اللّٰہ مُحَمَّد ﷺ
اسلام کے اجالے
قادیانیت کے اندھیرے
محمد طاہر عبدالرزاق
اسلام کے اجالے
قادیانیت کے اندھیرے
تحقیق وتدوین: محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
تحفظ
تحفظ
تحفظ
ال
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔
*
------ اسلام کے اجالے...... قادیانیت کے اندھیرے ------ محمد طاہر عبدالرزاق ------ گیارہ سو ------ فراز کمپوزنگ سنٹر، اردو بازار، لاہور ------ عنایت اللہ رشیدی ------ 90 روپے ------ اپریل 2005ء ------ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ------ حضوری باغ روڈ، ملتان ------ شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور
ملنے کا پتہ ن پبلشرز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 فات ختم نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اردو بازار، لاہور فون: 7232926
انتساب
غازیان قادیانیت شکن!
شاہ سوار مرزا قادیانی حافظ غلام حسین کلیانوی ضیغم ختم نبوت شجاعت علی مجاہد پروانہ ختم نبوت محمد امجد شاہین ختم نبوت محمد بدیع الزمان بھٹی ایڈووکیٹ عندلیب ختم نبوت قاری محمد سعید سفیر ختم نبوت قاری محمد ریاض شمشیر ختم نبوت عرفان محمود برق خادم ختم نبوت گوہر الطاف جراح قادیانیت فیصل زبیری
کے نام ..... بصد احترام
جن میں سے ہر فرد کفر شکن ...... قادیانیت سوز ...... اور
مرزا نچوڑ ....... ہے
فہرست
- آخری ٹیسٹ محمد طاہر عبدالرزاق 9
- تجزیہ مولانا زاہد الراشدی 13
- عظمت صدق کا قطب نما سید یونس الحسنی 15
- معصوم نبی مولانا محمد یوسف بنوریؒ 21
- تکمیل دین اور ختم نبوت چوہدری افضل حقؒ 30
- پاکستان کی سالمیت اور عقیدہ ختم نبوت عبدالستار خان نیازیؒ 38
- نزول مسیح ابن مریم کی متعلقہ احادیث پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ 44
- رسولؐ کا مقام از روئے قرآن عبدالغفور 51
- قادیانیوں کی متنازعہ شخصیت مرزا قادیانی محمد اسلم بھیروی 57
- آنحضرتؐ کے بعد مدعی نبوت اور اس کو نبی ماننے
والا واجب القتل ہے مولانا سرفراز خان صفدر 62
- جامعیت سیرت خاتم الانبیاءؐ سید سلمان ندویؒ 68
- تحقیقاتی عدالت 1953ء اور خلیفہ ربوہ اپنوں کی
نظر میں مولانا تاج محمدؒ 73
- نبی خاتم مولوی مختار احمد / عبدالفتاح 80
- کفر اور کافر کے اقسام مفتی محمد شفیعؒ 90
- قادیانیوں سے چند سوالات مولانا تاج محمدؒ 102
- سیرت تاجدار ختم نبوتﷺ.....دائمی درخشاں سیرت سید سلمان ندویؒ 106
- مرزائیوں کے مختلف روپ مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ 108
- قادیانیوں کا خطرناک دھوکہ اور اس کا جواب مولانا سرفراز خان صفدر 110
- مرزائی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں یا اپنی کفریات کی مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ 116
- مرزا قادیانی سرسید احمد خاں کی نظر میں مولانا عبداللہ 117
- ختم نبوت از قرآن مولانا محمود احمد رضویؒ 122
- ختم نبوت بقائے شریعت عبدالفتاح / مولوی مختار احمد 130
- ائمہ اسلام کی مزید شہادتیں مفتی محمد شفیعؒ 142
- قادیانی چوہدری افضل حقؒ 153
- ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لیے یادگاری ٹکٹ مولانا محمد ازہر 155
- کیا مرزا قادیانی عورت تھی؟ مولانا عنایت اللہ چشتیؒ 160
- جنگ یمامہ الطاف قریشی 165
- مولانا محمد علی مونگیریؒ اور تحفظ ختم نبوت مولانا سید محمد الحسینی 180
آخری ٹیسٹ
لحم خنزیر کھانے اور ام الخبائث پینے والا فرنگی مکار یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیہم غلامی اور فرنگی تہذیب کے مسلسل کاری حملوں سکوت طاری ہے۔ اس کی ایمانی نبضیں ڈوب چکی ہیں۔ اس ک ہیں۔ اس کے ماتھے کی حدت ٹھنڈک میں بدل گئی ہے۔ انہو تاکہ اس کے بعد اسے سپرد خاک کر دیا جائے۔ انہوں نے ہند مختلف شہروں سے ناموس رسالتؐ پہ کتے بھونکنے لگے۔ غلامی ک نے ایک بھر پور انگڑائی لی اور شیروں کی طرح ان کتوں پر پل عبرت کی مثال بنا دیا۔
راجپال نے توہین رسالت کی ۔ ملت اسلامیہ کا شیر چیر پھاڑ کے رکھ دیا۔۔۔ رام گوپال نے سرور کائنات ﷺ حسین اس پہ لپکا اور اسے راہی ملک نار کیا۔۔۔ سوامی شردھا نے اسے جہنم واصل کیا۔۔۔ نتھورام نے دریدہ دہنی کی ۔۔۔ ابولہب کے پاس پہنچا دیا۔۔۔ چنچل سنگھ نے بکواس کیا۔۔۔ ہاویہ میں پٹخا دیا۔۔۔ کھیم چند گنبد خضراء کی طرف منہ کر کے بھو کتے کو اس کے دیس میں پہنچا دیا۔۔۔ پالال نے اپنا متعفن م اسے موت کا رقص کرایا۔۔۔ اور اسے جہنم کے لپکتے بھوکے شعلوں
آخری ٹیسٹ
لحم خنزیر کھانے اور ام الخبائث پینے والا فرنگی مکار ہندو بنیا اور انگریز کی ناجائز اولاد قادیانی سمجھ بیٹھے تھے کہ پیہم غلامی اور فرنگی تہذیب کے مسلسل کاری حملوں سے ہندوستان کے مسلمان پر موت کا سکوت طاری ہے۔ اس کی ایمانی نبضیں ڈوب چکی ہیں۔ اس کے قلب کی اسلامی دھڑکنیں خاموش ہوگئی ہیں۔ اس کے ماتھے کی حدت ٹھنڈک میں بدل گئی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کا آخری ٹیسٹ لینا چاہا تاکہ اس کے بعد اسے سپرد خاک کر دیا جائے۔ انہوں نے ہندوستان میں شتم رسول کی تحریک چلا دی۔ مختلف شہروں سے ناموس رسالت پہ کتے بھونکنے لگے۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں نے ایک بھر پور انگڑائی لی اور شیروں کی طرح ان کتوں پر پل پڑے اور ان کا ایسا حشر کیا کہ ہر ایک کو عبرت کی مثال بنا دیا۔
راجپال نے توہین رسالت کی ملت اسلامیہ کا شیر غازی علم الدین شہید اس پہ جھپٹا اور اسے چیر پھاڑ کے رکھ دیا۔۔۔ رام گوپال نے سرور کائنات ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔۔۔ غازی مرید حسین اس پہ لپکا اور اسے راہی ملک نار کیا۔۔۔ سوامی شردھانند نے ہذیان بکا۔۔۔ غازی عبدالرشید نے اسے جہنم واصل کیا۔۔۔ نتھو رام نے دریدہ دہنی کی۔۔۔ غازی عبدالقیوم نے اسے ابوجہل اور ابولہب کے پاس پہنچا دیا۔۔۔ چنچل سنگھ نے بکواس کیا۔۔۔ غازی عبداللہ نے ایک ہی وار میں اسے ہاویہ میں پہنچا دیا۔۔۔ کھیم چند گنبد خضراء کی طرف منہ کر کے بھونکا۔۔۔ غازی منظور حسین نے اس جہنمی کتے کو اس کے دیس میں پہنچا دیا۔۔۔ پالامل نے اپنا متعفن منہ کھولا۔۔۔ تو۔۔۔ غازی محمد صدیق نے اسے موت کا رقص کرایا۔۔۔ اور اسے جہنم کے لپکتے بھوکے شعلوں کی خوراک بنا دیا۔۔۔ ملعون بھیشو نے
ہرزہ سرائی کی۔ تو۔۔۔ غازی عبدالمنان نے اسے موت کے گھاٹ اتارا۔۔۔ چرن داس نے جب اپنے غلیظ منہ سے غلاظت اگلی۔۔۔ تو ۔۔۔ غازی میاں محمد نے اس کے وجود کو ادھیڑ دیا اور اسے اللہ کے شدید انتقام کے سپرد کر دیا۔۔۔ جب ویدا سنگھ نے زہر میں ڈوبی ہوئی اپنی بچھو نما زبان کھولی۔۔۔ تو۔۔۔ غازی احمد دین نے اسے قتل کر کے ملت اسلامیہ کے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچائی۔۔۔ ہردیال سنگھ جب قصر نبوت کی طرف پھنکارا۔۔۔ تو غازی معراج دین نے اس کی زبان مروڑ دی۔۔۔ گردن توڑ دی۔۔۔ جب عبدالحق قادیانی نے زہر اگلا۔۔۔ حاجی محمد مانک اس پر رعد بن کے کڑکا۔۔۔ اور اسے نارِ جہنم میں بیٹھے مرزا قادیانی کی جھولی میں پھینک دیا۔۔۔ جب نعمت احمر حرمت رسولؐ پہ حملہ آور ہوا۔۔۔ تو غازی فاروق نے اسے خاک و خون میں تڑپایا۔۔۔ اور اسے دوزخ کی اتھاہ گہرائیوں میں جھونک دیا۔۔۔!!!
ان عظیم عاشقان رسولؐ نے صحابہ کرامؓ اور قرون اولیٰ کے فدائی الرسولؐ مجاہدین کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ ہم آپ سے شرمندہ نہیں۔ ہم نے گلے میں غلامی کا طوق، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہننے کے باوجود گستاخان رسولؐ سے وہی سلوک کیا جو اپنے عہد میں تم کیا کرتے تھے۔ ہم نے اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اپنے آقا ﷺ سے بے وفائی نہیں کی۔
ان شہیدوں نے ماں باپ کے بڑھاپوں کے سہاروں کی پرواہ نہ کی۔۔۔ بیویوں کے سہاگ اُجڑنے کو خاطر میں نہ رکھا۔۔۔ بچوں کی یتیمی ان کے رستے کی رکاوٹ نہ بنی۔۔۔ مال و اسباب کی کشش ان کے پاؤں کی زنجیر نہ بن سکی۔۔۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنی متاع زیست بھی سرور کونینؐ کی عزت پر نچھاور کر دی۔۔۔ وہ دار پہ جھولتے ہوئے اپنی خاموش زبان سے یہ اعلان کر رہے ہوتے تھے۔
اے اہل دنیا! دیکھو۔۔۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ اپنے والدین سے زیادہ پیارے ہیں۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ اپنے بچوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ دنیا کی رعنائیوں اور دنیا کے مال و اسباب سے زیادہ عزیز ہیں۔ ہمیں اپنے آقا ﷺ اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہیں۔
جب ان شہیدوں کو پھانسی سے نیچے اتارا جاتا تو ان کی کھلی آنکھوں میں ایسی چمک ہوتی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔۔۔ کیونکہ وہ ان آنکھوں سے اپنے رب کا دیدار کر چکے ہوتے تھے۔ ان کے لبوں پر ایک دلآویز مسکراہٹ ہوتی۔۔۔ کیونکہ وہ چہرۂ مصطفےٰ ﷺ کی زیارت کر چکے ہوتے تھے۔ ان کے چہرے پر طمانیت کا نور ہوتا۔۔۔ کیونکہ وہ جنت میں اپنا مقام عالی شان دیکھ چکے ہوتے تھے۔۔۔ مسلمانو! یہ مجاہدین ناموس رسالتؐ، ملت اسلامیہ کی آبرو ہیں۔۔۔ یہ اسلام کے چہرے
کا غازہ ہیں۔ اسلام اپنے ان فرزندوں پہ ناز کرتا ہے۔ انہوں اسلام کو حیات بخشی۔ انہوں نے پھانسی پہ جھول کے ہمیں موت کو گلے لگا کر ہمیں یہ پیغام دیا۔۔۔ کہ۔۔۔ مسلمانو! ب گستاخ کو زندہ نہ رہنے دینا۔
پرانے زمانے میں کسی شخص کو سکتہ ہو جاتا۔ تو لوگ سمجھتے ک کفن پہنایا جاتا۔ جنازہ پڑھا جاتا اور اسے قبر میں اتا وقت یا جنازہ لے جاتے وقت ہوش میں آ جاتا۔ ورنہ ز جاتا۔ پرانے حکماء اس بات سے بڑے پریشان تھے۔ علاج ڈھونڈا۔ اگر کسی شخص کو سکتہ ہو جاتا تو حکماء اس کے منہ کے بالکل ساتھ لگا دیتے۔ اگر آئینہ کی سطح پر نمی ثابت ہوتا کہ مریض ابھی زندہ ہے۔ کیونکہ نمی یا دھندلا پن ا سمجھا جاتا کہ مریض اس دار فانی سے رخصت ہو چکا۔
آج جب ہر طرف مادہ پرستی کا دور ہے، نفسانفسی ہے۔ اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں۔ عالم کفر اسلام اور مسلمان کو مٹانے کا نقارہ بج چکا ہے۔ باری باری ک مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ عام بے حسی ہے۔ اسلامی قوانین وافکار کی جگہ فرنگی قوانین وافکا فرنگی تعلیم کے سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ مسلماں کفر کی حکمرانی ہے۔ اسلامی غیرت وحمیت کو گہری نیند س سلا دیا گیا ہے۔ نوجوان مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بدمستی کے عالم می ہیں۔ نام کے فرق کے علاوہ مسلمان اور غیر مسلم میں عم پورے معاشرے پر ایک سکتہ طاری ہے اور کئی جگہ یہ سکتہ مر
کا غازہ ہیں۔ اسلام اپنے ان فرزندوں پہ ناز کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی جانیں نثار کر کے ہندوستان میں اسلام کو حیات بخشی۔ انہوں نے پھانسی پہ جھول کے ہمیں غیرت رسول کا عملی درس دیا۔ انہوں نے موت کو گلے لگا کر ہمیں یہ پیغام دیا۔۔۔ کہ۔۔۔ مسلمانو! جب تک زندہ رہو اللہ کے حبیبؐ کے کسی گستاخ کو زندہ نہ رہنے دینا۔
پرانے زمانے میں کسی شخص کو سکتہ ہو جاتا۔ تو لوگ سمجھتے کہ یہ شخص مر گیا ہے۔ اسے نہلایا جاتا۔ کفن پہنایا جاتا۔ جنازہ پڑھا جاتا اور اسے قبر میں اتار دیا جاتا۔ کوئی خوش قسمت نہلاتے وقت یا جنازہ لے جاتے وقت ہوش میں آ جاتا۔ ورنہ زندہ انسان ہزاروں من مٹی میں دبا دیا جاتا۔ پرانے حکماء اس بات سے بڑے پریشان تھے۔ آخر انہوں نے مل بیٹھ کر اس کا ایک علاج ڈھونڈا۔ اگر کسی شخص کو سکتہ ہو جاتا تو حکماء اس کا منہ کھول کر صاف شفاف آئینہ اس کے منہ کے بالکل ساتھ لگا دیتے۔ اگر آئینہ کی سطح پر نمی یا دھندلا پن آ جاتا۔ تو اس کا مطلب ہوتا کہ مریض ابھی زندہ ہے۔ کیونکہ نمی یا دھندلا پن اس کے سانس چلنے کی دلیل ہوتی۔ ورنہ سمجھا جاتا کہ مریض اس دار فانی سے رخصت ہو چکا ہے۔
آج جب ہر طرف مادہ پرستی کا دور ہے۔ نفسانفسی کا عالم ہے۔ زرپرستی کا راج ہے۔ اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں۔ عالم کفر اسلام پر ٹوٹ پڑا ہے۔ پوری دنیا سے اسلام اور مسلمان کو مٹانے کا نقارہ بج چکا ہے۔ باری باری کسی ایک اسلامی ملک کو نشانہ بنا کر لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ ہم سے اسلامی تہذیب و تمدن چھین لی گئی ہے۔ اسلامی قوانین و افکار کی جگہ فرنگی قوانین و افکار نے قبضہ کر لیا ہے۔ ہماری نوخیز نسل کو فرنگی تعلیم کے سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ مسلمان کے گھروں پر فرنگی اور ہندو رسم و رواج کی حکمرانی ہے۔ اسلامی غیرت و حمیت کو گہری نیند سلا دیا گیا ہے۔ رقص و سرود کی محفلوں میں نوجوان مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بدمستی کے عالم میں تھرکتے اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ نام کے فرق کے علاوہ مسلمان اور غیر مسلم میں عموماً فرق مشکل ہو گیا ہے۔ غرضیکہ اسلامی معاشرے پہ ایک سکتہ طاری ہے اور کئی جگہ یہ سکتہ موت میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اس خطرناک حالت میں ...... کہ مسلمان مر چکا ہے یا زندہ ہے ...... اس کا آخری ٹیسٹ ہے۔ وہ آخری ٹیسٹ یہ ہے کہ مسلمان کا منہ کھول کر ...... عشق رسول کا آئینہ اس کے منہ کے قریب لگا دیا جائے۔ اگر آئینہ دھندلا ہو جائے۔ اس پر نمی آجائے۔ تو مسلمان زندہ ہے۔ ورنہ مر چکا ہے۔ اس کا ایمان کبھی کا داغ مفارقت دے چکا ہے۔
آؤ مسلمانو! ہم بھی اپنے ایمان کو چیک کریں۔ کہ۔ آخری ٹیسٹ میں ہمارا نتیجہ کیا ہے؟
بہ عہد احمدؐ مرسل مجھے پیدا کیا ہوتا
حرا کی خاک میں تحلیل میرے جسم و جاں ہوتے
مری لوح جبیں پر آپؐ ہی کا نقش پا ہوتا
قدوم سرورؐ کونین کی عظمت بحمداللہ
میں خاک رہگزر ہوتا تو پھر بھی کیمیا ہوتا
دماغ و دل چمک اٹھتے رخ پرنور کی ضو سے
نظر اٹھتی جہاں تک جلوۂ خیرالوریٰ ہوتا
بہر عنوان اس ذات گرامی پر نظر رہتی
کبھی ان پر کبھی ان کے غلاموں پر فدا ہوتا
رسولؐ اللہ کے ادنیٰ غلاموں کی ثنا لکھتا
کلام اللہ کے الفاظ میں نغمہ سرا ہوتا
شہنشاہوں کے تخت و تاج میرے پاؤں میں ہوتے
مرا سر سیدالکونینؐ کے در پر جھکا ہوتا
خداوندان دولت کے گریباں پھاڑ دیتا میں
”اللہ“ کی قسم قرآن کے پرچم گاڑ دیتا میں
غبار راہ طیبہ محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے (تاریخ) لاہور 2 اپریل 2005ء
تجزیہ
نحمده تبارک وتعالی ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین
محمد طاہر عبدالرزاق صاحب تحریک ختم نبوت کے وہ بے لوث سپاہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کے لٹریچر کو کھنگالنے اور مکر و فریب کے جال کو تار تار کر کے قادیانی گروہ کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کا خصوصی ذوق بخشا ہے۔ وہ ایک عرصہ سے اس محاذ پر سرگرم عمل ہیں اور خود محنت کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقین کو جھنجھوڑنے میں بھی مصروف رہتے ہیں، وہ عالم دین نہیں بلکہ سرکاری آفیسر ہیں لیکن قادیانیت کے حوالے سے وہ علماء کو بریف کرنے اور لیکچر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو اس مشن کے ساتھ ان کے جنونی تعلق اور شبانہ روز انتھک محنت کی علامت ہے۔
انہوں نے تحریری میدان میں قادیانیت کے خلاف مسلسل کام کیا اور ہر سطح کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر الگ الگ نوعیت کے کتابچے، پمفلٹ اور مضامین عوام کے سامنے پیش کیے ہیں، ان کے شائع کردہ لٹریچر میں ایک عام آدمی کی ذہنی سطح اور اسلوب کا مواد بھی موجود ہے اور اہل علم کی علمی ضرورت کا سامان بھی پایا جاتا ہے کچھ عرصہ سے انہوں نے ختم نبوت سیریز کے عنوان سے ممتاز اصحاب علم کی نگارشات نئی نسل کے لیے از سر نو جدید ترتیب کے ساتھ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی تیسری جلد اس وقت میرے سامنے ہے۔
اس میں انہوں نے قادیانیوں کے تعارف، تحریک ختم نبوت کے تاریخی پس منظر،
عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں قادیانیوں کے علمی مغالطوں اور ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں جیسے اہم عنوانات پر حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری، حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور دیگر ممتاز ارباب علم و دانش کی فاضلانہ نگارشات کا انتخاب پیش کیا اور اسی ترتیب سے انہیں ایک لڑی میں پرویا کہ بہت سے اہم موضوعات کا احاطہ ہو گیا اور عام پڑھے لکھے مسلمانوں کے لیے ضرورت کا مواد جمع کر دیا گیا۔
محمد طاہر عبدالرزاق صاحب کی یہ کاوش لائق ستائش ہے اور دینی حلقوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی مستحق۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبولیت سے نوازیں۔ شک اور تذبذب کے شکار لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائیں اور مرتب کے لیے سعادت دارین کا باعث بنائیں۔ آمین یا رب العالمین
ابو عمار زاہد الراشدی خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
عظمت صدق کا قطب نما
عقیدۂ ختم نبوت اساسِ اسلام ہے۔ اس پر قرآن کریم کی نصوص قطعیہ موجود ہیں۔ حبیب کبریا، مرادِ زمین و زماں، تمنائے کون و مکان، سرورِ سروراں، نبی آخر الزماں حضرت محمد و احمد مصطفیٰ و مجتبیٰ ﷺ کے ارشادات مقدسہ دلائل و براہین واضحہ ہیں کہ آپ ﷺ پر دین کامل ہو گیا، آپ ﷺ پر سب نعمتیں تمام کر دی گئیں، آپ ﷺ پر کل حجتیں ختم کر دی گئیں، آپ ﷺ آخری نبی و رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی ظلی، بروزی، تشریعی غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے اب مکالمت و مخاطبت الہیہ کا دروازہ بند اور وحی منقطع ہو چکی۔ قرآن مجید آخری آسمانی کتاب اور مسلمان آخری امت ہیں۔ ذرا دیکھئے تو! کس قدر محکم، غیر مبہم اور تاویل نا آشنا الفاظ ہیں:۔
- ١۔ "اے میرے محبوب ﷺ اعلان فرما دیجئے کہ میں تم سب کی طرف (جمیعاً)
اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔"
(القرآن الحکیم)
- ٢۔ "محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں
اور ختم کرنے والے ہیں سب نبیوں کے۔"
(القرآن الحکیم)
- ٣۔ "میں ان تمام لوگوں کا بھی رسول ہوں جو اب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو
میرے بعد پیدا ہوں گے۔ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔"
(کنز العمال ص ١٠١ جلد ٦ ، رواہ ابن سعد و ترجمان السنۃ ج ١ ص ٤٠٠)
- ٤۔ "تحقیق میری امت میں تیس بڑے بڑے کذاب پیدا ہوں گے اور ہر ایک کا
یہ گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی
نبی نہیں۔“ (رواہ مسلم)
- ٥۔ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔“
(ترمذی و مشکوٰۃ باب مناقب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
معلوم ہوا حضور سرور کائنات ﷺ کا منصب ختم نبوت امت مسلمہ کے عقائد میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر مدعی اسلام کا اس امر پر غیر مشروط اور غیر متزلزل ایمان رکھنا از بس ضروری ہے کہ آقائے دو جہاں یتیم مکہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی معنی یا مفہوم کے تحت کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔ جو کوئی ایسا دعویٰ کرے گا مرتد ہو جائے گا اور ایسے بے ایمان کے لیے آقائے نامدار ﷺ نے موت کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد اس کا بین ثبوت ہے۔ جس میں سات سو جلیل القدر حفاظ قرآن اصحاب رسول علیہم الرضوان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر تکمیل دین اور عقیدہ ختم نبوت پر آنچ نہ آنے دی۔ سیرت صحابہ کا یہی باب تحریک تحفظ ختم نبوت کا سر آغاز ہے اس واقعہ کے بعد جب بھی کسی متنبی نے سر اٹھایا عشاق رسالت نے ایسی ہی جانباز کارروائی کر کے حضور ختمی مرتبت ﷺ کے ناموس اطہر کی حفاظت کا فریضہ بکمال و تمام انجام دیا۔ ایسی تمام آزمائشیں دراصل یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی خلاف اسلام قبیح سازشوں کا شاخسانہ ہوتی تھیں یہ ہمیشہ سے مسلمانوں کے حریف جانی ہیں۔ وہ انہیں کسی کل چین نہیں لینے دیتے۔ انہیں پھلتا پھولتا دیکھنا ان کے بس ہی میں نہیں۔ یہ شیاطین دام دجل و تلبیس پھیلاتے اور غفلت شعار مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تشکیک کی ایسی فضا بناتے ہیں کہ پناہ بخدا۔ دوستی کے روپ میں دشمنی کرنا ان پر ختم ہے۔ گندم نما جو فروش والی ضرب المثل ان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے گھناؤنے روپ میں بغرض تجارت برصغیر وارد ہوئے۔ پر پرزے نکالے، دوستیاں گانٹھیں، انسانی ضمیروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا۔ زمینیں خریدیں اور مسلم ہندوستان پر قابض ہو گئے، غیرت مند مسلمانوں نے بھر پور مزاحمت کی استخلاص وطن کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں، زینت زنداں ہوئے، دار و رسن سے کھیلے، عبور دریائے شور کی سزا کے حقدار ٹھہرے، خاک و خون میں تڑپے، پابجولاں چلے مگر وہ سر مو لچکے جھکے نہ بکے بلکہ دیوانہ وار اپنی جانیں نچھاور کرتے رہے۔ فرزندان اسلام کی اس ادا پر استعماری حلقے حواس باختہ ہو
گئے۔ قدرے سنبھل کر ٹوہ لگائی تو معلوم ہوا فقط عقیدۂ جہاد انہیں اس قدر نڈر اور بے باک کر دیتا ہے کہ وہ مرنے سے ہچکچاتے نہیں۔ شاطروں نے سر جوڑے اور طے کیا کوئی ظلی نبی تیار کیا جائے۔ ”ہندوستان میں سلطنت برطانیہ کا ورود“ (Arrivel of British Empire in India) نامی کتاب میں یہ پوری کتھا رقم ہے۔ تھوڑی سی کوشش سے ڈی سی سیالکوٹ کے دفتر کا ایک ضمیر فروش ملعون ہی ان کے ہاتھ لگ گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے اپنے اصلاحی اور سیاسی عاشق مرزا قادیانی کی خوب سرپرستی کی۔ جس سے یہ ”خود کاشتہ پودا“ برگ و بار پکڑنے لگا۔ کاٹھ کی کھوپڑی والا مرزا شہہ ملنے پر اسقدر گستاخ اور دریدہ دہن ہو گیا کہ بہ یک جنبش لب دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر یہود و ہنود نما اور جانے کیا کیا بنا ڈالا۔ ایسی قاف و دال لکھی کہ کتوں کوؤں کو بھی گھن آئے۔ مختلف النوع دعاوی کا انبار لگا دیا ان میں خطرناک ترین اس کا دعوائے نبوت و رسالت ہے جس کی آڑ میں حرمت جہاد کا فتویٰ دے کر حکومت برطانیہ کو رحمت خداوندی قرار دیا۔ اس اعجوبۂ روزگار، مجہول سیرت اور مسخ رو شخص کی خباثتوں پر مسلمانوں کا برہم ہونا فطری بات تھی۔ وہ حبیب رب العالمین کی شان اور ردائے ختم نبوت کی ہتکیں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ علمائے ہند نے اس فتنہ گر کا تعاقب فرض سمجھا۔ اوّل اوّل علمائے لدھیانہ نے اس گروہ خنازیر کی تکفیر کی۔ بعد ازاں قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، قطب العالم حضرت سیدنا مہر علی شاہ گولڑویؒ، مناظر اسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اس شجر خبیثہ کے برگ و بار کاٹے، مرزا غلام قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر محمود نہلے پر دہلا نکلا اس کی ارتدادی سرگرمیوں کو تخت افرنگ نے ایک بار پھر چھپر چھاؤں مہیا کی جو اس کی زباں درازیوں میں اضافے کا باعث بنی۔ ایسے میں محدث کبیر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی اور سید الاحرار امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مفکر احرار چودھری افضل حق، سالار احرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی ضیغم احرار، شیخ حسام الدین، مدیر احرار ماسٹر تاج الدین انصاری رحمہم اللہ کی قیادت و سیادت میں زبردست مزاحمتی تحریک برپا کی گئی۔ قادیان کی عظیم الشان تحفظ ختم نبوت احرار کانفرنس نے اس باطل ارذل کے سر پر گرز البرز شکن کا کام کیا۔ حتیٰ کہ مرزا بشیر محمود کی آہ و فریاد پر سلطنت برطانیہ نے اسے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ سچ فرمایا بزرگوں نے کہ ہر چیز اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی مزاحمتی تحریک جاری رہی۔ مرزا بشیر محمود نے عالمی استعمار کے بد ترین گماشتے سر ظفر اللہ کے جلوس میں اسلامیان پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس کے اقوال و افعال کی جارحیت حد سے بڑھ گئی اور اس نے اعلان کر دیا کہ ١٩٥٢ء کے آخر تک پاکستان مرزائیوں کے قبضے میں ہو گا۔ بدقسمتی سے حکومت پاکستان مجموعی طور پر ان سے خائف بھی تھی اور بھر پور مددگار بھی۔ ان لرزہ خیز حالات میں علمائے امت نے مجلس احرار اسلام کی دعوت پر بار دگر صف بندی کر کے حضرت مولانا سید ابوالحسنات قادری رحمۃ اللہ علیہ کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سربراہ بنایا، پھر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ظفر اللہ کی وزارت خارجہ سے برطرفی کا مطالبہ کیا جسے تسلیم کرنے سے خواجہ ناظم الدین نے صاف انکار کر دیا تو فدا کاران ختم نبوت نے بھی راست اقدام شروع کر دیا۔ جلسے جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔ سرکار برطانیہ کی ہدایت پر مارشل لاء نافذ کر کے عسکری جلاد جنرل اعظم خان کے ذریعے اس تحریک مقدس کو لہو میں نہلا دیا گیا۔ ہزاروں عشاق رسالت نے پاس ناموس رسالت بڑی فراخدلی سے اپنی حقیر جانوں کے نذرانے پیش کیے، وابستگان دامان مصطفیٰ ﷺ شیدایان ختم نبوت کو خاک و خون میں تڑپا دیا گیا، ان پر جور و ستم کی انتہا کر دی گئی، ہزاروں شہداء کے لاشے جلا کر ان کی مقدس راکھ شب تار میں دریائے راوی میں بہا دی گئی۔ بقول شاعر ؎
کتنے راوی کی لہروں میں ڈالے گئے
کتنی ماؤں کی آنکھوں کے تارے گئے
جرم عشق رسالت میں مارے گئے
پھر بھی جذب و جنوں میں کمی نہ ہوئی
عشق کے مجرموں میں کمی نہ ہوئی
لاریب ١٩٥٣ء کا ذبح عظیم حب رسول کا ثمرہ تھا، یہ اہل ایمان کا شعار تھا، یہ اہل وفا کی روایت کا تسلسل تھا، یہ شہدائے جنگ یمامہ کی ریت اور پریت نبھانے کا انداز پر جلال و جمال تھا، یہ خالد بن ولیدؓ کے تہور کا اظہار قوی تھا یہ حضور ختمی مرتبت کی ردائے ختم المرسلین کے تحفظ کا خوشنما جذب قوی تھا جس کا پیغام ابدی ہے بقول امیر شریعتؒ یہ معاملہ
عقل و خرد کا نہیں عشق و جنوں کا ہے اور یاد رکھو عشق پر زور نہیں ہوتا نہ اپنے آپ پر اختیار۔
سمجھ میں آ نہ سکے گا کہ کبریا کیا ہے
ہم اہل دل ہیں ہمارا یہی عقیدہ ہے
بغیر حب نبیؐ دین ہے نہ دنیا ہے
١٩٧٤ء میں اس تحریک کا دور ثانی محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری، جانشین امیر شریعت قائد احرار مولانا سید ابو معاویہ ابوذر بخاری، فدائے ختم نبوت آغا شورش کاشمیری، مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی، علامہ محمود احمد رضوی، عاشق رسول علامہ شاہ احمد نورانی، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود اور ضیغم اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہم اللہ کی انتھک جدوجہد سے بفضلہ تعالیٰ کامیاب رہا، مرزا قادیانی کی ذریۃ البغایا کو آئینی طور پر نامسلمان اقلیت قرار دے دیا گیا۔
جداگانہ اقلیت ہیں مرزائی بحمد اللہ
اس عہد ناہنجار میں یہ گروہ غارتگراں مکروہات کی عجیب و غریب فصلیں اگا کر نسل نو کو ایک بار پھر تشکیک کے قعر مذلت میں دھکیلنے کی نامشکور سعی میں روز و شب مگن ہے۔ مضحک شکلوں کے مرزائی دانشور گروہ در گروہ تصنیف و تالیف میں ہمہ تن منہمک ہیں۔ وہ گمراہی کو نوائے تازہ کا نام دے کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ان کے رد میں کئی گرامی قدر علماء اور مفکرین تحریری محاذ پر انہیں دندان شکن جواب دے کر فرزندان امت کے ایمان بچانے میں لیل و نہار ایک کیے ہوئے ہیں۔ نئے دور کے نت نئے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے نژاد نو بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی وہ اپنا فریضہ کچھ ایسی لگن اور سرور و مستی سے انجام دے رہی ہے کہ صدقے واری ہونے کو جی چاہتا ہے۔ ان میں فدائے ختم نبوت گرامی منزلت محمد طاہر عبدالرزاق کا رنگ ڈھنگ نرالا ہے۔ ان کا قلب و قلم عشق رسالت سے مستنیر ہے، وہ تنہا ایک ادارے کا کام کر رہے ہیں، تحفظ ختم نبوت پر وہ ان گنت کتب کے مصنف، مؤلف اور مرتب ہیں۔ انکی کلک گوہر بار کی جولانیاں اور خارا شگافیاں عدیم النظیر ہیں جنہیں انہوں نے آقائے کائنات، وجہ وجود ہر دوسرا، مخزن جود و سخا، مزمل، مدثر، یٰسین و طٰہٰ ختم المرسلین شفیع المذنبین سید الاولین والآخرین حضرت محمد
مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کے منصب ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنے سب کچھ وقف کر رکھا ہے۔ ان کی موجودہ کاوش اسی تقدس مآب سلسلے کی مسعود کڑی ہے۔ جو ظلمت کذب میں عظمت صدق کا قطب نما ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں جنم لے کر بیسویں صدی کے اوائل تک مرزائیت کے ناسور نے اپنی جڑیں پھیلانے اور مستحکم کرنے کے لیے کیا کیا قلابازیاں کھائیں، مکر و ریا کے کونسے دام ہائے ہمرنگ زمین بچھائے ارتداد کے کیا کیا قاعدے نکالے، پھر اکیسویں صدی میں کیسے کیسے تراشیدۂ افرنگ الہامات کی تشہیر کی، اب امریکہ و برطانیہ اپنے خود کاشتہ پودے کی آبیاری کے لیے کن کن دسیسہ کاریوں اور استبدادی حیلہ سازیوں کا سہارا لے رہے ہیں یہ ایک طویل تیرہ و تار اور دلدوز داستان ہے۔ ان کٹھن حالات میں بھی میرے ممدوح نے حوصلہ نہیں ہارا کہ ان کے قلب مضطرب میں عشق رسول ﷺ کا بحر بیکراں موجزن ہے۔ انہوں نے مختلف اکابر علماء اور دانشوران امت محمدیہ کے انتہائی پرمغز مقالات گہری تحقیق کے بعد ترتیب دے کر کتابی شکل میں جمع کر دیئے ہیں۔ احقر نے یہ رشحاتِ اکابر حرفاً حرفاً پڑھے ہیں۔ میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ اس کے مطالعہ سے امت رسول کے پیرو جواں بخوبی سمجھ سکیں گے کہ مسئلہ ختم نبوت کیا ہے؟ اسلام میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ نبی کی سیرت و کردار کتنے طیب و اطہر ہوتے ہیں؟ قرآن حکیم میں عقیدۂ ختم رسالت کا کیا ثبوت ہے؟ تکمیل دین کے لیے ختم المرسلین کیوں ضروری ہے؟ حضور علیہ التحیۃ والتسلیم کا منصب ختم نبوت کس طرح اساسِ دین ہے اور امت کو اس کا تحفظ کس طرح کرنا چاہیے، کہ کوئی دروغ گو بزعم دعوٰیٰ نبوت و رسالت کا اعلان نہ کر سکے، نہ مہدی و مجدد کا، بارگاہِ ربوبیت پناہ سے اٹل یقین ہے کہ جناب محمد طاہر عبدالرزاق کی یہ مسعود سعی شرفِ قبولیت سے بالضرور نوازی جائے گی، یہ مسیلمۂ پنجاب دجالِ قادیاں کی ذریت خبیثہ کے لیے نقیب انقلاب ثابت ہوگی اور اس کے گلے میں گھنگرو بجنے لگیں گے۔ انشاء اللہ العزیز۔
گدائے درِ ختم المرسلین ﷺ سید یونس الحسنی عفی عنہ
معصوم نبی
مولانا محمد یوسف بنوریؒ
نبوت :
ایک عطیہ ربانی ہے جس کی حقیقت تک رسائی غیر نبی کو نہیں ہو سکتی۔ اس کی حقیقت کو یا تو حق تعالیٰ جانتا ہے، جو نبوت عطا کرنے والا ہے یا پھر وہ ہستی جو اس عطیہ سے سرفراز ہوئی۔ مخلوق بس اتنا جانتی ہے کہ اس اعلیٰ وارفع منصب کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا گیا ہے وہ
- ١۔ معصوم ہے، یعنی نفس کی ناپسندیدہ خواہشات سے پاک صاف پیدا کیا گیا ہے اور
شیطان کی دسترس سے بالاتر ۔ عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی نافرمانی کا صدور ناممکن ہے۔
- ٢۔ آسمانی وحی سے ان کا رابطہ قائم رہتا ہے اور وحی الٰہی کے ذریعہ ان کو غیب کی خبریں
پہنچتی ہیں۔ کبھی جبریل امین کے واسطہ سے اور کبھی بلا واسطہ، جس کے مختلف طریقے ہیں۔
- ٣۔ غیب کی وہ خبریں عظیم فائدہ والی ہوتی ہیں اور عقل کے دائرے سے بالاتر ہوتی
ہیں۔ یعنی انبیا علیہم السلام بذریعہ وحی جو خبریں دیتے ہیں ان کو انسان نہ عقل و فہم کے ذریعے معلوم کر سکتا ہے، نہ مادی آلات و حواس کے ذریعہ ان کا علم ہو سکتا ہے۔
ان تین صفات کی حامل ہستی کو مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث و مامور کیا جاتا ہے۔ گویا حق تعالیٰ اس منصب کے لئے ایسی شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو افراد بشر میں اعلیٰ ترین صفات کی حامل ہوتی ہے۔ اس انتخاب کو قرآن کریم کہیں ”اجتباء“ سے، کہیں ”اصطفاء“ سے اور کبھی لفظ ”اختیار“ سے تعبیر فرماتا ہے۔ یہ عام صفات و خصوصیات تو ہر نبی و رسول میں ہوتی ہیں پھر حق تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرما کر وہ درجات عطا کرتا ہے جن کے تصور سے بھی بشر قاصر ہے گویا نبوت، انسانیت کی وہ معراج کمال ہے جس سے کوئی بالاتر
منصب اور کمال عالم امکان میں نہیں۔ ان صفات عالیہ سے متصف ہستی کو ہدایت و اصلاح کے لئے مبعوث کر کے انہیں تمام انسانیت کا مطاع مطلق ٹھہرایا جاتا ہے۔ ارشاد ہے ۔ وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ (نساء : ٦٤) یعنی ہم نے ہر رسول کو اسی لئے بھیجا کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے ۔ پس حکم خداوندی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے وہ مطاع اور واجب الاطاعت متبوع ہے اور امت اس کی ہدایت کے تابع اور مطیع فرمان۔
جب نبوت و رسالت کے بارے میں یہ صحیح تصور قائم ہو گیا کہ وہ ایک عطیہ ربانی ہے جو کسب و محنت اور مجاہدہ و ریاضت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ حق تعالیٰ اپنے علم محیط قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے پاک اور معصوم و مقدس ہستی کو پیدا فرما کر اس کو وحی آسمانی سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کی ہدایت و ارشاد کے منصب پر اسے کھڑا کرتا ہے تو اس سے عقلی طور پر خود بخود یہ بات واضح ہو گئی کہ نبی و رسول کی شخصیت ہر نقص سے، ہر کوتاہی سے اور ہر انسانی کمزوری سے بالاتر ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر خود اس کی شخصیت انسانی کمزوریوں میں ملوث ہو تو وہ ہدایت و اصلاح کی خدمت کیسے انجام دے سکے گا۔ ”آنکہ خود گم است کرا رہبری کند۔“
چنانچہ سنت اللہ یہی ہے کہ نبی کا حسب و نسب اخلاق و کردار، صورت اور سیرت، خلوت و جلوت اور ظاہر و باطن ایسا پاک اور مقدس و مطہر ہوتا ہے جس سے ہر شخص کا دل و دماغ مطمئن ہو اور کسی کو انگشت نمائی کا بال برابر بھی موقعہ نہ مل سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص شقاوت ازلی کی وجہ سے اس کی دعوت پر لبیک نہ کہے اور جحود و انکار میں مبتلا ہو کر ہدایت سے محروم رہ جائے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ بدتر سے بدترین دشمن بھی نبی میں کسی ”انسانی عیب کی نشاندہی کر سکے۔
قرآن کریم میں انبیاء کرام اور رسولان عظام علیہم الف الف صلوٰۃ و سلام کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اور ان کے جن جن خصائص و کمالات اور اخلاق واوصاف کی نشاندہی فرمائی ہے یہ جگہ ان کی تفصیل کے لئے کافی نہیں۔ یہاں اس سمندر کے چند قطرے پیش کئے جاتے ہیں جو حق تعالیٰ شانہ نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں۔
اے نبی ! بے شک ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہ ہوں گے اور آپ بشارت دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک
روشن چراغ ہیں۔“ ”ہم نے آپ کو گواہی دینے والا بھیجا ہے۔ تاکہ تم لوگ اللہ اور ا کرو اور اس کی تعظیم کرو۔“ ”یسین، قسم ہے قرآن باحکم سیدھے رستہ پر ہیں۔“ ن کی‘ کہ آپ اپنے رب کے فضل لئے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے وا کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔“ ”تحقیق تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کتاب واضح (یعنی قرآن مجید ”سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نـ گیا ایسے لوگ پوری فلاح پا ”اور ہم نے آپ کی خاطر آ کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ ”اور اگر تم نے ان کی اطاعت لئے یعنی ایسے شخص کے لئے کثرت سے ذکر الہٰی کرتا ہو ”پھر قسم ہے آپ کے رب بات نہ ہو کہ ان کے آپس سے تصفیہ کروائیں‘ پھر آپ پورا تسلیم کریں۔“ ”حقیقـ
روشن چراغ ہیں۔“
”ہم نے آپ کو گواہی دینے والا بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو۔“
”یسین، قسم ہے قرآن با حکمت کی کہ بیشک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں، سیدھے رستہ پر ہیں۔“ ”ن، قسم ہے قلم کی، اور ان (فرشتوں) کے لکھنے کی، کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں، اور بے شک آپ کے لئے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں، اور بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔“
”تحقیق تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور کتاب واضح (یعنی قرآن مجید)“
”سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔“
”اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔“ ”آپ فرما دیجئے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔“
”اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ پا جاؤ گے۔“ ”تم لوگوں کے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو رسول اللہ میں ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔“
”پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے فیصلہ کروائیں، پھر آپ کے فیصلہ سے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور پورا پورا تسلیم کریں۔“ ”حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا
جب کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ اس سے قبل صریح غلطی میں تھے۔“
”اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور فہم کی باتیں نازل فرمائیں، اور آپ کو وہ باتیں بتائی ہیں جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔“
ان آیات سے آنحضرت ﷺ کی صفات و کمالات کا نقشہ سامنے آ گیا ہے ان کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت الی اللہ کا آفتاب عالم تاب بنایا ہے تاکہ امت ان پر ایمان لائے۔ ان کی توقیر کرے اور ان کی امداد کرے، بلاشبہ آپ سراسر صراط مستقیم پر ہیں تاریخ عالم اس کی شہادت دیتی ہے کہ آپ خلق عظیم سے آراستہ ہیں جو ان پر ایمان لائیں اور ان کی توقیر و نصرت کریں اور جو آسمانی وحی کا نور الٰہی ان کے ساتھ ہے اس کا بھی اتباع کریں آخرت کی فلاح انہی کے لئے ہے۔ ان کی اتباع سے حق تعالیٰ کی محبوبیت کی سعادت عظمیٰ ملتی ہے۔ انہی کی اطاعت سے ہدایت ملتی ہے، جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اور آخرت کے امیدوار ہیں وہ انہی کو اپنا مقتدا اور پیشوا بنائیں گے جو لوگ اپنے نزاعات و مخاصمات میں بھی ان کے فیصلوں کو بہ دل و جان تسلیم نہ کریں خدا کی قسم کبھی مومن نہیں ہو سکتے حق تعالیٰ کا امت محمدیہ پر بڑا احسان ہے جن میں ایسی ہستی مبعوث فرمائی کہ حق تعالیٰ کی آسمانی وحی ان کو پڑھ کر سنائیں۔ ہر قسم کے شرک و کفر، معصیتوں اور جاہلیت کی رسموں سے ان کا تزکیہ کریں، ان کو کتاب و سنت کی تعلیم دیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل فرمایا کہ کتاب و حکمت کے وہ تمام علوم ان کو سکھائے جو نہ جانتے تھے ۔ چند آیات بینات کا یہ سرسری خاکہ ہے حق تعالیٰ کی اس آسمانی شہادت کے بعد کیا کوئی کمال اب ایسا باقی ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ کو نہ دیا گیا ہو؟ اسی آسمانی وحی ربانی میں تمام امت کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے جناب رسول اللہ ﷺ پر رحمت و درود بھیجتے ہیں اس لئے تمہیں حکم ہے کہ تم بھی ان پر درود بھیجو، پانچ وقت اذان میں ان کی رفعت و بلندی مقام کا اعلان ہوتا ہے، ہر نماز میں ان پر درود و سلام کا مخصوص انداز میں حکم ہے۔ گویا کوئی نماز جو حق تعالیٰ شانہ کی
ی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو ہ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ور حکمت کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ ی غلطی میں تھے۔“ پ پر کتاب اور فہم کی باتیں نازل فرمائیں، اور آپؐ جو آپ نہ جانتے تھے اور آپؐ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ت ﷺ کی صفات و کمالات کا نقشہ سامنے آ گیا ہے ان کا ت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت الی اللہ کا آفتاب پر ایمان لائے۔ ان کی توقیر کرے اور ان کی امداد کرے‘ ا تاریخ عالم اس کی شہادت دیتی ہے کہ آپؐ خلق عظیم سے اور ان کی توقیر و نصرت کریں اور جو آسمانی وحی کا نور الٰہی ان یں آخرت کی فلاح انہی کے لئے ہے۔ ان کی اتباع سے حق ملتی ہے۔ انہی کی اطاعت سے ہدایت ملتی ہے، جو لوگ اللہ ہیں وہ انہی کو اپنا مقتدا اور پیشوا بنائیں گے جو لوگ اپنے کے فیصلوں کو بہ دل و جان تسلیم نہ کریں خدا کی قسم کبھی مومن یہ پر بڑا احسان ہے جن میں ایسی ہستی مبعوث فرمائی کہ حق گئیں۔ ہر قسم کے شرک و کفر، معصیتوں اور جاہلیت کی رسموں و سنت کی تعلیم دیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل فرمایا کہ کو سکھائے جو نہ جانتے تھے ۔ چند آیات بینات کا یہ سرسری وت کے بعد کیا کوئی کمال اب ایسا باقی ہے جو جناب رسول وحی ربانی میں تمام امت کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اللہ ﷺ پر رحمت و درود بھیجتے ہیں اس لئے تمہیں حکم ہے اذان میں ان کی رفعت و بلندی مقام کا اعلان ہوتا ہے، ہر س انداز میں حکم ہے۔ گویا کوئی نماز جو حق تعالیٰ شانہ کی
مخصوص عبادت ہے اور حق تعالیٰ کے ساتھ خصوصی مناجات ہے آپ کے ذکر خیر اور درود وسلام سے خالی نہیں ہے بلکہ اسی پر نماز کا اختتام ہوتا ہے۔ اس لئے تمام امت اور آسمانی کتابوں کا فیصلہ ہے۔ ع ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ بہر حال یہ مسلمات میں سے ہے کہ افراد انسان میں جن نفوس قدسیہ کو حق تعالیٰ نے اصلاح نفوس اور ہدایت و ارشاد عالم کے لئے منتخب فرمایا ہے ان سب کے سرتاج سید الانبیاء و المرسلین امام المتقین خاتم النبیین سیدنا محمد ﷺ کی ذات مقدس ہے۔ اگر ان میں کوئی کوتاہی اور کمی رہ جائے تو پھر سارے انبیاء کرام کوتاہیوں سے مبرا کیسے ہو سکتے ہیں اور امت کی ہدایت کے لئے وہ کیسے قدوہ بن سکتے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جس ذات اقدس نے ہدایت و ارشاد کے لئے ان کی بعثت فرمائی ہے وہ العیاذ باللہ قاصر رہے اور ان کی قدرت سے ایسے افراد کا انتخاب بالاتر ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ پھر نہ تو خدائی رہی، نہ نبوت و رسالت، نہ آسمانی وحی، نہ دین ۔ سارا معاملہ ہی ختم ہو گیا۔ ان حقائق کی روشنی میں عہد حاضر کا ایک محقق یوں رقم طراز ہیں ۔” وہ (یعنی رسول اللہ ﷺ ) نہ فوق البشر ہے، نہ بشری کمزوریوں سے بالاتر ہے۔“ کس جاہل نے کہا ہے کہ وہ فوق البشر ہے ہاں تمام اولین و آخرین اور حق تعالیٰ جو خالق الانبیاء و المرسلین ہیں ان کا فیصلہ ہے کہ وہ اتقی البشر ہیں سید البشر ہیں۔ تمام نسل انسانی میں سب سے بڑھ کر متقی اور کامل ترین افراد بشر میں سے ہیں آفتاب عالمتاب اور بدر منیر کے انوار کو ان کے انوار سے کیا نسبت؟ آسمان ہو یا زمین، چاند ہو یا سورج حتیٰ کہ عرش رحمن بھی آپ کی منزلت سے قاصر ہے، تمام مخلوقات خدا وندی میں افضلیت و کمال کا تاج آپ ہی کے سر باندھا گیا ہے۔ ”نہ فوق البشر ہے ۔“ یہ جملہ بھی جو غمازی کرتا ہے کہ فوق البشر بھی ناقابل برداشت ہے لیکن ۔” نہ بشری کمزوریوں سے بالاتر ہے۔“ کے فقرے سے جو کچھ دل میں تھا ابھر کر آ گیا جو شخص بشری کمزوریوں میں ملوث ہے وہ بشر کی ہدایت کے لئے کیسے موزوں ہو سکتا ہے؟ اردو کے عرف میں اور عام تعبیرات کے پیش نظر بشری کمزوریوں کا اطلاق ان صفات بشریہ پر ہوتا ہے جو صفات ذمیمہ اور قبیحہ ہیں، لوازم بشریت مراد ہو ہی نہیں سکتی۔ لوازم بشریت کھانا پینا سونا جاگنا، خوشی، غم، صحت و مرض وفات وغیرہ بلاشبہ یہ لوازم بشریت ہیں خواص بشریت ہیں اور صفات بشریہ ہیں، عرف میں اس کو کوئی بشری کمزوریوں سے تعبیر نہیں کرتا۔ لوازم بشریت سے ملائکۃ اللہ اور حق تبارک و تعالیٰ منزہ ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ جملہ خطرناک حقیقت کی غمازی کر رہا ہے۔ اسلام کی پوری بنیاد منہدم ہو جاتی ہے حق تعالیٰ تو ان کو یہ شرف قبولیت عطا فرماتا ہے کہ کلمہ اسلام میں،
کلمہ شہادت میں اذان و اقامات میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام آئے‘ نماز میں درود و سلام بھیجنے کا حکم ہوا اور اس انداز سے ہو چونکہ حق تعالیٰ اور ان کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی درود بھیجو‘ بارگاہ قدس سے اتنا اونچا منصب عطا کیا گیا ہو اور ان محقق صاحب کی نگاہ میں وہ بشری کمزوریوں سے بالاتر نہیں‘ جو شخصیت بشری کمزوریوں میں مبتلا ہو کیا وہ اس منصب جلیل کی مستحق ہو سکتی ہے؟ بظاہر تو یہ ایک جملہ ہے لیکن اس ایک جملہ سے ان کے تمام کمالات اور منصب نبوت پر پانی پھر جاتا ہے اور ہر ناقد کے لئے تنقید کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ بشری کمزوری میں جھوٹ بولنا خودغرضی بقایا جاہلیت کے آثار کا نمایاں ہونا‘ مصلحت اندیشی کا کارفرما ہونا‘ بنی عبد مناف اور بنی ہاشم کو بنی امیہ پر ترجیح دینا‘ قریش و مہاجرین کو وہ مقام عطا کرنا جس سے انصار محروم تھے‘ وغیرہ وغیرہ کون سی کمزوریاں ہیں جو اس اجمال میں نہیں آ سکتیں؟ کیا اچھا ہوتا کہ یہ محقق صاحب ان کمزوریوں کی نشاندہی خود فرما دیتے کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جو آپ کی ذات گرامی میں موجود ہیں۔ اس قسم کے نظریات یا قلمی طغیانی اس شخص کا شیوہ ہے۔ جو نہ اہل اللہ کا صحبت یافتہ ہو‘ نہ اسے علم دین میں کمال حاصل ہو۔ عجب و کبر میں مبتلا ہوا‘ اعجاب بالرائے کی وباء عظیم میں ملوث ہو ۔ جس ذات گرامی پر ایمان لانے کا حکم ہو حق تعالیٰ ایمان کے بعد جس پر ایمان کا مرتبہ ہو‘ جسے ہدایت امت کے لئے سراجاً منیراً بنایا گیا ہو‘ جو دعوت الی اللہ پر مامور ہو جس کی شخصیت کو امت کے لیے اسوہ حسنہ بنایا گیا ہو جس کی صفات و کمالات اور خصائص اخلاق عظیم کا اعلان کیا گیا ہو محقق صاحب کی نگاہ میں ان کی شخصیت اتنی مجروح ہو کہ بشری کمزوریوں سے بالاتر نہیں۔ اب تک تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ محقق صاحب سلف صالحین کو مجروح کرتے چلے آئے ہیں۔ صحابہ کرام کی شخصیت کو مجروح کرتے چلے آئے ہیں اور انبیاء کرام کی شخصیت پر بھی کچھ نہ کچھ اشارے جرح کے موجود تھے‘ یونس علیہ السلام سے فریضہ نبوت پر تقصیر ہوئی ........................................ ایک حضرت سید المرسلین خاتم النبین امام المتقین کی ذات گرامی باقی رہ گئی تھی وہ بھی اب مجروح ہو گئی۔
قرآن کریم میں جہاں یہ حکم ہوا کہ آپ اعلان کریں کہ میں بشر ہوں ساتھ ہی ”یوحٰی الیّ“ کا وصف لگایا گیا تا کہ کوئی قاصر الفہم قاصر العقل بشر کے ساتھ بشری کمزوریوں کا خیال نہ کرے۔ چنانچہ ارشاد ہے ۔ قل انما انا بشر مثلکم یوحى الی انما الھکم الہ واحد کہف ١١٠ سورہ (بنی اسرائیل:٩٣) میں ہے قل سبحان ربی ھل کنت بشراً رسولا کے ساتھ رسول کی صفت لگائی گئی ہے۔ جہاں محض بشریت کا ذکر کیا ہے یا صفات بشریت کا ذکر ہے
وہ تمام تر مشرکین و کفار کے قول کی نقل ہے قَالُوْا ان انتم الا بشر مثلنا (ابراہیم) هل هذا الا بشر مثلکم (الانبیاء) ما ھذا الا بشر مثلکم (المومنون) ما انتم الا بشر مثلنا (یٰسٓ) ما نرک الا بشراً مثلنا (ہود:٢٧) کفار نے بلاشبہ طعنے کے طور پر کہا کہ یہ ہم جیسے بشر ہیں بلکہ ان کو بھی اس کی جرأت نہیں ہوئی کہ یہ جرم بھی عائد کرسکیں کہ بشری کمزوریوں سے بالا تر نہیں اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ انبیاء کرام کی پاکیزگی اخلاق، کرامت و شرافت اتنی بدیہی اور واضح ہے کہ انکار کی مجال نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ طعنہ دیا کہ کھاتا پیتا ہے، بازاروں میں جاتا ہے، گویا فرشتہ نہیں کہ ان چیزوں سے بالاتر ہو۔ کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ موصوف کے دل میں اس سے بھی زیادہ کچھ ہے لیکن خوف مانع ہے پوری دل کی بات کا اظہار نہ کر سکے۔ وما تخفی صدورهم اکبر اللہ تعالیٰ اور زیغ وضلال سے بچائے۔ بشری کمزوری دو راستوں سے ہوتی ہے ۔ (١) نفس (٢) شیطان ۔ جب نبی و رسول نفس کی غیر مستحسن اور ناپسندیدہ خواہشات سے مبرا ہے اور پاک ہے تو اس کے عواطف و رجحانات ناپسندیدہ نہیں ہو سکتے۔ ان کا نفس نفسِ مطمئنہ ہے۔ نفسِ ملکی ہے۔ نفس کی صفات رذیلہ سے یکسر بالاتر ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ رذیلۂ نفسانی کا وہاں گزر نہیں اور نفس کے جتنے صفات کمال ہیں، تقویٰ و طہارت، شکر و صبر، عفت و رافت، رحمت و جود اور سخا و کرم وغیرہ وغیرہ تمام کے تمام وہاں موجود ہوتے ہیں اور شیطان لعین کے وساوس سے یکسر حفاظت ہوتی ہے۔ شیطان نبی و رسول کو کبھی بھی غلط کام پر آمادہ ہی نہیں کر سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا شیطان مجھے خیر ہی کا حکم دیتا ہے۔ بہر حال جب دونوں راستوں سے حفاظت ہو گئی تو بشری کمزوری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ صحیح مسلم میں عائشہ صدیقہؓ کی روایت میں تو یہ آیا ہے کہ ”کان خلقہ القرآن“ آپ کے اخلاق کریمہ قرآن کریم کا مرقع ہے۔ گویا آپ کی حیات مقدسہ زندہ قرآن ہے۔ آپ کا وجود مقدس زندہ قرآن ہوا اور یہی تمام عالم کا فیصلہ ہے لیکن محقق صاحب فرماتے ہیں کہ بشری کمزوریوں سے آپ بالاتر نہیں پھر سنت اللہ جاری ہے کہ انبیاء کرام کے عام قوی بشری بھی عام انسانوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ ان کی جسمانی صلاحیتیں جسمانی قوتیں برتر اور عام افراد سے بالاتر ہوتی ہیں، بلکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کو چالیس افراد جنت کی قوت عطا فرمائی گئی ہے اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنت میں ہر فرد بشر کو سو اشخاص کی قوت عنایت کی جاتی ہے۔ بلکہ قاضی عیاض کی شفاء میں اور سیوطی کے خصائص کبریٰ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت سے ایک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا ہے ”یعنی ہمارے اجساد میں ارواح اہل جنت کی
ہیں‘ ان تفصیلات کا یہاں موقع نہیں ہے بہرحال نہ معلوم کہ اتنی صاف اور واضح حقیقت کیوں سمجھ نہیں آتی کہ جب کوئی شخص بشری کمزوریوں میں مبتلا ہو وہ کیونکر ہادی و رہنما بنے گا اور اس کی دعوت و تبلیغ کیونکر کامیاب ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم تو صاف اعلان فرماتا ہے: ”کیا تم لوگوں کو حکم دیتے ہو نیکی کا اور اپنے نفسوں کو بھولتے ہو اور تم کتاب اللہ پڑھتے ہو کیا اتنا بھی تم نہیں جانتے کہ اس کا اثر کیا ہو گا۔“ حضور نبی کریم ﷺ کی تو سب سے بڑی خصوصیت یہ ہی ہے کہ جو کیا اسی کا حکم دیا۔ تا کہ قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو‘ مقام افسوس ہے کہ محقق صاحب کو اتنی واضح اور صاف بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ بہرحال جہاں محقق صاحب کے بہت سے قابل شدید اعتراض مباحث ہیں یا تعبیرات ہیں اور ان کی تصنیفات میں بکھری پڑی ہیں یہ جملہ اور مضمون بھی قباحت گوئے سبقت لے گیا ہے محقق صاحب اپنی تفسیر سورۂ آل عمران میں حضرات صحابہؓ کے بارے میں رقمطراز ہیں۔ سود خوری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود خوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اور سود دینے والوں میں نفرت‘ غصہ اور بغض حسد‘ احد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔“ اسی سورۂ آل عمران کے آخر میں ان صحابہؓ کے بارے میں حق تعالیٰ یوں فرماتے ہیں:
”سو جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور تکلیفیں دیئے گئے میری راہ میں‘ اور جہاد کیا اور شہید ہو گئے ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں معاف کر دوں گا اور ضرور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ یہ عوض ملے گا اللہ سے اور اللہ ہی کے پاس اچھا عوض ہے۔“
حق تعالیٰ نے تو ان کو یہ داد دی ہے اور محقق صاحب کی نگاہ میں وہ حریص‘ طماع‘ بخیل‘ خود غرض ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے بغض و حسد رکھنے والے اور ان بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان میں جہل و عناد کی بھی انتہا ہو گئی ۔ غزوۂ احد کے بعد غزوہ بنی النضیر میں جو سورۂ حشر نازل ہوئی اس میں حق تعالیٰ شانہٗ یوں ارشاد فرماتے ہیں:
”ان فقراء اور مہاجرین کا حق ہے‘ جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے جدا کر دیئے گئے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کے طالب ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں‘ یہی لوگ سچے ہیں۔ اور ان لوگوں کا حق ہے جو دارالاسلام میں ان (مہاجرین کے آنے
سے) قبل قرار پکڑے آتا ہے اس سے یہ لو اس سے یہ لوگ اپنے مقدم رکھتے ہیں ان پر سے محفوظ رکھا جائے ا حق تعالیٰ تو ان مہاجر انداز سے داد دیں اور محقق صاحب تو بطور مثال ایک سرسری اشارہ کر و مقالہ کے شروع میں جو تحقیق فر نام نہیں جس کو سب سے پہلے محمد انبیاء میں محمد ﷺ کی خصوصیت و ذریعہ خدا نے اسی اصل دین کو بھی ان کو ٹھوکر لگی ہے اور غلط مو خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ان پانی سامنے آ جائے جو ایک دوسر کا وقت بھی آ گیا ہے۔ واللہ مقام عالی کا کیا کہنا۔ آپ کی ص پر پہنچ گئے ہیں اس کا ادراک ارشاد ہے۔ ”محمد اللہ وہ کافروں کے مقاما ان کو دیکھے گا کہ رکوع تعالیٰ کے فضل اور ر سجدہ کے ان کے چ
نہیں ہے بہرحال نہ معلوم کہ اتنی صاف اور واضح حقیقت کیوں بشری کمزوریوں میں مبتلا ہو وہ کیونکہ ہادی و رہنما بنے گا اور اس ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم تو صاف اعلان فرماتا ہے: ”کیا تم اپنے نفسوں کو بھولتے ہو اور تم کتاب اللہ پڑھتے ہو کیا اتنا بھی تم گا۔“ حضور نبی کریم ﷺ کی تو سب سے بڑی خصوصیت یہ ہی قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو‘ مقام افسوس ہے کہ محقق صاحب کو میں نہیں آتی۔ بہرحال جہاں محقق صاحب کے بہت سے قابل برات ہیں اور ان کی تصنیفات میں بکھری پڑی ہیں یہ جملہ اور لے گیا ہے محقق صاحب اپنی تفسیر سورۂ آل عمران میں حضرات یا۔ سود خوری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سود ی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اور سود دینے والوں میں نفرت‘ غصہ ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔“ اسی سورۂ کے بارے میں حق تعالیٰ یوں فرماتے ہیں:
رک وطن کیا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور تکلیفیں دیئے شہید ہو گئے ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں معاف کر دوں گا ل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ یہ عوض ی کے پاس اچھا عوض ہے۔“
یہ داد دی ہے اور محقق صاحب کی نگاہ میں وہ حریص‘ طماع‘ نفرت کرنے والے بغض و حسد رکھنے والے اور ان بیماریوں کی بھی انتہا ہو گئی۔ غزوۂ احد کے بعد غزوہ بنی النضیر میں جو عالیٰ شانہ یوں ارشاد فرماتے ہیں:
کا حق ہے‘ جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کے طالب کے رسول کی مدد سے کرتے ہیں‘ یہی لوگ سچے ہے جو دارالاسلام میں ان (مہاجرین کے آنے
سے) قبل قرار پکڑے ہوئے ہیں اور جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ لوگ اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں ان پر فاقہ ہی ہو اور واقعی جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
حق تعالیٰ تو ان مہاجرین و انصار کو صادقین و مفلحون جیسے شاندار الفاظ میں اس عجیب انداز سے داد دیں اور محقق صاحب ان کو طماع و حریص ایک دوسرے سے متنفر بتائیں اس وقت تو بطور مثال ایک سرسری اشارہ کر دیا گیا اور موضوع ابھی بہت کچھ لکھنے کا محتاج ہے۔ اسی مضمون و مقالہ کے شروع میں جو تحقیق فرمائی گئی کہ ”ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام کسی ایسے دین کا نام نہیں جس کو سب سے پہلے محمد ﷺ نے پیش کیا ہو اور اس بنا پر آپ کو بانی اسلام کہنا صحیح ہو انبیاء میں محمد ﷺ کی خصوصیت دراصل یہ ہے کہ (١) وہ خدا کے آخری نبی ہیں (٢) ان کے ذریعہ خدا نے اسی اصل دین کو پھر تازہ کر دیا جو تمام انبیاء کا لایا ہوا تھا۔ الخ“ اس مضمون میں بھی ان کو ٹھوکر لگی ہے اور غلط موڑ پر پہنچ گئے جو نہایت خطرناک ہے۔ اب دیانت اور دین کی خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ان مضامین پر بے لاگ تبصرہ ایسا کیا جائے کہ دودھ کا دودھ‘ پانی کا پانی سامنے آ جائے جو ایک دو مولوی ان کی ہم نوائی کرتے چلے آئے ہیں ان کے ایمانی امتحان کا وقت بھی آ گیا ہے۔ واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل حضرت نبی کریم ﷺ کے مقام عالی کا کیا کہنا۔ آپ کی صحبت‘ فیض خدمت‘ اور توجہات مبارکہ سے صحابہ کرام جس مقام پر پہنچ گئے ہیں اس کا ادراک بھی ہم جیسوں کے لئے ناممکن ہے قرآن کریم کی سورۂ فتح میں ارشاد ہے۔
”محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز اور آپس میں مہربان ہیں۔ اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے آثار بوجہہ تاثیر سجدہ کے ان کے چہرے سے نمایاں ہیں۔“
تکمیل دین اور ختم نبوت
چوہدری افضل حق ؒ
مشیت ایزدی نے دنیا کے کامل انسان پر دین حق کی تکمیل کر دی۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی عمارت کے آخری معمار قرار پائے ”اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ“ آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا اور تم پر نعمت پوری پوری کر دی کے جانفزا پیغام کا معنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی لَا نَبِيَّ بَعْدِي (میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا) کے ارشاد سے واضح کر دیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللعالمین اسی لئے قرار دیئے گئے کہ ان کے بعد نئی نئی تعلیمات اور نئے نئے رسولوں پر بنی نوع انسان تقسیم در تقسیم ہونے سے بچ جائے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے ساتھ ہی دنیا کی تمام ترقیوں کے راستے کھل گئے۔ یہ آپ ہی کے وجود باجود کا اعجاز ہے کہ آپ کے ظہور کے ساتھ ملکوں اور قوموں میں باہم میل جول اور ربط و ضبط کے مواقع پیدا ہو گئے۔ زمانہ بتدریج ترقی کرتا کرتا یہاں تک پہنچ گیا لاکھوں میلوں کی مسافت دنوں میں طے ہوتی گئی۔ اور برسوں کے سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگے۔ اسلام کا یہ دعویٰ کہ میں تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لئے ایک ہی مشترکہ پیغام لایا ہوں۔ حالات اور واقعات سے سچ ثابت ہونے لگا۔ اسلام سے قبل دنیا کے حالات ایسے تھے کہ مشترکہ تربیت ناممکن تھی چنانچہ زمانہ کے حالات کے مطابق نبی الگ الگ قوموں اور ملکوں کے لئے مبعوث ہوتے رہے کیونکہ اپنے ملک کے باہر دعوت و اشاعت میں ناقابل عبور مشکلات تھیں تا آنکہ رحمت حق جوش میں آئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ اس شمع کے نور سے دنیا میں روشنی پھیلی۔
اب دنیا کو معلوم ہوا کہ اختلاف مذہب کی بنا پر انسان گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ اس لئے ہر شخص نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ دنیا کو ایک مشترکہ مذہب کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ اب زمانے کے حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ لوگ یوں بھی اختلاف مذہب کی بنا پر ایک دوسرے کو جہنمی قرار دینے کو ناپسند کرتے ہیں گویا زمانہ نئے نئے نبیوں کے دعووں کی بنا پر گروہ در گروہ تقسیم ہونے سے بالکل انکار پر آمادہ ہے اب زمانے کی سپرٹ کو لَا نَبِيَّ بَعْدِي کے ارشاد
اور اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کے ربانی ع آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہو ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ اللہ تبارک کے انسانوں کی سپرٹ پورے طور سے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام دنیا کے ہی پیغام اور ایک ہی پیغام بر کے تا سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کی سپرٹ نے لَا نَبِيَّ بَعْدِي اور اک مرزائی کہتے ہیں باب نبو کا دروازہ بند ہو گیا۔ ان کا دعویٰ یہ ضروری ہے۔ دیکھو سلامتی کے مذھب گیا ہے۔ یعنی مجددوں کے آنے کا ہیں۔ لیکن کسی ایسے نبی کے آنے کا لوگ قابل مؤاخذہ سمجھے جائیں گے باعث رحمت ہے یا مرزائیوں کا مذھ بعد کے آنے والے نبیوں پر ایمان سی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مرزائی ایک خاص جماعت لاہوری مرزائی سے منکر ہے لیکن قادیانی مرزائیوں اسلام بلکہ زمانہ بھر کے لئے مذاق سپرٹ کے خلاف مرزائیوں کی طر اور آنے والے نبی پر ایمان نہ لا کفر کی موت مریں گی اور نبیوں بارنسل انسانی بیش از بیش مذہبی گر جاری رہے گا۔
اور اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کے ربانی حکم کو ملا کر پڑھو تو منشائے ایزدی صاف معلوم ہو جاتا ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور اور ان پر دین کی تکمیل سے اس زمانہ کی سپرٹ اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم میں اس زمانہ کے حالات اور اس زمانے کے انسانوں کی سپرٹ پورے طور سے موجود تھی۔ یا یوں کہو کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام دنیا کے لوگوں میں خود بخود سپرٹ پیدا کر دی کہ اب تمام دنیا ایک ہی پیغام اور ایک ہی پیغام بر کے تابع ہو جائے۔ ادھر تکمیل دین کی آیت اتری۔ لا نبی بعدی سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرما دی۔ ساتھ ہی آنے والے زمانے کی سپرٹ نے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ اور اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کی تصدیق کر دی۔
مرزائی کہتے ہیں باب نبوت کے بند ہونے کے دعوٰی کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ بند ہو گیا۔ ان کا دعوٰی یہ ہے کہ لوگوں کو رشد و ہدایت کے لئے نبیوں کا ظہور تا قیامت ضروری ہے۔ دیکھو سلامتی کے مذہب یعنی دین اسلام میں ایک حد تک اس ضرورت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یعنی مجددوں کے آنے کا اقرار موجود ہے۔ مگر مرزا صاحب اس کے مصداق نہیں ہیں۔ لیکن کسی ایسے نبی کے آنے کا انکار ہے جس کے دعوٰی کی بناء پر اس کے نہ ماننے والے لوگ قابل مؤاخذہ سمجھے جائیں گے۔ غور کرو کہ بنی نوع انسان کیلئے اسلام کی پیش کردہ صورت باعث رحمت ہے یا مرزائیوں کا مذہبی دعوٰی دنیا کے لئے بہتر ہے کہ مرزا غلام احمد یا اسی قسم کے بعد کے آنے والے نبیوں پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے۔ بعض اوقات دانا بھی بے وقوفوں کی سی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مرزائیوں میں سے اکثر اس دعوٰی کے بودا پن کے قائل ہیں۔ یعنی ایک خاص جماعت لاہوری مرزائیوں کے نام سے مشہور ہے۔ اسی بناء پر مرزا صاحب کی نبوت سے منکر ہے لیکن قادیانی مرزائیوں میں سے تعلیم یافتہ طبقہ مرزا صاحب کو نبی مان کر نہ صرف عالم اسلام بلکہ زمانہ بھر کے لئے مذاق کا باعث بن رہا ہے۔ اگر اسلام کے اصول اور زمانہ کی سپرٹ کے خلاف مرزائیوں کی طرح یہ تسلیم کر لیا جائے کہ باب نبوت تا قیامت کھلا رہے گا۔ اور آنے والے نبی پر ایمان نہ لانے والا جہنمی قرار دیا جائے گا۔ تو غور کرو۔ نسلوں کی نسلیں یونہی کفر کی موت مریں گی اور نبیوں کے حلقۂ احباب سے باہر سب دنیا جہنم میں جائے گی اور ہر بار نسلِ انسانی بیش از بیش مذہبی گروہوں میں تقسیم ہوتی چلی جائے گی اور مذہبی تنازعوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت کے دروازے کا بند کرنا ایک انوکھی بات ہے۔ حالانکہ وہ اس انوکھی بات کے قائل ہیں کہ اسلام اور اسلام کے بانی کی دعوت تمام دنیا اور قیامت تک کے لئے ہے اب اس تعلیم میں کمی کی گنجائش نہیں۔ جب ایک نبی برخلاف تمام پچھلے نبیوں کے تمام دنیا کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے آ چکا۔ تو پھر کسی نئے مدعی نبوت کی ضرورت ہی پیدا نہیں ہوتی۔ ہاں اگر مرزائی حضرات اس امر کا باطل دعویٰ کریں کہ جس طرح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی مخصوص ملکوں اور مخصوص قوموں کے لئے آئے۔ اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم یا کسی ایک خاص ملک کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اور جناب مرزا کسی اور ملک اور کسی اور قوم کے لئے نازل ہوئے اور خاص خاص ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لئے خاص نبیوں کو بھیجنے کی سنت ابھی جاری ہے لیکن وہ ایسا تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ کہتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے آفتاب ہدایت ہیں۔ تو اس آفتاب کے سامنے مرزائیوں کا دیا جلانا بے شک بے عقلی کی بات ہے۔ اسلام کا یہ دعویٰ کہ یہ تمام آنے والی نسلوں اور زمانے کی ضرورتوں کا کفیل ہے اور قرآن پر مسلمانوں اور قادیانیوں کا مشترکہ یقین کہ اس کے مخاطب تمام قومیں، تمام نسلیں اور تمام آنے والا زمانہ ہے۔ اس اعتقاد کو ختم کر دیتا ہے کہ نبوت کا باب بدستور کھلا ہے۔
کاش ! مرزائی اتنی موٹی بات کو سمجھیں کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یہ ہے کہ وہ تمام ملکوں اور قوموں کے لئے مشعل ہدایت ہیں اور قرآن تا قیامت مومنین کی جان کا نور رہے گا تو باب نبوت کا وا سمجھنا سوائے فتنہ کے دروازے کھولنے کے اور کیا مطلب رکھتا ہے۔
عزیزو! اس سچی بات پر یقین رکھو کہ اسلام تمام قوموں، تمام ملکوں اور تمام زمانوں کے لئے بہترین دستور عمل ہے اس لئے اس پیغام کو لانے والا تمام قوموں اور تمام ملکوں کے لئے واجب التسلیم پیغمبر ہے۔ عقل انسانی اور ضرورت زمانہ کو تو اب اس بات پر اصرار ہے کہ قومیں نئے نئے نبیوں کے دعوؤں کی بنا پر گروہوں میں تقسیم نہ ہوں۔ دنیا کا ایک ہی مشترکہ مذہب ہو جو امن و سلامتی اور بنی نوع انسان کے اتحاد کا ضامن ہو۔ یہ مذہب اسلام ہے اس کو لانے والے کے فیض کو تمام زمانوں کے لئے کافی قرار دیا جائے۔
میری بحث کے تین جزو ہیں:
- اول: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جس قدر نبی مبعوث ہوئے وہ خاص
خاص قوموں اور خاص خاص ملکوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے ان کا فیض عام نہ تھا۔ یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جو رحمۃ للعالمین کہلائے اور تمام دنیا کے لئے ہادی قرار پائے اس دعویٰ کی بنا پر عقل کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔
دوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کلام اترا وہ تمام نسلوں اور تمام زمانوں کے لئے بہترین دستور عمل ہے اور اس کلام کی محافظت کی ذمہ داری خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات پر لی ہے لاکھوں قرآن پاک کے حفاظ اس کے شاہد و عادل ہیں۔ اس لئے ایسی ہمہ گیر اور تاقیامت باقی رہنے والی تعلیم دینے والا نبی آخرالزمان نبی کہلاتا ہے اور اس کے بعد کسی نبی کے آنے کا خیال باطل ہے۔
سوئم: بار بار نبیوں کے آنے اور ملک ملک اور قبیلے قبیلے میں پیغمبروں کے آنے کی سرے سے ضرورت ختم ہو چکی ہے کیوں کہ اللہ کے فضل اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے زمانہ ترقی کے ان مراحل پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک مذہب اور ایک حکومت اور ایک زبان کی ضرورت تسلیم کی جا رہی ہے۔ زمانہ زبان حال سے مذہبی گروہ بندیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے۔ اس لئے منشائے ایزدی بنی نوع انسان میں جاری اور طاری سپرٹ سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ یہی ہے کہ آئندہ نسل انسانی نئے نئے نبیوں کے دعووں کی بنا پر گروہوں میں تقسیم نہ ہو بلکہ ایک ہی سلامتی کے مذہب کو قبول کریں اور ایک ہی سلامتی کے شہزادے کی حکومت تسلیم کریں اور وہ سلامتی کا مذہب اسلام ہے اور اس کے شہزادہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
مرزائیت اور کمیونزم
صرف سرمایہ ہی طبقات پیدا نہیں کرتا بلکہ انسانوں میں گروہ بندی کرنے والے اور بھی محرکات ہیں۔ ان سب سے بڑا ذریعہ مختلف نبیوں پر ایمان ہے۔ قومیں خدا پر ایمان کے نزاع پر مختلف نہیں بلکہ مختلف نبیوں پر ایمان لانے کے باعث الگ الگ ہیں۔ پہلے آمد و رفت کے وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ پیغمبروں کے ذریعے ہر ملک کی روحانی تربیت ضروری تھی۔ ایک ملک میں بیٹھ کر سب ملکوں میں پیغام نہ پہنچایا جا سکتا تھا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین مکمل ہوا۔ آپ نے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا اعلان کر کے دنیا کو اتحاد کا مژدہ سنایا کہ آئندہ نبیوں کی بنا پر قوموں کی تربیت ختم ہو گئی۔ آؤ ایک محکم دین کی طرف آؤ یہ سب کے حالات کے مطابق ہے۔ اسلام تمہارے سارے عوارض کا مکمل نسخہ ہے۔ زمانے نے دیکھ لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بتدریج دور دور کے ملک آمدورفت کے سلسلوں میں آسانیوں کے باعث نزدیک تر ہوتے گئے۔ اب تو دور دراز ملک ایک شہر کے محلوں سے بھی قریب معلوم ہونے لگے ہیں۔ اس لئے ملک ملک کے علیحدہ پیغامبر کی ضرورت نہ رہی تھی۔
اب انسانی دماغ کافی نشو و نما پا چکا تھا۔ لوگ اپنا بھلا برا خود سمجھنے لگے، اب ایک سچائی پیش کرنا کافی ہے۔ باقی معاملہ لوگوں کی سمجھ پر چھوڑنا کفایت کرتا ہے۔ مذہب کی سچائی اب سمجھ سے بالا نہیں بلکہ تعصب کے باعث قبول کرنے میں دقت ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) کے آتے ہی اہل دنیا کی عقل اور علم نے حیرت انگیز ترقی کی۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے معنی یہ تھے کہ اب انسانیت سن شعور کو پہنچ چکی ہے۔ اب کسی سکول ماسٹر کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ دنیا کے حالات کا مطالعہ کر سکتے ہیں وہ سچی اور جھوٹی بات میں فرق کر کے صحیح راہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اب مکمل سچائی یعنی اسلام ہم تک پہنچ گیا۔ اب کسی نبی کی ضرورت نہ رہی۔ اگر ہم نبوت کا سلسلہ ابھی تک جاری مان لیں تو پھر مختلف نبیوں پر ایمان کے باعث قوموں، ملکوں پر اور انسانیت میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔ پہلے تو ملک ملک ایک الگ دنیا تھی۔ الگ الگ نبیوں کی ضرورت تھی اب جب دنیا سمٹ کر ایک کنبہ میں رہتی ہے۔ تو نبوت کے مختلف دعوے داروں کا آنا دنیا کو تقسیم بلا ضرورت کرنے سے کم نہ تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لا نبی بعدی کا ارشاد دنیا کے لئے رحمت کا پیغام اور انسانیت کے لئے خوش خبری تھی۔
ہندوستان کی سرزمین عجیب ہے۔ قادیان میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ٣٠، ٤٠ برس مسلمانوں کی توجہ تعمیری کاموں کی بجائے اس گتھی کی طرف لگی رہی۔ ایک حصہ کٹ کے الگ ہو گیا۔ انگریزی حکومت کے زیر سایہ جہاں چھوٹے بڑے راجے نواب پرورش پا کر سرکار کے گن گاتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کو اعتراض نہ تھا۔ اگر متعدد نبی اور کئی ایک
سرکاری ولی پیدا ہو کر ان کے دعا گو بنے رہیں۔ انہیں امور سلطنت میں سہولت درکار تھی۔ مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں میں سے یہ بھی حکومت انگریزی کی کارگر تدبیر تھی کہ روحانی اداروں پر ان کے ہوا خواہ قابض ہوں اور یوں سرکار انگریزی کی وفاداری مسلمانوں کا جزو مذہب بن جائے پنجاب اور سندھ میں ہر پیرخانہ سرکاری تعلق داری اور وظیفہ خواری پر پرورش پا رہا ہے۔ یہ تو پیر تھے۔ مگر حکومت کو قادیان کا پیغمبر ہوا خواہی کے لئے مل گیا۔ مسلمان سیاسی اور مذہبی طور پر انگریزی غلامی پر مطمئن ہو گئے۔ مسلمانوں کی موجودہ مدہوشی کی بڑی وجہ انگریز کی یہ کامیاب تدبیر ہے۔ پھر تو ساری اسلامی آبادی حکومت کی منقولہ جائیداد بن کے رہ گئی تھی۔ جہاں سے اٹھائیں جہاں ڈالیں۔ مخالفت کی ایک آواز نکالنا مشکل تھی۔ انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ حمایت قادیان کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع انکے اثر و رسوخ میں آ گیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لئے قادیانی کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی۔ آئی۔ ڈی تو الگ رہا قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے حکومت وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لئے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اس لئے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی سی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا جسے یہ تائید حاصل ہو گئی اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔ پس قادیانی تحریک کی مخالفت سیاسی اور مذہبی دونوں وجوہات کی بنا پر تھی جس اسلامی جماعت نے مسلمانوں کو آزاد اور توانا قوم دیکھنے کا ارادہ کیا ہوا ہے سب سے پہلے اس جماعت سے ٹکرانا ناگزیر تھا۔ اس جماعت کے اثر و رسوخ کو کم کیے بغیر آزادی کا تصور کرنا ممکن نہ تھا۔ شاید ہماری آئندہ نسلیں قادیانیوں کے خلاف ہماری جدوجہد کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے میں اس طرح کی غلطی کھائیں جس طرح مذہب سے بیزار اشتراکیت کا شیدائی کھا رہا ہے۔ تعجب ہے کہ اقتصادی مساوات کے حامی لوگ صرف ہمارے مذہبی رجحانات کو دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ احرار سرمایہ داری کے مضبوط قلعے پر حملہ آور ہیں۔
مسلمان مرزائیوں کے خلاف صف آراء کیوں ہیں؟
- O ...... ہم اس امت مرتدہ کے بحیثیت انسان مخالف نہیں، نہ ان کی عزت و آبرو کے دشمن
ہیں لیکن ان کے مکر و فریب اور دجل و تلبیس سے بچنا ہم اپنا قدرتی حق سمجھتے ہیں۔
- O ...... یہ لوگ سیاسی طور پر مسلمانوں کے ساتھ صرف اس لئے رہنا چاہتے ہیں کہ عام
مسلمانوں کے حقوق سے فائدہ اٹھائیں لیکن ان کا مذہبی اور معاشی مقاطعہ کر کے نہ صرف اپنی علیحدہ قوت تعمیر کرتے بلکہ مسلمانوں کی دینی و ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
- O ...... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ خواہ ظلی ہو یا بروزی نہ صرف اسلام
پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ مسلمانوں میں انتشار عظیم پیدا کرنے کا بھی باعث ہے۔
- O ...... یہ لوگ برٹش امپیریلزم کے کھلے ایجنٹ ہیں۔
- O ...... مسلمانوں میں ففتھ کالم کے طور پر کام کرتے ہیں۔
- O ...... ان کا وجود مسلمانوں کی داخلی زندگی کے لئے اسرائیل سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
- O ...... انگریزوں نے مرزائیوں سے مسلمان ملکوں کی جاسوسی کا کام لیا ہے۔
- O ...... انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے لئے نبوت کا جھوٹا راگ رچا کر الہام کی زبان
میں سند مہیا کی ہے۔
- O ...... انہیں مسلمانوں کی جمعیت سے حذف کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کا وجود نہ
صرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی نظر میں خارج اسلام ہے بلکہ ان کی اپنی تحریروں میں درج ہے کہ یہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ جب یہ تمام مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے تو پھر مسلمانوں میں شامل رہنے پر مصر کیوں ہیں؟
- O ...... انہوں نے مسلمانوں کی مقدس اصطلاحات کو اپنے حاشیہ برداروں اور اپنے گماشتوں
پر استعمال کر کے نہ صرف ان الفاظ کی قدر و قیمت کو ہلکا کیا ہے بلکہ اس تقدس اور
پاکیزگی کو بھی عاجز کیا ہے جو ان الفاظ اور مصطلحات سے وابستہ ہے۔
- O...... جو مسلمان اس امت مرتدہ کو مسلمانوں کا جزو خیال کرتے ہیں اور ان کے وسائل
سے مرعوب ہو کر اس تحریک کو محض احرار کی تحریک سے تعبیر کرتے ہیں وہ اسلام اور نفس اسلام کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور یہی وہ نقطۂ نگاہ ہے جس سے مرزائیت کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی سالمیت اور عقیدۂ ختم نبوت
مولانا عبدالستار خان نیازی ایم۔ اے
دین کے عام فہم معنی سوائے اس کے کچھ نہیں کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو زندگی اور آخرت کے ہر مسئلہ میں آخری حجت مانا جائے اور ہر زمانے میں جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو زندگی اور آخرت کے ہر مسئلے میں آخری حجت تسلیم کیا ہے۔ ان کی کارگزاری کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفہیمات کا مفہوم سمجھا جائے جسے فقہاء کی اصطلاح میں سُنت سلف صالحین کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر آئین میں قرآن وسنت کو سارے آئین کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی سالمیت برقرار رکھنے کی خاطر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس نبی پر نازل ہونے والی کتاب اور کس نبی کی سنت آئین کا سرچشمہ ہے۔
زین جہت با یکدگر پیوستہ ایم
گویا ختم نبوت صرف فقہ اور عقائد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے آئین اور قانون کا مسئلہ ہے۔ یہ مشرقی پاکستان، کشمیر، سرحد، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کو ایک دوسرے سے پیوست کرنے یا ایک دوسرے سے اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دینے کا مسئلہ ہے۔ صرف یہی نہیں یہ پاکستان کو بھارت سے جدا کرنے یا بھارت کے ساتھ واپس ملحق کر دینے کا مسئلہ ہے۔ صرف یہی نہیں یہ ہر پاکستانی خاندان کے اندر نسب اور صلہ رحمی کے رشتے قائم رکھنے یا منقطع کر دینے کا مسئلہ ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ بحیثیت ایک مسلمان کے کسی مسلمان کی شخصیت کو قائم رکھنے یا
دیوانے کے خواب کی طرح اس کی شخصیت کے مختلف اجزاء کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کر کے اس کی اخلاقی اور ذہنی موت وارد کر دینے یا توحید سے اس کو بامعنی بنا دینے کا مسئلہ ہے۔
میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ کسی شاعر کی مبالغہ آرائی یا کسی واعظ کی محفل آرائی نہیں۔ تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ جس دن سے تحریک تحفظ ختم نبوت کو کچلا گیا تھا اس دن سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین مساوی نمائندگی اور مساوی تقسیم کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ جس پختونستان کو ہم جاہلانہ عصبیت کا نام دیا کرتے تھے وہ ہمارے ایک سابق صدر مملکت اور ایک بیرونی بادشاہ کے مابین موضوع گفتگو بن چکا ہے اور اب کابل برانڈ اور اتمان زئی برانڈ میں تقسیم ہو کر اسے ریشمی غلاف میں ملفوف کر کے پیش کیا جا رہا ہے (جب صوبہ جاتی خود مختاری پیش نظر ہے تو پختونستان کے گمراہ کن نام کے بجائے اسے صوبہ خیبر سے کیوں موسوم نہیں کیا جاتا) جس پنجاب نے پاکستان بنانے کے لیے سب سے زیادہ قربانی دی اور جس نے سب سے زیادہ مہاجرین کو آباد کیا اسے گزشتہ دس سال سے ساٹھ فیصدی کے بجائے چالیس فیصد نیابت ملتی رہی اور ادنیٰ ملازمتوں میں یہ تناسب بیس سے لے کر تیس فیصدی تک گر گیا اور جب تلافی مافات کا موقع آیا تو وحدت کو ہی کالعدم قرار دے کر ؎
کا نقشہ پیش کر دیا گیا بلکہ زونل فیڈریشن کے چکر میں لا کر پنجاب کو ساٹھ کے بجائے بیس فیصدی نمائندگی دے کر مساوات کا ہمرنگ زمین دام فریب پھیلایا جا رہا ہے۔
مجھ سے زیادہ صوبائی عصبیتوں کا مخالف کوئی نہ ہو گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک مسلمان بھائی کا حق بلا رضا مندی دوسرے کو منتقل کر دینا ظلم ہے۔ ظلم سے تعصبات مٹا نہیں کرتے بلکہ ہر تعصب کی پرورش کسی ظلم سے ہوتی ہے۔ کل پنجاب کے نام پر بنگال کو اس کثرت آبادی کے حق نیابت سے محروم کیا گیا تھا تو بعض نادان پنجابی خوش ہوئے کہ بنگالی بڑے متعصب ہیں اچھا ہے ان کی نیابت کم ہو گئی۔ اس کا صلہ یہ ملا کہ بعد میں خود پنجاب کو ساٹھ فیصد کے بجائے چالیس فیصد نیابت مل گئی۔ آخر وحدت مغربی پاکستان کے پرزے اڑ گئے اور علاقائی خود مختاری کی آڑ میں مرکز کی بے دست و پائی ملکی سالمیت میں اختلال و انتشار کے اسباب پیدا کر گئی۔ غرض ظلم کی جڑ سے ظلم کا پھل پیدا ہوتا ہے۔ ظلم اور
انصاف کے مابین حد سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے اور کسی پیمانے سے نہیں کھینچی جاسکتی۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت (ختمیت احکام رسالت) کو ملک کی سیاست سے خارج کرنے کی ناپاک مساعی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خود ملک کی سیاست مجہول و معدوم ہو کر رہ گئی ہے۔ جن بوالعجبیوں پر کبھی مسلم لیگ کا مذاق اڑایا جاتا تھا آج ملک کی ہر سیاسی جماعت ان بوالعجبیوں کا عجائب گھر بن کر رہ گئی ہے۔ تلبیس و منافقت کے زور سے جو پارٹی کتاب وسنت کی فرمانروائی کا نعرہ بلند کرتی ہے وہ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اشتراکیت اور جمہوریت کے آقاؤں کی غلامی کو بھی لازمہ حیات سمجھتی ہے۔ حضور خاتم النبیین والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت کا مطلب بقول حکیم الامت یہ ہے کہ؎
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است
دنیا کے تمام قائدین، مفکرین اور فلاسفہ کو ٹھکرا کر صرف مولائے یثرب صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کو زندگی اور آخرت کے تمام مسائل میں ہر پہلو سے حرف آخر قرار دیا جائے اور اس میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ؎
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
تحریک تحفظ ختم نبوت
افسوس ہے کہ عقیدہ خاتمیت کی اہمیت اور دائرہ گیرائی کو افرنگ زدہ طبقہ نے نظر انداز کر کے اسلامی معاشرہ میں خلل اور دوغلاہٹ پیدا کر دی اور اسلام کو دیگر مذاہب کی صف میں کھڑا کر کے زندگی کا پرائیویٹ مسئلہ قرار دے دیا حالانکہ یہ ایک مشہور مسئلہ ہے کہ مسلمان کا دین اس کی دنیا سے جدا نہیں اور مسلمان کی سیاست اس کی عبادت سے منقطع نہیں۔ باوجود اس کے تحریک ختم نبوت کے متعلق یہ افسوس ناک سانحہ ہے کہ اس تحریک کو ان معنوں میں بار بار مذہبی تحریک کہا گیا ہے گویا یہ ایک سیاسی، اقتصادی اور عالمگیر تحریک نہ تھی جب ”مذہبی“ کا لفظ ان معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی وہی درگت بن جاتی
ہے جس طرح ”مذہبی سکھوں“ کی ترکیب لفظی میں مذہب کا اسلامی مفہوم مسخ ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ تحریک تحفظ ختم نبوت ان معنوں میں ایک مذہبی تحریک تھی جن معنوں میں ”تحریک قیام پاکستان“ ایک مذہبی تحریک تھی، جن معنوں میں ”تحریک حصول کشمیر“ ایک مذہبی تحریک ہے اور جن معنوں میں سود کی ممانعت سے پاکستان کی اقتصادیات کو مغربی بنکاری (Banking) کے انسانیت کش اثرات سے نجات دلانے کی تحریک ایک مذہبی تحریک ہو گی۔ اس غلط فہمی اور غلط بیانی کی ابتدا اس ماحول میں ہوئی جب کہ ”راست اقدام“ (Direct action) کو بغاوت کے مترادف قرار دینے کی ناجائز کوشش جاری تھی۔
جس شخص نے تحریک تحفظ ختم نبوت کی ابتداء اور ارتقاء کے مراحل کا مطالعہ کیا ہے اور اس وقت کی تقاریر اور جلسوں کی کارروائی اور کارکنوں کی جدوجہد اور تنظیم کی سرگرمیوں پر اس کی نگاہ ہے، وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس تحریک کے چلانے والوں کو صرف یہ خیال دامنگیر نہ تھا کہ وہ الہیات، فقہ یا علم عقائد کا کوئی اصولی مسئلہ بجائے مدرسہ میں طے کرنے کے مسند حکومت پر بیٹھ کر سلجھانے کے خواہشمند تھے۔ بات یہ تھی کہ الہیات، فقہ اور علم عقائد کے ایک مسلمہ مسئلہ کو بعض سیاسی، اقتصادی اور عملی سازشوں کی مصلحت نے یوں الجھا دیا تھا کہ اس مسئلہ کو مسند حکومت پر بیٹھ کر طے کیے بغیر نہ ان سیاسی غداروں کا علاج کیا جا سکتا تھا جو نبوت کا نور ملکہ وکٹوریہ کے نور سے اخذ کرنا چاہتے تھے، نہ ان اقتصادی رخنہ اندازیوں کا قلع قمع ہو سکتا تھا جو امریکہ میں پیدا ہونے والے وافر غلے کی منڈی پاکستان میں مہیا کرنے کی خاطر ایک طرف پاکستان کے دریاؤں کا رخ بدلے جانے پر کسی عملی مداخلت کی بجائے یو۔ این۔ او میں ساڑھے بارہ گھنٹے تقریر کرنا کافی سمجھتے تھے (سر ظفر اللہ کی تقریر بازی) اور دوسری طرف ملکی غلے کو بھارت میں سمگل ہونے کا موقع دے کر یہاں مصنوعی قحط کی صورت پیدا کر رہے تھے۔
مقام محمدیؐ
تحریک تحفظ ختم نبوت سے قطع نظر جب اس عقیدہ خاتمیت کی عالمگیر آفاقیت کا علمی و تحقیقی انداز میں جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس سے انکار و انحراف نہ صرف کفر کو مستلزم ہے بلکہ امت محمدیہ کے خلاف کھلی بغاوت کے مترادف ہے جب کوئی شخص حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی کے خلاف اقدام کرتا ہے تو سوادِ اعظم امت محمدیہ سے جنگ آزما ہو کر وحدت ملی کو پارہ پارہ اور دارالاسلام پاکستان کو ریزہ ریزہ کرنا چاہتا ہے۔ بنا بریں امت کو سنگین حصار بنا کر اس کے تحفظ کا مستقل انتظام کرنا پڑے گا اور اسلام کی آڑ میں عقیدۂ خاتمیت کے خلاف ہر قسم کی حرکت کو قانوناً روک دینا ہو گا۔ اس عقیدہ کی اہمیت کو حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ بیان کیا ہے:۔
”اس نقطہ خیال سے دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ”دنیائے قدیم“ اور ”دنیائے جدید“ کے درمیان بطور حد فاصل کھڑے دکھائی دیں گے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ آپ کی وحی کا سرچشمہ کیا ہے تو آپ دنیائے قدیم سے متعلق نظر آئیں گے۔ لیکن اگر اس حقیقت پر نظر کی جائے کہ آپ کی وحی کی روح کیا ہے تو جناب کی ذاتِ گرامی دنیائے جدید سے متعلق نظر آئے گی۔ آپ کی بدولت زندگی نے علم کے ان سرچشموں کا سراغ پا لیا جن کی اسے اپنی شاہراہوں کے لیے ضرورت تھی۔ اسلام کا ظہور استقرائی علم (Inductive knowledge) کا ظہور ہے۔ اسلام میں نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گئی اور اس تکمیل سے اس نے خود اپنی خاتمیت کی ضرورت کو بے نقاب دیکھ لیا۔ اس میں یہ لطیف نکتہ پنہاں ہے کہ زندگی کو ہمیشہ عہد طفولیت کی حالت میں نہیں رکھا جا سکتا اسلام نے دینی پیشوائی اور وراثتی بادشاہت Priest hood) (hereditary king ship کا خاتمہ کر دیا۔ قرآن حکیم غور و فکر اور تجارب و مشاہدات پر بار بار زور دیتا ہے اور تاریخ و فطرت دونوں کو علم انسانیت کے ذرائع ٹھہراتا ہے۔ یہ سب اسی مقصد کے مختلف گوشے ہیں جو ختم نبوت کی تہ میں پوشیدہ ہے۔“
”پھر عقیدۂ ختم نبوت کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسے لوگوں کے باطنی واردات (Mystic Experience) کے متعلق ایک آزاد اور ناقدانہ طرز عمل قائم ہوتا ہے۔ اس لیے ختم نبوت کے معنی یہ
ہیں کہ اب نوع انسانی کی تاریخ میں کوئی شخص اس امر کا مدعی نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی مافوق الفطرت اختیار Super natural) (authority کی بناء پر دوسروں کو اپنی اطاعت پر مجبور کر سکتا ہے۔ ختم نبوت کا ہی عقیدہ ایک ایسی نفسیاتی قوت ہے جو اس قسم کے دعویٰ اقتدار کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اب کسی کے باطنی مشاہدات کیسے ہی غیر معمولی کیوں نہ ہوں، ان پر اسی طرح تنقیدی نگاہ ڈالی جا سکتی ہے جس طرح انسانی مشاہدات کے دوسرے پہلوؤں پر۔“
Reconstruction of religious thoughts in Islam
بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق ماز محفلِ ایام را
او رُسُل را ختم وما اقوام را
خدمتِ ساقی گری با ما نہاد
داد مارا آخریں جامے کہ داشت
”لانبی بعدی“ زاحسانِ خدا است
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیٰؐ است
(ماہنامہ ضیائے حرم جولائی ١٩٧٢ء)
نزول مسیحؑ ابن مریم کی متعلقہ احادیث
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ
ناظرین نزول مسیحؑ بن مریم کی احادیث کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
- ا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں
ہوا اور وہ تم میں نزول فرمائیں گے۔ جب ان کو دیکھو تو (اس حلیہ سے) پہچان لو۔ قد درمیانہ رنگ سرخ و سفید لباس زردی مائل گویا ان کے سر سے باوجود تر نہ کرنے کے پانی ٹپکتا ہوگا۔ وہ دین اسلام کے لیے لوگوں سے جنگ و قتال کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ خدائے تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام مذاہب کو محو کر دے گا۔ صرف اسلام باقی رہے گا۔ وہ دجال کو ہلاک کریں گے اور زمین پر چالیس سال تک قیام فرمائیں گے اور پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
- ٢۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر
لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ ابن مریم اتریں گے تو امیر جماعت کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امام ہو۔ خدا نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے کہ پیغمبر بنی اسرائیل امت محمدیؐ کے ایک فرد کی اقتدا کریں گے۔ مسلم کی یہ حدیث جو بروایت جابرؓ ہے واضح طور پر بیان کرتی ہے مسلم کی دوسری حدیث کو جو بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ کیف اذا نزل فیکم ابن مریم و امامکم منکم یعنی وامامکم منکم سے دوسرا شخص عیسیٰ بن مریم کا مغائر مراد ہے۔ نہ جیسا کہ مرزا جی نے اپنے مطلب
کے لیے وھو امامکم نکال کر ا
- ٣۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیا ابراہیم علیہم السلام کے سپرد ہوا موسیٰ علیہم السلام پر بات ڈالی حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر اس خبر تو خدائے تعالیٰ کے سوا کسی عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہل گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو ذرا مرزاجی سے پوچھیں کہ کیا آپ ہی تھے اور اگر بقول آ بصورت قادیانی سے خبر دی ت بروزی بصورت قادیانی سے ج
- ٤۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وس
میں میری جان ہے بے شک گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ کثرت ہو جائے گی اور زر و دنیا بھر کے مال و متاع سے آ ارشاد نبویؐ کے ساتھ قرآن م الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ
- ٥۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں
سے کہہ دیں کہ شہید ہو کر ب تیسری مسند احمد چوتھی بخاری خاتم المحدثین امام شوکانی نے
کے لیے وھو امامکم نکال کر امام بھی وہی ابن مریم یعنی مثیل ابن مریم ٹھہرایا ہے۔
- ٣۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں شب معراج میں ابراہیمؑ و موسیٰؑ و
عیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کے سپرد ہوا۔ انھوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہم السلام پر بات ڈالی گئی۔ انھوں نے کہا۔ مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر اس کا تصفیہ رکھا گیا۔ انھوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدائے تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدائے تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا۔ اور میرے ہاتھ میں شمشیر برندہ ہو گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔ ناظرین ذرا مرزا جی سے پوچھیں کہ کیا شب معراج میں اس معاہدہ کے بیان کرنے والے آپ ہی تھے اور اگر بقول آپ کے عیسیٰ علیہم السلام بن مریم نے نزول بروزی بصورت قادیانی سے خبر دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نزول بروزی بصورت قادیانی سے جیسا کہ آپ کا مزعوم ہے کیوں خبر نہ دی۔
- ٤۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے خدا پاک کی قسم ہے جس کے ہاتھ
میں میری جان ہے بے شک قریب ہے ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھائیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی اور زر و مال کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا اور دنیا بھر کے مال و متاع سے ایک سجدہ کرنا اچھا معلوم ہوگا۔ ابو ہریرہؓ کہتے تھے اگر تم ارشاد نبویؐ کے ساتھ قرآن سے دلیل چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ. (نساء آیت ١٥٩)
- ٥۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے۔ اگر وہ پتھریلی زمین
سے کہہ دیں کہ شہد ہو کر بہہ جا وہ بہہ چلے۔ پہلی حدیث ابو داؤدؒ دوسری مسلمؒ تیسری مسند احمدؒ چوتھی بخاریؒ پانچویں مسند کی ہے اور مختلف صحابہ سے مروی ہیں۔ خاتم المحدثین امام شوکانی نے کتاب التوضیح میں ان احادیث کو متواتر کہا ہے۔
خصوصیات زمانہ نزول مسیح علیہ السلام
- ١۔ ان کے زمانہ میں جزیہ نہ لیا جائے گا کیونکہ مال کی مسلمانوں کو کچھ ضرورت نہ ہو
گی۔ آج کے عیسیٰ بننے والے خود ہی چندہ کے (کبھی تو حیلہ منارہ اور کبھی بہ بہانہ تصنیف اور کبھی بذریعہ مسافر نوازی) محتاج ہیں۔
- ٢۔ مسلمان اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے گا اور اسے زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملے گا۔ سب
متمول اور تونگر ہوں گے۔ آج دنیا کی تمام اقوام میں سب سے زیادہ مفلس اور غریب مسلمان ہیں۔ زکوٰۃ دہندگان نہایت ہی قلیل ہیں۔
- ٣۔ آپس کے بغض اور عداوتیں جاتی رہیں گی۔ سب میں اتحاد اور محبت قائم ہو جائے گی۔
- ٤۔ زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ وحوش میں سے درندگی نکل جائے گی۔ آدمی کے
بچے سانپ بچھو سے کھیلیں گے۔ ان کو کچھ ضرر نہ ہوگا۔ بھیڑیا بکری کے ساتھ چرے گا۔
- ٥۔ زمین صلح سے بھر جائے گی۔
- ٦۔ زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل پیدا کر اور اپنی برکت لوٹا دے۔ اس دن ایک انار کو
ایک گروہ کھائے گا اور انار کے چھلکے کو بنگلہ سا بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں برکت ہوگی۔ یہاں تک کہ ایک دودھار اونٹنی آدمیوں کے بڑے گروہ کو۔ دودھار گائے ایک برادری کے لوگوں کو اور دودھار بکری ایک فخذ شخصوں کو کفایت کرے گی۔
- ٧۔ گھوڑے سستے بکیں گے کیونکہ لڑائی نہ رہے گی۔ بیل گراں قیمت ہو جائیں گے
کیونکہ تمام زمین کاشت کی جائے گی۔
سیرت مسیح
- ١۔ عیسیٰ علیہ السلام جامع مسجد دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر
اہل دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت سکینہ سے چلیں گے۔ زمین ان کے لیے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گھروں کے اندر تک اثر کر جائے گی۔
- ٢۔ جس کافر کو ان کے سانس کا اثر پہنچے گا وہ فوراً مر جائے گا۔
- ٣۔ یہ بیت المقدس کو بند پائیں گے۔ دجال نے محاصرہ کر لیا ہوگا۔ اس وقت نماز صبح کا
وقت ہوگا۔
- ٤۔ ان کے وقت میں یاجوج ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی و تری پر پھیل جائیں
گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
- ٥۔ یہ روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مدفون ہوں گے۔ مسلمان ان
کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
- ٦۔ دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ اس کا خون اپنے نیزہ پر لوگوں کو دکھلائیں گے۔
امروہی صاحب! دعویٰ کرنا تو آسان ہے ثبوت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ناظرین کو بعد ملاحظہ مضامین احادیث صحیحہ مذکورہ بالا کے کالشمس فی نصف النہار واضح ہو چکا ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح بن مریم نہ مثیل اس کا۔ ان احادیث نزول سے اس نبی اللہ کے قطعی المراد ہونے کے بعد غلام احمد قادیانی وغیرہ ہرگز مراد نہیں ہو سکتے۔ اب کسی فقرہ احادیث میں اگر مجاز و تشبیہہ واستعارہ بھی ہو تو وہ اس پر دلیل نہیں ہو سکتی کہ عیسیٰ ابن مریم کے لفظ سے مجاز وغیرہ کے طور پر قادیانی لیا جائے کیونکہ یہاں پر قرینہ صارفہ قطعیۃ الدلالۃ موجود ہے۔ مرزا صاحب کا اجتماع کسوف و خسوف کو جو مہدی کے ظہور کے علامات میں سے ہے اور ابھی وقوع میں نہیں آیا۔ کما مَرَّ اپنے مسیح موعود ہونے کے لیے دلیل ٹھہرانا اس پر مبنی ہے کہ ان کے نزدیک مسیح موعود اور مہدی موعود ایک ہی شخص ہے اور اوپر احادیث صحیحہ سے واضح ہو چکا ہے کہ مسیح موعود تو ابن مریم خدا کا نبی ہے جس کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور مہدی اہل بیت نبویؐ سے ہو گا۔ مرزا صاحب مع اتباع کے لا مھدی الا عیسیٰ کے ساتھ متمسک ہیں۔ مگر یہ استدلال بالکل ضعیف اور اوہن من بیت العنکبوت ہے کیونکہ
- اوّل: تو یہ حدیث علامہ زرقانیؒ نے مردود ٹھہرائی ہے۔
- دوئم: یہ کہ اس کو ابن ماجہ نے اخراج کیا ہے حالانکہ خود ابن ماجہ ابی امامہ کی خدمت
میں تصریح فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ کے نزول کے وقت بیت المقدس میں ایک رجل صالح نماز کی جماعت کرا رہا ہو گا کہ اتنے میں عیسیٰ کا نزول ہوگا اور وہ امام پچھلے پاؤں پر ہٹنا چاہے گا تا کہ عیسیٰ آگے بڑھے اور یہی مضمون ہے امام بخاریؒ کی حدیث کا جو بروایت ابو ہریرہؓ مذکور ہے۔
سوئم: بعد تسلیم صحت کے چونکہ یہ فقرہ ٹکڑا ہے حدیث طویل کا جو انقلاب و تغیر زمانہ کے بارہ میں فرمائی گئی اور ماقبل اس کے ولن تقوم الساعة الا علی شرار الناس (ترجمہ۔ ہرگز قیامت قائم نہ ہوگی مگر اوپر شریروں کے) موجود ہے۔ لہٰذا سیاق و سباق کے لحاظ سے معنی یہ ہوا کہ اور کوئی ہدایت یافتہ نہ ہوگا بغیر عیسیٰ کے۔ یعنی قیامت کے قریب بغیر عیسیٰ بن مریم اور اتباع اس کے سب شریر ہوں گے۔ لفظ (شرار) کا جو جمع ہے شریر کی صاف بتلا رہا ہے کہ مہدی سے مراد معنیٰ وصفی یعنی ہدایت یافتہ ہے نہ علمی۔
قولہ
ص٤ یا مثلاً حلیہ مسیح موعود جو احادیث میں آیا تھا۔ بذریعہ ہزارہا رسائل و اشتہارات کے ایک عالم میں شائع ہو چکا۔ حتیٰ کہ فوٹو گرافروں نے اس کا عکس کھینچ کر ایک دنیا میں شائع کر دیا۔ اب یہ حلیہ کوئی پوشیدہ کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اقول
حلیہ مسیح موعود مع سائر خصوصیات کے جو بغیر اس نبی اللہ کے کسی پر منطبق نہیں ہو سکتا۔ بذریعہ بہتیری کتب مصنفہ اہل تحقیق کے جو آج تک محدثین میں متداول ہیں۔ شائع ہو چکا برخلاف اس کے اگر کوئی فوٹو گرافروں سے تصویر کھنچوائے تو اس سے مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ ہاں بہ سبب تحلیل ماحرمہ اللہ ورسول کے ملعونیت کا تمغہ حاصل کر سکتا ہے۔
قولہ
ص ٤ اس جگہ پر ہم تصویر کے جواز یا عدم جواز میں کچھ گفتگو نہیں کرتے۔ ہاں مخالفین کو اس قدر متنبہ کیے دیتے ہیں کہ یہ تو سب کو معلوم ہوگا کہ تصویر کی حرمت حرمت لغیرہ ہے۔ حرمت لذاتہ نہیں۔ جیسا کہ بت خانہ میں جانا بحرمت لغیرہ حرام ہے بت پرست جو بت خانہ میں بت پرستی کے لیے جاتا ہے اس کو بت خانہ میں جانا بھی حرام ہے لیکن بت شکن کو بھی بت خانہ میں جانے کی ضرورت پڑتی ہے مگر اس کو بت خانہ میں جانا بڑا ثواب ہے۔ بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا۔ ولنعم ما قیل ۔
درمیان این و آں فرقیست زفت
اقول
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد آپ نے مرزا صاحب کے عکس کھینچنے کو جب حرام ٹھہرا کر گو کہ لغیرہ سہی بت خانہ میں جانے کے ساتھ تشبیہ دی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جیسا کہ بت خانہ میں جانا بت شکنی کے لیے جائز اور بت پرستی یعنی بتوں کی تعظیم کرنے کے لیے حرام ہے۔ ایسا ہی مرزا صاحب کی تصویر کی طرف جانا تصویر شکنی کے لیے جائز اور تصویر پرستی یعنی اس کی تعظیم کرنے کے لیے حرام ہوگا اور ظاہر ١؎ ہے کہ تصویر کا بنانا اور اس کا رکھنا تعظیم اور برکت جوئی کیلیے ہے نہ اس کے توڑنے اور تحقیر کے لیے
ہر یکے را قصد بداں بت پرست
بت تراشی آذر از تعظیم بود
سجدۂ بوجہل از تکریم بود
مولانا رومؒ صاحب کا شعر جو آپ نے استعمال فرمایا یہاں پر بے موقعہ تھا ؎
قولہ
ص ٤ یا مثلاً قادیان کا جانب شرقی دمشق ہونا جو علم جغرافیہ سے ہم نے ثابت کر دیا ہے۔ وہ تمام نقشہ جات میں لکھا ہوا ہے۔ کیا اب اس کو کوئی رد کر سکتا ہے کلا وحاشا وغیرہ وغیرہ۔
اقول
شرقی دمشق چونکہ نواس بن سمعان والی حدیث کا ٹکڑا ہے اور مرزا جی اس حدیث کی نسبت لکھ چکے ہیں کہ اس کے مضامین عقل‘ شرع‘ توحید کے خلاف ہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب کا اس حدیث سے استدلال اور آپ کی جانفشانی جس پر لڑکے بھی ہنسی اڑا رہے ہیں عقل‘ شرع‘ توحید کے خلاف ہوگا۔ دوسرا جب کہا جاوے۔ شرقی دہلی یا شرقی لاہور تو دہلی یا لاہور کے
١ یعنی جن لوگوں کو جن سے عقیدت ہوتی ہے ان کی تصویر عموماً بغرض تعظیم وتبرک رکھتے ہیں اور شرعاً تصویر کی تعظیم اور اسے متبرک سمجھنا حرام ہے۔١٢۔
مضافات قریبہ سے کوئی جگہ جو جانب شرق میں واقع ہو مراد ہوتی ہے۔ نہ یہ کہ ہزار ہا کوس کے فاصلہ پر جو کہ شرق میں واقع ہو وہ مراد لی جائے ونعم ما قیل ؎
بچش لعاب دہانت کہ قند میخائی
تمام عرصہ قیامت مگس فرو گیرد
اگر چنیں بہ قیامت شکر فروش آئی
نیز دمشق سے اگر خط مستقیم سیدھا جانب شرق کو کھینچا جائے تو لاہور بلکہ جموں وغیرہ بھی راستہ میں نہیں پڑتا۔ دیکھو نقشہ ایشیا۔ مرتبہ و مروجہ مدارس سرکاری۔ دمشق سے جانب شرق اگر ایک خط مستقیم کھینچا جائے تو حسب ذیل مشہور مقامات سے عبور کرے گا۔ تبریز، بحیرہ خزر یا جیل، شمالی حصہ ترکستان، سلسلہ کوہ الطائی، صحرائے منگولیا، صوبہ منچوریا، اب آپ اگر چشم حق بین کو کھول کر بنظر انصاف ملاحظہ کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ خط مذکور قادیان سے بجانب شمال ہزار میل سے بھی زیادہ فاصلہ پر گزرتا ہے پس مرزا صاحب کو تو اس کی ہوا کا پہنچنا بھی ناممکن ہے۔ اب انصاف فرمائیے کہ کیا حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول آپ کے دعویٰ کی پوری دلیل نہیں ہے؟ ؎
کیں راہ کہ تو میروی بہ ترکستان است
خط سیدھا عرفی طور پر چھوڑ دو اور کرویت ارض کا لحاظ کرو تو بھی دمشق اور قادیان ایک محاذات میں واقع نہیں ہوتے بلکہ قادیان سے بجانب شمال عبور کرے گا۔
رسول کا مقام از روئے قرآن
جناب عبدالغفور
ہمارے خیال میں حدیث وسنت کے منکرین کی اصل غلطی یہ ہے کہ انہوں نے رسول کے صحیح مقام اور اصل حیثیت کو سمجھا نہیں۔ اگر وہ مقام نبوت کو سمجھنے اور نبی و رسول کی معرفت حاصل کرنے کے لئے صرف قرآن ہی میں تدبر کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے رسول کی حیثیت صرف ایک پیغامبر اور پیام رساں کی نہیں ہے بلکہ آپ مطاع‘ امام‘ ہادی‘ قاضی‘ حاکم اور حکم وغیرہ بھی ہیں اور قرآن ہی نے آپ کی ان حیثیتوں کو بیان کیا ہے۔
- ١۔ رسول مطاع ہے اور اس کی اطاعت اہل ایمان پر فرض ہے قرآن پاک میں جا
بجا اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: ”اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔“
اس حکم میں ”اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ“ کو ”اَطِیْعُوا اللّٰہَ“ سے الگ مستقل جملہ کی شکل میں قرآن مجید میں جس طرح مختلف مقامات پر ذکر کیا گیا ہے‘ اس سے ہر وہ شخص جس کو عربی زبان کا کچھ بھی ذوق ہو یہی سمجھے گا کہ اللہ کی اطاعت کی طرح اہل ایمان پر رسول کی اطاعت بھی مستقلاً فرض ہے۔ یعنی اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اللہ کی طرف سے جو کتاب رسول لائے ہیں اس کو مانا جائے۔ اور اس کے حکموں پر چلا جائے۔ کیونکہ صرف اتنی ہی بات کہنی ہوتی تو یہ تو ”اَطِیْعُوا اللّٰہَ“ میں بھی کہی جا چکی تھی۔ پھر امر اطاعت کے مستقل اعادہ کے ساتھ ”اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ“ کے اضافہ کی کیا ضرورت تھی۔ علاوہ ازیں قرآن مجید کی بعض دوسری آیات سے بھی بات اور زیادہ صاف اور واضح ہو جاتی ہے۔ ”سورۂ نساء کے
پانچویں رکوع کے آخر میں اللہ و رسول کی اطاعت کا حکم دینے کے بعد ان منافقین کی مذمت بھی کی ہے جو اپنی غرض پرستی اور منافقت کی وجہ سے اللہ و رسول کی اطاعت میں کوتاہی کرتے تھے۔ اسی سلسلہ بیان میں ان کے متعلق فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف اے رسول تو دیکھے گا ان منافقوں کو اعراض اور روگردانی کرتے ہیں تیری طرف سے۔“
اسی آیت میں ”مَا أَنْزَلَ اللہُ“ (یعنی کتاب اللہ ) کی طرف بلانے کے ساتھ ”رسول“ کی طرف جس طرح بلانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اوپر کی آیتوں میں اطاعت رسول کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی طرف سے اس پر نازل ہونے والے کتاب کی اطاعت کرو بلکہ رسول کی اطاعت ایک الگ اور مستقل چیز ہے۔
اور اسی سورۃ کے اسی رکوع میں میں دو ہی آیتوں کے بعد اللہ کی طرف سے آنے والے ہر رسول کے متعلق فرمایا گیا ہے:
ترجمہ ”اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس واسطے کہ اس کے حکم پر چلا جائے اللہ کے فرمان سے“
(نساء :ع٦)
- ٢۔ رسول من جانب اللہ ہادی اور امام ہوتے ہیں۔
ارشاد ہے: ”اور ہم نے بنایا ان کو امام و پیشوا وہ ہدایت و رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے۔“
(انبیاء:ع۔٥)
- ٣۔ رسول اللہ ﷺ منجانب اللہ حاکم اور حکم بھی قرار دیئے گئے تھے۔ اور ہر اختلاف
و نزاع میں آپؐ کو حکم بنانا اور آپ کا فیصلہ دل و جان سے ماننا ہر اہل ایمان پر فرض بلکہ شرط ایمان قرار دیا گیا تھا۔
ترجمہ ”اے پیغمبرؐ قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ لوگ مومن نہیں ہو
سکتے یہاں تک حَکَم نہ بنائیں تجھے اپنے نزاعی معاملات میں پھر جب تو اپنا فیصلہ دے تو کوئی تنگی اور ناگواری نہ پائیں اپنے دلوں میں تیرے فیصلہ سے اور تسلیم کر لیں اس کو پوری طرح مان کر۔‘ (نساء: ع ۔ ٩)
اسی طرح سورۂ احزاب کی آیت:
ترجمہ ”اور کسی ایمان والے مرد اور ایمان والی عورت کی یہ شان نہیں ہے کہ جب حکم دے دے اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا تو رہے ان کا کچھ اختیار اپنے معاملہ میں ۔“ (احزاب: ع ٥)
اور سورۂ نور کی آیت:
ترجمہ ”ایمان والوں کو جب بلایا جائے اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف تاکہ وہ اپنا فیصلہ دے دیں ان کے درمیان تو اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ کہیں۔“ ”سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا“ (یعنی ہم نے سن لیا اور مان لیا) (نور۔ ع ۔٧)
- ٤۔ کسی شخص کی کامیابی اور فلاح کے لئے جس طرح اللہ کی اطاعت ضروری ہے
اسی طرح رسولؐ کی اطاعت بھی ضروری ہے اور جس طرح اللہ کی نافرمانی گمراہی اور بدبختی ہے اسی طرح رسولؐ کی نافرمانی بھی موجب ضلالت اور شقاوت ہے:
ترجمہ ”جس نے اطاعت کی اللہ کی اور اس کے رسول کی اس نے بڑی مراد پائی ۔“ (احزاب ۔ ع ۔ ٨)
ترجمہ ”اور جس نے نافرمانی کی اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ بڑی کھلی گمراہی میں جا پڑا ۔“ (احزاب ۔ ع ۔ ٥)
نیز قرآن ہی میں بتایا گیا ہے کہ کفار دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد جس طرح
خدا کی نافرمانی کرنے پر کف افسوس ملیں گے اور اپنا ماتم کریں گے اسی طرح رسول کی نافرمانی پر بھی افسوس کریں گے۔
ترجمہ ”جس دن اوندھے ڈالے جائیں گے ان کے منہ آگ میں کہیں گے کاش ہم نے کہا مانا ہوتا اللہ کا اور کہا مانا ہوتا رسول کا“
(احزاب ع - ٨)
دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: ترجمہ ”اس دن آرزو کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور رسول کی نافرمانی کی کہ برابر کر دیئے جائیں گے زمین کے (یعنی خاک ہو کر زمین کا جزو بن جائیں گے اور عذاب سے بچ نکلیں گے ۔)“
(النساء ع - ٦)
نیز مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ رسول کی نافرمانی کی کوئی بات بھی آپس میں مت کریں۔
ترجمہ ”اے ایمان والو! جب تم چپکے چپکے آپس میں باتیں کرو تو گناہ اور ظلم و زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی کوئی بات آپس میں نہ کرو“
(مجادلہ ع - ٢)
- ٥۔ رسول اللہ ﷺ تمہیں جو دیں اسے قبول کرنا اور جس چیز سے روکیں اس سے
رک جانا واجب ہے۔
ترجمہ ”جو تم کو رسول دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ ۔“
(حشر ۔ ع - ١)
اگر اس آیت کا تعلق صرف اموال سے بھی مانا جائے تب بھی ہمارے مدعا کے لئے مضر نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں اتنی بات آیت سے بھی ثابت ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صوابدید سے جو تقسیم کریں وہ اہل ایمان کے لئے واجب التسلیم ہے اور کسی کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں۔
- ٦۔ ایک مومن کا اپنی جان پر جتنا حق ہے اس سے زیادہ حق اس کی جان پر نبی کا ہے۔
ترجمہ: ”نبی زیادہ حقدار ہے مومنوں کا ان کی جانوں سے“
(احزاب۔ ع۔١)
حضرت شاہ عبد القادرؒ نے اس آیت پر جو دو سطریں لکھی ہیں ان کے نقل کرنے کو بے اختیار جی چاہتا ہے۔
”نبی نائب ہے اللہ کا اپنی جان و مال میں اللہ کا تصرف نہیں چاہتا۔ جتنا نبی کا اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی حکم کرے تو فرض ہے۔“
- ٧۔ اللہ کے ساتھ اس کے رسول کو بھی راضی کرنا ضروری اور شرط ایمان ہے۔
ترجمہ: ”اور اللہ اور اس کے رسول کو راضی رکھنا ان کے لئے بہت ضروری ہے جو گروہ ایمان رکھتے ہیں۔“
(توبہ۔ ع۔٨)
- ٨۔ اللہ کی طرح اس کے رسول کو بھی دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب رکھنا
ضروری ہے۔ جو ایسا نہ کریں وہ فاسقین اور اللہ کی ہدایت سے محروم رہنے والے ہیں۔
ترجمہ: ”اے پیغمبر کہو (مسلمان کو) اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری اور تمہارا کمایا ہوا مال اور تمہاری تجارت جس کے بند ہو جانے سے تم ڈرتے ہو (اگر یہ ساری چیزیں) تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جدوجہد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ کرے اللہ فیصلہ اپنا اور یاد رکھو وہ ہدایت نہیں دیتا فاسق لوگوں کو۔“
(توبہ۔ ع۔٣٠)
- ٩۔ اللہ کے رسول جب کسی کام کے لئے دعوت دیں اور پکاریں تو اس پر لبیک کہنا
ہر مومن پر فرض ہے۔
ترجمہ ”اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا جب بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری حیات ہو۔“
(انفال ۔ ع۔٣)
- ١٠۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کے لئے لوگوں کو بلائیں تو بلا اجازت اٹھ کر چلا
جانا کسی مومن کے لئے جائز نہیں اور جو ایسا کریں گے ان کے لئے ”عذاب الیم “ کا اندیشہ ہے۔
ترجمہ ”ایمان والے وہی ہیں جنہوں نے مانا ہے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور جن کا طریقہ یہ ہے جب وہ کسی اجتماعی کام میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو نہیں جاتے تاوقتیکہ اس سے اجازت نہ لے لیں۔“
آگے اسی سلسلہ میں ان لوگوں کے بارے میں جو بلا اجازت چپکے سے سرک جاتے تھے فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ ”پس ڈرنا چاہئے ان لوگوں کو جو خلاف چلتے ہیں اس کے حکم سے‘ اس بات سے کہ مبتلا ہوں وہ کسی سخت فتنہ میں یا پہنچے ان کو درد ناک عذاب۔“
(النور ۔ ع ۔ ٩)
رسولؐ کے مقام و منصب کا بیان ایک مستقل موضوع ہے اور اگر اس پر شرح و بسط سے لکھا جائے تو جس قدر لکھا جا چکا ہے اس سے بہت زیادہ لکھا جاسکتا ہے اور بلا مبالغہ سینکڑوں آیتیں اس سلسلہ میں لکھی جاسکتی ہیں لیکن یہاں انہی اشارات پر میں اکتفا کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ جب قرآن مجید سے آپؐ کا مطاع امام و ہادی‘ آمر و ناہی‘ حاکم و حکم وغیرہ وغیرہ ہونا ثابت ہو گیا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دین کے سلسلہ میں آپؐ کا ہر امر و نہی‘ ہر حکم و فیصلہ اور ہر قول وعمل واجب التسلیم اور لازم القبول ہے۔
قادیانیوں کی متنازعہ فیہ شخصیت
مرزا رفیع احمد
محمد مسلم بھیروی
مرزا رفیع احمد قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے اور اسی سلسلے کے ”خلیفہ دوم“ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے بیٹے ہیں بشیر الدین محمود نے کل سات شادیاں کیں جن میں سے چوتھی کے بطن سے رفیع احمد تولد ہوئے۔ قادیانی اپنے بانی کی سب اولاد کی پرستش کی حد تک عقیدت و احترام کرتے ہیں اور ان کو ”اہلبیت“ اور ”خاندان نبوت“ کے خطابات سے نوازتے ہیں۔ ان میں مرزا بشیر الدین کی اولاد سے خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد کے ”خلیفہ دوم“ ہونے کے علاوہ ”مصلح موعود“ ہونے کے مدعی بھی تھے۔ ضمناً یہ ذکر بھی کردوں کہ قادیانی تنظیم نے قادیانیوں کے لئے بچپن سے ہی امتحانات اور اجلاسوں اور اجتماعات کے ذریعہ ایسا پروگرام بنا رکھا ہے کہ ان کے دلوں میں مرزا صاحب کے خلفاء اور ان کی اولاد کا عقیدت و احترام پیدا کیا جائے۔ چنانچہ اجلاسوں میں بچوں سے زبانی سوال جواب اور امتحانی پرچوں کے ذریعے مرزا صاحب کی اولاد کے نام ضرور پوچھے جاتے ہیں، اور اگر کوئی بغیر القاب کے نام لکھ دے تو اس کو سخت سرزنش اور بے عزت کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر بچوں کے نام اظہر احمد اور خلیل احمد ہیں تو قادیانی کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے نام بھی ”حضرت مرزا اظہر احمد صاحب“ اور ”حضرت مرزا خلیل احمد صاحب“ لکھے گا اور بولے گا ورنہ اس کا ایمان کمزور اور اس کے لئے جہنم کی وعید ہے۔
مرزا رفیع احمد کو قادیانی گروہ میں خاص شہرت مرزا بشیر الدین محمود کی طویل علالت کے دوران ملی۔ ١٩٥٣ء کی عظیم تحریک کے بعد مرزا بشیر الدین محمود پر ١٩٥٤ء میں قاتلانہ حملہ ہوا۔
ازاں بعد ان کی صحت بگڑ گئی۔ پھر مانخولیا ہو گیا۔ بالآخر فالج کا حملہ ہوا۔ اس طرح ٥٤ء سے ٦٥ء تک ١١ سال وہ سخت تکلیف دہ امراض ذہنی و جسمانی کا شکار ہو کر بالآخر چل بسے۔ یہاں قارئین کے لئے یہ بیان کرنا بھی خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ بانی قادیانی مذہب نے فالج کی بیماری کو اپنے مخالفین کے لئے عذاب اور خدائی مار والی بیماری لکھا ہے۔
مرزا بشیر الدین پر خدائی مار
مرزا بشیر الدین کی اس ١١ سالہ لمبی بیماری نے انہیں عملی طور پر بالکل ناکارہ بنا دیا تھا۔ وہ تقریر کرتے کرتے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیتے تھے یا بے وجہ ہنسنے لگتے اور ہنستے چلے جاتے۔ اسی طرح بات بے بات پر سخت غصے میں آ جاتے اور گندی گالیاں دینے لگ جاتے۔ اس نازک دور میں قادیانی مذہب کی ڈولتی کشتی کو اگر کسی نے سنبھالا دیا تو وہ مرزا رفیع احمد ہی تھے۔ انہوں نے دن رات قادیانیوں میں دورے کئے اور تقریریں شروع کیں۔ ان کی تقریریں اپنے والد کے صحت مند دور کی طرح بڑی لچھے دار مریدوں کے لئے حکومت واقتدار ملنے کی بشارت اور مخالفین کے لئے رسوائی پر مبنی وعید پر مشتمل ہوتی تھیں۔ چنانچہ جلد ہی قادیانی نوجوانوں میں بہت مقبول ہو گئے اور قادیانی جوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کے صدر بن گئے ان کی شہرت اور مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ سب قادیانیوں کی زبان پر آئندہ خلیفہ کے لئے ان کا نام آنے لگا۔ قادیانیوں کی اکثریت خصوصاً نوجوان طبقہ بہت گرویدہ تھا۔ دوسری طرف جماعت کی تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں اور علاقہ جات کے امراء کی اکثریت ریٹائرڈ افسران اور معمر لوگوں پر مشتمل تھی اور خلیفہ کے ووٹ کا حق ان لوگوں کے پاس تھا۔ ان معمر لوگوں کو نوجوانوں کی قیادت ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اس لئے انہوں نے اندر ہی اندر مرزا بشیر الدین کے بعد قادیانی خلافت کے لئے ان کے بڑے بیٹے مرزا ناصر احمد کو آگے لانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کر دی۔ مرزا ناصر احمد رفیع احمد سے ٢٠ سال بڑے تھے اور اپنے والد کی رحلت کے وقت ٥٦ برس کے تھے اس طرح مرزا بشیر الدین محمود کی رحلت کے وقت صورتحال یہ تھی کہ قادیانی گروہ کی اکثریت تو مرزا رفیع احمد کے ساتھ تھی۔ لیکن برسر اقتدار طبقہ مرزا ناصر احمد کو خلیفہ بنوانا چاہتا تھا۔ خلافت کے انتخاب کے لئے برسر اقتدار نمائندے ربوہ کے قصر خلافت میں جمع ہو گئے۔ مرزا رفیع احمد بہرحال اکثریت کے بل بوتے پر اپنی خلافت کے بارے میں بہت پر امید تھے۔ لیکن برسر اقتدار گروہ
نے ایک اور چال چلی۔ انہوں نے مرزا غلام احمد کی بڑی صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم کو پٹی پڑھائی کہ مرزا ناصر احمد اور رفیع احمد میں اختلاف سے ”خاندان نبوت“ میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اسی لئے بڑا بھائی ہونے کے ناطے رفیع احمد مرزا ناصر احمد کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ اس بات کی خاندان کے بعض نوجوان افراد نے (جن میں موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد پیش پیش تھے۔) شدید مخالفت کی۔ لیکن بالآخر خاندان کی بزرگ خاتون کے سامنے خاموش ہو رہے۔ اس طرح باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد مرزا ناصر احمد کا قادیانی مذہب کے خلیفہ ثالث ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔
ناصر احمد کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی صورت حال یہ تھی کہ جہاں بھی دونوں بھائی اکٹھے ہوتے مرزا رفیع احمد سے ہاتھ ملانے کے لئے قادیانی ٹوٹ پڑتے۔ اور خلیفہ صاحب (ناصر احمد) کو کوئی پوچھتا بھی نہ۔ یہ صورت حال ”خلیفہ“ کے لئے بڑی پریشان کن تھی چنانچہ انہوں نے رفیع احمد کی مقبولیت قادیانیوں میں ختم کرنے کے لئے اپنے برسر اقتدار گروہ کی مدد سے منصوبہ بندی کر کے کارروائی شروع کی۔ پہلے تو رفیع احمد کو جوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کی صدارت سے ہٹا دیا گیا۔ پھر اجتماعات اور جلسوں میں تقاریر کرنے سے منع کر دیا گیا۔ اس کے بعد نماز میں امامت کرنے سے روک دیا گیا۔ بعد ازاں کسی قادیانی کا نکاح پڑھانے کی بھی ممانعت ہو گئی۔ قادیانیوں کو انہیں کسی تقریب میں بلانے سے بھی روک دیا گیا۔ انتہا یہ کہ اگر کوئی قادیانی ان سے ملتا تو اسے سرزنش کی جاتی کہ رفیع احمد سے ملنا۔ خلیفہ کی ناراضگی اور عذاب الہی کو دعوت دینا ہے۔ چنانچہ مرزا ناصر احمد کی زندگی کے آخری دور میں تو رفیع احمد بالکل نظر بند تھے اور زبان و تحریر پر مکمل پابندی تھی۔ قادیانی اپنی تنظیم کے خوف سے ان سے پبلک میں ملنے سے اجتناب کرتے تھے۔ شوگر کے مرض سے ناصر احمد کی صحت اکثر خراب رہنے لگی تھی پھر ان کی بیوی کی وفات نے اور بھی ان کو نڈھال کر دیا۔ مگر یار لوگوں، حواریوں اور چمچوں نے انہیں اس بڑھاپے میں دوسری شادی ایک کنواری ڈاکٹر سے کرنے اکسانا شروع کیا۔ ان چمچوں کے سرغنہ (مولوی) عبدالمالک تھے۔ ستر پچھتر سال کی عمر میں کنواری لڑکی سے شادی کے خلاف مریدوں میں کسی ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لئے قادیانی سرکاری گزٹ ”الفضل میں متواتر ”مولوی“ عبد المالک اور دیگر ”بزرگان“ کے کشف اور خواب اور استخاروں کے نتائج اور بشارت ”حضرت صاحب“ کی دوسری شادی کی حمایت میں شائع ہونے لگے اور اس مہم کے فوراً بعد اس عالم ضعف
دوہری میں کنواری نئی نویلی دلہن سے دھوم دھام سے شادی ہوگئی۔ مگر صحت ساتھ نہ دے پائی اور کچھ دنوں بعد ہی ناصر احمد اس قسم کے خطبے اور وعظ کرنے لگ گئے کہ اصل چیز تو روحانی محبت ہے۔ جسمانی محبت کوئی چیز نہیں۔ مگر افسوس کہ جسم پھر بھی تیزی سے انحطاط پذیر ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ شادی کے صرف ٣ ماہ بعد ہی داعی اجل کا بلاوا آگیا۔ اور ”مولوی“ عبدالمالک اور دیگر چوٹی کے قادیانی بزرگوں کے کشوف استخارے اور بشارت دھرے رہ گئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
جب مرزا ناصر احمد آنجہانی ہوئے تو مسلسل پابندیوں کے باعث رفیع احمد کو جماعت میں بالکل ایک اچھوت کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ چنانچہ اب جو قادیانی خلافت کا انتخاب ہوا تو اس میں انہیں بولنے تک کی اجازت نہ دی گئی۔ پھر بھی انہوں نے خلافت کے انتخابات کے طریق کار پر سخت احتجاج کیا۔ لیکن صدر (جو ان کے بڑے بھائی مرزا مبارک احمد تھے) نے ان کو ذلیل کر کے باہر نکال دیا۔ نکلنے سے پہلے انہوں نے اس صورتحال کی طرف مشہور قادیانی اور مرزا غلام احمد کے پرانے ”صحابی“ سر ظفر اللہ خان کی توجہ مبذول کرا کے فریاد کی۔ اس پر ظفر اللہ خاں نے کچھ کہنے کا ارادہ کیا مگر ان کے ارد گرد دوسرے لوگوں نے انہیں سختی سے بولنے سے روک دیا۔ ساتھ ہی قادیانی گرگ مولوی عبدالمالک خاں نے قادیانی رضا کاروں کو اشارہ دیا اور بظاہر یوں کہا کہ چوہدری صاحب کو خدام (رضا کار) عزت سے لے جائیں۔ اس سگنل پر بوڑھے ظفر اللہ چوہدری کو رضا کاروں نے کار میں ڈالا اور باہر لے گئے۔ رفیع احمد نے بھی باہر نکل کر جگہ جگہ قادیانیوں سے خلیفہ کے انتخاب کے طریقہ کے خلاف خطاب کیا۔ لیکن جلد ہی قادیانی رضا کار انہیں بھی گھیرے میں لے کر ان کی رہائش گاہ لے گئے۔ جہاں انہیں کافی عرصہ تک نظر بند رکھا گیا۔ حتیٰ کہ مرزا طاہر احمد کی خلافت رابع کا اعلان ہر قادیانی تک پہنچ گیا۔ اور سب سے بیعت فارم پر کرالئے گئے۔
مرزا طاہر احمد پیپلز پارٹی کا بڑا سرغنہ تھا۔ ١٩٧٠ء میں قادیانیوں نے جو پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا وہ سب اس کی انگیخت پر تھا۔ اس کی غنڈہ گردی سے قادیانی بھی بہت خائف رہتے تھے۔ اگر کوئی قادیانی اس کی حرکتوں پر آواز اٹھاتا۔ تو اسے بہت تنگ اور ذلیل کرکے ربوہ سے نکلوا دیتا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب اس نے حد سے زیادہ من مانی شروع کر دی تو ذوالفقار علی بھٹو بھی اس سے تنگ آگئے۔ جس کا خمیازہ سب قادیانیوں کو بھگتنا پڑا۔
مرزا رفیع احمد طاہر احمد کے دور میں اور بھی گوشہ گمنامی میں چلے گئے ہیں۔ ان کی ناکامی کی بڑی وجہ ان کی پست ہمتی بزدلی اور طبیعت میں استقلال نہ ہونا ہے یہ بولتے تو ہیں مگر ڈر کے دب بھی جاتے ہیں۔ لوگوں کا گروہ جو ان کا ساتھ دیتا ہے۔ اسے مصیبت میں بھول جاتے ہیں۔ کئی قادیانیوں کو صرف ان کا ساتھ دینے کے جرم میں بہت تنگ اور ذلیل کر کے ربوہ سے نکالا گیا اور بائیکاٹ کیا گیا۔ مگر انہوں نے کسی کی خیر خبر نہ لی نہ ٹھوس مدد کی۔ سیاسی طور پر ولی خان اور ان کی نیشنل عوامی پارٹی کے بڑے حامی ہیں۔ نظریاتی اور مذہبی طور پر بہت رجعت پسند کٹر متعصب قادیانی کا قول ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف نبی بلکہ آنحضرت ﷺ کے علاوہ سب نبیوں سے افضل نبی بھی۔ بہر حال انکا وجود قادیانیوں کی باسی کڑھی میں کبھی کبھی ابالے کا کام دیتا ہے۔ سر ظفر اللہ کی تدفین کے موقعہ پر ”اہلبیت“ کے ساتھ ان کی قبر بنانے پر انکار و پر زور احتجاج مشہور ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ”ذریت مرزا“ کو عام انسانوں سے بالا مخلوق سمجھتے ہیں اور مساوات محمدی کے قائل نہیں۔ پچھلے سال کافی عرصہ کی گوشہ نشینی کے بعد لنڈن میں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ کے دوسرے روز وہ اچانک پہنچ گئے۔ قادیانی اکابرین نے رضا کاروں کے ذریعہ انہیں وہاں سے ہٹا دیا اور قادیانیوں کو خبردار کیا کہ اس شخص سے ملنا ”اللہ کے خلیفہ“ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
قادیانی تنظیم نے اس گروہ پر زبردست ذہنی غلامی مسلط کر رکھی ہے اور وہ کسی قادیانی کی ذرا سی صحیح تنقید پر بھی اس کو کسی قیمت پر اپنے اندر برداشت نہیں کرتی۔ البتہ مرزا رفیع احمد جو اب بھی ربوہ اور قادیانیوں کے جلسوں اور اجتماعات میں نظر آجاتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً صرف یہ ہے کہ وہ ”ذریت مرزا“ بزعم خود ”خاندان نبوت“ اور ”اہل بیت“ میں سے ہیں۔ جو کہ قادیانی تنظیم کے نزدیک Super Creation یا عام انسانوں سے بہت بالا مخلوق ہیں۔ بھلا ان سے عام قادیانی انسان جیسا گھٹیا سلوک کیسے ہو سکتا ہے۔
❁………………❁………………❁
آنحضرت ﷺ کے بعد مدعیِ نبوت اور
اس کو نبی ماننے والا واجب القتل ہے
مولانا محمد سرفراز خان صفدر
نصوص قطعیہ احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع اُمت سے مسئلہ ختم نبوت کا اتنا اور ایسا قطعی ثبوت ہے کہ اس میں تامل کرنے والا بھی کافر ہے بلکہ صحیح اور صریح احادیث کی رو سے مدعی نبوت اور اس کو نبی ماننے والا واجب القتل ہیں مگر یہ قتل صرف اسلامی حکومت کا کام ہے نہ کہ رعایا اور افراد کا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ (المتوفی ٣٢ھ) سے روایت ہے:
وہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے دو سفیر قال قد جاء ابن النواحة وابن اثال عبداللہ بن نواحہ اور اسامہ بن اثال آنحضرت رسولين لمسيلمة الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر صلى الله عليه وسلم فقال لهما رسول ہوئے۔ آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم الله صلى الله تعالیٰ عليه وسلم اس کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول تشهدان انى رسول الله؟ فقالا نشهد ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں ان مسيلمة رسول الله فقال رسول الله کہ مسیلمہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ (معاذ اللہ صلى الله تعالیٰ عليه وسلم آمنت بالله تعالیٰ) آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس و رسله لو كنت قاتلاً رسولاً لقتلتكم کے رسولوں پر ایمان لایا اگر میں کسی قاصد کو قتل قال عبدالله فمضت السنة بان الرسل کرتا تو تمہیں قتل کر دیتا۔ حضرت ابن مسعودؓ لاتقتل فاما ابن اثال فكفاه الله واما فرماتے ہیں کہ بین الاقوامی دستور اور سنت ابن النواحة فلم يزل في نفسى حتى یوں جاری ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا امكننى الله تعالیٰ منه۔ رہا۔ ابن اثال کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی
(ابوداؤد الطيالسي ص ٣٢
مشكوة ج ٢ ص ٣٤٧ ومسند احمد ج ١ ص
اس صحیح روایت سے معلوم کرنے والا واجب القتل ہے۔ رکاو بن نواحہ سفیر تھے اور سنت اور اس وقت تاکہ پیغام رسانی میں کسی قسم کی کوئی کـ میں جب حضرت عبداللہ بن مسعود کو مـ اپنے اس باطل عقیدہ سے باز نہ آیا ا قرظہ بن کعب کو حکم دیا کہ وہ ابن نواحہ
ج ٢ ص ٥٣ قال الحاکم والذہبی صحیح)
اور حضرت ابن مسعودؓ نے فانت اليوم لست برسول فا بن كعب فضرب عنقه في الـ قال من اراد ان ينظر الى ابن قتيلاً بالسوق۔
(ابوداؤد
اور سنن الکبریٰ ج ٨ ص
کوفہ کی مسجد بنو حنیفہ میں نماز پڑھتا تـ کے بعد وان مسيلمة (الكذاب
اس کی کفایت کر دی (اسامہ بن اثال بعد کو مسلمان ہو گئے تھے۔ البدایۃ والنہایۃ ج٦ ص٥٢) اور ابن نواحہ کا معاملہ میرے دل میں کھٹکتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی قدرت دی اور میں نے اسے قتل کر دیا۔
(ابوداؤد الطیالسی ص٣٤ واللفظ لہ ومستدرک ج٣ ص٥٢، قال الحاکم والذہبی صحیح و
مشکوٰۃ ج٢ ص٣٤٧ ومسند احمد ج١ ص٣٩٠ ونحوہ فی الدارمی ص٣٤٢ طبع ہند)
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرنے والا واجب القتل ہے۔ رکاوٹ صرف یہ پیش آئی کہ اس وقت اسامہ بن اثال اور عبداللہ بن نواحہ سفیر تھے اور سنت اور اس وقت کے بین الاقوامی دستور کے مطابق سفراء کو قتل نہیں کیا جاتا تھا تاکہ پیغام رسانی میں کسی قسم کی کوئی کمی اور کوتاہی باقی نہ رہ جائے۔ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کوفہ کے گورنر تھے تو عبداللہ بن نواحہ ان کے قابو آگیا اور وہ اپنے اس باطل عقیدہ سے باز نہ آیا اور توبہ کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ نے حضرت قرظہ بن کعبؓ کو حکم دیا کہ وہ ابن نواحہ کی گردن اڑا دے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (مستدرک
ج٢ ص٥٣ قال الحاکم والذہبی صحیح)
اور حضرت ابن مسعودؓ نے اس موقع پر ابن نواحہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: فانت الیوم لست برسول فامر قرظۃ آج کے دن تو قاصد نہیں ہے پھر انہوں نے بن کعب فضرب عنقہ فی السوق ثم حضرت قرظہؓ بن کعب کو حکم دیا اور انہوں نے قال من اراد ان ینظر الی ابن النواحۃ کوفہ کے بازار میں ابن نواحہ کی گردن اڑا دی قتیلاً بالسوق. پھر فرمایا کہ جو شخص ابن نواحہ کو بازار میں مقتول (ابوداؤد ج٢ ص٢٤) دیکھنا چاہتا ہے تو دیکھ لے۔
اور سنن الکبریٰ ج٨ ص٢٠٦ اور طحاوی ج٢ ص١٠٢ میں روایت ہے کہ عبداللہ بن نواحہ کوفہ کی مسجد بنو حنیفہ میں نماز پڑھتا تھا اور اس کے مؤذن نے اذان میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کے بعد وان مسیلمۃ (الکذاب) رسول اللہ کہا (معاذ اللہ تعالیٰ)
زندیق کی تعریف
زندیق شرعاً ہر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرتا ہو اور شعائر اسلام کا اظہار بھی کرتا ہو مگر کسی کفریہ عقیدہ پر ڈٹا ہوا ہو۔ چنانچہ علامہ سعد الدین تفتازانیؒ المتوفی ٧٩٢ھ لکھتے ہیں کہ:
وان كان مع اعترافه بنبوة النبى صلى اگر وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی الله تعالى عليه وسلم واظهار شعائر نبوت کا اقرار کرتا ہے اور شعائر اسلام کا اظہار الاسلام يبطن عقائد هي كفر بالاتفاق بھی کرتا ہے لیکن دل میں ایسے عقیدے رکھتا خص باسم الزنديق. ہے جو بالاتفاق کفر ہیں تو وہ زندیق ہے۔
(شرح مقاصد ج ٢ ص ٢٧٥ ومثلہ فی کلیات ابی البقاء ص ٥٥٣)
اور حضرت ملا علی القاریؒ زندیق کا یہ معنی بیان کرتے ہیں:
او من يبطن الكفر و يظهر الايمان. یا وہ جو کفر کو چھپاتا اور ایمان کو ظاہر کرتا ہو۔
(مرقات ج ٧ ص ١٠٤)
علامہ ابن عابدین...... الشامیؒ المتوفی ١٢٥٢ھ فرماتے ہیں کہ:
فان الزنديق يموه بكفره ويروج زندیق ملمع سازی کر کے اپنے کفر کو پیش کرتا عقيدته الفاسدة و يخرجها فى الصورة ہے فاسد عقیدہ کی ترویج کرتا ہے اور اس کو صحیح الصحيحة وهذا معنى ابطان الكفر ا. صورت میں ظاہر کرتا ہے اور کفر کے چھپانے (شامی ج ٣ ص ٣٢٤) کا یہی مطلب ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ احمد بن عبدالرحیمؒ محدث دہلویؒ (المتوفی ١١٧٦ھ ) فرماتے ہیں:
وان اعترف به ظاهراً لكنه يفسر بعض اور اگر وہ ملحد ظاہری طور پر تو دین کو مانتا ہے مگر ماثبت من الدين بخلاف مافسره ضروریات دین میں سے کسی چیز کی ایسی تفسیر الصحابة والتابعون واجمعت عليه کرتا ہے جو حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اور الامة فهو الزنديق. اُمت کے اجماع کے خلاف ہو جیسے قادیانی (مسوی ج ٢ ص ١٠٩) خاتم النبیین کا معنی کرتے ہیں تو وہ زندیق ہے۔ (صفدر)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (المتوفی ١٣٩٦ھ) مفتی اعظم پاکستان فرماتے ہیں کہ: ”زندیق کی تعریف میں جو عقائد کفریہ کا دل میں رکھنا ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مثل منافق کے اپنا عقیدہ ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے عقائد کفریہ کو ملمع کر کے اسلامی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔“ (کذا فی الشامی) (جواہر الفقہ ج ١ ص ٢٩)
نرا وہم
خود قادیانیوں کو اور ان کے کفر میں تردد کرنے والے بعض نو خیز انگریزی خوانوں کو یہ وہم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے پاک و ہند اور بعض دیگر ممالک میں اسلام پھیلایا اور دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ لہٰذا ان کی تکفیر مناسب نہیں لیکن یہ ان کا نرا دجل اور مکر ہے۔ اولاً اس لیے کہ ختم نبوت جیسے قطعی عقیدہ کا انکار کرنا اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات و نزول کا انکار کرنا اور ظالم انگریز کی تائید میں تعریف کے پل باندھ دینا اور 50 الماریاں اس کی تائید میں لکھ مارنا دین اسلام کی کون سی خدمت ہے؟ اور یہ خرافات دین اسلام کے کن عقائد کا نام ہے؟ اگر معاذ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو مٹانا اور اس کے بنیادی عقائد کو بدل ڈالنا اور پیغمبروں کی قابل احترام ہستیوں کی کھلے طور پر توہین کرنا اسلام کی خدمت ہے؟ تو یہ قادیانیوں کی اپنی خانہ ساز اصطلاح اور اختراع ہے۔ ثانیاً اگر بالفرض کسی کافر و فاجر سے دین کی کوئی تائید ہو بھی جائے تو اس سے اس کا مسلمان اور متقی ہونا کیونکر اور کیسے ثابت ہو جائے گا؟ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غزوہ خیبر میں قزمان نامی منافق نے میدان جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وہ زخمی ہوا اور خود کشی کر لی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ:
ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل بے شک اللہ تعالیٰ فاجر کے ذریعہ بھی اس دین الفاجر. (بخاری ج ١ ص ٤٣٠ و ص ٢٠٣ ج ٢ و کو تقویت پہنچا دیتا ہے۔ سنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٧)
اور ایک دوسری حدیث میں جو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے یوں آتا ہے:
سیشدد ھذا الدین برجال لیس لھم عنقریب اس دین کو ایسے مردوں کے ساتھ عند اللہ خلاق. (الجامع الصغیر ج ٢ ص ٣٦ مضبوط کیا جائے گا جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے
وقال صحیح والسراج المنیر ج ٢ ص ٣٥٣ وقال حدیث صحیح)
نزدیک (ایمان و خیر کا) کوئی حصہ نہ ہوگا۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ باطل فرقوں میں سے کسی شخص کے قول و فعل سے دین اسلام کی تقویت تو ہو سکتی ہے مگر اسلام کے کسی مسئلہ اور پہلو کی تائید و تقویت سے فاجر وملحد و زندیق کا ایمان و اسلام اور تقویٰ ثابت نہیں ہو سکتا اور اس کے مومن و مسلم کہلانے سے وہ مومن و مسلم نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام کے قطعی عقائد سے اس کا انکار ہوتا ہے اور دل ایمان و ایقان سے خالی ہوتا ہے
غبار کارواں کچھ راستہ کچھ اور کہتا ہے
محض نبوت کے زبانی اقرار سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا
حضرت فقہاء کرام محدثین عظامؒ اور متکلمین ذوی الاحترام کے نزدیک ایمان کی شرعی تعریف یہ ہے:
واما فی الشرع فہو التصدیق بما علم مجیئ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بہ ضرورة تفصیلاً فیما علم تفصیلاً واجمالاً فیما علم اجمالاً وہذا مذہب جمہور المحققین.
(فتح الملہم ج ١ ص ١٥٢)
شریعت میں ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس ضروری چیز کی تصدیق کی جائے جس کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں جو چیزیں تفصیلاً معلوم ہوں ان کی تفصیلاً تصدیق ہو اور جو چیزیں اجمالاً معلوم ہوں ان کی اجمالاً تصدیق ہو یہی جمہور محققین کا مذہب ہے۔
اس سے ایمان کا شرعی معنی واضح ہو گیا نہ یہ کہ محض آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رسالت کے اقرار سے کوئی مسلمان ہو سکتا ہے۔ امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام (المتوفی ٢١٣ یا ٢١٨ھ) مسیلمہ (بن حبیب و قیل ابن ثمامہ ابوثمامہ الکذاب) کے بارے لکھتے ہیں کہ:
واحل لہم الخمر و الزنا و وضع عنہم الصلوٰة وہو مع ذلک یشہد لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بانہ نبی. (سیرت ابن ہشام ج ٢ ص ٥٧٧)
مسیلمہ نے ان کے لیے شراب و زنا کو حلال کیا اور نمازوں کی چھٹی دے دی مگر بایں ہمہ وہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے یہ شہادت دیتا تھا کہ آپ نبی ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شریعت میں شراب و زنا کی حرمت قطعی ہے ان کو حلال کرنا اور نمازوں کو معاف کرنا جن کا پڑھنا اور ادا کرنا آپ کی شریعت میں دین کی بنیاد ہے قطعا کفر ہے پھر محض زبانی طور پر آپ کی نبوت کے اقرار کرنے سے مسیلمہ کذاب کو کیا فائدہ ہوا؟ اور وہ کفر سے کیونکر بچ سکا اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کرنے سے وہ غضب علی غضب اور کفر فوق کفر کا مرتکب ہوا۔ (عیاذاً باللہ تعالیٰ)
- ٭ شیخ الاسلام حافظ احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ (المتوفی ٧٢٨ھ) لکھتے ہیں کہ:
قد اجمع المسلمون ان من سب الله تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ تعالىٰ او سب رسوله صلى الله تعالىٰ جس شخص نے اللہ تعالیٰ یا جناب رسول اللہ صلی عليه وسلم او دفع شيئا مما انزل الله اللہ علیہ وسلم کو برا کہا یا اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ او قتل نبيا من انبياء الله انه كافر وان احکام میں سے کسی کو رد کر دیا یا اللہ تعالیٰ کے كان مقرا بما انزل الله تعالىٰ. نبیوں میں سے کسی نبی کو شہید کر دیا تو وہ شخص (الصارم المسلول ص ٥١٣) کافر ہے اگر چہ زبانی طور پر وہ ما انزل الله تعالیٰ کا مقر ہو۔
یہ تمام صریح حوالے اس پر دال ہیں کہ صرف زبانی طور پر اسلام کا دعویٰ کرنا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اقرار کر لینا ہی مسلمان کہلانے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ تمام ضروریاتِ دین کا یقین و اذعان کرنا ضروری ہے۔ لاریب فیہ
جامعیت سیرت خاتم الانبیاء ﷺ
وہ تمام اشخاص جو کسی مذہب کے حلقہ اطاعت میں داخل ہوں ناممکن ہے کہ وہ کسی ایک ہی صنف انسانی سے متعلق ہوں۔ اس دنیا کی بنیاد ہی اختلاف عمل پر ہے باہمی تعاون اور مختلف پیشوں اور کاموں ہی کے ذریعہ سے یہ دنیا چل رہی ہے۔ اس میں بادشاہ یا رئیس جمہور اور احکام بھی ضروری ہیں اور محکوم، مطیع اور فرمانبردار رعایا بھی امن و امان کے قیام کے لئے قاضیوں اور ججوں کا ہونا بھی ضروری ہے اور فوجوں کے سپہ سالاروں اور افسروں کا بھی، غریب بھی ہیں اور دولت مند بھی۔ رات کے عابد و زاہد بھی ہیں اور دن کے سپاہی اور مجاہد بھی، اہل وعیال بھی ہیں اور دوست و احباب بھی، تاجر اور سوداگر بھی ہیں اور امام اور پیشوا بھی، غرض اس دنیا کا نظم ونسق ان مختلف اصناف کے وجود اور قیام ہی پر موقوف ہے اور ان تمام اصناف کو اپنی اپنی زندگی کے لئے عملی مجسمہ اور نمونہ کی ضرورت ہے۔ اسلام ان تمام انسانوں کو سنت نبوی ﷺ کی اتباع کی دعوت دیتا ہے اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ مختلف طبقات انسانی کے لئے اپنے پیغمبر کی عملی سیرت میں نمونے اور مثالیں رکھتا ہے۔ جو ان میں سے ہر ایک کے لئے الگ الگ ہدایت کا چراغ بن سکتا ہے۔ اسلام کے صرف اسی نظریے سے ثابت ہو جاتا ہے۔ کہ پیغمبر اسلام کی سیرت میں جامعیت ہے۔ یعنی انسانوں کے ہر طبقہ اور صنف کے لئے اس کی سیرت پاک میں نصیحت پذیری اور عمل کے لئے درس اور سبق موجود ہیں۔ ایک حاکم کے لئے محکوم کی زندگی اور ایک محکوم کے لئے حاکم کی زندگی۔ ایک دولت مند کے لئے غریب کی زندگی اور ایک غریب کے لئے دولت مند کی زندگی کامل مثال اور نمونہ نہیں بن سکتی۔ اس لئے ضرورت ہے کہ عالمگیر اور دائمی پیغمبر کی زندگی ان تمام مختلف مناظر کے رنگ برنگ پھولوں کا گلدستہ ہو۔
اصناف انسانی کے بعد دوسری جامعیت خود ہر انسان کے مختلف طبقوں کے مختلف افعال کی ہے۔ ہم چلتے پھرتے بھی ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے بھی‘ کھاتے پیتے بھی ہیں سوتے جاگتے بھی‘ ہنستے بھی ہیں۔ روتے بھی‘ پہنتے بھی ہیں اتارتے بھی‘ نہاتے بھی ہیں‘ دھوتے بھی‘ لیتے بھی ہیں‘ دیتے بھی‘ سیکھتے بھی ہیں‘ سکھاتے بھی‘ مرتے بھی ہیں مارتے بھی‘ کھاتے بھی ہیں اور کھلاتے بھی‘ احسان لیتے بھی ہیں اور کرتے بھی‘ اپنی جان دیتے بھی ہیں بچاتے بھی‘ عبادت و دعا بھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی‘ مہمان بھی بنتے ہیں اور میزبان بھی‘ ہم کو ان تمام امور کے متعلق جو ہمارے مختلف افعال جسمانی سے تعلق رکھتے ہیں عملی نمونوں کی ضرورت ہے جو ہم کو ہر نئی حالت کے پیش آنے میں ایک نئی ہدایت کا سبق اور نئی رہنمائی کا درس دیں۔
ان افعال کے بعد جن کا تعلق اعضاء سے ہے‘ وہ افعال ہیں جن کا تعلق دل و دماغ سے ہے اور جن کی تعمیر ہم اعمال قلب یا جذبات اور احساسات سے کرتے ہیں ہر آن ہم ایک نئے قلبی وعملی جذبہ یا احساس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم کبھی راضی ہیں‘ کبھی ناراض‘ کبھی خوش ہیں‘ کبھی غمزدہ‘ کبھی مصائب سے دوچار ہیں اور کبھی نعمتوں سے مالا مال‘ کبھی ناکام ہوتے ہیں اور کبھی کامیاب‘ ان سب حالتوں میں ہم مختلف جذبات کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اخلاق فاضلہ کا تمام تر انحصار انہی جذبات اور احساسات کے اعتدال اور باقاعدگی پر ہے۔ ان سب کے لئے ہم کو ایک عملی سیرت کی حاجت ہے جس کے ہاتھ میں ہماری ان اندرونی سرکش اور بے قابو قوتوں کی باگ ڈور ہو جو ان ہی راستوں پر ہمارے نفس کی غیر معتدل قوتوں کو لے چلے جن پر سے مدینہ کا بے نفس انسان کبھی گزر چکا ہے۔
عزم‘ استقلال‘ شجاعت‘ صبر‘ شکر‘ توکل‘ رضا بہ تقدیر‘ مصیبتوں کی برداشت قربانی‘ قناعت‘ استغناء‘ ایثار‘ جود‘ تواضع‘ خاکساری‘ مسکنت‘ غرض نشیب و فراز بلند و پست تمام اخلاقی پہلوؤں کے لئے جو مختلف انسانوں کو مختلف حالتوں میں یا ہر انسان کو مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔ ہم کو عملی ہدایت اور مثال کی بھی ضرورت ہے مگر وہ کہاں مل سکتی ہے؟ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہم کو سرگرم شجاعانہ قوتوں کا خزانہ مل سکتا ہے۔ مگر نرم اخلاق کا نہیں‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاں نرم اخلاق کی بہتات ہے‘ مگر سرگرم اور خون میں حرکت پیدا کرنے والی قوتوں کا وجود نہیں۔ انسان کو
اس دنیا میں ان دونوں قوتوں کی معتدل حالت میں ضرورت ہے۔ اور ان دونوں قوتوں کی جامع اور معتدل مثالیں صرف پیغمبر اسلام ﷺ کی سوانح میں مل سکتی ہیں۔
غرض ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہرقسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے۔ اگر دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو۔ اگر غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو۔ اگر بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو۔ اگر فاتح ہو تو بدر وحنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑاؤ۔ اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو۔ اگر تم استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درس گاہ کے معلم اقدس کو دیکھو۔ اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو۔ اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یارومددگار نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔ اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔ اگر اپنے کاروبار اور دنیاوی جدوجہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر، خیبر اور فدک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو۔ اور یتیم ہو تو عبداللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو۔ اگر بچہ ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو۔ اگر تم جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو۔ اگر سفری کاروبار میں ہو تو بصریٰ کے سالار کارواں کی مثالیں ڈھونڈو۔ اگر عدالت کے قاضی اور پنچایتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے۔ مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر وغریب برابر تھے۔ اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حیات پاک کا مطالعہ کرو۔ اگر اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے باپ اور حسنؓ و حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو۔ غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لئے نمونہ اور تمہاری سیرت کی درستی و اصلاح کے لئے سامان، تمہارے ظلمت خانے کے لئے ہدایت کا چراغ اور راہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔
اس لئے طبقہ انسانی کے ہر طالب اور نور ایمانی کے ہر متلاشی کے لئے صرف محمد رسول اللہ کی سیرت ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے جس کی نگاہ کے سامنے محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہے۔ اس کے سامنے نوحؑ وابراہیمؑ ایوبؑ ویونسؑ موسیٰؑ اور عیسیٰ علیہم السلام سب کی سیرتیں موجود ہیں۔ گویا تمام انبیاء کرام کی سیرتیں صرف ایک ہی جنس کی اشیاء کی دوکانیں ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اخلاق و اعمال کی دنیا کا سب سے بڑا بازار (مارکیٹ) ہے جہاں ہر جنس کے خریدار اور ہر شئے کے طلب گار کے لئے بہترین سامان موجود ہے۔
آج سے تیس چالیس برس پہلے پٹنہ کے مشہور واعظ اسلام ماسٹر حسن علی مرحوم جو ”نور اسلام“ نام کا ایک رسالہ نکالتے تھے۔ اس میں انہوں نے اپنے ایک ہندو تعلیم یافتہ دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ میں آپ کے پیغمبر کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں، انہوں نے پوچھا ہمارے پیغمبر کے مقابلہ میں تم حضرت عیسیٰؑ کو کیا سمجھتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں عیسیٰؑ ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہوا میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تم کیوں پیغمبر اسلام کو دنیا کا کامل ترین انسان جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو کسی ایک انسان میں تاریخ نے کبھی یکجا کر کے نہیں دکھائے۔ بادشاہ ایسا کہ پورا ملک اس کی مٹھی میں ہو اور بے بس ایسا کہ خود اپنے کو بھی اپنے قبضہ میں نہ جانتا ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے قبضہ میں، دولت مند ایسا ہو کہ خزانے کے خزانے اونٹوں سے لدے ہوئے اس کے دار الحکومت میں آ رہے ہوں اور محتاج ایسا کہ مہینوں اس کے گھر چولہا نہ جلتا ہو اور کئی کئی وقت اس پر فاقے سے گزر جاتے ہوں۔ سپہ سالار ایسا ہو کہ مٹھی بھر نہتے آدمیوں کو لے کر ہزاروں غرق آہن فوجوں سے کامیاب لڑائی لڑا ہو اور صلح پسند ایسا کہ ہزاروں پر جوش جاں نثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغذ پر بے چوں چرا دستخط کر دیتا ہو۔ شجاع اور بہادر ایسا ہو کہ ہزاروں کے مقابلہ میں تن تنہا کھڑا ہو اور نرم دل ایسا ہو کہ کبھی اس نے انسانی خون کا ایک قطرہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ بہایا ہو، با تعلق ایسا ہو کہ عرب کے ذرہ ذرہ کی اس کو فکر، بیوی بچوں کی اس کو فکر، غریب و مفلس مسلمانوں کی اس کو فکر، خدا کی
بھولی ہوئی دنیا کے سدھار کی اس کو فکر‘ غرض سارے سنسار کی اس کو فکر ہو اور بے تعلق ایسا کہ اپنے خدا کے سوا کسی اور کی یاد اس کو نہ ہو اور اس کے سوا ہر چیز اس کو فراموش ہو‘ اس نے کبھی اپنی ذات کے لئے اپنے برا کہنے والوں سے بدلہ نہیں لیا۔ اور اپنے ذاتی دشمنوں کے حق میں دعائے خیر کی اور ان کا بھلا چاہا۔ لیکن خدا تعالیٰ کے دشمنوں کو اس نے کبھی معاف نہیں کیا اور حق کا راستہ روکنے والوں کو ہمیشہ جہنم کی دھمکی دیتا اور عذاب الٰہی سے ڈراتا رہا۔ عین اس وقت جب اس پر ایک تیغ زن سپاہی کا دھوکہ ہوتا ہو وہ ایک شب زندہ دار زاہد کی صورت میں جلوہ نما ہو جاتا ہے۔ عین اس وقت جب اس پر کشور کشا فاتح کا شبہ ہو‘ تو وہ پیغمبرانہ معصومیت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتا ہے عین اس وقت جب ہم اس کو شاہ عرب کہہ کر پکارنا چاہتے ہیں وہ کھجور کی چھال کا تکیہ لگائے کھردری چٹائی پر بیٹھا درویش نظر آتا ہے۔ عین اس دن جب عرب کے اطراف سے آ کر اس کے صحن مسجد میں مال و اسباب کا انبار لگا ہوتا ہے اس کے گھر میں فاقہ کی تیاری ہو رہی ہے۔
❁ ....... ❁ ....... ❁
تحقیقاتی عدالت ١٩٥٣ء
اور
خلیفہ ربوہ اپنوں کی نظر میں
مولانا تاج محمد
تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٥٣ء کی تحقیقاتی عدالت میں مرزا محمود احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے سابقہ عقائد کے خلاف جب غلط بیانی سے کام لیا۔ تو بعض قادیانی مبلغین ان کے بیان سے متنفر ہو کر مرزائیت سے تائب ہو گئے۔ اور بعض لوگ جنہوں نے قادیانی تبلیغ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی تھیں۔ قادیانی گروہ کو چھوڑ کر لاہوری گروپ سے مل گئے۔ جن میں ڈاکٹر عبد اللہ خاں صاحب ساکن جتوئی تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ اور محمد صالح صاحب نور واقف زندگی سابق کارکن وکالت تعلیم (تحریک جدید ربوہ) سرفہرست ہیں۔
ڈاکٹر صاحب موصوف چوہدری عبد اللہ خاں برادر سر ظفر اللہ خاں سابق وزیر خارجہ پاکستان کی مساعی سے قادیان گئے۔ خلیفہ ربوہ مرزا محمود احمد کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور حصول تعلیم کے لیے مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہو گئے۔ تعلیم مکمل ہونے پر ڈاکٹر صاحب کو سنگاپور میں قادیانی مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا ہے۔ ساڑھے تین سال مبلغ کے طور پر وہاں کام کرتے رہے۔ اور مرزائی گھرانے میں ان کی شادی بھی ہو گئی۔ سنگاپور سے واپس آنے پر دہلی۔ آگرہ، لکھنؤ۔ شاہجہان پور وغیرہ میں بطور قادیانی مبلغ کام کرتے رہے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران ضلع سرگودھا میں خلیفہ ربوہ کی طرف سے تعینات تھے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ جب تحریک ختم ہو گئی اور تحقیقاتی عدالت میں بیان شروع ہوئے تو خلیفہ ربوہ مرزا
محمود احمد کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا۔ اور ان کے بیانات قلمبند ہوئے۔ خلیفہ صاحب نے جو بیان عدالت میں دیا۔ وہ ایک ایسا بیان ہے۔ جس نے مرزائیت کی بنیاد ہی اکھیڑ کر رکھ دی۔ ڈاکٹر عبداللہ خان صاحب، مرزا محمود احمد کے بیانات سے اتنے متنفر ہوئے کہ مرزائیت سے فوراً تائب ہو گئے۔ اور ان کے ساتھ ہی ان کی قادیانی بیوی نے بھی مرزائیت پر لعنت بھیجی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ آج کل ڈاکٹر صاحب موصوف اپنے آبائی گاؤں جتوئی ضلع مظفر گڑھ میں جامعہ محمدیہ تعلیم القرآن کے پرنسپل ہیں۔ اور قادیانت کے خلاف تیغ براں کا کام کر رہے ہیں۔ (وفات پاگئے ہیں)
دوسرے صاحب محمد صالح نور صاحب ہیں۔ جنہوں نے تبلیغ قادیانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی۔ اور وکالت تعلیم (تحریک جدید ربوہ) میں بطور کارکن اپنا کام سرانجام دیتے رہے۔ پیدائشی مرزائی تھے۔ ربوہ میں رونما ہونے والے بعض ناگفتہ بہ حالت کے علاوہ خلیفہ ربوہ کے عدالتی بیانات سے سخت متنفر ہوئے۔ اور لاہوری گروہ میں شامل ہو گئے۔
ڈاکٹر عبداللہ خان صاحب نے مرزائیت کا طوق گلے سے اتار کر ایک توبہ نامہ شائع کیا۔ جو پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں مرزا محمود احمد کے تحقیقاتی عدالت میں بیانات پر جرح کی ہے۔ لاہوری فریق کے ایک سرگرم رکن ملک الٰہی بخش صاحب ١٦ سی سیٹلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی نے ان ہی دنوں میں ایک کتاب ”خلیفہ ربوہ کے عدالتی بیان پر تبصرہ“ نامی شائع کی۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور کتاب ”نبوۃ کی کہانی، خلیفہ ربوہ کی زبانی“ کا بھی ...... راقم الحروف نے مطالعہ کیا ہے۔ اس کتاب کے ص ٢٧ تا ٧٥ پر مرزا محمود کے عدالتی بیانات پر زبردست تنقید کی ہے۔ محمد صالح نور صاحب نے بھی ایک کتاب ”مسیح موعود کے دعویٰ کی حقیقت“ لکھی ہے۔ جو ١١٣ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے صفحہ ٧٣ تا صفحہ ٨١ پر مرزا محمود کے عدالتی بیانات کا تعاقب کیا ہے۔ محمد صالح نور صاحب اس کتاب کے صفحہ ٧٣ پر لکھتے ہیں۔ ”ذیل میں تفصیل کے ساتھ یہ امر واضح کیا جاتا ہے کہ جماعت ربوہ کے سربراہ نے ابتداء میں جن عقائد کو جنم دیا۔ اور خلافت کی عمارت کے لیے جن عقائد کو بنیادی پتھروں کا مقام دیا تھا۔ کس طرح وہی پتھر ان کے گلے کا ہار بن گئے۔ تو ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنے تمام سابقہ عقائد سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا۔ اور عدالت کے روبرو عقائد میں تبدیلی کی ۔“
١۔ سوال از عدالت
کیا مرزا غلام احمد پر ایمان لانا جزو ایمان ہے؟
جواب
"جی نہیں" (دعویٰ کی حقیقت صفحہ ٧٦ پیغام صلح ٢٦ اپریل ٧٠ء)
سابقہ عقیدہ
- (الف) "کس کا دل گردہ ہے جو یہ کہے کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں۔"
(الفضل ٢ مئی ١٩١٤ء پیغام صلح ٢٩ اپریل ٧٠ء)
- (ب) "جب نبی ثابت ہوئے تو آپ کا ماننا جزو ایمان ہوا۔" (الفضل ٦ مئی ١٩١٤ء)
٢۔ سوال از عدالت
کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں کے اختلافات بنیادی ہیں؟
جواب
"اختلافات بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہیں" (مجاہد کبیر صفحہ ٢٨٤)
سابقہ عقیدہ
"احمدیوں اور غیر احمدیوں کے اختلافات بنیادی ہیں" (الفضل ٢١ اگست ١٩١٧ء)
٣۔ سوال از عدالت
جو نبی حضرت رسول اکرمﷺ کے بعد آیا ہو اس کو نہ ماننے والا اگلے جہاں میں سزا کا مستوجب ہوگا؟
جواب
"اس کو ہم گنہگار سمجھتے ہیں۔ مگر اس کو سزا دینا یا نہ دینا خدا کا کام ہے۔"
سابقہ عقیدہ
لیکن اس سے پہلے ”آئینہ صداقت“ کے صفحہ ٣٥ پر لکھتے ہیں ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے ان کا نام بھی نہیں سنا۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
٤۔ سوال از عدالت
آپ نے اپنی شہادت میں کہا کہ جو شخص نیک نیتی کے ساتھ مرزا غلام احمد صاحب کو نہیں مانتا وہ پھر بھی مسلمان رہا ہے۔ کیا شروع سے آپ کا یہی نظریہ ہے؟
”جی ہاں“
٥۔ سوال از عدالت
کیا مرزا صاحب اصطلاحی معنوں میں نبی تھے؟
جواب
”میں نبی کی کوئی اصطلاحی تعریف نہیں جانتا۔“
سابقہ عقیدہ
لیکن اس سے پہلے ”حقیقۃ النبوۃ“ کے صفحہ ١٨٠ پر لکھا ”شریعت اسلام کی اصطلاح کے مطابق جن لوگوں کو نبی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ حقیقی معنوں میں نبی تھے“
٦۔ سوال از عدالت
اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد صاحب کے دعویٰ پر واجبی غور کرنے کے بعد دیانتداری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ غلط تھا تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا؟
جواب
جی ہاں عام اصطلاح میں وہ پھر بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔
سابقہ عقیدہ
ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے۔ مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ ٢٨)
٧۔ سوال از عدالت
کیا مرزا غلام احمد کے درجہ کا کوئی شخص آئندہ آسکتا ہے۔؟
جواب
’’اس کا امکان ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا یا نہیں۔‘‘
سابقہ عقیدہ
لیکن پہلے ’’انوار خلافت‘‘ کے صفحہ ٦٥ پر لکھا ’’اگر میری گردن پر تلوار بھی رکھ دی جائے تو میں کہوں گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
٨۔ سوال از عدالت
کیا آپ مرزا غلام احمد کو ان مامورین میں شمار کرتے ہیں۔ جن کا ماننا مسلمان کہلانے کے لیے ضروری ہے؟
جواب
’’کوئی شخص جو مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان نہیں لاتا۔ دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاتا۔‘‘
سابقہ عقیدہ
اس بیان کے خلاف ٣٣ برس تک یہ عقیدہ رہا کہ ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی
نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ (آئینہ صداقت صفحہ ٣٥)
مرزا محمود خلیفہ ربوہ کے مندرجہ بالا جواب پر تفصیل سے بحث ہوئی اور تحقیقاتی کمیشن جس نتیجہ پر پہنچا۔ وہ تحقیقاتی عدالت کی ازرو رپورٹ کے صفحہ ١٩٩ پر اس طرح درج ہے۔
”لہٰذا یہ مسئلہ صرف ایک سوال پر محدود ہو جاتا ہے کہ آیا مرزا غلام احمد نے کبھی ایسی وحی کے مورد ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو وحی نبوت کہلا سکتی ہو۔ احمدیوں نے اور ان کے موجودہ امام نے بڑے غور و خوض کے بعد ہمارے سامنے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی وحی کو وحی نبوت کے برابر قرار نہیں دیا۔ اور مرزا صاحب کی وحی پر ایمان نہ لانے سے کوئی شخص خارج از اسلام قرار نہیں دیا جا سکتا۔“
تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے صفحہ ٢١٢ پر درج ہے ”اس مسئلے پر کہ آیا احمدی دوسری مسلمانوں کو ایسا کافر سمجھتے ہیں جو دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ احمدیوں نے ہمارے سامنے یہ موقف ظاہر کیا ہے۔ کہ ایسے لوگ کافر نہیں ہیں۔ یہ ہرگز کبھی مقصود نہیں ہوا کہ ایسے اشخاص دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
خلیفہ ربوہ کے اس بیان پر چیف جسٹس محمد منیر رپورٹ کے صفحہ ٢١٢ پر ہی اپنا فیصلہ ان الفاظ میں تحریر کرتے ہیں کہ ”لیکن ہم نے اس موضوع پر احمدیوں کے بے شمار سابقہ اعلانات دیکھے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کی کوئی تعبیر اس کے سوا ممکن نہیں کہ مرزا غلام احمد کے نہ ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
غیر مرزائی کی نماز جنازہ
غیر مرزائی کی نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق مرزا محمود احمد نے پہلے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ ”غیر احمدی تو مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں۔ کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔“ (انوار خلافت صفحہ ٩٣)
لیکن تحقیقاتی عدالت میں خلیفہ ربوہ نے جو جواب دیا وہ تحقیقاتی عدالت کی ازرو
رپورٹ کے صفحہ ٢١٢ پر اس طرح درج ہے۔
”نماز جنازہ کے متعلق احمدیوں نے ہمارے سامنے بالآخر یہ موقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد صاحب کا ایک فتویٰ حال ہی میں دستیاب ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے احمدیوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں۔ جو مرزا صاحب کے مکفر اور مکذب ہوں۔ لیکن اس کے بعد بھی معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ کیونکہ اس فتویٰ کا ضروری مفہوم یہی ہے کہ اس مرحوم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ جو مرزا صاحب کو نہ مانتا ہو۔ لہٰذا یہی فتویٰ موجود طرز عمل ہی کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔“
مسٹر محمد علی (لاہوری مرزائیوں کا امیر اول) کی سوانح حیات ”مجاہد کبیر“ کا مصنف اس کتاب کے صفحہ ٢٨٤ پر لکھتا ہے۔
”اسی طرح پہلے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں اختلاف بنیادی قرار دیئے جاتے تھے۔ الفضل ٢١ اگست ١٩١٧ء)
مگر جب تحقیقاتی عدالت میں یہی سوال کیا گیا تو میاں صاحب (مرزا بشیر الدین) نے جواب دیا کہ ”اختلافات بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہیں۔“
”فتح حق“ کے مصنف میاں ممتاز احمد صاحب فاروقی (جو لاہوری فریق سے تعلق رکھتے ہیں) (مرزا بشیر الدین) کے اس بیان پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے صفحہ ٥٦ پر تحریر کرتے ہیں۔
”جبکہ مرزا محمود صاحب نے ایک دفعہ مندرجہ ذیل عبارت کے شائع کرنے کی اجازت دی۔“ (دیکھو الفضل قادیاں ٢١ اگست ١٩١٧ء)
”حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان (عامۃ المسلمین) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور۔ ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور۔ اس طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
آگے لکھتے ہیں کہ ”ان مندرجہ بالا بیانات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ میاں (محمود احمد) صاحب نے ایک ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔ ان کی خلافت اور منافقانہ عقائد کی کوئی ٹھوس اور صحیح بنیاد نہیں۔ دنیا میں ایک فتنہ اور فساد ڈالا ہوا ہے۔ جس سے خدا امان میں رکھے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ بالآخر حق کی ہی فتح ہوگی۔“
نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکہ
ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد
نبوت کے سلسلۃ الذھب کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک پر اختتام پذیر ہونے کا عقیدہ اسلام کے بنیادی واساسی عقائد سے تعلق رکھتا ہے‘ جو ایمان و کفر کے مابین حد فاصل‘ اور حد امتیاز سمجھے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کی نبوت پر ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اسے خاتمۃ النبوات تسلیم کیا جائے اور اس کے بعد جزوی یا کلی کسی صورت میں بھی نبوت کی تجدید متصور نہ مانی جائے۔ خصوصاً اس لیے کہ قرآن کریم میں آپ کے ”خاتم النبیین“ ہونے کی تصریح ہے اور آپ بنفس نفیس اپنے قول وعمل سے اس کا اظہار اور بار ہا اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ فنی لحاظ سے اس باب کی احادیث اکثر محدثین کے ہاں حد تواتر (تواتر لفظی و معنوی) کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ صدرِ اوّل سے عقیدۂ ختم نبوت پر امت کے ہر کہ ومہ کا اجماع چلا آ رہا ہے‘ لہٰذا اس عقیدے کا اسلام کے مقتضیات واساسیات میں سے ہونا اظہر من الشمس ہے۔
آیاتِ قرآنیہ اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک بڑے حصے میں عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت مختلف اسالیب ومتنوع انداز اختیار کر کے کی گئی ہے‘ کبھی محض اشارے پر اکتفا کیا گیا ہے تو کہیں تصریح‘ تنبیہ وسرزنش کے ذریعے اس عقیدے کو ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شارع اسلام کا اس عقیدے پر زور اور تاکید کی اس کیفیت کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے‘ سوائے اس کے کہ عقائد اسلامیہ کے قلعے میں کوئی شگاف رہے نہ کسی طالع آزما اور موقع پرست کو دعویٰ نبوت کی جرأت ہو‘ نہ کوئی کذاب وافترا پرداز سادہ لوح مسلمانوں
کے ذہنوں کو تلبیس کے ذریعے مسموم کر سکے اور نہ تحریف و تاویل اور دھوکہ بازی کے تیشے سے اسلام کی بنیادوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔
علاوہ ازیں بنظر غائر دیکھا جائے تو ختم نبوت کا مفہوم و معنی اسلام کی تعلیمات، افکار و ہدایات کے ہر حصے و ہر جز میں پیوست نظر آتا ہے، جس کی بنا پر بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے بغیر تعلیماتِ اسلام کے کماحقہ فہم اور استفادے کی کوئی سعی بار آور نہیں ہو سکتی، ہر گام پر ٹھوکر کھانے کا اندیشہ ہے اور ہر مرحلے پر سوالات و اشکالات کا لامتناہی سلسلہ ہے۔
نصوص اسلامیہ (قرآن و حدیث) میں عقیدۂ ختم نبوت کے بار بار اعادے و تکرار کی غرض یہی ہے کہ امت مسلمہ ذہنی و فکری انتشار و انارکی سے محفوظ رہے اور یہ عقیدہ اس کے دل و دماغ میں راسخ ہو جائے، مرورِ زمانہ سے اس طرزعمل کی افادیت واضح ہو گئی ہے۔ قرنِ اوّل سے تا ایں دم بیسیوں دنیا پرستوں نے اس میدان کو جولان گاہ بنانا چاہا، تاہم مسلمان کتاب و سنت کی منور ہدایت سے بصیرت و بصارت اخذ کر کے ان سے نبرد آزما ہوئے اور انھیں دندان شکن جواب دیا، اور اپنے گردا گرد غیر مرئی روحانی ہالہ بنا کر امت واحدہ تشکیل دی، صحیح اسلامی عقائد پر کاربند و عمل پیرا ہوئے، اور فاسد و اسلام سے متصادم عقائد کی حامل جماعت یا مکتب فکر کی حوصلہ شکنی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔
نبوت و رسالت کے معنی
نبوت ایک ایسا جلیل القدر و عظیم الشان منصب ہے، جس کے انبیاء کرام علیہم السلام ہی سزاوار ہیں، وہ معصوم ہیں اور قرآن میں ذکر کردہ کسی بھی طریقے سے وحی اخذ کرتے ہیں۔
اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر (تین طریقوں سے) یا تو الہام سے یا حجاب کے باہر سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے پیغام پہنچا دیتا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
یہ ایسا اختصاص ہے جو خالصتاً مشیت ایزدی کے تابع ہے، فرد کے شخصی یا ذاتی کمالات کو اس کے حصول میں کوئی دخل ہے نہ وہ سعی و اکتساب سے اس منصب کو پا سکتا ہے اور نہ ریاضت، چلہ و نفس کشی ہی اس خلعتِ فاخرہ کے حصول کی راہ میں کچھ سودمند ہے۔ امام شہر
ستانی” کہتے ہیں کہ حصولِ نبوت کا دار و مدار نبی کی ذات پر نہیں ہے اور نہ ہی نبوت ایسا مقام ہے جس تک کوئی انسان علمی عبقریت، کسبی صلاحیت یا استعدادِ نفس کی بدولت رسائی حاصل کر سکے یا ان صفات کی بنا پر اس میں نبوت کا استحقاق پیدا ہو بلکہ یہ مرتبہ و مقام اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے کسی کو عنایت کرتے ہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کے اس قول سے ظاہر ہے۔
اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے تمام خزانے ہیں اور میں تمام غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔
خدا کا چنیدہ فرد وحی کے ذریعے جو ہدایات و احکام یا اخلاقی و معاشرتی تعلیم پاتا ہے۔ کبھی تو ان احکام و تعلیمات کی بجا آوری کا صرف وہ خود مامور ہوتا ہے یعنی تبلیغ و اشاعت کا حکم نہیں ہوتا۔ اس وقت یہ ذات نبی کہلاتی ہے اور اگر تبلیغ رسالت کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی ہو تو اس ذات پر نبی و رسول دونوں کا اطلاق ہوتا ہے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پانے کی وجہ سے اور رسول دعوت و تبلیغ کی بنا پر۔ اس تفصیل کے مطابق رسول کا نبی ہونا ضروری شرط ہے اور نبی کے لیے رسول ہونا ضروری نہیں۔
اس طرح نبی و رسول میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، رسول اخص مطلق ہے، یعنی ہر رسول نبی ہے، ہر نبی رسول نہیں۔ ایک قول و مذہب یہ بھی ہے کہ نبی و رسول کے مابین نسبت ترادف ہے، یعنی دونوں کا ایک دوسرے پر اطلاق ہوتا ہے ان میں کوئی فرق و امتیاز نہیں۔ بنا بریں ہر نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ایک نئی شریعت کا حامل ہوگا۔ دریں صورت نبوت کی تشریعیہ و غیر تشریعیہ کی اقسام میں تقسیم درست نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی ضعیف الاعتقاد یہ گمان نہ کرے کہ ختم نبوت، نبوت تشریعیہ کے لیے ہے اور نبوت غیر تشریعیہ کا دروازہ کھلا ہے، چنانچہ یہ کہنے کے بعد کہ نبوت ہمیشہ تشریعیہ یعنی شریعت و تکلیف کے ساتھ ہی ہوگی، اس گمان کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں نبوت و رسالت کے مابین فرق و امتیاز کے لیے کہا جائے گا کہ جسے تبلیغ کا پابند نہیں بنایا گیا، وہ ”نبی غیر مرسل“ ہے اور جسے لوگوں کو دعوت و تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے وہ ”نبی مرسل“ ہوگا۔
لغوی اعتبار سے
لغت و اشتقاق کے اعتبار سے لفظ ”نبوت“ دو طرح استعمال کیا جاتا ہے: مہموز،
غیر مہموز۔
مہموز ماخوذ ہے نبأ (خبر دینا) سے دریں صورت لفظ ”نبی“ فاعل کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے اور مفعول کے بھی۔ معنی مفعول کے اعتبار سے نبی کی تعریف ہوگی: انه منبأ بالغیوب، یعنی اسے مغیبات اور پیش آمدہ امور سے آگاہ کیا گیا ہے۔ فاعل کی صورت میں معنی ہوگا: انه منبئ بما یطلعه اللہ تعالیٰ علیہ کہ وہ ان امور سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے جس پر اسے اللہ تعالیٰ مطلع فرماتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں تسہیلاً ہمزہ کا ترک بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔
دوسرا استعمال غیر مہموز یعنی ہمزہ کے بغیر ہے۔ اس صورت میں لفظ نبی ”اَلنَّبْوَةُ“ سے مشتق ہوگا۔ نَبْوَةٌ کے معنی ہیں: ٹیلا سطح زمین سے اونچی جگہ کہا جاتا ہے: نبا الشئ، اذا ارتفع یعنی سطح زمین سے ابھر کر نمایاں ہو جائے۔ چنانچہ نبی کا معنی ہوگا وہ ذات جو بنی نوع آدم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ساتھ اختصاص کی بنا پر فوقیت رکھتی ہو۔
غیر مہموز میں دوسری لغت یہ ہے کہ ”اَلنَّبِیُّ“ بمعنی راستے سے ماخوذ ہو، اس صورت میں لغوی و شرعی معنی میں مناسبت یہ ہوگی کہ نبی امتیوں کو وہ راہ دکھاتا ہے جس کی منزل معرفت ربانی اور انوار قدسی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبوت شرعی لغت کے تمام معانی و مطالب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس طرح کہ نبی بذریعہ وحی اخبار غیب اخذ کرتا ہے اور عوام الناس تک ان خبروں کی ترسیل کا پابند ہوتا ہے۔ مصدر و منبع رسالت اور دعوت و تبلیغ کے عمل سے وہ بارگاہ ایزدی میں تقرب اور بلند مقام پاتا ہے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے اور ان کے قلوب کو فیضانِ محبت اور انوارِ معرفت سے منور کرتا ہے۔
بنی نوع آدم میں سے جو فرد اس مرتبہ بلند پر فائز ہوتا ہے لوگ اس کی عزت و توقیر میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے اور وہ ان کی پُر خلوص محبت، غیر مشروط اطاعت اور فروتنی سے بہرہ یاب ہوتا ہے، وہ لوگوں کا ان دیکھا حاکم ہوتا ہے، ان کے جذبات اور دل و دماغ کو مادی رنگینیوں، سحر انگیز طلسم کدوں کے شکنجے سے نکال کر روحانیت کی دلفریب و دلآویز وادیوں میں لے جاتا ہے۔ یہی وہ امور ہیں جن کی بنا پر بہت سے جھوٹے مدعی نبوت اس پر خار وادی میں نو وردی پر کمر بستہ ہوئے، ان کا مطمح نظر عوام پر حکومت، ان کی محبت و فریفتگی اور غیر مشروط اطاعت کا حصول تھا۔ مگر ؎ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ انھیں اس عمل میں منہ کی کھانی پڑی اور دنیا و آخرت
کی رسوائی و ذلت ان کا مقدر ٹھہری۔
کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے بعد یہ سلسلہ نبوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر منتہی ہوا اور قرآن میں اس امر کی تصریح کر دی گئی۔ اس طرز عمل سے شعبدہ بازوں، نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی، اور ان کے مقاصد پورے نہ ہوسکے۔
”ختم“ کے معنی
لغت عرب میں ”ختم“ کے معنی کسی چیز کا انتہا تک پہنچنا اور اس پر مہر اس طرح ثبت کرنا (سیل کرنا) ہے کہ اس میں کمی بیشی کا موہوم امکان بھی نہ رہے اور اس کے منہ کو مضبوطی سے اس طرح ڈھانپ دینا ہے کہ اس میں کوئی چیز داخل ہو سکے نہ نکل سکے۔ ابن فارس معجم مقائیس اللغہ میں ”ختم“ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ خا، تا، میم اصل واحد اور اس کا معنی کسی شے کا انتہا تک پہنچنا ہے۔ ”ختم“ بمعنی مہر لگانا، سیل کرنا بھی اسی باب سے ہے، کیونکہ مہر اسی چیز پر لگائی جاتی ہے جو پوری ہو جائے اور انتہا تک پہنچ جائے۔ خاتم اسی سے مشتق و ماخوذ ہے، اس لیے کہ اسی کے ذریعے مہر لگائی جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ”خاتم النبیین“ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ انبیاء کرام کے آخر میں مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، خِتَامُہٗ مِسْکٌ (٣) یعنی شراب جنت پینے کے بعد (آخر میں) جنتی مشک کی خوشبو محسوس کریں گے۔ قاموس المحیط میں ہے: خَتَمَهُ يَخْتِمُهُ خَتْمًا وَخِتَامًا طَبَعَهُ یعنی مہر لگانا، ختم على قلبه، جعله لايفهم شيئاً ولا يخرج منه شي. قلب پر ایسی بے حسی طاری کر دینا کہ فہم و شعور سے یکسر عاری ہو جائے۔ ختم الشی بلغ آخرہ کسی چیز کا انتہا تک پہنچنا۔ ختم من کل شی کہتے ہیں، آخر کو خاتمہ کی طرح، خاتم اور قوم کے آخری فرد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لسان العرب میں ابو اسحاق کہتے ہیں کہ لغت عرب میں ”ختم“ اور ”طبع“ ہم معنی ہیں، یعنی کسی چیز کو ایسا ڈھانپنا اور اس کا منہ اس طرح بند کرنا کہ اس میں کچھ نہ ڈالا جا سکے۔ قرآن میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:
یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔
اور معجم الوسیط میں ہے کہ ختم النحل ختما و ختاما: مَلأَ خليته عسلاً شہد کی مکھی نے اپنا چھتا شہد سے بھر دیا۔ ختم على الشراب والطعام و غيرهما: غطى فوهة وعائه بطين او شمع او غيرهما حتى لا يدخله شى ولا يخرج منه شىء فهو مختوم کھانے پینے کے برتن کا منہ مٹی یا موم وغیرہ سے بند کرنا کہ اس سے کچھ نہ نکل سکے۔ قرآن کریم میں ہے:
يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ.
اہل جنت کو مہر بند شراب پلائی جائے گی۔
ختم على فمه منعه من الكلام یعنی کلام پر قدغن لگانا، بات کرنے سے روکنا۔
ختم الشىء اتمہٗ و بلغ اخرہٗ یعنی کسی چیز کو پورا کرنا اور اس کی انتہا تک پہنچنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف وتوصیف کرتے ہوئے قرآن پاک میں ”خاتم“ کو ”النبیین“ کی طرف اضافت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ آیت مبارکہ ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ.
محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
”خاتم النبیین“ کا بدیہی معنی یہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہ لحاظ بعثت آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اسی معنی کو قرآن کے مخاطب اول عرب سمجھے اور یہی معنی آج تک متداول و مشہور ہے اور اس میں دو رائے نہیں۔
تفسیر جلالین میں ہے کہ ”خاتم النبیین“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا وصف ہے، جس میں ادنیٰ شائبے کی گنجائش بھی نہیں، اس کا پہلا و آخری معنی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی آخر الزماں ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ لہٰذا آپ کے اس وصف سے کمال نبوت اور افضلیت کے معنی مراد لینا ثانوی و ضمنی اور پہلے معنی کے تابع ہوگا، چنانچہ خاتم النبیین سے ثانوی و تابع معنی مراد لے کر اصل و متبوع اور لازمی معنی (یعنی آپ آخری نبی ہیں) ترک کر دینا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ قاعدہ مشہور ہے کہ ”لازم اپنے ملزوم سے جدا نہیں ہوسکتا۔“
اس اندیشے کے امکانات کو ختم کرنے کی غرض سے کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت خاتم
النبیین کا دوسرا (ثانوی) معنی بیان کر کے سادہ لوح عوام کے ذہنوں کو پہلے اور اساسی معنی سے پھیر نہ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلا معنی صراحتاً بار بار مختلف اسلوب اختیار کر کے ذکر کیا‘ کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رکھی کہ آپ آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت کا دعویدار دجال‘ گمراہ اور افترا پرداز ہے اور دوسرے ثانوی معنی کا کبھی اشارتاً و کنایتاً بھی اظہار نہیں فرمایا‘ مبادا کہ ضعیف الایمان دوسرے معنی پر ہی تکیہ نہ کر بیٹھیں اور یوں وہ مضبوط بند شر پسندوں کا ریلا سہار نہ سکے اور مذہب اسلام ان کا تختۂ مشق بن جائے۔
جن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاتم النبیین ہونے کی تصریح فرمائی‘ ان میں ثوبانؓ کی روایت ہے‘ فرماتے ہیں:
مغرب کا مشاہدہ کیا‘ یہاں تک کہ فرمایا‘ میری امت میں تیس جھوٹے
پیدا ہوں گے‘ جو بر خود غلط نبوت کا دعویٰ کریں گے‘ حالانکہ میں خاتم
النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حدیث شفاعت میں ابو ہریرہؓ نقل کرتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (احوالِ قیامت سے گھبرا کر) میرے پاس آئیں گے (آہ و زاری کرتے ہوئے) کہیں گے‘ اے محمد! آپ اللہ جل شانہ کے رسول اور آخری نبی ہیں‘ اللہ تعالیٰ آپ کے سابقہ و گزشتہ گناہوں سے درگزر فرما چکا ہے‘ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے۔
انقطاعِ نبوت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تصریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں‘ ابو ہریرہؓ راوی ہیں:
سے رحلت فرما لیتا فوراً دوسرے نبی کی بعثت عمل میں آ جاتی۔ میرے
بعد کوئی نبی نہیں (تاہم) خلفاء ہوں گے جو بڑی تعداد میں ہوں گے۔
سعد بن ابی وقاصؓ روایت کرتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا:
السلام کے لیے رکھتے ہیں (یعنی ان کی طرح آپ میرے دست و بازو ہیں) تاہم فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں باب نبوت بند ہو چکا ہے۔
سعدؓ ہی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا اور جنگ میں لے کر نہ گئے تو انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ نہیں چاہتے کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسالت و نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے لہٰذا میرے بعد کوئی رسول مبعوث ہوگا نہ نبی۔ راوی کہتے ہیں: حاضرین پر یہ امر نہایت گراں گزرا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن خوشخبریاں دینے والی رہیں گی۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! خوشخبریاں دینے والی کیا ہیں؟ فرمایا: مسلمان کے خواب یہ خواب نبوت کے اجزا میں سے ایک جزو ہیں۔
ختم نبوت کو ذہنوں میں راسخ کرنے اور آئندہ کسی بھی زمانے اور پُرفتن دور میں مسلمانوں کو فکری و عقلی کج روی سے محفوظ و مصون رکھنے کی غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال دے کر توضیح و تشریح کا اسلوب بھی اختیار فرمایا۔ چنانچہ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری اور انبیائے سابقین کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گھر بنائے ۔ زیبائش و آرائش کے تمام اسباب بہم پہنچائے لیکن ایک جانب ایک اینٹ نہ رکھے لوگ اس گھر کو حیرت و استعجاب سے دیکھیں اور کہیں یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی (کہ حسن پورا ہو جاتا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں
(یعنی میں اس سلسلہ کی انتہا اور اس حسن کا کمال ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس ضمن میں تنبیہی و تحذیری اسلوب میں بھی روایات منقول ہیں۔ ابو ہریرہؓ کی روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جب تک تقریباً تیس دجال کذاب ظاہر نہ ہوں، قیامت نہیں آئے گی، ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اللہ کا رسول گمان کرے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر تاکیداً اس امت کے آخری اور مسجد نبوی کے آخری مسجد ہونے کے بارے میں فرما کر ضمناً اس امر کی وضاحت بھی فرما دی کہ آپ کی نبوت بھی آخری ہی ہے، چنانچہ ابو امامہ باہلی اپنے خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال سے ڈرانے کے بعد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اور میں آخری نبی اور تم آخری امت ہو۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور ابو عبداللہ اغر روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابراہیم نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد۔
پس معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی نبی حائل ہے نہ کسی امت کے ظہور کا امکان ہے اور نہ کوئی مسجد جس کی تعمیر نبی کے ہاتھوں عمل میں آئی ہو نہ کوئی دین الٰہی، جس سے دین اسلام منسوخ ہو۔ اس مفہوم کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے، جسے مغیرہ بن شعبہؓ نے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر برسرپیکار رہے گی، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
حضرت معاویہؓ بن ابی سفیانؓ نے ایک بار اپنے خطبے میں فرمایا، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا ہے اللہ تعالیٰ جس سے اچھائی و بہتری کا معاملہ فرمانا چاہیں، اسے تفقہ فی الدین کی دولت سے نوازتے
ہیں، میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، عطا کرنے والا اللہ ہے یہ امت ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رہے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔
ختم نبوت کی آیت کی تفسیر کے ذیل میں حافظ ابن کثیرؒ سابقہ اور اس مضمون کی دیگر احادیث کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اس (ختم نبوت کے) باب میں کثرت سے احادیث مروی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اللہ تعالیٰ کی عظیم و گرانمایہ نعمت ہے ازاں بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر سلسلۂ نبوت ختم کر کے اور دین اسلام کی تکمیل فرما کر امت مرحومہ پر احسان کا حق ادا فرما دیا۔ لہٰذا قرآن و احادیث میں کثرت سے اس مضمون کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ آپ نبی آخر الزماں ہیں، آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا، مکار ہے، افتراء پرداز، ضال و مضل ہے، اگرچہ اس سے کسی خارقِ عادت امر کا ظہور ہو یا شعبدہ بازی سے ذہنوں کو مسحور کر کے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے۔
کفر اور کافر کے اقسام
مفتی محمد شفیعؒ
اس رسالہ کا اصل موضوع بحث یہی مضمون ہے جیسا کہ تمہید میں لکھا جا چکا ہے۔
مذکور الصدر تفصیل میں یہ معلوم ہو چکا کہ کفر، تکذیب رسول کا نام ہے پھر تکذیب کی چند صورتیں ہیں اور ان صورتوں کے اختلاف ہی سے کفر کی چند اقسام بن جاتی ہیں جن کو امام غزالی رحمۃ اللہ نے اپنی کتاب فیصل التفرقہ بین الاسلام والزندقہ نیز اپنی کتاب لاقتصاد فی۔ الاعتقاد میں اور حضرت شاہ عبدالعزیز قدس سرہٗ اپنے فتاویٰ میں اور امام بغوی نے آیت ان الذین کفروا سواء علیہم الایۃ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ تحریر فرمایا ہے نیز علم عقائد و کلام کی مستند کتب شرح مواقف و شرح مقاصد میں بھی ان کا تفصیلی ذکر ہے ان اقسام تکذیب کا خلاصہ یہ ہے:
- ١۔ ایک تکذیب کی صورت تو یہ ہے کہ کوئی شخص صراحتاً رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ
کا رسول ہی تسلیم نہ کرے جیسے بت پرست، یہود اور نصاریٰ۔
- ٢۔ دوسری یہ کہ رسول تسلیم کرنے کے بعد باوجود آپ کے کسی قول کو صراحتاً غلط یا
جھوٹ قرار دے یعنی آپ کی بعض ہدایات پر ایمان رکھے اور بعض کی تکذیب کرے۔
- ٣۔ تیسری یہ کہ کسی قطعی الثبوت قول یا فعل رسول کو یہ کہہ کر رد کر دے کہ یہ
آنحضرتﷺ کا قول یا فعل نہیں ہے یہ بھی درحقیقت رسول کی تکذیب ہے۔
- ٤۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ قول و فعل کو بھی تسلیم کرتے ہوئے اس کے مفہوم کی تاویل
کر کے قرآن وحدیث کی قطعی تصریحات کے خلاف کسی خود ساختہ مفہوم پر محمول کرے۔ کفر و تکذیب کی یہ صورت چونکہ دعوائے اسلام اور ادائیگی شعائر اسلام کے ساتھ ہوئی ہے اس لئے اس میں اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ پیش آتا ہے۔ خصوصاً جب اس پر نظر کی جائے کہ تاویل کے ساتھ انکار کرنا باتفاق علماء تکذیب میں داخل نہیں اور ایسے شخص کو کافر بھی نہیں کیا جا سکتا اور ظاہر ہے کہ ملحدین بھی کسی تاویل کا سہارا ضرور لیتے ہیں اس لئے اس قسم کی تشریح و توضیح زیادہ ضروری ہے تاکہ تاویل اور الحاد میں فرق معلوم ہو سکے اور معلوم ہو جائے کہ تاویل کے محل میں تاویل موجب کفر نہیں مگر الحاد و زندقہ کی تاویل بالا جماع موجب کفر ہے اس لئے اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔
کفر و زندقہ و الحاد:
تکذیب کی یہ چوتھی صورت قرآن کی اصطلاح میں ”الحاد“ اور حدیث میں ”الحاد“ و ”زندقہ“ کے نام سے موسوم ہے۔
الذين يلحدون فى اياتنا لا يخفون علينا افمن يلقى فى النار خير ام من ياتى امنا يوم القيامة الاية عن ابن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ”سيكون فى هذه الامة مسخ الا وذلك فى المكذبين بالقدر والزنديقيه“ اخرجه الامام احمد فى مسنده ج ٢ ص ١٠٨ وقال فى الخصائص سنده صحیح و فى منتخب کنز العمال ج ٥ ص ٥٠ مرفوعاً ما يفسرها.
”جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں، کیا وہ شخص جو جہنم میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن کے ساتھ
آئے گا قیامت کے دن ۔ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ عنقریب اس امت میں مسخ ہوگا‘ اور سن رکھو کہ وہ تقدیر کو جھٹلانے والوں میں ہوگا‘ اور زندیقین میں‘‘ اس کو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور خصائص میں کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور منتخب کنز العمال ج ٢ ص ٥٠ میں مرفوعاً ایک روایت ہے جو اس کی تفسیر کرتی ہے۔‘‘ امام بخاریؒ نے اس قسم کی تکذیب کے متعلق صحیح بخاری میں ایک مستقل باب لکھا ہے۔
اس باب میں اس قسم کی تکذیب کو بھی ارتداد قرار دیا ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے مسویٰ شرح مؤطا میں اس قسم کی تکذیب کے متعلق لکھا ہے۔
وان اعترف بہ ظاہراً ولکن یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ والتابعون واجمعت علیہ الامۃ فہو الزندیق کما اذا اعترف بان القران حق وما فیہ من ذکر الجنۃ والنار حق لکن المراد بالجنۃ الابتہاج الذی یحصل بسبب الملکات المحمودۃ والمراد بالنار ہی الندامۃ التی تحصل بسبب الملکات المذمومۃ ولیس فی الخارج جنۃ ولا نار فہو زندیق
(مسویٰ شرح مؤطا ج ٢ ص ١٣٠)
اور اگر اقرار تو کرے اس کا ظاہری طور پر‘ لیکن دین کی بعض ان چیزوں کو جو ثابت ہیں‘ ایسی تفسیر بیان کرے جو صحابہ اور تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو‘ تو وہ زندیق ہے‘ مثلاً یہ تو اقرار کرے کہ قرآن حق ہے اور جو اس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے وہ بھی ٹھیک ہے لیکن جنت سے مراد وہ خوشی و فرحت ہے جو اخلاق حمیدہ سے پیدا
ہوتی ہے اور دوزخ سے مراد وہ ندامت ہے جو اخلاق مذمومہ کے سبب حاصل ہوتی ہے۔ ویسے کوئی نہ جنت ہے نہ دوزخ پس یہ شخص زندیق ہے۔“
تاویل اور تحریف میں فرق
ثم التاویل تاویلان تاویل لا يخالف قاطعا من الکتاب والسنة واتفاق الامة وتاویل یصادم ماثبت بقاطع فذالک الزندقة فكل من انکر رؤیة الله تعالى یوم القیامة او انکر عذاب القبر وسوال المنکر والنکیر او انکر الصراط والحساب سواء قال لا اثق بهؤلاء الرواة او قال اثق بهم لكن الحدیث ماؤل ثم ذکر تاویلاً فاسدا لم یسمع من قبله فهو الزندیق او قال ان النبى صلى الله علیه وسلم خاتم النبوة ولكن معنى هذا الکلام انه لا یجوز ان یسمّى بعدہ احدٌ بالنبی واما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثا من الله تعالى الى الخلق مفترض الطاعة معصوماً من الذنوب ومن البقاء على الخطاء فیما یرى فهو موجودةٌ فى الائمة بعده فذلک الزندیق.
(از تصانیف حضرت شاہ ولی اللہ)
”پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تاویل تو وہ ہے جو کتاب سنت اور اتفاق امت کی کسی قطعی بات کی مخالف نہیں اور ایک تاویل وہ ہے جو ان مذکورہ چیزوں سے ثابت شدہ کسی حکم قطعی کی مصادم ہو پس یہ شکل ثانی ”زندقہ“ ہے پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی رویت کا منکر ہو قیامت کے روز یا عذاب قبر کا منکر ہو اور منکر اور نکیر کے سوال کا منکر
ہو یا پل صراط اور حساب کا منکر ہو۔ خواہ وہ یوں کہے کہ مجھے ان راویوں پر اعتبار نہیں، اور یا یوں کہے کہ ان راویوں کا تو اعتبار ہے مگر حدیث کے معنی دوسرے ہیں اور یہ کہ کہہ کر ایسی تاویل بیان کرے جو اس سے پہلے نہیں سنی گئی پس وہ ”زندیق“ ہے یا یوں کہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبوۃ ہیں۔ لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کسی شخص کا نام ”نبی“ رکھنا جائز نہیں۔ مگر نبوۃ کے معنی اور مصداق‘ یعنی انسان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا مخلوق کی طرف کہ اس کی اطاعت فرض اور وہ گناہوں سے معصوم ہو اور اس بات سے معصوم ہو کہ اگر اس کی رائے میں غلطی ہو تو وہ اس پر باقی رہے۔ تو یہ معنی اور مصداق آپ کے بعد ائمہ میں موجود ہیں پس یہ شخص ”زندیق“ ہے۔
تکذیب رسول کی یہ چوتھی صورت جس کا نام زندقہ و الحاد ہے۔ درحقیقت نفاق کی ایک قسم ہے اور عام نفاق سے زیادہ اشد اور خطرناک ہے۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جبکہ سلسلہ وحی منقطع ہو گیا اور کسی شخص کے دل میں چھپے ہوئے کفر و نفاق کے معلوم ہونے کا ہمارے پاس کوئی قطعی ذریعہ نہیں ہے۔ تو اب منافق صرف ان ہی لوگوں کو کہہ سکتے ہیں جن سے اسلام کا مدعی ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اقوال یا اعمال ایسے سرزد ہو جائیں جو ان کے باطنی کفر کی غمازی کریں۔ زندقہ و الحاد اسی کی ایک مثال ہے اور اسی لئے عمدۃ القاری شرح بخاری میں اور تفسیر ابن کثیر میں آیت فی قلوبہم مرض (بقرہ) کے تحت میں حضرت امام مالکؒ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے۔ المنافق فی عھد رسول الله صلی الله علیه وسلم ھو الزندیق الیوم (تفسیر ابن کثیر جلد اول ص ٤٦ طبع مصر) یعنی آنحضرت ﷺ کے وفات کے بعد کسی کے دل میں کفر و نفاق کتنا ہی چھپا ہو لیکن ہمارے پاس اس کا ذریعہ علم نہ ہونے کے باعث ہم اس کو کافر یا منافق نہیں کہہ سکتے اب نفاق کی ایک ہی قسم موجود ہے جس کو زندقہ کہتے ہیں۔ یعنی دعوائے اسلام اور شرائع اسلام کے پابند ہونے کے ساتھ
کوئی عقیدہ کفریہ رکھنا یا ضروریاتِ دین میں تاویل باطل کر کے اس کے اجماعی معنی میں تحریف کرنا ۔
حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے (جو کہ امت کے مسلم امام ہیں اور تمام اسلامی فرقے ان کی امامت کے قائل ہیں۔ خدا بخش قادیانی نے اپنی کتاب عسل مصفّٰی میں جس کو مرزا غلام احمد نے حرفاً حرفاً سن کر تصدیق کی ہے۔ ص ١٦٣ پر مجددین اسلام کی فہرست لکھتے ہوئے امام غزالیؒ کو پانچویں صدی ہجری کا مجدد قرار دیا ہے۔
امام غزالیؒ نے مسئلہ کفر و ایمان میں الحاد و زندقہ کی شدید مضرت اور اس مسئلہ کی نزاکت کا خیال فرما کر ایک مستقل کتاب التفرقہ بین الاسلام تصنیف فرمائی جس میں قرآن وسنت اور عقل ونقل سے واضح کر دیا کہ تاویل اور الحاد میں کیا فرق ہے اور یہ کہ زنادقہ و ملاحدہ کی اسلامی برادری میں کوئی جگہ نہیں وہ دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہیں اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں نیز کسی مدعی اسلام کے کافر قرار دینے میں جو احتیاط لازم ہے اس کے پیش نظر امام موصوف نے اس کتاب میں ایک زریں وصیت اور ضابطہ بیان فرمایا ہے اس کو مع ترجمہ کے لکھا جاتا ہے۔
فصل : اعلم ان شرح ما یکفر بہ وما لا یکفر بہ یسدی ما یکفر بہ وما لا یکفر بہ یستدعی تفصیلا طویلا یفتقر الی ذکر کل المقالات والمذاہب وذکر شبھہ کل واحد ودلیلہ ووجہ بعدہ عن الظاھر ووجہ تاویلہ وذلک لا یحتملہ وذلک لا تحویہ مجلدات ولیس یسع لشرح ذلک اوقاتی فاقنع الآن بوصیۃ وقانون اما الوصیۃ فان تکف لسانک عن اھل القبلۃ ما امکنک ما داموا قائلین لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ غیر مناقضین لھا والمناقضۃ تجویزھم الکذب علیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ثبوتہ بغیر عذر فان التکفیر فیہ خطر والسکوت لا خطر فیہ
واما القانون فهو ان تعلم ان النظريات قسمان قسم يتعلق باصول العقائد وقسم يتعلق بالفروع واصول الايمان بالله وبرسوله وباليوم الآخر ماعداه فروع واعلم ان الخطاء في اصل الامامة او تعينها وشروطها وما يتعلق بها لا يوجب شئ منه تكفيراً فقد انكر ابن كيسان اصل وجوب الامامة ولا يلزم تكفيره ولنلتفت الى قوم يعظمون امر الامامة ويجعلون الايمان بالامام مقرونا بالايمان بالله وبرسوله والى خصومهم المكفرين لهم بمجرد مذهبهم في الامامة وكل ذلك اسراف اذ ليس في واحد من القولين تكذيب الرسول صلى الله عليه وسلم اصلا) ومهما وجد التكذيب وجب التكفير وان كان في الفروع فلو قال قائل مثلاً البيت الذي بمكة ليس هو الكعبة التي امر الله بحجها هذا كفر اذ ثبت تواتراً عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك البيت بانه الكعبة لا ينفعه انكاره بل يعلم قطعا انه معاند في انكاره (الا ان يكون قريب عهد بالاسلام ولم يبلغ التواتر عنده ذلك وكذلك نسب عائشة رضى الله عنها الى الفاحشة وقد نزل القرآن ببرائتها فهو كافر لان هذا وامثاله لا يمكن الا بتكذيب او انكار والتواتر ينكره الانسان بلسانه ولا يمكنه ان يجهله بقلبه. نعم لو انكر ما ثبت با خبار الاحاد فلا يلزمه به الكفر ولو انكر ماثبت بالاجماع فهذا فيه نظر لان معرفة كون الاجماع حجةً مختلف فيه
فهذا حكم الفروع واما التاويل في نفسه ولوازم خلافه فخلافه تكذيب محـ الاجساد والجنة والنار و الامور وما يتطرق اليه احتـ الى برهان فان كان قاطعا اظهاره مع العوام ضرر لقـ يكن البرهان قاطعاً يعلم للزومه عن البارى تعالى يظهر له ضرر فيقع في مـ يكفر ويحتمل ان لا يكفر ولا ينبغى ان نظن ان العـ في كل مقام بل الاحـ وسفك الدم او الحكم سائر الاحكام الشرعية وتارة يتردد فيه ومهما اولى والمبادرة الى التكـ عليهم الجهل. ”جاننا چاہئے کہ اس بات موجب تکفیر ہیں اور کیا نہیـ میں ضرورت ہے تمام مقالا
فهذا حكم الفروع واما الاصول الثلثة فكل ما لم يحتمل التاويل فى نفسه وتواتر نقله ولم يتصور ان يقوم برهان على خلافه فخلافه تكذيب محض ومثاله ما ذكرناه من حشر الاجساد والجنة والنار واحاطة علم الله تعالى بتفاصيل الامور وما يتطرق اليه احتمال ولو بالمجاز البعيد فينظر فيه الى برهان فان كان قاطعا وجب القول به لكن ان كان فى اظهاره مع العوام ضرر لقصور فهمهم فاظهاره بدعة وان لم يكن البرهان قاطعاً يعلم ضرورة فى الدين كنفى المعتزلة للرؤية عن البارى تعالى فهذا بدعة وليس بكفر واما ما يظهر فيه ضرر فيقع فى محل الاجتهاد والنظر فيحتمل ان يكفر ويحتمل ان لا يكفر (ثم قال) ولا ينبغى ان نظن ان التكفير ونفيه ينبغى ان يدرك قطعاً فى كل مقام بل التكفير حكم شرعى يرجع الى اباحة المال وسفك الدم او الحكم بالخلود فى النار فماخذه كماخذ سائر الاحكام الشرعية تارة يدرك بيقين وتارة بظن غالب وتازة يتردد فيه ومهما حصل الردد فالتوقف فى التكفير اولى والمبادرة الى التكفير انما يغلب على طباع من يغلب عليهم الجهل.
”جاننا چاہئے کہ اس بات کی شرح کرنے کے لئے کہ کیا چیزیں موجب تکفیر ہیں اور کیا نہیں‘ بہت تفصیل طویل درکار ہے کیونکہ اس میں ضرورت ہے تمام مقالات و مذاہب کے ذکر کرنے کی اور ہر ایک
کا شبہ اور اس کی دلیل، اور اس کے بعد کی وجہ ظاہر ہے اور اس کی تاویل کی وجہ کی۔ اور یہ متعدد جلدوں میں بھی نہیں سما سکتا۔ اور نہ اس کی شرح کے لئے میرے وقت میں گنجائش ہے۔ اس لئے میں اس وقت ایک قانون اور ایک وصیت پر اکتفا کرتا ہوں۔“
وصیت: سو وصیت تو یہ ہے کہ تم اپنی زبان کو اہل قبلہ کی تکفیر سے روکو جب تک ممکن ہو یعنی جب تک وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے قائل رہیں، اور اس سے مناقضہ نہ کریں اور مناقضہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے کسی حکم کے غلط اور جھوٹ ہونے کو جائز سمجھیں خواہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے۔ کیونکہ تکفیر میں تو خطرہ ہے اور سکوت میں کوئی خطرہ نہیں۔
ضابطہ تکفیر: اور قانون یہ ہے کہ تمہیں معلوم کرنا چاہئے کہ نظریات کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جو اصول عقائد سے متعلق ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو فروع کے متعلق ہے۔ اور ایمان کے اصول تین ہیں اول اللہ پر ایمان لانا۔ دوم اس کے رسول پر۔ سوم قیامت کے دن پر۔ اور ان کے علاوہ جو ہیں فروع ہیں۔ اور جاننا چاہئے کہ خطاء غلطی امامت کی اصل، اور اس کے تعین اور اس کی شروط وغیرہ میں جیسا کہ روافض و خوارج میں پائی جاتی ہے ان میں سے کوئی چیز بھی موجب تکفیر نہیں ہے۔ کیونکہ ابن کیسان نے امامت کے اصل و جوب ہی کا انکار کیا ہے اور نہیں لازم ہے اس کی تکفیر اور نہیں التفات کیا جائے گا اس قوم کی طرف جو امامت کے معاملہ کو عظیم سمجھتے ہیں اور امام کے ساتھ ایمان لانے کو خدا و رسول کے ساتھ
ایمان لانے کے برابر کرتے ہیں اور نہ ان کے مخالفین کی طرف التفات کیا جائے گا۔ جو ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ محض اس لئے کہ وہ مسئلہ امامت میں اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ سب حد سے گزرنا ہے کیونکہ ان دونوں اقوال میں سے کسی میں بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب بالکل لازم نہیں آتی اور جس جگہ تکذیب پائی جائے گی تو تکفیر ضروری ہو گی اگرچہ وہ فروع ہی میں ہو، مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ جو گھر مکہ معظمہ میں ہے، وہ کعبہ نہیں ہے جس کے حج کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، تو یہ کفر ہے کیونکہ نبی کریم سے تواتر کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور اگر وہ اس امر کا انکار کرے اور کہے کہ حضور ﷺ نے اس گھر کے کعبہ ہونے کی شہادت ہی نہیں دی تو اس کا انکار اس کو نافع نہ ہوگا۔ بلکہ اس کا اپنے انکار میں معاند ہونا قطعی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ بجز اس کے کہ وہ نیا نیا مسلمان ہوا ہو اور یہ بات اس کے نزدیک بھی حد تواتر کو نہ پہنچی ہو اور اسی طرح جو شخص حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت باندھے۔
حالانکہ قرآن مجید میں ان کی براءت نازل ہو چکی ہے تو وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ یہ اور اس جیسی باتیں بغیر تکذیب اور انکار کے ممکن نہیں اور تواتر کو کوئی انسان زبان سے خواہ انکار کر دے مگر یہ ناممکن ہے کہ اس کا قلب اس سے نا آشنا ہو، ہاں! البتہ اگر کسی ایسے امر کا انکار کرے جو خبر واحد سے ثابت ہے تو اس سے کفر لازم نہ آئے گا اور اگر کسی ایسی چیز کا انکار کرے جو کہ اجماع سے ثابت ہے تو اس میں ذرا تامل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اجماع کا حجت ہونا مختلف فیہ ہے تو
اس کا حکم فروع کا ہوگا، اور اصول ثلاثہ کے متعلق یہ ہے کہ جو فی نفسہ تاویل کو محتمل نہیں اور اس کی نقل تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اس کے خلاف کسی دلیل کے قائم ہونے کا تصور نہیں ہو سکتا سو اس کی مخالفت کرنا تو تکذیب ہے اور اس کی مثال وہی ہے جو ذکر ہو چکی ہے یعنی حشر و نشر اور جنت و دوزخ اور حق تعالیٰ کے علم کا تمام امور کی تفصیلات پر محیط ہونا اور جو اس میں سے ایسے ہیں کہ ان میں احتمال کی راہ ہے اگرچہ مجاز بعید ہی کے طریق پر ہو، تو اس میں دلیل کی طرف دیکھا جائے گا۔ پس اگر دلیل قطعی ہو، تب تو اس کا قائل ہونا واجب ہے، لیکن اگر اس کے ظاہر کرنے میں عوام کا ضرر ہو بوجہ ان کے قصور فہم کے تب تو اس کا ظاہر کرنا بدعت ہے اور اگر دلیل قطعی نہ ہو۔ جیسے معتزلہ کا رویت باری سے انکار کرنا، پس یہ بدعت ہے اور کفر نہیں ہے اور وہ چیز جس کا ضرر ظاہر ہو، تو وہ مقام اجتہاد میں واقع ہو جائے گی۔ پس ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے تکفیر کی بھی جائے اور ممکن ہے کہ تکفیر نہ بھی کی جائے۔
پھر آگے چل کر فرمایا:
ولا بد من التنبيه بقاعدة أخرى فهو ان المخالف قد يخالف نصاً متواتراً ويزعم انه ماول ولکن تاویله لا انقداح له اصلا في اللسان لا على قرب ولا على بعد فذلك كفر وصاحبه مكذب وان كان بزعم انه مائول.
اور یہ مناسب نہیں کہ تم یہ خیال کر لو کہ تکفیر اور عدم تکفیر کے لئے ضروری ہے کہ ہر جگہ یقینی طور پر معلوم ہو جائے بلکہ بات یہ ہے کہ
تکفیر ایک حکم شرعی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ اس سے اباحت مال اور خون کا ہدر ہونا یا خلود وفی النار کا حکم لازم آتا ہے۔ سو اس کا منشا بھی دوسرے احکام شرعیہ کے منشا کی طرح ہے کہ کبھی تو یقین کے ساتھ معلوم ہوتا ہے اور کبھی ظن غالب کے ساتھ اور کبھی تردد کے ساتھ اور جب تردد ہو تو تکفیر میں توقف کرنا بہتر ہے اور تکفیر میں جلدی کرنا ان ہی طبیعتوں پر غالب ہوتا ہے۔ جن پر جہل کا غلبہ ہے۔ اور ایک اور قاعدہ پر بھی تنبیہہ کر دینا ضروری ہے وہ یہ کہ مخالف کبھی کسی نصّ متواتر کی مخالفت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ ماؤل ہے لیکن اس کی تاویل ایسی ہوتی ہے کہ اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی زبان میں نہ قریب نہ بعید۔ تو یہ کفر ہے اور ایسا شخص مکذب ہے اگرچہ وہ یہ سمجھتا رہے کہ وہ ماؤل ہے۔
آخر میں کچھ اور اسی قسم کی تاویلات باطلہ کا بیان کر کے لکھا: فامثال ھذا المقالات تکذیبات عبر عنھا بالتاویلات ”پس اس جیسی باتیں تکذیبات جن کا نام تاویلات رکھ لیا گیا ہے۔“
حضرت امام غزالیؒ کی اس مفصل تحریر سے واضح ہو گیا کہ قرآن وحدیث میں ایسی تاویلات باطلہ کرنا جو ان کے اجماعی مفہوم کو بدل دیں اور امت کے اجماعی عقائد کے خلاف کوئی نیا مفہوم ان سے پیدا ہو جائے ایسی تاویل بھی تکذیب رسول ہی کے حکم میں ہے جس کا کفر ہونا ظاہر ہے۔
۞ ...... ۞ ...... ۞
قادیانیوں سے چند سوالات
مولانا تاج محمد صاحب
- (١) چودہ سو سال کے کسی مجدد۔ محدث۔ صحابی اور ولی کے کلام سے ثابت کر دو کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم سے مراد کوئی ان کا مثیل ہے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے یا ان سے مراد مرزا غلام قادیانی بن چراغ بی بی ہے۔ اگر تم سچے ہو تو کیا کسی مجدد یا محدث کا قول پیش کر سکتے ہو؟
- (٢) چودہ سو سال کے اندر کسی زمانہ کے بارے میں یہ ثابت کر سکتے ہو کہ کسی نے نبوت کا
دعویٰ کیا ہو اور مسلمانوں نے اس کو طاقت ہوتے ہوئے برداشت کیا ہو؟ یا کسی نے کسی مدعی نبوت سے یہ دریافت کیا ہو کہ تمہارا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے یا غیر تشریعی نبوت کا یا ظلی بروزی اور مستقل نبوت کا؟
- (٣) کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن مجید کے بعض معانی قرون اولیٰ سے چھپا دیں
اور صدیوں کے مجددین اور اولیائے کرام اور علماء کرام مشرکانہ معانی پر جمے رہیں حتیٰ کہ مرزا غلام قادیانی مجدد و مامور ہو کر بھی دس سال تک عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتا رہا اور بعد میں کہا کہ حیات مسیح کا عقیدہ مشرکانہ ہے۔ کیا شرک عظیم کو اجتہاد کی وجہ سے برداشت کیا جا سکتا ہے؟
- (٤) کیا کسی نبی نے کافر حکومت کی اتنی خوشامد کی ہے اور اتنی دعائیں دی ہیں اور اتنی
خدمت کی ہے جو مرزا غلام قادیانی نے انگریزی حکومت کی ہے؟
- (٥) کیا مرزا غلام قادیانی کے لڑکے اور مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود نے ”حقیقتہ
النبویۃ“ مطبوعہ قادیان حصہ اول ص ١٨٨ پر یہ نہیں لکھا کہ قرآن میں ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے کیا یہ قرآن پاک سے تلعب اور کھیل نہیں ہے؟
- (٦) کیا مرزا غلام قادیانی نے جہاد کا انکار نہیں کیا؟ اور انگریز کی اطاعت فرض قرار نہیں
3
دی؟ کیا یہ مرزا غلام قادیانی کا شعر نہ
دین کے لئے حرام ۔
- (٧) ہمارے پاس کسی کے الہام کسی کی و
لئے قرآن و حدیث ہیں۔ مرزا غلا قصہ یوں ختم کیا لکھا ہے کہ ”میں حکم بن کر آیا ہوں۔ مجھے ا چاہوں خدا سے وحی پا کر رد کر دوں
(ضم
- (٨) کیا مرزا کے سامنے یہ اشعار نہیں
تھے؟
اور آگے سے ہیں
محمد دیکھنے ہوں
غلام احمد کو
- (٩) کیا تم کسی ولی، شیخ اکبر امام ربانی
یا کسی مجدد و محدث کا قول پیش ک اور ان کے بجائے کوئی مثیل یا مستعمل ہونے والے تمام الفاظ
- (١٠) کیا مرزا غلام قادیانی نے وحی
قرآن پاک کی مانند اپنے ان ا
بخدا پاک
دی؟ کیا یہ مرزا غلام قادیانی کا شعر نہیں ہے۔
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور جدال
- (٧) ہمارے پاس کسی کے الہام کسی کی وحی، کسی کے کشف اور کسی کے دعویٰ کو پرکھنے کے
لئے قرآن وحدیث ہیں۔ مرزا غلام قادیانی نے حیات مسیح کے سلسلہ میں حدیث کا قصہ یوں ختم کیا لکھا ہے کہ "میں حکم بن کر آیا ہوں۔ مجھے اختیار ہے کہ حدیثوں کے جس ڈھیر کو چاہوں خدا سے وحی پا کر رد کر دوں" (العیاذ باللہ)
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤٥، اعجاز احمدی ص ٢٩)
- (٨) کیا مرزا کے سامنے یہ اشعار نہیں پڑھے گئے تھے؟ اور مرزا نے ان پر تحسین نہیں کی
تھی؟
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(بدر قادیاں ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء ص ١٤)
- (٩) کیا تم کسی ولی، شیخ اکبر امام ربانی مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، امام رازی،
یا کسی مجدد ومحدث کا قول پیش کر سکتے ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کے بجائے کوئی مثیل یا دوسری قسم کا مدعی بن کر آئے گا۔ اور شریعت میں مستعمل ہونے والے تمام الفاظ کے معانی بدل کر رکھ دے گا؟
- (١٠) کیا مرزا غلام قادیانی نے وحی اور مکالمات الہیہ کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی وحی کو
قرآن پاک کی مانند اپنے ان اشعار میں جو ”درثمین“ میں درج ہیں بیان نہیں کیا۔
بخدا پاک دانم ز خطا
از خطاہا ہمیں است ایمانم
- (١١) کیا قرآن مجید نے جس امت کو خیر امۃ فرمایا۔ مرزا غلام قادیانی نے اس امت کو
”شرالامم“ نہیں کہا؟ مرزا غلام قادیانی کے الفاظ یہ ہیں کہ ”اگر نبوت کا دروازہ بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور ایک نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا ہے کہ کنتم خیر امۃ یہ جھوٹ تھا اگر یہ معنی کئے جائیں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے۔ تو خیر الامم کی بجائے شرالامم ہوئی۔“
(الحکم اپریل ١٩٠٣ء)
- (١٢) وجاہت اقتدار اور دولت کا چسکہ لگ جائے تو بات کہیں رکنے سے نہیں رکتی چنانچہ
مرزا ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے لئے کرشن کا اوتار بنا اسی طرح رو در گوپال بھی بنا اور سکھوں کے لئے جے سنگھ بہادر بھی اس لئے مہدی مسیح بلکہ تمام پیغمبروں کے نام اپنے اوپر چسپاں کئے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں ایک ”وحی“ بھی لکھی ”آواہن“ جس کے معنی بھی خود ہی کئے کہ ”خدا تمہارے اندر اتر آیا“ کیا مرزا نے یہاں کفر کا ارتکاب نہیں کیا......؟
- (١٣) مرزا نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں عین محمد ہوں۔ اس طرح مہر نبوت نہ ٹوٹی‘ محمد کی نبوت
محمد کے پاس رہی۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) کیسا زبردست چور ہے کہ مہر بھی نہ ٹوٹی اور مال بھی چرا کر لے گیا‘ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرزا غلام قادیانی نے یہ جو کہا ہے کہ میں عین محمد ہوں۔ واقعی وہ دو شخص نہیں ایک ہی ہیں۔ تو یہ صاف غلط اور مشاہدہ کے خلاف ہے اور اگر دو ہیں تو مہر نبوت ٹوٹ گئی اور یہ کہنا غلط ہوا کہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی اور اگر بالفرض (نعوذ باللہ من ذالک) آنحضرت ﷺ کی روح پاک مرزا میں آ گئی تو یہ ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ ہے جو قطعاً باطل ہے اور مرزا کے کفر کا باعث ہے۔
- (١٤) کیا مرزا غلام قادیانی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ وہ تمام خصوصیات اور امتیازات اور
مقامات و درجات جو حضور ﷺ کی ذات اقدس سے مخصوص تھے۔ مرزا غلام قادیانی نے کہا کہ میں بھی ان تمام کا اہل ہوں۔
اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ پر ایک الہام یوں درج ہے۔ وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحٰی
حقیقۃ الوحی ص ٧٦ پر یہ الہام بھی درج ہے۔ داعياً إلی اللہ وسراجاً منیرا۔ مرزا داعی الی اللہ اور سراج منیر ہے۔
حقیقۃ الوحی کے ص ٧٦ پر یہ الہام بھی درج ہے۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ۔ مرزا غلام قادیانی اس آیت کو اپنے اوپر نازل شدہ قرار دے کر غیر مبہم الفاظ میں اپنے بارے میں کہتا ہے کہ مجھے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی گئی۔
- (١٥) کیا حضور سرور کائنات ﷺ کے امتیازات کو مرزا غلام قادیانی کا اپنی جانب منسوب
کرنا حضور ﷺ کی کھلی توہین نہیں ہے؟ آپ کے مقام اور انفرادیت کو کھلا چیلنج نہیں ہے؟
(جواب محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی) (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی۔ جلد ٧۔ شمارہ ٤٥)
سیرت تاجدار ختم نبوت .......... دائمی درخشاں سیرت
سید سلیمان ندویؒ
دنیا میں بابل و اسیریا‘ ہندوستان و چین‘ مصر و شام‘ یونان و روم میں بڑے بڑے تمدن پیدا ہوئے۔ اخلاق کے بڑے بڑے نظریئے قائم کئے گئے۔ تہذیب و شائستگی کے بڑے بڑے اصول بنائے گئے۔ اٹھنے بیٹھنے‘ کھانے پینے‘ ملنے جلنے‘ پہننے اوڑھنے‘ رہنے سہنے‘ سونے جاگنے‘ شادی بیاہ‘ مرنے جینے‘ غم و مسرت‘ دعوت و ملاقات‘ مصافحہ و سلام‘ غسل و طہارت‘ عیادت و تعزیت‘ تبریک و تہنیت‘ دفن و کفن کے بہت سے رسوم‘ آداب و شرائط اور ہدایات مرتب ہوئے اور ان سے ان قوموں کی تہذیب‘ تمدن اور معاشرت کے اصول بنائے گئے۔ یہ اصول صد ہا سال میں بنے پھر بھی بگڑ گئے۔ صدیوں میں ان کی تعمیر ہوئی‘ تاہم وہ فنا ہو گئے۔ لیکن اسلام کا یہ تمدن چند برسوں میں بنا اور تعمیر ہوا اور چودہ سو برس سے کل روئے زمین کی سینکڑوں مختلف اقوام میں یکسانی کے ساتھ قائم ہے۔ کیونکہ اس کا ماخذ ایک ہے اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہے۔ اس زندگی کے آئینہ میں صحابہؓ نے اپنی زندگیاں سجائیں اور ان کا عکس تابعین نے اتارا اور اس طرح وہ تمام دنیائے اسلام کا عمل اور رسم بن گئی۔ وہ مقدس زندگی مرکزی نقطہ تھی۔ صحابہؓ نے اس کو خط اور بعد کی نسلوں نے اس کو دائرہ بنا دیا۔ وہ تمدن آج گو کامل نہیں۔ مگر اس کے نقش قدم اب بھی ہیں اور اسی پر کل مسلمان چل رہے ہیں۔ ایک محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی تھی جو تمام صحابہؓ کی زندگی بن گئی اور وہی کبھی دنیائے اسلام کی زندگی بن گئی تھی اور وہ کامل تصویر آج بھی ہم میں موجود ہے۔ افریقہ یا ہندوستان کا کوئی قبیلہ جب آج عیسائی ہوتا ہے تو اس کو مذہب گو انجیل سے لیکن تمدن و تہذیب اور عملی زندگی کا سبق یورپ کے ساختہ تمدن سے سکھایا جاتا ہے۔ لیکن وحشی سے وحشی قبیلہ بھی جو مسلمان ہوتا ہے اس کو جہاں سے مذہب ملتا ہے وہیں سے تمدن و
تہذیب اور شائستگی کا سبق بھی ملتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ساتھ پیغمبر اسلام ؐ کی پوری زندگی انسانی ضروریات اور حالات کے ساتھ اس کے سامنے آجاتی ہے اور یہ بولتی چالتی جیتی جاگتی، تصویر ہر مسلمان کی زندگی کی حالت اور ہر کیفیت کا آئینہ بن جاتی ہے۔
ایک یہودی نے ایک صحابیؓ سے طنزاً کہا تھا کہ ”تمہارا پیغمبر تم کو ہر چیز کی تعلیم دیتا ہے اور معمولی معمولی باتیں بھی سکھاتا ہے۔“ انہوں نے فخراً کہا ”ہاں ہمارا پیغمبر ہم کو ہر چیز کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے استنجاء اور آبدست کی بھی تعلیم دی ہے۔“ اور آج بھی ہم اس کامل تعلیم کی سیرت کو فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ گویا ”سیرت محمد ﷺ دنیا کا ’آئینہ خانہ‘ ہے۔ جس میں دیکھ کر ہر شخص اپنے جسم و روح، ظاہر و باطن، قول و عمل، زبان و دل، آداب و رسوم، طور و طریق کی اصلاح اور درستی کر سکتا ہے۔ اور اسی لئے کوئی مسلمان قوم اپنی شائستگی اور ادب و اخلاق کے لئے اپنے مذہب سے باہر اور اپنے رسول کی سیرت سے الگ کوئی چیز نہیں مانگتی اور نہ اس کی اس کو ضرورت ہے۔ سیرت محمدی ﷺ دنیائے اسلام کا عالمگیر آئینہ ہے۔ اسی کے مقابلہ میں حسن و قبح اور نیکی و بدی کا راز اس پر کھلتا ہے اور چونکہ کوئی انسانی کامل زندگی اس استیعاب اور استقصاء کے ساتھ دنیا کے سامنے موجود نہیں۔ اس لئے تمام انسانوں کے لئے یہی ایک کامل نمونہ ہے اور ایسی ہی کامل اور بے پردہ زندگی انسانوں کے لئے قابل نمونہ ہو سکتی ہے۔
❁........❁........❁
مرزائیوں کے مختلف روپ
مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
منظر اوّل اور مرزائیت کی اصلی و حقیقی صورت
ظہیر الدین اروپی مرزائی کی نسبت یہ کہے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ وہ مرزائیوں میں منافق نہیں اس نے مرزائیت کو اصلی صورت میں اور تمام منافقانہ لباس سے مجرد کر کے ظاہر کیا ہے وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت مستقلہ حقیقیہ تشریعیہ کا دعویٰ ہے۔ مرزا صاحب مستقل نبی صاحب کتاب ہیں اور صاحب کتاب بھی ایسے کہ جن کی کتاب بعض احکام قرآن مجید کی ناسخ بھی ہے مرزا صاحب کا قبلہ بمقتضائے الہام فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلی (ابراہیم سے خود مرزا صاحب مراد ہیں) قادیان ہے۔ مرزا صاحب کا کلمہ علیحدہ لا اله الا الله احمد جری الله مرزا صاحب کے بعد نجات کے لیے قرآن مجید پر ایمان لانا اور عمل کرنا لا اله الا الله محمد رسول الله کا اقرار کرنا کافی نہیں جب تک کہ مرزا صاحب کی کتاب اور نبوت پر ایمان نہ لاوے وغیرہ وغیرہ۔
اس کی تفصیل اگر مطلوب ہے تو رسالہ ”اشد العذاب“ میں ملاحظہ فرمالیں۔ ظہیر الدین اروپی ٹھیک ٹھیک مرزائیت خالصہ پر بدون کسی قسم کے نفاق کے قائم رہتے ہوئے ہر بات میں مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ مسلمانوں کے رسول سے ان کا رسول علیحدہ ہے۔ اسی طرح ان کی کتاب علیحدہ قبلہ علیحدہ احکام علیحدہ ہیں۔ مرزائیت کا اصلی مرقع اور حقیقی رنگ تو یہاں ہے۔
مرزائیت کا منظر دوم اور نفاق کا پہلا پردہ
اب مرزائیت کا منافقانہ پہلو قادیان سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا محمود نے جب دیکھا کہ کثرت سے مسلمان ابھی تک ایسے جاہل اور بد دین نہیں ہیں کہ ایسے صریح کفریات کو تسلیم کر لیں تو ظہیر الدین اروپی کے جملہ عقائد کا انکار کر کے مرزا صاحب کے دعوے کو صرف نبوت شرعیہ ہی پر منحصر کر کے اس کا اقرار کیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی مستقل صاحب شریعت اور
صاحب کتاب نہیں آ سکتا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اسی معنے سے ہیں ورنہ آپ کے فیض سے مستفیض ہو کر حقیقی نبی مرزا صاحب کی طرح بہت آسکتے ہیں اور آپ کی عظمت شان اسی میں ہے کہ ایسے انبیاء امت میں ہوں ورنہ آپ کا وجود عالم کے لیے رحمت نہ ہوا بلکہ معاذ اللہ زحمت ہوا چونکہ مرزا صاحب حقیقی نبی ہیں اس وجہ سے جو شخص بھی آپ کو نبی نہ مانے خواہ آپ کی نبوت کا منکر ہو یا نبوت میں متردد ہو یا محض سکوت ہی کرے ہر صورت میں کافر ہے۔ نہ اس کے پیچھے نماز درست ہے نہ اس کے جنازہ کی نماز صحیح نہ اس سے نکاح بیاہ جائز وغیرہ وغیرہ۔ جس کی قدرے تفصیل رسالہ ١؎ مذکور میں لکھی جاچکی ہے۔
منظر سوم اور مرزائیت کامل نفاق کے لباس میں
مرزائیت کی تیسری تصویر پُر تزویر سر تا پا نفاق کی گہری پالیسی کا لباس پہنے ہوئے جو پیغام پریس میں چھپ کر دلفریب ناز و ادا کے ساتھ عالم کے سامنے پیش کی جاتی ہے جس کے پیچیدہ انداز عشوہ و ناز بے نقاب و بانقاب چہرہ نے بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نیم بسمل بنا دیا ہے۔ اس غارتگر ایمان بڑھیا کو غازہ شباب لگا کر مسٹر محمد علی نے نوجوانوں کے سامنے پیش کیا تا کہ وہ ظاہری بناؤ سنگار پر فریفتہ ہو کر متاع ایمان کو اس پر قربان کرنے میں کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں۔
پیغامی امیر فرماتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنی خاتم النبیین ہیں کہ آپ کے بعد کوئی جدید اور قدیم حقیقی نبی نہیں آ سکتا۔ ورنہ ختم نبوت باقی نہیں رہ سکتی مرزا صاحب نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا وہ مجازی ظلی بروزی نبی تھے ان کے انکار کرنے سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب مجدد تھے محدث تھے مسیح موعود تھے وغیرہ وغیرہ۔
ناظرین کرام! اس جماعت مرزائیہ کے دجل اور نفاق کو ملاحظہ فرمائیں۔ ظہیر الدین کے عقیدہ کے مطابق مرزا محمود اور اس کی ساری جماعت اور کل پیغامی لاہوری کافر ہونے چاہئیں اور مرزا محمود کے مذہب کے لحاظ سے اروپی اور پیغامی دونوں گروہ جہنم میں جانے چاہئیں اور پیغامیوں کے نزدیک وہ دونوں گروہ کافر ہوئے مگر عجیب منطق ہے کہ تینوں گروہ احمدی اور ایک دوسرے کو اپنا بھائی اور مسلمان کہتے ہیں۔ یہ اگر جنگ زرگری اور نفاق نہیں تو اور کیا ہے۔ تین خندقیں اور مورچہ قائم کیے ہیں کہ کسی نہ کسی میں تو مسلمانوں کا شکار ہو گا ورنہ اس اختلاف عقائد کے ساتھ دنیا بھر کی تو تکفیر ہو اور آپس میں تکفیر نہ ہو اس کا مطلب کیا ہے؟
١؎ یعنی رسالہ ”دین مرزا کفر خالص“ ١٢ منہ
قادیانیوں کا خطرناک دھوکہ اور اس کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدر
قادیانی عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے یہ کہا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی ہیں آپ پر جو نبوت ختم ہوئی ہے وہ تشریعی ہے اور وہ مرزا صاحب تو آپ کے اُمتی اور غیر تشریعی نبی ہیں لہٰذا مرزا صاحب کو اُمتی اور غیر تشریعی نبی تسلیم کرنے سے ختمِ نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی اور لفظ خاتم النبیین اپنے مقام پر فٹ رہتا ہے مگر یہ سراسر دھوکہ ہے۔ اوّلاً اس لیے کہ ہم نے قرآنِ کریم اور صریح و صحیح احادیث کے حوالے سے یہ بات عرض کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ہر قسم کی نبوت و رسالت ختم ہو چکی ہے نہ تو آپ کے بعد کوئی شریعت والا نبی پیدا ہو سکتا ہے اور نہ غیر شریعت والا (ثانیاً) اس لیے کہ مرزا صاحب نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
اگر کہو کہ صاحب الشریعہ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی اُمت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔
(رسالہ اربعین ٤ ص ٧٦)
اس حوالہ سے بالکل واضح ہو گیا کہ مرزا صاحب کا صاحب الشریعہ نبی ہونے کا دعویٰ ہے اور ان کی وحی میں بقول ان کے اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ ایک امر تو یہ ہے کہ جہاد حرام ہے اب جو شخص دین کے لیے جہاد کرتا ہے تو بقول مرزا صاحب وہ خدا کا دشمن اور نبی کا منکر ہے اور یہ حرمت جہاد بھی قطعی ہے بھلا عین ضرورت کے وقت اس وحی سے جو یحییٰ (مرزا صاحب کے پاس آنے والے فرشتے کا نام یحییٰ تھا۔ حقیقتہ الوحی ص ٣٣٢) کی طرف سے آئی سفید فام آقا کیوں خوش نہ ہوتا۔
مطلع ہونے کا دعویٰ باطل ہے
خود مرزا صاحب اور ان کی ذری صاحب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اختراعی نبوت آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ کے اپنے بیانات اس کے خلاف ہیں وہ میں بلکہ آپ سے بڑھا ہوا تصور کرتے ہ
- 1- منم مسیح زماں منم کلیم خدا
آنچہ دادہ است ہر نبی
- 2- جو شخص مجھ میں اور نبی مع
نہیں جانتا اور نہیں پہچانتا (خطبہ الہامیہ ص نے اپنے آپ کو معاذ اللہ تعالیٰ عین محمد ص
- 3- آنحضرت صلی اللہ تعا
طرح تھی مگر مرزا صاحب کے وقت چ ص ١٨١) نیز لکھتا ہے پہلے اسلام ہلال
- 4- غلبہ کاملہ (دین اسلام
نہیں آیا، یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا) کے
- 5- آنحضرت صلی اللہ تعال
مرزا صاحب کے دس لاکھ نشان ہی
(نصرۃ الحق ص ٤٧ مؤلفہ مرزا غلام اح
- 6- مرزا صاحب لکھتے ہی
گیا (حقیقۃ الوحی ص ٨٩) مرزا صاح سب نبیوں سے اوپر اور اونچا بچایا گ
مطیع ہونے کا دعویٰ باطل ہے
خود مرزا صاحب اور ان کی روحانی ذریت مسلمانوں کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تابع مطیع اور فرمانبردار ہیں اور ان کی (جعلی اور اختراعی) نبوت آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت کا ظل سایہ اور بروز ہے مگر مرزا صاحب کے اپنے بیانات اس کے خلاف ہیں، وہ معاذ اللہ تعالیٰ اپنے کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عین بلکہ آپ سے بڑھا ہوا تصور کرتے ہیں ملاحظہ ہو
- 1- منم مسیح زماں منم کلیم خدا منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣)
آنچہ دادہ است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩)
- 2- جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں فرق کرتا ہے اس نے مجھے
نہیں جانا اور نہیں پہچانا (خطبہ الہامیہ ص ١٧١) (معاذ اللہ تعالیٰ) ان عبارات میں مرزا صاحب نے اپنے آپ کو معاذ اللہ تعالیٰ عین محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ثابت کیا ہے۔
- 3- آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی
طرح تھی مگر مرزا صاحب کے وقت چودھویں رات کے چاند اور بدر جیسی ہے (محصلہ خطبہ الہامیہ ص ١٨١) نیز لکھتا ہے، پہلے اسلام ہلال تھا اور اب بدر ہو گیا ہے۔ (ایضاً محصلہ ص ١٨٤،١٩٨)
- 4- غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں
نہیں آیا، یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا) کے وقت ظہور میں آئے گا۔ (چشمہ معرفت ص ٨٢)
- 5- آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں (تحفہ گولڑویہ ص ٦٣) مگر
مرزا صاحب کے دس لاکھ نشان ہیں (تذکرۃ الشہادتین ص ٤١) معجزہ اور نشان ایک ہوتا ہے۔
(نصرۃ الحق ص ٤٧ مؤلفہ مرزا غلام احمد)
- 6- مرزا صاحب لکھتے ہیں، آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا
گیا (حقیقۃ الوحی ص ٨٩) مرزا صاحب عجیب ظلی، بروزی، مطیع اور غیر تشریعی نبی ہیں کہ ان کا تخت تو سب نبیوں سے اوپر اور اونچا بچھایا گیا مگر ذو ظل نیچے رہے۔
- 7- نیز لکھا ہے کہ اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں۔
(ملفوظات احمدیہ جلد ١ ص ٤٣٦)
ان عبارات میں مرزا صاحب نے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بھی فوقیت اور برتری کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ)
قارئین کرام! کہاں تک مرزا قادیانی کی خرافات نقل کی جائیں، ان کی جملہ کتابیں ایسی خرافات سے پُر ہیں۔ ان حوالوں میں مرزا صاحب نے پہلے تو معاذ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں مدغم ہونے اور آپ میں حلول ہونے اور اتحاد کا باطل دعویٰ کیا پھر اگلی عبارات میں آپ سے معاذ اللہ تعالیٰ فوقیت اور برتری کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد بھی اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی تابع اور مطیع کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور ظلی بروزی کے چکر میں اُلجھا کر اپنا اُلو سیدھا کیا ہے۔ یہ عجیب ظل اور سایہ ہے کہ اصل اور ذی ظل تو تین ہزار بار حرکت کرتا ہے (کہ آپ سے تین ہزار معجزے صادر ہوئے ہیں) مگر سایہ دس لاکھ مرتبہ اُٹھتا اُچھلتا ناچتا اور کودتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ہے وہ پھر بھی اصل کا سایہ اور ظل ہی۔ مرزا صاحب کی یہ نرالی منطق ہے۔
- 8- خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں
بہت بڑھ کر ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ منقول از ریویو جلد اول ص ٢٥٧)
- 9- نیز لکھا ہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (تتمہ حقیقۃ
الوحی ص ٤٩ و دافع البلاء ص ٢٠)
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس سے بڑھ کر توہین کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ:
- 10- عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ
سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦)
- 11- آپ کا خاندان بھی نہایت ہی پاک ومطہر ہے‘ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا
کار کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧)
- 12- یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح
تھی آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥)
- 13- یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں‘ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی
بہنیں تھیں یعنی سب یوسف (نجار) ا
- 14- چونکہ حضرت مسیح ای
نجاری (بڑھیوں اور ترکھانوں) کا کا
- 15- ہائے کس کے سام
پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں احمدی ص ١٤)
- 16- اور مریم کی وہ شان
بزرگان قوم کی ہدایت واصرار سے ب تعلیم توراۃ عین حمل میں نکاح کیا گی کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یو کہ یوسف نجار کے نکاح میں آو صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے ن
ضروریات دین میں تاویل
جس طرح ضروریات بھی کفر ہے اور ایسے مقام پر عمدہ سکتی حقیقت کو واضح کرنے کے ل
- 1- علامہ محقق الحافظ م
لان الكفر هو جحد الضـ الدين او تاويلها . (اثمار الحـ
اور نیز تحریر فرماتے
مذهب الاكثرين من الائمـ علماء الامة وهو التفصيل التاويل في القطعيات لا يـ (ا
بہنیں تھیں یعنی سب یوسف (نجار) اور مریم کی اولاد تھی۔ (حاشیہ کشتی نوح ص ١٦)
- 14- چونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ 22 برس کی مدت تک
نجاری (بڑھیوں اور ترکھانوں) کا کام بھی کرتے تھے۔ (ازالۃ الاوہام ص ١٢٥)
- 15- ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تین
پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔ (اعجاز احمدی ص ١٤)
- 16- اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر
بزرگانِ قوم کی ہدایت واصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توراۃ عین حمل میں نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔ (کشتی نوح ص ١٦) معاذ اللہ تعالیٰ
ضروریات دین میں تاویل بھی کفر ہے
جس طرح ضروریاتِ دین میں سے کسی عقیدہ کا انکار کفر ہے اسی طرح اس کی تاویل بھی کفر ہے اور ایسے مقام پر عمدہ سے عمدہ اور خوبصورت سے خوبصورت تاویل بھی کفر سے نہیں بچا سکتی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے چند حوالے عرض کیے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
- 1- علامہ محقق الحافظ محمد بن ابراہیم الوزیر الیمانی (المتوفی ٨٤٠ھ) لکھتے ہیں:
لان الکفر ھو جحد الضروریات من ضروریاتِ دین کا انکار اور ان کی تاویل کفر الدین او تأویلھا۔ ہے۔
(ایثار الحق علی الخلق ٢٤١)
اور نیز تحریر فرماتے ہیں کہ:
مذھب الاکثرین من الائمۃ و جماھیر اکثر آئمہ اور جمہور علماء اُمت کے مذہب میں علماء الامۃ وھوالتفصیل والقول بان قولِ مفصل یہ ہے کہ قطعیات (اور ضروریاتِ التاویل فی القطعیات لا یمنع الکفر۔ دین) میں تاویل کفر سے نہیں بچاتی۔
(اتحاف ج ٢ ص ١٣)
2۔ مشہور متکلم علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ الخیالیؒ (المتوفی ٨٧٠ھ) اور علامہ عبدالحکیم سیالکوٹیؒ (المتوفی ١٠٧٠ھ) لکھتے ہیں واللفظ لہ:
التأويل فى ضروريات الدين لايدفع ضروریاتِ دین میں تاویل کفر سے نہیں الكفر. بچاتی۔
(الخیالی ص ١٤٦ مع حاشیہ فاضل سیالکوٹیؒ)
3۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ:
ثم التأويل تأويلان تأويل لايخالف تاویل کی دو قسمیں ہیں ایک تاویل وہ ہے جو قاطعاً من الكتاب والسنة واتفاق الامة کتاب وسنت اور اتفاقِ اُمت کے قطعی دلائل و تأويل يصادم ماثبت بالقاطع کے مخالف نہ ہو اور دوسری تاویل وہ ہے جو فذالك الزندقه. اس چیز سے متصادم ہو جو قطعی طور پر ثابت ہے (مسوی ج ١ ص ١٠٩) ایسی تاویل زندقہ ہے۔
حافظ ابن الہمام محمدؒ بن عبدالواحد (المتوفی ٨٦١ھ لکھتے ہیں کہ:
الاتفاق على ان ماكان من اصول اس پر اتفاق ہے کہ اصولِ دین اور ضروریاتِ الدين وضرورياته يكفر ان خالف فيه. دین کی جو شخص مخالفت کرتا ہے تو اس کی تکفیر کی (مسامرہ ج ٢ ص ٢١٢ طبع مصر) جائے گی۔
اور علامہ ابن عابدین الشامیؒ (المتوفی ١٢٥٢ھ) فرماتے ہیں کہ:
لاخلاف فى كفر المخالف فى حضرت فقہاء کرامؒ کا اس مسئلہ میں کوئی ضروريات الاسلام وان كان من اهل اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص ضروریات یا القبلة المواظب طول عمره على اسلام کا منکر ہو وہ کافر ہے اگرچہ وہ اہلِ قبلہ الطاعات كما فى شرح التحرير. میں سے ہو اور اپنی ساری زندگی اس نے (رد المحتار ج ١ ص ٣٧٧) طاعات و عبادات میں گزار دی ہو۔
علامہ ابوالبقاءؒ (المتوفی ؟؟ھ) فرماتے ہیں کہ:
ولا نزاع فى اكفار منكر شئى من جس شخص نے ضروریاتِ دین میں سے کسی ضروريات الدين. ایک چیز کا انکار کیا تو اس کی تکفیر میں کوئی نزاع (کلیات ابی البقاءؒ ص ٥٥٤) نہیں ہے۔
اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ (المتوفی ١٠٢٤ھ)
در تکفیر آنها جرأت نباید نمود تا اہل قبلہ کی تکفیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زمانیکه انکار ضروریات دینیه ننمایند ان کی تکفیر میں جرأت نہیں کرنی چاہیے تاوقتیکہ و رد متواترات احکام شرعیه نکنند. وہ ضروریاتِ دینیہ اور احکامِ شرعیہ کے (مکتوبات امام ربانی ج ٣ ص ٣٨ وج ٨ ص ٩٠) متواترات کا انکار نہ کریں۔
اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
اگر مخالف ادله قطعیه است یعنی نصوص اگر ادلہ قطعیہ یعنی نصوص متواترہ اور اجماع شرعیه متواتره واجماع قطعی است اورا کافر باید قطعی کا مخالف ہو تو اسے کافر ہی سمجھنا چاہیے
(فتاویٰ عزیزی جلد ١ ص ١٥٦)
ان تمام صاف اور صریح حوالوں سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ جس طرح ضروریاتِ دین میں سے کسی قطعی اور ثابت شدہ امر کا انکار کفر ہے اسی طرح اس کی تاویل بھی کفر ہے اور تاویل ایسے مؤول کو کفر سے نہیں بچاتی اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ وغیرہ بزرگوں کے حوالوں سے یہ بات بھی بالکل عیاں ہوگئی کہ کتاب وسنت متواترہ اور اجماع اُمت سے جو چیز ثابت ہو وہ قطعی اور ضروریاتِ دین میں سے ہوتی ہے۔
مرزائی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں یا اپنی کفریات کی؟
مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
علاوہ ازیں جب مرزائیوں کا اسلام ہی علیحدہ ہے تو پھر ان کی تبلیغ محمدی اسلام اور خدائی اسلام کی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں جس کا نام انھوں نے اسلام رکھ چھوڑا ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب اور مرزائی خود اس وجہ کا رد کر چکے ہیں ان کے نزدیک بھی دعوائے اسلام اور بعض شعائر اللہ حدود اللہ اور بعض ضروریات دین کا اقرار انسان کے مسلمان اور مومن ہونے کے لیے کافی نہیں ان کے نزدیک بھی کسی ایک ضرورت دین کے منکر ہونے کی وجہ سے انسان کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اگرچہ باقی تمام ضروریات دین کو دل و جان سے مانتا ہو بلکہ مرزا صاحب اور ان کی وحی کو بھی کسی درجہ میں تسلیم کرتا ہو اور مرزا صاحب کو سچا جانتا ہو۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اس قول کا مرزائی اور ان کے ہم نوا بہت زور سے انکار کریں گے اور مرزا کی جان کو اس اپنی کرتوت کی زد سے بچانے کے لیے جھوٹ اور خلاف دیانت کہنے اور کرنے سے بھی دریغ نہ کریں گے مگر جب ہم ایسی قوی شہادت پیش کریں گے جہاں مرزا صاحب اور مرزائی بھی بالکل دم بخود اور انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ مسٹر محمد علی پیغامی اور مولوی محمد علی منشی جو اسلام میں مسیلمہ اور ابی بن سلول کے ہمشان مسلمانوں کی تعداد بڑھانے اور مرزائیوں کی ہمدردی میں سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اس وقت ان کا حال بھی قابل دید ہوگا اور وہی مثل صادق آئے گی کہ مدعی سست گواہ چست جب ہم مرزا صاحب اور مرزائیوں کی صریح عبارات غیر محتمل التاویل متشابہات نہیں محکمات پیش کر دیں گے تو جو لوگ خواہ مخواہ مرزا صاحب اور مرزائیوں کو مسلمان بنا کر جسم اسلام میں ایک خطرناک ناسور پیدا کرنا چاہتے ہیں اس وقت وہ بھی حسرت بھری آواز سے یہ ہی کہیں گے کہ
مرزا غلام احمد قادیانی
سرسید احمد خان کی نظر میں
از :- مولانا عبداللہ صاحب
مرزائیت کے پھندے میں ان خود کاشتہ مولوی فاضلوں کی کھیپ کے علاوہ جن کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ”یکے دزد باشد وگر پردہ دار“ کی ہے زیادہ تر نئی تعلیم حاصل کرنے والے حضرات پھنسے ہوئے ہیں۔ اور چونکہ یہ حضرات دین کی باتوں سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں اس لئے ان کی دینداری کی حس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں الہام و تبلیغ کے پھندے میں پھنسا لیا جاتا ہے۔
سرسید احمد خان مرحوم مسلمانوں میں نئی تعلیم کے بابا آدم کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے خطوط ان کے پوتے سید راس مسعود نے مرتب کر چھپوائے ہیں۔ علامہ اقبال کے استاد مولانا سید میر حسن صاحب کے نام سرسید کا ایک خط ایسا ہے جس میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام اور تصانیف کے بارے میں اپنی صاف صاف رائے ظاہر فرمائی ہے۔ یہ خط جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لئے سُرمۂ چشم بصیرت ثابت ہو گا۔ یہ خط پڑھئے اور غور فرمایئے کہ سرسید جیسا جدت پسند آدمی اس جدید ”الہامی فیکٹری“ کے متعلق کیا رائے رکھتا ہے۔ نیز مرزائی مرزا غلام احمد کی تصانیف کو جدید علم کلام کی بنیاد بتاتے ہیں۔ اگر چہ اہل بصیرت پہلے بھی جانتے ہیں کہ ان تصانیف میں اپنی کارگاہ الہام“ کی اشتہار بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں مگر جدید تمدن کے بانی سے بھی ان تصانیف کی بابت سن لیجئے کہ وہ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ پہلے پورا خط پڑھ لیجئے۔
مخدومی مکرمی
آپ کے نوازش نامہ کا نہایت شکر ہے۔ پانچ روپیہ چندہ بھی پہنچے اس کا بھی شکر ہے۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ تفسیر لکھنے میں حرج پڑ جاتا ہے مگر جب موقع ملتا ہے لکھتا ہوں۔
تفسیر سورۃ یوسف بھی تمام ہو گئی اور چھپ رہی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کیوں لوگ پیچھے پڑے ہیں اگر ان کے نزدیک ان کو الہام ہوتا ہے، بہتر، ہمیں اس سے کیا فائدہ؟ نہ ہمارے دین کے کام کا ہے نہ دنیا کے۔ ان کا الہام ان کو مبارک رہے۔ اگر نہیں ہوتا اور صرف ان کے توہمات اور خلل دماغ کا نتیجہ ہے تو ہم کو اس سے کیا نقصان ہے وہ جو ہوں سو ہوں جھگڑا اور تکرار کس بات کا ہے۔ ان کی تصانیف میں نے دیکھیں۔ وہ اسی قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام یعنی نہ دین کے کام کی نہ دنیا کے کام کی۔
حکیم نور الدین کی کوئی تحریر میں نے آج تک نہیں دیکھی دینیات میں کسی کا الہام جب تک اس کو شارع نہ تسلیم کر لیا جائے کسی کام نہیں۔
تقدیر، علم الہی کا دوسرا نام ہے۔ ماکان اور مایکون علم الہی میں موجود ہیں۔ پس کسی الہام سے علم الہی میں یا یوں کہو تقدیر میں کچھ تغیر و تبدل نہیں ہو سکتے۔ پس دنیا میں جو بھی ہونے والا ہے یعنی جو تقدیر میں ہے یعنی جو علم الہی میں ہے وہ ہو گا۔ پس کسی کے الہام سے کسی کو دنیا میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
پس ایسی بے سود کہ بالفرض اگر سچ بھی ہو تو بھی کچھ فائدے کی نہیں اور اگر جھوٹ بھی ہو تو بھی ہمارے نقصان کی نہیں اس پر متوجہ ہونا اور اوقات ضائع کرنا ایک لغو کام ہے۔
والسلام
خاکسار، سید احمد
علی گڑھ ٩ دسمبر ١٨٩١ء
معلوم ہوتا ہے کہ سیالکوٹ میں جب پہلے پہل الہام کا کاروبار شروع کیا گیا تو مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی۔ مولانا میر حسن نے سرسید سے رائے پوچھی کہ ایک شخص یوں دعوے کرتا ہے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ سرسید نے جو جواب عنایت فرمایا وہ آپ کے سامنے ہے بار بار اسے پڑھ کر دیکھئے۔ حسب ذیل نتائج سے تو کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ ان باتوں کی تو خط میں تصریح موجود ہے۔ گویا سرسید علیہ الرحمہ کے نزدیک:-
- ١۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں سچا ہو یا جھوٹا دونوں صورتوں میں قابل اعتناء
نہیں۔
- ٢۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات ان کے اپنے دعوے کے مطابق اگر سچے بھی ہوں
تو بھی نہ دین کے کام کے ہیں نہ دنیا کے کام کے۔
- ٣۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے الہام توہمات اور خلل دماغ کا نتیجہ ہوں۔
- ٤۔ مرزا غلام کی تصانیف بیکار ہیں۔ نہ دین کے کام آسکتی ہیں نہ دنیا کے۔
- ٥۔ دین کے بارہ میں کسی کا الہام قابل قبول نہیں جب تک اس کو شارع نہ تسلیم کیا جائے
اور اگر کسی کو شارع (صاحب شریعت نبی) نہ مانا جائے تو اس کا الہام کسی کام نہیں۔ پس اگر مرزا کو صاحب شریعت نبی مانا جائے تو اسلام سے تعلق قطع کرنا ہو گا اور اگر صاحب شریعت نہ مانا جائے تو ان کے الہامات کا سارا دھندہ بے فائدہ ہے۔
- ٦۔ دنیا میں جو کچھ ہونے والا ہے اب کسی الہام سے اس میں تغیر و تبدل نہیں ہو
سکتا۔ اس لئے مرزائی پیش گوئیوں کے طومار اور الہاموں کے انبار سب بے فائدہ ہیں۔
- ٧۔ مرزائیت (سچی یا جھوٹی) کی طرف توجہ کرنا ایک لغو کام ہے اور اس کی باتوں پر غور
کرنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔
....................................................................
اس خط کے علاوہ مولوی سراج الدین احمد ایڈیٹر سرمور گزٹ ناہن کے نام بھی سرسید ایک خط موجود ہے جس میں مرزائیت کے متعلق کچھ روشنی پڑتی ہے۔ وہ خط مولوی سراج الدین کو کن حالات میں لکھا گیا اس کے متعلق جناب مرتب سید راس مسعود نے لکھا ہے۔
سرمور گزٹ میں کسی صاحب نے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد تھے ایک مضمون لکھا تھا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی موصوف کے ساتھ مشابہتیں ثابت کی تھیں وہ مشابہتیں زیادہ تر خیالی تھیں اور مضمون کا انداز بیان اس قسم کا تھا جس سے ہر دو انبیاء علیہم السلام کی اہانت ہوتی تھی اس مضمون کو دیکھ کر سرسید مرحوم نے یہ خط تحریر کیا۔
اس سے پہلے آپ وہ خط ملاحظہ فرمائیں۔ امت مرزائیہ کی اس عادت کو بھی جان لیں کہ وہ صرف مرزا غلام احمد کو ہی نبی نہیں کہتے بلکہ اس کے ساتھ ساری اسلامی اصطلاحات کو
بلا دریغ استعمال کرتے ہیں۔ مرزا کے نام کے ساتھ ”علیہ السلام“ لکھتے ہیں اس کے ساتھیوں کو صحابہ کہتے ہیں۔ حکیم نورالدین کو خلیفۂ اول اور مرزا بشیر الدین محمود کو خلیفۂ ثانی کہتے ہیں۔ مرزا کی گھر والی کو ”ام المومنین“ کہتے ہیں۔ مرزا کو نہ صرف دوسرے انبیاء علیہم السلام سے تشبیہ دیتے ہیں بلکہ ان سے افضل مانتے ہیں۔ اور اسی پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مشابہتیں ثابت کرتے ہیں۔ ان گستاخیوں سے بھی جب جی نہیں بھرتا تو پھر یہاں تک بھی بک جاتے ہیں ۔۔
وہ پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
(قاضی اکمل)
اب سنیئے ایسے لوگوں کے متعلق سرسید مرحوم کیا فرماتے ہیں:
مخدومی مکرمی منشی سراج الدین احمد صاحب ایڈیٹر سرمور گزٹ ناہن آپ کا اخبار مورخہ ٢١ مارچ ١٨٩٢ء کے دیکھنے سے جس میں ”نیرنگی زمانہ کے تماشائی“ کی تحریر چھپی ہے نہایت رنج ہوا ہے۔ کیا اخباروں کی اب یہ نوبت پہنچی ہے کہ ہم عصر انسانوں کے تمسخر کرتے کرتے انبیاء علیہم السلام کا تمسخر اختیار کریں۔ کیا آپ کے نزدیک وہ تحریر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک گستاخی اور ٹھٹھہ کی نہیں ہے۔ افسوس صد افسوس کہ آپ کے اخبار میں ایسے مضمون چھاپہ ہوئے جو متانت اور انبیائے علیہم السلام کے ادب کے بالکل خلاف یا نامناسب ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایسا مضمون لکھنے کی ضرورت آئندہ بتائی جائے گی کوئی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر ایسے مضمون کے لکھنے کی جس کے طرزِ تحریر پر ایک مسلمان افسوس کریگا کوئی ضرورت نہیں ہوسکتی۔ امید ہے کہ آپ میرے اس خط کو اخبار میں چھاپ دیں گے۔
وَ اَنَا بَرِیْءٌ مِمَّا تَقُوْلُوْنَ ۔ والسلام
خاکسار سید احمد علی گڑھ ٢٢ مارچ ١٨٩٢ء خطوط سرسید ص ١٥٦
یہ رائے تو ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے مرزا کی حضرت یحییٰ اور حضرت مسیح علیہما السلام سے تشبیہ ثابت کی تھی اب ان بدبختوں کے متعلق آپ کیا فرمائیں گے جو مرزا جیسے حواس باختہ انسان کو حضور خواجۂ دو سرا صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف مشابہ ہی نہیں مانتے بلکہ مرزا کے ذہنی ارتقاء کو حضور کے ذہنی ارتقاء سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ (نعوذ باللہ من ھذہ الھفوات) کیا ہماری حکومت سرسید کی رائے کی روشنی میں مرزائی تصانیف کا جائزہ لیکر انہیں ضبط کر کے مسلمانوں کے درد دل کا مداوا کریگی؟
ختم نبوت از قرآن علامہ محمود احمد رضوی
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
(پ ٢٢ رکوع ٢)
اس آیت کا ترجمہ ہم خود نہیں کرتے بلکہ مرزائیوں کے مطاع و امام کا کیا ہوا ترجمہ ہی پیش کرتے ہیں تا کہ ان پر قطعی حجت ہو۔ مرزا لکھتا ہے محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے۔ ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔
(صفحہ ٤١٤‘ ٢٥٢ ازالہ اوہام)
وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اَلَا تَعْلَمُ اَنَّ الرَّبَّ الرَّحِيْمَ الْمُتَفَضِّلَ سَمَّى نَبِيَّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الْاَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ اِسْتِثْنَاءِ وَفَسَّرَهُ نَبِيُّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِىْ قَوْلِهِ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ بِبَيَانٍ وَاضِحٍ لِلطَّالِبِيْنَ ۔
(حمامة البشریٰ صفحہ ٣٤ و مجموعہ صفحہ ١٦٨)
ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے (اے بے سمجھ مرزائیو) کہ خدا رحیم و کریم نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ نے خاتم النبیین کی تفسیر لا نبی بعدی کے ساتھ فرمائی ہے کہ میری بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور طالبین حق کے لیے یہ بات واضح ہے۔
مرزا قادیانی نے اس آیت کی تفسیر میں جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ ”مشکوٰۃ کتاب الفتن“ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
حوریان رقص کنان ساغر مستانه روند
(حافظ شیرازی)
اگرچہ ہم نے آیت خاتم النبین کی تفسیر مرزا قادیانی کی زبان وقلم سے کی ہوئی پیش کر دی ہے جس کے بعد کسی مرزائی کو ہمارے ساتھ خاتم کے معنوں میں الجھنے کا مطلقاً استحقاق باقی نہیں رہتا مگر مکرر ہم اتمام حجت کے لیے لفظ خاتم کے معنی لغات سے پیش کرتے ہیں۔ وہو ہٰذا
لفظ خاتم کی تشریح:
- (١) مفردات راغب صفحہ ١٤٢ وَخَاتَمُ النَّبِيِّنَ لِأَنَّهُ خَتَمَ النُّبُوَّةَ اَىْ تَمَّمَهَا بِمَجِيْئِهِ
یعنی حضور کو خاتم النبین اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے نبوت کو کمال و اتمام تک پہنچا دیا۔ اس صورت میں آپ نے نبوت کو ختم کر دیا۔
- ٢۔ لسان العرب: خَاتِمُهُمْ وَخَاتَمُهُمْ آخِرُهُمْ .
خاتم اور خاتم کے معنی ہیں آخر۔
- ٣۔ تاج العروس: ومن اسمائه عليه السلام الخاتِم والخاتَم
وهو الذى ختم النبوة بمجيئه ۔ اور خاتم اور خاتم قوم کے سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور انہیں معنوں میں ارشاد خداوندی ہے۔ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ ۔ یعنی آخِرُ النَّبِيِّنَ ۔
مذکورہ الصدر حوالہ جات سے ثابت ہو گیا ہے کہ خاتم النبین کے معنے آخر النبین کے ہیں نہ کہ افضل واعلیٰ کے۔
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
(حافظ شیرازی)
مرزائیوں کا ایک ناجائز مطالبہ
مرزائی کہتے ہیں کہ لفظ خاتم فتح تا کے ساتھ جمع کے صیغہ کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی ہمیشہ افضل کے ہوتے ہیں۔ مرزائیو اول تو تمہارا یہ مطالبہ ہی صحیح نہیں کیونکہ جب ہم آیت خاتم النبین کے متعلق مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ پیش کر آئے ہیں تو تمہیں بغیر کسی حیل و حجت کے اس کو تسلیم کر لینا چاہیے مگر خیر ہم تمہاری ناز برداری کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی پورا کرتے ہیں (لعلکم تعقلون) لیجیے! مرزا قادیانی ہی رقم طراز ہیں:۔ ”اسی طرح میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور وہ
پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا ”تریاق القلوب صفحہ ١٥٧“۔
”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ ہے (خاتمہ نصرۃ الحق‘ ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ب ١١)
مرزا ذرا ہوش سے کام لو ؎
تڑپنے کو کہا تڑپے ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے
(امیر مینائی)
سوال : جب خاتم الشعرا یا خاتم الانبیاء وغیرہ کے معنی افضل و اعلیٰ کے ہیں تو پھر خاتم الانبیا کے یہ معنی کیوں نہیں ہو سکتے ؟
جواب اوّل : یہ استعمال مجازی ہے پہلے حقیقی معنی ہوتے ہیں اگر وہ نہ ہو سکیں تو پھر مجازی چونکہ یہاں حقیقت مہجور و متروک نہیں اس لیے وہی مراد ہو گی مجاز کے لیے قراین خارجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ یہاں نہیں ۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں بے نظیر شاعر اور فلاں بے نظیر ادیب ہے تو اس کے معنی عام طور پر یہی ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں سے اچھا ہے اور اگر کوئی مخالف عیسائی کہے تو پھر جب بے نظیر کے معنی افضل و اعلیٰ کے ہیں تو جب خدا کو تم بے نظیر کہتے ہو تو اس کے معنی کیوں نہیں ہو سکتے کہ وہ سب سے اعلیٰ ہے نہ کہ وہ احد محض ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ استعمال مجازی ہے اور اللہ کے متعلق حقیقی اس لیے کہ اس کا واقعی کوئی شریک نہیں اسی طرح خاتم الشعراء وغیرہ میں مجازی استعمال ہے اور خاتم النبیین میں حقیقی یعنی آپ آخری نبی ہیں۔
جواب ثانی : خاتم النبیین کو خاتم الانبیاء وغیرہ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اس لیے کہ خاتم النبیین جمع مذکر سالم ہے اور یہ قاعدہ جمہور نحویوں کے نزدیک مسلم ہے کہ اگر جمع مذکر سالم پر الف لام داخل ہو تو اس وقت استغراق حقیقی مراد ہوتا ہے۔ بخلاف خاتم الشعرا وغیرہ کے کیونکہ وہ جمع مذکر سالم نہیں ہیں نیز کلام خداوندی کو کلام الناس پر قیاس کرنا بھی قیاس مع الفارق ہے۔
سوال : خاتم کے معنی زینت کے بھی ہو سکتے ہیں تو پھر خاتم النبیین کے معنی زینت النبیین
5
کیوں نہیں ہو سکتے۔
جواب : خاتم کا لفظ انگوٹھی کے معنے میں ضر ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیا انگوٹھی کی ہے۔ ظاہر ہے کہ انگوٹھی پہننے والا متروک ہیں۔
جواب ثانی: انگوٹھی کا وجود بالتبع ہوتا ہے یعنی کا وجود بالذات ہوتا ہے یعنی اپنے تحقق و قیام لازم آئے گا کہ حضور ﷺ کا وجود بالتبع اور
سوال : خاتم کے معنے مہر کے کیوں نہیں ہوت
جواب : خاتم مہر کو بھی اس لیے کہتے ہیں ک جاتی ہے۔ اس لیے اس صورت میں معنے یہ ہ یہ نہیں کہ وہ جس پر مہر لگا دیں وہ نبی ہو جا۔ جات میں گزر چکا ہے۔
دوسری اور تیسری آیت
حضرت عیسیٰ انجیل میں فرماتے ہیں دوسری قوموں سے سروکار نہیں۔ قرآن شریف واسطے بھیجے گئے‘ بلکہ لکھا ہے کہ قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اے حبیب ان کو فرما دیجئے کہ میں تمام دنیا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ پ ١٧۔ یعنی ہم نے کسی ن ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے پس جس ﷺ تمام جہان کے رسول ہیں اور تمام جہان ١٦) پس جس طرح دوسرا خدا ماننے والا مشرک کو ماننے والا کافر ہے اور حضور سید عالم ﷺ رہا ہے۔
کیوں نہیں ہو سکتے۔ جواب: خاتم کا لفظ انگوٹھی کے معنے میں ضرور استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں حضور کی توہین ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء تو بمنزلہ عروس کے ہیں اور حضور کی حیثیت محض انگوٹھی کی ہے۔ ظاہر ہے کہ انگوٹھی پہننے والے سے انگوٹھی کی حیثیت کم ہوتی ہے لہٰذا یہ معنے متروک ہیں۔
جواب ثانی: انگوٹھی کا وجود بالتبع ہوتا ہے یعنی اپنے قیام میں غیر کی محتاج ہوتی ہے اور ذی انگوٹھی کا وجود بالذات ہوتا ہے یعنی اپنے تحقق و قیام کی طرف محتاج نہیں ہوتا۔ پس اس صورت میں یہ لازم آئے گا کہ حضور ﷺ کا وجود بالتبع اور بالعرض ہو۔
سوال: خاتم کے معنے مہر کے کیوں نہیں یعنی وہ جس پر مہر لگا دیں وہ نبی ہو جائے۔
جواب: خاتم مہر کو بھی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صحیفہ کو کامل کرنے کے واسطے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ اس لیے اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ صحیفہ نبوت کے آخری کلمات آپ ہیں یہ نہیں کہ وہ جس پر مہر لگا دیں وہ نبی ہو جائے۔ یہ معنی غیر عربی اور غیر صحیح ہیں جیسا کہ حوالہ جات میں گزر چکا ہے۔
دوسری اور تیسری آیت
حضرت عیسیٰ انجیل میں فرماتے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا ہوں‘ مجھے دوسری قوموں سے سروکار نہیں۔ قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ آنحضرت صرف قریش کے واسطے بھیجے گئے‘ بلکہ لکھا ہے کہ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ پ ٩ ۔ ع ١٠ اے حبیب ان کو فرما دیجئے کہ میں تمام دنیا کے واسطے رسول بھیجا گیا ہوں وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ۔ پ ١٧۔ یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کر کے نہیں بھیجا بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خدا ہے ایسا ہی آنحضرت ﷺ تمام جہان کے رسول ہیں اور تمام جہان کے واسطے رحمت ہیں۔ (ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٦) پس جس طرح دوسرا خدا ماننے والا مشرک ہے ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو ماننے والا کافر ہے اور حضور سید عالم ﷺ کی رحمت عامہ میں حائل ہو کر لعنت میں گرفتار ہو رہا ہے۔
چوتھی آیت
لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا پ - ١٨، ع ١٦ یعنی ہم نے تجھ کو بھیجا تا کہ تو دنیا کی تمام قوموں کو ڈرائے۔ نور القرآن نمبر ١ ص ٥ جب کہ حسب قرآن مجید تمام دنیا کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ نذیر ہیں تو کسی کا یہ کہنا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا صریح منافی قرآن ہے۔
پانچویں آیت
وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۤفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ
(پ ٢٢، ع ٩)
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ (مرزائی) نہیں جانتے لفظ ناس اطلاق عرفی میں جن کو بھی شامل ہے۔
پانچویں آیت
تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا
(پ ١٨ ع ١٦)
وہ ذات بڑی عالیشان ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب یعنی قرآن مجید اپنے بندہ خاص محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی تا کہ وہ تمام دنیا و جہان والوں کے واسطے یعنی جن و انسان وغیرہ کے لیے ڈرانے والا ہو۔
ساتویں آیت
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۤءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ
پ ٣ ع ١٧
اور یاد کرو جب خدا نے تمام نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق اور مدد کرنی ہو گی (حقیقة الوحی ص ١٣٠) مفہوم واضح ہے خدا نے اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ کو بھیجا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے (حقیقة الوحی ص ١٣١۔)
مرزائیو کیا یہاں بھی جو قول مرزا ہے آخر کے معنے افضل و اعلیٰ کے ہیں حالانکہ زمانے کو جس قدر حضور سے بعد ہو رہا ہے اسی قدر اس سے خیر و نیکی اٹھتی جا رہی ہے كَمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيْثِ اس آیت میں لفظ ثُمَّ خاص طور پر قابل غور ہے جو کہ عربی زبان میں تراخی (مہلت) کے لیے آتا ہے مثلاً اگر کہا جائے کہ جَاءَ نِي الْقَوْمُ ثُمَّ عُمَرُ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پہلے تمام قوم آئی اس کے بعد عمر آیا۔ اسی طرح اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تمام انبیا کے تشریف لانے کے بعد سردار انبیاء تشریف لائیں گے چنانچہ حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا مِّنَ الْاَنْبِيَاءِ اِلَّا اَخَذَ عَلَيْهِ الْمِيثَاقَ لَئِنْ بَعَثَ اللّٰهُ مُحَمَّدًا وَهُوَ حَيٌّ لَّيُؤْمِنَنَّ بِهِ وَلَيَنْصُرُنَّهُ وَاَمَرَهُ اَنْ يَّأْخُذَ الْمِيثَاقَ عَلٰى اُمَّتِهِ لَئِنْ بُعِثَ مُحَمَّدٌ وَهُمْ اَحْيَاءٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَيَنْصُرُنَّهُ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اس سے یہ وعدہ لیا کہ اگر اس کی زندگی میں اللہ نے حضورﷺ کو مبعوث کیا تو اس کو حضورﷺ پر ایمان لانا چاہیے اور ضرور نصرت کرنی چاہیے اور اسی طرح اس نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی امت سے پختہ عہد لے کہ اگر ان کی زندگی میں نبی محترمﷺ مبعوث ہوں تو ان کو آپ پر ضرور ایمان لانا چاہیے اور نصرت کرنی چاہیے۔ تفسیر ابن کثیر ص ٧٧١ تفسیر جامع البیان ص ١٥٥ اس آیت میں رسول کا لفظ نکرہ ہے مگر اس کی تخصیص ابن عباس اور علی رضی اللہ عنہما نے کر دی اگر اس سے انکار کیا جائے تو رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا اور لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ وغیرہ وغیرہ میں تخصیص کس طرح ہو گی۔
آٹھویں آیت
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِينًا (پ ٦ ع ٥) مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ قرآن شریف نے تورات و انجیل کی طرح کسی دوسرے نبی کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اپنی کامل تعلیم کا تمام دنیا میں اعلان کر دیا اور فرمایا اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (الایہ) (براہین احمدیہ ص ٤) اس آیت میں اکمال دین بھی آ گیا اور اتمام نعمت بھی اور اس کے بعد رضیت بھی فرمایا گیا اس لیے آپ خاتم النبیین ہوئے اور آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس کو منصب نبوت عطا ہو ورنہ معاذ اللہ آپ کے دین اور تعلیم کو ناقص و نامکمل ماننا پڑے گا اور اس صورت میں زبردست استحالہ لازم آتا ہے۔ علامہ ابن کثیر اس
آیت کے تحت فرماتے ہیں هٰذَا اَكْبَرُ مِنْ نِّعَمِ اللّٰهِ تَعَالٰی عَلٰی هٰذِهِ الْاُمَّةِ حَيْثُ اَكْمَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی دِیْنَهُمْ وَلَا يَحْتَاجُوْنَ اِلٰی دِیْنٍ غَيْرِهِمْ وَلَا اِلٰی نَبِيٍّ غَيْرِ نَبِيِّهِمْ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَسَلَامُهٗ عَلَيْهِ وَلِهٰذَا جَعَلَهُ اللّٰهُ خَاتَمَ الْاَنْبِيَاءِ ۔ ابن کثیر جلد ٣ ص ٢٧٩
ترجمہ: یہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے اس امت پر کہ اس نے ان کے واسطے ان کے دین کو کامل فرما دیا اب وہ کسی دین کے محتاج نہیں اور نہ کسی دوسرے نبی کے سوا اپنے نبی کے یہ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنا دیا۔ مرزا قادیانی کہتا ہے فَلَا حَاجَتَ لَنَا اِلٰی نَبِيٍّ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ یعنی محمد ﷺ کے بعد ہمیں نبی کی حاجت نہیں۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٦٠)
پاکٹ بک احمدیہ کے مصنف نے اس آیت اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ کا یہ جواب دیا ہے کہ توراۃ بھی تمام تھی مگر اس کے بعد بھی کتاب آگئی۔ قرآن شاہد ہے کہ حضور یوسف علیہ السلام پر بھی نعمت پوری کی گئی۔ انعام صرف نبوت ہی نہیں آیت کی رو سے نبوت صدیق شہادت صالحیت سب انعام ہیں کیا یہ بھی بند ہیں ملخص ص ٥٦٠۔
جواب: توراۃ بے شک فی نفسہ تمام تھی مگر اپنے وقت اور قوم کے واسطے۔
گزشتہ نبی مخصوص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے تھے۔ مرزائی پاکٹ بک ص ٤٢٣
وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِهٖ خَاصَّةً وَّبُعِثْتُ اِلَى النَّاسِ عَامَّةً بخاری ومسلم باب فضائل سید المرسلین۔ پہلے نبی اپنی اپنی قوم کی طرف آئے اور میں تمام دنیا کی طرف۔
ہاں توراۃ اپنی ذات میں تمام تھی مگر کامل دین الہی اور اتمام نبوت اور تعلیم عالمگیر کی رو سے ناقص تھی۔
اب قرآن شریف اور دوسری کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم آئے۔ مگر قرآن شریف کے واسطے اب یہ ضرورت درپیش نہیں کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ نہیں۔۔۔۔۔۔ تو نئی شریعت اور نئے الہام نازل ہونے میں امتناع عقل لازم آیا۔ آنحضرت ﷺ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ١١٠ ملخصا بلفظہ ) اور حضرت یوسف پر جو نعمت تمام ہوئی وہ اسی طرح کا اتمام تھا كَمَا اَتَمَّهَا عَلٰی اَبَوَيْكَ ۔ یوسف ع ١۔ جیسا کہ آپ کے باپ دادا پر ہوا تھا۔ یعنی وقت اور حسب ضرورت زمانہ جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔
نبوت صدیقیت شہادت اور صالحیت بلاشبہ انعام ہے۔ اسی طرح صاحب شریعت نبی ہونا بھی انعام ہے۔ جبکہ روز آفرینش میں ہی خدائے لایزال نے تاج نبوت کو مزین و آراستہ کر کے حضور سید عالم رحمتہ اللعالمین راحت العاشقین فداہ امی وابی روحی وجسدی کے سر پر رکھ دیا تو اب ناحق جلنا اور کڑھنا بد باطنوں اور خبیث روحوں کا کام ہے سچ ہے۔
آيَتُهُ وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ كَافَّةً لِّلنَّاسِ ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کا جواب یہ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے کیا ان کے بعد بنی اسرائیل کے لیے حضرت داؤد وسلیمان علیہ السلام نبی ہو کر نہیں آئے؟ الجواب ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ شریعت ناتمام و ناقص تھی۔ اس لیے وقتی ضروریات کے لیے انبیا کا آنا ضروری تھا اور توراۃ کے متعلق قرآن شریف میں ہرگز ہرگز حضرت موسیٰ کا یہ دعویٰ موجود نہیں کہ تمام بنی اسرائیل کے لیے صرف میں اکیلا رسول ہوں بخلاف اس کے کہ قرآن شریف کامل ومکمل غیر متبدل اٹل قانون اور محمد رسول اللہ ﷺ تمام دنیا کے لیے اکیلے رسول ہونے کے مدعی ہیں
أُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ صحیح مسلم میں تمام دنیا جہان کی طرف بھیجا گیا ہوں میرے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اَنَا رَسُولٌ مَّنْ اَدْرَكْتُ حَيًّا وَمَنْ يُولَدُ بَعْدِی (کنز العمال جلد ٢ ص ٢٢٩ طبقات ابن سعد جلد ٢ ص ١٠١) خدا نے تمام جہان کے لیے ایک نبی بھیجا۔ چشمہ معرفت ص ١٤٦ مذکورہ بالا آٹھ آیات قرآنی اور اقوال مرزا سے بغیر کسی طرح کی کھینچ تان کے بعبارت النص ثابت ہو گیا کہ حضور سید عالم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔
اگرچہ قرآن شریف میں اور متعدد آیات ایسی ہیں جن سے مسئلہ ختم نبوت ثابت ہوتا ہے مگر ہم انہیں مذکورہ بالا آیات پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ یہ مختصر رسالہ ان کا متحمل نہیں جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کے لیے ایک آیت بھی کافی ہے اور بے ایمانوں کے واسطے تمام قرآن بھی ناکافی۔
ختم نبوت بقائے شریعت
ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکتہ
ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد
گزشتہ تفصیل سے ثابت ہوا کہ ہر نبوت فی نفسہ کامل تھی اور ہر سابقہ نبوت آئندہ کے لیے تمہید۔ علاوہ ازیں ہر نبوت اپنے زمانے کے ساتھ خاص اور اپنے وقت کے حالات کی ضروریات اور ہر فائدہ رساں چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ موزونیت کے اس درجے پر تھی کہ اپنے وقت کے لوگوں کے مزاج وطبیعت کے ہم آہنگ اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتی تھی‘ سابقہ شرائع میں غور سے اس امر کا ادراک کیا جاسکتا ہے کہ بنی اسرائیل جو سخت دل‘ خشک طبیعت‘ مذموم اخلاق کے حامل تھے‘ ان کے لیے شریعت و قانون بھی ایسا ہی مناسب تھا جو بے لچک اور سخت ہو۔ شیخ محمد خضریؒ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی شریعت میں بیشتر امور ایسے تھے‘ جو ان کے ہاں حلال اور پسندیدہ تھے‘ جیسا کہ بھائی کی بہن سے شادی‘ تاہم توریت نے انھیں حرام قرار دیا‘ اور بہت سی چیزیں اس کی رو سے حرام کے زمرے میں آتی تھیں جیسا کہ ہفتے کے روز کام وغیرہ کرنا‘ لیکن انجیل نے ان پر خط تنسیخ پھیر دیا حالانکہ ان احکام کی تنفیذ میں اس قدر سختی سے کام لیا گیا تھا کہ ان کی بجا آوری سے پہلو تہی کی سزا قتل تھی۔ سابقہ شریعتوں کے بہت سے احکام و اوامر قرآن کے ذریعے منسوخ ہوئے‘ جیسا کہ درج ذیل آیتوں سے معلوم ہوتا ہے۔
یعقوب نے اپنے نفس پر حرام کیا تھا‘ بنی اسرائیل پر حلال تھیں (٣١)
ئے شریعت
ڈاکٹر عبدالفتاح عبداللہ برکۃ
ترجمہ و تلخیص: مولوی مختار احمد
ت فی نفسہ کامل تھی اور ہر سابقہ نبوت آئندہ کے ساتھ خاص اور اپنے وقت کے حالات کی ئے تھی۔ موزونیت کے اس درجے پر تھی کہ آہنگ اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتی تھی‘ سابقہ ہے کہ بنی اسرائیل جو سخت دل‘ خشک طبیعت‘ و قانون بھی ایسا ہی مناسب تھا جو بے لچک السلام کی شریعت میں بیشتر امور ایسے تھے جو کی بہن سے شادی‘ تاہم توریت نے انھیں حرام کے زمرے میں آتی تھیں جیسا کہ ہفتے تیغ پھیر دیا حالانکہ ان احکام کی تنفیذ میں اس پہلو تہی کی سزا قتل تھی۔ سابقہ شریعتوں کے ہوئے‘ جیسا کہ درج ذیل آیتوں سے معلوم
سے قبل ماسوا اس کے جس کو ن اسرائیل پر حلال تھیں (٣١)
اسی ضمن میں پیش رفت کرتے ہوئے یہود پر اعمال بد کی بنا پر بہت سے اشیا حرام قرار دی گئیں اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کر دی تھیں مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہوئی ہو ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی تھی اور ہم یقیناً سچے ہیں۔
سو یہود کے ان ہی بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں جو ان کے لیے حلال تھیں ان پر حرام کر دیں اور بسبب اس کے کہ وہ بہت سوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع بن جاتے تھے اور بسبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھا جاتے تھے۔ (القرآن)
یہود کے فسق و فجور اور احکام الٰہیہ سے استہزا کی وجہ سے ہفتے کے دن انھیں کسی بھی قسم کی سرگرمی سے باز رہنے کی تلقین کی گئی تھی۔ تاہم وہ نافرمانی اور مخالفت کی روش اپنائے رہے۔
پس ہفتہ کی تعظیم تو صرف انہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی جنھوں نے اس میں خلاف کیا تھا۔ (القرآن)
اور آپ ان لوگوں سے اس بستی والوں کا جو کہ دریائے شور کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے جب کہ وہ ہفتے کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ہفتے کے روز تو مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں ہم ان کی اس طرح آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔ (القرآن)
پھر عیسیٰ علیہ السلام ان کی طرف بھیجے گئے انھوں نے توریت کی تصدیق کے ساتھ اللہ جل شانہٗ کے حکم سے بعض احکام میں تخفیف فرمائی۔
اور میں اس طور پر آیا ہوں کہ تصدیق کرتا ہوں اس کتاب کی جو مجھ سے پہلے تھی یعنی توراۃ تھی اور اس لیے آیا ہوں کہ تم لوگوں کے لیے بعض ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں۔
(القرآن)
اس تشدید و تخفیف اور شرائع میں جزوی اصلاح و ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ مخصوص امت اور خاص حالات و واقعات کے پیش نظر اصلاح انسانیت کی عالمگیر تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے اور گردش ایام کی بنا پر معاشرے میں جو تبدیلیاں رونما ہوں ان کے تقاضوں کے مطابق شریعت و قانون میں مناسب رد و بدل کیا جائے۔ مختصراً یہ کہ ان شرائع کا دائمی طور پر رہنا مقصود نہ تھا اور نہ ان میں اتنی صلاحیت ودیعت کی گئی تھی کہ وہ اقوام عالم اور تمام انسانیت کے لیے مشعل راہ کا فریضہ انجام دے سکیں، زمان و مکان کی پابندیوں میں مقید ان شرائع کا دائرہ عمل محدود تھا، چنانچہ ان شریعتوں کی کتب بھی ابدیت و دائمیت کے دعوے سے عاری تھیں بلکہ وہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم اور شریعت خاتم کی بشارت دیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان شرائع کی حفاظت کی ذمہ داری نہ اٹھانا بھی اسی نقطہ نظر کی بنا پر تھا، چنانچہ اہل ھوی نے ان کے حقیقی خدوخال مسخ کر دیے ان میں تحریف و کمی بیشی کی تہ در تہ پرتوں کے سبب ان کی اصل صورت عوام الناس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھی۔
اس کے برخلاف اللہ جل شانہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری زمان و مکان کی تخصیص کے بغیر خود لی ارشاد ربانی ہے۔
قرآن ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
مرور زمانہ نے اس وعدے کے حسن ایفا پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے وسائل بہم پہنچائے ہیں جن کے ذریعے قرآن کی حفاظت ممکن ہو سکی۔ کبھی تو سینوں میں اسے محفوظ رکھا گیا اور کبھی کتابت و اوراق کے وسائل مہیا کیے گئے۔ بنابریں مکمل ایقان و اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ روئے زمین پر قرآن کریم کے علاوہ ایسی کسی کتاب کا پایا جانا ازقبیل محال ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو اور وہ تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہو اس کے علاوہ قرآن کے ایک ایک حرف کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی صحت ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس میں اختلاف کا شائبہ تک نہیں۔
شریعت خاتم کو دیکھا جائے تو وہ ہر قسم کے طبقاتی فرق اور امتیازات سے عاری
ہے۔ اس کے احکام و قوانین اور اوامر و نواہی اوقات کے ساتھ خاص ہیں نہ کسی فرد کے لیے تخفیف و لچک کا جانبدارانہ رویہ رکھتے ہیں، تاہم یہ شریعت ہر زمانے اور ہر جگہ کے معاشرے و ماحول کے سدھار کے لیے جامع قوانین کی شکل میں ایسا دستور حیات ہے، جس سے پہلو تہی ممکن نہیں، اس لیے کہ کوئی زمانہ، کوئی جگہ اور کوئی معاشرہ آسمانی ہدایات، روحانیت اور شریعت الٰہی کی احتیاج سے آزاد نہیں ہوسکتا۔
اس جامعیت کے برعکس اگر شریعت خاتم زمان و مکان کی قیود میں جکڑی ہوئی یا حالات و واقعات کی حدود میں محصور ہوتی تو ان کی تبدیلی سے اس کی فعالیت و اثر انگیزی متاثر ہوتی، ہدایت کا چشمہ سوکھ جاتا۔ لوگ حیرت و استعجاب سے دائیں بائیں دیکھنے پر مجبور ہو جاتے، انتظام و انصرام ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور اخلاقی قدریں پامال ہو جاتیں، ذہنی و فکری انارکی تمام شعبہ ہائے حیات کو لپیٹ میں لے لیتی۔ خصوصاً اس پس منظر میں کہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہو، اور نئی رسالت کی ادنیٰ امید بھی نہ ہو، لہٰذا اس کے علاوہ چارہ کار نہ تھا کہ شریعت خاتم ایسی مضبوط و مرتب ہو کہ ہر دور میں قابل عمل اور نسخ و تبدیلی کا احتمال نہ رکھے۔ مسائل کتنے ہی گھمبیر کیوں نہ ہوں اور حادثات کتنے ہی سرعت سے وقوع پذیر ہوں، شریعت ہر مشکل کے تدارک اور ہر گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔
ختم نبوت ان اوصاف و کمالات کی حامل نہ ہو تو اسے نور ہدایت کے لیے ستارہ سمجھنا نامناسب ہوگا، اور لوگوں کو مشکلات و مصائب میں مبتلا کرنے کی کوشش سے اس کی تعبیر کی جائے گی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی رحیم و کریم ذات سے بعید ہے کہ وہ بنی آدم کو اس قسم کی مشکلات سے دو چار کرے۔
والے ہو۔
اس صورتحال کے امکانات کو ختم کرنے کی غرض سے انبیا کرام بھیجے گئے، ختم نبوت اور شریعت خاتم کو ابدیت و دوام سے ہمکنار کیا گیا ہے اور اس کے ہر جز میں ہدایت و سعادت سمو دی گئی ہے۔
گا۔ اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض برتے گا تو اس کے لیے
تنگی کا جینا ہوگا اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ ابدیت دوام اور ہدایت کی یہ کیفیت ثابت کرتی ہے کہ یہ دین و شریعت انتہائے کمال پر فائز ہے۔
آج کے دن تمھارے لیے تمھارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔
شریعت خاتم دین اسلام پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ہر طرح کے تغیر و تبدل، نسخ و زیادتی، تحریف لفظی و معنوی سے محفوظ ہو گیا ہے اس طرح کی ہر کوشش اب ضلالت اور گمراہی سے تعبیر کی جائے گی۔ حق و صداقت کے بعد گمراہی ہی ہے۔ اس بنا پر شریعت اسلامیہ باقی رہے گی جب تک انسانیت کی بقا مقدر ہے اس لیے کہ کسی نئے نبی کی بعثت متصور ہے نہ اس کے ساتھ کسی نئی کتاب و شریعت کی آمد۔ اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کو انوار ہدایت سے دور نہیں رکھا۔
تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے ان پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے۔
چنانچہ شریعت اسلامیہ کو آخری آسمانی دستور بنایا اور اسے ہر فرد کی دسترس میں رکھا۔ اسے ایسی کامل و مکمل ہدایت بنایا جسے کلی طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے نہ جزوی طور پر اس میں تغیر کا احتمال ہے اور نہ اس کے ابواب میں سے کسی باب میں اس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس امر کو دو مقدموں سے ثابت کیا جا سکتا ہے:
- اول: شریعت اسلامیہ تکمیل کے مراحل طے کر کے درجہ کمال پر فائز ہوچکی ہے۔ لہٰذا اب
کسی قسم کا رد و بدل اس کے کمال میں نقص شمار ہوگا۔
- دوم: شریعت اسلامیہ میں رد و بدل کا جو ذات استحقاق رکھتی تھی اس نے آگاہ کر دیا ہے
کہ یہ کامل ہو چکی ہے اب وہ اس میں کمی بیشی نہیں کرے گی اسی ذات نے ہمیں بتایا ہے کہ باب نبوت بند ہو چکا ہے لہٰذا اب نئے نبی کی آمد کا انتظار عبث ہے جو اس میں رد و بدل کا مجاز سمجھا جا سکتا تھا۔ شریعت اسلامیہ میں کمال کی یہ کیفیت جیسا کہ کلیتاً ہے اسی طرح اس کے ہر جز میں بھی سمجھا جانا چاہیے۔
شریعت کا دوام اور اجتہاد کی ضرورت
ہر منصف مزاج نکتہ رس شخص کے نزدیک یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ اسلام اپنی اس صورت و ہیئت میں جس کی تبلیغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر چکے ہیں۔ اللہ جل شانہ کا پسندیدہ دین ہے جو ابدالآباد تک دنیا میں رہے گا اور جیسا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار اور اس کے ارادے کی طرف لوٹتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ بہترین اور پُر از حکمت چیزوں کو منتخب فرماتا ہے۔
وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔ اور ہم نے یہ کتاب آپ کے پاس بھیجی ہے جو خود بھی صدق کے ساتھ موصوف ہے اور اس سے پہلے جو کتابیں ہیں ان کی بھی تصدیق کرتی ہے اور ان کتابوں کی محافظ ہے۔
اس رسالت میں اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کے آثار اس کی ان خصوصیتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں، جن سے اس سے قبل کی نبوتیں تہی ہیں۔ یہ خصائص اپنے اجمال و تفصیل میں اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ رسالت خاتم الرسالات ہے، اس لیے ابدی ہے، قیامت تک کوئی شریعت اسے منسوخ نہیں کر سکتی۔
اجمال سے مراد قرآن کریم کا بے مثال معجزانہ اسلوب ہے، قرآن میں ذکر کردہ انبیاء کرام کے قصوں میں جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، وہ خود ہدایت کرتا ہے کہ ہر نبی صرف اپنی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا تھا، اس لیے کہ ان انبیا کو خطاب کرتے وقت مخصوص وصف یا علامت سے انھیں موسوم کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ ہود، سورۂ اعراف اور سورۂ شعراء میں یہ اسلوب اختیار کیا گیا۔ اس کے برعکس خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ عمومی رسالت و تبلیغ کے مکلف قرار دیے گئے تھے اور اس عمومیت میں رنگ و نسل کا امتیاز تھا نہ زمان و مکان کی تخصیص۔ اس لیے آپ سے خطاب کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو پوری انسانیت کا احاطہ کرتے ہیں۔
اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، خوشخبری
سنانے والا اور ڈرانے والا' لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی بادشاہی ہے تمام آسمانوں اور زمین میں' اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں' وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے' سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں' اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ۔
اسلوب مخاطبت کے علاوہ عمومیت کی یہ کیفیت ان معجزات سے بھی مترشح ہے جو آپ کے ہاتھوں ظاہر ہوئے۔ موضوع سخن کے لحاظ ان میں بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بعض معجزات کے آثار اب تک محفوظ ہیں' یہ اس لیے ہے کہ طالب حق انھیں دیکھ اور پرکھ کر سچائی تک بہ سہولت رسائی حاصل کر سکے اور اس دین کی حقانیت اس پر واضح ہو جائے۔
شریعت کے علاوہ عقیدۂ اسلام میں مہر ختم نبوت کا پرتو اس طرح ہے کہ یہ عقیدہ بسیط اور واضح ہے' تعقید' گنجلک' الجھاؤ اور غموض کا اس میں شائبہ تک نہیں ہے۔ ہر سطح کی عقل اسے قبول کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتی۔ غور و خوض اور بال کی کھال اتارنے کی عادی عقل اسے قبول کر کے حیرت انگیز طور پر پُر سکون ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سادہ عقلوں کے لیے بھی اس میں راحت کا سامان ہے۔ اسی طرح مختلف جذبات و وجدان کے حامل افراد بھی اسے بغیر کسی ردو کدح اور بحث و تمحیص کے قبول کر لیتے ہیں۔ مفکرین و دانشور جس طرح اس عقیدے کو اپنا لیتے ہیں' بعینہ اسی طرح ناخواندہ طبقہ بھی اسے حرزِ جاں بنا لیتا ہے۔
عقیدۂ اسلام کی دوسری بڑی اور اہم خصوصیت اس کا فطری ہونا بھی ہے۔ یہ عقیدہ براہ راست فطرتِ سلیمہ کو مخاطب کرتا ہے' جیسا کہ قرآن پاک اس کی توصیف کرتے ہوئے کہتا ہے:۔
تو تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو' اللہ کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے' بدلنا نہ چاہیے' پس سیدھا دین یہی ہے' لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
فرد کی فطرت اگر خارجی محرکات سے متاثر نہ ہو تو وہ سوائے دینِ اسلام کے کسی
مذہب وملت کی طرف نگاہ غلط انداز بھی نہ ڈالے اور فطرت، وجدان اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کر لے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ما من مولود الا يولد على الفطرة فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه، كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء فلا تحسون فيها من جدع۔ ثم يقول ابو هريرة: فطرت الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم O
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، انسان اگر خارجی اثرات وغیرہ سے محفوظ رہے تو فطرت کو قبول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔
علاوہ ازیں یہ عقیدہ وحی الٰہی سے ثابت ہے، اس میں تصرف، تغیر، نسخ و تبدیل کا حق ذاتِ باری کے سوا کسی کو حاصل نہیں، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا منتخب افراد کی جماعت، پھر یہ عقیدہ مخالف ومتضاد عناصر کی دستبرد سے محفوظ چلا آ رہا ہے۔ جب بھی مسلمان اس میں کمزوری یا کجی کا شکار ہوتے ہیں تو اللہ جل شانہ کسی مجدد و عالم دین کے ذریعے انھیں جادۂ حق پر لے آتے ہیں، اور صحیح و خالص عقیدہ جو قرآن اور سنت نبویہ سے ثابت ہے، از سر نو ان میں رسوخ پا لیتا ہے۔
یہ عقیدہ بسیط، سادہ، فطری اور واضح ہونے کے باوجود جبر وقہر اور زبردستی کا حامی نہیں، بلکہ متعین کو حجت و دلیل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے، انھیں غور و فکر کی کھلی دعوت دیتا ہے اور صرف قلب و وجدان کو جذباتی و ایمانی انداز میں مخاطب نہیں کرتا بلکہ جب فہم و فکر اور عقل کو دلیل، تفسیر و تعلیل کے طرز نو سے خطاب کرتا ہے تو کوئی چارہ نہ پا کر عقولِ سلیمہ اس کے سامنے سپر انداز ہو جاتی ہیں، وجدان سر تسلیم خم کر لیتا ہے، نفس یک گونہ راحت پاتا ہے اور قلب نور کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔ قرآن کی ہر ہر آیت اس اسلوب کی یکتا و جدا گانہ مثال ہے۔
ان تمام خصوصیات کے علاوہ یہ عقیدہ افراط و تفریط سے کوسوں دور اور راہِ اعتدال پر گامزن ہے، اعتدال کی یہ کیفیت اس کے ہر ہر جز میں رچی بسی ہے، خواہ وہ جز عالمِ غیب پر ایمان کا ہو یا اللہ تعالیٰ کی صفات کا، جو ایجاب و سلب اور نفی و اثبات کے مابین دائر ہیں۔ یا مقام انبیا کا جز ہو، جو اس عقیدے کی رو سے عام انسانوں سے برگزیدہ اور ممتاز حیثیت کے حامل ہیں،
اطاعت اور توقیر و اتباع کے حق سے محروم نہیں۔ اسی طرح دیگر اجزا کا حال ہے۔
فروعی قواعد کی رو سے جنھیں اصطلاحی زبان میں ”فقہ و شریعت“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے‘ دیکھا جائے تو سابقہ شرائع میں ایسی تصریحات ملتی ہیں جو اسے اسی عہد یا مکان کے ساتھ خاص کرتی ہیں‘ ان شرائع میں اسی عہد کے روز مرہ مسائل کا حل ہوتا ہے‘ جیسا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تھا۔ یہی صورت حال ہود‘ لوط‘ شعیب و صالح علیہم السلام کی رسالت کی تفصیل میں ملتی ہے‘ جبکہ شریعت خاتمہ میں اس کا دور دور تک نام و نشان نہیں‘ اس کے برعکس عمومیت کی فضا ہے‘ فرد‘ جماعت‘ امت‘ ملک‘ حتیٰ کہ باہم دیگر تعلقات کی نوعیت‘ ضرورت ہر سطح پر شریعت اسلامیہ رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی نظر آتی ہے۔
شریعت اسلامیہ کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی داعی ہے‘ محبت‘ رحمت‘ شفقت و احسان‘ بھائی چارے و درگزر اس کی بنیادی تعلیمات ہیں‘ یہ شریعت ان عناصر کو ربانی ہدایت کی روشنی میں ایک خاص تناسب سے ترکیب دیتی ہے اور انسان سے بحیثیت انسان معاملہ کرتی ہے‘ تاہم اس میں اتنی روحانیت پیدا کر دیتی ہے جسے ترقی دے کر مقام و مرتبہ میں وہ ملائکہ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔
اور ہم نے اس قرآن کو راستی ہی کے ساتھ نازل کیا اور وہ راستی ہی کے ساتھ نازل ہو گیا اور ہم نے آپ کو صرف خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
وہ ایسا ہے کہ اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں بھیجتا ہے تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائے اور بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے حال پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔
اور ہم ایسی چیز یعنی قرآن نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہے۔
اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے جو تمام باتوں کا بیان کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوش خبری سنانے والا ہے۔
یہ قرآن کوئی گھڑی ہوئی بات تو ہے نہیں‘ بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آ
چکی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے، اور ہر بات کی تفصیل کرنے والا ہے اور ایمان والوں کے لیے ذریعہ ہدایت و رحمت ہے۔
علاوہ ازیں شریعت خاتم کا طرۂ امتیاز ہر عمل میں سہولت، آسانی اور تیسیر کا نکتہ نگاہ اپنانا ہے، تنگی، تشدد وتعسیر سے یہ شریعت متنفر ہے۔ یسر وسہولت کا باب اتنا وسیع ہے کہ مختلف و متنوع طبائع اس پر عمل کرتی ہیں اور معاشروں اور سوسائٹیوں کا اختلاف اس پر عمل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ عالی ہمت اور قوی الارادہ افراد اپنی ہمت و ارادے کو اس میں محبوس نہیں پاتے بلکہ یہ شریعت ان کی وہبی صلاحیتوں کو فلاح انسانی کے کاموں میں استعمال کرنے کے لیے ابھارنے کا طریقہ اختیار کرتی ہے۔ بعینہ اسی طرح ضعیف الجسم، بدنی یا عقلی مریض، مادی یا معنوی اعذار میں مبتلا افراد سے ان کی قوت و فطرت سے بڑھ کر مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ غرض عزیمت اصحاب عزائم کے لیے اور رخصت معذوروں کے لیے۔
اللہ کو تمھارے ساتھ آسانی کرنا منظور ہے اور تمھارے ساتھ دشواری منظور نہیں۔
اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جس نے اچھے کام کیے تو اس نے اپنے ہی لیے کیے اور جس نے برے کام کیے تو اس نے اپنے ہی لیے کیے۔
یہ تمام رخصتیں خالص توقیفی عبادت نماز، روزہ، حج وزکوٰۃ میں نافذ العمل ہیں، چنانچہ جو شخص نصاب کا مالک نہیں، اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی بھی نہیں۔ حج کی استطاعت نہ رکھنے والا اس عبادت کی بجا آوری سے معذور ہے۔ بعض اعذار کی موجودگی میں روزے کا حکم نہیں تاوقتیکہ وہ زائل نہ ہو جائیں، اگر ان کے زائل ہونے کی امید نہ ہو تو ایک مخصوص مقدار میں فدیے کی ادائیگی کے ذریعے روزے کے فرض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ نماز کو ایک خاص ہیئت میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر شرعی عذر لاحق ہو تو کوئی بھی ممکنہ قریبی صورت اس کا بدل بن سکتی ہے۔ پاک صاف زمین پر پانی سے طہارت حاصل کر کے نماز ادا کی جاتی ہے، پانی اگر معدوم ہو تو مٹی سے پاکی حاصل کی جا سکتی ہے اس طرح دیگر فرائض و امور میں بھی شریعت خاتم نے سختی و تشدد سے اجتناب برتا ہے جبکہ اس کے برعکس سابقہ شرائع میں بے لچک رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اور بھول چوک سے سرزد ہونے والے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے اور زبردستی کرائے جانے والے گناہ بھی۔
حتیٰ کہ عقیدے میں بھی یہی رویہ روا رکھا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
پس جھوٹ افترا کرنے والے تو یہ ہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔ جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے، مگر جس شخص پر زبردستی کی جائے بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو (تو وہ مستثنیٰ ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی صحابی کو کہیں بھیجتے تو دیگر نصائح کے ساتھ یہ نصیحت بھی فرماتے۔
بشروا ولا تنفروا، و يسروا ولا تعسروا بشارت دو نفرت نہ دلاؤ، آسانی کرو تنگی و دشواری سے کام نہ لو۔
رخصت کے عمل کے ساتھ ساتھ شریعت خاتم میں اتنی لچک رکھی گئی ہے کہ ہر نسل اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق اس کے اصول وقواعد میں مناسب اصلاح و ترمیم کر سکے۔ اس اصلاح و ترمیم کا ماخذ قرآن وسنت سے ماخوذ اور اس عمل سے مسلمانوں کی بھلائی مقصود ہو۔ شورائی نظام کا قیام اسی نکتے کی بنا پر ہے کہ تنفیذ کی کیفیت واضح ہو جائے اور احکام اسلام سے بھر پور استفادہ ممکن بنایا جا سکے اور جس دور میں عدل وانصاف کا حصول جس طریقہ سے ممکن ہو اس سے اعراض نہ برتا جائے۔
لچک و نرمی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بہت سے معاشرتی قواعد ایسے ہیں جو حاکم وامیر کے واسطے کے بغیر مسلمانوں پر ان کی رعایت ضروری قرار دی گئی ہے، مثال کے طور پر قاعدہ ہے کہ ”فساد کو ٹالنا، فوائد کے حصول پر مقدم ہے۔“ یعنی ایک عمل میں نفع سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے، ایسے عمل کا ترک لازم ہے۔ اسی طرح یہ بھی قاعدہ ہے کہ ”مشقت کا تقاضا ہے کہ سہولت برتی جائے“ علاوہ ازیں بہت سے قواعد ہیں جو مسلمانوں کے لیے روزمرہ زندگی میں شریعت کے نفاذ میں ممد و معاون ہیں اور ہر دور میں ان کا افادی پہلو نمایاں رہا ہے۔
عمومیت و نرمی کی بنا پر نئے نئے حوادث و مسائل کے متعلق شریعت اسلامیہ کے
بنیادی اساسی اور اصولی ماخذ سے احکام کے استنباط کے لیے اجتہاد کا حکم دیا گیا ہے یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جو نا گہانی صورتحال اور ترقی کے تقاضوں سے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں عہدہ برآ ہونے کا محفوظ ترین راستہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اجتہادی صلاحیتوں کو ابھارتے رہتے تھے۔ بیشتر مسائل میں ان سے مشورہ لیتے اور قابل عمل آراء سے اتفاق کا اظہار فرماتے ہوئے انھیں نفاذ عمل میں لانے کی سعی فرماتے تھے۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک یہی طریقہ رائج ہے اسی لیے نئے نئے حادثات اور جدید مسائل کے حل کرنے میں شریعت اسلامیہ کا دامن کبھی تنگی کا شکار نہیں ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کے عام قواعد و اصول ایسی کیفیت اور تناسب سے وضع کیے گئے ہیں کہ جدید مسائل ان کے دائرہ عمل سے خارج نہیں ہیں۔
خیر القرون کے بعد علمائے امت نے یہی طریقہ اپنایا اور شریعت کے بیان کردہ اصول سے احکام کے استنباط و استخراج کے قواعد ضبط فرمائے۔ اگر کوئی ایسا شخص یا اجتماعی حادثہ یا مسئلہ درپیش آجاتا جس کی بابت نصوص میں کوئی صراحت وارد نہیں ہوئی اور نہ پہلے کسی دور میں ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو علماء مجتہدین اپنی تمام کوششوں و صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسے مناسب احکام کا استنباط فرماتے جو شریعت کے غیر متزلزل قواعد سے متصادم نہیں ہوتے تھے۔
اسلام نے ایسے ائمہ مجتہدین پیدا کیے جن پر انسانیت بجا طور پر فخر و مباہات کا اظہار کر سکتی ہے ان میں چار مشہور ائمہ مسلک و فن ہیں۔ اسلام میں ہمیشہ سے یہ صلاحیت ودیعت کی گئی ہے کہ وہ ایسے ائمہ پیدا کرے جن سے انسانیت کو قرار و سکون نصیب ہو اور سفینہ حیات کو مصائب و آلام کے بھنور سے نجات پا کر ساحل مراد تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا نہ ہو۔
ائمہ اسلام کی مزید شہادتیں
زندقہ کے کفر ہونے پر
مفتی محمد شفیعؒ
اس میں سب سے پہلی اور سب سے قوی شہادت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا وہ اجماع ہے جو رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ”مانعین زکوٰۃ“ کو مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کرنے پر ہوا۔ حالانکہ یہ سب لوگ نماز روزہ اور تمام شعائر اسلام کے پابند تھے۔ صرف ایک حکم شرعی ”زکوٰۃ“ کا انکار کرنے سے باجماع صحابہ کافر قرار دیئے گئے۔ حافظ ابن تیمیہؒ نے ان کے متعلق لکھا ہے:
وفيهم من الردة عن شرائع الاسلام بقدر ما ارتد عنه من شعائر الاسلام اذ كان السلف قد سموا مانعي الزكوة مرتدين مع كونهم يصومون ويصلون. (فتاویٰ ابن تیمیہ)
”ان لوگوں میں شعائر اسلام سے مرتد ہونا پایا جاتا ہے۔ کیونکہ سلف نے ان کا نام مرتدین رکھا ہے اگرچہ یہ نماز بھی پڑھتے تھے اور روزے بھی رکھتے تھے۔“
دوسری شہادت صحابہ کرامؓ کا وہ اجماع ہے جو ”مسیلمہ کذاب“ کے کفر و ارتداد اور اس کے مقابلہ میں جہاد پر ہوا۔ حالانکہ وہ اس کی پوری جماعت کلمہ کی قائل اور حسب تصریح تاریخ ابن جریر طبری ج ٣ ص ٢٤٤ اپنی اذانوں میں ”اشهد ان محمد رسول اللہ“ کی شہادت مناروں پر پکارنے والے اور نماز روزہ کے پابند تھے مگر اس کے ساتھ وہ
آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی میں قرآن و حدیث کی تصریحات اور امت کے اجماعی عقیدہ کے خلاف تاویلات کرکے ”مسیلمہ کذاب“ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ نبوت کا شریک مانتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باجماع و اتفاق ان کو کافر قرار دیا اور ان سے جہاد کرنا ضروری سمجھا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عظیم الشان لشکر جہاد کے لئے روانہ ہوا۔ مسیلمہ کذاب کے پیروؤں میں سے چالیس ہزار مسلح جوان مقابلہ پر آئے۔ معرکہ نہایت سخت ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لشکر میں بارہ سو حضرات شہید ہوئے اور مسیلمہ کے لشکر سے اٹھائیس ہزار آدمی مارے گئے اور خود مسیلمہ بھی مارا گیا۔
(تاریخ طبری)
جمہور صحابہؓ میں سے کسی ایک نے بھی اس پر انکار نہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ یہ لوگ کلمہ گو اہل قبلہ ہیں ان کو کیسے کافر کہا جائے؟ نہ کسی کو اس کی فکر ہوئی کہ اسلامی برادری میں سے اتنی بڑی اور باقوت جماعت کم ہو جائے گی اسی لئے کتب عقائد میں اس مسئلہ کو اجماعی مسئلہ قرار دیا ہے۔ ”جوہرۃ التوحید“ میں ہے:
وقال شارحه ان هذا مجمع عليه وذكر ان الما تريدية يكفرون بهذا بانكار القطعي وان لم يكن ضرورياً
”جو شخص کسی قطعی بدیہی حکم کا انکار کرے اس کو بوجہ کافر ہو جانے کے قتل کیا جائے گا۔ بطور حد کے نہیں۔“
اور اس کتاب کی شرح میں ہے کہ اس بات پر امت کا اجماع ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ علماء ماتریدیہ مطلقاً قطعی حکم کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں خواہ بدیہی نہ ہو۔“
اور حافظ حدیث امام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”اقامۃ الدلیل“ میں اجماع کو سب سے بڑی قطعی دلیل قرار دیا ہے:
واجماعهم حجة قاطعة يجب اتباعها بل هى اوكد الحجج وهى مقدمة على غيرها.
”اور امت کا اجماع حجت قاطعہ ہے۔ جس کا اتباع واجب ہے بلکہ وہ تمام حجتوں سے زیادہ مؤکد ہے اور وہ غیر اجماع پر مقدم ہے۔“
ائمہ اسلام، مفسرین، محدثین، فقہاء اور متکلمین، سب کے سب اس مسئلہ میں یک زبان ہیں کہ ضروریات دین یعنی اسلام کے قطعی اور یقینی مسائل میں سے کسی مسئلہ میں
تکذیب و کفر
تاویلات باطلہ کر کے اس کو اس مفہوم اور صورت سے نکالنا جو قرآن و حدیث میں مصرح ہے اور جمہور امت وہی مفہوم سمجھتی آئی ہے درحقیقت قرآن و حدیث اور عقائد اسلام کی تکذیب کرنا ہے۔ علم عقائد کی مشہور و مستند کتاب ”مقاصد“ میں کفر اور کافر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:
وان كان مع اعترافه بنبوة النبى صلى الله عليه وسلم واظهاره شعائر الاسلام يبطن عقائد هى كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق.
”اور اگر کوئی ایسا ہو کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے اقرار کے ساتھ ساتھ اور شعائر اسلام کے اظہار کے باوجود ایسے عقائد پوشیدہ رکھتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں تو اس کو ”زندیق“ کے نام سے خاص کیا جاتا ہے۔“
ردالمحتار میں علامہ شامیؒ نے اسی مضمون کی تشریح میں فرمایا ہے:
فان الزنديق يموه بكفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها فى الصورة الصحيحة وهذا معنى ابطانه الكفر فلا ينافى الاظهار والدعوى الى الضلال. ج ٣ ص ٢٩٦
”کیونکہ زندیق ملمع سازی کرتا ہے اپنے فاسد عقیدہ کو رواج دیتا ہے
اور نکالتا ہے اس کو صریح صورت میں اور یہی معنی ہیں ”ابطان کفر“ کے پس وہ ”اظہار“ (یعنی کھلم کھلا کفر) کے منافی نہیں اور نہ گمراہی کی طرف دعوت دینے کے منافی ہے۔“
حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی قدس سرہ نے اپنے فتاویٰ میں اقسام تکذیب و کفر کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے:
ولا شبهة ان الايمان مفهومه الشرعى المعتبر به فى كتب الكلام والعقائد والتفسير والحديث هو تصديق النبى صلى الله عليه وسلم فيما علم مجيئه ضرورة عما من شانه ذلك ليخرج الصبى والمجنون والحيوانات. والكفر عدم الايمان عما من شانه ذلك التصديق فمفهوم الكفر هو عدم تصديق النبى صلى الله عليه وسلم فيما علم مجيئه ضرورة وهو بعينه ما ذكرنا من ان من انكر واحدا من ضروريات الدين اتصف بالكفر نعم عدم التصديق له مراتب اربع فيحصل للكفر ايضا اقسام اربعة. الاول كفر الجهل وهو تكذيب النبى صلى الله عليه وسلم صريحا فيما علم مجيئه بدفع العلم اى فى زعمه الباطل ، بكونه عليه السلام كاذبا فى دعواه وهذا هو كفر ابى جهل واضرابه والثانى كفر الجحود والعناد وهو تكذيبه مع العلم بكونه صادقا فى دعواه وهو كفر اهل الكتاب لقوله تعالى الذين اتينهم الكتب يعرفونه كما يعرفون ابناء هم وقوله وَجَحَدُوْ ابها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا او كفر ابليس من هذا القبيل والثالث كفر الشك كما كان كفر المنافقين
والرابع كفر التاويل وهو ان يحمل كلام النبى صلى الله عليه وسلم على غير محمله او على التقية ومراعاة المصالح ونحو ذلك ولما كان التوجه الى القبلة من خواص معنى الايمان سواء كان شاملة او غير شاملة عبروا عن اهل الايمان باهل القبلة كما ورد فى الحديث نهيت عن قتل المصلين والمراد المومنين ان نص القرآن على ان اهل القبلة هم المصدقون بالنبى صلى الله عليه وسلم فى جميع ما علم مجيئه وهو قوله تعالى وصد عن سبيل الله وكفر به والمسجد الحرام واخراج اهله منه اكبر عند الله.
اور اس میں شبہ نہیں کہ ایمان کا مفہوم شرعی جو کہ کتب کلام و عقائد و تفسیر وحدیث میں معتبر ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرنا ان تمام باتوں میں جن کا آپ سے منقول ہونا بداہۃ معلوم ہے یہ اس شخص پر جو تصدیق کا اہل ہے یعنی بچہ اور مجنوں اور حیوانات اس سے خارج ہیں اور کفر اسی شخص کے عدم ایمان کو کہتے ہیں۔ پس کفر کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ان باتوں میں تصدیق نہ کرنا۔ اور وہ بعینہ وہی بات ہے جو ہم نے ذکر کی کہ جو شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرے وہ صفت کفر کے ساتھ موصوف ہو جائے گا۔ ہاں عدم تصدیق کے چار درجات ہیں اس لئے کفر کے بھی چار اقسام نکلیں گی۔ اول کفر جہل اور وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرنا صریحاً ان چیزوں میں جن کو آپ لے کر آئے
یہ سمجھتے ہوئے (یعنی اپنے زعم باطل میں) کہ نبی ﷺ کاذب ہیں اپنے دعوے میں اور یہ ابوجہل وغیرہ کا کفر ہے دوسرا کفر جحود اور عناد اور وہ یہ ہے کہ آپ کو باوجود دل سے سچا جاننے کے تکذیب کئے جانا اور یہ اہل کتاب کا کفر ہے جیسا حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ”جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو پہچانتے ہیں“ اور دوسری جگہ فرمایا کہ ”ان لوگوں نے انکار کیا۔ حالانکہ ان کے دل پر یقین ہیں اور یہ انکار ظلم اور تعلی و تکبر کے سبب سے ہے۔“ اور ابلیس کا کفر اسی قسم میں سے ہے اور تیسرا کفر شک جیسا کہ اکثر منافقین کا تھا اور چوتھا کفر تاویل اور وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے کلام کو اس کے غیر محمل کرے یا اس کو تقیہ پر اور مراعاۃ مصالح وغیرہ پر محمول کرے اور جبکہ توجہ الی القبلۃ ایمان کا خاصہ ہے خواہ خاصہ شاملہ ہو یا غیر شاملہ اس لئے اہل ایمان کو اہل قبلہ سے تعبیر کر دیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ مجھے نماز پڑھنے والوں کے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور مراد اس جگہ مسلمان ہیں۔ نیز نص قرآن اس پر شاہد ہے کہ اہل قبلہ وہی ہیں جو نبی کریم ﷺ کی تمام لائی ہوئی چیزوں میں تصدیق کرتے ہیں اور وہ نص حق تعالیٰ کا یہ قول ”اور اللہ کی راہ سے روکنا، اور اس کے ساتھ کفر کرنا، اور مسجد حرام کے ساتھ اور اس کے اہل کو اس سے نکالنا، زیادہ شدید ہے اللہ کے نزدیک“ خوب سمجھ لینا چاہئے۔
حافظ ابن قیمؒ نے شفاء العلیل میں انہی تاویلات باطلہ کے متعلق فرمایا: مافی الشفاء العلیل للحافظ بن القیم والتاویل الباطل
يتضمن تعطيل ما جاء به الرسول والكذب على المتكلم انه اراد ذلك المعنى فتضمن ابطال الحق وتحقيق الباطل ونسبة المتكلم الى مالا يليق به من التلبيس والالغاز مع القول عليه بلا علم انه اراد هذا المعنى فالمتاول عليه ان يبين صلاحية اللفظ للمعنى الذى ذكره اولا واستعمال المتكلم له فى ذلك المعنى فى اكثر المواضع حتى اذا استعمله فيما يحتمل غيره يحمل على ما عهد منه استعماله فيه وعليه ان يقيم دليلا سالما عن المعارض على الموجب بصرف اللفظ عن ظاهره وحقيقته الى مجازه واستعارته والا كان ذلك مجرد دعوى منه فلا يقبل.
”حافظ ابن قیمؒ کی شفاء علیل میں ہے کہ ”اور تاویل باطل متضمن ہے۔ رسولوں کی لائی ہوئی چیزوں کو معطل کرنے کا اور متکلم پر جھوٹ کو کہ اس نے یہ معنی مراد لئے پس لازم آئے گا اس سے ابطال حق‘ اور باطل کا ثبوت اور متکلم کی نسبت ایسی چیز کی طرف جو اس کے شایان شان نہیں یعنی تلبیس اور معمہ کی باتیں کرنا نیز اس پر یہ افترا بلا علم کہ اس نے اس سے یہ معنی مراد لئے۔ پس تاویل کرنے والے پر لازم ہے۔ کہ سب سے پہلے یہ ثابت کرے کہ لفظ مستعمل میں اس معنی کی صلاحیت ہے جو اس نے ذکر کئے ہیں اور یہ بھی کہ متکلم نے بھی اس کو اکثر مواضع میں انہی معنی میں استعمال کیا ہے تا کہ جب متکلم اس کو ایسے کلام میں استعمال کرے جہاں دوسرا احتمال بھی ہو تو وہ اسی معنی پر محمول ہو جس میں اس کا استعمال مروج رہا ہے اور اس
پر یہ بھی لازم ہے کہ دلیل قائم کرے ایسی کہ جو معارض سے سالم ہو اس بات پر کہ جو موجب ہوا ہے لفظ کو ظاہری اور حقیقی معنی سے مجاز اور استعارہ کی طرف پھیرنے کا ورنہ تو یہ صرف ایک دعویٰ ہو گا جو قابل قبول نہ ہوگا۔
فتاویٰ ابن تیمیہ میں ہے: ثم لوقدر انهم متأولون لم يكن تاويلهم سائغا بل تاويل الخوارج وما نعى الزكوة اوحيه من تاويلهم اما الخوارج فانهم ادعوا اتباع القرآن وان ما خالفه من السنة لا يجوز العمل به اماما نعوا الذكوة فقد ذكرو انهم قالو ان الله قال لنبيه فقط فليس علينا ان ندفعها لغيره فلم يكونوا يدفعونها لابی بکر ولا يخرجو نهاله
(فتاویٰ بن تیمیہ ص ٢٩٧ ج ٤)
”اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ لوگ متأولین (یعنی تاویل کرنے والے) ہیں تو ان کی تاویل قابل قبول نہیں بلکہ خوارج اور مانعین زکوٰۃ کی تاویل تو اس سے زیادہ اقرب اور قابل قبول تھی۔ کیونکہ خوارج نے یہ دعویٰ کیا تھا اتباع قرآن کا اور سنت میں جو قرآن کے مخالف ہو اس پر ترک عمل اور عدم جواز کا اور مانعین زکوٰۃ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب فرما کر فرمایا کہ ”آپ لیجئے ان کے مالوں سے صدقہ لو اور یہ خطاب ہے نبی کریم ﷺ کو پس ہم پر غیر نبی کی طرف زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں اس لئے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔“
وفى ص ١٨٥ وقد اتفق الصحابة والائمه بعدهم على قتال
مانعى الزكوة وان كانوا يصلون الخمس ويصومون شهر رمضان وهؤلاء لم يكن لهم شبهة سائغة فلهذا كانوا مرتدين وهم يقاتلون على منعها وان اقروا بالوجوب كما امر الله وقال فى ص ٦٩ بغية المرتاد. وانما القصد ههنا التنبيه على ان عامة هذه التاويلات مقطوع ببطلانها وان الذى يحاوله او يسوغ تاويله فقد يقع فى الخطاء فى نظيره او فيه قد يكفر من تاويله.
”اور ص ٥٨ میں ہے اور صحابہؓ نے اور ائمہؒ نے مانعین زکاۃ سے جہاد کرنے پر اجماع فرمایا اگر چہ وہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے تھے اور رمضان شریف کے روزے رکھتے تھے اور ان حضرات کو کوئی شبہ پیش نہیں آیا لہٰذا یہ مرتد تھے اور ان سے جہاد کیا جائے گا۔ اس کے روکنے پر اگر چہ وہ اس کے وجوب کا اقرار کریں جیسا کہ حق تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ یہاں مقصود اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ عام طور سے یہ تاویلیں یقیناً باطل ہیں اور جو شخص یہ تاویلیں کرتا یا ایسی تاویل کو جائز رکھتا ہے وہ کبھی اس کے مثل میں اور کبھی خود اسی میں خطا میں پڑ جاتا ہے بلکہ کبھی تاویل کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔“
اور شرح جمع الجوامع میں ہے۔
جاحد المجمع عليه من الدين بالضرورة كافر قطعاً .
”جس چیز پر اجماع قطعی ثابت ہو اس کا منکر کافر ہے۔ قطعاً“
اور علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے خیالی حاشیہ شرح عقائد میں لکھا ہے:
والتاويل فى ضروريات الدين لا يدفع الكفر
(حاشیہ نمبر ٢
خیالی ص ١٢٦۔
"اور ضروریات دین میں تاویل کرنا کفر سے نہیں بچا سکتا۔ اور شیخ اکبر محی الدین ابن العربی نے فتوحات میں فرمایا ہے:
التاويل الفاسد كالكفر.
(باب ٢٨٩ ج ٢ ص ٨٥٧٠)
تاویل فاسد کفر کی طرح ہے۔
اور وزیر یمانی کی ایثار الحق علی الخلق ص ٢٨١۔ میں ہے:
لان الكفر هو جحد الضروريات من الدين او تاويلها.
کیوں کہ کفر یہی ہے کہ ضروریات دین کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنا۔
قاضی عیاضؒ کی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفےٰ میں ہے:
وكذلك يقطع بتكفير من كذب او انكر قاعدة من قواعد الشريعة وما عرف يقينا بالنقل المتواتر من فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ووقع الاجماع المتصل عليه كمن انكر وجوب الله علينا في الكتاب الصلوة على الجملة وكونها خمسا و على هذا الصفات والشروط لا اعلمه اذ لم يروا في القرآن نص جلی
(شفاء)
"اور اسی طرح قطعی طور پر کافر کہا جائے گا اس شخص کو جو جھٹلا دے یا انکار کرے قواعد شرعیہ میں سے کسی قاعدہ کا یا اس چیز کا جو فعل رسول اللہ ﷺ سے نقل متواتر کے ساتھ یقینی طور پر معلوم ہوا ہے اور اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ جیسے کوئی پانچ نمازوں یا ان کی رکعات کے عدد یا سجدوں کا انکار کرے۔ اور یوں کہے کہ حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں نماز تو فی الجملہ واجب کی ہے۔ ان صفات اور شروط
کے ساتھ میں اس کو نہیں مانتا۔ کیونکہ اس کی قرآن میں کوئی نص جلی نہیں ہے۔
وكذلك انعقد اجماعهم على ان مخالفة السمع الضرورى كفر و خروج عن الاسلام .
(ص ١٢١)
ایسے ہی سب کا اجماع اس پر منعقد ہے کہ یقینی روایات کی مخالفت کفر اور اسلام سے خروج ہے۔
تنبیہ :
یہاں صحابہ و تابعین اور ائمہ دین کی تصریحات سے یہ بات واضح ہو چکی کہ تاویل کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے کا ضابطہ عام نہیں بلکہ وہ تاویل جو ضروریات دین کے خلاف کی جائے وہ تاویل نہیں بلکہ تحریف اور الحاد ہے اور باجماع امت کفر ہے اور اگر تاویل مطلقاً دفع کفر کے لئے کافی سمجھی جائے تو شیطان بھی کافر نہیں رہتا کہ وہ اپنے فعل کی تاویل پیش کر رہا ہے ۔ خلقتنى من نار وخلقته من طين‘ اسی طرح بت پرست مشرکین بھی کافر نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ ان کی تاویل تو خود قرآن میں مذکور ہے۔ ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفی ۔ اس سے واضح ہو گیا کہ جو تاویل کسی نص صریح یا اجماع یا ضروریات دین کے مخالف ہو وہ تاویل نہیں بلکہ تحریف اور تکذیب رسول ہے جس کا دوسرا نام الحاد و زندقہ ہے۔
قادیانی
- (١) ہم اس فرقہ ضالہ کے بحیثیت انسان مخالف نہیں، نہ ان کی عزت و آبرو کے
دشمن ہیں، لیکن ان کے فریب و قدح اور دجل و تلبیس سے بچنا ہم اپنا قدرتی حق سمجھتے ہیں۔
- (٢) یہ لوگ سیاسی طور پر مسلمانوں کے ساتھ صرف اس لیے رہنا چاہتے ہیں کہ
عام مسلمانوں کے حقوق سے فائدہ اٹھائیں، لیکن ان کا مذہبی اور معاشی مقاطعہ کر کے نہ صرف اپنی الگ قوت تعمیر کرتے، بلکہ مسلمانوں کی دینی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
- (٣) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ خواہ ظلی ہو یا
بروزی، نہ صرف اسلام پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ مسلمانوں میں انتشار عظیم پیدا کرنے کا باعث ہے۔
- (٤) یہی لوگ برٹش امپیریلزم کے کھلے ایجنٹ ہیں۔
- (٥) مسلمانوں میں ففتھ کالم کے طور پر کام کرتے ہیں۔
- (٦) ان کا وجود مسلمانوں کی داخلی زندگی کے لیے اسرائیل سے بھی زیادہ
خطرناک ہے۔
- (٧) انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے لیے اپنی نبوت کا کھڑاک رچا کر الہام کی
زبان میں سند مہیا کی ہے۔
- (٨) انگریزوں نے ان کے فرقے سے مسلمان ملکوں میں جاسوس کا کام لیا ہے۔
- (٩) انہیں مسلمانوں کی جمعیت میں سے حذف کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ
ان کا وجود نہ صرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی نظر میں خارج از اسلام ہے، بلکہ ان کی اپنی تحریروں میں درج ہے کہ یہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں، جب یہ عام مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے، تو پھر ان کی جماعت میں شامل رہنے پر مصر کیوں ہیں؟
- (١٠) انہوں نے مسلمانوں کی مقدس مصطلحات کو اپنے حواریوں اور اپنے
گماشتوں پر استعمال کر کے نہ صرف ان الفاظ کی قدر و قیمت کو ہلکا کیا ہے، بلکہ اس تقدس اور پاکیزگی کو بھی مجروح کیا ہے جو ان الفاظ و مصطلحات سے وابستہ ہے۔
- (١١) جو مسلمان اس فرقہ ضالہ کو مسلمانوں کا جزو خیال کرتے اور ان کے وسائل
سے مرعوب ہو کر اس تحریک کو محض احرار کی تحریک سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اسلام اور نفس اسلام کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور یہی وہ نقطہ نگاہ ہے جس سے مرزائیت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
چودھری افضل حق مرحوم
لیے اپنی نبوت کا کھڑاگ رچا کر الہام کی مان ملکوں میں جاسوس کا کام لیا ہے۔ حذف کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ا کی نظر میں خارج از اسلام ہے، بلکہ یا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں، جب ران کی جماعت میں شامل رہنے پر مصر
صطلاحات کو اپنے حواریوں اور اپنے کی قدر و قیمت کو ہلکا کیا ہے، بلکہ اس و صطلاحات سے وابستہ ہے۔ کا جزو خیال کرتے اور ان کے وسائل تحریک سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اسلام ان کے نزدیک اسلام بھی دوسرے اوہ نقطہ نگاہ ہے جس سے مرزائیت کی
چودھری افضل حق مرحوم
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لیے یادگاری ٹکٹ
محکمہ ڈاک کی حیرت ناک جسارت
مولانا محمد ازہر
الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى، اما بعد.
گزشتہ ماہ محکمہ ڈاک پاکستان نے معروف قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام آنجہانی کے لیے یادگاری ٹکٹ جاری کر کے پاکستان کے تمام مسلمانوں کی انتہائی دل آزاری اور ان کے دینی وملی احساسات و جذبات کو شدید مجروح کیا ہے۔ عبدالسلام قادیانی کون تھا؟ اسے نوبل انعام کیوں دیا گیا؟ پاکستان کے لیے اس نے کون سی ”خدمات“ انجام دیں؟ مادرِ وطن کو وہ کس نظر سے دیکھتا تھا؟ امت مسلمہ کے بارے میں اس کے نظریات کیا تھے؟ قادیانیت کے فروغ کے لیے اس نے کیا کچھ کیا؟ ان میں سے کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب اربابِ حکومت، اہل نظر بلکہ اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنے والے عام مسلمان کو معلوم نہ ہو۔
ڈاکٹر عبدالسلام نہ صرف قادیانی بلکہ قادیانی جماعت کا ایک ممتاز فرد، پُر جوش حامی اور سرگرم مبلغ تھا۔ اپنی زندگی میں پاکستان سے باہر رہتے ہوئے اس نے قادیانیت کی حمایت وتبلیغ کے اپنے فریضہ کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے نوبل انعام ملنے کے بعد اپنے نام اور پاکستانی ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عرب ممالک میں خود کو مسلمان بلکہ ”پہلا مسلمان سائنس دان“ کہلوانا شروع کیا۔ پھر ایک سازش کے تحت اسلامی ممالک کے سامنے ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ قائم کرنے کا نعرہ لگا کر پانچ کروڑ ڈالر تقریباً پچاسی ارب روپے ہتھیا لیے اور تعلیم اور سائنس کی آڑ میں سینکڑوں مسلمان نوجوانوں کو قادیانی بنایا۔
جہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو نوبل انعام دیئے جانے کا قصہ ہے تو محسن
پاکستان ایٹمی سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسی موقع پر ایک انٹرویو میں یہ حقیقت واشگاف کر دی تھی کہ یہودیوں نے آئن سٹائن کی صد سالہ برسی کے موقع پر فیصلہ کیا تھا کہ نوبل پرائز اپنی لابی میں جانا چاہیے۔ چنانچہ قرعہ فال ڈاکٹر عبدالسلام کے نام نکلا۔ یوں ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام یافتہ ہوئے۔ وگرنہ اہلیت کے لحاظ سے وہ اس عالمی انعام کے حق دار نہ تھے۔ ملاحظہ ہوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کیے گئے سوال و جواب کے الفاظ:۔
س: ...... ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو جو نوبل انعام ملا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے؟ ج: ...... وہ بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام ١٩٧٥ء سے اس کوشش میں تھے کہ انھیں نوبل انعام ملے۔ آخر کار آئن سٹائن (یہودی) کے صد سالہ یوم وفات پر ان کا مطلوبہ انعام دے دیا گیا۔ دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصہ سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے ہیں کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے۔ سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی (یہودیوں کا ہم نوا ہونے کی وجہ سے) انعام سے نوازا گیا۔ (ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور۔ ٦ فروری ١٩٧٩ء جلد ٢٧ شمارہ ٤)
پاکستان میں ڈاکٹر عبدالسلام متعدد کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ اسے ہر طرح کی سرکاری مراعات اور حسن کارکردگی کے مختلف ایوارڈوں سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری دی گئی۔ لیکن ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کو کیا دیا؟ کسی سائنسی شعبہ میں اپنی کوئی دریافت پیش کی؟ کونسا معرکہ سر کیا؟ اس کا جواب ان کے بہی خواہوں کے پاس بھی نہیں ہے۔
بلکہ مادر وطن سے ہر طرح کے مفادات اٹھانے اور اعزازات و مراعات حاصل کرنے والے احسان فراموش ڈاکٹر عبدالسلام کو جب نوبل انعام دیا گیا تو اس موقع پر اس نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:۔
”میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں۔ پھر مسلمان ہوں اور پھر پاکستانی“ (ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور ١٤ جون ١٩٩٠ء)
وطن عزیز کو ڈاکٹر عبدالسلام اور دوسرے قادیانی کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کے لیے ان کے جذبات کیا ہیں؟ اس کا اندازہ ڈاکٹر عبدالسلام کے ان ریمارکس سے ہو سکتا ہے جو اس نے پاکستان میں منعقدہ ایک سائنسی کانفرنس میں شرکت کے دعوت نامہ کے جواب میں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو لکھے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے
آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو اس نے مندرجہ ذیل ریمارکس کے ساتھ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو واپس کر دیا ۔ I do not want to set foot on this accursed land until the Constitutional Amendment is Withdrawn. ترجمہ: میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔
(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور۔ جون ١٩٨٦ء شمارہ ٢٢)
یہ آئینی ترمیم اب بھی دستور پاکستان کا لازمی حصہ ہے اور انشاء اللہ صبح قیامت تک جب تک محمد عربی ﷺ کے نام لیوا موجود ہیں۔ آئین پاکستان کا لازمی حصہ رہے گی۔ ظاہر ہے کہ اس ترمیم کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کے نزدیک پاکستان بدستور ایک ”لعنتی ملک“ ہے۔ اس سے عبدالسلام قادیانی اور دیگر قادیانیوں کی نظر میں پاکستان کی عزت و حرمت اور محبت واضح ہو رہی ہے۔
پاکستان سے نفرت کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالسلام کو پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا بھی پسند نہیں تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ آخری وقت تک پاکستان دشمن ممالک کے آلہ کار کے طور پر کام کرتا رہا۔ اسی لیے وہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ایٹم بم کے حوالہ سے شدید نفرت کرتا تھا جبکہ ان کے مقابلہ میں بھارت کے سائنس دان ڈاکٹر ”سوامی ناتھن“ اور بھارت کے ایٹمی کمیشن کے سربراہ ”بھابھا“ کی تعریف کرتا تھا اور انھیں ”فخر انڈیا“ قرار دیتا تھا۔ چنانچہ جب مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے برسر اقتدار آنے کے صرف ایک ماہ بعد ٢٠ جنوری ١٩٧٢ء کو پاکستان کے اندرون اور بیرون ملک سے چیدہ چیدہ سائنس دانوں کو ملتان میں جمع کیا اور ان کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کو جلد از جلد ایٹمی قوت بنا دینا چاہتے ہیں تو ان کے سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے نہ صرف اس سے اختلاف کیا بلکہ اسے ناممکن قرار دیا۔ پاکستان کے نامور صحافی جناب زاہد ملک نے اپنی کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اسلامی بم“ میں اس واقعہ کی روداد اور ڈاکٹر عبدالسلام کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ملاحظہ ہو (ص ١٢٣ طبع سوم ١٩٨٩ء)
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور دیگر قادیانیوں کی امیدوں، آرزوؤں اور سازشوں کے علی الرغم اللہ تعالیٰ نے مسلمانان پاکستان کو ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو یہ ہمت و توفیق عطا فرمائی کہ وہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ ”فالحمد لله على ذلک“ مسرت
وشکر کے اس موقع پر ہر محب وطن خوشی سے سرشار اور بارگاہ ایزدی میں شکر گزار تھا۔ لیکن قادیانی امت کے دلوں پر کیا بیت رہی تھی؟ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی رپورٹ کے مطابق:۔
”گزشتہ روز پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان کرتے ہوئے ربوہ کے سرکردہ قادیانیوں کے خفیہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ربوہ میں ہو کا عالم تھا۔ قادیانیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔“
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور۔ ٢٩ مئی ١٩٩٨ء)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے لندن میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر تضحیک آمیز تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:۔
”ایٹمی دھماکہ کر کے جشن منا لو۔ پتہ اس وقت لگے گا جب بھوک ناچے گی۔ جنونی دور ختم ہو گا تو ملک کا رہا سہا نظام بھوکے عوام اپنی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیں گے۔“ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور۔ ٩ جون ١٩٩٨ء)
ڈاکٹر عبدالسلام نے قادیانیت کے فروغ کے لیے کیا خدمات انجام دیں؟ ان کو جاننے کے لیے محمود مجیب اصغر قادیانی کے کتابچہ ”ڈاکٹر عبدالسلام“ کا صرف ایک اقتباس ہی کافی ہے:۔
”انھوں نے (ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی) نے دین (قادیانیت) کو دنیا پر ہمیشہ مقدم رکھا ہے اور سائنس دانوں اور بڑے بڑے لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ شاہ سویڈن کو نوبل انعام حاصل کرنے کے دنوں میں قرآن کریم (کا قادیانی ترجمہ) اور حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے اقتباسات کا انگریزی ترجمہ پہنچا کر آئے۔ اسی طرح شاہ حسن کو مراکش میں (قادیانی) لٹریچر دے کر آئے۔“
(ڈاکٹر عبدالسلام“ از محمود مجیب اصغر ص ٥٦)
طوالت کے خوف سے ہم اپنی معروضات ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے گھناؤنے کردار کی ایک جھلک تک محدود کر رہے ہیں۔ ورنہ اس کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جن خیالات یا ہفوات کا اظہار کیا ہے اس کے لیے ایک دفتر بھی ناکافی ہے اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے عقائد و نظریات بھی وہی تھے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے تھے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی
قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی نے جو گالی دنیا بھر کے مسلمانوں کو دی ہے۔ اس کے مقابل میں اگر سب مسلمان مل کر بھی اسے برا بھلا کہیں تو مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس نے اپنے مخالفوں کے لیے ”حرامی“ کی گالی تجویز کی ہے۔ جس میں مرزا کے زمانے کے تمام مسلمانوں سے لے قیامت تک کے سب چھوٹے بڑے مرد عورت بچے بوڑھے شامل ہیں۔“
حضرت افغانیؒ کا اشارہ مرزا قادیانی کی کتاب ”آئینہ کمالات“ کی اس عبارت کی طرف ہے۔ جس میں اس نے اپنے نہ ماننے والوں کو ”ذریۃ البغایا“ (کنجریوں کی اولاد) قرار دیا ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
یہی بات مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”انوار اسلام“ کے صفحہ ٢٠ پر لکھی ہے کہ: ”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے شوق ہے۔ وہ حلال زادہ نہیں۔“
ہمیں پورا یقین ہے کہ پاکستان بلکہ تمام عالم کے مسلمانوں کی طرح صدر پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ، وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف، چیف آف آرمی سٹاف، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور قومی اسمبلی و سینٹ کے سپیکر و چیئرمین، مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب، دجال اور نبوت کا جھوٹا دعویدار سمجھتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام معززین کو جو گالی مرزا غلام احمد قادیانی نے اور مرزا کے پیروکار ہونے کی وجہ سے بالواسطہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے دی ہے۔ کیا اس کے بعد بھی یہ شخص اس اعزاز کا مستحق ہے کہ اس کے لیے یادگاری ٹکٹ جاری کیے جائیں؟ کیا محکمہ ڈاک کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اسلام، اہل پاکستان اور سرزمین پاک کے متعلق گستاخانہ اور باغیانہ نظریات رکھنے والے اور ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو ”ذریۃ البغایا“ (کنجریوں کی اولاد) کہنے والے شخص کی اس طرح عزت افزائی کرے؟
ہمارے نزدیک ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لیے یادگاری ٹکٹ جاری کرنا محکمہ ڈاک کی سنگین غلطی اور انتہائی قابل ملامت فعل ہے۔ محکمہ ڈاک کے ذمہ داران کو ان ٹکٹوں کی اشاعت فوری طور پر روکنی چاہیے اور موجودہ سٹاک کو ضائع کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے اس قبیح فعل کی معافی مانگنی چاہیے اور اپنی اسی توبہ کا اعلان اور تشہیر کرنی چاہیے۔ ہم عقیدہ ختم نبوت پر یقین رکھنے والے تمام مسلمانوں سے بھی استدعا کرتے ہیں کہ وہ ان مکروہ ڈاک ٹکٹوں کو استعمال میں نہ لائیں اور ان کی اشاعت روکنے کے لیے اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
کیا مرزا قادیانی عورت تھی؟
حضرت مولانا عنایت اللہ چشتی رحمتہ اللہ چکرالہ ضلع میانوالی کے رہنے والے تھے۔ ١٩٣٤ء میں مجلس احرار اسلام کی طرف سے شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت کے دفتر قادیان میں تعینات ہوئے اور مرزائیوں کو للکارتے رہے۔ مولانا مرحوم کی بے شمار تحریریں ہیں۔ ذیل کی تحریر ایک مختصر رسالہ کی صورت میں ١٩٣٤ء میں لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ اتفاقاً محفوظ رہ گئی سند مکرر کے طور پر قارئین کی نذر ہے۔ (مدیر)
نبوت کمالات انسانی کا آخری مرتبہ ہے۔ اس سے پہلے کئی مرتبے اور درجے ہیں۔ کوئی نبی بھی ان مراتب و درجات سے محروم نہیں۔ مثلاً مدعی نبوت کے لیے ضروری ہے کہ (١) مرد ہو عورت نہ ہو۔ (٢) مسلمان ہو (٣) صالح ہو (٤) صاحب مکالمہ و مخاطبہ ہو (٥) اس کے الہام قطعی سچے ہوں۔ جھوٹے نہ ہوں۔ چونکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے۔ اس لیے ہر صاحب عقل طالب صدق و صفا کو حق ہونا چاہیے کہ مراتب مذکورہ کے متعلق جو نبوت کے لیے بمنزلہ سیڑھی کے ہیں۔ دل کھول کر بلا حجاب گفتگو کر سکے۔ لیکن مرزا اور اس کے مخلص پیروکاروں کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا تو پہلی مرتبہ (یعنی یہ کہ مرزا مرد تھا یا عورت) میں ایسا سرگردان ہو گا کہ اس کے لیے کوئی یقینی فیصلہ کرنا سعی لاحاصل ہو گا بلکہ اہل انصاف کو تو مجبوراً عورت ہی کہنا پڑے گا۔ میں چند عبارتیں مع حوالہ جات صفحہ و سطر ہدیہ ناظرین کر کے مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ امکان نبوت پر گفتگو کرنا لفظ نبی کی توہین ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے موضوع گفتگو یہ رکھیں۔ کہ مرزا مرد تھا یا عورت۔ جب یہ مرحلہ طے ہو جائے۔ تو مسلمان تھا یا کافر۔ علیٰ ہذا القیاس۔ بتدریج نبوت تک پہنچیں۔ مرزا کی کتابوں میں اس قدر مواد موجود ہے کہ اس کے حالی موالی اللہ کے فضل سے پہلی مرتبہ ہی
فیل ہو جائیں گے۔
مندرجہ ذیل امور مرزا کے کلام سے ثابت ہوتے ہیں۔
- (١) پردے میں نشوونما پانا (٢) حیض کا آنا
- (٣) اس سے خدا کا بدفعلی کرنا (٤) مرزا کا حاملہ ہونا
- (٥) دردِ زہ سے تکلیف پانا۔ جو سراسر عورت کے خواص ہیں۔
ا۔ پردے میں نشو و نما پانا
دو برس تک میں نے صفت مریمیت میں پرورش پائی اور پردے میں نشوونما پاتا رہا۔ کشتی نوح صفحہ ٤٦ سطر ٢١ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان۔
٢۔ حیض کا آنا
”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدائے تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ ”وہ“ ”بچہ ہو گیا ۔“ اربعین نمبر ٤ صفحہ ١٩ حقیقت الوحی صفحہ ١٤٣ (وہ کا لفظ حیض ہونے کی تصدیق کر رہا ہے۔ جو بعد میں بچہ ہو گیا۔ سوال و جواب کی بے ربطی کو دیکھو۔ سبحان اللہ واہ نبی صاحب۔ مؤلف)
٣۔ خدا کا مرزا صاحب سے بدفعلی کرنا
قاضی محمد یار بی۔ اے۔ ایل پلیڈر جو مرزا صاحب کے خاص مرید ہیں اور بعد میں ہجرت کر کے قادیان چلے گئے تھے۔ اصل وطن نور پور ضلع کانگڑہ۔ اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر میں لکھتے ہیں۔
”کہ آپ پر (مرزا صاحب) اس طرح حالت طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔“ (١) (سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے)
قاضی صاحب کے بیان کی تائیدات خود مرزا صاحب کی کتابوں میں بکثرت ملتی ہیں۔ اختصاراً دو تین پر اکتفا کرتا ہوں۔ مثلاً براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ٦٣ سطر ١٢
(١) مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے۔ جو قابل بیان نہیں۔ (افسوس قاضی صاحب نے بیان کر دیا۔ مؤلف)
- (٢) براہین حصہ پنجم صفحہ ٦١ شانک عجیب۔ اے مرزا تیرے حسن کی شان ہی عجیب ہے۔“
- (٣) انجام آتھم صفحہ ٥٥۔
انت من مائنا۔ اے مرزا تو میرے پانی سے ہے (یعنی تجھے میرا مخصوص پانی سیراب کرتا ہے۔ (مولف)
یحمدک الله من عرشه و یمشی الیک عرش سے خدا تیرے محاسن بیان کرتا ہوا تیری طرف آ رہا ہے۔ اكان للناس عجباً آیا اس تعلق کو لوگ عجب سمجھتے ہیں۔ قل ھو الله عجیب۔ لوگوں کو کہہ دے کہ میرا خدا ہے ہی عجیب۔ کمثلک در لایضاع۔ تیرے جیسے موتی نہیں ضائع کیے جاتے۔ انت مرادی۔ میری تیرے سوا مراد ہی نہیں صفحہ ٥٩ کتاب مذکور سرک سری۔ تیرا میرا بھید ہی ایک ہے۔
طوالت اجازت نہیں دیتی ورنہ اس قسم کی ہزاروں عبارتیں ہیں۔ جو قاضی صاحب کی تائید کرتی ہیں۔ مولف
مرزا قادیانی کا خدا
مضمون بالا سے ناظرین کو ایک گونہ تشویش ہو گی کہ خدا بھی ایسے کام کرتا ہے۔ اس تشویش کو دور کرنے کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مرزا کا خدا کون تھا؟ بلاشبہ رب العلمین کی نسبت ایک لمحے کے لیے ایسا تصور کرنا انسان کو اسلام سے دور کر دیتا ہے۔ لیکن جب ناظرین پر مرزا کا خدا واضح ہو جائے گا تو تصدیق کریں گے کہ بیشک سچ ہے اور یونہی ہونا چاہیے۔
حقیقت الوحی صفحہ ١٠٣۔ البشریٰ جلد دوم صفحہ ٧٩۔ انی مع الرسول اجیب۔ اخطی واصیب۔ خطا بھی کرتا ہے اور کبھی خطا سے بچ بھی جاتا ہے۔ البشریٰ جلد دوم صفحہ ٧٩ اصلی و اصوم۔ اسہر و انام۔ نماز پڑھوں گا۔ روزہ رکھوں گا۔ جاگوں گا۔ سوؤں گا۔ ان دو عبارتوں سے مندرجہ ذیل اوصاف مستنبط ہوتے ہیں۔ خطاء کرنا۔ کبھی بچ جانا۔ نماز پڑھنا۔ روزہ رکھنا۔ جاگنا۔ سونا جو سراسر انسان کے خواص ہیں اور انسان تو رات دن ایسے کام کرتے ہی ہیں۔ مرزا صاحب سے کسی (شیطان) نے کر لیا اور فرطِ محبت میں آ کر مرزا صاحب نے اسے خدا سمجھ لیا یا کہہ دیا۔ تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرزا صاحب کا ایک عجیب پر راز و نیاز الہام جس کے صحیح معنی آج تک کسی نے نہیں کیے اللہ نے اپنے فضل و کرم سے مجھ پر
منکشف کیے ہیں لیکن تہذیب، تفصیل کی اجازت نہیں دیتی کہ اسے رقم کیا جائے۔ الہام یہ ہے۔ ”رہنا حاث“ (شائقین حضرات زبانی دریافت کر سکتے ہیں۔ مولف)
٤۔ مرزا کا حاملہ ہونا
حقیقت الوحی کا حاشیہ صفحہ ٣٣٧....... ”پھر وہ مریم (یعنی مرزا صاحب) عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی۔“ کشتی نوح صفحہ ٤٧...... ”مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں...... الخ
٥۔ دردِ زہ سے تکلیف پانا
کشتی نوح صفحہ ٤٧...... ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردِ زہ نے کھجور کی طرف لے گئی۔“
ضروری عرضداشت
مذکورہ حوالہ جات کو دیکھ کر ایک منصف تو مجبورا فیصلہ کرے گا کہ مرزا ایک فاحشہ عورت تھی۔ کیونکہ ان حوالہ جات کا انکار کرنا ممکن ہی نہیں جس شخص نے خود مرزائے آنجہانی کو دیکھا یا فوٹو جو ”حقیقت الوحی“ میں دیا گیا ہے۔ اس کی نظر سے گزرا تو وہ بھی یقینا کہے گا کہ مرزا عورت نہیں بلکہ ایک خاصہ بھلا دھڑیل مرد تھا اور جس کے سامنے دونوں پہلو موجود (یعنی حوالہ جات مذکورہ اور فوٹو) تو وہ عجب کش مکش میں پڑ جائے گا اور اسے ضرور ایک درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ جو مرزا محمود کے متعلق اخبار ”مباہلہ“ اور رسالہ ”تائید الاسلام“ اچھرہ میں چھپ چکا ہے اور آج تک کسی قادیانی کو تردید کی جرأت نہیں ہوئی۔ جو بمنزلہ تصدیق سمجھی جاتی ہے اور بعید نہیں کہ مرزا محمود کو یہ صفت وراثت میں ملی ہو اور بہت ممکن ہے کہ یہ غریب بدو کھجوریں، چھوٹی الائچی وغیرہ فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ کئی جگہوں پر کھلونوں کی دکانیں بھی تھیں۔ اکثر مقامات پر کھانے پینے کے سامان سے لدے ہوئے گٹھے ٹال بھی تھے۔
مسجد نبوی ﷺ سے ملحق بائیں طرف ایک بہت بڑا بازار ہے جس میں دنیا جہان کی ہمہ قسم اشیاء خریدنے کو ملتی ہیں۔ مختلف دکانوں پر لکھا ہوا تھا۔ کل شی ٢ ریال ”کل شی ٥ ریال“ سونے کے زیورات سے لدی ہوئی دکانیں کہ جن میں منوں کے حساب سے نہیں تو سیروں کے حساب سے سونا ضرور ہو گا مگر مجال ہے کہ کبھی کوئی چوری ڈاکہ کی واردات ہوئی
ہو۔ ہر طرف امن ہی امن ہے۔ یہ سب کچھ اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی برکت ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی یاترا سے واپس آنے والے مذہب بیزار لوگ وہاں کے قصیدے پڑھتے ہوئے نہیں تھکتے اور مکہ مدینہ کا نام لیتے ہوئے ان کی زبانوں میں بل پڑ جاتا ہے۔ جہاں سکون ہی سکون ہے۔ شر اور فساد نام کو نہیں۔ ذہنی طور پر بھی کہیں شور شرابا نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی آڈیو کیسٹوں کی دکانوں پر بھی تلاوت کی آواز دکان کے اندر داخل ہوں تو سنائی دیتی ہے۔ سڑکیں صاف ستھری ہیں۔ ٹریفک کے حوالے سے ایک بات قابل ذکر ہے کہ پیدل چلنے والے نے سڑک کراس کرنے کے لیے سڑک پر پاؤں رکھا اور سو کلو میٹر کی رفتار سے چلتی ہوئی گاڑی فوراً ہلکی ہو گئی۔ کھانے پینے کی اشیاء یہاں تک کہ سوئٹس۔ ٹافی۔ بیکری کے پیک سامان پر بھی اس کی ایکسپائری کی تاریخ درج ہے۔ آپ نے مشروب پی کر بوتل سڑک یا فٹ پاتھ پر پھینک دی۔ اسی وقت ڈیوٹی پر کھڑا پیلی وردی میں ملبوس خاکروب آئے گا اور بوتل اٹھا کر ڈرم میں ڈال دے گا۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ میں بیرونی حد کے جنگلوں کے ساتھ مختلف ملکوں سے آنے والے زائرین کے بیسیوں قیمتی اٹیچی کیس' بریف کیس اور بیگ لٹکے رہتے ہیں۔ کوئی سپاہی یا کوئی چوکیدار وہاں کھڑا نظر نہیں آتا اور کسی دوسرے کو جرات نہیں کہ انھیں ہاتھ لگا سکے۔ پتہ ہے کہ یہاں ہاتھ کاٹ کر ہمیشہ کے لیے ایک عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔
سلسلہ بہت دور تک چلا جائے۔ کیونکہ مرزا صاحب اپنے آپ کو بڑے شد و مد سے فارسی النسل ثابت کرتے ہیں اور یہی لوگ اولین سابقین سے ہیں۔ جنھوں نے لڑکوں سے تعیش ظاہر کیا اور عشقیہ اشعار کولڑکوں پر چسپاں کیا۔ تاریخ دانوں پر پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ ایک متنبی گزرا ہے۔ جس کا نام ابن ابی زکریا الطامی تھا۔ اس نے اپنی خود ساختہ شریعت میں لونڈے بازی جائز کر رکھی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھو۔ الاثار الباقیہ ابی ریحان البیرونی صفحہ ٢١٣۔ ایک اور شق بھی باقی ہے کہ عورت کی داڑھی ہو؟ چنانچہ مرزا صاحب کے ایک خاص مرید لکھتے ہیں کہ ”لندن میں ایک عورت کی دس فٹ لمبی داڑھی دیکھی گئی۔ لیکن یاد رہے میری غرض اس بیان سے تو ہے نہیں بلکہ استفسار و اظہار حق ہے۔ فی ذاتہ میں اس معاملے میں متردد ہوں اور ناظرین سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب صحیح نتیجے پر پہنچا ہو۔ تو مجھے اطلاع دے کر عند اللہ ماجور ہو واللہ اعلم بالصواب والیہ مرجع والماب۔ خاکسار عنایت اللہ (خوشہ چین دارالعلوم اچھرہ ١٨ اکتوبر ١٩٣٣ء)
(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان ۔ اپریل ١٩٩٨ء)
جنگ یمامہ
الطاف علی قریشی
جب رسول کریم ﷺ نے ٦ یا ٧ ہجری میں شاہان عالم کو خطوط روانہ کیے تو ایک خط ہوذہ بن علی الحنفی اور اہل یمامہ کے نام بھی تحریر فرمایا تھا، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی تھی اور یہ خط سلیط بن قیس الانصاری ثم الخزرجی کے ہاتھ روانہ فرمایا۔ ان لوگوں نے خدمت اقدس میں اپنا وفد بھیجا۔ وفد میں ایک شخص مجاعہ بن مرارہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے جاگیر میں ایک افتادہ زمین عطا فرمائی، جس کی اس نے درخواست کی تھی۔ اس وفد میں ایک شخص الرجال بن عنفوہ تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور سورۃ البقر اور قرآن مجید کی دوسری سورتیں پڑھیں اور انہی میں ایک شخص مسیلمہ کذاب ثمامہ بن کبیر بن حبیب تھا۔ مسیلمہ نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ ﷺ کی نبوت کا مسئلہ فی الحال چھوڑ دیں اور اس شرط پر آپ ﷺ سے بیعت کر لیں کہ آپ کے بعد یہ نبوت ہمیں ملے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، آنکھ جیسی نعمت کی قسم ہرگز نہیں، بلکہ خدا تجھے غارت کرے۔“
جب بنی حنیفہ کا وفد یمامہ واپس آیا تو مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ الرجال بن عنفوہ نے اس کے دعوے پر شہادت دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اپنے ساتھ شریک امر کر لیا ہے۔ بنی حنیفہ اور ان کے علاوہ دیگر اہل یمامہ اس کی پیروی کرنے لگے۔ اس نے پھر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں خط بھیجا۔ ”مسیلمہ رسول اللہ کی جانب سے محمد رسول اللہ کے نام۔ اما بعد، نصف زمین ہماری اور نصف قریش کی مگر قریش انصاف نہیں کرتے۔ والسلام علیک۔“
رسول اللہ ﷺ نے اس کے جواب میں تحریر کیا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد نبی اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ زمین اللہ کی ملک ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اس کا وارث بنا دیتا ہے، عاقبت پرہیز گاروں کے لیے ہے اور سلامتی اس پر، جو راہ راست پر چلے۔“
حضور اکرم ﷺ چونکہ سراپا شفقت و رحمت تھے، آپ ﷺ نے بارہا مسیلمہ کو عذاب آخرت سے ڈرایا اور دعوت حق دی مگر وہ باز نہ آیا۔
درحقیقت جس بات نے مسیلمہ کی طاقت میں اضافہ کیا، وہ نہار الرجال کا اس سے مل جانا تھا۔ یہ شخص اسی علاقے کا رہنے والا تھا اور ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گیا تھا۔ اس نے قرآن مجید پڑھا اور دین کی تعلیم حاصل کی، چونکہ بڑا ذہین تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے اہل یمامہ کو دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور لوگوں کو مسیلمہ کی متابعت سے روکنے کے لیے بطور معلم خود روانہ کیا تھا، لیکن وہ مسیلمہ سے بھی زیادہ فتنہ پرور نکلا۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ مسیلمہ کی اطاعت قبول کرتے جارہے ہیں تو وہ لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخرو کرنے کے لیے ان سے مل گیا اور مسیلمہ کی چرب زبانی اور لالچ دلانے پر مرتد ہوگیا اور رسول اللہ کی جانب سے یہ جھوٹا قول بھی منسوب کر دیا کہ مسیلمہ کو ان کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ اہل یمامہ کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے تھا کہ نہار الرجال مسیلمہ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے، چنانچہ لوگ جوق در جوق مسیلمہ کے پاس آنے لگے اور بنی حنیفہ کے رسول کی حیثیت سے اس کی بیعت کرنے لگے۔ مسیلمہ نے یمامہ میں حرم بھی متعین کر لیا اور چند دنوں میں اس کی قوت میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ مسیلمہ نے نہار الرجال کو اپنا خاص معتمد بنالیا اور اس کے مشورے سے نبوت کے کام انجام دینے لگا اور اس کے عوض نہار الرجال کو دنیا بھر کی نعمتیں میسر آگئیں۔
علامہ بلاذری لکھتے ہیں کہ مسیلمہ کا قد ٹھگنا، چہرہ نہایت زرد اور ناک چپٹی تھی اور ابو ثمامہ اس کی کنیت تھی۔ بعض ابو ثمالہ کہتے ہیں۔ ایک شخص جس کا نام حجیر تھا، اس کے لیے اذان دیتا تو کہتا تھا ”اشہد ان مسیلمہ یزعم انہ رسول اللہ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ مسیلمہ رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے) اس پر ایک نے کہا ”افصح حجیر“ یعنی حجیر بڑا فصیح ہے اور اس کا یہ فقرہ ضرب المثل ہوگیا۔ البتہ تاریخ طبری (جلد ٣ صفحہ ٢٤٤) میں مذکور ہے کہ مسیلمہ کے ہاں نبی اکرم ﷺ کے لیے اذان کہی جاتی تھی اور اذان میں برابر اشہد ان محمد رسول اللہ کی گواہی دی جاتی تھی اور مسیلمہ کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ تھا اور اقامت حجیر بن عمیر کہتا تھا۔ مگر جب مسیلمہ کے ایلچی جن میں یہ عبداللہ بن نواحہ بھی موجود تھا، آنحضرت ﷺ کے حضور حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھا:
حضور ﷺ: ما تقولان انتما یعنی تمہارا مسیلمہ کے دعویٰ نبوت کے متعلق کیا عقیدہ
ہے؟
ایلچی: نقول کما قال یعنی جو حضرت مسیلمہ کہتے ہیں، ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
مسیلمہ کی ترقی کا راز دراصل قومی عصبیت اور قبائلی خود مختاری کا جذبہ تھا، وگرنہ جہاں تک اس کے معجزات دکھانے کا تعلق ہے، نہ لوگوں نے اس کا کوئی معجزہ دیکھ کر اسے قبول کیا اور نہ اس کی خود ساختہ وحی سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لائے۔ مندرجہ ذیل واقعہ اس قومی عصبیت کی نشاندہی کے لیے کافی ہے۔
ایک رئیس طلحہ نمری یمامہ آیا تو اس نے لوگوں سے پوچھا: ”مسیلمہ کہاں ہے؟“ ”تم اس کا نام اس قدر بے ادبی سے لیتے ہو، حالانکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ لوگوں نے کہا۔ اس نے کہا کہ میں تو اس کو اس وقت تک رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں، جب تک اس سے مل نہ لوں۔ تم مجھ کو اس کے پاس لے چلو۔
مسیلمہ کے پاس پہنچ کر طلحہ نے پوچھا: ”تمہارے پاس کون آتا ہے؟“ ”رحمان۔“ مسیلمہ نے جواب دیا۔ ”روشنی میں یا اندھیرے میں؟“ ”اندھیرے میں۔“
اس پر طلحہ بولا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تو کذاب ہے اور محمدﷺ سچے ہیں، لیکن اپنا کذاب ہمیں دوسروں کے سچے سے زیادہ محبوب ہے۔“ چنانچہ اس نے مسیلمہ کی اطاعت قبول کر لی اور اسی کے ہمراہ جنگ یمامہ میں لڑتا ہوا مارا گیا۔ مسیلمہ کے برخلاف اصل میں حضرت ابوبکر صدیق نے عکرمہ بن ابی جہل کو بھیجا تھا اور اس کے پیچھے شرجیل بن حسنہ کو ایک لشکر دے کر اس کی مدد کے لیے روانہ کیا تھا۔ عکرمہ یمامہ کی جانب بڑھتا چلا گیا اور شرجیل کے پہنچنے کا انتظار نہ کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ مسیلمہ پر فتح یاب ہونے کا فخر تنہا اسی کے حصہ میں آئے۔ عکرمہ ایک تجربہ کار ماہر جنگ اور دشمن کو خاطر میں نہ لانے والا شہسوار تھا۔ اس کی فوج میں بڑے بڑے بہادر شامل تھے، جو پچھلی جنگوں میں لوگوں پر اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مسیلمہ کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکا اور بنو حنیفہ نے اسے شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ عکرمہ نے اپنی ہزیمت کا سارا حال حضرت ابوبکر کو لکھ بھیجا، جسے پڑھ کر ان کے غصہ کی انتہا نہ رہی اور انہوں نے عکرمہ کو لکھا:
”اے ابن ام عکرمہ ! (اے عکرمہ کی ماں کے بیٹے) میں تمہاری صورت دیکھنے کا مطلق روادار نہیں۔ تم واپس آ کر لوگوں میں بددلی پھیلانے کا باعث نہ بنو، بلکہ حذیفہؓ اور عرفجہؓ کے پاس جا کر اہل عمان اور مہرہ سے لڑو اور ان کے دوش بدوش مرتدین سے جنگ میں حصہ لو۔“
مسیلمہ کی قوت بڑھ جانے اور اس کے مقابلے میں عکرمہؓ کے شکست کھانے کے باعث حضرت ابوبکرؓ کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ خالدؓ بن ولید کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے شرجیلؓ بن حسنہ کو لکھا کہ جب تک خالدؓ اس کے پاس نہیں پہنچ جاتے، وہ جہاں پہنچ چکا ہے، وہیں ٹھہرا رہے۔
بطاح سے خالدؓ اپنے لشکر اور حضرت ابوبکرؓ کی بھیجی ہوئی کمک لے کر بنی حنیفہ سے جنگ کرنے روانہ ہوئے۔ جو کمک حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھیجی تھی، وہ تعداد اور قوت میں خالدؓ بن ولید کے اصل لشکر سے کم نہ تھی۔ اس میں مہاجرین اور انصار کے علاوہ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے زمانے میں کفار سے لڑائیاں لڑی تھی، ان قبائل کے لشکر بھی شامل تھے، جن کا شمار عرب کے طاقتور اور جنگجو قبائل میں ہوتا تھا۔ انصار ثابتؓ بن قیس اور براءؓ بن مالک کی سرکردگی میں تھے اور مہاجرین ابو حذیفہؓ بن عتبہ اور زیدؓ بن خطاب کے ماتحت تھے۔ ان لوگوں میں قرآن مجید کے حافظوں اور قاریوں کی بھی بھاری تعداد تھی۔ اس طرح ایک خاص دستہ ان صحابہ کا بھی تھا، جنہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا۔ لشکر کی کل تعداد تیرہ ہزار بتائی گئی ہے۔
ابھی خالدؓ یمامہ کے راستہ ہی میں تھے کہ مسیلمہ کی فوجوں نے شرجیلؓ کی فوجوں سے ٹکر لی اور اسے پیچھے ہٹا دیا۔ بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ شرجیلؓ نے بھی وہی کیا، جو اس سے پہلے عکرمہؓ کر چکے تھے۔ یعنی وہ مسیلمہ پر فتح یابی کا فخر خود حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں بھی شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ جب خالدؓ اس کے پاس پہنچے اور انہیں واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے شرجیلؓ کو بہت سرزنش کی۔ خالدؓ کا خیال تھا کہ اگر دشمن سے ٹکر لینے کی طاقت نہ ہو تو اس کے مقابلے سے گریز کرنا چاہئے، جب تک کہ مطلوبہ طاقت حاصل نہ ہو جائے، بہ نسبت اس کے کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود دشمن سے لڑائی مول لی جائے اور نتیجے میں شکست کھانی پڑے۔
حضرت خالدؓ نے دونوں لشکروں کے ہمراہ یمامہ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اسی
دوران بنی حنیفہ کا ایک سردار مجاعہ بن مرارہ، بنی عامر اور بنی تمیم کے چند اشخاص سے اپنے کسی رشتہ دار کے قتل کا انتقام لینے کے لیے کچھ لوگوں کے ہمراہ نکلا۔ اس نے ان قبائل میں پہنچ کر اپنا قصاص لیا اور واپس چل پڑا۔ جب وہ لوگ ثنیۃ الیمامہ پہنچے تو تھکاوٹ کی وجہ سے بے خبر ہو کر سو گئے۔ اتنے میں حضرت خالدؓ کا لشکر وہاں پہنچ گیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے۔ حضرت خالدؓ کو معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس خیال سے کہ یہ ان سے لڑنے نکلے ہیں، انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے لڑنے کے لیے نہیں بلکہ بنو تمیم سے انتقام لینے کے لیے نکلے تھے۔ اس پر حضرت خالدؓ نے پوچھا: ”اسلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“
انہوں نے کہا: ”ایک نبی ہم میں ہے اور ایک نبی تم میں ہے۔“
اس پر حضرت خالدؓ نے انہیں قتل کرا دیا۔ اس وقت ایک آدمی ساریہ بن عامر نے عین اس وقت جو تلوار اس کا گلا کاٹنے والی تھی، مجاعہ کی طرف اشارہ کر کے کہا: ”اگر تم دربار یمامہ کو اپنے تصرف میں لینا چاہتے ہو تو مجھے اور اس شخص کو اپنی پناہ میں لے لو۔“
حضرت خالدؓ نے مجاعہ کو، جو کہ بنی حنیفہ کے سرداروں میں سے تھا، اس خیال سے قتل نہ کیا کہ شاید آگے چل کر اس سے کچھ کام نکل سکے۔ چنانچہ اسے لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ کر اپنے خیمے میں ڈال دیا۔
خالدؓ اسی روز جب انہوں نے مجاعہ کو قید کیا تھا، مسیلمہ کی فوج کے مقابلے میں آ گئے۔ مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا، جو یمامہ کی سرحد پر اس کے کھیتوں اور سرسبز علاقے کے سامنے واقع ہے اور سارا مال و اسباب لشکر کے پیچھے رکھا۔ اس کا لشکر چالیس ہزار اور بعض روایتوں کے مطابق ستر ہزار تھا۔ ایسے عظیم الشان لشکر سے مسلمانوں کا واسطہ کم ہی پڑا تھا۔ تمام عرب بلکہ ایرانی باشندے بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے۔ مسیلمہ کا لشکر اس پر کامل ایمان رکھتا تھا اور اس کی راہ میں کٹ مرنے پر تلا ہوا تھا۔ علاوہ ازیں حجاز و عرب کی دیرینہ دشمنی بھی مسلمانوں کے خلاف بنی حنیفہ کے اس جوش و خروش میں مزید اضافے کا باعث بنی۔ بنی حنیفہ کے بڑے سردار محکم بن طفیل جسے محکم الیمامہ کے منصب پر فائز کیا گیا تھا، اس نے اپنے علاقے کے تمام مشاہیر کو طلب کر کے کہا: ”خالدؓ بن ولید تمہاری تخریب اور بربادی کے لیے ایسی فوج کے ساتھ آیا ہے، جو حیات ابدی کے لیے اپنی جان عزیز کو ذلیل سمجھتے ہیں،“ اس پر اہالیان یمامہ نے جواب دیا: ”لڑائی میں ہم
ایسی بہادری دکھائیں گے کہ خالد اپنی جرأت پر نادم ہوگا اور اگر موت کے پنجے سے رہائی پاسکے تو مدینہ پہنچ کر ہی دم لے گا۔ ”محکم بن طفیل نے ان کی تعریف کی اور کہا: ”تمہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔“
حضرت خالد بن ولید اپنی مسند پر بیٹھے تھے اور عمائد واشراف ان کے پاس تھے کہ فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ بنی حنیفہ کی سمت سے روشنی دیکھی تو حضرت خالد نے کہا: ”اے مسلمانو! اللہ نے تمہیں دشمنوں کے بارے میں سبکدوش کر دیا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان میں بعض نے بعض پر تلواریں کھینچ لی ہیں۔ میرا خیال ہے ان میں باہم اختلاف ہو گیا ہے اور ان کی قوت آپس میں صرف ہونے لگی ہے۔“
مجاعہ جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا حضرت خالد کے عقب میں موجود تھا، اس روشنی کو دیکھ کر کہنے لگا کہ جو بات آپ سمجھے ہیں، یہ نہیں ہے بلکہ یہ چمک بنی حنیفہ کی ہندی تلواروں کی ہے، جن کے لڑائی میں نکمے ہو جانے کے خوف سے انہوں نے ان کو نرم کرنے کے لیے دھوپ دکھائی ہے اور واقعہ بھی یہی تھا۔
لڑائی کا میدان جنگ وادئ حنیفہ تھا۔ وادی کا شمالی کنارہ تقریباً سو فٹ اونچا تھا اور جنوبی کنارہ دو سو فٹ۔ وادی کے شمال میں جبیلہ کی بستی کے پاس مسیلمہ کی فوج کا پڑاؤ تھا اور اس کے پیچھے عقرباء کا میدان اور تقریباً دو میل دور وہ اباض نامی باغ، جسے مسیلمہ کی ملکیت کی وجہ سے ”حدیقۃ الرحمان“ کہا جاتا تھا، واقع تھے، اس کے برعکس اسلامی فوج وادی کے جنوب میں خیمہ زن تھی۔ مسیلمہ نے اپنی فوج کی صف بندی اس طرح کی تھی کہ میمنہ پر محکم بن طفیل اور میسرہ پر نہار الرجال اور قلب کو اپنی کمان میں رکھا اور اس کے مقابلے میں حضرت خالد بن ولید نے میمنہ زید بن الخطاب میسرہ ابو حذیفہ اور قلب اپنی کمان میں رکھا۔
جنگ یمامہ شروع شوال 11 ہجری (دسمبر 632ء) میں ہوئی اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے مسیلمہ کا لڑکا بنی حنیفہ کی صفوں میں پھر کر اپنے آتشیں کلام سے ان کی غیرت و حمیت کی آگ بھڑکاتے ہوئے کہتا پھر رہا تھا کہ اے بنو حنیفہ! آج تمہاری غیرت کا امتحان ہے، اگر تم شکست کھا گئے تو تمہارے پیچھے تمہاری عورتیں لونڈیاں بنالی جائیں گی اور ان کے نکاح زبردستی دوسرے لوگوں سے کر دیئے جائیں گے۔ اس لیے اپنے حسب و نسب کی خاطر مسلمانوں سے جنگ کرو اور اپنی عورتوں کی عزت بچاؤ۔
حضرت خالد کے ماتحت عرب کے مشہور شہسوار تھے۔ زید بن الخطاب، عبداللہ بن
عمرؓ، ابودجانہؓ جنہوں نے جنگ احد میں رسول کریم ﷺ کو تیروں اور تلواروں کی زد سے اپنی پشت پر سنبھالا۔ حضرت عبدالرحمنؓ بن ابوبکرؓ، معاویہؓ بن سفیانؓ، ام عمارہؓ جو جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک تھیں اور حضرت وحشیؓ۔
حضرت خالدؓ نے فوج کو حملے کا حکم دیا تو وہ اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے۔ قلب اور دونوں بازو یکبار دشمن پر ٹوٹ پڑے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اور جو شخص بھی خالدؓ کی زد میں آیا بچ کر نہ جاسکا، لیکن بنو حنیفہ اپنی جگہ ڈٹے رہے اور بڑی بے جگری سے مقابلہ کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد مسلم لشکر میں کمزوری کے نشان ظاہر ہونے لگے اور بدقسمتی سے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مہاجرین و انصار اور بدویوں میں یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ دونوں فریقوں میں کون بہادر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صفوں میں انتشار ظاہر ہونے لگا اور مسلمان بنی حنیفہ کے مقابلے میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور پیچھے ہٹنے لگے۔ مسیلمہ نے یہ کمزوری دیکھ کر اپنی فوج کو دفاع کے بجائے حملے کا حکم دے دیا۔ دشمن کے دباؤ کے تحت اسلامی لشکر کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اور یہ پسپائی بھگدڑ میں تبدیل ہوگئی اور کچھ دستوں نے راہ فرار اختیار کی۔ اسلامی فوج پیچھے ہٹتے ہٹتے اپنے کیمپ سے بھی پیچھے ہٹ گئی اور دشمن کی فوج کیمپ میں گھس گئی، جہاں حضرت خالدؓ کے کیمپ کے ساتھ لیلیٰ ام تمیم کا کیمپ تھا، جس میں مجاعہ بیڑیوں سے جکڑا پڑا تھا۔ ایک آدمی نے لیلیٰ کو قتل کرنے کے لیے تلوار اٹھائی لیکن مجاعہ چیخ اٹھا: ”ٹھہر جاؤ، میں اسے امان دیتا ہوں، تم اسے چھوڑ دو اور مردوں سے لڑو۔“ لشکر کے سپاہیوں نے خیمے کی رسیاں کاٹ ڈالیں اور خیمے کو تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا لیکن مجاعہ کو آزاد نہ کیا بلکہ اس امید پر کہ وہ ابھی مسلمانوں پر فتح یاب ہوکر واپس آجائیں گے، چنانچہ اسے بیڑیوں میں جکڑا چھوڑ گئے۔
دشمن کی فوج نے کیمپ کو لوٹنا شروع کردیا اور جو چیز جس کے ہاتھ لگی، وہ اٹھالے گیا۔ انہوں نے ہر چیز تہس نہس کردیا۔ حتیٰ کہ خیموں کی رسیاں تک کاٹ ڈالیں لیکن جلد ہی دشمن فوج عقرباء کے میدان کی طرف واپس لوٹ گئی، کیونکہ مسلم لشکر ہٹتے ہٹتے پھر منظم ہوچکا تھا اور دوبارہ مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ حضرت خالدؓ نے پھر دوبارہ دستوں کو قبائلی طریقہ پر ترتیب دیا تاکہ ہر ایک قبیلہ کی کارگزاری خود دیکھیں، پھر حضرت خالدؓ اور دوسرے سرداروں نے صفوں کا چکر لگایا اور مسلمانوں کو غیرت دلائی کہ جھوٹے نبی کے آگے ہمت ہارنا، اپنی ذلت کو قبول کرنے کے برابر ہے۔ چنانچہ مجاہدوں نے قسم کھا کھا کر یقین
دلایا کہ وہ جان توڑ کر لڑیں گے اور اگر ضروری ہوا تو دانتوں تک سے کام لیں گے۔ حضرت خالدؓ نے پھر چند جنگجو چنے اور انہیں اپنا باڈی گارڈ بنایا اور اپنے فوجیوں کو ذاتی مثال دیتے ہوئے گھمسان کی جنگ میں خود کودنے کا عزم کیا اور اپنے باڈی گارڈوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے پیچھے نگرانی کا کام کریں۔
دوبارہ صف بندی کے بعد حضرت خالدؓ نے فوج کو عقرباء کے میدان میں بڑھنے کا حکم دیا اور اب کی دفعہ وہ بھوکے شیروں کی طرح کود پڑے۔ ادھر مسیلمہ نے پھر دفاعی جنگ کو بہتر سمجھا، تاکہ جب مسلمانوں کے حملے کا زور ٹوٹ جائے گا تو پھر وہ اپنے لشکر کو بھر پور حملے کا حکم دے گا اور اسے یقین تھا کہ وہ پھر اسی طرح مسلمانوں کو پسپا کر کے تہس نہس کر دے گا۔
تاریخ طبری جلد دوم میں عبید بن عمیر سے مذکور ہے کہ اس جنگ میں نہارالرجال بن عنفوہ حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی حضرت زیدؓ بن الخطاب کے مقابل تھا، جب معرکہ شروع ہوا اور دونوں نے صف بندی کی تو زیدؓ نے کہا: ”رجال، اللہ سے ڈرو۔ تم نے بخدا مذہب ترک کر دیا ہے اور اب میں جس بات کی تم کو دعوت دینا چاہتا ہوں، اس میں تمہارے لیے دین و دنیا کی بھلائی ہے“ مگر رجال نہ مانا۔ آخر دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار سے حملہ کیا اور دجال مارا گیا۔ اس کے قتل سے فتنہ مسیلمہ کے سب سے بڑے سرغنہ کا خاتمہ ہو گیا۔
انصار کے ایک سردار حضرت ثابتؓ بن قیس جوش میں للکارتے ہوئے تلوار سونت کر دشمنوں میں گھس گئے اور اس بے جگری سے لڑتے رہے کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا، جہاں زخم نہ لگے ہوں۔ آخر اسی طرح لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ مشہور صحابی حضرت انسؓ بن مالک کے بھائی براء بن مالک ان صنادید عرب میں سے تھے جو پیٹھ دکھانا نہ جانتے تھے۔ جب انہوں نے مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹتے دیکھے تو وہ تیزی سے کود کر ان کے سامنے آ گئے اور چیخ کر کہا: ”مسلمان! میں براء بن مالک ہوں، میری پیروی کرو۔“ اسی وقت ایک جماعت ان کے ساتھ ہو گئی۔ وہ انہیں لے کر دشمن کے مقابلے میں آ گئے اور اس بہادری سے لڑے کہ دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
حضرت ابوحذیفہؓ پکار پکار کر کہہ رہے تھے: ”اے اہل قرآن اپنے افعال کے ذریعے قرآن کو عزت بخشو“ اور پھر دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ مہاجرین کا علم اس کے بعد ان کے آزاد کردہ غلام سالمؓ کے ہاتھ میں تھا۔ ایک شخص نے اس پر نکتہ چینی کی اور کہا ہم کو تمہاری طرف سے اندیشہ ہے۔ اس لیے ہم کسی دوسرے کو علم بردار
بنائیں گے۔ بولے اگر میں بزدلی دکھاؤں تو میں سب سے زیادہ بدبخت حامل قرآن ہوں۔ یہ کہہ کر نہایت جوش سے حملہ آور ہوئے۔ درحقیقت انہوں نے اپنے آپ کو بہترین حامل قرآن ثابت کیا۔ جب اثنائے جنگ میں ان کا داہنا ہاتھ قلم ہوا تو بائیں ہاتھ نے قائم مقامی کی۔ وہ بھی کٹ گیا تو دونوں بازوؤں نے حلقہ میں لے کر لوائے توحید کو سینہ سے چمٹا دیا۔ آخر زخموں سے چور ہو کر گرے تو پوچھا: ”ابو حذیفہؓ نے کیا کیا۔“ لوگوں نے کہا: ”شہید ہوئے۔“ پھر بولے اس شخص نے کیا کیا، جس نے مجھ سے اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ جواب دیا گیا: ”وہ بھی شہید ہوگئے۔“ فرمایا: ”مجھے ان دونوں کے درمیان دفن کرنا۔“
ابن سعدؒ کی روایت ہے کہ جنگ میں مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑنے لگے تو حضرت سالمؓ نے کہا: ”افسوس رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمارا یہ حال نہ تھا۔“ وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہوگئے اور علم سنبھالے ہوئے آخری لمحہ حیات تک جانبازانہ شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے۔ اختتام جنگ کے بعد دیکھا گیا تو اس شہید ملت کا سر اپنے منہ بولے باپ حضرت ابو حذیفہؓ کے پاؤں پر تھا۔ اسی طرح حضرت عمارؓ بن یاسر جن کی عمر اس وقت ٦٧ سال کے قریب تھی، اس جوش سے لڑ رہے تھے کہ اُن کا ایک کان شہید ہوگیا، جو سامنے زمین پر پھڑک رہا تھا لیکن وہ بے پرواہی سے حملے پر حملہ کر رہے تھے اور جس طرف رخ کرتے تھے، صفیں کی صفیں تہہ و بالا کر دیتے تھے۔ مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑتے دیکھ کر انہوں نے ایک بلند چٹان پر کھڑے ہو کر للکارا: ”اے گروہ مسلمانان! کیا جنت سے بھاگ رہے ہو۔ میں عمارؓ بن یاسر ہوں۔ میرے پاس آؤ۔“ اس صدا نے سحر کا کام کیا اور جنت کے شیدائی سنبھل کر ٹوٹ پڑے۔ بہادروں کے اس جوش ایمان کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں میں جانبازی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اس سرفروشی سے لڑنے لگے کہ مسیلمہ کے لشکر کو اس کی پہلی جگہ پر دھکیل دیا۔
عین لڑائی کے دوران یہ اتفاق ہوا کہ سخت آندھی آگئی اور ریت اڑ اڑ کر مسلمانوں کے چہروں پر پڑنے لگی۔ چند لوگوں نے اس پریشانی کا ذکر حضرت زیدؓ بن الخطاب سے کیا۔ اور پوچھا کہ اب کیا کریں۔ انہوں نے جواب دیا: ”واللہ میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا، جب تک دشمن کو شکست نہ دے لوں۔ یا، اللہ مجھے شہادت عطا نہ فرمائے۔ اے لوگو! آندھی سے بچاؤ کی خاطر اپنی نظریں نیچی کر لو اور ثابت قدم رہ کر لڑو۔“ یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور اپنے دستے کو لے کر دشمنوں کی صفوں میں گھس کر اس بے جگری سے
لڑتے رہے کہ زخموں سے چکنا چور ہو گئے اور آخر کار جام شہادت نوش کیا۔
لڑائی اس شدت سے جاری تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ مسلمان بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے اور بنو حنیفہ بھی ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور مسلمانوں کی عظیم بہادری، ذاتی شجاعت اور تیر و تفنگ کے بہترین استعمال کا جواب اپنی کثرت تعداد سے دے رہے تھے۔ دو گھاٹیوں کے درمیان ایک گلی میں اس قدر خونریز لڑائی ہوئی اور دشمن کا اس قدر خون بہا کہ اس کا نام شعیب الدم پڑ گیا، لیکن لڑائی کے اختتام کے ابھی کوئی آثار نہ تھے۔
حضرت خالد بن ولید بڑے غور سے میدان جنگ کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہیں اپنی فتح کا یقین تو تھا، لیکن چاہتے تھے کہ فتح کا حصول حتی الامکان جلد ہو جائے۔ انہوں نے دیکھا کہ بنو حنیفہ، مسیلمہ کے گرد کٹ کٹ کر گر رہے ہیں اور اس کی حفاظت میں موت کی پروا بھی نہیں کرتے، چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جس قدر جلد ہو سکے، مسیلمہ کو قتل کر دینا چاہیے۔ مسیلمہ حضرت خالد کے مقابل ضرور تھا، لیکن وہ سامنے آنے سے کتراتا رہا۔ وہ اپنے فدائین کے گھیرے میں محفوظ تھا اور اسے اس گھیرے سے باہر لانا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت خالد دشمن کے جوانوں کو پے در پے قتل کرتے ہوئے مسیلمہ کے سامنے جا پہنچے۔
تاریخ طبری جلد دوم میں مذکور ہے کہ مسیلمہ کے متعلق رسول کریم ﷺ نے حضرت خالد سے فرمایا تھا کہ ایک شیطان مسیلمہ کے تابع ہے اور جب مسیلمہ اس کے پاس ہوتا ہے تو اس کے منہ سے اس قدر جھاگ جاری ہوتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے، اس کے دونوں جبڑوں میں ناسور ہے اور جب مسیلمہ کوئی بھلی بات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شیطان اسے روک دیتا ہے، لہٰذا اگر تم کو کبھی اس کے خلاف موقع مل جائے تو ہرگز اس کو ہاتھ سے جانے نہ دینا۔
حضرت خالد نے مسیلمہ کو بات چیت کے لیے بلایا، جس پر وہ راضی ہو گیا۔ جب وہ حضرت خالد کے مقابل چند گز کے فاصلے پر آیا تو حضرت خالد نے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مشروط صلح کر لیں تو تمہاری شرطیں کیا ہوں گی۔ مسیلمہ نے اپنا سر ایک طرف پھیرا، جیسے وہ کسی غائبانہ ہستی کی بات سن رہا ہو..... کیونکہ اس کے الہام کا طریقہ ایسے ہی ہوا کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت خالد کو رسول اکرم ﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ مسیلمہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس کے شیطان ہمیشہ اس کے ہمراہ ہوتے ہیں، جن کی وہ کبھی نافرمانی نہیں کرتا اور اس کے شیطانوں نے کسی بھی صلح کی شرط کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کو اپنے سر کی جنبش سے ظاہر کیا۔ حضرت خالد ایسے موقعے کی تلاش میں تھے کہ وہ ذرا غافل ہو تو اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیں،
چنانچہ انہوں نے اس سے دوسرا سوال کیا، لیکن جب مسیلمہ نے سر پھیر کر غیبی مشیر کی بات سننے کا اعادہ کیا تو حضرت خالدؓ نے پھرتی سے اس پر حملہ کر دیا لیکن مسیلمہ حضرت خالدؓ سے بھی زیادہ پھرتیلا نکلا اور بھاگ کر اپنے فدائیوں کے حلقہ میں جا چھپا۔ مسیلمہ کے اس فرار نے اسے مزید چند گھنٹوں کی زندگی تو ضرور بخش دی لیکن اسکی قوم کے حوصلے یہ دیکھ کر پست ہو گئے کہ ان کا اپنا نبی موت کے ڈر سے بڑی بزدلی کے ساتھ خالدؓ کے آگے بھاگ نکلا ہے۔
حضرت خالدؓ کی اس کارروائی سے مسلم لشکر میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہو گیا۔ اس موقع پر حضرت خالدؓ نے عام حملے کا حکم دے دیا۔ مسلمانوں کا یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ جلد ہی بنو حنیفہ کی صفوں میں انتشار پیدا ہونے لگا۔ اس وقت انہوں نے پکار کر مسیلمہ سے پوچھا: ”آپ کے وہ وعدے جو فتح کے متعلق آپ نے ہم سے کیے تھے، کہاں گئے؟“ اس انتشار کے بعد جب دشمن فوج میں بھگدڑ مچ گئی تو مسیلمہ نے بھی فرار کا ارادہ کر لیا اور پیٹھ پھیرتے ہوئے اپنے فوجیوں سے کہا: ”اپنے حسب و نسب کی خاطر لڑتے رہو۔ یہ موقع اب ایسی باتیں دریافت کرنے کا نہیں۔“
دائیں بازو کے سردار محکم بن طفیل نے جب مسیلمہ کے فرار کے بعد اپنی بھاگتی ہوئی فوج کو بے دریغ قتل ہوتے دیکھا تو اس نے چلا کر انہیں باغ میں پناہ لینے کے لیے پکارا اور اتنے میں انہیں عقب سے بچانے کا ذمہ لے لیا۔
یہ باغ ”حدیقۃ الرحمان“ کہا جاتا تھا، میدان جنگ کے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت تھا۔ یہ طویل اور عریض تھا اور قلعے کی طرح اس کے چاروں طرف بلند دیواریں تھیں۔ محکم بن طفیل کی آواز سن کر مسیلمہ کے ساتھیوں نے اسکی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ جب کہ مسیلمہ پہلے ہی اس میں داخل ہو چکا تھا۔ اس بھگدڑ میں صرف چوتھائی فوج ہی باغ میں پہنچنے کے قابل ہو سکی اور محکم ایک دستے کے ساتھ انہیں مسلمانوں کی یلغار سے بچاتا رہا۔ باقی فوج کے بیشتر حصے کا مسلمانوں نے صفایا کر دیا اور خود محکم بن طفیل لڑتے لڑتے حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ کے تیر سے گھائل ہو گیا۔ تقریباً سات ہزار آدمی مسیلمہ سمیت باغ میں داخل ہوئے۔
مسیلمہ اور اس کی باقی ماندہ قوم باغ میں پناہ گزین ہو چکی تھی۔ مسلمانوں نے باغ کا محاصرہ کر کے اس کے چاروں طرف پڑاؤ ڈال دیئے اور کسی ایسی جگہ کی تلاش کرنے لگے، جہاں سے باغ میں گھس کر اس کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو سکیں، لیکن انہیں کوئی ایسی جگہ نہ مل سکی۔ آخر براءؓ بن مالک نے کہا کہ مسلمانو! اب صرف ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ تم مجھے
اٹھا کر باغ کے اندر پھینک دو اور میں اندر لڑ بھڑ کر دروازہ کھول دوں گا۔ مسلمانوں نے ایسا کرنا گوارا نہ کیا لیکن براء برابر اصرار کرتے رہے اور کہا: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے باغ کے اندر پھینک دو۔“ آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا۔ باغ میں انہوں نے دشمن کی زبردست جمعیت کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئے لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کود گئے اور دشمنوں سے لڑتے بھڑتے بیسیوں کو قتل کرتے ہوئے کمال ہوشیاری اور پھرتی سے باغ کا دروازہ کھول دیا۔
مسلمان باہر دروازے کے کھلنے کے منتظر تھے۔ جونہی دروازہ کھلا، وہ تلواریں سونت کر باغ میں داخل ہو گئے اور دشمنوں کو بے دریغ قتل کرنے لگے۔ بنی حنیفہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن مسلمانوں کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ گئی۔ ادھر باہر نکلنے کا راستہ بھی مسلمانوں نے روک رکھا تھا۔ طرفین کے کثیر آدمی اس معرکہ میں قتل ہوئے لیکن بنو حنیفہ کے مقتولین کی تعداد بے حساب تھی۔ مسیلمہ خود بھی تلوار ہاتھ میں لیے لڑتا رہا۔ وہ ایک چالاک اور بہادر جنگجو تھا اور غیض کی حالت میں اس کے منہ سے جھاگ بہہ نکلی اور اس کی شکل ایک مہیب اور بدصورت بھوت کیطرح ہو گئی۔ دشمن کی لاشیں ایک دوسرے پر گر رہی تھیں اور خون سے تمام مٹی اور گرد رنگین ہو گئی تھی۔ حضرت جبیر بن مطعم کے آزاد کردہ حبشی غلام وحشی جس نے جنگ احد میں بحالت کفر حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا اور جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گیا تھا، اس موقع پر موجود تھا اور اس موقع کی تاک میں تھا کہ جونہی مسیلمہ اس کے نیزے کی زد میں آئے تو وہ اس پر اپنا وار کرے، ادھر جنگ احد کی مشہور خاتون ام عمارہ بھی مردانہ وار لڑ رہی تھی۔ گو اس پر اب بڑھاپے کے آثار تھے لیکن وہ اپنے لڑکے کے ہمراہ لڑائی میں مشغول تھی۔ وہ مسیلمہ کی طرف بڑھی تو ایک مرتد نے اس پر حملہ کر کے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا، اس کا لڑکا فوراً مدد کے لیے پہنچا۔ اس نے مرتد کو قتل کر کے اپنی والدہ کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔ جونہی وحشی نے مسیلمہ کو اپنی زد میں لے کر اس پر نیزہ پھینکا تو ادھر حضرت ابو دجانہؓ (جو جنگ احد میں اپنے جسم سے حضورﷺ پر ڈھال بن گئے تھے) تلوار لیے مسیلمہ کی طرف بڑھے۔ وحشی کا نیزہ مسیلمہ کے پیٹ میں گھس گیا اور آر پار نکل آیا اور اسی لمحے حضرت ابو دجانہؓ بھی جست لگا کر مسیلمہ پر جھپٹے اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور وہ جب اس کے قتل کا اعلان کرتے ہوئے پکارے تو ایک مرتد نے انہیں تلوار کے وار سے شہید کر دیا۔ بنو حنیفہ کے فوجی نے چیخ کر پکارا کہ ایک حبشی نے
مسیلمہ کو قتل کر دیا ہے۔ جلد ہی یہ خبر تمام باغ میں پھیل گئی اور بنو حنیفہ کی ہمتوں نے جواب دے دیا۔ مسلمانوں نے انہیں بے تحاشا قتل کرنا شروع کر دیا۔ عرب میں اس وقت جتنی جنگیں ہوئی تھیں، یمامہ سے بڑھ کر کسی جنگ میں اتنی خونریزی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ”حدیقۃ الرحمان“ کا نام ”حدیقۃ الموت“ پڑ گیا۔
جب باغ کا معرکہ ختم ہو گیا تو حضرت خالدؓ اپنے خیمے سے مجاعہ کو، جو بیڑیاں پہنے ہوئے تھے، ساتھ لے کر میدان میں آئے کہ وہ مقتولین کو دیکھ کر بتائے کہ ان میں مسیلمہ کون ہے؟ چنانچہ ایک ایک مقتول کا چہرہ اس کی شناخت کے لیے کھولا جاتا تھا۔ اس طرح گزرتے ہوئے حضرت خالدؓ محکم بن طفیل کی نعش پر آئے، جو ایک نہایت قد آور وجیہ اور شاندار آدمی تھا۔ حضرت خالدؓ نے اس کی شکل دیکھ کر مجاعہ سے پوچھا: ”کیا یہ ہے تمہارا صاحب؟“ مجاعہ نے کہا: ”ہرگز نہیں۔ یہ اس سے کہیں بہتر آدمی تھا۔ یہ محکم یمامہ ہے۔“ آگے چلے تو حضرت خالدؓ مقتولین کے چہروں کی شناخت کے لیے اسے دکھاتے جاتے تھے، باغ میں پہنچے اور وہاں کے مقتولوں کو دیکھنا شروع کیا۔ آخر وہ پھرتے پھراتے ایک ٹھگنے قد اور چپٹی ناک والے زرد رو لاشے پر پہنچے۔ مجاعہ نے کہا: ”یہ مسیلمہ ہے، جسے تم نے قتل کر دیا ہے۔“ حضرت خالدؓ نے کہا: ”یہی وہ شخص ہے، جس نے تمہیں گمراہ کر کے ایک عظیم فتنہ برپا کر دیا تھا۔“ مجاعہ نے کہا: ”ہاں، ثابت تو یہی ہوا ہے۔“
اگرچہ مسیلمہ بمع اپنے ہزاروں ساتھیوں اور (مجاعہ کے علاوہ) تمام بڑے سرداروں کے ختم ہو چکا تھا لیکن خالدؓ ابھی مطمئن نہ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور عبدالرحمن بن ابوبکرؓ نے ان سے کہا کہ اب لشکر کو کوچ کا حکم دیجئے اور چل کر بنو حنیفہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لیجئے۔ لیکن خالدؓ نے جواب دیا۔ فی الحال تو میں دستوں کو ان لوگوں کے تعاقب میں بھیج رہا ہوں، جو قلعوں میں نہیں گئے بلکہ اردگرد کے علاقوں میں پھر رہے ہیں۔ اس کے بعد جو ہوگا، سو دیکھا جائے گا۔ چنانچہ چاروں طرف دستے روانہ کیے گئے۔ یہ دستے غنیم کی کافی تعداد کو قتل کرنے کے بعد، مال غنیمت اور عورتوں اور بچوں کو لے آئے۔ خالدؓ نے انہیں قید کرنے کا حکم دے کر بنو حنیفہ کے قلعوں کا محاصرہ کرنے کا حکم دے دیا۔
لیلیٰ ام تمیم کو بنی حنیفہ کے ہاتھوں سے بچانے اور مسیلمہ کے بارے میں پکی باتیں بتانے پر حضرت خالدؓ کو مجاعہ پر پورا بھروسہ ہو گیا تھا۔ جب مسلمان بنو حنیفہ کے قلعوں کا محاصرہ
کر چکے تو مجاعہ حضرت خالد کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ نے بنو حنیفہ پر فتح حاصل کر لی ہے۔ یمامہ کے قلعوں میں ہمارے جنگجوؤں کی بھاری تعداد موجود ہے، جو کہ سختی سے آپ کا مقابلہ کرے گی۔ اگر آپ صلح چاہتے ہیں تو مجھے شہر جانے کی اجازت دیجئے تاکہ میں انہیں صلح پر آمادہ کر سکوں۔“
حضرت خالد کو معلوم تھا کہ لشکر مسلسل لڑائیوں سے اب تنگ آچکا ہے اور صلح کو جنگ پر ترجیح دے گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اجازت دے دی۔ مجاعہ نے اندر جاکر دیکھا کہ وہاں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی جوان نہ تھا۔ اس نے انہیں زرہ بکتر پہنا کر فصیل پر جمع ہونے کو کہا تاکہ مسلمان سمجھیں کہ قلعہ میں کافی فوج ہے اور اس طرح نرم شرائط پر صلح کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ مسلمانوں نے جب قلعہ کی دیواروں پر زرہ بکتر پہنے ہوئے تلواریں اور نیزے ہاتھ میں لیے ہوئے آدمیوں کو دیکھا تو مجاعہ کی باتوں کا یقین آگیا۔ اتنے میں مجاعہ بھی واپس آگیا اور کہنے لگا۔ میری قوم آپ کی پیش کردہ شرائط پر صلح نہیں کرنا چاہتی۔ چنانچہ اسے کہا گیا کہ ہم نصف مال و اسباب اور نصف قیدیوں کو بنی حنیفہ کے لیے چھوڑ دیں گے، تم جا کر انہیں سمجھاؤ۔ مجاعہ واپس گیا اور وہاں سے آ کر کہنے لگا کہ وہ ان شرائط پر بھی راضی نہیں، آپ چوتھائی مال و اسباب لینے پر رضامند ہو جائیں۔ بالآخر ان شرائط پر صلح ہو گئی اور بعد ازاں جب مسلمان شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں کسی نوجوان کا نام و نشان بھی نہیں۔ انہوں نے مجاعہ سے پوچھا کہ تم نے یہ دھوکا کیوں کیا؟ اس نے کہا میری قوم تباہ ہو جاتی۔ میرا فرض تھا کہ میں ان کی جانیں بچاؤں۔ اس لیے میں نے یہ تدبیر اختیار کی۔ حضرت خالد نے اس کا یہ عذر قبول کر لیا اور صلح نامہ برقرار رکھا۔ دریں اثنا حضرت ابو بکر صدیق کا قاصد حضرت خالد کے پاس حکم لے کر آیا کہ ہر اس شخص کو، جو لڑائی کے قابل ہو، قتل کر دیا جائے، لیکن خالد ان سے صلح کر چکے تھے۔ انہوں نے صلح نامہ توڑنا پسند نہ کیا۔ اس کے بعد بنو حنیفہ بیعت کرنے اور مسیلمہ کی نبوت سے برأت کا اظہار کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ خالد کے پاس ان سب کو لایا گیا، جہاں انہوں نے دوبارہ اسلام کا اعلان کیا۔ حضرت خالد نے ان کا ایک وفد حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا جہاں ان کی عذر داری قبول کر لی گئی۔
جنگ یمامہ میں بنو حنیفہ کے میدان جنگ میں سات ہزار آدمی مارے گئے۔ سات ہزار باغ ”حدیقۃ الموت“ میں کام آئے اور باقی سات ہزار مجاہدین کے تعاقب میں قتل
ہوئے۔ سارا مال غنیمت جو سونے چاندی، ہتھیاروں اور گھوڑوں پر مشتمل تھا، وہ مسلمانوں کی ملکیت ٹھہرا۔ بنو حنیفہ کی بستیوں میں جو باغات اور مزروعہ زمینیں تھیں، ان پر بھی مسلمانوں کا تصرف ہو گیا۔
اس جنگ میں مسلمانوں کا نقصان بھی کچھ کم نہ ہوا تھا۔ شہدا کی تعداد پچھلی تمام جنگوں کو مات کر گئی جو بارہ سو لکھی گئی ہے یعنی تین سو ستر مہاجرین۔ تین سو انصار اور باقی دیگر قبائل کے لوگ۔ ان میں تین سو ستر صحابہ کبارؓ اور قرآن کے حافظ بھی تھے، جن کا درجہ مسلمانوں میں بہت بلند تھا۔ اس سانحہ عظیم کا البتہ ایک اچھا اثر یہ ضرور ہوا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس خوف سے کہ کہیں آئندہ جنگوں میں بقیہ حافظوں سے ہاتھ نہ دھونے پڑیں، حضرت عمرؓ کے پیہم اصرار پر قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیا، جو کہ بعد میں ایک جلد کی صورت میں مدون ہو گیا۔
مسلمانوں کی بھاری تعداد کے شہید ہو جانے سے ان کے رشتہ داروں کو جو صدمہ پہنچا، اس کی تلافی صرف اس چیز نے کی کہ خداوند کریم نے اتنے بڑے فتنہ ارتداد پر مسلمانوں کو مکمل فتح بخشی۔ ویسے تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور قبائل عرب کے سینکڑوں گھرانے اپنے بہادروں اور سپوتوں پر غم کے آنسو بہا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ بن الخطاب کو تو خصوصیت سے اپنے بڑے بھائی زیدؓ کی شہادت سے بہت دکھ ہوا تھا۔ ان کے رنج والم کا یہ عالم تھا کہ جب ان کے بیٹے عبداللہؓ اس جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دے کر واپس مدینہ آئے تو ان سے کہا: ”جب تمہارے چچا زیدؓ شہید ہو گئے تھے تو تم کیوں زندہ سلامت چلے آئے، تم نے اپنا منہ مجھ سے کیوں نہ چھپایا۔“ عبداللہ نے صرف یہ جواب دیا: ”انہوں نے حصولِ شہادت کی تمنا کی تو انہیں مل گئی۔ میں نے بھی اس غرض کے لیے پوری کوشش کی۔ لیکن افسوس میں اسے حاصل نہ کر سکا۔“
جنگ یمامہ فتنہ ارتداد پر ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، جس نے بچے کھچے مرتدین کے حوصلے پست کر دیے۔ اس کے بعد چند ایک لڑائیاں لڑی گئیں، جن میں مرتدین نے ہر جگہ شکست کھائی، حتیٰ کہ پھر تمام عرب حلقہ اسلام میں داخل ہو گیا۔
مولانا محمد علی مونگیری اور تحفظ ختم نبوت
مولانا سید محمد الحسنی
مولانا محمد علی کا ایک اہم کارنامہ جس کے ذکر کے بغیر ان کی تاریخ نامکمل رہے گی قادیانیت کا مقابلہ اور سرکوبی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اپنی پوری قوت صرف کردی اور جب تک اس مہم میں کامیاب نہ ہوئے اطمینان کی سانس نہ لی۔
انہوں نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زائد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں سے صرف 40 کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے نام سے۔ انہوں نے اس کو وقت کا افضل ترین جہاد قرار دیا اور اس کے لیے لوگوں کو ہر قسم کی کوشش اور قربانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور بڑی دل سوزی کے ساتھ اس کی اہمیت سمجھائی۔ ان کوششوں سے بہار (جس پر قادیانیوں نے اس زمانہ میں بھر پور حملہ کیا تھا اور بڑی تعداد میں مسلمان اس کا شکار ہو رہے تھے) اس خطرہ سے محفوظ ہو گیا اور ہندوستان کے اور دوسرے علاقوں میں بھی جہاں کہیں مولانا کی تصنیفات پہنچیں یا مولانا کے مبلغین پہنچے قادیانیت کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں پر اس نئے دین کی حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس فتنہ سے محفوظ ہوگئے۔
مولانا کی اس دل سوزی' سیماب وش بے قراری اور اس مسئلہ میں غیر معمولی ذکی الحسی کا سبب سمجھنے کے لیے اور ان کی کوششوں اور قربانیوں کی قدر و قیمت اور اہمیت کا اندازہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ قادیانیت پر ایک اجمالی نظر ڈال لی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ قادیانیت سے اسلام اور عالم اسلام کو وہ کیا بڑا خطرہ درپیش تھا جس نے مولانا کو اس قدر بے چین کر رکھا تھا اور ان کی راتوں کی نیند اور دن کا آرام ختم کر دیا تھا۔
قادیانیت کے متعلق ایک بڑا مغالطہ جس میں عام مسلمانوں کے علاوہ اچھے خاصے ممتاز اور ذہین افراد بھی بعض وقت گرفتار نظر آتے ہیں یہ ہے کہ وہ قادیانیت پر ایک گمراہ فرقہ (فرقہ ضالہ) کی حیثیت سے غور کرتے ہیں اور پھر قدرتی طور پر اسی لحاظ سے اس کے نتائج و مضمرات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قادیانیت بھی مسلمانوں کا ایک گمراہ فرقہ ہے جو
نسبت دوسرے گمراہ فرقوں کے اسلام کی صراط مستقیم سے ذرا زیادہ دُور ہو گیا ہے لیکن یہ طرز فکر ہمیں قادیانیت کی صحیح تصویر تک پہنچنے میں رہنمائی نہیں کرتا اس سے ہمیں قادیانیت کی اس خطرناکی اور ان تباہ کن عناصر کا پورا اندازہ نہیں ہوتا جو نبوت محمدیؐ اور بالآخر پورے اسلامی نظام کو نہ صرف نقصان پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ خاکم بدہن ان کے کھنڈر پر ایک نئی عمارت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک متوازی نبوت اور متوازی اُمّت
اگر نبوت محمدیؐ کے کسی جز کا انکار پورے اسلامی نظام کا انکار ہے اور بلاشبہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قادیانیت (جس نے نبوت محمدیؐ کے کسی جز سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ اس کے مقابل ایک نئی نبوت کی دعوے دار ہے) اسلام عالم اسلام اور سارے اسلامی نظام کو متزلزل کر دینا چاہتی ہے اور اس کی جگہ ایک نیا نظام اور نیا مذہب قائم کرنا چاہتی ہے۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ’قادیانیت کا مطالعہ و جائزہ‘ میں اس پہلو پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قادیانیت کا تحقیقی مطالعہ کرنے سے یہ غلط فہمی اور خوش گمانی دُور ہو جاتی ہے اور ایک منصف مزاج انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ قادیانیت ایک مستقل مذہب اور قادیانی ایک مستقل اُمّت ہیں جو دین اسلام اور اُمّت اسلامیہ کے بالکل متوازی چلتے ہیں اور اس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کے اس بیان میں کوئی مبالغہ اور غلط بیانی نہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔‘‘
آپ نے فرمایا:
یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیحؑ اور چند مسائل میں ہے۔ اللہ کی ذات رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرآن نماز روزہ حج زکوٰۃ غرضیکہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک جزو میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔
مسلمانوں کی غیرت اور وفاداری کا امتحان
اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عالم اسلام کی روح ہیں اور بلا ادنیٰ شائبہ شک کے ایسا ہی ہے تو آپؐ کے بعد ایک نئے نبی کے آنے کا امکان مسلمانوں کے لیے خطرہ کا سب سے بڑا سگنل مسلم معاشرہ اور عالم اسلام میں عظیم انتشار کا باعث ہے اور ایسی تحریک کا وجود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت و شریعت پر کلی اعتماد و اطمینان کے لیے کھلا ہوا چیلنج ہے اور اس کی
نشوونما اور ترقی ہر غیرت مند مسلمان کے لیے سخت ذہنی تشویش اور قلبی اذیت کا موجب ہے۔
قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت
یہ زمانہ قادیانیت کے عین عروج کا تھا 1901ء میں مرزا صاحب نے کھل کر اپنے اس عزم و ارادہ کا اظہار شروع کر دیا تھا۔ ان کے رسائل کا وہ مجموعہ جس کا نام ’اربعین‘ ہے منصب جدید کے اعلانات اور تصریحات سے بھرا ہوا ہے۔
1902ء میں ایک رسالہ ”تحفۃ الندوہ“ لکھا اس کے مخاطب بالخصوص ندوہ کے علماء و ارکان اور بالعموم تمام علماء تھے جو ندوہ کے اجلاس امرتسر (منعقدہ 1902ء) میں شریک تھے۔ اس میں مرزا صاحب نے بہت کھل کر اور وضاحت کے ساتھ اپنے خیالات ظاہر کیے۔ مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ نے اس وقت اس کی تردید کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہ کی اور اس مسئلہ پر زیادہ توجہ نہ دے سکے۔ ایک طرف وہ ندوہ کی ترقی اور استحکام کی طرف متوجہ تھے دوسری طرف ان کو اس کا پورا اندازہ نہ تھا کہ یہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے ایسی خطرناک صورت اختیار کر لے گی اور پنجاب کے علاقہ کو پار کر کے ہندوستان کے مختلف حصوں اور بالخصوص بہار پر اس شدت سے حملہ آور ہوگی۔
قادیانی بہت منظم طریقے پر کام کر رہے تھے۔ اخبارات، رسائل اور کتابوں کے علاوہ ان کے مبلغین جن کو ایک طرف قادیان میں باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی تھی اور دوسری طرف مالی امداد کے ذریعے ان کو ایسا تابع بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اس کے جال سے کسی حال میں آزاد نہ ہو سکیں۔
بہار پر یورش
بہار میں قادیانیوں نے چار ضلعوں میں بہت کامیابی حاصل کی تھی۔ خاص طور پر مونگیر اور بھاگل پور کے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ دونوں ضلعے قادیانی ہو جائیں گے۔ انہوں نے یہ تکنیک اختیار کی تھی کہ کچھ لوگ کھل کر قادیانی مبلغ کی حیثیت سے سامنے آتے تھے اور کچھ لوگ جو حقیقت میں قادیانی تھے لیکن اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے تھے وہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے اور ان کو ان کی تحریروں اور تقریروں کی طرف متوجہ کرتے۔ ایک قادیانی مبلغ سعید مختار جس کا مولانا نے اپنے ایک خط میں ذکر کیا ہے:
”بہت سرگرمی کے ساتھ مشغول تھا اور بہار کے علاوہ بنگال میں بھی اس نے مہم شروع کر دی تھی ہزاری باغ (بہار) میں بہت سے مسلمان قادیانی ہو گئے تھے۔“
قادیانی لٹریچر علانیہ تقسیم کیا جاتا اور ناواقف مسلمان عام طور پر اس سے متاثر ہوتے۔
اس وقت جو رسائل و اخبارات قادیانیوں کی طرف سے شائع ہو رہے تھے ان کی تعداد اشاعت 26 ہزار تھی۔ ہر قادیانی کے لیے یہ لازمی تھا کہ وہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ مذہب کی اشاعت کے لیے دے۔ محض اسی ذریعے سے ان کا بجٹ لاکھوں تک پہنچ گیا تھا اور اس کی وجہ سے ان کو تبلیغ و اشاعت کے کام میں (جس میں وہ مالی امداد کی ترغیب دے کر ناواقف اور ضرورت مند لوگوں کو آسانی کے ساتھ شکار کر لیتے تھے) بڑی سہولت تھی۔
مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ ایک معتمد خاص حاجی لیاقت حسین بھاگل پوری کو ایک خط میں بڑی دردمندی کے ساتھ ان حالات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ان کی سعی اور کوشش اس قدر اتھک اور منظم ہے جس کو دیکھ کر ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے کہ الٰہی یہ کیا طوفان کفر اور سیلاب ارتداد ہے اس کو روکنے کی کیا صورت ہو۔ ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں جہاں ان کے لوگ تبلیغ نہ کرتے ہوں اور ہندوستان کے علاوہ یورپ انگلستان جرمنی، امریکہ اور جاپان میں بڑے زوروں اور نہایت نظم سے اپنے مذہب کی اشاعت کر رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی بینک نہیں، کوئی ریاست نہیں، صرف ایک بات ہے کہ مرزا نے کہہ دیا ہے کہ ہر مرید حسب استطاعت ماہانہ مذہب کی اشاعت کے لیے کچھ دے اور جو تین ماہ تک کچھ نہ دے گا وہ بیعت سے خارج ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بیت المال میں لاکھوں روپیہ جمع ہو گیا اور ان کا ہر مرید اپنی آمدنی کا کم از کم دسواں حصہ دیتا ہے اور بعض تو تہائی اور چوتھائی قادیان بھیجتے رہتے ہیں جس سے وہ خاطر خواہ اپنے مذہب کی اشاعت کر رہے ہیں۔“
مونگیر کے زمانہ قیام میں مسلمانوں نے مولانا سے یہ صورت حال بیان کی اور اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا خود اس بات سے فکر مند تھے ان مسلمانوں کے توجہ دلانے سے ان کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ اگر پوری قوت کے ساتھ اس تحریک کا مقابلہ نہ کیا گیا تو اس سے بڑے افسوس ناک نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں مولانا اپنی ساری صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے اور اپنا سارا وقت اور ساری قوت اس کے لیے وقف کر دی اور اپنے تمام مریدین و مسترشدین، رفقاء اور اہل تعلق کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی اور صاف صاف کہا کہ جو اس معاملہ میں میرا ساتھ نہ دے گا، میں اس سے ناخوش ہوں۔
اسی دوران میں یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبہ میں مولانا کو یہ القا ہوا کہ یہ گمراہی تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے اگر قیامت کے دن باز پرس ہو تو کیا جواب ہوگا۔
ایک اہم تاریخی مناظرہ
اس جدوجہد کا آغاز ایک اہم تاریخی مناظرہ سے ہوا جس میں قادیانیوں کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ انہوں نے دوبارہ اس میدان میں آنے کی جرأت نہ کی۔ یہ قادیانیت پر پہلی ضرب کاری تھی جس سے نہ صرف بہار کے قادیانیوں کو بلکہ پورے ہندوستان کی قادیانی تحریک کو سخت نقصان پہنچا اور اس کے بہت خوش گوار نتائج برآمد ہوئے۔ اس مناظرہ میں (جو 1911ء میں ہوا) تقریباً چالیس (40) علماء شریک تھے۔ دوسری طرف سے حکیم نورالدین وغیرہ آئے تھے۔ مناظرہ کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ادھر مناظرہ شروع ہوا اُدھر مولانا سجدہ میں گر پڑے اور جب تک فتح کی خبر نہ آئی سر نہ اٹھایا۔
اس مناظرہ کی مختصر روئیداد مولانا کے صاحبزادہ مولانا منت اللہ رحمانی نے قلم بند کی ہے وہ لکھتے ہیں:
”مرزا صاحب کے نمائندے حکیم نورالدین صاحب سرور شاہ صاحب اور روشن علی صاحب مرزا صاحب کی تحریر لے کر آئے کہ ان کی شکست میری شکست ہے اور ان کی فتح میری فتح ۔ اس طرف سے مولانا مرتضیٰ حسن صاحب علامہ انور شاہ کشمیریؒ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبدالوہاب بہاریؒ مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ (تقریباً چالیس علماء) بلائے گئے تھے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا۔ صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تماشائی بن کر آئے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے کتابیں الٹی جارہی ہیں حوالے تلاش کیے جا رہے ہیں اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مولانا محمد علی کی طرف سے مناظرہ کا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعہ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے نام پڑا۔ آپ نے مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا علماء کی یہ جماعت میدان مناظرہ میں گئی وقت مقرر تھا۔ اس طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحب سٹیج پر تقریر کے لیے آئے اور اس طرف آپ سجدہ میں گئے اور اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک فتح کی خبر نہ آگئی۔ بوڑھوں کا کہنا ہے کہ میدان مناظرہ کا منظر عجیب تھا۔ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کی ایک ہی تقریر کے بعد جب قادیانیوں سے جواب کا مطالبہ کیا گیا تو مرزا صاحب کے نمائندے جواب دینے کے بجائے انتہائی بدحواسی اور گھبراہٹ میں کرسیاں اپنے سروں پر لیے ہوئے یہ کہتے بھاگے کہ ”ہم جواب نہیں دے سکتے“
قادیانیت کے خلاف زبردست مہم
اس مناظرہ کے بعد مولانا نے قادیانیت کے خلاف باقاعدہ اور منظم طریقہ پر زبردست مہم شروع کی اس کے لیے دورے کیے خطوط لکھے رسائل اور کتابیں تصنیف کیں دہلی اور کانپور سے کتابیں طبع کروا کے منگوا کر لانے اور اشاعت کرنے میں خاصا وقت صرف ہوتا تھا اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی سستی اور تاخیر نہ ہو اس لیے مولانا نے خانقاہ میں ایک مستقل پریس قائم کیا اس پریس سے (اور کتابوں کے علاوہ) سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں شائع ہوئیں جو سب مولانا کے قلم سے ہیں۔ اس قدر ضعف اور سلسلۂ علالت کے ساتھ جو بدستور جاری تھا اتنا وقیع اور عظیم تصنیفی کام بجائے خود ایک کرامت سے کم نہیں اور تائید الٰہی و توفیق خداوندی کے سوا کسی اور چیز سے اس کی توجیہ نہیں ہو سکتی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور تھے ہر چیز میں خدا کا فضل ان کے شامل حال تھا۔
مولانا نے اپنے ایک معتمد اور خادم خاص کو ایک خط میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
"میرا ضعف و ناتوانی اے عزیز تم پر اور تمہارے کل سلسلہ کے بھائیوں پر ظاہر ہے کہ میں مدت سے بے کار ہو چکا ہوں اور میرے ظاہری قویٰ نے جواب دے دیا مگر خدائی ارشاد انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحافظون نے اپنی غیر محدود قدرت کا ایک ضعیف و ناتواں ہستی میں جلوہ گر فرما کر وہ کام لیا جس کا خیال و خطرہ بھی نہ تھا اس قدر رسائل اس ضعف و ناتوانی میں لکھوا دینا اس کا فضل ہے۔"
شہرت اور ناموری سے اجتناب
لیکن شہرت و ناموری سے اجتناب اور اخفاء حال کا ہمیشہ سے اہتمام تھا۔ انجمن تہذیب کے قیام میں بھی مولانا دوسروں کو آگے بڑھا کر خود کوئی عہدہ قبول نہ کرتے تھے۔ ندوۃ العلماء کے پہلے دورِ نظامت میں اور اپنی دینی و ملّی جدوجہد کے ہر مرحلہ میں مولانا پسِ پردہ ہی نظر آتے ہیں۔ سٹیج کی سرگرمیوں، جلسوں اور تقریروں اور ترحیب و استقبال کے مظاہروں، مدح سرائیوں و قصیدہ خوانیوں سے مولانا کو اپنی زندگی کے کسی دور میں ادنیٰ مناسبت بھی نہیں رہی اور باوجود اس کے کہ ندوۃ العلماء کے قیام، نشوونما اور عروج و ارتقاء کی ساری داستان بنیادی طور پر مولانا ہی کی ذات سے وابستہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دوسروں کو آگے بڑھایا اور قیادت کے سٹیج پر
اپنا صحیح وممتاز مقام (جو دراصل ان ہی کا حق تھا) حاصل کرنے کی کوشش درکنار کبھی خواہش بھی نہیں کی اور زبان حال سے یہ کہتے رہے کہ
وہ اس سطح سے بہت بالاتر تھے اور ان حدود سے بہت آگے نکل چکے تھے یہ عہدہ و منصب اور ناموری ان کے لیے اب ”پیر کی بیڑی“ سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی تھی اس موقع پر یہی رنگ غالب رہا۔ چنانچہ اتنے زبردست تصنیفی ذخیرے میں صرف 40 کتابیں مولانا کے نام سے طبع ہوئی ہیں ان میں بھی بعض کتابوں پر مولانا کا نام ہے اور بعض پر ان کی کنیت ابواحمد ہے یہاں تک کہ ان کی مشہور کتاب ”فیصلہ آسمانی“ بھی ابواحمد رحمانی ہی کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
ان کتابوں کو مولانا اکثر بڑی تعداد میں مفت تقسیم کرتے اور مناسب جگہوں پر پہنچاتے۔ مولانا کے ہزاروں روپے اس مد پر خرچ ہوئے لیکن انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اس وقت ان کے سامنے صرف ایک مقصد تھا وہ یہ کہ ہر قیمت پر اس تحریک کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
اپنے مریدین کو بھی جن کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی مولانا نے اس کام پر لگانا چاہا اور جدید اسلوب میں اس مقصد کے لیے ان کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ وہ چاہتے تھے کہ صرف انفرادی حیثیت سے نہیں بلکہ اجتماعی حیثیت سے اور متحد اور منظم طریقے سے قادیانیت پر بھر پور حملہ کیا جائے۔
حاجی لیاقت حسین کو (جن کا ذکر ابھی گزر چکا ہے) مولانا نے بڑے اہتمام کے ساتھ اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے ایک خط میں ان کو لکھتے ہیں:
”میں چاہتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی بے انتہا سعی اور کوشش کا جواب دیا جائے بالخصوص مرزائی جماعت کا فتنہ فرو کرنے میں جو کچھ ہو سکے اس سے دریغ نہ کیا جائے اور نہایت انتظام کے ساتھ یہ سلسلہ میرے بعد بھی جاری رہے اس لیے رائے یہ ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کا نظم تم لوگ اپنے ہاتھ میں لو اور اس کے لیے ہر وہ شخص جو مجھ سے ربط و تعلق رکھتا ہے وہ اس میں حسب حیثیت التزام کے ساتھ ماہانہ شرکت کرے ورنہ جو شخص میرے اس دینی اور ضروری کہنے کی طرف بھی متوجہ نہ ہوگا میں اس سے ناخوش ہوں اور وہ خود یہ سمجھ لے کہ اس کو مجھ سے کیا تعلق باقی رہا۔“ (کمالات: ص ٢٧٦)
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کے ان مریدین، مسترشدین اور خلفاء کے ذریعہ بہت بڑا کام ہوا اور انہوں نے مولانا کی رفاقت، محبت اور اطاعت کا حق ادا کر دیا۔
مولانا کے ایک مسترشد اور مجاز مولانا عبد الرحیم صاحب کے ذریعے مونگیر اور بھاگل پور کے دیہاتوں میں سینکڑوں ہزاروں اشخاص کی اصلاح ہوئی اور وہ ان کے ہاتھ پر تائب ہوئے ۔ دیہاتوں میں مولود کے جلسے اس اصلاح کا بڑا ذریعے بنے اور ان سے بہت فائدہ ہوا۔
مولانا ایک طویل اور مفصل مکتوب میں ان کو لکھتے ہیں:
”مولود شریف کے جلسے کراؤ اور اس میں ان کے (مرزا صاحب اور ان کے ساتھی) حالات بیان کرو جس مقام کے لوگ نہایت غریب ہیں ان سے کہو کہ تم سنو شیرینی وغیرہ کی کچھ ضرورت نہیں ۔ میں تمام محبین سے کہتا ہوں کہ وہ تمہاری مدد کریں تم کو ہر جگہ بھیجیں یہاں سے رسائل قادیانی کے متعلق منگا کر ان لوگوں کو دو اور اس خط کی متعدد نقلیں کر کے جو ہمارے احباب ہیں ان کو بھجواؤ۔“
مولانا کو اس سنگین خطرہ کا جو مسلمانوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا پورا احساس تھا اور اس کے مقابلہ کا ان کو اس قدر زائد اہتمام تھا کہ یہ کہا کرتے تھے کہ:
”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اُٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانی کی کتاب پائے ۔“
اس بات سے مولانا کے اس اہتمام و توجہ اور خلش و بے چینی کے ساتھ اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اس تحریک نے کتنی خطرناک اور تشویش انگیز صورت اختیار کر لی تھی اور اس بات کی ضرورت صاف محسوس ہو رہی تھی کہ اس کے سد باب کے لیے اسی دل سوزی اور قربانی سے کام لیا جائے جس سے مولانا نے کام لیا اور اپنے آرام اور صحت کی پرواہ کیے بغیر اس کے لیے ہر قسم کی جدوجہد اور قربانی میں سب سے پیش پیش رہے۔
ایک صاحب (مولوی نظیر احسن صاحب بہادری) جن کا خط پاکیزہ تھا صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ مسودات صاف کریں وہ دونوں پیروں سے مفلوج تھے اگر کبھی مسودات صاف کرنے میں تاخیر ہو جاتی تو مولانا ان سے فرماتے کہ:
”محنت سے کام کرو تمہیں جہاد کا ثواب ملے گا۔“
ایک مرتبہ مولوی صاحب نے پوچھا کہ:
”کیا مجھ کو جہاد بالسیف کا ثواب ہوگا؟“
فرمایا:
”بے شک اس فتنہ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں ۔“
تہجد کے وقت تصنیف
مولانا کا معمول تھا کہ تین بجے تہجد کے لیے اٹھ جاتے تھے اب یہ تہجد کا وقت بھی مولانا نے رد قادیانیت کے لیے وقف کر دیا اکثر یہ وقت تصنیف میں گزرتا۔ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ مولانا تہجد چھوڑ کر رد قادیانیت پر کتابیں لکھا کرتے تھے۔
اکثر ایسا ہوا کہ مولانا نے اپنی ضرورتوں کو مؤخر کر کے پہلے کتابوں کی اشاعت کا انتظام کیا اور جو کچھ ان کے پاس اس وقت ہوا وہ سب بے چون و چرا اس پر صرف کر دیا۔ جن مبلغین کو قادیانیت کے رد کے لیے مختلف مقامات پر بھیجنا ہوتا پہلے ان کو اس کی تربیت دیتے اور اس کی کوشش کرتے کہ قادیانیت سے ان کی واقفیت بہت گہری ہو تاکہ وہ خود اعتمادی اور کامیابی کے ساتھ یہ اہم فریضہ انجام دے سکیں اور عین وقت پر لاجواب اور شرمندہ نہ ہوں جس کا عام مسلمانوں پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔
مریدین واہل تعلق میں جو اہل علم حضرات تھے ان کو بھی اس بات پر آمادہ کرتے رہتے کہ وہ قادیانیت کے رد میں رسائل اور کتابیں لکھیں۔ غرض اس سلسلہ کی جو بھی کوشش ان کے لیے ممکن تھی اس میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور ان ساری صلاحیتوں قوتوں اور ذرائع و وسائل کو پوری طرح استعمال کیا جو ان کے دسترس میں تھے۔
مولانا کے خطوط
مولانا نے اپنے مریدین خلفاء اور اہل تعلق کو قادیانیت کے سلسلہ میں جو خطوط لکھے ہیں وہ ان کے افکار اور جذبات کو سمجھنے کے لیے بہت مستند ذریعہ اور قیمتی ذخیرہ ہیں۔ ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کی نگاہ میں اس تحریک کے مقابلہ اور استیصال کی کس درجہ اہمیت تھی اور وہ اس بارے میں کتنے ذکی الحس ہو گئے تھے اور مضطرب و بے چین رہتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کے سب مسترشد اور اہل تعلق اس کے مقابلہ کے لیے اپنی ساری قوت اور صلاحیت کے ساتھ صف آرا ہو جائیں۔
ان کے نزدیک (جیسا کہ اوپر گزرا ہے) اس فتنہ کا مقابلہ اس وقت جہاد بالسیف سے کم نہ تھا اور انہوں نے جس جوش اور جرأت اور حمیت ایمانی کے ساتھ اس کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا اس سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا محض نظریہ اور رائے نہ تھی بلکہ ان کی زندگی کی ایک ایسی حقیقت تھی جس کا سیدھا تعلق ان کے قلبی احساسات اور جذبات سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے
ان کو جو محبت وعشق تھا یہ سب اس کی کرشمہ سازی تھی اور اسی نے ان کے اندر یہ سیمابی کیفیت پیدا کردی تھی۔
مصلحت را تہمتے بر آہوئے چیں بستہ اند
حاجی لیاقت حسین بھاگل پوری کو ایک مفصل خط کے آخر میں لکھتے ہیں: ”تم کو چاہیے کہ اپنے تمام گاؤں کے بھائیوں اور جو لوگ تمہارے زیر اثر ہیں ان کو اس کام میں نظام کے ساتھ متوجہ کرو یہ میری تحریر معمولی نہیں ہے یہ کام تو خدا چاہے ہوگا اور ضرور ہوگا دیکھیے کہ کون اس خدائی کام کو انجام دیتا ہے اور کون اس سے محروم رہتا ہے۔“
مولانا نے اپنے مریدین سے کبھی چندہ نہیں لیا اور نہ اس کو پسند کرتے تھے بلکہ جب کبھی موقع ملتا خودان کی امداد میں پیش قدمی کرتے یہاں تک کہ اپنے خاص معتمدین اور خدام سے بھی فرمائش کرنے کے روادار نہ ہوئے لیکن اس موقع پر انہوں نے اپنے مزاج کے خلاف بہت صفائی کے ساتھ اپنے مریدین کو مالی تعاون پر بھی آمادہ کیا۔
حاجی صاحب موصوف کو اپنے ضعف وعلالت کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں: ”للہ الحمد! میں بالکل سفر آخرت کے لیے تیار ہوں اور یہ کام نہایت ضروری ہے۔ میں نے کبھی تم سے کسی قسم کا چندہ نہ لیا، نہ کسی چیز کی فرمائش کی مگر اب یہ کام اس قدر ضروری ہے کہ بے کہے بات نہیں بنتی۔“
اس خط میں آگے چل کر لکھتے ہیں: ”جب لوگ کفر و ارتداد اپنا جان و مال قربان کر کے خریدتے ہیں تو تعجب ہے کہ سچے مسلمان دین کی خدمت کے لیے تھوڑا سا اپنے ”ہاتھ کا میل“ بھی نہ دے سکیں۔“
ایک عقیدت مند کو جنہوں نے حاجی لیاقت حسین کو اس کام کے لیے کچھ رقم پیش کی تھی شکریہ کا خط لکھتے ہیں: ”تم نے جو کچھ عزیزی لیاقت حسین کو نہایت ضروری دینی کام کے لیے دیا وہ اس فقیر کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا کافی بدلہ دونوں جہان میں عنایت کرے۔ تم جانتے ہو کہ میں نے یا میرے خاص آدمی نے کبھی کسی سے کچھ طلب نہیں کیا ...... اس وقت میاں لیاقت حسین تین سو سے کچھ زائد روپیہ لائے جنہوں نے نہایت خوشی سے روپیہ دیا۔ اللہ و رسول ان سے خوش ہو اور یہ فقیر ان سے بہت خوش ہوا۔ میں تمہیں اس سے بھی آگاہ کرتا ہوں کہ اس وقت جھوٹ بہت شائع ہے
اور دینی حمیت جاتی رہی ہے اس لیے اکثر دینی کام میں صرف کرنا نہیں چاہتے اور دینی کام کرنے والوں کو الزام لگا کر دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔“
مولانا عبد الرحیم صاحب کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
”تم سے جہاں تک ہو سکے اس گمراہ کا پیچھا کرو‘ جہاں جہاں وہ جائے‘ تم بھی جاؤ اور دو باتیں کرو۔ اوّل یہ کہ جو غرباء و معذورین یہاں نہ آسکیں ان کو ہماری طرف سے بیعت کرو اور سلسلہ رحمانیہ میں داخل کر کے انہیں ایسی ہدایات کرو کہ وہ اس سلسلہ کے عاشق ہو جائیں اور کسی گمراہ کی باتوں کا ان پر اثر نہ ہو۔ دوئم یہ کہ میں تم سے زبانی بھی کہہ چکا ہوں اور اس وقت خاص کر تم کو لکھ رہا ہوں تاکہ خوب مستعدی سے کام کرو اور دیکھو محض اللہ کے واسطے کرو جب انسان اللہ کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب کاموں کا کفیل ہو جاتا ہے۔“
اس طرح کے خطوط مولانا اپنے خاص مریدین اور خلفاء کو برابر ارسال کرتے رہتے تھے اور ان کو پوری قوت کے ساتھ اس نئی گمراہی اور بغاوت کے مقابلہ پر کمر بستہ ہو جانے کی تلقین کرتے۔ ان لوگوں کو مولانا سے جو غیر معمولی تعلق اور شیفتگی تھی اس کی وجہ سے یہ خطوط سینکڑوں مواعظ اور رسالوں کا کام کر رہے تھے اور ان سے بڑے بڑے نتائج حاصل ہوتے تھے۔
چونکہ مولانا نے اس سے پہلے کبھی اس قسم کے مالی تعاون کی اپیل نہیں کی تھی اس لیے اس کا بھی بہت اثر پڑ رہا تھا اور ہر شخص اس مہم میں مالی طور پر حصہ لینے کے لیے کوشاں تھا۔
مولانا کی اس کامیاب جدوجہد میں ان حضرات کے پُر خلوص تعاون کو بڑا دخل ہے اور اس میں ان خطوط و مکاتیب کا بلاشبہ بڑا حصہ ہے جنہوں نے ان کو اس کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا۔
فیصلہ آسمانی
مولانا کی سب سے پہلی اور سب سے اچھی تصنیف ”فیصلہ آسمانی“ ہے جو قادیانیوں کے حق میں واقعی ”فیصلہ آسمانی“ ثابت ہوئی۔ یہ کتاب تین جلدوں میں ہے اس کے تین ایڈیشن مولانا کی زندگی ہی میں شائع ہو گئے لیکن کسی قادیانی کو اس کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ مولانا کی وفات کے بعد بھی کسی قادیانی نے اس کا جواب دینے کی جرأت نہ کی۔ قادیانیت کے خلاف سارے لٹریچر میں جو اب تک لکھا گیا ہے یہ کتاب ایک خاص امتیاز رکھتی ہے اور اپنے محکم طرزِ استدلال‘ اسلوب کی وضاحت اور صفائی اور صحیح و طاقت ور گرفت کے اعتبار سے بہت کم کتابیں
اس معیار پر پوری اترتی ہیں۔
اس راہ کے نشیب و فراز کو دیکھتے ہوئے اور اس کے ایک بڑے مبصر کی رائے یہ ہے کہ قادیانیت کے رد میں لکھی ہوئی اکثر کتابوں میں بعض بعض جگہ احتمال کی گنجائش نکل آتی ہے لیکن اس کتاب میں کسی جگہ احتمال کی گنجائش یا استدلال میں کوئی خامی اور کمزوری نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب حشو و زوائد اور غیر ضروری دلائل سے بالکل پاک ہے اور اس میں اپنے جذبات کو تسکین دینے کے بجائے قاری کو مطمئن کرنے کی زیادہ کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف لکھنے والے کے درد و سوز اور اخلاص و حسن نیت نے اس کی قیمت اور افادیت اور قوت تاثیر میں اور اضافہ کر دیا ہے۔
مولانا نے اس کتاب میں قادیانیت کی طرف عام مسلمانوں کے میلان کی جو صحیح گرفت کی ہے اس سے اس سوال کا بڑی حد تک جواب مل جاتا ہے کہ اگر قادیانیت واقعی نبوتِ محمدیؐ کے خلاف بغاوت اور ایک متوازی دین کی دعوت ہے تو پھر اس قدر مسلمان اس کی طرف کیوں مائل ہو گئے اور انہوں نے اس میں کیا خاص فائدہ محسوس کیا اور اس سے ان کے کن جذبات کی تسکین ہوئی۔ مولانا اس مسئلہ پر ”فیصلہ آسمانی“ حصہ اوّل میں روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام کے آنے کی خبریں حدیثوں میں اس قدر آئی ہیں اور مشہور ہیں کہ ہر خاص و عام جانتا ہے مگر شاذ و نادر بہت سے سچے مسلمان اس کے منتظر ہیں۔ خصوصاً اس نازک وقت میں کہ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی ہر طرح کی حالت نہایت خراب بلکہ معرض زوال میں ہو رہی ہے، ایسے وقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کا مژدہ نہایت ہی مسرت بخش ہو سکتا ہے۔“
اس کتاب میں مولانا نے قادیانیت کے تجزیہ و تحلیل اور جانچ کے لیے دو تین اصول خاص طور پر پیش نظر رکھے ہیں۔ ان کے نزدیک قادیانیت پر غور کرنے کا عام فہم اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی آمد اور دعوائے نبوت سے دنیا کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا۔ دوسرے یہ کہ جو علامات اور صفات حضرت مسیح علیہ السلام یا امام مہدی علیہ السلام کی احادیث میں بیان کی گئی ہیں، وہ مرزا صاحب میں کہاں تک پائی جاتی ہیں اور تیسرے یہ دیکھا جائے کہ جس شخص نے اتنا بڑا دعویٰ کیا ہے، اس کی نجی زندگی اور ذاتی حالات کیا ہیں۔ وہ سچا ہے یا جھوٹا، منہاج النبوۃ تو بڑی چیز ہے اس کی زندگی صلحاء اُمت یا عام راست باز اور شریف النفس مسلمانوں کے معیار پر بھی پوری اترتی ہے یا نہیں؟
کتاب کی تمہید میں مولانا لکھتے ہیں:
”ایک مختصر بات عام فہم کہنا چاہتا ہوں اُسے ملاحظہ کیا جائے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کی خبر جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تابعین اور تمام علماء دین نے اس پر یقین کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ بڑی مہتم بالشان خبر ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اور شان صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کی ذات مقدس سے دینی فائدہ بہت کچھ ہوگا، مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت ان کی برکت سے درست ہو جائے گی۔ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں بغض و عداوت نہ رہے گا، روپے پیسے کی وہ کثرت ہوگی کہ کسی مسلمان کو ہدیہ اور تحفہ لینے کی طرف توجہ نہ ہوگی، دنیا بھر میں دین اسلام کو غلبہ ہوگا، ان میں سے کسی بات کا شائبہ بھی مرزا صاحب کے وجود سے نہیں پایا گیا بلکہ سب باتیں برعکس ہیں۔ غور سے دیکھا جائے کہ مسلمانوں میں کس قدر بغض و عداوت ہے، کس قدر افلاس ہے اور دنیا میں کس قدر تفرق ادیان ہے اور پھر یہ کہ اسلام کس قدر ضعیف ہو گیا ہے۔“
آگے ایک جگہ لکھتے ہیں:
”اگر مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے ہوتے تو ان کے صحبت یافتہ زمانہ کے لوگوں سے نرالا ڈھنگ رکھتے کہ ہر طرف سے قبولیت کی نگاہ ان پر پڑتی مگر حالت برعکس ہے۔“
مولانا لکھتے ہیں کہ دوسرا طریقہ علماء کے لیے ضرور مفید ہے لیکن عام مسلمانوں کی اصلاح کے لیے زیادہ کارگر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ مولانا نے کتاب کے پہلے حصے میں یہی آخری طریقہ اختیار کیا ہے اور ان کے نجی حالات اور اقوال و پیش گوئیوں کو ان کے برسر حق یا برسر باطل ہونے کا معیار بنانا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سچائی میں سب سے اوّل درجہ رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر ذرا بھی سچائی میں گرا ہوا پائیں تو اس سے اجتناب کریں۔ میں نے اس رسالہ میں اسی طریقے کو اختیار کیا ہے کہ خاص و عام اس سے مستفید ہوں اور بذات خود فیصلہ کر سکیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے صدق یا کذب کو جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی امتحان نہیں ہو سکتا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص 288)
اس لیے میں نے ان کی پیش گوئیوں پر نظر کرنا مناسب سمجھا اور پیش گوئیوں میں اس پیش گوئی کو اختیار کیا جو ان کے (مرزا صاحب) نزدیک نہایت عظیم الشان ہے اور جس کی شرح سے ان کے ذاتی تقدس کا حال طالبِ حق روشن دلیل سے معلوم کر سکیں۔“
کتاب کا پہلا حصہ مرزا صاحب کی ”منکوحہ آسمانی“ سے متعلق ہے اور اس میں تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ان کے سارے الہامات اور پیش گوئیوں کو حقیقت اور واقعہ کے لحاظ سے اس طرح غلط اور جھوٹا ثابت کیا گیا ہے کہ کوئی انصاف پسند اور غیر جانب دار انسان مطمئن ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دوسرے اور تیسرے حصوں میں ان کی مزید غلط بیانیوں اور دعووں کا پردہ فاش کیا ہے اور آیات قرآنیہ احادیث نبویہؐ دلائل عقلیہ‘ حالات موجودہ اور واقعات گزشتہ ہر پہلو سے ان کے کذب وافترا‘ غلط بیانی اور فریب دہی کے ایک ایک جزو کی تشریح کی ہے اور ان کے سارے دلائل کا مکمل پوسٹ مارٹم کیا ہے۔
دوسرے حصہ میں خود مرزا صاحب کی زبان سے ایسے اقوال پیش کیے ہیں جو ان کے خلاف پڑتے ہیں اور وہ ان کے کاذب یا صادق ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ نیز ان باتوں کی تردید کرتے ہیں جو مرزا صاحب نے قرآن وحدیث کی طرف منسوب کیے ہیں اور قرآن وحدیث ان سے بری ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے مولانا کے وسعت علم و مطالعہ‘ معاملہ فہمی اور دقیقہ رسی‘ حقیقت پسندی اور دلنشین‘ مؤثر اور سادہ طرز تحریر کا پورا اندازہ ہوتا ہے جو کتاب کی ایک ایک سطر سے نمایاں ہے۔ کسی گنجلک اور پیچیدہ طرز تحریر کمزور استدلال یا کسی اُلجھانے والے مسئلہ سے کتاب بالکل پاک ہے اور یہی کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت اور قیمت ہے۔
مرزا صاحب نے اپنے کمال واعجاز کے ثبوت کے لیے ”اعجاز احمدی“ لکھی یا لکھوائی تھی اور اس کا دعویٰ کیا تھا کہ اس رسالہ اور قصیدہ اعجازیہ کی ادبی بلاغت اور فنی کمال کی نظیر کوئی دوسرا پیش نہیں کرسکتا۔ مولانا نے اس قصیدہ کا بہت پرلطف قصہ بیان کیا ہے اور اس سارے کا تار و پود بکھیر دیا ہے جو مرزا صاحب نے علماء اور عام مسلمین دونوں کو بیک وقت فریب دینے کے لیے پھیلایا تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اس جال میں خود ہی گرفتار ہوگئے اور یہ تدبیر ان کے لیے اُلٹی پڑگئی۔
مرزا صاحب نے 5 نومبر 1899ء میں یہ اعلان کیا تھا کہ: ”اے میرے مولا! اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں تو ان تین سالوں کے اندر جو جنوری 1900ء سے آخر 1902ء تک ختم ہوجائیں گے‘ کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو اگر تین برس کے اندر میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلا دے تو میں نے اپنے لیے یہ قطعی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔“
مولانا لکھتے ہیں کہ:
”اس دعا کے بعد (مرزا صاحب) تین برس تک اسی فکر و تجویز میں رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے تاکہ میں اپنے اقرار سے ملعون و کافر قرار نہ پاؤں۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے اس لیے ایک عربی قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کر کے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اس زمانہ میں ایک عرب طرابلس کے رہنے والے ہندوستان میں آئے ہوئے تھے جا بجا وہ پھرتے رہے اور حیدر آباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے۔ یہ عربی کے شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔ اس شہر میں مرزائی زیادہ ہیں انہوں نے مرزا صاحب سے ربط کرا دیا اور خط و کتابت ہونے لگی۔ انہوں نے قصیدہ کی فرمائش کی۔ عرب صاحب نے روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا۔
مولانا محمد سہول صاحب پورنوی بھاگل پوری کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں میں نے اس سے ادب کی بعض کتابیں پڑھی ہیں بڑا ادیب تھا‘ کہتا تھا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی‘ میں نے مرزا کو لکھا اس نے قصیدہ لکھوایا میں نے لکھ دیا اس نے روپے مجھے دیئے۔
اس شخص نے جان بوجھ کر کچھ ایسی غلطیاں بھی قصیدہ میں شامل کر دی تھیں جو اہل زبان سے مستبعد ہیں‘ اس کے متعلق مولانا لکھتے ہیں:
”سعید (شاعر کا نام) مرزا کو جھوٹا جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا کو مس نہیں ہے اس لیے اس نے قصداً یہ غلطیاں رکھیں تاکہ اہل علم اس سے واقف ہو کر اس کی تکذیب کریں چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں اس لیے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا اس لیے مرزا صاحب کو فریب دیا اور بعض ہندی الفاظ بھی قصیدہ میں داخل کر دیئے۔ الحاصل یہ قصیدہ مرزا صاحب کا اعجاز نہیں ہے اگر اسے اعجاز کہا جائے تو سعید شامی کا اعجاز ہوگا۔“
غرض کہ کتاب کے تینوں حصوں میں مرزا صاحب کی ایک ایک دلیل ایک ایک اعجاز اور الہام و پیش گوئی کو لے کر عقل و نقل ہر پہلو سے اس پر کلام کیا ہے اور بغیر کسی جارحیت اور جذباتیت کے اس پر علمی طور پر ایسی تنقید کی ہے جو ہر طبع سلیم کے لیے قابل قبول ہو اور وہ لوگ جو کسی ضد اور شرارت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سادہ لوحی اور عقیدت مندی یا کسی اور قسم کے ذہنی و قلبی تاثر کے ماتحت اس کا شکار ہو گئے ہیں‘ ان پر وہ اصل حقیقت ظاہر ہو جائے جو منطقی بحثوں‘ نکتہ آفرینیوں‘ خالص علمی مباحث اور اختلافی مسائل کے پردہ میں چھپ کر عام مسلمانوں کی نظروں
سے اوجھل ہوگئی ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کو مرزا صاحب کی زندگی اور اقوال و اعمال سے وہ نفرت اور بے زاری پیدا نہیں ہوتی جو مطلوب ہے اور کمالِ ایمان کی علامت ہے۔
جو اسلوب اور طرز استدلال مولانا نے اختیار کیا‘ عام اصلاح و ہدایت کے لیے اس سے بہتر اسلوب کوئی اور نہیں ہوسکتا اور نہ وہ اس درجہ مفید ثابت ہوسکتا ہے اس لیے کہ اس میں دماغوں کو علمی اور واقعاتی طور پر مطمئن کرنے اور دلوں میں اس نئے دین کی طرف سے نفرت و بے زاری پیدا کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
”فیصلہ آسمانی“ کا تیسرا حصہ پہلی مرتبہ 1332 ہجری میں چھپا تھا اور اس میں مرزائیوں کو چیلنج کیا گیا تھا کہ وہ اس کا جواب دیں۔ 1337 ہجری میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اور اس میں اعلان کیا گیا کہ جو شخص اس کتاب کا جواب دے گا اس کو تین ہزار روپے انعام دیا جائے گا لیکن کسی ایک قادیانی نے بھی اس کا جواب دینے کی ہمت نہ کی۔
”فیصلہ آسمانی“ کا خلاصہ انگریزی میں بھی کیا گیا لیکن شاید اس کے شائع ہونے کی نوبت نہ آسکی۔
شہادت آسمانی
مولانا کی دوسری اہم تصنیف ”شہادت آسمانی“ ہے۔ یہ دو حصوں میں ہے۔ ”پہلی شہادت آسمانی“ اور ”دوسری شہادت آسمانی“
1312 ہجری کے رمضان میں چاند اور سورج میں ایک ساتھ گہن ہوا۔ مرزا صاحب نے اس واقعہ کو بڑے فخر سے اپنے حق میں ایک آسمانی شہادت کے طور پر اپنی مہدویت کے ثبوت میں پیش کیا اور یہ اعلان کیا کہ:
”حدیث میں آیا ہے کہ ان دونوں گہنوں کا اجتماع امام مہدی کی علامت ہے اس لیے مرزا صاحب کی مہدویت ثابت ہوگئی۔“
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ:
”رمضان میں ان دو گہنوں کا اجتماع کسی مدعی مسیحیت یا مہدویت کے زمانہ میں نہیں ہوا‘ صرف ان ہی کے عہد میں ہوا ہے۔“
قادیانیوں میں اس بات کا بڑا ذکر تھا اور وہ اس کو ہر جگہ مرزا صاحب کی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا کرتے تھے۔
مولانا نے یہ کتاب ’شہادت آسمانی‘ دراصل اسی خیال کی تردید میں لکھی ہے اور بہت مدلل طریقے پر اس دعویٰ کو غلط ثابت کیا ہے۔
سب سے پہلے مولانا نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس دعوے کی بنیاد مرزا صاحب نے جس حدیث پر رکھی ہے وہ حدیث اس لائق ہرگز نہیں ہے کہ اس سے عقیدہ ثابت کیا جائے کہ مہدی موعود کے وقت میں ایسے گہنوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ گہن امام مہدی علیہ السلام کی علامت ہیں۔
دوسری بات انہوں نے یہ ثابت کی ہے کہ 1312 ہجری کا گہن ایک معمولی گہن تھا جو اپنے وقت پر ہوا اور اس طرح کے گہن پہلے بھی بہت ہوچکے ہیں۔
چنانچہ پہلے اپنے قول کی تائید میں ایک ماہر ہیئت مسٹر کیتھ کی کتاب "Use of Globe" جو لندن میں 1869ء میں چھپی اور ایک ضخیم فارسی کتاب ’حدائق النجوم‘ جو ہیئت فیثا غورثی کے بیان میں ہے اور 1158 صفحات پر مشتمل ہے، پیش کی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ:
”مسٹر کیتھ نے سو برس (یعنی 1801ء سے 1900ء تک) کی فہرست دی ہے اس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سو برس کے عرصہ میں سورج اور چاند کا مشترکہ گہن رمضان المبارک میں پانچ مرتبہ ہوا ہے۔ ’حدائق النجوم‘ کی فہرست میں 63 سال کے اندر رمضان مبارک میں تین گہنوں کا اجتماع لکھا ہے۔“
اس کے بعد انہوں نے کتاب سے 46 برس کی فہرست نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ:
”یہ کتابیں عرصہ دراز ہوا طبع ہوئیں لیکن اب تک کسی نے ان پر غلطی کا الزام نہیں لگایا۔“
پھر انہوں نے دکھایا ہے کہ:
”1268 ہجری میں گہنوں کا پہلا اجتماع ہوا اور ان گہنوں کی تاریخ وہی 13 اور 28 رمضان ہے جن تاریخوں کو مرزا صاحب مہدی کا نشان کہتے ہیں، اس گہن کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔ اس وقت مرزا صاحب کی عمر 11 برس کی ہوگی۔ 1311 ہجری کے رمضان میں اس گہن کا ظہور امریکہ میں ہوا، اس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔“
مولانا لکھتے ہیں کہ:
”مرزا صاحب نے اس گہن کو بھی اپنی تائید میں پیش کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت میں دو گہن ہوں گے حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں
ہے اس صریح جھوٹ کے علاوہ اس گہن کا وجود ہندوستان میں نہیں ہوا جہاں مرزا صاحب کا وجود ہے بلکہ اس ملک میں ہوا جہاں ان کی طرح ایک دوسرا مدعی رسالت موجود ہے۔“
1312 ہجری میں تیسرا گہن ہوا اور یہی وہ گہن ہے جسے مرزا صاحب نے اپنی مہدویت کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ مولانا آگے لکھتے ہیں : ”یہ گہن اس حدیث کا مصداق کس طرح ہو سکتا ہے جس کی نسبت حدیث
(دارقطنی)
میں نہایت صاف طور سے ارشاد ہے ۔:
لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض.
اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ جب سے آسمان و زمین اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے اس وقت سے (لے کر اس مہدی کے وقت تک) ایسا چاند گہن اور سورج گہن کبھی نہ ہوا ہوگا ) یعنی وہ دونوں گہن ایسے بے مثل اور بے نظیر ہوں گے کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔“
اس کے بعد انہوں نے بہت تفصیل سے یہ ثابت کیا ہے کہ امام مہدی کی جو خصوصیات وصفات احادیث میں بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی مرزا صاحب پر منطبق نہیں ہوتی۔
مولانا کی اس تصنیف ”شہادت آسمانی“ کا طرزِ استدلال اور اسلوب بیان ”فیصلہ آسمانی“ سے بہت ملتا جلتا ہے۔ دلائل کی مضبوطی، مستند تاریخی حوالوں اور واقعات سے استدلال اور حدیث وقرآن سے اس طرح استنباط کہ کسی شک وشبہ، احتمال آفرینی اور بے یقینی کی گنجائش باقی نہ رہے اور دوبارہ استفسار وسوال کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور مخالفین اس سے کوئی غلط فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔ مولانا کے اسلوب کی خصوصیت ہے لیکن رد قادیانیت کے سلسلہ میں یہ اسلوب اور طرزِ تصنیف بہت نمایاں ہو کر اور نکھر کر سامنے آیا ہے۔
مولانا کی دوسری تصنیفات پر ایک نظر
اس کے علاوہ مولانا کی جو تصنیفات رد قادیانیت میں ہیں، ان میں چشمۂ ہدایت، چیلنج محمدیہ، معیار صداقت، معیار المسیح ، حقیقت المسیح ، تنزیہ ربانی، آئینہ کمالات مرزا، نامۂ حقانی زیادہ مشہور اور ممتاز ہیں۔ کل کتابوں کی تعداد پچاس کے قریب ہے اس کے علاوہ بہت سے ایسے رسائل بھی ہیں جو پہلے چھپے تھے، اس کے بعد ختم ہو گئے اور پھر چھپنے کی نوبت نہ آ سکی اور اب ان کا سراغ لگانا بھی آسان نہیں۔
دراصل مولانا نے تنہا وہ کام کیا جو ایک اکیڈمی بھی اتنے بہتر اور کامیاب طریقہ پر نہیں
کر سکتی۔ قادیانیت کے خلاف یہ سارا لٹریچر مولانا ہی کے زورِ قلم کا نتیجہ ہے اور انہوں نے اس کے خلاف مکمل مواد فراہم کر دیا ہے اور اس کے ہر ہر پہلو کا پورا تجزیہ کیا ہے۔ رسالہ ”چیلنج محمدیہ“ عربی فارسی اور اردو تین زبانوں میں 1919ء میں شائع ہوا اور اس کی خوب اشاعت ہوئی۔ ایڈیٹر الفضل اور خلیفہ قادیان کو کئی مرتبہ بھیجا گیا لیکن مسلسل سکوت کے سوا اور کوئی جواب نہ ملا۔ اس میں مرزا صاحب کو خود ان کی زبان سے جھوٹا ثابت کیا گیا ہے۔ ”چشمہ ہدایت“ کے آخر میں اعلان کیا گیا کہ جو اس کا جواب دے گا اس کو دس ہزار روپیہ پیش کیا جائے گا۔ اس رسالہ میں مرزا صاحب کے 18 اقوال نقل کیے ہیں اور اس سے ان کو مفتری اور کاذب ثابت کیا ہے بار بار چیلنج کے بعد بھی کسی نے اس کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔
ایک عام فہم اور واضح دلیل جس کا مولانا نے تقریباً اپنی ہر کتاب اور ہر رسالہ میں ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو سوچنے کی دعوت دی ہے وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مہدی علیہ السلام کے نزول کی علامت یہ ہے کہ تمام کافر اسلام لے آئیں گے اور دنیا سے فسق و فجور اُٹھ جائے گا۔ وہ انسان کے انصاف پسند اور سنجیدہ ذہن سے اپیل کرتے ہوئے بار بار کہتے ہیں کہ غور کرو مرزا صاحب کے آنے سے کیا یہ بات حاصل ہوئی جو انہوں نے بیان کی ہے؟
”معیار صداقت“ میں لکھتے ہیں کہ:
”ایک فتویٰ مرزا صاحب اور ان کے خلیفہ اور صاحب زادہ کا یہ ہے کہ جو کوئی مرزا صاحب پر ایمان نہیں لایا وہ کافر ہے اس کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو تقریباً 23 کروڑ مسلمان تھے وہ مرزا صاحب کے وجود سے سب کافر ہو گئے بجز قلیل گروہ کے اور کوئی کافر مسلمان نہیں ہوا۔“
قادیانیوں نے آخر میں قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرنے کی کوشش کی اور توڑ موڑ کر اس کے معنی بیان کرنے شروع کیے۔ مولانا نے اس کے رد میں ”معیار المسیح“ کے نام سے ایک رسالہ لکھا اور ایک ایک دلیل کو لے کر اس کی غلطی ظاہر کی۔
مولانا کے ان رسائل کے جواب میں سب قادیانیوں نے مل کر ایک رسالہ ”اسرارِ نہانی“ لکھا اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے مولانا کو خاص طور پر ہدف بنایا اور کوشش کی کہ عام مسلمان مولانا سے بدظن ہو جائیں اس کے بعد ان کو مرزا صاحب کی طرف متوجہ کرنا آسان ہوگا اس کے لیے انہوں نے دو تنخواہ دار مبلغین رکھے اور ان کے ذمہ یہ کام کیا کہ وہ گاؤں گاؤں پھر کر
سیدھے سادے مسلمانوں کے دلوں میں مولانا سے نفرت پیدا کریں اور ان کی زندگی کو ان کے سامنے گھناؤنا بنا کر پیش کریں تاکہ ان کی وقعت اور محبت لوگوں کے دلوں سے نکل جائے جو قادیانیت کے راستہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔
مولانا نے مولانا عبدالرحیم مونگیری کے نام ایک طویل مکتوب میں اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔ نیز ”صحیفہ رحمانیہ“ میں بھی اس کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے:
”چونکہ اس جماعت کو خدا سے واسطہ نہیں ہے اس لیے جواب سے عاجز ہو کر فحش کلامی اور بے ہودہ گوئی کر کے حضرت مخدوم بہاری اور حضرت مجدد الف ثانی علیہما الرحمۃ وغیرہ بزرگوں کو در پردہ اور حضرت مؤلف ”فیصلہ آسمانی“ کو علانیہ گالیاں دینا اور عوام کو بہکانا شروع کیا ہے۔“
”مرزائی نبوت کا خاتمہ“ نامی ایک رسالہ مولانا نے اور لکھا اور ختم نبوت کو ثابت کیا یہ رسالہ 1914ء میں دہلی میں شائع ہوا۔ 1925ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا لیکن کوئی قادیانی اس کا جواب نہ دے سکا۔
قادیانیوں کی طرف سے ایک دلیل یہ دی جانے لگی تھی کہ:
”مدعی کاذب اور مفتری نہ باقی رہ سکتا ہے نہ پھل پھول سکتا ہے لیکن مرزا صاحب کو برابر کامیابی ہو رہی ہے اور لوگ ان کے دائرہ میں داخل ہو رہے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرزا صاحب حق پر ہیں۔“
اس کے رد میں مولانا نے ایک رسالہ ”عبرت خیز“ لکھا اور اس غلط خیال کی تردید کی اور قرآن مجید اور تاریخ و واقعات کے حوالہ سے اس دعویٰ کی کمزوری واضح کی۔
مکتوب بنام استاد فرمانروائے دکن
خواجہ کمال الدین نے حیدرآباد میں زور و شور سے قادیانیت کی تبلیغ شروع کی تھی اور اس کے لیے ایسا اسلوب اختیار کیا تھا کہ لوگوں کے جذبات بھی زیادہ مجروح نہ ہوں اور وہ تدریجی طور پر قادیانیت کو قبول کرنے کے لیے تیار بھی ہو سکیں۔
انہوں نے ”صحیفہ آصفیہ“ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا اور اس میں بڑی چابکدستی کے ساتھ مولانا ہی کے الفاظ میں ”زہر کی تخم پاشی“ کی۔ بدقسمتی سے ان کو دربار میں بھی تقرب حاصل ہو گیا اور دوسری طرف انہوں نے یہ اعلان شروع کیا کہ ہمارا مقصد صرف اشاعت اسلام ہے اس کا جو اثر مسلمانوں پر پڑا وہ ظاہر ہے بالخصوص انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان اس اعلان سے
بہت متاثر ہوئے جو ایک انگریزی تعلیم یافتہ کی طرف سے برابر کیا جارہا تھا۔
مولانا اس صورت حال سے بہت بے چین اور مشوش تھے اس کے لیے انہوں نے نظام حیدر آباد کے استاد فضیلت جنگ مولانا انوار اللہ خان صاحب کو ایک مفصل مکتوب میں اس کی طرف توجہ دلائی اور اپنے درد دل کا اظہار کیا۔ خط اس شعر سے شروع کیا ہے
وگر خاموش بہ نشینی گناہ است
خط میں مولانا لکھتے ہیں،
”کچھ عرصہ سے سن رہا ہوں کہ خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور مرید خاص مرزا غلام احمد صاحب قادیانی وہاں پہنچے ہوئے ہیں اور تمام مسلمانوں میں بہت غل مچا دیا ہے اور سنا جاتا ہے کہ ہمارے شہر یار دکن کی نظروں میں بھی مقبول ہو گئے ہیں یہاں تک کہ ہر ایک کو ان سے بات کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ مجھے سخت حیرت ہے باوجودیکہ وہاں کے فرماں روا آپ کو بہت مانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کتاب ”افادۃ الافہام“ آپ ہی نے لکھی ہے اور بہت عمدہ کتاب لکھی ہے پھر اس کے مقابلہ میں ”صحیفہ آصفیہ“ خواجہ صاحب کا تقسیم ہو رہا ہے یعنی تریاق کے بعد زہر کی تخم پاشی ہو رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔“
ایک جگہ لکھتے ہیں:
”خواجہ صاحب ایک گروہ کے لیڈر اور خوش بیان شخص ہیں چونکہ اس وقت قدرتی طور پر انگریزی تعلیم یافتہ حضرات میں اسلامی جوش پایا جاتا ہے (اگرچہ اسلامی احکام سے انہیں واسطہ نہ ہو) اس لیے خواجہ صاحب کی اس خوش آئند آواز سے کہ ہم اشاعت اسلام کریں گے اکثر ان کے معاون اور مددگار ہو گئے ہیں اگرچہ ان کی نیت اچھی ہے مگر حقیقت حال سے واقف نہیں ہیں انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس پردہ میں کیا راز ہے۔ مولانا! آپ سے یہ غفلت ہوئی کہ آپ نے پہلے سے وہاں کے فرماں روا کو خواجہ صاحب کے حالات سے اطلاع نہیں دی اور وہاں کے معززین کو پورے طور سے آگاہ نہیں کیا۔“
قادیانیوں کی حکمت عملی اور مصلحت پرستی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:
”خواجہ صاحب نے ان اطراف میں بھی دورہ کیا اور ان کے بیان ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذاتی مصلحت اور گہری پالیسی سے کام لے رہے ہیں جہاں کسی واقف کار ذی علم نے کوئی سوال کیا تو اس کے جواب میں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس وقت میں جواب کے لیے
تیار نہیں ہوں اور عوام میں بیان کے بعد اکثر یہ کہہ دیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود مہدی مسعود سے یہ کہہ لیا تھا کہ میں صرف اسلام پر لیکچر دیا کروں گا اور کچھ نہ کہوں گا اب اس پر غور کیجیے کہ مرزا کی محبت کا تخم مسلمانوں کے دلوں میں بونے کا کیسا عمدہ طریقہ وہ برتتے ہیں۔"
اس خط میں مولانا نے خواجہ کمال الدین کے طریقہ کار اور ان کے تمام دعوؤں اور اعلانات پر روشنی ڈالی ہے اور ان خطرات کی نشاندہی کی ہے جو اس نئے فتنہ سے مسلمانوں کو درپیش ہیں۔
مولانا کی تصنیفات کا اثر
مولانا کی ان تصنیفات ورسائل اور خطوط و مکاتیب نے اتنا کام کیا کہ بعض اوقات قادیانی مبلغ یہ علم ہوتے ہی کہ مولانا کے رسائل کی فلاں جگہ لوگوں میں عام اشاعت ہورہی ہے وہ جگہ چھوڑ کر چلے گئے اور جب وہاں بھی ان رسائل نے ان کا تعاقب کیا تو ان کو کسی تیسری جگہ پناہ لینی پڑی۔ یہاں تک نوبت آئی کہ مولانا کا نام ہی قادیانیوں کی شکست کا رمز بن گیا۔
ان تصنیفات بالخصوص ’فیصلہ آسمانی‘ اور ’شہادت آسمانی‘ کے مطالعہ سے غیر جانب دار شخص اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ قادیانیت کے رد میں جو لٹریچر اب تک تیار کیا گیا ہے اس میں یہ کتابیں بہت ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے تردید قادیانیت میں جو اہم پارٹ ادا کیا ہے اور مسلمانوں کو جتنا فائدہ پہنچایا ہے اسے کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کر سکتا۔
مولانا کے اس ’قلمی جہاد‘ سے ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس جال میں پھنس چکی تھی اور اندیشہ تھا کہ ایک کثیر تعداد اس فتنہ میں مبتلا ہو جائے گی۔ مولانا کی کوششوں سے یہ سب اس تحریک کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ ان کتابوں اور رسائل کا اثر صرف بہار تک محدود نہ تھا۔ پنجاب، بنگال، مدراس، بمبئی، گجرات، حیدرآباد، سلہٹ، ڈھاکہ، نواکھالی، میمن سنگھ جس جگہ قادیانیوں کے قدم پہنچے وہاں مولانا کی تصنیفات بھی ان کے تعاقب میں پہنچیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یا تو قادیانی بھاگنے پر مجبور ہوئے یا خاموشی اختیار کرلی۔
برما اور افریقہ میں بھی مولانا کی تصنیفات اور رسائل بڑی تعداد میں پہنچے اور اس کی وجہ سے قادیانیت کے جمے ہوئے قدم متزلزل ہو گئے اور بہت سے مسلمان جو اس سے متاثر ہوئے تھے اس سے واقف ہو کر بے زار ہوگئے۔
صوبہ سرحد میں بھی ان رسائل کی اچھی اشاعت ہوئی۔ متعدد رسائل کا انگریزی، گجراتی
اور بنگلہ زبان میں ترجمہ بھی ہوا۔
کٹک اور اس کے اطراف میں قادیانیت نے خاصا زور پکڑ لیا تھا اور ان کی ایک مضبوط جماعت بن گئی تھی جس کا دائرہ روز بروز وسیع ہورہا تھا لیکن وہاں کے مدرسہ سلطانیہ کے صدر مدرس مولانا سید محمد قاسم بہاری نے جلد ہی اس کے تریاق کی فکر کی اور مولانا کے رسائل منگوا کر اس کی اشاعت کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں ان اطراف میں یہ فتنہ بالکل ختم ہو گیا۔ کٹک سے مولانا کے ایک عقیدت مند مولانا کو ان حالات سے مطلع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حضور کے رسالوں اور کتابوں کا اس ملک میں اچھا اثر پڑا مسلمانوں کے عقائد بہت درست ہوگئے۔ ایک جم غفیر اور بڑی جماعت جو قادیانی ہونے والی تھی‘ انہی کتابوں کی بدولت قادیانی ہونے سے بچ گئی اور اب یہ حالت ہے کہ کسی قادیانی کو اپنے مذہب سے دلچسپی نہیں رہی۔“
بہار میں بہت سی مساجد پر قادیانیوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور مسلمانوں نے صبر کر لیا تھا لیکن مولانا کی ہمت افزائی اور پشت پناہی سے تین چار اہم مساجد کے سلسلہ میں مسلمانوں نے ہائی کورٹ تک مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔ پنجاب میں اس سے قبل کئی مقدمے ہوئے تھے لیکن اس میں قادیانی کامیاب ہوگئے تھے۔ بہار کی اس کامیابی کا اثر کچھ ایسا پڑا کہ اس کے بعد پنجاب میں مسلمانوں کو متعدد مقدموں میں کامیابی حاصل ہوئی اور قادیانی ان کی مسجدوں سے بے دخل کیے گئے۔
اگر کبھی برسوں کے بعد مرزا صاحب یا ان کے حامیوں کی طرف سے مولانا کی کسی کتاب کا جواب دیا گیا تو مولانا نے فوراً اس کی تردید میں رسالہ لکھا‘ اس کا اثر یہ پڑا کہ پھر دوبارہ ان کو ہمت نہ ہوئی اور اس میدان میں ان کو اپنی کامیابی بہت دشوار نظر آنے لگی۔
چونکہ مولانا پیچیدہ مسائل اور علمی مباحث کو بھی سلجھا کر اور سادہ و دل نشین انداز میں پیش کرنے کے عادی تھے اس لیے عام مسلمانوں کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا بہت آسان تھا اور یہی مولانا کا مقصد بھی تھا۔
مولانا اکثر فرماتے کہ:
”اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اُٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے۔“
اور حق یہ ہے کہ مولانا نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا اور ان کا یہ سوز و اضطراب‘ سیماب وشی و بے قراری اور جہادِ مسلسل اس بات کی تصدیق کے لیے بالکل کافی ہے۔