نے جھوٹے فرزند ہونے کی الہامی بشارت دے کر اینٹھی تھی) ان کے قصیدہ کے محنتانہ میں نذر ہوئی۔
کا مضمون بھی ٹھیک ہو گیا۔ یہ انہیں عرب کی اگال ہے۔ جس کو مرزا قادیانی اپنے سلطان القلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میاں صاحبزادہ! آپ سمجھے یہ ہیں مرزا قادیانی کے اعجاز جس کو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے رسالہ الہامات مرزا کے ص ٨٧ لغایت ٩٦ بڑی وضاحت سے ہر ہر شعر کی نحوی وصرفی وعروضی غلطیاں نکال کر طبع اوّل پر (پانچ سو روپیہ کا انعام) اور طبع ثانی پر (پورے ہزار کا) اور طبع ثالث ١٩٠٤ء میں ڈبل انعام دو ہزار روپیہ کا مشتہر کیا اور پانچ برس تک اس کے بعد مرزا قادیانی جیتے رہے۔ مگر انعام پانے کی جرأت نہ کر سکے اور نہ کچھ جواب ہی دے سکے۔ آپ بیچارے عربی سے نابلد اس کو آپ کیا جان سکتے ہیں اور کیونکر پہچان سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اور دوسری عبارتیں جو ایک سطری دو سطری خاص ان کی شکم زاد تصنیف ہیں۔ ان سے ان دونوں کتابوں کا مقابلہ وموازنہ کوئی اہل فن ادیب کرے تو بے تردد صاف طور پر مرزا قادیانی کا کرشمہ کھل جاتا ہے اور فسانہ عجائب کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ خیر یہ تو اہل علم کے سمجھنے کی بات ہے۔ آپ بیچارے اس کو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کو تو ابھی اتنا جغرافیہ جو معمولی مدرسوں میں رائج ہے بھی معلوم نہیں جو صحیح صحیح ملکوں کا نام بھی املاء کر سکیں۔ صحیح عبارت لکھنا تو زیادہ قابلیت کا کام ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسی ص ١٩ سطر ٩ میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی اعجاز المسیح کتاب ملک عرب وشام مصر وطوران سب جگہ گئی۔
راقم ـــــــ بھیا گھبراؤ نہیں۔ ذرا جغرافیہ کے نقشہ میں دیکھ کر بتلاؤ تو کہ طوران کہاں ہے۔ کہیں کوہ طور کے نزدیک تو نہیں؟ کیونکہ تم نے طوران کو شاید اسی کا مشتق سمجھا ہے۔ جبھی تو طاء مہملہ سے املا کیا ہے۔
١؎ میاں تم کو مؤمن خان کا مصرعہ بھی یاد نہ رہا۔ جو لفظ کو صحیح کرتے : "تورانیوں میں یار ہے تورانیوں میں ہم" اسی پر اہل تصنیف بننے کا نزلہ اپنے اوپر نازل کر لیا۔ نرے دیہاتی یعنی کوہی کے رہنے والے۔
٢١
کیا ہے؟ خیر اس کو بھی درگزر کرو۔ وہاں کا دارالسلطنت کون شہر ہے اور وہاں کی زبان کیا ہے؟ چنگیزی یا جاپانی یا منگولی۔ میرے یار ذرا صاف بتا دو تم نے تازہ جغرافیہ پڑھا ہے اور پڑھا بھی کہاں کی یونیورسٹی قادیان میں اور ذرا مہربانی کر کے یہ بھی بتا دینا کہ ملک شام کس سرزمین میں واقع ہے۔ کیا دشت قپچاق کے قریب کوئی ملک کا نام تو نہیں ہے۔ یار تم نے شاید میر تقی خیال کے بوستان خیال سے یہ سب شہروں کا نام معلوم کیا ہے۔ شرم، شرم، ہزار شرم۔ چھوٹا منہ اور بڑا نوالہ۔ گندم اور نمکیں گولہ۔ ذرا اپنی بساط کو دیکھئے اور فیصلہ آسمانی کے جواب لکھنے کو حکیم خلیفہ المسیح تو باوجود ہمہ قرآن دانی اور معارف اور حقائق شناسی کے بیچارے فیصلہ آسمانی کے جواب لکھنے سے دم بخود ساکت ہوں اور بیچارہ طالب العلم ہے کہ غصہ میں جامہ سے باہر ہی ہوا جاتا ہے۔
ص٢٠ میں ہمارے عزیز ملک منصور صاحب نے نمبر٢ میں حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی کی تردید اور اپنے مرزا قادیانی کی تائید میں اپنے زعم باطل سے آیہ کریمہ ”عالم الغیب فلا يظهر على غیبه احدا (الجن)“ کو استدلالاً پیش کیا ہے اور لکھ مارا ہے کہ: ”حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی نے صرف مرزا قادیانی کو نہیں بلکہ ان تمام کے تمام نبیوں اور مرسلوں کو نعوذ باللہ رمال بنا دیا ۔“ خدا جانے واقعی مرزائیوں کی عقل سلیم سلب ہوگئی ہے یا دیدہ و دانستہ احمقانہ اعتراض یا پھر تقریریں کرنے کو اپنی چالاکی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حضرت مؤلف موصوف نے یہ بخوبی ثابت کر دکھایا کہ پیش گوئیاں معیار مرسلین نہیں۔ پھر ہمارے ملک جی کا یہ بودا اعتراض جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ ہاں جنہوں نے اپنی صداقت معیار پیش گوئیوں کو ٹھہرا لیا ہو اور وہ پیش گوئیاں روز روشن کی طرح جھوٹی ہو چکی ہوں۔ پھر ان کے کذب کو ظاہر کر دینا اور ان کے مقابلہ میں رمالین وغیرہ کا ذکر کرنا بالکل مناسب ہے اور مرزا قادیانی اس خطاب کے بالکل مستحق ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
اور جس آیت شریف مرقومہ بالا کو استدلالاً پیش کیا ہے اس کو اہل علم بخوبی معلوم کرینگے کہ مجیب کے دعوے سے اس کو کیا ربط ہوسکتا ہے۔ کسی جاہل کے کہنے سے خواہ مخواہ بھی قرآن مجید کی آیت نقل کرنا کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔ اسی وجہ سے نہ تو اس کا ترجمہ نہ غیب کے معنی نہ اور کوئی تفسیر اس آیت کریمہ کی لکھی۔ میاں صاحب زادے بھلا یہ تو بتاؤ کہ علی غیبہ میں خدا تعالیٰ نے غیب کی نسبت اپنی طرف کیوں کی؟ غیب کا معنی اس آیت میں تمہاری سمجھ سے باہر ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی جاہل کو جاہل رہنے دیا اور ظاہر نہ کیا۔ اس احمقانہ طور پر آیت کو نقل کر دینے سے سوائے جاہل مرزائیوں کے اور کون صدائے تحسین بلند کرے گا۔ بھائی صاحب اگر عربی تفسیر دیکھنے کی لیاقت نہ
٢٢
تھی تو کوئی اردو ہی کی تفسیر دیکھ لیتے کہ آپ کے دعوے سے ہوسکتا ہے۔ جانچ لیتے یا کسی سے پوچھ لیتے۔ میاں صاحبزا قبول کیا ہے کہ مجرد پیش گوئی معیار صداقت مرسلین نہیں ہوسکتی ص٣٧اقطس) اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ واقعات روزمرہ کسوف وخسوف و زلزلہ وطوفان و رویت ہلال وغیرہ کی خبرو بقاعدہ نجوم و فلکیات آئندہ کی خبریں مشہور کر دی جاتی ہیں او اتر جاتی ہے۔ جہاز میں معلمون کا ایک آلہ دیکھو جس کو برما طوفان اور جس سمت سے طوفان کی آمد ہوگی اور جس طرف جاتا ہے۔ جو مرزا قادیانی کے ناقص رملدانی کی پیش گوئی معلمون کو بھی مرزائی صاحبان نبوت میں مرزا قادیانی کے شر محض لاف و گزاف ...... ص٢١ میں مرزا قادیانی نے ایک تعل سب کی سب پوری ہوئیں۔ صرف ایک مشتبہ تھی۔
راقم ....... مرزا قادیانی کی دو درجن جھوٹی پیش گوئیاں رسا منگا کر ملاحظہ فرمائیے تو حواس درست ہو جائیں گے اور ناظ ملک منصور صاحب نے بھی قبول کر لیا کہ ایک تو ضرور مشتبہ بھی ثابت ہو جائے اس کی شہادت قانونا اور عرفا و شرعا مر بقول مقبولہ ملک جی کے کیونکر مقبول ہو سکتے ہیں۔ آگے چل یہ بھی ظاہر کر دوں گا کہ جو کچھ آپ نے اس پیش گوئی کی نسب عظیم الشان طور پر پوری ہوئی۔
بھائی صاحب! یہ لکھنا آپ کا نرا جھوٹ قادیانی آپ کے گروجی اس کا جواب نہ دے سکے تو آب ظاہر کریں گے۔
مرتے دم تک یہی حسرت تو مرزا قادیانی اپنے آسمان پر مرزا قادیانی کے خدا نے نکاح پڑھا دیا تھا۔ اس ک اور سلطان محمد بیگ ان کا خصم یار قیب ١٦،١٥ برس تک مر باوجود تقدیر مبرم ہونے کے مرزا قادیانی کا الہام اس کے نسب
٢٣
تھی تو کوئی اردو ہی کی تفسیر دیکھ لیتے کہ آپ کے دعوے سے کہاں تک اس آیت شریف کو ربط ہو سکتا ہے۔ جانچ لیتے یا کسی سے پوچھ لیتے۔ میاں صاحبزادے خود مرزا قادیانی نے بھی اس کو قبول کیا ہے کہ مجرد پیش گوئی معیار صداقت مرسلین نہیں ہو سکتی۔ دیکھو (ازالہ اوہام ص ٣١٧، خزائن ج ٣ ص ٤٧١ ملخص) اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ واقعات روز مرہ اس کے شاہد ہیں میاں صاحب ذرا کسوف و خسوف و زلزلہ و طوفان و رویت ہلال وغیرہ کی خبروں پر دھیان کرو کہ برس چھ مہینے پہلے بقاعدہ نجوم و فلکیات آئندہ کی خبریں مشہور کر دی جاتی ہیں اور اکثر اس قاعدہ کے موافق پیش گوئی اتر جاتی ہے۔ جہاز میں معلمون کا ایک آلہ دیکھو جس کو برما میٹر کہتے ہیں۔ اس سے پوری کیفیت طوفان اور جس سمت سے طوفان کی آمد ہوگی اور جس طرف کو اس کا رخ رہے گا سب کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ جو مرزا قادیانی کے ناقص رملدانی کی پیش گوئی سے بدرجہا بڑھ کر ہے تو اب جہاز ران معلمون کو بھی مرزائی صاحبان نبوت میں مرزا قادیانی کے شریک کر لیں تو عین انصاف ہے۔ ورنہ محض لاف و گزاف ....... ص ٢١ میں مرزا قادیانی نے ایک نہیں بلکہ سینکڑوں پیش گوئیاں کیں اور سب کی سب پوری ہوئیں۔ صرف ایک مشتبہ تھی۔
راقم ....... مرزا قادیانی کی دو درجن جھوٹی پیش گوئیاں رسالہ مسیح کاذب میں بخوبی گنائی گئی ہیں۔ منگا کر ملاحظہ فرمائیے تو حواس درست ہو جائیں گے اور ناظرین اس کو غور سے ملاحظہ کریں کہ خود ملک منصور صاحب نے بھی قبول کر لیا کہ ایک تو ضرور مشتبہ ہے۔ فہو المراد جس شخص کا ایک جھوٹ بھی ثابت ہو جائے اس کی شہادت قانوناً اور عرفاً وشرعاً مردود ہو جاتی ہے۔ پھر مرزا قادیانی خود بقول مقولہ ملک جی کے کیونکر مقبول ہو سکتے ہیں۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد یہ بھی ظاہر کر دوں گا کہ جو کچھ آپ نے اس پیش گوئی کی نسبت لکھا محض غلط اور عظیم الشان پیش گوئی عظیم الشان طور پر پوری ہوئی۔
بھائی صاحب! یہ لکھنا آپ کا نرالا جھوٹ ہے۔ جب کہ اپنی حیات میں مرزا قادیانی آپ کے گرو جی اس کا جواب نہ دے سکے تو آپ بیچارے کے آمدی کے پیر شدی کیا ظاہر کریں گے۔
مرتے دم تک یہی حسرت تو مرزا قادیانی اپنے ساتھ گور میں لے گئے کہ جس ماہ لقاء کا آسمان پر مرزا قادیانی کے خدا نے نکاح پڑھا دیا تھا۔ اس کی صورت زیبا تک دیکھنی نصیب نہ ہوئی اور سلطان محمد بیگ ان کا خصم یا رقیب ١٥، ١٦ برس تک مرزا قادیانی کے کلیجہ پر مونگ دلتا رہا اور باوجود تقدیر مبرم ہونے کے مرزا قادیانی کا الہام اس کے نسبت نہ پورا ہوا۔ کسی نے خوب کہا ہے۔
٢٣
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
ص ٢٤ میں اللہ تعالیٰ کا ہر ایک نشان اور ہر ایک رسول کی ہر ایک پیش گوئی عظیم الشان ہے اور ان میں سے بہت ٹل گئیں۔
راقم ...... دروغ گو را حافظہ نباشد! اسی رسالہ میں ملک جی نے خود ٹائٹل پیج پر بطور عنوان رسالہ کے یہ شعر لکھا ہے اور ظاہر کر دیا ہے کہ خدائی بات نہیں ٹلتی اور یہ بہت ٹھیک ہے کہ خدا کا وعدہ ہرگز ہرگز نہیں ٹلتا۔ پھر اس کے خلاف یہ لکھتے ہیں کہ بہت سی ٹل گئیں۔
قولہ ......
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
اقول ......
جھوٹے نبی کی پردہ کشائی یہی تو ہے
ملک جی کے حواس بجا نہیں ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ: ”شیخ عبدالقادر جیلانی اپنی ایک تصنیف میں فرماتے ہیں: ”یوعد ولا یوفی“ یعنی خدا وعدہ کرتا ہے اور پورا نہیں کرتا ہے۔“
راقم ...... ناظرین ذرا اس حماقت کو میاں صاحبزادے طالب العلم کے ملاحظہ کریں کہ حضرت مؤلف فیصلہ آسمانی نے تو محمد بن تومرت مہدی کاذب کا ذکر بمعہ حوالہ کتاب تاریخ کامل ابن اثیر وابن خلکان وغیرہ پوری وضاحت سے متعین جلد دوم مطبوعہ مصر ص ٢٠٥، ٣٣١ بہ تفصیل حوالہ کتاب افادۃ الافہام مصنفہ مولانا انوار اللہ صاحب حیدر آبادی ص ٤١ سطر ١٧ بذیل حاشیہ ایسی وضاحت سے لکھ دیا ہے کہ ہر مبتدی بھی باوجود تاریکی باطن کے ظاہر طور پر اس مضمون پر نظر ڈال سکتا ہے۔ جس کو مصنف کم شعور نے طفلانہ مزاجی سے اپنے رسالہ کے ص ٣٣ میں یوں جھوٹ لکھ کر اپنے رسالہ کا منہ کالا کیا کہ لکھ تو دیا مگر حوالہ نامعلوم یہ مختصر تاریخ ہند سے انہوں نے لیا ہے۔ یا لیٹھ برج سے۔
ناظرین! ذرا اس لڑکے کے جھوٹ کو اسی جگہ پڑتال کر لیں کہ ماشاء اللہ میاں ملک منصور نے اپنے مسیح کاذب کے قدم پر قدم رکھ کر طابق النعل بالنعل کی پوری مطابقت کر دی۔
٢٤
کیوں نہ ہو تعلیم کس یونیورسٹی کی ہے؟ جہاں رات دن اسی جھوٹ کتاب فیصلہ آسمانی کثرت سے شائع ہو چکی ہے۔
جائیں اور اس عقل کے اندھے کو بھی دکھا کر روشنی کی سلائی کور البتہ بیچارے لڑکے کو سوجھائی دے گا۔
اس قدر واضح طور سے حوالہ دینے پر تو جھوٹ لکھ بڑے بے باکی سے لکھتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنی ایک ت ولا یوفی“
اب کوئی میاں لڑکے سے یہ تو پوچھے کہ حضرت شیخ ہیں۔ تم نے کیوں حوالہ نہ دیا۔
میں نے جانا بیچارے طالب العلم کی آنکھوں پر ہے کہ وہ حوالہ دینے سے عاجز ہے۔ اسی لئے اس قدر تدلیس فرماتے ہیں۔“
خیر مجھ سے سنو تمہیں کیا معلوم کہ کون سی تصنیف ہے اردو سے بھی محض نابلد معلوم ہوتے ہو۔ جبھی تو جوق در جو ق کی جگہ ک لکھا ہے۔ اردو کا بھی املاء درست لکھنا تم کو پہاڑ ہے تو دھر دیا۔ جس تصنیف کا حوالہ تم دینے سے عاجز رہ گئے میں تم کو حضرت غوث الاعظمؒ کی فتوح الغیب ہے۔ یہ گلریزی تمہارے میں بڑے زور وشور سے پبلک میں رد کر کے نہایت جرأت سے یوفی“ کا حوالہ دیا ہے اور عامہ مسلمین کو فریب دیا ہے کہ یہ غلط ہے۔ اگر اس جملہ مذکورہ کو بغیر تحریف لفظی بعینہ و بلفظہ ک الاعظمؒ کی تصنیف موصوف میں دکھا دیں تو میں دوسو ان کو انعا دیتا ہوں۔ جو آج سے ٦ ماہ کی ہے اور اگر یہ جملہ ”یوعد ولا تو پھر ان پر سوائے ہزارہ لعنت تصنیف کردہ مرزا قادیانی کے ا
١؎ لطف یہ ہے کہ من چیزے دیگر می سرایم و طنبور ہیں ”یعد ولا یوفی“ اور ان کی خوب مرمت کر کے میاں ولا یوفی“ حالانکہ دونوں ہی غلط، خود غلط، املا غلط، انشا ء غل
٢٥
کیوں نہ ہو تعلیم کس یونیورسٹی کی ہے؟ جہاں رات دن اسی جھوٹ کی شاگردی ہوتی رہتی ہے۔
کتاب فیصلہ آسمانی کثرت سے شائع ہوچکی ہے۔ ذرا ناظرین ایک نظر ص ١٤٠ کو دیکھ جائیں اور اس عقل کے اندھے کو بھی دکھا کر روشنی کی سلائی کور باطنوں کی آنکھوں میں پھیر دیں تو البتہ بیچارے لڑکے کو سوجھائی دے گا۔
اس قدر واضح طور سے حوالہ دینے پر تو جھوٹ لکھ دیا کہ حوالہ نامعلوم اور خود ملک جی بڑے بے باکی سے لکھتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنی ایک تصنیف میں فرماتے ہیں ۔ ”يوعـد ولا يوفی“
اب کوئی میاں لڑکے سے یہ تو پوچھے کہ حضرت شیخ غوث الاعظمؒ کی تو سینکڑوں تصانیف ہیں۔ تم نے کیوں حوالہ نہ دیا۔
میں نے جانا بیچارے طالب العلم کی آنکھوں پر جہالت کا ایسا گھٹا ٹوپ پردہ پڑا ہوا ہے کہ وہ حوالہ دینے سے عاجز ہے۔ اسی لئے اس قدر پر بس کر دیا کہ: ”اپنی ایک تصنیف میں فرماتے ہیں۔“
نہیں مجھ سے سنو تمہیں کیا معلوم کہ کون سی تصنیف میں ہے تم تو بیچارے عربی، فارسی اور اردو سے بھی محض نابلد معلوم ہوتے ہو۔ جبھی تو جوق در جوق کو ص ١٢ میں اپنے رسالہ کے جوک در جوک لکھا ہے۔ اردو کا بھی املاء درست لکھنا تم کو پہاڑ ہے تو پھر کیوں تصنیف کا بارِ عظیم اپنے سر پر دھر لیا۔ جس تصنیف کا حوالہ تم دینے سے عاجز رہ گئے میں تم کو بتائے دیتا ہوں۔ وہ شریف تصنیف حضرت غوث الاعظمؒ کی فتوح الغیب ہے۔ یہ لنترانی تمہارے گروگھنٹال حکیم جی کی ہے۔ جس کو میں بڑے زور و شور سے پبلک میں رد کر کے نہایت جرات سے کہتا ہوں کہ جو جملہ ”يوعـد ولا يوفی“ کا حوالہ دیا ہے اور عامہ مسلمین کو فریب دیا ہے کہ یہ مقولہ حضرت موصوفؒ کا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ اگر اس جملہ مذکورہ کو بغیر تحریف لفظی بعینہ و بلفظہ کوئی مرزائی یا حکیم حضرت سیدنا غوث الاعظمؒ کی تصنیف موصوف میں دکھا دیں تو میں دو سو ان کو انعام دیتا ہوں اور میعاد بھی بہت طویل دیتا ہوں۔ جو آج سے ٦ ماہ کی ہے اور اگر یہ جملہ ”يُوعَد ولا يوفی“ بعینہ و بلفظہ ثابت نہ کر سکے تو پھر ان پر سوائے ہزارہا لعنت تصنیف کردہ مرزا قادیانی کے اور کیا پہنچ سکتا ہے۔
١؎ لطف یہ ہے کہ من چیزے دیگری سرایم وطنبورہ من چیزے دیگر۔ یعنی حکیم تو فرماتے ہیں ”يعد ولا یوفی“ اور ان کی خوب مرمت کر کے میاں طنبورہ یعنی منصور کہتے ہیں کہ ”يُوعَد ولا یوفی“ حالانکہ دونوں ہی غلط، خود غلط، املا غلط، انشاء غلط۔
٢٥
لطیفہ
یہ نکتہ یادرکھنے کے قابل ہے کہ رحمانیوں کا خدا وہ ذات واجب الوجود وحدہ لاشریک ہے جس کی شان یہ ہے۔ ”ان الله لا يخلف الميعاد“ جیسا کہ عزیز منظور سلمہ نے اپنے رسالہ کے ٹائٹل پر شعر لکھا ہے وہ ٹھیک ہے۔ ہاں شیطانیوں کا خدا اس کا وہم متخیلہ ہے اور ذریات شیاطین کا باپ وہی جھوٹے الہام اپنے مریدوں کے دل میں ہر وقت ٹھونستا رہتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں سورۃ ناس کی آیت شریفہ ”الذی یوسوس فی صدور الناس“ میں اشارہ ہے اور جو کچھ ایسے وسواس باطلہ سے کوئی شیطانی وعدوں کے مرید مذکور کو بے بصیرتی اور حماقت سے کچھ امید اس کی بندھ جاتی ہے۔ اس واسطے اس کو الہام تو مشہور کر دیتا ہے۔ مگر جھوٹ ہو کر ٹل جایا کرتا ہے۔ جس کو قرآن کریم نے اس مضمون کا ارشاد فرمایا ہے۔ غور سے سنو! ”يعدهم ويمنيهم وما يعدهم الشيطن الا غروراً“ یعنی شیطان ان کو (یعنی مرزا قادیانی جیسے کو) وعدہ دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔ حالانکہ شیطان ان سے جو کچھ بھی وعدہ کرتا ہے وہ نرا دھوکا ہی دھوکا ہے۔
اس صفائی سے قرآن کریم کا ارشاد ہو رہا ہے اور مرزائی حضرات اس پر توجہ نہیں فرماتے ہیں۔ یہ کیسا غضب خدائے قدوس کے ارشاد پاک کے خلاف ڈھا رہے ہیں اور اپنے ڈھاک کے ٣ پتوں پر ضد سے اڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے واسطے ایک لمحہ ان امور پر غور صحیح و فکر سلیم کریں۔ آپ سمجھئے یہ گر ہے کہ مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیاں کثرت سے ہوتی گئیں۔ کچھ دو چار شکلیں رمل کی اور ان کے منسوبات کو یاد کر کے زائچہ لکھ سکتے تھے اور باقی عقل معاش کے پورے، دھن کے پکے قیافہ اور واقعات شناسی میں بھی اپنے کو یکتائے روزگار جانتے تھے۔ اس لئے نجوم کے قاعدہ کے موافق کچھ موسم کچھ ملک کچھ وقت کا لحاظ کر کے پیش گوئیوں کے گول مول جملے تصنیف فرمایا کرتے تھے۔ اس پر بھی سینکڑوں ہی جھوٹ ان کے تمام ہندوستان میں مشہور ہو چکے۔ یہاں تک کہ خود ان کے موافقین جو صاحب عقل سلیم ہیں جب ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کا تذکرہ آیا بے ساختہ ان لوگوں نے ایمان کی بات کہی کہ مرزا قادیانی میں بھی تو عیب تھا کہ جو کچھ ان کے دل میں آیا اس کو ”کالوحی منزل من السماء“ سمجھ لیتے تھے اور اپنی بات کی ناحق ضد میں
٢٦
ٹھوکریں کھاتے تھے۔ کاش یہ عیب نہ ہوتا تو آدمی؟ معقولیت کی تحقیق اور منصفانہ رائے اور آزاد خیال۔ اب آپ مخالفین کا ثبوت دیجئے۔ جن کا مرزا قادیانی کو بڑا عالم فاضل سلطان القلم سمجھتے تھے۔ جو کیجئے گا تو میں بھی بذریعہ اخبارات آپ کے موافقین کو رجسٹری کرا کے اگر آپ توبہ کی شرط کریں تو حاضر ہوں۔ مرزائیوں کی عادت ہوگئی ہے کہ جب کسی تو اپنے جاہل بھائیوں کے اطمینان اور ڈھارس باندھنے کر دیا۔ چاہے مرزا قادیانی کے حالات پر چسپاں ہو یا حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی بھی (نعوذ باللہ منہ کیوں نہ ٹلے۔
سنو سنو بھاگو نہیں! اے عقل کے دشمنو! کو کیوں قرآن دانی کا دعویٰ بے فائدہ کرتے ہو اور بیچار میاں! کسی آیت یا کسی حدیث نے سلف ص اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کرنے کا وا عذاب آیا اور وعدہ خداوندی سچا ہوگیا۔ جب قوم نے تو ہٹا دیا گیا۔ بس قرآن مجید اور حدیث شریف سے اسی قد نکاح والی پیش گوئی سے اس کو کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”وعدہ نہیں تھا ملک جی! بلی کے گوہ کی طرح مرزا قادیان کرتے ہیں۔ مگر اس کی عفونت اور سڑاند بدبو کہیں چھپ اور اپنے جھوٹے کردار سے باز نہیں آتے۔ کبھی وعدہ کو دینے سے مرزا قادیانی پر جھوٹ کا مقدمہ ڈسمس ہو جائے وعدہ ہو یا وعید۔ مرزا قادیانی نے تو اس پیش گوئی کی نسب
٢٧
ٹھوکریں کھاتے تھے۔ کاش یہ عیب نہ ہوتا تو آدمی معقول تھے۔ میاں صاحبزادے! یہ ہے معقولیت کی تحقیق اور منصفانہ رائے اور آزاد خیال۔
اب آپ مخالفین کا ثبوت دیجئے۔ جن کا ذکر آپ نے اپنے منہ سے نکالا ہے کہ مرزا قادیانی کو بڑا عالم فاضل سلطان القلم سمجھتے تھے۔ جب آپ مخالفین کی فہرست اور ثبوت ظاہر کیجئے گا تو میں بھی بذریعہ اخبارات آپ کے موافقین کی دستخطی تحریریں شائع کروں گا۔ بلکہ اس کو رجسٹری کرا کے اگر آپ توبہ کی شرط کریں تو حاضر ہوں۔
مرزائیوں کی عادت ہوگئی ہے کہ جب کسی نے مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی کو ظاہر کیا تو اپنے جاہل بھائیوں کے اطمینان اور ڈھارس باندھنے کے لئے جھٹ حضرت یونس کا قصہ شروع کر دیا۔ چاہے مرزا قادیانی کے حالات پر چسپاں ہو یا نہ ہو۔ عوام میں تو یہی مشہور کر رکھا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی بھی (نعوذ باللہ منہا) ٹل گئی ہے تو مرزا قادیانی کی پیش گوئی کیوں نہ ٹلے۔
سنو سنو بھاگو نہیں! اے عقل کے دشمنو! کور باطنو! جب تمہیں کچھ قرآن کا علم نہیں تو کیوں قرآن دانی کا دعویٰ بے فائدہ کرتے ہو اور بیچارے جاہلوں کو جہنم کا راستہ دکھاتے ہو۔
میاں! کسی آیت یا کسی حدیث سے سلف سے آج تک یہ ہرگز ثابت نہیں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہاں عذاب بھیجنے کا وعدہ تھا اور عذاب آیا اور وعدہ خداوندی سچا ہو گیا۔ جب قوم نے گرویدگی اختیار کی اور ایمان لائے تو عذاب ہٹا دیا گیا۔ بس قرآن مجید اور حدیث شریف سے اسی قدر ثابت ہے۔ بھلا مرزا قادیانی کے آسمانی نکاح والی پیش گوئی سے اس کو کیا تعلق ہو سکتا ہے۔
پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”وعدہ نہیں تھا وعید تھا۔“
ملک جی! بلی کے گوہ کی طرح مرزا قادیانی کے الہامی جھوٹ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس کی عفونت اور سڑانڈ بدبو کہیں چھپ سکتی ہے؟ مرزائی ٹھوکر پر ٹھوکر کھاتے ہیں اور اپنے جھوٹے کردار سے باز نہیں آتے۔ کبھی وعدہ کو وعید بتاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وعید کہہ دینے سے مرزا قادیانی پر جھوٹ کا مقدمہ ڈسمس ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ قطع نظر اس بات کے کہ یہ وعدہ ہو یا وعید۔ مرزا قادیانی نے تو اس پیش گوئی کی نسبت یہ قید لگائی تھی کہ یاد رکھو اگر یہ پیش گوئی
٢٧
پوری نہ ہوئی اور میں مرگیا تو ہر بدسے بدتر ٹھہروں گا۔
پھر اب خود بقول ان کے مرزا قادیانی کو بدترین مخلوق سمجھنے میں آپ کو کیا عذر ہے۔
کیونکہ زمانہ ہوا کہ مرزا قادیانی مر بھی گئے اور ان کا خصم و ڈبل رقیب سلطان محمد بیگ بفضلہ تعالیٰ صحیح وسالم موجود ہے۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی۔ غیرت ہو تو توبہ کر کے اب بھی مسلمان ہو جاؤ۔ ورنہ تم جانو اور تمہارے اعمال۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ محمدی بیگم سے نکاح ہونا مرزا قادیانی کا اور اس سے بشیر الدولہ، عالم کباب، عمانوئیل کا پیدا ہونا۔ جس کی تعریف میں مرزا قادیانی نے مجذوبوں کا سا بڑ لگایا ہے۔ ”کان اللہ نزل من السماء“ بھی الہامی جملہ زیب رقم فرمایا ہے۔ یہ وعدہ تھا یا وعید۔ سچ کہنا۔ کیونکہ ابھی تک مرزا قادیانی کو اس کی حسرت باقی ہے۔
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
مسٹر آتھم و ڈاکٹر عبدالحکیم و مولوی ثناء اللہ امرتسری کے مقابلہ میں جو کچھ پیش گوئیاں مرزا قادیانی کی روز روشن کی طرح تمام دنیا پر جھوٹ ثابت ہو چکی ہیں ان سب کی شرح اور پوری کیفیت رسالہ ”مسیح کاذب“ میں راقم نے پبلک پر ظاہر کر دیا ہے۔ (جس صاحب کو تفصیل درکار ہو وہ رسالہ ملاحظہ کرلیں) ص٢٦ میں ہمارے عزیز لکھتے ہیں کہ فیصلہ آسمانی میں حضرت مؤلف مدظلہ العالی نے لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات میں بدتہذیبی سے کام لیا۔“ کس قدر کورانہ جھوٹ اور جاہلانہ افتراء ہے۔ میں پبلک کو مخاطب کر کے التماس کرتا ہوں کہ رسالہ فیصلہ آسمانی تمام شائع ہوچکی ہے اور قریباً یہ رسالہ ہر شہروں میں مشہور ہوچکا ہے۔ بھلا مہربانی فرما کر ذرا ملاحظہ کر کے آپ لوگ اس جاہل طالب العلم کے جہل کو جانچ لیویں کہ اس رسالہ میں حضرت مؤلف نے کسی جگہ آئینہ کمالات کا نام بھی لکھا ہے یا نہیں۔ شاید ان پر بھی مرزا قادیانی کی طرح جھوٹے الہام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بقول شخصے مچھلی کے جائے کن تیراکے۔ یہ پنجابی مثل ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ مچھلی کے بچے انڈوں سے نکلتے ہی تیرنے کا الہام ساتھ لئے آتے ہیں۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی کے روحانی صاحبزادگان بھی ہیں۔
اگرچہ یہ واقعہ بالکل صحیح ہے۔ مطلق جھوٹ یا افتراء نہیں ہے۔ اب میں اس کو پوری
٢٨
تصریح سے پبلک میں پیش کرتا ہوں اور ملک منصور صاحب تقریر نے مجھ کو اس کی صراحت پر مجبور کیا۔ ورنہ کاہے کو اس
ایک آئینہ کمالات پر کیا منحصر ہے۔ مرزا قادی میں قریباً پانچ سو غیر مکرر گالیاں اور فحش کلمات اور تصنیف اور مشائخان ذوی العظام میں مرزا قادیانی نے اپنی خباثت شان نبوت میں حضرت عیسیٰ ابن مریم وعلیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ مومنات کے لئے درج رسالہ کیا ہے۔ اس کو دیکھ جائیے تو پاجی بھی ایسی گالیاں نبی خدا کی شان اور ان کی امہات کرسکتے۔ جس کو مرزا قادیانی نے نہایت بے باکی سے ا نزدیک ان کا اعادہ بھی گناہ ہے۔ اس لئے میرے قلم کو جرا
(آئینہ کمالات، خزائن ج ٥، توضیح المرام
جیسا کہ راقم نے چند نمونے مرزا قادیانی کے دیئے ہیں اس کو جانچنے کے بعد پبلک خود فیصلہ کرلے کہ ج چڑھے ہوں اور ان کا مصداق حضرت عیسیٰ جیسے اولوالعز مؤمنات کو (معاذ اللہ) ٹھہراوے۔ کیا وہ شخص کبھی ایسا ہو قوم میں بھی شمار کر سکیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ نبوت حیثیت کا آدمی بھی یہ ذلیل چال وچلن اور رذیل طریق ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو مقر بن جائیں۔ یہ دوسری بات
مثل مشہور ہے۔ ”لات کا بھوت بات سے ضرور مان لینا چاہئے۔ کیونکہ آپ کا اڈل آپ ہی کے سا
غصے نہ کرو میرا کہنا
٢٩
تصریح سے پبلک میں پیش کرتا ہوں اور ملک منصور صاحب کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی جھوٹی تقریر نے مجھ کو اس کی صراحت پر مجبور کیا۔ ورنہ کاہے کو اس کا ذکر ان کے مقابلہ میں کیا جاتا ۔
ایک آئینہ کمالات پر کیا منحصر ہے۔ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تصانیف ہیں۔ جن میں قریباً پانچ سو غیر مکرر گالیاں اور فحش کلمات اور توصیف لغتیں درج ہیں۔ جو شان میں علماء کرام اور مشائخان ذوی العظام میں مرزا قادیانی نے اپنی خباثت نفسانی تحریر کی ہیں اور اس کے علاوہ جو شان نبوت میں حضرت عیسیٰ ابن مریم وعلیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے فحش شدید ان کی امہات مومنات کے لئے درج رسالہ کیا ہے۔ اس کو دیکھ جائیے تو پتہ چل جائے گا کہ کوئی لکھنؤ کے شہدے پاجی بھی ایسی گالیاں نبی خدا کی شان اور ان کی امہات کی شان میں ہرگز ہرگز استعمال نہیں کر سکتے۔ جس کو مرزا قادیانی نے نہایت بے باکی سے اور دریدہ دہنی سے لکھا ہے۔ چونکہ میرے نزدیک ان کا اعادہ بھی گناہ ہے۔ اس لئے میرے قلم کو جرأت نہیں ہو سکتی کہ اس کو ظاہر کر سکوں۔
(آئینہ کمالات، خزائن ج ٥، توضیح المرام، ازالۃ الاوہام، انجام آتھم، ضمیمہ انجام آتھم)
جیسا کہ راقم نے چند نمونے مرزا قادیانی کے فحش کلام بادل ناخواستہ پبلک پر ظاہر کر دیا ہے اس کو جانچنے کے بعد پبلک خود فیصلہ کرلے کہ جس شخص کی زبان پر ایسے پاجیانہ لغات چڑھے ہوں اور ان کا مصداق حضرت عیسیٰ جیسے اولوالعزم نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے امہات مؤمنات کو (معاذ اللہ) ٹھہراوے۔ کیا وہ شخص کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کو دنیا دار، شرفاء اور مہذب قوم میں بھی شمار کر سکیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ نبوت اور مہدویت تو درکنار معمولی دیندارانہ حیثیت کا آدمی بھی یہ ذلیل چال وچلن اور رذیل طریق کو اپنے لئے ہرگز باعث افتخار نہیں سمجھ سکتا ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو متفخر بن جائیں۔ یہ دوسری بات ہے۔
مثل مشہور ہے۔ ”لات کا بھوت بات سے نہیں مانتا“ میرے پیارے عزیز! اب تو ضرور مان لینا چاہئے۔ کیونکہ آپ کا ارشاد آپ ہی کے سامنے رد کر دیا گیا ہے۔
قے نہ کرو میرا کہنا رد نہ کرو
٢٩
قولہ …… یہ خدائی سلسلہ ہے اور وہی اس کی مدد کرتا ہے۔ اگر انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو مدتوں درہم برہم ہو جاتا۔
اقول …… میاں! یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ مرزائی سلسلہ ہے جو خود خدا ١؎ ، خدا کا باپ ٢؎ ، خدا کا بیٹا ٣؎ ہونے کا دعویدار ہے۔ جس کی تفصیل پچھلے صفحہ میں بخوبی کر دی گئی ہے۔ ”نعوذ بالله من شرور انفسهم ومن سيئات اعمالهم“
لو مجھ سے سنو! یہ تینوں الہام تو مرزا قادیانی پر ہوئے تھے۔ مگر تفسیر اس کی اس وقت ان کے ذہن میں نہ آئی تھی۔ اب مجھ کو اس موفیٰ حقیقی نے اس مرزائیہ تثلیث کی حقیقت کھولنے کی توفیق بخشی ہے۔ مگر یار خفانہ ہونا۔ ہر چند بات کڑوی ہے۔ مگر علاج بالخاصہ ہے۔ یہ تو ان تینوں جملوں کی تفسیر ہوئی۔ مگر حقیقت میں مرزا قادیانی کی یہ انوکھی تثلیث ہے۔ عیسائی معروف تثلیث میں باپ اور بیٹا اور روح القدس مل کر تثلیث پوری ہوتی ہے اور مرزا قادیانی کی نئی تثلیث میں باپ اور بیٹا اور ان کے خدا کا باپ بھی شریک تثلیث ہے۔
میاں صاحبزادے! اب سمجھئے یہ ہے سلسلہ مرزائیہ کی تثلیث اور اس کا درہم و برہم ہونا۔ اگر آپ لوگوں کو معلوم نہ ہو تو کور باطنی کا علاج کیجئے۔ مرزا قادیانی کی حیات ہی سے ان کا کارخانہ فیل کر گیا۔ دوکانداری ٹھنڈی پڑ گئی۔ پبلک پر ان کا فریب کھل گیا۔ خود ہزاروں مرید خاص
١؎ خود خدا جیسا مرزا قادیانی کو کشف میں ظاہر ہوا تھا۔ (تفسیر) یعنی مرزا کرشن چندر ہو گئے اور اس میں روپ دھارن کیا۔
٢؎ خدا کا باپ (یعنی ہندؤوں کے موافق) مرزا قادیانی نے براہ روپ میں بھی جلوہ گری فرمائی۔
٣؎ خدا کا بیٹا (تفسیر) انہیں ہندؤوں کی رامائن کے رو سے آخر زمانہ میں کلنکی اوتار لے کر آئے۔ جس کو وہ مہدی یا مسیح خیال کرتے ہیں۔ ہے
خود بقول ٤؎ مرزا جو تھا شریر و پر گناہ
مفتری صادق کے آگے مر گیا ہو کر تباہ
مفتری ہوتا ہے آخر اس جہان میں روسیاہ
جلد تر ہوتا ہے برہم افتراء کا کاروبار
یہ مرزا قادیانی کا شعر ہے۔ اس پر مصرعہ لگایا گیا ہے، کیا پھڑکتا ہوا مضمون ہے اور کیسا چسپاں ہے۔
٣٠
ان کے عقیدے سے پھر گئے۔ ان پر بڑے گرما گرمی کے دجال ہونے کا اور کفر کا فتویٰ شائع ہو گیا۔ اس پر بھی ہے۔ عقل سلیم آپ لوگ سے سلب کر لی گئی ہے اور بع آپ کے دلوں کے رکارڈ میں بھر دیا گیا ہے وہی آواز نکلتی اب بھی چلو! توبہ کا دروازہ اب تک کھلا ہو سے مرزا قادیانی کے قدم نحس کی بدولت تمام دنیا میں ”اِ چکی ہے۔ مبارک وہ لوگ ہیں جو اس منادی پر کان دھر سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ کی دل سے پیروی کر کے شیطانی ع سے تخلیہ میں تجویز کریں کہ اس تیرہ سو برس میں آج ت گے۔ مگر اسلام کا کیا بگڑا۔ سوائے اس کے کہ معدودہ چ اور ان کی جگہ درک اسفل مقرر ہو گئی اور مشیت الٰہی نے اتباع رسالت مصطفوی سے محروم رکھا۔
میرے پیارے عزیز ملک منصور! بقول ام بھی لازمۂ حق گوئی ہے) جا بجا ہم نے محض نیک نیتی خواہی مرزائیان کے واقعہ صحیحہ کا اعادہ کیا ہے اور مرزا ا کیا ہے۔ خدا کے لئے خفانہ ہونا۔ بلکہ تخلیہ میں خدا کو ح ذرا غور کیجئے اور ان واقعات کو پیش نظر رکھ کر خود ہی دی واقوال باہم ایسے متضاد ہوں (مسیحیت اور مہدویت سوسائٹی کے قابل اعتبار ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ واللہ ا دل میں بلا تکلف اعتراف کیجئے گا اور آپ کا دل گواہ ہے۔ اس سے انکار کرنے کی ہرگز جرأت نہیں ہو سکتی دوسرے لفظوں میں دنیاوی حجاب کا روڑا صراطِ مستقیم پ ہیں کہ اس مقام پر خدا کی سچی توحید اور رسالت مص وسواس اور بے جا حجاب کی مزاحمت کر کے صدقِ دل آگے سر عجز و نیاز کو جھکا دیں کہ ایسی سرافگندگی اس
ان کے عقیدے سے پھر گئے۔ ان پر بڑے گرما گرمی سے رد و قدح ہونے لگے۔ تمام دنیا میں ان کے دجال ہونے کا اور کفر کا فتویٰ شائع ہو گیا۔ اس پر بھی آپ لوگوں کو احساس نہ ہو تو میرا کیا اجارہ ہے۔ عقل سلیم آپ لوگ سے سلب کر لی گئی ہے اور بعینہ فونو گرام بن گئے۔ جو کچھ قادیانی ترانہ آپ کے دلوں کے ریکارڈ میں بھر دیا گیا ہے وہی آواز نکلتی ہے۔
اب بھی چیتو! توبہ کا دروازہ اب تک کھلا ہوا ہے۔ موت کی گرم بازاری انواع اقسام سے مرزا قادیانی کے قدم نحس کی بدولت تمام دنیا میں ’ان بطش ربک لشدید‘ کی منادی ہو چکی ہے۔ مبارک وہ لوگ ہیں جو اس منادی پر کان دھریں اور اپنے سچے نبی خاتم المرسلین حضرت سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ کی دل سے پیروی کر کے شیطانی عقائد باطلہ سے اپنے کو بچا دیں اور اس کو غور سے تخلیہ میں تجویز کریں کہ اس تیرہ سو برس میں آج تک کتنے جھوٹے مہدی اور مسیح پیدا ہوتے گئے۔ مگر اسلام کا کیا بگڑا۔ سوائے اس کے کہ معدودہ چند لوگ اسلام کی فہرست سے خارج ہو گئے اور ان کی جگہ درک اسفل مقرر ہوگئی اور مشیت الٰہی نے اپنی حکمت بالغہ سے ان کو حقیقی اسلام اور اتباع رسالت مصطفوی سے محروم رکھا۔
میرے پیارے عزیز ملک منصور ! بقول ارشاد مرزا قادیانی کے (کہ کسی قدر مرارت بھی لازمہ حق گوئی ہے ) جا بجا ہم نے محض نیک نیتی سے واسطے افادہ عوام و خواص کے براہ بہی خواہی مرزائیان کے واقعہ صحیحہ کا اعادہ کیا ہے اور مرزا قادیانی کی منہاج نبوت ومہدویت کا اظہار کیا ہے۔ خدا کے لئے خفا نہ ہونا۔ بلکہ تخلیہ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس رسالہ کو سامنے رکھ کر ذرا غور کیجئے اور ان واقعات کو پیش نظر رکھ کر خود ہی دل میں فیصلہ کر لیجئے کہ جس شخص کے افعال واقوال باہم ایسے متضاد ہوں ( مسیحیت اور مہدویت تو درکنار ) بھلا کبھی وہ ہم چشموں میں اپنی سوسائٹی کے قابل اعتبار ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ واللہ ! ہرگز نہیں۔ ثم باللہ ہرگز نہیں۔ ضرور آپ بھی دل میں بلا تکلف اعتراف کیجئے گا اور آپ کا دل گواہی دے گا کہ فیصلہ آسمانی واقعی آسمانی فیصلہ ہے۔ اس سے انکار کرنے کی ہرگز جرأت نہیں ہو سکتی۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہاں شیطانی وسواس یا دوسرے لفظوں میں دنیاوی حجاب کا زور صراط مستقیم سے روک رہا ہے۔ بڑے بہادر اور دانشمند وہ ہیں کہ اس مقام پر خدا کی سچی توحید اور رسالت مصطفوی کی مضبوط ڈوری کو پکڑ لیں اور شیطانی وسواس اور بے جا حجاب کی مزاحمت کر کے صدق دل سے توبہ کر کے اس قدوس ذوالجلال کے آگے سر عجز و نیاز کو جھکا دیں کہ ایسی سر افگندگی اس کے حضور میں باعث قبولیت ہو جاتی ہے۔
٣١
”اللهم اهدنا الصراط المستقيم ٠ اياك نعبد واياك نستعين ٠ آمين بجاه سيد المرسلين وآله واصحابه وازواجه وذرياته اجمعين ربنا وتقبل منا انك انت السميع العليم“
لطیفہ
خاتمہ کتاب میں مرزا قادیانی آنجہانی کے چند وہ الہامات جس کے سچے ہونے میں مرزا قادیانی کے کسی مخالف کو بھی کچھ عذر نہیں ہوگا۔ بنظر مزید دلچسپی ناظرین ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ مگر حضرات ناظرین سے دست بستہ التماس ہے کہ مرزا قادیانی کے ان الہامات پر خدا کے واسطے مضحکہ نہ اڑائیے گا۔ کیونکہ یہ حضرت مسیح قادیان کے (جیسا کچھ بھی ہو) الہام تو ہیں۔
- ......١ مرزا قادیانی کو الہام ہوا ہے کہ کبھی معدے کے خلل سے ورم بھی ہو جاتی ہے۔
(ریویو، اپریل)
سبحان اللہ! کیا لطیف الہام ہے جو آج تک کسی طبیب یونانی یا ڈاکٹران انگریزی کو بھی معلوم نہ ہوا تھا۔ معلوم تھا تو مرزا قادیانی کو۔ اس کی اطلاع ان اطباء نے کیوں نہ دی۔ ناظرین یہ البتہ مرزا قادیانی کے الہام ہیں۔
- ......٢ مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ : ”رعایا میں سے ایک شخص کی موت ۔“
(ریویو، اپریل)
کون بے ایمان ہے جو اس الہام کو سچ نہ مانے گا۔ واہ کیا کہنے ہیں الہام تو ایسا ہی ہونا چاہئے کہ دشمن بھی مان جائے۔
- ......٣ الہام ہوا: ”دفع“
(ریویو، اپریل)
کس کی؟ یہ مت پوچھو۔ جس کی ہوگی وقت آنے پر کہہ دیں گے۔ صاحبو! مرزا قادیانی کے ایسے ویسے جیسے تیسے سو نہیں بلکہ ہزاروں مخرف الہامات خود ان کے تصنیفات میں بھرے پڑے ہیں۔ جس کو اہل طبع سلیم دیکھ کر بے ساختہ کہہ اٹھے گا کہ بے شک مرزا قادیانی کے الہامات مندرجہ ذیل شعر کے مصداق ہیں۔
گربہ شاشید گفت باران شد
مرزائی حضرات بس ان تینوں کو دیکھ کر دل میں شرمائیں اور پھر کبھی الہام کا فقرہ اپنی زبان سے نہ نکالیں۔ زیادہ ” والسلام على من اتبع الهدى“ الراقم: ملک نظیر احسن بہاری، سابقہ مرید مرزا قادیانی
٣٢
خاتم النبیین
چودھویں
کے
مجدد
جناب عبدالسمیع
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
چودھویں صدی
کے
مجددین
جناب عبدالستار انصاری
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قارئین کرام! چند ماہ قبل مقامی گورنمنٹ ہسپتال میں زیر علاج ایک مریض کے ذریعہ جیبی سائز کا ایک پمفلٹ ”چودھویں صدی کا مجدد کہاں ہے؟“ کے عنوان سے جو حافظ آباد کے مرزائی کارکنوں نے ہسپتال میں خفیہ طور پر تقسیم کیا تھا۔ ملا۔ اسے محمد اعظم اکسیر نے تحریر کیا اور یہ احمد اکیڈمی ربوہ (چناب نگر) کی جانب سے ناشر جمال الدین انجم کے زیر اہتمام محمد حسن لاہور آرٹ پریس لاہور سے شائع ہوا ہے۔ جس میں:
- اول...... مرزائی مصنف نے (ابو داؤد ج ٢ ص ٢٤١، مشکوٰۃ ص ٣٦) کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی
ہے کہ: ”خدا! اس امت میں ہر صدی کے سر پر مجدد دین بھیجتا رہے گا۔“
- دوم...... ١٢٩١ھ میں شائع ہونے والی ایک غیر معروف اور گمنام مصنف کی کتاب ”حجج
الکرامہ“ میں مذکورہ حدیث کے تحت آنے والے تیرہ صدیوں کے مجددین کی تفصیل پیش کی ہے۔
- سوم...... تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست لکھ کر ١٤ویں صدی کے مجدد کے متعلق پوچھا گیا
ہے کہ کہاں ہے؟
- چہارم...... ”مجدد عصر کا اعلان“ کے تحت لکھتے ہیں: فرمودۂ رسالت مآب ﷺ کے مطابق عین
وقت پر مرزا غلام احمد قادیانی بانی جماعت احمدیہ نے اعلان کیا۔
”جب تیرہویں صدی کا آخر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعے سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔
(کتاب البریہ ص ١٨٣، حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ٢٠١)
آخر پر خدارا سوچئے! کے تحت لکھتے ہیں کہ: ”٨ نومبر ١٩٨٠ء کو چودھویں صدی ختم ہو چکی ہے۔ سوچئے اور سوچ کر بتائیے کہ فرمودہ رسول ﷺ کے مطابق چودھویں صدی کا مجدد و مسیح و مہدی کہاں ہے؟“
مرزائی مصنف نے اس مختصر تحریر میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ چودھویں صدی کا مجدد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ حالانکہ جہاں یہ کوشش اور جسارت ملت اسلامیہ کے اجتماعی عقیدہ کی توہین ہے۔ وہاں ١٩٧٤ء میں قومی اسمبلی کے پاس کردہ ترمیمی قانون کی کھلی توہین اور باغیانہ جرأت بھی ہے۔
٢
٣٠٦ علیہ التحیۃ والثنا گورنمنٹ ہسپتال میں زیر علاج ایک مریض کے ذریعہ کا مجدد کہاں ہے؟“ کے عنوان سے جو حافظ آباد کے تقسیم کیا تھا۔ ملا۔ اسے محمد اعظم اکسیر نے تحریر کیا اور یہ سے ناشر جمال الدین انجم کے زیر اہتمام محمد حسن لاہور میں: ص٢٤١، مکتوبہ ص ٣٦) کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ر پر مجدد دین بھیجتا رہے گا۔“ ایک غیر معروف اور گمنام مصنف کی کتاب ”حجج آنے والے تیرہ صدیوں کے مجددین کی تفصیل پیش کی
رست لکھ کر ١٤ویں صدی کے مجدد کے متعلق پوچھا گیا
لکھتے ہیں: فرمودۂ رسالت مآب ﷺ کے مطابق عین حمدیہ نے اعلان کیا۔ ا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے صدی کا مجدد ہے۔
(کتاب البریہ ص١٨٣، حاشیہ خزائن ج١٣ ص٢٠١)
لکھتے ہیں کہ: ”٨ نومبر ١٨٨٢ء کو تیرہویں صدی ختم مودہ رسول ﷺ کے مطابق چودھویں صدی کا مجدد و مسیح
تحریر میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ ا ہے۔ حالانکہ جہاں یہ کوشش اور جسارت ملت اسلامیہ ١٩ء میں قومی اسمبلی کے پاس کردہ ترمیمی قانون کی کھلی ٢
مصنف کے تحریر کردہ الہام سے بقول مرزا قادیانی اللہ کی طرف سے صرف مجدد ہونے کی خبر نہ دی گئی تو مرزا غلام احمد نے ”کھڑے ہونے کی جگہ مل جائے تو بیٹھنے کی جگہ خود بنالوں گا۔“ کے مصداق مجدد کے ساتھ نبوت کا کافرانہ دعویٰ کر دیا۔
بات مجدد تک رہتی تو شاید امت مسلمہ میں اتنے جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں نہ آتا۔ لیکن قادیانی نے دعویٰ نبوت کر کے قرآن پاک اور ارشادات نبوی ﷺ اور اجماع امت کا انکار کر کے صریح کفر کو اختیار کر لیا تو پھر جب مسلمان ہی نہ رہا تو مجدد، محدث اور ولی کیسا؟ اور دعویٰ نبوت جو تقریباً ١٩٠٠ء کے بعد کیا گیا۔ اس سے پہلے خود مرزا غلام احمد آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو کافر اور مسلمہ کذاب کا بھائی لکھتا رہا۔ جبکہ بقول قادیانی کذاب کے وحی کا آغاز ١٨٧٦ء میں سیالکوٹ ملازمت کے دوران شروع ہو چکا تھا۔ وحی والہام جو بقول مرزا کے اللہ کی طرف سے ہوا تو ١٩٠٠ء تک مسلسل ٢٤ سال موسلا دھار بارش کی طرح وحی کرنے والے نے بھی مرزا قادیانی کو آگاہ نہ کیا کہ آگے چل کر تو خود اپنے تحریر کردہ احکام کے جال میں پھنس جائے گا۔ واقعتاً ”دروغ گو را حافظہ نہ باشد“ کے مصداق ١٩٠٢ء تک جسے یہ خود ساختہ حامل وحی اور الہام کا دعویدار کفر سمجھتا رہا اسے اسلام سمجھنے لگ گیا۔ طے شدہ بات ہے کفر بہر حال کفر ہی رہتا ہے۔ کسی کے سمجھنے سے اسلام نہیں بنتا۔ فرعون و نمرود کو کچھ بد نصیب اگر الٰہ سمجھ بیٹھیں تو وہ الٰہ نہیں بنیں گے۔ صرف سمجھنے والے کا قصور ہے۔ زہر زہر ہے اس کو تریاق کہہ دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ ازاں بعد دعویٰ نبوت ورسالت میں بھی کیا آیات قرآنی کو اپنے متعلق چسپاں کرنے کی کوشش کی گئی۔ نہ ماننے والوں کو کافر وغیرہ لکھا گیا۔
غیر احمدیوں کے بچوں تک کے جنازے پڑھنے حرام قرار دیئے گئے بلکہ خود مرزا نے اپنے بیٹے فضل احمد کا جنازہ نہ پڑھا۔ اس لئے کہ اس عکرمہ جیسے خوش نصیب نے ابو جہل جیسے باپ کو نہیں مانا تھا۔ اور مشہور بات ہے ۔ کہ ظفر اللہ نے باوجود پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کے بانی پاکستان قائد اعظمؒ کے جنازے میں شرکت نہیں کی بلکہ علیحدہ کھڑا رہا۔ اور پوچھنے پر صاف صاف کہہ دیا کہ مسلمان حکومت کا کافر وزیر مجھے سمجھ لو یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر مجھے سمجھ لو۔
میں نے ایک پمفلٹ ١٩٧٤ء میں حافظ آباد کے ایک منتخب ممبر قومی اسمبلی کے لئے لکھا تھا۔ تاکہ اسمبلی میں اسلامیان علاقہ حافظ آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کی حمایت کرے۔ اس مختصر پمفلٹ میں تصویر کے دونوں رخ دکھائے گئے۔ مرزا پہلے کیا کہتا رہا اور بعد میں ہندو اور انگریز کی شہہ پر کیا کچھ کر گزرا۔ ٣
مفاد عامہ کے پیش نظر اسے بھی شائع کر رہا ہوں۔ کہ عوام الناس خود مطالعہ کریں۔ اور سمجھیں کہ چودھویں صدی کا قادیانی دجال کذاب یا شیاد کس بری طرح اپنے تیار کردہ دام میں الجھ کر پھڑ پھڑا رہا ہے۔
بعثت مجدد کی خبر
حدیث شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ سے راوی ہیں۔ فرمایا: ”ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها“ (مشکوٰۃ شریف، ابی داؤد ج ٢ ص ١٣٢، باب ما یذکر فی قدر المائہ) بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے ختم پر ایسا شخص بھیجے گا جو امت کے لئے اس کا دین تازہ کرے گا۔
حدیث تجدید کی شرح اور مجددیت کی حقیقت
حاشیہ از مفتی غلام سرور صاحب قادری رضوی ایم اے اسلامک لاء یونیورسٹی بہاولپور
یعنی جب علم و سنت میں کمی اور جہل و بدعت میں زیادتی ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ اس صدی کے ختم یا شروع پر ایسا شخص پیدا کرے گا جو سنت و بدعت میں امتیازی شان پیدا کرے گا۔ علم کو زیادہ اور اہل علم کی عزت کرے گا۔ بدعت کا قلع قمع کرے گا۔ اور اہل بدعت کی شوکت توڑ دے گا۔ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گا۔ سر بکف ہو کر دین محمدی ﷺ کے جھنڈے گاڑے گا۔
شیخ ابو زہرہ مصری نے اپنی کتاب (اسلامی مذاہب) میں قادیانی عنوان کے تحت لکھا ہے کہ: ”رہا مرزا قادیانی کا مجدد والی حدیث سے تمسک! تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مجددین سابقین نے نہ نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ معجزات کا پھر مرزا ایک مستثنیٰ شخصیت کیونکر ہو سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تعلیمات کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔“
(اسلامی مذاہب ص ٤٨٨)
شان مجدد
اللہ تعالیٰ نے جہاں امت محمدیہ ﷺ پر اپنی ہر نعمت تمام کر دی اور دین حنیف کو مکمل فرما دیا۔ وہاں نبوت کا سلسلہ عالیہ بھی سرور کائنات حضور سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم کر دیا۔
آنحضور ﷺ کے بعد اصلاح خلق اور نفاذ واجرائے احکام شرعیہ کا مقدس فرض علماء وصلحا امت بجالاتے رہے۔
ہر دور میں کاملین کی ایک جماعت برسر عمل رہی ہے۔ جو صداقت عزم عشق دین اور پاکیزگی قلب کے اعتبار سے عامۃ الناس میں ممتاز رہی ہے۔ ایسے افراد کا ظہور حالات کی نزاکت
٤
اور ضروریات زمانہ کے مطابق ہوتا ہے۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ کے لا تعداد احسانوں میں سے ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کے احیاء و اجراء کی خاطر دنیا کو کسی دور میں بھی اپنے ”عبادی الشکور“ سے خالی نہیں رہنے دیا۔ تطہیر و تعمیر فکر، اصلاح احوال، تجدید دین، تہذیب و تنظیم، دعوت و ارشاد، تفقہ و اجتہاد، تذکیر و تزکیہ، تنقید و تنقیح، حفظ وراثت نبوت، جہاد بالسیف واللسان والقلم، قیام حق و ہدایت فی الارض والامت کے لحاظ سے ان کے کارنامے جو انہوں نے اپنے عہد میں سرانجام دیئے۔ ناقابل فراموش ہیں۔
ایسے ہی کاملین میں بطور خاص قابل ذکر شخصیت ”مجدد“ کی ہے۔ مجدد اپنے فکر صحیح کے ساتھ اسلامی اخلاق کا کامل نمونہ ہوتا ہے۔ وہ ایک بے باک مبصر، مجسمہ ایثار اور آئینہ اسلام ہوتا ہے۔ اور حق و باطل میں ذرہ بھر آمیزش اور کسی قسم کی مصالحت روا نہیں رکھتا۔ فوز و فلاح کے جتنے کچھ انعامات امت کو حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کے وسیلہ سے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ خود شیخ احمد سرہندیؒ نے فرمایا ہے۔
رسد بہ توسط او رسد اگر چہ اقطاب و اوتاد در اں وقت باشند
مجددیت کی حقیقت
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر جو گوناگوں احسانات فرمائے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ان کی ہدایت کے لئے اور اپنے قرب و رضا اور جنت کا ان کو مستحق بنانے کے لئے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انسانی دنیا کے آغاز سے لے کر حضرت محمد ﷺ کی بعثت تک یہ سلسلہ ہزاروں سال جاری رہا۔ اور انسانوں کی روحانی استعداد فطری طور پر بھی اور انبیاء علیہم السلام کی مسلسل تعلیم و تربیت کے ذریعہ بھی برابر ترقی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اب سے کوئی چودہ سو سال پہلے جب انسانیت روحانی استعداد کے لحاظ سے گویا بالغ ہوگئی۔ تو حکمت الٰہی نے فیصلہ کیا کہ اب ایک ایسی کامل ہدایت اور ایسا مکمل دین پوری انسانی دنیا کو عطا فرما دیا جائے۔ جو سب قوموں کے حسب حال ہو اور جس میں آئندہ کبھی کسی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہ ہو اور ایک ایسے نبی و رسول کے ذریعہ اس ہدایت اور اس دین کو بھیجا جائے جو سب ملکوں اور سب قوموں کا نبی ہو اور پھر اسی پر نبوت کے اس سلسلہ کو ختم کر دیا جائے۔ حکمت خداوندی نے اس فیصلہ کے مطابق حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعے بھیجے ہوئے مقدس صحیفہ قرآن مجید میں ختم نبوت اور تکمیل دین کا اعلان بھی فرما دیا۔
٥
حضور ﷺ کی تشریف آوری سے قبل پوری انسانیت کو اکٹھے کرنے کے لئے صرف اور صرف توحید باری تعالیٰ مرکزی نقطہ اور نعرہ تھا کیونکہ نبوت کسی نبی کی بھی عالمگیر نہیں تھی۔ ہر نبی ایک مخصوص علاقہ یا گروہ ، قبیلہ کے لئے ہادی بنائے گئے تھے۔ اور ان سب میں ایک قدرے مشترک اور مرکزیت ہے تو وہ توحید باری تعالیٰ ”لا الٰہ الا اللہ“ کے کلمہ پر ہے اور سید کائنات ﷺ کا سارے جہانوں کے لئے رسول وہادی بن کر تشریف لانا تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر آنا۔ سب کو ڈر سنانے والا اور مبشر بن کے سب کی طرف تشریف لانا۔ گویا اب ساری کائنات کے اتحاد کے لئے رسول کریم ﷺ کو عالمگیر شانوں کے ساتھ رسول اور نبی ماننا بلکہ خاتم النبیین ماننا از حد ضروری ہے۔ آپ تاریخ عالم کا مطالعہ کریں۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل جتنے کذاب ہوئے سب نے الٰہ و رب ہونے کا دعویٰ کیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ دعویٰ نبوت سے اہل اسلام کی مرکزیت متأثر ہوتی ہے اور دشمن کا ہدف ہمیشہ مرکز ومحور ہوتا ہے۔ تبھی تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے شروع ہو کر یعنی مسلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی تک جس کذاب نے بھی کافرانہ دعویٰ کیا الوہیت کے بجائے دعویٰ نبوت کیا۔ دشمن ہمیشہ مرکز شکن ضرب لگانے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں۔ میرے نزدیک نمرود، شداد، فرعون جیسے کافروں کا دعوائے الوہیت جتنا سنگین مرکز توڑ اور کافرانہ ہے۔ اسی طرح مسلمہ کذاب سے قادیانی کذاب تک یا اس کے بعد جتنے کذاب دعویٰ نبوت کریں۔ ان کا دعویٰ نبوت بھی فرعون وشداد سے کم کافرانہ کسی صورت بھی نہیں۔
حفاظت دین کا فطری اور قدرتی انتظام
چونکہ یہ دین قیامت تک کے لئے اور دنیا کی ساری قوموں کے لئے آیا اور مختلف انقلابات سے اس کو گزرنا اور دنیا کی ساری قوموں اور ملتوں کی تہذیبوں سے اس کا واسطہ پڑنا تھا۔ اور ہر مزاج وقماش کے لوگوں کو اس میں آنا تھا۔ اس لئے قدرتی طور پر ناگزیر تھا کہ جس طرح پہلے نبیوں کے ذریعہ آئی ہوئی آسمانی تعلیم وہدایت میں طرح طرح کی تحریفیں اور آمیزش ہوئیں۔ اور عقائد واعمال کی بدعتوں نے ان میں جگہ پائی۔ اسی طرح خدا کی نازل کی ہوئی۔ اس آخری ہدایت وتعلیم میں بھی تحریف وتبدیل کی کوششیں کی جائیں۔ اور فاسد مزاج عناصر اس کو اپنے غلط خیالات اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کے لئے حقائق دینیہ کی غلط تاویلیں کریں۔ اور سادہ لوح عوام ان کے دجل وتلبیس کا شکار ہوں۔ اور اس طرح یہ امت بھی عقائد واعمال کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائے۔ اس لئے سلسلہ نبوت ختم ہو جانے کے ساتھ ہی اس دین کی
٦
حفاظت کے لئے ایک خاص انتظام کر دیا گیا۔ کہ اللہ عزوجل نے خود قرآن پاک وانا له لحفظون“ کے مطابق اس کا کل و اکمل کے ساتھ ظاہری نظام کا بھی اہتمام فرمایا کہ ہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین کی خاص فہم و بصیرت و بدعت کے درمیان امتیازی لکیر کھینچ سکیں اور ا تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالا جائے جائے کہ ناموافق سے ناموافق حالات میں ہو جائیں۔ اور دین حق کے چشمہ صافی میں الحاد کے عقائد واعمال میں جب کوئی فساد پیدا ہو یا ق ایک وفادار جانثار لشکری کی طرح وہ اس کی شمع کریں۔ اور کوئی لالچ نہ کوئی خوف ان کے قدم
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے آخری رسول ﷺ نے مختلف موقعوں پر حکم ”اللہ تعالیٰ میری امت میں قیام کے حامل و امین اور محافظ ہوں گے۔ وہ اہل افرا اور اس آخری دین کو بالکل اصلی شکل میں امت روح پھونکتے رہیں گے۔ اس کام کا اسلامی عرو سے یہ کام لے وہی مجددین ہیں ۔“
چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین لہٰذا آپ ﷺ کی شریعت کے قیامت تک محفو بیش از بیش کئے گئے اور امت کو ان انتظامات بعض اہم انتظامات کی خبر قرآن مجید میں ہے مجدد کا ہونا بھی انہیں انتظامات کے سلسلہ کی ای بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ایک صد کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کو اپنے مجدد ہو
حفاظت کے لئے ایک خاص انتظام کر دیا گیا۔ کہ اللہ عزوجل نے خود قرآن پاک میں اعلان فرمایا کہ: "انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحفظون" کے مطابق اس کامل واکمل دین کی حفاظت کا ذمہ لے لیا اور اس باطنی نظام کے ساتھ ظاہری نظام کا بھی اہتمام فرمایا کہ ہر دور میں کچھ ایسے بندگان پیدا ہوتے رہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین کی خاص فہم و بصیرت عطا ہو جس کی وجہ سے اسلام اور غیر اسلام سنت و بدعت کے درمیان امتیازی لکیر کھینچ سکیں اور اس کے ساتھ دین کی حفاظت کا خاص داعیہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالا جائے۔ اور اس راہ میں ایسی عزیمت بھی ان کو عطا فرمائی جائے کہ ناموافق سے ناموافق حالات میں بھی وہ اس قسم کے ہر فتنہ کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جائیں۔ اور دین حق کے چشمہ صافی میں الحاد و گمراہی کی کوئی آمیزش نہ ہونے دیں۔ اور امت کے عقائد و اعمال میں جب کوئی فساد پیدا ہو یا غفلت اور بے دینی کا غلبہ ہو تو خاتم النبیین ﷺ کے ایک وفادار جانثار لشکری کی طرح وہ اس کی بیخ کنی کے لئے اپنی پوری طاقت کے ساتھ جدوجہد کریں۔ اور کوئی لالچ نہ کوئی خوف ان کے قدم روک سکے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے اس ضرورت کا بھی اہتمام فرمایا اور اس کے آخری رسول ﷺ نے مختلف موقعوں پر حکمت الہی کے اس فیصلہ کا اعلان فرمایا کہ: ”اللہ تعالیٰ میری امت میں قیامت تک ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو دین کی امانت کے حامل وامین اور محافظ ہوں گے۔ وہ اہل افراط وتفریط کی تحریفات سے دین کو محفوظ رکھیں گے۔ اور اس آخری دین کو بالکل اصلی شکل میں امت کے سامنے پیش کرتے رہیں گے۔ اور اس میں نئی روح پھونکتے رہیں گے۔ اس کام کا اصلاحی عنوان تجدید دین ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں سے یہ کام لے وہی مجددین ہیں۔“
چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے والی نہیں۔ لہذا آپ ﷺ کی شریعت کے قیامت تک محفوظ رہنے کے انتظامات بھی قدرت کاملہ کی طرف سے پیش از پیش کئے گئے اور امت کو ان انتظامات سے بطور پیش گوئی کے آگاہ کر کے مطمئن کر دیا گیا۔ بعض اہم انتظامات کی خبر قرآن مجید میں ہے اور بعض کی احادیث صحیحہ میں۔ چنانچہ ہر صدی میں مجدد کا ہونا بھی انہیں انتظامات کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جس کا تذکرہ احادیث صحیحہ میں ہے۔ بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ایک صدی میں ایک مجدد ہوتا ہے۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ مجدد کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کو اپنے مجدد ہونے کا علم ہو۔
٧
اللہ تعالیٰ بعض وقت اپنے کسی بندہ کو مصلحت عامہ کے لئے مخصوص کر لیتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ مجدد کی سب سے بڑی پہچان اس کے کارنامے ہیں۔ حمایت دین اور اقامت سنت اور ازالہ بدعت اس کی خاص شان ہوتی ہے۔ غیر معمولی کوشش اس سے ظہور میں آتی ہے۔ اور اس کی کوشش کا غیر معمولی نتیجہ یعنی توقع سے بہت زائد نکلتا ہے۔
تعمیم تجدید
محققین کا کہنا ہے کہ امر تجدید علماء، فقہاء اور مجتہدین سے ہی مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ بادشاہان اسلام ۔ قراء، محدثین، زاہد، عابد، واعظ نحو وصرف، تاریخ وسیرت کے علماء، سخی اور دولت مند بھی اس میں شامل ہیں۔ جو مال و دولت لٹا کر علماء کرام، مجتہدین عظام سے دین کے تجدید طلب امور کو تازہ کراتے ہیں۔ اور یہ امر کسی ایک فرقہ سے بھی مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ حنفی مذہب ہو یا مالکی، شافعی ہو یا حنبلی، ہر مذہب میں مجدد پیدا ہوتے چلے آئے ہیں۔ ہاں کچھ اکابر ایسے ہیں جنہوں نے صرف اپنے ہی ہم مسلک مجددین کی فہرست معرض تحریر میں رکھی ہے۔ جس سے دوسروں کی نفی مقصود نہیں۔
حدیث شریف سے واضح ہوا کہ ایک سو سال کے بعد دوسری صدی شروع ہو جاتی ہے۔ جس میں پہلی صدی کا کوئی شخص زندہ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ اس امت میں سو سال سے زائد عمر شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ البتہ دین و شریعت مطہرہ نے ہمیشہ رہنا ہے۔ اس کے احکام کو گردش گردوں اور تغیرات زمانہ متاثر نہیں کر سکتے۔ وہ جیسے تھے ویسے ہی رہتے ہیں۔ ہاں ان کی افہام وتفہیم اور جان پہچان والی شخصیتیں راہی عدم ہو جاتی ہیں اور دین کی دھوم مچانے والے حضرات موت العالم موت العالم کے مطابق دنیا کو سونا اور بے رونق کر کے ملک بقاء کو رخصت ہو جاتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کے افکار شریعت کے احکام سے ناواقف اور ان کے اذہان اس کی حکمتوں سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ یہی چیز دین سے ان کی لا ابالی اور شریعت پاک سے بے رغبتی کا باعث ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مسائل اور ضروریات ایسے مہجور ہو کر رہ جاتے ہیں جیسے ایک پرانی چیز کو نا قابل استعمال گردان کر اس سے نظر التفات ہٹالی جاتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ ایسی شخصیتیں جن کا ظاہر شریعت کے احکام اور باطن طریقت کے اسرار سے آراستہ ہوتا ہے۔ بھیج کر "وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ" (الحجر: ٩) کہ ہم اس کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں) کا کرشمہ ظہور میں لاتے ہیں۔ اور ان سے خدمت دین لیتا ہے۔ اور ان میں جذبہ احیاء سنت ایسا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کہ وہ گمراہی کے بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکر لینے سے گریز نہیں کرتے اور ہر طرح کے سیل بلا کو عبور کر کے
٨
خدمت دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔
یہ بات زبان زد عام ہے کہ ہر صدی پر ایک مترشح ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بیک وقت کئی ایک مجدد ہو کہ عنقریب قارئین کرام کچھ مجددین حضرات سے شرف
سبحان اللہ ..... اللہ والوں کی مبارک زند ہے۔ جن کے وسیلہ جلیلہ سے مصیبتیں ٹلتی اور مشکلیں برکتوں سے وہ عقدے ایک چٹکی سے حل ہو جاتے ترازوئے عقل تول سکے۔ وہ پاک شخصیتیں اپنی صور رسول اللہ ﷺ کی تصویر اور صفات قدسیہ کی مظہر ہوتی ہیں۔ وہاں رموز طریقت کی امین بھی۔
قدرت خداوندی نے ہر قرن میں ایسے لو ہو کر راہِ حق کے ان نشانات کو بے غبار کر دکھانا ہے ۔ لہروں سے پامال ہو جاتے ہیں۔
بلکہ ہر صدی کا ختم یا آغاز ایسے بے باک ہوتا ہے۔ اور یہ مردان خدا ہی ہوتے ہیں۔ جن کی تعلی برقرار ہے۔ اگر ان کا وجود باجود نہ ہو تو سب کچھ برباد
مجددین کے متعلق اہم معلومات
سطور بالا جو کہ سلف صالحین کے بیانات معلومات مجددین عظام کے متعلق واضح ہوتی ہیں۔ مج
- ١....... آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطا
کرنے کے لئے ہر صدی میں مجدد پیدا ہوتے رہیں
- ٢....... مجددین ہر صدی کے کسی نہ کسی حصہ میں
فرمائیں گے۔
- ٣....... مجددین ہر صدی میں ایک سے زیادہ
ہو سکتے اور ہوتے رہیں گے۔ بلکہ ہوتے رہے ہیں
- ٤....... مجددین مختلف فقہی طبقات یعنی حنفی، ما
٩
خدمت دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔
یہ بات زبان زد عام ہے کہ ہر صدی پر ایک مجدد مبعوث ہوتا ہے۔ مگر بہ نظر تحقیق جو مترشح ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بیک وقت کئی ایک مجدد ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہوتے چلے آئے ہیں۔ جیسا کہ عنقریب قارئین کرام کچھ مجددین حضرات سے شرف تعارف بھی حاصل فرمائیں گے۔
سبحان اللہ...... اللہ والوں کی مبارک زندگی باشندگان جہاں کے لئے ایک نعمت عظمیٰ ہے۔ جن کے وسیلہ جلیلہ سے مصیبتیں ٹلتی اور مشکلیں آسان ہوتی ہیں اور ان کے وجود باجود کی برکتوں سے وہ عقدے ایک چٹکی سے حل ہو جاتے ہیں۔ جنہیں نہ کسی کا ناخن تدبیر کھول، نہ ترازوئے عقل تول سکے۔ وہ پاک شخصیتیں اپنی صورت وسیرت، رفتار، گفتار، روش اور ادا میں رسول اللہ ﷺ کی تصویر اور صفات قدسیہ کی مظہر ہوتی ہیں۔ وہ جہاں اسرار شریعت کی حامل ہوتی ہیں۔ وہاں رموز طریقت کی امین بھی۔
قدرت خداوندی نے ہر قرن میں ایسے لوگ پیدا کئے ہیں۔ جن کا کام ہر خطرہ سے نڈر ہو کر راہ حق کے ان نشانات کو بے غبار کر دکھانا ہے۔ جو اہل زمانہ کے افراط وتفریط کی تیز اور تند لہروں سے پامال ہو جاتے ہیں۔
بلکہ ہر صدی کا ختم یا آغاز ایسے بے باک حق کے داعیوں کی نوید بعثت کا ضرور حامل ہوتا ہے۔ اور یہ مردان خدا ہی ہوتے ہیں۔ جن کی علمی اور عملی جدوجہد اور نگاہ کرم سے عالم کی بہار برقرار ہے۔ اگر ان کا وجود باجود نہ ہو تو سب کچھ برباد ہو کر رہ جائے۔
مجددین کے متعلق اہم معلومات
سطور بالا جو کہ سلف صالحین کے بیانات کی روشنی میں تحریر ہو چکی ہیں۔ ان سے جو معلومات مجددین عظام کے متعلق واضح ہوتی ہیں۔ مختصراً پیش خدمت ہیں۔
- ١...... آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق کہ اصلاح حال اور دین حقہ میں تازگی پیدا
کرنے کے لئے ہر صدی میں مجدد پیدا ہوتے رہیں گے۔
- ٢...... مجددین ہر صدی کے کسی نہ کسی حصہ میں تجدید کے لئے ضرور ظاہر ہو کر سعی وکوشش
فرمائیں گے۔
- ٣...... مجددین ہر صدی میں ایک سے زیادہ ہوتے رہے ہیں۔ اور مختلف علاقوں میں بھی
ہو سکتے اور ہوتے رہیں گے۔ بلکہ ہوتے رہے ہیں۔
- ٤...... مجددین مختلف فقہیہ طبقات یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی گویا ہر طبقہ سے ہوتے رہے
٩
ہیں ۔ اور آئندہ بھی یقیناً ایسا ہی ہو گا ۔
- ٥...... جن مجددین پاک کے متعلق آج تک تاریخ نے معلومات فراہم کئے ہیں ۔ ان سے
روز روشن کی طرح واضح ہو گیا ہے ۔ کہ آج تک کسی مجدد نے اپنے مجدد ہونے ۔ اپنے متعلق حامل وحی ، صاحب معجزات ، اور صاحب رسالت و نبوت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ۔
لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز ہرگز چودھویں صدی کا مجدد نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ قادیانی کذاب نے دعوائے نبوت کر کے واضح طور پر اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے خارج کر لیا ہے ۔ کسی بزرگ نے فرمایا کہ ہندسہ ایک کے ساتھ جوں جوں صفر زیادہ لگاتے جائیں رقم بڑھتی جائے گی ۔ لیکن ایک کا ہندسہ مٹا دینے سے چاہے کتنے بھی صفر ہوں ۔ سب بے وقعت ہو جائیں گے ۔ بالکل اسی طرح ایمان کا ایکا نہ ہو تو پھر کوئی عمل بھی حقیقت میں بالکل عمل ہی نہیں ۔ کفر ایسی خباثت ہے ۔ جو ہر عمل کو برباد کر دیتی ہے ۔ کفر کسی بھی مقام و مرتبہ کے حصول میں بدترین رکاوٹ ہے ۔ تو پھر کذاب قادیانی کا دعویٰ مجددیت ۔ چہ معنی !
پہلی صدی سے چودھویں صدی تک کے کچھ مجددین کے مبارک نام
پہلی صدی کے مجدد
پہلی صدی کے مجدد عمر بن عبدالعزیز جن کا وصال ١٠١ھ میں ہوا ۔ پہلی صدی کے دوسرے مجدد امام محمد بن سیرین ہیں جن کا وصال ١١٠ھ میں ہوا ۔
دوسری صدی کے مجدد
حضرت امام حسن بصری متوفی ١١٠ھ امام اعظم ابو حنیفہ متوفی ١٥٠ھ امام محمد بن حسن شیبانی جن کا وصال ١٨٥ھ میں ہوا امام مالک بن انس متوفی ١٧٩ھ امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی متوفی ٢٠٤ھ امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم متوفی ٢٠٣ھ
تیسری صدی کے مجدد
امام ابو الحسن علی بن عمر دار قطنی صاحب سنن متوفی ٣٠٦ھ امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ھ
١٠
چوتھی صدی کے مجدد
امام طحاوی متوفی ٣٢١ھ اور امام اسماعیل بن ح ابو جعفر بن جریر طبری متوفی ٣١٠ھ و امام ابو حاتم رازی متوفی ٣
پانچویں صدی کے مجدد
امام ابو نعیم اصفہانی متوفی ٤٣٠ھ ، امام ابو الح متوفی ٤٢٨ھ امام علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٥ھ
چھٹی صدی کے مجدد
امام فخر الدین ابو الفضل عمر رازی وصال ٦٠٦ وصال ٥٣٧ھ ، و امام قاضی فخر الدین حسین منصور وصال ٥ حضرت امام ابو محمد حسین بن مسعود فراء متوفی ٥١٦ھ
ساتویں صدی کے مجدد
علامہ امام ابو الفضل جمال الدین محمد بن افریقی ٧١١ھ اور شیخ المشائخ خواجہ شہاب الدین سہروردی وصال ٦ المشائخ معین الدین چشتی اجمیری وصال ٦٣٣ھ ، امام ا اثیر وصال ٦٣٠ھ اور امام اولیاء شیخ اکبر محی الدین محمد معروف
آٹھویں صدی کے مجدد
امام عارف باللہ تاج الدین بن عطاء اللہ سکندری خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی وصال ٧٢٥ھ ، علامہ اما
نویں صدی کے مجدد
امام حافظ جلال الدین ابو بکر عبد الرحمن سیوطی مصری سمہودی صاحب وفا الوفاء متوفی ٩١١ھ ، امام محمد ٨٨٦ھ ، امام شمس الدین ابو الخیر محمد بن عبد الرحمن سخاوی متوفی محمد جزری متوفی ٨١٦ھ
١١
چوتھی صدی کے مجدد
امام طحاویؒ متوفی ٣٢١ھ اور امام اسماعیل بن حماد جوہری لغویؒ متوفی ٣٩٣ھ و امام ابو جعفر بن جریر طبری متوفی ٣١٠ھ و امام ابو حاتم رازیؒ متوفی ٣٢٧ھ
پانچویں صدی کے مجدد
امام ابو نعیم اصفہانی متوفی ٤٣٠ھ، امام ابو الحسین احمد بن محمد بن ابو بکر القدوریؒ متوفی ٤٢٨ھ امام علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانیؒ متوفی ٥٠٢ھ و امام محمد بن محمد غزالیؒ متوفی ٥٠٥ھ
چھٹی صدی کے مجدد
امام فخر الدین ابو الفضل عمر رازیؒ وصال ٦٠٦ھ و علامہ امام عمر نسفی صاحب العقائدؒ وصال ٥٣٧ھ و امام قاضی فخر الدین حسن منصورؒ وصال ٥٩٢ھ صاحب فتاویٰ قاضی خان اور حضرت امام ابو محمد حسین بن مسعود فراءؒ متوفی ٥١٦ھ
ساتویں صدی کے مجدد
علامہ امام ابو الفضل جمال الدین محمد بن منظور افریقی مصریؒ صاحب لسان العرب وصال ٧١١ھ اور شیخ المشائخ خواجہ شہاب الدین سہروردیؒ وصال ٦٣٢ھ، حضرت خواجہ خواجگان سلطان المشائخ معین الدین چشتی اجمیریؒ وصال ٦٣٣ھ، امام ابو الحسن عز الدین علی بن محمد معروف ابن اثیر وصال ٦٣٠ھ اور امام اولیاء شیخ اکبر محی الدین محمد معروف ابن عربی وصال ٦٣٨ھ
آٹھویں صدی کے مجدد
امام عارف باللہ تاج الدین بن عطاء اللہ سکندریؒ وصال ٧٠٩ھ اور سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہٰیؒ وصال ٧٢٥ھ، علامہ امام عمر بن مسعود تفتازانی وصال ٧٩٢ھ
نویں صدی کے مجدد
امام حافظ جلال الدین ابو بکر عبد الرحمن سیوطیؒ متوفی ٩١١ھ، امام نور الدین علی بن احمد مصری سمہودی صاحب وفا الوفاء متوفی ٩١١ھ، امام محمد بن یوسف کرمانی شارح بخاری متوفی ٨٨٦ھ، امام شمس الدین ابو الخیر محمد بن عبد الرحمن سخاویؒ متوفی ٩٠٢ھ، علامہ امام سید شریف علی بن محمد جرجانیؒ متوفی ٨١٦ھ
١١
دسویں صدی کے مجدد
حضرت امام شہاب الدین ابوبکر احمد بن محمد خطیب قسطلانی شارح بخاری متوفی ٩١٣ھ وعارف باللہ امام محمد شربینی صاحب تفسیر سراج منیر متوفی ٩١٩ھ وعلامہ شیخ محمد طاہر محدث پٹنی متوفی ٩٨٦ھ
گیارھویں صدی کے مجدد
حضرت علامہ امام علی بن سلطان قاریؒ وصال ١٠١١ھ وحضرت امام ربانی عارف باللہ جناب شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانیؒ متوفی ١٠٣٤ھ اور حضرت سلطان العارفین محمد باہوؒ ١١٠٢ھ
بارہویں صدی کے مجدد
حضرت علامہ مولانا امام ابوالحسن محمد بن عبد الہادی سندھی متوفی ١١٣٨ھ، حضرت علامہ عارف باللہ امام عبدالغنی نابلسیؒ متوفی ١١٤٣ھ، حضرت علامہ شیخ احمد ملا جیون متوفی ١١٣٥ھ
تیرہویں صدی کے مجدد
حضرت علامہ امام بحرالعلوم عبدالعلی لکھنویؒ متوفی ١٢٢٦ھ، علامہ عارف باللہ شیخ احمد صاوی مالکی متوفی ١٢٤١ھ، علامہ عارف باللہ احمد بن اسماعیل طحطاویؒ ١٢٣١ھ، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ متوفی ١٢٣٩ھ
چودھویں صدی کے مجدد
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان قادری صاحب فاضل بریلویؒ، آپ کی ولادت باسعادت بھارت کے صوبہ یوپی کے شہر بریلی میں ١٠ شوال ١٢٧٢ھ بمطابق ١٤ /جون ١٨٥٦ء بروز شنبہ بوقت ظہر اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خانؒ کے گھر میں ہوئی۔
حضرت مولانا شاہ احمد رضا خانؒ نے علم دین وشریعت کو حضرت مولانا غلام قادر صاحب اور اپنے فاضل مکرم والد صاحب حضرت مولانا نقی علی خانؒ سے حاصل فرمایا۔ اور تیرہ برس دس ماہ کی عمر میں حفظ قرآن پاک سے شروع کر کے صرف، نحو، ادب، حدیث، تفسیر، کلام، اصول معانی وبیان، تاریخ، جغرافیہ، حساب، منطق، فلسفہ، ہیئت وغیرہ وجميع علوم دینیہ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل کر کے ١٤ شعبان المعظم ١٢٨٦ھ کو سند فراغت حاصل اور دستار فضیلت زیب سر فرمائی۔
امام اہل سنت نے سلوک وطریقت کے علوم امام اولیاء سیدنا و مرشدنا شاہ آل رسول
١٢
ماہرویؒ سے حاصل کیے۔ اور ان کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ انہوں نے آپ کو تمام سلاسل میں اجازت وخلافت بخشی۔ نیز آپ نے حضرت امام اولیاء ابوالحسن نوری ماہرویؒ سے بھی روحانی اور باطنی علوم کا اکتساب کیا۔
فاضل بریلویؒ نے تمام عمر دین مصطفیٰ ﷺ کی اشاعت وتبلیغ میں صرف کر دی اور ہزاروں خوش نصیب وسعید دل علم طریقت وشریعت سے منور فرمائے۔
چودھویں صدی کے عظیم مجدد شاہ احمد رضا خانؒ نے ترجمہ قرآن پاک سے شروع کر کے کم وبیش تین ہزار کے لگ بھگ چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں جن میں ترجمہ قرآن شریف المعروف کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ ہزار ہزار صفحہ کی ١٢ جلدوں میں مرتب فرمایا۔ الدولۃ المکیہ بزبان عربی ساڑھے ٨ گھنٹہ دورانِ سفر سعید مکہ مکرمہ میں علم مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء پر لکھ کر عرب وعجم کے ہزاروں علماء جن میں موافق ومخالف بھی تھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
مولانا احمد رضا خانؒ نے اپنی ہزاروں تصنیفات کے ذریعہ ہر مسئلہ خواہ شرعی ہو یا تصوف وروحانیت کا مذہبی ہو یا سیاسی، خوردونوش کا ہو یا زہدوعبادت سے متعلقہ قرآن وحدیث سے اتنے زبردست دلائل سے روشنی ڈالی ہے۔ کہ دین حقہ کا ہر گوشہ چمک اٹھا۔ مسلک حق کے چہرہ پر اہل ہوس کی ڈالی ہوئی گرد کچھ اس طرح جھاڑ دی کہ گردوغبار کے ساتھ ہی اہل ہوس بھی بے نشان ہو گئے۔
مولانا شاہ احمد رضا خانؒ اسلام کے رجل عظیم، صاحب زبان صاحب قلم، صاحب کردار جنہیں عرب وعجم کے علماء عظام نے مجدد مائتہ حاضرہ تسلیم کیا ہے۔ (دیکھیں انوار رضا۔ اعلیٰ حضرت علماء حرمین کی نظر میں) جن کے وصال پر اہل ہند کے اپنے تو اپنے مخالفین کے اکابرین نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان الفاظ سے افسوس کیا کہ آج دنیا میں علم کا چراغ بجھ گیا اور تحقیق کا آفتاب غروب ہو گیا۔
جن کے متعلق شاعر مشرق مفکر اسلام حضرت علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا: ہندوستان کے دور آخر میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہہ پیدا نہیں ہوا۔ میں نے ان کے فتوٰی کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتاوٰی ان کی ذہانت، فطانت جودت طبع، کمال فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں۔
مولانا جو رائے ایک دفعہ قائم کر لیتے ہیں اس پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ یقیناً وہ اپنی رائے کا اظہار بہت غوروفکر کے بعد کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنے شرعی فیصلوں اور فتاوٰی میں
١٣
کبھی کسی تبدیلی یا رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بایں ہمہ ان کی طبیعت میں شدت زیادہ تھی۔ اگر یہ چیز درمیان میں نہ ہوتی تو مولانا احمد رضا خان گویا اپنے دور کے امام ابو حنیفہ ہوتے۔ حضرت مولانا احمد رضا خانؒ جو عاشق رسول ﷺ آفتاب شریعت و ماہتاب طریقت اور چودھویں صدی کے مجدد ٢٥ صفر المظفر ١٣٤٠ھ بمطابق ١٩٢١ء نماز جمعہ کے وقت بریلی شریف سے لقاء حق کے لئے اس دنیا فانی کو چھوڑ کر چل دیئے۔
چودھویں صدی کے دوسرے مجددؒ
عزت مآب عالی مرتبت سیدنا و مرشدنا اعلیٰ حضرت قبلہ سید پیر مہر علی شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ۔ اعلیٰ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ العزیز یکم رمضان ١٢٧٥ھ بمطابق ١٨٥٩ء بروز پیروار گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے۔ حضرت قبلہ عالم کا نسبی تعلق والدین شریفین کی طرف سے آل رسول ﷺ یا فرزندان رسول ﷺ طیب و طاہر سلاسل حسنی اور حسینی سے وابستہ ہے۔
حضرت والا نے دینی تعلیم گھر کے پاکیزہ ماحول میں اپنے والد مکرم اور دیگر خاندان کے بزرگوں سے حاصل کی۔ ازاں بعد تکمیل تعلیم کے لئے حضرت مولانا غلام محی الدین ہزاروی کو مقرر کیا گیا۔ جن سے آپ نے کافیہ تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد آپ ایک طالب علم کی شان سے گولڑہ شریف سے چل کر موضع بھوئی علاقہ حسن ابدال، ضلع کیمبل پور (اٹک) کے فاضل اجل حضرت علامہ مولانا محمد شفیع قریشیؒ سے اڑھائی سال میں رسائل منطق قطبی تک اور نحو و اصول کے درمیانہ اسباق کی تعلیم حاصل کی۔ پھر گولڑہ شریف سے تقریباً ایک سو میل دور موضع انگہ علاقہ سون ضلع شاہ پور (سرگودھا) کے حضرت مولانا سلطان محمودؒ سے حصول علم کے لئے حاضر خدمت ہوئے۔
لیکن حصول علم کی تشنگی اس مرد درویش کو پنجاب سے دور تقریباً اندرون ہند تک لے گئی اور آپ حضرت مولانا احمد حسن محدث کانپوریؒ کے پاس پہنچ گئے۔ چونکہ مولانا کانپوری ہفتہ بعد حج پر جانے کے لئے تیاری فرما رہے تھے۔ تو قبلہ عالم وہاں سے لوٹ کر محدث کانپوریؒ کے استاد محترم استاد الکل حضرت مولانا لطف اللہ نور اللہ مرقدہ علی گڑھی کے درس میں داخل ہو گئے۔
علی گڑھ میں مولانا لطف اللہ کی ذات گرامی شہرہ آفاق تھی۔ آپ مفتی عنایت احمد کے شاگرد رشید تھے۔ جو مولانا بزرگ علی علی گڑھی متوفی ١٢٦٢ھ اور مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی
١٤
متوفی ١٢٦٢ھ کے شاگرد تھے اور شاہ محمد اسحق حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے نواسے اور جانشین تھے۔ علی گڑھ میں حضرت قبلہ عالمؒ نے قریباً اڑھائی سال تعلیم حاصل کی اور اپنی قابلیت بلند اخلاق اور مثالی کردار کے باعث حضرت استاذ المکرم و دیگر اساتذہ کرام و ہم مکتبوں میں بے حد مقبولیت اور توقیر حاصل فرمائی۔
قبلہ عالم علی گڑھ سے فارغ ہو کر مزید حصول علم اور سند حدیث حاصل کرنے کے لئے سہارنپور میں مولانا احمد علی محدثؒ کے درس میں جا کر داخل ہوگئے۔ سہارنپور میں مولانا احمد علیؒ محدث فن حدیث کے امام تصور کئے جاتے تھے۔ بخاری شریف پر آپ کے حواشی آپ کی علمیت اور کاملیت پر بین ثبوت ہیں۔ آپ مولانا عبدالحئی بحرالعلوم لکھنویؒ اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ کے شاگرد تھے۔ ١٢٦١ھ مکہ شریف جاکر خاندان ولی اللہی کے مشہور چشم و چراغ شاہ محمد اسحاق سے سند حدیث حاصل کی اور شیخ الحدیث مولانا احمد علی سہارنپوریؒ سلسلہ صابریہ کے مشہور بزرگ حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے استاد تھے۔
قبلہ عالم کی تحقیق علمی اور شرافت، بلندی کردار زہد ریاضت سے واقف ہو کر شیخ الحدیث سہارنپوریؒ نے محسوس کر لیا کہ یہ طالب علم ایک محققانہ بصیرت کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ عشق الٰہی کے بھی ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے علوم ظاہری و باطنی رسمیہ و وہبیہ کے ساتھ ساتھ شریعت و طریقت کی خدمت بھی لینے والا ہے۔ اس لئے اسے زیادہ دیر تک روکنا دین کی خدمت کے منافی ہے۔ چنانچہ ایک روز اچانک اپنے دولت کدہ پر حضرت کی دعوت کی اور پھر سند حدیث سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو مزید پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ وطن تشریف لے جائیں اور دین کی خدمت کیجئے۔
حضرت نے بخاری شریف اور مسلم شریف کی تعلیم لی تھی۔ سند مل گئی۔ جس پر ١٢٩٥ھ تاریخ مرقوم ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے تقریباً بیس برس کی عمر میں علوم رسمیہ کی تکمیل کر کے وطن کو مراجعت فرمائی تھی۔ اس کے دو سال بعد یعنی ١٢٩٧ھ میں شیخ الحدیث مولانا احمد علی سہارنپوریؒ کا انتقال ہوگیا۔
بیعت
قبلہ عالم نے تعلیم سے فارغ ہو کر تلاش مرشد میں اپنے استاد محترم کے ساتھ شیخ العصر
١٥
شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت فرمائی۔ شمس العارفین غوث زماں حضرت خواجہ سلیمان تونسوی سے فیض یافتہ تھے۔ حضرت قبلہ عالم قدس سرہ، اپنے شیخ کی شان میں فرمایا کرتے تھے کہ شیخ علم طریقت کے مجتہد اور مجدد تھے۔ سلسلہ عالیہ قادری کا فیض اپنے آباء اجداد سے مل چکا تھا۔
نیز دوران سفر سعید مکہ معظمہ میں حضرت قبلہ عالم گولڑوی قدس سرہ العزیز شیخ العرب والعجم حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی سے ملے اور استفادہ کرتے رہے ہیں۔ بالآخر حاجی صاحب قبلہ نے سلسلہ چشتیہ صابریہ کا شجرہ عطا فرما کر اجازت و خلافت سے نوازا۔ حاجی صاحب نے ١٣١٧ھ ١٨٩٩-١٩٠٠ء کو مکہ مکرمہ میں رحلت فرمائی اور جنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔
حضرت گولڑویؒ فرماتے تھے۔ کہ عرب شریف کے قیام کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ مجھے اسی جگہ رہائش اختیار کر لینے کا خیال پیدا ہوگیا۔ مگر حاجی صاحب قبلہ نے فرمایا کہ پنجاب میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا۔ جس کا سدباب صرف آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ اگر اس وقت آپ محض اپنے گھر میں خاموش ہی بیٹھے رہے۔ تو بھی علماء عصر کے عقائد محفوظ رہیں گے۔ اور وہ فتنہ زور نہ پکڑ سکے گا۔ جیسے کہ آپ کی تصنیفات و ملفوظات سے ظاہر ہوتا ہے۔ آپ پر بعد میں انکشاف ہوا کہ اس فتنہ سے مراد قادیانیت تھی۔
عالی نسب سید حضرت گولڑویؒ نے جب اپنے آپ کو علوم ظاہری و باطنی سے آراستہ کرلیا۔ کئی علماء حق اور مشائخ عظام کی دعاؤں سے دامن طلب بھر چکے۔ زیارت حرمین شریفین سے تمنائے وصل پوری کر چکے۔ نور مصطفیٰ ﷺ کی نورانیت سے دل و نگاہ کی دنیا کو منور فرما چکے تو توکل علی اللہ، جہاد فی سبیل اللہ کے لئے میدان عمل میں نکل آئے۔ خدا عز وجل کے دین برحق اسلام کی حمایت میں شب و روز ایک کر دیئے۔ مسلک حق اہل سنت کیخلاف اٹھنے والی ہر آواز کے سامنے سینہ تان کر ڈٹ گئے۔
چودھویں صدی کی شہرہ آفاق اور نامور شخصیت کی زندگی کو جاننے والا کون نہیں جانتا کہ حضرت گولڑویؒ نے حمایت حق میں جس ثابت قدمی سے جلالت چشتیہ کا مظاہرہ فرمایا کہ شیطان لعین کے پروردہ راہ مستقیم سے بھٹکے ہوئے منظم گروہ عبرت ناک تباہی سے دو چار ہوئے۔ اہل اسلام میں انتشار و افتراق کو فروغ دینے کے لئے جو غلط طبقے وجود میں آئے۔ خواہ نیچری ہوں یا چکڑالوی۔ رافضی ہوں یا خارجی، بلکہ کانگریس کی ہندوانہ اور کافرانہ سیاست کیخلاف اس قدر زبردست مجاہدانہ اور مجددانہ کار نمایاں انجام دیئے کہ دلائل کے آہنی پنجے میں بے بسی کے عالم میں دم توڑے نظر آئے۔
- ١٦
جاننے والوں سے یہ بات کس طرح پوشیدہ رہ سکتی ہے کہ مرزا قادیانی کے کافرانہ دعوے مجددیت، مہدویت، مسیحیت اور نبوت پر اتنی کاری ضرب لگائی کہ آج تک مرزائیت حضرت کے نام سے لرزاں ہے۔ حضرت کی کتاب ”شمس الہدایت“ اور ”سیف چشتیائی“ مرزائیت کی رد میں بے مثال تصانیف ہیں۔
٢٥ اگست ١٩٠٠ء کی تاریخ مقرر ہوئی کہ حضرت گولڑوی اور مرزا قادیانی کے درمیان مناظرہ بمقام لاہور ہوگا۔ ٢٤ اگست کو حضرت لاہور پہنچ گئے۔ تمام سنی، شیعہ، دیوبندی، اہلحدیث طبقوں نے حضرت گولڑوی کو مرزا کے مقابلہ میں اپنا متفقہ نمائندہ مقرر کیا۔ یہ حضرت کی مرکزی اور مجددانہ شان ہے۔ حضرت شاہ صاحب لاہور پہنچ کر برکت علی ہال میں مقیم ہوئے۔ اور مرزا نے لاہور آنے سے انکار کر دیا۔ قادیانی جماعت کے بعض بااثر لاہوری مرزائیوں نے مرزا کو لاہور لانے کی بے حد تگ و دو کی مگر ناکام رہے۔
جب قادیانی جماعت کا آخری وفد قادیان سے ناکام لوٹا تو اس جماعت میں انتہائی مایوسی اور انتشار پیدا ہو گیا اور بے شمار لوگوں نے اسی وقت تائب ہونے کا اعلان کر دیا۔
مختصر یہ کہ تحریک خلافت کا دور آیا۔ یا ہجرت تحریک آزادی کا زمانہ تھا۔ یا کانگرس کا پر فریب نعرہ وطنیت کا شور و غل۔ اعلیٰ حضرت گولڑوی نے ہمہ وقت ملت اسلامیہ کی رہنمائی ہمیشہ صحیح سمت کی طرف کی۔ حضرت والا شان کی مجاہدانہ، مجددانہ، فقیرانہ زندگی کو جاننے کے لئے مہر منیر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔
سیدی شاہ بغداد کی عظمت اور غریب نواز اجمیریؒ کی جلالت کا وارث لاکھوں دلوں کو علوم شریعت و طریقت سے منور کر کے جانثاران مصطفیٰ ﷺ کا قافلہ سالار لاکھوں کروڑوں آنکھوں کو آبدیدہ چھوڑ کر ٢٩ صفر ١٣٥٦ھ بمطابق ١١ مئی ١٩٣٧ء بروز سہ شنبہ لقاء حق کے لئے اپنے رفیق اعلیٰ کی طرف تشریف لے گئے۔ اگلے دن شام تک زیارت کے بعد آنحضورؒ کو دفن فرما دیا گیا۔ تو یہ رشد و ہدایت کا آفتاب اہل ظاہر کی نظروں سے ہمیشہ کے لئے غائب ہو گیا۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“
میں نے قادیانی پمفلٹ کا فوری جواب لکھنے کے لئے صرف چودھویں صدی کے دو گرامی قدر مجددین کا ذکر خیر کیا۔ ورنہ برصغیر پاک و ہند کے خواجگان چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ رحمہم اللہ اجمعین نے گذشتہ صدی میں اپنے اپنے مقام اور علاقہ میں تجدید دین اور احیاء سنت کا قابل قدر کام سرانجام دیا ہے۔ اللہ سب کو جزائے خیر عطا کرے۔
١٧
اللہ عزوجل علیم و خبیر ہے، اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے
قرآن عظیم شاہد ہے: ”الرحمٰن۔ علم القرآن۔ خلق الانسان۔ علمہ البیان“
(الرحمٰن ١ تا ٤)
رحمٰن نے (اپنے محبوب کو قرآن سکھایا) پیدا کیا انسان کو اور سکھایا اس کو بیان۔
اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین آنحضرتﷺ پر دین کو کامل واکمل فرما دیا۔ اور ساتھ ہی آنجنابﷺ پر اتمام نعمت فرما دیا۔ حضورﷺ پر اللہ عزوجل نے اپنے فضل عظیم سے جہاں اور بے شمار احسان فرمائے۔ اور لاتعداد معجزات عطا فرمائے۔ وہاں اللہ علیم خبیر نے بذریعہ قرآن شریف اور دیگر ذرائع مخصوصہ سے اپنے محبوبﷺ کو علم عطا فرمایا۔ اس احسان کا اعلان و بیان اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب لا ریب میں بیشتر مقامات پر کیا ہے۔
چند آیات پیش خدمت ہیں: ”الرحمٰن علم القرآن۔ خلق الانسان۔ علمہ البیان“
(الرحمٰن ١ تا ٤)
رحمٰن نے (اپنے محبوب کو) کو قرآن سکھایا۔ پیدا کیا انسان کو اور سکھایا اس کو بیان۔ ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔ ان علینا جمعہ وقرآنہ۔ فإذا قرأنہ فاتبع قرآنہ۔ ثم ان علینا بیانہ۔“ (القیامہ ١٦ تا ١٩) تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔۔ بے شک اس کا محفوظ کرنا اور ترجمہ (اے حبیب) آپ حرکت نہ دیں اپنی زبان کو اس کے ساتھ تاکہ آپ یاد کر لیں۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو (سینہ مبارکہ) میں جمع کرنا) اور اس کو پڑھانا۔ پس جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اتباع کریں اس پڑھنے کا پھر ہمارے ذمہ ہے اس کو کھول کر بیان کر دینا۔
مذکورہ بالا دونوں آیات بینات سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو آنحضورﷺ کے سینہ مبارکہ میں جمع بھی فرمایا اور اس میں تمام باریکیوں پر آپ کو مطلع فرمایا۔
”وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحٰی۔“ (النجم ٣، ٤) حضورﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ مگر جو وحی کی جاتی ہے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عائشؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: ”میں نے رب عزوجل کو احسن صورت میں دیکھا۔ رب پاک نے فرمایا ”(اے محبوب) ملائکہ مقربین کس بات میں جھگڑا کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کی کہ مولا تو ہی خوب جانتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
١٨
نے فرمایا۔ پھر میرے رب نے اپنی رحمت کا ہاتھ میرے دونوں نے اس کے وصول فیض کی سردی اپنی دونوں چھاتیوں کے در کا علم ہو گیا۔ جو کہ آسمان اور زمینوں میں تھیں۔“
حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ ابتداء سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے اور دو تک کی تمام خبریں دیں۔ یاد رکھا جس نے یاد رکھا۔ اور بھلا دی
حضرت عمرو بن اخطب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ کی خبر دے دی جو ہو چکی۔ اور جو (قیامت تک) ہونے وال زیادہ یاد رہا۔“
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ نے (بلکہ) قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا۔ وہ سب بیان کر گیا۔“
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ: ”نہیں چھوڑا حض دنیا کے ختم ہونے تک کہ جن کی تعداد تین سو سے زیادہ تک باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام بھی بتا دیا۔“
”حضرت عبداللہ بن عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ سامنے رکھا دنیا کو۔ میں دنیا کی طرف اور اس میں قیامت ت دیکھتا تھا۔ جیسے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔“
”حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت پڑھی۔ پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا: یہا آئے اور نماز پڑھی۔ پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں ہو گیا۔ اور آپ نے ہم کو جو کچھ واقع ہو چکا ہے۔ اور جو ک میں سے جو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ وہی زیادہ عالم ہے۔“
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضوان اللہ تعالیٰ عنہما نکلے۔ اور آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں ث
١٩
نے فرمایا۔ پھر میرے رب نے اپنی رحمت کا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا۔ میں نے اس کے وصول فیض کی سردی اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان پائی۔ پس مجھے ان تمام چیزوں کا علم ہو گیا۔ جو کہ آسمان اور زمینوں میں تھیں۔“
(مشکوٰۃ شریف)
حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ نے ہم میں قیام فرما کر مخلوقات کی ابتداء سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک کی تمام خبریں دیں۔ یاد رکھا جس نے یاد رکھا۔ اور بھلا دیا جس بھلا دیا۔“
(مشکوٰۃ شریف)
حضرت عمرو بن اخطب انصاری فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہﷺ نے ہمیں ہر اس چیز کی خبر دے دی جو ہوچکی۔ اور جو (قیامت تک) ہونے والی تھی۔ ہم میں زیادہ علم اسے ہے جسے زیادہ یاد رہا۔“
(مسلم شریف)
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ نے ہم میں قیام فرما کر کسی چیز کو نہ چھوڑا۔ (بلکہ) قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا۔ وہ سب بیان کردیا۔ جسے یاد رہا یاد رہا جو بھول گیا بھول گیا۔“
(مسلم شریف)
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ: ”نہیں چھوڑا حضورﷺ نے کسی فتنہ چلانے والے کو دنیا کے ختم ہونے تک کہ جن کی تعداد تین سو سے زیادہ تک پہنچے گی۔ مگر ہمیں اس کا نام اور اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام بھی بتا دیا۔“
(مشکوٰۃ شریف)
”حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے رکھا دنیا کو۔ میں دنیا کی طرف اور اس میں قیامت تک ہونے والے حوادث کی طرف یوں دیکھتا تھا۔ جیسے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔“
(طبرانی مواھب لدنیہ)
”حضرت ابو زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔ آپ منبر سے اتر آئے اور نماز پڑھی۔ پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ پھر آپ اتر آئے اور نماز پڑھی۔ پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اور آپ نے ہم کو جو کچھ واقع ہو چکا ہے۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے۔ سب کی خبر دی۔ ہم میں سے جو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ وہی زیادہ عالم ہے۔“
(صحیح مسلم شریف)
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نکلے۔ اور آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ
١٩
دونوں کتابیں کیسی ہیں۔ ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! ہمیں بتا دیں۔ جو آپ کے دائیں ہاتھ میں تھی۔ اس کی نسبت فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے۔ اس میں بہشتیوں کے نام اور ان کے آباؤ قبائل کے نام ہیں۔ پھر آخر میں ان کا مجموعہ دیا گیا ہے۔ ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی۔ اور نہ کمی ہوگی۔ پھر جو آپ کے بائیں ہاتھ میں تھی اس کی نسبت فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے۔ اس میں دوزخیوں کے نام ہیں۔ پھر آخر میں مجموعہ دیا گیا ہے۔ ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ہوگی۔ (پوری حدیث)
(ترمذی شریف، مشکوٰۃ شریف، کتاب الایمان باب الایمان بالقدر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے: ”حضور ﷺ نے فرمایا: آخر زمانہ میں فریبی جھوٹے ایسے پیدا ہوں گے کہ وہ احادیث تمہیں سنائیں گے جو تم نے نہ سنی ہوں نہ تمہارے باپ دادا نے۔ بچنا ان سے بچانا ان کو اپنے سے۔ کہیں تم کو گمراہ کر کے فتنہ میں ڈال دیں۔
میں نے چند آیات قرآنی اور چند احادیث نبوی ﷺ پیش کی ہیں کہ اہل ایمان جان جائیں کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے روز آخر تک جو ہوا ہے اور جو ہو گا تمام کا علم عطا فرمایا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے اپنے خداداد علم سے اپنی امت کو آنے والے تمام خطرات سے آگاہ فرمایا۔ تاکہ آنے والے زمانہ میں لوگ نیک و بد کی تمیز کر پائیں۔ اس لئے کہ حضور ﷺ اللہ عزوجل کے عطائے علم غیب کو بیان کرنے میں بخیل نہیں ہیں۔
آنے والے خطرات و واقعات کا انکشاف
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسے فتنے اٹھیں گے کہ ان میں بیٹھ جانے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر رہے گا۔ اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر رہے گا اور جو انہیں دیکھنے کے لئے بڑھے گا وہ فتنے اسے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ پس جس کو سامنے پناہ گاہ ملے وہ فوراً اس میں پناہ گزین ہو جائے۔
موجودہ دور کے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ آج سے چودہ صدی قبل مخبر صادق ﷺ نے موجودہ دور کے جنگ میں بچاؤ اور دفاع کی تدابیر بیان فرمائی ہیں۔
حضور ﷺ نے قیامت سے پہلے کے آثار قیامت بیان فرمائے جو کچھ ظاہر ہو چکے ہیں جو باقی ہیں ضرور ظاہر ہوں گے۔ کیونکہ حضور ﷺ کا بیان خداوند کریم کے عطائی علم کے عین مطابق ہے۔
- ١...... تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے۔ ایک مشرق دوسرا مغرب
٢٠
میں اور تیسرا جزیرہ عرب میں۔
- ٢...... علم اٹھ جائے گا یعنی علماء اٹھالئے جائیں گے یہ مطلب نہیں کہ علماء تو باقی رہیں اور ان
کے دلوں سے علم محو کر دیا جائے۔
- ٣...... جہل کی کثرت ہوگی۔
- ٤...... زنا کی زیادتی ہوگی۔
- ٥...... مرد کم ہوں گے۔ عورتیں زیادہ
- ٦...... علاوہ اس بڑے دجال کے اور تیس دجال ہوں گے۔ وہ سب دعوائے نبوت کریں
گے۔ حالانکہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ جن میں بعض گزر چکے۔ جیسے مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد، اسود عنسی، سجاح عورت ۔ غلام احمد قادیانی وغیرہ ۔شاید کچھ کذاب آئندہ بھی ہوں۔
- ٧...... مال کی کثرت ہوگی۔ نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ
ہوں گے۔
- ٨...... ملک عرب میں کھیتی اور نہریں جاری ہوجائیں گی۔
- ٩...... دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہو گا جیسے مٹھی میں انگارہ لینا۔ یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں
جاکر تمنا کرے گا کہ کاش میں اس قبر میں ہوتا۔
- ١٠...... وقت میں برکت نہیں ہوگی۔ بہت جلد جلد گزرے گا۔
- ١١...... زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے۔
- ١٢...... علم دین پڑھیں گے۔ مگر دین کے لئے نہیں۔
- ١٣...... مرد اپنی عورت کا مطیع ہوگا۔
- ١٤...... ماں باپ کی نافرمانی عام ہوگی۔
- ١٥...... احباب سے میل جول اور اپنے باپ سے جدائی۔
- ١٦...... مساجد میں لوگ چلائیں گے۔
- ١٧...... گانے بجانے کی کثرت ہوگی۔
- ١٨...... اگلوں پر لوگ لعنت کریں گے اور ان کو برا کہیں گے۔
- ١٩...... درندے جانور آدمی سے کلام کریں گے۔
- ٢٠...... ذلیل لوگ جن کو تن کا کپڑا پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں۔ بڑے بڑے محلوں پر فخر
کریں گے۔
٢١
- ٢١....... دجال کا ظاہر ہونا جو چالیس دن میں حرمین طیبین کے سواء تمام روئے زمین پر گشت
کرے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا۔ تو ملائکہ اس کا منہ پھیر دیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے۔ کہ جو منافقین وہاں ہوں گے خوف سے شہر سے نکل کر دجال کے فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ دجال کے ساتھ یہودی لشکر ہوگا۔ دجال کی پیشانی پر ”ک ف ر“ لکھا ہوگا۔ جس کو ہر مسلمان پڑھے گا۔ اور کافروں کو نظر نہیں آئیں گے۔ جب دجال دنیا میں پھر پھرا کر ملک شام کو جائے گا۔ اس وقت مسیح علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتریں گے۔ جامع مسجد دمشق کے شرقی منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام مسجد میں موجود ہوں گے۔
فضائل مہدی، مہدی کون؟
کچھ تفصیل پڑھ لیں۔ اہل سنت و جماعت کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام اولاد سیدہ فاطمہ زہرہؓ سے ہوں گے۔ بعض اولاد سیدنا حسینؓ سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن ابو داؤد شریف کی روایت کے مطابق سیدنا امام حسنؓ کی اولاد پاک میں سے ہوں گے۔
احمد اور ماوردی کی روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہدی میری اولاد سے ہوگا۔ لوگوں کے اختلاف اور لغزش کی حالت میں آئے گا اور زمین کو عدالت سے پر کر دے گا جس طرح کہ پہلے ظلم سے پر تھی۔ اس سے آسمان و زمین کی ساکنین راضی ہو جائیں گے۔“
ابو داؤد شریف اور ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: ”مہدی میرا ہم نام ہوگا۔ اور اس کے باپ میرے باپ کے ہم نام ہوں گے۔ یعنی محمد بن عبداللہ۔ مال کی تقسیم برابر کریگا۔ لوگوں کے دلوں کو غناء سے بھر دے گا۔“
”حاکم کی روایت میں ہے کہ آخری زمانے میں ایک سخت مصیبت آئے گی۔ اس سے سخت مصیبت پہلے نہ سنی ہوگی۔ لوگوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ میری اولاد سے ایک شخص کو اٹھائے گا۔ اور وہ زمین کو عدالت سے بھر دے گا۔ جس طرح پہلے ظلم سے بھر پور تھی۔ اس کو آسمان و زمین میں بسنے والے دوست رکھیں گے۔ آسمان سے بہت بارشیں ہوگی۔ زمین خوب پیداوار دے گی۔ اس وقت کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔ سات سال یا آٹھ سال یا نو سال اس طرح زمین میں رہیں گے۔
(سنن ابو داؤد ج ٢ ص ٥٨٩)
طبرانی اور بزار بھی اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ طبرانی کی روایت میں بیس سال ان کا رہنا آیا ہے۔
”ابو نعیم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ حق تعالیٰ میری عترت سے
٢٢
ایک مرد کو لائے گا۔ جس کے دانت پیوستہ اور پیشانی کشادہ ہوگی۔"
سنن ابوداؤد شریف میں ہے کہ: "مہدی کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والا ہوگا ...... ......الخ۔"
(ج٢ ص٥٨٨)
طبرانی کی ایک روایت میں ہے: "مہدی کا چہرہ ستارے کی طرح روشن ہوگا۔ رنگ عام عربی جوانوں کی طرح ہوگا۔ اور آنکھیں بنو اسحاق اسرائیلیوں کی طرح ہوں گی۔"
ایک روایت میں ہے: "عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ اور ان کی خلافت کے وقت ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور فلسطینی علاقہ میں دجال کے قتل میں تعاون فرمائیں گے۔" واللہ اعلم ! صحیح بخاری و مسلم ، ابوداؤد اور ترمذی میں ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دجال کو قتل کریں گے۔
امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ، نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر زمانے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی بھیجے گا کہ زمین کو انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسا کہ پہلے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔
(ابوداؤد)
"ابو اسحاق نے کہا ہے کہ امیر المومنین علیؓ نے اپنے بیٹے حسنؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا میرا یہ بیٹا سید ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کا نام سید رکھا ہے۔ اس کی نسل سے ایک ایسا آدمی پیدا ہوگا۔ اس کے اخلاق رسول اللہ ﷺ جیسے ہوں گے۔ اور صورت ان جیسی نہ ہوگی۔ پھر قصہ بیان فرمایا کہ وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا۔"
(ابوداؤد)
حضرت علیؓ نے فرمایا۔ یقیناً میری اولاد میں سے قیامت کے قریب جبکہ مؤمنوں کے دل مر جائیں گے۔ جیسا کہ جسم مرجاتے ہیں۔ جبکہ ان کو تکلیف اور شدت اور بھوک اور قتل اور متواتر فتنوں اور بڑی بڑی جنگوں کی ایذاء پہنچے گی۔ ایک آدمی پیدا ہوگا۔ اس دور میں سنتیں مر جائیں گی بدعات زندہ کی جائیں گی بھلائی کا حکم دنیا سے متروک ہو جائے گا اور برائی سے روکنا ختم ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ مہدی محمد بن عبداللہ کے ذریعہ ان سنتوں کو زندہ کرے گا جو مرچکی ہوں گی۔ اور اس کے عدل اور اس کی برکت سے مؤمنوں کے دل خوش ہوں گے۔
اس کے ساتھ عجم کی ایک جماعت اور عرب کے قبائل شامل ہو جائیں گے۔ وہ کچھ سال تک اسی طرح حکومت کرے گا۔ جو زیادہ نہیں ہوں گے دس سال سے کم ہوں گے پھر وہ فوت ہو جائے گا۔
(کنز العمال)
سیدنا علیؓ نے فرمایا۔ مہدی کی جائے پیدائش مدینہ طیبہ ہوگی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے
٢٣
اہل بیت سے ہوگا۔ اس کا نام ہمارے نبی کا نام ہوگا۔ اس کی ہجرت گاہ بیت المقدس ہوگی۔ اس کی داڑھی بھاری ہوگی۔ آنکھیں سرمگیں ہوں گی۔ دانت چمکیلے ہوں گے۔ اس کا چہرہ پرخال ہوگا۔ اس کے کندھوں کے درمیان نبی کریم ﷺ جیسی علامت ہوگی۔ وہ نبی ﷺ کا جھنڈا لے کر نکلے گا۔ جو کہ سیاہ رنگ کی دھاری دار چار خانیہ چادر سے بنایا گیا تھا۔ اس جھنڈے کو نبی کریم ﷺ کے بعد نہیں کھولا اور مہدی کے نکلنے پر کھولا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو تین ہزار فرشتوں سے مدد دے گا۔ جو ان کے مخالفوں کو مونہوں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ جب وہ مبعوث ہوں گے تو ان کی عمر اس وقت تیس اور چالیس سال کے درمیان ہوگی۔
(ابو نعیم، کنز العمال)
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا جب سفیانی مہدی کی طرف لڑائی کے لئے لشکر بھیجے گا تو وہ لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا اور یہ بات شام والوں کو پہنچے گی تو ان کا طلایہ گردستہ کہے گا کہ مہدی کا ظہور ہوگیا۔ اس کی بیعت کر اور اس کی اطاعت میں داخل ہو۔ ورنہ ہم تجھے قتل کر دیں گے۔ چنانچہ وہ مہدی کی طرف بیعت کا پیغام بھیجے گا اور مہدی چلتے چلتے بیت المقدس پہنچے گا۔ اس کی طرف خزانے منتقل ہوں گے اور عرب و عجم اور اہل حرب اور رومی اور ان کے علاوہ دوسرے بھی بغیر جنگ کے اس کی اطاعت میں داخل ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ قسطنطنیہ اور اس سے آگے مسجدیں تعمیر کی جائیں گی۔
اور اس سے پہلے اس کے اہل بیت سے مشرق میں ایک آدمی نکلے گا۔ وہ آٹھ ماہ تک اپنے کندھے پر تلوار اٹھائے رکھے گا۔ وہ قتل کرے گا اور مثلہ کرے گا۔ اور بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا۔ اور وہاں تک پہنچنے سے پہلے پہلے فوت ہو جائے گا۔
(کنز العمال)
”جناب ہلال بن عمرو نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ سے سنا فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ماوراء النہر کے علاقہ سے ایک آدمی نکلے گا۔ اسے حارث حراث کہا جائے گا۔ اس کے مقدمہ پر ایک آدمی ہوگا جسے منصور کہا جائے گا۔ وہ آل محمد کے لئے اس طرح میدان ہموار کرے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کے لئے قریش نے میدان ہموار کیا تھا ہر مومن پر فرض ہے کہ اس کی مدد کرے۔
(ابوداؤد)
سیدنا ابو جعفر محمد بن علی علیہا السلام نے کہا کہ ہمارے مہدی کی دو علامتیں ہیں جو زمین و آسمان کی پیدائش سے لے کر کبھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن لگے گا اور نصف رمضان میں سورج کو گرہن لگے گا۔ اور اس طرح کا گرہن جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں کبھی نہیں ہوا۔
(دار قطنی)
٢٤
٣٢٩
سنن ترمذی اور ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ النبی ﷺ سے روایت ہے کہ دنیا فنا نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ حاکم ہو زمین عرب پر جس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ اگر ایک ہی دن باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا۔ تاکہ میرے اہل بیت کا ایک شخص اللہ تعالیٰ اٹھائے گا جس کا نام میرے نام اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا۔ یعنی محمد بن عبداللہ۔ جائے پیدائش مدینہ طیبہ یا قریب کی آبادی ہوگی۔ وہ تمام زمین کو عدل وانصا ف سے بھر دے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و ستم سے پر ہوگی۔ اور ان کی شکل وصورت آنحضو ر ﷺ جیسی ہوگی بات کرتے ہوئے اڑ کر بولے گا اور ران پر ہاتھ مارے گا۔
ظہور مہدی علیہ السلام
سنن ابو داؤد میں ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ نے روایت کی ہے کہ ایک بادشاہ کی وفات کے وقت لوگوں میں پھوٹ پڑ جا ئے گی۔ (یعنی امام مہدی) مدینہ شریف سے مکہ مکرمہ کی طرف بھاگے گا خلافت قبول کرنے کی درخواست کر کے ان کو باہر نکالیں گے اور وہ کراہت کرتے ہوں گے۔ پس وہ لوگ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے اور غیب سے آواز آئے گی جو حاضرین سنیں گے۔ ”هذا خليفة الله المهدى فاسمعوا له وأط یعوا“ اسے پہچانو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ پس پھر اصحاب کہف بھی آپ کی بیعت میں شامل ہو جائیں گے۔
صحیح بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت سیدہ کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جبکہ سب کے سب اول اور آخر زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے۔ سارے کے سارے کیونکر دھنسائے جائیں گے۔ حالانکہ بعض لوگ ”آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تو سارے کے سارے کا حشر ان کی نیتوں کے مطابق ہوگا۔ یہ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ جب لوگ واقعہ دیکھ
٢٥
سنن ترمذی اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دنیا فنا نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ حاکم ہو زمین عرب کا ایک شخص میرے اہل بیت سے جس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردے گا۔ یہاں تک کہ میرا فرمان پورا ہو۔ میرے اہل بیت کا ایک شخص اللہ تعالیٰ اٹھائے گا جس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا۔ اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا۔ یعنی محمد بن عبداللہ۔ والدہ کا نام آمنہ اور جائے پیدائش مدینہ طیبہ یا قریب آبادی وہ تمام زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔ جس طرح اس سے پہلے ظلم و ستم سے پر ہوگی۔ اور ان کی شکل و صورت آنحضرت ﷺ کی صورت سے مشابہ ہوگی بات کرتے ہوئے اٹک کر بولے گا اور ران پر ہاتھ مارے گا۔
ظہور مہدی علیہ السلام
سنن ابو داؤد میں ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ نے روایت فرمائی کہ فرمایا پیغمبر ﷺ نے ایک بادشاہ اسلام کی وفات کے وقت لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اس وقت مدینہ کا ایک شخص (یعنی امام مہدی) مدینہ شریف سے مکہ مکرمہ کی طرف بھاگے گا۔ پھر مکہ کے کچھ لوگ آکر ان سے خلافت قبول کرنے کی درخواست کرکے ان کو باہر نکالیں گے۔ اور آپ بادشاہی سے نفرت اور کراہت کرتے ہوں گے۔ پس وہ لوگ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کریں گے اور غیب سے آواز آئے گی جو حاضرین سنیں گے۔
اسے پہچانو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ پس پھر اصحاب کہف اور حاضرین اولیاء اور شامی ابدال آپ کی بیعت میں شامل ہو جائیں گے۔
صحیح بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت سیدہ ام المومنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جبکہ ایک فراخ میدان میں پہنچیں گے تو سب کے سب اوّل اور آخر زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے۔ میں نے عرض کیا یا حضرت سارے کے سارے کیونکر دھنسائے جائیں گے۔ حالانکہ بعض ان میں بازاری ہوں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تو سارے کے سارے دھنسا دیئے جائیں گے۔ پھر ان کا حشر ان کی نیتوں کے مطابق ہوگا۔ یہ لشکر جو زمین میں غرق ہوگا۔ وہ مقام بیداء میں مکہ اور مدینہ کے درمیان زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ جب لوگ واقعہ دیکھیں اور سنیں گے تو ان کے پاس شام
٢٥
کے ابدال اور عراق کے لوگ جماعتیں جماعتیں ہو کر آئیں گے۔ اور ان سے بیعت کریں گے۔ پھر قریش کا ایک شخص ظاہر ہو گا یعنی سفیانی جس کے ماموں قبیلہ بنو کلب سے ہوں گے۔ تو امام مہدی کی طرف لشکر بھیجے گا۔ تو امام مہدی علیہ السلام کے ہمراہی ان پر غالب آ جاویں گے۔ اور یہ لشکر بنو کلب کا ہو گا اور امام مہدی لوگوں کو سنت نبوی ﷺ کے مطابق عمل کرائیں گے۔ اور اسلام زمین میں اطمینان کے ساتھ قرار پکڑے گا اور امام مہدی اس حالت میں سات سال تک رہیں گے۔ پھر وفات پائیں گے۔ اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔
جب مدینہ طیبہ تک یہ خبر پہنچے گی تو مدینہ شریف کے لوگ مکہ مکرمہ میں خلیفۃ اللہ مہدی کی بیعت میں شامل ہوں گے۔ جب مہدی کعبہ سے نکلیں گے تو پہلے کعبہ کے دروازہ کے سامنے جو خزانہ مدفون ہے اس کو نکال کر مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں گے۔
ترمذی کی حدیث جو حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ کوئی آدمی امام مہدی کے پاس آ کر کہے گا اے مہدی مجھے کچھ دیجئے۔ کچھ عنایت کیجئے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ امام مہدی اس کے کپڑے میں اتنا مال و زر ڈال دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا۔ امام مہدی اتنی سخاوت فرمائیں گے کہ بغیر حساب و گنتی کے تقسیم کریں گے۔ بلکہ لپوں بھر بھر کر دونوں ہاتھوں سے دیں گے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام مکہ مکرمہ سے رخصت ہو کر مدینہ طیبہ زیارت رسول اللہ ﷺ سے مشرف ہو کر بمعہ لشکر راستہ میں کفار سے جہاد فرماتے ہوئے دمشق پہنچ جائیں گے۔
دجال کا ظاہر ہونا
ادھر دجال پھر پھرا کر شام اور عراق کے درمیان ایک راستے پر آ نکلے گا۔ دجال کی ایک آنکھ ہو گی۔ دوسری آنکھ اور ابرو بالکل نہیں ہو گا۔ قد آور گدھے پر سوار ہو گا۔ پیشانی پر ک ا ف ر کافر لکھا ہو گا۔ جسے ہر مسلمان پڑھے گا اور ان پڑھ سب دیکھ لیں گے۔ دجال قوم یہودی سے ہو گا۔ لقب مسیح گنجے سر والا اور بھینگا اول دعویٰ نبوت کرے گا۔ ہزاروں یہودی اس کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے۔ تو پھر خدائی دعویٰ کرے گا۔ دجال ایک بڑے لشکر کے ساتھ دمشق کی طرف بڑھے گا۔
صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ناگاہ جب لوگ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے۔ تو اس حال میں کوئی فریاد کرے گا۔ دجال لعین تمہارے اہل عیال میں آ پڑا ہے۔ تو جو کچھ مال غنیمت ان کے ہاتھوں میں ہو گا سب ڈال دیں گے۔ اور سب اپنے گھروں کو دوڑ پڑیں
٢٦
گے۔ امام مہدی علیہ السلام جاسوسی اور تلاش دجال کے نبی ﷺ نے فرمایا میں ان سواروں کے نام اور ان کے باپوں جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں۔ اور یہ میں سے ہوں گے۔
بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث نبویؐ
قبل اس کے دجال دمشق پہنچے۔ امام مہدی علیہ کر چکے ہوں گے۔ اسی اثناء میں اچانک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بھیجے گا۔
مشکوٰۃ شریف میں روایت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اتریں گے۔ زرد رنگ کا زعفرانی چوغہ پہنے ہوں گے۔ فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔ ٹپکیں گے اور جب اونچا کریں گے تو موتیوں کے دانوں کی ط کافر ان کے سانس کی بو پا کر مر جائیں گے۔ اور ان کا سانس کی نگاہ پہنچتی ہے۔
مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہ مریم علیہما السلام تم میں نزول فرمائیں گے۔ اس شریعت کے کریں گے۔ چنانچہ صلیب کو توڑیں گے۔ اور خنزیر کو قتل کریں اور مال کو بہا دیں گے۔ حتیٰ کہ قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
مسلم شریف کی دوسری روایت میں جو ابو ہریرہؓ س سے اتنا زیادہ ہے کہ لوگ جوان اونٹوں کو چھوڑ دیں گے تو پھر ا اور لوگوں کے دلوں سے بغض، عداوت اور حسد ختم ہو جائے گا تو کوئی مال قبول نہ کریں گے۔
جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری امت کا ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا۔ اور وہ قیام السلام نزول فرمائیں گے۔ اور اس گروہ کا امام (مہدی علیہ ا
٢٧
گے۔ امام مہدی علیہ السلام جاسوسی اور تلاش دجال کے لئے دس سوار روانہ فرما دیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں ان سواروں کے نام اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبائل کے نام جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں۔ اور سوار روئے زمین کے اچھے سواروں میں سے ہوں گے۔
بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام اور احادیث نبویؐ
قبل اس کے دجال دمشق پہنچے۔ امام مہدی علیہ السلام وہاں پہنچ کر جنگ کی تیاری کر چکے ہوں گے۔ اسی اثناء میں اچانک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام کو آسمان سے بھیجے گا۔
مشکوۃ شریف میں روایت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرقی سفید منارہ پر آسمان سے اتریں گے۔ زرد رنگ کا زعفرانی چوغہ پہنے ہوں گے۔
فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔ سر کو نیچا کریں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے اور جب اونچا کریں گے تو موتیوں کے دانوں کی طرح پسینہ کے قطرے گریں گے۔ تو کافر ان کے سانس کی بو پا کر مرجائیں گے۔ اور ان کا سانس وہاں تک پہنچتا ہے۔ جہاں تک ان کی نگاہ پہنچتی ہے۔
مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ وہ وقت قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام تم میں نزول فرمائیں گے۔ اس شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ اور انصاف کریں گے۔ چنانچہ صلیب کو توڑیں گے۔ اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اور جزیہ کو موقوف کردیں گے۔ اور مال کو بہا دیں گے۔ حتیٰ کہ قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
مسلم شریف کی دوسری روایت میں جو ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جس میں سابق حدیث سے اتنا زیادہ ہے کہ لوگ جوان اونٹوں کو چھوڑ دیں گے تو پھر ان سے کوئی بار برداری کام نہ لے گا۔ اور لوگوں کے دلوں سے بغض، عداوت اور حسد ختم ہو جائے گا۔ اور مال دینے کے لئے بلائیں گے تو کوئی مال قبول نہ کریں گے۔
جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ فرما رہے تھے ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا۔ اور وہ قیامت تک غالب رہے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ اور اس گروہ کا امام (مہدی علیہ السلام) کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے۔
٢٧
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس امت کے اعزاز اور بزرگی جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ فرماویں گے۔ نہیں تم ہی میں سے بعض بعض پر حاکم اور امیر ہوں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شرقی منارہ سے نزول فرمائیں گے۔ نماز کے لئے اقامت ہو چکی ہوگی۔ عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پھر لشکر اسلام، لشکر دجال پر حملہ کرے گا۔ گھمسان کا معرکہ ہوگا۔ اس وقت دم عیسیٰ علیہ السلام کی یہ خاصیت ہوگی کہ جہاں تک آپ کی نظر کی رسائی ہوگی وہاں تک آپ کا سانس بھی پہنچے گا۔ اور جس کافر تک وہ پہنچے گا وہ ہلاک ہو جائے گا اور دجال بھاگ جائے گا۔ مگر مسیح علیہ السلام اس کو بیت المقدس کے قریب موضع لد کے دروازے میں جاملیں گے۔ اور نیزہ سے اس کا کام تمام کردیں گے۔ لشکر اسلام، لشکر دجال کے قتل وغارت میں مشغول ہو جائے گا۔ لشکر دجال میں جو یہودی ہوں گے۔ ان کو کوئی چیز پناہ نہ دے گی۔ یہاں تک کہ رات کے وقت اگر کوئی یہودی پتھر یا درخت کی آڑ میں چھپا ہوگا تو وہ پتھر یا درخت خود بول اٹھے گا کہ یہودی یہاں ہے اس کو قتل کردو۔ دجال کے فتنہ کے رفع ہونے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام اصلاحات میں مشغول ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے اور کفار سے جزیہ قبول نہ کیا جائے گا۔ سوائے قبول اسلام اور قتل کے دوسرا حکم نہ ہوگا۔ سب کافر مسلمان ہو جائیں گے۔ امام مہدی علیہ الرضوان کی خلافت ٧ یا ٨ یا ٩ سال ہوگی۔ اس کے بعد آپ کا وصال ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کے جنازہ کی نماز پڑھائیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تینتیس سال کی عمر میں آسمان سے اتریں گے۔ نکاح کریں گے۔ اولاد ہوگی۔ وصال فرمائیں گے۔ تو پھر عیسیٰ علیہ السلام روضہ رسول ﷺ میں دفن ہوں گے۔
امام جعفر صادقؓ اپنے باپ حضرت محمد باقرؒ سے بیان کرتے ہیں وہ اپنے باپ علیؓ زین العابدینؒ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ خوش ہو جاؤ۔ میری امت کی مثال بارش کی مثال ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا اخیر بہتر ہے یا شروع۔ یا اس باغ کی طرح ہے جس سے ایک سال ایک فوج نے کھایا۔ پھر دوسرے سال ایک اور فوج نے کھایا۔ شاید اس کی آخری فوج عرض میں زیادہ عریض ہو۔ اور عمق میں زیادہ عمیق ہو۔ اور حسن میں زیادہ اچھی ہو۔ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے شروع میں، میں اور درمیان میں مہدی اور آخر عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔ لیکن اس کے درمیان ٹیڑھے احمق ہوں گے۔ نہ ان کا مجھ سے تعلق اور نہ میرا ان سے۔
٢٨
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ”الحمد لله رب العلمين۔ والصلوة وخاتم النبيين وعلى اله واصحابه اجمعين“
عقیدہ ختم نبوت پر چند دلائل
سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٤: ”والذين يؤمنو قبلك وبالآخرة هم يوقنون“ ﴿اور وہ جو ایمان لائے ہے آپ پر اور اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی یقین اس آیت پاک میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کی لانا ضروری ہے۔ وہ یا تو حضور ﷺ پر نازل ہوئی یا آنحضو جاری ہوتا تو حضور ﷺ کے بعد بھی وحی نازل ہوتی اور پھر اس سورۃ الاحزاب آیت نمبر ٤٠۔ ”ولكن رسول کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی انبیا جب مولا کریم جو ”بکل شئی علیم“ ہے نے فرمایا کہ مح آخری نبی ہیں تو حضور کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا۔ اس کی۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسل غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضور سرور دوعالم سیدنا م ہیں۔ حضور کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو با وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اس سزا کا مستح فرمائی ہے۔
حدیث پاک سے ختم نبوت کا ثبوت
بخاری شریف ج ١ ص ٥٠١ بخاری شریف کتاب ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پ ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل ب
٢٩
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”الحمد لله رب العلمين۔ والصلوة والسلام على سيد المرسلين۔ وخاتم النبيين وعلى اله واصحابه اجمعين“
عقیدہ ختم نبوت پر چند دلائل
سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٤: ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون“ ”اور وہ جو ایمان لائے ہیں اس پر (اے حبیب) جو اتارا گیا ہے آپ پر اور اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔“
اس آیت پاک میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کی بیّن دلیل ہے کیونکہ وحی جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ وہ یا تو حضور ﷺ پر نازل ہوئی یا آنحضرت ﷺ سے پہلے۔ اگر سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو حضور ﷺ کے بعد بھی وحی نازل ہوتی اور پھر اس پر ایمان لانے کا حکم بھی ہوتا۔
سورۃ الاحزاب آیت نمبر ٤٠۔ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کا اسم گرامی لے کر فرمایا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب مولا کریم جو ”بكل شئی عليم“ ہے نے فرمایا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں تو حضور کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تکذیب کی۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اس لئے اہل ایمان کا غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضور سرور دو عالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے دعوے کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اس سزا کا مستحق ہے جو اس نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ہے۔
حدیث پاک سے ختم نبوت کا ثبوت
بخاری شریف ج ١ ص ٥٠١ بخاری شریف کتاب المناقب باب خاتم النبیین :
ترجمہ : حضور ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی
٢٩
جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے ارد گرد پھرتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی۔ تو وہ اینٹ میں ہوں اور خاتم النبیین ہوں۔ نمبر ٦ مسلم شریف ج ١ ص ١٩٩ کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، ترمذی شریف، ابن ماجہ شریف
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی۔
- ١...... مجھے جوامع الکلم سے نوازا گیا۔
- ٢...... رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی۔
- ٣...... میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔
- ٤...... میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنادیا گیا۔ اور اس سے تیمم کی اجازت دی گئی۔
- ٥...... مجھے تمام مخلوق کے لئے رسول بنایا گیا۔
- ٦...... میری ذات سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ: ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا۔“
(ترمذی جلد ٢ ص ٥٣)
”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس نے امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ وہ ضرور تمہارے اندر ہی نکلے گا۔ یعنی حضور ﷺ آخری نبی اور آپ کی امت آخری امت۔“
(ابن ماجہ ص ٢٩٧)
امام ترمذی نے جامع ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ کتاب مناقب میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ : ”اگر میرے بعد کسی کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمر بن خطاب نبی ہوتے ۔“
امام بخاری اور امام مسلم نے فضائل صحابہؓ کے عنوان کے تحت یہ ارشاد نبوی نقل کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کی تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
(مسلم شریف ج ٢ ص ٢٧٨ ، بخاری ج ١ ص ٥٢٦)
ابوداؤد کتاب الفتن میں حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
(ترمذی جلد ٢ ص ٤٥)
٣٠
فائدہ ...... حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے جس کی ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے پس جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے ہے دجال ہے وہ گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔
اگرچہ بدقسمتی سے امت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی ملت کے امن وسکون کو درہم برہم کیا۔ اور فتنہ و فساد کے شعلوں دیا۔ لیکن اتنے شدید اختلافات کے باوجود سارے فرقے اس پر متفق اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
چنانچہ چودہ صدیوں میں جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا صحیح اسلامی سیاسی قوت نے اور نہ دینی عقل و دانش نے کبھی بھی نبوت کسی مصلحت کے تحت کوئی سمجھوتہ کیا۔ بلکہ ہر لحاظ سے ان کے خلاف حدیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ مسیلمہ کذاب خود دعویٰ نبوت کے رسول سمجھتا تھا۔
بلکہ طبری کی روایت کے مطابق اپنی اذان میں ” اشہد بھی کہتا تھا۔ اس کے باوجود سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس کو مرتد اور وا لشکر کشی کی اور اس کو واصل جہنم کر کے دم لیا۔ بیشک اس جہاد میں ہزا اور جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے تھے۔ لیکن صدیق اکبرؓ نے اتنی قر ضروری سمجھا اور کمال یہ ہے کہ دور صدیقی کے تمام صحابہ کرامؓ و تابعی متفق ہیں۔
تصویر کا پہلا رخ
اور مدعی لاکھ پر بھاری ہے گواہی تیری والا معاملہ ہے نبوت سے قبل تقریباً ١٩٠١ء تک اسی عقیدہ ختم نبوت میں امت اسلام کو پڑھیے۔ جو مرزا قادیانی کے ١٩٠١ء سے پہلے کی خود تحریر کردہ ہیں
- ١...... ”کیا ایسا مفتری بدبخت جو خود رسالت و نبوت کا دعویٰ
رکھ سکتا ہے۔ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ الله وخاتم النبیین “ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے۔ وہ کہہ سکتا
٣١
فائدہ...... حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے جس کی تصریح قرآن وسنت نے کی ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے پس جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہو جائے گا وہ کذاب ہے دجال ہے وہ گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔
اگرچہ بدقسمتی سے امت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ باہمی تعصب نے بارہا ملت کے امن وسکون کو درہم برہم کیا۔ اور فتنہ وفساد کے شعلوں نے بڑے المناک حادثات کو جنم دیا۔ لیکن اتنے شدید اختلافات کے باوجود سارے فرقے اس پر متفق کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
چنانچہ چودہ صدیوں میں جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا اس کو مرتد قرار دے دیا گیا۔ نہ صحیح اسلامی سیاسی قوت نے اور نہ دینی عقل ودانش نے کبھی بھی نبوت کے کذاب دعویداروں سے کسی مصلحت کے تحت کوئی سمجھوتہ کیا۔ بلکہ ہر لحاظ سے ان کے خلاف جہاد روا رکھا۔ بلکہ فرض سمجھا۔ حدیث وتاریخ سے ثابت ہے کہ مسیلمہ کذاب خود دعویٰ نبوت کے باوجود حضور ﷺ کو بھی اللہ کا رسول سمجھتا تھا۔
بلکہ طبری کی روایت کے مطابق اپنی اذان میں ”اشهد ان محمد رسول الله“ بھی کہتا تھا۔ اس کے باوجود سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس کو مرتد اور واجب القتل یقین کر کے اس پر لشکر کشی کی اور اس کو واصل جہنم کر کے دم لیا۔ بیشک اس جہاد میں ہزاروں کی تعداد میں تابعین حفاظ اور جلیل القدر صحابہؓ شہید ہوئے تھے۔ لیکن صدیق اکبرؓ نے اتنی قربانی دے کر بھی اس فتنے کو کچلنا ضروری سمجھا اور کمال یہ ہے کہ دور صدیقی کے تمام صحابہ کرام وتابعین اس عظیم فتنے کو ختم کرنے پر متفق ہیں۔
تصویر کا پہلا رخ
اور مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری والا معاملہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی دعوائے نبوت سے قبل تقریباً ١٩٠١ء تک اسی عقیدہ ختم نبوت میں امت اسلامیہ کا ہم نوا ہے۔ چند حوالہ جات کو پڑھیے۔ جو مرزا قادیانی کے ١٩٠١ء سے پہلے کی خود تحریر کردہ ہیں:
- .......١ ”کیا ایسا مفتری بدبخت جو خود رسالت ونبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان
رکھ سکتا ہے۔ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے
بعد نبی اور رسول ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ)
- ......٢ ”میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے وہ کذب الحاد و زندقہ ہے۔ پھر
میں کس طرح نبوت کا دعویٰ کروں جبکہ میں مسلمان ہوں۔“
(حمامة البشریٰ ص ١٣١، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٣ ”میں نہ نبوت کا مدعی ہوں۔ اور نہ معجزات کا اور نہ ملائکہ اور لیلۃ القدر سے منکر اور سیدنا
و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات جلد ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
- ......٤ ”مجھے کب جائز ہے کہ میں دعویٰ نبوت کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں۔ اور
کافروں سے مل جاؤں۔“
(حمامة البشریٰ ص ١٣١، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٥ ”میں ان تمام امور کا قائل ہوں۔ جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں۔ اور جیسا کہ سلف کا
عقیدہ ہے۔۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ میری تحریر پر ہر شخص گواہ ہے۔“
(اشتہاری اعلان ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠-٢٣١)
- ......٦ ”میرا اعتقاد یہ ہے کہ میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن
کے نہیں رکھتا۔ اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد ﷺ کے نہیں۔ جو خاتم النبیین ہیں۔ جن پر خدا نے بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں۔ اور ان کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہو کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث جو چشمہ حق و معرفت ہے کی پیروی کرتا ہوں۔ اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں۔ جو کہ اس خیر القرون میں یا اجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرنا نہ کمی۔ اور اس اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا۔ اور اسی پر خاتمہ اور انجام ہوگا۔ اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے۔ یا کسی اجماعی عقیدے کا انکار کرے اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔“
(انجام آتھم ص ١٤٤، ١٤٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ......٧ ”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ وحی نبوت کے ہم قائل نہیں ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد ٢ ص ٢٩٧)
٣٢
- ......٨ "آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا بھائی...... کافر خبیث ہے۔"
(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)
- ......٩ "میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔"
(فیصلہ آسمانی ص ٤، خزائن ج ٣ ص ٣١٤)
- ......١٠ "کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی
استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا ہے۔ اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول "لا نبی بعدی " میں واضح طور پر فرمادی ہے۔ اب اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہوجانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دے دیں گے۔ اور یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے۔ اور ہمارے نبی علیہ السلام کے بعد نبی کیونکر آسکتا ہے۔ درآں حال یہ کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کردیا۔"
(حمامة البشریٰ ص ٣٤، خزائن جلد ٧ ص ٢٠٠)
تصویر کا دوسرا رخ ، مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
- ......١ مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ: "خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور
دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا ہے۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ......٢ "وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ......٣ "مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ توریت، انجیل اور قرآن پر۔"
(اربعین نمبر ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
- ......٤ "خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزوں سے کم
نہیں ہوگا۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
- ......٥
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ......٦ "میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کرسکتا ہوں اور جب کہ خود خدا
تعالیٰ نے یہ میرے نام رکھے ہیں۔ تو میں کیوں کر رد کر دوں۔ یا کیوں کر اس کے سوا کسی سے ڈروں۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
٣٣
- .......٧ "سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔"
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- .......٨ "خدا نے ہزار ہا نشانوں سے میری تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے جن کی یہ
تائید کی گئی۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
- .......٩ "خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے
اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- .......١٠ "یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد
سے مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
- .......١١ "اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول
رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے۔ کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹ گئی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
قادیانیوں کے لغویات اپنے مخالفین کے متعلق
- .......١ "ہر وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے۔ اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں
ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- .......٢ "اے مرزا جو تیری پیروی نہ کرے گا۔ اور بیعت میں داخل نہ ہوگا وہ خدا اور رسول کی
نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- .......٣ "جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔"
(حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- .......٤ "کل مسلمانوں نے میری دعوت قبول کی مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر اللہ نے
مہر کر دی مجھے نہیں مانتے۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
نوٹ:
مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا لڑکا فضل احمد مرزا قادیانی کا منکر تھا اور مرزا قادیانی کو نہیں مانتا تھا۔ اس لئے اس کا جنازہ مرزائیوں نے نہیں پڑھا۔
- .......٥ "کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ
انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں۔"
(آئینہ صداقت مرزا محمود ص ٣٥)
٣٤
- ٦....... "حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہتے
ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارے اختلافات صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل پر ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ہر ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔"
(مرزا محمود احمد الفضل ٣؍جولائی ١٩٣١ء)
- ٧....... "غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز
نہیں۔"
(روشن علی، محمد سرور قادیان الفضل ٧؍فروری ١٩٢١ء)
- ٨....... "وہ مرزا غلام احمد کو ایسا ہی نبی مانتا ہے۔ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ نبی تھے۔ اس لئے جو
شخص مرزا صاحب کا انکار کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے لئے دعائے استغفار جائز نہیں۔"
(اخبار الفضل قادیان ١٧؍اکتوبر ١٩٢١ء)
- ٩....... "جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی
طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔"
(ڈائری مرزا محمود خلیفہ قادیان الفضل مورخہ ٢٣؍اکتوبر ١٩٣٣ء)
- ١٠....... "میں اپنے مخالفوں کو فتح مکہ کا واقعہ یاد دلانا چاہتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمہاری
حکومت مجھے پکڑ سکتی ہے مار سکتی ہے۔ مگر میرے عقائد کو دبا نہیں سکتی۔ لیکن میرا عقیدہ فتح پانے والا اور بالکل وہی ہے۔ جیسا کہ فتح مکہ کے بعد ابوجہل کے حامیوں نے رسول اللہ ﷺ اور یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ مجرموں کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہوں گے۔"
(روزنامہ آفاق ٣٠؍نومبر ١٩٥١ء)
فرنگی......سکھ ہندو اور مرزائیت
١٨٥٧ء کی تحریک آزادی کی ناکامی کے بعد سرزمین ہند پر انگریزوں کا تسلط تو ہوگیا۔ لیکن وہ مسلمانوں سے خائف رہے اور انہوں نے اپنے راج کے استحکام کا راز اس امر میں مضمر سمجھا کہ مسلمانوں کو ہر لحاظ سے مفلوج اور بے دست و پا کردیا جائے۔ انگریزوں کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں میں جہاد کا دینی جذبہ تھا۔ یہ جذبہ جب بیدار ہوتا ہے تو مسلمان موت سے کھیلنے لگتا ہے۔ طویل سوچ بچار کے بعد فرنگی اصول کے مطابق (divide and rule) پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو۔ یعنی ملت اسلامیہ کی وحدت میں شگاف ڈالا جائے تجویز ہوا کہ کسی
شخص سے محمد کا حواری نبی ہونے کا دعویٰ کرایا جائے۔ حکومت اس کی سرپرستی کرے۔ فیصلے کے تحت ایک بزرگ خواجہ احمد صاحب کو لدھیانہ میں مہاراجہ پٹیالہ جے سنگھ نے انگریزوں کی طرف سے پیش کش کی تھی۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں ایمان نہیں بیچ سکتا۔ اس امر کا تذکرہ مرزا غلام احمد کی موجودگی میں ہوا۔ مرزا قادیانی نے مہاراجہ سے مل کر ایمان کا سودا کر لیا۔ شاید مہاراجہ پٹیالہ کے احسان کا شکریہ کچھ اس طرح ادا کیا کہ مرزا نے اپنا الہامی نام امین الملک جے سنگھ بہادر بتایا۔ کیونکہ اس سکھ دلال کے ذریعہ مرزا خداوندی فرنگی تک پہنچا۔ پس بیعت بھی لدھیانہ سے شروع ہوئی۔ اور مسیح ہونے کا اعلان بھی لدھیانہ سے ہوا تھا۔ مہاراجہ پٹیالہ نے انگریزوں کو نبی فراہم کیا تو مہاراجہ کشمیر نے اس کذاب کا معاون اور جعل سازی کو چلانے والا دماغ حکیم نورالدین انگریزوں کو بخشا۔ جو مہاراجہ کشمیر کا معالج خصوصی تھا۔
اس لئے تو مرزا قادیانی کو اپنی پہلی تصنیف براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے ابتداء میں رقم ریاست پٹیالہ سے ملی تھی۔ جس کا اعتراف مرزا قادیانی نے خود اپنی تصنیف (حقیقت الوحی ص ٢٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٠) پر یوں کیا ہے کہ:
”جب میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے تو مجھے یہ مشکل درپیش آئی کہ اس کی چھپوائی کے لئے روپیہ نہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا۔ مجھے کسی سے تعارف نہ تھا۔ تب میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ کھجور کے تنا کو ہلا تیرے پر تازہ بہ تازہ کھجوریں گریں گی۔ چنانچہ میں نے اس کے حکم پر عمل کیا۔ اور خلیفہ محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی طرف خط لکھا۔ پس خدا نے جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا ان کو میری طرف مائل کر دیا اور انہوں نے بلا توقف ڈھائی سو روپیہ بھیج دیا اور پھر دوسری دفعہ ڈھائی سو روپیہ دیا۔“
قادیانیوں سے ہندوؤں کی توقعات
اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں کو ایک ہی امید کی جو شمع دکھائی دیتی ہے وہ احمدی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرلیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔۔
(مضمون ڈاکٹر شنکر داس اخبار بندے ماترم ٢٢ اپریل ١٩٣٢ء)
٣٦
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
موضع پیکوان تھانہ کلاں
مابین اہل اسلام
لب لباب
عالی جناب حضرت مولانا
- ٧۔ حکومت اس کی سر پرستی کرے۔ فیصلے کے
مہاراجہ پٹیالہ جے سنگھ نے انگریزوں کی طرف کیا کہ میں ایمان نہیں بیچ سکتا۔ اس امر کا تذکرہ کہ مہاراجہ سے مل کر ایمان کا سودا کر لیا۔ شاید کیا کہ مرزا نے اپنا الہامی نام امین الملک جے کا خدا وندی فرنگی تک پہنچا۔ پس بیعت بھی می لدھیانہ سے ہوا تھا۔ مہاراجہ پٹیالہ نے کذب کا معاون اور جعل سازی کو چلانے والا کا معالج خصوصی تھا۔
- ٨۔ براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے ابتداء
مرزا قادیانی نے خود اپنی تصنیف (حقیقت الوحی
تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے تو مجھے یہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا۔ مجھے کسی سے الہام ہوا کہ کھجور کے تنا کو ہلا تیرے پر تازہ بہ پر عمل کیا۔ اور خلیفہ محمد حسن صاحب وزیر جس نے وعدہ کیا تھا ان کو میری طرف مائل پھر دوسری دفعہ ڈھائی سو روپیہ دیا۔‘‘
وں کو ایک ہی امید کی جو شمع دکھائی دیتی ہے راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ہے۔
(ہندو اخبار بندے ماترم ٢٢؍ اپریل ١٩٣٢ء)
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
موضع پیکواں تھانہ کلانور کے جلسہ
مابین اہل اسلام و مرزائیان
کا
لبِ لباب
عالی جناب حضرت مولانا اللہ دتہ صاحب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صفت باری تعالیٰ
تصنیف: مولوی اللہ دتہ گورداسپور
تو کہن تھیں عدم موجود کریندا بے پرواہ نوازا باجھ تیرے معبود نہ کوئی تے مسجود نیازاں
حق عبادت مالی بدنی تے قولی افعالی تیرے باجھ خداوند عالی غیران حق نہ والی
ایہا عہد میثاق دہاڑے سارے لوک پکارے الست بربک فرمایا سب حاضر دربارے
قالو بلیٰ کل روح الائی سن کے حکم جنابوں جو تیرے باجھ وہاب نہ ہرگز جس امید ثوابوں
ہے احسان اسان پر تیرا حد تھیں پاک خدایا بعد پیدائش جن انسانا رازق سب دا آیا
واہ اللہ تو خالق ہر دا تدھ بن ہور نہ کوئی باغ زراعت اندر ہر جا قدرت ثابت ہوئی
باغاں دے وچ رنگ برنگی بوٹے ثمر لیاون سٹے پھلیاں حب جو پھلیاں قدرت سب دکھاون
عجب عجائب بوٹے الٰہ قدرت نال اوپائے کئی کھٹے کئی مٹھے کوڑے ثمر جو ترش لیائے
انپ انار تے کھٹے مٹھے نخل کھجور عناباں گلگل بادام کھٹمباں ناکھاں بہیاں سیب جناباں
سدا گلاب گلاب بہاری موتیا کھٹا تلسی مہندی دھنیاں گندم چھولے سورج مکھی السی
گلکھیرہ گل نرگس سوسن پھل کیاں کچناراں گورکھ پان شاہترا تے انٹ سٹ وچ خلوق شماراں
ماہاں موٹھاں سینجی غیا مولی لسن کپاسوں کی کی چیزاں آکھ سناواں سب اس اللہ پاسوں
باغاں دے وچ کوئل کوکے ساون ماہ بہاراں نال پھلاں دے چہچے کردی بلبل لکھ ہزاراں
مور چکور بتوری الو مینا طوطے زاغاں سرخ چمونے بھورے تتڑ حمد کرن وچ باغاں
باز بٹیرے شکرے قمری تلیئر شارک ڈاراں یوز پلنگاں ہرنا پاڑے داس کرن وچ جاڑاں
جو کچھ رب دو جگ اوپایا خاطر نبی پیارے او پاک محمد ساڈا ہادی عالم دو جن تارے
ایسے خالق نوں سب پوجو جدیاں صفتاں عالی جو دیاں انساناں پوجن جھوٹے سب رزالی
تے جھوٹے معبوداں تھیں ہے سانو بہت بیزاری باجھ تیرے معبود نہ کوئی ایہہ گل دلی وچارے
لکھ کروڑاں ہون زباناں اللہ دتہ پیارے صفت خدا دی ختم نہ ہووے کہہ گئے نبی سوہارے
٢
٣٤٣
چند اشعار در بارہ موضع بکو ان جو مولوی صا
حرماں تے اصحاباں تائیں لکھ سلام صلوا تاں
اس تھیں پچھے عرض گزاراں خدمت وچ تماہاں
اکثر پنڈاں اندر جاواں وعظ کرن نو یارا
ایپر اک بکو ان موضع ایسا نظری آیا
دینداری دا زور زیادہ ہویا فضل رحمانو
نال نمازیاں مسجد بھردی واہ واہ فضل الہی
خلق انہاں دا عاجز بندہ کیونکر آکھ سناوے
نمبردار جو خلق کریندے نال کمیناں یارا
بغض نہ کینہ حد عداوت لوکاں وچ وسایا
خاطر خدمت کرن مہماناں دل دے نال پیاروں
ضروری التماس
چونکہ جلسہ کی خبر پہلے ہم لوگوں کو تو ہرگز ن کہ جلسہ پر مرزائی مولوی آویں گے۔ اس لئے ہم پ کہ حافظ نور محمد صاحب سکنہ موضع دیڑ گوار اور مولوی ح لیکن یہ دونوں صاحب مرزا قادیانی کے عقائد سے تھے۔ اس لئے ہم سب معاونین جلسہ گھبرا گئے۔ لیک ہیں۔ ہماری بہتری کے لئے جناب مولانا ثناء اللہ ام کو بھیج دیا اور بغیر بلائے حاضر ہو گئے تو انہوں نے مرزا قادیانی کے عقائد کلی سے پورے واقف تھے فرماتے تو ہمارے گردا گرد کے چند گاؤں ضروری باری تعالیٰ کو دین اسلام پیارا مذہب تھا۔ چنانچہ ارشا مولانا صاحب نے بحث میں وہ لطف دکھایا کہ آج کا ایسا ناطقہ بند ہوا کہ دوروز بعد ختم ہونے بحث صاحب نے میدان میں دو وعظ بھی کئے۔ مگر مرزائ
٣
چند اشعار دربارہ موضع بکوان جو مولوی صاحب اللہ دتہ نے بعد نماز فجر پڑھے
یاراں تے اصحاباں تائیں لکھ سلام صلواتاں آل نبی ازواج تماماں متقیاں برکاتاں
اس تھیں پیچھے عرض گزاراں خدمت وچ تماماں حال حقیقت آکھ سناواں خاصاں تے ہور عاماں
اکثر پنڈاں اندر جاواں وعظ کرن نو یارا وعظ نی کرنی بحث میرا کم غیراں سنگ ابرارا
اچانک بکوان موضع ایسا نظری آیا کی میں عرضاں آکھ سناواں جو کچھ حال وسایا
دینداری دا زور زیادہ ہویا فضل رحمانو بہت نمازی نظری آئے شک نہ اس وچ جانو
نال نمازیاں مسجد بھردی واہ واہ فضل الٰہی اندر باہر نمازی ہوون ہوئی خوشی سوائی
خلق انہاں دا عاجز بندہ کیونکر آکھ سناوے اک تھیں اک خلیق زیادہ عاجز نظری آوے
نمبردار جو خلق کریندے نال کمیناں یارا جٹ کمینا اندر بھائیو فرق نہیں آشکارا
بغض نہ کینہ حسد عداوت لوکاں وچ وسایا واہ واہ حب محبت لوکاں رب دا فضل سوایا
خاطر خدمت کرن مہماناں دل دے نال پیاروں اللہ دتیا فضل خدا دا چاہن سب ابراروں
ضروری التماس
چونکہ جلسہ کی خبر پہلے ہم لوگوں کو تو ہرگز نہیں دی گئی۔ صرف تین روز پہلے اطلاع ہوئی کہ جلسہ پر مرزائی مولوی آویں گے۔ اس لئے ہم پورا پورا کوئی بندوبست نہیں کر سکے۔ آدمی بھیج کر حافظ نور محمد صاحب سکنہ موضع دیڑ گوارا اور مولوی عنایت اللہ صاحب سکنہ بھیکو چک کو بلوایا گیا۔ لیکن یہ دونوں صاحب مرزا قادیانی کے عقائد سے بکلی ناواقف تھے اور بحث کی جرأت نہ رکھتے تھے۔ اس لئے ہم سب معاونین جلسہ گھبرا گئے۔ لیکن چونکہ اللہ جل وعزاسمہ اپنے دین کے حافظ ہیں۔ ہماری بہتری کے لئے جناب مولانا وامامنا مولوی صاحب اللہ دتہ قوم خیاط سکنہ موضع سوہل کو بھیج دیا اور بغیر بلائے حاضر ہو گئے تو انہوں نے آ کر بحث کا بیڑا اٹھایا۔ کیونکہ مولانا صاحب مرزا قادیانی کے عقائد کلی سے پورے واقف تھے۔ اگر مولانا صاحب اس جلسہ پر قدم رنجہ نہ فرماتے تو ہمارے گردا گرد کے چند گاؤں ضرور ہی مرزائی ہو جاتے۔ مگر کیوں ہوتے؟ جب کہ باری تعالیٰ کو دین اسلام پیارا مذہب تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا۔ ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ مولانا صاحب نے بحث میں وہ لطف دکھایا کہ آج تک کسی بحث میں کسی کو فوق ملا ہوگا۔ مرزائیوں کا ایسا ناطقہ بند ہوا کہ دو روز بعد ختم ہونے بحث مرزائی رہے مگر باہر نکل کر نہیں دیکھا۔ مولانا صاحب نے میدان میں دو وعظ بھی کئے۔ مگر مرزائی تو اندر ایسے داخل ہوئے رہے کہ گویا قالب
٣
میں روح نہیں یا یوں کہو کہ کچھ ان میں ہیں ہی نہیں۔ آخر میدان چھوڑ کر موضع برہلہ میں چلے گئے۔ اس لئے معاونین جلسہ نے مولانا صاحب کو فتح یابی کے انعام میں ایک تھان ململ سفید پر روپیہ رکھ کر سروپا دیا۔ معاونین جلسہ نے اتفاق سے مشاورت کر کے اس جلسہ کی کاروائی کو بعینہ الفاظ سے مشتہر کر دیا۔ تا کہ کل لوگوں پر واضح ہو جائے کہ مرزائیوں کے پاس ممات مسیح و مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح میں کوئی سند قوی نہیں۔ معاونین جلسہ کے نام ذیل میں درج ہیں۔ ہو ہذا!
من جملہ معاونین میں سے رائے نتیجہ جلسہ کے لئے یہ صاحب جو کہ مادہ علمی رکھتے تھے مقرر رہے۔ قاضی محمد مہر الدین، عبداللہ درزی، علی محمد زرگر، رحیم بخش نمبردار، مولوی عبداللہ، کریم بخش، سدوجٹ، حسنا جٹ، مولا بخش جٹ، قاضی و حکیم عمر بخش، بھاگ جٹ، فضلا، فضل الدین نمبردار، جیون، رحیم بخش نمبردار، قطب الدین، میراں بخش، قائم الدین، محمد اسماعیل، گوہر خان، نظام الدین، منشی نبی بخش، منشی فیروز الدین، فضل الدین، قاضی محمد مہر الدین، سلطان بخش، بڑھا، چوہدری فضل الدین، حسن الدین، ماکھی خان، بوٹے خان نمبردار، مرزا امام بیگ، مرزا حیات بیگ، جھنڈو، نور الدین، چوہدری جہانگیر، جان محمد، دتہ جوہر، روڑا جٹ، حاکو جٹ، فقیر نواں، اسمعیل حجام، غلام الدین، جان محمد، حافظ شمس الدین، علی محمد زرگر، بھانا کشمیری، فضلا جٹ، نور محمد، جوتی برہمن، مترا شاہ کلانور، بھانا برہمن، درگا داس اریہ، گوراندتا شاہ، ہیرا لال خاکروب، چوہدری حاکم۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامداً و مصلیاً!
لائق حمد وہی خالق کون و مکان ہے کہ جس کے کنہہ صفات کے دریافت میں عقل تمام عقلا زمان کی حیران و سرگردان ہے اور قابل نعت وہی سرور عالم محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں جن کی شریعت غراء میں ہزارہا مسائل مالا ینحل سہل اور حل ہوتے ہیں اور صدہا مشکلات آسان اور سہل۔
تمہید: ناظرین و سامعین کی خدمت میں معروض ہے کہ جلسہ کی بحث تمام کو واضح کر کے داد خواہاں ہیں کہ بنظر انصاف ملاحظہ فرماویں کہ حق بجانب کس کے ہے۔ چونکہ یہ کاروائی جلسہ مشتہر کر کے تقسیم کیا جاتا ہے۔ جس صاحب کو پہنچے اور دوستوں کو بھی دکھلادے۔ سوال و جواب ذیل میں ہیں:
من جانب معاونین جلسہ ہذا ٤
میاں جمال الدین و فتح الدین السلام علی متفق رائے یہ قائم ہوئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے کیونکہ حاصل سب مسائل مختلفہ فیہ کا اس پر ہے کہ آیا حیا نہیں۔ اگر حق ہے تو آیا وہی مسیح جو رسول الی بنی اسراء فریقین کی قرآن مجید و حدیث صحیح سے ہونی چاہئے۔
ناظرین و سامعین مولانا صاحب کا انصاف د ترک فرما کر اسی مدعا کو مدنظر رکھ لیا کہ بحث حیات و ممات حاصل نہ ہوگا۔ مگر مرزائی صاحبوں نے یہ پرچہ دیکھ کر اث آیا کہ خدایا یہ کیسا پہاڑ ہم پر ناگہانی گر پڑا۔ جواب آیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِ حامداً و مصلیاً
آشنا بھائی! اللہ دتہ صاحب وعلیکم السلام! پر کہ پہلے مسئلہ حیات و ممات حضرت مسیح علیہ السلام کی ممات میں فیصلہ ہو جائے تو ہم نزول مسیح کے جواب د جاوے تو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام آس ہو گئی تو پھر دیکھا جائے گا کہ کون مسیح نازل ہوگا۔ بہرحال فقط جمال الدین (
ناظرین و سامعین انصاف سے داد دیں کہ بحث کرنے سے کیا صاف لفظوں میں انکار کیا۔ کیا ضرو کرتے؟ آخر رجوع تو اسی طرف ہونا تھا جیسا کہ آ جانب معاونین جلسہ ہذا!
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ ا حامداً و مصل
میرے پیارے دوست میاں جمال الدی میں آیا۔ حال معلوم ہوا۔ چونکہ بحث مسئلہ حیات و مما ٥
محباں میاں جمال الدین و فتح الدین السلام علیکم! واضح ہو کہ اس طرف کل دوستوں کی متفق رائے یہ قائم ہوئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں گفتگو ہونی چاہئے۔ کیونکہ حاصل سب مسائل مختلفہ فیہ کا اس پر ہے کہ آیا حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول حق ہے یا نہیں۔ اگر حق ہے تو آیا وہی مسیح جو رسول الی بنی اسرائیل تھے نازل ہوں گے یا کوئی اور، سند فریقین کی قرآن مجید وحدیث صحیح سے ہونی چاہئے۔ فقط راقم الحروف عاجز اللہ دتہ!
ناظرین و سامعین مولانا صاحب کا انصاف دیکھیں۔ مولانا صاحب نے فضول بحث کو ترک فرما کر اسی مدعا کو مدنظر کر دیا کہ بحث حیات و ممات میں سوائے تضیع اوقات کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ مگر مرزائی صاحبوں نے یہ پرچہ دیکھ کر انکار کیا۔ گویا یہ بحث ان کو موت کا فرشتہ نظر آیا کہ خدایا یہ کیسا پہاڑ ہم پر ناگہانی گر پڑا۔ جواب آیا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامداً ومصلیاً!
آشنا بھائی! اللہ دتہ صاحب وعلیکم السلام! پس واضح ہو کہ خط آپ کا آیا حال معلوم ہوا کہ پہلے مسئلہ حیات وممات حضرت مسیح علیہ السلام کی بحث شروع کرنی چاہئے۔ جب حیات ممات میں فیصلہ ہو جائے تو ہم نزول مسیح کے جواب دینے کو تیار ہیں۔ اگر حیات مسیح ثابت ہو جاوے تو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ اگر ممات ثابت ہوگئی تو پھر دیکھا جائے گا کہ کون مسیح نازل ہوگا۔ بہر حال حیات وممات میں بحث ہونی چاہئے۔ فقط جمال الدین (قادیانی) سیکھواں کلاں ضلع گورداس پور!
ناظرین وسامعین انصاف سے داد دیں کہ مرزائی صاحبوں نے مسئلہ نزول مسیح میں بحث کرنے سے کیا صاف لفظوں میں انکار کیا۔ کیا ضرورت تھی حیات و ممات کے مسئلہ میں بحث کرتے؟ آخر رجوع تو اسی طرف ہونا تھا جیسا کہ آگے مرزائیوں سے ظہور میں آئے گا۔ من جانب معاونین جلسہ ہذا!
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامداً ومصلیاً!
میرے پیارے دوست میاں جمال الدین صاحب وعلیکم السلام! پرچہ آپ کا مطالعہ میں آیا۔ حال معلوم ہوا۔ چونکہ بحث مسئلہ حیات وممات کو عرصہ دراز گزر چکا ہے۔ جس سے کوئی
٥
نتیجہ آج تک ظہور میں نہیں آیا۔ دیگر التماس یہ ہے کہ مسئلہ حیات وممات کو صاف کر کے پھر بھی رجوع اسی مسئلہ کی طرف ہوگا۔ (یعنی نزول مسیح علیہ السلام کی طرف) اس لئے میں بڑی عاجزی سے عرض کرتا ہوں کہ جس مسئلہ کی بحث توضیح اوقات کر کے پھر شروع کرنی پڑے گی۔ کیوں اس مسئلہ میں فیصلہ لکھا جائے تاکہ لوگوں پر واضح ہو جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہی نازل ہوں گے یا کوئی اور اگر آپ کا منشاء تو ضیع اوقات اور اوراق سیاہی کا ہے تو آپ لوگوں کو بآواز بلند فرما دیں کہ سب لوگ اپنے گھروں کو چلے جاویں فیصلہ کچھ نہ ہوگا۔ وبس فقط مسکین اللہ دتہ خیاط سکنہ سوہل حال وارد پنچو ان مورخہ ٣١/ جنوری ١٩٠٢ء
اس کا جواب مرزائی صاحبوں نے تحریری کچھ نہ دیا۔ کھڑے ہو کر پرچہ سابقہ جو اوپر درج ہے سنایا اور کہا کہ اگر آپ حیات وممات میں بحث کرنا نہیں چاہتے تو حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات مان لیں۔ ہم نزول کے مسئلے کو شروع کرتے ہیں۔ ورنہ بحث حیات وممات ہم کریں گے۔ جمال الدین!
مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر فرمایا۔ میں تھوڑی دیر کے لئے وفات حضرت مسیح علیہ السلام کی مان لیتا ہوں۔ آپ نزول مسیح میں بحث کریں۔
ناظرین و سامعین مولوی صاحب کے انصاف کی طرف توجہ فرماویں۔ مرزائیوں کو کیسا رول رول کر مارا اور باوجود ماننے وفات مسیح بھی مرزائیوں کی جرأت نہ ہوئی کہ مرزا قادیانی کو مثیل مسیح ثابت کریں۔
معاونین جلسہ
(جمال الدین) ہم تھوڑی دیر نہیں مانتے۔ آپ نے اگر بحث کرنی ہو تو حیات وممات میں کریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے پاس سند حیات مسیح کی نہیں۔
مولوی صاحب اللہ دتہ
میں نے نزول مسیح کے بحث کو اس واسطے شروع کرنا چاہا تھا کہ فیصلہ جلد ہوگا اور اکثر لوگ زمیندار ہیں۔ علمی بحث کو کم سمجھیں گے۔ حیات وممات میں توفی کا جھگڑا ہوگا۔ میں توفی کے معنی نیند اور پورا واقع قبض ثابت کروں گا۔ آپ صرف موت ثابت کریں گے۔ اس لئے زمیندار لوگ حیران ہو کر چلے جاویں گے۔ ہم تم دونوں بحث کر کے گھر چلے جاویں گے۔ وبس حاضرین جلسہ کو فائدہ نہ ہوگا۔ خیر اب میں آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ وفات حضرت مسیح کی
٦
قرآن اور حدیث اور قول صحابہ سے ثابت کر کے دکھا دیں بحث شروع کریں۔
ناظرین و سامعین ! خیال فرماویں مولانا صاحب زک دینے کو تیار ہو گئے اور بحث شروع ہوئی۔ دو گھڑیاں ر کرے پھر بیس منٹ میں اس کا جواب ہو۔ علیٰ ہذا القیاس طرف سے شروع ہوئی۔ معاونین جلسہ !
فتح الدین ......... "يا عيسى إني متوفيك تقریر بیس منٹ میں ختم کی اور کہا کہ ان آیات سے حضرت
مولوی اللہ دتہ ...... میں افسوس سے عرض کرتا ہوں م قرآن اور حدیث سے سند ہو اور قول صحابی کا بھی ہونا چا کیسے بیان فرمایا۔ خیر اب میں عرض کر دیتا ہوں کہ متوفی نے حضرت مسیح کے اٹھانے کا وعدہ کیا کہ تجھ کو پورا بلا م آیت کی تصدیق کے لئے فرمایا۔ "وما قتلوه يقينا عزيزاً حكيماً" یعنی حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا ب طرف کیا صاف معنی ہیں۔ کچھ بھی تاویل کی ضرورت نہیں موجود ہے۔ وھو ھذا!
"قال ﷺ لليهود ان عيسى لم ي القيامة (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٣٦٦) " یعنی آنحضر فرمایا۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے پہلے دن قیامت کے اور بہت سے دلائل ہیں جو اپنے اپنے
فتح الدین ...... متوفیک کے معنی سوائے موت صاحب نے بیان فرمائی ہے وہ مرسل ہے۔ اس لئے قابل میں توفی کا لفظ آیا ہے۔ وفات کے معنوں میں جب کہ زندہ چھوڑے گئے۔ حضرت مسیح میں کیا فوقیت تھی ہم عیسا ہیں اور مولوی صاحب ان کو سچا کرتے ہیں۔ تاکہ عیسا عباسؓ نے اس آیت میں فرمایا کہ انی متوفیک وممیتک اور
٧
قرآن اور حدیث اور قول صحابہ سے ثابت کر کے دکھا دیں۔ اب تو میں آپ کو چھوڑوں گا نہ کہ بحث شروع کریں۔
ناظرین و سامعین ! خیال فرماویں مولانا صاحب چونکہ گھر کے بھیدی ہیں۔ ہر پہلو سے زک دینے کو تیار ہو گئے اور بحث شروع ہوئی۔ دو گھڑیاں رکھی گئیں۔ بیس منٹ ایک صاحب تقریر کرے پھر بیس منٹ میں اس کا جواب ہو۔ علیٰ ہذا القیاس ! پہلی تقریر فتح الدین (قادیانی) کی طرف سے شروع ہوئی۔ معاونین جلسہ !
فتح الدین...... ”یا عیسٰی انی متوفیک“ آخر تک اور فلما توفیتنی پیش کیا اور اپنی تقریر بیس منٹ میں ختم کی اور کہا کہ ان آیات سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہے۔
مولوی اللہ دتہ...... میں افسوس سے عرض کرتا ہوں۔ اوّل تو وعدہ پورا نہ ہوا۔ شرط یہ تھی کہ قرآن اور حدیث سے سند ہو اور قول صحابی کا بھی ہونا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو کیسے بیان فرمایا۔ خیر اب میں عرض کر دیتا ہوں کہ متوفیک اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ باری تعالیٰ نے حضرت مسیح کے اٹھانے کا وعدہ کیا کہ تجھ کو پورا بلا موت اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ چنانچہ اس آیت کی تصدیق کے لئے فرمایا۔ ”وما قتلوه یقیناً بل رفعه الله اليه . وكان الله عزيزاً حكيماً“ یعنی حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ یہی یقینی بات ہے بلکہ اٹھالیا۔ اس کو اپنی طرف کیا صاف معنی ہیں۔ کچھ بھی تاویل کی ضرورت نہیں۔ دیگر متوفیک پر ایک حدیث حضرت کی موجود ہے۔ وہو ہذا !
”قال ﷺ لليهود ان عيسٰی لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦)“ یعنی آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ پھر آویں گے تمہاری طرف پہلے دن قیامت کے اور بہت سے دلائل ہیں جو اپنے اپنے وقت پر بیان کروں گا۔ انشاء اللہ ! فقط
فتح الدین...... متوفیک کے معنی سوائے موت کے اس جگہ نہیں ہیں۔ جو حدیث مولانا صاحب نے بیان فرمائی ہے وہ مرسل ہے۔ اس لئے قابل حجت نہیں اور (٢٥) جگہ قرآن شریف میں توفی کا لفظ آیا ہے۔ وفات کے معنوں میں جب کہ کل رسول فوت ہو گئے۔ کیوں حضرت مسیح زندہ چھوڑے گئے۔ حضرت مسیح میں کیا فوقیت تھی ہم عیسائیوں کو حضرت مسیح کو مار کر جھوٹا کرتے ہیں اور مولوی صاحب ان کو سچا کرتے ہیں۔ تاکہ عیسائی دلیری سے خدا مان لیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس آیت میں فرمایا کہ انی متوفیک ای ممیتک اور دلائل بہت ہیں جو پھر بیان کروں گا۔
٧
مولوی اللہ دتہ ...... معلوم نہیں کہ مولوی صاحب نے کیوں فرمایا کہ اس جگہ توفی کے معنی موت نہیں اور کوئی دلیل پیش نہیں کی اور مرسل حدیث کیوں قابل حجت نہیں۔ متوفی ایسا لفظ عربی کا ہے جس کے معنی لازمی ہرگز ہرگز موت ثابت نہیں۔ بلکہ توفی کے معنی موت بھی ہیں۔ مگر قرینہ سے بنتے ہیں۔ جیسے ارشاد ہوا ۔ ”والذین یتوفون منکم ویذرون “ آخر تک چونکہ اس جگہ یذرون قرینہ ہے اور توفی معنی نیند بھی ہے۔ جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے : ”ھو الذی یتوفکم باللیل “ معنی پہلی آیت کے یہی ہیں۔ وہ لوگ جو فوت ہو جاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیویاں اپنی۔ معنی دوسری آیت کے یہ ہیں۔ وہ ہے ذات اللہ کی جو سلاتا ہے تم کو رات میں آخر تک اور توفی کے معنی رفع کے بھی ہیں۔ جیسا ”یتوفاھن الموت “ یعنی اٹھا لے جاوے ان کو موت۔ موت کا لفظ قرینہ ہے۔ پھر فرمایا پورے دیں گے ہم ان کو اجر ان کے۔ غرض جہاں حضرت مسیح کے بارہ میں توفی کا لفظ آیا۔ وہاں موت قرینہ ہرگز نہیں۔ (٢٥) جگہ تو بے شک توفا کا لفظ آیا کہ موت ہے ساتھ قرینہ کے مگر بلا معنی موت (٢٨) جگہ قرآن میں۔ توفی کا لفظ موجود ہے۔ چنانچہ فہرست اس کی یہ ہے۔
نمبر شمار سورت پارہ رکوع نمبر شمار سورت پارہ رکوع ١ بقر ١ ٥ ٢ بقر ٢ ٣٧ ٣ بقر ٢ ٤٨ ٤ آل عمران ٣ ٣ ٥ آل عمران ٣ ٦٠ ٦ آل عمران ٤ ١٧ ٧ آل عمران ٤ ١٩ ٨ نساء ٤ ٣ ٩ نساء ٦ ٤٣ ١٠ انعام ٧ ٧ ١١ انفال ١٠ ٧ ١٢ توبہ ١١ ٤١ ١٣ ھود ١٢ ٤ ١٤ ھود ١٢ ٩ ١٥ ھود ١٢ ١٠ ١٦ یوسف ١٣ ٨ ١٧ رعد ١٣ ٣ ١٨ نحل ١٤ ١٣ ١٩ نحل ١٤ ١٥ ٢٠ بنی اسرائیل ١٥ ٤ ٢١ حج ١٧ ٤٠ ٢٢ نور ١٨ ٥
٨
٢٣ نور ١٨ ٥ ٢٤ فاطر ٢٢ ٣ ٢٥ زمر ٢٣ ٤ ٢٦ زمر ٢٤ ٥ ٢٧ زمر ٢٤ ٧ ٢٨ احقاف ٢٦ ٣
اس فہرست سے ثابت ہوا کہ توفی کے معنی لازمی نہ تو موت ہیں اور نہ پورا نہ نیند۔ غرضیکہ یہ لفظ بہت معنوں میں مشترک ہے۔ سب معنی چھوڑ دیں۔ فقط مرزا قادیانی کے معنی کئے ہوئے جو ہیں ان پر فیصلہ ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیٰ“ یعنی اے عیسیٰ میں پورا لوں گا تجھ کو اور اجر دوں گا تجھ کو۔
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٢٠ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)
دیگر نور الدین حکیم اپنی کتاب تصدیق براہین میں کہتا ہے: ”یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الیٰ“ یعنی اے عیسیٰ میں پورا لوں گا تجھ کو اور بلند کروں گا تجھ کو۔ جب کہ مرزا قادیانی اور نور الدین متوفیک کے معنی پورا کے کرتے ہیں تو مولوی فتح الدین فرماویں کیا ان دونوں صاحبوں نے قرآن اور بخاری کو کبھی دیکھا تھا یا نہیں اور مرسل حدیث اس وقت قابل حجت نہیں جب اس کی ضد میں صحیح حدیث ہو۔ اگر آنحضرت ﷺ نے اس پر کوئی صحیح حدیث فرمائی ہو کہ انی متوفیک سے مراد وفات مسیح ہے تو پیش کرو۔ ورنہ مرسل حدیث قابل حجت و دلیل محکم ہے۔
یہ حدیث مؤید ہے۔ احادیث صحیحہ کے اس لئے حکم مرفوع کا رکھتی ہے۔ یہ جو فرمایا کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو خدا مان لیں گے۔ یہ خوب کہی۔ یعنی جب تک موت ثابت نہ ہو۔ آپ عیسائیوں کو جواب نہیں دے سکتے۔ یہ نہایت غلط ہے۔ ہم انشاء اللہ! عیسائیوں کو باوجود ماننے زندہ حضرت مسیح علیہ السلام جواب دے سکتے ہیں۔ قرآن شریف کے منکر ہو کر اور دین کو بگاڑ کر ہم جواب دینا نہیں چاہتے۔ یہ عقیدہ آپ کو مبارک رہے۔ ہم نے کب عیسائیوں کو دلیر کیا۔ اہل اسلام کی کس کتاب سے عیسائی صاحبوں نے تمسک کر کے مسیح کی خدائی کا ثبوت پیش کیا اور یہ جو فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں کون سی فوقیت ہے کہ زندہ چھوڑے گئے۔ جناب من! اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ تمام جہاں سے علیحدہ برتاؤ کیا۔ سب نبیوں کو ماں باپ سے پیدا کیا۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کو بلا باپ۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ کی امت کے دعا کے لئے حضرت مسیح کو زندہ رکھا۔ قبل قیامت فوت ہوں گے اور مؤمن اس پر جنازہ پڑھیں گے وبس پھر مولوی صاحب فتح الدین نے بہت مغالطہ دیا کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا۔ ”انی متوفیک وممیتک“ یہ الفاظ بخاری میں ہرگز نہیں۔ کیونکہ انی کا لفظ اس آیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ جس آیت میں حضرت
٩
کا بیان ہے۔ حالانکہ اس جگہ بخاری میں حضرت مسیح کا کوئی بھی ذکر نہیں۔ فافہم! غرضیکہ شام تک اسی طرح سے بحث ہوتی رہی۔ مگر مرزائیوں نے ایک بھی سند قوی حضرت مسیح کی وفات میں ثابت کر کے نہ دکھائی۔ آخر فتح الدین نے اپنے رسالہ سے ایک آیت اثبات دعویٰ وفات مسیح میں پڑھی۔ مولوی صاحب نے فوراً پکڑا کہ اگر یہ آیت تمام قرآن سے انہی لفظوں میں جو کہ آپ نے صفحہ ١٩ سے ٢٠ تک پڑھی ہے۔ دکھائیں تو میں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ جب قرآن شریف کھولا گیا تو ان لفظوں سے آیت ثابت نہ کر سکے اور ایسے نادم ہوئے کہ رات بھر آپس میں لڑائی ہوتی رہی۔ بلکہ فتح الدین کو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم اس کتاب کو بند کر دو۔ اس نے کہا دو صد روپے کی کتابیں میں کس طرح سے جلا دوں۔ پر فتح الدین مرزائی وفات مسیح کا ثبوت دینے سے عاری ہو گئے اور دلائل ختم ہو گئے تو خود بحث سے خروج کر کے ایک آیت سورہ نور کی پڑھ کر مرزا قادیانی کا مسیح ہونا ثابت کرنا شروع کر دیا تو مولانا صاحب اللہ دتہ نے اپنے وقت میں اور اپنی تقریر میں مرزائیوں کو وہ زک دی کہ خدایا پناہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو۔ مولانا صاحب موصوف نے فرمایا ہمارے پاس تو ابھی دلائل حیات مسیح کے اتنے ہیں کہ دو روز اور بھی ہم بیان کریں تو خاتمہ نہ ہوگا۔ آپ نے بحث حیات و ممات کو چھوڑ کر کیوں نزول کا مسئلہ شروع کر دیا۔ حالانکہ آپ نے اپنے گریز کو قبول نہیں کیا یا اپنی ہار قبول کرو ورنہ بحث کرو۔ اسی لئے تو مولانا صاحب نے پہلے ہی سے فرمایا تھا کہ بحث نزول میں ہو۔ اس وقت آپ نے قبول نہ کیا۔ اب خود ہی اپنا وارد سکہ چلا کر نزول کی طرف شروع ہو گئے۔ مرزائی سن کر حیران ہوئے اور چہروں پر زردی کے آثار نمودار ہوئے۔ آخر یہ صلاح قرار پائی کہ صبح کو آپ لوگ جلسہ کے معاون پرچہ تحریری دیں اور ہم مرزا قادیانی کے مثیل مسیح ہونے کا ثبوت پیش کریں گے۔ چنانچہ وہ پرچہ جو جواب مولانا صاحب کا ہے آگے درج ہے۔ صبح کو پرچہ جمال الدین (قادیانی) کو دیا گیا۔ جمال الدین نے علیحدگی میں بیٹھ کر پرچہ کا جواب شروع کیا۔ ادھر مولوی اللہ دتہ اور فتح الدین (قادیانی) تقریر میں شاغل رہے۔ مولانا صاحب نے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کی وہ قلعی کھولی جو مولوی صاحب کا حق تھا۔ لوگوں کو پورے طور سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے عقائد قرآن شریف اور حدیث صحیح اور اقوال صحابہ سے بالکل خلاف ہیں۔ غرضیکہ لوگوں پر مخفی نہ رہا کہ مرزا قادیانی بھی قرآن شریف کے اوپر عمل کرنے والے ہیں۔ آخر کار پرچے ہر دو عام مجلس میں سنائے گئے جو سوال مرزائیوں کے پیش ہوئے۔ وہ ہر دو سوال ذیل میں درج ہیں۔
بسم الله الرحمن الرحيم حامداً ومصلياً! بخدمت شریف جناب مولوی صاحب فتح الدین دو سوال آپ کی خدمت میں حسب ذیل درج ہیں
- ١....... مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے کا ثبوت۔
- ٢....... مرزا قادیانی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے
نوٹ: ہر دو سوال کا جواب قرآن شریف وحد پوچھتے ہیں اور نہ ہماری تسلی ہے۔ راقمان قاضی محمد ومحمد م نمبردار ساکنان بکوآن۔ اس کا جواب جمال الدین قادی میں درج کیا جاتا ہے۔ ھو ھذا!
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسول واضح ہو کہ اس وقت از جانب قاضی محمد مہر الدین نمبردار ساکنان بکوآن کی طرف سے دو سوال پیش ہوئے۔
- ١....... مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے کا ثبوت۔
- ٢....... مرزا قادیانی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے
جواب سوال اوّل، ہم جناب مرزا قادیانی کے ز عشاق فرقان و پیغمبر یم بدیں آمدم و بدیں بگذریم۔ ہمارے الا الله محمد رسول اللہ“ ہمارا اعتقاد جو ہم اس و ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کو و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم النبیین و ختم المرسلین ہیں۔ جن ب نعمت عظیمہ اتمام پہنچ چکی۔ جس کے ذریعے سے انسان راہ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایک شوشہ یا نقطہ ان کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوام اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام من جانب اللہ نہیں ہو سکتا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حامداً ومصلياً! بخدمت شریف جناب مولوی صاحب فتح الدین و جمال الدین دو سوال آپ کی خدمت میں حسب ذیل درج ہیں۔
- مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے کا ثبوت۔ .......١
- مرزا قادیانی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کا ثبوت۔ .......٢
نوٹ: ہر دو سوال کا جواب قرآن شریف و صحیح حدیث واقوال صحابہ کے سوا نہ ہم پوچھتے ہیں اور نہ ہماری تسلی ہے۔ راقمان قاضی محمد ومحمد مہرالدین، علی محمد، عبداللہ و رحیم بخش نمبردار ساکنان بکیوآن۔ اس کا جواب جمال الدین قادیانی کی طرف سے جو آیا بعینہ لفظوں میں درج کیا جاتا ہے۔ ھو ھذا!
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نحمده ونصلی علی رسوله الكريم!
واضح ہو کہ اس وقت از جانب قاضی محمد مہرالدین وعلی محمد زرگر و عبداللہ درزی و رحیم بخش نمبردار ساکنان بکیوآن کی طرف سے دو سوال پیش ہوئے۔
- مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے کا ثبوت۔ .......١
- مرزا قادیانی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کا ثبوت۔ .......٢
جواب سوال اوّل، ہم جناب مرزا قادیانی کے اقوال سے دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے۔ ز عشاق فرقان و پیغمبر یم بدیں آمدم و بدیں بگذریم۔ ہمارے مذہب کا لب لباب یہ ہے کہ ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ ہمارا اعتقاد ہے جو ہم اس دنیاوی زندگی میں رکھتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے۔ یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم النبیین و خَیْرُالمرسلین ہیں۔ جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا ہے اور نعمت عظمیٰ اتمام پا چکی۔ جس کے ذریعے سے انسان راہ راست کو اختیار کرکے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام من جانب اللہ نہیں ہو سکتا کہ جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی
ایک حکم کی تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔
(ازالہ اوہام ص ١٣٧ تا ١٣٩ حصہ اول ، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)
جواب سوال دوئم ، مرزا قادیانی کا دعویٰ مثل مسیح ہے نہ کوئی اور تو ہم اس قسم کی مماثلت کو قرآن سے غور کرتے ہیں کہ قرآن شریف ایسی مماثلت کی اجازت دیتا ہے یا نہیں تو ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً اور عموماً اجازت دیتا ہے۔ خصوصاً ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم كما ارسلنا الی فرعون رسول (مزمل: ١٥)“ یعنی ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا۔ شاید جیسا کہ فرعون کی طرف موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تو یہاں محمد رسول اللہ ﷺ مثل موسیٰ علیہ السلام ثابت ہوئے۔ اگر ان کو (حضور ﷺ) موسیٰ علیہ السلام کہا جاتا تو کچھ حرج کی بات نہیں۔ عموماً یہ ہے کہ ”ضرب الله مثلاً للذین کفروا امرات نوح وامرات لوط کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتهما فلم یغنیا عنهما من الله شيئاً وقيل ادخلا النار مع الدخلين وضرب الله مثلاً للذین آمنوا امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنة ونجنی من فرعون وعمله ونجنی من القوم الظلمين ومريم ابنت عمران التي حصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمت ربها وكتبه وكانت من القانتين (تحریم: ١١، ١٢)“ یعنی یہاں کی مثال اللہ نے واسطے کفار نوح اور لوط کی بیوی کی وہ دو عورتیں ہیں ہمارے دو بندوں صالحوں کے نیچے ۔ پس دونوں نے خیانت کی اور نہ فائدہ پہنچا ان دونوں کو اللہ سے کچھ کہا گیا۔ داخل ہو جاؤ۔ آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ اور بیان کی مثال اللہ نے واسطے مومن کے عورت فرعون کی جس وقت کہا کہ اے رب بنا واسطے میرے نزدیک اپنے گھر جنت میں اور نجات مجھ کو فرعون سے اور اس کے عمل سے اور نجات دے قوم ظالموں سے اور مریم بیٹی عمران کی جس نے محافظت کی شرم گاہ اپنی کی پس پھونکا ہم نے اس میں روح اپنی کو اور مانی تھی اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور تابعدار تھی اور ان آیات شریف سے ثابت ہوا کہ مماثلت جائز اور عادت اللہ ہے۔
مامور اور مؤمن اور کفار کے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں پر کافر اور مؤمن کے مقابلہ پر عورتوں کی مثال رکھی ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ عورتوں میں قوت انفعالیہ ہوتی ہے جو مرد کی قوت فاعلہ سے اثر لیتی ہے۔ ایسا ہی مرد کے لئے وہ بنائے گئے ہیں قبول کرنے کے جیسا
١٢
خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”انا ھدینہ السبیل اما شاکراً واما کفوراً“ یعنی ہم نے ہدایت کی راہ کھول دی جو قبول کرے ہدایت کو یا قبول کرے کفر کو۔ غرضیکہ مماثلت یہیں تک ثابت کی ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو نیک اور متقی بنا دے اور خدا کی امانت کو نگاہ رکھے۔ وہ ابن مریم ہو جاتا ہے۔ اگر ابن مریم بن گیا تو کیا قصور ہے۔ پھر قرآن میں یہ بھی ثابت کر دیا ہے خلفاء کے مثل بھی ہوتے ہیں۔ ”وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم“ یعنی اللہ وعدہ کرتا ہے مومنوں سے کہ جو تم سے نیک ہوں وہ خلیفہ ہوں گے۔ زمین میں جیسے خلیفے ان سے پہلے بنائے گئے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ امت محمدیہ کے ساتھ تم میں ایسے خلیفے ہوں گے۔ جیسے بنی اسرائیل کے لئے اب سوچنا چاہئے کہ بنی اسرائیل میں کیسے خلیفے ہوئے ہیں۔ وہ خلفائے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چل کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جاری رہے ہیں۔ جو قریباً چودہ سو برس تک رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے آخری خلیفے تھے۔ اسی طرح اس امت میں بھی بموجب وعدہ اللہ یہ چودھواں خلیفہ ہے۔ صدی چہار دہم پر ہے جس کی تعداد باہم ملتی جلتی ہے۔ غور سے مل جاتے ہیں۔ ورنہ اس صدی پر یعنی حالت زار جو صدہا حملے اسلام اور بانی اسلام اور قرآن پر کئے گئے ہیں۔ جو مخالفین کی کتابیں دیکھنی چاہئیں۔ کون خلیفہ ہے واقعہ سابقہ متواترہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک صدی پر خلیفہ ہوتا چلا آیا ہے اور یہ صدی چہار دہم جس کے انیس سال گزر چکے ہیں۔ اب تک کوئی نہیں ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے اور آیت شریفہ کی تفسیر میں رسول اللہ فرماتے ہیں کہ: ”کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تامرنا يا رسول الله قال فوا ببيعة الاوّل فالاوّل اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم (بخاری شریف ج ١ ص ٤٩١)“ یعنی تھے بنی اسرائیل میں سیاست والے انبیاء جب ہلاک ہو گا نبی تو اس کے پیچھے نبی ہو گا اور اب بات یہ ہے کہ میرے پیچھے کوئی نبی نہیں ہوگا۔ شتاب ہو گا خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے پورا کرو ان کی بیعت اوّل کو اور دو ان خلیفوں کو حق ان کا تحقیق ان کا حق اللہ تعالیٰ پوچھنے والا ہے۔ اسے جیسا کہ قرآن میں نیز آیات زمانہ کی خبر دیتی ہیں۔ ایک گروہ آخر زمانہ میں ہوگا۔
سورت الجمعہ میں ہے۔ ”هو الذى بعث فى الامين رسول منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة وان كانوا لفي ضلال مبين ١٣
وآخرين منهم لما يلحقوبهم وهو العزيز الحکیم (الجمعہ: ٢، ٣) ”وہی خدا ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں رسول ان میں سے جو پڑھتا ہے۔ ان پر آیات اس کے اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت۔ اگرچہ تھے گمراہی میں اس سے پہلے اور اٹھایا اس رسول کو ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہیں میں سے جو ابھی تک نہیں ملے ان میں وہی زبردست حکمت والا ہے۔“
اس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ نے اصحابوں کے سوال کرنے سے کہ وہ کون ہوں گے تو آپ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہوں گے۔ سلمان اہل فارس تھا اور مرزا قادیانی بھی اہل فارس ہیں اور آیت کے بطن میں بحساب ابجد ١٢٧٥ تعداد میں جو مرزا قادیانی کے سن بلوغت کا زمانہ ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں اور چوتھی آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ“ یعنی وہی خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے لئے بھیجا اور ساتھ دین حق کے تاکہ تمام دینوں پر غالب ہو۔ اگرچہ مشرکین کو برا معلوم ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں بہت مفسر قائل ہیں کہ مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ اس وقت یہ غلبہ ہوگا اور رسول اللہ ﷺ دو کام کے لئے آئے ہیں۔ ایک تکمیل ہدایت دوسری تکمیل اشاعت اور امر اوّل رسول اللہ ﷺ نے پورا کیا اور امر دوئم یہ زمانہ آخیر کے ساتھ متعلق ہے۔ جو مسیح موعود کے ہاتھ پر پورا ہوگا تا کہ قرآن شریف کی تمام قوموں پر حجت پوری ہوجائے۔ جب حجت پوری نہ ہوئی تو قیامت کا آنا غیر ممکن ہے۔ کیونکہ خدا فرماتا ہے: ”حتی نبعث رسولا“ ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے۔ جب تک رسول حجت پوری نہیں کرتے اور اس طرح قانون جاتا ہے۔ اب ہی وہ زمانہ ہے جو ایسے آدمی کی ضرورت ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے جوش میں ہے۔ آریوں کی اشاعت عیسائیوں کی اشاعت اور برہمو اور سناتن یہود وغیرہ جوش میں آرہے ہیں۔ ایسے وقت میں آکر اپنے مذہب کی سچائیاں بیان نہ کرے تو کون سا وقت ہے کیونکہ اکھاڑہ تیار ہے اور ڈھول بج رہے ہیں۔ لوگوں کا اجتماع ہے۔ ایسے وقت میں پہلوان نکل کر مالی نہ لے تو کون سا اور وقت ہے اور مسلمانوں میں اندرونی فساد وہابی، حنفی، خارجی، شیعہ وغیرہ کے اس قدر تنازعات ہیں جو حد و حساب نہیں۔ اگر اس وقت نہ آتا تو کس وقت آتا۔ زمانہ دہائی دے رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے اور آیت شریفہ بالا میں ارشاد ہے اور ”علے الدین کلہ“ کا جملہ دلالت دے رہا ہے مسیح اس وقت آئے گا بہت دینوں کا زور ہوگا۔ اس آیت شریفہ کے موجب اور وقت کے لحاظ عیسیٰ ہونے کا دعویدار ٹھیک ہے اور علاوہ اس کے رسول اکرم ﷺ نے ١٤
بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے جو اس وقت کے مطابق سمجھا گیا ہے ابن مريم فيكم وامامکم منکم“ (بخاری شریف ج فيكم ابن مريم فامكم منكم بكتاب ربکم تبار (مسلم شریف ج ١ ص ٨٧) یعنی کس طرح حال ہوگا تمہارا جب سے ہوگا۔ حدیث میں وارد ہے وہ تفسیر یہ ہے۔ دوسری مجـ ہے۔ میں اس کی مثال سورہ نمل ”تلک آیات القرآن و نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مر ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقـ تا آخر (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧) “ محمد کی جان ہے۔ البتہ تحقیق عنقریب ابن مریم نازل ہوگا۔ وہ جھگڑے کا فیصلہ کنندہ۔ قرآن میں ”حكماً من اهله و برابر کرنے کے ہیں۔ یعنی دین کے زائد نکال کر اعتدال سے صاف ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ: مخالفین کے مقابلہ کے لئے آج کل مر ثناء اللہ امرتسری موجود ہیں۔ دیکھو آپ کی تصانیف اگر کوئی دانشمند اس وقت سمجھ سکتا ہے کیا صلیب کا غلبہ کہ جو گرجا پر ہوتا ہے اس کو توڑا جائے۔ اس نے کچھ چھوڑی ہے۔ ”يبطل الدين نصرانيه بالحج لئے مرزا قادیانی نے حد کر چھوڑی ہے۔ بے شک اس کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر جوان شیر نے جو ان پر تیر چـ اس کی قبر کا دکھانا دانشمند سمجھ سکتا ہے۔ اس کے سوا صلیب کے دلوں سے صلیب کی عظمت ٹوٹ جائے۔ (سبحان دکھائی۔ چنانچہ بحث عبداللہ آتھم دلیل اظہر من الشمس بـ فافہم معاونین جلسہ) اس واسطے کوئی مقابلہ پر نہیں آسکتا ١٥
بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے جو اس وقت کے مطابق سمجھا گیا ہے۔ حدیث ”كیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم“ (بخاری شریف ج١ ص٤٩٠) میں ”كیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم فامکم منکم بکتاب رب تبارك وتعالیٰ وسنت نبیکمﷺ“ (مسلم شریف ج١ ص٨٧) یعنی کس طرح حال ہوگا تمہارا جب تم میں نازل ہوگا۔ پس وہ امام تمہارا تم سے ہوگا۔ حدیث میں واؤ ہے وہ تفسیر یہ ہے۔ دوسری میں ف جو خاص تفسیر کے لئے آیا کرتی ہے۔ میں اس کی مثال سورہ نمل ”تلك آیات القرآن وکتاب مبین“ حدیث دوئم ”والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبله احد حتّی تكون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیها ثم یقول ابوھریره واقرؤا ان شئتم تاآخر (بخاری ج١ ص٤٩٠، مسلم ج١ ص٨٧) ”قسم ہے! اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ البتہ تحقیق عنقریب ابن مریم نازل ہوگا۔ حاکم اور عادل ہو کر حکم کا معنی قرآن میں دو جھگڑے کا فیصلہ کنندہ۔ قرآن میں ”حكماً من اهله وحكما من اھلها“ اور عادل کے معنی برابر کرنے کے ہیں۔ یعنی دین کے ادلّہ نکال کر اعتدال پر لاوے اور صلیب کو توڑے گا اور اس سے صاف ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ: مخالفین کے مقابلہ کے لئے آج کل مرزا قادیانی سے بڑھ کر مولوی صاحب ثناء اللہ امرتسری موجود ہیں۔ دیکھو آپ کی تصانیف اگر تسلیم ہو کہ اس وقت صلیب کا غلبہ ہوگا۔ دانشمند اس وقت سمجھ سکتا ہے کیا صلیب کا غلبہ نہیں اور صلیب کے توڑنے سے مراد یہ نہیں کہ جو گرجا پر ہوتا ہے اس کو توڑا جائے۔ اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں اور اس کی تفسیر علماء نے کر چھوڑی ہے۔ ”یبطل الدین نصرانیہ باالحجج والبراھین“ سو اس کے توڑنے کے لئے مرزا قادیانی نے حد کر چھوڑی ہے۔ بے شک اس سے پہلے علماء بھی اس کے ساتھ مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر جوان شیر نے جو ان پر تیر چلائے ہیں۔ جیسا کہ مسیح کا فوت ہو جانا اور اس کی قبر کا دکھانا دانشمند سمجھ سکتا ہے۔ اس کے سوا صلیب کبھی نہیں ٹوٹے گی۔ یہی معنی ہے کہ اس کے دلوں سے صلیب کی عظمت ٹوٹ جائے۔ (سبحان اللہ! کیا صلیب مرزا قادیانی نے توڑ کر دکھائی۔ چنانچہ بحث عبداللہ آتھم دلیل اظہر من الشمس ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کو انعام ملا تھا۔ فافہم معاونین جلسہ ) اس واسطے کوئی مقابلہ پر نہیں آسکتا۔ لاٹ پادری لاہور کے فتح مسیح فتح گڑھی
١٥
عبداللہ آتھم امریکہ میں ڈوئی صاحب وغیرہ سب شکست کھا گئے۔ چوہا گھاس کے تار میں پھنس گیا۔ اپنی مادہ کو کہنے لگا۔ اس تنکے کو توڑ دو۔ ورنہ میں ذرہ سی حرکت کروں گا۔ تو جہاں درہم برہم ہو جائے گا۔ ایک چھوٹے سے جانور نے کہا تھا۔
من پہلوانم تہمتن تنم۔ کہ از نعرہ کوہ جرز بر کنم۔ یعنی میں پہلوان رستم جیسا ہوں ایک نعرہ کروں تو پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دوں گا۔ (جمال الدین قادیانی نے مرزا قادیانی کو ہر دو مثال کا مصداق کر دکھایا۔ معاونین جلسہ ) ہوا اور قرآنی ہدایت کے بموجب ”یھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ“ کو کرے گا۔ یعنی خنزیر کو اگر حیوان مستقل مراد ہے تو قرآن خلاف کہتا ہے۔ ”خلق السموات والارض وما بینھما لا عبین“ یعنی آسمان زمین میں اور جو کچھ اس میں ہے بیہودہ نہیں اور سور کب بیہودہ ہے اور اس حقیقی مالک نے کسی حکمت پر پیدا کئے ہیں۔ اس سے انسان ہی مراد ہے (واہ کیا خوب تاویل کی جمال الدین کے خیال میں سور کی پیدائش بیہودہ نہیں۔ مگر انسان کی پیدائش بیہودہ چیز معاونین) جسے خدا فرماتا ہے۔ ”وجعل منھم القردۃ والخنازیر“ کے نیچے چلنا چاہئے۔ سو ایسا انہوں نے قبول کیا ہے۔ ”اظھر من الشمس“ ہے اور لڑائی کو اٹھائے گا یا جزیہ کو جزیہ کے معنی یہ کرتے ہیں۔ مسیح جزیہ قبول نہیں کرے گا۔ سب کو تہہ تیغ کر کے مسلمان کرے گا۔ یہ قرآن شریف کے خلاف ہے۔ سورہ توبہ ہے۔ ”حتی یعطوا جزیۃ عن یدوھم صاغرون (توبہ:٢٩)“ یعنی جب کافر جزیہ دیویں اس کو رہائی دے دو اور مسیح کا جزیہ قبول نہ کرنا۔ خدا کے اس حکم کو منسوخ کرے گا۔ (جیسا کہ آپ نے کیا باری تعالیٰ فرماتے ہیں۔ نماز اپنے وقتوں پر ادا کی جائے۔ مگر آپ مرزائیوں کے جتنے دن قادیان میں رہے جمعہ و عصر بھی اکٹھی کر کے اور مغرب عشاء کو جمع کر کے پڑھتے رہے اور اگر اب ہے تو آپ نے قرآنی حکم کو منسوخ کیا۔ معاونین) نعوذ باللہ! یہ کہا جاتا ہے کہ شریعت کی کمی نہیں کرے گا۔ پھر حکم خدائی منسوخ ہوتا ہے۔ اس لئے بجائے یضع الجزیہ کے یضع الحرب بروایت بخاری کہ وہ لڑائی نہیں کرے گا۔ نیز یہ کہ تمام لوگوں کو تہ تیغ کر کے مسلمان کرے گا۔ خواہ ہندو ہوں یا عیسائی یا یہود یہ قرآن کے خلاف ہے۔ ”جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ (آل عمران:٥٥) واغرینا بینھما العداوۃ والبغضاء الی یوم القیامۃ (مائدہ:١٤)“ یعنی منکر و مسلمان اور یہود اور عیسائی قیامت تک رہیں گے۔ واہ کیا دلیل جس سے کہا جاتا ہے کہ تمام لوگ مسلمان کئے جاویں گے اور مال بڑھائے گا۔ یہاں تک کہ قبول نہ کرے گا اگر اس کے معنی ظاہری مال مراد لیا جاوے تو قرآن خلاف ہے۔
١٦
فرماتا ہے ”انما اموالکم واولادکم فتنۃ“ کیا فتنہ کو مق فتح کو گھر میں داخل کرے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی دعویٰ مسیح پھر لوگوں سے فساد کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ روپیہ مذکورہ لو شروع کر دیا۔ فافھم معاونین جلسہ ھذا!
دوسری جگہ ”ولو بسط اللہ الرزق علی (شوریٰ:٢٧)“ اگر خدا بندوں پر رزق کشادہ کرے تو لوگ ب بقلم خود جمال الدین مرزا
ناظرین پر مخفی نہ رہا ہوگا کہ ہم سائلوں نے سوا دیا۔ سوال صرف یہ تھا کہ مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے مرزائی نے کچھ نہ دیا۔ مرزا قادیانی کا ایمان ثابت کیا نہ اس صاحب علم اس پرچہ کو پڑھ کر یہ نہ کہے گا کہ ان دلائل مندرجہ بلا طائل سے اوراق سیاہ کئے اور مرزا قادیانی کا مسیح ہونا ہرگز پکار کر کہہ دیا کہ یہ تقریر سچائی کے میدان سے بعید ہے۔
ناظرین! ذرہ آگے جناب مولانا صاحب الث فرماویں۔ تاکہ اس طمع کی قلعی کھل جائے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حامداً ومصلیاً!
سب حاضرین جلسہ ہٰذا کی خدمت میں عموماً اور م خصوصاً یہ عاجز خاکسار اللہ دتہ بڑی عاجزی سے ملتمس ہے کہ م محمد وغیرہ وغیرہ بخدمت بھائی جمال الدین قادیانی دفع الد ہوئے۔
- ١....... مرزا قادیانی کا کامل مسلمان ہونا ثابت کرو۔
- ٢....... مرزا قادیانی کا مسیح موعود مہدی مسعود ہونا ثابت
دلائل از روئے قرآن وحدیث واقوال صحابہ۔
نے یہ دیا۔ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ اس کا
١٧
فرماتا ہے ”انما اموالكم واولادكم فتنة“ کیا فتنہ کو تقسیم کرے گا۔ جناب من نہیں جو مسیح ہوگا نفع کو گھر میں داخل کرے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی بدعویٰ مسیح مبلغ ١٥ ہزار روپیہ سال میں اندر لے گئے۔ پھر لوگوں سے فساد کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ روپیہ مذکورہ لوگوں سے لے کر محمد حسین سے مقدمہ شروع کر دیا۔ فافھم معاونین جلسه هذا! دوسری جگہ ”ولو بسط الله الرزق على من عباده لبغوا في الارض (شوریٰ:٢٧)“ اگر خدا بندوں پر رزق کشادہ کرے تو لوگ سرکش ہو جاتے ہیں۔ بقلم خود جمال الدین مرزائی از پکو ان، مورخہ یکم؍ فروری ١٩٠٢ء
ناظرین پر مخفی نہ رہا ہو گا کہ ہم سائلوں نے سوال کیا کیا تھا اور مرزائی نے جواب کیا دیا۔ سوال صرف یہ تھا کہ مرزا قادیانی کے کامل مسلم ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ جس کا جواب مرزائی نے کچھ نہ دیا۔ مرزا قادیانی کا ایمان ثابت کیا نہ اسلام اور مسیح کا جواب وہ دیا جو کوئی بھی صاحب علم اس پرچہ کو پڑھ کر یہ نہ کہے گا کہ ان دلائل مندرجہ پرچہ سے مرزا قادیانی مسیح ہیں جو طول بلا طائل سے اوراق سیاہ کئے اور مرزا قادیانی کا مسیح ہونا ہرگز ہرگز ثابت نہ ہوا۔ جلسہ حاضرین نے پکار کر کہہ دیا کہ یہ تقریر سچائی کے میدان سے بعید ہے۔ ناظرین! ذرہ آگے جناب مولوی صاحب اللہ دتہ کا پرچہ بھی خدا کے لئے ملاحظہ فرماویں۔ تاکہ اس ملمع کی قلعی کھل جائے۔ فقط معاونین جلسہ ہذا!
بسم الله الرحمن الرحیم حامداً ومصلیاً سب حاضرین جلسہ ہذا کی خدمت میں عموماً اور مومنین پکو ان کی خدمت شریف میں خصوصاً یہ عاجز خاکسار اللہ دتہ بڑی عاجزی سے ملتمس ہے کہ من جانب محبان قاضی محمد مہر الدین و علی محمد وغیرہ وغیرہ بخدمت بھائی جمال الدین قادیانی و فتح الدین صاحبان دو سوال مندرجہ ذیل پیش ہوئے۔
- ١....... مرزا قادیانی کا کامل مسلمان ہونا ثابت کرو۔
- ٢....... مرزا قادیانی کا مسیح موعود مہدی مسعود ہونا ثابت کرو۔
دلائل از روئے قرآن وحدیث واقوال صحابہ سے ہوں نمبر اوّل کا جواب جمال الدین نے یہ دیا۔ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ اس کا جواب من جانب خاکسار یہ ہے۔ میں
افسوس سے کہتا ہوں کہ سائلوں کا سوال کیا تھا اور جواب کیا۔ سائلوں نے مرزا قادیانی کے کامل مسلمان ہونے کا سوال کیا تھا۔ نہ ایمان کا۔ ایمان اور اسلام میں بڑا فرق ہے۔ چنانچہ قرآن شریف ”احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون (عنکبوت:١)“ ﴿کیا گمان کیا ہے لوگوں نے یہ کہ چھوڑے جاویں گے اتنے ہی پر کہ ایمان لائے ہم اور وہ آزمائے نہ جائیں۔﴾
اے میرے پیارے دوستو! اس آیت شریف کی طرف غور فرماؤ اور انصاف سے سوچو کہ فرمانا پروردگار کا یہ کہ گمان کر لیا۔ لوگوں نے اسی پر کہ ہم آمنا کہنے سے فلاح پا جاویں گے۔ یعنی ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کہنے سے، حالانکہ وہ آزمائے نہ جاویں کہ کلمہ تو پڑھا آگے عمل بھی کیا یا نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔ چنانچہ: ”قالت الاعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ولما يدخل الايمان في قلوبكم وان تطيعوا الله ورسوله (حجرات:١٤)“ ﴿کہا گواروں نے کہ ایمان لائے ہم، کہہ دو نہ ایمان لاؤ تم ولکن کہو مسلمان ہوئے ہم اور ابھی نہیں داخل ہوا ایمان بیچ دلوں تمہارے کے، اور اگر فرمانبرداری کرو اللہ کی اور رسول اس کے کی۔﴾
ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ ایمان اور اسلام میں بڑا فرق ہے۔ ایمان کہتے ہیں۔ صرف قرآن اور رسول کے مان لینے کو، اور اسلام کے معنی ہیں فرمانبرداری کے بھی اپنا جان و مال اللہ کے راہ میں فدا کرنا۔ پھر قرآن شریف میں ارشاد ہوا واتقوا اللہ آخر تک۔ ترجمہ یہ ہے: ڈرو اللہ سے حق ڈرنے اس کے کا اور نہ مرو مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔
غرضیکہ اسلام اور ایمان میں بڑا بھاری فرق ہے۔ جیسا کہ یہاں ہوا ایک حدیث میں آیا ہے۔ ”عن ابن عمر قال قال رسول الله بنى الاسلام على خمس شهادة ان لا اله الا الله وان محمد عبده ورسوله واقام الصلوة وايتاء الزكوة والحج وصوم رمضان متفق عليه ومشكوة“ ﴿حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی بنا پانچ چیزوں پر ہے۔ کلمہ، قائم کرنا نماز کا، اور دینا زکوٰۃ کا، اور حج کرنا، اور روزہ رکھنا رمضان کا۔﴾
اس حدیث سے صاف ثابت ہوا کہ جو شخص باوجود قدرت ہونے کے کسی ایک بنا کو بھی
١٨
ترک کرے تو اس پر کامل مسلم کا لفظ عائد نہیں ہوسکتا اور مثلاً نماز پڑھتا تو وہ مسلم کامل نہیں۔ بلکہ اسلام میں نقص ہے۔ اگر صاحب زاد اور راستہ کے خرچ اور سواری کی قدرت رکھتا ہو۔ مگر حج نہیں کرتا اور اپنے گھر میں ہے تو روزہ نہیں رکھتا۔ ان صورتوں میں جو شخص باوجود دین سے کسی ایک کو بھی ترک کرے گا۔ اس پر کامل مسلم کا لفظ عائد ہونا اونٹ کا سوئی کے سوراخ سے گزرنا محال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ میں لکھتے ہیں ۔ ”اس سال میں مجھے ١٥ ہزار روپیہ وصول ہوا۔ جس کو شک ہو وہ پوچھ لیوے“ (کیوں نہیں جی) اب جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے
علاوہ اپنے اور کئی شخصوں کو حج کراسکتے تھے۔ نہایت افسوس ہے کہ حج ثابت نہ ہوا۔ مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے قائم ہو گئے۔ یہ جو کامل مسلم ثابت کیا ہے بالکل غلط ہے۔ دیکھو صحیح بخاری ”اليس لا اله الا الله مفتاح الجنة قال بلئ ولكن ليس مفتاح الا له اسنان فان جئت بمفتاح له اسنان فتح لك والا لم يفتح لك“ ﴿وہب بن منبہ سے کسی نے کہا کیا ”لا اله الا الله“ جنت کی تالی نہیں ۔ کہا کیوں نہیں ۔ لیکن کوئی ایسی تالی نہیں جس کے دندان نہ ہو اگر تو ایسی تالی لائے گا تیرے لئے دروازہ جنت کا کھولا جائے گا۔ ورنہ تیرے لئے نہیں کھولا جائے گا﴾
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مسلم کامل نہیں۔ دندان تو حج ہی تھا۔ جس کے ادا کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا کے لئے تو دس ہزار خرچ کرنے کو تیار اور حج کے لئے دو تین سو خرچ نہ کئے۔ میں ایسی حدیثیں پیش کرتا ہوں جن سے حج نہ کرنے والے کے لئے سخت وعید ثابت ہوتا ہے۔ وهو هذا!
ابن ماجہ میں ہے کہ جلدی تیاری کرو حج کے لئے چونکہ ”عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ من اراد الحج فليتعجل فانه قد يمرض المريض وتضل الضالة وتعرض الحاجة“ رواه احمد یہ حدیث ابن عباسؓ نے فضل بن عباسؓ اپنے بڑے بھائی سے روایت کی ہے کہ
١٩
ترک کرے تو اس پر کامل مسلم کا لفظ عائد نہیں ہو سکتا اور مثلاً ایمان میں داخل ہو چکا۔ اگر نماز نہیں پڑھتا تو وہ مسلم کامل نہیں۔ بلکہ اسلام میں نقص ہے۔ اگر صاحب نصاب ہے پھر زکوٰۃ نہیں دیتا، اور راستہ کے خرچ اور سواری کی قدرت رکھتا ہو۔ مگر حج نہیں کرتا اور رمضان میں تندرست اور حاضر اپنے گھر میں ہے تو روزہ نہیں رکھتا۔ ان صورتوں میں جو شخص باوجود قدرت ہونے کے ان بنائے خمس سے کسی ایک کو بھی ترک کرے گا۔ اس پر کامل مسلم کا لفظ عائد کرنا ایسا محال ہے جیسا کہ اونٹ کا سوئی کے سوراخ سے گزرنا محال ہے۔ وبناء علیہ مرزا قادیانی نے چونکہ باوجود قدرت ہونے کے حج نہیں کیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص٢٨، خزائن ج١١ ص٣١٦) میں فرماتے ہیں۔ ”اس سال میں مجھے ١٥ ہزار روپیہ وصول ہوا۔ جس کو شک ہو ڈاک خانہ کی رسیدیں دیکھ لیوے۔“ (کیوں نہیں جی) اب جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے کیوں حج نہیں کیا۔
علاوہ اپنے اور کئی شخصوں کو حج کرا سکتے تھے۔ نہایت غضب کی بات ہے۔ مسلم کامل تو ثابت نہ ہوا۔ مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے قائم ہوگئے۔ یہ جو کل کی قید لگا کر مرزا قادیانی کو کامل مسلم ثابت کیا ہے بالکل غلط ہے۔ دیکھو صحیح بخاری ”الیس لا الہ الا اللہ مفتاح الجنۃ قال بلیٰ ولکن لیس مفتاح الا لہ اسنان فتح لک والا لم یفتح“ بخاری کتاب الجنائز۔
﴿وہب بن منبہ سے کسی نے کہا ”لا الہ الا اللہ“ جنت کی تالی نہیں ہے۔ اس نے کہا کیوں نہیں لیکن کوئی ایسی تالی نہیں جس کے دندان نہ ہو اگر تو ایسی تالی لائے گا جس کے دندانے ہوں گے۔ تو تیرے لئے دروازہ جنت کا کھولا جائے گا۔ ورنہ تیرے لئے نہیں کھولا جائے گا۔﴾
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے پاس چابی تو ہے مگر دندان نہیں۔ دندان تو حج ہی تھا۔ جس کے ادا کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔ افسوس گھنٹہ بھر کے تماشے کے لئے تو دس ہزار خرچ کرنے کو تیار اور حج کے لئے دو تین سو بھی نہیں خرچ کر سکتے۔ اب میں وہ حدیثیں پیش کرتا ہوں جن سے حج نہ کرنے والے کے لئے مسلم کا لقب ہرگز ہرگز موزوں نہیں ہوسکتا۔ و ھو ھٰذا !
٭ ابن ماجہ میں ہے کہ جلدی تیاری کرو حج کے لئے چنانچہ الفاظ حدیث سے ثابت ہے۔ ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من اراد الحج فلتستعجل فانہ قد یمرض المریض وتقتل القتالت وتعرض الحاجت“ ٭ ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے فضل بن عباسؓ اپنے بڑے بھائی سے روایت کی یا ان دونوں میں سے ایک نے
١٩
دوسرے یہ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص حج کرنے کا قصد رکھتا ہو وہ جلدی کرے۔ یہ نہ کرے کہ سامان ہووے پھر بھی ہر سال دوسرے سال پر ڈالتا رہے۔ کیونکہ کبھی آدمی علیل ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ حج کے لئے جو روپیہ جمع کیا ہو وہ گم ہو جاوے۔ کبھی کوئی ضرورت درپیش ہو جائے اور انسان حج کو نہیں جاسکتا۔ تو احتمال ہے کہ دیر کرنے میں یہ واقعات درپیش ہوں اور حج نہ کرے اور مر جاوے تو ایک فرض کا تارک ہو کر مرے۔
اس حدیث کو امام احمد نے بھی نکالا اور امام احمد نے ابن عباسؓ سے مرفوعاً نکالا۔ جلدی کرو حج میں کوئی تم میں سے نہیں جانتا اس کو کیا پیش آئے گا، اور احمد اور ابو یعلیٰ اور سعید بن منصور اور بیہقی نے ابو امامہ سے مرفوعاً نکالا۔ جس کو کوئی بیماری یا ضرورت یا مشقت یا ظالم حاکم حج سے نہ روکے اور وہ بغیر حج کے مر جاوے تو یہودی یا نصرانی ہو کر مرے، اور ترمذی نے حضرت علیؓ سے نکالا مرفوعاً جو شخص زاد راہلہ کا مالک ہو اور اس قدر کہ بیت اللہ تک اس کو پہنچا دیوے۔ پھر وہ حج نہ کرے تو اس پر کچھ نہیں اگر وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً“ یعنی لوگوں پر حج واجب ہے۔ اللہ کے لئے حج کرنا خانہ کعبہ کا جس کو طاقت ہو وہاں تک راہ طے کرنے کی۔
(ترمذی باب الحج)
ابو ہریرہؓ سے مروی ہے۔ اس کو ابن عدی نے نکالا اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں حسن بصریؒ سے نکالا کہ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو بھیجوں ان شہروں کی طرف اور وہ دیکھیں جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو تو اس پر جزیہ مقرر کریں۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور بیہقی نے بھی ایسا ہی نکالا۔ اہل حدیث اور مالک اور ابو حنیفہ اور احمد اور بعض شافعیہ کا بھی یہی قول ہے کہ استطاعت ہوتے حج فوراً واجب ہے اور حجۃ اللہ میں ہے کہ تارک حج کو یہودی اور نصرانی سے تشبیہ دی۔ کیونکہ عرب کے مشرک حج کرتے ہیں اور یہود نصاریٰ نہیں کرتے۔
ابو داؤد نے نکالا مرفوعاً جو شخص باوجود استطاعت کے حج نہ کرے وہ پورا مسلمان نہیں وہ یہودی یا نصرانی ہے۔ نسائی نے نکالا جو شخص باوجود قدرت کے حج نہ کرے وہ کافر ہے۔ بخاری نے نکالا مرفوعاً جو شخص طاقت ہوتے حج نہ کرے وہ مشرک ہے۔ صحیح مسلم نے نکالا ابن عباسؓ سے جو شخص مالدار ہو اور حج نہ کرے وہ مسلمان نہیں۔ سفر سعادت میں شیخ عبد الحق دہلویؒ فرماتے ہیں۔ جو شخص مالدار ہو اور حج نہ کرے وہ کافر ہے۔ مشکوٰۃ میں ہے جو شخص حج نہ کرے وہ یہودی ہے۔ ان روایات مذکورہ بالا سے معلوم ہوا کہ حج نہ کرنے والا باوجود استطاعت کے کافر مشرک وغیرہ وغیرہ!
٢٠
اب ناظرین و سامعین جلسہ سوچ لیں اور خیال کریں کہ مرزا قادیانی کامل مسلم ہیں یا نہیں ۔ اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ راستہ بند ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ اس لئے ان روایات کے تحت میں نہیں آ سکتے۔ جواب یہ ہے کہ ہجری ١٣١٧ھ سے لے کر ہجری ١٣١٩ھ تک راستہ حج کا کھلا رہا۔ پھر مرزا قادیانی نے کیوں بیت اللہ کا قصد نہ کیا۔ جناب مولانا مولوی عبدالاول خلف مولانا عبداللہ غزنوی بھی اسی سال میں حج کو تشریف لے گئے ۔ نیز عبدالواحد داماد مولوی حکیم نورالدین ومولوی عبدالرحیم غزنوی پچھلے سال حج کر کے آئے ۔ کیا مرزا قادیانی کے لئے ہی راستہ بند ہے۔ لہٰذا یہ سوال کرنا بیہودہ ثابت ہوا۔
دوسرے یہ سوال ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے لوگ عرب مخالف ہیں تو ممکن ہے کہ قتل کر دیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھا ہے: ”انت فیھم بمنزلۃ موسیٰ“ یہ الہام ہے یعنی الہام ہوا کہ اے مرزا تو لوگوں میں بمنزلہ موسیٰ ہیں اور لوگ سب فرعونی ۔ جب مرزا قادیانی موسیٰ کی گدی کے مالک ہیں تو موسیٰ علیہ السلام کی طرح خوف نہ کرتے ۔ جب اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کیا تو صرف حضرت ہارون علیہ السلام آپ کے مددگار تھے اور فرعون اپنے وقت میں خدائی کا دم مارتا تھا اور فوج فرعون کی کثرت سے تھی ۔ ولیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی فوج کا ہرگز خوف نہ کیا۔ بلکہ فرعون کے سامنے جا کر اپنے من جانب اللہ رسول ہونے کو بیان کیا اور اللہ کی مدد سے فوق پایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون کو غرق کیا۔ علیٰ ہذا القیاس! اگر مرزا قادیانی کا الہام مذکورہ بالا من جانب اللہ ہے تو پھر عرب کے لوگوں کا خوف کیا۔
تے طرف عرب دے حج کرن نوں جائے نہ ڈردا مارا
جے کر منبر موسیٰ والا مرزے ملیا بھائی
پھر وانگ موسیٰ دے خوف نہ کردا کردا حج روانی
پھر (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے۔ ”انی ناصرک انی حافظک“ یعنی الہام ہوا کہ میں تیرا مددگار ہوں اور نگہبان ہوں۔ جاننا چاہئے کہ جس کا ناصر اور حافظ خدا ہو پھر اس کو خوف کاہے کا رہا۔ جب کہ مرزا قادیانی ہی کا اپنے الہام پر ایمان نہیں تو غیروں کو کس طرح سے تسلی ہو۔
٢١
پھر کیونکر غیراں نوں تسلی ملہم شکی رہیا
غرضیکہ مرزا قادیانی کسی طرح سے کامل مسلم نہیں ہو سکتے ۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ۔
فافہم!
پھر جمال الدین نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی خاتم النبیین کا قائل ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ! یہ بالکل غلط ہے یا یوں کہ سراسر دھوکا بلکہ معاملہ ہی برعکس ہے ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی تالیف سے چند حوالے پیش کرتا ہوں کہ ناظرین و سامعین کو معلوم ہو جائے وہ یہ ہیں ۔
”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا کی طرف سے اس امت کے لئے (یعنی مرزائیوں کے لئے نہ امت محمدیہ کے لئے) محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے ۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسول اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور اس سے انکار کرنے والا مستوجب سزا ٹھہرتا ہے ۔“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
”اگر یہ عذر ہو کہ نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہے ۔ نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے ۔“
٭ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
”اس لئے خداوند تعالیٰ نے اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی ۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦) ”انی مرسلك الى قوم المفسدین“ (انجام آتھم ص ٧٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً) خدا نے مجھے آدم صفی اللہ کہا، مثل نوح کہا، مثل یوسف کہا، مثل داؤد کہا، مثل ابراہیم کہا، مثل موسیٰ کہا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
(اگرچہ مسلم کامل نہیں تو کیا ہوا) ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نبی اللہ ہیں ۔ اسی لئے تو فرماتے ہیں جو مجھ سے انکار کرے مستوجب سزا ٹھہرتا ہے ۔ ایلو مسلم بنتا بنتا نبی رسول بن گیا ۔ رسول کیا بلکہ خدا ، نعوذ باللہ ! یہ کیسا اعتقاد ہے ۔ لکھتے ہیں ۔ ”تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ وہ حق اور بلندی کا مظہر ہوگا ۔ گویا کہ خدا آسمان سے اترا ۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
٢٢
سامعین جلسہ ہذا کی خدمت میں عرض ہے کہ لوگوں کو کیسا دھوکا دیا کہ مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل ہے کے اور اور کھانے کے اور ۔
مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل نہیں بلکہ نبوت کا م محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ کی پیشین گوئی تو پوری ہونی تھی ۔ جیسے ھریرة قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة قریباً من ثلثین کلهم یزعم انه رسول الله (تر ہریرہؓ سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت قائم نہ ہوگی قریب تیس شخصوں کے ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرتا ہوگا جابر بن سمرہ اور ابن عمر سے بھی مروی ہے ۔ یہ حدیث حسن ہے اسود عنسی مسیلمہ کذاب صاحب یمامہ کہ آنحضرت ﷺ ہاتھ میں دو کنگن ہیں ۔ سونے کے پھر پھیرنے لگے آپ کو دیا آپ نے اور وہ اڑ گئے سو تاویل کی آپ ﷺ نے کہ ہیں ۔ پس اسود عنسی ایک مرد شعبدہ باز تھا اور وہ شیطان اس تھے ۔ ایک شقیق دوسرا عتیق نامی اور ایک خر معلم اس کے سا سجدہ کر اسے سجدہ کرتا تھا ۔ اس لئے اسے ذوالخمار کہتے تھے اور وہ اس میں سے چھ سو آدمی لے کر صنعاء میں اترا ان میں عیینہ بن کعب تھا ۔ دوسرا مسیلمہ کذاب کہ قائل حمزہؓ کے ہا ملعون سجع ہائے ناموزوں کرتا تھا اور مقابلہ قرآن کا قصد کیا کی ہے ۔ الفیل ما الفیل له خرطوم طویل الخ چنانچہ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں ۔ ”ان ا
- ......٣ ان میں ابن صیاد ہے ۔ مگر اسے دجال کبیر نہ
ترجیح بھی اس کو دی ہے کہ وہ دجال کبیر نہیں ۔ چنانچہ روایت
- ......٤ طلیحہ بن خویلد اسدی جو بنی اسد میں ظاہر ہو
٢٣
سامعین جلسہ ہذا کی خدمت میں عرض ہے کہ دیکھو جمال الدین قادیانی نے آپ لوگوں کو کیسا دھوکا دیا کہ مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل ہے۔ ہائے توبہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور۔
مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل نہیں بلکہ نبوت کا دم مارتا ہے۔ کیوں نہ ہو ہمارے پیغمبر محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی پیشین گوئی تو پوری ہونی تھی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔ ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعۃ حتی یبعث کذابون دجالون قریباً من ثلثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ (ترمذی ج ٢ ص ٤٥) “روایت ہے ابی ہریرہؓ سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نہ اُٹھیں کذابوں دجالوں قریب تیس شخصوں کے ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرتا ہوگا کہ میں رسول اللہ ہوں۔ اس باب میں جابر بن سمرہ اور ابن عمرؓ سے بھی مروی ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ صحیح ہے۔ راقم لکھتا ہے۔ ان میں سے اسود عنسی مسیلمہ کذاب صاحب یمامہ کہ آنحضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں دو کنگن ہیں۔ سونے کے فکر ہونے لگی آپ کو پھر حکم ہوا کہ پھونک دو اس کو پھر پھونک دیا آپ نے اور وہ اڑ گئے سو تاویل کی آپ ﷺ نے کہ یہ دونوں کنگنوں سے مراد کاذبان مذکور ہیں۔ پس اسود عنسی ایک مرد شعبدہ باز تھا اور دو شیطان اس کے مسخر تھے کہ احوال مردم سے خبر دیتے تھے۔ ایک شقیق دوسرا عتیق نامی اور ایک خر معلم اس کے ساتھ تھا کہ جب اسے کہتے کہ اپنے رب کو سجدہ کر اسے سجدہ کرتا تھا۔ اس لئے اسے ذوالحمار کہتے تھے۔ اہل نجران مرتد ہوکر اس کے مطیع ہوئے اور وہ اس میں سے چھ سو آدمی لے کر صنعاء میں اترا اور فیروز کے ہاتھ سے مارا گیا۔ نام اس کا عینہ بن کعب تھا۔ دوسرا مسیلمہ کذاب کہ قاتل حمزہؓ کے ہاتھ سے مقتول ہوا اور جہنم میں پہنچا اور وہ ملعون سجع ہائے ناموزوں کرتا تھا اور مقابلہ قرآن کا قصد کرتا تھا۔ چنانچہ یہ عبارت کفر اشاعت اسی کی ہے۔ الفیل ما الفیل لہ خرطوم طویل ان ذلک من خلق ربنا الجلیل! چنانچہ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں۔ ”ان انزلناہ قریباً من القادیان“
(ازالۃ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- ٣....... ان میں ابن صیاد ہے۔ مگر اسے دجال کبیر نہ کہیں اور حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں
ترجیح بھی اس کو دی ہے کہ وہ دجال کبیر نہیں۔ چنانچہ روایت تمیم داریؓ کی بھی اسی پر دال ہے۔
- ٤....... طلیحہ بن خویلد اسدی جو بنی اسد میں ظاہر ہوا کہ نواحی خیبر میں اور غطفان نے اس کی
٢٣٤
مدعی اور بعد دعویٰ نبوت کے تائب ہوا اور رجوع کیا اسلام کی طرف زمانہ ابوبکرؓ میں۔
- ٥....... سجاح بنت سوید عورت نے دعویٰ نبوت کیا۔ تمام قبیلہ بنو تمیم اس کی نصرت پر مجتمع ہوگیا۔
وہ مسیلمہ کذاب کے نکاح میں آئی اور اپنی نبوت باطلہ اپنے خصم کو بخش دی اور اپنی مہر میں نماز عصر اپنی امت ملعونہ پر سے معاف کردی۔ رشاطی نے کہا کہ بنو تمیم اب تک نماز عصر نہیں پڑھتے اور کہتے ہیں کہ یہ مہر ہماری کریمہ کا اس کو ہم اپنے ہاتھ سے نہ دیں گے۔ پھر سجاح زمان معاویہؓ میں مشرف بااسلام ہوئی۔
- ٦....... مختار ثقفی ابن زبیرؓ کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور میں
رسول اللہ ﷺ کا مختار ہوں۔ چنانچہ اسماء سے مروی ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ نکلیں گے ثقیف سے تین شخص کذاب و دجال و مبیر ۔ روایت کیا اس کو ابونعیم بن حماد نے ، اور ایک روایت میں ہے کہ نکلے گا ثقیف سے کذاب و مبیر کہا ہے۔ مراد کذاب سے مختار بن عبید ثقفی ہے اور مراد مبیر سے حجاج بن یوسف۔
- ٧....... متنبّی شاعر مشہور بعد دعویٰ نبوت تائب ہوا۔
- ٨....... یہود کہ معتمد باللہ کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مجھے خلق کی طرف بھیجا
ہے۔ مگر رسالت کو رد کیا اور دعویٰ کرتا تھا کہ مجھے مغیبات پر اطلاع حاصل ہے۔
- ٩....... یحییٰ زکرویہ قرمطی کے مکتفی باللہ کی خلافت میں ظاہر ہوا۔
- ١٠....... بعد اس کے بھائی اس کا ظاہر ہوا۔ حسین اس کے بعد ابن عم اس کا عیسیٰ بن مہرویہ کہ
اس نے گمان کیا کہ آیت ”یا ایها المدثر“ بلفظ مذکّر خطاب اس کو ہے۔ (چنانچہ مرزا قادیانی بھی فرماتے ۔ ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ آیت سورہ صف میرے حق میں ہے ) اور غلام مطوق کو اپنے نوکر کے ساتھ مسمّیٰ کرکے ملک شام پر غالب ہوا اور بہت تباہی اور خرابی کی اور لوگوں نے اس کے لئے منابر پر بددعا کی وہ مارا گیا۔ لعنۃ اللہ علیہ زمانہ مقتدر میں۔
- ١٢....... ابوطاہر قرمطی ظاہر ہوا کہ حجر اسود کو کعبہ سے کھود کر لے گیا زمانہ راضی باللہ میں۔
- ١٣....... محمد بن علی شلمغانی ظاہر ہوا۔ اسے ابن ابی العزاق کہتے تھے اور اس نے مشہور کیا کہ
مدعی الوہیت اور زندہ کرتا ہے مردہ کو۔ پس ایک جماعت میں مقتول و مصلوب ہوا خلافت مطیع بااللہ میں۔
٢٤
- ١٤....... ایک قوم ظاہر ہوئی۔ قائل تناسخ اور ان میں ایک
حضرت علیؓ کی روح نے اس میں انتقال کیا ہے اور اس کی بیوی حضر اپنی امت میں اور اس نے یہ بھی گمان کیا تھا کہ میں جبرائیل ہوں۔ سیدوں میں منسوب کیا اور بحکم معزالدولہ رہا ہوا۔
- ١٥....... اور خلافت مظہر میں ایک شخص ظاہر ہوا۔ نواح
جماعت اس کے ساتھ ہوگئی۔ پھر وہ بعد گرفتاری مقتول ہوا او مغرب میں ظہور کیا۔
- ١٦....... ان میں ایک مرد تھا۔ موسوم بہ ’لا‘ اور مدعی تھا کہ
بعدی اس ’لا‘ سے میں مراد ہوں۔ یعنی مسمّیٰ باسم لانبی ہے۔
- ١٧....... اور انہی میں ہے غازاری ساحر کہ ابوجعفر کے ہاتھ
- ١٨....... انہیں میں ایک عورت ہے کہ مدعیہ نبوت تھی۔
ہے۔ ”لا نبی بعدی“ وہ کہتے حضرت نے نفی کی ہے۔ نبی
- ١٩....... بیت المقدس میں ایک یہودی نے دعویٰ کیا کہ
(جیسا کہ زمانہ حال میں مرزا قادیانی موجود ہیں) وہ مرد خو گرفتار کرنا چاہا بھاگ گیا۔ بعد گرفتاری مسلمان ہوا۔
- ٢٠....... اور ایک مرد نے دعویٰ مہدی ہونے کا کیا ہندوس
- ٢١....... اکبر بادشاہ ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت بلکہ خدائی کا ک
خراب کردہ ابو الفضل ش
- ٢٢....... رتن ہندی میں ہے۔ اس نے دعویٰ صحابیت کیا
اور بہت سے خرافات لوگوں نے اس کے باب میں لکھے نبوت تھا۔
- ٢٣....... اسحق اخرس آخر میں خلافت سفاح کے ظاہر ہو
تابع ہوئی اور بصرہ وغیرہ میں غالب ہوا۔ آخر مقتول ہوا۔
- ٢٤....... اور فارس بن یحییٰ سباطی خلافت معز میں بلاد مغر
احیاء اموات ابرص وغیرہ کو اپنا معجزہ قرار دیا۔
٢٥
- ١٤....... ایک قوم ظاہر ہوئی۔ قائل تناسخ اور ان میں ایک جوان تھا کہ گمان کرتا تھا کہ روح
حضرت علیؑ کی نے اس میں انتقال کی ہے اور اس کی بیوی حضرت فاطمہؓ کے انتقال روح کی مدعی تھی اپنی میں اور اس نے یہ بھی گمان کیا تھا کہ میں جبرائیل ہوں۔ پھر بعد زدوکوب کے اس نے اپنے کو سیدوں میں منسوب کیا اور بحکم معزالدولہ رہا ہوا۔
- ١٥....... اور خلافت مقتدر میں ایک شخص ظاہر ہوا۔ نواحی لور میں اور دعویٰ نبوت کیا اور ایک
جماعت اس کے ساتھ ہو گئی۔ پھر وہ بعد گرفتاری مقتول ہوا اور ایک جماعت نے مردوں عورتوں کی مغرب میں ظہور کیا۔
- ١٦....... ان میں ایک مرد تھا۔ موسوم بہ ”لا“ اور مدعی تھا کہ حدیث میں ”لا“ وارد ہوا ہے۔ لا نبی
بعدی اس ”لا“ سے میں مراد ہوں۔ یعنی مسمےٰ باسم لا نبی ہے۔
- ١٧....... اور انہی میں ہے غازاری سافر کہ ابو جعفر کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔
- ١٨....... انہیں میں ایک عورت ہے کہ مدعیہ نبوت تھی۔ جب اسے کہتے کہ حضرتؐ نے فرمایا
ہے۔ ”لا نبی بعدی“ وہ کہتی حضرت نے نفی کی ہے۔ نبی کی، نہ نبیہ کی اور میں نبیہ ہوں۔
- ١٩....... بیت المقدس میں ایک یہودی نے دعویٰ کیا کہ مسیح ابن مریم علیہما السلام میں ہوں۔
(جیسا کہ زمانہ حال میں مرزا قادیانی موجود ہیں) وہ مرد خوش بیان شیریں زبان تھا۔ جب اسے گرفتار کرنا چاہا بھاگ گیا۔ بعد گرفتاری مسلمان ہوا۔
- ٢٠....... اور ایک مرد نے دعویٰ مہدی ہونے کا کیا ہندوستان میں۔
- ٢١....... اکبر بادشاہ ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت بلکہ خدائی کا کیا۔ چنانچہ ایک شاعر نے کہا۔
خراب کردہ ابو الفضل شاہ اکبر را
- ٢٢....... رتن ہندی میں ہے۔ اس نے دعویٰ صحابیت کیا۔ حالانکہ ظہور اس کا قرن سادس میں ہوا
اور بہت سے خرافات لوگوں نے اس کے باب میں لکھے ہیں اور وہ ایک جھوٹا خبیث تھا۔ مدعی نبوت تھا۔
- ٢٣....... اسحق اخرس آخر میں خلافت سفاح کے ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور خلق کثیر اس کی
تابع ہوئی اور بصرہ وغیرہ میں غالب ہوا۔ آخر مقتول ہوا۔
- ٢٤....... اور فارس بن یحییٰ سباطی خلافت معز میں بلاد تنیس میں مدعی نبوت ہوا اور بذریعہ شعبدہ
احیاء اموات ابرص وغیرہ کو اپنا معجزہ قرار دیا۔
٢٥
- ٢٥...... ایک مرد نامی نے ایک عصا بنایا اور مسلک موسیٰ اختیار کیا اور عصا نظر خلائق میں اژدھا
ہو جاتا تھا اور نگاہیں مسحور ہو جاتی تھیں۔
- ٢٦...... اور مامون کے زمانہ میں عبداللہ بن میمون نے دعویٰ نبوت کیا۔ مامون نے اس کو قید
کیا۔ یہاں تک کہ قید میں دارالبوار کو داخل ہوا۔
- ٢٧...... دجال، بالاتفاق علماء زمانہ ھذا نے لکھا ہے غلام احمد قادیانی تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور
میں نکلا۔ نعوذ باللہ! اس نے نبوت اور مرسل و مہدی و مثل موسیٰ و مثل ابراہیم، احمد، یوسف، نوح، آدم سب کا مثل جیسے یہ مرسل علیہم السلام من جانب اللہ تھے۔ ویسے ہی اسکا دعویٰ کہ میں من جانب اللہ ہوں اور نبوت کوئی ختم نہیں ہوئی۔ جیسا کہ پیچھے ثابت کیا گیا۔ کہتا ہے کہ جو احادیث نزول ابن مریم کے بارہ میں وارد ہوئی ہیں۔ وہ ابن مریم یہ عاجز ہے نہ حضرت عیسیٰ کیونکہ وہ فوت ہو گیا اور اس کا یہی دعویٰ کہ آنحضرت ﷺ کو اس جسم کے ساتھ معراج نہیں ہوا۔ اس کا یہ دعویٰ کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو بعض آیات کی تفسیر سے جبرائیل علیہ السلام نے اچھی طرح مطلع نہیں کیا۔ لیکن خدا نے مجھ پر مطلع کر دیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٣ ملخص)
اور اس کا یہ دعویٰ کہ قبر میں کوئی عذاب نہیں اور یہ بھی لکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر تمام عمر میں جبرائیل علیہ السلام نازل نہیں ہوئے اور اس بات کا بھی مدعی ہے کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں غلط نکلتی ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس!
اب حاضرین جلسہ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ جمال الدین (قادیانی) کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی قائل ختم نبوت ہے۔ کیسا راستی سے بعید ہے۔ اسی طرح سے عام لوگوں کو دھوکا دے کر مجبور کرتے ہیں کہ ہم قرآن پر عمل کریں۔ یہ بالکل دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اسی طرح سے دجال جو اوپر مذکور ہوئے ہیں مدعی تھے اور اسی طرح سے ایک یہودی نے بھی دعویٰ ابن مریم کا کیا۔ جیسا کہ فہرست دجالوں میں اوپر گزر چکا۔ غرض کہ مرزا قادیانی کسی طرح سے ختم نبوت کا قائل نہیں ہو سکتا۔
جواب نمبر ...... میں جمال الدین قادیانی نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود ثابت کرنا چاہا اور لکھا کہ مرزا قادیانی مثل مسیح ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ مثل موسیٰ ہیں۔ یہ آیت سند لایا۔ "انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا (مزمل:١٥) " یعنی تحقیق بھیجا ہم نے طرف تمہارے رسول شاہد جیسا کہ بھیجا ہم نے طرف فرعون
٢٦
کے رسول یعنی موسیٰ اس آیت سے مماثلت آنحضرت ﷺ کی ہرگز ہرگز ثابت نہیں اور نہ آنحضرت ﷺ موسیٰ علیہ السلام کے مثل ہیں۔ بلکہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے ویسے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ صاحب شریعت بلکہ اشرف الانبیاء جیسا کہ قرآن شریف ”تلك الرسل فضلنا بعضهم علیٰ بعض من هم من كلم اللہ ورفع بعضهم درجٰت“
یہ رسول فضیلت دی ہم نے بعض ان کے کو اوپر بعض کے بعض ان میں سے وہ ہیں جو کلام کی اللہ نے (جیسے موسیٰ) اور بعض وہ ہیں کہ بلند کئے ان کے اللہ نے درجے (جیسے آنحضرت ﷺ) اس آیت شریفہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول، رسول کا مثیل نہیں ہوتا اور خاص کر آنحضرت ﷺ تو کسی رسول کے مثیل ہو ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ ایک ایک زمانہ میں کئی کئی رسول اور نبی ہوتے رہے ہیں۔
مگر جناب محمد مصطفےٰ واحمد مجتبےٰ ﷺ تو سارے جہاں کے لئے رسول ہو کر آئے۔ تو یہ رتبہ نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بلکہ معاملہ برعکس چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ ”ولو كان موسى حياً ماوسعه الا اتباعى (رواه احمد وبيهقى فى شعب الايمان مشكوة ص ٢٣،٢٤)“ ﴿اور اگر ہوتا موسیٰ علیہ السلام زندہ تو نہ چارہ تھا اس کو سوا اس کے کہ میری پیروی کرتا۔﴾
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل نہ تھے۔ ایسا ہی شیخ ابن تیمیہؒ کتاب اولیاء الرحمٰن ص ٨٤ میں فرماتے ہیں۔ ”محمد لم يماثله وفيها احد لا ابراهيم ولا موسى فضلاً حق ان يماثله فيها“ ﴿غرضیکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ولائت تو اس قدر عالی شان ہے کہ کوئی بھی اس میں آپ کا مماثل نہیں نہ ابراہیم خلیل اللہ اور نہ موسیٰ کلیم اللہ علیہم السلام اس سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ مثیل موسیٰ علیہ السلام نہ تھے۔ پھر جمال الدین نے دو عورتوں کا قصہ بیان کیا۔ جس کا کوئی محل موقع اور نہ سائلوں کا جواب اس سے پایا جاتا ہے۔ اس لئے وہ ناظرین و سامعین پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنا تو ضیع اوقات اور اوراق سیاہ کرنا نہیں چاہتا۔ پھر جمال الدین نے مرزا قادیانی کے مثیل مسیح ہونے میں یہ آیت پیش کی۔ ”وعد اللہ الذين آمنوا منكم وعملوا الصلحٰت ليستخلفنهم فى الارض“ یعنی اللہ وعدہ کرتا ہے مومنوں سے کہ جو تم سے نیک ہوں البتہ خلیفہ کروں گا ان کو بیچ زمین کے آخر آیت تک۔
جواب ...... اس آیت کی تفسیر میں ابی بن کعبؓ کہتے ہیں۔ پورا کیا اللہ نے وعدہ اپنا اور غالب کیا
٢٧
مسلمانوں نے عرب کے جزیرہ پر انہوں نے فتح کی دور سے دور مشرق اور مغرب کے شہر اور انہوں نے توڑ دی سلطنت اکاسرہ کی اور مالک ہوئے اس کے خزانوں کے اور مستولی ہوئے دنیا پر اور ابی بن کعبؓ کہتے ہیں کہ اس آیت میں بڑی روشن دلیل ہے۔ ابوبکر صدیقؓ کی اور باقی خلفاء راشدین کی خلافت کی صحت پر آنحضرت ﷺ کے بعد کیونکہ مسلمانوں میں سے جو حاکم ایمان لائے۔ انہوں نے نیک کام کئے وہ یہی تھے۔ انہیں کے زمانہ میں فتوحات عظیمہ ہاتھ آئیں اور انہیں کے زمانے میں کسریٰ اور قیصر کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور انہیں کے عہد میں حاصل ہوا۔ امن اور تمکین اور دین کا ظہور سفینہؓ کہتے ہیں۔ میں نے سنا حضرت ﷺ سے فرماتے تھے۔ خلافت میرے بعد تیس سال تک رہے گی۔
راوی کہتا ہے۔ پھر سفینہؓ نے ابوبکرؓ کی خلافت کو دو سال بتایا اور عمرؓ کی خلافت کو دس سال اور عثمانؓ کی خلافت کو بارہ سال اور علیؓ کی خلافت کو چھ سال اخرجہ ابوداؤد و ترمذی، مشکوۃ ص ٤٥٥
ایک اور حدیث میں آیا ہے۔ ”وعن سفینة قال سمعت النبی ﷺ یقول الخلافة ثلثون سنة ثم تكون ملكا“ حضرت سفینہؓ سے مروی ہے کہ کہا سنا میں نے نبی ﷺ سے فرماتے تھے۔ خلافت رہے گی تیس سال پھر بادشاہت ہو گی آخر حدیث تک۔
اب حاضرین جلسہ ہذا کی خدمت میں التماس ہے کہ جمال الدین قادیانی نے آیۃ کریمہ زیر بحث میں مرزا قادیانی کے خلیفہ ہونے میں کون سی دلیل پیش کی۔ اب صرف داد کی ضرورت ہے۔ پھر جمال الدین نے حدیث بخاری کی نقل کی اور ایک جگہ قرآن شریف سے سورہ جمعہ سے تین آیتیں لکھیں۔ لیکن ان سب کا جواب اوپر گذرا جو ہم نے بڑی تفصیل سے ادا کیا۔ جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔ للہ درہ!
پھر جمال الدین قادیانی نے ان تین آیات سے مرزا قادیانی کو اہل فارس ثابت کیا اور ایک حدیث کی سند پیش کی۔ جیسا کہ اس کے جواب میں نیچے مرقوم ہے۔ جواب! ثریا ان چند ستاروں کا نام ہے جو نہایت متصل ہیں۔ جیسے گلدستہ اس حدیث میں فارسیوں کی باریک بینی اور استعداد ایمانی بیان فرمائی۔ سو حقیقت میں ملک فارس میں بڑے بڑے کمال والے امام محدث پیدا ہوئے۔ جیسے امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ اور مسلمؒ وغیرہ۔ جنہوں نے اپنے کمال اور باریک بینی سے صحیح حدیثوں کو چھانٹا اور دین میں ایسا کمال حاصل کیا کہ اس کے سبب سے تمام دنیا میں پیشوا اور مقتداء سمجھے گئے۔ کہا قرطبی نے کہ جیسے حضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ اسی طرح ظاہر واقع ہوا۔ اس
٢٨
واسطے ان میں ایسے لوگ پائے گئے جو مشہور ہوا ذکر ان کا حتی اور یہ ایسا کمال ہوا کہ ان کے سوا بہت کم ان کے اسمیں شریک ہوئے فارس کی اصل میں، بعضے کہتے ہیں ان کی نسبت کیومرث تک پہنچتی ہیں۔ یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں اور بعضے کہتے ہیں لام بن اور بعضے کہتے ہیں کہ وہ فارس بن یاسور بن سام کی اولاد سے ارفخش بن سام کی اولاد سے ہیں۔
اس کے دس بارہ بیٹے تھے۔ سب سوار بہادر سواری کرنے والے، فتح الباری۔ تفسیر سورت الجمعہ اس دلیل سے اہل فارس ثابت نہیں ہو سکتے۔ وہ کون سی بہادری مرزا قادیانی نے کی اور اہل فارس میں کس طرح داخل ہو سکتے تھے پولیس کی مدد مانگتے رہے۔ اگر چہ عرض قبول نہ ہوئی۔ دہلی میں افسوس ہے جمال الدین قادیانی کے دلائل پیش کرنے پر جس میں شمار کیا۔ پھر جمال الدین قادیانی نے لکھا ہے کہ بحساب ابجد میں ١٣٠٠ ہیں۔ جواب اوّل تو مرزا قادیانی کے خلاف لکھا ہے (ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠) میں لکھا ہے کہ بحساب ابجد مرزا قادیانی ١٢٧٥ بنتے ہیں۔ حقیقت میں ١٣٠٠ نہیں ہیں۔ لیکن یہ دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے نام کے تیرہ سو عدد پورے ہوں اور مسیح موعود بنے تو کیا اگر کسی اور کے نام کے بھی تیرہ سو عدد وہ بھی صدی کا مجدد اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہوگا؟ اگر یہی بات تیرہ سو عدد میں ہیں تو سنیے۔
- .......١ محمد احمد متمہدی سوڈانی۔
- .......٢ سید احمد لیڈر نیچری علی گڑھی۔
- .......٣ مرزا امام الدین ابوالضلال بنگیاں قادیانی۔
- .......٤ مولوی حکیم نور الدین متوطن بھیروی۔
- .......٥ مولوی میاں سید نذیر حسین دہلوی۔
- .......٦ مولوی محمد حسین ابوسعید بٹالوی۔
٢٩
واسطے ان میں ایسے لوگ پائے گئے جو مشہور ہوا ذکر ان کا حدیث کے حافظوں اور ناقدوں سے، اور یہ ایسا کمال ہوا کہ ان کے سوا بہت امتیں شریک نہیں اور اختلاف ہے اہل نسبت کا فارس کی اصل میں، بعضے کہتے ہیں ان کی نسبت کیومرث تک پہنچتی ہے اور وہ آدم ہے اور بعضے کہتے ہیں۔ یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں اور بعضے کہتے ہیں لادی بن سام بن نوح کی اولاد سے ہیں اور بعضے کہتے ہیں کہ وہ فارس بن یاسور بن سام کی اولاد سے ہیں اور بعضے کہتے ہیں کہ بدارم بن ارخش بن سام کی اولاد سے ہیں۔
اس کے دس اور چند بیٹے تھے۔ سب سوار بہادر تھے تو نام رکھا گیا ان کا فارس واسطے سواری کرنے کے، فتح الباری۔ تفسیر سورت الجمعہ اس دلیل سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ہرگز ہرگز اہل فارس ثابت نہیں ہو سکتے۔ وہ کون سی بہادری مرزا قادیانی نے کی اور کب سواروں میں مرزا قادیانی گئے اور اہل فارس میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں۔ آریہ کے مقدمہ قتل لیکھرام میں پولیس کی مدد مانگتے رہے۔ اگرچہ عرض قبول نہ ہوئی۔ دہلی گئے تو پولیس کی مدد کی ضرورت پڑی۔ افسوس ہے جمال الدین قادیانی کے دلائل پیش کرنے پر جس نے ناحق مرزا قادیانی کو اہل فارس میں شمار کیا۔ پھر جمال الدین قادیانی نے لکھا ہے کہ بحساب ابجد مرزا قادیانی تیرہویں صدی کے مسیح ہیں۔ جواب اول تو مرزا قادیانی کے خلاف لکھا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص١٨٦، خزائن ج٣ ص١٩٠) میں لکھا ہے کہ بحساب ابجد میرے ١٣٠٠ عدد ہیں۔ جمال الدین قادیانی ١٢٧٥ لکھتا ہے۔ حقیقت میں ١٣٠٠ ہی ہیں۔ لیکن یہاں پر مرزا قادیانی کی یہ بڑی قوی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے نام کے تیرہ سو عدد پورے ہوتے ہیں۔ اس واسطے مرزا قادیانی مجدد اور مسیح موعود ہے تو کیا اگر کسی اور کے نام کے بھی تیرہ سو عدد پورے نکل آئیں تو وہ بھی تیرہویں صدی کا مجدد اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہوگا؟ اگر یہی بات ہے تو لیجئے سنئے۔ ان کے نام کے بھی تیرہ سو عدد ہیں۔
- ١....... مہدی کاذب محمد احمد برم سوڈانی۔ ١٣٠٠
- ٢....... سید احمد پیر لشکر نیچر علی گڑھی۔ ١٣٠٠
- ٣....... مرزا امام الدین ابوالضلال بگیاں قادیانی۔ ١٣٠٠
- ٤....... مولوی حکیم نور الدین متنبی بھیروی۔ ١٣٠٠
- ٥....... مولوی کامل سید نذیر حسین دہلوی۔ ١٣٠٠
- ٦....... مولوی محمد حسین ابوسعید بٹالوی۔ ١٣٠٠
٢٩
علی ہذا القیاس! جس قدر چاہوں اور ناموں کے عدد پورے تیرہ سو کرتا چلا جاؤں۔ لیکن کیا اس سے ثابت ہو جائے گا کہ فلاں کس مجدد یا مسیح یا مسیح موعود یا مہدی مسعود ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں!
پھر آگے چل کر جمال الدین نے حضرت مسیح کے نزول کو بیان کیا۔ قرآن اور حدیث اور اقوال صحابہؓ سے ثابت کرتا ہوں۔ وہی مسیح نازل ہو گا جو آسمان پر زندہ اب تک موجود ہے۔ وهو هذا!
قرآن شریف میں ہے: ”وانہ لعلم للساعة“ اور تحقیق وہ یعنی حضرت عیسیٰ نشانی ہے قیامت کی۔ پس نہ شک کرو بیچ اس کے اس رکوع میں سب ابن مریم کا ذکر ہے اور ’ہ‘ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے اصحابوںؓ سے ثابت ہے۔
”اخرجه الفریابی وسعید بن منصور ومسدود وعبد بن حمید وابی بن حاتم وطبرانی من طرق عن ابن عباسؓ قوله وانه لعلم للساعة قال خروج عیسٰی قبل یوم القیامة واخرج عبد بن حمید عن ابی هریرةؓ وانه لعلم للساعة قال خروج عیسٰی یمکث فی الارض اربعین سنة تكون تلك الاربعون اربع سنین یحج ویعمر واخرج عبد بن حمید وابن جریر عن مجاهدؓ وانه لعلم للساعة قال آیاته وللساعة خروج عیسٰی بن مریم قبل یوم القيامة واخرج عبد بن حميد وابن جریر عن الحسنؓ وانه لعلم للساعة قال نزول عیسٰی واخرج ابن جریر من طرق عن ابن عباسؓ وانه لعلم للساعة قال نزول عیسیٰ (تفسیر درمنثور)“ حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اور مجاہدؓ اور حسنؓ سے بطرق متعددہ مروی ہے کہ ضمیر انہ جو آیت وانہ لعلم للساعة میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف پھرتی ہے۔ ان روایات سے ثابت ہوا کہ از روئے قرآن شریف واقوال صحابہؓ حضرت مسیح بن مریم ہی نازل ہوں گے۔ نہ مرزا اور احادیث اس بارہ میں بہت ہیں۔ جو آگے بیان ہوتا ہے۔
چنانچہ بخاری میں ہے: ”عن ابی هریرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب
٣٠
ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم یق وان من اهل الكتب الا لیؤمنن به قبل مو
ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم کی جان ہے۔ عنقریب ابن مریم حاکم عادل اتریں گے م گے۔ جزیہ موقوف کریں گے اور دیں گے مال یہاں تک سجدہ ایک بہتر ہوگا۔ دنیا سے اور جو کچھ بیچ اس کے ہے پھر کہ ابن مریم کی تو یہ آیت دلیل ہے۔
دوسری حدیث: ”عن هریرةؓ ان النبی یعنى عیسٰی وانه نازل فاذا رایتموه انه رج بین ممصرتین كان رأسه يقطر وان لم الاسلام فیدق الصلیب ويقتل الخنزير ويض الملل كلها الا الاسلام ویهلک المسیح الدجال یم يتوفى فيصل عليه المسلمون (ابوداؤد ص)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی اتریں گے (یعنی آسمان سے) جب تم ان کو دیکھو تو اس پ قد و اقامت کہ رنگ ان کا سرخی اور سفیدی کے درمیان ہ ہوں گے اور اس کے بالوں میں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا جہاد کریں گے اسلام قبول کرنے کے لئے اور توڑ ڈالیں موقوف کر دیں گے جزیہ کو کافروں سے یا اسلام لاویں یا قت زمانہ میں سب ادیان کو سوا اسلام کے، ہلاک کریں گے د بعد اس کے ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وہی مسیح جو بنی ا یعنی مسیح انجیلی، اب حاضرین جلسہ کی خدمت میں التماس وی کہ میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور وہی م
٣١
ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احدا حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری ص ٤٩٠) ” حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ عنقریب ابن مریم حاکم عادل اتریں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے اور دیں گے مال یہاں تک کہ قبول نہ کرے گا کوئی۔ یہاں تک کہ سجدہ ایک بہتر ہوگا۔ دنیا سے اور جو کچھ بیچ اس کے ہے پھر کہا ابوہریرہؓ نے اگر چاہو تم تصدیق نزول ابن مریم کی تو یہ آیت دلیل ہے۔
دوسری حدیث: ”عن هريرة أن النبی ﷺ قال ليس بيني وبينه نبی يعنى عيسى وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كان رأسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال يمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون (ابوداؤد ص٢٣٨) “ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے (یعنی آسمان سے) جب تم ان کو دیکھو تو اس طرح پہچان لو۔ وہ ایک شخص ہیں متوسط قد وقامت کہ رنگ ان کا سرخی اور سفیدی کے درمیان ہے اور وہ زرد کپڑے ہلکے رنگ کے پہنے ہوں گے اور اس کے بالوں میں سے پانی ٹپکتا معلوم ہوگا۔ اگرچہ وہ تر بھی نہ ہوں۔ وہ لوگوں سے جہاد کریں گے اسلام قبول کرنے کے لئے اور توڑ ڈالیں گے صلیب اور قتل کریں گے خنزیر کو اور موقوف کر دیں گے جزیہ کو کافروں سے یا اسلام لاویں یا قتل ہوں اور تباہ کر دے گا اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سب ادیان کو سوا اسلام کے، ہلاک کریں گے دجال کو پھر دنیا میں رہیں گے چالیس برس بعد اس کے ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وہی مسیح جو بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو کر آئے تھے۔ یعنی مسیح انجیل، اب حاضرین جلسہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے شرح کر دی کہ میرے اور مسیح کے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا اور وہی نازل ہوگا تو پھر مرزا قادیانی جو کہ قادیان
٣١
میں اب پیدا ہوا۔ کس طرح مثیل مسیح ہو سکتا ہے۔ حالانکہ کوئی حدیث اس بارہ میں حضرت نے نہیں فرمائی کہ مسیح نہیں نازل ہوگا۔ بلکہ اس کا مثیل نازل ہوگا۔ جب کہ ایسی کوئی حدیث نہیں تو ہم مرزا قادیانی کو کس دلیل سے مثیل مسیح مان لیں اور لطف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح کی قبر بھی بیان فرمادی۔ جیسا کہ: ”اخرجه البخاری فی تاریخه وطبرانی عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً“ اخراج کیا بخاری نے بیچ تاریخ اپنی کے اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے فرمایا عبداللہ بن سلام نے دفن کئے جاویں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے ساتھ محمد ﷺ کے اور شیخین کے پس ہوگی قبر چوتھی ان کی۔ ”اخرجه ترمذی حسنه عن محمد بن يوسف بن عبدالله بن سلام عن ابيه عن جده قال مكتوب فی التوراة صفت محمد وعيسى بن مريم يدفن معه (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٥)“ اور اخراج کیا ترمذی نے ساتھ تحسین کے فرمایا عبداللہ بن سلام نے کہ صفت محمد ﷺ کی تورات میں موجود ہے کہ یہ بھی تورات میں ہے کہ عیسیٰ بن مریم آنحضرت خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے۔
”عن عائشة قالت قلت يا رسول الله اني ارى انى اعيش بعدك فتأذن لى ان ادفن الى جنبك فقال انى لى بذالك الموضع مافيه موضع قبرى قبر ابى بكر وعمر وعيسى بن مریم“ فرمایا حضرت عائشہ نے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں عرض کی۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے پاس مدفون ہوں۔ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ میرے پاس تو ابو بکر اور عمر اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے سوا اور جگہ نہیں ہے۔
”عن حنظلة الاسلمي قال سمعت اباهريرة يحدث النبي ﷺ قال والذي نفسي بيده ليهلّن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او يثنينهما (مسلم ج ١ ص ٤٠٨)“ حنظلہ جو قبیلہ بنو اسلم سے ہیں۔ انہوں نے ابوہریرہؓ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ البتہ بلاشبہ اور بے شک عیسیٰ ابن مریم روحا کی گھاٹی میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ لبیک پکاریں گے۔ حج کا یا عمرہ کا یا قران کا یا دونوں کی لبیک پکاریں گے۔ روایت کیا اس کو مسلم نے بیچ باب حج کے۔
٣٢
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کریں گے جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ حج کا بیان اوپر بہت ہو چکا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ مسیح علیہ السلام کی قبر مدینہ مسیح کی قبر تین جگہ فرماتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”ہاں
”مسیح کی قبر بلاد شام میں ہے۔ جس کی پر
(
”اب تحقیق سے معلوم ہوا کہ مسیح کی قبر بلکہ
اب غور کا مقام ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ جو بھی کامل مسلم ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔ جب کامل مسلم حاضرین جلسہ کی خدمت مبارک میں فیصلہ چھوڑتا ہو فقط : اللہ
اب ناظرین و سامعین داد دیں کہ آیا م مولوی صاحب نے ایسی قلعی کھولی جس سے مرزا قاد اس لئے میدان مولانا کے حق میں سمجھا گیا۔ جب ایک نظم تصنیف کی جو بعینہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
حامداً ومصلیاً
نظم حافظ نور محمد سکنہ دھڑگوار متصل ک
تو ہیں زمین آسمان بنایا تھماں باجھ ٹکایا
٣٣
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کی قبر مدینہ میں ہوگی اور حضرت مسیح حج کریں گے جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ احادیث مذکورہ بالا کا مصداق مرزا قادیانی کبھی نہیں ہو سکتا۔ حج کا بیان اوپر بہت ہوچکا۔ اب قبر کی طرف خیال کرنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ مسیح علیہ السلام کی قبر مدینہ میں ہوگی۔ جیسا کہ بیان ہوا اور مرزا قادیانی مسیح کی قبر تین جگہ فرماتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”ہاں مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٥٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
”مسیح کی قبر بلادشام میں ہے۔ جس کی پرستش عیسائی لوگ کرتے ہیں۔“
(ست بچن حاشیہ در حاشیہ ص ١٧٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)
”اب تحقیق سے معلوم ہوا کہ مسیح کی قبر ملک کشمیر موضع سری نگر میں ہے۔“
(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢)
اب غور کا مقام ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ جو شخص اللہ اور رسول اور صحابہ کا خلاف کرے وہ بھی کامل مسلم ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔ جب کامل مسلم نہیں تو چہ جائیکہ ہم مثیل مسیح مان لیں۔ اب حاضرین جلسہ کی خدمت مبارک میں فیصلہ چھوڑتا ہوں۔
فقط: اللہ دتہ سکنہ سوہل حال پکھووال، یکم فروری ١٩٠٢ء
اب ناظرین و سامعین داد دیں کہ آیا مرزائیوں کا ثبوت کیا نکما اور خام ثابت ہوا۔ مولوی صاحب نے ایسی قلعی کھولی جس سے مرزا قادیانی کا مسیح ہونا تو درکنار دجال ثابت کر دکھایا۔ اس لئے میدان مولانا کے حق میں سمجھا گیا۔ جب جلسہ ختم ہو چکا تو حافظ نور محمد سکنہ دھڑگوار نے ایک نظم تصنیف کی جو بعینہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔ هو هذا !
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حامداً ومصلّیاً !
نظم حافظ نور محمد سکنہ دھڑگوار متصل کلانور تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور
توں ہیں زمین آسمان بنایا تھماں باجھ ٹکایا عرش معلیٰ خاص تساڈا وچ قرآن دسایا
٣٣
بعد درود رسول محمد ہر دم باجھ شماراں آل اصحاب اماماں ولیاں رحمت ابر بہاراں
میں بدھ دھاڑے گھر اپنے وچ نال خوشی دے آیا وچ اہل اطفالاں بیٹھا ہویا غم اندوہ گوایا
اس جگہ داول میرے وچ خاص ارادہ آیا اسجا خاص ضروری جانا شوق دلیوچ دھایا
اچانک نوں دو یار برادر آگئے پاس اسائیں نام انہاں نہ دسے اپنے عاجز بندے تائیں
خدمت اتے تواضع کیتی پاس بٹھایا سائی حال حقیقت دی انہاں جاں میں پچھیا بھائی
نال تساں ہے جانا ساڈے اساں ضرورت آئی مرزایاں دا آون ہے اج پنڈ اساڈے بھائی
بحث ہوسی اس جاگہ اندر عالم بھائی آون ایسے خاطر تساں بلایا لوکیں بہتے چاون
اس کارن میں وچ کچہریں آیا ٹُر کر بھائی جان میں آ کر دیکھیا اوتھے عالم ناہی کائی
دل دے اندر فکر پیا ہن بحث ضروری ہوسی بھائی مددگار نہ کوئی مدد کیہڑا دیسی
پھر میں مدد خاص اللہ دی دل اپنے وچ چائی حافظ ناصر تو ہیں میرا تجھ بن ہور نہ کائی
سب بھایاں نو نال دلیری عاجز آکھ سنایا ہے رب مالک ساڈا بھائیو کیوں دل فکر وچ لایا
اگلے دن خبر ہوئی پھر مینوں ہے اک عالم آیا خوشی ہوئی دل وچ زیادہ اللہ فضل کمایا
پھر اس عالم تو پچھیا اس نے آکھ سنایا بھائی بحث کرن دی مرزائیاں سنگ میں وچ طاقت ناہی
اس عاجز نے آکھ سنایا ساریاں بھایاں تائیں بے شک بندہ بحث کرے گا خطرہ کرنا ناہیں
فجرے ویلے اٹھدیاں ہویاں کلمہ طیب الایا اللہ مالک کر تو مدد تجھ بن ہور نہ کائی
اچانک نوں پھر عالم فاضل اکمل کامل آیا اللہ دتا نام انہاں دا سوہل سکونت اہا
مرزایاندے دلدے اندر ڈاہڈا خوف پیا سی دشمن ساڈا حاضر ہویا سانوں مار گواسی
ایہ گھر ساڈی جڑ دا پورا واقف سارا پتہ لگاوے اگلیاں پچھلیاں سب کلاماں واضح کر سمجھاوے
کل کتاباں ساڈیاں دی خبر انہاں نو آئی صفحہ نشان تے سطراں گن گن ہن ایہ دسسی بھائی
اچانک نو پھر اللہ صاحب مدد غیب پہنچائی کل کتاب صحاح ستہ دی حاضر ہوئی بھائی
نام فیروز الدین انہاندا سب کتاب لیایا وچ حویلی فاضل والی آ کر ڈھیر لگایا
مسلماناں نوں خوشی ہوئی سی حدوں باجھ شماراں چار چوفیروں خلقت رب دی آئی وانگوں ڈاراں
بحثاں دی تجویزاں کردیاں ساریاں رل پکایا پہلوں موت حیات مسیح دا مسئلہ چھیڑو سبھاں الایا
٣٤
اس مسئلے تھیں سب مرزائی صاف انکار لیائے حیات مسیح دے مسئلے توں بھجدے وار بچائے
پرچہ پھر دوبارہ بھیجا مرزائیاں دے تائیں بحث نزول مسیح دی بھائی آؤ ساڈے تائیں
ایہہ گل مول نہ منی انہاں ظاہر آکھ سنایا بحث حیات مماتی والی سبھاں نوں فرمائی
اس کارن انکار کریندے سی مرزائی بھائی ایسے وچ اوہ پھسدے سی کر کے بحث لڑائی
تان پھر مولوی اللہ دتے منی بحث ایہہ بھائی شروع حیات مماتی دی پھر کیتی بحث صفائی
اول خاص کتاب اللہ دی مولوی پکڑی ساہی سیپارے قرآنی وچوں کڈھ کڈھ وکھائی
اٹھائی جاگہ وچ قرآنی کڈ کڈ پتے دکھائے مرزائیاں نوں کڈھ حوالے پڑھ پڑھ خوب سنائے
یعنی وچ قرآن اٹھائی جاگہ رب فرمایا توفی دا مسئلہ اس جاگہ وچ قرآن دکھایا
ہور کتاب بخاری وچوں ثابت کیتا بھائی جس وچ موت مسیح دی ہرگز نہیں فرمائی
مسلم ابوداؤد بخاری ابن ماجہ تیں یارا حیات مسیح دی ثابت کیتی کر کے بحث کرارا
تے مرزا دی تصنیفوں کیتے لفظ توفی معنی موت مسیح دی نہیں ثابت کیتی کر کے زور کرارا
متوفی دے معنی کیتے مرزے پورا بھائی مولوی اللہ دتے سبھاں نوں آکھ سنائی
غرض قرآن حدیثوں تے ہور مرزادی تصنیفوں حیات مسیح دی ثابت کیتی کر کے بحث کرارا
بحث کریندیاں فتح دین نے ایسا ہتھ دکھایا جھگڑا سارا ختم کرایا بحثوں شور مٹایا
یعنی داؤ مکر جو کچھ پاس انہاں دے آیا دن سارے دی بحثاں وچوں ہتھ ککھ نہ آیا
جیوکڑ ہٹی وچوں سکے سودا پاس نہ کائی در در بھیکھ منگیندے پھردے خیر نہ پاون کائی
یعنی سند وفات مسیحوں عاری ہویا بھائی پکڑے گئے مرزائی بھائی کر کے بحث صفائی
آخر رجوع خلافت دے ول فتح الدین نے کیتا بھجے گئے مرزائی بھائی ہویا کم تباہی
تان پھر مولوی اللہ دتے مجلس دے وچ کیہا اس کارن اساں فتح پائی رب نے فضل کمایا
آپے بحث حیات مماتی کیتی تساں پیارے فتح اساڈی ہوئی بھائی اللہ فضل کمایا
اس تھیں فتح اسانو ہوئی سمجھیں دل وچ یارا ہویا فضل خدا دا بھائی فتح اسانوں ہوئی
جمال الدین امام الدین نے فتح الدین نو کیہا ذکر خدا دا کرئیے بھائی فتح اسانوں ہوئی
خیر الدین نے فتح الدین نو مجلس وچ فرمایا
اس مسئلے تیں سب مرزائی صاف انکار لیائے حیات ممات دے مسئلے دے ول جملے چڑھ چڑھ آئے
پرچہ پھر دوبارہ بھیجا مرزائیاں دے تائیں بحث نزول مسیح دی ہووے ہور راہ ناتئیں
ایہہ گل مول نہ منی انہاں ظاہر آکھ سنایا بحث حیات ممات ہووے مرزائیاں فرمایا
اس کارن انکار کریندے سی مرزائی بھائی ایسے وچ گنجائش انہاں پلے ہووے نہ رائی
تان پھر مولوی اللہ دتے منی بحث ایہہ بھائی شروع ہوئی پھر مرزائیاں نوں کڈ کڈ سند دکھائی
اوّل خاص کتاب اللہ دی مولوی پکڑی سچائی پا پارہ سورت دسیا ہور رکوع بھائی
اٹھائی جاگہ وچ قرآنی کڈ کڈ پتے دکھائے مرزائیاں دل خوف سمایا حیرانی وچ آئے
یعنی وچ قرآن اٹھائی جاگہ رب فرمایا توفی معنی نیند دا پورا تے ہور پکڑن آیا
ہور کتاب بخاری وچوں ثابت کیتا بھائی حضرت عیسیٰ بے شک زندہ ثابت شک نہ رائی
مسلم ابوداؤد بخاری ابن ماجہ تیں یارا حیات مسیح دی ثابت کیتی مجلس وچ آشکارا
تے مرزا دی تصنیفوں کیتے لفظ توفی معنی موت توفی معنی ناہیں سن اے مرد یگانے
متوفی دے معنی کیتے مرزے پورا بھائی مولوی ثابت کر دکھلایا شک نہ اس وچ رائی
غرض قرآن حدیثوں تے ہور مرزا دی تصنیفوں حیات مسیح دی ثابت کیتی تصنیفوں تالیفوں
بحث کریندیاں فتح دین نے ایسا ہتھ دکھایا جھگڑا چھڈ حیات مماتی طرف خلافت آیا
یعنی دارو سکہ جو کچھ پاس انہاں دے آیا دن سارے وچ سر پیٹ انہاں اوسان بھلایا
جیوکر مٹھی وچوں سکے رہندے پاس کسدے در در تے رُلدا پھردا سودے کتوں نہ ملدے
یعنی سند وفات مسیحوں عاری ہویا بھائی پکڑ کتاباں مڑ مڑ دیکھے سند نہ لبھدی کائی
آخر رجوع خلافت دے ول فتح الدین نے کیتا چھڈ کے بحث حیات مماتی اتوں دعویٰ کیتا
تان پھر مولوی اللہ دتے مجلس دے وچ کیہا فتح اسانو اللہ دتی ہن کچھ شک نہ رہا
آپے بحث حیات مماتی کیتی تساں پیارے تے آپے ختم تساں نے کیتی کی ایہہ راز نیارے
اس تھیں فتح اسانو ہوئی سمجھیں دل وچ یارا فتح الدین منہ زردی جھلی شک نہیں دلدارا
جمال الدین امام الدین نے فتح الدین نو کیہا ہویا گزارا ساڈا اس جا مشکل ویلا ایہا
خیر الدین نے فتح الدین نوں مجلس وچ فرمایا ذکر خلافت کرنا ناہی ایہہ تو ظلم کمایا
٣٥
کوئی اس تھیں منکر ہووے دوزخ دے وچ سڑدا آل اصحاب اماماں ولیاں رحمت ابر بہاراں اج اہل اسلاماں اکٹھا ہویا غم اندوہ گوایا بڑا خاص ضروری جانا شوق دل وچ سمایا انہاں نے دسیا اپنے عاجز بندے تائیں حقیقت دی انہاں جاں میں پچھیا بھائی کیہا آون ہے آج پنڈ اساڈے بھائی کس دے خاطر تساں بلایا لوکیں بہتے چاون تاں میں آکر دیکھیا اوتھے عالم نامی کائی میرا مددگار نہ کوئی مدد کھڑا دیسی ناصر تو ہیں میرا تجھ بن ہور نہ کائی رب مالک ساڈا بھائیو کیہڑی دل فکر میں لایا ہوئی دل وچ زیادہ اللہ فضل کمایا ٹکرندی مرزائیاں منگ میں وچ طاقت ناہی بے شک بندہ بحث کرے گا خطرہ کرنا ناہیں مالک کر تو مدد تجھ بن ہور نہ آیا دسیا نام انہاں دا سوہل سکونت آیا ساڈا حاضر ہویا ساتھی یار گرامی سمجھیاں سب گلاں واضح کر سمجھاوے کتاباں تے سطراں گن گن دسدا سی بھائی کتاب صحاح ستہ دی حاضر ہوئی بھائی حویلی فاضل والی آکر ڈیرا لگایا اگلے دن خلقت رب دی آئی وانگوں ڈاراں حیات مسیح دا مسئلہ چھیڑ آساں سنایا
فجر ہوئی تاں پیش گوئیاں دا سارا ذکر سنایا مرزے دی تصنیفاں وچوں صفحہ نشاں دکھایا
پیش گوئی کوئی مرزے والی پوری مول نہ ہوئی سب مرزائی جھوٹے ہوئے سچا رہیا نہ کوئی
سب شرمندے نادم ہوئے انگلاں منہ وچہ پاون آکھن سچ پکپوان آئے روندے تے پچھتاون
پاس اساڈے کچھ نہ رہیا کی دکھلائی بھائیاں ہر ہر مسئلے اندر سانو ڈاہڈیاں ہاراں آیاں
چھوڑ تمامی بحث زبانی طرف تحریراں آئے لے کر پرچہ وچ حویلی ڈیرے جدا لگائے
جو کچھ پرچے اندر لکھیا او بھی حال سناواں دو سوال انہاں نو کیتے واضح کر سمجھاواں
اول مرزا کامل مسلم ثابت کیتا جاوے قرآن حدیثوں اس مسئلے دے سند اماموں آوے
دوجا مسئلہ مرزا صاحب کد بن مسیح سداوے ایہہ بھی سند قرآن حدیثوں طلب اسانو بھاوے
سائل علی محمد تے عبداللہ درزی یارا قاضی محمد مہرالدین رحیم بخش دلدارا
سوال جواب دوہاندا جا کے پیچھے دیکھیں یارا مرزائیاں نے جو کچھ لکھیا حال سمجھو آشکارا
سائلاں اوہ جوابی پرچہ مولوی نوں دکھلایا دیو جواب شتابی سانو عاجزی نال الایا
او بھی درج پچھاڑی کیتا پڑھ کے دیکھ پیارے جس تھیں لک مرزائیاں ٹٹا چھٹی عقل بیچارے
فتح ہوئی اسلامی بھائیو مرزائیاں رسوائی آریہ ہندو سکھ تمامیاں اچی گل مچائی
مرزائی سب ہار کھلوتے گلاں کرن تمامی خوشی ہوئی وچ مسلماناں دے مرزائیاں حیرانی
فضل الدین جو نمبردار پکپویں اندر آیا فرمایا ہن پنچ اساڈے مرزائیاں نوں جھٹلایا
کچھ توفیق نہ آئی مینوں شعر کہن دی بھائی سب بھائیاں دی خاطر عاجز ایہہ تصنیف بنائی
انی ماہ شوال مہینا ایہہ تاریخ پچھانو تیراں سو تے انی ہجری اسوچ شک نہ جانو
اٹھارہ ماگھ مہینہ ہندی اکھن عیسوی یارا انی سو سن دو پہچانو جلسہ ہویا بہارا
عاجز مفتی نور محمد کردا عرض پیارے موضع دھیڑ سکونت میری جس ایہہ پنچ نتارے
گورداسپورا ہے صدر اساڈا تے تحصیل بٹالہ عاجز نام ہے نور محمد حق ہویا دل والہ
جو کچھ اصلی بحث ہوئی ہے اوہو عرض الایا اپنی طرفوں وادھا گھٹایا ہرگز مول نہ پایا
یارب مسلماناں دے تائیں سدھے راہ چلائیں مرزا تے مرزائیاں کولوں مدد نال بچائیں
١٩ شوال ١٣١٩ھ ، مطابق ١٩٠٢ء
٣٦
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جمال الدین وغیرہ کے اشتہار کا جواب
جو کہ انہوں نے دربارہ مباحثہ پکپوان کے نکالا۔ چونکہ مجھ کو موضع پکپوان میں دوبارہ جانے کا اتفاق مباحثہ کے چھپوانے پر مجبور کیا اور کہا کہ ہم میں سے کوئی اس نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔ جب میں موضع مذکور سے واپس ہوا تو میں نے مناسب سمجھ کر اس کا جواب بھی مختصر ساتھ ہی پڑے۔ اب اس کا جواب قولہ اقول کے ساتھ دیتا ہوں۔
قولہ ...... پکپوان والوں کی طرف سے میاں اللہ دتہ قوم ارائیں اور منشی فیروز الدین اور منشی نبی بخش مباحث مقرر ہوئے۔
اقول ...... بنیاد ہی جھوٹ پر قائم کی ۔ الٰہی توبہ ! حافظ نور محمد نے ۔ نہ مولوی عنایت اللہ صاحب نے کبھی کوئی تقریر تحریر کی ۔ جو لعنت اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں کے لئے فرمائی ہے ۔ اس پر فیصلہ چھوڑ کر میاں فیروز الدین اور نبی بخش کو لکھا ۔ یہ صاحب بعد نماز جمعہ میری طرف سے دو پرچے تحریری اور ایک تقریر جو ہو چکی ہے ۔ اب انصاف پسند اتنے ہی جھوٹ سے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا کب تک قیام ہوگا ۔ نادان کشمیری خدا کے خوف سے نہیں
قولہ ...... اگر حضرت مسیح ؑ ما المسیح ابن مریم الا رسول میں مستثنیٰ ہوئے تو آنحضرت ﷺ بھی ما محمد الا رسول میں کیوں مستثنیٰ نہ ٹھہرے۔
اقول ...... دونوں آیتیں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئیں عام سمجھایا گیا کہ تمام رسول گزرے ۔ دوسری آیت میں اگر حضرت مسیح کی حیات اس آیت سے نہ لی جائے تو
٣٧
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمال الدین وغیرہ کے اشتہار کا جواب
جو کہ انہوں نے دربارہ مباحثہ پکیوان کے نکالا ہے، بھائیو نان گوشت بڑی شے ہے۔ چونکہ مجھ کو موضع پکیوان میں دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھ کو معاندین جلسہ نے مضمون مباحثہ کے چھپوانے پر مجبور کیا اور کہا کہ ہم میں سے کوئی اس تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لہذا میں نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔ جب میں موضع مذکور سے واپس آیا تو مجھ کو مرزائیوں کا اشتہار دستیاب ہوا تو میں نے مناسب سمجھ کر اس کا جواب بھی مختصر ساتھ ہی مشتہر کر دیا تا کہ دوبارہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ اب اس کا جواب قولہ اقول کے ساتھ دیتا ہوں۔
قولہ...... پکیوان والوں کی طرف سے میاں اللہ دتہ قوم چوہنہ اور حافظ نور محمد اور مولوی عنایت اللہ اور منشی فیروز الدین اور منشی نبی بخش مباحث مقرر ہوئے۔
اقول...... بنیادی جھوٹ پر قائم کی۔ الہی توبہ! حافظ نور محمد نے کوئی تقریر کوئی تحریر مقابلہ میں نہیں کی۔ مولوی عنایت اللہ صاحب نے بھی کوئی تقریر تحریر نہیں کی۔ اس لئے ہم وہ آیت جو خداوند تعالیٰ نے جھوٹوں کے لئے فرمائی ہے۔ اسی پر فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ اظہار آیت کی ضرورت نہیں یہ جو منشی فیروز الدین و نبی بخش کو لکھا۔ یہ صاحب بعد نماز جمعہ جلسہ میں حاضر ہوئے۔ حالانکہ قبل نماز جمعہ میری طرف سے دو پرچے تحریری اور ایک تقریر ہو چکی تھی۔ اس لئے یہ بھی دروغ بے فروغ ہے۔ اب انصاف پسند اتنے ہی جھوٹ سے سمجھ سکتے ہیں کہ جس عمارت کی بنیاد ریت کی ہوگی اس کو کب تک قیام ہوگا۔ نادان کشمیری خدا کے خوف سے نہیں ڈرتے۔
قولہ...... اگر حضرت مسیح ”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “ میں مستثنیٰ ہوئے تو آنحضرت ﷺ بھی ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل “ میں کیوں مستثنیٰ نہ ٹھہرے۔
اقول...... دونوں آیتیں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئیں اور پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کو بحکم عام سمجھایا گیا کہ تمام رسول گزرے۔ دوسری آیت میں حضرت مسیح کو باری تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا۔ اگر حضرت مسیح کی حیات اس آیت سے نہ لی جائے تو وفات مسیح پر آیت اوّل کی دلیل پیش کرنی
٣٧
باطل سمجھی جائے گی۔ کیونکہ آیت نمبر دو صاف بتلا رہی ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ زندہ رہے اور بہ وقت نزول قرآن مسیح نہیں گزرے۔ ہاں اگر بعد نزول قرآن اور بعد انتقال سرور عالم، مسیح فوت ہو گئے ہوں تو یہ جدا بات ہے۔ اگر آیت نمبر دو میں مسیح کو مستثنیٰ نہ کیا جاتا تو جاہلوں کو کچھ چارہ جوئی کی شاید گنجائش مل جاتی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ کیونکہ باری تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہیں جانتے تھے کہ کسی زمانہ میں ایسے عقل فروش پیدا ہوں گے جو خلت کے لفظ سے وفات مسیح سمجھ لیں گے تو فرما دیا ”ما المسيح عيسى ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل“
قوله...... مسیح بن مریم کی ہلاکت کا ارادہ کیا یعنی جب ہم نے مسیح کے مارنے کا ارادہ کیا۔
اقول...... معنی ہی غلط کئے آیت اس طرح ہے کہ ”ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم“ یعنی اگر چاہے (اللہ) یہ کہ ہلاک کرے مسیح بن مریم کو۔ تھوڑے علم والے مترجم قرآن شریف دیکھ سکتے ہیں کہ مرزائیوں کے معنی درست ہیں۔ یا جو میں نے کئے تو مطلب آیت زیر بحث کا یہ ہوا کہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہی نہیں تو آیت ”ما المسيح عیسی ابن مريم“ اور ”ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم“ دونوں آیات سے حضرت مسیح کی حیات ثابت ہو گئی۔ حق پسند کو پورا اطمینان ہو سکتا ہے۔ متعصب کو دفتر بھی کافی نہیں۔ کیونکہ دونوں آیتیں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئیں۔ جس سے بخوبی واضح ہو سکتا ہے کہ بہ وقت نزول قرآن حضرت مسیح زندہ تھے۔ بلکہ آپ کے مارنے کا اللہ نے ارادہ بھی نہیں کیا۔
قوله...... جو فعل توفی اور اللہ تعالیٰ اس کا فاعل اور ذوالروح اس کا مفعول ہو تو اس کے معنی بجز قبض روح کے کوئی اور خواہ قرآن شریف یا صحاح ستہ یا کسی اور کتاب احادیث یا لغت سے ثابت کر دکھا دیں تو ہم پچیس روپیہ انعام دینے کو تیار ہیں۔
اقول...... مرزائیو! بہت خوب لیجئے سنئے دلیل اوّل اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”هو الذی يتوفكم بالليل“ اس جگہ اللہ تعالیٰ فاعل اور بندگان خدا مفعول ہیں اور معنی نیند ثابت ہوئی۔ توفی وزن ہے تفعل کا اور توفی مخرج ہے توفی کا۔ دلیل دوئم ”یا عیسی انی متوفیک“ خدا فاعل اور حضرت مسیح مفعول اور معنی پورا یا پوری نعمت دوں گا یا پورا اجر دوں گا۔
(دیکھو براہین احمدیہ تصنیف مرزا قادیانی ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)
دلیل سوئم ”فلما توفيتنی“ خدا فاعل اور حضرت مسیح مفعول معنی رفعتی تفسیر ابن
٣٨
عباس اور نظائر بہت ہیں۔ جیسے ”توفیته مالی“ پکڑا معنی اس سے مال تفسیر جامع البیان توفیتہا فلان دراهمی تفسیر کبیر ص ٦٩ علیٰ ہذا القیاس !
اگر کہیں کہ متوفیک اور توفیتنی دلیل ہے وفات مسیح کی تو جواب اس کا یہ ہے کہ کوئی دعویٰ بلا ثبوت قابل سماعت نہیں ہوتا۔ اگر تو آپ نص قطعی سے وفات ثابت کر دیں گے تو ہم آپ کو پچاس روپیہ انعام دیں گے۔ اگر اعتبار نہ ہو تو ہم کسی معتبر آدمی کے پاس جمع کر دیتے ہیں۔ مگر پہلے آپ پچیس روپیہ دے دو۔ ورنہ سمجھ لو کہ تمہارے پاس وفات مسیح میں کوئی دلیل نہیں۔ فافہم !
قولہ ..... اس طرف سے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے بلا قرینہ موت کے معنی ہیں۔ ”یتوفون منكم ويذرون ازواجهم “
اقول ..... خدا پناہ دے ایسے جہل مرکب سے اہل علم پر مخفی نہ ہوگا کہ یذرون قرینہ ہے مرزائیوں کو اگر شرم ہو تو آئندہ کبھی علمیت کا دم نہ ماریں ۔ اگر تمہارے مسلک کے مطابق اس آیت میں قرینہ نہیں تو چلو اسی پر فیصلہ کر لو وبس ۔
قولہ ..... ”من استطاع اليه سبيلا “ یعنی حج اس کے لئے فرض ہے۔ جس کے لئے راستہ کا امن ہو۔
اقول ..... ہائے توبہ مرزائی خدا کو بھی دھوکہ دینے سے عذر نہیں کرتے۔
۔ ناظرین خیال فرماویں گے راستہ کا امن کس لفظ کے معنی ہیں۔ معنی یہ ہیں جو کوئی قدرت رکھتا ہو طرف بیت اللہ کے جانے کی آنحضرت ﷺ کے اصحاب متعدد سے مروی ہے کہ جس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کو بیت اللہ تک پہنچا سکے۔ اس پر حج فرض ہے۔ اس آیت میں نہ تو راستہ کے امن کا ذکر ہے اور نہ آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث پائی گئی ہے کہ اس آیت سے راستہ کا امن مراد ہے نہ حضرت ﷺ کے کسی اصحاب سے ثابت ہے۔ یوں ہی گھر کا قانون ایجاد کر مارا کہ راستہ کا امن ضروری ہے اور آیت سے تعلق لکھ دی۔
قولہ ..... نادان یہ نہیں سمجھتے کہ رسول اکرم ﷺ کو بھی باوجود الہام یعصمک من الناس اپنے گرد حفاظت رکھتے تھے۔
اقول ..... ناظرین پر مخفی نہ رہا ہو گا کہ مرزائی رسول مقبول ﷺ پر کیا صریح جھوٹ بولتے ہیں اور عذر نہیں کرتے۔ ان طمع کے پرندوں کو مرزا قادیانی کے نان گوشت نے اندھا کر چھوڑا بغیر سوچے
٣٩
سمجھے مرزا کی تائید کے لئے جو چاہتے ہیں لکھ مارتے ہیں۔ اب میں اس آیت کریمہ کا مطلب بیان کرتا ہوں۔ جب یہ آیت شریفہ یعصمک من الناس آپ پر الہام ہوئی تو آپ نے اپنے خیمہ سے نکل کر فرمایا کہ میں اپنی حفاظت کے لئے پہرہ رکھتا تھا۔ اب اللہ عزوجل نے میری حفاظت اپنے ذمہ لے لی ہے۔ اس لئے مجھ کو کسی پہرہ کی ضرورت نہ رہی۔ نادان کشمیری بچوں نے دھوکہ دے کر خلق اللہ کو گمراہ کرنا چاہا۔ مگر یاد رکھیں منکروں کے مقابلہ پر خداوند تعالیٰ نے وہ پہلوان بھی پیدا کر رکھے ہیں جو میدان میں نکلتے ہی فوراً دبوچ لیتے ہیں۔
قولہ...... پکیوان کے لوگ بیجا حرکت کرنے کو تیار تھے۔ اتنے میں چوہدری گلاب سنگھ اور لالہ درگا داس اور موضع برہلا والوں نے کہا کہ اگر آپ کرو گے تو اس طرف سے بھی اچھا نہ دیکھو گے۔ وغیرہ وغیرہ!
اقول...... لعنت اللہ علی الکاذبین! اگر سچے ہو تو لکھو۔ اجی جھوٹ کے پتلو! کیوں جھوٹ پر کمر بستہ ہو۔ پکیوان کے باشندوں کی توصیف میں کیا بیان کروں وہ لوگ تو ایسے خلیق ہیں جن کی نظیر ضلع گورداسپور میں مل نہیں سکتی۔ کیا سکھ، کیا آریہ اور کیا مسلمان۔ ایسے شریف اور بھلے مانس جن کی شرافت کی حدنہیں۔ نادانو! اگر مجھ سے دریافت کرنا چاہو تو شہاب الدین جو ہمارے اعتقاد کا مخالف ہے وہ بھی ان شریفوں کی صحبت سے شریف بن گیا تم نے ناحق ان بیچاروں اور کم زبانوں پر جھوٹ باندھا۔ خدا تم کو اس کی جزا دے اور ہم زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ارے بھلے مانس جب تم نے بروز ہفتہ صبح کو گندی گالیاں حرام زادہ بدمعاش بے شرم وغیرہ وغیرہ الفاظ منہ سے نکالے۔ اگرچہ تم اپنے آپ کو ہی سمجھتے ہوں گے۔ اگر حرکت بیجا کا ان شریفوں کے دل میں خیال ہوتا تو وہ وقت تھا۔ حالانکہ نمبردار صاحب مذکور اور برہلا والے ہرگز موجود نہ تھے اور کب نمبردار صاحب اور لالہ درگا داس صاحب اور برہلا والوں نے یہ کہا کہ اس طرف سے بھی اچھا نہ ہوگا۔ آخر تو مرنا ہے ایسے جھوٹ سے تم کو کیا حاصل ہوا۔ جلد توبہ کرو۔
قولہ...... برہلا والے مرزا کی جماعت میں داخل ہو گئے اور قاضی محمد مہر الدین بھی مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل ہو گئے۔ وغیرہ!
نوٹ: مرزائیوں نے قاضی صاحب محمد مہر الدین کا نام ناحق لکھ مارا۔ اس لئے ہم نے کارڈ بھیجا جس کا جواب آیا۔ ”مولوی صاحب اللہ دتہ آپ کا کارڈ آیا۔ برخوردار مہر الدین نے اپنا
٤٠
٣٨١
نام بزمرہ مرزائیاں درج نہیں کرایا ہے۔ یہ انہوں نے جھوٹ بھی کوئی شخص مرزا قادیانی کا پیرو نہیں ہوا۔ یہ جو اشتہار میں مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے ہیں۔ حالانکہ برہلا میں دوسو گھر جھوٹ ہے۔ جس قدر اشتہار میں نام درج تھے سب جھوٹ ہے پہلے برخوردار مہر الدین نے قادیان خط بدین مضمون خط لکھ کر ہے۔ اس کا جواب دو ورنہ جھوٹ کے بارہ میں سلوک ہوگا۔ راقم: قاضی
اقول...... یہ بھی دروغ بے فروغ ہے۔ برہلا والے ہرگز مرزائی ہوئے۔ شہادت سے ثابت کرتا ہوں۔ جب میں دوبارہ پکیوان متصل برہلا ٹھہرا اور چوہدری حاکم نے میری صبح کی ضیافت کی کے بعد کھانا کھانے کے عرض کی کہ چوہدری صاحب اب مجھے مجھ کو جانے نہ دیا اور رات کو وعظ سننے کے لئے فرمایا۔ میں نے جانے کی صلاح کو ملتوی رکھا۔ جب شام کو مغرب کی نماز کے قاضی محمد مہر الدین لے کر آ گیا۔ نماز کی تیاری تھی تو اسی اثناء میں جو چند آدمی کالانور سے آئے اور داخل جماعت ہو کر نماز ادا کی میں نے دریافت کیا کہ فرمادیں آپ نے مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل ہوگئے۔ تو انہوں نے کہا مولوی جی یہ بالکل جماعت میں داخل نہیں ہوئے۔ بلکہ مرزائیوں نے ہماری طرف نام لکھ دیں تو ہم لوگوں نے اپنے نام لکھ دینے سے انکار کیا میں نے پھر کہا کہ آپ نے ان کو بلایا تھا۔ کرامت بیگ صاحب بلایا۔ ایک ہندو موضع قادیان میں ہمارے گاؤں کا بیاہا ہوا ہے ضیافت بے شک کی ہے کیونکہ ہم مہمان نواز ہیں۔ اس شخص شہاب الدین مرزائی پکیوان نے نام ان صاحبوں کے لکھا کر مرزا نہ کرتے تو مرزا قادیانی کو قادیان جا کر کیا منہ دکھاتے اور مرزا مل سکتا تھا۔ اگر جمال الدین بوجہ قصور حافظہ یہ کہہ دے کہ
٤١
نام بزمرہ مرزائیاں درج نہیں کرایا ہے۔ یہ انہوں نے جھوٹ رقم کیا ہے۔ بلکہ برہلا خورد میں سے بھی کوئی شخص مرزا قادیانی کا پیرو نہیں ہوا۔ یہ جو اشتہار میں لکھا ہے کہ برہلا کے دوسو آدمی مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے ہیں۔ حالانکہ برہلا میں دوسو کی تعداد ہی نہیں ہے۔ یہ ایک ظاہر جھوٹ ہے۔ جس قدر اشتہار میں نام درج تھے سب جھوٹ ہے۔ بلکہ آپ کے کارڈ کے پہنچنے کے پہلے برخوردار مہرالدین نے قادیان خط بدین مضمون لکھا ہے کہ میرا نام اشتہار میں کیوں لکھا ہے۔ اس کا جواب دو ورنہ جھوٹ کے بارہ میں سلوک ہوگا۔ راقم : قاضی عمر بخش ولد مہرالدین سکنہ پکیوان“
اقول...... یہ بھی دروغ بے فروغ ہے۔ برہلا والے ہرگز مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل نہیں ہوئے۔ شہادت سے ثابت کرتا ہوں۔ جب میں دوبارہ پکیوان کو گیا تو جاتا ہوا میں موضع اغوان متصل برہلا ٹھہرا اور چودھری حاکم نے میری صبح کی ضیافت کی۔ میرے ساتھ دو شاگرد تھے۔ میں نے بعد کھانا کھانے کے عرض کی کہ چوہدری صاحب اب میں پکیوان کو جاتا ہوں تو چوہدری نے مجھ کو جانے نہ دیا اور رات کو وعظ سننے کے لئے فرمایا۔ میں بموجب ارشاد چوہدری صاحب پکیوان جانے کی صلاح کو ملتوی رکھا۔ جب شام کو مغرب کی نماز کے لئے مسجد پہنچے تو پکیوان کے چند آدمی قاضی محمد مہرالدین لے کر آ گیا۔ نماز کی تیاری تھی تو اسی اثناء میں مرزا کرامت بیگ موضع برہلا کورد معہ چند آدمی کلانور سے آئے اور داخل جماعت ہو کر نماز ادا کی۔ تب میں نے بعد نماز مرزا کرامت بیگ سے دریافت کیا کہ فرماویں آپ نے مرزا قادیانی کی بیعت کر لی اور آپ لوگ مرزا کی جماعت میں داخل ہو گئے۔ تو انہوں نے کہا مولوی جی یہ بات بالکل غلط ہے۔ ہم مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل نہیں ہوئے۔ بلکہ مرزائیوں نے ہماری طرف شہاب الدین کو بھیجا تھا کہ اپنے نام لکھ دیں تو ہم لوگوں نے اپنے نام لکھ دینے سے انکار کیا۔ ہاں روٹی ان کو ضرور کھلائی گئی۔ میں نے پھر کہا کہ آپ نے ان کو بلایا تھا۔ کرامت بیگ صاحب نے فرمایا۔ ہم نے ان کو ہرگز نہیں بلایا۔ ایک ہندو موضع قادیان میں ہمارے گاؤں کا بیاہا ہوا ہے۔ اس کے ملنے کو آئے ہم نے ان کی ضیافت بے شک کی ہے کیونکہ ہم مہمان نواز ہیں۔ اس شہادت سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں نے شہاب الدین مرزائی پکیوان سے نام ان صاحبوں کو لکھا کر اشتہار میں لکھ مارے۔ اگر اتنا پکھنڈ ہی نہ کرتے تو مرزا قادیانی کو قادیان جا کر کیا منہ دکھاتے اور مرزا قادیانی کے لنگر سے نان گوشت کیسے مل سکتا تھا۔ اگر جمال الدین بوجہ قصور حافظہ یہ کہہ دے کہ ہم مرزا قادیانی کے لنگر سے نان گوشت
٤١
نہیں کھاتے تو ان کی یاددھانی کے لئے بتا دیتا ہوں کہ ١٨؍ جون ١٨٩١ء کو میں سری گوبند پور کو جاتا ہوا قادیان ٹھہرا اور ان دنوں میں ایک عیسائی کسی جگہ سے قادیان آیا ہوا تھا اور حکیم نورالدین سے ساتواں پارہ ترجمہ سے پڑھتا تھا۔ اتنے میں مرزا قادیانی نے ایک آدمی بھیجا کہ کھانا تیار ہے۔ اس لئے سب مرزائی موجود تیار ہوئے۔
جمال الدین میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ کو بھی ساتھ لے چلا۔ جب ایک گلی کے اندر داخل ہوئے تو مرزا قادیانی ایک برآمدے میں دسترخوان بچھائے ہوئے نان رکھ دیئے ہوئے گوشت پیالوں میں بھروائے ہوئے مریدوں کے منتظر تھے اور درمیان ایک بادیہ دودھ کا رکھا ہوا اور ایک ڈبل روٹی اور ایک پیالی میں چینی یعنی کھنڈ تھی۔ عیسائی تو ڈبل روٹی پر بیٹھ گئے۔ باقی مرید بھی کھانے کو تیار تھے تو مرزا قادیانی اور میاں نورالدین حکیم اور جمال الدین نے مجھ کو کہا کہ آپ بھی کھاویں۔ میں نے مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے کہا۔ جی میں آپ کا کھانا نہیں کھا سکتا۔ کیونکہ مجھ کو کراہت آتی ہے۔ مرزا قادیانی تو برا بھلا کہنے کو تیار تھے۔ مگر نورالدین چونکہ وہ متحمل مزاج ہیں۔ بولے اچھا آپ کی مرضی القصد جب مرید کھانا کھا چکے تو جمال الدین نے درخواست کی یا حضرت میں جانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو روٹی دی جائے۔ تب مرزا قادیانی نے ایک بڑا بادیہ گوشت کا بھروادیا اور (٢،٣) نان مرحمت فرمائے تو کشمیری بچہ لے کر رفو چکر ہو گیا۔ اس سے میرے عنوان کی تصدیق ہوئی کہ بھائیو! نان گوشت بڑی شئے ہے۔ غرضیکہ بٹالہ والوں کے نام لکھ کر مرزا قادیانی کی تسلی نہ کرتے تو پھر آپ ہر ایک طرح سے محروم رہتے تھے۔ اسی لئے تو مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان بیٹھے ہیں۔ یہ عقیدہ مرزائیوں کو مبارک ہو۔ اس اشتہار کا جواب کچھ طوالت سے ادا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیونکہ پرچہ مباحثہ میں مفصل حال چھپ چکا ہے۔ وہاں ملاحظہ ہو۔
فقط والسلام خیر الختام! العبداللہ دتہ سکنہ موضع سوہل پرگنہ گورداسپور
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شیخ عبدالرحمن سکنہ بوہڑ متصل قادیان کے اشتہار کا جواب
مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٠٢ء کو شیخ مذکور نے ایک اشتہار شائع کیا ہے اور اس کے ص ٢ میں لکھتے ہیں کہ میں نے بذریعہ خواب مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیا ہے اور آگے چل کر بڑے زور وشور سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کوئی صاحب میرے اس خواب کو افتراء خیال کرے گا تو اس کا لڑکا
٤٢
٣٨٣ ضرور فوت ہو جائے گا۔ اس لئے میں نے یکم فروری سنہ حال شریف میں عرض کر دی کہ میں آپ کی خواب کا منکر ہوں منہاج شیطان کے ہے۔ کیونکہ خواب تین قسم کی ہوتی ہے خیالی۔ یہ مسئلہ اتفاقی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ازالہ اوہام ہے جو قرآن شریف اور حدیث مرفوع کے مطابق ہو اور شیطانی دن کو کرتا یا بنتا رہے۔ وہی رات کو دیکھے۔ غرضیکہ آپ کی خو میں تو ہرگز شک نہیں۔ شیطانی تو اس واسطے معلوم ہوتی ہے کہ گیا اور آسمان سے تکیہ آنحضرت لگائے ہوئے اور مرزا قادیا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ شیطان کو عرش اور لوح محفوظ کی صو کے مشاہدہ سے آپ جیسا ملہم یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے عرش اور واقعہ میں وہ منہاج شیطان کے ہوتا ہے۔ اگر آپ کو خواب اور باقی محرمات اشیاء تم پر حلال اور جائز ہو گئیں تو کیا خلقِ خ اور وہ قرآن شریف اور حدیث نبوی کو بالائے طاق رکھ دی اور خیالی اس واسطے کہ آپ کی نشست و برخاست ہمیشہ مرزا ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور اکثر اشتہاروں کے گھن رہتے ہیں اور آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید وہی خیال آس دن کو فوراً قادیان جا کر اشتہار چھپوایا کہ مجھ کو الہام ہوا مرزا قا
لوجی! پنجابی مثل کا واقعہ ہونا چشم خود دیکھنے میں الہاموں کا بازار گرم ہے۔ جس کا جی چاہے ملہم بن جائے۔ مگر تو زمانہ جہاندیدہ ہے۔ ایسے ملہموں کی شہادت کون دانا مان نہیں ملتی۔ میں نے مولوی نور احمد سکنہ لودھی ننگل علاقہ تھانہ حال قادیان اور حکیم نور الدین بھیروی حال قادیان اور جو وغیرہ سے بذریعہ خطوط استفسار کیا کہ اس طرح کے الہام جواب دو، ورنہ اپنے مریدوں کو متنبہ کر دو کہ آئندہ کے لئے
٤٣
ضرور فوت ہو جائے گا۔ اس لئے میں نے یکم فروری سنہ حالیہ کو بذریعہ خط شیخ صاحب کی خدمت شریف میں عرض کر دی کہ میں آپ کی خواب کا منکر ہوں اور میرے خیال میں آپ کی خواب منہاج شیطان کے ہے۔ کیونکہ خواب تین قسم کی ہوتی ہے۔ ایک رحمانی دوسری شیطانی۔ تیسری خیالی۔ یہ مسئلہ اتفاقی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ازالہ خود میں لکھ چکے ہیں۔ خواب رحمانی وہ ہوتی ہے جو قرآن شریف اور حدیث مرفوع کے مطابق ہو اور شیطانی جو اس کے خلاف ہو اور خیالی وہ جو دن کو کرتا یا سنتا رہے۔ وہی رات کو دیکھے۔ غرضیکہ آپ کی خواب یا تو شیطانی ہے ورنہ خیالی ہونے میں تو ہرگز شک نہیں۔ شیطانی تو اس واسطے معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے لکھا ہے کہ مجھ کو آسمان دکھایا گیا اور آسمان سے تکیہ آنحضرت لگائے ہوئے اور مرزا قادیانی پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ امام غزالی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ شیطان کو عرش اور لوح محفوظ کی صورت بن جانے کی قدرت ہے۔ جس کے مشاہدہ سے آپ جیسا ملہم یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے عرش اور لوح محفوظ سے علم حاصل کیا ہے اور واقعہ میں وہ منہاج شیطان کے ہوتا ہے۔ اگر آپ کو خواب میں جتلایا جائے کہ شراب اور خنزیر اور باقی محرمات اشیاء تم پر حلال اور جائز ہو گئیں تو کیا خلق خدا آپ کی خواب پر ایمان لے آویں اور وہ قرآن شریف اور حدیث نبوی کو بالائے طاق رکھ دیں۔ نہیں صاحب یہ ہرگز نہیں ہونے کا اور خیالی اس واسطے کہ آپ کی نشست و برخاست ہمیشہ مرزا قادیانی سے ہے اور آپ یہ سنتے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں اور اکثر اشتہاروں کے گھوڑے مرزا قادیانی کے مرید اڑاتے ہی رہتے ہیں اور آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ شاید وہی خیال آپ کے دماغ میں سما گیا۔ رات کو دیکھا دن کو فوراً قادیان جا کر اشتہار چھپوایا کہ مجھ کو الہام ہوا مرزا قادیانی مسیح ہیں۔
لو جی! پنجابی مثل کا واقعہ ہونا بچشم خود دیکھنے میں آگیا۔ (نڈیاں نوں لگ گئے) اب الہاموں کا بازار گرم ہے۔ جس کا جی چاہے ملہم بن جائے۔ مگر یاد رکھیں کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا اب تو زمانہ جہاندیدہ ہے۔ ایسے ملہموں کی شہادت کون دانا مان سکتا ہے۔ جس کی نظیر صحابہ سے ہرگز نہیں ملتی۔ میں نے مولوی نور احمد سکنہ لودنیت گل علاقہ تھانہ فتح گڑھ اور مولوی عبدالکریم سیالکوٹی حال قادیان اور حکیم نور الدین بھیروی حال قادیان اور جمال الدین کشمیری سکنہ سیکھوان وغیرہ وغیرہ سے بذریعہ خطوط استفسار کیا کہ اس طرح کے الہاموں کا وجود اگر صحابہ سے ثابت ہے تو جواب دو، ورنہ اپنے مریدوں کو متنبہ کر دو کہ آئندہ کے لئے اوراق سیاہ نہ کریں۔ مگر آج تک ان
٤٣
صاحبوں میں سے کسی ایک نے بھی مجھ کو جواب نہیں دیا۔ حالانکہ عرصہ دراز گذر چکا ہے۔ خیر آمدم برسر مطلب کہ آپ کی خواب کسی طرح سے خواب رحمانی نہیں ہو سکتی۔ یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔ یہ بھی حدیث مرفوع کے خلاف ہے۔ "عن الحسن فی قولہ تعالیٰ انی متوفیک قال للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ
(تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦) "
آنحضرت ﷺ نے یہودیوں کو فرمایا کہ بے شک حضرت عیسیٰ نہیں مرے اور تحقیق وہ پھر آویں گے تمہاری طرف پہلے دن قیامت کے۔ یہ حدیث مؤید ہے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے۔ پھر آپ نے جو لکھا کہ جو منکر ہوگا میری خواب کا اس کا لڑکا فوت ہو جائے گا۔ سو میں نے آپ کو یکم فروری کو اطلاع دی تھی کہ میں دس یوم کی میعاد دیتا ہوں۔ چونکہ خداوند کریم قادر ہیں۔ اگر آپ کی خواب سچی ہو تو میرا لڑکا مسمی عبدالعزیز جو ٣ سال کی عمر کا ہے۔ حالانکہ یہ میرا لڑکا ایک ہی ہے فوت ہو جائے۔ اگر تاریخ مقررہ تک نہ فوت ہوا تو آپ کو چاہئے کہ مرزا قادیانی سے توبہ کر کے مسلمانوں میں آئیں! اب میں آپ کو بذریعہ اس اشتہار مطلع کرتا ہوں کہ میعاد گذر چکی جو دس فروری تک تھی۔ آج ١٨؍فروری ہے اور میرا لڑکا صحیح سلامت تندرست موجود ہے۔ آپ پر میری طرف سے حجت قاطع پوری ہوئی۔ اگر آپ مرزا قادیانی سے اب بھی دست بردار نہ ہوں گے تو میرا اور آپ کا فیصلہ خداوند تعالیٰ کے سپرد ہے۔ وما علینا الا البلاغ!
اب میں ہر خاص وعام کی خدمت بابرکت میں عرض کرتا ہوں کہ مرزائیوں کے اشتہاروں اور قسموں پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ کیونکہ یہ صاحب لوگوں کو قسمیں کھا کر مجبور کرتے ہیں کہ ہماری خوابوں اور الہاموں پر ایمان لاویں۔ ورنہ اس کا بیٹا مر جائے گا۔ یا تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھو۔ ورنہ بیٹا ضرور مرے گا۔ دیکھو یہ کیسی سخت قید لگاتے ہیں اور جبر سے جھوٹ تسلیم کراتے ہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جھوٹ پر ایمان لانا کفر ہے۔ اب کم علم بیچارے کیا کریں۔ ایک طرف بیٹے کی ہمدردی اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ وعید فرماتے ہیں۔ مگر جن کو اللہ پر تقویٰ ہے وہ میری طرح فوراً کہہ دیتے ہیں کہ قرآن شریف کو تو ہم سچا جانتے اور مانتے ہیں اور تمہارا دعویٰ غلط۔ فقط!
والسلام علی من اتبع الہدیٰ!
المشتہر: علی محمد قوم جٹ ساکن موضع سوہل پرگنہ گورداسپور
٤٤
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین
خاتم النبیین ﷺ
معی
المس
خواجہ خواجگان خواجہ محمد ضیاء
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
معیار
المسيح علیہ السّلام
خواجہ خواجگان خواجہ محمد ضیاء الدین سیالویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله الذى انزل على عبده ولم يجعل له عوجا قيما لينذر بأسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصلحت ان لهم اجرا حسنا ما كثين فيه ابدا وينذر الذين قالوا اتخذ الله ولدا . ونصلى على رسوله الذى ارسل الله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون۔ اما بعد!
فقیر محمد ضیاء الدین سیالوی بجواب رسالہ سردار خان بلوچ ترقیم کرتا ہے۔ اگرچہ وہ رسالہ اس قابل نہیں کہ اس کے جواب میں تضیع اوقات کی جائے۔ بنا بر قول شخصے:
اس لئے کہ نہ تو اس رسالہ کی کوئی تردید وقت طلب امر ہے کیونکہ وہ خود بخود اپنے آپ کو رد کر رہا ہے، نہ ان کا کوئی امر بحث طلب، نہ مؤلف کا مذہبی ثبوت اس سے ہو سکتا ہے۔ غرض کسی طرح اس کو وقعت کی نظر سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ نہ لفظاً، نہ معناً مگر چونکہ خان موصوف نے اس کے جواب نہ دینے والے کو جاہل اور جاہدون فی سبیل اللہ سے اعراض کرنے والا مقرر کیا ہے۔ لہٰذا مؤلف کے چند مقامات کو جو لب لباب اور موضوع رسالہ کا ہیں مشتے نمونہ از خروارے مدنظر رکھ کر کچھ لکھا جاتا ہے۔
بعون تعالیٰ اگر مرزائی اس پر اعتراض اور کج بحثی کریں اور تاویل اور تحریف سے کام لیں تو اپنے فرمان من حرامی حجتاں ڈھیر کے آپ ہی اس کے مصداق ٹھہریں گے۔ میں تو ایسے الفاظ کو ہرگز استعمال نہ کرتا مگر بقولے عطائے تو بہ لقائے تو یہ آپ کا مہذبانہ قول آپ ہی کو واپس کیا جاتا ہے۔ سو پہلے اب یہ جاننا چاہئے کہ حضرت رسول کریم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اس پر قرآن مجید شاہد ہے:
١ اس سے یہ مراد ہے کہ لفظی تردید نہیں کی جاتی صرف مضمون اور مذہب کی تردید کی گئی ہے۔ امید ہے کہ یہی کافی ہوگی۔ اگر خان مذکور نے اس پر اکتفاء نہ کیا تو ان شاء اللہ تعالیٰ لفظ بلفظ اور حرف بحرف رد کیا جائے گا۔
٢
مثلاً ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيء عليما (احزاب:٤٠)“ اور اسی طرح احادیث متواترہ جیسے ”لا نبی بعدی ولا مرسل وانا خاتم النبيين“ اور اس پر اجماع امت کا ہے اور صدق لانا اجماع امت پر حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے۔ ”لا تجتمع امتى على الضلالة“ اور مرزا قادیانی کا بھی یہی قول ہے۔ دیکھو خاتم النبیین صفحہ اول ”واشهد ان محمداً خاتم النبيين لا نبي بعده“ اب اس پر پورا ایمان لانا پڑے گا اور جب حضرت کے خاتم النبیین ہونے پر اقرار کیا جائے تو پھر مرزا قادیانی کا پیغمبر ہونا لغو ہے۔ گو عیسیٰ بن مریم اتریں گے مگر کوئی نئی شریعت اور نئی کتاب کی ان کو ضرورت نہ ہوگی اور آخر الزمان پیغمبر کہلانے کے بھی مستحق نہ ہوں گے اور ان کے نزول کا بموجب فرمان حضرت ﷺ کے وہ وقت ہوگا جب ایک دجال شخص (جس کی حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خبر دی ہے اور اس کا حلیہ اور اس کے حالات مفصل بتلائے ہیں۔) آوے گا اور جس کی تفصیل ان احادیث میں ہے: ”عن عبدالله قال قال رسول الله ﷺ ان الله لا يخفى عليكم ان الله ليس باعور وان المسيح الدجال اعور عين اليمنى كان عينه عنبة طافئة (بخاری ج٢ ص١١٠١)“ روایت ہے عبداللہ سے کہ فرمایا پیغمبر خدا ﷺ نے تحقیق اللہ تعالیٰ نہیں پوشیدہ تم پر تحقیق اللہ تعالیٰ نہیں کانا اور تحقیق مسیح دجال کانا ہوگا۔ دائیں آنکھ کا گویا کہ آنکھ اس کی دانہ انگور کا ہے پھولا ہوا (متفق علیہ، یعنی روایت کیا اس کو بخاری اور مسلم نے۔)
اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کی دائیں آنکھ کانی ہوگی اور حضرت ﷺ کا تشبیہ دینا اس کی آنکھ کو دانہ انگور کے ساتھ وہ ایسی تشبیہ ہے جو بالکل ظاہر اور جس میں تاویل کی حاجت نہیں۔ ”عن ابی هريرة قال قال رسول الله الا اخبركم عن الدجال حديثاً ما حدثه نبى قومه انه اعور وانه يجي معه مثل الجنة والنار فالتى يقول انها الجنة هى النار واني انذرتكم به كما انذر به نوح قومه (مسلم ج٢ ص٤٠٠)“ روایت ہے ابو ہریرہ سے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ آگاہ ہو خبر دوں میں تم کو خبر دجال کی ایسی خبر، کہ نہیں خبر دی پیشتر اس کے کسی نبی نے اپنی قوم کو کہ تحقیق دجال کانا ہے اور تحقیق وہ لاوے گا ساتھ اپنے مانند جنت اور دوزخ کے پس جس کو کہے گا
٣
یہ جنت ہے وہ ہوگی آگ اور تحقیق ڈراتا ہوں تم کو جیسے ڈرایا ساتھ اس کے نوح نے قوم اپنی کو۔﴾ اس سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ کسی پیغمبر نے اپنی قوم کو ایسی صاف خبر نہیں دی۔ لیکن آپ اس میں پھر شک لا کر تاویلات کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ کم از کم ہر پیغمبر نے یہ تو کہا ہو گا کہ اس کا دین ٹھیک نہ ہوگا۔ مگر حضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی خبر کو بطور تفصیل دوسروں پر اس لئے ترجیح دی ہے کہ پھر کسی تاویل کی حاجت نہ رہے۔
"عن نواس ابن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ نكر الدجال فقال يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرء حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه طافئة كانى اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن ادرك منكم فليقرء عليه فواتح سورة الكهف وفى رواية فليقره بفتواح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته انه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يميناً وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه فى الارض قال اربعون يوماً يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر ايامه كايامكم قلنا يارسول الله فذالك اليوم الذى كسنة اتكفينا فيه صلوة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يا رسول الله وما اسراعه في الارض قال كالغيث استدبرته الريح فيأتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيامر السماء فتمطر والارض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعاً وامده خواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بايديهم شىء من اموالهم ويمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطاء راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ٤
ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فـ لـد فيقتله ثم يأتى عيسى قوم قد عصمهم الله ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هو كذالك اذالـ قد اخرجت عبادالى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عـ الله ياجوج ماجوج وهم من كل حدب ينسلون فـ طبرية فيشربون ما فيها ويمر اخرهم فيقولون لـ يسيرون حتى يتهتوا الى جبل الحمر وهو جبل بيـ قتلنا من في الارض هلم فلنقتل من في السماء فيـ فيرد الله عليهم نشبهم مخضوبة ويحصر نبي الـ يكون راس الثور لا حدهم خيرا من مائة دينار لـ الله عيسى واصحابه فيرسل عليهم النغف في ر كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الله عيسى و يجدون فى الارض موضع شبر الاملاه زهمـ عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيراً كـ فتطرحهم حيث شاء الله وفى رواية تطرحهم بالـ من قيهم ونشابهم وجعابهم سبع سنين ثم يرسل مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالز ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من ا ويبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفـ من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغـ فبينماهم كذالك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهـ كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجو تقوم الساعة (رواه مسلم ج ٢ ص ٤٠٠) الا الراوية بالمهبل الى قوله سبع سنين (رواه الترمذي ج ٢ ص ٥
ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ثم يأتى عيسى قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم فى الجنة فبينما هو كذالك اذا اوحى الله الى عيسى انى قد اخرجت عبادا لى لا يدان لاحد بقتالهم فحرز عبادى الى الطور ويبعث الله يأجوج ماجوج وهم من كل حدب ينسلون فيمر اوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر اخرهم فيقولون لقد كان بهذه مرة ماء ثم يسيرون حتى ينتهوا الى جبل الحمر وهو جبل بيت المقدس فيقولون لقد قتلنا من فى الارض هلم فلنقتل من فى السماء فيرمون بنشابهم الى السماء فيرد الله عليهم نشبهم مخضوبة ويحصر نبى الله عيسى واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرا من مائة دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه فيرسل عليهم النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ثم يهبط نبى الله عيسى واصحابه الى الارض فلا يجدون فى الارض موضع شبر الا ملاه زهمهم ونتنهم فيرغب نبى الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله وفى رواية تطرحهم بالمهبل ويستوقد المسلمون من قسيهم ونشابهم وجعابهم سبع سنين ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الارض حتى يتركها كالزلفة ثم يقال للارض انبتى ثمرتك وردى بركتك فيومئذ تاكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك فى الرسل حتى ان اللقحة من الابل لتكفى الفئام من الناس واللقحة من البقر لتكفى القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفى الفخذ من الناس فبينماهم كذالك اذ بعث الله ريحا طيبة فتاخذهم تحت اباطهم فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة (رواه مسلم ج ٢ ص ٤٠٠) الا الرواية الثانية وهى قوله تطرحهم بالمهبل الى قوله سبع سنين (رواه الترمذى ج ٢ ص ٤٩)
٥
ترجمہ: اور روایت ہے نواس بن سمعان سے کہا اس نے، ذکر کیا رسول اللہ ﷺ نے دجال کا پس فرمایا اگر نکلے دجال اور میں ہوں موجود تم میں پس میں جھگڑوں گا اس سے سامنے تمہارے۔ اگر نکلا اور نہ ہوا میں تم میں، پس ہر شخص حجت کرنے والا ذات اپنی کا ہوگا اور اللہ تعالیٰ خلیفہ میرا ہے۔ اوپر ہر مسلمان کے۔ تحقیق دجال جوان ہوگا بہت مڑے ہوئے بالوں کا آنکھ اس کی پھولی ہوئی گویا کہ میں تشبیہ دیتا ہوں اس کو ساتھ عبدالعزیٰ بیٹے قطن کے۔ پس جو شخص پائے اس کو تم میں سے پس چاہیے کہ پڑھے سامنے اس کے آیتیں سورۃ کہف کی اور ایک روایت میں آیا ہے کہ پس چاہیے کہ پڑھے اوّل کی آیتیں سورہ کہف کی پس تحقیق وہ سبب امان تمہاری کی ہیں فتنہ دجال کے۔ ہے تحقیق دجال نکلنے والا ہے ایک راہ سے کہ واقع ہے درمیان شام اور عراق کے۔ پس فساد کرے گا دائیں اور فساد کرے گا بائیں۔ اے اللہ کے بندو پس ثابت رہنا۔ کہا ہم نے یا رسول اللہ اور کتنا ہوگا ٹھہرنا اس کا زمین میں فرمایا چالیس دن ایک دن مقدار برس روز کے ہوگا اور ایک دن مہینے کے برابر ہوگا اور ایک دن مقدار ہفتہ کے اور باقی روز اس کے مانند دنوں تمہارے کے۔
عرض کیا ہم نے یا رسول اللہ ﷺ پس وہ دن کہ ہوگا مقدار برس کے کیا کفایت کرے گی ہم کو اس میں نماز ایک دن کی فرمایا نہیں بلکہ اندازہ کرنا ادائے نماز کے لئے مقدار دن کے۔
کہا ہم نے یا رسول اللہ ﷺ کس قدر ہوگا جلد چلنا اس کا زمین میں فرمایا مانند مینہ کے جس وقت کہ آتی ہے پیچھے اس کے ہوا پس گزرے گا ایک قوم پر اور بلائے گا ان کو پس ایمان لائیں گے وہ اس پر پس حکم کرے گا ابر کو پس برسادے گا ابر مینہ کو اور حکم کرے گا زمین کو پس اگائے گی پس شام کو آئیں گے ان پر مویشی ان کی دراز ترین اس کے کہ تھے از روئے کوہانوں کے اور خوب پوری اس کی کہ تھے از روئے تھنوں کے خوب کھنچے ہوئے از روئے کوکھوں پھر آئے گا دجال ایک اور قوم کے پاس پس بلائے گا ان کو پس رد کریں گے اس پر قول اس کا۔ پس پھرے گا ان سے پس ہوں گے قحط زدہ در حال یہ کہ نہ ہوگا ان کے ہاتھ میں کچھ مالوں ان کے سے اور گزرے گا دجال ویرانہ پر پس کہے گا ویرانہ کو نکال اپنے خزانوں کو پس پیچھے چلیں گے اس کے خزانے اس ویرانہ کے مانند امیروں شہد کی مکھیوں کے پھر بلائے گا۔ دجال ایک شخص کو کہ بھرا ہوگا جوانی میں۔ پس مارے گا اس کو تلوار کے پس کاٹے گا اس کو دو ٹکڑے مانند
٦
پھینکنے تیر کے نشانے پر پھر بلائے گا دجال اس جوان کو پس وہ ہنستا ایسے کاموں میں ہوگا کہ ناگہاں بھیجے گا اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو نزدیک منارہ سفید کے جانب مشرقی دمشق کے در حال یہ کہ زرد رنگ کے حلے پہنے ہوں گے۔ رکھے دونوں ہتھیلیاں اپنی اوپر پروں دو فرشتوں کے پس جب جھکائیں گے سر اپنا ٹپکے گا پسینہ ان کا اور جب اٹھائیں گے سر اپنا ٹپکیں گے مانند دانوں چاندی کے کہ مانند موتیوں کے ہوں۔ پس نہ ہوگا کوئی کافر کہ پائے ہوا دم عیسیٰ کی مگر مر جائے گا۔ جہاں تک پہنچے گی نگاہ ان کی پس ڈھونڈیں گے عیسیٰ دجال کو باب لد پر پس قتل کریں گے اس کو پھر آئیں گے پاس عیسیٰ کے ایک قوم جس کو بچایا اللہ نے اس کے شر سے پس پونچھیں گے ان کے مونہوں کو اور خبر دیں گے ان کو درجات ان کے بہشت میں۔ دریں ہنگامہ کہ عیسیٰ اسی طرح سے ہوں گے کہ وحی بھیجے گا اللہ تعالیٰ طرف عیسیٰ کے تحقیق میں نکالے ہیں کتنے ایک بندے اپنے کہ نہیں طاقت لڑنے کی۔ پس لے جا میرے بندوں کو طرف کوہ طور کے اور بھیجے گا اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو اور وہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے۔ پس گزریں گے پہلے ان کے اوپر تالاب طبریہ کے پس پی جائیں گے جو کچھ کہ اس میں ہوگا پانی اور گزرے گی آخری جماعت ان کی پس کہیں گے کہ تھا اس میں بھی کبھی پانی۔ پھر چلیں گے یہاں تک کہ پہنچیں گے طرف جبل خمر کے یعنی پہاڑ بیت المقدس کے پس کہیں گے یاجوج ماجوج کہ تحقیق قتل کیا ہم نے ان شخصوں کو جو زمین میں ہیں۔ اب آؤ قتل کریں ہم ان شخصوں کو کہ آسمان میں ہیں پس پھینکیں گے تیروں اپنے کو طرف آسمان کے پس پھیرے گا اللہ تعالیٰ ان پر تیر ان کے رنگ خون میں اور روکے جائیں گے نبی اللہ عیسیٰ اور اصحاب ان کے یہاں تک کہ ہوگا سر بیل کا واسطے ایک ان میں کے بہتر سو دینار سے تمہارے کے آج کے دن پس دعا کریں گے نبی اللہ عیسیٰ اور یاران ان کے طرف اللہ تعالیٰ کے پس بھیجے گا اللہ تعالیٰ نغف ان کی گردنوں میں پس ہو جائیں گے مردہ مانند مرنے ایک جان کے۔ پس اتریں گے نبی اللہ عیسیٰ اور یاران ان کے طرف زمین کے پس نہیں پائیں گے زمین میں جگہ ایک بالشت کی بھی مگر یہ کہ بھر دی ہوگی اس کو ان کی سڑانڈ اور بدبو نے۔ پس
٧
پھینکنے تیر کے نشانے پر پھر بلائے گا دجال اس جوان کو پس زندہ ہوگا۔ منہ اس کا ہنستا ہوا پس دجال ایسے کاموں میں ہوگا کہ ناگہاں بھیجے گا۔ اللہ تعالیٰ مسیح مریم کے بیٹے علیہما السلام کو پس اتریں گے وہ نزدیک منارہ سفید کے جانب مشرقی دمشق کے در حال یہ کہ ہوں گے عیسیٰ درمیان دو کپڑوں زرد رنگ کے پہنے ہوئے ہوں گے۔ مسیح دونوں ہتھیلیاں اپنی اوپر بازو دو فرشتوں کے جس وقت جھکا دیں گے سر اپنا ٹپکے گا پسینہ ان کا اور جب اٹھائیں گے سر اتریں گے ان کے بالوں سے قطرے مانند دانوں چاندی کے کہ مانند موتیوں کے ہوں۔
پس نہ ہوگا کوئی کافر کہ پائے ہوا دم عیسیٰ کی مگر کہ مر جائے گا اور دم ان کا پہنچے گا جہاں تک پہنچے گی نگاہ ان کی پس ڈھونڈیں گے عیسیٰ دجال کو یہاں تک کہ پائیں گے اس کو دروازہ لد پر پس قتل کریں گے۔ اس کو پھر آئیں گے پاس ایک قوم کے بچایا ہوگا ان کو اللہ نے دجال کے شر سے پس پونچھیں گے ان کے مونہوں سے گردوغبار اور خبر دیں گے ان کو مراتب ان کے جو پائیں گے بہشت میں۔ در ہنگامہ کہ عیسیٰ اسی طرح سے ہوں گے ناگہاں وحی بھیجے گا اللہ تعالیٰ طرف عیسیٰ کے کہ تحقیق میں نکالے ہیں کتنے ایک بندے اپنے۔ نہیں طاقت کسی کو ان سے لڑنے کی پس جمع کر میرے بندوں کو طرف کوہ طور کے اور بھیجے گا اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو اور وہ ہر زمین بلند سے دوڑیں گے۔
پس گزریں گے پہلے ان کے اوپر تالاب طبریہ کے پس پی جائیں گے جو کچھ اس میں ہوگا پانی اور گزرے گی جماعت ان کے پیچھے آئے گی ان سے پس کہیں گے کہ تحقیق تھا اس میں کبھی پانی۔ پھر چلیں گی یہاں تک کہ پہنچیں گے طرف جبل خمر کے اور وہ پہاڑ ہے بیت المقدس میں پس کہیں گے یاجوج ماجوج کہ تحقیق قتل کیا ہم نے ان شخصوں کو کہ زمین میں تھے آؤ پس چاہئے کہ قتل کریں ہم ان شخصوں کو کہ آسمان میں ہیں پس پھینکیں گے تیر اپنے طرف آسمان کے۔ پس پھیرے گا اللہ تعالیٰ ان پر تیر ان کے رنگ خون میں اور روکے جائیں گے نبی اللہ عیسیٰ اور یاران اس کے یہاں تک کہ ہوگا سر بیل کا واسطے ایک ان کے کہ بہتر سو دیناروں سے واسطے ایک تمہارے کے آج کے دن پس دعا کریں گے نبی اللہ عیسیٰ اور یاران ان کے پس بھیجے گا اللہ تعالیٰ ان پر کیڑے ان کی گردنوں میں پس ہو جائیں گے مردہ مانند مرنے ایک جان کے پھر اتریں گے پیغمبر خدا عیسیٰ اور یاران ان کے طرف زمین کے پس نہیں پائیں گے زمین میں جگہ ایک بالشت مگر بھر دیا ہوگا اس کو ان کی چربی نے اور بدبو نے۔
جائے گا اس کو چربی اور بدبو ان کی سے پس دعا کریں گے نبی خدا کے عیسیٰ اور یاران ان کے طرف اللہ کے پس بھیجے گا اللہ جانور پرند کہ گردنیں ان کی مانند گردنوں اونٹ بختی کے ہوں گے پس اٹھائیں گے ۔ وہ جانور ان کو اور پھینک دیں گے ان کو جہاں چاہے گا اللہ نے
اور ایک روایت میں ہے کہ ڈال دیں گے ۔ جانور ان کو مہبل میں اور جلاتے رہیں گے۔ مسلمان کمانوں ان کی سے اور تیروں ان کی سے اور ترکشوں ان کی سے سات برس پھر بھیجے گا اللہ ایک بڑا مینہ کہ نہیں چھپائے گا اس مینہ سے گھر مٹی کا اور نہ گھر صوف کا ، پس دھو ڈالے گا وہ مینہ زمین کو یہاں تک کہ کر دے گا اس کو مانند آئینہ کے صاف پھر کہا جائے گا زمین کو نکال تو میوے اپنے اور پھیر لا برکت اپنی پس اس دن کھاوے گا ایک گروہ ایک انار سے اور سایہ پکڑیں گے اس کے چھلکے میں اور برکت دی جائے گی دودھ میں ۔
یہاں تک کہ اونٹنی دودھ کی البتہ کفایت کرے گی جماعت کثیر کو آدمیوں میں سے اور گائے دودھ کی البتہ کفایت کرے گی قبیلہ کو آدمیوں میں سے اور بکری دودھ کی البتہ کفایت کرے گی تھوڑی سی جماعت کو آدمیوں میں سے پس ایسے عیش و وسعت میں ہوں گے ناگہاں بھیجے گا اللہ تعالیٰ ایک ہوا خوشبو کی پس پکڑے گی وہ ان کو نیچے بغلوں ان کی کے ۔ پس قبض کرے گی وہ روح ہر مومن کی اور ہر مسلمان کی اور باقی رہیں گے شریر لوگ تہارج کریں گے زمین میں مانند اختلاط گدھوں کے آپس میں پس ان پر قائم ہوگی قیامت۔ روایت کی یہ مسلم نے مگر روایت دوسری کہ وہ قول حضرت کا ہے۔ ”تطرحهم بالمهبل الى قوله سبع سنین (روایت کی یہ ترمذی ج ٢ ص ٢٩ نے)“
پس حضرت ﷺ نے بہت سے مسائل جو اس حدیث میں بیان کئے ہیں بالکل صاف ہیں مثلاً ایک تو یہ کہ دجال حضرت ﷺ کے زمانہ میں نہیں آیا۔ آپ کے مفروضہ دجال تو اس زمانہ میں بھی موجود تھے مگر کہیں حضرت ﷺ نے دجال کے لفظ سے ان کو خطاب نہیں فرمایا تھا۔ دوسرا یہ کہ جس دجال کی حضرت ﷺ خبر دے رہے ہیں۔ اس کے شر سے امان میں رہنے کا سبب سورہ کہف کی اول آیتیں قرار دی ہیں اگر ان نصاریٰ کے آگے سب کی سب سورۃ پڑھی جائے تو ان کی شر و گزند سے امان نہیں مل سکتی اور تیسرا دجال کا مخرج درمیان شام اور عراق کے ہے اور چوتھا یہ کہ رہنا اس کا روئے زمین پر چالیس دن ہے۔ پہلا دن سال کا ہوگا اور دوسرا دن مہینہ کا ہوگا اور تیسرا
٨
دن ہفتہ کا ہوگا اور باقی دن ہمارے دنوں کے برابر ہوں گے
تب صحابہ نے پوچھا حضرت ﷺ سے کہ جو دن سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں بلکہ اندازہ کر کے تم پڑھنا۔ یہ بات بالکل مسلمہ ہے کہ نصاریٰ حضرت محمدﷺ کے فرمان کے مطابق دجال نہیں بن سکتے ۔ کیونکہ ان کا حضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ دعویٰ ہو چکا تھا یعنی عیسیٰ ابن اللہ کہنا یہ تو مدتوں پہلے کا ہے۔ اور ان کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک ان کا یہی دعویٰ ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔ ”واذ قال الله يا عيسى ابن مريم ءانت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله“ یہود کا بھی یہی اعتقاد تھا۔ ”وقالت الیهود عزیر ابن الله “ پانچواں یہ کہ جو شخص دجال پر ایمان لائے گا اس کو خطرہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز نہ ہوگی اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ جو بڑے مرفه الحال کروڑوں کے مالک اور حکمران ہیں یورپ و روم وغیرہ وغیرہ باہر نہ جائیے یہی اہل ہنود کہ ان کو کچھ بھی نہیں آتا۔ سب سے بڑھ کر یہ امر قابل یقین ہے کہ کسی کو یہ اپنے دین میں داخل نہیں کرتے ۔ الغرض قوم کا نام دجال نہیں صرف ایک شخص ہی دجال ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ ریل گاڑی کو دجال کا گدھا ٹھہراتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی ریل ہے ، دجال ان کمپنیوں کو بھی کہئے ۔ پھر تو دجال ایک قوم بھی نہ رہا بلکہ بہت سی قومیں۔ صاحب ذرا ہوش میں آئیے اور خیال فرمائیے کہ یہ نصاریٰ کی قوم دجال کیسے بن سکتی ہے اور علاوہ ازیں حدیث سے یہ بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ یعنی جامع دمشق میں دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اتر آئیں گے۔ دم ان کا جہاں تک ان کی نظر پڑے گی پہنچے
٩
دن ہفتہ کا ہوگا اور باقی دن ہمارے دنوں کے برابر ہوں گے اور اس کی کوئی تاویل اس لئے نہیں ہو سکتی کہ اصحابوں نے پوچھا حضرت ﷺ سے کہ جو دن سال کا ہوگا کیا پانچ نمازیں ہماری کافی ہوں گی۔ حضرت ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں بلکہ اندازہ کر کے تمام روز کی نمازیں پڑھتے رہنا یہ بات بالکل مسلمہ ہے کہ سب روز حضرت محمد ﷺ کے فرمان کے مطابق ہوں گے اور یہ نصاریٰ اس صورت میں دجال نہیں بن سکتے۔ کیونکہ یہ حضرت ﷺ سے پہلے کے ہیں اگر آپ فرمائیں کہ اس زمانہ میں ان کا یہ دعویٰ نہ تھا یعنی عیسیٰ ابن اللہ کہنا تو میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ عیسیٰ کے زمانہ میں بھی ان کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک ان کا یہی دعویٰ ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔ ”وإذ قال الله يعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله“ دوسرا حضرت ﷺ کے زمانے میں بھی ان کا یہی اعتقاد تھا۔ ”وقالت اليهود عزير ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله “ پانچواں جو شخص دجال پر ایمان لائے گا اس کو خدا جانے گا وہ قحط زدہ ہوگا۔ اس طرح کا کہ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز نہ ہوگی اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ جو ان انگریزوں کو اپنا خدا نہیں جانتے وہ بڑے مرفه الحال کروڑوں کے مالک اور حکمران ہیں۔ مثلاً امیر کابل، شاہ ایران، شہنشاہ روم وغیرہ وغیرہ باہر نہ جائیے یہی اہل ہنود کہ ان کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ مگر کروڑوں کے مالک ہیں مگر سب سے بڑھ کر یہ امر قابل یقین ہے کہ کسی کو یہ اپنے دین پر مجبور نہیں کرتے اور یہ کہیں نہیں آیا کہ دجال عیسیٰ پر حکمرانی کرے گا اور قید فرمائے گا ادھر بلائے گا بلکہ ازالہ حیثیت عرفی میں فرد جرم لگائے گا۔ الغرض قوم کا نام دجال نہیں صرف ایک شخص ہی ہوگا۔ جس طرح حضرت ﷺ فرما چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ ریل گاڑی کو دجال کا گدھا قرار دیتے ہیں گویا دجال اور گدھا لازم وملزوم ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی ریل ہے، وہی دجال ہے ریل تو شاہ روم اور اور کمپنیوں کی بھی ہے۔ پھر تو دجال ایک قوم بھی نہ رہا بلکہ بہت سے گروہ اور قوموں میں منقسم ہو گیا۔ صاحب ذرا ہوش میں آئیے اور خیال فرمائیے کہ یہ نصاریٰ دجال نہیں بن سکتے اور ریل گدھا نہیں بن سکتی اور علاوہ ازیں حدیث سے یہ بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم مشرق دمشق میں اتریں گے۔ یعنی جامع دمشق میں دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اور ان کے دم سے کافر مر جائیں گے۔ دم ان کا جہاں تک ان کی نظر پڑے گی پہنچے گا۔ مگر آپ کے مرزا قادیانی کی آسمانی
٩
منکوحہ یعنی محمدی بیگم کو اس کا خاوند پہلو میں بٹھا کر آج تک عیش اڑا رہا ہے اور زندہ ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی بڑے زور سے نکلی تھی کہ یہ تین سال کے اندر مر جائیں گے مگر دعا برعکس پیشین گوئی غلط پڑی اور اسی افسوس میں مرزا قادیانی اس سے پہلے ہی مر گئے اور اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عیسیٰ دجال کو لد کے پہاڑ میں قتل کر دیں گے اور لد ایک پہاڑ کا نام ہے ملک شام میں حالانکہ آپ کا عیسیٰ پہلے مر گیا اور یہ دجال بقول آپ کے ابھی تک موجود ہیں امید ہے کہ آپ کے خلیفہ المسیح کو بھی مار کر مریں گے اور نیز اسی حدیث میں ہے کہ یاجوج اور ماجوج ایک اور قوم ہوں گے۔ جو بعد قتل ہونے دجال کے عیسیٰ کو خبر ان کی پہنچیں گی اور حق تعالیٰ سے امر ہوگا کہ میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر امان دے فرمائیے وہ طور آپ کے مسیح کا کونسا ہے اور آنحضرت علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یاجوج ماجوج آسمان پر تیر پھینکیں گے اور خون آلود ہو کر آئیں گے۔ جس کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں اور تاویلاً کہتے ہیں کہ انگریز لوگ پچکاری سے نطفہ لے کر رحم میں ڈالتے ہیں اور یہ مطلب ہے آسمان پر تیر پھینکنے کا۔
صاحب آپ کو خوب معلوم ہوگا کہ ہمارے دیسی تاجران اسپ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہی یہ کیا کرتے تھے اور اب تک کر رہے ہیں۔ بلکہ انگریزوں سے بھی کئی درجہ اچھا جیسا کہ رنگ وغیرہ نطفہ میں ملا کر اسی رنگ کا بچہ پیدا کر لیتے ہیں۔ بلکہ انگریزوں نے بھی یہ عمل ان لوگوں سے سیکھا ہے۔ دس بارہ سال قبل اس کے اسی عمل سے انگریز لوگ منکر تھے۔ اس کے ثبوت پر ایک رسالہ انگریزی میں چھپا ہوا میرے پاس موجود ہے پس آپ کی تاویل کا الزامی جواب یہ ہے کہ گویا ان دجالوں کے آنے سے پہلے بھی یاجوج ماجوج ہماری اپنی قوم کے ہمارے ملک میں موجود تھے۔ اس تقریر سے ظاہر ہوا کہ نہ یہ دجال ہیں اور نہ یاجوج ماجوج اور نہ غلام احمد قادیانی عیسیٰ بن مریم ہے اگر عیسیٰ تسلیم کیا جائے تو حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خبر (نعوذ باللہ) سراسر غلط اور لغو اور دھوکہ دینے والی تصور کی جائے اور عیسیٰ ابن مریم کے نزول میں احادیث آئی ہیں وہ اب تحریر کرتا ہوں:
"وعن ابی ہریرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عادلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتی لا یقبله احد حتی تکون السجدة الواحدة
١٠
خیر من الدنیا وما فیها ثم یقول ابو ہریرة الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته
(بخاری ج ١ ص ٥٠٠)
روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ میں میری زندگی ہے۔ تحقیق اتریں گے عیسیٰ بن مریم آسمان گے۔ پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سور کو اور رکھ کہ نہیں قبول کرے گا کوئی یہاں تک کہ ہوگا ایک سجدہ بہتر دنی کہتے تھے ابو ہریرہ پس اگر شک و تردد رکھتے ہو اس خبر میں تو کوئی اہل کتاب سے مگر کہ ایمان لائے گا عیسیٰ ابن مریم پر پا آیت اس حدیث میں حضرت نے عیسیٰ ابن مریم کہا ہے نہ کہ سے اترنا ہے، نہ کہ زمین میں سے پیدا ہونا اور جو کہ فرمایا ہے آپ فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے کونسا حکم اور کونسا عدل کیا۔ رہا اب ان کے عدل کا حال سنیے۔
ہم وہ خطوط نقل کرتے ہیں جو انہوں نے لکھ کر ان کے دیکھنے سے مرزا قادیانی کا عدل پورا روشن ہو جائے گا
١؎ اگر صرف بیان عدم فرضیت جہاد کا فرض منص واضع الجزیۃ نہیں کہا جاتا۔ چنانچہ فرضیت کے بیان کنندہ صاحب کو واضع الجزیۃ کا مصداق خیال کرنا سراسر غلطی ہے ہوسکتا ہے۔ جس کی قدرت میں جزیہ لینا ممکن ہو وہ تو خود ب لے سکتی۔
٢؎ اس جگہ پر مرزا قادیانی کے خاص و مطیع م الدین صاحب پنشنر راہوں کے معرفت مرزا علی شیر صا درج کرتا ہوں۔ جس سے مرزا صاحب کی مسیح موعودی اور کے ملاحظہ سے ناظرین معلوم کر لیں گے کہ مرزا قادیانی بھی ایسا نہیں کرے گا اور نہ کر سکتا ہے۔
١١
خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقرءوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ ، مسلم ج ١ ص ٨٧)
روایت ہے ابوہریرہ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے۔ قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری زندگی ہے۔ تحقیق اتریں گے عیسیٰ بن مریم آسمان سے درآں حال یہ کہ حاکم عادل ہوں گے۔ پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سور کو اور رکھ دیں گے جزیہ اور بہے گا مال یہاں تک کہ نہیں قبول کرے گا کوئی یہاں تک کہ ہوگا ایک سجدہ بہتر دنیا سے اور ہر چیز سے جو دنیا میں ہے پھر کہتے تھے ابوہریرہ پس اگر شک و تردد رکھتے ہو اس خبر میں تو پڑھو اگر چاہو اس آیت کو کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب سے مگر کہ ایمان لائے گا عیسیٰ ابن مریم پر پہلے مرنے ان کے سے پس پڑھو ساری آیت اس حدیث میں حضرت نے عیسیٰ ابن مریم کہا ہے نہ کہ مثیل اس کا، اور اترنے کے معنی بلندی سے اترنا ہے، نہ کہ زمین میں سے پیدا ہونا اور جو کہ فرمایا ہے اس کی تعریف میں حاکم عادل ہوگا۔ آپ فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے کونسا حکم اور کونسا عدل کیا ہے۔ وہ تو ساری عمر انگریزوں کے محکوم رہا اب ان کے عدل کا حال سنیے۔
ہم وہ خطوط نقل کرتے ہیں جو انہوں نے لکھ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجے تھے۔ ان کے دیکھنے سے مرزا قادیانی کا عدل پورا روشن ہو جائے گا۔ چنانچہ مرزاجی کا پہلا خط یہ ہے۔
- ١؎ اگر صرف بیان عدم فرضیت جہاد کا غرض منصبی ہے تو عدم فرضیت کے بیان کنندہ کو
واضع الجہاد نہیں کہا جاتا۔ چنانچہ فرضیت کے بیان کنندہ کو مجاہد نہیں کہا جاسکتا الغرض قادیانی صاحب کو مُضِع الجزیہ کا مصداق خیال کرنا سراسر غلطی ہے۔ جزیہ کا موقوف کرنا اس سے متصور ہوسکتا ہے۔ جس کی قدرت میں جزیہ لینا ممکن ہو وہ تو خود رعایا میں تھا۔ رعایا بادشاہ سے جزیہ نہیں لے سکتی۔
- ٢؎ اس جگہ پر مرزا قادیانی کے خاص دستخطی خطوں کو جو مجھے ایک دوست شیخ نظام
الدین صاحب پنشنر لاہوری کے معرفت مرزا علی شیر صاحب سمدھی مرزا قادیانی سے ملے ہیں درج کرتا ہوں۔ جس سے مرزا صاحب کی سچ مچ دعویٰ اور نبوت بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ ان خطوں کے ملاحظہ سے ناظرین معلوم کر لیں گے کہ مرزا قادیانی کیا ہیں، کوئی ادنیٰ اور جاہل مسلمان بھی ایسا نہیں کرے گا اور نہ کر سکتا ہے۔
١١
نقل اصل خطوط جو مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجے تھے
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى ! مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ السلام عليك ورحمة الله وبركاته ۔ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ موت فرزند آن مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج و غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزاپرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزند ان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرمائے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی بات اس کے آگے ان ہونی نہیں۔
آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل کلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہو گا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہو گا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔
اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلا دیا ہے کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں۔ ١٢
یادداشت : مرزا احمد بیگ کی زوجہ مرزا غلام احمـ علی شیر صاحب کی لڑکی عزت بی بی فضل احمد پسر مرزا غلام احمـ ساکن راہوں کے خط سے معلوم ہوا کہ باجود بہت دھمکانے نہیں دی اس لئے فضل احمد کو بھی مرزا قادیانی نے الگ کرد کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی جیسا کہ یہ اس کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معـ کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشیـ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس غـ دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضـ محمد رسول الله ) پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ ہونے کے معاون بنیں۔ تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر بـ نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ہو چکا ہے زمین پر وہ ہر گز دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ با مجھے الہام کیا۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا د میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرماویں۔ خاکسار ١٧ / جولا
بسم الله الرحمن الـ نحمده ونصلى ! مشفقی مرزا علی شیر بیگ سلمہ تعالیٰ ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کـ ١٣
یادداشت :مرزا احمد بیگ کی زوجہ مرزاغلام احمد قادیانی کی تایا چچا زاد ہمشیرہ ہے۔ مرزا علی شیر صاحب کی لڑکی عزت بی بی فضل احمد پسر مرزا غلام احمد کی زوجہ تھی اب مرزا محمد حسین صاحب ساکن راہوں کے خط سے معلوم ہوا کہ باوجود بہت دھمکانے کے بھی فضل احمد نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اس لئے فضل احمد کو بھی مرزا قادیانی نے الگ کردیا۔
کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی جیسا کہ یہ اس کا حکم جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشین گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشین گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے (لا اله الا الله محمد رسول الله ) پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے معاون بنیں۔ تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کرسکتا اور جو امر آسمان پر ہو چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرماوے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرماویں۔ والسلام
خاکسار احقر عباد اللہ ۔غلام احمد عفی عنہ ١٧؍جولائی ١٨٩٠ء بروز جمعہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نحمدہ ونصلی! مشفقی مرزا علی شیر بیگ سلمہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک
١٣
غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں، آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ، رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے۔ روسیا کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو، خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا، مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔ جو چاہے کرے۔ ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھ تک پہنچی ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میری عزت ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں
١٤
ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے۔ تو جواب میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میر میں آپکی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب ر معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک
نقل اصل خط مرزا قادیانی جو بنام
بسم الله الرحمن نحمدہ ونصلی والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے احمد بیگ کو سمجھا کہ یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مو
١٥
ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپکی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپکی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے۔ تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے اور اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپکی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتہ ناطے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم
راقم خاکسار غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤؍ مئی ١٨٩١ء
نقل اصل خط مرزا قادیانی جو بنام والدہ عزت بی بی تحریر کیا تھا
بسم الله الرحمن الرحيم!
نحمدہ ونصلی!
والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کہ یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا
١٥
ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔
سو امید رکھتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے۔ تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے۔ عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔
سو یہ شرعی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو۔ تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی ۔مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔
راقم مرزا غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء
از طرف عزت بی بی بطرف والدہ
اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا قادیانی کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتے ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طرح رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر۔ جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔
(جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے۔ اگر نکاح رک نہیں سکتا پھر بلا توقف عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان سے آدمی بھیج دو۔ تا کہ اس کو لے جائے۔
پس خان صاحب آپ کو بخوبی عدل مرزا قادیانی کا ان خطوط سے معلوم ہو گیا
١٦
ہوگا۔ پس میں بھی کچھ بتا دیتا ہوں اگرچہ ہندی کے چند علیہ میرا چنداں لائق نہیں۔ سنے صاحب اگر کچھ قصور تھا کچھ بھی قصور نہ تھا۔
اچھا بالفرض مانا کہ اس نے بھائی کو نہ سمجھایا اس ہو کر اپنے حصہ زوج سے شرعاً محروم کی جائے اور فضل احمد اگر طلاق نہ دے تو اس کو عاق کیا جائے اور ایک دانہ اور ایک اس کو نہ ملے۔ (یہی تو دجال کی نشانیوں میں لکھا جا چکا ہے میں ایک فلوس تک نہ رہے گا)
ایسا شہوت پرست نہ کہیں دیکھا، نہ سنا۔ خصوصاً موصوف نہیں ہو سکتا۔ (نعوذ باللہ من ذالک) اور دیکھئے شریف اور احادیث میں کن لفظوں سے پکارا گیا ہے اور کن پر ہے۔ ’’فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا اولئك الذين لعنهم الله فاصمهم واعمى ابصار على قلوب اقفالها o ان الذين ارتدوا على الشيطان سول لهم واملى لهمo‘‘
٭ پس کیا ہو تم نزدیک اس بات کے کہ اگر وا اور توڑو قرابتیں اپنی۔ یہ لوگ ہیں جنہیں لعنت کی ہے ۔ اندھا کر دیا آنکھوں ان کی کو کیا پس نہیں فکر کرتے بیچ قرآ کے تحقیق جو لوگ پھر گئے اوپر پیٹھوں اپنی کے پیچھے اس کے نے زینت دلائی ہے۔ واسطے ان کے۔ اور ڈھیل دلائی۔
اس آیت سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ خدا کرنے والوں کو اور مفسد قرار دیا ہے۔ یہ آیت جو نقل کی گئی ع میں ہے اور دوسری ایک اور آیت ”ان الله يامر القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغى يـ
١٧
ہوگا۔ پس میں بھی کچھ جتا دیتا ہوں اگرچہ ہندی کے چندے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ مگر مکتوب علیہ میرا چنداں لائق نہیں۔ سنئے صاحب اگر کچھ قصور تھا تو مرزا احمد بیگ کا تھا۔ اس کی بہن کا کچھ بھی قصور نہ تھا۔
اچھا بالفرض مانا کہ اس نے بھائی کو نہ سمجھایا اس کی بیٹی کا کیا قصور کہ وہ بے چاری مطلقہ ہو کر اپنے حصہ زوج سے شرعاً محروم کی جائے اور فضل احمد بے چارے پر یہ سزا کہ اس بے گناہ کو اگر طلاق نہ دے تو اس کو عاق کیا جائے اور ایک دانہ اور ایک پیسہ بھی مرزا قادیانی کی وراثت سے اس کو نہ ملے۔ (یہی تو دجال کی نشانیوں میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کی نہ مانے گا تو اس کے ہاتھ میں ایک فلوس تک نہ رہے گا)
ایسا شہوت پرست نہ کہیں دیکھا، نہ سنا۔ خصوصاً نبی آخر الزماں کہلانے والا بایں صفت موصوف نہیں ہو سکتا۔ (نعوذ باللہ من ذالک) اور دیکھئے صاحب رشتہ ناطہ توڑنے والا کو قرآن شریف اور احادیث میں کن لفظوں سے پکارا گیا ہے اور کن گروہ میں شامل کیا گیا ہے اور کیا سزا اس پر ہے۔ فهل عسيتم ان توليتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامكم ٥ اولئك الذين لعنهم الله فاصمهم واعمى ابصارهم ٥ افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها ٥ ان الذين ارتدوا على ادبارهم بعد ما تبين لهم الهدى الشيطان سول لهم واملی لهم ٥
﴿پس کیا ہو تم نزدیک اس بات کے کہ اگر والی ہو تم حکم کے یہ کہ فساد کرو بیچ زمین کے اور توڑو قرابتیں اپنی۔ یہ لوگ ہیں جنہیں لعنت کی ہے۔ ان کو اللہ نے پس بہرا کر دیا۔ ان کو اور اندھا کر دیا آنکھوں ان کی کو کیا پس نہیں فکر کرتے بیچ قرآن کے کیا اوپر دلوں کے قفل ہیں۔ ان کے تحقیق جو لوگ پھر گئے اوپر پیٹھوں اپنی کے پیچھے اس کے کہ ظاہر ہوا واسطے ان کے ہدایت شیطان نے زینت دلائی ہے۔ واسطے ان کے۔ اور ڈھیل دلائی ہے واسطے ان کے﴾
اس آیت سے آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے بڑی لعنت کی ہے۔ ایسے کام کرنے والوں کو اور مفسد قرار دیا ہے۔ یہ آیت جو نقل کی گئی ہے۔ سپارہ ٢٦ سورۃ محمد کے تیسرے رکوع ع میں ہے اور دوسری ایک اور آیت ”ان الله يامر بالعدل والاحسان وايتاء ذی القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغى يعظكم لعلكم تذكرون“
١٧
تحقیق اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے ساتھ عدل کے اور احسان کے اور دینے قرابت والوں کے اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول سے اور سرکشی سے نصیحت کرتا ہے تم کو تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ یہ خدا کا فرمان صاف صاف ہے کہ عدل کرو اور احسان کرو اور صلہ رحمی کرو اور برے کاموں سے بچو۔ جب قطع رحمی کی بناء ایک شہوت پرستی پر مبنی ہو تو کیسی فضیحت ہے اگر آپ فرما دیں کہ مرزا قادیانی کی درخواست شہوت رانی کے لئے نہیں تھی۔ وہ خدا کا حکم تھا اور خدا نے ان کا نکاح آسمان پر کیا تھا اس لئے مرزا قادیانی تبلیغ احکام الٰہی کرتے تھے۔ تو اس حکم خدا کے پورے نہ ہونے سے سب باتیں درہم برہم ہوگئیں۔
اور اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو الہام ربانی نہیں ہوا۔ بلکہ شیطانی ہوا اور الہام شیطانی کے بارے میں خدا نے خود قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ چنانچہ یہ آیت "هل انبئكم على من تنزل الشياطين ہ تنزل على كل افاك اثيم ہ يلقون السمع واكثرهم كاذبون" ﴿کیا بتلاؤں میں تم کو اوپر کس کے اترتے ہیں شیطان اترتے ہیں اوپر ہر جھوٹ باندھنے والے گنہگار کے ڈالتے ہیں شیطان کان اپنے اور اکثر ان کے جھوٹے ہیں۔﴾
اس سے معلوم ہوا کہ جو الہام مرزا قادیانی کو ہوا تھا۔ جھوٹا نکلا ایسی اور بہت سی آیات ہیں کہ صلہ رحمی کو محمود اور قطع رحمی کو مردود قرار دیتی ہیں اور کئی حدیثیں بھی لکھتا ہوں۔ "قال رسول الله ﷺ ما من ذنب اجدر ان يجعل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع مایدخره له في الآخرة مثل البغى وقطيعة الرحم (الترمذی، ابوداؤد ج ٢ ص ١٩١، کتاب الادب باب النهى عن البغی) " ﴿فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے نہیں کوئی گناہ لائق تر اس بات کے کہ جلدی کرے اللہ تعالیٰ صاحب گناہ کو عذاب دنیا میں باوجود ذخیرہ کرنے اس کے بیچ آخرت کے نکل جانے سے اطاعت امام سے اور کاٹنے ناطے کے سے۔﴾
"وعن عبدالله بن ابی اوفی قال سمعت رسول الله ﷺ يقول لا تنزل الرحمة على قوم فيهم قاطع رحم (شرح السنة ج ٦ ص ٤٤١، حديث نمبر ٣٣٢٤)" ﴿اور روایت ہے عبداللہ بن ابی اوفی سے کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہ فرماتے تھے۔ نہیں اترتی رحمت اس قوم پر کہ اس میں کاٹنے والا ہوتا ہے ناطے کا۔﴾
ایسی اور بہت سی احادیث ہیں جن کے معنی یہی ہیں اور آپ کو اس تحریر سے عدل
مرزا کا بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا۔ ایسا عدل جو قرآن اور حدیث کے مخالف ہو اس کو ظلم کہا جاتا ہے نہ کہ عدل ۔ پھر اسی حدیث ابو ہریرہؓ میں جو نزول عیسیٰ میں لکھی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ ابن مریم صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔ یعنی سوائے ایمان کے اور کوئی وجہ سبب امان کا نہ ہوگا۔
پس فرمائیے کہ آپ کے مرزا نے کتنے عیسائی مسلمان کئے اور کتنے غیر مذہب والوں کو اسلام پر لائے۔ دوسری حدیث نزول عیسیٰ میں یہ ہے۔ ”عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى ارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمس واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين ابى بكر وعمر (رواه ابن جوزى فى كتاب الوفاء، مشكوة ص ٤٨٠، باب نزول عيسى عليه السلام) “ روایت ہے عبداللہ بیٹے عمر کے سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کی پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی اولاد ان کے لئے اور ٹھہریں گے۔ زمین میں پینتالیس ٤٥ برس پھر وصال فرمائیں گے عیسیٰ، پس دفن کئے جائیں گے نزدیک میرے (ﷺ) پس اٹھوں گا اور عیسیٰ ابن مریم ایک مقبرہ میں درمیان حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے۔ ﴾
پس اس حدیث کے رو سے بھی کوئی بھی عیسیٰ بن مریم علیہا السلام نہیں بن سکتا۔ آنحضرتؐ نے اس حدیث میں عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کہا ہے۔ جو آسمان سے زمین پر اتریں گے اور پینتالیس برس زمین پر رہیں گے۔ اگر ان مرزا قادیانی کا جب سے یہ پیدا ہوئے ہیں۔ زمانہ نزول تصور کیا جائے۔ تو اڑسٹھ اکہتر برس کے مابین ہوگا اور اگر ان کے دعوے میعاد مقرر کیا جائے۔ تو پینتالیس (٤٥) سال سے بہت کم یہ دونوں صورتیں مخالف پڑیں اور آنحضرتؐ نے اسی حدیث میں فرمایا ہے کہ جب وہ اتریں گے تو نکاح کریں گے۔ فرمائیے کہ آپ کے عیسیٰ بعد دعویٰ نبوت کتنے نکاح کرنے پر آمادہ ہوئے مگر کامیاب نہ ہوئے اور اسی حدیث میں ہے کہ وہ مر کر میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے اور اس کے رفع شک کے لئے فرمایا کہ ہم اٹھیں گے بھی ایک مقبرہ سے مزید برآں یہ فرمایا: حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان سے۔ حالانکہ مرزا قادیانی قادیان میں مدفون ہیں۔
١٩
اگر ان سب احادیث اور آیات کے تاویلاً کچھ اور معنے لئے جائیں جو اصل کے مخالف ہوں۔ تو خلاف جمیع امت مرحومہ کا آتا ہے۔ کیونکہ نہ کسی اصحاب نے یہ معنی تاویلی ملحوظ رکھے ہیں اور نہ اجماع امت کا اس پر ہے۔
آج حضرت ﷺ کے بعد تیرہ سو ١٣٠٠ سال گزر چکے ہیں۔ کسی مجتہد الوقت اور مجدد اور اولیاء امت نبوی نے یہ نہیں لکھا کہ عیسیٰ ابن مریم نہ آئیں گے۔ بلکہ ان کا مثیل مرزا قادیانی ہوگا۔ اگر آپ کے تاویلی معنی ملحوظ رکھے جائیں تو پھر حضرت کا کلام جو موصوف بفصل الخطاب تھے۔ ایک امر مبہم پہیلی ٹھہرا اور اپنی امت کو تفرقہ میں ڈالا۔ نعوذ باللہ من ذالك۔ کیا آپ خواب کی تعبیر دے رہے ہیں۔ یا امت کو تفرقہ میں ڈالا۔ یہ امت کو ایک بڑے حادثہ سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حالانکہ حضرت ﷺ کو حق تعالیٰ سے بالمومنین رؤف رحیم کا خطاب ملا ہے اور یہ دونوں خداوند تعالیٰ کے اپنے توصیفی نام ہیں۔ ایسے انسان کامل سے ہرگز لعنت کی امید نہیں ہو سکتی۔ خصوصاً ” وما ينطق عن الهوى ان هوا الا وحی یوحی “ کا بھی مصداق ہو۔ یہ پیشین گوئیوں کا غلط نکلنا۔ آپ کے عیسیٰ جعلی کا حصہ ہے۔ ہم اپنے حضرت سید المرسلین وخاتم النبیین کو ایسے الزاموں سے بالکل بری جانتے ہیں اور تاویلوں کے در پے نہیں ہوتے مگر وہ کہ جن کو خدا اور رسول پر پورا ایمان نہ ہو۔ جیسا کہ ”فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله وما يعلم تاويله الا الله “ ﴿پس وہ لوگ جو بیچ دلوں ان کی کے کجی ہے۔ پس پیروی کرتے ہیں۔ اس چیز کی جو شبہ والی ہے۔ اس میں سے واسطے چاہنے گمراہی کے اور واسطے چاہنے تاویل اس کے اور نہیں جانتا تاویل اس کی کو مگر اللہ۔﴾ اور یہ ان لوگوں کی تردید میں ہے جو متشابہات کی تاویلوں میں لگے رہتے ہیں اور جو
١؎ مرزا قادیانی اس آیت کی رو سے جہنمی قرار دیئے جاتے ہیں: ” ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وسائت مصيرا “ ﴿اور جو کوئی برخلاف کرے۔ رسول کے پیچھے اس کے کہ ظاہر ہوئے۔ واسطے اس کے ہدایت اور پیروی کے مخالف راہ مسلمانوں کے متوجہ کریں گے۔ ہم اس کو جدھر متوجہ ہوا اور داخل کریں گے۔ ہم اس کو دوزخ میں اور بری ہے جگہ پھر جانے کی۔﴾
٢٠
آیات محکمات ہیں ان کی تاویل تو بطریق اولیٰ ممنوع اور با تاویلوں سے توبہ کریں اور قرآن اور حدیث کو پہلی اور سچی پر ایمان کی بناء ہے اور خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ ” ولقد یس مذکر “ ﴿اور البتہ تحقیق آسان کیا ہم نے قرآن واسطے پکڑنے والا ۔﴾
یہ آیت چار دفعہ حق تعالیٰ نے سورہ قمر میں فر نصیحت پکڑیں اور کاذب مسیح سے پرہیز کریں۔ کہ ان کی ہیں اور کئی بعد میں کرتے رہیں گے۔ چنانچہ حضرت سرور مثلاً ابن صیاد اور مسیلمہ کذاب وغیرہ وغیرہ۔
”عن ابي هريرة قال قال رسو يبعث كذابون دجالون قريب من ثلاثين ج ٢ ص ٤٥) “ ﴿روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسو تک کہ اٹھائے جائیں گے جھوٹے مکار تقریباً تیس تک ہے۔ یعنی ہر ایک دعویٰ نبوت کا کرے گا اور بہت سے اور نا کامیاب و ہلاک کیا ہے اللہ نے ان کو اور اسی طرح خارج ہے۔ اس گنتی سے کہ وہ دعویٰ الوہیت کا کرے گا
” وعن ثوبان قال قال رسو القبائل من امتى بالمشركين وحتى يعبد ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبي وان حديث صحيح، ترمذى ج ٢ ص ٤٥) “ ﴿روایت نہ قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ مل جائیں گے قبی یہاں تک کہ پوجیں گے بتوں کو اور تحقیق قریب ہے ہر ایک گمان کریں گے کہ وہ نبی ہے اور میں (خود رس نبی میرے بعد۔﴾
٢١
آیات محکمات ہیں ان کی تاویل تو بطریق اولیٰ ممنوع اور ناجائز ٹھہری۔ پس صاحب اپنی من بھاتی تاویلوں سے توبہ کریں اور قرآن اور حدیث کو پہیلی اور چیستان نہ قرار دیں۔ خصوصاً ان آیات کو جن پر ایمان کی بنا ہے اور خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ "ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر" ﴿اور البتہ تحقیق آسان کیا ہم نے قرآن واسطے نصیحت کے پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔﴾
یہ آیت چار دفعہ حق تعالیٰ نے سورہ قمر میں فرمائی ہے۔ مناسب ہے کہ آپ اس سے نصیحت پکڑیں اور کاذب مسیح سے پرہیز کریں۔ کہ ان کی طرح اور بھی پہلے نبوت کا دعویٰ کر چکے ہیں اور کئی بعد میں کرتے رہیں گے۔ چنانچہ حضرت سرور دو عالم ﷺ نے پہلے ہی خبر فرمادی ہے۔ مثلاً ابن صیاد اور مسیلمہ کذاب وغیرہ وغیرہ۔
"عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتی يبعث کذابون دجالون قریب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله (ترمذی ج ٢ ص ٤٥) ﴿روایت ہے ابوہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ اٹھائے جائیں گے جھوٹے مکار تقریباً تیس تک۔ ہر ایک گمان کرے گا کہ رسول اللہ کا ہے۔ یعنی ہر ایک دعویٰ نبوت کا کرے گا اور بہت سے ہو گزرے ہیں۔ ان میں سے بہتوں کو رسوا ناکامیاب و ہلاک کیا ہے اللہ نے ان کو اور اسی طرح کرے گا۔ باقی مدعیوں کے ساتھ اور دجال خارج ہے۔ اس گنتی سے کہ وہ دعویٰ الوہیت کا کرے گا۔﴾
"وعن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة تلحق القبائل من امتی بالمشركين وحتی يعبدوا الاوثان وانه سيكون فی امتی ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبی وانا خاتم النبيين لا نبی بعدی (هذا حدیث صحیح، ترمذی ج ٢ ص ٤٥)" ﴿روایت ہے ثوبان سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ مل جائیں گے قبیلے میری امت سے مشرکوں کے ساتھ اور یہاں تک کہ پوجیں گے بتوں کو اور تحقیق پیدا ہوں گے میری امت میں تیس جھوٹے۔ ہر ایک گمان کریں گے کہ وہ نبی ہے اور میں (خود رسول اللہ ﷺ) خاتم النبیین ہوں، نہیں کوئی نبی میرے بعد۔﴾
٢١
اب میں اپنی دلائل کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے من گھڑت سوال جو ہماری طرف منسوب کئے ہیں اور ان کے جواب جو آپ نے دیئے ہیں۔ تردید کرتا ہوں۔ شاید ضمناً کچھ دلائل بھی ہوں۔
اولاً گزارش ہے کہ جو تفسیر سورۃ والشمس میں آپ نے درفشانی کی ہے۔ اس کے رسم خطی اور عبارت دیکھ کر اطفال مکتب بھی کھلی مچاتے ہیں۔ آپ کی قابلیت اس سے سمجھ آتی ہے جو آپ شک بہ ”ق“ لکھتے ہو بہر ان باتوں سے کیا کام۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ نے کلام ربانی کے ظاہر معانی چھوڑ کر کل الفاظ کی تاویلات ضعیفہ کر کر اپنے مطلب کو ثابت کیا ہے۔ یہ اقوال صحابہ کرام و تفاسیر مفسرین متقدمین کے برخلاف ہے۔
حالانکہ بہ مصداق حدیث ”خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ثم فثم “ ﴿یعنی آپ نے فرمایا سب زمانوں سے میرا زمانہ اچھا ہے۔ پھر وہ جو ان کو دیکھنے والے ہیں یعنی تابعین۔ پھر وہ جو ان کو دیکھنے والے ہیں یعنی تبع تابعین پھر پس۔﴾ یعنی جو لوگ حضرت ﷺ کے زمانہ کے قریب ہیں۔ وہ پچھلوں سے دین کے مسائل میں اچھے پہنچنے والے ہیں۔ دیکھئے تفسیر عباسی جو تفسیر عبداللہ بن عباسؓ کہ جو ثقہ صحابہ سے ہیں اور تفسیر القرآن بخاری شریف و باقی تفاسیر جو تیرہ سو (١٣٠٠) سال کی بتائی ہوئی ہیں۔
کیا کسی صحابہ نے یہ تاویلیں کی ہیں۔ یا آپ ہی کی من بھانی باتیں ہیں۔ ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من قال فی القرآن برأیہ فلیتبوأ مقعدہ فی النار وفى رواية من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ فی النار (رواہ ترمذی ج ٢ ص ١٢٣) “ ﴿جو شخص کہ قرآن میں اپنی رائے سے کہے۔ پس چاہئے کہ تیار کرے جگہ اپنی بیچ آگ کے اور ایک روایت میں ہے۔ جو کہے قرآن میں بغیر علم کے پس چاہئے کہ بنائے اپنی جگہ آگ میں۔﴾
اور ابن عمرؓ سے مروی ہے: ”اتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذ شذ فی النار (مشکوٰة ص ٣٠) “ ﴿حضرت ﷺ نے فرمایا ہے تابعداری کرو۔ جماعت بڑی کی اس لئے کہ جو شخص اکیلا ہوا ڈالا جائے گا آگ میں۔﴾
پس جو شخص سواد اعظم کی اتباع چھوڑ کر سوائے اس کے اپنی رائے سے قرآن کے الفاظ ٢٢
میں تاویلیں کرے۔ وہ ایسی حدیثوں کا مصداق ہوگا۔ اگر بفرض آپ نے قمر سے مراد لی ہے۔ وہ مانی بھی جائے تو بھی کیا وجہ قادیانی ہی مراد لے جائیں اور عموماً خلفاء راشدین اور اولیاء الکرام یہ جو آپ نے بیان کیا ہے کہ قمر شمس کے تابع ہوتا ہے اور شمس سے مستفید کرتا ہے۔ کیا یہ وصف ان خلفاء عظام واولیاء کرام میں جن من الشمس ہیں موجود نہ تھے۔
خیال کیجئے۔ کہ گروہ کے گروہ مشرکین و یہود و نصاریٰ ا ہیں اور ظاہری و باطنی فیوض سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ آپ بتلا سے کتنے مشرک یا نصاریٰ یہود اسلام لائے اور دینی فیض پایا؟ پھر صدی کا آدمی قمر بنا۔ حضرت قمر تو ہمیشہ شمس کے تابع ہوتا ہے۔ نہ کہ تو قیامت تک شمس کا تابع رہے گا۔
آپ کا بنایا ہوا قمر تو خاک میں مل گیا ہے۔ ایسی کچی تاو یہ تو صرف خبط اور پگلہ پن ہے۔ آپ کی یہ تفسیر سراپا مخالف اجما آپ کو باز آنا لازم ہے۔ ”والله يهدی من یشاء الى صرا الصراط المستقیم آمین۔ ثم آمین “
آپ کے سوالات و جوابات جن کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے تسلی قلب قلع قمع “ قلع قمع کے معنی تو آپ کو نہ آتے ہوں گے مگر طوطی قولہ سوال ”یہ صاحب کہا کرتے ہیں کہ کہاں عیسیٰ مسیح یا ا نہیں آئے۔ ہم کو کوئی ابھی گمان بھی نہیں ۔“ الجواب تو آپ سوال بھی اگر خواندہ ہو یا نا خواندہ مگر خواندہ یا خواندہ سے سیکھ کر کہو میں تسلی بخش ہو رہا ہے۔ ہم کو اس کا جواب دینا فرض ہوا۔ لیکن بھائی سوال کیسا گندہ اور کچا اور بودہ ہے۔ کیونکہ کوئی دلائل قرآن اور حدی جمع خرچ ہے۔ (الخ تا ص ٢٤)
صاحبا چونکہ سوال کی عبارت آرائی آپ جیسے منشی کریں ٢٣
میں تاویلیں کرے۔ وہ ایسی حدیثوں کا مصداق ہوگا۔ اگر برخلاف اجماع امت مرحومہ کے جو آپ نے قمر سے مراد لی ہے۔ وہ مانی بھی جائے تو بھی کیا وجہ ہے۔ کہ اس سے خاص مرزا قادیانی ہی مراد لے جائیں اور عموماً خلفاء راشدین اور اولیاء المکرمین کیوں نہ لئے جائیں اور یہ جو آپ نے بیان کیا ہے کہ قمر شمس کے تابع ہوتا ہے اور شمس سے نور حاصل کرے اور ان کو مستفید کرتا ہے۔ کیا یہ وصف ان خلفاء عظام واولیاء کرام میں جن کے الہامات وکرامات اظہر من الشمس ہیں موجود نہ تھے۔
خیال کیجئے۔ کہ گروہ کے گروہ مشرکین و یہود و نصاریٰ ان کے ہاتھ سے اسلام لائے ہیں اور ظاہری و باطنی فیوض سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ آپ بتلائیں کہ مرزا قادیانی کی دعوت سے کتنے مشرک یا نصاریٰ یہود اسلام لائے اور دینی فیض پایا؟ پھر بڑا تعجب ہے کہ ایک چودھویں صدی کا آدمی قمر بنا۔ حضرت قمر تو ہمیشہ شمس کے تابع ہوتا ہے۔ نہ کہ تیرہ سو ١٣٠٠ سال کے بعد۔ قمر تو قیامت تک شمس کا تابع رہے گا۔
آپ کا بنایا ہوا قمر تو خاک میں مل گیا ہے۔ ایسی کچی تاویلوں سے کام ہرگز نہیں نکلتا۔ یہ تو صرف خبط اور پگلہ پن ہے۔ آپ کی یہ تفسیر سراپا مخالف اجماع جم غفیر ہے۔ اس عقیدہ سے آپ کو باز آنا لازم ہے۔ ”واللہ یھدی من یشآء الیٰ صراط مستقیم۔ اللّٰھم اھدنا الصراط المستقیم آمین۔ ثم آمین“
آپ کے سوالات وجوابات جن کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے۔ ”مخالفان جماعت احمدیہ کا تسلی قلب قلع قمع“ قلع قمع کے معنی تو آپ کو نہ آتے ہوں گے مگر طوطی وار کہہ دیا ہے۔
قولہ سوال ”یہ صاحب کہا کرتے ہیں کہ کہاں عیسیٰ مسیح یا امام آخر الزمان آئے ابھی کوئی نہیں آئے۔ ہم کو کوئی ابھی گمان بھی نہیں“۔ الجواب تو آپ سوال بھی متفرق طور پر کرتے ہو۔
اگر خواندہ ہو یا ناخواندہ مگر خواندہ یا ناخواندہ سے سیکھ کر کہتا ہے۔ یہ سوال ہمارے ملک میں تسلی بخش ہو رہا ہے۔ ہم کو اس کا جواب دینا فرض ہوا۔ لیکن بھائی تم اپنے دل میں سوچ لو کہ یہ سوال کیسا گندہ اور کچا اور بودہ ہے۔ کیونکہ کوئی دلائل قرآن اور حدیث سے نہیں صرف تمہارا زبانی جمع خرچ ہے۔ (الحج ناس ٢٤)
صاحبا چونکہ سوال کی عبارت آرائی آپ جیسے منشی کریں تو پھر گندہ و بودہ کیوں نہ ہو۔
٢٣
سبحان اللہ! جواب کے بعد پھر بھی سوال ہی کی تقریر شروع ہورہی ہے۔ صاحبا! سائل کا منشا تو یہ تھا کہ جس شخص کو تم عیسیٰ موعود و مہدی و معبود بناتے ہو۔ اس میں تو ہمارے گمان میں عیسائیت و مہدویت کے حسب فرمان مخبر صادق ﷺ کے ایک نشانی بھی نہیں پائی جاتی۔
مثل مشہور ہے کہ کاٹھ کا بلا تو میاؤں کون کرے؟ پھر آپ نے جواب کا خلاصہ یہ لکھا ہے۔ ”بھائی صاحبان تم نے قادیاں جا کر مرزا قادیانی کی باتیں نہیں سنیں اور ان کی کتابوں کی تحقیقات نہیں کی۔ کیونکہ یہ نبی آخر الزماں ہے۔ اس پر گنتی رسولوں کی ختم ہو گئی۔ جس طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”واذا الرسل اقتت“ اور جب رسولوں کی گنتی پوری ہو جائے گی۔ پس ابتداء وانتہا خدا تعالیٰ کے کاموں کا ہم مثل ہوتا ہے اور اس کے کام اس طرح سے سرانجام ہوتے ہیں۔ اور دوسرا تم نے سجدہ شکریہ ادا نہیں کیا۔ دونوں کام جو کئے برعکس کئے اور یہ کام شیطان کے تھے۔ جو تم نے کر لئے۔“ دیکھو یہ کلام کیسا لغو و بکواس ہے اور مخالف نص اور حدیث کے ہے۔
صاحبا تم تو ماہر قرآن ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔ اب آیت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ وحدیث ”لا نبي بعدي “ کو پس پشت ڈال کر ”كمثل الحمار يحمل اسفارا “ بن گئے۔ اسی کو کہتے ہیں۔ ”من حرامی حجتاں ڈھیر“ ۔ آپ نے ہمارے ذمہ دو شیطانی کام لگائے ہیں۔ ایک قادیان نہ جانا، دوسرا سجدہ شکریہ بجا نہ لانا۔
صاحب اس دعوے کی آپ کے پاس کون سی آیت یا حدیث دلیل ہے؟ یا صرف من گھڑت بات ہے۔ آپ کا عقیدہ جو مخالف آیت وحدیث مرقومہ ہے۔ آپ کو خود شیطان بنا رہا ہے۔ مثل ہے کہ جو جان بوجھ کر اندھا ہو اس کا دارو کیا۔ آپ کو اس گندہ عقیدہ سے باز آنا لازم ہے۔ ورنہ بہت پچھتاؤ گے۔ ”من يهدى الله فلا مضل له ومن يضلل الله فلا هادى له“
قولہ سوال ”مسیح اور مہدی کا ابھی کوئی نشان نہیں آیا۔ اگر آئے تو اور رنگ ہو جائے گا۔ وہ بادشاہی دنیا کی ہمراہ لائے گا۔ ملک فتح کرے گا۔ کفار کو تہ تیغ کر کے اسلام پر لے آئے گا اور دجال آئے گا۔ تو ایک گدھے پر چڑھ کر آئے گا اور کہے گا کہ ہم خدا ہیں۔ ہماری خدائی کو مانو بہت خلقت اس کے ساتھ ہو جائے گی۔ جو اس کو نہ مانے گا تو بارش بند کر دے گا اور گدھا اس کا ستر باع کا ہو گا اور سو کوس پر لید کرے گا۔ اس کے آگے دخان کا پہاڑ چلے گا۔ وغیرہ وغیرہ اور یاجوج ماجوج آئیں گے۔ تو پانی سب دریاؤں کا پی جائیں گے۔ کچھ نہ چھوڑیں گے۔ بلند مکان پر کھڑے ہو کر تیر آسمان پر چلائیں گے اور وہ خون آلودہ آئیں گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ جس طرح ہماری کتابوں میں
٢٤
لکھا ہے۔ اگر اس طرح نہ آئیں تو ہم نہیں مانیں گے۔ ”بھائی صاحب میں تم کو ایک جواب مختصر دوں گا۔ (الخ تا ص ٣٥)
اس سوال میں آپ نے بعض فقرے ایسے درج کئے ہیں۔ جن کی کوئی اصل نہیں اور صرف جہلاء کے دھوکہ دینے کو یوں ہی لکھ مارے ہیں۔ وہ یہ کہ سوکوس پر لید کرے گا۔ اس کے آگے دخان کا پہاڑ چلے گا۔ یہ مرزائی جماعت کے گھر کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ تاکہ ریل کو گدھا بنانے میں کام آئیں۔ دخان تو قریب قیامت کے ایک علیحدہ علامت ہے۔ جیسا کہ دابۃ الارض قال اللہ تعالیٰ ”فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین ٠ یغشی الناس ھذا عذاب الیم “ وہ ایک ایسا دھواں ہوگا۔ جو مشرق و مغرب تک زمین کو آسمان تک گھیر لے گا اور چالیس دن رہے گا اور خلقت کو بہت تنگ کرے گا۔ جیسا کہ لفظ ”عذاب الیم “ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اس کی پوری تفصیل تفسیروں اور حدیثوں میں ہے۔
آپ کا اس کو ریل کا دھواں بنانا کیسا خلاف آیت اور حدیث ہے۔ آیت اس کے ”عذاب الیم“ ہونے کی گواہی دے رہی ہے اور حدیث سب زمین و آسمان پر گھیر لینے اور چالیس دن رہنے کی کیا آپ کے مقرر شدہ دھواں میں بھی یہ وصف ہیں۔ ہرگز نہیں آیت وحدیث کے منکر کا حکم آپ بخوبی جانتے ہیں اور یہ جو لکھا ہے کہ گدھا اس کا ستر باع کا قد آور ہوگا۔ یہ بھی برخلاف حدیث ہے۔ ”عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال یخرج الدجال علی حمار اقمر مابین اذنیہ سبعون باعا (تاریخ کبیر بخاری ج ١ ص ١٩٩ حدیث نمبر ٦١٤)“
﴿نکلے گا دجال اوپر گدھے سفید کے جو میان ہر دو کانوں اس کے ستر باع کا فاصلہ ہوگا۔﴾
اس حدیث سے یہ بھی صاف معلوم ہوا کہ دجال کے گدھے کا سفید رنگ ہوگا۔ کیونکہ اقمر سخت سفید کو کہتے ہیں۔ پس یہ حدیث بھی ریل کے گدھا بنانے کی مانع ہوئی۔ کہ وہ سیاہ رنگ ہوتی ہے۔ مگر اندھوں کے آگے سیاہ وسفید برابر ہے۔ پھر اس سوال کا جواب جو لکھا ہے۔ وہ بعینہ مصداق سوال گندم جواب چنا کا ہے۔ وہ بھی ریت میں ڈالا ہوا۔ آپ کی درہم برہم عبارت کے سوال کا پہلا فقرہ یہ ہے۔
١؎ شاید آپ کہیں کہ ریل میں فرسٹ کلاس کی گاڑی سفید ہوتی ہے۔ مگر اس میں بھی دو نقص لازم آتے ہیں۔ ایک تو گدھے ہزار ہا ٹھہرے اور دوسرا مرزا قادیانی سواری فرسٹ کلاس کے کرنے سے خود دجال بن گئے۔
٢٥
مسیح اور مہدی کا ابھی کوئی نشان نہیں آیا۔ جواب یہ نکلا کہ قوم نصاریٰ جو دجال ہیں یہی مسیح اور مہدی کے آنے کے نشان ہیں اور ان کے دجال ہونے کی یہ دلیل گزاری ہے کہ زمین آسمان وغیرہ سب ان کے تابع ہیں۔ جیسے آپ کی عبارت ”پانی آگ پہاڑ دریا برق آسمان زمین باد اشجار چشمے حیوان جن انسان، نباتات وغیرہ زیر حکم ہیں۔“ سو گزارش ہے کہ پانی وغیرہ سب کا تابع ہونا دجال کے کسی آیت وحدیث سے ثابت نہیں۔
البتہ زمین کی تابعداری بعض باتوں میں ثابت ہے۔ اگر بالفرض مانا بھی جائے تو پھر نصاریٰ میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ پانی یا آگ یا پہاڑ کو نصاریٰ اپنی طرف بلائیں۔ تو چلے آئیں۔ مینہ برسانا یا انگوری جمانا۔ ان کے اختیار میں ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر یہ ان کے زیر حکم ہوتی تو جابجا نہریں بڑی تکلیف اٹھا کر لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔ کبھی ایسی سخت بارش آتی ہے۔ کہ ان کی سڑکیں ونہریں بالکل خراب کر دیتی ہے۔ آپ کی ایسی بودی باتوں کو تو طفلان مکتب بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔
خدارا از راہ انصاف ذرا ان حدیثوں کی طرف تو غور کیجئے۔ جو رسالہ کے اول دجال کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ کیا ان سے دجال ایک شخص واحد ثابت ہوتا ہے۔ یا نہیں؟ حدیث میں آتا ہے کہ: ”ھو رجل“ نہ کہ ”ھو قوم“ اگر آپ کو حدیث کی سمجھ نہیں آتی تو یہاں آکر سمجھ جائیں کہ دین کے لئے شرم اچھی نہیں۔ پھر تعجب یہ ہے کہ آپ اپنی کتاب کے صفحہ ٣٢ کی سطر ٦ پر ان کو دجال بنا کر پھر اسی صفحہ کی سطر ١١ پر نصاریٰ کو یاجوج ماجوج بناتے ہیں۔ لکھتے ہو۔ ”لیکن یاجوج اور ماجوج کی قوم تو یہی ہے۔
اچھا دجال کہاں گیا دجال تو معلوم ہے۔ پادری صاحبان اور آریہ ہیں اور کل اقوام ان کی قوم کے تابع ہے۔ سچ ہے کہ جھوٹے گواہ کی زبان سے کبھی کچھ نکلتا ہے کبھی کچھ۔ آپ کا یہ صرف زبانی دعویٰ ہے۔ یا کوئی آیت حدیث بھی ہے۔ ہرگز نہیں (نعوذ بالله من ذالك اللغویات ) پھر فقرہ اگر آئے گا تو اور رنگ ہو جائے گا۔ اس کا جواب جو آپ نے لکھا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ دیکھو بھاپ اور آگ اور کئی کارخانہ کی مشینیں قسما قسم چلا رہے ہیں اور یعنی تار برقی دیکھو کہ ملک کی جاسوسی کر رہی ہے اور ڈاک کا کام بھی دیتی ہے اور پادری صاحبان کو دیکھو کیسے علم نکالے ہیں۔
٢٦
انجمنیں بنا کر وعظ شروع کئے اور فاحشہ عورتوں کو جو کنواری ہوں اور شکیلہ ہمراہ لے کر خلق اللہ کو وعظ کرنا اور عمدہ عمدہ راگ سنانا وغیرہ وغیرہ واہ رے آپ کی لیاقت وحماقت مسیح موعود کے زمانہ کی عجب شان دکھائی ہے۔ کیوں نہ ہو چونکہ آپ کے مسیح مرزا قادیانی ٹھہرے تو رنگ بھی ایسا ہی چاہئے۔
آپ نے اس فقرہ کا مطلب ہرگز نہیں سمجھا۔ سائل کا مقصود تو یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ دینداری کی رونق و اسلام کا روپ زیادہ ہوگا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ سب مال دنیا سے بہتر ہوگا اور طرح طرح کی برکت دیکھو۔ حدیث طویلہ کی بعض عبارت کا ترجمہ جو پہلے گزر چکی ہے۔ ”پس اس دن کھائے گا ایک گروہ ایک انار سے اور سایہ پکڑیں گے۔“
اس کی چھال میں اور برکت دی جائے گی۔ دودھ میں یہاں تک کہ ایک اونٹنی دودھ کی البتہ کفایت کرے گی۔ جماعت کثیر کو آدمیوں میں اور گائے دودھ کی کفایت کرے گی۔ قبیلہ کو آدمیوں میں سے اور ایک بکری دودھ کی البتہ کفایت کرے گی۔ تھوڑی سی جماعت کو آدمیوں میں سے نیز احادیث صحیحہ میں ”وتكون الملل كلها ملة الاسلام وترتع الاسد مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات (مسند احمد ج٢ ص٤٣٧)“ ﴿سب دین ایک دین اسلام کا ہو جائے گا اور چریں گے شیر ساتھ اونٹوں کے اور چیتے ساتھ گائیں کے اور بھیڑیئے ساتھ بکریوں کے اور کھیلیں گے لڑکے ساتھ سانپوں کے۔ چونکہ زمانہ حال میں یہ رنگ موجود نہیں۔ آپ کے مرزا مسیح موعود نہیں بن سکتے۔ ﴾
فقرہ ٣...... وہ بادشاہی دنیا کی ہمراہ لائے گا۔ ملک فتح کرے گا۔ کفار کو تہ تیغ کرے گا۔ پھر اس کے متعلق آپ آخری ورق پر لکھتے ہیں کہ ”بادشاہی دو قسم ہے ایک روحانی جیسے حضرت رسول اللہ ﷺ اور سب اولیاء اللہ ہیں۔
دوسری دنیاوی جسمانی اور مسیح موعود کے جسمانی بادشاہ ہونے پر کوئی دلیل نہیں صرف روحانی بادشاہ ہوں گے۔ جیسے مرزا قادیانی تھے ۔“ افسوس صد افسوس کہ آپ حضرت ﷺ کو بھی ظاہری بادشاہ قرار نہیں دیتے۔ کیا آپ کو آیات قتال و جہاد سب بھول گئیں۔ جنگ احد و جنگ حنین وغیرہ جن کا شاہد قرآن کریم ہے۔ یہ بھی یاد نہ رہے کیا جنگ کرنا ظاہر بادشاہوں کا کام نہیں۔ یہ بیت بھی یاد نہیں کہ۔
خرد بخش فرستاد کسریٰ و کی
٢٧
شاید آپ کے خیال میں ہوگا کہ آنحضرت ﷺ بھی مرزا قادیانی کی طرح کسی نصاریٰ کے باج گزار ہوں گے۔ ویسا ہی عیسیٰ علیہ السلام بھی ظاہری باطنی بادشاہ ہوں گے۔ دیکھو الفاظ احادیث صحیحہ يكون حكماً عادلاً ويكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧) ”حاکم عادل ہونا ظاہری بادشاہی کا لقب ہے یا نہیں؟ صلیب کا توڑنا اور جزیہ کا لینا یا معاف کرنا ظاہری بادشاہی کے متعلق ہے یا نہیں؟ بالفرض اگر ظاہری بادشاہ نہ ہوں تو وہ علامات جو آگے مذکور ہو چکی ہیں۔ ان کا ظہور تو ان کے زمانہ میں ضرور ہے۔ کیا مرزا قادیانی کے زمانہ میں ان سے ایک علامت بھی تھی ہرگز نہیں۔ پھر کیسے مرزا مسیح موعود بنے۔
فقرہ ٤...... دجال آئے گا گدھے پر چڑھ کر آئے گا اور کہے گا۔ کہ ہم خدا ہیں ہماری خدائی مانو۔ بہت خلقت اس کے ساتھ ہو جائے گی۔ جو اس کو نہ مانے گا تو بارش بند کر دے گا۔ دجال کا آنا وگدھے پر چڑھنا اور ربوبیت کا مدعی ہونا اور اکثر یہود کا اس کے تابع ہو جانا اور اس کے حکم سے بارش کا برسنا اور انگوروں کا اگنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ جیسا پہلی حدیثوں میں دیکھ چکے ہو۔
پس جن کو آپ دجال بنا رہے ہو۔ چونکہ ان میں یہ باتیں موجود نہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ دجال نہیں یہ آپ کا صرف خیالی پلاؤ ہے۔ پھر حدیث صحیح کے منکر کا حکم آپ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ بیان کی حاجت نہیں۔
فقرہ ٥...... ”یاجوج ماجوج آئیں گے تو پانی سب دریاؤں کا پی جائیں گے۔ کچھ نہ چھوڑیں گے۔ بلند مکان پر کھڑے ہو کر تیر آسمان پر چلائیں گے اور وہ خون آلود ہو کر آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔“ یاجوج ماجوج آپ نے نصاریٰ کو مقرر کیا ہے اور آسمان پر تیر مارنے کے بارے میں یہ لکھا ہے۔ کہ مرغی کے انڈوں میں چوبیس گھنٹہ تک حیوان پیدا کرنا اور پچکاری کے ذریعہ سے عورتوں کے رحم میں منی ڈال کر حاملہ کرنا۔ ایسے کام تیر مارنے تقدیر الہیٰ میں ہیں۔
یہ آسمان کو تیر مارنے نہیں تو کیا ہے؟ آپ کے اس سوال کے جواب پر یہ مقولہ خوب صادق آتا ہے۔ ”بکر تو ڈھٹیا داند تے کھوتے دا بھج گیا سنگ“ یہ خیال آپ کا کیسا مخالف قرآن وحدیث کے ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”قالوا يا ذا القرنين ان ياجوج وماجوج
٢٨
٤١٣ مفسدون فى الارض فهل نجعل لك خرجا ذرا اس آیت کی تفسیر دیکھیں اور ان کا حلیہ و فساد مفصل یاجوج ماجوج کا بلند مکانوں پر پھرنا اور آسمان کی طرف تیروں کا پھینکنا اور خون آلودہ واپس آ حدیث طویلہ مروی ہے۔ ”عن نواس بن سمعان جو آپ نے آسمان پر تیر پھینکنے کی تاویل پچکاری سے لی اوپر لکھا گیا ہے اور جو لکھا ہے۔ ”کہ ایسے کام تیر مارن سکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ پہاڑ اپنے مکان س آپ منکر بالقدر ٹھہرے حالانکہ ایمان بالقدر فرض ہے
سوال...... ”بعضے کہتے ہیں کہ نشان مہدو اہل رائے کے نزدیک کیسا پوچ سوال ہے۔ صرف با نے ابھی کوئی نہیں دعویٰ کیا......الخ۔“ افسوس آپ کی حالت پر کہ یہ بھی نہیں سمجھ علامات قیامت جو قرآن وحدیث میں بیان ہو قیامت کے وقت؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اقتربت السا گزر چکی ہے؟ شاید آپ نے بادل کبھی نہیں بارش شروع ہو جاتی ہے؟ پھر جو آپ نے طاعون کو حدیث آپ کی سند ہے۔ یا صرف من بھاتی گپ ہے
اِ مختصراً کچھ حلیہ بیان کیا جاتا ہے۔ علی بعض کے قد کی مقدار ایک بالشت کی ہیں اور بعض ان میں سے قد مثل درخت ارز کے ہے۔ جو ولا یہ اور بعض کا طول وعرض برابر ہے اور بعض کے کانا دوسرے سے لحاف بناتے ہیں۔
٢٩
مفسدون فى الارض فهل نجعل لك خرجا على ان تجعل بيننا وبينهم سدا " ذرا اس آیت کی تفسیر دیکھیں اور ان کا حلیہ لے و فساد مفصل مطالعہ فرمائیں۔ یاجوج ماجوج کا بلند مکانوں پر پھرنا اور پانی کا پی جانا اور زمین والوں کو قتل کرنا پھر آسمان کی طرف تیروں کا پھینکنا اور خون آلودہ واپس آنا۔ یہ سب احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ حدیث طویلہ مروی ہے۔ ”عن نواس بن سمعان“ جو پہلے لکھی ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں اور جو آپ نے آسمان پر تیر پھینکنے کی تاویل پچکاری سے لی ہے۔ یہ تو کوئی احمق بھی نہیں مانتا جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے اور جو لکھا ہے۔ ”کہ ایسے کام تیر مارنے تقدیر الٰہی ہیں۔“ کیا انسان تقدیر کو بدل سکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ پہاڑ اپنے مکان سے دور ہوسکتا ہے۔ مگر تقدیر ہرگز نہیں بدلتی۔ آپ منکر بالقدر ٹھہرے حالانکہ ایمان بالقدر فرض ہے۔ (نعوذ بالله من ذالك الاعتقاد)
سوال ....... ”بعضے کہتے ہیں کہ نشان مہدی تو اکثر آگئے ہیں۔ اب مہدی آجائے گا یہ اہل رائے کے نزدیک کیسا پوچ سوال ہے۔ صرف بلا مغز کیونکہ نشان اور گواہ حاضر ہوگئے۔ مدعی نے ابھی کوئی نہیں دعویٰ کیا ...... الخ۔“
افسوس آپ کی حالت پر کہ یہ بھی نہیں سمجھا کہ علامت و شرط چیز سے پہلے ہوتی ہے۔ کیا علامات قیامت جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے آئیں گی۔ یا قیامت کے وقت؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اقتربت الساعة وانشق القمر“ ٭ ﴿انشقاق قمر کو کتنی مدت گزر چکی ہے؟﴾ شاید آپ نے بادل بھی کبھی نہیں دیکھے جو بارش کا نشان ہے۔ کیا وہ آتے ہی بارش شروع ہو جاتی ہے؟ پھر جو آپ نے طاعون کو دابة الارض کہا ہے۔ کون سی آیت اور کون سی حدیث آپ کی سند ہے۔ یا صرف من بھاتی گپ ہے؟
لے مختصراً کچھ حلیہ بیان کیا جاتا ہے۔ علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ ان میں سے بعض کے قد کی مقدار ایک بالشت کی ہے اور بعض بہت بلند، چنانچہ حدیث میں ہے۔ ایک قسم کا ان میں سے قد مثل درخت ارز کے ہے۔ جو ولایت شام میں ہوتا ہے اور اس کا طول ١٢٠ گز ہے اور بعض کا طول وعرض برابر ہے اور بعض کے کان ایسے لمبے ہوتے ہیں کہ ایک سے فرش اور دوسرے سے لحاف بناتے ہیں۔
٢٩
قال الله تعالى : " واذا وقع القول عليهم اخرجنا لهم دابة من الارض تكلمهم ان الناس كانو باياتنا لا يوقنون " ﴿ جب واقعہ ہو گا قول آدمیوں پر ہم نکالیں گے۔ واسطے ان کے ایک جانور زمین سے جو بات کرے گا ساتھ ان کے یہ کہ انسان ہماری آیات قدرت کے ساتھ یقین نہیں لاتے۔﴾
تفسیروں میں آیا ہے کہ وہ ایک جانور ہے۔ طول اس کا ساٹھ (٦٠) گز ہوگا۔ چار پاؤں بال زرد باریک جیسا کہ چمچی کے بچے ہوتے ہیں۔ دو پر بڑے ہوں گے۔ کوئی اس سے بھاگ نہ سکے گا۔ نہایت روشن ہوگا۔ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ سر اس کا گائے کی مانند ہوگا۔ عین المعانی میں ہے کہ آنکھ اس کی خوک کی مانند۔ کان مانند فیل۔ سینگ گائے پہاڑی، رنگ مانند پلنگ۔ گردن مانند شتر مرغ۔ سینہ مانند شیر۔ پہلو مانند یوز۔ پاؤں مانند شتر۔ دم مانند دنبہ۔
حدیث میں آتا ہے کہ وہ مسجد حرام سے نکلے گا۔ آدمی دیکھتے ہوں گے۔ تین روز کے بعد اس کا ثلث باہر نکلے گا۔ عصائے موسیٰ و خاتم سلیمان اس کے ہاتھ میں ہوں گے۔ جس کو عصا لگائے گا۔ اس کا منہ سفید ہو جائے گا اور کافروں کی آنکھوں کے درمیان خاتم سلیمان لگائے گا۔ ان کے منہ سیاہ ہو جائیں گے۔ پس تمام دنیا میں کوئی آدمی نہ رہے گا۔ مگر سیاہ یا سفید منہ والا کسی کو نام سے نہ بلائے گا۔
سفید منہ کو بہشتی کر کے بلائیں گے اور سیاہ منہ کو دوزخی۔ (تفسیر حسینی وغیرہ)۔ فرمائیے آپ کے دابۃ الارض میں یہ وصفیں موجود ہیں؟ ہرگز نہیں۔ صرف دعویٰ بلا دلیل ہے۔ ” وعن عبدالله ابن عمر قال سمعت رسول الله ﷺ یقول ان اول الآیات خروجا طلوع الشمس من مغربها خروج الدابة على الناس ايهما ما كانت قبل صاحبتها فالا خری علی اثرها قریبا (رواه مسلم ج ٢ ص ٤٠٤) “ ﴿جس کا حاصل یہ ہے کہ طلوع الشمس و خروج دابہ قریب قریب ہوگا۔ یعنی جب ایک ہوگا۔ دوسرا اس کے پیچھے جلدی ہو گا کچھ دیر نہ ہوگی۔﴾
پس آپ کا دابہ تو نکلا مگر طلوع شمس مغرب سے نہ ہوا۔ شاید آپ کے شہر میں ہوا ہوگا۔ اگر آپ یہ دعویٰ کرو کہ طلوع شمس من المغرب ہو چکا ہے۔ پھر پس چونکہ بعد طلوع بموجب مُغلق باب التوبہ دروازہ توبہ کا بند ہو گیا۔ تو پھر آپ کا ایمان لانا مرزا کے ساتھ بے سود ہوگا۔ العیاذ باللہ
٣٠
من ہذہ الھفوات والواہیات۔
سوال....... ” مہدی اور مسیح آخرالزمان آیا تو وہ کر کے مسلمان کرے گا اور مہدی اور ہے اور عیسیٰ اور۔“
پہلے دو فقرہ کی نسبت آگے لکھا گیا ہے۔ اخیر ” حدیث لا مهدی الا عیسی ۔ سب قضیہ جات کو تطبیق نہ ہو یہ جاہلی ہے۔“
آفریں آپ کی عقل اور آپ کے انصاف پر ضعیف پر جو قابل تاویل بھی ہو عمل کرنا اسی کا نام تطبیق و احادیث مشہورہ کی تاویل کر لیتے ہو۔ اس حدیث میں جو
صاحب الغرض مجنون ۔
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تو آگے حد بارے میں بھی چند حدیثیں لکھی جاتی ہیں۔
” عن عبدالله بن مسعود قال قال حتى يملك العرب رجلا من اهل بيتي يواط ص ٤٧) “
” وفي رواية له لولم يبق من الدن حتى يبعث فيه رجل من اهل بيتي يواطی يملاء الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وج
” وعن ام سلمة قالت سمعت ر عترتى من ولد فاطمة (رواه ابو داؤد ج ٢ ص ٣١
” وعن ابي سعيد الخدرى قال ق اجلى الجبهة اقنى الانف يملأ الارض قسط يملك سبع سنين (رواه ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١) “
پس ان احادیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ
من ہذہ الہفوات والواہیات۔
سوال....... ”مہدی اور مسیح آخرالزمان آیا تو وہ بادشاہی لائے گا اور کفار کو بزور تلوار تہ تیغ کر کے مسلمان کرے گا اور مہدی اور ہے اور عیسیٰ اور۔“
پہلے دو فقرہ کی نسبت آگے لکھا گیا ہے۔ اخیری فقرہ کے جواب میں آپ نے لکھا ہے۔
”حديث لا مهدي الا عيسى ۔ سب قضیہ جات کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ جب حدیثوں کی تطبیق نہ ہو یہ باطل ہے۔“
آفریں آپ کی عقل اور آپ کے انصاف پر۔ کئی احادیث صحیحہ کو چھوڑ کر ایک حدیث ضعیف پر جو قابل تاویل بھی ہو عمل کرنا اسی کا نام تطبیق ہے۔ زیادہ تعجب تو یہ ہے کہ سب قرآن واحادیث مشہورہ کی تاویل کر لیتے ہو۔ اس حدیث میں تاویل کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ سچ ہے کہ صاحب الغرض مجنون۔
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تو آگے حدیثیں لکھ چکے ہیں۔ اب امام مہدی کے بارے میں بھی چند حدیثیں لکھی جاتی ہیں۔
”عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول الله ﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجلا من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى (رواه الترمذى ج ٢ ص ٤٧)“
”وفي رواية له لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذالك اليوم حتى يبعث فيه رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابی يملاء الارض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١)“
”وعن ام سلمة قالت سمعت رسول الله ﷺ يقول المهدى من عترتى من ولد فاطمة (رواه ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١)“
”وعن ابي سعيد الخدري قال قال رسول الله ﷺ المهدى منى اجلى الجبهة اقنى الانف يملأ الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجورا يملك سبع سنين (رواه ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١)“
پس ان احادیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ امام مہدی سید ہوگا اور اس کا نام محمد ہوگا
اور اس کے والد کا نام عبداللہ ۔ پس اس سے بخوبی واضح ہوا کہ امام مہدی نہ عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ہیں ۔ نہ غلام احمد قادیانی بلکہ ایک شخص علیحدہ ہے باقی رہی حدیث لا مھدی الا عیسیٰ علیہ السلام جس پر آپ کا بڑا زور ہے۔
اول تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ نقادان حدیث مثل محمد ابن جزری وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ پس آیات واحادیث صحیحہ کا کس طرح مقابلہ کر سکتے ہو؟ شیخ محمد اکرم صابری نے اس حدیث کو اپنی کتاب اقتباس الانوار میں کلام محذوف پر حمل فرمایا ہے۔ یعنی لا مھدی بعد المھدی المشہور الذی ہو من اولاد محمد وعلی علیہم السلام الا عیسیٰ ۔ بلکہ مرزا قادیانی کے ایک شعر سے بھی ان کا دو ہونا ثابت ہے۔ وہ یہ ہے۔
ہر دورا شہسوار می بینم
شاید آپ پھر اس عقیدہ سے پھر گئے ہوں۔ جیسا کہ پہلے عیسائیوں کو دجال اور ریل ودابۃ الارض بنا کر آخر عیسائیوں کو یاجوج ماجوج طاعون کو دابۃ الارض قرار دیا ہے۔ افسوس ایسے نامعقول اعتقاد پر اور جو لکھا ہے۔ ”جب حدیثوں کی تطبیق نہ ہو۔ یہ جاہلی ہے ۔“
صاحب آپ تطبیق کے معنی جانتے ہو۔ لفظ کی کتابت تو اصل رسالہ میں تطبیق بہ حرف تا لکھتے ہو۔ معنی بھی ویسے ہی جانتے ہوں گے۔ سنئے اصولیین کا قاعدہ ہے کہ جب دو حدیثیں آپس میں متعارض ہوں تو پہلے ان کی تاریخ معلوم کی جاتی ہے۔ اگر یقیناً معلوم ہو جائے کہ یہ اول فرمائی ہے تو اول کو منسوخ ، ثانی کو ناسخ مقرر کیا جاتا ہے اور عمل آخر پر ہوتا ہے۔ مگر اس جگہ یہ بات محقق نہیں۔
اگر تاریخ معلوم نہ ہو تو ان کی قوت وضعف کی طرف خیال کیا جاتا ہے۔ قوی پر عمل ہوتا ہے اور ضعیف کو چھوڑا جاتا ہے۔ جیسا کہ مانحن فیہ ۔ اگر قوت ضعف میں دونوں برابر ہوں تو پھر بموجب کلیہ اذا تعارضا تساقطا دونوں کو چھوڑ کر قول صحابہ واجماع کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
پس یہ کلیہ ہمارا مددگار آپ کو جھٹلا رہا ہے۔ بالفرض لا مھدی الا عیسیٰ کو اگر صحیح بھی مانا جائے تو پھر بھی مرزا قادیانی کو مفید نہیں۔ کیونکہ جب ارادہ مثیل کا ابن مریم سے بشہادت
٣٢
آیات قرآنیہ سے ممتنع ہوا تو پھر وہی عیسیٰ بن مریم جو نبی وقت تھا مہدی بنا، مرزا قادیانی کو کیا فائدہ!! احادیث نزول عیسیٰ اور ظہور دجال متواترۃ المعنی ہیں۔ مسلمانوں کو ایمان ان کے ساتھ ضروری ہے۔ ہرگز ہرگز کسی کے دھوکے میں نہ آنا چاہئے۔ فالله خیر حافظا وهو ارحم الراحمین۔
اور دیکھئے مرزا قادیانی کا دھوکہ کہ شیخ محمد اکرم صابری صاحب اقتباس الانوار کو مرزا قادیانی اپنی تالیف (ایام الصلح ص ١٤٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٣) پر اپنے دعویٰ کی تائید کے لئے بایں صفت موصوف کرتے ہیں۔ ”شیخ محمد اکرم صابری کہ از اکابر صوفیاء متأخرین بودہ اند“ صرف اسی قدر نقل کرتے ہیں کہ: ”وبعضی برآنند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند ونزول عبارت از ہمیں بروز است مطابق ایں حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“ بعد اس کے شیخ محمد اکرم صابری کا قول ہذا ”وایں مقدمہ بغایت ضعیف است“ حذف کر دیتے ہیں۔ تاکہ ہمارے دعویٰ کی تردید محمد اکرم صاحب کے ہی قول سے نہ ہو جاوے۔
شیخ محمد اکرم صاحب کا قول ہم بعینہ نقل کرتے ہیں۔ شیخ محمد اکرم صابریؒ اقتباس الانوار کے صفحہ ٥٢ پر بروزی نزول کی تضعیف فرماتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”و بعضی برآنند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند و نزول عبارت ازیں بروز است مطابق ایں حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“ و ایں مقدمہ بغایت ضعیف است۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ٥٢ پر لکھتے ہیں۔
”یک فرقہ برآں رفتہ اند کہ مہدی آخر الزماں عیسیٰ بن مریم است و ایں روایت بغایت ضعیف است زیرا کہ اکثر احادیث صحیح و متواتر از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود و عیسیٰ بن مریم باو اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد و جمیع عارفان صاحب تمکین بر ایں متفق اند۔ چنانچہ شیخ محی الدین بن عربی قدس سرہ در فتوحات مکیہ مفصل نوشتہ است کہ مہدی آخر الزماں از آل رسول ﷺ من اولاد فاطمہ زہرا ظاہر شود۔“
یہی تو سراسر دھوکہ ہے۔ اپنے مطلب کی عبارت اس میں سے لے لی اور اپنے دعویٰ کی تردید کی عبارت چھوڑ دی۔ وہ سوال جو اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور جواب کے منتظر ہو۔
سوال یہ ہے کہ ”سورت ام الکتاب کہ وہ کل مجموعہ ہی قرآن کریم کے کل مقاصد کا اور عظمت الٰہی و امر و نواہی اور بندہ کے لئے دعاؤں کا اور حاجات کا مکمل فوٹو ہے اور نمازوں میں کم از
٣٣
کم چالیس مرتبہ بقدر تعداد رکعات دن میں دعا مانگتے ہو۔ اس میں جو ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم“ اور انعمت علیھم سے مراد کل تفاسیر سے مراد نبی اور رسول مراد لیتے آئے ہیں اور تم بھی لیتے ہو اور رسول کریم ﷺ بھی مراد لی ہے اور عقل بھی یہی ادراک کرتا ہے۔
کیا اس میں جو انعام وحی اور الہام کا مستقیم راستہ والوں پر اور انعمت علیھم گروہ کے لوگوں پر نازل ہوا اور یہی سرچشمہ ہدایت اور انعمت مقصود اصل اس گروہ کا ہے۔ کیا تم اس امر کو اپنی حاجات اور مقصود سے خارج کر کے دعا مانگتے ہو۔ فھو منتظر مکیں۔“
سوال کی عبارت کیسی کچی اور بے ڈھنگی ہے کہ بچے بھی دیکھ کر ہنستے ہیں۔ یہ سوال مرزا قادیانی کی جانب سے اور اس کا جواب پیر صاحب (پیر مہر علی شاہ) کی جانب سے سیف چشتیائی میں موجود ہے۔ وہ بعینہ نقل ہوتا ہے۔
سوال...... اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی کہ ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم“
اقول...... اس کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ! بتا ہم کو ان لوگوں کا سیدھا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ یعنی ہم بھی ان کی مانند کتاب آسمانی کی ہدایت کے مطابق تیری عبادت والے سیدھے راستے پر چلنے سے تیری حب و انس و رضا و لقاء کو پالے ویں۔
اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم بھی انبیاء و رسل گزشتہ کا مقام نبوت و رسالت حاصل کرلیویں یا بہ سبب کمال اتباع کے ان کے لقب مخصوص کے مستحق بن جائیں۔ کیونکہ نبوت و رسالت مع لوازم اپنے کے القاب ہوں یا احکام خاصہ ”ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء (مائدہ:٥٤)“ سے تعلق رکھتے ہیں۔
یعنی موہوبی ہیں نہ کسبی اور بسبب اتباع کے اگر القاب خاصہ اور احکام خاصہ مل سکتے تو خلفاء اربعہ اور حسنین اور اولیاء سلف رضوان اللہ علیہم بڑا استحقاق رکھتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ باوجود شان انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ کے فرماتے ہیں۔ ”الا وانی لست بنبی ولا یوحیٰ الیٰ“ حضرت علیؓ اور ایسا ہی حضرت عمرؓ کے مکاشفات و اخبارات حقہ جن پر تاریخ اور کتب سیر شاہد ہیں۔ وحی نہیں کہا گیا اور نہ ان کے سبب سے ان کو نبی کہلوانے پر جرأت ہوئی۔
٣٤
بلکہ جب دیکھا کہ ہمارے مکاشفات و اخبارات ا باعث یہ لوگ ہم کو نبی اور موحیٰ الیہ سمجھیں گے ۔ تو جھٹ ان تنبیہا کلمہ الا کہ ساتھ کہا کہ ”الا وانی لست بنبی ولا حضرت علی کرم اللہ وجہہ و حضرت عمرؓ و حضرت ابو بکر صدیقؓ و حضر و اخبارات حقہ نبوت کے مدعی نہ ہوئے تو پھر مرزا قادیانی باوج خود ان کی پیشین گوئی کاذبہ صدہا شاہد ہیں۔ کیسے مدعی نبوت ایک دو پیشین گوئی بطور استشہاد لکھی جاتی ہیں۔
پیشین گوئی متعلقہ ڈپٹی آتھم
یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی نے ٥/ جون ١٨٩٣ء اپنے حریف مقابل مسٹر آتھم کی نسبت کی تھی، جس کے اصل ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جنا فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ ن بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے کو خدا مانتا ہے۔ اس کی ا جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“ (جنگ مقد
فرماتے ہیں۔ ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آئے بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تو یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پ لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔
٣٥
بلکہ جب دیکھا کہ ہمارے مکاشفات و اخبارات اور بیان حقائق ومعارف قرآنیہ کے باعث نئے لوگ ہم کو نبی اور موحی الیہ سمجھیں گے۔ تو جھٹ ان کے غیر واقعی خیال کا ازالہ فرمایا اور تنبیہاً کلمہ الاّ کے ساتھ کہا کہ ”الاّ وانى لست بنبى ولا يوحى الىّ“۔ خیال فرمائیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت عمرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ وحضرت عثمانؓ باوجود مکاشفات والہامات واخبارات حقہ نبوت کے مدعی نہ ہوئے تو پھر مرزا قادیانی باوجود الہامات باطلہ جن کے بطلان کی خود ان کی پیشین گوئی کاذبہ صدہا شاہد ہیں۔ کیسے مدعی نبوت بن سکتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک دو پیشین گوئی بطور استشہاد لکھی جاتی ہیں۔
پیشین گوئی متعلقہ ڈپٹی آتھم
یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی نے ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ پر اپنے حریف مقابل مسٹر آتھم کی نسبت کی تھی، جس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”آج رات کو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے کو خدا مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“ (جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢) پھر فرماتے ہیں۔
”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔
٣٥
مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص١٨٩، خزائن ج٦ ص٢٩٢، ٢٩٣، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٣ تا ٢٤٥)
اس پیشین گوئی کا مضمون بالکل صاف ہے۔ یعنی ڈپٹی آتھم جس نے مسیح کو خدا بنایا ہوا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی طرح موحد و مسلم نہ ہوا تو عرصہ پندرہ ماہ میں مر جائے گا اور ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ اسلام اگر چہ اپنی حقیقت میں ایسے مکاشفات کا محتاج نہیں۔ تاہم مرزا قادیانی نے مخالفین سے اسلام پر دھبہ لگوایا ہے۔ اس پیشین گوئی کے متعلق مرزا قادیانی نے جو حیرت انگیز چالاکیاں کی ہیں۔ ان کی تردید اس پیشین گوئی کے الفاظ ہی سے ظاہر ہے۔
جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ نے اپنے رسالہ ”الہامات مرزا“ میں وہ تردید لکھی ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں اور یہ پیشین گوئی مع نقائص اسی رسالہ سے نقل کی گئی ہے۔
اس چٹھی کا جو خان صاحب محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ نے آتھم والی پیشین گوئی کے خاتمہ پر بھیجی تھی۔ اس جگہ پر نقل کرنا ضروری ہے۔ تاکہ مسلمانوں پر صداقت پیشین گویوں مرزا قادیانی کی بخوبی ظاہر ہو جاوے اور مرزا قادیانی کے بیت اللہ میں حلف اٹھانے کا دھوکہ نہ کھائیں۔
چٹھی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
مولانا مکرم: سلمکم اللہ تعالیٰ!
السلام علیکم! آج ٧؍ستمبر ہے اور پیشین گوئی کی میعاد مقررہ ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تھی۔ گو پیشین گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں۔ لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی تھی۔ وہ یہ ہے۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ ١٥ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جاویں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اب کیا
٣٦
آپ کی پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہوگئی ہ صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہوگئی۔ جیسا کہ مرزا خـ
جو سمجھے گئے تھے۔ وہ ٹھیک نہ تھے۔
اول تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثـ پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں۔ اس بحث میں دونوں فریقو کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خـ لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لیکر یعنی ١٥؍ماہ تک ہاویہ میـ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔
اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے یـ وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے چلنے لگیں گے۔ بعض بہرے سننے لگیں گے۔
پس اس پیشین گوئی میں ہاویہ کے معنی اگر آپـ صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعـ عیسائی مذہب اسی حالت میں سچا سمجھا جاوے۔ اگر پیشیـ عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں؟ (مسلمانوں کو تو خو شرمندگی ہوئی۔
پس اگر پیشین گوئی کو سچا سمجھا جاوے تو عیسـ رسوائی اور سچے کو عزت ہوگئی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو نہیں ہوسکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہوسکتی ہے تو یہ بحـ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔
لڑکے کی پیشین گوئی میں تفاول کے طور سے وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیشین گوئی کے دیا۔ اگر یہ کہا جاوے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی
٣٧
آپ کی پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی۔ نہیں ۔ ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ سمجھو کہ پیشین گوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہوگئی۔ جیسا کہ مرزا خدا بخش قادیانی نے لکھا ہے اور ظاہری معنی جو سمجھے گئے تھے۔ وہ ٹھیک نہ تھے۔
اوّل تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو۔ دوسری پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں۔ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لیکر یعنی ١٥؍ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔
اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے۔ بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ بعض بہرے سننے لگیں گے۔
پس اس پیشین گوئی میں ہاویہ کے معنی اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لئے جاویں اور صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گرگئی۔ عیسائی مذہب اسی حالت میں سچا سمجھا جاوے۔ اگر یہ پیشین گوئی سچی سمجھی جائے۔ جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں؟ (مسلمانوں کو تو نہیں مرزائیوں کو۔ مؤلف) شرمندگی اور بڑی شرمندگی ہوئی۔
پس اگر پیشین گوئی کو سچا سمجھا جاوے تو عیسائیت ٹھیک ہے۔ کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہو گئی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی۔ میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل کی بات ہے کہ ہر پیشین گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے۔
لڑکے کی پیشین گوئی میں تفاول کے طور سے ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا۔ وہ مر گیا تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیشین گوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے نے تو غضب ڈھا دیا۔ اگر یہ کہا جاوے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی۔ آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور
٣٧
سے اور قسموں سے معرکہ کی پیشین گوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہوگئی تھی اور آخر جب مجتمع ہو گئے تو فتح ہوئی۔
کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح وعدے ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ہوئی ہو مجھ کو تو اب اسلام پر شبہ پڑنے شروع ہو گئے۔ لیکن الحمد للہ ! کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں۔ اسلام بالمقابل دوسرے ادیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے دعاوی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔
پس میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقعہ سچے ہیں۔ تو خدا کرے میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرمائیں جس سے تشفی کلی ہو باقی جیسے کہ لوگوں نے پہلے ہی مشہور کیا تھا کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو آپ یہی کہہ دیں گے کہ ہاویہ سے مراد موت نہ تھی۔
الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی برائے مہربانی بدلائل تحریر فرمائیں۔ ورنہ آپ نے مجھ کو ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ (لوگوں کی پرواہ نہ کرو خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے۔مؤلف) میں برائے استفادہ نہایت دلی رنج سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔ (راقم محمد علی خان)
پس اسلام کا خدا خود حافظ ہے اور خود ہی اس کی حقیقت مخالفین کو ہر زمانے میں لاجواب کر رہی ہے اور کرے گی۔ مرزا قادیانی نے، جو بصورت دوست مگر بمعنی اسلام کے دشمن تھے۔ جہالت کی وجہ سے اسلام کی بیخ کنی کر دی تھی۔ مگر الحمد للہ کہ علمائے اسلام نے اس کا تدارک کر لیا۔ سعدیؒ نے سچ کہا ہے:
ازاں بہ کہ جاہل بود غمگسار
اور مخالفین سے آنحضرت ﷺ کے شان میں وہ کفریات بکوائے کہ خدا نہ سنائے۔ بلکہ جریدہ عالم پر ان کی بوجہ تحریری ہونے ان کے ثبت کرا دیا۔ الحمد للہ والمنتہ کے اللہ جل شانہ بحسب وعدہ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون ہ (حجر:٩)“ کے ہمیشہ اس کو پیش گوئیوں میں ناکامیابی دیتا رہا۔ تاکہ عوام کالانعام اس کو بوجہ صداقت پیشین گوئی کے کتاب وسنت کے بیان میں سچا نہ سمجھ لیں۔
٣٨
بلکہ یہ جان لیں کہ یہ شخص قرآن وسنت کا محرف ہے۔
مرزا سلطان احمد کے آسمانی منکوحہ کے پیشین گوئی کی نسبت مرزا قادیانی نے کہا کہ سب خلقت مجھے قبول کرے گی۔ یہ مر ہوتا تو یہ الہامات کیونکر جھوٹے پڑتے؟ اہل انصاف کو تو یہی ا کافی ہیں۔ آگے سردار خان تیرا ایمان مان نہ مان۔
پھر جو آپ نے صفحہ ٢٩ پر لکھا ہے: ”اب صوفیا ا مریدوں کو نادعلی اور چہل کاف، گنج العرش، دلائل الخیرات، ن نمازوں کو جلد چٹ کر دیا کرو۔ وظیفہ کا وقت نہ گزرے۔ اگر رہو۔“
سبحان اللہ اب وہ زمانہ بھی آگیا کہ لوگ تسبیح پڑھ ہو رہے ہیں اور ان کے پڑھنے والوں کو برا مانتے ہیں۔ سچ ہے
شاید یہ لوگ فضائل درود شریف و تسبیح و تہلیل سے ب وملائکته یصلون علی النبی یا ایها الذین آمنو ص
﴿ تحقیق اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود پڑھتے والو تم بھی درود بھیجو۔ حضرت پر اور سلام بھیجو سلام بھیجنا۔ ﴾
”وقال النبی ﷺ من صلی علیَّ (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٤٩٥ ، حدیث نمبر ٤٧٣ درود بھیجے مجھ پر ایک بار۔ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار۔ ﴾
احادیث میں فضائل درود کے بے شمار ہیں۔ پس اعمال سے افضل ہے اور ذات حق خود بخود اس عمل کو کر رہی ہیں اور مومنوں کو بصیغہ امر حکم فرمایا ہے جو وجوب کے لئے ہ نے کبھی نہ دیکھی ہوگی وہ اول سے آخر تک قسم قسم کے درود ش سب جلیل ہے۔
٣٩
بلکہ یہ جان لیں کہ یہ محض قرآن وسنت کا محرف ہے۔ مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد مرزا سلطان احمد کے آسمانی منکوحہ کے پیشن گوئی کی نسبت ناکامیاب ہونا خود مشہور ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ سب خلقت مجھے قبول کرے گی۔ یہ مراد بھی پوری نہ ہوئی۔ اگر عیسیٰ موعود ہوتا تو یہ الہامات کیونکر جھوٹے پڑتے؟ اہل انصاف کو تو یہی دلائل اس کے مسیح کاذب ہونے پر کافی ہیں۔ آگے سردار خان تیرا ایمان مان نہ مان۔
پھر جو آپ نے صفحہ ٢٩ پر لکھا ہے: ”اب صوفیان زمانہ کا یہ حال ہوا کہ خود بھی اور مریدوں کو نادعلی اور چہل کاف، گنج العرش، دلائل الخیرات، تسبیح وتہلیل درود بلا معنیٰ پڑھا کرو اور نمازوں کو جلد چٹ کر دیا کرو۔ وظیفہ کا وقت نہ گزرے۔ اگر کوئی غیر قوم دلائل مانگے تو خاموش رہو۔“
سبحان اللہ اب وہ زمانہ بھی آگیا کہ لوگ تسبیح وتہلیل و درود شریف پڑھنے سے مانع ہورہے ہیں اور ان کے پڑھنے والوں کو برا مانتے ہیں۔ سچ ہے کہ:”خیالات نادان خلوۃ نشین مہم میکند عاقبت کفر دین“
شاید یہ لوگ فضائل درود شریف وتسبیح وتہلیل سے بے علم ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ ”ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنو صلو علیہ وسلمو تسلیما“
﴿تحقیق اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود پڑھتے ہیں۔ حضرتﷺ پر اے ایمان والو تم بھی درود بھیجو۔ حضرت پر اور سلام بھیجو سلام بھیجنا۔﴾
”وقال النبىﷺ من صلى علىّ مرة صلى الله عليه عشر مرة (الترغيب والترهيب ج ٢ ص ٤٩٥، حدیث نمبر ٢٤٧٣)“﴿فرمایا رسولﷺ نے جو شخص درود بھیجے مجھ پر ایک بار۔ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار۔﴾
احادیث میں فضائل درود کے بے شمار ہیں۔ پس درود ایک ایسا عمل ہے۔ جو سب اعمال سے افضل ہے اور ذات حق خود بخود اس عمل کو کر رہی ہے اور اس کے فرشتے بھی کرتے ہیں اور مومنوں کو بصیغہ امر حکم فرمایا ہے جو وجوب کے لئے ہوتا ہے اور دلائل الخیرات شاید آپ نے کبھی نہ دیکھی ہوگی وہ اول سے آخر تک قسم قسم کے درود شریف ہیں اور دعا گنج العرش سب کی سب تہلیل ہے۔
٣٩
کوئی وظیفہ ایسا نہیں جو تہلیل و تسبیح درود شریف سے خالی ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی تعریف میں فرماتا ہے۔ وسبحوا بحمد ربهم یعنی وہ لوگ تسبیح پڑھتے ہیں۔ ساتھ حمد رب اپنے کے اور تسبیح کا امر فرمایا ہے۔
فسبح بحمد ربک تہلیل کے معنی شاید آپ نہ جانتے ہوں گے۔ جو افضل الذکر لا اله الا الله ہے۔ ”قال النبى ﷺ من قال لا اله الا الله دخل الجنة (الترغيب والترهيب ج ٢ ص ٤٠٣ ، حدیث نمبر ٢٢٨٢) وقال النبى ﷺ كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان فى الميزان حبيبتان الى الرحمن سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم (الترغيب والترهيب ج ٢ ص ٤٠١ ، حديث نمبر ٢٢٧٩)“
پس وظیفہ درود تسبیح و تہلیل قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ ان کی اہانت کرنے والا کافر ہے۔ پٹ اونے داقدر کی جانے پٹ اوتاجت کا تا۔ قدر گل بلبل بداند قدر زر زرگر ی۔ قدر سرگیں جعل داند قدر و بد ڈگری۔
پھر جو لکھا ہے۔ ”اگر کوئی غیر قوم دلائل مانگے تو چپ رہو۔“ افسوس آپ کے انصاف پر اگر صوفی نہ ہوتے تو آپ کے غیر قوم کے دلائل کون رد کرتا اور مرزا قادیانی کو کون ہار دیتا۔ کیا صوفی پیر مہر علی شاہ صاحب کا مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تردید کے لئے تشریف لانا اور مرزا کا سات دن گھر سے نہ نکلنا۔
آپ بھول گئے ہو یا صم بکم عمی ہو رہے ہو۔ پھر اس صوفی نے اس قوم کے دعاوی کی بیخ کنی کے لئے کتاب چشتیائی ایسی بنائی کہ سب کے ناک کان کاٹ ڈالے اور ستیاناس کر دیا کہ آج تک اس کے جواب کے بارے میں بہت ہاتھ پاؤں مارے اور سرگردانی کی مگر خاک ہاتھ آئی۔ آخر ایسی حسرت میں مرزا قادیانی خاک میں مل گئے۔ کیا یہی چپ رہنے کے معنی ہیں؟ منصف آپ جیسے ہی چاہئیں۔
میلش اندر طعنہ پاکاں زند
پھر آپ نے صفحہ ٣٤ پر لکھا ہے کہ: ”جب تم ہم کو اپنے دل میں حقیر ذلیل شمار کرتے ہو تو ہمارا وہم والہامات قرآن مجید کی طرف دوڑتا ہے۔ تو اس بحر عظیم میں ہم کو غوطہ لگانا پڑتا ہے۔ آخر
٤٠
وہاں سے لعل موتی ہاتھ آئے۔ .................... الخ “ چونکہ آپ نے قرآن دانی اور اس سے لعل مو بارے میں صفحہ ٢٩ پر لکھا ہے۔ کہ ”قرآن کو پڑھنے کے کرتے ہیں۔“ اب وہی صوفی کئی سوال متعلقہ معانی قر جماعت مرزائیہ جمع ہو کر ان کا جواب دو اور الہام سے لعل پہلا سوال ...... قال الله تعالى والقمر قد علىٰ ہذا القياس آیت کریمہ ھو الله الخالق البارئ بیان ہر ایک منزل کے ساتھ ہر ایک اس کے اسماء الـ متناسبہ بمنازل بمعہ حروف اوائل جن کی سورتیں بلحاظ قـ وسبعون شعبة ہیں۔ اور انتقالات قمر بالمنزلہ بحسب مشیت و تـ منازل کی وجہ تخصیص عند المحققین کیا ہے اور عندا لجمہو ثلث منزل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اگر ہر برج کے لئے تکوین میں بقانون ذلك تقدير العزيز العليم كيا تا پھر منازل صحیحہ اور ملفقہ من الکسور مختلفہ المـ لئے مزاج خاص ہے اور (برج ) حمل نے اس سے شـ ثلث چاہئے تھا تو ایک منزلہ و براں صحیحہ اور دو ثلث کرنے سے دو منزلیں تمام ہوئیں۔ پھر بقعہ سے بقیہ جب تک یہ مذکورہ جمع منزل احدی الحوار نہ جانیں۔ جس کے بغیر بروج کا مثلثہ الوجوہ ہونا ثا البروج اور والقمر قدرناہ منازل اور ذالك تقـ ہذا القياس۔ وان يوماً عند ربك كالف سنـ سیارہ میں سے چھوٹے روز والاقمری و مقدارہ یسبـ
٤١
وہاں سے لعل موتی ہاتھ آئے ....................الخ"
چونکہ آپ نے قرآن دانی اور اس سے لعل موتی نکالنے کا دعویٰ کیا ہے اور صوفیوں کے بارے میں صفحہ ٢٩ پر لکھا ہے ۔ کہ ”قرآن کو پڑھنے کے وقت جنتر منتر تنتر کر کے ترت ٹھپ دیا کرتے ہیں ۔‘ اب وہی صوفی کئی سوال متعلقہ معانی قرآن پیش کرتے ہیں۔ ایک نہیں بلکہ سب جماعت مرزائیہ جمع ہو کر ان کا جواب دو اور الہام سے لعل موتی نکال کر پیش کرو:
پہلا سوال ...... قال اللہ تعالیٰ والقمر قدرناہ منازل اس کے متعلق منازل اور علیٰ ہذا القیاس آیت کریمہ ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنیٰ مع بیان ہر ایک منزل کے ساتھ ہر ایک اس کے اسماء الٰہیہ میں سے متعین ہر اسم و ہر ایک سورۃ متناسبہ بمنازل بمعہ حروف اوائل جن کی سورتیں بغیر تکرار ١٤ بحسب تعداد الایمان بضع وسبعون شعبة ہیں۔ اور انتقالات قمر بالمنزلۃ بحسب تثلیث و تربیع و تسدیس مع احکامہا لکھیں اور نیز ٢٨ منازل کی وجہ تخصیص عند المحققین کیا ہے اور عند الجمہور کیا ؟ اور نیز ہر برج کے لئے ٢ منازل اور ثلث منزل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اگر ہر برج کے لئے منازل میں سے عدد صحیح ہوتا یا مکسور تو عالم تکوین میں بقانون ذلک تقدير العزيز العليم کیا قباحت اور نقصان تھا؟
پھر منازل صحیحہ اور ملفقہ من الکسور مختلفہ المزاج بالتفصیل بیان فرمائیں۔ مثلاً ثریا کے لئے مزاج خاص ہے اور (برج) حمل نے اس سے ثلث لیا ہے۔ جب ثور کے لئے دو منزلیں اور ثلث چاہئے تھا تو ایک منزلہ دبران صحیحہ اور دو ثلث ثریا کے جن کے ساتھ ہقعہ کا ثلث اضافہ کرنے سے دو منزلیں تمام ہوئیں۔ پھر ہقعہ سے باقی ماندہ ثلث لیا گیا۔ علیٰ ہذا القیاس۔
جب تک یہ مذکور مع منزل احدی المزاج اور مختلفۃ المزاج مع احکامہا الشخصیۃ کے نہ جانیں۔ جس کے بغیر بروج کا مثلثۃ الوجوہ ہونا نہیں معلوم ہو سکتا۔ تو آپ و السماء ذات البروج اور والقمر قدرناہ منازل اور ذالك تقدير العزيز العليم کو کیا سمجھیں گے۔ علیٰ ہذا القیاس۔
وان يوماً عند ربك كالف سنة مما تعدون کو کواکب مذکورہ یعنی سبع سیارہ میں سے چھوٹے روز والا قمری و مقدارہ بسیر الثوابت ستة وثلاثون الف سنة
٤١
مما تعدون۔ یوم ذی المعارج باصطلاح قرآن کریم مقدار اس کا پچاس ہزار سال اور یوم اسم رب کا مقدار ایک ہزار سال۔
پس ضرب کیا جائے حاصل ضرب ایام کواکب ثابتہ کا بیچ ایام دراری سبع کے بیچ مجموعہ کے جو حاصل ہے۔ بروج اور حاصل ضرب ٣٦٠ فی نفسہ سے مثلاً عدد اس مجموع کا ٢٧٦٠٠ ہے۔ جس میں عدد ایام کواکب مذکورہ کے ضرب کرنے سے معنی تقدير الكواكب معلوم ہو سکتا ہے۔ بغیر اس کے آپ معنی ذالك تقدير العزيز العلیم ہرگز نہیں سمجھ سکتے۔ صرف ترجمہ دانی اور چیز ہے۔
دوسرا سوال..... قولہ تعالیٰ "فاردت ان اعیبها اور فاردنا ان يبدلهما ربهما“ افراد اور جمعیت ضمیر کی وجہ تخصیص کیا ہے؟ اور نیز قولہ تعالیٰ "فاردنا ان يبدلهما ربهما سے فاراد ربك ان يبدلهما يا فاراد ربهما ان يبدلهما بادی نظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس قول باری تعالیٰ کو فاراد ربك ان يبلغا اشدهما وايضا قوله تعالى انما امره اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون میں مذکور کی تخصیص وجہ بیان کریں۔ مع ان المحقق انتبہ لا افتتاح القول كما لا افتتاح لمعلوم لعلمه تعالى في حدث الا ظهور المكون لعالم الشهادة بعد ان كان غيبا في علمه تعالی۔ جواب دہی میں آپ کی قرآن دانی ظاہر ہو جائے گی۔
تیسرا سوال..... "قال تعالى وكل شيء احصيناه في امام مبين۔ قال الشيخ بن عربي الطائي قدس سره فانه الحق المبين والصادق الذي لا يمين وبمثل هذا الخاطر يحكم الزاجر ولهذا يصيب ولا يخطى ويمضى ما يقول ولا يبطى اذا استبطاه لا زاجر عند السوال فما هو من اولئك الرجال حال السوال ما يحكم به المسئول ان وقع منه التوانى الى الزمن الثانى فسد حاله ولم يصدق مقاله فذلك امر النفث .......... لا يكون له مكث فحلوله انتقاله ووروده زواله ومن ذلك نزول الملك على الملك ليس الملك الا من خدمه الملك الملك لا ينزل معلما وانما ينزل حكما فان الرحمن علم القرآن انظر الى هذه التكملة المحمدية تنبه لهذه المنزلة العلية فاسلك فيها سواء السبيل ولم
تجنح
تجنح الى تاويل فعرس فى احسن مقيل قال هو ابن الامام المبين لا بل ابوه كائن وافترش الكتاب واستوطاه اللسان بل ه الامام المبين يحوى امهات العلوم يبلغ وعشرين الف نوع وقسمائة نوع قال ركن شديد فكان عنده الركن الشديد و الله اخي لوطا لقد كان ياوى الى ركن وحفصة فلو عرفت ايها المخاطب ع الاية“
آیت مذکورہ کے متعلق حضرت شیخ صا وحدیث کے تحت میں جو لکھا گیا ہے۔ اس کا ماحصل ی بمعہ نظائر ان کے جو بمقابلہ ہر ایک کے ایک صفت م فى التاثیر اور نظائر من النار اور ایک لاکھ انیس ہزار چوس مگر خیال رہے کہ آپ جیسوں کا تاویل کامل اولیاء صلوات اللہ والسلام علیہم کے حصہ میں ان کے يؤتيه من يشاء آخر دعونا ان الحمد ا المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير ا آخر جو لکھا ہے۔ ”اے صاحبان ابصار بین ذلک کا مصداق ہے۔ اس کی سوانح عمری پر شی آدمی کا اقتدار بے فائدہ ہے۔
دوسرے چونکہ آپ کا شمس من مغرب طلو دین پر ایمان لانا مردود اور دوسروں کو ترغیب دینا ۔
بلاغ باشد بس۔
خادم العلماء والفقراء فقیر محمد ضیاء الدین ع
بتاریخ ١٣ / ماہ ربیع الاول ١٣٢٩ھ بمقا
مظہر
تجشمتم الى تاويل فعرس فى احسن مقيل فى خفض عيش وظل ظليل الى ان قال هو ابن الامام المبين لا بل ابوه كائن بائن راجل قاطن استوطن الخيال وافترش الكتاب واستوطاء اللسان بل هو قرآن مجيد في لوح محفوظ فهو الامام المبين يحوى امهات العلوم يبلغ عدده مائة الف نوع من العلوم تسعة وعشرين الف نوع وتسعمائتہ نوع قال لوط لو ان لى بكم قوة او آوى الى ركن شديد فكان عنده الركن الشديد ولم يكن يعرفه فان النبى قال يرحم الله اخى لوطا لقد كان ياوى الى ركن شديد ولم يعرفه وعرفته عائشة وحفصة فلو عرفت ايها المخاطب علم ما كانتا عليه لمعرفت معنى هذه الاية“
آیت مذکورہ کے متعلق حضرت شیخ صاحب کی تفسیر کا مطلب ونیز دوسری آیت وحدیث کے تحت میں جو لکھا گیا ہے۔ اس کا ماحصل بیان فرمائیں؟ نیز آیت تجلی سے انیس موارد بمعہ نظائر ان کے جو بمقابلہ ہر ایک کے ایک صفت ممکنات کے ہے اور نظائر من القرآن اور نظائر فی التاثیر اور نظائر من النار اور ایک لاکھ انیس ہزار چھ سو علم کا صرف نام ہی بتائیں۔ مگر خیال رہے کہ آپ جیسوں کا یہ کھیل و حوصلہ نہیں یہ علم الرحمٰن ہے۔ جو بغیر انبیاء وکامل اولیاء صلوات اللہ والسلام علیہم کے حصہ میں ان کے دوسرے کا حصہ نہیں: ذلك فضل الله یؤتیه من یشاء آخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین اللهم اهدنا الصراط المستقیم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم والضالين۔ آمین!
آخر جو لکھا ہے۔ ”اے صاحبان اب نور دین کو بھی جانے دو۔“ نور دین تو خرد مند بذہین عین ذلک کا مصداق ہے۔ اس کی سوانح عمری پر خیال کرنے سے خوب روشن ہو جاتا ہے۔ ایسے آدمی کا اقتدار بے فائدہ ہے۔
دوسرے چونکہ آپ کا شمس من مغرب طلوع ہو کر غروب بھی ہو گیا ہے۔ تو پھر آپ کا نور دین پر ایمان لانا مردود اور دو سروں کو ترغیب دینا بے سود۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ بررسولاں بلاغ باشد بس۔
خادم العلماء والفقراء فقیر محمد ضیاء الدین اوصلہ الی مراتب الیقین سیالوی بتاریخ ١٣/ ماہ ربیع الاول ١٣٢٩ھ اختتام یافت
اعتراف
ہماری طرف سے حقائق معارف پناہ فضائل و کمالات دستگاہ جناب حضرت پیر صاحب مہر علی شاہ مسند آرا گولڑہ کافی و شافی جواب ترقیم فرما چکے ہیں اور ان کا بھی اب تک کوئی جواب نہیں۔ فقیر نے جو کچھ لکھا ہے۔ از راہ ہمدردی لکھا ہے اور جہاں کہیں کوئی فقرہ پیر صاحب کی کتاب سے لکھا ہے وہاں نام درج کیا ہے۔
خلاصۃ علامات ظہور مسیح موعود و مہدی معہود مثبتہ باحادیث صحیحہ متواترۃ بالمعنی
ضمیمہ
”قال الله تعالى ما اتكم الرسول فخذوه وقال النبى ﷺ اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار
(مشکوۃ ص ٣٠)“
خصوصیات زمانہ مسیح
- .......١ ان کے زمانہ میں جزیہ نہ لیا جائے گا۔ کیونکہ مال کی مسلمانوں کو کچھ ضرورت نہ ہوگی۔
مگر یہ چودھویں صدی کے مسیح خود ہی چندہ کے محتاج ہیں۔ کبھی بحیلہ منارہ سازی اور کبھی بہ بہانہ تصنیف اور کبھی بہ حجت مسافر نوازی۔
- .......٢ مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا تو زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔ بہت متمول اور
تونگر ہوں گے۔ آج دنیا کی تمام اقوام میں سے زیادہ مفلس اور غریب مسلمان ہیں۔ زکوٰۃ دہندگان نہایت ہی قلیل ہیں۔
- .......٣ باہم بغض اور عداوت جاتی رہے گی۔ سب میں اتحاد اور محبت کا رشتہ مستحکم ہو جائے گا۔
- .......٤ زہریلے جانوروں کی زہر جاتی رہے گی۔ وحوش میں سے درندگی نکل جائے گی۔ آدمی کے
بچے سانپ اور بچھو سے کھیلیں گے۔ ان کو کچھ ضرر نہ ہوگا۔ بھیڑیا بکری کے ساتھ چرے گا۔
- .......٥ زمین صلح سے بھر جائے گی۔
- .......٦ زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل پیدا کر اور اپنی برکت لٹادے اس دن ایک انار کو ایک گروہ
کھائے گا اور انار کے چھلکے کو بنگلہ سا بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو اور دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو اور دودھار بکری ایک کنبہ کے شخصوں کو کفایت کرے گی۔
٤٤
- ٧...... گھوڑے سستے بکیں گے۔ کیونکہ لڑائی نہ رہے گی۔ بیل گراں قیمت ہو جائیں گے
کیونکہ تمام زمین کاشت کی جائے گی۔
- ٨...... خداوند تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام دینوں کو محو کردے گا۔ صرف دین اسلام باقی رہے گا
اور اسلام کی ایسی رونق ہوگی کہ تمام دنیا اور دنیا بھر کے مال متاع سے ایک سجدہ کرنا اچھا معلوم ہوگا۔
سیرت مسیح
- ١...... عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر اہل
دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت سکینہ سے چلیں گے۔ زمین ان کے لئے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر اور گاؤں کے اندر تک اثر کر جائے گی۔
- ٢...... جس کافر کو ان کی سانس کا اثر پہنچے گا وہ فوراً مرجائے گا۔
- ٣...... یہ بیت المقدس کو بند پائیں گے۔ دجال نے اس کا محاصرہ کر لیا ہوگا۔ اس وقت نماز صبح
کا وقت ہوگا۔
- ٤...... ان کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی و تری پر پھیل جائیں
گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
- ٥...... وہ دین اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ و قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو
قتل کریں گے۔
- ٦...... دجال کو باب لُد پر قتل کریں گے۔ اس کا خون اپنے نیزہ پر لوگوں کو دکھلائیں گے۔
- ٧...... اگر وہ پتھریلی زمین کو کہہ دیں کہ تو شہد ہو کر روانہ ہو تو اسی وقت شہد بن جائے گی۔
- ٨...... زمین پر چالیس پینتالیس سال قیام فرمائیں گے۔
- ٩...... روضہ مقدس حضرت ﷺ میں مدفون ہوں گے۔
حلیہ عیسیٰ علیہ السلام
- ١...... قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید، لباس زردی مائل، ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے
پانی کے قطرے موتیوں کے دانہ کے مثل ٹپکتے ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے میں شب معراج میں ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ اس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد ہوا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔
٤٥
پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس کا تصفیہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے آنے کی خبر تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خداوند تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا۔ میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔ (یہ حدیث مسند احمد ج١ص٣٧٥ میں ہے)
اب مرزائی جماعت سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا شب معراج میں اس معاہدہ کے بیان کرنے والے مرزا قادیانی ہی تھے اور اگر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے نزول بروزی بصورت قادیانی سے خبر دی تو آنحضرت ﷺ نے اپنے نزول بروزی بصورت قادیانی سے خبر نہیں دی۔ چنانچہ آپ کا مرقوم ہی کیوں نہ خبر دے۔ ناظرین ذرا غور و انصاف فرمائیں کہ انصاف خیر الاوصاف ہے۔ لیکن
نشان صورت یوسف دہد بنا خوبی
اگر بچشم ارادت نظر کند در دیو
فرشتہ اش نماید بچشم محبوبی
علامات ظہور مہدی
- ١...... دارقطنی میں محمد بن علی سے مروی ہے کہ مہدی معہود کے ظہور کے لئے دو ایسی علامتیں
ہیں جو ابتداء پیدائش آسمان وزمین سے کبھی واقع نہیں ہوئیں۔ یہ وہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور نصف رمضان میں کسوف آفتاب ہوگا۔
"ان لمھدینا آیتان لم تکونا منذ خلق السمٰوت والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی نصف منہ" (دارقطنی ج٢ ص٦٥) اور جو ١٣١١ھ میں رمضان شریف میں چاند گرہن وسورج گرہن ہوا تھا وہ ان تاریخوں کے موافق نہ ہوئے تھے۔ جیسا کہ ان سن کی جنتریوں میں موجود ہے۔ اس لئے وہ قادیانی کے مہدی ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔
- ٢...... قریب ظہور امام مہدی کے دریائے فرات کھل جائے گا اور اس میں سے ایک سونے کا
پہاڑ ظاہر ہوگا۔
٤٦
- ٣...... آسمان سے ندا ہوگی: "الا ان الحق فی
شناخت مہدی کی علامات
- ١...... آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا کرتہ
آنحضرت ﷺ کے بدن سے کبھی نہ نکلا ہوگا۔ اس پر لکھا ہوگا البیع
- ٢...... امام مہدی کے سر پر ایک بادل سایہ کرے
گا: ھذا المھدی خلیفۃ اللہ یعنی یہ مہدی خلیفہ خدا ہ
- ٣...... ایک سوکھی شاخ زمین میں لگائیں گے تو
لائے گی۔
- ٤...... کعبہ کے خزانہ کو نکال کر تقسیم کر دیں گے۔
- ٥...... دریا ان کے لئے یوں پھٹ جائے گا جیسا
- ٦...... ان کے پاس تابوت سکینہ ہوگا۔ جسے دیکھ کر
- ٧...... امام مہدی اہل بیت نبوی سے ہوں گے۔
عترتی من ولد فاطمۃ اور اس کا نام محمد اور اس ابوداؤد میں ہے۔ قادیانی نے اپنے اشتہار میں لکھا ضرورت ہے؟ صاحب ضرورت تو اس لئے ہوئی کہ م مغل بچہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟
- ٨...... ان کا مولد مدینہ طیبہ ہے۔ (رواہ ابونعیم عن ا
- ٩...... مہاجر یعنی ان کے ہجرت کی جگہ بیت المق
- ١٠...... حلیہ ان کا گندم گوں رنگ، کم گوشت، م
دونوں ابروئیں فرق، سیاہ چشم سرمگیں، دانت سفید رو نورانی ایسا روشن جیسا کوکب دری، ریش پر انبوہ کشاد لکنت جب بات کرنے میں دیر ہوگی تو ران چپ پر نشانی ہوگی۔ یہ سب احادیث صحیحہ سے لئے گئے ہیں ناظرین! کو معلوم ہو کہ یہ پیشین گوئی اور
٤٧
- ٣...... آسمان سے ندا ہو گی: ”الا ان الحق فی ال محمد“ اے لوگو حق آل محمد میں ہے۔
شناخت مہدی کی علامات
- ١...... آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا کرتہ اور تلوار اور علم ہوں گے۔ یہ نشان بعد
آنحضرت ﷺ کے کبھی نہ نکلا ہوگا۔ اس پر لکھا ہو گا البیعة للہ بیعت اللہ کے واسطے ہے۔
- ٢...... امام مہدی کے سر پر ایک بادل سایہ کرے گا اور اس میں سے ایک پکارنے والا پکارے
گا: ھذا المھدی خلیفۃ اللہ یعنی یہ مہدی خلیفہ خدا ہے۔ اس کی اتباع کرو۔
- ٣...... ایک سوکھی شاخ زمین میں لگائیں گے تو ہری ہو جائے گی اور اسی وقت برگ و بار
لائے گی۔
- ٤...... کعبہ کے خزانہ کو نکال کر تقسیم کر دیں گے۔
- ٥...... دریا ان کے لئے یوں پھٹ جائے گا جیسا کہ بنی اسرائیل کے لئے پھٹ گیا تھا۔
- ٦...... ان کے پاس تابوت سکینہ ہو گا۔ جسے دیکھ کر یہود ایمان لائیں گے۔
- ٧...... امام مہدی اہل بیت نبوی سے ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: المھدی من
عترتی من ولد فاطمة اور اس کا نام محمد اور اس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جیسا کہ حدیث ابوداؤد میں ہے۔ قادیانی نے اپنے اشتہار میں لکھا ہے کہ مہدی موعود کے فاطمی ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ صاحب ضرورت تو اس لئے ہوئی کہ مخبر صادق ﷺ نے خبر دی ہے۔ آپ فرمائیے مغل بچہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟
- ٨...... ان کا مولد مدینہ طیبہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم عن علی کرم اللہ وجہہ)
- ٩...... مہاجر یعنی ان کے ہجرت کی جگہ بیت المقدس ہو گی۔
- ١٠...... حلیہ ان کا گندم گوں رنگ، کم گوشت، میانہ قد، کشادہ پیشانی، بلند بینی، کمان ابرو،
دونوں ابروئیں فرق، سیاہ چشم سرمگیں، دانت سفید روشن اور جدا جدا، داہنے رخسار پر خال سیاہ، چہرہ نورانی ایسا روشن جیسا کوکب دری، ریش پر انبوہ کشادہ، ران عربی وضع، اسرائیلی بدن، زبان میں لکنت جب بات کرنے میں دیر ہو گی تو ران چپ پر ہاتھ ماریں گے۔ کف دست میں نبی ﷺ کی نشانی ہو گی۔ یہ سب احادیث صحیحہ سے لئے گئے ہیں۔
ناظرین! کو معلوم ہو کہ یہ پیشین گوئی اور ایسی ہی مسیح موعود والی اور دجال شخصی کی ان
٤٧
سب میں جو آنحضرت ﷺ نے مفصل طور پر حلیہ بیان فرمایا ہے، جس میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو۔ گویا یہ پیشین گوئی در پیشین گوئی ہے۔ یعنی غلام احمد قادیانی یا امثال اس کے مسیح موعود یا مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کریں گے اور بالخصوص غلام احمد قادیانی دجال شخصی کا منکر ہوگا۔ گویا آپ نے پہلے ہی مفصل حلیہ بیان فرمانے سے ان کی تکذیب پر علامات بیان فرمادیئے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر ایسے ایسے خلل اندازوں کا آنحضرت ﷺ کو علم اور اندیشہ نہ ہوتا تو بیان میں اتنے اہتمام کی کیا ضرورت تھی؟
ضرورت کی وجہ تو یہی ہے کہ یہ مدعیان امت مرحومہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ فسبحان الله من جعله ﷺ حريص عليكم بالمؤمنين رؤف رحیم۔ اپنی کمال خیر خواہی سے یہ بیان تفصیلی فرمایا ہے۔ ھذا هو الحق فما ذا بعد الحق الا الضلال والهادی هو الله المتعال ۔ پس چونکہ علامات مذکورہ بالا جو احادیث صحیحہ متواترہ بالمعنیٰ سے ثابت ہیں۔ اب تک ظہور میں نہیں آئیں۔ تو بنا بریں قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا باطل صریح اور افتراء محض ہے۔ اہل اسلام کو آیت کریمہ ما آتاکم الرسول کو مدنظر رکھ کر اس کے دھوکہ سے بچنا ضروری ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وسائت مصیراً “ ﴿جو شخص رسول کی مخالفت کرے۔ اس سے پیچھے کہ ظاہر ہوا اس کے لئے راستہ سیدھا اور پیروی کرے مومنین کے مخالف راستہ کو اعتقاد اور عمل میں چھوڑیں گے ہم اس کو اس امر میں جو وہ اس کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دائرہ کفر و ارتداد میں داخل کریں گے اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بری جگہ رہنے کی ہے۔﴾
پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو شخص دیدہ دانستہ احادیث صحیحہ نبویہ واجماع امت مرحومہ کے عمل واعتقاد میں مخالفت کرے تو اس کے لئے حکم ارتداد و کفر ہے۔ نعوذ بالله منها ۔ اگر کسی شخص کو زیادہ تر تحقیق کی خواہش ہو تو کتاب سیف چشتیائی مصنفہ راس المحققین ورئیس المدققین پیر صاحب گولڑوی مطالعہ کریں تاکہ قادیانی کی دھوکہ بازی اور مکرسازی پر پوری پوری اطلاع پائیں۔ وما علینا الا البلاغ والله يهدي من يشاء الى صراط مستقیم!
٤٨
اتمام البرهان علی
الحديث و
لاثبات الحق الم
حیات الم
جناب شیخ احمد حسین م
ن فرمایا ہے، جس میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو۔ قادیانی یا امثال اس کے مسیح موعود یا مہدی ادیانی دجال شخصی کا منکر ہوگا۔ گویا آپ نے لامات بیان فرما دیئے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے اور اندیشہ نہ ہوتا تو بیان میں اتنے اہتمام کی
ت مرحومہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ فسبحان ن رؤف رحیم۔ اپنی کمال خیر خواہی سے الحق الا الضلال والهادى هو الله جز متواترہ بالمعنی سے ثابت ہیں۔ اب تک ود اور مہدی معہود ہونے کا باطل صریح اور سول کو مد نظر رکھ کر اس کے دھوکہ سے بچنا
من بعد ما تبين له الهدى ويتبع ه جهنم وساءت مصيراً " جو شخص ں کے لئے راستہ سیدھا اور پیروی کرے ہم اس کو اس امر میں جو وہ اس کو دوست الیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بری
یا دیدہ دانستہ احادیث صحیحہ نبویہ واجماع لے حکم ارتداد وکفر ہے۔ نعوذ بالله یف چشتیائی مصنفہ راس المحققین ورئیس دھوکہ بازی اور مکر سازی پر پوری پوری ي يشاء الى صراط مستقيم !
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا ومولانا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
اتمام البرهان علی مخالفی
الحدیث والقرآن
لاثبات الحق الصریح فی
حیات المسیح
جناب شیخ احمد حسین میرٹھی اوورسیئر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قارئین کرام! الحمد لله رب العلمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على سيد المرسلين وآله المكرمين واصحابه الراشدين اجمعين ٠ اما بعد! طالب نجات ذرہ بے مقدار ہیچمدان شیخ حاجی احمد حسین عفا اللہ عنہ حنفی المذہب چشتی المشرب کے یکے از کمینہ خادم خادمان حامی الحرمین الشریفین جناب حاجی امداد اللہ صاحب (مہاجر مکی) طاب اللہ ثراہ وجعل الجنة مثواہ سب اور میرا بن شیخ حاجی مدار اللہ صاحب عرف بہ شیخ حاجی مدار بخش صاحب مرحوم غفر اللہ لہ ولوالدیہ اہل اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ احقر نے بعد حصول پینشن جب اپنے وطن میں مراجعت کی یہاں آ کر اکثر نو ایجاد من گھڑت طریقہ مرزا غلام احمد قادیانی کے چرچے اور تذکرے گوش زد ہوئے بلکہ بعقائد عیسائیان آسمانی باپ کے لے پالک جو اپنے لئے بحوالہ الہام ہذیانی ”انت منی بمنزلة ولدی“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) اپنی خود ستائی کرتا ہے۔
بہت سے خام طبیعت غیر مستقل الایمان متزلزل الاعتقاد سادہ لوحوں کو راہ راست سے گمراہ کر دیا پس بعض جلیس تقدیس نہاد نے اس فقیر حقیر سے ان باطلہ عقائد کی تردید اور جواب نگاری بعض مسائل مسلمہ ومروجہ مرزا کی تحریک کی چونکہ احقر میں قدیم سے باطل پرست گروہوں کے دندان شکنی کا قدرتاً جوش ہے لہذا با وجود بے مائیگی علم و کم مہارتی متوکلاً علی اللہ اس رسالہ کی تکمیل پر کمر ہمت چست کی اب خدائے بے نیاز کی بارگاہ میں عاجزانہ دست بدعا ہوں کہ وہ ہمدردی اسلام کے صلہ میں اس عاجز کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے اور رسالہ کو شرف قبول سے مسلمانوں کے دلوں میں وقعت عطا فرمائے۔
عالی شان بلند سواد والا متبحران دقیقہ شناس سے اول یہ التماس ہے کہ بتقضائے بشریت اور لاعلمی خاکسار سے معناً یا لفظاً حقیقتاً یا مجازاً اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو براہ کرم بمصداق تخلقو باخلاق اللہ اور ستاری کو کام میں لائیں اور چشم پوشی فرما کر آماج گاہ سہام ملام نہ بنائیں بلکہ اصلاح فرمائیں۔
دوئم آنکہ ہمارے مخالفین کی تمام تحریریں اکثر ناملائم الفاظ و غیر مہذبانہ خطاب سے
٢
مملو ہیں تا آنکہ ہمارے بزرگوں اور ان مسلم پیشواؤں کو برگزیدہ اور مقدس بارگاہ احدیت سمجھتے ہیں۔ صریح توہین آمیز بیہودہ تحریر سے گریز کی ہے۔ بداں تا کہ ہذیان طفلان سے مسلمانوں کو بے تہذیبی سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ وہ ناگوار خاطر قلم سے نکلا بھی ہو تو نصوص قرآنی کے ترجمہ سے آیا ہوگا۔ نہ کہ نفسانیت اور ضد سے تاہم میں خواستگار معافی ہوں کہ یہ چندان غیر مستحسن نہیں فقط۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عنوان اوّل: سبحان اللہ! کیا زمانہ انقلاب ہے
کے ذریات شیاطین نے وہ رنگ وظہور پکڑا کہ کسی نے نہ غرض کہ طرح طرح کے فساد ایجاد ہونے سے دین اسلام کی رونق بالکل ابتر ہو گئی۔ وہی بزرگان دین حق جن کی نسبت قولہ تعالیٰ: ”و من يتول الله ورسوله فان حزب الله هم الغالبون (المائدہ: ٥٦)“ ﴿اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ایمان لائے ہیں پس گروہ اللہ کے وہی ہیں غالب۔﴾
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ موصوف الصدر مدعیان مذکورہ بالا کو مغلوب کر کے دین کا بول بالا کریں حالانکہ کیسے کیسے عظیم الشان فتنے برپا ہوئے۔ مگر بمدد اللہ دین مستحکم اور قائم ہو گیا اور وہی بزرگان دین متولی رہے اور محبوب ومتقی بندگان، اللہ پاک کے ہیں۔
بقولہ تعالیٰ: ”ومالهم الا يعذبهم الله وما كانوا اولياءه ان اولياؤه الا المتقون ولکن ﴿اور کیا ہے انہیں کہ نہ عذاب کرے انہیں اللہ اور وہ روکتے ہیں ۔ اور نہیں متولی اس کے مگر متقی ۔ لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے﴾
٣
مملو ہیں تا آنکہ ہمارے بزرگوں اور ان مسلم پیشواؤں اور بعض اولوالعزم انبیاء واکابر کی جنہیں ہم برگزیدہ اور مقدس بارگاہ احدیت سمجھتے ہیں۔ صریح توہین کی ہے۔ مگر حوالہ بخدا کر کے ہم نے حتی الوسع بیہودہ تحریر سے گریز کی ہے۔ بداں تا گریزند طفلان راہ۔ چوزنگی چرا گشتہ باید سیاہ۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو بے تہذیبی سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ وسلمنا ذالک مگر کوئی لفظ نہ ملائم کسی موقع پر ناگوار خاطر قلم سے نکلا بھی ہو تو نصوص قرآنی کے ترجمہ سے اخذ کیا گیا ہوگا یا تاویلاً معرض تحریر میں آیا ہوگا۔ نہ کہ نفسانیت اور ضد سے تاہم میں خواستگار معافی ہوں گو بمصداق کلوخ انداز را پاداش سنگ است چندان غیر مستحسن نہیں فقط۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عنوان اوّل: سبحان اللہ! کیا زمانہ انقلاب ہے۔ سابق زمانوں میں بھی طرح طرح کے ذریات شیاطین نے وہ رنگ وظہور پکڑا کہ کسی نے دعویٰ خدائی کیا اور کسی نے دعویٰ نبوت۔ غرض کہ طرح طرح کے فساد ایجاد ہونے سے دین اسلام کا تو کچھ نہیں بگڑا۔ مگر بفضل الٰہی وہ سب خود فی السقر ہوگئے۔ وہی بزرگان دین حق جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ غالب ہوئے۔
قولہ تعالیٰ: ”من یتول الله ورسوله والذین آمنو فان حزب الله هم الغالبون (المائدہ:٥٦)“ ﴿اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو وہ جو کہ ایمان لائے ہیں پس گروہ اللہ کے وہی ہیں غالب۔﴾
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ موصوف اس آیت کے وہی لوگ ہیں۔ جنہوں نے مدعیان مذکورہ بالا کو مغلوب کر کے دین کا بول بالا حسب ایمانی خداوندی کردیا۔ اب غور فرمانا چاہئے کہ کیسے کیسے عظیم الشان فتنے برپا ہوئے۔ مگر بہدایت ذی الطول حق نے سب کو دفع کیا اور دین اللہ کا مستحکم اور قائم ہو گیا اور وہی بزرگان دین متولی رب البیت ہوئے اور کیوں نہ ہوتے وہی تو محبوب و متقی بندگان، اللہ پاک کے ہیں۔
بقولہ تعالیٰ: ”ومالهم الا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام وما كانو اولياءہ ان اولياؤہ الا المتقون ولكن اكثرهم لا يعلمون (الانفال:٣٤)“ ﴿اور کیا ہے انہیں کہ نہ عذاب کرے انہیں اللہ اور وہ روکیں مسجد حرام سے اور نہیں وہ متولی مسجد کے نہیں متولی اس کے مگر متقی۔ لیکن اکثر کفار نہیں جانتے﴾
٣
دیکھو یہ وعدہ اللہ کا کہ مکہ معظمہ ہمیشہ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گا۔ کیا پورا ہوا کہ آج تک اہل اسلام ہی اس پر قابض اور متولی ہیں۔ کوئی اور نہیں۔ اس لئے صاف ظاہر ہے کہ جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی فرمائی ہے۔ وہ یہی لوگ قابضان اور متولیان اہل اسلام متقین ہیں۔ اے صاحبان اس فقرہ آخر کہ اکثر کفار نہیں جانتے کیوں مصداق ہوتے ہو ذرا چشم حیا کو اٹھا کر دیکھو کہ آج تک وہی اسلام دین اربعہ آئمہ رب البیت پر قابض ہیں۔ اگر یہ صاف حسب فرمودہ خداوندی متقی نہ ہوتے تو اسلام میں جس قدر فریق جدید ہوگئے ہیں۔ کوئی تو قابض رب البیت ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے ضرور ہے کہ تمام فرقہائے سے جدید باطل پر مبنی ہیں۔ پس وہی اسلام دین حق پر ہے۔
عنوان دوم
اسلام دین میں سوائے تحقیقات بزرگان دین و اربعہ آئمہ کے کہ اسلامیان کی تحقیقات میں دائر ہے اور اس پر اتفاق اجماع بھی ہے۔ کسی اور کے اقوال پر چلنا اور یقین کرنا محض ضلالت و گمراہی ہے اور جب کہ ان اکابر کی ہی شرح و قول جن کا زمانہ قرب رسول اللہ ﷺ تھا قابل نہ رہیں تو اس زمانہ بعید از بعید میں کسی کا قول و فعل قابل قبول ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ خلاف اجماع ہے۔
قولہ تعالیٰ: "وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النساء:١١٥)" ﴿ اور جو کوئی مخالفت کرے رسول سے جب کھل چکی اس پر راہ کی بات اور چلے سب مسلمانوں کی غیر راہ سے پس ہم اس کو حوالہ کریں وہی طرف جو اس نے پکڑی اور ڈالیں دوزخ میں اور بہت بری جگہ ہے۔ ﴾
اور نیز اسی طرح حدیث میں آیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ کا ہاتھ ہے۔ مسلمانوں کی جماعت پر جس نے جدی راہ پکڑی وہی جا پڑا دوزخ میں۔ پس جس بات پر امت کا اجماع ہو۔ وہی اللہ کی مرضی ہے اور جو منکر ہو وہی دوزخی ہے۔ موضح القرآن۔
پس اس حدیث و آیت سے صاف ثابت ہوگیا کہ جس نے برخلاف اجماع ان بزرگان بالا کے جدی راہ نکالی اور اس آیت کا منکر ہے اور منکر کلام الٰہی کا قطعی کافر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کو دوزخی فرمایا۔
٤
عنوان سوم
وہ بات جو سب کے نزدیک مسلم ہے یہ ہے جو فرمودہ رسول اللہ ﷺ متفق علیہ ہر جمعہ کے خطبہ میں ہر شخص سنتا ہے اور یہ گم گشتہ راہ کور باطن بھی ہمیشہ سنتے رہتے ہیں۔ مگر بقول:
کہ خضر از آب حیوان تشنہ لب آرد سکندر را
وہ حدیث یہ ہے: "خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم (بخاری ج ١ ص ٥١٠)" ہر جمعہ میں پڑھا جاتا ہے۔ یعنی میرا زمانہ خیر کا ہے۔ بعد اس کے صحابہ اور بعد ازیں تابعین کا اور دوسری حدیث میں تبع تابعین بھی آیا ہے۔ بعد اس کے جھوٹ فریب کا زمانہ شامل ہو جاوے گا۔ لہٰذا اسی زمانہ ممدود کی تحقیقات کا اعتبار ہے کہ قریب زمانہ رسول اللہ تھا۔ رہا یہ کہ بعض بعض مسائل فروعیہ میں جو اربع ائمہ کے باہم اختلاف ہے وہ اختلاف صحابہ ہے۔ وہ بھی بخیر ہے۔ یعنی اس میں بھی ایک ثواب ہے۔ ان کی نسبت بھی یوں فرمایا ہے۔ اختلاف امتی رحمۃ۔ مگر اختلاف امت سے مراد اصلی اسی زمانہ کے لوگ ہیں جو خیر القرون مذکور میں داخل ہیں وہی زمانہ اجتہاد استحکام اسلام دین کا تھا بعد اس کے زمانہ کذب شامل ہو گیا اور فی زمانہ تو زیادہ تر بدتر ہے۔ جس کی بابت قرآن و حدیث سے سب کو خبر ہے بغرض اختصار ان کے درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل خود سمجھ جائیں گے۔ غرض یہ تمام معروضہ بالا اہل فہم کے نزدیک قابل تسلیم ہیں۔ البتہ نادان کور چشم جو اس کی درگاہ سے مرفوع القلم ہیں جو چاہیں کہیں۔
پس جس قدر طریقے و فرقے برخلاف اسلام و دین ایجاد ہو گئے ہیں۔ عاقلوں کے نزدیک باطل ہیں۔ ورنہ کوئی بتائے تو سہی کہ منجملہ فرقہائے موجودہ وغیرہ کے کوئی بھی متولی بیت اللہ ہوا جو راستی فرقہ پر بمصداق آیت بالا دلالت کرے۔ سو اب طریق اسلام دین کا حق سمجھنا حسب معروضہ بالا آسان ہو گیا۔ کیونکہ برخلاف اربعہ ائمہ واجماع مومنین خیر والقرون کے جو دین میں ایجاد ہے۔ خلاف ہے اور بعدہ محدثین و مفسرین و مجتہدین و فقہا وغیرہ و نیز اہل سیر و تواریخ۔ زمانہ سابق وغیرہ جس کا بیان صحیح کھنچا کر بھی موافق قرآن و حدیث آجائے تو فبہا قابل قبول۔ ورنہ مردود اور جبکہ سابق ایجاد طریق خلاف اسلام قابل قبول نہ ہوئے تو اس زمانہ بدتر میں جو کوئی شخص قرآن و حدیث میں رائے زنی کرے اور جدید طریق ایجاد کرے تو وہ البتہ وسوسہ شیطانی ہے اور نفی مذکورہ بالا کا منکر ہے۔ پس جو شخص اپنے آپ کو مثل عیسیٰ یا مثل نبی یا امام مہدی قرار دے تو اول
٥
ان آیات متذکرہ بالا کا مصداق ہو کر دعویٰ کرے تو کچھ قابل خیال بھی ہو ورنہ مجسم شیطان لعین مثل مسیلمہ کذاب معہ اپنی ذریات کے ہے۔ خداوند کریم ایسے گمراہ لوگوں کی ہوا سے بچائے اور اپنی رحمت سے ان کو بھی راہِ راست دکھائے۔ کیوں صاحبو! اب کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں یا وہی مرغی کی ایک ٹانگ۔ بقول نادان:
اپنا کعبہ جدا بنائیں گے
یارو! خدا سے ڈرو اور اس آیت کے مصداق نہ ہو۔ قولہ تعالیٰ: ”اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْءٍ اِنَّمَا اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْن (انعام: ١٥٩)“ ﴿جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہو گئے فرقے تجھ کو ان سے کچھ کام نہیں۔ ان کا کام اللہ کے حوالے ہے۔ یہ وہی جتاوے گا ان کو جیسا کرتے تھے۔﴾
چنانچہ حدیث میں بھی آیا ہے: ”عن عائشۃ ومن احدث فی امرنا ھذا ما لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ“ (بخاری ج ١ ص ٣٧١) میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص نئی بات نکالے ہمارے اس کام میں۔ یعنی ہمارے دین اور شریعت میں جو اس میں نہیں۔ سو وہ نئی بات یا اس کا نکالنے والا مردود ہے۔ یعنی دین میں وہ نئی چیز نکالے جس کی شرع میں کچھ اصل نہیں نہ کھلی نہ چھپی سو وہ نہایت گمراہی ہے اور اسی کا نام بدعت ہے۔
دین میں چار چیزیں اصل ہیں۔ ایک تو قرآن۔ دوسرے حدیث۔ تیسرے اجماع اور اتفاق امت۔ چوتھے قیاس شرعی جس کی بحث اصول فقہ میں ہے۔ پس جو بات ان چاروں اصول میں نہیں وہی بدعت ہے۔ جتنی بدعتیں لوگوں نے خلاف شرع نکالیں۔ اس حدیث سے سب رد ہو گئیں۔ تفصیل کی کچھ حاجت نہیں۔ پس توبہ کرنا اور راہ سنت حقہ کو اختیار کرنا امر ضروری ہے۔ ورنہ ایسوں کا ٹھکانا وہی جہنم ہے۔ بھائیو میں بوجہ ہمدردی بقول شیخ سعدیؒ:
کہ در آفرینش ز یک جوہر اند
عرض کرتا ہوں۔ قولہ تعالیٰ: ”وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (احزاب:٤٠)“ آیا ہے تو جب آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہوئے تو پھر آئندہ نبی یا مثل نبی کی
٦
امید کیونکر۔ جبکہ اصل نبوت کا ہی خاتمہ ہو چکا تو مثل نبی کس غرض اور کس ڈربے سے برآمد ہوا ہے۔ کیا خاتم نبی سے کام انجام نہیں ہوا جو ایسا دعویٰ ہے کوئی ثبوت قرآنی ہے یا کوئی ان کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ قرآن میں تو کہیں اس کا پتہ و نشان نہیں۔
عنوان چہارم
اور جن کو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ سلسلہ اسلام دینی ان سے مستحکم ہو جائے۔ ان کی خبر قرآن میں صاف دے دی۔
قولہ تعالیٰ: ”وعد اللہ الذین آمنو منکم وعملو الصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ولیمکنن لہم دینہم الذی ارتضیٰ لہم و لیبدلنہم من بعد خوفہم امناً یعبدوننی لا یشرکون بی شیئاً ومن کفر بعد ذالک فاولئک ہم الفاسقون (نور:٥٥)“ یعنی وعدہ کیا اللہ نے بعضے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے اچھے عمل کئے اس بات کا کہ ان کو زمین کا خلیفہ اور بادشاہ بنا دے گا جیسا ان سے پہلوں کو اور ان کے لئے اس دین کو جو ان کے لئے چھانٹ رکھا ہے اور پسند کر رکھا ہے۔
خوب جمادے گا اور ان کو بعد اس کے کہ اندیشہ و خوف رہا کرتا تھا۔ امن دے گا کہ وہ پھر میری عبادت ہی کیا کریں گے اور کسی کو ذرہ برابر عبادت میں میرا شریک نہ کریں گے اور جو لوگ بعد اس نعمت کے کفران نعمت کریں اور ناشکری کریں۔ وہی ہیں اصلی فاسق طاعت سے نکلے ہوئے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ جو کلام اللہ کو سمجھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں جو نہیں سمجھتے وہ ترجمہ سے مطابق کر کے سمجھیں آج کل سینکڑوں ترجمے کلام اللہ کے ملتے ہیں۔ کچھ کمی نہیں۔ اب سنئے۔ میں نے اس لئے بہت صاف کر کے لکھا ہے کہ آپ صاحب اس نیم ملاں خطرہ ایمان کے دھوکہ اور سمجھانے میں نہ آجائیں۔ خود بھی بغور سمجھنا چاہئے۔ یہ وعدہ ہر کسی سے نہیں۔ اسی زمانہ کے مومنین سے ہوا یعنی صحابہ سے۔ کیونکہ الذین کے بعد منکم بھی بڑھایا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہوا کہ یہ انہیں سے وعدہ ہے کہ تمہارے زمانہ کے پچھلے مومنین کو اس لفظ کے ذکر کرنے سے اس وعدہ سے علیحدہ کر دیا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے جو دین چھانٹ رکھا تھا اور پسند کر رکھا تھا اس کو اس پر خوب جما دیا جو آج تک برابر چلا جاتا ہے۔ اب کوئی شخص نبی یا مثل نبی بن کر خلاف ان کے ایک جدی راہ نکالے تو تم ہی کہو کہ وہ مردود ہے یا نہیں۔ کیونکہ وہ اس آیت کا منکر ہے۔ گویا اس کے نزدیک ابھی
٧
تک وہ دین ہی نہیں جمایا گیا۔ یہ کسی عاقل کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ طفل مکتب بھی سمجھ جائے گا کہ یہ شخص برہم زن دین ۔ مردود اور کذاب ناشکر اور طاعت سے نکلا ہوا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے مومنین سے دین اسلام کی پختگی کا وعدہ کیا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ نبی یا مثل نبی یا موعود مسیح اس برگزیدہ اور پسندیدہ دین کو جماوے گا۔ اے صاحبو ذرا بغور کلام الہی کو سوچو سمجھو اور اس آیت کے مصداق نہ ہو:
”ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون (یونس: ١٠٠)“ وہ ڈالتا ہے گندگی ان پر جو نہیں سمجھتے۔
اور سنئے کہ بعد نزول سورہ نصر جس کی شرح وترجمہ کی ضرورت نہیں طفل مکتب بھی جانتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی جس سے ہر نعمت اور ہر امر کا خاتمہ ہو گیا:
”الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوہم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:٣)“ آج مایوس ہو گئے کافر تمہارے دین سے پس نہ ڈرو ان سے اور ڈرو مجھ سے آج کامل کر دیا میں نے واسطے تمہارے دین۔
اب مقام غور ہے کہ اس کے مخاطب رسول ﷺ و تمام صحابہؓ و مومنین ہیں۔ مگر رسول ﷺ برائے چندے کیونکہ آپ کی اب ضرورت نہیں رہی وصال قریب کی خبر اس سے سابق دے دی گئی تو اصل مخاطب صحابہ ومومنین ہی ہیں اور کیا صاف فرمایا کہ اب وہ رسول ﷺ دنیا میں نہ رہیں گے۔ مگر وہ دین جو تم نے اختیار کیا ہے۔ اس سے سب کفار مایوس ہو گئے۔ اب تم ان سے مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرنا کامل کر دیا تمہارے لئے دین تمہارا اور اپنی نعمتیں پوری کر دیں۔ یعنی قبل اس کے لیستخلفنہم میں جس کا ذکر ہو چکا ہے کہ ہم تم میں سے بعض کو زمین کا خلیفہ کریں گے اور اس پسندیدہ دین اسلام کو جس کی خبر حکم آخر میں ہے کہ جو تمہارے لئے چھانٹ رکھا ہے قائم کر دیں گے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا اور واقع بھی اس بات کی پوری شہادت دیتا ہے۔ تو کچھ ان کے زمانہ میں ایجاد بھی ہوا۔ وہ سب پسندیدہ حق اور حسب فرمودہ خداوند تعالیٰ ہے اور یہی لوگ اصلی اولی الامر ہیں۔ ان کی پیروی خدا اور رسول کی پیروی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قولہ تعالیٰ: ”والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین
اتبعو هم باحسان رضی الله عنهم ورضو عنه (توبہ:١٠٠) ”سابقین جو اولین ومہاجرین وانصار سے ہیں اور جن لوگوں نے سابقین پیروی کی ومتابعت کی نیکی سے۔ ھے یعنی ایمان اور طاعت سے خدا ان سے راضی ہوا اور وہ لوگ خدا سے راضی ہوئے پھر آگے ان کے لئے ”واعدلهم جنت تجری ...... الخ“ فرمایا یعنی وعدہ جنت جس میں نہریں بہتی ہیں۔ ابدالآباد کا فرمایا۔ اس وجہ سے رسول مقبول ﷺ نے خیرالقرون قرنی فرما دیا کہ زمانہ قریب رسول اللہ ﷺ کے وہی لوگ ہیں۔ ان پر اتفاق ہے انہیں کے وقت اسلام دین بسیط وکامل ہو گیا۔ اسلام دین اربعہ ائمہ پیروی صحابہؓ ہے اور پیروی صحابہؓ پیروی رسول ﷺ اور پیروی اللہ تعالیٰ کی ہے۔
پس جو ان کے خلاف نیا طریق ہے۔ وہ مردود ہے کہ خلاف قرآن وحدیث ہے اور جب کہ ازروئے اسلام یہ بات صحیح ہے کہ واقعی مخالف کلام اللہ نہ کسی محدث کا قول معتبر ہے نہ کسی مفسر کا بلکہ خود حدیث مخالف کلام اللہ ہو تو موضوع سمجھی جاوے گی۔ مگر مخالف وتوافق کا سمجھنا ایسے لوگوں کا کام نہیں۔ اس کے لئے بقول مولانا محمد قاسم صاحب مرحوم ومغفور تین علموں کی ضرورت ہے۔ ایک تو علم یقینی معنی قرآن دوسرے علم یقینی معنی قول مخالف تیسرے علم یقینی اختلاف جس کو یہ منصب خدا عطا کرے اس کے بڑے نصیب ہیں اس کے مصداق وہ ہی لوگ ہیں۔ جن سے آج تک اسلام دین قائم ہے اور آئندہ قائم رہے گا اور یوں جاہل نیم ملاں اس بات میں ٹانگ اڑانے لگیں تو ان کا یہ دخل بے جا ایسا ہی ہوگا۔ جیسا کہ کسی طبیب حاذق یا علماء متقدمین کی بات میں نادان یا کسی نیم حکیم یا نیم ملاں خلل ایمان کا دخل بے جا ہے۔
کیونکہ مخالف اکابر کا سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں اور بعد اطلاع مخالفت جب اکابر کے اقوال قابل قبول نہ ہوئے تو ہمارے تمہارے یا کسی لال گرو کے بھائی مسیح موعود وغیرہ جیسے کے اقوال اگر مخالف کلام اللہ یا حدیث ہوں گے۔ تو بدرجہ اولیٰ مقبول نہ ہوں گے۔ اے صاحبو اب ذرا اس جاہل رانجھے مشہور کی نصیحت پر غور فرمائیے۔ وہ اپنی ہیر سے ایسے موقع پر کیا کہتا ہے۔
یہ علمی بحث کی بہت ٹیڑھی ہے کھیر
اب رہے ایرے غیرے و نیم ملاں خلل ایمان علمی بحث میں مقابلہ علماء ٹانگ اڑانے لگیں تو بے جا ہے۔ ان کی حقیقت معلوم اور ان کی استعداد کی کیفیت معلوم ہو تو وہ ان کے پیرو مرشد لال گرو کے بھائی مسیح اپنے مسیح موعود یا مثیل نبی ہونے کا ثبوت جو اعتراض علماء کا ہے۔
٩
از روئے نص قرآنی و با تفاق سابقین دین اور شیمہ روافض خوارج تاویلات باطلہ سے احتراز کریں اور اتباع سابقین اختیار کریں۔ ورنہ خاموش ہو رہیں۔
مباحثہ علمی میں ناحق پاؤں اڑایا اور چوٹ کھائی زبان کو اپنے منہ میں لئے بیٹھے رہے تو اچھا تھا:
منہ کھلا گل کا تو دامن بھی ہوا پھر چاک چاک
اور یہ جو کچھ در پردہ کیا ہے انہوں نے ہی کیا ہوگا۔ موافق شعر :
ہے کوئی اور ہی اس پردہ رنگ گاری میں
کون نہیں جانتا کہ وجی کے بھائی سمیع ہی ملاں جی کے سر بول رہے ہیں۔ بقول شخصے۔ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے مگر کہنے کو تو خاکا ملاں جی کا ہی اوڑے گا مہملات مندرجہ اشتہار گم نام کے بدلے ادھر سے بے نقطہ ملا جی ہی سنیں گے۔ سنئے اگر کچھ دم درود ہے تو مقابل آئیے۔ نام بتائیے
مگر آپ ایسے نہیں ہیں۔ آپ اپنی لیاقت کے موافق سمجھ کر اپنوں پر آ گئے اور گوز معکوس کی طرح منہ پر جو آیا بکنے لگے۔ ملاں صاحب یہ تو آپ کی بے سمجھی کا سمجھنا ہے اور ایسی الٹی سمجھے بھی تھے تو پیٹ میں رکھنا تھا اور فرض کیا ہضم دشوار تھا تو کیا منہ کی راہ اگلنا تھا۔ وہ بھی ہمارے سامنے جس کے یہ معنے کہ پیشوایان دین پر آوازہ کستے ہیں تو ہمیں کو ستاتے ہیں کہ وہ سب سابقین گویا گمراہ اور کاذب تھے اب یہ تحقیق طریق جدید صحیح ہے۔
ہماری سنئے۔ اس کے جواب میں تم کو کچھ کہیں تو تم کس کھیت کے باتھو ہو اور موافق مثل مشہور : ” کیا پدی کیا پدی کا شوربا‘ تمہاری حقیقت ہی کیا ہے جو تم کو کہہ کر دل کے ارمان نکلیں اور تمہارے بڑوں کو سنائیں تو ان بیچاروں کا کیا قصور اور کچھ نہ کہیں تو موافق مصرعہ مشہور :
غرض کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تسلی ہے تو اس مثل پر ہی کہ کھانا گو رایگاں گیا پر بلی کی حقیقت معلوم ہوگئی۔ ان باتوں سے آپ کی لیاقت کھل گئی۔ مردان دلاور معرکہ جنگ میں دشنام زبان پر نہیں لاتے اور دانشوران علم پرور مناظر میں خلاف تہذیب کسی کو نہیں سناتے البتہ زنانے ہیجڑے و نامرد و کمینے ضرب پاپوش کے بدلے گالیاں دیا کرتے ہیں اور جاہل نادان کودن بے ہنر
١٠
جواب کے بدلے دشنام سے کام لیا کرتے ہیں اور دور کی گیدڑ بھبکی عدالت کی دکھلاتے ہیں۔
اب بجز اس کے کیا کہئے مرحبا آفرین ہزار آفرین ایں کار از تو آید مردان چنیں کنند دیگر
افسوس یہ ہے کہ مجملہ گم گشتہ ایک شاگرد رشید کو راہ ہدایت کا کچھ شائبہ سا نظر پڑا۔ خواب غفلت سے چونک اٹھا کہ یہ کیسا مثیل نبی ہے۔ جس میں یہ صفت شعراء نہیں فوراً نفور ہو کر چھاؤنی سے شہر میں جا کر دم لیا۔ کسی نامی گرامی کا مرید ہوا چند یوم نہ گزرنے پائے تھے کہ مجملہ حواریان نیم ملاں مسیح موعود نے سنا فوراً مثل کرگس (یعنی گدھ) جومردار پر آسمان سے جھپٹا مارتا ہے۔ اس نے آ دبایا اور اپنے پنجوں سے نکلنے نہ دیا۔
مقام افسوس و مجبوری بقول مولانا شیخ نظامیؒ:
بجز و قلم زانچہ گرد اندہ
اور بقول شیخ صاحب:
غرض ناظرین اوراق حقیقت شناساں کو یہ راہ یابی کا طریقہ واضح طور پر عرض کیا گیا ہے۔ تاکہ بفضل عنایت ایزدی کامیاب ہوں۔
اب ہم اس اشتہار کی جو کسی گم نام نے بحوالہ المشتہر خادمان مسیح موعود بلا تاریخ وسنہ مطبع صادق المطابع میرٹھ میں چھپوا کر شائع کیا ہے۔ اس کے جواب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں مگر اول یہ عرض ہے کہ ناظرین صاحب نے اشتہار ضرور ملاحظہ کیا ہوگا۔ کیسے کیسے الفاظ ناملائم خلاف تہذیب کسی عالم کی شان میں کہنا ایسے لوگوں کا کام ہے جن کی نسبت کچھ کم وبیش عبارت مذکور بالا میں تحریر کر چکے ہیں۔ اگر آپ کو مناظرہ کرنا ہے تو اہل فہم کی طرح کیجئے اور ان بدزبانیوں کو جانے دیجئے۔ ورنہ ہم کو بھی کیا کچھ نہیں آتا:
ہر چند اہل ضبط ہیں پر بے زبان نہیں
اب تو جو کچھ ہوا سو ہوا آئندہ ہم غرض کئے دیتے ہیں۔
اس کی زلفوں پر اب لازم یہ ہے کہ مشتہران اشتہار کی قلعی کھولئے۔ ناظرین اوراق
دل لگا کر سنیں۔ یعنی اس اشتہار خلاف تہذیب میں جو کچھ ہے وہ تو ہے اس میں غلطیاں بھی بہت جا بجا ہیں۔ جن کو بعد چھپ جانے کے قلم سے درست کیا ہے۔ جو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ فلاں ملا جوڑ کے پڑھاتے ہیں۔ ان کے قلم سے درست ہوا ہے۔ تاہم غلطیاں موجود ہیں شاید یہ بھی بانی مبانی۔ در پردہ فساد عقائد ہیں مگر ان کی ذات شان سے یہ بعید ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ زمانہ رسول ﷺ میں بھی منافق رہتے تھے۔ غرض کوئی شخص کیوں نہ ہو ہم کو اس کے جواب دینے سے غرض ہے۔ مگر ضروری امر کا اثبات جو دارو مدار اصول ایجاد طریق کا دعویٰ ہے۔ کسی سے نہ خود خادمان مسیح سے ہوا اور نیز اشتہار میں اس کا ذکر قطعاً اڑا دیا اور مولوی صاحب مندرجہ اشتہار سے حیاث وممات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت سائل ہوئے۔ غرض نوبت یہاں تک ہوئی کہ بوجہ عدم لیاقت تاب مقابلہ کی نہ لا سکے اور ایسے بدحواس ہوئے کہ معہ اپنی ذریات بکے یہ جاوہ جا پتہ نہ لگا پس باعث ندامت و سوختگی دل بعد چلے جانے مولانائے مناظر کے اشتہار میں جو چاہا دھر گھسیٹا جس کے کذب ہونے کی خبر منصفان موجود موقع بحث رحمن بازار وغیرہ نے بذریعہ اشتہار دیکر سب کو اطلاع دے دی وہ بھی نظر سے گزرا۔
پہلے ہم مرزا کے چند فقرے جو انہوں نے اپنی نبوت کے اثبات و عقائد کی نسبت تحریر کئے ہیں۔ ذیل میں درج کرتے ہیں: مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت قرآن کریم کے الہامی ہونے کے اثبات پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ الہام کو مرادف وحی قرار دے کر اپنے آپ کو الہام کی ان متعدد صورتوں کے ساتھ مورد وحی ہونا قرار دیا ہے اور آیات قرآنی کو اپنی نسبت منسوب کیا ہے۔ منجملہ ان کے بعض آیات بطور نمونہ از خروارے ناظرین کے لئے ذکر کرتے ہیں۔ مگر قبل اس کے ہم ان جملہ ہفوات قادیانی کا جواب دیں جو انہوں نے الہام کی حقیقت کے متعلق لکھا ہے ہم اولاً عارف شعرانی کی میزان کبریٰ سے کشف والہام کی صداقت اور من جانب اللہ یا من جانب شیاطین ہونے کا ایک معیار پیش کریں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد کے مطابق کہ : ”ان الشياطين ليوحون الی اولیائهم (انعام: ١٢١)“ یعنی شیطان بالضرور اپنے دوستوں کو القا وایحا کرتے ہیں لازم ہوا کہ الہام شیطانی اور وحی ربانی کی تفریق کے لئے کوئی میزان معین ہو۔ پس اس میزان کے متعلق عارف شعرانی کتاب میزان کبریٰ کے ص ١٠ میں لکھتے ہیں
کہ غیر معصوم کا کشف سوائے حضرت ابو بکر صدیق کبھی قطعی نہیں ہوتا کیونکہ صاحب کشف کے کشف میں تلبیس ابلیس کا دخل بھی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو یہ قوت دی ہے۔ جیسے امام غزالی وغیرہ نے کہا کہ کبھی صاحب کشف کے روبرو ان مقامات کی صورت کھڑی کر دیتا ہے جس سے وہ علوم اخذ کرتا ہے۔ آسمان ہو یا عرش یا کرسی یا قلم یا لوح۔ پس کبھی کشف والوں کو اس سے گمان ہو جاتا ہے کہ وہ علم اللہ کی طرف سے ہے اور اس وجہ سے اس کو اخذ کر لیتا ہے اور خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ چنانچہ بایں وجہ اہل کشف پر واجب کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کشفی علم کو قبل از عمل کتاب وسنت کے سامنے مطابق کرے۔ اگر موافق کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے ہو تو عمل کے قابل ہے۔ ورنہ اس پر عمل کرنا حرام ہے پس یہ امر ضروری ہے کہ کشف صحیح کبھی شریعت منقولہ سے باہر نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ شریعت کے موافق ہوتا ہے۔ جیسے کہ علماء امت کے نزدیک معہود ہے۔
حضرت صدیق کے کشف کے سوا کسی کا کشف قطعی نہیں۔ چنانچہ اس کے ہم وزن بلکہ پر لطف قول امام ربانی مجدد الف ثانی جو جلد اوّل کے مکتوب ٤٩ میں یوں فرماتے ہیں کہ: نظر علماء از صوفیه بلند آمده وموافق معارف باطن باعلوم شرعیه ظاهر۔ تمام وکمال بحدیکه در حقیر و فقیر مجال مخالفت نماند در مقام صدیقیت است که بالا تر از مقام ولایت است چون مقام صدیقیت تلو مقام نبوت است علومیکه بر نبی علیه الصلوٰة والسلام از طریق وحی آمده است صدیق مخالف را چه مجال باشد و در مادون مقام صدیقیت هر مقامی که باشد نحوی از سکر متحقق است. صحو تام در مقام صدیقیت است وبس۔ وفرق این دو علوم آنست که در وحی قطع است و در الهام ظن زیرا که وحی بتوسط ملك است و ملائکه معصوم اند احتمال خطا در ایشان نیست والهام اگر چه محل عالی دارد که آن قلب است که آن از عالم امر است اما قلب را با عقل ونفس نحوی از تعلق متحقق است ونفس هر چند به تزکیه مطمئنه گشته است امّا:
هرگز ز صفات خود نه گردد
١٣
پس امام شعرانی کے قول سے ظاہر ہے کہ غیر معصوم کا کشف اور الہام کبھی قطع اور یقین کا افادہ نہیں دے سکتا اور نہ کامل روشنی حاصل کرسکتا ہے۔ جب تک کہ شریعت منقولہ کے معیار سے اس کا کھرا کھوٹا معلوم نہ ہو اور میزان کتاب وسنت کے کسی پلہ پر نہ رکھا جائے یہ ضروری امر ہے کہ صحیح کشف و صحیح الہام کبھی شریعت کے مخالف نہیں ہوسکتا اور امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے قول سے صریح ظاہر ہے کہ علماء شریعت کا پلہ صوفیہ کے پلہ سے ہمیشہ غالب رہا اور ان کی نظر صوفیہ کی نظر سے ہمیشہ بلند رہی ہے۔
کیونکہ علوم الہامی کا علوم ظاہری شریعت سے اس طرح پر موافق رہنا کہ کسی چھوٹے اور ادنیٰ امر میں بھی مخالف نہ ہو۔ یہ فقط انہیں افراد کے علوم میں ہے جو کہ بعد نبی لسان ﷺ کے مقام صدیقیت سے مبشر ہوئے اور صدیقیت کے مقام سے ہر مقام تحتانی میں ایک قسم کا سکر تحقق ہے۔ جن میں خطا کا آنا بالکل بجا ہے اور جب تک کہ شریعت منقولہ کے مطابق نہ ہو۔
غیر صدیق کا الہام کبھی مقطوع الافادہ نہیں ہوسکتا اور اسی وجہ سے چاروں مذہبوں کے اماموں نے باجود یہ کہ کشف میں درجہ اول رکھتے تھے لیکن بقول عارف شعرانی انہوں نے اپنے اپنے مذاہب کی تائید قواعد شریعت اور حقیقت ہر دو پر چلنے سے کی باوجود ان کو قدرت تھی کہ ہر ایک امام ان کے اپنے مذہب کے ادلہ کے علاوہ دوسرے ائمہ مذاہب کے ادلہ بھی امر حق کے وزن کرنے کے لئے مرتب کرتے تاکہ بعد ازاں کوئی بھی کسی دوسرے امام کے قول کا محتاج نہ رہے۔ لیکن چونکہ وہ اہل انصاف اور اہل کشف ہونے کے سبب سے جانتے تھے کہ یہ امر اللہ تعالیٰ کے علم میں چند مخصوص مذاہب میں جداگانہ طور سے مرتب ومکمل ہونا قرار پاچکا ہے۔ پس ہر ایک نے اپنے اپنے کشف کی مقتضا پر مذاہب کے مسائل بھی مرتب کئے اور یہی مراد اللہ کی تھی۔ پس انہوں نے اپنے اپنے مذاہب کی تائید قواعد حقیقت کے ساتھ قواعد شریعت پر چلنے سے اس لئے ان کے مقلدوں کو معلوم ہو کہ ان کے ائمہ دونوں طریقوں کے علماء تھے اور ان ائمہ مجتہدین کا قول تمام اہل کشف کے نزدیک کبھی جادہ شریعت سے باہر ہونا صحیح نہیں اور جب کہ وہ اپنے اقوال کے مواد سے کتاب وسنت اور اقوال صحابہ سے موافق ہیں اور باوجود ان کو روحانی معیت نبی ﷺ کی روح مبارک کے ساتھ ہوتی رہی اور وہ ہر امر متفق علیہ میں آنحضرت ﷺ سے بالمشافہ اور بیداری کی حالت میں پوچھتے رہے کہ یا رسول اللہ کیا یہ آپ کا قول ہے یا نہیں۔
١٤
پھر ایسی تحقیق کے ساتھ فرمایا ہوا ان کا کیوں ک در حقیقت علم احوال اور علم اقوال ہر دور میں رسول اللہ کے جو کہا ہے کہ حضرات مجتہدین فقط علم قال کے وارث ہیں مذاہب کے احوال سے جاہل ہے۔ جو کہ زمین کے اوتاد دل اللہ تعالیٰ نے روشن کیا ہے۔ وہ پالیتا ہے مجتہدین ا سب رسول اللہ ﷺ تک بسند ظاہر اور متصل بھی ضرور پ قلبی بھی پہنچتے ہیں۔
اور اسی میزان کے ص٢٥ میں امام شعرانی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عین الشریعت کی آگاہی کا اکرام ائمہ ہی سے عین الشریعت کے ساتھ پیوستہ ہیں اور م دیکھیں اور یہ بھی دیکھا کہ وہ تمام مذہب جو پرانے او سب سے لمبی نہر امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کی دیکھی اور سے چھوٹی امام شافعیؒ کی اور اس سے چھوٹی امام احمد حم پانچویں قرن میں ختم ہو گیا۔
پس اس کی تاویل میں نے یہ کی کہ طول نہر ہے جو ایام طویل تک ہوگا اور قصر سے مراد قصر عمل ہے طرح امام ابو حنیفہؒ کا مذہب باعتبار تدوین کے سب سے سب سے اخیر ہے اور یہی قول جملہ اہل کشف کا ہے۔ ا کہ آخر مذہب امام ابو حنیفہؒ کا ہوگا۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے قول میں تحریر فرماتے ہیں کہ نیز معلوم شد کہ کمالات ولای نبوت را مناسبت بفقہ حنفی۔ اگر فرضا در ایں امت پیغمب دریں وقت حقیقت سخن حضرت خواجہ محمد پارسا قدس س حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول بمذہب امام ابو حن تشریح مفصل صفحہ ٧٥ میں بہت کچھ ہے۔ بوجہ طول ک
١٥
پھر ایسی تحقیق کے ساتھ فرمایا ہوا ان کا کیوں کر شریعت سے باہر ہوسکتا ہے اور یہی ائمہ در حقیقت علم احوال اور علم اقوال ہر دور میں رسول اللہ کے وارث تھے اور بعض بناوٹی صوفیوں نے جو کہا ہے کہ حضرات مجتہدین فقط علم قال کے وارث ہیں سو یہ قول اسی صوفی کا ہے جو ان ائمہ مذاہب کے احوال سے جاہل ہے۔ جو کہ زمین کے اوتاد اور دین کے قواعد اور بنیاد ہیں اور جس کا دل اللہ تعالیٰ نے روشن کیا ہے۔ وہ پالیتا ہے مجتہدین اور ان کے تابعین کے مذاہب سب کے سب رسول اللہ ﷺ تک بسند ظاہر اور متصل بھی ضرور پہنچتے ہیں اور نیز بطریق سلسلہ روحانی اور قلبی بھی پہنچتے ہیں۔
اور اسی میزان کے ص ٢٥ میں امام شعرانیؒ خود اپنا مکاشفہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عین الشریعت کی آگاہی کا اکرام فرمایا تو میں نے دیکھا کہ کل مذہب ان ائمہ ہی سے عین الشریعت کے ساتھ پیوستہ ہیں اور میں نے چاروں مذہبوں کی نہریں جاری دیکھیں اور یہ بھی دیکھا کہ وہ تمام مذہب جو پرانے اور بوسیدہ ہو گئے ہیں پتھر بن گئے ہیں اور سب سے لمبی نہر امام ابوحنیفہؒ کے مذہب کی دیکھی اور اس سے چھوٹی نہر امام مالکؒ کی اور اس سے چھوٹی امام شافعیؒ کی اور اس سے چھوٹی امام احمد حنبلؒ کی اور سب سے چھوٹی امام داؤدؒ کی جو پانچویں قرن میں ختم ہو گیا۔
پس اس کی تاویل میں نے یہ کی کہ طول نہر سے مراد ان کے مذاہب پر عمل کی طولانی ہے جو ایام طویل تک ہوگا اور قصر سے مراد قصر عمل ہے جو ایک زمانہ قلیل تک رہے گا۔ پس جس طرح امام ابوحنیفہؒ کا مذہب باعتبار تدوین کے سب سے اول ہے۔ اسی طرح باعتبار انقراض کے سب سے اخیر ہے اور یہی قول جملہ اہل کشف کا ہے۔ انتہیٰ اور امام شعرانیؒ کے اس قول کی تصدیق کہ آخر مذہب امام ابوحنیفہؒ کا ہوگا۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے قول سے بھی ہوتی ہے جو مکتوب ٢٨٢ جلد اول میں تحریر فرماتے ہیں کہ نیز معلوم شد کہ کمالات ولایت را موافقت بہ فقہ شافعی است وکمالات نبوت را مناسبت بفقہ حنفی۔ اگر فرضا در این امت پیغمبرے مبعوث میشد موافق فقہ حنفی عمل میکرد و دریں وقت حقیقت سُخن حضرت خواجہ محمد پارسا قدس سرہ معلوم شد کہ در فصول ستہ نقل کردہ اند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول بمذہب امام ابوحنیفہؒ عمل خواہد کرد غرض اس تمام معروضہ بالا کی تشریح مفصل صفحہ ٧٥ میں بہت کچھ ہے۔ بوجہ طول اس پر اکتفا کیا گیا کہ ناظرین کو اب بخوبی
١٥
یقین ہو گیا ہوگا کہ جس قدر طریق خلاف ائمہ مجتہدین مندرجہ بالا کے ایجاد ہوئے ہیں۔ سب مردود ہیں۔ کیونکہ ان کی پیروی از روئے نص واجماع ثابت ہے اب قادیانی اور ان کے چیلوں کو لازم ہے کہ از روئے نص واجماع اپنے طریق کے ایجاد کا ثبوت دیں اور نیز اپنی وحی اور الہام وغیرہ کا کوئی ثبوت ہو تو پیش کریں۔ جو حسب معیار مذکورہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے خلاف نہ ہو ورنہ خواہ مخواہ کو قلم نہ گھسائیں بلکہ از روئے انصاف ایمان لائیں۔ کیونکہ اثبات معروضہ بالا قادیانی کے الہام و وحی کی بنیاد ہی اکھڑ گئی اور حسب شرط بالا وہ معصوم نہیں دوئم ان کے جملہ اوہام باطلہ خلاف کتاب وسنت رسول اللہ ہیں۔ غرض جب ان کے الہام وحی خلاف کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ہوئی تو جس قدر آیات قرآنی اپنی نسبت منسوب کی ہیں۔ محض غلط و باطل ثابت ہیں۔ بلکہ مصداق اس آیت کے ہیں:
آیت ”وکذالک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن یوحی بعضهم الی بعض زخرف القول غروراً (انعام:١١٢)“ ﴿اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر نبی کے دشمن شیطان آدمی اور جن سکھاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع باتیں فریب کی۔ پس اس سے ثابت ہوا اور واضح ہو گیا کہ یہ الہام القاء و وحی وغیرہ جو خلاف اسلام ہیں شیطانی ہیں۔﴾
چنانچہ مشت نمونہ خروارے بعض آیت منجملہ آیات جو مرزا قادیانی نے اپنی جانب منسوب کی ہیں۔ درج ذیل ہیں:
قول آیت اول: ”هو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره (الفتح:٢٨)“ اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے بھیجا ہے اپنے رسول (قادیانی) کو ہدایت ودین حق کے ساتھ تاکہ غالب کرے اس کو۔
(ازالہ اوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
اقول: قادیانی کے اس دعوے میں چند خیال ہیں۔
خیال اول
اگر قادیانی کا یہ خیال ہے کہ منجملہ آیات قرآنی کے فلاں فلاں آیت کا میں ہی صرف مصداق ہوں کیونکہ بذریعہ وحی یا الہام اس کی اطلاع سے مشرف ہوا ہوں۔
خیال دوم
اگر خیال قادیانی کی یہ مراد ہے کہ یہ آیتیں بطور وحی والہام مجھ پر اتری ہیں۔
١٦
خیال سوم
اگرچہ یہ آیتیں محمد رسول اللہ ﷺ پر اتری ہیں مگر اس کا مصداق میں ہوں۔
خیال چہارم
گو یہ آیتیں منزل من اللہ ہیں مگر ان آیتوں کے مصداق ہر دو صاحب ہیں۔ (یعنی میں اور محمد ﷺ)
جواب خیال اول
فی الجملہ اس قدر کہنا کہ میں ان آیات کا مصداق ہوں کس قدر وقعت رکھتا ہو مگر باقی ماندہ قرآن کا کس کو مصداق ٹھہرایا۔ بلکہ تمہارے خیال سے بڑھ کر تو اوروں کا خیال ہے کہ تمام قرآن کے ہم مصداق ہیں۔ ہمارے ہی لئے یہ ہدایت قرآن معرفت رسول اللہ ﷺ کی منزل من اللہ ہوئی ہے۔ مگر اس مصداقیت کو مستقل اصل سمجھنا محض نادانی ہے اور کوئی شخص مثل رسول اپنے آپ کو قرار دیوے اور وحی والہام خلاف شرع اپنی نسبت اطلاع کرے۔ تو از روئے قرآن محض غلط ہے جس کی تردید سابق گزری اور آئندہ اور بالتفصیل نظر سے گزرے گی۔
اللہ تعالیٰ نے جابجا ”اطيعو الله واطيعو الرسول“ یعنی محمد ﷺ فرمایا ہے کہ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ اطیعو الله واطیعو مثيل عیسٰی ہاں اولی الامر منکم “ بھی آیا ہے۔ یعنی جو تم میں اختیار والے ہیں یہ ارشاد بھی اسی زمانہ کے لوگوں سے خاص تعلق رکھتا ہے۔ جن کا ہم عنوان بالا میں ذکر کر چکے ہیں۔ کہ وہ بانی مبانی استحکام قواعد وضوابط اسلام دین ہیں اور نیز جو ان کے مطیع ہوں اور آئندہ ان لوگوں کی نسبت نہیں ہے۔ جو ان کے خلاف ہوں کہ پانچ چار کتابیں عربی کی پڑھ کر اپنے آپ کو عالم وفاضل (لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل ) سمجھ کر مثل نبی تو ہو گئے مگر مثل خدا ہونے میں صرف دو ہاتھ کی کسر رہ گئی۔
اس کا بھی عنقریب ظہور ہوگا کیونکہ جب مثل عیسیٰ ہوئے تو از روئے قواعد فریق مقر مثلیت درجہ خدائی ہونا ضروری اور لازم ہے عاقل خود سمجھ جاویں اظہار کی ضرورت نہیں اور اصل اولوالامر ہونا تو درکنار مجازاً ہونے کو بھی بڑی لیاقت درکار ہے اور اس درجہ پر بھی یہ قید لگا دی گئی کیونکہ انسان مرکب خطا ونسیان سے ہیں کہیں قدم کم وبیش نہ ہو جائے۔
یوں فرما دیا : ”فان تنازعتم فى شيء فردوه الى الله و الرسول (النساء: ٥٩) “ پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کی اور رسول کی اگر
١٧
یقین رکھتے ہو۔ یا اللہ پر اور پچھلے دن پر یہ خوب ہے اور بہتر تحقیق کرتا ہے مگر قادیانی اس کے برخلاف ہے۔ گو بظاہر اسلامی لباس رکھتے ہیں اور اسلامیت کا دم بھرتے ہیں۔ مگر قرآن وحدیث واجماع کے برعکس ہیں اور جمہوری اتفاق سے علیحدہ اپنے خودرائی ظاہر کی اور قرآن وحدیث میں تاویلاً کچھ کچھ بیان کر کے مثل نبی بن بیٹھے اور بیچارہ سادہ لوحوں کو سیدھی راہ یقین کی دکھادی ۔ علاوہ اس کے فرمودہ جناب مولانا مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم ومغفور کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کلام اللہ کا کوئی کلمہ خلاف واقع نہیں مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ اس کبریٰ کلیہ کے لئے کوئی صغرا جزئیہ بوسیلہ عقل دریافت کر لیتا ۔
ہم سے ہیچمدان یا ایسے نیم ملان متبع قادیانیوں کا تو کیا حوصلہ وہ ان کے بڑے گرو کے بھائی قادیانی کا بھی کام نہیں۔ یعنی بوسیلہ عقل یوں نہیں کہہ سکتے کہ ہٰذا حقیقت واقع اور کہیں تو تا وقتیکہ کلام اللہ کے معنی متبادر مطابقی کے مطابق ہے تو بہر دو چشم ورنہ کالائے زبون بریش خاوند ۔ مگر یہ یاد رہے کہ معنی مطابقی سے زیادہ لینے کی اجازت نہیں ۔ ہاں کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی سے ایسی ثابت ہو جائے جو معنی مطابقی کے مخالف نہیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ غرض جانے زید سے زید کا فقط آنا ثابت ہوگا۔ سوار ہونے یا پیادہ آنے سے سروکار نہیں رہا۔ مخالف وموافق واختلاف آیت کا سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں۔ جس کی بحث ہم اوپر کر چکے ہیں مکرر بیان کی ضرورت نہیں یہ ان ہی صاحبان کا حصہ تھا جن کو عنوان مذکورہ بالا میں ہم ثابت کر چکے ہیں۔ ہاں ان کے متبع ہو کر بیان کرنا جو مخالف نہ ہو مضائقہ نہیں ۔ مگر قادیانی مخالف کیا ۔ بلکہ خود ہی بحیلہ مستقل ایک مثیل نبی بن بیٹھے جو جمہوری یعنی سب کے برخلاف ہے ۔
جواب خیال دوم
اگر یہ مان لیا جائے کہ قادیانی پر یہ آیتیں اب اتری ہیں تو ظاہر انکار آیات بینات قرآنی ثابت ہوتا ہے جو صریح کفر ہے اور نیز قادیانی کا سرقہ پایا جاتا ہے۔ بلکہ ان کا خدا بھی خود مرتکب اس سرقہ کا ثابت ہوتا ہے۔ کیا اس معنی کے اور الفاظ یاد نہ تھے۔ جو کتاب رسول اللہ ﷺ سے سرقہ کرنا پڑا اور ملزم مسروقہ الفاظ وعبارت فرقان مجید کے ثابت ہوئے کیا کوئی اور زبان نہیں آتی تھی۔ تم پر تو زبان پنجاب میں ضرور ہی اتارنا تھا کہ کچھ قرین قیاس بھی ہوتا کیونکہ سابق انبیاء بھی اپنے ملک اور اسی قوم کی زبان میں مشرف بہ ارشادات ہوئے ہیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ۔ ”وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ
١٨
(ابراهیم: ٤) ” قادیانی کا خدا اس جگہ چوک گیا اوراق بالا میں مفصل تحریر ہو چکی کہ اس قسم کی وحی قبل خیال استدلال نہیں کیونکہ جب قرآن میں لغ ہو چکا۔ رہا الہام یقینی وہ بھی حجت قطعی حق م کے معصوم نہیں ہے اور حجت قطعی الہام یقینی کے ح اب الہام ظنی ممکن ہے جو بعض بعض بزرگان دی منظور ہے، ورنہ وسوسہ شیطانی ہے۔ جس کا ثبو ہے۔ ضرورت مکرر تحریر کی نہیں اوراق سابق میں و
جواب خیال سوم
اگر ان آیات کے مصداق قادیانی با ضرورت تھی۔ آیت مذکور الصدر ”الیوم اکمل تکذیب ہوتی ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ آج ک پس خیال قادیانی سے ظاہر ہے کہ ہنوز اسلام دی میں ملک پنجاب کا دین اب کامل ہوگا۔ تو اس آی اوراق میں ملاحظہ سے گزر چکی ہوگی اور سورہ نص اب ہم کیا عرض کریں۔ وہ خود ہی بھول اٹھیں گے کی ہر ایک آیت ۔ بشہادت خداوندی ۔ زبان عر ہوئیں ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ مثیل نبی تیرویں زمین پنجاب میں جو پیدا ہوگا فلاں فلاں آیت کا جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِيْنَ الْاِنْسِ مندرجہ بالا کا مصداق ضرور ہونا ہے ان کا اغواء خرابی دین کے لئے سب جگہ چلتا ۔ چارے سادہ لوحوں کو بھی گمراہ کرتے اور چکر د ہو جاتا ہے۔ یعنی سوائے ان کے کسی کام کے نہیں
(ابراھیم:٤) ”قادیانی کا خدا اس جگہ چوک گیا ورنہ ایسی فاش غلطی نہ ہوتی اور وحی والہام کی تشریح اوراق بالا میں مفصل تحریر ہو چکی کہ اس قسم کی وحی والہام جو خلاف اسلام ہے۔ وسوسہ شیطانی ہے۔ قبل خیال استدلال نہیں کیونکہ جب قرآن میں لفظ خاتم النبیین آ چکا تو اس سے خاتمہ وحی بھی ثابت ہو چکا۔
رہا الہام یقینی وہ بھی حجت قطعی حق صدیقیت و معصوم ہے پس کوئی شخص سوائے انبیاء کے معصوم نہیں ہے اور حجت قطعی الہام یقینی کے حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی مصداق ٹھہرے۔ پس رہا اب الہام ظنی ممکن ہے جو بعض بعض بزرگان دین کو ہوا یا اگر موافق شرع اسلام دین ہے مقبول ومنظور ہے، ورنہ وسوسہ شیطانی ہے۔ جس کا ثبوت ازروئے نص معروضہ بالا بخوبی ثابت ہو چکا ہے۔ ضرورت مکرر تحریر کی نہیں اوراق سابق میں ملاحظہ فرما لیجئے۔
جواب خیال سوم
اگر ان آیات کے مصداق قادیانی تھے تو جناب محمدﷺ پر ان آیات کے اترنے کی کیا ضرورت تھی۔ آیت مذکور الصدر ”الیوم اکملت لکم دینکم.....الخ (مائدہ:٣)“ کی تکذیب ہوتی ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ آج کامل کر دیا میں نے واسطے تمہارے اسلام کو دین۔ پس خیال قادیانی سے ظاہر ہے کہ ہنوز اسلام دین کامل نہیں بلکہ ناقص ہے۔ شاید قادیانی کے زمانہ میں ملک پنجاب کا دین اب کامل ہوگا۔ تو اس آیت اور نیز آیہ لیستخلفنھم جس کی تشریح سابق اوراق میں ملاحظہ سے گزر چکی ہوگی اور سورہ نصر کی مخالفت اور نیز انکا انکار صراحتاً پایا جاتا ہے۔ اب ہم کیا عرض کریں۔ وہ خود ہی بول اٹھیں گے کہ واقعی صریح کفر ہے اور کیوں نہ ہو کہ قرآن مجید کی ہر ایک آیت۔ بشہادت خداوندی۔ زبان عرب و زمین عرب وقوم قریش عرب پر منزل من اللہ ہوئیں ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ مثیل نبی تیرہویں وچودھویں صدی میں فلاں شخص قوم پنجاب سے زمین پنجاب میں جو پیدا ہوگا فلاں فلاں آیت کا مصداق بنے گا۔ ہاں موافق آیت ”وکذالك جعلنا لکل نبی عدواً شیاطین الانس والجن یوحیٰ.....الخ (انعام:١١٢)“ مندرجہ بالا کا مصداق ضرور ہوتا ہے کہیں ہو کیونکہ شیاطین بصورت انسان اکثر ہیں۔ ان کا اغواء خرابی دین کے لئے سب جگہ چلتا ہے۔ بطمع افتخار دنیا خود تو گمراہ ہوئے ہی۔ مگر بے چارے سادہ لوحوں کو بھی گمراہ کرتے اور چکمہ دیتے ہیں کہ پیر مچھوی کی کڑھائی والوں کا سا حال ہو جاتا ہے۔ یعنی سوائے ان کے کسی کام کے نہیں رہتے۔
١٩
ذرا غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کیا صاف فرماتا ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”هو الذی بعث فی الامیین رسولا منهم (الجمعه:٢)“ ﴿وہی ہے جس نے اٹھایا ان پڑھوں میں سے ایک رسول انہیں میں کا۔﴾ یعنی زمین عرب و قوم عرب قریش ان پڑھوں میں سے رسول ہوگا یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ایک مثیل رسول یا نبی بھی بوم پنجاب و قوم پنجاب سے کوپڑھ یا فلاں زمین میں پیدا ہوگا اور نیز قولہ تعالیٰ: ”قل انما انا بشر مثلكم يوحى الی...... الخ (کہف:١١٠)“ ﴿کہہ دے اے رسول سوائے اس کے نہیں کہ میں آدمی ہوں مانند تمہارے۔﴾ وحی کی جاتی ہے طرف میری کہ معبود تمہارا معبود پاک ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہہ دے اے محمد ﷺ کہ میں بھی مثل تمہارے ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ تم پر نہیں آتی۔ لہٰذا بعض صاحبوں کو بخیال اس آیت کے یہ خلل دماغ میں پیدا ہوا کہ مدعی نبوت یا مثل نبی ہوئے۔
بزمانہ نزول آیت ہذا تمام صحابہ موجود تھے۔ جن کی نسبت آیت ”لیستخلفنهم“ وارد ہے اور نیز خلافت پر بھی مستفیض ہوئے۔ انہوں نے نہ ائمہ نہ غوث و قطب وغیرہ ہم نے دعویٰ کیا اپنے آپ کو مورد وحی فرمایا پھر آج ایسا کون بشر ہے۔ جو خلاف اسلام مورد وحی ہو۔ بلکہ یہی مثل بشر مثلکم بھی مجازاً ہے۔ نہ حقیقتاً کیونکہ عام بشر اور انبیاء علیہم السلام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جن کے قطعی معصوم ہونے کی شہادت قرآن سے ثابت ہو چکی اور کسی کی نسبت ثابت نہیں ہوئی۔ تو فرق بشریت بھی ضرور ہے۔ رہا محفوظ و معصوم ہونا یہ بھی انبیاء ہی کے لئے قرآن سے صادق ہے۔ جس کا ثبوت ہم ”تنویر العینین والجنان فی الاثبات خلافت الشيخين من القرآن“ میں دے چکے ہیں۔ جس کا جی چاہے منگا کر دیکھ لے۔ غرض یہ کہ انبیاء عظام و اولیاء کرام کی حالت کو موافق اپنے حالات کے مثل یا حیات و ممات و نشست و برخاست کے مثل سمجھنا سخت جہالت اور لاعلمی ہے۔ چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں۔
گفتہ ایں کہ ما بشر ایشاں بشر ماؤ ایشاں بستہ خوابیم و خور
این ندانستند ایشان از عمےٰ ہست فرقے درمیاں بے انتہا
ظالم آں قومیکہ چشمان دوختند زیں سخنہائے عالے را سوختند
٢٠
کار پا کاذرقیاس از خود مگیر گر
واللہ اعلم بالصواب
جواب خیال چہارم
یہ خیال بھی مثل خیال مسیلمہ کذاب ہے جس نے کا انجام سب کو معلوم ہے کیا ہوا۔ یعنی عہد خلافت خلیفہ اول لہٰذا خیال شرکت جو شرک فی النبوت کا مظہر ہے۔ معدوم تمام نعمتوں کا خاتمہ فرما دیا تو یہ مثل نبی کا ہونا بھی منجملہ ان نہیں۔ اے قادیانی و معتقدان قادیانی ذرا کان پھٹ پھاڑ اٹھئے اور یہی کہو گے کہ یہ بھی اسی کی نعمت ہے۔ کیونکہ بغیر یہ جواب ہوگا جس سے انکار آیت ”اکملت لکم دینکم واتمام کا صاف ظاہر ہے اور خدا کا یہ فرمانا اختتام نعمت کا غلط ثابت وفات رسول ہی تھی۔ اتنے عرصہ بعد آنا محض بے سود جس کی وہی ہے جو اس کے لائق تھے۔
قولہ تعالیٰ: ”محمد رسول الله والذين (الفتح:٢٩)“ جس کا حاصل یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔ غرض جن سے استحکام دی ارادہ میں مرکوز تھا ان کی تعریف فرمادی اور بعد رسول ﷺ پورا ظہور کرا دیا اور قادیانی کے ظہور کا کوئی نشان نہیں بیان فرما میں بھی اس آیت کا مصداق ہوں۔ کیونکہ میں بھی اس وقت اب مکرر بطور آوا گون کے ملک پنجاب میں پیدا ہوں۔ صحابہ نے جو اس وقت زندہ رہے مثل نبی کچھ کام انجام اس لئے بہ ضرورت میں نے مثل نبی ہو کر قوم پنجاب میں ہو جائے تو شاید قوم ہنود تو ضرور کچھ سمجھ جاتے مگر اہل اسلام تو
٢١
کار پاکاں را قیاس از خود مگیر گرچہ یکساں در نوشتن شیر و شیر
واللہ اعلم بالصواب
جواب خیال چہارم
یہ خیال بھی مثل خیال مسیلمہ کذاب ہے جس نے استدعا شرکت و دعویٰ نبوت کیا۔ جس کا انجام سب کو معلوم ہے کیا ہوا۔ یعنی عہد خلافت خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ میں وہ تہ تیغ و فی النار ہوا لہٰذا خیال شرکت جو شرک فی النبوت کا مظہر ہے۔ معدوم جب کہ اللہ تعالیٰ نے اختتام نبوت اور تمام نعمتوں کا خاتمہ فرما دیا تو یہ مثل نبی کا ہونا بھی منجملہ اس کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے یا نہیں۔ اے قادیانی و معتقدان قادیانی ذرا کان پھٹ پھٹا کر (یعنی کان کھول کر) سنئے اور بول اٹھئے اور یہی کہو گے کہ یہ بھی اسی کی نعمت ہے۔ کیونکہ بغیر یہ کہے بن بھی نہیں پڑتی تو خاتمہ نعمت کا کیا جواب ہوگا جس سے انکار آیت "اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (مائدہ:٣)" کا صاف ظاہر ہے اور خدا کا یہ فرمانا اختتام نعمت کا غلط ثابت ہوتا ہے۔ مثیل نبی کی ضرورت تو بعد وفات رسول ہی تھی۔ اتنے عرصہ بعد آنا محض بے سود جس کی کہیں کچھ خبر نہیں ہے۔ بلکہ ان کی خبر وہی ہے جو اس کے لائق تھے۔
قولہ تعالیٰ: "محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار...... الخ (الفتح:٢٩)" جس کا حاصل یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھی اور ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں۔ غرض جن سے استحکام دین کا ہونا اور جاری رہنا اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں مرکوز تھا ان کی تعریف فرمادی اور بعد رسول ﷺ کے حسب وعدہ آیہ لیستخلفنھم کے پورا ظہور کرا دیا اور قادیانی کے ظہور کا کوئی نشان نہیں بیان فرمایا۔ ہاں اگر قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ میں بھی اس آیت کا مصداق ہوں۔ کیونکہ میں بھی اس وقت خود موجود تھا۔
اب مکرر بطور آوا گون کے ملک پنجاب میں پیدا ہوا ہوں۔ اس لئے کچھ پابند اسلام بھی ہوں۔ صحابہؓ نے جو اس وقت زندہ رہے مثل نبی کچھ کام انجام دیا۔ مگر غلط بلکہ الٹا دین کو برباد کیا۔ اس لئے بہ ضرورت میں نے مثل نبی ہو کر قوم پنجاب میں جنم لیا ہے۔ تا کہ تجدید دین کی مکمل ہو جائے تو شاید قوم ہنود تو ضرور کچھ سمجھ جاتے مگر اہل اسلام تو ۔ "ان لعنت الله عليه ان كان
٢١
من الکذبین“ کی مد میں شمار کرتے جیسا کہ اب بھی سمجھتے ہیں پس جس قدر دعوٰی قادیانی کے ہیں ۔ سب دروغ پر دال ہیں۔ اگر اس پر اطمینان نہ ہوا ہو تو اور سنئے :
قولہ تعالیٰ: ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيرا (الفرقان:١)“ ﴿بہت برکت والا ہے۔ جس نے اتارا قرآن اوپر بندہ اپنے کے کہ ہو عالم والوں کا ڈرانے والا۔﴾ یعنی تمام قرآن پاک من اوّلہ الیٰ آخرہ جناب محمد رسول ﷺ پر اترا تاکہ جملہ مخلوقات کو تا قیامت ہدایت ہو۔
اے بھائیو جب کہ بشہادت خداوندی بوحی رسول اللہ ﷺ پر تمام قرآن کا اترنا ثابت ہوگیا۔ پھر منجملہ اس کے چند آیتوں کو کوئی شخص بوحی والہام اپنی نسبت بیان کرے۔ بھلا وہ خبطی ومجنون راندہ درگاہ الٰہی ہے یا نہیں اور سنئے۔ قولہ تعالیٰ: ”وكذالك انزلنه حكما عربياً (الرعد:٣٧)“ ﴿اور اسی طرح اتارا ہم نے یہ کلام حکم عربی زبان میں۔﴾ کیونکہ رسول عربی اور قوم بھی عربی تاکہ بخوبی سمجھ جاویں اور یہ بھی فرمایا۔
قولہ تعالیٰ: ”انا جعلنه قرآناً عربياً لعلكم تعقلون (الزخرف:٣)“ ﴿تحقیق کیا ہم نے اس کو قرآن عربی تاکہ تم سمجھو۔﴾ اللہ تعالیٰ بتاکید فرماتا ہے کہ تمہاری زبان ومحاورہ میں قرآن اتارا تاکہ تم جیسا سمجھنے کا حق ہے سمجھ جاؤ۔
دوسری قوم...... اس کی یہ حقیقت کو نہیں پہنچ سکتی ہے۔ چنانچہ وہی بزرگان دین جن کا اول ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس زمانہ قریب زمانہ رسول اللہ ﷺ کے لوگ ہیں جنہوں نے بہ ہزار کوشش وسعی احکام دین کو حسب منشاء خداوندی شرح وبسط کر دیا۔ برخلاف ان کے کوئی غیر ولایت کا شخص کیسا ہی کیوں نہ ہو اہل فہم کے نزدیک قابل توجہ نہیں ہے۔ زبان داناں سخن سنج اس بات کو خوب سمجھ سکتے ہیں کہ فی زمانہ کے لوگ جو اپنے آپ کو عالم وفاضل سمجھتے ہیں ان بزرگان دین کی خاک پا کے برابر نہیں ہیں۔
دیکھو اللہ تعالیٰ مضامین آیات بالا کی کیسی تصدیق فرماتا ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين (ابراهيم:٤)“ ﴿اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولتا اپنے قوم کی کہ ان کے آگے کھولے۔﴾ اے ناظرین حق پسند ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کیا صاف فرماتا ہے کہ ہم نے تمام قرآن محمد رسول اللہ ﷺ پر اتارا اور رسول بھی اسی قوم کا اور حکم بھی اسی زبان قوم عرب میں بھیجا۔ اسی طرح
٢٢
ہم نے جو نبی بھیجا اس قوم کی زبان کے غیر نہیں بھیجا۔ پس جب اصل رسول و نبی کی یہ کیفیت ہے تو قادیانی نبی یا مثل نبی قوم پنجاب میں مصداق وحی و الہام کلام عرب کے کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ ملک عرب میں جا کر اپنا رنگ جمایا ہوتا تو کچھ حقیقت بھی معلوم ہو جاتی۔ غرض جملہ دعویٰ قادیانی مخالف آیات ہیں جو محض کفر پر دال ہیں۔ ہاں اگر زبان پنجاب میں وحی کا آنا بیان کرتے تو اس آیہ کے منافی نہ ہوتا گو آیات دیگر مذکورہ بالا سے اس قسم کا دعویٰ بھی مردود ہوتا مگر ان کے چیلے جہل مرکب کے تو کچھ آنسو پونچھ جاتے۔ لو صاحب یہ تو تمہارے دعویٰ وحی و مثیل نبی وغیرہ چیں پٹاخ کا جواب تھا۔
اب ہماری سنئے۔ یہ آیت متدعویٰ قادیانی مذکور الصدر کے دو معنی و مطالب لیجئے کہ پھر جائے دم زدن نہ رہے۔ پس مناسب ہے کہ اول ربط آیت معلوم کرے اور ماقبل و مابعد کی آیت کے معنی و مطالب کو ذہن نشین کر کے بحصول مراد معنی آیت میں غور کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ صحیح معنی و مطالب پر کامیابی ہوگی۔
ربط آیت اس طرح پر ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے قبل آیت میں اپنے رسول و مومنین پر تسکین اتاری اور اطمینان عنایت فرمایا پھر یہ تصدیق فرمائی کہ اللہ نے سچ دکھایا اپنے رسول کو خواب تحقیق تم داخل ہو رہو گے۔ مسجد حرام میں جو اللہ نے چاہا چین سے بال منڈاتے اپنے سروں کے اور کترتے بے خطرہ پس جانا جو تم نہیں جانتے پھر ٹھہرا دی۔ اس سے ورے ایک فتح نزدیک یعنی فتح مکہ۔ دیکھو اس آیت کی تسکین و فتح وغیرہ میں رسول ﷺ و مومنین اس وقت کے شریک و مصداق خوش خبری کے ہیں۔ وہی صاحب فتح یاب مکہ معظمہ ہو کر داخل بیت اللہ ہوئے۔ بعد اس کے مومنین کے حق الیقین ہو جانے کو یوں فرمایا: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفیٰ باللہ شھیدا (الفتح:٢٨)“ ﴿وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول یعنی محمد ﷺ راہ پر اور سچے دین پر کہ اوپر رکھے اس کو ہر دین پر اور بس ہے اللہ حق ثابت کرنے والا۔﴾ اب آگے اس کے۔ ارسل رسولہ کون ہیں؟ فرماتے ہیں: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار...... الخ (الفتح:٢٩)“ ﴿محمد رسول اللہ ﷺ اور جو اس کے ساتھ ہیں سخت یعنی زور آور ہیں کافروں پر اور نرم دل ہیں۔ آپس میں﴾
سبحان اللہ یہ ہی ہیں سچے مومنین جن کی خداوند عالم صاف خبر دے کر کیسی تعریف فرماتا
٢٣
ہے ۔ واقعہ بھی جس کی پوری پوری شہادت دیتا ہے کہ ان کی سعی اور کوشش سے وعدہ ایزدی اسلام ایک مدت تک سب پر غالب رہا۔ مکہ مدینہ سے روم شام وغیرہ سب فتح ہوا اور قبضہ میں آگیا اور ہنوز قبضہ میں ہے۔ غرض اسلام دین ایسا جم گیا کہ ظاہراً تمام دینوں پر غالب ہوا اور دلیلاً تا قیامت سب پر غالب رہے گا۔ نہ معلوم قادیانی نے کس دلیل سے اس آیت کو اپنی طرف منسوب کیا اور کس چیز پر غالب ہوئے۔
ملک پنجاب یا قصبہ قادیان پر اور صرف یہ کہنا کہ از روئے دلیل سب مذاہب پر غالب ہوئے۔ محض غلط ہے۔ ہر مذہب والا بھی کہتا ہے کہ ہماری دلیل سب پر غالب ہے۔ پس اس لنڈوری دلیل سے کام نہیں چلتا۔ دیکھو رسول اللہ ﷺ نے کیسے کیسے دلائل کے ساتھ غلبہ کیا۔ مگر کار گر نہ ہوا انجام حکم جہاد ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اور نیز خلفاء مومنین وغیرہ نے کیسا ظاہر غلبہ اسلام ثابت کر دکھایا کہ ہنوز ظاہر اور دلیلاً غلبہ دونوں طرح ثابت ہے۔ مگر قادیانی کا نہ معلوم کس دلیل سے یہ دعویٰ ہے کیا اپنے بیان کو اپنے نزدیک غالب سمجھنا ہے۔ جیسے بہت سے فرقے جو اب موجود ہیں۔ سب اپنے اپنے زعم میں دلیل خود کو غالب جانتے ہیں۔ جو من جمیع الوجوہ باطل ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی نسبت ”کل حزب بمالدیہم فرحون (الروم: ٣٢)“ فرمادیا ہے۔ سو ایسے پوچ دعوے سے کام نہیں چلتا ہے۔ کیونکہ دعویٰ مثیل نبی و دعویٰ وحی والہام وغیرہ قادیانی تو از روئے نص قرآن باطل ثابت ہو چکا ہے اور نیز نص حدیث سے بھی باطل ثابت ہے۔
چنانچہ مجملہ احادیث کے (اوّل) یہ حدیث مسلم میں مذکور ہے : ”عن انس قال قال ابو بکر لعمر بعد وفاة رسول الله ﷺ انطلق بنا الی ام ایمن نزورها کما کان رسول الله ﷺ یزورها فلما انتهینا الیها بکت فقالا لها ما یبکیک اما تعلمین ان ما عند الله تعالیٰ خیر لرسول الله ﷺ فقالت انی لاعلم ان ما عند الله تعالیٰ خیر لرسول الله ﷺ ولکن ابکی ان الوحی قد انقطع من السماء فهیجتهما علی البکاء فجعلا یبکیان معها “ ( حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ فرمایا حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ سے بعد وفات نبی صلعم کے کہ ام ایمن پاس چلو تاکہ ان کی زیارت کریں۔ جیسا کہ نبی ﷺ ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ پس جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ پس ان اصحاب نے کہا کہ کس چیز نے تم کو رلایا۔ تم جانتے نہیں ہو کہ جو چیز نزدیک اللہ کے ہے۔ وہ بہتر ہے نبی ﷺ کے حق میں پس انہوں نے جواب دیا
٢٤
کہ میں نہیں روتی ہوں اس سبب سے کہ مجھے علم نہیں ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے لئے اچھی ہے۔ (یعنی اس بات کو میں جانتی ہوں) لیکن میں روتی ہوں اس بات پر کہ وحی آسمان سے منقطع ہوگئی۔ پس حضرت ام ایمن نے دونوں اصحاب کو رونے پر آمادہ کیا اور وہ رونے لگے ان کے ہی ساتھ۔ ﴾
(دوم)...... حدیث ”أنا العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى (ترمذی ج ٢ ص ١١١)“ ﴿ فرمایا نبی ﷺ نے کہ میں پیچھے رہنے والا ہوں اور پیچھے رہنے والا وہ ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾ اور احادیث میں جابجا یہی الفاظ موجود ہیں۔ ” ختم بی النبیون وختم الرسل “ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ میرے ساتھ نبی ختم کئے گئے اور میرے ساتھ رسول ختم کئے گئے اور نیز ترمذی کی یہ حدیث مختصر لکھی جاتی ہے۔
”وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون وكلهم يزعم انه نبى وأنا خاتم النبیین لا نبى بعدى (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥) “ ﴿ تحقیق قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے ہونگے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔﴾
پس حدیث سے بھی وحی کا اترنا منقطع ثابت ہوا اور ٢-٣ حدیث سے اصل نبی یا مثل نبی یعنی مصنوعی وغیرہ سب کے نزدیک تردید کامل ہو گئی اور جھوٹے دعوے داران نبوت وغیرہ کی خبر دی گئی کہ جب اصل ہی نہ رہی تو اس کی نسل و مثل اور شاخ وغیرہ کہاں سے ہوں گی۔
علاوہ ازیں ہر ایک نبی اپنے بعد کے نبی کی خبر دیتا رہا ہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے حضرت محمد ﷺ کی خبر دی جس کا قرآن شریف شاہد ہے۔
قوله تعالى: ”يأتى من بعدى اسمه احمد (الصف:٦)“ ﴿ فرمایا: حضرت عیسیٰ نے کہ میرے بعد ایک نبی آوے گا جس کا نام احمد ہوگا۔﴾
پس محمد صلعم نے مثل عیسیٰ ابن مریم کہ یہ ان کے مثیل ہونے کے بھی مدعی ہیں۔ بایں الفاظ یہ پیشین گوئی کیوں نہ فرمائی: ”يأتى من بعدى اسمه غلام احمد قادیانی ابن پنجابن “ ﴿ یعنی میرے بعد ایک نبی آوے گا جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے۔ بیٹا پنجابن کا۔﴾
اس سے البتہ اصل و مثیل عیسیٰ کا اثبات ضرور ہوتا۔ مگر چونکہ یہ برخلاف حکم قرآن
وانبیاء کے تھا اس لئے ایسی پیشین گوئی آپ کیوں فرماتے۔ بلکہ یہ پیشین گوئی تیس جھوٹوں کی جو اپنے آپ کو نبی گمان کرے گا۔ صاف بیان فرما دی۔ چنانچہ مجملہ فرمودہ پیشین گوئی کے چند جھوٹے نبی جو سابق گزر چکے ہیں۔ من جملہ ان کے ایک یہ بھی ملک پنجاب میں برآمد ہوئے بلکہ دو ایک اور بھی منجانب یورپ و افریقہ سنے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس پر اور بھی یہ طرہ یہ وحی ظاہر ہوا ہے۔ جو براہین احمدیہ کے ص ٥٦١، خزائن ج اول ص ٦٦٨ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٤ میں تحریر فرمایا ہے کہ: ”اعمل ماشئت فانی قد غفرت لک“ یعنی اے قادیانی جو تو چاہے سو کر بیشک ہم نے تجھے بخش دیا۔
ناظرین ذرا غور فرمائیں! کیوں نہ سادہ لوح اس طرح راغب ہوں مفت اور بے مشقت کی دولت بٹ رہی ہے۔ بقول بن مانگے موتی ملے نہ بھیک۔ تمام انبیاء و صدیقین وصالحین وغوث وقطب وغیرہ۔ طلب بخشش کے متدعی ہیں اور ترقی اسلام دین میں اپنے اپنے وقت میں کیسی کیسی محنت و مشقت اٹھائیں اور اسی بخشش کے لئے تمام دنیا کے لوگ خواہش مند ہیں کسی کو ایسا صلہ دنیا میں آج تک نہ عطا ہوا اصل نبیوں کا اور دیگر معزز صاحبان کا تو یہ حال ہوا۔ مگر مثل نبی قادیانی کو نہ معلوم کس کارگزاری کا یہ انعام عطا ہوا۔ دنیا میں ہی سب قیدیں اٹھ گئیں۔ عبادت وغیرہ کی تکلیف اٹھانے سے فارغ البال ہو گئے اور تمام جہاں کی عیش وعشرت مباح کیا حلال ہوگئی۔ بقول:
جو گناہ کیجئے ثواب ہے آج
پس شراب خوری و حرام کاری و خنزیر خوری وغیرہ کی کچھ روک ٹوک نہ رہی جو چاہیں کریں اور گویا مثل بیان نصاریٰ کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام صلیب پا کر تمام مخلوق کے گناہوں کا کفارہ ہوئے اس لئے ان کو آزادی حاصل ہوگئی۔ ایسے ہی گویا معتقدان مثیل عیسیٰ قادیانی کے گھر تو عید ہوگئی۔ اور بخش دیئے گئے اور جو چاہیں کریں تو معتقدان کو بھی مثل نصاریٰ آزاد ہونا ضرور لازم ہے۔ اس لئے بہت سے عالی فہم جوق در جوق ان کی طریقت میں داخل ہو گئے۔
اب کیا غم ہے خوب گل چھرے اڑائیں تمام انبیاء کو تو تاکید پر تاکید عبادت مگر مثیل مسیح کو یہ آزادی جو اصل نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نصیب نہ ہوئی تھی اور ختم المرسلین پر تو مزید برآں زیادہ تر ان کی خاص ذات پر عبادت کی قید اور زیادہ بڑھائی گئی مگر دوسرے کریں تو ثواب
٢٦
ہے ورنہ ان پر فرض نہیں ہے۔ چنانچہ سورہ مزمل میں اللہ تعالیٰ کا مگر باوجود اس اعزاز کے وہ آزادی نہ حاصل ہوئی۔
قولہ تعالیٰ : ”یا ایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا او زد علیہ ورتل القرآن ترتیلا...... الخ
(المزمل
والے کھڑا رہ رات کو مگر کم آدھی رات یا اس سے کم تھوڑا سا یا قرآن کو صاف پڑھ ہم آگے ڈالیں گے تجھ پر ایک بھاری بات...... غرض ایسے اولوالعزم انبیاء کی تو یہ کیفیت اور میاں قـ جو ہرگز کسی اہل فہم کی سمجھ میں نہ آوے گا۔
عقلاً ونقلاً کسی طرح پر ہو کیوں کر قابل توجہ ہے کہ یہ (مائدہ:٣) ”وغیرہ کے مخالف ہے کہ اس آیہ سے تو دین محمدی قادیانی کے دعوؤں اور ”آیہ اعمل ما شئت بالھدی ...... الخ“ سے دین محمدی کا غیر مکمل و ناقص رہنا لا ہو گیا ہو گا کہ قادیانی کے ثبوت وغیرہ تو اب قلابازیاں کھاتے رکھتا ہے۔
مخالفت قرآن وحدیث وانکار ثابت ہے۔ جو واقعہ انما انا بشر مثلکم یوحیٰ...... الخ“
(صفحہ ٥١١ براہین ا
ج ٧ ص ٣٥٤) اور نیز آیہ ”وما ارسلناک الا رحمۃ (تذکرہ ٨١) میں اپنی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ رحمۃ للعالمین اسی طرح اور بھی آیتیں ہیں۔ ہم کو بوجہ طول ان کے تحریری صرف وہی ایک آیت کا جواب مذکورہ بالا ان سب آیتوں با پس زیادہ طول دینا فضول ہے۔
کیوں اے قادیانیو! اب بھی کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں کرو گے۔ تو انشاء اللہ ضرور صراط مستقیم قدیم پر کامیاب ہو گئے قلوبہم ...... الخ“ کی مصداق ہو گئے۔ تو البتہ عالم مجبوری ہـ اے انصاف پسند یارو اگر اس اثبات واضح مع
٢٧
ہے ورنہ ان پر فرض نہیں ہے۔ چنانچہ سورہ مزمل میں اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے حبیب کو فرماتا ہے۔ مگر باوجود اس اعزاز کے وہ آزادی نہ حاصل ہوئی۔
قولہ تعالیٰ: ”یاایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا نصفہ او انقص منہ قلیلا او زد علیہ ورتل القرآن ترتیلا ...... الخ (المزمل: ١ تا ٤)“ ﴿اے جھرمٹ مارنے والے کھڑا رہ رات کو مگر کم آدھی رات یا اس سے کم تھوڑا سا یا زیادہ کر اس پر اور کھول کھول پڑھ قرآن کو صاف ہم آگے ڈالیں گے تجھ پر ایک بھاری بات ...... الخ﴾
غرض ایسے اولوالعزم انبیاء کی تو یہ کیفیت اور میاں قادیانی کی یہ وسعت آزادی کا بیان جو ہرگز کسی اہل فہم کی سمجھ میں نہ آوے گا۔
عقلاً ونقلاً کسی طرح پر ہو کیوں کر قابل توجہ ہے کہ یہ ”الیوم اکملت لکم ...... الخ (مائدہ: ٣)“ وغیرہ کے مخالف ہے کہ اس آیہ سے تو دین محمدی کا کامل ہو جانا ثابت ہے۔
قادیانی کے دعوؤں اور ”آیۂ اعمل ما شئت و آیہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ...... الخ“ سے دین محمدی کا غیر مکمل و ناقص رہنا نکلتا ہے۔ اب تو ناظرین کو یقین واثق ہوگیا ہوگا کہ قادیانی کے ثبوت وغیرہ تو اب قلابازیاں کھانے لگیں۔ اب بازی لے جانا ذرا کام رکھتا ہے۔
مخالفت قرآن وحدیث و انکار ثابت ہے۔ جو واقعی کفر ہے۔ اب رہی دیگر آیت ”قل انما انا بشر مثلکم یوحی ...... الخ“ (صفحہ ٥١١ براہین احمدیہ، تذکرہ ٨٩، اربعین نمبر ٤ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) اور نیز آیہ ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (انبیاء: ١٠٧)“ (تذکرہ ٨١) میں اپنی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ رحمۃ للعالمین نبی ﷺ کا وصف خاص ہے۔ غرض اسی طرح اور بھی آیتیں ہیں۔ ہم کو بوجہ طول ان کے تحریری جواب مفصل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف وہی ایک آیت کا جواب مذکورہ بالا ان سب آیتوں بارے میں عاقل کے سمجھنے کو کافی ہے۔ پس زیادہ طول دینا فضول ہے۔
کیوں اے قادیانیو! اب بھی کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں۔ یا اگر تعصب وغیرہ کو دور کر کے غور کرو گے۔ تو انشاء اللہ ضرور صراط مستقیم قدیم پر کامیاب ہوگئے اور اگر ”ختم اللہ علی قلوبھم ...... الخ“ کی مصداق ہوگئے۔ تو البتہ عالم مجبوری ہے۔ خدا رحم فرمائے۔ آمین!
اے انصاف پسند یارو اگر اس اثبات واضح معروضہ متذکرہ بالا میں پھر کوئی وسوسہ
٢٧
`, and then my text output. I must not use ```.
One final check of the punctuation and spacing: Line 1: `اتنی اور گزارش ہے۔` Line 2: `فرماتا ہے۔ یعنی` Line 3: `(اعراف: ١٥٧)“` Line 4: `﴿جو پیروی کرتے ہیں رسول نبی امی کی ..... الخ ﴾ اور کہیں یوں فرمایا ”قل يا ايها الناس انى` Line 5: `(اعراف: ١٥٨)“ ﴿کہہ دیجئے اے لوگو میں فرستادہ اللہ` Line 6: `تم سب کے ..... الخ﴾ اور کہیں اس طرح فرمایا ”لا اله الا هو يحيى ويميت` Line 7: `(اعراف: ١٥٨)“ ﴿ نہیں کوئی معبود مگر وہی` Line 8: `جو نبی امی ہے۔ ﴾` Line 13: `قولہ تعالیٰ: ”وان تطع اكثر من فى الارض يضلوك عن سبيل الله` Line 14: `(انعام: ١١٦) عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين (انعام: ١١٧)“ ﴿اور اگر اطاعت` Line 15: `کرتے مگر گمان` Line 16: `کی اور نہیں وہ مگر اٹکل کرتے۔ بے شک رب تیرا وہی دانا تر ہے۔ اس کا کہ بہکا راہ سے اس کی اور` Line 17: `وہ خوب جانتا ہے۔ راہ پانے والوں کو چونکہ اسرار الوہیت اور علوم نبوت نہایت دقیق اور لطیف` Line 18: `ہیں۔ ہر عقل اس کے قابل نہ ہر دل اس کا محل۔` Line 19: `ارشاد ہوا۔ اس کی جستجو میں کمال احتیاط شرط ہے۔ تم (یعنی اے آدمیو ) زمین کے رہنے` Line 20: `والوں میں سے اکثروں کی پیروی کرو گے۔ تو تمہیں بہکادیں گے اس لئے کہ وہ خود بے علم ہیں۔` Line 21: `مجرد گمان اور اٹکل پر حکم کرتے ہیں۔ تیرا رب راہ سے بہکے ہوؤں اور راہ پانے والوں کو خوب جانتا` Line 22: `ہے۔ ظن وقیاس بھی دو ہیں۔ پہلا محض بے اصل یا مجرد رائے پر جیسے اہل بدعت اور اہل ضلال کے` Line 23: `اصول یا رسم پرستوں کا معمول یہ عقلاً و نقلاً مردود ہے۔ دوم جو علمی مقدمات سے مستنبط اور کتاب` Line 24: `وسنت کی شہادت سے مستفاد ہو وہ واجب العمل ہے۔` Line 25: `صاحبو! اب تو خواب غفلت سے جاگو اور ہوشیار ہو جاؤ۔ اس آیت کے مصداق کیوں` Line 26: `٢٨`
Everything looks accurate. I am ready to output.
شیطان ڈالے تو اس کے مزید اطمینان کے لئے اتنی اور گزارش ہے۔ کان کا میل نکلوا کر غور سے سنئے اللہ تعالیٰ جابجا اپنے رسول کو یوں خطاب فرماتا ہے۔ یعنی کہیں صاف نام سے محمد رسول اللہ ﷺ اور کہیں ”الذين يتبعون الرسول النبی الامى ..... الخ (اعراف: ١٥٧)“ ﴿جو پیروی کرتے ہیں رسول نبی امی کی ..... الخ ﴾ اور کہیں یوں فرمایا ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً ..... الخ (اعراف: ١٥٨)“ ﴿کہہ دیجئے اے لوگو میں فرستادہ اللہ کا ہوں طرف تم سب کے ..... الخ﴾ اور کہیں اس طرح فرمایا ”لا اله الا هو يحيى ويميت فآمنوا بالله ورسوله النبي الامى ..... الخ (اعراف: ١٥٨)“ ﴿ نہیں کوئی معبود مگر وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور رسول پر اس کے جو نبی امی ہے۔ ﴾
اللہ تعالیٰ نے جابجا صاف خاص نام اور کہیں لقب امی وغیرہ سے خطاب فرمایا کہ ان کے سوائے کسی کی پیروی نہ کرنا۔ مگر کنایتاً واشارتاً یہ کہیں نہ فرمایا کہ ایک مثیل قادیانی پنجابی جو فلاں صدی میں ہوگا۔ اس کی پیروی ضرور کرنا۔ بلکہ یوں فرمایا ہے۔ اگر چہ آیت کی شان نزول کسی خاص جانب کیوں نہ ہو۔ مگر عام امت کے لئے نمونہ ہدایت ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”وان تطع اكثر من فى الارض يضلوك عن سبيل الله (انعام: ١١٦) عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين (انعام: ١١٧)“ ﴿اور اگر اطاعت کرو گے تو اکثر کی زمین والوں سے بہکا دیں گے تجھے راہ سے اللہ کی نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور نہیں وہ مگر اٹکل کرتے۔ بے شک رب تیرا وہی دانا تر ہے۔ اس کا کہ بہکا راہ سے اس کی اور وہ خوب جانتا ہے۔ راہ پانے والوں کو چونکہ اسرار الوہیت اور علوم نبوت نہایت دقیق اور لطیف ہیں۔ ہر عقل اس کے قابل نہ ہر دل اس کا محل۔
ارشاد ہوا۔ اس کی جستجو میں کمال احتیاط شرط ہے۔ تم (یعنی اے آدمیو ) زمین کے رہنے والوں میں سے اکثروں کی پیروی کرو گے۔ تو تمہیں بہکادیں گے اس لئے کہ وہ خود بے علم ہیں۔ مجرد گمان اور اٹکل پر حکم کرتے ہیں۔ تیرا رب راہ سے بہکے ہوؤں اور راہ پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ ظن وقیاس بھی دو ہیں۔ پہلا محض بے اصل یا مجرد رائے پر جیسے اہل بدعت اور اہل ضلال کے اصول یا رسم پرستوں کا معمول یہ عقلاً و نقلاً مردود ہے۔ دوم جو علمی مقدمات سے مستنبط اور کتاب وسنت کی شہادت سے مستفاد ہو وہ واجب العمل ہے۔
صاحبو! اب تو خواب غفلت سے جاگو اور ہوشیار ہو جاؤ۔ اس آیت کے مصداق کیوں
٢٨
ہوتے ہو ایسی کجروی رائے مجرد سے جو محض بے اصل ہے۔ دور بھاگو اور راہ مستقیم قدیم جس کا ثبوت مذکورہ بالا عبارت سے تم کو بخوبی واضح ہو چکا۔ اختیار کرو کیونکہ دھوکہ بازوں کی نسبت اللہ تعالیٰ یوں صاف فرماتا ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم ليجادلوكم وان اطعتموهم انكم لمشرکون (انعام: ١٢١) “ ﴿اور بیشک شیطان وحی کرتے یعنی ڈالتے ہیں طرف اپنے دوستوں کی کہ جھگڑیں تم سے اور اگر اطاعت کی تم نے ان کی تو بیشک تم شرک کرنے والے ہو جاؤ گے۔﴾
لو یارو! اب تو ایمان لاؤ اور بشہادت خداوند تم کو ضرور حق الیقین کا مرتبہ حاصل ہوگا کہ دعویٰ وحی والہام جس کا مشرح بیان گزرا وسوسہ شیطانی ہے۔ اب ایسے شخص کے پاس ہرگز نہ پھٹکنا۔ ورنہ مشرک محض ہو جاؤ گے۔
آیت سے صاف ظاہر ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے۔ تو جب وحی کا آنا بند ہو گیا۔ جس کا اثبات اوپر گزر چکا تو یہ ضرور شیطان کی طرف سے ہے۔ جس کی خبر خداوند عالم نے پہلے ہی قرآن میں دے دی ہے۔ اے ناظرین ذرا انصاف سے نظر کرو گے۔ تو ضرور حق ظاہر ہو جائے گا۔ اے انصاف پسندو یہ عرض ہے کہ پہچان طریقہ حقہ ہر فریق سے اور نیز دعاوی مدعی کاذب یعنی مثیل نبی ووحی والہام وغیرہ کی تردید واثبات حق بطریق اسلام قدیم کے تو اس عاجز نے فراغت پائی۔ اب نسبت فساد عقائد مرزا قادیانی اور ان کے پیروؤں کی جو معجزات انبیاء علیہم السلام کے بابت ان کی تحقیقات میں تحریر ہیں۔ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔ وہ ان کے دعوے بطلان کے لئے عمدہ شواہد کافی وافی ہیں اور ناظرین خود تمیز کرلیں گے کہ واقعی درست ہے۔
معجزات انبیاء صلوٰۃ اللہ علیہم
بیان قادیانی ..... انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں:
ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔ جیسے شق القمر ہمارے نبی ﷺ کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راست باز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے دکھایا تھا۔
دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ جو الہام الٰہی سے ملتے ہیں۔
(ازالۃ الاوہام ص ٣٠١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٣)
٢٩
نوٹ
یہ تفصیل خلاف جمہور قادیانی کہ جو امور آسمان پر واقع ہوں اور دنیاوی انسان کو نظر بھی آجاویں تو وہ گویا معجزہ نبی کا ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے انبیاء کی اظہار عظمت کے لئے دکھایا اور جو زیر آسمان یعنی ہوا یا زمین پر یا پانی پر یا پانی کے اندر یا زیر زمین ہو وہ معجزہ نہیں۔ وہ معجزہ خرق عادت عقلی ارضی ہے جو گویا ہر مخلوق انسان غیر انسان کافر مشرک وغیرہ سب میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جملہ انبیاء کے معجزات کا باعث انکار ہے۔ قادیانی کی جدید علم دانی نے معجزہ و خرق عادت کے عجب معنی گھڑے ہیں۔ مگر تعجب یہ ہے کہ سماوی امور میں تو خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت کی طرف منسوب کر کے معجزہ انبیاء قرار دیا جائے اور ارضی امور کو عقلی معجزہ جو اس خارق عقل کے ذریعہ سے ظاہر ہوں۔ خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے خارج کر دیا۔ گویا ان کا بانی کوئی اور ہوگا اور برائے نام الہام الہی سے ملتی ہے۔ کی شق جس کی گویا کچھ حقیقت نہیں ہے۔ لگادی جو دفعات آئندہ سے واضح ہو جاوے گی۔ مگر جائے تعجب یہ ہے کہ معراج رسول اللہ سے کیوں انکار ہے۔ جس کا بیان آگے آتا ہے۔ وہ بھی تو ایک سماوی معجزہ ہے۔ شاید بوجہ آنکھ سے نہ دکھائی دینے کے اس کا انکار ہے۔ حالانکہ اسی بناء پر بہت سے لوگوں کو معجزہ شق القمر سے بھی انکار ہے۔ مگر اسی خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے جسے چاہا معراج کو اس آنکھ سے کیا بلکہ دل کی آنکھ سے بھی دکھا دیا۔ مگر ہاں جو اس کی درگاہ پاک سے مرفوع القلم ہیں ان کو البتہ محروم رکھا۔ وہ اسی قابل اور یہ اس قابل ہیں۔ مولانا روم نے سچ فرمایا ہے:
میل او را در دلش انداختند
کیونکہ جنت و دوزخ ان دونوں کے بھرنے کا خیال بھی امر ضروری تھا۔ پس قادیانی کے اس پیرایہ بیان سے صرف معجزہ شق القمر کا اقرار ہے۔ باقی تمام معجزات انبیاء سے انکار اور خارق عادات عقلی الہامی میں شمار جو ہر مخلوق خدا یعنی جن و انس وحیوان جانور وغیرہ کو بھی حاصل ہے۔ مثل شیر بلی چوہا گیدڑ کتا سور وغیرہ کو بھی ہوتا ہے۔ گویا یہ وقعت اور تعریف معجزات انبیاء کی قادیانی کے نزدیک بیان ہوئی۔ جیسے انسان نے خارق عادات الہامی کے ذریعہ سے صدہا عجوبات مثل جہاز و ریل و تار وغیرہ ظاہر کئے۔ جیسے جانوران وغیرہ اپنے اپنے دشمن کو بوقت شکار
فوراً معلوم کر لیتے ہیں اور جیسے سور کے سامنے حلوا گوشت کا اور چرکین رکھا جاوے۔ تو وہ چرکین ہی کھانے کو دوڑتا ہے۔ اس کو خارق عادت الہام سے اطلاع ہوئی کہ تیری غذا چرکین ہے اور اسی طرف اس کا میلان ہے۔ واقعی قادیانی کی یہ خود تراشیدہ تشریح بہت قابل وقعت ہے۔ شاید یہی دلیل میلان الہامی مثیل انبیاء کا ہونا مراد ہے۔ تو ایسے الہام تو ہر ایک میں ثابت ہو گئے۔ اگر قادیانی کو بھی اس قسم کا الہام خارق عادت ہے۔ تو ہم کو بھی کچھ بحث نہیں وہ خود ہی اپنے الہام کی تعریف کے مکذب ہوئے۔ غرض اسی بناء پر اپنی مجرد رائے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی وہ چتھاڑ فرمائی ہے کہ ان کو کسی کام کا ہی نہیں رکھا جو درج ذیل ہیں۔
بیہودہ چتھاڑ معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام از جانب قادیانی
دفعہ ١ ........ ”پس کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دی گئی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے سے یا کسی پھونک مارنے سے پرندوں کی طرح پرواز کرتا ہو یا پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
دفعہ ٢ ........ ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ مسیح کے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
دفعہ ٣ ........ ”حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مردے جو زندہ ہوئے تھے۔ یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے۔ وہ بلا توقف چند منٹ میں مرجاتے تھے اور حضرت مسیح اس عمل میں کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے اور یہ جو میں نے مسمریزی طریق کا نام عمل الترب رکھا ہے۔ یہ الہامی نام ہے۔ جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١١، ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٩)
نوٹ
شاید یہ وہی الہام ہے جس کی ابھی اوپر تعریف بیان کی ہے۔ جس کو خود ہی خارق عادت قرار دیا ہے۔ افسوس کہ قادیانی نے قریب الموت کو مردہ سمجھ کر بے جا اعتراض کیا۔
دفعہ ٤ ........ (براہین احمدیہ ضمیمہ پنجم) یہ بات نہایت صحیح اور قرین قیاس ہے کہ اگر حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے اندھوں لنگڑوں کو شفا حاصل ہوئی ہے۔ تو بالیقین یہ نسخہ کسی نے اسی حوض سے اڑایا ہوگا۔ (خزائن ج١ ص٥٣٠، ٥٣١) جو عبرانی میں بیت خدا کہلاتا ہے۔ (خزائن ج١ ص٥٢١) ’’اور جس کا پانی ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اترتا کیسی ہی بیماری کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہو جاتا تھا۔‘‘ (خزائن ج١ ص٥٢٣) اور جس پر حضرت مسیح اکثر جایا بھی کرتے تھے۔ (خزائن ج١ ص٥٢٣) ’’اور جس کی مٹی میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ ایک کھیل تھا اور مٹی مٹی ہی رہتی تھی جیسا سامری کا گوسالہ۔‘‘
(ازالہ ص٢٢٢، خزائن ج٣ ص٢٦٣)
دفعہ ٥ ...... ’’اگر یہ عاجز اس عمل الترب کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے یہ عاجز کم نہ تھا۔‘‘
(ازالہ ص٣٠٩، خزائن ج٣ ص٢٥٨)
دفعہ ٦ ...... ’’یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔‘‘ (ازالہ ص٢٢٢، خزائن ج٣ ص٢٦٣)
دفعہ ٧ ...... (تمہید پنجم براہین احمدیہ) پس مسیح کے معجزات سب کے سب محجوب الحقیقت ہیں کیونکہ وہ بظاہر صورت مکروں سے مشابہ تھی۔
(خزائن ج١ ص٥٥٥، ملخص)
’’ہمارے نبی ﷺ کا سیر معراج آسمانوں پر اس جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا۔ (کیونکہ کسی بشر کا آسمانوں پر جانا خلاف عادت اللہ یعنی خلاف قانون قدرت ہے۔) اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقات اس کو ثابت کر چکی ہیں۔ پس اس جسم کا کرہ ماہتاب یا کرہ آفتاب تک پہنچنا کسی قدر لغو خیال ہے۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں مولف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘
(ازالہ ص٤٧، خزائن ج٣ ص١٢٦)
نوٹ
مگر قادیانی نے معجزہ شق القمر کے اقرار کے وقت پرانے و جدید فلسفہ کے مسئلہ کو ملحوظ نہ رکھا کہ یہ شق القمر خلاف قانون کیسے ہو گیا؟۔ اور اب یہ بھی واضح ہو گیا کہ یہ جو ظاہری طریق پر اہل اسلام کا ڈھنچر بنا رکھا ہے۔ یہ بے چارے سادہ لوحوں کو پھانسنے کا جال پھیلایا ہوا ہے۔ کیونکہ ان کے حسب بیان۔
٣٢
دفعہ ٨:...... مندرجہ بالا کے ملمع فلسفہ پرانے اور جدید کے پائے جاتے ہیں۔ جو خلاف نص ہے اور جس نے اتباع رسول اللہ ﷺ نہ کی وہ اسلام دین سے باہر ہو گیا۔
قولہ تعالیٰ: "ومن يتبع غير الاسلام ديناً فلن يقبل منه (آل عمران:٨٥)" ﴿اور جو کوئی چاہے سواء اسلام کے دین۔ پس وہ ہرگز قبول نہ ہوگا۔﴾ پس یقیناً اتباع طریق فلسفہ نے قادیانی کو باعث انکار معراج ثابت کر دیا اور نیز اس آیت کا بھی انکار ثابت۔ آیت "ان الله على كل شئ قدير (آل عمران:١٦٥)" ﴿بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔﴾ اور بخیال قادیانی وہ قادر مطلق نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے قانون قدرت میں محدود ومقید ہے۔ تو وہ قائل خدائی نہ رہا تو ضرور ان کو ایک قادر مطلق ماننا پڑے گا۔ جب یہ تسلیم ہوگا تو ان کا وہ بیان بالا غلط ہو جائے گا اور حسب بیان ان کے خدا تعالیٰ کی یہ صفت تعجب خیز ہے۔ جس کی غیر محدود قدرت کی تعریف قسم معجزہ اول میں بیان فرمائی ہے۔ وہ اب محدود مقید ثابت ہوتی ہے۔ سبحان اللہ! ایسے عالی اور باریک فہم کے لوگ دنیا میں کہاں پیدا ہوتے ہیں اور معراج رسول اللہ ﷺ کو جو معراج کشفی ہے۔ جس کا قادیانی کو خود تجربہ ہے۔ بیان کیا ہے تو گویا قادیانی کو معراج بھی مثل رسول اللہ ﷺ ہوئی۔ سبحان اللہ یہ منہ اور مسور کی دال۔ کجا قادیانی کجا رسول مگر یہ تو فرمائیے آیا یہ معراجی تجربہ از قسم شق دوم مذکورہ بالا یعنی الہامی خرق عادت مادی سے یا کسی اور قسم سے ہے۔ مگر کوئی اور قسم تیسری تو بیان ہی نہیں فرمائی۔ لامحالہ وہی قسم دوم قائم رہے گی تو اس کی کیفیت افعال رحمانی یا شیطانی ہونے کا ثبوت بسط کے ساتھ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ پردہ چشم حیا کو اٹھا کر خوب سمجھ لیجئے اور پھر انصاف سے فرمائے کہ کون ٹھکانے کی کہتا ہے اور سنئے۔
براہین احمدیہ۔ تمہید (٦) میں مسیح کی پیشین گوئیاں سے بھی انکار ہے۔ (قال) مسیح کی پیشین گوئیاں اس لئے محجوب الحقیقت ہیں کہ وہ بظاہر صورت نجومیوں اور کاہنوں اور مورخوں کے طریقہ بیان سے مشابہ ہیں۔
*
(خزائن ج ١ ص ٥٥٨ ملخص)
اقول
اس اعتراض کی تردید ص ٢٥ میں گزری اس جگہ مکرر بیان کی ضرورت نہیں۔ صفحہ ہذا کو ملاحظہ کر لیا جاوے۔ ورنہ جواب واثبات تفصیلی معجزات انبیاء علیہ السلام جو آئندہ آئے گا نظر سے گزرے گا۔
٣٣
اثبات معجزات و پیشین گوئیاں انبیاء علیہم الصلوات والسلام از نص قرآن
(اصل مسودہ سے صفحہ.....٣٢......٣٣.......اور.......٣٥.......غائب ہیں)
کہا اللہ کی پناہ جبریل نے فرمایا کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تمہیں خوشخبری سناتا ہوں کہ کلمتہ اللہ تم سے پیدا ہوں گے جو دنیا میں کثرت معجزات اور نزول قرب قیامت اور قتل مسیح دجال و کسر صلیب و منکشف اسرار سے عزت والے ہوں گے اور قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ انہیں مراتب اعلیٰ عطا فرمائے گا اور مقام قرب میں جگہ ملے گی۔
(خلاصۃ التفاسیر ج ١ ص ٢٥٤)
اور یہ بھی فرمایا: ”ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصلحین (آل عمران: ٤٦)“ ﴿اور کلام کرے گا آدمیوں سے پالنے میں اور کہولت میں اور نیکوں سے ہے۔﴾
اے ناظرین و خادمان مرزا قادیانی و میرٹھی وغیرہ تم کو قسم ہے اپنے جد امجد کی انصافاً اس تحریف فرمودہ خداوند تعالیٰ سے اور قادیانی کے بیان توہین بالا سے مقابلہ کرتے جانا کیونکہ آخر حق پر ایمان لانا ضروری ہے اور بعد اس کے اللہ تعالیٰ حضرت مریم کا بیان یوں فرماتا ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذالک اللہ یخلق ما یشاء اذا قضیٰ امراً فانما یقول لہ کن فیکون (آل عمران: ٤٧)“ ﴿کہا اے رب کہاں سے ہوگا واسطے میرے لڑکا اور نہ چھوا مجھے کسی آدمی نے کہا ایسا ہی اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے ۔ جب حکم کرے کسی کام کا یہ کہتا ہے واسطے اس کے ہو جا پس ہو جاتا ہے۔﴾
حضرت جبرائیل علیہ السلام کی بشارت سن کر مریم بتعجب بولیں میرے لڑکا کس طرح ہوگا۔ مجھے تو کسی مرد نے چھوا بھی نہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ جسے چاہتا ہے یوں ہی پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی کام کرنا منظور ہوا فرمایا (کن) ہو جا پس وہ شئی موجود ہوگئی۔ اسے اسباب و آلات کی حاجت نہیں یہ لڑکا بھی یوں ہی پیدا ہوگا اور مرزا قادیانی کے نزدیک ان کے قانون قدرت کے یہ آیت مخالف ہے اور فرمایا ”ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ورسولاً الیٰ بنی اسرائیل (آل عمران: ٤٩،٤٨)“ ﴿اور سکھائے گا اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل اور پیغمبر ہے طرف بنی اسرائیل کے ۔﴾
کیوں صاحبو! یہ آیات قرآنی جو کلام الٰہی ہیں۔ آپ کے ملاحظہ سے گزریں۔ اب بھی
٣٤
یقین کلی ہوا یا نہ۔ ذرا غور فرماؤ۔ اللہ تعالیٰ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذی وجاہت دنیا اور آخرت اور مقربوں سے فرمائے اور قادیانی نے ان کو سامری بازی گر نجومی لہو لعبی سے تشبیہیں دیں۔ جس سے عیسیٰ علیہ السلام خود سامری بازی گر ہوئے۔
خدائے تعالیٰ تو فرمادے کہ وہ پالنے اور کہولت میں باتیں کرے گا۔ یہ بھی معجزہ ہے اور قادیانی انکار کرے اور اللہ تعالیٰ تو حضرت مریم کی اطمینان فرمائے کہ اللہ جو کرنا چاہے کہتا ہے کہ ہو۔ پس وہ ہو جاتا ہے۔ بے باپ لڑکا ہونے میں تعجب نہ کر اور ہم سکھائیں گے۔ عیسیٰ کو کتاب وحکمت اور پیغمبری طرف بنی اسرائیل کے اور قادیانی ان کو سامری بازی گر نجومی لہو لعبی وغیرہ بتائے۔
کیوں صاحبو! یوسف نجار کو عیسیٰ مسیح کا باپ قادیانی کا بتانا اور قانون قدرت فلسفہ جس کی وجہ سے معجزہ ومعراج روحی وجسمی سے انکار ہے۔ صحیح ہے یا قانون قرآن خداوندی صحیح ہے۔ یقین ہے کہو گے کہ قرآن صحیح ہے۔ پھر اگر کوئی ایسے بزرگ نبی کی نسبت اپنی کور باطنی وسیاہ قلبی سے بازی گر وسامری و نجومی وغیرہ کی تشبیہ دے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثل نصاریٰ باپ بھی قرار دے اور قرآن جو قانون خدا ہے۔ چھوڑ کر قانون قدرت فلسفی پر یقین کرے۔ تو آپ ہی از روئے انصاف فرمائیں کہ وہ شخص بصورت انسان بحقیقت مجسم شیطان ہے یا نہیں۔ چنانچہ مولانا روم بھی ارشاد فرماتے ہیں:
پس بہر دستے نشاید داد دست
پس ایسے شخص سے دور بھاگنا اور پناہ مانگنا چاہئے۔ موافق فرمودہ خداوند عالم ”الذی یوسوس فی صدور الناس من الجنۃ والناس (الناس:٥،٦)“ کہ وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے بیچ سینہ لوگوں کے جنوں میں سے اور آدمیوں میں سے پس ایسے شخص کے نام پر فوراً لاحول پڑھ لیا کرو تا کہ اس کے اثر سے محفوظ رہو اور سنئے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ تو یہ ارشاد کیا جس کو اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں یوں فرماتا ہے:
قولہ تعالیٰ: ”انی قد جئتکم بایۃ من ربکم ان اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابرئ الاکمہ والا برص واحی
٣٥
الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون في بيوتكم ان في ذالك لاية لكم ان كنتم مومنين (آل عمران:٤٩) ”میں لایا ہوں تمہارے پاس نشانی رب سے تمہارے۔ میں پیدا کرتا ہوں واسطے تمہارے مٹی سے ایک صورت بصورت چڑیا کے پس پھونکتا ہوں میں اس میں پس ہو جاتی ہے چڑیا حکم سے اللہ کے اور اچھا کر دیتا ہوں اندھوں کو اور کوڑھی کو اور زندہ کرتا ہوں میں مردے کو حکم اس کے اور بتا دیتا ہوں تم کو جو کھاتے ہو اور جو جمع کرتے ہوئے گھروں میں اپنے بے شک اس میں نشانی ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم ایمان والے۔“ اب خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ کیسے کیسے معجزات و واضح نشانیاں اللہ کی طرف سے لائے جن کی اللہ تعالیٰ شہادت فرماتا ہے اور مرزا قادیانی حسب دفعات نمبر ١، ٢، ٣، ٤، ٦، ٧۔ مذکور بالا برخلاف و منکر آیہ ہٰذا صریح ثابت ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قولہ تعالیٰ: ”وجئتكم باية من ربكم“ اور لایا میں تمہارے پاس نشانی رب سے تمہارے۔ (یعنی معجزے) بھلا اب بھی یقین ہوا کہ جو شخص ان آیات کو جھٹلائے گا وہ مخالف خدا اور رسول ہے یا نہیں۔ خداوند کریم ان منکروں پر رحم فرمائے اور بچے۔
قولہ تعالیٰ: ”وآتينا عيسى ابن مريم البينت وايدنه بروح القدس“ اور دیں ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو نشانیاں صریح (یعنی معجزے) اور مدد کی ہم نے روح قدس سے۔
اے ناظرین حق پسند غور تو فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے پاس سے معجزے ونشانیاں صریح دینا فرماتا ہے اور نیز اپنی روح پاک سے مدد وعطا کرنا فرماتا ہے اور قادیانی برخلاف آیت ہٰذا کے اپنی دفعات مذکورہ بالا میں معجزات انبیاء کا انکار اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے معجزے جن کی شہادت قرآن دیتا ہے ظہور پذیر ہوئے۔ اس قادیانی کے نزدیک (دفعہ ٥) میں عمل الترب ومکر وفن ہیں اور حسب دیگر دفعات مذکورہ بالا کی مصداق ہیں اور لیجئے۔
قولہ تعالیٰ: ”اذ قال الله يعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرى الاكمه والابرص باذني واذ تخرج الموتى
٣٦
باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينت فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين (مائده:١١٠) ”جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ بیٹے مریم کے یاد کر نعمت میری تجھ پر اور والدہ تیری پر جب کہ مدد دی ہم نے تجھے روح قدس سے باتیں کیں تو نے آدمیوں سے لڑکپن اور جوانی میں اور جب سکھادی ہم نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل اور جب بناتا تھا تو مٹی سے مثل صورت چڑیا کی حکم سے میرے پھر پھونکتا تھا تو اس میں پھر ہو جاتی تھی چڑیا حکم سے میرے اور اچھا کر دیتا تھا اندھے کو اور کوڑھی کو حکم سے میرے، اور نکالتا تھا (یعنی زندہ کرتا تھا) مردے کو حکم سے میرے اور جب روک دیا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تو ان کے پاس کھلی نشانیاں (یعنی معجزے) تو کہا انہوں نے جو کافر ہوئے ان میں سے نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا ہوا ہے۔ ﴿ یعنی یاد کرو تم وہ قصہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرمایا کہ اے عیسیٰ بن مریم ہمارے انعام جو تم اور تمہاری ماں پر کئے ہیں یاد کرو (نمبر ٢) تم کو روح پاک یا جبرائیل علیہ السلام سے مدد دی اور لڑکپن میں تم سے باتیں کرا دیں اور جب بڑے ہوئے۔ تب بھی ہدایت کی۔ (نمبر ٣) سکھا دیا تم کو لکھنا اور علوم نبوت اور توریت وانجیل۔ (نمبر ٤) تم کو یہ قوت عطا کی کہ مٹی سے چڑیا کی صورت بنا کر اس میں دم کر دیتے وہ زندہ چڑیا ہو جاتی۔ (نمبر ٥) مادر زاد اندھوں (نمبر ٦) اور کوڑھی کو اچھا کر دیتے۔ (نمبر ٧) اور جب تم بنی اسرائیل کے پاس ہماری کھلی نشانیاں (یعنی معجزے) لائے تو وہ جھٹلانے لگے اور جادوگر بتانے لگے اور قصد کیا دست درازی کریں۔ مگر ہم نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور قتل اور قید سے بچا کر آپ کو آسمان پر بلا لیا۔
اس کی تفسیر انشاء اللہ آئندہ بحث حیات حضرت عیسیٰ میں آئے گی اور ہر جگہ باذنی کی قید بڑھا دی کہ یہ نہ سمجھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستقل قادر تھے۔ خلاصۃ التفاسیر ص ٥٩١ اور نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی جس کی اللہ تعالیٰ شہادت فرمائے۔
قولہ تعالیٰ : ”ياتى من بعدى اسمه احمد (صف:٦)“ ﴿ یعنی میرے بعد ایک نبی آوے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ ﴾ کیسی پوری ہوئی۔
اب یہ عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ ارشاد معجزات و پیشین گوئیاں حسب مذکورہ آیات سابق گزشتہ کی مکرر تصدیق فرمادی۔ اب اگر کوئی شخص انکار
٣٧
کرے تو ظاہری آنکھیں تو پھوٹی ہیں۔ مگر حیا کی بھی پھوٹ گئیں۔ تو فی زمانہ کے ایسے اشخاص بھی انہیں میں سے ہیں۔ جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام جب تو لے گیا ان کے پاس کھلی نشانیاں (یعنی معجزے) تو کہا انہوں نے ان میں سے جو کافر ہوئے نہیں یہ مگر جادو کھلا ہوا۔ پس جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو اب جادوگری مسمریزی بازی گری۔ لہولعبی ومکروہ وغیرہ۔ حسب دفعات مرزا قادیانی کی سمجھے تو انہیں قسم ہے۔ اپنے پیر مغان گرو کی سچ کہنا وہ کیوں کر کافر نہ ہوگا۔ ضرور کافر ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قولہ تعالیٰ: ”ولقد انزلنا اليك آيت بينت ج وما يكفر بها الا الفاسقون (بقره: ٩٩)“ ﴿اور البتہ تحقیق اتاری ہم نے طرف تیری نشانیاں ظاہر (یعنی معجزے) اور نہیں کفر کرتے ساتھ اس کے مگر بدکار۔﴾
اے یارو ایسی واضح آیتوں سے چشم پوشی کرے کیوں فاسق اور کافر ہوئے جاتے ہو۔
اگر اب بھی غلبہ ابلیس کی پیروی سے مفر نہ ہو تو اور سنئے۔ جب کہ حسب ارشاد استدعا سے قوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی: ”ربنا انزل علينا مائدة من السماء (مائده: ١١٤)“ ﴿تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے خوان اتارے۔﴾ اور قبل اس کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی من وسلویٰ کے خوان آسمان سے اترے۔ ان کا پورا قصہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی حافظ سے معلوم کر کے کسی عالم سے سمجھ لو۔ کسی ابلیس کے بہکانے سے اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو اور یہ معجزہ مرزا قادیانی کے مجوزہ قانون طبیعی معجزات نمبر ١ و نمبر ٢ میں سے کون سے قسم کا ہے۔ آیا سماوی یا خارق عادت یا جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جملہ معجزات سے انکار ہے۔ یہ بھی اس مد میں داخل ہے اور دفعہ (٣) میں جو قادیانی نے وہ خیال جس کو صحیح وقریب قیاس بیان کیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت مسیح نے حوض بیت حسدا سے اڑایا ہے اور جس کی مٹی میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی ہے۔ جو ایک کھیل ہے۔ جیسے سامری کا گوسالہ درست ہے۔ یا خداوند عالم کا یہ فرمانا کہ ہم نے روح القدس سے مدد دی اور ایسے ایسے معجزے عطا کئے جو آیات متذکرہ بالا سے ثابت ہوا سچ ہے۔ ذرا چشم حیا کو اٹھا کر سر سے کھیلو اور منہ سے بولو تو سہی یہ کیسی سینہ زوری ہے کہ ایسی کھلی ہوئی شہادت خداوندی سے انکار ہو تو صریح کفر ہے یا نہیں۔ ابھی کچھ نہیں گیا ہے سچے دل سے توبہ کر کے ایمان لائیے ورنہ سوائے جہنم کے کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور جو اس آیت کا مصداق ہو تو
٣٨
عالم مجبوری ہے۔ آیت۔ ”ان الذین لا یومنون عذاب الیم (حجر: ١٠٤)“ ﴿بے شک جو انہیں اللہ اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے۔
اے ناظرین عالی فہم اب تو ضرور اقسام معجزات نمبر ١ اور نمبر ٢ جس کی بناء پر انبیاء باطل ہے۔ اب رہے معجزات رسول اللہ ﷺ کیا ہے۔ جو وہ بھی از روئے اتباع فلسفہ کہنہ دفعہ (٨) معراج رسول اللہ ﷺ سے انکار ۔ خلاف عادت اللہ یعنی خلاف قانون قدرت ا لغو خیال ہے۔ بلکہ اس معراج کو ایک اعلیٰ درج اپنے آپ کو خود تجربہ کار بیان کیا ہے۔
گویا مثل رسول اللہ ﷺ قادیانی خاتم الانبیاء بھی ہو ہی گئے ۔ اب صرف درجہ صوفیہ حال کے حاصل ہونا دیگر مقام پر بیان میں مفصل عرض کریں گے۔ مگر اس وقت تک الانبیاء نہ سہی مگر آپ حسب پیشین گوئی مخبر صاد پیدا ہوں گے اور ایک حدیث میں ٣٠ دجالوں کہ چند اشخاص نے عیسیٰ و مثیل انبیاء کا دعویٰ تو ضرور ہوئے۔ قطع نظر تواریخ گزشتہ کے خو بھی یورپ وافریقہ میں موجود ہیں۔ جن کو علم ہم کو اس قدرت قانون کا معلوم کرنا ہے جس پرانا فلسفہ اور جدید فلسفہ یہی ہے تو بوقت اقرار نہ کیا کہ یہ شق القمر خلاف قانون کیسے ہو گیا؟ کی نہ آتی۔ یا کہ اس کا قانون قدرت قرآنی
عالم مجبوری ہے۔ آیت۔ ”ان الذین لا یومنون بآیات اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (نحل: ١٠٤) “ ﴿بے شک جو نہیں ایمان لاتے ۔ آیتوں پر اللہ کی نہیں راہ دکھاتا انہیں اللہ اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے۔﴾
اے ناظرین عالی فہم اب تو ضرور یقین کامل ہوا ہوگا کہ قادیانی کی مجوزہ تشریح اقسام معجزات نمبر ١ اور نمبر ٢ جس کی بناء پر انبیاء علیہ السلام کے معجزات سے انحراف تھا۔ محض باطل ہے۔ اب رہے معجزات رسول اللہ ﷺ تو منجملہ ان کے صرف ایک معجزہ شق القمر کا اقرار کیا ہے۔ جو وہ بھی از روئے اتباع فلسفہ کہنہ وجدید کے بمنزلہ انکار کے ہے۔ کیونکہ موافق دفعہ (٨) معراج رسول اللہ ﷺ سے انکار ہے کہ اس جسم کثیف کے ساتھ آسمانوں پر جانا خلاف عادت اللہ یعنی خلاف قانون قدرت اور پرانے فلسفہ وجدید فلسفہ کی رو سے وہاں پہنچنا لغو خیال ہے۔ بلکہ اس معراج کو ایک اعلیٰ درجہ کا کشف قرار دیا ہے اور اس قسم کے کشفوں میں اپنے آپ کو خود تجربہ کار بیان کیا ہے۔
گویا مثیل رسول اللہ ﷺ قادیانی کو بھی معراج ہوتی ہے۔ تو مثیل رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء بھی ہو ہی گئے۔ اب صرف درجہ خدائی باقی رہا وہ بھی در پردہ بحوالہ حیلہ بناوٹی صوفیہ حال کے حاصل ہونا دیگر مقام پر بیان کر دیا ہے۔ جس کو انشاء اللہ ہم آئندہ حصہ دیگر میں مفصل عرض کریں گے۔ مگر اس وقت تک اتنا کہنا ضرور ہے کہ از روئے اسلام مثیل خاتم الانبیاء نہ سہی مگر آپ حسب پیشین گوئی مخبر صادق ﷺ کے کہ میرے بعد بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوں گے اور ایک حدیث میں ٣٠ دجالوں کی تعداد بتائی ہے اور نیز تواریخ سے ثابت ہوا کہ چند اشخاص نے عیسیٰ و مثیل انبیاء کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ واصل جہنم ہوئے۔ ان کے مثیل خاتم تو ضرور ہوئے۔ قطع نظر تواریخ گزشتہ کے خود ہمارے زمانے میں مہدی پیدا ہوئے اور اب بھی یورپ وافریقہ میں موجود ہیں۔ جن کو علم تواریخ ہے وہ خود سمجھ جائیں گے۔ اب اس وقت ہم کو اس قدرت قانون کا معلوم کرنا ہے جس پر قادیانی کا مدار ایمان ہے۔ اگر عادت اللہ اور پرانا فلسفہ اور جدید فلسفہ یہی ہے تو بوقت اقرار معجزہ شق القمر پرانے وجدید فلسفہ کے مسئلہ کو ملحوظ نہ کیا کہ یہ شق القمر خلاف قانون کیسے ہو گیا؟ انکار معراج رسول اللہ ﷺ میں نوبت اعتراض کی نہ آتی۔ یا کہ اس کا قانون قدرت قرآن شریف ہے۔ جس سے وہ قادر مطلق اور فاعل
٣٩
مختار ثابت ہے۔ نہ کہ حسب خیال قادیانی قادر مقید۔ کیونکہ وہ اپنے قانون قدرت قرآن مجید میں یوں فرماتا ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”يخلق ما يشاء والله على كل شىء قدير (مائده:١٧)“ ﴿ پیدا کرتا ہے جو چاہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ ﴾ البتہ اللہ تعالیٰ نے ہر شے اور ہر بات کے لئے جو قوانین مقرر اور نازل فرمائے ہیں۔ وہ کبھی اور کسی صورت میں بدل نہیں سکتے اور قادر مطلق وحکیم برحق کی مقرر کی ہوئی تقدیر (قانون قدرت) ہرگز نہیں بدل سکتی۔ یعنی کلام ربانی کے موافق اللہ تعالیٰ کی سنن اور مقادیر کبھی اور کسی صورت میں بدل نہیں سکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”فلن تجد لسنت الله تبديلا ولن تجد لسنت الله تحويلا (فاطر:٤٣)“ ﴿سو تو نہ پاوے گا اللہ کا دستور بدلنا اور نہ پاوے گا اللہ کا دستور (قانون) ٹلنا۔ ﴾ غرض قوانین قدرت الٰہی میں ردو بدل نہیں ...... الخ ۔ مگر قانون قدرت الٰہی کے سمجھنے کو بڑی لیاقت درکار ہے۔
اکثر اشخاص بوجہ کم علمی۔ فلسفہ انسانی کے متبع ہو کر فلسفہ حقہ جس پر تمام انبیاء کا مذہب قائم ہے۔ ان واقعات تعجب خیز پر جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وقوع میں آئے اور معجزات انبیاء سرزد ہوئے۔ تو وہ بے علم منکر ہوئے اور یہ سمجھے کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا قانون ہرگز نہیں بدلتا۔ بلکہ ایک دوسرا قانون مقابل سمت سے عمل کرتا ہے۔ جس طرح پر یہ ایک قانون قدرت ہے کہ ہر شے جو بے سہارے چھوڑ دی جاتی ہے۔ زمین پر گر پڑتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص گرتی ہوئی چیز کو راستہ ہی میں ہاتھ پر لے لے تو زمین پر نہیں گرنے پاتی۔ اسی طرح کسی موقع پر خداوند تعالیٰ کا فعلی قانون عمل کر رہا ہو یا اس موقع پر سخت مصیبت اور حادثہ واقعہ ہو جائے۔ تو اس کا دفعیہ شرائط کے ساتھ بواسطہ انبیاء واولیاء اور دعا کرنے یا با اظہار عظمت خود قادر مطلق کے ہوسکتا ہے۔ جیسا واقعات سے ثابت ہے۔ مگر یہاں کوئی قانون قدرت نہیں بدلا نہ خلاف عادت بلکہ مقابل سے ایک اور قانون نے تقدیر الٰہی کے موافق عمل کیا۔ انبیاء واولیاء کی دعائیں واسطہ ہیں جنکا ایسا پر زور اثر ہے کہ بسا اوقات دنیا کو تہہ و بالا کر دیتی ہیں۔ کچھ کا کچھ کر دکھاتی ہیں۔ مخالفین الٰہی کو چکنا چور اور موافقین کو مظفر اور منصور کر دیتی ہیں۔ یہ سب قانون الٰہی کے مقابل دوسرے قانون کا عمل کرنا ہے۔ یہ بھی تقدیرات الٰہی میں داخل ہے جن میں کسی صورت سے کوئی قانون الٰہی نہیں بدلا۔ اللہ تعالیٰ جو قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ”لكل اجل كتاب يمحوا الله ما يشاء ويثبت ٤٠
وعندہ ام الکتاب (رعد:٣٩،٣٨) ﴿ہر ایک وعدہ کے لئے ایک کتاب (قانون مقرر ہے) پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے محو ومنسوخ کر دیتا ہے اور جو چاہتا ہے۔ ثابت وقائم رکھتا ہے۔﴾ اور علوم حقہ کی کتاب (یعنی تقدیرات الٰہی کی کتاب) اسی کے پاس ہے۔ جس کی تفسیر میں شاہ عبدالقادر صاحب مرحوم لکھتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے۔ بعضے اسباب ظاہر ہیں۔ بعضے چھپے ہیں۔ اس بات کی تاثیر کا اندازہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے اس کی تاثیر اندازہ سے کم یا زیادہ کردے جب چاہے ویسے رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور کبھی گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازہ کو تقدیر کہتے ہیں۔
دو تقدیریں ہیں ایک بدلتی ہے۔ ایک نہیں بدلتی۔ جب آیت: "وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن الله " نازل ہوئی۔ تو کفار نے کہا کہ اے محمدﷺ! تجھ کو کچھ اختیار نہیں اور اللہ تعالیٰ بھی جو کچھ لکھ دیتا ہے وہی ہوگا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس پر یہ آیت بالا: " یمحو الله ما یشاء.......الخ" اتری یعنی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے جب چاہے اور جو کچھ چاہے کر ڈالے اور سب چیز پر قادر ہے۔ پس مرزا قادیانی کا فلسفہ تو رفو چکر ہو گیا۔ مگر اب ان کے چیلے جو ندامت اتارنے کو ایک کتاب عسل مصفیٰ مرزا قادیانی کے دعویٰ طرز فلسفہ کو چھوڑ کر جو بطور طرز روافضانہ قانون قرآن سے بتاویلات باطلہ اپنے پیر صاحب کی کمر تھامی ہے۔ وہ بھی اس واضح اثبات آیت بالا سے ہرگز قابل خیال و توجہ نہیں ہے۔ پس جملہ معجزات کے ہونے اور خداوند تعالیٰ سے وہ امور وقوع میں آنے جو اس سے سابق ظہور نہیں ہوئے باتباع قانون فلسفہ انسانی جو خیالی وظنی تختہ مشق انسانی ہے۔ بمقابلہ شہادت قرآنی آیات ہذا سے منکر ہونا البتہ کفر ہے۔
اگر ناظرین انصاف پسند۔ دلائل مذکورہ الصدر کو ملحوظ رکھیں تو وہ اثبات ماقبل وما بعد جو آئندہ نظر سے گزرے گا۔ تو صاف ظاہر ہو جائے گا کہ واقعی یہ درست ہے۔ علاوہ ازیں حسب آیات مذکورہ بالا ص٣٢ حضرت مریم نے فرمایا کہ کیونکر خلاف ہو سکتا ہے کہ نہیں چھوا مجھ کو کسی آدمی نے اور لڑکا ہو جائے۔ جواب ہوا۔ " قال کذالک الله یخلق ما یشاء.....الخ " ﴿یعنی ایسا ہی اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے یہی کہتا ہے واسطے اس کے ہو جا پس ہو جاتا ہے۔﴾
غرض جب اس نے جسمی معراج کا ہونا چاہا اور کسی کو پھر زندہ کرنا چاہا وہ کیونکر ناممکن ہوگا۔ مرزا قادیانی کا اعتقاد برخلاف قانون قرآنی آیات مندرجہ ہذا ظاہر ہے۔ اب اے ناظرین
٤١
تمہیں انصاف فرماؤ کہ قانون قدرت قرآن مجید فرمودہ خدا صحیح ہے یا مجوزہ قانون قادیانی و فلسفی صحیح ہے۔ یقین ہے انصافاً یہ ضرور بول اٹھو گے کہ ”لعنت الله على الكاذبين “ البتہ قرآن شریف ہی اس کا قانون ہے۔ خلاف اس کے ایجاد قانون وسوسہ شیطانی ہے۔ ﴾
اب اے معتقدان قادیانی ذرا غور کرو اور سمجھو سینکڑوں کلام اللہ مترجم وتفاسیر موجود ہیں پڑھو اور سمجھو۔ کسی ایسے کے اظہار معنی پر کہ خلاف معنی سمجھا کر بہکا دے گا۔ ہرگز توجہ نہ کرنا۔ بلکہ اللہ پر بھروسہ کر کے خود ہی غور کرنا۔ انشاء اللہ راہ راست پر مستفیض ہو جاؤ گے۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کو آیات ذیل سے قطعی انکار پایا جاتا ہے۔ وہ قادر اپنے کلام میں قادر مطلق ہونے کو خود واضح طور پر فرماتا ہے۔ جس سے صاف مردوں کے زندہ کرنے کا بطور احسن اثبات ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”اتخذو من دونه اولياء فالله هو الولى وهو يحيى الموتىٰ وهو علىٰ كل شىء قدير “ کیا بنائے سوائے اللہ کے حمایتی ۔ پس اللہ وہی ہے حمایتی اور وہ زندہ کرتا ہے مردے کو اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ﴾ اور سنئے۔
قولہ تعالیٰ: ”اولم يرو ان الله الذی خلق السموت والارض ولم يعيى بخلقهن بقٰدرٍ على ان يحيى الموتىٰ ط بلیٰ انه علىٰ كل شىء قدير “ کیا نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے بنائے آسمان اور زمین اور نہ تھکا ان کے بنانے میں قادر ہے اس بات پر کہ جلاوے مردے بے شک وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ﴾
کیوں صاحبان ! اب تو یقین کامل ہوا ہوگا کہ مرزا قادیانی کا قانون فلسفہ محض غلط ہے اور قانون قرآنی فلسفہ صحیح ہے اور ان آیات کا منکر البتہ کافر ہے۔ اب رہی تحقیق کیفیت معراج جس کو قادیانی نے کشف سے تعبیر کیا ہے۔ مگر جو ان کے خیال میں تفصیلی کشف ہے۔ بیان نہیں فرمائی کہ کس قسم کا کشف اور کیا کیفیت ہے۔ جس کی وہ کلیہ مہارت کا اپنے دعوے میں بیان کرتے ہیں۔
آیا جاگتے میں کچھ دکھائی دیتا ہے۔ جو اوروں کو نہیں دکھائی دیتا۔ یا کچھ سماوی ادراک سے انکشاف ہوتا ہے۔ یا بطور خواب کے روحی سیر کرائی جاتی ہے۔ غرض کچھ ہی خیال قادیانی ہو۔ بمقابلہ معراج قول اللہ و رسول کریم۔ یہ اقوال قادیانی سب مردود ہیں۔
شرح عقائد : ”ومعراج في اليقظة بشخصه الى السماء ثم الى ما شاء
٤٢
الله تعالیٰ ” ﴿یعنی معراج آنحضرت ﷺ کو بیداری کی حالت میں ہوئی۔ اسی جسم کے ساتھ آسمانوں کی طرف۔ پھر وہاں سے جہاں خدا نے چاہا ہو۔﴾ چنانچہ مسجد الحرام سے بیت المقدس تک جانا۔ آیت: ”سبحان الذی اسری (بنی اسرائیل:١) “ سے اور سورۂ نجم سے بھی نہایت نزدیک درجہ تک پہنچ جانا معلوم ہوتا ہے اور معراج حالت بیداری میں جسم کے ساتھ واقع ہونا مشہور حدیثوں میں مذکور ہے اور تفصیل اس سیر وسفر کی بھی حدیث سے بخوبی ہوتی ہے اور قرون ثلثہ میں سے کسی کو اس بات میں شک و تردد نہیں ہوا۔
لیکن جب فلسفی علوم شائع ہوتے گئے اور اوہام و وساوس شیطانی بڑھتے گئے۔ ایسے مسائل میں بھی خدشے پیدا ہوئے اور اس وجہ سے علماء دین کو بھی ایسے مسائل میں اہتمام کی ضرورت پیش آئی۔
چنانچہ یہاں مسئلہ اسی واسطے عقائد کے ساتھ مذکور ہوتا ہے اور مسئلہ خاص میں دو ہی امر تعجب خیز معلوم ہوتے ہیں۔ ایک جسم کے ساتھ ایسی مسافت ایک آن میں قطع کرنا۔ دوسرے آسمان کا پھٹ کر مل جانا اور درحقیقت دونوں ہی محال ہیں۔ اس واسطے کہ بالفرض اگر طویل مسافت سرعت کے ساتھ طے کرنا محال ہوتا تو کرہ زمین خود آسمان (جس کی ثقل و گرانی کو انسان کی ثقل و گرانی کے ساتھ نسبت نہیں)۔
شبانۂ روز دنیا کی مسافت کیونکر قطع کرے اور آسمان کا پھٹنا اسی صورت میں محال ہوتا۔ جب فلسفیوں کے زعم کے موافق اجسام کی اصل اتصال ٹھہرتی حالانکہ ایسا نہیں۔ اس واسطے کہ بموجب تحقیق متکلمین کے اصل اجسام کی منفصل معلوم ہوتی ہے اور اس صورت میں افلاک کا بھی پھٹ کر مل جانا ناممکن نہیں معلوم ہوتا۔
ہاں! اگر یہ کہئے کہ گو ایسے امور ناممکن نہ سہی۔ لیکن خلاف عادت ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جا بجا یہ معلوم ہو چکا کہ قادر مطلق کبھی کبھی اپنے اظہار قدرت کے واسطے خلاف عادت امور بھی ظہور میں لاتا ہے اور ایسے وقائع بھی انہیں میں سے ہیں اور علاوہ اس کے حکماء بھی عقول و ارواح کی قوت و استعداد تسلیم کرتے ہیں اور ایسے وقائع کا خواب میں واقع ہونا بعید نہیں جانتے۔
پس اسی طرح اگر عقول و ارواح کی کیفیت جسم میں آجائے یا بیداری میں خواب کی
٤٣
حالت پیدا ہو جائے۔ تو قدرت الہی سے کچھ محال نہیں۔ اس واسطے کہ بموجب مقدمات گزشتہ کے ہر قسم کی قوت واستعداد انسان میں ضرور موجود ہے اور بالخصوص جس انسان کو کل افراد میں اکمل واعلیٰ ٹھہرایا ہے۔ اس میں یہ یہ قوتیں کیونکر جمع نہ ہوں گی۔
پس اس صورت میں لامحالہ کسی وقت میں اس کا ظاہر ہونا بھی چاہئے اور بعض فلسفی مذہب جو آیات اور حدیث میں تامل کرکے واقعہ معراج کو روحانی یا برسبیل خواب کہتے ہیں۔ تو اس میں بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ اگر بالفرض ایسا ہوتا تو ایسے وقائع کو (جن کا وقوع عام لوگوں سے بعید نہیں ۔ ) اس عظیم الشان کے ساتھ بیان فرمانا اور بے ضرورت صاف صاف معاملہ کو الہام کی وضع میں لانا ہرگز شان الہی کے لائق نہیں۔
”وما هذا الا بهتان عظیم “ لو صاحبو یہ خلاصہ متذکرہ بالا عقائد منقول اہل فہم وطالب حق کے لئے تو کافی ہے اور ایسے کم فہموں سے تو توقع کسی بدفہم ہی کو ہو تو ہو مگر ہاں یوں سمجھ کر دہلی اور میرٹھ وغیرہ کے پرانے تعلیم یافتوں میں سے شاید کسی کی نظر پڑ جائے تھوڑا بہت تفصیل وار بھی عرض کئے دیتا ہوں۔
خلاصة التفاسیر
قولہ تعالیٰ: ”سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذى برکنا حولہ لنریہ من آیتنا انہ ہو السمیع البصیر (بنی اسرائیل:١) ” ﴿پاک ہے وہ ذات کہ لے گئی بندہ کو اپنے راتوں رات مسجد کعبہ سے طرف مسجد بیت المقدس کے ایسے کہ مبارک کر دیا ہم نے گردا گرد اس کا کہ دکھائیں ہم اسے نشانیاں اپنی بے شک وہ سنتا اور دیکھتا ہے۔﴾
سبحان اسم علم ہے تسبیح کا یعنی پاک و تقدس تنزیہ اور سبح بمعنی نماز ونورانیت بھی آتا ہے۔
اسرا بشب راہ رفتن۔
احمدی لیل کو اس لئے ذکر کیا کہ اشارہ ہو مدت قلیل وسفر طویل کی طرف۔ فائدہ: اس لئے کہ لیل ظرف ہے ضرور ہے کہ تمام سیر ایک ہی رات کے اندر اور اس کے کسی حصہ میں ہو اور تعدیہ
اس کا تعلیم کرتا ہے کہ نیاز وطلب وشوق وخلوص وامید جو عبودیت کے آثار سے ہیں۔ تمہاری جانب سے ہوں۔ باقی رہا مراتب قرب پر علو اور محض انس میں حضور یہ محض بفضل الٰہی۔
عبد
اس کے رموز آئندہ آتی ہیں۔ مگر باتفاق واجماع مراد اس سے حضور اقدس سرور عالم سید بنی آدم ہیں۔ فائدہ: چونکہ مطلق فرد کامل کی طرف منصرف ہوتا ہے اور بندگی میں فرد کامل ہمارے اور تمام عالم کے سردار سید مختار ہیں۔ لہٰذا حضور ہی مراد ہیں۔
لیلا
نکرہ ہے ایک رات اور ظرف یعنی حصہ شب پھر آیت ظاہر ہے۔ معراج قصہ میں اور نص ہے۔ کمال قدرت الٰہی میں کہ وہ ایسے عجیب امور کرتا ہے۔ جو فہم سے باہر قوت سے زائد ہیں اور اشارۃً ظاہر ہے کہ آپ صاحب معجزات دشوار ہیں۔ اس لئے کہ اسراء ایک معجزہ ہے۔ جو آپﷺ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کرایا اور اسرار ذات خزائن علوم اس میں منکشف ہوئے۔
احمدی
اس کے تعین میں بہت اختلاف ہے کہا گیا کہ ماہ ربیع الاول یا ربیع الثانی یا رمضان یا شوال تھا۔ مگر صحیح ومشہور معتمد ستائیسویں رات رجب کی ہے۔ نبوت کے بارہ برس بعد مسجد حرام۔ (مکہ معظمہ)
احمدی
عام ہے کہ عین مسجد ہو یا اس کا حرم الیٰ کہا صاحب تفسیر کبیر نے مسجد اقصیٰ تک جانا ثابت بہ نص قرآنی ہے اور داخل ہونے سے اس آیت میں بحث نہیں۔ فائدہ: شاید امام نے نظر باختلاف مسئلہ الیٰ ایسا تجویز کیا ورنہ قرائن قویہ شہادت دے رہے ہیں کہ مراد یہ یہاں دخول مسجد اقصیٰ ہے۔ ورنہ مشاہدہ آیات ناقص رہتا اور نص کے دخول پر جناب مولانا ابوالحسنات نے حاشیہ عمدۃ الرعایہ میں۔
مسجد اقصیٰ
بیت المقدس۔ چونکہ اس وقت تک کوئی مسجد اس سے اور اس کے اس طرف نہ تھی۔ لہٰذا اسے اقصیٰ کہا بارکنا اپنی طرف نسبت برکت کی کی۔ تاکہ عظمت زائد اور برکت معتمد علیہ سمجھی جائے اور مراد اس سے برکت اثمار واشجار وتازگی وبہار وبرکت وجود انبیاء مقابر رسل ہے اور وہ فضائل جو مروی اور منقول ہیں۔ اپنے مقام پر۔
٤٥
حولہ گرد بیت المقدس اور وہ سرزمین شام ہے۔ من خواہ ابتدائیہ ہے۔ خواہ بیانیہ ہے اور تبعیضیہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ ظاہر و متبادر ہے۔ تو دلیل ہے۔ اس کی جمیع آیات الٰہی کا احاطہ و معائنہ کسی مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ نکتہ اس تبعیضیت سے منظور یہ ہے کہ آتش عشق بھڑکے۔ اب وصال معشوق روغن کی طرح سوزش دل کو بڑھائے۔ یعنی اے حبیب کریم ہمارے جمال جہان آرا و حسن جان بخش کی صرف شعاع تھی۔ جو جلوہ گر ہوئی۔ طلب میں قصور حاضر پر کفایت سزاوار نہیں۔ شعر:
انچہ بروے میری بروے مائیست
آیات
جمع آیت۔ آثار و نشانی۔ حضرت خلیل کے لئے فرمایا کہ ملکوت سموات دکھائے اور آپ کے لئے کہا۔ ہماری ذات کی نشانیاں دیکھو اور ظاہر ہے۔ فرق درمیان ملکوت آسمانی و ملکوت حضرت سبحانی کے سمیع یعنی سنتے ہیں۔ خفی و جلی کو آپ کی نظر ہائے اندرونی و معروضات پنہانی جو ہماری طلب و حضور کے لئے تمام سننے والوں سے مخفی تھی نہ سنتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی ہائے و ہو و طلب و جستجو جو محبوب کریم کی زیارت کے لئے ہے اور ان جلی ہوئی بے تاب جانوں کی صدائے سوزش جن کو نہ زباں عطا ہوئی نہ نطق۔
علیم
یعنی جانتے ہیں تمام مصالح تام اور تمام کان وما یکون پس بلا لیا۔ آپ کو اس مقام پر جس کے سزاوار تھے۔ یا جس کی تمنا پاک دلوں اور نورانی جانوں میں تھی۔
احمدی
کہا اہل سنت نے کہ آپ کا بیت المقدس تک تشریف لے جانا۔ قطعی ہے منکر اس کا کافر ہے اور وہاں سے آسمانوں پر جانا اخبار مشہور سے ثابت ہے۔ منکر اس کا کافر نہیں، مبتدع، اہل ضلال وعناد ہے اور بہشت و دوزخ کی سیر اور دوسرے عجائبات کا معائنہ اخبار احاد میں آیا ہے۔
٤٦
٧٩
منکر اسکا فاسق شرح عقائد کہا گیا کہا گیا فوق العرش گئے اور ثابت ہے کہ یہ سیر گئے۔ گو اس میں کچھ کلام ہوا ہے۔ مگر قول حق خلاف پر ہے۔
فائدہ: ہم ان دلائل سے جو اس مقام مان ہی لی جائے:
- نمبر ١..... منطوق آیت میں اگر کوئی تاو
سیر جسم بیداری سے متعلق سمجھی جائے گی۔ نہ خواب
- نمبر ٢...... اگر خواب میں ایسا ہوتا تو
قریب قریب اس کے اولیائے امت کو بھی نظر آ عجیب اور بڑی مدح کا امر نہ تھا۔
قصہ معراج
صحیح بخاری کی حدیث پوری اور تفسیر اب مسلسل بیان مختصراً لکھا جاتا ہے۔
بخاری
آپ نے فرمایا میں حطیم میں تھا اور آنے والا آیا (یعنی حضرت جبرائیل) اور میرا سینہ چاک کیا۔ دھو کر پھر ویسا ہی کر دیا اور براق پر جو حمار سے
ابن کثیر
یہ براق سفید رنگ نورانی تھا بوقت سو بس بس واللہ ایسا شہسوار تجھ پر نہیں سوار ہوا ہے روایت میں ہے کہ جبرائیل نے میکائیل سے کہا دھوؤ۔ پھر تین بار غسل دیا اور سینہ علم وحلم و ایمان سے بھر دیا۔ شانوں میں مہر نبوت کر دی۔
جب چلے تو راہ میں ایک پیر زال
٤٧
منکر اسکا فاسق شرح عقائد کہا گیا آپ جنت تک گئے اور کہا گیا۔ عرش تک اور کہا گیا فوق العرش گئے اور ثابت ہے کہ یہ سیر عالم بیداری میں ہوئی اور جسم شریف سے آپ گئے۔ گو اس میں کچھ کلام ہوئے ہیں۔ مگر قول متفق علیہ و روایت مقبول یہی ہے۔ اس کا خلاف خلاف پر ہے۔
فائدہ: ہم ان دلائل سے جو اس مقام پر ہیں۔ قطع کر کے ایک بات کہتے ہیں۔ جو غالباً مان ہی لی جائے:
- نمبر ١...... منطوق آیت میں اگر کوئی تاویل و تکلف (جس کی ضرورت ہی نہیں) نہ کرو یہ
سیر جسم بیداری سے متعلق سمجھی جائے گی۔ نہ خواب و کشف۔
- نمبر ٢...... اگر خواب میں ایسا ہوتا تو کوئی فخر و تعجب کی بات نہ تھی۔ اس قدر نہ سہی۔
قریب قریب اس کے اولیائے امت کو بھی نظر آیا کرتا ہے اور اگر جسم شریف نہ جاتا تو بھی کوئی عجیب اور بڑی مدح کا امر نہ تھا۔
قصه معراج
صحیح بخاری کی حدیث پوری اور تفسیر ابن کثیر کی متعدد حدیثوں کا خلاصہ یکجا کر کے ایک مسلسل بیان مختصراً لکھا جاتا ہے۔
بخاری
آپ نے فرمایا میں حطیم میں تھا اور بسا اوقات کہا کہ سنگ اسود کے پاس لیٹا تھا۔ آنے والا آیا (یعنی حضرت جبرائیل) اور میرا سینہ چاک کیا اور سونے کے طشت میں جو ایمان سے بھرا تھا۔ دھو کر پھر ویسا ہی کر دیا اور براق پر جو حمار سے اونچا اور بغل سے چھوٹا تھا۔ سوار کرا کے لے گیا۔
ابن کثیر
یہ براق سفید رنگ نورانی تھا بوقت سواری دم ہلانے لگا۔ جبرائیل نے کہا اے براق ! بس بس واللہ ایسا شہسوار تجھ پر نہیں سوار ہوا ہے۔ اس براق کا قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جبرائیل نے میکائیل سے کہا کہ طشت آب زمزم سے لا کر دل و سینہ مبارک دھوؤ۔ پھر تین بار غسل دیا اور سینہ حلم و علم و ایمان و یقین و اسلام سے بھر دیا اور آپ کے دونوں شانوں میں مہر نبوت جڑ دی۔
جب چلے تو راہ میں ایک پیر زال ملی اور ایک شے میری طرف مائل مجھے پکارتی
٤
تھی۔ اور ایک مخلوق نے مجھ پر سلام کیا۔ جبرائیل نے کہا ان کا جواب دیجئے۔ پھر دوسرا گروہ ملا۔ پھر تیسرا اور ان کے سلام کی بھی اجازت ملی۔ پھر پانی اور دودھ اور شراب الگ الگ ظرف میں پیش کی گئی۔ میں نے دودھ پی لیا۔ تو جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت یعنی اسلام کو پالیا۔ اگر پانی پیتے تو آپ بھی ڈوبتے اور آپ کی امت بھی اور شراب پیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
پھر کہا وہ پیر زال دنیا تھی۔ یعنی عمر اس کی اسی قدر باقی ہے اور یہ بائیں بلانے والا شیطان لعین تھا اور مجھے راہ میں تین جگہ نماز پڑھوائی۔ نمبر ١...... مدینہ میں اور کہا یہ مدینہ آپ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ نمبر ٢...... طور سینا پر اور کہا یہ مقام کلام موسیٰ علیہ السلام ہے۔ نمبر ٣...... بیت اللحم میں اور کہا یہ مولد عیسیٰ بن مریم ہے۔ پھر بیت المقدس میں میرا براق اس پتھر سے باندھا جہاں انبیاء کی سواریاں بندھا کرتی تھیں اور اذان کہی گئی۔ جبرائیل نے مجھے امام کیا۔ سب نے نماز میرے پیچھے پڑھی اور کہا جبرائیل نے آپ کے مقتدی انبیاء علیہم السلام تھے۔ جامی:
صف پیشیناں را پیشوا شد
بخاری
پھر آسمانِ اوّل پر گئے اور دروازہ کھلوایا۔ داروغہ آسمان نے پوچھا۔ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا میں۔ اس نے کہا تمہارے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل نے کہا محمد ﷺ ۔ فرشتے نے کہا کیا تم ان کے طرف بھیجے گئے تھے۔ جبرائیل نے کہا ہاں!۔ تب دروازہ کھولا اور کہا مرحبا کیا اچھا آنا۔ آگے اسی طرح ہر آسمان پر سوال و جواب ہوا۔
لطیفہ
اس سے اشارہ ہے کہ ترقی مدارج باطنی و طے مقامات معرفت کے لئے ہر جگہ روک ٹوک اور رہبر لازم ہے۔
بخاری
آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور دوم پر عیسیٰ و یحییٰ علیہم السلام سے۔ آسمان سوم پر یوسف علیہ السلام سے۔ چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے اور پانچویں پر ہارون علیہ السلام سے۔ چھٹے پر موسیٰ علیہ السلام سے۔ ساتویں پر ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔
٤٨
علیہم السلام آپ نے سلام کیا ادھر تعظیم ومحبت جواب پایا۔ جب آپ حضرت موسیٰ کے پاس سے چلے تو دیکھا کہ آپ روتے ہیں کہا گیا کہ اے موسیٰ تم کو کس نے رولایا۔ بولے میرے بعد ایک لڑکا پیغمبر ہوگا۔ جس کی امت میری امت سے زیادہ داخل جنت ہوگی۔
ابن کثیر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں اللہ کے پاس اکرم الناس ہوں۔ حالانکہ آپ مجھ سے زیادہ اللہ کے حضور میں کریم ہیں اور حضرت ابراہیم کو دیکھا کہ بیت المعمور سے تکیہ لگائے ہوئے ہیں۔ میں بیت المعمور میں گیا اور سفید پوش آدمی میرے ساتھ تھے۔ میں نے نماز پڑھی اور باہر آیا۔ ٧٠ ہزار فرشتے روز بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں۔ جن کی پھر کبھی باری نہ آئے گی۔
بخاری
یہاں ایک جام شراب دوسرا قدح شیر تیسرا پیالہ شہد لایا گیا۔ میں نے دودھ پیا۔ جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت یعنی اسلام اختیار کیا۔ پھر مجھ پر پچاس وقت کی نماز روزانہ فرض ہوئی۔ جب میں واپس آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ میں نے بنی اسرائیل کو جو قوی اور توانا تھے۔ آزمایا ان سے نہ ہوسکا۔ آپ تخفیف کی درخواست کریں۔ حضور نے رجوع فرمائی۔ دس وقت کم ہوگئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کہا۔ بار بار آپ رجوع فرماتے اور دس دس کی تخفیف ہوتی۔ پانچ وقت کی رہ گئی تب آپ نے کہا مجھے شرم آتی ہے۔ اپنے پروردگار سے کہ بار بار عذر کروں۔ میں مطیع و راضی ہوں۔ پھر ندا آئی۔ میں نے اپنا فرض ثابت کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کی اور آپ نے سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا۔ جس کے ورق مثل گوش فیل اور پھل مثل خم تھے اور نور چھایا تھا۔ یہاں چار نہریں تھیں۔ دو باطنی جو جنت میں گئی ہیں اور دو ظاہری جو دنیا میں ہیں۔ یعنی نیل وفرات۔
ابن کثیر
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ صبح کو آپ نے یہ قصہ بیان کیا۔ کفار ہنسنے لگے اور ابو بکرؓ سے آکر کہا کہ تمہارے دوست یعنی حضرت محمدﷺ یہ کہتے ہیں۔ صدیق نے کہا اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ ہے۔ جب ابو جہل نے سنا کہنے لگا آپ قوم کے سامنے بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ فرمایا۔ ہاں وہ پکارا اور لوگ جمع ہوئے۔ آپ نے تمام ماجرا بیان کیا۔ لوگ متحیر تھے اور انکار کرتے
٤٩
تھے۔ پھر کہا اگر سچ ہے تو آپ بیت المقدس کے مقامات بیان فرمائیے۔ آپ کو بیان میں کچھ شبہ ہوا تھا کہ جبرائیل نے بیت المقدس سامنے اور نزدیک کر دیا۔ آپ نے ذرا ذرا بیان فرمایا کہا۔ ابن کثیر نے کہ ابو سفیان نے (قبل اسلام) کے ہرقل شاہ روم سے قصہ معراج اس غرض سے بیان کیا تھا کہ وہ آپ کو دروغ گو جانے ایلیا کا سردار قیصر روم کے پاس تھا۔ بولا میں اس رات کو جانتا تھا۔ قیصر نے کہا کیا۔ کیا اس رات میں نے مسجد کے دروازہ بند کر لئے تھے۔ صرف ایک در کھلا تھا۔ میں نے معمار اپنے ملازموں کے بہت سعی کی کہ بند کروں۔
وہ دروازہ بند نہ ہوسکا۔ پھر نجاروں کو بلوایا اور بولے کچھ ہو۔ یہ نہ ہلے گا۔ مجبوری وہ دروازہ کھلا چھوڑا۔ صبح کو آکر دیکھا تو پتھر جس میں سواریاں انبیاء کی باندھی جاتی تھیں۔ سوراخ دار ہے اور کسی جانور باندھنے کا نشان موجود ہے۔ میں نے کہا کوئی پیغمبر رات کو یہاں آیا اور نماز پڑھی۔ فائدہ: ہم نے نہایت مختصر بیان کیا اور بہت کچھ ترک کر دیا اور اکثر حالات مافوق السماء اور بعض احکام متعلقہ روایت وغیرہ اس لئے چھوڑ دیئے کہ وہ با اہتمام سورہ نجم میں مذکور ہیں۔
کیا اے صاحبو! اب بھی یقین معراج میں کوئی وسوسہ باقی ہے؟ دیکھئے اس وقت بھی جب کیفیت معراج رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی تھی۔ کچھ لوگ منکر اور مشکوک ہوئے اور کہا کہ یہ بہک گئے اور بے راہ ہوئے ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے کیفیت معراج اور بیان رسول اللہ ﷺ کی تصدیق اپنے کلام میں یوں فرمائی۔ پس ایمان والوں کا فوراً یقین کامل ہو گیا۔ جس سے مجوزہ کشف مرزا قادیانی کی ساری بنیاد ہی اکھڑ گئی۔ وہ سورہ النجم ہے:
قولہ تعالیٰ: ”والنجم اذا ہوے ما ضل صاحبکم وما غوی وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی علمہ شدید القوی ذومرۃ۔ فاستوی وہو بالافق الاعلی ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی فاوحی الی عبدہ مآ اوحی ما کذب الفؤاد ما رای۔ افتمرونہ علی ما یری ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتہی عندہا جنۃ الماوی اذ یغشی السدرۃ ما یغشی ما زاغ البصر وما طغی لقد رای من آیات ربہ الکبری (نجم: ١ تا ١٨)“
قسم ہے تارے کی جب گرے۔ بہکا نہیں تمہارا رفیق اور بے راہ نہیں چلا اور نہیں بولتا اپنے چاؤ سے یہ تو وحی ہے۔ جو ہوتی ہے اس کو سکھایا سخت قوت والے۔ زور آور نے پھر سیدھا
٥٠
بیٹھا اور تھا وہ اونچے کنارے آسمان کے پھر نزدیک اس سے بھی تھوڑا۔ پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر تم کیا اس سے جھگڑتے ہو۔ اس پر جو اس نے دیکھ لیا پھر بے حد کی بیری پاس اس پاس ہے۔ ہمیشہ چھار ہا تھا بہکی نہیں نگاہ اور حد سے نہیں بڑی۔ بے ش
اے ناظرین حق پسند اس ارشاد خداون دقیق و مقامات تحقیق پائے جاتے ہیں کہ کیفیت مع وغیرہ سے ہے۔ یا اصل معراج روحی معہ جسم ہے واقف تھے۔ پھر ایسے واقعہ سے شکوک و تعجب ہونا اوتاد و اولیاؤں کو بھی کشف ہوتا ہے۔ تو اس میں او
جس کی اللہ تعالیٰ بتفصیل ایسی عظمت (محمد ﷺ) نہ بہکا نہ بھولا نہ راہ سے بے راہ ہوا۔ واستقامت سے رفتار کی کہ قدم ادھر ادھر نہ پڑا۔ ہے کہ پیغمبر تمہاری جنس سے ہوا اور عصمت کا کلام یہ کہ وہ اپنی خواہش سے نہیں بیان کرتا ہے۔ بلکہ وہ سخت قوت والے زور آور نے وحی بہ ہم کلامی حضرت کلیم سے بالائے فوق ہے اور یہ فی سبحان اللہ کیا صاف قیام کی جگہ بھی بتائی۔
کیوں صاحبو یہ حالت کشفی ہے۔ یا میں تھا۔ وہیں یہ کیفیت منکشف کرائی اور پھر کیا ب فرق دو کمان میانہ یا اس سے بھی تھوڑا۔
ابن کثیر
سبب ہے دُنو کا یعنی لٹک آئے تو نزدی عبودیت و سجود میں جھک گئے۔ اے یارو اب تو و خوابی۔ ذرا چشم حیا کو اٹھا کر فرماؤ تو سہی یہ کیا سنا
بیٹھا اور تھا وہ اونچے کنارے آسمان کے پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا۔ پھر رہ گیا فرق دو کمان میانہ یا اس سے بھی تھوڑا۔ پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا جھوٹ نہ دیکھا۔ اس نے جو دیکھا۔ اب تم کیا اس سے جھگڑتے ہو۔ اس پر جو اس نے دیکھا اور اس کو اس نے دیکھا ہے ایک دوسرے اتار میں پر بے حد کی بیری پاس اس کے پاس ہے بہشت رہنے کی جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا بہکی نہیں نگاہ اور حد سے نہیں بڑی۔ بے شک دیکھے اپنے رب کے بڑے نمونے۔﴾
اے ناظرین حق پسند اس ارشاد خداوندی کے ہر ہر لفظ پر غور فرمائیے کہ کیسے کیسے نکات دقیق و مقامات تحقیق پائے جاتے ہیں کہ کیفیت معراج جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ کشفی یا خوابی وغیرہ سے ہے۔ یا اصل معراج روحی معہ جسم ہے۔ کیفیت کشفی وخوابی سے تو اس زمانہ کے لوگ واقف تھے۔ پھر ایسے واقعہ سے شکوک وتعجب ہونا کیونکر ہو سکتا ہے اور زمانہ مابعد میں غوث قطب اوتاد واولیاؤں کو بھی کشف ہوتا ہے۔ تو اس میں اور اس میں فوقیت ہی کیا نکلی۔
جس کی اللہ تعالیٰ بتفصیل ایسی عظمت اور اپنی شہادت فرماتا ہے کہ تمہارا رفیق (یعنی محمد ﷺ) نہ بہکا نہ بھولا نہ راہ سے بے راہ ہوا۔ نہ پھرا یعنی ہماری دکھائی ہوئی راہ پر کمال احتیاط واستقامت سے رفتار کی کہ قدم ادھر ادھر نہ پڑا۔ سیدھا براہ راست منزل مقصود پر پہنچا۔ عجب امر ہے کہ پیغمبر تمہاری جنس سے ہو اور عصمت کا کلام تک وحی قرار پائے اور تم جہل وانکار میں رہو اور یہ کہ وہ اپنی خواہش سے نہیں بیان کرتا ہے۔ بلکہ وحی جو سکھایا۔
سخت قوت والے زور آور نے وہی بیان کرتا ہے۔ (اس سے ہم کلامی ثابت ہے) جو ہم کلامی حضرت کلیم سے بالائے فوق ہے اور یہ فرمانا۔ سیدھا بیٹھا اور تھا اونچے کنارہ آسمان کے۔ سبحان اللہ کیا صاف قیام کی جگہ بھی بتائی۔
کیوں صاحبو یہ حالت کشفی ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ وہ زمین پر بیٹھا تھا۔ یا خواب راحت میں تھا۔ وہیں یہ کیفیت منکشف کرائی اور پھر کیا خوب فرمایا ہے کہ نزدیک ہوا اور لٹک آیا اور رہ گیا فرق دو کمان میانہ یا اس سے بھی تھوڑا۔
ابن کثیر
سبب ہے دنو کا یعنی لٹک آئے تو نزدیک ہو گئے اور کہا گیا نزدیک ہوا۔ اللہ تو پیغمبر مقام عبودیت وسجود میں جھک گئے۔ اے یارو اب تو سچ بول اٹھو یہ کیفیت معراج جسمی ہے۔ یا کشف وخوابی۔ ذرا چشم حیا کو اٹھا کر فرماؤ تو سہی یہ کیا ہے؟
٥١
کیا وحی مرغی کی ایک ٹانگ فلسفی کشفی خوابی ہے۔ اے یاروذراغور سے سمجھو تو سہی اس قرب واتصال رب الجلال کے امور یزدانی میں کیسے کیسے اسرار مخفی ہیں کہ خیالات انسان بشری سے باہر و کوسوں دور۔
معالم
دوم اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن سکھایا۔ عرش پر جلوہ گر نبی کریم سے متصل ہوا اور آپ مقام عبودیت پر سر بسجود ہوئے۔ اس قرب اتصال حقیقی سے دو کمانیں حدوث و قدم کی مل گئیں اور باوجود کمال بعد عبودیت والوہیت و تشبیہ وتنزیہہ واطلاق و تقیید خطوط عنایت و کشش محبت نے بے انتہا مقامات وصال واتصال کے پیدا کر دیئے۔ جن کا منتہا نقاط پر تھا اور وہ نقاط حقیقتاً جسم و مکاں سے فارغ بعد و قرب سے منزہ تشبیہہ و تمثیل سے مبرا تفسیر و تصویر معانی ادا دئے ہیں۔
شہیدی
خواص اس برزخ کبریٰ میں ہی حرف مشدد کا
پس پھر وحی کی اللہ نے اپنے بندے کی طرف جو چاہا نہ جھٹلائے۔ دل نے محمد کے وہ اسرار انوار کہ دیکھے کیا تم اسے قریش انکار واختلاف کرتے ہو دیکھتے ہوئے۔ ہیں حالانکہ تحقیق دیکھا۔ اسے دوسری مرتبہ اور اللہ سے کلام ہوا۔ جس کی عظمت و ماہیت کو اس کا رسول ہی جانتا ہے۔ دوسرے کی طاقت ادراک سے باہر ہے۔
جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا۔ سبحان اللہ۔ آنکھ و دل یعنی روح۔ دونوں کی تصدیق فرمائی اور نیز دوسری مرتبہ دیکھنے کی۔ جس سے وہ اختلاف جو بعضے ناعاقبت اندیش اب تک بحوالہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ اس شہادت خداوندی سے صاف اٹھ گیا۔ چونکہ یہاں آپس کا اختلاف تھا۔ جمہور علماء نے حسب ایمائے خداوندی فیصلہ کر دیا کہ جسدی و روحی معراج ہوئی اور نیز آپ نے دومرتبہ دیکھا۔ یہ نہیں کہ نظر کہیں ہے اور دل کہیں ہے۔
اگر چہ دیکھنا عالم اسباب ظاہری میں تعلق بچشم سر و جسم ہے اور نیز دل بھی تعلق بجسم پس جو قوت و کیفیت بصارت چشم و دل میں ہے۔ وہی قوت و کیفیت بہ قدرت قادر مطلق جسم میں آجائے تو کیا۔ اس کی شان سے بعید اور محال ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسی کا نام معجزہ ہے کہ انسان کی عقل کو عاجز کر دے۔ پس ظاہر بیداری نظارۂ آنکھ وباطنی بینائی دل معہ جسم دونوں سے دیکھا۔ جو کچھ دیکھا۔
٥٢
در منثور
ابن مردویہ نے ابن عباس سے یہ بھی روایت کی ہے کہ حضرت نے بچشم سر دیکھا بہر کیف ان کے کمال اور استقلال و فطانت و یقین کا مذکور ہے۔ حضرت کلیم کو ابتدائی رؤیت میں کیا کیا شبہے ہوئے۔ آگ سمجھے اور ڈرے ہمارے حضور کو وہم غیر بھی نہ ہوا اور سبب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کی استعداد اوائل تجلیات میں بڑھائی جاتی تھی۔ وقوع شبہات شانِ تلمذ و استفادہ سے تھا اور حضور نے اپنے علو و استغراق سے قدرے نزول فرما دیا تھا۔
تو دیکھے ہوئے کو نہ پہچانا کیونکر نہ ہوگا اور ابو العالیہ نے روایت کی کہ حضور نے بجواب سوال فرمایا۔ ’’رایت نهراً ورایت وراء النهر حجاباً نوراً لم ار غیر ذالك‘‘ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے اس طرف حجاب اور حجاب کے پیچھے سے نور اس کے سوا اور کچھ نہ دیکھا۔
صاف ظاہر ہے کہ حجاب بھی تھا اور انکشاف بھی ظہور میں خفا اور خفا میں ظہور۔ نور میں حجاب اور حجاب میں نور۔ اے لوگو ایسے صاف مشاہدہ پر تم کیوں جھگڑتے ہو۔ جو کچھ اس نے بیان کیا۔ واقعی صحیح دیکھا ہے اور ایک دوسرے آثار میں پردے حد کے جہاں کسی کا گزر نہیں۔
ایک درخت بیری کے پاس۔ غرض ایسا صاف پتا و نشان کا فرمانا اسی کی نسبت ہوتا ہے۔ جو خود وہاں گزرا ہو۔ اگر صرف کشفی سیر ہوتی۔ جیسا کہ قادیانی صاحب کا خیال ہے۔ تو صرف لفظ کشف یا خواب فرمانا کافی تھا کہ ایسا تعجب و جھگڑا نہ ہوتا۔ جس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔
اور فرمایا کہ اس درخت بیر کے پاس جنت رہنے کی ہے اور اس درخت پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ (یعنی اس جمال ربانی و جلال یزدانی کا اسرار و جلوہ جو کچھ ہو چھا رہا تھا) بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی۔ دیکھے اپنے رب کے بڑے نمونے۔ یعنی نہ آپ کی نظر میں کجی تھی کہ تماشائے جمال میں قصور و فتور واقع ہو یا چکا چوند لگے۔
کچھ کا کچھ دیکھے۔ بلکہ حق دیکھا اور خوب دیکھا نگاہ ادھر ادھر نہیں ہوئی۔ ٹھیک دیکھا نہ کم نہ زیادہ جو بڑے بڑے اسرار و بھید کے نمونہ اللہ کے تھے۔ یہ کمال استعداد ہے۔ نہ کہ مثل کلیم جو اسرار انوار کو دیکھ کر آگ سمجھے اور بوقت تجلی کوہ طور بے ہوش ہو کر گر گئے۔
پس اب ہم اپنے بھائی عالی فہم متبحر فلسفی سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ کشفی یا خوابی سیر ہے۔ یا اصلی معراج ہے۔ جس پر تمام جمہور کا اتفاق ہے کہ معراج روحی و جسمی دونوں ہوئی ہیں۔
٥٣
اب اس سے زیادہ اگر کسی صاحب کو سورہ نجم کی پوری تشریح دیکھنی منظور ہو تو خلاصۃ التفاسیر میں یا اور تفسیروں میں دیکھ لے۔ بوجہ طوالت ان کا تحریر کرنا ترک کیا گیا کہ عاقلوں کو اتنا بھی بس ہے اور روضۃ الاصفیاء میں بھی ذکر معراج یوں ہے کہ مسلمانوں کو اعتقاد کرنا اس بات کا لازم ہے کہ معراج رسول اللہ کا بیداری میں ہوا ہے اور علم ریاضی و فلسفہ والے جو آسمان کے پھٹنے اور ملنے کے قائل نہیں۔ معراج جسمی سے منکر ہیں اور حقیقت میں منکر معراج کا کافر ہے۔ معراج کا منکر قرآن مجید کا منکر ہے اور خواب وغیرہ میں معراج کا کہنا غلط ہے۔ اگر خواب مراد ہوتا تو کافر انکار نہ کرتے۔ غرض حسب اثبات بالا اور زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں۔
باقی ہفوات مرزا قادیانی قابل توجہ نہیں ہیں۔ جب کہ اس طریقہ ایجاد کی بیخ و بنیاد ہی اڑ گئی تو اب باقی ہی کیا رہا۔ مگر ہاں چند نصائح جو انہوں نے بطور وصیت نامہ اپنے خادمان کے لئے اپنی تصنیفات میں درج کئے ہیں۔ مشت نمونہ خروارے۔ بملاحظہ ناظرین درج کئے جاتے ہیں۔ جو بدرجہ اولیٰ قابل غور ہیں:
وصیت نمبرا
خزائن ج٣ ص ٦٤ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔
اقول
اے خادمان قادیانی! یہ تو بڑی دور کی سوجھائی نہ مخبطہ استعارہ کیوں بیان کیا۔ گونگے والوں کے نزدیک تو مطلب وہی ہے۔ جو مقصود ہے مگر یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی بطور استعارہ گدھے کو گھوڑا کہے۔ تو چشم بینا اسے گدھا کہے گی۔ ہرگز گدھا و گھوڑا گو کسی قسم کی مشابہت رکھتا ہو۔ برابر نہیں ہو سکتا ہے۔ ہاں ان کے خادمان مثل نصاریٰ و یہود و غیرہ ابن اللہ کہیں تو مضائقہ نہیں۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ بھی اصل بیٹا نہیں کہتے۔ بطور استعارہ ہی ان کا بھی گمان ہے۔ غرض اصلی ہو یا بطور استعارہ قرآن مجید میں اس کی مذمت موجود ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”قالت اليهود عزير ابن الله وقالت النصرى المسيح ابن الله ذالك قولهم بافواههم يضاهئون قول الذين كفرو من قبل قاتلهم الله انی یؤفکون (توبہ:٣٠)“ ”یہود نے کہا عزیر بیٹا اللہ کا اور نصاریٰ نے کہا مسیح بیٹا اللہ کا یہ باتیں ٥٤
٤٨٧ کہتے ہیں۔ اپنے منہ سے ایسی کرنے لگے اگلے منکر پھرے جاتے ہیں۔ ﴿دیگر آیت﴾ ”وجعلولله شر وبنٰت بغیر علم (انعام:١٠٠)“ اور ٹھہرا اور تراشتے ہیں۔ اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بن اے قادیانی! کیا تمام قرآن سے بھی ایسے لوگوں کو صاف کافر و مشرک اور قاتلہم اللہ کے گز نہ پھٹکنا۔
مرزا قادیانی کا روح ان
وصیت نمبر ٢
فتح اسلام جلسہ مذاہب لاہور ١٨٩٧ء لطیف نور ہے۔ جو اس جسم کے اندر ہی پیدا ہوتا منشاء نہیں کہ روح الگ طور سے یا آسمان سے ناز خیال کسی طرح صحیح نہیں۔ اگر ایسا خیال کریں تو مشاہدہ کرتے ہیں کہ گندے زخموں میں ہزارہا کیڑے جسم سے نکلتے ہیں اور اس دلیل سے اس کا حادث ہو
مرزا قادیانی کا اپنی
وصیت نمبر ٣
ازالہ ص ٢٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤٩٤ مختلف اطوار اور ادوار کے بعد قادیانی بن گیا۔ چنا
من عجب ترار
اس شعر میں اپنی اصلی حقیقت حضر قادیانی۔ آپ کے پیر صاحب تو در پردہ اس خیال مثیل عیسیٰ کی تشبیہ ٹھیک ہو گئی۔ اس کا ٹھیک جواب ٥
کہتے ہیں۔ اپنے منہ سے ایسی بکنے لگے اگلے منکروں کی بات سی۔ مارے ان کو اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔ ﴿دیگر آیت"وجعلو لله شركاء الجن وخلقهم وخرقوا له بنين وبنٰت بغير علم (انعام:١٠٠) "﴾ اور ٹھہراتے ہیں شریک اللہ کے جن اور اس نے ان کو بنایا اور تراشتے ہیں۔ اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بن سمجھے۔﴾ اے قادیانی! کیا تمام قرآن سے بھی بے بہرہ ہو جو انکار ہے۔ ذرا غور کرو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صاف کافر و مشرک اور قاتلہم اللہ کے مصداق فرماتا ہے۔ اب ایسے شخص کے پاس ہر گز نہ پھٹکنا۔
مرزا قادیانی کا روح انسان کی اصلیت کا بیان
١. وصیت نمبر ٢
رپورٹ جلسہ مذاہب لاہور ٢٧، ٢٨، ٢٩ دسمبر ١٨٩٦ء میں فرمایا۔ روح انسان ایک لطیف نور ہے۔ جو اس جسم کے اندر ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو رحم میں پرورش پاتا ہے۔ یہ بتلانا خدا کا منشاء نہیں کہ روح الگ طور سے یا آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ یا فضاء زمین پر آتی ہے۔ بلکہ یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں۔ اگر ایسا خیال کریں تو قانون قدرت ہمیں باطل ٹھہراتا ہے۔ ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ گندے زخموں میں ہزارہا کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ سو یہ ہی صحیح بات ہے کہ روح جسم سے نکلتی ہے اور اس دلیل سے اس کا حادث ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔
مرزا قادیانی کا اپنی حقیقت اصلی کا بیان
وصیت نمبر ٣
ازالہ ص ٤٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤٩٤ میں اپنی اصلیت ایک (کرم) کے مانند بتلائی جو مختلف اطوار اور ادوار کے بعد قادیانی بن گیا۔ چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
من عجب تر از مسیح بے پدر
اس شعر میں اپنی اصلی حقیقت حضرت مسیح بے پدر سے عجب تر ہونی بتلائی۔ لو خادمان قادیانی۔ آپ کے پیر صاحب تو در پردہ اس بیان استعارہ سے بے پدر کے پیدا ہوئے۔ واقعی اب مثیل عیسیٰ کی تشبیہ ٹھیک ہو گئی۔ اس کا ٹھیک جواب ان کے پدر بزرگوار یا اس محلہ کے لوگ دے
٥٥
سکتے ہیں۔ ہمارا عرض کرنا داخل بے ادبی ہوگا۔ مگر ہاں اتنا تو ضرور عرض کرنا ہے کہ جب یہ صورت ہے تو ان کے باپ دادا وغیرہ اور نیز بزعم ان کے تمام مخلوق کی یہ ہی اصلیت ہوگی۔ پھر قادیانی صاحب کے اس بیان سے ان کی فوقیت ہی کیا نکلی۔ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دراصل باپ نہ تھا اور ان کا باپ تو مشہور کیا اپنی اصلیت کیڑا بیان کرنے سے ان کے باپ کا مفقود ہو جانا لازم آئے گا۔ ہرگز نہیں۔
مگر ہاں اصلیت کیڑا بیان کرنے سے البتہ یہ گمان بے جا نہ ہو گا کہ کہیں منجملہ اولاد اسی کیڑوں میں سے تو نہیں ہے جس کی سعی کوشش کی بدولت حضرت آدم علیہ السلام جنت سے باہر ہوئے اور مثل آواگون بعقائد ہنود کے بصورت انسانی جون میں آدم کے اور باعث خرابی اولاد آدم ہوئے۔
خداوند کریم ایسے کی ہوا سے بھی ہر مسلمان کو بچائے۔ اب اے ناظرین روح کی اصلیت پر ذرا غور کرو کہ مادہ اس روح لطیف کا بھی جسم کثیف قرار دیا ہے۔ سبحان اللہ۔ ایسے عالی فہم تمام دنیا میں چراغ لے کر ڈھونڈو تو نہ ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس کی اصلیت بیان نہ ہوئی اور یہ حکم ہوا جس کے قادیانی منکر پائے جاتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ: ”ويسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتيتم من العلم الا قليلا (بنی اسرائيل:٨٥)“ (اور پوچھتے ہیں آپ سے روح کو کہہ دیجئے روح امر سے ہے۔ میرے رب کی نہیں دیئے گئے تم علم سے مگر کم تر)
پس جبکہ حسب آیہ علم قلیل عطا ہوا ہے۔ جس سے نفی عدم فہمیدگی کی ظاہر ہے۔ تو قانون قدرت فلسفہ قادیانی کی تردید ہم سابق تحریر کر چکے ہیں۔ ملاحظہ سے گزری ہوگی اور جب کہ خداوند تعالیٰ کی قدرت قانون قرآن میں ہی اس کی اصلیت سوائے امر ربی اور کچھ نہ معلوم ہوئی۔ تو اب کوئی کیسا ہی کیوں نہ بیان کرے۔ اس پر یقین لانا واقعی گمراہی ہے اور نیز آیت بالا کا منکر۔
البتہ وہ شخص قطعی کافر ہے اور روح پاک کا کہیں اور سے نہ آنا اور اسی جسم سے نکلنا اور قرار دینا بھی صریح خلاف امر ربی ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حماء مسنون ط والجان خلقنه من قبل من نار السموم ط واذ قال ربك للملئكة انی خالق
٥٦
بشراً من صلصال من حماء مسنون له سجدین (حجر:٢٦ تا٢٩) “ (اور سے اور جن بنایا ہم نے اسے پہلے سے آتش میں پیدا کرنے والا ہوں بشر کا گوندھے گارے تیار کیا) اور پھونکی ہم نے اس میں روح اپنی یعنی جب تکمیل خلق آدم ہو گئی اور بحکم فرشتے سجدہ میں گرے۔ تو پس جب کہ صاف فرمایا۔ اور پھر یہ سوال حقیقت روح بھی سمجھ سکتے۔ تم کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ صرف اتن و چرا کرے جیسا مرزا قادیانی نے کیا۔ بھلا وہ حضرت آدم علیہ السلام سے آگے چلا۔ جس دوسری آیت میں فرمادی۔ قولہ تعالیٰ: ”الذی احسن کل ج ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهی لكم السمع والابصار والافئده قليلاً اچھی کی ہر شے کی خلقت اس کی اور شروع ک ہوئے پانی، ذلیل سے پھر برابر کیا، اسے ا سماعت اور بینائیاں اور دل تھوڑا شکر کرتے ہو کیوں صاحبو! اب بھی حقیقت ر صاحب کیڑے سے ہونے میں البتہ یہ خلجان معلوم تھا کہ اس کے حامی و مددگار کو بھی یہ وسو اگر یہ ان کے نزدیک صحیح ہے گو ضرورت نہیں۔ ان کی پیدائش اور ان کی ذری
بشراً من صلصال من حماء مسنون فاذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له سجدين (حجر: ٢٦ تا ٢٩)” اور تحقیق بنایا ہم نے آدمی لیسدار گارے کی کھنکھناتی مٹی سے اور جن بنایا ہم نے اسے پہلے سے آتش گرم سے اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے میں پیدا کرنے والا ہوں بشر کو گوندھے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پھر جب برابر کیا ہم نے (یعنی تیار کیا) اور پھونکی ہم نے اس میں روح اپنی۔ گرے واسطے اس کے سجدہ کرنے والے ﴾
یعنی جب تکمیل خلق آدم ہوگئی اور اللہ نے اپنی روح اس میں پھونک کے زندہ کر دیا اور بحکم فرشتے سجدہ میں گرے۔ تو پس جب کہ بناء پیدائش انسان اور روح کا علیحدہ ہونا جسم سے صاف فرمایا۔
اور پھر یہ سوال حقیقت روح بھی یہ فرمایا کہ تم ہماری پھونکی ہوئی روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔ تم کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ صرف اتنا سمجھ لو کہ یہ ایک امر ربی ہے۔ پھر اس میں کوئی چون و چرا کرے جیسا مرزا قادیانی نے کیا۔ بھلا وہ منکر آیات مذکور الصدر ہے یا نہیں۔ پھر سلسلہ پیدائش حضرت آدم علیہ السلام سے آگے چلا۔ جس کی تشریح بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قانون میں دوسری آیت میں فرمادی۔
قولہ تعالیٰ : ”الذی احسن کل شی ء خلقہ وبدا خلق الانسان من طین ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين، ثم سويته ونفخ فيه من روحه وجعل لكم السمع والابصار والافئدة قليلاً ما تشكرون (سجدة: ٧ تا ٩) “ ﴿ ایسا جس نے اچھی کی ہر شے کی خلقت اس کی اور شروع کی خلقت انسان کی مٹی سے پھر بنائی اولاد اس کی نکلے ہوئے پانی، ذلیل سے پھر برابر کیا، اسے اور پھونکی اس میں روح اپنی اور بنائی تمہارے لئے سماعت اور بینائیاں اور دل تھوڑا شکر کرتے ہو۔ ﴾
کیوں صاحبو! اب بھی حقیقت روح و پیدائش معلوم ہوئی یا نہ۔ مگر ہاں پیدائش قادیانی صاحب کیڑے سے ہونے میں البتہ یہ خلجان پیدا ہے کہ ابلیس کو ہی یہ وسعت دی گئی تھی۔ مگر یہ نہ معلوم تھا کہ اس کے حامی و مددگار کو بھی یہ وسعت دی گئی ہے۔
اگر یہ ان کے نزدیک صحیح ہے گو برخلاف قانون قرآن ہے۔ تو ہم کو بھی چون و چرا کی ضرورت نہیں۔ ان کی پیدائش اور ان کی ذریات ان کو مبارک۔
وصیت نمبر ٤
ازالۃ اوہام کے متعدد مقامات وصفحات میں قادیانی صاحب کا فرمانا:
- نمبر ١...... خدائے تعالیٰ اپنے قانون قدرت کے باہر کوئی کام نہیں کرتا۔
- نمبر ٢...... پس اس دنیا میں مردوں کو زندہ کرنا۔
- نمبر ٣...... یا ایک انسان کو آسمان پر زندہ مع الجسم اٹھا لے جانا یا ایک زمانہ دراز تک بلا حاجت اکل وشرب زندہ رکھنا اور پھر اس کو حوادثات زمانہ سے محفوظ رکھنا۔ یہ سب خدا کے قانون قدرت سے باہر ہیں اور عادت اللہ کے برخلاف۔
- نمبر ٤...... لیکن وہ مرزا قادیانی کو مسیح کی صورت مثالی کے بنانے پر قادر ہے اور یہ اس کے قانون قدرت سے باہر نہیں۔ جیسا کہ انسان کو بندر وسور بنانا۔ اس کو قانون قدرت سے باہر نہیں۔
- جواب نمبر ١...... جو خدا قانون قدرت فلسفہ کی رو سے باہر کوئی کام نہیں کرتا تو تعجب یہ ہے کہ نمبر ٤ میں مثالی صورت مسیح وسور و بندر بنانے میں کیوں کر قادر سمجھا گیا۔ نمبر ١ و دیگر متذکرہ پر تو خدا قانون قدرت کا مقید اور یہاں قانون قدرت پر قادر۔ ایسے لوگ تو بہت ہیں کہ کسی اور کی بات نہ سمجھیں۔ مگر ایسے نہیں دیکھے کہ ماشاء اللہ اپنی کہی ہوئی بات کو بھی نہ سمجھیں۔ یہ منصب ہمارے قادیانیوں کو ہی نصیب ہوا ہے۔ یعنی صورت مثالی و سور و بندر بنانا اگر چہ قانون قدرت سے باہر ہے۔ لیکن ان کے بنانے پر خدا قادر ہے۔
لیکن ان کے بنانے پر خدا قادر ہے تو لفظ لیکن اور قادر ایسی بات پر دلالت کرتا ہے کہ قانون قدرت سے ضرور باہر ہے۔ ورنہ اس کے بیان کی ضرورت ہی کیا تھی۔ پس وہ خدا کونسی دلیل فلسفیانہ سے قادر ہوا ہے۔ صورت سور اور بندر پر کوئی شہادت ہے۔ یا دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے۔ جس نے انسان کو اصلی سور و بندر بنا ہوا دیکھا ہو۔ ہرگز نہیں اگر کسی نے بیان کیا ہے تو کیوں نہیں تحریر میں لائے؟
کہیں ہوتا تو لاتے ۔ یہ تو اندھوں اور بہروں کے سمجھانے کی باتیں ہیں۔ پھر قادیانی کو اس تعجب خیز امر پر اس کے قادر ہونے کا یقین بھی ہوا ہے۔ تو باقی امور بالا پر کیوں یقین نہیں ہوتا۔ کیا ان پر خدا قادر نہیں ہے؟ اور اگر قانون قدرت کلام الہی کو مانا ہے جس کے بھروسے پر مثال ٥٨
صورت سور اور بندروں کی بیان فرمائی ہے۔ تو باقی ا ہی سے ثابت ہے۔
چنانچہ بعض کا ثبوت بحث معجزات انبی گزر چکا۔ ان پر ایمان لانے سے کیوں انحراف ہ اس بیان کی تائید ہے کہ قادیانی ایک کیڑا تھا۔ اس مثالی بن گیا۔
اس لئے بندر وسور کی صورت ہو جانا ق ”بقول کل شیء یرجع الی اصلہ“ پر دل اگرچہ بظاہر صورت انسان ہیں۔ مگر باطناً مجسم شی ہے۔ بقول مولانا:
پس بہر دستے
لو صاحب یہ تو آپ کی خوش فہمی کا جو قدرت خداوندی پر ایمان ہے تو ہر بات کا جواب فر
- جواب نمبر ١...... قانون قدرت خداوند ع
رسول ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ جس سے وہ ہر شے پ کل شیء قدیر “ وہ قادر مقید نہیں۔ جس ک ازروئے قانون فلسفہ و ریاضی وغیرہ کے ذریعے خلاف اسلام ہے جو کفر ہے۔
- جواب نمبر ٢...... اس دنیا میں مردوں کا زن
یقین اسی کو ہوگا جو قانون کلام الہی سے بالکل بے سوال فرمودہ رب العالمین ہے۔ ”الیس ذالک (قیامہ: ٤٠) ” کیا نہیں ہے یہ قادر اس پر کہ جل یعنی کیا نہیں پروردگار اس امر پر قادر ک ٥٩
صورت سور اور بندروں کی بیان فرمائی ہے۔ تو باقی امور نمبر ٢ سے نمبر ٣ تک پر خدا کا قادر ہونا قرآن ہی سے ثابت ہے۔
چنانچہ بعض کا ثبوت بحث معجزات انبیاء و معراج رسول ﷺ میں واضح طور پر سابق گزر چکا۔ ان پر ایمان لانے سے کیوں انحراف ہے۔ مگر ہاں اب ہم بھی سمجھ گئے کہ یہ آپ کے اس بیان کی تائید ہے کہ قادیانی ایک کیڑا تھا۔ اس جون میں صورت انسان ہو کر مسخ کی صورت مثالی بن گیا۔
اس لئے بندر و سور کی صورت ہو جانا قانون قدرت فلسفہ میں داخل ہے۔ باہر نہیں۔ ”بقول كل شیء يرجع الى اصله “ پر دال ہے اور دیگر یہ ظاہر و عیاں ہے کہ بعض انسان اگرچہ بظاہر صورت انسان ہیں۔ مگر باطناً مجسم شیطان ہیں اور صورت سور و بندر سے بھی بدترین ہے۔ بقول مولانا:
پس بہر دستے نباید داد دست
لو صاحب یہ تو آپ کی خوش فہمی کا جواب تھا۔ اب ہماری سنئے کہ اگر قرآن قانون قدرت خداوندی پر ایمان ہے تو ہر بات کا جواب ذیل سے ملاحظہ فرمائیے۔
جواب نمبر ١...... قانون قدرت خداوند عالم قرآن مجید ہے جو اس نے اپنے حبیب رسول ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ جس سے وہ ہر شے پر قادر ہے۔ جو چاہے کرے۔ ”وهو علی کل شیء قدیر “ وہ قادر مقید نہیں۔ جس کا اثبات سابق گزر چکا۔ پس برعکس قانون قرآن از روئے قانون فلسفہ و ریاضی وغیرہ کے ذریعے سے طبع آزمائی و سینہ زوری معاملہ دین میں کرنا خلاف اسلام ہے جو کفر ہے۔
جواب نمبر ٢...... اس دنیا میں مردوں کا زندہ کرنا خلاف قانون و عادت اللہ ہے۔ اس کا یقین اسی کو ہوگا جو قانون کلام الہی سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ایسے ہی خیرہ سروں و طبع کی نسبت یہ سوال فرمودہ رب العالمین ہے۔ ”الیس ذالك بقادر علی ان یحیی الموتی (قیامہ: ٤٠)“ ﴿کیا نہیں ہے یہ قادر اس پر کہ جلائے مردے۔ ﴾
یعنی کیا نہیں پروردگار اس امر پر قادر کہ مردے جلائے۔ جبکہ معدوم سے موجود کرنا اس
٥٩
پر گراں نہیں تو مردے کو جلانا کیا دشوار ہے۔ چنانچہ اس اظہار قدرت کے لئے بطور خود و بطور اعجاز انبیاء سے امور ظہور پذیر ہوئے۔ جن کا ثبوت معجزات انبیاء میں سابق گزرا اور نیز مزید براں اور بھی درج ذیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے: ”اذ قتلتم نفساً فادار تم فیها والله مخرج ما كنتم تكتمون فقلنا اضربوه ببعضها كذالك يحيى الله الموتى ويريكم أيته لعلكم تعقلون . (بقرہ:٧٢،٧٣) ”اور جب تم نے مار ڈالا تھا ایک شخص پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو نکالنا ہے جو تم چھپاتے ہو پھر ہم نے کہا مارو مردے کو اس گائے کا ایک ٹکڑا اس طرح جلاوے گا اللہ مردے اور دکھاتا ہے۔ تم کو اپنے نمونے شاید تم سوجھو۔﴾
بنی اسرائیل میں ایک شخص مارا گیا تھا۔ اس کا قاتل معلوم نہ تھا۔ اس کے وارث ہر کسی پر دعویٰ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح اس مردے کو جلایا۔ اس نے بتایا کہ ان وارثوں نے ہی مارا تھا۔ موضح القرآن اور سنئے۔ ان سب لوگوں کو جو ہمراہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بجلی سے مر گئے۔ سب کو زندہ کھڑا کر دیا۔
قولہ تعالیٰ: ”ثم بعثناكم من بعد موتكم لعلكم تشكرون (بقرہ: ٥٦)“ ﴿پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مر گئے پیچھے۔ شاید تم احسان مانو اس پر بھی اطمینان نہ ہو اور کوئی شیطان وسوسہ ڈالے۔﴾ تو اور لیجئے۔
قولہ تعالیٰ: ”كيف تكفرون بالله وكنتم امواتاً فاحياءكم ثم يميتكم ثم يحييكم ثم اليه ترجعون (بقرہ: ٢٨) ”تم کس طرح منکر ہو اللہ سے اور تھے تم مردے پھر اس نے تم کو جلایا پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر جلاوے گا۔﴾
تو اور سنئے کہ جائے گفتن ہی باقی نہ رہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ قرآن شریف میں موجود ہے۔
قولہ تعالیٰ: ”او كالذى مر على قرية وهى خاوية على عروشها قال انى يحيى هذه الله بعد موتها ج فاماته الله مائة عام فانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما ط فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شىء قدير (بقرہ: ٢٥٩) ”یا مثل اس کی کہ گزرا ایک گاؤں پر اور وہ الٹا پڑا تھا۔ اپنے چھتوں پر کہا کہ کیوں
٦٠
کر زندہ کرے گا۔ اسے اللہ اس کی خرابی (یعنی موت) پھر زندہ کیا اسے کہا کہ کس قدر ٹھہرا کہا ایک دن یا کوئی دیکھ اپنے کھانے کی طرف اور شربت کی طرف نہیں سڑا بنائیں ہم تجھے نشانی واسطے آدمیوں کے اور دیکھ ہڈیوں پہناتے ہیں۔ ہم اسے گوشت پھر جب کھل گیا اس پر کہا قادر ہے۔﴾
اے یارو! اب تو اٹھو کہ واقعی وہ قادر ہے کتاب خلاصۃ التفاسیر ج١ ص ٢٠٤ دیکھ لو اور نیز حضرت اہل و جانوران وغیرہ کو عرصہ بعد زندہ کر دیا اور اصحاب موجود ہے۔
اگر پڑھا ہے۔ دیکھ لو۔ پس اگر اس پر بھی کسی اور سنئے۔ واقعی جب کہ انبیاء کو مردے کے زندہ ہونے کا ارادہ پیدا ہوا۔ واقعی یہ مسئلہ اہم تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ ابھی گزر چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں یوں فرماتا ہے:
”واذ قال ابراهيم رب ارنى كيف قال بلى ولكن ليطمئن قلبى قال فخذ اربعة على كل جبل منهن جزء ثم ادعهن يا حکيم (بقرہ: ٢٦٠) ”اور جب کہا ابراہیم علیہ الس ہے۔ مردے کو کہا۔ کیا تو نہیں ایمان لایا کہا ایمان کیوں لے چار چڑیاں پھر پہچان رکھ۔ پھر رکھ ہر پہاڑ پر ان تیرے پاس دوڑتی اور جان لے اللہ غالب حکیم ہے۔﴾
معالم
مفسرین کہتے ہیں کہ جب نمرود مردود نے خلیل
٦١
کر زندہ کرے گا۔ اسے اللہ اس کی خرابی (یعنی موت) کے بعد تو مار ڈالا اسے اللہ نے سو برس تک پھر زندہ کیا اسے کہا کہ کس قدر ٹھہرا کہا ایک دن یا کوئی جز دن کا کہا بلکہ ٹھہرا تو سو ١٠٠ برس پس دیکھ اپنے کھانے کی طرف اور شربت کی طرف نہیں سڑا ہے اور دیکھ طرف اپنے گدھے کی اور تاکہ بنائیں ہم تجھے نشانی واسطے آدمیوں کے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کیونکر چڑھاتے ہیں ہم اسے پھر پہناتے ہیں۔ ہم اسے گوشت پھر جب کھل گیا اس پر کہا یقین رکھتا ہوں میں بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔﴾
اے یارو! اب تو اٹھو کہ واقعی وہ قادر ہے۔ اگر اس کی تفسیر کما حقہ دیکھنا منظور ہو تو کتاب خلاصۃ التفاسیر ج ١ ص ٢٠٤ دیکھ لو اور نیز حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ کہ ان کے تمام اہل و جانوران وغیرہ کو عرصہ بعد زندہ کردیا اور اصحاب کہف کا قصہ یہ سب قرآن شریف میں موجود ہے۔
اگر پڑھا ہے۔ دیکھ لو۔ پس اگر اس پر بھی کسی کو انکار ہے تو اس کے کفر میں کیا کلام ہے اور سنئے ۔ واقعی جب کہ انبیاء کو مردے کے زندہ ہونے میں کچھ خیال ہوا اور اس کے چشم خود دیکھنے کا ارادہ پیدا ہوا۔ واقعی یہ مسئلہ اہم تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے قادر مطلق کی صفت کو پورا کر دکھایا۔ چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ ابھی گزر چکا ہے۔ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنئے اور اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں یوں فرماتا ہے:
”واذ قال ابراهيم رب ارنى كيف تحى الموتى ط قال اولم تومن ط قال بلى ولكن ليطمئن قلبى قال فخذ اربعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزء ثم ادعهن ياتينك سعيا ط واعلم ان الله عزيز حكیم (بقرہ: ٢٦٠)“ ﴿ اور جب کہا ابراہیم علیہ السلام نے اے رب دکھا مجھے کیونکر تو زندہ کرتا ہے۔ مردے کو کہا۔ کیا تو نہیں ایمان لایا کہا کیوں نہیں مگر مطمئن ہو جائے دل میرا۔ فرمایا لے چار چڑیاں پھر پہچان رکھ۔ پھر رکھ ہر پہاڑ پر ان سے ایک ایک ٹکڑا پھر بلا انہیں آئیں گی تیرے پاس دوڑتی اور جان لے اللہ غالب حکیم ہے۔﴾
معالم
مفسرین کہتے ہیں کہ جب نمرود مردود نے خلیل جلیل سے بحث کی تھی تو یہ بھی کہا تھا کہ تم
٦١
نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کیونکر مردے جلاتا ہے۔ آپ یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے دیکھا ہے اور دوسری دلیل سے اسے معقول کر دیا۔ پھر پروردگار سے عرض کی کہ مجھے آنکھ سے دکھا دے اور بعض نے کہا کہ آپ ایک مردہ جانور پر گزرے جو دریا کے کنارے پر پڑا تھا۔ دریا کی مچھلیاں اور جنگلی جانور اور چڑیاں اسے کھاتی تھیں۔ آپ کو تعجب ہوا کہ یہ منتشر اجزاء جمع ہوں اور روح اس میں آجائے۔ یہ تماشا تو قابل دید ہے۔
تب یہ سوال کیا اور بعض نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلعت خلت سے سرفراز فرمایا تو حضرت ملک الموت نے درخواست کی کہ یہ خوشخبری تیرے خلیل کو جا کر میں سنا دوں اور ان کی زیارت بھی کروں۔ منظور ہوئی۔ غرض ملک الموت۔ حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور کہا کہ میں آپ کو بشارت دینے آیا ہوں کہ آپ کو آپ کے پروردگار جل وعلا نے آپ کو اپنا خلیل بنالیا۔ حضرت یہ سن کر حمد وثناء میں مشغول ہوئے۔ پھر ملک الموت نے کہا آپ کی دعا بھی مقبول ہوگی۔ اس وقت آپ نے عرض کی کہ اے رب مجھے مردے جلانے کا تماشا دکھا دے۔ ارشاد ہوا کیا تجھے کچھ شک ہے۔ عرض کی کہ نہیں۔ اے میرے پروردگار ہاں چاہتا ہوں کہ آنکھ سے دیکھوں اور مرتبہ عین الیقین حاصل کروں۔ کہ دل مطمئن ہو۔ الحاصل اس درخواست کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اے ابراہیم چار چڑیاں لو۔
معالم
طاؤس، مرغ، کبوتر، کوا اور بعضوں نے دوسرے نام بھی ذکر کئے ہیں۔ بہر حال ارشاد ہوا کہ انہیں خوب پہچان رکھو۔ تاکہ پھر کچھ وہم نہ ہو اور ذبح کرو پھر وہ خون اور گوشت آپس میں ملا کر خلط کر ڈالو اور پہاڑوں پر ڈال دو۔ ابن عباس وقتادہ نے کہا کہ ہر چڑیا کے چار جز کر کے ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دیا گیا۔ ابن جریح نے۔ سات پہاڑوں پر سات ٹکڑے کر کے رکھے اور سر اپنے پاس رکھے۔ پھر آواز دی کہ آؤ اللہ کے حکم سے۔ ہر قطرہ خون اڑتا اور اپنے دوسرے قطرے سے مل مل کر جسم بن گئے اور ہر جسم اڑتا اور سعی کرتا ہوا اپنے سر سے مل گیا اور چڑیاں جی گئیں۔
اب افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو ایسی ایسی واضح نشانیوں اللہ کی سے منکر ہیں۔ ایسوں ہی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قولہ تعالیٰ: ”والذين كفروا وكذبوا بآياتنا اولئك اصحاب النار هم فيها
٦٢
خالدون (بقرہ:٣٩) ”اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائی ہماری نشانیاں وہ ہیں دوزخ کے لوگ۔ وہ اس میں رہ پڑیں۔ اے بھائیو کیوں اس آیت کے مصداق ہوتے ہو۔ خدا کا کچھ تو خوف کرو اور اسلام دین اختیار کرو۔
جواب ٣ ...... میں جو کسی انسان کو زندہ مع الجسم اٹھالے جانا آسمان پر قانون قدرت فلسفہ کی رو سے خلاف عادت اللہ ہے تو اس پر ایک بیان سے مقصود یہی ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت عیسیٰ کا جانا اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی جسمی معراج کا ہونا خلاف ہے۔ معراج کا ثبوت تو سابق ہو چکا۔ ملاحظہ سے گزرا ہوگا اور حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے اپنے محل پر آئندہ ثبوت آتا ہے۔ مگر ہم مجمل یہاں بھی عرض کئے دیتے ہیں۔ شاید کسی اہل فہم طالب حق کی سمجھ میں آجاوے۔
یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے درمیان طائف مکہ معظمہ پیدا کر کے جنت میں رہنے کی اجازت فرمائی اور ان کو ایک مدت دراز معینہ تک مع رفع حاجت، اکل وشرب کے زندہ رکھا اور حوادث زمانہ سے بھی محفوظ رکھا اور پھر وہاں سے اسی زمین پر واپس آنا سب کے نزدیک مسلم ہے اور قادیانیوں کو بھی شاید اس سے انحراف نہ ہوگا۔
تو جب یہ بات یقیناً ظاہر ہو چکی اور ادھر قرآن قانون خداوندی کی شہادت پھر اس کے یقین ہونے میں کس کو کلام ہے۔ قول تعالیٰ: ”وقلنا يا آدم اسكن انت وزوجك الجنت وكلا منها رغداً حيث شئتما (بقرہ:٣٥) “ ﴿اور کہا ہم نے اے آدم رہ تو اور بی بی تیری جنت میں اور کھاؤ اس سے بافراغت جس طرح چاہو۔﴾
پس اللہ تعالیٰ کہ عالم الغیب ہے اور سنئے۔ ”ان الله على كل شیء قدير “ کی صفت کو ظاہر کر کے آئندہ آنے والے کور چشموں کے خیال باطل کی تکذیب اول ہی سے فرمادی۔ یعنی آدم علیہ السلام کا جنت میں جانا اور آنا و آسمان و کرہ زمہریر اور آفتاب و ماہتاب وغیرہ کا طے کرنا سب ہی کچھ ہو گیا۔
اور دشمنان آدم علیہ السلام بھی ان گھروں سے گزر کر اس زمین پر آ دھمکے تو اولاد آدم علیہ السلام جو تمام جہان سے افضل ہیں۔ ان کا وہاں گزرنا کیونکر غیر ممکن ہوگا۔ سوائے اس شخص کے جس کو اس کے قادر مطلق ہونے سے شک ہے۔ وہ ہی منکر ہوگا۔
٦٣
لو صاحبو! حضرت ادریس علیہ السلام وحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معہ جسم رفع ہونا اور رسول اللہ ﷺ کی معراج کا معہ جسم ہونا۔ ہر عاقل کے نزدیک مثل آفتاب روز روشن کے اثبات معروضہ بالا سے کامل ہو گیا۔ اب آگے اور یہ فرماتے ہیں کہ بلا اکل وشرب کوئی زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ جس کی نظیریں دنیا میں اور تواریخوں میں بہت موجود ہیں۔ مجھوم وہ پیش نظر کرتے ہیں کہ مخالف کو جائے کلام باقی نہ رہے۔
حضرت اصحاب کہف وحضرت خضر وحضرت الیاس علیہ السلام قصہ قرآن وحدیث وتواریخ سابقہ میں موجود ہے کہ ہنوز زندہ ہیں اور جب تک اللہ چاہے زندہ رہیں گے اور نیز ان فرشتوں کا قصہ کہ جو بوجہ طعن حضرت ادریس مبتلائے مصیبت ہوئے۔ یعنی عزاز عزایا وعزائیل۔ ہر سہ فرشتے لوازمات وصفات انسانی دے کر دنیا میں بھیجے گئے۔
دن میں یہاں مشغول رہتے اور شب کو آسمان پر چلے جاتے تھے اور جب زمین پر آتے وہی صفت بشریت کی مل جاتی تھی۔ مگر ان ہر سہ میں سے ایک نے بخیال فتنہ وفساد دنیا سے واپسی کی التجا کی۔ مقبول ہوئی وہ واپس گیا اور دونوں جو ملقب بہ ہاروت وماروت ہیں۔ اس دنیا میں رہے اور وجہ تسمیہ دنیا میں آنے کی یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام بہ منقبت مضمون ”ورفعناہ مکاناً عليا (مریم: ٥٧)“ کے فائز ہوئے اور بیچ عالم بالا کے مصاحب ملائکہ ہوئے۔ ملائکہ نے بنظر تحقیر طعن کی۔
اللہ کو ناپسند ہوئے امتحاناً بھیجے گئے مگر پورے نہ اترے۔ انجام وہ غار جبل بابل میں زندہ لٹکائے گئے اور اپنے کردار اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی روایت مختلف طور سے اور بھی آئی ہیں۔ مگر وہ فروعات میں اختلاف ہے۔ غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ اصل مراد حصول مقصود میں سب کا اتفاق ہے۔
اور ہمارا مقصود بوجہ احسن ثابت ہے۔ غرض ہمارے اس مختصر بیان بالا میں کسی کو شک ہو اور اس سے زیادہ مفصل حال معلوم کرنا ہو۔ کیونکہ ہم نے بوجہ طوالت نہیں درج کیا۔ تو تفسیر مدارک وخلاصۃ التفاسیر وروضۃ الصفاء ودرج الدرر وروضۃ الاحباب وروضۃ الاصفیاء وغیرہ میں جو موافق قرآن وحدیث ہو مطابق کر کے دیکھ لیں۔ تاکہ شبہ رفع ہو جائے۔
اور سنئے! اللہ کی مخلوق میں سے فرشتے بھی زندہ ہیں اور جنات جن کی پیدائش آدم سے
٦٤
بھی اول ہے۔ بعض کا زندہ رہنا مخبر صادق سے ہنوز ثابت ہے۔ تو خادمان ونیم ملا ومرزا قادیانی وغیرہ نے جو بوقت اثبات شرکت حیات حضرت ادریس علیہ السلام حی لا یموت صفت باری میں اشتہار شائع کیا۔
ان صاحبان مذکور الصدر کو ملحوظ نہ رکھا گیا۔ کیا بھول گئے؟ جس سے ان کے شیخ چلی کا سا گھر بنا بنایا بگڑ گیا اور ان سب کو صفت باری تعالیٰ میں شریک سمجھنا پڑا۔ یہ تو گویا الٹی ازار گلے میں آگئی اور بقول خود تیرہویں صدی کے منکر ملا مشرک خلاف قرآن وایمان ضرور ہی بن گئے اور واقعی یہی درست ہے۔
ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں۔ کہ ایسے لوگ تو بہت ہیں جو کسی اور کو نہ سمجھیں مگر ایسے نہیں دیکھے جو خود اپنی بات نہ سمجھیں۔ یہ منصب انہیں کو نصیب ہوا ہے اور سنئے کہ اصحاب کہف اور حضرت خضر ونیز ہاروت و ماروت کے قصہ کو پہلو میں آیہ ”منها خلقنكم وفيها نعيدكم (طہ: ٥٥)“ کو رکھ کر جس کے سبب خودرائی تفسیر سے حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دفن ہونے پر طعن کیا ہے۔
سمجھ لیجئے اور جیسے بسبب نظر سے غائب ہونے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کا مقام سری مگر اپنی نارسائی ذہن سے بیان کیا ہے۔ ایسے ہی ان کی بابت بھی کچھ گھڑ لیتا تا کہ پوری پوری فضیلت مخالفت قرآن حمید کے ہاتھ سے نہ جائے اور خادمان سادہ لوحوں کی دل جمعی ہو جائے۔
اور نیز آیہ ”كل نفس ذائقة الموت“ کے جو بوجہ خلل دماغ سمع خراشی فرمائی ہے۔ اس کے بعد ذائقة الموت کے پھر زندہ نہیں ہوتا ہے۔ نہ عرصہ دراز تک کوئی زندہ رہ سکتا ہے۔ تو ان صاحبان کا مکرر زندہ ہونا اور جن کا ہنوز لاحق موت نہ ہونے کا ثبوت مذکورہ بالا دیا گیا ہے۔ کیا کوئی عاقل قادیانی صاحب کے خیال باطلہ کے بیان کو باور کر سکتا ہے؟۔ ہرگز نہیں اور تمام دنیا میں مختلف واقعات کا ہونا سب پر ظاہر ہے کہ کچھ لوگ بعد موت کے دفن زمین ہوتے ہیں اور بہت لوگ آگ میں جلائے جاتے ہیں اور بہت پانی میں بہائے اور ڈوب جاتے ہیں اور بہتوں کو جانور کھا جاتے ہیں اور بہتیرے لڑائی وغیرہ میں بالائے زمین مقتول پڑے رہتے ہیں۔ جن میں کچھ تو لقمہ جانوران ہوتے ہیں اور کچھ سڑ سڑ کر خشک اور خاک ہو کر ہوا ہو جاتے ہیں۔ تو یہ آیہ مذکور ”منها
٦٥
خلقناكم ...... الخ (طه: ٥٥)“ کے حسب بیان تشریح قادیانیوں کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ یہ سب دنیا میں دفن نہیں ہوتے ہیں۔ تو گویا یہ خدا کا فرمانا موافق مطلب قادیانیوں کے معاذ اللہ باطل ٹھہرتا ہے۔ غرض ان آیات کا اصل مطلب انشاء اللہ آئندہ آوے گا۔ سمجھ لینا۔
اور سنئے ! جب وہ وقت آوے گا کہ آفتاب غرب سے طلوع ہوگا اور باب توبہ بھی بند ہو جائے گا اور ادھر بحکم خداوند عالم صور پھونکا جائے گا۔ اس وقت ہر شے کو فنا و موت ہوگی اور ہر مخلوق یعنی انس و جن، ملک و فلک، چرند و پرند، جمادات نباتات، چاند، سورج ، زمین، ستارہ، سب ہی ہلاک ہو جائیں گے۔
قولہ تعالیٰ:”کل شىء هالك الا وجهه (قصص:٨٨) اور کل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام (الرحمن:٢٧)“ تو حسب بیان مرزا قادیانی کے وہ ایک کیڑا تھے۔ اب اس جون انسانی میں نمود ہوئے۔ تو کیا حسب قاعدہ آواگون ہندوؤں کے اس وقت بھی ظہور فرما کر انسانوں کو اپنے خیال کے میدان وسیع میں لوگوں کو دفن کریں گے۔ بعدہ اپنا ٹھکانا کہیں اور جس کے لائق ہیں۔ جا دیکھیں گے۔ (یعنی دوزخ میں )
غرض اب تو ہر عاقل کے فہم میں آ گیا ہوگا کہ قانون فلسفائی قادیانی کس قدر لغو خیال ہے اور ان کے خادمان بھی سمجھ گئے ہوں گے اور اب بارگاہ الہی سے امید قوی ہے کہ ضرور ایمان لے آویں گے۔ کیونکہ کتاب معتبرہ سے ثابت ہے کہ چار پیغمبر بقید حیات ہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آسمان پر ہیں اور حضرت خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام زمین پر ۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
اب اے ناظرین حق پسند میری تحریر ذیل کو ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے کہ آیات قرآنی کا مفصل سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں۔ یہ انہیں بزرگان دین کا منصب تھا جن کی نسبت ہم عنوان بالا میں تحریر کرچکے ہیں اور نیز جو سابقین کے پیرو اور اسلام و اجماع کے مخالف نہیں ہیں اور انہیں کا یہ مرتبہ ہے۔
چنانچہ ہم ایک مجموعی قاعدہ جو مولانا مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم مغفور نے بجواب سوال سید احمد صاحب نیچری کے فرمایا ہے۔ ملاحظہ ناظرین کراتے ہیں:
٦٦
سوال یہ تھا
احکام منصوصہ احکام دین بالیقین ہیں اور باقی مسائل اجتہادی اور قیاسی سب ظنی ہیں۔
جواب
احکام منصوصہ کے یقینی اور اجتہادی کے ظنی ہونے میں کسے کلام ہو سکتا ہے۔ اگر ہو گا تو اس امر میں ہوگا کہ کونسا منصوص ہے اور کونسا نہیں اور کونسا اجتہادی ہے۔ کونسا نہیں اور میں یہ اس واسطے عرض کرتا ہوں کہ بسا اوقات اکثر آدمی بوجہ قلت تفکر بعض امور کو منصوص سمجھ جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ منصوص نہیں ہوتے اور تو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام یوں سمجھ گئے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے جن کی شان میں خداوند کریم ۔ ”آتیناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما (کہف:٦٥)“ فرماتے ہیں۔ کشتی مساکین کو ظلماً توڑ ڈالا اور طفل نابالغ کو بے گناہ قتل کر ڈالا ۔ یہ کلام اللہ میں موجود ہے۔ آیات آخر رکوع اما السفینہ سے لے کر آخر رکوع تک سے قطع نظر کیجئے۔ تو ابنائے روزگار سے پوچھ دیکھئے۔ یہی کہیں گے کہ حضرت کا قاتل بے گناہ اور خارق سفینہ ظلماً ہونا منصوص ہے۔
غرض اکثر یہ ہوتا ہے کہ معنی حقیقی موضوع سے زیادہ بوجہ خیالات طبع زاد جو الف عادت پر مبنی ہوتے ہیں اور معنی زائد لگا لیتے ہیں اور خود ان کو یہ تمیز نہیں ہوتی کہ یہ ایجاد اپنی طبع کا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ نہیں اکثر ابنائے روزگار بلکہ کل اسی قسم کے نظر آتے ہیں۔ آخر ہر کسی کی کلام اس کی مبلغ فہم پر دلالت کر دیتی ہے۔ مگر آج کل اکثر عالم کہ بوجہ انصاف وہ عالم نہیں بلکہ نیم ملاں ہیں۔ اپنے آپ کو عالم فن دیں کچھ ایسا سمجھ جاتے ہیں جیسے بندر نے نیل کے ماٹ میں گر کر اپنے آپ کو طاؤس سمجھ لیا تھا۔
انصاف کی بات جس کو اہل فہم خواہ مخواہ مان جائیں ۔ یہ ہے کہ علم کے تین مرتبہ ہیں۔ ایک وہ جس کی طرف جملہ یتلو عليهم آیات دلالت کرتا ہے۔ اس کا ماحصل تو فقط اتنا ہے کہ عربی میں زبان دانی حاصل ہو جائے۔ ۔ دوسرا وہ مرتبہ جس کی طرف یعلمہم الکتاب مشیر ہے۔ اس مرتبہ کی حقیقت یہ ہے کہ مجملات کلام اللہ کو شخص سمجھ جائے۔ تفصیل اس اجمال کی بقدر مناسب یہ ہے کہ مفہومات کلیہ کے لئے ہزار ہا شخص محتمل ہوتے ہیں۔ مثلاً انسان ایک مفہوم کلی ہے اور زید اور عمر اور بکر خصوصیات زائدہ اس کے تشخصات سو ٧٧
کلام اللہ میں اگر کوئی مفہوم کلی مصرح مذکور نہ ہو اور اس کا تشخص و تعین مصرح تو مذکور نہ ہو پر سیاق وسباق اور توافق و توابع کے وسیلہ سے بشرط رسائی فہم معلوم ہو سکتا ہے۔
تو جو شخص اس بات کو بتلائے وہ معلم کتاب کہلائے گا۔ ”الذین آمنو ولم یلبسو ایمانھم بظلم (انعام:٨٢)“ میں لفظ ظلم ایک مفہوم کلی پر دلالت کرتا ہے۔ جس کے لئے صغیرہ اور کبیرہ اور شرک و بدعت افراد میں مصرح اگر موجود ہے تو وہی مفہوم کلی موجود ہے اور تعین شرک مصرح موجود نہیں۔
ہاں ! لفظ نص بوسیلہ ان الشرک لظلم عظیم اس کی جانب مشیر ہے۔ علی ہٰذالقیاس آیت وضو میں جر ارجل کی قرأت کی صورت میں مسح ارجل تو عطف علی الرؤس کی صورت میں مصرح ہے اور اس کے ساتھ غسل قدم کا کچھ ذکر نہیں۔ پر غسل بھی اس کے افراد میں سے ایک ہے۔
کیونکہ ہاتھ کا پھیرنا سوکھا ہو جب مسح ہے۔ غسل کے ساتھ ہو جب مسح ہی اور فقط رطوبت قائمہ بالید کے ساتھ ہو جب مسح ہے۔ غرض ایک مضمون کلی ہی کی تصریح ہے۔ ہاں قید الی الکعبین کو دیکھئے تو باعانت یا استعانت فہم رسا ہو تو غسل ہی لازم آ جاتا ہے۔ علی ہٰذالقیاس باعانت باء استعانت موضوع لہ راس کو بہ تدبر لحاظ کیجئے تو تعین ربع راس نکل آتا ہے۔
ہاں! راس کو کرہ حقیقی اور پانی کو سطح مستوی یا کرہ حقیقی رکھئے۔ تو پھر مسح بال و وبال ہی کا مسح فقط ثابت ہوگا۔ بہر حال لفظ ظلم سے تمام گناہوں کو مصرح سمجھ لینا اور لفظ راس سے تمام راس مصرح سمجھ لینا اور منصوص خیال کرنا ایک سینہ زوری ہے اور کچھ نہیں۔ تیسرا مرتبہ علم میں وہ ہے جو جملہ یعلمهم الکتاب والحکمة سے لفظ حکمت کے وسیلہ سے سمجھ میں آتا ہے۔
تحقیق اس مرتبہ کی یہ ہے کہ ہر حکم کے لئے ایک علت ہے اور ہر وصف کے لئے ایک موصوف حقیقی ہوتا ہے۔ مثلاً متاع ہونے کے لئے کمال و جمال و مالکیہ نفع و ضرار علت حقیقی و موصوف حقیقی اور محکوم علیہ حقیقی اور وہ اس کے لئے معلول حقیقی اور وصف حقیقی اور معلول حقیقی اور نسبت فی مابین نسبت حقیقی علی ہٰذا القیاس ایک موصوف عرضی ہوتا ہے۔
جیسے وصف رسالت یا خلافت اور اولولامر مطاعیہ کے لئے موصوف عرضی اور علت عرضی اور محکوم علیہ عرضی ہے اور نسبت فی مابین نسبت عرضی اور مجازی ہے۔ یا یوں کہئے کہ رسول اللہ ﷺ کے مال میں میراث جاری نہ ہوئی اور آپ کی ازواج کے نکاح کی حرمت کی علت اور ان
٦٨
کے ساتھ آپکی حیات جسمانی ہے۔ جو آپ کی موت عرضی کے آنے سے ایسی طرح زائل ہو گئی ہے۔
جیسے چراغ روشن کسی ہنڈیا میں بند ہو کر مکان میں روشنی نہ دے ہماری تمہاری حیات جسمانی جس سے جسم پر روح آنے سے ایسی طرح زائل ہو جاتی ہے۔ جیسے سایہ کسی چیز کے آنے سے زائل ہو جاتی ہے۔ باقی یہ جو السلام علیکم سے تعلق روح جسد کا پتہ لگتا ہے۔
جس سے اشتباہ حیات پیدا ہوتا ہے۔ تو اس کو اولاً یا کلکتہ یا لندن کی خبر میرٹھ یا بنارس میں آجائے۔ ایسے ہی یہاں وہاں بھی جیسا کسی جلا وطن کو اپنے وطن اصلی کے ساتھ تو گو اتنا تعلق جسد ایسی طرح ہو جائے۔ جیسا تعلق خاطر مرد آوارہ بسا اوقات وطن متروک سے زیادہ اطلاع کا باعث ہو جایا کرتا ہے۔ پر اتنی اشتباہ حیات ہو۔ علیٰ ہٰذا القیاس یہ نہیں کہ مثل شہداء ایک بدن سے تعلق پیدا ہو گیا ہو۔
جس کے بھروسے یوں کہا جائے کہ بدن اول ۔ یعنی ازواج واموال سے کیا تعلق رہے گا۔ جو مانع میراث اور ایسی نظیریں ہیں۔ جن کو بے کہے ۔ اہل دانش سمجھ جائیں گے
دینیات میں علت مجازی اور موصوف مجازی سے پہچان لینا مذکور میں اشارہ ہے اور جس کی تعریف میں یہ اشارہ ہوا ہے ۔
”ومن یوت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً“
پر اجتہاد کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ قرآن وحدیث پر بخوبی نظر پہچانتا ہو اور مرتبہ علم کتاب میں اگر چہ اجازت اجتہاد و استنباط فقط احکام منصوصہ اور مضامین مندرجہ قرآنی میں خود رائی اور خود
چنانچہ بدیہی ہے۔ بعد اس کے اگر حکیم امت یا عالم ایسی سمجھنی چاہئے۔ جیسے اسب تیز گام با وجود سلامت اعضاء
٦٩
کے ساتھ آپکی حیات جسمانی ہے۔ جو آپ کی موت عرضی کے تلے دبے کر افاضۂ حس وحرکت سے اسی طرح معذور ہو گئی ہے۔ جیسے چراغ روشن کسی ہنڈیا میں بند ہو کر مکان میں افاضۂ نور سے معطل ہو جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ جیسے ہماری تمہاری حیات جسمانی جس سے جسم پر روح کا قبض و تصرف تھا۔ موت کے آنے سے ایسی طرح زائل ہو جاتی ہے۔ جیسے سایہ کے آنے سے دھوپ آپ کی حیات بھی موت کے آنے سے زائل ہو جاتی ہے۔ باقی یہ جو السلام علیکم یا اهل القبور سے ایک نوع کی تعلق روح جسد کا پتہ لگتا ہے۔
جس سے اشتباہ حیات پیدا ہوتا ہے۔ تو اس کو اوّل تو ایسا سمجھئے جیسا بوسیلہ تار برقی بمبئی یا کلکتہ یا لندن کی خبر میرٹھ یا بنارس میں آ جائے۔ ایسے ہی یہاں بھی سمجھئے دوسری اگرچہ کچھ تعلق ایسا رہا بھی جیسا کسی جلاوطن کو اپنے وطن اصلی کے ساتھ تو گو اتنا تعلق موجب اطلاع بعض احوال متعلقہ جسد ایسی طرح ہو جائے۔ جیسا تعلق خاطر مرد آوارہ بسا اوقات بہ نسبت اور بلاد کے احوال متعلقہ وطن متروک کے زیادہ اطلاع کا باعث ہو جایا کرتا ہے۔ پر اتنی بات سے قبض وتصرف نہیں لگتا جو اشتباہ حیات ہو۔ علیٰ ہذا القیاس یہ نہیں کہ مثل شہداء ایک بدن سے تعلق چھوٹ کر کسی دوسری بدر سے تعلق پیدا ہو گیا ہو۔
جس کے بھروسے یوں کہا جائے کہ بدن اول سے تعلق ہی نہ رہا تو اس کے متعلقات یعنی ازواج و اموال سے کیا تعلق رہے گا۔ جو مانع میراث اور انقطاع نکاح ہو۔ اسی طرح اور بہت سی نظیریں ہیں۔ جن کو بے کہے۔ اہل دانش سمجھ جائیں گے۔ غرض موصوف حقیقی اور عدت حقیقی کو دینیات میں علت مجازی اور موصوف مجازی سے پہچان لینا وہ حکمت ہے۔ جس کی طرف آیت مذکور میں اشارہ ہے اور جس کی تعریف میں یہ اشارہ ہوا ہے۔
”ومن يوت الحكمة فقد اوتی خیراً كثيرا (بقرہ: ٢٦٩) “ سو مرتبہ حکمت پر اجتہاد کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ قرآن وحدیث پر بخوبی نظر ہو اور ناسخ اور منسوخ و ضعیف و قویٰ کو پہچانتا ہو اور مرتبہ علم کتاب میں اگرچہ اجازت اجتہاد واستنباط و احکام غیر منصوصہ نہیں ہو سکتے۔ پر فقط احکام منصوصہ اور مضامین مندرجہ قرآنی میں خود رائی اور خود بینی کی اجازت ہے۔
چنانچہ بدیہی ہے۔ بعد اس کے اگر حکیم امت یا عالم کتاب سے کوئی خطا ہو جائے۔ تو وہ ایسی سمجھنی چاہئے۔ جیسے اسپ تیز گام باوجود سلامت اعضاء قوت رفتار ذرا سی غفلت میں ٹھوکر کھا کر
٦٩
گر پڑنے کو اسپ لاغر و لنگ کے گرنے پر قیاس کر کے جیسے سواری موقوف نہیں کر دیتے ایسے ہی حکیم امت و عالم کتاب کو بوجہ غلطی جو بمقتضائے بشری بوجہ غفلت ہو جاتی ہے۔ خودرائی و اجتہاد سے رد کر دینا ناسزا ہے یہ ان کی غلطی اس امر میں مثل غلطی عوام نہ سمجھی جائیگی۔ باقی رہا مرتبہ جو جملہ یتلو علیہم آیاتہ سے مستفاد ہے۔ بادی النظر میں اگر چہ از قسم علوم ہے۔ پر حقیقت میں یہ مرتبہ ان علماء ربانی کا مرتبہ نہیں۔ جو کسی کے پیرو نہ ہوا کریں۔ ورنہ جملہ یعلمھم الکتاب بیکار تھا۔ ہاں حافظ علوم کہنے تو بجا ہے۔
بہر حال ایسے لوگوں کو اوروں کا اتباع ضرور ہے۔ عالم بن بیٹھنا اور لوگوں کی پیشوائی جائز نہیں۔ آپ بھی گمراہ ہوں گے اور ان کو بھی گمراہ کریں گے۔ پیشوایان فرقہائے باطلہ سب ایسی مرتبہ کے لوگ تھے۔ جنہوں نے بوجہ اولوالعزمی اپنے فہم کے موافق اور ان سے اپنا کام لیا۔
پس فرقہ قادیانی نے بھی یہ ہی روش اختیار کر کے بوجہ خودرائی خلاف متقدمین و جمہور کے آیات قرآنی میں اختلاف کر کے راہ مستقیم چھوڑ کر اپنی راہ جدی اختیار کی۔ پس اگر آیہ منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ...... الخ (طہ:٥٥) ” ونیز دیگر آیات میں اس قواعد مذکورہ بالا کا بھی لحاظ رکھتے تو البتہ خطا نہ کھاتے۔
واقعی مجملات کلام الہی کا مشخص سمجھنا مشکل ہے۔ اب اس آیت کا مطلب سمجھئے کہ انسان کی پیدائش بایں خیال مرکب بہ عناصر پائی جاتی ہے۔ ورنہ ترکیب کرتے ہوئے۔ خداوند عالم کو کس نے دیکھا ہے۔ جب ہم اپنے بدن میں دیکھتے ہیں کہ قلیل و کثیر یبوست ہے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارے بدن میں جز خاکی ہے۔ ورنہ اس یبوست کی اور کیا صورت ہے۔
کیونکہ یبوست خاصہ خاک ہے۔ سوائے اس کے اور کسی چیز میں یہ بات نہیں۔ ہو نہ ہو جز خاکی کی یہ تاثیر ہے کہ ہمارے بدن میں یبوست پائی جاتی ہے۔ اسی طرح رطوبت بھی کسی نہ کسی قدر اپنے بدن میں موجود ہے اور یہ خاصہ آب ہے۔ اس لئے یہ بات واجب التسلیم ہے کہ ہمارے بدن میں لاریب جز آبی ہوگا۔ علی ہذا القیاس ہوا اور آگ کا سراغ نکل آتا ہے۔
غرض ہر مخلوق کی پیدائش کا علم اللہ ہی کو ہے کہ کسی خلط اور کن اخلاط سے پیدا کیا مگر جو کچھ کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا اور اشارہ فرمایا کہ جنات آگ سے اور انسان مٹی سے اور دیگر جز کا ذکر نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جز اعظم جس سے انسان کا بدن بنا وہ دیگر اجزاء لطیف سے کثیف ہے۔ اسی کی طرف خطاب فرمایا کہ ہم نے تم کو اس ناچیز خاک سے بنایا اور اسی خاک میں
٧٠
ملاویں گے۔ یعنی ہر چیز اپنی اپنی اصل کی طرف رجوع ہو کر مل جاوے گی۔ بقول ”کل شیء یرجع الی اصلہ پس منها خلقنکم وفيها نعيدكم (طه:٥٥)“ سے یہ ہی مراد ہے کہ تم کہیں مرو مگر زمین پر ہی مرنا ہے۔ خواہ پہاڑ یا درخت یا تحت یا پانی یا زمین پر یا پانی میں یا زمین میں یا آگ میں۔
یہ سب زمین پر ہی مرنا مراد ہے اور بعد موت موافق اندازہ ہر خلط اپنے اپنے اصل مادہ یعنی اپنے معدن کی طرف رجوع ہو کر شامل ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دیگر آیہ اس کی موید ہے۔ ”قال فیها تحیون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف:٢٥)“ ﴿اس زمین میں جیو گے اور اسی زمین میں مرو گے اور اسی زمین سے نکالے جاؤ گے۔﴾
پس آیہ منها خلقنکم کی مراد اس آیہ بالا سے صاف ثابت ہو گئی کہ جب جز اعظم (یعنی زمین) کی طرف نسبت خلق انسان خطاب تھا۔ اسی کی طرف پھر خطاب ہے کہ ہم پھر انسان کو مثل سابق انہیں جزئیات عناصر کے ساتھ اٹھائیں گے۔ غرض انسان میں چاروں اخلاط کا خلاصہ جزو جوہر شریک ہے اور پانچویں روح جدی اس جسم سے نہیں جس کا واضح ثبوت سابق گزرا اور اس آیہ ذیل سے ثابت ہے۔
”الذي احسن كل شىء خلقه وبدا خلق الانسان من طين ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين ثم سواه ونفخ فيه من روحه...... الخ (سجدۃ:٨، ٩)“ ﴿ایسا جس نے اچھی کی ہر شے کی خلقت اس کی اور شروع کی خلقت انسان کی مٹی سے پھر بنائی اولاد اس کے نکلتے ہوئے پانی ذلیل سے پھر برابر کیا اسے اور پھونکی اس میں روح اپنی﴾
یعنی آدم کی گوندھی ہوئی مٹی سے اور اولاد ان کی کو قطرہ آب ذلیل سے پیدا کیا۔ تو اس سے یہ مراد نہیں کہ آدم علیہ السلام خالص مٹی سے اور اولاد خالص قطرہ پانی سے بلکہ وہی مراد ہے کہ آدم علیہ السلام کے جز مرکبات عناصر کے خلاصہ مقطرات سے اولاد کی نسل بڑھائی گئی اور روح علیحدہ ہے۔
پس اب تو بخوبی یقین آ ہی گیا ہوگا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ قادیانی صاحب کی اصل خلقت انسانی نہیں بلکہ اس خلقت سابق سے جو آدم سے اول ہے۔ کیونکہ منجملہ ان کے یہ وہی ایک کیڑہ ہیں۔ جو بقول خود صورت انسان میں ہوئے اور جنات بھی بصورت انسان وبصورت
٧١
اپنے رفیق غار میں اکھڑ ہوتے ہیں۔ تو قادیانی صاحب کا بیان بھی کوئی قابل تعجب نہیں ہے۔ مگر اتنی عنایت فرمائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا۔ سو کیا اب اولاد کے پیچھے تو عنداللہ نہ پڑیں یہ بڑی عنایت ہوگی۔
اثبات رفع جسمانی حضرت ادریس علیہ السلام
اگر حضرت ادریس علیہ السلام کا رفع معہ جسم کے ہونا از روئے قانون فلسفہ قابل انکار ہے۔ تو اس قانون کی تردید کا ثبوت تو سابق گزر چکا مگر برہان کی ضرورت نہیں اور اگر بخیال فاسد تخیلہ ۔ کل نفس ذائقتہ الموت کے بھروسے ان کی حیات میں کچھ توہم ہے تو یہ وہی باعث قلت فہم ہے۔ جو قواعد مذکورہ بالا کے خلاف عالم بن بیٹھے ۔ ورنہ احادیث و تفاسیر و کتب سیر وغیرہ معتبرہ میں ان کا بالتفصیل قصہ موجود ہے۔ اطمینان فرما لیجئے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا رفع بعد ذائقۃ الموت ہوا ہے اور جب یہ بات مسلم ہے کہ انبیاء حیات النبی ہیں۔ تو فقط حضرت ادریس علیہ السلام کے لئے خصوصیت ورفعناہ مکاناً علیا کی کیوں ہوتی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت رفع جسمانی آسمانی کی شہادت دیتی ہے۔ ہر ایک تفسیر میں تحت آیت مذکور بالا میں مفصل کیفیت مذکور ہے۔ پس برخلاف جمہور کے مجرد رائی کے بھروسے پر اختلاف کرنا مخالفت اجماع و سابقین ہے۔ جو داخل کفر ہے۔
اب ہم اس اشتہار کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ جس کا اشارہ سابق مذکور ہوا تھا اگرچہ ضرورت کسی جواب کی باقی نہیں رہی۔ بایں وجہ کہ ان کے دعوے مثیل عیسیٰ و وحی والہام و طریقہ ایجاد جدید کی بیخ و بنیاد ثبوت بالا سے اکھڑ گئی تو منصف مزاج طالب حق عاقل کو اس قدر اثبات مذکور الصدر کافی ہے۔ مگر مزید اطمینان خادمان مثیل مسیح کو جو انہوں نے دربارہ حیات و ممات حضرت عیسیٰ علیہ السلام دلائل فاسدہ ۔ درج اشتہار کئے ہیں۔ ان کی قلعی کھولنا ضروری ہے۔ ورنہ بقول خوئے بدرا بہانہ بسیار کے حیلہ بوجہ تیرہ درونی کہنے کو تیار کہ اس کا جواب نہیں ہوا۔ لہٰذا جو کچھ اقوال خادمان وغیرہ نے دو ورقہ اشتہار میں شائع کئے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ یہ در پردہ بڑے پیر کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ شعر:
ہے کوئی اور ہی اس پردہ زنگاری میں
کہنے کو تو خرقہ خادمان، ملاجی وغیرہ کا ہی اوڑھے گا۔ ان مہملات کے بدلے ادھر سے ٧٢
بے نقطہ وہ ہی سنیں گے۔ جو سابق گزرا اور سمجھیں۔ شروع عنوان اشتہار میں ثبوت خط و ثبات عقل سے دیا ہے کہ اللہ کی رسی کو پکڑو۔ ناظرین اس میں غور فرمائیں۔ وہ تفرقو او ذکروا نعمتہ الله علیکم ا بنعمتہ اخوانا (آل عمران: ١٠٣) " اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب تھے تم ہو گئے اور اس کے فضل سے بھائی۔ ﴾ اب مقام غور انصاف ہے کہ یہ موافق ہے۔ صحابہ کرام نے فرقہائے باطلہ اجماع و طریقہ اربعہ ائمہ آج تک قائم ہے سو برس کے کس نے نکالی۔ افسوس ہے کلمہ زبان پر لاتے ہوئے شرماتے ہم پہلے ہی ع بات نہ سمجھیں۔
مگر ایسے نہیں نظر پڑے کہ ماشا ملا ہے۔ کوئی ان سے جا کر پوچھے کہ رسی ال حسب محاورہ ہندوستان کی اس کیڑہ کو رسی اس گروہ کے سرخیل نے اپنی اصلیت کیا اشارہ ہے۔
سچ ہے جو اللہ کی طرف سے گم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ "ولا تکونو کا البینت واولائك لهم عذاب عظيم پھوٹ گئے اور اختلاف کرنے لگے ۔ بع ہے۔ ﴾
کیوں یارو اب یہی آیت مذکو
بے نقطہ وہ ہی سنیں گے۔ جو سابق گزرا اور آئندہ بھی گزرے گا۔ ناظرین دل لگا کر سنیں اور سمجھیں۔ شروع عنوان اشتہار میں ثبوت خادمان مسیح موعود نے باستدلال کلام الٰہی اپنی صحت وثبات عقل سے دیا ہے کہ اللہ کی رسی کو پکڑو۔
ناظرین اس میں غور فرمائیں۔ وہ یہ ہے۔ ”واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا (آل عمران:١٠٣)“ ﴿اور مضبوط پکڑو رسی اللہ کی سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈالو اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب تھے تم آپس میں دشمن پھر الفت دی تمہارے دلوں میں اب ہو گئے اور اس کے فضل سے بھائی۔﴾
اب مقام غور وانصاف ہے کہ یہ رسی اللہ کی یعنی اسلام دین جو قرآن وحدیث کے موافق ہے۔ صحابہ کرام نے فرقہائے باطلہ کو تہ تیغ فرما کر رسی اسلام کے قائم کر دئے۔ جس پر اجماع وطریقہ اربعہ ائمہ آج تک قائم ہے۔ اب بخلاف اس کے نئی رسی راہ فرق کے بعد تیرہ سو برس کے کس نے نکالی۔ افسوس ہے کہیں سے کچھ عقل مول لے لی ہوتی تو ضرور اس آیت کو زبان پر لاتے ہوئے شرماتے ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ ایسے لوگ بہت ہیں کہ دوسرے کی بات نہ سمجھیں۔
مگر ایسے نہیں نظر پڑے کہ ماشاء اللہ اپنی بات خود نہ سمجھیں یہ درجہ انہیں کٹ ملانوں کو ملا ہے۔ کوئی ان سے جا کر پوچھے کہ رسی اللہ کی قدیم کونسی ہے۔ کیا یہ راہ جدیدہ تفرقہ والی ہے۔ یا حسب محاورہ ہندوستان کی اسی کیڑہ کوڑی سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو دشمن آدم ہے۔ کیونکہ موجدان اس گروہ کے سرخیل نے اپنی اصلیت کیڑہ سابق میں بیان کی ہے۔ کیا اسی کیڑے کی طرف اشارہ ہے۔
سچ ہے جو اللہ کی طرف سے گمراہ ہے۔ اسے راہ پر لانے والا کون؟ کوئی نہیں اور آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجائہم البینٰت واولٰئک لہم عذاب عظیم (آل عمران:١٠٥)“ ﴿اور مت ہو ان کی طرح جو پھوٹ گئے اور اختلاف کرنے لگے۔ بعد اس کے پہنچ چکے ان کو حکم صاف اور ان کو بڑا عذاب ہے۔﴾
کیوں یارو اب یہی آیت مذکور کا مطلب سمجھ میں آیا۔ جلد توبہ کر کے رسی قدیم اسلام کی
٧٣
پکڑ لو۔ ورنہ بڑے عذاب میں گرفتار ہونا ہوگا۔ اب جوابات دیگر اقوال مرزائیاں جو انہوں نے ایک مولوی صاحب کو خطاب لفظ میاں جی کے درج اشتہار کیا ہے۔ غور سے سنئے۔
قولہ: ”بل رفع اللہ “ البتہ اللہ کے اس وعدہ کا ایفاء ہے جو اس نے فرمایا ہے۔
”يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى“ یہاں متوفیک پہلے ہے اور رافعک بعد میں۔ پس ترجمہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں اور تیرا رفع درجات کرنے والا ہوں۔ رفع درجات صحیح معنی اس لئے ہیں کہ رافعک سے پہلے متوفیک موجود ہے۔
پس جس کو اللہ تعالیٰ نے موت دے دی اس کے بعد اس کا رفع درجات ہی ہوا کرتا ہے۔ نہ رفع جسم۔ اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو مار دیا۔ جیسا کہ متوفیک کے وعدہ سے ظاہر ہے۔ تو پھر اگر جسم کا رفع کیا تو اس سے فائدہ کیا ہوا مردہ کے واسطے۔ کیا دفن کرنے کی جگہ اس دنیا میں نہیں مل سکتی تھی۔
اقول افسوس ہے مرزا قادیانی کے حواریوں کی عقل پر۔
مصرع انچہ استاد شما گفت ہماں می گوئید۔ بہت صحیح ہے۔ بقول کسی بزرگ کے:
کبوتر با کبوتر زاغ با زاغ
ہم نے تو یہ سمجھ کر قلم اٹھایا تھا کہ انہیں کچھ آتا ہوگا۔ لیکن یہ تو طفل مکتب سے بھی بدتر نکلے۔ جو ذرا ذرا سی بات ہمیں کو سمجھانی پڑی۔
بقول شخصے
ساتھ لڑکوں کے پڑا کھیلتا گویا دیکھے
اے حضرات کہیں سے عقل عاریتاً ہی مانگ لی ہوتی۔ کسی عالم کی جوتیاں سیدھی کی ہوتیں تو ایسی بات بات پر نہ کھیلتے۔ خیر بمصداق۔ ”ما علينا الا البلاغ “ جو ہمارا فرض منصبی ہے۔ اس کو جہاں بے علموں کے سامنے ظاہر کرنے سے عار نہیں۔ شعر سنے ہوں گے:
٧٤
کلیجہ تھام لو اب دل جلے فریاد کرتے ہیں
اولاً آیت: ”بل رفعه الله اليه“ میں لفظ رفع کی تحقیق ضروری ہے کہ یہاں پر رفع جسمانی مراد ہے۔ یا کہ مطابق گمان فاسد قادیانیوں کے روحانی۔ پس ہم اپنے دعویٰ رفع جسمانی کی دلیل بیان کرتے ہیں۔ جس سے رفع روحانی قطعاً باطل ہے۔ وہو ہٰذا۔ آیت متنازع فیہ میں اللہ پاک نے سات ضمائر واحد غائب کے بیان فرمائے۔ جن میں سے چھ جگہ بالاتفاق حضرت عیسیٰ مجسم مراد ہیں۔
پس اگر بلا کسی دلیل کے رفع اللہ سے رفع روح مراد لو تو دعویٰ بلا دلیل ہے اور جس کو اللہ پاک نے طبیعت مستقیم عطا فرمائی۔ وہ اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ وما قتلوہ وغیرہ میں نفی قتل ہے نہ نفی موت مقصود ہے۔ پس موت کی نفی کر کے لفظ بل کے ساتھ اللہ پاک نے رفعہ اللہ کو بیان فرمایا۔ یعنی نہ یہود نے عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو مجسم اپنی طرف اٹھا لیا اور اگر وما قتلوہ وغیرہ سے نفی موت مقصود نہ ہو تو پھر نفی قتل سے کیا فائدہ۔
چنانچہ مظہری بھی فرماتے ہیں کہ توفی سے مراد رفع الی السماء ہے۔ تفسیر مظہری کے ص ٣٧٨ میں لکھا ہے کہ ”والظاہر عندی ان المراد بالتوفی هو الرفع الی السماء يشهد به الوجدان بعد ملاحظه“
قولہ تعالیٰ: ”وما قتلوه وما صلبوه ولولا نفي الموت عنه ما كان من نفي القتل فائده اذ الغرض من القتل الموت انتهى“ ظاہر مظہری کے نزدیک یہ بات ہے کہ توفی سے مراد رفع الی السماء ہے۔ ہر شخص کا وجدان گواہی دیتا ہے۔
بعد خیال کرنے۔ قول اللہ کے وما قتلوہ وما صلبوہ (یعنی یہود نے ان کو نہ قتل کیا۔ نہ صلیب پر چڑھایا) اور اگر اس جملہ سے نفی موت نہ ہوتی تو پھر نفی قتل سے فائدہ ہی کیا ہوتا۔ اس لئے کہ غرض قتل سے موت ہی فقط اور یہ بھی واضح رہے کہ لفظ بل ماقبل کے اعراض اور مابعد کے اثبات کے واسطے آتا ہے۔ جیسا کہ علم اصول سے ثابت ہو چکا۔ ”بل لاثبات ما بعده والاعراض عما قبله على سبيل التدارك“ پس اللہ پاک کو صلیب و قتل سے اعراض مقصود ہے اور رفع جسم کا اثبات مقصود ہے۔
٧٥
اور بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات ہو گئی۔ جس کے قادیانی صاحب مرتکب ہوئے ہیں۔ تو لفظ رفع کی کیا ضرورت تھی۔ کسی خاص بات پر دلالت نہیں کرتا۔ چنانچہ جہاں لفظ توفی آیا ہے اور اس کے معنی بھی ماقبل یا مابعد کے قرینہ سے موت ہیں۔ تو وہاں پر کہیں رفع کا لفظ نہیں بیان فرمایا۔ جس سے بعض مقام کا ذکر کرتے ہیں۔ ”قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون (سجدة:١١)“ ﴿کہہ دیجئے کہ قبض کرے گا تم کو فرشتہ موت کا وہ کہ جو مقرر کیا گیا ہے۔ تمہارے ساتھ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔﴾ یہاں پر ظاہر ہے کہ بوجہ قرینہ لفظ ملک الموت کے اس آیت میں یتوفکم کے معنی موت ہی نہیں اور نیز دوسری آیت ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا“ اور اللہ قبض کرتا ہے۔ تو جان کو ان کی موت کے وقت یہاں پر بھی وہی قرینہ موت ہی مراد ہے۔
تیسری آیت ”حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ (انعام:٦١)“ ﴿یہاں تک کہ جب آگئے ایک کو تم سے موت وفات دینے میں اسے۔﴾ یہاں بھی وہی قرینہ مراد موت ہے۔ چوتھی آیت ”حتی یتوفھن الموت (نساء:١٥)“ ﴿یہاں تک کہ وفات دے انہیں موت یہاں بھی وہی قرینہ مراد موت ہے۔﴾
پس آیت متنازع فیہ میں اللہ پاک کی مراد نفی قتل وصلب ہے اور اثبات رفع جسمانی اور اس ہمارے بیان کی تقویت آیت یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک دیتی ہے۔ ﴿اے عیسیٰ میں تیری مدت پوری کرنے والا ہوں اور تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں﴾ اس آیہ کریمہ میں بھی لفظ توفی کی تحقیق ضروری ہے۔ معلوم کرنا چاہئے کہ توفی کا مشتق منہ وفی ہے اور یہ مادہ اپنی ہیئت شخصی وضعی یعنی صیغہائے مجرد ومزید از روئے استقراء افادہ معنی تمام وکمال میں علیٰ قدر المشترک کبھی قاصر نہ رہا۔
پس وفا کا صیغہ اپنی ہیئت شخصی کے اعتبار سے چند معنی کے لئے مستعمل ہے۔ جن میں سے بعض کو بطور تمثیل لکھتے ہیں:
- ١....... سلانا
قولہ تعالیٰ: ”وهو الذي يتوفكم بالليل ويعلم ماجرحتم بالنهار (انعام:٦٠)“ ﴿اور اللہ وہ ذات ہے کہ سلا دیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو کام تم دن میں کرتے۔﴾
٧٦
- ٢....... پورا کرنا و پورا پانا
قولہ تعالیٰ: ”ثم توفى كل نفس جان جو کمایا۔ ﴾ ودیگر آیہ ”واما الذین آمنوا عمران:٥٧)“ ﴿اور جو ایمان لائے اور نیک اور چنانچہ لسان العرب میں ہے۔ کہ ”وفی نے اپنے قول کو پورا کر دیا۔ ﴾
- ٣....... بڑھنا اور زیادہ ہونا
بڑھ گئے۔ ﴾
- ٤....... بلندی اور بلندی پر چڑھ
الارض“ ﴿یعنی چڑھنا۔ ﴾ اور صراح میں گیا۔ ﴾
- ٥....... مجازی طور پر معنی موت
المجاز ادركت الوفاة الى الموت“ ﴿
پس کتب لغات مذکورہ بالا سے ہیں۔ جس کے مرزا قادیانی خود مقر ہیں۔ الہام کی عبارت یعنی ”انی متوفیک ورافعک اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور صریح متوفیک ورافعک الی “ کے معنی اسے گا۔ فرماتے ہیں اور موت معنی مجازی جیسا کہ معنی مجازی بوقت کسی ضرورت کے بامداد ضرورت پیش آئی اور کونسا قرینہ صارفہ پایا جا طرف تجاوز کیا گیا۔ بلکہ اللہ پاک نے اگر آپ صا کے لئے مؤید کلام پاک میں کلمات موجود تھے
- ٢....... پورا کرنا و پورا پانا
قولہ تعالیٰ: ”ثم توفی کل نفس ما کسبت (بقرہ: ٢٨١)“ ﴿پھر پورا پائی ہر جان جو کمایا۔ ﴾ دیگر آیہ ”واما الذین آمنو وعملو الصلحت فیوفیھم اجورھم (آل عمران: ٥٧)“ ﴿اور جو ایمان لائے اور کیں نیکیاں پس پورا کریں گے۔ مزدوری ان کی۔﴾ اور چنانچہ لسان العرب میں ہے۔ کہ ”وفی فلاں ای تم فلاں قولہ ولم یغدر“ ﴿اس نے اپنے قول کو پورا کردیا۔﴾
- ٣....... بڑھنا اور زیادہ ہونا ”وفی الشعر فھو وافٍ اذا زاد“ ﴿یعنی بال
بڑھ گئے۔﴾
- ٤....... بلندی اور بلندی پر چڑھنا۔ محیط المحیط میں ہے۔ ”الوفی الشرف عن
الارض“ ﴿یعنی چڑھنا۔﴾ اور صراح میں ہے۔ ”واوفی علیہ ای الشرف “ ﴿چڑھ گیا۔﴾
- ٥....... مجازی طور پر معنی موت تاج العروس شرح قاموس میں ہے۔ ”ومـــن
المجاز ادرکتہ الوفاۃ ای الموت“ ﴿یعنی پالیا اس کو موت نے۔﴾
پس کتب لغات مذکورہ بالا سے ثابت ہوگیا کہ لفظ توفی کے معنی حقیقی پورا کرنا وغیرہ ہیں۔ جس کے مرزا قادیانی خود مقر ہیں۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٥١٩ خزائن ج١ ص ٦٢٠) میں اپنی الہامی عبارت یعنی ”انی متوفیک ورافعک الی“ کے معنی میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔ اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور ص ٥٥٧ خزائن ج١ ص ٦٦٤ میں ”یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی“ کے معنی اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ فرماتے ہیں اور موت معنی مجازی جیسا کہ شرح قاموس سے ظاہر ہوچکا اور یہ بات ظاہر ہے کہ معنی مجازی بوقت کسی ضرورت کے بامداد کسی قرینہ کے مراد لئے جایا کرتے ہیں۔ یہاں وہ کونسی ضرورت پیش آئی اور کونسا قرینہ صارفہ پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معنی اصلی چھوڑ کر معنی مجازی کی طرف تجاوز کیا گیا۔
بلکہ اللہ پاک نے اگر آپ صاحبوں کو ذرا بھی چشم بینا عنایت فرمائی ہو۔ تو معنی حقیقی کے لئے موئد کلام پاک میں کلمات موجود ہیں۔ اول لفظ متوفیک کے پہلو میں ہی دیکھ لیجئے۔ کہ
٧٧
متوفیک کے بعد میں لفظ رافعک الی فرمایا۔ حالانکہ کسی جگہ پر ایسا نہیں کہ موت کے بعد لفظ رفع کا اس طریقہ پر بیان فرمایا ہو۔ جیسا کہ اس کی نظیریں بیان بالا سے معلوم ہو چکی ہیں۔
خیر اگر تھوڑی دیر کے لئے متوفیک کے معنی مجازاً موت ہی مراد لیں جس کے آپ صاحب مرتکب ہوئے ہیں تو کلمہ رافعک الی بمنزلہ لغو کے تصور کیا جائے۔ اس واسطے کہ یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انبیاء میں سے ہیں۔ انکے واسطے تو کیا بلکہ عامہ مومنین کے واسطے ثابت ہے کہ بعد موت کے ملائکہ ان کے ارواح کو آسمان پر لے جاتے ہیں۔
تو کیا انبیاء مرسلین کو یہ رتبہ حاصل ہونے میں کچھ شک ہے۔ جو مرفع کے واسطے لفظ رفع فرمایا۔ نہیں۔ بلکہ اس رفع سے کوئی خاص رفع مراد ہے۔ جو عامہ انبیاء ومومنین کے علاوہ ہے۔ پس اس رفع سے اللہ پاک کی مراد رفع جسمانی ہی نکلتی ہے۔ جو کہ بجز حضرت ادریس وحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے کو مرحمت نہیں فرمایا گیا اور حضرت آدم تو اول درجہ میں ہیں۔ نیز ہم آیت ”بل رفعہ اللہ“ سے مفصلاً ثابت کر آئے ہیں کہ رفع جسمانی ہی متحقق وثابت ہے اور اس امر پر یہ اعلیٰ درجہ کی دلیل ہے کہ متوفیک اپنے معنی حقیقی پر ہی ہو۔ ورنہ بین الآیتین تناقض واقع ہوگا۔ اور تناقض سے اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کو مبرا فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ ”ولو كان من عند الله لوجدو فيه اختلافا كثيراً (نساء: ٨٢)“ اور اگر ہوتا یہ قرآن شریف غیر اللہ کے پاس تو البتہ پاتے اس کے اندر بہت اختلاف۔ یہ غور کا مقام ہے کہ مرزائیان خود تناقض ثابت کرتے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب کو مفت بدنام کرتے ہیں اور بے جا اتہام لگاتے ہیں۔
ناظرین کو واضح ہو کہ ہم نے مشرح طور پر حضرت عیسیٰ کا رفع جسمانی ثابت کر دیا اور نیز ہم بہ طریق دیگر بھی ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ بعض اوقات کلام بولا جاتا ہے۔ لیکن اس کلام کے معنی درست نہیں ہوتے ہیں۔ تاوقتیکہ تقدیم تاخیر نہ کی جاوے۔ چنانچہ اللہ پاک کفار کے عقیدے کی حکایت بیان فرماتا ہے۔ ”ماهی الا حيوة الدنيا نموت ونحيا (جاثیه:٢٤)“ نہیں ہے یہ مگر دنیا کی زندگی ہم مریں گے اور زندہ ہوں گے۔ پس برعکس ان کے عقیدے کے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ جو کچھ ہم کو رہنا ہے۔ دنیا میں ہی رہیں گے اور بعد میں زندہ نہ ہوں گے اور آیت میں ہے کہ بعد میں زندہ ہوں گے۔
٧٨
پس معنی اس طرح پر موافق ان کے عقیدہ کے ٹھیک ہوں کہ لفظ محیا کو پہلے رکھیں اور لفظ نموت کو بعد میں جیسا کہ تفسیر جمل میں مذکور ہے۔ اسی طرح پر لفظ رافعک الی پہلے رکھیں اور متوفیک بعد میں یعنی میں تجھے اپنے طرف اٹھانے والا ہوں اور تیری مدت پوری کرنے والا ہوں۔ اور نیز تفسیر عباسی میں جو قرآن مطبع مجتبائی دہلی کے حاشیہ پر موجود ہے۔ یہی قاعدہ بالامترتب فرمایا ہے۔ یعنی انی متوفیک ورافعک الی مقدم وموخر ويقول انی رافعک الی سے ناظرین اب تو آپ کو بخوبی واضح ہو گیا ہوگا۔ کہ ان تمام بیانات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مجسم آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔
اگر اب بھی وسوسہ شیطانی دفع نہ ہو اور وہی جہالت اپنا کام کئے جائے۔ تو لیجئے ایک اور طریق سے آپ کو سمجھایا جاتا ہے اور ہم سابق بھی عرض کر چکے ہیں۔ کہ ہر آیت کا محل و موقع و قرینہ بواسطہ و مطالب قبل وما بعد پر ہمیشہ لحاظ رکھنا چاہئے۔ تا کہ اصلی مراد و مطلب فوت نہ ہو جائے۔ تو ربط اس آیت ”ياعيسى انی متوفیک ورافعك الى ...... الخ (آل عمران:٥٥) “ کا یہ ہے کہ جب کفار آپ کے دشمن جانی و خون کے پیاسے ہوئے اور آپ کی ہلاکی کے داؤ تدبیریں کرنے لگے۔ تو اللہ پاک نے ماقبل آیت مذکور بالا یہ فرمایا:
”ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين (آل عمران:٥٤) “ داؤ کیا انہوں نے اور داؤ کیا اللہ نے اور اللہ بہتر داؤ کرنے والوں سے ﴿
یعنی حضرت عیسیٰ کو ان کے مکر کا حال ظاہر فرمایا۔ کہ وہ کیسا ہی داؤ کریں۔ ایک بھی نہ چلے گا اور اس رفع تردد کی یہ خوشخبری۔
یعنی”یا عیسى انی متوفیک ..... الخ“ سنائی کہ ہم تم کو اپنے پاس معہ جسم اٹھالیں گے اور پوری کریں گے تمہاری مدت اور اگر اس کے برعکس مثل قادیانی لفظ متوفیک سے موت جیسا ان کا بیان ہے۔
سمجھا جائے تو کافر تو آپ کی موت ہی کے درپے تھے۔ خدا بھی انہیں کا ساتھی ہو گیا۔ بجائے رفع تردد و امداد کے الٹا متوفیک یعنی موت دوں گا۔ فرمایا۔ تو ”ومکر الله خير الماکرین“ فرمانا بے کار گیا اور انہیں کافروں کا داؤ چل گیا اور الفاظ مطهرك من الذين کفرو بھی بے کار گیا۔
اور بقول مرزا قادیانی روح کا رفع درجات ہوا اور نعش کفار ہی کے قبضہ میں رہی تو اللہ
٧٩
پاک کرنے والا کس چیز کا ہوا کیا صرف روم کا جسکا رفع بیان کیا گیا ہے۔ مگر وہ تو ان کے اختیار سے باہر اور نہ قبضہ میں رہی۔ جو ناپاک کرتے۔ غرض قادیانی کے بیان سے اللہ پاک کا کلام بالا لغو ٹھہرتا ہے۔
افسوس ہے کہ ایسے لوگ پیشوائے دین بن بیٹھے ہیں۔ جن کو اپنے پس وپیش کی خبر نہیں۔ آپ تو گمراہ ہوئے اوروں کو بھی گمراہ کیا۔ اے ناظرین حق پسند لفظ متوفیک کے وہ معنی لیجئے کہ جس سے مخالف کی کمر ہی بالکل ٹوٹ جائے۔ یعنی خود خدائے پاک اسی آیت کے مابعد آیہ دوسری میں صاف معنی پورا کرنے کے فرماتا ہے۔ اے بھائی قادیانیو ذرا چشم حیا ظاہری کو۔ اٹھا کر ربط آیہ ماقبل و مابعد غور کر کے بول تو اندھو کچھ تو ٹھکانے کی کہتا ہے۔
وہ آیہ یہ ہے۔ ”واما الذین امنو وعملو الصلحت فیوفیهم اجورهم (آل عمران:٥٧) “ ﴿اور جو ایمان لائے اور کی نیکیاں پس پوری کریں۔﴾ ہم مزدوری ان کی پس جب اللہ پاک نے خود اصلی معنی آئندہ آیت میں بتا دیئے۔ تو پھر معنی اصلی چھوڑ کر معنی موت کے لگا کر چوں چرا کرنا انہیں کا کام ہے جن کی باطنی آنکھیں تو پھوٹی ہی ہیں۔ مگر ظاہری آنکھیں بھی پھوٹ گئیں اور پھر دوسرے مقام پر پارہ سورہ النساء میں ایسا ہی فرماتا ہے۔ ”فاماالذین آمنو وعملو الصلحت فیوفیهم اجورهم ...... الخ (آل عمران:٥٧) “ اب اصلی مطلب سنئے۔ یعنی حضرت عیسیٰ سے یہود منکران نے داؤ کیا اور انہیں قتل کرنا چاہا۔
اللہ نے ان کا فریب الٹ دیا اور ان کو ان کے کفر سے الٹ مارا۔ اللہ تمام حیلہ اور تدابیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔
عرائس
ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک گروہ یہود کی طرف گزرے وہ کہنے لگے۔ وہ آیا جادوگر کا بیٹا اور بدکار بیٹا۔ زانیہ کا (معاذ اللہ منہا) آپ غضبناک ہوئے اور بددعا کی اور کہا اے اللہ تو میرا رب اور میں تیری بنائی ہوئی روح سے نکلا اور تیرے حکم سے پیدا ہوا۔
اے اللہ لعنت کر جس نے مجھے اور میری ماں کو گالی دی۔ فوراً وہ سب گستاخ بے ادب سور بن گئے۔ یہود کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو ڈرا کہ مبادا میرا بھی یہی حال ہو اور یہود آپ کے قتل پر مجتمع ہو گئے اور آپ کو ایک مکان میں بند کیا۔ جبرائیل بحکم رب جلیل آئے اور ایک روزن سے آپ کو آسمان پر اٹھا کر لے گئے۔ بادشاہ نے طیطانوس نامی اپنے مصاحب کو حکم دیا۔ کہ اس ٨٠
مکان میں جاکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرے۔ لوگوں کی نظر میں ایسا معلوم ہوا کہ یہی عیسیٰ ہیں۔ انہوں نے اسے قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اپنا جلوہ دکھایا۔
نوٹ
بس اسی مقام (یعنی قانون اہل اسلام) ہوتا۔ مرزا قادیانی نے اڑا کر داخل قانون فلسفہ کیا ہے اور حسب دعوئی سابق مذکورہ خود کہ میں اعجاز مسیح یعنی ان بات ظاہر نہیں ہوئی۔
یہاں قادیانی صاحب نے یہ معجزہ تو ضرور کے برآمد ہونے کی پیشین گوئی کی اور برآمد ہوئی دختر لئے بیٹھ لئے کہ آسمانی باپ سے تم کو بیٹا دلوا دوں گا۔ مگر آسمانی منکوحہ کی بابت اب تک پیشین گ آئے گی۔ اب تک تو آئی نہیں۔ شاید قیامت کو آئے دل رہا ہے۔
اور پانچ چار بچوں کے جھول بھی نکلوا د منکوحہ بتائے جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا آتھم وغیرہ کی چند پر ظاہر ہیں۔
پس باعث ان وقوعات کفار ان کے دل کلمات تسکین بخش فرما دیئے۔ ”اذ قال الله يع ومطهرك من الذين كفرو جاعل الذی القيمة ثم الى مرجعكم فاحكم بينكم فيما ك ﴿جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں پوری کرنے وا طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں پیروی کریں گے تیری غالب ان پر جو کافر ہوئے ا تمہاری۔ پس حکم کروں گا تم میں جس میں تھے تم اختلا ٨١
مکان میں جا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرے۔ اندر جانا تھا کہ صورت بدل گئی۔ جب نکلا تو لوگوں کی نظر میں ایسا معلوم ہوا کہ یہی عیسیٰ ہیں۔ انہوں نے اسے قتل کیا اور سولی پر چڑھایا مگر کفار خوار ہوئے اور تدبیر اور داؤ الٰہی نے اپنا جلوہ دکھایا۔
نوٹ
بس اسی مقام (یعنی قانون اہل اسلام) سے اللہ کا سور و بندر کی شکل بنانے پر قادر ہونا۔ مرزا قادیانی نے اڑا کر داخل قانون فلسفہ کیا ہے۔ تاکہ اپنی صورت انسانی ہونے کی تائید ہو اور حسب دعویٰ سابق مذکورہ خود کہ میں اعجاز مسیح یعنی اس عجوبہ کاری عمل الترب سے کم نہیں ہوں کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی۔
یہاں قادیانی صاحب نے یہ معجزہ تو ضرور دکھایا کہ میں اپنی بڑی بیگم حمل سے فرزند نرینہ کے برآمد ہونے کی پیشین گوئی کی اور برآمد ہوئی دختر۔ پھر ایک فوجی افسر سے پانچ سو روپیہ اس لئے اینٹھ لئے کہ آسمانی باپ سے تم کو بیٹا دلوا دوں گا۔ مگر بیٹے کی جگہ چوہیا کا بچہ بھی نہ ہوا۔
آسمانی منکوحہ کی بابت اب تک پیشن گوئی جاری ہے۔ کہ ضرور میرے عقد میں آئے گی۔ اب تک تو آئی نہیں۔ شاید قیامت کو آئے۔ ادھر ہر رقیب مرزاجی کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے۔
اور پانچ چار بچوں کے جھول بھی نکلوا چکا ہے۔ مگر مرزا جی ابھی تک اس کو اپنی منکوحہ بتائے جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا آتھم وغیرہ کی چند پیشین گوئیاں اور بھی پٹ پڑیں۔ جو سب پر ظاہر ہیں۔
پس بباعث ان وقوعات کفار ان کے اول ہی سے اللہ پاک نے اپنے نبی کے لئے یہ کلمات تسکین بخش فرما دیئے ۔ "اذ قال الله يعيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفرو وجاعل الذين تبعوك فوق الذين كفرو الى يوم القيمة ثم الى مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون (آل عمران:٥٥)"
﴿جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں پوری کرنے والا ہوں مدت تیری اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو طرف اپنی اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے اور کرنے والا ان کا جو پیروی کریں گے تیری غالب ان پر جو کافر ہوئے اور قیامت تک پھر میری طرف بازگشت ہے تمہاری۔ پس حکم کروں گا تم میں جس میں تھے تم اختلاف کرتے۔﴾
٨١
یعنی جب فرمایا اللہ نے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں وفات دوں گا تمہیں اور اٹھاؤں گا اپنی طرف اور مطہر کرونگا تمہیں ان سے جو کافر ہوئے اور تمہارے تابعداروں کو کافروں پر غالب کروں گا۔ قیامت تک پھر میری ہی طرف بازگشت تم سب کی ہے۔ پھر میں تم میں فیصلہ کروں گا۔ جس امر میں اختلاف کرتے تھے۔
درمنثور
مراد خواب ہے۔ بحالت خواب آسمان پر اٹھائے گئے۔
ابومسعود
وفات سے مراد یہ کہ آپ کی زندگی معینہ پوری کی جائے گی۔ جیسا کہ بعد خروج امام ونزول مسیح دنیا میں آئے گا۔ غرض آسمان پر آپ کا جانا مسلم اور صحیح ہے۔ یہ کہ آپ کا انتقال نہیں ہوا۔ چنانچہ آیہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ سے ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔
مطہرک
یعنے خواہ یہ مراد ہے کہ یہود کے ہاتھوں اور ان کے پلید اعتقادوں سے ہم آپ کو علیحدہ اور پاک کریں گے۔ تا کہ آپ کو مس بھی نہ کر سکیں۔ یا اشرار یہود کے لئے بے ہودہ افترا کا کچھ الزام آپ پر نہ رہے گا۔
دوم
تابعین عیسیٰ علیہ السلام اور کفار سے کون مراد ہیں۔ اگر کفار سے خاص یہود مراد لئے جائیں تو ہو سکتا ہے کہ تابعین سے حواری ونصاریٰ مراد ہوں۔ جو یہود پر حاکم رہے اور اگر کفار عموماً مخالفین حضرت عیسیٰ مراد ہوں۔ تو تابعین سے اہل اسلام مراد ہیں کہ ہم اہل اسلام سچے ابراہیمی سچے موسوی سچے عیسائی سچے محمدی اور تمام انبیاء کے تابع ہیں۔
پس مسلمان ہمیشہ کفار پر حاکم اور غالب رہے اور رہیں گے۔ چنانچہ تمام معبد گاہ یہود ونصاریٰ وغیرہ سب ہنوز مسلمانوں ہی کے قبضہ میں ہیں اور رہیں گے اور اگر مسلمانوں کا اعتقاد بحق حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ باطل ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے۔ تو یہ کافر ٹھہرے۔
اب ضرور ہے کہ نصرانی غالب ہوتے اور سب معبد گاہوں پر قابض ہو جاتے۔ حالانکہ ایسا میسر نہیں ہوا اور اگر حق ہے۔ تو آپ کے سب مخالف نصاریٰ ہوں یا یہود و مجوسی ہوں کہ ہنوز
٨٢
باطل پر قرار پائے اور ان کی مغلوبی ہوئی اور ہے اور امام کے زمانہ میں کامل ہو جائے گی۔
علاوہ ازیں دوسرے مقام پر اللہ پاک عدم موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیسی تصدیق فرماتا ہے۔ ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما
(نساء:١٥٧، ١٥٨)“
﴿اور ان کے کہنے سے کہ ہم نے قتل کیا۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم جو رسول اللہ کے ہیں اور نہیں قتل کیا اسے اور نہ سولی دی اسے لیکن شبہ ہوا ان کو اور بیشک جو مختلف ہوئے قتل میں عیسیٰ کے ہر آئینہ شک میں ہیں۔ یقیناً نہیں ۔ ان کو اس کا علم مگر پیروی گمان کی اور نہیں قتل کیا اسے یقینی طور پر بلکہ اٹھالیا اسے اللہ نے طرف اپنی اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔﴾
اور اس کے کہنے سے عذاب نازل ہوا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ قتل کر سکے نہ سولی دے سکے۔ یہ ہوا کہ جس نے حضرت عیسیٰ کی خبر بادشاہ ظالم کو دی تھی۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی صورت پر کر دیا وہ لوگ اسے عیسیٰ سمجھے اور سولی دیدی۔ پھر وہ اپنی اصلی صورت پر آ گیا۔
یہود کو اس میں شبہ پڑا اور تردد ہوا کہ آیا ہم نے قتل کیا یا نہیں تو یہ قول کہ حضرت عیسیٰ کو قتل کیا۔ محض گمان پر ہے اور حق یہ ہے کہ نہ قتل کیا نہ سولی چڑھائی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حضور میں بلا لیا اور آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے اور یہ جو قادیانیوں کا بیان اس آیت کے بارے میں ہے کہ:
’بل رفعه الله اليه‘ سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ایفاء ہے جو اس نے فرمایا ہے۔ ”یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران:٥٥) “ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ واقعی اس فرمانِ الٰہی کی تصدیق ہے۔ جیسا کہ فرمایا تھا وہ وعدہ اللہ تعالیٰ کا پورا ہوا۔ یعنی بچا لیا قتل سے (یعنی موت سے) اور اٹھا لیا معہ جسم طرف اپنی۔
مگر قادیانی جو اس وعدہ سے معنی موت نکالتے ہیں کہ جو مراد موت کفار تھی وہ کیوں کر ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو نفی موت فرما کر اٹھا لینا اپنی طرف (یعنی آسمان پر) فرماتا ہے۔ پھر ہے کوئی اللہ کا صادق بندہ کہ کلام الٰہی میں غور کرے اور بول اٹھے کہ کون سچے کا کہتا
٨١
ہے اور اس اگلی آیت سے آپ کا رفع بحیات جسمانی اور نیز آپ کا پھر نزول ثابت ہے۔
”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً (نساء:١٥٩)“ اور نہیں کوئی اہل کتاب مگر ایمان لائیں گے۔ ان پر ان کے مرنے سے پہلے (یعنی حضرت عیسیٰ) اور دن قیامت کے ہوں گے۔ عیسیٰ ان پر گواہ۔ یعنی کوئی اہل کتاب نہیں مگر یہ کہ حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے گا۔ یعنی امام مہدی آخر الزماں کے وقت میں جب آپ نزول فرمائیں گے۔
اور بعد انتقال امام خلافت آپ کے تعلق ہوگی۔ پھر آپ دنیا سے رحلت کریں گے۔ اس سے پہلے یہود و منکرین مردود کو بزور شمشیر مطیع و مومن بنائیں گے اور قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ جس طرح اور پیغمبر اپنی اپنی امت کی شہادت دیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ قبل موت آپ کے سبب ایمان لے آویں گے۔ مگر قبل رفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسا ہوا ہی نہیں۔ اس وقت تک تو وہ خون کے پیاسے رہے اور سب ایمان نہ لائے تو اب وہ کون سا وقت ہے جو اس آیت کے مطابق ہو۔
تو وہ وقت نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہی ہے۔ جس کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔
اے اہل انصاف تہہ دل سے غور کرو کہ بوقت ذکر موت اس آیہ میں اللہ پاک نے لفظ قبل موتہ فرمایا اور اس مقام پر کہ جہاں مراد کفاروں کی یہ بات ہے کہ ہم نے مارا۔ وہاں اللہ پاک نے نفی موت بالفاظ۔
”وما قتلوه وما صلبوه“ فرمایا اور اس پر بس نہ کیا۔ تا یہ سمجھا جاتا کہ کسی اور وقت انتقال ہوا ہو اور نہ یہ فرمایا کہ اپنی موت سے فوت ہو گئے۔ بلکہ بایں الفاظ صاف - بل رفعہ اللہ الیہ فرمایا۔ یعنی اللہ نے اٹھا لیا۔ اپنی طرف اگر موافق بیان قادیانی - رافعك الی کے معنی رفع درجات روحانی ہیں تو نہ معلوم معنی درجات کسی لفظ کے معنی گھڑے ہیں۔ ماقبل و مابعد کے کسی الفاظ وربط و قرینہ وغیرہ سے تو پایا نہیں جاتا۔
کیا الفاظ الیٰ کے معنی درجات لگائے ہیں۔ یہ کونسی کتاب لغت میں ہے۔ ہاں صاحب یہ اس کتاب الہامی بے علمی کا نتیجہ ہے۔ ملا جی یہ تو خوب سمجھے کہ کفاروں کے قبضہ میں تو روح تھی نہیں اس لئے درجہ روحی قائم کیا جائے اور یہ نہ سمجھے کہ بغیر جسم کے زندہ ہونے سے کیا نتیجہ اعمال تو معہ جسم کے ہوں اور جزا و سزا خالی روح کو ہو یہ کس عاقل کے نزدیک قابل تسلیم ہوگا۔ ہرگز نہیں اور یہ
٨٤
جس قدر آیات دیگر دربارہ تائید اثبات حیات ماقبل و مابعد قرینہ والفاظ حیات موجود تو پھر مثالیں تحریر اشتہار کی دی گئیں۔
بقول
عالم و فاضل سے پڑھا ہوتا تو بات بات پر غص ہوتے۔ کسی خیراتی اسکول میں پڑھا ہوگا۔ کیو ایمان جائے تو جائے پیزار سے مگر فخر دنیا و طمع سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بحیات آسمان پر کرتے ہیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
”اذ قال الله يعيسى ابن الھین من دون الله ط قال سبحنك م كنت قلته فقد علمته تعلم ما فی الغيوب (مائده:١١٦)“ اور جب مجھے اور ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے کہا مجھے نہیں حق اگر میں نے کہا تھا اسے پس ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے نزدیک ہے۔
یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کسی انبیاء سے اس قسم کے سوال و جواب نہی عیسیٰ علیہ السلام کا رفع معہ جسم بلا ذائقہ الم بقیہ جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ ہے: ”
ربی وربكم وكنت عليهم شهي الرقيب عليهم ط وانت على كل شي سے مگر جو حکم کیا تو نے مجھے اس کا یہ کہ پرستی ان پر شاہد جب تک تھا میں ان میں پھر جو پر گواہ ہے۔
جس قدر آیات دیگر دربار تائید اثبات درجات درج اشتہار کی ہیں۔ ان سب میں لفظ رافعک کے ماقبل و مابعد قرینہ والفاظ درجات موجود تو پھر کس برتے پر تتا پانی اور کس بھروسے اور ڈھٹائی پر یہ مثالیں تحریر اشتہار کی گئیں۔ بقول چہ دلاورست دز دے کہ بکف چراغ دارد۔ ملاجی اگر کسی مکتب میں کچھ دے کر کسی عالم و فاضل سے پڑھا ہوتا تو بات بات پر ٹھوکر کھا کر نہ گرتے۔ ان خیالات فاسد کے مرتکب نہ ہوتے۔ کسی خیراتی اسکول میں پڑھا ہوگا۔ کیونکہ میلان طبع واحوال ظاہری یہ ہی ثابت کرتا ہے کہ ایمان جائے تو جائے پیزار سے مگر فخر دنیا وطمع ہاتھ سے نہ جائے۔ لو اب ہم ایک اور چوتھے طریقے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بحیات آسمان پر ہونا اور اللہ پاک سے سوال و جواب کا پیش آنا ثابت کرتے ہیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے: ”اذ قال الله يعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الهين من دون الله ط قال سبحنك ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق ط ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما فى نفسى ولا اعلم مافي نفسك انك انت علام الغيوب (مائده:١١٦)“ ﴿اور جب کہا اللہ نے عیسیٰ بیٹے مریم کو کیا تم نے کہا آدمیوں کو بنالو مجھے اور ماں کو میرے معبود سوائے اللہ کے کہا پاک ہے تو اور نہیں مجھے یہ قوت کہ کہوں میں وہ کہ نہیں میرے لئے حق اگر میں نے کہا تھا اسے پس بیشک جانتا ہوگا تو اسے تو جانتا ہے۔ جو میرے جی میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے نزدیک ہے۔ بیشک تو بڑا جاننے والا غیبوں کا۔﴾
یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ بعد رفع جسمانی سوال و جواب ہوئے۔ بدون جسم کسی انبیاء سے اس قسم کے سوال و جواب نہیں ہوئے۔ بشرطیکہ وہ بروز قیامت ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع معہ جسم بلا ذائقۃ الموت ہوا کہ نوبت سوال کی آئی اور اس کی اگلی آیت میں بقیہ جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ ہے: ”ما قلت لهم الا ما امر تنی به ان اعبدو الله ربی وربکم وكنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم ج فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم ط وانت على كل شىء شهید (مائده: ١١٧) “ ﴿میں نے نہیں کہا ان سے مگر جو حکم کیا تو نے مجھے اس کا یہ کہ پرستش کرو اللہ کی کہ رب میرا ہے اور رب تمہارا اور میں تھا ان پر شاہد جب تک تھا میں ان میں پھر جب وفات دی تو نے مجھے تھا تو محافظ ان پر اور تو ہر شے پر گواہ ہے۔﴾ ٨٥
خلاصۃ التفاسیر
یعنی یہ بقیہ جواب حضرت عیسیٰ نے عرض کیا۔ الٰہی میں نے تو ان سے وہی کہا جو تو نے مجھے حکم دیا کہ تم اللہ کی بندگی کرو۔ جو ہمارا تمہارا سب کا رب ہے اور میں ان کی حالت اسی وقت تک جانتا تھا اور نصیحت کرتا تھا جب تک ان میں تھا۔ پھر جب تو نے مجھے آسمان پر بلا لیا تو پھر تو ہی نگہبان تھا۔
مجھے کیا خبر اور تو سب کچھ جانتا ہے۔ تو بس اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعد رفعہ اللہ ہونے کے اس وقت کے لوگوں نے معبود بنایا اور انہیں کی ذریات ہنوز خدا کہتی ہیں۔ تو یہ لوگ مخالف حضرت مسیح ضرور ہوئے تو بموجب آیہ مذکور:”وجاعل الذین کفرو الی یوم القیمۃ (آل عمران:٥٥)“ سے جیسا ہم سابق بیان کر چکے ہیں۔ اہل اسلام ہی مراد ہیں کہ یہ تمام انبیاء کے تابع ہیں اور زمانہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد مطابق شریعت محمدی رہیں گے اور یہ لوگ اس سوال و جواب سے مستثنیٰ ہیں۔ کیونکہ ان کو وعدہ غالب رہنے کا روز قیامت تک کا دیا گیا ہے اور بعد الی یوم القیمۃ کے جو یہ فرمایا ”ثم الی مرجعکم ......الخ“ تو یہ خبر ایمائے انی متوفیک کی ہے کہ بعد مدت پوری کرنے کے پھر تمہاری بازگشت میری طرف ہے۔ یعنی وہی وقت قرب قیامت کا زمانہ تمہاری موت کا ہے اور ہماری اس پیش گوئی کا ایفاء ہے جو کل انبیاء سے وعدہ لیا گیا تھا۔
تم کو وہ زمانہ نصیب ہو کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ پاک کا فرمانا خالی از حکمت ہو اور اس کا کچھ ثمرہ نہ ظاہر ہو۔
قولہ تعالیٰ: ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال أقررتم واخذتم علی ذالکم اصری (آل عمران:٨١)“ اور جب لیا اللہ نے عہد استوار پیغمبروں سے کہ جب دیں ہم تم کو کتاب اور نبوت پھر آئے تمہارے پاس کوئی پیغمبر سچا بتاتا اسے جو ساتھ تمہارے ہے۔ ہر آئینہ ایمان لاؤ اس پر اور نصرت کرو اس کی۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور لیا تم نے اس شرط پر میرا ذمہ۔
یہ اقرار کل انبیاء اور معرفت ان کی سب امتوں کی طرف ہے۔ آیت میں کمال فضل ومحبوبیت اور آپ کا سید الانبیاء وامام الرسل نبی جزو کل ہونا ظاہر ہو گیا اور تعمیل اس معاہدے کی اور پیغمبروں سے بذریعہ تعلیم و بیان اور حضرت عیسیٰ سے باتباع ونصرت ہوگی۔
٨٦
پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہ اتباع ونصرت وعہد کی پیشن گوئی پوری نہ ہو تو گویا اللہ پاک کا یہ فرمانا ۔ (معاذ اللہ ) لغو ٹھہر جائے۔ یہ انہیں کج فہم منکرین کا کام ہے۔ جو کلام الٰہی سے بے بہرہ ہیں۔ اور ان آیات کے منکر ہیں۔ اے شائقین اب تو یقین کلی ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مجسم آسمان پر زندہ ہی اٹھا لے گئے ۔ باقی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ کے نزول الی الارض پر آیات قرآن واحادیث نبوی شاہد ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر آیات قرآنی سے ثابت کر آئے ہیں۔
نظر سے گزرا ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ (نساء:١٥٩) “ ﴿نہیں رہے گا کوئی اہل کتاب سے مگر کہ ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ پر ان کی وفات سے پہلے۔﴾ اور تفاسیر سے یہ بات ثابت ہے اور نیز جیسا جمل میں مذکور ہے۔ بہ کثرت یہود حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لائے اور انہوں نے اپنے گمان میں ان کو قتل کیا۔ پس بوقت نزول ہی اس آیت کا منشاء پورا ہوگا اور احادیث میں وارد ہے۔
”عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحده خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرہ فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ ......الخ“
﴿ابی ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا فرمایا نبی ﷺ نے کہ قسم ہے۔ اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ البتہ قریب ہے یہ بات کہ نزول فرمائے گا تمہارے اندر عیسیٰ ابن مریم حاکم عادل ہو کر پس توڑ دے گا صلیب کو اور مارے گا خنزیر کو اور لٹا دے گا مال کو اتنا کہ کوئی شخص مال کو نہ لے گا۔ یہاں تک کہ اس وقت ایک سجدہ بھی دنیا وما فیہا سے افضل ہوگا۔ پھر فرمانے لگے ابو ہریرہ کہ اگر تمہارا دل چاہے تو پڑھو قرآن کریم کی آیت کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب سے مگر ایمان لاوے گا حضرت عیسیٰ پر ان کی وفات سے پہلے اور یہ ظاہر ہے۔﴾
ناظرین کو واضح ہو کہ یہ حدیث بخاری شریف کی ہے۔ جو کہ از روئے مرتبہ کے بعد قرآن شریف کے ہے۔ جس کی احادیث مستند اور صحیح ہیں۔ باجماع اہل امت سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اور اس حدیث میں قابل غور یہ
٨٧
ثابت ہے کہ نبی علیہ السلام نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ آپکا اشارہ ہی کافی ہے۔
چہ جائیکہ تم۔ پھر بھی معاندین اپنی تعدی اور مخالفت سے باز نہیں آئے۔ مصرع مخالف نبی کا ہے۔ دشمن خدا کا۔ اللہ پاک اس تیرہویں صدی کے فتنہ انگیزوں کے سایہ سے بچاوے۔ آمین اور بکثرت احادیث و آثار صحابہ اس بات پر شاہد ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرماویں گے۔
بغرض اختصار کے بعد کو لکھتا ہوں از مشکوٰۃ حدیث رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء عن عبداللہ بن عمر ۔ قال قال رسول اللہ ﷺ ينزل عيسى بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر“
ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں عبداللہ بن عمر سے روایت کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اتریں گے عیسیٰ بن مریم زمین کی طرف پس نکاح کریں گے اور ان کے اولاد پیدا ہوگی اور پینتالیس سال زمین پر رہیں گے۔ پھر مر جائیں گے۔ پس دفن کئے جائیں گے میرے ساتھ۔ ایک ہی قبر میں پس کھڑا ہوں گا میں اور عیسیٰ ایک ہی قبر سے۔ درمیان ابوبکر اور عمر کے اور نیز امام ابو حنیفہ کا یہی قول ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرماویں گے۔
فی فقہتہ الاکبر: ” وخروج الدجال وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من المغرب ونزول عيسى من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ماوردت به الاخبار الصحيحه حق كائن “ نکلنا دجال کا اور یاجوج ماجوج کا اور سورج کا مغرب کی جانب سے نکلنا اور حضرت عیسیٰ کا آسمان سے اترنا اور تمام علامات قیامت کے روز کے حق ہیں اور ہونے والے ہیں۔
امام بخاری کا قول کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ ”اخرج البخارى فى تاريخه والطبرانى عن عبد الله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول اللہ ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعا “ یعنی نکالا ہے بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے کہا کہ دفن کئے جائیں گے۔ عیسیٰ بن مریم رسول ﷺ کے ساتھ اور آپ کے دونوں اصحاب کے ساتھ۔
٨٨
پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی قبر ہوگی۔ امام ترمذی کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ نزول فرمائیں گے۔ ”اخرج الترمذی وحسنه من محمد بن یوسف بن عبدالله بن سلام عن اب عن جد قال مکتوب فی التوراة صفته محمد وعیسی بن مریم يدفن معه قال ابو معدود وقد بقی فی البیت موضع قبر (درمنثور)“ نکالا اس روایت کو ترمذی نے اور تحسین بیان کی۔ اس کی محمد ابن یوسف ابن عبداللہ بن سلام سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے کہا انہوں نے لکھی ہوئی ہے۔ صفت محمد ﷺ کی توراۃ میں اور لکھا ہوا ہے کہ دفن کئے جائیں گے عیسیٰ نبی ﷺ کے ساتھ۔
ابو معدود نے کہا کہ اب تک روضہ اطہر میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے اور شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی فوز الکبیر میں تحریر فرماتے ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ نزول فرماویں گے۔
قولہ: حضرت ادریس کا زندہ آسمان پر جانا اور وہیں رہنا منها خلقنکم وفیها نعیدکم کے صریح خلاف ہے۔ حی لا یموت صفت باری میں حضرت ادریس کے شراکت کے آپ قائل ہورہے ہیں۔ (اور کل نفس ذائقة الموت) کے منکر
اقول
اس کی بابت ہم سابق تحریر کرچکے ہیں۔ مگر مزید اطمینان کے لئے عرض کرتے ہیں۔ اے حضرت قرآن کے معنی ومطالب سمجھنے کے واسطے طبیعت مستقیم درکار ہے۔ اگر ظاہر الفاظ کا خیال کرلیا جائے تو اہل ہوا خوب پھکڑے اڑائیں اور طبیعت کے بندے کودیں اور بغلیں بجائیں۔ اس آیۃ کا یہ مطلب نہیں ہے جو آپ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اگر یہی معنی سمجھے جائیں تو حضرت ادریس ہی کیا جائے طعن رہ گئے تھے۔ جتنے ہنود کے مردے ہیں بعض جلاتے ہیں اور بعض گنگا میں بہاتے ہیں۔ وفیها نعیدکم کے موافق تمہارے زعم باطل کے صریح خلاف ہے۔ جیسا ہم مفصل سابق ثابت کرچکے ہیں۔
ہاں مطابق آیت کے اکثری حکم ہے۔ جیسا کہ یہ ثم اماته فاقبره سے ظاہر ہے۔ اس وجہ سے کہ جہاد وغیرہ میں بسا اوقات قبر میں دفن نہیں کئے جاتے۔ اگر چھوٹے چھوٹے بچوں کے بہکانے والے دقائق کلام الٰہی سمجھنے لگیں تو قرآن کیا ہوا۔ فارسی کورس ہی ہوگیا۔ سنبھلو میاں جی سنبھلو کچھ دوبارہ سبق پڑھو اور اس نصیحت پر عمل کرو کہ قرآن کے دقائق وحقائق وہی لوگ سمجھے ہیں جن کا ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں اور نیز قاعدہ کلیہ بھی بتا چکے ہیں۔ بڑے افسوس اور حیرت کا
٨٩
مقام ہے۔ کہ آپ مولوی عبدالکریم صاحب کو منکر کل نفس ذائقۃ الموت کا ٹھہراتے ہیں۔
ہاں صاحب بمصداق کل اناء یترشح بما فیہ یعنی ہر برتن اس چیز کو پھینکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ چونکہ آپ اور آپ کے گرو گھنٹال آیت قرآنی واحادیث نبوی کے کور پردہ بطرز منافقانہ کیا۔ بلکہ صریحاً قطعی منکر ہیں۔ جو سابق ثابت ہو چکا ہے۔ چنانچہ یہ ضرب المثل صادق ہے۔
کل امرء یقیس علیٰ نفسہ یعنی ہر شخص دوسروں کو اپنی حالت پر خیال کر لیتا ہے۔ مگر اب تو یہ وہ مثل ہوئی۔ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا اور آپ کے اس سوال (یعنی حضرت ادریس زندہ آسمان پر اٹھائے گئے یا کیسے اور لوٹ کر آئیں گے یا نہیں۔ آپ کی لیاقت علمی کی خوب قلعی کھول دی۔
بس آپ میں اتنا ہی دم درود تھا۔ ملا جی مشہور مولوی نام محمد فاضل۔ گر ایں مکتب وایں ملا است کار طفلاں تمام خواہد شد۔ تفسیر کی آپ کے کانوں نے آواز تک بھی نہیں سنی واہ رے مرزا کے باطل مذہب پر دھبہ لگانے والو۔ یہ اور طرہ ہے کہ سمند ناز پر ایک اور تازیانہ ہو!
آیت ورفعناہ مکانا علیا کے تحت میں تفسیر جلالین میں مذکور ہے۔ ”ھو حی فی السماء الرابعة او السادسة او السابعة او فی الجنة ادخلها بعد ما یذوق الموت واحی ولم یخرج منھا“ حضرت ادریس زندہ ہیں چوتھے آسمان پر یا چھٹے ۔ یا ساتویں پر یا جنت میں اللہ پاک نے ان کو موت کا ذائقہ چکھانے کے بعد جنت میں داخل کر دیا اور وہ زندہ ہیں جنت میں اور جنت سے نہ نکلیں گے۔
باقی مفصل یہ بات کہ کہاں پر ذائقہ موت کا چکھائے گئے۔ اس میں صاحب کل نے دو قول طویل تحریر کئے ہیں۔ جن میں سے ایک کو بوجہ اختصار کے لکھتا ہوں۔ ”وهو هذا قال وهب کان یرفع ادریس کل یوم من العبادة مثل ما یرفع بجمیع اهل الارض فی زمانه فعجب منه الملائکة واشتاق الیه ملک الموت فاستاذن الله فی زیارته فاذن له فاتاه فی صورة بنی ادم وکان ادریس یصوم الدهر فلما کان وقت افطاره دعاه الی طعامه فابی ان یاکل معه ففعل ذالک ثلاث لیال فانکره ادریس وقال له فی الثالثة انی ارید ان اعلم من انت قال انا ملك الموت استاذنت ربی ان اصحبك فقال لی اليك حاجة قال ماهى قال تقبض روحی فاوحی الله الیه ان اقبض روحه فقبض وردھا الله الیه فی ساعة فقال له
٩٠
ملك الموت ما الفائده فى سوالك قبض الاستعداد له ثم قال له ادریس ان لی الى السماء لا نظر الیها والى الجنة النار قال لى اليك حاجة قال ما ترید ثم قال فكما ارايتنى النار فارني الـ ابوابها فادخله الجنة ثم قال له يا ملـ بشجرة قال ما اخرج منها فبعث الـ تخرج لان الله تعالى قال كل نفس ذ وردها وقد وردتها وقال وماهم بمخر الموت باذنی دخل الجنة وبامری لایـ ﴿وھب نے کہا ہے کہ اٹھائی جاتی کے تمام زمین والوں کے برابر۔ اس بات سے ہوئے۔ اللہ پاک سے ملک الموت نے اجا بموجب ان کی التجا کے اللہ نے ان کو اجاز اور ادریس علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت ا روزہ افطار کا وقت آیا تو حضرت ادریس نے ملـ نے ان کے ساتھ کھانے سے انکار کیا۔ اسی طر تو حضرت ادریس نے ملک الموت سے فرمایـ جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں۔ اللہ پا ملاقات کروں۔ حضرت ادریس نے ملک المـ ملک الموت نے کہا کہ وہ کیا۔ فرمایا حضرت اد ملک الموت پر وحی نازل فرمائی۔ کہ ادریس کی الموت کے) ان کی روح قبض کی اور بعد تھوڑ دیا۔ ملک الموت نے حضرت ادریس سے کہا کـ تاکہ (بموجب آیہ مذکور بالا) موت کا ذائـ ہو جاؤں بہت سخت مستعد موت کے لئے ۔ بـ
ملك الموت ما الفائده في سوالك قبض الروح قال لاذوق الموت وغمة فاكون الاستعداد له ثم قال له ادريس ان لى اليك حاجة قال و ما هى قال ترفعنى الى السماء لانظر اليها والى الجنة والنار فاذن الله له۔ فرفعه فلما قرب من النار قال لى اليك حاجة قال ما تريد قال تسال مالكا حتى يفتح ابوابها ففعل ثم قال فكما ارايتنى النار فارنى الجنة فذهب به الى الجنة فاستفتح ففتح ابوابها فادخله الجنة ثم قال له۔ ملك الموت اخرج لتعود الى مقرك فتعلق بشجرة قال ما اخرج منها فبعث الله ملكا حكما بهما فقال له الملك ما لك لا تخرج لان الله تعالى قال كل نفس ذائقة الموت وقد ذقته وقال ان منكم الا وردها وقد وردتها وقال وماهم بمخرجين ولست اخرج فاوحى الله الى ملك الموت باذنى دخل الجنة وبامرى لا يخرج منها فهو حى“
”وھب نے کہا ہے کہ اٹھائی جاتی تھی عبادت حضرت ادریس کی ہر روز ان کے زمانہ کے تمام زمین والوں کے برابر۔ اس بات سے ملائکہ متعجب ہوئے اور ان کی ملاقات کے مشتاق ہوئے۔ اللہ پاک سے ملک الموت نے اجازت چاہی کہ حضرت ادریس کی زیارت کریں بموجب ان کی التجا کے اللہ نے ان کو اجازت دی۔ پس ملک الموت بصورت آدمی حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت ادریس ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب ان کے روزہ افطار کا وقت آیا تو حضرت ادریس نے ملک الموت کو کھانے کے واسطے بلایا۔ تو ملک الموت نے ان کے ساتھ کھانے سے انکار کیا۔ اسی طرح دو رات متواتر گزری۔ جب تیسری شب ہوئی تو حضرت ادریس نے ملک الموت سے فرمایا کہ آپ یہ بتلائیے کہ آپ کون ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں۔ اللہ پاک سے میں نے اجازت چاہی تھی کہ آپ سے ملاقات کروں۔ حضرت ادریس نے ملک الموت سے کہا کہ آپ سے میری ایک حاجت ہے۔ ملک الموت نے کہا کہ وہ کیا۔ فرمایا حضرت ادریس نے کہ تم میری روح کو قبض کرلو۔ پس اللہ نے ملک الموت پر وحی نازل فرمائی۔ کہ ادریس کی روح قبض کرلے۔ پس (بمصداق کل نفس ذائقۃ الموت کے) ان کی روح قبض کی اور بعد تھوڑی ہی دیر کے آپ کے قالب میں دوبارہ روح کو لوٹا دیا۔ ملک الموت نے حضرت ادریس سے کہا کہ آپ کے سوال روح قبض سے کیا فائدہ ہوا۔ فرمایا تاکہ (بموجب آیہ مذکور بالا) موت کا ذائقہ اور اس کی لذت سے واقف ہوں۔ تاکہ میں ہو جاؤں بہت سخت مستعد موت کے لئے۔ پھر ادریس نے فرمایا کہ آپ سے میری ایک حاجت
ہے ۔ ملک الموت نے کہا وہ کیا۔ فرمایا حضرت ادریس نے کہ تم مجھ کو آسمان پر لے چلو۔ تا کہ میں آسمان اور جنت و دوزخ کو دیکھوں ۔ جب اللہ نے ملک الموت کو حضرت ادریس کے اٹھانے کی اجازت دے دی تو ملک الموت ان کو اٹھا لے گئے ۔ جب ادریس قریب دوزخ کے ہوئے تو فرمایا کہ آپ سے مجھ کو ایک حاجت ہے ۔ ملک الموت نے کہا کیا اور چاہتے ہو؟ حضرت ادریس نے ملک الموت سے کہا کہ آپ آسمان کے مالک سے فرمائیے تا کہ وہ آسمان کے دروازہ کو کھولے۔ بموجب ان کی کہنے کے دروازہ کھلوائے ۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا جیسا کہ تم نے مجھے دکھائی دوزخ، اسی طرح جنت بھی دکھا دو تو ملک الموت ان کو جنت کی طرف لے گیا اور دروازہ جنت کے کھلوائے ۔ جب ملک الموت نے ان کو جنت میں داخل کر دیا تو ملک الموت نے بعد ان کی سیر کرنے کے کہا کہ آپ تشریف لے چلئے اپنی جگہ پر ۔ پس حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں کسی درخت سے لٹک گئے اور فرمایا میں یہاں سے نہ جاؤں گا۔ اسی اثناء میں بھیجا اللہ پاک نے ایک فرشتہ ان کے پاس حکم سنا کر اس فرشتہ نے حضرت ادریس سے فرمایا کہ یہاں سے کیوں نہیں جاتے ہو؟ جواب دیا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر جان ذائقۃ الموت چکھنے والی ہے اور بموجب اس کے میں چکھ چکا ہوں اور فرمایا ہے اللہ نے کہ نہیں ہے کوئی تم سے مگر کہ پل صراط پر اترنے والا ہوگا اور بموجب اس کے میں اتر آیا ہوں اور فرمایا کہ جو جنت میں داخل ہو گیا وہ نہ نکلے گا ۔ پس بموجب اس کے میں یہاں سے نہیں جاتا۔ اللہ پاک نے فرمایا ملک الموت سے بذریعہ وحی کے ادریس جنت میں میرے حکم سے داخل ہوا ہے اور میرے حکم سے نہ نکلے گا۔ پس وہ زندہ ہیں جنت میں ۔﴾
قولہ: ”ما المسيح ابن مریم الا رسول ج قد خلت من قبله الرسل وامه صديقة كانا ياكلان الطعام (مائدہ : ٧٠) “﴿ نہیں ہے ابن مریم مگر ایک رسول تحقیق ان سے پہلے سب رسول گزر گئے اور ان کی والدہ صدیقہ اور وہ خود دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔﴾
اب ”وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين (انبیاء : ٨)“ کے مفہوم کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کھانا جسم کے واسطے لازمی اور غیر منفک ہے ۔ پس اب جو عیسیٰ کی والدہ کھانا نہیں کھاتیں تو سوائے اس جسمانی موت کے کیا امر مانع ہے ۔ اگر موت ہی مانع ہے تو وہی موت حضرت عیسیٰ کو بھی مانع ہے کیونکہ لکھا ہے ۔ کہ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے ۔ جس سے ضمناً پایا جاتا ہے کہ اب نہیں کھاتے ۔
٩٢
اقول
یہ تو ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ یہ جو کچھ ملا جی آپ نے الاپا ہے۔ در پردہ انہیں بڑی گرو کی کھڑاؤں کا صدقہ ہے۔ چنانچہ ازالہ ص ١٠٣ میں اس کو بڑی دھوم دھام سے بیان کیا ہے۔
اجی حضرت یہ تو سب کے نزدیک مسلم ہے کہ لوازمات انسانی انسان کے واسطے جب ہی تک رہا کرتے ہیں کہ جب تک وہ دنیا میں رہے۔ پس حضرت مریم روحانی طور پر ذائقۃ الموت کے بعد اور حضرت عیسیٰ جسمانی طور پر بلا ذائقۃ الموت آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ تو ان کے واسطے جو لوازمات دنیوی تھے۔ وہ بھی جاتے رہے۔ منجملہ ۔ ان کے ایک اکل وشرب تھا۔ پس اس کی بھی نفی ثابت ہونی چاہئے۔
پس جیسا کہ حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی غذا قبل از نزول الی الارض تسبیح وتقدیس باری تعالیٰ مثل ملائکہ کی اور ان کے دنیا میں آنے کے بعد انسانی لوازمات لاحق ہوئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذا تسبیح وتقدیس کے کیوں منکر ہو۔ عاقل کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ بیوقوف کے سامنے دفتر ہی کھول کر یہ رکھا جائے تو کیا فائدہ ایسے دھوکے کسی آپ جیسے عقل کے دشمن کو دینا۔ علاوہ ازیں حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ کوئی شخص حضرت موصوف کا اس قدر عرصہ تک شکم ماہی میں بلا اکل وشرب زندہ رہنا خیال کر سکتا ہے۔ ہرگز نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے بہ برکت آیت کریم ۔ ”لا اله الا انت سبحنك انی كنت من الظالمین (انبیاء:٨٧)“ شکم ماہی سے صحیح سلامت زندہ برآمد فرمایا۔ جو بزعم قادیانیوں کے خلاف عادت اللہ اور طعام وغیرہ سے روکا جانا ضروری امر ہے۔ جس سے انکار قانون قرآن ثابت ہے۔
پس ایسے منکروں سے خدا بچائے اور سنئے ! خلت کے معنی لغت عرب میں موت کے ہرگز نہیں آئے۔ جلالین میں ہی قد خلت سلفت یعنی گزر گئے۔ غرض اصل معنی اس کے گزرنے اور ہونے وغیرہ کے ہیں اور آیت کا سیاق اس معنی پر شاہد ہے کہ اس آیت کے ارشاد سے اللہ پاک کا صرف یہی منشاء ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی دوسرے پیغمبروں کی طرح ایک پیغمبر ہے اور ماں ان کی دوسری عورتوں کی طرح پیغمبر کی تصدیق کرنے والی اور دونوں کھانے پینے کے لئے اور انسانوں کی طرح محتاج تھے۔ پس ایسے شخص کیوں کر الوہیت واللہ ہونے کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ہاں ان کی والدہ البتہ فوت ہو گئیں۔
٩٤
اور اسی وجہ سے دنیا کے کھانے سے روکی گئیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا محض باطل ہے کہ چونکہ حضرت مریم فوت ہوگئی ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ بھی فوت ہوگئے ہیں۔ لیکن دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے مولوی عبدالکریم کہیں کہ الٰہی بخش و عبدالرحیم و غلام مرتضیٰ و غلام احمد طعام کھاتے تھے۔ تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا ہے۔ کہ الٰہی بخش و غلام مرتضیٰ جو بوجہ فوت ہونے کے کھانے سے رک گئے اور ان کا فرزند عبدالرحیم و غلام احمد جو اب زندہ درگور ہیں۔
ان کا مر جانا یا طعام کھانے سے روکا جانا ثابت یا بوجہ طعام نہ کھانے کے ان کا مر جانا بھی ثابت ہو۔ کیونکہ یہ ظاہر و ثابت ہے کہ اکثر اشخاص بغیر طعام کھانے کے سینکڑوں برس سے زندہ ہیں اور زندہ رہے۔ جیسے اصحاب کہف حضرت خضر اور یاجوج و ماجوج جو زندہ سزایاب اسی دنیا میں ہیں اور اکثر غیر قوم ہنود وغیرہ میں لوگ ہوئے اور موجود ہیں۔ کہ بعضوں نے کھانا ترک کر کے تمام عمر طعام نہیں کھایا۔
بعض سالہا نہیں کھاتے ہیں اور بعض بیمار تو مہینوں طعام نہیں کھاتے اور زندہ رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود مشکوٰۃ میں اسماء بنت زید کی حدیث میں ہے کہ خروج دجال کے وقت تین سال تک جو بارش نہ ہونے سے طعام کا ملنا موقوف ہووے گا۔ اس کی نسبت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت ایمان والوں کو ملائکہ آسمان کی طرح تسبیح و تقدیس بجائے طعام کفایت کرے گی اور اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کا زعم فاسد ہے۔ کہ ایسے دو شخصوں کے لئے ایک غالب وصف حیات کے ساتھ متصف کرنا جن میں سے ایک کا مر جانا ثابت ہو۔ دوسرے کی موت کا مستلزم ہے تو ہم معاوضہ کے طور پر یہ آیت کریمہ پیش کریں گے:
”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم قل فمن يملك من الله شيئاً ان اراد ان يهلك المسيح ابن مريم وامه ومن في الارض جميعا (مائدہ:٧٢) “ ﴿بے شک کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا بے شک وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجئے پھر کون اختیار رکھتا ہے۔ اللہ پر کچھ بھی اگر چاہے کہ ہلاک کرے۔ مسیح بن مریم اور ماں کو اس کی اور جو کچھ زمین پر ہے سب کا سب۔﴾ یعنی جبکہ نصاریٰ نے یہ کہا کہ مسیح ابن مریم بھی خدا ہے۔ اس وقت ارشاد ہوا کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دے کہ اگر مسیح ابن مریم کو مارنے کا ارادہ کرے۔ ساتھ اس کی ماں اور کل زمیں والوں کے تو کون روک سکتا ہے۔
٩٤
پس ظاہر ہے کہ یہ آیت کریمہ صاف بتلا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے مارنے کا خداوند مالک الملک نے ارادہ بھی نہیں کیا اور اگر قادیانی کے مذکورہ اصول کو تسلیم کرلیا جاوے۔ تو لازم آتا ہے کہ حضرت مسیح کی ماں یعنی حضرت مریم بھی ابھی تک نہیں مری تھیں۔ حالانکہ حضرت مریم کا مرجانا قطعی ہے۔ جس طرح کہ الفاظ ان اراد ان یھلک المسیح کا مفاد بھی قطعی ہے کہ مسیح ابن مریم پر ابھی موت وارد نہیں ہوئی۔
اسی وجہ سے بیضاوی وغیرہ نے بوقت رد نصاریٰ اس آیہ سے یوں استدلال کیا ہے ۔ کہ مسیح کا سایہ ممکنات کی طرح قابل فنا ہونا۔ یہ آیت بتلا رہی ہے اور جو قابل فنا ہو وہ قابل الوہیت نہیں۔ پس یہ آیہ مبارک نہایت صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم پر ابھی موت وارد نہیں ہوئی ہے اور یقین ہے کہ یہ آیت مبارکہ اس افادہ میں ایسی قطعی الدلالت ہے کہ اس میں سرمو تاویل کی گنجائش مرزا قادیانی کے لئے نہیں ہے۔
اے ناظرین اب غور فرمائیے کہ ماقبل و مابعد و ربط و قرینہ وغیرہ آیت کا قادیانیوں کو کچھ خیال نہیں۔ جس کو ہم واضح طور پر سابق تحریر کر چکے ہیں۔ کہ یہ اپنے خیال واوہام کو اصل ٹھہرا کر اس پر آیت کو موزوں کرتے ہیں۔ جو خلاف اسلام ہے۔ اس آیت کے ماقبل آیتوں میں مذکور ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں نبی برابر بھیجے۔ مگر وہ شرارت سے باز نہ آئے۔ بعض پیغمبروں کی تکذیب کی بعض کو قتل کر ڈالا۔
حق سبحانہ و تعالیٰ نے پھر رحم فرمایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اصلاح کرنے واسطے آگئے۔ مگر وہ لوگ پھر بھی اندھے اور بہرے ہوگئے۔ یہود تو حضرت کی توہین و تکذیب کرنے لگے رہے۔ نصاریٰ وہ بھی حد سے بڑھ گئے اور یہ دونوں حضور نبی عربی پیغمبر کے آنے سے منکر ہو کر کہیں کے نہ رہے۔
اور لگے مسیح ابن مریم کو خدا کہنے اور نیز حضرت مریم کو بھی خدا ٹھہرایا۔ یعنی بعضوں نے عیسیٰ ہی کو خدا کی خدائی دے دی اور بعضوں نے انہیں تیسرے حصہ کا شریک قرار دیا۔ بعضوں نے کہا کہ عیسیٰ اور مریم اور اللہ یہ اللہ ہیں۔
قولہ تعالیٰ : ”لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم (مائدہ: ٧٢) ”اور بے شک کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا بے شک اللہ وہی مسیح بیٹا مریم کا ہے“ اور جیسے فرمایا: ”ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ (مائدہ: ١١٦) ”یعنی اے عیسیٰ کیا تم نے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دونوں کو معبود بنالو
٩٥
اللہ کے سوا؟﴾ اور فرمایا ”لقد كفر الذين قالوا ان الله ثلث ثلثة ......... الخ (مائدہ:٧٣) ” ﴿اور بے شک کفر کیا جنہوں نے کہا بے شک اللہ تیسرا ہے۔ تین کا ......الخ۔﴾ تو پس ربط آیات ماقبل و مابعد وغیرہ سے صاف ظاہر ہے کہ تردید وعید کے بعد اللہ پاک نے پھر فہمائش شروع کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ومریم علیہ السلام کی حقیقت اور ان کی بشریت و عجز کے یہ ظاہر وجود بیان فرمائے ۔ ”ما المسيح ابن مريم الا رسول ...... الخ (مائدہ:٧٥) ”یعنی اس آیت مذکورہ بالا میں فرمایا نرے پیغمبر جس طرح اور انبیاء مقبول ومحبوب تھے۔ یہ بھی تھے جس طرح ان کی ذات سے عجائب وغرائب امور ظاہر ہوئے۔ ان سے بھی ہوئے۔ حضرت آدم بے باپ پیدا ہوئے۔
عصا حضرت موسیٰ کا اژدھا بن جاتا تھا۔ حضرت سلیمان کے تمام مخلوق مسخر پری دیو جانور ہوا سب مطیع تھے۔ حضرت عیسیٰ بھی بے باپ پیدا ہوئے۔ جس طرح دوسرے پیغمبر ایک معبود کی طرف خلق کو بلاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے بھی توحید کی تعلیم کی۔ انہیں تثلیث وشرکت خدائی سے کیا واسطہ اور ان کی ماں مریم صدیقہ بمعنی ولیہ مومنہ اللہ کے احکام کی تصدیق کرنے والی تھیں۔
یہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ خدائے غنی وقدیم کیوں کر ہوگئے۔ اے نبی محبوب اور اے حبیب مقبول آپ ملاحظہ فرمائیں ہم نے اپنی توحید اور الوہیت کی کیسی کیسی کھلی دلیلیں ان پر ظاہر کردیں اور جن کو وہ اپنے زعم باطل میں خدا سمجھے بیٹھے ہیں۔ ان کی بشریت اور حقیقت ہم نے بیان کی اس کے بعد آپ انہیں دیکھیں کہ کدھر بہکے جاتے ہیں۔ وہ کیا سمجھے اور ہم کیا سمجھاتے ہیں۔
آیت میں نصاریٰ کے حمق اور تثلیث کی ابطال پر مذہبی دلائل بیان فرمائے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ پاک قدیم کی یہ شان نہیں کہ عناصر مخلوق کثافت ونجاست سے مخلوط کو جزوذات بنائے۔ مخلوق عاجز ومضطر کی طرح سوئے، پیئے، کھائے۔ غرض آیہ مذکور کا مطلب تو یہ ہے۔ حق جو عرض کیا گیا اور قادیانی صاحب کا بیان بالکل خلاف واقع ہے۔ ناظرین اہل دل خود ہی انصاف فرمائیں گے۔
قولہ: ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئاً وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل: ٢٠، ٢١) ” ﴿جن کو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود پکارتے ہیں۔ وہ تو کچھ پیدا نہیں کرتے اور آپ پیدا شدہ ہیں۔ مردہ ہیں۔
٩٦
زندہ بھی تو نہیں اور نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ﴾
ناظرین جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی کروڑ عیسائی ربنا المسیح ربنا المسیح پکارتے ہیں......الخ۔
اقول
آپ کی سمجھوں پر کہاں تک آفریں کی جائے۔ اس میں بھی بوجہ تیرہ درونی کے وہی کچھ اندھیر ہے۔ جیسے کہ آیات گزشتہ میں۔ گل کھلائے ہیں۔ ہم آیت ”والذین یدعون من دون اللہ ...... الخ“ کے کب منکر ہیں۔ بے شک حضرت عیسیٰ من دون اللہ ہیں اور ان کو نصاریٰ ومشرکین وغیرہ ربنا المسیح بھی کہتے ہیں اور ہم کب ان کی موت سے انکار کرتے ہیں۔ تمام اہل سنت والجماعت نبی علیہ السلام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لیکر تا آن وقت بموجب قرآن وحدیث کے اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت عیسیٰ نزول فرمائیں گے اور مطابق حدیث عبداللہ بن عمرؓ کے پینتالیس برس دنیا میں رہ کر وفات پائیں گے۔ جیسے کہ ہم مذکورہ بالا سے ثابت کر آئے ہیں اور سنئے۔ ملاصاحب نے اس آیت میں بھی بوجہ قلت فہم غور نہیں کیا۔ قبل آیہ مذکور اللہ پاک فرماتا ہے۔ ”افمن يخلق كمن لا يخلق افلا تذكرون (نحل:١٧)“ کیا پس جو پیدا کرتا ہے۔ مثل اس کی ہے۔ جو نہیں پیدا کرسکتا۔ پس نہیں غور کرتے۔ ﴾
فائدہ: کیا وہ ذات پاک جو زمین و آسمان موجودات پیدا کرے۔ وہ اس کی مثل ہوگا جو کچھ پیدا نہ کرسکے۔ کیا تم غور نہیں کرتے...... الخ ۔ بعد اس کے یہ فرمایا ”والذین یدعون من دون اللہ ...... الخ (نحل:٢٠)“ اور جسے پکارتے ہیں سوائے اللہ کے وہ نہیں پیدا کر سکتے کچھ بھی اور وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔ مردے ہیں۔ غیر زندہ اور کچھ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ﴾ یعنی یہ مشرک خدا کے سوا جن کی پرستش کرتے ہیں وہ کچھ پیدا کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔ بلکہ خود مخلوق ہیں۔ بے روح ہیں۔ زندہ نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ کب زندہ کئے جائیں گے۔
(پس جس کی یہ حقیقت ہے وہ کیوں کر معبود بننے کے قابل ہوسکتا ہے؟)
چونکہ کفار کے معبود مختلف اقسام کے تھے۔ بعض جماد جیسے بت وغیرہ بعض ذوی العقول جیسے فرشتے جن وانس بعض حیوان جیسے ہندو وغیرہ بعض جانوروں و دریا درخت و چاند وسورج وغیرہ کو پوجتے ہیں اور بعض انسانوں نے خود اپنے آپ کو خدا کہلایا جیسے فرعون شداد نمرود وغیرہ جو بحیات اس دنیا میں موجود تھے اور لاکھوں آدمیوں نے خدا کہا اور حضرت عیسیٰ اس دنیا
٩٧
میں ہیں آسمان پر زندہ ہیں۔ ایک قوم نے ان کو بھی خدا کہا۔ پس سب کو اموات کیوں کہا۔ الجواب ...... خواہ باعتبار اکثر کے اموات فرمایا کہ اکثر یہ معبود غیر روح اور جماد ہیں خواہ اس لئے کہ یہ سب ایک دن مردہ ہو جائیں گے۔ خواہ یہ کہ قبل از وجود مردہ یعنی معدوم تھے اور پھر مردہ یعنی معدوم ہو جائیں گے۔ پس قادیانیوں کا اس آیہ میں حضرت عیسیٰ کی نسبت بھی ایسا خیال فاسد کرنا باطل ہو گیا۔ موت ثابت نہ ہوئی۔
قولہ: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آنحضرت کی وفات پر آیت ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران: ١٤٤)“ پڑھی جتنے صحابہ موجود تھے سب نے آیت سے یہ استدلال کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پہلے سب کے سب رسول گزر گئے۔ یعنی وفات پا گئے۔ اس جگہ گزر گئے سے زندہ و مردہ دونوں طرح سے گزر گئے۔ مراد ہوتی تو تمام صحابہ کا اس استدلال کو قبول کرنا اور یہ اعتراض نہ کرنا۔ اس سے حضرت عیسیٰ اور حضرت ادریس مستثنیٰ ہیں اور آپ کا یہ کہنا کہ زندہ اور مردہ دونوں طرح سے گزر گئے۔ جائے تعجب ہے۔ ...... الخ ۔
قول
اس آیت سے صرف ماقبل انبیاء جو ہوئے ان کا ذکر جیسا اور انبیاء سے فرمایا تھا۔ ویسا ہی آپ سے بھی فرمایا گو وہ کسی حالت میں ہوں گزشتوں کے احکام پیغام رسانے کا ذکر ہے۔ ہاں ہاں آیہ مابعد کے استدلال کی البتہ ضرورت تھی۔ جو بشمول اس کے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پڑھی کیونکہ آپ لوگوں کو شان نزول اس آیہ کی معلوم نہیں ہے۔ اس آیہ کا نزول بوقت جنگ احد ہوا تھا۔ جبکہ لڑائی بگڑی اور فوج درہم و برہم ہوئی۔
اور شیطان نے یہ اڑا دیا ۔ ان محمد قد قتل ۔ محمد ﷺ شہید ہو گئے۔ اس خبر وحشت کے اثر سے رہے سہے ہوش و حواس جاتے رہے۔ غرض کچھ لوگ کہیں گئے کچھ متفرق طور پر لڑتے رہے۔ کچھ میدان میں جمے رہے۔ کہ حضور ﷺ کی تلاش کرتے رہے۔ مگر حضور ﷺ نے اپنے مقام سے قدم نہ سرکایا کفار متواتر حملے کرتے اور آپ کے جان نثار ان کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے۔
وہ جان نثار جو اس شمع رسالت کے پروانہ ہو رہے تھے۔ چودہ سے تیس تک شمار میں آئے ہیں۔ غرض یہ امر مشہور ہو گیا تھا کہ حضور شہید ہوئے۔ بعض منافق کہنے لگے اگر آپ نبی ہوتے تو قتل نہ کئے جاتے اور بعض کمزوروں نے کہا کہ آؤ پہلے دین کی طرف پھر جائیں۔ کسی نے ابو
٩٨
سفیان کی طرف التجا کرنی چاہی۔ مگر اصحاب جان نثار مہاجرین وانصار کہتے تھے کہ اگر رسول ﷺ شہید ہوئے تو تم بھی اسی پر لڑو جس پر وہ لڑے۔ چنانچہ انس بن نضر نے کہا کہ اے لوگو۔ اگر محمد ﷺ قتل ہوئے۔ تو محمد ﷺ کا رب قتل نہیں ہوا۔ پس قتال کرو جس پر قتال کیا رسول اللہ ﷺ نے ۔ اے اللہ میں تیرے حضور میں عذر کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ پھر تلوار میان سے لی اور اس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے۔ انصار مرتے جاتے اور وصیت کرتے اے انصار وہ عہد یاد کرو جو تم نے عقبہ ثانیہ میں کیا تھا اور جان و مال حضور پر فدا کرو۔ حضرت علی کا یہ حال تھا کہ برابر لڑتے اور حضور کو میدان میں ڈھونڈتے۔
جب وہ جمال جہاں آرا نظر نہ آیا۔ آنکھوں میں اندھیرا ہو گیا۔ فرمانے لگے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ کہ حضور میدان سے ہٹ جائیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہماری شامت اعمال سے اس حبیب پاک کو اپنے آسمان پر اٹھا لیا۔ پھر تلوار کھینچ کر ہر طرف دشمنوں کو قتل کرنے لگے۔ دفعتاً ایک جانب سے وہ چہرہ نورانی نظر آیا۔
پھر پروانے کی طرح دوڑ کر قریب آگئے۔ الغرض اسی حالت میں حق سبحانہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ط افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئاً وسيجزى الله الشاكرين (آل عمران: ١٤٤) “ اور نہیں محمد ﷺ مگر پیغمبر بے شک گزر گئے۔ پہلے ان سے بہت پیغمبر آئے۔ پس کیا آپ مرجائیں۔ یا مارے جائیں۔ پھر جاؤ گے۔ تم اپنی ایڑیوں پر اور جو پھرے ایڑیوں پر اپنی پس نہ بگاڑے گا۔
اللہ کا کچھ اور اب عوض دے گا اللہ شکر کرنے والوں کو۔“ یعنی محمد رسول اللہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ آپ کے پہلے بھی بہت پیغمبر گزر چکے۔ تو جس طرح وہ دنیا سے چلے گئے۔ ان کا جانا بھی ضرور سمجھو۔ اگر آپ انتقال فرمائیں۔ یا شہید ہوں۔ تو کیا تم لوگ دین چھوڑ کر پرانی حالت پر ہو جاؤ گے۔ یہ ارشاد کہ محمد ﷺ رسول ہی ہیں۔ اس لئے ہوا کہ قاصد ضرورت تمام کر کے واپس جاتا ہے۔
حضرت جبرائیل بھی پیغام لاتے اور جاتے اور انبیاء بھی پیغام لائے اور گئے آپ بھی اللہ کے حضور میں جانے والے ہیں۔ پھر تعجب اور تردد کیوں ہے۔ اس جملہ آیہ میں پیغمبران جو
٩٩
بحیات و اموات و مقتول ہیں۔ سب شامل ہیں۔ جو تکمیل پیغام رسانی معینہ کرگئے۔ کہ اکثروں پر موت وارد ہوئی۔
جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام وحضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہما اور بعض قتل ہوئے۔ جیسے حضرت زکریا ویحییٰ علیہم الصلوٰۃ اور بعض پھر زندہ ہوکر واپس ہوئے۔ جیسے حضرت عزیر علیہم السلام اور بعض بحیات جیسے حضرت عیسیٰ وحضرت ادریس وحضرت الیاس وحضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام تو آپ کی نسبت بھی ان امور کو بعید نہ جانو۔ غرض رسل کا یہی کام ہی کہ پیغام پہنچائے اور چلا جائے۔
خواہ وہ پھر واپس آئے یا نہ آئے۔ یہ بااختیار مالک پیغام بھیجنے والے کے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عزیر وحضرت خضر و جبریل وحضرت ابراہیم وحضرت موسیٰ وحضرت زکریا ویحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر واقع ہوا۔
چنانچہ اگلی آیت ”افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران:١٤٤)“ سے ظاہر ہے کہ انبیاء بحیات کو مستثنیٰ فرما کر صرف اموات ومقتول کی طرف اشارہ فرمایا۔ کیونکہ خلت کے معنی اگر موت کے ہوتے تو لفظ مات کے جگہ لفظ خلت بس تھا پس ثابت ہوگیا۔ کہ معنی خلا کے موت نہیں۔ جیسا کہ ہم سابق ثابت کر چکے ہیں اور جیسا کہ افان مات او قتل کے مفہوم سے یہ مراد ہے کہ ابھی آپ زندہ ہیں۔ تو قد خلت پر بھی یہ ہی مراد اپنا کام دے گی اور حرف موت وقتل دونوں کا ذکر اس لئے کیا کہ اکثر پیغمبروں کو موت آئی اور بعض قتل بھی کئے گئے۔ تو کہیں کوئی ناقص الفہم انبیاء بحیات مستثنیٰ کو بھی نہ لے اڑے۔ جن کی تفصیل خلاصہ مذکور بالا ہو چکی ہے۔ در منثور مصعب عمیر نشان محمدی اٹھائے تھے۔
کفار ان پر جھک پڑے اور داہنا ہاتھ آپ کا شہید ہوا۔ آپ نے بائیں ہاتھ میں نشان لے لیا اور یہی آیت پڑھتے جاتے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ جب حضور اقدس ﷺ نے انتقال فرمایا اور صحابہ پر یہ حالت طاری ہوئی۔ جیسے جنگ احد میں بوجہ خبر شہرت موت بعض کے حواس بجا نہ رہے تھے۔ تو حضرت ابو بکر صدیق نے وہی قصہ جنگ احد اس وقت یاد دلایا کہ آپ کی وہ حالت نہیں ہے۔ جیسے کہ ہماری تمہاری حیات جسمانی جس سے جسم پر روح کا قبضہ وتصرف تھا۔ موت کے آنے سے اس طرح زائل ہوجاتی ہے۔ جیسے سایہ کے آنے سے دھوپ آپ کی حیات بھی موت کے آنے سے زائل ہوگئی ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ آپ کی حیات جسمانی جو آپ کی موت عرضی کے تلے دب گئی جو حس حرکت سے اسی طرح معذور ہوگئی ہے۔ جیسے
١٠٠
چراغ روشن کسی ہنڈیا میں بند ہوکر مکان میں افاضتہ نور سے معطل ہوجاتا ہے۔ پس آپ کی موت جو بحیات جسمانی ہوئی۔ اس قسم سے ہے نہ کہ مثل عوام الناس اس لئے آپ کا حیات النبی ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔ اب قادیانیوں کا وہ استدلال ہر طرح سے باطل ہوا کیونکہ اول تو خلا کے معنی موت نہیں جیسا ثابت ہوچکا ہے۔
دوم رسل سے وہ رسل مراد ہیں جن پر قتل اور موت وارد ہوگئی۔ جیسا کہ مابعد آیت اس پر دلالت کرتی ہے اور قرآن اور حدیث متواترہ نے ثابت کردیا کہ حضرت عیسیٰ کی توفی رفع کے ساتھ بحالت حیات ہوئی اور وہ اب تک زندہ ہیں۔ بلکہ آیت سورہ مائدہ نے جو سابق مذکور ہوئی۔ اس نے قطعا افادہ دیا کہ ابھی حضرت عیسیٰ مرے نہیں اور جو قادیانی معنی خلت کے موت کہتے ہیں۔ تو اس مقام پر جو ہماری اصلی معنی کی تائید ہی کیا کریں گے۔
قولہ تعالیٰ: ”قد خلت من قبلكم سنن (آل عمران:١٣٧) “ ﴿بے شک گزر گئے تم سے پہلے دستور۔﴾ اور سنتہ ”الله التی قد خلت من قبل ولن تجد لسنۃ الله تبديلا (الفتح:٣٠) “ ﴿رسم بڑی اللہ کی جو چلی آتی ہے۔ پہلے سے اور تو نہ دیکھے گا اللہ کی رسم بدلتی۔﴾ ”لايومنون به وقد خلت سنۃ الاولين (حجر:١٣) “ ﴿نہیں ایمان لاتے ساتھ اس کے اور تحقیق گزرگئی ہے۔﴾ یعنی رسم پہلوں کی۔ اب یہاں قادیانیوں کا سوائے قافیہ تنگ ہونے اور برید برید پکارنے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ پس نیم ملاں قادیانیوں کے ایسے چرپوز دلائیوں کا بیان کرنا۔ اہل نظر کے سامنے سوائے ندامت اٹھانے کے اور کیا فائدہ ہے۔ مگر وہ تو ایسے چکنے گھڑے ہیں۔
بقول
مردہ چاہے۔ دوزخ میں یا بہشت میں اپنے حلوے مانڈے سے کام۔ اب رہی یہ بات کہ جو مرزا قادیانی کا علماء دین کو یہودی و بدذات و ملعون و ظالم شیطان وغیرہ الزام سے نام لے کر گالیاں دینا اور اپنے وقت کے نو علماء منجملہ ان کے اکثر بوجہ متابعت رسول اللہ صلعم کی برکت سے مدارج فنا فی اللہ اور بقا باللہ تک پہنچے ہوئے ہیں۔
جیسے شیخ اللہ بخش سجادہ نشین حضرت شاہ سلیمان تونسویؒ اور حضرت شیخ غلام نظام الدین بریلوی اور حضرت مولوی احمد حسن صاحب امروہی اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ہیں۔ جن کو بایں الفاظ (جو تہذیب و انسانیت کے درجہ سے بہت پست اور گرے ہوئے ہیں) کہ
١٠١
ان نو علماء کا پچھلا جو اندھا شیطان اور غول گمراہ ہے۔ جس کو مولانا رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں۔ جو امروہی کی طرح بد بخت و ملعون میں سے ہے۔ (انجام آتھم ص ٢١ و مکتوب عربی ص ٢٥٤، ٢٥٥، خزائن ج ١١ ص ٢٥٤) تک میں تمام علماء متقدمین و متاخرین دجال کے یوں توہین کی گئی ہے۔ ایسے بدگمان شخصوں کی نسبت ہم سابق بہت کچھ تحریر کر چکے ہیں۔
ناظرین! اہل نظر کی نظر سے گزرا ہو گا اب ہم کو زیادہ تحریر کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ چاند پر خاک اڑانے سے تو چاند کا کچھ نہیں بگڑتا۔ مگر خاک اڑانے والوں کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ رہا ٹیڑھا مثال نیش کژ دم ۔ کبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا۔ پس ہم ان اقوال بزرگان پر ختم کرتے ہیں۔ گر خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنہ پاکان برد کار پاکان را قیاس از خود مگیر۔ گرچہ یکساں در نوشتن شیر و شیر۔ پس ایسے شخص پر عاقلوں کے موافق یہ شعر کافی ہے:
ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد
اب ناظرین رسالہ ہذا کو کامل یقین ہو جاوے گا کہ جو اشتہار ٢٩؍ رمضان المبارک ١٩٠٨ء میں علماء لدھیانہ نے شائع کیا تھا اور اشتہار غسل آتھم جو سید سکندر شاہ پشاوری حنفی نے مارچ ١٩٠١ء میں مشتہر کیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کسی کے مقابل نہ آئے۔ واقعی ان علماؤں کی تحریریں سب درست ہیں۔
بوجہ طوالت اس میں درج نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اصل اشتہارات سب کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ حوالہ کافی ہے۔ غرض انہیں علماء پنجاب لدھیانہ وغیرہ نے فتویٰ ١٣٠١ھ میں مرزا قادیانی مذکور کو دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کا جاری کر دیا تھا اور رسالہ نصرت الابرار و فیوضات مکی میں بحوالہ فتویٰ حرمین تحریر کر چکے ہیں کہ یہ شخص اور ہم عقیدہ اس کے اہل اسلام میں داخل نہیں اور اب بھی ان کا یہی دعویٰ ہے کہ یہ شخص اور جو لوگ اس عقائد باطلہ کو حق جانتے ہیں۔ شرعاً کافر ہیں۔
فتویٰ بہت درست ہے اور ہماری کلی تحریر سے بھی ناظرین حق پسند کو ثابت ہو گیا ہوگا کہ اب ان کے عقائد کفریہ میں کچھ کلام نہیں۔ فقط (اب بس) کیجئے اور جانے دیجئے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے۔ یہ تیری ہی عنایت رحمت کا سبب ہے کہ مجھ جیسے (ہیچمدان) نادان سے اس بطریق جدید قادیانی کے دعوے باطلہ و اوہام و سوالات وغیرہ کا دندان شکن جواب لکھوا دیا۔ تیرا شکر کس زبان سے ادا کروں۔ ہر بُن مو میں زبان ہو تو بھی ایک ادنیٰ سے احسان کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔ اے
١٠٢
میرے اللہ میری نیت تو ویسی ہی ہے۔ جیسا میں ہوں لئے ذریعہ آخرت کر دے اور اس تحفہ حقیرہ کی بدولت مجھ خوشنودی میرے نصیب کر پھر ان کے طفیل سے حبیب عالم کو شامل کر اور مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور تمام م مسرور کر اور ان گمراہان کو راہ پر لا۔ آمین ! ثم آمین!
اب ہم ایک آخری نصیحت عرض کرتے ہیں اول عنوانوں میں طریقہ راہ حق متقین ثابت کر چکے ہیں هدى للمتقين سے آیت ولكن لا يشعرون دعویٰ قادیانی محض باطل ہے اور طریقہ متقین اربعہ ائمہ یہ ہی لوگ راہ پر ہیں اپنے رب کی طر ”والذين يومنون بما انزل اليك وما انزل اولئك على هدى من ربهم واولئك هم ال لاتے ہیں۔ اس پر کہ اتارا گیا طرف تیری اور جو اتا رکھتے ہیں۔ وہ ہی راہ پر ہیں۔ اپنے رب کی طرف س اور یہ نہ فرمایا۔ وما انزل من بعدك صاف ظاہر ہے کہ قادیانی پر اترنا آیات قرآنی بوحی کے ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قرآن قادیانیوں کا ہادی نہی اگر چہ تقویٰ سے عام تقویٰ مراد ہے۔ یع عملی ہو یا اعتقادی پس جس درجہ کا تقویٰ ہے۔ اس چراغ کی ہے۔ جوان اور بوڑھا اپنی اپنی بینائی کے اندھے کو کچھ نظر نہیں آتا۔
سعدی
چشمۂ آفتاب
پس قادیانی و تابعین ان کے اس آیہ ک زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الف
١٠٣
میرے اللہ میری نیت تو ویسی ہی ہے۔ جیسا میں ہوں۔ تو اپنے کرم سے اس کو قبول فرما کر میرے لئے ذریعہ آخرت کر دے اور اس تحفہ محقرہ کی بدولت حضرات اہل بیت اور صحابہ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی میرے نصیب کر پھر ان کے طفیل سے حبیب پاک سید لولاک کی عنایت میں اس کمینہ عالم کو شامل کر اور مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور تمام مومنین واحباب وعزیز واقارب کو بخش کر مجھ کو مسرور کر اور ان گمراہان کو راہ پر لا۔ آمین ! ثم آمین !
اب ہم ایک آخری نصیحت عرض کرتے ہیں کہ گم گشتہ راہ کو غایت درجہ مفید ہے۔ ہم اول عنوانوں میں طریقہ راہ حق متقین ثابت کر چکے ہیں۔ اب : الم ذالك الكتاب لاريب فيه هدى للمتقين سے آخر ولكن لا يشعرون تک قطع نظر کیجئے تو صاف ظاہر ہو جاوے گا کہ دعویٰ قادیانی محض باطل ہے اور طریقہ متقین اربعہ ائمہ ہی صحیح ہے۔ کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے۔
یہ ہی لوگ راہ پر ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہ ہی نجات پانے والے ہیں۔ "والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون ط اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون (بقرہ:٤،٥)“ (اور جو ایمان لاتے ہیں۔ اس پر کہ اتارا گیا طرف تیری اور جو اتارا گیا۔ پہلے تیرے اور پچھلے دن پر ۔ وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہی راہ پر ہیں۔ اپنے رب کی طرف سے اور وہی نجات پانے والے ہیں۔)
اور یہ نہ فرمایا۔ وما انزل من بعدك یعنی جو بعد تیرے اترے گا۔ پس یہاں سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی پر اترنا آیات قرآنی بوحی یا الہامی محض باطل ہے۔ جو خلاف اس آیت کے ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قرآن قادیانیوں کا ہادی نہیں ہے۔
اگر چہ تقویٰ سے عام تقویٰ مراد ہے۔ یعنی ناقص ہو یا کامل یا فعل ہو یا عزم ونیت میں عملی ہو یا اعتقادی پس جس درجہ کا تقویٰ ہے۔ اسی درجہ کی ہدایت ہوگی۔ قرآن کی مثال بعینہ چراغ کی ہے۔ جوان اور بڈھا اپنی اپنی بینائی کے موافق چراغ سے نورانیت حاصل کرتا ہے اور اندھے کو کچھ نظر نہیں آتا۔
سعدی
چشمہ آفتاب را چہ گناہ
پس قادیانی و تابعین ان کے اس آیہ کے مصداق ہیں:” فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله ج وما يعلم تاويله
١٠٣
الا اللہ ...... الخ (آل عمران:٧) ”پس وہ جن کے دلوں میں کجی ہے۔ در پے ہوئے ہیں اس کے جو متشابہ ہے۔ قرآن سے بطلب فتنہ و طلب تاویل اور نہیں جانتا تاویل ان کی مگر اللہ ...... الخ ۔﴿
یعنی جن کے دلوں میں کفر و نفاق یا عصبیت کی کجی ہے۔ متشابہات کے در پے ہو جایا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ مخالف اصول و مذہب مقبول کے کوئی نئی بات نکال کر بغرض افتخار خواہ فتنہ و تزلزل برپا کریں اور ان کی تاویل نکالیں تا کہ ہمارے نام اور علم و فہم کی شہرت ہو۔ یعنی جسے بڑے بڑے علماء نہ سمجھیں۔
ہم نے حل کیا اور کیا عمدہ عمدہ نئے نکات نکالے۔ انہیں اس کوشش میں تاویل مقصود ہوتی ہے۔ اصلاح عوام یا فہم قرآن ہی غرض نہیں۔ اس لئے فرمایا کہ کوشش خواہ بطلب فتنہ ہوتی ہے۔ خواہ بطلب تاویل اور حال یہ ہے کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بڑے پکے علم والے کہتے ہیں۔
یہ متشابہ اور محکم سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ ہم سب پر ایمان لائے۔ ہم سمجھے یا نہ سمجھے غرض مخاطبین ان آیات میں غور فرمائیں تو یقین ہے۔ بفضل الہی ضرور ایمان لائیں گے۔ اب مکرر دعا کرتا ہوں۔
یا اللہ تیرا شکر ہے یہ تیری ہی عنایت ہے کہ مجھ جیسے ہیچمدان اور نادان سے دعویٰ و اوہام باطلہ فرقہائے جدیدہ قادیانیوں کے جواب لکھ دیئے۔ تیرا شکر کس زبان سے ادا کروں۔ ہر بن موئے تن زبان ہو پھر بھی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ احسان کا شکر ادا نہیں ہوسکتا۔ اے میرے رب میری نیت تو ویسی ہے جیسا میں ہوں تو اپنے کرم و فضل سے اس کو قبول فرما، کہ میرے لئے ذریعہ آخرت کر دے۔
اور اس تحفہ محقرہ کی بدولت حضرات اہل بیت اور صحابہ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی میرے نصیب کر پھر ان کے طفیل سے حبیب پاک سید لولاک کی عنایت میں اس کمینہ عالم کو شامل کر اور مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور تمام مومنین و احباب و عزیز و اقارب کو بخش کر مجھ کو مسرور کر اور ان گمراہان کو راہ پر لا۔ آمین ثم آمین فقط
تکفیر کے فتوے
اور فتویٰ دیگر تمام علماء مدارس تکفیر منکر عروج جسمی و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور جناب مولانا مولوی قاضی عبداللہ صاحب باہتمام سید محمد محی الدین صاحب در مطبع محمدی متعلقہ ١٠٤
مدرسہ محمدی واقع مدراس میں ماہ محرم ١٣١١ھ میں طبع ہوکر شائع ہوا ہے۔ کہ ایسا اعتقادی شخص بشرط ثبوت عقل وعدم جنون بیشک کافر ومرتد وزندیق ہے اور جس نے اس کی تابعداری اور تصدیق کی وہ بھی مرتد ہے۔
کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے جسم سے آسمان پر جانا اور وہاں زندہ رہنا پھر آخیر زمانہ میں اتر آنا اور امام مہدی کے ساتھ ملنا اور دجال لعین کے جو الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ اس کو قتل کرنا۔ ان امور سے ہیں جن پر ایمان لانا واجب ہے اور اس میں شک کرنا کفر وارتداد ہے اور یہی عقیدہ اہل سنت کا ہے۔
اس میں کسی ایک اہل سنت کو خلاف نہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور ان کا جسم شریف زمین پر رہ گیا اور فقط ان کی روح آسمان پر گئی۔ یہ زعم کرنا۔ نصرانی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ”بل رفعه الله اليه“ اور فرمایا ”ورافعك الی“ وہ نص قطعی ہے۔ عیسیٰ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے میں اور جو فرمایا ان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته اور فرمایا وانه لعلم للساعة اس میں دلیل ظاہر ہے ان کے نزول پر اور اس مضمون کی بہت احادیث صحیحہ بھی آئی ہیں جو حد تواتر کو پہنچی ہیں۔ یہ صرف خلاصہ برائے معائنہ ناظرین لکھا گیا۔ جس کو مفصل کیفیت دیکھنی ہو۔ فتویٰ منگا کر تسلی کرے۔ کیونکہ وہ بجائے ایک رسالہ قابل دید ہے۔ فقط!
اطلاع ضروری
ہمارے رسالہ کے بیانات سے ناظرین کو بخوبی واضح ہو چکا ہوگا کہ مرزا تو اپنے فلسفہ کا متبع اور پیرو ہے۔ جس کو قرآنی فلسفہ واقعی طور پر بالکل بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ اب ان کے چیلے اپنے گرو سے دوچار گز اونچے بلند پروازی کر رہے ہیں اور مثل روافض وخوارج کے نص قرآن کی قطع و برید پر کمر باندھی ہے۔
یعنی آیت کا اول و آخر چھوڑ کر اپنی مطلب برآری کے لئے آیہ کا ایک فقرہ لے لیا اور اسی سے اپنے دعوے کے لئے تاویل گھڑ لی۔ چنانچہ ایک بے اصل رسالہ سبل مصفےٰ نام جو ان تہی مغزان باطل پرست یعنی مرزائیوں کے لئے مایہ ناز بلکہ سرمایہ ناز افتخار ہے۔ اس کا شاہد ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ نصوص قرآنی میں اس قسم کی کارگزاری کرنے والے انشاء اللہ تعالیٰ (مثلہ) کئے جائیں گے۔
١٠٥
لہٰذا عام مسلمانوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مرزائی صاحبوں کے دام تزویر میں نہ پھنسیں اور اس بے اصل کتاب یعنی عسل مصفےٰ پر جو بظاہر بڑی ضخیم ہے۔ اصلاً توجہ نہ فرمائیں کیونکہ جب مرزا قادیانی کے جدید طریق اور ان کے دعاوی باطلہ کی اصل بنیاد ہی اکھڑ گئی۔ تو ان کے چیلوں کی یہ طرزِ تحریر مثل خوارج و روافض کے باطل ہے۔ جو قابل جواب نہیں کہ قرآن میں خلافِ قرآن و جمہور بیہودہ درائی کرنا کفر ہے۔ مرزا قادیانی کا تو قلع قمع ہو گیا۔ مگر ان کے چیلے سپر تھامنے کو تیار۔
بقول
التقریظ
”نحمدك يا من أنزل علينا الكتاب المعجز الفصيح۔ ونصلی علی من ارسل الينا النبی والامی الذی حسنه الصبیح فی العرب والعجم ملیح۔ وسبحانك يا من رفع الی السماء سيدنا ابن مريم المسيح۔ الذی نجئ من القتل والصلب القبيح۔ اما بعد فمرحباً لك ايها الموحد المتورع المتبع الكتاب والسنة اخی المكرم الحاج الحرمين الشريفين۔ الملقب باحمد حسين۔ صانك الله عن الشين فی الدارين۔ قد صنعت صنيعا منيعا وبنيت بناء رفيعا الذی بازاء صولته وجبروتہ تزلزلت وانهدمت دياراً كانت عمارتہ المبتدعة المحدثة شنيعاً قد قطعت شراك الشرك والكفر والطغيان بسكين السنة والقرآن واوردت البينة والبرهان علی موارد الوضاحت والبيان الذين ضرط من قرع صاختهما دجاجلت القطرب والهذيان وفرمن صحبتہما شياطين الانس والجان سعيت سعيا مشكورا وجعلت الالحاد والارتداد ھباء منثور فجزاك الله عنی ومن سائر المسلمين المعتصمين بحبل الله وسنت خاتم المرسلين الذی شانہ لا نبی بعدی۔ خير الجزاء الی يوم الدين۔ آمين۔ نصلی عليہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعين“
ابو ادریس احمد حسن شوکت مدیر شحنہ ہند میرٹھ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
السقرلم
الملقب
فتوحات م
برفرقه غ
مولانا مجتبیٰ رازک
ہے کہ مرزائی صاحبوں کے دام تزویر میں نہ جو بظاہر بڑی حجم ہے۔ اصلاً توجہ نہ فرمائیں کے دعوؤں باطلہ کی اصل بنیاد ہی اکھڑ گئی۔ تو لیے باطل ہے۔ جو قابل جواب نہیں کہ قرآن مرزا قادیانی کا تو قلع قمع ہوگیا۔ مگر ان کے
اند مگر اس کو عاقلاں خوب میدانند فقط
تاب المعجز الفصيح۔ ونصلى على ۔ الصبيح فى العرب والعجم مليح۔ نا ابن مريم المسيح۔ الذى نجى من حباً لك ايها الموحد المتورع المتبع الحرمين الشريفين۔ الملقب باحمد ن۔ قد صنعت صنيعا منيعا وبنيت و وتتزلزلت وانهدمت دياراً كانت عت شراك الشرك والكفر والطغيان ة والبرهان على موارد الوضاحت عاجلت القطرب والہذیان وفر من عيت سعيا مشكورا وجعلت الامجاد سائر المسلمين المعتصمين بحبل لا نبي بعدي۔ خير الجزاء الى يوم حابه اجمعين“ حررہ احمد حسن شوکت پدر شحنہ ہند میرٹھ
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
السقر لمن کفر
الملقب بہ
فتوحاتِ محمديہ
بر فرقۂ غلمديہ
مولانا مجتبیٰ رازی رامپوری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الفضل کی دروغ بافیاں دروغ گویم بروئے تو مناظرہ انچولی کے متعلق غلمدی جسارت
ہنگام صبح کہنے لگے کس ادا سے ”کیا؟“
فطرت کی ناز آفرینی بعض مرتبہ انسان سے ایسے محیر العقول کام کرا دیتی ہے کہ بصورتِ آخر جن کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا وقوع و فعلیت تو کجا مگر:
بعینہ یہی حالت ان لوگوں کی ہوتی ہے۔ جن کی تجویفات دماغ ماحول کے خلاف امید تاثرات سے ماؤف ہو کر وہ کر گزرتی ہیں جو انہیں نہ کرنا چاہئے تھا۔
آپ اسے تقاضائے جنوں سمجھئے یا رونمائی و خود فزائی کا انوکھا طریقہ بہر حال یہ امر واقعہ ہے کہ بعض دفعہ انسان ایسا بار عظیم اٹھانے کے لئے اپنے ناتواں شانے پیش کر دیتا ہے۔ جس کا تحمل ان کے تکلیف مالا یطاق بن جاتا ہے۔ بالکل یہی حالت الفضل ٥؍ نومبر ١٩٢٩ء مطابق ٢؍ جمادی الاخریٰ ١٣٤٨ھ سہ شنبہ کے فاضل نامہ نگار نام نہاد مجاہد کی ہے۔ آپ مناظرہ انچولی کے شکست خوردہ مناظر ہیں اور دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز کے مقولہ کی بناء پر ایک مقالہ بھی سپرد قلم فرماتے ہیں۔ جس میں غلمدیوں کی عاجزی اور ناتوانی اور اہل اسلام کی شجاعت و پامردی پر نوحہ کرتے ہوئے اعتراف کر رہے ہیں کہ جو شرائط دربارۂ مناظرہ انچولی ہم سے منظور کرائی گئیں۔ ان میں بڑی حد تک جبر و اکراہ کار فرما تھے۔
درافشانی فرماتے ہیں: ”شرائط مباحثہ میں دیوبندی علماء نے بے حد سینہ زوری اور خودسری سے کام لیا تھا۔“ مگر میں فاضل مقالہ نگار کو بتانا چاہتا ہوں کہ دیوبندیوں کی سینہ زوری نہیں ”هو القاهر فوق عباده“ کی قوت قاہرہ کا ظہور تھا۔ جس نے نمرود و فرعون کے مقابلہ میں سیدنا ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام سے سینہ زوری کرائی۔ جس نے کفرستان عرب و فارس میں سیدنا حیدرؓ و خالد بن ولیدؓ جیسے سینہ زور نبرد آزما وجود تخلیق کئے۔ جس نے غلمدیوں کی بیخ کنی کے لئے سرزمین انچولی میں بطل اسلام حضرت مولانا مولوی عبدالشکور صاحب لکھنویؒ ٢
اور سیدنا ابن شیرِ خدا علی المرتضیٰ (مولانا سید مرتضیٰ چاند پوریؒ) جیسے سینہ زور بھیجے اور کامیاب کیا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک!
بے شک ہمیں اعتراف ہے اور نہ صرف اعتراف بلکہ فخر ہے کہ ہم باطل کی طاغوتی قوتوں کے سامنے خودسر اور سینہ زور بنے اور تا وقتیکہ مسلم بازوؤں میں قوت ہے۔ وہ ہمیشہ دجل و کفر کی گردن زنی کے لئے باطل نما سینہ زوری کرتے رہیں گے۔ کاش فاضل نامہ نگار اس سنہری شذرہ کی رقم طرازی کے بعد اس پر نظر ثانی کر لیتے۔ کیونکہ وہ اس چند سطری مقالہ میں ایسی ناواقفیت سے کام لے رہے ہیں کہ گویا انہیں اپنے مضمون کے ماسبق و مالحق کی بھی خبر نہیں۔ پہلے کہتے ہیں کہ شرائط مناظرہ میں بے حد سینہ زوری سے کام لیا۔ خیر وہ سینہ زوری تھی یا خودسری بہر حال جو چاہا وہ منوا لیا۔
اسلام کی پہلی فتح مبارک ہو!
مگر فاضل ذرا یہ بھی تو بتا دیجئے کہ شرائط کو جبریہ منوانے کے وقت وہ ظالم دست و بازو کتنے آدمیوں کے تھے؟ میں بتاتا ہوں کہ وہ اسلام کے دو فرزندوں کے کفر شکن دست و بازو تھے۔ جنہوں نے عمر الدین مبلغ قادیانی دہلی اور عبدالحمید سیکرٹری غلمدی دفتر میرٹھ کی گردنوں کو زبردستی اپنے سامنے خم کرا لیا۔
مجاہد صاحب! ذرا انصاف فرمائیے۔ دو غلمدی و مسلم افراد سے ایسی منہ کی کھائیں کہ بعد تک روتے رہیں اور باوجود مساوات کے اعتراف شکست کر لیں۔ مگر اس وقت جبکہ بقول جناب پندرہ علماء دجل و کفر کی گردن زنی کے لئے جائیں تو ایسے فرار ہوں کہ پشت پھیر کر بھی نہ دیکھیں۔ (جزاک اللہ) نام خدا مجاہد ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔
یہ اسی دجال کا ظلی و بروزی فیضان ہے کہ اذناب کی چند سطور بھی کذب وافتراء سے پاک نہیں نظر آتیں۔ فاضل مقالہ نویس سینہ زوری و خودسری کی فہرست میں پہلی دفعہ دکھاتے ہیں۔ ہر سہ مضامین میں مدعی قادیانی جماعت کا فریق ہوگا۔ ’’خوب! مدعی نبوت خود تشریعی و غیر تشریعی ظلی و بروزی حقیقی و مجازی کے مقسم آپ اور ثبوت کا مطالبہ ظلم وتعدیٰ‘‘
اب تک نہ ملا ہوگا سائل کو جواب ایسا
٣
فاضل مجاہد! میں بتاتا ہوں کہ جدید معنی کا قائل مدعی ہوتا ہے۔ مرزا علیہ ما علیہ خدا اور رسول ﷺ و تابعینؒ، محدثینؒ ومفسرینؒ، اسلاف و کبارؒ، متقدمینؒ و متاخرینؒ کے اجماعی مسئلہ کی خلاف ورزی میں ”انا خاتم النبيين لا نبي بعدی“ کے خود ساختہ معنی بیان کرتا ہے۔ خود ہی انصاف کیجئے۔ بار ثبوت ہم پر ہے یا آپ پر! یہی حواس باختگی؟ معلوم ہوتا ہے مضمون نگاری کے وقت تک سراسیمگی مستولی ہے۔ ”ہاں۔ ہاں۔ ہے اور اس وقت تک رہے گی۔ جب تک سیدالاولین خاتم الانبیاء والمرسلین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے محترم حمی میں خردجال کے داخلہ کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے رہوگے۔“ آج تو ختم النبوۃ کے معنی کا مدعی ہمیں ٹھہراتے ہو۔ کل صداقت مرزا اور وفات عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام پر دلائل بھی پوچھ لیجئے۔
تمہیں آئیں گی شوخیاں آتے آتے
سینہ زوری کی دوسری دفعہ ملاحظہ ہو۔ ”قرآن وحدیث سے استدلال کے وقت وہ معنی صحیح ہوں گے۔ جو سلف نے کئے وغیرہ ذالک۔“ عیب نماید ہنرم در نظر ماشاء اللہ آپ تو عقل سے جہاد کررہے ہیں۔ انصاف فرمائیے! یہ رحم وکرم ہے یا جبر وتعدی۔ ارے جناب تشدد تو اس وقت ہوتا جب ہم یہ شرط منوا لیتے کہ قرآن وحدیث کے معنی وہی معتبر ہوں گے۔ جو دیو بندی حضرات کریں۔ مگر آپ تو اسلاف ہی سے بیزار نظر آرہے ہیں۔ کیسی خوشی ہوئی ہوگی نبی اکرم روحی فداہ ﷺ کو یہ سن کر کہ چودھویں صدی کے غامدی علماء میرے بیان کردہ معانی قرآن کو خودسری اور ان پر عمل کرنے والے نفوس قدسیہ کو خود سر سینہ زور بتارہے ہیں؟
”صدق الرسول الامى ﷺ ، علماؤهم شر من تحت اديم السماء“ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب دیو بندی علماء کے بیان کردہ معانی قرآن وحدیث غامدیوں پر حجت نہیں اور نہ غامد یوں کے بیان کردہ علماء دیو بند پر، تو آپ ہی بتائیں کہ وہ کون سے نفوس ہیں۔ جن کی بیان کردہ معانی ہر دو فریق کے لئے حجت ہوں؟
اسلام کی دوسری فتح مبارک ہو!
اس کے بعد فاضل مقالہ نگار گوہر فشاں ہیں۔ ”اس قسم کے شرائط لگانے سے دیوبندی علماء کا خیال تھا کہ اول تو احمدی مناظر آئیں گے ہی نہیں اور اگر آئے تو ایسی شرائط تسلیم نہ کریں گے اور اگر باوجود ایسی شرائط کے مناظرہ کے لئے آمادہ ہوں گے۔ تو فتح دیوبندیوں کو ہوگی۔“ خوش
٤
گفتی بلکہ در مفتی جو کچھ فرمایا بجا فرمایا۔ کیا اتنا پوچھ سکتا ہوں کہ ایسی شرائط لگانے کے بعد علماء دیوبند کو ایسا خیال کیوں ہو گیا تھا۔ یا جناب نے علماء دیوبند کے متعلق ایسا ناطق فیصلہ کیوں فرمایا؟ فیہ مافیہ۔
آپ بھی جانتے ہیں کہ یہ شرائط اور خصوصاً شرط نمبر ٣ مرزائی صاحبان کے بس کی بات نہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ آپ کے تمام اندیشے اتمام حجت کے لئے فرداً فرداً پورے ہو کر رہے۔ اول تو تاریخ مقررہ پر مغرب کے وقت تک شرائط طے کرنے کے لئے ہی نہ آئے۔ پھر آئے بھی تو کہا کہ شرائط بذریعہ تحریر طے ہوں گی۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ مقابلہ کے بعد ثبات قدمی کارے دارد۔
جب سمجھنا ہو سمجھ لیں سرِ میداں ہم سے
خدا خدا کر کے مغرب کے قریب میدان میں آئے بھی تو پانچ گھنٹے ضائع کر دیئے۔ مگر وہ تو بقول مجاہد صاحب مقابل کے بازو ہی اس قدر مضبوط تھے کہ سینہ زوری سے جو کچھ چاہا منوا لیا اور غلمدی تک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے سوا کچھ نہ کر سکے۔
الفضل ما شهدت به الاعداء
اب رہی کیفیت مناظرہ اور اس کا انجام تو وہ پوچھو انچولی کے زمین و آسمان سے یا ساکنان انچولی سے وہ بتائیں گے کہ کیا ہوا۔ اگر ان سے سوال کرنے کی جرات نہ ہو تو پوچھو اپنے ضمیر سے وہ جواب دے گا اور اگر اس سے پوچھتے ہوئے بھی حیا دامن پکڑتی ہے۔ تو پوچھنا میرے ان چند مطالبات سے جو میں اس تحریر کے اخیر میں عرض کروں گا۔ مگر آپ کی تو وہی مثل ہے کہ: ”پہلے تو مار لیا اب کے تو مارو۔“
ذلیل ہو کے بڑے افتخار سے اٹھا
”فاضل مضمون نویس علم وفضل کا کیسا بے نظیر ثبوت دے رہے ہیں۔ نام خدا آپ مناظر ہیں اور عنوان مقالہ قائم کرتے ہیں۔“ (دیوبندیوں سے متعدد مطالبات) خود ہی مدعی خود ہی مطالبات۔
٥
مجاہد صاحب! عقل سے اس درجہ جہاد درست نہیں آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مدعی مطالب ہوتا ہے۔ یا مدعی علیہ ۔ شرم۔ شرم۔
اس کے بعد فاضل مقالہ نگار مطالبات کی فہرست دیتے ہیں۔ جو ١٦ ہیں۔ گویا ہمارے محترم مضمون نگار کو اس کا اعتراف ہے کہ پانچ دن میں محض ١٦ مطالبات لا جواب رہے اور باقی کا جواب دے دیا گیا۔
مگر دیانت تو اس کی مقتضی تھی کہ جہاں بزعم خود لا جواب مطالبات کی فہرست پیش کی تھی۔ وہیں ان مطالبات کی فہرست بھی پیش کر دیتے جن کے جوابات ہو چکے ہیں۔ چنانچہ میں محترم مناظر کے منقولہ مطالبات کے ان عجوبہ کی یاد دہانی کرتا ہوں۔ جو بطل اسلام حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنوی مدظلہ اور مولانا منظور احمد صاحب سلمہ سنبھلی نے اسٹیج ہی پر دے دیئے تھے۔ اس کے بعد اپنے ان مطالبات کی فہرست پیش کروں گا۔ جو آج تک لا جواب ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک لا جواب رہیں گے۔ بحیثیت مدعی علیہ مطالبات پیش کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے۔ نہ کہ آپ کو چنانچہ میں اپنے پیش کردہ مطالبات کے متعلق چیلنج کرتا ہوں کہ اگر غامدی مذہب میں کچھ بھی حقانیت وصداقت ہے تو صاحبزادہ مرزا بشیر محمود سے مشورہ کر کے (اور کبھی مرزا کی قبر پر بیٹھ کر ) ان چند مطالبات کا جواب دے دیں۔
اور براہ مہربانی الفضل کا وہ پرچہ میرے پاس دیو بند بھی بھیج دیں جس میں ان مطالبات کے جواب ہوں۔
مگر میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
قیامت تک جواب نہیں دے سکتے۔ ”لو كان بعضكم لبعض ظهيرا وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكافرين“
بس اب پیر خرد اقبال کرتا ہے کہ جاہل ہوں
- نمبر ١ ...... سلف صالحین نے خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے معنی سے غیر تشریعی نبی کی آمد کو مستثنیٰ
٦
قرار دیا ہے۔ یہ وہ مطالبہ ہے جسے راس مطالبات بنا کر کرتے ہوئے شرائط پر نظر ڈالی اور نہ مضمون لکھتے وقت ما دوسرے کے مقابلہ میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ پیش اولین یہ تھا کہ ایسی آیات قرآنی و احادیث صحیحہ سے استد دی گئی ہو۔ کیا ایک آیت یا ایک حدیث بھی دعوے کے کر دیجئے۔ ابن عربی کی عبارت پیش کی تھی۔ جس کا اصطلاح میں نبوۃ غیر تشریعی کے وہ معنی ہی نہیں جو مرزا تشریعی ولایت کے ایک مرتبہ کا نام ہے۔ چنانچہ تصریح بم ”فاخبر رسول الله ﷺ ان الروی للناس فى النبوة هذا وغيره ومع هذا لا يط المشرع خاصة بحجز هذالاسم لخصوص و ج ٢ ص ٤٩٥) ”نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایا کہ (سچا) لوگوں کے لئے نبوۃ میں سے یہ جز رؤیا وغیرہ باقی رہ گیا اسم نبی بجز صاحب شریعت نبی کے اور کسی پر نہیں بو (معین) تشریعی ہونے کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بند
تصنیف را منصف نیکو کند بیاں ۔ شیخ اکبر ہیں۔ وہ تو اس شخص پر اطلاق اسم نبوت و نبی کو بھی ممنوع لفظ تشریعی کے سوا کسی پر بولا ہی نہیں جاسکتا۔ شیخ فرما فرماتے ہیں کہ کامل نبوت باقی ہے۔ اگر کسی گھر میں نمک نمکین کھانے موجود ہیں۔ اسے اختلال دماغ کے سو و المسلمین مولانا محمد قاسم صاحب کی تحذیر الناس والی عبا تھا اور لطف یہ کہ اسی کتاب سے دیا گیا جس سے آپ الناس ص ١٠: ”اگر اطلاق و عموم ہے تب تو ثبوت خاتم زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے اور ادھر تصریحات هارون من موسى الا انه لانبي بعدی اوک النبيين سے ماخوذ ہے۔ اسباب میں کافی ہے کیونکہ
٧
قرار دیا ہے۔ یہ وہ مطالبہ ہے جسے راس مطالبات بنا کر پیش کیا گیا۔ مگر فاضل نے مطالبات پیش کرتے ہوئے شرائط پر نظر ڈالی اور نہ مضمون لکھتے وقت ملاحظہ ہو شرط نمبر ٢۔ شرط نمبر ٢ ہر ایک مناظر دوسرے کے مقابلہ میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ پیش کرے گا۔‘ جس کی رو سے آپ کا فرض اولین یہ تھا کہ ایسی آیات قرآنی واحادیث صحیحہ سے استدلال کرتے جس میں نبی غیر تشریعی کی خبر دی گئی ہو۔ کیا ایک آیت یا ایک حدیث بھی دعوے کے مطابق پیش کی اگر کی ہو تو اب یاد دہانی کردیجئے۔ ابن عربی کی عبارت پیش کی تھی۔ جس کا جواب وہیں دے دیا گیا تھا۔ کہ ان کی اصطلاح میں نبوۃ غیر تشریعی کے وہ معنی ہی نہیں جو مرزا نے لئے۔ بلکہ ان کے یہاں نبوت غیر تشریعی ولایت کے ایک مرتبہ کا نام ہے۔ چنانچہ تصریح بھی سنادی گئی تھی۔ پھر ملاحظہ فرمائیے۔
”فاخبر رسول اللہ ﷺ ان الرویا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس فی النبوۃ ھذا وغیرہ ومع ھذا لا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فحجر ھذالاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٣٩٥) ”نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایا کہ (سچا) خواب اجزاء نبوت میں سے ایک جز ہے تو لوگوں کے لئے نبوۃ میں سے یہ جز رویا وغیرہ باقی رہ گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی نبوت کا لفظ اور اسم نبی بجز صاحب شریعت نبی کے اور کسی پر نہیں بولا جاسکتا۔ کیونکہ نبوت میں وصف خاص (معین) تشریعی ہونے کی وجہ سے اس نام (نبی) کی بندش کردی گئی۔“
تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں ۔ شیخ اکبر علیہ الرحمۃ اپنی مراد مرزا سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ تو اس شخص پر اطلاق اسم نبوت و نبی کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں اور علت بتاتے ہیں کہ نبی کا لفظ تشریعی کے سوا کسی پر بولا ہی نہیں جاسکتا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ نبوۃ ایک جز باقی ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ کامل نبوت باقی ہے۔ اگر کسی گھر میں نمک رکھا ہو تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ تمام شاہانہ نمکین کھانے موجود ہیں۔ اسے اختلال دماغ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ علی ھذا حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی تحذیر الناس والی عبارت کا جواب بھی اسی مجلس میں دے دیا گیا تھا اور لطف یہ کہ اسی کتاب سے دیا گیا جس سے آپ من گھڑت استشہاد کر رہے تھے۔ ملاحظہ تحذیر الناس ص١٠: ”اگر اطلاق وعموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے اور ادھر تصریحات نبوی ﷺ مثل انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی او کما قال، جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر
٧
اجماع بھی منعقد ہو گیا گو الفاظ مذکورہ بعینہ متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ با وجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسے تواتر اعداد رکعات فرائض وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔ اب دیکھئے کہ اس صورت میں عطف بین الجملتین اور استدراک اور استثناء مذکور بھی بغایت درجہ چسپاں نظر آتا ہے اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی اور نیز اس صورت میں جیسے قرآت خاتم بکسر التا چسپاں ہے۔ ایسے ہی قرآت خاتم بفتح التاء بھی نہایت درجہ کو بے تکلف موزوں ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جیسے خاتم بفتح التاء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔
ڈوبنے جاؤ تو دریا ملے پایاب تمہیں
فاضل مناظر کیا اس عبارت کا کوئی جواب دیا گیا۔ مولانا نے اسی عبارت میں تو تمہارے بزعم خویش مایہ الناز استدلال (قرات بفتح الخاتم) کا بھی پول کھول دیا۔ اگر اس کا کوئی جواب دیا ہو تو میں دوسرا چیلنج کرتا ہوں کہ بجواب مطلع فرمائیے۔ دوسری عبارت مناظرہ عجیبہ ص ١٠٣ کی سنائی گئی تھی۔ جس میں خود مصنف علام مرزا کو کافر و دجال ٹھہرا رہے ہیں۔
ملاحظہ ہو۔ امتناع بالغیر میں کیسے کلام ہے۔ اپنا دین وایمان ہے۔ کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے کافر سمجھتا ہوں۔
(مناظرہ عجیبہ ص ١٠٣)
لیکن خیر اگر بالفرض والمحال ان سب عبارات کو لاجواب مان بھی لیا جائے۔ تو بھی فاضل مناظر ہی ملزم ہیں۔ کیونکہ ان کے سامنے ایک دو نہیں ٨٠ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء گرامی سنائے گئے تھے۔ جو ختم نبوت کے قائل ہیں اور کسی قسم کی تخصیص نہیں فرماتے۔ آپ نے کسی ایک صحابی یا تابعی کا بھی قول پیش کیا؟ اگر کیا ہو تو یاد دہانی فرمادیجئے۔
اور طرفہ یہ کہ شرائط میں شرط نمبر ٣ کے تحت میں تصریح کر دی گئی ہے۔ کہ سلف صالحین و ائمہ حدیث وتفسیر سے باتفاق یا بکثرت رائے جو معنے منقول ہوں گے۔ وہ ہی معتبر ہوں گے۔ انصاف سے کہئے کثرت کس طرف ہے۔ ارے جناب ہماری جانب نہ صرف کثرت بلکہ اتفاق و اجماع ہے۔ یاد کیجئے۔ شفاء قاضی عیاض و حجۃ الاسلام امام غزالی کی وہ عبارتیں جو بھرے مجمع میں باعلیٰ نداء سنائی گئی تھیں۔ ملاحظہ ہو علامہ قاضی عیاض اپنی کتاب شفاء میں فرمارہے ہیں۔
٨
”اخبر انه ﷺ خاتم النبيين ولا نبى بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به بدون تاويل ولا تخصيص فلاشك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعاً اجماعاً وسمعاً “ (شفاء قاضی عیاض ص ٣٦٢ مطبوعہ ہند)
﴿ آپ نے خبر دی کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ وہی بغیر کسی تاویل وتخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ جو اس کا انکار کریں اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔ (ص ٣٦٢) ﴾
دوسری عبارت الاقتصاد کی سنائی گئی تھی دیکھئے علامہ امام غزالی کیا لکھ رہے ہیں؟
”ان الامة فهمت من هذا اللفظ انه افهم عدم نبي بعده ابداً وعدم رسول بعده ابداً وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص ومن اوله بتخصيص فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لانه مكذب لهذا النص الذى اجمعت الامة على انه غير مؤل ولا مخصوص “
﴿ تمام امت نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ یہ آیت آنحضرتﷺ کے بعد مطلقاً کسی نبی یا کسی رسول کے پیدا ہونے کی نفی کرتی ہے اور تمام امت محمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے نہ تخصیص اور جس نے اس آیت کو تاویل کر کے خاص کیا تو اس کا کلام از قبیل ہذیان ہے اور اس کی یہ تاویل ہمیں اس سے نہیں روک سکتی کہ ہم اس کو کافر ہونے کا حکم لگا دیں۔ اس لئے کہ وہ اس آیت کریمہ کا مکذب اور منکر ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے۔ کہ نہ اس میں کوئی تاویل ہے۔ نہ تخصیص ﴾ کیا ان عبارات کا کوئی جواب دیا گیا؟ کوئی نہیں اور نہ دیا جا سکتا ہے؟
اسلام کی تیسری فتح مبارک ہو!
- ٢........ قرآن شریف کی آیات اور احادیث نبویہ جن سے امکان نبوت پر استدلال ہوتا ہے۔
ان کا کوئی ایسا مطلب بتاؤ جو خاتم النبیین کے مجوزہ معنی کہ (کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا) کی تصدیق کرتا ہو:
٩
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں!!
فاضل مجاہد ! یہ مطالبہ ہم سے ہو رہا ہے؟ ارے جناب ! یہ تو ہمارا مطالبہ آپ سے ہے جو دو روز تک رہا مگر جواب نہ دے سکے کہ کس آیت میں یہ تخصیص دکھا دو کہ نبوت غیر تشریعی کا سد باب نہیں ہوا۔ کیونکہ یہ آپ سے بحول اللہ والقوۃ تسلیم کرایا جا چکا ہے کہ نبوت تشریعی تو ختم ہو گئی۔ مگر نبوت غیر تشریعی باقی ہے۔ جتنی آیات آپ نے پیش کیں ان میں کہیں تخصیص دکھا دو ورنہ تعمیم تو خود ہی موجود ہے۔ کہ کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔
اللہ رے بدحواسی دعویٰ تو کرتے ہیں وقوع نبوت کا اور استدلال کرتے ہیں ان آیات سے جو ان کے نزدیک بھی امکان نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ فاضل مجاہد ! سمجھائیے ان نام نہاد مولوی فاضل کو کہ امکان کے لئے وقوع ضروری نہیں؟ کوئی آیت ایسی پیش کیجئے جو وقوع نبوت پر دلالت کرے اور نبوت بھی غیر تشریعی علاوہ ازیں کیا آپ نے ان آیات کو پیش کرتے ہوئے کسی مفسر کا قول بھی پیش کیا تھا۔ کیونکہ شرائط کی رو سے آپ کا فرض تھا کہ قرآن کے وہ معنی پیش کرتے جو اسلاف نے کئے۔ ملاحظہ ہو۔
- شرط نمبر ٣....... ”درحقیقت قرآن وحدیث کے وہی معتبر ہونگے۔ جو خود رسول اللہ ﷺ نے
بیان فرمائے یا صحابہ و تابعین وسلف صالحین وائمہ حدیث و تفسیر سے باتفاق یا کثرت رائے کے ساتھ منقول ہوں اور اگر کوئی ایسے جدید معنی بیان کئے جائیں جو سلف صالحین کیخلاف نہ ہوں۔ وہ قابل تسلیم ہوں گے اور جو معنی اجماع سلف کے خلاف ہوں۔ وہ مردود و الحاد سمجھے جائیں گے اور جو معنی جمہور کے خلاف ہوں وہ مقبول نہیں ہوں گے ۔“ یا اپنے بیان کردہ معنی کی تائید میں کسی صحابی تابعی مفسر محدث کا قول پیش کیا۔ کوئی نہیں اگر کیا ہو تو یاد دہانی فرمائیے۔ مگر آپ تو نبی کریم روحی فداہ ﷺ کے بیان کردہ معانی کو سینہ زوری و خودسری بتا رہے ہیں۔
” یھدیکم اللہ“ آپ تو خود ساختہ معنی پر اجماع کیا دکھاتے ۔ ہاں ! اہل اسلام نے بھرے مجمع میں شفاء قاضی عیاض و علامہ غزالی کی عبارتیں سنا کر بتا دیا کہ ختم نبوت پر بایں معنی اجماع ہو چکا ہے۔ کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ خود فیصلہ فرمائیے کہ شرط نمبر ٣ کی رو سے آپ اجماع سلف کے مخالف ہو کر مسلمان رہے یا ملحد و زندیق ؟ ارے جناب یہی تو وہ شرط ہے کہ جس نے قادیانیوں کو خون کے آنسو رلا دیا اور اعتراف کرالیا کہ ہم نے اہل اسلام کے دست و بازو سے مرعوب ہو کر وہ سب کچھ مان لیا جو انہوں نے منوایا۔
١٠
اسلام کی چوتھی فتح مبارک ہو!
- ٣....... خاتم النبیین کا الف لام اگر استغراقی ہے
دربارہ آمد مسیح کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ فاضل مجاہد یاد کیجئے وہ عبارت جو آپ نے ایک مفتری علی اللہ کرتے ہوئے پڑھی تھی۔ یعنی اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کت کہ خود مرزا علیہ ما علیہ تریاق القلوب میں اپنے کو خا اس سے پہلے تمام بنی آدم فنا ہو گئے۔ ایسی لایعنی بات کسی کے آخر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ کہ: ”میں خاتم الاولاد ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی
یہی معنی ہیں خاتم النبیین کے نبی کریم ہما پیدا ہوگا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو پہلے نبی ہیں جدید نبوت نہیں ملے گی ۔ ہوش کی دوا کیجئے۔ علاوہ گے۔ نہ بحیثیت نبی ۔ یعنی نبی تو ہوں گے مگر منصب آتا ہے تو عہدہ گورنری پر نہیں ہوتا۔ مگر گورنر ضرور تک نہیں۔ اگر کچھ کہا تھا تو میں تجھے چیلنج دیتا ہوں کہ وان ایک خاموشی میرے
اسلام کی پانچویں فتح مبارک ہو!
- ٤....... کوئی مفتری علی اللہ ایسا پیش کرو جو دع
رہا ہو۔ کیا یہ وہی مطالبہ نہیں کہ جس کا بڑے زور کامل کی عبارتیں سنائی گئیں تو نام نہ لیا۔ اگر وہ عبار دے سکتے ہیں تو دیں۔ ملاحظہ ہو ابن خلدون: ” ف بن عبدالملك من سنة سبع وعشرين و المهدي الاكبر الذى يخرج في آخر الز
اسلام کی چوتھی فتح مبارک ہو!
- ٣....... خاتم النبیین کا الف لام اگر استغراقی ہے اور ہر نبی کی آمد کو روکتا ہے۔ تو تمہارا عقیدہ
دربارۂ آمد مسیح کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ فاضل مجاہد اس کا جواب تو آپ سے خود دلایا جا چکا ہے۔ یاد کیجئے وہ عبارت جو آپ نے ایک مفتری علی اللہ کے دجل وافتراء پر پردہ ڈالنے کی سعی ناکام کرتے ہوئے پڑھی تھی۔ یعنی اربعین نمبر ٤، ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦ ملاحظہ ہو۔ ”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔“ اور نیز کیا آپ کو یاد نہیں رہا کہ خود مرزا علیہ ماعلیہ تریاق القلوب میں اپنے کو خاتم الاولاد لکھ چکا ہے۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ اس سے پہلے تمام بنی آدم فنا ہو گئے۔ ایسی لایعنی باتیں تو آپ کے منہ سے زیب نہیں دیتیں۔ کسی کے آخر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس سے پہلے تمام فنا ہو چکے۔ خود مرزا لکھتا ہے کہ: ”میں خاتم الاولاد ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی کامل انسان ماں کے پیٹ سے نہیں پیدا ہوگا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
یہی معنی ہیں خاتم النبیین کے کہ نبی کریم روحی فداہ کے بعد کوئی نبی ماں کے پیٹ سے نہیں پیدا ہوگا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو پہلے نبی ہیں اور نفی کی جارہی ہے نبوت ملنے کی۔ یعنی کسی کو جدید نبوت نہیں ملے گی۔ ہوش کی دوا کیجئے۔ علاوہ ازیں عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت امام تشریف لائیں گے۔ نہ بحیثیت نبی۔ یعنی نبی تو ہوں گے مگر منصب نبوت پر نہیں ہوں گے۔ مثلاً ایک گورنر اپنے گھر آتا ہے تو عہدہ گورنری پر نہیں ہوتا۔ مگر گورنر ضرور ہوتا ہے۔ ان جوابوں پر کوئی لب کشائی کی جرأت تک نہیں۔ اگر کچھ کہا تھا تو میں تجھے چیلنج دیتا ہوں کہ جواب مطلع فرمائیے مگر۔
اسلام کی پانچویں فتح مبارک ہو!
- ٤....... کوئی مفتری علی اللہ ایسا پیش کرو جو دعویٰ الہام پر مصر ہونے کے باوجود ٢٣ سال زندہ
رہا ہو۔ کیا یہ وہی مطالبہ نہیں کہ جس کا بڑے زور سے چیلنج دیا تھا؟ مگر جب ابن خلدون وابن اثیر کامل کی عبارتیں سنائی گئیں تو نام نہ لیا۔ اگر وہ عبارتیں یاد نہیں تو میں یاد دلاتا ہوں۔ اگر آپ جواب دے سکتے ہیں تو دیں۔ ملاحظہ ہو ابن خلدون : ”وكان ظهور صالح هذا في خلافة هشام بن عبدالملك من سنة سبع وعشرين من المائة الثانية من الهجرة ثم زعم انه المهدى الاكبر الذى يخرج فى آخر الزمان وان عيسى يكون صاحبه ويصلى
١١
خلفه وان اسمه فى العرب صالح وفى سريانى مالك وفى العجمى عالم وفى العبرانى روبيا وفى البر برى دربا ومعناه الذى ليس بعده نبى وخرج الى المشرق بعدان ملك امرهم سبعاً واربعين سنة ووعد انه يرجع اليهم فى دولة السابع منهم“
اور صالح کا یہ دعویٰ (نبوت) ہشام بن عبدالملک کے زمانہ خلافت ١٢٧ھ میں تھا۔ پھر اس نے گمان کیا کہ وہ مہدی اکبر ہے۔ جو آخر الزماں میں ظہور کریں گے اور عیسیٰ جن کے ساتھی ہوں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور اس کا نام عربی میں صالح سریانی میں مالک اور عجمی میں عالم اور عبرانی میں روبیا اور بربری میں دربا ہوگا۔ جس کے معنی خاتم النبی ہیں اور جب وہ ان کے امور دینی و دنیوی کا مالک ہو گیا اور ٤٧ سال گزرے تو مشرق کی طرف (مکہ معظمہ چلا گیا اور وعدہ کر گیا) کہ میں لوٹوں گا۔ (ابن خلدون ج ١ ص ٤٠٧)
کامل ابن اثیر ملاحظہ ہو کس وضاحت سے مرزائیوں کے دعویٰ کی تکذیب کر رہی ہے۔
”توفى المهدى ابو محمد عبيد الله العلوى بالمهدية واخفى ولده ابوالقاسم موته سنة لتدبير كان له وكان يخاف ان يختلف الناس عليه اذا علم بموته وكان عمر المهدى لما توفى ثلثاً وستين سنة وكانت ولايته منذ دخل رقادة ودعى له بالا مامة الى ان توفى اربعاً وعشرين سنة وشهراً وعشرين يوماً (ابن اثیر ج ٨ ص ٩٠ مطبوعہ مصر)“
ابو عبید اللہ العلوی نے مہدیت میں وفات پائی اور اس کے بیٹے ابو القاسم نے مصلحتاً اس کی موت کو ایک سال تک چھپائے رکھا وہ خوف کرتا تھا کہ جب لوگ اس کی موت کی خبر پائیں گے تو اختلاف کرنے لگیں گے اور مہدی کی عمر ٦٣ سال ہوئی اور اس کی ولایت جب سے وہ رقادہ میں آیا اور امامت (ثبوت مہدیت) کا دعویٰ کیا موت تک ٢٤ سال ایک ماہ ٢٠ دن تھی۔
فاضل مجاہد اپنے کسی صحابی تابعی مفسر محدث کے قول سے یہ بتایا تھا کہ ولا تقول بعض الاقاویل میں ٢٣ سال کی زندگی کی قید ہے اگر نہیں بتایا تو اب بتا دیجئے کہ ٢٣ زندگی کی قید کہاں سے نکالی؟
مگر شرم چہ کتی ست کہ پیش مرداں آید آج اسی مطالبہ کو لا جواب بتایا جا رہا ہے۔ جس کے جواب نے مرزائیت کی کمر توڑ دی تھی۔ اس کے متعلق پوچھو اب مہربان علی
١٢
صاحب اسپیشل مجسٹریٹ میرٹھ سے وہ صحیح جواب دیں گے۔ کہ ابن خلدون وابن اثیر کی عبارتیں سن کر شیرۂ بادام پینے کی ضرورت پیش آگئی تھی یا نہیں؟ مگر یہاں تو:
اسلام کی چھٹی فتح مبارک ہو!
- ٥....... نبی صادق کی سابق زندگی پاک ہوتی ہے۔ مرزا کا چیلنج (تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢، خزائن
ج ٢٠ ص ٦٢ اور مولوی محمد حسین بٹالوی کا ریویو)
خوب! کیا معیار نبوت ہے۔ کیوں فاضل! اگر شیطان دعویٰ نبوت کر دے تو کیا قادیان میں پذیرائی ہو جائے گی؟ کیونکہ اس کی سابقہ زندگی جیسی صاف اور روشن ہے۔ دجال قادیانی کی زندگی کا ویسا ہونا محال ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی۔ ایک شخص باوجود ہشتاد سالہ ریاضات و مجاہدات اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنے کے دن کے بارہ بجے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ رات کے بارہ ١٢ بج رہے ہیں۔ تو کیا آپ اس کے دعوے کی تصدیق کے لئے تیار ہیں؟ ختم النبوۃ کا مسئلہ تو اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ پھر اگر بقول آپ کے مرزا کی سابقہ زندگی صاف بھی ہوتی تو اس کے دعویٰ نبوت کو تسلیم کر لینا تو بالکل ایسا ہے۔ جیسے رات کو دن یا دن کو رات بتانے والے کے قول کو تسلیم کر لیا۔ اچھا حضرت! مرزا کی سابقہ زندگی تو جیسی کچھ صاف ہے۔ وہ ظاہر ہے نیت میں تو اسی روز فساد آ گیا تھا۔ جس روز بنی آدم کی گردن زنی کے لئے مختاری کے امتحان کا ارادہ کیا تھا۔ محض چیلنج دینے سے کام نہیں چلتا۔ اگر جناب کے پاس مرزا کی کوئی ایسی معتبر جامع سوانح حیات موجود ہے۔ جس میں اس کی زندگی کے واقعات کو بالاستیعاب بیان کیا گیا ہے۔ تو ذرا نام ہی سے مطلع فرما دیجئے۔ ہرگز نہیں۔ اس کی تو موجودہ زندگی ہی سابق کا آئینہ ہے۔
یاد رکھئے کہ تاریکیوں کو ماضی کی روشنی رفع نہیں کر سکتی نہ آپ خواہ مخواہ ایک نہ اٹھنے والے بار کے لئے اپنے شانے پیش کر رہے ہیں۔
"فاتقوا یوماً لا تجزی نفس عن نفس شیئاً ولا یقبل منہا شفاعۃ ولا یوخذ منہا عدل ولا ہم ینصرون"
اسلام کی ساتویں فتح مبارک ہو!
- ٦....... مفتری عذاب سے نہیں بچایا جاتا ہے اور کامیاب نہیں ہوتا۔
١٣
یہ مطالبہ تو یاد رہ گیا مگر وہ نشتر نہ یاد رہا جس نے یہ فاسد مادہ بھی نکال دیا تھا۔ یعنی وہ سوالات یاد نہیں رہے۔ جو حضرت مولانا لکھنویؒ نے کئے تھے۔ کیا آپ نے ان کا کوئی جواب دیا تھا۔ اگر دیا تھا تو یاد دہانی فرما دیجئے اور اگر نہیں دیا تھا تو میں ان سوالات کو پھر دہراتا ہوں۔ سوچ سمجھ کر جواب دیجئے۔
مفتری کے پیس دیئے جانے سے کیا مراد ہے؟ دنیا میں پیس دیا جاتا ہے یا آخرت میں ۔ اگر اوّل مراد ہے تو کوئی ایک آیت ایسی پیش کر دیجئے۔ جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ مفتری علی اللہ یقیناً دنیا ہی میں پیس دیا جاتا ہے اور اگر آخرت میں پیسا جانا مراد ہے تو قیامت کو دیکھ لیجیو کہ پیسا جاتا ہے۔ یا نہیں مجھے خیال ہے کہ کہیں آپ بھی گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح نہ پس جائیں۔ ”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔“
میں چیلنج دیتا ہوں کہ ایک آیت ایسی نہیں دکھلا سکتے۔ جس میں مفتری کے دنیا میں پیس دیئے جانے کے متعلق لکھا ہو۔ فاضل مجاہد یہ خیال قائم کر لینا دیو بندیوں کی مخالفت نہیں۔ خدائے لایزال کی مخالفت ہے۔ پناہ بخدا قرآن مجید تو ارشاد فرماتا ہے۔
”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَوْ تَرٰی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ (پ ٧، سورہ انعام رکوع ١٠)“
﴿اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر افتراء کرے جھوٹ، یا کہے کہ میرے پاس وحی آئی۔ حالانکہ اس کے پاس وحی نہیں آئی اور جو شخص کہے کہ جیسی کتاب رسول پر اتری میں بھی بنا سکتا ہوں۔ اے مخاطب اگر تو ان لوگوں کا مرتے ہوئے حال دیکھے کہ ان پر نزع میں کیسی سختی ہوگی اور فرشتے ان طرف ہاتھ بڑھا کر کہیں گے کہ اپنی جانیں نکالو (اب تک جو چاہا کہا گیا) مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے اعمال کی پاداش میں عذاب ذلت دیا جائے گا۔ کہ تم نے خدا پر ناحق افتراء کیا اور تم اس کی آیات کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا جانتے تھے۔﴾
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتری علی اللہ بعد موت عذابوں میں گرفتار ہوئے
ہیں ۔ حیات فانی میں اگرچہ بچ گئے ہوں۔ مگر دین مرزائی میں قرآن کیخلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ جزاک اللہ !!
جیسے متنبی ویسے امتی ، جیسی روح ویسے فرشتے اور دیکھئے کیا ارشاد ہوتا ہے۔
”والذين كذبوا بايتنا سنستدرجهم من حيث لا يعلمون واملى لهم ان کيدی متین ۔“ ﴿ جن لوگوں نے ہمارے کلام کو جھٹلایا اور آیات الٰہی کی تکذیب کی۔ انہیں ہم بتدریج اس طرح کھینچیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی اور انہیں مہلت دی جائے گی تحقیق اللہ کی تدبیر درست ہے۔﴾
فاضل مجاہد ! جرأت ہے تو سنبھالئے ورنہ مرزائیت چلی۔
کیا اس آیت شریفہ میں صاف نہیں بتلا دیا گیا کہ مفتری کو مہلت دی جاتی ہے۔ آپ شرائط کو ملحوظ رکھیں یا نہ رکھیں۔ مگر میرا فرض ہے کہ میں اپنے بیان کردہ معانی قرآن کی تائید میں کسی مفسر کا قول پیش کروں۔ چنانچہ سنئے۔ امام المفسرین علامہ فخر الدین رازیؒ اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں۔
”اے امهلهم واطيل لهم مدة عمرهم ليتمادوا فى المعاصى ولا اعاجلهم بالعقوبة على المعصية“
﴿ یعنی میں انہیں مہلت دیتا ہوں اور ان کی مدت عمر کو طویل کر دیتا ہوں۔ ان کی سزاء میں جلدی نہیں کرتا۔ تا کہ وہ نافرمانی اور سرکشی میں دل کے حوصلے نکال لیں۔ ﴾
ان آیات کو سننے کے بعد بھی اس مطالبہ کا نام لیا۔ یا اس جواب پر کچھ ردو قدح کی؟ اگر کی تو میں چوتھا چیلنج دیتا ہوں کہ اس کا اعادہ کیجئے۔
اس کے بعد مطالبہ کے دوسرے جز یعنی مرزا کی کامیابی کے متعلق یاد دہانی کرتا ہوں۔
کیا آپ سے نہیں پوچھا گیا تھا کہ کامیابی سے کیا مراد ہے؟ اگر تمناؤں کا پورا ہو جانا کامیابی ہے تو مرزا سے زیادہ ناکام کوئی دوسرا نہیں ملے گا۔ کیونکہ سب سے بڑی حسرت تو کافر بدکیش محمدی بیگم ہی کی لے کر گئے۔
اگر فراوانی دولت ہی مراد ہے تو مرزا سے زائد اہل فرنگ کامیاب ہیں، اور اگر عزت مراد ہے تو بقول مرزا ٤٩ کروڑ مسلمان دجال و کذاب مفتری کے لقب سے سرفراز کر رہے ہیں،
١٥
اور اگر کامیابی شہرت کا نام ہے تو شیطان، نمرود، فرعون، دجال، باب،۔ بہاء اللہ اس میں بھی پیش پیش ہیں، اور اگر کثرت متبعین کا نام کامیابی ہے۔ تو دیانند سرسوتی وغیرہ کے متبع اذناب مرزا سے کئی گنا زائد ہیں۔ آخر کسی چیز میں کامیاب ہو گئے؟ ہاں امتحان مختاری میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یا ناکام مگر دجل وافتراء کے امتحان میں ضرور کامیاب نظر آ رہے ہیں۔
اسکے مطلب تو نہ اس چرخ کہن سے نکلے
آپ نے ان سوالات کا کیا جواب دیا تھا۔ سکوت۔ محض سکوت۔
اسلام کی آٹھویں فتح مبارک ہو!
.......٧
نصرت ہوتی ہے اور نصرت بھی وہ جو اذا جاء نصر اللہ میں مذکور ہے۔
مرحبا اس علمیت پر اسلاف حتی کہ رسول ﷺ کے بیان کردہ معنی قرآن کو سینہ زوری کہا جاتا ہے یہی تو وہ معارف قرآن، جو خاص مرزا کو نصیب ہوئے۔ مرحبا صد مرحبا۔ ”ورأیت الناس يدخلون ...... الخ “ ”جو اذا ...... کی جزاء بنا کر آپ نے اپنی علمیت کا ایسا نادر ثبوت دیا ہے کہ باید و شاید۔ پناہ بخدا قرآن میں تحریف کی جا رہی ہے۔ ڈرو ڈرو اس دن سے کہ دل اور زبان گواہی دیں گے۔ ”صدق الله تعالى وقد كان فريق منهم يسمعون كلام الله ثم يحرفونه من بعدما عقلوه وهم يعلمون ...... الخ “ کیا یہی تعلیم ہے غلمدی مذہب کی؟ قرآن میں ایسی تحریف کر لیں جس کا احتمال بھی نہ ہو۔
میں پانچواں چیلنج دیتا ہوں کہ تفسیر کی کسی کتاب سے حسب شرط نمبر ٣ یہ ثابت کیجئے کہ ”اذا جاء “ کی جزاء ”ورأيت الناس یدخلون “ ہے۔ کبھی نہیں ثابت کر سکتے۔ سارے غلمدی مل کر بھی زور لگائیں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ قرآن کا معجزہ ہے۔ جس کے متعلق وعدہ ہو چکا ہے۔ کہ ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون“
اور نیز یہ بھی بتلائے کہ والفتح اور ورأيت الناس میں واؤ کس قسم کا ہے۔ کیا اذا کی جزاء پر واؤ کبھی داخل ہوتا ہے اور نیز فسبح میں فا کون سی ہے؟ اور یہ ترکیب میں کیا واقع ہو رہا ہے۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیجئے۔
اگر اذا کی جزاء ورأیت الناس یدخلون مان لی جائے تو یہ معنی ہو جائیں گے کہ جب اللہ کی مدد آئی تو لوگوں کو دیکھے گا۔ کہ فوجا فوجا اللہ کے دین میں داخل ہوں گے تو اس کے یہ
١٦
معنی ہیں کہ جب انبیاء علیہما السلام بمکہ دین میں لوگوں کی نہیں ۔ العیاذ باللہ بعض انبیاء کے متبعین کی تعدا نصرت ہی نہیں ہوئی۔ کیا خوب ڈر ہے خدائے قہار سے
اسلام کی نویں فتح مبارک ہو!
.......٨
”حدیث بخاری سے ثابت ہے کہ مقبولا ہے ۔ ”اجی جناب کونسی مقبولیت بڑھ گئی۔ وہی نہ جو اہل اگر یہی مقبولیت قبول بارگاہ ایزدی ہونے کی دلیل ہے ت ہے۔ نعوذ باللہ من ذالك ۔ یاد رکھئے وہ شخص کبھی مقبو السلام کو گالیاں دے۔ جو ادھوں پر مایہ ایمان نثار کر چکا جناب سے خوب مل سکتا ہے۔ کیا آپ نے بتایا تھا کہ مر محمدی بیگم کی نظروں میں بھی مقبول نہ ہو سکے۔ خدا کی نظر بندے اسی طرح دنیا میں کذاب کہہ کر پکارے جاتے ہ کو مقبول ایزدی کہہ کر اور مقبولین کی توہین کر رہے ہیں۔
اسلام کی دسویں فتح مبارک ہو!
.......٩
”وقت ولادت مسیح اور حضرت مریم کے سوا
مطالبہ تو یاد رہ گیا۔ مگر وہ ہچکیاں بھی یاد ہیں کتاب پر آئیں؟ اور شیرہ بادام بھی مفید نہ ہو سکا۔ میں کتاب کا مطالبہ کیا گیا۔ کیا کوئی عقائد حنفیہ کی کتاب میں اب چھٹے چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں۔
اب پیش کر دیجئے نام ہی بتا دیجئے۔ قیامت لبعض ظهيراً “ خدا کے لئے ایک دجال مفتری کیجئے۔ ”ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئک علاوہ ازیں اگر نبی کریم ﷺ پر عیسیٰ علیہ ا اب بھی فاضل مناظر ہی ملزم ہیں۔ کیونکہ مرزائی تعلیم بھی نبی پر ہو سکتی ہے۔ ملاحظہ ہو
١٧
معنی ہیں کہ جب انبیاء علیہم السلام کے دین میں لوگوں کی کثرت نہیں ہوئی۔ ان تک نصر اللہ پہنچی ہی نہیں۔ العیاذ باللہ بعض انبیاء کے متبعین کی تعداد ایک دو سے زائد نہیں ہوئی۔ تو گویا ان کی نصرت ہی نہیں ہوئی۔ کیا خوب ڈر ہے خدائے قہار سے ڈر اس کی گرفت سخت ہے۔
اسلام کی نویں فتح مبارک ہو!
- ٨....... "حدیث بخاری سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ ایزدی کی قبولیت زمین پر بڑھتی
ہے۔" اجی جناب کونسی مقبولیت بڑھ گئی۔ وہی نہ جو اہل فرنگ یا شیطان یا دیانند سرسوتی کی بڑھی۔ اگر یہی مقبولیت قبول بارگاہ ایزدی ہونے کی دلیل ہے۔ تو سب سے زیادہ مقرب ومقبول شیطان ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔ یاد رکھئے وہ شخص بھی مقبول بارگاہ ایزدی نہیں ہو سکتا۔ جو انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دے۔ جو ادھوں پر مایہ ایمان نثار کر چکا ہو۔ جس کا ثبوت ٤؍ سو روپیہ نمبر والے پرچہ جناب سے خوب مل سکتا ہے۔ کیا آپ نے بتایا تھا کہ مرزا کو کس قسم کی مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ تو محمدی بیگم کی نظروں میں بھی مقبول نہ ہو سکے۔ خدا کی نظروں میں تو کیا مقبول ہوتے۔ کیا خدا کے بندے اسی طرح دنیا میں کذاب کہہ کر پکارے جاتے ہیں؟ خدا سے ڈریئے۔ آپ مرزا علیہ ماعلیہ کو مقبول ایزدی کہہ کر اور مقبولین کی توہین کر رہے ہیں۔ وان بطش ربك لشديد
اسلام کی دسویں فتح مبارک ہو!
- ٩....... "وقت ولادت مسیح اور حضرت مریم کے سوا کسی کا مس شیطانی سے پاک نہ ہونا۔"
مطالبہ تو یاد رہ گیا۔ مگر وہ ہچکیاں بھی یاد ہیں جو اس مطالبہ کو پیش کرنے کے بعد مطالبہ کتاب پر آئیں؟ اور شیر وبادام بھی مفید نہ ہو سکا۔ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ ٤ گھنٹہ تک آپ سے کتاب کا مطالبہ کیا گیا۔ کیا کوئی عقائد حنفیہ کی کتاب پیش کی جس میں یہ عقیدہ لکھا ہو؟ اگر نہیں کی تو میں اب چھٹے چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں۔
اب پیش کر دیجئے نام ہی بتا دیجئے۔ قیامت تک نہیں دکھلا سکتے۔ "ولو كان بعضكم لبعض ظهيراً "خدا کے لئے ایک دجال مفتری علی اللہ کی بے جا حمایت میں دیانت کا خون نہ کیجئے۔ "ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئك كان عنه مسئولاً "
علاوہ ازیں اگر نبی کریم ﷺ پر عیسیٰ علیہ السلام کو اس امر جزوی میں فضیلت بھی ہو گئی تو اب بھی فاضل مناظر ہی ملزم ہیں۔ کیونکہ مرزائی تعلیم ہے۔ کہ نبی تو نبی جزوی فضیلت تو غیر نبی کو بھی نبی پر ہو سکتی ہے۔ ملاحظہ ہو
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٨١)
١٧
کیا اس کا جواب دیا گیا اگر دیا گیا تو بتائیے کیا؟
چشم پوشند ز ملت پئے خود کامے چند
اللہ رے بدحواسی دعویٰ تو کریں عقائد حنفیہ پر اعتراض کرنے کا اور اعتراض کریں قرآن وحدیث پر۔ ادھر تو ارشاد ہوتا ہے کہ: ”لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین اوکما قال“ اور ادھر فرامین رسول پر ژاژ خائی اور ایمان کا دعویٰ۔
مگر میں فاضل مقالہ نگار کو ہرگز اس قسم کی غلط بیانیاں نہ کرنے دوں گا۔ چنانچہ میں ساتواں چیلنج دیتا ہوں۔ کہ اگر یہ اعتراض عقائد احناف پر ہے تو کتب عقائد میں دکھانا آپ کا فرض ہے۔ ورنہ اعتراف کیجئے ۔ کہ ہم مرزائی ہونے کے ساتھ آریہ بھی ہیں۔ پھر بحول اللہ تعالیٰ وہی مسلم باز جنہوں نے شرائط منوائی تھیں فرمان رسول کے سامنے بھی گردن خم کرالیں گے۔
اسلام کی گیارہویں فتح مبارک ہو!
- ١٠...... ”حضرت مریم کا صدیقہ لقب پانا حنفی عقیدہ کی رو سے نبی کریمﷺ کی ماں کا مومن نہ
ہونا بلکہ استغفار رسول کے بھی لائق نہ ہونا۔“
فاضل شذرہ نویس کیا یاد ہے کہ اس عقیدہ کو پیش کرتے ہوئے کوئی حنفی عقیدہ کی کتاب پیش کی تھی؟ ہاں یہ کہا تھا کہ شرائط کی رو سے حنفی عقیدہ بتانا میرا فرض ہے۔ کتاب دکھانا نہیں۔ عاجزی کا انتہائی درجہ ہے۔
ارے جناب آپ تو مدعی ہیں کیا البینۃ علی المدعی (مدعی پر دلیل لازم ہے) کو بھی فراموش کردیا۔ شرم کیجئے۔ مناظرہ میں کتاب کا مطالبہ کیا گیا اور اب میں آٹھواں چیلنج دے کر کتاب کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگر حقانیت ہے تو پیش کیجئے۔
علاوہ ازیں کیا آپ قرآن کے ٣٠ تیس پاروں میں سے کوئی ایک آیت بھی ایسی دکھا سکتے ہیں۔ جس میں حضرت آمنہ کے صدیقہ ہونے کی نفی کی گئی ہو؟ علمی گفتگو تو آپ کے سامنے بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ مگر کیا یاد کیجئے گا میں بتاتا ہوں کہ عدم ذکر سے ذکر کا لازم نہیں آتا۔
١٨
ایک شخص کہتا ہے کہ زید اچھا ہے۔ تو اس نے توہین کردی۔ قادیان کی عدالت میں ازالہ حیثیت عرفی منطق ہے؟
ارے جناب! اپنے گھر کی بھی خبر ہے۔ آپ تمام دنیا بلکہ انبیاء و خدائے عزوجل کی تکذیب کردی۔ کیو لئے کسی صفت کے ثابت کر دینے کے یہ معنی ہیں کہ اور س رد فزد۔ اذناب مرزا اور علمیت
اور جواب سنئے اور ضمیر سے پوچھئے کہ آپ حضرت مریم کو اس لئے صدیقہ کہا گیا کہ یہود تہمت لگات کہ نبیﷺ کی والدہ پر کسی نے تہمت نہیں لگائی۔ اس ل میں پھر وہی کہوں گا۔ کہ یہ اعتراض احناف کے عقائد عیسائی بھی ہیں۔ کیونکہ یہ اعتراض تو ایک عیسائی ہی کر سکت دوشنبہ میں بعینہ یہ اعتراض ایک عیسائی کر رہا ہے۔ پھر م یا نہیں؟ فاضل مجاہد! میں پھر کہتا ہوں کہ ایک مفتری علی ب اغماض نہ برتتے۔ یہ مطالبہ تو پیش کردیا۔ (اگرچہ غلط نہیں ۔ کسی بات کا تو جواب دیا ہوتا۔ اگر اس وقت مطبوعہ محمود قادیانی سے مشورہ کر کے دے دیجئے۔ واللہ نہیں دے
اسلام کی بارہویں فتح مبارک ہو!
- ١١...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قبل از ٤٠ سال
ملنا۔“
اجی جناب! بطل اسلام حضرت مولانا لکنو رہی جس نے شیر اسلام کے لبوں سے طلوع ہو کر اساس
١٩
ایک شخص کہتا ہے کہ زید اچھا ہے۔ تو اس نے آپ کے اصول کی بناء پر ساری دنیا کی توہین کردی۔ قادیان کی عدالت میں ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کردینا چاہئے۔ کیا خوب اچھی منطق ہے؟
ارے جناب! اپنے گھر کی بھی خبر ہے۔ آپ نے مرزا کی صداقت کیا ثابت کردی۔ تمام دنیا بلکہ انبیاء و خدائے عزوجل کی تکذیب کردی۔ کیونکہ آپ کے نزدیک تو کسی ایک شخص کے لئے کسی صفت کے ثابت کردینے کے یہ معنی ہیں کہ اور سب سے اس صفت کا سلب کردیا۔ اللّٰہم زد فزد۔ اذناب مرزا اور علمیت
اور جواب سنئے اور ضمیر سے پوچھئے کہ آپ نے اس کا کوئی جواب دیا۔ فاضل مجاہد! حضرت مریم کو اس لئے صدیقہ کہا گیا کہ یہود تہمت لگاتے تھے۔ چنانچہ آج تک لگاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی والدہ پر کسی نے تہمت نہیں لگائی۔ اس لئے انہیں صدیقہ نہیں کہا گیا۔ اس کے بعد میں پھر وہی کہوں گا۔ کہ یہ اعتراض احناف کے عقائد پر نہیں قرآن پر ہے۔ اعتراف کیجئے کہ ہم عیسائی بھی ہیں۔ کیونکہ یہ اعتراض تو ایک عیسائی ہی کرسکتا ہے۔ چنانچہ العدل ١٢؍نومبر ١٩٢٩ء یوم دوشنبہ میں بعینہ یہ اعتراض ایک عیسائی کر رہا ہے۔ پھر دیکھئے گا کہ اسلامی بازو گردن خم کرالیتے ہیں یا نہیں؟ فاضل مجاہد! میں پھر کہتا ہوں کہ ایک مفتری علی اللہ کی ناجائز حمایت میں فرامین رسول سے اغماض نہ برتتے۔ یہ مطالبہ تو پیش کردیا۔ (اگرچہ خلاف منصب) مگر ان جوابات کو چھوا تک نہیں۔ کسی بات کا تو جواب دیا ہوتا۔ اگر اس وقت مطبوعہ ڈائری میں نہیں تھا تو اب صاحبزادہ مرزا محمود قادیانی سے مشورہ کرکے دے دیجئے۔ واللہ نہیں دے سکتے۔
اسلام کی بارہویں فتح مبارک ہو!
"......!! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قبل از ٤٠ سال نبوت ملنا مگر نبی کریم کو ٤٠ سال کے بعد ملنا۔"
اجی جناب! بطل اسلام حضرت مولانا لکھنویؒ کی تلاوت فرمائی ہوئی وہ حدیث یاد نہیں رہی جس نے شیر اسلام کے لبوں سے طلوع ہوکر اساس مرزائیت میں زلزلہ ڈال دیا تھا۔
"کنت نبیاً وآدم بین الماء والطین" اور کنت نبیاً وآدم بین الروح
١٩
والجسد‘‘ یعنی میں اس وقت بھی نبی تھا۔ جب آدم جسم و روح کے درمیان ہی تھے۔ کیا اس کا جواب دیا تھا؟ ہاں دیا کہ علم اللہ میں نبی تھے۔ مگر جب کہا گیا کہ علم اللہ میں تو سب ہی انبیاء نبی تھے۔ اس میں آں حضرت ﷺ کی کیا تخصیص ہے؟ تو لبوں کو جنبش تک نہ ہوئی اور دوسرا جواب دیا گیا تھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ وصف نبوت کے ساتھ بالذات متصف ہیں اور باقی انبیاء بالعرض (تائید میں خود مرزا کی عبارت (اتمام حجہ کے طور پر سنا دی تھی ۔) اور موصوف بالذات موصوفات بالعرض پر مقدم ہوتا ہے۔ تو کیا اس کے بعد بھی فاضل مناظر کے مطالبہ کی کوئی حقیقت رہے گی۔ یاد رہے کچھ جواب دیا تھا اگر دیا تھا تو ذرا اعادہ فرما دیجئے اور اگر اس وقت نہ دے سکے تو اب دے دیجئے ۔
اسلام کی تیرہویں فتح مبارک ہو!
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سواء سب نبی و رسول وغیرہ گنہگار تھے ۔‘‘ اجی حضرت ! یہ تو آپ کا عقیدہ ہے کہ مرزا کے سوا سب انبیاء گنہگار ہیں ۔ جب ہی تو حضرت یونس علیہ السلام کو العیاذ باللہ سوء فہمی میں مبتلا بتلایا اور نینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسبیوں سے تعلق رکھنے والا کہا اور
مرزا نے انہیں کہا اور فاضل مناظر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جھوٹا (العیاذ باللہ ) اور نبی کریم روحی فداہ کو عاشق حسن فانی کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی۔ یہی بغض وحسد تو مرزا سے وراثتہ پہنچا ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ توہین انبیاء مسلم دل ودماغ کے لئے ایک نشتر ہے جو کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ ان چرب زبانوں کا ایسا دندان شکن جواب دیا گیا کہ قیامت تک لب کشائی کی جرأت نہ ہوگی ۔ یہی وجہ تو ہے کہ باوجود اس حیا سوزی کے جو مطالبات میں پیش کرنے میں کی گئی۔ بخاری کی حدیث اور جلالین شریف کی عبارت کا نام تک نہیں آنے دیا۔ بلکہ سکوت سے اعتراف کر لیا کہ ان کے جوابات ہو گئے ۔
پناہ بخدا ! یہ الزام صرف دیوبندی علماء پر نہیں تمام اسلاف پر لگایا جا رہا ہے۔ مگر ہمیں اس کی شکایت نہیں یہ تو تمہارے روحانی اسلاف کا قدیمی طریقہ کار ہے۔ ہمیں فخر ہے اور بجا فخر
٢٠
ہے کہ ہم نے وہ کیا جو چودہ سو سال سے آج تک علماء امت کرتے چلے آئے اور تم نے وہ کیا جو تمہارے روحانی ابا لآباء نے۔ ابی واستکبر وكان من الکافرین! سے آج تک کیا۔
فكل فعال كلكم عجاب
فاضل مجاہد ! ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء معصوم ہیں۔ عقائد کی جس کتاب میں دیکھئے گا انشاء اللہ ! یہی ملے گا مگر آپ نے جو افتراء کیا اس کا ثبوت کتب عقائد حنفیہ سے دینا آپ کا فرض اولین ہے۔ دیکھئے! سنبھالئے مرزائیت کی گردن ٹوٹ رہی ہے! اسلام کی چودھویں فتح مبارک ہو!
- ١٣...... ”حضرت ابراہیم، موسیٰ و نبی کریم علیہم السلام سے بوقت تکالیف جو معاملہ ہوا اس سے
بڑھ کر حضرت عیسیٰ سے ہونا۔“
احقاق پر اعتراض ہوتے ہوتے رب السموات والارض پر بھی نکتہ چینیاں شروع ہو گئیں۔
مہربان! یہ تو خدا کے فعل ہیں کہ ایک کے لئے یا نار كونی برداً وسلاماً على ابراہیم پسند فرمایا اور دوسرے کے لئے واذ فرقنا بكم البحر وانجيناكم واغرقنا آل فرعون وانتم تنظرون اور تیسرے کے لئے و ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم اور چوتھے کے لئے وہ جو ان سب سے زیادہ ہے۔ یعنی اس کی طاقت کے سامنے تمام طاغوتی قوتوں کے سر خم کرا دیئے۔
عرب کی سر زمین کفر پرور کے صد نازش بکنار بہادروں کی گردنیں قدموں پر جھکا دیں اور نہ صرف یہ بلکہ وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً کے معزز لقب سے سرفراز فرمایا مگر ان محاسن کو تو وہ دیکھے جس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی نہ ہو۔ بڑی حیرت ہے کہ دعویٰ تو کر دیا جاتا ہے۔ مگر ثبوت میں عقیدہ حنفیہ کی ایک کتاب بھی نہیں پیش کی جاتی۔
محترم! یہ اعتراض تو ان لبوں پر شایاں نہیں جو آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله پڑھ چکے ہوں۔ مگر میں پھر کہتا ہوں کہ آریہ بن کر قرآن وحدیث پر بھی اعتراض کر دیکھو یہ حسرت بھی نہ رہ جائے۔
٢١
کیوں صاحب! آپ نے ان جوابات پر جو جرح و قدح کی تھیں؟ چھوا تک نہیں اگر جرأت ہے تو اب چھو کر دکھا دیجئے۔ مگر وہاں تو:
بوقت گفتن و گفتن بوقت خاموشی
والا معاملہ ہے۔
اسلام کی پندرہویں فتح مبارک ہو!
- ١٤....... ”نبی کریم ﷺ تو ہر نماز میں اللّٰہم ارفعنی کہہ کر رفع کی خواہش کریں۔ مگر رفع
جسمانی نہ ہو کیونکہ حنفی عقائد کی رو سے رفع سے رفع جسمانی مراد ہوتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر اس قسم کی دعا کے رفع ہو جائے۔“
فاضل کو مطالبہ تو یاد رہا مگر وہ حتمی سوالات بھی یاد رہے جو شیر اسلام نے کئے وہ کیوں یاد رہے؟
میں پھر ان سوالات کی یاد دہانی کرتا ہوں۔ اگر آپ نے کچھ جواب دیئے ہوں تو ذرا تکلیف فرما کر اعادہ فرما دیجئے۔
- ١....... یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آپ کی دعا میں رفع جسمانی مراد ہے؟
- ٢....... اس کے متعلق کوئی حدیث پیش کی کہ حضور ﷺ کی مراد رفع سے رفع جسمانی ہے؟
- ٣....... یا اس کے متعلق کوئی حنفی عقائد کی کتاب دکھلائی اگر اس وقت نہ دکھلا سکے تو اب دکھلا
دیجئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ نہیں دکھلا سکو گے۔
علاوہ ازیں اگر اللّٰہم ارفعنی میں رفع جسمانی بھی مراد لے لیا جائے تو فاضل! از روئے عقائد حنفیہ سبحان الذی اسرٰی بعبده لیلاً من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ میں رفع جسمانی نہیں تو اور کیا ہے؟ خوف کیجئے اس مالک الملکوت سے جس کے ہاتھ میں سارے گھمنڈیوں کی گردنیں ہیں۔
فاضل! از روئے عقائد حنفیہ معراج ہوئی اور مع الجسد المبارک مگر بایں ہمہ کہا جاتا ہے کہ اللّٰہم ارفعنی کہنے کے باوجود رفع جسمانی نہیں ہوا۔
٢٢
مجاہد صاحب! یہ عقائد احناف کا انکار نہیں فرامین رسول سے جہاد ہو رہا ہے۔ آخر کیوں نہ ہو جری علی اللہ کے امتی اتنے جری بھی نہ ہوں۔ ”ان الذين كفروا بآياتنا سوف نصليهم ناراً كلما نضجت جلودهم بدلناهم غيرها ليذوقوا العذاب أن الله كان عزيزاً حكيما“
اسلام کی سولہویں فتح مبارک ہو!
- ١٦،١٥...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بیماروں کو اچھا کریں مگر بقول حنفیوں کے نبی کریم ﷺ خود
چالیس ٤٠ دن مسحور ہیں اور حضرت عیسیٰ خالق طیور محی اموات ہو کر خدا کے شریک ہو جائیں۔ حالانکہ خدا ان افعال کی اپنے سوا ہر ایک کے متعلق نفی کرتا ہے۔“
یہ یرقان زدہ کو ہر شے زرد نظر آتی ہے۔ کہتے ہیں مجنون تمام دنیا کو مجنون سمجھتا ہے۔ ایسے ہی غلمدیوں کو بھی ساری دنیا مشرک نظر آتی ہے۔ ارے جناب! شرک کا ارتکاب تو تم خود کرتے ہو۔ دیکھو مرزا کو الہام ہوتا ہے۔ ”انت من مائنا وهم من فشل“ (تذکرہ طبع سوم ص ٤٠٤،٢٧، ٤٨٨،٤٦٣،٤٧٧) (تو میرے نطفہ سے ہے اور باقی لوگ خشکی سے العیاذ باللہ ) اور ”انت منی بمنزلة اولادی“ (تذکرہ ص ٣٢٢،٤٩٩) (تو میری اولاد کی جگہ ہے) اور ”انت منی وانا منك“ (تذکرہ ص ٥١٥،٤٤٢، ٤٠٧،٧٧٠،٥٥٦) (تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے) پناہ بخدا ان الہامات کو منجانب اللہ کہا جاتا ہے۔ یہ شرک نہیں تو کیا ہے؟ اس شرک پر نبوت کا دعویٰ قادیان کی قسمت جاگ گئی۔ جہاں ایسے ایسے متنبی پیدا ہونے لگے۔
محترم فاضل! خلق طيور ، احیاء موتی ، شفاء مرضیٰ یہ سب باذن اللہ ہوتے تھے۔ ان میں محض حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ والسلام کے کسب کو دخل تھا۔ ملاحظہ ہو قرآن کیا بتا رہا ہے؟
”واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذني فتنفخ فيها فتكون طيراً باذنى وتبرى الاكمه والا برص باذني واذ تخرج الموتى باذني واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين “ (اور جب تو بناتا تھا مٹی سے جانور کی صورت میری اجازت سے پھر اس میں نفخ کرتا تھا تو وہ میری اجازت سے پرندہ ہو جاتا تھا اور اچھا کرتا تھا اندھوں کو اور کوڑھیوں کو میری اجازت سے اور جب نکالتا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تو
٢٣
ان کے پاس دلائل پس کہا ان لوگوں نے جو کافر تھے۔ ان میں سے یہ تو جادو کے سوا کچھ نہیں۔ ﴾ آیت شریفہ میں خلق صورت نفخ روح، شفاء اکمہ وابرص سب کے ساتھ باذنی کی قید موجود ہے۔ یعنی جو کچھ ہوا۔ خدا کی اجازت سے ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بظاہر فاعل تھے۔ اس لئے اب خلق طیور وغیرہ کی نسبت ان کی طرف کر کے خواہ مخواہ اعتراض کرنا خود ہی سوچئے کن لوگوں کا کام ہے؟
فاضل مجاہد! ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ بندے کے تمام افعال (شر وخیر) کا خالق خدائے بزرگ وبرتر کی ذات ہے بندے کی طرف اس فعل کی نسبت محض اکتساباً کر سکتے ہیں۔ مگر:
خدا کی پناہ ! شرک کی نسبت ہماری طرف کی جاتی ہے۔ نہ صرف ہماری طرف بلکہ امام الائمہ حضرت ابو حنیفہؒ کی طرف جن کی نسبت خود مرزا لکھ چکا ہے۔ ملاحظہ ہو:
”مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم ودرایت اور فہم وفراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور ان کی قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے اک نسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا۔ جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔
(ازالہ الاوہام حصہ دوم ص ٣٨٥، خزائن ج ٣ ص ٥٣٠، ٥٣١)“
جس ذات قدسی کو غلمدیوں کا امام کامل العرفان مان چکا۔ آج اسی کے اذناب اسی ذات ستودہ صفات کے عقائد کو مشرکانہ بتاتے ہیں۔
فاضل مجاہد ! کیا اس کا کوئی جواب دیا گیا اگر دیا گیا تو بتلائے کیا؟ ارے جناب ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ (باذن اللہ) جن میں روح کی صلاحیت نہ تھی مگر سید الاولین والآخرین خاتم الانبیاء والمرسلین کے دست مبارک میں تو سنگریزے کلمہ پڑھتے تھے۔ احجار واشجار کلام کرتے تھے۔ اسطوانہ حنانہ فراق میں روتا تھا۔ آپ کیوں تلبیس کرنا چاہتے ہیں۔
میں ان مطالبات کے اجوبہ کے اخیر میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے بارے میں میرا نہ صرف حنفی بلکہ اسلامی عقیدہ کیا ہے؟
٢٣
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچه خوبان همه دارند تو تنها داری
کیا آپ نے ان تمام سوالات کا جو دعاوی کی تنقیح میں کئے گئے ۔ کوئی جواب دیا؟ اگر دیا تو اعادہ فرمادیجئے۔ ورنہ میں اب چیلنج دیتا ہوں کہ تمام اعوان وانصار سے مشورہ کرکے جواب دے دیجئے۔
اسلام کی سترویں اٹھارویں فتح مبارک ہو!
یہ ہے حقیقت ان نام نہاد مطالبات کی جو فاضل مضمون نگار نام خدا مجاہد ہزیمت! کی اس ترنگ میں سپرد قلم فرما گئے جو ”کسنورِ مغلوب یصول علی الاسد“ کہلاتی ہے۔ مجاہد صاحب کو اس جسارت سے تو معلوم ہوتا ہے ۔کہ انہوں نے مطالبات کی اشاعت سے پہلے مولوی سرور شاہ قادیانی اور موسیو مرزا بشیر محمود قادیانی سے بھی استصواب رائے نہیں کیا۔ ورنہ وہ ہمارے نا تجربہ کار مجاہد کو ہرگزیوں بےتیر وتفنگ رزمگاہ میں گھس جانے کی اجازت نہ دیتے۔ جس طرح وہ گھس آئے اور اب نکل جانا متعذر ہی نہیں محال ہو گیا ۔مگر مشہور ہے کہ گیدڑ کی موت گیدڑ کو شہر کی طرف لے جاتی ہے۔ بعینہ اسی جذبہ نے خدا جانے کس عالم خیال میں ہمارے فاضل مجاہد کے زرنگار قلم سے لایعنی مطالبات نکلوا کر انہیں جانکاہ و روح فرسا میدان میں لا کھڑا کیا اور اب میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے بجواب مطالبات عرض کیا وہ چند قطرے ہیں۔ اس غدیر عظیم کے جس نے نائب الرسول کے لبوں سے سرزمین ایچولی میں بہہ کر قصر غلمدیت کو غرق کر دیا تھا۔ ایک تجلی مختصر ہے۔ اس سیفِ باقر کی جس نے بطلِ اسلام کے دجل شکن ہاتھ میں چمک کر مجسمہ مرزائیت کا خاتمہ کر دیا تھا۔
اب وہ مطالبات پیش کرتا ہوں جن کا وعدہ ابتدائے تحریر میں کر چکا ہوں۔ اگر ان کے اجوبہ کی طرف ہمارے فاضل مجاہد نے کچھ توجہ کی تو انشاء اللہ مطالبات کا دوسرا نمبر پیش کروں گا مگر
رازی! یہ جنوں نہیں تو کیا ہے
٢٥
میں ایک مجاہد صاحب ہی کو نہیں قصر مرزائیت کے جملہ اعوان وانصار کو پرزور چیلنج دیتا ہوں کہ اگر مرزائیت میں حقانیت وصداقت شرم وحیا کا شائبہ بھی ہے تو جس طرح اہل اسلام نے آپ کے سولہ ١٦ مطالبات کا تقریبا دگنے صفحات پر جواب دیا ہے۔ آپ ہمارے مطالبات کا چوتھائی صفحات ہی پر جواب دے دیجئے۔
مگر یاد رکھئے کہ اگر مرزا بھی کفن پھاڑ کر قبر سے نکل آئے تو جواب ناممکن ہے۔
فاضل مجاہد ! ذرا گریبان میں منہ ڈال کر ضمیر کی آواز سنئے کہ وہ ان چند مطالبات کی تصدیق کرتے ہوئے مناظرہ اچھرہ کا فیصلہ سنا رہا ہے:
مطالبات حقانی از مجاہد قادیانی
- ١....... نبوت ورسالت کی تعریف
- ٢....... نبوت ورسالت کے اقسام
- ٣....... ہر قسم کے منکر و مقِر کا حکم
- ٤....... نبوت بروزی وظلی کی تعریف
- ٥....... پھر اس کا نفیاً واثباتاً حکم
- ٦....... یہ اقسام نبوت حقیقی کے ہیں یا مجازی کے؟
- ٧....... قرآن وحدیث میں نبوت کا اطلاق بمعنی بروزی وظلی آیا ہے۔ یا نہیں؟ آیا ہے تو
کہاں ہے؟ نہیں تو یہ معنی شرعی ہوئے یا غیر شرعی؟
- ٨....... نبوت تشریعی وغیر تشریعی میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا؟ اگر نہیں تو ہر نبی
غیر تشریعی تشریعی بھی ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
- ٩....... وہ کچھ احکام جدید کا حامل ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کے مبعوث کرنے سے بجز منکرین
کے کافر ہونے کے کیا فائدے ہیں؟ اگر وہ جدید احکام کا حامل نہیں تو کسی قدیم ہی حکم کا حامل ہوگا۔ کیونکہ حکم تو ضرور ہوگا تو صاحب شریعت ہو گیا اور جدید و قدیم کسی قسم کا حکم بھی اس کے پاس نہیں تو بعثت فضول ہوئی۔
- ١٠....... اگر نبوت بروزی وظلی میں ظل ذی ظل کا غیر ہوتا ہے اور محض بعض صفات میں شرکت
٢٦
ہے تو محض بعض صفات واخلاق میں شرکت سے ظل کا نبی ہونا لازم ہوگا۔ پھر ظل کے نبی ہونے کے لئے نہ وحی کی ضرورت ہوگی نہ الہام کی نیز خدائے عزوجل کا اس کو نبی کہنا ضروری نہ ہوگا۔
- ١١....... وہ کس قدر اوصاف ہیں اور کیا کیا؟ جن کے اتصاف سے انسان بروزی نبی ہو سکتا
ہے؟
- ١٢....... اس تقدیر پر نبوت کسبی ہوگی اور ضرورت وحاجت وخدا ئے بزرگ وبرتر کے مبعوث
کرنے کی محتاج ہوگی۔ یا نہیں؟
- ١٣....... اور اگر نبوت بروزی وظلی میں ظل اور ذی ظل عین ہوتے ہیں۔ تو پھر اس نبوت اور
آواگون اور تناسخ میں کیا فرق ہوگا؟
- ١٤....... اگر آواگون بھی تسلیم کر لیا جائے تو بتائیے کہ مؤخر کو مقدم کا عین کہا جائے گا یا برعکس،
ہر صورت میں وجہ ترجیح کیا ہے اور اگر بوجہ عینیت اختیار ہے تو ایک ہی ذات کا فاضل ومفضول ہونا لازم آئے گا اور یہ محال ہے۔
- ١٥....... اگر تقدم و تاخر ہو تو آواگون بھی ہو سکے مگر دقت تو یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک شخص
کے متعدد اضلال ہوتے لازم آتے ہیں۔ جو عینیت کی صورت میں محال ہے۔
- ١٦....... ختم نبوت بمعنی تشریعی کے منکر کا کیا حکم ہے۔ (جواب دیتے ہوئے مولوی عمر
الدین مبلغ دہلی وشملہ کے ان الفاظ کو یاد رکھئے گا جو انہوں نے غلہ منڈی اسٹیج پر ببانگ دہل کہے تھے۔ یعنی انہوں نے دیو بندوں کے دباؤ سے مجبور ہو کر وہ معنی بتلادیئے تھے۔ جو تم نے ہزار ذلتیں گوارا کرکے نہ بتلائے۔ اس لئے کہ مرزائیت کی شہ رگیں کٹ رہی تھیں میں پھر وہی کہوں گا۔
- ١٧....... اربعین نمبر٤ ص٦، خزائن ج١٧ص٤٣٥ کی عبارت۔ جس میں نبوت تشریعی کا بصراحت
دعویٰ کیا اور جسے آپ نے عاجز ہوکر متشابہ کہہ دیا تھا۔
- ١٨....... دافع البلاء ص٢١، خزائن ج١٨ص٢٤١۔ جس میں حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کی توہین
بحوالہ قرآن کی گئی۔
- ١٩....... حدیث وقرآن میں لکھا ہے کہ:”مسیح جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھوں سے دکھ
اٹھائے گا۔ وہ اسے کافر کہیں گے اور قتل کا فتویٰ دیں گے۔“ (اربعین نمبر٣ ص٢٠، خزائن ج١٧ ص٤٠٤) قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیجئے۔
- ٢٠...... مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی پر افتری کیا کہ:
”انہوں نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ وہ کاذب ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
- ٢١...... ”مسیح کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔“ حسب دعویٰ حدیث صحیح سے ثابت کیجئے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)
- ٢٢...... ”احادیث صحیحہ میں ہے کہ علماء مہدی کو کافر ٹھہرائیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٢٢)
- ٢٣...... ”صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی هذا خليفة الله
المهدی“
(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
- ٢٤...... آتھم کی موت کی پیشین گوئی۔
(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
- ٢٥...... حضور کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
اور اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ۔
(براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٣)
- ٢٦...... له خسف القمر المنير وان لى خسف القمران المشرقان۔ اتنکر ! (قصیدہ
اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) شق قمر کو خسوف چاند بنا کر امت کے اجماعی مسئلہ شق القمر کا انکار کیا۔
- ٢٧...... حضرت یونس علیہ السلام کو سوئے ظنی میں مبتلا کیا۔
(انجام آتھم ص ٢٢٥، خزائن ج ١١ ص ٢٢٥)
- ٢٨...... ”محمدی بیگم“ کے نکاح کو تقدیر مبرم ٹھہرایا۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں: وهیچکس باحیلۂ
خود او را رد نه تواند کرد وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است وعنقریب بوقت آں خواهد آمد پس قسم آں خداء که محمد ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود واو را از بهترین مخلوقات گردانید که این حق است وعنقریب خواهی دید ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیارمی گردانم ومن نه گفتم الا بعد زانکه از رب خود خبردادہ شد!
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
٢٨
- ٢٩...... حضرت عیسیٰ کی دادی اور نانی کو زانیہ کہا۔ (العیاذ بالله)
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٣٠...... مرزا نے (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥) پر حضرت امام ابو حنیفہ کو کامل
العرفان کہا اور تم نے ان کے عقائد کو شرک بتایا۔
- ٣١...... عقائد حنفیہ کے متعلق حنفی کتب عقائد کا مطالبہ۔
- ٣٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو منصب نبوت کب ملا؟
- ٣٣...... وہ تمام ضمنی سوالات جو دعاوی کی تنقیح میں کئے گئے۔
یہ ٣٣ مطالبات کا پلندہ ہے۔ جن کا جواب بے چارے ظہور صاحب اور نام نہاد مجاہد تو کیا اگر مرزا قادیانی کے ظہور اوّل مع کل حواریوں کے بھی دے دیں تو جانیں اور اگر غلمدی خلافت کے تمام اراکین مل کر بھی جواب نہ دے سکے اور یقیناً نہ دے سکیں گے۔ تو سمجھ لیجئے کہ مجاہد صاحب نے خود اپنے جفاکش شانوں پر مرزائیت کا جنازہ نکال دیا۔ اسلام سے تو پہلے دست بردار ہو چکے تھے۔ مرزائیت کو اب طلاق دے دی۔ ہم پھر وہی حضرت مولانا لکھنوی مدظلہ کا مصرع پڑھیں گے۔
علماء دیوبند کے باطل شکن بہادروں کے سامنے اٹھائی ہوئی سابقہ شکستوں کو بھول گئے ہو کہ اب پھر اسی زخم کہنہ کو ہرا کرنے کے لئے ذلیل ہونے کو دل چاہا۔ مگر یاد رکھے۔ سرزمین اچنولی میں تو چند قادیانی ذلیل ہوئے۔ لیکن اب دنیا دیکھ لے گی کہ فاضل مجاہد کے مجاہد ہاتھوں نے امیر عساکر قادیان، سرخیل جماعت غلمدی، خليفة الدجال، موسیو بشیر محمود کی پیشانی پر بھی ذلت و رسوائی کا سیاہ قشقا لگا دیا۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين وصلى الله تعالى سيد المرسلين وخاتم النبيين - اللهم احشرنا فى زمرته واتباعه وارزقنا شفاعته يوم القيمة انك على كل شىء قدير!
نیاز کیش راقم محمد یحییٰ رازی رام پوری غفرلہ ٢٠؍ جمادی الثانی ١٣٣٨ھ یوم شنبہ
٢٩
معززین شرکاء مناظرہ و مقامیوں کی پیش کردہ شہادت کا حلفیہ بیان
معزز ناظرین! اخیر میں ہم آپ کی توجہ ذیل کے ان معززین حضرات کے دستخط شدہ بیانات کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ جو جلسہ مناظرہ میں شروع سے اخیر تک رہے اور مجاہد قادیانی نے بھی ان میں سے اکثر مثلاً محمد علی عثمان وغیرہ کو اپنی تائید میں اخبار الفضل مورخہ ٥؍ نومبر ١٩٢٩ء میں شائع کیا ہے۔
ہم خدائے تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر بحلف بیان کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت کو جو فاش شکست اس مناظرہ میں ہوئی ہے۔ ہماری نظر سے ایسی شکست مناظرہ میں کسی باطل سے باطل مذہب کو بھی نہ ہوئی ہوگی۔ قادیانی جماعت کا یہ کہنا کہ ہر روز بعد از مناظرہ جناب نواب مہربان علی صاحب سپیشل مجسٹریٹ اور دیگر رؤسا میرٹھ نے علی الاعلان ان کے اسٹیج پر کہہ دیا کہ قادیانیوں کے مطالبات کا جواب ہماری طرف سے نہیں دیا گیا۔ بالکل غلط اور لغو ہے۔
غالباً قادیانی مجاہد اس نظارہ کو بھول گئے۔ جبکہ علماء احناف فتح یاب ہوئے تو رؤسائے میرٹھ نے یہ تمنا ظاہر فرمائی کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ حضرات کا جلوس قصبہ میں نکالا جاوے۔ جس کو حضرات علماء نے بڑے اصرار سے منظور فرمایا۔ جلوس جس شان سے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے موٹر میں قصبہ میں نکالا۔ وہ دیکھنے سے ہی تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بعد رؤسا میرٹھ نے ایک قیمتی بنارسی عمامہ حضرت مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی کے فرق مبارک پر باندھا۔ چند حضرات مائل بہ مرزائیت ہو گئے تھے۔ وہ خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس قدر مضبوط ہو گئے کہ اب وہ خود مناظر ہیں۔ کسی قادیانی کو اب ہمت نہیں جو ان سے بحث ومباحثہ کر سکے۔
العبد .... عزیز الرحمٰن بقلم خود نمبر دار زمیندار، محمد علی بقلم خود (رئیس) ،محمد عثمان بقلم خود، عبدالرحمان بقلم خود، شرف الدین بقلم خود (رئیس)، عبدالغفور بقلم خود، سید علی بقلم خود (رئیس)، عبدالشکور بقلم خود، محمد ولایت علی بقلم خود پینشنر، رفیق احمد بقلم خود، عبدالرحمٰن بقلم خود (زمیندار)، فہیم الدین بقلم خود، رام چند بقلم خود، (بقلم ہندی)
☆.....................☆
٣٠