قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ جلد 1 · مولانا اللہ وسایا
Komi Asambli Qadiyani Mosadka Report · Vol. 1 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدّقہ رپورٹ

تحقیق وتخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

جلد اوّل

١ ، ٢ ، ٣

عالمی مجلس تحفّظ ختمِ نبوّت مُلتان

PDF 2

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدقہ رپورٹ

جلد اول

١، ٢، ٣

تحقیق و تخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

مبلغ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

صفحہ ٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

طبع شدہ کارروائی کی انٹرنیٹ سے کاپی لے کر فقیر نے اس پر عنوان بھی لکھے، حوالہ جات کی تحقیق وتخریج کی اس کتاب پر اپنی اس محنت کا

انتساب!

قائد جمعیت علماء اسلام، مفکر اسلام، شیخ الحدیث،

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

کے نام

ا قائدانہ صلاحیتوں سے اسمبلی کے ایوان میں قدرت حق نے اسلام کو فتح قادیانیت کو شکست سے دوچار کیا۔ ا نے قومی اسمبلی میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تب کردہ ”مؤقف ملت اسلامیہ“ کو پڑھا (جو قادیانی گروہ کے محضر نامہ کا صل جواب تھا) قیادت میں شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہریؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چوہدری ظہور الٰہیؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، جناب عبدالحفیظ پیرزادہ، جناب اٹارنی جنرل یحییٰ بختیارؒ، جناب سپیکر فاروق علی خان، جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ، وزیر اعظم پاکستان اور ان کے دیگر گرامی قدر رفقاء نے حقانیت کا جنگ لڑی اور قادیانیت جیسے کفر بواح کو چاروں شانوں چت کیا۔

قائد تیری عظمت کو سلام

آج آپ کے جانشین قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ بھی محاذ پر بھی آپ کی جانشینی کا حق ادا کر رہے ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

نام کتاب : ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی سرکاری رپورٹ“ جسے حکومت پاکستان نے اوپن کیا

انٹرنیٹ ایڈریس جہاں سے یہ کتاب حاصل کی گئی www.secondhandislam.co.uk

حکومتی ایڈیشن مکمل 21 حصص کو اب موجودہ ایڈیشن میں 5 جلدوں میں سمو دیا گیا ہے۔

حواشی، عنوانات، حوالہ جات کی تحقیق وتخریج و ناشر: اللہ وسایا مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر 2013ء

PDF 4

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

سرکاری طور پر طبع شدہ کارروائی کی انٹرنیٹ سے کاپی لے کر فقیر نے اس پر عنوان قائم کئے، حواشی لکھے، حوالہ جات کی تحقیق و تخریج کی اس کتاب پر اپنی اس محنت کا

انتساب !

قائد جمعیت علماء اسلام، مفکر اسلام، شیخ الحدیث، حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے نام

اور قادیانیت کو شکست سے دوچار کیا۔

کے مرتب کردہ ”مؤقف ملت اسلامیہ“ کو پڑھا (جو قادیانی گروہ کے محضر نامہ کا مدلل و مکمل جواب تھا)

ہزاروی ؒ، قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی ؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری ؒ، مولانا ظفر احمد انصاری ؒ، پروفیسر غفور احمد ؒ، چوہدری ظہور الٰہی ؒ، مولانا عبدالحکیم ؒ، جناب عبدالحفیظ پیرزادہ، جناب اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار ؒ، جناب سپیکر فاروق علی خان، جناب ذوالفقار علی بھٹو ؒ، وزیر اعظم پاکستان اور ان کے دیگر گرامی قدر رفقاء نے حقانیت اسلام کی جنگ لڑی اور قادیانیت جیسے کفر بواہ کو چاروں شانوں چت کیا۔

قائد تیری عظمت کو سلام

کہ آج آپ کے جانشین قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن مدظلہ اس محاذ پر بھی آپ کی جانشینی کا حق ادا کر رہے ہیں۔

نام کتاب :

حکومتی ایڈیشن

حواشی، عنوانات، حوالہ جات کی تحقیق وتخریج و ناشر: مطبع : طبع اوّل :

صفحہ ٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ!

دیباچہ!

٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے قادیانی دھرم کے نام نہاد چوتھے گرو مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے ردعمل میں پاکستان میں تحریک چلی۔ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کے لئے پیش کریں گے۔ جو قومی اسمبلی کے اراکین، آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری فیصلہ کریں گے۔ وہ سب کے لئے قابل قبول ہوگا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ قادیانی جماعت نے وزیراعظم پاکستان اور قومی اسمبلی کے جنرل سیکرٹری کو درخواست بھجوائی کہ اسمبلی میں ہمارے عقائد پر بحث ہونا ہے تو ہمیں بھی قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا موقعہ دیا جائے۔ چنانچہ وزیراعظم پاکستان نے قائد حزب اختلاف، مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے مشاورت کے بعد قادیانی ولاہوری دونوں گروہوں کے سربراہوں کو ان کی درخواست پر قومی اسمبلی میں آکر موقف پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان تھے۔ وہ قومی اسمبلی کی اس خصوصی کمیٹی کے بھی چیئرمین قرار پائے۔ ان کی زیر صدارت مہینہ بھر کمیٹی کے اجلاس وقفہ وقفہ سے منعقد ہوتے رہے۔

قادیانی جماعت کے تیسرے چیف گرو مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ کے لاٹ پادری صدر الدین لاہوری، مسعود بیگ لاہوری، عبد المنان لاہوری پیش ہوئے۔ جبکہ اس وقت پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ تمام قومی اسمبلی کے اراکین جو خصوصی کمیٹی کے بھی اراکین قرار پائے تھے۔ وہ قادیانی، لاہوری گروپ کے قائدین سے قادیانی دھرم کے بارے میں سوالات کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ تمام سوالات اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کے ذریعہ ہوں گے۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو قومی رہنما تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قادیانی مسئلہ ایسے طور پر حل ہو کہ باہر کی دنیا کا کوئی شخص اس پر حرف گیری نہ کر سکے۔ اس لئے آپ نے قادیانی مسئلہ کو قومی

کہ وہ آزادانہ فیصلہ کریں۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ قادیانی ولاہوری گروپ ان پر سوال کرنے والے جناب اٹارنی جنرل قومی اسمبلی کے ارکان نہ تھے۔ کاروائی میں حصہ لینے کا کیسے اہل قرار دیا جائے؟۔ اس مشکل کو حل کرنے کے ملی کو ”خصوصی کمیٹی برائے بحث قادیانی ایشو“ میں بدل دیا گیا۔ قومی اسمبلی کے خصوصی کمیٹی کا ممبر قرار دیا گیا۔ یوں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں غیر ممبران لانے کا راستہ نکالا گیا۔ ان دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس پاکستان سٹیٹ بینک میں ہوتے تھے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ٥؍اگست ١٩٧٤ء قومی اسمبلی کے ہال واقع پاکستان سٹیٹ بینک اسلام آباد میں مرزا ناصر پر

ت سے لے کر ١٠؍اگست تک ٦؍دن اور پھر ٢٠؍اگست سے لے کر ٢٤؍اگست رہ دن مرزا ناصر احمد چیف قادیانی گروہ پر جرح ہوئی۔ ٢٧؍اگست ٢٨؍اگست دین، عبدالمنان عمر اور مرزا مسعود بیگ، لاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح دیانی ولاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح مکمل ہوئی۔ گروپ کے مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ٥؍اگست سے ا۔ قادیانی گروپ لیڈر نے قومی اسمبلی کے ہر رکن کو اس کی ایک ایک مطبوعہ س لئے تمام اراکین نے اس کا مطالعہ کر لیا۔ اسے اپنے طور پر قادیانیوں نے نے جو سرکاری رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا آغاز ٥؍اگست کی کاروائی یعنی دن کی جرح سے کیا ہے۔

تی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ملت اسلامیہ کا قادیانی فتنہ ش کرنا تھا۔ چنانچہ مرکزی مجلس عمل کے سربراہ شیخ الاسلام حضرت مولانا راولپنڈی میں ڈیرہ جمالیا۔ پارک ہوٹل میں آپ کا قیام طے ہوا۔ دفتر ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے قادیانیت کی کتب اور اخبارات کا ایک لیا گیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق مذہبی بحث کو لکھنے کے لئے شیخ الاسلام حضرت ر سیاسی بحث لکھنے کے لئے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کو راولپنڈی بلا لیا مفتی عثمانی کی مدد کے لئے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ اور حضرت

صفحہ ٥

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دیباچہ!

٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے قادیانی نام نہاد چوتھے گرو مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ اس کے ردعمل میں پاکستان میں تحریک چلی۔ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقار بھٹو تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کے لئے پیش کریں قومی اسمبلی کے اراکین، آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری فیصلہ کریں گے۔ وہ سب کے قبول ہوگا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ قادیانی جماعت نے وزیراعظم پاکستان اور سیکرٹری جنرل سیکرٹری کو درخواست بھجوائی کہ اسمبلی میں ہمارے عقائد پر بحث ہونا ہے تو ہمیں بھی میں پیش ہونے کا موقعہ دیا جائے۔ چنانچہ وزیراعظم پاکستان نے قائد حزب اختلاف مولانا حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے مشاورت کے بعد قادیانی و لاہوری دونوں گروہوں کے سربراہان کی درخواست پر قومی اسمبلی میں آکر موقف پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان تھے۔ وہ اس خصوصی کمیٹی کے بھی چیئرمین قرار پائے۔ ان کی زیر صدارت مہینہ بھر کمیٹی کے اجلاس سے منعقد ہوتے رہے۔

قادیانی جماعت کے تیسرے چیف گرو مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ پادری صدر الدین لاہوری، مسعود بیگ لاہوری، عبدالمنان لاہوری پیش ہوئے۔ اٹارنی پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ تمام قومی اسمبلی جو خصوصی کمیٹی کے بھی اراکین قرار پائے تھے۔ وہ قادیانی، لاہوری گروپ کے قادیانی دھرم کے بارے میں سوالات کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ تمام سوالات اٹارنی جنرل کے ذریعہ ہوں گے۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو قومی رہنما تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قادیانی مسئلہ ہو کہ باہر کی دنیا کا کوئی شخص اس پر حرف گیری نہ کر سکے۔ اس لئے آپ نے قومی

اسمبلی کے سپرد کیا کہ وہ آزادانہ فیصلہ کریں۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ قادیانی و لاہوری گروپ کے سربراہان اور ان پر سوال کرنے والے جناب اٹارنی جنرل قومی اسمبلی کے ارکان نہ تھے۔ انہیں قومی اسمبلی کی کاروائی میں حصہ لینے کا کیسے اہل قرار دیا جائے؟ ۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پوری قومی اسمبلی کو ”خصوصی کمیٹی برائے بحث قادیانی ایشو“ میں بدل دیا گیا۔ قومی اسمبلی کے تمام ممبران کو اس خصوصی کمیٹی کا ممبر قرار دیا گیا۔ یوں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں غیر ممبران قومی اسمبلی کو بھی بلانے کا راستہ نکالا گیا۔ ان دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس پاکستان سٹیٹ بینک اسلام آباد کی بلڈنگ میں ہوتے تھے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ٥؍اگست ١٩٧٤ء بروز پیر صبح دس بجے قومی اسمبلی کے ہال واقع پاکستان سٹیٹ بینک اسلام آباد میں مرزا ناصر پر جرح کا آغاز ہوا۔

٥؍اگست سے لے کر ١٠؍اگست تک ٦؍ دن اور پھر ٢٠؍اگست سے لے کر ٢٤؍اگست تک ٥؍ دن۔ کل گیارہ دن مرزا ناصر احمد چیف قادیانی گروہ پر جرح ہوئی۔ ٢٧؍اگست ٢٨؍اگست ٢؍ دن ...... صدر الدین، عبدالمنان عمر اور مرزا مسعود بیگ، لاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح ہوئی۔ کل تیرہ دن قادیانی و لاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح مکمل ہوئی۔

قادیانی گروپ کے مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ٥؍اگست سے پہلے اپنا بیان پڑھا تھا۔ قادیانی گروپ لیڈر نے قومی اسمبلی کے ہر رکن کو اس کی ایک ایک مطبوعہ کاپی دے دی تھی۔ اس لئے تمام اراکین نے اس کا مطالعہ کرلیا۔ اسے اپنے طور پر قادیانیوں نے شائع بھی کیا۔ حکومت نے جو سرکاری رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا آغاز ٥؍اگست کی کاروائی یعنی مرزا ناصر احمد پر پہلے دن کی جرح سے کیا ہے۔

کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ملت اسلامیہ کا قادیانی فتنہ کے خلاف موقف پیش کرنا تھا۔ چنانچہ مرکزی مجلس عمل کے سربراہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے راولپنڈی میں ڈیرہ جمالیا۔ پارک ہوٹل میں آپ کا قیام طے ہوا۔ دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے قادیانیت کی کتب اور اخبارات کا ایک ذخیرہ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق مذہبی بحث کو لکھنے کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کو اور سیاسی بحث لکھنے کے لئے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کو راولپنڈی بلالیا گیا۔ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کی مدد کے لئے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات اور حضرت

صفحہ ٧

مولانا عبدالرحیم اشعر کے ذمہ حوالہ جات مہیا کرنے کا کام لگایا گیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق سیاسی بحث لکھنے کے لئے حوالہ جات مہیا کرنے کا کام حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کے ذمہ لگایا گیا۔ دن بھر خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، امام اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی، فخر قوم چوہدری ظہور الہی مرحوم، جناب عزت مآب پروفیسر غفور احمد شریک ہوتے۔ رات کو حضرت شیخ بنوری کے ہاں یہ سب حضرات یا جو فارغ ہوتے تشریف لاتے۔ البتہ حضرت مفتی صاحب بہر حال ہر روز تشریف لاتے ۔ دن بھر میں محضر نامہ کا جتنا حصہ تیار ہو جاتا وہ سنتے۔ حضرت شیخ بنوری کے حکم پر حضرت پیر طریقت سید نفیس الحسینی اپنے کاتب شاگردوں کی ٹیم کے ہمراہ راولپنڈی تشریف لائے جو حصہ محضر نامہ کا تیار ہو جاتا۔ وہ حضرت سید نفیس الحسینی کے سپرد کر دیا جاتا۔ وہ اس کی کتابت کراتے ۔ غرض اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ دن رات مشین کی طرح تمام حضرات اپنا اپنا کام کرتے رہے۔ ادھر ٢٨؍اگست کو لاہوری گروپ پر جرح مکمل ہوئی۔

اگلے دن ٢٩؍اگست (ملت اسلامیہ کا موقف جو پہلے سے لکھا جا چکا تھا) کو حضرت مفکر اسلام مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں پڑھنا شروع کیا۔ ٢٩، ٣٠؍اگست کو حضرت مولانا مفتی محمود نے اپنا بیان مکمل فرمایا جو ملت اسلامیہ کا موقف اور چار ضمیمہ جات پر مشتمل تھا۔ ضمیمہ نمبر١، فیصلہ مقدمہ بہاول پور۔ ضمیمہ نمبر٢، فیصلہ مقدمہ راولپنڈی، ضمیمہ نمبر٣، فیصلہ مقدمہ جیمس آباد، ضمیمہ نمبر٤، فیصلہ مقدمہ جی ڈی کھوسلہ گرداسپور۔ یہ تمام مسودہ حضرت مولانا مفتی محمود نے دو دن میں مکمل فرمایا۔

مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ایم این اے نے اپنی طرف سے علیحدہ محضر نامہ تیار کیا تھا۔ جسے حضرت مولانا عبدالحکیم ایم این اے نے ٣٠؍اگست کے اجلاس کے آخری حصہ میں پڑھنے کا عمل شروع فرمایا۔ جو ٣١؍اگست کے اجلاس کے اختتام تک مکمل ہو گیا۔ ٢؍ستمبر کے اجلاس میں سردار مولا بخش سومرو، شہزادہ سعید الرشید عباسی، صاحبزادہ صفی اللہ، ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری، سردار عنایت الرحمٰن عباسی، چوہدری جہانگیر علی، کرنل حبیب احمد، مولانا غلام غوث ہزاروی، مغل اورنگزیب، راؤ خورشید علی خان، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، میاں عطاء اللہ، بیگم نسیم جہان، پروفیسر غفور احمد، خواجہ غلام سلیمان تونسوی، سید عباس حسین گردیزی، جناب عبدالعزیز بھٹی، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، چوہدری غلام رسول تارڑ، جناب محمد افضل

ممتاز احمد، غلام نبی چوہدری، ملک کرم بخش اعوان، جناب غلام حسن خان محمد ہاشمی اور دیگر ممبران نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی بحث میں حصہ لیا اور ار خیال کیا۔ قادیانی ولاہوری گروپ پر جرح کے بعد قادیانی مسئلہ پر جو ان کی خطابات میں اس کا کھل کر اظہار کیا۔

و جناب غلام رسول تارڑ، جناب کرم بخش اعوان، مولانا غلام غوث ہزاروی، سٹر محمد شفیع، چوہدری جہانگیر علی، مولانا ظفر احمد انصاری، جناب حنیف خان، ضرت مولانا عبدالحق، ممبران قومی اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا۔

کو سری لنکا کے وزیر اعظم تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں قومی اسمبلی کا (آج کی کاروائی خصوصی کمیٹی کا حصہ نہ تھی۔)

ر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ جناب چوہدری محمد حنیف ، ملک محمد سلیمان، جناب عبدالحمید جتوئی، ملک محمد جعفر، ڈاکٹر غلام حسین، ردار احمد رضا خان قصوری کے قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی میں بیانات ہوئے۔

خری حصہ میں جناب یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل نے بحث کو سمیٹنا شروع کیا۔

ران قومی اسمبلی اور جناب یحییٰ بختیار کے بیانات و بحث اختتام کو پہنچی۔

خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے بحث میں حصہ لیا۔ ٥؍اگست سے زائد کے عرصہ میں اسمبلی کی اس مسئلہ پر کارکردگی کے کل ٢١؍دن ہیں۔

پر جرح ١١؍دن ہوئی ۔ پ پر جرح ٢؍دن ہوئی ۔ نا مفتی محمود کا بیان ٢؍دن ہوا۔ نا عبدالحکیم کا بیان ١؍دن ہوا۔ اسمبلی کے بیانات ٣؍دن ہوئے۔ بختیار کے بیانات ٢؍دن ہوئے۔ کل ٢١؍دن کی کاروائی تھی

صفحہ ٧

رندھاوا، چوہدری ممتاز احمد، غلام نبی چوہدری، ملک کرم بخش اعوان، جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ، مخدوم نور محمد ہاشمی اور دیگر ممبران نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی بحث میں حصہ لیا اور قادیانی مسئلہ پر اظہار خیال کیا۔ قادیانی ولاہوری گروپ پر جرح کے بعد قادیانی مسئلہ پر جو ان کی رائے تھی اپنے اپنے خطابات میں اس کا کھل کر اظہار کیا۔

٣ ستمبر کو جناب غلام رسول تارڑ، جناب کرم بخش اعوان، مولانا غلام غوث ہزاروی، پروفیسر غفور احمد، ڈاکٹر محمد شفیع، چوہدری جہانگیر علی، مولانا ظفر احمد انصاری، جناب حنیف خان، خواجہ جمال کوریجہ، حضرت مولانا عبدالحق، ممبران قومی اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا۔

(٤ ستمبر کو سری لنکا کے وزیر اعظم تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اس لئے آج کی کاروائی خصوصی کمیٹی کا حصہ نہ تھی۔)

٥ ستمبر کو پھر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ جناب چوہدری محمد حنیف خان، ارشاد احمد خان، ملک محمد سلیمان، جناب عبدالحمید جتوئی، ملک محمد جعفر، ڈاکٹر غلام حسین، چوہدری غلام رسول تارڑ، احمد رضا خان قصوری کے قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی میں بیانات ہوئے۔ آج کے اجلاس کے آخری حصہ میں جناب یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل نے بحث کو سمیٹنا شروع کیا۔

٦ ستمبر کو ممبران قومی اسمبلی اور جناب یحییٰ بختیار کے بیانات و بحث اختتام کو پہنچی۔

٧ ستمبر کو بھی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے بحث میں حصہ لیا۔ ٥ اگست سے ٧ ستمبر تک مہینہ بھر سے زائد کے عرصہ میں اسمبلی کی اس مسئلہ پر کارکردگی کے کل ٢١ دن ہیں۔ جس کا خلاصہ یوں ہے:

مرزا ناصر احمد پر جرح ١١ دن ہوئی۔ لاہوری گروپ پر جرح ٢ دن ہوئی۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا بیان ٢ دن ہوا۔ حضرت مولانا عبدالحکیم کا بیان ١ دن ہوا۔ ممبران قومی اسمبلی کے بیانات ٣ دن ہوئے۔ ممبران و یحییٰ بختیار کے بیانات ٢ دن ہوئے۔ کل ٢١ دن کی کاروائی تھی

مولانا عبدالرحیم اشعر کے ذمہ حوالجات مہیا بحث لکھنے کے لئے حوالجات مہیا کرنے کا کا جالندھریؒ کے ذمہ لگایا گیا۔ دن بھر خصوصی کم امام اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی پروفیسر غفور احمد شریک ہوتے۔ رات کو حض ہوئے تشریف لاتے۔ البتہ حضرت مفتی صا نامہ کا جتنا حصہ تیار ہو جاتا وہ سنتے۔ حضرت اپنے کاتب شاگردوں کی ٹیم کے ہمراہ راولپ حضرت سید نفیس الحسینیؒ کے سپرد کر دیا جاتا فضل فرمایا کہ دن رات مشین کی طرح کام لاہوری گروپ پر جرح مکمل ہوئی۔

اگلے دن ٢٩ اگست (ملت اسلا اسلام مولانا مفتی محمودؒ نے قومی اسمبلی کی خ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اپنا بیان مکمل فر تھا۔ ضمیمہ نمبر١، فیصلہ مقدمہ بہاول پور۔ ضمیم جیمس آباد، ضمیمہ نمبر٤، فیصلہ مقدمہ جی ڈی نے دو دن میں مکمل فرمایا۔

مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غو نامہ تیار کیا تھا۔ جسے حضرت مولانا عبدالحکیم حصہ میں پڑھنے کا عمل شروع فرمایا۔ جو ١٢ کے اجلاس میں سردار مولا بخش سومرو، عبد محمد عباس بخاری، سردار عنایت الرحمٰن ع غوث ہزاروی، میاں اورنگزیب، راؤ خورش بیگم نسیم جہان، پروفیسر غفور احمد، خواجہ جم عبدالعزیز بھٹی، حضرت مولانا شاہ احمد نور

صفحہ ٨

چنانچہ اس خصوصی کمیٹی کی انتہائی خفیہ کاروائی کی کوبھی میسر آگئی۔ اس تمام مواد سے ملخص کتاب ہزار کے قریب چھپ کر دنیا میں تقسیم ہوئی۔ ئے۔

لرہ کرتے تو اس کا خلاصہ یا مفہوم (تاریخی قومی جاتا تو وہ دم بخود ہو جاتے۔ قادیانی قیادت اس تاریخ دستاویز“ پونے چار سو صفحات کی کتاب کی مل جھوٹ گڑھنے والی پارٹی کا اجلاس کیا اور ایک لط بیانی پر مشتمل ہے۔ ہم ان سے کہتے رہے کہ یہ ڈالنا اور جھوٹ کی پردہ داری پر سانپ سونگھ جانا۔ یہ ر سالہا سال بیت گئے۔

مت میں قومی اسمبلی کے ریکارڈ روم میں آگ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا آڈیو ریکارڈ بھی تھا۔ اس کرنے کے درپے ہیں۔ لیکن اطمینان تھا کہ وڈیو ۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل ایک دن خبر آئی ان نے اس کاروائی کو اوپن کرنے کا حکم دے دیا کر رہا ہے۔ اس اقدام کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا م نے شائع کئے۔

قیادت بلوں میں تڑپتی رہی۔ انہوں نے چپ کا چھ ماہ بیت گئے۔ اسمبلی کی کاروائی نہ چھپی تو پھر پتے۔ وہ اعلان کا کیا بنا؟۔ ہمیں اس پر شبہ ہوا کہ و۔ آج سے چند ماہ قبل پریس ریکارڈز اسلام آباد کاروائی چھپ گئی ہے۔ اس کی بابت تسلی تو ضرور رری ٢٠١٢ء کے روزنامہ جنگ میں خبر شائع ہوئی وجہد کرنے لگا۔ آپ بھی خبر پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر پڑھیں جو یہ ہے:

٧ ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں قادیانی، لاہوری مرزا قادیانی کے ماننے والے دونوں گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اس زمانہ میں قومی اسمبلی کی یہ تمام تر کاروائی آڈیو ریکارڈ کے ذریعہ محفوظ کی گئی۔ خصوصی کمیٹی کی اس تمام کاروائی کو ٹاپ سیکرٹ (انتہائی خفیہ) قرار دے کر سر بمہر کر دیا گیا۔ البتہ اسمبلی کے قواعد وضوابط کے مطابق تمام آڈیو کیسٹوں سے اسے کاغذ پر اسمبلی کے عملہ نے نقل کیا۔ اس خصوصی کمیٹی کی کاروائی کو انتہائی خفیہ کاروائی قرار دے کر اس کی اشاعت کو ممنوع اس لئے قرار دیا گیا کہ قادیانی گروہ نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا کچا چٹھا قادیانی عوام کے سامنے آئے کہ کس طرح دن رات ہر اجلاس میں کئی بار قادیانی قیادت نے اپنے عقائد ونظریات سے انحراف کیا۔ سیاہ دلی کے ساتھ سفید جھوٹ بولے۔ قادیانی شاطر قیادت نے دن رات جھوٹ بول کر اپنے عوام کے سامنے میاں مٹھو بنے کہ اگر اسمبلی کی وہ کاروائی چھپ جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کا یہ بیان تاریخ کا حصہ ہے۔

ان دنوں جس ٹیم نے قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لئے محنت کی۔ فقیر راقم کو بھی ان کی جوتیوں میں بیٹھنے کی سعادت حاصل تھی۔ تب مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، چوہدری ظہور الٰہی اور دیگر اراکین اسمبلی دن بھر کی کاروائی سنانے کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے پاس راولپنڈی پارک ہوٹل تشریف لاتے۔ ان کی تمام گفتگو، قادیانیوں سے سوالات و جوابات کو تفصیل کے ساتھ فقیر نے کاپی پر نوٹ کیا۔ اسمبلی میں بھی رپورٹنگ کے لئے ساتھی موجود ہوتے تھے۔ جو ہنٹس لیتے رہتے تھے۔ وہ تمام کاروائی بھی فقیر نے قلمبند کی۔ کچھ مواد ممبران سے بھی مل گیا۔ اس طرح ”تاریخی قومی دستاویز“ کتاب تیار ہو گئی۔ اس دوران میں اللہ رب العزت کے کرم کا معاملہ ہوا کہ جوہانسبرگ میں لاہوری گروپ کی طرف سے ایک کیس دائر ہوا۔ جوہانسبرگ افریقہ کے مسلمانوں نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ سے اس کیس کی پیروی کے لئے مدد مانگی۔ رابطہ نے پاکستان کے اس وقت کے صدر جناب ضیاء الحق سے اس کیس کی پیروی کے لئے درخواست کی۔ پاکستان سے بھاری بھرکم سرکاری وفد افریقہ کے لئے گیا۔ اس میں پاکستان کے لاء سیکرٹری جناب جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ صاحب بھی تھے۔ چنانچہ چیمہ صاحب کے ذریعہ وفد کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی وہ کاروائی جو آڈیو سے رجسٹروں پر منتقل کی گئی تھی۔ اس کی کاپی صدر مملکت کے حکم پر فراہم کی گئی۔ اس وفد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنمایان حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، جناب عبدالرحمٰن باوا، مولانا منظور

صفحہ ٩

احمد السیّنیؒ اور بہت سارے حضرات شریک تھے۔ چنانچہ اس خصوصی کمیٹی کی انتہائی خفیہ کاروائی کی کاپی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ان رہنماؤں کو بھی میسر آگئی۔ اس تمام مواد سے ملخص کتاب فقیر نے مرتب کی تھی۔ وہ بلا مبالغہ پچاس ساٹھ ہزار کے قریب چھپ کر دنیا میں تقسیم ہوئی۔ انگلش، بنگلہ وغیرہ زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔

قادیانی جب اسمبلی کی کاروائی کا تذکرہ کرتے تو اس کا خلاصہ یا مفہوم ( تاریخی قومی دستاویز ) جو بھی آپ فرمائیں ان کے سامنے کیا جاتا تو وہ دم بخود ہو جاتے۔ قادیانی قیادت اس صورت حال سے بہت پریشان ہوئی۔ ” قومی تاریخ دستاویز “ پونے چار سو صفحات کی کتاب کی اہمیت کم کرنے کے لئے قادیانی قیادت نے مستقل جھوٹ گڑھنے والی پارٹی کا اجلاس کیا اور ایک مضمون تیار کر کے انٹرنیٹ پر رکھ دیا کہ یہ کتاب غلط بیانی پر مشتمل ہے۔ ہم ان سے کہتے رہے کہ یہ غلط ہے تو جو صحیح ہے وہ آپ لائیں۔ لیکن جھوٹ بولنا اور جھوٹ کی پردہ داری پر سانپ سونگھ جانا۔ یہ قادیانی قیادت کے حصہ میں لکھا ہے۔ غرض اس پر سالہا سال بیت گئے۔

ایک بار محترمہ بینظیر بھٹو کے عہد حکومت میں قومی اسمبلی کے ریکارڈ روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ جو ریکارڈ جل گیا ان میں وہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا آڈیو ریکارڈ بھی تھا۔ اس سے تشویش ہوئی کہ قادیانی اس ریکارڈ کو ضائع کرنے کے درپے ہیں۔ لیکن اطمینان تھا کہ وڈیو سے وہ کاغذوں پر منتقل شدہ حصہ ریکارڈ محفوظ تھا۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل ایک دن خبر آئی کہ محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان نے اس کاروائی کو اوپن کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اور وہ کاروائی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ شائع کر رہا ہے۔ اس اقدام کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس پر خوشی کے جذبات پر مشتمل مضامین ہم نے شائع کئے۔

لیکن زخمی سانپ کی طرح قادیانی قیادت بلوں میں تڑپتی رہی۔ انہوں نے چپ کا روزہ نہ توڑا۔ محترمہ فہمیدہ مرزا کے بیان پر بھی چھ ماہ بیت گئے۔ اسمبلی کی کاروائی نہ چھپی تو پھر قادیانیوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ کیوں نہیں چھاپتے۔ وہ اعلان کا کیا بنا؟ ہمیں اس پر شبہ ہوا کہ شاید پھر قادیانیوں نے اس پر پابندی نہ لگوادی ہو۔ آج سے چند ماہ قبل بزنس ریکارڈر اسلام آباد میں بٹ صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا کہ وہ کاروائی چھپ گئی ہے۔ اس کی بابت تسلی تو ضرور ہوئی۔ لیکن ابھی واہمہ کا شکار تھے کہ اب ٢٠ جنوری ٢٠١٢ء کے روزنامہ جنگ میں خبر شائع ہوئی ہے جسے پڑھ کر ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ خوشی سے وجد کرنے لگا۔ آپ بھی خبر پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ لیجئے باقی باتیں پھر ۔ ابھی تو آپ خبر پڑھیں جو یہ ہے:

٧ ستمبر کو قومی اسمبلی ا والے دونوں گروہوں کو غیر مسلم کاروائی آڈیو ریکارڈ کے ذریعہ محفو خفیہ ) قرار دے کر مہر بمہر کر دیا گی اسے کاغذ پر اسمبلی کے عملہ نے محفو کر اس کی اشاعت کو ممنوع اس قادیانی عوام کے سامنے آئے کہ عقائد و نظریات سے انحراف کیا ۔ دن رات جھوٹ بول کر اپنے عوا جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو

ان دنوں جس ٹیم نے کے لئے محنت کی۔ فقیر راقم کو بھی مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نو سنانے کے لئے شیخ الاسلام حضر تشریف لائے۔ ان کی تمام گفتگو کاپی پر نوٹ کیا۔ اسمبلی میں بھی ی تھے۔ وہ تمام کاروائی بھی فقیر ب قومی دستاویز“ کتاب تیار ہو گئ جو ہانسبرگ میں لاہوری گروہ مسلمانوں نے رابطہ عالم اسلام پاکستان کے اس وقت کے صدر پاکستان سے بھاری بھرکم سرکا جناب جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ کی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی صدر مملکت کے حکم پر فراہم کی گ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ،

صفحہ ١١

قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا خفیہ پارلیمانی ریکارڈ اوپن کر دیا گیا

”اسلام آباد (طاہر خلیل) قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا خفیہ پارلیمانی ریکارڈ اوپن کر دیا گیا۔ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ٣٨ سال بعد قادیانی آئینی ترمیم کا خفیہ ریکارڈ اوپن کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو بھٹو دور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی۔ اس مقصد کے لئے پورے ایوان کو قائمہ کمیٹی قرار دے کر اس کے خفیہ اجلاس منعقد کئے گئے۔ چار خفیہ اجلاس میں جماعت احمدیہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے دلائل دیئے تھے جس پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے تفصیلی جرح کی۔ چونکہ ساری کاروائی خفیہ تھی۔ اس لئے تحریری ریکارڈ پارلیمنٹ ہاؤس میں سربمہر رکھا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی بھی دستاویز ٣٠ سال تک خفیہ رہ سکتی ہے۔ تیس سال کے بعد اسے اوپن کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ٣٨ سال کے بعد موجودہ اسپیکر نے خفیہ قادیانی ترمیمی بل کا سارا ریکارڈ اوپن کرنے کی منظوری دے دی۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قادیانی آئینی بل کا خفیہ آڈیو ریکارڈ بینظیر دور ١٩٩٣ء میں جل گیا تھا۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے خفیہ ریکارڈ کی تیاری اور طباعت پر قومی اسمبلی کو ٤٦ لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے ہیں اور سارا ریکارڈ اوپن کر کے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں رکھ دیا گیا ہے۔ جہاں اراکین اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں سینٹ کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبد الغفور حیدری نے بھی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا پارلیمانی ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے۔“

اس خبر اور بٹ صاحب کے مضمون کے بعد سے ہم مسکین اس کی تلاش میں فکرمند ہوئے۔ حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان سے دفتر ختم نبوت ملتان میں مستقل ایک میٹنگ کی۔ گزشتہ سال ١٤٣٢ھ کے حج سے پہلے سکھر میں حضرت مولانا عبدالغفور حیدری سے میٹنگ ہوئی۔ حج کے بعد دوبارہ رابطہ ہوا۔ کئی سفر کئے۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، قاری نذیر احمد لاہور سے اسلام آباد اتنی بار آئے، گئے کہ شاید ڈائیو والے بھی پریشان ہو گئے ہوں گے۔ لیکن کام نہ ہوا۔ مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا قاری احسان اللہ، مولانا مفتی محمد ادریس عزیز، پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عبد الوحید قاسمی، مولانا محمد اکرم طوفانی، پتہ نہیں جنون کی حالت میں کس کس کی منتیں کیں۔

ے لئے اتنا جنون تھا کہ بس نہ پوچھئے کہ غم عاشقی س پرکشش کی؟۔ یہ بے قراری کی حالت میں ہیں۔ جب بیل منڈھے چڑھتی نظر نہ آئی تو میں مخدوم گرامی حضرت مولانا فضل الرحمن لئے ملتان سے سفر کر کے لاہور گیا۔ مولانا ق الرحمن، سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام ے میٹنگ ہوئی۔ قائد جمعیت نے فرمایا کہ ب مدظلہ کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ سپیکر فہمیدہ کے سیٹ تیار ہو کر اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کے دفتر لئے محترمہ آمادہ نہیں۔ اس پر چھیا لیس لاکھ اعت پر خرچہ آیا ہے۔ لیکن محترمہ تقسیم پر راضی رحمٰن صاحب نے فرمایا کہ آپ کے خیال میں کہ حکومت کی دون ہمتی یا قادیانی لابی نے باہر کوئی قضیہ نہ کھڑا ہو جائے۔ لیکن ہمارے لئے وہ میاں مشتبہ بن جائیں گے کہ باہر کیوں نہیں اندیشہ ہے کہ ......! اس پر حضرت مولانا فضل چھوڑ دیجئے۔ میں سمجھ گیا۔ کوشش کرتے ہیں۔ بھی کافی عرصہ بیت گیا۔ تو مولانا صاحبزادہ صاحب دامت برکاتہم کو یاد دہانی کرائی۔ لیکن اور ایسے طور پر کہ وہ انکار نہ کر سکیں۔ حضرت کو کاروائی حاصل کئے بغیر کیسے قرار آئے گا؟ اس مسئلہ پر اتنے کان کھائے کہ ان کو اس کا

ی مقرر ہوتا ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ بہاولپور ایک ویب سائیڈ پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی

صفحہ ١١

بخدا! اس آفیشل اور مکمل کاروائی کو حاصل کرنے کے لئے اتنا جنون تھا کہ بس نہ پوچھئے کہ غم عاشقی میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔

روبرو، کوبکو، در بدر اور سر بسر۔ کہاں کہاں پر کوشش کی؟۔ یہ بے قراری کی حالت میں مخلصانہ محنت کی کیفیات تو اللہ رب العزت جانتے ہیں۔ جب بیل منڈھے چڑھتی نظر نہ آئی تو حضرت صاحبزادہ سعید احمد صاحب کے گھر لاہور میں مخدوم گرامی حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم سے میٹنگ کرنے کے لئے ملتان سے سفر کر کے لاہور گیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، صاحبزادہ سعید احمد، ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن، سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے ہمراہ پون گھنٹہ حضرت مولانا فضل الرحمن سے میٹنگ ہوئی۔ قائد جمعیت نے فرمایا کہ رکاوٹ کیا ہے؟۔ عرض کیا کہ حضرت حیدری صاحب مدظلہ کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ سپیکر فہمیدہ صاحبہ نہیں مان رہی۔ کاروائی چھپ گئی ہے۔ کئی اس کے سیٹ تیار ہو کر اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کے دفتر کے ساتھ والے کمرہ میں محفوظ ہیں۔ لیکن تقسیم کے لئے محترمہ آمادہ نہیں۔ اس پر چھبیس لاکھ ہماری غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ کا طباعت پر خرچہ آیا ہے۔ لیکن محترمہ تقسیم پر راضی نہیں۔ مخدوم محترم قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ آپ کے خیال میں اس کے نہ دینے کا باعث کیا ہے؟۔ فقیر نے عرض کیا کہ حکومت کی دون ہمتی یا قادیانی لابی نے باہر سے زور ڈلوایا ہے کہ تقسیم نہ ہو یا حکومت کا واہمہ کہ کوئی قضیہ نہ کھڑا ہو جائے۔ لیکن ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ چاہے خود قادیانی رکاوٹ ہوں۔ لیکن وہ میاں مٹھو بن جائیں گے کہ باہر کیوں نہیں لاتے؟۔ تو اس کا تقاضہ ہے کہ یہ ملنی چاہئے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ.....! اس پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے روک دیا۔ فرمایا چھوڑ دیجئے۔ میں سمجھ گیا۔ کوشش کرتے ہیں۔ وقت لگے گا نکلوانے میں۔ لیکن مل جائے گی۔ اس پر بھی کافی عرصہ بیت گیا۔ تو مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کے ذریعہ بارہا حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کو یاد دہانی کرائی۔ لیکن حضرت مولانا کا خیال مبارک تھا کہ ایک دفعہ کہوں گا اور ایسے طور پر کہ وہ انکار نہ کر سکیں۔ حضرت مولانا کا موقف سو فیصد صحیح تھا۔ لیکن ہماری بے قراری کو کاروائی حاصل کئے بغیر کیسے قرار آئے گا؟ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم کے اس مسئلہ پر اتنے کان کھائے کہ ان کو اس کا نام سنتے ہی الرجی ہو جاتی۔

قارئین جانے دیں۔ ہر کام کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ بہادر زادہ مولانا سہیل باوا کا لندن سے فون آیا کہ لندن کی ایک ویب سائیڈ پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی

قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا خفیہ

”اسلام آباد (طاہر خلیل) قادیانی کر دیا گیا۔ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ٤٨ س کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہ قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی نے دوسری پورے ایوان کو قائمہ کمیٹی قرار دے کر اس ۔ جماعت احمدیہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا بختیار نے تفصیلی جرح کی۔ چونکہ ساری کارو میں سر بمہر رکھا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ آفیشل خفیہ رہ سکتی ہے۔ تیس سال کے بعد اسے او اسپیکر نے خفیہ قادیانی ترمیمی بل کا سارا ریکار ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میں جل گیا تھا۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دی ٤٦ لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے ہیں اور سار لائبریری میں رکھ دیا گیا ہے۔ جہاں اراکان اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالغفور حیدری نے حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اس خبر اور بٹ صاحب کے مض ہوئے۔ حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاح نبوت ملتان میں مستقل ایک میٹنگ کی۔ ق مولانا عبدالغفور حیدری سے میٹنگ ہوئی عزیز الرحمن ثانی، قاری نذیر احمد لاہور سے پریشان ہو گئے ہوں گے۔ لیکن کام نہ ہوا۔ مولانا مفتی محمد اویس عزیز ، پیر طریقت حضر مولانا عبد الوحید قاسمی ، مولانا محمد اکرم طوفا

صفحہ ١٢

برائے قادیانی مسئلہ کی سرکاری آفیشل مکمل کاروائی آگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان سے عرض کیا کہ اس کی سی ڈی بنوائیں۔ ابھی فقیر یہ خبر چھپائے ہوئے تھا کہ برادر جناب محمد متین خالد صاحب نے فرمایا کہ ویب سائیڈ پر کاروائی بندہ نے مکمل دیکھ لی ہے۔ مبارک ہو۔ اب سوچوں کہ یا اللہ یہ کیسے ملے گی؟۔ کچھ دیر کے بعد جناب مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا کراچی سے فون آیا کہ قومی اسمبلی کی کاروائی ویب سائیڈ پر آگئی ہے۔ آپ کے علم میں ہے؟۔ فقیر نے عرض کیا سنا تو ہے۔ لیکن جب تک دیکھ نہ پائیں آنکھیں کیسے ٹھنڈی ہوں؟۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ برادر نبیل صاحب اور جناب سید انوار الحسن صاحب نے اس کا پرنٹ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ فقیر اب ان دونوں سے ڈائریکٹ ہو گیا۔ کاغذ اچھا لگائیں۔ کوئی صفحہ رہ نہ جائے۔

لیجئے! خلاصہ یہ کہ مکمل کاروائی انٹرنیٹ لندن کی ویب سائیڈ سے مل گئی۔ کل ٢١ دنوں کی کاروائی کے ٢١ حصے اور ٣٠٨٣ صفحات تھے۔

مطبوعہ کاروائی کی کاپی ٢٠١٢ء عید قربان سے چند دن قبل فقیر کو انٹرنیٹ سے ملی۔ پہلے مرحلہ میں مکمل کاروائی کو علیحدہ علیحدہ جلد کرایا۔ اکیس دنوں کی کاروائی اکیس جلدوں میں جلد ہوئی۔ پھر دوبارہ ہر جلد کا دوسرا فوٹو کرایا اور اس پر کام کا آغاز کیا۔

جدید ایڈیشن

ابتداء میں یہی خیال تھا کہ اس کا مکمل عکس لے کر شائع کر دیا جائے۔ چونکہ انٹرنیٹ پر ایک چیز پہلے سے موجود ہے۔ حکومت نے شائع کی، مگر تقسیم نہیں کر رہی۔ قادیانیوں نے اسے شائع نہیں کرنا، اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اسے شائع کریں۔ لیکن اس کو چونکہ انٹرنیٹ سے لیا تھا جس نے انٹرنیٹ پر اس کو لوڈ کیا۔ اس نے بھی سکین کر کے چڑھایا اور ہم نے اس کا پرنٹ لیا۔ پرنٹ میں تمامتر احتیاط کے باوجود نقل در نقل سے یہ مدھم کاپی ایسے نہ تھی جو شائع ہو سکے۔ اب شائع بھی کرنا چاہتے ہیں۔ کمپوزنگ موجود نہیں جو شائع شدہ ہے۔ دوبارہ شائع کرنے سے رزلٹ صحیح نہ آئے گا۔ مجبوراً فیصلہ کیا کہ اس کو دوبارہ کمپوز کرایا جائے۔

ہو جائے تاکہ اردو پڑھا لکھا تمام طبقہ اس کے ایک ایک حرف سے فائدہ حاصل کر سکے۔ جو کارروائی کی قلمی کاپی جو ہانسبرگ کیس کے سلسلہ میں ملی تھی اس کاپی میں انگلش کا اردو ترجمہ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے راولپنڈی کے جناب کے ایم سلیم سے اس زمانہ

صفحہ ١٣

میں کرایا تھا۔ اب جو مطبوعہ سرکاری پرنٹ شدہ کاپی کا عکس انٹرنیٹ سے ملا۔ اس قلمی نسخہ کا ترجمہ اس پرنٹ شدہ نسخہ پر نقل کیا گیا۔ لائبریری میں فقیر کے معاون مولانا محمد صفدر نے بہت مدد کی۔ آج اس موقعہ پر مجھے حضرت مولانا اجمل شہید جو کراچی میں مجلس کے مبلغ تھے اور شہادت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے وہ بہت یاد آ رہے ہیں اور ان کی جدائی کے صدمہ نے پھر زخم کو ہرا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں کہ قلمی نسخہ کے کے ایم سلیم کے ترجمہ کو مطبوعہ سرکاری رپورٹ کے صفحات پر منتقل کیا اور اس کے لئے مرحوم نے بلا مبالغہ دن رات ایک کر دیئے۔ بہت ہی کام کے آدمی تھے۔ آج ان کے کام کو دیکھتا ہوں تو وجدان میں یادوں کی ٹیس بے قرار کر دیتی ہے۔ جب تک یہ کتاب دنیا میں رہے گی مرحوم کو ثواب ملتا رہے گا۔ مرحوم کے لئے یہ کتاب صدقہ جاریہ ہے۔ مولانا محمد صفدر، مولانا محمد اجمل دونوں انگریزی سے بقدر ضرورت شناسائی رکھتے تھے۔ جہاں ضرورت پیش آتی مزید رہنمائی عزیز مکرم مولانا حافظ محمد انس سے لیتے تھے۔ اب جونہی ترجمہ کی نقل کا کام مکمل ہو جاتا وہ حصہ فقیر کے سپرد کر دیتے۔ فقیر ان کے حوالہ جات پر کام کرنا شروع کر دیتا۔ جن جلدوں پر کام مکمل ہو جاتا وہ کمپوزنگ کے لئے دے دی جاتیں۔ کچھ جلدیں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے جانشین حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کو بھجوائی گئیں کہ وہ انگلش کی پروف ریڈنگ، ترجمہ کی چیکنگ اور سرخیاں لگا دیں۔ آپ نے یہ کام جناب مکرم اطہر عظیم صاحب کو دیا۔ انہوں نے شروع کیا۔ جتنا کیا خوب کیا۔ لیکن ان کی دفتری اپنی مصروفیات کراچی کے حالات کا مدوجزر، پھر اچانک ان کی صحت بگڑ گئی۔ ادھر فقیر کی بے قراری جو کام جتنا جس حالت میں تھا منگوا لیا۔ اردو کے پروف خود پڑھے۔ انگریزی کے پروف پڑھنے کے لئے عزیز مکرم مولانا محمد انس نے سر توڑ کوشش کی۔ مولانا محمد صفدر ان کے ساتھ رہے وہ مرحلہ مکمل ہوا۔

یوسف ہارون نے کی۔ کچھ کام حضرت مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے کراچی سے کرایا۔ بہت سی فائلیں ملتان و کراچی کی کمپوز شدہ ان کی پروف ریڈنگ اور سرخیاں قائم کرنے کا کام مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے سرانجام دیا اور بہت محنت فرمائی۔ اس کراچی کے کام کے انگلش حصہ کی پروف ریڈنگ عزیز مکرم مولانا حافظ محمد انس نے کی۔ غلطیاں جناب برادر عدنان سنپال نے لگائیں۔

میں ترجمہ کا کام باقی تھا۔ وہ جناب برادر عبدالرؤف صاحب کے ذریعہ جناب راؤ ارشد سراج

صفحہ ١٤

الدین لاہور نے کیا اور دن رات ایک کر کے کیا۔ وہ حصہ اتنا جامع ترجمہ ہے کہ بہت ہی خوشیوں کا سماں باندھے ہوئے ہے۔ محنت ان دوستوں کی۔ دعا حضرت صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی، کہ کام ہوا اور خوب ہوا۔ کچھ حصص کا ترجمہ حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی کی توجہ سے مولانا غضنفر عزیز جو لمز یونیورسٹی لاہور کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کر کے یا کرا کے دیا۔

غرض جناب کے ایم سلیم راولپنڈی، جناب راؤ ارشد سراج الدین لاہور، جناب مولانا غضنفر عزیز کی محنتوں سے ترجمہ کا کام ہو گیا۔ حکومت کے شائع شدہ نسخہ میں انگلش کا حصہ بغیر ترجمہ کے ہے۔ ہمارے اس مطبوعہ جدید ایڈیشن میں انگلش متن کے ساتھ، اس کا اردو ترجمہ بھی ہے۔ گویا یہ اس جدید ایڈیشن کی وہ خوبی ہے جس نے اس کتاب سے استفادہ کو ہر اردو پڑھے لکھے دوست کے مطالعہ کے قابل بنا دیا ہے۔ البتہ ترجمہ کو ہم نے بین القوسین (ان بریکٹ) کر دیا ہے تاکہ حکومتی ایڈیشن کا امتیاز واضح رہے۔

حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری دامت برکاتہم سے اجازت لے کر ڈیرہ غازیخان کے مبلغ حضرت مولانا محمد اقبال صاحب کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ دن رات، سفر و حضر میں پروف ریڈنگ کا کام ہم کرتے رہے۔ بس ان دنوں مسودہ تصحیح کرتے کرتے نیند آتی تھی اور جاگتے ہی پھر کام پر جٹ جاتے تھے۔ اوّل سے آخر تک تمام پروف پڑھے۔ سرخیاں جہاں ضرورت تھی قائم کیں۔ پھر پورے مسودہ کے انگلش حصہ کی دوبارہ عزیز مکرم حافظ محمد انس حفظہ اللہ تعالیٰ نے پروف ریڈنگ کی۔ اب برادر جناب عبدالرؤف صاحب کا اصرار تھا کہ تمام مسودہ کا انگریزی حصہ اور ترجمہ جناب راؤ ارشد سراج الدین کی نظر سے گزرنا چاہئے۔ یہ فقیر کے دل کی آواز تھی۔ ٢٨؍ اپریل ٢٠١٣ء کی صبح مسودہ راؤ ارشد سراج الدین صاحب کے سپرد کیا کہ وہ نظر ثانی کریں اور فقیر حجاز مقدس اور ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ روانہ ہوتے وقت فقیر کے اندر کی حالت یہ تھی کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ مجھے حجاز مقدس کے سفر کی خوشی زیادہ تھی یا اس کتاب کے کام رکنے کا غم زیادہ تھا۔ کام رکنے کا معنی یہ ہے کہ اگر فقیر پاکستان ہوتا تو محترم راؤ ارشد سراج الدین صاحب جتنا مکمل کرتے جاتے فقیر اس کی غلطیوں کی تصحیح کے بعد فائنل کرتا جاتا۔ مہینہ بھر تو یوں گزر گیا۔ پھر چناب نگر کورس کی مصروفیت یوں دو ماہ گزر گئے۔

محترم راؤ صاحب جتنا مکمل کرتے جاتے وہ برادر عدنان سنیال غلطیاں لگا کر مکمل

صفحہ ١٥

کرتے جاتے۔ دن رات سفر جاری رہا۔ ١٠؍رمضان المبارک کو کراچی کے سفر سے ملتان حاضر ہوا تو تمام جلدوں کی پروف ریڈنگ، غلطیوں کی تصحیح وغیرہ کا کام ایک دو دن میں مکمل ہو گیا۔

و تجاویز، چل سو چل ہزار ہا صفحات پر پھیلا ہوا۔ مسودہ ٢١ حصوں پر مشتمل۔ اوّل سے آخر تک کہیں نہیں معلوم تھا کہ کون سی بات کہاں ہے، ضرورت تھی کہ اس مسودہ کی سرخیاں لگائی جاتیں، عنوانات قائم کئے جاتے تا کہ استفادہ مزید آسان ہو جائے۔

ولاہوری گروپ کے سربراہ قادیانیت کی چالبازیوں کے امام اور فن چکر بازی میں مرزا غلام احمد قادیانی کا مکمل پرتو لئے ہوئے تھے۔ بہت سارے مقامات پر حوالہ جات میں ایسا چکر ڈال دیتے کہ سامنے والا جو مکمل آگاہی نہیں رکھتا وہ ایک بار چونک اٹھے کہ کیا ہو گیا۔ مثلاً سیرۃ الابدال کا حوالہ پیش ہوا کہ ص ١٩٣ پر عبارت ہے۔ مرزا ناصر نے سر پر آسمان اٹھا لیا کہ ١٦ صفحہ کی کتاب ہے۔ ص ١٩٣ کہاں سے آ گیا۔ اتنی بڑی غلط بیانی، یوں غلط بیانی سے قادیانیت کو بدنام کیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! اب حوالہ نہ اٹارنی جنرل کو پڑھنے ہی دیا گیا نہ وہ کاروائی میں پیش ہوا۔ نہ مرزا ناصر نے حوالہ کا ذکر کیا کہ کیا حوالہ ہے۔ اتنا شور کیا کہ بات ١٦ اور ١٩٣ صفحہ کے شور میں دب گئی۔ اب حوالہ پیش ہی نہیں ہوا۔ کون سا حوالہ تھا۔ کیا فرق لگا۔ کچھ اشارہ بھی ہوتا تو فقیر حوالہ تلاش کر کے لاتا اور معاملہ قارئین پر صاف ہوتا۔ وہ تو نہ ہوا۔ لیکن فقیر عرض کرتا ہے کہ مثلاً تجلیات کے ص ٤ پر عبارت ہے: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور خود کو سورج قرار دیا ۔“ اب قادیانیوں نے کئی کتابوں کو یکجا کر کے شائع کرنا شروع کیا اور اس سلسلہ اشاعت کا نام روحانی خزائن رکھا۔ اس کی جلد ٢٠ کے صفحہ ٣٩٧ پر یہ عبارت ہے۔ اسی صفحہ کی پیشانی پر تجلیات الٰہیہ بھی لکھا ہے۔ صفحہ ٣٩٧ بھی لکھا ہے۔ صفحہ کے بغل میں سائیڈ پر ٤ لکھا ہے۔ اب ایک صاحب صفحہ کی پیشانی کا صفحہ ٣٩٧ دیکھ کر کہہ دے کہ تجلیات الٰہیہ ص ٣٩٧۔ تو مرزائی عیار کہیں گے کہ کتاب ٢٠ صفحات کی ہے۔ ٣٩٧ کدھر سے آگئے، ناواقف تو ایک دم پریشان ہو جائے گا اور یہی کاریگری مرزا ناصر کرتا رہا۔

دوسری مثال ایک غلطی کا ازالہ مرزا قادیانی کا رسالہ ٦ ورقی ہے۔ لیکن خزائن جلد ١٨ کے ص ٢٠٨ سے ٢١٦ پر یہ شامل اشاعت کیا ہے۔ ہر صفحہ کی پیشانی پر ایک غلطی کا ازالہ بھی درج ہے۔ صفحات ٢٠٨ سے ٢١٦ تک بھی درج ہیں۔ اب پہلی بار جو مرزا کی کتب کو دیکھے وہ ایک غلطی

الدین لاہور نے کیا اور دن رات ایک کر کے سماں باندھے ہوئے ہے۔ محنت ان دوستو سراجیہ کی، کہ کام ہوا اور خوب ہوا۔ کچھ حصہ مولانا غضنفر عزیز جو لمز یونیورسٹی لاہور کے چ

غرض جناب کے ایم سلیم راؤ مولانا غضنفر عزیز کی محنتوں سے ترجمہ کا کام ترجمہ کیا ہے۔ ہمارے اس مطبوعہ جدید ا ہے۔ گویا یہ اس جدید ایڈیشن کی وہ خوبی ہے دوست کے مطالعہ کے قابل بنا دیا ہے۔ البتہ تاکہ حکومتی ایڈیشن کا امتیاز واضح رہے۔

حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھر کے مبلغ حضرت مولانا محمد اقبال صاحب گجرا ریڈنگ کا کام ہم کرتے رہے۔ بس ان دنوں کام پر جت جاتے تھے۔ اوّل سے آخر غ کیں۔ پھر پورے مسودہ کے انگلش حصہ کو ریڈنگ کی۔ اب برادر جناب عبدالرؤف ترجمہ جناب راؤ ارشد سراج الدین کی ٢٨؍اپریل ٢٠١٣ء کی صبح مسودہ راؤ ارشد فقیر مجاز مقدس اور ختم نبوت کانفرنس برمنگھ کی حالت یہ تھی کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کتاب کے کام رکنے کا غم زیادہ تھا۔ کام ارشد سراج الدین صاحب جتنا مکمل کر جاتا۔ مہینہ بھر تو یوں گزر گیا۔ پھر چناب نگ محترم راؤ صاحب جتنا مکمل

صفحہ ١٧

کا ازالہ ص ٢٠٨ کہہ دے تو قادیانی عیار قیادت کو دھوکہ دہی کے لئے موقعہ مل جائے گا کہ چھ ورقی رسالہ کے صفحات ٢٠٨ کیسے؟ یہ جھوٹ ہے۔ یہ الزام ہے۔ ایک رٹی رٹائی گردان دہرا دیں گے۔ سننے والے، پڑھنے والے حیران ہو جائیں گے۔ حالانکہ جس نے حوالہ دیا وہ بھی صحیح ہے کہ جو لکھا دیکھا، وہی کہہ دیا۔ یہ تو قادیانی دجل ہے کہ ص ٢ کو ص ٢٠٨ پر پہنچا دیا۔ تو حوالہ جات میں جگہ جگہ قادیانی قیادت نے یہی عیاری کی۔ اب قادیانیوں نے اس دھوکہ دہی کا شاہکار کتاب ”خصوصی کمیٹی میں کیا گزری“ شائع کی جو مرزا سلطان احمد کی مرتب کردہ ہے۔ فقیر کے سامنے ہے۔ کچھ حصہ دیکھا بھی مگر فقیر اس کو قابل جواب نہیں سمجھتا کہ قادیانی ہمیں الجھانا چاہتے ہیں۔ یہ ہوا تھا، یہ ہوا تھا۔ اب اس بحث کی ضرورت نہیں۔ جب مکمل کارروائی چھپ کر آگئی ہے اسے عام کرو ہر آدمی خود پڑھ کر فیصلہ کرے کہ کون جیتا کون ہارا؟ چنانچہ قادیانی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے ہم نے یہی راستہ اختیار کیا کہ مکمل کارروائی کو شائع کر دیا جائے۔ جو پیش خدمت ہے۔ انہی امور کے لئے بعض بعض مقامات پر مختصر حواشی (فٹ نوٹ) لکھنے پڑے جو اس ایڈیشن کا امتیازی وصف ہے۔

سرخیاں کمپیوٹر پر پڑھیں۔ یوں آج ٢٥ / جولائی ٢٠١٣ء ١٥ رمضان ١٤٣٤ھ کو اس کام سے فارغ ہو گئے۔ اب برادر عدنان و برادر ہارون اس کتاب کی سیٹنگ کر رہے ہیں اور فقیر یہ سطریں لکھ رہا ہے۔ فلحمد للّٰہ تعالیٰ اولاً و آخراً ! یہاں پر اس اعتراف کے بغیر چارہ نہیں کہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صدر مدرس مولانا غلام رسول دین پوری نے اس کتاب کے لئے فقیر راقم سے بھی زیادہ محنت کی۔ حق تعالیٰ سب کو جزائے خیر دیں۔

جدید ایڈیشن کا امتیاز

جگہ جگہ ترجمہ بین القوسین موجود پائیں گے۔

سے ”مؤقف ملت اسلامیہ“ نامی کتاب پڑھی اس کا ضمیمہ نمبر ٣ فیصلہ مقدمہ جیمس آباد مطبوعہ

غلط ہو گیا۔ فیصلہ کا ص ٢٢ پہلے کمپوز کر دیا۔ پھر ص ٢١۔ صحیح کمپوز کر دیا۔ اس سے حکومتی ایڈیشن کی کمپوزنگ کی

جہاں عربی تھی وہ ...... عربی ...... کمپوز کر کے چھوڑ دی۔ عبارت نقل کر دی جس سے پہلے ایڈیشن کی نسبت یہ کہ مجبوراً ایسے گزارنا پڑی۔ اور ہمارے اس ایڈیشن کے کمپوزنگ میں صفحات کا صفحات کو اس جدید ایڈیشن کے صفحات کے درمیان لکھ دیا۔ اس ایڈیشن کے صفحات کو سامنے رکھ کر حکومتی کیا جا سکتا ہے۔ انشاء اللہ کوئی فرق نہ پائیں گے۔ گویا صفحات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ فلحمد للّٰہ ! ہاں سے ٢٦١ پر ختم ہوئی۔ جلد ١٧، چار صفحے ٹائٹل کے بعد ص ٢٦٩ سے شروع ہوئی۔ گویا ستر صفحات چھوڑ کر لگانے میں سرکاری اہلکاروں سے غلطی ہوئی۔ درمیان کی ایڈیشن مکمل ہے۔ ہم نے بھی ہر صفحہ پر بین السطور میں اسی غلطی کو رہنے دیا۔ تا کہ حکومتی ایڈیشن اور اس

کمیٹی کا مرتب کردہ محضر نامہ میں مرزا قادیانی نے اپنی دیں وہ درج تھیں۔ مولانا نے قادیانیوں کی جن جن فہرست دی ہم نے ہر ایک گالی کے آگے قادیانی گے تو حیران رہ جائیں گے کہ الف سے یاء تک کوئی نہ دی ہو۔ یہ سباب اعظم کا ”سب نامہ“ باحوالہ اس مرزا قادیانی لکھنؤ کی بھٹیاریوں سے بھی گالیوں میں گے۔ میں کہیں ترجمہ سرخیوں، حواشی اور حوالہ جات پر ہم نے

صفحہ ١٧

حکومتی کارروائی میں اشاعت کے دوران غلط ہو گیا۔ فیصلہ کا ص ٢٢ پہلے کمپوز کر دیا۔ پھر ص ٢١۔ اس سے مفہوم ہی بدل گیا۔ ہم نے اسے صحیح کمپوز کر دیا۔ اس سے حکومتی ایڈیشن کی کمپوزنگ کی غلطی دور ہو گئی۔

اگر کتاب کا حوالہ تھا تو ہم نے وہ مکمل عربی عبارت نقل کر دی جس سے پہلے ایڈیشن کی نسبت یہ ایڈیشن جامع ہو گیا۔ اگر حوالہ ہی نہ تھا تو وہ جگہ مجبوراً ایسے گزارنا پڑی۔

فرق آ گیا۔ چنانچہ اصل حکومتی ایڈیشن کے صفحات کو اس جدید ایڈیشن کے صفحات کے درمیان (بین السطور) میں باریک کر کے ہم نے لکھ دیا۔ اس ایڈیشن کے صفحات کو سامنے رکھ کر حکومتی ایڈیشن سے اس ایڈیشن کا آسانی سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ انشاء اللہ کوئی فرق نہ پائیں گے۔ گویا اس جدید ایڈیشن کے صفحات پہلے ایڈیشن کے صفحات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ فالحمد للہ ! ہاں البتہ یاد رہے کہ حکومتی ایڈیشن کی جلد ١٦، ص ٢٦١٧ پر ختم ہوئی۔ جلد ١٧، چار صفحے ٹائٹل کے بعد ص ٢٦٢٢ سے شروع ہونی چاہئے تھی مگر وہ ص ٢٦٩٩ سے شروع ہوئی۔ گویا ستتر صفحات چھوڑ کر اگلا نمبر لگا دیا۔ یہ حکومتی ایڈیشن میں صفحات لگانے میں سرکاری اہلکاروں سے غلطی ہوئی۔ درمیان میں مسودہ غائب نہیں ہے۔ ہر لحاظ سے حکومتی ایڈیشن مکمل ہے۔ ہم نے بھی ہر صفحہ پر بین السطور حکومتی ایڈیشن کے جو صفحات لگائے ان میں اسی غلطی کو رہنے دیا۔ تاکہ حکومتی ایڈیشن اور اس ایڈیشن کا تقابل کیا جائے تو ابہام پیدا نہ ہو۔

مقدس نبوت کے قلم سے مخالفین کو جو گالیاں دیں وہ درج تھیں۔ مولانا نے قادیانیوں کی جن جن کتابوں سے جمع کردہ قادیانی مغلظات کی فہرست دی ہم نے ہر ایک گالی کے آگے قادیانی کتابوں کے حوالے لگا دیئے۔ آپ پڑھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ الف سے یاء تک کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں مرزا قادیانی نے گالی نہ دی ہو۔ یہ سباب اعظم کا ”سب نامہ“ باحوالہ اس ایڈیشن میں موجود ہے۔ پڑھیں پھر سوچیں کہ مرزا قادیانی لکھنؤ کی بھٹیارنیوں سے بھی گالیوں میں نمبر لے گئے یا نہیں یہ فیصلہ قارئین فرمائیں گے۔

صفحہ ١٩

کام کیا ہے۔ ان سب کو بین القوسین کر دیا ہے۔ تاکہ اصل ایڈیشن سے یہ چیزیں ممتاز رہیں۔ متن میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی نہیں کی ۔ یوں، یہ ایک ایسا ایڈیشن ہے۔ جو پہلے سے بالکل جدا بھی ہے اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں۔

بایں ہمہ انسان خطاء کا پتلا ہے۔ کہیں غیر ارادی طور پر کوئی سہو ہوا تو اعتراف قصور کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کی اطلاع کر کے قارئین ممنون فرمائیں گے تاکہ تصحیح کی جاسکے۔

میں سمو دیئے۔ تفصیل یہ ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١، ٢، ٣ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ١ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ٤، ٥، ٦، ٧، ٨ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ٢ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ٩، ١٠، ١١، ١٢ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ٣ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١٣، ١٤، ١٥ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ٤ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢١ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ٥ میں ہے۔ ہر جلد کے اول میں اس جلد میں شامل حصوں کی فہرست دے دی ہے۔ آخری جلد کے آخر میں مکمل پانچ جلدوں یعنی ٢١ حصوں کی فہرست یکجا دے دی ہے۔

قادیانی حضرات کی کرم فرمائی کے نمونے

”خصوصی کمیٹی میں کیا گزری“ کتاب کیا ہے۔ تمسخر، بدکلامی، پھبتیوں کا مجموعہ مثلاً (١) ”عقل سلیم سے عاری“ (٢) ”پرلے درجہ کی بے عقلی“ (٣) ”پوری اسمبلی اس معاملہ میں ناکام ہوئی“ (٤) ”ان ..... کی قوت فیصلہ کو مفلوج کر دیا تھا“ (٥) ”مگر عقل وشعور اس کمیٹی میں (جملہ ممبران قومی اسمبلی) ایک جنس نایاب کی حیثیت رکھتی تھی“ (٦) ”جو کچھ کاروائی کے نام پر ہوا۔ وہ محض ایک ڈھونگ تھا“ یہ کلمات ممبران قومی اسمبلی کے لئے استعمال کئے گئے۔ یہ چھ جملے صرف نمونہ کے طور پر پیش کئے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر لگتا ہے کہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کی کمیٹی کاروائی کیا شائع ہوئی گویا قادیانیت کے قدموں کے نیچے آگ کا تندور دہکا دیا گیا کہ وہ اب ننگی گالیوں اور بدزبانیوں پر اتر آئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا کہ اس وقت ان کے دل و دماغ کی کیا حالت بد ہے جو انہیں کسی کروٹ چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔

دہ تر حوالہ جات پر دھوکہ دہی کی ہے۔ راقم نے جگہ جگہ بین القوسین تب کے موجودہ ایڈیشن کے حوالہ جات لگا دیئے ہیں۔ قادیانیوں اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ حوالہ جات صحیح درج ہونے سے مختلف رد عمل کی بولی بولتے تھے وہ از خود بند ہوگئی۔ البتہ حواشی میں جو آپ اب کے مصنف مرزا سلطان کو منہ لگائے بغیر فقیر نے مرزا ناصر کو دل سے کام نہیں لیا۔ قادیانی مصنف پوری اسمبلی کو عقل سے عاری، عقل کہے اور ہم جواب میں مرزا ناصر کو کچھ سنا دیں تو قادیانیوں کو سنو، کامراقبہ کر لینا چاہئے۔

کا ١٩٧٤ء کے الیکشن میں قادیانی جماعت نے ساتھ دیا۔ سپورٹ امداد کی۔ اس کتاب ”خصوصی کمیٹی کیا گزری“ مرزا ناصر احمد کا یہ ایہ منشاء معلوم ہوتا تھا کہ کسی ایک پارٹی کو مستحکم بنایا جائے۔ چنانچہ ان پیپلز پارٹی ...... ووٹ دینا ملکی مفاد کے عین مطابق سمجھا۔“ نے خدائی اشارہ کو جو اپنی عقل سے سمجھا وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی یا۔ اب قادیانی عوام غور فرمائیں۔ خدائی اشارہ میں گڑ بڑ ہو گئی یا جس جماعت کے متعلق خدائی اشارہ سمجھا تھا کہ اس کا ساتھ دو اسی ت قرار دے دیا۔ یہ خدائی اشارہ تھا کہ جس کا نتیجہ غیر مسلم ہونے کی

میں اس پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ کسی اسمبلی کو کسی کے مذہب کے متعلق کر یہ صحیح ہے تو ہمارا صرف اتنا سوال ہے کہ آپ درخواست دے کر بنے۔ اگر یہ بات بنیادی طور پر غلط تھی۔ تو تمہیں درخواست کر کے چاہئے تھا۔ درخواست دے کر کاروائی کا حصہ بنے جب دیکھا کہ رع کر دیا کہ اسمبلی کو اس فیصلہ کا حق نہیں۔ پھر جرح کے دوران مان ہیں۔ اس پر متعلقہ اتھارٹی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

صفحہ ١٩

قادیانیوں نے زیادہ تر حوالہ جات پر دھوکہ دہی کی ہے۔ راقم نے جگہ جگہ بین القوسین (ان بریکٹ) اصل قادیانی کتب کے موجودہ ایڈیشن کے حوالہ جات لگا دیئے ہیں۔ قادیانیوں نے اس کتاب میں کیا کہا۔ اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ حوالہ جات صحیح درج ہونے سے مختلف ایڈیشنوں کے صفحات سے وہ جو دجل کی بولی بولتے تھے وہ از خود بند ہوگئی۔ البتہ حواشی میں جواب آں غزل میں اس قادیانی کتاب کے مصنف مرزا سلطان کو منہ لگائے بغیر فقیر نے مرزا ناصر کو کھری کھری سنانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ قادیانی مصنف پوری اسمبلی کو عقل سے عاری، مفلوج ، پرلے درجے کے بے عقل کہے اور ہم جواب میں مرزا ناصر کو کچھ سنا دیں تو قادیانیوں کو ”یہ گنبد کی صدا جیسے کہو ویسے سنو“ کا مراقبہ کر لینا چاہئے۔

کی، الیکشن مہم چلائی، مالی، جانی امداد کی۔ اس کتاب ”خصوصی کمیٹی کیا گزری“ مرزا ناصر احمد کا یہ قول نقل کیا ۔ ”ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ منشاء معلوم ہوتا تھا کہ کسی ایک پارٹی کو مستحکم بنایا جائے۔ چنانچہ ہم نے اپنی عقل سے ....... پاکستان پیپلز پارٹی ....... ووٹ دینا ملکی مفاد کے عین مطابق سمجھا۔“

قادیانی جماعت نے خدائی اشارہ کو جو اپنی عقل سے سمجھا وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کی شکل میں ظہور میں آیا۔ اب قادیانی عوام غور فرمائیں۔ خدائی اشارہ میں گڑ بڑ ہوگئی یا مرزا ناصر کی عقل نے مار کھائی کہ جس جماعت کے متعلق خدائی اشارہ سمجھا تھا کہ اس کا ساتھ دو اسی جماعت نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ خدائی اشارہ تھا کہ جس کا نتیجہ غیر مسلم ہونے کی شکل میں بھگتنا پڑا؟

فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہمارا صرف اتنا سوال ہے کہ آپ درخواست دے کر کیوں اسمبلی کی کاروائی کا حصہ بنے۔ اگر یہ بات بنیادی طور پر غلط تھی۔ تو تمہیں درخواست کر کے اس غلط کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ درخواست دے کر کاروائی کا حصہ بنے جب دیکھا کہ بات نہیں بنتی نظر آتی تو واویلا شروع کر دیا کہ اسمبلی کو اس فیصلہ کا حق نہیں۔ پھر جرح کے دوران مان بھی لیا کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ اس پر متعلقہ اتھارٹی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

کام کیا ہے۔ ان سب کو بین القو... میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی نہیں ک... اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں۔ بایں ہمہ انسان خطا... ساتھ گزارش ہے کہ اس کی اطلاع...

میں سمو دیئے ۔ تفصیل یہ ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١، ٢، ٣ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ٤، ٥، حکومتی ایڈیشن کا حصہ ٩، ١٠، حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١٣، ١٤ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ١٦، ١٧ ہر جلد کے اوّل میں آخری جلد کے آخر

قادیانی حضرات کی کرم فر...

”خصوصی کمیٹی میں کیا گزری“ سے عاری“ (٢)”پرلے درج... (٣) ”ان...... کی قوت فیصلہ کو قومی اسمبلی ) ایک جنس نایاب کی ڈھونگ تھا“ یہ کلمات ممبران قوم... پر پیش کئے ہیں۔ اس کتاب کو پ... شائع ہوئی گویا قادیانیت کے ت... بد زبانیوں پر اتر آئے ہیں۔ اس... ہے جو انہیں کسی کروٹ چین س...

صفحہ ٢١

قارئین کرام!

ہو کہ قادیانی مسلم ہیں ان کو غیر مسلم قرار نہ دیں۔ بلکہ تمام ممبران اسمبلی کا اس امر پر اتفاق تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ آزاد خیال، آزادانہ ماحول میں بحث سننے کے بعد تمام ممبران قومی اسمبلی متفق اللسان تھے کہ قادیانی کافر ہیں۔ ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مرزا ناصر پر جو سوالات ہوئے مرزا ناصر نے جوابات میں جو جو گہر فشانی کی اس کا نتیجہ پوری قادیانیت کے سامنے ہے۔

آپ کتاب پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ کس طرح مرزا ناصر لاجواب ہوا، مبہوت ہوا، ششدر رہ گیا، جواب نہ دے سکا۔ چیئرمین نے رولنگ دی کہ گواہ جواب دینے سے کترا رہا ہے۔ انہیں کہنا پڑا کہ سوال کا جواب نہیں آیا۔ مرزا ناصر کو کئی مقامات پر کہنا پڑا کہ میں غلط سمجھا تھا۔ وہ میری غلطی تھی۔ میں معافی چاہتا ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر کتاب پڑھتے پڑھتے کئی مقامات پر میری طبیعت میں وجد کی کیفیت پیدا ہوئی۔ قارئین بھی ایسے ہی محسوس کریں گے۔ میں نے یہ چیزیں ارتجالاً عرض تو کر دیں مگر عمداً حوالہ نہیں دیا کہ آپ خود پڑھیں اور فقیر کی طرح حق کی فتح اور باطل کی ذلت آمیز شکست کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں کہ کفر ہار گیا اور اسلام جیت گیا۔ جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا!

جائے۔ ہمارے ایک وفد نے اب حال ہی میں قومی اسمبلی کے اس زمانہ کے سپیکر جناب فاروق علی خان سے انٹرویو لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اب قادیانیوں سے کہیں ناں کہ وہ کاروائی چھپ گئی ہے آدھے ملک کو کیوں قادیانی نہیں بناتے۔ بناؤ ناں! اب کیا رکاوٹ ہے؟ لیکن اس موقعہ پر فقیر درخواست گزار ہے کہ جو انصاف پسند قادیانی اسے محبت و بغض سے خالی ہو کر پڑھے وہ ضرور قادیانیت پر چار حرف ڈال کر حق کو قبول کر لے گا۔ پڑھیے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔

مرزا صاحب نے فلاں جگہ یوں لکھا ہے تو دوسرا ممبر کھڑا ہو گیا اسمبلی کی کاروائی کے دوران، اسمبلی ہال میں کہ ”مرزا قادیانی ...... الحرام تھا“ یہ قومی اسمبلی کے ممبر جناب خواجہ محمد جمال کوریجہ کے الفاظ تھے۔ اتنی بڑی گالی کھڑکائی جو دوران مطالعہ آپ پڑھیں گے۔ اس کاروائی کا یہ حصہ ہے۔ ریکارڈ

کے جوابات کا یہ اثر اسمبلی کے ممبران پر پڑا تھا جن کے آدھا ملک قادیانی ہو جائے گا۔ میرا موقف یہ ہے کہ اس ت اپنے عوام کے سامنے سے منہ چھپائے گی۔ کرے۔ قیاس کے گھوڑے نہ دوڑائے۔ فریب کے چکر نہ ۔ وہ صرف اپنے عوام سے کہے کہ اس کتاب کا مکمل مطالعہ ہی اپیل میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کرتا ہوں۔ انشاء اللہ پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ ہو جائے گا۔ مطالعہ شرط ہے۔ کے بعد یہ کاروائی سامنے آئی ہے۔ جو سرکاری رپورٹ ورث ہے۔ اس کو پڑھیں کہ میں اب آپ کے اور اس ا رہنا چاہتا۔ پڑھیں اور اپنے بزرگوں کی محنت کی داد دیں خانی نے قومی اسمبلی میں بلند کرنے کا سامان پیدا کیا۔ فقیر رک کا مشاہدہ ہے۔ تا کہ حق الیقین کا درجہ حاصل ہو۔ حق کو و! قادیانیت پسپا ہوئی۔ وتذل من تشاء ! اور اسی منظر کو

جس جس دوست نے جتنا جتنا حصہ لیا وہ سب مبارک باد ہم نصیب فرمائیں۔ فقیر نے مرحلہ بمرحلہ سب کا تذکرہ کر ہ گیا ہو تو اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف فرمانے والے ہیں۔ ع حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا انا مفتی خالد محمود کراچی، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین ا کہ وہ گاہے بگاہے اس کتاب کی بابت پوچھتے رہے اور

محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا! ٢٦ جولائی ٢٠١٣ء، مطابق ١٧ رمضان المبارک ١٤٣٤ھ بوقت ٥ بجے شام، دفتر ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 22

پر ہے میرے نزدیک مرزا ناصر کی جرح کے جوابات کا یہ اثر اسمبلی کے ممبران پر پڑا تھا جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کاروائی کو پڑھ کر آدھا ملک قادیانی ہو جائے گا۔ میرا موقف یہ ہے کہ اس کاروائی کو پڑھنے کے بعد خود قادیانی قیادت اپنے عوام کے سامنے سے منہ چھپائے گی۔

دے۔ کتاب کو ہم نے شائع کر دیا ہے۔ وہ صرف اپنے عوام سے کہے کہ اس کتاب کا مکمل مطالعہ کریں۔ اپنے نصاب کا حصہ سمجھیں۔ یہی اپیل میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کرتا ہوں۔ انشاء اللہ! جو بھی مطالعہ کرے گا اس کے سامنے پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ ہو جائے گا۔ مطالعہ شرط ہے۔

قارئین کرام! اتنے عرصہ کے بعد یہ کاروائی سامنے آئی ہے۔ جو سرکاری رپورٹ ہے۔ آفیشل ایک سرکاری ادارہ کی رپورٹ ہے۔ اس کو پڑھیں کہ میں اب آپ کے اور اس کتاب کے مطالعہ کے درمیان حائل نہیں رہنا چاہتا۔ پڑھیں اور اپنے بزرگوں کی محنت کی داد دیں کہ کس طرح منبر ومحراب کی صداء کو حق تعالیٰ نے قومی اسمبلی میں بلند کرنے کا سامان پیدا کیا۔ فقیر کے خیال میں یہ سب ورفعنا لک ذکرک کا مشاہدہ ہے۔ تاکہ حق الیقین کا درجہ حاصل ہو۔ حق کو اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ و تعز من تشاء! قادیانیت پسپا ہوئی۔ و تذل من تشاء! اور اسی منظر کو آپ اس کتاب میں دیکھیں گے۔

حرف آخر

اس کتاب کی تیاری کے لئے جس جس دوست نے جتنا جتنا حصہ لیا وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ انہیں اجر عظیم نصیب فرمائیں۔ فقیر نے مرحلہ بمرحلہ سب کا تذکرہ کر دیا ہے۔ اگر کسی دوست کا تذکرہ ہونا رہ گیا ہو تو اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف فرمانے والے ہیں۔ مجھے شکریہ ادا کرنا ہے اپنے مخدوم و مطاع حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، حضرت مولانا مفتی خالد محمود کراچی، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، حضرت مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کا کہ وہ گاہے بگاہے اس کتاب کی بابت پوچھتے رہے اور یوں فقیر کی ڈھارس بندھواتے رہے۔

محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا! مورخہ ٢٧ جولائی ٢٠١٣ء، مطابق ١٧ رمضان المبارک ١٤٣٤ھ بروز ہفتہ، بوقت ٥ بجے شام، دفتر ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

قارئین کرام!

ہو کہ قادیانی مسلم ہیں ان کو غیر مسلم قرار قادیانی غیر مسلم ہیں۔ آزاد خیال، آزاد متفق اللسان تھے کہ قادیانی کافر ہیں۔ ا ہوئے مرزا ناصر نے جوابات میں جو جو آپ کتاب پڑھیں تو معلو ششدر رہ گیا، جواب نہ دے سکا۔ ج ہے۔ انہیں کہنا پڑا کہ سوال کا جواب نہیں وہ میری غلطی تھی۔ میں معافی چاہتا ہوں طبیعت میں وجد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ارتجالاً عرض تو کر دیں مگر عمداً حوالہ نہیں دے ذلت آمیز شکست کو اپنی آنکھوں سے د گیا اور اسلام جیت گیا۔ جاء الحق و

جائے۔ ہمارے ایک وفد نے اب حال خان سے انٹرویو لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آدھے ملک کو کیوں قادیانی نہیں بناتے درخواست گزار ہے کہ جو انصاف پسند قادیانیت پر چار حرف ڈال کر حق کو قبول

مرزا صاحب نے فلاں جگہ یوں لکھا ہے ہال میں کہ ”مرزا قادیانی ...... الخ کا نام لیت تھے۔ اتنی بڑی گالی لڑھکائی جو دوران ح

صفحہ ٢٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !

فہرست ...... حصہ نمبر 1

قادیانی گواہ پر جرح کا طریقہ کار 32 مرزا ناصر احمد کا تعارف 38 قادیانی، لاہوری گروہ 40 خلیفہ کو کون منتخب کرتا ہے؟ 41 مرزا کی فیملی سے مراد صرف بیٹے 43 خلیفہ برطرف نہیں ہو سکتا 44 خلیفہ معذور نہیں ہو سکتا 45 جسمانی بیمار، دماغی نہیں 46 خلیفہ کے حکم کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا 47 امیر المومنین کا معنی؟ 50 مؤمنین سے مراد صرف قادیانی؟ 51 قادیانی، خالص مذہبی جماعت 51 اوسطاً کتنے قادیانی آپ بناتے ہیں 53 پاکستان میں بیس برس میں کتنے قادیانی بنائے 54 قادیانی بننے والوں کا ریکارڈ نہیں رکھتے 55 احمدیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں 55 بحیثیت جماعت سیاست میں حصہ نہیں لیتے 56 پوری دنیا میں کتنے قادیانی ہیں؟ 67 پوری دنیا میں ایک کروڑ قادیانی 68 مرزا کی وفات کے وقت قادیانی چار لاکھ تھے 68 1901ء کی مردم شماری میں اٹھارہ سو قادیانی تھے 69 مرزا کی وفات کے وقت انیس ہزار 69

72 73 73 ن میں دو لاکھ 75 75 نہیں کر سکتے 77 لاکھ ہے 77 80 97 ائی ہو سکتی ہے 100 109 کی تفتیش کر سکتی ہے 123 159 159 اں خلل نہ پڑے 163 166 167 169 196 197 202 مسلم پر غور کر سکتا ہے 202 205 210 221

صفحہ ٢٣

فہرست

قادیانی گواہ پر جرح کا طریقہ کار مرزاناصر احمد کا تعارف قادیانی، لاہوری گروہ خلیفہ کو کون منتخب کرتا ہے؟ مرزا کی فیملی سے مراد صرف بیٹے خلیفہ برطرف نہیں ہو سکتا خلیفہ معذور نہیں ہو سکتا جسمانی بیمار، دماغی نہیں خلیفہ کے حکم کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا امیرالمومنین کا معنی؟ مؤمنین سے مراد صرف قادیانی؟ قادیانی، خالص مذہبی جماعت اوسطاً کتنے قادیانی آپ بناتے ہیں پاکستان میں بیس برس میں کتنے قادیانی قادیانی بننے والوں کا ریکارڈ نہیں رکھتے احمدیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں بحیثیت جماعت سیاست میں حصہ نہیں پوری دنیا میں کتنے قادیانی ہیں؟ پوری دنیا میں ایک کروڑ قادیانی مرزا کی وفات کے وقت قادیانی چار لاکھ ١٩٠١ء کی مردم شماری میں اٹھارہ سو قادیانی مرزا کی وفات کے وقت انیس ہزار

قادیانی ١٩٣٦ء میں چھپن ہزار تھے 72 ١٩٥٣ء میں قادیانی دولاکھ تھے 73 اب تیس لاکھ کیسے؟ 73 ١٩٦٠ء میں پوری دنیا میں پانچ لاکھ، پاکستان میں دولاکھ 75 اعدادوشمار میں ابہام ہے 75 پاکستان میں قادیانی دولاکھ ہیں آپ تردید نہیں کرسکتے 77 میرا اندازہ ہے ٣٥ سے ٤٠ لاکھ، آپ کا دولاکھ ہے 77 آزادی مذہب؟ 80 گواہ (مرزاناصر) جواب دے 97 کوئی غلط طور پر مذہب کا اظہار کرے تو کاروائی ہو سکتی ہے 100 کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے 109 متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے 123 مذہبی آزادی مشروط ہے 159 مجاز اتھارٹی قانون بنا سکتی ہے 159 آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے 163 میری بات پوری ہونے دیں 166 مرزاناصر کی معافی 167 قانون سازی بنیادی عقائد کے مطابق 169 احمدیوں کی تعداد کتنی ہے؟ 196 ان دو میں سے ایک بات غلط ہے 197 قادیانی خلیفہ مستعفی نہیں ہو سکتا 202 الیکشن کمشنر امیدوار کے کاغذات میں مسلم، غیر مسلم پر غور کر سکتا ہے 202 حکومت قانون سازی کر سکتی ہے 205 میں اب سمجھا 210 مرزا امتی نبی تھا 221

صفحہ ٢٥

کیا امتی نبی بھی امت رکھ سکتا ہے؟ 224 جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر 226 خود کو امام کہتے ہیں اور مولانا مودودی کو مسٹر مودودی، اس کی کیا وجہ؟ 231 جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے کیوں پسند نہیں کرتے 235 مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج 238 سیاسی مسلمان کی تعریف 238 مرزا قادیانی کا منکر؟ 249 حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر ملت اسلامیہ سے خارج ہے 262 حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر سیاسی معنوں میں مسلمان ہے؟ 263 عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر ہر طرح ملت اسلامیہ سے خارج ہے 264 عیسیٰ اور مرزا کے منکر دونوں ایک جیسے ، وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں 265 مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج 267 غیر احمدی کافر ہیں 272 غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں 274 مسلمان بھی کافر بھی 280 ایک جہت سے کافر ایک جہت سے مسلمان 283 قادیانی وفد کی بے تہذیبی 291 مرزا ناصر کی ہچکچاہٹ، کترانا 294 مرزا ناصر کا ٹال مٹول 296 مرزا ناصر کی ہیرا پھیری 297 دو دائروں کا چکر؟ 298

فہرست..... حصہ نمبر 2

مسلمان ، عیسائی ایک جیسے ہیں؟ 315 غیر احمدی عورت سے قادیانی مرد کا رشتہ؟ 317 نماز جنازہ کی بحث 318

لم تھا 320 322 336 338 343 344 سا ہے 345 شرکت 350 عا؟ 353 لم ہو گئے 354 355 میں شامل؟ 357 357 360 361 363 365 369 378 380 385 ف ہے 394 گے، مرزا ناصر کا اعلان 405 405 406 407

صفحہ ٢٥

قائداعظم کو قادیانیوں کے خلاف فتوے کا علم تھا 320 مسلمان بچوں کا حکم عیسائیوں بچوں جیسا؟ 322 کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں 336 قائداعظم کا نماز جنازہ 338 ڈنمارک کا واقعہ سرے سے غلط ہے 343 مرزا ناصر جواب دینے سے کتراتا ہے 344 مرزا ناصر کے پاس جواب کے لئے کچھ نہیں ہے 345 قائداعظم کے جنازہ میں قادیانیوں کی عدم شرکت 350 دنیا میں کہیں غائبانہ جنازہ احمدیوں نے پڑھا؟ 353 قادیانی خلیفہ، اخبار الفضل کے حوالہ سے منکر ہو گئے 354 اخبار الفضل کی بات غلط ہے 355 جو دائرہ اسلام سے خارج، وہی ملت اسلام میں شامل؟ 357 مسلمان بھی، کافر بھی؟ 357 کافر ہونے کے باوجود مسلمان؟ 360 مرزا ناصر احمد سوچ لو، کیا کہہ رہے ہو؟ 361 مرتد کیا ہوتا ہے؟ 363 مرزا قادیانی کا منکر مرتد 365 مرزا ناصر کی صریح کذب بیانی 369 مرزا ناصر کی الٹی منطق 378 فتاویٰ احمدیہ یعنی نہج المصلی غیر معتبر 380 اتمام حجت کی تعریف میں دجالانہ تحریف 385 کلمہ کے معنی میں مسلمانوں سے ہمیں اختلاف ہے 394 پوری دنیا کی اسمبلی کے فیصلہ کو بھی نہیں مانیں گے، مرزا ناصر کا اعلان 405 قادیانی جماعت خود علیحدگی کی دعویدار ہے 405 احمدی قوم دوسری قوموں سے جدا؟ 406 نئی امت 407

کیا امتی نبی بھی امت رکھ سکتا ہے؟ جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر خود کو امام کہتے ہیں اور مولانا مودودی کو مسلمانوں کا جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں پر مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج سیاسی مسلمان کی تعریف مرزا قادیانی کا منکر؟ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر، مرتد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر، کافر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر ہر طرح کافر عیسیٰ اور مرزا کے منکر دونوں ایک جیسے ہو گئے مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج غیر احمدی کافر ہیں غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں مسلمان بھی کافر بھی ایک جہت سے کافر ایک جہت سے مسلمان قادیانی وفد کی بے تہذیبی مرزا ناصر کی ہچکچاہٹ، کترانا مرزا ناصر کا ٹال مٹول مرزا ناصر کی ہیرا پھیری دو دائروں کا چکر؟ فہرست مسلمان ، عیسائی ایک جیسے ہیں؟ غیر احمدی عورت سے قادیانی مرد کا نکاح نماز جنازہ کی بحث

صفحہ ٢٧

مرزا،صاحب شریعت نبی 409 مرزا، احمد نبی اللہ 411 مرزا، حقیقی نبی ہے 418

فہرست ...... حصہ نمبر 3

مرزا قادیانی حقیقی نبی 430 مرزا، صاحب الشریعت نبی؟ 431 نبی کا انکار کفر، غیر احمدی کافر 433 قادیانیوں کی علیحدگی پسندی 440 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت 458 مردہ علیؓ، معاذ اللہ 471 سیدہ فاطمہؓ کی اہانت، معاذ اللہ 473 سیدنا حسینؓ کی اہانت، معاذ اللہ 474 دائرہ اسلام اور ملت اسلامیہ نہیں بلکہ ملحد و منافق 482 قادیانیوں میں بھی کافر پائے جاتے ہیں، مرزا ناصر کا اعلان 485 مرزا کے منکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں 485 مرزا کا منکر مسلمان، مرزا ناصر کا اعلان 486 مرزا ناصر کا ایک اور اعلان 487 سیدنا مسیح بن مریم علیہ السلام سے مرزا افضل؟ 488 سوال وفد کے پاس پہلے موجود ہوتے ہیں، یہ کیسے آؤٹ ہوتے ہیں؟ 508 مرزا قادیانی پوری امت میں سب سے افضل؟ 514 مرزا قادیانی سب انبیاء، اولیاء، صحابہؓ واہل بیتؓ سے افضل ہے 518 مرزا قادیانی، محمدﷺ قادیان میں، معاذ اللہ 519 عیسیٰ ”موسوی“ کے نہ ماننے والوں کی طرح، مرزا کے نہ ماننے والے بھی کافر 526 مرزا کا منکر کافر 527 مرزا ناصر کا اقرار جہالت 560 جو تمہیں کہنے کا حق ہے وہ دوسرے کو کہنے کا کیوں حق حاصل نہیں؟ 568 بے خبری میں وہ پکڑا جائے گا 570

NATIONAL ASSEMBLY OF P

No. 1

THE NATIONAL ASSEMBLY O

PROCEEDIN OF THE SPECIAL COMMIT WHOLE HOUSE HELD TO CONSIDER THE QA

OFFICIAL REPO

Monday, the 5th August

(Contains Nos. 1-2

CONTENTS

1 Procedure of Cross examination .............................................................. 2 Oath-taking by the Witness of the Qadiani Group .............................. 3 Method of Recording the Cross-examination ......................................

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION O PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOU

1

صفحہ ٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

No. 1

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Monday, the 5th August, 1974

(Contains Nos. 1-21)

CONTENTS

Pages

(Continued)

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD. PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

1

مرزا، صاحب شریعت نبی

مرزا، احمد نبی اللہ

مرزا، حقیقی نبی ہے

فہر

مرزا قادیانی حقیقی نبی

مرزا، صاحب الشریعت نبی؟

نبی کا انکار کفر، غیر احمدی کافر

قادیانیوں کی علیحدگی پسندی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت

مردہ علیؓ، معاذ اللہ

سیدہ فاطمہؓ کی اہانت، معاذ اللہ

سیدنا حسینؓ کی اہانت، معاذ اللہ

دائرہ اسلام اور ملت اسلامیہ نہیں بلکہ قلعہ

قادیانیوں میں بھی کافر پائے جاتے ہیں

مرزا کے منکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

مرزا کا منکر مسلمان، مرزا ناصر کا اعلان

مرزا ناصر کا ایک اور اعلان

سیدنا مسیح بن مریم علیہ السلام سے مرزا ا

سوال وفد کے پاس پہلے موجود ہوتے ہ

مرزا قادیانی پوری امت میں سب سے

مرزا قادیانی سب انبیاء، اولیاء، صحابہؓ و

مرزا قادیانی محمد ﷺ قادیان میں، مع

عیسیٰؑ ، موسیٰؑ کے نہ ماننے والوں کی طر

مرزا کا منکر کافر

مرزا ناصر کا اقرار جہالت

جو تمہیں کہنے کا حق ہے وہ دوسرے کو کہن

بے خبری میں وہ پکڑا جائے گا

صفحہ ٢٩

28 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

No. 1

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Monday, the 5th August, 1974

Contains No. 1—21

٢

29 NATIONAL ASSEMBLY OF

Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ........ Supply of Copies of the Cross-examination ........................ Supplementary Questions for Cross-examination ................. Correction of Record of the Cross-examination ................. Timings of Sitting for the Cross-examination .................... Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ........ Evasive Answers to Questions in the Cross-examination ... Cross-examination of the Qadiani Group Delegation—(Co Availability of Books etc. for Quotations and Cross-exami Disturbance during the Cross-examination... ..................... Method of conducting the Cross-examination .................. Conduct of the Witness during the Cross-examination ......

٣

صفحہ ٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Pages

Cross-examination of the Qadiani Group Delegation .................................................. 4-52 Supply of Copies of the Cross-examination .................................................................. 53-54 Supplementary Questions for Cross-examination ....................................................... 54-55 Correction of Record of the Cross-examination .......................................................... 55-56 Timings of Sitting for the Cross-examination ................................................................ 56 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation .................................................. 57-113 Evasive Answers to Questions in the Cross-examination ............................................ 113-116 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation—(Continued) .......................... 116-196 Availability of Books etc. for Quotations and Cross-examination ............................. 197-200 Disturbance during the Cross-examination ................................................................... 200- 201 Method of conducting the Cross-examination .............................................................. 201-203 Conduct of the Witness during the Cross-examination ................................................ 203-206

٣

صفحہ ٣٠

30 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

¹THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(پاکستان کی قومی اسمبلی)

----------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

(قادیانی مسئلہ پر غور کرنے کے لئے منعقدہ قومی اسمبلی کے مکمل ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کے بند کمرہ کے اجلاس کی کارروائی)

----------

OFFICIAL REPORT

(سرکاری رپورٹ)

----------

Monday, August 5. 1974.

(بروز پیر، ٥؍اگست ١٩٧٤ء)

----------

The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا بند کمرہ کا اجلاس اسمبلی کے چیمبر (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر نیشنل اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) بحیثیت چیئرمین تھے)

----------

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

----------

٤

صفحہ ٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

²PROCEDURE OF CROSS EXAMINATION

(جرح کا طریقہ کار)

Mr. Chairman: I think we will start just with in 5 minutes. The Attorney General is busy in my chamber discussing the question with Maulana Zafar Ahmad Ansari and he will be here with in two or three minutes.

(جناب چیئرمین: میرے خیال میں ہم کارروائی بس پانچ منٹ کے اندر شروع کریں ۔ (کیونکہ) اٹارنی جنرل میرے چیمبر میں مولانا ظفر احمد انصاری کے ساتھ سوالات کے بارے میں مصروف گفتگو ہیں اور وہ دو یا تین منٹ میں یہاں پہنچ جائیں گے)

ہاں! بلوالیں ان کو۔ وہ ہاؤس میں ہی آجائیں۔ یہاں ڈسکس کر لیں۔ نہیں، ابھی نہیں۔ ڈیلی گیشن کو نیچے بلوالیں۔

And again I will request the honourable members that in the presence of the delegation and in the presence of the witnesses, no controversial issues should be raised. The Attorney General may be allowed to put the questions, and if any honourable member is not satisfied with the question or he thinks that the answer is evasive, he can send a chit to me or to the Attorney General and if something of a very important nature comes to the notice of any honourable member, he can make a request and we can adjourn the House for five or ten minutes. We can ask the witness to wait outside and we can discuss the matter among ourselve.

(میں ممبران گرامی سے ایک مرتبہ پھر درخواست کروں گا کہ وفد اور گواہان کی موجودگی میں کوئی متنازعہ فیہ معاملہ نہ اٹھایا جائے۔ (بس) اٹارنی جنرل کو سوالات کرنے کی اجازت ہوگی اور اگر کوئی ممبر اس سوال سے (جو کیا جائے گا) مطمئن نہ ہو یا وہ سمجھے کہ جواب میں ٹالنے والی بات

٥

صفحہ ٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کی گئی ہے تو وہ (ممبر صاحب) مجھے یا اٹارنی جنرل کو رقعہ بھیجیں اور اگر کسی معزز ممبر کے علم میں کوئی ایسی بات آتی ہے جو بہت اہم نوعیت کی ہے تو (پھر) وہ (ممبر) درخواست پیش کر سکتا ہے اور ہم پانچ یا دس منٹ کے لئے اجلاس کی کارروائی روک سکتے ہیں اور (پھر) ہم گواہان سے کہیں گے کہ وہ باہر انتظار کریں اور (اس دوران) ہم آپس میں اس معاملہ پر غور و خوض کریں گے )

(قادیانی گواہ پر جرح کا طریقہ کار)

جناب محمد حنیف خان: موقع پر کسی کے ذہن میں کوئی نیا سوال آئے، تو اس کے متعلق کیا پروسیجر (طریقہ کار) ہے؟

جناب چیئرمین: اس کے متعلق .............

جناب محمد حنیف خان: اٹارنی جنرل صاحب کو لکھوا دیں؟

جناب چیئرمین: آپ نوٹ کر کے اٹارنی جنرل صاحب کو دے دیں اور اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا تھا پرسوں اسٹیئرنگ کمیٹی میں بھی کہ As a Lawyer (بحیثیت ایک وکیل کے) جو Difficulties (مشکلات) ہوتی ہیں، جو Method (طریقہ کار) ہوتا ہے، ہر Lawyer (وکیل) کا اپنا Method (طریقہ کار) ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ: of putting the questions and getting the answers

for two hours or for one day, let him be allowed to have a free hand in cross-examination, and if the honourable members feel that something is missing or lacking, they can guide him and instruct him. Mr. Attorney General, have you anything to say? Have you anything to add? اچھا Should we call the witness? One thing also. I will request that during the cross-examination the quorum may be kept 10 from this side and 30 from that side. The honourable members can come and go but the quorum may be kept intact.

(دو گھنٹے یا ایک دن کے لئے تو ان کو (اٹارنی جنرل) اجازت دیں کہ وہ جرح کرنے

٦

صفحہ ٣٣

33 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

میں آزاد ہوں۔ لیکن اگر معزز ممبران محسوس کریں کہ کوئی بات رہ گئی ہے تو وہ اٹارنی جنرل کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کو اس بارے میں کچھ کہنا ہے؟ اچھا۔ کیا اب ہم گواہ کو بلالیں۔ ایک بات اور، میں گزارش کروں گا کہ جرح کے دوران کورم پورا رکھا جائے، اس طرف سے دس ممبران ہوں اور اس طرف سے تیس۔ بے شک ممبران گرامی آتے جاتے رہیں۔ لیکن کورم برقرار رہے )

ہاں جی بلالیں۔

I will request the honourable members to be in their seats. Can come nearer, to the unoccupied seats according to their choice. If they want to sit where they are, it is up to them.

(میں معزز ممبران سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں۔ وہ اپنی پسند کے مطابق قریبی خالی نشستوں پر آ کر بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی نشست پر بیٹھنا چاہتے ہوں تو یہ ان کی مرضی ہے)

(The delegation entered the Chamber)

(وفد ہال میں داخل ہوا)

OATH TAKING BY WITNESS OF

THE QADIANI GROUP

(قادیانی گروپ کے گواہ کا حلف لینا)

Mr. Chairman: Now we will start the proceedings. I will request the witness to take the oath.

(جناب چیئرمین: اب کارروائی شروع کی جاتی ہے۔ گواہ سے گزارش ہے کہ وہ حلف اٹھائیں)

مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ ربوہ): میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر جو کہوں گا ایمان سے سچ کہوں گا۔

٧

صفحہ ٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

METHOD OF RECORDING THE

CROSS-EXAMINATION

(جرح کو ریکارڈ کرنے کا طریقہ کار)

Mr. Chairman: Yes, the Attorney General. For the reporters, for every question and answer there should be a separate sheet. Yes.

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل۔ سرکاری رپورٹروں کے لئے یہ ہے کہ ہر سوال اور جواب کے لئے وہ علیحدہ صفحہ استعمال کریں۔ جی!)

Rana Muhammad Hanif Khan: The proceedings are going to be lengthy. I think if the Attorney General can keep on sitting, that will be much better.

(رانا محمد حنیف خان: کارروائی بہت لمبی ہوگی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اٹارنی جنرل اگر (دوران کارروائی) بیٹھے رہیں تو اچھا ہوگا)

Mr. Chairman: It is up to him.

(جناب چیئرمین: یہ ان پر منحصر ہے)

Rana Muhammad Hanif Khan: He might face some difficulty. (رانا محمد حنیف خان: انہیں کچھ مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے)

Mr. Chairman: It is up to him. It is up to the Attorney General, because we allowed the witness even to make a statement while sitting.

(جناب چیئرمین: یہ ان پر منحصر ہے۔ یہ اٹارنی جنرل پر منحصر ہے کیونکہ ہم نے تو گواہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ بیٹھ کر اپنا بیان دے سکتا ہے)

Rana Muhammad Hanif Khan: That is why. It is up to him. (رانا محمد حنیف خان: یہی وجہ ہے کہ یہ ان پر منحصر ہے)

Mr. Chairman: It is up to him

(جناب چیئرمین: یہ ان پر منحصر ہے)

٨

صفحہ ٣٥

.35 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

(قادیانی جماعت کے وفد سے جرح)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney General of Pakistan): Mirza Sahib, I would be asking you certain questions, but if you find that you don't want to answer any question or you cannot answer any question......

(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): مرزا صاحب! میں آپ سے چند سوال کروں گا۔ اگر آپ دیکھیں کہ (میرے) کسی سوال کا آپ جواب دینا نہیں چاہتے یا دے نہیں سکتے......)

Mr. Chairman: The Mike .....

(جناب چیئرمین: مائیک......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I repeat .....

(جناب یحییٰ بختیار: میں دہراتا ہوں......)

Mr. Chairman: The mike is all right, but the ....

(جناب چیئرمین: مائیک ٹھیک ہے، لیکن......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Will you .....

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ......)

جناب چیئرمین: نہیں، آنریبل اٹارنی جنرل صاحب کا قد لمبا ہے۔

ایک رکن: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, it's all right.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ ٹھیک ہے)

Mr. Chairman: The member can use the earphone.

(جناب چیئرمین: ممبران Earphone (ایرفون) استعمال کرسکتے ہیں)

٩

صفحہ ٣٧

36 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: I will be asking you certain questions. If you find that you cannot answer these questions or any one of them or you do not want to answer that question, you are not bound to do so. But you will appreciate that the Special Committee will draw such inference as it considers 5 appropriate from your refusal to answer any particular question. That inference may be favourable to your cause or may be adverse. If you are not in a position to answer any question straightaway, You may ask the Committee for time; and if it so considers, it will give you time to answer the question.

Now, Sir, will you tell us who was the founder of the Ahmedia Movement?

(جناب یحییٰ بختیار: (میں کہہ رہا تھا کہ) میں آپ سے کچھ سوالات پوچھوں گا۔ اگر آپ دیکھیں کہ آپ ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے یا کسی ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتے یا نہیں دینا چاہتے تو (آپ کی خوشی ہے) آپ پر (جواب دینے کی) پابندی نہیں ہے۔ لیکن آپ یہ ضرور سمجھ لیں کہ خصوصی کمیٹی آپ کے جواب نہ دینے سے وہ نتائج اخذ کرنے کی مجاز ہوگی جو وہ مناسب سمجھے گی۔ وہ اخذ شدہ نتائج آپ کے کاز کے لئے سود مند بھی ہو سکتے ہیں یا اس کے برخلاف بھی۔ (ہاں) اگر آپ اس پوزیشن میں نہ ہوں کہ فوری طور پر جواب دے سکیں تو آپ کمیٹی سے وقت مانگ سکتے ہیں، اور اگر وہ مناسب سمجھے تو وہ آپ کو سوال کا جواب دینے کے لیے وقت دے گی۔ جناب! کیا اب آپ ہمیں بتائیں گے کہ احمدیہ تحریک کا بانی کون تھا؟)

مرزا ناصر احمد : حضرت مرزا غلام احمد صاحب۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please give us the brief account of his life? When I say brief account of his life, I mean when was he born? Where he was born? What

١٠

37 NATIONAL ASSEM

was his education, the famil his death and place of his dea

اہ کرم ان کی زندگی کا مختصر خاکہ ہمارے سامنے تو اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ کب وہ پیدا وغیرہ، کب اور کہاں انتقال ہوا؟) یہ درخواست کروں گا کہ مجھے وقت دیا جائے،

Mr. Yahya Bakhtia

Mr. Yahya Bakhti Ahmad's grandson?

غلام احمد کے پوتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtia

بانی) کے بیٹے کا بیٹا؟)

Mirza Nasir Ahmad

Mr. Yahya Bakhti some brief account of your lif birth? Because the whole re why I am asking?

مختصر سوانح حیات بتائیں گے؟ اپنی تعلیم؟ تاریخ لئے میں پوچھ رہا ہوں)

میں سولہ نومبر ١٩٠٩ء میں پیدا ہوا تھا اور ......

از نہیں آ رہی۔

صفحہ ٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

was his education, the family background and the date of his death and place of his death?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ براہ کرم ان کی زندگی کا مختصر خاکہ ہمارے سامنے پیش کریں گے؟ جب میں کہتا ہوں کہ مختصر خاکہ تو اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ کب وہ پیدا ہوئے؟ کہاں پیدا ہوئے؟ تعلیم کیا ہے؟ خاندان وغیرہ، کب اور کہاں انتقال ہوا؟)

مرزا ناصر احمد: اس کے متعلق میں یہ درخواست کروں گا کہ مجھے وقت دیا جائے، میں کل لکھا ہوا آپ کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: شکریہ)

Mr. Yahya Bakhtiar: You are Mirza Ghulam Ahmad's grandson?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مرزا غلام احمد کے پوتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: His son's son?

(جناب یحییٰ بختیار: اس (مرزا قادیانی) کے بیٹے کا بیٹا؟)

Mirza Nasir Ahmad: His son's son.

(مرزا ناصر احمد: جی، بیٹے کا بیٹا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please give us some brief account of your life, your education, your date of birth? Because the whole record is being prepared, that's why I am asking?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ اپنی مختصر سوانح حیات بتائیں گے؟ اپنی تعلیم؟ تاریخ پیدائش؟ چونکہ پورا ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے، اس لئے میں پوچھ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: میں نے سنا ہے کہ میں سولہ نومبر ١٩٠٩ء میں پیدا ہوا تھا اور ......

میاں گل اورنگزیب: جناب! آواز نہیں آ رہی۔

١١

صفحہ ٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب چیئرمین: تھوڑی سی Volume (آواز) آپ Increase کر (بڑھا) دیں۔ Not too much (بہت زیادہ نہیں) کہ شور ہو۔ Is it all right? (کیا اتنی صحیح ہے؟)

(مرزا ناصر احمد کا تعارف)

مرزا ناصر احمد: ١٦؍نومبر ١٩٠٩ء کی میری پیدائش ہے۔ میرا خیال ہے میٹرک کے ریکارڈ میں چند دنوں کا فرق ہے۔ یعنی اصل میری پیدائش ١٦؍نومبر ١٩٠٩ء کی ہے۔ جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میری دادی نے مجھے لے لیا تھا اور ان کی گود میں ہی میری پرورش ہوئی ہے۔ اپنی والدہ کے پاس میں نہیں رہا، اور دادی سے میری مراد بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بیگم صاحبہ ہیں۔ بچپن میں، میں نے پہلے قرآن کریم حفظ کیا۔ پھر میں نے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ١٩٢٩ء میں۔ اور پھر میں نے ١٩٣٠ء میں سارے مضامین کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر میں نے گورنمنٹ کالج میں چار سال گزارنے کے بعد ١٩٣٤ء میں بی۔اے کا امتحان پاس کیا فلاسفی اور سائیکالوجی کے ساتھ۔ اور ١٩٣٤ء میں، میں آکسفورڈ میں بیلیل کالج میں داخل ہوا۔ اکتوبر سے وہاں کی ٹرم پہلی شروع ہوتی ہے۔ اور ١٩٣٨ء میں، میں نے جس کو وہاں کی زبان میں پی۔پی۔ای کہتے ہیں یعنی فلاسفی، پالیٹکس اینڈ اکنامکس، ان مضامین میں، میں نے وہاں بی اے کیا اور ان کے قاعدے کے مطابق چند سال گزارنے کے بعد اگر انسان آن رول رہے، داخل رہے یونیورسٹی میں تو وہ آنریری ڈگری ایم۔اے کی دے دیتے ہیں۔ جو مجھے اس لئے لینی پڑی کہ مجھے جماعت نے...... اس کام کے لئے میری زندگی وقف تھی۔ ١٩٤٤ء میں ہمارا جو کالج تھا، تعلیم الاسلام کالج، اس کا پرنسپل مقرر کر دیا اور ١٩٤٤ء سے ١٩٦٥ء، نومبر ١٩٦٥ء تک میں تعلیم الاسلام کالج کا پرنسپل رہا۔ پہلے Undivided (غیر منقسم) انڈیا میں، پھر ڈویژن ہوگئی، تقسیم ہوگئی اور پاکستان بنا اور ہمارا کالج یہاں آ گیا اور چونکہ وہاں ہمارا سارا کتب خانہ، لائبریری کالج کی جیسا کہ جماعت کی لائبریری کا اکثر حصہ وہاں رہ گیا تھا۔ اپریٹس سائنس کالج کا تھا، یہ نئے سرے سے سارا یہاں ہمیں انتظام کرنا پڑا۔ اور ١٩٦٥ء تک میں پرنسپل کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرتا رہا اور ١٩٦٥ء میں، نومبر ١٩٦٥ء میں مجھے جماعت احمدیہ نے انتخاب کے ذریعہ اپنا امام منتخب کیا۔

١٢

صفحہ ٣٩

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب چیئرمین: تھوڑا (بڑھا) دیں۔ Not too much (کیا اتنی صحیح ہے؟)

(مرزا

مرزا ناصر احمد: ١٦ نومبر ریکارڈ میں چند دنوں کا فرق ہے۔ یعنی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میری دادی ــــ ہے۔ اپنی والدہ کے پاس میں نہیں رہا، ا ہیں۔ بچپن میں، میں نے پہلے قرآن کر فاضل کا امتحان پاس کیا ١٩٢٩ء میں۔ اور کا امتحان پاس کیا۔ پھر میں نے گورنمنٹ کا امتحان پاس کیا فلاسفی اور سائیکالوجی میں داخل ہوا۔ اکتوبر سے وہاں کی ٹرم شرو کی زبان میں پی. پی. ای کہتے ہیں یعنی وہاں بی اے کیا اور ان کے قاعدے کے رہے، داخل رہے یونیورسٹی میں تو وہ آنرز لینی پڑی کہ مجھے جماعت نے......اس کالج تھا، تعلیم الاسلام کالج، اس کا پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کا پرنسپل رہا۔ پہلے ک تقسیم ہوگئی اور پاکستان بنا اور ہمارا کالج کالج کی جیسا کہ جماعت کی لائبریری آ نئے سرے سے سارا یہاں ہمیں انتظام ک خدمت کرتا رہا اور ١٩٦٥ء میں، نومبر ١ امام منتخب کیا۔

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, you hold the office of Imam of Jamaat-e-Ahmadia? (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب آپ امام جماعت احمدیہ ہیں؟) مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you are also the third Caliph of Mirza Ghulam Ahmad? (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مرزا غلام احمد کے تیسرے خلیفہ بھی ہیں؟) مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you are also called Amir-ul-Momineen by your Jamat people? (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کو آپ کی جماعت کے لوگ امیرالمومنین بھی کہتے ہیں؟) مرزا ناصر احمد: ہاں وہ بھی مجھے کہتے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, will you tell us the different duties that you discharge or functions that you perform or powers that you exercise in these various capacities as Imam, as Khalifa and Amir? Or is it the same function? (جناب یحییٰ بختیار: کیا اب آپ ہمیں وہ کام بتائیں گے کہ جو آپ مختلف حیثیتوں سے مثلاً امام، خلیفہ اور امیر کی حیثیت سے انجام دیتے ہیں؟ یا یہ سب ایک ہی کام ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: Same function.

Mr. Yahya Bakhtiar: In all the offices? (جناب یحییٰ بختیار: تمام عہدوں میں؟)

مرزا ناصر احمد: مختلف لوگ مختلف باتیں کہہ دیتے ہیں۔ اصل ہے خلیفۃ المسیح ثالث، یعنی مہدی موعود کے تیسرے خلیفہ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Can different persons hold

١٣

صفحہ ٤١

40 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

these three different offices?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا مختلف افراد ان تینوں عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں۔

8Mr. Yahya Bakhtiar: It has to be the same person. And now, Sir, this Jamaat-e-Ahmadia, is it a body different and distinct from Ahmadia Movement or is it some controlling organisation within the Movement?

(جناب یحییٰ بختیار: جماعت احمدیہ اور احمدیہ تحریک میں کیا فرق ہے؟ اور کیا یہ جماعت اس تحریک کو کنٹرول کرنے والی باڈی ہے، یا احمدیہ تحریک سے علیحدہ جماعت ہے؟)

(قادیانی، لاہوری گروہ)

مرزا ناصر احمد: جماعت احمدیہ جس معنی میں ہم استعمال کرتے ہیں، احمدیہ جماعت کے ان افراد کی جماعت ہے جو خلافت ثالثہ کی بیعت کرتے ہیں۔ ایسے احمدی بھی ہیں جو خلافت کی بیعت نہیں کرتے۔ وہ ہم جس معنی میں جماعت احمدیہ استعمال کرتے ہیں، وہ اس میں شامل نہیں۔ لیکن احمدی ہیں وہ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You mean the people who belong to Lahore Group?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کا مطلب ہے وہ لوگ جو لاہوری فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں people who belong to the Lahore Group or scattered individuals sometimes, who don't take 'baiat' but they call themselves Ahmedi?

(مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ لوگ جو لاہوری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں یا بعض اوقات منتشر افراد جو بیعت نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Every person who takes 'baiat' is a member of Jamaat-e-Ahmedia?

(جناب یحییٰ بختیار: ہر شخص جو بیعت کرتا ہے وہ جماعت احمدیہ کا ممبر ہے؟)

١٤

41 NATIONAL ASSEMBLY

حمدیہ، جس کو جماعت مبائعین بھی بعض لوگ کہہ

Mr. Yahya Bakhtiar: are elected to this office. Who Imam?

نے کہا تھا کہ آپ اس عہدے پر منتخب ہوئے ہیں، تا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: کا ایک گروپ ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please kindly tell us th of that electoral college?

ب کنندگان کا ایک گروپ ہے۔ کیا آپ برائے ہیئت ترکیبی یا ممبران کی تعداد بتائیں گے؟)

نتخب کرتا ہے؟)

تعداد نہیں معلوم میرا خیال ہے کوئی پانچ سو کے ں کی نمائندگی ہے۔ ایک تو جماعت کی جو تنظیم ہے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو باہر جا کر تبلیغ اسلام پر ایک اس کام کی وجہ سے جو انہوں نے تبلیغ اسلام کا کیا نندگان کے گروپ) کے ممبر ہیں۔ ایک وہ ہیں سلاح پر خرچ کیا ہے اپنی زندگی کا، وہ اس کے ممبر کی تنظیم ہے، Registered Body (رجسٹرڈ اس کے ممبر ہیں۔ ایک ہے ہماری انتظامیہ جس کا ام کا ہے۔ اکثر حصہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ہ جو ہیں عہدیدار مرکزی، وہ اس Electoral

صفحہ ٤١

41 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہاں جماعت احمدیہ، جس کو جماعت مبائعین بھی بعض لوگ کہہ دیتے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you said, Sir, that you are elected to this office. Who elects you, who elects the Imam?

(جناب یحییٰ بختیار: اور آپ نے کہا تھا کہ آپ اس عہدے پر منتخب ہوئے ہیں، "آپ کو کس نے منتخب کیا ہے؟ امام کو کون منتخب کرتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: By an electoral college.

(مرزا ناصر احمد: انتخاب کنندگان کا ایک گروپ ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is an electoral college. Will you please kindly tell us the composition or the number of that electoral college?

(جناب یحییٰ بختیار: وہ انتخاب کنندگان کا ایک گروپ ہے۔ کیا آپ برائے مہربانی ہمیں انتخاب کنندگان کے اس گروپ کی ہیئت ترکیبی یا ممبران کی تعداد بتائیں گے؟)

(خلیفہ کو کون منتخب کرتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! صحیح تو مجھے تعداد نہیں معلوم میرا خیال ہے کوئی پانچ سو کے قریب، قریباً پانچ سو ہیں اور اس میں مختلف گروپس کی نمائندگی ہے۔ ایک تو جماعت کی جو تنظیم ہے اس کے ممبر ہیں، مثلاً ضلع کا امیر ہے۔ ایک یہ ہیں۔ ایک وہ ہیں جو باہر جا کر تبلیغ اسلام پر ایک معین اور مقررہ وقت لگا چکے ہیں، وہ۔ تو وہ اپنے اس کام کی وجہ سے جو انہوں نے تبلیغ اسلام کا کیا ہے وہ Electoral College (انتخاب کنندگان کے گروپ) کے ممبر ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے ایک خاص وقت یہاں تربیت اور اصلاح پر خرچ کیا ہے اپنی زندگی کا، وہ اس کے ممبر ہیں۔ جو صدر انجمن احمدیہ ہے، یہ ہماری انتظامیہ کی تنظیم ہے، Registered Body (رجسٹرڈ جماعت)، تو اس کے جو ذمہ دار عہدیدار ہیں وہ اس کے ممبر ہیں۔ ایک ہے ہماری انتظامیہ جس کا تعلق بیرون پاکستان کے اکثر حصے سے تبلیغ اسلام کا ہے۔ اکثر حصہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بعض حصے اس کے اندر نہیں شامل۔ تو وہ ان کے جو ہیں عہدیدار مرکزی، وہ اس Electoral

١٥

صفحہ ٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

College (انتخاب کنندگان کے گروپ) کے ممبر ہیں۔ ایک اور تنظیم ہے ہماری بڑی محدود سی، اس کے جو عہدیدار ہیں وہ اس کے ممبر ہیں۔ اور صحابہ، ہاں! حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے وقت میں جو جماعت احمدیہ میں اور سلسلۂ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے ان میں سے جو زندہ ہیں اس وقت وہ Electoral College (انتخاب کنندگان کے گروپ) کے ممبر ہیں، اپنی وہ پرانی Association (وابستگی) کی وجہ سے، اس کے نتیجے میں۔ اور ویسے اس کے متعلق میرا خیال ہے اخبار ”الفضل“ میں ایک نوٹ شائع ہوا ہے۔ اگر آپ ضرورت سمجھیں تو میں بھجوا دوں گا آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: شکریہ! آپ بھجوا دیجئے۔

And Mirza Sahib, most of these members are nominated by somebody else or they are elected by different groups in districts or different areas?

(اور مرزا صاحب! کیا ان میں سے اکثر حضرات کو کوئی علیحدہ شخص نامزد کرتا ہے یا ضلعوں یا مختلف علاقوں میں مختلف گروپ ان کو چنتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: These who come from the districts are elected by an organization in the district.

(مرزا ناصر احمد: جو اضلاع سے آتے ہیں ان کو اس ضلع کی تنظیم منتخب کرتی ہے)

مثلاً لائل پور (فیصل آباد) میں سو سے اوپر ہماری جماعتیں ہیں، اتنی تعداد میں کہ ان کے اپنے پریذیڈنٹ ہیں اور وہ پریذیڈنٹ امیر ضلع کا انتخاب کرتے ہیں۔ تو اس طرح وہ Elected (منتخب شدہ) ہیں۔ وہ جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں ضلع کی اور باقی وہ اپنی ایسوسی ایشن کے، جیسے میں نے کہا ایک حصہ وہ ہے جنہوں نے بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے وقت میں بیعت کی تھی، وہ پرانے جماعت کی 10 "Traditions (روایات) سے واقف اور بڑی قربانیاں دیں انہوں نے ساری عمر، بزرگ ہیں، ثقہ ہیں، وزن ہے ان کی رائے میں، وہ ہیں اور وہ Elected (منتخب شدہ) نہیں۔ وہ تو اپنے پرانے آرہے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And is it correct that all the members of Mirza Ghulam Ahmad's family are ex-officio members of this electoral college?

(جناب یحییٰ بختیار: اور کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد کی فیملی کے تمام افراد اپنے

١٦

صفحہ ٤٣

لاہور

43 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرتبے کے لحاظ سے انتخاب کنندگان کے اس گروپ کے ممبر ہیں؟)

(مرزا کی فیملی سے مراد صرف بیٹے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! میں سوال سمجھ گیا ہوں۔ فیملی کے معنی عام طور پر نہیں لوگ سمجھتے۔ یہ فقرہ تو درست نہیں۔ میں اسی واسطے بیان کرنے لگا ہوں۔ امید کرتا ہوں میں اس قابل ہو جاؤں گا کہ آپ کو سمجھا دوں۔ بڑا کمزور انسان ہوں۔ فیملی سے مراد آپ کے تین بیٹے، ان کے بیٹے ..... جناب یحییٰ بختیار: ان کے بیٹے نہیں۔ مرزا ناصر احمد: وہ نہیں اس میں شامل اور وہ تینوں وفات پا چکے ہیں۔ اس واسطے وہ جو حصہ ہے کہ فیملی کے ممبر ہیں، وہ اس میں نہیں رہا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Nearer excludes the farther away.

(جناب یحییٰ بختیار: قریبی عزیز دور والے کو علیحدہ کرتا ہے) یہ اصول اچھا ہوا۔ اگر ان کے بیٹے زندہ نہ ہوں تو پھر ان کے بیٹے آسکتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ! کوئی نہ۔ ان کے بیٹے زندہ ہوں تب بھی وہ نہیں آسکتے۔ صرف وہ تین۔ فیملی سے مراد صرف وہ تین ہیں۔ چوتھا کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی! This office, is it for lifetime? (کیا یہ عہدہ (امام، خلیفہ، امیر قادیانی جماعت کا) تاحیات ہوتا ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is for life.

(مرزا ناصر احمد: یہ تاحیات ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And where you were elected, was there any other candidate who contested against you? Or normally the election is unanimous?

(جناب یحییٰ بختیار: جب آپ منتخب ہوئے تو آپ کے خلاف الیکشن میں کوئی کھڑا ہوا تھا؟ یا عام طور پر انتخاب متفقہ طور پر ہوتا ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: The election is unanimous..... One, two..... normally contests the election.

١٧

OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

College (انتخاب کنندگان کے گروپ) اس کے جو عہدیدار ہیں وہ اس کے ممبر ہیں۔ جو جماعت احمدیہ میں اور سلسلۂ احمدیہ میں وا Electoral College (انتخا Association (وابستگی) کی وجہ سے، ا اخبار ”الفضل“ میں ایک نوٹ شائع ہوا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: شکریہ! آ

t of these members are hey are elected by different as?

(اور مرزا صاحب! کیا ان میں ضلعوں یا مختلف علاقوں میں مختلف گروپ الـ Those who come from the ation in the district.

(مرزا ناصر احمد: جو اضلاع ۔ مثلاً لائل پور (فیصل آباد) میں کے اپنے پریذیڈنٹ ہیں اور وہ پریذیڈنـ Elected (منتخب شدہ) ہیں۔ وہ جماعت ایشن کے، جیسے میں نے کہا ایک حصہ وہ ہے کی تھی، وہ پرانے جماعت کی ditions انہوں نے ساری عمر، بزرگ ہیں، ثقہ ہیں، (منتخب شدہ) نہیں۔ وہ تو اپنے پرانے آد

And is it correct that all the ad's family are ex-officio

(جناب یحییٰ بختیار: اور کیا یـ

صفحہ ٤٤

44 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: الیکشن متفقہ طور پر ہوتا ہے۔ ایک، دو عام طور پر الیکشن لڑتے ہیں) 11 میں نے کبھی نہیں Contest (مقابلہ) کیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Somebody contested against you?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ کے مقابلہ میں کوئی کھڑا ہوا تھا؟)

مرزا ناصر احمد: نہ میں نے Contest (مقابلہ) کیا، نہ کسی اور نے کیا۔ ہمارے یہاں یہ طریقہ نہیں ہے۔ نہ کسی کا نام...... کوئی نام اپنا پیش نہیں کر سکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی اور بھی نام نہیں پیش کر سکتا؟

مرزا ناصر احمد: کوئی اور وہیں پیش کر سکتے ہیں، پہلے نہیں۔ وہاں پیش ہوئے دو نام اور وہ دونوں ہمارے خاندان کے تھے اور مجھے جب منتخب کیا تو دوسرے نے اسی وقت بیعت کر لی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: These are the rules or conventions under which the selection is held in this manner?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ اصول یا عمومی روایات ہیں جن کے تحت اس طرز پر انتخاب ہوتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ قاعدہ ہے ہمارا بنیادی کہ کوئی شخص اپنا نام تجویز نہیں کرے گا۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا وقت سے پہلے نام تجویز نہیں کرے گا۔ کرے گا ہی نہیں۔ کوئی Canvassing (ووٹ حاصل کرنے کی کوشش) نہیں ہو گی۔

Canvassing is not allowed!

(ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں ہے)

(خلیفہ برطرف نہیں ہو سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: And, Sir, is there any provision in these rules or conventions for the removal of the Imam or Khalifa from his office?

(جناب یحییٰ بختیار: اور جناب! کیا خلیفہ یا امام کو برطرف کرنے کا کوئی قاعدہ ان اصول یا عمومی روایات میں ہے؟)

١٨

45 NATIONAL ASSEMBLY OF

کا ایک Basic (بنیادی) تصور ہے ہم جس پر ایمان ن کریم کی ایک آیت کی روشنی میں وہ ہمارا ایمان نتخب ہوتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کام کر رہی ہوتی س واسطے ظاہر میں جو ہے Electoral College وٹ دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے ذہنوں کے ہ چاہتا ہے وہی ہو سکتا ہے اور چونکہ یہ انتخاب ہمارے سرے اس سے متفق ہوں گے یا نہیں ہوں گے...... تو م کر رہا ہے۔ اس لئے Removal (برطرفی) کا یادہ Remove (برطرف) کر سکتا ہے۔ وہ اس کی ور انسان جو ہے وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جائے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: all a human being, according to divine intervention?

خلیفہ بھی بہر حال انسان ہے۔ بقول آپ کے، اگر وہ اگر وہ جسمانی یا ذہنی طور پر ناکارہ ہو جائے تو کیا آپ کو خلافت سے ہٹا دیا جائے؟)

Mirza Nasir Ahmad: leaves this world any moment if

نسان ہے جو اس دنیا کو چھوڑتا ہے کسی وقت جب

(دور نہیں ہو سکتا)

Mr. Yahya Bakhtia supposing he gets mentally or can fall ill, is there any rule?

یح ہے، مگر فرض کیجئے وہ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور کے لئے) کوئی قانون ہے؟)

١٩

صفحہ ٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں! اس کا ایک Basic (بنیادی) تصور ہے ہم جس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا ایمان یہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت کی روشنی میں وہ ہمارا ایمان ہے:یستخلفنھم کہ ہمارا جو خلیفہ منتخب ہوتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کام کر رہی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ مادی دنیا تدبیر کی دنیا ہے۔ اس واسطے ظاہر میں جو ہے Electoral College (انتخاب کنندگان کے گروپ) کے ممبر یہ ووٹ دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے ذہنوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے وہی ہو سکتا ہے اور چونکہ یہ انتخاب ہمارے نزدیک ...... میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ دوسرے اس سے متفق ہوں گے یا نہیں ہوں گے...... تو چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ، مخفی ارادہ اس میں کام کر رہا ہے۔ اس لئے Removal (برطرفی) کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جس نے منتخب کروایا وہ Remove (برطرف) کر سکتا ہے۔ وہ اس کی مرضی ہے۔ جس وقت مرضی موت دیدے اور انسان جو ہے وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جائے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, but the Khalifa is after all a human being, according to you even if he is elected by divine intervention?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! خلیفہ بھی بہرحال انسان ہے۔ بقول آپ کے، اگر وہ خدائی مداخلت کے باعث منتخب ہو گیا۔ [اب اگر وہ جسمانی یا ذہنی طور پر ناکارہ ہو جائے تو کیا آپ کے یہاں کوئی ضابطہ ہے کہ موت سے قبل اس کو خلافت سے ہٹا دیا جائے])

Mirza Nasir Ahmad: He is a human being who leaves this world any moment if God so wills.

(مرزا ناصر احمد: وہ ایک انسان ہے جو اس دنیا کو چھوڑتا ہے کسی وقت جب اللہ تعالیٰ چاہے)

(خلیفہ معذور نہیں ہو سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is true. But supposing he gets mentally or physically incapacitated, he can fall ill, is there any rule?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ صحیح ہے، مگر فرض کیجئے وہ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور ہو جائے، وہ بیمار ہو سکتا ہے، کیا (ایسی صورتحال کے لئے) کوئی قانون ہے؟)

19

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: الیکشن متـ 11 میں نے بھی نہیں ontest Somebody contested

(جناب یحییٰ بختیار: کیا مرزا ناصر احمد: نہ میں نے یہاں یہ طریقہ نہیں ہے۔ نہ کسی کا نام...... جناب یحییٰ بختیار: کوئی ا مرزا ناصر احمد: کوئی اور و اور وہ دونوں ہمارے خاندان کے تھے اور

These are the rules or election is held in this

(جناب یحییٰ بختیار: کیـ انتخاب ہوتا ہے؟) مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ تـ گا۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا ووٹ Canvassing (ووٹ حاصل کر (ووٹ حاصل کرنے کی کوشـ (خلیفـ

And, Sir, is there any ons for the removal of ?

(جناب یحییٰ بختیار: اور اصول یا عمومی روایات میں ہے؟)

صفحہ ٤٦

46 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں! کوئی رول (قانون) نہیں ہے اور ہمیں ضرورت بھی نہیں، کیونکہ ہمارے نزدیک ایسا واقعہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: He cannot fall ill? (جناب یحییٰ بختیار: کیا وہ بیمار نہیں پڑ سکتا؟) مرزا ناصر احمد: قانون تو جب بنتا ہے جب اس کے بنانے کی ضرورت ہو۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am asking you for clarification. The Khalifa cannot fall ill physically? (جناب یحییٰ بختیار: میں وضاحت کے لئے آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں۔ کیا خلیفہ جسمانی طور پر بیمار نہیں پڑ سکتا؟)

Mirza Nasir Ahmad: To that extent. (مرزا ناصر احمد: ہاں، اس حد تک) یہ کہ اس کو ملیریا ہو جائے یا اس کو برانکائٹس ہو جائے یا اس کے معدے میں درد شروع ہو جائے یا سر میں درد ہو، وہ تو اور چیز ہے۔ Incapacitation of........ (معذوری)

13 Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing he gets paralysed bodily or physically or mentally? (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر فرض کیجئے کہ اگر دماغ یا جسم پر فالج گر جائے (تب کیا وہ ناکارہ نہیں ہو سکتا؟)

(جسمانی بیمار، دماغی نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Bodily yes, but mentally no. (مرزا ناصر احمد: جسمانی طور پر ہاں، مگر دماغی طور پر نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: He can never suffer from any mental illness? (جناب یحییٰ بختیار: کیا وہ کبھی کسی دماغی بیماری کا شکار نہیں ہو سکتا؟) مرزا ناصر احمد: ہاں! ہم سمجھتے ہیں کہ نہیں ہو گا۔ جناب یحییٰ بختیار: Mental Illness (دماغی بیماری) ان کو نہیں ہو سکتی۔

٢٠

47 NATIONAL ASSEMBLY OF

کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا)

Sir, is there any other bo the Jamat which can revise or mo decision of the Khalifa or Imam? جماعت کے اندر ہے جو خلیفہ یا امام کے کسی حکم یا فیصلہ کو جس میں ترمیم کر دے؟)

کمیٹی اور....... ہمارے عقیدے کے مطابق خلافت کے لئے مشورہ ما جو طے کئے جاتے ہیں وہ خلیفہ وقت جس زمانہ میں ے کر کے سارے اور جائزہ لے کر، سوچ بچار کے، ہ وہ فیصلہ کرتا ہے۔ اس واسطے خلیفہ Dictator

Mr. Yahya Bakhtiar Khalifa مشاورت میں, after consultati میں یہ جانتا ہوں۔ مگر مشاورت کے بعد خلیفہ کا حکم حتمی کے آرڈرز یہ ہیں کہ کثرت رائے جو فیصلہ کرتی ہے

you. میں آپ سے صرف پوچھ رہا ہوں)

میں بتاتا ہوں۔ یعنی ایک ہے قانون، ایک ہے اس

Mr. Yahya Bakhtiar: an order after consultation or your colleagues or with...?

٢١

صفحہ ٤٧

47 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(خلیفہ کے حکم کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا)

Sir, is there any other body or organization within the Jamat which can revise or modify or alter any order or decision of the Khalifa or Imam?

(جناب! کیا ایسی کوئی تنظیم جماعت کے اندر ہے جو خلیفہ یا امام کے کسی حکم یا فیصلہ کو تبدیل کردے یا اس پر نظر ثانی کرے یا اس میں ترمیم کردے؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مجلس شوریٰ اور......

مرزا ناصر احمد: خلافت، ہمارے عقیدے کے مطابق خلافت کے لئے مشورہ ضروری ہے۔ اس لئے تمام بنیادی اصول جو طے کئے جاتے ہیں وہ خلیفہ وقت جس زمانہ میں بھی ہو وہ شوریٰ کے اندر کرتا ہے اور مشورے کرکے سارے امور جائزہ لے کر، سوچ بچار کے، دعاؤں کے ساتھ وہ مشورے کرکے، تب وہ فیصلہ کرتا ہے۔ اس واسطے خلیفہ Dictator (ڈکٹیٹر) نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I know that. But Khalifa میں مشاورت, after consultation, his order is final or...?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ جانتا ہوں۔ مگر مشاورت کے بعد خلیفہ کا حکم حتمی ہوتا ہے یا؟)

مرزا ناصر احمد: اور ٩٩ء٩ اس کے آرڈرز یہ ہیں کہ کثرت رائے جو فیصلہ کرتی ہے میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am just asking you.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر میں آپ سے صرف پوچھ رہا ہوں)

14 مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں، میں بتاتا ہوں۔ یعنی ایک ہے قانون، ایک ہے اس کی....... جس طرح وہ ظاہر ہوتا ہے قانون.......

Mr. Yahya Bakhtiar: Legal position. If you pass an order after consultation or without consultation with your colleagues or with...?

٢١

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں! کوئی کیونکہ ہمارے نزدیک ایسا واقعہ کوئی ہو ہی

e cannot fall ill?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا و

مرزا ناصر احمد: قانون تو جـ

I am asking you for ill physically?

(جناب یحییٰ بختیار: میں جسمانی طور پر بیمار نہیں پڑ سکتا؟)

To that extent.

(مرزا ناصر احمد: ہاں، اس جائے یا اس کے معدے میں درد شروع ہـ (معذوری)

No, but supposing he gets ntally?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیـ کیا وہ ناکارہ نہیں ہو سکتا؟)

(جسمـ

ily yes, but mentally no.

(مرزا ناصر احمد: جسمانی

e can never suffer from

(جناب یحییٰ بختیار: کـ

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہم

جناب یحییٰ بختیار: ess

صفحہ ٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: قانونی حیثیت! اگر آپ اپنے رفقائے کار سے مشورہ کے بعد یا بلا مشورہ کے ایک حکم جاری کرتے ہیں یا ......؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! اگر میں مشاورت کے ...... مثلاً انہوں نے کہا کہ ہماری رائے یہ ہے تو خلیفہ وقت کا یہ حق ہے کہ ان کو یہ کہے کہ ان ان وجوہات کی بنا پر میرے خیال میں تمہاری رائے درست نہیں ہے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے، ہم سمجھ گئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ بات ...... No ......

مرزا ناصر احمد : وہ Unanimous (متفقہ) فیصلہ ہو گیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: My question is a very simple one. Can they overrule you or can you overrule them, legally speaking? In fact whatever may be the position, we are not concerned.

(جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال بالکل سادہ ہے۔ کیا وہ آپ کے فیصلہ کو مسترد کر سکتے ہیں یا آپ ان کی رائے کو۔ قانونی پوزیشن کیا ہے؟ درحقیقت پوزیشن خواہ کچھ بھی ہو، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: They can't overrule me.

(مرزا ناصر احمد: وہ میرے فیصلہ کو مسترد نہیں کر سکتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: But you can overrule them?

(جناب یحییٰ بختیار: مگر آپ ان کی رائے کو مسترد کر سکتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: And the question of my overruling them does not arise in the context I have just told you.

(مرزا ناصر احمد : اور جس پیرایہ میں، میں نے آپ کو ابھی بتایا ہے، اس میں میرے ان کی رائے کو مسترد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) کیونکہ جب وہ میرے ساتھ متفق ہو گئے اور وہ Unanimous (متفقہ) فیصلہ دیتے ہیں تو میرے Overrule (مسترد) کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But you can overrule them?

٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

یٰ بختیار: مگر آپ ان کی رائے کو مسترد کر سکتے ہیں؟)

حمد: نہیں، نہیں۔ میرے Overrule (مسترد) کرنے کا سوال نہیں

And they don't over

ے فیصلہ کو مسترد نہیں کرتے)

15 Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you Sir, what is the significance of these titles "Imam", "Khalifa" and "Amirul Mo you or your Jamaat interpret them?

بختیار: شکریہ۔ جناب! ان تین القاب ”امام، خلیفہ اور امیر المومنین“ ر آپ کی جماعت ان کی کیسے تشریح کرتی ہے؟)

ر: جو ہے Official designation (با ضابطہ عہدہ) وہ خلیفۃ و ہے وہ لوگ ویسے لکھ دیتے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ لکھ دیتے ہیں۔ ن کی جماعتیں ہیں ان کے لئے بعض ”خلیفۃ المسیح“ ان کی زبان پر بھی کہہ دیتے ہیں Head of the Worldwide Ahmadia جو آفیشل (با ضابطہ) ہے وہ صرف ”خلیفۃ المسیح“ ہے۔ دوسری دو طلاحات مستعمل) ہیں بعض دفعہ، لیکن وہ آفیشل نہیں ہے، آفیشل

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but y are Imam of the Jamaat.

بختیار: نہیں، مگر آپ نے کہا تھا کہ آپ امام جماعت ہیں)

ر: لوگ مجھے امام کہہ دیتے ہیں۔ ”خلیفۃ المسیح“ کا مطلب ہی امام ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you chosen the title of Imam? They call you?

ختیار: اور آپ نے خود امام کا لقب منتخب نہیں کیا۔ لوگ آپ کو کہتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Oh! No, no

ر: اوہ نہیں انہیں! لوگ مجھے کہتے ہیں)

٢٣

صفحہ ٤٩

49 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: مگر آپ ان کی رائے کو مسترد کر سکتے ہیں؟) مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ میرے Overrule (مسترد) کرنے کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ And they don't overrule me. (اور وہ میرے فیصلہ کو مسترد نہیں کرتے)

15 Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you. Sir, what is the significance of these three different titles "Imam", "Khalifa" and "Amirul Momineen"? How you or your Jamaat interpret them? (جناب یحییٰ بختیار: شکریہ۔ جناب! ان تین القاب ”امام، خلیفہ اور امیر المومنین“ کی کیا اہمیت ہے؟ آپ اور آپ کی جماعت ان کی کیسے تشریح کرتی ہے؟) مرزا ناصر احمد: جو ہے Official designation (با ضابطہ عہدہ) وہ خلیفۃ المسیح ہے۔ امیر المومنین جو ہے وہ لوگ ویسے لکھ دیتے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ لکھ دیتے ہیں۔ خصوصاً یہ جو بیرون پاکستان کی جماعتیں ہیں ان کے لئے لفظ ”خلیفۃ المسیح“ ان کی زبان پر بھی نہیں چڑھتا، اس واسطے وہ کہہ دیتے ہیں Head of the Worldwide Ahmadia Community لیکن جو آفیشل (با ضابطہ) ہے وہ صرف ”خلیفۃ المسیح“ ہے۔ دوسری دو Term in use (اصطلاحات مستعمل) ہیں بعض دفعہ، لیکن وہ آفیشل نہیں ہے، آفیشل ”خلیفۃ المسیح“ ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but you said that you are Imam of the Jamaat. (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر آپ نے کہا تھا کہ آپ امام جماعت ہیں) مرزا ناصر احمد: لوگ مجھے امام کہہ دیتے ہیں۔ ”خلیفۃ المسیح“ کا مطلب ہی امام ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you have not yourself chosen the title of Imam? They call you? (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ نے خود امام کا لقب منتخب نہیں کیا۔ لوگ آپ کو کہتے ہیں؟) Mirza Nasir Ahmad: Oh! No, no, they call me.... (مرزا ناصر احمد: اوہ نہیں! نہیں! لوگ مجھے کہتے ہیں)

٢٣

صفحہ ٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: ...... out of respect? (جناب یحییٰ بختیار: ...... عزت سے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! میں نے تو اپنے لئے خلیفہ المسیح کا لقب منتخب نہیں کیا، انہوں نے مجھے منتخب کر لیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And when they call you Amir-ul-Momineen, what is the meaning of Amir-ul-Momineen, that you are the Amir of all the momins? (جناب یحییٰ بختیار: اور جب وہ آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں تو امیر المومنین کا کیا مطلب ہے کہ آپ تمام مومنین کے امیر ہیں؟)

(امیر المومنین کا معنی؟)

مرزا ناصر احمد: 16 ہاں! میں سمجھ گیا۔ ان لوگوں کا امیر جو اس شخص کے دعویٰ کو قبول کرتے ہیں۔ جس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، وہ مؤمن ہیں۔ ”آل“ جو ہے عربی زبان میں وہ اہل کے لئے بھی آتا ہے، یعنی خاص گروپ کی طرف اشارہ ہے۔ تو ”امیر المومنین“ کا اس کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Amir-e-Ahmadis? (جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں کے امیر؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! امیرِ مبائع احمدی، سارے احمدی بھی نہیں، یعنی اس سے بھی Narrow (محدود) ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں! ہاں! But belonging to your school of thought. So, according to you, momins are .... if I put it this way .... only those who belong to your school of thought, those Ahmadis? (جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں! مگر وہ لوگ جو آپ کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر میں اس طرح کہوں کہ آپ کے مطابق مؤمن صرف وہ ہیں جو آپ کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، وہ احمدی؟)

٢٤

صفحہ ٢٥

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

TIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

a Bakhtiar: ...... out of respect? (جناب یحییٰ بختیار: ......عزت سے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! میں نے تو اپنے لئے خلیفہ المسیح نے مجھے منتخب کرلیا۔

ya Bakhtiar: And when they call you ineen, what is the meaning of een, that you are the Amir of all the

(جناب یحییٰ بختیار: اور جب وہ آپ کو امیر المومنین کہتے مطلب ہے کہ آپ تمام مومنین کے امیر ہیں؟)

(امیر المومنین کا معنی؟)

16 مرزا ناصر احمد: ہاں! میں سمجھ گیا۔ ان لوگوں کا امیر کرتے ہیں۔ جس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، وہ مومن ہیں۔ ’’م اہل کے لئے بھی آتا ہے، یعنی خاص گروپ کی طرف اشارہ ہے۔ ا علاوہ کوئی اور مطلب نہیں۔

a Bakhtiar: Amir-e-Ahmadis? (جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں کے امیر؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! امیر مبائع احمدی، سارے احم Narrow (محدود) ہے۔

y Bakhtiar: ہاں! ہاں! But belonging to ght. So, according to you, momins are .... ... only those who belong to your school hmadis?

(جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں! مگر وہ لوگ جو آ ہیں۔ لہٰذا اگر میں اس طرح کہوں کہ آپ کے مطابق مومن صرف تعلق رکھتے ہیں، وہ احمدی؟)

٢٤

51 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: Only those of the momins who belong to our thought ....

(مومنین سے مراد صرف قادیانی؟)

(مرزا ناصر احمد: مومنین میں سے صرف وہی جو ہمارے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: "of the momins".... not all? (جناب یحییٰ بختیار: ’’مومنین میں سے‘‘، نہ کہ تمام)

مرزا ناصر احمد: ہاں! "Of the momins" (مومنین میں سے)۔ میں نے اسی واسطے وضاحت کی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I want you to clarify. (جناب یحییٰ بختیار: یہی وہ بات ہے جس کی میں آپ سے وضاحت چاہتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں! بالکل!! اس سے زیادہ اس کا مطلب کوئی نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You don't pretend to be the Amir of all the Muslims? (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ تمام مسلمانوں کے امیر ہونے کے مدعی نہیں ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Oh! No, no, no. Not all the momins. (مرزا ناصر احمد: اوہ نہیں! نہیں! نہیں! تمام مومنین کا نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: "Momins" means muslims, isn't it? (جناب یحییٰ بختیار: مومنین کا مطلب ہے مسلمان، کیا ایسا نہیں ہے؟)

17 مرزا ناصر احمد: ہاں! تھوڑا سا فرق یہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی، ایک بدو کو بتاتے ہوئے کہ اسلام یہ ہے اور ایمان یہ ہے۔ اور قرآن کریم میں بھی وہ فرق یہ ہے...... وہ تو ایک لمبا مضمون بن جاتا ہے۔

(قادیانی، خالص مذہبی جماعت)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, is Jamaat-e-Ahmadia a

٢٥

صفحہ ٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

purely religious organisation?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا جماعت احمدیہ ایک خالص مذہبی تنظیم ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: Purely a religious organisation.

(مرزا ناصر احمد: خالص مذہبی تنظیم ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Purely a religious organisation. What are the functions that this organisation performs, I mean, for propagation of Islam, according to your concept of Islam?

(جناب یحییٰ بختیار: خالص مذہبی تنظیم! اس تنظیم کے کیا کام ہیں جو یہ انجام دیتی ہے؟ میرا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے، اسلام کے آپ کے تصور کے مطابق؟)

مرزا ناصر احمد : اصل یہ ہے کہ حقیقی اسلام کو قائم کرنے کی کوشش کرنا۔ تو اسی لئے ہم اس کو ساری دنیا میں لے کر جاتے ہیں اور ہمارا وہاں مقابلہ ہے عیسائیوں سے زیادہ تر، کیونکہ باہر کی دنیا میں، سوائے بعض خاص علاقوں کے خصوصاً ویسٹ میں قریباً وہ سارا عیسائی مذہب یا ماننے والے یا لیبل رکھنے والے ہیں۔ تو ویسے تو مثلاً انگلستان ہے، اس میں گرجاؤں کے سامنے For Sale (برائے فروخت) کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ لیکن کہتے وہ اپنے آپ کو عیسائی ہیں۔ گرجے بک بھی رہے ہیں۔ اس میں جو بھی آگے سے انہیں خریدتا ہے تو فائدہ حاصل کرتا ہے۔ دہریہ ہیں بہت سارے، لیکن دنیا ان کو عیسائی کہتی ہے۔ یعنی انگلستان، ساری قوم کا مذہب عیسائی ہے۔ ہمارا وہاں دہریت کے ساتھ بھی مقابلہ ہے۔ یہ میں نے اس لئے تمہید باندھی ہے۔ اور جو عیسائیت کو سچا سمجھتے ہیں آج بھی، نبی اکرم ﷺ کی حقانیت ان پر پوری طرح واضح نہیں ہوئی اور آہستہ آہستہ کچھ کھلا ہے۔ اس واسطے میں نے پوری طرح کہہ دیا۔ ان کو ہم یہ بتاتے ہیں کہ اتنا حسین مذہب اسلام، اتنا احسان رکھنے کی طاقت، یہ تعلیم رکھتی ہے۔ تو یہ ہمارا کام ہے۔ اور اس سے دو اس وقت نتیجے نکل رہے ہیں۔ ایک وہ کہ ایک وقت میں بالکل سمجھتے نہیں تھے اور اتنی گندہ 18دہنی سے کام لے رہے تھے، اسلام کے خلاف بھی اور نبی اکرم ﷺ کے خلاف بھی۔ اس میں بڑی کمی آگئی ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ان میں بہت سارے اسلام لے آئے۔ اور ڈنمارک میں ایک نو مسلم ہے، اس نے قرآن کریم کا ڈینش زبان میں اسلام لانے کے بعد عربی سیکھی اور ترجمہ

٢٦

صفحہ ٥٣

53 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

بھی کیا ، تو صحیح اسلام ، اور صحیح اسلام سے میری اس سے زیادہ کوئی مراد نہیں جس کو میں صحیح اسلام سمجھتا ہوں۔ Naturally. (فطری طور پر )

Mr. Yahya Bakhtiar: That is the main function?

(جناب یحییٰ بختیار: یہ بنیادی کام ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں that is the main function

(یہ بنیادی کام ہے) اور اس کے مطابق یہاں دوسری Corollary (منطقی نتیجہ) آجاتی ہے۔ اس کے مطابق احباب جماعت احمدیہ کی تربیت کرنا، کیونکہ اسلام کے جتنے احکام ہیں، سینکڑوں، ہمیں بانی سلسلہ جماعت احمدیہ نے کہا کہ قیامت کے دن قرآن کریم تمہارے اوپر قاضی ہوگا۔ قرآن کریم کے سات سو احکام میں سے کسی حکم کی بھی خلاف ورزی نہ کرنا تاکہ خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو سکو۔ تربیت اور تبلیغ دو چیزیں ہوگئی ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, when you convert these people, you establish missions for this purpose all over the world?

(جناب یحییٰ بختیار: جب آپ ان لوگوں کو نئے مذہب میں لاتے ہیں تو آپ دنیا بھر میں اس مقصد کے لئے مشن قائم کرتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Practically.

(مرزا ناصر احمد: عملی طور پر)

(اوسطاً کتنے قادیانی آپ بناتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now can you give us an idea as to how many, on the average, every year or every week, every month, you convert to your faith?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا اب آپ ہمیں ایک اندازہ بتائیں گے کہ آپ اوسطاً ہر سال، یا ہر ہفتہ، ہر مہینہ کتنے لوگوں کو اپنے مذہب کا پیروکار بنا لیتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: کوئی ہم نے وہ نہیں رکھے، اعداد و شمار تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی ریکارڈ نہیں؟

٢٧

OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: جناب اک)

ad: Purely a religious

(مرزا ناصر احمد: خالص مذہبی ک)

ar: Purely a religious

ctions that this organisation ation of Islam, according to

(جناب یحییٰ بختیار: خالص ن ہے؟ میرا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ کے لی

مرزا ناصر احمد: اصل یہ ہے کہ ا اس کو ساری دنیا میں لے کر جاتے ہیں اور ہما کی دنیا میں، سوائے بعض خاص علاقوں کے خ والے یا لیبل رکھنے والے ہیں۔ تو ویسے تو مث Sale (برائے فروخت) کے بورڈ لگے ہو گرجے بک بھی رہے ہیں۔ اس میں جو بھی ا دہریہ ہیں بہت سارے، لیکن دنیا ان کو عیسائی ہے۔ ہمارا وہاں دہریت کے ساتھ بھی مقابل عیسائیت کو سچا سمجھتے ہیں آج بھی، نبی اکرم ﷺ آہستہ آہستہ کچھ کھلا ہے۔ اس واسطے میں ۔ حسین مذہب اسلام، اتنا احسان رکھنے کی طا سے دو اس وقت نتیجے نکل رہے ہیں۔ ایک د 18 دین سے کام لے رہے تھے، اسلام کے خل بڑی کمی آگئی ہے۔ اور دوسرے یہ کہ ان میں ایک تو مسلم ہے، اس نے قرآن کریم کا ڈیفنس

صفحہ ٥٤

54 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : لیکن بعض ریکارڈ جو بعض حکومتوں نے کسی وقت لئے، اس سے ہمیں تعداد کا پتہ لگتا ہے۔ مثلاً گھانا میں غالباً ١٩٦٢ء میں ایک مردم شماری ہوئی اور اس مردم شماری میں صرف بالغ مرد و زن کو شمار کیا گیا، نابالغ بچوں کو شمار نہیں کیا گیا۔ ٢١،٢٢ لاکھ Adult (بالغ) پاپولیشن میں ,A hundred and sixty eight thousand were Ahmadis .according to their Census Report (مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار احمدی تھے) تو اس طرح ہمیں پتہ چلتا ہے، ورنہ ہم مردم شماری نہیں کرتے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Too busy? (انتہائی مصروف!) یہ تبلیغ کا کام آپ کا زیادہ پاکستان میں ہے یا انڈیا میں ہے یا باہر ہے؟ مرزا ناصر احمد : ہم آواز تو ہر جگہ دیتے ہیں، بڑے پیار اور محبت کے ساتھ، اور پچھلے کوئی بیس سال سے پاکستان سے باہر اسلام کی طرف زیادہ توجہ ہو رہی ہے، اور اسلام کی مقبولیت پھیل رہی ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Could you please tell us, how many have been converted in Pakistan in the past 20 years or so?

(پاکستان میں بیس برس میں کتنے قادیانی بنائے) (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ تقریباً بیس برس میں آپ نے پاکستان میں کتنے لوگوں کو اپنے مذہب کا پیروکار بنایا؟) مرزا ناصر احمد : وہ میں نے بتایا ہے ناں کہ ہم نے Census (مردم شماری) تو نہیں لی۔ لیکن میرا ذاتی ......

Mr. Yahya Bakhtiar: In Pakistan? (جناب یحییٰ بختیار: پاکستان میں؟) مرزا ناصر احمد : یہاں بھی ہم نے کبھی مردم شماری نہیں کی تو جو لوگ بیعت میں شامل ہو گئے اور اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، میرے رف اندازے کے مطابق ان کی تعداد ......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am not asking the population. I may come to that the converts?

٢٨

55 NATIONAL ASSEMBLY C

جناب! میں آبادی کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میں ب کے پیروکار بنے؟)

وں کا ریکارڈ نہیں رکھتے) ں کچھ پتہ۔ Conv (جو لوگ آپ کے مذہب کے پیروکار بنے، ل میں کتنے Convert (لوگ اپنے مذہب کے

ئی حساب نہیں۔ ب نہیں۔ کوئی ریکارڈ بھی نہیں؟

آپ کی جماعت کا ممبر بنتا ہے تو ممبر شپ کا بھی کوئی

س کو ہم کوئی کارڈ دیں ۔ Identity یا ...... یہ اس

کار رکھتے اس کا؟ کوئی ریکارڈ نہیں) ے علم میں نہیں ہے۔ لیکن وہ بیعتیں کرتا ہے۔ جو ہ تو دستی بیعت کر لیتے ہیں۔ اکثر جو ہیں وہ ویسے بٹنگ کبھی کی گئی ہو، یہ میرے علم میں نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: your party, I mean, in politics politics? یا آپ یا آپ کی جماعت سیاست میں بھی دلچسپی

Mirza Nasir Ahmad:

٢٩

صفحہ ٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : لیکن بعض ریکارڈ جو بعض حکومتوں نے ہمیں تعداد 19 کا پتہ لگتا ہے۔ مثلاً گھانا میں غالباً ١٩٦٢ء میں ایک مردم شماری میں صرف بالغ مردوں کو شمار کیا گیا، نابالغ بچوں کو شمار نہیں کیا گیا۔ ٢ ١/٢ پاپولیشن میں sixty eight thousand were Ahmadis, (مردم شماری کی according to their Census Report. لاکھ اڑسٹھ ہزار احمدی تھے) تو اس طرح ہمیں پتہ چلتا ہے، ورنہ ہم مردم ش

ya Bakhtiar: Too busy?

(انتہائی مصروف!) یہ تبلیغ کا کام آپ کا زیادہ پاکستان میں ہے مرزا ناصر احمد : ہم آواز تو ہر جگہ دیتے ہیں، بڑے پیار اور کوئی بیس سال سے پاکستان سے باہر اسلام کی طرف زیادہ توجہ ہو رہی پھیل رہی ہے۔

ya Bakhtiar: Could you please tell us, been converted in Pakistan in the past 20

(پاکستان میں بیس برس میں کتنے قادیانی

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے پاکستان میں کتنے لوگوں کو اپنے مذہب کا پیروکار بنایا؟)

مرزا ناصر احمد : وہ میں نے بتایا ہے ناں کہ ہم نے ک نہیں لی۔ لیکن میرا ذاتی ......

a Bakhtiar: In Pakistan?

(جناب یحییٰ بختیار: پاکستان میں؟)

مرزا ناصر احمد : یہاں بھی ہم نے کبھی مردم شماری نہیں ہو گئے اور اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، میرے رف اندازے کے م

Bakhtiar: No, Sir, I am not asking the ome to that the converts?

٢٨

55 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آبادی کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میں اس پر آسکتا ہوں، وہ لوگ جو آپ کے مذہب کے پیروکار بنے؟)

(قادیانی بننے والوں کا ریکارڈ نہیں رکھتے)

مرزا ناصر احمد : ہاں! اس کا نہیں کچھ پتہ۔

20 جناب یحییٰ بختیار : Converts (جو لوگ آپ کے مذہب کے پیروکار بنے، ان) کا میں کہہ رہا ہوں۔ آپ نے بیس سال میں کتنے Convert (لوگ اپنے مذہب کے پیروکار) کئے؟

مرزا ناصر احمد : ہمارے پاس کوئی حساب نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : کوئی حساب نہیں۔ کوئی ریکارڈ بھی نہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہر احمدی آپ کی جماعت کا ممبر بنتا ہے تو ممبرشپ کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا؟

مرزا ناصر احمد : نہیں۔ یعنی اس کو ہم کوئی کارڈ دیں۔ Identity یا ...... یہ اس طرح نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : رجسٹر بھی نہیں رکھتے اس کا؟

(احمدیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں)

مرزا ناصر احمد : اس کا رجسٹر میرے علم میں نہیں ہے۔ لیکن وہ بیعتیں کرتا ہے۔ جو شخص بیعت کر لیتے ہیں۔ اس طرح بعض لوگ تو دستی بیعت کر لیتے ہیں۔ اکثر جو ہیں وہ ویسے بیعت فارم پر لکھ کر کرتے ہیں۔ لیکن اس کی کاؤنٹنگ کبھی کی گئی ہو، یہ میرے علم میں نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, do you take interest or your party, I mean, in politics also or you keep away from politics?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا آپ یا آپ کی جماعت سیاست میں بھی دلچسپی لیتے ہیں یا سیاست سے دور رہتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Thanks God, no.

٢٩

صفحہ ٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : نہیں! خدا کا شکر ہے!)

Mr. Yahya Bakhtiar: You don't take any interest?

(جناب یحییٰ بختیار : آپ کوئی دلچسپی نہیں لیتے؟)

Mirza Nasir Ahmad: We don't take any interest.

(مرزا ناصر احمد : ہم کوئی دلچسپی نہیں لیتے ) لیکن یہاں کنفیوژن نہ ہونا چاہئے۔ یعنی جو احمدی ہے وہ اپنے حلقہ انتخاب میں ......

Mr. Yahya Bakhtiar: As a Jamaat I am asking.

(جناب یحییٰ بختیار : میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ بحیثیت جماعت کے؟)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں As a Jamaat ہمارا کوئی ......

(مرزا ناصر احمد : ہاں! بحیثیت جماعت ہمارا کوئی ......)

21 Mr. Yahya Bakhtiar: Everybody is a voter, they can contest election. I know that. But as a Jamaat?

(جناب یحییٰ بختیار : ہر شخص ووٹر ہے۔ وہ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ یہ میں جانتا ہوں۔ مگر بحیثیت جماعت کے؟)

Mirza Nasir Ahmad: As a Jamaat ....

(مرزا ناصر احمد : بحیثیت جماعت ......)

(بحیثیت جماعت سیاست میں حصہ نہیں لیتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: As a Jamaat, you don't participate in politics?

(جناب یحییٰ بختیار : بحیثیت جماعت آپ سیاست میں حصہ نہیں لیتے؟)

مرزا ناصر احمد : بالکل قطعا نہیں۔ یعنی ہم نے کبھی آج تک سوچا بھی نہیں کوئی سیاسی منشور کا یا کسی آدمی کو کھڑا کرنے کا، جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے، نہ یہاں، نہ دنیا کے کسی ملک میں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, can politics be separated from religion in Islam?

(جناب یحییٰ بختیار : جناب! کیا اسلام میں سیاست کو مذہب سے جدا کیا جا سکتا ہے؟)

٣٠

صفحہ ٥٧

EMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: نہیں! خدا کا شکر ہے!)

tiar: You don't take any interest? (جناب یحییٰ بختیار: آپ کوئی دلچسپی نہیں

mad: We don't take any interest. (مرزا ناصر احمد: ہم کوئی دلچسپی نہیں لیتے جو احمدی ہے وہ اپنے حلقہ انتخاب میں ......

tiar: As a Jamaat I am asking. (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ پوچھ رہا ہوں

had: As a Jamaat ....... ہمارا کوئی (مرزا ناصر احمد: ہاں! بحیثیت جماعت

htiar: Everybody is a voter, they y that. But as a Jamaat? (جناب یحییٰ بختیار: ہر شخص ووٹر ہے۔ و بحیثیت جماعت کے؟)

ad: As a Jamaat .... (مرزا ناصر احمد: بحیثیت جماعت ....... (بحیثیت جماعت سیاست

htiar: As a Jamaat, you don't (جناب یحییٰ بختیار: بحیثیت جماعت آ مرزا ناصر احمد: بالکل قطعاً نہیں۔ یعنی ہ منشور کا یا کسی آدمی کو کھڑا کرنے کا، جماعت کے نمائند ملک میں۔

htiar: Sir, can politics be Islam? (جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا اسلام م ٣٠

57 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: In an individual's life, no. (مرزا ناصر احمد: انفرادی زندگی میں نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: But as a collective body, muslim body, it can be? (جناب یحییٰ بختیار: مگر ایک اجتماعی حیثیت سے، مسلم جماعت کی حیثیت سے، ایسا ہو سکتا ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: Collective? میں تو وہ....... It depends on what type of that organisation is. (مرزا ناصر احمد: اجتماعی....... میں تو وہ....... (یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی تنظیم ہے) اگر یہ کوئی ایسی آرگنائزیشن ہے جو کہتی ہے کہ ہم نے، میں نے صرف بتانے کا خیال رکھنا ہے تو نہ اس کو پالیٹکس سے کوئی تعلق ہے نہ اس کو اسکول کھولنے سے کوئی تعلق ہے۔ نہ طبی مراکز کھولنے سے تعلق ہے۔ It depends on the nature of the organisation. (یہ اس پر منحصر ہے کہ یہ تنظیم کس قسم کی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, I will put it more bluntly, Sir. Is Khalifa in Islam not also head of the State, Head of the Government, in Islam? (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب میں اس کو مزید وضاحت سے پیش کرتا ہوں۔ کیا اسلام میں خلیفہ سربراہ مملکت، سربراہ حکومت بھی نہیں ہوتا؟)

مرزا ناصر احمد: یہ بڑا اہم سوال ہے۔ میں خوش ہوں آپ نے مجھ سے کر لیا۔ میں اپنا عقیدہ Of Course (بے شک) بتاؤں گا۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اور آپؐ کے بعد کا جو زمانہ تھا اس میں حالات اس قسم کے تھے کہ روحانی امامت اور دنیاوی بادشاہت ایک وجود میں اکٹھی ہونا ضروری تھیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کی بادشاہت دے دی اور بعد میں خلفائے راشدین کو بھی علاوہ روحانی امامت کے بادشاہت اور ملوکیت بھی ان کو ملی اور انہوں نے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، بڑی ہمت اور فراست سے کام انجام دیا۔ اب جو ہمارے نزدیک مہدی موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) آگئے اور ان کے آگے خلفاء کا جو سلسلہ جاری ہوا۔ ہمارا Basic, Fundamental Concept (بنیادی ٣١

صفحہ ٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

نظریہ یہ ہے کہ اس سلسلہ میں خلیفہ وقت کبھی بھی بادشاہ نہیں ہوگا۔ ہوگا ہی نہیں۔ اور اس کے لئے بڑے مضبوط دلائل بھی ہیں۔ اور یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی خلیفہ وقت بادشاہ تو نہیں ہوگا، کوئی پریذیڈنٹ بنے کی ......

Mirza Nasir Ahmad: No, no, no. No President, کوئی دلچسپی نہیں ہے سیاست میں no Prime Minister, nothing whatsoever.

(مرزا ناصر احمد: نہیں ! نہیں ! نہیں ! نہ صدر، نہ وزیر اعظم، کچھ بھی نہیں، کوئی دلچسپی نہیں ہے سیاست میں)

Mr. Yahya Bakhtiar: As an organisation you don't aspire to capture political power?

(جناب یحییٰ بختیار: بحیثیت جماعت آپ سیاسی طاقت حاصل کرنے کی تمنا نہیں رکھتے؟)

Mirza Nasir Ahmad: No, no. ہم تو ...... یہ تو آپ کو مبارک ہو

(مرزا ناصر احمد: نہیں ! نہیں ! ہم تو ...... یہ تو آپ کو مبارک ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking for the record.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف ریکارڈ کے لئے پوچھ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں ! نہیں۔ میں کہتا ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, according to you, religion is a matter of heart and conscience?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ کے مطابق مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: And it's a relationship of a spiritual nature between Imam and his Creater?

(جناب یحییٰ بختیار: اور یہ امام اور اس کے خالق کے درمیان ایک روحانی نوعیت کا رشتہ ہے؟)

٣٢

صفحہ ٥٩

SEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

نظریہ ) یہ ہے کہ اس سلسلہ میں خلیفہٴ وقت کبھی بھی باد لئے بڑے مضبوط دلائل بھی ہیں۔ اور یہ ہمارا بنیادی ہے

جناب یحییٰ بختیار: یعنی خلیفہٴ وقت بادشا

mad: No, no, no. No President,

کوئی دلچسپی نہیں ہے سیاست میں۔ ig whatsoever

(مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں! نہیں! نہ ص نہیں ہے سیاست میں)

htiar: As an organisation you tical power?

(جناب یحییٰ بختیار: بحیثیت جماعت نہیں رکھتے؟)

ہم تو ...... یہ تو آپ کو مبارک ہو۔ mad: No, no

(مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں! ہم تو .....

tiar: No, I am just asking for the

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں۔ میں کہتا ہوں

htiar: Sir, according to you, t and conscience?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ کے

ad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

iar: And it's a relationship of a am and his Creator?

(جناب یحییٰ بختیار: اور یہ امام اور اس رشتہ ہے؟)

٣٢

59 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

23 Mirza Nasir Ahmad: Yes, Sir.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں جناب!)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am referring ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں حوالہ دے رہا ہوں......)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں! ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ بالکل صحیح درست فرمایا آپ نے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But will you agree, Sir, that religion, in the sense that it is a matter of heart and conscience, that is, what you feel, what you think, what you believe, what your faith is, something nobody can interfere with?

(جناب یحییٰ بختیار: مگر جناب! کیا آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ اس پہلو سے کہ مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے، یعنی آپ جو محسوس کرتے ہیں، آپ جو سوچتے ہیں، آپ جو عقیدہ رکھتے ہیں، آپ جو اعتقاد رکھتے ہیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی فرد مداخلت نہیں کرسکتا؟)

مرزا ناصر احمد: درست ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Nobody can interfere?

(یحییٰ بختیار: کوئی فرد مداخلت نہیں کرسکتا؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! درست ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: In your thinking, you are free; you can have any faith, you are free; you can believe anything you want, you are free; but this faith, this belief, this thinking has some outward expression also?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کی سوچ کے مطابق آپ آزاد ہیں، آپ کوئی بھی عقیدہ رکھ سکتے ہیں، آپ جو چاہیں اعتقاد رکھ سکتے ہیں، مگر اس عقیدہ، اعتقاد، سوچ کی کچھ ظاہری شکل بھی ہوتی ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: When you express your

٣٣

صفحہ ٦٠

60 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

faith, when you say it, when you announce it or when you proclaim it, it is likely to affect others also, it is likely to have repercussions also. But when it is only confined to thinking believing, feeling, it doesn't. It is so or not?

(جناب یحییٰ بختیار: جب آپ اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ زبان سے اس کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ اس کا اعلان کرتے ہیں تو یہ دوسروں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس کے نتائج بھی ہو سکتے ہیں، مگر جب یہ محض سوچ، اعتقاد، جذبات تک محدود ہو تو ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا ہے یا نہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Very vague question. I am afraid.

(مرزا ناصر احمد: میں معذرت خواہ ہوں کہ یہ سوال انتہائی مبہم ہے )

Mr. Yahya Bakhtiar: I will elaborate my question further.

(جناب یحییٰ بختیار: میں مزید تشریح کروں گا )

24 مرزا ناصر احمد: اگر تو...... میں اپنی مشکل بتا دوں...... اگر تو مثلاً عبادت ہے۔ اگر ایک شخص جو عیسائیت چھوڑ کر اسلام لاتا ہے۔ ڈنمارک کا رہنے والا ہے اور وہ اسلامی طریقے پر کسی پبلک جگہ میں نماز باقاعدہ اللہ اکبر کر کے اور رکوع و سجود کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ٢٨٨٨ جعلت لی الارض مسجدا

ساری زمین ہی میرے لئے اللہ تعالیٰ نے مسجد بنادی۔ دو استثنا ہیں، اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں یہاں۔ اور وہاں بیٹھے عیسائی کہیں کہ جی یہ تو ہمیں Offend (ناراض) کرتا ہے.......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, this is not just that. I will put it very simply now. Every religion has got ceremonies, every religion has got rituals ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب بات صرف یہی نہیں۔ میں اب اس کو بہت سادہ انداز سے پیش کرتا ہوں۔ ہر مذہب کے کچھ شعائر اور رسم و رواج ہوتے ہیں )

Mirza Nasir Ahmad: Rituals, yes and no, both.

٣٤

صفحہ ٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: رواج ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہو سکتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: A religion has a ritual that you can sacrifice a lamb?

(جناب یحییٰ بختیار: ایک مذہب میں یہ رسم ہے کہ آپ دنبہ کی قربانی کرسکتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! آں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: Religion is affected also by you expressing your faith, isn't it?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کی جانب سے اپنے عقیدہ کے اظہار سے بھی مذہب کا تاثر ابھرتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، کچھ عبادات جو ظاہر میں کی جاتی ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I want to know that religion has also an outward expression which can affect other things, people, situations. It is not just a matter of heart and conscience. It remains a matter of heart and conscience only if you think, if you believe, if you have a faith; but the moment you give an expression to that faith, that belief, you are likely to hurt somebody, you are likely to affect somebody, you are likely to favour somebody?

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مذہب کی ایسی ظاہری شکل بھی ہو سکتی ہے جو اشیاء، لوگوں اور صورتحال پر اثر انداز ہو؟ یہ محض قلب و ضمیر کا معاملہ نہیں، یہ قلب و ضمیر کا معاملہ صرف اس صورت میں ہوگا اگر آپ کوئی سوچ، اعتقاد، عقیدہ رکھیں، مگر جس وقت آپ اس کا اظہار کریں تو بہت ممکن ہے کہ آپ دوسروں کو ٹھیس پہنچائیں، بہت ممکن ہے کہ آپ دوسروں پر اثر انداز ہوں، کسی کی طرف داری کریں)

25 Mirza Nasir Ahmad: Why you say this?

(مرزا ناصر احمد: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Because ....

٣٥

5th Aug, 1974 No:01

e it or when you it is likely to have fined to thinking

(جناب یحییٰ سے اس کا اظہار کرتے ہیں اس کے نتائج بھی ہو سکتے ہی ایسا ہے یا نہیں؟)

e question. I am

(مرزا ناصر اح

rate my question

(جناب یحییٰ 24 مرزا ناصر ا ایک شخص جو عیسائیت چھوڑ پبلک جگہ میں نماز باقاعدہ فرمایا: ٢٨٨٨ ساری زمین م ضرورت نہیں، یہاں، اور یہا

s is not just that. eligion has got

(جناب یحییٰ انداز سے پیش کرتا ہوں۔

and no, both.

صفحہ ٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ......)

Mirza Nasir Ahmad: 'Likely to hurt somebody' why likely to hurt somebody?

(مرزا ناصر احمد: ”بہت ممکن ہے کہ دوسروں کو ٹھیس پہنچائیں“ دوسروں کو کیوں ٹھیس پہنچائیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am coming. You know, Sir, I am not referring anything to you, to what you said.

(جناب یحییٰ بختیار: میں اسی طرف آ رہا ہوں۔ جناب! آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کو کسی بات کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں، جیسا کہ آپ نے کہا)

Mirza Nasir Ahmad: No, no.

(مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just discussing religion because ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں مذہب سے بحث صرف اس لئے کر رہا ہوں کیونکہ......)

مرزا ناصر احمد: میں صرف ہاں، میں صرف، میں خود سمجھنا چاہتا ہوں۔ میں تو یہاں......

Mr. Yahya Bakhtiar: I am trying to eleborate.

(جناب یحییٰ بختیار: میں وضاحت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Because you said that religion is something in which nobody should interfere. You asked this Assembly that it should not involve itself in this, it is a matter of heart and conscience. You said that this a human right, a fundamental right.

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آپ نے کہا کہ مذہب ایسی چیز ہے جس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ آپ نے اس اسمبلی کو کہا کہ اسے مذہب کے بارے میں اپنے آپ کو نہیں الجھانا چاہئے کہ مذہب قلب و ضمیر کا معاملہ ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ ایک انسانی حق ہے، ایک بنیادی حق)

٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF P

Mirza Nasir Ahmad: Did

نے یہ کہا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I just ....

(اس پر آؤں گا۔ میں صرف ......)

Mirza Nasir Ahmad: N constitution says it.

(را خیال ہے کہ میں نے کہا تھا کہ ہمارا آئین یہ کہتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: human rights. I said declaration of

(میں انسانی حقوق پر انحصار کر رہا ہوں۔ میں نے کہا انسانی

!!

Mr. Yahya Bakhtiar: W that ....

(پ نے یہ کہا کہ آپ اس پر انحصار کرتے ہیں ......) ۔

Mirza Nasir Ahmad: rights in the Constitution of Pakis

(تان میں انسانی حقوق کی دستاویز)

Mr. Yahya Bakhtiar: .. right to have his religion, to p propagate ....

(خص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا ایک مذہب رکھے س کی تبلیغ کرے)

Mirza Nasir Ahmad:

٣٧

صفحہ ٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: Did I say that? (مرزا ناصر احمد: کیا میں نے یہ کہا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will come to that. I am just .... (جناب یحییٰ بختیار: میں اس پر آؤں گا۔ میں صرف......)

Mirza Nasir Ahmad: No, I think I said that our constitution says it. (مرزا ناصر احمد: نہیں! میرا خیال ہے کہ میں نے کہا تھا کہ ہمارا آئین یہ کہتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I am relying on human rights. I said declaration of human rights. (جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں انسانی حقوق پر انحصار کر رہا ہوں۔ میں نے کہا انسانی حقوق کی دستاویز) 26 مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: When you said you rely on that .... (جناب یحییٰ بختیار: جب آپ نے یہ کہا کہ آپ اس پر انحصار کرتے ہیں......)

Mirza Nasir Ahmad: Declaration of human rights in the Constitution of Pakistan. (مرزا ناصر احمد: آئین پاکستان میں انسانی حقوق کی دستاویز)

Mr. Yahya Bakhtiar: .......... That everybody has a right to have his religion, to profess, to practice and to propagate .... (جناب یحییٰ بختیار: کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا ایک مذہب رکھے، جس کو وہ پروفیس کرے، اس پر عمل پیرا ہو اور اس کی تبلیغ کرے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes. (مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

٣٧

صفحہ ٦٤

لاہور

64 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I was going to ask you if you profess, that again is a vague word. To profess means that you think and believe and have faith and have feelings about your religion, about Allah Almighty, about who is a Prophet and who is not. So long as it is confined to thinking, nobody can interfere, it is impossible. Thinking, thank God, nobody can interfere with. But action, when those feelings and thinkings and beliefs are put into action or translated into action by words of mouth or other action, then is it still free? Do you still have the freedom to do whatever you want?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ اگر آپ پرفیس کریں تو یہ ایک مبہم لفظ ہے۔ پروفیس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے مذہب، اللہ تعالیٰ، کون رسول ہے اور کون نہیں؟ اس بارے میں سوچ، عقیدہ و اعتقاد اور جذبات رکھیں۔ جب تک یہ سوچ تک محدود ہے، کوئی اس میں مداخلت نہیں کر سکتا، یہ ناممکن ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی سوچ میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ مگر جب وہ جذبات، سوچ اور عقائد منہ سے ادا شدہ الفاظ یا دیگر اعمال کی صورت میں عملی شکل اختیار کر لیں، کیا پھر بھی اس کی آزادی ہوگی؟ کیا پھر بھی آپ کو آزادی ہوگی کہ جو چاہے کریں؟)

Mirza Nasir Ahmad: To express our faith.

(مرزا ناصر احمد : اپنے عقیدے کے اظہار کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: To express, to propagate?

(جناب یحییٰ بختیار: اظہار کے لئے تبلیغ کے لئے)

Mirza Nasir Ahmad: To express our faith.

(مرزا ناصر احمد : اپنے عقیدے کے اظہار کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, practice, I will say, use the word practice.

٣٨

65 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

میں عمل کرنے کے لئے، میں کہوں گا کہ عمل کرنے کا لفظ

جادلہم بالتی ہی احسن

بق جو ہو گا اس سے کوئی خرابی نہیں پیدا ہو گی۔ یہ سارا کچھ دیں...... کہ جو قرآن کریم نے وہ راہیں متعین کی ہیں جن پیدا نہیں ہو گا اور قرآن کریم ایسا عظیم مذہب ہے اور فتنہ کسی اور مذہب میں اس قسم کی باتیں نہیں دیکھیں۔

ان اللہ لا یحب المفسدین

قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار دوسرے کی ینے کے لئے یا اس کے اوپر ضرب لگانے کے لئے یا اس کو ہی نہ سمجھو کسی کو حقیر۔ اور ایک پیار کے جذبے سے جو بات یا کم از کم اس فتنے کی ذمہ داری اس شخص پر نہیں ڈالی جاسکے کی خدمت کے جذبے میں اپنے......

Mr. Yahya Bakhtiar: Quran strictly, in any part of the w commit any offence?

ب! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں قرآن مجید پر سختی سے جرم کا ارتکاب نہیں کروں گا؟)

Mirza Nasir Ahmad: Is

روں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: S. two/three wives in America ....

ریں اگر میں امریکہ میں دو تین شادیاں کرنا چاہتا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: No

(......

Mr. Yahya Bakhtiar: I

٣٩

صفحہ ٦٥

65 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! عمل کرنے کے لئے، میں کہوں گا کہ عمل کرنے کا لفظ استعمال کریں)

مرزا ناصر احمد: ٢٨٦٧ جادلهم بالتی ہی احسن

اس قرآنی ہدایت کے مطابق جو ہوگا اس سے کوئی خرابی نہیں پیدا ہوگی۔ یہ سارا کچھ اصل میں یہ ہے۔۔۔۔ اگر مجھے اجازت دیں۔۔۔۔ کہ جو قرآن کریم نے وہ راہیں متعین کی ہیں جن راہوں پر اگر 27 ہم چلیں تو کوئی فتنہ فساد پیدا نہیں ہوگا اور قرآن کریم ایسا عظیم مذہب ہے اور فتنہ و فساد کے اتنا سخت خلاف ہے کہ ہم نے کسی اور مذہب میں اس قسم کی باتیں نہیں دیکھیں۔

٢٨٧٠ ان اللہ لا یحب المفسدین

بہت سی آیات میں یہ ہے۔ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار دوسرے کی محبت کے جذبے میں کرو۔ اس کو دکھ دینے کے لئے یا اس کے اوپر ضرب لگانے کے لئے یا اس کو حقیر قرار دینے کے لئے اپنے دل میں بھی نہ سمجھو کسی کو حقیر۔ اور ایک پیار کے جذبے سے جو بات کہی جائے گی اسی سے فتنہ نہیں پیدا ہوگا یا کم از کم اس فتنے کی ذمہ داری اس شخص پر نہیں ڈالی جاسکے گی جو پیار اور محبت کے ساتھ اور بے لوث خدمت کے جذبے میں اپنے۔۔۔۔۔۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, if I follow the Holy Quran strictly, in any part of the world, you think, I will not commit any offence?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں قرآن مجید پر سختی سے عمل پیرا ہوں تو میں دنیا میں کہیں بھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کروں گا؟)

Mirza Nasir Ahmad: I should not.

(مرزا ناصر احمد: میں نہیں کروں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing I want to marry two/three wives in America ....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں اگر میں امریکہ میں دو/تین شادیاں کرنا چاہتا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: No, I ....

(مرزا ناصر احمد: نہیں! میں ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just asking you. Will

٣٩

صفحہ ٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

they arrest me or not? (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ کیا وہ مجھے گرفتار کریں گے یا نہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is not compulsory. (مرزا ناصر احمد: یہ لازمی نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: To have many wives? (جناب یحییٰ بختیار: کئی بیویاں رکھنا؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is not compulsory. (مرزا ناصر احمد: یہ لازمی نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: But I will give you another instance, Sir. You are a highly educated person. You know there is a Church call Mormon Church? (جناب یحییٰ بختیار: مگر جناب! میں آپ کو ایک اور مثال دوں گا۔ آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ایک چرچ ہے جس کا نام مارمن چرچ ہے)

28 Mirza Nasir Ahmad: Yes, I know ....... (مرزا ناصر احمد: ہاں! میں جانتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: And under their religion, their Chrisianity or their sect, .... (جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے مذہب میں، ان کی عیسائیت میں یا ان کے فرقہ میں)

Mirza Nasir Ahmad: They can have not .... (مرزا ناصر احمد: وہ نہیں کر سکتے ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... it is not only permissible.... (جناب یحییٰ بختیار: ..... یہ نہ صرف جائز ہے ......)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but obilgatory for a

٤٠

67 NATIONAL ASSEMBLY OF

person, if the circumstances permi بلکہ اگر حالات اجازت دیں تو ایک شخص پر تعدد ازواج

ے یہاں .......

Mr. Yahya Bakhtiar: M religion. Will they allow him in Am مذہبی آزادی! کیا امریکہ میں وہ اس کو شادی کی اجازت

Mirza Nasir Ahmad: shouldn't do it or leave America. کی اجازت نہیں دیتے تو وہ شادی نہ کریں یا پھر امریکہ

Mr. Yahya Bakhtiar: faith; I am a Mormon Christian want to practise my religion. V State, which bows for freedom of me in jail? میرے مذہب کا حصہ ہے، میں ایک مارمن عیسائی ہوں، پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ تو امریکی ریاست، جو کہ مذہبی میں مداخلت کرے اور مجھے جیل میں ڈالے؟)

سوال یہ پیدا ہو گیا کہ جس وقت انسان کا مذہبی عقیدہ قانون ت اختیار کرنا چاہئے۔ یہ ایک نیا سوال آ گیا نا اب۔ اس کتنے قادیانی ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: again. Now I come to the Prelimi

٤١

صفحہ ٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

person, if the circumstances permit, to practice polygamy.

(جناب یحییٰ بختیار: ...... بلکہ اگر حالات اجازت دیں تو ایک شخص پر تعدد ازواج لازمی ہے)

مرزا ناصر احمد: لیکن ہمارے یہاں......

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, that is the freedom of religion. Will they allow him in America to marry?

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے مذہبی آزادی! کیا امریکہ میں وہ اس کو شادی کی اجازت دیں گے؟)

Mirza Nasir Ahmad: If they don't allow it, they shouldn't do it or leave America.

(مرزا ناصر احمد: اگر وہ اس کی اجازت نہیں دیتے تو وہ شادی نہ کریں یا پھر امریکہ چھوڑ دیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is part of my faith; I am a Mormon Christian, it is a part of my faith; I want to practise my religion. Why should the American State, which bows for freedom of religion, interfere and put me in jail?

(جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ میرے مذہب کا حصہ ہے، میں ایک مارمن عیسائی ہوں، یہ میرے مذہب کا حصہ ہے، میں اپنے مذہب پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ تو امریکی ریاست، جو کہ مذہبی آزادی کو تسلیم کرتی ہے، کیوں میرے مذہب میں مداخلت کرے اور مجھے جیل میں ڈالے؟)

مرزا ناصر احمد: یہاں ایک نیا سوال یہ پیدا ہو گیا کہ جس وقت انسان کا مذہبی عقیدہ قانون وقت ہی کے ساتھ متصادم ہو جائے تو پھر کیا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ یہ ایک نیا سوال آ گیا نا اب۔

(پوری دنیا میں کتنے قادیانی ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: ویسے I will come to this again. Now I come to the Preliminary stage.

٤١

صفحہ ٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Now Sir, will you tell the Special Committee as to how many members belong to Jamaat-e-Ahmadia or your school of 29 thought of the Ahmadia Movement throughout the world?

(جناب یحییٰ بختیار: ویسے اس سوال پر میں دوبارہ آؤں گا۔ اب میں ابتدائی درجہ پر آتا ہوں۔ جناب! کیا آپ خصوصی کمیٹی کو یہ بتائیں گے کہ جماعت احمدیہ یا احمدیہ تحریک کے آپ کے مکتبہ فکر سے پوری دنیا میں کتنے افراد منسلک ہیں؟)

(پوری دنیا میں ایک کروڑ قادیانی)

Mirza Nasir Ahmad: Throughout the world?

میرے اندازے کے مطابق کم وبیش ایک کروڑ ہیں۔

(مرزا ناصر احمد: پوری دنیا میں؟ میرے اندازے کے مطابق کم وبیش ایک کروڑ ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: And how many of them are in Pakistan?

(جناب یحییٰ بختیار: اور ان میں سے کتنے پاکستان میں ہیں؟)

(مرزا کی وفات کے وقت قادیانی چار لاکھ تھے)

مرزا ناصر احمد: میرے اندازے کے مطابق ٣٥ سے ٤٠ لاکھ تک۔

Mr. Yahya Bakhtiar: At the time of the death of Mirza Ghulam Ahmad, what was the number of Ahmadis? Have you any idea?

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد کے انتقال کے وقت احمدیوں کی کیا تعداد تھی؟ آپ کو کچھ اندازہ ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: Very rough idea.

چند ہزار ہوں گے۔ ہاں چار لاکھ۔ چار لاکھ کے قریب تھے اس وقت۔ میرے یہ سب Rough اندازے ہیں۔

(مرزا ناصر احمد: بہت سرسری اندازہ ہے۔ چند ہزار ہوں گے۔ (اپنے ساتھیوں

٤٢

صفحہ ٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

سے پوچھنے کے بعد) ہاں چار لاکھ۔ چار لاکھ کے قریب تھے اُس وقت۔ میرے یہ سب سرسری اندازے ہیں)

(١٩٠١ء کی مردم شماری میں اٹھارہ سو قادیانی تھے)

Mr. Yahya Bakhtiar: According to 1901 Census Report, there were about 1800. Is it correct?

(جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠١ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق وہ ١٨٠٠ تھے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟)

مرزا ناصر احمد: مجھے علم نہیں۔

(مرزا کی وفات کے وقت انیس ہزار)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, this is very confusing because I have been looking through various figures. It seems that in 1908, at the time of Mirza Sahib's death, the number given was 19000.

(جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! یہ بہت گڑبڑ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ میں مختلف اعدادوشمار دیکھ رہا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ١٩٠٨ء میں مرزا غلام احمد کے انتقال کے وقت تعداد ١٩٠٠٠ تھی)

Mirza Nasir Ahmad: Census report?

(مرزا ناصر احمد: مردم شماری کی رپورٹ؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, this is a document, a book published by the Foreign Office of the British Government in 1920 in their Registry Office. They have given that at the death of the founder.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! یہ ایک دستاویز ہے، ایک کتاب ہے جو برطانیہ کے فارن آفس نے اپنے رجسٹری دفتر میں ١٩٢٠ء میں چھاپی۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی (قادیانی جماعت) کی وفات کے وقت)

٤٣

صفحہ ٧٠

لاہور

70 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

30 مرزا ناصر احمد : ہاں ! یہ ان کی Version (روایت) ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں I am just saying because it may be wrong; I am not ....

(جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں تو صرف کہہ رہا ہوں، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ غلط ہو، میں یہ نہیں......)

مرزا ناصر احمد : ہاں ! ہاں ! ! ٹھیک ہے میں نے بھی کہا ناں اندازے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: In 1908, the sect, which at that time did not exceed 19000, has split up into two rival parties and appear to be declining in number.... whether your faction or the other faction, I do not know.... but this is what the British Government's certificate is. Then, Sir, in.....

(جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠٨ء میں یہ فرقہ، جو اُس وقت ١٩٠٠٠ سے زائد نہیں تھا، دو متحارب دھڑوں میں بٹ گیا اور اس کی تعداد کم ہونے لگی...... آیا آپ کے دھڑے کی یا دوسرا دھڑے کی، میں نہیں جانتا...... مگر یہ حکومت برطانیہ کا سرٹیفکیٹ ہے۔ پھر جناب......)

Mirza Nasir Ahmad: But this is not for the first time that the British Government is misinformed.

(مرزا ناصر احمد : مگر یہ پہلی بار نہیں کہ حکومت برطانیہ کو غلط معلومات فراہم کی گئی ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no; that is possible; I am not saying, I am just asking. You know better figure. But there is a statement by Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad in "Ahmadiyyat or the True Islam", published in 1959, wherein it is stated that at the time of his death, which occurred in 1908, his followers could be counted by hundreds or thousands.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! نہیں! یہ ممکن ہے۔ میں کہہ نہیں رہا ہوں، بلکہ صرف پوچھ رہا ہوں۔ آپ کو تعداد بہتر معلوم ہوگی۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود احمد کا ایک بیان ”احمدیت

٤٤

71 NATIONAL ASSEMBLY OF

ہے۔ جس میں یہ لکھا ہے کہ ١٩٠٨ء میں ان (مرزا غلام احمد) ں یا ہزاروں میں گنے جاسکتے تھے) کھ کے قریب، میں نے بتایا ناں۔ (١٩٠٨ء میں) In 1908 یک اندازہ ہے۔ ت کے وقت۔

Mr. Yahya Bakhtiar however, of 1908 shows that there

ں ١٩٠٨ء کی مردم شماری کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ

Mr. Yahya Bakhtiar: of 1921 shows that there were shows that they were 56000.

١٩٢١ء کی مردم شماری کی رو سے صرف ٣٠٠٠٠ تھے۔ ٥٦٠٠٠ تھے)

31 Mirza Nasir Ahmad:

ر براہ مرزا محمود کا لندن کی مذاہب عالم کانفرنس ستمبر ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام“ کے نام سے شائع ہوا۔ قادیانی) کی وفات کے وقت جو ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ ۔ اب یحییٰ بختیار کا سوال یہ ہے کہ ١٩٠٨ء میں برٹش تعداد ١٩٠٠٠ ہے۔ لیکن مرزا محمود اس ١٩٠٠٠ کو کئی لاکھ ۔ اس تضاد کا بیچارا مرزا ناصر کوئی جواب نہ دے پایا۔ رپورٹ اور مرزا محمود کے بیان میں تضاد کیوں ہے؟ وجہ ں کذب بیانی کرتے ہیں۔ صحیح تعداد بتائیں تو بھانڈا

٤٥

صفحہ ٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01 یعنی حقیقی اسلام‘‘ میں ١٩٥٩ء میں شائع ہوا، جس میں یہ لکھا ہے کہ ١٩٠٨ء میں ان (مرزا غلام احمد) کی وفات کے وقت ان کے پیروکار سینکڑوں یا ہزاروں میں گنے جاسکتے تھے) مرزا ناصر احمد: ہاں! چار لاکھ کے قریب، میں نے بتایا ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی ایک اندازہ ہے۔ In 1908 (١٩٠٨ء میں) مرزا ناصر احمد: ہاں جی! وفات کے وقت۔ Mr. Yahya Bakhtiar: The census figure, however, of 1908 shows that there were only 18000. (جناب یحییٰ بختیار: بہرحال ١٩٠٨ء کی مردم شماری کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف ١٨٠٠٠ تھے) مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے۔ Mr. Yahya Bakhtiar: And then the census figure of 1921 shows that there were only 30,000. 1931 figure shows that they were 56000. (جناب یحییٰ بختیار: اور پھر ١٩٢١ء کی مردم شماری کی رو سے صرف ٣٠٠٠٠ تھے۔ ١٩٣١ء کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٥٦٠٠٠ تھے) 31 Mirza Nasir Ahmad: Fifty-six? (مرزا ناصر احمد: چھپن؟)

١؎ قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا محمود کا لندن کی مذاہب عالم کانفرنس ستمبر ١٩٢٤ء میں بیان ہوا جو بعد میں قادیان سے ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے ص٤ پر عبارت ہے: ’’آپ (مرزا قادیانی) کی وفات کے وقت جو ١٩٠٨ء میں ہوئی۔ احمدیہ جماعت کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی تھی ۔‘‘ اب یحییٰ بختیار کا سوال یہ ہے کہ ١٩٠٨ء میں برٹش گورنمنٹ رپورٹ کے مطابق قادیانیوں کی تعداد ١٩٠٠٠ ہے۔ لیکن مرزا محمود اس ١٩٠٠٠ کو کئی لاکھ بتاتے ہیں اور مرزا ناصر چار لاکھ بتاتے ہیں۔ اس تضاد کا بیچارا مرزا ناصر کوئی جواب نہ دے پایا۔ قادیانی غور فرمائیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کی رپورٹ اور مرزا محمود کے بیان میں تضاد کیوں ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ قادیانی اپنی تعداد بتانے میں کذب بیانی کرتے ہیں۔ صحیح تعداد بتائیں تو بھانڈا پھوٹ جائے۔ ٤٥

صفحہ ٧٢

72 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(قادیانی ١٩٣٦ء میں چھپن ہزار تھے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And this is confirmed by Mirza Bashir-ud-Din Mahmud in an address which appeared in "Al-Fazal" of 5th August, 1934, which says that:

(جناب یحییٰ بختیار: اور اس کی تصدیق مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ایک خطاب میں کی، جو اخبار ”الفضل“ مورخہ ٥؍ اگست ١٩٣٤ء میں شائع ہوئی، جس کے مطابق:) ”اس وقت ہماری تعداد آج کی تعداد سے بہت کم یعنی سرکاری مردم شماری کی رو سے ١٨٠٠ تھی۔ اس وقت اخبار ”البدر“ کے خریداروں کی تعداد ١٤٠٠ تھی۔ اس وقت سرکاری مردم شماری ٥٦٠٠٠ ہے۔ اور اگر پہلی نسبت کا لحاظ رکھا جائے تو ہمارے اخبار کے صرف پنجاب میں ٤٠٠٠ سے زیادہ خریدار ہونے چاہئیں۔“

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ تو وہ......

Mr. Yahya Bakhtiar: I mean he referred to it. He doesn't say here that this is a wrong figure. I am just saying.

(جناب یحییٰ بختیار: میرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہاں یہ نہیں کہا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں۔ میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ وہ یہ جماعت کو کہہ رہے ہیں کہ اخبار ”البدر“ کی خریداری زیادہ ہونی چاہئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but he mentioned ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! مگر انہوں نے تذکرہ کیا......)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... it by the way that it was 56000.

(جناب یحییٰ بختیار: ......اس کا، بائی دی وے، کہ وہ چھپن ہزار تھے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!! ٹھیک ہے۔ By the way. (بائی دی وے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, then after that we come

٤٦

73 NATIONAL ASSEMBLY OF P

to Munir. I say "Munir Enquiry Co know what I am referring to.

اب! اب اس کے بعد ہم منیر کی طرف آتے ہیں۔ میرا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کس کا حوالہ دے رہا ہوں)

ہاں!! جی، جی!!

Mr. Yahya Bakhtiar: Th the Punjab in 1953.

١٩٥٣ء میں پنجاب میں ایک شورش برپا ہوئی تھی)

ٹھیک ہے۔

میں قادیانی دو لاکھ تھے)

Mr. Yahya Bakhtiar: A set up. There the figure given by y stated, was two lacs or two hundre

ایک انکوائری کورٹ تشکیل دی گئی تھی۔ وہاں آپ کی

(

Mirza Nasir Ahmad:

Pakistan?

تعداد دولاکھ؟)

میں لاکھ کیسے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Pakistan you have either ignored the popu something like that you have su

ار دو ص ٩ پر ١٩٥٣ء میں قادیانیوں کی موجودہ تعداد دو داد کا مسئلہ پر قادیانی قیادت جگہ جگہ کیوں تضاد بیانیاں

٤٧

صفحہ ٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

to Munir. I say "Munir Enquiry Court Report" because you know what I am referring to.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب اس کے بعد ہم منیر کی طرف آتے ہیں۔ میرا مطلب ہے ”منیر انکوائری کورٹ رپورٹ“ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کس کا حوالہ دے رہا ہوں)32 مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!! جی، جی!!

Mr. Yahya Bakhtiar: There was a disturbance in the Punjab in 1953.

(جناب یحییٰ بختیار: ١٩٥٣ء میں پنجاب میں ایک شورش برپا ہوئی تھی) مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!! ٹھیک ہے۔

(١٩٥٣ء میں قادیانی دو لاکھ تھے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And a court of enquiry was set up. There the figure given by your Jamaat, it seems, it is stated, was two lacs or two hundred thousand?

(جناب یحییٰ بختیار: اور ایک انکوائری کورٹ تشکیل دی گئی تھی۔ وہاں آپ کی جماعت نے بظاہر یہ کہا تھا کہ وہ دو لاکھ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Two hundred thousand in Pakistan?

(مرزا ناصر احمد: پاکستان میں تعداد دو لاکھ؟)

(اب تیس لاکھ کیسے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Pakistan. And now, I think you have either ignored the population planning scheme or something like that you have suddenly jumped to 30 lacs ...

١؎ منیر انکوائری عدالتی رپورٹ اردو ص٩ پر ١٩٥٣ء میں قادیانیوں کی موجودہ تعداد دو لاکھ لکھی ہے۔ اب قادیانی غور فرمائیں کہ تعداد کا مسئلہ پر قادیانی قیادت جگہ جگہ کیوں تضاد بیانیاں اور ابہام پیدا کرتی ہے۔

٤٧

صفحہ ٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: پاکستان۔ اور اب میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے یا تو پاپولیشن پلاننگ اسکیم کو یکسر نظر انداز کر دیا یا اس سے ملتا جلتا کوئی ایسا کام کیا جس سے آپ یکا یک بڑھ کر تیس لاکھ تک پہنچ گئے......)

مرزا ناصر احمد: نہیں! یہ بات......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... or 40 lacs; or have there been so many converts?

(جناب یحییٰ بختیار: ...... یا چالیس لاکھ، یا پھر اتنے سارے لوگ تبدیل (ہوکر قادیانی) ہوگئے؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں! بات یہ ہے کہ جہاں تک سرکاری اعداد و شمار کا تعلق ہے، اُس وقت اعداد و شمار لینے والے ہی نہیں تھے کہ کس فرقہ کی طرف کس کو کریں منسوب، کیونکہ عام طور پر وہ غیرمسلم ہوتے تھے اور عام طور پر اُن کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ مسلمان......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am not referring to the Census Report.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں مردم شماری رپورٹ کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The figure given by you to Mr. Justice Munir, your Jamaat ....

(جناب یحییٰ بختیار: جو اعداد و شمار آپ نے جسٹس منیر کو فراہم کئے کہ آپ کی جماعت......)

33 مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... was 2 lacs in 1954. Then Encyclopaedia of Islam, 1960 Edition ....

(جناب یحییٰ بختیار: ...... ١٩٥٤ء میں دو لاکھ تھی۔ پھر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کے ١٩٦٠ء میں شائع شدہ ایڈیشن......)

مرزا ناصر احمد: ہوں، یہ لاہور والی؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! جی!!

٤٨

صفحہ ٤٩

لاہور

75 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

I think no, not Lahore wali. I think it is published in Holland.

(نہیں! میرا خیال ہے کہ لاہور والی نہیں، میرے خیال میں یہ ہالینڈ میں چھپی ہے)

مرزا ناصر احمد: یہ انکوائری رپورٹ کے کس صفحے پر ہے، یہ منیر کی؟

Mr. Yahya Bakhtiar: I think page 10.

(جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں صفحہ ١٠ پر)

Mirza Nasir Ahmad: Page 10.

(مرزا ناصر احمد: صفحہ ١٠)

(١٩٦٠ء میں پوری دنیا میں پانچ لاکھ، پاکستان میں دولاکھ )

Mr. Yahya Bakhtiar: The Encyclopaedia of Islam says that the figure of Ahmadis as given by them....... this is 1960 Edition; may be a year or two before the figure was given.... is half a million throughout the world, out of whom half are in Pakistan, that is, about two lacs.

(جناب یحییٰ بختیار: انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں درج ہے کہ احمدیوں کی تعداد ان کے اپنے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق...... یہ ١٩٦٠ء کا ایڈیشن ہے، اعدادوشمار اس سے شاید ایک یا دو سال پہلے فراہم کئے گئے ہوں...... پوری دنیا میں پانچ لاکھ ہے، جس میں سے نصف پاکستان میں ہیں، یعنی کہ تقریباً دو لاکھ )

مرزا ناصر احمد: ہاں! میرے علم میں نہیں کہ کس نے ان کو یہ اعدادشمار دیئے ہیں۔

(اعدادوشمار میں ابہام ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am just saying because there is some confusion about the figures and members.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! نہیں! میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں، کیونکہ اعدادوشمار اور تعداد میں کچھ کنفیوژن ہے)

AKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: پلاننگ اسکیم کو یکسر نظر انداز کر دیا یا اس تیس لاکھ تک پہنچ گئے......)

مرزا ناصر احمد : نہیں!

r 40 lacs; or have there

(جناب یحییٰ بختیار: قادیانی ) ہوں گے؟)

مرزا ناصر احمد : نہیں!

وقت اعداد و شمار لینے والے ہی نہیں۔ وہ غیر مسلم ہوتے تھے اور عام طور پر ا

Sir, I am not referring

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: ہوں

figure given by you to

(جناب یحییٰ بختیار: جماعت......)

33 مرزا ناصر احمد: ہا

s 2 lacs in 1954. Then

(جناب یحییٰ بختیار:

١٩٦٠ء میں شائع شدہ ایڈیشن......

مرزا ناصر احمد: ہوں

جناب یحییٰ بختیار:

صفحہ ٧٧

76 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: یہاں لکھا ہے: "It is stated to me" not by whom. 2903 ("مجھے یہ بتایا گیا" کس نے یہ پتا نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, it is not clear. So, we presume that perhaps the party concerned may have stated. I would not accept Ahraris word for it.

(جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اس کی وضاحت نہیں۔ لہٰذا ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ شاید متعلقہ پارٹی نے بتایا ہو۔ میں اس بارے میں احراریوں والی بات نہیں مانوں گا)

34 Mirza Nasir Ahmad: No, no. Perhaps somebody else.

(مرزا ناصر احمد: نہیں! نہیں! شاید کسی اور نے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but the Encyclopaedia clearly says that it was stated there by Ahmadis. That may be wrong but ....

(جناب یحییٰ بختیار: انسائیکلوپیڈیا میں صاف درج ہے کہ احمدیوں نے یہ (تعداد) بتائی۔ یہ بات غلط ہو سکتی ہے یہ جدا بات ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!! انسائیکلوپیڈیا کے متعلق میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ کس نے ان کو اعداد و شمار دیئے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: They say half a million throughout the world ....

(جناب یحییٰ بختیار: پوری دنیا میں پانچ لاکھ پاکستان میں اس کے آدھے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو میں سمجھ گیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... And at least half of them are in Pakistan.

مرزا ناصر احمد: میں تو صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ میرے علم میں یہ نہیں کہ کس ایجنسی نے ان کو اعداد و شمار دیئے۔

٥٠

77 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

دولاکھ ہیں آپ تردید نہیں کر سکتے )

Mr. Yahya Bakhtiar: So, say that the number of Ahmadis i than two hundred thousand, you through any docume

مختصر ۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں آپ کی تعداد دولاکھ کی تردید نہیں کر سکتے )

ا سے ٤٠ لاکھ ، آپ کا دولاکھ ہے )

Mirza Nasir Ahmad: I de

کرنا نہیں چاہتا )

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir

ں۔ میں اس میں .......

Mr. Yahya Bakhtiar: B 35 you contradict me through docum your own Jamaat's recor

آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ میری تردید دستاویزی تعداد دولاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔ کوئی دستاویزی ثبوت دولاکھ کو Documentary Proof (تحریری یں تو میں Contradict (تردید) نہیں کروں گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: T Enquiry Report, that is the do contradicting it

ت؟

٥١

صفحہ ٥١

لاہور

77 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(پاکستان میں قادیانی دو لاکھ ہیں آپ تردید نہیں کر سکتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, to cut it short, if I say that the number of Ahmadis in Pakistan is not more than two hundred thousand, you cannot contradict me through any document?

(جناب یحییٰ بختیار: قصہ مختصر۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں آپ کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ نہیں آپ کسی دستاویز سے میری تردید نہیں کر سکتے)

(میرا اندازہ ہے ٣٥ سے ٤٠ لاکھ، آپ کا دو لاکھ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: I don't like to ....

(مرزا ناصر احمد : میں ایسا کرنا نہیں چاہتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am asking you ....

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ میں اس میں.......

Mr. Yahya Bakhtiar: But can you suggest, can ³⁵you contradict me through documentary evidence, record, your own Jamaat's record?

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ میری تردید دستاویزی ثبوت سے کر سکتے ہیں۔ اگر میں کہوں کہ تعداد دو لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔ کوئی دستاویزی ثبوت یا کوئی ریکارڈ)

مرزا ناصر احمد : اگر آپ دو لاکھ کو Documentary Proof (تحریری ثبوت) دے کر Prove (ثابت) کر دیں تو میں Contradict (تردید) نہیں کروں گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you. I rely on Munir Enquiry Report, that is the document. So you are not contradicting it?

1۔ اس کو کہتے ہیں اعترافِ شکست؟

Y OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : یہاں لکھا ہے:

by whom. 2903

("مجھے یہ بتایا گیا" کس نے یہ بتا

Yes, it is not clear. So, we concerned may have stated. I for it.

(جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اس متعلقہ پارٹی نے بتایا ہو۔ میں اس بارے میں

mad: No, no. Perhaps

(مرزا ناصر احمد : نہیں انہیں!

No, but the Encyclopaedia re by Ahmadis. That may be

(جناب یحییٰ بختیار: انسائیکلو بتائی۔ یہ بات غلط ہو سکتی ہے یہ جدا بات ہے

مرزا ناصر احمد : ہاں ! ہاں !!!

میرے علم میں نہیں ہے کہ کس نے ان کو اعدا

They say half a million

(جناب یحییٰ بختیار: پوری د

مرزا ناصر احمد : ہاں! وہ تو میں

.. And at least half of them

مرزا ناصر احمد : میں تو صرف نے ان کو اعداد و شمار دیے۔

صفحہ ٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: بہت شکریہ۔ منیر انکوائری رپورٹ میرا ثبوت ہے۔ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ تو کیا آپ اس کی تردید کرتے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں! اس میں تو انہوں نے تو لکھا ہی کچھ نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Encylopaedia of Islam?

(جناب یحییٰ بختیار: (اگر آپ اس منیر رپورٹ کو نہیں مانتے) تو کیا انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کو)

مرزا ناصر احمد: وہ تو Official ہے ہی نہیں۔ (غیر سرکاری ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Nothing is official. Mirza Sahib. If you bring your register, I am going to accept that. There is no question of official. We are not going to distribute property of members of any particular sect.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آفیشل ہو یا آفیشل نہ ہو (کوئی فرق نہیں) آپ اپنا رجسٹر لے آئیں۔ میں اس کو تسلیم کرلوں گا۔ چاہے وہ رجسٹر آپ کا سرکاری نہ ہو۔ ہم کوئی پارٹی کے ممبران کو جائیداد تقسیم کر رہے ہیں)

مرزا ناصر احمد: معاف کیجئے، میں کوئی اعتراض نہیں کر رہا۔ میں تو ایک جو خود سمجھ رہا ہوں......

Mr. Yahya Bakhtiar: I just wanted to come at a right number. I said if you could come to a right number of the Ahmadis?

(جناب یحییٰ بختیار: میرا مدعا صرف یہ تھا کہ قادیانی جماعت کے ممبران کی صحیح تعداد معلوم ہو جائے)

مرزا ناصر احمد: جب تک صحیح Census نہ ہو......

Mr. Yahya Bakhtiar: Because you yourself are not sure. If you had been sure ....

(جناب یحییٰ بختیار: دراصل آپ خود تذبذب میں ہیں!)

١؎ تذبذب یا فریب دہی؟

٥٢

79 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

Mirza Nasir Ahmad: I am sure.

36 Mr. Yahya Bakhtiar: .... your word that they are three million.

ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: B sure.

Now, Sir, I come to you delivered on the 21st of June, Fri Annexure 2 ...... (ضمیمہ نمبر ٢)

اب میں آپ کے خطاب جمعہ ٢١/ جون (١٩٧٤ء) کا

خطبہ جمعہ؟

خطبہ جمعہ۔ .... Where you have

Mr. Yahya Bakhtiar: .. religion.

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خطبہ جمعہ اردو میں تھا اور یہاں پر Correct کرلیں۔ یہ ٹرانسلیشن ہے۔ شن ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: and I think, there is no mistak concerned. You can correct it n detail of any word, but generally yo has a right to say what his reli

٥٣

صفحہ ٥٣

لاہور

79 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: I am not sure. No, I am not sure.

36 Mr. Yahya Bakhtiar: .... I would have accepted your word that they are three million.

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: But you yourself are not sure.

Now, Sir, I come to your address which you delivered on the 21st of June, Friday 21st June which is Annexture 2 ...... (ضمیمہ نمبر٢)

(جناب یحییٰ بختیار: اب میں آپ کے خطاب جمعہ ٢١/ جون (١٩٧٤ء) کا حوالہ دیتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ خطبہ جمعہ؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! خطبہ جمعہ۔ .... Where you have

مرزا ناصر احمد: ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... interpreted freedom of religion.

مرزا ناصر احمد: اس میں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ خطبہ جمعہ اردو میں تھا اور یہاں غالباً اس کی.......

جناب یحییٰ بختیار: خیر! آپ Correct کرلیں۔ یہ ٹرانسلیشن ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹرانسلیشن ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: This is very well written and I think, there is no mistake as far as language is concerned. You can correct it now. I am not going into detail of any word, but generally you have said that everyone has a right to say what his religion is. That is the first

TAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار بھروسہ کرتا ہوں تو کیا آپ اس

مرزا ناصر احمد: aedia of Islam?

(جناب یحییٰ بختیار آف اسلام کو)

مرزا ناصر احمد: g is official. Mirza oing to accept that. are not going to icular seat.

(جناب یحییٰ بختیار آپ اپنا رجسٹر لے آئیں۔ پارٹی کے ممبران کو جائیداد تقسیم

مرزا ناصر احمد: ہوں.......

nted to come at a right number of

(جناب یحییٰ بختیار تعداد معلوم ہو جائے)

مرزا ناصر احمد you yourself are

(جناب یحییٰ بختیار لے تذبذب یاف

صفحہ ٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

observation you made.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ بہت عمدہ ترجمہ ہے۔ کوئی غلطی نہیں ہے۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے آپ غلطی کو صحیح کر سکتے ہیں۔ میں کسی الفاظ کی تفصیل میں نہیں جارہا۔ آپ نے جنرل طور پر یہ کہا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے لئے بتائے کہ وہ کیا ہے۔ آپ نے یہ تاثر دیا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی ٹھیک۔

(آزادی مذہب؟)

37 Mr. Yahya Bakhtiar: It is this. Then, Sir, you say, I quote: "Religious freeedom therefore means that everyone is free to specify his religion and no power, no Government can interfere with the exercise of that right".

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں نہ، میں بعینہ آپ کے الفاظ دہراتا ہوں کہ: ”مذہبی آزادی کے معنی ہیں کہ ہر ایک شخص اپنے مذہب کی صراحت کرنے میں آزاد ہے اور کوئی طاقت کوئی حکومت اس حق کے استعمال میں دخل نہیں دے سکتی۔“)

مرزا ناصر احمد: جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: This is on page:14. Then, Sir, you further go and say "I proclaim that I am a muslim ....."

(جناب یحییٰ بختیار: پھر صفحہ نمبر ١٤ پر آپ نے کہا کہ میں مسلمان ہوں)

مرزا ناصر احمد: جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: ".... who can have the right to say that I am not a Muslim? This would be utterly foolish". This is on page:14. Have I quoted you correctly, Sir?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ جہالت کی بات ہوگی کہ کوئی مجھے غیر مسلم کہے۔ یہ صفحہ نمبر ١٤ پر ہے۔ کیا میں نے آپ کے الفاظ صحیح دہرائے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! اسی مفہوم کی میں نے بات کی ہے۔

٥٤

صفحہ ٨١

لاہور

81 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Because I have written it down from here. Then, Sir, having asserted your right of freedom of religion in terms mentioned just now. You have raised a preliminary objection with regard to the competence of the National Assembly or Parliament to declare as to who is a Muslim and who is not a Muslim. You raised this object in your Mahzar Namah.

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ اسے میں نے یہاں سے نقل کیا ہے۔ پھر آپ نے ابھی اپنے انداز میں مذہبی آزادی پر زور دیتے ہوئے ایک بنیادی اعتراض اٹھایا کہ قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ مجاز نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ یہ آپ نے محضر نامہ میں سوال اٹھایا)

مرزا ناصر احمد: ہاں! محضر نامہ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, what is the Law, the rule the provision of Constitution, on the basis of which you objected to the jurisdiction of the National Assembly of Parliament ....

(جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کس قانون کے تحت، کس دفعہ کے تحت پارلیمنٹ قومی اسمبلی کے دائرہ کار پر اعتراض کیا ہے)

38 مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں انہیں ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... You rely on? Mirza Nasir Ahmad: I rely on clauses:8 and 20.

(مرزا ناصر احمد: دفعہ ٨ اور ٢٠ پر بھروسہ کرتا ہوں) ہماری جو Constitution ہے اس کی غالباً دفعہ ٨ ہے جو یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ جو اس نے حقوق دیئے ہیں ان میں کوئی کم کرے یا اس کو منسوخ کرے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Article 8 and Article 20.

مرزا ناصر احمد: غالباً ٨ ہے، نکالیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you have also referred

٥٥

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: یہ تعلق ہے آپ غلطی کو صحیح کر سکتے ہیں۔ یہ کہا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے مذ مرزا ناصر احمد: ہاں جی )

is this. Then, Sir, you therefore means that tion and no power, no ercise of that right".

(جناب یحییٰ بختیار: ”مذہبی آزادی کے معنی ہیں کہ ہر ایک طاقت کوئی حکومت اس حق کے استعما مرزا ناصر احمد: جی !

s is on page:14. Then, im that I am a muslim

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: جی !

who can have the right This would be utterly [ quoted you correctly,

(جناب یحییٰ بختیار: کہ کوئی مجھے غیر مسلم کہے۔ یہ صفحہ نمبر مرزا ناصر احمد: ہاں !!

صفحہ ٨٣

82 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

to the Declaration of Human Rights of the United Nations?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی دستاویز کا حوالہ دیا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Universal Declaration of Human Rights .... that dates from 1948 .... اور جتنی اقوام اس کی ممبر بنیں they became party to that Universal Declaration of Human Rights.

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I will not go into greater detail.

مرزا ناصر احمد : ہاں! نہیں!۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask a very simple question. Is the Parliament competent to amend Article:8 and Article:20?

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک بہت ہی سادہ سوال کرتا ہوں۔ کیا پارلیمنٹ دفعہ ٨ اور دفعہ ٢٠ میں تبدیلی کی مجاز ہے؟)

مرزا ناصر احمد : Constitution (آئین) کیا کہتا ہے؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by two-thirds majority they can amend; through a particular procedure they can amend. I am not saying .... I am coming to that .... but I am just suggesting a simple proposition.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! دو تہائی اکثریت کے ذریعہ ایک خاص طریقہ کار سے وہ اس کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ میں اس پر ایک سادہ سا سوال سامنے رکھتا ہوں)

مرزا ناصر احمد : یہ جو ہے ناں ....... 39

Mr. Yahya Bakhtiar: They should not do it, that is different, but I am just saying, is the Parliament not competent to repeal Article:8 altogether and Article:20 altogethter?

جی ہاں، نہیں۔ کیا مطلب؟ حواس باختگی؟

٥٦

83 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(جناب یحییٰ بختیار: میں جانتا ہوں کہ ان کو اب نہیں کرنا چاہئے۔ ہرگز نہیں کرنا قانونی طور پر وہ دفعہ: ١٨ اور دفعہ: ٢٠ کو منسوخ کرنے کے مجاز ہیں )

میں اس کا جواب دینا چاہتا ہوں اگر اجازت دیں تو ۔ یہ پارلیمنٹ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں جو اس نے اپنے پر عائد کرے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: That I know.

مرزا ناصر احمد : ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: They could

مرزا ناصر احمد : ہاں! اور انہوں نے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I agree should not do it, they ought not to do it; they are legally competent to do it, to repeal to repeal Article:8. or any other provision

مرزا ناصر احمد : ہاں!! ٹھیک ہے۔ وہ تو میں نے بھی یہی کہا ہے ناں کہ اس کی حیثیت ہے۔ ان کے اور کوئی اور ایجنسی نہیں ہے جو پابندی لگاسکے۔ لیجسلیٹو باڈی نے خود اپنے پے لگائی ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: With that

( میں اس سے اتفاق کرتا ہوں )

مرزا ناصر احمد : ان کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔

40 Mr. Yahya Bakhtiar: The political nature, religious nature, but not of constitutional ( سیاسی طرز کے ہونے میں اور مذہبی طرز کے نہ کہ آئینی طرز کے )

مرزا ناصر احمد : جی ہاں! نہیں، میرا اسی طرف اشارہ ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, your address. I am not going to quote

٥٧

صفحہ ٨٢

82 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

to the Declaration of Human Rights of the United Nations? (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی دستاویز کا حوالہ دیا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Universal Declaration of Human Rights .... that dates from 1948 .... اور جتنی اقوام اس کی ممبر نہیں they became party to that Universal Declaration of Human Rights.

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I will not go into greater detail.

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں لیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask a very simple question. Is the Parliament competent to amend Article:8 and Article:20?

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک بہت ہی سادہ سوال کرتا ہوں۔ کیا پارلیمنٹ دفعہ ٨ اور دفعہ ٢٠ میں تبدیلی کی مجاز ہے؟)

مرزا ناصر احمد: Constitution (آئین) کیا کہتا ہے؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by two-thirds majority they can amend; through a particular procedure they can amend. I am not saying .... I am coming to that .... but I am just suggesting a simple proposition.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! دو تہائی اکثریت کے ذریعہ ایک خاص طریقہ کار سے وہ اس کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ میں اس پر ایک سادہ سا سوال سامنے رکھتا ہوں)

39 مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں.......

Mr. Yahya Bakhtiar: They should not do it, that is different, but I am just saying, is the Parliament not competent to repeal Article:8 altogether and Article:20 altogehter?

٣٩ ہاں، نہیں۔ کیا مطلب؟ حواس باختگی؟

٥٦

83 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

ختیار: میں جانتا ہوں کہ ان کو اب نہیں کرنا چاہئے۔ ہرگز نہیں کرنا مگر قانونی طور پر وہ دفعہ: ١٨ اور دفعہ: ٢٠ کو منسوخ کرنے کے مجاز ہیں)

میں اس کا جواب دینا چاہتا ہوں اگر اجازت دیں تو۔ یہ پارلیمنٹ یہ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں یہ خود اپنے پر عائد کرے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: That is know.

ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: They coul نہیں! اور انہوں نے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I app should not do it, they ought not to do it; th they are legally competent to do it, to rep to repeal Article:8. or any other provision?

ہاں! ہاں!! ٹھیک ہے۔ وہ تو میں نے بھی یہی کہا ہے ناں کہ اس کی حیثیت ہے۔ ان کے اوپر کوئی اور ایجنسی نہیں ہے جو پابندی لگاسکے۔ لیجسلیٹو باڈی نے خود اپنے پر لگائی ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: With that تیار: میں اس سے اتفاق کرتا ہوں)

ہاں! ان کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔

40 Mr. Yahya Bakhtiar: Thos nature, religious nature, but not of consti از: سیاسی طرز کے ہونے میں اور مذہبی طرز کے نہ کہ آئینی طرز کے)

ہاں! ہاں!! نہیں، میرا اسی طرف اشارہ ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, no your address. I am not going to quote a

٤٠ کفر

٥٧

صفحہ ٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

this is very important from my point of view to clarify the position. In your address, the same address, Sir, on page:12, you say:

"The Constitution of Pakistan in which our Prime Minister takes great pride and which according to his declaration, establishes for Pakistan a high position in the eyes of the world and augments its respect and honour provided in Article:20 as follows:

practise and propagate his religion, and

thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions."

(Page:12)

After that you referred to the pages of the Constitution from where you have quoted. Now, here I may respectfully ask you, Sir, have you reproduced the whole of the Article or have you forgotten part of this Article?

(جناب یحییٰ بختیار: اب میں دوبارہ آپ کے خطبے کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ میں قانون کے الفاظ نہیں نقل کرتا۔ لیکن میری نظر میں صورتحال کا واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے خطبہ میں وہی خطبہ صفحہ ١٢ پر آپ کہتے ہیں کہ بروئے دستور پاکستان جس پر ہمارے وزیراعظم صاحب بہت فخر کرتے ہیں اور بقول ان کے اس کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کی نظر میں اعلیٰ پوزیشن حاصل ہے اور اس کی عزت و وقار زیادہ ہوا ہے۔ اس کی دفعہ ٢٠ درج ذیل میں موجود ہے: ”ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذہب پر اعتقاد رکھے، اس پر عمل کرے اور تبلیغ کرے اور ہر مذہبی فرقہ یا مسلک کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذہبی ادارے قائم کرے یا برقرار رکھے یا ان کو چلائے۔ صفحہ نمبر ١٢“ اس کے بعد آپ نے دستور کے صفحات سے چند قول نقل کئے ہیں۔ میں یہاں پر

٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTA

پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری اس دفعہ کو دوبارہ بیان کیا بھول گئے؟) میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am grat تیار: شکریہ! وہ حصہ......)

Mirza Nasir Ahmad: "Su morality." قانون اور اصول اخلاق کی شرط پر)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. freedom of religion is subject to law, morality. That part is conceded then? یار: جی ہاں! مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے۔ پر۔ یہ بات تسلیم ہے نا؟)

41 Mirza Nasir Ahmad: Of cou یہ تو ظاہر ہے کہ ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Theref granted. That is why you did not menti you proceed further and you say t immediately after what I have quoted jus "In other words this constitution which of pride for us, guarantees to every cit religion, that is to say the religion whi Bhutto or Mufti Mahmood or Mr. Mau himself. Whatever religion a citize

دینے میں اپنے فن خیانت، کتمان اور کذب کا مظاہرہ کرتا ہے۔

٥٩

صفحہ ٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مؤدبانہ طریقہ سے آپ سے پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری اس دفعہ کو دوبارہ بیان کیا ہے یا اس دفعہ کا کچھ حصہ آپ بھول گئے؟)

مرزا ناصر احمد: میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں Understood (مستحضر) ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am grateful. That part ....

(جناب یحییٰ بختیار: شکریہ! وہ حصہ ......)

Mirza Nasir Ahmad: "Subject to Law and morality."

(مرزا ناصر احمد: قانون اور اصول اخلاق کی شرط پر)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. That means that freedom of religion is subject to law, public order and morality. That part is conceded then?

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے۔ قانون اخلاقیات اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہے نا؟)

41 Mirza Nasir Ahmad: Of course, it is there.

(مرزا ناصر احمد: یہ تو ظاہر ہے کہ ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Therefore, you take it for granted. That is why you did not mention it. But then, Sir, you proceed further and you say in your address immediately after what I have quoted just now:

"In other words this constitution which is a source of pride for us, guarantees to every citizen of Pakistan his religion, that is to say the religion which he and not Mr. Bhutto or Mufti Mahmood or Mr. Moudoodi .... chooses for himself. Whatever religion a citizen chooses, that is his

١؎ گویا مرزا ناصر حوالہ دینے میں اپنے فن خیانت و کتر بیونت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

٥٩

صفحہ ٨٦

86 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

religion, and he can announce it, this constitution gives him the right to announce whether he is Muslim or not, and if he announces that he is a Muslim then this Constitution, of which the People's Party is proud and of which we are also proud because of this Article, gurantees to every citizen to announce that being a Muslim, he is a Wahabi or Ahl-e-Hadis, or Ahl-e-Quran or Bralvi or Ahmadi. This is the meaning of religious freedom".

I unquote, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آپ اس کو تسلیم شدہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ پھر اس کے بعد جناب آگے بڑھے اور ساتھ ہی اپنے خطاب میں جو الفاظ فرمائے وہ دہراتا ہوں: ”یہ دستور بہ الفاظ دیگر ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے اس کے مذہب کی ضمانت دیتا ہے۔ یعنی ہر شہری جو مذہب چاہے اپنے لئے خود منتخب کرے نہ کہ مسٹر بھٹو یا مفتی محمود یا مسٹر مودودی۔ شہری جو مذہب بھی چاہے اپنے لئے پسند کرے۔ وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اپنے مذہب کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہ دستور ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ اعلان کرے کہ مسلمان ہے یا نہیں اور اگر وہ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرے تو پھر یہ دستور، جس پر پیپلز پارٹی کو فخر ہے اور جس دستوری دفعہ پر مجھے بھی فخر ہے۔ جس میں ہر شہری کو ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اعلان کر سکتا ہے کہ بحیثیت مسلمان وہ وہابی ہے یا اہل حدیث یا اہل قرآن یا بریلوی یا احمدی۔ یہ معنی ہوتے ہیں مذہبی آزادی کے۔“)

Mirza Nasir Ahmad: To my mind ....

(مرزا ناصر احمد: میرے خیال کی رو سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I am just asking whether I am quoting you correctly?

(جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھتا ہوں کیا میں نے آپ کے الفاظ صحیح نقل کئے ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: جی ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not going to ask you

٦٠

87 NATIONAL ASSE

questions because first we will ask you questions.

شروع نہیں کرتا۔ پہلے تمام حوالہ جات ختم

42 Mr. Yahya Ba say: "Today, the meaning man has a right to deci Muslim or not, whether he is a Jew or not, or whethe is a Budhist or not, wheth each individual to say wh power on earth and n combined can deprive him

So, Sir, according

put it ....

فرماتے ہیں: ”آج مذہبی آزادی کے معنی ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ عیسائی ہے یا یا نہیں۔ دہریہ ہے یا نہیں۔ اس لئے ہر سے متعلق ہوں۔ کوئی زمینی طاقت بلکہ نہیں تو آپ کی نظر میں یہ حق جس طور پر قاً قطعی غیر پابند بلا محدود غیر مشروط مستند

('

Mirza Nasir

نی کرم فرما فیصلہ فرمائیں۔

صفحہ ٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

questions because first we finish with quotations and then I will ask you questions.

(جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں سوال شروع نہیں کرتا۔ پہلے تمام حوالہ جات ختم کرلیں۔ پھر میں آپ سے سوالات کروں گا)

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں، ٹھیک ہے۔

42 Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, you further say: "Today, the meaning of religious freedom is that every man has a right to decide for himself whether he is a Muslim or not, whether he is a Christian or not, whether he is a Jew or not, or whether he is a Hindu or not, whether he is a Budhist or not, whether he is an a-theist or not. It is for each individual to say which religion he belongs to and no power on earth and not all the powers of the world combined can deprive him of this right."

So, Sir, according to you this right, the way you have put it ....

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب آپ آگے فرماتے ہیں: ’’آج مذہبی آزادی کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے فیصلہ کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ عیسائی ہے یا نہیں ۔ یہودی ہے یا نہیں۔ بدھ مت ہے یا نہیں۔ ملحد ہے یا نہیں۔ دہریہ ہے یا نہیں۔ اس لئے ہر فرد کو حق حاصل ہے کہ وہ اظہار کرے کہ میں کس مذہب سے متعلق ہوں۔ کوئی زمینی طاقت بلکہ جہاں بھر کی مجتمع قوتیں اس کو اپنے حق سے محروم نہیں کر سکتیں۔ تو آپ کی نظر میں یہ حق جس طور پر آپ نے پیش کیا ہے اس کے معنی ہوتے ہیں کہ یہ حق مطلقاً قطعی غیر پابند بلامحدد و غیر مشروط مستند ہے اور دھرتی پر کوئی طاقت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔‘‘)

Mirza Nasir Ahmad: .... is inalienable.

لے کیا ہو گیا؟ حواس باختگی یا سیٹی گم ہو گئی، قادیانی کرم فرما فیصلہ فرمائیں۔

٦١

صفحہ ٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: .... is absolute, unrestricted, unqualified, unconditional; no power on earth can interfere.

مرزا ناصر احمد: یہاں یہ Confusion پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ دماغ میں یہاں پریکٹس کی بات نہیں ہے، اعلان کی بات ہے اور یہ Absolute Right ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں ہوں۔ Law, morality, Public order اس وقت آتے ہیں جس وقت وہ اپنے عقائد کے مطابق کچھ مظاہرے کرتا ہے۔ Manifestation of his creed کرتا ہے۔ لیکن جہاں تک پروفیشن کا سوال، یہ کہے گا کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں ہوں، یہ Absolute Right ہے ہر انسان کا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, you have used the words in the speach and I pointedly draw your attention to them; they are:

"He has the right to say, to specify, to proclaim, to decide, to announce ...."

(جناب یحییٰ بختیار: جناب آپ نے اپنی تقریر میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں جن پر میں خصوصی طور پر آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ الفاظ یہ ہیں۔ متعلقہ شخص کو حق ہے اظہار کا، صراحت سے بیان کرنے کا، باضابطہ اعلان کرنے، فیصلہ کرنے کا، اعلان کرنے کا......)

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہی وہی ہے، Profess کے معنی کئے ہیں میں نے اپنی طرف سے۔ 43 One might agree with or not.

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, as I said before ....

مرزا ناصر احمد: اس کا تعلق پریکٹس سے آ جاتا ہے ناں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that he ....

مرزا ناصر احمد: اس میں پریکٹس میں نے نہیں کہا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But you profess something; if you think you are a Muslim, if you believe you are a Muslim. Nobody can .....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن یہ بات آپ کی ماننے کے قابل ہے۔ مگر آپ سمجھتے ہیں

٦٢

89 NATIONAL ASSEMBL

کہ آپ مسلمان ہیں تو پھر کسی کو......) کی بات درست ہے۔

Mr. Yahya Bakhtia announce, then that means e you write ....

کا اعلان کر دیتے ہیں تو اس کے معنی یہی کہ یا تو ی کہ میں مسلمان ہوں۔ لگتا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtia عمل......)

Mr. Yahya Bakhtia ے لئے......)

Mirza Nasir Ahma ر کے لئے)

Mr. Yahya Bakhti

44 Mirza Nasir Ahr

Mr. Yahya Bakh even there you claim, to this اظہار کیا جائے تو بقول آپ کے دعوے کے حکومت کی طرف سے)

To that

Mr. Yahya Bakh interference by the State ....

صفحہ ٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کہ آپ مسلمان ہیں۔ اگر آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں تو پھر کسی کو......)

مرزا ناصر احمد: وہ ٹھیک ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am submitting that if you announce, then that means either a speech is called for as you write ....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ اس کا اعلان کر دیتے ہیں تو اس کے معنی یہی کہ یا تو کسی تقریر کی ضرورت ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: یہ اعلان کرتا ہے آدمی کہ میں مسلمان ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اعلان کرتا ہے یا لکھتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یا لکھتا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I means some action .... (جناب یحییٰ بختیار: مطلب ہے کوئی عمل......)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... to express .... (جناب یحییٰ بختیار: اظہار کرنے کے لئے......)

Mirza Nasir Ahmad: Expression of one's belief. (مرزا ناصر احمد: اپنے عقیدہ کے اظہار کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... one's belief so that .... 44 Mirza Nasir Ahmad: Not practice on it. Mr. Yahya Bakhtiar: When belief is expressed, even there you claim, to this extent, I mean ....

(جناب یحییٰ بختیار: جب کسی اعتقاد کا اظہار کیا جائے تو بقول آپ کے دعوے کے اس اظہار کی حد تک کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے نہ حکومت کی طرف سے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہاں!! To that extent.

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that there should be no interference by the State ....

٦٣

صفحہ ٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: To my mind.

Mr. Yahya Bakhtiar: .... or any body?

(جناب یحییٰ بختیار: اور نہ کسی شخص کی طرف سے)

مرزا ناصر احمد: میں اس پر ...... میرا یہی ایمان ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, if anybody declares that he is a Muslim, a Christian, a Budhist, no one should question his announcement or declaration?

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب اگر کوئی اعلان کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، عیسائی ہے، بدھ مت ہے تو کیا اس کے اس اعلان پر کوئی شخص اعتراض نہ کرے)

Mirza Nasir Ahmad: No wordly authority.

(مرزا ناصر احمد: کسی دنیاوی اتھارٹی کو مداخلت کا حق نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... is authorised or empowered to question that. His word should be accepted for this.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، اس کو ہمیں مسلمان کہنا پڑے گا)

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، اس کو مسلمان ہمیں کہنا پڑے گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but Sir, there are some further complications in my mind.

(جناب یحییٰ بختیار: میرے ذہن میں ابھی کچھ پیچیدگیاں ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں! جب وہ آئیں گے، ہم وہاں ...... When we reach that.

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing a person knowingly, with ulterior motive, for some material gain, falsely declares that he is a Christian when in fact he is not, or he is a Muslim when in fact he is not ....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کہ ایک شخص عمداً کسی مخفی مقصد کے لئے کسی مادی

٦٤

صفحہ ٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

فائدہ کے لئے جھوٹا اعلان کر دیتا ہے کہ وہ عیسائی ہے۔ جب کہ وہ حقیقتاً نہیں ہے یا کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں جب کہ واقعۃً وہ مسلمان نہیں تو کیا ایسی صورت میں بھی آپ یہی خیال کریں گے؟)

45 Mirza Nasir Ahmad: He is not?

Mr. Yahya Bakhtiar: .... do you still think that ....

Mirza Nasir Ahmad: How we are going to find out that he is a hypocrite?

(مرزا ناصر احمد: لیکن آپ کیسے پتہ چلائیں گے کہ وہ دغا بازی کر رہا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: But if we can find out, then we can interfere. If he falsely does it?

(جناب یحییٰ بختیار: (اگر اس کی منافقت) ہم معلوم کرلیں۔ تب تو ہم مداخلت کر سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: اگر وہ Hypocrite اور اسلام، قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ تم نے پھر بھی اس کو مسلمان کہنا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am just asking you that if I personally know a person that he is a Muslim, but for some worldly gain ....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب میرا سوال یہ ہے کہ آپ فرض کیجئے کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں کہ وہ مسلمان ہے لیکن دنیا کے کسی مفاد کے لئے......)

Mirza Nasir Ahmad: Aaa, aaa.

Mr. Yahya Bakhtiar: .... for some advantage ....

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... he falsely declares himself to be a Christian ....

(جناب یحییٰ بختیار: کسی مطلب کے لئے وہ اپنے کو عیسائی کہے......)

مرزا ناصر احمد: جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... do you think, we still

٦٥

صفحہ ٩٢

92 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

should not interfere because he has announced it? That is his freedom?

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کا کیا خیال ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ محض اس بناء پر کہ اس نے عیسائی ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور ایسا اعلان کرنے سے وہ آزاد ہے)

مرزا ناصر احمد : آپ نے کہا: ”میں جس کو جانتا ہوں ۔“ اگر تو مثلاً میں جانتا ہوں ......

میں اور آپ Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I mean anybody.

46 مرزا ناصر احمد : نہیں! میں نے اسی واسطے میں کو اپنے اوپر لے لیا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں۔ میں نہیں کہہ رہا تھا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I know him personally.

مرزا ناصر احمد : اگر میں Personally نہیں جانتا ہوں تو میرا کوئی حق نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : آپ کو کوئی حق نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد : بالکل نہیں حق میرا۔ یہ تو بڑا فساد پیدا ہو جائے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, I am not giving the example, Sir, of a man who is about to be killed and to save his life, he says, "I am a Muslim" or "I am a Christian" or supposing a religious fanatic is going to kill some one because he does not belong to his faith ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک ایسے شخص کی مثال دیتا ہوں جو عنقریب مارا جانے والا ہے اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے کہہ اٹھتا ہے کہ میں مسلمان ہوں یا میں عیسائی ہوں یا فرض کریں کوئی مذہبی متعصب شخص کسی کو جان سے مارنے والا ہے۔ کیونکہ وہ اس کا ہم عقیدہ نہیں......)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔ یا؟

Mr. Yahya Bakhtiar: I know that is permissible. I am not taking that example.

٦٦

صفحہ ٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ مثال اس لئے پیش کر رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: یا ان کی In question ہے جو کہ Clerical Court نے کی۔ ایک وقت میں اور اس وقت جو انہوں نے فیصلہ کیا، عیسائی Clergy نے، وہ یہ تھا کہ اس کو تم Stake پر Burn کردو، Rather roast him on the fire اور اللہ تعالیٰ آپ ہی فیصلہ کرے گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not taking the case of even that person who, in order to save his life, makes a false declaration. Suppose he is a Christian ....

(جناب یحییٰ بختیار: (لیکن) میں اس شخص کی مثال لے رہا ہوں جو اپنی جان بچانے کے لئے ایک جھوٹا بیان دیتا ہے اور فرض کریں ......)

47 مرزا ناصر احمد: نہیں۔ یہاں بھی وہی ...... میں بھی یہی مثال دے رہا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنی زندگی محفوظ کرنے کے لئے Protestant ہونے کے باوجود Roman Catholic ہونے کا اعلان کرے، اس اعلان کے بعد بھی اسے Burn کردو اور اس فیصلے کو خدا پر چھوڑو کہ اس کو جنت میں جانا چاہئے یا دوزخ میں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, yes I am not giving that example. But I am just ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف مثال دے رہا ہوں ......)

Mirza Nasir Ahmad: That is one of the very extreme examples in this case.

(مرزا ناصر احمد: آپ کی مثال اس معاملہ میں ایک انتہائی نوعیت کی مثال ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but there, Sir, if a person has to save his life, it is permissible to tell a lie to save his life, I think?

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! اگر شخص کو اپنی جان بچانی ہے تو کیا اپنی جان بچانے کے لئے اس کو جھوٹ بولنا روا نہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: I don't think.

٦٧

صفحہ ٩٥

94 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : میں نہیں سمجھتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: I mean, i don't know, Some time you sacrifice the truth in the very interest of truth. If a man is innocent and somebody is going to kill him just because he does not belong to his faith, and I say no he is not that belongs to that caste or to that religion. It happened near Khuzdar. There was a policeman, near about 1965 or that time, there was a policeman travelling in a bus and some of those people, travelling people, got hold of that bus along with others. The policeman was not in uniform but they found the uniform packed up in the bus. The policeman and other people were taken away with the intention to kill them. One of the Maulvis there who knew that this man was a policeman, took oath on Quran and said, "I know that he is not a policeman" to save his life. Do you think that man committed a crime by telling a lie?

(جناب یحییٰ بختیار : بعض وقت سچ کی خاطر سچ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ فرض کریں ایک آدمی ہے جو بیگناہ ہے۔ مگر ایک شخص اس کے قتل کے درپے ہے کہ وہ دوسرے مذہب کا ہے اور اس جیسا اعتقاد نہیں رکھتا۔ اسی نوعیت کا ایک واقعہ خضدار کے علاقہ میں پیش آیا۔ وہاں پولیس کا ایک سپاہی تھا۔ یہ واقعہ شاید 1965ء کا ہوگا یا اس کے لگ بھگ۔ وہ شخص بس میں سفر کر رہا تھا۔ لوگوں نے بس کو مع سواریوں کے اغوا کرلیا۔ پولیس والا یونیفارم میں نہیں تھا۔ تو دیگر سواریوں کے ساتھ اس کو بھی جان سے مارنے کے لئے لے گئے۔ وہاں ایک مولوی موجود تھا جو اس شخص کو پہچانتا تھا کہ یہ پولیس والا ہے۔ اس نے قرآن شریف پر قسم کھا کر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ پولیس والا نہیں ہے۔ یہ بات اس نے اس کی جان بچانے کے لئے کہی۔ اب آپ بتائیں آپ کے خیال میں اس شخص نے جھوٹ بول کر کوئی جرم کیا)

مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں۔

٦٨

95 NATIONAL ASSEMBLY O

48 Mr. Yahya Bakhtiar: some time one may do it. But examples. Sir, I am going to con simple example.

میں ایک دوسری سادہ سی مثال لیتا ہوں) دے لیں پھر۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I have a lot of difficulties in getting days. You know that, so we tal instance Dow Medical College, K Now there are about a thousan divisions, contesting for these 200 are reserved for Minorities, Chris of 10, say 6 are reserved for Hi Divisioners, so they contest a reserved for Christians, one for Divisioners Parsi and he will ge among the Christians, there are 6 3 seats but there is only one Se and the rest are Third Divisione that college. I have got a First D First Division. If I put it in my Bakhtiar ---- Christian", now yo college, knowing very well, should

(جناب آج کل کالجوں میں داخلے کے لئے بڑی بڑی میڈیکل کالج کی مثال لیجئے۔ سمجھئے ڈاؤ میڈیکل کالج

٦٩

صفحہ ٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

48

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just saying this that some time one may do it. But I am not taking these examples. Sir, I am going to come to earth and take very simple example.

(جناب یحییٰ بختیار: اب میں ایک دوسری سادہ سی مثال لیتا ہوں) مرزا ناصر احمد: جی! ہاں جی وہ لے لیں پھر۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, supposing, as we have a lot of difficulties in getting admission in college these days. You khow that, so we take a medical College for instance Dow Medical College, Karachi, has got 200 seats. Now there are about a thousand Muslim boys, all first divisions, contesting for these 200 seats. But out of them, 10 are reserved for Minorities, Christians, Hindus, Parsis. Out of 10, say 6 are reserved for Hindus, 3 are also one First Divisioners, so they contest among themselves; 3 are reserved for Christians, one for parsi. There is also First Divisioners Parsi and he will go and take that seat. Now, among the Christians, there are 6/7 candidates and there are 3 seats but there is only one Second Divisioner Christian and the rest are Third Divisioners. Now I want to get into that college. I have got a First Division, but not a very high First Division. If I put it in my admission from: "Yahya Bakhtiar ---- Christian", now you think the Principal of the college, knowing very well, should not interfere.

(جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں! جناب آج کل کالجوں میں داخلے کے لئے بڑی بڑی دشواریاں آتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں ایک میڈیکل کالج کی مثال لیجئے۔ سمجھئے ڈاؤ میڈیکل کالج

٦٩

صفحہ ٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ہے جس میں ٢٠٠ سیٹیں ہیں اور فرض کریں امیدوار ہزار مسلمان لڑکے ہیں جو کہ سب فرسٹ ڈویژن پاس ہیں۔ ان ٢٠٠ میں سے ١٠ سیٹیں اقلیتوں کے لئے ریزرو ہیں جیسے ہندو، عیسائی، پارسی۔ ان ١٠ سیٹوں میں سے ٦ ہندوؤں کے لئے ہیں اور یہ بھی فرسٹ ڈویژن ہیں۔ آپس میں ان میں مقابلہ ہے اور ٣ سیٹیں عیسائیوں کے لئے ریزرو ہیں اور ایک پارسی کے لئے اور یہ سب فرسٹ ڈویژن ہیں اور امیدوار ٦/٧ ہیں اور سیٹ ٣ ہیں۔ مگر صرف ایک سیکنڈ ڈویژن عیسائی ہے۔ باقی سب تھرڈ ڈویژن پاس ہیں اور کالج میں داخلہ چاہتے ہیں۔ فرض کریں کہ میرا فرسٹ ڈویژن ہے مگر اونچے نمبر سے فرسٹ ڈویژن نہیں ہے تو اگر میں اپنے داخلہ فارم میں لکھتا ہوں کہ یحییٰ بختیار مذہب عیسائی۔ تو کیا سمجھتے ہیں پرنسپل یہ سب جانتے ہوئے مداخلت نہ کرے گا )

Mirza Nasir Ahmad: You have got no right to declare your Christianity.

(مرزا ناصر احمد : آپ کو ایسے کہنے کا حق نہیں پہنچتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: I have no right but I am deceiving, I am cheating, I am falsely declaring that what I say, because I know that this is a fundamental right and nobody on earth can interfere and why should I not take advantage? Do you think the world is not full of thieves?

(جناب یحییٰ بختیار: حق تو نہیں پہنچتا مگر میں دھوکہ دے رہا ہوں۔ جھوٹ، دغابازی یہ سوچ کر کر رہا ہوں کہ یہ میرا بنیادی حق ہے کہ جو چاہوں کہوں۔ کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ تو کیوں نہ اس بات سے فائدہ اٹھاؤں۔ کیا دنیا دغابازوں سے نہیں بھری ہوئی ہے؟)

مرزا ناصر احمد: آپ دوسرے end پر بات کر رہے ہیں۔ میں اس end پر بات کر رہا ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am .......

49 مرزا ناصر احمد: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am asking ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں.......)

٧٠

صفحہ ٩٧

97 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(گواہ (مرزا ناصر) جواب دے)

Mr. Chairman: No, no the proposition has been put by the lawyer and the witness has to reply to that proposition. He may agree or he may not agree.

(چیئرمین: وکیل صاحب نے ایک مسئلہ پیش کیا ہے اور گواہ کو چاہئے کہ اس بات کا جواب دے۔ خواہ وہ اس سے متفق ہو یا نہ ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: There is no question of agreeeing; but I say you know that there are cheats in this world and you know that people cheat and you know that people deceive.

(جناب یحییٰ بختیار: متفق نہ ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آپ کو معلوم ہے جناب دنیا میں دغاباز بھرے پڑے ہیں اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ لوگ دھوکہ دیا کرتے ہیں۔ دغابازی کرتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Everyone of us should condemn them.

(مرزا ناصر احمد: ہر شخص کو دغابازی کی ملامت کرنی چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, 'condemn' is one thing, Sir, but if you are invested with some authority, you are the Principal of a college, and you have been the Principal of a College and when the form comes to you, and you know that Yahya Bakhtiar, First Division, cannot get in because his marks are low among the First Divisioners, but he says that he is a Christian, now I can't question his faith, this is his fundamental right, Article 20 guarantees it, so, therefore, he has to be admitted, Sir?

٧١

صفحہ ٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: ملامت ایک علیحدہ بات ہے۔ جناب فرض کریں آپ کو کوئی اختیار سونپا جاتا ہے۔ سمجھیں آپ کسی کالج کے پرنسپل ہیں اور داخلہ فارم آپ کے سامنے آتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یحییٰ بختیار فرسٹ ڈویژنر تو ہے مگر فرسٹ ڈویژنروں میں اس کے نمبر کم ہیں۔ مگر یحییٰ بختیار کہتا ہے کہ میں تو عیسائی ہوں اور یہ بنیادی حق ہے۔ دفعہ ٢٠ اس حق کی مجھے ضمانت بھی دیتا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am asking you this.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھتا ہوں)

Sir, Shall we have a break? In the meanwhile ....

(ہم کچھ دیر کے لئے وقفہ نہ کرلیں؟)

Mr. Chairman: Yes, after about five minutes we will have a break.

(چیئرمین: ہاں! مگر پانچ منٹ کے بعد پہلے اس سوال کا جواب آنے دیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I .....

Mr. Chairman: Let the answer to this question come. It is a question of opinion. The witness has to give his opinion, Yes or no.

(چیئرمین: گواہ کو اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔ ہاں یا نہ۔ سوال رائے کا ہے)

50 Mr. Yahya Bakhtiar: Just some expression. A man deliberately, falsely makes a declaration for material gains.

(جناب یحییٰ بختیار: بات اظہار کی ہے کہ ایک شخص عمداً جھوٹا بیان دیتا ہے۔ مادی نفع کے لئے)

Mr. Chairman: What would be the opinion of the witness regarding this proposition?

(جناب چیئرمین: اب جناب گواہ بتائیں کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: You need not answer this

٧٢

صفحہ ٩٩

99 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

question at all. (جناب یحییٰ بختیار: جناب اگر آپ جواب نہ دینا چاہیں نہ دیں)

Mr. Chairman: It is up to you; it's up to you. (جناب چیئرمین: آپ کی مرضی ہے؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو ...... میں نے جواب دیا ہے اس کا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You don't approve of that man? (جناب یحییٰ بختیار: آپ ایسے شخص کو کیسے پسندیدہ سمجھتے ہیں؟)

Mr. Chairman: No.

Mirza Nasir Ahmad: I don't approve of that man. (مرزا ناصر احمد: میں ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: But you still think that the state ...... (جناب یحییٰ بختیار: باوجود اس کے آپ پھر بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت ......)

مرزا ناصر احمد: میرا مطلب یہ ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میں نے کوئی جواب ہی نہیں دیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, but I am just asking you. (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف سوال کرنا چاہتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: اس واسطے میں نے جواب دیا ہے کہ ریکارڈ ہو جائے۔

Mr. Chairman: ہاں It may be repeated. (چیئرمین: آپ اسے دہرا دیں)

مرزا ناصر احمد: میں نے یہی جواب دیا ہے کہ I condemn that young (میں مذمت کرتا ہوں اس نوجوان کی جو man who falsifies the documents. دستاویزات میں جعلسازی کرتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: But if you are the Principal

٧٣

صفحہ ١٠١

100 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

of the college, what expression you will give to your condemnation on the paper?

(جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ کالج کے پرنسپل ہیں تو اس مذمت کو کاغذ کے اوپر کس طرح اظہار کریں گے)

51 مرزا ناصر احمد: میں ١٩٣٤ء سے ١٩٦٥ء تک پرنسپل رہا ہوں اور میرے علم کے مطابق ہر بچہ جو میرے پاس آیا یا اتنا شریف النفس تھا کہ اس نے میرے سامنے کوئی غلط بات نہیں کی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, you are very fortunate, But I am asking you, supposing I am the Principal and someone comes like me, then what shall I do?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ بہت قسمت والے رہے۔ بہرحال میں یہ پوچھتا ہوں کہ فرض کریں میں ایک پرنسپل ہوں اور کوئی مج مجھ جیسا آتا ہے تو میں کیا کروں)

مرزا ناصر احمد: مجھے تو Experience (تجربہ) نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But I am asking you that I am the Principal of Dow Medical College and I know a particular boy is Muslim, and wants to get into the College and deprive a Christian of his legitimate right, a reserved seat. On the one hand he is telling a lie, on the other hand he is depriving a Christian of his seat. But you say that this is his fundamental right, because he is ........

(جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں میں پرنسپل ہوں۔ ایک میڈیکل کالج کا اور میں ایک لڑکے کو خاص طور پر جانتا ہوں کہ وہ مسلمان ہے۔ کالج میں داخلہ چاہتا ہے اور ایک عیسائی لڑکے کا حق مار رہا ہے اس ریزرو سیٹ پر۔ دوسری طرف وہ جھوٹ بھی بول رہا ہے اور جھوٹ بول کر ایک عیسائی لڑکے کو اس کی سیٹ سے محروم کر رہا ہے۔ مگر آپ فرماتے ہیں کہ یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ کیونکہ وہ ......)

(کوئی غلط طور پر مذہب کا اظہار کرے تو کاروائی ہو سکتی ہے)

مرزا ناصر احمد: اگر اس کے اس فعل کے نتیجے میں آپ کے پختہ یقین کے بعد وہ کسی

٧٤

101 NATIONAL ASSEMBLY OF

ا جا رہا ہے اس کے حق کی حفاظت کرنی چاہئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The

Mr. Chairman: The de leave for 15 minutes. We will again

کے لئے جانے کی اجازت ہے)

A Member: 15 minutes?

نٹ؟)

Mr. Chairman: But the keep sitting. At 12-15, the Deleg back in the Assembly. The hono sitting.

وا بارہ بجے ملاقات ہوگی۔ معزز اراکین تشریف رکھیں۔

(The delegation left

ال سے باہر چلا گیا)

Mr. Chairman: I wou members .... Mian Attaullah, just for one minute. Give me time recess. 52Saiyid Abbas Husain S Aleem, just I wanted to say one th honourable members. And this i .... Mr. Attorney-General, Maula minute. I think we are .... I am the method of Attorney-General. be placed on record. And I thin over, and supplementary proble

٧٥

صفحہ ١٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

اور کا حق مار رہا ہے تو آپ کو جس کا حق مارا جارہا ہے اس کے حق کی حفاظت کرنی چاہئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

Mr. Chairman: The delegation is permitted to leave for 15 minutes. We will again meet ....

(چیئرمین: وفد کو ١٥ منٹ کے لئے جانے کی اجازت ہے)

A Member: 15 minutes?

(ایک ممبر: صرف پندرہ منٹ؟)

Mr. Chairman: But the honourable members may keep sitting. At 12-15, the Delegation is expected to come back in the Assembly. The honourable member may keep sitting.

(جناب چیئرمین: اب سوا بارہ بجے ملاقات ہوگی۔ معزز اراکین تشریف رکھیں۔ توقع ہے کہ وفد سوا بارہ بجے واپس آجائے گا)

(The delegation left the chamber)

(وفد ہال سے باہر چلا گیا)

Mr. Chairman: I would request the honourable members .... Mian Attaullah, just only for two minutes, just for one minute. Give me time then I am going to take recess. 52 Saiyid Abbas Husain Shah Gardezi and Sardar Aleem, just I wanted to say one thing. I wanted to thank the honourable members. And this is my personal observation .... Mr. Attorney- General, Maulana Zafar Ahmad, just one minute. I think we are .... I am at least quite satisfied with the method of Attorney- General. And we are grateful. Let it be placed on record. And I think most of our problems are over; and supplementary problems and everything will, of

٧٥

صفحہ ١٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

course, be taken up the way it is being conducted. I am, as a lawyer, more than satisfied and I think this is the opinion of the House. Thank you very much. We meet at 12:15. Thank you very much.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران سے چند منٹ کے لئے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وقفہ کریں گے۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں معزز ممبران کا شکریہ کے ساتھ میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ کم از کم میں ذاتی طور پر اٹارنی جنرل کے طریقہ کار سے مطمئن ہوں۔ ہم ممنون ہیں یہ بات ریکارڈ پر آنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری اکثر باتیں اور مسائل ختم ہیں اور دیگر ضمنی باتیں بھی اس طرح طے ہو جائیں گی۔ جس طرح سے چل رہے ہیں۔ میں بحیثیت وکیل کے بے انتہاء مطمئن ہوں اور سمجھتا ہوں کہ آپ سب کی بھی یہی رائے ہوگی۔ (ممبران جی ہاں) چیئرمین: شکریہ بہت تو اب سوا بارہ بجے ملاقات ہوگی)

---------

(The Special Committee adjourned for 15 minutes to re-assemble at 12:15pm)

(سپیشل کمیٹی سوا بارہ بجے تک کے لئے ملتوی ہوئی)

---------

{The Special Committee re-assembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.}

(کمیٹی چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ جمع ہوئی۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے کرسی صدارت سنبھالی)

Mr. Chairman: I will request the honourable members to be in their seats and we will proceed just when the quorum is complete.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران سے درخواست کروں گا اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں۔ کارروائی کورم پورا ہونے پر شروع ہوگی)

Prof. Ghafoor Ahmad: has pointed out that there

٧٦

103 NATIONAL ASS

should not be appreciat amended accordingly. T conduct of the Attorney- G written, the rest should be

سے تعریفی اعتراف نہیں ہونا چاہئے۔ کہ جناب یحییٰ بختیار کا طریقہ کار صحیح ہے۔

یا ہے کہ Chair کی طرف سے

With the conduct of ہے۔ So

ہاں۔ جی؟ نہیں۔ I think that is

53 SUPPLY OF COPIE

OF COPIES OF TH

Malik Moham

submission?

Mr. Chairman

Malik Moha

cross-examination ....

Mr. Chairman

Malik Moham

will be a debate and na on the basis of the cross-examination.

جرح کے اختتام پر میں سمجھتا ہوں کہ تو اس بیان کی نقول تیار ہونی چاہئے

صفحہ ١٠٣

103 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

should not be appreciation by the Chair; so it may be amended accordingly. The House is satisfied with the conduct of the Attorney- General. Only this much should be written, the rest should be deleted.

(پروفیسر غفور نے فرمایا ہے کہ چیئر کی طرف سے تعریفی اعتراف نہیں ہونا چاہئے۔ ریکارڈ کو اس لئے درست کر لیا جائے۔ ہاؤس مطمئن ہے کہ جناب یحییٰ بختیار کا طریقہ کار صحیح ہے۔ بس ریکارڈ میں بھی کچھ لکھنا چاہئے باقی حذف کردیں)

پروفیسر صاحب نے Point out کیا ہے کہ Chair کی طرف سے Appreciation نہ ہو۔ ہاؤس کی Satisfication ہو۔ With he conduct of the Attorney- General تشریف لا رہے ہیں۔ جی؟ نہیں۔ I think that is .... Yes?

53 SUPPLY OF COPIES OF THE CROSS- SUPPLY OF COPIES OF THE CROSS- EXAMINATION

Malik Mohammad Jafar: Sir, can I make a submission?

Mr. Chairman: Yes, yes.

Malik Mohammad Jafar: Sir, after this cross-examination ....

Mr. Chairman: Yes.

Malik Mohammad Jafar: .... I assume that there will be a debate and naturally that debate will be conducted on the basis of the examination in chief or the cross-examination.

(ملک محمد جعفر: جناب! ایک عرض ہے کہ اس جرح کے اختتام پر میں سمجھتا ہوں کہ ایک مباحثہ ہوگا جو جرح کی بنیاد اور عدالتی بیان پر منحصر ہوگا۔ تو اس بیان کی نقول تیار ہونی چاہئے

٧٧

صفحہ ١٠٤

104 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(تاکہ ان کا ہم مطالعہ کر سکیں)

Mr. Chairman: Yes, correct.

Malik Mohammad Jafar: So, I think that the copies of this statement ....

Mr. Chairman: Yes.

Malik Mohammad Jafar: .... should, as the statement goes, ....

Mr. Chairman: Yes, I am looking ....

Malik Mohammad Jafar: .... should be prepared so that they can study and ....

Mr. Chairman: I am looking in to the matter. So far as the examination-in-chief is concerned, every member has got the copy.

Malik Mohammad Jafar: Yes. I am mentioning the Cross- examination.

Mr. Chairman: Yes. For the Cross- examination. I will have to make double arrangements. I will discuss this matter with my Secretariat. Today, I will discuss it and I will see that the entire record is available 54 before the debate opens. I think the debate will be after 20th.

(جناب چیئرمین: میں انتظام کر رہا ہوں اپنے سیکرٹریٹ سے مشورہ کروں گا کہ اس کارروائی کی کاپیاں تیار ہو جائیں)

Malik Mohammad Jafar: Yes.

Mr. Chairman: By that time we will prepare the record.

Malik Mohammad Jafar: Yes; and copies

٧٨

105 NATIONAL ASSEMBL

should be supplied.

Mr. Chairman: Cop

(Interru

No, no, that has bee Committee; the questions sho General.

Sardar Moula Bakh

given a copy ....

ہو جائیں تو ہمیں بھی دی جائیں)

(Interr

والیں)

No, Sir, after writing, after you have finished.

(

SUPPLEMENTARY Q EXAM

Mr. Chairman: م

point out. پ سیکنڈ، ایک سیکنڈ کہ جتنے be handed over to Mr.Aziz Ahmad Ansari, so that s disturbed by the Chits. So General will receive these q and whatever possible cour will adopt.

صفحہ ١٠٥

105 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

should be supplied.

Mr. Chairman: Copies of the Cross- examination.

(Interruption)

No, no, that has been decided by the Steering Committee; the questions shall remain with the Attorney- General.

Sardar Moula Bakhsh Soomro: We should be given a copy ....

(سردار مولا بخش: جب کاپیاں تیار ہو جائیں تو ہمیں بھی دی جائیں)

(Interruption)

(ان کو اندر بلوا لیں)

No, Sir, after writing, Sir, we should be given a copy after you have finished.

جناب چیئرمین: ان کو باہر بلوا لیں۔

ایک رکن: جناب والا!...... (مداخلت)

SUPPLEMENTARY QUESTION FOR CROSS-

EXAMINATION

Mr. Chairman: اچھا، ایک سیکنڈ One thing I may also point out. ایک سیکنڈ، ایک سیکنڈ کہ جتنے Questions ہیں سپلیمنٹری these may be handed over to Mr.Aziz Bhatti and to Moulana Zafar Ahmad Ansari, so that the Attorney- General is not disturbed by the Chits. So during the break, the Attorney- General will receive these questions and will examine them and whatever possible course is adopted Attorney- General will adopt.

٧٩

صفحہ ١٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Yes. Sahibzada Safiullah.

(جناب چیئرمین: تمام ضمنی اور اضافی سوالات عزیز بھٹی صاحب کو اور ظفر احمد انصاری صاحب کو دے دیئے جائیں کہ وقفہ کے دوران رقعہ جات جناب یحییٰ بختیار کے لئے مخل نہ ثابت ہوں۔ پھر جناب یحییٰ بختیار وہ طریقہ بروئے کار لائیں گے کہ ان سوالات پر بحث ہو سکے)

جی! صاحبزادہ صفی اللہ۔

CORRECTION OF RECORD OF THE CROSS-

EXAMINATION

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں......

جناب چیئرمین: جی!

صاحبزادہ صفی اللہ: ......کہ عام طریقہ تو پہلے سے یہ ہے کہ جب یہاں اسمبلی میں تقاریر ہوتی ہیں تو رپورٹر صاحبان وہ تقاریر جو ہمیں وہ بھیجتے ہیں تاکہ اس کی تصحیح کریں۔ تو اب کیا طریقہ ہے؟ یعنی یہ رپورٹ جو ہے اب بھی ان کو بھیجے جائیں گے تصحیح کے لئے؟

جناب چیئرمین: کن کو؟ کن کو؟

صاحبزادہ صفی اللہ: یہ جو ہیں۔

جناب چیئرمین: نہیں نہیں۔ ان کو نہیں دی جائیں گی۔ آپ کو دی جائیں گی۔

صاحبزادہ صفی اللہ: اچھا۔

جناب چیئرمین: آپ سب کو، Cross- examination کی۔

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ تصحیح کے لئے یہ رپورٹر جو رپورٹ کرتے ہیں تقریروں کو، تو ان کو بھی دی جائیں گی تاکہ وہ تصحیح کریں اپنے اپنے؟

جناب چیئرمین: نہ، نہ۔ No, no. This is the privilege of the members.

صاحبزادہ صفی اللہ: ہاں! یہ ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: ہاں! Members only.

صاحبزادہ صفی اللہ: میں بھی......

56 جناب چیئرمین: ممبرز کا یہ پرویلیج ہے، صرف ممبرز کا۔

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں۔ اس میں کوئی تبدیلی کریں گے؟

٨٠

NATIONAL ASSEMBL

س میں یہ کریں گے کہ ہم خود اس کو Correct کے بعد ممبرز میں تقسیم کردیں گے۔

Should I call the deleg

Moulana Syed Moham

سے پہلے ایسا موقع دے دیا جاتا کہ وہ اپنے سوال سے اسی انداز سے پوچھا جاتا تو تکلیف نہیں ہوتی۔

Mr. Chairman: I

properly practised. چونکہ کئی Ques اٹھ جاتا ہے۔ آدھا جواب لیا جاتا ہے۔ question.

امنے نہیں۔

Mr. Chairman: Th

TIMINGS OF SITTIN

EXAMI

Mr. Chairman:

جی! کس کا جی؟ ....(Interruption) and then 12:30 to 1:30 and from 8:00 to 9:30.

بجے تک بیٹھیں گے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے ہ بجے تک۔ پھر شام کو چھ سے سوا سات بجے

کا یا سوا سوا گھنٹے کا۔ پھر بریک ہوتا رہے گا۔

(The Delegation

صفحہ ١٠٧

107 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ اس میں یہ کریں گے کہ ہم خود اس کو Correct کر لیں گے۔ ریکارڈ کو ٹیپ کے ذریعے۔ اس کے بعد ممبرز میں تقسیم کر دیں گے۔

Should I call the delegation.

Moulana Syed Mohammad Ali.

مولانا سید محمد علی رضوی: سوالوں سے پہلے ایسا موقع دے دیا جاتا کہ وہ اپنے سوال کی پوری طرح تشریح سنا دیتے، اس کے بعد ان سے اسی انداز سے پوچھا جاتا تو تکلیف نہیں ہوتی۔

Mr. Chairman: I think the method is being properly practised. چونکہ کئی Questions ایسے ہوتے ہیں جن میں آدھا سوال کیا جاتا ہے۔ آدھا جواب لیا جاتا ہے۔ and then skip over to another question.

مولانا سید محمد علی رضوی: ان کے سامنے نہیں۔

Mr. Chairman: They may be called. اچھا ان کو بلالیں۔

----------

TIMINGS OF SITTINGS FOR THE CROSS-

EXAMINATION

Mr. Chairman: We will sit upto 1:30... 10:30 to 11:30 in the morning جی! کس کا جی؟ (Interruption) and then 12:30 to 1:30 and then from 6:00 to 7:15 and then from 8:00 to 9:30.

(جناب چیئرمین: ہم دوپہر ڈیڑھ بجے تک بیٹھیں گے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک۔ پھر ساڑھے بارہ سے ڈیڑھ بجے تک۔ پھر شام کو چھ سے سوا سات بجے تک اور پھر آٹھ سے رات نو یا ساڑھے نو تک۔

ایک رکن: 9:30؟

جناب چیئرمین: ہاں! ایک ایک گھنٹے کا یا سوا سوا گھنٹے کا۔ پھر بریک ہوتا رہے گا۔

(The Delegation entered the Chamber)

----------

٨١

LY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

h.

(جناب چیئرمین: تمام ضمنی اور انصاری صاحب کو دے دیئے جائیں کہ وقفہ کے ثابت ہوں۔ پھر جناب یحییٰ بختیار وہ طریقہ برو جی! صاحبزادہ صفی اللہ۔

ORD OF THE CROSS-

IATION

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا!

جناب چیئرمین: جی!

صاحبزادہ صفی اللہ: ......کہ عام تقاریر ہوتی ہیں تو رپورٹر صاحبان وہ تقاریر جو طریقہ ہے؟ یعنی یہ رپورٹ جو ہے اب بھی ان

جناب چیئرمین: کن کو؟ کن کو

صاحبزادہ صفی اللہ: یہ جو ہیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں

صاحبزادہ صفی اللہ: اچھا۔

جناب چیئرمین: آپ سب کو،

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، میر کرتے ہیں تقریروں کو، تو ان کو بھی دی جائیں

جناب چیئرمین: نہ، نہ۔ e members.

صاحبزادہ صفی اللہ: ہاں! یہ ٹھیک

جناب چیئرمین: ہاں! only.

صاحبزادہ صفی اللہ: میں بھی

56 جناب چیئرمین: ممبرز کا یہ

صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں۔ اس

صفحہ ١٠٨

108 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

57 CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, the Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, you agree that a Christian boy or girl, who has applied for admission to a Medical College, should not be deprived of his right of admission because of false declaration of a Muslim boy?

(جناب یحییٰ بختیار: تو کیا جناب! آپ کو اتفاق ہے کہ ایک عیسائی لڑکا یا لڑکی جس نے میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے درخواست دی ہے۔ اس کو داخلے کا حق حاصل ہے اور اس کو محروم نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس نے مسلمان ہونے کا جھوٹا ڈکلریشن دیا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: That is an exceptional case and exception can only prove the rules. They are not converted into a general rules.

(مرزا ناصر احمد: یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا کیس ہے۔ استثنیات سے تو صرف اصول ثابت ہوئے ہیں جو کہ عام ضوابط میں تبدیل نہیں ہو سکتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I request you, Sir, that if, in such a case, the Principal finds that the declaration is false, he should or should not interfere, he should or should not question that?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! عرض یہ ہے کہ کیا ایسے کیس میں جب کہ پرنسپل کو علم ہو جائے کہ ڈکلریشن جھوٹا ہے تو کیا وہ مداخلت کرے یا نہ کرے۔ کیا وہ سوال جواب کرے یا نہ کرے)

Mirza Nasir Ahmad: If one is sure. And one seldom is.

(مرزا ناصر احمد: ہاں اگر اس کو بالکل یقین ہو جو کہ شاذ نادر ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Just I presume that the

٨٢

109 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

Principal is sure. Of course, if he is does not arise. If the Principal know false ....

فرض کرتا ہوں کہ پرنسپل کو یقین ہے۔ اگر اس کو یقین نہیں ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: If must be done.

کو یقین ہے تو انصاف کیا جانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So پ اس بات سے متفق ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: Bu but I want to add that such excep rule.

ت ہوں۔ مگر یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ایسے غیر معمولی کیس

Mr. Yahya Bakhtiar: T it an exception or something wh often, but you will kindly agre announce ....

آپ اس کو غیر معمولی طور پر پیدا ہونے والا وقوعہ کہیں یا آپ مانتے ہیں کہ اس نوعیت کی آزادی......)

Mirza Nasir Ahmad: cases, Yes.

اخذ کر کے) خاص چند کیس ہیں)

Mr. Yahya Bakhtia

٨٣

صفحہ ١٠٩

109 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Principal is sure. Of course, if he is false, then the question does not arise. If the Principal knows that the declaration is false ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں فرض کرتا ہوں کہ پرنسپل کو یقین ہے۔ اگر اُس کو یقین نہیں ہے تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اگر اسے علم ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: If he is sure, then justice must be done.

(مرزا ناصر احمد: اگر اس کو یقین ہے تو انصاف کیا جانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree?

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ اس بات سے متفق ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: But I am .... I agree with it. but I want to add that such exceptions can only prove the rule.

(مرزا ناصر احمد: میں متفق ہوں۔ مگر یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ایسے غیر معمولی کیس صرف ضابطہ کو ثابت کرتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, whether you call it an exception or something which has happened quite often, but you will kindly agree that this freedom to announce ....

(جناب یحییٰ بختیار: خواہ آپ اس کو غیر معمولی طور پر پیدا ہونے والا وقوعہ کہیں یا ایسا اکثر وقوع پذیر ہوتا رہتا ہو۔ کچھ بھی ہو۔ آپ مانتے ہیں کہ اس نوعیت کی آزادی......)

Mirza Nasir Ahmad: In certain exceptional cases, Yes.

(کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے)

(مرزا ناصر احمد: ہاں! خاص خاص چند کیس ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... this freedom to

٨٣

صفحہ ١١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

announce what one's religion is, is not absolute; there are some qualification.

(جناب یحییٰ بختیار: اس نوعیت کی آزادی کہ ایک شخص اپنے مذہب کے اعلان میں آزاد ہے۔ ایسی آزادی کو مطلق تصور نہیں کیا جائے گا)

58 Mirza Nasir Ahmad: It is absolute; and this exception proves that it is absolute.

(مرزا ناصر احمد: بالکل مطلق اور قطعی تصور کیا جائے گا۔ یہ استثناء ثابت کرتا ہے کہ ایسا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: There could be circumstances when a declaration could be false.

(جناب یحییٰ بختیار: مگر ایسے حالات بھی ہوتے ہیں کہ ڈیکلریشن جھوٹا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: There could be circumstances which could be considered as exceptional.

(مرزا ناصر احمد: اور ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں جن کو غیر معمولی طور پر ہونے والا وقوعہ کہا جا سکتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: But even if exceptional, what will be your ordered action? The court should interfere when the court finds out? Supposing the Christian boy goes and files a writ petition.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر غیر معمولی طور پر ہونے والا وقوعہ بھی ہے۔ پھر بھی آپ اس پر کیا حکم لگائیں گے۔ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ کورٹ کو مداخلت کرنی چاہئے۔ (رکاوٹ) فرض کریں وہ عیسائی لڑکا جا کر رٹ پٹیشن دائر کر دیتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: It depends on the discretion....

(مرزا ناصر احمد: یہ مرضی پر منحصر ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No question of discretion, if

٨٤

صفحہ ١١١

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

is not absolute; there are

(جناب یحییٰ بختیار: اس میں آزاد ہے۔ ایسی آزادی کو مطلق تصور

It is absolute; and this

(مرزا ناصر احمد: بالکل مط ایسا ہے)

r: There could be ould be false.

(جناب یحییٰ بختیار: مگر

d: There could be dered as exceptional.

(مرزا ناصر احمد: اور ایس وقوعہ کہا جاسکتا ہے)

ut even if exceptional, e court should interfere the Christian boy goes

(جناب یحییٰ بختیار: ت اس پر کیا حکم لگائیں گے۔ کیا آپ خی فرض کریں وہ عیسائی لڑکا جا کر رٹ پ

It depends on the

(مرزا ناصر احمد: یہ مرض uestion of discretion, if

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

the evidence comes on the record that the boy, who applied and pretends to be a Christian, is in fact a Muslim ....

(جناب یحییٰ بختیار: مرضی کا کوئی سوال نہیں۔ اگر یہ شہادت آتی ہے کہ جس لڑکے نے درخواست دی ہے وہ جھوٹ موٹ عیسائی بن بیٹھا ہے۔ مگر دراصل ہے مسلمان اگر اس نے کورٹ میں تسلیم کر لیا کہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ کوئی میرے اسلام پر اعتراض نہیں کر سکتا)

Mirza Nasir Ahmad: But if he ....

Mr. Yahya Bakhtiar: And if he admits in the court that I am a Muslim but nobody can question my right to declare?

Mirza Nasir Ahmad: If we come to that extent, my reply is in the negative.

(مرزا ناصر احمد: اگر وہ اس انتہاء تک جاتا ہے تو میرا جواب نفی میں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Even then we should not interfere?

(جناب یحییٰ بختیار: تو پھر بھی ہم مداخلت نہ کریں؟)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں Should not interfere.

Mr. Yahya Bakhtiar: The Christian boy should be deprived of his right?

(جناب یحییٰ بختیار: اور عیسائی لڑکا اپنے حق سے محروم ہو جائے؟)

Mirza Nasir Ahmad: I don't know. We should not question his profession.

(مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں ہمیں اس کے اعتراف پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Anybody can declare?

(جناب یحییٰ بختیار: تو کیا ایک شخص صرف ڈکلیئر کر دے اور وہ اس کے لئے کافی ہے)

٨٥

صفحہ ١١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

59 Mirza Nasir Ahmad: Anybody can declare; and that is enough in the ordinary circumstances of the case. (مرزا ناصر احمد : کوئی شخص بھی ڈکلیئر کر دے اور کیس کے معمولی حالات میں وہ کافی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: A court should not interfere, the Government should not interfere, the Principal sohould not interfere? (جناب یحییٰ بختیار: کیا کورٹ کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ کیا حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ کیا پرنسپل کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے ؟)

Mirza Nasir Ahmad: The example that is before us is that he does not go to the court but goes to the Principal. (مرزا ناصر احمد : جو مثال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ وہ کورٹ کو نہیں جاتا بلکہ پرنسپل کو جاتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing, as I said, the boy files a writ petition in the High Court. The Principal does not question, as you say it is his ritght. (جناب یحییٰ بختیار : میں نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرتا ہے۔ پرنسپل اعتراض نہیں کرتا بقول آپ کے اس کا حق ہے )

Mirza Nasir Ahmad: If the petition goes to the High Court, then the judge will decide on the evidence he receives. (مرزا ناصر احمد : اگر پٹیشن کورٹ کو جاتی ہے تو جج اس شہادت پر فیصلہ کرے گا جو اس کو دستیاب ہوتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, will the judge be in a

٨٦

NATIONAL ASSEMBLY O

position to decide on evidence or sufficient? He says, 'no'. He decla the fundamental right. ا تو کیا جج شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا یا اس شخص کا سوال یہ ہے کہ کیا ڈکلیئریشن کافی ہے اس بناء پر کہ یہ

Mirza Nasir Ahmad: he does not really declare himse then the judge would decide ac receives. تا کہ اگر شہادت یہ ظاہر کرتی ہے کہ واقعی وہ اس مذہب س صورت میں جج شہادت کی بنیاد پر فیصلہ دے گا )

Mr. Yahya Bakhtiar: false, the judge will interfere? ہوئے کہ اگر ڈکلیئریشن جھوٹا ہے تو جج مداخلت کرے گا)

Mirza Nasir Ahmad: decide according to evidence he وئے کہ جج فیصلہ کرے گا شہادت کی مناسبت سے )

Mr. Yahya Bakhtiar: judge has the right to interfer settling the question of Princip in such a righ یہ ہوئے کہ جج کو مداخلت کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ سے کوئی متصادم ہو سکتا ہے )

Mirza Nasir Ahmad

٨

صفحہ ١١٣

Y OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

: Anybody can declare; and rcumstances of the case. (مرزا ناصر احمد: کوئی شخص بھی کافی ہے)

ur: A court should not not interfere, the Principal (جناب یحییٰ بختیار: کیا کورٹ نہیں کرنی چاہئے۔ کیا پرنسپل کو مداخلت نہیں ک

The example that is before he court but goes to the (مرزا ناصر احمد: جو مثال ہما پرنسپل کو جاتا ہے)

No, but supposing, as I n in the High Court. The say it is his right. (جناب یحییٰ بختیار: میں ا اعتراض نہیں کرتا بقول آپ کے اس کا حق

f the petition goes to the ecide on the evidence he (مرزا ناصر احمد: اگر پٹیش اس کو دستیاب ہوتی ہے)

es, will the judge be in a

113 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

position to decide on evidence or should the declaration be sufficient? He says, 'no'. He declares that is enough, that is the fundamental right. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! تو کیا جج شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا یا اس شخص کا ڈیکلریشن کافی ہے جو اس نے پیش کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈیکلریشن کافی ہے اس بناء پر کہ یہ اس کا بنیادی حق ہے)

Mirza Nasir Ahmad: If the evidence shows that he does not really declare himself to be of such a religion, then the judge would decide according to the evidence he receives. (مرزا ناصر احمد: میں جانتا ہوں کہ اگر شہادت یہ ظاہر کرتی ہے کہ واقعی وہ اس مذہب سے نہیں ہے۔ جس کا اس نے ڈکلیئر کیا ہے تو اس صورت میں جج شہادت کی بنیاد پر فیصلہ دے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Then it means that if it is false, the judge will interfere? (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی ہوئے کہ اگر ڈیکلریشن جھوٹا ہے تو جج مداخلت کرے گا)

Mirza Nasir Ahmad: It means that the judge will decide according to evidence he receives. (مرزا ناصر احمد: اس کے معنی یہ ہوئے کہ جج فیصلہ کرے گا شہادت کی مناسبت سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Then it means that the judge has the right to interfere then. I am asking that in settling the question of Principal---- can anybody interfere in such a right? (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی یہ ہوئے کہ جج کو مداخلت کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ کیونکہ سوال اصول کا آ جاتا ہے تو کیا ایسے حق سے کوئی متصادم ہو سکتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Well. I am afraid, what I

٨٧

صفحہ ١١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

comprehend and I might be wrong, that you are giving an exceptional example, not the law.

(مرزا ناصر احمد: مجھے افسوس ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ایک غیر معمولی نوعیت کی مثال لے رہے ہیں اور قانون کی نہیں)

60

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will give you more examples, but I am just clarifying the position as ....

(جناب یحییٰ بختیار: اچھا جناب! میں مزید آپ کو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ پوزیشن کی مزید تصریح کرتا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: If the case goes to the judge, he must decide according to the evidence he receives.

(مرزا ناصر احمد: جج کی جہاں تک بات ہے تو اس کو تو فیصلہ شہادت کے مطابق کرنا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if he comes ....

Mirza Nasir Ahmad: That's the law.

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, if he comes to the conclusion that this declaration is false ....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر جج اس نتیجہ پر آتا ہے کہ ڈکلیئریشن جھوٹا ......)

Mirza Nasir Ahmad: If he comes to the conclusion, then he decides according to his discretion; then God will deal with him.

(مرزا ناصر احمد: اگر وہ نتیجہ پر آتا ہے اور پھر اپنی مرضی پر فیصلہ کرتا ہے تو پھر خدا اس کو سمجھے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: You think there should he no law on the subject?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ سمجھتے ہیں کہ قانون کی پاسداری نہ ہو)

Mirza Nasir Ahmad: This is not a question of law. This is a question of exception in a law.

٨٨

115 NATIONAL ASSEMBLY

سوال نہیں ہے۔ یہاں سوال ہے قانون میں استثناء کا)

Mr. Yahya Bakhtiar: they say that: "I hereby declare form are correct and true to t There is a sort of affidavit; comp

فارم میں وہ ڈکلیئر کرتا ہے: ”میں ڈکلیئر کرتا ہوں کہ ہیں اور میری معلومات کے مطابق سچے ہیں۔“ یہ ل ڈکلیئریشن دیا جاتا ہے)

Mirza Nasir Ahma example. If a person declare believes in five fundamentals of but he doesn't perform Haj ev that, and he doesn't pay any Za profession?

ایک شخص اعلان کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اسلام کن نہ وہ نماز پڑھتا ہے نہ رمضان کے روزے رکھتا اور نہ زکوٰۃ دیتا ہے تو کیا وہ اپنے دعوے میں ......)

Mr. Yahya Bakhti attention to a chapter in Mu who refused to pay Zakat- I n both- and refused to pay, they they not deprived of their rig Jehad was ordered against the

آپ کی توجہ اسلامی تاریخ کے ایک باب کی طرف زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ انصار اور مہاجر

A

صفحہ ١١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: یہاں قانون کا سوال نہیں ہے۔ یہاں سوال ہے قانون میں استثناء کا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, in all these forms they say that: "I hereby declare that these facts given in the form are correct and true to the best of my knowlege." There is a sort of affidavit; complete declaration is given.

(جناب یحییٰ بختیار: ان داخلہ فارم میں وہ ڈکلیئر کرتا ہے: "میں ڈکلیئر کرتا ہوں کہ جو امور واقعہ اس میں درج ہیں وہ درست ہیں اور میری معلومات کے مطابق سچے ہیں۔" یہ ڈکلیئریشن ایک نوعیت کا حلف نامہ ہوتا ہے۔ مکمل ڈکلیئریشن دیا جاتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Let us take another example. If a person declares that he is a Muslim and believes in five fundamentals of Islam, the "Arkan-i-Islam" but he doesn't perform Haj even when he can possibly do that, and he doesn't pay any Zakat, would you believe in the profession?

(مرزا ناصر احمد: یہ مثال لیں کہ اگر ایک شخص اعلان کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ ایمان رکھتا ہے۔ لیکن نہ وہ نماز پڑھتا ہے نہ رمضان کے روزے رکھتا ہے، نہ حج کرتا ہے۔ جب کہ وہ شاید ایسا کر سکتا ہے اور نہ زکوٰۃ دیتا ہے تو کیا وہ اپنے دعوے میں ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will draw your attention to a chapter in Muslim history. Those Muslims who refused to pay Zakat- I mean Ansars and Muhajereen both- and refused to pay, they were Munkrain of Zakat, were they not deprived of their right to be called Muslims and Jehad was ordered against them?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں آپ کی توجہ اسلامی تاریخ کے ایک باب کی طرف مبذول کرتا ہوں۔ ان مسلمانوں کی جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ انصار اور مہاجر

٨٩

صفحہ ١١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

دونوں...... اور ادائیگی سے انکار کر دیا۔ زکوٰۃ کے منکرین۔ کیا ان کو اس حق سے کہ ان کو مسلمان کہا جائے، محروم نہیں کر دیا گیا تھا اور ان کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا)

61 Mirza Nasir Ahmad: No. There are two things, let me clarify this; one thing is not to pay zakat, the other is to declare that ....

(مرزا ناصر احمد: نہیں! یہاں دو باتیں ہیں۔ میں واضح کرتا ہوں۔ دونوں ایک نہیں ہیں۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنا اور دوسری طرف اعلان......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Munkareen, I said.

(جناب یحییٰ بختیار: میں کہہ رہا ہوں منکرین)

Mirza Nasir Ahmad: Munkareen?

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

Mirza Nasir Ahmad: Two things: one is zakat, the other one is just the act, you know, doesn't pay.

جو شخص زکوٰۃ کا انکار کرتا ہے وہ اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایک کا انکار کرتا ہے۔ اس واسطے وہ مسلمان نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but ....

مرزا ناصر احمد: لیکن وہ شخص انکار نہیں کرتا، میں نے یہ مثال دی ہے۔......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں.......

مرزا ناصر احمد: جو شخص یہ کہتا ہے کہ زکوٰۃ دینا ضروری ہے، جو شخص یہ کہتا ہے کہ نماز پڑھنی ضروری ہے، جو شخص یہ کہتا ہے کہ رمضان میں روزے رکھنے ضروری ہیں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اگر طاقت ہو اور حالات اسے اجازت دیتے تو حج کرنا ضروری ہے، اس کے باوجود وہ نماز نہیں پڑھتا یا اور روزے نہیں رکھتا یا اور زکوٰۃ نہیں دیتا یا اور حج نہیں کرتا تو باوجود اس کے عملاً پانچوں چیزوں سے انکار کے ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں کہ نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: مگر اگر وہ کہے میں مسلمان ہوں.......

مرزا ناصر احمد: ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں، یہی میں کہہ رہا ہوں۔

٩٠

NATIONAL ASSEMBL

......

Profes کرتا ہے۔ ......

62 Mr. Yahya Bakhtia

He declares کرتا ہے، Believe

that he be

Mr. Yahya Bakhtiar

refuses, who doesn't accept

denies it.

تاں: کلمہ شہادت کا پڑھنا، نماز پڑھنا، رمضان

میں سے کسی ایک کو، ان پانچ میں سے کسی ایک کو

ہے۔

رہا ہے۔

ہا؟

اس نے اعلان کر دیا۔

D (اعلان) کرے گا؟

De (اعلان) کیا۔

ہے ”میں مسلمان ہوں“ اس کے باوجود؟

Mr. Yahya Bakhti

happened in the history.

63 Mirza Nasir Ahr

be sent to a mental hospital.

صفحہ ١١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......

مرزا ناصر احمد: اگر وہ شخص جو Profess کرتا ہے......

62 Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں but ....

مرزا ناصر احمد: اسلام میں اور Believe کرتا ہے، He declares that he believes in five fundamentals ....

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I said ”منکر ہو“ who refuses, who doesn't accept the concept of zakat or who denies it.

مرزا ناصر احمد: یہ پانچ ارکان ہیں ناں: کلمہ شہادت کا پڑھنا، نماز پڑھنا، رمضان میں روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک کو، ان پانچ میں سے کسی ایک کو منسوخ قرار دیتا ہے وہ انکار کر رہا ہے اپنے اسلام سے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر اس کو......

مرزا ناصر احمد: اسلام سے انکار کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ مسلمان نہیں رہا؟

مرزا ناصر احمد: مسلمان نہیں رہا۔ اس نے اعلان کر دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کون Decide (اعلان) کرے گا؟

مرزا ناصر احمد: اس نے خود Decide (اعلان) کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر وہ کہتا ہے ”میں مسلمان ہوں“ اس کے باوجود؟

مرزا ناصر احمد: وہ کہہ ہی نہیں سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر وہ کہے؟

مرزا ناصر احمد: ان لوگوں نے......

Mr. Yahya Bakhtiar: It is not a rare case. It has happened in the history.

63 Mirza Nasir Ahmad: And if he says it, he must be sent to a mental hospital.

٩١

Y OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

دونوں......اور ادائیگی سے انکار کر دیا۔ زکوٰۃ جائے، محروم نہیں کر دیا گیا تھا اور ان کے خلاف

No. There are two things, not to pay zakat, the other is

(مرزا ناصر احمد: نہیں! یہاں نہیں ہیں۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنا اور دوسری طرف ا

Munkareen, I said.

(جناب یحییٰ بختیار: میں کہہ

nkareen?

Yes.

Two things: one is zakat, now, doesn't pay.

جو شخص زکوٰۃ کا انکار کرتا ہے وہ ا اس واسطے وہ مسلمان نہیں ہے۔

No, but ....

مرزا ناصر احمد: لیکن وہ شخص

جناب یحییٰ بختیار: نہیں...

مرزا ناصر احمد: جو شخص یہ کہت پڑھنی ضروری ہے، جو شخص یہ کہتا ہے کہ رم کہ اگر طاقت ہو اور حالات ہوں اجازت پڑھتا یا اور روزے نہیں رکھتا یا اور زکوٰۃ نہیں سے انکار کے ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں کہ

جناب یحییٰ بختیار: مگر اگر وہ

مرزا ناصر احمد: ہم اس کو م

صفحہ ١١٩

118 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

وہ پاگل آدمی ہے جو یہ کہے گا کہ میں Believe تو نہیں کرتا روزوں میں، میں نماز میں Believe نہیں کرتا......

جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ کہے مرزا صاحب! کہ میری Interpretation کے مطابق زکوۃ بالکل غلط ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا اور یہ Particular Circumstance میں تھا اس لئے میں اس سے منکر ہوں، وہ بھی مسلمان ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ شخص عملاً کہتا ہے کہ میں قرآن کریم کی ان تمام آیات کو منسوخ سمجھتا ہوں جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں قرآن کریم میں۔ ایسے شخص کو آپ کیسے مسلمان کہہ سکتے ہیں جو خود اپنے کافر ہونے کا اعلان کر رہا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ نہیں کہتا۔ وہ خود یہی کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔

مرزا ناصر احمد: اور قرآن کو نہیں مانتا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مانتا۔

I am giving you an extreme example. Supposing an man says that: "I am a Muslim but I don't believe in the Holy Prophet" ....

مرزا ناصر احمد: میرے دل میں آپ کا اور اس سارے ہاؤس کا اتنا احترام ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ آپ اتنی Extreme کی مثالیں نہ دیں۔ کیونکہ ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچیں گے ١؎۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! I am not being disrespectful. I hope you will not consider that I am being disrespectful. I have got all the regard for you. I know you are defending a cause, and you know I am performing a duty. But please see these are not extreme examples. Sometimes we have to go to the extreme to clarify the position.

١؎ غصہ ہو گئے، برا منا گئے۔ مگر اپنے طرز عمل پر غور نہیں فرمایا۔ ٩٢

119 NATIONAL ASSEMBLY OF

بھی بے احترامی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہوں۔ میں امید کرتا گے کہ میں بے احترامی کر رہا ہوں۔ میں آپ کا ہر ممکن میں ایک نصب العین کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور آپ ں۔ لیکن آپ دیکھیں کہ یہ مثالیں انتہائی نوعیت کی نہیں لئے انتہاء تک جانا پڑتا ہے )

سے کسی ایک کا انکار کفر ہے )

۔ پھر میرا جواب یہ ہے کہ جو شخص پانچ جو ارکان اسلام تو کلمہ شہادت ہے، وہ تو پڑھے گا ہی وہ، وہ تو ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم نے، جس شکل میں سنت نے نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور رمضان میں ارشاد فرمایا اور حج کرنے کا ارشاد فرمایا، ان پر ایمان کا بند نہیں۔ جس طرح ہم اس کو ......

ٹھیک ہے۔

ں، میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس طرح ہم جو ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے، ہمیں اس کو

حق حاصل ہے کہ کسی کو غیر مسلم کہیں باوجود اس کے

ہے کہ وہ خود اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان نہیں، جو کہتا

انکار کرے؟ مرزا صاحب! اگر وہ اعلان نہ کرے؟

انکار کر رہا ہے۔

نے اس دن اعلان فرمایا بہتر (٧٢) فرقے ہیں، تے آ جاتے ہیں۔ ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ جی ہم نے۔ مگر نبی کریم ﷺ نے اس کی خبر نہیں دی ہمیں ٩٣

صفحہ ١١٩

119 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: میں بھی بے احترامی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ یہ خیال نہیں کر رہے ہوں گے کہ میں بے احترامی کر رہا ہوں۔ میں آپ کا ہر ممکن احترام کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ آپ بھی ایک نصب العین کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور آپ کو علم ہے کہ میں بھی ایک فرض بجا لا رہا ہوں۔ لیکن آپ دیکھیں کہ یہ مثالیں انتہائی نوعیت کی نہیں ہیں اور بعض وقت صورتحال کی توضیح کے لئے انتہاء تک جانا پڑتا ہے)

(ارکان اسلام میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے)

64 مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ پھر میرا جواب یہ ہے کہ جو شخص پانچ جو ارکان اسلام کے ہیں، ارکان اسلام جو ہیں، ایک تو کلمہ شہادت ہے، وہ تو پڑھے گا ہی وہ، وہ تو Fundamental بنیادی ہے، اصل ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم نے، جس شکل میں اسلام نے نبی کریم میں، نبی اکرم ﷺ کی سنت نے نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور رمضان میں روزے رکھنے کا ارشاد فرمایا اور زکوٰۃ دینے کا ارشاد فرمایا اور حج کرنے کا ارشاد فرمایا، ان پر ایمان کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن عملاً وہ کسی ایک کا بھی پابند نہیں۔ جس طرح ہم اس کو ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ تو ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ...... نہیں، نہیں، میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس طرح ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص جو ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے ہمیں اس کو غیر مسلم کہنا پڑے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی کو غیر مسلم کہیں باوجود اس کے کہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہے؟

مرزا ناصر احمد: میرا پوائنٹ یہ ہے کہ وہ خود اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان نہیں، جو کہتا ہے نماز جو ہے......

جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ اعلان نہ کرے؟ مرزا صاحب! اگر وہ اعلان نہ کرے؟

مرزا ناصر احمد: وہ اپنے عمل سے انکار کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ نے اس دن اعلان فرمایا کہ بہتر (72) فرقے ہیں، تہتر (73)، چوہتر (74) پچھتر (75) فرقے ہو جاتے ہیں۔ ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ جی ہم روزے کو ضروری نہیں سمجھتے ان ارکان میں سے۔

مرزا ناصر احمد: ہو سکتا ہے کہ آ جائے۔ مگر نبی کریم ﷺ نے اس کی خبر نہیں دی ہمیں۔

٩٣

صفحہ ١٢٠

120 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

65 جناب یحییٰ بختیار: تو اگر بہتر (٧٢) فرقے مل کے کہہ دیں کہ نہیں، یہ ایک جز ہم نہیں مانتے۔ یہ ایک شرط جو ہے ضروری نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: جب اسلام کے پانچ ارکان ہیں۔ جن پر اسلام کی بنیاد ہے اور جو شخص...

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں...... نہیں جی، میرا مطلب صرف یہ ہے۔

I am just asking you. If anybody denies one of the essentials of Islam....

(جناب یحییٰ بختیار: میں تو آپ سے صرف یہ کہہ رہا ہوں۔ اگر شخص ضروریات اسلام میں سے منکر ہے)

مرزا ناصر احمد: میں، میں نے......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... can you declare him as a non- Muslim?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا (ضروریات دین میں سے ایک کے انکار کرنے والے کو) آپ مسلمان کہہ سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: جو شخص ان پانچ ارکان میں...... میرا جواب یہ ہے...... جو شخص ان پانچ ارکان میں سے کسی ایک یا زائد کا اعلان کرتا ہے کہ اس کو صحیح مانتا ہی نہیں اور یہ اسلام کا حصہ نہیں، میرے نزدیک اس نے خود کو عملاً کافر قرار دے دیا۔ کسی اور کو ضرورت ہی نہیں کچھ کہنے کی۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی! ابھی میں پھر وہ سٹوڈنٹ کے معاملے پر جا رہا ہوں۔

I would not take that example because you call it an extreme example.

Now, Sir, you know that, in Saudi Arabia non-Muslims are not allowed to visit the holy places .... Mecca and Madina. Supposing a Jew in Holand or Belgium is engaged by the Israelies as their spy and then he makes a declaration and obtains a passport that he is a Muslim. I

٩٤

صفحہ ١٢١

121 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

don't think it will be an extreme example because people have ....

(میں وہ مثال نہیں دہراتا کیونکہ آپ اس کو ایک انتہائی مثال کہتے ہیں۔ اب جناب آپ کو علم ہے کہ سعودی عرب میں غیر مسلموں کو مقامات مقدسہ کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مکہ اور مدینہ۔ فرض کریں ہالینڈ یا بیلجیئم کے ایک یہودی کو اسرائیلی اپنا جاسوس مقرر کرتے ہیں اور وہ ایک ڈکلیئریشن کرتا ہے جس کی بناء پر اس کو مسلمان ہونے کا پاسپورٹ مل جاتا ہے۔ یہ مثال تو میں سمجھتا ہوں۔ آپ اس کو انتہائی مثال نہ سمجھیں گے)

Mirza Nasir Ahmad: No, it is not.

(مرزا ناصر احمد: یہ نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Can his authority be questioned?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا اس کی اتھارٹی (اعلان) پر سوال جواب ہو سکتا ہے؟)

66 Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested as a spy.

(مرزا ناصر احمد: بحیثیت جاسوس کے وہ گرفتار کیا جائے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: After enquiry?

(جناب یحییٰ بختیار: تفتیش کے بعد)

Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested as a spy.

(مرزا ناصر احمد: بحیثیت جاسوس کے وہ گرفتار کیا جائے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں ......)

Mirza Nasir Ahmad: But the question does not arise. Whether he is Muslim or not.

(مرزا ناصر احمد: لیکن سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ مسلمان ہے یا نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am asking you a

٩٥

صفحہ ١٢٢

122 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

simple question, how will he be arrested? Somebody has to enquire into the declaration whether it is ture or false.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے ایک سیدھا سا سوال کر رہا ہوں۔ کیونکہ وہ گرفتار ہوگا تا کہ وقتیکہ کوئی اس کے اعلان میں تفتیش نہ کرے کہ جھوٹا ہے یا سچا ہے اس کا اعلان)

Mirza Nasir Ahmad: When it is proved that he entered the holy place, or that Government area, that Saudi country, with the intention of spying on that country, when it is proved, he would be arrested as a spy, not as a non-Muslim.

(مرزا ناصر احمد : اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ شخص مقامات مقدسہ میں داخل ہو گیا ہے یا سعودی حکومت کے اس حصہ میں اس ملک کے خلاف جاسوسی کرے۔ جب اس کی جاسوسی ثابت ہو جائے گی تو وہ بوجہ جاسوسی پکڑا جائے گا نہ کہ بوجہ غیر مسلم ہونے کے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I will give you another example. Supposing a Journalist out of curiosity, a Christian out of curiosity to see what these Muslims are doing there, he obtains a passport in which he makes a false declaration that he is a Muslim, and wants to see Mecca and Madina ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسری مثال دیتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک صحافی تجسس میں یا ایک عیسائی اس اشتیاق میں یہ دیکھنے کے لئے کہ وہاں مسلمان کیا کرتے ہیں۔ پاسپورٹ حاصل کرتا ہے۔ جس میں وہ غلط ڈکلیئر کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور مکہ اور مدینہ کی زیارت ......)

Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested for submitting a false declaration not as a non-Muslim.

(مرزا ناصر احمد : وہ بوجہ غلط ڈکلیئریشن کے گرفتار ہوگا نہ کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Who is going to question that the declaration is false or not?

٩٦

123 NAT NAL ASSEMBLY O

پوچھے گا کہ ڈکلیئریشن جھوٹ ہے یا سچ )

Mirza Nasir Ahmad: profession.... he would be arre declaration.

ں اس کا بیان ہے۔ غلط جھوٹ ڈکلیئریشن کی بناء پر وہ

Mr. Yahya Bakhtiar: somebody can question his dec Muslim?"

غیر مسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے ) ہے کہ کوئی شخص پوچھ تو سکتا ہے۔ اس کے ڈکلیئریشن کو

Mirza Nasir Ahmad: course.

پوچھے گی، ظاہر ہے)

67 Mr. Yahya Bakhti some authority, is there who about religion?

کتے ہیں نہ کہ ایک اتھارٹی ہے جو ڈکلیئریشن کے

Mirza Nasir Ahm concerned with a man who su

ہے جس نے جھوٹا ڈکلیئرشن دے دیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtia

Mirza Nasir Ahmad

Mr. Yahya Bakhtia

٩

صفحہ ١٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: کون پوچھے گا کہ ڈکلیئریشن جھوٹ ہے یا سچ)

Mirza Nasir Ahmad: False declaration.... not his profession.... he would be arrested for submitting a false declaration.

(مرزا ناصر احمد: غلط ڈکلیئریشن اس کا بیان ہے۔ غلط جھوٹ ڈکلیئریشن کی بناء پر وہ گرفتار ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, the point is that somebody can question his declaration if he says, "I am a Muslim?"

(متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے)

(جناب یحییٰ بختیار: سوال یہ ہے کہ کوئی شخص پوچھ تو سکتا ہے۔ اس کے ڈکلیئریشن کو اگر وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: The authority concerned, of course. (مرزا ناصر احمد: متعلقہ اتھارٹی ہی پوچھے گی، ظاہر ہے)

67 Mr. Yahya Bakhtiar: So, then you agree that some authority, is there who can question a declaration about religion?

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ مانتے ہیں نہ کہ ایک اتھارٹی ہے جو ڈکلیئریشن کے بارے میں پوچھنے کی مجاز ہے)

Mirza Nasir Ahmad: The authority which is concerned with a man who submits a false declaration.

(مرزا ناصر احمد: جو اس سے متعلق ہے جس نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, ....

Mirza Nasir Ahmad: Yes, of course.

Mr. Yahya Bakhtiar: That is exactly what I say,

٩٧

صفحہ ١٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Sir, that you agree that this right to announce what one's religion is, or the declaration what one's religion is, is subject to restriction?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب میں بھی تو یہی کر رہا ہوں۔ آپ کو تسلیم ہے کہ صحیح ہے۔ اب رہا سوال اس کا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا مذہب کے بارے میں اس کا کیا ڈیکلریشن ہے اس پر پابندی کا اطلاق ہے)

Mirza Nasir Ahmad: That is something else.... false declaration. To submit a false declaration, which is proved by investigation by the authority competent to do that, this is someting else.

(مرزا ناصر احمد: وہ دوسری بات ہے۔ غلط ڈیکلریشن کرنا۔ ایک غلط ڈیکلریشن کرنا۔ جس کو مجاز اتھارٹی تفتیش سے جھوٹ ثابت کردے۔ یہ دوسری بات ہوئی)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. I will ask you again. Sir, I think I have not made myself clear. Do you agree that if a person makes a false declaration or any kind of declaration, somebody else has an authority to examine it, enquire into it, question it, about his religion? If I fill in a form....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں پھر اپنا سوال دہراتا ہوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں میں نے شاید اپنے مدعا کو صاف بیان نہیں کیا۔ کیا آپ مانتے ہیں کہ ایک شخص جھوٹا ڈیکلریشن کرتا ہے یا کسی قسم کا ڈیکلریشن تو کوئی شخص یا اتھارٹی اس کی مجاز ہے کہ اس میں انکوائری کرے۔ سوال جواب کرے۔ اس کے مذہب کے بارے میں اگر فارم میں اس کا تذکرہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, not about his religion, but about his declaration.

(مرزا ناصر احمد: نہیں مذہب کی نہیں۔ صرف اس کے ڈیکلریشن کے بارے میں)

٩٨

صفحہ ١٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, in the declaration a falsehood lies in the fact that he is not a Muslim and he says that he is a Muslim.

(جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں۔ ڈکلیئریشن میں ایک جھوٹ موجود ہے کہ وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اور وہ مسلمان نہیں ہے)

Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the declaration, not with his faith.

(مرزا ناصر احمد: اتھارٹی کا تعلق اس کے ڈکلیئریشن سے ہے نہ کہ اس کے مذہب سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, the authority is concerned that no non-Muslim should get in there.

(جناب یحییٰ بختیار: اتھارٹی کا تعلق یہ ہے کہ اس کو فکر ہے کہ کوئی غیر مسلم وہاں داخل نہ ہو جائے)

Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the man who submits a false declaration.

(مرزا ناصر احمد: اتھارٹی کا مقصد اس شخص سے ہے جس نے غلط ڈکلیئریشن دیا ہے)

68 Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, because he is not a Muslim and he is entering.

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اور داخل ہو رہا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Whatever the case might be.

(مرزا ناصر احمد: جو بھی صورت ہو......)

Mr. Yahya Bakhtiar: So ....

Mirza Nasir Ahmad: .... we are least concerned. He declares himself a Muslim, he declares that he represents one of the very big firms who are doing some construction work in Saudi Arabia; he can do this; he can do that.

٩٩

صفحہ ١٢٧

126 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: ہمارے پاس ایک فہرست ہے۔ وہ شخص اپنے آپ کو مسلمان ڈکلیئر کرتا۔ وہ ڈکلیئر کرتا ہے کہ میں ایک بڑی تعمیراتی فرم جو سعودی عرب میں کنسٹرکشن کا کام کر رہی ہے نمائندہ ہوں۔ یہ بھی کر سکتا ہے وہ بھی کر سکتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but ....

Mirza Nasir Ahmad: He has to be questioned about the declaration which he makes ....

(مرزا ناصر احمد: اس سے سوال جواب ہوگا۔ اس ڈکلیئریشن کے بارے میں نہ کہ اس کے مذہب کے بارے میں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....

Mirza Nasir Ahmad: .... which he makes to the authority, not about the faith which he has got.

Mr. Yahya Bakhtiar: I put it in a different language. If a person goes to Saudi Arabia, who in fact, is a Christian or a Jew ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں دوسرے الفاظ میں کہتا ہوں۔ ایک شخص سعودی عرب جاتا ہے اور وہ دراصل ہے عیسائی یا یہودی)

Mirza Nasir Ahmad: But how do you know?

(مرزا ناصر احمد: آپ کو کیسے معلوم؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: In fact, I said.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے دراصل کہا۔ یہ مفروضہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, ....

Mr. Yahya Bakhtiar: This is presumed. So, when ....

Mirza Nasir Ahmad: First you persume it. Then you put that gentleman before a court.

١٠٠

127 NATIONAL ASSEMBLY

ل کرتے ہیں پھر آپ اس شخص کو کورٹ میں لے

Mr. Yahya Bakhtiar: it is presumed. It is a fact .... I doubtful cases .... It is a fact th Jew. But he says that since I h 69 am a Muslim, nobody should q is my human right.

کہہ رہا ہوں کہ یہ مفروضہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ ایک شخص عیسائی ہے یا یہودی لیکن ہونا ڈکلیئر کیا ہے۔ کوئی شخص میرے ڈکلیئریشن کو

Mirza Nasir Ahma goings there? Spying?

ت کیا ہے۔ جاسوسی؟)

Mr. Yahya Bakhtia

میں)

Mirza Nasir Ahma

Mr. Yahya Bakh seeing. He knows that this is centre and he would like to s Muslim nobody else is allowe

۔ سیر تفریح ۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ایک قدیم یہ بھی وہ جانتا ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کسی

صفحہ ١٢٧

127 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: اوّل آپ فرض کرتے ہیں پھر آپ اس شخص کو کورٹ میں لے جاتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say that it is presumed. It is a fact .... I am not talking personally of doubtful cases .... It is a fact that a person is a Christian or a Jew. But he says that since I have declared in my form that I 69 am a Muslim, nobody should question my declaration; this is my human right.

(جناب یحییٰ بختیار: یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مفروضہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے۔ میں کسی شبہ والے کیس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ واقعہ ہے کہ ایک شخص عیسائی ہے یا یہودی لیکن وہ کہتا ہے کہ چونکہ میں نے اپنے فارم میں مسلمان ہونا ڈکلیئر کیا ہے۔ کوئی شخص میرے ڈکلیئریشن کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ میرا انسانی حق ہے)

Mirza Nasir Ahmad: What is the intention of going there? Spying?

(مرزا ناصر احمد: وہاں جانے کی نیت کیا ہے۔ جاسوسی؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, not spying.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جاسوسی نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Curiosity?

(مرزا ناصر احمد: تجسس، شوق؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Out of curiosity, sight seeing. He knows that this is a very old and ancient religious centre and he would like to see it. But he knows that except Muslim nobody else is allowed ....

(جناب یحییٰ بختیار: شوق کی بناء پر۔ سیر تفریح ۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ایک قدیم مذہبی سنٹر ہے اور وہ اس کو دیکھنے کا مشتاق ہے۔ لیکن یہ بھی وہ جانتا ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو اجازت نہیں ہے)

١٠١

AN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد ڈکلیئر کرتا۔ وہ ڈکلیئر کرتا ہے کہ ہے نمائندہ ہوں۔ یہ بھی کر سکتا

to be questioned

(مرزا ناصر احمد اس کے مذہب کے بارے میں

he makes to the got. It in a different who in fact, is a

(جناب یحییٰ بختیار ہے اور وہ دراصل ہے عیسا

you know?

(مرزا ناصر احمد id.

(جناب یحییٰ بختیار umed. So, when ersume it. Then

صفحہ ١٢٩

128 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: In that case a conducted tour should be arranged to take him arround to see the old places and satisfy his curiosity. (مرزا ناصر احمد: ایسی صورت میں سیاحوں کی جماعت کا کسی رہبر کی معیت میں انتظام ہونا چاہیے جو اس کو تمام پرانی جگہ دکھائے اور اس کا شوق پورا کرے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if he is not that all important that is should be arranged, supposing he makes a declaration of this sort, can U.N. Charter help him? Can he say that the Charter gives him the right to declare himself as a Muslim and nobody .... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! یہ اتنا اہم نہیں ہے کہ باقاعدہ انتظام کیا جائے۔ فرض کریں وہ اس نوعیت کا ڈکلیئریشن کرتا ہے اور اقوام متحدہ کا قانون اس کی مدد کرتا ہے۔ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ قانون اس کو اپنے کو مسلمان کہنے کا حق دیتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Every Law, constitutional of otherwise pre-supposes good intentions. (مرزا ناصر احمد: ہر قانون دستوری، غیر دستوری، نیک نیتی پر شروع ہی سے مبنی ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That is what I was going to say. So you say that I announce I am a Muslim, I decide I am a Muslim, I declare I am a Muslim? That means that the declaration must be honest, must be bonafide, must be made in good faith. (جناب یحییٰ بختیار: بالکل! یہی بات میں کہنا چاہ رہا تھا۔ جب آپ کہتے ہیں کہ میں اعلان کرتا ہوں میں مسلمان ہوں میں طے کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں ڈکلیئر کرتا ہوں میں مسلمان ہوں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ میرا ڈکلیئریشن ایماندارانہ ہونا چاہئے۔ سچ مچ اصلی ہونا چاہئے۔ نیک نیتی پر مبنی ہونا چاہئے)

١٠٢

129 NATIONAL ASSEMBL

Mirza Nasir Ahmad submit any false declaration .... ڈکلیئر کیا ہے۔ میں جھوٹے ڈکلیئریشن نہیں دیا کرتا......

Mr. Yahya Bakhtiar makes the declaration .... تو کسی کو جو اعلان کرتا ہے......)

70 Mirza Nasir Ahma many declaration .... بول رہا۔ اس لئے میرے ڈکلیئریشن......)

Mr. Yahya Bakhtia about any particular person bu میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی

Mirza Nasir Ahmad بھی ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar honestly, in good faith, only given to him, not if he makes i in bad faith, then the fundame agree with this proposition? وص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہو سکتا نیتی کے ساتھ تو صرف اتنی صورت میں اس کو رہا ہے در پردہ مقاصد کے لئے بدنیتی کے ساتھ تو اس تجویز سے آپ متفق ہیں)

Mirza Nasir Ahmad only prove the rule.

١٠

صفحہ ١٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: Yes, I declare that I dont't submit any false declaration .....

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں! میں نے ڈکلیئر کیا ہے۔ میں جھوٹے ڈکلیئریشن نہیں دیا کرتا......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. So, anybody who makes the declaration ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ تو کسی کو جو اعلان کرتا ہے......)

70 Mirza Nasir Ahmad: .... I am not telling lies, so many declaration ....

(مرزا ناصر احمد: میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اس لئے میرے ڈکلیئریشن......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am not talking about any particular person but anybody.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں سر۔ میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہو سکتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, anybody.

(مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ کوئی بھی ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: If he makes a declaration honestly, in good faith, only then a fundamental right is given to him, not if he makes if falsely, with ulterior motive, in bad faith, then the fundamental right is not for him. You agree with this proposition?

(جناب یحییٰ بختیار: میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر وہ ایماندارانہ ڈکلیئریشن کرتا ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ تو صرف اتنی صورت میں اس کو بنیادی حق کی مدد حاصل ہے اور اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے درپردہ مقاصد کے لئے بدنیتی کے ساتھ تو اس کو بنیادی حق کا سہارا حاصل نہیں ہے۔ میری اس تجویز سے آپ متفق ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I agree that exception can only prove the rule.

١٠٣

صفحہ ١٣٠

130 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : میں اس سے متفق کہ استثناء سے صرف اصول ثابت ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, not exception. It is the general proposition.

(جناب یحییٰ بختیار : استثناء کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ عمومی اصول ہے)

Mirza Nasir Ahmad: This is my answer.

(مرزا ناصر احمد : یہی میرا جواب ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: A declaration that "I am a Muslim", I say, if I make it in good faith, if should be accepted?

Mirza Nasir Ahmad: If I make ....

Mr. Yahya Bakhtiar: If I make it in good faith?

Mirza Nasir Ahmad: That means that I am honest to God. That is what I mean by this that if I make this in good faith, I am honest to God.

(مرزا ناصر احمد : کہ ایک ڈکلیئریشن ہے۔ جس میں یہ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اگر میں نیک نیتی سے کہتا ہوں تو اس کو قابل قبول سمجھنا چاہئے اور اگر میں بدنیتی میں کہتا ہوں تو اس کے معنی ہوئے کہ میں نے خدا کے ساتھ بے ایمانی کری۔ یہ معنی ہیں اس کے کہ اگر میں یہ ڈکلیئریشن نیک نیتی سے دیتا ہوں تو میں خدا کا ایماندار ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if I give an extreme example that the man was not honest to God or to the man?

(جناب یحییٰ بختیار : میں تو انتہائی بات یہ کہتا ہوں کہ وہ شخص نہ خدا نہ آدمی کا کسی کا بھی سچا نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: The extreme examples are exceptions and the exceptions can only prove the rule, that is the point.

(مرزا ناصر احمد : یہ انتہائی باتیں سب مستثنیات ہیں اور استثناء صرف قاعدے کو

١٠٤

131 NATIONAL ASSEMBLY

71 Mr. Yahya Bakhtiar: here a Christian boy is deprived first proposition. But if we acce wherein you say that it should boy will not be deprived of his will interfere.

ت ہو یا نہ ہو۔ مختصر یہ کہ اگر ہم آپ کی بات قبول کر جائے گا۔ ہاں اگر آپ کی دوسری بات مان لی جائے ۔ تب وہ عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم نہ ہوگا اور

Mirza Nasir Ahmad: غلطی نہیں ہوسکتی؟ یک سے ہوسکتی ہے۔ کتی ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: evidence.

ت کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں) (شہادت) جو ہے.......

Mr. Yahya Bakhtiar:

ہو جائے) Evidence جو ہے.......

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am taking this example.

خص خود کہتا ہے کہ میں بات کر رہا ہوں یہ ایک مثال

١٠٥

صفحہ ١٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ثابت کرتا ہے۔ نکتہ یہ ہے)

71 Mr. Yahya Bakhtiar: They may or may not. But here a Christian boy is deprived of his seat if we accept your first proposition. But if we accept your second proposition, wherein you say that it should be made honestly, then the boy will not be deprived of his seat, but then the Principal will interfere.

(جناب یحییٰ بختیار: نکتہ کی بات ہو یا نہ ہو۔ مختصر یہ کہ اگر ہم آپ کی بات قبول کر لیں تو ایک عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم رہ جائے گا۔ ہاں اگر آپ کی دوسری بات مان لی جائے جو کہ آپ کہتے ہیں کہ ایماندارانہ ہونی چاہئے۔ تب وہ عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم نہ ہوگا اور پرنسپل مداخلت کرے گا)

Mirza Nasir Ahmad: Is he?

وہ جو ہیں پرنسپل صاحب، ان سے غلطی نہیں ہوسکتی؟

جناب یحییٰ بختیار: غلطی تو ہر ایک سے ہوسکتی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ان سے بھی ہوسکتی ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am talking on the basis of evidence.

(جناب یحییٰ بختیار: میں شہادت کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: Evidence (شہادت) جو ہے......

Mr. Yahya Bakhtiar: If proved?

(جناب یحییٰ بختیار: اگر ثابت ہو جائے)

مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں! Evidence جو ہے......

Mr. Yahya Bakhtiar: If a person himself says? Sir, I am taking this example.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص خود کہتا ہے کہ میں بات کر رہا ہوں یہ ایک مثال ہے جناب)

١٠٥

صفحہ ١٣٢

132 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: This is a common fact you know in our courts; quite a few people are sent to the gallows without any murder committed by them, اور nobody to blame.

(مرزا ناصر احمد: ہماری کچہریوں میں یہ ایک عام حقیقت ہے۔ اکثر لوگ سولی پر لٹکادیئے جاتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے قتل ہی نہیں کیا ہوتا۔ کیا کسی کو مورد الزام نہ بنائیں۔ کسی کو ذمہ دارانہ ٹھہرائیں؟ کیونکہ جج جو ہے اس نے شہادت کی رو سے کیا اور کرنا ہے۔ دیکھیں نہ جی!)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I ....

مرزا ناصر احمد: کیونکہ جو Nobody is to blame اس واسطے جج ہے اس نے Evidence کے اوپر کرنا ہے۔ 72 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں جی!

This is a daily thing. When boys get admission, they get domicile certificates or a certificate of permanent residence. I belong to Quetta. Now if I want .......

(یہ روز کا مشاہدہ ہے۔ جب لڑکے داخلہ لیتے ہیں وہ ڈومیسائل یا مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ میں کوئٹہ کا رہنے والا ہوں۔ لیکن اگر میں چاہوں تو ......)

Mirza Nasir Ahmad: Now I tell you this thing that this thing can never happen in America.... false declaration to secure a seat in one of the educational institutions.

(مرزا ناصر احمد: میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ امریکہ میں کبھی ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جھوٹے ڈکلریشن سے کسی تعلیمی ادارے میں سیٹ مل جائے) تو ہم اپنے آپ کو اتنا ایک Extreme example بنانے کے لئے اتنا Degrade کیوں کریں اپنی قوم کے نوجوان کو کہ وہ ایسا کرے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی!

I am giving you an example. I tell you another

١٠٦

133 NATIONAL ASSEM

example. Now, if you thin... destricts, in these college... backward areas. Now Baluc... in the Dow Medical Colleg... those areas get from the... certificate of permanent resi... with it that. "I was born the... in that destrict." On the... admission. Now, suppos... declaration.... and I can ass... many of them....

مثال دی تھی۔ دوسری مثال دیتا ہوں۔ اگر کالجوں میں مختلف اضلاع کے لئے کوٹے مقرر رہے ہیں۔ اب بلوچستان کی تین سیٹ ہیں ڈاؤ لگتے ہیں۔ اگر وہ ڈپٹی کمشنر سے مستقل رہائش کا ں فلاں جگہ پیدا ہوا تھا اور فلاں ضلع کا مستقل ے دے گا۔ فرض کریں وہ جھوٹا ڈکلیئریشن داخل سے ان میں سے بہت کو.......)

Mirza Nasir Ahm...

issued to him.... دے دیا جاتا ہے)

Mr. Yahya Bakhti...

موش)

Mirza Nasir Ahm...

been issued to him ....

دیا گیا ہے)

Mr. Yahya Bakhti...

صفحہ ١٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

example. Now, if you think that degrading. For various destricts, in these colleges, some quotas are fixed for backward areas. Now Baluchistan has got about thirty seats in the Dow Medical College. And if people belonging to those areas get from the Deputy Commissioner the certificate of permanent residence and they file a declaration with it that. "I was born there and I am permanently settled in that destrict." On the basis of that they apply for admission. Now, supposing that he makes a false declaration.... and I can assure you Mirza Sahib there are many of them....

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو ایک مثال دی تھی۔ دوسری مثال دیتا ہوں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ذلیل کرتی ہے۔ یہاں کے کالجوں میں مختلف اضلاع کے لئے کوٹے مقرر ہوئے ہیں۔ کم ترقی یافتہ طبقے کے لئے۔ کوٹے مقرر ہیں۔ اب بلوچستان کی تین سیٹ ہیں ڈاؤ میڈیکل کالج میں لیکن جو لوگ اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر وہ ڈپٹی کمشنر سے مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں اور یہ ڈکلیئریشن کریں کہ میں فلاں جگہ پیدا ہوا تھا اور فلاں ضلع کا مستقل رہائشی ہوں تو اس بناء پر وہ داخلے کے لئے درخواست دے گا۔ فرض کریں وہ جھوٹا ڈکلیئریشن داخل کرتا ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں۔ مرزا صاحب کہ ان میں سے بہت کو ......)

Mirza Nasir Ahmad: .... and a false certificate is issued to him....

(مرزا ناصر احمد: جھوٹا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: ....for a few rupees....

(جناب یحییٰ بختیار: چند روپوں کے عوض)

Mirza Nasir Ahmad: .... and false certificate has been issued to him ....

(مرزا ناصر احمد: اور وہ جھوٹا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

١٠٧

صفحہ ١٣٤

134 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)

Mirza Nasir Ahmad: .... by the District Magistrate .... (مرزا ناصر احمد: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: ....on the basis of his declaration and oath he gets the certificate and he gets the admission.

(جناب یحییٰ بختیار: اس لڑکے کے جھوٹے ڈکلیئریشن کی بنیاد پر حلف کے بعد اس کو سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے اور داخلہ مل جاتا ہے)

73 Mirza Nasir Ahmad: We should condemn his acts .... (مرزا ناصر احمد: اس کے ان افعال کی مذمت کرنی چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I know, but will the Principal of court interfere or not? Or they should enter .....

(جناب یحییٰ بختیار: جانتا ہوں۔ لیکن کیا کورٹ یا پرنسپل اس معاملہ میں مداخلت کریں گے یا وہ ......)

Mirza Nasir Ahmad: .... because the first depends on the evidence before the court ....

(مرزا ناصر احمد: یہ منحصر ہے شہادت پر کورٹ کے روبرو)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So it means that on evidence, if it is found false, the court can interfere?

(جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو معنی ہوئے کہ شہادت اگر جھوٹی پائی جاتی ہے تو کورٹ مداخلت کر سکتی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: If the evidence is there, they should decide accordingly.

(مرزا ناصر احمد: بشرطیکہ شہادت ہے۔ ان کو شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That means ....

Mirza Nasir Ahmad: That is obvious.

١٠٨

صفحہ ١٣٥

135 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : یہ بات ظاہر ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, someone has to enquire? You give this right to somebody to enquire into the fact whether this person has made a false declaration or a true declaration?

(جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کو حق دے گا تحقیق کرنے کا۔ اس بات میں کہ اس شخص نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے یا سچا)

Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.

(مرزا ناصر احمد : چند صورتوں میں ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes?

(جناب یحییٰ بختیار : ہاں؟)

Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.

(مرزا ناصر احمد : چند صورتوں میں ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I do not say in every case. Normally it is not needed.

(جناب یحییٰ بختیار: میں بھی نہیں کہتا کہ ہر صورت میں۔ بالعموم اس کی ضرورت نہیں پڑتی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am sorry to bother you because you raised a question of fundamental right no.20 and the Constitution has got other fundamental rights also.

(جناب یحییٰ بختیار : اب جناب میں آپ کو تکلیف دوں گا۔ کیونکہ آپ نے ایک سوال بنیادی حق نمبر ٢٠ کے بارے میں اٹھایا تھا اور دستور میں دیگر بنیادی حقوق بھی ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.

(مرزا ناصر احمد: جی، جی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now. Article 18 deals with

١٠٩

صفحہ ١٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

freedom of trade, profession and it reads:

74 "Subject to such qualification, if any, as may be prescribed by law, every citizen shall have the right to enter upon any lawful profession or occupation and to conduct any lawful trade or business."

Now, this is also one of the rights just like freedom or religion, freedom of trade, profession and business.

(جناب یحییٰ بختیار: دفعہ نمبر ١٨ آزادی تجارت و پیشہ سے متعلق ہے۔ الفاظ یہ ہیں: "ان قیود کی شرط کے ساتھ اگر کوئی ہوں جو قانون مقرر کرے ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی جائز پیشہ یا کام اختیار کرے یا کوئی مجاز تجارت یا بزنس کرے۔" اب یہ حق بھی ایسا ہی حق ہے جیسے کہ مذہب اختیار کرنے کا حق ہے یا تجارت کاروبار، بزنس کرنے کی آزادی کا حق ہے)

مرزا ناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹری کا Profession اختیار کرنا چاہے اور ڈاکٹری کا اس کے پاس ڈپلومہ نہ ہو تو Law اسے منع کر دے۔

جناب یحییٰ بختیار: منع کر دے، Because this is subject to such qulification. (کیونکہ وہ ان قیود کے ساتھ مشروط ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, ....

(جناب یحییٰ بختیار: اب جناب!......)

Mirza Nasir Ahmad: Such very rational, very fundamental .... (مرزا ناصر احمد: اس قسم کی کوئی معقول یا بنیادی .....)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: .... qualification we expect from .... (مرزا ناصر احمد: قسم کی شرائط ہم مانتے ہیں ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just trying ....

١١٠

NATIONAL ASSE

رہا ہوں)

Mr. Yahya Ba fundamental rights are sub چند پابندیوں سے مشروط ہیں)

Mirza Nasir Ahm

Mr. Yahya Bak qualification. They are not مطلق العنان نہیں ہیں۔ اب جناب!)

75 Mirza Nasir Ah are absolute .... ہیں)

Mr. Yahya Bakh

Mirza Nasir Ahm only prove that the rule, here only, prove that the ru صرف ضابطہ کو ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جو مطلق کی حیثیت رکھتا ہے)

Mr. Yahya Bakh are not qualified; a few qualified can practise. So rule. This a very strict qua لوگ مستند نہیں ہوتے ۔ چند سو مستند ہوتے ت کرنے کے لئے یہ کوئی استثناء نہ ہوا۔ یہ

Mirza Nasir Ah

صفحہ ١٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف بتانا چاہ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... to show that fundamental rights are subject to certain ....

(جناب یحییٰ بختیار: کہ بنیادی حقوق چند پابندیوں سے مشروط ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: The fundamental?

Mr. Yahya Bakhtiar: .... restrictions, some qualification. They are not absolute. Now, Sir....

(جناب یحییٰ بختیار: کچھ حدود ہیں۔ وہ مطلق العنان نہیں ہیں۔ اب جناب!)

75 Mirza Nasir Ahmad: No, no. That means they are absolute .... (مرزا ناصر احمد: جی نہیں! وہ قطعاً مطلق ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: But, Sir, ....

Mirza Nasir Ahmad: .... because these exceptions only prove that the rule, these exceptions you mentioned here only, prove that the rule is absolute.

(مرزا ناصر احمد: کیونکہ یہ مستثنیات صرف ضابطہ کو ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جو مستثنیات یہاں مذکور ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ ضابطہ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, thousands of persons are not qualified; a few hundred are qualified. Only qualified can practise. So this is no exception to prove the rule. This a very strict qualification ....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! ہزاروں لوگ مستند نہیں ہوتے۔ چند سو مستند ہوتے ہیں صرف مستند شخص ہی پریکٹس کر سکتا ہے تو ضابطہ کو ثابت کرنے کے لئے یہ کوئی استثناء نہ ہوا۔ یہ قطعاً سخت شرط ہے)

Mirza Nasir Ahmad: All right, let us ....

(مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے چلئے)

111

صفحہ ١٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: .... on medicine.

Mirza Nasir Ahmad: .... not quarrel over these trifles.

(مرزا ناصر احمد: ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ الجھیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, now the next point is that the trade, it says, or business or profession is a any lawful proession, occupation or to conduct any lawful trade or business. Now, the trade and business is lawful to begin with.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب اگلا پوائنٹ ہے تجارت، بزنس، پیشہ۔ کیا ناجائز طریق ایک جائز کاروبار کے چلانے کے لئے صحیح ہے، تجارت، بزنس شروع کرنا بالکل قانونی بات ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if I start smuggling, I cannot say that this is my fundamental right?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! اگر میں سمگلنگ شروع کردوں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا بنیادی حق ہے)

مرزا ناصر احمد: اس سے زیادہ اچھی مثال ہے جو انڈسٹری نیشنلائز ہو گئی ہے۔ اگر وہ کوئی چالاکی سے انڈسٹری Establish کرنا چاہیں تو وہ Illegal (غیر قانونی) ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But, apart from that.... Sir, I am going into a different field now.... even those trades which are lawful are subject ....

(جناب یحییٰ بختیار: علاوہ ازیں جناب! میں دوسری اور مختلف تجارتوں کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ تمام کاروبار جو قانون میں مجاز ہیں اور مشروط ......)

76 Mirza Nasir Ahmad: They have their own moral code.

(مرزا ناصر احمد: ہر کاروبار کے اپنے چھوٹے چھوٹے مورال کوڈ ہوتے ہیں)

١١٢

صفحہ ١٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: No under the law because the law can make any trade legal or illegal. Now, selling of soap or selling of cars or selling sweets, these are lawful trades in our country at the moment. Now, Sir, you know there is a well known company.... Lever Brothers. They sell soap under the label of Lux, one of them sunlight.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں قانون کی رُو سے کوئی باہر نہیں چھوٹا یا بڑا۔ اگر قانون کسی کاروبار کو غیر قانونی قرار دیتا ہے یا قانونی قرار دیتا ہے مثلاً صابن کا بیچنا، کاروں کا بیچنا، مٹھائیوں کا بیچنا۔ یہ سب ہمارے ملک میں آجکل قانونی کاروبار ہیں۔ مثلاً لیور برادرز ایک کمپنی ہے اور یہ صابن بیچتے ہیں۔ مختلف برانڈ نام میں مثلاً لکس، سن لائٹ وغیرہ)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, supposing I start business and call myself.... because everybody is free to call his business with any name, there is no restriction....

(جناب یحییٰ بختیار: اب بالفرض میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں اور چونکہ ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بزنس کا کوئی نام رکھے تو کیا پابندی ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: There is restriction.

(مرزا ناصر احمد: ہے نہ پابندی)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is another law. Under the fundamental rights ....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن اس کے ساتھ ایک اور قانون ہے اور وہ ہے بنیادی حقوق کا ضابطہ)

Mirza Nasir Ahmad: In the fundamental rights there is a restriction because this law.... the Constitution.... was framed for the honest people of Pakistan.

١١٣

صفحہ ١٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: بنیادی حقوق کے ضابطہ میں ایک پابندی ہے نہ۔ کیونکہ یہ قانون یہ دستور ایماندار پاکستانیوں کے لئے بنایا گیا تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Honest people? (جناب یحییٰ بختیار: ایماندار آدمی؟)

Mirza Nasir Ahmad: Yes, that is understood, you know. (مرزا ناصر احمد: جی ہاں! ظاہر ہے ایمانداروں کے لئے بنایا گیا آپ جانتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. Supposing I say, Sir, I start business and I call myself Lever Brothers and I also produce soap and call it Lux soap, similar label, similar wraping .... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ فرض کریں میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں جس کا نام لیور برادرز رکھتا ہوں اور صابن کا کارخانہ لگا کر صابن کا نام لکس وغیرہ رکھتا ہوں اور ویسا ہی لیبل اور ویسا ہی اوپر کا کاغذ......)

Mirza Nasir Ahmad: Has there been an example of this? (مرزا ناصر احمد: کہیں اس کی کوئی مثال ہے کہ ایسا ہوا ہو؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: There is? (مرزا ناصر احمد: یہاں ہے؟)

77 Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: So, I am asking this that we should be very careful. (مرزا ناصر احمد: اس لئے تو ہم کو (نقالوں) سے ہوشیار رہنا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is why I am giving

١١٤

141 NATIONAL ASSEM

you a concrete example. (کو ایک محسوس نوعیت کی مثال دی ہے)

Mirza Nasir Ahma

Mr. Yahya Bakhti soap in the name of Lever B ورز کے نام پر صابن بیچنا شروع کر دوں ان کا

Mr. Yahya Bakht go to court or not? میرے خلاف کورٹ میں جائیں گے یا نہیں)

Mirza Nasir Ahm

Mr. Yahya Bakh say? Change the label, chan لیبل تبدیل کرے گا، نام تبدیل کرے گا؟)

Mirza Nasir Ahm the evidence. مل دے گا)

Mr. Yahya Bak Brothers are already there. برادرز والے موجود ہیں)

Mirza Nasir Ahm it, yes. ہو جائے تو ٹھیک ہے)

Mr. Yahya Ba reputation for years. They

صفحہ ١٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

you a concrete example.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو آپ کو ایک محسوس نوعیت کی مثال دی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if I start selling soap in the name of Lever Brothers under their label....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر میں لیور برادرز کے نام پر صابن بیچنا شروع کردوں ان کا لیبل لگا کر)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... can the Lever Brothers go to court or not?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا لیور برادرز میرے خلاف کورٹ میں جائیں گے یا نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: They should.

(مرزا ناصر احمد: ان کو جانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And what will the court say? Change the label, change the label, change your name?

(جناب یحییٰ بختیار: پھر کورٹ کیا کہے گا۔ لیبل تبدیل کرے گا، نام تبدیل کرے گا؟)

Mirza Nasir Ahmad: The court would decide on the evidence.

(مرزا ناصر احمد: کورٹ شہادت پر فیصلہ دے گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Let us say Lever Brothers are already there.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! چلئے لیور برادرز والے موجود ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں if, the evidence proves it, yes.

(مرزا ناصر احمد: اگر شہادت سے ثابت ہو جائے تو ٹھیک ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: They are a firm of reputation for years. They have built up a reputation. That is

١١٥

صفحہ ١٤٢

142 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

their soap. You are trading in their name and, therefore, you must change the label, you must change the name of your firm, that they are registered. So, freedom or trade is limited by many considerations that you can't usurp someone else's right. You can't usurp someone else's trade.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مشہور فرم ہے اور تجارت میں یہ نام استعمال کرتے ہیں تو اس صورت میں آپ مجبور ہو جائیں گے کہ اپنی فرم کا نام تبدیل کریں۔ لیبل دوسرا کریں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تجارت و کاروباری آزادی کچھ باتوں کے پیش نظر مشروط ہے۔ کسی دوسرے کا حق آپ نہیں مار سکتے۔ کسی دوسرے کی تجارت کو ہڑپ نہیں کر سکتے)

78 Mirza Nasir Ahmad: Yes, if religion, say christianity, is the monopoly of a certain group then no other group ....

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں! مذاہب میں لیجئے! اگر عیسائی مذہب کسی ایک خاص گروپ کی بلا شرکت غیرے اجارہ داری ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: .... can have the label of christianity.

(مرزا ناصر احمد: تو کیا کوئی اور گروپ عیسائی کا لیبل نہیں لگا سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am not insinuating anything, please I am just dealing with the restrictions on fundamental rights that, in principle, these rights are restricted by Law.

(جناب یحییٰ بختیار: میں جناب کسی بات کی پیش بندی نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو سردست پابندیوں کا ذکر کر رہا ہوں۔ بنیادی حقوق پر کہ اصول یہ ہے کہ بنیادی حقوق پر قانونی پابندیاں ہوا کرتی ہیں)

١١٦

صفحہ ١٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: By rational law.

(مرزا ناصر احمد: لیور برادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally. Law is suppose to be rational. Till it is declared void by the Constitution or the court .... it is suppose to be rational.

(جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر قانون معقول رہتا ہے تاوقتیکہ دستور یا کورٹ اس کو کالعدم قرار نہ دے دے۔ اس لئے قانون معقول ہی ہوا کرتا ہے۔ عقل پر اترنے والا)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... it is supposed to be rational.

Now, law can impose restrictions on the right of tade, on the rights given in Article:20, that if a person .... now I will take ....

(جناب یحییٰ بختیار: قانون معقول رہتا ہے تو جناب قانون کو اختیار ہے کہ تجارت کے حقوق پر پابندیاں عائد کرے اور جو حقوق کہ دفعہ نمبر :٢٠ کے تحت دیئے ہیں ان پر پابندیاں لگائے)

Mirza Nasir Ahmad: Lever Brothers has got the monopoly to use that label.

(مرزا ناصر احمد: لیور برادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is their patent. On that I say....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن اس کا بنانا گارنٹی شدہ اور مضبوط ہے)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I say but who made it patent? The law?

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس کا بنانا گارنٹی ہے قانونی طور پر)

Mirza Nasir Ahmad: The law, yes.

١١٧

صفحہ ١٤٥

144 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں! قانونی طور پر)

79 Mr. Yahya Bakhtiar: We are supposing the law....

Mirza Nasir Ahmad: As far as one's faith is concerned, there is no group which has got monopoly of any faith.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I have not come to that. Yet I am just on the principle of restriction.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! ابھی میں اس بات پر نہیں آیا۔ ابھی تو میں پابندیوں کے اصولی ضابطہ کی بات کر رہا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: You are moving towards that direction on a very narrow and muddy road.

(مرزا ناصر احمد: آپ اسی طرف جا رہے ہیں۔ ایک نہایت تنگ اور کیچڑ بھرے راستے سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not. I have not gone that I may come to it; but it will not be in this form or this shape.

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! میں اسی پر آؤں گا مگر اس شکل اور صورت میں نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: All right.

(مرزا ناصر احمد: اچھا ٹھیک ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just asking that, on principle, if a person takes advantage of somebody ....

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف پوچھتا ہوں کیا اصول ہے اگر ایک شخص فائدہ اٹھاتا ہے کچھ لوگوں سے)

Mirza Nasir Ahmad: You are right, you are perfectly right, but these examples, to my mind.... I am very

١١٨

145 NATIONAL A

humble; don't claim that they are irrelevant.

ہیں۔ لیکن یہ مثال، میں تو سیدھا آدمی میں یہ مثالیں غیر متعلق ہیں)

Mr. Yahya Bak

Mirza Nasir Ah question we are discussin

ں سے غیر متعلق ہیں)

Mr. Yahya B Committee. I can't say a

ں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن......)

Mr. Chairma whether a question is rel

صلہ کرنے کی ہے کہ سوال غیر متعلق ہے یا

Mr. Yahya Bah It is not for me or for yo is not.

ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کون متعلق ہے

Mirza Nasir A me. (

80 Mr. Yahya B

Mirza Nasir A

Mr. Yahya B

صفحہ ١٤٥

145 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

humble; don't claim that I am on right.... but, to my mind, they are irrelevant.

(مرزا ناصر احمد: آپ صحیح ہیں۔ بالکل صحیح ہیں۔ لیکن یہ مثال، میں تو سیدھا آدمی ہوں۔ میں نہیں دعویٰ کرتا کہ میں صحیح ہوں۔ لیکن میری نظر میں یہ مثالیں غیر متعلق ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: They are not irrelevant.

(جناب یحییٰ بختیار: غیر متعلق نہیں ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: They are not relevant to the question we are discussing here.

(مرزا ناصر احمد: جو سوال زیر بحث ہے۔ اس سے غیر متعلق ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, this is for the Committee. I can't say anything, but ......

(جناب یحییٰ بختیار: اب یہ کمیٹی پر ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن......)

Mr. Chairman: It is for the Chair to decide whether a question is relevant or irrelevant.

(جناب چیئرمین: یہ بات چیئرمین کے فیصلہ کرنے کی ہے کہ سوال غیر متعلق ہے یا نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, it is for the Committee. It is not for me or for you to say which is relevant and which is not.

(جناب یحییٰ بختیار: اس پر کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کون متعلق ہے کون غیر متعلق)

Mirza Nasir Ahmad: Which is certainly not for me.

(مرزا ناصر احمد: یقیناً چیئرمین کو فیصلہ کرنا ہے)

80 Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, not for ....

Mirza Nasir Ahmad: I am a witness here.

Mr. Yahya Bakhtiar: But this is for the

١١٩

صفحہ ١٤٦

146 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Committee to decide whether this is relevant or not. But all I wanted to know is whether the legislature can put restrictions on the fundamental rights like this. If a person falsely trades in someone's name.

Now, Sir, reverting back to freedom of religion under Article:20, It says:

"Every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion."

Now, will you please tell us the forms of practice .... no, not only of Islam; I am not talking of it .... generally religions, what does it mean and how you profess and how you practise in your mind?

(جناب یحییٰ بختیار: یہ کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ متعلق ہے یا غیر متعلق۔ لیکن میں تو صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا مجلس قانون ساز اس نوعیت کی پابندیاں بنیادی حقوق پر لاگو کر سکتی ہے یا نہیں۔ وہ یہ کہ ایک شخص دوسرے کے نام پر جھوٹا کاروبار کرتا ہے۔ اگر...... جناب ضابطہ نمبر ٢٠ آزادی مذہب کے بارے میں رقمطراز ہے: ”ہر شہری کو حق حاصل ہوگا۔ اپنے مذہب کے ماننے کا اس پر عمل کرنے کا اور اس کی اشاعت کرنے کا۔“

کیا آپ فرمائیں گے اور بتائیں گے عمل کی مختلف اشکال کے بارے میں نہ صرف اسلام کی بلکہ دوسرے مذاہب کی بالعموم۔ اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ کیسے کسی مذہب پر اعتقاد رکھا جاتا ہے اور اپنے ذہن میں آپ کس طرح اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! ہر مذہب کے عقائد جو ہیں اس کے نتیجہ میں کچھ عبادات ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ عبادت کرو۔ مثلاً عیسائی جو ہیں وہ چرچ میں جاتے ہیں۔ یہ عبادت ہے ان کی اور ایک خاص طریقے پر کرتے ہیں۔ ساتھ باجا بھی بجتا ہے۔ گانا بھی ہورہا ہے تو وہ ان کا طریقہ ہے اور چونکہ اسلام بڑا پیارا مذہب ہے، اسلام نے یہ اعلان کر دیا نبی کریم ﷺ کی زبان سے: جعلت لی الارض مسجدا کہ اگر کوئی شخص مسجد سے اتنا دور ہے کہ عصر کی نماز کا وقت قضا ہو جائے اگر کسی مسجد کی طرف وہ جائے، اس کو حکم ہے جہاں چاہے نماز پڑھ لے۔

١٢٠

صفحہ ١٤٧

147 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

عیسائیوں کے لئے یہ سہولت نہیں۔ وہ اپنے طریق پر کرتے ہیں۔ ایک مسلمان اپنے طریق پر نماز پڑھتا ہے۔ مختلف مسلمانوں کے فرقے جو ہیں وہ بالکل ذیلی فرق کے ساتھ ......

81 Mr. Yahya Bakhtiar: His practice is only confined to prayers or it is more than that, some rituals are also involved?

(جناب یحییٰ بختیار: اس کا عمل صرف نماز تک محدود ہے یا اس سے زیادہ بھی ہے۔ کچھ عبادت کی رسوم بھی ہوں گی)

مرزا ناصر احمد: اسلام میں تو نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور کلمہ شہادت کا اعلان جو ہے اس کے علاوہ عید ہے۔ عید جو ہے وہ ہماری اس کا اپنا ایک بڑا عظیم، بڑا گہرا، بڑا عمیق اور بڑا فلسفہ ہے۔ اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ عیدین ہیں دو، قربانیوں کے بعد وہ آتی ہیں، بڑے سبق ہیں ہمارے لئے۔ اس کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ میں نے تو نہیں گنے۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ سات سو احکام قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور اگر ان کی شرائط پوری ہوں تو سات سو کے سات سو احکام کی پابندی کرنا انسان کے لئے لازمی ہے۔ اس کا عام جو ہمارا استعمال ہے ”Ritual“ کے لفظ کا یعنی میں سیکھ رہا ہوں آپ سے، میں نے ......

جناب یحییٰ بختیار: میں سیکھ رہا ہوں۔ I ask you.

مرزا ناصر احمد: میں نے نہیں پڑھا کہ وہ ”Ritual“ کا لفظ ان کے اوپر استعمال ہو رہا ہو۔ جو مسلمان ہو ...... عیدین کے اوپر ہو جاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ میں کہتا ہوں، میرے دماغ میں انڈین اتھارٹیز ہیں کچھ۔

مرزا ناصر احمد: ہاں؟

جناب یحییٰ بختیار: وہاں جو عید پر، بقر عید پر گائے کی قربانی کرتے تھے، And you may have seen those cases. (آپ نے دیکھی ہوں یہ باتیں)

مرزا ناصر احمد: جی ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: اور وہاں انہوں نے Prevention of Cows Slaughter Act (وہاں پر گاؤکشی امتناع کا ایکٹ ہے) بنایا ہوا ہے کہ گائے کو ذبح نہیں کرتے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو کیا مذہب کی ......

١٢١

صفحہ ١٤٨

148 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

82

مرزا ناصر احمد : ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار : ...... پریکٹس میں دخل ہے یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد : ہاں جی! ٹھیک ہے۔ جو یہ ہماری ہیں عیدین، ہمارے احکام دو قسم کے ہیں۔ ایک جن کا کرنا ضروری ہے، ایک وہ جن کا کرنا جائز ہے۔ جو جائز ہیں اور ضروری نہیں، اگر ان کے خلاف کوئی قانون بن جاتا ہے کسی ملک میں دنیا کے، تو آدمی گنہگار نہیں ہوتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Fundamental, from the point of view of Fundamental Right? It is guaranteed in the Indian Constitution in similar terms more or less.

(بنیادی حقوق کی رو سے ہندوستانی دستور میں کم و بیش انہیں الفاظ میں یہ حقوق گارنٹی شدہ ہیں)

مرزا ناصر احمد : جب مذہب نے اجازت دے دی تو یہ جو ہیں ہمارے Fundamental Rights (بنیادی حقوق) وہ اس کی مخالفت کیسے کریں گے؟

جناب یحییٰ بختیار : وہ تو انہوں نے کی۔

مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں۔ Fundamental Right (بنیادی حقوق) جو ہیں......

Mr. Yahya Bakhtiar: Fundamental Right says you can practise your religion in all the world.

(جناب یحییٰ بختیار : بنیادی حق کہتا ہے کہ تم اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو سکتے ہو)

مرزا ناصر احمد : رلیجن کہتا ہے کہ تمہارے لئے ضروری نہیں ہے گائے کو ذبح کرنا۔

There is no clash in this case, in the example you give here.

(اس معاملہ میں جو آپ یہاں مثال دیتے ہیں کوئی مزاحمت نہیں ہے)

ہمارا مذہب اسلام یہ نہیں کہتا کہ گائے کو ضرور ذبح کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار : ابھی اگر ایک آدمی کے پاس صرف گائے ہے بقرعید پہ اور وہ بیچارہ اس کو قربان کرنا چاہتا ہے......

مرزا ناصر احمد : اور ہمارا مذہب یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر آدمی قربانی دے۔

١٢٢

صفحہ ١٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتا ہے کہ میرے پاس پیسے ویسے ہیں اور گائے بھی میرے پاس ہے اور میں......

83 مرزا ناصر احمد: اگر اس کے پاس پیسے ویسے ہیں تو پھر وہ جا کر دنبہ خریدے موٹا سا، چکی والا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور، اور یہ بتائیے کہ Is this not the freedom of religion? (کیا یہ مذہبی آزادی نہیں ہے؟) کوئی Interference نہیں ہوگا آپ کے ساتھ اگر......

مرزا ناصر احمد: جہاں جواز ہے وجوب نہیں وہاں نہیں ہوگا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر قصائی کہیں جی کہ ہمارا Freedom of trade (آزادی تجارت) پر بھی Effect (اثر) پڑا ہے، وہ بھی نہیں ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: اگر قصائی یہ کہے کہ میں سوائے گائے......

جناب یحییٰ بختیار: میں گائے کا گوشت بیچتا ہوں۔ میری......

مرزا ناصر احمد: ......میں صرف گائے کا گوشت بیچتا ہوں اور بکری کا گوشت میں بیچ ہی نہیں سکتا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں بیچتا ہوں، میرا باپ دادا سے یہی پروفیشن رہا ہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ وہ پروفیشن جو ہے وہ کوئی فرق نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔

مرزا ناصر احمد: توہمات کی دنیا میں......

جناب یحییٰ بختیار: آپ اجازت دیتے ہیں کہ The state should interfere in these matters? (حکومت ان معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is not interference in the freedom of trade. (یہ آزادی تجارت میں مداخلت نہیں ہے)

اس واسطے کہ وہ بغیر کسی نقصان کے گوشت بیچ سکتا ہے۔ آپ لیتے ہیں کہ پروفیشن ہے۔ جو ٹریڈ ہے گوشت بیچنے کی، آپ نے اس کی تعریف یہ کی......گائے کا گوشت بیچنا......

84 جناب یحییٰ بختیار: یہ......

مرزا ناصر احمد: ......اور میں تعریف یہ کرتا ہوں......گوشت بیچنا......چاہے وہ گائے

٢٣٣

صفحہ ١٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کا ہو چاہے بکری کا ہو۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The Constitution says: "Any lawful profession or trade." Now, this was lawful when the fundamental rights came into existence. Then the law was promulgated after that ....

(جناب یحییٰ بختیار: دستور کہتا ہے کوئی مجاز پیشہ یا تجارت ہو۔ یہ اس وقت تک مجاز تھا۔ جب تک بنیادی حق معرض وجود میں آیا۔ قانون اس کے بعد نافذ ہوا)

Mirza Nasir Ahmad: Then it was not lawful after the promulgation of the law. (مرزا ناصر احمد: تب یہ قانونی نہ رہا)

Mr. Yahya Bakhtiar: The law, as Article:8 our Article:8 says similar the Indian parallel Article says Corresponding Article.

(جناب یحییٰ بختیار: قانون کی دفعہ نمبر ٨ اور اسی طرح ہندوستان کی متوازی دفعہ کہتی ہے کہ کوئی قانون......)

مرزا ناصر احمد: مجھے یہ......

Mr. Yahya Bakhtiar: Any law which is in conflict with ....

مرزا ناصر احمد: میں بڑا جاہل آدمی ہوں۔ مجھے آپ کی یہ دلیل......

جناب یحییٰ بختیار: بہر حال! آپ......

مرزا ناصر احمد: ......سمجھ نہیں آئی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......سمجھتے ہیں کہ یہ لاء ٹھیک ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے؟

مرزا ناصر احمد: جہاں جواز ہے وہاں ٹھیک ہے۔ جہاں......

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔

85 مرزا ناصر احمد: ......وجوب ہے وہاں نہیں۔ مثلاً اگر کوئی قانون یہ بنا دے کہ پانچ شادیاں ضرور کرو۔

١٢٤

NATIONAL ASSEMB...

رہا ہوں۔

ہیں، وہ تو پھر Clash ہو گیا۔

میں ان کا مذہب یہ کہے جیسے Mormons کا؟

اور عرض کیا......

میں Mormans میں This is not

Mirza Nasir Ahm...

problems, let us solve ours.

کریں۔ ہم اپنے کریں)

Mr. Yahya Bakhtia...

the freedom of religion all o...

Ahmadis there also, you have ...

ہے آزادی مذہب کا تمام دنیا میں۔ وہاں بھی تو

ے احمدی جو ہیں......

Mr. Yahya Bakhtiar

(......

میں ان کا وہاں کوئی Clash نہیں......

میں Generally (عام طور پر) کہتا ہوں۔

مسلمانوں کا۔

86 Mr. Yahya Bakh...

declaration of human rights b...

حق انسانی کے منشور کا سہارا لیا ہے۔ کیونکہ......)

١٢

صفحہ ١٥١

151 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: یہ اسی پر میں آ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں۔ وہ تو بالکل نہیں، وہ تو پھر Clash ہو گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر قانون نہیں، ان کا مذہب یہ کہے جیسے Mormons کا؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ کو عرض کیا....... مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ....... کہ امریکہ میں Mormans میں This is not only allowed but....

Mirza Nasir Ahmad: Let them solve their problems, let us solve ours.

(مرزا ناصر احمد: وہ اپنے سوال حل کریں۔ ہم اپنے کریں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, we are concerned with the freedom of religion all over the world. You have got Ahmadis there also, you have to worry about their welfare.

(جناب یحییٰ بختیار: ہم کو مطلب ہے آزادی مذہب کا تمام دنیا میں۔ وہاں بھی تو آخر احمدی ہیں۔ آپ کو ان کی بھی تو فکر چاہئے)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ ہمارے احمدی جو ہیں.......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......)

مرزا ناصر احمد: ......اور جو عیسائی ہیں ان کا وہاں کوئی Clash نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں Generally (عام طور پر) کہتا ہوں۔ We are...

مرزا ناصر احمد: ...... اور نہ دوسرے مسلمانوں کا۔

86 Mr. Yahya Bakhtiar: You have relief on declaration of human rights because.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ نے حقوق انسانی کے منشور کا سہارا لیا ہے۔ کیونکہ......)

١٢٥

صفحہ ١٥٢

152 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: Universal Declaration of Human Rights does not clash with the Mormans, to my mind.

(مرزا ناصر احمد : حقوق انسانی کا ہمہ گیر منشور میرے خیال میں مارمن کے ساتھ تصادم نہیں کرتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, a Morman says that it is obligatory on me, my religion enjoins it, that if circumstances permit ....

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں مارمن کہتا ہے کہ یہ اس پر فرض ہے۔ اس کا مذہب حکم دیتا ہے کہ اگر حالات اجازت دیں ......)

مرزا ناصر احمد : اور وہ ساتھ یہ بھی کہتا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار : پریکٹس کو لیجئے۔

مرزا ناصر احمد : ...... کہ میرا فرض پورا ہو جاتا ہے۔ اگر میں چھپ کے کوئی عورت رکھ لوں شادی کر کے، چھپا کے قانون سے، ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے۔ میں نے پڑھی ہیں ان کی کتابیں، اور یہی ان کی پریکٹس ہے۔ یعنی Mormans جو ہیں اگر وہ یہ کہتے کہ ......

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! ......

مرزا ناصر احمد : ...... دوسری شادی کا اعلان کرنا ضروری ہے تو Clash ہو جاتا۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! میں پوچھتا ہوں جب States میں ایک آدمی Railer تھا، اس نے دو شادیاں کر لیں بدبختی سے۔ And he said that I belong to mormon Church and it is obligatory.... (اور یہ کہتا ہے کہ میں مارمن چرچ سے تعلق رکھتا ہوں اور مجھ پر یہ فرض ہے) اس نے بات چھپائی نہیں۔ It is obligatory and this is part of my religion and he produced the authority .... مجھ پر یہ فرض ہے اور میرے مذہب کا حصہ ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: I have read their books.

(مرزا ناصر احمد : میں ان کی کتابیں پڑھ چکا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... and the court said: "We

١٢٦

صفحہ ١٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

send you to jail for five years or 7 years for bigamy, for disrupting our society. We do not accept this much freedom of religion." So, the state could interfere?

(جناب یحییٰ بختیار: ......اور کورٹ کے سامنے سند پیش کرتا ہے اور کورٹ کہتی ہے ہم تم کو پانچ سال یا سات سال کے لئے جیل میں بہ جرم کثیر الازدواجی بھیجتے ہیں کہ تم نے سوسائٹی کو خراب کیا۔ ہم اس قدر مذہبی آزادی کو نہیں تسلیم کرتے تو پھر حکومت کو مداخلت کرنی چاہئے)

87 Mirza Nasir Ahmad: The state commits one type of blunder that gentelman commits another type of blunder.

Mr. Yahya Bakhtiar: Now I take another extreme example, Sir. Supposing a Hindu lady at Noshki or Tharparkar, in Pakistan, says that she want to observe their old Hindu law .... satti .... and wants to burn herself with her dead husband.

(جناب یحییٰ بختیار: اب میں دوسری مثال لیتا ہوں۔ فرض کریں نوشکی یا تھر پارکر کی ایک ہندو خاتون کہتی ہے کہ میں ہندو کا قانون ”ستی“ پر عمل کرنا چاہتی ہوں۔ پاکستان میں اور اپنے مرے ہوئے خاوند کے ساتھ جل جانا چاہتی ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: I do not know of any such law of satti in Hindu Mazhab. (مذہب)

(مرزا ناصر احمد: مجھے کسی ایسے ستی کے قانون کا علم نہیں ہندو مذہب میں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing that we....

Mirza Nasir Ahmad: But there is no such law.

Mr. Yahya Bakhtiar: They used to parctise this.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اس پر عمل پیرا تھے)

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ آپ مثال کیسے دے سکتے ہیں؟ جو چیز ابھی.......

١٢٧

صفحہ ١٥٥

154 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہوتا ہے کہ نہیں؟ مرزا ناصر احمد: لیکن وہ مذہب کے مطابق نہیں ہوتا رہا۔ روایات کے مطابق ہوتا رہا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہندو مت تو سارا روایات ہے۔ ان کا مذہب ہے کیا؟ But (لیکن وہ اس کو اپنا مذہب کہتے ہیں) they call it religion. Mirza Nasir Ahmad: Why don't we .... Mr. Yahya Bakhtiar: But, no, you cannot deny that? آپ اسلام کی مثال دیں۔ Mirza Nasir Ahmad: Right. Mr. Yahya Bakhtiar: I am just saying, supposing.... (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو بالفرض طور پر کہا کہ فرض کریں) مرزا ناصر احمد: نہیں! ہم ...... یہ تو Supposition (فرض کرنے میں) ہماری بہت دور چلی گئی۔ 88 جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں تو جب پھر آپ سے اور سوال پوچھوں گا...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! پوچھیں ...... جناب یحییٰ بختیار: ......تاکہ پوزیشن Clarify ہو۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، صاحب! میں تو جواب دیتا رہوں گا جو میری عقل اور سمجھ کے مطابق ہو۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا کہ Anybody has the right to (کوئی بھی جو چاہے مذہب اختیار کر لے) choose his religion. مرزا ناصر احمد: جی، بالکل! Mr. Yahya Bakhtiar: Now by choose, you mean to select one of the religions already existing' or you can found and start a new religion also? Freedom of religion. (جناب یحییٰ بختیار: پسند سے مطلب یہ ہے کہ جو مذہب وجود میں ہیں ان میں سے ایک یا کوئی نیا مذہب بھی شروع کر سکتے ہیں۔ کیونکہ مذہب بنانے کی آزادی ہے؟ ١٢٨

155 NATIONAL ASSEMBLY O

Universal declaration Human ) ہے۔ اس میں Religion (مذہب) کے اندر Mr. Yahya Bakhtiar: religion also.... a person. A میں نے بتایا ہے نا۔ انہوں نے خود اسے اس یہ چاہا نے جو Freedom ...... مجھے صحیح یاد نہیں۔ (انسانی حقوق کے ہمہ گیر Universal Declar انہوں نے ...... Mr. Yahya Bakhtiar: new religion could be started by a جناب! میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص نیا مذہب بھی شروع 89 Mirza Nasir Ahmad: Mr. Yahya Bakhtiar: Atheism, they may say a new sect they say. There are a hundred, tw Christian Sects, in America only. سائی کہتے ہیں کہ صرف امریکہ میں ٢٠٣ فرقے ہیں) Mirza Nasir Ahmad: ہم مذہب کی بات کر رہے تھے) religion.... Mr. Yahya Bakhtiar: Y ( Mirza Nasir Ahmad: talking of sects in religion. ١٢٩

صفحہ ١٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: جی، یہ جو Universal declaration Human Rights (انسانی حقوق کا ہمہ گیر منشور) ہے۔ اس میں Religion (مذہب) کے اندر انہوں نے Atheism بھی رکھا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: So he can start a new religion also.... a person.

مرزا ناصر احمد: Atheism میں نے بتایا ہے نا۔ انہوں نے خود اسے اس Universal Declaration ....... یہ چائنا نے جو Freedom ....... مجھے صحیح یاد نہیں۔ لیکن Universal Declaration of Human Right (انسانی حقوق کے ہمہ گیر منشور) میں Atheism بطور ریلیجن کے انہوں نے.......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, but I say that a new religion could be started by a person?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص نیا مذہب بھی شروع کر سکتا ہے)

89 Mirza Nasir Ahmad: A sect of Atheism, yes. (مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but they may not say Atheism, they may say a new sect of Christians, for instance they say. There are a hundred, two hundred and three sects, Christian Sects, in America only.

(جناب یحییٰ بختیار: مثلاً عیسائی کہتے ہیں کہ صرف امریکہ میں ٢٠٣ فرقے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I thought we were talking (مرزا ناصر احمد: ابھی تک تو ہم مذہب کی بات کر رہے تھے) religion....

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)

Mirza Nasir Ahmad: .... Now I find that we are talking of sects in religion.

١٢٩

صفحہ ١٥٧

156 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: اب مذہب کے اندر فرقوں کی بات بھی ہونے لگی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sects? (جناب یحییٰ بختیار: فرقے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! Sects جو ہیں وہ ہر ایک میں There are hundreds, thousand sects, schools of .... (فرقے تو ایک ہزار ایک ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing somebody starts a new sect in a religion .... (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کہ کچھ لوگ مذہب میں نیا فرقہ شروع کر لیتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... he also has the freedom? (جناب یحییٰ بختیار: تو کیا اس کو اس کی آزادی ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! بالکل۔ مثلاً میں آپ کو مثال دے دوں تاکہ میری بات واضح ہو جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ایک شخص یہ اعلان کرتا ہے کھڑے ہو کے کہ میں مثلاً ...... میں کسی کو 90 ناراض نہیں کرنا چاہتا ...... کہ دیوبندی مذہب جو ہے اس میں یہ یہ چیزیں، انہوں نے رکھا ہوا ہے۔ میں اس عقیدے کو چھوڑ کے اور باقی باتوں میں دیوبندی ہوں، تو نیا Sect بن گیا۔ اگر وہ ایک بات بھی چھوڑ دیں تو نیا Sect بن گیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am talking ....

مرزا ناصر احمد: اس کی میرے خیال میں اجازت ہونی چاہئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I have taken the extreme example, that supposing, a group of Hippies in Pakistan.... we have got a lot of Hippies these days ..... (جناب یحییٰ بختیار: اب میں ایک انتہائی نوعیت کی مثال لیتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک گروپ ”ہپی“ کا پاکستان میں ہے۔ آج کل تو بہت ”ہپی“ نظر آتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Are they humans?

١٣٠

157 NATIONAL ASSEMBLY OF P

انسان ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Of not deny them that right? شک ! میں امید کرتا ہوں آپ ان سے یہ حق تو نہ لیں)

Mirza Nasir Ahmad: I did نے تو انگلینڈ میں یہ کیا اور ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: The ہپی“؟)

Mirza Nasir Ahmad: version. نے میری بات کو تسلیم کیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: T announce, proclaim, that they are C and then they further announce .... ہپی“ اعلان کر دیں خبر کر دیں، باقاعدہ مطلع کر دیں کہ ہم مزید یہ کہیں)

Mirza Nasir Ahmad: H کو اس کی سزا ملی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No کوئی سزا نہیں دے سکتا)

Mirza Nasir Ahmad: Th clear. ل صاف ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No question when I come to their r further say that marriage is not a sanction. Christ never married. Th 91 are.... permissible, all sorts of them

١٣١

صفحہ ١٥٧

157 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: کیا وہ انسان ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Of course, I hope you will not deny them that right?

(جناب یحییٰ بختیار: بلاشک! میں امید کرتا ہوں آپ ان سے یہ حق تو نہ لیں)

Mirza Nasir Ahmad: I did, in England and ....

(مرزا ناصر احمد: میں نے تو انگلینڈ میں یہ کیا اور ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: These Hippies?

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ”ہپی“؟)

Mirza Nasir Ahmad: .... they accepted my version.

(مرزا ناصر احمد: انہوں نے میری بات کو تسلیم کیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: These Hippies declare, announce, proclaim, that they are Christians of Hippy sect, and then they further announce ....

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ”ہپی“ اعلان کر دیں، خبر کر دیں، باقاعدہ مطلع کر دیں کہ ہم عیسائی ہپی فرقے کے ہیں اور باضابطہ یہ مزید یہ کہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Have they been punished for this?

(مرزا ناصر احمد: کیا ان کو اس کی سزا ملی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Nobody can punish them.

(جناب یحییٰ بختیار: ان کو کوئی سزا نہیں دے سکتا)

Mirza Nasir Ahmad: Then that question is quite clear.

(مرزا ناصر احمد: تو پھر سوال صاف ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am asking further question when I come to their rituals. Supposing they further say that marriage is not an institution, with divine sanction. Christ never married. Therefore, all sex relation are.... promissible, all sorts of them. One declaration. Then

91

١٤١

N 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد

(جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد:

nece schools of ....

g somebody starts

(جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد:

he also has the

(جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد:

واضح ہوجائے۔

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد:

ناراض نہیں کرنا چاہتا ..... ک

میں اس عقیدے کو چھوڑ کے

بات بھی چھوڑ دیں تو نیا ect

I am talking ....

مرزا ناصر احمد:

I have taken the

up of Hippies in

ese days .....

(جناب یحییٰ بختیار

ایک گروپ ”ہپی“ کا پاکستا

umans?

صفحہ ١٥٩

158 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

they further declare that man was born naked and he has the right to go about naked everywhere. That is the second declaration. Now this is the religion. Thirdly, they say that human sacrifice, ritual, killing is good for human......

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں ایک اور سوال کر رہا ہوں جب میں رسومات کی بات کرتا ہوں کہ فرض کریں وہ یہ کہیں کہ شادی کوئی روایت نہیں ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہو کہ اس میں خدائی منظوری ہے۔ عیسیٰ مسیح نے کبھی شادی نہیں کی۔ اس واسطے تمام قسم کے جنسی تعلقات کی اجازت ہے۔ یہ تو ایک اعلان ہوا۔ مزید اعلان کرتے ہیں کہ انسان دنیا میں ننگا پیدا ہوا تھا اور اس کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ہر جگہ ننگا جاسکتا ہے۔ یہ ان کا دوسرا اعلان ہے۔ یہ ہے ان کا مذہب۔ پھر تیسرا یہ کہ انسان کی قربانی یعنی انسان کو مارنا انسانیت کے لئے ٹھیک ہے جائز ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Is that a problem for Pakistan?

(مرزا ناصر احمد: کیا پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No Sir. I am just asking a proposition, that if they declare this is our religion and we call ourselves Christians, and they practise is then we have come to practise, they start going naked in the streets. Do you think that the state should interfere?

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں تو فرض کر رہا ہوں کہ اگر وہ اپنے عیسائی ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مذہب ہے اور یہ ہمارے مذہبی اعمال اور رسوم ہیں تو کیا آپ کے خیال میں حکومت کو دخل اندازی کرنی چاہئے)

Mirza Nasir Ahmad: Subject to morality.

(مرزا ناصر احمد: اخلاقیات کے تحت)

Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree that ........

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے تسلیم کر لیا.......)

Mirza Nasir Ahmad: Subject to morality yes, I

١٣٢

159 NATIONAL ASSEMBLY OF P

agree.

(ات کے تحت ہاں۔ میں تسلیم کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: And subject to morality, or subject to publ

و بشرط اخلاقیات اور بشرط امن عامہ وہ انسانی بھینٹ کا

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

آزادی مشروط ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So restrictions on freedom of religion?

آپ نے تسلیم کر لیا کہ آزادی مذہب پر پابندیاں عائد

Mirza Nasir Ahmad: Th they should be very wisely complied

پابندیاں ہیں۔ مگر ان پر مدبرانہ طور پر عمل پیرا ہونا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: An to be judged by?

ان پابندیوں کے جانچنے کا معیار؟)

Mirza Nasir Ahmad: By

رٹی کے پاس)

کوئی قانون بنا سکتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: C is, they will make law and the co morality?

اتھارٹی کے پاس یعنی کہ وہ اس سے متعلق قانون بنائے

١٣٣

صفحہ ١٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

agree. (مرزا ناصر احمد: اخلاقیات کے تحت ہاں۔ میں تسلیم کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: And they cannot kill either, subject to morality, or subject to public order?

(جناب یحییٰ بختیار: تو بشرط اخلاقیات اور بشرط امن عامہ وہ انسانی بھینٹ کا ارتکاب نہیں کر سکتے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

(مذہبی آزادی مشروط ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree that there are restrictions on freedom of religion?

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے تسلیم کر لیا کہ آزادی مذہب پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: There are restrictions, and they should be very wisely complied with.

(مرزا ناصر احمد: بیشک پابندیاں ہیں۔ مگر ان پر مدبرانہ طور پر عمل پیرا ہونا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And those restrictions have to be judged by?

(جناب یحییٰ بختیار: اور ان پابندیوں کے جانچنے کا معیار؟)

Mirza Nasir Ahmad: By the competent authority.

(مرزا ناصر احمد: مجاز اتھارٹی کے پاس)

(مجاز اتھارٹی قانون بنا سکتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Competent authority. That is, they will make law and the court will carry out public morality?

(جناب یحییٰ بختیار: مجاز اتھارٹی کے پاس یعنی کہ وہ اس سے متعلق قانون بنائے

١٣٣

Aug, 1974 No:01

d and he has is the second they say that man......

(جناب بات کرتا ہوں کہ فرقہ خدائی منظوری ہے۔ اجازت ہے۔ یہ تو ایک کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہ انسان کی قربانی

problem for

(مرزا

just asking a gion and we hen we have e streets. Do

(جناب ہونے کا اعلان کر ہیں تو کیا آپ کے

lity.

(مرزا

ut ........

(جناب

rality yes, I

صفحہ ١٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

گی اور کچہریاں بروئے اخلاقیات عامہ عمل کروائیں گی؟)

Mirza Nasir Ahmad: By the competent authority.

(مرزا ناصر احمد: اتھارٹی مجاز رکھنے والی ہو)

92

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by the competnet

authority. I do not want to ask you further questions

because you mean legislature and courts. One will make the

law and the other will interpret.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں جناب! مجاز اتھارٹی ہی کرے گی۔ میں اب آپ سے

اور زیادہ سوال نہیں کرتا۔ کیونکہ آپ نے قانون ساز ادارے کو ذہن میں رکھ رکھا ہے اور کچہریوں

کو کہ ایک ادارہ قانون سازی کرے اور دوسرا اس کے مفہوم کی توضیح کرے)

Mirza Nasir Ahmad: By competent authority I do

mean competent authority.

(مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں مجاز اتھارٹی۔ میرا بالکل مطلب مجاز اتھارٹی سے ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And you do not want to

define it any further?

(جناب یحییٰ بختیار: اور آپ اس لفظ کی مزید تشریح نہیں کرنا چاہتے مجاز اتھارٹی کی)

Mirza Nasir Ahmad: I need not.

(مرزا ناصر احمد: مجھے مزید تشریح کی ضرورت نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: And you don't mean ....

Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear.

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So, this freedom of

religion is subject to law; the law cannot say that inspite of

the fact that a particular group of people ............

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی یہ ہوئے کہ آزادی مذہب قانون کے نیچے ہے

اور قانون یہ نہیں کہہ سکتا کہ باوجو د اس کے کہ لوگوں کا ایک خاص طبقہ ......)

مرزا ناصر احمد: اچھا، یہاں میں وضاحت کر دوں۔ اخلاق جو ہے ناں Public

١٣٤

صفحہ ١٦١

161 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Morality اس کو دو معنوں میں ہم استعمال کرتے ہیں۔ ایک مذہبی معنی میں مثلاً اسلام نے بڑا تفصیلی Code of Morality (ضابطہ اخلاق) ہمیں دیا ہے اور ایک وہ Morality (اخلاق) ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ہے۔ In the very nature of man. (افتاد طبع میں ہے) وہ خدا تعالیٰ نے اس کو دی ہے جس کے اوپر مثلاً وہ قومیں بھی عمل کر رہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں لاتیں۔ لیکن ان کی فطرت کے اندر یہ ہے کہ یہ Morality (اخلاق) ہے۔ یہ اخلاق ہیں۔ ہمیں ان کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس کی موٹی مثال چین کی ہے۔ چیئرمین ماؤزے تنگ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ طلباء جو ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر باہر نکلیں، پوری طرح با اخلاق ہوں۔ تو ”وہ با اخلاق ہوں“ کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ جو اسلام نے اخلاق پیش کئے ہیں۔ اس کے مطابق با اخلاق انسان کے سامنے پیش کئے ہیں۔ ان کے سامنے با اخلاق ہوں تو یہ جو اس سے بھی نیچے گرتا ہے وہ تو پھر مذاق ہے Subject to Morality (حسن اخلاق و عمل کی شرط) کا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Subject to morality, but the concept of morality changes from time to time, from area to area, and from place to place.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ حسن عمل و اخلاق سے مشروط ہے۔ مگر اخلاق کا ذہن تصور بدلتا رہتا ہے۔ جگہ جگہ وقت وقت خطے خطے سے)

Mirza Nasir Ahmad: As for as a non-religious type of morality is concerned, you are right. As far as Islam is concerned, the fundamental truths and realities of morality do not change ever.

(مرزا ناصر احمد: جہاں تک غیر مذہبی قسم کے اخلاق کا تعلق ہے آپ کی بات صحیح ہے۔ مگر جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ بنیادی اصول صدق اور اخلاقیات کے حقائق واقعی کبھی نہیں تبدیل ہوتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. But if a person does not observe "Purdah" or goes about semi-naked, do you call it immoral? In some cases, it will not be considered immoral.

١٣٥

AN 5th Aug, 1974 No:01 گی اور کچہریاں بروئے اخلاقیا ompetent authority. (مرزا ناصر احمد: , by the competnet further questions , One will make the (جناب یحییٰ بختیار اور زیادہ سوال نہیں کرتا۔ کیونکہ کو کہ ایک ادارہ قانون سازی کر etent authority I do (مرزا ناصر احمد: ou do not want to (جناب یحییٰ بختیار or. (مرزا ناصر احمد: don't mean .... e clear. o, this freedom of t say that inspite of ............. (جناب یحییٰ بختیار اور قانون یہ نہیں کہہ سکتا کہ باوج مرزا ناصر احمد :

صفحہ ١٦٣

162 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! اگر کوئی پردہ نہیں اختیار کرتا اور بے پردہ ہے یا نیم برہنہ پھرتا ہے تو کیا آپ اس کو غیر اخلاقی کہیں گے کچھ صورتوں میں یہ بداخلاقی نہیں سمجھی جائے گی)

Mirza Nasir Ahmad: Why call it immoral? Call it against the laws of Quran.

(مرزا ناصر احمد: بداخلاقی کیوں کہتے ہیں۔ یہ کہئے کہ قرآنی قانون کے خلاف ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: You call everthing against the law of Quran? Not ....

(جناب یحییٰ بختیار: تو ہر چیز کو آپ کیا قرآنی قانون کے خلاف کہیں گے؟ نہیں......)

Mirza Nasir Ahmad: I call everything against the law of Quran when we find a law in Quran about it.

(مرزا ناصر احمد: میں ہر اس چیز کو قرآنی قانون کے خلاف کہوں گا جہاں ہم قرآن میں اس کے لئے قانون پائیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if ....

Mirza Nasir Ahmad: .... not otherwise.

Mr. Yahya Bakhtiar: .... a person is a Christian and he says that it is my right, I am not a Muslim ....

(جناب یحییٰ بختیار: ایک شخص عیسائی ہے وہ کہتا ہے یہ میرا حق ہے۔ میں مسلمان نہیں ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: He has got every right. You cannot interfere.

(مرزا ناصر احمد: بیشک ایسا کہنا اس عیسائی کا حق ہے۔ آپ مداخلت نہیں کر سکتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: He can go about naked?

(جناب یحییٰ بختیار: چاہے وہ ننگا پھرے)

94 Mirza Nasir Ahmad: Not naked, without "purdah".

(مرزا ناصر احمد: ننگا نہیں۔ بغیر پردے کے)

١٣٧

163 NATIONAL ASSEMBLY OF

Mr. Yahya Bakhtiar: Wh نہیں؟)

وسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)

Mr. Yahya Bakhtiar: W man is born free, man is born nake انڈے پھرے ننگا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا وہ)

Mirza Nasir Ahmad: right of other people. تو دوسروں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: you can exercise your freedom of not affect others or deprive others ٹھیک! اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کا سروں پر اثر انداز نہ ہوں یا دوسروں کو ان کے حق سے

Mirza Nasir Ahmad: Q

Mr. Yahya Bakhtiar: T (

Mirza Nasir Ahmad: Q

Mr. Yahya Bakhtiar: Hippies who call themselves Chris ناب! اب یہ جو ”ہپی“ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسائی

صفحہ ١٦٣

163 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Why not?

(جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

(آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Why not? If you say the man is born free, man is born naked, why wear clothes?

(جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہ پھرے ننگا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ ننگا پیدا ہوا ہے تو کیوں کپڑے پہنے وہ)

Mirza Nasir Ahmad: Because it is against the right of other people.

(مرزا ناصر احمد: اس لئے کہ دوسروں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That means that you can exercise your freedom of religion so long as you do not affect others or deprive others of their rights?

(جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک! اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ تاوقتیکہ آپ دوسروں پر اثر انداز نہ ہوں یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کریں)

Mirza Nasir Ahmad: Quite, quite.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: شکریہ)

Mirza Nasir Ahmad: Quite.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, if this sect of Hippies who call themselves Christians ....

(جناب یحییٰ بختیار: اچھا جناب!! اب یہ جو ”ہپی“ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسائی

١٦٣

5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ

برہنہ پھرتا ہے تو کیا آپ اس

immoral? Call it

(مرزا ناصر ا

verthing against

(جناب یحییٰ

thing against the

about it.

(مرزا ناصر ا

میں اس کے لئے قانون پا

.

wise.

n is a Christian

slim ....

(جناب یحییٰ

نہیں ہوں)

every right. You

(مرزا ناصر ا

bout naked?

(جناب یح

aked, without

(مرزا ناصر

صفحہ ١٦٥

164 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کہتا ہے۔ میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Is it a fact?

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just giving you a ridiculous example.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)

مرزا ناصر احمد: میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے ١٩٧٠ء میں ویسٹ افریقہ اور یورپ کا بھی دورہ کیا۔ وہاں مجھ سے یہ سوال انہوں نے کیا کہ Hippies (ہپی) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میرے نزدیک تو انسانوں کی سی زندگی وہ نہیں گزارتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔ یا حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان پر رحم آتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ انسانی اقدار کو سمجھنے 95 لگیں۔ ہماری بنیادی چیز جو اسلام نے ہمیں دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو پہلے انسانی اقدار سیکھنی چاہئیں اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ تب روحانی ترقیات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, all these examples were simply meant to show that freedom of religion, as given, is subject to restrictions, and it may be by law. All I was submitting was that this freedom of religion is subject to restrictions which could be made by law, imposed by law. That was all I was saying.

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب جس قدر یہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اس مدعا سے دی گئی ہیں کہ یہ بتایا جائے کہ مذہبی آزادی جو میسر ہے وہ پابندیوں سے مشروط ہے۔ چاہے وہ پابندیاں قانون کی طرف سے ہوں۔ میرا مفروضہ یہ تھا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی پر قدغن ہے۔ چاہے قانون ضابطہ بنا کر پیش کرے یا قانون ضابطہ پر عمل کرائے۔ میں یہی کچھ کہنا چاہتا تھا)

Mirza Nasir Ahmad: Very carefully and extremely rationally applied.

(مرزا ناصر احمد: ہاں مگر بہت احتیاط سے عمل کروائے انتہائی معقول طور پر عقلیت کے ساتھ)

١٣٨

165 NATIONAL ASSEM

Mr. Yahya Bakhtia

(

Mirza Nasir Ahma

Mr. Yahya Bakh presume the law is rationa working honestly and proper

ہم مانتے ہیں کہ قانون معقول ہوا کرتے یاں ایماندارانہ صحیح طور پر اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ

Mirza Nasir Ahm who execute these laws are a

تے ہیں کہ جو قانون پر عمل کرواتے ہیں۔ وہ

Mr. Yahya Bakh that is presumed.

ر ایماندار۔ یہ مانی ہوئی بات ہے)

Now. Sir, you ha Pakistan, In the preamble called: "The Constitutio Pakistan". That shows wha it has, that will be for a Preamble, it is stated, amon "Wherein the Mus their lives in the individ 96 accordance with the teachin

صفحہ ١٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Rationally.

(جناب یحییٰ بختیار : معقول طور پر)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد : جی ہاں !)

Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally, because we persume the law is rational, we presume the courts are working honestly and properly. That presumtion is there.

(جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں ہی کہ قانون معقول ہوا کرتے ہیں اور ہم نے یہ بھی مان رکھا ہے۔ پہلے سے یہ کچہریاں ایماندارانہ صحیح طور پر اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ مفروضہ تو ہم نے تسلیم کر ہی رکھا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: And we hope that those who execute these laws are also very honest and rational.

(مرزا ناصر احمد : اور ساتھ ہم امید کرتے ہیں کہ جو قانون پر عمل کرواتے ہیں۔ وہ بھی ایماندار اور معقول ہوں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, rational and honest, that is presumed.

(جناب یحییٰ بختیار : بیشک ! معقول اور ایماندار۔ یہ مانی ہوئی بات ہے)

Now. Sir, you have seen the Constitution of Pakistan, In the preamble of the Constitution, the title is called: "The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan". That shows what sort of character is aimed at or it has, that will be for anybody to judge. Then in the Preamble, it is stated, among other things, that

"Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in 96 accordance with the teachings and requirements of Islam as

١٣٩

KISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کہتا ہے۔ میں نے اس بارے میں آ

fact? am just giving you a

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد : میں آ بھی دورہ کیا۔ وہاں مجھ سے یہ سوال رائے ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میر کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفر 95 رحم آتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو روحانی ترقیات کا سوال پیدا ہوتا ہے

Now, Sir, all these ow that freedom of ons, and it may be by freedom of religion is made by law, imposed

(جناب یحییٰ بختیار: ہیں کہ یہ بتایا جائے کہ مذہبی آزاد قانون کی طرف سے ہوں۔ میرا من چاہے قانون ضابطہ بنا کر پیش کرے

very carefully and

(مرزا ناصر احمد : با کے ساتھ )

صفحہ ١٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

said out in the Holy Quran and Sunnah."

(اب جناب! آپ نے پاکستان کا دستور دیکھا ہے۔ دستور کی افتتاحیہ تمہید بھی دیکھی ہے۔ دستور کا نام ہے ”اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور“ اس سے پتہ لگتا ہے کہ دستور کی نوعیت کی قسم کیا ہے۔ ہر شخص اپنا فیصلہ کر سکتا ہے تو دستور کی افتتاحیہ تمہید میں دیگر باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں ۔” تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات و ضروریات اسلام کے بموجب گزار سکیں جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی )

Mirza Nasir Ahmad: And as they believe.

(مرزا ناصر احمد : اور بموجب مسلمانوں کے اعتقاد کے )

Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally every sect is free.

(جناب یحییٰ بختیار : قدرتی طور پر ہر فرقہ آزاد ہے )

Mirza Nasir Ahmad: ہاں Every sect is free.

(مرزا ناصر احمد : کہ ہر فرقہ آزاد ہے )

Mr. Yahya Bakhtiar: Every sect as they believe. Now, but that shows, you know, that religion is part of the duty imposed on the legislature to see that the Muslims .......

(جناب یحییٰ بختیار : ظاہر ہے قدرتی بات ہے۔ ہر فرقہ آزاد ہے۔ بہر حال اس تمہید سے یہ اخذ ہوا کہ مقننہ نے مقننہ پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ اس پر نظر رکھے کہ مسلمان ........)

Mirza Nasir Ahmad: That all sects of Muslims.

(مرزا ناصر احمد : مسلمانوں کے سارے فرقے )

(میری بات پوری ہونے دیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: All sects, I am not excluding anybody, I am not excluding, you need not jump to conclusions that I am excluding you.

(جناب یحییٰ بختیار : جی ہاں سارے فرقے مسلمانوں کے ہیں۔ میں کسی کو خارج نہیں کر رہا۔ آپ کو میری بات کے اختتام سے پہلے کودنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کو خارج والوں میں شامل کروں گا )

١٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF I

زانا صر کی معافی)

Mirza Nasir Ahmad: I am

جھے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Th

"Wherein the Muslims sh their lives in the individual an accordance with the teachings and

So, that means that the Leg it frames laws which require the M accordance with the requirements interpreted by different sects?

انتہائی سادہ ہے۔ تمہید کے الفاظ ”تا کہ مسلمان انفرادی تعلیمات و ضروریات اسلام کے بموجب گزار سکیں۔ جو کہ کہ مختلف فرقوں نے ان کا مفہوم لیا ہو ۔“)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں

ا نے سمجھا ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: T imposed on the Legislature to matters? That is my first question.

کے معنی ہوئے کہ مجلس قانون ساز پر فرض عائد کر دیا گیا کیا ایسا نہیں ہے۔ یہ میرا پہلا سوال ہے )

Mirza Nasir Ahmad: W

کھلے نہیں بنانا چاہیے ) ٩٧

Mr. Yahya Bakhtiar: because they have to make laws

١٤١

صفحہ ١٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر کی معافی)

Mirza Nasir Ahmad: I am sorry.

(مرزا ناصر احمد: معاف کیجئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: The point is simple.... "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam..." So, that means that the Legislature Will see to it that it frames laws which require the Muslim to live their lives in accordance with the requirements of Quran and Sunnah as interpreted by different sects?

(جناب یحییٰ بختیار: میرا پوائنٹ سادہ ہے۔ تمہید کے الفاظ ”تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات و ضروریات اسلام کے بموجب گزار سکیں۔ جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی کے موافق جیسے کہ مختلف فرقوں نے ان کا مفہوم لیا ہو۔“)

Mirza Nasir Ahmad: Yes, as interpretted.

(مرزا ناصر احمد: جیسا انہوں نے سمجھا ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: That means there is a duty imposed on the Legislature to make laws in religious matters? That is my first question.

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی ہوئے کہ مجلس قانون ساز پر فرض عائد کر دیا گیا ہے کہ مذہبی امور میں قانون سازی کرے۔ کیا ایسا نہیں ہے۔ یہ میرا پہلا سوال ہے)

Mirza Nasir Ahmad: We should not generalise.

(مرزا ناصر احمد: ہمیں قاعدہ کلیہ نہیں بنانا چاہیے)

97 Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking that because they have to make laws to see to it that they live

١٤١

صفحہ ١٦٨

168 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

their lives in accordance with the injunctions of Islam. (جناب یحییٰ بختیار: ایسا نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مقننہ کو قانون سازی کرنی ہے۔ اس مقصد سے مسلمان اپنی زندگیوں کو احکام اسلامی کے مطابق بنا کر رہ سکیں ......)

مرزا ناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ ......

Mr. Yahya Bakhtiar: I won't say that because a law is made by a Sunni ..... (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ایک سنی نے قانون بنایا ......)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, .... (مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... it should be enforced on a Shia. (جناب یحییٰ بختیار: تو شیعہ پر اس کو لاگو کرنا چاہیے)

مرزا ناصر احمد: اس میں کوئی جھگڑا ہی نہیں آپس میں۔ وہ جھگڑا نہیں میرے ذہن میں اس وقت اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ اگر جماعت احمدیہ یہ سمجھتی ہے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھانے چاہئیں ......

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not suggesting this. (جناب یحییٰ بختیار: میں اس طرف اشارہ نہیں کر رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں ...... تو ان کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ جماعت احمدیہ قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھاتی۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، یہ ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I say but they can make laws? I am only concerned with the principle that Legislature and the Parliament can make laws on this subject. Second thing is, Sir .....

١٤٢

169 NATIONAL ASSEMBLY OF PAI

یہ ٹھیک ہے، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ وہ قانون بنا سکتے ہیں۔ مقننہ اور پارلیمنٹ اس بارے میں قانون بنانے کا حق رکھتے

ازی بنیادی عقائد کے مطابق)

Mirza Nasir Ahmad: fundamental belief.... ن بنانے کا حق رکھتے ہیں بنیادی اعتقاد کے موافق ......)

98 Mr. Yahya Bakhtiar: Yes جی ہاں)

Mirza Nasir Ahmad: .... of گے کے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Y deatils. But, Sir, I am saying in princ to the Legislature? جناب آپ تو تفصیل میں جارہے ہیں۔ میں اصول کی بات سازی کا حق دیا ہے) لئے Detail (تفصیل) میں جارہا ہوں کہ یہ نہ ہو کہ کل کو سیا۔

You can explain and add to anything which you say in answer to میں وضاحت کرسکتے ہیں۔ اپنا جواب دیتے وقت گھٹا بڑھا

یں ، ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... am just saying that in principle this Constitution?

١٤٣

صفحہ ١٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ٹھیک ہے، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ وہ قانون بنا سکتے ہیں۔ میرا مطلب تو اصولوں سے ہے کہ مقننہ اور پارلیمنٹ اس بارے میں قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ جناب......)

(قانون سازی بنیادی عقائد کے مطابق)

Mirza Nasir Ahmad: In the liht of the fundamental belief....

(مرزا ناصر احمد: قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں بنیادی اعتقاد کے موافق......)

98Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)

Mirza Nasir Ahmad: .... of every sect.

(مرزا ناصر احمد: ہر فرقے کے)

Mr. Yahya Bakhtiar: You are going, Sir, in deatils. But, Sir, I am saying in principle you give this power to the Legislature?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب آپ تو تفصیل میں جارہے ہیں۔ میں اصول کی بات کررہا ہوں کہ ان کو آپ نے یہ قانون سازی کا حق دیا ہے)

مرزا ناصر احمد: میں اس لئے Detail (تفصیل) میں جارہا ہوں کہ یہ نہ ہو کہ کل کو ہم Detail (تفصیل) بھول جائیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی نہیں۔ You can explain and add to anything which you say in answer to my question. I am not .... (آپ میرے سوال کے جواب میں وضاحت کر سکتے ہیں۔ اپنا جواب دیتے وقت گھٹا بڑھا سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔ نہیں، ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... suggesting that. But I am just saying that in principle this is a duty imposed by the Constitution?

١٤٣

صفحہ ١٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: اس وقت میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے مجلس قانون ساز پر یہ فرض عائد کیا ہے)

(Interruption)

مرزا ناصر احمد: یہ (مائیک) کام نہیں کر رہا شاید۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The other one?

مرزا ناصر احمد: ...... یا مرضی نہیں کام کر رہی، یہاں نقصان نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just submitting that, in principle, the Constitution has imposed a duty on the National Assembly or the Parliament, that they should see to it, by making laws, that the Musalamans live their lives in accordance with the injunctions of Quran and Sunnah?

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے قومی اسمبلی پر یہ فرض عائد کیا ہے۔ یعنی پارلیمنٹ پر کہ وہ یہ دیکھے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جس کے باعث مسلمان اپنی زندگیاں احکام قرآن و سنت کے موافق گزاریں)

99 Mirza Nasir Ahmad: That Ahmadis live their lives in accordance with their interpretation?

(مرزا ناصر احمد: احمدی لوگ اپنی زندگیاں اپنے مفہوم احکام کے مطابق گزار رہے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: And Wahabis live their lives in accordance with their interpretation?

(مرزا ناصر احمد: وہابی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: And Barelvi, .... yes.

١٤٤

171 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

یلوی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am

مرا مدعا کہنے کا یہ ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... t do it?

کہ مقننہ ایسا کر سکتی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: With

اس تفصیل کے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: .... I

نے بتائی ہے اس کے مطابق صحیح ہے۔ میں بالکل مانتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now of Constitution to which I respectful Article:2 of the Constitution.

جناب! دستور کی اگلی دفعہ یہ ہے کہ میں بصد احترام آپ کی بر ٢ یہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(I

Mr. Yahya Bakhtiar: It s state religion of Pakistan."

سلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: Thi

ہے)

١٤٥

صفحہ ١٧١

171 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : اور بریلوی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am only asking ....

(جناب یحییٰ بختیار : میرا مدعا کہنے کا یہ ہے)

مرزا ناصر احمد : ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that the Legislature can do it?

(جناب یحییٰ بختیار: کہ مقننہ ایسا کرسکتی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: With that detail ....

(مرزا ناصر احمد: بشرط اس تفصیل کے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار : جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: .... I quite agree with it.

(مرزا ناصر احمد: جو میں نے بتائی ہے اس کے مطابق صحیح ہے۔ میں بالکل مانتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, the next provision of Constitution to which I respectfully draw you attention is Article:2 of the Constitution.

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! دستور کی اگلی دفعہ یہ ہے کہ میں بصد احترام آپ کی توجہ منعطف کراتا ہوں۔ دستور کی دفعہ نمبر ٢ یہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد : جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: It says: "Islam shall be the state religion of Pakistan."

(جناب یحییٰ بختیار: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: This is Preamble.

(مرزا ناصر احمد : یہ تمہید ہے)

١٤٥

5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ

مجلس قانون ساز پر یہ فرض

مرزا ناصر ا

e?

مرزا ناصر ا

ٹھیک ہے۔ جی۔

ubmitting that, a duty on the y should see to e their lives in l Sunnah?

(جناب یحییٰ

یہ فرض عائد کیا ہے۔ تو مسلمان اپنی زندگیاں ا

radis live their

(مرزا ناصر

(جناب یحییٰ

| live their lives

(مرزا ناصر

(جناب ی

... yes.

صفحہ ١٧٢

172 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: No, this is Article:2, this is not Preamble.

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ یہ دفعہ نمبر ٢ ہے تمہیدیہ نہیں ہے)

100 مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے رکن سے) دکھاؤ کانسٹی ٹیوشن ہے یہاں؟ جناب یحییٰ بختیار: کانسٹی ٹیوشن دے دیجئے۔ مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) آرٹیکل نمبر: ٢ نکالنا۔

This is Introduction. Yes.

Mr. Yahya Bakhtiar: This is Article:2.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ دفعہ نمبر: ٢ ہے) مرزا ناصر احمد: ہاں! In the Introduction. Very wise.

Mr. Yahya Bakhtiar: And if you could kindly tell us what are the implications of this; what does it mean?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ براہ کرم یہ بتاسکیں گے کہ اس کا کیا مطلب ہوا۔ اس سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear. Islam is the religion of the State.

(مرزا ناصر احمد: یہ ایک صاف بات ہے۔ حکومت کا مذہب اسلام ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: It means that, in our Constitution, politics and religion are not kept separately. We are not a secular state and that....

(جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ سیاست اور مذہب علیحدہ علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ ہم غیر مذہبی حکومت نہیں ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I don't know. To my mind, it means that the politics takes on itself the responsibility to : guard the interests of the religion.

(مرزا ناصر احمد: میں کہہ نہیں سکتا۔ میرے خیال میں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت

١٤٦

صفحہ ١٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کی سیاست مذہب کے مفاد کی حفاظت کی ذمہ دار ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, exactly, because of the difference....

(جناب یحییٰ بختیار: بالکل صحیح۔ قطعا)

Mirza Nasir Ahmad: Because something different. And it is not the mixture of the two.

(مرزا ناصر احمد: کیونکہ کچھ چیزیں مختلف ہیں اور یہ کہ ان دونوں کا یہ کوئی مرکب نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that, under the American Constitution, it is provided that the State shall not establish any religion or another, it will not side with one sect or another; it will be absolutely neutral in religious matters. But ....

(جناب یحییٰ بختیار: امریکہ کے دستور میں یہ ہے کہ حکومت مذہب کے اندر قائم نہیں ہوگی۔ یعنی کہ اس مذہب کی یا اس مذہب کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ ایک فرقہ کی یا دوسرے فرقہ کی حمایت نہیں کرے گی اور مذہبی معاملات میں قطعا غیر جانبدار رہے گی)

101 Mirza Nasir Ahmad: They also mean that State will not side with one religion or the other.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں۔ حکومت کسی ایک خاص مذہب کا ساتھ نہیں دے گی)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but here ....

Mirza Nasir Ahmad: It only says on the opposite side, you know, that the politics of this country takes upon itself the responsibility to safeguard the interests of Islam.

(مرزا ناصر احمد: لیکن ادھر یہ بات ہے کہ جیسے آپ جانتے ہیں کہ اس ملک کی حکومت نے اسلام کے مفاد کی حفاظت کے لئے ذمہ داری اٹھالی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی تو میں کہہ رہا ہوں)

١٤٧

صفحہ ١٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: It does not say that we would not be partial to those who do not believe in Islam. (مرزا ناصر احمد: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو لوگ اسلام کے معتقد نہیں ہیں ان کے ساتھ ہم جانبدار رہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not saying that. No that is their fundamental rights.... No, not in the least, not as far the non-Muslims are concerned....

Mirza Nasir Ahmad: That clears the matter now. (مرزا ناصر احمد: اس سے اب یہ بات صاف ہوگئی)

Mr. Yahya Bakhtiar: As far as the Muslims are concerned, it will encourage them to see that they live their lives in accordance with the injunctions of Islam. (جناب یحییٰ بختیار: مسلمان اپنی زندگی احکام اسلام کے مطابق گذاریں گے)

Mirza Nasir Ahmad: They say their prayers, they don't drink, they pay their Zakat, things like that. (مرزا ناصر احمد: جی ہاں گزار رہے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں۔ شراب نہیں پیتے۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, there is further provision in the Constitution, Article:41 and Article:91.... (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب دستور میں ایک دفعہ نمبر ٤١ اور نمبر ٩١ بھی ہے ......)

Mirza Nasir Ahmad: That is ....

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that requires that the President and the Prime Minister shall be Muslims. (جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر اور وزیر اعظم مسلمان ہوں گے)

Mirza Nasir Ahmad: That is not the fundamental.... (مرزا ناصر احمد: یہ بنیادی نہیں ہے)

صفحہ ١٧٥

175 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, this is part of the Constitution.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں۔ یہ بات دستور کا حصہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Under the heading?

102

Mr. Yahya Bakhtiar: This is not a directly part but obligatory part.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ہدایت نہیں ہے بلکہ لازمی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Obligatory part?

(مرزا ناصر احمد: لازمی حصہ ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Because Preamble is not enforceable. (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ تمہید نافذالعمل نہیں ہوتی)

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: But this part ....

Mirza Nasir Ahmad: This is enforceable?

(مرزا ناصر احمد: یہ بات نافذالعمل ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Enforceable part.

(جناب یحییٰ بختیار: نافذالعمل ہے)

Mirza Nasir Ahmad: This is after the Principles of Policy. Yes. (مرزا ناصر احمد: یہ اصول پالیسی کے تحت ہے۔ جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am going again to give that example. Supposing somebody, a very important man, a very popular man in our country, but not a Muslim, he files a declaration that "I am a Muslim and want to contest a election." Can anybody question that?

(جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! فرض کریں کوئی شخص کوئی اہم شخص کوئی ہمارے ملک کا بڑا ہر دلعزیز آدمی جو مسلمان نہیں ہے۔ یہ ڈکلیئریشن لگا دیتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور اس

١٧٥

صفحہ ١٧٦

176 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

عہدے کے لئے لڑنا چاہتا ہوں کیا کوئی شخص اس پر اعتراض کرسکتا ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: He could neither be pious nor great.

(مرزا ناصر احمد : ایسا آدمی نہ اہم ہو سکتا ہے نہ بڑا اور نہ خدا ترس پارسا)

Mr. Yahya Bakhtiar: If he is not a Muslim?

(جناب یحییٰ بختیار: اسی صورت میں کہ اگر وہ مسلمان نہیں ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, if he files this declaration, how could you call him a pious man and a great man?

(مرزا ناصر احمد : نہیں اگر ایسا شخص ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو آپ اس کو کیسے متقی اور بڑا کہہ سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but he makes a false declaration. People say: "Well somehow we made a mistake; we want to ...."

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن وہ ایک جھوٹا اعلان کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ: ”کسی نہ کسی طرح ہم نے ایک غلطی کی ہے ہم چاہتے ہیں......“)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, if he files such an horrid declaration, then he is neither pious nor great.

(مرزا ناصر احمد : اگر وہ ایسا سخت قابل اعتراض ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو وہ نہ پارسا ہے اور نہ بڑا آدمی)

103 Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am just asking. Supposing a person....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ فرض کریں ایک شخص ......)

Mirza Nasir Ahmad: It is not possible.

(مرزا ناصر احمد : یہ ممکن نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No ....

١٥٠

صفحہ ١٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: A pious man to file a false declaration?

(مرزا ناصر احمد: ایک پارسا آدمی کے لئے کہ وہ جھوٹا ڈکلیریشن کرے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, let's take an example neither a Christian nor a Hindu. Supposing a person who does not believe in one, or two of the essentials of Islam....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! چلیں ایک مثال لیتے ہیں۔ نہ وہ کسی عیسائی کی ہے نہ کسی ایک ہندو کی۔ فرض کریں ایک ایسا شخص ہے جو اسلام کی لازمی ضروریات میں سے کسی ایک یا دو کا انکار کر دیتا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... like he denies Zakat, is Munkir of Zakat, and he files a declaration that 'I am a Muslim', and still he says he is a Muslim....

(جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ ہے۔ وہ زکوٰۃ کو منع کرتا ہے۔ منکر زکوٰۃ ہے اور ساتھ ہی وہ ڈکلیریشن لگاتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور بااصرار کہتا ہے میں مسلمان ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: And he ....

Mr. Yahya Bakhtiar: .... still says he is a Muslim....

(جناب یحییٰ بختیار: بااصرار کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں! Can he say? A pious Muslim files a declaration and ....

(مرزا ناصر احمد: ایک پارسا مسلمان جھوٹا ڈکلیریشن دے۔ کیا وہ ایسا کہہ سکتا ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not talking of a pious Muslim.

(جناب یحییٰ بختیار: میں کسی پارسا مسلمان کی بات نہیں کر رہا)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, I am; I am talking about him. And the authority declares that he is not. Just

١٥١

صفحہ ١٧٨

178 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

the opposite of what you say; and opposite is also possible.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking whether somebody has a right to declare him one way or the other?

(جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھتا ہوں کہ کسی کو اختیار ہے نا۔ اعلان کرنے کا کہ متنازعہ شخص ادھر کا ہے یا ادھر کا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Nobody has got the right to say that he is a Muslim when he feels, he thinks ....

(مرزا ناصر احمد : کسی کو حق نہیں پہنچتا کہنے کا کہ وہ مسلمان ہے۔ جب کہ وہ کہتا ہے اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ نہیں ہے)

104 Mr. Yahya Bakhtiar: But supposing ....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن فرض کریں)

Mirza Nasir Ahmad: .... and believes that he is not ....

(مرزا ناصر احمد : اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he has done it, has filed a form ....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں اس نے ایسا نہیں کیا اور فارم داخل کرتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: But he is a Muslim, but the authority concerned declares him as non-Muslim, then?

(مرزا ناصر احمد : لیکن وہ ایک مسلمان ہے۔ لیکن اتھارٹی کہتی ہے کہ وہ غیرمسلم ہے، تب؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will just give the opposite example, you know. I agree with you, that is possible. He will go to the court tell the court.....

(جناب یحییٰ بختیار: آپ جانتے ہیں کہ میں نے صرف آپ کو مخالف مثال دی ہے۔ میں آپ کے ساتھ متفق ہوں۔ یہ ہوسکتا ہے وہ عدالت جائے گا اور عدالت میں کہے گا)

١٥٢

179 NATIONAL ASSEM

?) So, there is one way open

Mr. Yahya Bakhtia

for a person who formally when he denies one of the fundamentals of Islam, open. he is a Muslim....

ں میں کہتا ہوں کہ ایک شخص جو باضابطہ طور پر م کی بنیادی شرط کو نہیں مانتا یا دو شرطوں کا کھلم کھلا

Mirza Nasir Ahm

should go to the Court.

حکومت کو کورٹ میں جانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakh

interested that he should be Can anybody go to the Court

رنمنٹ کو دلچسپی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ الیکشن شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کورٹ کو رجوع کرے

Mirza Nasir Ahma

that Government.

ذاتی طور پر مذمت کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtia

Mirza Nasir Ahm

others.

ہیں کہہ سکتا)

Mr. Yahya Bakh

صفحہ ١٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہاں! .So, there is one way open to him (تو اس کے لئے ایک راستہ کھلا ہوا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say. So, for a person who formally declares that he is a Muslim, when he denies one of the fundamentals of Islam or two fundamentals of Islam, openly denies, and still he says that he is a Muslim....

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی میں کہتا ہوں کہ ایک شخص جو باضابطہ طور پر مسلمان ہونے کا مدعی ہے۔ مگر ایک ضروری اسلام کی بنیادی شرط کو نہیں مانتا یا دو شرطوں کا کھلم کھلا انکاری ہے اور پھر بھی کہتا ہے میں مسلمان ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: Then the Government should go to the Court.

(مرزا ناصر احمد: تو اس صورت میں حکومت کو کورٹ میں جانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: The Government is interested that he should be elected, he is a popular, I say. Can anybody go to the Court and say "no"?

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں گورنمنٹ کو دلچسپی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ الیکشن میں کامیاب ہو جائے۔ وہ ہر دلعزیز ہے تو کیا کسی شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کورٹ کو رجوع کرے اور کہے۔ یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے)

Mirza Nasir Ahmad: Well, I personally condemn that Government.

(مرزا ناصر احمد: میں ایسی حکومت کی ذاتی طور پر مذمت کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Government I ....

Mirza Nasir Ahmad: I don't know about the others.

(مرزا ناصر احمد: اوروں کے لئے تو نہیں کہہ سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Government is not the

١٥٣

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

posite is also possible. No, I am just asking clare him one way or the

(جناب یحییٰ بختیار: متنازعہ شخص ادھر کا ہے یا ادھر کا ہے)

body has got the right to s, he thinks ....

(مرزا ناصر احمد: کسی کا اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ نہیں ہے)

But supposing ....

(جناب یحییٰ بختیار:

and believes that he is

(مرزا ناصر احمد: اور اعتقاد

pposing he has done it,

(جناب یحییٰ بختیار: فر

he is a Muslim, but the non-Muslim, then?

(مرزا ناصر احمد: لیکن ہے۔ تب؟)

ll just give the opposite u, that is possible. He

(جناب یحییٰ بختیار: ہے۔ میں آپ کے ساتھ متفق ہوں

صفحہ ١٨٠

180 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

member of the Assembly we elect; Government is nobody in the Assembly. (جناب یحییٰ بختیار : اسمبلی میں حکومت کی کوئی شخصیت نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: No? (مرزا ناصر احمد : نہیں؟)

105 Mr. Yahya Bakhtiar: It is the members of the Assembly who elect; Government is nobody in the Assembly.

Mirza Nasir Ahmad: No, you used the word "Government", that is why I repeated that. (مرزا ناصر احمد : جی نہیں۔ حکومت کا لفظ آپ نے استعمال کیا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, because ....

Mirza Nasir Ahmad: You change the word and I will change that word. (مرزا ناصر احمد : اگر آپ لفظ تبدیل کر دیں تو میں بھی تبدیل کردوں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Because you have been saying again and again, 'the Government'; I think you meant Legislature. (جناب یحییٰ بختیار : آپ بار بار خود کہتے رہے ہیں کہ حکومت کو مقننہ سمجھا جائے)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, whoever is the authority concerned. (مرزا ناصر احمد : نہیں! جو بھی متعلقہ اتھارٹی ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. (جناب یحییٰ بختیار : جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: Whichever is the proper authority. (مرزا ناصر احمد : جو بھی صحیح اتھارٹی ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he thinks he is a popular man, he is a nice man, he is a man of character, his religious beliefs are somehow fair, but he does not believe in

١٥٤

181 NATIONAL ASSEMBLY

Zakat, Jehad or something, but says he is a Muslim, but he oper Zakat as part of Islam and I don ں وہ سمجھتا ہے میں ہر دلعزیز ہوں۔ اچھا آدمی ہوں۔ اعتقاد نہیں رکھتا۔ وہ صاف کہتا ہے۔ نہیں! میں زکوٰۃ یقین نہیں کرتا)

Mirza Nasir Ahmad: him. (تائید نہیں کرنی چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: support him, can that be questio ۔ لیکن فرض کریں وہ اس کی تائید کرتے ہیں تو کیا

(Pause)

106 Mr. Yahya Bakhtiar: enough under the law? I am spe ڈیکلیریشن قانون کے اعتبار سے کافی۔ میں قانون

Mirza Nasir Ahmad: constitution that when such a th settled by a court or, if it is no decide? Suppose there is one m who says that the declaration is یہ ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی بات سامنے آجائے تو طے نہ ہو تو کون فیصلہ کرے گا۔ فرض کریں ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ڈیکلی ریشن جھوٹا ہے۔۔۔۔۔)

Mr. Yahya Bakhtiar:

١٥٥

صفحہ ١٨١

181 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Zakat, Jehad or something, but we are not concerned. He says he is a Muslim, but he openly says "No, I don't accept Zakat as part of Islam and I don't think it is necessary"....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں وہ سمجھتا ہے میں ہر دلعزیز ہوں۔ اچھا آدمی ہوں۔ باکردار ہوں۔ مذہبی لیکن زکوٰۃ میں یا جہاد میں اعتقاد نہیں رکھتا۔ وہ صاف کہتا ہے، نہیں! میں زکوٰۃ کو اسلام کا حصہ نہیں سمجھتا اور اس کو ضروری خیال نہیں کرتا)

Mirza Nasir Ahmad: They should not support him.

(مرزا ناصر احمد: ان کو اس کی تائید نہیں کرنی چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing they support him, can that be questioned ....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ لیکن فرض کریں وہ اس کی تائید کرتے ہیں تو کیا قانوناً اس پر سوال جواب ہو سکتا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں...... ہیں۔ (Pause)

106 Mr. Yahya Bakhtiar: .... or his declaration is enough under the law? I am speaking of law.

(جناب یحییٰ بختیار: کیا اس کا ڈکلیئریشن قانون کے اعتبار سے کافی۔ میں قانون کی بات کر رہا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: Is there a provision in this constitution that when such a thing is suspected, it should be settled by a court or, if it is not there, then who is going to decide? Suppose there is one member of this august House who says that the declaration is false,....

(مرزا ناصر احمد: کیا دستور میں یہ ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی بات شبہ کی جائے تو کورٹ اس کا فیصلہ کرے اور اگر کورٹ نہیں ہے تو کون فیصلہ کرے گا۔ فرض کریں ایک اسی جلیل القدر ہاؤس کے ممبر صاحب یہ کہتے ہیں کہ ڈکلیئریشن جھوٹا ہے ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....

١٥٥

صفحہ ١٨٢

182 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: .... a members from the Opposition, you know.

(مرزا ناصر احمد: حزب اختلاف کے کوئی ممبر صاحب۔ آپ جانتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, member of the Opposition can tell the Chief Election Commissioner when form is filled.

(جناب یحییٰ بختیار: حزب اختلاف کے ممبر صاحب چیف الیکشن کمشنر صاحب کو کہہ سکتے ہیں جب فارم داخل کیا جارہا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: And his word is final.

(مرزا ناصر احمد: اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, his word is final as far as they are concerned. But, If the objection is raised by one person that this man is not Muslim,....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص اعتراض اٹھاتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... can, on the basis of your argument, the candidate say that it is none of your buiness?

(جناب یحییٰ بختیار: تو کیا آپ کی بحث کی بنیاد پر امیدوار کہہ سکتا ہے۔ آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: What is the basis?

(مرزا ناصر احمد: بنیاد کیا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Why? Declaration is the final word.

(جناب یحییٰ بختیار: کیوں! جو میں نے ڈکلیئریشن دیا ہے وہ قطعی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: What is the basis of existing law? I must know that before I ....

١٥٦

183 NATIONAL ASS

یا کہتا ہے۔ مجھے بتایا جائے)

Mr. Yahya B Commissioner can see. Bu

سکتا ہے کہ ......)

Mirza Nasir Ah Commissioner? (شنر ہے؟

107 Mr. Yahya B cannot be questioned in th

یق پر کورٹ میں فیصلہ نہیں اٹھایا جاسکتا)

Mirza Nasir Commissioner who decide

الیکشن کمشنر ہے جو فیصلہ کرتا ہے)

Mr. Yahya Bakh

Mirza Nasir Ahm

Mr. Yahya Bah form; he has to see to it ....

چھان بین کرتا ہے)

Mirza Nasir A qualified for Presidentshi

اہل ہے)

Mr. Yahya Bak before him.

ں کے سامنے حلف لیتا ہوگا)

Mirza Nasir Ah

صفحہ ١٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: موجودہ قانون اس پر کیا کہتا ہے۔ مجھے بتایا جائے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Chief Election Commissioner can see. But the conduct ....

(جناب یحییٰ بختیار: چیف الیکشن کمشنر کہہ سکتا ہے کہ ......)

Mirza Nasir Ahmad: Is it the Chief Election Commissioner? (مرزا ناصر احمد: اس صورت میں الیکشن کمشنر ہے؟)

107

Mr. Yahya Bakhtiar: .... of the President cannot be questioned in the court of law.

(جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر کے طور طریق پر کورٹ میں فیصلہ نہیں اٹھایا جاسکتا)

Mirza Nasir Ahmad: Is it the Election Commissioner who decides....

(مرزا ناصر احمد: تو ایسی صورتوں میں چیف الیکشن کمشنر ہے جو فیصلہ کرتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: .... in such cases ....

(مرزا ناصر احمد: ان معاملات میں ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. He scrutinizes the form; he has to see to it ....

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! فارم کی وہی چھان بین کرتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: .... that whether he is qualified for Presidentship ....

(مرزا ناصر احمد: کہ وہ صدارت کے لئے اہل ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. And he is to take oath before him.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! اور اس کو اس کے سامنے حلف لینا ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: .... that he is qualified or

١٥٧

صفحہ ١٨٥

184 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

not.

(مرزا ناصر احمد : ......کہ وہ اہل ہے یا نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Oath is taken later, but he has to file the form before him that he is a Muslim, because....

Mirza Nasir Ahmad: Has he got the right to question that oath?

(مرزا ناصر احمد : تو کیا وہ حلف پر شک کا اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے )

Mr. Yahya Bakhtiar: There scrutiny takes place.

Mirza Nasir Ahmad: No, no; he takes; has he got the right?

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am asking you. Supposing somebody ....

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں بلکہ آپ بتائیں )

Mirza Nasir Ahmad: No, no, I must know the law before I can....

(مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ جواب دینے سے قبل مجھے قانون تو معلوم ہو )

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes.

(جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہاں!)

Mirza Nasir Ahmad: .... answer that question.

108 Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing some Christian files a form ....

(جناب یحییٰ بختیار : فرض کریں۔ چند عیسائی فارم پر کرتے ہیں )

Mirza Nasir Ahmad: And ....

Mr. Yahya Bakhtiar: .... The Chief Election Commissioner can throw it out and say, no, only Muslims can do it ....

١٥٨

185 NATIONAL ASSEMBLY

شنر کہتا ہے نہیں۔ صرف مسلمان ڈکلیئر کر سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad:

Mr. Yahya Bakhtiar: the Prime-Ministership.

کے عہدے کے لئے یا وزارت عظمیٰ کے لئے)

Mirza Nasir Ahmad faithful to himself and does it ...

عیسائی حلف اٹھاتا ہے اس کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: (

Mirza Nasir Ahmad before the Election Commissio

شنر کے سامنے حلف اٹھایا تب)

Mr. Yahya Bakhtiar: (

Mirza Nasir Ah Commissioner has got the righ

not? نہیں پہنچتا کہ حلف کو نا منظور کر دے)

Mr. Yahya Bakhtiar oath yet; that comes after the filling nomination papers. Wh filed, the Chief Election Com The first thing he is to see certificate that a person is 45 years old, the Chief Election C

١٥

صفحہ ١٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: چیف الیکشن کمشنر کہتا ہے نہیں ۔صرف مسلمان ڈکلیئر کر سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: No .....

(مرزا ناصر احمد :جی نہیں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... for the Presidentship or the Prime-Ministership.

(جناب یحییٰ بختیار: صدارت کے عہدے کے لئے یا وزارت عظمیٰ کے لئے)

Mirza Nasir Ahmad: Supposing a Christian is faithful to himself and does it ....?

(مرزا ناصر احمد :فرض کریں ایک عیسائی حلف اٹھاتا ہے اس کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, .....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: .... then he takes the oath before the Election Commissioner....

(مرزا ناصر احمد :اس نے الیکشن کمشنر کے سامنے حلف اٹھایا تب)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: .... the Election Commissioner has got the right to refuse to take his oath or not? (مرزا ناصر احمد :الیکشن کمشنر کو حق نہیں پہنچتا کہ حلف کو نامنظور کر دے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not talking of oath yet; that comes after the election. I am at the stage of filling nomination papers. When the nomination papers are filed, the Chief Election Commissioner will look at them. The first thing he is to see is that the papers carried a certificate that a person is 45 yesrs old. If the person is 30 years old, the Chief Election Commissioner say, "Well, I am

١٥٩

صفحہ ١٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

sorry, you are not qualified."

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ میں حلف کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ وہ تو الیکشن کے بعد کی بات ہے۔ میں تو ابھی کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مقام پر ہوں۔ جب کاغذات نامزدگی داخل ہوں گے چیف الیکشن کمشنر ان پر نظر ڈالے گا۔ پہلی چیز وہ یہ دیکھے گا کہ کاغذات میں سرٹیفکیٹ ہے کہ وہ شخص ٢٥ برس کی عمر کا ہے۔ اگر وہ تیس برس کا ہے تو چیف الیکشن کمشنر کہے گا جناب افسوس ہے آپ اہل نہیں ہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Because the Contitution says ....

109 مرزا ناصر احمد: ہاں! Under age

Mr. Yahya Bakhtiar: So, I say, he is the authority on the spot to say that your papers are rejected.

(جناب یحییٰ بختیار: تو میرا مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اس موقعہ پر وہی اتھارٹی ہے جو مجاز ہے کہنے کا کہ تمہارے کاغذات مسترد ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: But can he reject? Can he reject his papers on the assumption that his declaration as a Muslim is incorrect?

(مرزا ناصر احمد: لیکن کیا وہ کاغذات کو مسترد کر سکتا ہے۔ اس مفروضہ کے تحت کہ اس کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا غلط ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am saying on the assumption, he cannot do it; but supposing the objection is raised ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں! اپنے مفروضہ پر وہ نہیں کہہ سکتا۔ مگر فرض کریں کہ اعتراض اٹھتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Who is going to decide?

(مرزا ناصر احمد: تو فیصلہ کون کرے گا؟)

١٦٠

صفحہ ١٨٧

187 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: He.

(جناب یحییٰ بختیار: وہی)

Mirza Nasir Ahmad: That Election Commissioner.... whether he is a Muslim or not?

(مرزا ناصر احمد: چیف الیکشن کمشنر کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am asking you if somebody objects that....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آپ سے پوچھ رہا ہوں اگر کوئی اس پر اعتراض کرے)

Mirza Nasir Ahmad: Well I am very sorry, I cannot.... I find myself just incapable of....

(مرزا ناصر احمد: مجھے معاف کیجئے۔ میں اپنے آپ کو نا قابل پاتا ہوں کہ ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if you kindly hear for a minute.

Mirza Nasir Ahmad: .... making you understand what I want to know. My question is that I can form....

(مرزا ناصر احمد: میں آپ کو سمجھا سکوں کہ میں کیا معلوم کرنا چاہتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: If you kindly listen to my question.'

Mirza Nasir Ahmad: .... I can form my opinion when I know the law.

(مرزا ناصر احمد: میرا مفروضہ یہ ہے کہ میں اپنی رائے اسی وقت پیش کر سکتا ہوں جب مجھے معلوم ہو کہ قانون کیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not talking about the law. The law is ....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں قانون کی بات نہیں کر رہا ہوں)

١٦١

صفحہ ١٨٨

188 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

110 Mirza Nasir Ahmad: My opinion would be formed on the knowledge of the law.... (مرزا ناصر احمد: میں تو اپنی رائے اسی وقت دے سکتا ہوں جب قانون کا مجھے علم ہو......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please.... (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مہربانی کریں گے؟)

Mirza Nasir Ahmad: .... and not otherwise. (مرزا ناصر احمد: ورنہ نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... let me explain the case again? (جناب یحییٰ بختیار: میں دوبارہ کیس کو سمجھاتا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں Yes, yes, جزاک اللہ

Mr. Yahya Bakhtiar: Now you have said that if a person announces, declares, proclaims, that he is a Muslim, nobody has any right to question his declaration. (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ہے کہ اگر ایک شخص اعلان کرتا ہے۔ بیان دیتا ہے۔ باضابطہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے اعلان کرنے پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا)

Mirza Nasir Ahmad: Quite. (مرزا ناصر احمد: بالکل!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if a person files a false form.... (جناب یحییٰ بختیار: اب ایک شخص ہے جو جھوٹا فارم بھر دیتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: If such a person ...... (مرزا ناصر احمد: اگر ایسا شخص......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. No. Any person.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں ۔ کوئی بھی شخص ......)

Mirza Nasir Ahmad: ہاں، Any person.

١٦٢

189 NATIONAL ASSEMBLY OF

Mr. Yahya Bakhtiar: Th صول ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Christian or anybody. That d questioned. Now supposing a m paper for the office of the Presiden he is a Muslim, he writes there a Muslim', but some members or vot Assembly know that he denies c Islam ..... شخص عیسائی ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس پر اعتراض نہیں صدارت کے عہدے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل تحریر میں دیتا ہے۔ لیکن کچھ ممبران یا ووٹر قومی اسمبلی یا ے کچھ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے ......)

111 Mirza Nasir Ahmad: مسلم ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: ... Mirza Nasir Ahmad: ... they got to know two days ago? within these two days. ت پر مبنی ہے جو انہیں دو دن پہلے معلوم ہوئے تو ممکن ہے

Mr. Yahya Bakhtiar: I to that. I have to explain the whole

١٦٣

صفحہ ١٨٩

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

: My opinion would be ?....

(مرزا ناصر احمد : میں تو ا علم ہو......)

ll you please....

(جناب یحییٰ بختیار : کیا آ

and not otherwise.

(مرزا ناصر احمد : ورنہ نہیں

.. let me explain the case

(جناب یحییٰ بختیار : میں

Yes, yes, جزاک اللہ

ow you have said that if a ims, that he is a Muslim, s declaration.

(جناب یحییٰ بختیار : آپ با ضابطہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس

ite.

(مرزا ناصر احمد : بالکل !)

Now, if a person files a

(جناب یحییٰ بختیار : اب

uch a person ......

(مرزا ناصر احمد : اگر ایسا

No. Any person....

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں

مرزا ناصر احمد : ہاں ، N.

189 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: That is the principle.

(جناب یحییٰ بختیار : یہ اصول ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.

(مرزا ناصر احمد : جی ہاں ، جی ہاں !)

Mr. Yahya Bakhtiar: A person can be a Christian or anybody. That declaration cannot be questioned. Now supposing a man files his nomination paper for the office of the President of Pakistan and he says he is a Muslim, he writes there and declares that 'I am a Muslim', but some members or voters of Senate or National Assembly know that he denies certain fundamentals of Islam .....

(جناب یحییٰ بختیار : وہ شخص عیسائی ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اب فرض کریں کہ ایک شخص صدارت کے عہدے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، تحریر میں دیتا ہے۔ لیکن کچھ ممبران یا ووٹر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے جانتے ہیں کہ یہ شخص اسلام کے کچھ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے......)

111 Mirza Nasir Ahmad: And the knowledge....

(مرزا ناصر احمد : اور ان کا یہ علم......)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... and they raise ....

Mirza Nasir Ahmad: .... is based on facts which they got to know two days ago? There might be a change within these two days.

(مرزا ناصر احمد : ان واقعات پر مبنی ہے جو انہیں دو دن پہلے معلوم ہوئے تو ممکن ہے کہ ان دو دن میں کچھ تبدیلی آگئی ہو)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am coming, I am coming to that. I have to explain the whole case.

١٦٣

صفحہ ١٩٠

190 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: میں اس بات پر آرہا ہوں۔ پوری صورتحال واضح کروں گا)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, after the nomination papers are filled, the date of scrutiny of papers is fixed.

(جناب یحییٰ بختیار : کاغذات نامزدگی کے بعد جانچ پڑتال کی تاریخ مقرر ہوتی ہے)

Mirza Nasir Ahmad: They see he is 45 years old.

(مرزا ناصر احمد : دیکھا جاتا ہے کہ وہ ٤٥ برس کا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: They see he declares himself to be Muslim.

(جناب یحییٰ بختیار: دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: He is otherwise qualified.

(مرزا ناصر احمد: مگر ویسے وہ اہل ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Otherwise qualified on the face of it.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! ویسے وہ اہل ہے ظاہری طور پر)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ناں۔ Yes.

Mr. Yahya Bakhtiar: But objection is raised....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن اعتراض اٹھتا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ناں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... objection is raised that he says he is a Muslim, but in fact he is not, because he denies certain essentials of Islam.

(جناب یحییٰ بختیار: اعتراض اٹھتا ہے اور وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔ جب کہ دراصل وہ مسلمان ہے نہیں۔ کیونکہ چند اسلام کی بنیادی باتوں سے انکار کرتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: For instance?

(مرزا ناصر احمد: مثلاً بتائیں؟)

١٦٤

- 191 NATIONAL ASSEM

112

Mr. Yahya Bakh

Mirza Nasir Ahma

Mr. Yahya Bakhtia believe in it."

ہے۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا)

Mirza Nasir Ahm should be abolished?

زکوۃ کو منسوخ کردو)

Mr. Yahya Bakh existed; "I do not believe in i

یا اس کا کبھی وجود ہی نہ تھا میں اس میں اعتقاد

Mr. Yahya Bakht Chief Election Commissio "Yes, Sir, but you are not c only with my declaration. I h none of your business whethe or I believe in others or not. Commissioner do? Has he th

قرات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس سے پوچھتا اس سے مطلب نہیں۔ آپ کو تو صرف میرے کہ میں مسلمان ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو میں کسی عقیدہ پر اعتراض رکھتا ہوں یا نہیں اور

١

صفحہ ١٩١

-191 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

112 Mr. Yahya Bakhtiar: Zakat for instance (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ)

Mirza Nasir Ahmad: He says that? (مرزا ناصر احمد: وہ کیا کہتا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: "It is not necessary; I don't believe in it." (جناب یحییٰ بختیار: یہ ضروری نہیں ہے۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا)

Mirza Nasir Ahmad: This institution of Zakat should be abolished? (مرزا ناصر احمد: وہ کہتا ہے کہ ادارۂ زکوٰۃ کو منسوخ کر دو)

Mr. Yahya Bakhtiar: Abolished or it never existed; "I do not believe in it.".... (جناب یحییٰ بختیار: منسوخ کر دو یا اس کا کبھی وجود ہی نہ تھا میں اس میں اعتقاد نہیں رکھتا......)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... that is his view. The Chief Election Commissioner asks, "Is it so?" he says, "Yes, Sir, but you are not concerned. You are concerned only with my declaration. I have written I am a Muslim. It is none of your business whether I believe in one tenant or not, or I believe in others or not." What will the Chief Election Commissioner do? Has he the right to interfere or not? (جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کے تاثرات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس سے پوچھتا ہے کیا ایسا ہے وہ کہتا ہے ہاں۔ لیکن آپ کا اس سے مطلب نہیں۔ آپ کو تو صرف میرے ڈکلیئریشن سے مطلب ہے جس میں میں نے لکھ دیا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اس سے کیا مطلب۔ آپ کو اس سے کیا غرض کہ میں کسی عقیدہ پر اعتراض رکھتا ہوں یا نہیں اور

١٦٥

صفحہ ١٩٢

192 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

چیف الیکشن کمشنر کا اس سے کیا تعلق کہ میں کیا عقیدہ رکھتا ہوں اس کو دخل اندازی کا کیا حق ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: What will the members of this House do?

(مرزا ناصر احمد : اس ہاؤس کے ممبران بتائیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Members of the House are not under oath to give evidence, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار: ممبران نے حلف نہیں اٹھایا ہے کہ وہ گواہ ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: No, no.

(مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: You are asking ....

(جناب یحییٰ بختیار : آپ کہہ رہے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: They are supposed to elect or reject.

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you will guide them. In such circumstances, you will tell us that in the light of your interpretation of Article:20, the Chief Election Commissioner says, 'Yes, I will have to accept the declaration on the face of it?"

(جناب یحییٰ بختیار : ان حالات میں دفعہ نمبر ٢٠ کی اپنے مفہوم کے رو سے اگر چیف الیکشن کمشنر کہتا ہے کہ اس ڈکلیئریشن کو ظاہری حالت میں قبول کرنا پڑے گا تو پھر؟)

113 Mirza Nasir Ahmad: I have already humbly submitted so many times that these extreme examples, these imaginary examples, cannot solve the problem we are facing today. Let us face facts. You know .....

(مرزا ناصر احمد : میں نے کئی بار گذارش کی ہے کہ اس طرح کی انتہائی سخت مثالیں

١٦٦

صفحہ ١٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

اس طرح کی خیالی مثالیں ان پرابلم کو حل نہیں کر سکتیں۔ جن کا ہم کو آج کل سامنا ہے۔ واقعاتی حالات کو سامنے رکھیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I think we will continue after....

(جناب یحییٰ بختیار: اب میرے خیال میں اس پر بعد میں بات ہونی چاہئے)

Mr. Chairman: Yes, the Delegation is permittid to withdraw, to be in the House at 6:00 pm.

(جناب چیئرمین: درست ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے اور شام چھ بجے پھر آجائیں)

(The Delegation left the Chamber)

Mr. Chairman: The Special Committee is .... بات کرنی ہے جی؟

Maulana Shah Ahmad Noorani: If you permit me.

(مولانا شاہ احمد نورانی: آپ کی اجازت ہے)

جناب چیئرمین: ہاں جی! مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی۔

---------

EVASIVE ANSWERS TO QUESTION IN THE

CROSS- EXAMINATION

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ آنریبل اٹارنی جنرل جو ہیں، جو سوالات کرتے ہیں، تو اس کا Definite (قطعی صاف صاف) جواب جو ہے وہ نہیں دے پاتے۔ آپ میرے خیال میں ان کو Bound (مجبور) کریں کہ وہ Definite (قطعی صاف صاف) جواب دیں۔

Mr. Chairman: This matter can be taken up with the Attorney General.

(جناب چیئرمین: اس بات کے لئے اٹارنی جنرل سے رجوع کریں)

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: یہ آپ کی پریولج میں ہے۔

١٧٧

صفحہ ١٩٥

194 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں ۔ میں نے ان کو ...... 114 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : آپ کو رائٹس ہیں یہ۔ جناب چیئرمین: ہاں؟ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : وہ ادھر ادھر ٹال جاتے ہیں اور الٹا اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کر لیتے ہیں۔ ایک رکن: جناب ایسا لگتا ہے وہ جرح کر رہے ہیں۔ جناب چیئرمین: نہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اس کا یہ طریقہ غلط ہے۔ جناب چیئرمین: یہ بات میں نے ان سے کی تھی۔ جناب یحییٰ بختیار: سر ! میں ذرا جا رہا ہوں۔ جناب چیئرمین: آپ بالکل اس میں مطمئن رہیں۔ He has got his own method. (ان کا اپنا طریقہ ہے)

A Member: All right, Sir.

(ایک رکن : بہت اچھا)

جناب چیئرمین: کہیں سے ایک Portion (حصہ) ہوتا ہے، کہیں سے دوسرا۔ جناب یحییٰ بختیار: کوئی Object (اعتراض) کر سکتا ہے کہ آپ نہیں مانتے۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: صحیح ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں جانا چاہتا اس میں ۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بیشک ۔ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک نہیں ہے، تیز نہیں ہو سکتا۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیکن سر! ایک بات ضرور ہے۔ سر ! میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا ......

115 مولانا غلام غوث ہزاروی: ایک بات واضح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کا سوال تو ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ان کا جواب سمجھ میں نہیں آتا ۔

Mr. Chairman: The Special Committee is adjourned to meet at 6:00 pm.

١٦٨

195 NATIONAL ASSEM

In the meantime, discuss the questions, or me Attorney- General. Thank you very muc

ب شام چھ بجے بیٹھے گی۔ اس دوران ممبران ئیں گے یا کیسے ان سوالات کو پوچھا جائے۔ ین کریں۔شکریہ! )

A Member: In you

(The Special Committee a — The Special Com break, Mr. Chairman (Sahib

چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت

Mr. Chairman: General, from certain mem by you, the witness avoi suggestion that a second definite answer is to be give say 'I don't want to give.'

مخاطب ہو کر ، کچھ ممبران کی طرف سے یہ نکتہ ان کا جواب گواہ ٹال دیتا ہے اور یہ تجویز ہے وال کا صاف صاف جواب گواہ دے دے۔ (

صفحہ ١٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

In the meantime, the honourable members can discuss the questions, or methods of putting them, with the Attorney- General.

Thank you very much.

(جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی اب شام چھ بجے بیٹھے گی۔ اس دوران ممبران صاحب ان سوالات پر بحث کر سکتے ہیں جو پوچھے جائیں گے یا کیسے ان سوالات کو پوچھا جائے۔ اس کے طریقہ کار کو اٹارنی جنرل سے مشورہ کر کے متعین کریں۔ شکریہ!)

A Member: In your Chamber, Sir?

(ایک رکن: آپ کے چیمبر میں)

(The Special Committee adjourned to meet at 6:00 pm)

----------

{The Special Committee re-assembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.}

(ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں دوبارہ شروع ہوا)

Mr. Chairman: A suggestion, Mr. Attorney General, from certain members, that certain questions put by you, the witness avoids to answer, and there is a suggestion that a second question may be put. When a definite answer is to be given by the witness, Yes or no, he say 'I don't want to give.'

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر، کچھ ممبران کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ چند ایک سوال جو آپ نے کیئے ہیں ان کا جواب گواہ ٹال دیتا ہے اور یہ تجویز ہے کہ اگلا دوسرا سوال تب ہی کیا جائے جب کہ پہلے سوال کا صاف صاف جواب گواہ دے دے۔ یعنی یا تو وہ کہے ہاں یا کہے ناں یا کہے مجھے نہیں معلوم)

١٦٩

OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں 114مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جناب چیئرمین: ہاں؟ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب سے سوال کرلیتے ہیں۔ ایک رکن: جناب ایسا لگتا ہے جناب چیئرمین: نہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جناب چیئرمین: یہ بات میں جناب یحییٰ بختیار: سر! میں ف جناب چیئرمین: آپ بالک own method. (ان کا اپنا طریقہ ہے r. (ایک رکن: بہت اچھا) جناب چیئرمین: کہیں سے جناب یحییٰ بختیار: کوئی با مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک نہیں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی چاہتا تھا....... 115مولانا غلام غوث ہزار جنرل صاحب کا سوال تو ہماری سمجھ میں آت Special Committee is

صفحہ ١٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: I said in the beginning that we can't compel the witness. And the House can draw its own inference that he is avoiding the answer to the question and if he gives the answer, probabley that will be not favourable to him. So, this is for the Court, as they say, to decide.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ ہم گواہ کو جواب پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اس لئے گواہ کے جواب سے جو بھی وہ دے ممبران مطلب خود اخذ کر لیں اور دیکھ لیں کہ وہ جواب کو ٹال رہا ہے۔ اگر وہ مجبوری جواب دے گا تو غالباً وہ اس کے خلاف ہوگا اور مناسب حال نہ ہوگا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ گواہ کا جواب دیکھ کر پھر فیصلہ کیا کرتی ہے)

جناب چیئرمین: نہیں، ابھی نہیں۔ اس کو یہاں بلوالیں، ادھر بٹھادیں۔

(Interruption)

116Mr. Chairman: Yes, they may be called.

جناب چیئرمین: ہاں! اب ان کو بلالو۔

(The Delegation entered the Chamber)

(وفد چیمبر میں داخل ہوتا ہے)

--------

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIAN

GROUP DELEGATION

Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب)

(احمدیوں کی تعداد کتنی ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, before I proceed, my attention has been drawn by some members. For some members, some further clarification on the

١٧٠

197 NATIONAL ASSEM

question of the number of Ah In a Memorandum Ahmadiyya Community befo in 1947, the figure given is official document.

پیشتر اس کے کہ میں آگے بڑھوں۔ کچھ ممبران ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں احمدیوں کی نے احمدی فرقہ کی طرف سے جو یادداشت دستخط کاری دستاویز ہے ) Half a پ کے پاس؟ یہ دے دیں آپ۔ بات غلط ہے )

Mr. Yahya Bakhti of India, including Pakista done before that. Now you said this n death of Mirza Ghulam Ahm 1908, was about 4 lakhs. N years or so, has the numbe was this an incorrect figure?

ے ہندوستان میں مع پاکستان کے اس وقت آپ نے کہا کہ مرزا غلام احمد کی وفات کے ۔ تو اس تیس سال کی یا کم و بیش مدت بعد تعداد ہے یا پہلے والی غلط تھی )

....

صفحہ ١٩٧

197 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

question of the number of Ahmadis in Pakistan.

In a Memorandum signed on behalf of the Ahmadiyya Community before the Boundary Commission in 1947, the figure given is about two Lakhs. This is an official document.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! پیشتر اس کے کہ میں آگے بڑھوں۔ کچھ ممبران نے میری توجہ مزید وضاحت کے لئے مبذول کرائی ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کیا ہے۔ ١٩٤٧ء کے باؤنڈری کمیشن کے سامنے احمدی فرقہ کی طرف سے جو یادداشت دستخط شدہ پیش کی گئی اس میں تعداد تقریباً دو لاکھ تھی۔ یہ سرکاری دستاویز ہے)

مرزا ناصر احمد: یہ ڈاکومنٹ ہے آپ کے پاس؟ یہ دے دیں آپ۔ Half a million (پانچ لاکھ)

(ان دو میں سے ایک بات غلط ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Half a million in the whole of India, including Pakistan, at that time, because it was done before that.

Now you said this morning that at the time of the death of Mirza Ghulam Ahmad, the number of Ahmadis in 1908, was about 4 lakhs. Now, in the course of these 30 years or so, has the number gone down to such extent, or was this an incorrect figure?

(جناب یحییٰ بختیار: پانچ لاکھ پورے ہندوستان میں مع پاکستان کے اس وقت کیونکہ رائے شماری اس سے پہلے ہوئی تھی۔ آج صبح آپ نے کہا کہ مرزا غلام احمد کی وفات کے وقت احمدیوں کی نفری ١٩٠٨ء میں تقریباً چار لاکھ تھی۔ تو اس تیس سال کی یا کم و بیش مدت بعد تعداد اس قدر گر گئی یا جو تعداد اس وقت بتائی گئی ہے وہ غلط ہے یا پہلے والی غلط تھی)

مرزا ناصر احمد: میں نے کوئی عدد بھی ......

١٧١

صفحہ ١٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Approximately?

(جناب یحییٰ بختیار: تقریباً......)

مرزا ناصر احمد: ......وثوق کے ساتھ نہیں کہا اور چونکہ مردم شماری نہیں ہوئی۔ جہاں تک117 مجھے یاد ہے، میں نے تو ایک دفعہ اس بات کو واضح کہا تھا کہ سارے اندازے مختلف وقتوں میں کئے۔ آپ نے بھی ایک اندازہ دولاکھ کا بتایا نہیں؟ تو اسی طرح یہ کسی سیاسی پارٹی نے ١٩٧٠ء میں لکھ دیا کہ فلاں پارٹی اس لئے جیت گئی ہے کہ ٢١لاکھ بالغ رضا کاران کی مدد کر رہے تھے تو ٢١لاکھ بالغ رضا کار احمدی اگر ہیں تو احمدیوں کی تعداد ایک کروڑ ہونی چاہئے۔ تو یہ کوئی فگرز جو ہیں، اوّل تو یہ صرف غیر یقینی ہے۔ اعدادوشمار کے بغیر۔ دوسرے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اگر ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں......

مرزا ناصر احمد: ......پانچ آدمیوں پر بھی ناجائز ظلم کیا جائے تو اتنا ہی برا ہے جو ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ۔ ایک آدمی پر بھی ظلم کیا ہے، وہ ناجائز ہے۔

I am not saying this. I only wanted that we are preparing a record and we could have....

(میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا تھا کہ چونکہ ہم ایک ریکارڈ تیار کر رہے ہیں تو ہمارے پاس......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، وہ......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... on exact and approximate idea of the number of Ahmadis in Pakistan. So, which figure you think is correct? The figure given by the Jamaat-i-Ahmadyia.....

(جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں کی پاکستان میں تعداد کی بالکل صحیح یا تقریباً صحیح تعداد ہو تو کون سا عدد آپ کے خیال میں درست ہے۔ یعنی احمدیہ جماعت نے ......)

مرزا ناصر احمد: میں نے، میں نے......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... in 1947....

(جناب یحییٰ بختیار: ١٩٤٧ء میں جو عدد فراہم کیا......)

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ عرض کی تو میرے نزدیک آج کل پاکستان میں ٣٥ سے

١٧٢

199 NATIONAL ASSEM

وں، عورتوں کو ملا کر۔

یا آپ کی جماعت کے مطابق دو لاکھ تھے،

وستان میں تھے۔ لیکن اس میں سے میرا خیال

پ نے ١٩٤٧ء میں تو کوئی چالیس پچاس ہزار

۔ گورداسپور کے ضلع میں جو اکیلے اس ضلع میں

مر فیروز پور کے علاقے اور پیچھے لدھیانہ کے

عت احمدیہ کی تھی۔

Mr. Yahya Ba

1900-1901.... ( ١٩٠٠ء، ١٩٠١ء میں )

مقابلہ کریں گے تو ......

Different Qu (مختلف سوال) ہے۔

پہنچیں گے۔

Mr. Yahya Bakht

question now. In 1901, M

requested the Governm

separately in the census. T

1901, 1911, 1921 and 1931

ات کہہ رہا ہوں۔ ١٩٠١ء میں مرزا غلام احمد

ں کو علیحدہ بتایا جائے۔ پھر احمدیوں کی تعداد

ئی۔ یہاں تک میں سمجھتا ہوں)

Mirza Nasir A

figures were correct.

یح نہیں ہے)

Mr. Yahya Bak

correct, Sir.... (......

صفحہ ١٩٩

199 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

٤٠ لاکھ کے درمیان احمدی ہیں۔ بچوں، بڑوں، مردوں، عورتوں کو ملا کر۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ١٩٤٧ء میں آپ کی جماعت کے مطابق دو لاکھ تھے، سارے 118 انڈیا میں اڑھائی لاکھ۔

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ پانچ لاکھ ہندوستان میں تھے۔ لیکن اس میں سے میرا خیال ہے کہ وہاں جب ہم نے ہندوستان کو چھوڑا ہے سب نے ١٩٤٧ء میں تو کوئی چالیس پچاس ہزار وہاں رہ گئے ہوں گے۔ کیونکہ یہ تعداد جو تھی یہ جمع تھی۔ گورداسپور کے ضلع میں جو اکیلے اس ضلع میں لاکھوں میں تھے اور ساتھ ہوشیار پور کا ضلع تھا اور ادھر فیروز پور کے علاقے اور پیچھے لدھیانہ کے علاقے میں، اور یہاں بہت بھاری تعداد احباب جماعت احمدیہ کی تھی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, in (جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ١٩٠٠ء، ١٩٠١ء میں) ....1900-1901

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ آپ تو جو فگرز کا مقابلہ کریں گے تو......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Different Question (مختلف سوال) ہے۔

مرزا ناصر احمد: ......اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچیں گے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am asking a different question now. In 1901, Mirza Ghulam Ahmad Sahib had requested the Government to mention the Ahmadis separately in the census. Then they have been mentioned in 1901, 1911, 1921 and 1931, I understand, up to that....

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسری بات کہہ رہا ہوں۔ ١٩٠١ء میں مرزا غلام احمد نے حکومت سے استدعا کی تھی کہ مردم شماری میں احمدیوں کو علیحدہ بتایا جائے۔ پھر احمدیوں کی تعداد ١٩٠١ء میں، ١٩١١ء میں، ١٩٢١ء میں اور ١٩٣١ء میں بتائی گئی۔ یہاں تک میں سمجھتا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: And in no census the figures were correct.

(مرزا ناصر احمد: مردم شماری کی تعداد کوئی صحیح نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, that may not be (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں! نہ ہو صحیح......) ....correct, Sir

١٧٣

صفحہ ٢٠١

200 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but I want to know why this practice was given up after 1931? Why are not they separately mentioned? Have you requested them or the Government itself did that?

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ١٩٣١ء کے بعد کیوں مردم شماری منقطع کر دی گئی۔ کیوں علیحدہ سے ان کو نہیں بتایا گیا۔ کیا آپ نے حکومت سے کہا کہ علیحدہ نہ بتائے یا حکومت نے خود ایسا کیا)

119 Mirza Nasir Ahmad: As far as I know, no, we have not requested anybody to alter it.

(مرزا ناصر احمد: نہیں! ہم نے کسی سے ایسی درخواست نہیں کی)

Mr. Yahya Bakhtiar: Not to mention it separately? (جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ کہ علیحدہ تعداد نہ بتائی جائے)

Mirza Nasir Ahmad: No. پہلے بھی اس پر عمل نہیں ہوا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And, Sir, one more clarification. You had stated this morning that your followers call you Imam of the Jmaat, but actually your designation is that of Khalifa-tul......

(جناب یحییٰ بختیار: اور جناب ایک اور وضاحت درکار ہے۔ آپ نے آج صبح کہا کہ آپ کے پیرو آپ کو امام جماعت کہتے ہیں۔ لیکن آپ کا لقب دراصل خلیفہ ......)

Mirza Nasir Ahmad: .... Masih-us-Salis.

جناب یحییٰ بختیار: مسیح الثانی؟

مرزا ناصر احمد: ثالث۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Third?

(جناب یحییٰ بختیار: تیسرا؟)

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

١٧٤

201 NATIONAL ASSEMBL

Mr. Yahya Bakhtia could you kindly explain in wha sense they call you Imam? Because, you know....

براہ کرم اس کی اہمیت واضح کریں کہ کس معنی میں تک کسی کو نہیں کہا کہ مجھے امام کہو اور نہ یہ کہا ہے حمدیہ، یہ ہماری ہی جماعت میں عام طور پر نہیں لیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں کچھ جو استعمال ہوتا بتا چکا ہوں کہ ”امیر المومنین“ سے مراد وہ ہیں

Mr. Yahya Bakhtia the day you came to address Chairman and told him that y

دلاتا ہوں کہ جس روز آپ اس ہاؤس میں تقریر کا تھا اور درست کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ نا، مجھے یاد ہے، میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے صدر، ن احمدیہ نہیں۔ اس کی بجائے مجھے امام جماعت تھا۔ Head of the Commu

Mr. Yahya Bakhtia حت چاہتا ہوں ......) ں میں نے کہا تھا۔ مجھے یاد ہے خود اچھی طرح۔

Mr. Yahya Bakht significance of the word "

صفحہ ٢٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, this word "Imam" could you kindly explain its significance as to in which sense they call you Imam? What is idea significance? Because, you know....

(جناب یحییٰ بختیار: یہ لفظ امام، براہ کرم اس کی اہمیت واضح کریں کہ کس معنی میں وہ لوگ آپ کو امام کہتے ہیں؟ اہمیت کیا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: جی! میں نے آج تک کسی کو نہیں کہا کہ مجھے امام کہو اور نہ یہ کہا ہے کسی کو کہ امیر المومنین کہو اور یہ امام جماعت احمدیہ، یہ ہماری ہی جماعت میں عام طور پر نہیں استعمال ہوتا۔ پاکستان میں، باہر کے ممالک کر لیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں کچھ جو استعمال ہوتا ہے وہ ”امیر المومنین“ ہے اور اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ ”امیر المومنین“ سے مراد وہ ہیں جو مبائع ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, may I remind you that the day you came to address this House, you corrected the Chairman and told him that you are Imam of the Jamaat?

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ جس روز آپ اس ہاؤس میں تقریر کرنے آئے تھے تو آپ نے چیئرمین صاحب کو ٹوکا تھا اور درست کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ جماعت کے امام ہیں)

مرزا ناصر احمد: 120 میں نے یہ کہا تھا، مجھے یاد ہے، میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے صدر، صدر انجمن احمدیہ نہ کہیں۔ کیونکہ میں صدر، صدر انجمن احمدیہ نہیں۔ اس کی بجائے مجھے امام جماعت احمدیہ کہہ دیں۔ میرے ذہن میں اس وقت Head of the Community تھا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I just want to clarify

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف وضاحت چاہتا ہوں......)

what....

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں! بالکل میں نے کہا تھا۔ مجھے یاد ہے خود اچھی طرح۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you know what the significance of the word "Imam" is among the Muslims

١٧٥

صفحہ ٢٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

generally and among Shia Muslims particularly? (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ جانتے ہیں کہ اس لفظ امام کی مسلمانوں میں عام طور پر اور شیعہ مسلمانوں میں خاص طور پر کیا اہمیت ہے)

مرزا ناصر احمد: مجھے یہ علم ہے کہ جو ”امام“ کا مفہوم شیعہ Sect میں ہے۔ وہ دوسرے کسی Sect میں نہیں ہے۔ فرقے میں نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And you don't use that in that sense? (جناب یحییٰ بختیار: لیکن آپ نے وہ مطلب نہیں لیا وہ معنی؟)

Mirza Nasir Ahmad: Oh, no, certainly not. (مرزا ناصر احمد: جی نہیں۔ یقیناً نہیں)

(قادیانی خلیفہ مستعفی نہیں ہو سکتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, the next point which I wanted to know this morning which I didn't ask, can you, as Head or Khalifa or Imam of your Jamaat, resign your office or you are not allowed? (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! اگلا نکتہ یہ ہے جو میں صبح معلوم کرنا چاہتا تھا۔ مگر نہیں پوچھ سکا کہ کیا آپ بحیثیت ہیڈ یا خلیفہ یا جماعت کے امام کے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں یا آپ کو مستعفی ہونے کی اجازت نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: نہیں، جب خدا تعالیٰ نے، یعنی ہمارے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملتی ہے چیز، تو یہ اجازت نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You are not allowed to resign? (جناب یحییٰ بختیار: آپ کو استعفیٰ دینے کی اجازت نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں!

(الیکشن کمشنر امیدوار کے کاغذات میں مسلم، غیر مسلم پر غور کر سکتا ہے)

121 Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, before we adjourned this morning, I was asking you a certain question with

١٧٦

صفحہ ٢٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

regard to the office of the Persident and I asked you that supposing a person.... because Article:41 says that he shall be a Muslim.... then I ask you supposing a person applies or his name is proposed as a candidate for the office of Persident of Pakistan and therein his declaration is filed that 'I am a Muslim, of age over 45', whatever it may be 50 or 60 and somebody objects at the time of the scurtiny of nomination papers that he is not a Muslman because he does not believe in one of the essentials of Islam, he does not believe for instance, that Zakat is a compulsory or necessary part of Islam. Now I ask you whether the Election Commissioner has a right, will be justified to return, to refuse his nomination paper, reject it, or just because he has declared that he is a Muslim that should be sufficient?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب آج صبح اجلاس کے ملتوی ہونے سے قبل آپ سے ایک سوال میں صدر کے عہدے کے بارے میں کر رہا تھا اور میں نے یہ دریافت کیا تھا کہ بروئے دفعہ ٤١ صدر کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ فرض کریں کہ ایک شخص صدارت کا امیدوار بنتا ہے اور ڈکلیئریشن داخل کرتا ہے کہ میں چالیس برس کا یا جو بھی عمر ہے پچاس ساٹھ برس کا ہوں اور میں مسلمان ہوں اور جب چھان بین ہوتی ہے کاغذات نامزدگی کی اس وقت کوئی اعتراض کرتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کے ایک بنیادی اصول پر یہ اعتقاد نہیں رکھتا۔ مثلاً وہ نہیں اعتقاد رکھتا کہ زکوٰۃ لازمی ہے اور دین اسلام کا ضروری حصہ ہے تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا الیکشن کمشنر کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کے کاغذات رد کر دے انکار کر دے۔ واپس کر دے یا برعکس اس کے وہ قبول کر لے اور اس کا ڈکلیئریشن مسلمان ہونے کا مان لے؟)

مرزا ناصر احمد: الیکشن کمشنر جو ہیں ان کو ان قوانین کی پابندی کرنی چاہئے جو پاکستان نے ان کے لئے بنائے ہیں۔

١٧٧

AN 5th Aug, 1974 No:01

cularly?

(جناب یحییٰ بختیار:

پر اور شیعہ مسلمانوں میں خاص ط

مرزا ناصر احمد:

دوسرے کسی Sect میں نہیں۔

u don't use that in

(جناب یحییٰ بختیار:

ertainly not.

(مرزا ناصر احمد:

')

Sir, the next point which I didn't ask, t of your Jamaat,

(جناب یحییٰ بختیار:

نہیں پوچھ سکا کہ کیا آپ بج ہوسکتے ہیں یا آپ کو مستعفی ہو

مرزا ناصر احمد:

اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملتی re not allowed to

(جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ہا

(الیکشن کمشنر امیدوا

fore we adjourned in question with

صفحہ ٢٠٤

204 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you, Mirza Sahib.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کا شکریہ)

مرزا ناصر احمد: میرا تو اس میں کوئی دخل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔

Supposing that the man says himself, when he is asked:

"Is it true that you don't accept Zakat as necessary part of Islam and one of tha essentials?" He says: "Yes. I do not believe, I do not think it is a part of Islam, but I am still a Muslim." Now, at this stage. I only ask whether the Election Commissioner, Chief Election Commissioner can reject his nomination papers?

(فرض کریں اس شخص سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ تم زکوٰۃ کو اسلام کا ضروری حصہ نہیں سمجھتے اور یہ کہ زکوٰۃ اسلام کے ارکان میں سے نہیں ہے۔ اگر وہ جواب میں کہتا ہے ٹھیک۔ میں یہی اعتقاد رکھتا ہوں میں نہیں سمجھتا کہ زکوٰۃ اسلام کا ضروری حصہ ہے۔ لیکن میں پھر بھی مسلمان ہوں۔ تو اس صورت میں آپ سے صرف سوال کرتا ہوں کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اس کے کاغذات کو رد کر سکتا ہے)

مرزا ناصر احمد: میں کوئی ایسا مشورہ دے دوں جو قانون اجازت نہ دیتا ہو تو بہت بری بات ہوگی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر اس مسئلے پر کوئی قانون بن جائے تو سب کو ٹھیک ہوگا۔

ہاں جی 122؟ قانون.......

If the Law is made what is a Muslim?

(اگر قانون یہ بنایا جائے کہ مسلمان کیا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: اگر یہ قانون ہو کہ مسلمان وہ ہے جو پانچ ارکان جو ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔

مرزا ناصر احمد: .......ان پر کم از کم عقیدہ رکھتا ہے...... عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا......

١٧٨

205 NATIONAL ASSEMB

Mr. Yahya Bakhtia

country, the State has the righ what is a Muslim because President has to be a Muslim, Muslim or other way.....

پ کہتے ہیں کہ حکومت کو قانون سازی کا حق ہے رتا ہے کہ صدر کو مسلمان ہونا ہے۔ وزیراعظم کو

......

Mr. Yahya Bakhtia

it that way..... (......کہتا ہوں کہ کسی اسلامی حکومت کو کوئی ایسا قانون نہیں بنانا

Mr. Yahya Bakht

accordance with the Injunctio

قانون بناتے ہیں کورٹ کے اندر احکام اسلام کے ارشاد کے مطابق ہے تو ہر مسلمان جو ہے اس ازی کر سکتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtia

make a law laying down wha Muslim in a nagative form, o the Election Commissioner, reject the nomination paper.

ں نکلے کہ وہ قانون سازی کر سکتے ہیں۔ قطعی طور

١

صفحہ ٢٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: So, you think that, in the country, the State has the right to make the law to lay down what is a Muslim because Consitution requires that President has to be a Muslim, a Prime Minister has to be a Muslim or other way.....

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! آپ کہتے ہیں کہ حکومت کو قانون سازی کا حق ہے کہ بتائے کہ مسلمان کیا ہے۔ کیونکہ دستور مطالبہ کرتا ہے کہ صدر کو مسلمان ہونا ہے۔ وزیر اعظم کو مسلمان ہونا ہے......)

مرزا ناصر احمد: میری رائے یہ ہے.......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... or in other way I can put it that way.....

(جناب یحییٰ بختیار: بالفاظ دیگر میں کہتا ہوں......)

مرزا ناصر احمد: میری رائے یہ ہے کہ کسی اسلامی حکومت کو کوئی ایسا قانون نہیں بنانا چاہئے جو نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق نہ ہو۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if they make it in accordance with the Injunction of Islam.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر وہ قانون بناتے ہیں کورٹ کے اندر احکام اسلام کے حدود میں)

مرزا ناصر احمد: اگر آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہے تو ہر مسلمان جو ہے اس کو قبول کرتا ہے۔

(حکومت قانون سازی کر سکتی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That means that they can make a law laying down what a Muslim is or who is not a Muslim in a nagative form, or in a positive form, and then the Election Commissioner, in the light of that law, can reject the nomination paper.

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے یہ معنی نکلے کہ وہ قانون سازی کر سکتے ہیں۔ قطعی طور

١٧٩

صفحہ ٢٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

پر یہ حکم دیتے ہوئے کہ کون مسلمان ہے۔ بالتصریح اور کون مسلمان نہیں ہے۔ یعنی منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر حکم دے سکتے ہیں تو اس کے بعد الیکشن کمشنر اس ساختہ قانون کی روشنی میں اس کے کاغذات کو رد کرسکتا ہے)

123 مرزا ناصر احمد: ہاں! اگر آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق ہے اور قانون ہے۔ کیونکہ الیکشن کمشنر کو آنحضرت ﷺ کے ارشادات اس طرح Bind نہیں کرتے۔ جس طرح قانون Bind کرتا ہے اور اگر قانون ہے تو اس کو قانون کی پابندی کرنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس قسم کا قانون بن سکتا ہے اور بننا چاہئے؟

مرزا ناصر احمد: ”بن سکتا ہے“ تو میں نہیں کہہ رہا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،......

مرزا ناصر احمد: ...... میں کہتا ہوں کہ اگر قانون ہو تو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا؟ پھر تو......

مرزا ناصر احمد: اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔

Sir, while referring to the Declaration of Human Rights, you have not relied on any Article of the Declaration of Human Rights, but only on the opinion of one of the draftsmen? Isn't it so?

(جناب! آپ نے جب انسانی حقوق کے ڈکلیئریشن کی بات کی تھی تو آپ نے اس کی کسی دفعہ پر بھروسہ نہیں کیا۔ بلکہ صرف ان آراء پر جو دستاویزوں کے مسودہ بنانے والوں کے ساتھ تھے۔ کیا ایسا نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: میں سمجھا نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Annexure-I is opinion of Dr. Charles Malik of Lebanon. Is it not any Article of.....

(جناب یحییٰ بختیار: ذیلی کاغذ نمبر:١، یہ تو رائے ہے ڈاکٹر چارلس ملک آف لبنان کی۔ کیا یہ تحریر میں نہیں ہے......)

مرزا ناصر احمد: یہ ہمارے محضر نامہ میں ہے؟)

١٨٠

صفحہ ٢٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں! You have filed the Annexure. (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ذیلی کاغذ لگایا ہے نہ) مرزا ناصر احمد: اس کی دفعہ......

Mr. Yahya Bakhtiar: Appendix. مرزا ناصر احمد: ......١٨ ہے، وہ نوٹ کرلیں۔ 124 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ! تو Have you seen other provisions also? (آپ نے دوسری دفعات بھی پڑھی ہیں یا نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Yes, I have. (مرزا ناصر احمد: ہاں! پڑھی ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: What is Article 29? (جناب یحییٰ بختیار: تو بتائیں دفعہ نمبر ٢٩ کیا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, I do not remember. (مرزا ناصر احمد: یوں مجھے یاد نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: That.... مرزا ناصر احمد: نہیں، تو میں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو بتا رہا ہوں، آپ نے اگر دیکھا ہے یا نہیں اس کو......

مرزا ناصر احمد: میں نے بہت سے پمفلٹ دیکھے، ایک دو کتابیں دیکھیں۔ لیکن جس چیز میں مجھے دلچسپی نہیں ہوتی اس کو میرا حافظہ یاد نہیں رکھتا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں Probably. But Sir, just like our Constitution says that you have the freedom of religion subject to law, Public order and morality, Article:29 places similar restriction.... similar.... I don't say exactly the same.... on the Human Rights that they also have to be subject to some sort of restirction. (جناب یحییٰ بختیار: لیکن جناب جس طرح ہمارا دستور کہتا ہے کہ آپ کو قانون

١٨١

ISTAN 5th Aug, 1974 No:01

پر یہ حکم دیتے ہوئے کہ کون مسلمان دونوں پہلوؤں پر حکم دے سکتے ہیں کے کاغذات کو رد کر سکتا ہے) مرزا ناصر احمد: 123 قانون ہے۔ کیونکہ الیکشن کمشنر کو ٢ جس طرح قانون Bind کرتا جناب یحییٰ بختیار: ا مرزا ناصر احمد: ”جن جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: ...... جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: اگرا جناب یحییٰ بختیار: claration of Human le of the Declaration inion of one of the

(جناب! آپ نے ا کی کسی دفعہ پر بھروسہ نہیں کیا۔ ن ساتھ تھے۔ کیا ایسا نہیں ہے) مرزا ناصر احمد: میں ture-I is opinion of ny Article of..... (جناب یحییٰ بختیار کی۔ کیا یہ تحریر میں نہیں ہے...... مرزا ناصر احمد: ہا

صفحہ ٢٠٨

208 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کے اندر رہ کر اور امن عامہ اور اخلاقیات کا خیال رکھتے ہوئے پابندیوں کے ساتھ مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے تو اسی نوعیت کی اس سے تقریباً ملتی جلتی انسانی حقوق پر بھی پابندیاں عائد ہیں)

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ پھر جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ١٩٤٨ء میں Universal Declaration of Human Rights (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) کی ابتداء ہوئی اور یہ محض اصولی چیز ہے۔ جس کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ ان تمام ممالک نے جو یو۔این۔او میں شامل ہوئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں I am not disputing that. I am just saying that the Right is also not absolute, but subject to restrictions.

(جناب یحییٰ بختیار: میں اس سے اختلاف نہیں کر رہا ہوں۔ حق قطعی نہیں ہے پابندیوں سے مشروط ہے) مرزا ناصر احمد: ہوگا۔ 125 جناب یحییٰ بختیار: ہاں! This is all (بس یہی بات ہے) مرزا ناصر احمد: لیکن نہیں۔ میں اس سے بھی زیادہ کوئی بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا اور بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بہت خرچ اس کے اوپر ہو رہا ہے اور انہوں نے ایک ایک Human Right (انسانی حق) کو لے کر اس کے Covenants draw کرنے شروع کئے ہیں اور چونکہ ان لوگوں کو مذہب سے اتنی دلچسپی نہیں۔ اس لئے Freedom of speech (آزادی گفتار) اور دوسرے جو تھے، کچھ Covenants بنالئے ہیں۔ کچھ پوائنٹس پر، اور کچھ ابھی نہیں بنے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پڑھ رہا ہوں جو آپ نے فائل کیا ہوا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The philosophy of the Bill of Rights was put into enduring word by the Arab scholar and Philosopher Dr. Charles Malik of Lebanon. Dr. Malik who was a member of the Commission on Human Rights of the United Nations, helped draft a Declaration of Human

١٨٢

209 NATIONAL ASSEMBLY

Rights for the United Nations deemed to be fundamental princ

racial, national or other group to

inviolable possessions are his enabling him to perceive the tru exist."

Now, Sir, I would respec حقوق کے بل کے پیچھے جو فلاسفی کار فرما تھی اس کو - آف لبنان نے ابدی الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ کے کمیشن کے ممبر تھے۔ اقوام متحدہ کے لئے انسانی وں نے فرمایا کہ اجتماعی معاشرتی حقوق کا بنیادی

وں سے زیادہ اہم ہے جن کا وہ ایک رکن ہو سکتا ہے۔ ت اس کا ذہن اور ضمیر ہیں جو اسے سچ کو پہچاننے، ل بناتے ہیں۔

Universal Declaration of Hu جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس کی جو دفعہ

ی! ٹھیک ہے۔ لیکن میں یہاں پوچھتا ہوں کہ آپ

Has any motion or res suggested even in the most rem not be allowed....

١٨٣

صفحہ ٢٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Rights for the United Nations. Dr. Malik stated that he deemed to be fundamental principles of civil rights:

racial, national or other group to which he may belong.

inviolable possessions are his mind and his conscience, enabling him to perceive the truth, to choose freely, and to exist."

Now, Sir, I would respectfully ask you that......

(جناب یحییٰ بختیار: انسانی حقوق کے بل کے پیچھے جو فلاسفی کارفرما تھی اس کو فلسفے کے ایک عرب اسکالر ڈاکٹر چارلس ملک آف لبنان نے ابدی الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ ڈاکٹر ملک جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ممبر تھے۔ اقوام متحدہ کے لئے انسانی حقوق کا منشور بنانے میں مددگار تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اجتماعی معاشرتی حقوق کا بنیادی اصول یہ معلوم ہوتا ہے:

آزادانہ انتخاب کرنے اور موجود ہونے کے قابل بناتے ہیں۔

اب میں بصد احترام عرض کروں گا)

مرزا ناصر احمد: وہ Universal Declaration of Human Rights. (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس کی جو دفعہ نمبر ١٨ ہے۔

126 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! ٹھیک ہے۔ لیکن میں یہاں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس پر Rely کیا۔

Has any motion or resolution before the House suggested even in the most remotest way that anybody will not be allowed....

١٨٣

صفحہ ٢١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مگر کیا کسی ریزولیوشن یا قرارداد نے ایوان کے سامنے دور دور بھی یہ تجویز رکھی ہے کہ کسی کو مداخلت کا حق نہیں ہوگا......)

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ وہ تو ایک شخص کی رائے، جس کی اہمیت ہے کچھ، صرف یہ کہنے کے لئے کہ انسان کے اندر اس کا جو دل و دماغ ہے۔......

جناب یحییٰ بختیار: کسی نے یہ تو نہیں Suggest (تجویز) کیا کہ آپ کو سوچنے کی آزادی نہیں ہے۔

That you have not the freedom of thought or mind or conscience or the way you seek the truth. Nobody has suggested it anywhere. On the contrary, the Resolution which has come before the House.....

(کہ آپ کو سوچ کی آزادی نہیں ہے یا فہم و عقل یا ضمیر کی آزادی نہیں ہے۔ حق کی تلاش میں کسی نے کہیں بھی اس کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ بلکہ دوسری طرف جو ریزولیوشن کہ ایوان کے سامنے آیا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! میں اب سمجھ گیا پوائنٹ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں .... guarantees that you will have your human rights and fundamental right,....

(جناب یحییٰ بختیار: اس کی گارنٹی دیتا ہے کہ آپ کا اپنا انسانی حق برقرار ہے اور ساتھ ہی بنیادی حق)

مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... right to practise and profess and....(جناب یحییٰ بختیار: کہ اس پر اعتقاد رکھیں اور عمل پیرا ہوں)

(میں اب سمجھا)

مرزا ناصر احمد: اب میں پوائنٹ سمجھ گیا ہوں، پہلے نہیں میں سمجھا تھا۔ بات یہ ہے کہ دو یہاں ریزولیوشن پیش ہوئے ہیں.......

جناب یحییٰ بختیار: ایک موشن ہے اور ایک ریزولیوشن۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! ایک موشن ہے۔ ایک ریزولیوشن ہے۔ ریزولیوشن پیپلز پارٹی

١٨٤

211 NATIONAL ASSEMB

گورنمنٹ کی طرف سے نہیں ہے، موشن ہے۔ Mot گورنمنٹ کی طرف سے ہے۔ یہ میں میں جہاں تک اس کے الفاظ ہیں وہ آپ بالکل ذمہ دار آدمیوں نے جو اس کے بعد تقاریر کی ہیں ایک بالکل سیدھی سادی بات تھی۔ اس کو ...... بات کی ہے اپنے محضر نامے میں۔ اگر وہ تقاریر جو ہوئی ہیں تو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر ان

ب! میں عرض یہ کر رہا تھا کہ یہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ:

"The human person possessions are his mind and Are they going to be your community is concerned in enabling you to perceive th exist?

یا کہ ہم جماعت احمدیہ کے متعلق وہ فیصلہ کریں یہ چیز یہاں اس شکل میں پیش کرنی پڑی، ورنہ

ں میں تو زیادہ سے زیادہ یہی تھا ناں جی کہ غیر مسلم اقلیت (Non-Muslim mi

(قہقہہ)

Mr. Yahya Bakhtia put it very bluntly....

صاف الفاظ میں ڈکلیئر کر دیں......)

١٨

صفحہ ٢١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کی طرف سے یا حکومت کی طرف سے؟

127 جناب یحییٰ بختیار: ریزولیوشن گورنمنٹ کی طرف سے نہیں ہے، موشن ہے۔

مرزا ناصر احمد: موشن ہے، Motion گورنمنٹ کی طرف سے ہے۔ یہ میں Clarification چاہتا تھا۔ جو موشن ہے اس میں جہاں تک اس کے الفاظ ہیں وہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ لیکن حکومت کی پارٹی کے ذمہ دار آدمیوں نے جو اس کے بعد تقاریر کی ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے اور اس وجہ سے جو ایک بالکل سیدھی سادی بات تھی۔ اس کو...... دونوں کو اکٹھا کر کے...... تو اس کے متعلق ہم نے بات کی ہے اپنے محضر نامے میں۔ اگر وہ تقاریر حکومت کے ذمہ دار افراد کی طرف سے نہ ہوتیں۔ جو ہوئی ہیں تو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر ان کو، دونوں کو علیحدہ کرنا پڑتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں عرض یہ کر رہا تھا کہ یہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ:

"The human person's most sacred and inviolable possessions are his mind and his conscience."

Are they going to be affected in any way, as far as your community is concerned, by any motion or resolution, in enabling you to perceive the truth, to choose freely, and to exist?

مرزا ناصر احمد: جب یہ اعلان کیا گیا کہ ہم جماعت احمدیہ کے متعلق وہ فیصلہ کریں گے جو یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ان اعلانات کے نتیجہ میں یہ چیز یہاں اس شکل میں پیش کرنی پڑی، ورنہ ضرورت کوئی نہیں تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! اعلان میں تو زیادہ سے زیادہ یہی تھا ناں جی کہ جماعت احمدیہ کو ایک Non-Muslim minority declare (غیر مسلم اقلیت ڈکلیئر) کیا جائے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if you are declared, to put it very bluntly....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ کو واشگاف الفاظ میں ڈکلیئر کر دیں......)

١٨٥

صفحہ ٢١٢

212 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! 128

Mr. Yahya Bakhtiar: .... a non- Muslim minority,.....

(جناب یحییٰ بختیار : غیر مسلم اقلیت......)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... will they stop you from considering Mirza Ghulam Ahmad as a Prophet or as your hero or your leader, or stop you from prayers, or stop you even from thinking, believing, that you are a Muslim?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا وہ روک دیں گے آپ کو مرزا غلام احمد کو نبی ماننے سے یا ہیرو ماننے سے یا نماز پڑھنے سے یا حتیٰ کہ آپ کو یہ سوچنے سے کہ آپ مسلمان ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Or propagating?

(مرزا ناصر احمد : یا پھیلانے سے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, nobody can stop you from propagating either. You can say whatever your faith is.

(جناب یحییٰ بختیار : نہیں نہیں! آپ کو پھیلانے سے بھی نہیں روک سکتے؟ آپ کا جو عقیدہ ہے کہہ سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: ? what purpose would it serve you?

(مرزا ناصر احمد : اس سے آپ کو فائدہ کیا ہوگا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, that is, I say, that why should you object to it?

(جناب یحییٰ بختیار : تو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کیوں اعتراض کرتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, what purpose would it serve you to declare us as a non-Muslim minority?

(مرزا ناصر احمد : ہم کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر کیا مقصد برآری ہوگی؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I want to know your point

١٨٦

213 NATIONAL ASSEM

of view; and I will explain m view of those who want me But I am just at the moment affect you? Because as far religion are concerned, they

نگاہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ہے؟ میں اپنا نکتہ ان کا زاویہ نگاہ واضح ہو تو میں سردست یہ پوچھ وں تک آپ کے بنیادی حق اور مذہب کا تعلق

کا یہی اثر ہے کہ وہ ہمارے پاکستانی شہری بھائی س ملک میں اس قسم کا بھی کوئی ریزولیشن پاس

Mr. Yahya Bakhti there are Christians and they

ی بھی رہتے ہیں۔ عیسائی بھی رہتے ہیں اور یہ

129 Mirza Nasir Ah Pakistanis and they feel that t

اکستانی ہیں۔ مگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے

Mr. Yahya Bakht thing. They should be treat party or Government or Leg properly, I am not justifying how are their rights affect concerned? Can they not pro

١٨

صفحہ ٢١٣

TAN 5th Aug, 1974 No:01

128 مرزا ناصر احمد

, a non- Muslim

(جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

they stop you from Prophet or as your prayers, or stop you re a Muslim?

(جناب یحییٰ بختیار: پیرو ماننے سے یا نماز پڑھنے سے

gating?

(مرزا ناصر احمد:

o, nobody can stop say whatever your

(جناب یحییٰ بختیار: کا جو عقیدہ ہے کہہ سکتے ہیں)

t purpose would it

(مرزا ناصر احمد:

t is, I say, that why

(جناب یحییٰ بختیار:

what purpose would n minority?

(مرزا ناصر احمد:

to know your point

213 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

of view; and I will explain my point of view or the point of view of those who want me to explain their point of view. But I am just at the moment asking you. How is it going to affect you? Because as far as your fundamental rights of religion are concerned, they will be protected.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کا نقطہ نگاہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ہے؟ میں اپنا نقطہ نگاہ واضح کرتا ہوں یا ان اشخاص کا جو چاہتے ہیں کہ ان کا زاویہ نگاہ واضح ہو تو میں سردست یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ پر یہ کیسے اثر انداز ہوگا۔ کیونکہ جہاں تک آپ کے بنیادی حق اور مذہب کا تعلق ہے تو ان کا پورا تحفظ ہوگا)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! ہم پر اس کا یہی اثر ہے کہ وہ ہمارے پاکستانی شہری بھائی جو ہیں ان کے اوپر یہ بڑا سخت دھبہ لگے گا کہ اس ملک میں اس قسم کا بھی کوئی ریزولوشن پاس ہو سکتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے......

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, but there are Parsis, there are Christians and they are also patriotic Pakistanis.

(جناب یحییٰ بختیار: یہاں آخر پارسی بھی رہتے ہیں۔ عیسائی بھی رہتے ہیں اور یہ سب حضرات محب وطن پاکستانی ہیں)

129 Mirza Nasir Ahmad: They are also patriotic Pakistanis and they feel that they are not treated properly?

(مرزا ناصر احمد: ہم بھی محب وطن پاکستانی ہیں۔ مگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, That is a different thing. They should be treated properly. If some political party or Government or Legislature is not treating them properly, I am not justifying that. But I am just saying that how are their rights affected as far as the religion is concerned? Can they not pray according to their religion?

١٨٧

صفحہ ٢١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Can they not preach their religion, profess their religion, propagate thier religion?

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ وہ ایک جذبات ہے۔ ضرور ان کے ساتھ مناسب برتاؤ ہونا ہے۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی یا حکومت یا قانون ساز ادارہ احمدیوں کے ساتھ نامناسب برتاؤ رکھے ہوئے ہے تو میں اس کا جواز پیش نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ جہاں تک ان کے مذہب کا تعلق ہے کس طرح ان کے حقوق پر اثر پڑ رہا ہے۔ کیا وہ اس طرح عبادت نہیں کرتے۔ جیسے ان کا مذہب بتاتا ہے۔ کیا وہ اپنے مذہب کی ترویج پر پروپیگنڈا یا تبلیغ نہیں کرسکتے)

مرزا ناصر احمد: صرف یہ ہے کہ ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! Then any citizen can come and say that it should not be done. That is a different right. (اگر کوئی شہری فرد ذاتی طور پر آ کر کہہ دے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے وہ جذبات ہے)

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ آپ کے یہ......

جناب یحییٰ بختیار: کسی چیز سے پیار نہیں کرنا چاہئے؟

مرزا ناصر احمد: جو چیز آپ پوچھنا چاہتے ہیں وہ میں نہیں سمجھا۔ پھر اس وقت سوال کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ میں نے صرف یہ پوچھا ہے کہ آپ نے یہ Declaration Human Rights (انسانی حقوق کا ڈکلیئریشن) کا کہا ہے اور باقی religious freedom (مذہبی آزادی) کے بارے میں کہا ہے۔ اس کا سوال اٹھتا ہی نہیں ۔ How can the question arise? Nobody is going to violate your right to profess any religion, to practise any religion, to feel what you like, to have any faith you want, that is not..... (سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی مذہب کا اظہار کرے۔ کسی مذہب پر عمل، کسی چیز کو پسند کرنے کے لئے آپ کے حق کو پامال نہیں کرے گا)

مرزا ناصر احمد: اب Material thinking (ٹھوس حقیقی سوچ) ہے یہ میں یہ کہتا ہوں کہ کسی کو حق نہیں کہ مجھے غیر مسلم کہے۔

130 Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is different. But

١٨٨

صفحہ ٢١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

I am just saying that your religion will not be affected because nobody is going to stop you from....

(جناب یحییٰ بختیار: یہ علیحدہ بات ہے بلکہ میں کہہ رہا ہوں کہ آپ کا مذہب متاثر نہیں ہوگا۔ کیونکہ آپ کو نہیں روکے گا)

Mirza Nasir Ahmad: But my religion is affected; and if my religious feelings and passions are affected, my religion is affected.

(مرزا ناصر احمد: دیکھئے میرا مذہب متاثر ہوا ہے اور اگر میرے مذہبی جذبات اور احساسات متاثر ہو رہے ہیں تو میرا مذہب متاثر ہوا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: You have not clarified as to how? Because you will be allowed to say your prayers, you will be allowed to call whatever name you want, by the name of Ahmadi or whatever you like.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ کیسے، کیونکہ آپ کو نمازیں پڑھنے کی اجازت دی جائے گی۔ آپ اپنے آپ کسی بھی نام جو چاہیں احمدی یا جو بھی پسند کریں اس سے اپنے کو متعارف کرنے کی اجازت ہوگی)

مرزا ناصر احمد: ہم آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور یہ کلیم کیا گیا ہے کہ ان کی مسجدیں لے لو اور ان کی فلاں......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں! میں نہیں......)

مرزا ناصر احمد: ......لے لو اور فلاں لے لو۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, once you are declared a minority, your rights are protected, Mirza Sahib.

(جناب یحییٰ بختیار: آپ اقلیت قرار دیئے گئے تو آپ کے حقوق کا تحفظ ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: No. ہاں، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: If you are not declared a

١٨٩

صفحہ ٢١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug. 1974 No:01

minority, then I am not sure if your rights will be protected.

Mirza Nasir Ahmad: Then we don't want our rights to be protected.

Mr. Yahya Bakhtiar: It is up to you.

مرزا ناصر احمد: ہاں! بالکل !!

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I go to your main point when you said that if you proclaim that you are a Muslim, 131 everybody should consider that you are a Muslim and treat you as a Muslim without questioning your proclamation. And then you further say in your address.... which I mentioned before.... of 21st June, that:

"God Almighty will demonstrate through his designs who is a believer and who is a disbeliever."

Now, Sir, if inspite of the fact that you declare and proclaim that you are a Muslim, and still I announce or anybody announces that you are not a Muslim, will that be interfering with your fundamental rights.

(جناب یحییٰ بختیار: اب میں آپ کے خاص نکتہ کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ اگر میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو ہر ایک شخص کو چاہئے کہ مجھے مسلمان سمجھے اور آپ کے اعلان پر بغیر اعتراض کیے آپ کو مسلمان سمجھنا چاہئے۔ پھر آپ مزید یہ بھی کہتے ہیں اپنے ٢١؍ جون کے خطبے میں جس کا میں نے ابھی ذکر کیا کہ:

”اللہ تعالیٰ دکھا دے گا اپنی تجویز سے کہ کون مؤمن ہے اور کون کافر ہے۔“

اب جناب! باوجود اس کے کہ آپ اعلان کرتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں تو میں یا کوئی شخص باوجود آپ کے اعلان کے بزور اعلانیہ کہتا ہے کہ نہیں آپ مسلمان نہیں ہیں تو اس طرح کہنے سے کیا آپ کے بنیادی حقوق میں رخنہ اندازی ہوئی)

مرزا ناصر احمد: یہاں یہ سوال نہیں ہے کہ زید بکر کو مسلمان کہتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ

١٩٠

NATIONAL ASSEMBLY

لحاظ سے، سیاسی لحاظ سے، غیر مسلم قرار دیدے اور اس

.......اگر!

دے دیتے ہیں زید اور بکر کی ۔ زید بکر کی جو ہے، جو کہتے ہیں کہ وہ، وہ ہمارا کوئی جھگڑا کوئی نہیں .......

Mr. Yahya Bakhtiar: says that you are not a Muslim....

.......ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں)

تو You will not mind that? (آپ

میں بالکل غصہ نہیں آئے گا۔ Mind سے زیادہ

Mr. Yahya Bakhtia Legislature says that, then you with your rights?

قانون یا قانون ساز ادارہ ایسا آپ کو کہے تو کیا آپ ؟) حکومت اس بات میں دخل دے تو ہم سمجھتے ہیں کہ

Mr. Yahya Bakhtiar claim for yourself, do you conc also?

جس حق کے آپ خود دعویدار ہو رہے ہیں کہ کیا یہی ؟)

Mirza Nasir Ahmad:

١٩١

صفحہ ٢١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ہے کہ کیا یہ حکومت کا حق ہے کہ کسی کو دنیاوی لحاظ سے، سیاسی لحاظ سے، غیر مسلم قرار دیدے اور اس کا اعلان کردے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر، اگر ......

مرزا ناصر احمد: آپ مثال دے دیتے ہیں زید اور بکر کی۔ زید بکر کی جو ہے، جو معاملہ ہے وہ تو ہم اتنے پیار سے ان کو سمجھا دیتے ہیں کہ وہ، وہ ہمارا کوئی جھگڑا کوئی نہیں ......

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں , supposing somebody says that you are not a Muslim....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں ......)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں؟

جناب یحییٰ بختیار: ...... اگر کہیں تو You will not mind that? (آپ محسوس نہیں کرو گے؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں! ہمیں بالکل غصہ نہیں آئے گا۔ Mind سے زیادہ میں کہہ رہا ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: If the law says or the Legislature says that, then you consider it as interference with your rights?

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن اگر قانون یا قانون ساز ادارہ ایسا آپ کو کہے تو کیا آپ کی نظر میں یہ آپ کے حقوق میں مداخلت ہوئی؟)

132 مرزا ناصر احمد: ہاں! اگر حکومت اس بات میں دخل دے تو ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو یہ حق نہیں ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the right which you claim for yourself, do you concede the same right to others also?

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! جس حق کے آپ خود دعویدار ہو رہے ہیں کہ کیا یہی حق آپ دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرتے ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: To everybody else.

191

TAN 5th Aug, 1974 No:01

ts will be protected.

we don't want our

to you.

مرزا ناصر احمد: ہا

r, I go to your main

rim that you are a

you are a Muslim

questioning your

in your address....

, that:

through his designs

"

at you declare and

till I announce or

Muslim, will that be

(جناب یحییٰ بختیار کہتے ہیں کہ اگر میں اعلان کر سمجھے اور آپ کے اعلان پر بقیہ ہیں اپنے ٢١/ جون کے خطبے میں "اللہ تعالیٰ دکھا دے

اب جناب! باوجود شخص باوجود آپ کے اعلان کہنے سے کیا آپ کے بنیادی

مرزا ناصر احمد:

صفحہ ٢١٨

218 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر احمد : ہر ایک کے لئے )

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. They could also....

مرزا ناصر احمد : ہاں! یہاں میں وضاحت کر دوں کہ ایک یہ ہم نے بڑا سوچا۔ یعنی آخر یہ ہمارا کام ہے ناں ..... ہمارے سے مراد ہم سب کا جو یہاں بیٹھے ہیں ...... کہ بڑے لمبے عرصے سے علماء کی طرف سے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے گئے ، تو کوئی سوچا ہم نے بڑا کہ اس میں کوئی Sense (سوجھ بوجھ) ایسی چاہئے جس کی تھوڑی بہت کوئی Justification (جواز ) بھی ہو سکے۔ تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ان فتاویٰ کا یہ مطلب ہے کہ ان کے نزدیک جن پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے ان کے اعتقادات یا اعمال اللہ کو پسند نہیں اور قیامت والے دن ان سے مواخذہ کیا جائے گا ۔ ہمارے نزدیک ان فتاویٰ کا اس سے زیادہ اور مطلب نہیں اور سیاسی طور پر کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ ان تین احادیث کی روشنی میں جو محضر نامے میں ہیں۔ سیاسی طور پر کسی حکومت کو حق نہیں ہے کہ کسی فرقے کو کافر قرار دے۔ کیونکہ اگر کافر قرار دینے کی بنیاد رکھی جائے فرقوں کے فتاویٰ پر تو چھوٹا سا نمونہ ہمارے محضر نامے میں پیش کر دیا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں ۔ فرقے کی اس میں نہیں کہہ رہا جی ۔ اگر اسلام کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ جو اسلام کے Essentials (ضروری ارکان ) سے منکر ہے؟

مرزا ناصر احمد : پانچ ارکان ہیں ۔

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے؟

مرزا ناصر احمد : وہ تو ٹھیک ہے ، میں نے کہا۔

133 Mr. Yahya Bakhtiar: And then you said that you extend the same right and concede the same right to others which you claim for yourself, and, of course, the same courtesy.....

(جناب یحییٰ بختیار : اور پھر آپ کہتے ہیں کہ آپ دوسروں کو بھی وہی حق دیتے ہیں اور ان کا بھی وہی حق تسلیم کرتے ہیں جس کے خود دعویدار ہیں اور وہی شائستگی ان کو جو اپنے لئے چاہتے ہیں )

Mirza Nasir Ahmad: The same courtesy.

(مرزا ناصر احمد : جی ہاں۔ وہی شائستگی )

١٩٢

صفحہ ٢١٩

219 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: .... courtesy which you expect from them. Sir, you said in your speech that when you say that you are a Muslim.... then Mr.Bhutto or Mufti Mahmood or Maulana Maudoodi......

(جناب یحییٰ بختیار: اپنے لئے وہی شائستگی جو ان سے توقع رکھتے ہیں۔ جناب اپنی تقریر میں آپ نے جب کہا کہ آپ مسلمان ہیں تو مسٹر بھٹو یا مفتی محمود یا مولانا مودودی ......)

مرزا ناصر احمد: یہاں جب میں ...... ایک میں Clear (واضح) کر دوں یہاں۔

جب میں نے ”مسٹر بھٹو“ کہا تو A member of People's Party (پیپلز پارٹی کے ایک رکن سے) مراد تھی۔ پرائم منسٹر نہیں مراد تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں! اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، فرق پڑتا ہے ناں۔ Explanation (وضاحت) اس کی چاہئے۔ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں بھٹو صاحب کو چھوڑتا ہوں۔

I just say Mufti Mahmood, he has got no right to say that you are not a Muslim. Similarly, you have no....

(میں کہتا ہوں مفتی محمود ۔ ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ کہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ اسی طرح آپ کو کوئی حق نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I have got no right to say that Mufti Mahmood is a non-Muslim.... in this sense, in this sense.

(مرزا ناصر احمد : مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میں کہوں کہ مفتی محمود ایک غیر مسلم شخص ہیں اس معنی میں)

Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں! you have no right?

(جناب یحییٰ بختیار : آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا؟)

Mirza Nasir Ahmad: No right.

(مرزا ناصر احمد : جی نہیں۔ کوئی حق نہیں پہنچتا)

١٩٣

صفحہ ٢٢٠

220 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: In other sense? (جناب یحییٰ بختیار: کس معنی میں پہنچتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: وہ تو یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ہمارے بانی سلسلہ نے لکھا ہے......

Mr. Yahya Bakhtiar: And if they say that you are not a Muslim in some other sense? (جناب یحییٰ بختیار: تو وہ بھی ایسے ہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ اس معنی میں نہیں بلکہ اس معنی میں مسلمان نہیں ہیں۔ پھر؟)

134 Mirza Nasir Ahmad: In other sense, yes, they do say it. No, they do say it, and it makes no difference. (مرزا ناصر احمد: کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تو کہتے ہی رہتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but we should be clear about the sense. In which sense you say that they should call you a Muslim? (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ بات صاف ہونی چاہئے کہ معنی سے آپ کا کیا مطلب ہے۔ کس معنی میں آپ بتائیں کہ وہ آپ کو مسلمان کہیں؟)

مرزا ناصر احمد: ہمارے خیال میں ان کے عقائد ...... جیسا کہ میں نے بعض عقائد کا ذکر کیا اپنے محضر نامے میں ...... یا بعض اعمال جو ہیں، وہ جو ہم اسلام سمجھتے ہیں، ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کو پیارے نہیں ہیں۔ اس سے زیادہ اور کوئی نہیں۔ باقی یہ کہ ان کے ساتھ خدا تعالیٰ نے سلوک کرنا ہے۔ وہ رحمٰن اور رحیم ذات ہے، قرآن کریم کہتا ہے کہ چاہے تو سب کو بخش دے ......

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ ......

مرزا ناصر احمد: ...... ایک انسان، عاجز انسان کو کوئی حق ہی نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ خدا تعالیٰ نے ضرور ان کو ......

Mr. Yahya Bakhtiar: Something in emotions, جذبات میں، الیکشن کے جوش میں، کسی مولانا نے دوسرے کو کافر کہہ دیا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ناں، ناں، ناں، ناں! پچھلی صدیوں سے۔ الیکشن کا

١٩٤

221 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

Mr. Yahya Bakhtiar: No, of the principle. تو یہ جب سے پاکستان بنا اس وقت سے بھی ہم نے شور مچایا شور بھی ہوتا رہا۔ پہلی دفعہ ١٩٧٠ء میں، کہتے ہیں، پہلی دفعہ مانے ہیں فتاویٰ جن کا ذکر کیا ہم نے۔ یہ آپ کا خیال ہے کہ سوچے سمجھے ہیں؟ یہ جوش سے نہیں یعنی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ میں وہ نہیں کہتا فتوے آپ کے خلاف۔ وہ جو آپس میں ، انہی کی، میں بھی انہی سے بات کر رہا ہوں کہ ان کا یہ کے نزدیک ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیاری نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Community believes that Mirza Prophet of God? ب! کیا احمدیہ فرقہ اعتقاد رکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا

Mirza Nasir Ahmad: No

Mr. Yahya Bakhtiar: W نبی تھا؟)

ا امتی نبی تھا)

Mirza Nasir Ahma Community does not believe

١٩٥

صفحہ ٢٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جوش تو اب آیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, let us see on the basis of the principle.

مرزا ناصر احمد: الیکشن کا تو یہ جب سے پاکستان بنا اس وقت سے کبھی ہم نے شور مچایا کہ الیکشن ہو ہی نہیں رہے۔ تو الیکشن کا شور بھی دبا رہا۔ پہلی دفعہ ١٩٧٠ء میں، کہتے ہیں، پہلی دفعہ جوش نکلا الیکشن کا۔ یہ تو سینکڑوں سال پرانے ہیں فتاویٰ جن کا ذکر کیا ہم نے۔

جناب یحییٰ بختیار: 135 یہ آپ کا خیال ہے کہ سوچے سمجھے ہیں؟ یہ جوش سے نہیں دیئے گئے؟

مرزا ناصر احمد: اس کے معنی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہ نہیں کہتا فتوے آپ کے خلاف۔ وہ جو آپس میں دیتے رہے؟

مرزا ناصر احمد: آپس میں، انہی کی، میں بھی انہی سے بات کر رہا ہوں کہ ان کا یہ ہے کہ وہ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں ان کے نزدیک ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیاری نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the Ahmadi Community believes that Mirza Ghulam Ahmad was a Prophet of God?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا احمدیہ فرقہ اعتقاد رکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد خدا کا رسول تھا؟)

Mirza Nasir Ahmad: No.

(مرزا ناصر احمد: جی نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Was he a "Nabi"?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا وہ نبی تھا؟)

(مرزا امتی نبی تھا)

Mirza Nasir Ahmad: The Ahmadiyya Community does not believe that. The Ahmadiyya

١٩٥

صفحہ ٢٢٢

222 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Community believes that he was "Ummati Nabi", and there is a lot of difference between the two.

(مرزا ناصر احمد: احمدیہ فرقہ اس کا بھی اعتقاد نہیں رکھتا۔ احمدی فرقہ کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ ”امتی“ نبی تھا اور ان دونوں میں زبردست فرق ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is fact that you will clarify. But....

(جناب یحییٰ بختیار: اس فرق کو آپ واضح کریں گے......)

مرزا ناصر احمد: نہیں، خالی آپ نے فرمایا کہ مجھے خالی نبی کے نام سے نہ بلاؤ......

Mr. Yahya Bakhtiar: First I said Prophet, '........

(جناب یحییٰ بختیار: پہلے میں نے کہا تھا رسول......)

مرزا ناصر احمد: امتی نبی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... and then I said Nabi....

(جناب یحییٰ بختیار: اور پھر کہا نبی......)

مرزا ناصر احمد: امتی نبی۔

136 Mr. Yahya Bakhtiar: .... and you qualified it as "Ummati Nabi"

(جناب یحییٰ بختیار: اور آپ نے اس کو قید لگا کر امتی نبی کر دیا)

مرزا ناصر احمد: امتی نبی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, will you clarify and define "Ummati Nabi?" How is he different from a real "Nabi" or "Nabi"?

(جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! آپ وضاحت کریں اور امتی نبی کے معنی کو معین کریں کہ امتی نبی کس طرح مختلف ہے اصلی نبی سے یا نبی سے؟)

مرزا ناصر احمد: امتی نبی“ کے یہ معانی ہیں کہ وہ شخص جو نبی اکرم ﷺ کے عشق اور محبت میں اپنی مذہبی زندگی گزار رہا ہے اس کو ہم امتی کہیں گے۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے: ”ان

١٩٦

223 NATIONAL ASSEMBL

میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاؤ گے۔ الا اور اتباع، اتباع میں فرق ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ کے کامل متبع تھے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی روحانی حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ لیکن محمد ﷺ سے قبل ...... کہ چوبیس ہزار نبی آئے۔ کوئی کچھ کہتا ہے۔ اس آرہا، ہزار ہا انبیاء آئے اور کہیں مذہبی لٹریچر میں، ہیں، کہیں یہ ہمیں نظر نہیں آتا کہ مثلاً بنی اسرائیل اور افادۂ روحانی کے نتیجہ میں نبوت کے مقام تک کہ ہے ہی کوئی نہیں۔ اس واسطے ہم اس نتیجہ پر مرے کسی شرعی نبی کا یہ مقام نہیں تھا کہ ان کی کامل حاصل کر سکیں۔ یہ صرف آنحضرت ﷺ کے بعد ب انقلابی نئی چیز پیدا ہوئی کہ اب کوئی شخص کسی قسم جو ہے اچھا نیک آدمی ہو، کبھی نہیں بن سکتا جب تک 137 ت میں سے نہ ہو، اور ”امتی“ کے معانی ہیں اپنا ہے۔

کیا Definition (اصطلاح) آپ دیں گے؟

معنی ہیں آنحضرت ﷺ کی اتباع کرنے والا اور ا کروڑ ہا آدمی اس وقت تک پچھلے چودہ سو سال ۔ ان میں لاکھوں ایسے تھے جنہوں نے انتہائی

صفحہ ٢٢٣

223 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘ (میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کو پاؤ گے۔ تو امتی کے معنی ہیں اتباع کرنے والا اور اتباع، اتباع میں فرق ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نبی اکرمﷺ کے کامل متبع تھے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی روحانی برکت اور فیض نبی اکرمﷺ کی اتباع کے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ لیکن محمدﷺ سے قبل....... وہاں پھر تعداد میں بڑا فرق ہے۔....... ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے۔ کوئی کچھ کہتا ہے۔ اس جھگڑے میں پڑنے کی بات نہیں۔ بہر حال، ہزار ہا، ہزار ہا انبیاء آئے اور کہیں مذہبی لٹریچر میں، بائبل اور انجیل اور دوسرے جو مذاہب کی کتب ہیں، کہیں یہ ہمیں نظر نہیں آتا کہ مثلاً بنی اسرائیل کے انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوت قدسیہ اور افادۂ روحانی کے نتیجہ میں نبوت کے مقام تک پہنچے۔ میرے علم میں کہیں نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہے ہی کوئی نہیں۔ اس واسطے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یا اور دوسرے کسی شرعی نبی کا یہ مقام نہیں تھا کہ ان کی کامل اتباع، اس قسم کی محبت جو ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی حاصل کر سکیں۔ یہ صرف آنحضرتﷺ کے بعد ایک تاریخی ....... مذاہب انسانی کے اندر ایک عجیب انقلابی نئی چیز پیدا ہوئی کہ اب کوئی شخص کسی قسم کا بھی روحانی رتبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یعنی عام جو ہے اچھا نیک آدمی، وہ بھی نہیں بن سکتا 137 جب تک وہ آنحضرتﷺ کی اتباع نہ کرے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ان کی امت سے نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: اور امت....... امت میں سے نہ ہو، اور ”امتی“ کے معانی ہیں اپنا کچھ نہیں، جو کچھ ہے وہ محمدﷺ سے حاصل کیا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”امت“ کی کیا Definition (اصطلاح) آپ دیں گے۔ اس Sense (معنی) میں؟

مرزا ناصر احمد: اس Sense (معنی) میں ”امتی“ کی Definition (اصطلاح) میں دے سکتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: محمدیہ، امت محمدیہ؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، ”امتی“ کے معنی ہیں آنحضرتﷺ کی اتباع کرنے والا اور ”امت“ کے معانی ہوں گے وہ جماعت جس میں کروڑ ہا آدمی اس وقت تک پچھلے چودہ سو سال میں پیدا ہوئے جو نبی اکرمﷺ کے متبع تھے اور ان میں لاکھوں ایسے تھے جنہوں نے انتہائی

١٩٧

صفحہ ٢٢٤

224 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جانفشانی اور جدوجہد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی پیروی اور آپ کے اسوہ کی پیروی کی کوشش کی اور اس کے نتیجہ میں وہ اولیاء اور ابدال اور قطب اور مجددین بنے تو اب جو کچھ آنحضرت ﷺ کے بعد ملتا ہے روحانی طور پر، وہ صرف اس صورت میں ملتا ہے کہ انسان جو ہے وہ اپنی زندگی پر نبی اکرم ﷺ کا رنگ چڑھائے۔

(کیا امتی نبی بھی امت رکھ سکتا ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: کیا امتی نبی اپنی بھی امت رکھ سکتا ہے؟ یا اسی امت میں ہوگا وہ؟ Can he have his own Ummat? (کیا وہ اپنی امت علیحدہ رکھ سکتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! آنحضرت ﷺ کے بعد ......

Mr. Yahya Bakhtiar: Separate?

مرزا ناصر احمد: ...... ایک ہی امت ہے، اور وہ امت محمدی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: احمدی کوئی علیحدہ امت نہیں بن سکتی؟

مرزا ناصر احمد: ہو ہی نہیں سکتے۔ یعنی اگر کسی نے لفظ استعمال کر دیا، احمدی نے، تو وہ ......

138 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں! I am just asking for clarification. (میں محض وضاحت چاہتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ لفظ استعمال ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! میں نے اسی واسطے کیا ہے تو وہ اس Sense (معنی) میں نہیں ہوا استعمال۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ یہ فرمائیے کہ شرعی نبی اور غیر شرعی نبی میں کیا فرق ہے؟

مرزا ناصر احمد: شرعی نبی وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی شریعت نازل ہو، اور غیر شرعی نبی وہ ہے جو پہلے شرعی نبی کی شریعت پر عمل کرائے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کے متعلق قرآن کہتا ہے: یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا کہ بنی اسرائیل میں ایسے انبیاء آتے رہے ...... اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے ...... جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل کرواتے تھے لوگوں کو۔ اپنی ان کی کوئی شریعت نہیں تھی۔

١٩٨

225 NATIONAL ASSEMB

Mr. Yahya Bakhtia

laws? (نہیں دے سکتے تھے )

اپنی کوئی شریعت نہیں۔

Int (ترجمانی) کرے گا جو ...... ... سوائے ایک چھوٹے سے فرق کے۔ وہ ذرا نہیں۔

139 Mr. Yahya Bakh

that Muslims generally bel thought do not accept Miaz "Ummati" or of any other ki آپ کو معلوم ہے کہ مسلمان جو عام طور پر مختلف مانتے ہیں، امتی یا کسی قسم کا بھی)

Mr. Yahya Bakhti

could be no Prophet of All (Peace be upon him)? عقیدہ ہے کہ رسول محمد ﷺ کے بعد اللہ کا نبی کوئی

Mirza Nasir Ahm

mean by "they"? کیا مطلب لیتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhti

of the Muslims, or........ کہ آپ نہیں مگر دیگر تمام مسلمان ......)

صفحہ ٢٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: But he can't give his own laws? (جناب یحییٰ بختیار: وہ اپنے قانون نہیں دے سکتے تھے) اپنے قانون ان کے نہیں ہوئے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، اپنے کوئی ...... اپنی کوئی شریعت نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہی Interpret (ترجمانی) کرے گا جو ...... مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ سارا وہ ...... سوائے ایک چھوٹے سے فرق کے۔ وہ ذرا باریک فرق ہے۔ اس کے یہاں لانے کی ضرورت نہیں۔

139 Mr. Yahya Bakhtiar: And, Sir, do you know that Muslims generally belonging to various schools of thought do not accept Mirza Ghulam Ahmad as Prophet, "Ummati" or of any other kind? (جناب یحییٰ بختیار: اور جناب کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسلمان جو عام طور پر مختلف مکاتب فکر سے متعلق ہیں وہ مرزا غلام احمد کو نہ رسول مانتے ہیں، امتی یا کسی قسم کا بھی) مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: And they believe that there could be no Prophet of Allah after Prophet Muhamamd (Peace be upon him)? (جناب یحییٰ بختیار: اور ان کا یہ اعتقاد ہے کہ رسول محمد ﷺ کے بعد اللہ کا نبی کوئی بھی نہیں ہو سکتا؟)

Mirza Nasir Ahmad: Who, who? What do you mean by "they"? (مرزا ناصر احمد: لفظ ”ان“ سے آپ کیا مطلب لیتے ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: I mean not you, but the rest of the Muslims, or......... (جناب یحییٰ بختیار: میرا مطلب ہے کہ آپ نہیں مگر دیگر تمام مسلمان ......) مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ناں۔

١٩٩

صفحہ ٢٢٧

226 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: .... generally, may be somebody, generally.

(جناب یحییٰ بختیار: عمومی طور پر شاید کوئی شخص ......) مرزا ناصر احمد: نہیں، بڑے بزرگ ہمارے، سلف صالحین میں سے، وہ ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کو حل کیا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am asking you of generally the Muslims, generally.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے عمومی طور پر مسلمانوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: Today? Today?

(مرزا ناصر احمد: آج؟ آج؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Today, yes.

(جناب یحییٰ بختیار: آج، جی ہاں!) مرزا ناصر احمد: یعنی جو پہلے تھے سلف صالحین ......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am not.....

(جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں ۔ میں نہیں ......) 140 مرزا ناصر احمد: ہمارے بزرگ ، ان کی باتیں نہیں ہم کرتے؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ مرزا ناصر احمد: اس وقت؟ جناب یحییٰ بختیار: آج جو مسئلہ ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں !ہاں! ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، نہیں، میں صرف وضاحت چاہتا تھا۔

(جو مرزا کو نہ مانے وہ کافر)

Mr. Yahya Bakhtiar: Is it a fact, Sir, that your community.... the leader of your community or your followers.... refer to those, who do not accept Mirza Ghulam Ahmad as a Nabi of some sort, as not Muslims, or Kafirs?

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! کیا یہ واقعہ ہے کہ آپ کی جماعت میں آپ کی

٢٠٠

227 NATIONAL ASSEMB

کو جو مرزا غلام احمد کو نبی یا کسی قسم کا بھی نبی نہیں

؟ یہ عربی کا لفظ ہے ناں۔

Mr. Yahya Bakhtia why I put it simply.

غیر مسلم“ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کو بالکل

Mr. Yahya Bakhtia explain that the Kufr has....

ں کا جواب دیں پھر تو ضیح کریں کہ یہ کفر ہے ......) یں۔ میں نے آپ کی بات سنی اور سمجھی اور اسی کا ر کرنے والا۔ جو بانی سلسلہ کے اوپر ایمان نہیں ۔ تب بھی ہم مورد الزام، اور اگر کہیں کہ وہ ایمان سلہ کے، اس واسطے وہ منکر ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtia are not Muslims?

مطابق وہ غیر مسلم ہیں؟)

کے منکر نہیں۔ مسلمان جو اللہ کے سچے بھیجے ہوئے نبی ، ان میں ا رہتا تو یہ درست ہے کہ نہیں؟ دیک قابل مواخذہ ہے۔ لیکن ابھی میں بتا چکا ان کی اس کے لحاظ سے وہ کافر نہیں ہے۔ تحریف کی میں بات نہیں کر رہا۔ میں آپ کی

صفحہ ٢٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جماعت کے لیڈران یا آپ کے پیروان لوگوں کو جو مرزا غلام احمد کو نبی یا کسی قسم کا بھی نبی نہیں مانتے۔ غیر مسلم یا کافر کا حوالہ دیتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: کفر کے معنی کیا ہیں؟ یہ عربی کا لفظ ہے ناں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I said 'not Muslims', that's why I put it simply.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا ”غیر مسلم“ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کو بالکل سادہ طور پر پیش کیا)

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: First I put that way you can explain that the Kufr has....

(جناب یحییٰ بختیار: پہلے میرے سوال کا جواب دیں پھر توضیح کریں کہ یہ کفر ہے......)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔ میں نے آپ کی بات سنی اور سمجھی اور اسی کا جواب دے رہا ہوں۔ کافر کے لغوی معنی ہیں انکار کرنے والا۔ جو بانی سلسلہ کے اوپر ایمان نہیں لاتا۔ اگر ہم اسے یہ کہیں کہ وہ انکار کرنے والا ہے۔ تب بھی ہم مورد الزام، اور اگر کہیں کہ وہ ایمان لاتا ہے تب بھی ہم مورد الزام۔ وہ منکر ہیں بانی سلسلہ کے، اس واسطے وہ منکر ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: So according to you, they are not Muslims?

(جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کے مطابق وہ غیر مسلم ہیں؟)

مرزا ناصر احمد: منکر ہیں۔

141 جناب یحییٰ بختیار: منکر؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، حضرت ﷺ کے منکر نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر کوئی مسلمان جو اللہ کے سچے بھیجے ہوئے نبی، ان میں سے کسی کو نہیں مانتا، وہ منکر ہو جاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہتا تو یہ درست ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ لیکن ابھی میں بتا چکا ہوں کہ دنیاوی لحاظ سے، سیاسی جو تعریف ہے مسلمان کی اس کے لحاظ سے وہ کافر نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، سیاسی تعریف کی میں بات نہیں کر رہا۔ میں آپ کی

٢٠١

صفحہ ٢٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جماعت کی تعریف کی بات کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہمارے نزدیک جو سیاسی تعریف ہے مسلمان کی، وہ جماعت احمدیہ کے افراد پر اسی طرح لاگو ہے جس طرح دوسرے فرقوں کے افراد پر۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, now, you said that Mufti Mahmood has no right to say that you are not a Muslim.....

(جناب یحییٰ بختیار : جناب بھی آپ نے کہا ہے کہ مفتی محمود کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں ......)

Mirza Nasir Ahmad: And I have also said that I have got no right to call him a....

(مرزا ناصر احمد : اور میں نے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں ان کو ایسا کہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but you have in your..... I mean when I say 'you', I do not mean particularly you,....

(جناب یحییٰ بختیار : لیکن آپ نے تو کہہ دیا ہے اپنی...... خصوصیت سے آپ نے تو میری مراد آپ نہیں ہوتے ......)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but leaders of Ahmadiyya Jamaat have called Muslims who do not accept Mirza Ghulam Ahmad as a Nabi, as Kafir, as not Muslim, or pucca Kafir, I mean, to put it strongly....

(جناب یحییٰ بختیار : بلکہ احمدی جماعت کے لیڈران نے ان مسلمانوں کو جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے کافر کہا ہے۔ غیر مسلم کہا ہے۔ پکا کافر کہا ہے۔ میں عمداً درشت بن کر آپ سے کہہ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد : ہوں، ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: no doubt, Isn't it so?

(جناب یحییٰ بختیار : واقعی! کیا ایسا نہیں ہے؟)

٢٠٢

صفحہ ٢٢٩

229 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

142 مرزا ناصر احمد : میں نے ابھی بتایا تھا کہ ہم کفر کے لفظ کو دو معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور صدیوں سے کرتے چلے آئے ہیں۔ ایک کفر کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ اور وہ اس دنیا کی بات نہیں، وہ دوسری دنیا کی بات ہے اور اس Sense میں ہر فرقہ دوسرے کو پکے کافر سے بھی زیادہ پکا کافر کہتا ہے۔ کچھ محضر نامے میں ہیں اور آپ کو دلچسپی ہو تو ہم آپ کو دوسری کتابیں دکھا دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ میں دیکھ چکا ہوں جی۔

مرزا ناصر احمد : اور ایک معنی ہیں کفر کے، یا اسلام کے، سیاسی ......

Mr. Yahya Bakhtiar: No, .....

(جناب یحییٰ بختیار : جی نہیں......)

مرزا ناصر احمد : جو اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... Sir, I am asking a simple question. If you claim a right for yourself that if you declare that you are a Muslim, Mufti Mahmood has no business to call you that you are not. Similarly, do you give this right to Mufti Mahmood that if you call him not Muslim or Kafir, he has also a right to call you Kafir and not Muslim? I am asking you this.... whatever may be the form

(جناب یحییٰ بختیار : جناب! میں نے تو ایک سادہ سا سوال کیا ہے۔ اگر آپ اپنے لئے کسی حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یعنی کہ آپ کو حق ہے اعلان کرنے کا کہ آپ مسلمان ہیں تو مفتی محمود کو کوئی سروکار نہیں۔ اس سے کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ اسی طرح کیا یہ حق مفتی محمود کو بھی دیتے ہیں کہ اگر آپ ان کو غیر مسلم یا کافر کہیں تو ان کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ آپ کو غیر مسلم کہیں جو شکل وصورت بھی ہو )

مرزا ناصر احمد : نہیں، فارم کو تو مجھے ظاہر کرنا پڑے گا ورنہ مطلب ہی غلط ہو جائے گا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Then we are going to....

٢٠٣

ISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جماعت کی تعریف کی بات کر رہا ہو

مرزا ناصر احمد : ہمار کے افراد پر اسی طرح لاگو ہے جس طر

, now, you said that y that you are not a

(جناب یحییٰ بختیار : وہ یہ کہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں..

I have also said that I

(مرزا ناصر احمد : اور.

t you have in your..... a particularly you,....

(جناب یحییٰ بختیار : تو میری مراد آپ نہیں ہوتے......)

مرزا ناصر احمد : ہوں

.... but leaders of ms who do not accept Kafir, as not Muslim, ly....

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے کافر کہی آپ سے کہہ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد : ہوں

ubt, Isn't it so?

(جناب یحییٰ بختیار:

صفحہ ٢٣١

230 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ جس طرح میرا یہ حق ہے کہ میں یہ کہوں کہ فلاں فرقے کے لوگ نذر و نیاز، چڑھاوے چڑھاتے ہیں قبر پر، وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اسی طرح اس فرقے کا بھی یہ حق ہے کہ کہے کہ جماعت احمدیہ یہ کرتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور اس معنی میں وہ کافر ہے۔ یہ حق ہے ان کا۔

143 Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, in your address.... now I am changing a little bit, going to a different subject so that I can come back to the same subject again and clarify the position.... In your Annexure XI, which is called "Azeem Roohani Tajjaliyat"(عظیم روحانی تجلیات) Zamima(ضمیمہ) No.XI, in that you stated, while praising Insaniyat(انسانیت) and the status of human- being in Islam, in that learned discourse you said.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! آپ نے اپنے خطاب میں (اب میں ایک مختلف بات پر آتا ہوں۔ تا کہ پھر اسی بحث کی طرف رجوع کروں۔ جو زیر غور ہے) آپ نے اپنے خطاب میں اپنی پوزیشن کی وضاحت ذیلی کاغذ نمبر گیارہ موسوم ”عظیم روحانی تجلیات“ ضمیمہ نمبر١١ میں جہاں آپ نے انسانیت کی مدح فرمائی ہے اور انسان کے رتبہ کی اسلام کی رو سے تعریف کی ہے۔ ایک عالمانہ مقالہ میں ان الفاظ میں کی ہے)

”سب کو جذبات کے لحاظ سے ایک ہی مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے اور یہ بڑی چیز ہے اس واسطے بات کرتے وقت بڑی ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ہم بعض دفعہ لاپروائی کر جاتے ہیں۔ اپنے بھائی سے ایسا مذاق کرتے ہیں جو اس کو چبھنے والا ہوتا ہے۔ ایسا کرنا منع ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتی ہے۔ پس انسان کے اوپر اس کے جذبات کا اتنا خیال رکھنے کی وجہ سے کتنا بڑا احسان کیا گیا ہے۔ Now what you stated just now, Sir, that (لیکن اب آپ کہہ رہے ہیں کہ) ایک Sense (معنی) میں ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔ Is that not hit by your own teachings; do you not hurt their feelings? (کیا آپ نے اپنی ہی تعلیمات کو زک نہیں پہنچائی۔ کیا آپ ان کے احساسات کو چوٹ نہیں پہنچا رہے ہیں)

٢٠٤

231 NATIONAL ASSEMB

کہ جہاں انسانیت کے مقام کا سوال ہے وہاں ما انا بشر مثلکم کہہ کے ایک مقام پر لا کھڑا یہ بحث نہیں ہیں۔ احب! بعض دفعہ چھوٹی بحث ہوتی ہے۔......

مثال کے طور پر آپ نے اس دن فرمایا کہ: ”میں نے اسمبلی کو ایک لیٹر آیا کہ...... ہے۔

Head of the Community addre Should be addressed as address, do you show same co Maudoodi is respected by his o own Admirers. May be I don' maybe you don't think....

عت کہہ کر آپ سے مخاطب ہونا چاہئے۔ لیکن کیا اقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کہ کے مداح ان کو مولانا کہتے ہیں۔ چلئے میں نہیں یہ نہیں خیال کرتے......)

ودی کو مسٹر مودودی کہیں، اس کی کیا وجہ؟)

Mr. Yahya Bakhtiar to call him Mr. Maudoodi yo Now, these are the things which

پ ان کو مسٹر مودودی کہہ کر خوش اخلاقی دکھا رہے

٢٠٥

صفحہ ٢٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں! اس لئے کہ جہاں انسانیت کے مقام کا سوال ہے وہاں مسلمان، ہندو، عیسائی اور بدھ ساروں کو: قل انما انا بشر مثلکم کہہ کے ایک مقام پر لا کھڑا کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اور وہاں یہ مذہبی عقائد زیر بحث نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! بعض دفعہ چھوٹی بحث ہوتی ہے.......

مرزا ناصر احمد: جی؟

144 جناب یحییٰ بختیار: ...... ابھی مثال کے طور پر آپ نے اس دن فرمایا کہ: ”میں امام جماعت احمدیہ ہوں۔“ پھر آپ کی طرف سے اسمبلی کو ایک لیٹر آیا کہ ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے Head of the Community address (سربراہ جماعت کہہ کر مخاطب) کیا ہے۔

Should be addressed as Imam of Jamat. But in your address, do you show same courtesy? You know Maulana, Maudoodi is respected by his own people as Maulana, by his own Admirers. May be I don't think he is a learned man, maybe you don't think....

(آپ کہتے ہیں کہ آپ کو امام جماعت کہہ کر آپ سے مخاطب ہونا چاہئے۔ لیکن کیا آپ اپنے خطاب میں خود کوئی شائستگی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کہ لوگ مولانا مودودی کی عزت کرتے ہیں۔ ان کے مداح ان کو مولانا کہتے ہیں۔ چلئے میں نہیں خیال کرتا کہ وہ کوئی عالم شخص ہیں اور آپ بھی شاید نہیں خیال کرتے......)

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ نہیں......

(خود کو امام کہتے ہیں اور مولانا مودودی کو مسٹر مودودی، اس کی کیا وجہ؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... But let's show courtesy to call him Mr. Maudoodi you except to be called Imam. Now, these are the things which require clarification.

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن کیا آپ ان کو مسٹر مودودی کہہ کر خوش اخلاقی دکھا رہے

٢٠٥

صفحہ ٢٣٣

232 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ہیں؟ اور ادھر خود اپنے لئے چاہتے ہیں کہ آپ کو امام کہا جائے۔ یہ وہ باتیں ہیں۔ جن کی وضاحت ہونی چاہئے)

مرزا ناصر احمد : ہوں، نہیں، یہ کہاں کہا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : ضمیمہ نمبر : ٢

مرزا ناصر احمد : نہ۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) ضمیمہ نمبر : ٢ نکالو ۔ یہ کون سا صفحہ ہے؟

Mr. Yahya Bakhtiar: I think page 12.

(جناب یحییٰ بختیار: میرا خیال ہے کہ صفحہ ١٢)

مرزا ناصر احمد : 12 Page کے اوپر؟ ہاں، یہ ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I just show you the exact.... You say, Sir: "In other words....."

(جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی آپ کو صحیح چیز دکھاتا ہوں)

مرزا ناصر احمد : جی ! میں نے یہ دیکھ لیا ہے۔ جو بات میں سمجھ نہیں سکا وہ یہ ہے کہ بھٹو صاحب کو تو ”مسٹر بھٹو“ کہیں تو ان کی بے عزتی نہیں ہوتی۔

145 جناب یحییٰ بختیار : نہیں ہوتی۔

مرزا ناصر احمد : ......لیکن مودودی صاحب کو ”مسٹر مودودی“ کہیں تو ان کی بے عزتی ہو جاتی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ آپ کو کہ

Members of Jamat-i-Islami or other admirers of Maulana Maudoodi, call him Maulana Maudoodi.

(جماعت اسلامی کے ارکان یا مولانا مودودی کے دیگر مداح ان کو مولانا مودودی کہہ کر پکارتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Or Pir Maudoodi.

(مرزا ناصر احمد: یا پیر مودودی)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, nobody calls him 'Pir Maudoodi.'

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پیر مودودی کوئی نہیں کہتا)

مرزا ناصر احمد : وہ تو نعرے لگتے ہیں: ”پیر مودودی زندہ باد“

٢٠٦

233 NATIONAL ASSEMB

Mr. Yahya Bakhtia writing now, Sir, in one of written: 'Maulana Abul Ala'. because that is the way he is a Similarly, Maulana's writings by his own Jamaat and by his is qualified Mufti and he is a someone and say that, perha Maudoodi is a learned man, Maulana,..........

ذیلی ملحقہ کاغذ سامنے ہے۔ جس میں مولانا ہوں۔ کیونکہ یہی ان کا نام ہے تو وہ عالم شخص ہیں ت کی نظر میں اور مداحوں کے لئے مولانا ہیں۔ کہہ کر ان کو خطاب کیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی عزت کہ مولانا مودودی کوئی عالم آدمی ہیں۔ وہ مولانا

......

Mr. Yahya Bakhtia you expect....

رف آپ توقع کرتے ہیں کہ ......) ا سکا کہ اس جگہ پانچ لفظ پہلے ”مسٹر بھٹو“ سے تو اہر ہو جاتی ہے۔ اس بات کو میں نہیں سمجھ سکا۔ دیتے ہیں ’مولانا‘۔ ا کہہ رہا تھا جی کہ ...... وئی پہلو نہیں نکلتا۔

٢

صفحہ ٢٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, normally on his writing now, Sir, in one of your annexures Nor. VI is written: 'Maulana Abul Ala'. Now I will call him 'Abul Ala' because that is the way he is addressed. He is a learned man. Similarly, Maulana's writings shows that he is a Maulana by his own Jamaat and by his admirers. Mufti Mahmood, he is qualified Mufti and he is addressed as such. But be little someone and say that, perhaps you don't think Maulana Maudoodi is a learned man, according to you, he is not Maulana,..........

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کا ایک ذیلی ملحقہ کاغذ سامنے ہے۔ جس میں مولانا ابوالاعلیٰ لکھا ہوا ہے۔ اب اگر میں ان کو ابوالاعلیٰ کہوں۔ کیونکہ یہی ان کا نام ہے تو وہ عالم شخص ہیں اور ان کی تصنیفات سے ظاہر ہے کہ وہ اپنی جماعت کی نظر میں اور مداحوں کے لئے مولانا ہیں۔ اسی طرح مفتی محمود، وہ سند یافتہ مفتی ہیں اور یہی کہہ کر ان کو خطاب کیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی عزت گھٹانے لگے۔ ہاں شاید آپ نہیں خیال کرتے کہ مولانا مودودی کوئی عالم آدمی ہیں۔ وہ مولانا نہیں ہیں۔.....)

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں! وہ یہ جو چیز ......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but, at the same time, you expect....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن دوسری طرف آپ توقع کرتے ہیں کہ ......)

146

مرزا ناصر احمد: ...... میں سمجھ نہیں سکا کہ اس جگہ پانچ لفظ پہلے ”مسٹر بھٹو“ سے تو تحقیر نہیں ظاہر ہوتی اور ”مسٹر مودودی“ سے تحقیر ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس بات کو میں نہیں سمجھ سکا۔ یعنی یہ کہ ان کو مولانا بھی کہا جائے اور ہر دفعہ وہ کہہ دیتے ہیں ’مولانا‘۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو یہی کہہ رہا تھا جی کہ ......

مرزا ناصر احمد: تو...... لیکن یہ تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔

٢٠٧

صفحہ ٢٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: You don't mean any Tehqeer. But you see, if you say Mr.Bhutto, Mr.Mufti, Mr.Maudoodi, one can understand. You put them in the same category. You say: 'Mr. Bhutto, Mufti Mahmood, Mr. Maudoodi.'

(جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کو تحقیر نہیں سمجھتے۔ دیکھیں ! اگر آپ کہتے ہیں مسٹر بھٹو، مسٹر مفتی، مسٹر مودودی تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ اسی زمرہ میں آپ رکھیں مسٹر بھٹو، مسٹر مفتی، مسٹر مودودی)

مرزا ناصر احمد : یعنی میری غلطی ......

Mr. Yahya Bakhtiar: I don't mind your saying....

(جناب یحییٰ بختیار: آپ جو چاہیں کہیں، میں نہیں محسوس کرتا)

مرزا ناصر احمد : نہیں ......

Mr. Yahya Bakhtiar: You are entitled to say that, but....

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کو ایسا کہنے کا حق پہنچتا ہے......)

مرزا ناصر احمد : نہیں، میں Entitled نہیں۔ یہاں سوال ...... وہ تو میں سمجھتا ہوں ...... تو پھر یہ ہوا کہ میں نے ......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... out of respect, his followers feelings are hurt. You say nobody's feeling should be hurt. That is your lesson, and I appreciate....

(جناب یحییٰ بختیار: مگر ان کے پیرو کے احساسات پر چوٹ لگتی ہے۔ ادھر آپ یہ فرماتے ہیں کہ کسی کے احساسات پر چوٹ نہ لگاؤ۔ آپ کا یہ ناصحانہ سبق ہے اور میں تعریف کرتا ہوں اس کی)

مرزا ناصر احمد : ہاں! یہ میرا Lesson (سبق) نہیں۔ بلکہ یہ میری Firm Belief (قطعی یقین) یہ ہے۔ ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: Your belief. But you....

٢٠٨

صفحہ ٢٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

147مرزا ناصر احمد: نہیں۔ یہ ساری دنیا میں ہمیں بڑا زبردست ہتھیار ملا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: You have said this to your followers that you should not hurt anybody's feelings.

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ نے اپنے پیروؤں سے بھی یہ کہہ رکھا ہے کہ کسی کے احساسات پر چوٹ نہ لگائیں)

Mirza Nasir Ahmad: We have to win humanity; that is how we should win the hearts of humanity for Muhammad (Sal-Allah Alaihe Wasallam) ...... محمد ﷺ

(مرزا ناصر احمد: ہم انسانیت کو جیت چکے ہیں۔ اسی ذریعہ سے ہم کو انسانیت کے دلوں کو موہ لینا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that's why I say....

مرزا ناصر احمد: تو ہمیں بڑا Courteous ہونا چاہئے۔

(جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے کیوں پسند نہیں کرتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That's why I say, Sir, that you demand courtesy for yourself and do not want to extend it to others?

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا جناب اپنے واسطے تو شائستگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر دوسروں کو شائستگی نہیں پہنچاتے)

Mirza Nasir Ahmad: I do not demand any courtesy from you or anybody else.

(مرزا ناصر احمد: میں کسی شائستگی کا آپ سے مطالبہ نہیں کرتا۔ نہ آپ سے نہ کسی اور سے) ورنہ تو مطلب یہ ہوگا کہ میں اس آیت پر ایمان نہیں رکھتا کہ: ان العزۃ للہ جمیعا

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not....

مرزا ناصر احمد: تو...... نہ، میں.......

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not suggesting that

٢٠٩

صفحہ ٢٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Maulana Maudoodi..... (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ مولانا مودودی ......)

I don't demand any مرزا ناصر احمد: لیکن میں...... نہیں میں ...... courtesy for myself.... (میں اپنی ذات کے لئے کسی شائستگی کا مطالبہ نہیں کرتا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, not you. But....

148

Mirza Nasir Ahmad: .... but I must pay courtesy to all others. (مرزا ناصر احمد: لیکن پھر بھی میں شائستہ ہی رہوں گا اور شائستگی سے پیش آؤں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is very nice, Sir, but your jamaat, if you don't personally, Maulana Maudoodi has not suggested, you would....

Mr. Chairman: I would suggest to the Attorney- General and the witness that definite questions should be put instead of MUNAZARA. (مناظرہ) (جناب چیئرمین: میری درخواست اٹارنی جنرل اور گواہوں سے یہ ہے کہ مناظرہ کو بند کریں اور سوالات شروع کریں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am sorry. I put the next. I was, Sir, dealing with the question of rights. If you claim a right, you concede the same right to others; if you claim courtesy because.... (جناب یحییٰ بختیار: مجھے افسوس ہے اب میں آگے شروع کرتا ہوں۔ میں صحیح سوال کے ساتھ ڈیل کر رہا تھا۔ اگر آپ ایک حق کے اپنے لئے دعویدار بنتے ہیں تو دوسروں کو بھی اس کے دعویدار بننے کا حق دیجئے۔ اگر آپ اپنے لئے شائستگی چاہتے ہیں ......)

Mr. Chairman: A definite question may be put.... (جناب چیئرمین: کوئی واضح نوعیت کا سوال کیجئے ......)

٢١٠

237 NATIONAL

Mr. Yahya Ba that he should be called ہے کہ مجھے امام کہو......)

Mirza Nasir A want any courtesy. I ju person who occupie Anjuman-e-Ahmadiyya خوش خلقی کو۔ میں نے صرف تصحیح کی ہے اس کو میں Correct (صحیح) ہوں گا کہ کوئی حد نہیں۔ مرزا ناصر احمد

Mr. Yahya Ba some question whether accept Mirza Ghulam 'Prophet', I mean in th سے یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا آپ ان کرتے۔ رسول سے میرا مطلب امتی

Mr. Yahya Ba

Mirza Nasir him as Ummati Nabi. نہیں کرتا)

149

Mr. Yahya them as....

صفحہ ٢٣٧

237 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. The Witness demands that he should be called "Imam of...."

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! گواہ مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے امام کہو......)

Mirza Nasir Ahmad: No, not out of.... I did not want any courtesy. I just corrected because there is another person who occupies the chair of Sadar..... Sadar Anjuman-e-Ahmadiyya.

(مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نہیں چاہتا اس خوش خلقی کو۔ میں نے صرف تصحیح کی ہے۔ صدر انجمن احمدیہ ایک دوسرا شخص ہے جو اس عہدے پر ہے اس کو میں Correct (صحیح) کرنا چاہتا تھا) مجھے تو آپ 'مسٹر' بھی نہ کہیں تو میں اتنا خوش ہوں گا کہ کوئی حد نہیں۔ 'مرزا ناصر احمد' میرا نام ہے۔ آپ مجھے خالی 'ناصر' کہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I was asking you some question whether you call those Muslims who do not accept Mirza Ghulam Ahmad as a Prophet.... when I say 'Prophet', I mean in the sense of Ummati Nabi....

(جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! میں آپ سے یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا آپ ان مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو رسول نہیں تسلیم کرتے۔ رسول سے میرا مطلب امتی نبی نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... as Kafir?

(جناب یحییٰ بختیار: کافر کے طور پر؟)

Mirza Nasir Ahmad: As one who doesn't accept him as Ummati Nabi.

(مرزا ناصر احمد: ایسا شخص جو ان کو امتی نبی تسلیم نہیں کرتا)

149 Mr. Yahya Bakhtiar: Have you also referred to them as....

٢١١

صفحہ ٢٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: کیا وہ مسلمان اسلام کے دائرے سے باہر ہے، خارج ہے)

(مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج)

مرزا ناصر احمد: ...... اسلام کے دائرے سے باہر ہیں، خارج ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: What does that mean?

مرزا ناصر احمد: میں نے پہلے سے وہ کیا ہے ...... افسوس ہے، مجھے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، لیکن ......

مرزا ناصر احمد: میرا قصور ہے، میں سمجھا نہیں سکا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: If anybody has said that....

(جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی یہ کہہ چکا ہو)

مرزا ناصر احمد: دائرہ اسلام سے خارج بھی، وہ کفر کے معنوں میں، دو معنوں میں استعمال ہوگا۔ ایک اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں جس کا فیصلہ اس نے کرنا ہے، کسی انسان کا حق ہی نہیں فیصلہ کرنے کا اور ایک یہاں سیاسی معنوں کے لحاظ سے۔ کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں سیاسی معانی کے لحاظ سے۔ کوئی شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے، خواہ وہ دیوبندی ہوں، یا بریلوی ہوں یا دوسرے فرقے ہوں، ان میں سے کوئی بھی دائرہ اسلام سے خارج نہیں۔ اگر ہم یہ سیاسی تعریف نہیں کریں گے تو اتحاد مسلم ہو ہی نہیں سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں ...... سیاسی اور غیر سیاسی؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی!

جناب یحییٰ بختیار: ”سیاسی مسلمان“ کی کیا تعریف ہے؟

(سیاسی مسلمان کی تعریف)

مرزا ناصر احمد: ”سیاسی مسلمان“ کی یہ تعریف ہے جو ہم نے یہ دی ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے؟ نکالو۔ جو آنحضرت ﷺ نے ...... یہ تین احادیث ہیں۔ یہ سیاسی مسلمان جو ہے وہ اس کی تعریف بڑی اچھی طرح کر رہی ہیں۔ ایک دوسرے کو وہ ...... میں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔ یا کہیں تو عربی اور ترجمہ دونوں پڑھوں؟ یہ ترجمہ ہے۔ وقت 150 محفوظ کرتے ہیں اپنا۔ حدیث میں آیا ہے:

صفحہ ٢٣٩

239 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

”اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضور ﷺ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر ایمان لائیں، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ اس شخص نے کہا آپ نے درست فرمایا۔ بعد میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام تھے، تمہیں اسلام سکھانے آئے تھے۔“

دوسری حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”اہل نجد میں سے ایک شخص، پراگندہ بالوں والا، حضور ﷺ کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنتے تھے۔ مگر اس کی باتوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ شخص زیادہ قریب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ وہ حضور ﷺ سے اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ ان پانچ کے علاوہ اور بھی نمازیں ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بجز اس کے کہ تم بطور نفل ادا کرنا چاہو۔ حضور ﷺ نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اور بھی روزے فرض ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں، سوائے اس کے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔ پھر حضور ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے کہا اس کے 151 علاوہ بھی اور ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل زیادہ دو۔“

Mr. Yahya Bakhtiar: This is the definition of "سیاسی مسلم" or Muslims as such?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ تعریف سیاسی مسلمان کی ہے یا نرے مسلمان کی؟)

مرزا ناصر احمد: یہ اگلی تیسری حدیث بھی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے، یہ سارا: ”وہ شخص مجلس سے اٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا میں ان احکام پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچا ثابت ہوا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔“

تیسری حدیث بخاری کی ہے۔ وہ بھی یہ ہے کہ: من صلی صلوٰتنا واستقبلنا قبلتنا

٢١٣

KISTAN 5th Aug, 1974 No:01 (جناب یحییٰ بختیار: (مرزا صا مرزا ناصر احمد: .......ا does that mean? مرزا ناصر احمد: میں م جناب یحییٰ بختیار: نو مرزا ناصر احمد: میرا عق body has said that.... (جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: دائرہ استعمال ہوگا۔ ایک اللہ تعالیٰ کی نگاہ فیصلہ کرنے کا اور ایک یہاں سیاسی معانی کے لحاظ سے۔ کوئی شخص جو دوسرے فرقے ہوں، ان میں سے نہیں کریں گے تو اتحاد مسلم ہو ہی نہیں جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: ہاں جناب یحییٰ بختیار: ) مرزا ناصر احمد: ” وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہ سیاسی مسلمان جو ہے وہ اس کی تعر ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔ یا کہیں تو ع ہیں اپنا۔ حدیث میں آیا ہے:

صفحہ ٢٤٠

240 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

واكل ذبيحتنا فذالك المسلم. الذی ذمة الله وذمة رسولہ فلا تخفر الله فی ذمتہ ”جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں، اس قبلہ کی طرف رخ کیا۔ جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا، وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔“ یہ سیاسی تعریف ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, recently, in England, when this Rabwa incident took place in Pakistan on the 2nd June, the Ahmadiyya Community in England at Blackburn, on the 2nd of June passed a Resolution. You may have seen it.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! حال ہی میں بلیک برن انگلینڈ میں جب یہ ربوہ کا واقعہ ٢؍ جون کو پاکستان میں وقوع پذیر ہوا تھا تو ایک ریزولیوشن پاس ہوا۔ آپ نے دیکھا ہوگا)

152

Mirza Nasir Ahmad: No, I have not.

(مرزا ناصر احمد: نہیں۔ میں نے نہیں دیکھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: But I will give you a copy; you can get it varified:

"That we are deeply disturbed and worried at the news of riots, breakdown of all law and order and the persecution of Ahmadis all over the length and breadth of Pakistan."

The next is:

"That we are distressed at the atrocities meted out to Ahmadiyya Muslims in Pakistan by non-Ahmadiyya Pakistanis."

Sir, will you explain who are these 'non-Ahmadiyya

٢١٤

241 NATIONAL ASSEMB

Pakistanis'? They refer to 'Muslims' and those who alleg as 'non-Ahmediya pakistanis'

کاپي دوں گا۔ آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں:

احمدی مسلمانوں پر غیر احمدی پاکستانیوں نے مبتلا ہو گئے ہیں۔ فسادات کی خبر سے بے انتہاء ن اور امن اور احمدیوں پر ایذا رسانی اور ان

کون ہیں۔ اپنے کو تو وہ احمدیہ مسلم کہتے ہیں اور وہ ری پاکستانی کون ہیں)

میں نے کہا میں نے نہیں دیکھا۔ پہلی دفعہ سن رہا اہوں کہ آپ ریفر کر رہے ہیں مسلمانوں کو عام

Your Community does not con put it. One of my questions

نقل مجھے دے دیں۔

Mr. Chairman: Th may be replied to by tomorrow

ے دیں اور کل یہ اس کا جواب دیں)

آیا ہے۔ آپ Verify (تصدیق) کر لیں۔ ں میں تو اتنی غلط باتیں آئی ہیں کہ کس کس کی

صفحہ ٢٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Pakistanis'? They refer to themselves as 'Ahmediya 'Muslims' and those who allegedly committed these atrocities as 'non- Ahmediya pakistanis'.

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو ایک کاپی دوں گا۔ آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں: ”چونکہ تمام طول و عرض پاکستان میں احمدی مسلمانوں پر غیر احمدی پاکستانیوں نے ظلم و تعدی توڑ دی ہے۔ ہم سخت اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ فسادات کی خبر سے بے انتہاء پریشان اور بے اطمینان ہو گئے ہیں۔ نقص قانون اور امن اور احمدیوں پر ایذا رسانی اور ان کے خلاف استغاثہ سے۔“ اب آپ بتائیں یہ غیر احمدی پاکستانی کون ہیں۔ اپنے کو تو وہ احمدیہ مسلم کہتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جو زیادتیاں کر رہے ہیں۔ یہ غیر احمدی پاکستانی کون ہیں)

مرزا ناصر احمد: یہ مجھے تو علم نہیں۔ میں نے کہا میں نے نہیں دیکھا۔ پہلی دفعہ سن رہا ہوں۔ یہاں ”نان احمدیہ پاکستانی مسلم“ چاہئے تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں، میں کہہ رہا ہوں کہ آپ ریفر کر رہے ہیں مسلمانوں کو عام طور پر as not Muslims (غیر مسلم)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ Your Community does not consider (آپ it. One of my questions which you will clarify kindly.... مہربانی سے وضاحت کریں)

مرزا ناصر احمد: ہاں! میں...... اس کی نقل مجھے دے دیں۔

Mr. Chairman: The copy may be handed over and may be replied to by tomorrow.

(جناب چیئرمین: ایک نقل ان کو دے دیں اور کل یہ اس کا جواب دیں)

153 جناب یحییٰ بختیار: یہ اخباروں میں آیا ہے۔ آپ Verify (تصدیق) کرلیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ اخباروں میں تو اتنی غلط باتیں آئی ہیں کہ کس کس کی آپ تصحیح کریں گے۔

٢١٥

صفحہ ٢٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I shall verify.... ہاں!

(جناب یحییٰ بختیار: میں تصدیق کروں گا)

Mr. Chairman: I think, I think....

(جناب چیئرمین: میرا خیال بھی یہی ہے......)

Mr. Yahya Bakhtirar: We will meet after Prayers? (جناب یحییٰ بختیار: ہم نماز کے بعد ملیں گے)

Mr. Chairman: Yes. Before the Delegation leaves, the Chair needs one clarification. The question was put but the answer has not yet been clear. So, I will repeat the question and put it to the Witness:

"Is it a fact that the word "Kafir", as understood by the Common Muslims.... not by Ulema.... means a man who is not a Muslim?

(جناب چیئرمین: جی ہاں! پیشتر اس کے کہ وفد باہر جائے۔ ایک نکتہ کی ہم وضاحت چاہتے ہیں۔ ایک سوال کیا گیا تھا۔ مگر جواب صاف نہیں ہوا۔ تو میں گواہ کے سامنے سوال کو پھر دہراتا ہوں: ''کیا یہ واقعہ ہے کہ لفظ کافر جس معنی میں ایک عام مسلمان سمجھتا ہے...... علماء نہیں...... کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر وہ ہے جو مسلمان نہیں ہے۔'')

مرزا ناصر احمد: کیا ہے؟ میں سمجھا نہیں۔

Mr. Chairman: Is it a fact that the word "Kafir" as understood by a common Muslim.... not Ulema.... means a man who is not a Muslim? Only the.... clarification on this point.

(جناب چیئرمین: کیا یہ واقعہ ہے کہ لفظ کافر جس معنی میں کہ ایک عام مسلمان اس لفظ کو سمجھتا ہے۔ علماء نہیں...... کیا اس کے معنی یہ ہیں ایک وہ شخص جو مسلمان نہیں ہے میں اس نکتہ پر وضاحت چاہتا ہوں)

٢١٦

243 NATIONAL ASSEMBLY O

Mirza Nasir Ahmad: A ن؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: man, Sir, when you say so and so م آدمی جب آپ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کافر......)

Mr. Yahya Bakht understanding? He understands رہا ہے؟ وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)

154

Mr. Chairman: Is Muslim it is understood as such? تجہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اس کو یہی سمجھا جاتا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar clarification. صاحب وضاحت چاہتے ہیں)

Mr. Chairman: It nee point has not been clarified. ت چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کی وضاحت نہیں ہوئی ہے)

Common (وضاحت) تو وہ Clarific وہ اشارہ کر رہے ہیں۔ میں کیسے بتا دوں؟

Mr. Yahya Bakhtiar: میں مزید سوالات پوچھوں گا)

Mr. Chairman: Ye pending. The witness can reply a The Delegation is allow 8:00 pm.

٢١٧

صفحہ ٢٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mirza Nasir Ahmad: Ahmadi Muslim? (مرزا ناصر احمد: احمدی مسلمان؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. Ordinarily, a common man, Sir, when you say so and so is Kafir,.... (جناب یحییٰ بختیار: ایک عام آدمی جب آپ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کافر......)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... what is his understanding? He understands that he is not a Muslim? (جناب یحییٰ بختیار: وہ کیا سمجھ رہا ہے؟ وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)

154 Mr. Chairman: Is it a fact that he is not a Muslim it is understood as such? (جناب چیئرمین: کیا یہ ایک واقعہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اس کو یہی سمجھا جاتا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: The Chairman wanted clarification. (جناب یحییٰ بختیار: چیئرمین صاحب وضاحت چاہتے ہیں)

Mr. Chairman: It needs clarification because this point has not been clarified. (جناب چیئرمین: یہ نکتہ وضاحت چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کی وضاحت نہیں ہوئی ہے)

مرزا ناصر احمد : یہ Clarification (وضاحت) تو وہ Common Man (عام آدمی) بتا سکتا ہے جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے ہیں۔ میں کیسے بتا دوں؟

Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask further questions. (جناب یحییٰ بختیار: میں بعد میں مزید سوالات پوچھوں گا)

Mr. Chairman: Yes, this question remains pending. The witness can reply any time.

The Delegation is allowed to withdraw; and upto 8:00 pm.

٢١٧

صفحہ ٢٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب چیئرمین: جی ہاں! یہ سوال بعد میں جواب کے لئے زیرغور رہے گا۔ وفد کو مغرب کی نماز کے لئے جانے کی اجازت ہے۔ ٨؍ بجے تک کے لئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: 8:00 pm?

Mr. Chairman: 8:00 pm, after Mughrib Prayers. Thank you very much.

(جناب چیئرمین: ٨؍ بجے مغرب کی نماز کے بعد۔ آپ کا بہت شکریہ!)

Mr. Yahya Bakhtiar: You want me, Sir, to....

(Interruption)

8 o'clock. If you want me to clarify some position and some point, you know, because I don't want to....

Mr. Chairman: Yes, the witness can take any time.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! گواہ کوئی بھی وقت لے سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: We are here to clarify the position.

(جناب یحییٰ بختیار: ہم یہاں پوزیشن کو واضح کرتے ہیں)

Mr. Chairman: Yes.

(جناب چیئرمین: جی ہاں!)

155

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: شکریہ!)

Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران تشریف رکھیں)

(The Delegation left the Chamber)

(وفد چیمبر سے چلا گیا)

Mr. Chairman: The Special Committee is adjourned to meet at 8:00 pm. for Mughrib Prayers.

(جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی ٨؍ بجے تک مغرب کی نماز کے لئے ملتوی ہوتی ہے)

The Special Committee adjourned for Maghreb Prayers to

٢١٨

صفحہ ٢٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

meet at 8:00 pm.

-------------

The Special Committee re-assembled after Maghreb Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

خصوصی کمیٹی مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ جمع ہوئی۔ مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کرسی صدارت پر بیٹھے۔

Mr. Chairman: Should we call them? .... They may be called.

(جناب چیئرمین: کیا ہم ان کو بلالیں۔ ان کو بلا لیا جائے)

(The Delegation entered the Chamber)

(وفد چیمبر میں داخل ہوا)

Mr. Chairman: Yes. the Attorney General.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! اٹارنی جنرل)

مرزا ناصر احمد: اس کے متعلق ایک وضاحت چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: جی۔

مرزا ناصر احمد: یہ اس کے اوپر، جس اخبار میں چھپا ہے، اس کا نام نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ مجھے ڈائریکٹ ملا ہے کہ یہ ریزولیوشن پاس ہوا تھا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ویسے یہ کسی اخبار میں نہیں چھپا؟

جناب یحییٰ بختیار: مجھے بتایا گیا ہے کہ اخبار میں چھپا ہے، But مجھے یہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں! یعنی یہ علم نہیں ہے۔ میں اس واسطے پوچھ رہا تھا کہ......

156 جناب یحییٰ بختیار: میں معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان کو میں بھجواؤں گا ناں! اس کے متعلق......

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ اپنی جماعت سے پوچھ لیجئے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

٢١٩

صفحہ ٢٤٦

246 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ کیا ریزولیوشن پاس ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, before we adjourned, you were explaining the meaning of "Kafir" and you said that when you referred to Muslim and Kafir, you mean in political sense.....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! اجلاس ملتوی ہونے سے قبل آپ لفظ کافر کی وضاحت کر رہے تھے اور آپ نے مسلمان اور کافر کے حوالے سے کہا کہ سیاسی معنی میں ......)

Mirza Nasir Ahmad: Also, we also mean in poltical sense and in other sense also.

(مرزا ناصر احمد: ہم سیاسی معنی میں بھی لیتے ہیں اور دیگر معنی میں بھی)

Mr. Yahya Bakhtiar: In both the Sense. And one sense is political sense means that he says within the pale of Islam.

(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! دونوں معنی میں ایک سیاسی معنی یعنی یہ کہ وہ دائرہ اسلام کے اندر ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس کا اپنا ایک دائرہ اسلام ہے۔ وہ اس کے اندر رہتا ہے آدمی سیاسی تعریف میں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور دوسری تعریف میں نہیں رہتا؟ —

مرزا ناصر احمد: اور دوسری تعریف میں اس کا اپنا ایک دائرہ ہے اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اس دنیا کے ساتھ نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am asking you, Sir, because so much has been said in our society about the word "Kafir" and you being learned, have your own interpretation, so we want the position to be clarified, that

٢٢٠

صفحہ ٢٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

when you say that so and so is "Kafir" or any member of your community says that so, what is the impression it gives to the ordinary Muslims, ordinary 157 followers of yours or ordinary public? That he is outside the pale of Islam? Or he still remains in the folds of Islam?

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں جناب کہ چونکہ ہماری سوسائٹی میں یہ لفظ کافر اتنا کچھ کہا گیا ہے اور آپ عالم شخص ہیں۔ آپ کا اپنا بھی مفہوم ہوگا تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے وضاحت کریں کہ جب آپ کہتے ہیں یا آپ کی جماعت کا کوئی آدمی کہتا ہے کہ فلاں فلاں کافر ہے تو آپ کے کہنے کا ایک عام مسلمان پر کیا تاثر پیدا ہوگا یا آپ کے اپنے پیرووں یا عام پبلک کیا تاثر قبول کرے گی کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے باہر ہے یا وہ اب بھی اسلام کی حد بندی میں ہے)

مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ جہاں تک میرا حافظہ مجھے کام دیتا ہے۔ میں نے اپنے زمانہ خلافت میں کبھی یہ لفظ استعمال ہی نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ کی مثال میں نہیں کہہ رہا جی۔

مرزا ناصر احمد : نو سال میں ہوا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ کے زمانہ میں میں نہیں کہہ رہا، آپ کی کمیونٹی کا میں نے کہا کہ اگر احمدیہ کمیونٹی کے کسی ...... آپ کے والد صاحب نے اگر فرض کرو کیا ہو۔ He was also the Head of Ahmadiyya Community. (وہ بھی احمدیہ فرقے کے سربراہ تھے)

مرزا ناصر احمد : ہاں! وہ ١٩٥٤ء سے پہلے اگر کسی وقت کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں۔ I am just asking, Sir. (میں جناب صرف پوچھ رہا ہوں)

مرزا ناصر احمد : ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Your father was also the Imam before you.

٢٢١

صفحہ ٢٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کے والد بھی تو امام تھے آپ سے پہلے) Mirza Nasir Ahmad: He was Khalifa-ul-Masih Sani. (مرزا ناصر احمد: وہ خلیفۃ المسیح الثانی تھے) اب میں ”امام“ کا لفظ نہیں استعمال کروں گا، غلط فہمی ہوگی پیدا۔

Yahya Bakhtiar: نہیں، نہیں I am just Saying because it was just your..... (جناب یحییٰ بختیار: میں تو اس لئے کہہ رہا تھا کیونکہ آپ ......) مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں، ٹھیک ہے، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, supposing Mirza Bashir-ud-Din Mahmood Ahmad as "Khalifa-e-Sani Ahmediyya..... (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی احمدیہ ہیں......) مرزا ناصر احمد: جب ہم استعمال ......

158 Mr. Yahya Bakhtiar: ....Or.... (جناب یحییٰ بختیار: ......یا......) مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: .... even Mirza Ghulam Ahmad as the founder..... (جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد بحیثیت بانی......) مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... of Ahmadiyya Movement.... (جناب یحییٰ بختیار: ...... احمدیہ تحریک کے......) مرزا ناصر احمد: اس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان کے بعض کام ہمارے نزدیک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیارے نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ مسلمان پھر بھی رہتے ہیں؟

٢٢٢

NATIONAL ASSEMBLY

ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ ں وہ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں؟ اسلام کے علاوہ باقی جو تعلیم ہے اور احکام قرآنی کے بھی مسلمان رہتا ہے۔ جیسا کہ عام محاورہ ہے بتارہا ہوں ...... پھر وہ ایک Sense میں مسلمان

Mr. Yahya Bakhtiar: explained my position. Now (گنہگار) Muslim: مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت ......" Ghalib says this: it has am a Muslim, I may commit 159 when do I become a Kafir? Ghulam Ahmad as a Nabi, will or a "Gunahgar"? اس معنی ہیں۔ میں ایک مسلمان ہوں ایک سو ایک مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانوں تو کیا میں آپ کی نظر نی کا منکر؟) تھا کہ جو مرزا غلام احمد (قادیانی) کا منکر ہے۔ وہ ہے ناں، ایک اس کے لغوی معنی ہیں جس کے معنی ٢٢

صفحہ ٢٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: وہ قابل مواخذہ ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پھر بھی وہ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں؟ مرزا ناصر احمد: اگر پانچ ارکان اسلام کے علاوہ باقی جو تعلیم ہے اور احکام قرآنی ہیں، ان کو چھوڑ کے یا خود ان پانچ پر عمل نہ کر کے بھی مسلمان رہتا ہے۔ جیسا کہ عام محاورہ ہے ہمارا...... یہ میں اعتراض نہیں کسی پر کر رہا، بات بتا رہا ہوں...... پھر وہ ایک Sense میں مسلمان رہتے ہیں، ایک میں نہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am sorry, I have not explained my position. Now I could be a "Gunahgar" Muslim: (گنہگار)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی پوزیشن کی وضاحت نہیں کی۔ میں ایک گنہگار مسلم ہو سکتا ہوں) ”آخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں۔“

Ghalib says this: it has got a particular meaning. I am a Muslim, I may commit a hundred and one sins, but when do I 159 become a Kafir? If I refuse to accept Mirza Ghulam Ahmad as a Nabi, will I be a Kafir according to you or a "Gunahgar"?

(جو غالب نے کہا اس کے ایک خاص معنی ہیں۔ میں ایک مسلمان ہوں ایک سو ایک گناہ کر لوں۔ لیکن میں کافر نہ بنوں گا۔ تو اگر میں مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانوں تو کیا میں آپ کی نظر سے گنہگار ہوں یا کافر)

(مرزا قادیانی کا منکر؟)

مرزا ناصر احمد: وہ تو میں نے بتایا تھا کہ جو مرزا غلام احمد (قادیانی) کا منکر ہے۔ وہ منکر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں...... مرزا ناصر احمد: اور کفر کا لفظ جو ہے ناں، ایک اس کے لغوی معنی ہیں جس کے معنی

٢٢٣

N 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: Khalifa-ul-Masih (مرزا ناصر احمد: اب میں ”امام“ I am just Saying

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: Supposing Mirza "Khalifa-e-Sani

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد:

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: a Mirza Ghulam

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: of Ahmadiyya

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: نزدیک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ جناب یحییٰ بختیار:

صفحہ ٢٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

میں انکار کرتا تو جو نہیں مانتا اس کو آپ کیسے کہہ دیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ......

مرزا ناصر احمد: ......کہ مانتا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں! مرزا صاحب! مرزا غلام احمد (قادیانی) گزرے ہیں۔ لوگوں نے ان کو دیکھا ہے۔ ان کی Existence (وجود) سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اگر میں کہوں کہ اس وقت شام نہیں ہے۔ میں منکر ہو گیا اس بات سے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں ہوگا۔ آپ کی نبوت سے منکر۔

جناب یحییٰ بختیار: تو مطلب یہ ہے کہ ان کی نبوت سے؟ جو ان کو نہیں مانتا؟

مرزا ناصر احمد: جو ان کو نہیں مانتا، نہیں مانتا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: تو اس کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ مانتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس کو، Ordinary (عام) مسلمان کو اگر آپ کہیں کہ جو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ کیا مطلب ہے، Impression دیتے ہیں آپ؟

مرزا ناصر احمد: میں نے تو کبھی کہا نہیں۔ مجھے نہیں پتہ کیا Impression لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”آپ“ سے I do not mean particularly you. Ahmediyah community members.... If they dub a person who does not accept Mirza Ghulam Ahmad as 160 ..... a Prophet and a Nabi, do you (میرا مطلب خاص طور پر آپ سے نہیں ہے۔ مثلاً احمدیہ جماعت ہے۔ اگر ایک شخص مرزا غلام احمد کو رسول یا نبی نہیں تسلیم کرتا تو کیا آپ ......)

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ یہ جو ہے ناں کفر کا مسئلہ، اس طرح حل نہیں ہوگا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں مسئلہ حل نہیں کر رہا......

مرزا ناصر احمد: نہیں، مسئلہ ہی حل کرنا ہے ناں ہم نے یہاں بیٹھ کے، مشورے سے، آپس میں تبادلہ خیال کر کے۔ تمام فرقوں نے جو فتاویٰ کفر دیئے ہیں وہ سامنے رکھیں، پھر ہم سر جوڑیں سارے، ....Not necessarily here on this forum

Mr. Yahya Bakhtiar: No, I agree with you, but I am asking you a simple question, that when you call

٢٢٤

صفحہ ٢٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

someone Kafir. 'آپ کہتے ہیں کہ وہ سیاسی کافر ہے' you don't mean in this sense that he is outside the pale of Islam? Or do you say that he is outside the pale of Islam? I am asking a simple question.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں آپ کے ساتھ متفق ہوں۔ میں تو ایک سیدھا سادھا سوال کر رہا ہوں کہ جب آپ کسی کو کافر کہتے ہیں۔ جب آپ اس کو سیاسی کافر کہتے ہیں تو آپ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ دائرہ اسلام سے باہر ہے یا آپ کہتے ہیں کہ باہر ہے۔ یہ سیدھا سوال ہے)

مرزا ناصر احمد : ایک معنی میں وہ ہے، ایک معنی میں نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک آدمی کو آپ کہتے ہیں کہ یہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا۔ اس لئے وہ کافر ہے اور سیاسی کافر ہے۔ تو سیاسی کافر کے پیچھے نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے؟ اگر مذہبی، اسلامی کافر ہو تب نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! نماز کا مسئلہ تو ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں ایک مثال دے رہا ہوں۔ میں ایک مثال دے رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : نماز کا جو ہے ناں پڑھنے کا یا نہ پڑھنے کا سوال، وہ یہ ہے کہ ایک فرقہ اعلان کرتا ہے کہ ہمارے پیچھے تو نماز پڑھ ہی نہیں سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: اسی واسطے کہتے ہیں کہ وہ کافر ہے؟

161 مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ ہمارے پیچھے۔ مثلاً جماعت احمدیہ کے متعلق کہے اگر، اگر مثلاً دیوبندی حضرات یہ فرمائیں کہ جماعت احمدیہ کا کوئی فرد ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا تو جماعت احمدیہ کے کسی فرد کو ان کے پیچھے فتنہ سے بچنے کی خاطر اور علاقے کو فتنہ سے بچانے کی خاطر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، آپ درست فرما رہے ہیں۔ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ آپ کے عقیدے کے مطابق۔ اگر ایک شخص کو آپ کافر کہیں کہ چونکہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتا......

مرزا ناصر احمد : ہمارے نزدیک وہ قابل مواخذہ ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا وہ قابل مواخذہ ہے۔

٢٢٥

ISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ہیں انکار کرتا تو جو نہیں مانتا اس کو آپ

جناب یحییٰ بختیار: تم

مرزا ناصر احمد : ......ک

جناب یحییٰ بختیار: ہیں۔ لوگوں نے ان کو دیکھا ہے۔ اگر میں کہوں کہ اس وقت شام نہیں

مرزا ناصر احمد : نہیں

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد : جوا

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد : تو اس

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ کیا مطلب

مرزا ناصر احمد : میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ty members.... If they a Ghulam Ahmad as nd a Nabi, do you .....

ہے۔ مثلاً احمدیہ جماعت ہے۔ اگر ا

مرزا ناصر احمد : بات

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد : نہیں سے، آپس میں تبادلہ خیال کر کے سر جوڑیں سارے، ....Forum agree with you, but I that when you call

صفحہ ٢٥٢

252 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ کافر اس Sense (معنی) میں ہے کہ وہ اسلام کے دائرہ سے باہر ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ کافر اس Sense (معنی) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ کرے گا اور وہ انکار کرتا ہے، کفر کے لغوی معنوں کے لحاظ سے وہ انکار کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔.....

مرزا ناصر احمد: اگر ایک مسلمان ......

جناب یحییٰ بختیار: .....کہ اللہ کا نبی تھا وہ ، وہ سچا نبی تھا.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! وہ منکر ہو جائے گا خدا تعالیٰ کے حکم کا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......تو وہ کافر ہوتا ہے کہ نہیں، Ordinary Sense (عام معنی) میں، جو مسلمان سمجھتے ہیں، جو میرے جیسے لوگ، جو سادہ لوگ سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ناں! اس سے بڑھ کے۔ اگر قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے شرط ہے ......جیسا کہ فرمایا ہے بہت جگہ تمام انبیاء پر ایمان لانا تو جو تمام 162 انبیاء پر ایمان نہیں لاتا وہ قرآنی محاورہ کے مطابق کافر ہو جاتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اسلام کے دائرہ سے خارج ہو گیا پھر؟

مرزا ناصر احمد: "اسلام کے دائرہ سے خارج" میں نے قرآن کریم میں کہیں نہیں پڑھا محاورہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! آپ جب استعمال کرتے ہیں اس محاورے کو تو کس Sense (معنی) میں استعمال کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: یعنی، میں ذاتی ......

جناب یحییٰ بختیار: آپ کی جماعت؟

مرزا ناصر احمد: .......طور پر تو کرتا ہی نہیں.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں.......

مرزا ناصر احمد: .......جماعت کو، جو اگر کسی نے پیچھے کیا.......

Mr. Yahya Bakhtiar: Not necessarily even

٢٢٦

253 NATIONAL ASSEMBLY O

Ahmadiyah Jamaat. (احمدیہ جماعت)

When we ne کہ "دائرہ اسلام سے خارج ہے"

اسلام سے خارج۔ میرے نزدیک ......وہ پتہ نہیں مجھ .... میرے نزدیک صرف یہ ہے کہ قیامت والے دن خذہ تو کافر بھی ہوں گے اور گنہگار بھی ہوں گے.......

واخذہ کی.......

کیٹیگری میں ان کو رکھتے ہیں؟

ی کیٹیگری میں۔

و کیٹگریز ہیں؟

قابل مواخذہ کی کیٹیگری میں۔

ن کو ہم کس کیٹیگری میں رکھیں؟ گنہگار کی یا کافر کی؟

ہے ہی گنہگار، جو خدا تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا اور کسی نبی کا ہیں ہے مگر کافر ہے۔

حب! مرزا صاحب! ہر ایک گنہگار کافر نہیں، But نہگار ہے۔ اس واسطے بہتر یہ ہے کہ لفظ ہم "گنہگار"

Mr. Yahya Bakhtiar: which category will you put a p Mirza Ghulam Ahmad as a Na Kafir?

ں پوچھتا ہوں کہ کس درجے میں رکھو گے اس شخص کو ہے یا کافر)

٢٢٧

صفحہ ٢٥٣

F PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ کافر سے باہر ہے؟ مرزا ناصر احمد: وہ کافر اس کرے گا اور وہ انکار کرتا ہے، کفر کے لغوی مع جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک جاتا ہے..... مرزا ناصر احمد: اگر ایک مسلم جناب یحییٰ بختیار: ......کہ ا مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! وہ جناب یحییٰ بختیار: ......تو وہ معنی) میں، جو مسلمان سمجھتے ہیں، جو میرے مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ن کہ مسلمان ہونے کے لئے شرط ہے...... 162 تمام انبیاء پر ایمان نہیں لاتا وہ قرآنی محاور جناب یحییٰ بختیار: اسلام ۔ مرزا ناصر احمد: ”اسلام کے پڑھا محاورہ۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! Sense (معنی) میں استعمال کرتے ہیں مرزا ناصر احمد: یعنی ، میں ڈ جناب یحییٰ بختیار: آپ کی مرزا ناصر احمد: ......طور پر ق جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا ناصر احمد: ......جماع Not necessarily even

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مسلمان علماء کہتے ہیں جی (ضروری نہیں بلکہ احمدیہ جماعت) Ahmadiyah Jamaat. When we normally.... کہ ”دائرہ اسلام سے خارج ہے“ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ دائرہ اسلام سے خارج۔ میرے نزدیک ...... وہ پتہ نہیں مجھ سے تو Agree (اتفاق) کریں یا نہ ...... میرے نزدیک صرف یہ ہے کہ قیامت والے دن مرنے کے بعد قابل مؤاخذہ ہوں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: قابل مؤاخذہ تو کافر بھی ہوں گے اور گنہگار بھی ہوں گے...... مرزا ناصر احمد: اب یہ قابل مؤاخذہ کی ...... جناب یحییٰ بختیار: آپ کس کیٹگری میں ان کو رکھتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: قابل مؤاخذہ کی کیٹگری میں۔ 163 جناب یحییٰ بختیار: یعنی دو کیٹگریز ہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں ، دونوں قابل مؤاخذہ کی کیٹگری میں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کو ہم کس کیٹگری میں رکھیں؟ گنہگار کی یا کافر کی؟ دونوں قابل...... مرزا ناصر احمد: نہیں، جو کافر ہے ہی گنہگار، جو خدا تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا اور کسی نبی کا انکار کرتا ہے، آپ کے خیال میں وہ گنہگار تو نہیں ہے مگر کافر ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مرزا صاحب! ہر ایک گنہگار کافر نہیں، But (لیکن) ہر ایک کافر گنہگار ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہر ایک کافر گنہگار ہے۔ اس واسطے بہتر یہ ہے کہ لفظ ہم ”گنہگار“ استعمال کرتے۔ ہاں! ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I say that in which category will you put a person who does not accept Mirza Ghulam Ahmad as a Nabi? As a Gunahgar or as a Kafir?

(جناب یحییٰ بختیار: تو یہی میں پوچھتا ہوں کہ کس درجے میں رکھو گے اس شخص کو جو مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔ گنہگار ہے یا کافر)

٢٢٧

صفحہ ٢٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: اگر سارے کافر گنہگار ہیں تو وہ گنہگار کی کیٹگری میں آ گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہر حالت میں ہو گیا۔ پھر گنہگار کی دوسری کیٹگری یہ ہے کہ ایک کو کم سزا، ایک کو زیادہ سزا......

مرزا ناصر احمد: وہ تو......

جناب یحییٰ بختیار: اس واسطے میں کہہ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: سزا دینا میرا اور کسی انسان کا کام نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! بات یہ ہوتی ہے کہ......

مرزا ناصر احمد: اللہ تعالیٰ آپ ہی فیصلہ کرے گا۔

164

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں کہ جو گنہگار ہے وہ تھوڑی دیر جہنم کے بعد پھر بہشت میں جا سکتا ہے۔ لیکن کافر نہیں جا سکتا۔ He is condemned for ever; that is what they say.

مرزا ناصر احمد: نہیں، اسی لئے یہ اختلافی مسئلہ ہو گیا۔ ہمارے نزدیک Forever ہے ہی نہیں جہنم۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Even for Kafir?

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Even for Kafir it is not?

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، ہمارے نزدیک جہنم ہمیشہ کی ہے ہی نہیں۔ بلکہ حدیث میں آیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جہنم پر جب اس کے اندر کوئی بھی نہیں ہوگا...... وہ تمثیلی زبان میں...... کہ دروازے اس کے یوں ہل رہے ہوں گے، کھلے نہ کوئی پہرے دار، نہ کنڈیاں، نہ کچھ۔

جناب یحییٰ بختیار: قرآن شریف کے مطابق کافر دائرہ اسلام سے خارج شمار ہوتا ہے یا......

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم نے ”دائرہ اسلام سے خارج“ کا محاورہ استعمال ہی نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، امت سے؟ امت میں شمار ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا وہ؟

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم کی رو سے ”دائرہ اسلام سے خارج“ کا محاورہ ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، امت میں وہ رہتا ہے؟ مسلمان رہتا ہے کہ نہیں، جو کفر کرے؟

٢٢٨

NATIONAL ASSEMBLY

نے تین کیٹگریز بیان کی ہیں، شروع میں ہی سورۃ بقرہ منافق کو کافر سے زیادہ گنہگار بتایا ہے۔ حدیث نے: دار قرآن کریم نے، قرآن کریم نے اور باوجود اس کے دائرہ کے اندر شامل کیا ہے۔

!......

حدیث میں، احادیث میں آتا ہے: کفر دون کفر“ کہتے ہیں وہ ایک قسم کا کفر نہیں ہے سارا اور ہم نے لفظ استعمال کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ملت سے

کرے کوئی شخص، تو وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو عقیدگیاں ہیں دوسری، کمزوریاں ہیں، گنہگار ہے، محفوظ رکھے ہمیں، تو اس کو ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں:

166

کفر لا عن الملۃ ایک کفر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ طیبہ کا ہے انکار، وہ ملت سے

محمد کی نبوت سے انکار کرتا ہے وہ خارج ہے؟

نہیں کرتا۔

خارج نہیں کرتا؟

نہیں ہے ناں اس کا۔

پوچھ رہا ہوں۔

٢٢

صفحہ ٢٥٥

255 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : قرآن کریم نے تین کیٹگریز بیان کی ہیں، شروع میں ہی سورہ بقرہ کے...... ایک مؤمن، ایک کافر، ایک منافق اور منافق کو کافر سے زیادہ گنہگار بتایا ہے۔ حدیث نے: 165 ان المنافقين فى الدرك الاسفل من النار قرآن کریم نے ، قرآن کریم نے اور باوجود اس کے کہ کافر سے بڑا گنہگار ہے۔ اس کو مسلمان کے دائرہ کے اندر شامل کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد : ”کفر“ کے متعلق حدیث میں، احادیث میں آتا ہے: کفر دون کفر تو کفر کفر میں بڑا فرق ہے۔ تو جس کو ہم ”کفر“ کہتے ہیں وہ ایک قسم کا کفر نہیں ہے سارا اور ہم یہ فرق کریں گے۔ جو ”دائرہ اسلام“ آپ نے لفظ استعمال کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ملت سے خارج ہوتا ہے یا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ملت سے۔

مرزا ناصر احمد : ملت سے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، وہی میں پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : امت محمدیہ سے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں۔

مرزا ناصر احمد : کلمہ طیبہ کا انکار کرے کوئی شخص، تو وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، امت مسلمہ میں نہیں رہتا۔ لیکن جو بدعقیدگیاں ہیں دوسری، کمزوریاں ہیں، گنہگار ہے، انسان بڑا کمزور ہے، میں بھی، آپ بھی، اللہ محفوظ رکھے ہمیں، تو اس کو ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں: الكفر كفران احدهما ينقل عن الملة والاخر لا عن الملة ایک کفر ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے، اور دوسرا کفر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جو کلمہ طیبہ 166 کا ہے انکار، وہ ملت سے خارج کر دیتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : جو مرزا غلام احمد کی نبوت سے انکار کرتا ہے وہ خارج ہے؟

مرزا ناصر احمد : وہ ملت سے خارج نہیں کرتا۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ ملت سے خارج نہیں کرتا؟

مرزا ناصر احمد : وہ کلمہ طیبہ سے انکار نہیں ہے ناں اس کا۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں۔

٢٢٩

TAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : اگر

جناب یحییٰ بختیار

کو کم سزا، ایک کو زیادہ سزا......

مرزا ناصر احمد : دو

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد : سـ

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد : از

164 جناب یحییٰ بـ

بہشت میں جاسکتا ہے۔ لیکن کافـ

is what they say.

مرزا ناصر احمد :

Forever ہے ہی نہیں جہنم۔

! Kafir?

مرزا ناصر احمد : اِ

Kafir it is not?

مرزا ناصر احمد : '

میں آیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئـ

میں...... کہ دروازے اس کے اِ

جناب یحییٰ بختیار

ہے یا......

مرزا ناصر احمد : قـ

جناب یحییٰ بختیار

مرزا ناصر احمد : قـ

جناب یحییٰ بختیار

صفحہ ٢٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ ٹھیک ہے، وہ ملت سے خارج نہیں کرتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کی جو Writings (تحریریں) ہیں، یہ ساری، یا بہت سی جو منیر انکوائری کورٹ تھی اس کے سامنے بھی پیش کی گئیں اور آپ کا Interpretation بھی پیش کیا گیا......

مرزا ناصر احمد: جی۔

(ہائیکورٹ رپورٹ کے مطابق آپ مسلمانوں کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: ان کی یہ Finding تھی کہ آپ کی Writing سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ You consider other Muslims outside the pale of Islam. (کہ آپ دیگر مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: کس کی Opinion تھی؟

جناب یحییٰ بختیار: منیر کی یہ Finding ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! منیر صاحب کی یہ Findings (نتائج) ہے۔ ان کی اس کے علاوہ اور بھی بہت سی Findings (نتائج) ہیں۔ اگر ان کی Findings کے اوپر اعتبار کرنا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں،......

مرزا ناصر احمد: ......تو ساروں کو لینا چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بات یہ ہے جی کہ ایک عدالت کے سامنے جو شہادت جاتی ہے، ریکارڈ جاتا ہے، آرگومنٹس ہوتی ہیں، پھر وہ کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب یہ ہے......

167 جناب یحییٰ بختیار: میں یہ نہیں کہتا کہ This is binding on the Assembly, on me or on you; but this has got its own value.

(یہ پابندی ہے اسمبلی پر میرے اوپر یا آپ کے اوپر مگر اس کی بھی اپنی ایک قدر و قیمت ہے)

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہاں ہے وہ منیر کی رپورٹ؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Page 199.

(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ 199)

٢٣٠

صفحہ ٢٥٧

257 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: میرا مطلب صرف یہ ہے کہ منیر کی انکوائری میں یہ بھی ہے کہ اگر علماء کے فتاویٰ کو دیکھا جائے اور ان بیانوں کو سامنے رکھا جائے جو وہاں دیئے گئے ہیں تو کوئی شخص بھی مسلمان نہیں رہتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، جی، وہ ٹھیک ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ اس پوائنٹ پر ان کی، Finding آپ......

مرزا ناصر احمد: کون سا صفحہ ہے؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Page 199. The Report says Sir, that:

"On the question whether the Ahmadis consider the other Muslamans to be Kafirs in the sense of their being outside the pale of Islam, the position taken before us is that such persons are not Kafirs and that the word "Kufr" when used in the literature of the Ahmadis in respect of such persons, is used in the sense of Minor heresy and that it was never intended to convey that such persons were outside the pale of Islam. We have seen the previous pronouncement of Ahmadis on this subject, which are numerous and to us they do not seem to be capable of any other interpretation than this that people who do not believe in Mirza Ghulam Ahmad are outside the pale of Islam. It is now stated that Musalamans, who do not accept the claim of Mamoor-min-Allah, after the Holy Prophet, are not deniers 168 of Allah and the Prophet are, therefore, still within Ummat. This is in no way inconsistent with the previous announcement that the other Musalmans are Kafirs. In fact,"

٢٣١

صفحہ ٢٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

these words indirectly reaffirm the previous conviction that such persons are Musalmans only in the sense that they belong to the Prophet's Ummat and as such are entitled to be treated as members of Muslim society (Muashira). This is very different from saying taht they are Musalmans and not Kafirs."

(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ نمبر: ١٩٩، رپورٹ کہتی ہے۔ جناب: ”اس سوال پر کہ کیا احمدی لوگ دوسرے مسلمانوں کو کافر اس معنی میں خیال کرتے ہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے سامنے یہ پوزیشن اختیار کی گئی کہ ایسے لوگ کافر نہیں ہیں اور یہ کہ لفظ کفر، جب احمدیوں کے لٹریچر میں ایسے لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس سے یہ مطلب کبھی نہیں لیا گیا کہ ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس موضوع پر ہم نے احمدیوں کے پہلے والے باضابطہ اعلان دیکھے ہیں جو بہت سے ہیں اور ہماری نظر میں ان کا کوئی اور مفہوم نہیں نکلتا سوائے اس کے کہ جو لوگ مرزا غلام احمد میں اعتقاد نہیں رکھتے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مسلمان جو نبی پاک ﷺ کے بعد کسی شخص کا دعویٰ مامور من اللہ کو نہیں تسلیم کرتے۔ وہ منکر خدا اور نبی ﷺ نہیں ہیں اور وہ امت کے اندر ہیں۔ یہ بات کسی طور پر بھی متضاد نہیں ہے۔ پہلے والے اعلانات سے کہ دیگر مسلمان کافر نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ الفاظ بالواسطہ اس اعتقاد کو یقین بخشتے ہیں کہ ایسے لوگ اس معنی میں مسلمان ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی امت سے متعلق ہیں اور اس لئے مسلم سوسائٹی معاشرہ کے رکن ٹھہرائے جانے کے مستحق ہیں۔ یہ بات بالکل مختلف ہے۔ اس کہنے سے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں۔“)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: This is exactly the same; you have explained the same position as explained they....

(جناب یحییٰ بختیار: اسی صورتحال کو بعینہ آپ نے واضح کیا ہے)

مرزا ناصر احمد: یہ جسٹس منیر صاحب کی یہ رائے ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: ...... ہم نہیں اس سے Agree (اتفاق) کرتے۔

٢٣٢

NATIONAL ASSEM

Mr. Yahya Bakht this subject, will you kindly political Muslim and a non briefly.

ب کہ اس موضوع پر بات چل رہی ہے۔ براہ سلمان میں اور ایک غیر سیاسی مسلمان میں) مرے ذہن میں پولیٹیکل، جب انگریزی میں

نے فرمایا تھا، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں۔ ریف مسلمان کی جو ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ پر رسول اللہ ...... اور دیگر چار ارکانِ اسلام پر ہے کہ جس نے ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا اور ذمۃ الرسولہ ...... ہے۔ یہ ہے سیاسی گا۔ یہ ہے سیاسی مسلمان ......فی ذمۃ اللہ سلمان۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور ایک کا جو علم ہے۔ اس کے مطابق قابل مواخذہ ور عام حالات میں ویسے تو یہ ہے کہ ...... d (تعریف) دوسرے مسلمانوں پر بھی

- مسلمان آپ Define کریں گے؟ Appl ہوتی ہے۔ ئے کہ کسی مسلمان پر بھی Apply ہوگی جو

ہے وہ ہر مسلمان پر ...... ؟

صفحہ ٢٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: And Sir, while we are on this subject, will you kindly make a distinction between a political Muslim and a non-political Muslim, I mean very briefly.

(جناب یحییٰ بختیار: اور جناب اب جب کہ اس موضوع پر بات چل رہی ہے۔ براہ کرم! آپ فرق واضح کریں۔ مختصر طور پر ایک سیاسی مسلمان میں اور ایک غیر سیاسی مسلمان میں)

مرزا ناصر احمد: پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے ذہن میں پولیٹیکل، جب انگریزی میں ہم بولیں......

جناب یحییٰ بختیار: سر! ”سیاسی“ آپ نے فرمایا تھا، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! یعنی سیاسی تعریف مسلمان کی جو ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہو، کلمہ شہادت...... لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ...... اور دیگر چار ارکان اسلام پر ایمان لاتا ہو، اور نبی اکرم ﷺ کی بخاری کی حدیث ہے کہ جس نے ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ سیاسی طور پر...... فی ذمۃ اللہ وذمۃ الرسولہ 169...... ہے۔ یہ ہے سیاسی Protection کہ وہ سیاسی معانی میں مسلمان شمار ہوگا۔ یہ ہے سیاسی مسلمان...... فی ذمۃ اللہ وذمۃ الرسولہ کا قریباً لفظی ترجمہ بنتا ہے...... سیاسی مسلمان۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور ایک وہ مسلمان ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے نزدیک، بعض بندوں کا جو علم ہے۔ اس کے مطابق قابل مواخذہ بن جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بعض اعمال کو پسند نہیں کرتا اور عام حالات میں ویسے تو یہ ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ Definition (تعریف) دوسرے مسلمانوں پر بھی Apply (لاگو) ہوتی ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک Ordinary مسلمان آپ Define کریں گے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ احمدی پر بھی Apply ہوتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں نے کہا کسی مسلمان پر بھی Apply ہوگی جو سیاسی Definition آپ نے دی ہے؟

مرزا ناصر احمد: جو سیاسی Definition ہے وہ ہر مسلمان پر......

جناب یحییٰ بختیار: ...... Apply ہوگی؟

٢٣٣

صفحہ ٢٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہاں! جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا Distinction دونوں میں کیا ہوا؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ ہر پر ہوگی اور یہ جو ہے اس میں ہمارا اختلاف ہے...... بہتر (٧٢) فرقوں کا اور جماعت کا اور یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے، فرقہ کہتا ہے کہ یہ عقائد خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔ دوسرا کہتا ہے...... یہ دوسرا گروپ جو ہے عقائد کا...... یہ خدا تعالیٰ کو پسند نہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا یا نہیں، وہ نہیں سوال یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: احمدیہ جماعت میں بھی کوئی سیاسی مسلمان ہے؟ 170 مرزا ناصر احمد: ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: احمدیہ جماعت میں سیاسی مسلمان ہیں؟ مرزا ناصر احمد: سیاسی مسلمان۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ جس طرح Define کر رہے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: سارے احمدی، سارے دیوبندی، سارے بریلوی، سیاسی تعریف کے لحاظ سے مسلمان بنتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو سیاسی مسلمان کے علاوہ What is اس کی کیا Over and above that, more to be added to be something more than سیاسی مسلمان؟

مرزا ناصر احمد: وہ یہ ہے کہ سارے قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے والا ہو، اپنی زندگی کا اسوۂ نبی اکرم ﷺ کے مطابق ڈھالنے والا ہو، اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں جو یہ کہا ہے کہ ”ایاک نعبد“ عبد بننے کی سعی کرنے والا ہو اپنی زندگی میں...... جس کے معانی ہمارے بزرگوں نے بھی اور ہماری عقل نے بھی یہ کئے ہیں اور لغت بھی یہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کی کوشش کرنے والا ہو، خصوصاً یہ بنیادی صفات یہاں بیان جو کی گئی ہیں وہ بھی ساری صفات کے مطابق، ساری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے والا ہو جو ان چیزوں میں سستی کرتا ہے اور ایک آئیڈیل انسان نہیں بنتا وہ خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور اس میں ہم پھر احمدی اور دوسروں میں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو میں پوچھ رہا ہوں، جی۔

٢٣٤

261 NATIONAL ASSEMBLY اور وہابی میں فرق نہیں کرتے۔ ہم اپنے احمدیوں کو

General definition (عام تعریف)

I am still n آپ کا جو جواب تھا۔ بھی، اس میں...... کہ اگر ایک مسلمان حضرت عیسیٰ کو نبی نہیں مانتا تو کیا Outside the pa (دائرہ اسلام سے خارج)

یم کے بعض احکام پر عمل نہیں کرتا وہ جو ہے...... Particularly (خصوصیت سے) پوچھ رہا

سے ایک ہے۔ جو قرآن کریم کے بعض حصوں پر عمل نہ کہہ سکتے ہیں۔ حقیقی تعریف میں نہیں کہہ سکتے۔ شخص کے بارے میں پوچھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے عیسیٰ بھی ان میں سے ایک ہیں......

کہ میں حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لاتا، میں نہیں مانتا۔ ن کریم کا۔ وا؟

میں بات یہ ہے کہ آپ نے ”کافر“ کے معنی نہیں

”کافر“ کسے کہتے ہیں؟ م میں جسے مسلمان نہ شمار کیا جائے، جسے مسلمان نہ

٢٣٦

صفحہ ٢٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہم احمدی اور وہابی میں فرق نہیں کرتے۔ ہم اپنے احمدیوں کو بھی کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں General definition (عام تعریف) پوچھ رہا تھا۔

171 مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار: I am still not clear آپ کا جو جواب تھا......

مرزا ناصر احمد : یہ محضر نامے میں بھی، اس میں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! وہ کہ اگر ایک مسلمان حضرت عیسیٰ کو نبی نہیں مانتا تو کیا وہ سیاسی کافر ہے یا کافر، Outside the pale of Islam (دائرہ اسلام سے خارج) ہوگا وہ؟

مرزا ناصر احمد : جو شخص قرآن کریم کے بعض احکام پر عمل نہیں کرتا وہ جو ہے......

جناب یحییٰ بختیار: میں اس کا Particularly (خصوصیت سے) پوچھ رہا ہوں، جی کہ یہ جو اللہ کا حکم ہے......

مرزا ناصر احمد : یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ جو قرآن کریم کے بعض حصوں پر عمل نہیں کرتا۔ اس کو ہم سیاسی تعریف میں تو مسلمان کہہ سکتے ہیں۔ حقیقی تعریف میں نہیں کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس شخص کے بارے میں پوچھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو کہ سب نبیوں پر ایمان لاؤ...... حضرت عیسیٰ بھی ان میں سے ایک ہیں......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لاتا، میں نہیں مانتا۔

مرزا ناصر احمد : تو باغی ہے قرآن کریم کا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ تو کافر ہوا؟

مرزا ناصر احمد : وہ کافر...... اصل میں بات یہ ہے کہ آپ نے ”کافر“ کے معنی نہیں بتائے مجھے۔

جناب یحییٰ بختیار: کافر۔

مرزا ناصر احمد : آپ کے نزدیک ”کافر“ کسے کہتے ہیں؟

172 جناب یحییٰ بختیار: جو اسلام میں جسے مسلمان نہ شمار کیا جائے، جسے مسلمان نہ

٢٣٥

صفحہ ٢٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

تصور کیا جائے، اس Sense میں۔

مرزا ناصر احمد: جو نماز کبھی نہ پڑھے اس کو مسلمان تصور کیا جائے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ You are to Clarify the Position before the Special Committee (آپ خصوصی کمیٹی کے سامنے پوزیشن واضح کر رہے ہیں) کہ ایک آدمی کو جب آپ کافر کہتے ہیں ...... ایک Sense (معنی) میں تو آپ نے کہا کہ سیاسی ہے، کہ اس کا مواخذہ ہوگا ......

مرزا ناصر احمد: سب، وہ سب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... دوسرا یہ کہ وہ کافر ہے جو کہ ......

مرزا ناصر احمد: ...... جو کہ امت ...... ملت اسلامیہ سے نکل جاتا ہے، تو وہ ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... نکل جائے۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا ......

(حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر ملت اسلامیہ سے خارج ہے)

مرزا ناصر احمد: جو قرآن کریم کی اس آیت کو، جس میں حضرت عیسیٰ کا ماننا ضروری ہے، وہ نہیں مانتا، وہ ملت اسلامیہ میں سے نکل گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نکل جائے گا ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! ملت اسلامیہ میں سے نکل جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا وہ رہے گا یا نکل جائے گا؟

مرزا ناصر احمد: جو نہیں مانتا وہ خدا تعالیٰ کے حکم کا انکار کرنے والا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ بھی نکل جائے گا ؟

مرزا ناصر احمد: وہ قابل مواخذہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور وہ ...... یعنی ...... You have ......

مرزا ناصر احمد: آپ بھی Confuse کرتے ہیں ...... اس واسطے کہ ......

173 جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں پوزیشن Clear (واضح) کرنا چاہتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ...... ہمارے نزدیک وہ، سیاسی معانی میں وہ نہیں نکلتا۔ ملت اسلامیہ سے۔

٢٣٦

صفحہ ٢٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر سیاسی معنوں میں مسلمان ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: جو حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتا وہ بھی سیاسی معنوں میں نہیں نکلتا؟

مرزا ناصر احمد: سیاسی معنوں میں وہ بھی نہیں نکلتا۔

جناب یحییٰ بختیار: But (لیکن) کن معنوں میں نکلتا ہے وہ؟

مرزا ناصر احمد: وہ نکلتا ہے اس معانی میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مواخذہ کے اندر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ پھر بھی مسلمان ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: سیاسی معنوں میں پھر بھی مسلمان رہے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: کس معنے میں کافر بھی ہو جاتا ہے وہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! کفر دون کفر ہے ناں۔ ایک معانی میں وہ کافر ہے۔ دوسرے معانی میں وہ مسلمان ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو شخص یہ کہے کہ میں سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی کو بھی نہیں مانتا نبی؟

مرزا ناصر احمد: اس نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، سمجھا ہوگا جی! جاہل آدمی ہی سہی۔

مرزا ناصر احمد: وہ میرا جواب وہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ، وہ کافر ہو گیا کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: وہ ملت اسلامیہ سے نکل گیا۔ سیاسی معنوں میں......

جناب یحییٰ بختیار: سیاسی معنوں میں؟

174 مرزا ناصر احمد: سیاسی معنوں میں نہیں نکلا۔

جناب یحییٰ بختیار: دوسرے معنوں میں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، سیاسی معنوں میں وہ مسلمان ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر بھی مسلمان رہتا ہے وہ؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان رہتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر وہ یہ سمجھے جی کہ......

٢٣٧

صفحہ ٢٦٤

264 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: 90 فیصد یہاں ہیں ایسے مسلمان ہمارے ملک میں جن کو کلمہ طیبہ بھی مشکل سے آتا ہے۔ معنے کم از کم نہیں آتے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک...... مرزا ناصر احمد: کس جھگڑے میں آپ پڑے ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: میں جھگڑے میں نہیں پڑ رہا جی! ایک چیز وہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی نہیں سمجھتا اور وہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، کلمہ پڑھتا ہوں مگر ایک Deliberately, Maliciously denies ...... (عمداً بغض کے باعث انکاری ہے) مرزا ناصر احمد: وہ تو باغی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ تو اس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو باغی ہے جو Deliberately (عمداً) کرتا ہے۔ Deliberately (عمداً) کا مطلب یہ ہوتا ہاں پھر...... جناب یحییٰ بختیار: ......کہ یہ سمجھ کر......

(عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا منکر ہر طرح ملت اسلامیہ سے خارج ہے)

مرزا ناصر احمد: ......کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو نبی مانو...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! 175مرزا ناصر احمد: ......اور میں خدا کے حکم کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اس کا انکار کرتا ہوں۔ وہ ملت اسلامیہ سے نکل گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: سیاسی طور پر صرف؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ سیاسی طور پر بھی نکل گیا، یہ کہیں آپ۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ بالکل ہی نکل گیا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ بالکل نکل گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: جو مرزا غلام احمد کی نبوت سے انکار کرتا ہے وہ بھی بالکل نکل گیا؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں! میرا پہلے جو ہے، میرا وہ جو...... آپ اس میں ذہن میں رکھیں۔ میں نے کہا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں، مجھے علم ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ میں حضرت عیسیٰ کو نبی مانوں، لیکن میں خدا تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہو

٢٣٨

265 NATIONAL ASSEMB

یہ کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے گا۔ وہ بھی نکل گیا۔ ایک جگہ ایک تعریف کریں، گر آپ کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے

کے باوجود......

ہے، وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں ) ں ! میں نے اپنے کہنے کے مطابق نہیں کہا کہ وہ کہنے کے مطابق کہا ہے جو شخص کھڑے ہو کے یہ مان لاؤ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر قرآن سے یہ مطالبہ کرتا ہے اپنی شریعت کاملہ میں اور ں بغاوت کرتا ہوں اور ماننے سے انکار کرتا ہوں ں یہ کہتا ہے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ مہدی موعود اس کے باوجود میں نہیں مانوں گا۔ وہ اسی طرح

جانتا ہی نہ ہو؟ .......میں Explain کردیتا ہوں......اگر ے کہ عیسیٰ کو مانو، عیسیٰ علیہ السلام....... مانے.......

نے حضرت عیسیٰ کا نام ہی نہیں سنا....... ں سنا تو پھر وہ....... نا، اس وجہ سے کہتا ہے کہ میں نے نام ہی نہیں

صفحہ ٢٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

کے اس سے انکار کر رہا ہوں، وہ نکل گیا۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ بانی سلسلہ کو امتی نبی مانو اور میں نہیں مانوں گا۔ وہ بھی نکل گیا۔ ایک جگہ ایک تحریف کریں، دوسری جگہ اور تحریف کریں تو غلط ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ اگر آپ کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ مرزا غلام احمد نبی ہیں۔ ان کو مانو.......

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ......اور پھر اس کے باوجود......

(عیسیٰ اور مرزا کے منکر دونوں ایک جیسے، وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہیں)

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ناں، ناں! میں نے اپنے کہنے کے مطابق نہیں کہا کہ وہ حضرت مسیح سے انکار کر رہا ہے۔ میں نے اس کے کہنے کے مطابق کہا ہے جو شخص کھڑے ہو کے یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام انبیاء پر ایمان لاؤ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر قرآن عظیم میں، اور یہ جانتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے یہ مطالبہ کرتا ہے اپنی شریعت کاملہ میں اور قرآن شریف کی ہدایت 176 پر ایمان لاؤ اور پھر بھی میں بغاوت کرتا ہوں اور ماننے سے انکار کرتا ہوں وہ ہر معانی میں ملت اسلامیہ سے نکل گیا اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ مہدی موعود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور امتی نبی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود میں نہیں مانوں گا۔ وہ اسی طرح نکل گیا جیسے پہلا نکلا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی شخص جانتا ہی نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! اگر کوئی شخص ...... میں Explain کردیتا ہوں ...... اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں کہ خدا کہتا ہے مجھے کہ عیسیٰ کو مانو، عیسیٰ علیہ السلام ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! اگر اس نے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور اگر اس نے حضرت عیسیٰ کا نام ہی نہیں سنا ......

مرزا ناصر احمد: اگر اس نے نام ہی نہیں سنا تو پھر وہ ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... اور نہیں مانتا، اس وجہ سے کہتا ہے کہ میں نے نام ہی نہیں سنا، میں نہیں مانتا۔

٢٣٩

AN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: بھی مشکل سے آتا ہے۔ معنے کہ

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار: آدمی نہیں سمجھتا اور وہ کہتا ہے Maliciously denies

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: Deliberately (عمداً) کا

جناب یحییٰ بختیار: (عیسیٰ بن مریم علیہ ال

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

175

مرزا ناصر احمد: انکار کرتا ہوں۔ وہ ملت اسلام

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ذہن میں رکھیں۔ میں نے کہا سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ میں ح

صفحہ ٢٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: وہ سیاسی طور پر تو قطعا ہی نہیں نکلا ۔ بالکل مسلمان ہے وہ ہمارے اس سیاسی معنی کے لحاظ سے، اس کو وہی Protection (محافظت) حاصل ہے جو فی ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور جو دوسرا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے ...... وہ اس کا ہے، وہ ہم یہاں بیٹھ کے کیا اس کے اوپر حکم لگائیں؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کہا ہے، میں پڑھتا ہوں، پھر وہ حوالہ دیتا ہوں۔ آپ اس پر پھر اپنے جو Comments (تبصرہ) ہیں: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ 177 کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے، آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

یہ Verify (وضاحت) فرمائیں۔

مرزا ناصر احمد: جی ! یہ جو، یہ جو ہے ناں حوالے والا قصہ، یہ جب تک سیاق و سباق میں کسی ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! I agree with you (میں آپ کے ساتھ متفق ہوں)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں اور بات کرنے لگا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ٹھیک ہے، وہ ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں، اس کے بعد جو میرا نتیجہ ہے وہ سن لیں ناں! اس واسطے آپ یہ سوال مجھے دے دیں تو میں اس کا جواب کتابیں Consult (مشورہ) کر کے اور پھر دے سکتا ہوں، ویسے یہاں میرے لئے دینا مشکل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، سر! میں نے صرف یہ کہا کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے۔ یہ میں نے پڑھا ہے۔ یہاں تک کہ ”اور نبی آسکتے ہیں ۔“

مرزا ناصر احمد: یہ جس Context (سیاق و سباق) میں کہا ہے۔ جو مضمون ہے، اس کو پڑھے بغیر میں جواب نہیں دے سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی!

Mirza Nasir Ahmad: I would not be fair to this

٢٤٠

صفحہ ٢٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

august House.

(مرزا ناصر احمد: اس باوقار ایوان کے لئے میں زیادتی نہیں کروں گا)

(مرزا کے منکر دائرہ اسلام سے خارج)

جناب یحییٰ بختیار: پھر انہوں نے جی یہ کہا ہے کہ:

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

مرزا ناصر احمد: یہ تو کتاب دیکھنے کے بعد بتاؤں گا۔

178 جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کی ہے جی! ”آئینہ صداقت صفحہ نمبر ٣٥“

مرزا ناصر احمد: یہ میں نے کہا ناں......

Mr. Chairman: If the books are available here....

(جناب چیئرمین: کتابیں یہاں موجود ہیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Books are available.

(جناب یحییٰ بختیار: کتابیں موجود ہیں)

Mr. Chairman: .... these may be shown to the witness.

(جناب چیئرمین: گواہ کو دکھائی جا سکتی ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Page 35.

(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٣٥)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ جو:

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

Here the meaning is that پولیٹیکل Sense (معنی) میں خارج ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جی! یہاں یہ جو ہے، یہ سوال بالکل ان الفاظ میں منیر کی انکوائری کے وقت بھی کیا گیا تھا۔ تو خود حضرت خلیفہ ثانی نے جو جواب دیا وہ میں آپ کو پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! Yes

٢٤١

صفحہ ٢٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: یہ بات، سوال، یہ، یہاں یہ سوال لکھا ہوا ہے کہ: ”کیا آپ اب بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے اپنی کتاب ”آئینہ صداقت“ کے پہلے باب میں صفحہ ٣٥ پر ظاہر کیا تھا۔ یعنی یہ کہ ”تمام وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد کی بیعت نہیں کی، خواہ انہوں نے مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

جواب: ”یہ بات خود اس بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو، جو میرے ذہن میں ہیں، مسلمان سمجھتا ہوں۔ پس جب میں ”کافر“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں 179 دوسری قسم کے کافر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں، یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب ”مفردات راغب“ کے صفحہ نمبر ٤٢٠ پر کیا گیا ہے۔ جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں ...... ایک دون الایمان اور دوسرے فوق الایمان ...... دون الایمان میں وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔ فوق الایمان میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔ اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں، تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعریف کے تحت آتے ہیں۔ مشکوٰۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا اور اس کی حمایت کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے۔“ یہ اس کا جواب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جب یہ جواب دیا گیا تو اس کے بعد جسٹس منیر نے یہ Finding (نتیجہ) دی کہ وہ Convince (قائل) نہیں ہوئے اور He still thought that the only impression one could get is that, according to you, these people are Kafir and outside the pale of Islam. (انہوں نے (یعنی جج منیر نے) پھر بھی یہی سوچا کہ آپ کے کہنے کے باوجود یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں) آپ مرزا صاحب! یہ فرمائیے اگر ایک پڑھا لکھا جج اور بڑا قابل جج، باوجود Authoritative explanation (مسلّم الثبوت تشریح) کے جو کہ مرزا صاحب نے پیش کی وہاں، اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ You mean Kafir, outside the pale of Islam. (کہ آپ لوگ کافر ہیں، یہ

٢٤٢

صفحہ ٢٦٩

269 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مطلب لیتے ہیں کہ دائرہ اسلام سے خارج) تو Ordinary (عام) مسلمان پر کیا Impression (تاثر) پڑتا ہے؟

180 مرزا ناصر احمد: Ordinary (عام) مسلمان نے تو جسٹس منیر صاحب کی رپورٹ ہی نہیں پڑھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں عام طور سے پوچھتا ہوں جی کہ جو فلاں کافر ہے، جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا، تو اس کا کیا Impression (تاثر) پڑتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اگر ہم بات کریں تو Impression (تاثر) کی بات ہے یہ تو۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! کیونکہ بات یہ ہے کہ اسمبلی کے ممبر جو ہیں انہوں نے......

Mirza Nasir Ahmad: They are not ordinary (مرزا ناصر احمد: وہ عام لوگ نہیں ہیں) people.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but they are just like Justice Munir; he was not convinced by this reply. (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! لیکن وہ صرف جج منیر کو پسند کرتے ہیں۔ یہ جواب ان کے لئے یقین بخش نہ ہوا)

مرزا ناصر احمد: کہیں جسٹس منیر جس واسطے Convinve (قائل) نہ ہوں گے ساری دنیا ان کے ساتھ چلی جائے گی؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں اس کی نہیں کہہ رہا جی! I don't say this, but I say that you produced material before him, you gave interpretation before him in a very authoritative, lucid (میں آپ سے اور بہتر manner, inspite of that he gave a finding.... ثبوت کا مطالبہ نہیں کرتا۔ آپ لوگوں نے تشریحات و توجیہات بہت مستند اور سہل صاف انداز میں ان کے سامنے پیش کیں۔ مگر ان کے باوجود انہوں نے یہ بیان دیا)

Mirza Nasir Ahmad: He was not in a mood to accept those statements. (مرزا ناصر احمد: وہ موڈ میں نہیں تھے کہ ان بیانات کو قبول کرتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So the average person,

٢٤٣

PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: یہ بات ہو یہ عقیدہ رکھتے ہیں جو آپ نے اپنی کتا تھا۔ یعنی یہ کہ ”تمام وہ مسلمان جنہو مرزا صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ کافر ہ

جواب: ”یہ بات خود اس میں ہیں، مسلمان سمجھتا ہوں۔ پس جب 179 نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اس جس کا اظہار کتاب ”مفردات راغب“ بیان کی گئی ہیں۔ ..... ایک دون الایمان وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درہ کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہ لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لو مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعر کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ک خارج ہے۔“ یہ اس کا جواب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جن Finding (نتیجہ) دی کہ وہ e one could get is that, Kafir and outside the pale (انہوں نے (یعنی جج من of Islam. تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں ا فرمائیے اگر ایک پڑھا لکھا جج اور بڑا قا (مسلم الثبوت تشریح) کے جو کہ مرزا ص outside the pale of Islam.

صفحہ ٢٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

intelligent person, educated person, and you call me Kafir, I am not going to bother and going into the details and say:

"What do you mean by Kafir?"

(جناب یحییٰ بختیار: یہ حضرات تعلیم یافتہ اور ذہین ہوتے ہیں۔ میں اب اس تفصیل میں آگے نہیں بڑھتا کہ آپ کا کافر سے کیا مطلب ہوا کرتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد: یہاں تو وہ کھڑے ہی نہیں ہوئے۔ وہ تو باقی سارے فرقوں کے متعلق اپنی یہ Finding (نتیجہ) دی کہ میں کسی کی بات نہیں مانتا۔ سب ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور میرے لئے مصیبت یہ ہے کہ اپنی تعریف کروں تب بھی میں کافر، اور کسی دوسرے فرقے کی تعریف کو صحیح قرار دوں۔ تب باقی بقیہ سارے فرقوں کی نگاہ میں میں کافر۔ تو وہ ساری Findings (نتائج) اکٹھی سامنے رکھ کے جسٹس منیر کی رائے جو ہے وہ قابل غور ہوتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: لیکن انہوں نے Finding (نتیجہ) یہ دی ہے۔ میں تو...... اس سے تعلق ہے اس وقت......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ Apostasy پر ان کی Finding ہے۔ ٢١٨، ٢١٩ پر یہ چلی ہے۔ یہ پڑھ کر سنانے کی ضرورت نہیں، آپ اس پر غور کر لیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں پوچھ رہا ہوں کہ اس وقت آپ کی جماعت کی طرف سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلانا کافر ہے۔ اس کا Impression (تاثر) عام آدمی پر......

مرزا ناصر احمد: کب کہا جاتا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: جیسے انگلینڈ میں کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: آپ نے پچھلے......

Mr. Yahya Bakhtiar: ....what the common man, as a reasonable man, thinks of it? جو کہ سٹینڈرڈ وہی رکھا ہوتا ہے، but what the common man جوڈیشل فیصلے پر، جج اپنے آپ کو نہیں کہتا thinks, the man in the street, the reasonable man; although he is an ideal, he never exists. So, according to you, when you say so and so is Kafir, what does a man in the street think?

٢٤٤

صفحہ ٢٧١

271 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: دیکھیں! میں ذمہ دار ہوں اپنی طرف سے اپنے عقیدے کے اظہار کا......

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ...... اس کی میرے اوپر ذمہ داری کیسے آتی ہے کہ جسٹس منیر یا اور کوئی شخص اس کو قبول کرتا ہے یا نہیں؟ میں سمجھتا ہوں اسے قبول کرنا چاہئے۔ کیونکہ میں دے رہا ہوں اپنے متعلق جو میری رائے ہے۔

182 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے جی۔ میں ابھی آگے چلتا ہوں۔

مرزا بشیرالدین محمود صاحب (مرزا بشیر احمد) نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ: ”ہر ایک ایسا شخص جو کہ موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، یا محمدؐ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

مرزا ناصر احمد: دائرہ اسلام کی تو ابھی آ گئی ہے۔ ....Is it

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ یہ مطلب کہ صرف سیاسی لحاظ سے آپ کہتے ہیں کہ یہ خارج ہے اور کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں جی! یہی، یہی جواب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہی جواب ہے اس کا؟

مرزا ناصر احمد: جو ایک ہے فوق الایمان، ایک تحت الایمان۔ یہ مفردات راغب، نے کی ہے۔ وہ لغت قرآنی کی کتاب ہے اور قرآن کریم میں جو عربی الفاظ استعمال......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! تو یہ مرزا صاحب! .....The next point is

(اگلا یہ نکتہ ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ، یہ...... اور اپنا ایک مسلک بتا دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک عیسائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے، مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا، وہ بھی مسلمان ہو گیا سیاسی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں! مسلمان کیسے ہو گیا؟ اگر آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا تو مسلمان ہونے کا سوال ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک نبی کو نہیں مانا جی اس نے، باقی سب مانے۔

٢٤٥

صفحہ ٢٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد : نہیں،نہیں۔ وہ مسلمان کیسے ہوگیا؟ وہی تو نبی ہے جس نے احاطہ کیا ہوا ہے، جس کے افاضہ روحانی نے تمام پچھلے انبیاء کا، اس نے۔ جس نے محمد ﷺ کو نہیں مانا۔ 183 ہمارے عقیدے کے لحاظ سے اس نے دنیا کے کسی نبی کو نہیں مانا۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ بالکل ہی کافر؟

مرزا ناصر احمد : جو مرضی اسے کہہ لیں، وہ تو انسان کہلانے کے قابل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یعنی دائرہ اسلام میں مسلمان کسی حالت میں نہیں کہلایا جاسکتا وہ؟

مرزا ناصر احمد : جو آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا وہ کیسے دائرہ اسلام میں آگیا؟

جناب یحییٰ بختیار : اور اگر مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا وہ آ جاتا ہے؟

مرزا ناصر احمد : جو نہیں مانتا وہ ایک دائرہ...... دو دائرے آگئے ناں...... تو ایک دائرے کے اندر وہ آ جاتا ہے، دوسرے دائرے کے اندر نہیں آتا۔

(غیر احمدی کافر ہیں)

جناب یحییٰ بختیار : نہیں۔

(جناب اگلا سوال یہ ہے) Sir, next quotation is:

”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے، غیر احمدی بھی کافر ہیں۔“

This is from "Alfazal" June 1922, 26-29. I think it was by- weekly in those days.

(یہ الفضل ٢٦،٢٩؍ جون ١٩٢٢ء کا ہے۔ میرا خیال ہے ان دنوں میں یہ ہفت روزہ تھا)

”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے، اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی بھی کافر ہیں۔“

مرزا ناصر احمد : یہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ چونکہ یہ...... اس پر جو ہیں ناں All the (تمام ممبران) members....

184 مرزا ناصر احمد : اس کا وہ جو جواب ابھی میں نے پڑھ کے سنایا، ہمارے نزدیک وہ سارے ان کو Cover کرتا ہے جو آپ اس وقت تک پڑھ چکے ہیں۔ آئندہ کا پتہ نہیں۔

٢٤٦

NATIONAL ASSEMB

نے مجھے بھیجے ہیں......

Mr. Chairman: No whether the writings are admi ت کی وضاحت ہونی چاہئے کہ کیا یہ تمام تحریریں

Mr. Yahya Bakhtiar انی مانگتا ہوں؟)

Mr. Chairman: The یں یا نہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar ے انکار نہیں کیا گیا)

Mr. Chairman: Th سا کیا گیا۔ بہت اچھا)

Mr. Yahya Bakhtia تصدیق کر سکتے ہیں)

Mr. Chairman: Yes یا مجھے تو میں...... ہ پڑھ...... میں نے Date سنائی ہے ناں جی ہ اوریجنل پر وڈیوس کریں یا آپ چاہتے ہیں کہ

رے حافظے میں تو نہیں محفوظ...... رہا ہوں......

صفحہ ٢٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ مختلف.......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی!

جناب یحییٰ بختیار: ......ممبروں نے مجھے بھیجے ہیں.......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی ! ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: No, one thing may be clarified: whether the writings are admitted or not?

(جناب چیئرمین: نہیں، ایک بات کی وضاحت ہونی چاہئے کہ کیا یہ تمام تحریریں تسلیم ہیں یا نہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Beg your pardon?

(جناب یحییٰ بختیار: آپ سے معافی مانگتا ہوں؟)

Mr. Chairman: The writings are admitted or not?

(جناب چیئرمین: تحریریں تسلیم ہیں یا نہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that si not denied.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں ! ان سے انکار نہیں کیا گیا)

Mr. Chairman: That is not denied. All right.

(جناب چیئرمین: ان سے انکار نہیں کیا گیا۔ بہت اچھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: But he can verify them.

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن وہ ان کی تصدیق کر سکتے ہیں)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

مرزا ناصر احمد: یہ تو آپ وہ دے دیں مجھے تو میں.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ساتھ پڑھ...... میں نے Date سنائی ہے ناں جی آپ کو۔ اگر آپ کسی کو کرنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو اوریجنل پروڈیوس کریں یا آپ چاہتے ہیں کہ غلط ہے تو You......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو ......میرے حافظے میں تو نہیں محفوظ ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں ......

٢٧٤

F PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ہوا ہے، جس کے افادۂ روحانی نے تمام ہمارے عقیدے کے لحاظ سے اس نے دنیا 183

جناب یحییٰ بختیار: وہ بالکل

مرزا ناصر احمد: جو مرضی استے

جناب یحییٰ بختیار: یعنی دائر

مرزا ناصر احمد: جو آنحضرت

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر مر

مرزا ناصر احمد: جو نہیں مانتا دائرے کے اندر وہ آجاتا ہے، دوسرے دائر

(غیرا

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ۔ (جناب اگلا سوال یہ ہے) ”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی م قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا

ne 1922, 26-29. I think it

(یہ الفضل ٢٦، ٢٩/جون ١٩٢٢ ”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی م قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا

مرزا ناصر احمد: یہ پہلے بھی ہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں members.... (تمام ممبران)

184 مرزا ناصر احمد: اس کادو وہ سارے ان کو Cover کرتا ہے جو آ

صفحہ ٢٧٤

274 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

185 مرزا ناصر احمد: ...... لیکن میں یہ چاہوں گا کہ آپ مجھے یہ دے دیں تاکہ میں چیک کروں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں نے حوالہ دیا ہے آپ کو۔ میں تو حوالے دے رہا ہوں آپ کو۔ اگر آپ کے پاس نہیں ہے تو پھر ہم آپ کو پروڈیوس کردیں گے۔

مرزا ناصر احمد: بھئی! آپ حوالے یہ ”الفضل“ والے......

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”الفضل“ کی تو ساری فائل آپ کے پاس ہے ناں جی!

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ حوالہ، یہ کون سا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی ٢٦، ٢٩؍جون......

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: 26,29 June, 1922.

(جناب یحییٰ بختیار: ٢٦، ٢٩؍جون ١٩٢٢ء)

مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک ہے، حوالہ نوٹ کرلیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ اس وقت......

مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک......

جناب یحییٰ بختیار: جو ڈاکومنٹ آپ کے پاس ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

(غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں)

جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے جی آتا ہے یہ : ”حضرت مسیح موعود نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ میں جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں۔“

(انوار خلافت ص ٨٩، از مرزا محمود)

186 This you have said that because for different reasons, not because he is a Kafir,

(تو اس کے لئے آپ نے کہا ہے کہ اس کی مختلف وجوہات تھیں نہیں کیونکہ وہ ایک کافر ہے)

جی! آپ نے کہا ہے ناں کہ یہ نماز نہیں پڑھتے؟

- ٢٧٤ -

صفحہ ٢٧٥

275 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: ہاں! نماز نہ پڑھنے کی بہت ساری وجوہات ہیں...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں! مرزا ناصر احمد: ...... ایک تو یہ ہے کہ محضر نامہ جو ہے ہمارا ، اس کے صفحہ ١٥٤ پر بھی ہے...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے جو وجوہات بیان کی ہیں...... مرزا ناصر احمد: ہاں! جناب یحییٰ بختیار: ...... ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہیں جن کی بناء پر آپ نماز نہیں پڑھتے ان کے پیچھے؟ مرزا ناصر احمد: احمدی مسلمان غیر احمدیوں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتا؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ جو وجوہات آپ نے یہاں دی ہیں۔ ان کے علاوہ وہ اور وجوہات بھی ہیں؟ صرف یہ وجوہات نہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہوں گی۔ بتائیں، میں بتا دیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں ...... یعنی ایک انہوں نے یہ ...... میں آپ کو پڑھ کر سنائے دیتا ہوں...... مرزا ناصر احمد: جی! جناب یحییٰ بختیار: میں نماز کے مسئلے پر تو بعد میں آؤں گا...... مرزا ناصر احمد: جی! جناب یحییٰ بختیار: آگے وہ کہتے ہیں جی ”انوار خلافت“ صفحہ ٩٠ پر: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، چونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

187 The same reply?

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ یہ ہے کہ یہ جو ہے فتویٰ کہ نماز پیچھے پڑھنی ہے یا نہیں۔ یہ پہلے مختلف فرقوں نے احمدیوں پر لگایا۔ یہ جو یہ نماز کا اب ہو گیا ناں مسئلہ شروع...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں نے پہلے اس پر ...... نماز پر میں آ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: اچھا! ابھی نہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: میں نے اسی پوائنٹ پر پوچھا کہ...... مرزا ناصر احمد: ہاں!

٢٤٩

KISTAN 5th Aug, 1974 No:01

185 مرزا ناصر احمد: .. چیک کروں۔ جناب یحییٰ بختیار: ٢ ہوں آپ کو۔ اگر آپ کے پاس نہیں مرزا ناصر احمد: بھئی ا جناب یحییٰ بختیار: یا مرزا ناصر احمد: نہیں جناب یحییٰ بختیار: ہ مرزا ناصر احمد: ہاں، June, 1922. (جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک جناب یحییٰ بختیار: ہا مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک جناب یحییٰ بختیار: ہ مرزا ناصر احمد: ہاں (غیراحم جناب یحییٰ بختیار: فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز cause for different (تو اس کے لئے آپ نے کہا ہے

جی! آپ نے کہا ہے

صفحہ ٢٧٦

276 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔“

مرزا ناصر احمد : ہاں! اس کا یہ ہے.......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو بعد میں آجاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہمارے محضر نامے میں اس کا یہ جواب دیا ہوا ہے کہ جو.......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! نہیں جی، نماز کے مسئلے میں بعد میں.......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ نماز کے لئے نہیں۔ یہ اسلامی نظریہ....... جو رپورٹ منیر کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی اس کے اندر یہ جواب دیا ہے۔ اوپر کچھ حوالے درج کر کے مختلف فرقوں کے، وہابیوں کے اور بریلویوں کے کہ ان حوالوں سے جو ہم اوپر درج کر چکے ہیں۔ مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔ یہ تو مختلف فرقوں کے نہیں بلکہ یہ مختلف احادیث اور آئمہ کے حوالے ہیں اور یہ کتاب غالباً پہلے نہیں دی ہوئی۔ اگر آپ چاہیں تو ہم پیش کر دیتے ہیں آپ کو۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! وہ آپ بے شک پیش کریں۔ میں نے صرف یہ پوچھا کہ یہ جو ہے.......

مرزا ناصر احمد : ہاں! ایک اسلام بمعنی کامل ایمان ہوتا ہے اور سب مسلمان ہرگز اس کامل ایمان میں شامل نہیں۔ دوسرا اسلام کلمہ پڑھ کر اسلام میں شمولیت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ اس188 مسلم کے لئے۔ ایک، کوئی شرط نہیں کہ اس کو پورا ایمان نصیب ہو، بلکہ بغیر کسی قسم کے ایمان کے بھی ایسا شخص مسلمان ہو سکتا ہے۔ اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ سوائے نصیحت اور واعظ اور دعا کے، دوئم احمدیوں نے خارج از اسلام اور کافر ہونے کا فتویٰ غیر احمدیوں کے متعلق پہلے نہیں دیا۔ بلکہ پہلے انہوں نے، دوسرے فرقوں نے جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور میرا اندازہ یہ ہے کہ سالہا سال تک بانی سلسلہ اس وقت کے علماء کو یہ سمجھاتے رہے کہ اس کفر کے کھیل میں نہ پڑو۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو کفر اس پر لوٹ کے آتا ہے اور ایک موقع پر بڑی سختی کے ساتھ مطالبہ کیا۔ اس وقت کے علماء نے بانی سلسلہ احمدیہ سے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرو تو آپ نے ان کو کہا کہ میں تمہارے ساتھ مباہلہ کیسے کر سکتا ہوں۔ میں تمہیں مسلمان سمجھتا ہوں تو آگے سے جواب یہ ملا کہ آپ سمجھتے ہوں گے ہمیں مسلمان، لیکن ہم آپ کو کافر سمجھتے ہیں اور چونکہ انہوں نے کفر کے فتوے لگا دیئے اور چونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو مسلمان مؤمن کو کافر کہے، کفر اس کے اوپر لوٹ آتا ہے۔ اس لئے ہم کسی کو کافر نہیں کہتے۔ کہنے والا کہہ گیا۔

٢٥٠

صفحہ ٢٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Then the proposition is very simple now....

(جناب یحییٰ بختیار: مسئلہ تو اب بہت سادہ بن گیا)

مرزا ناصر احمد: بالکل!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... if you claim that you are a Muslim, nobody can call you that you are not a Muslim? . . '

(جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ مسلمان ہیں تو کوئی آپ کو غیر مسلم نہیں کہہ سکتا)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Similarly, Mufti Muhamood can claim that he is a Muslim and nobody can call him that he is not a Muslim?

(جناب یحییٰ بختیار: اسی طرح مفتی محمود صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو کوئی ان کو غیر مسلم نہیں کہہ سکتا)

Mirza Nasir Ahmad: Certainly.

(مرزا ناصر احمد: یقیناً)

189 Mr. Yahya Bakhtiar: But if he calls you not a Muslim. as you call him not Muslim, than both have a right to call each other Kafir?

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن اگر وہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں تو دونوں کو حق ہے کہ ایک دوسرے کو کافر کہیں)

Mirza Nasir Ahmad: No.

(مرزا ناصر احمد: نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Because he called you. You have also a right to call him?

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ اس نے تم کو کافر کہا تو تم کو بھی حق ہے کہ اس کو کافر کہو)

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں، ناں، ناں! آپ میری بات نہیں سمجھے۔

٢٥١

صفحہ ٢٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: نہ، آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کافر کہا......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ......میرا بھی حق ہے کہ کافر کہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہ، بالکل یہ کہیں کہا میں نے، بالکل نہیں کہا۔ مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں سمجھا نہیں سکا اپنی بات۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ، یہ پوزیشن ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں، یہ پوزیشن نہیں ہے۔ میں نے یہ کہا کہ اگر زید، بکر کو کافر کہے، کہہ دے اور اس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمان کو کافر کہے تو کفر اس پر لوٹ کے آ جاتا ہے تو یہ کفر کا فتویٰ کافر، پہلے کافر کہنے والے پر اس شخص نے نہیں لگایا۔ - بکر نے جس کو کافر کہا گیا ہے بلکہ اس شخص نے لگایا ہے۔ اس مقدس ذات نے کہ جو ہم سب کی ہدایت کے لئے آئی۔ حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے...... یہ کہہ کے کہ اگر کسی مسلمان کو کافر کہو گے تو کفر تم پر لوٹ کے آجائے گا۔ تم پر پڑ جائے گا کفر، تو بکر نے فتویٰ نہیں لگایا۔ آنحضرت ﷺ نے فتویٰ لگایا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! جب احمدیہ جماعت کے رہنماء قائدین یہ فتویٰ لگائیں کسی پہ کہ یہ کافر ہے؟

190 مرزا ناصر احمد: اگر پہلے لگائیں فتویٰ تو کافر ہو جائیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ پہلے نہ سہی۔ کیا بعد میں یہ حق پہنچتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: لگاتے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو اللہ جانتا ہے، وہ تو لوٹ آئے گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میری بات سنیں، میں پھر اپنی بات نہیں سمجھا سکا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: In retaliation?

مرزا ناصر احمد: اگر دیوبندی یا وہابی یا بریلوی یا اہل حدیث، وغیرہ، وغیرہ، ان میں سے کوئی جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگائے تب بھی جماعت احمدیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کو یا اہل قرآن وغیرہ، وغیرہ۔ ان میں سے کوئی جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگائے۔ تب بھی جماعت احمدیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کو کافر کہے۔ لیکن جماعت احمدیہ کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ جس گروہ کو محمد ﷺ ”کفر اسی پہ لوٹ آئے گا“ کی حدیث کے مطابق کافر قرار دے دیں ان کو کافر نہ کہیں؟

٢٥٢

صفحہ ٢٧٩

279 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, will you please explain if a particular Maulvi, Alim.... or so-called Alim you, can call him.... calls Mirza Ghulam Ahmad that he was Kafir, or Ahmadis are Kafir, now do you condemn the whole Muslim community for that, or that particular individual?

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ذرا اس کی وضاحت کریں کہ اگر ایک مولوی عالم یا جس کو آپ نام نہاد عالم کہیں اگر وہ کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کافر تھے یا احمدی کافر ہیں تو کیا آپ پوری مسلمان آبادی کی مذمت کریں گے یا صرف اس خاص فرد واحد کی)

Mirza Nasir Ahmad: If they disassociate themselves....

(مرزا ناصر احمد: اگر آبادی لوگ اپنے آپ کو علیحدہ کرلیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: But how?

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن کیسے؟)

Mirza Nasir Ahmad: .... from that Fatwa....

(مرزا ناصر احمد: اس کے فتویٰ سے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: Is there....

(جناب یحییٰ بختیار: وہاں ہے......)

Mirza Nasir Ahmad: .... we don't call them Kafir.

(مرزا ناصر احمد: تو ہم ان کو کافر نہیں کہیں گے)

191 Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, but is there going to be a referendum? Now....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! لیکن کیا استصواب رائے عامہ منعقد ہو۔ اچھا!)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, no, no....

(مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: I have no idea what Maulvi

٥٣

AN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: میں سمجھا نہیں سکا اپنی بات۔

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: کہے، کہہ دے اور اس کے متعلق کفر اس پر لوٹ کے آ جاتا ہے بکر نے جس کو کافر کہا گیا ہے ہدایت کے لئے آئی۔ حضرت گے تو کفر تم پر لوٹ کے آ جا۔ نے فتویٰ لگایا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کسی پہ کہ یہ کافر ہے؟

190 مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد:

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: on?

مرزا ناصر احمد: میں سے کوئی جماعت احمدیہ یا یا اہل قرآن وغیرہ، وغیرہ۔ا احمدیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ محمد ﷺ ”کفر اسی پہ لوٹ آ

صفحہ ٢٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

sanaullah said, but if you say all the Musalmans, the whole lot of them, are Kafirs....

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے کچھ علم نہیں کہ مولوی ثناء اللہ نے کیا کہا تھا۔ لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ تمام مسلمان سارے کے سارے کافر ہیں ......)

مرزا ناصر احمد: اگر، اگر جو شخص ...... یہ اعلان ہے ...... کہ جو شخص یہ اعلان کر دے کہ میں مولویوں کے فتاویٰ کو درست نہیں سمجھتا تو ہم اسے کافر نہیں کہیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر جنہوں نے سنا ہی نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! ہم ان کو سنا دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! اگر کسی نے سنا ہی نہیں ہے، اگر کسی نے سنا ہی نہیں ہے؟ آپ تو Generally (عام طور پر) کہہ رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہم سنا دیں گے کہ یہ حدیث میں آیا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Please, this... you kindly see.... (جناب یحییٰ بختیار: آپ خود سب مسلمانوں کو کافر کہہ رہے ہیں)

مرزا ناصر احمد: جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: .... you don't say Maulvi so and so is Kafir, Mulla so and so Kafir. ”مسلمان جو نبی کو نہیں مانتے۔“

(جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ تو نہیں کہہ رہے ہیں خاص طور پر کہ مولوی فلاں فلاں کافر ہے۔ یا ملا فلاں فلاں کافر ہے)

مرزا ناصر احمد: ہم ایک ہی الزام ...... ایک ہی سانس میں ان کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور کافر بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بعض دفعہ، بعض دفعہ ...... یہ Contradictions (تضادات) ہیں۔ اس میں ...... کہ بعض دفعہ مسلمان کہتے ہیں۔ بعض دفعہ نہیں کہتے۔ مگر مسلمان کا لیبل ہو کہ آپ کہتے ہیں کہ کافر ہو گیا، باہر ہو گیا دائرہ اسلام سے، خارج ہوا۔

(مسلمان بھی کافر بھی)

192 مرزا ناصر احمد: نہیں، ہم کہتے ہیں کہ یہ مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی ہیں۔ معلوم

٢٥٤

صفحہ ٢٨١

281 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

ہوا کہ دو دائروں کی بات کر رہے ہیں ہم۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بعض جگہ آپ نے ایسے کہا ہے، بعض جگہ آپ نہیں کہتے۔ بعض جگہ جب آپ ......مسلمان تو ایک ہوتا ہے، ایک آدمی مسلمان ہے۔ جب آپ نے کفر کا دعویٰ کر دیا تب خارج ہوا۔ اس وقت تک تو وہ مسلمان رہتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ ایک حوالہ ان کے پاس تھا یہاں اتفاقاً، ”حقیقت الوحی“ (ص١٦٤، ١٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨، ١٦٩) کا۔ اس میں بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ اعلان کیا کہ:

”یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مؤمن کو کافر کہنے والا آخر کافر ہو جاتا ہے۔ پھر جب کہ تقریباً ٢٠٠ مولویوں نے مجھے کافر ٹھہرایا اور میرے پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور ان ہی کے فتویٰ سے یہ بات ثابت ہے کہ مؤمن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے تو اب اس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا، تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا۔“

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will ask you again. Please understand, try to understand my question. Now, I am a Muslim who has nothing to do with Barelvi, Deobandi or anybody else, I am just giving you an example there could be many. Now, if a Barelvi Maulvi or a Deobandi Maulvi declares Mirza Ghulam Ahmad as Kafir....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں پھر آپ سے پوچھتا ہوں۔ مہربانی سے سمجھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ میرا سوال یہ ہے میں ایک مسلمان شخص ہوں۔ نہ مجھے بریلوی سے مطلب ہے نہ دیوبندی سے نہ کسی سے۔ یہ میں ایک مثال دے رہا ہوں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہو سکتی ہیں۔ اگر ایک بریلوی یا دیوبندی مولوی، مرزا غلام احمد کو کافر کہتا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: And you don't?

(مرزا ناصر احمد: اور آپ کہتے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: ....and I have not even heard of his fatwa....

٢٥٥

صفحہ ٢٨٢

282 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: سمجھیں کہ میں نے یہ فتویٰ بالکل سنا ہی نہیں ہے......)

193

Mirza Nasir Ahmad: And you don't declare him a Kafir? (مرزا ناصر احمد: آپ ان کو کافر نہیں کہتے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: ....and.... there is no refrendum on the question.

(جناب یحییٰ بختیار: اس مسئلہ پر اس وقت تک کوئی استصواب رائے نہیں ہوا ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, I am....

(مرزا ناصر احمد: نہ، نہ۔ میں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no,....

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......)

مرزا ناصر احمد: آپ ایک بات کرتے ہیں، اسی سلسلے میں میں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ ایک شخص اعلان کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد کافر ہے۔ اس شخص کو آپ کافر کہیں گے؟ مگر آپ کہیں گے کہ نہیں؟ جتنے بھی باقی ہیں؟ دوسو مولویوں نے کہہ دیا ہے۔ اس لئے دو لاکھ مسلمان، دو کروڑ مسلمان، بیس کروڑ مسلمان، سب کو ہم کافر سمجھیں گے۔ اگر وہ یہ اعلان نہ کریں کہ مرزا غلام احمد نبی ہے؟

Isn't it putting it in the same shape that anybody who does not accept him as Nabi is Kafir?

(یہ وہی بات ہوئی کہ جو ان کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے)

مرزا ناصر احمد: وہ تو میں نے بتایا ہے کہ وہ جو سیاسی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: آپ دوسو مولویوں کو Condemn (مذمت) کریں،.......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ......کافر کہیں......

مرزا ناصر احمد: ......سیاسی Definition (تعریف) ہے۔ اس کے لحاظ سے تو ہم ان دوسو مولویوں کو بھی نہیں کہتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! جو آپ نے...... جس لحاظ سے بھی آپ نے کہا......

مرزا ناصر احمد: ...... ان کو ، یعنی دوسو مولویوں کو بھی کافر نہیں کہتے......

٢٥٤

صفحہ ٢٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا پوائنٹ یہ ہے کہ جو شخص ...... 194 مرزا ناصر احمد: ...... اور جس کو دوسرے معنی میں کافر کہتے ہیں وہ اس معنی میں کہتے ہیں کہ ایمان کے بہت سے اہم تقاضوں کو وہ پورا نہیں کر رہے اور اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں ...... مرزا ناصر احمد: ...... قابل مواخذہ ہیں۔ Mr. Yahya Bakhtiar: That, that is all right. Sir,.... (جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جناب ......) مرزا ناصر احمد: ...... اور ...... Mr. Yahya Bakhtiar: .... that is all right,.... (جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے ......) مرزا ناصر احمد: ...... اور ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔ Mr. Yahya Bakhtiar: No, but, Sir, if two hundred Maulvis.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں لیکن جناب اگر دو سو مولوی ......) مرزا ناصر احمد: نہیں! باقیوں کو ہم ملت اسلامیہ سے خارج نہیں مانتے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں! آپ کہتے ہیں کہ آپ نے تو صرف مسلمان کا ذکر کیا۔ میں نے جو آپ کے سامنے پڑھ کے سنایا ہے ابھی ......

(ایک جہت سے کافر ایک جہت سے مسلمان)

مرزا ناصر احمد: ان کو مسلمان بھی کہا ساتھ ہی، یہی تو جواب دیا انہوں نے۔ جب میں کہتا ہوں کہ یہ ”مسلمان“ تو میں ان کو مسلمان بھی کہتا ہوں، کافر بھی کہتا ہوں۔ ایک جہت سے وہ مسلمان ہیں، دوسری جہت سے میرے نزدیک وہ کافر ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کل؟ کل مسلمان؟ Not two hundred ?Maulvis (دو سو مسلمان نہیں؟) مرزا ناصر احمد: No, no کل مسلمان ...... جناب یحییٰ بختیار: ”جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ......“ مرزا ناصر احمد: تو سارے مسلمان ہیں ناں، کل۔

٢٥٧

صفحہ ٢٨٤

284 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

195

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو Explain (واضح) کرتا ہوں ...... As I understand; I may be wrong. (میں واضح کرتا ہوں شاید میں غلط ہوں) ”...... میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

Now, as far as I understand, is that all the Muslims, they are all Muslims because they believe in the Holy Prophet and all that. But Mirza Sahib says since I have come now, I am Nabi or Mirza Sahib's Khalifa said کہ those Muslims who do not accept Mirza Ghulam Ahmad as Prophet, as Nabi, they are outside, dismissed, expunged, whatever you may call it,.....

(جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک میں سمجھا ہوں صورت یہ ہے کہ یہ سب مسلمان ہیں اور اس لئے مسلمان ہیں کہ وہ رسول پاک ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں اب آگیا ہوں۔ میں نبی ہوں اور مرزا صاحب کے خلیفہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں تسلیم کریں گے وہ خارج ہو گئے، باہر ہو گئے، نکل گئے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں......

Mr. Yahya Bakhtiar: ....so, they were Muslims, but they have been removed from the pale of Islam....

(جناب یحییٰ بختیار: اسی طرح پہلے تو یہ لوگ مسلمان تھے۔ مگر اب دائرہ اسلام سے ہٹادیئے گئے)

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ، میں...... اس کے یہ معنی نہیں ......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... it does not mean that, after he has given the verdict, they continue. They say: they were before, but are no longer....

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب مرزا صاحب نے فیصلہ دے دیا تو وہ بحیثیت مسلمان پھر بھی برقرار رہیں گے۔ پہلے وہ مسلمان تھے لیکن اب نہیں رہے)

٢٥٨

285 NATIONAL ASS

Mr. Yahya Bakh interpreted, as I say. If you ے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرا خیال غلط ہے ) پنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کتاب کہاں حب البیت ادری بما فیہ “ جو کہنے والا ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ سوائے مسلمان نا کے بعد جو ...... میں ان کو مسلمان بھی کہتا ہوں اور ایک

کہہ دیا تو وہ مسلمان کافر ہے؟ کہتا ہوں۔ خود کہا ...... سلام سے بھی خارج ہے۔ اسلام سے کیوں خارج سمجھتا ہوں۔ یعنی خارج سمجھتا ہوں۔

ج اپنی زبان میں اصطلاحیں جو ضروری سمجھتا دے۔ آپ اس Explanation

Mr. Chairman: want to continue or we sh نا کاروائی آج کے لئے کافی ہے۔ آپ

Mr. Yahya Ba tomorrow morning....

صفحہ ٢٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: یہ نہیں کہا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں، ..... that is how it is interpreted, as I say. If you think that it is not correct....

(جناب یحییٰ بختیار: اب یہی مراد نکلتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میرا خیال غلط ہے)

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو ابھی...... (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کتاب کہاں ہے؟ پھر میں حوالہ پڑھتا ہوں۔ جو کہنے والا ہے ۔ ”صاحب البیت ادریٰ بما فیہ“ جو کہنے والا ہے اس کی بات ہمیں ماننی پڑے گی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! وہ ٹھیک ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ سوائے مسلمان کے کوئی اور تو حضرت محمد ﷺ کو مانتا نہیں۔ کہتے ہیں ان کے بعد جو......

196 مرزا ناصر احمد: آپ نے یہی کہا کہ میں ان کو مسلمان بھی کہتا ہوں اور ایک دوسرے نقطہ نگاہ سے ان کو کافر بھی کہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! جب ان کو کافر کہہ دیا تو وہ مسلمان کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: اس کے باوجود بھی مسلمان کہتا ہوں۔ خود کہا......

جناب یحییٰ بختیار: اور کہتے ہیں کہ دائرہ اسلام سے بھی خارج ہے۔

مرزا ناصر احمد: اور یہ بھی کہا ہے کہ دائرہ اسلام سے کیوں خارج سمجھتا ہوں۔ یعنی ملت اسلامیہ میں شامل سمجھتا ہوں۔ لیکن دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔

لکل ان یصطلح

ہمارے علوم نے یہ اجازت دی ہے کہ آدمی اپنی زبان میں اصطلاحیں جو ضروری سمجھتا ہو وہ خود بنالے اور ان کو Explain (واضح) کردے۔ آپ اس Explanation (وضاحت) کو علیحدہ کر کے نہیں۔

Mr. Chairman: I think that will do for today. You want to continue or we should....

(جناب چیئرمین: میں سمجھتا ہوں کہ اتنی کاروائی آج کے لئے کافی ہے۔ آپ چاہتے ہیں تو جاری رکھیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, we can continue tomorrow morning....

٢٥٩

صفحہ ٢٨٦

286 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(جناب یحییٰ بختیار: کل صبح جاری رکھ سکتے ہیں......)

Mr. Chairman: Tomorrow morning.

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے کل صبح)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... because it will not conclude so soon.

(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ بحث اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی)

Mr. Chairman: Yes, the members of the Delegation are permitted to go. Tomorrow at 10:00 am.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! وفد کے ممبران ایوان سے جاسکتے ہیں۔ کل صبح دس بجے تک کے لئے)

--------

197

AVAILABILITY OF BOOKS ETC. FOR

QUOTATIONS

AND CROSS- REFERENCES

مرزا ناصر احمد: اس میں اور رسالے تو نہیں ہیں جن کے متعلق میں نے تسلی کرنی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! وہ اپنے ”الفضل“ وغیرہ کے ہیں۔ ایسی کوئی نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: جو......

جناب یحییٰ بختیار: جو کتابیں آپ کے پاس ہیں یہاں، انہی میں سے ہوں گی میرے خیال میں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں! وہ اگر ”الفضل“ کے ہیں، جو یہاں نہیں، تو پھر وہ تو مجھے دیکھنے پڑیں گے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”انوار الخلافۃ“ کے ہیں ۔ فی الحال میرے سامنے جو ہیں ۔ بلکہ......

مرزا ناصر احمد: یہ...... اگر یہ سوال دے دیں تو ہم مقابلہ کرکے سارا، تو Context (متن) آپ کو وہ پورا بھجوا دیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! یہ تو Quotations (سوالات) ہیں، اسی بات پر ہیں کہ انہوں نے کافر کہا۔

٢٦٠

صفحہ ٢٨٧

287 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مرزا ناصر احمد: آگے پیچھے اور شاید کچھ لکھا ہوا ہو......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں!

مرزا ناصر احمد: ......جو اس کو Explain (واضح) کر رہا ہو۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ پھر آپ بعد میں کر لیجئے۔

Mr. Chairman: The quotations can be supplied to the witness. We have got the books. The books can be referred. And I think, for the purpose of convenience, tomorrow, the books will be lying here. At that time, they can be....

(جناب چیئرمین: گواہوں کو اقوال کے حوالہ جات دے دیئے جائیں۔ ہمارے پاس کتابیں موجود ہیں۔ دیگر کتابیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ لیکن سہولت کی خاطر کتابیں یہیں رہنی چاہیں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: The books are available. 198 These members who asked me to put these questions to the witness, I told them to bring the authority written therein here.

(جناب یحییٰ بختیار: کتابیں موجود ہیں۔ جن ممبر صاحبان نے گواہوں سے سوالات کرنے کو کہا میں نے ان سے کہا تھا کہ حوالے ساتھ لائیں)

Mr. Chairman: We have got them.

(جناب چیئرمین: وہ ان کو حاصل کر چکے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: But I said that....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن میں نے یہ کہا تھا......)

مرزا ناصر احمد: جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: ... they can find out.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اس میں سے نکال سکتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: مجھے صرف ریفرنس چاہئے۔

٢٦١

صفحہ ٢٨٨

288 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

جناب یحییٰ بختیار : میں صرف Reference (حوالے) دے رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman.... (جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرمین......)

مرزا ناصر احمد: ہمیں ریفرنس چاہئے ہیں۔ صفحوں کا پتہ لگ جائے تو ......

Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui: Mr. Chairman, the books are available. (مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : جناب چیئرمین ! کتابیں یہاں دستیاب ہیں )

Mr. Chairman: Yes, they are available. (جناب چیئرمین: جی ہاں دستیاب ہیں )

Maulana Shah Ahmad Noorani Sidiqi: At any time we can supply the books. (مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : جب چاہیں ہم ان کو کتابیں دے سکتے ہیں )

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Moulana Shah Ahmad Noorani Siddiqui: The books are available. (مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : کتابیں موجود ہیں )

Mr. Chairman: Yes, they are available. So, any reference the witness can see, he will look up tomorrow and can reply. (جناب چیئرمین: جی ہاں ! سب موجود ہیں۔ گواہ جو چاہیں اس میں سے دیکھ سکتے ہیں۔ کل وہ دیکھ لیں اور جواب دیں )

199 Mr. Yahya Bakhtiar: The books, Sir, which I am referring to.... (جناب یحییٰ بختیار: جناب! جن کتابوں کے میں حوالے دے رہا ہوں )

Mr. Chairman: Yes.

٢٦٢

صفحہ ٢٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Only those books.... (جناب یحییٰ بختیار: صرف وہی کتابیں......)

Mr. Chairman: No, if the Attorney- General confronts them.... this page, this portion.... is it correct? (جناب چیئرمین: نہیں۔ اگر اٹارنی جنرل ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ صفحہ، یہ حصہ تو کیا یہ صحیح نہیں ہوگا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. But he says he wants to read the whole thing and.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں تمام چیزیں پڑھنا چاہتا ہوں اور ......)

200 Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... he wants me to give him in advance. But I cannot.... (جناب یحییٰ بختیار: وہ چاہتے ہیں کہ مجھے پہلے سے سب کچھ دے دیں۔ لیکن میں کیسے کر سکتا ہوں)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... because I don't know which question I am going to put.... (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ مجھے کیا معلوم میں کون سا سوال کب کروں گا)

Mr. Chairman: Yes.... (جناب چیئرمین: جی ہاں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... It depends upon his answer, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کے جواب پر منحصر ہے، جناب!)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

-------------------- ٢٦٤

صفحہ ٢٩٠

290 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Only those books.... (جناب یحییٰ بختیار: صرف وہی کتابیں ......)

Mr. Chairman: No, if the Attorney- General confronts them.... this page, this portion.... is it correct? (جناب چیئرمین: نہیں ۔ اگر اٹارنی جنرل ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ صفحہ، یہ حصہ تو کیا یہ صحیح نہیں ہوگا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No. But he says he wants to read the whole thing and.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں تمام چیزیں پڑھنا چاہتا ہوں اور ......)

200 Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... he wants me to give him in advance. But I cannot.... (جناب یحییٰ بختیار: وہ چاہتے ہیں کہ مجھے پہلے سے سب کچھ دے دیں۔ لیکن میں کیسے کرسکتا ہوں)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... because I don't know which question I am going to put.... (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ مجھے کیا معلوم میں کون سا سوال کب کروں گا)

Mr. Chairman: Yes.... (جناب چیئرمین: جی ہاں......)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... It depends upon his answer, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کے جواب پر منحصر ہے، جناب!)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

------------------------- ٢٦٤

صفحہ ٢٩١

291 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

DISTURBANCE DURNIG THE CROSS-

EXAMINATION

(جرح کے دوران شور شرابا)

Mr. Chairman: And the second thing I would like to say is that the honourable members sitting arround the Attorney- General should keep.... at least should not disturb him. They should not be impatient. This I would request because I.....

(جناب چیئرمین: اور دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں کہ جو معزز ممبران اٹارنی جنرل کے چاروں طرف بیٹھے ہیں وہ اٹارنی جنرل کو بالکل خلل نہ ڈالیں۔ صبر سے کام لیں)

Mian Mohammad Attaullah: Sir, I have another point that some of the witnesses who were here........

(قادیانی وفد کی بے تہذیبی)

(میاں محمد عطاء اللہ: جناب! مجھے ایک بات کہنی ہے کہ چند ایک گواہ صاحبان.......)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mian Mohammad Attaullah: ... for instance, Mirza Tahir Ahmad, he unnecessarily....

(میاں محمد عطاء اللہ: مثلاً مرزا طاہر وغیرہ خوامخواہ.......)

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔

Mian Mohammad Attaullah: بھائی Just a minute

please. (میاں محمد عطاء اللہ: صرف ایک منٹ مہربانی)

Mr. Chairman: Just a minute. ہاں!

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ ٹھہریں)

201 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ایک ادھر ان کے سیدھے ہاتھ پر.......

جناب چیئرمین: ہاں!

٢٦٥

صفحہ ٢٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... وہ لوگ ہنستے بھی ہیں۔ باتیں بھی کرتے ہیں اور اس طرف دیکھ کر مذاق بھی اڑاتے ہیں اور سر بھی ہلاتے ہیں۔

ایک رکن: جناب! میں تجویز پیش کروں گا کہ اٹارنی جنرل بھی بیٹھ کر سوال کریں۔

میں صرف Mr. Chairman: That is a separate matter. یہ عرض کر رہا تھا کہ...... (جناب چیئرمین: یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے)

---------

METHOD OF CONDUCTING THE CROSS-

EXAMINATION

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: دوسری تجویز یہ ہے کہ ہمارے محترم اٹارنی جنرل صاحب جو ہیں، میرا خیال ہے کہ یا تو آپ ان کو بھی کہیں کہ وہ کھڑے ہو کر جواب دیں...... Witness Box (گواہی کے کٹہرے میں) میں قاعدہ بھی یہی ہے۔...... یا پھر اٹارنی جنرل صاحب بھی بیٹھ کر سوال کر لیا کریں۔

جناب چیئرمین: نہیں، وہ......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: کیا کریں۔

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! وہ پہلے دن ہم نے......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اچھا!

جناب چیئرمین: ......ان کو اجازت دی۔ Anything else? Now the House stands.

ایک رکن: سر! میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ! جی، جی!

202مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: خلیفہ ناصر احمد سے کہیں کہ وہ کھڑے ہو کر جواب دیا کریں۔

Mr. Chairman: That is almost settled.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیکن آپ ہم کو تو حکم فرماتے ہیں۔

ایک رکن: پھر Disturb (تنگ) کر رہے ہیں۔

٢٦٦

NATIONAL AS

کھڑے ہو کر بولیں، اس کو بھی یہ حکم دیں۔ ٹی بیٹھی ہوئی ہے۔ ت میں گواہ کو بیٹھنے کا حق نہیں ہوتا۔ ......وہ اسپیشل کمیٹی ...... جی! مسٹر عزیز بھٹی!

Mr. Chairman: Abdul Aleem. حکم دیتا ہوں۔ سردار عبدالعلیم) ہا، کرنا چاہتا تھا کہ گواہ پر جب سوال کئے

رنی جنرل صاحب سوال کرتے ہیں تو وہ رح کہ ایک گواہ کا فرض ہے کہ جواب کرتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں اور پھر ہیں کہ یہ سوال مجھ پر کریں۔ تو میرا خیال انہیں چیک کریں کہ بجائے بحث ومباحثہ

He should stick to General. (جناب یحییٰ بختیار کر رہے ہیں) 203 A Member: request کرتا ہوں) member Mr. Chairman the Chair at any time wh تے ہیں تو صدر کی توجہ مبذول کراسکتے ہیں)

صفحہ ٢٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... کہ ہم کھڑے ہو کر بولیں، اس کو بھی یہ حکم دیں۔

جناب چیئرمین: سر! یہ اسمبلی، یہ اسپیشل کمیٹی بیٹھی ہوئی ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: سر! عدالت میں گواہ کو بیٹھنے کا حق نہیں ہوتا۔

جناب چیئرمین: Except (مانتا ہوں)...... وہ اسپیشل کمیٹی ...... جی! مسٹر عزیز بھٹی!

جناب عبدالعزیز بھٹی: سر! یہ ......

Mr. Chairman: I call the House to order. Sardar Abdul Aleem. (جناب چیئرمین: میں ایوان کو خاموشی کا حکم دیتا ہوں۔ سردار عبد العلیم)

جناب عبدالعزیز بھٹی: سر میں یہ گزارش کرنا چاہتا تھا کہ گواہ پر جب سوال کئے جاتے ہیں۔......

جناب چیئرمین: جی!

جناب عبدالعزیز بھٹی: ...... جب گواہ پر اٹارنی جنرل صاحب سوال کرتے ہیں تو وہ ان کا جواب بجائے ڈائریکٹ دینے کے؟ ...... جس طرح کہ ایک گواہ کا فرض ہے کہ جواب دے ...... وہ اس کو Avoid (گریز) کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں اور پھر ساتھ ساتھ انہیں Suggest (تجویز پیش) کرتے ہیں کہ یہ سوال مجھ پر کریں۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ چیئر کا فرض ہے کہ آپ اس مسئلے میں اس حد تک انہیں چیک کریں کہ بجائے بحث و مباحثہ میں پڑنے کے ......

He should stick to the question put by the Attorney- General. (وہ ان سوالات کے جوابات کے پابند ہیں جو جناب یحییٰ بختیار کر رہے ہیں)

203 A Member: Sir, I request to the honourable members. (ایک رکن: جناب! میں معزز ممبران سے درخواست کرتا ہوں)

Mr. Chairman: The Attorney- General can ask the Chair at any time when he feels that. (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل اگر ضروری سمجھتے ہیں تو صدر کی توجہ مبذول کراسکتے ہیں)

٢٦٧

صفحہ ٢٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

(مرزا ناصر کی ہچکچاہٹ، کترانا)

Mr. Yahya Bakhtiar: I request, he need not answer any question at all. But you, as judges, should note that. The demeanour of the witness, his hesitation, his effort to be evasive, all these are taken into consideration and you can draw your own inference, favourable or adverse. And your address....

(جناب یحییٰ بختیار: میری درخواست ہے۔ ان کو کسی سوال کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ حضرات بطور جج گواہ کے رویہ اور انداز کو نوٹ کرتے ہیں۔ اس کی ہچکچاہٹ جواب دینے سے اس کا کترانا اور ان سب باتوں سے آپ لوگ اپنے نتائج مرتب کرتے ہیں۔ استنباط مناسب حال یا ناموافق کرتے ہیں......)

Mr. Chairman: One thing I may mention. The honourable members.....

Mr. Yahya Bakhtiar: .... you can make a note of everything. You give a fair decision yourselves.

(جناب یحییٰ بختیار: ہر چیز کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر اپنے آپ صحیح فیصلہ کرتے ہیں)

Mr. Chairman: One thing I may remind the honourable members: we are getting the opinion of a witness....

(جناب چیئرمین: ایک بات کی ممبران کو میں یاد دہانی کرادوں۔ ہم گواہوں کی رائے تو حاصل کر رہے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: But....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن......)

Mr. Chairman: .... Opinion is, .... rare case, under the Evidence Act.

(جناب چیئرمین: گواہوں کی رائے قانونی شہادت کی رو سے بہت اہم ہوتی ہے)

٢٦٨

صفحہ ٢٩٥

295 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Yahya Bakhtiar: I know. He is such a witness, you know, and such an issue before the House.

----------

CONDUCT OF THE WITNESS DURING

THE CROSS- EXAMINATION

Mr. Abdul Aziz Bhatti: Sir, the conduct of the witness is not coming on the record, Sir, as to how he is behaving....

(جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب! گواہ طور طریق کہ وہ کیسا طرز عمل اختیار کر رہے ہیں......)

Mr. Chairman: No.... (جناب چیئرمین: نہیں)

Mr. Abdul Aziz Bhatti: .... and how he is....

204 Mr. Chairman: No, no, no, everybody is....

Mr. Abdul Aziz Bhatti: As far as the record is concerned. Only the words of the witness are coming on the record.

(جناب عبدالعزیز بھٹی: ایوان کے سامنے نہیں آ رہا۔ صرف ان کے الفاظ ریکارڈ پر آ رہے ہیں)

Mr. Chairman: Everything is being noted, you can refer. Sardar Maula Bakhsh Soomro.

(جناب چیئرمین: ہر چیز نوٹ ہو رہی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں، سردار مولا بخش سومرو)

A Member: Sir, Chairman, Sir, my submission, humble submission, Sir....

(ایک رکن: جناب چیئرمین! میری گذارش ہے حقیر سی گذارش۔ جناب!)

Mr. Chairman: Sardar Maula Bakhsh Soomro.

پہلے میں نے ان کو فلور دیا ہے۔

٢٦٩

صفحہ ٢٩٧

296 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

A Member: Mr. Chairman, a submission, a humble submission to you, Sir, that I....

(ایک رکن: جناب چیئرمین! ایک گذارش ایک حقیر سی گذارش آپ سے جناب!)

جناب چیئرمین: ایک منٹ آرام سے نہیں بیٹھ سکتے؟ ہاں جی! سردار مولا بخش۔

(مرزا ناصر کا ٹال مٹول)

Sardar Moula Bakhsh Soomro: My humble submission to you, Sir, is that I highly appreciate your patience but, Sir, I would request that kindly you do not allow them too much attitude. He is giving evasive replies. The same questions are being repeated in the same breath. It gets on our nerves. Rather than you give a patient....

(سردار مولا بخش سومرو: میری حقیر گذارش ہے کہ جناب میں آپ کے صبر کی تعریف کرتا ہوں۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ آپ زیادہ ان کو کھلی چھٹی نہ دیں۔ وہ بہت ٹال مٹول والے جواب دے رہا ہے۔ کیونکہ ایک ہی سوال ایک ہی سانس میں بار بار دہرانا پڑتا ہے۔ تنگ آجانے والی بات ہو رہی ہے ہمارے......)

(Interruption)

(مداخلت)

Mr. Chairman: Yes, Sardar Maula Bakhsh.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! سردار مولا بخش)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: I highly appreciate your patience but there should be some check. Sir, some check from the Chair also should be applied.

(سردار مولا بخش سومرو: میں آپ کے صبر کی تعریف کرتا ہوں۔ لیکن اس پر کوئی روک ٹوک ہونی چاہئے۔ صدر کو انہیں اس سے باز رکھنا چاہئے)

٢٧٠

297 NATIONAL ASSEMBL

Mr. Chairman: Th

Attorney- General seeks the

thinks....

(Interru

205 Just a minute. When

that case I shall do it because

Attorney- General. Yes.

ت کروں گا جب اٹارنی جنرل میری مدد چاہیں گے سب کچھ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیا ہے)

نا ہیرا پھیری)

ے ادب سے یہ گذارش کروں گا کہ جب ایک ا جاتا ہے تو اس کو اپنی طرف سے مت دہرائیں۔ ہے یعنی اس کا جواب نہ مل جائے۔ اس لئے ہم خود نے کو ہم خود Encourage (ہمت افزائی) ر جب ایک Definite (واضح) سوال کر دیا یا کافر کہیں گے۔“ تو جب تک وہ اس کے متعلق اس کے اوپر ...... یعنی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے روہ ہیرا پھیری جو ہے وہ شروع ہو جاتی ہے۔

آج پہلا دن ہے۔ بحث Will be cut

(مختصر) ہوگی بحث۔

لانا غلام غوث ہزاروی! ... Yes

فرمایا جاتا ہے کہ ”کافر ، کافر ہے، اور دائرہ اسلام ج باقاعدگی کے ساتھ، اور اس بات کو نوٹ کرا دینا

٢٧

صفحہ ٢٩٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

Mr. Chairman: This I shall only do when the Attorney- General seeks the aid of the Chair. When he thinks....

(Interruption)

205 Just a minute. When he thinks so, only then, in that case I shall do it because this I have left entirely to the Attorney- General. Yes.

(جناب چیئرمین: میں یہ اسی وقت کروں گا جب اٹارنی جنرل میری مدد چاہیں گے جب وہ سمجھیں گے جب ہی۔ کیونکہ یہ میں نے سب کچھ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیا ہے)

(مرزا ناصر کی ہیرا پھیری)

اتالیق جعفر علی شاہ: میں بڑے ادب سے یہ گزارش کروں گا کہ جب ایک Definite Qeustion (واضح سوال) کیا جاتا ہے تو اس کو اپنی طرف سے مت دہرائیں۔ جب تک وہاں سے Definite وہ سوال جو ہے یعنی اس کا جواب نہ مل جائے۔ اس لئے ہم خود اس بات کو یعنی یہ کہ lengthy (لمبا) کرنے کو ہم خود Encourage (ہمت افزائی) کرتے ہیں۔ جس حد تک میں سمجھ سکا ہوں۔ اگر جب ایک Definite (واضح) سوال کر دیا گیا ہے کہ: ”آپ ایسے آدمی کو مسلمان کہیں گے یا کافر کہیں گے ۔“ تو جب تک وہ اس کے متعلق Definite (واضح) جواب نہ دے، دوسرے اس کے اوپر ...... یعنی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے اور بحث کی وجہ سے وہ جو ہے وہ لمبا ہو جاتا ہے اور وہ ہیرا پھیری جو ہے وہ شروع ہو جاتی ہے۔

جناب چیئرمین: نہیں! بحث کا آج پہلا دن ہے۔ بحث Will be cut short (کیا مختصر ہوگی) ہاں وہ Cut short (مختصر) ہوگی بحث۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ......

جناب چیئرمین: میں نے ایک ...... Yes, مولانا غلام غوث ہزاروی!

مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ جو فرمایا جاتا ہے کہ ”کافر، کافر ہے، اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔“ ان دونوں لفظوں کو دہرانا چاہئے باقاعدگی کے ساتھ، اور اس بات کو نوٹ کرا دینا

٢٧١

صفحہ ٢٩٩

298 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Aug, 1974 No:01

چاہئے باقاعدہ کہ ”ملت سے خارج نہیں ہے اور اسلام سے خارج ہے۔“

جناب چیئرمین: یہ نوٹ ہو چکا ہے، نوٹ ہو چکا ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: ہاں!

جناب چیئرمین: کئی دفعہ نوٹ ہوا ہے۔ ٹیپ میں بھی ہوا ہے۔ وہاں بھی ریکارڈ میں آ گیا ہے....... So.

206 مولانا غلام غوث ہزاروی: اور میرا ایک خیال ہے جس طرح جناب نے فرمایا ہے.......

جناب چیئرمین: جی!

مولانا غلام غوث ہزاروی: .......کہ ان سے بھی تصدیق یہ کرا لینا چاہئے کہ مرزا محمود احمد کے ان حوالوں کو آپ صحیح سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد مزید سوالات کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جناب چیئرمین: ہاں!

So, the House stands adjourned to meet tomorrow....

(تو کل صبح تک کے لئے اجلاس ملتوی ہوتا ہے.......)

(دو دائروں کا چکر؟)

ایک رکن: سر! یہ دو دائروں کے چکر میں ڈال دیا ہے ہم کو۔

Mr. Chairman: .... at 10:00 am. tomorrow.

(جناب چیئرمین: کل صبح دس بجے)

کل بات کرلیں باقی۔

The Special Committee of the Whole House adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Tuesday, the 6th August, 1974.

خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی ہوتا ہے۔ بروز منگل، ٦؍ اگست ١٩٧٤ء

٢٧٢

299 NATIONAL ASSEMBLY O

No. 02

THE NATIONAL ASSEMBLY

PROCEED OF THE SPECIAL COMM WHOLE HOUSE HEL TO CONSIDER THE

OFFICIAL R

Tuesday, the 6th Au

(Contains Nos.

CONTENT

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORAT PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK

1

صفحہ ٢٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

No. 02

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 6th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD.

1

ISTAN 5th Aug, 1974 No:01

چاہئے باقاعدہ کہ ”ملت سے خارج جناب چیئرمین: یا مولانا غلام غوث ہزا جناب چیئرمین: میں آ گیا ہے۔....... So. 206 مولانا غلام غوث فرمایا ہے۔...... جناب چیئرمین: جو مولانا غلام غوث ہزا احمد کے ان حوالوں کو آپ صحیح سمجھتے جناب چیئرمین: ہا to meet tomorrow.... (تو کل صبح تک کے۔ ایک رکن: سر! یہ دو m. tomorrow. (جناب چیئرمین: کل بات کر لیں باقی House adjourned to e morning, t, 1974. خصوصی کمیٹی

صفحہ ٣٠٠

300 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

No. 02

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 6th August, 1974

(Contains Nos. 1—21)

٢

301 NATIONAL ASSEMB

Attorney-General . . .

صفحہ ٣٠١

STAN 6th Aug, 1974 No:02 301 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Pages

F PAKISTAN

Attorney-General ... 344-345

E OF THE CAMERA NI ISSUE

T

y

. ٣

صفحہ ٣٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

209

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 6th August, 1974. (بروز منگل، ٦ اگست ١٩٧٤ء)

The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے چیمبر میں (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے منعقد ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) بحیثیت چیئرمین تھے)

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

٤

NATIONAL ASS

Mr. Chairman: S

یں؟)

Members: Yes.

Mr. Chairman:

-

BOOKS FOR R

CROSS-

Mr. Chairman: agree with me if the b referance?

کیا آپ میرے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کے لئے؟)

Mr. Yahya Bak Pakistan): They are availab

پاکستان) وہ سب دستیاب ہیں)

210

Mr. Chairman:

(

Mr. Yahya Bakhti

ہیں)

Mr. Chairman: A put to the witness... may be should be least disturbance n

صفحہ ٣٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Chairman: Should we start?

(جناب چیئرمین: کیا اب ہم آغاز کریں؟)

Members: Yes.

(ممبران: جی ہاں!)

Mr. Chairman: They may be called.

(جناب چیئرمین: ان کو اندر بلا لیں)

(Pause)

جناب چیئرمین: ابھی باہر بیٹھیں۔

----------

BOOKS FOR REFERENCE DURING

CROSS- EXAMINATION

Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, would you agree with me if the books are placed near you for referance?

(جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل! کیا آپ میرے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ کتابیں آپ کے نزدیک رکھ دی جائیں حوالہ جات کے لئے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: (Attorney- General of Pakistan): They are available.

(جناب یحییٰ بختیار: (اٹارنی جنرل آف پاکستان) وہ سب دستیاب ہیں)

210 Mr. Chairman: All are available?

(جناب چیئرمین: تمام دستیاب ہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: They are available.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ تمام دستیاب ہیں)

Mr. Chairman: And the reference.... which you put to the witness... may be shown that this is it, and there should be least disturbance near the Attorney- General.

٥

صفحہ ٣٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(جناب چیئرمین: اور گواہ کو حوالہ کے وقت دکھا دینی چاہئیں اور اٹارنی جنرل کے نزدیک کم سے کم خلل اندازی ہونی چاہئے)

METHOD OF CONTACTING

THE ATTORNEY- GENERAL

Mr. Chairman: Two honourable members have been....

(جناب چیئرمین: دو معزز ممبران سے درخواست ہے......)

Ch. Jahangir Ali: Mr. Chairman, Sir,....

(چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! سر.......)

Mr. Chairman: Just a minute.... requested to collect the chits. One is Maulana Zafar Ahmad Ansari and Mr. Aziz Bhatti. The chits should be delivered to these honourable members. And during the recesses, they can discuss with the Attorney- General. And any hounurable member can discuss any matter with the Attorney- General in the recess but, when cross- examination is going on, there should be no disturbance, and specially no whispering around this area. Although I would not like whispering from this end or from that end, but around this area whispering should not be.

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ...... میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ تمام رقعوں کو جمع کر لیا کریں۔ پھر یہ رقعے مولانا ظفر احمد انصاری صاحب اور عزیز بھٹی کو وقفہ کے دوران دے دی جایا کریں۔ دوران وقفہ اٹارنی جنرل صاحب سے جو بات ہو بات کر لیا کریں۔ لیکن جب جرح ہو رہی ہو اس وقت کوئی خلل نہ ہونا چاہئے اور اٹارنی جنرل کی سیٹ کے قریب سرگوشی بھی نہیں ہونی چاہئے۔ ہاں! ایوان کے دور دراز کونوں میں سرگوشی ہو سکتی ہے۔

جی! چوہدری جہانگیر علی۔

Yes, Ch. Jahangir Ali.

٦

صفحہ ٣٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

INTERPRETATION OF DOCUMENTS

OR WRITINGS

Ch. Jhangir Ali: Mr. Speaker, Sir.... oh! Mr. Chairman, Sir, interpretation of a document or a writing is not the job of a witness. I would therefore request, Sir, that the witness should not be allowed to interpret the writing. It is the job of the Presiding officer or the Judge, Sir, or this honourable committee, to give interpretation to the writings. He should be confronted only with this....

(چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! دستاویزات کا ترجمہ یا تحریر کا مفہوم پیش کرنا گواہ کا کام نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے میری رائے میں گواہ کو مفہوم یا ترجمانی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ یہ کام ایک جج کا یا صدر کا ہوا کرتا ہے)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

211 Ch. Jhangir Ali: ....whether you admit the existence of this writing in your so and so....

Mr. Chairman: This is what is settled. You are the judges. You can draw any inference out of this.....

Ch. Jahangir Ali: Sir, he is wasting unnecessarily the time in giving interpretation.... what was the interpretation before the Munir Committee, what was the statement before the Munir Committee...

(چوہدری جہانگیر علی: یہ کمیٹی کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ منیر کمیٹی سے پہلے کیا تعبیر تھی؟ منیر کمیٹی کے بعد کیا وضاحت تھی......)

Mr. Chairman: Ch. Sahib whenever any such difficulty arises, the Attorney- General can ask the Chair that this is unnecessary.

٧

صفحہ ٣٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صدر اجلاس سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ غیرضروری ہے۔ صدر سے جس معاملہ میں چاہیں وضاحت طلب کرسکتے ہیں۔ ابھی ان کو نہ آنے دیں)

Ch. Jahangir Ali: All right. That is the better way.

Mr. Chairman: Begum Nasim Jahan.

(جناب چیئرمین: جی! بیگم نسیم جہاں)

Begum Nasim Jahan: A......

Mr. Chairman: I have entirely left the matter in the hands of the Attorney- General. He can seek the protection of the Chair. He can seek the clarification or anything. Whatever he needs. Yes.

(جناب چیئرمین: میں نے معاملہ مکمل طور پر اٹارنی جنرل کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ وہ کرسی صدارت سے مدد لے سکتے ہیں۔ وہ وضاحت طلب کر سکتے ہیں جب بھی انہیں ضرورت ہو)

----------

WOMEN'S REPRESENTATION ON QUESTIONS COMMITTEE

Begum Naseem Jahan: Mr.Chairman, Sir, I am on a matter of clarification. Have women been given any representation on the Questions Committee?

(بیگم نسیم جہاں: چیئرمین صاحب! میں پوچھتی ہوں کہ کیا ایک عورت کو سوال پیش کرنے والی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے)

Mr. Chairman: Pardon?

(جناب چیئرمین: معاف کیجئے، کیا کہا؟)

Begum Nasim Jahan: Have women been given any representation on the Questions Committee?

٨

صفحہ ٣٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(بیگم نسیم جہاں: کیا خواتین کو سوالات کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے؟)

Mr. Chairman: The scope was so narrow: the scope was only five members to sit in the Question Committee.

(جناب چیئرمین: سوال کمیٹی محدود ہے۔ صرف پانچ ممبر اس سوال کمیٹی میں ہیں)

212Begum Nasim Jahan: Sir, I....

(بیگم نسیم جہاں: جناب! میں......)

Mr. Chairman: The Steering Committee has got representation of one....

(جناب چیئرمین: البتہ سٹیئرنگ کمیٹی میں ایک کی نمائندگی ہے)

Begum Nasim Jahan: Yes, Sir, I know.

(بیگم نسیم جہاں: جی ہاں! جناب! مجھے معلوم ہے)

Mr. Chairman: .... Begum Shireen Wahab; and the Question Committee had to comprise out of the Steering Committee.

(جناب چیئرمین: اور سوال کمیٹی کا انتخاب سٹیئرنگ کمیٹی کے ممبران میں سے ہوا ہے)

Begum Nasim Jahan: Mr. Speaker... Mr. Chairman, Sir, may I make a humble submission?

(بیگم نسیم جہاں: جناب چیئرمین صاحب! کیا میں ایک بات عرض کر سکتی ہوں؟)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Begum Nasim Jahan: I consulted Begum Shireen Wahab about this thing and she said that the Committee. The Question Committee was not formed when she was present. Now, Sir, I am fully aware. I don't want to be irrelevant and I don't want to waste your time and the time of the House.

٩

صفحہ ٣٠٩

308 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Now the witness has made a very important statement in his examination in chief or in his dep...., you know, in what he deposed before the House. Now, his link in this chain is that because the Holy Prophet of Islam (May peace of God be upon him) did not have a male issue. Therefore, the female line cannot carry on the tradition. Therefore, we have to had a Roohani male issue carrying on his tradition.

Now, Sir, this is also an important issue in the case because it is an important link and also it hits the status of women. Now, a man who claims to represent one crore of Muslims all over the world, I just wnat to....

(بیگم نسیم جہاں: میں نے بیگم شیریں وہاب سے مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سوال کمیٹی کی تشکیل ہوئی تو وہ موجود تھیں۔ گواہ نے دوران جرح ایک خاص بات کہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اور اس لئے نسوانی سلسلہ نسب سے روایات نہیں کی جاسکتیں۔ سلسلہ نرینہ روایات کے حامل ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص کڑی ہے اور عورتوں کے رتبہ پر اس طرح ضرب پہنچتی ہے میں صرف یہ چاہتی ہوں......)

Mr. Chairman: I request the hon'able member to be patient. ابھی ان کو نہ آنے دیں۔

Begum Nasim Jahan: Sir,....

213 Mr. Chairman: Please stop them. Yes.

Begum Nasim Jahan: Sir, I just wanted. I never want to be irrelevant and I hope you will correct me when I am irrelevant. But whatever comes in the examination in chief is subject to cross examination. That is what I was told. May be I am wrong. But, Sir, I feel that this is a very

١٠

309 NATIONAL AS

important link and an im woman on the Question question.

ق بات نہیں کر رہی ہوں اور اگر میں غلط ں کہ یہ ایک بہت اہم کڑی ہے اور بہت ت بھی شامل ہونی چاہئے)

Mr. Chairman: convener of the Question Committee came out of th

رنگ کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا۔ کیونکہ ا میں نامزد کیا ہے)

Begum Nasim J very graceful.

Mr. Chairman convey the feelings of Chairman of the Commit

ت ہیں میں ان تک پہنچا دوں گا)

Begum Nasim supporting me.

میں بول رہے ہیں)

Mr. Chairman you. No, no, it has to go f

Now, I will req prepared, we may call the They may be calle

صفحہ ٣٠٩

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

e made a very important chief or in his dep...., you the House. Now, his link in Holy Prophet of Islam (May did not have a male issue. not carry on the tradition. hani male issue carrying on

important issue in the case and also it hits the status of us to represent one crore of t what to....

(بیگم نسیم جہاں: میں نے بیگم جب سوال کمیٹی کی تشکیل ہوئی تو وہ موجود نہ تھیں رسول اللہ ﷺ کے کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اور جاسکتیں۔ سلسلہ نرینہ روایات کے حامل ہوتا اس طرح ضرب پہنچتی ہے میں صرف یہ چاہتی

uest the hon'able member to ابھی ان کو نہ آنے دیں۔ Sir,.... se stop them. Yes. Sir, I just wanted. I never you will correct me when I mes in the examination in ation. That is what I was Sir, I feel that this is a very

309 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

important link and an important chain. There should be a woman on the Questions Committee, who should vet the question.

(بیگم نسیم جہاں: میں کوئی بے محل غیر متعلق بات نہیں کر رہی ہوں اور اگر میں غلط ہوں تو میری غلطی واضح کی جائے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ ایک بہت اہم کڑی ہے اور بہت ضروری زنجیر ہے۔ اس لئے سوال کمیٹی کے اندر کوئی عورت بھی شامل ہونی چاہئے)

Mr. Chairman: I will discuss the matter with the convener of the Question Committee, because the Question Committee came out of the Steering Committee.

(جناب چیئرمین: میں اس معاملہ کو اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا۔ کیونکہ اسٹیئرنگ کمیٹی ہی نے اپنے میں سے کچھ ممبران کو سوال کمیٹی میں نامزد کیا ہے)

Begum Nasim Jahan: Well, thank you, Sir, I am very graceful.

(بیگم نسیم جہاں: میں شکر گزار ہوں)

Mr. Chairman: Yes, I will just bring.... I will convey the feelings of the honourable member to the Chairman of the Committee.

(جناب چیئرمین: تو جو آپ کے احساسات ہیں میں ان تک پہنچادوں گا)

Begum Nasim Jahan: Sir, they all are supporting me.

(بیگم نسیم جہاں: یہ سب لوگ میرے حق میں بول رہے ہیں)

Mr. Chairman: Yes, the entire House supports you. No, no, it has to go from the Steering Committee.

Now, I will request the members, if they are prepared, we may call the witnesses.

They may be called.

11

صفحہ ٣١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(The Delegation entered the Chamber)

(وفد ایوان میں داخل ہوتا ہے)

Mr. Chairman: I will request honourable Members to be attentive.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری طرح متوجہ رہیں)

Mr. Attorney- General, you can proceed.

(جناب اٹارنی جنرل آپ شروع کر سکتے ہیں)

214 REPETITION OF OATH BY THE WITNESS

Mr. Chairman: The Oath?

(جناب چیئرمین: کیا حلف ہونا چاہئے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: It may not be repeated, Sir, it is the same.

(جناب یحییٰ بختیار: حلف دہرانے کی ضرورت نہیں)

Mr. Chairman: Yes, it is. All right, the witness may take the oath. otherwise, Rao Sahib, it is a continuing process; it is a continuing process.

(جناب چیئرمین: میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری نہیں۔ راؤ محمد ہاشم صاحب حلف اٹھانا چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: It is not necessary, Sir, at all.

(جناب یحییٰ بختیار: سر بالکل ضرورت نہیں ہے)

Mr. Chairman: It is not necessary. Yes, it is a continuing process.

(جناب چیئرمین: بالکل ضرورت نہیں ہے۔ جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: It is a formality; that you have applied.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک فارملٹی ہے۔ جس کو آپ اپنا رہے ہیں)

Mr. Chairman: It is a cross-examination. It may

١٢

311 NATIONAL AS

be carried to one day, two process. And the oath is fo

دن تک چل سکتی ہے۔ جو حلف اٹھایا گیا

Mr. Yahya Bak

ہے)

Mr. Chairman:

oath daily.

کی طرف نہ جائیں گے)

Yes, Mr. Attorney

CROSS- EXA

QADIANI G

Mr. Yahya Ba

Pakistan): Mirza Sahi

the time of the House. It clarification, I will re because I am not sure wh

You said, Sir, tha One category is Kafirs Rather does it? Am I cor

ائع نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن کچھ وضاحت دہراؤں گا۔ کیونکہ ان کے جو جواب کل احد سے مخاطب ہو کر) جناب تو کافر دو درج ہے کیا میں نے صحیح سمجھا ہے؟

صفحہ ٣١١

311 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

be carried to one day, two days, three days. It is a continuing process. And the oath is for the entire examination. (جناب چیئرمین: یہ جرح ہے جو دو تین دن تک چل سکتی ہے۔ جو حلف اٹھایا گیا ہے وہ مکمل جرح کے لئے اٹھایا گیا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: This is just a formality. (جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک صرف فارملٹی ہے)

Mr. Chairman: No, then we have to go on for oath daily. (جناب چیئرمین: ہم روزانہ حلف اٹھانے کی طرف نہ جائیں گے)

Yes, Mr. Attorney- General to continue. (جی ہاں! جناب اٹارنی جنرل جاری رکھیں)

----- ----- -----

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney- General of Pakistan): Mirza Sahib, I don't want to waste your time or the time of the House. It is valuable. But for the purpose of clarification, I will repeat one or two questions again because I am not sure what the reply was yesterday.

You said, Sir, that there are two categories of Kafirs: One category is Kafirs who fall outside the pale of Islam. Rather does it? Am I correct in understanding you?

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایوان کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن بطور وضاحت عرض کروں گا کہ میں نے دو ایک سوال جو پہلے کئے تھے دہراؤں گا۔ کیونکہ ان کے جو جواب کل دیئے گئے وہ کیا تھے۔ مجھے صحیح طور پر یاد نہیں۔ (مرزا ناصر احمد سے مخاطب ہوکر) جناب تو کافر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک کافر وہ ہے جو دائرہ اسلام سے خارج ہے کیا میں نے صحیح سمجھا ہے؟)

١٣

صفحہ ٣١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No: 92 215 مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی! میں اس کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ کل میں نے یہ عرض کی تھی ...... جیسا کہ پہلے بھی سلف صالحین، بزرگوں نے یہ وضاحت کی ہے ...... کہ ”ایمان دون ایمان “ ایمان کے بھی درجات ہیں اور ”کفر دون کفر“ کفر کے بھی درجات ہیں۔ ابن تیمیہ بڑے مشہور ہمارے عالم ہیں اور اہل حدیث کے نزدیک امام ہیں۔ وہ لکھتے ہیں اپنی کتاب ”کتاب الایمان“ میں: ”الکفر کفران احدهما ینقل عن الملة والاخر لا ينقل عن الملة “ کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے اور ایک وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ جو کفر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا وہ کفر بھی ہے اور اس کو ہم ...... یعنی ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ لیکن جماعت احمدیہ کے محاورہ میں دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ ”دائرہ اسلام“ اور ہے اور ”ملت اسلامیہ“ اور ہے تو جو کفر دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے۔ لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ اس کے لئے ہمیں سیاسی تعریف آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر مبنی بنانی چاہئے اور وہ کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے ...... مثلاً کلمہ طیبہ کا انکار ...... کلمہ طیبہ کے انکار کے بعد ملت اسلامیہ میں نہیں رہتا۔ دائرہ اسلام کا سوال نہیں، ملت اسلامیہ، میں ہی نہیں رہتا وہ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if.... shall I ask or you want to complete this? مرزا ناصر احمد : ہاں جی! ہیں جی؟ Mr. Yahya Bakhtiar: Shall I ask you further (جناب یحییٰ بختیار : اب میں جناب سے ایک سوال کرتا ہوں ) question? Mirza Nasir Ahmad: Yes. (مرزا ناصر احمد : جی ہاں! ) 216 Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if a Muslim, as I submitted yesterday, accepts all the Prophets but does not accept Hazrat Isa as a Nabi, in which category he come of Kafir? Outside Daera-e-Islam (دائرہ اسلام) or outside Daera-e-Millat (دائرہ ملت) ? (جناب یحییٰ بختیار: جیسے میں نے کل عرض کیا تھا اگر ایک مسلمان تمام رسولوں کو ١٤

NATIONAL ASSE ہی قسم میں کافروں کی آتا ہے۔ دائرہ اسلام ( لام کی نبوت سے انکاری ہے۔ ایسے لوگوں کو نہیں۔ قرآن کریم یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ان کی یم ناظرہ بھی نہیں آتا۔ ان میں سے اگر کسی سلام کا انکار کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرتا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ ستکبر “ کی طرح اعلان کرتا ہے اور کہتا ہے ہے کہ پہلے تمام انبیاء پر ایمان لاؤ اور قرآن نبیاء علیہم السلام میں سے وہ ہیں جن کا ذکر نام جن کا ذکر قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا۔ تو ں اور ایک کو تفصیلاً یعنی وہ تمام انبیاء جن کا نام ... جو بغاوت کر کے، باغیانہ طریق اختیار کر دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانو، میں نہیں کفر کی ہے وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں

جو مسلمان مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے، وہ

ایک وہ لوگ ہیں جو ..... بعض دفعہ ہمیں بھی ہ یہ سمجھ گئے ہیں۔ مگر انکار پر اصرار کر رہے خارج ہیں۔ لیکن جن کو یہ علم نہیں اور وہ انکار ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔ اسی وجہ سے ت تیسرا نائب میں یہاں بیٹھا ہوں ہم

صفحہ ٣١٣

313 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مانتا ہے مگر حضرت عیسیٰ کو بحیثیت نبی نہیں مانتا تو وہ کون سی قسم میں کافروں کی آتا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے یا دائرہ ملت سے خارج ہوتا ہے؟)

مرزا ناصر احمد : جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکاری ہے۔ ایسے لوگوں کو ہم دو قسموں میں منقسم کریں گے۔ ایک وہ جن کو یہ علم نہیں۔ قرآن کریم یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ان کی نبوت کا اقرار کیا جائے۔ عوام جو ہیں ان کو قرآن کریم ناظرہ بھی نہیں آتا۔ ان میں سے اگر کسی شخص کے دماغ میں یہ بات ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے تو وہ ایسا شخص عدم علم کی وجہ سے ان پڑھ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرتا ہے۔ وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔ اگر چہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو خدا کے حضور کھڑا ہو کے بغاوت کا ”ابٰی واستکبر“ کی طرح اعلان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ قرآن عظیم ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ پہلے تمام انبیاء پر ایمان لاؤ اور قرآن عظیم اس مطالبے کے ساتھ ...... خود بتاتا ہے ...... کہ انبیاء علیہم السلام میں سے وہ ہیں جن کا ذکر نام لے کر قرآن عظیم میں بیان ہوا ہے اور (ایک) وہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا۔ تو ایک مجملاً جو بھی نبی آئے ہیں ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اور ایک تفصیلاً یعنی وہ تمام انبیاء جن کا نام قرآن کریم میں آیا ہے ان پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ ...... جو بغاوت کر کے، باغیانہ طریق اختیار کر کے ”ابٰی واستکبر“ کے نتیجہ میں کہتا ہے کہ خدا حکم دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانو، میں نہیں مانتا، تو وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو گیا۔ لیکن جو پہلی کیٹگری ہے وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوئی۔ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئی۔

217 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! جو مسلمان مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے، وہ بھی دو کیٹگریز ہیں ان کی؟

مرزا ناصر احمد : وہ بھی دو کیٹگریز ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : اسی طرح؟

مرزا ناصر احمد : ...... ہاں، بالکل! یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو ...... بعض دفعہ ہمیں بھی شبہ پڑتا ہے۔ لیکن ہم تو انسان ہیں، عالم الغیب نہیں کہ یہ سمجھ گئے ہیں۔ مگر انکار پر اصرار کر رہے ہیں۔ ...... اگر واقع میں وہ ایسے ہیں تو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔ لیکن جن کو یہ علم نہیں اور وہ انکار کر رہے ہیں۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے بانی سلسلہ، آپ کے جو نائبین تھے ...... اس وقت تیسرا نائب میں یہاں بیٹھا ہوں ہم

١٥

TAN 6th Aug, 1974 No:02

215 مرزا ناصر احمد

وضاحت کر دیتا ہوں۔ کل میں . یہ وضاحت کی ہے ...... کہ ”اہلِ کفر“ کفر کے بھی درجات نزدیک امام ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ا ینقل عن الملة والاخر اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے ا اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا وہ کا لیکن جماعت احمدیہ کے محاورہ : ”ملت اسلامیہ“ اور ہے تو جو کفر نہیں کرتا۔ اس کے لئے ہمیں ب کفر جو ملت اسلامیہ سے خارج ملت اسلامیہ میں نہیں رہتا۔ دائر r, if.... shall I ask or

مرزا ناصر احمد : ہا

' I ask you further (جناب یحییٰ بختیار

(مرزا ناصر احمد :

Sir, if a Muslim, as ophets but does not ategory he come of or outside (دائرہ اس

(جناب یحییٰ بختیار

صفحہ ٣١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

میں سے کسی نے بھی کسی جگہ ایک دفعہ بھی، جن کو عام محاورے میں لوگ کہہ دیتے ہیں غیر احمدی، ان کو غیر مسلم نہیں کہا، کہا ہی نہیں۔ ..... لٹریچر میں ہمارے وہ ہے ہی نہیں کہ وہ غیر مسلم ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: غیر مسلم، کا مطلب ملت سے باہر ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یعنی کہا ہی نہیں، ایک دفعہ بھی نہیں کہا گیا۔ وہ ملت اسلامیہ سے باہر نہیں، لیکن دائرہ اسلام سے خارج ہے ...... یہ دو حصے کرتے ہیں۔ یہ دو فرق کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان دو کیٹیگریز سے آپ کے تعلقات میں کچھ فرق ہے کہ دونوں سے ایک جیسے تعلقات رکھتے ہیں آپ؟ دو کیٹیگریز کے کافر ہیں۔ ایک ملت سے باہر ہیں ایک دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں جی! ہاں جی! ٹھیک ہے۔

218 جناب یحییٰ بختیار: آپ کے تعلقات ان دونوں سے ایک جیسے ہیں یا مختلف ہیں؟

مرزا ناصر احمد: میں سمجھ گیا ہوں۔ سوال میں سمجھ گیا ہوں۔ مختلف ہیں۔ ایک سے ہمارا انسانیت کا تعلق ہے۔ جو انسان اور انسان کے درمیان ہونا چاہئے۔ کیونکہ انسان اور انسان کا رشتہ ملت کا رشتہ نہیں ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ملت کا تو نہیں لیکن قرآن کریم نے بڑا زور دے کے اس رشتہ کو قائم کیا: قل انما انا بشر مثلکم اس کے ..... اس میں مخاطب سارے بشر ہیں، اور اپنی انسانی اقدار میں ان کے آپس میں تعلقات ہیں۔ کچھ عقل نے قائم کئے اور حقیقتاً، بنیادی طور پر اسلام نے قائم کئے۔ وہ لوگ جو باغیانہ راہ اختیار کر کے انکار کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے تعلقات انسان اور انسان کے تعلقات ہیں۔ وہ بھی پیار اور محبت کے تعلقات ہیں۔ لیکن جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں، لیکن دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے ساتھ تو ہمارے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ ان سے تو اتنا پیار ہمارے دل میں نبی اکرم ﷺ کا پیدا کیا۔ بانی سلسلہ احمدیہ نے، کہ ان کے لئے بھی ہمارے دل میں پیار، تڑپ ہے۔ آپ نے فرمایا۔

١؎ مرزا غلام احمد قادیانی نے تحریر کیا ۔ ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے ۔“ (تذکرہ ص ٦٠٧) مسلمان نہیں یعنی ملت اسلامیہ سے خارج؟ مرزا قادیانی کچھ کہتے ہیں۔ مرزا ناصر کچھ کہتے ہیں۔ قادیانی کیا فرماتے ہیں؟

١٦

صفحہ ٣١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

اے دل تو نیز خاطر ایں سگ نگہدار
کافر کند چو دعوٰی حب پیمبرم

تو یہ فرق ہے ہر دو میں۔

(مسلمان، عیسائی ایک جیسے ہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کی توجہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب ١؎ کی ایک تحریر یا تقریر کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جی: ”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا، غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی اور دوسرے دنیاوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ دنیاوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے تو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدی کو سلام کیوں کیا جاتا ہے اس کا جواب ہے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا۔“

(کتاب ریویو آف ریلیجنز ص ١٦٩، ١٧٠، ج ١٤، نمبر ٣، ٤، مارچ، اپریل ١٩١٥ء)

مرزا ناصر احمد: جی سوال کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ تعلق جو انہوں نے کہا ہے کہ ان سے بالکل کوئی تعلق نہیں رہتا۔ یہ دونوں کیٹگریز کے لئے ہے یا ایک کیٹگری کے لئے ہے جن کو وہ کافر سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ غیر احمدی؟

The word is not even used. The word, Sir, is not used "Kafir" at all. Non Ahmadi, who does not accept Mirza Ghulam Ahmad.

غیر احمدی۔ (غیر احمدی یعنی جو شخص مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا)

١؎ بشیر الدین محمود نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر احمد مراد ہے اور یہ اسی بشیر احمد کی کتاب ہے۔

١٧

صفحہ ٣١٦

316 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، غیر احمدی میں نے بتایا کہ دو قسم کی کیٹگریز میں آ جاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو پہلی کیٹگری میں ہیں، جو باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور جانتے ...... یہ سمجھنے کے بعد کہ بانی سلسلہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں، پھر بھی انکار کرتے ہیں۔

220 Mr. Yahya Bakhtiar: In other words, Sir....

مرزا ناصر احمد : لیکن وہ غیر احمدی جو دوسری کیٹگری میں ہیں ان کے متعلق نہیں کہتے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: In other words, you allow your Girls to marry the other categories of non-Ahmadies?

مرزا ناصر احمد : نہیں، ان کی ...... Allow جو ہے ناں لفظ

Mr. Yahya Bakhtiar: I mean you have no objection. I could put it that way.

مرزا ناصر احمد : ہاں! اس کی وضاحت ہونی چاہئے تھی۔ ہماری Objection جو ہے وہ اس بنیاد کے اوپر ہے کہ ہمارے خلاف یہ فتویٰ دیا گیا ہے کہ ان کی لڑکیاں نہیں لینی اور جو وہابی یا بریلوی یا دیوبندی یا اہل حدیث یا اہل قرآن اپنے فتویٰ کے خلاف احمدی بچی سے شادی کرتا ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ وہ دونوں کی زندگیاں تلخ ہو جاتی ہیں۔ اس وہابی خاوند کی بھی اس احمدی لڑکی کی بھی، اس لئے ہم Object کرتے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Not as a matter of faith but as a matter of expediency you refuse?

مرزا ناصر احمد : شرعی نہیں ہے۔ یہ فتویٰ ایک تو شریعت کا فتویٰ ہے ناں ......

جناب یحییٰ بختیار : اگر یہ علماء فتویٰ نہ دیتے ......

مرزا ناصر احمد : یہ شرعی فتویٰ نہیں ...... جیسے یہ ایک ...... یہ جو ہے رشتہ ناطہ کا سوال :

”یہ شخص (یعنی بانی سلسلہ ...... یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں) یہ شخص مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔ اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے۔ جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے ۔“

221 تو ان فتوؤں کے بعد ازدواجی زندگی کا جو پیار اور حسن سلوک کا جو معاشرہ اور حالات پیدا ہوتے ہیں وہ نہیں ہو سکتے۔ اس واسطے یہ شرعی فتویٰ نہیں ۔ لیکن We object to it.

١٨

صفحہ ٣١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(غیر احمدی عورت سے قادیانی مرد کا رشتہ؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: You object to it because relations will not be happy. But if an Ahmadi marries a non-Ahmadi girl, the relation will be all right? It will be happy? Further it is...

(جناب یحییٰ بختیار: آپ کے اعتراض کی وجہ یہ ہے کہ تعلقات خوشگوار نہیں رہیں گے۔ لیکن اگر احمدی لڑکا غیر احمدی لڑکی سے شادی کر لے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہے)

Mirza Nasir Ahmad: No, we don't like..... نہیں، نہیں، ........

Mr. Yahya Bakhtiar: It is what Mirza Sahib says. کہ عیسائیوں کی طرح ان کی لڑکیوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔

Mirza Nasir Ahmad: It would be Happier than that in the previous case.

اس واسطے کہ ہمارا جو ہے احمدی نوجوان، اس سے ہم توقع رکھتے ہیں .... ضروری نہیں کہ وہ ہماری توقع پوری کر دے۔ اس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ تمام حقوق اپنی بیوی کے ادا کرے گا جو اسلام نے اس پر عائد کئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور آپ غیر احمدی سے یہ توقع نہیں کرتے؟

مرزا ناصر احمد: اس فتویٰ کے بعد میں توقع نہیں کرتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا! مرزا صاحب! ......

مرزا ناصر احمد: اور یہ فتویٰ جو ہے یہ اس کا حوالہ نوٹ کر لیں تاکہ .... یہ اشاعۃ السنۃ ج ١٣ صفحہ ٥ کے اوپر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی دونوں کیٹگریز کے جو مسلمان ہیں۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے، یہ عیسائیوں کی طرح ٹریٹ ہوں گے؟

222 مرزا ناصر احمد: جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو پہلی کیٹگری جو ہے......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو Clear ہے جی۔

١٩

Y OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، غیر ہیں ۔ یہ وہ ہیں جو پہلی کیٹگری میں ہیں ، جو باغی بعد کہ بانی سلسلہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں، پھر ک

r: In other words, Sir....

مرزا ناصر احمد: لیکن وہ غیر احمدی

In other words, you allow tegories of non-Ahmadies?

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان کی .....

ar: I mean you have no

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس کی وضاحت ہے وہ اس بنیاد کے اوپر ہے کہ ہمارے خلاف وہابی یا بریلوی یا دیوبندی یا اہل حدیث یا اہل کرتا ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ وہ دونوں کی زن احمدی لڑکی کی بھی ، اس لئے ہم Object کر

Not as a matter of faith but fuse?

مرزا ناصر احمد: شرعی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ علماء فتویٰ

مرزا ناصر احمد: یہ شرعی فتویٰ نہیں

”یہ شخص (یعنی بانی سلسلہ ... یہ اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ۔ کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے۔ جو 221 تو ان فتوؤں کے بعد ازدواجی تع پیدا ہوتے ہیں وہ نہیں ہو سکتے۔ اس واسطے یہ شر

صفحہ ٣١٨

318 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: وہ تو عیسائیوں کی طرح ٹریٹ ہوں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: دوسری کیٹگری جو ہے؟

مرزا ناصر احمد: جو دوسری کیٹگری ہے اس پر شرعی کوئی نہیں فتویٰ۔

جناب یحییٰ بختیار: شرعی نہیں، But in fact آپ نہیں کرتے؟

مرزا ناصر احمد: شرعی کوئی نہیں فتویٰ۔

جناب یحییٰ بختیار: اور نماز کے بارے میں؟

(نماز جنازہ کی بحث)

مرزا ناصر احمد: نماز کے بارے میں انہوں نے یہ بھی فتویٰ دے دیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing there is no fatwa at all, but what is your faith, what is your belief?

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کوئی فتویٰ نہیں ہے تو پھر آپ کے کیا اعتقاد اور یقین ہیں؟)

Mirza Nasir Ahmad: No, why supposing a thing which does not exist?

(مرزا ناصر احمد: کیوں فرض کریں۔ ایسی بات جو وجود میں نہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: But, Sir, supposing there had been no Fatwa at all...

Mirza Nasir Ahmad: In that realm of unreality, you might issue any fatwa.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing....

(جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کوئی فتویٰ سرے سے نہیں ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Why suppose unreality?

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but You think that the only reason is "Fatwa"?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فتویٰ دینے کے لئے فتویٰ کی کوئی وجہ

٢٠

صفحہ ٣١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ہوتی ہے؟)

مرزا ناصر احمد : میرا دماغ بڑا کمزور ہے۔ میں جو غیر حقیقی چیزیں ہیں وہ تخیل میں ہی نہیں لاسکتا۔

223 جناب یحییٰ بختیار : میں آپ سے پھر گزارش کرتا ہوں کہ پہلے تو یہ اگر فتویٰ نہ ہوتا......

مرزا ناصر احمد : اگر فتویٰ نہ ہوتا تو یہ حالات نہ ہوتے اور اگر فتویٰ نہ ہوتا تو یہ شادی، بیاہ، جنازہ، نماز پڑھنا، یہ حالات ہی نہ ہوتے۔ ان فتاویٰ نے پہل کرکے تو سارے حالات پیدا کر دیئے۔

جناب یحییٰ بختیار : ویسے عقیدے کے لحاظ سے آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد : ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جو اس قسم کے فتوے دے ان کے ساتھ ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، اگر فتوے نہ دے؟

مرزا ناصر احمد : اگر فتوے نہ دے اور وہ ...... اس کا ...... سلوک ہی اس کے ساتھ اور ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار : تو آپ یہ فرمائیے کہ جو آدمی فتویٰ دے......

مرزا ناصر احمد : جو آدمی فتویٰ دے یا جو خاموشی سے اس کا ساتھ دے اور ......

جناب یحییٰ بختیار : اور جو فتویٰ نہ دے اس کے ساتھ بھی وہی سلوک؟ یا مختلف ہوگا؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ آپ کنفیوز (Confuse) کر دیتے ہیں ایشو (Issue)۔ ایک ہے فتویٰ۔ ایک شخص فتویٰ نہیں دیتا۔ لیکن اس کے پیچھے لگتا ہے، مفتی کے، اور آپ ان دو کو علیحدہ علیحدہ کر دیتے ہیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I will put it in a different way. If a person is not aware of "Fatwa" but he believes it is his faith.....

(جناب یحییٰ بختیار : میں اس بات کو دوسرے پیرائے میں کہتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک شخص کو فتویٰ کا علم نہیں ہے۔ مگر یقین رکھتا ہے کہ یہی اس کا اعتقاد ہے )

Mirza Nasir Ahmad: He has blind faith in his religious leader who has issued the Fatwa.

224 Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, not in the

٢١

صفحہ ٣٢٠

320 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Maulvi, Sir. What I was submitting is that a Muslim feels and he has his faith that after the Holy Prophet Muhammad (ﷺ) on other Prophet of any category or kind can come. This is his.....

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے اور اس کا اس میں اعتقاد بھی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی اور نبی کسی قسم کا کسی نوعیت کا نہیں آئے گا اور نہ آ سکتا ہے۔ اس کے بعد نہ اس نے غلام احمد کا نام سنا اور نہ کسی فتویٰ کا)

مرزا ناصر احمد : آں ! یہ ٹھیک ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: After that, he has never even heard of Mirza Ghulam Ahmad, he never heard of any Fatwa:...

مرزا ناصر احمد : یہ ان ...... دو مہینے جو گزرے ہیں پیچھے، اس کے بعد تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے کبھی سنا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھتا ہوں کہ شاید سب نے ..... فرض کیجئے قائد اعظم نے نہیں سنا

مرزا ناصر احمد : کس نے؟

(قائد اعظم کو قادیانیوں کے خلاف فتوے کا علم تھا)

جناب یحییٰ بختیار: ...... قائد اعظم نے ان فتوؤں کے بارے میں نہیں سنا۔

His faith was that one other Prophet would come....

مرزا ناصر احمد : ان کے اتنے گہرے تعلقات احمدیوں کے ساتھ تھے کہ آپ کی Supposition میرے نزدیک غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، فتوؤں کا میں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں ! فتوؤں کا میں بھی کہہ رہا ہوں۔ عبدالحمید بدایونی صاحب، حامد بدایونی صاحب نے اجلاس لاہور میں ان سے اس معاملہ پر بحث کی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ان کو علم نہیں تھا؟

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے فتویٰ دیا ہے؟

٢٢

صفحہ ٣٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

225 مرزا ناصر احمد: ہاں! انہوں نے قرارداد پیش کی تھی۔ انہوں نے قرارداد پیش کی۔

جناب یحییٰ بختیار: قائد اعظم نے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ حامد بدایونی صاحب نے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! انہوں نے تو فتویٰ دیا۔ قائد اعظم نے بھی کوئی فتویٰ دیا؟

مرزا ناصر احمد: قائد اعظم کے سامنے انہوں نے یہ قرارداد پیش کی تھی۔ اس واسطے قائد اعظم کو ان فتاویٰ کا علم تھا۔ اس وقت صرف یہ بات ہو رہی ہے کہ علم تھا یا نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کا یہ خیال ہے کہ انہوں نے اس کو سپورٹ (Support) کیا؟

مرزا ناصر احمد: میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے اس کفر کے فتوے کے خلاف کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی! اگر کوئی آدمی سن نہیں سکتا، دیکھ نہیں سکتا،......

مرزا ناصر احمد: مرفوع القلم اس کو کہتے ہیں ہماری زبان میں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بارے میں بھی آپ یہی کہتے ہیں کہ اس نے Repudiate نہیں کیا؟

مرزا ناصر احمد: اس کو ہم مرفوع القلم کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی کافروں کی اس کیٹگری میں آ جاتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ......

جناب یحییٰ بختیار: اس نے تو نہیں مانا۔

226 مرزا ناصر احمد: وہ مرفوع القلم ہے۔ اس کے اوپر کوئی شرعی حکم لگتا ہی نہیں۔ جو پاگل ہے، جس کے حالات اس قسم کے ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: جس شخص نے......

مرزا ناصر احمد: ......کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ ہی نہیں کرے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی بچہ ہو چھ سال کا، دو سال کا، چھ مہینے کا وہ تو کوئی Repudiate نہیں کر سکتا۔ جی فتوے کو؟ چھوٹا بچہ چھ مہینے کا......

Mirza Nasir Ahmad: On both sides....

(مرزا ناصر احمد: دونوں طرف وہی بات ہے)

٢٣

صفحہ ٣٢٢

322 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Yahya Bakhtiar: ....he cannot repudiate, he is not capable of repudiation. جی!

(جناب یحییٰ بختیار: وہ اپنانے سے انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ انکار کی اہلیت نہیں رکھتا)

مرزا ناصر احمد: یہ تو موٹی بات ہے۔ اپنے والدین کے مذہب کے اوپر بچے ہیں۔ اگر جب وہ جوان ہو جائے تو پھر وہ Repudiate کردے تو وہ اپنے ماں باپ کے مذہب سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اگر نہ کرے تو ان کے ساتھ چلتا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I will ask you another question. If you don't mind. In tribal society a brother is responsible for the sins and crime of his brother. But in Islam and in civilised society, I am responsible for my crime, for my sin, and but not for my brother's crime or my brother's sin. It is correct or not?

(جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسرا سوال کرتا ہوں۔ قبائلی معاشرے میں ایک بھائی دوسرے بھائی کے جرائم وگناہوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اسلام میں اور تمدنی مہذب معاشرے میں اپنے جرم کا میں خود ذمہ دار ہوں اور اپنے بھائی کے جرائم کا نہیں ہوں۔ یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟)

مرزا ناصر احمد: لا تزر وازرۃ وزر اخری ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے، قرآن کریم کہتا ہے۔ ہاں!......

(مسلمان بچوں کا حکم عیسائی بچوں جیسا؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, if the child's father has committed the sin of not accepting.... from your point of view.... Mirza Ghulam Ahmad as Nabi....

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے آپ کے نقطہ نظر سے سوال کرتا ہوں۔ ایک بچے کا والد ہے جس نے یہ گناہ کیا ہے کہ اس نے غلام احمد کو نبی نہیں مانا۔ اس آدمی کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے تو کیا آپ اس بچے کو باپ کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دیں گے؟)

٢٤

323 NATIONAL AS...

Mr. Yahya Ba child, are you punishing h

Mirza Nasir Ah boy.

Mr. Yahya Bashir-ud-din said: ں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔"

Mirza Nasir punishment.

Mr. Yahya Bakh

Mirza Nasir Ah tell you why.

ض کفایہ ہے۔ یہ فرض نہیں ہے۔ یہ فرض رامت مسلمہ کے چند آدمی اس فرض کو ادا ؤں آدمی جنازہ پڑھ لیتے ہیں تو جو جنازہ ہماری فقہ کا فتویٰ ہے اور متفقہ فتویٰ جو گناہ

Mr. Yahya Bak you treat muslims of diff to Ahmadi's school of th between the two categorie

سلامیہ سے خارج ہیں۔ ان دو کیٹیگریز کی میں ان دونوں میں آپ...... ت کی میں نے، وہ صرف دسواں حصہ کی

صفحہ ٣٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

227 مرزا ناصر احمد: اور وہ اپنے گھر میں......

Mr. Yahya Bakhtiar: .... his six month's old child, are you punishing him also for the sin of his father?

Mirza Nasir Ahmad: No, we won't punish the boy.

Mr. Yahya Bakhtiar: Has not Mirza Bashir-ud-din said:

"اس کا جنازہ بھی مت پڑھو۔ جیسے عیسائی بچوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔"

Mirza Nasir Ahmad: جنازہ نہ پڑھنا is not a punishment.

Mr. Yahya Bakhtiar: But why?

Mirza Nasir Ahmad: It is not a punishment; I tell you why.

نماز جنازہ متفقہ طور پر آئمہ فقہ کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔ یہ فرض نہیں ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے اور فرض کفایہ فقہ میں اس فرض کو کہتے ہیں کہ اگر امت مسلمہ کے چند آدمی اس فرض کو ادا کر دیں تو کسی پر گناہ نہیں ہے۔ اگر اس بچے کا بیس آدمی یا دس آدمی جنازہ پڑھ لیتے ہیں تو جو جنازہ نہیں پڑھتے وہ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہورہے ۔ یہ فتویٰ ہماری فقہ کا فتویٰ ہے اور متفقہ فتویٰ جو گناہ ہی نہیں وہ Punishment (سزا) کیسے بن گئی؟

Mr. Yahya Bakhtiar: My question was, the way you treat muslims of different categories, who don't belong to Ahmadi's school of thought, any distinction do you make between the two categories?

جو دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور جو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔ ان دو کیٹگریز کی آپ نے وضاحت کی۔ میں پوچھتا ہوں کہ کس Sense میں ان دونوں میں آپ......

228 مرزا ناصر احمد: یہ دو کیٹگریز کی جو وضاحت کی میں نے ، وہ صرف دسواں حصہ کی باقی نو حصے باقی ہیں۔ وہ آپ اگر سن لیں؟

٢٥

صفحہ ٣٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی! .... we are here; because we want the issue to be clarified.

مرزا ناصر احمد : یہ نماز پڑھنے کا تھا ناں سوال۔ اب یہ سن لیں باقی حصے جو ہیں ، یا کم و بیش نو۔ یہ ایک فتویٰ ہے: ”یہ فتویٰ دینے والے صرف ہندوستان کے علماء ہی نہیں بلکہ جب وہابیہ دیوبندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان، جاوا، بخارا، ایران، مصر، روم، شام اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ وغیرہ تمام دیار عرب و کوفہ بغداد شریف غرض تمام جہان کے علماء اہل سنت نے بالاتفاق یہ فتویٰ دیا ہے۔“

فتویٰ یہ ہے: ”وہابیہ دیوبندیہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیاء، انبیاء، حتیٰ کہ حضرت سیدالاولین و آخرین ﷺ کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت و ہتک کرنے کی وجہ سے قطعا مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد کفر میں سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ ایسا کہ جو ان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہی جیسا مرتد اور کافر ہے اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی مرتد و کافر ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی محترز ، مجتنب رہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں گھسنے دیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں۔ نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔ یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں۔ مریں تو گاڑانے تو پنے میں شرکت نہ کریں۔ مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔ غرض ان سے بالکل احتیاط و اجتناب رکھیں ...... پس وہابیہ و دیوبندیہ .....“

Mr. Chairman: It is already in the Mahzar Nama, it need not be read; it is part of Mahzar Nama at page....

(جناب چیئرمین: یہ تمام حوالہ جات محضر نامہ میں موجود ہیں۔ اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: The question is repeated.

Mr. Chairman: .... at page 154.

Mirza Nasir Ahmad: I beg....

Mr. Chairman: Yes?

Mirza Nasir Ahmad: ... to submit that I may be

٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PA

allowed to repeat....

ہرانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: M

emphasize that, I have no objection.

ر یہ اصرار کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: If yo

will have to repeat the answer.

پ سوال دہراتے ہیں تو میں بھی جواب دہراؤں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Cer

ہابیہ، دیوبندیہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں۔ ایسے کہ جو ان کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی ر نہ پائے گی۔“

کے نام ہیں۔ ان میں چند ایک یہ ہیں۔ سید جماعت علی شاہ ی رضوی بریلوی، محمد کرم دین، محمد جمیل احمد بدایونی، وغیرہ

ے گا۔ ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے چاہتے ہیں اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے اور یہ بہت ڑتا ہوں تا کہ وقت ضائع نہ ہو۔ یہاں آچکے ہیں۔

پڑھیں تو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیر مبہم الفاظ میں ین زمانہ باتفاق علمائے حرمین شریفین کافر مرتد ہیں۔ ایسے انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود کافر ہے۔ ان کے ذبیحہ حرام ہے۔ ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ ان کا ہو سکتا۔ ان کے ساتھ میل جول ، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سلام تاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔“

ماز کا ذکر ہو رہا ہے پیچھے نماز پڑھنے کے۔ باقی اس کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا سوال ہے دیوبندی علماء یہ

٢٧

صفحہ ٣٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

allowed to repeat....

(مرزا ناصر احمد : مجھے دہرانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, if he wants to emphasize that, I have no objection.

(جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ اصرار کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: If you repeat the question. I will have to repeat the answer.

(مرزا ناصر احمد : جب آپ سوال دہراتے ہیں تو میں بھی جواب دہراؤں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Certainly, certainly.

مرزا ناصر احمد : ”پس وہابیہ، دیوبندیہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں۔ ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔ اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولاد ہوگی وہ حرامی ہوگی اور از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔“

اس اشتہار میں جن علماء کے نام ہیں۔ ان میں چند ایک یہ ہیں۔ سید جماعت علی شاہ صاحب، حامد رضا صاحب قادری نوری رضوی بریلوی، محمد کرم دین، محمد جمیل احمد بدایونی، وغیرہ بہت سے علماء کے نام ہیں۔

230 ایک رخ یہ بھی ہے تصویر کا۔ ان کے بچوں کے متعلق بھی وہی فتویٰ ہے جس کے متعلق آپ مجھ سے وضاحت کروانا چاہتے ہیں اور یہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے اور یہ بہت سارے حوالے ہیں۔ میں ساروں کو چھوڑتا ہوں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ یہاں آچکے ہیں۔

اہل حدیث کے پیچھے نماز پڑھیں تو اس کے متعلق بریلوی ائمہ ہمیں غیر مبہم الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ : ”وہابیہ و غیر مقلدین زمانہ باتفاق علمائے حرمین شریفین کافر مرتد ہیں۔ ایسے کہ جو ان کے اقوال ملعونہ پر اطلاع پا کر انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود کافر ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ ان کا نکاح کسی مسلمان، کافر یا مرتد سے نہیں ہو سکتا۔ ان کے ساتھ میل جول، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سلام کلام سب حرام۔ ان کے مفصل احکام کتاب مستطاب حسام الحرمین شریف میں موجود ہیں۔“

یہ اہل حدیث کے متعلق نماز کا ذکر ہو رہا ہے پیچھے نماز پڑھنے کے۔ باقی اس کے حوالے میں چھوڑتا ہوں۔ بریلویوں کے متعلق جہاں تک نماز پڑھنے کا سوال ہے دیوبندی علماء یہ

٢٧

صفحہ ٣٢٦

326 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

شرعی حکم ہمیں سناتے ہیں: ”جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا علم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے۔ اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت ومودت سب حرام ہیں۔“ 231

یہ فتاویٰ رشیدیہ، حضرت مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا ہے۔ جو ان کے مرشد ہیں۔ ان کا ہے یہ فتویٰ اور میں صرف ایک ایک فتوے کو صرف بتا رہا ہوں تاکہ معاملہ جو ہے صاف کر سکوں۔ پرویزیوں اور چکڑالویوں کے متعلق نماز پڑھنے کے سلسلے میں یہ فتویٰ ہے: ”چکڑالویت حضور سرور کائنات علیہ التسلیمات کے منصب ومقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کی منکر اور آپ کی احادیث مبارکہ کی جانی دشمن ہے۔ رسول کریم کے ان کھلے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔ جانتے ہو باغی کی سزا کیا ہے؟ صرف گولی۔“

شیعہ حضرات کے متعلق کہ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں: ”بالجملہ ان رافضیوں، تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی، اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔ معاذ اللہ مرتد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الٰہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہرگز نہ ہوگا۔ محض زنا ہوگا۔ اولاد ولد الزنا ہوگی۔ باپ کا ترکہ نہ پائے گی۔ اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو، کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریب حتیٰ کہ باپ بیٹے، ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔ سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ ان کے مرد، عورت، عالم، جاہل کسی سے میل جول، سلام و کلام سخت کبیرہ اشد حرام۔ جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہوکر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے باجماع تمام ائمہ دین خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان 232 کے لئے مذکور ہوئے۔ مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو گوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کرکے سچے پکے سنی بنیں۔“

(فتویٰ مولانا شاہ مصطفےٰ رضا خان بحوالہ رسالہ ردالرافضہ)

یہ تو اس میں آگئے ہیں۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ احمدی وہابیوں، دیوبندیوں وغیرہ کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتا یا ان کی شادیاں جو ہیں ان کو کیوں مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سخت فتویٰ موجود ہیں۔ تو ساروں کو اکٹھا رکھ کے کوئی فیصلہ کرنا چاہئے ہمیں ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I ask you that you don't

٢٨

صفحہ ٣٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

say prayer because of the "Fatwah" or because of the matter of your own faith? Because if I don't accept Mirza Ghulam Ahmad as Nabi.....

(جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ فتویٰ کی وجہ سے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ یا آپ کا اپنا اعتقاد بھی یہی ہے۔ کیونکہ اگر میں مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا......)

مرزا ناصر احمد: یہ جو میں نے فتاویٰ پڑھے ہیں ان میں تو نبی ماننے یا نہ ماننے کا سوال ہی نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں کہہ رہا ہوں کہ آپ ان کو کس کیٹگری میں فتوؤں میں شمار کرتے ہیں؟ جو بالکل دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ تو وہ بتائیں گے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے نظریہ سے؟

مرزا ناصر احمد: یہ جو فتوے میں نے پڑھے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!

مرزا ناصر احمد: یہ تو جنہوں جنہوں نے فتوے دیئے ہیں، میں کیسے بتا دوں کہ وہ کیا کرتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: لیکن آپ جو Study (مطالعہ) کر رہے ہیں......

مرزا ناصر احمد: میں نے جو Study (مطالعہ) کیا ہے وہ جو میرا استدلال ہے...... مجھے اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے...... میں اس یقین پر قائم ہوں کہ میرے استدلال کے وہ پابند نہیں ہیں۔

233 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ پابند نہیں ہیں۔ مگر آپ کے نقطہ نظر سے یہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں یا ملت اسلامیہ سے؟

مرزا ناصر احمد: میں تو...... حسن ظن کی طرف مائل ہوتا ہے میرا دماغ، اس لئے میرا دماغ اس طرف جاتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوتے ہیں۔ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو فتوے آپ کے متعلق (احمدیہ جماعت کے متعلق) دیئے ہیں علماء نے وہ کس قسم کے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو علماء بیٹھے ہیں آپ......

٢٩

صفحہ ٣٢٨

328 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے Point of view (نقطہ نظر) سے....... مرزا ناصر احمد: میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جناب یحییٰ بختیار: .......وہ آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں یا....... مرزا ناصر احمد: وہی بتائیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: .......ملت اسلامیہ سے؟ مرزا ناصر احمد: ان کے متعلق میں کیسے بتا دوں؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہا کہ....... مرزا ناصر احمد: باقیوں کے متعلق تو میں نے کہا ہے۔ کیونکہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ جب میں اپنے متعلق بات کروں گا تو سمجھا جائے گا کہ I am prejudiced against.... in favour of myself.

Mr. Yahya Bakhtiar: No. Sir, you said yesterday that the Fatwa boomerangs. Now... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جناب آپ نے کل کہا تھا کہ فتویٰ (کفر کا) واپس فتویٰ دینے والے پر پڑتا ہے) مرزا ناصر احمد: وہ میرا جنرل آئیڈیا یہ ہے کہ اس کو، ان فتاویٰ کو معقولیت دینے کے لئے، معقولیت کا رنگ پہنانے کے لئے اور اسلام کے شیرازہ کو متحد رکھنے کے لئے ہم اس طرف234، ہمیں اس کی طرف مائل ہونا چاہئے کہ یہ فتاویٰ دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتے.......ہمارے متعلق بھی اور آپس کے متعلق بھی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I again want to ask.... because this reply was not clear to me.... as to why the Janaza prayer of a child of six months..... (جناب یحییٰ بختیار: جناب میں دوبارہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ کا جواب مجھے صاف نہیں معلوم ہوا۔ کیا وجہ ہے کہ ایک چھ ماہ کے بچے کی نماز جنازہ ......) مرزا ناصر احمد: جو بچے کا جنازہ ہے ....... جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! مرزا ناصر احمد: .......وہ فرض ہی نہیں ہے۔

٣٠

صفحہ ٣٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! فرض نہ سہی احمدی، بچے کا پڑھ لیں گے؟ کہتے ہیں کہ اس کا مت پڑھو اس کو۔ ایسے ہی جیسے عیسائی کا (نہیں) پڑھتے ہیں۔ ہندو کا (نہیں) پڑھتے ہیں۔......

مرزا ناصر احمد: نہیں،نہیں۔ وہ تو جو آپ حوالہ دیتے ہیں ناں، نہ میں اس کی تردید کرتا ہوں نہ تصدیق کرتا ہوں۔ اس واسطے کہ جب تک میں اصل نہ دیکھوں میں سمجھتا ہوں کہ آپ دیانت داری سے میرے ساتھ متفق ہوں گے کہ یہ مجھے تصدیق کرنی چاہئے نہ تردید کرنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے۔ اگر آپ اس سے انکار کرتے ہیں تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں،نہیں۔ نہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں نہ تردید کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ اس کو تصدیق کردیں اس کے بعد میں کہوں گا۔

مرزا ناصر احمد: میں تو نہ تصدیق کرتا ہوں نہ تردید کرتا ہوں۔ جب تک Original کو Refer (کہ اصل کا حوالہ نہ دیکھ لوں) نہ کروں۔

(مداخلت)

235 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ آپ Verify تو کر سکتے ہیں۔ نہیں تو ہم آپ کے سامنے پیش بھی کر سکتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ پیش تو ضرور کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ کون چھینتا ہے آپ سے؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I draw your attention to the collection of speeches and addresses of Mirza Bashir-ud-din Mohammad Ahmad Sahib.

(جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! میں آپ کی توجہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریروں اور خطبات کے مجموعے کی طرف کراتا ہوں)

مرزا ناصر احمد: کیا نام ہے اس کا؟

جناب یحییٰ بختیار: انوار خلافت صفحہ نمبر ٩٣

Mirza Nasir Ahmad: Page?

١؎ فرار کا راستہ ڈھونڈا جارہا ہے کہ اپنے چچا کا لکھا ہوا ہے معرکہ الآراء، مرزا کے بیٹے کے حوالہ سے جان چھڑا رہے ہیں۔

٣١

صفحہ ٣٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: صفحہ نمبر ٩٤

”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔“

Now, Sir, here I will respectfully say that no question of Fatwa has come. Here is a clear injunction on them.

(اب جناب! یہاں میں گزارش کرتا ہوں کہ فتوے کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ یہاں ان پر صراحتاً واجب قرار دیا گیا ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ”لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔“

مرزا ناصر احمد: منکر نہیں۔ Sorry, I don't know.

جناب یحییٰ بختیار: ہاں!

”میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا۔ اس کے جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچے کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے۔ اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں۔ بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے۔ لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی۔ احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اس حالت میں مر گیا تو مر گیا۔ اس کو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہ کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں ۔“

(انوار خلافت ص٩٣، مطبوعہ اکتوبر ١٩١٦ء، سٹیم پریس امرتسر )

مرزا ناصر احمد: جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: So, this is a part of the (جناب یحییٰ بختیار: ایسا ہے، تو یہ حوالے کا ایک حصہ ہے) reference.

٣٢

صفحہ ٣٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک ہے۔ یہ سوال جسٹس منیر کی انکوائری میں کیا گیا تھا۔ خود حضرت خلیفہ ثانی اور انہوں نے اس کا جو جواب دیا وہ میں سنا دیتا ہوں: ”کیا آپ نے انوار خلافت صفحہ ٩٣ پر کہا ہے۔۔۔“ آگے وہی اقتباس ہے جو آپ نے پڑھا۔

”جواب: ہاں! لیکن یہ بات میں نے اس لئے کہی تھی کہ غیر احمدی علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے بچوں کو بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ احمدی عورتوں اور بچوں کی نعشیں قبروں سے اکھاڑ کر باہر پھینکی گئیں237۔ چونکہ ان کا فتویٰ اب قائم ہے۔ اس لئے میرا فتویٰ بھی قائم ہے۔ البتہ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتویٰ ملا ہے۔ جس کے مطابق ممکن ہے غور وخوض کے بعد پہلے فتوے میں ترمیم کر دی جائے۔“

یہ جو ہے کہ احمدی بچوں کو دفن نہیں کیا گیا۔ اس کے متعلق یہ ٢٠؍ اگست ١٩١٥ء کا واقعہ ۔۔۔ الفضل ١٩؍ اکتوبر ١٩١٥ء ۔۔۔۔ یہ واقعہ جو ہوا ہے بچے کے متعلق ، وہ ہے:”مالابار کے ایک احمدی کے۔ ایس حسن کا چھوٹا بچہ فوت ہوگیا۔ ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی صاحب نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ اس لئے ان کی نعش مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہوا۔ دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے دو میل دور اس کی نعش کو دفن کر دیا گیا۔“

اور اب یہ ابھی ان پچھلے دنوں میں گوجرانوالہ میں ایک بچی فوت ہوئی، اس کو دفن نہیں ہونے دیا۔ قائد آباد میں ایک احمدی فوت ہوا۔ اس کو دفن نہیں ہونے دیا اور قبر اکھاڑ کر نعش کو باہر پھینک دیا۔ ان حالات میں آپ بتائیں کیا فتویٰ ہونا چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں فتویٰ نہیں کہہ رہا۔ ایک آدمی غلطی کرتا ہے تو یہ جواب تو نہیں ہوتا کہ دوسرا بھی غلطی کرے؟

مرزا ناصر احمد : ایک آدمی غلطی کرتا ہے اور دوسرے آدمی پر فرض ہو جاتا ہے کہ فتنے میں نہ پڑے اور دوسرے کو بھی فتنے سے بچائے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ! بچے کا جنازہ پڑھنا فتنے میں شامل ہونے کے برابر ہوتا ہے؟

١؂ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت سے بوکھلا کر مرزا محمود اپنے کئے پر پانی پھیر رہا ہے۔ لیجئے ! پیغمبر زادہ چوکڑی بھول گیا۔ کہاں وہ رعونت کہ ”میرے دشمن میرے سامنے مجرموں کی طرح پیش ہوں گے۔“ کہاں اب یہ من ، من شپ شپ ۔

٣٣

صفحہ ٣٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پیچھے ہمارا جنازہ نہ پڑھو ہمیں نہیں

238

کہتے، شیعوں کو بھی یہی کہا ہے کہ کوئی شیعہ ہمارا جنازہ نہ پڑھے۔ بات یہ ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے ایک دوسرے کے خلاف سارا سامنے رکھ کر پھر مسئلہ جو ہے وہ حل ہو جاتا ہے۔ یعنی شیعہ تک کو یہ کہا گیا کہ ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھیں، نماز نہ پڑھنے دو اپنے پیچھے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ عیسائیوں اور ہندوؤں نے تو کوئی فتوے نہیں دیئے تو آپ کے خلاف؟ نہیں، سوال پیدا ہوتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھہرو جی! عیسائیوں نے اور ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف پچھلے چودہ سو سال میں کوئی فتویٰ نہیں دیا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کے خلاف، Particularly؟

مرزا ناصر احمد: ہم مسلمان ہیں۔ اگر انہوں نے پچھلے چودہ سو سال میں فتوے کے بعد فتویٰ اسلام کے خلاف دیا ہے تو اس کو سب لوگ آپ بھول گئے؟

جناب یحییٰ بختیار: تو ان کو اور باقی مسلمانوں کو آپ ایک ہی کیٹیگری میں ٹریٹ کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہم اپنے آپ کو اور باقی مسلمانوں کو ایک کیٹیگری میں ٹریٹ کرتے ہیں جہاں تک ہندوؤں اور عیسائیوں کے فتاویٰ کا تعلق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ جہاں تک نماز، دفن کرنے اور جنازے کا تعلق ہے، آپ باقی مسلمانوں کو اور عیسائیوں کو اور ہندوؤں کو ایک کیٹیگری میں سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ شرعی اور مذہبی طور پر نہیں شکل ..... نماز نہ پڑھنے کی شکل میں وہ ایک ہیں۔ شرعی فتوے کے لحاظ سے نہیں ایک۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میرا سوال یہ تھا کہ تعلقات جہاں تک ہیں غیر مسلموں سے اور مسلموں سے، ان میں کیا فرق ہے آپ کا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ فرق میں بتا دیتا ہوں ......

239 جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک شادی رشتہ ہے۔ آپ نے کہا نہیں ہو سکتا ......

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، جنازے کے متعلق فرق کو میں بتا دیتا ہوں، بڑا واضح ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... عبادت نہیں ہو سکتی ......

مرزا ناصر احمد: جنازے کے متعلق میرا، جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ کا یہ فتویٰ

٣٤

صفحہ ٣٣٣

333 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ہے کہ جنازہ فرض کفایہ ہے اور چونکہ دوسرے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دوسرے جو فرقے ہیں انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ یہ ہمارے پیچھے بھی نہ نماز پڑھیں، امامت بھی نہ کرائیں نماز کی۔ اس واسطے ہمیں فتنے سے بچنا چاہئے اور نہیں پڑھنی چاہیے۔ لیکن ...... ’لیکن‘ کے بعد کی جو بات ہے وہ سوچیں۔

ایک مسلمان ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ ڈنمارک میں جب جہاز نے لینڈ کیا تو وہ فوت ہو چکے تھے جہاز میں اور وہاں سوائے احمدیوں کے جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا اور انہوں نے وہاں غلطی کی اور جب میرے پاس معاملہ پہنچا تو میں بڑا سخت ناراض ہوا اور جینس جو ڈنمارک کے رہنے والے ہیں، عیسائیوں سے مسلمان ہوئے۔ اب احمدی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مجھے پہلی دفعہ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ میں نے انہیں کہا یہ تو بڑا ظلم ہوا ہے۔ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبی اکرم ﷺ کی اتنی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے کہ کوئی شخص جو حضرت محمد ﷺ کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ لاوارث نہیں رہے گا اور اگر ایسا کوئی واقعہ ہو تو احمدیوں کا فرض ہے کہ نماز جنازہ پڑھائیں۔ لیکن عیسائیوں کے متعلق ہمارا یہ فتویٰ نہیں ہے اور یہ فرق ہے ان دونوں میں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے Amend (ترمیم) کیا اس کو؟

240 مرزا ناصر احمد: نہیں، Amend (ترمیم) نہیں کیا، میں نے، پہلا ہی جب واقعہ ہوا، میں نے اس کو نمایاں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: Clarify کیا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں نمایاں کرنا اور چیز ہے، Amend کرنا اور چیز ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, in which category do you put persons who belong to Lahori school of thought, what they call, who....

مرزا ناصر احمد: جی! یہ میرا خیال ہے پہلے ہم نے ...... میں نے وضاحت کی تھی۔ یاد نہیں مجھے۔ ہر وہ شخص جو خود کو احمدی کہتا ہے احمدی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور وہ اگر مرزا غلام احمد کو نبی نہیں سمجھتا، محدث سمجھتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: جب وہ کہتا ہے کہ میں احمدی ہوں تو وہ احمدی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔ وہ بڑے دائرے کے اندر جو ہے۔

٣٥

صفحہ ٣٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر آپ ان کو ......

مرزا ناصر احمد: احمدی کس طرح کہتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کیٹگری اس میں نہیں لائیں گے؟ کفر کی کس کیٹگری میں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، کفر کی کیٹگری میں تو آ جائیں گے وہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں نا جی ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے؟

مرزا ناصر احمد: دائرہ اسلام سے ہمارے نزدیک وہ خارج ہیں۔ لیکن ملت اسلامیہ سے بالکل نہیں خارج۔

241 Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I wanted to clarify.

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس واسطے نہیں ...... ایک فرق ہے ناں ...... وہ احمدی بھی ہیں ہمارے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں اس واسطے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے تو کوئی فتویٰ نہیں دیا آپ کے خلاف؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے ہمارے خلاف نہیں فتویٰ دیا۔ انہوں نے ......

جناب یحییٰ بختیار: انکار کیا ہے صرف؟

مرزا ناصر احمد: ان لوگوں میں سے ہیں جن کو مقام بانی سلسلہ کے سمجھنے کے زیادہ مواقع تھے دوسروں کی نسبت۔ یہ فرق ہے ناں!

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! نہیں، مگر انہوں نے صرف انکار کیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے انکار کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: فتویٰ نہیں دیا کفر کا آپ کے خلاف؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے، ہاں، کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ نہیں، وہ اور چیز ہے۔ ایک ہے کفر کا فتویٰ دینا،۔ ایک ہے انکار کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہی میں کہہ رہا تھا کہ کفر کی دو کیٹگریز ہیں۔ آپ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے فتوے دیئے اس لئے ہم انہیں کافر کہتے ہیں۔

٣٦

335

NATIONAL ASS

ہیں، دو کیٹگریز نہیں۔ یعنی دائرہ اسلام سے کے لئے دو مختلف وجوہات، دو سے زیادہ

تو بھی سمجھے، مگر یہ کہ ......

واسطے کہہ رہا ہوں کہ ایک دائرہ اسلام سے

غیر مبایعین، اور دوسرے وہ لوگ جو ناسمجھی ر کرنے والے ہیں، وہ دائرہ ...... وہ ملت

میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہم ان کو یہ نہیں کہتے۔ میں کی یا سارے دعاوی کو انہوں نے نہیں و۔ ہم ان کو احمدی کہتے ہیں۔ یہ Help

رہا ہوں، پوزیشن Clear اس واسطے مانوں کے علماء نے ......

س وجہ سے ان کے ......

ے دیئے کہ ان سے نمازیں مت پڑھو،

شہر

وہ ہے وہ بھی ہے ...... آپ نے شروع کی تھی کہ اگر حضرت عیسیٰ تھا کہ دو صورتیں بنتی ہیں۔ وہ ان کی شکل

صفحہ ٣٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، دو وجوہات ہیں، دو کیٹیگریز نہیں۔ یعنی دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے باوجود ملت اسلامیہ میں شامل سمجھنے کے لئے دو مختلف وجوہات، دو سے زیادہ وجوہات.......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، وجوہات جو بھی سمجھے، مگر یہ کہ.......

242 مرزا ناصر احمد: وجوہات دو ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ’’کیٹیگریز‘‘ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ ایک دائرہ اسلام سے خارج، دوسرا ملت اسلامیہ سے خارج۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو اس لحاظ سے غیر مبائعین ، اور دوسرے وہ لوگ جو ناسمجھی کی وجہ سے....... ابیٰ واستکبر کے نتیجے میں نہیں....... انکار کرنے والے ہیں، وہ دائرہ....... وہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دونوں؟

مرزا ناصر احمد: لیکن یہ احمدی بھی ہیں۔ میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہم ان کو یہ نہیں کہتے۔ صرف اس وجہ سے کہ مثلاً انہوں نے خلافت کی بیعت نہیں کی یا سارے دعاوی کو انہوں نے نہیں سمجھا۔ ہم ان کو یہ نہیں کہتے کہ تم احمدیت سے نکل گئے ہو۔ ہم ان کو احمدی کہتے ہیں۔ یہ Help کرنا ہے ناں سمجھنے میں۔ ہم دونوں کو مسلمان ہی.......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں یہ کہہ رہا ہوں، پوزیشن Clear اس واسطے مجھے ہو رہی ہے کہ آپ نے ایک وجہ تو یہ بتائی کہ چونکہ مسلمانوں کے علماء نے.......

مرزا ناصر احمد: فتاویٰ دیئے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... فتاویٰ دیئے تھے اس وجہ سے ان کے.......

مرزا ناصر احمد: ان کے اوپر لوٹ آئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ....... آپ نے یہ فتوے دیئے کہ ان سے نمازیں مت پڑھو، رشتے مت کرو،.......

مرزا ناصر احمد: لیکن یہ وہ دوسرا.......

جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ دوسری کیٹیگری جو ہے وہ بھی ہے.......

243 مرزا ناصر احمد: لیکن یہ دوسری وجہ جو آپ نے شروع کی تھی کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا تو اس کا کیا ہے تو اس کا میں نے بتایا تھا کہ دو صورتیں بنتی ہیں۔ وہ ان کی شکل

٣٧

صفحہ ٣٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

یہ بھی بنتی ہے ناں! ان کے حصے میں......

جناب یحییٰ بختیار: لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ تو صرف اسی وجہ سے ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ صرف اسی وجہ سے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! صرف اسی وجہ سے؟ فتوؤں کی وجہ سے نہیں؟

مرزا ناصر احمد: اس سے معلوم ہوا کہ وہ کفر کی جو دوسری وجہ ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر دونوں وجوہ جو ہیں، ابھی جو باقی مسلمان ہیں انہوں نے فتوے بھی دیئے اور انکاری بھی ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ملت سے خارج نہیں؟

مرزا ناصر احمد: لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک ہی نکلتا ہے؟ اور یہاں اگر صرف ...... (مداخلت) میں نے وہی بات کہی ہے مرزا صاحب کہ اگر فتوے نہ بھی ہوتے تو رزلٹ یہی ہوتا ......

(کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں! رزلٹ یہی ہوتا۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ جو مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتا، اس سے انکاری ہے۔ وہ کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: اسے Lesser کیٹگری کہہ لیجئے۔ Milder کیٹگری کہہ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: اگر وہ ...... نہیں، نہیں ...... ”جو کفر دون کفر“ ہم کہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ سے خارج نہیں، مسلمان ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن ان کی جو پوزیشن بنتی ہے، 244 ہمارے ان کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں، مختلف ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ باوجود اس اختلاف کے احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی پابندی نہیں ہے کہ دیوبندی کے پیچھے احمدی نماز نہ پڑھے، لیکن آنحضرت ﷺ نے جو امامت کے متعلق شرائط

١؂ گویا فتاویٰ خلاف آنا، بہانہ تھا۔ رزلٹ ایک ہی ہے کہ جو بھی مسلمان ہے، یعنی قادیانی نہیں۔ چاہے اس نے فتویٰ دیا یا نہیں۔ کسی مسلمان کا قادیانیوں کے نزدیک جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ ہائے قلابازیاں۔ ہائے زمین میں دھنسنا۔

٣٨

NATIONAL ASSE

ﷺ کی عائد کردہ ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھنا بھی جائز ل کے ایک نتیجہ نہیں نکالتا۔

رف یہ پوچھ رہا تھا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہیں ہیں۔ جس میں باقی مسلمان ہیں، آپ ھ کہ ان کو ہم احمدی کہیں گے اور باقیوں کو ہم نہیں پڑتا ناں جی؟

آپ کو......

فرق اس طرح پڑتا ہے...... کہ مثلاً اگر ہم Agress ہوگی۔ یہ تو فرق پڑ گیا ناں!

ں کہتا ہوں کہ جہاں تک Treatment Treatment کا تعلق ہے۔ یہ ہے کہ ان از پڑھ لیں گے؟

ا ہے۔ یہ فرق ہے۔ ساتھ نہیں ہے یہ؟

ہ نماز جنازہ نہ پڑھنے کے ابھی میں نے پ نے سنائے ہیں۔ ٹھہر

یک Individual....... بہت سارے

صفحہ ٣٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

بتائی ہیں وہ شرائط پوری ہونی چاہئیں۔ وہ تو نبی اکرم ﷺ کی عائد کردہ ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کا جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ باوجود انکار کے، تو ہم کہتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھنا بھی جائز ہے، نماز جنازہ جائز ہے۔ یہ مزید تفصیلات ہیں۔ سارا مل کے ایک نتیجہ نہیں نکالتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں صرف یہ پوچھ رہا تھا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے، انہوں نے فتویٰ نہیں دیا۔ مگر یہ بھی اسی کیٹگری میں ہیں۔ جس میں باقی مسلمان ہیں، آپ کے نقطہ نظر سے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس فرق کے ساتھ کہ ان کو ہم احمدی کہیں گے اور باقیوں کو ہم احمدی نہیں کہیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: لیبل سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ناں جی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، بڑا پڑتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: احمدی وہ کہیں اپنے آپ کو......

مرزا ناصر احمد: اگر ہم یہ کہیں مثلاً...... فرق اس طرح پڑتا ہے...... کہ مثلاً اگر ہم کہیں کہ تم احمدی نہیں تو ہماری یہ نامعقول Agressiveness ہوگی۔ یہ تو فرق پڑ گیا ناں!

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں جی! میں کہتا ہوں کہ جہاں تک Treatment کا تعلق ہے......

245 مرزا ناصر احمد: نہیں! جہاں تک Treatment کا تعلق ہے۔ یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! جنازہ بھی ہوتا ہے۔ یہ فرق ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: باقی مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد: باقی مسلمانوں کا...... وہ نماز جنازہ نہ پڑھنے کے ابھی میں نے فتوے آپ کو سنائے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ وہ تو آپ نے سنائے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: یہ فرق ہے ناں!

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......

مرزا ناصر احمد: اگر کوئی شخص، اگر کوئی ایک Individual...... بہت سارے

٣٩

KISTAN 6th Aug, 1974 No:02

یہ بھی بنتی ہے ناں! ان کے حصے میں۔

جناب یحییٰ بختیار: لیک

مرزا ناصر احمد: ہاں! ا

جناب یحییٰ بختیار: ہا

مرزا ناصر احمد: اس س

جناب یحییٰ بختیار: -

فتوے بھی دیئے اور انکاری بھی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: لیکن و

جناب یحییٰ بختیار: آ

نے وہی بات کہی ہے مرزا صاحب ک

(کسی مسل

مرزا ناصر احمد: ہاں! ا

جناب یحییٰ بختیار:

کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں

جناب یحییٰ بختیار: ا

کہہ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: اگر و

اسلامیہ سے خارج نہیں، مسلمان ۔

244 ہے، ہمارے ان کے ساتھ تعلقات

باوجود اس اختلاف کے احمدیوں ک

ہے کہ دیوبندی کے پیچھے احمدی نماز

١؎ گویا فتاویٰ خلاف آ

قادیانی نہیں۔ چاہے اس نے فتویٰ

جائز نہیں۔ ہائے قلا بازیاں۔ ہائے

صفحہ ٣٣٨

338 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

اس وقت ہمارے ملک میں بھی، دنیا میں بھی ایسے مسلمان ہیں، جب ان سے آپ پوچھیں کس Sect سے، فرقہ سے تعلق ہے۔ تو کہتے ہیں ہمارا کسی فرقہ سے تعلق نہیں ہے۔ ہم مسلمان ہیں سیدھے سادے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب! پوزیشن یہ ہو گئی ناں جی کہ جو انکار کرتا ہے مرزا صاحب کی نبوت سے اس کے پیچھے آپ نماز پڑھ سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو انکار کرتا ہے اس کے پیچھے ہم نماز پڑھتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!

مرزا ناصر احمد: پڑھ رہے ہیں عملاً۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ! اور جنہوں نے فتوے دیئے ہیں ان کے پیچھے نہیں پڑھتے؟

246 مرزا ناصر احمد: یہی شکل بن گئی ہاں تو یہ شکل بن گئی۔

(قائداعظم کا نماز جنازہ)

جناب یحییٰ بختیار: قائداعظم کے پیچھے بھی اسی لئے نماز نہیں پڑھی گئی؟ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔ کیونکہ کسی نے فتوے دیئے تھے۔ انہوں نے ان کو Repudiate نہیں کیا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں! قائداعظم ہمارے جو تھے بڑے...... بڑی انہوں نے خدمت کی ہے پاکستان کی اور اس خطے کے مسلمانوں کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔ وہ شیعہ تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی! ہم تو ایک مسلمان سمجھتے تھے ان کو۔ آپ......

مرزا ناصر احمد: آپ سمجھتے ہوں گے۔ لیکن یہ جو فرقوں کے اتنے بڑے بڑے فتوے، اتنی موٹی موٹی کتابیں ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں! فرقوں کے...... مجھے اتنا علم ہے کہ لندن میں میں سٹوڈنٹ تھا۔ سارے مسلمان اسلامک کلچرل سنٹر میں اکٹھے ہوئے...... شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، چکڑالوی...... Except Ahmadis. And I was shocked, and I could not understand. That explanation I want to know.

مرزا ناصر احمد: اس کا Explanation تو......

جناب یحییٰ بختیار: غائبانہ ہوا جنازہ؟

٤٠

339 NATIONAL ASSEM

Explanation تو بالکل اور نوعیت کا ہے۔ ی سے کٹ کے ہوا میں (Inaudible) میں لیکن وہابیوں میں، دیوبندیوں میں، بریلویوں سے کٹ چکے ہیں اور فتویٰ سے کٹ چکے ہیں۔ پر جاتا رہا ہوں۔ ہماری 247 مساجد میں ساری دنیا اور عیدوں میں شامل ہوتے ہیں اور نمازوں نظر آ رہا۔

ادہ لیاقت علی خان کی وفات کے بعد، شہادت ا غائبانہ نماز جنازہ...... پہلے......

Mr. Yahya Bakh Quetta town got together and aloof.

ں تھے۔

.......میں......نہیں، وہ تو کسی اور فرقے کے جو کسی فرقے کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے، ب تو ہوتا ہے۔ لیکن ان کے عقائد سے 'الف' ی اور کا حق ہے۔

ب ہم حسن ظن ہی کر کے......ان کو اپنے ہی نماز نہیں پڑھتی۔ تو جنہوں نے پڑھی اگر تو ، ان ئے ہیں شیعوں کے متعلق اور ان پر عمل نہیں کر کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا Explanation

تک بھی......

ہیں جی کہ کسی ایک نے فتویٰ دے دیا.......کسی

صفحہ ٣٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں! اس کا Explanation تو بالکل اور نوعیت کا ہے۔ احمدیوں میں اس وقت تک کوئی ایسا نہیں جو جماعت سے کٹ کے ہوا میں (Inaudible) میں Drift کر رہا ہو۔ جس طرح کنکوا کٹ جاتا ہے۔ لیکن وہابیوں میں، دیوبندیوں میں، بریلویوں میں، ہزاروں لاکھوں ایسے آدمی ہیں جو ان کی فقہ سے کٹ چکے ہیں اور فتویٰ سے کٹ چکے ہیں۔ مگر آپ یہ کہتے ہیں ہمارے ...... میں وہاں دوروں پر جاتا رہا ہوں۔ ہماری 247 مساجد میں ساری دنیا کے مختلف عربی بولنے والے ممالک کے لوگ آتے اور عیدوں میں شامل ہوتے ہیں اور نمازوں میں شامل ہوتے ہیں۔ کوئی اختلاف ہی نہیں وہاں نظر آ رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! نوابزادہ لیاقت علی خان کی وفات کے بعد، شہادت کے بعد Again in Quetta, there was غائبانہ نماز جنازہ ...... مرزا ناصر احمد: نہیں ! وہ تو میں نے پہلے ...... Mr. Yahya Bakhtiar: .... All the Muslims of Quetta town got together and said prayers, but Ahmadis kept aloof.

مرزا ناصر احمد: قائد اعظم شیعہ تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: لیاقت علی شیعہ نہیں تھے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں ویسے ...... میں ...... نہیں، وہ تو کسی اور فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں گے۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ جو کسی فرقے کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے، ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ شیعہ کی طرف منسوب تو ہوتا ہے۔ لیکن ان کے عقائد سے ”الف“ باغی ہے۔ یہ میرا حق نہیں ہے اور نہ میں سمجھتا ہوں کسی اور کا حق ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ ...... مرزا ناصر احمد: تو جس وقت ...... اب ہم حسن ظن ہی کر کے ...... ان کو اپنے ہی فرقے کا باغی نہیں سمجھتے اور فرقے کا فتویٰ یہ ہے کہ نماز نہیں پڑھنی۔ تو جنہوں نے پڑھی اگر تو، ان سے آپ پوچھیں کہ آپ نے فتوے یہ دیئے ہوئے ہیں شیعوں کے متعلق اور ان پر عمل نہیں کر رہے۔ اس کو Explain کرو۔ ہماری تو Explanation کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہم، صحیح یا غلط، ایک عقیدہ پر قائم ہیں اور قیامت تک بھی ...... جناب یحییٰ بختیار: 248 وہ تو یہ کہتے ہیں جی کہ کسی ایک نے فتویٰ دے دیا ...... کسی

٤١

صفحہ ٣٤٠

340 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

الیکشن کے جوش میں یا کسی بات میں ..... تو Who takes it seriously وہ یہ کہیں گے۔ مرزا ناصر احمد : یہ ”فتاویٰ رشیدیہ‘ الیکشن سے کہیں پہلے کے ہیں فتاویٰ۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں! میں بات کرتا ہوں، مثال کے طور پر۔ مرزا ناصر احمد : ہاں! تو وہ مثال تو آپ کہیں اور سے لے آتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : یعنی جہاں تک تعلقات کا تعلق ہے۔ Relationship treatment شیعہ سنی، آپس میں یہ انہوں نے فتوے نہیں دیئے کہ لڑکیوں سے شادی نہیں کر سکتے۔

مرزا ناصر احمد : کتنے پیار کا ہے ہمارا Relationship میں میں ..... آپ نے مجھ سے پوچھا تھا اس ضمن میں میں نے بتایا تھا میں بڑا لمبا عرصہ پرنسپل رہا ہوں۔ قطع نظر اس کے کہ بچہ احمدی ہوتا تھا یا نہیں۔ میری اپنی پرنسپل کی ذمہ داریوں کے متعلق اپنی تھیوری تھی۔ میں رات کے دو دو بجے تک اس بچے کے سرہانے بورڈنگ میں رہا ہوں۔ جو زیادہ Serious بیمار ہو گیا اور جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے ان جماعت اسلامی کے طلبہ کو 1952-53 میں وظائف دے کے اور ہر طرح کی سہولتیں مہیا کر کے ان کو بی اے کروایا اور فسادات میں وہ ان گروہوں میں شامل ہوتے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ تو ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب! As a matter of kindness, you do it to a Hindu, a Christian, a Jew, who is an able boy and a deserving boy; somebody is ill, somebody needs your help, تو وہ humanity ہے۔

مرزا ناصر احمد : اور وہ Humanity کہاں گئی۔ جنہوں نے سینکڑوں مکانوں اور دکانوں کو جلا دیا اور لوٹ لی اور آدمیوں کو مار دیا؟ 249 جناب یحییٰ بختیار : ان کو کوئی نہیں Defend کرتا۔ مرزا ناصر احمد : کس نے آواز اٹھائی؟ جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی! کوئی نہیں ..... مرزا ناصر احمد : ان کے خلاف آواز کس نے اٹھائی؟

٤٢

341 NATIONAL A Mr. Yahya Ba them.

Mirza Nasir A them.

Mr. Yahya Ba Rabwah incident eit responsible for this daily

Mirza Nasir A incident?

Mr. Yahya Bak that. ربات خفیفہ، کیا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ

I agree with you, they -

Mirza Nasir A not....

Ch Jehangir A your attention? No disc question and their answe ں آپ کی توجہ اس مسئلے پر چاہتا ہوں کہ شہر Mr. Yahya Ba then we.... رہے ہیں؟)

Mr. Chairman

PDF 342

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Yahya Bakhtiar: No, nobody is defending them.

Mirza Nasir Ahmad: But nobody condemned them.

Mr. Yahya Bakhtiar: Nobody condemned the Rabwah incident either... (Interruption) who was responsible for this daily condemnable incidents?

Mirza Nasir Ahmad: What was the Rabwah incident?

Mr. Yahya Bakhtiar: All right, so we don't go to that.

مرزا ناصر احمد: نہیں، تیرہ (١٣) بچوں کو ضربات خفیفہ، کیا اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سینکڑوں مکانوں اور دکانوں کو جلا دیا جائے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! بالکل نہیں۔ I agree with you, they should be punished..... اس کا سوال نہیں ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: نہیں they should or should not....

Ch Jehangir Ali: Mr. Chairman, Sir, may I draw your attention? No discussion should take place between question and their answers.

(چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین ! میں آپ کی توجہ اس مسئلے پر چاہتا ہوں کہ سوال اور جوابات کے درمیان کوئی بحث نہیں ہونی چاہئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Shall we adjourn? And then we....

(جناب یحییٰ بختیار: کیا ہم اجلاس ملتوی کر رہے ہیں؟)

Mr. Chairman: Yes, we adjourn to meet again at

٤٣

Y OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

الیکشن کے جوش میں یا کسی بات میں...... تو asty مرزا ناصر احمد: یہ ”فتاویٰ رشیدیہ“ جناب یحییٰ بختیار: نہیں ! میں بار مرزا ناصر احمد: ہاں! تو وہ مثال تو جناب یحییٰ بختیار: یعنی جہاں آ treatment شیعہ سنی، آپس میں یہ انہوں کر سکتے۔

مرزا ناصر احمد: کتنے پیار کا ہے و مجھ سے پوچھا تھا اس ضمن میں میں نے بتایا تھا ا کہ بچہ احمدی ہوتا تھا یا نہیں۔ میری اپنی پرنسپل کی کے دو دو بجے تک اس بچے کے سرہانے بورڈنگ اور جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے وظائف دے کے اور ہر طرح کی سہولتیں مہیا ک گروہوں میں شامل ہوتے تھے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے ess, you do it to a Hindu, a ble boy and a deserving boy; ds your help, تو وہ humanity

مرزا ناصر احمد: اور وہ manity اور دکانوں کو جلا دیا اور لوٹ لیا اور آدمیوں کو مارا

249 جناب یحییٰ بختیار: ان کو کوئی مرزا ناصر احمد: کس نے آواز ا جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ! کوا مرزا ناصر احمد: ان کے خلاف آد

صفحہ ٣٤٢

342 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

12:00... twenty five minutes break. The delegation is permitted to withdraw. بارہ بجے پورے (جناب چیئرمین: جی ہاں! ہم ١٢ بجے تک کے لئے وقفہ کر رہے ہیں۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے)

The honourable members may keep sitting. (معزز اراکین تشریف رکھیں)

250 (The Delegation withdrew from the Chamber) (وفد چیمبر سے رخصت ہوتا ہے)

Mr. Chairman: The Special Committee of the House is adjourned for the break, upto 12:00. (جناب چیئرمین: ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ١٢ بجے تک وقفے کے لئے ملتوی ہوتا ہے)

---------

EVASIVE OR INCORRECT REPLIES

BY THE WITNESS

پروفیسر غفور احمد : جس طرح چل رہا ہے...... جناب چیئرمین: ہاں؟ پروفیسر غفور احمد : یہ جس طرح ڈسکشن چل رہا ہے...... جناب چیئرمین: ہاں؟ پروفیسر غفور احمد : میری گزارش یہ ہے کہ ایک سوال کرنے کے بعد ان کا جواب لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔

Mr. Chairman: I will request the Attorney- General to be attentive. Muhammad Haneef Khan, just a minute. Attorney- General being... yes. (جناب چیئرمین: میں اٹارنی جنرل سے گزارش کروں گا کہ وہ متوجہ ہوں۔ محمد حنیف خان، ایک منٹ......)

٤٤

343 NATIONAL ASS

کہ ایک سوال جب پوچھتے ہیں تو پھر وہ اس بہت سی دوسری باتیں بیان کرنا شروع کر ہی سوال کو کتنا ہم آگے تک بڑھائیں اور

Mr. Chairman:

سے غلط ہے) اور چیز ہے کہ جس طرح انہوں نے بتایا آئین نہ بچوں کو ذبح کیا گیا۔ ڈنمارک کا

Mr. Chairman:

ح کا نہیں ہے۔ ریکارڈ پر ایک چیز آ رہی ارش کروں گا کہ اس میں کچھ تھوڑا سا دیکھا کا واقعہ ہے۔ کون عورت تھی وہ اور کہاں خود وہاں کے لوگ ملے ہیں...... کہ وہاں ۔ بعد میں جب معلوم ہوا ہے تو ان کے سے، یہ واقعات آتے ہیں ریکارڈ پر تو سننے

Mr. Chairman:

رمائیے)

Mr. Yahya Bak

be on the record. The n they will form their own inferences, but if, at this evidence, anybody tries to that the National Assemb

صفحہ ٣٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

پروفیسر غفور احمد : میں یہ گزارش کر رہا تھا کہ ایک سوال جب پوچھتے ہیں تو پھر وہ اس کو سائیڈ ٹریک کرتے ہیں۔ Evade کرتے ہیں۔ بہت سی دوسری باتیں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک ہی سوال کو کتنا ہم آگے تک بڑھائیں اور کتنا ہم ......

Mr. Chairman: The answer should be taken.

(ڈنمارک کا واقعہ سرے سے غلط ہے)

پروفیسر غفور احمد : لیکن اس میں ایک اور چیز ہے کہ جس طرح انہوں نے بتایا ہے...... جعفر صاحب نے ...... حالیہ واقعات کی یہ باتیں آئیں کہ بچوں کو ذبح کیا گیا۔ ڈنمارک کا واقعہ مجھے معلوم ہے کہ بالکل غلط ہے......

Mr. Chairman: These are not....

251 پروفیسر غفور احمد: کوئی واقعہ اس طرح کا نہیں ہے۔ ریکارڈ پر ایک چیز آرہی ہے۔ اس کو Refute بھی نہیں کیا گیا ہے تو میں یہ گزارش کروں گا کہ اس میں کچھ تھوڑا سا دیکھا جائے۔ ڈنمارک کا پوچھا جائے کب کا واقعہ ہے۔ یہ کہاں کا واقعہ ہے۔ کون عورت تھی وہ اور کہاں وہ شائع ہوا ہے؟ اس لئے کہ مجھے یہ بات معلوم ہے ...... خود وہاں کے لوگ ملے ہیں ...... کہ وہاں مسلمان بے حساب تعداد میں ہیں اور احمدی تھوڑے ہیں۔ بعد میں جب معلوم ہوا ہے تو ان کے ساتھ انہوں نے قطع تعلق کیا ہے۔ لوگوں نے ، اس وجہ سے ، یہ واقعات آتے ہیں ریکارڈ پر تو سننے والا سمجھتا ہے کہ شاید یہ صحیح ہے۔

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب فرمائیے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I said everything would be on the record. The members are judges. They will see, they will form their own opinion, they can draw their own inferences, but if, at this stage when the witness is giving evidence, anybody tries to stop him, they will give an excuse that the National Assembly of Pakistan did not give him a

٤٥

صفحہ ٣٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

proper hearing, he was stopped from answering questions. So it does not matter if it takes a little more time. We should bear with that, we should put up with that. This is my request.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب نے کہا ہے کہ ہر چیز ریکارڈ پر ہوگی۔ ممبران صاحبان خود جج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ممبران سب کچھ دیکھیں گے۔ اپنی رائے خود بنائیں گے اور اپنے نتائج خود اخذ کریں گے۔ مگر اس اسٹیج پر جب کہ گواہ اپنی شہادت پیش کر رہا ہے۔ اگر کوئی اس کو روکے گا تو وہ جھوٹ سے یہ بہانہ لے آئیں گے کہ قومی اسمبلی نے ان کی صحیح شنوائی نہیں کی اور سوالات کے جوابات دینے سے اس کو روک دیا گیا۔ اس لئے کوئی بات نہیں۔ اگر کچھ اور وقت صرف ہو جائے تو ہم کو برداشت کرنا چاہئے۔ یہ میری گذارش ہے)

Professor Ghafoor Ahmad: The incident of Denmark, he may be asked to give documentary evidence.

(پروفیسر غفور احمد: مثلاً وہ ڈنمارک کا واقعہ بتائے تو ان سے تحریری ثبوت طلب کریں)

(مرزا ناصر جواب دینے سے کتراتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I know sir, because he is avoiding and that the record will show, and you are the judges. I have asked the question again and again, and again and again he avoids replying, because he has got no reply, and you know that, but let the record speak for itself. But if you stop him or if the Chairman stops him, then he can have a legitimate excuse that the National Assembly did not give him a proper hearing. It is a very important issue. So it makes no difference. I get tired, you get tired, but we will stay for a day more. Let him talk, let him say whatever he wants to say. Already he has made a grievance that he

٤٦

صفحہ ٣٤٥

345 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

wanted to submit a further statement, but sufficient time was not given. So my request is, let him put up, let him say whatever he wants.

(مرزا ناصر کے پاس جواب کے لئے کچھ نہیں ہے)

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے معلوم ہے جناب! وہ جواب سے کترا رہے ہیں اور ریکارڈ سے یہ سب ثابت ہو رہا ہے اور آپ حضرات بحیثیت جج کے ہیں۔ میں نے بار بار سوال کیا۔ بار بار سوال کیا ہے۔ مگر وہ جواب سے کتراتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس دینے کو کوئی جواب ہی نہیں ہے اور یہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے ریکارڈ خود ثابت کر رہا ہے۔ لیکن اگر ہم جواب سے اس کو روکیں یا صدر صاحب روکیں تو اس کو ایک جائز حق مل جاتا ہے۔ یہ کہنے کا کہ قومی اسمبلی نے اس کو صحیح شنوائی کے حق سے محروم رکھا۔ اس لئے یہ خاص بات ہے اور اس سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ آپ بھی تھک گئے ہیں، میں بھی تھک جاتا ہوں۔ تو کیا ہوا ہم ایک روز اور ٹھہر جائیں گے۔ کہنے دیں اسے جو وہ کہنا چاہتا ہے۔ ایسے ہی اس نے ایک شکایت کر دی ہے کہ وہ ایک مزید بیان دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس کی اجازت اس کو نہیں ملی تو میری گزارش ہے کہ اس کو چھوڑ دیں۔ کہنے دو جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے)

252 Mr. Chairman: Ch. Jahangir Ali's suggestion may also be kept in view.

(جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر صاحب کی تجویز کو بھی نظر میں رکھیں)

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب!.......

جناب چیئرمین: جی! میں آپ....... ابھی ایک سیکنڈ Ch. Jehangir Ali's suggestion may aslo be kept in view. He has also suggested certain things. The honourable member can talk to the Attorney General just in the recess.

آپ Recess میں بات کرلیں ان سے۔ جی! مولانا نعمت اللہ!

مولوی نعمت اللہ: جی! عرض یہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جو ان کو کہا کہ قائد اعظم کے اوپر نماز جنازہ آپ نے نہیں پڑھی تو جب تک اس کا صحیح جواب نہ دے اس وقت

٤٧

صفحہ ٣٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Inaudible ....... تک

جناب چیئرمین: اس کا جواب دے دیا ہے کہ وہ شیعہ تھے۔ وہ کہتے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق ..... ہم اپنے عقیدے پر قائم ہیں اور شیعہ کے .....

مولوی نعمت اللہ: اس نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کیں اور ہم نے نہیں سنا کہ جواب کیا دیا۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ جواب آگیا ہے اس کا جواب آگیا ہے۔

مولوی نعمت اللہ: جواب دینا چاہئے تھا کہ یہ بات ہے، یہ بات ہے، یہ بات ہے۔ جب تک تفصیل کے ساتھ معلوم نہ ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟

مولوی مفتی محمود: جناب والا!

جناب چیئرمین: مولانا مفتی محمود!

مولوی مفتی محمود: جب یہ تکفیر کے فتوے کا ذکر ہو رہا تھا، جنازے کی نماز کا ذکر ہو رہا تھا تو دو مسئلے یہ بنائے اس نے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف عبارتیں پڑھیں اور مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان میں جو تکفیر کا مسئلہ تھا وہ ساری عبارتیں پڑھتا گیا۔ وہ بالکل سوال سے متعلق بات نہیں تھی۔ تو وہ جو سوال سے بالکل غیر متعلق کوئی بات کہتے ہیں تو اس کو کم از کم روکنا چاہئے کہ سوال کے......

جناب چیئرمین: وہ (اٹارنی جنرل) اگر Objection کریں گے تو میں اس کے خلاف اقدام کروں گا۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: صدر محترم!.......

جناب چیئرمین: ابھی خان لیاقت علی والا سوال جو ہے وہ پینڈنگ ہے۔ قائد اعظم کے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ وہ چونکہ شیعہ تھے۔ اس واسطے ہم نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔

مولوی نعمت اللہ: نہیں تفصیل کے ساتھ تو ہم کو معلوم نہیں ہوا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I asked about Quaid -i- Azam. He said he was Shia. Then I asked: what about Nawabzada Liaquat Ali Khan? His reply was same to that. I am coming to that.

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں نے قائد اعظم کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اس نے کہا وہ شیعہ تھے۔ پھر میں نے پوچھا نواب زادہ لیاقت علی خان کیا تھے۔ اس سوال کے لئے بھی وہی جواب تھا۔ میں اس طرف آ رہا ہوں)

٤٨

347 NATIONAL ASSEMBLY OF PA

Mr. Chairman: Yes, he is c

ہاں! وہ اس طرف آ رہے ہیں......)

علی تو سنی تھا۔ اس کا بھی نہیں پڑھتے۔ اس کا بھی۔ کوئی فرق ۔ اس کی بھی نہیں پڑھتے۔

کو Pin-point کر رہے ہیں۔

ے ان سے اور سوال بھی پوچھ رہا ہوں اس پر جی، نماز اور ہو رہا ہوں میں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی۔

اروی: جناب! مجھے اس بات میں ذرا تامل ہے کہ جو کچھ ا میں شک نہیں کہ ان کو موقع دینا چاہئے اور یہ سوال نہ ہونا نہیں دیا۔ یا صفائی کا موقع نہیں ملا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب س پڑھا جا سکتا۔ کیا تم عیسائی بچے کا جنازہ پڑھتے ہو؟ اب یہ ا کہ آیا مسلمان بچے کا جنازہ جو نہ پڑھنے کا حکم دیا ہے عیسائی م دونوں کیٹگریوں کے لحاظ سے...... اسلام سے اور ملت یہ ہے کہ عیسائیوں کو دونوں سے خارج کرتے ہیں......

ایت الرحمٰن عباسی!

عباسی: میں جناب! ایک میں......

ن: عیسائیوں کو، میں عرض کرتا ہوں، وہ دونوں سے خارج ہے......

ز مولانا! آپ بحث کر سکتے ہیں۔ اس پر آپ بحث کر سکتے

دوسری بات میں عرض کروں کہ جب اس نے یہ بیان کیا...... کی باتیں ہیں ناں۔

ن: ...... کہ فلاں اور فلاں جگہ کے علماء نے علمائے دیوبند

! یہ بحث کی باتیں ہیں۔ اس وقت جو باتیں ہم کرتے

٤٩

صفحہ ٣٤٧

347 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Chairman: Yes, he is coming....

(جناب چیئرمین: جی ہاں! وہ اس طرف آ رہے ہیں ......)

مولوی مفتی محمود: لیاقت علی تو سنی تھا۔ اس کا بھی نہیں پڑھتے۔ اس کا بھی۔ کوئی فرق تو آخر ہے۔ لیاقت علی خان تو سنی تھے۔ اس کی بھی نہیں پڑھتے۔

جناب چیئرمین: وہ ان کو Pin-point کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ان سے اور سوال بھی پوچھ رہا ہوں اس پر جی، نماز اور قائد اعظم کے جنازے پر اور سوال پوچھ رہا ہوں میں۔

جناب چیئرمین: اچھا! مولانا غلام غوث ہزاروی۔

254 مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب! مجھے اس بات میں ذرا تامل ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے آیا یہ بالکل صحیح ہو رہا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ ان کو موقع دینا چاہئے اور یہ سوال نہ ہونا چاہئے کہ ہم کو موقع نہیں دیا۔ ہم کو وقت نہیں دیا۔ یا صفائی کا موقع نہیں ملا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ مسلمان بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا۔ کیا تم عیسائی بچے کا جنازہ پڑھتے ہو؟ اب یہ ایک سوال تھا۔ میں نے لکھ کر دیا۔ وہ یہ تھا کہ آیا مسلمان بچے کا جنازہ جو نہ پڑھنے کا حکم دیا ہے عیسائی کے بچے کی طرح، کیا اس مسلمان کو تم دونوں کیٹگریوں کے لحاظ سے ...... اسلام سے اور ملت سے ...... خارج کرتے ہو یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ عیسائیوں کو دونوں سے خارج کرتے ہیں ......

جناب چیئرمین: مسٹر عنایت الرحمٰن عباسی!

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: میں جناب! ایک میں ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: عیسائیوں کو، میں عرض کرتا ہوں، وہ دونوں سے خارج کرتے ہیں۔ ملت سے بھی اور اسلام سے ......

جناب چیئرمین: اس پر تو مولانا! آپ بحث کر سکتے ہیں۔ اس پر آپ بحث کر سکتے ہیں۔ جواب آ گیا ہے گواہ کا۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: دوسری بات میں عرض کروں کہ جب اس نے یہ بیان کیا ......

جناب چیئرمین: یہ تو بحث کی باتیں ہیں ناں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: ...... کہ فلاں اور فلاں جگہ کے علمائے دیوبند کے خلاف فتوے دیئے ہیں ......

جناب چیئرمین: مولانا! یہ بحث کی باتیں ہیں۔ اس وقت جو باتیں ہم کرتے

٤٩

صفحہ ٣٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ہیں ۔ Recess میں وہ پروسیجر کی ضابطہ کی کرتے ہیں۔ یہ بحث کی باتیں جو ہیں یا اپنے دلائل کی 255 باتیں جو ہیں یا سوالوں کی باتیں ہیں، یہ تو آپ اپنے بیان میں کہیں گے یا ان (اٹارنی جنرل) کو کہہ دیں۔ ہاں یہ ہے کہ ضابطے میں اگر کسی قسم کا کسی کو اختلاف ہے......

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: میں جناب اس ضمن میں ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: بہرحال ، ان فتاویٰ کے بارے میں جو انہوں نے پیش کئے ......

جناب چیئرمین: یہ ......

مولانا غلام غوث ہزاروی: ...... علمائے دیوبند پر جھوٹے الزام لگے۔ اس کا جواب حضرت مولانا ......

جناب چیئرمین: جی مولانا! یہ بحث کی بات ہے۔ یہاں ہم ابھی صرف ضابطے کی بات کریں گے۔ یہ آپ اپنی تقریر میں بحث کریں گے جی۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: میں کیا کروں جی؟

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: یہی میں ...... یہی میں ......

جناب چیئرمین: ان کو روکیں ناں جی۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: یہی میں گذارش کرنے والا تھا۔ جناب والا ! کہ کیا اس ساری کاروائی کے بعد اس پر بحث و مباحثہ ہوگا ؟

جناب چیئرمین: ہاں جی!

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: تو جب بحث ہوگی تو ہر ایک ممبر کا یہ حق ہے۔ ڈنمارک کا واقعہ اگر انہوں نے غلط بیان کیا ہے ......

جناب چیئرمین: یہی ، یہ بات عباسی صاحب! میں خود کہہ رہا ہوں ۔

256 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: جنازے کا واقعہ اگر غلط بیان کیا ہے تو اپنی Speeches میں اس کی پوری طریقے سے تردید کر دیں۔

جناب چیئرمین: یہی بات میں نے عرض کر دی ہے کہ یہاں صرف ضابطے کی ڈسکشن ہوا کرے گی ، ضابطے کے متعلق ۔

جی مسٹر عبد الحمید خاں جتوئی!

چوہدری جہانگیر علی: مسٹر چیئرمین! میں ضابطے کے متعلق ہی ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

صفحہ ٣٤٩

349 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب عبدالحمید جتوئی: جناب چیئرمین! ہمیں کل سے پتہ لگا ہے کہ ہم اس ہاؤس میں جج بنے ہیں اور ہم فیصلہ کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں ہماری پوزیشن وہی ہے جیسے کہ کسی نان ایڈووکیٹ کو ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جائے اور وہ فتویٰ دے اور اس جج کا جو فتویٰ ہے۔ بنچ کی حیثیت سے۔۔۔۔۔۔ میری تو عرض یہ ہے کہ یا تو ہم اسلام کے ماہر ہوں، اسلامیات پڑھے ہوئے ہوں، یا پروفیسر ہوں اسلامیات کے تو پھر ہم سے فتوے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن ایسے حالات میں ہمارے لئے As a lay-man بڑا مشکل ہے کہ ہم جج بنیں۔

جناب چیئرمین: آپ نے فتویٰ نہیں دینا، آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔

جناب عبدالحمید جتوئی: فیصلہ کرنا ہے؟

جناب چیئرمین: فیصلہ کرنا ہے۔

جناب عبدالحمید جتوئی: فیصلہ کرنے کا اس آدمی کو کیسے حق آپ دیتے ہیں جس کو فیصلے کے قانون کا پتہ نہ ہو؟

چوہدری جہانگیر علی: مسٹر چیئرمین! ......

257 جناب عبدالحمید جتوئی: انتہائی زیادتی ہے ہمارے ساتھ۔

جناب چیئرمین: یہ پھر بعد میں فیصلہ کریں گے۔

چوہدری جہانگیر علی: مسٹر چیئرمین! ایک پروسیجرل بات میں یہ عرض کرتا ہوں، جناب والا! یہ گذارش کرنا چاہتا ہوں جناب والا! .......

Mr. Chairman: I adjourn the House to meet at 12:00. The rest will be discussed later on.

(جناب چیئرمین: ایوان کا اجلاس ١٢ بجے تک ملتوی ہوتا ہے۔ بقیہ بحث بعد میں ہو گی)

----------

{The Special Committee of the whole House adjourned to meet at 12:00 noon.}

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر ١٢ بجے تک کے لئے ملتوی)

----------

٥١

STAN 6th Aug, 1974 No:02

ہیں۔ Recess میں وہ پروسیجر 255 باتیں جو ہیں یا سوالوں کی باتیں کہہ دیں۔ ہاں یہ ہے کہ ضابطے

سردار عنایت الرحمٰن

مولانا غلام غوث ہزا

جناب چیئرمین:

مولانا غلام غوث

جواب حضرت مولانا.......

جناب چیئرمین:

بات کریں گے۔ یہ آپ اپنی تقریر

جناب چیئرمین:

سردار عنایت الرحمٰن

جناب چیئرمین:

سردار عنایت الرحمٰن

کیا اس ساری کاروائی کے بعد

جناب چیئرمین:

سردار عنایت الرحمٰن

ڈنمارک کا واقعہ اگر انہوں نے

جناب چیئرمین:

256 سردار عنایت

Speeches میں اس کی پوری

جناب چیئرمین

ڈسکشن ہوا کرے گی، ضابطے کے

جی مسٹر عبدالحمید خا

چوہدری جہانگیر

چاہتا ہوں۔

صفحہ ٣٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

[The Special Committee of the whole House reassembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

----------

CITATION OF FATWAS AND

THEIR REFUTATIONS

(مرزا ناصر کے محولہ فتوؤں کی تردید موجود ہے)

چوہدری غلام رسول تارڑ : جناب چیئرمین ! میں آپ کی اجازت سے جناب اٹارنی جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ جو فتوے پڑھے گئے ہیں ، مرزا صاحب نے یہاں پڑھے ہیں فتوے ، ان کی تردید علمائے دین نے جو کی ہوئی ہے ۔ وہ اگر کسی ان ممبران یا مولانا صاحب کے پاس ہو تو ان کی بابت چونکہ تسلی کرنی چاہئے ۔ اگر تردید ہے تو یہاں جو بیان ہوا ہے اس کا اثر کچھ اچھا نہیں ہوگا ۔ اس لئے میں گزارش کروں گا ۔ اگر عزیز بھٹی صاحب کے پاس ہوں تو ان کو دے دیں تاکہ وہ ......

جناب چیئرمین : مولانا، عزیز بھٹی صاحب کو پہنچا دیں ناں ۔

258 جناب عبدالعزیز بھٹی : سر ! یہ مولانا مفتی محمود صاحب نے دیا تھا ۔ انہوں نے کہا جی کہ تردید ہوئی ہے اور وہ Citation بھی دی ہوئی ہے ۔ سپلیمنٹری کے لئے دیا ہے۔ انہوں نے جب اٹارنی جنرل صاحب مناسب موقع سمجھیں گے تو پوچھ لیں گے ۔

(At this stage the Deligation entered the Chamber)

----------

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین : جی جناب اٹارنی جنرل صاحب !)

(قائد اعظم کے جنازہ میں قادیانیوں کی عدم شرکت)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I was asking you a

٥٢

صفحہ ٣٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

question about Namaz -e- Janaza and explanation given on behalf of the Ahmadia Jamaat, about Ch. Zaffarullah not joining in the Janaza prayer of Quaid -e- Azam is....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! میں آپ سے ایک سوال کر رہا تھا نماز جنازہ سے متعلق۔ احمدی جماعت کی جانب سے وضاحت چوہدری ظفر اللہ خان کا قائد اعظم کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا)

مرزا ناصر احمد: یہ آفیشل ہے یا کسی نے دیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو بتاتا ہوں جی۔ ٹریکٹ نمبر ٢٤ بعنوان ”احراری علماء کی راست گوئی کا ایک نمونہ“ الناشر مہتمم نشر و اشاعت، نظامت دعوت و تبلیغ، صدر انجمن احمدیہ، ربوہ، ضلع جھنگ۔ Whether you call it official or not

مرزا ناصر احمد: آں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ”چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا نماز جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“

This was the reason given officially or unofficially, as you may....

مرزا ناصر احمد: یعنی ”قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنا قابل اعتراض بات نہیں۔“ یہ اس کا Explanation یہ اعتراض ہے؟

259 جناب یحییٰ بختیار: ”کیونکہ وہ غیر احمدی تھے۔“

مرزا ناصر احمد: نہیں! ”قابل اعتراض نہیں۔“ اس پر اعتراض ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں کہتا ہوں کہ Is this explanation a correct explanation from your point of view?

مرزا ناصر احمد: ”قابل اعتراض نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ”چونکہ وہ غیر احمدی تھے۔“ آپ نے ایک دفعہ کہا کہ وہ شیعہ تھے تو اس پر Clarification میں چاہتا ہوں کہ That was the reason or the reason was that he was not Ahmadi?

٥٣

صفحہ ٣٥٣

352 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: وہ شیعہ تھے اور شیعہ حضرات کا بھی فتویٰ ہے کہ احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھنا۔ ہے نا فتویٰ اور جب ان کا یہ فتویٰ ہے تو یہ فتنہ اور فساد والی بات ہے۔ میں نے آپ کو یہ بتایا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے وہ۔ پھر میں نے نوابزادہ لیاقت علی خان کا پوچھا تھا۔ وہ تو شیعہ نہیں تھے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں! میں نے آپ سے یہ عرض کی تھی کہ جماعت احمدیہ اور دوسرے مختلف جو فرقے ہیں ان میں یہ فرق ہے کہ بہت سے دیوبندی ...... مثلاً دیوبندی والدین کی اولاد Drift Away کرگئی ہے۔ اپنے مؤقف سے ...... تو احمدیوں میں ایسے کم ہیں۔ ہیں، بالکل استثناء، مثلاً دس ہزار میں ایک ہوگا یا لاکھ میں ایک ہوگا۔ لیکن وہاں بہت ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان سے پوچھنا چاہئے۔ پڑھنے والوں سے، کہ تمہارے فرقے کا فتویٰ یہ ہے کہ تم نے نہیں پڑھنا، تو کیوں پڑھا تم نے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ کا فتویٰ جو ہے...... نہیں پڑھنا...... اسی وجہ سے ہے کہ وہ غیر احمدی ہیں؟

260 مرزا ناصر احمد: اس وجہ سے ہے کہ وہ شیعہ مذہب سے۔ فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور شیعوں کا یہ فتویٰ ہے کہ احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھنا اور ہمارے فتوے سے پہلے کا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور نوابزادہ لیاقت علی خان، سنی تھے۔ ان کی بھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فتوے دیئے تھے؟

مرزا ناصر احمد: سنی جو ہے وہ اس کے مختلف فرقوں کے مجموعوں کو بعض دفعہ کہا جاتا ہے تو اگر پتہ لگ جائے کہ وہ وہابی تھے یا بریلوی تھے یا اہل حدیث تھے یا اہل قرآن تھے۔ تو پھر ان کا فتویٰ آپ کو بتا دیتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں مرزا صاحب! یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ ایک تو یہ ہوا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہ فلانے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فرقے نے آپ کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔ اس لئے آپ ضروری نہیں سمجھتے۔ جائز نہیں سمجھتے کہ ان کے جنازہ میں شریک ہوں ......

مرزا ناصر احمد: مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ فتنے کی بات ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دوسری بات یہ ہے کہ ”کیونکہ غیر احمدی ہیں“ فتویٰ ہو یا نہ ہو۔ یہاں جو Explanation دی گئی ہے۔ ”کیونکہ قائداعظم غیر احمدی تھے ۔“

٥٤

353 NATIONAL ASSEM

Ex کا آپ استدلال کر رہے تھے۔ میرے پر ہم کہہ دیتے ہیں کہ غیر احمدی ہے۔ لیکن سے تعلق ہے جو ہم سے پہلے فتویٰ دے چکے کا جواب دیا ہے۔ پڑھا ہے وہ۔

...... ......

ن صاحب نے ١٩٥٣ء میں تحقیقاتی عدالت اعظم کا جنازہ پڑھانے والے شبیر احمد عثمانی مانے والے، شبیر احمد عثمانی ، وہ اس وقت جس ظفر اللہ خان صاحب کو مرتد سمجھتے تھے۔” اس ب ہم میں پیدا ہوئے ہیں جو قائد اعظم کو کافر

احمدیوں نے پڑھا؟)

......

لے ہیں۔ ہاں ٹھیک ہے وہ چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ یہ تو ٹھیک مولانا شبیر احمد عثمانی نے ان کے خلاف فتویٰ پڑھا رہے تھے۔ چوہدری صاحب اس میں کستان میں، دنیا میں، غائبانہ جنازہ قائد اعظم

......

Mr. Yahya Bakht... ی گئی تھی۔ چوہدری صاحب کے جنازہ میں

الفضل“ ٢٨؍ اکتوبر ١٩٥٢ء ج٢٠/٦ نمبر ٢٥٢ ص٤)

صفحہ ٣٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: یہ جو Explanation کا آپ استدلال کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک وہ استدلال غلط ہے۔ اس واسطے کہ عام طور پر ہم کہہ دیتے ہیں کہ غیر احمدی ہے۔ لیکن ہمارے دماغ میں یہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی ایسے فرقے سے تعلق ہے جو ہم سے پہلے فتویٰ دے چکے ہیں نماز نہ پڑھنے کا اور چوہدری صاحب نے خود اس کا جواب دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ! میں نے پڑھا ہے وہ۔

261 مرزا ناصر احمد: چوہدری صاحب کا ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ! پڑھ کر سنا دیجئے۔

مرزا ناصر احمد: چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ١٩٥٣ء میں تحقیقاتی عدالت کے سامنے اس سوال کا خود جواب دیا تھا کہ ”قائداعظم کا جنازہ پڑھانے والے شبیر احمد عثمانی صاحب مجھے مرتد سمجھتے تھے ۔“ جو امام تھے ، جنازہ پڑھانے والے ، شبیر احمد عثمانی ، وہ اس وقت جس وقت انہوں نے نماز جنازہ کی امامت کی ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو مرتد سمجھتے تھے ۔ ”اس واسطے ان کے پیچھے میں نے نہیں پڑھا۔“ اور وہ لوگ ہم میں پیدا ہوئے ہیں جو قائداعظم کو کافر اعظم کہتے ہیں ! ......

(دنیا میں کہیں غائبانہ جنازہ احمدیوں نے پڑھا ؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ! وہ تو خیر ......

مرزا ناصر احمد: ...... اور اس قسم کے حوالے ہیں۔ ہاں ٹھیک ہے وہ چھوڑ دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں ، وہ نہیں ، میں آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ یہ تو ٹھیک ہے ۔ چوہدری صاحب کے پوائنٹ آف ویو سے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے ان کے خلاف فتویٰ دیا تھا ۔ ان کو کافر سمجھتے تھے ۔ اس لئے وہ نماز جنازہ پڑھا رہے تھے ۔ چوہدری صاحب اس میں شامل نہیں ہوئے ۔ کیا احمدیہ جماعت نے کسی جگہ ، پاکستان میں ، دنیا میں ، غائبانہ جنازہ قائداعظم کا پڑھا اپنے کسی امام کے پیچھے ؟

مرزا ناصر احمد: میرے علم میں نہیں ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

اب ایک اور Explanation یہ دی گئی تھی ۔ چوہدری صاحب کے جنازہ میں شامل نہ ہونے کے بارے میں ......

(”الفضل“ ٢٨؍ اکتوبر ١٩٥٢ء مج ٦ / ٣٠ نمبر ٢٥٢ ص ٤)

٥٥

KISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: وہ شیعہ نہیں پڑھنا۔ ہے نا فتوٰی اور جب آپ کو یہ بتایا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: غو تھا۔ وہ تو شیعہ نہیں تھے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں دوسرے مختلف جو فرقے ہیں ان میں کی اولاد Drift Away کر گئی ہیں، بالکل استثناء، مثلاً دس ہزار میں ہے کہ ان سے پوچھنا چاہئے۔ پڑھے پڑھنا، تو کیوں پڑھا تم نے۔

جناب یحییٰ بختیار: پڑھنا...... اسی وجہ سے ہے کہ وہ غیرا

260 مرزا ناصر احمد: اس تھے اور شیعوں کا یہ فتوٰی ہے کہ احمدیوں

جناب یحییٰ بختیار: او انہوں نے فتوے دیئے تھے؟

مرزا ناصر احمد: سنی ج ہے تو اگر پتہ لگ جائے کہ وہ وہابی تھ کا فتوٰی آپ کو بتا دیتے۔

جناب یحییٰ بختیار: غو آپ کو معلوم ہوا کہ یہ فلانے فرقے تھا۔ اس لئے آپ ضروری نہیں سمجھتے

مرزا ناصر احمد: مناسب

جناب یحییٰ بختیار: در یہاں جو Explanation دی گ

صفحہ ٣٥٤

354 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

262 ”جب قادیانی امت پر مسلمانوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ قائداعظم مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلامیہ نے ان کا جنازہ پڑھا ہے تو جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ: ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے؟ مگر نہ مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا، نہ رسولِ خدا نے۔“

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”الفضل“ ٢٨؍اکتوبر ١٩٥٢ء۔

مرزا ناصر احمد: چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے اپنے بیان کے بعد یہ قیاس آرائیاں کوئی وزن نہیں رکھتیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں یہ کہتا ہوں......

Mr. Chairman: No, no, just a minute....

(جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، ایک منٹ......)

(قادیانی خلیفہ، اخبار الفضل کے حوالہ سے منکر ہوگئے)

مرزا ناصر احمد: یہ آفیشل نہیں ہے۔

Mr. Chairman: .....the question is whether this writing is admitted or not? This is the question, first the witness has to say.

(جناب چیئرمین: سوال یہ ہے کہ یہ تحریر قبول ہے یا نہیں۔ گواہ پہلے اس سوال کا جواب دے)

Mr. Yahya Bakhtiar: (To Mr. Chairman) Sir, I have read it out and the witness has said that it has got no value after Ch. Zafarullah Khan's.....

(جناب یحییٰ بختیار: (جناب چیئرمین سے) جناب! میں نے پڑھ کر سنا دیا ہے۔ مگر گواہ کہتا ہے کہ اس کا کوئی وزن نہیں ہے ظفر اللہ خان کے کہنے کے بعد......)

Mr. Chairman: That is an opinion of the witness. The witness can express his opinion......

٥٦

355 NATIONAL ASS

ہے۔ گواہ کو رائے کا اظہار کا حق ہے ۔ لیکن

Mr. Yahya Bakh

Mr. Chairman whether the writing is adm

263 Mr. Yahya Ba So, you don't agree with th

ب ہو کر تو آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے؟ )

اللہ خان صاحب کے اپنے بیان کے بعد

(غلط ہے )

ابوطالب اور قائداعظم کو ایک کیٹیگری میں

ت نہیں کہا۔ مجھے اب بھی سن کے تکلیف

ب مسلمان ایک شرعی نبی کو نہیں مانتا ، اور Same کیٹیگری؟

لا نفرق بین احد من رسلہ یہ تعلیم

کے والد مرزا بشیر الدین محمود کے زمانہ میں پڑا تو گول ہو گئے۔ قادیانی کرم فرما، اپنی

صفحہ ٣٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(جناب چیئرمین: ہاں! گواہ کی یہ رائے ہے۔ گواہ کو رائے کا اظہار کا حق ہے۔ لیکن گواہ یہ تو بتائے کہ یہ تحریر تسلیم ہے یا نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is for the....

Mr. Chairman: .... but the witness has to say whether the writing is admitted or not.

263 Mr. Yahya Bakhtiar: (To Mirza Nasir Ahmad) So, you don't agree with this?

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد سے مخاطب ہو کر تو آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے؟)

مرزا ناصر احمد: ہاں! میں سمجھتا ہوں کہ ظفر اللہ خان صاحب کے اپنے بیان کے بعد یہ ساری قیاس آرائیاں سمجھنی چاہئیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو......

(اخبار الفضل کی بات غلط ہے)

مرزا ناصر احمد: یہ غلط تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: جس نے یہ کہا ہے......

مرزا ناصر احمد: وہ درست نہیں کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... درست نہیں کہا کہ ابو طالب اور قائد اعظم کو ایک کیٹگری میں رکھنا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! بالکل، بالکل! درست نہیں کہا۔ مجھے اب بھی سن کے تکلیف ہوئی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اگر ایک مسلمان ایک شرعی نبی کو نہیں مانتا، اور ایک غیر شرعی نبی کو نہیں مانتا، ان میں کچھ فرق پڑتا ہے؟ یا Same کیٹگری؟

مرزا ناصر احمد: قرآن عظیم نے فرمایا ہے: لا نفرق بین احد من رسلہ یہ تعلیم

١؎ اخبار الفضل ٢٨؍ اکتوبر ١٩٥٢ء مرزا ناصر کے والد مرزا بشیر الدین محمود کے زمانہ میں شائع ہونے والا اس سے مرزا ناصر منکر ہو گیا۔ ذرہ زور پڑا تو گول ہو گئے۔ قادیانی کرم فرماء اپنی قیادت کی اداؤں پر غور فرمائیں۔

٥٧

PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

262

جب قادیانی امت پر س مسلمانوں کے محسن تھے اور تمام ملت اسلا دیا کہ: ’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی مگر نہ مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا، نہ

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ

جناب یحییٰ بختیار: یہ ’’الفض

مرزا ناصر احمد: چوہدری ظ آرائیاں کوئی وزن نہیں رکھتیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ج

Just a minute....

(جناب چیئرمین: نہیں ج

(قادیانی خلیفہ، اخبار ا

مرزا ناصر احمد: یہ آفیشل نیو

question is whether this is the question, first the

(جناب چیئرمین: سوال جواب دے)

To Mr. Chairman) Sir, I as said that it has got no ....

(جناب یحییٰ بختیار: (جنا مگر گواہ کہتا ہے کہ اس کا کوئی وزن نہیں ہے

an opinion of the witness. n......

صفحہ ٣٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

دی ہے کہ ہم رسول، رسول میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ یہ قرآن کریم کی آیت کا ایک ٹکڑا ہے جو میں نے پڑھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: خواہ وہ شرعی ہو یا غیر شرعی؟

مرزا ناصر احمد: جی ہاں! کوئی ذکر شرعی اور غیر شرعی کا نہیں۔ لا نفرق بین احد من رسله !

264 جناب یحییٰ بختیار: یہ شرعی نبیوں کے بارے میں نہیں کہا گیا؟

مرزا ناصر احمد: نہیں بالکل نہیں! کوئی یہاں قیاس ...... آگے پیچھے فرق کیا ہی نہیں گیا ہے۔ ”رسل“ صرف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیا قرآن شریف میں ”دائرہ اسلام“ اور ”ملت اسلامیہ“ کا کوئی فرق بتایا گیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! ”دائرہ اسلام“ کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ ”ملت اسلامیہ“ کا ذکر ہے قرآن کریم میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”ملت اسلامیہ“ کا تو ہے۔ ”دائرہ اسلام“ کا تو کوئی ذکر نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ”دائرہ اسلام“ کا قرآن کریم میں، میں نے کہیں نہیں پڑھا اور ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے جی مگر ......

مرزا ناصر احمد: ملة ابراهيم هو سمكم المسلمين ملت ابيكم ابراهيم یہ ہے وہ: وجاهدو حق جهاده - هو اجتبكم ما جعل عليكم في الدين من حرج - ملت ابيكم ابراهيم هو سمكم المسلمين من قبل وفى هذا ليكون الرسول شهيدا عليكم وتكونوا شهداء على الناس - واقيمو الصلوة واتو الزكوة واعتصموا بالله هو مولكم فنعم المولى ونعم النصير -

تو یہ خدا تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں مسلمان کا نام دیا اور ملت کا نام دیا۔ یہ ملت مسلمہ ......

جناب یحییٰ بختیار: ”دائرہ اسلام“ کا کوئی ذکر نہیں؟

265 مرزا ناصر احمد: میرے علم میں کوئی نہیں۔ یعنی کسی نے ممکن ہے کہ استدلال کیا ہو۔ لیکن یہ تو ہے ہی نہیں قرآن کریم میں لفظ۔

جناب یحییٰ بختیار: تو کیا فرق ہے ”دائرہ اسلام“ اور ”ملت“ میں، آپ کے نقطۂ نظر سے؟

٥٨

صفحہ ٣٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد : یہ تو میں نے صبح کے اجلاس میں بیان کیا تھا فرق کہ: ایمان دون ایمان

(جو دائرہ اسلام سے خارج، وہی ملت اسلام میں شامل؟)

جناب یحییٰ بختیار : یعنی دائرہ اسلام سے آپ جو آدمی خارج سمجھتے ہیں، اس کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں سمجھتے؟ ایسا ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد : ایسا ہو سکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ آپ ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! وہ شخص جو ملت اسلامیہ کا فرد ہے کسی کے اعتقاد کے مطابق وہ دائرہ اسلام میں بھی ہے۔ لیکن جو دائرہ اسلام میں ہے وہ ہر شخص ملت اسلامیہ میں نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : اور جو شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے، وہ اس کے باوجود مسلمان ہے؟

مرزا ناصر احمد : جو دائرہ اسلام سے خارج ہے وہ ملت اسلامیہ کا فرد ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : ہاں! اس کے باوجود مسلمان بھی ہے۔

مرزا ناصر احمد : اس کے باوجود مسلمان ہے۔

(مسلمان بھی، کافر بھی؟)

جناب یحییٰ بختیار : مسلمان بھی ہے؟ وہ کافر بھی ہے اور مسلمان بھی؟

مرزا ناصر احمد : بعض جہت سے نہیں۔

266 Mr. Yahya Bakhtiar: .... what is "Kafir"?

(جناب یحییٰ بختیار : کافر کیا ہے؟)

مرزا ناصر احمد : بعض جہت سے کافر ہے اور بعض جہت سے مسلمان بھی ہے۔ بہت سے آیات ہیں اس کے متعلق۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی! وہ یہ میں عرض ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں!

١؂ دائرہ اسلام سے خارج بھی، مسلمان بھی؟ مرزا ناصر یعنی قادیانی چیف گرو کا علم الکلام موجیں مار رہا ہے یا ٹامک ٹوئیاں؟ یہ قادیانی دوست فیصلہ فرمائیں؟

٢؂ نہلے پہ دہلا ۔ خوب تر ۔ وائے ناکامی؟

٥٩

صفحہ ٣٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! مرزا بشیر الدین محمود صاحب (بشیر احمد) کا ایک حوالہ ہے۔ یہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہے جی کہ: ”اب جبکہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟“

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج١٤ ش٣، ٤، مارچ، اپریل ١٩١٥ء ص١٢٩)

Now, how can you call them Muslims when here it is said that: ان کو کیوں مسلمان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟

مرزا ناصر احمد: آپ نے خود جواب دے دیا ہے۔ میں نے پڑھ کے سنایا تھا کہ آپ کی مراد ”ملت“ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں نے ابھی مسلمان کے لئے آپ سے پوچھا۔ آپ نے کہا وہ کافر ہونے کے باوجود مسلمان ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! وہ مسلمان ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ان کو مسلمان بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: دائرہ ملت اسلامیہ میں شامل کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔ یہ مراد لیتے ہیں ہم۔

267 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کہا کہ مسلمان بنانے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔ I want to explain the word "Musalman" here.

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں! ”مسلمان بنانے“ سے مراد یہ ہے کہ ان کو دائرہ ملت اسلامیہ میں کیوں شامل کر رہے ہو۔ دائرہ اسلام میں کیوں شامل کر رہے ہو۔ دائرہ اسلام میں کیوں شامل کر رہے ہو١؎۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی! میں نے صرف آپ کو..... توجہ٣؎ میں نے دلا دی آپ کی٢؎۔

١؎ یحییٰ بختیار زندہ باد! ٢؎ سہ آتشہ ہٹ دھرمی۔ ٣؎ توجہ دلا دی یا جھوٹے کو اس کی والدہ کے درِ دولت پر پہنچا دیا۔

٦٠

صفحہ ٣٥٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد : اور ویسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعویٰ کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ دعا سکھلائی ہے: رب اصل امت محمد (ﷺ) اور دوسرے سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو ”علیٰ دین واحد“ تو جس کو ہم الہاماً، الہام کا فقرہ سمجھتے ہیں۔ اس میں امت وحدہ اور ملت کا ذکر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں! یہاں لفظ ”مسلمان“ تھا جو کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ......

مرزا ناصر احمد : نہیں! وہ اسلام جو ہے، ایمان جو ہے وہ ”ایمان دون ایمان“ ہے ناں!

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! وہ ٹھیک ہے۔ I have followed your explanation. نہیں، وہ تو آپ نے کہا ہے کہ کیٹگریز دو ہیں۔ ملت میں رہتے ہوئے بھی ایک آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو سکتا ہے......

مرزا ناصر احمد : ہاں جی!

جناب یحییٰ بختیار: وہ کافر ہے مگر اس کیٹگری کا نہیں جو کہ منکر ہے۔

268 مرزا ناصر احمد : ہاں جی!

Mr. Yahya Bakhtiar: That is clear now. The word "Muslim", about that I wanted some clarification.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ بات صاف ہوگئی...... اب میں لفظ مسلم کی کچھ وضاحت چاہتا ہوں)

مرزا ناصر احمد : نہیں! وہ دائرہ اسلام جب ہم کہتے ہیں تو وہ مسلم اور وہی ہوگا۔ Explanation

جناب یحییٰ بختیار: میرا تو اندازہ یہ تھا اور جو میری سمجھ تھی اس کے مطابق، جو آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوا وہ مسلمان نہیں۔

That is how I understood perhaps that is how an ordinary man will understand: he is outside the pale of Islam, that means, he is not a Muslim.

(میں تو یہی سمجھتا ہوں اور اس طرح شاید ایک عام آدمی سمجھے گا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد : نہیں، لیکن ہماری تعریف تو بن گئی ناں......

٦١

صفحہ ٣٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Yahya Bakhtiar: You have different interpretation? تو اب میں ”مسلمان“ کی تعریف پوچھ رہا تھا؟

مرزا ناصر احمد: تو وہ تو ”دائرہ اسلام“ اور ”مسلمان“ دونوں جو ہیں وہ تو اس کے مطابق چلے گا سارا۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ جو دائرہ اسلام سے باہر رہا، کافر ہوا۔ پھر بھی مسلمان ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: جو کافر ہوا؟

جناب یحییٰ بختیار: ہو سکتا ہے ناں جی؟ میں نے ......

(کافر ہونے کے باوجود مسلمان؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں! ایک چیز ظاہر کر دیں، مسئلہ سمجھ آجائے گا۔ وہ کافر ہوا بعض پہلوؤں سے، پھر بھی وہ بعض پہلوؤں سے مسلمان ہے اور ملت اسلامیہ میں داخل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی کافر ہونے کے باوجود وہ مسلمان ہو سکتا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

269 جناب یحییٰ بختیار: تو پھر یہاں میں نے مرزا بشیر الدین صاحب کا یہ جو حوالہ دیا اس میں وہ کہتے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: اس میں یہی مراد ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ ”مسلمان بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟“

مرزا ناصر احمد: ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے! میں پھر پڑھتا ہوں: ”جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیر احمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟“

What I am respectfully submitting is that you are trying to prove that they are Muslims and Mirza Sahib says: don't try to prove they are Muslims.

١؎ کافر ہونے کے باوجود مسلمان، کیا خوب؟

٦٢

صفحہ ٣٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(بعد احترام میں عرض کر رہا ہوں کہ کوشش کر رہے ہیں یہ ثابت کرنے کی کہ وہ مسلمان ہیں اور مرزا بشیر فرما گئے کہ ان کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کیا میں صحیح ہوں یا غلط ہوں)

Mirza Nasir Ahmad: I beg to differ.

(مرزا ناصر احمد: میں اختلاف کرتا ہوں)

Mr. Yahya Bakhtiar: If I am right or wrong....

Mirza Nasir Ahmad: I beg to differ.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, that I think....

Mirza Nasir Ahmad: Different interpretation.

آپ یہی اس کا استدلال کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہی چیز ہے جو میں نے بیان کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور دوسری بات یہ ہو جاتی ہے جی کہ جو مسلمان ہے، باوجود اس کے کفر کے، اس کیٹیگری میں جو آپ نے رکھی ہے۔ اس کی نجات ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟

مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں نجات کا مسئلہ۔ یہ بہت گہرا بھی ہے۔ بہت وسیع بھی ہے تو میں کوشش کروں گا کہ چند فقروں میں اسے بیان کر دوں......

(مرزا ناصر احمد سوچ لو، کیا کہہ رہے ہو؟)

270 Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی! I mean as far as I am concerned, the Committee really wants to solve this issue in the amicable manner. You take your time. Please don't....

(جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک میرا تعلق ہے کمیٹی واقعی یہ چاہتی ہے کہ یہ معاملہ پر امن طور پر حل ہو جائے۔ اس لئے آپ سوچنے پر وقت لگائیں اور جناب جلدی نہ کریں)

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں مختصراً یہ کہوں گا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نجات کا انحصار انسان کے اعمال صالح پر نہیں، اللہ تعالیٰ کی بخشش پر ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ آپ کی نجات کا بھی؟ آپ نے کہا میری نجات کا بھی۔ اللہ تعالیٰ کی اپنی بخشش جو ہے وہ مجھے نجات دے گی۔ میرے اپنے اعمال کا ...... میرے اپنے اعمال کے نتیجے میں نجات مجھے نہیں ملے گی تو نجات کا فیصلہ کرنا، اگر نجات خدا تعالیٰ کی مرضی پر ہے تو انسان کا کام

صفحہ ٣٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ہی نہیں فیصلہ کرنا۔ انسان ظاہر پر حکم لگا دیتا ہے بعض دفعہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ۔ یہ درست آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بخشش کا مرزا صاحب کو پورا علم ہے کہ کس کو ملے گی ، کس کو نہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں ، کسی کو نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یہاں ..... نہیں، I want a clarification.

مرزا ناصر احمد : جب یہ بنیادی ہمارا ہے مسئلہ اور ایمان تو جب کوئی فقرہ ایسا کہا جائے جس میں کچھ اشتباہ ہو تو اس کو اصل کی طرف لوٹانا چاہئے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I want the clarification. Here it is said:

”اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے نہ ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی......“

(کلمۃ الفصل ص ١٢٩)

Impossible; in categorical terms it is stated.

271 مرزا ناصر احمد : یہ میں نے بتایا ہے کہ ظاہر پر حکم کرتا ہے انسان۔ مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اوباشانہ زندگی نہ گزار رہا ہو۔ بغی عورت جو ہے وہ کنجریوں والی زندگی نہ گزارے۔ یہ ایک عام ایک حکم لگا دیتا ہے آدمی اور حدیث میں یہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بغی کو جنت میں اس لئے داخل کیا کہ اس نے اس کی مخلوق ..... بعض جگہ آتا ہے کتا ، بعض جگہ بلی ...... کہ وہ پیاسی تھی اور پیاسی مر رہی تھی اور بغی نے اپنی جوتی میں اس کو پانی پلایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا اور جنت میں اس کو بھیج دیا۔ لیکن ظاہر میں ہم یہی کریں گے حکم تو یہ میں نے Extreme کی مثال دی ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو شخص...... حدیث میں آتا ہے ...... کہ جو شخص یہ کرے وہ مسلمان نہیں رہتا۔ جو چوری کرتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ جو نماز چھوڑتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ نجات حاصل نہیں کر سکتا تو وہ ظاہر کے اوپر ایک حکم ہے کہ ترغیب ہے لوگوں کو اعمال صالحہ بجا لانے کی۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will draw your attention also to 'Anwar-i-Khilafat,' page 90. Here it is stated:

”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں ۔“

مرزا ناصر احمد : یعنی دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔

٦٤

صفحہ ٣٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ کے Quotation ......

مرزا ناصر احمد: وہ تو میں نے تسلیم کر لیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... میں پڑھ کے سناتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: جی!

جناب یحییٰ بختیار: ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘

272 مرزا ناصر احمد: جی!

جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ مسلمان ہیں۔ اس Sense میں کہ جو آپ نے Explain کیا؟

مرزا ناصر احمد: وہ ملت اسلامیہ کا فرد ہونے کی حیثیت سے مسلمان ہیں اور ...... ہاں! ملت کے لحاظ سے مسلمان ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ دو علیحدہ علیحدہ محاورے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں ......‘‘

مرزا ناصر احمد: دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام نہیں، یہاں تو وہ یہ کہہ رہے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب ہے وہ اس کا مطلب یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’مسلمان نہ سمجھیں‘‘ ان کا مطلب ہے ’’مسلمان سمجھیں۔ مگر دائرہ اسلام سے باہر سمجھیں!‘‘

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

(مرتد کیا ہوتا ہے؟)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ اسلامی نقطہ نظر سے ’’مرتد‘‘ کیا ہوتا ہے؟ جس کو کہتے ہیں کہ یہ مرتد ہے۔

مرزا ناصر احمد: اسلامی ......

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا ملت اسلامیہ سے خارج ہوا؟

١؎ مسلمان مگر دائرہ اسلام سے باہر؟ اس کا دوسرا معنی ہے کہ مرزا ناصر کی عقل جنگل چرنے گئی ہے۔

٦٥

صفحہ ٣٦٤

364 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ جب آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں اپنا مذہب بتاؤں گا ناں۔

273 جناب یحییٰ بختیار: اپنے پوائنٹ آف ویو سے Naturally.

مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک ”مرتد“ وہ ہے جو یہ اعلان کرے کہ اسلام سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا: من يرتدد منكم عن دينه

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے نہیں بلکہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو جائے گا؟

مرزا ناصر احمد: اسلام سے، میں نے نہ دائرہ کہا ہے نہ کچھ۔ جو شخص یہ اعلان کرے کہ اسلام سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا اور آنحضرت ﷺ پر میرا ایمان نہیں اب......

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ملت سے باہر ہو گیا ناں جی؟

مرزا ناصر احمد: بالکل باہر ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہی ہونا چاہئے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

Mr. Yahya Bakhtiar: He cannot be a Muslim?

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں...... میرا...... آپ نے میری بات دراصل نہیں سمجھی۔ یہ کبھی مجہول نہیں استعمال ہوا قرآن میں۔ یعنی یہ نہیں کہ زید بکر کو کہے کہ تم دائرہ اسلام سے نکل گئے یا تم نے اسلام چھوڑ دیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ، وہ......

مرزا ناصر احمد: وہ خود کہے۔ جو شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ میں اسلام کو چھوڑتا ہوں اور آنحضرت ﷺ سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا۔ میرے نزدیک قرآنی اصطلاح میں صرف وہ مرتد ہے۔ وہ نہیں کہ جن کے اوپر دوسرے فتویٰ دیں۔

274 جناب یحییٰ بختیار: یعنی اگر کوئی اور کہے؟

مرزا ناصر احمد: تو پھر قرآن کریم میں اس کا ذکر نظر نہیں مجھے آیا اس لفظ کے نیچے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی علما...... خواہ آپ کی جماعت کے ہیں یا کسی جماعت کے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

٦٦

صفحہ ٣٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: اگر ان کو علم ہو...... مرزا ناصر احمد: نہیں، علم...... جناب یحییٰ بختیار: کہ یہ ایک شخص...... مرزا ناصر احمد: اس میں علم کا سوال ہی نہیں ہے۔ ایک آدمی خود کھڑے ہو کر کہتا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: On the matter نہیں اگر وہ خود نہ کہے...... مرزا ناصر احمد: نہیں، خود کہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ خود کہے۔ یہی تو میں پوائنٹ لے رہا ہوں۔ قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے، ہمیشہ مجہول کا لفظ صیغہ استعمال کئے بغیر کہ جو شخص خود ارتداد عن الاسلام کا اعلان کرے، یعنی یہ اعلان کرے کہ اسلام کے ساتھ اور حضرت خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں وہ مرتد ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: میں ابھی...... فرض کیجئے ایک شخص ہے۔ مسلمان ہے اور وہ اعلان کر دیتا ہے کہ میں اسلام میں ابھی نہیں Believe کرتا مرتد ہو گیا؟...... 275 مرزا ناصر احمد: ہاں!

(مرزا قادیانی کا منکر مرتد)

جناب یحییٰ بختیار: ...... اپنے اعلان کے مطابق۔ ایک شخص ہے جو مرزا غلام احمد سے بیعت لے آیا۔ احمدی ہو گیا۔ پھر وہ اعلان کر دیتا ہے کہ میں ابھی ان کو نبی نہیں مانتا۔ وہ مرتد ہوگا؟ کہ ملت اسلامیہ سے باہر ہوگا؟ یا دائرہ اسلام سے باہر؟ مرزا ناصر احمد: لفظی معنی میں تو، جس نے اعلان کیا وہ لفظی معنی میں مرتد ہو گیا۔ لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں وہ مرتد نہیں ہوا۔ یعنی یہ دو علیحدہ علیحدہ لفظ ہیں۔ ایک لغوی معنی ہے...... جناب یحییٰ بختیار: مرتد کی بھی دو کیٹیگریز ہیں؟ مرزا ناصر احمد: ایک...... (مداخلت) Mr. Yahya Bakhtiar: Please. مرزا ناصر احمد: ہر لفظ جو ہے، ہر لفظ جو ہے اس کا...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں،...... مرزا ناصر احمد: میں بتاتا ہوں...... وہ اس چیز کا امکان رکھتا ہے کہ اس کو لغوی معنی میں استعمال کیا جائے یا اصطلاحی معنی میں استعمال کیا جائے۔ میں یہ بات کر رہا ہوں۔ ایک ہیں ٦٧

STAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: ہاں بتاؤں گا ناں۔ 273 جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: میر کوئی تعلق نہیں رہا: من ارتدد من جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: اس کہ اسلام سے میرا کوئی تعلق نہیں ر جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: بالک جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: ہاں not be a Muslim? مرزا ناصر احمد: نہی کبھی مجہول نہیں استعمال ہوا قرآ یا تم نے اسلام چھوڑ دیا...... جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: وہ آنحضرت ﷺ سے میرا کوئی تعل ہے۔ وہ نہیں کہ جن کے اوپر دوسر 274 جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: تو ا جناب یحییٰ بختیار: ہ مرزا ناصر احمد: ہاں جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: ہاں

صفحہ ٣٦٦

366 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

”ارتداد“ کے معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں ۔ شروع سے آخر تک آپ پڑھیں اور ساری آیات سامنے رکھیں۔ جہاں ”ارتداد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو وہ قرآن کریم کی اصطلاح ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم اگر کسی لفظ کو عربی کے اصطلاحی معنی میں استعمال کرے تو لغوی معنی میں وہ استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ کہیں ہوا اور نہ یہ عقل بھی اس کو نہیں مانتی۔ تو جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ”اسلام سے ارتداد اختیار کیا“ تو قرآنِ کریم کی اصطلاح کے مطابق۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ”فرقہ وہابیہ سے ارتداد اختیار کیا“ تو وہ لغوی معنی کے لحاظ سے، قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق نہیں اور مثلاً یہ ایک حوالہ ہے حضرت مولانا مودودی صاحب کا ١؎ کہ جماعت اسلامی سے پلٹ جانا ....... وماوہ جھنم وبئس المصیر“ تو یہ انہوں نے اپنا کر دیا۔ یہ ان کی اپنی ...... لیکن قرآن کریم کی ......

جناب یحییٰ بختیار: مرتد، مرتد کہہ دیا اس کو؟ مرزا ناصر احمد: ارتداد کا لفظ استعمال کیا ہے انہوں نے، اپنے فرقہ سے ارتداد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی مرتد ہو گیا پھر تو وہ؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! مرتد ہو گیا۔ لیکن میں یہ بتا رہا ہوں کہ ...... ان کے حق میں بات کر رہا ہوں ...... ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں مرتد ہو گیا۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں چھوڑ دیا اس نے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر ...... میں آپ سے ڈائریکٹ سوال پوچھتا ہوں ...... ایک شخص مرزا غلام احمد (قادیانی) کو نبی مانتا ہے، پھر اس کے بعد میں وہ ان کو ...... مرزا ناصر احمد: ...... اعلان کرتا ہے کہ میں نہیں مانتا؟ جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نہیں مانتا۔ مرزا ناصر احمد: تو لغوی معنی کے لحاظ سے وہ مرتد ہے ...... جناب یحییٰ بختیار: گردن زدنی اور سزا کے ...... مرزا ناصر احمد: ...... لیکن اصطلاحی معنی کے لحاظ سے وہ مرتد نہیں۔

١؎ پہلے گذر چکا ہے کہ مرزا ناصر، جناب سید مودودی صاحب کو مسٹر مودودی کہنے پر اصرار کر رہے تھے۔ یہاں اب ان کو ”حضرت مولانا“ کہہ رہے ہیں۔ اس کو دورنگی کی عمدہ مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔

٦٨

صفحہ ٣٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

277 جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو سزا مرتد کو دی ہے اسلام نے، وہ سزاوار نہیں؟

مرزا ناصر احمد: قرآن کی اصطلاح میں جو مرتد ہے قرآن کریم کی سزا صرف اس کے لئے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کیٹگری میں نہیں آئے گا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ اس کیٹگری میں نہیں آئے گا اور یہاں ایک اور وضاحت ہونی چاہئے کہ قرآن کریم نے کیا سزا دی ہے مرتد کی؟ جہنم! دوسری دنیا کی سزا دی ہے اس دنیا میں مرتد کی کوئی سزا نہیں قرآن کریم میں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی سزا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، کوئی سزا نہیں معین۔ دوسری دنیا کی سزا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو دوسری دنیا کی جو سزا ہے وہ اس شخص کے لئے ہے یا نہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی مانے......

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم نے جو سزا بتائی ہے وہ کسی ایسے مرتد کے لئے نہیں جو قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق مرتد نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں، میں ان کا پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: اسی کا میں جواب دے رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ مجھے ایک سوال دیا گیا ہے......

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق جو مرتد ہے قرآن عظیم نے اس کی جو سزا...... جو بھی سزا قرآن کریم نے اس کے لئے بیان کی وہ وہ کسی ایسے مرتد کے لئے نہیں جو لغوی معنی کے لحاظ سے مرتد ہے۔ لیکن قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق مرتد نہیں ہے۔

278 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے ایک سوال دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ”کیا آپ کے علم میں ہے کہ مرزا غلام احمد نے عبدالحکیم کو جو پہلے مرزا غلام احمد کا مرید تھا اور پھر اس نے ان سے شدید اختلاف کیا یا ان کی نبوت کی حیثیت ماننے سے انکار کیا تو مرزا غلام احمد نے اسے مرتد قرار دیا؟“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

مرزا ناصر احمد: جس نے انکار کیا ہے اس نے وہ وہ...... وہ انکار کیا۔ وہ لغوی معنی کے لحاظ سے ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرتد اس Sense میں کہ یہ آدمی کافر نہیں ہوا؟ کافر یعنی وہ......

٦٩

صفحہ ٣٦٨

368 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔ لیکن ملت اسلامیہ میں شامل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: انوار خلافت میں مرزا صاحب! ص ٩٤، اس میں مرزا بشیر الدین صاحب کا یہ ایک حوالہ ہے۔ ”مسلمانوں سے رشتہ ناطہ حرام اور ناجائز ہے۔“ On the ground نہ کرنا، This is a very different category. expediency جیسا آپ نے فرمایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلقات اچھے نہیں رہتے اور یہاں کہتے ہیں: ”ناجائز“، ”حرام“۔ ١؎

مرزا ناصر احمد: جو چیز فساد پیدا کرتی ہے وہ ناجائز اور حرام ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ تو پھر دوسری کیٹگری ہوگئی ناں جی؟

مرزا ناصر احمد: نہ۔

جناب یحییٰ بختیار: Expediency نہیں، عقیدے کی بات ہوگئی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، ”ناجائز اور حرام“ کی وجہ یہ ہے کہ اس سے کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ جو خرابی پیدا ہونے والی ہے وہ اور چیز ہے اور ناجائز اور حرام کوئی اور چیز ہے۔ وہ تو ناجائز اور حرام یہ نتیجہ ہے فساد کا، خرابی کا۔ یہاں کسی جگہ نتیجہ بیان ہوا ہے اور کسی جگہ وجہ بیان ہوئی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اتنے یعنی مسلمانوں سے آپ مختلف ہیں کہ رشتہ ناطہ ناجائز اور حرام ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، باقی......

١؎ انوار خلافت ص٩٤ پر مرزا بشیر الدین محمود کی عبارت یہ ہے۔ ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے...... اپنی لڑکی بٹھائے رکھو، غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو خلیفہ اوّل (نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا...... اور توبہ قبول نہ کی...... ابھی ایک شخص نے غیر احمدیوں میں لڑکی دی تھی۔ میں نے اسے جماعت سے الگ کر دیا۔“

٢؎ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی کلمتہ الفصل ص ١٦٩ پر لکھتا ہے کہ ”غیر احمدیوں سے رشتہ ناطہ حرام ہے۔“

٧٠

صفحہ ٣٦٩

369 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: آپ سمجھتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: شرعی اصطلاح میں نہیں، نمبر ایک۔ دوسرے یہ ہے آپ یہ فقرہ کیسے کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ دوسرے سب سے مختلف ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یا وہ آپ سے مختلف ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: وہ مختلف سہی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں یہ بات نہیں کہہ رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہی چیز آپ شیعوں کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی چیز آپ دیو بندیوں کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی چیز آپ وہابیوں کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی چیز آپ اہل حدیث کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہر فرقہ کے متعلق یہی کہہ سکتے ہیں۔ کفر کا یعنی یہ فتویٰ، رشتہ ناطہ ناجائز ہے۔ یہ صرف سب نے مل کر احمدیوں کے خلاف نہیں دیا۔ بلکہ ہر سب نے مل کے ہر دوسرے فرقے کے متعلق دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! آپ نے کہا تھا کہ یہ مختلف فرقوں نے ایسے فتوے دیئے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کہ ناجائز ہے، حرام ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! سب نے۔

280 جناب یحییٰ بختیار: کیا سب نے مل کر کسی ایسے فرقے کے خلاف ایسے فتوے دیے ہیں جیسے آپ کے خلاف؟

مرزا ناصر احمد: سب نے دیئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: سب مل کے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ بریلوی، دیوبندی سارے مل کے کسی ایک کو کہتے ہیں کہ یہ بالکل......؟ ایسے کوئی فتوے ہیں۔ Unanimous (متفقہ) جن کو کہیں More or less unanimous? (یا تقریباً اتفاق ہو گیا؟)

(مرزا ناصر کی صریح کذب بیانی)

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ جو ١٩٥٣ء میں جسٹس منیر کی انکوائری رپورٹ ہے ناں، اس وقت تک کوئی اکھٹے فتوے دیئے ہی کسی نے نہیں تھے۔ ہمارے خلاف بھی نہیں دیئے

٧١

Y OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد : وہ دائرہ اسلام......

جناب یحییٰ بختیار : انوار......

مرزا بشیر الدین صاحب کا یہ ایک حوالہ ہے۔ ”مسلمانوں سے رشتہ ناطہ حرام اور......

ery different category.

expediency. جیسا آپ نے فرمایا کہ ہم...... ہیں: ”ناجائز“، ”حرام“؟

مرزا ناصر احمد : جو چیز فساد پیدا کر......

جناب یحییٰ بختیار : تو یہ تو پھر دو......

مرزا ناصر احمد : نہ۔

جناب یحییٰ بختیار : expediency......

مرزا ناصر احمد : نہیں، ”ناجائز...... ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ جو خرابی پیدا ہونے والی...... ہے۔ وہ تو ناجائز اور حرام یہ نتیجہ ہے فساد کا، خر...... وجہ بیان ہوئی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : تو اتنے یعنی...... اور حرام ہے؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، باقی......

لے انوار خلافت ص٩٤ پر مرزا......

(مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی......

اپنی لڑکی بٹھائے رکھو، غیر احمدیوں میں نہ دو۔......

دے دی تو خلیفہ اوّل (نور الدین) نے اس......

خارج کر دیا...... اور توبہ قبول نہ کی...... ابھی ایک......

اسے جماعت سے الگ کر دیا۔“

٢ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی......

رشتہ ناطہ حرام ہے۔“

صفحہ ٣٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

تھے۔ اس واسطے اس کے بعد کے فتوؤں کو اجماع کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! آپ نے کہا کہ مرزا غلام احمد کے زمانے میں بھی دو سو مولویوں نے فتوے دیئے تھے۔ ابھی تو کوئی ......

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ تو نہیں کہا کہ اس وقت سارے فرقوں کے صرف دو سو مولوی تھے دنیا میں۔

جناب یحییٰ بختیار: سب نے نہیں تھے دیئے؟

مرزا ناصر احمد: تو جب میں کہتا ہوں کہ دو سو تھے تو سب نے بہر حال نہیں دیئے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے تو کہا کہ سب مسلمان دائرے سے خارج ہیں۔ میں یہی تو پوچھ رہا تھا آپ سے کہ جنہوں نے فتوے بھی نہیں دیئے آپ ان کو کیوں کافر کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ایک ہے فتویٰ دینے والا ، ایک ہے مفتی کی اتباع کرنے والا ۔

281 جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ سب Cover ہو گئے ناں جی؟ کہ کوئی کیٹگری رہ گئی مسلمانوں کی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں ، یہ شیعوں کے متعلق بھی کوئی کیٹگری نہیں رہ گئی مسلمان کی۔ سب نے فتویٰ دے دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، آپ نے جو کہا دوسو علماء نے فتوے دیئے تو آپ نے کہا وہ سب نہیں تھے۔

مرزا ناصر احمد: میں اس کا یہ جواب دے رہا ہوں کہ جو مؤقف آپ جماعت احمدیہ کے متعلق لے رہے ہیں وہی مؤقف ہر دوسرے فرقے کے متعلق کیوں نہیں لے رہے جب فتاویٰ کی حالت ایک جیسی ہے؟

١۔ علماء لدھیانہ کا فتاویٰ ١٨٨٣ء میں مولانا غلام دستگیر قصوری کا دسمبر ١٨٨٣ء میں۔ مولانا محمد حسین بٹالوی کا فتویٰ ١٨٩٠ء میں مولانا عبید اللہ قاضی مدراس کا فتویٰ ، ١٣١١ھ مولانا رسول خان مدرس دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ، القول الصحیح فی مکائد المسیح فتوٰی تکفیر قادیان ١٩١٨ء میں شائع ہوئے۔ یہ سب اجتماعی مشترکہ فتاویٰ جات تھے۔ مرزا ناصر کی بھی پیدائش سے پہلے یہ فتاویٰ شائع ہوئے۔ دھٹ تیری ہٹ دھرمی وکذب، ودجل وتدلیس کہ اس میں سراپا فناء ہو کر مرزا ناصر کہتا ہے کہ ہمارے خلاف ١٩٥٣ء سے پہلے اجتماعی فتویٰ کسی نے نہیں دیا۔ چور کی سینہ زوری دیکھو کہ ہاتھ میں ٹارچ لے کر چوری کر رہا ہے۔ قادیانی! مرزا ناصر کی کذب بیانی پر ماتم کریں۔......

٧٢

صفحہ ٣٧١

371 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: سب نے، میرا خیال ہے، مل کے اس طرح کا فتویٰ نہیں دیا۔ جیسے جماعت احمدیہ کے خلاف دیا ہے۔ Individually (انفرادی) فتوے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ کا مطلب یہ ہے کہ دیوبندی جمع اہل حدیث جمع وہابی جمع بریلوی، یہ متحدہ فتویٰ نہیں اور متحدہ فتویٰ یہ ہے کہ ایک عالم دیوبندیوں کا، ایک اہل حدیث کا، ایک بریلویوں کا، ایک وہابیوں کا، ایک ان کا اہل قرآن کا، دوسرے جو ہیں فرقے ان سب کا ایک ایک آدمی مل کے فتویٰ دیں تب وہ متفقہ فتویٰ ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اب یہ بریلوی ہیں، دیوبندی نے ان کے خلاف فتویٰ دیا۔ یہ ٹھیک ہے۔ بریلوی ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، خالی دیوبندیوں نے نہیں، ہر دوسرے فرقے نے دیا۔ جناب یحییٰ بختیار: سب کے سب نے unanimous فتویٰ دیا؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بالکل! یہ ہمارے پاس حوالے ہیں ان کے۔ 282 جناب یحییٰ بختیار: سب نے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! سب نے دیا۔ جناب یحییٰ بختیار: بریلویوں کو سب نے Condemn کیا؟ مرزا ناصر احمد: بریلویوں نے ...... ہر اس فرقے نے بریلویوں کو Condemn کیا جو بریلوی نہیں کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: جو دیوبندی نہیں ہے۔ انہوں نے، سب نے ...... مرزا ناصر احمد: سب نے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... Condemn کیا ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! سب نے کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور اسی طرح سب نے آپ کو Condemn کیا ہے؟ مرزا ناصر احمد: سب نے کیا اور یہ ہمارے بزرگ ...... ہمارے بھی بزرگ ہیں ...... محمد بن عبدالوہابؒ جو مرشد ہیں وہابیوں کے، انہوں نے وہ کیا نام ہے، ”مختصر سیرت رسول“ میں یہ حدیث لکھنے کے بعد کہ میری امت ...... ایک حدیث انہوں نے Quote کی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی اور بہتر ان میں سے فی النار ہیں: کلہم فی النار الا واحدة سارے کے سارے سوائے ایک کے جہنمی ہیں۔ ٧٣

LY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

تھے ١؎ اس واسطے اس کے بعد کے فتوؤں کو اجماع جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! آپ سو مولویوں نے فتوے دیئے تھے۔ ابھی تو کوئی ...... مرزا ناصر احمد: میں نے یہ تو نہیں مولوی تھے دنیا میں۔ جناب یحییٰ بختیار: سب نے نہیں مرزا ناصر احمد: تو جب میں کہتا ہو جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے ف یہی تو پوچھ رہا تھا آپ سے کہ جنہوں نے فتوے د مرزا ناصر احمد: ایک ہے فتویٰ وہا 281 جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ س گئی مسلمانوں کی؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ شیعوں سب نے فتویٰ دے دیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ وہ سب نہیں تھے۔ مرزا ناصر احمد: میں اس کا یہ جوا کے متعلق لے رہے ہیں وہی مؤقف ہر دوسر کی حالت ایک جیسی ہے؟

١؎ علماء لدھیانہ کا فتویٰ ١٨٨٣ء مولانا محمد حسین بٹالوی کا فتویٰ ١٨٩٠ء میں میا خان مدرس دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ، القول ا ہوئے۔ یہ سب اجتماعی مشترکہ فتاویٰ جات ہوئے۔ دھت تیری ہٹ دھرمی وکذب، و ہے کہ ہمارے خلاف ١٩٥٣ء سے پہلے اجما ہاتھ میں ٹارچ لے کر چوری کر رہا ہے۔ قادیا

صفحہ ٣٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

اس کے بعد انہوں نے شرح اس کی یہ کی ہے کہ: هذه من جمل المسائل من فهمها فهو الفقيه ومن عمل بها فهو المسلم کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جو اس مسئلے کو سمجھے فقیہ صرف وہ ہے اور جو عملا ان کو غیر مسلم قرار دے، فی النار قرار دے، مسلمان وہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: 283 جیسے ١٩٥٣ء میں ...... آپ ابھی فرما رہے تھے کہ اس سے پہلے اس قسم کا فتویٰ نہیں آیا۔ جیسے ١٩٥٣ء میں انہوں نے دیا تھا؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں ! میں نے یہ کہا کہ اس طرح جو آپ کہہ رہے تھے کہ سارے مل کے، ہر جگہ کے فتوے دیں۔ ١٩٥٣ء تک نہیں دیا تھا ایسا کوئی فتویٰ میرے علم میں ......

جناب یحییٰ بختیار: Individually (انفرادی) دیتے رہے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں ! Individually (انفرادی)۔

جناب یحییٰ بختیار: ١٩٥١ء یا ١٩٥٣ء ......

مرزا ناصر احمد : ہاں! وہی جو ١٩٥٣ء کے فسادات کے پہلے تک۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جو باقی ہیں ان کے خلاف ایسا Collective (اجتماعی) جیسے ١٩٥٣ء میں آپ کے خلاف دیا تھا؟

مرزا ناصر احمد : نہ ١٩٥٣ء میں بھی ہمارے خلاف Collective (اجتماعی) نہیں ۔ یہ بعد کی چیز ہے۔ ١٩٥٣ء میں وہی مختلف فرقے جو ہیں انہوں نے فتوے لگائے ہیں اپنی اپنی جگہ۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! آپ نے کہا کہ ایسے Collective (اجتماعی) پہلے نہیں آئے۔ پہلے Individual (انفرادی) تھے۔ پھر Collective (اجتماعی)؟

مرزا ناصر احمد : ١٩٥٣ء کے بعد کی بات ہے۔ ١٩٥٣ء تک نہیں تھی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد یہ ہوا؟

مرزا ناصر احمد : ہاں ! اس کے بعد، اب یہ سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ واللہ اعلم!

جناب یحییٰ بختیار: 284 اور جو ...... یہ کیا وجہ ہے کہ آپس میں، آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے۔ باوجود اس کے وہ سب فرقوں کے علماء اور Representative اکٹھے ہوئے ۔ ١٩٥٣ء جنوری میں اور متفقہ طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ وہ کیوں اکٹھے ہوئے؟ وہ کیوں نہیں کہتے کہ بھئی تم بھی کافر، تم بھی کافر، کیوں ان کو کافر کہہ رہے ہو؟ آپ کے متعلق جو تھے وہ اکٹھے ہوئے اور متفقہ طور پر ......

مرزا ناصر احمد : اس کا ...... یہ سوال مجھ سے جو کر رہے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ

٧٢

صفحہ ٣٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

میں کوئی وجہ سوچوں اپنے دماغ سے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں نے آپ سے پوچھا ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! جب ہی تو میں جواب دے سکتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی Distinction کررہے ہیں وہ؟ کہ آپس میں تو ایک دوسرے کو کافر کہہ دیا۔ مگر اکٹھے ہو کے صرف آپ کو انہوں نے غیر مسلم قرار دیا۔

مرزا ناصر احمد : اس کی وجہ موجود ہے۔ میں حوالہ نکالتا ہوں۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے ..... یہ حوالہ ان کا ہے ..... انہوں نے لکھا ہے : ”پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک علمائے اعظم اور عالم مقتدر سے، جو کچھ عرصہ ہوا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں۔ میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ ایک اور فرقے کی نسبت پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں۔ فرمایا کہ وہ سب واجب القتل ہیں۔ یہی عالم ان بتیس 285 علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقے کو تسلیم کر لیا جائے۔ سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ ہیں تو وہ بھی واجب القتل (یعنی دوسرے فرقے ) مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں، موقعہ آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ انہی میں سے ایک دوسرے سربراہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے۔ (یہ آپ پڑھ لیں تو یہ فقرہ سننے والا ہے : ”کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے ۔“) اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی بھی خبر لی جائے گی ۔“

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو مرزا صاحب Individual Opinion دی آپ نے ایک عالم صاحب کی ، Or so-called (نام نہاد) عالم ۔

مرزا ناصر احمد : یہ Individual opinion ایک ایسے معاملے کے متعلق ہے جس میں Collective opinion possible ہی نہیں ہے۔.....

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ یہ دیکھیں......

مرزا ناصر احمد : ..... کیونکہ معاملہ یہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرے کو لینا ہے تو سارے مل کے یہ فتویٰ کیسے دے سکتے تھے کہ پہلے میری باری، پھر تمہاری باری، پھر تمہاری باری؟.....

٧٥

صفحہ ٣٧٤

374 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! دستوری ......

مرزا ناصر احمد: ...... یہ معاملہ اس قسم کا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے جس میں ایک ہی کی Opinion دی جا سکتی ہے اور دو کی Opinion آ گئی اس میں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایسی Collective Opinion کہ سارے علماء ......

286 مرزا ناصر احمد: ایسی Collective Opinion یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے شیعوں کو ...... آپ ہی شیعہ عالم، دیوبندی عالم، وہابی عالم، اہل حدیث عالم، بریلوی عالم اکٹھے ہو کے سر جوڑیں اور کہیں کہ پہلے وہابیوں کو قتل کریں گے ہم، اور پھر ہم اہل حدیث کو ماریں گے اور پھر ہم اہل قرآن کے پیچھے پڑیں گے۔ پھر ہم دیوبندیوں کی خبر لیں گے۔ یہ Collectively ہو ہی نہیں سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ Hara-Kiri (خودکشی) ہو گئی ناں جی! اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو مار رہے ہیں وہ؟

مرزا ناصر احمد: میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مضمون ہی اس قسم کا ہے جس میں صرف Individual Opinion ہی دی جا سکتی ہے۔ Collective Impossible ہے -Unthinkable

جناب یحییٰ بختیار: یہ ١٩٥١ء میں جو سفارشات دی تھی، دستوری سفارشات مل کے سب طبقوں نے، انہوں نے یہی کہا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو مسلمان سمجھیں گے۔ Except ......Ahmadis

مرزا ناصر احمد: اسی کے متعلق یہ ہے کہ ابھی تو ایک کی باری ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... Except Ahmadis ان سب کا ایک ہی View ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس کے متعلق یہ ہے کہ ایک سے پوچھا تو اس نے کہا ٹھیک ہے ہم سارے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ہم ایک فریق کی بات کر رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! Collectively تو وہ کر ہی نہیں سکتے۔ وہ Hara- Kiri (خودکشی) جیسا کہ آپ نے کہا ہے، وہ بن جائے گا اور ویسے سارے شامل بھی نہیں تھے۔

287 شیعہ حضرات نے اعلان کر دیا تھا کہ ہم اس میں نہیں شامل۔ یہ ویسے جو ہے Collective

٧٦

صفحہ ٣٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

فتویٰ، شیعہ حضرات کے متعلق دے چکے علماء مل کے اور یہ (ہفت روزہ ”ترجمان الاسلام“ لاہور ٣١؍ مارچ ١٩٧٢ء صفحہ ٥ کالم نمبر ٥) میں آ گیا ہے۔ اگر کہیں تو یہ بھی سنا دیتے ہیں۔ مطالبہ اجتماعی ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ کے اس (محضر نامہ) میں آچکا ہے۔ پہلے پڑھ چکے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس میں آچکا ہے، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی مرزا غلام احمد نے ”آئینہ صداقت“ میں ...... یہ ان کی تصنیف ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں جی! یہ ان کی تصنیف نہیں جی۔ ”آئینہ صداقت“ حضرت مرزا غلام احمد کی تو نہیں، بانی سلسلہ کی نہیں۔ کوئی تصنیف نہیں۔ آئینہ صداقت۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ پھر مرزا، ان کی ہوگی۔ بشیر الدین صاحب کی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، ہوگی تو آپ بتائیں ناں، کس کی؟ کون مصنف ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”آئینہ صداقت“ صفحہ ٣٥۔ مجھے تو یہ بتایا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! تو کسی نے آپ کو غلط کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: اس میں Quote کیا گیا ہے۔ مرزا غلام احمد کو۔ تو میں وہ پڑھ دیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو ہو سکتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں وہ: ”کیا یہ درست ہے ......“

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے ناں!

288 جناب یحییٰ بختیار: ”...... مرزا غلام احمد نے مندرجہ ذیل تحریرات کے ذریعے تمام مسلمانوں کی تکفیر اور ان پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ......“

Somebody asked this question.

١؎ کیا تجاہل عارفانہ ہے؟ یا سوالات کی گرفت سے اتنے خوف زدہ ہوئے کہ اپنے باپ مرزا بشیر محمود کی کتاب کو بھول گئے۔ مرزا ناصر صاحب جناب آئینہ صداقت آپ کے ابو مرزا بشیر کی کتاب ہے۔ آپ کو معلوم ہے۔ لیکن جان کر دجل کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج اس سے ہی منکر ہو جاؤ۔ شاباش! گھبرایا نہیں کرتے۔ جواب دیں صاحب!

٧٧

صفحہ ٣٧٧

376 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

اس میں ہے جی: ”کہ تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں!......“

مرزا ناصر احمد: اہل اسلام بھی ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج بھی ہیں، وہ تو پہلے صاف ہو گیا مسئلہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو یہی میں کہہ رہا ہوں کہ Paradoxical جو ہے......

مرزا ناصر احمد: نہیں، Paradoxical نہیں۔ یہ ہم نے دو اصطلاحیں لیں...... ملت اسلامیہ اور دائرہ اسلام......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! میں یہ پوچھ رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: ...... ایک شخص دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے باوجود ملت اسلامیہ میں رہتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جب یہ کہتے ہیں: ”کہ تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ تو تمام اہل اسلام میں احمدی شمار ہیں کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو فرقہ بول رہا ہو وہ اپنے آپ کو شامل نہیں کیا کرتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا!

مرزا ناصر احمد: یہ تو اگر کوئی...... مثلاً ہمارے جس وقت بول رہے تھے محمد بن عبدالوہابؒ کہ تہتر (٧٣) فرقے، سوائے ایک کے، سارے فی النار ہیں تو اپنے آپ کو انہوں نے مستثنیٰ کیا تھا۔ یعنی یہ تو ہمارا روزمرہ کا طریق ہے۔

289 جناب یحییٰ بختیار: یعنی سوائے احمدیوں کے سارے اہل اسلام کافر ہیں۔ اس کیٹگری کے جو ملت سے باہر نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! ملت سے باہر نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں!

١؎ مرزا ناصر احمد کے والد مرزا بشیر الدین محمود جو مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا نام نہاد چیف گرو تھا۔ اس کی کتاب ”آئینہ صداقت ص ٣٥، مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور سے چھپ کر ٢٦؍ دسمبر ١٩٢١ء کو قادیان سے تقسیم ہوئی۔ عبارت یہ ہے: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

٧٨

377 NATIONAL AS اہل اسلام؟ میں نے ایک دفعہ کہہ دیا ہے، دہراتا ہوں...... Ver نہ کریں...... پڑھ کے مجھے سنایا جائے۔ اس کی نہ میں میں نے پھر آپ کو ”انوارِ صداقت“ سے ہیں کی۔ میں نے جواب دیا۔ دے دیتا ہوں۔ میرا تو یہ Impression ۔ آپ نے کہا کہ آپ سے یہ سوال منیر You did not deny have to put it to you poin اگر چاہتے ہیں کہ میں ہر بار خصوصیت نفی شہادت) یہ تو چونکہ ریکارڈ ہے، Evidence You ar کے 93 Page پر مرزا بشیر الدین کا ابو کی کتاب کی نہ تائید نہ تردید۔ اتنی جلدی بندی کفر ہو گئے کیا؟

صفحہ ٣٧٧

377 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: سارے کے سارے اہل اسلام؟

مرزا ناصر احمد: یہ اصل میں بات یہ ہے، میں نے ایک دفعہ کہہ دیا ہے۔ دہراتا ہوں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! آپ Verify نہ کریں ......

مرزا ناصر احمد: ......کوئی حوالہ، جو یہاں پڑھ کے مجھے سنایا جائے۔ اس کی نہ میں تصدیق کر سکتا ہوں، نہ تردید کر سکتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے پہلے فرمایا۔ میں نے پھر آپ کو ’’انوارِ صداقت‘‘ سے پڑھ کے سنایا۔ پھر آپ نے تصدیق کی اس کی ......

مرزا ناصر احمد: نہ، میں نے کسی کی تصدیق نہیں کی۔ میں نے جواب دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر آپ کو پھر دے دیتا ہوں۔ میرا تو یہ Impression تھا کہ جب آپ کو پورا علم تھا ......

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ کو پورا علم تھا۔ آپ نے کہا کہ آپ سے یہ سوال منیر انکوائری کے وقت بھی پوچھا گیا۔ ہم نے یہ جواب دیا ۔ تو You did not deny it. But if you take it that way that I have to put it to you pointedly every time, then I will do that. (آپ نے اس بات سے انکار نہیں کیا۔ لیکن اگر چاہتے ہیں کہ میں ہر بار خصوصیت سے تصدیق اور تردید کراتا رہوں تو میں ایسا بھی کروں گا۔ حلفی شہادت)

290 مرزا ناصر احمد: جو تو ......

جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ ...... نہیں جی! یہ تو چونکہ ریکارڈ ہے، Evidence کی بات ہے۔ You are giving evidence on oath

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ ......

جناب یحییٰ بختیار: اگر ’’انوارِ صداقت‘‘ کے 93 Page پر مرزا بشیر الدین کا Statement ہے ہی نہیں؛ ’’انوارِ خلافت‘‘ ......

١؎ اوہو! اپنے مرزا بشیر محمود سے غصہ ہو گئے۔ اپنے ابو کی کتاب کی نہ تائید نہ تردید۔ اتنی جلدی چھکے چھوٹ گئے صاحب! حوالہ سے مبہوت ہو گئے۔ فبُہت الذی کفر ہو گئے کیا؟

٧٩

6th Aug, 1974 No:02 اس میں ہے، مرزا ناصر احمد صاف ہو گیا مسئلہ۔ جناب یحییٰ مرزا ناصر احمد لیں ......ملت اسلامیہ اور جناب یحییٰ مرزا ناصر احمد اسلامیہ میں رہتا ہے۔ جناب یحییٰ ہیں ۔" تو تمام اہل اسلام مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ مرزا ناصر احمد عبدالوہاب کہ تہتر (٧٣ نے مستثنیٰ کیا تھا۔ یعنی یہ تو 289 جناب یحییٰ کیٹیگری کے جو ملت سے مرزا ناصر احمد جناب یحییٰ مرزا ناصر احمد

١؎ مرزا ناصر ا جماعت کا دوسرا نام نہاد پر لیس لاہور سے چھپ کر جو حضرت مسیح موعود کی بیع نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ ا

صفحہ ٣٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: 93 کو تو تسلیم کر لیا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! نہیں، میں یہی کہہ رہا تھا۔ آپ نے کہا کہ میں تو...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اس کو تسلیم کر لیا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! Thank you. مرزا ناصر احمد: اور جواب بھی دے دیا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو میں یہی سمجھا ہوں کہ جب آپ نے جواب دے دیا تو آپ......! مرزا ناصر احمد: وہ ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... تو آپ کہہ سکتے تھے کہ بھئی...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اس کو تسلیم کیا۔ اس کو تسلیم کیا۔ جناب یحییٰ بختیار: تو یہ Statement ہے جی کہ: ”تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

آپ نوٹ کر لیجئے، پھر بعد میں دیکھ لیجئے۔

(مرزا ناصر کی الٹی منطق)

مرزا ناصر احمد: ہاں! نہیں، اس کو میں اس طرح بھی پڑھ سکتا ہوں۔ 291”کہ تمام وہ لوگ جو دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اہل اسلام میں شامل ہیں۔“ یہی فقرہ اس کو الٹ کے پڑھیں تو یہ بنتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس میں یہ ہو گیا کہ آپ اہل اسلام میں احمدیوں کو نہیں شامل کرتے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ کہتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو نہیں اس میں شمار کرتے...... مرزا ناصر احمد: جب اس فرقے کا اعلان ہو۔

اے خیر سے...... گھر کو لوٹ کے آئے...... چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی۔

٨٠

صفحہ ٣٧٩

379 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! جب، ...... کہ تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اس کا مطلب ......

مرزا ناصر احمد: ہر فرقہ یہ اعلان کرتا ہے۔ ہماری ان اصطلاحوں کے لحاظ سے ہر فرقے کا یہ اعلان ہے کہ ہم ملت اسلامیہ میں بھی ہیں اور دائرہ اسلام میں بھی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ٹھیک ہے ......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، تو اس واسطے یہ Understood ہے بات۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر جب یہاں یہ مرزا صاحب نے کہا کہ تمام اہل اسلام دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میں نے آپ سے پوچھا ......

مرزا ناصر احمد: نہیں ۔ وہ تو Understood ہے

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ تمام دائرہ اسلام میں احمدی شامل ہیں؟ آپ نے کہا جو خود کہتا ہے وہ اپنے آپ کو ......

مرزا ناصر احمد: ہاں! محمد بن عبدالوہاب کی میں نے مثال دی۔

292 جناب یحییٰ بختیار: اس کا Conclusion یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں شامل نہیں سمجھتے ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... یا اسے خارج نہیں سمجھتے؟

مرزا ناصر احمد: یعنی ڈبل (Double) سمجھتے ہیں۔ ملت اسلامیہ میں بھی سمجھتے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ دو جگہ استعمال ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! ملت اسلامیہ میں بھی سمجھتے ہیں اور دائرہ اسلام میں بھی ......

جناب یحییٰ بختیار: اور یہاں ......

مرزا ناصر احمد: ...... اور ہر فرقہ یہی سمجھتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں آپ اپنے کو اہل اسلام میں شامل کرتے ہیں۔ مگر خارج والوں میں نہیں آتے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہوا۔

پھر مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ: ”غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔“

٨١

صفحہ ٣٨٠

380 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

In all religious matters.

مرزا ناصر احمد : Now جو مختلف فرقے دینی امور سمجھتے ہیں .......

(فتاویٰ احمدیہ یعنی نہج المصلیٰ غیر معتبر )

جناب یحییٰ بختیار: کہا گیا ہے۔ ”نہج المصلیٰ“ صفحہ نمبر ٣٨٢، حاشیہ ”تحفہ گولڑویہ“ صفحہ نمبر ٢٧۔ وہ تو اوپر کا ہے۔ میرا خیال ہے دوسرے کا ہے۔ یہی ہے۔ ”نہج المصلیٰ“ صفحہ نمبر ٣٨٢ 293

مرزا ناصر احمد : یہ کس کا حوالہ ہے؟ کس کتاب کا؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی ”نہج المصلیٰ“ صفحہ نمبر ٣٨٢۔

مرزا ناصر احمد : یہ کس کی لکھی ہوئی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں سوال کرنے والے کہ یہ مرزا صاحب ، مرزا غلام احمد نے یہ کہا، اور انہوں .......

مرزا ناصر احمد : نہیں یہ کتاب جو ہے یہ اتھارٹی نہیں ہے ہمارے لئے ۔

جناب یحییٰ بختیار: ”نہج المصلیٰ“؟

مرزا ناصر احمد : ہاں! جو بھی ہے۔ یہ کسی اتھارٹی کی لکھی ہوئی نہیں ہے ہماری جماعت کی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کی جماعت .......

مرزا ناصر احمد : ہاں! کسی بزرگ کی نہیں لکھی ہوئی۔

1؎ نہج المصلیٰ کا دوسرا نام مجموعہ فتاویٰ احمد یہ ہے۔ اس کی جلد اوّل ١٩٢٣ء میں شائع ہوئی۔ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ کی دوسری جلد پر تاریخ اشاعت درج نہیں۔ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ کی تیسری جلد پر ١٣٢٥ھ درج ہے۔ اس کے ٹائٹل پر مؤلف کتاب جو خود کو مرزا کا صحابی کہتا ہے، نورالدین، اور بشیرالدین کا خاکپا بنتا ہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ الہام درج کیا ہے۔ ”٢ اکتوبر ١٩٠٦ء میں نے خواب دیکھا کہ ایک کتاب ہے۔ گویا وہ میری کتاب ہے۔ اس کا نام نہج المصلیٰ ہے ۔“ (تذکرہ ص ٤٧٦، طبع سوم) مؤلف نے نہج المصلیٰ کو مرزا قادیانی کی کتاب قرار دیا۔ اس میں اکثر مسائل مرزا کے بیان کردہ قادیانی جرائد سے جمع کر کے کتاب میں شامل کئے۔ اس کا دوسرا نام مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ہے۔ اس کے متعلق مرزا ناصر کہتا ہے کہ اتھارٹی نہیں۔ قادیانی، مرزا ناصر کی اداؤں پر غور کریں۔

٨٢

صفحہ ٣٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: یعنی، آپ Accept نہیں کرتے۔ آپ کے کسی Opponent نے لکھی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ناں، ناں! ہو سکتا ہے کوئی احمدی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: احمدی ہو، ?But not authoritative

مرزا ناصر احمد: ہاں! اتھارٹی نہیں ہے......

Mr. Yahya Bakhtiar: It is not an authoritative pronouncement?

مرزا ناصر احمد: ......کیونکہ بہت سارے اپنے ذاتی مسئلے بیچ میں لکھ جاتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ Authoritative نہیں ہے۔

294 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب!...... I accept your authoritative.

مرزا ناصر احمد: یہ Authoritative نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ جو انہوں نے Quote کیا ہے مرزا صاحب کو یہ......

مرزا ناصر احمد: یہ جب تک چیک نہ کر لیں نہیں کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ?You cannot verify it

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب چیئرمین: کتاب ہے ہمارے پاس؟ The book may be shown the witness.

جناب یحییٰ بختیار: اور پھر جی ایک ہے کہ: ’’تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بہ کلی ترک کرنا پڑے گا۔‘‘

مرزا ناصر احمد: یہ اسی کتاب کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! یہ دوسری کتاب ہے۔ مجھے تو ...... حاشیہ میں لکھا ہے۔ ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ ص٢٧، خزائن ج١٧ ص٦٤۔

١؎ یا چکر بازی تیرا آسرا۔

٨٣

F PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: Now جو

(فتاویٰ احمدیہ

جناب یحییٰ بختیار: کہا گیا

صفحہ نمبر ٢٧۔ وہ تو اوپر کا ہے۔ میرا خیال 293

مرزا ناصر احمد: یہ کس کا

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی

مرزا ناصر احمد: یہ کس کی لکھ

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے نے یہ کہا، اور انہوں .......

مرزا ناصر احمد: نہیں ! یہ کتا

جناب یحییٰ بختیار: "نہج الم

مرزا ناصر احمد: ہاں! جو جماعت کی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ ک

مرزا ناصر احمد: ہاں! کسی

١؎ نہج المصلیٰ کا دوسرا نام مجم ہوئی۔ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ کی دوسری جلد جلد پر ١٣٢٥ھ درج ہے۔ اس کے ٹائٹل اور بشیر الدین کا خاکہ کیا بنا ہے۔ کتاب ’’٢؍ اکتوبر ١٩٠٦ء میں نے خواب دیکھ نہج المصلیٰ ہے۔‘‘ (تذکرہ ص ٢٧٦، طبع دیا۔ اس میں اکثر مسائل مرزا کے بیان اس کا دوسرا نام مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ہے۔ مرزا ناصر کی اداؤں پر غور کریں۔

صفحہ ٣٨٣

382 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: یہ چیک کر کے تو جواب دیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ کی اپنی جماعت کی ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! لیکن حوالہ چیک کرنا پڑے گا۔ * جناب یحییٰ بختیار: ہاں! حوالہ چیک کرلیں۔ اگر یہ درست ہے تو : ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بالکلی ترک کرنا پڑے گا۔“ مرزا ناصر احمد: یعنی حوالہ جو ہے وہ چیک کرنے والا ہے۔ جو مضمون ہے اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ میں نے یہ اس میں بھی لکھا ہے کہ اس قسم کے عقائد کا اظہار ان کی مسلمہ کتب کے اندر ہے جن کو ہم Subscribe نہیں کر سکتے۔ اس واسطے ہمیں ان سے علیحدہ ...... مثلاً قبروں پر سجدہ کرنا، مثلاً پیر کو اپنے سامنے حاضر ناظر جاننا، مثلاً ...... 295 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! ”بالکلی ترک کرنا“ جو ہوتا ہے اس کا مطلب آپ کیا لیں گے؟ مرزا ناصر احمد: اس کا مطلب یہ لیں گے کہ جو ان کے کلی عقائد ہیں۔ ”کلی“ ان کے اندر ایسی چیزیں ملی ہوئی ہیں کہ کلی طور پر ان کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جناب یحییٰ بختیار: اور ”جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔“ مطلب ہے وہ مسلمان نہیں ہیں۔ صرف دعویٰ کرتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو پھر وہی آگئی۔ وہ تو بیس دفعہ حل ہو گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! یہاں جو ہے ناں، چونکہ الفاظ ایسے آگئے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ وہی ہے۔ وہ تو ایک بیان مستقل میں دے چکا ہوں کہ ملت اسلامیہ کے فرد ہیں اور اس حد تک وہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس میں بھی یہ بڑا ...... یعنی یہ جو ہے ناں......

١؎ مرزا غلام قادیانی کا اپنا حوالہ ہے۔ مرزا ناصر احمد اسے بھی اپنی چیک پوسٹ سے گزارنے کے چکر میں ہیں۔ اب موجودہ خزائن کے کمپیوٹر ایڈیشن میں ”بالکلی ترک کرنا پڑے گا“ کی جگہ ”بلکہ ترک کرنا پڑے گا“ کر دیا ہے۔ ٢؎ اس ”بالکلی ترک کرنا“ کو ”بلکہ ترک کرنا“ کر دیا ہے۔ خزائن ج ١٧ ص ٦٤، جدید کمپیوٹر ایڈیشن ۔

٨٤

383 NATIONAL ASSEM

فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں۔" You سلام کرتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان کہتے گے ملت کی۔ ہر وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں ملت اسلامیہ میں شامل ہو گیا۔ لیکن اس کے نے پڑھ کے بھی سنایا۔ ان کو نہ ہی دہراؤں تو

We cannot subcribe Mr. Yahya Bakht you have to give them up بالکلی ترک کرنا۔ ....altogether نے بتایا ”بالکلی ترک کرنے“ کا مطلب یہ ہے اور بات ہے۔ یعنی You have nothing relation with them, you hav ان سے کوئی تعلق نہیں ) ہم نہیں ...... ان عقائد کو Subscribe ت مجموعی ہم ان کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ باقی یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم تردید کر دیں

شعر ہے کہ : مطلب کہ ان کو ”بالکلی تسلیم نہیں کر سکتے۔“ ہو سکتی ہے؟ جس کے مرتکب مرزا ناصر

صفحہ ٣٨٣

383 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں۔“ You count them outside....?

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، دعویٰ اسلام کرتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس واسطے وہ مسلمان کی تعریف میں آجائیں گے ملت کی۔ ہر وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں اسلام پر ایمان لایا اور نبی اکرم ﷺ پر ایمان لایا وہ ملت اسلامیہ میں شامل ہو گیا۔ لیکن اس کے ساتھ بہت سارے وہ جو ایسے عقائد ہیں جن کو میں نے پڑھ کے بھی سنایا۔ ان کو نہ ہی دہراؤں تو زیادہ اچھا ہے۔ تکلیف ہوتی ہے۔

We cannot subcribe to those ideas.

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but, Sir, if you say that you have to give them up altogether, if you give them up altogether.... بہ کلی ترک کرنا۔

296 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے بتایا ”بہ کلی ترک کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ بہ کلی تسلیم نہیں کر سکتے ان کو ١؎۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی تسلیم نہ کرنا ایک اور بات ہے۔ یعنی You have nothing to do with them, you have no relation with them, you have no connection with them....

(آپ کا ان سے کوئی مطلب نہیں۔ آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں)

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ”بکلی تسلیم نہیں......“ ان عقائد کو Subscribe نہیں کر سکتے۔ یہ عقائد کی بات ہے۔ کلی طور پر، بحیثیت مجموعی ہم ان کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ باقی یہ ہے کہ ان میں سے جو توحید کا اعلان کرتے ہیں، یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم تردید کر دیں گے توحید کی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ایک جگہ یہ کہا گیا ہے کہ:

١؎ ”بکلی ترک کرنا پڑے گا“ کا معنی ومطلب کہ ان کو ”بکلی تسلیم نہیں کر سکتے۔“ قادیانی! توجہ فرمائیں کہ اس سے بڑھ کر کوئی بددیانتی ہو سکتی ہے؟ جس کے مرتکب مرزا ناصر صاحب ہو رہے ہیں۔

٨٥

صفحہ ٣٨٤

384 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No: 02

"کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں یہ کہا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک آنحضرت ﷺ سے انکار دوسرے مسیح موعود سے انکار۔ دونوں کا نتیجہ اور ماحصل ایک ہے۔"

مرزا ناصر احمد: یہ کون سا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: "حقیقت الوحی" صفحہ ١٧٩، خزائن جلد ٢٢ صفحہ ١٨٥۔

مرزا ناصر احمد: یہ ایک دفعہ پھر پڑھ دیں۔ میں نے پوری طرح کیچ نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں یہ کہا ہے کہ: "کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک آنحضرت ﷺ سے انکار اور دوسرے مسیح موعود سے انکار۔ دونوں کا نتیجہ اور ماحصل ایک ہے۔"

مرزا ناصر احمد: کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔

297 جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں انہوں نے کہا ہے: "حقیقت الوحی" صفحہ ١٨٥۔

مرزا ناصر احمد: یہ الفاظ ...... جو اصل بنیاد لفظ تھے وہ چھوڑ گئے۔ اس واسطے میں کہتا ہوں کہ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ......

مرزا ناصر احمد: یہ الفاظ کسی کتاب میں نہیں لکھے گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو Verify کرالیں گے Because ...... کیا کہا ہے۔ تو اسے ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ...... مگر یہ کہ میری Information کے لئے انہوں نے Mention کیا ہوا ہے کہ "حقیقت الوحی" تو میں نے آپ کو کہا کہ یہ Mention کیا ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: تو میں پڑھ دوں کیا کہا گیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! پڑھ دیجئے۔ پوزیشن Clarify کرنی ہے۔ خواہ یہ پڑھیں یا وہ پڑھیں۔

مرزا ناصر احمد: آپ نے یہ لکھا ہے: "کفر دو قسم پر ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ

٨٦

صفحہ ٣٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مثلاً (یہ مثال دی ہے) وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا (اور اگلا فقرہ جو، یہاں چھٹا ہوا ہے وہ اصل تھی چیز اس میں) اور اس کو (مسیح موعود کو) باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔"

298 یہ تو میں نے آپ کو پہلے صبح بتایا تھا کہ ایک شخص ...... حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا انکار کرنے والے دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ ہے جو کھڑے ہو کے یہ کہتا ہے کہ میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور خدا کی طرف سے آئے ہیں، لیکن میں باغی ہونے کی حیثیت سے باوجود اس بات کے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ وہ تو ٹھیک ہے۔ آپ نے صبح ......

مرزا ناصر احمد : نہیں ...... دوسرے وہ جو ...... یہاں "حقیقت الوحی" میں وہ پہلی کیٹگری، اتمام حجت کے بعد وہ انکار کرتا ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو ایک دفعہ کہے کہ آپ نبی ہیں اور ......

(اتمام حجت کی تعریف میں دجالانہ تحریف)

مرزا ناصر احمد : ناں، ناں، ناں! "اتمام حجت" کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں یہ بات سمجھ گیا ہوں کہ یہ شخص اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ انکار کرتا ہے اور باغیانہ ترین راہوں کو اختیار کرتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: باوجود اتمام حجت کے ......

مرزا ناصر احمد : ہاں، باوجود اتمام حجت کے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... جھوٹا جانتا ہے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں! باوجود اتمام حجت کے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایسا شخص بھی کوئی ہے جو کہے کہ مرزا غلام احمد (قادیانی) سچے نبی ہیں اور میں نہیں مانتا مسلمان انہیں؟

مرزا ناصر احمد : میں نے بہتوں سے سنا یہ کہتے ہوئے کہ اگر اللہ آ کے ہمیں کہے گا تب بھی نہیں مانیں گے۔

299 جناب یحییٰ بختیار: وہ اس بناء پر کہہ رہے ہیں ناں جب کہ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے ...... ان کی Interpretation کے مطابق ...... کہ کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ختم نبوت، اس لئے وہ کہہ رہے ہیں اور اللہ میاں کا آرڈر ہے اس کے بعد کوئی نہیں ......

٨٧

صفحہ ٣٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: اور ...... نہیں، نہیں۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اللہ خود آ کر قرآن مجید کی Interpretation کرے تو ہم یہ کہیں گے کہ ہماری Interpretation صحیح ہے اور اے خدا! تیری Interpretation صحیح نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ان کے مطابق اللہ میاں آ ہی نہیں سکتا اور پھر Inerpretation نہیں کرتا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان کی Understanding یہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: مطلب یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد اور آگے اس کی وضاحت کی ہے۔ آپ نے اسی کتاب میں آپ نے فرمایا: ”اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔“

Mr. Chairman: That will do for the present, Yes. So the Delegation is permitted to leave, to report back at 6:00.

The honourable members may keep sitting.

(جناب چیئرمین: وفد جاسکتا ہے شام چھ بجے جمع ہوں گے۔ معزز ممبران سے گزارش ہے کہ اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں۔)

(The Delegation left the Chamber)

(وفد ہال سے باہر چلا گیا)

300 ARRANGEMENTS FOR PRODUCTION OF

BOOKS AND REFERENCES

جناب چیئرمین: میں ایک چیز آنریبل ممبرز کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن ممبر صاحبان نے سوالات دیئے ہیں، ساتھ حوالہ جات کا حوالہ دیا ہے۔ تمام کتابیں ہم اس طرف لگوا دیں گے۔ آپ اہتمام سے کتابیں ادھر لگائیں۔ آپ کراس کرتے ہیں اٹارنی جنرل اور Witness کے درمیان۔ ایک سیکنڈ جی ! For your convenience اور یہ ساتھ

٨٨

صفحہ ٣٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

والی جو Row ہے یہ ان لوگوں کے لئے مخصوص کریں۔ جنہوں نے حوالہ جات دینے ہیں۔ ان کو باقاعدہ فلیگ کریں۔ اگر Witness کسی چیز سے انکار کرے تو فوراً کتاب ان کے سامنے پیش کی جاسکے۔ یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کہ ایک حوالہ کو تلاش کرنے میں آدھ گھنٹہ لگتا ہے۔ میں کل کا بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ یہ میز جو ہے اس پر کتابیں یہاں رکھیں۔ یہاں ہم چار پانچ کرسیاں لگا دیتے ہیں تاکہ جن ممبر صاحبان نے اپنے حوالہ جات تلاش کرنے ہیں ان کرسیوں پر بیٹھ کر کر سکیں اور ادھر بھی۔ اب صرف وہ حضرات جنہوں نے حوالہ جات دیئے ہیں وہ ادھر آ کے بیٹھیں۔ Books جو ہیں وہ ریڈی ہونی چاہئیں تاکہ اٹارنی جنرل کو Difficulty نہ ہو اور ٹائم Waste نہ ہو۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: سر! اجازت ہو تو ایک بات عرض کردوں؟

مولوی مفتی محمود: جناب والا! ان کا یہ ہے کہ جلدیں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم صفحہ اور لکھتے ہیں اور کتاب ہمارے پاس دوسری قسم کی آ جاتی ہے۔ ہمارے پاس تین حوالے تھے، اب وہ ٹٹول رہے ہیں.......

جناب چیئرمین: اب ٹائم ہے آپ حوالہ جات شروع ہو گئے ہیں۔ اچھا! میں......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: نہیں، وہ اصل میں......

جناب چیئرمین: اب حوالہ جات شروع ہو چکے ہیں۔

301مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جی ہاں!

جناب چیئرمین: اب وہ جنرل جو تھی...... ایک سیکنڈ۔ مجھے ختم کر لینے دیں۔ ایک سیکنڈ۔ مجھے بات تو کر لینے دیں۔ مجھے بات تو کر لینے دیں ناں! سر! تو ایک جنرل جو تھا ایگزامینیشن، وہ ختم ہو چکا ہے تقریباً وہ چلتا رہے گا لیکن زیادہ بات اب حوالہ جات کی شروع ہو چکی ہے اور دو تین حوالہ جات نہیں مل سکے۔ اس واسطے جب شام کی Sitting ہوگی تو ادھر چار پانچ کرسیاں اور لگ جائیں گی۔ تمام حضرات اپنے اپنے جتنے بھی حوالہ جات ہیں وہ فلیگ کر کے، اگر دو تین ایڈیشن ہیں تو جس ایڈیشن کا انہوں نے حوالہ دیا ہو وہ دیں تاکہ فوراً اٹارنی جنرل صاحب جو ہیں گواہ کو یہ کہیں کہ یہ آپ کی کتاب ہے۔ And members will not come اسمبلی کے سٹاف کا آدمی ہو گا جو کہ کتاب ان کو پیش کرے گا۔

جی! مولانا غلام غوث ہزاروی!

٨٩

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: اور.......نہیں کی Interpretation کرے تو ہم اور اسے خدا! تیری Interpretation

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ Inerpretation نہیں کرتا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ان

مرزا ناصر احمد: مطلب یہ ہے۔ آپ نے اسی کتاب میں آپ نے ف جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔“

ll do for the present, Yes. mitted to leave, to report may keep sitting.

(جناب چیئرمین: وفد چلا گزارش ہے کہ اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں he Chamber)

(وفد

PRODUCTION OF ERENCES

جناب چیئرمین: میں ایک جن ممبر صاحبان نے سوالات دیئے ہیں طرف لگوا دیں گے۔ آپ اہتمام سے ک اور Witness کے درمیان۔ ایک سیک

صفحہ ٣٨٨

388 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مولانا غلام غوث ہزاروی: میں عرض کروں کہ ہم حوالہ اس وقت تیار رکھیں جب ہم کو اٹارنی جنرل صاحب کی طرف سے علم ہو کہ اب وہ کون سے سوالات کریں گے۔ ایک تو یہ چیز ہے۔ دوسرے میں مفتی صاحب کے بارے میں کہتا ہوں کہ اگر تین مطبوعوں میں کتابیں چھپی ہیں تو ان کے پاس وہ کتاب ہونی چاہئے جس کا یہ حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کے پاس اسی مطبع کی کتاب ہو اور وہ نکال کر پڑھ دیں۔ وہ انکار نہیں کرسکیں گے۔

جناب چیئرمین: مولانا شاہ احمد نورانی!

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جی ہاں! مولانا صاحب نے جو ارشاد فرمایا ہے، وہ صورتحال مفتی صاحب نے جو کہی ہے وہ صحیح ہے۔ اصل میں ہم لوگوں کے پاس جو کتاب تھی مثلاً ”حقیقت الوحی“ انہوں نے اس کا انکار کیا کہ نہیں ہے۔......

302 جناب چیئرمین: اس کا......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... بعد میں آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ اسی وقت وہ کتاب ان کو پیش کردی گئی۔

جناب چیئرمین: نہیں، اس کا حل میں بتاتا ہوں۔ مثلاً مولانا! آپ کے پاس پہلا ایڈیشن ہے یا دوسرا ایڈیشن ہے۔......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جی ہاں!

جناب چیئرمین: ...... تو آپ کہیں ١٩٠٥ء کا مطبوعہ، تیسرا ایڈیشن صفحہ فلاں۔ اس حوالہ کو اسی وقت پیش کردیں ناں جی!

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: وہ ان کو کہا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا۔

جناب چیئرمین: اگر اصل کتاب......

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بعد میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حوالہ دے دیا گیا۔

جناب چیئرمین: اگر اصل کتاب ہے تو پھر تو ضرورت ہی نہیں، چاہے کون سا ایڈیشن ہو۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: کتاب کا Difference وہ پرنٹ کا ہے۔

جناب چیئرمین: مختلف پرنٹ ہو لیکن گواہ انکار نہیں کرسکے گا۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: مناظرے کی...... جناب! میں عرض کروں اصول مناظرت ایک یہ ہے کہ جب تک فریقین کو ایک چیز مسلم نہ ہو اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

٩٠

389 NATIONAL ASS

م حجت کے بعد وہ کافر ہوگا تو ہم تو پہلے اس یں ہے۔ یہی تو مسئلہ متنازعہ فیہ ہے۔ جو ا۔ جس چیز کو فریقین مانتے ہوں وہ دلیل ہے ناں! یہاں ضابطے کی بات ہورہی ہے۔

The house is adjo Thank you very much.

[The Special Committe re-assem

[The Special Committee Mr. Chairman (Sahibz

Mr. Chairman: حوالہ جات That would be others also.

(In (The Delegatio Mr. Chairman: Y

CROSS- EXAMINA GROUP Mr. Yahya Bak explaining when I asked t

صفحہ ٣٨٩

389 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جب ہم مرزا کو مسیح موعود نہیں مانتے تو یہ کہتے ہیں کہ اتمام حجت کے بعد وہ کافر ہو گا تو ہم تو پہلے اس کو مسیح موعود نہیں مانتے۔ ہم تو ...... اتمام حجت ہم پر نہیں ہے۔ یہی تو مسئلہ متنازعہ فیہ ہے۔ جو متنازعہ فیہ مسئلہ ہو وہ فریقین کے لئے حجت نہیں ہو سکتا۔ جس چیز کو فریقین مانتے ہوں وہ دلیل ہو سکتی ہے۔

303 جناب چیئرمین: یہ تو بحث کی بات ہے ناں! یہاں ضابطے کی بات ہو رہی ہے۔

The house is adjourned to meet again at 6:00 pm. Thank you very much.

--------

[The Special Committee adjourned for Lunch Break to re-assemble at 6:00 p.m.]

--------

[The Special Committee re-assembled after Lunch Break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

--------

Mr. Chairman: Mian Attaullah must sit with the حوالہ جات That would be better for Mian Attaullah and for others also.

(Interruption)

جناب چیئرمین: ان کو لے آئیں۔

(The Delegation entered the Chamber)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

--------

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you were explaining when I asked this question:

٩١

KISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مولانا غلام غوث ہزا ہم کو اٹارنی جنرل صاحب کی طرف ہے۔ دوسرے میں مفتی صاحب کے تو ان کے پاس وہ کتاب ہونی چا۔ کتاب ہو اور وہ نکال کر پڑھ دیں۔ جناب چیئرمین: مو مولانا شاہ احمد نورانی صورتحال مفتی صاحب نے جو کہی ۔ ”حقیقت الوحی“ انہوں نے اس کا ا 302 جناب چیئرمین: مولانا شاہ احمد نورانی وہ کتاب ان کو پیش کر دی گئی۔ جناب چیئرمین: نہی ایڈیشن ہے یا دوسرا ایڈیشن ہے ...... مولانا شاہ احمد نورانی جناب چیئرمین: ... حوالہ کو اسی وقت پیش کر دیں ناں جو مولانا شاہ احمد نورانی جناب چیئرمین: اگر مولانا شاہ احمد نورانی جناب چیئرمین: آ ایڈیشن ہو۔ مولانا شاہ احمد نورانی جناب چیئرمین: مخا مولانا غلام غوث ہز مناظرت ایک یہ ہے کہ جب تک ا

صفحہ ٣٩٠

390 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں یہ لکھا ہے کہ: ”کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک آنحضورﷺ سے انکار اور دوسرے مسیح موعود سے انکار اور دونوں کا نتیجہ اور حاصل ایک ہے۔“

304 And then after that 'Haqeequt-ul-Wahi' was quoted and you observed, you know that after a person has been told اتمام حجت that I am not clear how you interpreted it, but as far as I could follow- even if a man is convinced that there is a Prophet, and he denies his prophethood and his being a Nabi, then he becomes a Kafir?

(جب میں نے آپ سے سوال کیا جو آپ سمجھا رہے تھے اور پھر حقیقت الوحی کے اقتباسات پڑھے گئے تو آپ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کو اتمام حجت سے آگاہ کر دیا جائے اور اگر نبی موجود ہے کوئی شخص اس کی نبوت سے انکار کرے تو پھر کافر ہو جاتا ہے)

مرزا ناصر احمد : اس کی یہ عبارت جو ہے یہ آگے چلتی ہے اور خود اپنے آپ کو واضح کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”دوسرے یہ کفر مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے......“

یعنی وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اور رسول نے تو تاکید کی ہے کہ مانا جائے، اس کے باوجود انکار کرتا ہے۔ ”...... اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔“ اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے......

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, Sir, I will come to that part. I only wanted the meaning of اتمام حجت؟

مرزا ناصر احمد : ہاں! ”اتمام حجت“ کا یہ معنی ہے کہ اس پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ مدعی اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ”واضح ہو گیا ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو Explain کر دیا گیا۔ ان کو پوری طرح Explain کر دیا گیا؟

٩٢

صفحہ ٣٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: نہیں۔ وجاھدوا بھا واستیقنت انفسھم 305 قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں دنیا میں جو صداقت کا انکار کرتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے دل اس یقین سے پر ہوتے ہیں کہ یہ سچا ہے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, that.... what I wanted to know is کہ ”اتمام حجت“ کا یہ مطلب ہے کہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ جانتا ہو کہ یہ سچ کہہ رہا ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں! واستیقنت انفسھم......پھر بھی انکار کرتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر اگر ایک مسلمان، اس کو یہ آپ یقین دلانے کی کوشش کریں، ہر بحث سے، پوری بحث کے بعد، حجت کے بعد، Argument کے بعد Reasoning کے بعد، کہ مرزا غلام احمد صاحب نبی تھے، اور وہ Convince نہیں ہوتا۔ Honestly Convince نہیں ہوتا......

مرزا ناصر احمد: Convince نہیں ہوتا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہوتا۔ اس کے دل میں یہ یقین نہیں ہے کہ یہ سچا نبی تھا۔ اس کو بھی آپ کافر کہیں گے؟

مرزا ناصر احمد: اس کو وہ دوسری قسم کا کافر۔ وہ تو واضح ہو گیا ہے ناں!

جناب یحییٰ بختیار: دوسری قسم کا؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! ملت اسلامیہ کے لحاظ سے وہ کافر نہیں، مسلمان کہلائے گا......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! آپ نے......

306 مرزا ناصر احمد: ......ملت اسلامیہ کا فرد سمجھا جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت کے باوجود؟ آپ نے......

307 مرزا ناصر احمد: اگر وہ Convince نہیں، اگر تو اس کو پتہ لگ گیا۔ واستیقنت انفسھم تو وہ پھر ملت مسلمہ سے نکل گیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جب، اگر پتہ لگ گیا......

مرزا ناصر احمد: ......اور اگر نہیں پتہ لگا......

٩٣

Y OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد ”کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک آنحضر اور دونوں کا نتیجہ اور حاصل ایک ہے۔“

t 'Haqeequt-ul-Wahi' was know that after a person has clear how you interpreted it, en if a man is convinced that jes his prophethood and his a Kafir?

(جب میں نے آپ سے سوال ک اقتباسات پڑھے گئے تو آپ نے فرمایا کہ اگر نبی موجود ہے کوئی شخص اس کی نبوت سے انکار ک

مرزا ناصر احمد: اس کی یہ عبار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”دوسرے یہ حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور ہے......“

یعنی وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اور رسو انکار کرتا ہے۔ ”......اور پہلے نبیوں کی کتابوں اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔“

اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے

Yes, Sir, I will come to that

? اتمام حجت کہ

مرزا ناصر احمد: ہاں! ”اتمام ح اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”واضح ہو دیا گیا۔ ان کو پوری طرح Explain ک

صفحہ ٣٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں جی! دو Reasons ہیں، ایک آدمی کو پتہ لگ جائے Honestly اور پھر بھی کہے کہ نہیں، نبی نہیں، وہ تو بڑی Rare چیز ہے...... مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر وہ ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں! وہ تو Exceptional بات ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کو یقین بھی ہے...... مرزا ناصر احمد: ...... جانتا بھی ہے اور وہ انکار کرتا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: ......کہ اللہ کا حکم ہے۔ وہ تو Rare ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہی ملت اسلامیہ سے نکلتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور باقی جتنے مسلمان ہیں، جن کو آپ نے یہ اچھی طرح سمجھایا...... مرزا ناصر احمد: ......نہیں سمجھ سکے۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ نہیں سمجھ سکے یا آپ نہیں سمجھا سکے یا ان کو یقین نہیں آیا ...... مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹھیک ہے، ہم نہیں سمجھا سکے یا ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... بہرحال وہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹا نبی ہے، سچا نبی نہیں۔ مرزا ناصر احمد: ...... تو وہ ملت اسلامیہ سے نہیں نکلتا، لیکن ہمارے نزدیک دائرہ اسلام سے نکل گیا۔ 307 جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج ہے، ملت میں رہتا ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! ملت میں رہتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا صاحب! یہ آپ کے اور باقی مسلمانوں کے درمیان اختلافات جو ہیں، وہ اس بات پر ہو گئے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ Main جو ہے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں جی! Main یہ ہے ہمارے نزدیک کہ بہت ساری غلط عقائد ہمارے نزدیک۔ ان کے اندر داخل ہوگئے ہیں۔ جن کی مثالیں محضر نامہ میں سب نے دی تھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر وہ سب باتیں آپ کی طبیعت کے مطابق، آپ کے عقائد کے مطابق ہوں اور وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانیں ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ یہ Extreme مثالیں لے آتے ہیں۔ میرے ذہن میں نہیں بات واضح ہوتی۔ میں معذرت چاہتا ہوں۔

٩٤

NATIONAL ASSE

ری مثال دیتا ہوں کہ آپ کے اور ان کے ہے؟ اس فرق کے ...... ان، جب آپ کہتے ہیں ئی ہاتھ چھوڑ کے پڑھتا ہے، کوئی باندھ کے کہ تو یہ تو نماز میں جو فرق ہیں، مثلاً شیعہ

Formality کی بات ہے۔ ا ہے۔ باقی وہی پانچ وقت کی فرض نماز ...... وہی ......

یہ ہے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا۔ موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے غلط کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، ے بتایا ہے کہ ایک ایک چیز میں ان سے قادیان ج ١٩ ش ١٣، مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)

اور یہ پہلے منیر انکوائری کمیٹی میں یہ سوال ت یہ خطبے دیئے جاتے تھے اور چھپتے تھے۔ محفوظ کئے جاسکیں تو ڈائری نویس نے بعض دوسرے یہ تو ویسے لفظی جواب ہے۔ ہم ہمارے دوست جو ہیں، یا اہل حدیث جتنے ۔ یعنی یہ نہیں کہ کلمہ کے الفاظ اور ہیں اس میں ہے وہ اس سے مختلف ہے جو ان کے سلام کا تصور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں،

صفحہ ٣٩٣

393 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پھر میں دوسری مثال دیتا ہوں کہ آپ کے اور ان کے کلمہ میں کوئی فرق ہے؟

مرزا ناصر احمد: کوئی فرق نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نماز میں کوئی فرق ہے؟

مرزا ناصر احمد: کوئی فرق نہیں، سوائے اس فرق کے...... ان، جب آپ کہتے ہیں ناں تو مختلف فرقے ہیں۔ مثلاً یہ پہلا ہی فرق ہے کہ کوئی ہاتھ چھوڑ کے پڑھتا ہے، کوئی باندھ کے پڑھتا ہے، کوئی آمین بالجہر کہتا ہے، کوئی نہیں کہتا بالجہر، تو یہ تو نماز میں جو فرق ہیں، مثلاً شیعہ حضرات ہیں، ان کے تھوڑے سے فرق ہیں۔

308 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو خیر Formality کی بات ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو Understood ہے۔ باقی وہی پانچ وقت کی فرض نماز......

جناب یحییٰ بختیار: ......وہی کلمہ ہوتا ہے، وہی......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! خطبہ ہے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا۔ اس سے ایک Quotation ہے کہ:”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف سطحی اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ایک ایک چیز میں ان سے

اختلاف ہے۔“ (اخبار الفضل قادیان ج١٩ ش ١٣، مورخہ ٣٠؍جولائی ١٩٣١ء)

مرزا ناصر احمد: جی! اس کے دو جواب ہیں اور یہ پہلے منیر انکوائری کمیٹی میں یہ سوال پیش ہوا اور اس کا جواب دیا گیا۔ ایک یہ ہے کہ جس وقت یہ خطبے دیئے جاتے تھے اور چھپتے تھے۔ اس وقت ایسا کوئی انتظام نہیں تھا کہ صحیح الفاظ جو ہیں وہ محفوظ کئے جاسکیں تو ڈائری نویس نے بعض الفاظ دیئے ہیں۔ جن میں بعض غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ دوسرے یہ تو ویسے لفظی جواب ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہمارا کلمہ اور وہابی دوسرے حضرات، ہمارے دوست جو ہیں، یا اہل حدیث جتنے فرقے ہیں۔ ان کا کلمہ اور ہے تو ہم لفظی معنی میں نہیں کہتے۔ یعنی یہ نہیں کہ کلمہ کے الفاظ اور ہیں اس کے معنی میں کہتے ہیں کہ جو کلمہ کا مفہوم ہمارے دماغوں میں ہے وہ اس سے مختلف ہے جو ان کے دماغوں میں ہے۔ یہ مثلاً میں نے محضرنامے میں، جو اسلام کا تصور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں،

٩٥

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھ لگ جائے Honestly اور پھر بھی کہے ک

مرزا ناصر احمد: نہیں، اگر وہ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! وہ کے کہ اس کو یقین بھی ہے.......

مرزا ناصر احمد: ......جانتا بھی

جناب یحییٰ بختیار: ......کہ اللہ

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہی ملت

جناب یحییٰ بختیار: اور باقی جتنے

مرزا ناصر احمد: ......نہیں سمجھ

جناب یحییٰ بختیار: ......وہ ٹھیس

مرزا ناصر احمد: ہاں! ٹھیک ہے

جناب یحییٰ بختیار: ......بہر حال

مرزا ناصر احمد: ......تو وہ ملت اسلام سے نکل گیا۔

307 جناب یحییٰ بختیار: دائرہ ا

مرزا ناصر احمد: ہاں! ملت میں

جناب یحییٰ بختیار: اب مرزا اختلافات جو ہیں، وہ اس بات پر ہو گئے کہ

مرزا ناصر احمد: نہیں جی! ho ہمارے نزدیک۔ ان کے اندر داخل ہو گئے ہ

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آ عقائد کے مطابق ہوں اور وہ مرزا غلام احمد کو

مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ ذہن میں نہیں بات واضح ہوتی۔ میں معذرت

صفحہ ٣٩٤

394 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ہمارے نزدیک 309 ہمیں دیا ہے۔ انسان کو۔ اس پر جو بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا کہ اللہ جو ہے یہ ہے اس کے میں نے حوالے دیئے تھے۔ اگر آپ اس کے مقابلہ میں...... اگر مجھے اجازت دیں تو میں حوالہ دیئے بغیر کہہ دوں، کہ وہ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں جی! اپنا حوالہ نہیں، جب میں اس کے مقابلے میں کسی دوسرے کسی فرقے کا حوالہ دوں تو فرقے کا نام نہ لوں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔

(کلمہ کے معنی میں مسلمانوں سے ہمیں اختلاف ہے)

مرزا ناصر احمد: ہاں! اگر وہ خدا جو سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ! بھی اس کے متعلق آتا ہے اور الحمد للہ بھی اس کے متعلق آتا ہے...... اس کا تصور یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے پاک اور مبرا ہے، منزہ ہے اور تمام تعریفیں جو ہیں وہ اسی کی ہیں اسی کو جاتی ہیں۔ تمام صفات حسنہ سے وہ متصف ہے اور ہر قسم کی برائی اور عیب سے وہ پاک ہے۔ یہ اس سے یہ ابتداء ہے، عنوان بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تصور کا۔ جس وقت ہم اس کی کوئی عیب...... ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ کوئی عیب جو انسانی دماغ میں کبھی آ سکتا ہے۔ آتا رہا ہے یا آئندہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات میں وہ عیب نہیں پایا جاتا اور ہر قسم کی خوبی اور بڑائی جو ہے اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات بنتی ہے۔ کسی اور مخلوق کی وہ ذات ہی نہیں بنتی۔ اب یہ تصور، میں نے بڑا مختصر کیا ہے۔ کیونکہ اچھے لمبے حوالے میں نے اپنے محضر نامے میں یہاں پیش کر دیئے ہیں۔ اس تصور کے مقابلہ میں اگر ہمیں کسی ایسی کتاب میں، جس کا تعلق کسی دوسرے فرقے کے ساتھ ہے۔ یہ لکھا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ! چوری کر سکتا ہے تو جب یہ ملے، ہم کہیں گے کہ ہمارا ”لا الہ الا اللہ“ لفظ وہی ہیں۔ لیکن ہمارا ”لا الہ الا اللہ“ مختلف ہے اور جس وقت 310...... یہ ایک حصہ میں نے لیا ہے۔ ایک مثال دی ہے صرف۔ دوسرا حصہ ہے محمد رسول اللہ۔ کلمہ کے اس حصے میں بھی ہمارا معنوی اختلاف بنتا ہے۔ جو شان اور جو عظمت اور جو جلال ہمیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف سے تعلیم کے لحاظ سے، زور دے کر نبی اکرم ﷺ کے جلال اور عظمت اور شان کا ہمیں علم ہوا ہے۔ جس وقت ہم مقابلہ کرتے ہیں دوسروں کے ساتھ تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مثلاً اگر اس کے مقابلہ میں ہمیں کوئی ایسا فرقہ نظر آئے جو یہ کہے کہ محمد ﷺ کی شان کو حاصل

٩٦

صفحہ ٣٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

کرنے کے لئے چار دفعہ حصہ کرلیں کافی ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمارا محمد رسول اللہ اور ہے اور اس فرقے کا اور ہے۔ تو یہ جو ہے کہ ”ہمارا کلمہ اور ہے“ معنوی لحاظ سے ہے، لفظی لحاظ سے نہیں۔ اتنا فرق ہے کہ ہم .We cannot subscribe to those notions ورنہ لفظی لحاظ سے تو ایک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا Interpretation جو ہے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ہر......

مرزا ناصر احمد: ارکان کے متعلق۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... ارکان کے متعلق مختلف ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! مختلف ہے اور باقی فرقوں کا بھی باہمی اختلاف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک اور کچھ غلط فہمی سی شاید ہے کہ نائیجیریا میں مسجد ہے۔ اس پر کلمہ جو لکھا ہوا ہے۔ اس کی فوٹو آئی تھی۔ اخباروں میں، اور "Africa Speaks" میں کہ ”لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ“ ایسا Impression پڑتا ہے۔ May be it is ”محمد رسول اللہ“ ...... But the general impression is at first sight... I did see it. ”احمد رسول اللہ“

311 مرزا ناصر احمد: جی! جو ایک مسجد ایجے بودے (Ijebuode) نائیجیریا میں، وہاں جامع مسجد کے اوپر کلمہ لکھا گیا۔ جو وہاں کے لوگوں نے لکھا۔ اس کے متعلق یہاں یہ شور مچایا گیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! "Africa Speaks" آپ کی پبلی کیشن ہے، اس میں Quote ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھہر جائیں جی! میں آ رہا ہوں۔ میں اسی میں ہوں...... اس کے متعلق یہاں شور مچایا گیا کہ یہ دیکھو یہ کلمہ مختلف ہے۔ اوّل تو یہ ہے کہ ہم نے سینکڑوں مساجد بنائیں اور ان میں سے صرف ایک مسجد کو منتخب کر کے یہ شور مچانا کہ ان کا کلمہ مختلف ہے۔ یہ تو دل کو نہیں لگتی بات۔ لیکن ابھی میری بات نہیں ختم ہوئی۔ میں اس کو Reinforce کرتا چلا جاؤں گا۔ جب تک کہ آپ قائل نہیں ہو جاتے۔ اب یورپ میں ہماری مساجد ہیں، خود نائیجیریا میں بیسیوں ہماری مساجد ہیں، گھانا میں مساجد ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ جن لوگوں میں، نائیجیریا میں، اس کے اس علاقے میں۔ ایک سٹیٹ کا اچھا بڑا ٹاؤن ہے یہ ایجے بودے، وہاں یہ

٩٧

صفحہ ٣٩٦

396 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مسجد ہے، وہاں کے کسی عالم نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ کلمہ اور لکھ دیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہاں احمدیوں کے علاوہ اور بھی مسلمان ہیں؟

مرزا ناصر احمد : وہاں احمدی شاید پانچ ، دس پرسنٹ ہوں گے اور بڑے بڑے علماء ہیں، ان کی تنظیمیں ہیں۔ شہر ہے وہاں! یہ چھوٹا سا گاؤں نہیں ، شہر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ ”لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ“ کیوں لکھا ہے آپ نے؟

312 مرزا ناصر احمد : انہوں نے یہ اعتراض ہی نہیں کیا کہ کوئی ذرا سا شوشہ بھی غلط ہو کلمہ کا ۔ کیا ہی نہیں۔ جن کے ...... ہر وقت وہ مینارہ ان کے سامنے ہے جس کے اوپر یہ لکھا ہوا ہے۔ میں وہاں گیا ، میں نے اس کا افتتاح کیا ، اسی وجہ سے وہاں اور اس میرے اس جلسے میں کم از کم دو، تین ہزار ایسے دوست تھے ہمارے جو احمدی نہیں تھے اور ان کے سامنے وہ کلمہ لکھا ہوا تھا اور انہوں نے وہاں اعتراض نہیں کیا اور سب سے آخر میں میں یہ کہتا ہوں کہ رابطہ عالم اسلامی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے...... یہ رابطہ عالم اسلامی کا یہ مجلہ ہے مئی کا...... اور اس میں یہ مسجد کی تصویر شائع کر دی۔ یہ تصویر شائع کر دی اور ایک نوٹ لکھا اور اس نوٹ میں کوئی یہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا کہ یہ کلمہ بدلا ہے۔ بلکہ بالکل صاف پڑھا جاتا ہے۔ ”محمد رسول اللہ“ ایک اور رسم الخط میں۔ بات یہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس رسم الخط میں نہیں لکھا گیا......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا تھا مرزا صاحب! کہ یہ ”محمد رسول اللہ“ Actually لکھا گیا ہے؟

مرزا ناصر احمد : یہ ہے ہی ، بغیر شبہ کے یہ آپ دیکھ لیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! مجھے تو کوئی ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، یہ رابطہ عالم اسلامی کا ہے مجلہ ، یہ ہمارا نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”Africa Speaks“ کا میں ذکر کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، وہی ہے تصویر ۔ وہی تصویر رابطہ عالم اسلامی نے شائع کی ہے۔ اسی مسجد کی وہی تصویر ۔ لکھا ہوا ہے کہ یہ احمدیوں نے یہ تصاویر شائع کی ہیں۔ وہیں سے ہم نے لی ہیں۔ یہ مکہ سے نکلتا ہے یہ رسالہ۔

313 جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی! مجھے تو یہ ”لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ“ معلوم ہوتا ہے ابھی ۔

٩٨

397 NATIONAL

ہے کہ اس میں جو نوٹ ہے اس میں بھی ہوں ۔ مگر ....... طریقے سے لکھیں کہ میم کو نیچے سے میم کا موٹا ہے۔...... Impression جو پڑتا ہے...... رے خیال میں اگر یہاں قرآن کریم کو۔ ابھی چند ہفتے ہوئے۔...... اخیال یہ تھا کہ Actually یہ ’لا‘ Clar کرانا چاہتا تھا۔ ۔ وہاں جو لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے رابطہ عالم اسلامی نے اس پر اعتراض ۔ مرزا صاحب! کہ جو وہاں ہیں وہ سے صاف نظر نہیں آتا۔ یا یہ جو محمد کی میم ہے دوسری ۔ اس کے محمد لف پر ...... .......(مداخلت) نہیں ،نہیں، یہ وہ ہے ۔ ہمارے سے رسم الخط مختلف ہے۔ ت) ہاں! ایسے کر کے.......

صفحہ ٣٩٧

397 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: بات سنیں، میں نے تو یہ کہا ہے کہ اس میں جو نوٹ ہے اس میں بھی اعتراض نہیں کیا گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ مگر......

مرزا ناصر احمد: رسم الخط ہے۔ یہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ کہ وہ اگر محمد کو اس طریقے سے لکھیں کہ میم کو نیچے سے شروع کر کے......

مرزا ناصر احمد: نیچے سے اٹھاتے ہیں، نیچے وہ میم کا موٹا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: پھر ہو سکتا ہے کہ وہ محمد ہو۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں......

جناب یحییٰ بختیار: مگر میرے خیال میں Impression جو پڑتا ہے......

مرزا ناصر احمد: یہ ایک ہے خط کوفی۔ وہ میرے خیال میں اگر یہاں قرآن کریم آئے تو ایک شخص بھی اس کو صحیح نہ پڑھ سکے۔ ایک ہے خط مراکو۔ ابھی چند ہفتے ہوئے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میرا خیال یہ تھا کہ Actually یہ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ لکھا ہوا ہے؟ یہ میں Clarify کرانا چاہتا تھا۔

مرزا ناصر احمد: Acutally یہی لکھا ہوا ہے۔ وہاں جو لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اختلاف رکھنے والے بھی، انہوں نے اعتراض نہیں کیا۔ رابطہ عالم اسلامی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ ساتھ ایک نوٹ دیا ہے۔

314 جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مرزا صاحب! کہ جو وہاں ہیں وہ Actually دیکھ سکتے ہیں۔ ان کو میم نظر آتا ہوگا۔ مگر فوٹو سے صاف نظر نہیں آتا۔

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ اس فوٹو میں بھی یہ جو محمد کی میم ہے دوسری۔ اس کے اوپر تشدید نظر آرہی ہے تو احمد پر وہ تشدید کہاں ہوتی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر یہاں جو ہے وہ الف پر......

مرزا ناصر احمد: یہاں جو ہے اس کے اوپر تشدید...... (مداخلت) نہیں، نہیں، یہ وہ ہے رسم الخط، یوں اوپر لے جا کے...... (مداخلت) ہاں، مختلف ہے۔ ہمارے سے رسم الخط مختلف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو پھر میم...... (مداخلت) ہاں! ایسے کر کے......

٩٩

KISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مسجد ہے، وہاں کے کسی عالم نے یہ ا

جناب یحییٰ بختیار: و

مرزا ناصر احمد: وہاں ہیں، ان کی تنظیمیں ہیں۔ شہر ہے وہا

جناب یحییٰ بختیار: ا احمد رسول اللہ‘ کیوں لکھا ہے

312 مرزا ناصر احمد: ا کلمہ کا۔ کیا ہی نہیں۔ جن کے...... ہے۔ میں وہاں گیا، میں نے اس ک از کم دو، تین ہزار ایسے دوست تھے انہوں نے وہاں اعتراض نہیں کیا اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ ان میں یہ مسجد کی تصویر شائع کر دی۔ اعتراض نہیں اٹھایا گیا کہ یہ کلمہ بدل اللہ‘ ایک اور رسم الخط میں۔ بات

جناب یحییٰ بختیار ”محمد رسول اللہ“ tually

مرزا ناصر احمد: یہ ۔

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: نہیں

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: نہیں کی ہے۔ اسی مسجد کی وہی تصویر ک ہم نے لی ہیں۔ یہ مکہ سے نکلتا ہے

313 جناب یحییٰ بختیار معلوم ہوتا ہے ابھی۔

صفحہ ٣٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد : مختلف ہے، ہمارے سے رسم الخط مختلف ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ صرف پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ ”احمد“ نہیں ہے۔ ”محمد“ ہے؟

مرزا ناصر احمد : ہو ہی نہیں سکتا۔ ”احمد“ صرف ایک جگہ ہم نے یہ ”احمد“ بنا دینا تھا؟ جب کہ دنیا کی ہر مسجد ”محمد، محمد“ پکار رہی ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : یہاں یہ امپریشن تھا کہ ,You are beginning now slowly, you are....

Mirza Nasir Ahmad: ہاں! We are beginning form Ijebuode where we are only 5 to 10 percent!

Mr. Yahya Bakhtiar: That was the impression given to me; that is why I wanted a clarification.

مرزا ناصر احمد : کوئی رسم الخط کا بھی میم نیچے سے اوپر اٹھتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں! نہیں جی! میں یہ پوچھ رہا تھا ......

315 مرزا ناصر احمد : یہ مراکو کا یہ ایک وہاں سے تحفہ آ گیا تھا مجھے۔ ساتھ یہ بھی آیا تھا کہ عام آدمی جو ہے وہ اس کو پڑھ کر دکھائے تو ہم جانیں ہمارا رسم الخط ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، مرزا صاحب! میں صرف یہی کہنا چاہتا تھا کہ آپ Clarify کردیں کہ یہ صرف ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہے، بس۔

مرزا ناصر احمد : ہے ہی یہ۔ جب سے ہم پیدا ہوئے، ہوش نہیں سنبھالی تھی تو ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہمیں سکھایا گیا اور اب یہ اعتراض ہو گیا، عجیب بات ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! میں آپ سے یہ جو سوالات پوچھ رہا ہوں، صبح سے کہ احمدی اپنے آپ کو باقیوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اختلافات ہیں اور آپ نے Explain کیا کہ کس حد تک اختلافات ہیں، تو اسی میں کیا جب آپ کہتے ہیں: ”ہم ایک علیحدہ قوم ہیں ۔“ تو اس کا Sense کیا ہوتا ہے؟ مطلب؟ آپ کہتے ہیں جی کہ ”ہم ایک علیحدہ قوم ہیں۔“

مرزا ناصر احمد : دیکھیں ناں! ہم مثلاً ......

١٠٠

صفحہ ٣٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ! میں ......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی! میں بتا رہا ہوں ہم علیحدہ بھی ہیں اور ذبیحہ دوسرے فرقوں کا کھانا جائز بھی سمجھتے ہیں اور ابھی میں نے پہلی Sitting میں بتایا تھا کہ وہ ذبیحہ بھی حرام۔ ہم علیحدہ قوم بھی ہیں اور دوسروں کا آپس میں فتویٰ یہ ہے کہ اگر ایک دوسرے سے شادی ہو جائے، مختلف۔ احمدیوں سے باہر دو فرقوں کی۔ تو اولاد جو ہے وہ محروم الارث ہے، وراثت سے محروم ہو جائے گی۔ لیکن ہم، باوجود اس کے کہ یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری بیٹی دوسرے میں جائے یا دوسرے کی بیٹی یہاں آئے۔ لیکن وراثت سے ہم محروم نہیں کرتے۔ ہمارا جو ہے فتویٰ۔ وہ شرعی نہیں ہے۔ وہ تمام حقوق جو شرع نے دیئے ہیں 316 وہ اس کے باوجود کہ شادی جو ہے وہ ہمارے نزدیک پسندیدہ نہیں۔ وہ ان کو سارے حقوق ملتے ہیں۔ ذبیحہ ہم کہتے ہیں کہ جائز ہے بالکل، حالانکہ آپس میں دوسرے فرقوں کے فتاویٰ جو ہیں اس میں ذبیحہ حرام کر دیا ہے۔ محروم الارث کر دیا ہے تو ہمارے اختلاف باقیوں سے اس کی نسبت کم ہیں جو باقیوں کے باہمی اختلافات ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کے ان سے اختلافات Interpretation پر ہیں Essentials of Islam جتنے بھی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: Interpretation میں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہی آپ نے ابھی کہا۔

مرزا ناصر احمد: اور عملاً جو ...... Interpretation کا اختلاف عملاً جو ظاہر ہوا وہ اس سے کم اختلاف ہے جو دوسرے فرقوں کا باہمی اختلاف ہے۔ یہ اس سے زائد میں نے کہا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ ان کو کافر بھی سمجھتے ہیں کسی ایک Sense میں......

مرزا ناصر احمد: ایک Sense میں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا ناصر احمد: لیکن ملت اسلامیہ سے خارج نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اب سوال یہ آتا ہے کہ جب مسلمان ...... اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان کافر ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے ......

مرزا ناصر احمد: اور امت محمدیہ کے فرد ہیں اور مسلمان ہیں۔

١٠١

صفحہ ٤٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No. 02

317 جناب یحییٰ بختیار: ہاں! وہ امت محمدیہ کے فرد رہتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! فرد رہتے ہیں۔ لیکن مسلمان نہیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر مسلمان! جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتے نبی اور وہ کہتے ہیں: ”جو ان کو نبی مانتا ہے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ تو اس کا بھی وہی مطلب ہوا؟

مرزا ناصر احمد: اور ...... نہیں، یہ مطلب تو اس کا وہ بتائیں گے۔ کسی اور کے لئے میں مطلب نہیں بتا سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر آپ کسی کو کافر کہیں وہ آپ کو کافر کہہ سکتا ہے۔ کوئی آپ کو کافر کہے آپ ان کو کافر کہہ سکتے ہیں۔ آپ کہتے جی کہ فتوے لوٹتے رہتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف۔ اگر آپ ان کو کہیں ”کافر ہیں“ اور وہ اسمبلی میں یہ ریزولیوشن پاس کریں کہ آپ کافر ہیں ......

مرزا ناصر احمد: ہم نے کسی کو ......

جناب یحییٰ بختیار: .......But اس Sense میں کہ اسلام کے دائرے سے خارج لیکن ملت میں رہیں، تو آپ کو اعتراض نہیں ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: مجھے یہ اعتراض نہیں ہو گا کہ وہ کہتے کیوں ہیں۔ مجھے اعتراض یہ ہو گا کہ وہ غلط کیوں کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! غلط، تو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ یہ تو ان کا بھی اعتراض ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں! پھر Interpretation میں جانا پڑے گا ناں! میں نے جان کے یہ لفظ بولا ہے۔ Interpretation میں جانا پڑے گا ناں۔

318 جناب یحییٰ بختیار: یہ تو وہ ہے:

من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو

بھئی! آپ مجھے کافر کہیں اور میں آپ کو کافر کہوں تو یہ تو سلسلہ چلتا رہتا ہے تو اس لئے You cannot deny me the right if you claim this right?

مرزا ناصر احمد: پھر نتیجہ کیا نکلا؟

١٠٢

PDF 402

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کو تو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اگر یہ اسمبلی یہ ریزولیوشن پاس کر دے کہ احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں، مسلمان نہیں؟

مرزا ناصر احمد : اگر یہ نہیں ۔ اس واسطے کہ وہ Mislead کرے گا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کو اس میں کیا اعتراض ہوگا کہ اگر یہ اسمبلی یہ ریزولیوشن پاس کر دے کہ سارے دوسرے فرقے غیر مسلم اکثریت ہیں؟ دوسری طرف بھی ساتھ ہی آپ غور کریں ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: اختلاف اتنے زیادہ ہیں کہ یا ہم نام بدلیں یا آپ نام بدلیں، اس پر تو آپ Agree کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، آپ ایک طرف کی بات کرتے ہیں، اس کا جو دوسرا رخ ہے وہ سامنے نہیں لاتے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا اعتراض ہے اگر یہ اسمبلی ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دے، تو ساتھ آپ کو یہ بھی سوچنا چاہئے آپ کو ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے، میں نے ...... (مداخلت)

مرزا ناصر احمد : دوسرا یہ ہے کہ دوسروں کو کیا اعتراض ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نے ”غیر مسلم اقلیت“ نہیں کہا، میں نے کہا "Outside the pale of Islam."

319 مرزا ناصر احمد : یعنی ملت اسلامیہ سے باہر؟

جناب یحییٰ بختیار: Outside the pale of Islam یعنی اسلامی دائرے سے خارج۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، وہ تو ملت اسلامیہ سے خارج بنتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ ٹرانسلیشن ...... "Outside of pale of Islam" کا اردو میں ٹرانسلیشن کیا کریں گے؟

مرزا ناصر احمد : ملت اسلامیہ سے خارج۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ”دائرہ اسلام سے خارج“ کا انگریزی میں ترجمہ کیا کریں گے؟

Mirza Nasir Ahmad: Out of the circle.

Mr. Yahya Bakhtiar: Out of the circle of Islam?

مرزا ناصر احمد : ہاں! دائرے کے معنی ہی سرکل ہیں۔ Pale کہاں سے آ گیا دائرہ اسلام کا معنی؟

١٠٣

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

317 جناب یحییٰ بختیار: ہاں! او...

مرزا ناصر احمد: ہاں! فرد رہتے ...

جناب یحییٰ بختیار: اگر مسلما... ”جو ان کو نبی مانتا ہے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلا...

مرزا ناصر احمد : اور ...... نہیں،... میں مطلب نہیں بتا سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر ... آپ کو کافر کہے آپ ان کو کافر کہہ سکتے ہ... دوسرے کے خلاف ۔ اگر آپ ان کو کہیں ”م... آپ کافر ہیں ......

مرزا ناصر احمد : ہم نے کسی کو...

جناب یحییٰ بختیار: ...... ut ... خارج لیکن ملت میں رہیں، تو آپ کو اعتراض...

مرزا ناصر احمد : مجھے یہ اعتراض ... کہ وہ غلط کیوں کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی !... یہ تو ان کا بھی اعتراض ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں! پھر n... جان کے یہ لفظ بولا ہے۔ erpretation...

318 جناب یحییٰ بختیار: یہ تو وہ... من ترا حاجی بگویم ... بھئی! آپ مجھے کافر کہیں اور میں... e right if you claim this

مرزا ناصر احمد : پھر نتیجہ کیا نکلا ...

صفحہ ٤٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Yahya Bakhtiar: All right. If the National Assembly passes a Resolution that Ahmadis are outside the circle of Islam, you have no objection?

(جناب یحییٰ بختیار: اگر قومی اسمبلی قرارداد پاس کر دیتی ہے کہ احمدی اسلام کی سرکل سے باہر ہیں تو آپ کو پھر کوئی اعتراض نہ ہوگا)

Mirza Nasir Ahmad: No, with the addition of the phrase that they are within the pale of Islam.

(مرزا ناصر احمد: نہیں۔ مگر اس فقرے کی زیادتی کے ساتھ کہ وہ اسلام کے دائرہ کے اندر رہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: With the pale of Islam but outside the circle of Islam?

(جناب یحییٰ بختیار: اسلام کے دائرہ کے اندر مگر اسلام کی سرکل سے باہر؟)

Mirza Nasir Ahmad: Outside the circle of Islam and....

320 پھر اس کے ساتھ ساتھ ہر فرقے کے متعلق یہی کہیں، نہیں، ہمارے فتوے کے لحاظ سے نہیں، آپس کے باہمی فتاویٰ کے لحاظ سے۔ نہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ آپ ایک فرقے کو چن کے۔ جب سارے فرقہ ہائے اسلامیہ کے حالات ایک جیسے ہیں۔ تو آپ کہتے ہیں کہ ایک فرقے کے متعلق ہم یہ پاس کر دیتے ہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، مرزا صاحب!......

مرزا ناصر احمد: ......اور دوسروں کے متعلق نہیں کریں گے۔ That is not fair.

جناب یحییٰ بختیار: ...... میرا مطلب یہ ہے کہ اگر سارے فرقے مل جائیں اور یہ کہیں جی کہ بریلوی کریں تو ٹھیک ہے؟ اگر سارے فرقے نہیں ملیں تو میں تو نہیں کر سکتا ہوں ناں۔

مرزا ناصر احمد: سارے فرقے مل گئے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں تو اسمبلی میں یہ Impression مجھے ملتا ہے کہ ......

مرزا ناصر احمد: اسمبلی، اسمبلی جو ہے ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں سر! ان کے لئے یہ سب پروگرام ہے۔ اگر وہ کہیں تو مجھے

١٠٤

صفحہ ٤٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

کوئی اعتراض نہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں جی! اور کوئی دوگاؤں مل کے اپنا فتویٰ دے دیں......

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ناممکن ہے......

مرزا ناصر احمد: ......اور، اور یہ جو ہیں افریقہ کے ممالک، وہ اپنے فتوے دے دیں......

جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک مولوی صاحب کسی مسجد میں فتویٰ دے دیتے ہیں۔ I do not attach importance; but if it is National (میں تو اہمیت نہیں دیتا مگر اسمبلی) Assembly of Pakistan, I do.

321 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نائجیریا والے کیا فتویٰ دیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا فتویٰ ضروری ہے That will also be considered by the National Assembly (اس کے لئے اسمبلی سوچ بچار کرے گی) اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اسمبلی نہیں بلکہ دنیا کے مسلمان......

مرزا ناصر احمد: ہاں! سارے دنیا کے ممالک کا فتویٰ۔ نیشنل اسمبلی جو ہے وہ پاکستان کے مسلمانوں کی نمائندہ نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد: ......یہ پاکستان کے عوام کی نمائندہ ہے۔ یہ عوامی نیشنل اسمبلی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ درست فرما رہے ہیں۔ جہاں تک میرے علم میں ہے......

مرزا ناصر احمد: اگر دنیا کے سارے ممالک کی Assemblies اس بات پر اتفاق کرلیں یعنی یو۔این۔او میں ہو جائے تو پھر ہم سمجھیں گے کہ ہم اس معاملے کو خدا پر چھوڑتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی ایک دنیا کے مسلمانوں کی ایک Representative باڈی...... If you consider it موتمر عالم اسلامی نے تو یہ......

مرزا ناصر احمد: رابطہ عالم اسلامی، موتمر نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: رابطہ عالم اسلامی، انہوں نے ایک فتویٰ دیا ہے......

مرزا ناصر احمد: انہوں نے فتویٰ جو دیا ہے، وہ......اس میں یہ کہا ہے کہ سارے مسلمانوں والے کام کرتے ہیں۔ یہ ابھی جو آپ کے پاس ہے وہ؟ آپ رکھیں گے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مجھے......میں نے......

مرزا ناصر احمد: اچھا! ہاں، پڑھ لیجئے۔

١٠٥

صفحہ ٤٠٤

404 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

322 جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا ہے کہ

They are outside the pale of Islam; that is what I understand.

(وہ دائرے سے خارج ہیں۔ میں یہی سمجھا ہوں)

مرزا ناصر احمد: وہ، وہ ان کا جو ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لبادہ اسلام کا ہی اوڑھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اور کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مساجد بنا رہے ہیں، ہسپتال کھول رہے ہیں۔ یتامیٰ کی خبر گیری کر رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کی اشاعت کر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سب ظاہر ہے۔ اندر سے تو کافر ہیں۔ یہ کوئی دلیل ہے؟ اندر سے تو کافر ہیں: ھل شق قت قلبہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا آپ نے اس کا دل چیرا تھا؟ کون ہے دنیا کی طاقت جو دل چیر کر فتویٰ دے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں مرزا صاحب! Reasoning میں نہیں جا رہا ہوں۔ ایک فتویٰ جب آ جاتا ہے تو......

مرزا ناصر احمد: Well، اگر Reasoning میں نہیں جا رہے تو میں تو بغیر Reasoning کے بات نہیں کرتا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہتا ہوں کہ فی الحال۔ انہوں نے فتویٰ دیا ہے۔ Reasoning پر میں نہیں کہتا کہ میں...... نا نہیں...... اس سٹیج پر۔ انہوں نے فتویٰ دیا ہے۔ اس کی Reasoning اس کے بعد میں آتی ہے۔ وہ Short Order ان کا یہ ہے......

مرزا ناصر احمد: اور وہ جو ہیں فتوے ان کے متعلق ہیں، شیعہ کے متعلق، اور جو حرمین شریف کے فتاویٰ محمد بن عبدالوہاب اور ان کے متبعین کے خلاف، بارہ سال انہوں نے حج نہیں کرنے دیا وہابیوں کو۔ ساری اپنی تاریخ بھول جائیں گے ہم؟ اب جلدی میں ایک فیصلہ کرنے کے لئے تاریخ کے اوراق بھول جائیں گے ہم؟

323 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو آپ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی اسلامک Summit وغیرہ کوئی فیصلہ کر دے تو پھر آپ مانیں گے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہ کہتا ہوں۔ اصل جو میں کہتا ہوں۔ کوئی اسلامک Summit کا میں نے نام نہیں لیا۔ میں نے کہا ہے کہ دنیا کے ممالک کی اکثریت کی Legislative Assemblies اگر فیصلہ کر دیں تو ہم اس معاملہ کو غلط سمجھتے ہوئے بھی اللہ پر چھوڑ دیں گے۔

١٠٦

صفحہ ٤٠٥

405 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(پوری دنیا کی اسمبلی کے فیصلہ کو بھی نہیں مانیں گے، مرزا ناصر کا اعلان)

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر ان کا تو یہ فیصلہ کرنے کے کوئی معنی نہیں۔ Accept پھر بھی نہیں کریں گے آپ۔

مرزا ناصر احمد: وہ چیز جو میرا دل نہیں مانتا۔ وہ کیسے میں Accept کرلوں گا؟

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر تو اس کا سوال نہیں پیدا ہوتا ناں جی!

مرزا ناصر احمد: ہاں! تو پھر نہ کریں کوشش۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر اسی اسمبلی پر چھوڑا جائے گا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ ٹھیک ہے۔ میں تو اس اسمبلی پر حاکم نہیں ہوں۔ میں تو ایک نہایت عاجز انسان ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اسمبلی نے ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ کسی ایسے فیصلے پر پہنچیں کہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے، کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ ملک کو فائدہ پہنچے۔ ملک کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ ہر ایک کی کوشش ہے۔ ورنہ ہم آپ کو کیوں کوئی تکلیف دیتے؟

مرزا ناصر احمد: ہماری بھی کوشش یہی ہے۔ ہماری دعائیں بھی یہی ہیں کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے۔

Mr. Yahya Bakhtiar: The question does not arise. We are making an effort to see if we can come to some solution.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہم تو کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی حل نکل آئے)

324 مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ If کے بعد صرف اپنے نشانے کا ہدف جماعت احمدیہ کو کیوں بناتے ہیں۔ جب دوسرے فرقوں کے بالکل وہی حالات ہیں۔ فتاویٰ کے لحاظ سے تو اور زیادہ سخت ہیں؟

(قادیانی جماعت خود علیحدگی کی دعویدار ہے)

جناب یحییٰ بختیار: وہ علیحدگی کے بارے میں مرزا صاحب! میں آپ سے ذکر کر رہا تھا: ’’کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا؟‘‘ یہ بھی

١٠٧

صفحہ ٤٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا ہے: ”کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہود سے الگ نہیں کیا؟ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کر دیا؟ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جو کہ نبی اور رسول ہیں، اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے علیحدہ کر دیا ہے تو نئی اور انوکھی بات کون سی کی؟“

(اخبار الفضل قادیان ج٥ ش ٦٩، ٧٠، مورخہ ٢٦؍ فروری، ٢؍ مارچ ١٩١٨ء)

یہاں جو ”علیحدہ کر دیا ہے۔“ This is what I wanted to clarify. مرزا ناصر احمد: ہاں! ”علیحدہ کر دیا“ کے صرف یہ معنی ہیں کہ دوسروں کے اثر قبول کرنے سے بچانے کی کوشش کی گئی۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک Separate امت؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، امت کا یہاں تو نام ہی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس کا کہہ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں، قطعاً سوال ہی کوئی نہیں پیدا ہوتا۔

(احمدی قوم دوسری قوموں سے جدا؟)

325 جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے آتا ہے جی: ”جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم تمہاری گوت تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟“

(ملائکۃ القدس ص ٤٦، ٤٧، تقریر مرزا محمود، مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٠ء قادیان مطبوعہ قادیان)

”کیوں غیر احمدیوں میں قوم تلاش کرتے ہو؟“ مرزا ناصر احمد: ”غیر احمدی“ کی Phrase غلط ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں...... مرزا ناصر احمد: آپ یہ کہا کریں وہابی، اہل حدیث وغیرہ وغیرہ۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کی Quotation ہے جی۔ اس واسطے میں

١٠٨

صفحہ ٤٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

کہہ رہا ہوں ۔ مرزا ناصر احمد : یہ کہاں کی ہے؟ جناب یحییٰ بختیار : ”ملائکۃ اللہ“ صفحہ ٤٦، ٤٧ مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ۔ مرزا ناصر احمد : ہاں! یہ تو جب تک میں اس کو دیکھ نہ لوں ...... جناب یحییٰ بختیار : ہاں! آپ چیک کر لیجئے۔ آپ Verify کر لیجئے یہاں ہے؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، یہاں تو نہیں ہمارے پاس ۔ جناب یحییٰ بختیار : اور یہ مرزا غلام احمد سے منسوب کیا گیا ہے ۔ آپ Verify کرلیں : ”میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جو ......“ مرزا ناصر احمد : ”ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ؟“ 326 جناب یحییٰ بختیار : ”مسیحیت ۔“ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! ”مسیحیت کا رنگ ۔“ جناب یحییٰ بختیار : ”...... اختیار کریں گے اور تباہ ہو جائیں گے ۔ دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔“ یہ ”الفضل“ میں شائع ہوا ہے ۔ ٢٦؍ جنوری ١٩١٦ء میں ۔ مرزا ناصر احمد : ٢٦؍ جنوری ١٩١٦ء کے ”الفضل“ میں؟ جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی! مرزا ناصر احمد : یہ کوئی مضمون شائع ہوا ہے جس میں ...... جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی! وہ جو Quotations ہوتی ہیں ناں مرزا صاحب! اس میں ہے ۔ مرزا ناصر احمد : اچھا!

(نئی امت)

جناب یحییٰ بختیار : اور پھر آگے ان کی Quotation ہے جی کہ: ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعوےٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی ١٠٩

صفحہ ٤٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

تو This is reference to himself or to Holy Prophet

کیونکہ...... Muhammad (Peace be upon him)?

مرزا ناصر احمد: جی؟

327 جناب یحییٰ بختیار: ......یہ جو ہے ناں مرزا صاحب کا......

مرزا ناصر احمد: ہاں جی!

جناب یحییٰ بختیار: ”......جو شخص......“

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ کس کے......کس کی طرف ضمیر کرتی ہے اس کی؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد کی یہ ہے جی۔ ”آئینہ کمالات۔“

مرزا ناصر احمد: ان کی تحریر ہے؟ ان کی تحریر ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ہاں جی!

مرزا ناصر احمد: اور ضمیر کرتی ہے کس کی طرف؟

جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٣٤٤ پر جی۔ ”آئینہ کمالات اسلام“ 344 Page۔

Mirza Nasir Ahmad: 344?

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! تو اس میں ہے جی کہ:

”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“ تو یہ ریفرنس آنحضرت ﷺ کی طرف ہے ان کا یا اپنے سے مراد ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو چیک کریں گے۔ یہ تو ......نہیں، یہ تو Context میں، اصل میں......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں یہی کہہ رہا ہوں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف ان کا......

328 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ انہوں نے یہ نہیں کہا......

١١٠

صفحہ ٤٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: یہ تو Context سے پتہ لگے گا کہ کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب! آپ نے کل فرمایا تھا کہ امتی نبی جو ہوتا ہے وہ شریعت اس کی نہیں ہوتی۔ وہ غیر شرعی ہوتا ہے۔ He does not bring his own law? (وہ اپنا قانون نہیں لاتا؟) مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ ایک اس کی صفت ہے اور بھی ہیں اس میں۔ Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں! as far as law is concerned.... Mirza Nasir Ahmad: As far as law is concerned, جہاں تک شریعت کا تعلق ہے...... جناب یحییٰ بختیار: .......وہ Interpret کرتا ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! اپنی کوئی شریعت نہیں رکھتا۔ جناب یحییٰ بختیار: اور اگر وہ شریعت والا ہو تو پھر وہ امتی نہیں ہوگا؟ He will have to start his own Ummat? (اس کو اپنی شریعت کی شروعات کرنی پڑے گی) مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! بالکل۔

(مرزا، صاحب شریعت نبی)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک جی مرزا صاحب سے منسوب ہے کہ: ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

329 مرزا ناصر احمد: اس میں ”ہمارے مخالف منکر ہیں“ سے پتہ لگتا ہے کہ کسی اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے اور اس اعتراض کو سامنے رکھ کر پھر وہ سارے صفحات پڑھے جائیں۔ تب صحیح مطلب مل سکتا ہے۔ ورنہ نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پھر آپ کے سامنے: ”یہ بھی تو سمجھو.....“

111

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی To Holy Prophet تو mad (Peace be upon him)? مرزا ناصر احمد: جی؟ 327 جناب یحییٰ بختیار: ......یہ مرزا ناصر احمد: ہاں جی! جناب یحییٰ بختیار: ”......جو مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ کس۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام مرزا ناصر احمد: ان کی تحریر ہے جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، مرزا ناصر احمد: اور ضمیر کرتی۔ جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٤٣٤ 44? جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! ا ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“ تو سے مراد ہے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو چ اصل میں...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں کی طرف ان کا...... 328 مرزا ناصر احمد: ہاں، بالک جناب یحییٰ بختیار: ......کیوکا

صفحہ ٤١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

”اربعین“ نمبر ٤ ص ٦۔ آپ نے دیکھ لیا؟

مرزا ناصر احمد : ہاں جی دیکھ لیا۔ اس میں آپ نے حاشیے میں یہ لکھا ہے کہ : ”میں شریعت محمدیہ کے اوامر ونواہی کی تجدید کے لئے آیا ہوں۔“

آپ نے دوسری جگہ فرمایا کہ : ”قرآن کریم کا ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔“

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں! یہاں تو میں نے بتا دیا ناں آپ کو ۔

جناب یحییٰ بختیار : یہاں انہوں نے لکھا ہوا ہے کہ.......

مرزا ناصر احمد : ”اوامر ونواہی“ کے آگے نیچے حاشیے میں لکھا ہے کہ ان قرآن کریم کے جو اوامر ونواہی ہیں۔ متن میں بھی ہے اور اس میں بھی۔ قرآن کریم کی شریعت جو ہے اس کا ایک شوشہ بھی ہمارے نزدیک منسوخ نہیں ہو سکتا اور جو امر اور نہی حضرت بانی سلسلہ کے الہامات میں ہیں وہ یہ حکم دیتے ہیں کہ قرآن کریم کی شریعت کے اوامر ونواہی پر عمل کرواؤ۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ پوچھ سکتا ہوں آپ سے کہ کیا مرزا غلام احمد نے شرعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا؟ یا آپ ان کو Accept کرتے ہیں کہ وہ اپنی شریعت لائے؟

330 مرزا ناصر احمد : نہ آپ شریعت لائے، نہ آپ نے شرعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے برعکس بارہا، متعدد بار یہ آواز بلند یہ کہا کہ قرآن کریم کامل اور مکمل شریعت ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا: الخير كله في القرآن

ہر قسم کی بھلائی کا منبع اور سرچشمہ قرآن عظیم ہے اور جن اوامر ونواہی کا ذکر ہے آپ کی تحریر میں یا الہامات میں، وہ وہی اوامر ونواہی ہیں۔ جو قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔ یہ حکم ہے کہ لوگوں کی توجہ ان اوامر ونواہی سے ہٹ گئی ہے، ان کی تجدید کرو اور احیاء کرو۔ یہ ”ازالہ اوہام“ کا ہے یہ اقتباس:

”اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام من جانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

١١٢

صفحہ ٤١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(مرزا ، احمد نبی اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”الفضل“ ٢٦؍جنوری ١٩١٥ء کی کوٹیشن ہے۔ یہ مرزا بشیرالدین محمود صاحب کی ہے: ”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا، امتی گروہ سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ وسید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا امتوں میں داخل کرنا ہے، جو کفر عظیم اور کفر در کفر ہے۔“

مرزا ناصر احمد: یہ تو فقرہ لگتا ہے بظاہر ویسے ہی ٹوٹا پھوٹا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹائپ میں ہے۔ میں پھر پڑھ دیتا ہوں۔

331 مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کو ہم وہ چیک کریں گے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ ہے ناں جی۔ ”الفضل“ مورخہ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء۔ ”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا.......“

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ میں چیک کرلوں گا جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”.......اور آپ کو امتی قرار دینا، امتی گروہ سمجھنا گویا آنحضرت (مرزا قادیانی) کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا، امتوں میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر در کفر ہے۔“

مرزا ناصر احمد: یہ تو جو آپ نے اقتباس پڑھا ہے، اپنے الفاظ میں، اس کو سہو کتابت بھی میں نہیں کہہ سکتا۔ یعنی یہ ویسے چیک کرنے والا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اس کو چیک کر لیجئے.......

مرزا ناصر احمد: ہاں! چیک کرنے والا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: .......کیونکہ اس میں.......

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس میں تو بہت کچھ لکھ دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ بالکل Departure ہوجاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل! صحیح ہے۔ میں چیک کروں گا۔ انشاء اللہ! یہ جو آپ فرمارہے ہیں ناں چیک کرنے کا، تو چیک کرکے.......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اسی لئے مرزا صاحب!.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، صحیح۔ صحیح انشاء اللہ! اس کے اوپر کریں گے بات۔ چیک اس

١١٣

ISTAN 6th Aug, 1974 No:02

”اربعین“ نمبر ٤ ص ٦،

مرزا ناصر احمد: ہاں شریعت محمدیہ کے اوامر ونواہی کی تجا آپ نے دوسری جگہ فر

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ہاں

جناب یحییٰ بختیار:

مرزا ناصر احمد: ” کے جو اوامر ونواہی ہیں۔ متن میں ایک شوشہ بھی ہمارے نزدیک منس میں ہیں وہ یہ حکم دیتے ہیں کہ قرآن

جناب یحییٰ بختیار: شرعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا؟ یا آم

330 مرزا ناصر احمد: اس کے برعکس بارہا، متعدد بار یہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا: الخیر ک ہر قسم کی بھلائی کا منبع تحریر میں یا الہامات میں، وہ دونو کہ لوگوں کی توجہ ان اوامر ونواہی کا ہے یہ اقتباس: ”اور ہم پختہ یقین ا سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ ا کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل مؤمنین سے خارج اور ملحد اور کا

صفحہ ٤١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

واسطے بھی ضروری ہے کہ وہ جو انگریزی میں کل آپ نے کہا تھا ناں کہ ہم سے بے احتیاطی332 سے تذلیل کا کوئی پہلو نکل آیا۔ مودودی صاحب کی ۔ تو وہ جو اردو میں۔ اصل میری زبان۔ جو میں نے خطبہ دیا تھا وہ چیک کیا تو اس میں ”مودودی صاحب“ بھٹو صاحب ......

جناب یحییٰ بختیار : اچھا؟ تو انہوں نے ”مسٹر“ کر دیا؟

مرزا ناصر احمد : ہاں! ان ترجمہ کرنے والوں نے ”مسٹر“ کر دیا۔

جناب یحییٰ بختیار : اسی لئے میں نے کہا ......

مرزا ناصر احمد : اور یہ ہے یہاں ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ Misunderstanding دور ہو جائے تو اچھا ہے ناں جی!

مرزا ناصر احمد : ”...... اور مفتی محمود صاحب“ ہمارے لئے تو سارے صاحب ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی! Misunderstanding دور ہو جائے تو اچھا ہی ہے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں!

جناب یحییٰ بختیار : وہ بھی میں نے معلوم کیا جو لندن میں بلیک برن کا تھا ریزولیوشن ۔ وہ مجھے اطلاع ملی کہ وہاں سے شاید ہماری ایمبیسی نے بھیجا ہے کہ یہ ریزولیوشن ڈسٹری بیوٹ ہوا۔ After being passed in the meeting, this was distributed. (میٹنگ میں پاس ہونے کے بعد تقسیم کیا گیا تھا) میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اخبار میں آیا ہے یا نہیں آیا۔

مرزا ناصر احمد : ہاں! وہ تو وہاں چلا جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں! تو وہ آپ کو ضرور کاپی آئی ہوگی۔ آپ کے لئے؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، مجھے کوئی کاپی نہیں آئی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہاں کیا آپ منگوا سکتے ہیں۔ پوچھ سکتے ہیں ان سے؟

333 مرزا ناصر احمد : مجھے کاپی کوئی نہیں آئی۔ لیکن میں پوچھوں گا ضرور۔

جناب یحییٰ بختیار : کیونکہ وہاں بہت سے لوگ موجود تھے جن کو دیا گیا ہے۔ یہ اخباروں کو بھی دیا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، اس کے جو الفاظ ہیں وہ بھی مشتبہ ہیں کہ سارے احمدی اس میں شامل ہوئے اور یہ جماعت ہماری اتنی چھوٹی ہے کہ میرے ذہن میں نام بھی نہیں آ رہا تھا اس کا۔

١١٤

صفحہ ٤١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں جی! چھوٹی جماعت، پانچ چھ آدمی بھی ریزولیوشن پاس کر سکتے ہیں کہ "We Ahmadi Muslims...." مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کے الفاظ جو ہیں اور دوسری جگہ احمدیوں کو بھی خالی پاکستانی لکھا ہوا ہے اور مسلم کا ساتھ نام نہیں اسی ریزولیوشن میں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! وہ تو ٹھیک ہے، اگر ایسا کرتا تو کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، اسی ریزولیوشن میں دوسری جگہ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اس میں لکھا ہے اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ مگر آگے چل کر کہتے ہیں....... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! وہ ٹھیک ہے۔ نہیں، بہر حال وہ چیک ہونے والی بات ہے۔ اس میں تو کوئی جھگڑا نہیں؟ Mr. Yahya Bakhtiar: "We Ahmadi Muslims.... non-Ahmadi Pakistanis." مرزا ناصر احمد: وہ ٹھیک ہے، وہ چیک کریں گے۔ Mr. Yahya Bakhtiar: This was pointed out to me. (جناب یحییٰ بختیار: اس طرف میری توجہ مبذول کرائی گئی ہے) اور پھر میں نے۔ 334 مرزا ناصر احمد: یہ ٹھیک ہے۔ آپ نے یہ مجھے پوائنٹ آؤٹ کر دیا پہلی بار۔ جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب! آپ نے کل کہا تھا کہ مرزا صاحب کا بائیوڈیٹا (Bio- Data) آپ........ مرزا ناصر احمد: جی! وہ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ ہے، آپ سنا دیجئے تاکہ ریکارڈ پر آسکے۔ مرزا ناصر احمد: بہت اچھا جی! میں سناتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: اگر ہے تیار ابھی۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! تیار ہے۔ ابھی سنانا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: اگر مختصر ہے تو پڑھ دیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، اتنا مختصر تو نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں تو صرف وہ Dates وغیرہ چاہتا تھا۔ ١١٥

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

واسطے بھی ضروری ہے کہ وہ جو انگریزی میں کہا تذلیل کا کوئی پہلو نکل آیا۔ مودودی صاحب کی خطبہ دیا تھا وہ چیک کیا تو اس میں ”مودودی صاحب جناب یحییٰ بختیار: اچھا؟ تو انہوں مرزا ناصر احمد: ہاں! ان ترجمہ جناب یحییٰ بختیار: اسی لئے میں مرزا ناصر احمد: اور یہ ہے یہاں جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ ہے ناں جی! مرزا ناصر احمد: ”...... اور مفتی جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! g مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں! جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی ریزولیوشن۔ وہ مجھے اطلاع ملی کہ وہاں سے ng, this was ڈسٹری بیوٹ ہوا۔ distributed. ( میٹنگ میں پاس ہوئی میں آیا ہے یا نہیں آیا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو وہاں جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو وہ مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے کوئی جناب یحییٰ بختیار: یہاں کیا ا 333 مرزا ناصر احمد: مجھے کاپی کی جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ اخباروں کو بھی دیا گیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کے شامل ہوئے اور یہ جماعت ہماری اتنی چھوٹی

صفحہ ٤١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: اگر کہیں تو اس کو بدل دیں گے۔ اس کو بدل دیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! کیونکہ صرف ریکارڈ کے لئے، جیسے آپ نے اپنا مائنڈ بنا دیا۔ مرزا ناصر احمد: میں نے تو مختصر دے دیا۔ آپ کے لئے۔ جناب یحییٰ بختیار: چونکہ مرزا صاحب کے بارے میں کتابیں ہیں۔ بڑا لٹریچر ہے۔ مرزا ناصر احمد: میں تو بڑا عاجز انسان ہوں۔ بانی سلسلہ احمدیہ کا مقام اور ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو صرف ان کے جو Bare Facts ہیں...... باقی ان کی تعلیمات پر تو اس پر تو بہت لمبی چیز ہو جاتی ہے۔ مرزا ناصر احمد: جی! ہم نے ویسے اسی خیال سے...... ویسے تو بڑی بڑی کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔ ایک کتاب میں آپ نے آٹو بائیو گرافی لکھی ہے اپنی تو اس کو ہم نے نقل کر دیا تھا اور ابتداء میں تاریخ پیدائش اور آخر میں تاریخ وفات...... 335 جناب یحییٰ بختیار: ہاں! اس کا ریفرنس دے دیجئے۔ مرزا ناصر احمد: اور اس کو مختصر کر دیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کسی قدر مختصر کردیں۔ مرزا ناصر احمد: کتنا؟ جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ پر Depend کرتا ہے I am not objecting even to this. But I said brief record, کیونکہ sometime the whole thing may have to be published. So, it should..... مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو کوئی وقت آئے گا۔ انشاء اللہ! جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ چیز جو ہے ناں! ریکارڈ پر رہے تو پھر کل صبح سہی؟ مرزا ناصر احمد: یہ کوئی ١٥، ٢٠ صفحے ہوں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ زیادہ ہو گیا؟ مرزا ناصر احمد: ہاں! زیادہ ہے۔ تو صبح سنا دیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: صبح ، یا اس کو کچھ مختصر کر کے آپ...... مرزا ناصر احمد: ہاں! دیکھ لوں گا۔ میں دیکھ لوں گا۔ جتنا ہو سکے۔

١١٦

صفحہ ٤١٥

415 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Chairman: So, that will do for the present, Mr. Attorney- General, Maghreb prayer's time. You would take about five minutes more or....? (جناب چیئرمین: یہاں تک کافی ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب مغرب کی نماز کا وقت ہے۔ اگر آپ پانچ منٹ میں ختم کر سکتے ہیں تو ہم جاری رکھ سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I just want to ask one or two question. (جناب یحییٰ بختیار: صرف بس ایک دو سوال اور پوچھوں گا)

Mr. Chairman: All right. (جناب چیئرمین: بہت اچھا!)

336

جناب یحییٰ بختیار: جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ "My revelation contains does and does not.... laws...." (میری وحی امر اور نہی کے قانون رکھتی ہے)

مرزا ناصر احمد: امر جو ہے۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! Literal مطلب تو یہی ہے۔ وہ تو ۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں۔ امر جو ہے ۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔ آرڈر ۔۔۔۔۔

مرزا ناصر احمد: ۔۔۔۔۔ حکم ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔ حکم ہے۔

مرزا ناصر احمد: حکم یہ ہے کہ شریعت محمدیہ کو قائم کرو۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ شریعت نئی نازل ہوگی اور حکم ہے۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو قرآن مجید میں موجود ہے۔ کہتے ہیں: ”میری وحی میں ہے۔“

مرزا ناصر احمد: جو آپ کو الہام یہ ہو کہ شریعت محمدیہ کو قائم کرو۔ تو آپ کی وحی میں حکم ہو گیا ناں ایک۔ لیکن وہ شریعت نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر ان کی وحی میں یہ ہے کہ ”مسلمان کافر ہیں، ان کو

١١٧

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: اگر کہیں تو اس ک

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! کیونکہ

مرزا ناصر احمد: میں نے تو مختصر

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ مرزا صا

مرزا ناصر احمد: میں تو بڑا عاجز

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں باقی ان کی تعلیمات پر تو اس پر تو بہت لمبی چیز

مرزا ناصر احمد: جی! ہم نے ا ہوئی ہیں۔ ایک کتاب میں آپ نے آٹو با ابتداء میں تاریخ پیدائش اور آخر میں تاریخ و

335

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ا

مرزا ناصر احمد: اور اس کو مختصر ک

جناب یحییٰ بختیار: کسی قدر

مرزا ناصر احمد: کتنا؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ to this. But I said brief le thing may have to be

مرزا ناصر احمد: ہاں! وہ تو گوا

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو ا رہے تو پھر کل صبح سہی؟

مرزا ناصر احمد: یہ کوئی ١٥، ١٠

جناب یحییٰ بختیار: یہ زیادہ

مرزا ناصر احمد: ہاں! زیادہ

جناب یحییٰ بختیار: صبح، یا ا

مرزا ناصر احمد: ہاں! دیکھ لی

صفحہ ٤١٦

416 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

لڑکیاں مت دو۔“ یہ بھی تو قانون ہو گیا ناں؟

مرزا ناصر احمد: یہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کے ساتھ نماز مت پڑھو۔ یہ بھی نہیں ہے؟

337 مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں ہے۔ بالکل نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کوئی ایسا لاء (Law) نہیں ہے ان کا اپنا؟

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم کے علاوہ، اس سے باہر، اس سے زائد، یا اس کو کم کرنے والا۔ سوال ہی کوئی نہیں ہے۔ ہے ہی کچھ نہیں۔ ہمارے لئے صرف قرآن کافی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ کہ وہ نبی ہیں، یہ ان کی وحی میں ہے؟

مرزا ناصر احمد: وحی میں یہ ہے...... ساری وحی تو...... نبی کے متعلق، کہ: ”وہ مہدی جس کی بشارتیں حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے دی تھیں کہ وہ اس زمانہ میں، آخری زمانہ میں پیدا ہوگا۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے۔ اس کا مصداق میں ہوں۔“

جناب یحییٰ بختیار: یہ یعنی ان کی وحی ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ ان کی وحی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: قرآن شریف میں نہیں کہ مرزا غلام احمد جو ہیں وہ نبی ہیں یا ہوں گے۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر وہ بحث ناموں کی تو لمبی ہو جاتی ہے۔ کسی کتاب میں بھی کسی نبی کا نام اس طرح نہیں آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جب، پرانے جو نبی تھے۔ ان کے بارے میں تو کچھ کا ذکر آیا ہے۔ باقاعدہ اس میں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے کہ قرآن کریم سے پہلے جو گزرے ہیں، جو حالات تھے انبیاء کے، قرآن نے خود کہا ہے کہ ”بہتوں کا ہم نے ذکر نہیں کیا اور بعض کا ذکر کر دیا تمہارے علم کو بڑھانے کے لئے“ اور دوسرے روحانی فوائد ہیں۔

338 جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب! ایک اور لفظ استعمال ہوتا ہے کہ مجازی نبی، کہ حقیقی نبی، بروزی نبی......

١١٨

PDF 418

417 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

مرزا ناصر احمد: ہاں! بروزی اور مجازی، یہ.......

جناب یحییٰ بختیار: .......ان کی کیا Interpretation ہے آپ کی؟

مرزا ناصر احمد: صوفیاء کا جو Interpretation (توضیح مراد) ہے.......

جناب یحییٰ بختیار: .......یعنی آپ حقیقی کس کو کہتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہم حقیقی نبی اس کو کہتے ہیں جو شریعت لائے اور جس نے یہ جو نبوت کا مقام ہے وہ کسی کی کامل اتباع سے حاصل نہ کیا ہو۔ مستقل حیثیت میں.......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو اپنی شریعت لائے اور کسی اور نبی کی مہر اس پر نہ ہو؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، بعض شرعی آئے ہیں۔ بعض غیر شرعی آئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی ''غیر شرعی'' بھی حقیقی ہو سکتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: مستقل نبی۔ یہ ''حقیقی'' اور ''مستقل'' ان کی دو علیحدہ معانی ہیں۔

''حقیقی'' وہ ہے جو ہمارے نزدیک۔ ہاں! ''حقیقی نبوت'' وہ ہے جو شریعت لے کے آ رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: شریعت لے کے آ رہا ہے؟

مرزا ناصر احمد: شریعت لے کے آ رہا ہے اور ''مستقل نبوت'' یہ ہے کہ دوسرے کے فیض سے نہیں۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے کسی اور کے افادہ کے نتیجے میں نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کو مستقل کہتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں! اس کو مستقل کہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صاحب مستقل نبی ہیں آپ کے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ نہیں، امتی نبی ہیں۔

339 جناب یحییٰ بختیار: اور حقیقی؟

مرزا ناصر احمد: نہ، حقیقی تو شریعت والا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا اور ''مستقل'' نہیں۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں جو شخص اتباع نبوی نہ کرے اسے نبوت کیسا۔ صدیقیت اور صالحیت اور شہادت کا مقام بھی نہیں مل سکتا۔ عام نیکی کا مقام بھی نہیں مل سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: مجازی کیا ہوتا ہے؟ So many words have been used (اتنے بہت سارے الفاظ استعمال ہوئے)

مرزا ناصر احمد: بروزی اور مجازی یہ ہے.......صوفیاء کی ہیں.......اور ظلی اس کے وہ

١١٩

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

لڑکیاں مت دو۔'' یہ بھی تو قانون ہو گیا نا ا

مرزا ناصر احمد: یہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ نہیں

مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کے

337 مرزا ناصر احمد: بالکل نہیں

جناب یحییٰ بختیار: کوئی ای

مرزا ناصر احمد: قرآن کر کرنے والا۔ سوال ہی کوئی نہیں ہے۔ ہے

جناب یحییٰ بختیار: اور یہ کہ

مرزا ناصر احمد: وحی میں یہ ''وہ مہدی جس کی بشارتیں ح میں، آخری زمانہ میں پیدا ہوگا۔ جس کا ذکر

جناب یحییٰ بختیار: یہ یعنی ا

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ ان

جناب یحییٰ بختیار: قرآ ہیں یا ہوں گے۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر وہ نبی کا نام اس طرح نہیں آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہ آیا ہے۔ باقاعدہ اس میں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا حالات تھے انبیاء کے، قرآن نے خود کہا تمہارے علم کو بڑھانے کے لئے'' اور دوس

338 جناب یحییٰ بختیار: اور کہ حقیقی نبی، بروزی نبی.......

صفحہ ٤١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

نوٹ اگر کہیں تو میں تیار کر کے دے دوں گا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی Generally یعنی Brief اس کا کہ...... مرزا ناصر احمد: ظلی نبوت کے معنی یہ ہیں...... بانی سلسلہ احمدیہ نے ظلی نبوت...... جس کے معنی ہیں محض فیض محمدی سے وحی پانا...... جناب یحییٰ بختیار: اور مجازی بھی اسی کو کہیں گے؟ یا وہ مختلف ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ اصل میں صوفیاء کی اصطلاحات ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں یہاں ایک آپ کو کوٹیشن پڑھ کر سناتا ہوں...... مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ ہماری کتابوں میں بھی آیا ہے۔

(مرزا، حقیقی نبی ہے)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں! یہ ہے جی کہ: ’’پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت غلام احمد صاحب ہرگز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘

That is, his Shariat, as you say....

مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی ”حقیقت النبوت“ صفحہ ١٧٤۔ 340 مرزا ناصر احمد: یہ سچ مچ اور بناوٹی وہ بھی آیا ہے۔ یعنی یہ لغوی طور پر لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ پھر آپ دیکھ لیجئے۔

(To Mr. Chairman) We will continue tomorrow. (جناب چیئرمین) اسے کل جاری رکھیں گے۔

Mr. Chairman: Tomorrow.

The Delegation is permitted to go and to be here tomorrow at 10:00 a.m. (وفد جا سکتا ہے کل دس بجے صبح تشریف لائیں)

The honourable members may keep sitting.

مرزا ناصر احمد: یہ رسالہ آپ رکھیں گے؟

١٢٠

صفحہ ٤١٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟

مرزا ناصر احمد: یہ موتمر عالم اسلامی والا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! وہ آپ کو دے رہے ہیں۔ کل دے دیں گے جی وہ نوٹ کر کے۔

(Interruption)

Mr. Chairman: There is nothing to say. Only the House is adjourned after the Delegation has left.

(The Delegation left the Chamber)

Mr. Chairman: Any honourable member has to say anything?

Maulana Zafar Ahmad Ansari!

I will request the members to be in their seats.

341 PHOTOGRAPH OF THE MOSQUE IN

IJEBUODE, NIGERIA AND ITS CAPTIONS

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! یہ ایک رسالہ جو انہوں نے دیا ہے۔ اس سے ہاؤس کے لوگوں کو بھی کچھ غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ میں چونکہ خود اس میں موجود تھا۔ میرے سامنے یہ سارا قصہ ہوا۔ وہ تو الگ بات ہے۔ کسی وقت اس کو عرض کر دوں گا......

(Interruption)

جناب چیئرمین: ان کی بات تو سن لیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: لیکن پہلی چیز یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہے:

”اور مسجد کا یہ نقشہ دیا ہے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔“

آپ اس کی سرخی دیکھیں، عربی میں ہے۔ میں اس کا اردو ترجمہ سنا دوں؟

(Interruption)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا ٹھیک ہے۔ پہلا؟ (مداخلت) نہیں، نہیں۔ پہلا وہ ہے۔ یعنی Top کی جو پہلی سرخی ہے وہ یہ ہے:

”حتی لا ننسٰی ما مرام القادیانیت ضد عقیدتنا“

١٢١

صفحہ ٤٢١

420 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

(Lest we ignore the conspiracies of Qadyanis against our belief.)

یہ پہلی سرخی ہے۔ دوسری سرخی اس میں یہ ہے:

”ھؤلاء يحاربوننا فى افريقيته مختلف الوسائل والاساليب فيتغلغلون فى اوساط الرسميه به اسم الاسلام“

(It is these people who are fighting us in Africa by means of various methods and infiltrating the Muslim people in the name of Islam.)

تیسری سرخی یہ ہے، اسی صفحے پر: ”لقد ناقش مؤتمر المنظمات الاسلاميه فى العالم المنعقد بمكة المكرمه فى ربيع الاوّل موازی هم كان من ابرازها معالجته التيارته الفكريه المؤثره المعاديه للاسلام و كانت القاديانيه فى مقدمته هذه التيارته 342 الهدامه التى نوقشت و درست ورقته“

(This conference of Islamic Organisations held at Mecca on 14th to 18th Rabi-ul-Awal discussed very important subjects. Prominent among there was how to meet the contemporary anti- Islamic movements. Qadianism came at the top of these subversive movements which were fully discussed. Its dangers to the Islamic world were exposed as also the deceitful and disruptive methods employed by it.)

(اسلامی تنظیم کی یہ کانفرنس مکہ میں ١٤ تا ١٨ ربیع الاوّل کو وقوع پذیر ہوئی۔ جس میں کئی اہم مسائل پر گفتگو ہوئی۔ خصوصیت سے اس بات پر کہ آج کل کی مسلمان دشمن تحریکات کا کس طرح پر مقابلہ کیا جائے۔ جو ان کی تخریبی تحریکات ہیں ان میں سرفہرست قادیانیت ہے۔ جس پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اسلامی دنیا کو جو اس سے خطرہ ہے۔ اس کو فاش کیا گیا اور ساتھ ہی اس کے پرفریب اور انتشار انگیز طریقہ کار جو وہ استعمال میں لاتے ہیں طشت از بام کئے گئے)

١٢٢

421 NATIONAL ASSEM

Mr. Chairman: Yo ور واضح کر دوں۔

Mr. Chairman: No, سامنے رکھیں) آپ گواہ کو یہ Put کریں۔

اور واضح کردوں اس کو۔ اس پر اعتراض کیا ہے۔.....

(Inter لیں ناں جی! جی! ایک سیکنڈ۔ سمجھ نہیں، بلکہ آگے افریقہ میں جو یہ کام کر رہے فوٹو گراف بھی دیئے ہیں۔ یہ دکھانے کے لئے کہ قادیانی کیا کر رہے ہیں۔“ کو بھی دیکھا یا ہے اور ان کی اپنی تصویر بھی دکھائی ۔ وہ تو ظاہر ہے۔

Mr. Chairman: An گے دیکھ لیں ۔ تو ممکن ہے کہ ......

اں جی! سب یہ ڈسکشن میں آیا تھا تو یہ چیز آئی تھی......

Now this....

(Inter ات سن لیں۔ کہ تصویر دیکھ کر کسی کو اعتراض نہ رہے۔ ایک سیکنڈ۔ ایک سیکنڈ۔ میری بات سنیں ناں،

The document has himself to contradict the que

صفحہ ٤٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Mr. Chairman: You put it to the witness.

مولانا ظفر احمد انصاری: ذرا میں اور واضح کر دوں۔

Mr. Chairman: No, no, you put it to the witness.

(جناب چیئرمین: یہ آپ گواہ کے سامنے رکھیں) آپ گواہ کو یہ Put کریں۔

(مداخلت) نہیں، نہیں، ایک سیکنڈ۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں ذرا اور واضح کر دوں اس کو۔ اب اس کے بعد صرف مسجد ہی نہیں، جس پر اعتراض کیا ہے......

(Interruption)

جناب چیئرمین: ایک منٹ ذرا سن لیں ناں جی ! جی ! ایک سیکنڈ ۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: صرف مسجد نہیں، بلکہ آگے افریقہ میں جو یہ کام کر رہے ہیں ۔ ان کی تصویر بھی دی ہے۔ ان کی جماعت کے فوٹو گراف بھی دیئے ہیں۔ یہ دکھانے کے لئے اور سرخی یہ ہے کہ: ”ہم اس سے غافل نہ ہو جائیں کہ قادیانی کیا کر رہے ہیں ۔“

اس کام کے لئے انہوں نے ان کی مسجد کو بھی دیکھایا ہے اور ان کی اپنی تصویر بھی دکھائی ہے اور نائیجیریا میں دوسری ...... پریس میں نہیں لکھا۔ وہ تو ظاہر ہے۔

Mr. Chairman: Ansari Sahib, this.....

343 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ آگے دیکھ لیں۔ تو ممکن ہے کہ ......

جناب چیئرمین: میری عرض سنیں ناں جی!

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: لیکن جب یہ ڈسکشن میں آیا تھا تو یہ چیز آئی تھی .....

جناب چیئرمین: میری عرض سنیں ۔.... Now this

(Interruption)

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ میری بات سن لیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... تاکہ تصویر دیکھ کر کسی کو اعتراض نہ رہے۔

جناب چیئرمین: سنیں ناں جی! ایک سیکنڈ ۔ ایک سیکنڈ ۔ میری بات سنیں ناں، انصاری صاحب!

The document has been produced by the witness himself to contradict the question of the Attorney-General.

١٢٣

Y OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

spiracies of Qadyanis against

یہ پہلی سرخی ہے۔ دوسری سرخی اس ”هؤلاء يحاربوننا في افريقة اوساط الرسميه باسم الاسلام “ are fighting us in Africa by nd infiltrating the Muslim

تیسری سرخی یہ ہے، اس صفحے پر : العالم المنعقد بمكة المكرمة في ربيع التيارات الفكريه المؤثره المعادية للاسلام 342 الهدامه التي توضح کشف و دراسة ورقة mic Organisations held at i-ul-Awal discussed very t among there was how to mic movements. Qadianism sive movements which were o the Islamic world were l and disruptive methods

(اسلامی تنظیم کی یہ کانفرنس مکہ مکرمہ ایک اہم معاملہ پر گفتگو ہوئی۔ خصوصیت سے طرح پر مقابلہ کیا جائے۔ جو ان کی تخریبی تحار سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اسلامی دنیا کو جو اس بـ پرفریب اور انتشار انگیز طریقہ کا جو وہ استعمال

صفحہ ٤٢٣

422 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

The witness relies on this document. You can put any of this.... extracts of this document, yes. So, tomorrow it can be put. This you can discuss with the Attorney- General..

(گواہ نے تو خود اٹارنی جنرل کے سوال کی تردید میں اس دستاویز کو پیش کیا ہے۔ گواہ کا اس دستاویز پر انحصار ہے۔ آپ اس کے اقتباس کو جو بھی چاہیں کل پیش کر سکتے ہیں اور اٹارنی جنرل سے مشورہ کر سکتے ہیں)

جناب عبدالعزیز بھٹی : یہ رسالہ جو ہے، کیوں نہ ریکارڈ پر رکھا جائے؟

جناب چیئرمین: ریکارڈ پر آجائے گا۔

It is on record that it has been produced by the witness as his own defence. So, this will remain on the record and the honourable members can see it, if any. I think it should not be passed on. It should not be passed on. It should remain, it shall remain in my Chamber till it is translated and everything. And from 9:00 to 10:00 tomorrow, the members can see it in my chamber. Yes.

(یہ تو ریکارڈ پر ہے کہ یہ دستاویز خود گواہ نے اپنی مدافعت میں پیش کی ہے تو یہ ریکارڈ پر رہے گی۔ اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ میں اپنے چیمبر میں اس وقت تک موجود رہوں گا جب تک اس کا ترجمہ ہو جائے اور ممبران صاحبان اس کے ترجمہ کو صبح نو دس بجے کے درمیان میرے چیمبر میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مولانا صاحب کو ترجمہ کے لئے دے دی جائے گی اور کل صبح نو بجے وہ مجھے دے دیں)

Yes. آپ ویسے بھی آتے رہتے ہیں، رسالہ دیکھنے کے بہانے آجائیں گے۔

From 9:00 to 10:00 in my Chamber, all the members can see it 9:00 to 10:00 a.m.

مولانا ظفر احمد انصاری: جناب والا! دوسری چیز .......

344 Mr. Chairman: It will be handed over to Maulana Sahib for translation and tomorrow Maulana

١٢٤

423 NATIONAL A

Sahib will hand it over to

SUPPLY OF COPIE

RELATING TO C

MEMBERS/A

کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی تصویروں پر جو

(

ں نے کہا ہے ان کے جوابات کا ریکارڈ

I am trying to ge that these may be distrib possible, within a few da

(

ی صاحب ! .......

چھے.......

ا۔ لیکن پانچ سات، یہ تو جب تک نہ

Mr. Chairma will get it, and the rest w

لیے ہیں.......

ـے

صفحہ ٤٢٣

OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

ment. You can put any of es. So, tomorrow it can be Attorney- General..

(گواہ نے تو خود اٹارنی جنرل... اس دستاویز پر انحصار ہے۔ آپ اس کے جنرل سے مشورہ کر سکتے ہیں)

جناب عبدالعزیز بھٹی: یہ...

جناب چیئرمین: ریکارڈ پر...

as been produced by the this will remain on the bers can see it, if any. I t should not be passed on. in my Chamber till it is d from 9:00 to 10:00 in my chamber. Yes.

(یہ تو ریکارڈ پر ہے کہ یہ دستاو... رہے گی۔ اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے... تک اس کا ترجمہ ہو جائے اور ممبران صا... چیمبر میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مولانا صاح... مجھے دے دیں)

Yes. آپ ویسے بھی آ...

ber, all the members can see it 9:00 to 10:00 a.m.

مولانا ظفر احمد انصاری:

will be handed over to and tomorrow Maulana

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

Sahib will hand it over to me at 9:00.

SUPPLY OF COPIES OF THE PROCEEDINGS,

RELATING TO CROSS- EXAMINATION TO

MEMBERS/ATTORNEY- GENERAL

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دوسری یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی تصویروں پر جو کچھ انہوں نے کہا ہے......

(Interruption)

جناب چیئرمین: اس کی فوٹوسٹیٹ کاپی......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ......جو کچھ انہوں نے کہا ہے ان کے جوابات کا ریکارڈ ہمیں مل جائے تاکہ ہم آگے کے لئے تیاری کر سکیں۔

جناب چیئرمین: جی! میں کر رہا ہوں۔ جتنی جلدی ہو سکتا ہے۔ ہاں جی!

I am trying to get 250 copies of these proceedings so that these may be distributed among the members as soon as possible, within a few days.

(Interruption)

جناب چیئرمین: میں عرض کروں جی! چوہدری صاحب!......

چوہدری ظہور الٰہی: دیکھئے! میری عرض سن لیجئے......

(Interruption)

چوہدری ظہور الٰہی: دوسو پچاس بالکل نہ دیں۔ لیکن پانچ سات، یہ تو جب تک نہ ملیں شام تک تو......

Mr. Chairman: You will... the Attorney- General will get it, and the rest within....

345 جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ بعض پوائنٹ ایسے ہیں......

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ ہو جائے گا۔

چوہدری ظہور الٰہی: ان کے لئے تو فوری چاہئے۔

١٢٥

صفحہ ٤٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب چیئرمین: بالکل ! The Attorney- General needs it.

جناب محمد ظفر احمد انصاری: جیسا لکھا ہے ویسے ہی دے دیں۔

Mr. Chairman: I will ask the Secretary to dilever the copies as....

Mr. Yahya Bakhtiar: Whatever is prepared that will do, that will be sufficient.

Mr. Chairman: Yes, copies of the proceedings to the Attorney- General at least جتنی بھی ٹرانسکرپشن ہو at least one copy should be given to the Attorney- General, because tomorrow brief cannot be prepared without today's proceedings. So, even if you have to put more time or over time, one copy has to be prepared.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کو ضرورت ہے۔ میں سیکرٹری کو ہدایت کروں گا کہ کارروائی کی نقل اٹارنی جنرل کو تو کم از کم فراہم کر دیں۔ کیونکہ کل کے لئے آج کی کارروائی کا خلاصہ کے بغیر تیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وقت زیادہ لگ جائے تو مضائقہ نہیں۔ ایک نقل تو تیار کرنی ہے ہی۔ کل صبح دس بجے تک کے لئے ہاؤس ملتوی ہوتا ہے)

So, the House is adjourned to meet tomorrow at 10:00 am.

Thank you very much.

[The Special Committee of the whole House adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Wednesday, the 7th August, 1974.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل صبح دس بجے بروز بدھ بتاریخ ٧؍اگست ١٩٧٤ء کے لئے ملتوی کیا گیا)

١٢٦

صفحہ ٤٢٥

LY OF PAKISTAN 6th Aug, 1974 No:02

جناب چیئرمین: بالکل! ds it. جناب محمد ظفر احمد انصاری: جی ll ask the Secretary to deliver : Whatever is prepared that copies of the proceedings to جتنی بھی ٹرانسکرپشن ہو at least one Attorney- General, because prepared without today's ve to put more time or over d.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کارروائی کی نقل اٹارنی جنرل کو تو کم از کم فرما خلاصہ کے بغیر تیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وقت زیادہ ہی کل صبح دس بجے تک کے لئے ہاؤس ملتوی rned to meet tomorrow at

tee of the whole House clock, in the morning, on 4.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل صبح د ملتوی کیا گیا)

425 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

No. 03

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 7th August, 1974

Contains Nos. 1—21

CONTENTS

Pages

(Continued)

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD. PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD.

صفحہ ٤٢٧

426 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

No. 03

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 7th August, 1974

Contains Nos. 1—21

٢

427 NATIONAL ASSEMBLY OF

Production of References/Quotations before the Delega Leakage of Questions to be put to the Delegation......... Cross-examination of the Qadiani Group Delegation—( Review of Procedure re: oral Progress of Cross-examina Written Answers re: oral Questions in the Cross-Examinat

٣

صفحہ ٤٢٧

PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 OF PAKISTAN NGS ITTEE OF THE D IN CAMERA QADIANI ISSUE PORT gust, 1974 -21

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Production of References/Quotations before the Delegation .. ...... ...... .. 423 426 Leakage of Questions to be put to the Delegation .. ...... ...... .. .. .... ...... 426-427 Cross-examination of the Qadiani Group Delegation—(Continued) .. .. .. .. ...... 428-497 Review of Procedure to oral Progress of Cross-examination .. .. .. .. .. .. .. .. 498-504 Written Answers to oral Questions in the Cross-Examination .. .. .. .. .. .. .. .. 504-505

صفحہ ٤٢٨

428 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

349

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Wednesday, the 7th August, 1974. (بروز بدھ، ٧ اگست ١٩٧٤ء)

The Special Committee of the Whole House of the National Assembly of Pakistan met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے چیمبر میں (اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح دس بجے وقوع پذیر ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی (صاحبزادہ فاروق علی) بحیثیت چیئرمین تھے)

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

٤

PDF 430

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

350 Mr. Chairman: Is Mr. Attorney- General prepared? Should we call them?

(جناب چیئرمین: کیا اٹارنی جنرل صاحب تیار ہیں۔ کیا ان لوگوں کو بلایا جائے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: (Attorney- General of Pakistan) Yes, Sir.

(جناب یحییٰ بختیار (پاکستانی اٹارنی جنرل): جی جناب!)

Mr. Chairman: They may be called.

(جناب چیئرمین: انہیں اندر بلالیں)

(The delegation entered the Chamber)

(وفد اسمبلی ہال میں داخل ہوتا ہے)

CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI

GROUP DELEGATION

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib have you verified that quotation which I read out yesterday.

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب، میں نے کل ایک قول پڑھ کر سنایا تھا۔ کیا آپ نے اس کی تصدیق کر لی ہے)

مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): ایک حوالہ آپ نے......

جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: یہ ایک ایک لے لیتے ہیں۔ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کا ایک حوالہ آپ نے پڑھا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں جی ! وہ جو آخری تھا میں پڑھ کے وہ...... پھر بعد میں باقی جو ہیں، آپ نے جو حوالے نوٹ کئے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کا آپ کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!

مرزا ناصر احمد: وہ پڑھ کر سنا دیجئے۔ ہم Verify کر دیتے ہیں۔

٥

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

EMBLY OF PAKISTAN

EDINGS

F

MMITTEE OF THE

ELD IN CAMERA

E QADIANI ISSUE.

REPORT

th August, 1974.

(بروز بدھ، ٧)

of the Whole House of the

tan met in Camera in the

nk Building), Islamabad, at

g. Mr. Chairman (Sahibzada

(پاکستان کی قومی اسمبلی کے مکمل

(اسٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں صبح ١٠

فاروق علی) بحیثیت چیئرمین تھے)

Holy Quran)

(تلاوت

صفحہ ٤٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(مرزا قادیانی حقیقی نبی)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے جو آخری پڑھا تھا وہ سناتا ہوں۔ پھر میں ٢٩ پر آتا ہوں۔ مجھے وہ ابھی یاد نہیں ہے۔ ہاں! میں نے مارک کیا اپنی فائل میں یہ۔

The Last question which I asked you and you were... your information will be verified.

(میں نے اپنے آخری سوال کو نشان زد کیا تھا۔ جو میں نے آپ سے کیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس کی تصدیق کروں گا)

351 وہ یہ تھا جی کہ: ”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت (غلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤، مؤلفہ مرزا بشیر الدین محمود ایڈیشن مطبوعہ اکتوبر ١٩٢٥ء)

مرزا ناصر احمد: جی، یہ ہم نے وہاں دیکھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جی۔

مرزا ناصر احمد: جو الفاظ وہاں ہیں، وہ یہ ہیں: ”میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی معنی میں، اگر حقیقی کے معنی یہ کئے جائیں گے کہ نئی شریعت لانے والا نبی، جو معنی خود مسیح موعود نے کئے ہیں، تو میں بھی حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ لیکن اگر حقیقی کے مقابلہ میں بناوٹی یا رسمی رکھا جائے تو میں بناوٹی نبی نہیں مانتا۔ یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں۔ یہاں جو لکھا ہوا ہے۔ یہ ہے کہ یا رسمی رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ یعنی بناوٹی نہیں مانتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی.......

مرزا ناصر احمد: بناوٹ کرنے والا، دجل کرنے والا نہیں مانتا۔ لیکن اگر ”حقیقی“ کے معنی شریعت لانے والے کے کئے جائیں تو میں حقیقی بھی نہیں مانتا۔

Mr.Yahya Bakhtiar: Please clarify that......Thank you.

تو جب وہ فرماتے ہیں کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی“

مرزا ناصر احمد: یہ کونسا حوالہ ہے؟.....ہاں، یہ ویسے کچھ کل بھی ہو گیا تھا۔

١؎ تساہلِ عارفانہ کی عمدہ مثال۔ جناب مرزا ناصر! یہ آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کا حوالہ ہے۔ جان کیوں چراتے ہو۔ جی کیوں چراتے ہو؟

٦

صفحہ ٤٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

352 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، Eighty three - Eighty four جو ہیں ناں، last few lines of eight-three "اربعین" میں۔

مرزا ناصر احمد: "خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوائے اس کے۔ یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔"

(مرزا، صاحب الشریعت نبی؟)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی: "جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔"

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ یہ میں......

Before you proceed further to clarify...... (آگے بڑھنے سے پہلے اس کی وضاحت کریں۔ براہ کرم!)

مرزا ناصر احمد: جی!

جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ ریفرنس جو ہے یہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ اپنے متعلق ہے یا آنحضرت ﷺ کے متعلق؟

مرزا ناصر احمد: جی۔ یہ آگے بیان آ گیا۔ خود اس کو کیا ہے بیان: "......باہر سے پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔" یہ مخالفوں نے جو اعتراض کیا ہے۔ اس کا الزامی جواب ہے اور الزامی جواب یہ ہے کہ: "ہمیں اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ: "قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لہم" تو قرآن کریم کی آیت وحی کی اور یہ امر اور نہی اس میں آ گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرآن کریم کے احکام و اوامر کے قائم کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے نہ یہ کہ اپنی شریعت۔" مثال آگے دی ہے، قرآن کریم کی آیت......

353 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں اس میں ایک Clarify کرانا چاہتا تھا (ہوں) آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور جب آگے کہتے ہیں: "اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی......"

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہی قرآن کریم کی آیات جن میں امر اور نہی ہیں۔

٧

صفحہ ٤٣٢

433 NATIONAL A

Mr. Yahya Bakh

نے پوچھا تھا، اس کا ٢٦ اور ٢٩؍ جون

ہی کافر)

کہا تھا کہ : ”چونکہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کریں ۔“

ہاں دولکھے ہیں۔ شاید Bi-weekly ١٩٧٤ء ہے‘۔

دیتا ہوں۔ خود اپنے آپ کی وضاحت اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس کافر ہے، غیر احمدی کافر ہیں۔“

کہتا ہوں۔ ایک حدیث ہے کہ : ”من کفر ہو گیا ۔“ تو یہ محدود معنی میں کفر کا لفظ

مرزا ناصر کی کذب بیانی پر توجہ کریں کہ :

مرزا ناصر کبھی چیک کروں گا، کبھی انکار،

کی پیشانی پر درج ہے۔ جلد ٩ شمارہ نمبر کے دو شمارے یکجا شائع کئے گئے۔ جس اپنے دجل و تلبیس کا شکار کر رہا ہے۔

432 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: وہ آیات وحی ان پر بھی آتی رہیں جو قرآن مجید میں موجود ہیں؟

مرزا ناصر احمد: قرآن مجید کی آیات تھیں اور مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم اوامر اور نواہی کو دنیا میں قائم کرو، اس کے مطابق لوگوں کو کہو کہ ......

جناب یحییٰ بختیار: اپنا کوئی نہیں؟

مرزا ناصر احمد: اپنی کوئی نہیں، اپنا کوئی امر اور ......

جناب یحییٰ بختیار: ”اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں ......“

مرزا ناصر احمد: ”......تو یہ باطل ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: یہ اس کی بڑی وضاحت ہوگئی ......پہلے کی ......کہ میرے اوپر کوئی نئے احکام نہیں آئے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔ اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں ......“

مرزا ناصر احمد: ”......نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔“

354 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اس کے بعد آگے چل کر : ”یعنی قرآنی تعلیم توریت میں موجود ہے۔ اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں بعض ...... امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں ......احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہیں رہتی۔ غرض یہ کہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں ......“

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”...... کا خاتم ہے۔ تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعے سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنا نہ کرو، خون نہ کرو۔ ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے۔ جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔ پھر وہ دلیل تمہاری ......“

مرزا ناصر احمد: جی، یہ تو بڑی واضح ہوگئی پوری بات، بالکل واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کے احکام ہی وحی کے ذریعے نازل ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نئی شریعت ہے۔

٨

صفحہ ٤٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 Mr.Yahya Bakhtiar: He is repeating the same? (تو وہ شخص اس بات کو دھرا رہا ہے) مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، تجدید کے طور پر۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر یہ آپ سے میں نے پوچھا تھا، اس کا ٢٦ اور ٢٩؍ جون کا ”الفضل“۔ مرزا ناصر احمد: ”الفضل“؟

(نبی کا انکار کفر، غیر احمدی کافر)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں ”الفضل“ جس میں کہا تھا کہ: ”چونکہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں، ہم چونکہ مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے، اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی نبی کا انکار بھی کفر ہے، غیر احمدی بھی کافر ہیں۔“

355

مرزا ناصر احمد: یہ ٢٩؍ جون ١٩٢٢ء؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ٢٦ اور ٢٩؍ یہاں دو لکھے ہیں۔ شاید Bi-weekly تھا اس زمانے میں۔ مرزا ناصر احمد: ٢٦، ٢٩ نہیں، یہ ٢٩؍ جون ١٩٢٢ء ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ مرزا ناصر احمد: یہ اصل حوالہ میں سارا پڑھ دیتا ہوں۔ خود اپنے آپ کی وضاحت کر دے گا: ”ہم چونکہ حضرت مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے، غیر احمدی کافر ہیں۔“ اس تعریف کے مطابق یہ میں اپنی طرف سے کہتا ہوں۔ ایک حدیث ہے کہ: ”مـــــن تـرک الصلوٰة متعمدا فقد کفر“ ”تو جو نماز چھوڑتا ہے وہ کافر ہو گیا۔“ تو یہ محدود معنی میں کفر کا لفظ

؎١ قادیانیوں سے میری درخواست ہے کہ وہ مرزا ناصر کی کذب بیانی پر توجہ کریں کہ: ”یہ ٢٦، ٢٩؍ جون نہیں ۔“ کل سے یہ حوالہ زیر بحث ہے۔ مرزا ناصر کبھی چیک کروں گا، کبھی انکار، کبھی فرار، سنیں! حقیقت یہ ہے۔ الفضل قادیان اسی پرچہ کی پیشانی پر درج ہے۔ جلد ٩ شمارہ نمبر ١٠١، ١٠٢، مورخہ ٢٦، ٢٩؍ جون ١٩٢٢ء۔ گویا یہ دو تاریخوں کے دو شمارے یکجا شائع کئے گئے۔ جس کو مرزا ناصر چکر پے چکر دے کر پوری اسمبلی کے ارکان کو اپنے دجل و تلبیس کا شکار کر رہا ہے۔ ٩

صفحہ ٤٣٤

434 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

استعمال ہوا ہے: ”اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔ ہماری جماعت کا بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔ خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں پر ہمیں ایمان ہے۔ قرآن کریم کو میں اور ہماری جماعت خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ تمام آسمانی کتابوں پر ہمیں ایمان ہے۔ تمام احکام اسلام کے پابند ہیں اور تمام احکام شریعت کو واجب العمل سمجھتے ہیں اور جماعت کو ان پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہیں اور عمل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ فرشتوں پر ہمیں ایمان ہے۔ ہمیں مرنے کے بعد بھی اٹھنے پر ایمان ہے۔ قضا و قدر پر ایمان ہے۔ نماز پڑھتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں۔ حج کرتے ہیں۔ بلکہ میں نے خود حج کیا ہے۔ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ ان مسائل و احکام پر عمل ضروری سمجھتے ہیں اور ان سے ذرا جدائی کو تباہی اور ہلاکت سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم کے بعد کسی نئی شریعت کو نہ مانتے ہیں، نہ جائز رکھتے ہیں کہ کوئی نئی شریعت قرآن کریم کے بعد آئے۔ حضرت مرزا نئی شریعت نہیں 356 لائے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں کوئی نیا حکم دوں تو میں کافر ہو جاؤں۔“ یہ سارا حوالہ ہے جو اپنی وضاحت آپ کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وضاحت.......

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ......تو اس میں جو کافر کہتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ کافر وہ Limited sense میں ہے کہ ملت اسلامیہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، محدود میں۔

جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلام سے خارج نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اصل میں وہ مجھے اس کی وضاحت کرنی پڑے گی۔ کل مجھے احساس ہوا اور میں ساری رات بے چین رہا ہوں تھوڑا سا ہنسی کا۔ بیچ میں آ گیا تھا۔ تو اتنا عظیم مذہب ہے۔ اس کے متعلق کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہئے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ ٹھیک ہے، کیونکہ ہماری......

مرزا ناصر احمد: کم از کم میں اس کو وہ......

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ابھی نئی چیز تھی کہ ملت میں رہتا ہے اور اسلام میں نہیں رہتا۔ یہ......

مرزا ناصر احمد: یہ آپ کے لئے تو نئی تھی۔ لیکن حوالے میں نے پرانی کتابوں کے

١٠

صفحہ ٤٣٥

435 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

پڑھ کر سنائے تھے۔ اپنوں کے نہیں، ابنِ تیمیہ...... جناب یحییٰ بختیار: ان کا حوالہ میں نے نوٹ نہیں کیا۔ مرزا ناصر احمد: ابنِ تیمیہ کا حوالہ؟ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے؟ نکالو (اٹارنی جنرل سے) میں ابھی نوٹ بھی کرا دیتا ہوں۔ (اپنے وفد کے رکن سے) بلکہ جو پڑھا تھا۔ (اٹارنی جنرل سے) یہ ابھی وہ نکالتے ہیں۔ (اپنے وفد کے رکن سے) جہاں سے میں نے پڑھا تھا۔ 357 یہ ایک آپ نے ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کا حوالہ پڑھا تھا۔ یہ ”الفضل“ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: یہ ذرا پڑھ دیں۔ میں اس کی پھر تصدیق کر دیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا، اسی گروہ سمجھنا گویا آنحضرت جوسیدالمرسلین اور خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا ہے۔ امتی میں داخل کرنا ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر در کفر ہے“۔

١؎ قارئین! قریباً پچاس سال سے قادیانیت کے کتب ورسائل کی ورق گردانی کر رہا ہوں۔ بخدا جوں جوں قادیانیت کا مطالعہ کرتا ہوں توں توں قادیانی دجل مجھ پر روز واضح ہوتا جاتا ہے جس کا ثبوت ایک یہ حوالہ ہے۔ جس ممبر نے اٹارنی جنرل کو سوال لکھ کر دیا اس سے غلطی ہوئی۔ اس نے ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء لکھ دیا۔ حالانکہ یہ حوالہ الفضل قادیان ج٣ نمبر ٣ مورخہ ٢٩؍جون ١٩١٥ء کا ہے۔ جیسا کہ قادیانی مذہب ص٢٥٤ سطر ٦ پر حوالہ موجود ہے۔ ٢٩؍جون کے اخبار کو ٢٩؍جنوری کہہ دیا تو مرزا ناصر نے شور کر دیا کہ ٢٩؍جنوری کو اخبار نہیں چھپا۔ (١) یہ حوالہ ہی نہیں ہے۔ (٢) یہ بنایا گیا ہے۔ (٣) کہیں بھی نہیں ہے۔ (٤) کہیں اور بھی نہیں۔ (٥) کہیں نہیں یہ حوالہ۔ مرزا ناصر کے اقوال خمسہ پر میں نے نمبر لگا دیئے ہیں۔ اب جواباً عرض ہے۔ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء نہیں۔ اس دن اخبار نہیں چھپا۔ لیکن یہ حوالہ ٢٩؍جون ١٩١٥ء کا ہے۔ (قادیانی مذہب ص٢٥٤ طبع اگست ١٩٩٥ء) پر ملاحظہ کریں۔ (١) حوالہ ہے۔ (٢) اس سے انکار کرنا حقائق سے تبصرہ انکار یا جہالت پر مبنی ہے۔ (٣) یہ ٢٩؍جون ١٩١٥ء کے اخبار میں ہے۔ جیسا کہ قادیانی مذہب کے ص ٢٥٤ پر صراحت ہے۔ (٤) ”کہیں بھی نہیں“ یہ مرزا ناصر کی مہا بے ایمانی وسدا بہار کذب بیانی کا شاہکار ہے۔ (٥) ”کہیں نہیں“ یہ حوالہ ہے۔ البتہ کہیں نہیں۔ ”ایمان“ مرزا ناصر کے قلب وجگر میں، حوالہ ہے۔ مرزا ناصر میں دیانت، صدق وایمان نہیں۔ نہ صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے نہ کھلتے۔ راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں۔

11

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

استعمال ہوا ہے: ”اس لئے قرآن کریم کی تعل احمدی کافر ہیں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں پر ہمیں ایمان ہے۔ قر کرتے ہیں۔ تمام آسمانی کتابوں پر ہمیں ایما احکام شریعت کو واجب العمل سمجھتے ہیں اور جو کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ فرشتو پر ایمان ہے۔ قضا وقدر پر ایمان ہے۔ نماز پڑ میں نے خود حج کیا ہے۔ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ ال ذرا جدائی کو تباہی اور ہلاکت سمجھتے ہیں۔ قرآن رکھتے ہیں کہ کوئی نئی شریعت قرآن کریم کے ب آپ نے فرمایا کہ اگر میں کوئی نیا حکم دوں تو می کام کر رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وضاح مرزا ناصر احمد: جی ، ٹھیک ہے، جناب یحییٰ بختیار: ...... تو ا Limited sense میں ہے کہ ملت اسلا مرزا ناصر احمد: ہاں، محدود میں جناب یحییٰ بختیار: دائرہ اسلا مرزا ناصر احمد: نہیں، اصل ب احساس ہوا اور میں ساری رات بے چین ر مذہب ہے۔ اس کے متعلق کوئی غلط فہمی نہیں ہو جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی مرزا ناصر احمد: کم از کم میں ا جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ ا

رہتا۔ یہ...... مرزا ناصر احمد: یہ آپ کے۔

صفحہ ٤٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: یہ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: میں آپ سب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کو اخبار ”الفضل“ چھپا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٢٩؍جنوری ١٩١٥ء کو یہ حوالہ کسی اور ایشو (Issue) میں ہے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں کسی (Issue) میں نہیں ہے۔ یہ حوالہ ہی نہیں ہے۔ یہ بنایا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میں اسی واسطے Verify کرارہا ہوں۔ اس لئے میں کہہ رہا ہوں۔ یا کسی اور جگہ ہو؟ یہ Misprint ہو۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے۔ یہ کسی جگہ بھی نہیں ہے۔ یہ تھوڑے سے وقت میں، جب سے اخبار چھپا ہے۔ اس وقت سے تو ہم نے نہیں دیکھا۔ لیکن جو ہمارا ذہن ہے۔ جو ہماری تربیت ہے۔ میں کہتا ہوں......

358 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٹھیک ہے۔ اسی واسطے تو اخبار کا آپ کو......

مرزا ناصر احمد: اور اخبار کا حوالہ دیا ہے۔ اس اخبار کا جو چھپا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھا......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کہیں اور بھی نہیں ہے۔ کہیں اور بھی نہیں ہے۔ یہ فائل پڑا ہے۔ آپ اس میں سے ٢٩ کا نکال دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ١٩١٥ء میں ”الفضل“ چھپا ہی نہیں تھا؟

مرزا ناصر احمد: ١٩١٥ء میں ”الفضل“ تیسرے دن چھپتا تھا اور ٢٩ تاریخ نہ چھپنے کی تاریخ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا......

مرزا ناصر احمد: ”الفضل“ چھپتا تھا۔ ٢٩ تاریخ کو نہیں چھپتا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں......

مرزا ناصر احمد: روزانہ نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے عرض کیا کہ پہلے بھی جو تھا اس میں میں نے کہا ٢٦ اور ٢٩، Bi-weekly تو ان میں سے......

١٢

صفحہ ٤٣٧

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : یہ ٢٩ جنوری

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی

مرزا ناصر احمد : میں آپ سـ ١٩١٥ء کو اخبار ”الفضل“ چھپا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ٢٩ جنور

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، یہ بنایا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : تو میں ا رہا ہوں۔ یا کسی اور جگہ ہو؟ یہ Misprint

مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں، مـ سے وقت میں، جب سے اخبار چھپا ہے ۔ ہے۔ جو ہماری تربیت ہے۔ میں کہتا ہوں۔

358 جناب یحییٰ بختیار : نہیں

مرزا ناصر احمد : اور اخبار کا حـ

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یـ

مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں یـ پڑا ہے۔ آپ اس میں سے ٢٩ کا نکال دیں

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جـ

مرزا ناصر احمد : ١٩١٥ء میں ا تاریخ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں،

مرزا ناصر احمد : ”الفضل“

جناب یحییٰ بختیار : نہیں،

مرزا ناصر احمد : روزانہ نہیں ا

جناب یحییٰ بختیار : میں ۔ ٢٩ Bi-weekly تو ان میں سے ۔۔۔۔۔

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : کہیں نہیں یہ حوالہ۔ اس کے آگے پیچھے کوئی حوالہ ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : بس ٹھیک ہے۔

مرزا ناصر احمد : یہ فائل پر آپ دیکھ لیں۔ یہیں کہ ٢٩ کا نہیں ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) دکھا دو ناں۔ تم دکھا دو ناں ، ٢٩ کا نہیں ہے (اٹارنی جنرل سے ) نہیں، نہیں، دکھا دیتے ہیں آپ کو۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) نکال دو، نکال دو۔ ان کو خواہ مخواہ تکلیف ہوگی ناں۔

جناب یحییٰ بختیار : خیر وہ Verify کرلیں، انہوں نے Verify کرلیا ہوگا۔

359 مرزا ناصر احمد : (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) ٢٩ کا صفحہ نکال لیں ناں۔ (اٹارنی جنرل سے ) یہ دیکھیں، یہ ٢٦ ہے جو ہم نے دیکھا ہے۔ وہ تو نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی دیکھ لیا، ہاں، ہاں دیکھ لیا۔

مرزا ناصر احمد : آگے پیچھے دیکھ لیں سارے۔ یہ جو ابنِ تیمیہ کا حوالہ، یہ ”کتاب الایمان“ صفحہ ١٣٢، مطبوعہ مصر۔

جناب یحییٰ بختیار : کتاب الایمان؟

مرزا ناصر احمد : ”کتاب الایمان“ ١٣٢، Page hundred and thirty-two مطبوعہ مصر۔ یہ مصر میں چھپی ہوئی ہے۔ یہ مختلف ممالک میں چھپی ہوئی ہے۔ اس واسطے کا.......

جناب یحییٰ بختیار : یہ سال کا ایڈیشن معلوم نہیں ہے آپ کو؟

مرزا ناصر احمد : نہ، نہ۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) کتاب ہے یہ؟

جناب یحییٰ بختیار : یہ کس ...... کئی ایڈیشن ہوں گے ناں۔

مرزا ناصر احمد : مصری ایڈیشن ہے ناں، مطبوعہ مصر۔

جناب یحییٰ بختیار : کیونکہ بعض مرزا قادیانی کی کتابوں کے مختلف ایڈیشن ہیں۔ اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔

مرزا ناصر احمد : مطبوعہ مصر، ص ١٣٢، اور اگر اس سے زیادہ تفصیل چاہئے تو ہمارے کیمپ میں ہے وہاں سے ......

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی، کافی ہے۔ اگر آگے کوئی ضرورت پڑی تو دیکھ لیں گے۔ اب مرزا صاحب! اور تو کوئی حوالہ آپ کو میرے خیال میں میں نے نہیں دیا۔

١٣

صفحہ ٤٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: ٢٦؍ جنوری ١٩١٦ء ......

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ Verify پھر کروں گا کہ کہاں سے میں نے پایا تھا۔

360 مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔ اس میں یہ مضمون تھا کہ ”امت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں Verify کروں گا۔

مرزا ناصر احمد: ”ملت“ کا نہیں، نہیں ”امت“ کا جی۔ وہ تو بڑا واضح ہے، اس کا جواب تو۔ لیکن اصل مل جائے، ممکن ہے۔ وہاں کے الفاظ میں بھی غلطی ہو۔ اس واسطے میں نے عرض کی تھی بصد احترام کہ جو حوالہ یہاں پڑھ کر دیا جائے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جبھی تو ہم Verify کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ Misprint ہو جاتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: Repeat ہوتا ہے بعض دفعہ کسی اخبار میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ کسی میگزین میں۔ تو ہم Verify کرنے کے بعد آپ سے Clarification مانگتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک مرزا صاحب! ”خطبہ الہامیہ“ (صفحہ ١٧١، خزائن ج١٦ ص ٢٥٩)، ایک Quotation ہے کہ:

”جو شخص مجھ میں اور نبی ﷺ میں فرق کرتا ہے۔ اس نے مجھے نہیں مانا اور نہ پہچانا۔“

یہ سوال میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ صحیح ہے یا ایسے ہی Quotation ہے؟

مرزا ناصر احمد: ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ“

اس کے معنی یہ ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی۔ یہ Quotation ہے ان کی؟

مرزا ناصر احمد: یہ Quotation ہے۔ لیکن اس کے معنی صرف ہم بتا سکتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ میں اس کے متعلق پوچھ رہا ہوں......

361 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، Quotation ہے یہ: ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ“

١٤

صفحہ ٤٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not volunteering to tell you what is meant......

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے اس کے مفہوم کا معلوم ہونے میں دلچسپی نہیں ہے)

مرزا ناصر احمد: آپ نے فرمایا کہ: ”میرا وجود ہی فنا ہو چکا ہے اور جو مجھ میں اور آپ میں فرق کرتا ہے۔ یعنی محمد ﷺ کے علاوہ میرا بھی کوئی وجود سمجھتا ہے، تو وہ غلطی پر ہے۔ میں تو نثار ہو گیا ہوں۔“

جناب یحییٰ بختیار: ”فنا فی الرسول؟“

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہی Concept ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ ہے۔ میں چیز کیا ہوں۔ پس فیصلہ یہی ہے۔“ اس کے معنی ہیں، یعنی آنحضرت ﷺ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کیونکہ Impression (تاثر) یہ پڑتا ہے مرزا صاحب! کہ ایک امتی نبی، نبی سے Superior (برتر) ہے، Equal (برابر) نہیں ہو سکتا۔ یہ Impression......

مرزا ناصر احمد: یہ تو Equal تو نہیں، یہ تو سب کچھ ختم کر دینے کا دعویٰ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”فنا فی الرسول؟“

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ تو بھری پڑی ہے آپ کی کتابیں۔ میں نے بتایا، اردو میں یہ کہا: ”وہ ہے۔ میں چیز کیا ہوں۔ بس فیصلہ یہی ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: وہ Superior اپنے آپ کو نہیں سمجھتے وہ؟

362 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: Equal نہیں سمجھتے؟

مرزا ناصر احمد: ”انا احقر الغلمان“ کہ غلام ہی نہیں اپنے آپ کو کہا، بلکہ حقیر ترین، غلاموں میں، محمد ﷺ کا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٹھیک ہے، وہ تو آپ نے سنایا وہ۔ clarification کے لئے میں یہ......

(Interruption)

١٥

Y OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: ٢٦؍جنوری ١٩١٦ء

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ ify

360 مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے کیا گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں erify

مرزا ناصر احمد: ”ملت“ کا ٹریکٹ جواب تو۔ لیکن اصل مل جائے، ممکن ہے۔ وہاں عرض کی تھی بصد احترام کہ جو حوالہ یہاں پڑھ کر

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جبھی تو

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ int

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: Repeat بعض دفعہ کسی میگزین میں۔ تو ہم Verify مانگتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک م ص٢٥٩)، ایک Quotation ہے کہ: ”جو شخص مجھ میں اور نبی ﷺ میں فر یہ سوال میں اس لئے پوچھ رہا ہوں

مرزا ناصر احمد: ”من فرق بینی اس کے معنی یہ ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی۔

مرزا ناصر احمد: یہ otation

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، و

361 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، المصطفىٰ“

صفحہ ٤٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(قادیانیوں کی علیحدگی پسندی)

Mr.Yahya Bakhtiar: Sir, I asked some question about the separatist tendency in ahmadis with regard to that there is a statement of Mirza Bashir-ud-din, Mahmud ahmad. Before I ask about this statement, there is an impresion that before the Independence, the stand of your jamaat was that you are a separate entity, you have nothing to do with Muslims, you are just like Christians or Parsees. but after independence, you have taken the stand that you are part of Muslims or Muslims Millat or Muslim nation. but befere that, I mean to say, if you know that and you can reply. With that background, I am reading out this......

(جناب یحییٰ بختیار: جناب میں آپ کے احمدیوں اندر علیحدگی پسند رجحانات کے بارے میں سوال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں مرزا بشیر الدین محمود کا ایک بیان ہے۔ قبل اس کے کہ میں اس بیان پر آپ سے پوچھوں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی سے قبل آپ کی جماعت کا یہ تاثر تھا کہ آپ لوگ ایک علیحدہ وجود کے حامل ہیں اور مسلمانوں سے آپ کو کوئی سروکار نہیں یعنی آپ ایسے ہی ہیں جیسے عیسائی، پارسی ہوں۔ یہ آزادی کے بعد ہوا کہ آپ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آپ مسلمانوں کا یا مسلم ملت یا مسلم قوم کا ایک حصہ ہیں۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ میں کیا سوال کرنے والا ہوں اور اس کو سامنے رکھ کر جواب دیں تو آپ کو میرے مفہوم کا پس منظر معلوم ہو گیا)

Mirza Nasir Ahmed: I do not know what you are referring to, because I have never......

(مرزا ناصر احمد: مجھے کوئی علم نہیں کہ آپ کس بات پر اشارہ فرما رہے ہیں۔ میں نے یہ بات آپ سے کبھی نہیں سنی ١؎)

١؎ کذب صریح اس کو کہتے ہیں۔

١٦

صفحہ ٤٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr Yahya Bakhtiar: There is an impression that before independence......

(یحییٰ بختیار: آزادی سے قبل آپ علیحدہ وجود رکھتے تھے)

مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے۔ آپ پڑھئے۔

Mr Yahya Bakhtiar: ....you said that you were a separate entity like Christian and Parsees......

(جناب یحییٰ بختیار: عیسائیوں، پارسیوں کی طرح علیحدہ)

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

363 Mr Yahya Bakhtiar: ......But after independence you asserted that you were part of Muslim Nation, Muslim Millat, not before......

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن آزادی کے بعد آپ نے پر زور طور پر کہنا شروع کیا کہ آپ مسلم قوم کا ایک حصہ ہیں اور مسلم ملت کا)

Mirza Nasir Ahmed: Not before the declaration of Pakistan? ......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!

Mirza Nasir Ahmad: The creation of Pakistan?

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! .....Independence

مرزا ناصر احمد: ہوں۔

Mr Yahya Bakhtiar: About that time, 47 up to that time.

(جناب یحییٰ بختیار: پاکستان کی آزادی کے اعلان سے قبل 1946ء، 1947ء کے لگ بھگ)

مرزا ناصر احمد: وہ جو ہاں کیا تھا، Fight کیا تھا مسلم لیگ اور پاکستان کا کیس......

Mr Yahya Bakhtiar: That was......

Mirza Nasir Ahmad: ......Shoulder to shoulder with the Muslim League......

١٧

صفحہ ٤٤٣

442 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(مرزا ناصر احمد: مسلم لیگ اور پاکستان کی لڑائی لڑی کندھے سے کندھا ملا کر )

Mr Yahya Bakhtiar: That was after 3rd June,1947. (جناب یحییٰ بختیار: لیکن وہ ٣؍ جون ١٩٤٧ء سے بعد کا قصہ ہے)

Mirza Nasir Ahmad: Before the creation of Pakistan. (مرزا ناصر احمد: لیکن پاکستان بننے سے پہلے)

Mr Yahya Bakhtiar: Before the ...... (جناب یحییٰ بختیار: اعلان سے قبل)

Mirza Nasir Ahmad: Before the creation of Pakistan. (مرزا ناصر احمد: لیکن پاکستان کی تخلیق سے قبل)

Mr Yahya Bakhtiar: Before the announcement. Before the announcement that Pakistan had to become a reality, was going to be established......put it that way......the 3rd June statement of 1947 I fully ...... (جناب یحییٰ بختیار: جبکہ پاکستان ایک حقیقت بن چکا تھا۔ قائم ہونے جا رہا تھا۔ یا یوں کہہ لیجئے ٣؍ جون ١٩٤٧ء)

Mirza Nasir Ahmad: I think the imagination is too far. (مرزا ناصر احمد: یہ آپ کی قوت متخیلہ کی دور کی پرواز ہے)

364 Mr Yahya Bakhtiar: No, but I think that this is an impression and therefore...... (جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھتا ہوں یہی تاثر تھا)

Mirza Nasir Ahmad: It might be an impression in some minds. Let us clarify it. (مرزا ناصر احمد: ایسا ہو گا کچھ کے دماغوں میں ۔ اچھا وضاحت کریں)

Mr Yahya Bakhtiar: Yes. This is a statement of Mirza Bashir-ud-Din Ahmed-"Al-Fazal" 13th November,

١٨

443 NATIONAL A

1946...... (نومبر ١٩٤٦ء کا بیان)

Mirza Nasir A

Mr Yahya Bak

ے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ ائیں ۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو ی عیسائی بھی تو مذہبی فرقے ہیں۔ جس ہمارے بھی کئے جائیں ۔ تم ایک پارسی " شری ہے لمبی .......

Mr Yahya Bak

......Because I want you paper "Impact" publish seen it ......

نے سے قبل میں چاہتا ہوں کہ آپ پر ستان میں چھپا ہوا اور آپ نے اس کو

Mr Yahya Bak

۔ کون سا ہے یہ ؟

Mr Yahya Bak

رد کا ہے۔

صفحہ ٤٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا بشیر الدین کا ١٣؍ نومبر ١٩٤٦ء کا بیان) ......1946

Mirza Nasir Ahmad: Yes.

(مرزا ناصر احمد: جی ہاں)

Mr Yahya Bakhtiar: This reads:

"میں نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں، عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہے، تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی عیسائی بھی تو مذہبی فرقے ہیں۔ جس طرح کہ ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو۔ اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔"

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ اس کی ایک ہسٹری ہے لمبی......

Mr Yahya Bakhtiar: Before I conclude this, Sir, ......Because I want you to be in picture......there is also a paper "Impact" published in England, and you might have seen it......

(جناب یحییٰ بختیار: اس قول کے نقل کرنے سے قبل میں چاہتا ہوں کہ آپ پر پوری تصویر واضح ہو۔ ایک اخبار ہے بنام "امپیکٹ" انگلستان میں چھپا ہوا اور آپ نے اس کو دیکھا ہوگا)

مرزا ناصر احمد: کب چھپا؟

Mr Yahya Bakhtiar: 27th June 1974.

(جناب یحییٰ بختیار: ٢٧؍ جون ١٩٧٤ء)

مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، میرے علم میں نہیں۔ کون سا ہے یہ؟

Mr Yahya Bakhtiar: "Impact"

365 مرزا ناصر احمد: یہ ٧٤ء کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٧٤ء کا۔

مرزا ناصر احمد: ٧٤ء۔ ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ربوہ Incident کے بعد کا ہے۔

١٩

صفحہ ٤٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : اچھا، اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار : تو اس میں سے جو ہے ناں جی:

"Two into one would not go."

آپ دیکھ لیں۔ نیچے پاکستان پر جو انہوں نے لکھا ہوا ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: "Two into one would not go." (مرزا ناصر احمد : دو ایک میں داخل نہیں ہو سکتے)

Mr Yahya Bakhtiar: Now I would like to read this, Sir, so that...... (جناب یحییٰ بختیار : میں اس کو پڑھنا چاہتا ہوں)

I don't want to read part of it...... (مکمل طور پر)

مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے......

Mr Yahya Bakhtiar: "Impact" International, fortnightly, 14th to 27th June, 1974.

(جناب یحییٰ بختیار : یہ اخبار امپیکٹ بین الاقوامی اخبار ہے۔ ١٤ تا ٢٧ جون ١٩٧٤ء کا) یہ Publish ہوتا ہے......

Mirza Nasir Ahmad: You would like...... whether I have a right to these views or not?

(مرزا ناصر احمد : آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میں ان کے خیالات سے متفق ہوں یا نہیں)

Mr Yahya Bakhtiar: When I said that there is an impression, this is one of the impression, generally this impression, that before the Independence this was the stand of the Ahmadis. And here I would read......

(جناب یحییٰ بختیار : میں نے پہلے کہا ہے کہ یہ ایک عام تاثر ہے کہ احمدیوں کا آزادی سے قبل یہ موقف تھا)

Mirza Nasir Ahmad: Who is the writer?

(مرزا ناصر احمد : یہ کہنے والا کون ہے؟)

Mr Yahya Bakhtiar: I really do not know. But

٢٠

NATI...

this is a magzine pu

ین میں شائع شدہ ہے)

366 Mirza N

this publication? (یہ

Mr Yahya

Mirza Nas

with this?

Mr Yahy

nothing to do with have anything to authoritative pron one of the magaz reported that pres what happened in "Pakistan recent trouble surr question whether non-Muslim min minority in a n fundamental an differences that b forced together involved no con prominent leader

لینا۔ ہمیں تو انہیں کہنا ہے کہ

صفحہ ٤٤٥

445 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

this is a magzine published.

(جناب یحییٰ بختیار: مجھے نہیں معلوم لیکن یہ ایک میگزین میں شائع شدہ ہے)

366 Mirza Nasir Ahmad: What is the standing of this publication? (مرزا ناصر احمد: اس شائع شدہ اخبار کی کیا حیثیت ہے؟)

Mr Yahya Bakhtiar: May be nothing at all, sir.

(جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے کچھ بھی نہ ہو)

Mirza Nasir Ahmad: Have we got anything to do with this? (مرزا ناصر احمد: ہمارا اس سے کوئی تعلق ہے؟)

Mr Yahya Bakhtiar: No, no, you have got nothing to do with it. I don't know. I do not say that you have anything to do or it is your publication or it is authoritative pronouncement of Ahmadiyya jammat. it is one of the magazines, published in England, which has reported that press conference of Ch.Zafarulla Khan and what happened in Pakistan. So I read that:

"Pakistan's Qadianis or Ahmadis problem and the recent trouble surrounding it revolves around the interesting question whether the Qadianis should be regarded as a non-Muslim minority in a Muslim society or a Muslim minority in a non-Muslim society, for such is the fundamental and mutually exclusive nature of the differences that by no stretch of argument can the two be forced together under one Muslim label. The matter involved no complicated theology as Sir Zafarulla, a prominent leader of the Ahmadiyya movement......"

(جناب یحییٰ بختیار: کچھ بھی نہیں آپ کو اس سے کیا لینا۔ میں تو انہیں کہتا ہے کہ

٢١

PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: اچھا، اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: تو اس میں ، ," آپ دیکھ لیں۔ نیچے پاکستان

'Two into one would not

(مرزا ناصر احمد: دو ایک میں

Now I would like to read

(جناب یحییٰ بختیار: میں اس (مکمل طور پر)

مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے

'Impact" International,

(جناب یحییٰ بختیار: با ١٩٧٤ء کا) یہ Publish ہوتا ہے۔

ou would like...... whether

(مرزا ناصر احمد: آپ یہ چاہ

en I said that there is an pression, generally this idence this was the stand ead......

(جناب یحییٰ بختیار: آ آزادی سے قبل یہ موقف تھا)

o is the writer?

(مرزا ناصر احمد: یہ کہنے

really do not know. But

صفحہ ٤٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

آپ کا اس سے کچھ مطلب ہے نہ ہمیں یہ کہنا ہے کہ یہ آپ کا کوئی شائع کردہ ہے اور نہ یہ احمدیوں کا باضابطہ با اختیار کوئی اعلان ہے۔ یہ تو ایک رسالہ ہے۔ انگلستان میں چھپا ہوا۔ اس نے چودھری ظفر اللہ خان کی ایک پریس کانفرنس پر رپورٹ دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ پاکستان میں کیا کچھ ہوا۔ اب میں پڑھتا ہوں: ”پاکستان کا قادیانی اور احمدیہ مسئلہ اور حالیہ اس سے متعلق گڑ بڑ دراصل اس دلچسپ سوال کے محور پر گھومتی ہے کہ کیا قادیانیوں (کو) مسلم معاشرے میں ایک غیر مسلم اقلیت تصور کیا جائے یا ایک مسلم اقلیت کسی غیر مسلم معاشرے میں۔ کیونکہ اس نوعیت کے زبردست بنیادی اختلافات اور ایک دوسرے کے درمیان اس طرح کی مخصوص عدم مشابہت ہے کہ بحث وتمحیص کو چاہے کس قدر طول دیں۔ پھر بھی ایک مسلم شناختی نشان کے اندر دونوں کو جبراً داخل نہیں کیا جاسکتا۔ نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ کے باعث نہیں ہے۔ جیسا کہ سر ظفر اللہ خان جو احمدی تحریک کے سرکردہ لیڈر ہیں ......

مرزا ناصر احمد: یہ جو حصہ ہے، یہ لکھنے والے کی اپنی رائے ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں یہ بتا رہا ہوں، اس لئے میں سارا پڑھ رہا ہوں ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے ......

Mr Yahya Bakhtiar: I do not want to read a portion of it......

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف ایک حصہ پڑھ کر سنانا نہیں چاہتا)

مرزا ناصر احمد: چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے نہیں کہا۔

Mr Yahya Bakhtiar: I do not want to read a portion of it because that would create misunderstanding.

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف ایک حصہ پڑھ کر سنانا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے فہم میں غلطی پیدا ہوگی)

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

367 Mr. Yahya Bakhtiar: Only one part of it I am concerned with, but I am reading it so that there may be no misunderstanding:

"......The matter involved no complicated theology as

٢٢

صفحہ ٤٤٧

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

آپ کا اس سے کچھ مطلب ہے نہ ہمیں یہ کہنا ہے کہ کا باضابطہ یا با اختیار کوئی اعلان ہے۔ یہ تو ایک رسالہ ظفر اللہ خان کی ایک پریس کانفرنس پر رپورٹ دی اب میں پڑھتا ہوں: ”پاکستان کا قادیانی اور احمدی اس دلچسپ سوال کے محور پر گھومتی ہے کہ کیا قادیانی اقلیت تصور کیا جائے یا ایک مسلم اقلیت کسی غیر زبردست بنیادی اختلافات اور ایک دوسرے کے کہ بحث و تمحیص کو چاہے کس قدر طول دیں۔ پھر بھی داخل نہیں کیا جا سکتا۔ نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ احمدی تحریک کے سرکردہ لیڈر ہیں۔.......

مرزا ناصر احمد: یہ جو حصہ ہے، یہ لکھنے و جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں یہ بت مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب ہے tiar: I do not want to read a

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف ایک مرزا ناصر احمد: چودھری ظفر اللہ خان م tiar: I do not want to read a ould create misunderstanding.

(جناب یحییٰ بختیار: میں صرف ایک میں غلطی پیدا ہوگی) مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ htiar: Only one part of it I am eading it so that there may be no olved no complicated theology as ٢٢

447 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Sir Zafarulla, a prominent Leader of the Amadiyya movement, explained last week to the press in London, they regarded Muhammad (peace be upon him) as only the last law bearing Prophet and held Mirza Ghulam Ahmed as a prophet raised in divine Command and in fulfilment of the prophecies in regard to the advent of Messiah. (This is Choudhry Sahib's quotation) But, as he admitted, Muslims believe that there is to be no kind of Prophet after Muhammad, the question boils down to this that Mirza Ghulam Ahmad was either of the two: a true Prophet or false Prophet. His prophethood being the basis of those who believe in Mirza Ghulam ahmad, the Qadianis, and those who deny the Muslims obviously do not belong to a single category of faith. Understandably, from the Qadianis viewpoint too, those who do not believe in Mirza Ghulam Ahmad and his message are Kafirs. "It is obligatory on us to consider non-Ahmadi a non-Muslim and not to offer prayers behind them because we consider them repudiators of one of the Prophet of Allah", I containue the quotation, "The child of a non-Ahmadi is also a non-Ahmadi and we should not offer prayers even for him. Hazrat Massih-e-Maood Mirza Ghulam Ahmad has expressed strong resenment against an Ahmadi who would give his daughter in marriage to a non-Ahmadi."

"Anwer-e, Khilafat" Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad, Khalifa-i-Qadian, Pages 89-84). When the Pakistan ٢٣

صفحہ ٤٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

founder Quaid-e-Azam Muhammad Ali jinnah, died, Sir Zafarulla then Pakistan's Foreign Minister, stood aside and did not join the funeral prayers. A year before Pakistan's independence......"

Now, Mirza Sahib, here comes with quotation which I just read:

"A year before Pakistan's independence, (quotation starts) I sent word through a representative of mine to a highly responsible British Officer to the effect that our rights too should be recognized like parsees and Christians.

368

The officer thereupon said, "They are minorities while you are a religious sect." I said, "Our seperate rights should be recognized just as theirs have been recognized For every one Parsi... I would porduce two Ahmadis."

And this is... I shall give the date 13-11-1946.

"This was Mirza Bashir-ud-din Mahmud, the head of the Quadiani Community and the probable emissary was Sir Zafrullah. At the time of independence and demarcation of boundaries the Quadianis submitted a representation as a group separate from Muslims. This had the effect of decreasing the proportion of the Muslim's population in some marginal areas in the Punjab and on consequent award to India' Gurdaspur was given to India to India to enable her to link with Kashmir. The Qadianis insistence on being treated as a part of the main body of Islam was, therefore, oppossed to Pakistan's position. Very early on, the

٢٤

NATIONAL ASS

Qadianis leadership exho small population of Baluc at least one province our o The subsequent Qadiani position in business and i aroused fears of an eventu Many allege a Qadiani r Suggestions to this ef correspondence column of background the recent eru should come as no surpr Muslims allege the Qadia provacatively. But the Mu just is uniliteral one. In provoked and hysteri unscrupulous to exploit th this is happening now is a basic problem which rem Qadianis minority status. in Pakistan but she defin fair treatment of her mino and Jews and the Qadian right and safeguard as a peace and amity. The fact positions in the country's life shows that there is

صفحہ ٤٤٩

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ammad Ali jinnah, died, Sir eign Minister, stood aside and ers. A year before Pakistan's

e comes with quotation which

an's independence, (quotation t representative of mine to a officer to the effect that our d like parsees and Christians. They are minorities while you Our seperate rights should be been recognized For every one hmadis." e the date 13-11-1946. ir-ud-din Mahmud, the head nd the probable emissary was ndependence and demarcation ubmitted a representation as a ms. This had the effect of the Muslim's population in Punjab and on consequent as given to India to r. The Qadianis insistence on e main body of Islam was, 's position. Very early on, the

449 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Qadianis leadership exhorted its followers to convert the small population of Baluchistan and be in a position to call at least one province our own and to join the armed forces. The subsequent Qadiani's acquisition of very powerful position in business and in industry, civil and military has aroused fears of an eventual Qadiani take over of Pakistan. Many allege a Qadiani role in the break up of Pakistan. Suggestions to this effect were made even in the correspondence column of Bangladesh Observer. Given this background the recent eruption of widespread desturbance should come as no surprise, but it is deplorable too. The Muslims allege the Qadianis behave violently, arrogantly, provocatively. But the Muslim's own obligation to behave just is uniliteral one. In fact by their propensity to get provoked and hysterical they have permitted the unscrupulous to exploit the situation to their ends. Whether this is happening now is difficult to say 'yet'. However, the basic problem which remains unresolved is that of the Qadianis minority status. Everything may not be so Islamic in Pakistan but she definitely has an exemplary record of fair treatment of her minorities, Parsis, Christians, Hindus and Jews and the Qadianis once accorded a constitutional right and safeguard as a minority 369 should hope to live in peace and amity. The fact that they have come to occupy key positions in the country's econoimic, political and military life shows that there is no anti-Qadiani hostility or

٢٥

صفحہ ٤٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

discrimination as such. But complication is caused by the desire to over reach both economically and politically. While a high Court judge is already enquiring into the trouble, Sir Zafrullah Khan's attempt to involve the Human Rights Commission and other international agencies and desclosure that they have approached the American State Department and the British Foreign office was bound only to create more misgivings."

I just wanted that one portion, Sir, but that.....

(جناب یحییٰ بختیار: صرف ایک حصہ سے مجھے تعلق ہے۔ میں اس لئے پڑھ کر سنا رہا ہوں تاکہ فہم میں غلطی نہ پیدا ہو جائے۔

”نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ کے باعث نہیں ہے۔ جیسا کہ سر ظفر اللہ خان نے جو احمدی تحریک کے سرکردہ ہیں۔ گذشتہ ہفتہ لندن میں پریس کو واضح کیا۔ وہ (احمدی) محمد ﷺ کو آخری شریعت لانے والا نبی تصور کرتے ہیں۔ مگر مرزا غلام احمد کو سمجھتے ہیں کہ وہ ایک نبی ہے۔ جو مامور من اللہ ہے اور نزول مسیح کے بارے میں ایک نبوت کی ایک پیشین گوئی کی تکمیل ہے۔ یہ چوہدری صاحب کا قول ہے۔ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ مسلمان یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد (ﷺ) کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں ہے۔ تو تمام قضیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد دو شخصیتوں میں سے ایک تھا۔ یا تو ایک سچا نبی یا ایک جھوٹا نبی۔ تو مرزا غلام احمد کی نبوت بے بنیاد ہے۔ جو قادیانی عقیدہ رکھتے ہیں اور جو قادیانی انکار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا وہ ظاہر ہے کہ اسلامی اعتقاد کی واحد قسم سے تعلق نہیں رکھتے تو قادیانی نقطہ نظر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد اور اس کے پیغام میں یقین نہیں رکھتا وہ ان کی نظر میں کافر ہیں۔ اس لئے غیر احمدیوں کو غیر مسلم سمجھنا فرض ہے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیونکہ ہم (احمدی) ان کو (مسلمان کو) اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کے منکر سمجھتے ہیں۔“ یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے ۔ ”غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہے اور اس لئے بھی ہم کبھی جنازہ نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد نے سخت برا ماننے کا اظہار کیا ہے۔ اس احمدی کے لئے جو اپنی بیٹی غیر احمدی کو شادی میں دے دے۔“

انوار خلافت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان ص ٨٩ اور ٨٤۔ جب بانی پاکستان

٢٦

صفحہ ٤٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

قائد اعظم محمد علی جناح نے انتقال کیا تو سر ظفر اللہ خاں جو ان دنوں وزیر خارجہ تھے علیحدہ کھڑے رہے اور نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔

اب مرزا صاحب ! یہ ہے وہ اقتباس جو میں ابھی پڑھتا ہوں: ''پاکستان کی آزادی سے ایک سال قبل (قول جاری ہو چکا ہے ) ایک سال قبل میں نے اپنے ایک نمائندے کے ذریعہ ایک انتہائی ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسی اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو ایک مذہبی فرقہ ہیں۔ اس پر میں نے کہا پارسی ،عیسائی مذہبی فرقے ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق کو علیحدہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرتے ہو میں اس کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔

اور اس میں تاریخ بھی دی ہوئی ہے۔ ١٣؍ نومبر ١٩٤٦ء۔

''یہ تھے مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی فرقے کے سربراہ اور غالباً سر ظفر اللہ خاں نمائندے بوقت آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر ایوارڈ (فیصلے ) میں گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا۔ تاکہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے تو قادیانیوں کا اصرار کہ ان کو اسلام کی بڑی جمعیت کا حصہ تصور کیا جائے۔ پاکستان کی پوزیشن سے مخالف ہے۔ بہت شروع میں قادیانی قیادت نے اپنے پیرووں کو تاکیداً نصیحت کی کہ صوبہ بلوچستان کی چھوٹی سی آبادی کو تبدیلی مذہب کے ذریعہ کم از کم ایک صوبہ کو اپنا کہہ سکیں اور مسلم افواج میں داخل ہو جائیں۔ بعد ازیں قادیانیوں کا بزنس اور انڈسٹری میں زبردست طاقتور پوزیشن حاصل کرنا۔ سول انتظامیہ اور فوج میں قوت کے حصول سے خطرات پیدا کر دیئے کہ کہیں بالآخر پاکستان پر قبضہ نہ کر لیں (کچھ الفاظ یہاں ٹیپ پر صاف نہیں ہیں) بہت سے لوگ پاکستان کے ٹوٹنے میں قادیانی کردار کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے اشارات اخبار بنگلہ دیش آبزرور میں مراسلات کے کالم میں ملے ہیں۔ اس پس منظر میں دور دور حالیہ گڑبڑ کا پھوٹ پڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اگر چہ بہت قابل مذمت ہے۔ مسلمان الزام دیتے ہیں کہ قادیانی لوگ بہت مغرور متشدد اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا اپنا یہ احساس ذمہ داری کہ وہ اپنی طرف سے منصفانہ طور اختیار کریں۔ یک طرفہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اشتعال میں آکر ان کے مغلوب الغضب ہو جانے سے بددیانت اشخاص کو موقعہ فراہم ہو جاتا ہے کہ وہ صورتحال کو اپنے مفاد میں لا کر ناجائز کام کریں۔ کیا سردست یہ سب ہو رہا

٢٧

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

complication is caused by the nomically and politically. While enquiring into the trouble, Sir o involve the Human Rights nternational agencies and proached the American State Foreign office was bound only

portion, Sir, but that.....

(جناب یحییٰ بختیار: صرف ایک رہا ہوں تا کہ فہم میں غلطی نہ پیدا ہو جائے۔

''نفس معاملہ کوئی دینیاتی الجھاؤ کے احمدی تحریک کے سرکردہ ہیں۔ گذشتہ ہفتہ لندن ا آخری شریعت لانے والا نبی تصور کرتے ہیں۔ مگر مامور من اللہ ہے اور نزول مسیح کے بارے میں ا چوہدری صاحب کا قول ہے۔ لیکن انہوں نے تسلی کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں ہے۔ تو تمام قضیہ کا خ ایک تھا۔ یا تو ایک سچا نبی یا ایک جھوٹا نبی۔ تو مرزا ا رکھتے ہیں اور جو قادیانی انکار کرتے ہیں۔ مسلمانو تعلق نہیں رکھتے تو قادیانی نقطہ نظر سے یہ بات سمجھ پیغام میں یقین نہیں رکھتا وہ ان کی نظر میں کافر ہیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیونکہ ہم (احمدی ) نبی کے منکر سمجھتے ہیں۔'' یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قو اس لئے بھی ہم کبھی جنازہ نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح ہے۔ اس احمدی کے لئے جو اپنی بیٹی غیر احمدی کو شا

انوار خلافت مرزا بشیر الدین محمود احم

٢

صفحہ ٤٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ہے ۔ ہاں میں جواب نہیں دے سکتا۔ بہر حال بنیادی مسئلہ جو لاینحل ہے وہ قادیانیوں کی اقلیتی حیثیت کا ہے۔ پاکستان میں ان کے ساتھ سلوک اگر چہ اس قدر اسلامی نہیں ہے۔ لیکن یقیناً پاکستان کا اقلیتوں کے ساتھ سلوک مثالی ہے۔ یعنی پارسیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور یہودیوں کے ساتھ اور اگر قادیانیوں کو بحیثیت اقلیت دستوری تحفظ حاصل ہو گیا تو ان کو سکون اور باہمی ارتباط کی رہائش حاصل ہو جائے گی ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ان کو ملک کی اقتصادی سیاسی اور عسکری شعبہ جات زندگی میں ایک مقام حاصل ہو گیا ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کوئی ناروا امتیاز یا معاندانہ جارحیت فی نفسہ نہیں ہے۔ پیچیدگی پیدا ہونے کی وجہ ان کی سیاسی اور اقتصادی امور میں حد سے زیادہ دخل پانے والی خواہش ہے۔ ہائی کورٹ کے ایک جج اس گڑبڑ کی تفتیش کر رہے ہیں۔ مگر سر ظفر اللہ خاں کی اس کوشش سے مزید بے اعتمادی پیدا ہو جائے گی کہ وہ انسانی حقوق کمیشن اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی وساطت سے امریکہ اور برطانیہ کی وزارت خارجہ تک رسائی کر رہے ہیں ۔“ اقتباس ختم ہوا۔ میں اسی حصہ کو سنانا چاہتا تھا )

Mirza Nasir Ahmad: The source of this article .... (مرزا ناصر احمد : اس مضمون کا ماخذ ......)

Mr. Yahya Bakhtiar: These are the views of.... (جناب یحییٰ بختیار: یہ خیالات ہیں ......)

Mirza Nasir Ahmad: .... is the one who is well-versed in spreading the false allegation against Jamaat-i-Ahmadiyah. (مرزا ناصر احمد: جو بھی شخص ہو بہر حال وہ جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹے الزامات پھیلانے میں خوب ماہر ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am not saying that he is a truthful person or false person. I have just said that these are the views. He has reported the press conference and he says that this is the stand of the Ahmadis..... (جناب یحییٰ بختیار : میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ وہ شخص سچا ہے یا جھوٹا۔ میں نے تو یہ صرف کہا ہے کہ یہ اس کے خیالات ہیں۔ پریس کانفرنس میں وہ رپورٹر تھا اور اس نے بتایا کہ

٢٨

صفحہ ٤٥٣

453 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

احمدیوں کا یہ موقف ہے )

Mirza Nasir Ahmad: No, no, no. These are not the views expressed by Ch. Zafrullah Khan.

(مرزا ناصر احمد : جی نہیں۔ چوہدری ظفر اللہ نے ان خیالات کا اظہار نہیں کیا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I have said these are his views and comments on Ch. Zafar Sahib's press conference or whatever Chaudhry Sahib has said in the press conference.

(جناب یحییٰ بختیار : ہرگز نہیں۔ یہ خیالات اور تبصرے چوہدری ظفر اللہ خان کی پریس کانفرنس کے ہیں یا جو کچھ بھی چوہدری ظفر اللہ خاں نے پریس کانفرنس میں کہا )

Mirza Nasir Ahmad: The views expressed in this article have no association, no correlation with the expressions of Ch. Zafrullah Khan.

(مرزا ناصر احمد : جو نقطہ نظر اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی جوڑ نہیں ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کی تصریحات سے )

Mr. Yahya Bakhtiar: I do not say that these are his comments. Whether the....

(جناب یحییٰ بختیار : میں تو یہ نہیں کہتا کہ یہ ان کے خیالات ہیں۔۔۔۔۔)

370 Mirza Nasir Ahmad: These are not the comments on the....

(مرزا ناصر احمد : یہ تبصرے ہیں بیان پر )

Mr. Yahya Bakhtiar: ....Statements or anything, whether it is a fair comment or unfair comment, that is different....

(جناب یحییٰ بختیار : میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔ غلط ہے یا صحیح یہ دوسری بات ہے )

Mirza Nasir Ahmad: No, no, it is not a comment because what portion of the Press Conference the comment

٢٩

PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ہے ۔ ہاں میں جواب نہیں دے سکتا ۔ حیثیت کا ہے۔ پاکستان میں ان کے ۔ پاکستان کا اقلیتوں کے ساتھ سلوک مثا کے ساتھ اور اگر قادیانیوں کو بحیثیت اقلی کی رہائش حاصل ہو جائے گی ۔ یہ امر وا زندگی میں ایک مقام حاصل ہو گیا ہے۔ ناروا امتیاز یا معاندانہ جارحیت فی نف اقتصادی امور میں حد سے زیادہ دخل جا تفتیش کر رہے ہیں۔ مگر سر ظفر اللہ خاں انسانی حقوق کمیشن اور دیگر بین الا قوامی خارجہ تک رسائی کر رہے ہیں ۔ “ اقتباس

e source of this article ....

(مرزا ناصر احمد : اس مضمون

ese are the views of....

(جناب یحییٰ بختیار : یہ خیا

.... is the one who is lse allegation against

(مرزا ناصر احمد : جو بھی الزامات پھیلانے میں خوب ماہر ہے )

am not saying that he is a have just said that these press conference and he madis.....

(جناب یحییٰ بختیار : میں صرف کہا ہے کہ یہ اس کے خیالات ہیں

صفحہ ٤٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

is connected with?

(مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ تبصرہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ پریس کانفرنس کے کس حصہ سے یہ تبصرہ متعلق ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Relating to the story what the trouble is about.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ شخص یہ بتا رہا ہے کہ یہ گڑبڑ ہے کیا)

Mirza Nasir Ahmad: He is talking of the Press Conference, he is talking of so many other things, and those are not inter related.

(مرزا ناصر احمد: وہ پریس کانفرنس کی بات کر رہا ہے اور درمیان میں بہت سی غیر متعلق باتیں لا کر کہہ رہا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: But the one thing which I wanted to ask you is that here is an impression that, at the time of Independence or immediately before that, the stand of the Ahmadiya Jamaat was that they are separate just like Parsees, and after that....

(جناب یحییٰ بختیار: لیکن میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا تھا کہ یہاں ایک یہ تاثر ہے کہ بوقت آزادی یا آزادی سے کچھ عرصہ قبل احمدیہ جماعت کا یہ مؤقف تھا کہ وہ علیحدہ ہیں جیسے پارسی وغیرہ)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, absolutely wrong stand.

(مرزا ناصر احمد: یہ قطعی غلط بات ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, will you please explain this statement of Mirza Sahib which I have just read out 13th January, 1946?

(جناب یحییٰ بختیار: تو پھر آپ مہربانی فرما کر مرزا صاحب کا ١٣؍جنوری ١٩٤٦ء کے اس بیان کی وضاحت کریں)

٣٠

455 NATIONAL

گا۔ پتہ نہیں ہے بھی یا نہیں۔

(ایک رکن سے) کونسا نوٹ کیا اخبار؟

ی ١٩٤٦ء کا ہے۔ رورت پڑ جائے۔ پ نے دینا تھا۔ پ کو۔

Sir, now I go to What is the con Massih-e- maood ( which requires explana is عیسیٰ علیہ السلام reincrnati be very clear on this.

آپ کی نظر میں مسیح موعود کے کیا معنی ے۔ مجھے کچھ یہ خیال ہے کہ یہ عیسیٰ علیہ بہت صاف معلوم کرنا چاہتے ہیں)

ا ہو گیا کہ شاید ہم یہ ایمان لاتے ہیں ح کے جسم بدلنے کے ...... جو ہندوؤں اتنا سخت criticism اس پر، اتنی سئلے کو، ہندوؤں کے، بالکل نامعقول خری زمانے میں نازل ہوں گے۔ اس تا کہ عیسیٰ کے آنے سے پہلے ...... ایلیا نبی

صفحہ ٤٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: وہ تو میں دیکھوں گا، چیک کروں گا۔ پتہ نہیں ہے بھی یا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں دیکھ لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں نوٹ ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کونسا نوٹ کیا اخبار؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا بشیر الدین محمود......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ اخبار دیکھ کے تو......

371 جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھ لیجئے ١٣ جنوری ١٩٣٦ء کا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ ہمیں دے دیں فائل۔ شاید ضرورت پڑ جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: کون سا؟

مرزا ناصر احمد: وہ رابطہ عالم اسلامی والا بھی آپ نے دینا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ لائے ہیں۔ دیں گے آپ کو۔

Sir, now I go to another subject. What is the concept or meaning, according to you, of Massih-e- maood (مسیح موعود)? Because this is something which requires explanation, because I have some idea that it is عیسیٰ علیہ السلام reincarnate or some such thing; but we want to be very clear on this.

(اب جناب! میں دوسرے مضمون پر آتا ہوں۔ آپ کی نظر میں مسیح موعود کے کیا معنی ہیں اور اس کا ذہن میں کیا تصور ہے۔ کیونکہ یہ تشریح طلب ہے۔ مجھے کچھ یہ خیال ہے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا جنم ہے یا اسی قسم کی کوئی چیز اور ہم اس معاملہ میں بہت صاف معلوم کرنا چاہتے ہیں)

مرزا ناصر احمد: یہ بھی بعض حلقوں میں تاثر پیدا ہو گیا کہ شاید ہم یہ ایمان لاتے ہیں کہ مسیح ناصری کی روح اس وجود میں آ گئی غلط ہے۔ ہم ارواح کے جسم بدلنے کے ...... جو ہندوؤں کا عقیدہ ہے ...... نہ صرف یہ کہ اس پر ایمان نہیں لاتے بلکہ اتنا سخت criticism اس پر، اتنی سخت تنقید بانی سلسلہ کی کتب میں پائی جاتی ہے کہ وہ ...... اس مسئلے کو، ہندوؤں کے، بالکل نامعقول ثابت کر دیا ہے۔ یہ تو یہی چیز ہے۔

نمبر (٢) یہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسیح آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ اس امت کے اور جس طرح اس سے پہلے یہود میں یہ کہا گیا تھا کہ عیسیٰ کے آنے سے پہلے ...... ایلیا نبی

٣١

صفحہ ٤٥٦

456 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

آئے گا تو اس میں وہ جھگڑا پڑ گیا۔ وہ لمبی تفصیل ہے۔ وہ ڈسکشن ہوئی ہے تو حضرت مسیح نے کہا کہ خود نہیں آنا تھا۔ بلکہ اس کے ...... ”اخلاق سے“ اس کی طبیعت سے، اس کی روح سے اس لئے (ملتے جلتے خواص لے کر کسی اور نے آنا تھا اور یہ آ گئے۔ یہ چونکہ پہلے بھی دھوکہ ہوا تھا۔ اس واسطے امت مسلمہ میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ انہوں نے ہی آنا ہے۔ آسمان پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے آنا ہے۔ اب حدیث نے بڑی وضاحت سے بتایا ہے کہ یہ دو مختلف وجود ہیں۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کو مسیح موسیٰ کی شکل بھی دکھائی گئی۔ کشف میں اور مسیح موعود کی شکل بھی دکھائی گئی اور آپ ﷺ نے ریکارڈ کیا ہے اسے ہماری احادیث نے اور اس میں ان کی رنگت مختلف، ان کے فیچرز مختلف، ان کے بال مختلف اور وہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ جو ہیں وہ ان کی بتائی گئی۔

اس کے متعلق بیسیوں اور ایسے حوالے اور قرائن ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ آنے والا پہلا نہیں ہے مسیح۔ مسیح موسیٰ نے دوبارہ نازل نہیں ہونا ہے۔ بلکہ اس کی خو بو رکھنے والا ایک شخص پیدا ہوگا۔ اس زمانے میں پیدا ہوگا جب دنیا اسلام پر بڑا زبردست حملہ کر رہی ہوگی اور اسلام کی اسلامی تعلیم ، شریعت قرآنی کے حسن اور اس کی احسان کی طاقتیں جو ہیں۔ ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کے دل محمد ﷺ کے لئے جیتے جائیں گے اور قرآن کریم ...... اس کے ذریعے سے لوگوں پر یہ واضح ہوگا کہ قرآن کریم اتنے زبردست دلائل اور اس قدر عظیم حجج قاطعہ اپنے اندر رکھتا ہے اور اس قدر حسن اور خوبی اور عظمت اور شان ہے۔ اس تعلیم کے اندر کہ اس کو کسی ظاہری مادی طاقت کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جب اس کی تعلیم کو لوگوں کے سامنے رکھا جائے تو اسے صحیح تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں نے پچھلے سال اپنے دورہ میں ایک پریس کانفرنس میں ان کو یہ بتایا کہ دیکھو اسلام کی تعلیم انسان اور انسان کے درمیان اس قسم کا تعلق پیار اور محبت پیدا کرتی ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اور دنیا کا کوئی اور ازم ایسا نہیں کرتا۔ تو میں گواہی دیتا ہوں کہ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ ایک جگہ پر مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ جب اتنی عظیم تعلیم ہے اسلام کی تو ہماری عوام تک پہنچانے کا آپ نے کیا انتظام کیا؟ تو بتایا یہ گیا تھا کہ ایک مسیح کی خو بو میں ، امن کے ساتھ، صلح کے ساتھ، آشتی کے ساتھ، پیار کے ساتھ، بے لوث خدمت کے ساتھ، ہمدردی کے ساتھ، ایک ایسی پاک فضا اسلام کی ، اسلامی تعلیم کے مطابق، قرآن کریم کی شریعت کے مطابق وہ پیدا کرے گا اور اس وقت نوع انسانی ...... یہ پیشین گوئی ہے ...... کہ ایک امت بنا دی جائے گی۔ یعنی سارے عیسائی جو ہیں۔ سارے دوسرے مذاہب والے جو آج کل ہوگئے ۔ وہ سب اسلام کی طرف مائل ہوں گے اور مسلمان ہو جائیں گے۔

٣٢

صفحہ ٤٥٧

457 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: میرا سوال جو تھا مرزا صاحب! یہ تھا کہ Reincarnation کا......

مرزا ناصر احمد: نہ،نہ، Reincarnation کا کوئی آئیڈیا ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر آپ نے یہ کہا کہ ان کی خُو بو رکھنے والا......

مرزا ناصر احمد: خُو بو رکھنے والا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Attributes....

(جناب یحییٰ بختیار: اس کی صفات)

مرزا ناصر احمد: بعض نمایاں چیزیں ہیں مسیح ناصری میں۔ ان نمایاں خصوصیات کا حامل ہوگا مسیح محمدی بھی صلوٰۃ اللہ علیہ۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر جب آپ یہ فرماتے ہیں کہ ان کی خوبیاں ہوں گی تو اس لئے تو مجھے کچھ تعجب ہوتا ہے کہ بعض جگہ ایسا لکھا ہوا ہے، مرزا قادیانی کی کتابوں میں کہ: ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ، پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

Is it there or not? Was this his view about Jesus Christ or Essa- ibn-e-Mariam?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ان کا یہ خیال تھا یا نہ تھا؟)

Mirza Nasir Ahmad: It is not his assertion about him.

(مرزا ناصر احمد: ان کے بارے میں انہوں نے نہیں کہا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, it is, Sir, reported....

(جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کی طرف منسوب بیان ہے......)

Mirza Nasir Ahmad: What he did assert was that.

(مرزا ناصر احمد: انہوں نے جو بیان کیا ہے وہ انجیل میں ہے)

انجیل جب ہم پڑھتے ہیں تو تم لوگوں نے ظالمانہ طور پر اپنے مسیح پر یہ الزام لگایا جن کا یہاں ذکر ہے۔ آپ نے نہیں الزام لگائے انجیل کے الزاموں کو دہرایا ہے۔

374 جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں جی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ تو آگے پیچھے دیکھیں گے تو پتہ لگے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اسی لئے تو Clarification ضروری ہے نا جی کہ مسیح علیہ السلام......

٣٣

صفحہ ٤٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت)

مرزا ناصر احمد: یہ آپ حوالہ دے دیجئے۔ اگر یہاں ہوئی کتاب تو ابھی دیکھتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: (مکتوبات احمدیہ حصہ سوم ص ٢٢،٢٣)

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ کون سی کتاب؟

جناب یحییٰ بختیار: ”مکتوبات احمدیہ۔“

مرزا ناصر احمد: مکتوبات احمدیہ۔

جناب یحییٰ بختیار: ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ، پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ (مکتوبات احمدیہ حصہ سوم ص ٢٢،٢٣)

مرزا ناصر احمد: جی۔ یہ ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو پھر آگے وہ کہتے ہیں: ”آپ کا (عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔“

مرزا ناصر احمد: یہ، یہ میں نے بتایا کہ میں یہ ......

جناب یحییٰ بختیار: جی آپ Verify کر لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: Verify کر کے ......

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو حوالے دے رہا ہوں نا جی اس کے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔ اس کا کون سا حوالہ ہے؟

375 جناب یحییٰ بختیار: ”تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

مرزا ناصر احمد: جی۔ انجیل کا حوالہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

مرزا ناصر احمد: جی، ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ آپ، ساتھ ہی انجیل کے حوالے جو آپ کہتے ہیں کہ عیسائیوں نے ان پر یہ الزامات لگائے ہیں......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ہم انجیل کے حوالے ......

جناب یحییٰ بختیار: جی وہ بھی آپ ...... یہ بھی آپ ......

٣٤

صفحہ ٤٥٩

459 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، انجیل کے حوالے یہاں بتائیں گے۔ جو کہا اپنی طرف سے وہ بھی بتائیں گے مسیح کے متعلق۔

جناب یحییٰ بختیار : Yes پوزیشن Clarify کرنے کے لئے۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ کہتے ہیں کہ میرے ان کے Attributes جو ہیں اور پھر ساتھ یہ......

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : اس سے اگلا حوالہ ہے یہ : ”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا......“

(ست بچن ص ١٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

(یہ ایک متفقہ ہے) .....Now, this is a very authentic

مرزا ناصر احمد : یسوع؟

376 جناب یحییٰ بختیار : یسوع۔

مرزا ناصر احمد : یسوع؟

جناب یحییٰ بختیار : یسوع۔

مرزا ناصر احمد : مسیح نہیں؟

Mr. Yahya Bakhtiar: Whether he is the same person or not, that is for you to tell.

(جناب یحییٰ بختیار : کیا یہ انہی کے متعلق ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: No, no, no. I mean.

میرا مطلب ہے کہ ”یسوع“ سے ہی پتہ لگ رہا ہے کہ جو انجیل کا محاورہ ہے۔ وہ انہوں نے استعمال نہیں کیا۔ پادریوں نے......

جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہاں، Explain کریں گے۔ جو الفاظ ان کے ہیں :

”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چال چلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن ص ١٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

٣٥

صفحہ ٤٦٠

460 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Now here it has nothing to do with Bible, in my.... (اس جملہ کا بائبل سے کوئی تعلق نہیں)

Mirza Nasir Ahmad: Oh, yes, it is. Every word.... (مرزا ناصر احمد: ہاں ہے، ہر لفظ اس کا ......)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ”خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا......“

I mean he is concluding, he is coming to this conclusion. (وہ نتیجہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ اس کا آخری فیصلہ دے رہے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: No, no. یہ انجیل سے ہم ثابت کریں گے۔ یہاں بتادیں گے۔ ہر ایک کی خدمت میں عرض کر دیں گے۔ ہر ایک کو پتہ لگ جائے گا۔

377 جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے جی مرزا صاحب فرماتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ وہی حوالہ ہے؟ (ریفرنس)؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ اور ہے جی۔

مرزا ناصر احمد: یہ کون سا ہے؟ ”انجام آتھم“؟

جناب یحییٰ بختیار: ”ست بچن۔“

مرزا ناصر احمد: نہ، پہلا تھا ”انجام آتھم“ کا؟

جناب یحییٰ بختیار: ”انجام آتھم“ کا تو میں نے آپ کو ......

مرزا ناصر احمد: ابھی بتایا ہے آپ نے (انجام آتھم سے، حاشیہ ص٧، خزائن ج١١ ص٢٩١)

جناب یحییٰ بختیار: حاشیہ ص٧۔

مرزا ناصر احمد: وہ تو پہلے آگیا۔ اب یہ تیسرا ”ست بچن“ کا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی یہ تیسرا۔ کہتا ہے: ”آپ کو (یعنی حضرت عیسیٰ کو)......“ بریکٹ میں یہ ہے۔ ”یسوع“ نہیں ہے۔ یہاں لکھا ہوا ہے: ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی...... اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی کے وعظ کو، جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے، یہودیوں کی کتاب ”طالمود“ سے چرا کر لکھا ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩٠)

Is it in Bible somewhere? (کیا یہ بائبل میں ہیں؟)

٣٦

461 NATIONAL A

Mirza Nasir Ah

Mr. Yahya Bak (

Mirza Nasir Ah

Mr. Yahya Ba

stole the sermon of the M

378 Mirza Nasir

Mr. Yahya Ba

ین دلاتا ہوں۔

؟

Mr. Yahya Ba

you so that there is no m

سامنے پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ آئندہ

بڑی مہربانی ہوگی۔

(خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

پ کے (حضرت عیسیٰ کے )ہاتھ میں

م ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١‘ وہی

ن کھجوروں سے ان کی محبت بھی شاید

صفحہ ٤٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mirza Nasir Ahmad: It is in there literature. (مرزا ناصر احمد: یہ ان کے لٹریچر میں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: In the Christian literature? (جناب یحییٰ بختیار: کیا عیسائی لٹریچر میں؟)

Mirza Nasir Ahmad: In the Christian literature.

Mr. Yahya Bakhtiar: Christ used to tell lies and stole the sermon of the Mount from Talmud?

378 Mirza Nasir Ahmad: We will prove every....

Mr. Yahya Bakhtiar: I am just saying this.

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بھئی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں تو اس لئے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I want to put every thing to you so that there is no misunderstanding. (جناب یحییٰ بختیار: میں ہر بات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ آئندہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو)

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ جزاک اللہ۔ بڑی مہربانی ہوگی۔

جناب یحییٰ بختیار: (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

مرزا ناصر احمد: جی، جی۔

جناب یحییٰ بختیار: فرماتے ہیں جی کہ: ”آپ کے (حضرت عیسیٰ کے) ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے کچھ نہیں تھا۔“

مرزا ناصر احمد: جی، اس کا حوالہ؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ہے ”ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١“ وہی Page اس کا بھی ہے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: ”(حضرت عیسیٰ کا) میلان کنجریوں سے ان کی صحبت بھی شاید

٣٧

صفحہ ٤٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

’’انجام آتھم‘‘ متی کی انجیل، یہاں پھر وہ refer کر رہے ہیں، انجیل کو۔

مرزا ناصر احمد: ہر جگہ وہی ہے۔

٣٧٩ جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ تو آپ نے کہا نا۔ میں آپ کو آگے بھی کہتا ہوں، سناتا ہوں کہ: ’’متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے۔ بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔‘‘

پھر ہاں: ’’آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

مرزا ناصر احمد: یہ پہلے بھی آ گیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں دوسری جگہ ہے۔

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ہے Page بقیہ ضمیمہ رسالہ (انجام آتھم ص ٥ بقیہ حاشیہ)

May be they requoted again.

تو یہ تو آپ Agree کریں گے کہ ایک نبی ان خوبیوں کا حامل نہیں ہو سکتا۔

مرزا ناصر احمد: میں یہ Agree کرتا ہوں کہ جھوٹے...... ایک نبی ان خوبیوں کا حامل نہیں ہو سکتا اور محض افتراء اور بہتان سے انجیل نے حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ الزامات لگائے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ تعجب یہ تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ......

مرزا ناصر احمد: کہ خوبیوں؟

٣٨٠ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی...... ہم پیار سے بات کرتے ہیں، کسی کے جذبات کو تکلیف نہیں دیتے۔

مرزا ناصر احمد: بالکل پیار سے بات۔ ان کے حوالے دے کے۔ کس Context میں؟ وہ جب میں بتاؤں گا اب نہیں بتاتا۔

٣٨

صفحہ ٤٦٣

463 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ٹھیک ہے۔ That is for you to explain, either on the point of explanation so that the position is clarified. (اس کی تشریح کرنی ہے تاکہ پوزیشن واضح ہو) مرزا ناصر احمد: بالکل۔ انشاء اللہ ایسی صاف ہو جائے گی کہ سب کو سمجھ میں آجائے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ چیزیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہر جگہ وہ سب کے سامنے آ رہی ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، بڑا اچھا ہے۔ ہر بات صاف ہونی چاہئے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور جب مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠)

یہ تو انجیل میں نہیں ہے۔ یہ تو ان کا اپنا ہے۔ (اس کا کیا معنی ہے؟) What is the meaning? مرزا ناصر احمد: یہ تو ان کی تقریر ہے ہی نہیں:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے١؎

غلام احمد ہے نہیں ہے۔ 381 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ”غلام احمد“ مرزا ناصر احمد: ”غلام احمد“ اضافت کے ساتھ۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ٹھیک ہے۔ یہ یعنی یہ انہی کا شعر ہے؟ مرزا ناصر احمد: یہ احمد کا غلام۔ جناب یحییٰ بختیار: یعنی احمد کا غلام، ایک امتی۔ مرزا ناصر احمد: احمد کا، نبی اکرم ﷺ سے فیوض حاصل کرنے والے کا مقام...... جناب یحییٰ بختیار: ایک امتی۔ مرزا ناصر احمد: ...... موسیٰ علیہ السلام سے فیوض حاصل کرنے والے سے بالا ہے۔

١؎ مرزا قادیانی کے اس شعر پر ہمارے استاذ فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ یوں تضمین فرمایا کرتے تھے۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو...... اس سے بدتر غلام احمد ہے۔

٣٩

صفحہ ٤٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، ایک امتی ہو گیا نا۔ آنحضرت ﷺ کا ایک امتی ہوا۔

مرزا ناصر احمد: آنحضرت ﷺ کے تو پتہ نہیں کتنے امتی انبیائے بنی اسرائیل سے آگے نکل گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں تو ان کا ذکر، مرزا غلام احمد صاحب کا، اپنی طرف نہیں ہے؟ ”اس سے بہتر غلام احمد ہے“ یعنی He means himself (کیا اپنے سے ان کی مراد ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: He means himself.

(مرزا ناصر احمد: خود اپنے سے مراد ہے)

غلام احمد، احمد، احمد، محمد احمد۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I follow it.

مرزا ناصر احمد: یعنی آنحضرت ﷺ کا غلام۔

Mr. Yahya Bakhtiar: He claims that he is superior to Isa Ibne....?

(جناب یحییٰ بختیار: وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ (مرزا قادیانی) حضرت عیسیٰ سے عظیم تر......)

Mirza Nasir Ahmad: Because of Muhammad Sal- Allah-e- Alehi-wa- Salam.

(مرزا ناصر احمد: حضرت محمد ﷺ کی وجہ سے)

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

382مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ کے طفیل، آپ کے فیوض کے حصول کے نتیجہ میں جو آپ کے امتی ہیں۔ یہ وہ موسیٰ کی امت سے آگے ہیں۔

تیرے بڑھتے قدم آگے بڑھایا ہم نے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مگر کیا ایک کوئی امتی کسی ایک پیغمبر سے، جو حقیقی پیغمبر ہو، کیا اس سے بڑھ سکتا ہے؟ یہ یعنی Clarification کیجئے۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر دوسرا مسئلہ آ گیا نا۔

١؎ امتی، نبیوں سے افضل؟ ہے کوئی قادیانی کفر کا ٹھکانہ؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

٤٠

صفحہ ٤٦٥

465 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: نہ جی نہ۔ اسی لئے میں کہتا ہوں: ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو“

مرزا ناصر احمد: میرا مطلب ہے کہ ایک مسئلہ ہے کہ کیا بانی سلسلہ احمدیہ نے مسیح موعود کی تحقیر یا تذلیل کی؟ وہ پہلے یہ چل رہا تھا۔ تو میں نے آپ کو بتایا کہ میں ثابت کروں گا کہ نہیں اور یہ دوسرا سوال ہے۔ تو اس کا میں بتا دیتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی دیکھیں کہ میں نے ابھی یہ مرزا قادیانی کا شعر سنایا کہ:

ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

کئی اور شعر بھی ہیں:

اينك منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

مرزا ناصر احمد: بڑی شان تھی محمد ﷺ کی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو یہ بھی آپ Explain کریں کہ وہاں تو ”غلام احمد“ نہیں کہہ رہے ہیں: ”تابہ نهد پا بمنبرم“

383 مرزا ناصر احمد: اس سے اگلے شعر کیا ہیں؟ شاید وہی Explain کردیں اسے۔

جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس تو یہی شعر نوٹ ہوا ہے۔ جی۔

مرزا ناصر احمد: ہاں تو پھر اگلا .......

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

ایک آواز...... گوش مقام داد چوں برخلاف وعدہ بروں آید از ارم

قطعہ بند ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ آپ Explain کردیں کہ: ”عیسیٰ کجا است بہ نھد پا بمنبرم“

It is the same idea that I am superior to Isa Aleh-is- Salam? This is the impression. And you will clarify.

مرزا ناصر احمد: نہیں جی، اس کے متعلق میں بتا دوں گا اس کا Context دیکھ کر۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) چلیں جی، نوٹ کریں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ آپ دیکھ لیجئے۔ اس کا Context دیکھ کر۔

٤١

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے،

مرزا ناصر احمد: آنحضرت ﷺ آگے نکل گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں ہے؟ ”اس سے بہتر غلام احمد ہے“ یعنی مراد ہے؟)

He means himself.

(مرزا ناصر احمد: خود اپنے۔ غلام احمد، احمد، احمد، محمد احمد۔

follow it.

مرزا ناصر احمد: یعنی آنحضر

: He claims that he is

(جناب یحییٰ بختیار: وہ دع عظیم تر ......)

Because of Muhammad

(مرزا ناصر احمد: حضرت مح

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی

382 مرزا ناصر احمد: نبی اکر جو آپ کے امتی ہیں۔ یہ وہ موسیٰ کی امت تیرے بڑھے قدم آگے بڑھ

جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ م اس سے بڑھ سکتا ہے؟ یہ یعنی cation

مرزا ناصر احمد: یہ تو پھر دوس اے امتی، نبیوں سے افضل ہے؟

صفحہ ٤٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ابھی آپ نے یہ فرمایا...... کل بھی اور محضرنامے میں بھی...... کہ کتنی آنحضرت ﷺ کے ساتھ عقیدت، پیار، محبت مرزا غلام احمد کا تھا:

And how much he is praise for him that is in Mahzar Nama in writing.

اور بعض لوگ جو ہیں جو Interpretation وہ محمد ﷺ کی کرتے ہیں۔ آپ ان سے آپ Agree نہیں کرتے۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہاں ایک جگہ یہ آیا ہوا ہے کہ: ”آنحضرت عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سؤر کی چربی پڑتی ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان ٢٢؍ فروری ١٩٢٤ء ج ١١ نمبر ٦٦ ص ٩ کالم ٣)

384 Is it an aspersion or it is justifying eating of Paneer which contains....

(کیا یہ اتہام ہے یا پنیر کھانے کا جواز پیدا کیا ہے جس میں ......)

Mirza Nasir Ahmad: This is nothing. It is translation of a Hadith. (Pause)

یہ زرقانی کے الفاظ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو کسی اور کے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: حضرت...... میں جواب دوں؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد: حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اصل عبارت یہ ہے: ”آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں (خط لکھ رہے ہیں) کہ اس طرح شک و شبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔ شیطان کا کام ہے جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ ہرگز وسوسے میں نہیں پڑنا چاہئے، گناہ ہے اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں بے شک نماز پڑھنا چاہئے اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب وہموں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا (یہ نہیں کہ پڑتا تھا) مشہور تھا کہ سؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“

٤٢

صفحہ ٤٦٧

467 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: That is to what I wanted an explanation. (جناب یحییٰ بختیار: میں اسی کی وضاحت چاہتا تھا)

مرزا ناصر احمد : اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر چیز پاک ہے۔ محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی اور امام ابو حنیفہ کا یہی فتویٰ ہے شک کے متعلق۔ زرقانی میں حضرت علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا اس385 کا ترجمہ یہ ہے: ”سنن ابوداؤد کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے بتایا کہ تبوک کے مقام پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا۔ جسے عیسائی بناتے تھے۔ کسی نے اس وقت کہا کہ یہ مجوسیوں کا بنایا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور چھری منگوائی اور بسم اللہ پڑھ کر اس کو کاٹا۔ اس کو ابو داؤد اور مسدد وغیرہ نے روایت کیا ہے اور ابو داؤد طیالسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے پنیر دیکھا تو دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ کھانے کی چیز ہے جو عجمیوں کے ہاں بنتی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا اس کو چھری سے کاٹو اور کھاؤ۔“

مسند احمد اور بیہقی کی روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کہاں بنا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ایران میں بنتا ہے اور ہمارے خیال میں اس میں مردار بھی شامل ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”تم اسے کھا سکتے ہو۔“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”اسے چھری سے کاٹو ، اللہ کا نام لو اور کھاؤ“ تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہم ......

Mr. Chairman: That's all that is all for the present.

The delegation is permitted to leave and to report back at 12:15.

(جناب چیئرمین: اس نشست کے لئے اتنا کافی ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ سوا بارہ بجے تشریف لائیں)

The honourable members will keep sitting.

(معزز ممبران تشریف رکھیں)

(The delegation left the chamber)

Mr. Chairman: Before we adjourn for the tea break.... (Interruption)

٤٤٣

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ابھی آپ نے جی فرمایا...... کل بھی کے ساتھ عقیدت، پیار، محبت مرزا غلام احمد کا تھا s praise for him that is in

اور بعض لوگ جو ہیں جو etation سے آپ Agree نہیں کرتے۔

مرزا ناصر احمد : جی۔

جناب یحییٰ بختیار : تو یہاں ایک ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں (اخبارا or it is justifying eating of (کیا یہ اتہام ہے یا پنیر کھانے کا ج ad: This is nothing. It is Pause)

یہ زرقانی کے الفاظ ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ تو کسی اور مرزا ناصر احمد : حضرت ...... میں جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔

مرزا ناصر احمد : حضرت بانی سل میں سمجھا دیں (خط لکھ رہے ہیں) کہ اس طرح جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ ہرگز وسوسے میں ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا اور نہ صرف شک شک نماز پڑھنا چاہئے اور میں انشاء اللہ دعا ک وہموں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کر حالانکہ مشہور تھا ( یہ نہیں کہ پڑتا تھا) مشہور تھا کہ

صفحہ ٤٦٨

468 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Before we adjourn for the tea-break, there ایک سیکنڈ جی are certain 386 points for the cross-examination which we will discuss in our chamber with the Attorney- General. And if anything remains outstanding, then we can discuss it in the House.

(جناب چیئرمین: چائے کا وقفہ کرنے سے قبل کچھ نکات جرح کے لئے ہیں۔ جس پر ہم اٹارنی جنرل سے اپنے چیمبر میں گفتگو کریں گے اور اگر کوئی بات باقی رہ جاتی ہے تو ہاؤس میں اس پر گفتگو ہو جائے گی)

---------

CORRECTION OF MISTAKES IN THE RECORD

OF THE PROCEEDINGS

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir correction of mistakes in the record of the proceedings there are a lot of mistakes in the record and that is why....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! جو ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ اس میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یا تو......)

Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

Mr. Yahya Bakhtiar: The Secretary or the Joint Secretary should very carefully go through it, because this is important. I have asked at a number of places that: "I am not giving you the example, the exceptional example of a man who tells lies in order to save his life." and it has been written.

"I am giving the example", The word not is missing, May be I was away from the mike, but this can make all the difference. So, there are so many other things.

٤٤

469 NATIONAL ASSEM

Some quotations have been required. When I say that su Christian. Now "I am Chr commas. These things shoul

خود یا جوائنٹ سیکرٹری بڑے غور سے ریکارڈ کا فی ہی دفعہ ان سے کہا ہے کہ میں مثالیں نہیں ان بچانے کی خاطر جھوٹ بولتا ہے اور یہاں ہوں۔ لفظ ”نہیں“ غائب ہے۔ ممکن ہے کہ یکارڈ میں نہیں آیا۔ بہرحال ان سب باتوں ما۔ کہیں اقتباسات نہیں درج کئے ہیں کہیں کہ فرض کریں میں جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ الفاظ واوین میں لکھے ہوئے ہیں۔ ان

Mr. Chairman: ل رکھیں گے )

Mr. Yahya Bakh the members. )ں

Mr. Chairman: that matter. آگے اور ٹھیک کریں گے )

Mr. Yahya Bak

Mr. Chairman meet at 12:15. جلاس ملتوی ہوتا ہے ) ظہر

Mr. Yahya Ba

صفحہ ٤٦٩

469 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Some quotations have been left out, and punctuations is required. When I say that supposing I go and say that I am Christian. Now "I am Christian" comes within inverted commas. These things should be looked into....

(جناب یحییٰ بختیار: سیکرٹری صاحب خود یا جوائنٹ سیکرٹری بڑے غور سے ریکارڈ کا مطالعہ کریں۔ کیونکہ یہ ضروری امر ہے۔ میں نے کتنی ہی دفعہ ان سے کہا ہے کہ میں مثالیں نہیں دے رہا ہوں۔ انتہائی مثالیں ایک شخص کی جو اپنی جان بچانے کی خاطر جھوٹ بولتا ہے اور یہاں ریکارڈ میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں مثالیں دے رہا ہوں۔ لفظ "نہیں" غائب ہے۔ ممکن ہے کہ اس وقت میں مائک سے دور رہا ہوں گا۔ جو یہ لفظ ریکارڈ میں نہیں آیا۔ بہرحال ان سب باتوں سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح کی اور باتیں بھی ہیں۔ کہیں اقتباسات نہیں درج کئے ہیں کہیں رموز اوقاف کی ضرورت ہے۔ مثلاً میں نے یہ کہا تھا کہ فرض کریں میں جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میں عیسائی ہوں۔ اب یہ الفاظ "کہ میں عیسائی ہوں" یہ الفاظ واوین میں لکھے ہوئے ہیں۔ ان سب باتوں کو دیکھنا چاہئے)

Mr. Chairman: Yes, that will be.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! ہم اس پر خیال رکھیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... before it is circulated to the members.

(جناب یحییٰ بختیار: ریکارڈ کی تقسیم سے قبل)

Mr. Chairman: That we will; we will look into that matter.

(جناب چیئرمین: ہم اس کا خیال رکھیں گے اور ٹھیک کریں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.

(جناب یحییٰ بختیار: شکریہ!)

Mr. Chairman: And we adjourn the House to meet at 12:15.

(جناب چیئرمین: اب سوا بارہ بجے تک اجلاس ملتوی ہوتا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: And you have noticed. Sir,

٤٥

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ایک سیکنڈ جی r the tea-break, there oss-examination which we will the Attorney- General. And if , then we can discuss it in the

(جناب چیئرمین: چائے کا وقفہ کر پر ہم اٹارنی جنرل سے اپنے چیمبر میں گفتگو کریں اس پر گفتگو ہوجائے گی)

AKES IN THE RECORD

OCEEDINGS

r: Sir correction of mistakes gs there are a lot of mistakes

(جناب یحییٰ بختیار: جناب! جو ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یا تو ......) (جناب چیئرمین: جی ہاں!)

r: The Secretary or the Joint go through it, because this is number of places that: "I am the exceptional example of a save his life." and it has been

mple", The word not what is from the mike, but this can ere are so many other things.

صفحہ ٤٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

that I was given some of the citations a different impression from the small quotation which I was given. I think it should be carefully studied before they ask me to put a question.

(جناب یحییٰ بختیار: اور آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ مجھے چند حوالہ جات دیئے گئے تھے۔ جو یا تو وجود ہی میں نہیں ہیں یا ان کا کوئی اور مطلب نکلتا ہے۔ ان چھوٹے اقتباسات سے جو میں پیش کر رہا تھا۔ میری نظر میں ان کو اچھی طرح بڑے خیال سے دیکھا جانا چاہئے۔ پیشتر اس کے لئے مجھے یہ حضرات سوال پیش کرنے کے لئے کہیں)

Mr. Chairman: Yes. 387 Thank you very much. The House is adjourned for 12:15.

(جناب چیئرمین: جی ہاں! آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اجلاس سوا بارہ بجے تک کے لئے ملتوی)

----------

(The Committee adjourned to reassemble at 12:15 hours)

----------

[The Committee re-assembled after break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

----------

جناب چیئرمین: وہ دروازے تو بند کروادیں۔ کیونکہ پھر وہ ممبر صاحبان وہاں بیٹھ کے اتنے زور سے گپیں ...... جاوید وہاں ایک آدمی کو کھڑا کر دیں۔

Those doors should be closed. Then the members are at liberty to discuss anything in the lobby whatever they like but not so much noise that attention of the House is attracted towards the lobby.

Mr. Chairman: (to Mr. Yahya Bakhtiar) آپ کی مرضی ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی میں آپ دیکھ لیں پہلے۔ ہاں وہ آپ لکھ دیں۔

٤٦

471 NATIONAL ASSEMBLY O

لکھ دیں گے نا درخواست کہ ہمیں چھپوانا ہے۔ میں لکھ رنا اپنے Risk پر کریں گے۔ ہاں۔ ہاں۔ ہم نہیں سب اپنے Risk پر کرائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ گیلری میں ۔ میں نے کہا پریس کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔ Haider Sahib is very attentive very atte یہ جو آپ کے Side Comments جو ہیں نا اب آپ ہی دے سکتے ہیں۔

388 Today after nine, aft shall review everything. After th review everything وعلیکم السلام as to (The Delegation ente Mr. Chairman: Yes, M

----------

CROSS-EXAMINATION

GROUP DEL

(ج، معاذاللہ ) حب! کیا مرزا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ: ”پرانی ت زندہ علی (مرزاغلام احمد) تم میں موجود ہے۔ اس ہو۔“ (ملفوظات احمدیہ ج٢ ص ١٤٢ ایڈیشن نومبر ١٩٣٢)

تی وفات یافتہ ہیں نا؟

...... “ کہنے میں توہین مراد نہیں بلکہ اس غالی شیعہ کو جو وہ رجحان کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وفات یافتہ جاتا ہے۔ لیکن جو خدا کے مصلحین ان میں زندہ

٤٧

صفحہ ٤٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

میں لکھ دوں گا اپنی ذمہ داری پر۔ نہیں مجھے لکھ دیں گے نا درخواست کہ ہمیں چھپوانا ہے۔ میں لکھ دوں گا کہ آپ نے اس کو Leak نہیں کرنا اپنے Risk پر کریں گے۔ ہاں۔ ہاں۔ ہم نہیں کرا سکتے۔ مفتی صاحب نے خود کرایا ہے۔ سب اپنے Risk پر کرائیں گے۔...... گیلری میں کوئی نہیں ہے۔ گیلری کی طرف نہ دیکھیں۔ میں نے کہا پریس کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔ Haider Sahib is very attentive very attentive... you have occupied یہ جو آپ کے Side Comments جو ہیں نا this chair only to be in the وہ یہاں پہنچے نہیں ہیں۔...... اس کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں۔ Midst

388 Today after nine, after the evening session, we shall review everything. After the last session today we will review everything وعلیکم السلام as to how long we have....

(The Delegation entered the Chamber)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

----------

CROSS- EXAMINATION OF THE QUADIANI

GROUP DELEGATION

(مردہ علیؑ، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کیا مرزا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا غلام احمد) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور ایک مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ ج٢ ص ١٤٢ ایڈیشن ربوہ ١٩٨٤)

مرزا ناصر احمد: ”مردہ علی“ کے معنی وفات یافتہ ہیں نا؟

جناب یحییٰ بختیار: جی؟

مرزا ناصر احمد: ”مردہ علی“ کے معنی وفات یافتہ ہیں نا؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ خیر آپ جو......

مرزا ناصر احمد: ہاں...... ”مردہ علی“ کہنے میں توہین مراد نہیں بلکہ اس غالی شیعہ کو جو آپ کا مخاطب تھا۔ اس غلط اور قوم کے نقصان دہ رجحان کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وفات یافتہ بزرگوں کو تو ان کے مقام سے بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن جو خدا کے مصلحین ان میں زندہ

٤٧

صفحہ ٤٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 موجود ہوتے ہیں۔ ان کی سخت ناقدری کی جاتی ہے۔ پہلی امتوں کو بھی اس رجحان نے نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی ایسے رجحانات امت مسلمہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔ 389 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اعلیٰ سیرت قابل اقتداء ہے۔ جس کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ ان خوبیوں کو پہچان کر جن بزرگوں میں حضرت علی کی صفات پائی جاتی ہیں۔ ان کی پیروی کرو۔ چنانچہ اپنے آپ کو بطور ایک زندہ مثال پیش کیا۔ اس سے زیادہ اس کا کوئی مفہوم نہیں۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقام کا تعلق ہے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دل میں آپ کی بڑی عظمت اور توقیر تھی۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ۔ تو اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بڑا مقام آپ نے ظاہر کیا اور ہر جگہ دہرایا۔ اس لئے ایک فقرے کو اپنے Context اور سیاق و سباق سے نکال کے اس کے غلط معنی درست نہیں ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے مرزا غلام احمد کی عبارت پڑھی؟ مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: کہ آپ نے اپنی Explanation دی؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ جو عبارت میں نے پڑھی ہے۔ وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، باقی جو آپ نے پڑھ کر سنایا ہے؟ مرزا ناصر احمد: وہ باقی میری ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کی Explanation ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ آنحضرت ﷺ بھی وفات پاچکے ہیں۔ اس لئے ابھی ہم ان کو بھی چھوڑ دیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا جو ابھی میں نے پڑھا ہے کہ ان کی خوبیوں کی اقتداء کرو اور وہی برکت حاصل کرتے ہیں اس سے...... 390 جناب یحییٰ بختیار: ”ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“ مرزا ناصر احمد: وفات یافتہ جو ہیں۔ ان کو جو مقام دنیا اور ان کی جو سنت ہے اس کی اتباع نہ کرنا یہ درست نہیں ہے آپ کے نزدیک ۔ حضرت علی کی اپنی ایک سنت ہے۔ ایک زندگی کا نمونہ ہے۔ بڑا حسین اور قابل تقلید ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کی تقلید کرو۔ تقلید کا ...... اور ہر زمانہ تقلید کرے۔ ٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAI مرا یہ Impression ہے کہ جہاں وہ کہتے ہیں کہ:

ریم کے ذکر کو چھوڑو
سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

رت علیؓ کو چھوڑو، میرے پاس آؤ۔ رف یہ عرض کروں گا کہ آپ کا Impression غلط ہے۔ فاطمہؓ کی اہانت، معاذ اللہ ) آپ کہہ سکتے ہیں۔ کہ مرزا صاحب نے یہ کہا تھا کہ: ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی مجھے دکھلایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

اصل دیکھتے ہیں۔ پ دیکھ لیجئے۔ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں۔ ہکتا ہوں۔ اگر کتاب یہاں ہے تو ابھی دیکھ لیتے ہیں۔ اب دے دیں۔ ایک غلطی کا ازالہ“ ہوگا یہاں؟ کتاب ہے تو کتاب دے دیں۔ ہے کتاب آپ کے پاس؟ ورجی میں پھر اگلے سوال پر جاتا ہوں۔ اس وقت تک آپ دیکھ لیں۔ ہاں۔ یہ ویسے نوٹ کر لیں کہ یہ پورا حوالہ نہیں دیا اس میں جو

نا تو حصے ہی پڑھ رہا ہوں۔ اں۔ و حصہ درست ہے تو اس کے بعد آپ Explanation

اں، ٹھیک ہے۔ ابھی دیکھ لیتے ہیں۔ ٤٩

صفحہ ٤٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 جناب یحییٰ بختیار: میرا یہ Impression ہے کہ جہاں وہ کہتے ہیں کہ:

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اسی Sense میں حضرت علیؓ کو چھوڑو، میرے پاس آؤ۔ مرزا ناصر احمد: میں صرف یہ عرض کروں گا کہ آپ کا Impression غلط ہے۔

(سیدہ فاطمہؓ کی اہانت، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کہہ سکتے ہیں۔ اچھا جی، اب یہ بتائیے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا تھا کہ : ”حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھلایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)

مرزا ناصر احمد: یہ ابھی اصل دیکھتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھ لیجئے۔ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: میں دیکھتا ہوں۔ اگر کتاب یہاں ہے تو ابھی دیکھ لیتے ہیں۔ جناب چیئرمین: کتاب دے دیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”ایک غلطی کا ازالہ“ ہوگا یہاں؟ جناب چیئرمین: اگر کتاب ہے تو کتاب دے دیں۔ ہے کتاب آپ کے پاس؟ 391 جناب یحییٰ بختیار: اور جی میں پھر اگلے سوال پر جاتا ہوں۔ اس وقت تک آپ دیکھ لیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ ویسے نوٹ کرلیں کہ یہ پورا حوالہ نہیں دیا اس میں جو پہلے آپ نے پڑھا بلکہ وہ حصہ جو ...... جناب یحییٰ بختیار: میں تو حصے ہی پڑھ رہا ہوں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ حصہ درست ہے تو اس کے بعد آپ Explanation دیں گے کہ آگے کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ ابھی دیکھ لیتے ہیں۔ ٤٩

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 موجود ہوتے ہیں۔ ان کی سخت ناقدری کی جاتی ۔ پہنچایا ہے اور اب بھی ایسے رجحانات امت مسلمہ کے 389 حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اعلیٰ سیر فرمایا ہے کہ ان خوبیوں کو پہچان کر جن بزرگوں میں پیروی کرو۔ چنانچہ اپنے آپ کو بطور ایک زندہ مث نہیں۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقام میں آپ کی بڑی عظمت اور توقیر تھی۔ چنانچہ آپ ف بڑا مقام آپ نے ظاہر کیا اور ہر جگہ دوسرا کیا۔ اس وسباق سے نکال کے اس کے غلط معنی درست نہیں ہیں جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے مرزا مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: کہ آپ نے اپ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ جو سلسلہ احمدیہ کی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، باقی جو آ مرزا ناصر احمد: وہ باقی میری ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کی on آنحضرت ﷺ بھی وفات پاچکے ہیں۔ اس لئے ا مرزا ناصر احمد: نہیں۔ اس کا یہ م خوبیوں کی اقتداء کرو اور وہی برکت حاصل کرنے 390 جناب یحییٰ بختیار: ”ایک زندہ علیؓ کو تلاش کرتے ہو۔“ مرزا ناصر احمد: وفات یافتہ جو ہیں اتباع نہ کرنا یہ درست نہیں ہے آپ کے نزدیک ۔ نمونہ ہے۔ بڑا حسین اور قابل تقلید ہے۔ آپ فر زمانہ تقلید کرے۔

صفحہ ٤٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(سیدنا حسینؓ کی اہانت، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: پھر انہوں نے کہا ہے کہ:

”کربلائے ست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہا ہے انہوں نے؟

مرزا ناصر احمد: یہ کہا ہے آپ نے اور یہ شیعہ حضرات میں ایک محاورہ چل رہا ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ نکالیں۔ (اٹارنی جنرل سے کہا) یہ شیعہ لٹریچر میں یہ حوالہ ہے اور یہ جو ہے شعر، اس کو سمجھنے کے لئے بانی سلسلہ احمدیہ نے اس سے پہلے جو اشعار کہے ہیں، وہ جاننے ضروری ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

گشتہ او نہ یک نہ دو نہ ہزار ایں قتیلان او بیرون ز شمار
ہر زمانے قتیل تازہ بخواست غازہ روئے او خون شہداء است
ایں سعادت چوں بود قسمت ما رفتہ رفتہ رسید نوبت ما
کربلائے ست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

یہ قبل اس کے کہ میں اس کا مطلب بتاؤں.......

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا.......

مرزا ناصر احمد: ...... یہ علامہ نوعی جو شیعہ عالم ہیں۔ بڑے مشہور، پرانے زمانے کے عالم، علامہ نوعی، ان کی یہ فوٹوسٹیٹ کاپی انڈیا آفس ریکارڈ وہاں سے ...... اصل میں یہ جو سارے اعتراضات ہیں۔ وہ بڑے فرسودہ ہیں، پرانے۔ تو اس سلسلے میں یہ منگوائی گئی تھی۔ اب ان کا شعر بھی، شعر بھی سنئے:

کربلائے عشقم لب تشنہ سرتاپائے من صد حسین کشتہ در ہر گوشہ صحرائے من

تو یہاں ”صد حسین“ نہیں بلکہ ”ہر گوشہ صحرائے من میں صد حسین“ ہے۔ تو یہ شیعہ حضرات کا ایک محاورہ ہے جو محبت کے اظہار کے لئے اور عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ یہ تحقیر اور تذلیل کا اظہار کرنے کے لئے نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: صحراء میں تو مرزا صاحب ایک اور چیز ہے اور یہ کہہ دینا کہ:

صد حسین است در گریبانم

٥٠

صفحہ ٤٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: اور یہ کہہ دینا کہ : ”صد حسین کشتہ در ہر گوشۂ صحرا من“ میں اور ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: خیر، پھر میں آپ سے آگے پوچھتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ابھی میرا نہیں ختم ہوا جواب۔

جناب یحییٰ بختیار: پڑھ لیجئے آپ۔

مرزا ناصر احمد: جی۔

یہاں تک حضرت امام حسینؓ اور دوسرے اہل بیت کی ہتک کے الزام کا تعلق ہے۔ اس دکھ دہ امر کے اظہار کے بغیر چارہ نہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کا یہ طریق اختیار³⁹³ کیا جارہا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اقتباس کو ادھورا پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جس رنگ میں ان اقتباسات کو پیش کیا جاتا ہے۔ خود اس کی تردید میں حضرت بانی سلسلہ کی واضح عبارت موجود ہوتی ہے۔ زیر نظر الزام میں ......

جناب چیئرمین: یہ آپ لکھا ہوا پڑھ رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ اپنا Explanation دے رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: اور آگے میں نے اقتباس پڑھنا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

Mr. Chairman: It can not be. It is an answer to a question? (جناب چیئرمین: یہ ہونا ممکن نہیں ۔ یہ ایک سوال کا جواب ہے )

مرزا ناصر احمد: یہ جو ...... جو میں آگے ......

Mr. Yahya Bakhtiar: He is explaining; and let him reply. He is reading out the explanation.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ سمجھا رہے ہیں ان کو جواب دینے دیں۔ وہ اپنی وضاحت پڑھ کر سنارہے ہیں)

مرزا ناصر احمد: ...... حضرت امام حسینؓ کے بارے میں ”اعجاز احمدی“ کی جو عبارت پیش کی جاتی ہے۔ وہاں مضمون میں توحید و شرک کا موازنہ کیا جارہا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کے متعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔ یہ اقتباس ہے: ”حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، طاہر اور مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے

٥١

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(سیدنا حسینؓ )

جناب یحییٰ بختیار: پھر انہوں.

”کربلائے ست سیر ہر آنم

مرزا ناصر احمد: جی۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کہا ہے انہ

مرزا ناصر احمد: یہ کہا ہے آپ

(اپنے وفد کے ایک رکن سے ) وہ نکالیں ۔ (

اور یہ جو ہے شعر، اس کو سمجھنے کے لئے بانی سـ جانے ضروری ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

گشتہ او نہ یک نہ دو نہ ہزار
ہر زمانے قتیل تازہ بخواست
ایں سعادت چوں بود قسمت ما
کربلائے ست سیر ہر آنم

³⁹² یہ قبل اس کے کہ میں اس کا مطلـ

جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا

مرزا ناصر احمد: ...... یہ علامہ نوو عالم، علامہ نووی، ان کی یہ فوٹو سٹیٹ کاپی انڈیا اعتراضات ہیں۔ وہ بڑے فرسودہ ہیں، پرانے بھی، شعر بھی سنئے:

کربلائے عشقم لب تشنہ سرتا پائے من

تو یہاں ”صد حسین“ میں بلکہ ہر گھا کا ایک محاورہ ہے جو محبت کے اظہار کے لئے کا اظہار کرنے کے لئے نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: صحراء میں صد حسین

صفحہ ٤٧٧

476 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا ان سے موجب سلب ایمان ہے۔۔۔۔۔“

----------------

394 POINT OF ORDER RE: READING OUT

WRITTEN ANSWER TO QUESTION

جناب عبدالعزیز بھٹی : پوائنٹ آف آرڈر سر! اگر مرزا صاحب یہ Writing جو اس وقت پڑھ رہے ہیں۔ اگر کسی کتاب میں یا کسی میگزین میں پبلش ہوئی ہے تو پھر یہ پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر خالی بیٹھ کر سوال کے جواب میں وہ کچھ یہ پڑھنا چاہتے ہیں اور تحریری طور پر، that probably is not permitted by the rule. This is my piont of order. (ضابطے غالباً اس کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ ہے میرا پوائنٹ آف آرڈر)

Mr. Chairman: You can discuss with the Attorney-General if he raises this point. (جناب چیئرمین: آپ اس پر اٹارنی جنرل سے بات کرلیں۔ اگر یہ نکتہ وہ اٹھائیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Normally the rule is that a witness giving oral evidence he cannot read out a proposed statement in reply to any question, but he can cite ..... (جناب یحییٰ بختیار: عام طور پر قاعدہ یہ ہے کہ گواہ زبانی شہادت دیتا ہے۔ وہ پہلے سے تیار شدہ بیان کسی سوال کے جواب میں نہیں پڑھ سکتا۔ لیکن وہ حوالے دے سکتا ہے۔۔۔۔۔)

Mirza Nasir Ahmad: I can read out the quotation. (مرزا ناصر احمد: میں اقتباسات کا قول پیش کر سکتا ہوں)

Mr. Chairman: The witness can .... (جناب چیئرمین: گواہ.....)

Mr. Yahya Bakhtiar: The objection is valid when he said that you are reading..... (جناب یحییٰ بختیار: ان کا اعتراض قانونی طور پر جائز ہے کہ آپ پڑھ رہے ہیں)

٥٢

477 NATIONAL ASSEMBLY OF

Mirza Nasir Ahmad: when I was reading a quotation. صاحب جب انہوں نے اٹھایا میں اس وقت ایک اقتباس پڑھ

Mr. Yahya Bakhtiar: quotation. ا آپ پڑھ سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: quotation. میں بھی تو پڑھ رہا تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: or Mirza Bashir-ud-din Mahmu yourself made a statement whi published. پ مرزا بشیر الدین احمد کا اقتباس پڑھ رہے ہیں یا آپ

395 Mirza Nasir Ahmad: ول)

Mr. Chairman: I may witness can refresh his memor writing or from the writing of question or to explanation one's o و یاد دہانی کراتا ہوں کہ گواہ کو اس کی اجازت ہے کہ وہ تازہ کر سکتا ہے یا کسی سوال کے جواب میں کسی سابقہ سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I س وقت میں اپنی طرف سے بیان دوں مجھے کوئی .....ہے

٥٣

صفحہ ٤٧٧

477 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mirza Nasir Ahmad: The objection was raised when I was reading a quotation. (مرزا ناصر احمد: یہ اعتراض جب انہوں نے اٹھایا میں اس وقت ایک اقتباس پڑھ کر سنا رہا تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: Then you can read a quotation. (جناب یحییٰ بختیار: اقتباس آپ پڑھ سکتے ہیں) Mirza Nasir Ahmad: I was already reading a quotation. (مرزا ناصر احمد: میں اقتباس ہی تو پڑھ رہا تھا)

Mr. Yahya Bakhtiar: ....Mirza Sahib's quotation or Mirza Bashir-ud-din Mahmud's quotation; but or if yourself made a statement which was somewhere else published. (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مرزا بشیر الدین احمد کا اقتباس پڑھ رہے ہیں یا آپ کا خود کا بیان ہے جو کہیں چھپا ہوگا)

395 Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes. I do understand. (مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا ہوں)

Mr. Chairman: I may remind the witness that a witness can refresh his memory from his previous over writing or from the writing of anyone; but in reply to a question or to explanation one's own opinion cannot be ..... (جناب چیئرمین: میں گواہ کو یاد دہانی کراتا ہوں کہ گواہ کو اس کی اجازت ہے کہ وہ اپنی خود کی لکھی ہوئی کسی یادداشت کو پڑھ کر تازہ کر سکتا ہے یا کسی سوال کے جواب میں کسی سابقہ نوٹ دستاویز کو پڑھ کر سنا سکتے ہیں یا وضاحت کر سکتے ہیں)

Mirza Nasir Ahmad: I would request you. جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ جس وقت میں اپنی طرف سے بیان دوں مجھے کوئی Written statement نہیں دینی چاہئے......

٥٣

صفحہ ٤٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: آپ Refresh کر سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: ...... نمبر ایک یہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر میں بیان دیتے ہوئے اپنی کسی تحریر کا ذکر کرنا چاہوں تو میں اس کو اس وقت دیکھ لوں اپنے سامنے اور پھر اپنا زبانی کہہ دوں۔ یہ دیکھ تو سکتا ہوں؟ جناب یحییٰ بختیار: آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ You can refresh your memory. مرزا ناصر احمد: Refresh کر سکتا ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ جب میں اپنے جواب میں کوئی اقتباس دوں تو اس بارے میں؟ جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ Quote کر سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: جس وقت یہ اعتراض اٹھایا گیا اس وقت میں اقتباس پڑھ رہا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے پہلے ...... مرزا ناصر احمد: اس وقت اعتراض نہیں کیا گیا۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں۔ دوبارہ پڑھتا ہوں۔

-------------------------

396 CROSS- EXAMINATION OF THE QUADIANI

GROUP DELEGATION

مرزا ناصر احمد: یہ اقتباس ہے جو میں پڑھ رہا ہوں۔ اقتباس پڑھنے کے بعد حوالہ دوں گا، انشاء اللہ: ”حسین رضی اللہ عنہ طاہر اور مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر و استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک صاف آئینے میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو ان میں سے ہیں۔ دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی۔ کیونکہ وہ

٥٤

479 NATIONAL ASSEMBLY OF PAK

ک اور برگزیدہ سے اس کے زمانے میں محبت کی تحسین سے ت درجے کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی سین رضی اللہ عنہ، یا کسی اور بزرگ جو آئمہ مظاہرین میں سے اف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔ وہ اپنے ایمان کو اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں

(تبلیغ رسالت ج دہم ص ١٠٣)

مرزا صاحب! مرزا غلام احمد کا یہ جو آپ نے حوالہ دیا، یہ اس آئیڈیا ہے آپ کو Date کا؟ لکھا ہے۔ لکھا ہے؟ حد کا ہے اور آپ کی کتابوں میں کثرت سے یہ حوالے مل ہاں، بات یہ ہے کہ وہ ایک اسٹیج پر کہتے ہیں ”میں محدث ہوں“ یک اسٹیج پر کہتے ہیں ”میں نبی ہوں“ He is changing his vie اپنے مؤقف تبدیل کرتے رہتے ہیں) impression. Mirza Nasir Ahmad: He is no رجم: وہ اپنے خیالات تبدیل نہیں کر رہے) بہ کف چراغ دارد! بات اعجاز احمدی کے حوالہ کی تھی کہ مرزا لٹیرا کہا ہے۔ اس کے جواب میں ناصر احمد تبلیغ رسالت کا کوئی پوچھے کہ یہی دجل مرزا قادیانی نے کیا جو آپ کر رہے نت کی۔ جب اعتراض ہوا کہ اہانت کیوں کی؟ تو سیدنا رقعہ والا کالا ناگ، سیدنا حسین کو گالی دے کر پھر تعریفوں ہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں سانپ کا بیٹا سانپ! واضح طور پر میں کی جہاں اہانت کی ہے وہاں گندگی کھائی ہے۔ ہمارا

٥٥

صفحہ ٤٧٩

479 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانے میں محبت کی تحسین سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجے کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ، کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین رضی اللہ عنہ، یا کسی اور بزرگ جو آئمہ مطاہرین میں سے ہیں، کی تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔ وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ، اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔‘‘ (تبلیغ رسالت ج دہم ص ١٠٣) ١؎

397

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مرزا غلام احمد کا یہ جو آپ نے حوالہ دیا، یہ اس شعر سے پہلے کا ہے یا بعد کا ہے؟ کچھ آئیڈیا ہے آپ کو Date کا؟

مرزا ناصر احمد: اغلباً بعد کا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بعد کا ہے؟

مرزا ناصر احمد: اغلباً بعد کا ہے اور آپ کی کتابوں میں کثرت سے یہ حوالے مل جائیں گے بعد کے بھی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بات یہ ہے کہ وہ ایک اسٹیج پر کہتے ہیں ’’میں محدث ہوں‘‘ ایک اسٹیج پر کہتے ہیں ’’میں مجدد ہوں‘‘ ایک اسٹیج پر کہتے ہیں ’’میں نبی ہوں‘‘

He is changing his views according to my (میرے اندازے میں وہ اپنے مؤقف تبدیل کرتے رہتے ہیں) impression.

Mirza Nasir Ahmad: He is not changing his (مرزا ناصر احمد: وہ اپنے خیالات تبدیل نہیں کر رہے) views.

١؎ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد! بات اعجاز احمدی کے حوالہ کی تھی کہ مرزا ملعون نے سیدنا حسینؓ کے ذکر کو گندگی کا ڈھیر کہا ہے۔ اس کے جواب میں ناصر احمد تبلیغ رسالت کا یہ اقتباس پڑھتے ہیں۔ مرزا ناصر سے کوئی پوچھے کہ یہی دجل مرزا قادیانی نے کیا جو آپ کر رہے ہیں کہ پہلے سیدنا حسینؓ کی مرزا نے اہانت کی۔ جب اعتراض ہوا کہ اہانت کیوں کی؟ تو سیدنا حسینؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔ یہ دومنہ والا کالا ناگ، سیدنا حسینؓ کو گالی دے کر پھر تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔ یہی مرزا ناصر کر رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں سانپ کا بیٹا سانپ! واضح طور پر تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی سیدنا حسینؓ کی جہاں اہانت کی ہے وہاں گندگی کھائی ہے۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

٥٥

BLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: آپ fresh

مرزا ناصر احمد: ...... نمبر ایک یہ ہے دوسرا یہ ہے کہ اگر میں بیان دیتے ہو اس وقت دیکھ لوں اپنے سامنے اور پھر اپنا زبانی ک

جناب یحییٰ بختیار: آپ ایسا کر

memory.

مرزا ناصر احمد: Refresh کرس اور تیسرے یہ کہ جب میں اپنے جوا

جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ note

مرزا ناصر احمد: جس وقت یہ اعتر

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس س

مرزا ناصر احمد: اس وقت اعتراض نہیں

ON OF THE QUADIANI

LEGATION

مرزا ناصر احمد: یہ اقتباس ہے جو دوں گا، انشاء اللہ: ’’حسین رضی اللہ عنہ طاہر اور م جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپن بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس اور محبت الٰہی اور صبر و استقامت اور زہد اور عباد ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کی تع ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کر تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش ہے۔ جیسا کہ ایک صاف آئینے میں ایک خوبص پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو ان سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی و

صفحہ ٤٨١

480 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: So, I think, he may have changed his opinion about Hazrat Imam Hussain.

(جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھتا ہوں کہ حضرت امام حسین کے بارے میں انہوں نے (بعد میں) رائے بدل دی)

Mirza Nasir Ahmad: He is not changing his views.

(مرزا ناصر احمد: نہیں رائے نہیں بدلی)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, I said, will you answer this further question:

کیا انہوں نے کہا ہے کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ نوٹ کر لیں۔ (اٹارنی جنرل سے) میں چیک کروں گا۔

398 جناب یحییٰ بختیار: اب چیک کریں۔ میں پھر پڑھتا ہوں: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“ پھر آگے کہتے ہیں...... آپ چیک کر لیجئے اسے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور میں خدا کا کشتہ ہوں، تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ بس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(حوالہ بالا)

When you check it and if you find it correct, Sir, please keep in mind what I am going to ask. With all that he said about Imam Hussain. Which you read out just now, here is this: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں“ as if he feels his Hussain does not belong to him....

اے قادیانی حضرات! توجہ فرمائیں کہ یہاں مرزا قادیانی ملعون اپنے آپ کو حضرت حسینؓ سے تقابل کر کے خود کو افضل بتا رہا ہے۔ مرزا ناصر کی ایسی بولتی بند ہوئی کہ کہتا ہے چیک کریں گے۔ اب سب کر و فر جاتا رہا۔ چرا کاری کند عاقل کہ باز آید پشیمانی!

٥٦

481 NATIONAL ASSEMBLY OF

یک کر لیں اور آپ دیکھیں کہ یہ درست ہے تو یہ ذہن میں ا کہ انہوں نے حضرت امام حسین کے لئے کیا کہا۔ یہاں ٹ میں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان (حضرت حسینؓ) کا ان

Mirza Nasir Ahmad: No

Mr. Yahya Bakhtiar: .. saying that I want to bring to your m

(یہ بات آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں......)

اب جواب دینے کی ضرورت نہیں؟ نے تو ابھی تک Verify بھی نہیں کیا۔

تک Verify نہیں کیا۔ (اپنے وفد کے ایک رکن کیوں کہا ہے۔ خدا کا کشتہ ہوں۔ تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔“

In both the places and both to Hussain as if Hussain belongs to him....

میں وہ (مرزا قادیانی) حضرت حسینؓ کا اس طرح حوالہ ان کے نہیں۔ کیا آپ اس کو مانتے ہیں تو تصریح کریں)

Mirza Nasir Ahmad: No

399 Mr. Yahya Bakhtiar:

Mirza Nasir Ahmad: ... of Hussain....

نہیں کیا۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ نوٹ کر لیں۔ اسے آپ Verify کرلیں۔

If you admit, then you will

٥٧

صفحہ ٤٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جب آپ اس اقتباس کو چیک کر لیں اور آپ دیکھیں کہ یہ درست ہے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ میں آپ سے یہ دریافت کروں گا کہ انہوں نے حضرت امام حسینؓ کے لئے کیا کہا۔ یہاں وہ کہتے ہیں کہ ”مجھ میں اور تمہارے حسینؓ میں“ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان (حضرت حسینؓ) کا ان (مرزا قادیانی) سے کوئی تعلق نہیں۔

Mirza Nasir Ahmad: No, no...

(مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... Then again I was just saying that I want to bring to your notice....

(جناب یحییٰ بختیار: ..... یہ بات آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں.....)

مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھے اب جواب دینے کی ضرورت نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے تو ابھی تک Verify بھی نہیں کیا۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ابھی تک Verify نہیں کیا۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ نوٹ کریں جی ”تمہارے حسینؓ“ کیوں کہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”میں خدا کا کشتہ ہوں۔ تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔“

In both the places and both the quotations, he refers to Hussain as if Hussain belongs to someone else and not to him....

(دونوں جگہ اور دونوں حوالوں میں وہ (مرزا قادیانی) حضرت حسینؓ کا اس طرح حوالہ دیتے ہیں۔ جیسے امام حسین کسی اور کے ہیں۔ ان کے نہیں۔ کیا آپ اس کو مانتے ہیں تو تشریح کریں)

Mirza Nasir Ahmad: No,....

399 Mr. Yahya Bakhtiar: That is the.....

Mirza Nasir Ahmad: .... he refers to the concept of Hussain....

میں نے تو ابھی تک Verify نہیں کیا۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) یہ نوٹ کرلیں۔

جناب یحییٰ بختیار: Alright آپ Verify کرلیں۔

If you admit, then you will explain.

٥٧

صفحہ ٤٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : بغیر میرے Admit کرنے کے آپ پھر کمنٹری شروع کر دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، میں نے کہا کہ میرا جواب جو ہوگا اس پوائنٹ پر ہے ۔ یہ جو ہے Emphasis اس پر آپ ......

مرزا ناصر احمد : نہیں ، میرا مطلب ہے کہ ریکارڈ میں یہ نہ ہو جائے کہ آپ کی کمنٹری آجائے اور میری طرف سے آجائے کہ میں خاموش ہوں ۔

جناب یحییٰ بختیار : یہ نہیں ہوگا ، کیونکہ میں نے آپ کو کہا ، آپ نے کہا ہے ۔ you will verify everything is being taped یہ تو نہیں کہ کوئی نہیں لکھے گا۔

مرزا ناصر احمد : نہیں ، میں ویسے وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔

جناب یحییٰ بختیار : اچھا ۔

مرزا صاحب ! آپ نے صبح کہا تھا کہ دائرہ اسلام سے باہر جو ہوتے ہیں۔ اس پر کچھ اور Explain کریں گے ۔ کیونکہ اس Subject پر میں نے ایک دو سوال اور پوچھنے تھے۔

But I think, if you had explained, no need....

(دائرہ اسلام اور ملت اسلامیہ نہیں بلکہ مخلص ومنافق)

مرزا ناصر احمد : میں پڑھوں گا وہی جو میں کسی کتاب سے یا ...... باقی میں زبانی کہوں گا ۔ جیسا کہ مجھے ہدایت کی گئی ہے ۔

400 بات یہ ہے کہ کل ایک دو باتیں ایسی یہاں ہوئیں کہ مجھے شبہ پڑا کہ جو ہم نے معاملہ صاف کرنے کی غرض سے ”ملت اسلامیہ کا دائرہ“ اور ”اسلام کا دائرہ“ دو اصطلاحات بنا کے اس کے اوپر بنیاد رکھ کے بعض باتیں پوچھی بھی گئیں اور ان کا جواب بھی دیا گیا ۔ اس میں کچھ خلط اور Confusion میں نے محسوس کیا جو میرے لئے تکلیف دہ تھا اور میں بے چین رہا رات کو ۔

بات یہ ہے کہ قرآن عظیم میں، جیسا کہ میں نے کل قرآن عظیم کی آیت پڑھی تھی۔ ”ملت اسلامیہ“ کا تو ذکر ہے لیکن ”دائرہ اسلام“ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس واسطے اصل جو چیز ہے وہ دوسرے لفظوں میں بیان کروں گا۔ بغیر تمثیلی زبان کے ۔ جب ہم ”دائرہ“ میں آتے ہیں تو وہ تمثیلی زبان بن جاتی ہے ۔ کیونکہ یہ جو ”دائرہ“ ہے یہ تو اسلام کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا ۔ یہ تو بیرونی دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

اگر ہم تمثیلی زبان کو چھوڑ دیں ۔ بلکہ الفاظ کے اندر حقیقت اسلامیہ کو بیان کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں ۔ کہ مسلمانوں میں یعنی اسلام قبول کرنے والوں میں نبی کریم ﷺ کے زمانہ

٥٨

صفحہ ٤٨٣

BLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 مرزا ناصر احمد : بغیر میرے Admit جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی، میں ہے۔ یہ جو ہے Emphasis اس پر آپ....... مرزا ناصر احمد : نہیں، میرا مطلب آجائے اور میری طرف سے آجائے کہ میں خاموش جناب یحییٰ بختیار : یہ نہیں ہوگا، کیونکہ verify everything is being taped مرزا ناصر احمد : نہیں، میں ویسے وضـ جناب یحییٰ بختیار : اچھا۔ مرزا صاحب! آپ نے صبح کہا تھا کہ اور Explain کریں گے۔ کیونکہ اس ject I explained, no need....

(دائرہ اسلام اور ملت اسلام

مرزا ناصر احمد : میں پڑھوں گا وہی جـ گا۔ جیسا کہ مجھے ہدایت کی گئی ہے۔

400 بات یہ ہے کہ کل ایک دو باتیں ا معاملہ صاف کرنے کی غرض سے ”ملت اسلامیہ کا د اس کے اوپر بنیاد رکھ کے بعض باتیں پوچھی بھی گئیں اور Confusion میں نے محسوس کیا جو میرے

بات یہ ہے کہ قرآن عظیم میں، جیسا ”ملت اسلامیہ“ کا تو ذکر ہے لیکن ”دائرہ اسلام“ دوسرے لفظوں میں بیان کروں گا۔ بغیر تمثیلی زبان زبان بن جاتی ہے۔ کیونکہ یہ جو ”دائرہ“ ہے یہ تو کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

اگر ہم تمثیلی زبان کو چھوڑ دیں۔ بلکہ ا اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔ کہ مسلمانوں میں یعنی اسلام ٨ 483 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 سے آج تک دو مختلف گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ایک وہ مخلصین جنہوں نے اسلام کو پوری طرح قبول کیا اور اسلام کے جو یہ معنی ہیں کہ کس طرح بکری مجبوراً قصائی کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتی ہے۔ اس طرح ان لوگوں نے رضا کارانہ طور پر اپنی مرضی اور اختیار سے اپنی گردنیں خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کر دیں۔ تو ایک گروہ وہ ہے جو بڑے مخلص، اخلاص رکھنے والے، ایثار پیشہ، اپنی ہر چیز خدا کی راہ میں قربان کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔ یہ ایک گروہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہے۔ جو اس رفعت اور پائے کا نہیں۔ مقام کا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی ہمیں نظر آتا ہے کہ کمزوری دکھانے والے بھی تھے۔ احادیث میں کثرت سے اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں اور قرآن کریم نے بار بار تاکید کی ذکر کی 401 یاددہانی کرتے رہو۔ کیونکہ ایمان ہوتا ہے اس میں، اسلام ہوتا ہے، ان میں لیکن اس کے باوجود یاددہانی اور نصیحت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور قرآن کریم ہی سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ وہ بھی لوگ مسلمان کہلاتے تھے۔ جن کو خود قرآن کریم نے منافق کہا۔ تو جو مخلصین کا گروہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ ہیں جو نسبتاً کم اخلاص رکھنے والے اور گناہ گار ہیں۔ اس گناہ کو حدیث نے کفر کا نام دے دیا، مثلاً: ”من ترك الصلوٰة متعمدا فقد كفر جهارا“

یہ جامع الصغیر السیوطی ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) (اور دوسرے حوالے کہاں ہیں) (اٹارنی جنرل سے) اسی طرح یہ ایک کتاب ہے ”مشکوٰۃ“ کا حوالہ ہے، باب ظلم کا : ”مــــن مشٰی مع ظالما لیقوہ وہو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام“

ظلم نہیں کرتا، یہاں ظلم کرنے والے کا نہیں ذکر، یہاں یہ ذکر ہے کہ جو شخص ظلم کرنے والے کے ساتھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہاں میں ہاں ملاتا ہے، اس کو Encourage کرتا ہے اپنی دوستی کے ذریعے، وہ بھی اسلام سے خارج ہو گیا۔ تو ایسے لوگوں کو جو گناہ کی وجہ سے ان خالص مقربان الہی کے گروہ میں شامل نہیں کئے جاسکتے۔ ان کے متعلق آنحضرت ﷺ کے زمانے سے ”کفر“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور ساتھ یہ بھی ہوتا ہے کہ تم جو ہو وہ مسلمان ہو، ایک ہی 402 وقت میں۔ قرآن کریم فرماتا ہے: ”قالت الاعراب امنا۔ قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا و لما یدخل الایمان فی قلوبکم“ کہ اعراب دیہاتی، جن کو زیادہ تربیت کے حصول کا موقع نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ قرآن عظیم کہتا ہے: ”یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے۔ کیونکہ ایمان تمہارے دلوں میں ابھی داخل نہیں ہوا۔ یہ وہ ٥٩

صفحہ ٤٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 آخری حد ہے جہاں سے ورے ورے ہم اس کو مسلمان کہیں گے۔ کمزوریوں کے باوجود، یعنی ایمان دل میں داخل بھی نہیں ہوا اور مسلمان بھی ہو۔ اور دوسری جگہ فرمایا: ”بلیٰ من اسلم وجهه لله وهو محسن فله اجره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون“ ان میں ان مخلصین کا گروہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوپر اپنی ہر چیز جو ہے قربان کرنے والے ہیں اور اس گروہ مسلمین، مومنین کے سردار حضرت نبی اکرم ﷺ ہیں۔ جن کی زبان سے قرآن عظیم نے یہ کہلوایا: ”انا اول المسلمین“ کہ میں مسلمانوں کا سردار ہوں، میرا مقام نمبر ایک پر ہے۔ سب سے بلند ہے، سب سے ارفع ہے۔ تو ایک گروہ مخلصین کا ہے اور دوسرا گروہ جو ہے وہ اس قسم کے مخلص نہیں اور جہاں مخلصین کے اس گروہ کی حد ختم ہوتی ہے، Imagine کریں، آپ اپنے تخیل میں لائیں۔ وہاں سے وہ آخری حد جس کے بعد اسلام سے انسان خارج ہو جاتا ہے۔ اس میں بڑا فاصلہ ہے اور مختلف قسم کے ایمانوں والے، مختلف ایمانی درجات رکھنے والے امت محمدیہ میں پہلے دن سے آج تک پائے جاتے ہیں اور یہ دو دوسری قسم کے ہیں۔ گناہ گار، جس نے نماز چھوڑ دی، کافر ہو گیا۔ ایک اور جگہ ہے: ”جس نے چوری کی، کوئی چوری نہیں کرتا مسلمان ہونے کی حالت میں۔“ تو اس403 کے متعلق میرے کہنے کی بات یہ ہے کہ خود نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے اس وقت تک ”کفر“ کا لفظ استعمال ہو رہا ہے اور ساتھ یہ بھی ہو رہا ہے کہ: ”قولو اسلمنا“ تو یہ جو ہے نا ہمارا ”ملت اسلامیہ“ اور ”دائرہ اسلام“ دراصل یہ دو گروہ ہیں اور اس مشکل میں اگر ہمارے سامنے یہ مسئلہ آئے .....

جناب یحییٰ بختیار: بات وہی ہوئی مرزا صاحب! جو کہ آپ کی تحریرات میں، آپ کی جماعت کی تحریرات میں، کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور کافر ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو آنحضور ﷺ کے زمانے سے شروع ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اس کی Explanation یہ دی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ جو مخلص نہیں ہیں۔ یا اتنے مخلص نہیں جتنا وہ طبقہ ہے؟

مرزا ناصر احمد: بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کہہ رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ یہ بھی آپ بتائیے کہ احمدیوں میں بھی تو اسی قسم کے مسلمان ہیں؟

٦٠

صفحہ ٤٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ میں بالکل یہی کہنے لگا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں میں؟ مرزا ناصر احمد: احمدیوں میں بھی ایک گروہ ایسا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: مخلص ہیں...... مرزا ناصر احمد: ایک گروہ مخلص ہے اور ایک وہ ہے جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد آ جاتا ہے: ”کفر404“

( قادیانیوں میں بھی کافر پائے جاتے ہیں، مرزا ناصر کا اعلان )

جناب یحییٰ بختیار: تو وہ بھی کافر ہوئے اس حد تک؟ مرزا ناصر احمد: اس حد تک وہ بھی کافر!۔ جناب یحییٰ بختیار: ان میں اور باقی مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ بتائیے کہ اگر ایک شخص آپ کہتے ہیں کہ نماز بھی نہ پڑھے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ گناہ گار ہو جاتا ہے۔ مگر آپ کہتے ہیں...... مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میں نے نہیں کہا۔ میں نے تو عربی کا حوالہ پڑھا ہے۔ میں نے حوالہ جو دیا اس کا۔ جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص کسی نبی کو نہیں مانتا۔ بدنیتی سے نہیں۔ دیانت سے وہ سمجھتا ہے کہ یہ حضرت غلام احمد نبی نہیں تھے۔ کس کیٹگری میں آپ رکھیں گے اس کو؟ مرزا ناصر احمد: گناہ گار ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کافر نہیں ہوں گے وہ؟

( مرزا کے منکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں )

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یعنی وہ بالکل ان کا اسلام سے تعلق ہی نہیں۔ آنحضرت ﷺ کا بھی انکار کر دیا۔ میں نے کل بتایا تھا کہ اگر تو اس پر اتمام حجت ہوگئی، یعنی...... جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت ہوگئی جی۔ آپ نے Explain کردیا ہے اس کو۔

لے قادیانیوں کو مبارک ہو۔ مرزا ناصر صاحب کا قادیانیوں کے متعلق نیا فتویٰ آ گیا کہ قادیانیوں میں بھی اک حد تک کافر پائے جاتے ہیں۔ ٦١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

آخری حد ہے جہاں سے ورے ورے ہم اس کو مسلمان آ ایمان دل میں داخل بھی نہیں ہوا اور مسلمان بھی ہو۔۔ اور دوسری جگہ فرمایا: ”بلیٰ من اسلم وجہہ ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون“ ان میں ان مخلص ہر چیز جو ہے قربان کرنے والے ہیں اور اس گروہ مسلمین ہیں۔ جن کی زبان سے قرآن عظیم نے یہ نکلوایا: ”انا اول ال ہوں، میرا مقام ہر ایک پر ہے۔ سب سے بلند ہے۔ سی ہے اور دوسرا گروہ جو ہے وہ اس قسم کے مخلص نہیں اور جو ہے، Imagine کریں، آپ اپنے تخیل میں لائیں اسلام سے انسان خارج ہو جاتا ہے۔ اس میں بڑا فاصلہ مختلف ایمانی درجات رکھنے والے امت محمدیہ میں پہلے درجہ دوسری قسم کے ہیں۔ گناہ گار، جس نے نماز چھوڑ دی، کا چوری کی، کوئی چوری نہیں کرتا مسلمان ہونے کی حالت م بات یہ ہے کہ خود نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے اس وقت اور ساتھ یہ بھی ہو رہا ہے کہ: ”قولو اسلمنا“ تو یہ جو ہے دراصل یہ دو گروہ ہیں اور اس مشکل میں اگر ہمارے سامنے جناب یحییٰ بختیار: بات وہی ہوئی مرزا صا کی جماعت کی تحریرات میں، کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج؟ مرزا ناصر احمد: جو آنحضور ﷺ کے زمانے جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اس کی on ہیں۔ جو مخلص نہیں ہیں۔ یا اتنے مخلص نہیں جتنا وہ طبقہ ہے مرزا ناصر احمد: بالکل۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔ یہ بھی آپ مسلمان ہیں؟ ٦٠

صفحہ ٤٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : ...... اس کو تو وہ ہو گیا ...... جناب یحییٰ بختیار : پوری Argument آپ نے اس کو دے دی۔ مرزا ناصر احمد : اب آپ لیتے ہیں۔ ...... تو پھر سوال کیا ہے اب؟ 405 جناب یحییٰ بختیار : میں کہتا ہوں کہ اس کو ...... جو ابھی آپ نے Explanation دی ہے۔ کہ ایک آدمی Arguments سنتا ہے اور Sincerely اور دیانت سے سمجھتا ہے کہ مرزا غلام احمد نبی نہیں تھے ...... مرزا ناصر احمد : یہ دوسری کیٹگری ہے ناں۔ جناب یحییٰ بختیار : ...... اور انکار کر رہا ہے، وہ ...... مرزا ناصر احمد : ہاں، وہ گناہ گار ہے۔ جناب یحییٰ بختیار : کافر نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد : کفر بمعنی گناہ گار۔ یہی میں نے بتایا ہے ناں۔ جناب یحییٰ بختیار : میں تو کافر پوچھ رہا ہوں کہ کافر کس کیٹگری میں ہے یہ؟ مرزا ناصر احمد : جس طرح نماز نہ پڑھنے والا۔ جناب یحییٰ بختیار : بس اتنا ہی؟ یہ مسلمان رہتا ہے؟

(مرزا کا منکر مسلمان، مرزا ناصر کا اعلان)

مرزا ناصر احمد : مسلمان رہتا ہے۔ اسی واسطے میں نے اس کی وضاحت کی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار : اچھا، یہ بتائیے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ بعض لوگ آپ کے پہلوں میں سے ...... باقی مسلمان یہ سمجھتے ہیں یا اہل اسلام، اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔ کل میں آپ کو پڑھ کر سنا رہا تھا۔ تو جب آپ مسلمان کہتے ہیں ان کو، تو آپ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا مسلمان کا دعویٰ کرنے والے یا، Actually مسلمان گناہ گار مسلمان کافر؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، دیکھا ناں، پھر یہ آپ نے وضاحت نہیں کی۔ Mr. Yahya Bakhtiar: Explanation?

اے قادیانی حضرات غور کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والا مسلمان ہے تو آج تک قادیانی لاہوریوں سے کیوں دست بگریبان رہے کہ مرزا کا منکر کافر ہے؟ اچھا چلو! اگر مرزا کا منکر مسلمان ہے تو پھر مرزا قادیانی کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ تمام قادیانی مرزا پر لعنت بھیج کر مسلمانوں میں شامل ہو جائیں۔

٦٢

صفحہ ٤٨٧

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: ......اس کو تو وہ ہو گیا...... جناب یحییٰ بختیار: پوری ument... مرزا ناصر احمد: اب آپ لیتے ہیں... 405 جناب یحییٰ بختیار: میں ... Explanation دی ہے۔ کہ ایک آدمی ents... دیانت سے سمجھتا ہے کہ مرزا غلام احمد نبی نہیں تھے... مرزا ناصر احمد: یہ دوسری کیٹگری ہے... جناب یحییٰ بختیار: ......اور انکار کر ر... مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ گناہ گار ہے... جناب یحییٰ بختیار: کافر نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد: کفر بمعنی گناہ گار۔ ک... جناب یحییٰ بختیار: میں تو کافر پوچھ... مرزا ناصر احمد: جس طرح نماز نہ پڑ... جناب یحییٰ بختیار: بس اتنا ہی؟ یہ س...

(مرزا کا منکر مسلمان ،...

مرزا ناصر احمد: مسلمان رہتا ہے۔ ا... جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ بتائیے... پہلوں میں کے...... باقی مسلمان یہ سمجھتے ہیں بالکل... میں آپ کو پڑھ کر سنا رہا تھا۔ تو جب آپ مسلمان... کیا مسلمان کا دعویٰ کرنے والے یا، Actually... مرزا ناصر احمد: نہیں، دیکھا ناں، پھر... akhtiar: Explanation?

لے قادیانی حضرات غور کریں کہ مرزا غلا... تک قادیانی لاہوریوں سے کیوں دست بگریبان ر... منکر مسلمان ہے تو پھر مرزا قادیانی کو ماننے کی کیا... مسلمانوں میں شامل ہو جائیں۔ ٦٢

487 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: آپ نے تین باتیں کہہ دیں ناں اب، محض مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے اور دو اور باتیں کہہ دیں آپ نے۔ 406 جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا جی یہ آپ کس کیٹگری میں شمار کریں گے ان کو؟ مرزا ناصر احمد: وہ کیٹگریز کون سی ہیں؟ جناب یحییٰ بختیار: ایک تو جو ابھی وہ لوگ ہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں مانتے اور اتمام حجت کے بعد نہیں مانتے......

(مرزا ناصر کا ایک اور اعلان)

مرزا ناصر احمد: جو شخص حضرت مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا لیکن وہ نبی اکرم ﷺ حضرت خاتم الانبیاء کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے۔ اس کو کوئی شخص غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ کہتے ہیں کہ آخری نبی ان کی Interpretation کے مطابق ...... مرزا ناصر احمد: وہ تو Interpretation کا فرق ہوا نا۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں Categorically ہر وہ شخص جو محمد ﷺ کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے وہ مسلمان ہے...... جناب یحییٰ بختیار: وہ مسلمان؟ مرزا ناصر احمد: اور کسی دوسرے کا حق نہیں ہے کہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ اس کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: اس معنی میں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ نہیں کہتے کہ مسلمانی کا دعویٰ کرتا ہے وہ؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ جو منسوب ہوتا ہے۔ میں نے تو آپ کو بھی کئی دفعہ کہا ہے: ”ھل شققت قلبہ“ میں دعویٰ کیسے کر سکتا ہوں؟ میں نے دل چیر کے دیکھے ہیں؟

لے مرزا قادیانی کہتا ہے: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“ (تذکرہ ص٦٠٧، طبع سوم) مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود نے آئینہ صداقت ص ٣٥ پر لکھا ہے کہ ”کل مسلمان جو مرزا کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے چاہے انہوں نے مرزا کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ سے خارج ہیں۔“ اور اب مرزا قادیانی کا پوتا یعنی مرزا ناصر کہتا ہے کہ مرزا کے نہ ماننے والے مسلمان ہیں۔ ان تینوں میں سچا کون؟ جواب: تینوں دغاباز و چالباز۔ ٦٣

صفحہ ٤٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ایک میں آپ سے پوچھوں گا کہ ایک حوالہ ہے مرزا غلام احمد صاحب کے بارے میں مرزا بشیر احمد صاحب کا، صاحبزادہ بشیر احمد صاحب کا، وہ کہتے ہیں: ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود 407 (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں سے غیر احمدیوں کے متعلق ”مسلمان“ کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکہ نہ کھائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالے کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھے تھے کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ جہاں کہیں بھی ”مسلمان“ کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان ۔ پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو (مسلمان) کہہ کر پکارا ہے ۔ وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ حسب الحکم الٰہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔“

(کلمۃ الفضل ص ١٢٦ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

مرزا ناصر احمد : کلمۃ الفضل؟

جناب یحییٰ بختیار: کلمۃ الفضل ۔ ہاں جی اور رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ جلد ١٤ نمبر ٣، ٤ آگے ص ١٢٦ ۔

مرزا ناصر احمد : یہ چیک کریں گے ۔ آج صبح آپ نے دیکھا کہ حوالہ بھی نہیں تھا اور اخبار بھی نہیں تھا اور یہاں آ گیا۔ چیک کریں گے۔ (وقفہ)

جناب یحییٰ بختیار: اب بھی آپ نے خود کہا ہے ۔ میں اپنے پرانے پمفلٹ پر آ رہا ہوں۔ (وقفہ)

(سیدنا مسیح بن مریم علیہ السلام سے مرزا افضل؟)

یہ جی ۔ کیا مرزا غلام احمد صاحب نے یہ کہا ہے کہ : ”اور دیکھو کہ آج تم میں سے ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اس امت میں سے مسیح موعود 408 بھیجا جو اس پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا اور نہیں جانتے کہ ابن مریم ایک عاجز انسان تھا۔ اگر خدا چاہے تو عیسیٰ بن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسے کہ اس نے کیا ......

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے ۔ جو غلام احمد ہے، یعنی احمد کا غلام:

٦٤

NATIONAL ASSEM

اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

گے۔ یہ حوالہ کونسا ہے؟

بتاتا ہوں: ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں کہ میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں گا ۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

گے کہتے ہیں جی ......

ہے؟

Quotations تھیں ان کی ۔

مسیح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس اس قول میں اشارہ ہے: ”سبحان 409 الذی یہ بھی آپ ...... گے۔ یہ چیک کریں گے۔

Mr. Chairman: House, they may be show stead of referring. میں موجود ہوں تو ان کو حوالہ دینے کی بجائے

Mr. Yahya Bakh will read them. Then, afte will.... ں ہم تو اس کے آگے پیچھے اس کا جواب ہوتا کہا ہے کہ: ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا

صفحہ ٤٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑ دو اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

مرزا ناصر احمد: پھر یہ بھی چیک کریں گے۔ یہ حوالہ کونسا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: میں آگے پڑھ دیتا ہوں: ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربے کی رو سے خدا کی تائید ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں گا۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

مرزا ناصر احمد: دافع البلاء؟

جناب یحییٰ بختیار: دافع البلاء۔ اور آگے کہتے ہیں جی ......

مرزا ناصر احمد: دافع البلاء کا صفحہ کونسا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ١٣ اور ٢٠۔ دو Quotations تھیں ان کی۔ اور پھر آگے کہتے ہیں: ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبے سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے: ”سبحٰن الذی اسریٰ“ (خطبہ الہامیہ ص١٩٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨) یہ بھی آپ ......

مرزا ناصر احمد: ١٩٣۔ جی، دیکھ لیں گے۔ یہ چیک کریں گے۔

Mr. Chairman: if the books are here in the House, they may be shown to the witness just now yes in stead or referring.

(جناب چیئرمین: اگر کتابیں ایوان میں موجود ہوں تو ان کو حوالہ دینے کی بجائے دیکھادی جائیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: They were available. But I will read them. Then, after that, if they cannot verify, we will....

مرزا ناصر احمد: اصل میں جب دیکھتے ہیں ہم تو اس کے آگے پیچھے اس کا جواب ہوتا ہے۔ اسی جگہ وضاحت ہو جاتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کیا انہوں نے کہا ہے کہ: ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا

٦٥

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ایک میں آپ صاحب کے بارے میں مرزا بشیر احمد صاحب کا ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں سے غیر احمدیوں کھائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازا لکھے تھے کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں، مدعی اسلام سمجھا جائے نہ کہ حقیقی مسلمان ۔ پس ی جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو (مسلمان) کہہ کر پکار دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ حسب الحکم الہی اپنے منکرو

(کلمۃ الف

مرزا ناصر احمد : کلمۃ الفصل؟

جناب یحییٰ بختیار: کلمۃ الفصل۔ ٢٠٤ آگے ص ١٤٦۔

مرزا ناصر احمد : یہ چیک کریں گے اخبار بھی نہیں تھا اور یہاں آ گیا۔ چیک کریں گے

جناب یحییٰ بختیار: اب بھی آ آ رہا ہوں ۔ (وقفہ)

(سیدنا مسیح بن مریم علیہ

یہ جی۔ کیا مرزا غلام احمد صاحب ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اس امت میں میں بہت بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام انسان تھا۔ اگر خدا چاہتے تو عیسیٰ بن مریم کی ما کہ اس نے کیا ...... ”اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں ا غلام احمد ہے، یعنی احمد کا غلام:

صفحہ ٤٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟"

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)

مرزا ناصر احمد: یہ چیک کریں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کو نہیں اس کا علم؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کے آگے پیچھے اس کے سیاق و سباق کا علم نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی میں یہ کہہ رہا ہوں یہ اگر ہو تو پھر ...... جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین صاحب! آپ آرڈر فرمادیں۔

We are prepared to produce the books. (ہم کتابیں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں)

410 Mr. Chairman: The first question would be: whether these writings are admitted? Then the questions. (جناب چیئرمین: پہلا سوال یہ ہے کہ یہ تحریرات تسلیم بھی ہیں؟

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I asked the witness, Sir. That is what I ask. But he will like to know what come before and after. But he has not denied it. (جناب یحییٰ بختیار: میں یہی چاہ رہا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس تحریر کے آگے پیچھے کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ان تحریرات سے انکار نہیں کیا)

Mr. Chairman: The explanation will come when the statement is admitted. (جناب چیئرمین: وضاحت بعد میں آئے گی)

Mr. Yahya Bakhtiar: So, he says that he will have to read it from the original. (جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں میں اصل کو پڑھوں گا)

مرزا ناصر احمد: آج صبح ایک ایسا حوالہ پیش کیا گیا جس کا وجود ہی نہیں تھا ......

١؎ وجود تو تھا بلکہ اب بھی وجود ہے۔ ٢٩؍ جون کو ٢٩؍ جنوری کہہ دیا تو آپ (مرزا ناصر) کو اس دجل کا اور اب کذب بیانی کا موقعہ ہاتھ آگیا۔ اس کو کہتے ہیں دجل و کذب کا گولڈن چانس۔

٦٦

صفحہ ٤٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: Then why you are....

مرزا ناصر احمد : ایسے اخبار کا حوالہ تھا جو چھپا ہی نہیں تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ہمیں کہتے ہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں۔

Mr. Chairman: There might be...

مرزا ناصر احمد : میرا مطلب ہے کہ پھر ہمیں وقت دے دیں۔ ہم درستی کردیں گے۔

Mr. Chairman: There might be some bonafide mistake of fact. But when the book is available, the book may be handed over and the other members of the delegation can verify those.

(جناب چیئرمین: واقعات کی صدق دلانہ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب کتاب دستیاب ہے (اور وہ مرزا قادیانی کی ہے) تو یہ دے دی جاسکتی ہے اور وفد کے دوسرے ارکان حوالہ کی تصدیق کر سکتے ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: یہ نہیں لیا صفحہ نمبر ١٣ اور ٢٠ آپ نے؟

مرزا ناصر احمد : صفحہ ١٣ اور ٢٠؟ وہ تو لکھ لیا۔

جناب چیئرمین: آپ اس طرح کریں جی کہ ...... the members of the delegation

جناب یحییٰ بختیار: حوالے موجود ہیں جی۔

411 جناب چیئرمین: آپ اس طرح کریں جی کہ کتابیں دے دیں۔ عزیز بھٹی صاحب۔ آپ کتابیں ان کو دے دیں۔

Mr. Yahya Bakhtiar: If I give the quotation, then I forget the subject. I wanted it to be clarified.

(جناب یحییٰ بختیار: جب میں اقتباس پیش کرتا ہوں تو مضمون ذہن سے اتر جاتا ہے۔ میں تصریح کرنا چاہتا ہوں)

Mr. Chairman: By the time you read the quotation, the book may be handed over to members of the delegation: and by the time you finish, they can reply.

٦٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اس

مرزا ناصر احمد : یہ چیک کریں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کو نہیں اس کا علم؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، اس کے آگے پیچھے

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی میں یہ کہہ ر

جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین صا

o produce the books.

(ہم کتابیں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں)

an: The first question would be:

e admitted? Then the questions.

(جناب چیئرمین: پہلا سوال یہ ہے کہ یہ ت

htiar: That is what I asked the

t I ask. But he will like to know

er. But he has not denied it.

(جناب یحییٰ بختیار: میں یہی چاہ رہا تھا ک کہ اس تحریر کے آگے پیچھے کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ان کو

The explanation will come when

(جناب چیئرمین: وضاحت بعد میں آ

htiar: So, he says that he will

iginal.

(جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں میں اص

مرزا ناصر احمد : آج صبح ایک ایسا حوالہ پی

١؎ وجود تو تھا بلکہ اب بھی وجود ہے۔ ٢٩؍ جول اس دجل کا اور اب کذب بیانی کا موقعہ ہاتھ آگیا۔ اس کو بچ

٦٦

صفحہ ٤٩٢

492 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جناب چیئرمین: جب تک اقتباس پڑھیں گے کتابیں ان کو دے دی جائیں اور جب آپ پڑھ کر فارغ ہوں گے تو اس وقت تک وہ جواب دے سکیں گے )

جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی اور خطبہ الہامیہ ص ١٩٣

جناب چیئرمین: بھٹی صاحب! میں نے عرض کیا ہے کہ آپ نے حوالے دے دیئے ہیں۔ ادھر آجائیں۔ ادھر کتابیں یہاں پڑی ہیں۔ یہاں سے بیٹھ کر وہ پڑھیں گے اور ہم ٹائم بچائیں گے۔ اٹارنی جنرل صاحب حوالہ جات پڑھیں گے۔ آپ لائبریرین سے کتاب لے کر فوراً ان کے حوالے کر دیں۔ Instead of creating a rush.

مرزا ناصر احمد: آج صبح ایک حوالہ رہ گیا تھا۔ وہ پڑھ دیتا ہوں۔ آپ نے کل فرمایا تھا کہ ”بروزی نبی، ظلی نبی“ کے متعلق نوٹ دے دیں۔ وہ میں آپ کو دے دوں؟

جناب یحییٰ بختیار: دے دیں۔ (وقفہ)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General, please continue.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب! براہ کرم جاری رکھیں )

جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ بہت ہی لمبے بیان ہیں تو پھر آپ فائل کر دیجئے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، میں فائل کر دیتا ہوں، ٹھیک ہے۔ یہ بروزی وغیرہ کی اصطلاحات جو سلف صالحین نے بیان کی ہیں اور پھر ہم نے ان کو لے کر استعمال کیا ہے۔ وہ دو عنوانوں کے ماتحت ہیں۔

412 جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں تو ......

You are filing them on the record because it is very lengthy. Then we will see if there is some question. We will ask.

(ہم ان کو ریکارڈ میں شامل کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ طویل ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ کوئی سوال ہے یا نہیں)

مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے متعلق جو سوال کرنا ہے کر لیں۔ اس کی نقل نہیں ہمارے پاس۔

جناب یحییٰ بختیار: جب تک وہ باقی حوالہ ملتے ہیں ......

٦٨

493 NATIONAL ASSEMBLY

Mr. Chairman: M

Attorney- General.

پھر اور سوال پورے کر لوں جو پہلے امام حسین کے

نہیں Mr. Chairman:

the Attorney- General may cross

گئی آپ سے پہلے پوچھا تھا: ”مجھ میں اور تمہارے خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

نام کو دے دیں گے۔ یہ اگر اجازت دیں تو ہم شام اپنے پاس؟

یک ہے۔ وہ جو آپ کے پاس میگزین ہے، اس کی صاحب کے ریکارڈ میں رکھنا چاہتے ہیں۔

ہے، اس وقت تو ہمارے بزرگ دوست بیٹھے ہیں،

......

بات کر رہا ہوں۔ یہ تو دے دیں ناں ہمیں واپس۔

دے رہے ہیں آپ کو واپس۔

پ سے ہی ایک دوست نے بھجوائی تھی۔ صرف ایک

رہا ہوں۔

Mr. Yahya Bakhtiar:

it, so, if it is not on the record...

نے اس پر انحصار کیا۔ اس لئے اگر یہ ریکارڈ میں

٦٩

صفحہ ٤٩٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 Mr. Chairman: May be handed over to the Attorney- General. جناب یحییٰ بختیار: ...... میں پھر اور سوال پورے کرلوں جو پہلے امام حسینؓ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ Mr. Chairman: نہیں for the cross- examination, the Attorney- General may cross- examination on the basis. مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے جی آپ سے پہلے پوچھا تھا: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص٦٩، خزائن ج١٩ ص١٨١)

مرزا ناصر احمد: ہاں ٹھیک ہے، شام کو دے دیں گے۔ یہ اگر اجازت دیں تو ہم شام کو فائل کروا دیں گے اور اس کی نقل رکھ لیں اپنے پاس؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ٹھیک ہے۔ وہ جو آپ کے پاس میگزین ہے، اس کی کوئی کاپی ہے آپ کے پاس؟ تو یہ بھی چیئرمین صاحب کے ریکارڈ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ 413 مرزا ناصر احمد: یہ جو میگزین ہے، اس وقت تو ہمارے بزرگ دوست بیٹھے ہیں، ان کے پاس ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ کی...... مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو ویسے بات کر رہا ہوں۔ یہ تو دے دیں ناں ہمیں واپس۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ دے رہے ہیں آپ کو واپس۔ مرزا ناصر احمد: اور یہ سعودی عرب سے ہی ایک دوست نے بھجوائی تھی۔ صرف ایک کاپی ہے ہمارے پاس۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد: لیکن میں کوشش کر رہا ہوں۔ Mr. Yahya Bakhtiar: Because you have relied on it, so, if it is not on the record.... (جناب یحییٰ بختیار: چونکہ آپ نے اس پر انحصار کیا۔ اس لئے اگر یہ ریکارڈ میں ٦٩

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 (جناب چیئرمین: جب تک اقتباس جب آپ پڑھ کر فارغ ہوں گے تو اس وقت تک وہ جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی اور خطبہ الہا جناب چیئرمین: بھٹی صاحب! میر دیئے ہیں۔ ادھر آجائیں۔ ادھر کتابیں یہاں پڑی ٹائم بچائیں گے۔ اٹارنی جنرل صاحب حوالہ جات کر فوراً ان کے حوالے کر دیں گے۔ g, a rush. مرزا ناصر احمد: آج صبح ایک حوالہ تھا کہ ”بروزی نبی، ظلی نبی“ کے متعلق نوٹ دے د جناب یحییٰ بختیار: دے دیں۔ (وقفہ Yes, Mr. Attorney- General,

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل ص جناب یحییٰ بختیار: اگر یہ بہت ہی مرزا ناصر احمد: ہاں، میں فائل ک اصطلاحات جو سلف صالحین نے بیان کی ہیں اور عنوانوں کے ماتحت ہیں۔ 412 جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہی n the record because it is very here is some question. We will

(ہم ان کو ریکارڈ میں شامل کر رہے ہ کوئی سوال ہے یا نہیں) مرزا ناصر احمد: ہاں، اس کے متعل ہمارے پاس۔ جناب یحییٰ بختیار: جب تک وہ ہا ٨

صفحہ ٤٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

شامل نہیں ہے۔

Mirza Nasir Ahmad: I rely on that most.... (مرزا ناصر احمد: میں نے انحصار کیا ہے......)

Mr. Yahya Bakhtiar: You relied on a document. (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اس دستاویز پر انحصار کیا ہے)

مرزا ناصر احمد: اور میری ایک درخواست ہے آپ سے کہ پاکستان کے جو ایمبیسیڈر ہیں نائجیریا میں، ان سے پوچھیں کہ وہ وہاں کے علماء سے دریافت کریں کہ یہاں لکھا کیا ہوا ہے۔ مسئلہ صاف ہو جائے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ٹھیک ہے جی۔ میگزین کے بارے میں میں کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میگزین جو ہے وہ......

جناب یحییٰ بختیار: ہمیں ریکارڈ پر ضرورت ہوگی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ رکھیں اپنے پاس تو بے شک لے جائیے But you have relied آپ کہتے ہیں کہ یہاں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مسجد پر کلمہ کے بارے.

414 مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو میں نے آپ کو دکھایا تھا۔ مجھے یہ افسوس ہے کہ کوئی رسم الخط میں اور مراکو کے رسم الخط میں...... وہ آپ کے پاس نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو میں اپنا دیکھ رہا ہوں اور ممبر بھی دیکھ لیں گے۔ I do not know what there impression is. But, to me, it seems Ahmad and not Mohammad. (مجھے نہیں معلوم کہ ان لوگوں (ممبران) کا کیا فیصلہ ہے۔ کچھ کو یہ احمد معلوم ہوتا محمد نہیں) اور آپ نے کہا وہ ٹھیک ہے کہ ”میم“ الف معلوم دیتا ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ ”الف“ کو ”ح“ کے ساتھ ملایا ہوا ہے اور دوسری ”میم“ پر تشدید پڑی ہوئی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ Impression میں نے کہا جی۔ Impression یہ تاثر ہے اور اسی وجہ سے میرے خیال میں یہ میگزین میں پبلش کیا ہے۔

There was no reason. They do not have the plea for itself. (ورنہ کوئی وجہ نہ تھی۔ ان کو کیا ضرورت تھی بولنے کی اس کی طرف)

مرزا ناصر احمد: اگر اس وجہ سے ہوتا تو اعتراض ہوتا اس پر۔

٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAK

Mr. Yahya Bakhtiar: یں جی!

That is without comments? یہ خود ہی بول رہا ہے بغیر کسی تبصرے کے؟)

Mirza Nasir Ahmad: To th speaks and tells a different story. گویا ایک دوسری کہانی سنا رہا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, i for itself; to see, but.... یہ خود ہی بول رہا ہے بغیر کسی تبصرے کے۔ ممبران کے ساری مساجد کی تصاویر ہیں۔ دوسری، وہ They speak for themselves. ) مامی۔ پوچھا تھا کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے ہر دل رہی ہے۔ اور پھر میں نے کہا تھا کہ دوسرا بھی تو آپ سا لکھ لئے ہیں۔ یہ تیار کر کے لے آئیں گے ابھی۔ ”میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ ....... لکھ لیا ہے۔ سا جی، آپ نے ابھی تک....... نہیں دیکھا۔ وقت نہیں آپ نے دیکھے؟

Sardar Maula Bakhsh information Sir, : جناب! ایک معلوماتی نکتہ ہے)

٧١

صفحہ ٤٩٥

495 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی! it speaks for itself. That is without comments? (جناب یحییٰ بختیار: یہ خود ہی بول رہا ہے بغیر کسی تبصرے کے؟)

Mirza Nasir Ahmad: To the world, as a whole, it speaks and tells a different story. (مرزا ناصر احمد: دنیا کو یہ ایک دوسری کہانی سنا رہا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I say that it speaks for itself; to see, but.... (جناب یحییٰ بختیار: یہ خود ہی بول رہا ہے بغیر کسی تبصرے کے۔ ممبران کے دیکھنے کی بات ہے)

مرزا ناصر احمد: وہ جو ہماری مساجد کی تصاویر ہیں۔ دوسری، وہ They speak for themselves. (وہ خود اپنے لئے بولتی ہیں)

جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔

415 میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“ اور پھر میں نے کہا تھا کہ دوسرا بھی تو آپ نے یہ ریفرنس تو نہیں دیکھ لیا؟

مرزا ناصر احمد: یہ ریفرنس لکھ لئے ہیں۔ یہ تیار کر کے لے آئیں گے ابھی۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ”میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا ظاہر ہے۔“ تو اس پر.......

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ لکھ لیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ نے ابھی تک.......

مرزا ناصر احمد: اس وقت نہیں دیکھا۔

جناب یحییٰ بختیار: اس وقت نہیں آپ نے دیکھا؟

Sardar Maula Bakhsh Soomro: Point of information Sir, (سردار مولا بخش سومرو: جناب! ایک معلوماتی نکتہ ہے)

٧١

صفحہ ٤٩٧

496 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو پھر بڑا مشکل ہے ناں جی!

You say that you....

Sardar Maula Bakhsh Soomro: After a question has been put before them, they should deny or refuse; and the explanation can be given later on whether the fact is denied or accepted.

(سردار مولا بخش سومرو: جب ان کے سامنے ایک سوال رکھا جاتا ہے تو ان کو چاہئے کہ پہلے وہ اس کو تسلیم کریں یا انکار کریں اور وضاحت بعد میں دی جاسکتی ہے کہ کیوں انکار ہے یا تسلیم ہے)

Mr. Chiarman: That I have already remarked. (To Mr. Attorney- General) Yes, continue.

(جناب چیئرمین: میں نے پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہے۔ جی اٹارنی جنرل آپ جاری رکھیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I have said that the witness should see, you know, if it is there or not.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا ہے کہ گواہ کو دیکھنا چاہئے کہ یہ بات ہے یا نہیں)

مرزا ناصر احمد: اب سن لیں اس کا جواب کیا ہے۔ نمبر (٢) یہ کہ آپ یہ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں اس کو Explain کروں یا نہیں؟

416 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے تو یہ Admit کیجئے کہ یہ ہے یا نہیں۔ You have a right to explain.

Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, just a minute. The witness is aided by few members of delegation. Their object is to assist the witness because it is a matter which needs quite at length certain discoveries or certain documents. That is why their are two aspects. When Attorney- General put the question, the witness has either to

٧٢

497 NATIONAL ASSEMBLY OF

search it out and say "Yes" or "No" Where the question of some docu book shall be handed over to the They can verify and, the can say, that it exists or it does not exist.

ا جنرل! ایک منٹ ٹھہریں۔ گواہ کی مدد ان کے چار اشخاص مدد کرنا ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ اس میں کافی بہت قات کی ضرورت ہے۔ اس لئے دو صورتیں ہیں۔ جب واہ کو جواب تلاش کرنا پڑتا ہے اور کہے ہاں یا ناں۔ جہاں ب وفد کے ممبران کو دے دینی چاہئے۔ وہ تصدیق کر کے موجود نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Th Sir, I told the witness that you fin statement exist in the book or not an time to explain, by all means he....

میں بھی یہی کہتا ہوں جناب! میں نے گواہ سے کہا ہے کہ پہلے کے بعد وضاحت کرو)

Mr. Chairman: That is there and then or, if he likes, h afterwards. That is up to the witness

یہ گواہ پر منحصر ہے کہ وہ اسی وقت یا بعد میں وضاحت وضاحت کر سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Th

Mr. Chairman: If he lik does not like, he may not explain.

٧٣

صفحہ ٤٩٧

SEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو پھر بڑا مشکل ہے

Bakhsh Soomro: After a efore them, they should deny or ion can be given later on whether ted.

(سردار مولا بخش سومرو: جب ان کے چاہئے کہ پہلے وہ اس کو تسلیم کریں یا انکار کریں اور وضاح ہے یا تسلیم ہے)

That I have already remarked. ) Yes, continue.

(جناب چیئرمین: میں نے پہلے ہی یہ جاری رکھیں)

htiar: That is what I have said , you know, if it is there or not.

(جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا ہے کہ مرزا ناصر احمد: اب سن لیں اس کا جواب رکھتے ہیں کہ میں اس کو Explain کروں یا نہیں؟)

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے تو یہ 416

have a right to explain. Mr. Attorney-General, just a ed by few members of delegation. he witness because it is a matter th certain discoveries or certain o their are two aspects. When question, the witness has either to

٧٢

497 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

search it out and say "Yes" or "No", or to give explanation. Where the question of some document is concerned, the book shall be handed over to the members of delegation. They can verify and, the can say, they can tell the witness that it exists or it does not exist.

(جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل! ایک منٹ ٹھہریں۔ گواہ کی مدد ان کے چار اشخاص وفد کے کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد گواہ کی مدد کرنا ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ اس میں کافی بہت سی لمبی چوڑی دستاویزات اور کچھ انکشافات کی ضرورت ہے۔ اس لئے دو صورتیں ہیں۔ جب اٹارنی جنرل سوال پیش کرتے ہیں تو گواہ کو جواب تلاش کرنا پڑتا ہے اور کہے ہاں یا ناں۔ جہاں سوال دستاویز سے متعلق ہے تو متعلقہ کتاب وفد کے ممبران کو دے دینی چاہئے۔ وہ تصدیق کر کے گواہ کو بتا دیں گے کہ حوالہ موجود ہے یا موجود نہیں ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I was saying, Sir, I told the witness that you first verify it whether this statement exist in the book or not and, after that, if he wants time to explain, by all means he....

(جناب یحییٰ بختیار: میں بھی یہی کہتا ہوں جناب! میں نے گواہ سے کہا ہے کہ پہلے تصدیق کر لو کہ موجود ہے یا نہیں اور اس کے بعد وضاحت کرو)

Mr. Chairman: That is for the witness to reply there and then or, if he likes, he can give explanation afterwards. That is up to the witness.

(جناب چیئرمین: اب یہ گواہ پر منحصر ہے کہ وہ اسی وقت یا بعد میں وضاحت کرہیں۔ یہ گواہ پر ہے۔ وہ چاہیں بعد میں وضاحت کر سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I say.

مرزا ناصر احمد: کیا ہے؟

Mr. Chairman: If he like, he can explain; if he does not like, he may not explain.

٧٣

صفحہ ٤٩٩

498 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: (To the witness) That is up to you. But, first, we will not proceed further if you say it does not exist- this statement.

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ میں سمجھ گیا اور اس کے بعد مجھے اتنا وقت تو ملنا چاہئے ، مناسب۔ جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ سمجھتے ہیں اس کے جواب کے لئے آپ کو ٹائم کی ضرورت ہے تو۔

417 Naturally, you can ask for time.

(قدرتی بات ہے آپ وقت مانگ سکتے ہیں)

Mr. Chairman: I may also remind honourable Members of the House that there are two types of references being asked. One for one referneces, there are available the reference books....

(جناب چیئرمین: معزز ممبران کو یاد دلا دوں کہ دو طرح کے حوالے پوچھے جارہے ہیں گواہ کی تمام کتابوں سے حوالہ جات)

Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I said.

Mr. Chairman: ... For the witnesses themselves...

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, there are two ways of looking at it. There are questions that could be answered straightaway, there is no reason to ask for time....

(جناب یحییٰ بختیار: اس پر دیکھنے کے لئے دو زاویہ ہیں۔ کچھ سوالات ایسے ہیں کہ فی الفور جواب دیئے جاسکتے ہیں۔ ایسے سوالات کے لئے وقت مانگنے کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن وہ سوالات جو کچھ علمی تحقیق یا مزید مطالعہ کی ضرورت رکھتے ہیں قدرتی بات ہے ان کے لئے وقت فراہم کیا جائے گا)

Mr. Chairman: No reason.

Mr. Yahya Bakhtiar: ... as I have said. But if a question requires an answer which requires some research

499 NATIONAL

and further work or fu time would be given.

Mr. Chairm

opportunity; and for th for which books are no witness, then the witnes

حوالہ اخذ کرنے کے لئے ۔ ان حوالہ یں سر دست موجود نہیں ہیں ۔ جس کے

Mr. Yahya Ba

possession of the witnes these are the writings of

ہیں......)

Mr. Chairma

Mirza Nasir A

this place.

پر تو میرے قبضہ میں نہیں ہیں)

Mr. Chairma

those books, which are a (فرق) امتیاز کریں گے جو ایوان میں

Mr. Yahya Ba

(

And now, Mirza

تے ہیں۔

صفحہ ٤٩٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

htiar: (To the witness) That is up l not proceed further if you say it ent.

مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ میں سمجھ گیا اور اس کے جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ سمجھتے ہیں ا ضرورت ہے تو۔

an ask for time.

(قدرتی بات ہے آپ وقت مانگ سکتے ہیں

: I may also remind honourable at there are two types of references referneces, there are available the

(جناب چیئرمین: معزز ممبران کو یاد دلا دا ہیں گواہ کی تمام کتابوں سے حوالہ جات)

htiar: That is what I said. : ... For the witnesses themselves... htiar: Sir, there are two ways of questions that could be answered reason to ask for time....

(جناب یحییٰ بختیار: اس پر دیکھنے کے لئے فی الفور جواب دیئے جاسکتے ہیں۔ ایسے سوالات کے ۔ سوالات جو کچھ علمی تحقیق یا مزید مکالمہ کی ضرورت رکھے فراہم کیا جائے گا)

No reason.

htiar: ... as I have said. But if a wer which requires some research

٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

and further work or further authority, then naturally some time would be given.

Mr. Chairman: The witness shall be given opportunity; and for those books and for those references for which books are not available or in the possession of the witness, then the witness can say, "I will check it up."

(جناب چیئرمین: گواہ کو وقت دیا جائے گا حوالہ اخذ کرنے کے لئے۔ ان حوالہ جات کے لئے جس کی کتب دستیاب نہیں ہیں یا گواہ کے پاس سردست موجود نہیں ہیں۔ جس کے لئے وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں جانچ پڑتال کروں گا)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, all these books or in the possession of the witness. They are presumed to be because these are the writings of....

(جناب یحییٰ بختیار: جناب یہ سب تصنیفات ہیں......)

Mr. Chairman: Yes. (!جناب چیئرمین: جی ہاں)

Mirza Nasir Ahmad: In our possession but not at this place.

(مرزا ناصر احمد: لیکن اس وقت تو اور اس جگہ پر تو میرے قبضہ میں نہیں ہیں)

Mr. Chairman: So, we will make a distinction of those books, which are available in the house....

(جناب چیئرمین: ہم ان کتابوں کے لئے (فرق) امتیاز کریں گے جو ایوان میں دستیاب نہیں ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: That has been given.

(جناب یحییٰ بختیار: یہ امتیاز ہمیشہ دیا گیا ہے)

And now, Mirza Sahib, please....

418 مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ تو واپس لے گئے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ لے آئیے۔

٧٥

صفحہ ٥٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، لے آئیں۔

جناب عبدالعزیز بھٹی : جناب چیئرمین! جو جو بھی ریفرنس یہ مانگنا چاہیں، وہ ہم ایک ایک کر کے.......

جناب چیئرمین : آپ اس طرح کریں ناں جی! آپ میں سے ایک دو حضرات یہاں بیٹھیں۔ As soon as the Attorney- General refers to a reference....

(Interruptions)

جناب چیئرمین : بھٹی صاحب میری بات سن لیں (مداخلت) نہیں میری بات سن لیں۔ بھٹی صاحب! میری بات سنیں۔ آپ میں سے دو حضرات یہاں بیٹھیں۔

As soon as the Attorney- General refers to a reference the book should be ready, It shoud be handed over to the witness....

جناب یحییٰ بختیار : ایک ”غلطی کا ازالہ“ صفحہ ١١......

Mr. Chairman: .... So that اس وقت ہم یہ کرلیں۔

(Pause)

Mr. Chairman: So, we can proceed now.

(جناب چیئرمین : تو ہم اب آگے بڑھیں)

مرزا ناصر احمد : یہ جو ہے حوالہ کشف میں حضرت فاطمہؓ کو دیکھنا۔ اس جگہ جہاں سے یہ لیا گیا ہے۔ یہ ریفرنس ہے اپنے کشف کی طرف جو دوسری کتاب میں چھپا ہے ”براہین احمدیہ“ میں۔ ”براہین احمدیہ“ کو سامنے رکھ کر پتا چلے گا کہ کیا کہا۔ نمبر (ایک)......

جناب چیئرمین : وہ بھی دے دیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ بھی ہے۔

مرزا ناصر احمد : ”براہین احمدیہ“ بھی دے دیجئے۔

پھر اس کے لئے جو جو ہمیں ریفرنسز چاہئیں وہ یہ ہیں کہ یہ کشف ہے اور ایک یہ کہ امت مسلمہ کا کشف کے متعلق کیا فتویٰ ہے اور دوسرے یہ کہ اس قسم کے کشوف کیا امت محمدیہ ﷺ کے سلف صالحین آج سے قبل دیکھتے رہے ہیں یا نہیں۔ یہ وہ دو چیزیں جب سامنے آئیں گی تو پھر

٧٦

صفحہ ٥٠١

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، لے آئیں۔

جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین! جو ایک ایک کر کے ......

جناب چیئرمین: آپ اس طرح کریں ناں یہاں بیٹھیں۔

ney- General refers to a reference....

(Interruptions)

جناب چیئرمین: بھٹی صاحب میری بات سن لیں۔ بھٹی صاحب! میری بات سنیں۔ آپ میں سے دو حضرات

he Attorney- General refers to a uld be ready, It shoud be handed over

جناب یحییٰ بختیار: ایک ”غلطی کا ازالہ“ صفحہ ١١۔

n: So that اس وقت ہم یہ کر لیں۔

(Pause)

n: So, we can proceed now.

(جناب چیئرمین: تو ہم آگے بڑھیں)

مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے حوالہ کشف میں حضرت یہ لیا گیا ہے۔ یہ ریفرنس ہے اپنے کشف کی طرف جو دوسری میں ”براہین احمدیہ“ کو سامنے رکھ کر پتا چلے گا کہ کیا کہا، نمبر

جناب چیئرمین: وہ بھی دے دیجئے۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ”براہین احمدیہ“ بھی دے دیجئے پھر اس کے لئے جو جو ہمیں ریفرنسز چاہئیں وہ امت مسلمہ کا کشوف کے متعلق کیا فتویٰ ہے اور دوسرے یہ کہ کہ سلف صالحین آج سے قبل دیکھتے رہے ہیں یا نہیں۔ یہ وہ

٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مسئلہ سامنے ......

Mr. Yahya Bakhtiar: You want more time?

مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ کل صبح دے دیجئے، یا آج شام کو، جیسا آپ مناسب سمجھیں۔

Mr. Chairman: But the writing is admitted?

(جناب چیئرمین: لیکن تحریر تو تسلیم کر لی گئی ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: The writing is admitted?

(جناب یحییٰ بختیار: تحریر تسلیم ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: The writing is admitted that it is.

(مرزا ناصر احمد: اس حد تک تسلیم ہے کہ یہ ......) کہ یہ خلاصہ ہے اس بیان کا جو ایک دوسری کتاب میں کشف تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ درست ہے۔ اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم۔

Mr. Chairman: Next writing.

(جناب چیئرمین: آگے دوسری تحریر لیجئے)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: This is not admission or denial of the fact. Whether they should in to to accept....

(سردار مولا بخش سومرو: لیکن پہلی کا فیصلہ نہیں ہوا کہ تسلیم ہے یا انکار۔ کیا مکمل طور پر تسلیم کر لیا ہے ......)

Mr. Chairman: No, Haji Sahib, it has been accepted. And the witness says that he will explain it.

(جناب چیئرمین: تسلیم کر لیا گیا ہے اور گواہ کہتے ہیں کہ وہ وضاحت کریں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: He says that he will see the books which have been brought in the summary of that....

(جناب یحییٰ بختیار: گواہ کہتے ہیں کہ وہ کتابیں دیکھیں گے جو لائی گئی ہیں)

Mr. Chairman: Next writing. Because, for the

٧٧

صفحہ ٥٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug. 1974 No:03

present, we will confine only to these four or five references.

(جناب چیئرمین: اگلی تحریر لیجئے! سر دست ہم چار پانچ حوالہ جات تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھیں گے)

مرزا ناصر احمد : کونسا؟

جناب یحییٰ بختیار : ”نزول مسیح صفحہ ٩٦“

مرزا ناصر احمد : کونسا؟

جناب یحییٰ بختیار : ”نزول مسیح“ ص ٩٦ اور صفحہ ٨١، دونوں۔

420 مرزا ناصر احمد : ”نزول مسیح صفحہ ٩٦“ پر ہے کیا؟ یہاں مل نہیں رہا۔

جناب یحییٰ بختیار : ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید......“

مرزا ناصر احمد : یہ ضمیمہ ”نزول مسیح“ کا ہے۔

جناب چیئرمین : بھٹی صاحب! آپ نے یہ کتاب دی ہے؟ صفحہ ٩٦ پر مل نہیں رہا۔ آپ Pin point کریں، اس صفحہ کو Underline کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ صفحہ ٩٦ پر نہیں مل رہا۔

مرزا ناصر احمد : ”نزول مسیح“ والا۔ یہ کتاب بھی واپس لے آئیے۔ ہماری ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : اس کے ازالے میں یہ روایت موجود ہے۔ مرزا غلام احمد نے خود لکھا ہے کہ میں نے یہ ”براہین احمدیہ“ میں بھی لکھا ہے۔ یہ کتاب بھی ان ہی کی ہے۔

جناب چیئرمین : نہیں، نہیں، ایک سیکنڈ تشریف رکھیں۔ جب آپ نے اپنا ریفرنس پوچھا تو آپ اس ریفرنس پر Rely کریں گے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : ریفرنس ان ہی کی کتاب ہے۔ وہ کتاب موجود ہے۔

جناب چیئرمین : وہ کتاب آپ نے دی ہے؟ وہاں ان کو ملا نہیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی : میں نے دے دی ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : مولانا دیکھیں۔

He has to refer to one or two other books also and then give explanation; and that has come on record. I am going further now.

٧٨

صفحہ ٥٠٣

Y OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

these four or five references.

(جناب چیئرمین: اگلی تحریر لیجئے آپ کو محدود رکھیں گے)

مرزا ناصر احمد: کونسا؟

جناب یحییٰ بختیار: ”نزول مسیح

مرزا ناصر احمد: کونسا؟

جناب یحییٰ بختیار: ”نزول مسیح

420 مرزا ناصر احمد: ”نزول مسیح

جناب یحییٰ بختیار: ”مجھ میں ا وقت خدا کی تائید.......“

مرزا ناصر احمد: یہ ضمیمہ ”نزول آ

جناب چیئرمین: بھٹی صاحب رہا۔ آپ Pin point کریں، اس صفحہ کو نہیں مل رہا۔

مرزا ناصر احمد: ”نزول مسیح“ والا

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی:

غلام احمد نے خود لکھا ہے کہ میں نے یہ ”براہین ا

جناب چیئرمین: نہیں، ممبر

ریفرنس پوچھاتو آپ اس ریفرنس پر Rely

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی:

جناب چیئرمین: وہ کتاب آپ

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی:

جناب یحییٰ بختیار: مولانا دیکھیے

or witness two other ation; and that has come on

503 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کو مل گیا جی؟ ”نزول مسیح“ صفحہ ٩٦؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ دیکھ رہے ہیں۔

جناب چیئرمین: وہ دیکھ رہے ہیں جی۔ Next پوچھ لیں۔

421 جناب یحییٰ بختیار: ”اعجاز احمدیہ“ صفحہ ٨٠۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جناب چیئرمین! Exactly جو لفظ اٹارنی جنرل صاحب پڑھتے ہیں۔ وہی اس کتاب میں آپ Underline کرکے ان کے آگے رکھیں۔

مرزا ناصر احمد: ”تمہارا حسین......“ اس کا حوالہ نہیں مل رہا۔ یہ تو آ گیا پہلے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ کیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: یہ تو ”صد حسین است در گریبانم“ والا حوالہ لے آئے ہیں اور اس میں ”براہین احمدیہ“ چاہئے ۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی صفحہ ٩٦۔

مرزا ناصر احمد: ”براہین احمدیہ“ کا حوالہ ہے نا یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: (جناب عبدالعزیز بھٹی سے) مجھے دکھائیں پہلے آپ۔

جناب چیئرمین: چوہدری ظہور الٰہی صاحب کو دے آئیں اور ”براہین احمدیہ“ جو ہے ناں، وہ اس کا حوالہ ہے۔

The reference in the book should be exactly the same what is in the question.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میرے خیال میں Misunderstanding تھوڑی سی ہے۔ آپ اس پر غور فرمائیں کہ انہوں نے جو یہاں کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو ربوہ کی چھپی ہوئی ہیں اور اسی پر نشان لگے ہوئے ہیں۔ جن حضرات نے سوالات کئے ہیں۔ انہوں نے ان کتابوں میں دیکھ کر جو ان کی اپنی ذاتی ہیں، پرسنل ہیں۔ انہوں نے ان میں سے ریفرنسز دیئے ہیں۔

جناب چیئرمین: آپ چیک کر سکتے ہیں۔

The books have been available for the last ten days.

422 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیکن کتابیں موجود ہیں۔ حوالے سب پر لگے

٧٩

صفحہ ٥٠٥

504 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ہوئے ہیں۔ سب موجود ہیں۔ وہ......

Mr. Chairman: You could check it up from Chapters, Chapter- wise.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ...... صرف چھاپہ خانے کا فرق ہے۔

Mr. Chairman: So, Mr. Attorney- General,....

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: .......یہ کہ یہ ہے ناں وہ کتاب .......

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ جی آپ۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ہے تو۔ وہ میں نے دیکھا ہے۔

مرزا ناصر احمد: یہ ہے، یہ ہے۔ یہ ہے کہ ...... یہ عربی کا جو شعر ہے، یہ موجود ہے:

”واما حسین فاذکروا دشت کربلا
شتان مابینی و بین حسین کم
فانی اوید کل آن وانصرو“

تو اس کا وہ ریفرنس ہے، دوسری کتابوں کے حوالے سے اس کو Explain کریں گے۔ وہ آپ کو بتا دیں گے۔ یہ آپ سنبھال لیں .......

جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ جو ہے ناں یہ Writing.......

مرزا ناصر احمد: اس کا جو پہلا ہے Writing......

جناب یحییٰ بختیار: .......Writing admitted ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، Writting admitted ہے اور Explantion بعد میں دیا جائے گا۔

Mr. Chairman: So, for the time being, I think....

423 Mr. Yahya Bakhtiar: That is.... (To Mr. Chairman) let me ask about the next sentences.

Mr. Chairman: For the time being, no. The delegation is permitted to leave and to report at 6:00.

(جناب چیئرمین: اس وقت بس یہاں کافی ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔

505 NATIONAL ASSE

Mr. Yahya Bakh has here....

ہے۔

Mr. Chairman: honourable members will ke

بجے شام واپس آئے ممبران تشریف رکھیں )

(The delegatio

لایا گیا)

Mr. Chairman: suggest....

لت)

(Inte

Just a minute; have

پ تشریف رکھیں۔ آپ سب بیٹھیں۔ ایک آ جائیں۔

I would request thos

لت)

(Inte

میں ۔ایک سیکنڈ جی۔ ایک سیکنڈ بیٹھ جائیں۔

-

PRODUCTION OF RE BEFORE TH

Mr. Chairman: minutes everything would b

424 I would reque members, those who as

صفحہ ٥٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

شام ٦ بجے تشریف لائیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: The edition Mirza Sahib has here....

مرزا ناصر احمد: ہمیں تو اجازت مل گئی ہے۔

Mr. Chairman: To report at 6:00 p.m. The honourable members will keep sitting.

(جناب چیئرمین: وفد چلا جائے چھ بجے شام واپس آئے ممبران تشریف رکھیں)

(The delegation left the chamber)

(وفد ہال سے چلا گیا)

Mr. Chairman: Chaudhry Sahib, I am going to (جناب چیئرمین: چوہدری صاحب صبر کریں) suggest....

(Interruption)

Just a minute; have patience for one minute.

(ایک منٹ کے لئے تشریف رکھیں) آپ تشریف رکھیں۔ آپ سب بیٹھیں۔ ایک سیکنڈ جی۔ آپ سب، ذرا آرام سے۔ ہاں، یہ لے جائیں۔

I would request those honourable members....

(میں درخواست کرتا ہوں معزز ممبران سے)

(Interruption)

جناب چیئرمین: ایک منٹ تشریف رکھیں۔ ایک سیکنڈ جی۔ ایک سیکنڈ بیٹھ جائیں۔

---------

PRODUCTION OF REFERENCES/QUOTATIONS

BEFORE THE DELEGATION

Mr. Chairman: I would not take more than two minutes everything would be clear.

424 I would request at least those honourable members, those who associated themselves with the

٨١

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ہوئے ہیں۔ سب موجود ہیں۔ وہ ....... u could check it up from

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: r. Attorney- General,....

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی:

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ؟

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی،۔

مرزا ناصر احمد: یہ ہے، یہ ہے۔ عربی کا جو شعر ہے، یہ موجود ہے:

"واما حـسـيـن فـــ"
شــــتــــان مــــابـيـــنــ
فــــانـــی اوایــــد

تو اس کا وہ ریفرنس ہے، دوسری کا گے۔ وہ آپ کو بتا دیں گے۔ یہ آپ سنبھال لیں

جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ جو ہے

مرزا ناصر احمد: اس کا جو پہلا ۔

جناب یحییٰ بختیار: ......itted

مرزا ناصر احمد: ہاں، itted بعد میں دیا جائے گا۔

r the time being, I think....

tiar: That is.... (To Mr. next sentences.

r the time being, no. The nd to report at 6:00.

(جناب چیئرمین: اس وقت

صفحہ ٥٠٧

506 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Questions committee, or members of the Steering Committee.

(جناب چیئرمین: ہر چیز صحیح ہو جائے گی میں درخواست کرتا ہوں کہ کم از کم وہ ممبران صاحبان جو سوال کمیٹی یا اسٹیئرنگ کمیٹی کے ممبران ہیں)

اگر ان کے حوالہ جات جو ممبر صاحبان نے دیئے ہیں وہ اور ہیں اور ان کی کتابیں جو ربوہ کی چھپی ہیں اور ہیں۔ تو کم سے کم Chapter-wise تو وہی ہوں گی تو اس میں اگر وہ جیسے جیسے ...... Question Committees کے پاس Questions گئے ہیں۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے ممبرز بھی Questions مانگ سکتے ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب کا آپ Questions یا حوالہ جات جو آپ پوچھ رہے ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: ایڈیشن وہاں جو پڑا ہے۔ اس میں اور ہے، یہاں صفحہ اور ہے......

جناب چیئرمین: ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: اب جو ریفرنس میں نے دیا ہے اس میں ہے، اس میں نہیں ہے۔

Mr. Chairman: It will take about 10-15 minutes to search it out, but it can be search it out. But it can be searched out.

(جناب چیئرمین: ایک حوالہ نکالنے کے لئے بہت سے بہت دس، پندرہ منٹ لگ جائیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: But these Questions Committee members have them.

Mr. Chairman: So, I will....

(Interruption)

جناب چیئرمین: چوہدری صاحب! ایک سیکنڈ۔

اس میں میری عرض یہ ہے کہ...... Now, after adjournment these

(Interruption)

جناب چیئرمین: ایک منٹ جی، ڈھانڈلہ صاحب!

I will request those members.

٨٢

507 NATIONA

425 We should members of the deleg here up to 6:00.

ہے کہ ایک حوالہ تلاش کرتے ہی آدھا

The change of is no excuse; or you sa

Exist نہیں کرتی۔

Mr. Moham all the members of honourable members.

تمام ممبران کے لئے ضروری نہیں

Mr. Chairm may not be members the responsibility of ev

ہر فرد ذمہ دار ہے)

(Inter

or those are conversa

کریں۔ اب Question p آپ کو پتہ ہے۔ جو بھی ابھی حوالہ ل۔

Mr. Attorney- "Whether Explanatio

صفحہ ٥٠٧

507 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

اگر حوالہ جات کا آپ نے پوچھنا ہے تو

425 We should not cut a sorry figure before the members of the delegation. And these members should be here up to 6:00.

اگر آپ نے اپنا Work دکھانا ہے تو یہ نہیں ہے کہ ایک حوالہ تلاش کرتے ہی آدھا گھنٹہ لگ جائے۔

The change of edition, or print at Rabwah or Qadian is no excuse; or you say.

کہ یہ ریفرنس نہیں ہے، غلط دیا، یا کتاب ہی نہیں، Exist نہیں کرتی۔

Mr. Mohammad Haneef Khan: One point. Not all the members of the Steering Committee but only honourable members....

(جناب محمد حنیف خان: اسٹیئرنگ کمیٹی کے تمام ممبران کے لئے ضروری نہیں صرف ان کے لئے جو واقف ہیں)

Mr. Chairman: Those who are conversant; they may not be members of Steering Committee, because this is the responsibility of everybody, especially.

(جناب چیئرمین: یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ ہر فرد ذمہ دار ہے)

جنہوں نے نوٹس دیا ہے۔ (Interruption)

جناب چیئرمین: مولانا! ایک سیکنڈ سن لیں۔

جنہوں نے اپنے سوالات کا نوٹس دیا ہے or those are conversant with this اور اس کے بعد جب اٹارنی جنرل صاحب Question put کریں۔ اب 426 Questions ان کے پاس ہیں اور Questions جو ہیں آپ کو پتہ ہے۔ جو بھی اس حوالہ جات، جنہوں نے دیئے ہیں۔ وہ اپنے یہاں حوالہ جات تیار رکھیں۔

Mr. Attorney- General, the first question would be: "Whether Explanation will follow. Upto- date." You admit

٨٣

BLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

members of the Steering

(جناب چیئرمین: ہر چیز صحیح ہو ممبران صاحبان جو سوال کمیٹی یا اسٹیئرنگ کمیٹی کے اگر ان کے حوالہ جات جو ممبر صاحبا ربوہ کی چھپی ہیں اور ہیں۔ تو کم سے کم wise جیسے جیسے......... Question Committees اسٹیئرنگ کمیٹی کے ممبرز بھی Questions ما یا حوالہ جات جو آپ پوچھ رہے Questions جناب یحییٰ بختیار: ایڈیشن وہاں جو جناب چیئرمین: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: اب جو ریفرنس

will take about 10-15 minutes e search it out. But it can be

(جناب چیئرمین: ایک حوالہ نکا لگ جائیں گے)

jar: But these Questions n. I will.... ption)

جناب چیئرمین: چوہدری صا اس میں میری عرض یہ ہے کہ ......

ption)

جناب چیئرمین: ایک منٹ جی ہ

mbers.

صفحہ ٥٠٨

508 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

or do not admit

جیسے کیس Lawyer کا کیس تیار کیا جاتا ہے۔ تاکہ Facts اور ڈا کو منٹس تیار ہوں۔

(ان ریمارکس کے ساتھ ......) 426 With these remarks....

(Interruption)

جناب چیئرمین: آپ کی وہی ہوگی کہ جج ہم نہیں ہیں۔

جناب عبدالحمید جتوئی: جناب ایک عرض یہ ہے.......

جناب چیئرمین: چھٹی؟

جناب عبدالحمید جتوئی: نہیں، نہیں، چھٹی کی بات میں نہیں کرتا۔

عرض یہ ہے کہ جب اٹارنی جنرل اس سے سوال پوچھتے ہیں اور اس میں حوالہ جات

ہیں کتاب کے۔ تو مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب کے ساتھ ان کو Hand over کی جائے۔

جناب چیئرمین: یہی تو میں کہہ رہا ہوں، یہی تو میں نے کہا ہے۔

-----------------

LEAKAGE OF QUESTIONS TO BE PUT TO THE

DELEGATION

(سوال وفد کے پاس پہلے موجود ہوتے ہیں، یہ کیسے آؤٹ ہوتے ہیں؟)

جناب عبدالحمید جتوئی: دوسری عرض سنیں۔

سر! دوسری عرض یہ ہے کہ آج ہمیں دیکھ کے ایک چیز کا تعجب ہوا۔ وہ یہ ہے کہ جو سوال

اٹارنی جنرل پوچھتے ہیں ان سے، وہ پہلے ہی لکھا ہوا ان کے پاس موجود ہے۔ تو میرا اندازہ ہے کہ

سوالات Leak out ہوئے ہیں۔ کہاں سے ہوئے ہیں؟ وہ آپ لوگ اندازہ لگا لیں۔ لیکن

یہ Fair نہیں ۔ اگر وہ Leak ہوتے ہیں اور ان کو پہلے سے اطلاع ہے۔ جس کے لئے وہ

لکھ کے جواب لے آئیں تو میں سمجھتا ہوں، مجھے تو بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہاؤس کے

ممبران میں سے یا کہیں سے ایسا ہوتا ہے کون کرتا ہے؟ وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔

ایک رکن: ضرور ہوتا ہے۔

ایک اور رکن: بالکل صحیح ہے۔

427 Mr. Chairman: The rest should not be reported.

The Reporters would leave the Hall.

٨٤

صفحہ ٥٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جناب چیئرمین: اب باقی کارروائی کی رپورٹ تیار نہیں ہوگی۔ رپورٹر صاحبان ہال سے چلے جائیں) آپ بھی چلے جائیں۔ آپ بھی بند کردیں۔

------------------------------

The special Committee adjourned for lunch break to re-assembled.

------------------------------

The Special Committee re-assembled after the lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

Mr. Chairman: Still the quorum is not complete.

ان کے آٹھ ہیں۔ ان کو میں نے گن لیا ہے۔ آپ کے بھی تیس پورے نہیں ہیں ناں آ جائیں۔ ریکارڈ میں تو پورا ہونا چاہئے ناں۔ نو۔ نو۔

مولانا ظفر احمد: مولانا مفتی محمود صاحب! تو ٹھیک دس ہوگئے۔ آپ جلدی آئیں۔ ڈاکٹر صاحب آپ اپنے تیس پورے کیجئے۔ اپنے تیس پورے کیجئے۔ ہاں بلالیں۔ ہاں۔ آپ نے کیا کہنا ہے۔ میں نے کہا شاید کوئی تقریر کرنی ہے۔ تقریر کا موقع سیشن کے بعد ہوتا ہے۔

After every sitting....

مولانا عطاء اللہ صاحب کو کتب خانہ کا انچارج نہ بنادیں۔

It will save lot to trouble.

آپ کتب خانے کے انچارج ہو جائیں۔ (وقفہ)

(The Delegation entered the chamber)

Mr. Chairman: Yes, the Attorney-General.

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب)

------------------------------

428 CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, are you ready with some of the replies?

٨٥

1

EMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جیسے کیس Lawyer کا کیس تیار کیا جاتا (ان ریمارکس کے ساتھ ......)

...erruption)

جناب چیئرمین: آپ کی وہی ہوگی کہ

جناب عبدالحمید جتوئی: جناب ایک عـ

جناب چیئرمین: چھٹی؟

جناب عبدالحمید جتوئی: نہیں، نہیں، عرض یہ ہے کہ جب اٹارنی جنرل اس ہیں کتاب کے۔ تو مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب کے

جناب چیئرمین: یہی تو میں کہہ رہا ہو

ONS TO BE PUT TO THE GATION

(سوال وفد کے پاس پہلے موجود ہوتے

جناب عبدالحمید جتوئی: دوسری عرض میرا دوسری عرض یہ ہے کہ آج ہمیں دیـ اٹارنی جنرل پوچھتے ہیں ان سے، وہ پہلے ہی لکھا ہو سوالات Leak out ہوئے ہیں۔ کہاں سے یہ Fair نہیں۔ اگر وہ Leak ہوتے ہیں او لکھ کے جواب لے آئیں تو میں سمجھتا ہوں، مجھے ممبران میں سے یا کہیں سے ایسا ہوتا ہے کون کرتا۔

ایک رکن: ضرور ہوتا ہے۔

ایک اور رکن: بالکل صحیح ہے۔

The rest should not be reported.

e Hall.

٤

صفحہ ٥١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کیا آپ کے جواب تیار ہیں؟) مرزا ناصر احمد: یہ ”تذکرۃ الاولیاء“ ہے یہاں موجود؟ جناب یحییٰ بختیار: ”تذکرۃ الاولیاء“ مرزا ناصر احمد: اور ارشاد رحمانی؟ جناب یحییٰ بختیار: ارشاد رحمانی؟ مرزا ناصر احمد: ”تذکرۃ اولیاء اور ارشاد رحمانی؟“ جناب یحییٰ بختیار: (لائبریرین سے) یہ لائبریری سے لے آئیں۔ باقی جو ریفرنسز ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ایک یہ سوال تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ فرمایا ہے:

شتان مابينی وبین حسینکم فانی اوئید کل آن وانصر

”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت بڑا فرق ہے۔“ یہاں حسینکم میں کم کی جو ضمیر ہے۔ وہ اس کے مطلب کو ظاہر کرتی ہے اور یہ جو نظم ہے۔ اسی کے اندر ان لوگوں کا ذکر ہے۔ بڑی وضاحت کے ساتھ کہ جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا شرک کرتے تھے اور ان سے دعائیں مانگتے تھے اور ان کی قبر پر سجدہ کرتے تھے۔ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جو تصور تم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا پیش کرتے ہو وہ درست نہیں ہے۔ حضرت حسینؓ کے متعلق میں نے بانی سلسلہ کا ایک اقتباس پڑھا تھا۔ بڑا زبردست ہے۔ بتاتا ہے کتنا پیار، کتنی محبت......

جناب یحییٰ بختیار: جی، وہ آپ نے...... یہ جو ریفرنس تھا کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔“ میں نے عرض کیا تھا کہ ”تمہارے حسین“......

429مرزا ناصر احمد: ”تمہارے“ کی ضمیر بتائے گی ناں کہ اس کا کیا مطلب ہے: ”تمہارے“ سے کن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے؟ وہ اسی نظم میں مختلف شعروں میں کرتا ہے اور میں بتلاتا ہوں، اسی نظم میں ہے۔ یعنی ”کم“ کی ضمیر کا ہمیں دیکھنا ہے کہ مرجع کیا ہے ضمیر کا: (عربی اشعار) ...... (تم یہ گمان کرتے ہو کہ حسینؓ تمام مخلوق کا سردار ہے اور ہر ایک نبی اسی کی شفاعت سے نجات پائے گا اور بخشا جائے گا) تو یہ وہ لوگ ہیں جو اس نظم میں مخاطب ہیں۔ اس نظم میں وہ لوگ مخاطب نہیں جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور پیار کرنے والے اور آپ کی زندگی کو اسوۂ سمجھنے والے ہیں اور آپ کی اقتداء کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا یہ ان کا مذہب ہے۔

٨٦

صفحہ ٥١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: یہ آگے کہتے ہیں جی۔ کیونکہ میں یہ Clarification چاہتا ہوں کہ: ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے ہر وقت خدائی ......“

مرزا ناصر احمد: ”کیونکہ مجھے......“؟

جناب یحییٰ بختیار: ”...... مجھے ہر وقت خدائی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

مرزا ناصر احمد: جی۔ ”کیونکہ مجھے“ میں اس کا تشریح کر دیتا ہوں، ساری نظم کو سامنے رکھ کر۔ کیونکہ مجھے امام حسین کی طرح اللہ تعالیٰ کی تائید ہر وقت حاصل ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: کی طرح؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، اصل حسین کی طرح۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ جو حسینؓ ......

مرزا ناصر احمد: وہ جس حسینؓ کا شرک کیا ہے۔

Mr. Attorney General: We are Lawyers; we interpret words in their leteral, plain, simple meaning, and...

(جناب اٹارنی جنرل: ہم وکیل لوگ ہیں۔ ہم الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پہناتے ہیں۔ سادہ سیدھے معنی اور......)

430 Mirza Nasir Ahmad: Then please read out the whole, all these verses.

(مرزا ناصر احمد: تو پھر جناب یہ تمام اشعار پڑھئے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... if those meanings are not clear, then, if some thing the author himself or the law itself says... Now here it is so clearly written:

(جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ معنی نہیں سمجھ میں آتے۔ اگر مصنف نے خود یا قانون خود کہتا ہے پھر اب یہاں یہ بالکل صاف لکھا ہوا ہے) ”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے ہر وقت خدائی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ حسینؓ کو خدائی تائید اور امداد نہیں مل رہی۔ اس لئے مجھ میں اور اس میں بڑا فرق ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کیا قانون جو ہے، وہ قانون دان کا دماغ اس طرح نہیں پھرے گا کہ ”حسینکم“ میں ”کم“ کی ضمیر کس طرف جارہی ہے؟

٨٧

صفحہ ٥١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ Definition کر رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ ”حسینکم“ وہی مخاطب ہے ناں۔ تو ہم نے دیکھنا ہے کہ کن کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ”تمہارے حسین“ اور وہ اسی نظم میں ہے کہ وہ لوگ جو حسین کا شرک کرتے ہیں اور انہیں تمام انبیاء سے افضل سمجھتے ہیں اور ساری مخلوق کا سردار سمجھتے ہیں۔ صرف وہ لوگ مخاطب ہیں، باقی نہیں اور ان کے تصور کے اوپر اصلاحی ایک تنقید ہے۔ آخر ”کم“ کا مرجع تو معلوم ہونا چاہئے ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: بار بار جہاں بھی آیا ہے۔ میں نے دیکھا ہے تین ریفرنسز آپ کو دیئے ہیں۔ تینوں میں ”تمہارا حسین“

مرزا ناصر احمد: ”جعلتم حسینا افضل الرسل کلھم“ ”کم“ سے مراد ...... وہ لوگ ہو تم جو حضرت حسین کو تمام انبیاء سے افضل سمجھتے ہوں۔ ”جعلتم“ ”کم“ یہ جو ضمیریں ہیں۔ یہ بتا رہی ہیں کہ مخاطب کون ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ترجمہ ہوا ہے اس کا ...... میں نے سنایا ہے ...... یہ بھی آپ کی کتابوں سے لیا گیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ لکھا ہے جو میں نے پڑھا ہے۔ اس کا ترجمہ بھی ہماری اسی کتاب سے ہے: ”تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا اور سچائی کی حدوں سے آگے گزر گئے“ یہ صرف وہ لوگ مخاطب ہیں۔ اب میں ترجمہ کر دیتا ہوں تا کہ آپ کے ذہن میں حاضر ہو جائیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف اتنا مرزا صاحب! پوچھنا چاہتا ہوں کہ ٹھیک ہے، انہوں نے حسین کے بارے میں یہ کہا ان لوگوں کو۔ اپنا جو بیچ میں ذکر لے آتے ہیں، وہ اپنا جو مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ آپ کیسے Explain کرتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: مقابلہ حضرت حسین سے نہیں کر رہے۔ مقابلہ حضرت حسین کے اس تصور سے کر رہے ہیں۔ جو بعض لوگوں کے ذہن میں غلط طور پر پایا جاتا تھا۔

Mr. Yahya Bakhtiar: Even then how is it relevant?

(جناب یحییٰ بختیار: پھر بھی یہ غیر متعلق ہے۔ آپ سمجھائیں کس طرح)

مرزا ناصر احمد: جب ایک مصلح اپنی قوم سے خطاب کرتا ہے۔ جن کے عقائد میں اسے غلطی نظر آتی ہے اور وہ ان کو کہتا ہے کہ تم لوگوں کا یہ عقیدہ ...... جو تمام کا نہیں ...... شیعہ حضرات

٨٨

صفحہ ٥١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

کا یا اور لوگوں کا یہ عقیدہ جو ہے کہ حسین تمام مخلوق کے سردار ہیں۔ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ آپ کی قبر پر سجدہ کر کے انسان اپنی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، یہ تصور جو ہے تمہارا ......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، درست آپ کہہ رہے ہیں۔

432 مرزا ناصر احمد: میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔

...... یہ تصور جو ہے تمہارا یہ غلط ہے۔ کیونکہ دیکھو! وہ حسینؓ جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں انتہائی قربانی دی۔ آج تک اللہ کی نصرت اور مدد حاصل ہے اور مجھ پر بھی اللہ تعالیٰ کی مدد، مجھے بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت مل رہی ہے۔ اس صحیح تصور سے ہٹ کر یہ بتا دیا کہ وہ گویا خدائی کی طاقتیں رکھتا ہے اور تمام مخلوقات کا سردار، سرور دو عالم جو ہے وہ تو خاتم الانبیاء ہے۔ تو جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تمہارا تصور حسین کا جو ہے۔ اس کے مقابلے میں اپنا تصور، جو اب میری حقیقت ہے، وہ رکھتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: اپنی Personal observation کر رہا ہے؟

Mirza Nasir Ahmad: Personal, personal.

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اپنا Comparison کر رہا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ...... اپنی کر رہے ہیں، بالواسطہ، حضرت حسینؓ ...... جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے۔ ایک لکھنے والا ساری لکھے گا کہ وہ خدا کا پیارا، تقویٰ کا، متقیوں کا سردار، ان کے اعمال ہمارے لئے اسوۂ حسنہ۔ یہ تو نہیں کہ ہر چیز چھوڑ کے اور ایک لفظ کو تھوڑا سا لے کے اس کے اوپر یہ کر دیا جائے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد ...... نہیں جی، میں یہ صرف اس لئے آپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ آگے انہوں نے کہا، آگے کہتے ہیں: ”اور میں خدا کا کشتہ ہوں تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“ Comparison again کہ مجھے دیکھو انہیں دیکھو ....And the impression given is

433 مرزا ناصر احمد: یہ آپ ذرا پھر پڑھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ”اور میں خدا کا کشتہ ہوں تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“

(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول مسیح ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

مرزا ناصر احمد: وہ جو مشرک یعنی مشرکین حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کا شرک کرتے اور آپ کو خدائی طاقتیں دے رہے تھے اور سرور مخلوقات اور تمام انبیاء سے افضل قرار

٨٩

صفحہ ٥١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

دے رہے تھے۔ اسی تصور کے لئے یہ کہا گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر Compare اپنے آپ سے کیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اپنے آپ سے کیا ہے، یہ درست ہے۔ لیکن حضرت حسینؓ سے موازنہ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ایک غلط تصور سے اپنا موازنہ کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں آپ سے اسی قسم کی، جو آپ کہہ رہے ہیں، ایک اور جگہ وہ کہہ رہے ہیں کہ: ”اے شیعہ قوم! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک (مرزا صاحب) ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

مرزا ناصر احمد: یہ اسی میں ہے؟ یہ نظم میں ہے یا کہیں اور کا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: پھر وہی ”تمہارا حسین“ ”حسین تمہارا......“

(مرزا قادیانی پوری امت میں سب سے افضل؟)

مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ جہاں تک ”تمہارا حسین“ کا تعلق ہے، اس نظم کے اندر وہ بالکل واضح ہے۔ یہاں اگر کوئی عربی دان ہو، وہ ابھی ساری نظم پڑھ لے تو پھر معاملہ صاف ہو جائے گا اور باقی رہا یہ مقام، آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ظل کامل434 ہوں، کوئی اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔ تو جو ظل کامل ہے نبی اکرم ﷺ کا، وہ بہرحال امت میں سب سے افضل ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس میں کوئی اشتباہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو یہ یعنی نبی ﷺ کا خود کیوں نہیں کہتے۔ ان کا ڈائریکٹ ذکر کیوں نہیں کرتے؟ ظل کا ذکر کرتے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ میں سمجھا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ یہ کہہ دیں کہ نبی آپ کے سامنے موجود ہے۔ ان کی مثل آپ کے سامنے ہے۔ وہ افضل ہے سب سے۔ ان کی ہدایت پر یہ ہے۔ ان کا سبق یہ ہے۔ ان میں اور حسینؓ میں فرق یہ ہے۔ تو پھر سمجھ سکتے ہیں مسلمان کہ وہ ایسا تو نہیں کہ آپ مقابلہ کریں مجھ سے اور ان سے......

؎ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ مرزا ناصر نے تسلیم کر لیا کہ مرزا قادیانی پوری امت سے سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا حسینؓ، سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ سب سے افضل۔ (معاذ اللہ)

٩٠

صفحہ ٥١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: مسلمان مخاطب ہی نہیں اس میں...... جناب یحییٰ بختیار: ...... جو مسلمانوں کا طبقہ ہے، جن سے آپ...... مرزا ناصر احمد: ......صرف وہ چھوٹا سا گروہ جو یہ عقائد رکھتا تھا...... جناب یحییٰ بختیار: جو بھی گروہ ہو، جسے بھی آپ کہیں۔

مرزا ناصر احمد: جس وقت یہ نظم لکھی گئی ایسا گروہ موجود تھا دنیا میں جو شرک کر رہا تھا اور جو ان کو تمام مخلوقات کا سردار قرار دے رہا تھا، ان کو مخاطب کر کے کہا اور جن کے وہ عقائد نہیں وہ ان سے مخاطب ہی نہیں ہیں اور یہاں جو تصور آپ کا ہے اپنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق، وہ میں نے پہلے ایک واقعہ سنایا تھا۔ ایک اور سنا دیتا ہوں کہ:435 ”ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا حضرت مسیح موعود اپنے باغ میں ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے مبارکہ بیگم سلمہا اور مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں۔ پھر آپ نے بڑے دردناک انداز میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، کی شہادت کے واقعات سنائے۔ آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔“

ایک رکن: یہ کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ ”تاریخ احمدیت، ج٣، ص٥٨١“

اور چونکہ یہ سوال دہرایا گیا ہے۔ اس لئے وہ حوالہ بھی دہرانا مجھے پڑتا ہے، ورنہ معاملہ صاف نہیں ہوگا۔ یہ ہے، یہ ہے آپ کا عقیدہ حضرت امام حسینؓ کے متعلق کہ: ”حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، طاہر اور مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت سے اقتداء کرنے والے ہیں جو ان کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک صاف آئینے ایک خوبصورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے ان کا قدر؟ مگر وہی جو ان میں سے ہیں۔436 دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں

٩١

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

دے رہے تھے۔ اسی تصور کے لئے یہ کہا گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر pare مرزا ناصر احمد: اپنے آپ۔ موازنہ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں آ جگہ وہ کہہ رہے ہیں کہ: ”اے شیعہ قوم! اس کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک (مرزا صا

مرزا ناصر احمد: یہ اسی میں ہے جناب یحییٰ بختیار: پھر وہی ”آ

(مرزا قادیانی پوری ا مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ جہاد بالکل واضح ہے۔ یہاں اگر کوئی عربی دان ا جائے گا اور باقی رہا یہ مقام، آپ کا دعویٰ یہ کرے یا نہ کرے۔ تو جو ظل کامل ہے نبی ا434 ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس میں کوئی استہزا جناب یحییٰ بختیار: تو یہ یعنی کیوں نہیں کرتے؟ ظل کا ذکر کرتے ہیں۔ ا مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ میں آ جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ یہ ا آپ کے سامنے ہے۔ وہ افضل ہے سب ہ میں اور حسینؓ میں فرق یہ ہے۔ تو پھر سمجھ سکے سے اور ان سے......

لے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ مر سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا حسینؓ، سیدنا علیؓ، سی

صفحہ ٥١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

کرسکتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی۔ کیونکہ شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کسی پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانے میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجے کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ، کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین رضی اللہ عنہ، یا کسی اور بزرگ جو آئمہ مطہرین میں سے ہے، کی تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔ تو وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ، اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔“

(تبلیغ رسالت جلد دہم ص ١٠٣)

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے......

مرزا ناصر احمد : تو ایک شخص کی تحریریں اس کی مختلف کتب میں پائی جاتی ہیں۔ جب تک ان سب کو سامنے نہ رکھا جائے کوئی ایک حصہ لے کے اس کے معنی کا پتہ نہیں لگ سکتا میرے نزدیک۔

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ ایک سوال پوچھنا چاہتا تھا کہ یہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کی تعریف بہت ہی زیادہ کرنے کے بعد کیا مرزا صاحب یہ نہیں کہتے کہ : ”میں ان سب سے افضل ہوں۔“

مرزا ناصر احمد : یہ تعریف تو کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر وہ کہتے ہیں کہ: ”میں ان سب سے افضل ہوں“

مرزا ناصر احمد : یہ کہتے ہیں کہ : ”میں نبی اکرم ﷺ کا ظلِ کامل ہوں۔“

Mr. Yahya Bakhtiar: Is it a fact or not that he says that "I am superior to Imam Hussain" inspite of all praises that he showered on him?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ واقعہ نہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں ان سے برتر ہوں۔ ان تمام تعریفوں کے باوجود جو انہوں نے کیں؟)

مرزا ناصر احمد : کہاں کہتے ہیں Superior؟

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ابھی کہا ہے: ”میں چونکہ ظل ہوں، میں سب 437 نبیوں سے بہتر ہوں۔“

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، آپ نے میری طرف بات نہیں منسوب کی، بانی سلسلہ کی طرف بات منسوب کی ہے۔ اس کا میں نے پوچھا ہے کہ کہاں کہا آپ نے؟

٩٢

صفحہ ٥١٧

EMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

کر سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ ہے شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کسی پاک اور برگزیدہ سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجے کی شقاوت اللہ عنہ، کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین رضی اللہ عنہ ہے، کی تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت ضائع کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ، اس شخص کا دشمن ہو کا دشمن ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے......

مرزا ناصر احمد: تو ایک شخص کی تحریریں اس ان سب کو سامنے نہ رکھا جائے کوئی ایک حصہ لے کے اس

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ ایک اللہ تعالیٰ عنہ، کی تعریف بہت ہی زیادہ کرنے کے بعد سب سے افضل ہوں۔“

مرزا ناصر احمد: یہ تعریف تو کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر وہ کہتے ہیں کہ:”

مرزا ناصر احمد: یہ کہتے ہیں کہ:”میں نبی

tiar: Is it a fact or not that he o Imam Hussain" inspite of all him?

(جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ واقعہ نہیں ان تمام تعریفوں کے باوجود انہوں نے کیں؟)

مرزا ناصر احمد: کہاں کہتے ہیں rior

جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ابھی کہا سے بہتر ہوں۔“

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، آپ نے کی طرف بات منسوب کی ہے۔ اس کا میں نے پوچھا

٩٢

517 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ یہ نہیں کہتے:”میں ان سے Superior (برتر) ہوں۔“ ان کی تعریف کرنے کے بعد؟

مرزا ناصر احمد: ان کی تعریف کرنے کے بعد، یہ بتانے کے بعد کہ آپ بھی ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں، آپ یہ فرماتے ہیں: ”میں وہ مہدی ہوں جس کی بشارت نبی اکرم ﷺ نے دی تھی اور جس کے متعلق کہا تھا کہ اسے سلام کرنا، جس کے متعلق کہا تھا، اس کی اطاعت کرنا اور جس کے متعلق کہا تھا اس کے ذریعے سے اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا......“

جناب یحییٰ بختیار: درست ہے......

مرزا ناصر احمد: ”......اور جس کو نبی کا نام دیا تھا آپ نے۔“ وہ ”صحیح مسلم“ کے اندر ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مطلب یہی ہوا ناں کہ جی Superior (برتر) ان سے؟

438 مرزا ناصر احمد: ......اور شیعہ کتب میں......یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا......شیعہ کتب میں اس مہدی کا، جس مقام کا دعویٰ بانی سلسلہ کر رہے ہیں......یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے، مرزا صاحب! بہت تفصیل میں جاتے تو بہت زیادہ سوال ہیں۔ میں تو ایک Simple answer پوچھ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میں شیعہ حضرات کا حوالہ دیتا ہوں، جو وہ سمجھتے ہیں وہی۔ آپ نے مہدی اپنے آپ کو جب کہا تو وہی سمجھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ مہدی مرزا صاحب کو نہیں سمجھتے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ کہتے ہیں، مرزا صاحب خواہ مہدی ہونے کی وجہ سے، مسیح موعود ہونے کی وجہ سے، بہرحال کسی وجہ سے یہاں اپنے آپ کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے Superior سمجھتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: میں یہ کہہ رہا ہوں اور ابھی حوالہ پڑھنا چاہتا ہوں کہ حضرات شیعہ صاحبان مہدی علیہ السلام کو ان سے افضل سمجھتے ہیں......

جناب یحییٰ بختیار: وہ سمجھتے ہوں جی، میں یہ پوچھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد......

مرزا ناصر احمد: اگر یہ میں اپنی دلیل اگر دے دوں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں آپ پہلے یہ Admit کریں کہ ”ہاں، یہ پوزیشن ہے۔“ پھر ”اس کی وجہ یہ ہے“ کہ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: میں یہ پڑھنے کے بعد بتاتا ہوں کہ کیا پوزیشن ہے: (عربی عبارت)

٩٣

صفحہ ٥١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(امام مہدی کہیں گے کہ اے لوگوں کے گروہ جو چاہتا ہو کہ وہ ابراہیم اور اسماعیل کو دیکھے۔ وہ مجھے دیکھ لے کہ میں ابراہیم اور اسماعیل ہوں اور جو شخص موسیٰ اور یوشع کو دیکھنا چاہے تو وہ موسیٰ اور یوشع میں ہوں اور جو چاہے عیسیٰ اور شمعون کو دیکھے، میں وہی عیسیٰ اور شمعون ہوں اور جو چاہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور امیر المومنین صلوٰۃ اللہ علیہ کو دیکھے تو سنو وہ محمد ﷺ اور امیر المومنین میں ہوں۔’’) تو یہ ’بہارالانوار‘ جو شیعہ حضرات کی کتاب ہے، ان کے نزدیک امام مہدی کا یہ مقام ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ اس مقام کا ہے۔

(مرزا قادیانی سب انبیاء، اولیاء، صحابہؓ و اہل بیتؓ سے افضل ہے)

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہوا ناں جی، جیسے آپ نے ابھی کہا کہ مرزا غلام احمد صاحب، ظلِ کامل حضرت محمد ﷺ کے ہیں اور اس لئے وہ سب انبیاء سے، مرزا غلام احمد سب انبیاء سے اور سب اولیاء سے، حضرت امام حسین سے، سب سے افضل ہیں۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے؟

مرزا ناصر احمد: میرا یہ دعویٰ ہے؟ میرا یہ دعویٰ تو نہیں، میرا یہ عقیدہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صاحب کا یہ دعویٰ ہے؟

مرزا ناصر احمد: میرا یہ عقیدہ ہے کہ مہدی علیہ السلام...... جس کی بشارت دی گئی تھی...... مہدی ہونے کا بانی سلسلہ نے دعویٰ کیا اور یہ مہدی تمام ان لوگوں کے نزدیک جنہوں نے مہدی کے مقام کو امت محمدیہ میں پہچانا امت محمدیہ میں آنحضرت ﷺ کے قریب تر، آپ کے پاؤں کے نیچے بیٹھنے والا شخص ہے اور اس لئے تمام سے افضل ہے۔ یہ درست ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صاحب افضل ہیں، وجہ مسیح موعود کی ہو......

مرزا ناصر احمد: آپ نتیجہ پکڑتے ہیں اور وجوہات سے انکار کر دیتے ہیں یا غمازی کرنا چاہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کا یہ دعویٰ ہے اور آپ کا عقیدہ ہے کہ سب انبیاء سے اور اولیاء سے بہتر ہیں، افضل ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں سب انبیاء نہیں۔ ہمارا...... ہم تو...... یہ ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے طفیل، آپ کا احقر الغلمان بننے کے نتیجے میں، آپ کے پاؤں میں آپ نے جگہ پائی۔

اے ہائے قادیانیت کی ستم ظریفی، دعویٰ کرتے ہیں۔ دعویٰ کے نتیجہ کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اسی روح کے سرطان میں پوری قادیانیت گھائل ہورہی ہے۔

٩٤

صفحہ ٥١٩

519 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(مرزا قادیانی، محمد ﷺ قادیان میں، معاذ اللہ)

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، میں...... ہاں، آپ نے فرمایا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے قدموں میں بیٹھنے کے باوجود تمام انبیاء پر افضلیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مکمل ظل ہیں۔ مرزا صاحب کی موجودگی میں...... ایک شاعر ہیں آپ کے اکمل صاحب...... انہوں نے ایک نظم پڑھی، اگر یہ درست ہے:

محمدؐ پھر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣، مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء ص ١٤)

مرزا ناصر احمد: اس کی تو تردید شائع ہو چکی ہے اور کہا گیا کہ اگر اس کا کوئی انہوں نے یہ مطلب لیا تو وہ کفر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ ان کی موجودگی میں کہا گیا اور انہوں نے ”جزاک اللہ“ کہہ کر قبول کیا؟

مرزا ناصر احمد: یہ کہاں لکھا ہے موجودگی میں پڑھا؟

جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس جو ہے ناں جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، آپ کے پاس تو سوال ہے ناں۔ اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: ”اکمل، غلام احمد کو دیکھے......“

مرزا ناصر احمد: ١٩٢٩ء میں...... ١٩٢٩ء کا یہ واقعہ ہے اور ١٩٠٨ء میں...... (مداخلت) ہیں؟ اچھا، اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں جی، ١٩٠٦ء کا یہ اخبار ”البدر“......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، ١٩٢٣ء میں اس کے متعلق تردید بڑی واضح تحریر میں آگئی تھی۔

441 جناب یحییٰ بختیار: ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء کا ”البدر“ کا حوالہ ہے۔ اس میں کہا ہے کہ: ”مرزا صاحب نے قصیدہ سن کر مندرجہ ذیل اشعار کو اپنی شان میں بہت پسند کیا اور اس پر جزاک اللہ کہہ کر قبول کیا۔“

(روزنامہ الفضل قادیان ج ٢٢، نمبر ١٩٦، ص ٤، مورخہ ٢٢؍ اگست ١٩٣٤ء)

مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی اخبار ”البدر“ قادیان، ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء۔

مرزا ناصر احمد: بہر حال اس کی تردید آ گئی ہے۔

٩٥

MBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(''امام مہدی کہیں گے کہ اے لوگوں ۔ دیکھو۔ وہ مجھے دیکھ لے کہ میں ابراہیم اور اسماعیل ہوا موسیٰ اور یوشع میں ہوں اور جو چاہے عیسیٰ اور شمعون آ چاہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور امیر المومنین صلو المومنین میں ہوں ۔'') تو یہ ''بحار الانوار'' جو شیعہ حضرا کا یہ مقام ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ اس مقام کا

(مرزا قادیانی سب انبیاء، اولیاء، صح

جناب یحییٰ بختیار: یہ ہوا ناں جی، جیسے ظل کامل حضرت محمد ﷺ کے ہیں اور اس لئے وہ سب سب اولیاء سے، حضرت امام حسین سے، سب سے اَ

مرزا ناصر احمد: میرا یہ دعویٰ ہے؟ میرا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صا

مرزا ناصر احمد: میرا یہ عقیدہ ہے کہ تھی...... مہدی ہونے کا بانی سلسلہ نے دعویٰ کیا ا نے مہدی کے مقام کو امت محمدیہ میں پہچانا امت محم پاؤں کے نیچے بیٹھنے والا شخص ہے اور اس لئے تمام ا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا غلام احمد صا

مرزا ناصر احمد: آپ نتیجہ پکڑتے ہی کرنا چاہتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ ن عقیدہ ہے کہ سب انبیاء سے اور اولیاء سے بہتر ہیں

مرزا ناصر احمد: نہیں، سب انبیاء الانبیاء ﷺ کے طفیل، آپ کا احقر الغلمان بننے کے

لے ہائے قادیانیت کی ستم ظریفی، دعویٰ ہچکچاتے ہیں۔ اسی روح کے سرطان میں پوری قاد

صفحہ ٥٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، میں نے اس کا پوچھنا تھا آپ سے۔

مرزا ناصر احمد: تردید اس کی یہ ہے: ”اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درجے میں بڑے ہیں تو یقیناً کفر ہے۔ لیکن اگر مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں اشاعت دین زیادہ ہوئی تو یہ مطابق قرآن کریم کے ہے۔ مگر ایسے لفظ پھر بھی ناپسندیدہ اور بے ادبی کے ہیں۔“

جناب یحییٰ بختیار: یہ تردید جو ہے یہ مرزا صاحب کی تو نہیں ہو سکتی۔ یہ تو مرزا بشیر الدین محمود کی ہوگی؟

مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں کہ آپ کی موجودگی میں پڑھا گیا ہے۔ اس کا تو یہاں وہ نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اس کو Deny کیا گیا کہ ان کی موجودگی میں نہیں پڑھا گیا؟ یا انہوں نے اس کو Approve نہیں کیا؟

پھر مرزا نے جزاک اللہ کیوں کہا۔ حضور علیہ السلام کی بے ادبی پر جزاک اللہ کیا کفر نہیں؟

؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)

ان اشعار پر سالہا سال بعد محمد علی لاہوری نے اعتراض کیا کہ یہ مرزا محمود کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ اس کے جواب میں ان اشعار کے خالق قاضی اکمل قادیانی جو مرزا قادیانی کا صحابی اور مرزا محمود کا استاذ تھا۔ اس نے وضاحت کی جو اخبار الفضل قادیان ٢٢؍ اگست ١٩٤٤ء میں شائع ہوئی کہ محمد علی لاہوری کا یہ غلط الزام ہے کہ مرزا محمود کی تربیت کے نتیجہ میں میں نے نظم لکھی۔ بلکہ یہ نظم میں نے مرزا قادیانی کی موجودگی میں پڑھی۔ اسے خوشخط لکھوا کر خوبصورت قطعہ کی شکل میں مرزا قادیانی کو پیش کیا۔ مرزا قادیانی، اس فریم کو گھر کے اندر لے گئے اور پھر مرزا کی زندگی میں اخبار بدر میں چھپی۔ کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا۔ مرزا نے اس نظم کو سنا اور جزاک اللہ فرمایا۔ مؤلف نے یہ وضاحت ١٩٤٤ء میں کی۔ اب مرزا ناصر احمد کہتا ہے کہ اس نظم کی تردید ہم نے کی ہے۔ مرزا قادیانی چیف گرو نظم کی تائید کرے، مرزا محمود مہنت، یا مرزا ناصر لاٹ پادری تردید کرے۔ ہم کیا سمجھیں؟ قادیانی غور کریں کہ دادا، باپ بیٹا میں کون بڑا جھوٹا ہے؟

٩٦

صفحہ ٥٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو بڑا سخت نوٹ اس کے اوپر ہے اور انہوں نے آپ بھی...... کسی نے مجھے بتایا تھا کہ...... بہرحال وہ تو کوئی ہمارے لئے اتھارٹی نہیں ہے...... قاضی اکمل۔

442 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں قاضی اکمل کو اتھارٹی نہیں سمجھتا لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر وہ مرزا صاحب کی موجودگی میں یہ نظم سناتے ہیں اور وہ پسند کر کے، قصیدے کو ”جزاک اللہ“ کہتے ہیں تو اس کے بعد......

مرزا ناصر احمد: بالکل غلط بات ہے اور ایسی ہے ہی نہیں۔ بغیر ”البدر“ دیکھے کے میں کہتا ہوں کہ غلط ہے۔ یہ ہے ہی نہیں١؎...... ساری ہماری کتابیں، ساری ہماری تربیت، سارے ہمارے اعمال اور ہماری جدوجہد جو ہے، اس کا انکار کر رہی ہے اور تردید کر رہی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے...... حضرت امام حسینؓ کے بارے میں ایک اور قول مرزا صاحب کا۔ پھر وہ ایک اور حوالہ ہے ان کا جی ”اعجاز احمدیہ ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤“ پر......

مرزا ناصر احمد: ص ٨٢؟

جناب یحییٰ بختیار: ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے ساتھ گوہ کا ڈھیر ہے۔“

مرزا ناصر احمد: شرک۔ یہ شرک کے متعلق ہے ناں۔ شرک جو ہے اس کی مثال دی ہے۔ کستوری اور اس کا مقابلہ۔

جناب یحییٰ بختیار: کستوری اپنے آپ سے مطلب......؟

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، توحید باری تعالیٰ...... یہاں توحید باری تعالیٰ اور شرک، اس کی مثال ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے صبح کہا تھا کہ جو مسلمان اتمام حجت کے بعد غلام احمد صاحب پر بیعت نہیں لاتا یا ان کو نبی نہیں مانتا......

مرزا ناصر احمد: ان کے دعوے کو نہیں مانتا......

443 جناب یحییٰ بختیار: ...... تو وہ آپ نے کہا کہ وہ کافر ہے۔ ایک Limited sense میں۔ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو......

١؎ اس دجال قادیانی ناصر کو دیکھو۔ اخبار الفضل ٢٢؍اگست ١٩٤٤ء ص ٤ کی عبارت کو البدر کے نام ٹھونس کر لاف زنی کر رہا ہے۔ دجال قادیان کے دجال پوتے ایسے ہی معلم الملکوت القادیان ہونا چاہئے؟ جیسی روح ویسے فرشتے۔

٩٧

صفحہ ٥٢٢

522 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ عرض کیا تھا کہ کوئی شخص جو کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ اس کو ہم کلی Sense جو ہے بڑی، اس معنی میں کافر نہیں کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: Limited sense میں آپ نے کہا کہ......

مرزا ناصر احمد: جس طرح سے حدیث میں آیا کہ جس نے نماز چھوڑی وہ کافر ہو گیا، جو ظالم کے ساتھ چند قدم چلا، وہ کافر ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ یہ مجھے کچھ Confusion ہے کہ ایک شخص کو جو نبی کو نہیں مانتا۔ اللہ کے بھیجے ہوئے کسی نبی کو نہیں مانتا......جیسا کہ میں نے آپ سے اس دن پوچھا کہ حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتا، حضرت موسیٰ کو نہیں مانتا......جن کا قرآن شریف میں ذکر آیا ہے کہ نبی ہیں......ان کو بھی آپ مسلمان پھر بھی سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ میں خاتم الانبیاء کے ان حکموں کو بطور بغاوت کے نہیں مانتا۔ ان کو نہیں میں مسلمان سمجھتا۔

جناب یحییٰ بختیار: بالکل ہی کافر ہو جاتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: بالکل کافر......

جناب یحییٰ بختیار: وہ کہیں کہ بغیر......

مرزا ناصر احمد: ......اور اگر اتمام حجت نہیں ہوئی نا سمجھ ہے۔ مثلاً ہمارے عوام ہیں جن کو پتہ ہی نہیں قرآن کریم کا، ناظرہ بھی نہیں آتا۔ اگر کسی کے ذہن میں ایسا خیال آئے تو وہ تو اس کو کافر نہیں بنا دیتا۔

444 جناب یحییٰ بختیار: جو شخص مرزا غلام احمد کو اتمام حجت کے بعد نہیں مانتا۔ وہ بھی اس کیٹگری میں ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: وہ بھی اس کیٹگری میں ہوگا۔ اس وجہ سے کہ ”اتمام حجت“ کا جو لفظ ہے، Context میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا اور محمد ﷺ کا حکم ہے مہدی کو ماننا اور یہ وہی مہدی ہے جو مدعی ہے، اس کے باوجود میں نہیں مانتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایسے آپ نے کیسے Conclude کیا کہ ان کی سمجھ میں آ گئی اور وہ Convince ہو گیا؟ ہو گیا؟ آپ ابھی کہتے ہیں جی کہ ”اس وقت شام ہے“ اور آپ وجوہات اس کی دیتے ہیں......

٩٨

صفحہ ٥٢٣

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ عرض کیا تھا کہ کوئی شخص کہ میں حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ اس کو ہم کیٹیگری میں کافر نہیں کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: Limited sense میں

مرزا ناصر احمد: جس طرح سے حدیث میں آ ہو گیا، جو ظالم کے ساتھ چند قدم چلا، وہ کافر ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کیٹیگریز پہ مجھے کچھ Objection کو نہیں مانتا۔ اللہ کے بھیجے ہوئے کسی نبی کو نہیں مانتا...... جیسا کہ حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتا، حضرت موسیٰ کو نہیں مانتا...... جن آ ہیں...... ان کو بھی آپ مسلمان پھر بھی سمجھتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ میں بغاوت کے نہیں مانتا۔ ان کو نہیں میں مسلمان سمجھتا۔

جناب یحییٰ بختیار: بالکل ہی کافر ہو جاتے ہیں

مرزا ناصر احمد: بالکل کافر......

جناب یحییٰ بختیار: وہ کہیں کہ بغیر......

مرزا ناصر احمد: ......اور اگر اتمام حجت نہیں جن کو پتہ ہی نہیں قرآن کریم کا، ناظرہ بھی نہیں آتا۔ اگر اس اس کو کافر نہیں بنا دیتا۔

444 جناب یحییٰ بختیار: جو شخص مرزا غلام احمد اس کیٹیگری میں ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: وہ بھی اس کیٹیگری میں ہوگا ہے، Context میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا ا وہی مہدی ہے جو مدعی ہے، اس کے باوجود میں نہیں مانتا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ایسے آپ نے کیسے گئی اور وہ Convince ہو گیا؟ ہو گیا؟ آپ ابھی ک آپ وجوہات اس کی دیتے ہیں......

٩٨

523 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں دو کیٹیگریز کی بات کر رہا ہوں۔ اگر تو وہ اتمام حجت کے بعد نہیں مانتا......

جناب یحییٰ بختیار: اگر After explanation نہیں مانتا تو پھر؟

مرزا ناصر احمد: ”اتمام حجت“ کا مطلب ہی یہ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہی میں کہہ رہا تھا کہ اس کو یہ یقین آجائے یا وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے......

مرزا ناصر احمد: تو پھر وہ آنحضرت ﷺ کا کافر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں Clarification کی ضرورت ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے کہ ”میں غلام احمد صاحب کو نبی مانتا ہوں۔ مجھے یقین ہو گیا ہے۔“ اور پھر اس کے بعد کہتا ہے کہ ”میں نہیں مانتا“ وہ تو آپ سمجھ لیں کہ یقین کرنے کے باوجود باغی ہو گیا۔ ایک کہتا ہے کہ ”میں نہیں مانتا“ وہ تو آپ سمجھ لیں کہ یقین کرنے کے باوجود باغی ہو گیا۔ ایک کہتا ہے کہ ”آپ نے Explain مجھے کیا مگر میرا دل نہیں مانتا......“

445 مرزا ناصر احمد: ”میرا دل نہیں مانتا؟“

جناب یحییٰ بختیار: ”میں Convinced نہیں ہوں۔“ تو پھر وہ......

مرزا ناصر احمد: اگر واقع میں اتمام حجت نہیں تو پھر وہ اس کیٹیگری میں......

جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت تو ہو گیا۔ جہاں تک کہ آپ کے Explain کرنے کا تعلق ہے۔

مرزا ناصر احمد: اتمام حجت صرف میری دلیل نہیں کرتی۔ بلکہ میری دلیل کو اس کا قبول کر لینا یہ اتمام حجت کرتا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ ڈکشنری کا مطلب تو نہیں۔

مرزا ناصر احمد: واستيقنت انفسهم قرآن کریم کہتا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: کہ سارے دلائل Complete کرنے کے بعد......

مرزا ناصر احمد: ”وجحدوا بها واستيقنت انفسهم“ (وہ انکار کرتے ہیں اور ان کے دل یقین سے پر ہیں) قرآن کریم میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ اتمام حجت نہیں ہوتا؟ میں اس واسطے Clarification چاہتا ہوں۔

٩٩

صفحہ ٥٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک یہی اتمام حجت ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ڈکشنری کا مطلب تمام Arguments ، تمام Resoning کو Explain کرنے کے بعد اگر پھر بھی کوئی شخص نہیں مانتا، Convince نہیں ہوتا......

مرزا ناصر احمد: اگر وہ ”واستیقنت انفسہم“ والا معاملہ نہیں تو شبہ کا (فائدہ) اس کو دیا جائے گا۔ فائدہ پہنچے گا اور اس کے اوپر وہ حکم نہیں لگے گا جنرل۔

*

446 جناب یحییٰ بختیار: کیا ابو جہل پر اتمام حجت ہو گیا تھا؟

مرزا ناصر احمد: میں تو اس وقت نہیں تھا، بتا نہیں سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: جب مرزا غلام احمد زندہ تھے تو اس وقت آپ پیدا نہیں ہوئے تھے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، لیکن میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں میں نے بڑی دیانتداری سے آپ کے دعویٰ کا خود مطالعہ کیا اور جو کچھ میں نے سمجھا اور پایا اس کے نتیجہ پر میں نے......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! دیکھیں، آپ کی نیت کا سوال نہیں ہے اور نہ اس پر میں شک کر رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جو آپ کا سوال ہے وہ میری نیت کا ہے۔ آپ ابوجہل کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں کہ آپ اوروں کی نیت پر شک کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں میں نہیں...... دیکھیں، سوال آپ نے کیا ابوجہل کا......

جناب یحییٰ بختیار: سوال میں آ جاتا ہے۔ آپ Sincerely believe کرتے ہیں۔ میں اس کو Doubt نہیں کرتا۔ مگر آپ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ میں مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا اس لئے میں اتمام حجت کے باوجود...... مطلب یہ ہے کہ میں......

مرزا ناصر احمد: میں نے کب کہا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یعنی میرے سے مطلب......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے یہ کہا ہی نہیں۔ آپ میرا مطلب نہیں سمجھے۔ ابھی جو میں نے کہا اس سے الٹ بات کی۔ میں نے یہ کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں......

؎ ابو جہل کی صفائی اور وکالت، مرزا ناصر کی زبانی، پوری قادیانیت کو مبارک ہو کہ مرزا قادیانی کی صفائی کا وکیل، ابو جہل کی بھی صفائی کا وکیل ہے۔ طابق النعل بالنعل!

١٠٠

صفحہ ٥٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

انسان کا تو کام ہی نہیں دل کو دیکھنا ...... اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں ایک ایسا شخص ہے جس کو یقین ہو گیا ہے کہ مدعی سچا ہے اور پھر وہ نہیں مانتا تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ مسلمان نہیں ......

جناب یحییٰ بختیار: اس وقت 447......

مرزا ناصر احمد: لیکن ...... ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔ میری بات تو ختم ہونے دیں۔ لیکن اگر کوئی ایسا شخص ہے جو سب سننے کے بعد کہتا ہے ”مجھے سمجھ نہیں آئی“ تو اس کو شبہ کا ملے گا فائدہ اور اس کو ہم کافر نہیں کہیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے مرزا غلام احمد کی Arguments سمجھ میں آگئیں۔ What does he mean.......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو فلاسفر بھی سمجھ لیتا ہے۔ ہم مذہبی بات کر رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں بھی مذہبی بات کر رہا ہوں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ”خاتم الانبیاء کا کیا مطلب ہے کہ ایک کھڑکی کھلی ہوئی ہے اور اس کے بعد بھی نبی آ سکتے ہیں ۔“ This is the first step. Secondly, he comes to the conclusion. "I am that Nabi" and gives reasons for that.... (یہ پہلا قدم ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص ، وہ اس کے لئے وجوہات تلاش کرتا ہے )

مرزا ناصر احمد: میں جو آپ کا فقرہ ہے ناں، اس پر اعتراض کرتا ہوں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ آپ میرے اور ہمارے جذبات کا خیال نہیں رکھ رہے ۔

Mr. Yahya Bakhtiar: I am sorry, I do not want to hurt your feelings. (جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کے احساسات کو گزند نہیں پہنچانا چاہتا) مگر میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ وہ پہلے یہ کہتے ہیں کہ ”کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ نبی آ سکتے ہیں۔“ اس کے بعد کہتے ہیں کہ ”وہ نبی میں ہوں“ اگر ایک شخص یہ کہہ دے آپ سے ......

مرزا ناصر احمد: یہ جی، دراصل عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اس طرح نہیں ہوا۔ بلکہ آپ 448 نے اپنا مقام مہدی اور مسیح کا بیان کیا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے آنے والے مسیح کو ”صحیح مسلم“ میں چار دفعہ نبی کہہ کر پکارا۔ دوسری جگہ بھی مہدی اور مسیح ہونے کی وجہ سے آپ نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مطابق جو محمد ﷺ نے فرمایا تھا، نبی کہا گیا ہے۔ اس لئے میں نبی ہوں، امتی نبی۔

١٠١

SSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک یہی اتمام حجت

جناب یحییٰ بختیار: ڈکشنری کا مطلب Resoning کو Explain کرنے کے بعد اگر پھر نہیں ہوتا......

مرزا ناصر احمد: اگر وہ ”واستیقنت انفسہم * کو دیا جائے گا۔ فائدہ پہنچے گا اور اس کے اوپر وہ حکم نہیں لگے

جناب یحییٰ بختیار: کیا ابو جہل پر اتمام 446

مرزا ناصر احمد: میں تو اس وقت نہیں تھا، بتا

جناب یحییٰ بختیار: جب مرزا غلام احمد زندہ

مرزا ناصر احمد: نہیں، لیکن میں خدا کی قسم ک سے آپ کے دعوٰی کا خود مطالعہ کیا اور جو کچھ میں نے سمجھا

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! دیکھیں، پر میں شک کر رہا ہوں......

مرزا ناصر احمد: جو آپ کا سوال ہے وہ م پوچھ رہے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں کہ آپ

مرزا ناصر احمد: نہیں میں نہیں...... دیکھیں

جناب یحییٰ بختیار: سوال میں آ جاتا کرتے ہیں۔ میں اس کو Doubt نہیں کرتا۔ مگر آپ نبی نہیں مانتا اس لئے میں اتمام حجت کے باوجود......مط

مرزا ناصر احمد: میں نے کب کہا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: یعنی میرے سے مطلب

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے یہ ابھی جو میں نے کہا اس سے الٹ بات کی۔ میں نے یہ

446 ابوجہل کی صفائی اور وکالت مرزا ناصر مرزا قادیانی کی صفائی کا وکیل، ابوجہل کی بھی صفائی کا و

١٠٠

صفحہ ٥٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: میرے سوال کا جواب Clear نہیں ہوا۔ مرزا صاحب میں نے یہ کہا ہے کہ ایک شخص جو مرزا صاحب کا پیغام سنا اس نے، لیکن Convince نہیں ہوا، اس کو آپ کس کیٹگری میں رکھتے ہیں؟ کہ یہ کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: کس Sense میں؟

جناب یحییٰ بختیار: کہ یہ ایک نبی کو نہیں مانتا۔ مگر وہ محمد ﷺ کا امتی ہے اور کہتا ہے کہ میرا پورا ایمان ہے۔ اس کو آپ کہتے ہیں کہ یہ امت اسلامیہ سے باہر نہیں۔ یہ آپ کہہ رہے ہیں۔ مگر یہ کہ وہ کافر ہے۔ ایک Limited sense میں دائرہ اسلام سے...... جو کل آپ نے کہا......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ آج میں نے اس کو کر دیا۔ جس میں میں نے حدیثوں کے حوالے دیئے۔

جناب یحییٰ بختیار: جنہوں نے کبھی مرزا غلام احمد کا نام ہی نہیں سنا اور نہیں مانتے اس وجہ سے کہ نام ہی نہیں سنا، وہ کس کیٹگری میں کافر ہیں؟ یا نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ایک شخص نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہی نہیں سنا، وہ نہیں مانتا۔ کس کیٹگری میں آئے گا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مانتا، نام ہی نہیں سنا......

(عیسیٰؑ، موسیٰؑ کے نہ ماننے والوں کی طرح، مرزا کے نہ ماننے والے بھی کافر)

مرزا ناصر احمد: نام ہی نہیں سنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ہی نہیں سنا، وہ کس کیٹگری میں آئے گا؟

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھ رہا ہوں؟

449 مرزا ناصر احمد: جو وہ جس کیٹگری میں آئے گا، وہ اسی کیٹگری میں آئے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت والے کی اور اس کی کیٹگری ایک ہی ہو گئی؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں کب کہتا ہوں وہ ایک جیسی ہوگئی؟ ہم نے ظاہر کے اوپر ویسے حکم کرنا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ مرزا بشیر الدین صاحب کا ایک......

مرزا ناصر احمد: عدالت میں ایک سوال ہوا تھا......

جناب یحییٰ بختیار: میں نے پوچھا تھا۔ پھر یہاں بھی پوچھا تھا۔ کل پڑھا تھا۔ ”خواہ انہوں نے مرزا کا نام تک نہ سنا ہو، وہ بھی کافر؟“

(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا بشیر محمود)

١٠٢

صفحہ ٥٢٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: میرے سوال کا جواب نے یہ کہا ہے کہ ایک شخص جو مرزا صاحب کا پیغام سنا اس ۔ کو آپ کس کیٹیگری میں رکھتے ہیں؟ کہ یہ کافر ہے؟

مرزا ناصر احمد: کس Sense میں؟

جناب یحییٰ بختیار: کہ یہ ایک نبی کو نہیں مان میرا پورا ایمان ہے۔ اس کو آپ کہتے ہیں کہ یہ امت اسلا مگر یہ کہ وہ کافر ہے۔ ایک Limited sense میں دائر

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ آج میں نے کے حوالے دیئے۔

جناب یحییٰ بختیار: جنہوں نے کبھی مرزا اس وجہ سے کہ نام ہی نہیں سنا، وہ کس کیٹیگری میں کافر ہیں

مرزا ناصر احمد: ایک شخص نے حضرت عی مانتا۔ کس کیٹیگری میں آئے گا؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں مانتا، نام ہی نہیں

(عیسیٰ، موسیٰ کے نہ ماننے والوں کی طرح

مرزا ناصر احمد: نام ہی نہیں سنا حضرت عی نام ہی نہیں سنا، وہ کس کیٹیگری میں آئے گا؟

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پوچھ ر

449 مرزا ناصر احمد: جو وہ جس کیٹیگری میں

جناب یحییٰ بختیار: اتمام حجت والے کی

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میں کب کہت اوپر ویسے حکم کرنا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: چونکہ مرزا بشیر الدین

مرزا ناصر احمد: عدالت میں ایک سوال

جناب یحییٰ بختیار: میں نے پوچھا تھا ۔ انہوں نے مرزا کا نام تک نہ سنا ہو، وہ بھی کافر؟"

١٠٢

527 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(مرزا کا منکر کافر)

مرزا ناصر احمد: ایک ظاہری ہے وہ بھی Limited کفر کا۔ تو وہ محدود معنی میں کافر ہی ہم اسے کہیں گے۔ جو شخص !......

جناب یحییٰ بختیار: نام تک نہیں سنا۔

مرزا ناصر احمد: ایک شخص نے جو آج سے سات سال پہلے ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس نے محمد ﷺ کا نام ہی نہیں سنا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام کا نام ہی نہیں سنا۔ اس نے بنی اسرائیل کے کسی نبی کا نام نہیں سنا۔ اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یا حضرت داؤد علیہ السلام کا یا حضرت نوح علیہ السلام کا نام نہ سننے کی وجہ سے وہ اس کا ایمان ہی کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہی میں کہہ رہا ہوں جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان کے اوپر۔ باقی کے فرقہ ہائے مسلمہ کا فتویٰ دیتے ہیں؟

جناب یحییٰ بختیار: کافر۔

مرزا ناصر احمد: ان کو وہ کافر کا فتویٰ دیتے ہیں.......

جناب یحییٰ بختیار: جو ایمان نہ لائے وہ کافر۔ کافر ہے جب تک کہ ایمان نہ لائے۔

450 مرزا ناصر احمد: جب تک ایمان نہ لائے ان کے اوپر Internationally انکار کا فتویٰ لگایا۔

جناب یحییٰ بختیار: Internationally میں نہیں کہہ رہا۔

مرزا ناصر احمد: نہیں کفر کا معنی ہی Intention ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ وہ کافر ہو گئے کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں مسلمان نہ ہونا اور چیز ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، میں یہ کہتا ہوں کہ یہ ایک Conscious process ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ کلمہ پڑھتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ میں محمد ﷺ کی امت میں ہوں۔ ان پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے لئے یہ Presumption ہے، آپ کے مرزا بشیر الدین صاحب کہہ رہے ہیں کہ جو باپ کا مذہب ہے، دین ہے، وہی اس کا سمجھا جائے گا۔

نے پہلے کہا تھا، مرزا کا منکر کافر نہیں۔ آج کہا مرزا کا منکر کافر ہے۔ آسمان بدلتا ہے رنگ کیسے کیسے!

١٠٣

صفحہ ٥٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: یہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے، مرزا بشیر الدین محمود احمد نے نہیں فرمایا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے ان کا ایک حوالہ دیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، انہوں نے ترجمہ کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے؟ کیونکہ باپ کے مذہب سے تھا۔

مرزا ناصر احمد: وہ جواب آپ نے ابھی فقرے کہے ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہوتے ہیں، حدیثوں میں۔ میں تو صرف یہ بتا رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں آپ سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ وہ جو کیٹیگریز جنہوں نے نام ہی نہیں سنا۔ وہ بھی کافر۔ جس نے اتمام حجت کیا وہ بھی کافر ...... دونوں کس کیٹیگری میں؟ آپ کہتے ہیں یہ دونوں اس کیٹیگری میں آتے ہیں جو کہ ملت سے باہر نہیں۔

مرزا ناصر احمد: دونوں 451 کی ایک کیٹیگری نہیں بنتی۔ ایک قابل مواخذہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک، ایک نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک کفر کا تعلق ہے، دونوں کافر؟

مرزا ناصر احمد: کبھی آپ خالی کفر لیتے ہیں اور کبھی کفر اور اسلام دونوں اکٹھے لے لیتے ہیں۔ اگر آپ اس طرح چلیں کہ وہ ایمان نہیں لایا باوجود عدم علم کے، تو جو ایمان نہیں لایا اس کو ایمان لانے والا آپ کیسے کہیں گے؟ جو عملاً ایمان نہیں لایا اس کے متعلق آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایمان لے آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو گنہگار Definition ہوگئی۔

مرزا ناصر احمد: میں گنہگار کی بات نہیں کر رہا۔ پہلے یہ بات صاف ہو جائے۔ جو ایمان نہیں لایا، اسے ایمان لانے والا آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ نہیں کہہ سکتے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔

مرزا ناصر احمد: آگے فرق آجاتا ہے گناہ کا۔ یہ دوسرا اسٹیج ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں ناں کہ جو مرزا صاحب پر ایمان نہیں لائے ......

مرزا ناصر احمد: بچہ پانچ سال کا جو ایمان نہیں لائے اس کو ہمیں احمدی نہیں نا کہنا چاہئے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں کہیں گے آپ، یہ میں کہہ رہا ہوں۔ تو وہ کافر ہوگا؟

مرزا ناصر احمد: احمدی نہیں ہوا۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی مسلمان نہیں ہوا۔ کیا ہوا وہ؟

١٠٤

NATIONAL ASS

رہب ہے وہی اس کا ہے۔ اگر ماں باپ یا۔

ا کے کفار میں شمار ہوں گے۔ جو اس کے

......

ا بق وہ ایک نبی کو نہیں مانتے، کافر ہیں وہ۔ جو ہیں، وہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کے پوائنٹ آف ویو سے۔ میں آپ کے آف ویو بتا رہا ہوں۔ میرا پوائنٹ آف

اغلام احمد کو نبی نہیں مانتے؟

نتے۔ لیکن گناہ گار ہیں وہ ...... جو مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

کہتے ہیں تو گناہ گار کس Sence میں

و گیا ناں کہ غیر مسلم نہیں؟ میرا مطلب نے اس پر ...... ابھی یہ کل میں نے آپ میں شامل نہیں ہوئے۔" یہ یہاں تک خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

ت میں شامل نہیں ہوئے۔" دو قسم کے

صفحہ ٥٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: جو اس کے ماں باپ کا مذہب ہے وہی اس کا ہے۔ اگر ماں باپ اس کے نبی اکرم ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ مسلمان ہو گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: 452 اور وہ اسی کیٹگری کے کفار میں شمار ہوں گے۔ جو اس کے ماں باپ ہیں۔......

مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ظاہر میں یہی ہے......

جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ آپ کے مطابق وہ ایک نبی کو نہیں مانتے، کافر ہیں وہ۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ماں باپ کے جو ہیں، وہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی وجہ سے مسلمان ہیں۔ ملت اسلامیہ کے افراد ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ مسلمان ہیں ان کے پوائنٹ آف ویو سے۔ میں آپ کے پوائنٹ آف ویو سے پوچھ رہا ہوں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں اپنا پوائنٹ آف ویو بتا رہا ہوں۔ میرا پوائنٹ آف ویو ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: باوجود اس کے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے؟

مرزا ناصر احمد: باوجود اس کے کہ نبی نہیں مانتے۔ لیکن گناہ گار ہیں وہ......

جناب یحییٰ بختیار: پھر جب آپ ......

مرزا ناصر احمد: ...... اور Limited کفر جو مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ وہ آتا ہے، ان کو غیر مسلم نہیں کہا جاسکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: جب آپ ان کو کافر کہتے ہیں تو گناہ گار کس Sence میں کہتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: غیر مسلم نہیں وہ؟ یہ فیصلہ ہو گیا ناں کہ غیر مسلم نہیں؟ میرا مطلب فیصلے کا یہ ہے کہ میری بات واضح ہو گئی؟

جناب یحییٰ بختیار: یہی جو ہے نا جی میں نے اس پر ...... ابھی یہ کل میں نے آپ سے ذکر کیا تھا کہ: ”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ۔“ یہ یہاں تک Sentence ختم کرتے ہیں آپ۔ پھر اس کے بعد: ”خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

453 ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔“ دو قسم کے

١٠٥

صفحہ ٥٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

ہو سکتے ہیں۔..... جنہوں نے نام سنا اور جنہوں نے نام نہیں سنا اور شامل نہیں ہوئے..... خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

مرزا ناصر احمد : اس کا جواب میں نے کل دے دیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار : کل آپ نے دیا۔ آج پھر آپ کیونکہ Clarify کر رہے تھے اس کو کہ ”دائرہ اسلام“ سے آپ کا مطلب ......

مرزا ناصر احمد : میں نے تو آج یہ بتایا تھا کہ اس ”دائرہ اسلام“ کا لفظ استعمال کر کے Confusion پیدا ہوا ہے۔ اس واسطے ہم ایک Continuity جو ہے، اصل حقیقت، وہ لے لیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، کیونکہ آپ کی Writing میں ”دائرہ اسلام سے خارج“ بار بار آتا ہے۔

مرزا ناصر احمد : وہ، تو اس واسطے کہ سارے مسلمانوں میں تھا دائرہ اسلام۔ دائرہ اسلام وہ ہم نے بھی لے لیا۔ لیکن جو دائرہ اسلام کی حقیقت ہمارے ذہنوں میں ہے اس کو آپ قبول کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں؟

جناب یحییٰ بختیار : اور مرزا صاحب! اگر آنحضرت محمد ﷺ......

مرزا ناصر احمد : یہ جواب جو ہے کل بھی غالباً میں نے پڑھ کے سنایا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار : چونکہ آج صبح آپ نے ”دائرہ اسلام“ کو پھر Re-define کیا......

454 مرزا ناصر احمد : Re-define نہیں کیا۔

جناب یحییٰ بختیار : Clarify کیا؟

مرزا ناصر احمد : وضاحت کی اس کی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ اس کی ذرا ضرورت پڑ گئی مجھے تاکہ پوزیشن Clear ہو جائے۔

مرزا ناصر احمد : یہ جواب بھی دوبارہ سن لیجئے۔ شاید ضرورت نہ پڑے۔

جناب یحییٰ بختیار : وہ جواب تو آچکا ہے جی ریکارڈ پر، وہ تو آچکا۔

مرزا ناصر احمد : ”یہ بات خود اسی بیان سے ظاہر ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میرے ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔ پس جب میں ”کافر“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن

١٠٦

صفحہ ٥٣١

531 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03 میں دوسرے قسم کے کافر ہوتے ہیں۔ یعنی گناہ گار، جن کی میں پہلے ہی وضاحت کرچکا ہوں۔ یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ ”دائرہ اسلام سے خارج“ تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب ”مفردات راغب“ کے صفحہ ٢٤ پر کیا گیا ہے۔ جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

یہ پہلے اس کی تفصیل میں ہم گئے ہیں: ”ایک دون الایمان اور دوسرے فوق الایمان اور دون الایمان میں وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔ ”فوق الایمان“ ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں۔ اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں۔ اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ ”بعض لوگ 455 دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو ”فوق الایمان“ کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔ یعنی اس گروہ سے خارج ہیں۔ وہ نہیں شامل۔ مشکوٰۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا ہے۔ اس کی حمایت کرتا ہے۔ وہ اسلام سے خارج ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: یہ صبح آپ نے یہ کہا...... مرزا ناصر احمد: ”...... ہر گناہ گار جو ہے اس کے اوپر حدیث نے ”کفر“ کا لفظ استعمال کیا ہے.......“ جناب یحییٰ بختیار: صبح آپ نے کہا تھا کہ یہ مخلص ہیں اور دوسرے اتنے مخلص نہیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں اور ان کا اور اسلام سے نکلنے کے درمیان بڑا لمبا فاصلہ ہے۔ کوئی تھوڑا گناہ گار ہے، کوئی زیادہ گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کے گناہ معاف کرے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ دائرہ اسلام کے اندر دونوں رہتے ہیں؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، دونوں رہتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اب یہ جو آپ نے کہا ہے۔...... مخلص کم ہو یا زیادہ ہو...... یہ تو آپ ہی جو فیصلہ کریں گے آپ کا جو ذہن کہے گا وہی ہوگا؟ مرزا ناصر احمد: نہ، بالکل نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کیا Criterion ہے اس کا؟ مرزا ناصر احمد: اللہ تعالیٰ کا علم۔ جناب یحییٰ بختیار: جو آپ کے...... ١٠٧

صفحہ ٥٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ اللہ کا علم۔

جناب یحییٰ بختیار : اللہ تعالیٰ نے جو علم آپ کو دیا ہے اس کے مطابق؟

456 مرزا ناصر احمد : اللہ تعالیٰ کا علم۔

جناب یحییٰ بختیار : اللہ تعالیٰ کے علم کو کون جج Judge کرے گا؟ دیکھئے ناں، میں آپ سے Clarification مانگ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، میں Clarification ہی دے رہا ہوں۔ صرف اللہ Judge کرے گا۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ان کو سزا دینا یا نہ دینا اس دنیا کی زندگی سے تعلق نہیں رکھتا۔

جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! آپ نے فرمایا کہ:

"When I say I am a musalman, it is not for Mufti Mahmood or Maulana Moududi to say that I am not."

(جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ تو یہ مفتی محمود یا مولانا مودودی صاحب کے لئے نہیں ہے کہ وہ کہیں کہ میں نہیں ہوں)

مرزا ناصر احمد : یہی اب میں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : تو میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے تو پھر چھوڑ دیجئے آپ، اللہ تعالیٰ کیا فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ ہیں یا نہیں۔

مرزا ناصر احمد : یہی ہم نے ......

جناب یحییٰ بختیار : پھر آپ نے یہ کیوں لے لیا کہ:

If I decide then nobody has to interfere?

(اگر میں طے کرتا ہوں تو کسی کو مداخلت کا حق ......؟)

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، اپنے متعلق میں نے ہی Decide کرنا ہے۔ لیکن دوسرے کے متعلق میں نے Decide نہیں کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار : پوائنٹ یہ ہے نا جی کہ آپ دوسرے کے متعلق تو Decide کر رہے ہیں ......

مرزا ناصر احمد : نہیں، میں دوسرے ......

جناب یحییٰ بختیار : ......کہ اس کیٹگری کے کافر ہیں۔ اس کیٹگری کے کافر ہیں۔ کیا

١٠٨

صفحہ ٥٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

آپ ان کو یہ Right نہیں دیتے کہ آپ کس کیٹگری کے کافر ہیں؟ یہ سوال آتا ہے۔

457 مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے کہ آپ میری طرف وہ بات منسوب کر رہے ہیں جو میں نے نہیں کہی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایک Principle کی بات کر رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، جو میں نے بات نہیں کی وہ میری طرف منسوب نہ کریں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں نے کل آپ سے عرض کیا تھا کہ: If you claim a right, we concede the same right to someone else. (اگر اپنے لئے ایک حق کا دعویٰ کرتے ہیں تو کیا یہی حق آپ دوسروں کو دینے کو تیار ہیں)

مرزا ناصر احمد: بالکل۔ میں اپنے آپ کو ...... میں کوئی Superior race نہیں ہوں۔ میں بڑا عاجز انسان ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر اگر آپ یہ Right اپنے آپ کو دیتے ہیں کہ ”اگر میں کہوں کہ میں مسلمان ہوں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ آپ مسلمان نہیں“

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نے کہا یہی Right آپ دوسرے کو بھی دیتے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں دیتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر مفتی محمود صاحب کہیں کہ میں مسلمان ہوں ......

مرزا ناصر احمد: تو وہ مسلمان ہیں۔ میں بھی مسلمان کہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ کو یہ حق نہیں کہ آپ کہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد سوال یہ ہے کہ آیا آپ کی Writing teaching عقیدہ کے مطابق مفتی محمود کس کیٹگری میں ہیں؟ آپ کہتے ہیں اس کیٹگری کے کفار میں ہیں۔ 458

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ ......

458 جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے جی، میں بات کر رہا ہوں۔ Let me explain

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے یہ نہیں کہا۔ اس Context میں میں نے یہ کہا کہ

١٠٩

INAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ اللہ کا علم ۔

جناب یحییٰ بختیار: اللہ تعالیٰ نے جو علم آپ کو دیا ہے

456 مرزا ناصر احمد: اللہ تعالیٰ کا علم ۔

جناب یحییٰ بختیار: اللہ تعالیٰ کے علم کو کون جج Judge میں آپ سے Clarification مانگ رہا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں Clarification اللہ Judge کرے گا۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ان کو مرزا ق تعلق نہیں رکھتا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے فرمایا " I am a musalman, it is not for Mufti na Moududi to say that I am not." (جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ تو یہ مفتی محم لئے نہیں ہے کہ وہ کہیں کہ میں نہیں ہوں)

مرزا ناصر احمد: یہی اب میں کہہ رہا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: تو میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعا دیجئے آپ، اللہ تعالیٰ کیا فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ ہیں یا نہیں۔

مرزا ناصر احمد: یہی ہم نے ......

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ نے یہ کیوں لے لیا کہ en nobody has to interfere? (اگر میں طے کرتا ہوں تو کسی کو مداخلت کا حق ......)؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اپنے متعلق میں نے دوسرے کے متعلق میں نے Decide نہیں کرنا۔

جناب یحییٰ بختیار: پوائنٹ یہ ہے ناجی کہ آپ و کر رہے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں دوسرے ......

جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ اس کیٹگری کے کافر ہی

١٠٨

صفحہ ٥٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

یہ اس کیٹگری کے مسلمان ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کافر ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کیٹگری کے مسلمان ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کو بھی یہ حق ہے کہ وہ کہیں کہ آپ کس کیٹگری کے مسلمان ہیں یا نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: یا نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ”نہیں ہیں“ کا نہیں ان کو حق۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے نا کہ یہاں......

مرزا ناصر احمد: ...... لیکن یہ کہ میں کس کیٹگری کا مسلمان ہوں یہ ان کو حق نہیں۔ جب میں یہ حق خود تسلیم نہیں کرتا کہ میں یہ فیصلہ کروں کہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں، ان کا بھی حق نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں دیکھیں، آپ نے کیٹگریز تین بنائیں۔ ایک کیٹگری وہ جن کو آپ کہتے ہیں کہ بالکل دائرہ اسلام سے، امت سے باہر، خارج ہیں۔ اس میں کوئی آسکتا ہے میں نہیں کہتا کہ کون ہے کہ کون نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ابو جہل آگیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ابوجہل آسکتا ہے، اور کئی آسکتے ہیں۔ دوسری کیٹگری یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ دائرہ اسلام کے اندر ہے وہ، مگر وہ مخلص نہیں۔ اس لئے ان کو زیادہ سزا ملے گی، مگر وہ بھی کافر ہیں۔

مرزا ناصر احمد: 459 نہیں، نہیں، اوہو، اوہو میری طرف وہ بات منسوب نہ کریں جو میں نے نہیں کہی۔ میں نے یہ کہا ہی نہیں کہ ان کو زیادہ سزا ملے گی۔ میں تو کل سے یہ عاجزانہ عرض کر رہا ہوں کہ سزا دینا انسان کا کام نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اللہ تعالیٰ کا کام ہے، میرا بھی یہی مطلب ہے۔

مرزا ناصر احمد: وہ جو مرضی کرے۔ کم اور زیادہ کا فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ”گناہ گار ہیں“ ”جہنمی ہیں“ یہ جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، جہنمی ہیں، محمد بن عبدالوہاب رحمت اللہ علیہ کے مطابق، اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث کے ہیں۔ میری طرف کیوں وہ بات منسوب کرتے ہیں جس کا

١١٠

صفحہ ٥٣٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

یہ اس کیٹگری کے مسلمان ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: کافر ہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کیٹگری کے مسلم

جناب یحییٰ بختیار: ان کو بھی یہ حق ہے کہ وہ یا نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل۔

جناب یحییٰ بختیار: یا نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: "نہیں ہیں" کا نہیں ان کو

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے نا کہ یہاں......

مرزا ناصر احمد: ......لیکن یہ کہ میں کس کیٹگر میں یہ حق خود تسلیم نہیں کرتا کہ میں یہ فیصلہ کروں کہ وہ مسل

جناب یحییٰ بختیار: نہیں دیکھیں، آپ جن کو آپ کہتے ہیں کہ بالکل دائرہ اسلام سے، امت ہے میں نہیں کہتا کہ کون ہے کہ کون نہیں ہے......

مرزا ناصر احمد: ہاں، ابو جہل آ گیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ابو جہل آ سکتا ہے، او آپ سمجھتے ہیں کہ دائرہ اسلام کے اندر ہے وہ، مگر وہ بعض وہ بھی کافر ہیں۔

459 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اوہو، او میں نے نہیں کہی۔ میں نے یہ کہا ہی نہیں کہ ان کو زیادہ کر رہا ہوں کہ سزا دینا انسان کا کام نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا

جناب یحییٰ بختیار: اللہ تعالیٰ کا کام ہے

مرزا ناصر احمد: وہ جو مرضی کرے۔ کم اور

جناب یحییٰ بختیار: "گناہ گار ہیں" "ک

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، جہنمی ہیں، م اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث کے ہیں۔ میری طر

١١٠

535 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

میں اہل ہی نہیں ہوں کہنے کا؟

جناب یحییٰ بختیار: میں صرف یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ اگر کسی کو کسی کیٹگری کا مسلمان سمجھتے ہیں۔ کسی کیٹگری کا کافر سمجھتے ہیں۔ باقیوں کو بھی آپ یہ Right دیں گے؟

مرزا ناصر احمد: میں نے جو کہا، میں نے...... خدا کے لئے میری طرف وہ بات منسوب نہ کریں جو میں نے نہیں کہی۔

میں نے آپ کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ پہلی کتب میں، کتب سلف صالحین میں، "مفردات راغب" میں اور ابن تیمیہ کا حوالہ تھا۔ ان حوالوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ایمان، ایمان میں بھی فرق ہے اور کفر، کفر میں بھی فرق ہے اور ایک اسلام فوق الایمان ہے اور دوسرا ایمان جو ہے وہ دون الایمان ہے۔ لیکن میں نے ان کے حوالے سے جو بات کی......

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب !میں Clarification کر رہا ہوں تاکہ پوزیشن واضح Clear ہو۔

460 مرزا ناصر احمد: آپ میری طرف سے کیسے Clarification کرتے ہیں؟ مجھے تو وقت نہیں دیتے Clarification کرنے کا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کو جتنے وقت کی ضرورت ہے، کوئی میں اس کی بات نہیں کرتا......

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، آپ بات کر لیں۔ پھر مجھے بعد میں وقت دے دیں۔

جناب یحییٰ بختیار: میں صرف آپ کا حوالہ پیش کر رہا ہوں۔

Mr. Chairman: I think It would be better the witness should reply when the question is finished.

Mr. Yahya Bakhtiar: I wanted to sum up the position. For two days, I have been citing authorities from your religious literature, Mirza Sahib....

Mirza Nasir Ahmad: And I have been trying to explain them.

Mr. Yahya Bakhtiar: When you say, according to these writings, a particular person is Kafir, مسلمان نہیں ہے، دائرے

١١١

صفحہ ٥٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

پکا کافر ہے۔ you have been trying to explain that

مرزا ناصر احمد: آپ میرا پھر Explanation نوٹ کرلیں۔ ختم ہو گیا معاملہ۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ تو نوٹ ہورہا ہے۔ میں تو Sum up کے لئے کہہ رہا ہوں۔ یہ تو آپ کا آگیا ...... فتویٰ سمجھئے، Belief سمجھئے، opinion سمجھئے۔ یعنی کسی کے بارے میں تو آپ نے کہا کہ آپ کیا Interpretation کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: مجھے جب وقت دیں گے۔ میں اس وقت بولوں گا۔ آپ بتائیں۔

461 جناب یحییٰ بختیار: ابھی میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ اگر آپ کو یہ حق ہے کہ کسی پر opinion express کریں کہ کافر ہیں اور کافر کا یہ مطلب ہے آپ کا ، تو ان کو بھی یہ حق ہے کہ کہیں کہ فلانا کافر ہے، کس حد تک کافر ہے، کس حد تک کافر نہیں، مسلمان ہے کہ مسلمان نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: جی، میں بالکل نہیں کہتا کہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں Explain کر رہا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ ان کو یہ حق نہیں کہ کہیں کہ کافر ہیں، یا ہر حالت میں کہیں کہ مسلمان ہیں، مسلمان ہیں اس حد تک، مسلمان ہیں یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو میں نے کہا وہ یہ ہے کہ جیسا کہ احادیث کی کتب سے اور بڑے بزرگ جو ہمارے سلف صالحین تھے۔ ان کی کتب سے جو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہر ایک مسلمان ایک جیسا مسلمان نہیں ہوتا اور قرآن کریم کی آیات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں، اور دو آیات میں نے یہاں پیش بھی کی ہیں۔ جب ایک جیسا مسلمان نہیں ہوتا اور ہوتا مسلمان ہے، تو ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ بعض بہت بلند پایہ مسلمان اور بعض درمیانے درجے کے مسلمان، بعض کمزور مسلمان اور جو کمزوریاں ہیں، مسلمانوں کی ان کو نبی اکرم ﷺ اور دوسرے بزرگوں اور سلف صالحین نے بعض کمزوریوں کے متعلق ”کفر“ کے الفاظ استعمال کر دیئے گناہ کے معنی میں یا ناشکری کے معنی میں۔ تو ظاہری جو ان کا حکم ہے گناہ کا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کوئی پروانہ دے رہے ہیں۔ وارنٹ Issue کر رہے ہیں سزا کا، بلکہ ہر صاحب فراست، ہمارے بزرگ نے اللہ تعالیٰ کے نور سے یہ کہا کہ سزا دینا انسان کا کام ہی نہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، وہ جس کو چاہے۔۔۔۔۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک بات پر، آپ پھر Explain کر دیں، ایک معنی پھر بتا دیں۔ جب انہوں نے کہا کہ بعض جو گناہ گار ہیں ان کے بارے ”کافر“ کا لفظ آپ کہتے ہیں کہ

١١٢

صفحہ ٥٣٧

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

en trying to explain that پکا کافر ہے۔

مرزا ناصر احمد : آپ میرا پھر explanation

جناب یحییٰ بختیار : وہ تو نوٹ ہو رہا ہے۔ میں ہوں۔ یہ تو آپ کا آ گیا ..... فتویٰ مجھے، Belief سمجھئے، بارے میں تو آپ نے کہا کہ آپ کیا Interpretation '

مرزا ناصر احمد : مجھے جب وقت دیں گے۔ میں ا

461

جناب یحییٰ بختیار : ابھی میں صرف یہ پوچھ ر پر opinion express کریں کہ کافر ہیں اور کافر کا یہ م ہے کہ کہیں کہ فلانا کافر ہے، کس حد تک کافر ہے، کس حد تک نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد : جی، میں بالکل نہیں کہتا کہ نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں Explain ' یہ حق نہیں کہ کہیں کہ کافر ہیں، یا ہر حالت میں کہیں کہ مسلمان ہِ ہیں یا نہیں؟

مرزا ناصر احمد : جو میں نے کہا وہ یہ ہے کہ جیسا بزرگ جو ہمارے سلف صالحین تھے۔ ان کی کتب سے جو میں جیسا مسلمان نہیں ہوتا اور قرآن کریم کی آیات بھی اسی طرف نے یہاں پیش بھی کی ہیں۔ جب ایک جیسا مسلمان نہیں ہوتا لگتا ہے کہ بعض بہت بلند پایہ مسلمان اور بعض درمیانے در اور جو کمزوریاں ہیں، مسلمانوں کی ان کو نبی اکرم ﷺ اور دو بعض کمزوریوں کے متعلق ”کفر“ کے الفاظ استعمال کر دیئے میں ۔ تو ظاہری جو ان کا حکم ہے گناہ کا ، اس کا یہ مطلب نہیں۔ وارنٹ Issue کر رہے ہیں سزا کا، بلکہ ہر صاحب فراس نور سے یہ کہا کہ سزا دینا انسان کا کام ہی نہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کے

جناب یحییٰ بختیار : ایک فٹ پر، آپ پھر ہو دیں۔ جب انہوں نے کہا کہ بعض جو گناہ گار ہیں ان کے با

١١٢

537 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

استعمال ہوا ہے۔ کیا ان کے ساتھ یہ بھی استعمال ہوا ہے: ”اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟“ Read them together.

462

مرزا ناصر احمد : ”خرج من الاسلام“ یہ ہوا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : اگر ہوا ہے، اس کے باوجود بھی آپ مسلمان سمجھتے ہیں ان کو؟

مرزا ناصر احمد : وہ جو کہنے والے تھے، وہ بھی مسلمان کہتے ہیں ان کو۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہی میں کہتا ہوں، آپ وہ حوالے دیں جو یہ کہتے ہیں کہ ”اسلام سے خارج ہیں، پھر بھی وہ مسلمان ہیں ۔“

مرزا ناصر احمد : ”خرج من الاسلام“ والا حوالہ ہے۔

ایک رکن : نماز کا وقت ہو گیا، جناب!

جناب یحییٰ بختیار : جی، وہ آپ Verify کریں۔

مرزا ناصر احمد : یہ مشکوٰۃ کی حدیث ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ : یعنی ظالم کے ساتھ مشابہت کے متعلق یہ لفظ نبی اکرم ﷺ کے بقول مشکوٰۃ کے ”خرج من الاسلام“ استعمال کر لئے اور دوسرے جو آپ کے اقوال ہیں ، ان سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ یہودی بن گیا یا.......

جناب یحییٰ بختیار : اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ مسلمان بھی ہے جبکہ خارج از اسلام بھی ہے؟

مرزا ناصر احمد : ہاں جی۔

جناب یحییٰ بختیار : یہاں سے تو اس لئے پتہ نہیں لگتا کسی اور ریفرنس سے آپ کہیں گے؟

مرزا ناصر احمد : نہیں ، نہیں، اس سے بھی پتہ ......

جناب یحییٰ بختیار : کیونکہ یہاں تو نہیں لکھا ہے کہ مسلمان بھی ہے اور خارج بھی وہ ہے۔

مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا گہرا مطالعہ اور احادیث کا جب تک نہ ہو۔ اس وقت تک صحیح معنی پتہ نہیں لگ سکتے ۔

463

جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، میں یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ مرزا صاحب کہہ رہے ہیں کہ ”دائرہ اسلام سے خارج ہے اور کافر ہے“ اس کے بعد ......

مرزا ناصر احمد : ........ اور یہ دونوں ...... دیکھیں ناں آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب یہ کہتے ہیں، اور میں کہتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جو ظالم کے ساتھ چلتا ہے ”خرج من الاسلام“ اور کسی نے بھی اور خود آنحضرت ﷺ نے بھی اس کے وہ معنی نہیں لئے ۔

١١٣

صفحہ ٥٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ”کافر“ نہیں کہا یہاں۔ ”خارج از اسلام“ کہا اس کو۔

مرزا ناصر احمد: پھر وہی بات۔ جب میں نے کہا ”کفر“ ...... ”ر“ استعمال کیا تو آپ نے کہا نہیں، ”خرج من الاسلام“ کا لفظ دکھاؤ۔

جناب یحییٰ بختیار: دونوں اکٹھے استعمال جو کرنے کا بھی کوئی مطلب ہوتا ہے۔ مرزا صاحب بھی سوچ کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ Superfluous الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ سوچ کر کہہ رہے ہیں۔ وہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ ”کافر“ ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

مرزا ناصر احمد: کون کہتا ہے؟

جناب یحییٰ بختیار: مرزا بشیر الدین محمود صاحب۔

مرزا ناصر احمد: دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ایک Superfluous ہو گیا پھر۔

Mirza Nasir Ahmad: All right, take it as superfluous. ١؎

(مرزا ناصر احمد: اچھا سمجھئے! چلئے کہ یہ لفظ زائد ہے)

464 Mr. Yahya Bakhtiar: I would not take it because, I think, he is very carefully using these words; he would not use a superfluous word.

(جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں ایسے نہیں مانوں گا میں خیال کرتا ہوں وہ یہ الفاظ سوچ بچار سے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ زائد فالتو لفظ استعمال نہیں کریں گے)

مرزا ناصر احمد: اگر آپ کے دوسرے اظہار اعتقاد کے خلاف ہو یہ بات؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں اس پر جن الفاظ کی Interpretation سے آپ کی Clarification لے رہا ہوں۔ اعتقاد کی بات نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: میں تو اعتقاد کی بات کر رہا ہوں۔

١؎ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ لیجئے! مرزا محمود کے حوالہ سے منکر ہو گئے۔ اپنے ابا حضور کے بھی نہ رہے، گویا نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔

١١٤

صفحہ ٥٣٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: آپ تو اعتقاد کی بات کر رہے ہیں۔ میں آپ کے اعتقاد کے بارے میں Explanation لے رہا ہوں کہ جب غیر احمدیوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ "وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں" آپ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود وہ مسلمان ہیں۔

مرزا ناصر احمد: بالکل میں کہتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار: میری Understanding یہ ہے کہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ کافر ہیں، مسلمان نہیں ہیں۔

مرزا ناصر احمد: میں کبھی بھی نہیں سمجھا۔ ہاں میں اس گھر کا پلا ہوا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے کبھی یہ معنی نہیں لئے آپ نے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، وہ Explanation آپ دے رہے ہیں۔ باقی Authorities آپ دے رہے ہیں۔

مرزا ناصر احمد: میں نے حدیث کے حوالے دیئے ہیں اور بیسیوں احادیث کے حوالے کہیں تو آپ کے حوالے کردیں گے۔

جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کافر نہیں کہا؟

Mr. Chairman: Now we are to break for Maghreb Prayers.

465 The question of the Attorney- General remains unanswered. The witness may reply to that question. The question is: if the witness dubs anybody non- muslims, whether that person has a right to ask them or not?

(جناب چیئرمین: اب نماز مغرب کے لئے وقفہ کرنا ہے۔ اٹارنی جنرل کے سوال کا ابھی جواب باقی ہے۔ گواہ انہیں سوال کا جواب دیں گے کہ کیا ایک شخص کو حق پہنچتا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. To that I am coming back because that has remained unanswered.

(جناب یحییٰ بختیار: میں اس پر آرہا ہوں۔ یہ سوال جواب کے بغیر رہ گیا ہے)

Mr. Chairman: Because that was main question and that remained unanswered.

١١٥

صفحہ ٥٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

---------

(The Delegation left the Chamber)

---------

Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting. (Pause)

(The Committee of the House is adjourned to meet at 8:00 p.m. after Maghreb Prayers)

---------

(The Special Committee re- assembled after Maghreb prayers Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair)

Mr. Chairman: Should we call them? (Pause)

جناب چیئرمین: سید عباس حسین گردیزی صاحب نظر نہیں آ رہے۔ وہ تو تیار کر رہے ہیں کیس۔

466

(The Delegation entered the Chamber)

Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General.

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں کچھ اور حوالوں کا ذکر کر دیتا ہوں تاکہ ڈھونڈنے میں ٹائم نہ لگے۔

مرزا ناصر احمد: کل کہا تو تھا ناں، توہین عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت فاطمہؓ کے متعلق تھا، تو وہ ہمارا جواب تیار ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ نے ان کو Admit کرنے کے بعد Explain کرنا ہے۔ پڑھ لیجئے۔ اگر فائل کرنا چاہتے ہیں تو فائل کر لیں۔

مرزا ناصر احمد: پڑھ دینا اچھا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: اگر Brief ہو تو۔

مرزا ناصر احمد: لکھے ہوئے حوالے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو آپ نے حوالے پڑھے تھے۔ اس سلسلے میں ہمیں اس زمانے کے حالات کا جاننا ضروری ہے۔

١١٦

صفحہ ٥٤١

541 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

١٨٥٠ء، ١٨٦٠ء اور ١٨٨٠ء کے درمیان حکومت برطانیہ اپنے ساتھ ایک زبردست فوج پادریوں کی بھی لے کر آئی تھی اور ١٨٧٠ء کے قریب ایک پادری عماد الدین صاحب نے ایک مضمون لکھ کر امریکہ بھیجا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ سارا ہندوستان عیسائی ہو جائے گا اور ہندوستان کے مسلمان بھی عیسائی ہو جائیں گے اور اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی مسلمان کو دیکھے تو اس کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور اس وقت اتنی جرأت پیدا ہوئی بعض پادریوں میں کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ عنقریب نعوذ باللہ خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ معظمہ پر لہرایا جائے گا۔

467 اس وقت دین متین کے دفاع کے لئے اور اسلام کے جوابی حملوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے متعدد علماء کو پیدا کیا جن میں سے میں تین نام لوں گا۔ نواب صدیق حسن خان صاحب، مولوی آل حسن صاحب اور مولوی رحمت علی صاحب مہاجر مکی۔ ان کے علاوہ احمد رضا صاحب وغیرہ کے بھی حوالے ہیں اور بھی تھے اور حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ بھی تھے اور اتنی زبردست جنگ شروع ہوئی کہ اس کا اندازہ لگانا اس زمانے کے لوگوں کے لئے مشکل ہے۔ اس وقت پادریوں نے حکومت برطانیہ کے بل بوتے پر اس قدر گندی گالیاں دیں ہمارے محبوب حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کو کہ جن کو سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان سب نے جن کا میں نے نام لیا ہے...... اور کچھ اور جو ہیں انہوں نے پادریوں کی گندہ دہنی کا جواب انہی کی کتاب انجیل سے نکال کر، جو انجیل نے ایک خاکہ کھینچا تھا، وہ الزامی جواب جیسے کہتے ہیں، وہ دیا اور اعلان کیا۔

بڑا ذہن رکھتے تھے یہ سب علماء اللہ تعالیٰ نے فراست دی تھی۔ اسلام کا پیار دیا تھا ان کو ایک طرف ان کے لئے یہ مشکل تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے نبی اور بزرگ بندے اور دوسری طرف یہ تھی کہ ان کے نام پر حضرت محمد ﷺ حضرت خاتم الانبیاء جو انبیاء کے اول بھی ہیں اور آخر بھی ہیں۔ ان کی عظمت اور ان کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ فراست کے نتیجے میں ان بزرگوں نے دو مختلف شخصیتیں بنادیں۔ ایک یسوع کی شخصیت ایک مسیح علیہ السلام کی شخصیت۔ ایک وہ شخصیت جسے انجیل پیش کر رہی ہے اور ایک وہ شخصیت جسے قرآن عظیم پیش کر رہا ہے اور انہوں نے یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی اور عزت و احترام ان کا کرنا ضروری ہے۔ لیکن جو حملہ ہم کر رہے ہیں وہ مسیح علیہ السلام پر نہیں، وہ اس یسوع پر ہے جس نے تمہارے نزدیک خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ تو دو Personalities بالکل علیحدہ علیحدہ کر کے اس طرح اللہ تعالیٰ کی اس دی ہوئی فراست کے

١١٧

صفحہ ٥٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

نتیجے میں وہ اس قابل ہوئے کہ اس دجل کو پاش پاش کریں جو اسلام کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا۔

468 اس میں پہلے دوسرے بزرگوں کے...... اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے...... ان کے کچھ حوالے پڑھتا ہوں، بعد میں بانی سلسلہ احمدیہ کے حوالے پڑھوں گا۔

جناب مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب ”استفسار“ میں لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کونسا مرتبہ درشت گوئی کا اٹھا رکھا جو یہودیوں کے خطاب میں ان کی کفریات پر نہیں کیا۔“ (استفسار ٤٧) پھر وہ لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ احیائے میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا۔ اس کے بعد سب کے سامنے دھڑ سے ملا کر کہا: ”اٹھ کھڑا ہو“ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اشعیاء اور ارمیہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی سی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔ بلکہ اس سے بہتر ۔“

یہ بھی ’استفسار‘ کا حوالہ ہے۔ دوسرا حوالہ ٣٤٦ کا ، تیسرا بھی صفحہ ٣٤٦ ”کلیۃً“ یہ بات ہے کہ اگر پیش گوئیاں انبیاء بنی اسرائیل اور حواریوں کی ایسی ہی ہیں جیسے خواب اور مجذوبوں کی بات ۔

اسی کتاب کے صفحہ ١٤٣ پر یسوع نے کہا تھا: ”لومڑیوں کے لئے گھر ہیں اور پرندوں کے لئے بسیرے ہیں پر میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔“

”دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا کہ اقبح ترین ہے۔“ (٣٤٩)

اسی کتاب کے صفحہ ٣٧٠ پر فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درخت پر صرف اس جہت سے کہ اس میں پھل نہ تھا، خفا ہوئے، پر جمادات پر خفا ہونا عقلاً کمال جہالت کی بات ہے۔“

پھر صفحہ ٤١٩ پر فرماتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کو حد سے زیادہ جو گالیاں دیں تو ظلم کیا۔“ اسی کتاب کے صفحہ ٤٧٠ پر فرماتے ہیں: ”تربیت 469 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی از روئے حکمت کے بہت ہی ناقص ٹھہری۔“ پھر صفحہ ٤٧٠ پر فرماتے ہیں: ”ان کے علاوہ ایک بزرگ مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی...... اچھا یہاں یہ دوسرا حوالہ شروع ہے۔“

ان کے علاوہ میں نے بتایا، مولوی رحمت ہیں۔ ان کی کتاب کا حوالہ صفحہ ٤٧٠ ”ازالۃ الاوہام“ ہے۔ ان کی کتاب کا نام مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی جن کی کتاب کا نام ازالۃ الاوہام ہے، وہ اپنی اس کتاب میں جو فارسی میں ہے، لکھتے ہیں: ”جناب مسیح کے ہمراہ بہت سی عورتیں چلتی تھیں اور اپنا مال انہیں کھلاتی تھیں اور فاحشہ عورتیں آنجناب کے پاؤں چومتی تھیں اور آنجناب مرتا مریم کو دوست رکھتے تھے اور خود دوسرے لوگوں کو پینے کے لئے شراب عطا کرتے تھے۔“

اسی طرح ”زود کوثر“ از شیخ محمد اکرم ، ایم۔اے ، لکھتے ہیں کہ ...... حضرت شاہ عبدالعزیز

١١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKIS

کہ: ”ایک دفعہ ایک پادری شاہ صاحب کی خدمت میں آئے حبیب اللہ ہیں؟ (پادری نے یہ سوال کیا ) آپ نے فرمایا: ہاں۔ ل امام حسین فریاد نہ کی یا یہ فریاد سنی نہ گئی؟ شاہ صاحب نے کہا لیکن انہیں جواب آیا کہ تمہارے نواسے کو قوم نے ظلم سے شہید پنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا یاد آ رہا ہے۔“

ے صاحب، بڑے مشہور ہمارے مذہبی لیڈر ہیں، بریلویوں کے ایسے کو خدا کہتے ہیں (یسوع کو) جو یقیناً دغا باز ہے۔ پچھتا تا بھی ا کی دو جوروئیں ہیں۔ دونوں پکی زناء کار، حد بھر کی فاحشہ، ایسے کو جی کمال مقدس پاک کمائی ہے۔ ایسے کو جس نے باندی غلام بنانا بجہ کی ناپاک ظالمانہ وحشیانہ حرکت کی اور پھر جانی کام خدمت لی الفوں کی عورتیں پکڑ کر حرم بناؤ۔ ان سے ہم بستری کرو۔ ایسے کو ہ راست بازی نہیں آتی۔ اسے ایمان سے کچھ علاقہ نہیں۔ جو اس بلکہ اسی کا اکلوتا بیٹا خود ہی ملعون ہے۔ پھر بھی ایسی لعنتی شریعت پر ام مانگنا ، اس کے ترک پر عذاب کرتا ہے۔ ایسے کو جو اتنا جاہل کہ بیٹے کو باپ سے عمر میں بڑا بنایا۔ ایسے کو جو اتنا بھلکڑ کہ اپنے کہیں داؤد تک اس کے ٤٢ باپ ، کہیں ١٥ بڑھا کر ٧٢ باپ......“

احمد رضا خان صاحب کا حوالہ ہے۔ ’العطایا النبویہ فی الرضویہ صفحہ ٣٠ پر موجود ہے یہ کتاب ۔ پھر ’اہل حدیث‘ امرتسر اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے۔“

ہے کہ : ”جب کسر نفسی کا عذر باطل ہوا تو نکوئی کی نفی کرنے سے م ہوتا بظاہر زنا ثابت ہوا، اسی طرح انجیل کے مطالعے سے یہ توں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا۔“

ارچ ١٩٣٩ء : ”ظاہر ہے کہ اجنبی عورت بلکہ فاحشہ اور نا اور وہ بھی اسی کے بالوں سے ملا جانا کس قدر احتیاط کے نبیہ کے صریح خلاف ہیں۔“

١١٩

صفحہ ٥٤٣

543 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت لکھا ہے کہ: ”ایک دفعہ ایک پادری شاہ صاحب کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ کیا آپ کے پیغمبر حبیب اللہ ہیں؟ (پادری نے یہ سوال کیا) آپ نے فرمایا: ہاں۔ وہ کہنے لگا: تو پھر انہوں نے بوقت قتل امام حسین فریاد نہ کی یا یہ فریاد سنی نہ گئی؟ شاہ صاحب نے کہا کہ نبی صاحب نے فریاد تو کی، لیکن انہیں جواب آیا کہ تمہارے نواسے کو قوم نے ظلم سے شہید کیا ہے۔ لیکن ہمیں اس وقت اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا یاد آ رہا ہے۔“

”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ“

یہ مولانا احمد رضا خاں بڑے صاحب، بڑے مشہور ہمارے مذہبی لیڈر ہیں، بریلویوں کے امام ہیں، وہ کہتے ہیں: ”نصارٰی470 ایسے کو خدا کہتے ہیں (یسوع کو) جو یقیناً دغا باز ہے۔ پچھتاتا بھی ہے۔ تھک جاتا بھی ہے۔ ایسے کو جس کی دو جوروئیں ہیں۔ دونوں پکی زناء کار، حد بھر کی فاحشہ، ایسے کو جس کے لئے زنا کی کمائی فاحشہ کی خرچی کمال مقدس پاک کمائی ہے۔ ایسے کو جس نے باندی غلام بنانا جائز رکھ کر نصاریٰ کے دھرم میں حد درجہ کی ناپاک ظالمانہ وحشیانہ حرکت کی اور پھر خالی کام خدمت ہی کے لئے نہیں، بلکہ موسیٰ کو حکم دیا کہ مخالفوں کی عورتیں پکڑ کر حرم بناؤ۔ ان سے ہم بستری کرو۔ ایسے کو جس کی شریعت محض باطل ہے۔ اسے راست بازی نہیں آتی۔ اسے ایمان سے کچھ علاقہ نہیں۔ جو اس کی شریعت پر عمل کرے ملعون ہے۔ بلکہ اسی کا اکلوتا بیٹا خود ہی ملعون ہے۔ پھر بھی ایسی لعنتی شریعت پر عمل کا حکم دیتا، بندوں سے اس کا التزام مانگنا، اس کے ترک پر عذاب کرتا ہے۔ ایسے کو جو اتنا جاہل کہ نہایت سیدھا سادا حساب نہ کر سکا۔ بیٹے کو باپ سے عمر میں بڑا بنایا۔ ایسے کو جو اتنا بھکڑ کہ اپنے اکلوتوں کے باپوں کی صحیح گنتی نہ کر سکا۔ کہیں داؤد تک اس کے ٢٧ باپ، کہیں ١٥ بڑھا کر ٤٢ باپ.....“ وغیرہ وغیرہ۔ خرافات ملعونہ۔ یہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا حوالہ ہے۔ ”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ پھر فتاویٰ عزیزیہ صفحہ ٧٤٢ موجود ہے یہ کتاب۔ پھر ”اہل حدیث“ امرتسر ٣١/ مارچ ١٩٣٩ء لکھتے ہیں: ”مسیح خود اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے۔“

پھر اہل حدیث میں آیا ہے کہ: ”جب کہ نفسی کا عذر باطل ہوا تو نکوئی کی نفی کرنے سے مسیح کا اور انسانوں کی طرح غیر معصوم ہونا بظاہر ثابت ہوا۔ اسی طرح انجیل کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے اجنبی عورتوں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا۔“

471 ”اہل حدیث“ ٣١/ مارچ ١٩٣٩ء : ”ظاہر ہے کہ اجنبی عورت بلکہ فاحشہ اور بدچلن عورت سے سر کو اور پاؤں کو ملوانا اور وہ بھی اسی کے بالوں سے ملا جانا کس قدر احتیاط کے خلاف ہے۔ اس قسم کے کام شریعت الہیہ کے صریح خلاف ہیں۔“

١١٩

Y OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

نتیجے میں وہ اس قابل ہوئے کہ اس دجل کو پاش پاش

468 اس میں پہلے دوسرے بزرگوں ک حوالے پڑھتا ہوں، بعد میں بانی سلسلۂ احمدیہ کے

جناب مولوی آل حسن صاحب اپنی علیہ السلام نے کونسا مرتبہ درشت گوئی کا اٹھا رکھا کیا۔“ (استفسار٢٧) پھر وہ لکھتے ہیں: ”حضرت عیسیٰ کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ کہا: ”اٹھ کھڑا ہو“ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اشیاع اور نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔ بلکہ اس س

یہ بھی ”استفسار“ کا حوالہ ہے۔ دوس ہے کہ اگر پیش گوئیاں انبیاء بنی اسرائیل اور حوار

اسی کتاب کے صفحہ ١٣٢ پر یسوع کے لئے بسیرے ہیں پر میرے لئے کہیں سر ر۔

”دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور مرتا اسی کتاب کے صفحہ ٤٧٠ پر فرماتے ہ جہت سے کہ اس میں پھل نہ تھا، خفا ہوئے، پر ج

پھر صفحہ ٤١٩ پر فرماتے ہیں: ”حضر گالیاں دیں تو ظلم کیا۔“ اسی کتاب کے صفحہ ٢ کی از روئے حکمت کے بہت ہی ناقص ٹھہری بزرگ مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی.....

ان کے علاوہ میں نے بتایا، مولوی الاوہام‘ ہے۔ ان کی کتاب کا نام مولوی رحمت ہے، وہ اپنی اس کتاب میں جو فارسی میں ہے تھیں اور اپنا مال انہیں کھلاتی تھیں اور فاحش مریم کو دوست رکھتے تھے اور خود دوسرے

اسی طرح ”رودکوثر“ از شیخ محمد ا

صفحہ ٥٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

اور حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں ”تفہیم القرآن جلد ١ صفحہ ٤٩١ پر: ”حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں۔ (یسوع کا میں نے کہا تھا ناں۔ فرق ہے یہ) ”حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں جو عالم واقعہ میں ظاہر تھے۔ بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اسے خدا بنا لیا۔“

اس پس منظر میں اب میں لیتا ہوں ”تقویۃ الایمان“ نواب صدیق حسن ..... نہیں یہ تو شاہ اسماعیل شہید صاحب تشریح فرماتے ہیں کہ: ”اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم ”کن“ سے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتہ جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے۔“

بانی سلسلہ احمدیہ کے ..... جو آپ نے بعض حوالے یہاں پڑھے تھے ..... اس سلسلے میں بتاتا ہوں، آپ لکھتے ہیں کہ: ”اس زمانے میں جو کچھ دین اسلام اور رسول اکرم ﷺ کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔ کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانے میں مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے عرصے میں اس ملک ہند 472 میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں۔ بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے۔ یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے۔ وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے .....“

لے مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ملک ہند میں چھ کروڑ کتابیں اسلام کے خلاف لکھی گئیں۔ زمین و آسمان کے درمیانی خلاء سے بھی بڑا جھوٹ ہے۔ ہم قادیانی نوجوانوں سے استدعا کرتے ہیں کہ مرزا مسرور سے کہو کہ وہ چھ کروڑ نہیں، چھ لاکھ بھی نہیں صرف ایک لاکھ کتابیں جو اسلام کے خلاف تالیف ملک ہند میں ہوئیں ان کتب کی فہرست نام بمع مصنف ومطبع کے شائع کر کے مرزا قادیانی کے چہرہ سے کذب کے سیاہ داغ کو مٹا کر اس کے منحوس چہرہ کو بندروں اور سوروں کی طرح ہونے سے بچائیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) مرزا قادیانی تو ہے نہیں ورنہ ہم اس سے یہ مطالبہ کرتے۔ کیونکہ مرزاتو بقول خود ”خدا کی لعنت کا مارا بہت سا جھوٹ بول کر بھی آخر موت سے نہ بچ سکا۔“ (انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ١٤) مرزا قادیانی نے یہ جھوٹ بول کر جھوٹوں کے امام ابلیس سے بھی جھوٹ بولنے کا مقابلہ جیت لیا ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ بعض جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور بعض مہا جھوٹے جھوٹ کی ..... ہیں۔ لگتا ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ بول کر مرزا قادیانی نے جھوٹ کے ساتھ ”طاقت رجولیت کا اظہار کیا ہے“ تفصیل قادیانی کتاب اسلامی قربانی کے ص ١٢ پر ملاحظہ ہو۔ ورنہ سمجھا جائے کہ انہوں نے ”کتوں کی طرح جھوٹ کا مردا کھایا ہے ۔“ (فرمان مرزا قادیانی مندرجہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩) ہم نے تو ”عطائے تو بلقائے تو“ پر عمل کیا ہے۔

١٢٠

545 NATI

فہرست، نام، قومیت اور جگہ دشمن رسول بن گئے۔ اس قدر چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری دنیا کے عزیز ہیں، ٹکڑے ٹکڑے اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ اور اس توہین سے جو ہمارے

ص ٥١، ٥٢، خزائن ج ٥ ص ب ہے، بانی سلسلہ احمدیہ کی

کرتے ہیں: ”اور یادرہے کہ نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد

مناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی ، وہ ہمارے مقابل پر کرتے پنے تئیں صرف بندہ اور نبی ﷺ پر سچے دل سے ایمان ایک شخص یسوع نام کو مانتے کوئی کیا بلکہ نبیوں کو بٹ مار سخت مکذب تھا اور اس نے دعویٰ پ لوگ خوب جانتے ہیں ی......“

(آریہ دھرم آخری ٹائٹل)

صفحہ ٥٤٥

/ NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

اس کا ذکر پادری عمادالدین صاحب کی کتاب میں پوری فہرست، نام، قومیت اور جگہ ہے جس کی طرف یہاں حوالہ ہے : ”......وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمنِ رسول بن گئے۔ اس قدر بدگوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم ﷺ کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن لرز پڑتا اور دل رو رو کر گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی و دلی عزیزوں کو، جو دنیا کے عزیز ہیں، ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور اُنہیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں یہ رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو ان گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول ﷺ کی گئی، دکھا۔“

یہ ”روحانی خزائن“ جلد پانچ، یا ”آئینہ کمالات اسلام ص ٥١، ٥٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً“ کا حوالہ ہے اور اس کی تاریخ اشاعت ١٨٩٧ء، بڑی پرانی کتاب ہے، بانی سلسلہ احمدیہ کی لکھی ہوئی ہے۔

”انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً“ میں آپ تحریر کرتے ہیں: ”اور یادر ہے کہ یہ ہماری رائے (جو ہم لکھ رہے ہیں) اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹ مار کہا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“

473 پھر آپ (انجام آتھم ص ١٣) پر فرماتے ہیں: ”اس بات کو ناظرین یادرکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہم نے اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔ عیسائی لوگ درحقیقت ہمارے اس عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راست باز جانتے تھے اور آنے والے نبی محمد ﷺ پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے تھے۔ جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا بلکہ نبیوں کو بٹ مار کے ناموں سے یاد کرتے تھے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی کا سخت مکذب تھا اور اس نے یہ بھی پیشین گوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔ سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی......“

(آریہ دھرم آخری ٹائٹل)

١٢١

صفحہ ٥٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

پھر آپ لکھتے ہیں: ”ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں...... چنانچہ اس پلید، نالائق، فتح مسیح (پادری ہے) اس نے اپنے خط جو میرے نام بھیجا آنحضرت ﷺ کو بہت گندی گالیاں دیں......(پڑھنے کی ضرورت نہیں اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی گالیاں دیں) پس اس طرح اُس 474 مردار اور خبیث فرقے نے، جو مردہ پرست ہے۔ ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں۔“

پھر آپ (ترغیب المومنین ص ١٩ حاشیہ) میں لکھتے ہیں: ”هذا ما كتبنا من الاناجيل علیٰ سبیل الزام وانا نکرم مسیحا ونعلم وانه كان تقيا ومن الانبياء الكرام“

(ہم نے یہ سب باتیں از روئے اناجیل بطور الزام خصم لکھی ہیں۔ ورنہ ہم تو مسیح کی عزت کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ پارسا اور برگزیدہ نبیوں میں سے تھا) یعنی جو کچھ لکھا گیا وہ یسوع کے متعلق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نہیں۔

پھر ”ست بچن“ میں لکھتے ہیں: ”عجیب تر یہ کفارہ ، یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا۔ حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا اور یہ دادیاں اور نانیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی۔ یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی۔ (دیکھو یشوع: ٢) (آگے حوالہ دیا ہے) اور دوسری نانی، جو ایک طور سے دادی بھی تھی ، اس کا نام تمر ہے۔ یہ خانگی، بدکار عورتوں کی طرح حرام کار تھی۔ دیکھو پیدائش، ١٩:٣٨ سے ٣٠ اور ایک نانی یسوع صاحب کی ، جو ایک رشتے سے دادی بھی تھی بنت سبع کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہی پاک دامن تھی جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا۔ (نعوذ باللہ ) دیکھو ٢ سموئیل، ١١: ٤“ اسی طرح یہ بیچ میں آگیا ہے۔

475 یہ نواب صدیق حسن خاں صاحب کا حوالہ: ”ایک بار ایلچی روم پاس بادشاہ انگلستان کے گیا...... اس مجلس میں ایک عیسائی نے اسے مسلمان دیکھ کر یہ طعن کیا کہ تم کو کچھ خبر ہے۔ تمہارے پیغمبر کی بی بی کو لوگوں نے کیا کہا تھا۔ اس نے جواب دیا۔ ہاں! مجھ کو یہ خبر ہے۔ اسی طرح کی دو بیبیاں تھیں۔ جن پر تہمت زناء کی لگائی گئی۔ مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہام ہوا اور دوسری بی بی ایک بچہ بھی جن لائیں۔ وہ عیسائی مبہوت ہو کر رہ گیا۔ یہ جواب بطور موازنہ کے دیا گیا تھا۔ واسطے الزام خصم کے، نہ کہ مطابق نفس الامر کے۔ چنانچہ حقیقت میں تو عائشہ ومریم دونوں اسی عیب سے پاک تھیں۔“

١٢٢

صفحہ ٥٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

تو الزامی جواب جو ہے وہ اس کی فہرست میں ہی آتا ہے۔

اسی طرح بانی سلسلہ احمدیہ نے ”ایام اصلح“ میں لکھا ہے: ”ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے خلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٩٣) پر آپ لکھتے ہیں: ”ہم لوگ جن حالات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راست باز مانتے ہیں تو پھر کیوں کر ہماری قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں؟“

پھر آپ فرماتے ہیں: ”حضرت مسیح علیہ السلام اپنے اقوال کے ذریعے اور اپنے افعال کے ذریعے سے اپنے تئیں عاجز ٹھہراتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کوئی بھی صفت ان میں نہیں ایک عاجز انسان ہیں۔ نبی اللہ بے شک ہیں۔ خدا کے سچے رسول ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔“

پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ”اگر یہ اعتراض ہے کہ کوئی نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفر ہے، اس کا جواب بھی یہی ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین! اور ہم سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور تعظیم سے دیکھتے ہیں۔ بعض عبارات جو اپنے محل پر چسپاں ہیں وہ بہ نیت توہین نہیں بلکہ بہ تائید توحید ہیں۔ انما الاعمال بالنیات!

اور تمہارے جیسے عقل والوں نے صاحب ”تقویۃ الایمان“ (جن کا میں نے ابھی حوالہ پڑھا ہے) کو بھی اسی خیال سے کافر کہا تھا۔ بعض کلمات ان کے اس کتاب میں ایسے معلوم ہوئے کہ گویا وہ انبیاء کی توہین کرتا ہے اور چوہڑوں اور چماروں کو ان کے برابر جانتا ہے۔ ہماری طرح ان کا بھی یہی جواب تھا۔“

پھر آپ ”تذکرۃ الشہادتین“ میں فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تائیدات الٰہیہ بھی شامل تھیں اور فراست صحیحہ کے لئے کافی ذخیرہ تھا کہ یہود ان کو شناخت کر لیتے اور ان پر ایمان لاتے۔ مگر وہ دن بدن شرارت میں بڑھتے گئے اور وہ نور جو صادق میں ہوتا ہے وہ ضرور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں مشاہدہ کر لیا تھا۔“

پھر آپ فرماتے ہیں اعجاز احمدی میں: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے راست باز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید

١٢٣

صفحہ ٥٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

من عاد لی ولیا .....

477 ”دست بدستن اس کو پکڑ لیتا ہے۔“ ان حوالوں سے ثابت ہے کہ جس وقت عیسائیت اپنے پورے غلبے کے ساتھ ...... جو ان کی دنیوی طاقت کے ساتھ ملا تھا ...... اسلام پر حملہ آور ہوئی اور جب یہ ان کی یلغار ہندوستان میں پہنچی تو ہندوستان میں اس یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ پاک مقدس انسان بھی پیدا ہوئے جن کا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ بانی سلسلہ احمدیہ بھی کھڑے ہوئے اور ہر دو نے ایک ہی راستہ اختیار کیا۔ یعنی یسوع کو ایک علیحدہ شخصیت قرار دے کر اور بائبل کے اور انجیل کے حوالوں سے ان کے اوپر یہ لگایا الزام۔ تو یہ جواب ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ریکارڈ پر آچکا ہے جی! آپ نے سنا دیا ہے۔

مرزا ناصر احمد: اچھا جی! سنا دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ دوسرا تھا حضرت فاطمہؓ ......

جناب یحییٰ بختیار: میں ...... اس سے پہلے ذرا Verify کر لینے دیجئے۔ پہلے مرزا صاحب! آپ نے کہا کہ دو شخصیتیں ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔ ایک عیسائیوں کے مطابق یسوع کی، دوسری قرآن کریم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ حقیقت میں کیا دو شخصیتیں گزری ہیں یا ایک؟

مرزا ناصر احمد: حقیقت میں یسوع ہے ہی نہیں۔ وہ یسوع جس کو خدا بنایا گیا۔ وہ Exist ہی نہیں کرتا، صرف اس کی تصویر ملتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ کی نظر میں صرف ایک ہی ہے؟

مرزا ناصر احمد: اصل تو ......

478 جناب یحییٰ بختیار: اسلام کی نظر میں یا آپ کی نظر میں؟

مرزا ناصر احمد: اسلام کی نظر میں ہمارے نزدیک وہ شخصیت ہے جو قرآن کریم نے بیان کی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس قرآن کریم میں جو شخصیت ہے، ان کی دادیاں تھیں ......؟

مرزا ناصر احمد: وہ شخصیت ......

١؎ دادیاں اس کی ہوں گی جس کا دادا ہو، دادا اس کا ہو گا جس کا باپ ہو۔ مسیح بن مریم علیہ السلام تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ خوب سوال کیا، اٹارنی جنرل صاحب نے۔

١٢٤

صفحہ ٥٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ......ان کی نانیاں تھیں؟

مرزا ناصر احمد: دادیاں، نانیاں تھیں۔ لیکن یہ جو دادیوں، نانیوں پر الزام لگایا گیا ہے۔ یسوع کے ماننے والوں نے لگایا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ سمجھ گیا۔ آپ نے جو تفصیل بتائی، یہ جو خیالی انہوں نے ان پر لگایا گیا ہے۔ مرزا صاحب نے اس کو Condemn کیا یا Justify کیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: بڑا سخت مقابلہ کیا عیسائیوں سے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! پہلی بات تو یہ دیکھیں۔ جو دو شخصیتیں ہیں آپ نے کہا کہ ان کی جو شخصیت ہے وہ آپ کی نظر میں نہیں Exist کرتی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں! بات یہ ہے کہ اس وقت خداوند یسوع مسیح کا نعرہ لگا کے اسلام پر حملہ آور ہوئے تھے۔ جو جوابی حملہ ہوا وہ خداوند یسوع مسیح پر ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دراصل جب آپ کہتے ہیں: ”خداوند یسوع مسیح پر ہے۔“ آپ کے دماغ میں تو یہ ٹھیک ہے۔ عیسائیوں کا ایک Concept ہے Jesus Christ کا۔ مگر ریفرنس تو اسی ایک شخصیت اسی کی دادیوں کی طرف ہے۔ جس کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے۔ وہ غلط اس کو سمجھے۔ انہوں نے ان کی تعلیمات کو غلط سمجھا۔ وہ اس کو غلط سمجھے۔

479 مرزا ناصر احمد: اور ان کی دادیوں پر الزام لگایا ان کی نانیوں پر الزام لگایا۔ خداوند یسوع جو ہے ان کے تعلقات عورتوں کے......جیسا کہ میں نے تین چار مختلف علماء کی کتب سے میں نے یہاں حوالے دیے......

جناب یحییٰ بختیار: پھر میں آگے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مجھے گالی دے تو کیا میں گالی دوں، تو یہ صحیح بات ہوگی؟

مرزا ناصر احمد: اگر کوئی شخص مجھے گالی دے اور میں گالی دوں تو یہ صحیح بات نہیں ہوگی۔ مگر ابھی میرا جواب نہیں ہوا پورا۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کے متعلق وہ گالیاں کتاب میں لکھ دے جو ان کی اپنی کتابوں میں ہیں۔ تو وہ گالیاں اس نے نہیں دیں؟

لے خوب، مرزا ناصر احمد صاحب۔ تاریخ محمودیت، ربوہ کا پوپ، ربوہ کا مذہبی آمر، شہر سدوم وغیرہ کتابوں میں آپ کے والد کے متعلق جو کچھ لکھا گیا۔ اب ہم کو وہ دہرانے کی اجازت ہے؟ کیا فرماتے ہیں۔ موجودہ قادیانی حضرات! لیجئے! تو پھر یہ کتابیں آپ کے قادیانیوں کی لکھی ہوئیں۔ آئی ہی آئیں۔ انتظار فرمائیے اور یقین بھی، کہ چور کو اس کے گھر تک پہنچا کر دم لیں گے۔ چور نہیں چور کی نانی کی بھی......

١٢٥

EMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

من عادلی ولیا......“

477 ”دست بدستن اس کو پکڑ لیتا ہے۔“

عیسائیت اپنے پورے غلبے کے ساتھ ......جو ان کی دینی آور ہوئی اور جب یہ ان کی یلغار ہندوستان میں پہنچی تو ا لئے وہ پاک مقدس انسان بھی پیدا ہوئے جن کا اس جو بھی کھڑے ہوئے اور ہر دو نے ایک ہی راستہ اختیا دے کر اور بائبل کے اور انجیل کے حوالوں سے ان کے

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ریکارڈ پر آ

مرزا ناصر احمد: اچھا جی! سنا دیا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ وہی ہے۔

مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ دوسرا تھا حق

جناب یحییٰ بختیار: میں ......اس سے ب پہلے مرزا صاحب! آپ نے کہا کہ دو شخص عیسائیوں کے مطابق یسوع کی، دوسری قرآن کریم ۔ میں کیا دو شخصیتیں گزری ہیں یا ایک؟

مرزا ناصر احمد: حقیقت میں یسوع ۔ Exist ہی نہیں کرتا، صرف اس کی تصویر ملتی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ کی نظر می

مرزا ناصر احمد: اصل تو ......

478 جناب یحییٰ بختیار: اسلام کی نظر می

مرزا ناصر احمد: اسلام کی نظر میں ہما نے بیان کی۔

جناب یحییٰ بختیار: اس قرآن کریم می

مرزا ناصر احمد: وہ شخصیت ......

لے دادیاں اس کی ہوں گی جس کا دادا ہو علیہ السلام تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ خوب سوال ک

١٢٤

صفحہ ٥٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی شخص آپ کے بزرگوں کو، انبیاء کو...... یعنی میرا مطلب مسلمانوں کے...... برا کہے، ہماری تو تعلیم یہ ہے کہ آپ ان کے جھوٹے بھی انبیاء کو، خداؤں کو، دیوتاؤں کو برا نہ کہیں۔ یہ ہماری تعلیم ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ”ہم“ میں سے، میری یہاں مراد احمد رضا صاحب اور تمام علماء اور بانی سلسلہ ہیں۔ کسی کو گالی نہیں دی۔ ان کو یہ بتایا ہے کہ تمہاری کتابیں اس شخص کے متعلق، جس کو تم کہتے ہو کہ وہ خدا تھا، تمہاری کتابیں اس کے متعلق یہ لکھتی ہیں۔ اپنی طرف سے تو کچھ کہا ہی نہیں، گالی کیسے دی؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو بتاتا ہوں ناں کہ اپنی طرف سے بھی لکھا۔ ان کی کتابوں سے بھی، آپ کہہ رہے ہیں۔ میں ابھی پھر یہ حوالے پڑھ کر سناتا ہوں۔ ذرا پھر غور کریں......

مرزا ناصر احمد: یسوع اور مسیح دو مختلف شخصیتیں ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی! آپ کا ( ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ )

480 ”آپ کا......“ اس کے بعد بریکٹ آتی ہے : ”...... (عیسیٰ علیہ السلام کا)“ -Isa aleh-is Salam is nobody existing in Anjeel or Bible; It is only in Quran Shareef.

مرزا ناصر احمد: یہ تو ہم نے چیک نہیں کیا حوالہ۔

جناب یحییٰ بختیار: اب چیک کر لیجئے۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ بریکٹ میں کس نے لکھا (عیسیٰ علیہ السلام)؟

جناب یحییٰ بختیار: یہ میرے پاس جو ہے نا: ”آپ کا خاندان نہایت پاک مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

مرزا ناصر احمد: بات سنیں جی! یہ غلط ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: بریکٹ میں نہیں ہے؟

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل ہے ہی نہیں بریکٹ۔

جناب یحییٰ بختیار: صرف ”آپ“ لکھا ہوا ہے؟

مرزا ناصر احمد: صرف ”آپ“ لکھا ہوا ہے۔ بریکٹ ہے ہی نہیں۔ اسی وجہ سے تو یہ

١٢٦

صفحہ ٥٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

کہتا ہوں کہ آپ دیکھ لیا کریں کہ اصل ہے کیا...... یسوع کے متعلق ......

جناب یحییٰ بختیار: یہ میں نے پھر Next پوائنٹ پوچھا آپ سے۔ یہ دادیاں جو ہیں، ان کی دادیوں کی طرف ریفرنس ہے یہ؟

مرزا ناصر احمد: یسوع کی۔

جناب یحییٰ بختیار: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیاں نہیں تھیں؟ یہ کوئی اور دادیاں تھیں؟

مرزا ناصر احمد: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیاں بدکار نہیں تھیں، نیکو کار تھیں۔

481 جناب یحییٰ بختیار: مطلب دو شخصیتیں ہوگئیں Physically؟

مرزا ناصر احمد: بالکل دو شخصیتیں ہوگئیں۔

جناب یحییٰ بختیار: Physically بھی مختلف؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: خیالی شخص کی تو دادیاں نہیں ہیں؟

مرزا ناصر احمد: جو خیالی شخص ہے اس کی خیالی دادیاں بھی ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی خیالی ہیں؟

مرزا ناصر احمد: اور کیا؟ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ جو اصل تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، ان کی دادیاں پاک اور نیکو کار تھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: جب وہ یسوع کہتے ہیں جی! وہ تو آپ کہتے ہیں وہ ایک اور شخصیت ہے۔

مرزا ناصر احمد: لیکن بعض جگہ، مثلاً جو میں نے دوسروں کے حوالے پڑھے، انہوں نے فرق کیا ہے اور اپنی تحریر میں وہ عیسیٰ علیہ السلام بھی لکھ گئے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا غلام احمد کہتے ہیں ......

مرزا ناصر احمد: نہیں میں...... دونوں کی باتیں میں نے اکٹھی ......

جناب یحییٰ بختیار: ”مسیح علیہ السلام“ جب وہ کہتے ہیں......

مرزا ناصر احمد: مسیح علیہ السلام بعض جگہ اگر لکھ دیا تو مراد یسوع ہے وہاں بھی، کیونکہ اک فرق نمایاں کر کے جب کر دیا مؤلف نے ......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھو جی! ایک جگہ وہ کہتے ہیں۔ ”یسوع“ وہ کہتے ہیں......

١٢٧

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی شخص آ مسلمانوں کے...... برا کہے، ہماری تو تعلیم یہ ہے دیوتاؤں کو برا نہ کہیں۔ یہ ہماری تعلیم ہے کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: ”ہم“ میں سے، م بانی سلسلہ ہیں۔ کسی کو گالی نہیں دی۔ ان کو یہ بتایا کہتے ہو کہ وہ خدا تھا، تمہاری کتابیں اس کے متعلق گالی کیسے دی؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کتابوں سے بھی، آپ کہہ رہے ہیں۔ میں ابھی پھر

مرزا ناصر احمد: یسوع اور مسیح دو مخت

جناب یحییٰ بختیار: یہ جی! آپ ک

480 ”آپ کا.....“ اس کے بعد بریکٹ ting in Anjeel or Bible; It is only in Quran Shareef.

مرزا ناصر احمد: یہ تو ہم نے چیک ک

جناب یحییٰ بختیار: اب چیک کر

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ بریکٹ

جناب یحییٰ بختیار: یہ میرے پ ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار او ظہور پذیر ہوا۔“

مرزا ناصر احمد: بات سنیں جی! ب

جناب یحییٰ بختیار: بریکٹ میں

مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل ہے

جناب یحییٰ بختیار: صرف ”آ

مرزا ناصر احمد: صرف ”آپ“

صفحہ ٥٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : جب آپ نے یہ کہہ دیا ......

482 جناب یحییٰ بختیار : یہ دیکھ لیں جی کہ انہوں نے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ایک جگہ آپ نے کہا کہ بریکٹ، میں نے کہا ٹھیک ہے، بریکٹ تو نہیں ہو سکے گی، Author نے لکھا ہے یا کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، نہیں۔ الزام ہے ہمارے پر۔ ہے ہی کوئی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ ٹھیک ہے نا۔ میں کہہ جو رہا ہوں ۔ آپ نے کہہ دیا۔

مرزا ناصر احمد : اس شخص نے لکھا جس نے یہ آپ کو دیا ہے سوال بنا کر ۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ Clear کرنے کے لئے یہ اشارہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف۔

تو پھر آپ یہ کہتے ہیں کہ ”مسیح علیہ السلام“ تو مسیح علیہ السلام ......

مرزا ناصر احمد : کون سا حوالہ ہے؟

جناب یحییٰ بختیار : یہ ہے (مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤، ٢٣)

مرزا ناصر احمد : یہ چیک کرنے والا ہے جی! یہاں نہیں ہے ہمارے پاس ۔

جناب یحییٰ بختیار : میں پڑھ کر پہلے سنا چکا ہوں ۔

”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا کہ کھاؤ پیو، نہ زاہد نہ عابد ......“

آپ نے کل کہا تھا کہ چیک کریں گے ۔

”...... نہ حق کا پرستار۔ متکبر خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤، ٢٣)

مرزا ناصر احمد : جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے، وہ متکبر بد دین تو ہو گیا خود بخود ۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، یہاں جو آپ ریفرنس کر رہے ہیں مسیح علیہ السلام ......

483 مرزا ناصر احمد : ”مسیح علیہ السلام“ کہہ کے ہی ہمارے دوسرے بزرگوں نے بھی اسی طرح حملہ کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں۔ یہ میں جی، That may explain, will not justify that is what I am trying to explain.

Mirza Nasir Ahmad: That, that....

١٢٨

صفحہ ٥٥٣

553 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Yahya Bakhtiar: You may say that.... Mirza Nasir Ahmad: No, no, no.... Mr. Yahya Bakhtiar: I will ask you a simple thing....

مرزا ناصر احمد : میرا جواب سن لیں۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ کے جواب کو میں ..... میرا سوال آپ سمجھ گئے نا؟ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں! سوال سمجھا دیں نا۔ جناب یحییٰ بختیار : مجھ پر ایک جرم عائد ہوتا ہے عدالت میں مجھے لے جاتے ہیں۔ مجھے کہتے ہیں کہ ”تم نے یہ جرم کیا ہے۔“ میں کہتا ہوں ”آپ اوروں کو نہیں پکڑتے، انہوں نے بھی یہی جرم کیا ہے۔“ Is this a defence? (کیا صفائی پیش ہو سکتی ہے؟)

Mirza Nasir Ahmad: No, it is not. I am not a fool to say that it is a defence.

(مرزا ناصر احمد : نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے) جناب یحییٰ بختیار : یہ چھوڑ دیں کہ انہوں نے کوئی جرم کیا یا نہیں کیا۔ دیکھئے نا..... مرزا ناصر احمد : میری بات نہیں سمجھے یا میں نہیں سمجھا سکا۔ I am sorry مجھے یہ کہنا ہی نہیں چاہئے کہ آپ نہیں سمجھے۔ میں آپ کو بات نہیں سمجھا سکا۔

484 میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کھول کھول کے اپنی کتابوں میں یہ لکھ دیتا ہے۔ ایک دفعہ کہ جو بھی میرا حملہ ہے۔ وہ یسوع، خداوند، یسوع مسیح پر ہے اور میں یہ حملہ بھی الزام جواب کے طور پر کر رہا ہوں۔ اتنی کھلی وضاحت کے بعد اگر کسی جگہ ”مسیح علیہ السلام“ لکھا گیا ہے تو اس کو قابل گرفت سمجھنا میرے نزدیک درست نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : ابھی دیکھئے نا جی! میں ایک ریفرنس پوچھتا ہوں۔ چونکہ یہ ٹومرو ریفرنسز جو ہیں اسے آپ یہ کہتے ہیں کہ انہی کی کتابوں سے نکالی گئیں۔ مگر ایک ریفرنس جو ہے اس کے بارے میں میں آپ سے پوچھوں گا..... کہ یہ ریفرنس جو ہے یہ آتا ہے جی!

(انجام آتھم ص ٢٧٤) مرزا ناصر احمد : (انجام آتھم ص ٢٧٤) (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکالیں۔

١٢٩

LY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : جب آپ نے یہ کـ جناب یحییٰ بختیار : یہ دیکھ لیں 482 جگہ آپ نے کہا کہ بریکٹ، میں نے کہا ٹھیک۔ لکھا ہے یا کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ ٹھیک مرزا ناصر احمد : اس شخص نے لکھا اـ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ مـ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف۔

تو پھر آپ یہ کہتے ہیں کہ ”مسیح علیہ اـ مرزا ناصر احمد : کون سا حوالہ ہے جناب یحییٰ بختیار : یہ ہے (کھتیا مرزا ناصر احمد : یہ چیک کرنے واـ جناب یحییٰ بختیار : میں پڑھ کر بـ ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا آپ نے کل کہا تھا کہ چیک کریں ”...... نہ حق کا پرستار۔ متکبر خود بین

مرزا ناصر احمد : جو خدائی کا دعویٰ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہاں

483 مرزا ناصر احمد : ”مسیح علیہ الـ اسی طرح حملہ کیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں

what I am trying to explain. That, that....

صفحہ ٥٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں جی کہ انہوں نے جو کہا، ان کے پادریوں نے جو کتابوں میں لکھا وہ چھوڑ دیجئے۔ یہاں کہتے ہیں کہ: ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

یہ مرزا صاحب! یہ اگر ایک منٹ آپ......

مرزا ناصر احمد: نہیں، میں وہ حوالہ ہی دیکھ رہا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پہلے میں یہ پڑھ لوں۔ پھر آپ......

مرزا ناصر احمد: اچھا۔

جناب یحییٰ بختیار: ......وہی الفاظ تاکہ آپ دیکھ سکیں: ”آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“

(ایضاً)

یہ تو خیر آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود بھی کہا ہے کہ ان لوگوں نے لکھا ہے ان کے بارے میں کہ جھوٹ بولتے تھے: ”آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ایضاً)

485 May be this is from their books.

Mirza Nasir Ahmad: It is from their book.

Mr. Yahya Bakhtiar: I know, I just say.

(جناب یحییٰ بختیار: ممکن یہ ان کی کتب سے ہو)

اب آگے اس کا میں پوچھتا ہوں کہ یہ کس کا خیال ہے: ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی کے وعظ کو، جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب ’طالمود‘ سے چرا کر لکھا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

مرزا ناصر احمد: اگر ’طالمود‘ میں سے چرا کر لکھا ہے تو انہی کی ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ جو ہے، یہ مرزا صاحب کا اپنا ہے؟

مرزا ناصر احمد: ”اگر“ پر آ گیا ناں۔

جناب یحییٰ بختیار: یہ تو مرزا صاحب کا اپنا Conclusion ہے ناں؟ کسی اور نے نہیں کہا؟ کسی انجیل میں نہیں لکھا ہوا؟ (وقفہ) پتہ نہیں، یہی ہے جی۔

مرزا ناصر احمد: نہیں جی! ٹھیک، پھر آپ سارا سن لیں۔ جواب وہی......

جناب یحییٰ بختیار: پھر آپ کو......

١٤٠

صفحہ ٥٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ میرے پاس وہی ہے۔ میں پڑھ کر سنادیتا ہوں: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

یہ یسوع کے لئے ہے، مسیح کے لئے نہیں: ”جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا، بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی کی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے.....“

486 یہ جو آپ نے ..... ”..... اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب ’تالمود‘ سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“

لیکن آگے سنیں جواب: ”جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کیونکہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔“

”جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“ یہ جواب ہے اس کا۔

جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں آپ سے ایک Simple بات یہ پوچھنا چاہتا ہوں، پہلے آپ نے کہا کہ انہی کی کتابوں میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یسوع جو تھے جھوٹ بولتے تھے۔ بدزبانی کرتے تھے، بداخلاق تھے۔ یہ انہی کی کتابوں سے۔ یہ جو ایک Conclusion ہے کہ وہ چور تھے......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ Conclusion نہیں، This is the historical fact proved by their books.

(یہ اخذ شدہ نتیجہ نہیں ۔ بلکہ تاریخی حقیقت ہے جو ان کی کتابوں سے ثابت ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: Historical fact proved from

(جناب یحییٰ بختیار: کن کی کتابوں سے ثابت شدہ ہے؟) whose books?

Mirza Nasir Ahmad: Proved from Talmud.

جب ’تالمود‘ میں وہ لفظ بہ لفظ پائی گئی......

جناب یحییٰ بختیار: کرسچن نے یہ کہا ہے کسی جگہ کہ انہوں نے یہ چرایا ہے؟

487 مرزا ناصر احمد: انہوں نے یہ کہا، وہ یہ ماننے پر مجبور ہوئے ایک شخص کہتا ہے کہ

١٣١

صفحہ ٥٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

”یہ میرا مضمون ہے۔“ اور ایک دوسرا آتا ہے، وہ کہتا ہے ”تم نے تو یہ فلاں کتاب میں سے یہ سارا لیا اور لفظ بہ لفظ وہ ہے اور اس کے اندر کوئی فرق نہیں ہے۔“ تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے اور یہ ثبوت ہے اور یہ انہی کی کتاب میں سے......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ نے یہ ثابت کیا؟

مرزا ناصر احمد: ہم نے یہ ثابت کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ وہ چور تھا؟ اور انہوں نے یہ مان لیا؟

مرزا ناصر احمد: ہم نے یہ ثابت کیا کہ وہ پہاڑی کا وعظ لفظ بہ لفظ ”تالمود“ سے لیا گیا اور جب یہ بات عیسائیوں کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے اعتراض نہیں کئے بلکہ شرمندہ ہو گئے۔

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ دیکھئے جی کہ ایک Allegation (الزام) ہے کہ ”تالمود“ سے ایک Sermon جو ہے، یا جو Sermon of the "Mount ہے جو مشہور ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام لیتے ہیں اور وہ سناتے ہیں اپنی قوم کو، اپنی امت کو۔ اس کا یہ تو نتیجہ ضروری نہیں ہے کہ چوری کیا ہو؟

مرزا ناصر احمد: اگر انہوں نے یہ کہا ”کہ میں نے ”تالمود“ سے یہ مضمون لیا“ تو یقیناً چوری نہیں کی۔ اگر انہوں نے یہ کہا کہ ”میں یہ اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں تمہارے سامنے“ اور ”تالمود“ میں سے وہ نکل آیا تو ”تالمود“ میں اس مضمون کا ہونا ان کی کتابوں میں سے ثابت کرنا ہے، اپنی طرف سے نہیں کہنا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی! وہ کہتے ہیں کہ ”اللہ کا پیغام تھا، میں سناتا ہوں۔“ ان کے مطابق تو اللہ کے پیغام ہیں جتنے بھی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو انجیل بتائے گی نا کہیں۔

488 جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ چوری کا جو ہے......

مرزا ناصر احمد: یہ دیکھیں ناں! اسی کتاب میں، یہ اس ایڈیشن میں، ٢٩٠ پر تھا: ”اور یہودیوں کی کتاب ”تالمود“ سے چرا کر لکھا ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!

مرزا ناصر احمد: اور اس کے بعد...... ہاں، ہاں! میں کچھ اور بتانے لگا ہوں۔ آخر میں لکھتے ہیں: ”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض

١٣٢

صفحہ ٥٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔“ تو یہ ان پر ظاہر کیا اور وہ شرمندہ ہو گئے۔ اب پادری شرمندہ ہو گئے اور ہم اس بحث میں پڑ گئے کہ یہ کس طرح پتہ لگا کہ یہ ”طالمود“ میں سے لیا تھا اور چوری کیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے پہلے یہ پوچھ رہا تھا جی کہ اگر پادریوں نے غلط کام کیا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ Justify کریں گے، ہم ان کے ......

مرزا ناصر احمد: ان کے، ہمارے نہیں ہیں۔ ہمارے تو مسیح موعود ......

جناب یحییٰ بختیار: وہ ہمارے بزرگوں کو برا کہیں گے ہم ان کے بزرگوں کو برا کہیں گے، وہ ہمارے انبیاء کو برا کہیں گے۔ ہم ان کے انبیاء کو برا کہیں گے۔ یہ آپ پہلے یہ Justify کر رہے ہیں؟

مرزا ناصر احمد: یہ Justify نہیں کر رہا۔ ہم یہ Justify کر رہے ہیں کہ اگر وہ ہم پر ظالمانہ طریقے سے نبی اکرم ﷺ پر اتہام لگائیں گے تو ان کی زبانوں کو بند کرنے کے لئے ہم اپنی 489 طرف سے کچھ نہیں کہیں گے۔ حالانکہ وہ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں۔ ہم انہی کی کتابوں میں سے ایسی چیزیں نکال کر ان کے سامنے رکھیں گے کہ ان کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔

جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو میں آپ کو چوری کے لئے ...... یہ تو آپ کا اپنا Conclusion .......

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں ۔ بالکل اپنا نہیں ہے۔ یہ اپنا ہے ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ کہتے تھے کہ ہمارے یسوع نے یہ چوری کیا تھا؟

مرزا ناصر احمد: ان کا الزام یہ تھا کہ قرآن کریم نے نعوذ باللہ اپنی تعلیم کے بعض حصے بائبل سے چرائے تھے اور ان کو ثابت کر کے دکھا دیا۔ یہ الزامی جواب ہے کہ ”طالمود“ سے لے کے اپنی طرف منسوب کر کے خداوند یسوع مسیح نے یہ تعلیم پیش کر دی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ایک چیز آپ ثابت کریں۔ ایک چیز آپ Explain کریں۔ وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر وہ اگر غلط کام کریں، گالی دے گا تو ہم بھی گالی دیں گے؟ آپ ......

مرزا ناصر احمد: یہ تو یہاں سوال نہیں تھا۔ جو تھا اس کا میں نے جواب دے دیا۔ جو میری سمجھ میں آیا بس ختم ہو گیا وہ۔

١٣٣٣

BLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

”یہ میرا مضمون ہے۔“ اور ایک دوسرا آتا ہے، وہ کہتا لیا اور لفظ بہ لفظ وہ ہے اور اس کے اندر کوئی فرق نہیں ہے اور یہ انہی کی کتاب میں سے ......

جناب یحییٰ بختیار: یعنی آپ نے یہ ثابت

مرزا ناصر احمد: ہم نے یہ ثابت کیا۔

جناب یحییٰ بختیار: کہ وہ چور تھا؟ اور

مرزا ناصر احمد: ہم نے یہ ثابت کیا کہ وہ جب یہ بات عیسائیوں کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں

جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ (الزام) ہے کہ ”طالمود“ سے ایک Sermon "Mount ہے جو مشہور ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام امت کو۔ اس کا یہ تو نتیجہ ضروری نہیں ہے کہ چوری کی

مرزا ناصر احمد: اگر انہوں نے یہ کہا چوری نہیں کی۔ اگر انہوں نے یہ کہا کہ ”میں یہ اپنی ”طالمود“ میں سے وہ نکل آیا تو ”طالمود“ میں اس میں ہے، اپنی طرف سے نہیں کہنا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی! وہ ان کے مطابق تو اللہ کے پیغام ہیں جتنے بھی ہیں۔

مرزا ناصر احمد: یہ تو انجیل بتائے گی نا

488 جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ چوری

مرزا ناصر احمد: یہ دیکھیں ناں! اسی لئے یہودیوں کی کتاب ”طالمود“ سے چرا کر لکھا ہے۔“

جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!

مرزا ناصر احمد: اور اس کے بعد ...... میں لکھتے ہیں: ”بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں

٣٤

صفحہ ٥٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: کہ پادریوں نے گالیاں دیں۔ ہم نے جواباً ان کے یسوع کو گالیاں دیں؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے جو گالیاں دی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو، اگر میں یہاں سنانا شروع کردوں تو سارے رو پڑیں گے یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ضرورت نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: اتنا ظلم جو ہے آپ اس کو سمجھتے ہی نہیں کہ کیا ظلم......

جناب یحییٰ بختیار: رونا تو اس بات پر آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں......

490 مرزا ناصر احمد: امت مسلمہ کے دلوں کو انہوں نے اپنی گالیوں سے چیر کر رکھ دیا تھا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں جی کہ یہاں تو ریفرنس وہ یہ دے رہے ہیں کہ انہوں نے گالیاں دیں تو اس واسطے ہم مجبور ہو گئے کہ ان کو گالیاں دیں۔

مرزا ناصر احمد: بالکل میں نے یہ نہیں کہا۔ خدا کے لئے میری طرف وہ بات منسوب نہ کریں جو میں نے نہیں کہی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ Explain کریں کہ پادریوں کے ذکر کی ضرورت کیا تھی؟

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ کہا ہے کہ جب انہوں نے گالیاں دیں محمد ﷺ کو، جب محمد ﷺ کو گالیاں دیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا قادیانی) نے اور دوسرے بزرگوں نے، اس زمانے کے، ان کو خاموش کرنے کے لئے گالی نہیں دی۔ بلکہ ان کو یہ کہا کہ تم کس منہ سے ایسی باتیں کرتے ہو جب کہ تمہاری انجیل میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ یہ گالی تو نہیں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام دو شخصیتیں ہیں۔ مگر Physically ایک؟

مرزا ناصر احمد: میں کچھ نہیں کہتا میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایک مسیح علیہ السلام ہے اور ایک یسوع ہے اور یسوع کی جو تصویر خود بائبل نے بیان کی ہے وہ ان کے سامنے رکھ دی۔ اپنی طرف سے ایک گالی نہیں دی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے آپ سے شروع میں پوچھا کہ ایک شخصیت ہے؟ آپ کہتے ہیں دو ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ایک وہ ہے جو خداوند یسوع مسیح ہے، جس کا ذکر انجیل میں آتا ہے اور ایک مسیح علیہ السلام جن کا بیان قرآن کریم میں آتا ہے۔

١٣٤

صفحہ ٥٥٩

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب یحییٰ بختیار: کہ پادریوں نے گالیاں د گالیاں دیں؟

مرزا ناصر احمد: انہوں نے جو گالیاں دی ہیں۔ سنا نا شروع کردوں تو سارے رو پڑیں گے یہاں۔

جناب یحییٰ بختیار: ضرورت نہیں ہے۔

مرزا ناصر احمد: اتنا ظلم جو ہے آپ اس کو سمجھتے ن

جناب یحییٰ بختیار: رونا تو اس بات پر آتا ہے کہ

490 مرزا ناصر احمد: امت مسلمہ کے دلوں کو انہو

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں ہیں کہ انہوں نے گالیاں دیں تو اس واسطے ہم مجبور ہو گئے کہ ا

مرزا ناصر احمد: بالکل میں نے یہ نہیں کہا۔ خدا نہ کریں جو میں نے نہیں کہی۔

جناب یحییٰ بختیار: آپ Explain کریں

مرزا ناصر احمد: میں نے یہ کہا ہے کہ جب انہو محمد ﷺ کو گالیاں دیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و بزرگوں نے، اس زمانے کے، ان کو خاموش کرنے کے ل منہ سے ایسی باتیں کرتے ہو جب کہ تمہاری انجیل میں یہ با

جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ کہتے ہیں کہ Physically ایک؟

مرزا ناصر احمد: میں کچھ نہیں کہتا میں تو یہ کہتا یسوع ہے اور یسوع کی جو تصویر خود بائبل نے بیان کی ہ سے ایک گالی نہیں دی۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے آپ ہے؟ آپ کہتے ہیں دو ہیں۔

مرزا ناصر احمد: نہیں، ایک وہ ہے جو خد آتا ہے اور ایک مسیح علیہ السلام جن کا بیان قرآن کریم می

١٣٤

559 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

491 جناب یحییٰ بختیار: اور وہ ایک ہی شخصیت ہیں؟

مرزا ناصر احمد: کوئی ایک شخصیت کیسے رہ گئے؟

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھتا ہوں۔

مرزا ناصر احمد: یعنی ایک چور اور ایک بزرگ...... دو ایک شخصیت کیسے بن گئے؟

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے نا، مرزا صاحب! ایک شخص ہے جس کے بارے میں ایک شخص کی ایک رائے ہے۔ ایک کی دوسری رائے ہے۔ وہ دو شخصیتیں نہیں بن جاتے؟

مرزا ناصر احمد: ایک شخص ہے جو خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے......

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ خدائی کا بھی دعویٰ کر......

مرزا ناصر احمد: نہیں......

جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں دعویٰ غلط ہے اس کا؟

مرزا ناصر احمد: میں بالکل نہیں کہتا دعویٰ غلط ہے اس کا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ غلط دعویٰ اس بے چارے کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: مگر شخص تو وہی ہے جس کے متعلق یہ منسوب کیا گیا ہے؟

مرزا ناصر احمد: پھر سوال کیا ہے؟ مجھے سوال کی سمجھ نہیں آئی۔

جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہتا ہوں کہ جب آپ کہتے ہیں کہ دو شخصیتیں ہیں...... ایک وہ یسوع جس کا عیسائی ذکر کرتے ہیں۔ جس کا بائبل میں ذکر آتا ہے۔ دوسرے وہ عیسیٰ علیہ السلام جن کا قرآن میں ذکر ہے میں نے کہا یہ شخصیتیں جو ہیں۔ بالکل مختلف گزری ہیں یا ایک ہی شخصیت جس کے متعلق ہماری ایک رائے ہے۔ ہم ان کو نبی سمجھتے ہیں۔ سچا سمجھتے ہیں۔ پاک سمجھتے ہیں اور وہی شخص عیسائی اس کو خدا سمجھتے ہیں۔ یسوع سمجھتے ہیں۔ یہ الزامات جو لگائے گئے ہیں وہی شخص ہے یا مختلف جس کے بارے میں مختلف Conceptions ہیں دو؟

492 مرزا ناصر احمد: اگر قرآن کریم کا بیان درست ہے...... اور یقیناً یہ درست ہے...... تو پھر یسوع جو ہے وہ ایک خیالی وجود ہے اور اس سے کوئی نہیں۔ جو شخصیت ہے کسی ایک فرد کی اس......

جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں جی! دادیاں تو خیالی نہیں ہوتیں کہ خیالی دادیاں ہیں، اور خیالی زنا کاری کر رہی تھیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں جی! پھر وہی بات اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ جس

١٣٥

صفحہ ٥٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

وقت عیسائیوں نے اپنے دجل کے ساتھ اتنی شدید، گندی، ناقابل برداشت گالیاں نبی اکرم ﷺ کو دیں تو جو الفاظ اور جو فقرے خود انجیل میں لکھے تھے، وہ ان کے سامنے پیش نہ کئے جاتے؟

جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ انہوں نے برا کہا تو ہم بھی برا کہتے؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں، ہم نہیں برا کہتے، ہم ان کی انجیل ان کے سامنے رکھتے ہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: پھر، مرزا صاحب! میں کہتا ہوں جو شخصیت سامنے ہے، جو دادیاں ہیں۔ یہی میں نے آپ سے پہلے عرض کیا کہ یہ جو دادیاں ہیں عیسیٰ علیہ السلام کی بھی دادیاں تھیں کہ نہیں؟

مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ دادیاں بالکل نہیں تھیں۔ حرام کار کوئی دادی نہیں تھی ان کی۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ نیک تھیں؟

مرزا ناصر احمد: وہ نیک، پاکباز تھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: پاکباز تھیں۔ مگر تھیں، وہ بھی تین نانیاں اور تین دادیاں؟

(مرزا ناصر کا اقرار جہالت)

مرزا ناصر احمد: میں بالکل اپنی جہالت کا اقرار کرتا ہوں، میں آپ کا سوال نہیں سمجھ رہا۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہاں جو ذکر آتا ہے کہ ”ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں تھیں۔“ میں کہتا ہوں کہ یہ وہی شخصیت ہے یا کوئی اور ہے جس کے متعلق وہ یہ غلط بات کہتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ وہ پاکباز تھیں۔

493 Mirza Nasir Ahmad: Let you have your opinion and let me have my own.

(مرزا ناصر احمد: آپ اپنی رائے رکھیں مجھے اپنی رائے رکھنے دیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, you are entitled to have your opinion; but here is a question of interpretation

(جناب یحییٰ بختیار: بالکل! آپ کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے لیکن یہاں سوال سمجھنے کا ہے) کہ یسوع یا عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور تین نانیاں۔ میں نے پوچھا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام ہیں وہی شخصیت ہیں جن کے بارے میں عیسائی کہتے ہیں کہ وہ یسوع تھے؟

١٣٦

PDF 562

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: دو تصویریں آپ کے سامنے آئیں ایک نہایت وجیہہ، خوبصورت ...... دو تصویریں ..... میری بات تو ختم ہو لینے دیں۔ بیچ میں آپ ٹوک دیتے ہیں مجھے۔ پھر میں چپ کر جاتا ہوں۔ اگر آپ کا حکم ہے تو میں نہیں بولوں گا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! مجھے تو دس پرسنٹ ٹائم نہیں ملا بولنے کا۔ جتنا آپ بول رہے ہیں۔ ٹیپ چیک کر کے دیکھ لیجئے آپ۔ مرزا ناصر احمد: یہ بھی بحث کی بات نہیں ہے...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، نہیں۔...... مرزا ناصر احمد: نہیں ، نہیں ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کہیں گے کہ ”نہ بولو“ میں نہیں بولوں گا۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ ضرور بولیئے۔ مرزا ناصر احمد: میں تو صرف اتنا حق مانگتا ہوں کہ جب تک میری بات ابھی ختم نہ ہوئی ہو تو آپ بیچ میں نہ بات شروع کر دیں۔ بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کرتا ہوں آپ کی خدمت میں۔

Mr. Chairman: So far as the discussion before the question is concerned. I may observe my previous observation again. I may repeat: Let Attorney- General complete the question. Let the answer from the witness come, and then the witness can add an explanation. If we adopt this procedure, we will cut short many of the discussion which take place between the Attorney- General and the witness and which are totally not relevant to the subject.

(جناب چیئرمین: جہاں تک دوران سوالات بحث کا تعلق ہے میں اپنی اوّل بات کو دہرا تا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اٹارنی جنرل کو سوال مکمل کرنے دیں ۔ پھر گواہ سے اس کا جواب آ جائے۔ اس کے بعد پھر گواہ اپنی مزید وضاحت پیش کریں۔ اگر ہم یہ طریقہ کار استعمال کریں تو

١؎ سیخ پا ہو گئے مرزا ناصر صاحب کیوں جی؟

١٣٧

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

وقت عیسائیوں نے اپنے دجل کے ساتھ اتنی شدید، گندی، نال کو دیں تو جو الفاظ اور جو فقرے خود انجیل میں لکھے تھے، وہ ان ۔ جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مرزا ناصر احمد: نہیں، بالکل نہیں، ہم نہیں برا ک رکھتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر، مرزا صاحب! میں ک دادیاں ہیں۔ یہی میں نے آپ سے پہلے عرض کیا کہ یہ ج دادیاں تھیں کہ نہیں؟ مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ دادیاں بالکل نہیں تھیں جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ نیک تھیں؟ مرزا ناصر احمد: وہ نیک، پاکباز تھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: پاکباز تھیں۔ مگر تھیں، وہ جھ

(مرزا ناصر کا اقرار جہا

مرزا ناصر احمد: میں بالکل اپنی جہالت کا اقرار کر جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہاں جو ذکر ا نانیاں تھیں۔“ میں کہتا ہوں کہ یہ وہی شخصیت ہے یا کوئی اور ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ وہ پاکباز تھیں۔

r Ahmad: Let you have your my own.

(مرزا ناصر احمد: آپ اپنی رائے رکھیں مجھے

htiar: No, you are entitled to have a question of interpretation

(جناب یحییٰ بختیار: بالکل! آپ کو اپنی سمجھنے کا ہے) کہ یسوع یا عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیا عیسیٰ علیہ السلام ہیں وہی شخصیت ہیں جن کے بارے میں

١٣٦

صفحہ ٥٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

بحث کا بہت سا وقت کم ہو جائے گا۔ کیونکہ اٹارنی جنرل اور گواہ میں جو بات ہوتی ہے وہ نفس مضمون سے بے تعلق ہے)

494 جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ عرض کیا ہے، میں یہ Repeat کرتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک نبی گزرے ہیں۔ جن پہ ہمارا ایمان ہے، جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ عیسائیوں کے مطابق یسوع مسیح ان کے نبی ہیں۔ کیا یہ دو مختلف شخصیتیں ہیں؟ جب عیسائی کہتے ہیں ”یسوع مسیح“ اور ہم کہتے ہیں ”عیسیٰ علیہ السلام“ پھر میں آگے کہتا ہوں کہ اگر وہ ایک ہی شخصیت ہے ان کے متعلق عیسائیوں کا یہ Conception ہے کہ خدائی کا دعویٰ انہوں نے کیا، یا خدا کے بیٹے تھے اور ہم کہتے ہیں غلط کیا۔ یہ اسی شخص کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس کے بعد جب آپ کہتے ہیں کہ ”ان کی تین دادیاں، تین نانیاں“ یہ صرف یسوع کی طرف ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں؟ کیا یہ مختلف شخصیتیں ہو گئیں یا وہی شخص ہے؟

مرزا ناصر احمد : میں سوال نہیں سمجھا۔

Mr. Chairman: Again this question may be repeated, yes. The witness has not followed the question.

(جناب چیئرمین: سوال کو پھر دہرایا جائے گواہ سوال کو سمجھے نہیں ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will repeat.

(جناب یحییٰ بختیار: میں دہراتا ہوں)

ایک پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن پر ہمارا ایمان ہے۔ جن کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہوا ہے اور عیسائی یسوع مسیح کو ......

مرزا ناصر احمد : خداوند یسوع مسیح۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یسوع مسیح۔

مرزا ناصر احمد : نہیں، ان کا محاورہ ہے۔ ”خداوند یسوع مسیح ۔“

جناب یحییٰ بختیار: ایک پیغمبر ان کے ہیں......

Mr. Chairman: Let the question be put.

(جناب چیئرمین: سوال بولنے دیں)

جناب یحییٰ بختیار: یسوع مسیح ان کے پیغمبر ہیں جن کو وہ خدا سمجھتے ہیں یا انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ کیا مختلف شخصیتیں ہیں یا ایک ہی شخصیت ہے؟

١٣٨

صفحہ ٥٦٣

EMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

بحث کا بہت سا وقت کم ہو جائے گا۔ کیونکہ اٹارنی جنرل سے بے تعلق ہے )

494 جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ عرض عیسیٰ علیہ السلام ایک نبی گزرے ہیں۔ جن پہ ہمارا ایما عیسائیوں کے مطابق یسوع مسیح ان کے نبی ہیں۔ کیا ہیں ”یسوع مسیح“ اور ہم کہتے ہیں ”عیسیٰ علیہ السلا شخصیت ہے ان کے متعلق عیسائیوں کا یہ eption یا خدا کے بیٹے تھے اور ہم کہتے ہیں غلط کیا۔ یہ اسی شخ کہتے ہیں کہ ”ان کی تین دادیاں، تین نانیاں“ یہ صر طرف نہیں؟ کیا یہ مختلف شخصیتیں ہو گئیں یا وہی شخص،

مرزا ناصر احمد: میں سوال نہیں سمجھا۔

Again this question may be s not followed the question.

(جناب چیئرمین: سوال کو پھر دہرایا

ir: I will repeat.

(جناب یحییٰ بختیار: میں دہراتا ہوں ایک پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن پر ہم ہوا ہے اور عیسائی یسوع مسیح کو ......

مرزا ناصر احمد: خداوند یسوع مسیح۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یسو

مرزا ناصر احمد: نہیں، ان کا محاورہ

جناب یحییٰ بختیار: ایک پیغمبر ان ب

the question be put.

(جناب چیئرمین: سوال بولنے و

جناب یحییٰ بختیار: یسوع مسیح اان خدائی کا دعویٰ کیا۔ کیا مختلف شخصیتیں ہیں یا ایک ہ

563 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

495 مرزا ناصر احمد: خداوند یسوع مسیح کا کوئی وجود ہی نہیں اور مسیح ناصری علیہ السلام کا وجود بھی ہے اور خدا تعالیٰ نے پیار اور محبت سے ان کا ذکر بھی قرآن عظیم میں کیا ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے مرزا صاحب...... میں پھر Repeat کرتا ہوں۔ ہم کہتے ہیں ”عیسیٰ علیہ السلام“ اور وہ یہ کہتے ہیں ”یسوع مسیح“ کیا وہ ایک ہی شخصیت کی طرف اشارہ ہے۔ ایک ہی نبی، ان کا Concept اور ہے یا کہ مختلف شخصیت ہے۔

Physically not theoretically؟

مرزا ناصر احمد: جب عیسائی ”خداوند یسوع مسیح“ کہتے ہیں تو ان کا اشارہ مسیح علیہ السلام کی طرف ہرگز نہیں ہوتا۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ کوئی مختلف شخصیت ہے؟

مرزا ناصر احمد: وہ بتائیں گے میں نہیں بتا سکتا۔

جناب یحییٰ بختیار: اچھا! جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ”یسوع مسیح کی دادیاں اور نانیاں“ تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کی بھی دادیاں اور نانیاں تھیں؟

مرزا ناصر احمد: جن دادیوں، نانیوں کا جس اخلاق کے ساتھ انجیل میں ذکر ہے وہ مسیح علیہ السلام کی دادیاں نانیاں نہیں تھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: مسیح علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی دادیاں اور نانیاں جو تھیں وہ مختلف عورتیں تھیں کہ وہی تھیں؟

مرزا ناصر احمد: جن عورتوں کا ذکر تورات میں آیا ہے۔ وہ ان اخلاق کے ساتھ مسیح علیہ السلام کی دادیاں نانیاں نہیں تھیں۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں Physically پوچھ رہا ہوں، اخلاق کی بات بعد میں آتی ہے۔ کیا وہ عورتیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی دادیاں نانیاں تھیں۔ وہی عورتیں یسوع مسیح کی دادیاں نانیاں تھیں یا کہ نہیں؟

نوٹ:

496 مرزا ناصر احمد: جو مسیح علیہ السلام ہیں جن کا ذکر قرآن عظیم میں آیا ہے۔ ان کی دادیوں کا ذکر قرآن کریم میں نہیں آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: ان کی کوئی دادیاں وغیرہ ہمارے قرآن شریف میں نہیں؟

لے دن دہاڑے مرزا ناصر کو تارے نظر آنے لگے۔

١٣٩

صفحہ ٥٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد: قرآن کریم میں ان کا ذکر نہیں آیا۔

جناب یحییٰ بختیار: اور ان کی کوئی دادیوں نانیوں کا اگر ذکر نہیں آیا تو اس کا مطلب ہے کہ دادیاں نانیاں تھیں مگر ذکر نہیں آیا یا تھیں ہی نہیں؟

مرزا ناصر احمد: قرآن عظیم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا، ان کی دادیوں نانیوں کا ذکر نہیں کیا اور میں تو صرف قرآن کریم نے جس مسیح علیہ السلام کو پیش کیا، صرف اسی کو......

جناب یحییٰ بختیار: یا تو ہم یہ کہیں گے کہ ان کی دادیوں، نانیوں کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور اگر علم ہے تو وہ انجیل سے ہے یا کسی اور کتاب سے ہے، قرآن شریف سے نہیں۔

مرزا ناصر احمد: تو جس مسیح علیہ السلام کو قرآن عظیم نے پیش کیا، ان کی دادیوں، نانیوں کا کوئی ذکر قرآن کریم میں نہیں اور ہمیں اس جستجو میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں۔ بہرحال انسان عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ہمیشہ۔

جناب یحییٰ بختیار: جب یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ: ”ان کی تین نانیاں اور دادیاں کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا......“

مرزا ناصر احمد: یہ اس مسیح علیہ السلام کے لئے نہیں کہا جاتا جن کی دادیاں نانیاں کا قرآن کریم میں ذکر ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ وہ شخصیت ہی نہیں ہے Physically میں یہ بات کر رہا ہوں...... جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے Physically؟

مرزا ناصر احمد: مجھے نہیں پتہ۔ میں نے تو صرف قرآن کریم......

497 جناب یحییٰ بختیار: جسمانی طور پر؟

مرزا ناصر احمد: نہ، مجھے پتہ ہی نہیں وہ ایک ہے یا نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔

(یہ اچھا جواب ہے کیا خوب)١؎ This is a good answer.

Ch. Jahangir Ali: Mr. Chairman a point of explanation. (چوہدری جہانگیر علی: نکتہ وضاحت)

عیسائیوں کے نزدیک یسوع علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے تھے۔

١؎ کیا ہو گیا صاحب اتنا غصہ اور ضد تو بچے بھی نہیں کرتے۔

١٤٠

صفحہ ٥٦٥

SEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

مرزا ناصر احمد : قرآن کریم میں ان کا ذکر

جناب یحییٰ بختیار : اور ان کی کوئی دادیوں ہے کہ دادیاں نانیاں تھیں مگر ذکر نہیں آیا یا تھیں ہی نہیں؟

مرزا ناصر احمد : قرآن عظیم نے حضرت نانیوں کا ذکر نہیں کیا اور میں تو صرف قرآن کریم نے جس

جناب یحییٰ بختیار : یا تو ہم یہ کہیں گے کہ ہے اور اگر علم ہے تو وہ انجیل سے ہے یا کسی اور کتاب سے

مرزا ناصر احمد : تو جس مسیح علیہ السلام کو نانیوں کا کوئی ذکر قرآن کریم میں نہیں اور ہمیں اس جستجو انسان عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ہمیشہ۔

جناب یحییٰ بختیار : جب یہاں یہ کہا جاتا عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا

مرزا ناصر احمد : یہ اس مسیح علیہ السلام کے قرآن کریم میں ذکر ہی نہیں۔

جناب یحییٰ بختیار : یعنی یہ وہ شخصیت ہی رہا ہوں ...... جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے ally

مرزا ناصر احمد : مجھے نہیں پتہ۔ میں نے تو

497 جناب یحییٰ بختیار : جسمانی طور پر؟

مرزا ناصر احمد : نہ، مجھے پتہ ہی نہیں وہ ایک

جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے۔ (یہ اچھا جواب ہے کیا خوب) ver.

Ali: Mr. Chairman a point of (چوہدری جہانگیر علی: نکتہ وضاحت) عیسائیوں کے نزدیک یسوع علیہ السلام اللہ

١؂ کیا ہو گیا صاحب اتنا غصہ اور ضد تو بچے کر

١٤٠

565 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Chairman: No, no, this is no point of explanation, Chaudhry Sahib, this you can talk to the Attorney- General privately. (جناب چیئرمین: یہ نکتہ وضاحت نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل سے علیحدہ بات کرلیں)

چوہدری جہانگیر علی : جی اچھا!

جناب یحییٰ بختیار : اچھا جی! یہ آپ ابھی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں جو......

مرزا ناصر احمد : وقت ہے یا فارغ کردیں گے؟ میں کچھ تھکا ہوا محسوس کرتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میرے خیال میں تھوڑی دیر میں یہ ختم ہو جائے گا۔ اگر آپ تھکے ہوئے ہیں تو پھر ہمیں......

مرزا ناصر احمد : ہاں تھکا ہوا ہوں۔ میں تو صرف درخواست کرسکتا ہوں۔

جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں جی! .... if you are tired

Mr. Chairman: The Delegation is permitted to leave: to report tomorrow at 10:00 a.m. (جناب چیئرمین: کل صبح دس بجے تک کے لئے اجلاس ملتوی)

The honourable members may keep sitting. (ممبران تشریف رکھیں)

(The Delegation left the Chamber) (وفد چلا گیا)

498 REVIEW OF PROCEDURE AND PROGRESS

OF CROSS- EXAMINATION

Mr. Chairman: Now we can discuss for a few minutes. (جناب چیئرمین: چند منٹ کے لئے تشریف رکھیں)

مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب ایک منٹ ذرا تشریف رکھیں۔ ایک سیکنڈ ذرا بیٹھیں ۔ میرا خیال ہے کہ اب تھوڑا سا ہم ڈسکس کر سکتے ہیں، تین دن کی کارروائی کے بعد کہ اب ہمیں کسی طریقے سے Proceed کرنا ہے۔

١؂ آج تو بولورام ہو گئی۔

١٤١

صفحہ ٥٦٧

566 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

The Attorney- General, if he likes can continue with the same procedure of question answer and the explanation or, if he likes, the Steering Committee can meet, whatever he likes. I would like it as he says, because I had made a promise that, after three days, we will review the situation. I would like to hear the Attorney- General.

(اٹارنی جنرل اگر وہ چاہیں تو ہم اسی طریقہ کار سے چلتے رہیں یا سوال/ جواب اور توضیحات جاری رہیں یا اگر وہ چاہیں تو اسٹیئرنگ کمیٹی بیٹھ سکتی ہے جو بھی صورتحال ہو میں نے وعدہ کیا ہے کہ تین دن کے بعد صورتحال پر نظر ثانی کی جائے گی)

Mr. Yahya Bakhtiar: I will try to explain because there is some difficulty. I cannot say in advance where I am proceeding because much depends on answers...

(جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ کیونکہ کچھ مشکلات درپیش ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں کس طرف چل رہا ہوں۔ سوالات کے جوابات پر یہ منحصر ہے)

Mr. Chairman: You should not tell your strategy you need not disclose the strategy.

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے آپ اپنی حکمت عملی نہ ظاہر کریں۔ اگر آپ نہیں بتانا چاہتے)

Mr. Yahya Bakhtiar: .... but I am halfway through it; and I would need some more time before we can come to the conclusion.

(جناب یحییٰ بختیار: ...... میں تقریباً آدھا کر چکا ہوں۔ نتیجہ پر پہنچنے سے قبل مجھے کچھ اور وقت درکار ہے)

Mr. Chairman: Yes. Then, tomorrow evening, we shall again review the situation. There is no need of the Steering Committee meeting tomorrow.

١٤٢

567 NATIONAL ASS

کا جائزہ لیں گے اور ابھی اسٹیئرنگ کمیٹی کی

ے۔ ان کو Inform کر دیں That ک Tomorrow you are not

ٹر چیئرمین صاحب، اجازت ہے۔ مطمئن ہیں تو جیسے وہ مناسب سمجھیں اس

I only wanted ض کروں گا اسپیشل کمیٹی سے کہ مجھے تھوڑا ں پر فکر آپ نہ کریں۔

! ایک بات میں یہ عرض کروں گا ...... آپ عرض ضرور کریں گے جی فرمائیے۔ وں گا کہ کاروائی اس کو یہ لمبی کریں، دیر ئیں۔

Mr. Chairma remarks are uncalled for پ ان کو Privately مشورہ

بٹھائیں، نو بجے تک بہت سویرا ہے۔ ں نے پہلے ہی کہا ہے کہ کارروائی ڈالنی

دس بجے تک ...... (مداخلت) کہ وہ تھک گئے ہیں ......

صفحہ ٥٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(جناب چیئرمین: کل پھر ہم صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ابھی اسٹیئرنگ کمیٹی کی نشست کی ضرورت نہیں)

نہیں، کوئی بات نہیں۔ ان کو کل کہہ دیں گے۔ ان کو Inform کردیں That we will discuss ان کو Inform کردیں کہ Tomorrow you are not needed.

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جناب چیئرمین صاحب، اجازت ہے۔ میرے خیال میں اگر آنریبل اٹارنی جنرل مطمئن ہیں تو جیسے وہ مناسب سمجھیں اس طرح سے ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، ....I only wanted just 499 جناب یحییٰ بختیار: میں، میں کچھ عرض کروں گا اسپیشل کمیٹی سے کہ مجھے تھوڑا Latitude دے دیجئے۔ اگر ایک دن زیادہ لگتا ہے تو اس پر فکر آپ نہ کریں۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

جناب محمود اعظم فاروقی: جناب چیئرمین! ایک بات میں یہ عرض کروں گا......

جناب چیئرمین: آپ آجائیں نا! اس وقت آپ عرض ضرور کریں گے جی، فرمائیے۔

جناب محمود اعظم فاروقی: میں یہ عرض کروں گا کہ کارروائی اس کو یہ لمبی کریں، دیر تک ہم بیٹھ سکتے ہیں، وہ سن سکیں ذرا اور ناشتہ واشتہ کھا کر آئیں۔

Mr. Chairman: This is uncalled for; these remarks are uncalled for.

یہ آپ پرائیویٹ مشورہ دے لیں ان کو۔ آپ ان کو Privately مشورہ دے سکتے ہیں۔

جناب محمود اعظم فاروقی: آپ بارہ بجے تک بٹھائیں، نو بجے تک بہت سویرا ہے۔

جناب چیئرمین: یہ آج آئے ہیں ناں! میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ کارروائی ٹالنی ہے انہوں نے۔

جناب محمود اعظم فاروقی: ان کو آپ کم از کم دس بجے تک ...... (مداخلت)

جناب یحییٰ بختیار: اگر مولانا وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ تھک گئے ہیں ......

صفحہ ٥٦٨

568 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب چیئرمین: یہ تو کورٹ میں بھی Entitled ہے Witness۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: وہ تو پہلے دن کہہ چکے ہیں کہ ان کا دماغ جو ہے وہ کبھی ماؤف نہیں ہوتا۔

جناب چیئرمین: یہ تو..... ایک سیکنڈ......

500 مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب چیئرمین! وہ تو پہلے دن کہہ چکے ہیں کہ میرا دماغ جو ہے، کبھی نہیں تھکے گا، کبھی خراب نہیں ہوگا...... تو اس کے دماغ کو تو پختگی حاصل ہے۔

جناب چیئرمین: میں عرض کروں جی، لاء کے تحت میاں صاحب گواہی دیں گے کہ

A witness is entitled to certain consideration if he says that he is not feeling well. One thing more I want to say. So far as the stretegy is concerned, the House has complete faith in the Attorney General.

(گواہ کو چند مراعات کا استحقاق حاصل ہے۔ مثلاً اگر وہ کہیں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایک بات اور کہہ دوں کہ جہاں تک حکمت عملی کا تعلق ہے ہاؤس کو اٹارنی جنرل پر مکمل اعتماد ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I am very grateful, Sir. The thing is this: there are two difficulties- One is that many honourable members have asked many questions. I am trying to fit in those in various subjects.

(جناب یحییٰ بختیار: میں بہت شکر گزار ہوں۔ لیکن بات یہ ہے کہ دو دشواریاں درپیش ہیں اور میں ان میں مختلف مضامین لانا چاہتا ہوں)

Mr. Chairman: Yes.

(جو تمہیں کہنے کا حق ہے وہ دوسرے کو کہنے کا کیوں حق حاصل نہیں؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Now, there is a subject of "Kufr" There is the subject of his claim and right that "If I

١٤٤

569 NATIONAL ASS

am a Musalman, nobody h a Musalman" and I am same right to others? I "Kafir", then they have a very obvious. Now we are

Apart from that "Jihad". That is a differ discuss essentials of Islam come in a different way.

ی کفر کا ہے۔ پھر ان کے دعویٰ کا یہ حق کہ نہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ میں اس پر ان د رہے ہیں دوسروں کو بھی دیں۔ اگر تم کہیں۔ صاف بات ہے اور ہم اس بحث کا۔ یہ ایک علیحدہ مضمون ہے۔ کیونکہ اگر بات دوسری طرح پر آئے گی)

Similarly, what i

Mr. Chairman put questions. We want the House is that when are confirming them: th the Attorney General.

کتے ہیں کہ سوالات کس طرح پر کئے نا چاہتا ہے۔ جب مستقل نوعیت کے رہے ہیں کہ پہلے وہ اٹارنی جنرل کے

صفحہ ٥٦٩

OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

جناب چیئرمین: یہ تو کورٹ م مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: کبھی ماؤف نہیں ہوتا۔

جناب چیئرمین: یہ تو..... ایک 500مولانا عبدالمصطفیٰ الازہ میرا دماغ جو ہے، کبھی نہیں تھکے گا، کبھی خراب

جناب چیئرمین: میں عرض کر

ertain consideration if he One thing more I want to oncerned, the House has neral.

(گواہ کو چند مراعات کا استحقاق ہے ایک بات اور کہہ دوں کہ جہاں تک حکو

am very grateful, Sir. The culties- One is that many ed many questions. I am jects.

(جناب یحییٰ بختیار: میں درپیش ہیں اور میں ان میں مختلف مضامین

(جو تمہیں کہنے کا حق ہے وہ د

Now, there is a subject of claim and right that "If I

569 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

am a Musalman, nobody has a right to call me that I am not a Musalman" and I am saying "Whether you conced the same right to others? If you call others that they are "Kafir", then they have a right to call you Kafir." That is very obvious. Now we are in the grip of that subject.

Apart from that, Now comes the question of "Jihad". That is a different subject because if somebody denies essentials of Islam then he is "Munkir". That will come in a different way.

(جناب یحییٰ بختیار: مثلاً اب ایک مضمون کفر کا ہے۔ پھر ان کے دعویٰ کا یہ حق کہ میں مسلمان ہوں اور کسی کو استحقاق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ میں اس پر ان سے یہ کہہ رہا ہوں کہ یہی حق جو اپنے لئے آپ مانگ رہے ہیں دوسروں کو بھی دیں۔ اگر تم دوسروں کو کافر کہتے ہو تو ان کا بھی حق ہے کہ وہ تمہیں کافر کہیں۔ صاف بات ہے اور ہم اس بحث میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرا سوال ہے جہاد کا۔ یہ ایک علیحدہ مضمون ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص ارکان اسلام سے انکار کرتا ہے تو وہ منکر ہے۔ یہ بات دوسری طرح پر آئے گی)

Similarly, what he did about the British....

Mr. Chairman: No, no. You know better how to put questions. We want only one thing. What the desire of the House is that when a definite question is put. Now, we are confirming them: the witness they should first answer the Attorney General.

(جناب چیئرمین: بہر حال آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ سوالات کس طرح پر کئے جائیں۔ صرف ایک بات ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ ہاؤس کیا چاہتا ہے۔ جب مستقل نوعیت کے سوالات کئے جارہے ہیں۔ اب ہم گواہ کو اس حد میں رکھ رہے ہیں کہ پہلے وہ اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب دے)

١٤٥

صفحہ ٥٧٠

570 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

(بے خبری میں وہ پکڑا جائے گا)

501 Mr. Yahya Bakhtiar: My own view- point is that if he does not answer at that. I will leave the subject; then come back.

(جناب یحییٰ بختیار: میرا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی وقت جواب نہیں دیتا ہے تو وہ سوال چھوڑ کر میں دوسرا سوال شروع کر دیتا ہوں اور پھر پہلے پر واپس آجاتا ہوں)

Mr. Chairman: Yes, then again come back; and then to be taken unaweres. One thing I want to ask one more question that, tomorrow, we will not be able to finish it.

(جناب چیئرمین: اس طرح پر وہ بے خبری میں پکڑا جائے گا۔ ایک بات اور دریافت کروں گا کیا کل سوالات ختم ہو جائیں گے)

Mr. Yahya Bakhtiar: I do not think so.

(جناب یحییٰ بختیار: ایسا ممکن نہ ہوگا)

Mr. Chairman: I do not think so; we do not think so. So, the Lahore Party, which we had called for tomorrow.....

(جناب چیئرمین: ہمارا بھی یہی خیال ہے تو لاہوری پارٹی کو جو کل کے لئے بلایا تھا)

(Interruption)

Mr. Yahya Bakhtiar: No, not even Friday.

(جناب یحییٰ بختیار: کل کیا جمعہ کو بھی ممکن نہیں ہوگا)

Mr. Chairman: Not even Friday, so, they may be informed that.... (جناب چیئرمین: تو پھر ان کو مطلع کرنا چاہئے.....)

Mr. Yahya Bakhtiar: Saturday or Monday.

(جناب یحییٰ بختیار: ہفتہ کے دن یا پیر کے دن)

١٤٦

صفحہ ٥٧١

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

( بے خبری میں وہ پکڑا جا

Bakhtiar: My own view- point is wer at that. I will leave the subject;

( جناب یحییٰ بختیار : میرا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ سوال چھوڑ کر میں دوسرا سوال شروع کر دیتا ہوں اور پھر پا

V: Yes, then again come back; and eres. One thing I want to ask one orrow, we will not be able to finish

( جناب چیئرمین : اس طرح پر وہ بے خ دریافت کروں گا کیا کل سوالات ختم ہو جائیں گے )

htiar: I do not think so.

( جناب یحییٰ بختیار : ایسا ممکن نہ ہوگا )

I do not think so; we do not think arty, which we had called for

( جناب چیئرمین : ہمارا بھی یہی خیال ہے

terruption)

tiar: No, not even Friday.

( جناب یحییٰ بختیار : کل کیا جمعہ کو بھی ممک

Not even Friday, so, they may be

( جناب چیئرمین : تو پھر ان کو مطلع کرنا

tiar: Saturday or Monday.

( جناب یحییٰ بختیار : ہفتہ کے دن یا پیر

١٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Chairman: Saturday or on 20th, according to... or not even on Saturday. So, it will not be tomorrow.

جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، وہ بھی ٹھیک ہے۔ کیونکہ ......

Then we can formulate and study all the aspects.

( تب ہم رپورٹ بھی بناسکیں گے اور ان کو پڑھ بھی سکیں گے )

Mr. Chairman: Yes. We must have some break.

( جناب چیئرمین : لیکن وقفہ ہونا ضروری ہے )

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, my own view is that.... I do not know if our witness is coming from Lahore.... Now a Lot of things that we have on record, we will have to get out of Lahori Party.

( جناب یحییٰ بختیار : میرا اپنا خیال یہ ہے کہ لاہوری پارٹی سے ہم کو بہت کچھ حاصل ہوگا )

Mr. Chairman: Yes. So, tomorrow, I will announce....

( جناب چیئرمین : جی ہاں ! کل میں بیان کردوں گا )

Mr. Yahya Bakhtiar: So, we can fully prepare after we have read the evidence; then I will ask the questions. We should not do it in a hurry.

( جناب یحییٰ بختیار : پھر ہمیں شہادت کے لئے پوری طور پر تیار ہونا ہوگا۔ شہادتیں پڑھنے کے بعد اور سوالات کرنے کے بعد ۔ تو ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے )

502 Mr. Chairman: Yes, we are not in a hurry.

( جناب چیئرمین : ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے )

Mr. Yahya Bakhtiar: We can have a break for ten days in between.

Mr. Chairman: Yes.

Mr. Yahya Bakhtiar: It makes no difference. We

١٤٧

صفحہ ٥٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

can examine them later; and that will take a day or so.

(جناب یحییٰ بختیار: ہم ان پر بعد میں غور کر سکتے ہیں۔ اس میں ایک اور روز لگ جائے گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا)

Mr. Chairman: Tomorrow I will be able to tell the honourable Members the tentative programme also; and then we will discuss it. In the meantime, the Lahori Party may be stopped form coming tomorrow, yes. Now I want to....

(جناب چیئرمین: کل ہم معزز ممبران کو بتا دیں گے کہ حتمی پروگرام کیا ہے اور پھر گفتگو کریں گے۔ اسی دوران لاہوری پارٹی کو کل آنے سے روک دیا جائے)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir a minute.

(سردار مولا بخش سومرو: سر! ایک منٹ)

(Mian Muhammad Attaullah stood up)

(میاں عطاء اللہ کھڑے ہوئے)

Mr. Chairman: Mian Attaullah.

(جناب چیئرمین: جی! میاں محمد عطاء اللہ)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: My submission, Sir....

Mr. Chairman: I have given the floor to Mian Attaulah. Then afterward....

میاں عطاء اللہ: جناب والا! جو Strategy (حکمت عملی) اب اختیار کی گئی ہے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے فرما دیا ہے کہ سارے ہاؤس کو اس سے اتفاق ہے۔ میں اس میں صرف اتنا Add کرنا چاہتا تھا کہ آج Afternoon کے سیشن میں مرزا صاحب نے یہ کوشش کی ہے کہ...... پہلے وہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ جوابات کی تشریحات میں اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر اب انہوں نے بڑی کامیابی اور بڑے اچھے طریقے سے ان کو ان

١٤٨

صفحہ ٥٧٣

573 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

چیزوں سے Bound کر کے ان سے Definite Answer لئے۔ چونکہ چار پانچ Main Subjects ہیں جن پر وہ کارنر (Corner) بڑی آسانی سے ہو سکتے ہیں اور اگر جیسا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ہے اور میں ان 503 سے پورا اتفاق کرتا ہوں کہ ان چار پانچ Subjects کو وہ لے لیں اور انہی پر ان کو کارنر (Corner) کریں۔ اس کے تحت جتنے سوال آتے ہیں وہ Add کرتے جائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ نکل نہیں سکتے پھر۔

Mr. Chairman: Haji Maula Bakhsh Soomro.

(جناب چیئرمین: جی حاجی مولا بخش سومرو)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir... the expression that there is going to be ten days' break, from which date?

It is lying in abeyance. My submission is that the continuity should not be broken. Only for two or three days you can.

(سردار مولا بخش سومرو: چونکہ دس دن کا وقفہ ہونے والا ہے۔ میری عرض ہے کہ تسلسل کو ٹوٹنا نہیں چاہئے۔ تسلسل برقرار رکھنا چاہئے)

Mr. Chairman: No, We will finish one subject and then we will start the other subject. Continuity will not be broken, take it for granted, continuity shall not be broken. We cannot leave it in the middle; we cannot leave the witness....

(جناب چیئرمین: پہلے ایک مضمون ختم کریں گے پھر دوسرا شروع کریں گے۔ تسلسل نہیں ٹوٹنے دیں گے۔ یقین رکھیں کہ تسلسل نہیں توڑیں گے)

Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir, ten days' break is a long period. My submission is....

(سردار مولا بخش سومرو: دس دن کا وقفہ ایک لمبا عرصہ ہے۔.....)

١٤٩

' OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

t will take a day or so.

(جناب یحییٰ بختیار: ہم ان پ جائے گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا)

rrow I will be able to tell the tive programme also; and meantime, the Lahori Party morrow, yes. Now I want

(جناب چیئرمین: کل ہم گفتگو کریں گے۔ اسی دوران لاہوری پارٹی

Soomro: Sir a minute.

(سردار مولا بخش سومرو: سر

ullah stood up)

(میاں عـ

taullah.

(جناب چیئرمین: جی! میاں

hsh Soomro: My

given the floor to Mian

میاں عطاء اللہ: جناب د جیسا کہ آپ نے پہلے فرما دیا ہے کہ سار Add کرنا چاہتا تھا کہ آج noon کہ...... پہلے وہ یہ کوشش کرتے رہے کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر اب انہو

صفحہ ٥٧٤

574 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Mr. Chairman: Haji Sahib, I may tell you that this witness will finish. It may take us ten days. And after that we will think, because you need time for preparation. You do not know how much hard labour the Questions Committee and the Attorney- General have put in: You can ask Mufti Mahmood.

(جناب چیئرمین: حاجی صاحب! میں بتاتا ہوں کہ یہ گواہ اپنی گواہی ختم کر دے گا۔ اس کے بعد ہمیں تیار کرنے کا موقعہ ملے گا۔ آپ کو علم نہیں کہ اٹارنی جنرل کس قدر محنت کر رہے ہیں۔ آپ مفتی محمود سے پوچھ سکتے ہیں)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I want to explain to Haji Sahib that after this record is prepared... last night, we received the record at half past two.... Only the first day's proceedings... Now unless we read it all....

(جناب یحییٰ بختیار: میں حاجی صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ رات پہلے دن کی کارروائی رات کے ڈھائی بجے مجھے ملی۔ یہ ہے سب سے بڑی مشکل۔ ہمارے پاس کوئی خود کار رپورٹنگ مشین نہیں ہے۔ میں کیس برابر تیار کروں گا)

Mr. Chairman: There lies a great difficulty: we have no automatic reporting machine.

Mr. Yahya Bakhtiar: .... and prepare our case accordingly.

Mr. Chairman: Hakim Muhammad Sardar.

(جناب چیئرمین: جی! حکیم سردار محمد)

504 Hakim Sardar Muhammad: I want to bring it to the notice of this honourable House that the main question. I should say, before the Special Committee or the

١٥٠

صفحہ ٥٧٥

575 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Assembly is as to what is the status of a person who does not believe in the finality of the Prophethood. The question on that point is still untouched.

(حکیم سردار محمد: میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ خصوصی کمیٹی کے سامنے اصلی سوال یہ ہے کہ ہمارے سامنے اصلی سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی کیا حیثیت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت پر اعتقاد نہیں رکھتا۔ اس سوال کو اور اس نکتہ کو ابھی تک چھوا بھی نہیں گیا)

Mr. Chairman: It will come; it will be taken up. It will come at its proper place. And Maulana Zafar Ahmad Ansari and you may not be knowing at what time the qeustion is put.

(جناب چیئرمین: یہ آئے گا۔ مناسب وقت میں لیا جائے گا)

Yes, Maulana Zafar Ahmad Ansari.

(جی مولانا ظفر احمد انصاری صاحب)

WRITTEN ANSWERS TO ORAL QUESTIONS IN

THE CROSS- EXAMINATION

مولانا ظفر احمد انصاری: جناب والا! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تحریری بیان دینے کا جو سلسلہ انہوں نے شروع کیا ہے، اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے...... کافی طویل بیان وہ اپنے محضرنامے میں دے چکے ہیں اور جہاں تک ہو، یعنی بغیر اس کے کہ انہیں Annoy کریں، Offend کریں، ہم اس کو Discourage کریں کہ وہ چیزوں کے تحریری بیانات دیں۔ اس لئے کہ یہ لامتناہی سلسلہ ہو جائے گا اور اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات پوچھتے ہیں۔ ان کا وہ معین جواب دے دیتے ہیں۔ بالکل اگر کوئی ایسی ضروری بات آئے کہ وہ بغیر تحریر کے نہیں ہو سکتی تو پھر تو الگ ہے۔

جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! انہوں نے ایک جواب دیا میں نے انہیں کہا کہ آپ فائل نہ کریں، آپ پڑھ کر سنائیں۔ مگر میرا اپنا یہ خیال ہے کہ جتنا زیادہ بولیں اتنا ہی زیادہ

١٥١

صفحہ ٥٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Aug, 1974 No:03

Contradiction ہوتی ہے۔ میرا اپنا Experience یہ ہے کہ ایک شخص جو Inconsistent ہے۔ یہاں ہمارے Patience پر Strain ہے۔

The more he speaks, the more he becomes inconsistent and contradictory. So, I would not stop him.

(جس قدر زیادہ وہ بولتے ہیں اسی قدر وہ بے جوڑ اور متضاد ہو جاتے ہیں۔ تو میں ان کو بولنے سے نہیں روکتا)

Mr. Chairman: Yes, we will try that the less he gives in writing, the better it is, and the less he reads is also better. Now, the 505 stage has come when only oral answers and brief answers are needed. Any honourable member who would like to say anything?

(جناب چیئرمین: ہاں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ جس قدر کم وہ تحریر میں دیں گے وہ اچھا ہے اور جس قدر کم وہ پڑھیں گے وہ بہتر ہے۔ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ جب صرف زبانی جواب اور مختصر جواب کی ضرورت ہے۔ کوئی اور معزز ممبر صاحب کچھ کہنا چاہتے ہیں)

Some Members: Nobody.

(کچھ ممبران: کوئی نہیں)

Mr. Chairman: No, no, most welcome. Thank you very much. We shall Tomorrow at 10:00 am.

(جناب چیئرمین: شکریہ! بہت بہت۔ ہم کل صبح دس بجے ملیں گے)

(The Special Committee of whole House adjourned to meet at ten of the Clock, in the morning, on Thursday, the 8th August, 1974.)

(سپیشل کمیٹی صبح دس بجے ٨/اگست ١٩٧٤ء تک کے لئے ملتوی ہو گئی)

-----------

١٥٢