چلا آتا ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ورنہ کتب محرفہ میں اور قرآن میں کچھ فرق نہ رہے گا اور نہ اہل اسلام اور خود حضرت اقدس کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ انجیل میں تحریف ہو گئی ہے۔ اور آپ جب الحاق کے قائل ہیں تو حضرت اقدس کے دائرہ بیعت سے خارج ہیں کیونکہ وہ اپنے کو مجدد اسلام بتاتے ہیں نہ محرف نہ مبدل اسلام نہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن میں الحاق ہو گیا ہے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ خدا نے پیغمبر عرب ﷺ کو کیوں خاتم النبین بنایا خدا کی قدرت وحکمت میں دخل دینا اور اس سے باز پرس کرنا ہے۔ حضرت اقدس میں بھی یہی باز پرس ہو سکتی ہے کہ منجملہ ٣٣ کروڑ مسلمانان دنیا کے خدا نے انہیں کو کیوں بروزی نبی بنایا۔ الغرض اسلام کے اصول کے خلاف ہیں آپ اسلام سے خارج ہو کر ایسے اعتراضات کر سکتے ہیں۔ انہی خرافات نے ہمیں اسلامی پارٹی میں بدنام کر دیا ہے۔
راوی ..... اس سے یہ نتیجہ تو ضرور نکل سکتا ہے کہ خود مرزائی مرزاجی کی نبوت میں تذبذب اور مشکک ہیں۔
مجدد السنہ مشرقیہ ..... مرزاجی کی بڑی بھاری غلطی یہی ہے کہ قرآن وحدیث کی بعض نصوص (نہ کہ کل نصوص سے) جو کہ ان کے مطلب کے موافق ہیں اپنا دعویٰ ثابت کرتے ہیں اور تاویلات رکیکہ سے جوتیاں گانٹھتے ہیں سبب وہ بروزی نبی ہیں۔ تو جیسے دوسرے انبیاء ویسے ہی وہ بھی اور جیسے دوسرے انبیاء کے صحف ہیں ویسے ہی ان کے الہامات ہیں۔ پس وہ دوسرے انبیاء کے مسکت اور کلہ توڑ جواب میں انہیں قرآن وحدیث سے استدلال کرنے اور ان سے اپنا مدعا ثابت کرنے کی ضرورت کیا۔ قرآن سے تاویل کرنا اور آیات مقدسہ کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کے موافق چپکانا کوئی خوش عقیدت مرزائی پسند نہ کرے گا۔ کوئی دباؤ کا کوہلو نہیں کوئی وجاہت کا شکنجہ نہیں کوئی تعزیر کی چکی نہیں جس میں مرزا کو اپنے پیلے جانے ، پیسے جانے ، دبے جانے کا خوف ہو۔ کوئی پھانسی نہیں کوئی سولی نہیں جس پر کھینچے جانے کا دھڑکا ہو، آزادی کا زمانہ ہے۔ بلی کے بھاگون چھینکا ٹوٹ پڑا ہے۔ پس یہ بودا پن۔ یہ سخرا پن مسیح موعود اور امام الزمان اور بروزی نبی ۔ بروزی نبی کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن کوئی پہیلی نہیں جس کا اتا پتا بتانے کی ضرورت ہو قرآن کوئی چیستان اور معمے نہیں جس کے حل کرنے اور تاویلات چھانٹنے کی حاجت ہو اس کی شان تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ اور تفصیل کل ہے اور بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ہے۔ پس جب تک کہ قرآن کو طاق نسیان پر نہ رکھ دیں گے اپنی مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہوں گے ۔ اگر چہ دل میں تو انہوں نے مان لیا ہے مگر یہ دکھانے کو کہ میں اسلامی مجدد ہوں اور نبی ہوں۔ کھلم کھلا اقرار کرتے ہوئے قوت ناطقہ لڑکھڑاتی ہے کیونکہ ان کو اپنے خامکار چیلوں پر ابھی پورا پورا اعتماد نہیں ہے ان پر ابھی گہرا رنگ
٢١٥
رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا عبداللطیف صاحب جہلمی
- حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکوئی
- حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی
- حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہری
- جناب حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھی
احتساب قادیانیت
جلد ٤١
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٤١
• حضرت مولانا عبداللطیف صاحب دہلویؒ
• حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکویؒ
• حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ
• حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ
• جناب حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھیؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد اکتالیس (٤١)
مصنفین : حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب جہلمیؒ حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکوئیؒ حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ جناب حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھیؒ
صفحات : ٥٩٢
قیمت : ٣٠٠ روپے
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
طبع اوّل : جنوری ٢٠١٢ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمن الرحی
فہرست رسائل مشمولہ..... احتساب
عرض مرتب
- ١...... پاکستان کا غدار حضرت
- ٢...... آئینہ قادیانیت حضرت
- ٣...... قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں یا اسلام قبول کریں حضرت
- ٤...... فتنہ انکار ختم نبوت
(حقائق و واقعات کی روشنی میں) حضرت
- ٥...... فتنہ مرزائیت اور پاکستان //
- ٦...... چودھویں صدی کا مسیح حکیم مظہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
احتساب قادیانیت جلد اکتالیس (٤١)
حضرت مولانا عبداللطیف صاحب جہلمیؒ حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکویؒ حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ جناب حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھیؒ
٥٩٢
٣٠٠ روپے
ناصر آرٹ پریس لاہور
جنوری ٢٠١٢ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٤١
عرض مرتب ٤
- ١...... پاکستان کا غدار حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ ٩
- ٢...... آئینہ قادیانیت حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکویؒ ١٥
- ٣...... قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں یا اسلام قبول کریں حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ ٩٩
- ٤...... فتنہ انکار ختم نبوت حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ١٦١
(حقائق و واقعات کی روشنی میں)
- ٥...... فتنہ مرزائیت اور پاکستان // // // ٢٠١
- ٦...... چودھویں صدی کا مسیح حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھیؒ ٢١٥
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ!
عرض مرتب
نحمده ونصلی علی رسوله الكريم ، اما بعد!
قارئین کرام! لیجئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم و احسان سے احتساب قادیانیت کی اکتالیسویں جلد پیش خدمت ہے۔
- ٭...... حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی (وفات ٢٧؍اپریل ١٩٩٨ء) یادگار اسلاف تھے۔ جامعہ
حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم، جامع مسجد گنبد والی، تحریک خدام اہل سنت آپ کی یادگار ہیں۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ جمعیت علماء اسلام کا پاکستان ملتان میں جو تاسیسی اجلاس منعقد ہوا اس میں آپ بھی شامل تھے۔ حق تعالیٰ شانہ نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ بہت ہی نظریاتی عالم دین تھے۔ آپ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ دارالعلوم دیوبند سے ستمبر ١٩٤٠ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کر کے سند فراغ حاصل کی۔ زندگی بھر رافضیت و خارجیت اور اس کی جدید شکلیں (مودودیت و یزیدیت) کے خلاف برسرپیکار رہے۔ طالب علمی کے زمانہ سے قادیانی فتنہ کے خلاف سرگرم عمل ہوئے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے استیصال کے لئے ہراول دستہ کی قیادت فرمائی۔ رد قادیانیت پر آپ کا ایک رسالہ:
- ١...... پاکستان کا غدار: اس جلد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس رسالہ
کا دوسرا ایڈیشن ١٩٥٨ء میں شائع ہوا۔
- ٭...... ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے معروف مجاہد عالم دین اور نامور مذہبی رہنماء بہادر اور شیر دل جرنیل
حضرت مولانا محمد فیروز خان (وفات ٩؍مارچ ٢٠١٠ء) تھے۔ آپ اصلاً کشمیری تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ معروف قادیانی شاطر ظفر اللہ ڈسکہ کا رہائشی تھا۔ اس نے اس علاقہ میں قادیانیت کو ایک طاقت کے طور پر متعارف کرانے میں شب و روز ایک کر دیئے۔ ظفر اللہ قادیانی کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے مجلس احرار اسلام نے سیالکوٹ کو اپنا مرکز بنایا۔ ہر الیکشن میں ظفر اللہ قادیانی کے نہ صرف عزائم کو خاک میں ملایا۔ بلکہ ظفر اللہ کے چہرہ کو بھی خاک آلود کر دیا۔ اس کے علاوہ قدرت نے ظفر اللہ کی بولتی بند کرنے کے لئے مستقل یہ سبیل پیدا فرمائی کہ مولانا فیروز خان دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد ڈسکہ آگئے اور ظفر اللہ کی کوٹھی کے قریب ایک مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اس مسجد کے سامنے کے پلاٹ پر دارالعلوم مدنیہ کی بنیاد رکھی۔ قدرت
کے کرم کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ ظفر اللہ قادیانی کے عزائم گئیں۔ کوٹھی میں الو بولتے ہیں۔ جب کہ دارالعلوم مدنیہ اسلام ایک بار قادیانیوں نے ضلعی افسروں سے ساز باز کر کے دوماہ بندی کرا دی۔ مولانا نے ان دنوں ایک کتابچہ تحریر فرما کر شائع کر
- ٢...... آئینہ قادیانیت: ہماری سعادت ہے کہ احتساب
شامل کر رہے ہیں۔
- ٭...... جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث استاذ العلماء
(وفات ٢١؍اکتوبر ١٩٨٨ء) بہت بڑے عالم دین تھے۔ دارال حضرت مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے بعد جا کے بعد دارالعلوم ٹنڈو اللہ یار خان میں آپ پڑھاتے رہے محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلوی کو والد گرامی کی مسند حدیث پر جامع کے لایا گیا۔ آپ نے اپنے والد گرامی مرحوم کی نیابت کا حق خوب صاحب علم شخصیت تھے۔ علمی وقار کے ساتھ ساتھ بہت مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سالانہ آل پر آپ اور حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی جامعہ اشرفیہ کے مہ اجلاس میں شرکت فرماتے اس اجلاس کی بہاریں بھی جوبن کو چھ
- ٭...... ٢٦؍اپریل ١٩٨٤ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع
جسے قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا۔ تب نظریاتی کونسل کے رکن رکین تھے۔ آپ نے وفاقی شرعی عدال قادیانی مؤقف کے خلاف نمائندگی کرتے ہوئے ایک وقیع شکل میں جولائی ١٩٨٤ء میں شائع کیا گیا۔ اس کا نام ہے:
- ٣...... قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں یا اسلام قبول کر
احتساب قادیانیت کی اس جلد میں اس کتاب کو بھی شامل کیا جارہ
- ٭...... برصغیر پاک و ہند کی معروف خانقاہ تونسہ شریف ک
”خانقاہ سیال شریف“ وجود میں آئی۔ خانقاہ سیال شریف کے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ !
عرض مرتب
صلی علی رسولہ الکریم ۔ اما بعد ! ند تعالیٰ کے فضل وکرم واحسان سے احتساب قادیانیت کی
جہلمی (وفات ٢٧؍اپریل ١٩٩٨ء) یادگار اسلاف تھے۔ جامعہ روالی، تحریک خدام اہل سنت آپ کی یادگار ہیں۔ شیخ التفسیر مولانا ۔ جمعیت علماء اسلام کا پاکستان ملتان میں جو تاسیسی اجلاس منعقد تعالیٰ شانہ نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ بہت ہی نظریاتی نا سید حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد تھے۔ دارالعلوم دیوبند سے صل کر کے سند فراغ حاصل کی۔ زندگی بھر رافضیت وخارجیت اور دیت) کے خلاف برسر پیکار رہے۔ طالب علمی کے زمانہ سے ئے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور ل وستر کی قیادت فرمائی۔ رد قادیانیت پر آپ کا ایک رسالہ: لد میں شامل کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس رسالہ وا۔
عروف مجاہد عالم دین اور نامور مذہبی رہنماء بہادر اور شیر دل جرنیل ٩؍مارچ ٢٠١٠ء) تھے۔ آپ اصلاً کشمیری تھے۔ دارالعلوم دیوبند نی ؒ کے شاگرد تھے۔ معروف قادیانی شاطر ظفر اللہ ڈسکہ کا دیانیت کو ایک طاقت کے طور پر متعارف کرانے میں شب وروز ور کو خاک میں ملانے کے لئے مجلس احرار اسلام نے سیالکوٹ کو دیانی کے نہ صرف عزائم کو خاک میں ملایا۔ بلکہ ظفر اللہ کے چہرہ کو قدرت نے ظفر اللہ کی بولتی بند کرنے کے لئے مستقل یہ سبیل پیدا ہ فارغ ہونے کے بعد ڈسکہ آگئے اور ظفر اللہ کی کوٹھی کے قریب مسجد کے سامنے کے پلاٹ پر دارالعلوم مدنیہ کی بنیاد رکھی۔ قدرت
کے کرم کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ ظفر اللہ قادیانی کے عزائم خاک میں مل گئے۔ جائیدادیں بک گئیں۔ کوٹھی میں اُلو بولتے ہیں۔ جب کہ دارالعلوم مدنیہ اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء کا مظہر اتم ہے۔ ایک بار قادیانیوں نے ضلعی افسروں سے ساز باز کر کے دوماہ کے لئے مولانا محمد فیروز خان کی زبان بندی کرادی۔ مولانا نے ان دنوں ایک کتابچہ تحریر فرما کر شائع کردیا۔ جس کا نام ہے:
- ......٢ آئینہ قادیانیت: ہماری سعادت ہے کہ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں اسے بھی
شامل کر رہے ہیں۔
- ٭...... جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث استاذ العلماء حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی
(وفات ٢١؍اکتوبر ١٩٨٨ء) بہت بڑے عالم دین تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے بعد جامع العلوم بہاول نگر اور پاکستان بننے کے بعد دارالعلوم ٹنڈو اللہ یار خان میں آپ پڑھاتے رہے۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث تھے۔ جب آپ کا وصال ہوا تو مولانا محمد مالک کاندھلوی کو والد گرامی کی مسند حدیث پر جامعہ اشرفیہ لاہور میں بطور شیخ الحدیث کے لایا گیا۔ آپ نے اپنے والد گرامی مرحوم کی نیابت کا حق ادا کر دیا۔ مولانا محمد مالک کاندھلوی خوب صاحب علم شخصیت تھے۔ علمی وقار کے ساتھ ساتھ بہت باغ وبہار طبیعت پائی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ پر آپ اور حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی جامعہ اشرفیہ کے ”شیخین“ تشریف لاتے تھے۔ جس اجلاس میں شرکت فرماتے اس اجلاس کی بہاریں بھی جوبن کو چھونے لگ جاتیں۔
٢٦؍اپریل ١٩٨٤ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ جسے قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا۔ تب مولانا محمد مالک کاندھلوی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رکین تھے۔ آپ نے وفاقی شرعی عدالت میں اہل اسلام کی طرف سے قادیانی مؤقف کے خلاف نمائندگی کرتے ہوئے ایک وقیع بیان جمع کرایا۔ جسے بعد میں کتابی شکل میں جولائی ١٩٨٤ء میں شائع کیا گیا۔ اس کا نام ہے:
- ......٣ قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں یا اسلام قبول کریں: فقیر کی سعادت مندی ہے کہ
احتساب قادیانیت کی اس جلد میں اس کتاب کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔
- ٭...... برصغیر پاک وہند کی معروف خانقاہ تونسہ شریف کا فیض جب سیال شریف پہنچا تو
”خانقاہ سیال شریف“ وجود میں آئی۔ خانقاہ سیال شریف کے بانی خواجہ احمد دین تھے۔ ان کے
جانشین خواجہ شمس الدینؒ تھے۔ موصوف کے جانشین حضرت خواجہ ضیاء الدینؒ تھے۔ ان کے جانشین حضرت العلامہ خواجہ قمر الدین سیالوی مرحوم تھے۔ حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ سے جن شخصیات نے کسب فیض کر کے خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ ان میں ایک ہمارے ممدوح حضرت علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ بھی تھے۔ حضرت پیر محمد کرم شاہ صاحب (وفات ٤؍ اپریل ١٩٩٨ء) بہت فاضل شخصیت تھے۔ جامعہ ازہر مصر سے آپ فارغ التحصیل تھے۔ اس لئے ازہری کہلاتے تھے۔ آپ نے قرآن مجید کی تفسیر لکھی۔ جس کا نام ”ضیاء القرآن“ ہے۔ آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج بھی رہے۔ آپ کے حوالہ سے اپریل ١٩٨٤ء ردقادیانیت پر ایک رسالہ شائع ہوا۔ جس کا نام:
- ٤........ فتنۂ انکار ختم نبوت ہے۔ مجھے بہت خوشی حاصل ہو رہی ہے کہ احتساب کی اس جلد
میں اسے بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آپ کا ایک اور رسالہ جس کا نام ہے:
- ٥........ فتنۂ مرزائیت اور پاکستان: یہ بھی اس جلد میں شامل ہے، اس کا تعارف خود رسالہ میں موجود ہے۔
- ٭........ ١٣٢٢ھ مطابق (١٩٠٤ء) کو حکیم مظہر حسن قریشی داروغہ آبکاری چھاؤنی سیالکوٹ
نے ایک کتاب بطرز ناول مرزا قادیانی کی تردید میں ٥١٢ صفحات پر مشتمل شائع کی۔ جس کا نام مصنف نے ”چودھویں صدی کا مسیح“ رکھا۔ آج سے ربع صدی قبل ایک کتاب کی تلاش میں جناب پروفیسر عبدالجبار شاکرؒ کی خدمت میں ملتان روڈ لاہور حاضر ہوا۔ بیت الحکمت لائبریری کا وزٹ کیا۔ مطبوعہ کتب جو میسر آئیں ان کو علیحدہ کیا، کہ ان کی فوٹو کرانی ہے۔ خیال تھا کہ ادائیگی ہم کر دیں گے۔ فوٹو پروفیسر صاحب کرانے کی بابت اپنے کسی اہل کار کو حکم فرما دیں گے۔ فقیر نے یہی عرض کی۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اور فرمایا آپ کتابیں لے جائیں۔ حسب سہولت فوٹو کرا لیں۔ اور کتابیں مجھے واپس بھجوا دیں۔ اس عنایت و اعتماد پر فقیر نے ممنون احسان تو خیر ہونا ہی تھا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ اس پر تعجب ہوا کہ پروفیسر صاحب سے پہلی ملاقات ہے۔ اس سے قبل ایک دوسرے کے نام سے غائبانہ جان پہچان تھی۔ اتنا اعتماد کون کرتا ہے؟۔ پروفیسر صاحب فقیر کے تعجب کو بھانپ گئے اور فرمایا۔ مولانا! ہر ایک سے ایک جیسا معاملہ نہیں ہوتا۔ کتابوں کو دینا تو درکنار دکھانے میں بھی احتیاط کرتا ہوں۔ لیکن آپ ذمہ دار ادارہ کے ذمہ دار فرد ہیں۔ اگر آپ میں احساس ذمہ داری نہیں ہوگا تو کس میں ہوگا؟۔ ردقادیانیت کی کتابوں سے آپ سے زیادہ کون استفادہ کرے گا؟۔ لے جائیے۔ فوٹو کرائیے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک سطر ضائع ہوئے بغیر اصل کتب مجھے مل جائیں گی۔ چنانچہ بحمدہ تعالیٰ! مولانا عزیز الرحمن ثانی نے ان کتابوں کا فوٹو کرا کر مجھے ارسال فرمایا اور اصل کتب پروفیسر صاحب کو واپس کیں۔
اتنے میں میز پر چائے آگئی۔ پروفیسر صاحب دوست کے ہاں ردقادیانیت پر ایک کتاب دیکھی۔ فوٹو کرا لیا۔ کے پاس نہ ہو تو اس کا بھی فوٹو کرا لیں۔ فقیر نے وہ کتاب دیکھی نے خیال کیا کہ ایک تو فوٹو مدھم ہے۔ دوسرا نامکمل نسخہ ہے۔ سیا گے تو مل جائے گی۔ چنانچہ وہ فوٹو والا نسخہ واپس کر دیا۔ پروفیسر صا اس ناقدری کو انہوں نے محسوس نہ ہونے دیا۔ اب فقیر نے تلاش کتاب نہ ملی۔ ربع صدی دھکے کھاتا رہا۔ کتاب کا کہیں سے سرا عبدالجبار شاکر مرحوم کا وصال ہو گیا۔ اب اسی فوٹو سے فوٹو کرانے
ہمارے مخدوم جناب رضوان نفیس صاحب جو کے خادم خاص وخلیفہ مجاز ہیں اور کتابوں کی تلاش میں اللہ رس اویسی ؒ والے ذوق کا بھی وارث بنایا ہے۔ ان سے عبدالجبار شاکر ؒ کے صاحبزادے جمال الدین افغانی اسا آتے ہیں۔ اتوار شام واپس چلے جاتے ہیں۔ صفہ اکیڈ زید مجدہم کے ان سے مراسم ہیں۔ وہ ان سے بات کریں گے
چنانچہ حضرت مولانا محمد عابد صاحب نے ذمہ د ٢٠١٠ء کو فقیر کو نسخہ ارسال فرمایا۔ فقیر کو خزانہ مل گیا۔ اب دن رات گیا۔ فوٹو سے فوٹو تھا اور وہ بھی ایک صدی قبل کی کتاب سے جو یک کر کے فقیر نے مدہم حروف پر قلم چلایا۔ انہیں نمایاں کیا۔ ہوئے۔ قلق ہوا۔ بلکہ قلبی قلق ہوا کہ کتاب چھپنے کے قابل نہیں مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ کے رسالہ اشاعۃ السنہ سے مصن اشاعۃ السنہ کی فائل برادرم مولانا محمد حماد لدھیا یا اس سے متعلقہ صفحات فوٹو کرائے۔ لیکن اب بھی طبیعت گرانی مشکل ہے کہ پڑھی ہی نہیں جارہی۔ سیالکوٹ کے عل گھاس ڈالتا ہے۔“ مجھ مسکین پر جو بیت رہی تھی وہ تو اللہ محمد عباس پسروری صاحب سے ذکر کیا۔ انہوں نے تلاش دجہ ضیاء اللہ کھوکھر صاحب گوجرانوالہ کی لائبریری میں ا
اتنے میں میز پر چائے آ گئی۔ پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ میں برطانیہ گیا تھا۔ ایک دوست کے ہاں رد قادیانیت پر ایک کتاب دیکھی۔ فوٹو کرا لیا۔ نامکمل ہے۔ آپ اسے دیکھ لیں۔ آپ کے پاس نہ ہو تو اس کا بھی فوٹو کرا لیں۔ فقیر نے وہ کتاب دیکھی تو ”چودھویں صدی کا مسیح“ تھی۔ فقیر نے خیال کیا کہ ایک تو فوٹو مدہم ہے۔ دوسرا نامکمل نسخہ ہے۔ سیالکوٹ سے شائع ہوئی ہے۔ تلاش کریں گے تو مل جائے گی۔ چنانچہ وہ فوٹو والا نسخہ واپس کر دیا۔ پروفیسر صاحب نے بھی محسوس نہ کیا۔ یا یہ کہ میری اس ناقدری کو انہوں نے محسوس نہ ہونے دیا۔ اب فقیر نے تلاش شروع کی۔ لائبریریاں چھان ماری۔ کتاب نہ ملی۔ ربع صدی دھکے کھاتا رہا۔ کتاب کا کہیں سے سراغ نہ ملا۔ اتنے میں محترم جناب پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم کا وصال ہو گیا۔ اب اسی فوٹو سے فوٹو کرانے کا فیصلہ کیا۔
ہمارے مخدوم جناب رضوان نفیس صاحب جو ہمارے حضرت سید نفیس الحسینی ؒ کے خادم خاص وخلیفہ مجاز ہیں اور کتابوں کی تلاش میں اللہ رب العزت نے انہیں حضرت سید نفیس الحسینی ؒ والے ذوق کا بھی وارث بنایا ہے۔ ان سے عرض کی تو پتہ چلا کہ پروفیسر عبدالجبار شاکر ؒ کے صاحبزادے جمال الدین افغانی اسلام آباد رہتے ہیں۔ ہفتہ شام لاہور آتے ہیں۔ اتوار شام واپس چلے جاتے ہیں۔ صفا اکیڈمی لاہور کے حضرت مولانا محمد عابد زید مجدہم کے ان سے مراسم ہیں۔ وہ ان سے بات کریں گے۔
چنانچہ حضرت مولانا محمد عابد صاحب نے ذمہ داری کو نبھایا۔ فوٹو کرا کر ٢٠؍ اپریل ٢٠١٠ء کو فقیر کو نسخہ ارسال فرمایا۔ فقیر کو خزانہ مل گیا۔ اب دن رات ایک کر کے کتاب کو پڑھنا شروع کیا۔ فوٹو سے فوٹو تھا اور وہ بھی ایک صدی قبل کی کتاب سے جو مدہم در مدہم ہو گیا۔ اب دن رات ایک کر کے فقیر نے مدہم حروف پر قلم چلایا۔ انہیں نمایاں کیا۔ لیکن بعض حروف تو بالکل سمجھ میں نہ آئے۔ قلق ہوا۔ بلکہ قلبی قلق ہوا کہ کتاب چھپنے کے قابل نہیں۔ اس میں چند صفحات پر ایک نظم تھی وہ مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ کے رسالہ اشاعۃ السنۃ سے مصنف نے لی تھی۔
اشاعۃ السنۃ کی فائل برادرم مولانا محمد حماد لدھیانوی زید مجدہ کے پاس فیصل آباد تھی۔ اس سے متعلقہ صفحات فوٹو کرائے۔ لیکن اب بھی طبیعت میں قلق باقی کہ کتاب اس فوٹو سے کمپوز کرانی مشکل ہے کہ پڑھی ہی نہیں جارہی۔ سیالکوٹ کے علم دوستوں سے کہا لیکن ”پرانی بکری کو کون گھاس ڈالتا ہے۔“ مجھ مسکین پر جو بیت رہی تھی وہ تو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ ایک دن جناب مولانا محمد عباس پسروری صاحب سے ذکر کیا۔ انہوں نے تلاش کا وعدہ کیا۔ ان کا عرصہ بعد فون آیا کہ جناب ضیاء اللہ کھوکھر صاحب گوجرانوالہ کی لائبریری میں اصل کتاب موجود ہے۔ فقیر کو جن
صفحات کے فوٹو درکار تھے (تاکہ جیسے کیسے نسخہ مکمل ہو) وہ صفحات مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو نوٹ کرائے۔ وہ گوجرانوالہ تشریف لے گئے۔ جناب ضیاء اللہ کھوکھر سے فقیر کی دیرینہ یاد اللہ ہے۔ انہوں نے ان صفحات کے فوٹو کرا دیئے۔ لو کتاب مکمل ہو گئی۔ اس کی تو خوشی ہوئی۔ لیکن چھاپنے کے لئے اب بھی حوصلہ نہ پڑتا تھا۔ فقیر نے دھڑکتے دل سے جناب محترم ضیاء اللہ کھوکھر کو خط لکھا کہ فوٹو سے فوٹو کا نسخہ اس کتاب کا فقیر کے پاس آپ کے تعاون سے مکمل موجود ہے۔ لیکن چھپنے کے قابل نہیں۔ آپ کے پاس اصل کتاب ہے۔ اس سے عمدہ فوٹو ہو سکتا ہے۔ مہربانی فرمائیں تو مکمل کتاب کا عمدہ فوٹو ارسال فرمائیں۔ تاکہ اس کتاب کو احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں شامل اشاعت کیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزائے خیر دیں۔ وعدہ فرما لیا اور پھر ٤ جولائی ٢٠١١ء کو مکمل کتاب کا فوٹو ارسال کر دیا۔
قارئین کرام! اس کتاب کے ملنے کی خوشی تو خیر ایک فطری امر تھا کہ مرزا قادیانی ملعون کی زندگی میں ان کے خلاف اتنی ضخیم کتاب شائع ہوئی جو ہمارے پاس نہ تھی اب مل گئی۔ اس مسودہ کو لاہور بھجوایا وہاں سے کمپوز ہو کر آیا۔ اس سلسلہ میں مولانا محمد عابد صفہ اکیڈمی لاہور نے سر پرستی فرمائی۔ اس کتاب کے آخر پر درج ہے کہ اس کا دوسرا حصہ بھی شائع ہوگا۔ جو غالباً نہ ہو سکا۔ غرض:
- ٦...... چودھویں صدی کا مسیح: نامی کتاب جناب حکیم مظہر حسن قریشی میرٹھی ثم سیالکوٹی اس
جلد میں شامل اشاعت ہے۔
خلاصہ یہ کہ احتساب قادیانیت کی جلد اکتالیس (٤١) میں پانچ حضرات:
- ١...... حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کا ١ رسالہ
- ٢...... حضرت مولانا محمد فیروز خانؒ ڈسکہ کا ١ رسالہ
- ٣...... حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کا ١ رسالہ
- ٤...... حضرت مولانا پیر سید محمد کرم شاہ الازہریؒ کے ٢ رسالے
- ٥...... جناب حکیم محمد حسن قریشی میرٹھیؒ کی ١ کتاب
پانچ حضرات کی کل چھ عدد کتب ورسائل شامل ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ امین بحرمۃ النبی الکریم!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٧ صفر الخیر ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٢ جنوری ٢٠١٢ء
خاتم النبیین ﷺ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی
پاکستان کا
حضرت مولانا عبد اللطیف
صفحات مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ عالمی مجلس ریف لے گئے۔ جناب ضیاء اللہ کھوکھر فوٹو کرا دیئے۔ لو کتاب مکمل ہوگئی۔ اس نہ پڑتا تھا۔ فقیر نے دھڑکتے دل سے ۔ اس کتاب کا فقیر کے پاس آپ کے پ کے پاس اصل کتاب ہے۔ اس سے فوٹو ارسال فرمائیں۔ تاکہ اس کتاب کو سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزائے خیر ہ ارسال کر دیا۔ ر ایک فطری امر تھا کہ مرزا قادیانی ملعون رے پاس نہ تھی اب مل گئی۔ اس مسودہ کو ا محمد عابد صفدر اکیڈمی لاہور نے سرپرستی ی شائع ہوگا۔ جو غالباً نہ ہو سکا۔ غرض: ہم مظہر حسن قریشی میرٹھی ثم سیالکوٹی اس
(م) میں پانچ حضرات: کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ کے ٢ رسالے کی ١ کتاب ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ شرف قبولیت سے
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! نیز ١٤٣٣ھ، بمطابق ١٢ / جنوری ٢٠١٢ء
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں
پاکستان کا غدار
حضرت مولانا عبداللطیف صاحبؒ جہلمی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پاکستان اور مرزائیوں کی غداریاں
الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفےٰ
برادران اسلام! پاکستان کے اندر جو تخریبی فتنے پرورش پارہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ مرزائیت ہے۔ کیونکہ مرزائیت دین اسلام کی کھلی تحقیر و تضحیک کا دوسرا نام ہے۔ مرزائیت کے پیرو نہ تو اسلام کے وفادار ہیں اور نہ مسلمانوں کے خیر خواہ، اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی ان کو کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے بھی اور پاکستان کے بن جانے کے بعد بھی آج تک اسی کوشش میں ہیں کہ کس طرح پاکستان کو ختم کر کے اپنے امیر کے خوابوں اور بیانات کو صحیح ثابت کیا جائے۔ اب خدا کے فضل و کرم سے مسلمان قوم ان کی منافقانہ چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔
کوئی مسلمان مر جائے یا اس کا چھوٹا بچہ فوت ہو جائے تو مرزائی اس کا جنازہ پڑھنا حرام سمجھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ: ”مسٹر محمد علی جناح“ فوت ہوئے تو سرظفراللہ پاس بیٹھا رہا۔ لیکن جناح صاحب کا جنازہ نہیں پڑھا۔
آج تمام مرزائی اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان پر پورے طور پر قبضہ کر کے مرزائی حکومت قائم کریں۔ خدا کے فضل سے قیامت تک ان پاکستانی یہودیوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔
مرزا بشیر الدین محمود کا اعلان ملاحظہ فرمادیں۔ جس کو مرزائی سچا ثابت کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکھنڈ رکھنا چاہتی ہے۔ اگر عارضی طور پر تقسیم ہو تو اور بات ہے۔ ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں۔“
(الفضل مورخہ ١٦؍مئی ١٩٤٧ء)
٢
آپ نے ١٦؍ اپریل کے الفضل میں اپنا خوا سنائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستا ٢٦؍ نومبر کے الفضل میں اپنا ایک اور خواب سرظفراللہ وزیر خارجہ پاکستان تھا کہ: ”ہندوستان اور پاک آگئے ہیں۔“
آپ مرزائیوں کے خلیفہ کے ارادوں کو سمجھ ان کی ہمدردی ہوگی۔ جب باؤنڈری کمیشن کے سامنے مرزائیوں نے اپنے وکیل شیخ بشیر احمد امیر جماعت احمدیہ مرزائی اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دیتے تو آج گورداس جب مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو وہاں مسلم اور ہونے پر مسلمان باوجود اکثریت کے اقلیت میں ہو پاکستان سے کٹ گیا اور گورداسپور کے ہاتھ سے نکل جا ہونے میں نہیں آتا۔ کشمیر کا اب تک نہ ملنا محض مرزائیوں
راولپنڈی سازش کیس
جس میں جنرل نذیر اور دوسرے مرزائی ماخ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ قائد ملت خان لیاقت علی خان م سے اچھی طرح واقف ہو چکے تھے۔ انہوں نے مرزائیوں آج بدقسمتی سے قائد ملت کے شہید ہو جانے کے بعد م کی جرأت کر رہا ہے۔
ہماری غفلت کی وجہ سے برطانیہ کے جاسوس سے جائز و ناجائز طریقہ سے فوائد حاصل کر رہا ہے۔ د
٣
آپ نے ١٢؍ اپریل کے الفضل میں اپنا خواب بیان کیا کہ: ”میں اور مسٹر گاندھی ہم بستر ہوئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان پھر متحد ہو جائے گا۔“
٢٦؍نومبر کے الفضل میں اپنا ایک اور خواب بیان فرمایا کہ جس کا راز داں مرید باصفا سر ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان تھا کہ : ”ہندوستان اور پاکستان پھر متحد ہو گئے ہیں اور انگریز واپس آگئے ہیں۔“
آپ مرزائیوں کے خلیفہ کے ارادوں کو سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کہاں تک ان کی ہمدردی ہوگی۔ جب باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلمانوں کی طرف سے کیس پیش ہوا تو مرزائیوں نے اپنے وکیل شیخ بشیر احمد امیر جماعت احمدیہ لاہور کی معرفت علیحدہ کیس پیش کیا۔ اگر مرزائی اس وقت مسلمانوں کا ساتھ دیتے تو آج گورداسپور کا علاقہ یقیناً پاکستان کے ساتھ ہوتا۔ جب مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو وہاں مسلم اور غیر مسلم کا سوال تھا۔ مرزائیوں کے علیحدہ ہونے پر مسلمان باوجود اکثریت کے اقلیت میں ہو گئے۔ جس کی وجہ سے گورداسپور کا علاقہ پاکستان سے کٹ گیا اور گورداسپور کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے آج تک کشمیر کا مسئلہ طے ہونے میں نہیں آتا۔ کشمیر کا اب تک نہ ملنا محض مرزائیوں کی غداری کا نتیجہ ہے۔
راولپنڈی سازش کیس
جس میں جنرل نذیر اور دوسرے مرزائی ماخوذ ہوئے تھے۔ فوجی انقلاب کر کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ قائد ملت خان لیاقت علی خان مرحوم مرزائیوں کے ہتھکنڈوں اور سازشوں سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ انہوں نے مرزائیوں کے بد ارادوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ آج بدقسمتی سے قائد ملت کے شہید ہو جانے کے بعد مرزائیوں کا خلیفہ مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کی جرات کر رہا ہے۔
ہماری غفلت کی وجہ سے برطانیہ کے جاسوس (مرزا قادیانی) کا یہ ٹولہ آج تک مملکت سے جائز و ناجائز طریقہ سے فوائد حاصل کر رہا ہے۔ دوسرے ممالک میں جاتا ہے تو مرزائیت کی
٣
١٢
تبلیغ کرتا ہے اور مسلمانوں میں کفر و ارتداد پھیلانے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی دولت جس طرح بھی ہو خرچ کر کے مرزائیت کو فروغ پہنچائیں۔ اسے پاکستان کی ترقی کی چنداں پرواہ نہیں اور پرواہ ہو بھی کیسے؟
جب ملک کی اکثریت کو وہ کافر گردانتا ہے۔ مرزائیوں کے اخبارات اور ان کا خلیفہ ہر طرح سے مسلمانوں کو فریب میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے رہنماؤں نے اس بات کا تہیہ کر لیا ہے کہ ان غداروں کو پاکستان کی دولت لوٹنے نہیں دی جائے گی۔
چنانچہ ٢؍ جون ١٩٥٢ء آل پارٹیز کنونشن کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں ١٧٥ علمائے کرام اور اکابرین ملت شریک ہوئے۔ مولانا محمد ہاشم صاحب گزدر ممبر دستور ساز اسمبلی نے اس اجلاس میں جو تقریر ارشاد فرمائی وہ خاص طور پر توجہ کے لائق ہے۔ جس میں ظفر اللہ کی وفاداری کا پردہ چاک ہوتا ہے۔
تقریر گزدر ہاشمی
آپ نے فرمایا: جب چوہدری ظفر اللہ خان کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کے لئے لیک سس گئے ہوئے تھے۔ ان دنوں میں بھی وہاں موجود تھا۔ وہاں کے لابی حلقوں میں مشہور تھا کہ سر ظفر اللہ وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو ہندوستان چاہتا ہے۔ چنانچہ میں نے ایک منسٹر کو مطلع کر دیا کہ یہاں کے لابی حلقوں میں ایسی خبریں مشہور ہیں۔ اس کے بعد میں نے تمام ممالک کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔
آپ نے فرمایا: چوہدری ظفر اللہ کے انگریزوں اور ہندوؤں سے خاص مراسم ہیں اور ان کے امیر خلیفہ محمود کے بھی اسی نوعیت کے الہامات ہیں۔ سر ظفر اللہ قادیانی پاکستان سے زیادہ اپنے امام مرزا بشیر الدین کے وفادار ہیں اور اپنے امام کی ہدایات کے مقابلہ میں حکومت پاکستان کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ اس لئے مرزائی افسران اور سر ظفر اللہ پر ایک لمحہ کے لئے بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا مرزائی افسروں کو کلیدی آسامیوں سے فوراً علیحدہ کر دینا چاہئے۔
٣
آپ نے فرمایا : مرزائی افسروں کا بائیکا نہ ہو جائے۔ اس وقت تک اسے ملازمت نہیں دی تو پھر اس کی ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
ستر فیصد قادیانی افسران
آپ نے فرمایا کہ ”جو شخص اکھنڈ ہندو اور ہماری بدقسمتی ہے کہ اس وقت اکھنڈ ہندوستا فیصدی کلیدی اسامیوں پر فائز ہیں۔ اگر خدانخواستہ حال ہوگا۔“
مسلمان بھائیو! مولانا موصوف کے خیالا کی حرکت پر کڑی نگاہ رکھو۔ تاکہ کسی وقت بھی یہ غدار سکے۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ تمام جماعتوں او نبوت“ کے لئے مجلس عمل بنائی ہے۔
تمام مسلمانوں کو اس کے پروگرام پر پورا چاہئے۔ تاکہ آئندہ کوئی گستاخ تاج ختم نبوت کی طرف
نوٹ: الحمد للہ! اب سر ظفر اللہ خاں وزار تحریک ختم نبوت نے مرزائیوں کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے
مرزائیوں کے چند اص
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین
- ١...... ”محمد رسول اللہ والذین معہ
اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔
آپ نے فرمایا: مرزائی افسروں کا ہمیشہ یہی عمل رہا ہے کہ جب تک کوئی مسلمان مرتد نہ ہو جائے۔ اس وقت تک اسے ملازمت نہیں دی جاتی اور اگر کسی نہ کسی طریقہ سے ملازم ہو جائے تو پھر اس کی ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
ستر فیصد قادیانی افسران
آپ نے فرمایا کہ ”جو شخص اکھنڈ ہندوستان کے نعرے لگاتا ہے وہ ملک کا دشمن ہے اور ہماری بدقسمتی ہے کہ اس وقت اکھنڈ ہندوستان کا عقیدہ رکھنے والے مرزائی ملک کی ستر فیصدی کلیدی اسامیوں پر فائز ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت جنگ ہو گئی تو نامعلوم پھر ہمارا کیا حال ہوگا۔“
مسلمان بھائیو! مولانا موصوف کے خیالات پر غور کرو اور فتنہ سے آگاہ رہو۔ ہر مرزائی کی حرکت پر کڑی نگاہ رکھو۔ تاکہ کسی وقت بھی یہ غداروں کا ٹولہ مسلمان اور پاکستان کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ تمام جماعتوں اور فرقوں نے آپس میں اتحاد کر کے ”تحفظ ختم نبوت“ کے لئے مجلس عمل بنائی ہے۔
تمام مسلمانوں کو اس کے پروگرام پر پوری طرح عمل کر کے اس فتنہ کی سرکوبی کرنی چاہئے۔ تاکہ آئندہ کوئی گستاخ تاج ختم نبوت کی طرف بری نیت سے آنکھ نہ اٹھا سکے۔
نوٹ: الحمد للہ! اب سرظفر اللہ خاں وزارت خارجہ سے علیحدہ ہو چکا ہے اور ١٩٥٣ء تحریک ختم نبوت نے مرزائیوں کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔
مرزائیوں کے چند اصولی عقیدے
آنحضور ﷺ کی توہین
- ١....... ”محمد رسول الله والذين آمنوا معه اشداء علی الکفار ......الخ!“
اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
٥
ہر رسولے نہان بہ پیراہنم
(درثمین فارسی ص ٦٥، نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میری قمیص میں چھپا ہوا ہے۔
- ......٣ مرزائیوں کا خلیفہ کہتا ہے: ”یہ بالکل صحیح بات ہے ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد
الرسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء)
- ......٤ حضرت علیؓ کی توہین: ”ایک زندہ علی (مرزا غلام احمد قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو
چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات احمدیہ جلد اول ص ٤٠٠)
- ......٥ حضرت حسینؓ کی توہین:
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ترجمہ: میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔
- ......٦ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی توہین: ”عین بیداری کی حالت میں میں نے دیکھا کہ
حضرت فاطمہؓ نے میرا سر اپنے ران پر رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣ حاشیہ)
- ......٧ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین: ”یسوع (مسیح علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت
پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی (مسیح علیہ السلام) کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا (مسیح علیہ السلام کا) وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
نعوذ باللہ من ہذہ العقائد!
٦
آمدنم پیراهنم
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
میری قمیص میں چھپا ہوا ہے۔ ہے ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ حتی کہ محمد بار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء) احمد قادیانی) تم میں موجود ہے۔ اس کو
(ملفوظات احمدیہ جلد اول ص ٤٠٠)
در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ الہ حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣ حاشیہ) سیح علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت علیہ السلام) کی زنا کار اور کسبی عورتیں ور پذیر ہوا۔" ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ناند!
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
آئینہ قادیانیت
حضرت مولانا محمد فیروز خان ڈسکویؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ ، اما بعد!
’’قال الله تعالیٰ: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ، قال النبی ﷺ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘
حضرات محترم! یہ جہاں ایک میدان کارزار ہے۔ جس میں حق اور باطل کی ٹکر ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ مگر غلبہ ہمیشہ حق ہی کو رہا۔ طاغوتی لشکر بڑے جوش وخروش سے امڈتے ہیں۔ مگر لشکر حقانی اس کا بھیجا نکال کر رکھ دیتے ہیں۔ کبھی اس میدان میں نمرود و ابراہیم (علیہ السلام) نبرد آزما ہوئے تو کبھی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون ٹکرائے۔ مگر نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ اسی طرح ہر زمانہ کے اندر حق و باطل کے معرکے ہوئے۔ بڑے بڑے دجال اور گمراہ پیدا ہوئے۔ مگر مردان حق کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ باطل نئے نئے روپ کے اندر رونما ہوتا رہا۔ مگر حق ہمیشہ ایک ہی صورت میں ظاہر ہو کر باطل کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکتا رہا۔ دورِ حاضر ہی کو لیجئے کہ باطل کن کن بہروپوں میں ظاہر ہو رہا ہے اور کیا کیا حربے حق کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ کہیں انکار حدیث کا فتنہ ہے اور کہیں انکار قرآن کا اعلان، کہیں ختم نبوت کا انکار ہے تو کسی طرف تجدید اسلام کا نعرہ لگ رہا ہے۔ الغرض فتنے بیشمار ہیں۔ لیکن امت مسلمہ میں ان کے سدباب اور تدارک کے لئے خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا۔ عوام الناس اور اکابرین ملت کما حقہ، اپنے فرائض انجام دینے کی طرف بہت کم شعور و احساس رکھتے ہیں۔ ان تمام فتنوں میں سے ایک عظیم فتنہ انکار ختم نبوت ہے۔ جو اپنی شاخیں پوری دنیا میں پھیلانے کے پروگرام پر سرگرم عمل ہے۔ اسی فتنہ کی سرکوبی کے سلسلے میں یہ تصنیف مجاہد ختم نبوت مولانا محمد فیروز خاں صاحب مہتمم و بانی دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی ایک سعی وکاوش کا نتیجہ ہے۔ فتنہ انکار ختم نبوت اور قادیانی امت کے ہندوستانی نبی کی مکاریوں اور عیارانہ چالوں کا تار پود بکھیرنے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ قارئین کرام خود کرلیں گے۔
ناچیز: محمد اسحاق عفی اللہ تعالیٰ عنہ!
٢
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سب ستائشیں اس اللہ کے لئے جس نے کائنات کو آخری نبی پر جس نے حق و صداقت کا علم اس جہاں میں بلند کیا ا روشنی کو چار سو عالم میں پھیلایا۔ اما بعد! چودھویں صدی مسلمانان صدی ثابت ہوئی۔ اس صدی میں بہت سے نئے فتنے ظاہر خصوصیت کے ساتھ فتنہ مرزائیت اور فتنہ انکار حدیث تباہ کن صلاحیتوں کو جس قدر مٹایا تھا۔ اسی مقدار سے لوگ فتنوں سے مٹ پناہی وقت کے اقتدار اعلیٰ نے کی۔ خصوصیت سے فتنہ مرزائیت کے لئے انہوں نے اپنے نمک خوار خاندان سے ایک فرد کو چنا ہمدرد اسلام کے لبادہ میں لپٹا ہوا تھا۔ مگر درون خانہ انگریزوں انگریزوں کا تنخواہ دار ملازم تھا۔ جس طرح بارہا اس کی زبان و قصیدے سرزد ہوئے اور خود اس نے خود کاشتہ پودا ہونے کا اظہا
نیز انگریزوں کی عدل گستری کے گیت گاتا رہا۔ مسلمانوں کو انگریز ہی نے پہنچایا۔ مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ا
نیز انگریزوں کی سلطنت مضبوط کرنے کے لئے ج اس اعلان کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ میں عہد میں جہاد منسوخ ہو جائے گا۔ پھر ترقی کر کے نبوت کا دعویٰ انگریز کی اطاعت کو ایک شرط قرار دیا۔ مسلمانان ہند نے جب کا مقابلہ ہر طرح سے کیا۔ تحریر، تقریر اور مناظرات وغی جاگیرداروں میں پھیلتی گئی۔ کیونکہ روساء تو تھے ہی انگریزوں ۔ اور نوکریاں قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑا۔ مرزا قادیانی کے کہ اولاً ان سے روساء نے ہی تعاون کیا اور نبوت کی تعمیر اص واشگاف طور پر اس کی تردید کر دی اور علمی طور پر ثابت کیا کہ موعود صرف انگریز کے نمک خوار ہیں۔
٣
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سب ستائشیں اس اللہ کے لئے جس نے کائنات کو وجود بخشا اور صلوٰۃ سلام اس کے آخری نبی پر جس نے حق و صداقت کا علم اس جہاں میں بلند کیا اور ان صحابہ پر جنہوں نے حق کی روشنی کو چار سو عالم میں پھیلایا۔ اما بعد! چودھویں صدی مسلمانان عالم کے لئے ایک پر آشوب صدی ثابت ہوئی۔ اس صدی میں بہت سے نئے فتنے ظاہر ہوئے۔ مسلمانان ہند کے لئے خصوصیت کے ساتھ فتنہ مرزائیت اور فتنہ انکار حدیث تباہ کن ثابت ہوئے۔ غلامی نے فکری صلاحیتوں کو جس قدر مٹایا تھا۔ اسی مقدار سے لوگ فتنوں سے متاثر ہوئے۔ پھر ان فتنوں کی پشت پناہی وقت کے اقتدار اعلیٰ نے کی۔ خصوصیت سے فتنہ مرزائیت تو تھا ہی انگریزوں کی ایجاد جس کے لئے انہوں نے اپنے نمک خوار خاندان سے ایک فرد کو چنا۔ جو ظاہری طور پر زہد واتقاء اور ہمدرد اسلام کے لبادہ میں لپٹا ہوا تھا۔ مگر درون خانہ انگریزوں کی حکومت مضبوط کرنے کے لئے انگریزوں کا تنخواہ دار ملازم تھا۔ جس طرح بارہا اس کی زبان سے انگریزوں کی مدح سرائی میں قصیدے سرزد ہوئے اور خود اس نے خود کاشتہ پودا ہونے کا اظہار کیا۔
نیز انگریزوں کی عدل گستری کے گیت گاتا رہا۔ حالانکہ سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو انگریز ہی نے پہنچایا۔ مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ انگریز ہی کے ہاتھ سے ہوا۔
نیز انگریزوں کی سلطنت مضبوط کرنے کے لئے جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور اس اعلان کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ میں مہدی و مسیح موعود ہوں۔ جس کے عہد میں جہاد منسوخ ہو جائے گا۔ پھر ترقی کر کے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اپنی بیعت کے شرائط میں انگریز کی اطاعت کو ایک شرط قرار دیا۔ مسلمانان ہند نے جب اس فتنہ کو تاڑا تو مسلم علماء نے اس کا مقابلہ ہر طرح سے کیا۔ تحریر، تقریر اور مناظرات وغیرہ سے مگر مرزائیت روساء اور جاگیر داروں میں پھیلتی گئی۔ کیونکہ روساء تو تھے ہی انگریزوں کے نمک خوار لہٰذا ان کو اپنی ریاست اور نوکریاں قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑا۔ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی یہ مستحکم دلیل ہے کہ اولاً ان سے روساء نے ہی تعاون کیا اور نبوت کی تعبیر احلام سے ہوئی۔ وقت کے علماء نے واشگاف طور پر اس کی تردید کر دی اور علمی طور پر ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نہ تو مہدی ہیں نہ مسیح موعود صرف انگریز کے نمک خوار ہیں۔
٣
انگریز حکومت کے دور میں تو علماء نے صرف زبانی طور پر مقابلہ کیا۔ جب ملک آزاد ہوا تو مسلمانوں کو خوشی ہوئی کہ اب تمام انگریزی یادگاریں مٹ جائیں گی اور ان یادگاروں میں مرزائیت بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئی۔ جن کی اکثریت خود انگریز کی یادگار تھی۔ انہوں نے بھی اس پودے کو پانی دینا شروع کیا تو مسلمان پھر میدان میں اتر آئے اور ١٩٥٣ء میں جو تحریک چلی وہ اسی غصہ کا اظہار تھا۔ اگرچہ کچھ دنوں تک مرزائیت پس پردہ چلی گئی۔ مگر اب پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ملک کے کلیدی عہدوں پر قادیانی قابض ہیں۔ لہذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہو گیا کہ اپنی کوشش تیز کر دیں۔ قادیانی حضرات نے اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علماء کرام پر پابندیاں لگوائیں اور انہیں گرفتار تک کیا گیا۔ تاہم علماء نے اپنا فرض ادا کرنا ضروری سمجھا اور ادا کر رہے ہیں۔
زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ڈسکہ مرزائیت کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ مرزائیت کی جڑوں میں پانی یہاں ہی سے میسر آیا تھا۔ چنانچہ احقر نے مسلمانوں کے تعاون سے ایک مدرسہ بنام دارالعلوم مدینہ یہاں قائم کیا۔ جس کی قادیانیوں نے شدید مخالفت کی اور ان کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اب یہاں قادیانیت کی تبلیغ میں دارالعلوم کی بنا پر دشواری پیش آئے گی۔
ان کی مخالفت کے باوجود اللہ کے فضل وکرم سے کام جاری ہے۔ مذکورہ کتاب لکھنے کا سبب بھی قادیانیوں کی مخالفت تھی۔ کیونکہ قادیانیوں نے جھوٹے پراپیگنڈا سے حکام کو یہ تاثر دیا کہ مذکورہ ادارہ کا سربراہ امن عامہ کے لئے خطرہ کا باعث بن رہا ہے۔ لہذا اس کی زبان بندی ضروری ہے۔ حکام بالا (جو ہمیشہ ایسے غلط پراپیگنڈا کا شکار ہوتے رہتے ہیں) نے احقر کی دو ماہ کی زبان بندی کر دی تو احقر نے بہتر سمجھا کہ ان ایام میں تعلیمی مشاغل کے علاوہ یہ چھوٹا سا رسالہ لکھ دیا جاوے۔ جس میں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں پر بحث کی جاوے۔ چنانچہ بعض پیشین گوئیوں پر بحث کی گئی۔ پھر مزید کچھ اور مضامین شامل کر لئے گئے۔ رسالہ کا حجم مجوزہ سے کچھ بڑھ گیا ہے۔ اسے ایک چھوٹی سی کتاب کی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس بارے میں علماء کرام نے بہترین کتابیں لکھیں ہیں۔ تاہم میں نے بھی ایک حقیری کوشش کر کے تبلیغ ختم نبوت میں حصہ لینے کی سعی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
٤
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”والحمد لله وحده والصلوٰة علٰی قال الله تعالیٰ ھل انبئکم علٰی من تنزل الشی یلقون السمع واکثرھم کاذبون (شعراء: ٢٢١،
سب سے پہلے یہ چیز ملحوظ رکھی جائے کہ الہام بیداری اور خواب دونوں میں ہو سکتا ہے۔ پھر الہام والقاء شیاطین کی طرف سے ۔ سچے لوگوں کو بھی الہام ہوتا ہے اور جھو انبیاء علیہم السلام پر جس طرح ہوتا ہے چاہے بیداری میں ہو شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دیگر افراد امت کا الہام یقینی نہیں ہو اور انبیاء کا الہام ہر حالت میں بنیاد ہوتا ہے۔ کیونکہ انبیاء ا الہام میں شیطانی دخل نہیں ہو سکتا۔ بخلاف دیگر افراد کے۔
اسی بنیاد پر کسی نبی کی کوئی پیش گوئی کبھی بھی غل کبھی درست اور کبھی غلط ہوتی رہتی ہے۔ لہذا معیار صدا دعویٰ کرے تو ضروری ہے جو پیش گوئی کرے کوئی بھی غلط ثا غلط ثابت ہو جائے تو وہی اس مدعی کے کاذب ہونے کے نہیں ہے۔ کیونکہ پیش گوئی میں غلطی بے علمی کی دلیل ہے ا اس میں یہ احتمال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ جل شانہ علام الغی صریح الفاظ میں ہوں وہ کسی تاویل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ قسم وغیرہ سے شروع ہو وہ تو کسی طرح کی تاویل قبول نہیں ک کیا ہے بلکہ اس پر زور دیا ہے۔
اب آئیے! ہم چودھویں صدی کے مدعی الہام کا تجزیہ کریں۔ کیا اس کی کوئی بھی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی ی
مجھے یہ کہتے ہوئے کسی طرح بھی کوئی شک وشب کا محرک ضرور کوئی ایسا امر ہے جو ان کے قلب و دماغ سے تعل کہ وہ قوت قدسیہ نہیں بلکہ قوت واہمہ اور طاغوتیہ، شیطانی قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ کی طرف سے
٥
بسم الله الرحمن الرحيم
"والحمد لله وحده والصلوة على من لا نبي بعده . اما بعد فقد قال الله تعالى هل انبئكم على من تنزل الشيطين تنزل على كل افاك اثيم يلقون السمع واكثرهم كاذبون (شعراء: ١٢٢،١٢١)“
سب سے پہلے یہ چیز ملحوظ رکھی جائے کہ الہام و وحی ایک خفیہ اشارہ کا نام ہے۔ جو بیداری اور خواب دونوں میں ہو سکتا ہے۔ پھر الہام و القاء کبھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی شیاطین کی طرف سے۔ سچے لوگوں کو بھی الہام ہوتا ہے اور جھوٹے لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔ پھر الہام انبیاء علیہم السلام پر جس طرح ہوتا ہے چاہے بیداری میں ہو یا خواب میں ہو۔ بہر صورت اس میں شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دیگر افراد امت کا الہام یقینی نہیں ہوتا۔ اسی لئے احکام کی بنیاد نہیں بن سکتا اور انبیاء کا الہام ہر حالت میں بنیاد ہوتا ہے۔ کیونکہ انبیاء کی بیداری اور نیند کسی حالت میں بھی الہام میں شیطانی دخل نہیں ہو سکتا۔ بخلاف دیگر افراد کے۔
اسی بنیاد پر کسی نبی کی کوئی پیش گوئی کبھی بھی غلط نہیں ہو سکتی۔ بخلاف دیگر افراد کے کبھی درست اور کبھی غلط ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا معیار صداقت یہ ہوگا کہ جو شخص نبوت و الہام کا دعویٰ کرے تو ضروری ہے جو پیش گوئی کرے کوئی بھی غلط ثابت نہ ہو۔ اگر ہزار میں سے ایک بھی غلط ثابت ہو جائے تو وہی اس مدعی کے کاذب ہونے کے لئے کافی ہے۔ مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ پیش گوئی میں غلطی بے علمی کی دلیل ہے اور جو پیش گوئی خدا کی طرف سے ہو۔ اس میں یہ احتمال نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ جل شانہ علام الغیوب ہیں نیز جو پیش گوئیاں واضح اور صریح الفاظ میں ہوں وہ کسی تاویل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ پھر خاص کر جو پیش گوئی کلمات تاکید و قسم وغیرہ سے شروع ہو وہ تو کسی طرح کی تاویل قبول نہیں کر سکتی۔ یہ اصول غلام احمد نے خود تسلیم کیا ہے بلکہ اس پر زور دیا ہے۔
اب آئیے! ہم چودھویں صدی کے مدعی الہام و وحی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کا تجزیہ کریں۔ کیا اس کی کوئی بھی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔
مجھے یہ کہتے ہوئے کسی طرح بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا محرک ضرور کوئی ایسا امر ہے جو ان کے قلب و دماغ سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ وہ قوت قدسیہ نہیں بلکہ قوت واہمہ اور طاغوتیہ، شیطانیہ ہے۔ جس طرح ابتداً بحث میں آیت قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ کی طرف سے القاء ہوتا ہے۔ اسی طرح شیطان کی
٥
طرف سے بھی ہوتا ہے۔ مگر خدا کا فیصلہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر اپنے الہاموں میں کاذب ہوتے ہیں۔ یہی ہمارا بھی مرزا قادیانی کے متعلق یقین وایمان ہے۔ مرزا قادیانی خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ القاء شیطانی ہوتا رہتا ہے۔
مرزا قادیانی کی بے شمار پیش گوئیاں ہیں۔ اگر ان کو پیش گوئی کہا جاسکے۔ لیکن تھیں سب جھوٹی ان پیش گوئیوں میں خاص کر مرزا قادیانی کی چند پیش گوئیاں بہت ہی مشہور ہیں اور ان پر مرزا قادیانی نے اپنی ذلت عزت کا مدار اور نبوت کا مدار اور نبوت کا کاروبار رکھا ہے۔ لہٰذا ان پر مختصر بحث کی جائے گی تاکہ قارئین پر واضح ہو جائے کہ مرزا قادیانی خود اپنی پیش گوئی کے اعتبار سے خود ہی اپنے آپ کو جھوٹا کذاب، ذلیل، مجرم، قابل روسیاہ تسلیم کرتے ہیں۔ (جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے)
- ١...... آتھم کے متعلق پیش گوئی۔
- ٢...... لیکھرام کے متعلق پیش گوئی۔
- ٣...... محمدی بیگم والی پیش گوئی
١...... پیش گوئی ڈپٹی آتھم
مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی مورخہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء میں ڈپٹی آتھم کے متعلق کی تھی۔
الفاظ پیش گوئی: ”آج رات مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١،٢١٠ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢،٢٩١)
اس کتاب میں مزید تشریح مرزا قادیانی کی زبانی سنئے۔ (ناقل) ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق ہوا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔
٦
رو سیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اس اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ۔‘‘
(جنگ مقدس ص٢١٠، ٢١١ ، خزائن ج٦ ص٢٩٢، ٢٩٣)
اب پیش گوئی کا انجام سنئے۔ مدت پیش گوئی مورخہ ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء کو ختم ہو گئی۔ آتھم بالکل تندرست رہا اور دندناتا پھرتا رہا اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی ثابت ہوئی اور مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ بلکہ مرزا قادیانی بقول خود ذلت، رسوائی و روسیاہی پھانسی بلکہ ہر قسم کے ذلیل سے ذلیل لقب کے مستحق قرار پائے۔ ”فاعتبروا یا اولو الابصار“ اب مرزا قادیانی کو اپنے الہام کے ڈھونگ کو بند کر دینا چاہئے تھا اور نبوت کاذبہ سے توبہ کر لینی چاہئے تھی۔ مگر شیطان کب نچلا بیٹھنے دیتا ہے۔ اس نے اب اور الہام کیا کہ حیا ترک کر دو۔ ڈٹ جاؤ۔ اگر ساری دنیا بھی کہہ دے مرزا قادیانی اب دکان نبوت بند کر دیجئے۔ سارا پرچون ملاوٹی مضر صحت ہے۔ مگر آپ زور شور سے لوگوں کی تردید کرو اور دعویٰ کرو کہ ”پیش گوئی“ سچی ثابت ہوئی۔ کیونکہ عبداللہ آتھم دل ول میں ڈر گیا تھا۔ بس یہ ہی رجوع الی الحق تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفر و شرک کی خوب مثال بیان فرمائی ہے۔ ”مثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة، اجتثت من فوق الارض ما لها من قرار (ابراہیم:٢٦)“
اس طرح قادیانی کلمہ خبیثہ کی بھی اصل نہ ہونے کی بناء پر کسی بات پر قرار نہیں ہے۔ دیکھیں کہاں پیش گوئی میں تھا کہ ڈر گیا پھر عذاب ٹل جائے گا۔ بلکہ وہ تو ڈرا بھی نہیں۔ وہ مرزا کو برابر کاذب کہتا رہا۔
رجوع الی الحق تب ہوتا کہ وہ الوہیت مسیح کا انکار کر دیتا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا کا سچا نبی مانتا اور توحید کا قائل ہو جاتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ آخر دم تک عیسائیت پر قائم رہا اور اسلام کے خلاف رہا۔
مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ اگر وہ عیسائیت پر قائم رہا تو ضرور مدت پیش گوئی میں مر جائے گا۔ آپ پر روشن ہے کہ وہ عیسائیت پر قائم رہا ہے۔ اس کے کسی قول و فعل سے عیسائیت کا ترک معلوم نہیں ہوتا۔ جس کے خود مرزا قادیانی گواہ ہیں۔ اب مرزا قادیانی کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ وہ خود انجام آتھم میں پیش گوئی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”بلکہ پیش گوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور
٧
ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیش گوئی کے اندر فوت ہوں گے۔ ورنہ ان کی موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی۔
(انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣)
اس سے بڑھ کر کون سی شہادت اور ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ مخالف اگر عیسائیت پر قائم رہا تو ضرور موت کا مزہ چکھے گا۔ اب مرزا قادیانی کے مرید بتلائیں کہ وہ عیسائیت ترک کر کے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت ہو گیا تھا؟ نماز پڑھنی شروع کر دی تھی؟ کلمہ شریف کا ورد شروع کر دیا تھا؟ کیونکہ رجوع الی الحق قول کے اعتبار سے یہ ہی تو ہے کہ زبان سے اسلام کے سچا ہونے، حضور ﷺ کے رسول ہونے، خدا کے واحد ہونے کی گواہی دے۔
افعال سے رجوع الی الحق کہ نماز پڑھے۔ دیگر اسلامی عبادات بجا لائے۔ کیا کوئی قادیانی اپنے نبی کی برأت میں بتلا سکتا ہے کہ وہ نمازی بن گیا تھا۔ اگر ان کو خود معلوم نہ ہو تو خلیفہ کو قادیان بھیج کر مرزا قادیانی کی قبر پر مراقبہ کروا کر معلوم کروا لیں۔ شاید وہ کوئی مزید روشنی ڈال سکیں۔
قادیانی کہتے ہیں۔ دل میں ڈر گیا تھا۔ چھپتا پھرتا تھا۔ میں پوچھتا ہوں کس سے چھپتا پھرتا تھا۔ کیا پہلے ہمیشہ مرزا قادیانی کے دربار میں رہتا تھا کہ اب وہاں حاضر نہ ہونے کو چھپنا کہا جائے۔ اس کے دل پر خوف چھا گیا تھا۔ اگر وہ خوف زدہ ہوا تو بعید نہیں۔ کیونکہ اسے معلوم تھا۔ آنجناب اپنی پیش گوئی پوری کرنے کے لئے قتل کروانے کی تدبیر کریں گے۔ یہ فطری تقاضا ہے۔ اگر دشمن کا خوف رجوع ہے تو بتلائیں جب کہ مرزا قادیانی نے آریوں سے ڈر کر گورنمنٹ سے درخواست کی تھی۔ میری حفاظت کے لئے قادیان میں چند سپاہی مقرر کئے جائیں۔ آپ، ستمبر، اکتوبر ١٨٩٣ء کا اخبار نور افشاں تو اٹھا کر دیکھیں۔ اگر محض خوف کا معنی رجوع ہے تو بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے آریہ ہونا قبول کر لیا تھا۔ استقامت باقی نہ رہی تھی۔ آریوں کی طرف رجوع کر لیا تھا؟
کیا آپ کے نبی علم حدیث سے کورے تھے۔ ان کو امیہ کا واقعہ معلوم نہیں جب کہ حضرت سعدؓ نے امیہ سے مکہ مکرمہ میں یہ ذکر کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان امیہ کو قتل کریں گے تو اس نے پوچھا مکہ میں۔ سعدؓ نے فرمایا معلوم نہیں تو یہ سن کر بہت گھبرایا اور قسم کھائی کہ مکہ سے نہ نکلوں گا۔ مگر جب جنگ بدر پیش آئی تو مجبوراً اس کو ابو جہل کے غیرت دلانے پر نکلنا پڑا۔ تاہم اس نے عمدہ ترین اونٹ خرید لیا تا کہ جب موقع ملے تو بھاگ کر واپس ہو جائے۔ اسی لئے
٨
ہر منزل اونٹ باندھ کر رکھتا۔ مگر حضور ﷺ کی پیش گوئی کے میدان میں قتل ہوا۔
مرزا قادیانی کے حواریو! بتلاؤ آتھم بقیہ خوف زدہ تھا۔ کیا اس ڈر کو رجوع الی الحق کہو گے۔ کیا کر لیا تھا۔ پھر قتل کیوں ہوا؟
میرے خیال میں کوئی قادیانی جواب دینے خود زندگی میں جواب نہ دے سکے جو کہ بقول خود سلا تمہیں رجوع الی الحق کر لینا چاہئے۔ ورنہ ہاویہ تمہارا فرماتے ہیں: ”ما ادراك ماهية نار حامية (القا گرم آگ۔﴾
یاد رہے مرزائی کہتے ہیں۔ دیکھو قوم یونس علیہ السلام کی پیش گوئی جھوٹی ہوئی۔
جواب: جناب والا قوم یونس علیہ السلام ا السلام پر ایمان لے آئی۔ یونس علیہ السلام کی تلاش م مریدان پیر تسمہ پا، قرآن مجید تو پڑھو اس میں کیا لکھا ہ
”فلولا كانت قرية آمنت فنـ كشفنا عنهم العذاب الخزى فى الحيو
(یونس: ٩٨)“
اس میں صریح مذکور ہے کہ جب ایمان لا تھا کہ عذاب ٹل گیا۔ موت ٹل گئی۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہ مرا۔ بعد مرا۔ مگر یہ تو کوئی مرزائی بتلائے کہ کوئی انسان ذائقة الموت (عنکبوت: ٥٧) ”ہر زندہ کو موت کا
اب یہ تو واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی پ تھے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کر لیا تھا کہ ڈر گیا تھا آتھم نے عذر کیا کہ انجیل متی ٥ باب میں قسم کھانے س
٩
ہر منزل اونٹ باندھ کر رکھتا۔ مگر حضورﷺ کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔ وہ واپس نہ بھاگ سکا اور بدر کے میدان میں قتل ہوا۔
مرزا قادیانی کے حواریو! بتلاؤ آتھم امیہ سے بھی زیادہ ڈر گیا تھا؟ حالانکہ امیہ کس قدر خوف زدہ تھا۔ کیا اس ڈر کو رجوع الی الحق کہو گے۔ کیا اس کا یہ معنی ہوگا کہ امیہ نے رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ پھر قتل کیوں ہوا؟
میرے خیال میں کوئی قادیانی جواب دینے کی کوشش نہ کرے گا۔ جب کہ مرزا قادیانی خود زندگی میں جواب نہ دے سکے جو کہ بقول خود سلطان القلم اور ملہم تھے۔ اب قادیانی حضرات تمہیں رجوع الی الحق کر لینا چاہئے۔ ورنہ ہاویہ تمہارے لئے تیار ہے۔ جس کے متعلق باری تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وما ادراک ماہیۃ نار حامیۃ (القارعہ: ١٠، ١١)“ ﴿تو کیا جانے وہ کیا ہے، گرم آگ۔﴾
یاد رہے مرزائی کہتے ہیں۔ دیکھو قوم یونس سے بھی عذاب ٹل گیا تھا تو کیا حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی جھوٹی ہوئی۔
جواب: جناب والا قوم یونس علیہ السلام سے عذاب اس وقت ٹلا جب قوم یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئی۔ یونس علیہ السلام کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی تو خدا کا وعدہ پورا ہو گیا۔ مریدان پیر تسمہ پا، قرآن مجید تو پڑھو اس میں کیا لکھا ہے۔
”فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس لما آمنوا کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعناہم الی حین
(یونس: ٩٨)“
اس میں صریح مذکور ہے کہ جب ایمان لائے تب عذاب ٹلا۔ کیا آتھم بھی ایمان لا چکا تھا کہ عذاب ٹل گیا۔ موت ٹل گئی۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اصل بات تو یہ تھی کہ مرے گا اگرچہ پیش گوئی کی میعاد میں نہ مرا۔ بعد مرا۔ مگر یہ تو کوئی مرزائی بتلائے کہ کوئی انسان ایسا ہے جو کبھی نہ مرے۔ ”کل نفس ذائقۃ الموت (عنکبوت: ٥٧)“ ہر زندہ کو موت کا پیالہ پینا ہے۔ جلد یا بدیر!
اب یہ تو واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ پھر بھی مرزا قادیانی بضد تھے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کر لیا تھا کہ ڈر گیا تھا۔ لہٰذا یہ آتھم قسم کھاوے کہ وہ ڈرا نہیں تھا۔ آتھم نے عذر کیا کہ انجیل متی ٥ باب میں قسم کھانے سے منع آیا ہے۔
٩
یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی چالاکی ہے کہ آتھم قسم تو کھا نہیں سکتا۔ کیونکہ عیسائی مذہب میں قسم جائز نہیں ہے۔ لہذا میں لوگوں میں مشہور کر دوں گا کہ جھوٹا ہے۔
اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی آدمی ہندو کو کہے کہ اگر تو سچا ہندو ہے۔ ہندو دھرم پر تیرا ایمان ہے تو گائے کا گوشت کھا۔ ورنہ تو جھوٹا ہے۔ اب بتلاؤ کہ وہ اپنے آپ کو ہندو ثابت کرنے کے لئے گائے کا گوشت کھائے گا۔ اگر کھائے گا تو وہ ہندو نہ رہے گا۔ کیونکہ گائے کا گوشت کھانا ہندومت کے خلاف ہے۔ بعینہ مرزا قادیانی کا آتھم کو قسم پر مجبور کرنا ایسا ہی ہے۔ اب واضح ہو گیا کہ دجالیت اسی کو کہتے ہیں۔ دجالیت کے لئے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم جھوٹ کا بھانڈا چوراہے میں ہی پھوٹتا ہے۔ اب یہ تو صاف عیاں ہو گیا کہ آتھم پیش گوئی کی مدت میں نہیں مرا تو مرزا غلام احمد قادیانی صریح جھوٹے کذاب مفتری علی اللہ ثابت ہوئے۔
٢.......لیکھرام کی پیش گوئی
لیکھرام پشاوری کے متعلق بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کی تھی۔ اب اس کا حشر بھی سنئے۔
"واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب میں شامل کیا گیا تھا۔ اندرائن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرائن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے الہام ہوا۔
”عجل جسد له خوار له نصب وعذاب“
یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے۔ جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے اس کی گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل کر رہے گا اور اس کے بعد آج جو مورخہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء دوشنبہ ہے۔ اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ٢٠ فروری ١٨٩٣ء ہے۔ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔
١٠
جواب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں۔ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت ا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میر تو اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ا اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گ بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“
قریب ہی اس کے یہ عبارت استفتاء میں بھی کی بات یہ ہے کہ استفتاء میں یہ بھی موجود ہے کہ: ”ج واجب ہو گا کہ مذہب اسلام قبول کرلے۔“
اب ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر بحث کر لیکھرام مورخہ ٦ مارچ ١٨٩٧ء کو قتل ہو گیا اشتہارات شائع کر دیئے کہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔ اب بتلائیں کہ یہ کون سا خارق عادت عذاب نازل ہوا۔ کیا خارق عادت کے معنی ہیں جو چیز عادت کے خلاف ہو نہیں ہوتے۔ خصوصاً سرحدی علاقہ میں تو بوڑھا کھوس وہاں تو اکثر موتیں قتل سے واقع ہوتی ہیں۔ یہ کوئی خا الفاظ پر غور کریں۔ ایسا عذاب جو معمولی تکلیفوں سے نر ہو (یعنی قہر الٰہی) رکھتا ہو۔
یہ اس صورت میں اگر مان لیا جائے کہ پ یہ بھی نقل کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدت میں پوری نہ ہوئی یعنی عرصہ چھ سال میں تو م روپے لیکھرام کو دیں گے اور لیکھرام بصورت پیش کیا مرنے کے بعد بھی مذہب بدلا جاتا ہ کو لیکھرام کی لاش سے مطالبہ کرنا چاہئیے
١١
سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں، آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں۔ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصے میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ہیبت الٰہی رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔
تو اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔ باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“
(سراج منیر ص ١٤ خزائن ج ١٢ ص ١٥)
قریب ہی اس کے یہ عبارت استفتاء میں بھی معمولی تغیر کے ساتھ درج ہے۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ استفتاء میں یہ بھی موجود ہے کہ: ”جب یہ پیش گوئی پوری ہو گئی تو لیکھرام پر واجب ہوگا کہ مذہب اسلام قبول کرلے۔“
(استفتاء ص ٩، خزائن ج ١٢ ص ١١٧)
اب ہم مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر بحث کرتے ہیں۔
لیکھرام مورخہ ٦؍مارچ ١٨٩٧ء کو قتل ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے بڑے زور وشور سے اشتہارات شائع کر دیئے کہ پیش گوئی پوری ہو گئی۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہ بتلائیں کہ یہ کون سا خارق عادت عذاب نازل ہوا۔ کیا کسی آدمی کا قتل ہو جانا خارق عادت ہے؟ خارق عادت کے معنی ہیں جو چیز عادت کے خلاف ہو۔ کیا قتل عادت کے خلاف ہے۔ کیا لوگ قتل نہیں ہوتے۔ خصوصاً سرحدی علاقہ میں تو بوڑھا کھوسٹ ہو کر بستر پر مرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وہاں تو اکثر موتیں قتل سے واقع ہوتی ہیں۔ یہ کوئی خارق عادت ہے؟ ہرگز نہیں۔ پیش گوئی کے الفاظ پر غور کریں۔ ایسا عذاب جو معمولی تکلیفوں سے نرالا و خارق عادت ہو۔ پھر اپنے اندر ہیبت الٰہی (یعنی قہر الٰہی) رکھتا ہو۔
یہ اس صورت میں اگر مان لیا جائے کہ پیش گوئی موت کی تھی۔ حالانکہ استفتاء کی جو عبارت ابھی نقل کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیش گوئی لیکھرام کی زندگی میں پوری ہوگی۔ اگر زندگی میں پوری نہ ہوئی یعنی عرصہ چھ سال میں تو مرزا قادیانی آریہ مذہب اختیار کرلیں گے۔ یا ٣٦٠ روپیہ لیکھرام کو دیں گے اور لیکھرام بصورت پیش گوئی پوری ہونے کے مذہب اسلام اختیار کرے گا۔ کیا مرنے کے بعد بھی مذہب بدلا جاتا ہے؟ اگر قتل سے پیش گوئی پوری ہو گئی تھی تو مرزا قادیانی کو لیکھرام کی لاش سے مطالبہ کرنا چاہئے تھا کہ اب معاہدہ کے مطابق مذہب اسلام
١١
قبول کر لو۔ کیا مرزا قادیانی نے دعوت دی تھی؟ کوئی مرزائی جواب دے کہ مرزا قادیانی کے روحانی کرب واضطراب کا مداوا کرے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا مرزا قادیانی پر بڑا احسان ہوگا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی عادت مستمرہ تھی کہ پیش گوئی کے وقت بڑے زور وشور سے دعویٰ کر دیتے اور کہہ دیتے کوئی انسان اس طرح زور شور سے کبھی دعویٰ کر سکتا ہے؟ کیا جھوٹی پیش گوئی کر کے رسوائی مول لے۔ گویا یہ پیش گوئی کی صداقت کی دلیل ہے۔ لیکن یہ سنا نہیں ہے۔ ”اذا لم تستحی فافعل ماشئت“ جب حیاء نہ ہو تو جو جی میں آئے کر گزر۔
مرزا قادیانی کے حواریو! یہ ہی شد و مد کے دعوے دلیل کذب ہیں۔
ایک اور الہام
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”مجھے ایک اور الہام لیکھ رام کے متعلق ہوا ہے۔ ”فبشر لی ربی بموته فی ست سنة“
(استفتاء اردو ص ١١، خزائن ج ١٢ ص ١١٩)
یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔ (چنانچہ وہ چھری سے مارا گیا)
یہ الہام مرزا قادیانی نے خود گھڑ لیا۔ تا کہ اس طرح نہ ہوا تو اس طرح سہی۔ کچھ تو تاویل کی گنجائش باقی رہے۔ یاد ہو گا ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ پیش گوئی سچی ثابت ہونے پر لیکھ رام کو اسلام قبول کرنا ہوگا۔ ظاہر ہے وہ زندگی میں ہی متصور ہے۔ اب یہ الہام پہلے سے مختلف ہے۔ اللہ جل شانہ نے سچ فرمایا: ”لو کان من عند غیر الله لوجدوا فيه اختلافا کثیراً“ اگر قرآن اللہ کے غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلاف پاتے۔ مگر قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بخلاف مرزا قادیانی کی وحی کے چونکہ یہ غیر اللہ یعنی شیطان کی طرف سے ہے۔ لہٰذا کبھی کچھ اور کبھی کچھ کہتے ہیں۔
عربی غلط
پھر حضرت کو جو الہام ہوا وہ ایسی ذات کی طرف سے ہے جو عربی سے بھی جاہل معلوم ہوتی ہے۔ شاید یہ ذات شریف مرزا قادیانی کی اپنی ہو۔ ست سنۃ کبھی عربی میں استعمال نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہے تو پوری مرزائی امت دنیا میں کسی عربی کی کتاب مستند سے نکال کر بتائیں۔ ثلثہ سے لے ١٢
کر عشرہ تک تمیز جمع مجرور ہوتی ہے۔ کہیں بھی مفرد نہیں آ آشکارا ہوئی کہ ابھی کچھ کسر ہے؟ اگر کسر ہے تو ہم وہ بھی
مرزا قادیانی کا ایک جھوٹ
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ (مگر بعد موت رام کی موت کے متعلق ہے۔ یعنی وہ عید کے قریـ ”ستعرف يوم العيد والعيد اقرب“
اصل الہام
”الا اننی فی کل حرب غالب وبشرنی ربی وقال مبشراً ستعرف یوم الـ ربی“
یہاں مرزا قادیانی نے یہ گھڑ لیا۔ اس مـ کیونکہ وہ عید کے دوسرے دن قتل ہو گیا تھا۔ مگر یہ تعـ بھی کہیں لکھا تھا کہ اس شعر سے مراد لیکھ رام کی موت یہ اشعار مرزا قادیانی نے مولوی محمد حسین مرحوم کـ میں لکھے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی عربی ان میں مولوی محمد حسین مخاطب ہیں۔ کیونکہ اشاعت جھوٹ واضح ہو گیا کہ اس سے مراد لیکھ رام نہیں۔ الـ ہے کہ مرزا قادیانی کسی ایسے شخص کو مخاطب کر رہے ہـ یہ مولوی محمد حسین صاحب ہی تھے۔ انہوں ہی نے الـ کہ لیکھ رام نے۔
روحانی خزائن
جلد ٧ کے ص ١٧ پر پیش لفظ میں اس کـ حسین صاحب کے رسالہ اشاعت السنہ جلد ١٠ نمبر ١ با اب پہلے جو دو شعر میں نے نقل کئے ہـ متعلق بتلا رہے ہیں۔ ان چند اشعار کے بعد کا ایک ١٣
کہ عشرہ تک تمیز جمع مجرور ہوتی ہے۔ کہیں بھی مفرد نہیں آئی۔ کیوں مرزائیو! سلطان القلم کی جہالت آشکارا ہوئی کہ ابھی کچھ کسر ہے؟ اگر کسر ہے تو ہم وہ بھی کسی وقت پوری کر دیں گے۔
مرزا قادیانی کا ایک جھوٹ
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ (مگر بعد موت لیکھ رام) مجھے ایک اور الہام ہوا تھا۔ جو لیکھ رام کی موت کے متعلق ہے۔ یعنی وہ عید کے قریب مرے گا اور لکھا ہے وہ الہام یہ ہے۔ ”ستعرف یوم العید والعید اقرب“
اصل الہام
”الا اننی فی کل حرب غالب فکدنی بما زورت بالحق یغلب وبشرنی ربی وقال مبشراً ستعرف یوم العید والعید اقرب ومنها ما وعدنی
(استفتاء ص ١١، خزائن ج ١٢ ص ١١٩)
ربی“
یہاں مرزا قادیانی نے یہ گھڑ لیا۔ اس میں لیکھ رام کی موت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ وہ عید کے دوسرے دن قتل ہو گیا تھا۔ مگر یہ تشریح مرزا قادیانی کو قتل کے بعد سوجھی۔ کیا پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ اس شعر سے مراد لیکھ رام کی موت ہے۔ جناب یہ مرزا قادیانی کا دجل ہے۔ یہ اشعار مرزا قادیانی نے مولوی محمد حسین مرحوم کے اشاعت السنہ کے ایک مضمون کے جواب میں لکھے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی عربی سے نابلد ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ یہ اشعار جو ہیں ان میں مولوی محمد حسین مخاطب ہیں۔ کیونکہ اشاعت السنہ ان کا رسالہ تھا۔ اب مرزا قادیانی کا جھوٹ واضح ہو گیا کہ اس سے مراد لیکھ رام نہیں۔ اس کے بعد جو اشعار ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کسی ایسے شخص کو مخاطب کر رہے ہیں جو ان پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہے۔ ظاہر ہے۔ یہ مولوی محمد حسین صاحب ہی تھے۔ انہوں ہی نے اشاعت السنہ میں مرزا قادیانی کی خبر لی تھی نہ کہ لیکھ رام نے۔
روحانی خزائن
جلد ٧ کے ص ١٧ پر پیش لفظ میں اس کی تصریح ہے کہ: ”کرامات الصادقین مولوی محمد حسین صاحب کے رسالہ اشاعت السنہ جلد ١٠ نمبر ١ بابت ماہ جنوری ١٨٩٣ء کا جواب ہے۔“
اب پہلے جو دو شعر میں نے نقل کئے ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی پیش گوئی لیکھ رام کے متعلق بتلا رہے ہیں۔ ان چند اشعار کے بعد کا ایک شعر نقل کرتا ہوں۔ جس میں صاف ظاہر ہے
١٣
کہ لیکھ رام مراد نہیں ہے۔ دیکھو:
وعليك وزر الكذب ان كنت تكذب
وهل لك من علم ونص محكم
على كفرنا او تخرص وتتعب
(کرامات الصادقین ص ٥٤، خزائن ج ٧ ص ٩٦)
ترجمہ: تو نے ان لوگوں کو قسم کھا کر بتلایا کہ فتویٰ صحیح ہے۔ (یعنی جو مرزا قادیانی پر لگائے گئے) اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹے کا وبال تجھ پر ہے۔ کیا تیرے پاس قطعی علم یا کوئی نص مضبوط ہے۔ ہمارے کفر پر؟ یا محض اٹکل اور تکلف سے کام لے رہا ہے۔
اب معلوم ہوا کہ یہاں وہ شخص مخاطب ہے۔ جس نے غلام احمد پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ معلوم ہوا لیکھ رام کے متعلق نہیں۔ پس مرزا قادیانی نے اپنی عادت کی بناء پر لیکھ رام کے مرنے کے بعد اس کو ان سے جوڑ دیا۔
(کرامات الصادقین ص ٥٥، خزائن ج ٧ ص ٩٧) پر ایک اور شعر اس طرح لکھا ہے ۔
وتنكث عهدا بعد عهد وتهرب
کیا تو تقویٰ کا حکم دیتا ہے اور خود اس کے خلاف کرتا ہے اور مکرر عہد شکنی کرتا ہے اور بھاگتا ہے۔
امت مرزائیہ بتلائے یہ لیکھ رام اتقاء کا درس دیتے تھے۔ ان سے عہد ہوا تھا یا کہ شیخ محمد حسین صاحب سے؟
ایک شعر اور لیجئے اسی (کرامات الصادقین ص ٥٥، خزائن ج ٧ ص ٩٧) پر۔
يهد عمارات الهوى ويخرب
اے شیخ ڈر اس خدا سے جو خواہشات کی عمارتیں گراتا ہے اور برباد کرتا ہے۔
اب بالکل واضح ہو گیا کہ جس پیش گوئی کو مرزا قادیانی لیکھ رام پر چسپاں کر رہے ہیں۔ وہ مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق ہے۔ مگر ان کو خدا نے سلامت رکھا۔ مرزا قادیانی کی دال نہ گلی۔
ایک گواہی اور لو (کرامات الصادقین ص ٥٦، خزائن ج ٧ ص ٩٨) پر اس طرح لکھتے ہیں ۔
١٤
وكذبتنى خطاء ولست تصوب
کیا تو مجھے عیسیٰ کے معاملہ میں جسارت سے کافر کہتا ہے اور تو درست نہ کہہ رہا۔
اب بھی قادیانیوں کو شک ہے؟ اب بالکل واضح ہو گیا کہ پیشین گوئی بنا کر لیکھ رام پر چسپاں کرنے میں صریح کاذب ہیں۔ اب کاذب نکلے۔ پھر شعر مذکورہ کو اس کی طرف منسوب کرنے میں دو مرزا قادیانی سے اتفاق کرتے ہوئے آپ ہی کی بات کی تصدیق کر ”اگر میں اس پیشین گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیا ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے ۔“ (سرا
اب تو مرچکے ہیں۔ اگلے جہاں تو ماشاء اللہ ہاویہ میں سو زندگی میں بھی تو معمولی رسوائی نہیں ہوئی کہ اس شرمندگی کے مارے دیکھو مابین الرجلین کا معاملہ بہت ہی نازک ہو گیا تھا۔ گھٹنہ میں سوسورا
تیسری معرکۃ الآراء پیش گوئی
”خدا تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا ق کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (م نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح اسے باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیا کر ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ (ازالہ اوہ
مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی تو پڑھ لی مگر اب اس
مرزا قادیانی نے کس طرح ایک مطلب پرست، حریص، لال دیوتا ماننے والے ذلیل انسان کی طرح محمدی بیگم کے متعلق اس کے و سماجت اور ذلت سے مطالبہ کیا اور کیسا کیسا لالچ دیا؟
مرزا قادیانی کا موقع سے فائدہ اٹھانا
”(محمدی بیگم کے اعزاء) مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگ
١٥
وكذبتنى خطاء ولست تصوب
کیا تو مجھے عیسیٰ کے معاملہ میں جسارت سے کافر کہتا ہے اور غلطی سے مجھ کو کاذب کہتا ہے اور تو درست نہ کہہ رہا۔
اب بھی قادیانیوں کو شک ہے؟ اب بالکل واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی شعر مذکورہ کو پیشین گوئی بنا کر لیکھ رام پر چسپاں کرنے میں صریح کاذب ہیں۔ ایک تو نفس پیشین گوئی میں کاذب نکلے۔ پھر شعر مذکورہ کو اس کی طرف منسوب کرنے میں دو چند کاذب نکلے۔ اب ہم مرزا قادیانی سے اتفاق کرتے ہوئے آپ ہی کی بات کی تصدیق کرتے ہیں جو حسب ذیل ہے: ”اگر میں اس پیشین گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔“
(سراج منیر ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ١٥)
اب تو مر چکے ہیں۔ اگلے جہاں تو ماشاء اللہ ہاویہ میں سولی پر لٹک رہے ہوں گے۔ مگر زندگی میں بھی تو معمولی رسوائی نہیں ہوئی کہ اس شرمندگی کے مارے دوران سر میں مبتلا ہو گئے۔ دیگر مابین الرجلین کا معاملہ بہت ہی نازک ہو گیا تھا۔ گھنٹہ میں سو سو دفعہ ...... سمجھنے والے سمجھ لیں۔
تیسری معرکۃ الآراء پیش گوئی
”خدا تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی) پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع رہیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی تو پڑھ لی مگر اب اس پیشین گوئی کا ورود کب ہوا؟ اور مرزا قادیانی نے کس طرح ایک مطلب پرست، حریص، لالچی اور موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ذلیل انسان کی طرح محمدی بیگم کے متعلق اس کے والد سے مطالبہ کیا؟ اور پھر کس لجاجت اور ذلت سے مطالبہ کیا اور کیسا کیسا لالچ دیا؟
مرزا قادیانی کا موقع سے فائدہ اٹھانا
”(محمدی بیگم کے اعزاء) مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ اس وجہ سے کئی مرتبہ
١٥
دعا کی گئی۔ سو وہ دعا قبول ہوئی۔ خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ اس لڑکی کا والد ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نام بردہ (مرزا احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچازاد بھائی غلام حسین نامی کو بیاہی گئی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں بھی پہنچتا ہے۔ نام بردہ (مرزا احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام سرکاری کاغذات میں درج کرادی گئی تھی۔
اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نام بردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے ہبہ نامہ لکھا گیا۔
چونکہ وہ ہبہ نامہ بغیر ہماری رضامندی کے بے کار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بتمام تر عجز و انکساری ہماری طرف رجوع کیا۔ تاکہ ہم راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کردیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔
وہ استخارہ کیا تھا کہ آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔
اس خدائے حکیم قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط پر کیا جاوے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک، ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ بھی دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“
(اشتہار مورخہ ٢٠/ جولائی ١٨٨٨ء، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٩، ١٦٠، تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٦)
نوٹ: مندرجہ بالا عبارت پڑھیں اور غور کریں کہ آنجناب کس قدر پستیوں میں گرے۔
١٦
بیل کو خصی کرنے میں ماہر ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ بیل آرہا۔
مرزا احمد بیگ مرحوم نے مرزا قادیانی سے اور اسلام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے آنجہانی مرزا قاد مرزا قادیانی کی مکاری سے صاف بچ نکلے۔
اس سے پہلے نقل شدہ عبارت غور سے پڑھیں مروت کا ثبوت دینے کو تیار ہیں۔ جب ان کی آرزو قادیانی مروت کا نمونہ یہی ہے؟ کہ جب کوئی تمہارے اور پھر کہو اب احسان کریں گے۔ یہ بھی لغت میں نیا ا برآری کے بعد کسی سے روارکھی جائے۔ واہ رے مرزا کہا جاتا ہے۔
اب خدارا غور کرو! ایسا آدمی نبی ہو سکتا ۔ بھی نہیں کہلاسکتا۔ چہ جائیکہ مجدد، ملہم ، محدث، نبی اور ر شان میں محمدﷺ سے بڑھ کر ۔
”ان الله لا يهدى من هو مسرف مزید لالچ دیتے ہوئے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢، ٥٧٣، خزائن ج
”فاوحى الله الى ان اخطب صبية الكبير ليقتبس من قبسك وقل اني امرت لاهبك ب معها واحسن اليك باحسانات اخرى على ش كبيرتهما وذالك بيني وبينك فان قبلت فستـ فاعلم ان الله قد اخبرنى ان انكحها رجلا ا خر فيصب عليك مصائب واخر المصائب سنين بل موتك قريب ويرد عليك واند الذي يصير زوجها الى الحولين وستا صانعه وانى لك لمن الناصحين فعبس وتو
١٧
بیل کو خصی کرنے میں ماہر ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ بیل کنویں میں بھی بے سنگہ بہادر کے قابو نہیں آرہا۔
مرزا احمد بیگ مرحوم نے مرزا قادیانی سے مکر و فریب کے جال کو توڑ کر غیرت و حمیت اور اسلام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے آنجہانی مرزا قادیانی کو صاف صاف جواب دے دیا اور مرزا قادیانی کی مکاری سے صاف بچ نکلے۔
اس سے پہلے نقل شدہ عبارت غور سے پڑھیں۔ مرزا قادیانی صرف اس صورت میں مروت کا ثبوت دینے کو تیار ہیں۔ جب ان کی آرزو پوری ہو۔ کیا مروت اسی کا نام ہے؟ کیا قادیانی مروت کا نمونہ یہی ہے؟ کہ جب کوئی تمہارے پاس آئے اس کی عزت پر ہاتھ صاف کرو اور پھر کہو اب احسان کریں گے۔ یہ بھی لغت میں نیا اضافہ ہے کہ مروت وہ ہوتی ہے جو مطلب برآری کے بعد کسی سے روا رکھی جائے۔ واہ رے مرزا قادیانی تمہارے کیا کہنے۔ اس کو اتباع ہوا کہا جاتا ہے۔
اب خدارا غور کرو! ایسا آدمی نبی ہو سکتا ہے؟ بلکہ ایسا شخص تو شریف با مروت انسان بھی نہیں کہلا سکتا۔ چہ جائیکہ مجدد، ملہم، محدث، نبی اور نبی بھی وہ جو عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر بلکہ شان میں محمدﷺ سے بڑھ کر۔
”ان الله لا يهدی من هو مسرف كذاب“ معاملہ یہاں ہی ختم نہیں۔ بلکہ مزید لالچ دیتے ہوئے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، ٥٧٥ ، خزائن ج ٥ ص ایضا) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”فاوحى الله الى ان اخطب صبية الكبيرة لنفسك وقل له ليصاهرك اولا ثم ليقتبس من قبسك وقل انی امرت لاهبك ماطلبت من الارض وارضا اخرى معها واحسن اليك باحسانات اخرى على ان تنكحنى احدى بناتك التى هى كبيرتهما وذالك بينى وبينك فان قبلت فستجدنى من المتقبلين وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنى ان انكحها رجلا اخر لا يبارك لها ولالك فان لم تزد جر فيصب عليك مصائب واخر المصائب موتك تموت بعد النكاح الى ثلث سنين بل موتك قريب ويرد عليك وانت من الغافلين وكذلك يموت بعلها الذى يصير زوجها الى الحولين وستة اشهر قضاء من الله فاصنع ما انت صانعه وانى لك لمن الناصحين فعبس وتولى وكان من المعرضين“
١٧
اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تو اس کی بڑی لڑکی کے نکاح کی اپنے لئے درخواست کراؤ۔ اس سے کہہ دے کہ پہلے مجھے اپنی دامادی میں قبول کر لے اور پھر تیرے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے تمہاری مطلوبہ زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ بلکہ اور زمین کے ساتھ دی جائے گی اور تم پر مزید احسانات کروں گا۔ بشرطیکہ تم اپنی لڑکیوں میں سے بڑی لڑکی کا نکاح مجھ سے کہہ دو اور یہی میرے اور تمہارے درمیان عہد ہے۔ اگر تم قبول کر لو تو مجھے بھی قبول کرنے والا پاؤ گے۔ اگر قبول نہ کیا تو جان لو مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کا نکاح کسی دوسرے آدمی کے ساتھ نہ تو اس لڑکی کے لئے مبارک ہوگا۔ نہ تمہارے لئے اگر نہ روکے تو تم پر مصائب نازل ہوں گے اور آخری مصیبت موت ہوگی۔ تم نکاح کے بعد تین سال کے عرصہ میں مر جاؤ گے۔ بلکہ موت اس سے بھی قریب وارد ہوگی اور تم غافل ہو گے۔ اسی طرح اس لڑکی کا خاوند بھی اڑھائی سال کے عرصہ میں مرجائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ بس جو کرنا ہے سو کر لو میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ پس وہ تیوری چڑھا کر اعراض کرتے ہوئے چل پڑا۔
اس میں مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ کو یہ لالچ دیا کہ مطلوبہ زمین کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور احسانات بھی ہوں گے۔ مگر شرط یہ ہے اپنی دختر کا نکاح کرو۔ ورنہ مر جاؤ گے۔ مصائب نازل ہوں گے۔ لڑکی بیوہ ہوگی۔
نیز اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے۔ اب آگے دیکھئے وحی کہاں تک سچی نکلی۔ پھر اسی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر مزید لالچ دیتا ہے: ”انی اعطی بنتك ثلثا من ارضی ومن كل ما ملكت یدی ولا تسئلنی حاجة الا اعطیك اياها وانى من الصادقين“ میں تمہاری بیٹی کو اپنی زمین اور جملہ مملوکات کا تہائی حصہ دوں گا اور آپ جو کچھ مانگیں گے وہ آپ کو دوں گا۔ میں سچ کہتا ہوں۔
جناب والا ایک زن کے لئے اپنی تہائی زمین و دیگر اشیاء پیش کر رہے ہیں۔ دیکھئے کتنے فیاض واقع ہوئے ہیں۔ یاد رکھیں فیاض وسخی با مروت وہ کہلاتا ہے جو دوسروں سے بلاغرض نفسانی اچھا سلوک کرے۔ مطلب برآری کے لئے تو مجبوراً کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ فیاضی نہیں جناب کی سودا ہے۔ بلکہ رشوت ہے۔ بہت خوب نبی ایسے ہی ہوتے ہیں؟ رشوت دے کر رام کرتے ہیں۔
اس کے بعد مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ اور لڑکی کے ماموں مرزا امام الدین و دیگر رشتہ داروں کو خط لکھ کر نکاح پر آمادہ کرنا چاہا۔
(نوٹ) مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے مرزا فضل احمد کے گھر عزت بی بی، مرزا احمد
١٨
بیگ کی بھانجی بیاہی ہوئی تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنی کا رشتہ سلطان محمد سے نہ ہونے دے۔ بلکہ مجھ سے کرادے گا۔ اسی طرح عزت بی بی سے اس کی والدہ کو خط لکھوائے (مرزا قادیانی کا عشق تھمتا نظر نہیں آتا) ورنہ مجھ کو یہاں سے کو طلاق بھی دلوادی۔
اگر میں یہاں سارے خط درج کروں تو ایک مج میں بعض خط درج کرتا ہوں اور بعض کا خلاصہ لکھوں گا تا کہ ہو جائے اور معلوم ہو کہ نبوت کی جھوٹی دکان چمکانے کے لئے ک
عزت بی بی کا خط بحکم مرزا
یہ مرزا قادیانی کے چھوٹے لڑکے کی اہلیہ ہیں۔
”سلام مسنون کے بعد اس وقت میری تباہی وبر سے کسی طرح فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی، میرے سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طر خیر، مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا ٹھہرنا اس جگہ مناسب ن (بے چاری ٹھیک کہتی ہے۔ ایسے بوڑھے شہوت خطرناک ہے جو انتقام کی آگ میں جل رہا ہو)
اسی خط پر مرزا قادیانی ریمارک کر رہے ہیں۔ ”آ عزت بی بی کے لئے کوئی آدمی قادیان میں بھیج دو۔ تا کہ ان نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر روک دور ہوگی)
عزت بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان
دیکھا نبی کا عدل، لڑکی وہ نہیں دیتے اور غصہ عزت عدل، واہ رے واہ۔
غالب نے خوب کہا۔
ورنہ ہم بھی آدمی تھے ا
١٩
بیگ کی بھانجی بیاہی ہوئی تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنی بہو کے والد پر زور دیا کہ وہ محمدی بیگم کا رشتہ سلطان محمد سے نہ ہونے دے۔ بلکہ مجھ سے کرادے۔ ورنہ تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔ اسی طرح عزت بی بی سے اس کی والدہ کو خط لکھوائے کہ: ”مجھے رسوائی طلاق سے بچاؤ۔ (مرزا قادیانی کا عشق تھمتا نظر نہیں آتا) ورنہ مجھ کو یہاں سے لے جاؤ۔“ پھر آخر یہ ہی ہوا۔ بیچاری کو طلاق بھی دلوادی۔
اگر میں یہاں سارے خط درج کروں تو ایک بہت بڑی کتاب بن جائے گی۔ تاہم میں بعض خط درج کرتا ہوں اور بعض کا خلاصہ لکھوں گا تا کہ ان کو مرزا قادیانی کا جنون زن معلوم ہو جائے اور معلوم ہو کہ نبوت کاذبہ کی دکان چمکانے کے لئے کس قدر پاگل بن رہے ہیں۔
عزت بی بی کا خط بحکم مرزا قادیانی
یہ مرزا قادیانی کے چھوٹے لڑکے کی اہلیہ ہیں۔
”سلام مسنون کے بعد اس وقت میری تباہی و بربادی کا خیال کرو۔ مرزا صاحب مجھ سے کسی طرح فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی، میرے ماموں (یعنی محمدی بیگم کے والد) کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر، مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا ٹھہرنا اس جگہ مناسب نہیں۔“
(بے چاری ٹھیک کہتی ہے۔ ایسے بوڑھے شہوت پرست، لالچی کے پاس ٹھہرنا یقیناً خطرناک ہے جو انتقام کی آگ میں جل رہا ہو)
اسی خط پر مرزا قادیانی ریمارک کر رہے ہیں۔ ”اگر نکاح نہیں رک سکتا تو پھر بلا توقف عزت بی بی کے لئے کوئی آدمی قادیان میں بھیج دو۔ تاکہ ان کو لے جاوے۔“ (بہت خوب خدا نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر روک دور ہوگی)
ازطرف بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان۔ مورخہ ٤؍ مئی ١٨٩١ء۔
(کلمہ فضل رحمانی)
دیکھا نبی کا عدل، لڑکی وہ نہیں دیتے اور غصہ عزت بی بی پر نکال رہے ہیں۔ دیکھا نبی کا عدل، واہ رے واہ۔
غالب نے خوب کہا؎
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
١٩
مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنی پہلی بیوی (پھجے دی ماں) کو بھی محض اس لئے طلاق دے دی کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیوں ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا بڑا لڑکا سلطان احمد مرزا قادیانی کا ہم عقیدہ نہ تھا اور اپنی تائی کو چھوڑ نہ سکتا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے غصہ میں آ کر پہلی بیوی کو طلاق دے دی کہ میری پیشین گوئی میں مزاحم ہو رہی ہے۔
کیا یہی پیغمبرانہ شان ہے؟ اور لڑکے کو بھی عاق کر دیا۔
اب میں اصل پیشین گوئی کا بیان کرتا ہوں۔ محمدی بیگم کا نکاح مورخہ ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور سے ہو گیا۔ مرزا قادیانی ہاتھ ملتے رہ گئے اور یاس وحسرت، ناکامی عشق پر چار چار آنسو بہاتے رہے۔ مرزا قادیانی کا الہام مندرجہ (فیصلہ آسمانی ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٥٠) بالکل غلط ثابت ہوا۔
وہ یہ تھا: ”لا مبدل لكلمات الله“ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔
بلکہ مرزا قادیانی نے یہاں تک کہہ دیا: ”مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا۔“
گویا کہ مرزا قادیانی سے محمدی بیگم کا نکاح خدا نے آسمان پر خود پڑھایا تھا اور مرزا سلطان محمد زبردستی قابض ہو گیا۔ قابض محض نہیں ہوا۔ بلکہ درجن کے لگ بھگ کم و بیش اولاد بھی فراہم کر لی اور مرزا قادیانی بجز تاویل پر تاویل اور موت کی دھمکیاں دینے اور خاک اڑانے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ کیا جس عورت کا نکاح مجمع عام میں کوئی ادنیٰ مولوی پڑھا دے تو دوسرا کوئی اس عورت پر قابض ہونا چاہے تو کوئی غیرت مند شوہر یہ برداشت کرے گا کہ:
- الف...... بیوی ہو اس کی اور دوسرے کے گھر کی زینت بنے؟
- ب...... بیوی ہو اس کی اور ہو دوسرے کے بستر پر؟
مرزائیو! گندی نالی میں ڈوب کر مر جاؤ۔ تمہارے پیغمبر کی بیوی لے اڑا سلطان محمد اور تم نے حصول مادر کے لئے کبھی کوئی عملی کوشش نہ کی۔ کم از کم مرزا قادیانی کے مرید حسب عادت مرزا قادیانی عدالت میں دعویٰ ہی کر دیتے کہ: ”ام القادیانیین پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ڈاکو کو سزا دی جائے۔ خود کاشتہ پودا کی حفاظت کی جائے۔“
اگر مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں میں غیرت ہوتی، شرم وحیا ہوتی تو ایک دن بھی اس دنیائے بے وفا میں نہ رہتے۔ جہاں ان کی عزت پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ قادیانی لغت میں شرم وحیا کا
٢٠
٥
تو مادہ ہی موجود نہیں ہے۔
یہ تو ہوا اس الہام کے متعلق جو محمدی بیگم تاکید تھی۔ باقی رہا وہ الہام جس میں کہا گیا تھا کہ لڑکـ سال کے عرصہ میں فوت ہو جائیں گے اور وہ بھی غلط اور خاوند کی میعاد اڑھائی سال۔ اس سے معلوم ہوتا مرزا احمد بیگ بعد میں۔ مگر لڑکی کا باپ قضاء الٰہی سـ مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا اور منکوحہ آسمـ اجزاء ہیں جو تامل کر پیشین گوئی بنتی ہے۔ وہ مرزا قاد
- ١...... ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال
- ٢...... داماد اس کا اڑھائی سال کے اندر فوت ہـ
- ٣...... احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نـ
- ٤...... وہ دختر بھی تا نکاح و تا ایام بیوہ ہونے او
- ٥...... یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہو
- ٦...... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے
اختیار میں نہیں۔“
اس میں بالکل ظاہر ہے کہ سلطان محمد بموجب پیشین گوئی مرنا ہے۔ مگر چالا کی دیکھیں۔ چـ کا نمبر ایک کر دیا۔ سلطان محمد کو بعد میں نمبر ٢ پر رکھا۔
تاہم پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ کیونکہ مشہور قاعدہ ہے۔ جزو کے عدم سے کل عدم ہو جاتا ہے۔
دوسری خبر یہ تھی کہ داماد اڑھائی سال میں فو کے مرنے کے بعد تک بلکہ بڑی مدت تک زندہ رہا۔ ا ہوئیں۔ مرزا قادیانی کا نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ مرزا قادیا
پھر مرزا قادیانی نے اس کے بعد پیچ و تاب ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا میں محمدی بیگم سے نکاح کئے بغیر مر گیا تو جھوٹا۔
٢١
تو مادہ ہی موجود نہیں ہے۔
یہ تو ہوا اس الہام کے متعلق جو محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے ہوا تھا۔ جس میں پہلے الہام کی تاکید تھی۔ باقی رہا وہ الہام جس میں کہا گیا تھا کہ لڑکی کا خاوند یوم نکاح سے اڑھائی سال اور باپ تین سال کے عرصہ میں فوت ہو جائیں گے اور وہ بھی غلط نکلا۔ کیونکہ لڑکی کا باپ جس کی میعاد تین سال تھی اور خاوند کی میعاد اڑھائی سال۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالترتیب سلطان محمد بیگ پہلے مرے گا اور مرزا احمد بیگ بعد میں۔ مگر لڑکی کا باپ قضاء الٰہی سے چھ ماہ کے بعد مر گیا اور جو اصل حریف تھا وہ مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا اور منکوحہ آسمانی پر متصرف رہا۔ بلکہ اصل پیشین گوئی کے چند اجزاء ہیں جو تمام مل کر پیشین گوئی بنتی ہے۔ وہ مرزا قادیانی نے خود بیان کر دیئے ہیں۔
- ١...... "مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... داماد اس کا اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... وہ دختر بھی تا نکاح و تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- ٥...... یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے
اختیار میں نہیں۔"
(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
اس میں بالکل ظاہر ہے کہ سلطان محمد اور مرزا احمد بیگ کو تین سال کے عرصہ میں بموجب پیشین گوئی مرنا ہے۔ مگر چالاکی دیکھیں۔ چونکہ اس وقت مرزا احمد بیگ مر گیا تھا۔ لہٰذا اس کا نمبر ایک کر دیا۔ سلطان محمد کو بعد میں نمبر ٢ پر رکھا۔ حالانکہ پیشین گوئی میں نمبر ١ سلطان محمد کا تھا۔ تاہم پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ کیونکہ مشہور قاعدہ ہے۔ "اذا فات الجزء فات الکل جز" جزء کے عدم سے کل عدم ہو جاتا ہے۔
دوسری خبر یہ تھی کہ داماد اڑھائی سال میں فوت ہو۔ یہ بالکل غلط نکلا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک بلکہ بڑی مدت تک زندہ رہا۔ لہٰذا دوسری سب خبریں خود بخود جھوٹی ثابت ہوئیں۔ مرزا قادیانی کا نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ مرزا قادیانی ناکام و نامراد آنجہانی ہو گئے۔
پھر مرزا قادیانی نے اس کے بعد پیچ و تاب کھا کر اور الہام جڑ دیئے کہ وہ عورت بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا میرے صدق و کذب کا یہ معیار ہے۔ اگر میں محمدی بیگم سے نکاح کئے بغیر مر گیا تو جھوٹا۔
٢١
ہم چونکہ مرزا قادیانی کے اس قول کے پابند ہیں۔ اس لئے انشراح صدر کے ساتھ آنجناب کو کاذب بلکہ رئیس الدجالین کا خطاب عالیہ پیش کرتے ہیں۔ امید ہے مرزائی امت نبی کی پیروی کرتے ہوئے قبول فرمائے گی۔ اگر مرزائی کہیں کہ یہ بات مرزا احمد بیگ کے ڈر جانے سے ٹل گئی تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود کہتا ہے: ”تقدیر مبرم ہے جو کبھی نہیں ٹلتی۔“
چنانچہ مرزا قادیانی خود رقمطراز ہیں: ”میں بارہا کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضا)
کیا اب بھی مرزا قادیانی کی صداقت کا ڈھونگ رچاتے رہو گے؟ خدا کا خوف کرو اور موت کو یاد کرو۔ وہاں کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ مرزائیو! اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن نہ بناؤ۔ جھوٹے مرزا کو نبی نہ بناؤ۔ محمد ﷺ خاتم النبیین کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ تاکہ دنیا میں ایمان پاؤ۔ آخرت میں جنت الفردوس کی نعمتوں سے لطف اٹھاؤ۔
اگر ان دلائل واضحہ کے بعد بھی باز نہ آؤ تو مرزا قادیانی کی لعنتوں والی کتاب گلے میں ڈال کر سیدھے جہنم جاؤ۔ ہاویہ میں خوب مزے لے لے کر غوطے لگاؤ۔ مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی پر حسب ضرورت بحث ہو چکی۔ اگرچہ یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی کی تاویلات کے گورکھ دھندا سے اس قدر طویل ہو گئی ہے کہ شیطان کی آنت کی طرح سرا ناپید ہے۔ اب ایک اور پیشین گوئی ملاحظہ فرماویں۔
پسر موعود کی پیشین گوئی اور مرزا قادیانی کی ناکامی
مرزا قادیانی نے ایک اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں شائع کیا تھا اور اس وقت مرزا قادیانی کی بیوی حاملہ تھی۔ اس میں ایک فرزند کی پیشین گوئی کی۔ ”خدائے رحیم کریم جو ہر چیز پر قادر ہے۔ مجھ کو اپنے الہام سے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ خدا نے کہا۔ تا دین اسلام کا شرف، کلام کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا، خدا کے دین، اس کی کتاب، اس کے رسول کو انکار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے۔
ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ وہ تیرے ہی تخم، تیری ہی ذریت سے ہوگا۔ خوبصورت، پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام بشیر بھی ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ وہ بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ علوم ظاہری و باطنی سے
٢٢
٣٧
پر کیا جاوے گا۔ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (ا مبارک دوشنبہ، فرزند دل بند ارجمند، مظہر الاو نزل من السماء، وہ جلدی جلدی بڑھے گا۔ا برکت پائیں گی۔“
(اشتہار مورخہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ ا
اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے ایک فرمائی ہے اور اسے خدا کی قدرت کا نشان بتلایا۔ ہوا بلکہ اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور خدا نے مرزا
اعتراض
مرزائی کہتے ہیں۔ ”پیشین گوئی میں ک
جواب مرزا قادیانی نے اس کے بعد ا حمل کے اندر ہی پیدا ہوگا۔
الہام مرزا، لڑکا پہلے حمل سے ہوگا
”آج ٨ اپریل ١٨٨٦ء اللہ جل شا ایک لڑکا بہت قریب ہی ہونے والا ہے جو مدت ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بال
(اشتہار مورخہ ٨ اپریل ١٨٨٦ء
اب مرزا قادیانی نے الہام کے پہلے قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں سخت بے تاب ہے۔ اب وہاں ٹھہرنا بالکل گوارا نہ ہے۔ مہمان آرہا ہے۔ مگر دوسرے حصہ میں لکھ دی اس کے قریب حمل میں۔“
دیکھا مرزا قادیانی کا دجل۔ اگر یقین کیوں؟ یا اس کے قریب حمل میں۔ یہ مرزا قادیانی کے لئے اسے گول مول بنانے کی کوشش کیا کرتے پھر مرزا قادیانی نے اس کے بعد ک
٢٣
پر کیا جاوے گا۔ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس فقرہ کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ، فرزند دل بند ارجمند، مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء ”وہ جلدی جلدی بڑھے گا۔ اسیروں کی رستگاری کا باعث ہوگا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی ۔“
(اشتہار مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠، ١٠١ ، تبلیغ رسالت ج ١ ص ٥٩، ٦٠)
اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے ایک وجیہہ اور مظہر الاول والآخر لڑکے کی پیشین گوئی فرمائی ہے اور اسے خدا کی قدرت کا نشان بتلایا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے ہاں ایسا کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا بلکہ اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور خدا نے مرزا کاذب کو یوں رسوائی کا سامان تیار کر دیا۔
اعتراض
مرزائی کہتے ہیں ۔ ” پیشین گوئی میں کب کہا تھا۔ اس حمل سے لڑکا ہوگا۔“
جواب مرزا قادیانی نے اس کے بعد ایک اشتہار شائع کیا جس میں کہا کہ وہ لڑکا مدت حمل کے اندر ہی پیدا ہوگا۔
الہام مرزا، لڑکا پہلے حمل سے ہوگا
”آج ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت قریب ہی ہونے والا ہے جو مدت ایک حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس الہام سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں ۔“
(اشتہار مورخہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٧، تبلیغ رسالت ج ١ ص ٧٦)
اب مرزا قادیانی نے الہام کے پہلے حصہ میں صاف صاف لکھا کہ: ”لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔“ یعنی دنیا میں تشریف لانے کے لئے سخت بے تاب ہے۔ اب وہاں ٹھہرنا بالکل گوارا نہیں۔ بس چند منٹ دیر باقی ہے۔ ابھی پہنچنے والا ہے۔ مہمان آ رہا ہے۔ مگر دوسرے حصہ میں لکھ دیا کہ: ”ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں ۔“
دیکھا مرزا قادیانی کا دجل۔ اگر یقین تھا کہ ایک حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا تو پھر شک کیوں؟ یا اس کے قریب حمل میں ۔ یہ مرزا قادیانی کی عادت ہے۔ الہام گھڑ کر پھر مزید احتیاط کے لئے اسے گول مول بنانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ تا کہ کوئی نہ کوئی تاویل گھڑی جاسکے۔
پھر مرزا قادیانی نے اس کے بعد کئی الہامات گھڑے۔ مگر سب جھوٹے نکلے۔
٢٣
مرزا قادیانی نے اس لڑکے کے متعلق لکھا تھا کہ: ”وہ مصلح موعود ہو گا ۔“ مگر کوئی مصلح موعود نہ پیدا ہوا بلکہ اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی۔
مرزا قادیانی نے تاویل کی کہ مدت حمل اڑھائی یا نو سال مراد ہیں۔ میرے خیال میں مرزائی بیگمات کا حمل نو سال تک رہتا ہوگا۔ باقی دنیا میں کوئی مادہ نہیں جس کا حمل نو سال کے بعد وضع ہو اور مدت حمل نو سال ہو۔
غالباً کوئی مرزائی ثبوت غیبی بھی پیش کر دے۔ اگر ایسا ہوا ہو تو ہم ممنون ہوں گے اور مرزا قادیانی عالم برزخ میں ہم سے بھی زیادہ ممنون ہوں گے۔
کچھ مرزائی کہتے ہیں کہ: ”مصلح موعود سے یہاں محمود احمد مراد ہیں۔ جو ١٨٨٩ء میں پیدا ہوئے۔“
جواباً عرض ہے اپنے نبی کی کتاب تو دیکھ لی ہوتی۔ مرزا قادیانی کے گھر ایک لڑکا میاں محمود سے ١٠ سال بعد ١٨٩٩ء میں پیدا ہوا۔ جس کا نام مبارک احمد رکھا اور مرزا قادیانی نے اس کو مصلح موعود قرار دیا اور ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہرایا۔
چنانچہ (تریاق القلوب ص ٤٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٢١) میں مندرج ہے: ”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ اس کی نسبت پیشین گوئی مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں کی گئی۔“
معلوم ہوا جس کی نسبت ٢٠؍ فروری کو پیشین گوئی کی تھی۔ وہ مبارک احمد ہے۔ مرزا محمود احمد نہیں۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ وہ مدت حمل میں پیدا نہ ہوا اور جو تاویل مرزا قادیانی نے اشتہار میں کی تھی کہ اڑھائی سال یا نو سال بھی مراد ہو سکتی ہے۔ وہ بھی غلط نکلی۔ کیونکہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو پیشین گوئی مدت حمل ہوئی اور مبارک احمد جو بقول مرزا مصلح موعود ہے۔ مورخہ ١٤؍ جون ١٨٩٩ء میں پیدا ہوا جو تیرہ سال کا عرصہ ہے۔ اب بتلائیں تیرہ کی بھی پیشین گوئی تھی؟ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ہر طرح جھوٹا ثابت کیا۔
اس مبارک احمد مصلح موعود کا کیا ہوا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی نے اشتہار میں لکھا تھا کہ: ”قومیں اس سے برکت پائیں گی۔“ اس کا حشر یہ ہوا کہ نو سال سے کم عمر میں فوت ہو گیا۔
دیکھو
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٤٦، ١٤٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٦)
اب مرزا قادیانی اس غم میں کچھ مدت بعد خود ہی مبارک احمد کو واپس لانے تشریف لے گئے۔ مگر واپسی کا ٹکٹ شاید نہ ملا۔ ”کسی انسان کا اپنی پیشین گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام
٢٤
٣٩
رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔“
پیشین گوئی ”لڑکا ہوگا“
ماہ جنوری ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی نے ا حاملہ تھی۔ ”الحمد لله الذی وهب لی عل ی الخامس“
سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑ بشارت دی۔
مگر مرزا قادیانی کی بیوی نے لڑکی جنی۔ ا کر دیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ اس حمل کی تخصیص نہ تھی ہوا؟ اس کے بعد مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا نہیں کذاب ثابت کیا۔
پیشین گوئی ”شوخ لڑکا ہوگا“
مرزا قادیانی کی بیگم حاملہ تھی۔ آپ نے مئی ”دخت کرام، شوخ وشنگ لڑکا پیدا ہوگا۔“
(البشریٰ ج
مگر وہ شوخ وشنگ لڑکا کیا بلکہ جس طرح کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس پیشین گوئی میں بھی مرزا قادیان
پیشین گوئی ”مصلح موعود“
جیسا کہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی موعود عمر پانے والا، گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا، تو میں اس مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مبارک ناتمامی کی حالت اب مرزا قادیانی نے اور الہامات گھڑنے شروع کر دیئے۔
مورخہ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو الہام ہوا: ”أنا نبشر
پھر آپ کو اکتوبر میں یہ الہام ہوا: ”آپ کے لئے
٢٥
رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔
(تریاق القلوب ص ٢٥٤، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٢)
پیشین گوئی ”لڑکا ہوگا“
ماہ جنوری ١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی نے ایک پیشین گوئی گھڑی۔ کیونکہ آپ کی بیوی حاملہ تھی۔ ”الحمد لله الذى وهب لى على الكبر اربعة من البنين وبشرنى بخامس“
سب تعریف خدا کو ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں چار لڑکے دیئے اور پانچویں کی بشارت دی۔
(مواہب الرحمن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠)
مگر مرزا قادیانی کی بیوی نے لڑکی جنی۔ اللہ تعالیٰ نے کس طرح جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ اس حمل کی تخصیص نہ تھی۔ بالکل درست مگر پھر پانچواں لڑکا کب ہوا؟ اس کے بعد مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا نہیں پیدا ہوا۔ اس طرح خدا نے مرزا کاذب کو کذاب ثابت کیا۔
پیشین گوئی ”شوخ لڑکا ہوگا“
مرزا قادیانی کی بیگم حاملہ تھی۔ آپ نے مئی ١٩٠٤ء میں ایک اور الہام نکال لیا۔ ”دخت کرام، شوخ وشنگ لڑکا پیدا ہوگا ۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩١، بحوالہ بدر ج ٣، مورخہ ١٨؍مئی ١٩٠٤ء)
مگر وہ شوخ وشنگ لڑکا کیا بلکہ جس طرح پہلے بیان ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کا اور لڑکا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس پیشین گوئی میں بھی مرزا قادیانی بالکل جھوٹے نکلے۔
پیشین گوئی ”مصلح موعود“
جیسا کہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ مرزا قادیانی نے مبارک احمد کے متعلق کہا تھا کہ: ”مصلح موعود عربیانے والا، گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا، قومیں اس سے برکت پائیں گی۔“
مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مبارک نابالغی کی حالت میں نو برس کی عمر سے بھی پہلے مر گیا۔ اب مرزا قادیانی نے اور الہامات گھڑنے شروع کر دیئے۔
مورخہ ١٦؍ستمبر ١٩٠٧ء کو الہام ہوا: ”انا نبشرك بغلام حليم“
(بدر ج ٦ ص ٣٦، البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢)
پھر آپ کو اکتوبر میں یہ الہام ہوا: ”آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یعنی آئندہ پیدا ہوگا۔
٢٥
”انا نبشرك بغلام حلیم“ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ینزل منزل المبارك ”وہ مبارک احمد کا شبیہ ہوگا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١٣٦، ماہ اکتوبر ١٩٠٧ء)
لیکن مرزا قادیانی کے گھر کوئی لڑکا نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی مورخہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں بمرض وبائی ہیضہ مر گئے شاید آپ نے توجہ روحانی سے بعد میں بھی لڑکا پیدا کرنے کی کوشش کی ہو۔ مگر معلوم ہوتا ہے۔ وہ بھی بے سود ہی گئی۔
غلط پیشین گوئی ”عمر پانے والا لڑکا“
مرزا غلام احمد آنجہانی کا چوتھا لڑکا مبارک احمد بیمار ہوگیا۔ فکر لاحق ہوا کہ کہیں مر نہ جائے۔ حالانکہ اس کے متعلق بڑے دعوے کر چکے تھے کہ عمر پانے والا ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ!
لہٰذا بہت فکر مند ہوئے۔ چنانچہ دل بے قرار کو تسلی دینے کے لئے اور بیوقوف جاہل مریدوں کو سہارا دینے کے لئے ایک الہام گھڑا۔ الہام ٢٧؍ اگست ١٩٠٧ء کو ہوا تھا اور اخبار بدر ٢٩؍ اگست ١٩٠٧ء کو شائع کیا۔
ان کی نسبت آج الہام ہوا: ”قبول ہو گئی بعد نو دن بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی یہ دعا قبول ہو گئی۔ اللہ نے میاں صاحب موصوف کو شفا دے دی۔ یہ پختہ طور پر یاد رکھیں۔ بخار کس دن شروع ہوا تھا؟ لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میاں صاحب کو صحت کی بشارت دی اور نویں دن تپ ٹوٹ جانے کی خوشخبری پیش از وقت عطاء کی۔“
اوّل یہاں مرزا قادیانی کا دجل ملاحظہ کیجئے کہ نویں دن بخار ٹوٹنے کی خوشخبری تو ہے مگر معلوم نہیں بخار کب شروع ہوا؟ بھلا گھر میں ایک بچہ بیمار ہو اور ابھی نو دن بھی پورے نہ ہوئے ہوں اور پورا گھر نہیں بلکہ پوری امت مرزائیہ متفکر ہو۔ اس میں بھگدڑ مچی ہو۔ اخبارات میں مرض کے متعلق بلیٹن شائع ہو رہے ہوں۔ لیکن یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کس دن بخار شروع ہوا ہے۔
اسی جگہ محصلاً لکھتے ہیں: ”نویں دن کی تصریح نہیں کی اور نہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ تپ کی شدید حالت جس دن شروع ہوئی۔ وہ ابتداء مرض ہوگا۔“
اب یہ تو معلوم ہو جائے کہ شدت تپ کب ہوا۔ لیکن یہ نہ معلوم ہوا کہ تپ کب شروع ہوا؟ پھر عجیب تماشا یہ کہ تپ کی شدید حالت جس دن سے شروع ہوئی وہ مرض کا ابتداء دن ہوگا۔
اس عبارت پر غور کریں۔ کیا جس دن شدت شروع ہوئی۔ وہ دن شدت علالت کا ہے یا شروع علالت کا؟ کیا ایک آدمی کا مرض جب شدت اختیار کرلے پس آدمی مر جائے تو اب یہ کہیں گے کہ ابتدائی مرض ابتدائے موت تھا؟
٢٦
نفس مرض اور شدت مرض یہاں ان کے ہے یہ بھی مرزائی نبوت کا کرشمہ ہو۔ سیاہ کو سفید کہہ دی
اچھا چلو مان لیتے ہیں۔ پھر کیا ہوا صحت بخار ہلکا ہوا تو: ”مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبد الستار کی لڑک
نیز یہ الہام صادر ہوا کہ: ”مبارک احمد کے وائے قسمت مرزا، یہ سب دل بہلانے کا جھوٹا ثابت کر کے رسوا کرنا تھا۔ سو وہ ہو گیا۔ مبارک ہاتھ ملتے رہے۔
تجري الرياح بما لـ
آدمی کی ہر تمنا پوری نہیں ہوتی۔ کشتیاں باد
عمر کی پیشین گوئی
مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق پیشین ہے کہ تیری عمر اسی سال ہوگی یا زیادہ۔ الفاظ بشار پیشین گوئی کردند پس خدا ما را بشارت ہشتاد سال عمر داد
میری موت وہ چاہتے ہیں اور ان لوگوں بشارت اسی سال عمر کی دی ہے۔ بلکہ شاید اس سے بھی ا
مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے بموجب ا
اب ہم مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ان کہ موت کب ہوئی اور پھر حساب لگائیں کہ مرزا قادیان
مرزا قادیانی (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٩،
”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١ وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترہ نہیں تھا۔“
٢٧
نفس مرض اور شدت مرض یہاں ان کے اپنے قول سے مختلف اوقات میں ہوئی۔ ممکن ہے یہ بھی مرزائی نبوت کا کرشمہ ہو۔ سیاہ کو سفید کہہ دینا اور سفید کو سیاہ۔ اچھا چلو مان لیتے ہیں۔ پھر کیا ہوا صحت کامل ہو گئی؟ ہرگز نہ بلکہ ٣٠؍ اگست ١٩٠٧ء کو بخار ہلکا ہوا تو: ”مرزا قادیانی نے ڈاکٹر عبدالستار کی لڑکی مریم کے ساتھ مبارک احمد کا نکاح کر دیا۔“
(ملاحظہ ہو اخبار البدر مورخہ ٥؍ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٤)
نیز یہ الہام صادر ہوا کہ: ”مبارک احمد کے متعلق تیسری دعا قبول ہو گئی۔“ وائے قسمت مرزا، یہ سب دل بہلانے کا سامان تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کر کے رسوا کرنا تھا۔ سو وہ ہو گیا۔ مبارک احمد ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو مر گیا اور مرزا قادیانی ہاتھ ملتے رہے۔
تجرى الرياح بما لا تشتهى السفن
آدمی کی ہر تمنا پوری نہیں ہوتی۔ کشتیاں بادِ مخالف کی رو میں آ ہی جاتی ہیں۔
عمر کی پیشین گوئی
مرزا قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق پیشین گوئی میں کہا ہے کہ خدا نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیری عمر اسی سال ہوگی یا زیادہ۔ الفاظ بشارت ملاحظہ ہوں۔ ”موت ماخواستند ودران پیشین گوئی کردند پس خدا ما را بشارت ہشتاد سال عمر داد بلکہ شاید ازیں زیادہ۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٩)
میری موت وہ چاہتے ہیں اور ان لوگوں نے پیشین گوئی کی ہے۔ پس خدا نے مجھے بشارت اسی سال عمر کی دی ہے۔ بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔
مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے بموجب ان کو اسی سال تک یا زیادہ زندہ رہنا تھا۔
اب ہم مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ان کی زبانی درج کرتے ہیں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ موت کب ہوئی اور پھر حساب لگائیں کہ مرزا قادیانی سچے نکلے یا جھوٹے؟
مرزا قادیانی (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) پر یوں رقمطراز ہیں: ”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترہ برس میں تھا۔ ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔“
٢٧
(وفات مرزا) مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو آنجہانی ہو گئے۔ لہٰذا اس حساب سے مرزا قادیانی کی کل عمر ٦٨ یا ٦٩ سال ہوئی اور اسی والا الہام غلط ثابت ہوا۔ کیا خوب مرتے وقت بھی اس عذاب سے رہائی نہ ہوئی اور لطف یہ کہ موت بھی لاہور میں خاص بمقام...... بمرض ہیضہ جو عذاب الہی ہے۔ (بقول مرزا قادیانی) واقع ہوئی۔
اب بالکل واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے کل الہام جھوٹے نکلے۔ کیونکہ اگر مدعی وحی کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہو جاوے تو وہی اس کے کاذب ہونے کی کافی وشافی دلیل ہے۔ الحمد للہ! خدا نے مرزا قادیانی کو جو موت دی وہ بھی اعلان کر گئی کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹے نہ ہوں۔ بلکہ الہام کرنے والا شیطان جھوٹا ہو کیونکہ اسی نے غلط وحی کی تھی۔ بے چارے کا اپنا تو کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ بلکہ شیطان کے ہاتھ میں کٹ پتلی تھے۔
مرزا قادیانی کی عمر کے متعلق ایک اور پیشین گوئی کشوف اولیاء سابقہ کے مطابق لکھی ہے۔ (کتاب اربعین ص ٣٢، ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١) میں لکھا ہے: ”بموجب کشوف اولیاء گذشتہ اپنا چودھویں صدی کے سرے پر پیدا ہونا لکھا ہے۔ یعنی ١٣٠٠ھ میں۔“
مرزا قادیانی کی وفات ١٣٢٦ھ میں ہوئی ہے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی کل عمر پچیس سال ہوئی۔ مگر دنیا میں تو آنجناب کی عمر ٦٨ سال گزری ہے۔ شاید باقی عمر کسی دوسری جگہ عالم گو مگو میں گزری ہو؟
اگر کچھ معمولی فرق ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ ٩ سال تک تو مدت حمل تھی۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے ایک جگہ مدت حمل ٩ سال لکھی ہے۔ جس پر ہم پہلے بحث کر آئے ہیں۔ تاہم وہ ملا کر پھر بھی ٣٥ سال ہی بنتی ہے۔ پھر بھی ٣٣ سال کا فرق رہ جاتا ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ یہ کہہ دیں کہ آپ نے وہ عمر کسی مقام خاص پر، جو آپ کے لئے ہی مختص ہے۔ گزاری۔ ورنہ مدت حمل ٤٢ سال سے زیادہ ماننی پڑے گی۔
سائنس دانوں کے لئے یہ بھی ایک نیا انکشاف ہے۔ اس پر جدید سائنس کو توجہ دینی چاہئے۔ کیونکہ ایک نبی کی وحی والہام غلط نہیں ہو سکتا۔ کسی نے خوب کہا ہے:
بطالت ہے جہالت ہے ضلالت
٢٨
مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق پیش گوئی
مرزا قادیانی جب مولوی محمد حسین سے بحث حربہ استعمال کیا اور مولوی صاحب کو اپنی طرف مائل کرنے گھڑ لیا۔
(اعجاز احمد ص ٥٠، ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢) پر مرقو نہیں ہوئے۔ بلکہ امید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے۔ سو کرے گا اور خدا کے ہاتھوں زندہ کیا جاوے گا اور خدا قادرا دیا جائے گا۔“
پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں ۔ دے گی۔ میرا کلام سچا ہے۔ میرے خدا کا قول سچا ہے۔ جو شخص
اس عبارت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ضرور غلام احمد پر ایمان لائے گا اور حلقہ مریدین میں شامل ضرور ہوگا۔ لیکن غلط ثابت ہوا اللہ کے فضل و کرم سے مولانا لوی کی حمایت کرتے رہے اور حضرت محمد ﷺ کے دامن ۔
شین گوئی زلزلۃ الساعۃ
”آج رات کے تین بجے کے قریب خدا کی پاک زلزلۃ الساعۃ خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔ مخلوق کو اِ ہوگا۔ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے اس کو قیامت کہہ سکیں اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ ہاتھوں تک ظاہر ہو گا یا خدا تعالیٰ اس کو چند مہینوں یا کچ یا بعید۔“ (الانذار)
(تبلیغ رسالت ج
یہ اشتہار مرزا قادیانی نے ٨ اپریل ١٩٠٥ء کو ج مورخہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو ایک شدید زلزلہ کرنے لگے کہ کاش کوئی پیشین گوئی گھڑی ہو
٢٩
مولوی محمد حسین بٹالوی کے متعلق پیش گوئی
مرزا قادیانی جب مولوی محمد حسین سے بحث و تحریر میں ناکام رہا تو اس نے ایک اور حربہ استعمال کیا اور مولوی صاحب کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ایک اور الہام حسب عادت گھڑ لیا۔
(اعجاز احمد ص ٥٠، ٥١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢) پر مرقوم ہے: ”ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے۔ بلکہ امید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے۔ (اے مرزا) تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے۔ سعید ہے پس روز مقدر اس کو فراموش نہیں کرے گا اور خدا کے ہاتھوں زندہ کیا جاوے گا اور خدا قادر ہے اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔“
پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے اور نسیم صبا خوشبو لائے گی اور معطر کر دے گی۔ میرا کلام سچا ہے۔ میرے خدا کا قول سچا ہے۔ جو شخص تم میں سے زندہ رہے گا، دیکھے گا۔
اس عبارت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ایک نہ ایک دن ضرور غلام احمد پر ایمان لائے گا اور حلقہ مریدین میں شامل ہوگا۔ اگر زندگی میں نہ ہوا تو بعد میں تو ضرور ہوگا۔ لیکن غلط ثابت ہوا اللہ کے فضل و کرم سے مولانا آخر دم تک مرزا قادیانی کی مخالفت اور سچائی کی حمایت کرتے رہے اور حضرت محمد ﷺ کے دامن سے وابستہ رہے۔
پیش گوئی زلزلۃ الساعۃ
”آج رات کے تین بجے کے قریب خدا کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی۔ تازہ نشان کا دھکہ زلزلۃ الساعۃ خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔ مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکہ لگے گا۔ وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا۔ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی شدید آفت ہے۔ جو دنیا پر آئے گی۔ جس کو قیامت کہہ سکیں اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب آئے گا اور مجھے علم نہیں کہ وہ چند دن یا چند ہفتوں تک ظاہر ہوگا یا خدا تعالیٰ اس کو چند مہینوں یا چند سال کے بعد ظاہر فرمائے گا۔ یا کچھ اور قریب یا بعید۔“ (الانذار)
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٨٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٢٢)
یہ اشتہار مرزا قادیانی نے ٨ اپریل ١٩٠٥ء کو شائع کیا تھا۔ کیونکہ قرائن کچھ ایسے تھے کہ زلزلہ آئے گا۔ مورخہ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء کو ایک شدید زلزلہ آیا تھا۔ تو مرزا قادیانی کی باچھیں کھل گئی اور افسوس کرنے لگے کہ کاش کوئی پیشین گوئی گھڑی ہوتی تو آج نبوت کا پرچار کرنے کا ایک عمدہ حربہ ہاتھ آجاتا۔
٢٩
چونکہ ایسی کوئی پیشین گوئی پہلے سے نہ تھی۔ غالب گمان یہ تھا کہ ہو سکتا ہے عنقریب کوئی اور زلزلہ آ جائے۔ اس لئے یہ پیشین گوئی گھڑی پھر اس میں تذبذب کا یہ عالم کہ زلزلہ قیامت کے زلزلہ کی طرح ہوگا۔ پھر کہہ دیا کہ عنقریب ہوگا یا بعید کچھ معلوم نہیں چند دنوں بعد ہوگا یا مہینوں بعد ہوگا۔ سالوں بعد ہوگا یا قریب یا بعید۔
اب یہ پیشین گوئی رہی یا تخمینہ۔ اب اگر ایک ہزار سال بھی نہ آئے تو جناب سچے تھے۔ مرزا قادیانی نے سوچا آ جائے تو پھر گھر گھی کے چراغ جلیں گے...... ہمارے نزدیک یہ تردد مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے۔
مرزا قادیانی (ضرورۃ الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”میں امام الزمان ہوں۔ امام الزمان کی پیشین گوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے۔“
ادھر تو یہ دعویٰ کہ میری پیشین گوئیاں اظہار الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں۔ ادھر پیشین گوئی میں کس قدر گڑ بڑ کہ کوئی بات اگر یقینی بھی کہی تو وہ صرف بے یقینی ہی ہے۔ اس کا صرف یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ اگر زلزلہ آ گیا تو نبوت چمک اٹھے گی اور نہ آیا تو کہہ دیں گے ہم نے جو کہا تھا: ”یہ معلوم کب ہوگا۔ چند مہینوں تک، چند سالوں تک یا بعید یا قریب۔“
مگر سوچنا تو یہ ہے کہ پھر ایسی پیشین گوئی کا فائدہ کیا ہے؟ جو پیشین گوئی مخالفین کے سامنے پیش کی جاتی ہے وہ تو ایسی ہونی چاہئے کہ جس کو جانچا جاسکے۔ مہمل خبر کا کیا اعتبار بلکہ مہمل خبر مخبر کی بے علمی کی دلیل ہے کہ مخبر خود تردد میں ہے۔
کیا اسی کو اظہار علی الغیب کہتے ہیں؟ ایسا ہی شخص امام الزمان ہوتا ہے۔ بلکہ تمام نبیوں کا بروز؟ مگر خدا کاذب و مفتری کو بے نقاب کر کے چھوڑتا ہے۔
پھر مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٥ء کو اپنی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ١٥١، ١٥٢) پر مندرجہ ذیل اشعار میں دوسری پیشین گوئی کی:
جس سے گردش کھائیں گے دیہات، شہر و مرغزار
آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب
اک برہنہ نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار
٣٠
کیا بشر اور کیا شجر اور حجر
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جا
نالیاں خوں کی چلیں گی جیس
رات جو رکھتے تھے پوشاک
صبح کر دے گی انہیں مثل
ہوش اڑ جائیں گے انسان کے پ
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب
ہر مسافر پر وہ ساعت سخت
راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و
خون سے مردوں کے کوہستان
سرخ ہو جائیں گے جیسے
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے
زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑ
اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ
آسمان حملے کرے گا کھینچ
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے
اس پر ہے میری سچائی کا م
وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے
کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی
ان اشعار میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر جس میں شہری، دیہاتی آبادی بلکہ جنگل تک متاثر ہوں گے جائے گی۔ انسان، جن، وحوش، پرندے سب ہی اس ز بیٹھیں گے۔ خون کی ندیاں چلیں گی۔ انسان و جن خون می وہ زلزلہ کچھ دنوں کے بعد۔
٣١
کیا بشر اور کیا شجر اور حجر اور کیا بحار
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیرو زبر
نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے اب رود بار
رات جو رکھتے تھے پوشاک برنگ یاسمن
صبح کردے گی انہیں مثل درختان چنار
ہوش اڑ جائیں گے انسان کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی
راہ کو بھولیں گے ہو کر مست وبے خود راہ دار
خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں
سرخ ہو جائیں گے جیسے شراب انجبار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس
زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار
اک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشان
آسمان حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس
اس پر ہے میری سچائی کا سبھی دارومدار
وحی حق کی بات ہے ہوکر رہے گی بے خطا
کچھ دنوں کر صبر ہوکر متقی اور برد بار
(درثمین اردو)
ان اشعار میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر بیان کیا ہے کہ وہ ایک زلزلہ ہوگا۔ جس میں شہری، دیہاتی آبادی بلکہ جنگل تک متاثر ہوں گے۔ اس طرح کہ زمین زیروزبر ہو جائے گی۔ انسان، جن، وحوش، پرندے سب ہی اس زلزلہ کی تاب نہ لاکر ہوش وحواس کھو بیٹھیں گے۔ خون کی ندیاں چلیں گی۔ انسان وجن خون میں لت پت ہوں گے اور آئے گا بھی وہ زلزلہ کچھ دنوں کے بعد۔
٤١
اب تو پہلی بات ختم ہو گئی۔ جہاں گو مگو کے عالم میں مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ معلوم نہیں چند دنوں یا ہفتوں یا مہینوں یا سالوں بعد آئے گا۔ بلکہ تسلیم کر لیا کہ وحی الہی کہتی ہے:”کچھ دنوں کے بعد“ تو معلوم ہوا کہ ایک ماہ کے اندر اندر اس لئے کہ جب دنوں تک بات ہو تو ایک ماہ سے کم عرصہ مراد لیا جاتا ہے۔ گھنٹوں کی بات ہو تو دن سے کم مدت مراد لی جاتی ہے۔ عام محاورہ ایسا ہی ہے۔ اب مرزا قادیانی کا وہ زلزلہ کب آیا؟ یہ تو مرزائیوں کے ذمہ ہے کہ بتلائیں کب آیا؟
مرزائی کہا کرتے ہیں کہ : ”پیشین گوئی میں کوئی وقت کی قید نہ تھی۔ اس لئے مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا ضروری نہیں ہے۔“
کیا اگر ایسا تھا تو مرزا قادیانی ایک ماہ باغ میں خیموں کے اندر کیوں ڈیرہ جماتے رہے؟ مورخہ ٢٠؍ فروری ١٩٠٦ء کو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار شائع کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب زلزلہ آنے والا ہے: ”پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا۔ چونکہ دومرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقع پر مجھے مطلع فرمایا ہے۔ اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلائے گا، دور نہیں۔ خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اب دوسرا نشان دکھا دے تا ماننے والوں پر اس کا رحم ہو۔ تا وہ لوگ جو کئی منزلوں کے نیچے ہوتے ہیں وہ کسی اور جگہ ڈیرے لگا لیں۔“
(اشتہار مورخہ ٢١؍اپریل ١٩٠٦ء موسومہ النداء من وحی السماء، مندرجہ ریویو ج ٣ ص ٢٣٨)
اس عبارت میں تو صاف ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ واقعہ زلزلہ ہوگا۔ کیونکہ کئی منزلوں کے نیچے سونے والوں کو خبردار کیا گیا ہے اور پھر یہ بھی صاف لکھ دیا ۔ دور نہیں ہے۔
اب بھی کسی کو شبہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی کے بعد کی پیشین گوئی کی تھی۔ مرزا قادیانی نے خود قادیان سے باہر ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ خیموں میں گذر کرنے لگے۔ مریدوں کو ہدایت جاری کر دی کہ: ”گھروں سے باہر میدان میں رہائش اختیار کریں۔“ (ریویو ج ٣ ص ٣٣٣)
”قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔“ (یہ مورخہ ٢٢؍مئی ١٩٠٥ء کا اشتہار ہے)
ہوسکتا ہے مرزا قادیانی نے سوچا ہو کہ مالدار آدمی عموماً ڈرپوک ہوتے ہیں۔ وہ بہت جلد گھر چھوڑ دیں گے اور کسی تربیت دی ہوئی مریدوں کی پارٹی کے ذریعہ گھروں سے کوئی رقم ہتھیالی جائے جو تکمیل نبوت کے کام آئے۔ مگر لوگوں نے بھی دوسری پیشین گوئیوں کی طرح مجنون کی بڑ سمجھا اور وہ اس میں حق بجانب تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی مراق کے مریض تھے۔
٣٢
سابقہ زلزلہ کا خوف مسلط تھا۔ آنجناب پر ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ والی مثال خوب صادق آتی ہے۔ زلزلہ جس کی مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی۔ کہیں نہ آیا اور آنجناب آنجہانی ہو گئے۔
بعض مرزائی کہتے ہیں کہ: ”٢٨؍فروری ١٩٠٦ء کو جو زلزلہ آیا تھا۔ وہ ہی مراد ہے۔“
کیا مرزائی بتلا سکتے ہیں کہ اس میں خون کی ندیاں چلیں؟ انس وجن، پرندے سب ہوش وحواس کھو بیٹھے تھے؟ ”ان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكفرین“ مرزائیو! ہوش کے ناخن لو۔
آؤ! ہم مرزا ہی کی زبانی سے بتلاتے ہیں کہ: ”٢٨؍فروری والا زلزلہ مصداق نہ تھا۔ کیونکہ وہ بہت معمولی تھا۔“
(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص٩٢، خزائن ج٢٢ ص٩٦)
”یادرہے اس وقت تک ٢٤؍جولائی ١٩٠٦ء ہے۔ اس ملک میں تین زلزلے آچکے ہیں۔ یعنی ٢٨؍فروری ١٩٠٦ء اور ٢؍مئی ١٩٠٦ء اور ٢١؍جولائی ١٩٠٦ء مگر غالباً خدا کے نزدیک یہ زلزلوں میں داخل نہیں۔ کیونکہ بہت ہی خفیف ہیں۔“ معلوم ہوا کہ ٢٨؍فروری والا زلزلہ بہت خفیف تھا جو اس زلزلۃ الساعۃ کا مصداق نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی نے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٧، ٩٨، خزائن ج٢١ ص٢٥٨، ٢٥٩) پر لکھا ہے: ”اگر خدا نے بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال میں ضرور ہے کہ یہ میری زندگی میں ظہور میں آ جائے۔“
کہاں یہ کہ باغ میں ڈیرے ڈال دیئے۔ کہاں سولہ سال؟ تاہم خدا نے جھوٹا جو کرنا تھا۔ لہٰذا لکھوا دیا کہ ضرور ہے کہ یہ میری زندگی میں ظہور میں آ جائے۔ ہے کوئی مرزائی کہ ثابت کرے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں وہ زلزلہ آیا۔ اگر ثابت کر دے تو میں اس کو مبلغ دس ہزار نقد انعام دوں گا۔ کیا کسی قادیانی کو ہمت ہے کہ میدان میں آئے؟ اور یہ بھی میری پیشین گوئی ہے۔ خاص کر نبی کاذب کی امت کے لئے کوئی میدان میں نہیں آئے گا اور اس پر کوئی بحث نہیں کر سکے گا۔ اگر کی تو ذلیل ہوگا۔
مرزا قادیانی زلزلہ والی پیشین گوئی میں بھی بالکل اسی طرح کاذب نکلا۔ جس طرح دیگر پیشین گوئیوں میں پھر لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی زلزلہ، قحط، لڑائی وغیرہ اس قسم کی پیشین گوئیوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے؟ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا؟ پس اس ناداں (مراد عیسیٰ علیہ السلام) اسرائیلی نے
٣٣
ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا؟ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١١ص ٢٨٨)
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
مرزاغلام احمد قادیانی کے مبالغہ آمیز ادعاء
چونکہ مرزا قادیانی مبالغہ کے معتاد تھے اور ہر کام میں زور شور سے دعویٰ بغیر سوچے سمجھے کر دیا کرتے تھے۔ جس طرح ایک مراقی انسان کیا کرتا ہے۔ اس لئے پیشین گوئیاں بھی اسی جذبہ کے تحت صادر ہو جاتیں اور پھر ان کی تاویلیں گھڑنی شروع کر دیتے۔
اب ہم چند مبالغے پیش کرتے ہیں۔ اس سے خود معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کہاں تک جذباتی اور بے لگام واقع ہوئے ہیں۔
مبالغہ نمبر:١
(کشتی نوح ص ٣٧، خزائن ج ١٩ص ٤١)
’’دیکھو ز میں پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑ ہا اس کے ارادہ سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے انتہائی مبالغہ سے کام لیا ہے۔ بلکہ میں کہوں گا۔ انتہائی کذب افتراء علی اللہ سے کام لیا ہے۔ بھلا کوئی عقلمند ایسی بیہودہ بات تسلیم کر سکتا ہے؟ اس وقت دنیا کی آبادی تین ارب سے کم ہے۔ جب کہ موجودہ رفتار پیدائش پہلے سے بڑھ چکی ہے اور شرح اموات پیدائش سے کم ہے۔
اگر مساوی بھی تسلیم کر لیں تو مرزائی یہ تو بتلائیں کہ اگر ایک ساعت (یعنی گھنٹہ ) میں کروڑ ہا آدمی مرتے ہوں تو بتلاؤ ٢٤ گھنٹوں میں کتنے مریں گے؟ بہتر (٧٢) کروڑ آدمی مرے۔ کیونکہ کروڑ ہا کا لفظ جمع ہے جو کم از کم عرف عام میں تین پر بولا جاتا ہے۔
گویا فی گھنٹہ تین کروڑ آدمی مرتے ہیں۔ اسی طرح تین کروڑ پیدا ہوتے ہیں تو اسی طرح ٤ دنوں میں دو ارب اٹھاسی کروڑ آدمی مر گئے اور اتنے ہی پیدا ہو گئے تو پھر چار دن کے بعد دنیا میں صرف بہتر کروڑ بچے۔ چار دن کے اور اسی طرح ٧٢ کروڑ تین دن کے اور ٧٢ کروڑ ٢ دن کے۔ بہتر کروڑ صرف ایک دن کے رہ جائیں۔ یہ اس صورت میں جب دو ارب اٹھاسی کروڑ بالغ تسلیم کئے جائیں تو ظاہر ہے اتنے چھوٹے بچے بلک بلک کر ایک دن میں مر جائیں گے۔ پانچویں دن پھر ہو کا عالم ہو۔ ایک انسان بھی دنیا میں نہ ہو۔
٣٤
کیا کوئی مرزائی ہمیں بتلائے گا کہ یہ اعداد وش کروڑوں کھرب سے بھی زیادہ ہے؟ امید ہے عالمی اعداد و متوجہ ہو کر شاید اپنی رائے بدلے اور مرزا قادیانی کی تحقیق پر ا کیا اب مرزا قادیانی کے مراقی ، وہمی اور جذبا
مبالغہ نمبر:٢
’’ میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں۔ وہ سب رسالوں کے ہیں۔‘‘
کیا مرزائی حضرات اپنے نبی کو سچا ثابت ک اشتہار کب شائع ہوئے اور ان ساٹھ ہزار رسالوں کے پ نے تبلیغ رسالت ج ١ سے ١٠ تک میں ان اشتہارات کو ش ساٹھ ہزار، کہاں ٢٦١؟
کیا کسی بڑے سے بڑے جھوٹے اور گپ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے بڑا گپ باز لا
مبالغہ نمبر: ٣
پھر یوں فرماتے ہیں۔ (تریاق القلوب ص ٢٧، خز ممانعت جہاد اور انگریزی سلطنت کی اطاعت کے بارے شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو مرزا قادیانی نے کل اسی کے قریب کتا ٢٣ جلدیں جن سے ایک الماری کی ایک سلف بھی بمش کرشمہ ہے کہ بیک جنبش قلم پچاس الماریاں بھر دیں۔ کے گھاٹ اتار کر بغلیں بجانے لگے تھے۔
مبالغہ نمبر : ٤
’’اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قری
٣٥
کیا کوئی مرزائی ہمیں بتلائے گا کہ یہ اعداد وشمار درست ہیں؟ کیا دنیا کی انسانی آبادی کروڑوں کھرب سے بھی زیادہ ہے؟ امید ہے عالمی اعدادوشمار کرنے والا مرزائی ادارہ تحقیق کی طرف متوجہ ہو کر شاید اپنی رائے بدلے اور مرزا قادیانی کی تحقیق پر ان کے امتیوں کو نوبل پرائز سے نوازے۔ کیا اب مرزا قادیانی کے مراقی ، وہمی اور جذباتی ہونے میں کوئی شک ہے؟
مبالغہ نمبر:٢
”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں۔ وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)
کیا مرزائی حضرات اپنے نبی کو سچا ثابت کرنے کے لئے ہمیں بتلائیں گے کہ وہ اشتہار کب شائع ہوئے اور ان ساٹھ ہزار رسالوں کے نام لکھ کر شائع کریں۔ منشی قاسم علی احمدی نے تبلیغ رسالت ج ١ سے ١٠ تک میں ان اشتہارات کو درج کیا ہے۔ کل تعداد ٢٦١ ہے۔ کہاں ساٹھ ہزار، کہاں ٢٦١؟
کیا کسی بڑے سے بڑے جھوٹے اور گپ باز نے اتنے مبالغہ سے کام لیا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے بڑا گپ باز لاف زن آج تک کوئی گزرا ہی نہیں۔
مبالغہ نمبر:٣
پھر یوں فرماتے ہیں۔ (تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥) پر لکھتے ہیں: ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی سلطنت کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
مرزا قادیانی نے کل اسی کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ جن پر مشتمل خزائن کی ٢٣ جلدیں جن سے ایک الماری کی ایک سلف بھی بمشکل بھرے۔ کہاں پچاس؟ کیا یہ نبوت کا کرشمہ ہے کہ بیک جنبش قلم پچاس الماریاں بھر دیں۔ جس طرح بیک جنبش قلم تمام انسانوں کو فنا کے گھاٹ اتار کر بغلیں بجانے لگے تھے۔
مبالغہ نمبر:٤
”اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکے ہیں۔“
(ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء)
٣٥
مورخہ ١٥؍مارچ ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں کہ: ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے معاصی سے توبہ کی۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)
یعنی صرف ساڑھے تین سال میں تین لاکھ مریدوں کو بیعت کیا۔ گویا کہ روزانہ ٢٣٨ آدمی بیعت ہوتے رہے۔ یعنی فی گھنٹہ (١٢ گھنٹوں کے حساب سے) ١٩ انسانوں کا ہاتھ چومنا۔
کیا اس قدر مصروفیت کے بعد لکھتے کس وقت تھے؟ قیلولہ کب ہوتا تھا؟ اور اشتہارات کب لکھے جاتے تھے؟ سابق مریدوں کی تربیت کب ہوتی تھی۔ مزید برآں نماز، طہارت، پھر سو سو مرتبہ پیشاب روزانہ۔ کیا وہاں مقام خاص میں بھی لوٹا تھامے سلسلہ شروع رہتا تھا؟ گڑ اور ڈھیلے کب استعمال فرماتے تھے؟ کیا کوئی مرید باصفا جواب دینے کی زحمت گوارا کرے گا؟
مبالغہ نمبر: ٥
مرزا قادیانی نے (تذکرۃ الشہادتین ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦) پر اکتوبر ١٩٠٣ء میں لکھا ہے کہ: ”میرے ہاتھ پر صد ہا نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔“ مرزا قادیانی نے پھر اسی صفحہ پر لکھ دیا کہ: ”مجھ سے دو لاکھ نشانات ظاہر ہوئے۔“
پھر (تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”دس لاکھ“ کیا پوری زندگی میں اس سے قبل صد ہا تھے۔ مگر منٹ سے بھی کم عرصہ میں وہ دو لاکھ ہو گئے اور پھر سات صفحہ کے بعد جس کے لکھنے میں غالباً گھنٹہ سے بھی کم عرصہ صرف ہوا ہو۔ ١٠؍لاکھ بن گئے۔ کیا مرزائی وہ نشانات ہمیں شمار کر کے بتلا سکتے ہیں؟“
یہ ہیں مرزا قادیانی اور یہ ان کے مبالغہ۔ یہ نمونہ کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ اور بھی مبالغات مرزا قادیانی کے ہیں۔ ان کے لئے طویل بحث کی ضرورت ہے۔ ہم وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ مثال تو ایک بھی کافی تھی۔
یاد رکھیں! دعاوی میں مبالغہ آرائی سے صرف کذاب ہی کام لیتے ہیں۔ ورنہ انبیاء تو انبیاء ہوئے۔ صلحاء بھی اس سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے علم کا تھوڑا سا خاکہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ شاید تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے انکشاف ہو۔
مرزا قادیانی کی علمی وسعت
مرزا قادیانی (ضرورۃ الامام ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ٤٨) پر لکھتے ہیں: ”پس جو شخص امامت کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اگر وہ ایسا دعویٰ زبان پر لائے گا تو وہ لوگوں سے اس طرح ہنسی کرائے گا۔
٣٦
جیسا کہ ایک نادان ولی نے بادشاہ کے روبرو ہنسی کرائی تھی۔ قصہ تھا۔ جو نیک بخت اور متقی تھا۔ مگر علم سے بے بہرہ تھا اور بادشاہ کو ا بے علمی کے اس کا معتقد نہیں تھا۔
ایک مرتبہ وزیر اور بادشاہ دونوں اس کے ملنے کے ل راہ سے اسلامی تاریخ میں دخل دے کر بادشاہ کو کہا: ”اسکندر رومی ہے۔ تب وزیر کو نکتہ چینی کا موقعہ ملا اور فی الفور کہنے لگا کہ دیکھئے ولایت کے تاریخ دانی میں بھی بہت کچھ دخل ہے۔“
سو امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر قسم کے ا طبابت کی رو سے بھی ہیئت کے رو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی فلسفہ اسلام کے رو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی اور نقلی بنا پر بھی۔
یہ ہے مرزا قادیانی کا معیارِ علمی امام الزمان کے لئے کیا ہے کہ: ”میں امام الزمان ہوں۔“
اب آئندہ کچھ تاریخی واقعات بزبان مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کس قدر تاریخی معلومات رکھتے ہیں اور امام الزما سچے ہیں۔
(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥) پر مرزا قادی آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چ کیا کوئی مرزائی کسی مسلمہ کتاب تاریخ اسلام یا حضور ﷺ کے والد ماجد آپ کی پیدائش کے بعد رحلت فرما گ بلکہ اسلام سے کچھ بھی مس رکھتا ہو۔ وہ جانتا ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے ہی رحلت فرما گئے تھے۔
کیا امام الزمان کی مثال اسی فقیر والی نہ ہوئی؟ جو م
مزید علمی جواہر پارے۔
(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) پر: ”م کے (یعنی آنحضرت ﷺ کے) گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے
٣٧
١٩٠١ء میں لکھتے ہیں کہ: ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں
(تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)
کے تین سال میں تین لاکھ مریدوں کو بیعت کیا۔ گویا کہ روزانہ ہے۔ یعنی فی گھنٹہ (١٢ گھنٹوں کے حساب سے ) ١١٩ انسانوں کا
ت کے بعد لکھتے کس وقت تھے؟ قیلولہ کب ہوتا تھا؟ اور اشتہارات مریدوں کی تربیت کب ہوتی تھی۔ مزید برآں نماز، طہارت، پھر سو اس مقام خاص میں بھی لوٹا تھامے سلسلہ شروع رہتا تھا؟ گڑ اور ؟ کیا کوئی مرید باصفا جواب دینے کی زحمت گوارا کرے گا؟
تذکرۃ الشہادتین ص ٤٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦) پر اکتوبر ١٩٠٣ء میں لکھا نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔“ ر اسی صفحہ پر لکھ دیا کہ: ”مجھ سے دولاکھ نشانات ظاہر ہوئے۔“ ی ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”دس لاکھ“ کیا پوری نے۔ مگر منٹ سے بھی کم عرصہ میں وہ دو لاکھ ہو گئے اور پھر سات صفحہ گھنٹہ سے بھی کم عرصہ صرف ہوا ہو۔ ١٠ لاکھ بن گئے۔ کیا مرزائی وہ تے ہیں؟“
اور یہ ان کے مبالغہ۔ یہ نمونہ کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ کے ہیں۔ ان کے لئے طویل بحث کی ضرورت ہے۔ ہم وقت ضائع بھی کام تھی۔
میں مبالغہ آرائی سے صرف کذاب ہی کام لیتے ہیں۔ ورنہ انبیاء تو سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے علم کا تھوڑا سا خاکہ یں۔ شاید تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے انکشاف ہو۔
نت وۃ الامام ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٤٨) پر لکھتے ہیں: ”پس جو شخص امامت ایسا دعویٰ زبان پر لائے گا تو وہ لوگوں سے اس طرح ہنسی کرائے گا۔
٣٦
جیسا کہ ایک نادان ولی نے بادشاہ کے روبرو ہنسی کرائی تھی۔ قصہ یوں ہے کہ کسی شہر میں ایک زاہد تھا۔ جو نیک بخت اور متقی تھا۔ مگر علم سے بے بہرہ تھا اور بادشاہ کو اس پر اعتقاد تھا اور وزیر بوجہ اس کی بے علمی کے اس کا معتقد نہیں تھا۔
ایک مرتبہ وزیر اور بادشاہ دونوں اس کے ملنے کے لئے گئے اور اس نے محض فضولی کی راہ سے اسلامی تاریخ میں دخل دے کر بادشاہ کو کہا: ”اسکندر رومی بھی اس امت میں بڑا بادشاہ گزرا ہے۔ تب وزیر کو نکتہ چینی کا موقعہ ملا اور فی الفور کہنے لگا کہ دیکھئے۔ حضور فقیر صاحب کو علاوہ کمالات ولایت کے تاریخ دانی میں بھی بہت کچھ دخل ہے۔“
سو امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں۔ جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کی رو سے بھی ہیئت کے رو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی، جغرافیہ کے رو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی اور نقلی بنا پر بھی۔
یہ ہے مرزا قادیانی کا معیار علمی امام الزمان کے لئے اور اسی کتاب میں آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ: ”میں امام الزمان ہوں۔“
اب آئندہ کچھ تاریخی واقعات بزبان مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ مرزا قادیانی کس قدر تاریخی معلومات رکھتے ہیں اور امام الزمان ہونے کے دعوے میں کس قدر سچے ہیں۔
(پیغام صلح ص ٣٨، خزائن ج ٢٣ ص ٤٦٥) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔“
کیا کوئی مرزائی کسی مسلمہ کتاب تاریخ اسلام یا حدیث سے یہ ثابت کرے گا کہ حضور ﷺ کے والد ماجد آپ کی پیدائش کے بعد رحلت فرما گئے تھے؟ ہر طالب علم جو تاریخ سے بلکہ اسلام سے کچھ بھی مس رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حضور ﷺ کے والد ماجد آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی رحلت فرما گئے تھے۔
کیا امام الزمان کی مثال اسی فقیر والی نہ ہوئی؟ جو مرزا قادیانی نے بیان کی ہے۔ لیجئے مزید علمی جواہر پارے۔
(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) پر: ”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے (یعنی آنحضرت ﷺ) کے گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے۔“
٣٧
چونکہ مرزا قادیانی ملہم، امام الزمان ہیں۔ لہٰذا ان کا یہ صریح جھوٹ اور بے علمی بھی صداق و آگاہی پر ہی محمول ہوگی۔
مرزائیو! اپنے نبی کی تاریخ دانی دیکھ لی۔ آپ ﷺ کی تو کل اولاد لڑکے لڑکیاں ملا کر بھی گیارہ نہیں ہوتے۔ صرف گیارہ لڑکے؟ اگر کوئی مرزائی تحقیق فرمائے تو ہم ممنون ہوں گے۔ بصورت دیگر مرزا قادیانی کے کذب اور افتراء کا اقرار فرمالیں۔
(ملفوظات ج١ ص١٧٩،١٨٠) میں یوں رقم طراز ہیں: ”کہتے ہیں کہ امام حسنؓ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔ جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔“
غالباً پہلی صدی ہجری سے قبل بھی عرب چائے نوش تھے اور امام حسین اور صحابہ غالباً سب اس کے عادی ہوں گے؟
براہ کرم مرزائی اس کی بھی تحقیق فرمائیں۔ کیا دودھ ملی چائے تھی یا صرف قہوہ؟ پھر سبز چائے تھی یا سیاہ؟ نیز یہ بھی تحقیق فرمائیں کہ چین سے تو وہ چائے نہیں آئی تھی؟ ممکن ہے آپ کی تحقیق بتلادے کہ عرب میں چائے کے بے شمار باغات تھے۔ جس کی دلیل صرف الہام مرزا قادیانی ہو۔ بہت خوب! ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوجھتا ہے۔
(تریاق القلوب ص٤١، خزائن ج١٥ ص٢١٧، ٢١٨) پر مرزا قادیانی یوں رقمطراز ہیں: ”اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں باتیں کیں ۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ١٤؍ جون ١٨٩٩ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا۔ یعنی چہار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ۔“
اب ناظرین مرزا قادیانی کی سخن سازی ملاحظہ فرمائیں اور مرزا قادیانی کی بے خبری پر مرزائی ماتم کریں۔ کیا صفر اسلامی مہینوں میں چوتھا مہینہ ہے؟ حالانکہ ہر ایک جانتا ہے کہ صفر اسلامی مہینوں میں سے دوسرا مہینہ ہے۔ سال اسلامی محرم سے شروع ہوتا ہے۔ نیز بدھ یعنی چہار شنبہ ہفتہ کے دنوں میں پانچواں دن ہے۔ چوتھا نہیں ہے۔ شمار یوں ہے۔ شنبہ، یک شنبہ، دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ، پنج شنبہ، جمعہ۔
اب رہا معاملہ گھنٹوں کا تو بہرحال مرزا قادیانی نے لکھا نہیں کہ کتنے بجے پیدا ہوا۔ تا کہ معلوم کیا جاسکتا کہ ساعت چہارم تھی یا کہ نہ۔ صرف چوتھا لکھ دیا گیا ہے۔ یاد رکھیں دن اسلام میں
٣٨
صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ شمسی حساب میں طلوعِ دوپہر کسی طرح بھی چوتھا گھنٹہ دن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ پھر جو بھی ہو ہمیں اس سے غرض نہیں ہم تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ صفر دوسرا مہینہ ہے نہ کہ چوتھا، صرف چہار شنبہ کے لفظ کو لے کر چوتھا دن بنادینا یہ ص کرشمہ ہے۔
تاریخی جھوٹ
اب آپ مرزا قادیانی کا ایک تاریخی جھوٹ طرح کا شک شبہ باقی نہ رہے۔
مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”میں نے دیکھا ہے۔ وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے۔ پھر میں نے غور سے کہ وہ بندوق ہے۔ بلکہ اس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں بھی ہے اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے میں ہے۔ بوعلی سینا بھی میرے پاس کھڑا ہے اور اس
چونکہ مرزا قادیانی نے تصریح فرمائی ہے میں تھا ۔“ اب تاریخی اعتبار سے دیکھو تو تاریخ سے م اور خوارزم شاہی سلطنت ٤٩٠ھ سے شروع ہو کر ٦٢٨
شاید مرزا قادیانی نے بوعلی سینا کو دوبارہ کے پیدا ہونے سے ٦٢ سال قبل ہی تخت شاہی پر بٹھا د
یہ ہے مرزا قادیانی کی آگاہی اور یہ ہے ہو چکا ہے کہ امام الزمان کے لئے تمام علوم میں دستر کشف کسی شیطان نامراد نے دھوکہ دینے کے ل مرزا قادیانی کے حواری کسی طرح یہ نہ مانیں گے۔ ج دی ہو۔ مگر وہ تو چودھویں کا چاند ہی کہیں گے؟ (برعکس
٣٩
صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ شمسی حساب میں طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا بعد از دوپہر کسی طرح بھی چوتھا گھنٹہ دن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔
پھر ہو بھی تو ہمیں اس سے غرض نہیں ہم تو صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ امام الزمان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ صفر دوسرا مہینہ ہے نہ کہ چوتھا۔ بدھ، ہفتہ کا پانچواں دن ہے نہ کہ چوتھا۔ صرف چہار شنبہ کے لفظ کو لے کر چوتھا دن بنادینا یہ صرف مرزا قادیانی کی ہی علمیت اور آگاہی کا کرشمہ ہے۔
تاریخی جھوٹ
اب آپ مرزا قادیانی کا ایک تاریخی جھوٹ ملاحظہ فرمالیں۔ تاکہ علمی وسعت میں کسی طرح کا شک شبہ باقی نہ رہے۔
مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”میں نے دیکھا کہ زار روس کا سوٹا میرے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے۔ پھر میں نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے۔ بلکہ اس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں۔ گویا بظاہر سوٹا معلوم ہوتا ہے اور وہ بندوق بھی ہے اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا۔ ان کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بوعلی سینا بھی میرے پاس کھڑا ہے اور اس تیر کمان سے ایک شیر کو بھی شکار کیا۔“
(تذکرہ ص ٤٥٨ طبع سوم)
چونکہ مرزا قادیانی نے تصریح فرمائی ہے کہ: ”وہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا۔“ اب تاریخی اعتبار سے دیکھو تو تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بوعلی سینا ٤٢٨ھ میں مر چکا تھا اور خوارزم شاہی سلطنت ٤٩٠ھ سے شروع ہو کر ٦٢٨ھ پر ختم ہو جاتی ہے۔
شاید مرزا قادیانی نے بوعلی سینا کو دوبارہ زندہ کر لیا ہو یا ہو سکتا ہے خوارزم بادشاہ کو اس کے پیدا ہونے سے ٦٢ سال قبل ہی تخت شاہی پر بٹھا دیا ہو۔
یہ ہے مرزا قادیانی کی آگاہی اور یہ ہے دعویٰ کہ میں امام الزمان ہوں۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ امام الزمان کے لئے تمام علوم میں دسترس کامل ہونی چاہئے۔ غالباً مرزا قادیانی پر یہ کشف کسی شیطان نامراد نے دھوکہ دینے کے لئے کیا ہوگا تاکہ روسیاہی نصیب ہو۔ تاہم مرزا قادیانی کے حواری کسی طرح یہ نہ مانیں گے۔ چاہے منوں سیاہی تاریخ نے ان کے چہرہ پر مل دی ہو۔ مگر وہ تو چودھویں کا چاند ہی کہیں گے؟ (برعکس نام نہند زنگی کافور)
٣٩
توہین انبیاء
- ١...... توہین عیسیٰ ابن مریم
"وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔"
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
اس عبارت کو پیش نظر رکھیں۔ آئندہ ہم جو کچھ مرزا قادیانی کے اقوال لکھیں گے۔ ان میں یہ عبارت معاون ہوگی۔ کیونکہ مرزائی کہہ دیتے ہیں کہ مسیح اور ہے اور یسوع اور۔ مگر یہاں صاف طور پر بتلا دیا کہ عیسیٰ مسیح ابن مریم، یسوع ایک ہی ہستی کے نام ہیں۔ مرزا قادیانی یسوع کو جی بھر کر گالیاں دیتے ہیں۔
"اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے۔"
(اشتہار مورخہ ٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٧١)
اب آئندہ آپ پڑھ لیں گے کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی عظمت کا کس قدر خیال رکھا ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق رقمطراز ہیں: "آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
مزید گوہر افشانی: "آپ کا کنجریوں سے میلان طبع اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
"ہاں آپ کو گالیاں دینے کی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
٤٠
پھر اس کے متصل ہی ص ٥ پر لکھتے ہیں: "یہ بھی عادت تھی۔ جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات یہ کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھی ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی۔ عیسائی بہت شرمندہ ہوگئی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کر عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی۔"
پھر چند سطور کے بعد لکھتا ہے: "بہر حال آ وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے
"عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شا وجہ سے۔ اگر چہ قرآن، انجیل کی طرح شراب حلال نہیں
"میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھ مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شر ہیں۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"
مندرجہ بالا عبارتیں غور سے پڑھیں اور آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کس قدر عداوت رس اتر آئے ہیں۔ شاید اپنی حرکات پر پردہ ڈالنا مقص افشانیاں اور ملاحظہ کریں۔
معجزات پر اعتراض
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مذاق نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موج ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
٤١
پھر اس کے متصل ہی ص ٥ پر لکھتے ہیں: ”یہ بھی یاد رہے آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں۔ جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی۔ عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی۔“
پھر چند سطور کے بعد لکھتا ہے: ”بہر حال آپ علمی وعملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اس وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩، ٢٩٠)
”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ اگر چہ قرآن، انجیل کی طرح شراب حلال نہیں ٹھہراتا۔“
(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
”میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔“ (ریویو ج ١ ص ١٢٤، سن ١٩٠٢ء)
”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢١ تا ٢٤)
مندرجہ بالا عبارتیں غور سے پڑھیں اور مرزا قادیانی کے متعلق اندازہ لگائیں۔ آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کس قدر عداوت رکھتے ہیں اور کس طرح آپ کی کھلی توہین پر اتر آئے ہیں۔ شاید اپنی حرکات پر پردہ ڈالنا مقصود ہے۔ اب مرزا قادیانی کی چند گوہر افشانیاں اور ملاحظہ کریں۔
معجزات پر اعتراض
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بد قسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشانات ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب
٤١
سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
میں نے مختصراً چند عبارتیں مرزا غلام احمد قادیانی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھی ہیں۔ ورنہ بہت سی اس طرح کی عبارتیں مرزا قادیانی کی مختلف کتابوں میں موجود ہیں۔ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی کی بالا عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکار، فریبی، جھوٹے، شیطان کے پیروکار، شرابی، خود بین، متکبر، خدائی کا دعویٰ کرنے والے، کھاؤ پیو، گالیاں دینے والے، نسبی طور پر نہایت ہی مطعون (مجروح) تھے۔ معاذ اللہ!
پھر اب مرزا قادیانی کی وہ عبارت دوبارہ پڑھیں جو (تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٧١) سے نقل کی گئی ہے: ”اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان وعظمت کا پاس رکھے۔“
غالباً مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ کا خوب خیال رکھا۔ ناظرین خود فیصلہ فرمائیں کیا ایسا شخص شریف انسان بھی کہلا سکتا ہے؟ لیکن یہاں معاملہ اسی پر ختم نہیں بلکہ ( کوڑھ اور اس پر کھاج ) مرزا قادیانی مجدد، نبی، رسول، ملہم، مسیح، مہدی بلکہ خدائی دعویٰ بھی کر دیتے ہیں۔ آئندہ صفحات میں ہم بتلائیں گے کہ مرزا قادیانی نے ابن اللہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ کوئی باہوش انسان ایسے شخص کو شریف انسان نہیں کہہ سکتا۔
حضرت عیسیٰ پر ہی بس نہیں ہے۔ بلکہ حضور نبی اکرم ﷺ پر بھی اپنی فضیلت ثابت کرتا ہے جو سرور کائنات کی سراسر توہین ہے۔ مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ مسیح موعود، مہدی کے علامات تو پائے نہیں جاتے تو پھر نبی علیہ السلام کی ذات گرامی پر گستاخانہ حملہ یوں کیا۔
”ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ اسی بناء پر بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل حقیقت کھلی ہو اور نہ یاجوج و ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی..... تو کچھ تعجب نہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
٤٢
یہاں مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گو محسوس کیا کہ ہو سکتا ہے یہ بھی غلط نکل آئے تو یہ آ لطف کی بات یہ ہے کہ خود لکھتا ہے کہ: ”یہ حقیقت
”اب رہی اپنی جماعت، خدا کا شکر اترنے کی حقیقت، دجال کی حقیقت، ایسا ہی دا معرفت کے مقام تک پہنچا دیا۔“
ناظرین! غور کریں کہ نبی علیہ السلام معلوم نہ کر سکے اور ان کی رسائی مقام معرفت تک وہاں تک ہو گئی۔ حالانکہ صاحب وحی اور صاحب سکتا۔ بلکہ صاحب وحی اس کی تشریح بھی اللہ تعالیٰ
کیا جس ہستی کو خدا نے علم اولین و قادیان کے چند بے علم، سر پھرے، ایک مراقی ب کہ وہ تمام عقدے حل کر دیں جو محمد مصطفےٰ (فدا خاتم النبیین کی کیا توہین ہو سکتی ہے؟ پھر قادیا ہوں۔ کیا ظل اصل سے فائق ہوتا ہے؟
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٦، خ
نبی ﷺ کی تمام استغفار اسی بناء پر ہے کہ آپ یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشا نہیں کر سکا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٥٣، خزائن ج ٣ ص
خوب جانتے ہیں کہ ایسے مامور من اللہ کی ص جس خدمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کہ اس خدمت کو ایسی طرز پسندیدہ طریق برگزیدہ ب ہو سکیں۔ یقیناً سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعوٰی می
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص
وہ کام پورا نہ ہو جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کی بھی گئی تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ناطے بانی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے ۔ ان دائم موجود ہے۔ ضرورت ر قادیانیوں اور مسلمانوں مسیح راحیل احمد کی اس اسلام کی آغوش میں (آمین) اسلام پاکستان) چناب نگر
یہاں مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گوئیوں کی جھوٹی تاویل کرنے کے باوجود جب محسوس کیا کہ ہوسکتا ہے یہ بھی غلط نکل آئے تو یہ آڑ لی۔ حضور ﷺ کو بھی امور بالا کا علم نہ تھا۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ خود لکھتا ہے کہ: ”یہ حقیقت میرے مریدوں پر منکشف ہو گئی۔“
”اب رہی اپنی جماعت، خدا کا شکر ہے کہ (انہوں) نے دمشق کے منارہ پر مسیح کے اترنے کی حقیقت، دجال کی حقیقت، ایسا ہی دابۃ الارض (وغیرہ) کے بارہ میں خدا نے ان کو معرفت کے مقام تک پہنچا دیا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)
ناظرین! غور کریں کہ نبی علیہ السلام جن پر قرآن مجید نازل ہوا۔ وہ تو اس حقیقت کو معلوم نہ کر سکے اور ان کی رسائی مقام معرفت تک نہ ہوسکی۔ مگر مرزا قادیانی کے مریدوں کی رسائی وہاں تک ہوگئی۔ حالانکہ صاحب وحی اور صاحب کتاب سے بڑھ کر کتاب کو دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ بلکہ صاحب وحی اس کی تشریح بھی اللہ تعالیٰ سے ہی پوچھتا ہے۔
کیا جس ہستی کو خدا نے علم اولین و آخرین عطا کیا ہو وہ اپنی وحی کو نہ سمجھ سکے۔ مگر قادیان کے چند بے علم، سر پھرے، ایک مراقی کے دام تزویر میں پھنسے ہوئے مقام معرفت تک پہنچ کر وہ تمام عقدے حل کر دیں جو محمد مصطفےٰ (فداہ ابی وامی) سے حل نہ ہوسکے۔ کیا اس سے بڑھ کر خاتم النبیین کی کیا توہین ہو سکتی ہے؟ پھر قادیانی متنبّی کا دعویٰ بھی یہ ہے کہ میں حضور ﷺ کا ظل ہوں۔ کیا ظل اصل سے فائق ہوتا ہے؟
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٩) پر لکھتا ہے: ”چنانچہ ہمارے نبی ﷺ کی تمام استغفار اسی بناء پر ہے کہ آپ بہت ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی ہے۔ یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت اس کو جیسا کہ اس کا حق تھا۔ میں ادا نہیں کر سکا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٣، خزائن ج ٣ ص ٣٩٨) پر یوں لکھتے ہیں: ”لیکن زیرک لوگ اس کو خوب جانتے ہیں کہ ایسے مأمور من اللہ کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت ممکن نہیں کہ جس خدمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بجا لانے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ اگر وہ اس خدمت کو ایسی طرز پسندیدہ طریق برگزیدہ سے ادا کر دیوے۔ جو دوسرے اس کے شریک نہ ہوسکیں۔ یقیناً سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٢٨) پر لکھتے ہیں: ”ان کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پورا نہ ہو جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں۔“
٤٣
مرزا قادیانی نے جو براہین احمدیہ میں لکھا کہ : ”حضور یہ سمجھتے تھے جو کام آپ کے سپرد کیا گیا تھا وہ اس کا حق نہیں ادا کر سکے اور نہ جانفشانی سے ہی کام کر سکے۔‘‘ پھر دوسری عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی اور مامور کی صداقت اس کے کام سے معلوم ہوتی ہے۔ یعنی جو کام ان کے سپرد ہو وہ اسے احسن طریق سے کما حقہ، ادا کر دیں۔ ایسا کہ اس میں ان کا کوئی شریک نہ ہو۔ تب وہ سچے ورنہ ...... دونوں عبارتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ حضور حق تبلیغ اور حق رسالت ادا نہ کر سکے۔ تب ہی استغفار کرتے تھے اور یہاں سے معلوم ہوا جو حق ادا نہ کر سکے تو اس کی صداقت بھی مشکوک ہوئی ۔ پھر کیا قادیانی کے نزدیک حضور کی صداقت مشکوک ہو گئی؟ معاذ اللہ ہذا بہتان عظیم !
یہاں غلام احمد متنبّی نے کذب سے کام لیا ہے اور آپ ﷺ کی صریح توہین کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرائض رسالت کما حقہ ادا کر دیئے۔ آپ ﷺ نے اکمل طریقے سے فرائض پورے کئے۔ بلکہ صحابہ کرام نے بھی کامل طور پر حق تبلیغ ادا کر دیا۔ اللہ اللہ چہ نسبت خاک را بعالم پاک!
اپنے متعلق معیارِ صداقت یہ پیش کرتا ہے کہ : ”میں جس کام کے لئے مامور ہوا تھا وہ پورا کر دکھایا۔“
اس میں کیا شک ہے غلام احمد جیسا راندۂ بارگاہ ایزدی جس کام کے لئے مامور من الشیطان ہوا تھا۔ اسے پوری جانفشانی سے پورا کیا۔ یعنی کفار مغرب کی غلامی جس کے خوب گیت گائے نیز تشہیر اکاذیب جس میں مرزا قادیانی کو ید طولیٰ حاصل تھا۔
اس میں کیا شک، شیطان نے جس مقصد کے لئے وحی کی تھی اس میں کامیاب رہا۔
مسلمانوں میں سے ایک ایسا گروہ الگ کر دیا جو شیطان کے اشارے پر ناچنے لگا۔ بندگانِ خدا پر ظلم، ستم ڈھانے والے ظالموں کے گن گانے لگا۔ اسلام کے لئے جہاد حرام ٹھہرایا۔ مگر سلطنت برطانیہ کے لئے قربانی دینا عین ایمان "بئسما یامرکم به ایمانکم ان کنتم مؤمنین" بلکہ ان کی وفاداری شرطِ ایمان اور مقصدِ احمدیت سرکار انگریزی کی مدح سرائی ٹھہرایا۔
حضور ﷺ کے متعلق لکھتا ہے کہ : ”آپ کے معجزات کی تعداد تین ہزار ہے ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”مگر اپنے معجزات ١٠لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)
مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) میں لکھتے ہیں کہ:۔
٤٤
غسا القمران المشـ
اس کے لئے (یعنی حضور علیہ السلام) چاند چاند سورج دونوں کا ۔ کیا اب تو انکار کرے گا؟
مرزا قادیانی شق القمر کے معجزہ کو خسوفِ قمر میرا معجزہ خسوف قمر ، کسوف شمس ہے۔ یعنی میرا معجزہ حضور
پھر مرزا قادیانی نے شق قمر کو یک جنبشِ قلم گھٹانے کے لئے تا کہ مرزا قادیانی کے مزعومہ نشان (چشمہ معرفت حصہ دوئم ص ٤١، خزائن ج ٢٣ ص ٤١) میں خود چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔“
مرزا قادیانی جب مطلب برآری پر اتر آ جاتے ہیں۔ سچ ہے:۔
اب آپ وہ عبارت مرزا قادیانی کی کتاب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلافِ علم
دیکھیں مرزا قادیانی کا تضاد، پھر لطف عادت کے مطابق یہاں بھی دروغ گوئی سے کام لیا مذکور ہے کہ آپ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے کہیں بھی مذکور نہیں کہ انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ہونا مرزا قادیانی کو مسلم ہے۔“
کیا فرماتے ہیں مرزا قادیانی معراج جسما کیا ان میں کلام کرنا بھی فضول نہیں؟ اگر چاند کے دو ٹکڑے کر محال ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جا سے یہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے معجزہ کو بڑھانے کے لئے
٤٥
حق پروردہ اور حق گو انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
کی محبت تھی اور یہ محبت ان
دار انسان ہونے کے ساتھ
یانی مذہب کا مطالعہ کر کے
و شجاعت دینے لگے۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
قادیانیوں کا شر کھلم کھلا
وم شیخ راحیل احمد کی اس
اور اللہ کا شکر
(آمین)
بھی اسلام کی آغوش میں
اسلام پاکستان ) چناب نگر
غسا القمران المشرقان اتنکر
اس کے لئے (یعنی حضور علیہ السلام ) چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند سورج دونوں کا۔ کیا اب تو انکار کرے گا؟
مرزا قادیانی شق القمر کے معجزہ کو خسوف قمر قرار دیتے ہیں۔ پھر اپنے متعلق کہتے ہیں۔ میرا معجزہ خسوف قمر، کسوف شمس ہے۔ یعنی میرا معجزہ حضورﷺ کے معجزہ سے بڑھ کر ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے شق قمر کو بیک جنبش قلم خسوف سے تعبیر کر دیا۔ یہ معجزہ کی حقیقت کو گھٹانے کے لئے تا کہ مرزا قادیانی کے مزعومہ نشان معجزہ قرار پائیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے (چشمہ معرفت حصہ دوم ص ٤١، خزائن ج ٢٣ ص ٤١١) میں خود لکھا ہے کہ : ” آپ کی انگلی کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔“ مرزا قادیانی جب مطلب برآری پر اتر آتے ہیں تو پھر اپنی سابقہ تحریرات کو بھول جاتے ہیں۔ سچ ہے۔
اب آپ وہ عبارت مرزا قادیانی کی کتاب سے پڑھیں: ”قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرتﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں۔“
(چشمہ معرفت حصہ دوم ص ٤١، خزائن ج ٢٣ ص ٤١١)
دیکھیں مرزا قادیانی کا تضاد، پھر لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے مطابق یہاں بھی دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور جھوٹ کہا ہے کہ: ”قرآن میں مذکور ہے کہ آپ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ قرآن مجید اٹھا کر دیکھیں وہاں کہیں بھی مذکور نہیں کہ انگلی کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہوئے۔ تاہم چاند کے دو ٹکڑے ہونا مرزا قادیانی کو مسلم ہے۔“
کیا فرماتے ہیں مرزا قادیانی معراج جسمانی اور رفع عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں؟ کیا ان میں کلام کرنا بھی فضول نہیں؟ اگر چاند کے دو ٹکڑے ہونا محال نہیں تو جسمانی معراج کیوں کر محال ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا کیوں محال ہے؟ ہمارا مقصود اس عبارت سے یہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے معجزہ کو بڑھانے کے لئے حضورﷺ کے معجزہ کو گھٹا کر بیان کر رہے
٤٥
ق پردرد اور حق گو انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
کی محبت تھی اور یہ محبت ان
دار انسان ہونے کے ساتھ
باقی مذہب کا مطالعہ کر کے
و شجاعت دینے لگے ۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
ر قادیانیوں اور مسلمانوں
می اور اس کا شر ٹھہر اللہ کو
قدم شیخ راحیل احمد کی اس
(آمین)
بھی اسلام کی آغوش میں
اسلام پاکستان) چناب نگر
ہیں ۔غالباً یہ بددیانتی بھی مرزا قادیانی کی نبوت کا خاصہ ہو۔ جس طرح ظل و بروز ان کی نبوت کا خاصہ ہے۔
غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے
خلیفہ قادیان کی زبانی توہین
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے خلیفہ ثانی ڈائری خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار جولائی ١٩٢٢ء (منقول از محمدیہ پاکٹ بک ص٢٥٧) پر لکھتے ہیں: ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ محمدﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
پھر مرزا قادیانی کے دوسرے بیٹے (کلمۃ الفضل ص١١٣) پر لکھتے ہیں: ”ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا ہے اور اس قدر آگے بڑھایا ہے کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کر کھڑا کیا۔“
کیا ان عبارتوں سے صاف عیاں نہیں ہو رہا؟ کہ مرزا قادیانی کی طرح خلیفہ قادیانی بھی حضورﷺ کی توہین کا مرتکب ہوا۔ پہلی عبارت میں تو ہر ایرے وغیرے کو حضورﷺ سے بڑھا دیا اور دوسری عبارت میں مسیح کذاب کو سرور دوعالم کے پہلو میں لا کھڑا کر دیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ گوہر افشانی انبیاء تک محدود نہیں۔ بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی شان میں بھی ایسے ہی گستاخانہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ کہیں اپنے آپ کو خدا کہا۔ کہیں خدا کا بیٹا بنا، کہیں خدا تعالیٰ کو خطا کار کہتا ہے۔ اس مدعی سے ذات قدوس بھی نہ بچی۔
ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کا خدا سے رشتہ:
- ١...... ”انت منی بمنزلة ولدی تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩)
- ٢...... ”اسمع ولدی“
(البشریٰ ج١ ص٤٩)
- ٣...... ”یاقمر یا شمس انت منی وانا منك اے چاند، اے خورشید تو مجھ سے ظاہر ہوا
ہے اور میں تجھ سے۔“
(حقیقت الوحی ص٧٤، خزائن ج٢٢ ص٧٧)
- ٤...... ”انت منى وانا منك ظهورك ظهوری تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“
(تذکرہ ص٧٠٤، طبع سوم)
- ٥...... ”انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید
٤٦
٦١
اور تفرید۔“
- ٦...... ”انت من ماء نا وهم من فشل تو ہما
(حقیقۃ
- ٧...... ”يحمدك الله من عرشه ويمشى اليك خدا
تیری طرف چلا آتا ہے۔“
(البش
- ٨...... ”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عیسائیت کو ختم کرنے پرستی کا خاتمہ ان کے ہاتھ سے ہوگا۔ چونکہ عیسائی عاجز بندے کو موعود ان کے اس زور کو توڑنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔
لیکن مندرجہ بالا عبارتیں بتلا رہی ہیں کہ مرزا قادیانی رکھتے ہوئے۔ وہ کام کیا جو عیسائی طعنہ نہ کر سکے تھے۔
مرزا قادیانی اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور خدا اپنے آپ کو خدا کا بروز کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح بروزی نبی ہو خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا۔ ملاحظہ ہو عبارت بالا ہم نوٹ کر نے کہا کہ: ”خدا کہتا ہے کہ مرزا! تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“
اور پھر صاف صاف کہہ دیا: ”تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور خدا تعالیٰ نے کلام پاک میں صاف صاف اعلان ک الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد“ کہ اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ ک ظاہر ہے کہ خدا بے مثل ہے ’لیس کمثلہ مرزا قادیانی نے عیسائیت کو فروغ دیا ہے نہ کہ ختم کیا۔
مزید خدا کی توہین
خدا تعالیٰ کی مزید توہین کرتے ہوئے کہتا ہے: ”ای روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں۔ سوتا ہوں۔“
اب سوال یہ ہے کہ خدا کس کی نماز پڑھتا ہے۔ کی اطاعت میں روزے رکھتا ہے۔ کیا کبھی کھاتا پیتا بھی ہے۔ افط
٤٧
اور تفرید۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ......٦ ”انت من ماءنا وهم من فشل تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ بزدلی
سے ۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ......٧ ”يحمدك الله من عرشه ويمشى اليك خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے اور
تیری طرف چلا آتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ......٨ ”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ عیسائیت کو ختم کرنے آئے ہیں اور صلیب پرستی و عیسیٰ پرستی کا خاتمہ ان کے ہاتھ سے ہوگا۔ چونکہ عیسائی عاجز بندے کو خدا اور ابن اللہ کہتے ہیں۔ لہٰذا مسیح موعود ان کے اس زور کو توڑنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔
لیکن مندرجہ بالا عبارتیں بتلا رہی ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی مضطرب طبیعت پر قابو نہ رکھتے ہوئے۔ وہ کام کیا جو عیسائی ملحد نہ کر سکے تھے۔
مرزا قادیانی اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور خدا کا جز ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو خدا کا بروز کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح بروزی خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا۔ ملاحظہ ہو عبارت بالا ہم نوٹ کر آئے ہیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”خدا کہتا ہے کہ مرزا ! تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“ اور پھر صاف صاف کہہ دیا: ”تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور ہے۔“
خدا تعالیٰ نے کلام پاک میں صاف صاف اعلان کر دیا: ”قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد “ کہہ دو اے محمد (ﷺ) اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا بے مثل ہے ”ليس كمثله شئ “ بیٹا باپ کا مثل ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے عیسائیت کو فروغ دیا ہے نہ کہ ختم کیا۔
مزید خدا کی توہین
خدا تعالیٰ کی مزید توہین کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے کہا میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں۔ سوتا ہوں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
اب سوال یہ ہے کہ خدا کس کی نماز پڑھتا ہے۔ کس کو سجدہ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کس کی اطاعت میں روزے رکھتا ہے۔ کیا کبھی کھاتا پیتا بھی ہے۔ افطار کا کون سا وقت ہے؟
٤٧
بہت خوب! مرزا قادیانی کو ایسے ہی خدا کی ضرورت تھی۔ ایسے ہی خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی۔ مرزا قادیانی کے حواری وضاحت کریں وہ کون سا خدا مراد لے رہے ہیں؟ کہیں رب انگلینڈ تو نہیں؟ پھر اس عبارت میں یہ بھی ہے کہ خدا سوتا بھی ہے جاگتا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لا تأخذه سنة ولا نوم“ اس پر نہ اونگھ طاری ہوتی ہے نہ نیند۔
یادرکھیں اونگھ، نیند عجز کی دلیل ہے۔ تھکے ہارے جاندار کو نیند اور اونگھ لاحق ہوتی ہے۔ کیا خدا بھی تھکتا ہے اور اس پر بھی غفلت کا اطلاق ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”لا یؤوده حفظهما“ اس کے لئے زمین و آسمان کی حفاظت موجب تھکاوٹ نہیں۔
خدا جانے مرزا قادیانی کس ہستی کو خدا مان رہے ہیں۔ کیا یہ عقیدہ عیسائیت سے بدتر عقیدہ نہیں ہے۔ میں بھی روزہ رکھوں گا اور افطار بھی کروں گا۔ ملاحظہ ہو اشتہار مرزا قادیانی (مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٣٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٢) ”انى مع الاسباب آتيك بغتة انى مع الرسول اجيب اخطی واصیب انى مع الرسول محیط“ میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ میں رسول کے ساتھ ہوں۔ جواب دیتا ہوں۔ خطا کروں گا۔ بھلائی کروں گا۔ میں رسول کے ساتھ محیط ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
لو خدا بھی مرزا قادیانی کے نزدیک خطا کار بن گیا۔ شاید مرزا قادیانی کی لغت میں اس کو تعظیم و تکریم کہا جاتا ہو۔
مزید توہین
مرزا قادیانی کے ایک حواری نے تو مرزا قادیانی کا ایک عجیب الہام نوٹ کرتے ہوئے مرزا قادیانی کو خدا کی بیوی ظاہر کیا ہے۔ قاضی یار محمد صاحب (اسلامی قربانی ص ٣٤) میں یوں مرزا قادیانی کا الہام نقل کرتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی۔ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(معاذ اللہ) مرزا قادیانی کا کتنا گندہ عقیدہ ہے۔ خود خدا کی بیوی بن گیا۔ کیا ایسے (گندے) خیالات رحمانی ہو سکتے ہیں؟
یقیناً مرزا قادیانی کو کشف ہوا ہو گا۔ ضرور مرزا قادیانی عورت بھی بنے ہوں گے۔ مگر اظہار رجولیت غالباً کسی شیطان (لعین) کی طرف سے ہوا ہو اور چونکہ مرزا قادیانی کی
٤٨
برداشت سے بالا تھا تو مرزا قادیانی افراط طبع کی بناء پر سمجھ بیٹھے ایسی طاقت سے اظہار رجولیت کسی انسان سے متصور نہ ہو بھی یہاں ہی سے ہوئی ہو۔
مرزا قادیانی نے ایک مقام پر عین خدا ہونے تک کہہ دیا کہ: ”میں نے زمین آسمان بنائے ۔“ (بہت ک نہ کر سکے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) پر لکھتے عين الله وتيقنت اننى هو ”میں نے نیند میں اپنے آپ کر لیا کہ میں وہ اللہ ہی ہوں۔
پھر (آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٥٦٥) پر آ والارض اولاً بصورة اجمالية لا تفريق فيھ و آسمان اوّلاً اجمالی صورت میں پیدا کئے۔ جس میں کسی قسم کی ت
پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ”ثم خلقت السما الدنيا بمصابيح ثم قلت الان نخلق الانسان آسمان و دنیا پیدا کیا اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو بہ اب ہم انسان کو کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔
اب اس مندرجہ بالا عبارت کو پڑھ کر کون کہہ سکتا توڑنے آئے تھے؟ مرزا قادیانی نے وہ دعویٰ کیا جو بڑے س کسی کافر مدعی الوہیت نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے آسماں ہے۔ یہ جگمگاتے ستارے و سیارے میرا شاہکار ہیں۔ لیکن الکذابین والدجالین ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔
بھلا کوئی صحیح الدماغ انسان مرزا قادیانی کے ا مرزا قادیانی کے ان ہفوات کو مرزا قادیانی کے مرید بھی تسلیم ظن کی بناء پر اپنے مذہب باطل کی روشنی میں اس کی کسی طرح طرح دیگر گول مول الہامات کی مرمت و تشریح کرتے رہتے
بہر حال یہ مرزا قادیانی کا الہام و خواب ضرور
٤٩
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے کو شجاعت دینے لگے، ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف سحر ششم الشکو قوم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) سلام پاکستان) چناب نگر
کی ضرورت تھی۔ ایسے ہی خدا کی طرف سے ت کریں وہ کون سا خدا مراد لے رہے ہیں؟ تا ہے کہ خدا سوتا بھی ہے جاگتا بھی ہے۔ ں پر نہ اونگھ طاری ہوتی ہے نہ نیند۔ ارنے جاندار کو نیند اور اونگھ لاحق ہوتی ہے۔ ہے؟ ظهما “ اس کے لئے زمین و آسمان کی
رہے ہیں۔ کیا یہ عقیدہ عیسائیت سے بدتر ا کروں گا۔ ملاحظہ ہو اشتہار مرزا قادیانی ه) ”انى مع الاسباب اتيك بغتة ع الرسول محیط “ میں اسباب کے ہوں۔ جواب دیتا ہوں۔ خطا کروں گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
گیا ۔ شاید مرزا قادیانی کی لغت میں اس
دیانی کا ایک عجیب الہام نوٹ کرتے رصاحب (اسلامی قربانی ص ٣٤) میں یوں نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے
ہے۔ خود خدا کی بیوی بن گیا۔ کیا ایسے
ا قادیانی عورت بھی بنے ہوں گے۔ سے ہوا ہو اور چونکہ مرزا قادیانی کی
برداشت سے بالا تھا تو مرزا قادیانی افیون کی بناء پر سمجھ بیٹھے کہ ہو نہ ہو یہ خدا ہی ہوگا۔ کیونکہ ایسی طاقت سے اظہار رجولیت کسی انسان سے متصور نہ ہو سکتا تھا۔ غالباً کثرت بول کی ابتداء بھی یہاں ہی سے ہوئی ہو۔ مرزا قادیانی نے ایک مقام پر عین خدا ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ : ”میں نے زمین آسمان بنائے ۔“ (بہت خوب) مگر وائے قسمت پیشاب بند نہ کر سکے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) پر لکھتے ہیں: ”ورأيتني في المنام عين الله وتيقنت اننی ھو “ میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھا، میں نے یقین کر لیا کہ میں وہ اللہ ہی ہوں۔
پھر (آئینہ کمالات اسلام ص ، خزائن ج ٥ ص ٥٦٥) پر لکھتے ہیں : ”فخلقت السمٰوات والارض اوّلاً بصورة اجمالية لا تفريق فيها ولا ترتيب “ پس میں نے زمین و آسمان اوّلاً اجمالی صورت میں پیدا کئے۔ جس میں کسی قسم کی ترتیب وتفریق نہ تھی۔
پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں: ”ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيـا بـمـصابيح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلالة من طين “ پھر میں نے آسمانِ دنیا پیدا کیا اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو سیاروں سے سجایا ہے۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔
اب اس مندرجہ بالا عبارت کو پڑھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی عیسائیت کا زور توڑنے آئے تھے؟ مرزا قادیانی نے وہ دعویٰ کیا جو بڑے سے بڑا کافر بھی نہ کر سکا ہو آج تک۔ کسی کافر مدعی الوہیت نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے آسمان پیدا کیا ہے۔ میں نے آدم کو پیدا کیا ہے۔ یہ جگمگاتے ستارے و سیارے میرا شاہکار ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کر کے خاتم الکذابین والدجالین ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔
بھلا کوئی صحیح الدماغ انسان مرزا قادیانی کے ایسے الہامات کو تسلیم کر سکتا ہے؟ بلکہ مرزا قادیانی کے ان ہفوات کو مرزا قادیانی کے مرید بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تاہم حسنِ ظن کی بناء پر اپنے مذہب باطل کی روشنی میں اس کی کسی طرح مرمت ضرور کرتے ہوں گے۔ جس طرح دیگر گول مول الہامات کی مرمت و تشریح کرتے رہتے ہیں۔ بہر حال یہ مرزا قادیانی کا الہام و خواب ضرور ہے۔ مجھے اس سے انکار نہیں۔ مگر ملہم
٤٩
حق پرورده اور حق گو انسان خوش خو اور خوش گفتار انسان حوالے عطا کر اسلام کے پکی سچی تھی اور یہ حجت ان دار انسان ہونے کے ساتھ ربانی مذہب کا مطالعہ کر کے وہ شجاعت دیتے، لیکن ان قادیانیوں اور مسلمانوں ائم موجود ہے۔ ضرورت ر قادیانیوں کا شر ختم اللہ کرے ں اور ان کا رعب جلال احمدی اس مبلغ اسلام کی آغوش میں (آمین) اسلام پاکستان ) چناب نگر
حق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان کبھی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ یابی مذہب کا مطالعہ کر کے ور جماعت دینے لگے۔ ان میں موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور کاشف کا شر کلھم اشدکفر قادیاں میں اُٹھ کر اس قوم پر کی اسلام کی آغوش میں (آمین) اسلام پاکستان) جہانگیر
٦٤
حضرت مراق صاحب معلوم ہوتے ہیں۔ مراق کی کارستانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔
اگر مراق تسلیم نہ کیا جاوے تو صحیح العقل انسان کا کلام کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
جب کہ مدعی کا دعویٰ ہو کہ عیسائیت پرستی ختم کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ کہہ کر شرک کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مگر خود ابن اللہ سے بڑھ کر خود خدا بن گئے۔ زمین آسمان کی تخلیق کا بیڑا بھی خود ہی اٹھا لیا۔ بلکہ اس کی نوک پلک بھی خود سنوارنے کی ٹھان لی۔ اب بھی مرزا قادیانی کے حواری عیسائیوں کے مقابلہ میں الوہیت مسیح کا انکار کریں تو یہ بے حیائی کی انتہاء ہوگی۔ ہم اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کے مراق کا بھی ثبوت ان کی اپنی زبانی پیش کریں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کذبات
- ١....... "آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ
آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔"
(ازالۃ الاوہام ص ٢٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
مرزا قادیانی نے سفید جھوٹ لکھا ہے کسی حدیث شریف میں یہ نہیں آیا کہ سو برس تک قیامت آجائے گی۔ مرزائیوں کو کوشش کر کے کسی حدیث سے ثابت کرنا چاہئے۔ اگر مرزائی ثابت کردیں تو انعام دیا جائے گا۔ مگر مرزائی قیامت تک یہ عبارت کتب حدیث سے نہیں پیش کر سکتے۔
- ٢....... "اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں
صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیز پنجاب میں ہوگا۔"
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١)
یہ بھی صریح جھوٹ ہے۔ کسی نبی کے کشف میں نہیں کہ چودھویں صدی یا پنجاب میں پیدا ہوگا۔ مرزا قادیانی کے شیطان نے مرزا قادیانی کو غلط اطلاع دی ہے۔ مرزائی حضرات پر لازم ہے کہ اپنے مرزا قادیانی کی صفائی پیش کریں یا کاذب تسلیم کریں۔
- ٣....... "بخاری میں لکھا ہے۔ آسمان سے اس (مسیح موعود خلیفہ) کے لئے آواز آئے گی۔
هذا خليفة الله المهدى
(شہادۃ القرآن ص ٤٠، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
یہ بھی صریح جھوٹ ہے۔ بخاری میں یہ روایت نہیں ہے۔ اگر ہے تو کوئی مرزائی نکال کر بتلاوے۔ اس کو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔
- ٤....... "آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ
٥٠
بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔"
(اشتہار عام مریدوں کے لئے عام ہدایت، مندرجہ ا
بالکل جھوٹ ہے۔ حضور ﷺ کی کسی روایت میں یہ نہیں ہے۔ مرزائیوں سے ثبوت کا مطالبہ ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کو کاذب
- ٥....... "احادیث صحیحہ میں آیا تھا مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا
مجدد ہوگا۔"
(ضمیمہ براہ
یہ بھی جھوٹ ہے۔ کسی حدیث میں چودھویں صدی مرزا قادیانی نے صریح کذب سے کام لیا ہے اور رسول اللہ ﷺ پر افترا
- ٦....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: "تین ہزار یا اس سے زیادہ اس
پیشین گوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں۔ پوری ہوچکی ہیں۔"
(حقیقت الو
یاد رہے حقیقت المہدی کے آخر میں لکھا ہوا ہے ۔ ٢١؍ فر پھر مرزا قادیانی نے لکھا ہے: "پس میں جب اس مدت قریب خدا کی طرف سے پا کر چشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف صاف
(ایک غلط
یاد رہے یہ رسالہ ١٩٠١ء میں لکھا ہے۔ یعنی مرزا قادیا تین ہزار سے زیادہ تھیں۔ دو سال بعد یعنی ١٩٠١ء میں مزید ترقی ہوئی۔ صرف اٹھائیس سو پچاس (٢٨٥٠) کا خسارہ ہوا کوئی زیا
صریح جھوٹ ہے۔ اگر دو سال پہلے تین ہزار تھی تو بعد میں ڈیڑھ سو بس ایک زانی کی طرح جو جی میں آیا اسے فوراً بلا تامل میں تاویل پر کمر بستہ ہوگئے۔ مگر خدا کی شان۔ بعض ایسے جھوٹ ہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزا کی امت "ٹک ٹک دیدم دم نہ
یہ جھوٹ جو نمونہ کے طور پر میں نے مرزا قادیانی کی مرزائی جواب باصواب دے کر مرزا قادیانی کا حق نمک ادا کرد میں بھی ممنون ہوں اور ہم بھی قدرے ممنون ہوں گے۔
٥١
ارستانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ انسان کا کلام کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ نے آیا ہوں۔ کیونکہ عیسائی حضرت مسیح علیہ ہیں۔ مگر خود ابن اللہ سے بڑھ کر خود خدا بن یا۔ بلکہ اس کی نوک پلک بھی خود سنوارنے کی س کے مقابلہ میں الوہیت مسیح کا انکار کریں تو زا قادیانی کے مراق کا بھی ثبوت ان کی اپنی
ت کب آئے گی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ آجائے گی۔"
(ازالہ اوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
حدیث شریف میں یہ نہیں آیا کہ سو برس تک حدیث سے ثابت کرنا چاہئے۔ اگر مرزائی تک یہ عبارت کتب حدیث سے نہیں پیش کر
پر مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
ت میں نہیں کہ چودھویں صدی یا پنجاب میں کو غلط اطلاع دی ہے۔ مرزائی حضرات پر کاذب تسلیم کریں۔ (مسیح موعود خلیفہ) کے لئے آواز آئے گی۔
(شہادۃ القرآن ص ٢٠، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
وایت نہیں ہے۔ اگر ہے تو کوئی مرزائی نکال
ر میں وبا نازل ہو تو شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ
٦٠
بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے ٹھہریں گے۔"
(اشتہار عام مریدوں کے لئے عام ہدایت، مندرجہ اخبار الحکم مورخہ ٢٤ اگست ١٩٠٧ء)
بالکل جھوٹ ہے۔ حضورﷺ کی کسی روایت میں یہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس ہے۔ مرزائیوں سے ثبوت کا مطالبہ ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کو کاذب مانیں۔
- ٥....... "احادیث صحیحہ میں آیا تھا مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا
مجدد ہوگا۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨، خزائن ج٢١ ص ٣٥٩)
یہ بھی جھوٹ ہے۔ کسی حدیث میں چودھویں صدی میں مسیح کا آنا نہیں لکھا۔ مرزا قادیانی نے صریح کذب سے کام لیا ہے اور رسول اللہﷺ پر افتراء باندھا ہے۔
- ٦....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: "تین ہزار یا اس سے زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک
پیشین گوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں۔ پوری ہو چکی ہیں۔"
(حقیقت المہدی ص ٤٦، خزائن ج١٤ ص ٤٣١)
یاد رہے حقیقت المہدی کے آخر میں لکھا ہوا ہے۔ ٢١ فروری ١٨٩٩ء پھر مرزا قادیانی نے لکھا ہے: "پس میں جب اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشین گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف صاف طور پر پوری ہوگئیں۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
یاد رہے یہ رسالہ ١٩٠١ء میں لکھا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں ١٨٩٩ء میں تین ہزار سے زیادہ تھیں۔ دو سال بعد یعنی ١٩٠١ء میں مزید ترقی کر کے ١٥٠ رہ گئیں۔ بہت ترقی ہوئی۔ صرف اٹھائیس سو پچاس (٢٨٥٠) کا خسارہ ہوا۔ کوئی زیادہ نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ صریح جھوٹ ہے۔ اگر دو سال پہلے تین ہزار تھی تو بعد میں ڈیڑھ سو رہ گئی۔
بس ایک ڈفلی کی طرح جو جی میں آیا اسے فوراً بلا تأمل صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا اور بعد میں تاویل پر کمر بستہ ہوگئے۔ مگر خدا کی شان۔ بعض ایسے جھوٹ بھی تھے جن پر کسی طرح تاویل نہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزائی امت "نمک تک دیدم دم نہ کشیدم" کی مصداق ہے۔ یہ جھوٹ جو نمونہ کے طور پر میں نے مرزا قادیانی کی کتاب سے نقل کئے ہیں۔ اگر کوئی مرزائی جواب باصواب دے کر مرزا قادیانی کا حق نمک ادا کر دے تو مرزا قادیانی غالباً اس جہاں میں بھی ممنون ہوں اور ہم بھی قدرے ممنون ہوں گے۔
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کی بھی تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ باقی مذاہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے ۔ ان اتم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور احناف کا بھرم اٹھا تو وم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) نی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) جہانگیر
مرزا قادیانی کا ارشاد گرامی ان کی زبانی
عزت نہیں ہے ذرہ بھی اس کی جناب میں
(نصرۃ الحق ص ١١، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص، خزائن ج ٢١ ص ٢١)
”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ”لعنۃ اللہ علی الکذبین“ امید ہے مرزائی حضرات جھولیاں بھر لیں گے۔ کتابیں تو پہلے ہی بھری ہوئی ہیں۔
مرزا قادیانی کے متضاد اقوال
انسان اپنے دعویٰ کی تردید خود کبھی نہیں کر سکتا۔ خاص کر جو ملہم من اللہ ہو۔ اس کے الہام میں تو تضاد کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر ملہم من الشیطان ہو تو ضرور اس میں تضاد ہوگا۔ کیونکہ اس میں خواہشات نفسانیہ کا دخل ہوتا ہے اور خواہشات مختلف حالات و واقعات میں مختلف ہوتی ہیں۔ لہٰذا اختلاف کلام بھی لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً“ اگر قرآن غیر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سے اختلاف ہوتے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کبھی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کبھی انکار کر دیتے ہیں۔ کبھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کے منکر کو کافر کہتے ہیں اور کبھی ختم نبوت کے منافی نبوت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کرتے ہیں۔ کبھی بد زبانی پر اتر آتے ہیں۔ مندرجہ ذیل عبارات میں غور کرنے سے خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کو اپنے متعلق خود بھی کوئی یقین نہ تھا۔
صرف محدث ہونے کا دعویٰ، نبوت سے انکار
(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠) پر ہے: ”(سوال) رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ (الجواب) نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔“
صرف محدث ہونے سے انکار، نبوت کا دعویٰ
”ان (بروزی وظلی) معنوں کی رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں۔ اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبر پانے والا نبی کا
٥٢
حق پروردہ اور حق گو انسان خوش گوار اور خوش گفتار انسان حوالے سے تھا کہ اسلام کے بھی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ یائی مذہب کا مطالعہ کر کے ود شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف سر چشمہ رشد کو قادیانیوں راحیل احمد کی اس (آمین) بھی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے؟ اگر چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب معنی اظہار غیب ہے۔“
پہلے مرزا قادیانی نے سائل کو جو جواب دیا ا ہونے کا دعویٰ ہے۔ نبی ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔ مگر ایک لکھتے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی صرف محدث نہیں ہیں۔ کیو ہیں۔ بلکہ اظہار غیب نبوت میں ہوتا ہے۔ یعنی میں صرف م
مرزا قادیانی کا نبوت تشریعی سے انکار
”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس بھی۔“
اس کے خلاف تشریعی نبوت کا دعویٰ
”اگر کہو صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا۔ پس ملزم ہوں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
پہلے تو مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا انکار کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔ اب شریعت کی تعریف کر امر اور نہی ہے۔ لہٰذا میں تشریعی نبی ہوں۔ میرے مخالف
تضاد نمبر : ١
”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دجال نہیں ہو سکتا۔“
تضاد نمبر : ٢
”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا نہیں جو
٥٣
نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے؟ اگر کہو کہ اس کا نام (صرف) محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب کے نہیں۔ مگر نبوت کا معنی اظہار غیب ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
پہلے مرزا قادیانی نے سائل کو جو جواب دیا اس میں صاف اقرار کیا کہ مجھے محدث ہونے کا دعویٰ ہے۔ نبی ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔ مگر ایک غلطی کا ازالہ میں بالکل اس کے خلاف لکھتے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی صرف محدث نہیں ہیں۔ کیونکہ تحدیث کے معنی اظہار غیب کے نہیں ہیں۔ بلکہ اظہار غیب نبوت میں ہوتا ہے۔ یعنی میں صرف محدث نہیں ہوں بلکہ نبی ہوں۔
مرزا قادیانی کا نبوت تشریعی سے انکار
”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
اس کے خلاف تشریعی نبوت کا دعویٰ
”اگر کہو صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ کہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعہ ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
پہلے تو مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا انکار کیا کہ میں تشریعی نبی نہیں۔ آپ کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آ سکتا۔ اب شریعت کی تعریف کر کے خود دعویٰ کر دیا کہ چونکہ میری وحی میں امر اور نہی ہے۔ لہٰذا میں تشریعی نبی ہوں۔ میرے مخالف ملزم ہیں۔
تضاد نمبر :١
”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوٰی کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
تضاد نمبر :٢
”مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا نہیں جو ہماری ایمانیات کی جُز یا ہمارے دین کے
٥٣
رکنوں میں ہوا بلکہ صد ہا پیشین گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیشین گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
مندرجہ بالا دونوں حوالوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوسکتا۔ نیز نزول مسیح کا عقیدہ کوئی رکن اسلام نہیں ہے۔ اب اس کے خلاف دیکھیں۔
میرا منکر مسلمان نہیں جہنمی ہے
’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
نیز (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا رسول کی پیشین گوئی موجود ہے۔‘‘
ان مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کو جو نہ مانے وہ مسلمان نہیں۔ جب مسلمان نہیں تو ضرور کافر ہے۔ پھر جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا۔ ظاہر ہے جو خدا رسول کو نہ مانے وہ کافر ہے۔
پہلے مرزا قادیانی کا قول تریاق القلوب سے ہم نقل کر چکے ہیں کہ: ’’میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی شخص دجال کافر نہیں ہو سکتا۔‘‘
پہلی عبارت سے یہ عبارت بالکل متضاد ہے۔ جو مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں مسیح کے نزول والی پیشین گوئی کے متعلق لکھا ہے۔ جو ہم نقل کر آئے ہیں کہ: ’’یہ عقیدہ رکن اسلام میں سے نہیں۔‘‘
پھر لکھتے ہیں کہ: ’’میری نسبت پیشین گوئی موجود ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔‘‘
کیا یہ پہلے سے متضاد نہیں ہے؟
مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا قرآن مجید میں
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے
٥٤
گا۔
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے صاف صـ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی خبر دی گئی آنے پر ہوگا۔ مگر ما بدولت کچھ مدت بعد اس کے خلاف ا
اس کے خلاف
’’قرآن شریف قطعی طور پر اپنی آیات بینات
’’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبار
ازالہ اوہام کی عبارت سے معلوم ہوا کہ قـ حالانکہ پہلے براہین میں اقرار کر چکے ہیں کہ دوبارہ تـ مرزا قادیانی نے ’’ھو الذی ارسل‘‘ کی تفسیر خود خبر دے رہی ہے۔ مگر یہاں ایام صلح میں فرماتے ہیں ذکر نہیں ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے یا تو پہلے جھوٹ صحیح ہے تو دوسری غلط۔ اگر دوسری صحیح ہے تو پہلی کذب لازم آتا ہے۔ ھوالمطلوب!
ختم نبوت کا اقرار
- ١....... ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم
الا تعلم ان رب الرحیم المتفضل سمّی نبیقـ وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان و نبی بعد نبیناﷺ لجوزنا انفتاح باب و کمالا یخفی علی المسلمین‘‘
نہیں ہیں محمدﷺ تمہارے مردوں میں سـ کرنے والے نبیوں کے۔ کیا نہیں جانتا تو کہ رب رحـ خاتم النبیین رکھا ہے۔ بغیر کسی استثناء کے اور اس کی تفسیـ
٥٥
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کی بھی ہمت تھی اور ہر بحث ان دار انسان ہونے کے ساتھ بانی مذہب کا مطالعہ کر کے وہ شجاعت دینے لگے۔ ان قائم موجود ہے۔ ضرورت ر قادیانیوں اور مسلمانوں ہی اور انکشاف کا شرف ملا اللہ کو قدم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) بھی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان ) چناب نگر
گا۔
(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ص ٥٩٣)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے صاف صاف بیان کیا کہ اس آیت میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے اور دین کا غلبہ حضرت مسیح کے دوبارہ آنے پر ہوگا۔ مگر پابدولت کچھ مدت بعد اس کے خلاف اعلان صادر فرماتے ہیں۔
اس کے خلاف
”قرآن شریف قطعی طور پر اپنی آیات بینات میں مسیح کے فوت ہونے کا قائل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
ازالہ اوہام کی عبارت سے معلوم ہوا کہ مسیح مرگئے ہیں۔ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ حالانکہ پہلے براہین میں اقرار کرچکے ہیں کہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ نیز براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے ”ھو الذی ارسل“ کی تفسیر خود کی کہ یہ آیت حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کی خبر دے رہی ہے۔ مگر یہاں ایام الصلح میں فرماتے ہیں کہ: ”قرآن مجید میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر نہیں ہے۔“
ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے یا تو پہلے جھوٹ کہا یا بعد میں جھوٹ کہا۔ اگر پہلی عبارت صحیح ہے تو دوسری غلط۔ اگر دوسری صحیح ہے تو پہلی کذب، بہرصورت مرزا قادیانی کا کاذب ہونا لازم آتا ہے۔ ھوالمطلوب!
ختم نبوت کا اقرار
- ١...... ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
اَلَا تَعْلَمُ اَنَّ رَبَّ الرَّحِيْمَ الْمُتَفَضِّلَ سَمّٰی نَبِيَّنَاﷺ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ اسْتِثْنَاءِ وَفَسَّرَهُ نَبِيُّنَا فِىْ قَوْلِهِ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ بِبَيَانٍ وَّاضِحٍ لِّلطَّالِبِيْنَ وَلَوْ جَوَّزْنَا ظُهُوْرَ نَبِىٍّ بَعْدَ نَبِيِّنَاﷺ لَجَوَّزْنَا اِنْفِتَاحَ بَابِ وَحْىِ النُّبُوَّةِ بَعْدَ تَغْلِيْقِهَا وَهٰذَا خُلْفٌ كَمَا لَا يَخْفٰی عَلَی الْمُسْلِمِيْنَ“
(حمامتہ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
نہیں ہیں محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ لیکن اللہ کے رسول اور ختم کرنے والے نبیوں کے۔ کیا نہیں جانتا تو کہ ربِ رحیم متفضل نے ہمارے نبی علیہ السلام کا نام خاتم النبیین رکھا ہے۔ بغیر کسی استثناء کے اور اس کی تفسیر حضور نے اپنے اس قول ”لا نبــــــی
٥٥
بعدی“ میں واضح بیان کے ساتھ طالبین کے لئے کر دی ہے۔ اب اگر ہم کسی نبی کا ظہور آپ کے بعد جائز قرار دیں تو وحی نبوت کے بند ہونے کے بعد وحی نبوت کا دروازہ کھولنا جائز قرار دیں گے اور یہ بالکل خلاف اصل ہے۔ جس طرح تمام مسلمانوں پر مخفی نہیں ہے۔
- ٢....... ”چونکہ ہمارے سید و رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی
نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)
- ٣....... ”اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب
کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
مرزا قادیانی کی پہلی عبارت حمامۃ البشریٰ سے جو ہم نے نقل کی ہے۔ اس میں مرزا قادیانی نے جو آیت کریمہ لکھ کر ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی حدیث ”لا نبی بعدی“ سے تصریح نقل کر کے واضح طور پر لکھا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اسی طرح عبارت نمبر ٢ شہادۃ القرآن سے جو نقل کی گئی ہے۔ اس میں صاف صاف آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کی نفی کی گئی ہے۔ اسی طرح نمبر ٣ میں بھی مرزا قادیانی نے اعتراف کیا کہ کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا۔
اب آئندہ جو ہم لکھیں گے وہ بھی مرزا قادیانی کی کتاب سے نقل کریں گے۔ غور سے پہلی اور آئندہ عبارت کا موازنہ کیجئے۔ پھر آپ پر مرزا قادیانی کی نبوت کی حقیقت کھل جائے گی۔
ختم نبوت کے خلاف
- ١....... ”خدا کا یہ قول ’ولکن رسول الله وخاتم النبيين‘ اس آیت کے یہ معنی ہیں
کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنی تھے جن کو الٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا۔ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کر دے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٤٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨)
- ٢....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار البدر مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
آپ غور کریں کہ مرزا قادیانی کی پہلی عبارتوں میں اور مندرجہ بالا عبارتوں میں کس
٥٦
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوشگوار اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ باقی نہ رہے گا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان نام موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اللہ کا شکر ہم اللہ کو تمام قادیانیوں کی اس (آمین) بھی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
کے ساتھ طالبین کے لئے کر دی ہے۔ اب اگر ہم کسی نبی کا ظہور آپ ت کے بند ہونے کے بعد وحی نبوت کا دروازہ کھولنا جائز قرار دیں ہے۔ جس طرح تمام مسلمانوں پر مخفی نہیں ہے۔ کہ رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی ت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔
(شہادۃ القرآن ص ٢٨، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)
ام ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا۔
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
ں عبارت حمامۃ البشریٰ سے جو ہم نے نقل کی ہے۔ اس میں لکھ کر ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی حدیث ”لا نبی بعدی“ سے ہا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ نمبر ٣ شہادۃ القرآن سے جو نقل کی گئی ہے۔ اس میں صاف صاف نفی کی گئی ہے۔ اسی طرح نمبر ٣ میں بھی مرزا قادیانی نے اعتراف کیا۔ یں گے وہ بھی مرزا قادیانی کی کتاب سے نقل کریں گے۔ غور سے کیجئے۔ پھر آپ پر مرزا قادیانی کی نبوت کی حقیقت کھل جائے گی۔
کن رسول اللہ وخاتم النبیین “ اس آیت کے یہ معنی ہیں لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی یں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنی تھے جن کو الٹا کر نبوت کے ا کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے
(چشمہ مسیحی ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨)
ہم نبی اور رسول ہیں۔
(اخبار البدر مورخہ ٥ / مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
رزا قادیانی کی پہلی عبارتوں میں اور مندرجہ بالا عبارتوں میں کس ٥٦
٧١ قدر بعد ہے۔ پہلے نمبر ١ میں تو صاف صاف کہہ دیا کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور ”لا نبی بعدی“ کہہ کر حضور ﷺ نے آیت کی تفسیر یوں کر دی کہ میرے بعد کوئی نیا یا پرانا، ظلی یا بروزی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو اعتراف ہے کہ بلا استثناء حضور ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ کہا ہے۔ نمبر ٢ میں بھی مرزا قادیانی نے اقرار کیا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے کہ شریعت میں محدث نبی کے قائم مقام رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح نمبر ٣ میں بھی کسی اور نبی کے آنے کا انکار ہے۔
ایسے آدمی کا کلام کوئی عقلمند کس طرح کسی ملہم کا کلام تسلیم کرلے۔ بلکہ یہ ایک ایسے ہی آدمی کا کلام ہو سکتا ہے۔ جس کا دل و دماغ ماؤف ہو چکا ہو اور بغیر سوچے سمجھے جو زبان پر آیا کاغذ پر نقش کر دیا۔
یا پھر بعض مریدوں کی اطاعت شعاری سے متاثر ہو کر خیال آیا ہو کہ کیوں نہ ایسی الو جماعت کی حماقت سے فائدہ اٹھا کر نبوت کا دعویٰ کر دیں۔ کچھ آمدن بڑھ جائے گی۔ یا بقول مرزا قادیانی فتوحات مالیہ میں اضافہ ہو جائے گا۔
بے شک مرزا قادیانی اپنے بعض مقاصد میں کامیاب رہے۔ مگر آخر محمدی بیگم والے قصے اور ہیضہ کی موت نے ساری کوشش پر پانی پھیر دیا۔ تاہم مرزا قادیانی کو اس کی پرواہ نہیں۔ کیونکہ اب معاملہ دوسرے جہاں میں سپرد خدا ہو چکا ہے۔ دنیا والوں کی باتوں سے وہ بے فکر ہیں۔ مگر مرزائیوں کو اس دلدل میں پھنسا گئے اور خود آخرت کی دلدل ہاویہ میں پھنس گئے۔
مرزا قادیانی کے اخلاق
یوں تو مرزا قادیانی کا ہر کام نرالا ہے۔ ان کا حج بھی نرالا۔ ان کی شادی بھی نرالی۔ کھانا پینا بھی نرالا۔ مگر جس قدر آپ کا اخلاق نرالا ہے۔ شاید کسی ادنیٰ درجہ کے مسلمان میں بھی اس کا شائبہ تک نہ ہو۔ بلکہ غیر مسلموں میں بھی اس کی مثال شاید ہی ہو۔
مرزا قادیانی نہایت ہی گندہ دہن تھے۔ جب کسی نئے مخالف ہو جاتے تو ماشاء اللہ تہذیب کے تمام بندھن توڑ ڈالتے۔ ایسی ایسی فحش گالیاں زبان ترجمان الہام سے صادر ہوتیں کہ توبہ ہی بھلی۔ اب آپ مرزا قادیانی کی چند گوہر افشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ پھر اگر جی چاہے تو نبی بھی مان لیں۔
ہر صاحب فہم جانتا ہے کہ حرامی اسے کہا جاتا ہے۔ جو شخص میاں بیوی کے ملاپ سے نہ پیدا ہو بلکہ بغیر نکاح مرد عورت کے ملاپ سے پیدا ہو۔ مگر مرزا قادیانی جمیع خلق جو ان کی بیہودہ ٥٧
تی پروردگار اور حق کو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی بحث تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ پنی مذہب کا مطالعہ کر کے ی شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو قام شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان، جہانگیر
دعوت کو تسلیم نہ کرے۔ ان کو حرامی کہتے ہیں۔
- ......١ "كل مسلم يقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨ خزائن ج ١٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
تمام مسلمان مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔
- ......٢ مولوی سعد اللہ صاحب کے متعلق گوہر افشانی:
اذلم تمت بالخزى يا ابن بغائى
ترجمہ از مرزا قادیانی: بخباثت خود ایذا دادی پس من صادق نیستم۔ اگر تو اے نسل بدکاراں بذلت نہ میری۔
(انجام آتھم ص ٢٨٢ خزائن ج ١١ ص ٢٨٢)
اردو ترجمہ: اے (سعد اللہ ) تو نے مجھے اپنی خباثت سے ایذا دی۔ پس میں صادق نہیں ہوں۔ اگر تو ذلت سے نہ مرے اے کنجری کے بیٹے ۔
- ......٣ "سعد اللہ حرامزادہ ہے۔"
(اخبار الفضل مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٣٣ء)
مرزائی کہہ دیتے ہیں: ”ذريۃ البغايا“ کا معنی حرامی کنجریوں کی اولاد نہیں ہے۔ حالانکہ لغت کی کتاب سے اس کا یہی معنی ثابت ہے۔ نیز مرزا قادیانی نے اس کا معنی خود نسل بدکاراں کیا ہے۔ بلکہ اگلی عبارت ملاحظہ ہو۔ اس میں اردو میں بھی مرزائی ترجمہ کی رو سے بھی ذريۃ البغایا کا معنی خراب عورتوں کی اولاد لکھا ہے۔
- ......٤ "واعلم ان كل من هو من ولد الحلال وليس من ذرية البغايا ونسل
الدجال فيفعل امرا من الامرين اما كف اللسان بعد وترك الافتراء والمين واما تاليف الرسالة كرسالتنا"
ترجمہ از مرزا قادیانی: جاننا چاہئے ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے۔ وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی اور افتراء سے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ پیش کرے گا۔
(نور الحق ج ١ ص ١٢٣ خزائن ج ٨ ص ١٦٣)
- ......٥ "اگر عبداللہ آتھم قسم نہ کھائے یا قسم کی سزا میعاد کے اندر دیکھ لے تو ہم سچے اور ہمارے
الہام سچے۔ پھر بھی اگر کوئی شخص ہماری تکذیب کرے اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو تو بے
٥٨
٧٣
شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہوگا۔“
- ......٦ "اب جو شخص...... زبان درازی سے باز
صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے"
مندرجہ بالا عبارتوں میں واضح ہو گیا کہ انسانوں سے سبقت لے گئے ہیں۔ دوسرے کو (جو کریں ) ولد الحرام، بدذات، خبیث تک کہتے ہیں۔ کوئی ملہم اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا۔ لطف یہ کرتے ہیں جو دوسروں کے بارے میں زبان درازی درازیوں کا حق صرف اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں
سب پہ سبقت لے گئی بے
اب ایک اور گوہر افشانی مرزا قادیانی کی متصل ہے۔ بلکہ خود اپنی تحریر ہے۔ جملہ مخالفین کے الفاظ مرزا قادیانی کے بارے میں استعمال کئے جا مرزا قادیانی کے الفاظ مبارک غور سے
البغا ونساء هم من دونهن اكلب "میر کتیوں سے بدتر ہیں۔
یہ ہے مرزا قادیانی کی گوہر افشانی ۔ لظ میں مرزا قادیانی کی یہ حدیث پڑھ کر سنائی گئی کہ طرح اس سے قبل جو عبارتیں نقل کی ہیں۔ ان میں بچ گئی کہ فیروز خان ہمارے مرزا قادیانی کی توہین پلندا بنا کر تدلیس سے کام لیتے ہوئے حکام بالا تک پٹائی ہوگئی ۔ مولوی فیروز خان کی زبان بندی ہوئی راقم کی دو ماہ کی زبان بندی ہو گئی اور یہ سطریں میں جو الفاظ میں نے مرزا قادیانی کے دہ
٥٩
یۃ البغایا“
٥٣٨، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر کنجریوں
صادق بغائی من صادق نیستم۔ اگر تو اے نسل
انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)
ت سے ایذا دی۔ پس میں صادق
اخبار الفضل مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٣٣ء)
ں حرامی کنجریوں کی اولاد نہیں ہے۔ رزا قادیانی نے اس کا معنی خود نسل س بھی مرزائی ترجمہ کی رو سے بھی
یس من ذرية البغايا ونسل ے بعد وترك الافتراء والمين
لد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور ت ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس صینار سالہ پیش کرے گا۔
نور الحق ج ١ ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٤)
عاند دیکھ لے تو ہم سچے اور ہمارے اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو تو بے
شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہوگا۔“
(انوارالاسلام ص ٢٩، خزائن ج ٩ ص ٣١)
٦...... ”اب جو شخص ..... زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ہے۔“
(انوارالاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
مندرجہ بالا عبارتوں میں واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی گندہ دہنی میں تمام گندہ دہن انسانوں سے سبقت لے گئے ہیں۔ دوسرے کو (جو ان کے دعوے اور الہامات کاذبہ کو تسلیم نہ کریں) ولد الحرام، بدذات، خبیث تک کہتے ہیں۔ کنجریوں کی اولاد وغیرہ۔ ایسے الفاظ ہیں جو کوئی ملہم اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا۔ لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو دوسروں کے بارے میں زبان درازی سے کام لیں۔ لیکن تمام بدزبانوں اور زبان درازیوں کا حق صرف اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی نے کیا موافق حال شعر کہا ہے؎
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
اب ایک اور گوہر افشانی مرزا قادیانی کی زبانی سنیں اور یہ حدیث مرزا قادیانی کی بسند متصل ہے۔ بلکہ خود اپنی تحریر ہے۔ جملہ مخالفین کے حق میں یہ گوہر افشانی قابل داد ہے۔ اگر یہی الفاظ مرزا قادیانی کے بارے میں استعمال کئے جائیں تو مرزا قادیانی تلملا اٹھتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے الفاظ مبارک غور سے پڑھیں: ”ان العدا صاروا خنازير الفلا ونسلهم من دونهن اكلب“ ”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
یہ ہے مرزا قادیانی کی گوہر افشانی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ راقم نے ایک دفعہ اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کی یہ حدیث پڑھ کر سنائی تھی کہ مرزا قادیانی یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں۔ اسی طرح اس سے قبل جو عبارتیں نقل کی ہیں۔ ان میں سے بعض پڑھ کر سنائیں تو مرزائیوں میں کھلبلی مچ گئی کہ فیروز خان ہمارے مرزا قادیانی کی توہین کرتا ہے۔ ان کو گالیاں دیتا ہے۔ لہٰذا جھوٹوں کا پلندا بنا کر تلبیس سے کام لیتے ہوئے حکام بالا تک جا پہنچے۔ رونے دھونے لگے کہ مرزا قادیانی کی پٹائی ہو گئی۔ مولوی فیروز خان کی زبان بندی ہونی چاہئے۔ بے چاروں کی یہ کوشش بار آور ہوئی تو راقم کی دوماہ کی زبان بندی ہو گئی اور یہ سطریں میعاد زبان بندی ہی میں لکھ رہا ہوں۔
جو الفاظ میں نے مرزا قادیانی کے دہرائے وہ اس قدر (مرزائیوں کے نزدیک) قابل
٥٩
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور پُر محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف شر کتم اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) تی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش رفتار انسان کبھی بحث تھی اور یہ بحث ان ارا انسان ہونے کے ساتھ قادیانی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ام موجود ہے۔ ضرورت ر قادیانیوں اور مسلمانوں ا اور انکشاف کا ثمر ہے ہم شکر دوم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) غی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
٧٤ مفتخر تھے کہ زبان بندی ضرور ہو گئی۔ مگر افسوس اس نبی پر جس کا یہ کلام ہے۔ جس کی زبان سے نکلا۔ جس نے کتابوں میں درج کیا۔ کیا اس کے گندے متعفن کلام کے خلاف ہم اتنا بھی کہہ دیں کہ جناب ملہم کی زبان سے ایسے الفاظ ان کے ملہم کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یعنی جناب ملہم کی زبان سے ایسے الفاظ ان کے ملہم کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یعنی جناب شیطان ہی ایسے الہام سے نواز سکتا ہے تو یہ مرزائیوں کو ناگوار گزرے۔ مرزا قادیانی کی گالیاں کہاں تک لکھیں۔ چند مثالیں اور پیش کر کے اس بات کو ختم کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی مولوی عبدالحق صاحب غزنوی اور ان کی جماعت سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: ”نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں لیتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
اگر ہم اس کے جواب میں عرض کریں کہ مرزائی فرقہ کیوں شرم وحیا سے کام نہیں لیتا۔ ایسے دجال وکذاب کو نبی مانتا ہے۔ جس کی ایک پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ بڑھاپے میں محمدی بیگم کے نکاح کی حسرت لئے بعارضہ ہیضہ وبائی لاہور میں آنجہانی ہو گیا تو شاید مرزائیوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ طرز تحریر اور گفتگو تمہارے مسیح موعود کا سکھلایا ہوا ہے۔ بلکہ ایسی عبارتیں پڑھ کر فخریہ کہا کریں کہ یہ بھی حضرت کا نشان ہے کہ لوگ وہ طریق اختیار کر رہے ہیں۔ جو حضرت کا تھا۔
عام علماء کے متعلق گالیاں
”اے بدذات فرقہ مولویاں“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔ اے مردار خور مولویو اور گندی روحو۔“
(ضمیمہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
یہ ہے مرزا قادیانی کی تہذیب جو ان کی کتابوں سے قارئین کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ یہ نمونہ کے طور پر چند بد زبانیوں کی مثالیں پیش کی ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات کو اپنی گندی بد بودار گالیوں سے اس قدر بھر رکھا ہے کہ ان سے اچھا خاصا طومار بن سکتا ہے۔
مرزا قادیانی کا مراق وسلسل بول
مرزا قادیانی کے جس قدر دعاوی ہیں یا جس قدر بھی تقریریں اور کتابیں ہیں تضاد کا شکار ہیں۔ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا حافظہ نہایت کمزور تھا۔ نیز مراق بھی شامل
٦٠
حال تھا۔ جب کہ شدت مراق میں کمی واقع ہو جاتی ایک آدھ ب زبان سے نکل جاتی تھی۔ مگر جونہی مراق کا دورہ شروع ہو جاتا ت چیز کی خبر نہ لاتے ۔
نیز زبان ترجمان الہام سے گالیوں کی بارش برستی ر نہیں۔ علماء ہوں یا عوام، مسلمان ہوں یا عیسائی، آریہ ہوں یا ہ سے بچتا۔ البتہ خوف کے وقت مراق بھاگ جاتا ہے۔ اپنی م برطانیہ کے متعلق کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکلی۔ مرزا قادیا تھے۔ اس لئے فوراً غضبناک ہو جاتے تھے۔ یہ بھی مراق ہی کا ا کہ: ”مراقی میں اعتدال نہیں ہوتا۔ اگر طبیب یا عالم دینی حیثی نبوت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔“
ہم مرزا قادیانی کی زبان سے ثابت کریں گے کہ مرزا بلکہ خلیفہ ثانی اور مرزا قادیانی کی اہلیہ بھی مراق کے حلقہ بگوش تھے۔
مراق کی تعریف وعلامات
مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض ہے۔ پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے۔ اس س طرف چڑھتے ہیں۔
علامات مراق: اس کی علامات یہ ہیں:
- ١...... ترش و خامی ڈکاریں آنا۔
- ٢...... ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا۔
- ٣...... ہاضمہ خراب ہو جانا۔
- ٤...... پیٹ پھولنا۔
- ٥...... پاخانہ پتلا ہونا۔
- ٦...... دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔ (ت
رأس مالیخولیا)
خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات ظہ سے ہوتا ہے۔ جو کہ جگر ومعدے میں ہوتی ہے۔ مگر تحقیقات جدید
٦١
حال تھا۔ جب کہ شدت مراق میں کمی واقع ہو جاتی ایک آدھ معقول بات بھی مرزا قادیانی کی زبان سے نکل جاتی تھی۔ مگر جونہی مراق کا دورہ شروع ہو جاتا تو پھر مابدولت عرش سے کم کسی چیز کی خبر نہ لاتے۔
نیز زبان ترجمان الہام سے گالیوں کی بارش برسنی شروع ہو جاتی۔ کوئی طبقہ ایسا نہیں۔ علماء ہوں یا عوام، مسلمان ہوں یا عیسائی، آریہ ہوں یا ہندو جو مرزا قادیانی کی گالیاں سے بچتا۔ البتہ خوف کے وقت مراق بھاگ جاتا ہے۔ اپنی محسن ممدوحہ وملجا گورنمنٹ یا ملکہ برطانیہ کے متعلق کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکلی۔ مرزا قادیانی نہایت درجہ وہمی واقع ہوئے تھے۔ اس لئے فوراً غضبناک ہو جاتے تھے۔ یہ بھی مراق ہی کا اثر تھا۔ کیونکہ علماء طب لکھتے ہیں کہ: ”مراقی میں اعتدال نہیں ہوتا۔ اگر طبیب یا عالم دینی حیثیت کا مالک ہو اور ہو مراقی تو فوراً نبوت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔“
ہم مرزا قادیانی کی زبان سے ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی مراق کے مریض تھے۔ بلکہ خلیفہ ثانی اور مرزا قادیانی کی اہلیہ بھی مراق کے حلقہ بگوش تھے۔
مراق کی تعریف وعلامات
مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے۔ پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے۔ اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔
علامات مراق: اس کی علامات یہ ہیں:
- ......١ ترش دخانی ڈکاریں آنا۔
- ......٢ ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا۔
- ......٣ ہاضمہ خراب ہو جانا۔
- ......٤ پیٹ پھولنا۔
- ......٥ پاخانہ پتلا ہونا۔
- ......٦ دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔ (شرح اسباب والعلامات امراض
رأس مالیخولیا)
خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات ظہور فتور قوت حیوانی یا روح حیوانی سے ہوتا ہے۔ جو کہ جگر ومعدے میں ہوتی ہے۔ مگر تحقیقات جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرض عصبی
٦١
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش رفتار انسان چی محبت تھی اور یہ محبت ان دارا انسان ہونے کے ساتھ باطل مذہب کا مطالعہ کر کے ود شجاعت دینے لگے ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں ب اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
ہے اور جیسا کہ عورت میں رحم کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اعضاء اندرونی کے فتور سے ضعف دماغ ہو کر مردوں میں مراق ہو جاتا ہے۔
علامات : مریض ہمیشہ سست و متفکر رہتا ہے۔ اس میں خودی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں مبالغہ کرتا ہے۔ ..... بھوک نہیں لگتی۔ کھانا ٹھیک طور پر نہیں ہضم ہوتا۔ (مخزن
حکمت ڈاکٹر غلام جیلانی)
شیخ الرئیس حکیم بو علی سینا کی نظر میں مالیخولیا اور مراق ایک ہے
مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات و افکار متغیر بخوف و فساد ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب مزاج کا سوداوی ہو جانا ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض حرارت جگر کی شدت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہی چیز مراق ہوتی ہے۔ جب اس میں غذا کے فضلات اور آنتوں کے بخارات جمع ہو جاتے ہیں اس کے اخلاط جل کر سودا کی صورت میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ان اعضاء سے سیاہ بخارات اٹھ کر سر کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی کو شعبہ مراقیہ مالیخولیا نافخ اور مالیخولیا مراقیہ کہتے ہیں۔ (ترجمہ از قانون شیخ الرئیس بو علی سینا فن اول از کتاب ثالث)
علاج : عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں۔ مثلاً مچھلی، پرندوں کا زود ہضم گوشت اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور پرانی نہ ہو اور عمدہ عمدہ خوشبو میں جیسے مشک، عنبر، نافہ اور عود استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لئے مقوی جوارشات کا استعمال کرائیں۔
(بحوالہ مذکور قانون شیخ)
مالیخولیا کی کارستانی
مالیخولیا ، خیالات و افکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف و فساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔...... بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے۔ ..... اور بعض کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔
(شرح اسباب و علامات امراض راس مالیخولیا)
مریض کے اکثر اوہام اس کام کے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو ..... مثلاً مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
(اکسیر اعظم ج ١ ص ١٨٨)
مندرجہ بالا تصریحات سے یہ تو معلوم ہوا کہ مراق کیا ہوتا ہے؟ مراق کی علامات کیا
٦٢
ہیں؟ مراق کا اثر مریض کے اقوال وافعال و خیالات پر کیا پ حواریوں بلکہ مرزا قادیانی کی زبانی لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی مر مرزا قادیانی میں پائی جاتی تھیں۔ وہ بالکل مندرجہ بالا علامات وہی ہیں اور مرزا قادیانی چونکہ حکیم بھی تھے اس لئے علاج بھی بتلایا ہے۔ مثلاً مشک عنبر، دیگر مقویات ممکن ہے ٹانک وائن بھی ا
- ١......
”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب ا پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک او کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“
(رسالہ تحفۃ الاذہان ماہ جون ١٩٠٤ء و اخبار بد
غالباً مرزا قادیانی یہاں بھول گئے ہیں۔ ایک چ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ سر سے پانی ٹپک رہا ہوگ کثرت بول لیا ہو۔ کیسی اچھی تاویل کی۔ مرزا قادیانی اس پ
(مؤلف)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے واضح طور پر اعترا
- ٢......
”ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کی سے سنا کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرم ہے کہ آپ میں دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت ا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھب کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آد پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک!“ (سیرۃ
مرزا قادیانی کے فرزند کی تصنیف کردہ کتاب سے مراق اور ہسٹریا کا اقرار مرزا قادیانی کی زبانی نقل کر دی کہ علامات ہسٹریا ومراق تھی۔ یعنی علامات تھی۔ مگر مراق حالانکہ ایک ہزار کتاب طب ان کی نظر سے بقول ان کے گز
٦٣
ہیں؟ مراق کا اثر مریض کے اقوال وافعال وخیالات پر کیا پڑتا ہے؟ اب ہم مرزا قادیانی کے حواریوں بلکہ مرزا قادیانی کی زبانی لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی مرض مراق میں مبتلا تھے اور جو علامات مرزا قادیانی میں پائی جاتی تھیں۔ وہ بالکل مندرجہ بالا علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ بلکہ ٹھیک ٹھیک وہی ہیں اور مرزا قادیانی چونکہ حکیم بھی تھے اس لئے علاج بھی وہی کرتے تھے۔ جو بوعلی سینا نے بتلایا ہے۔ مثلاً مشک عنبر، دیگر مقویات ممکن ہے ٹانک وائن بھی۔
- ......١ "دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ جو اس طرح
وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔"
(رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء و اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٣ مورخہ ٧/ جون ١٩٠٦ء)
غالباً مرزا قادیانی یہاں بھول گئے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ غالباً اسی کا معنی مرزا قادیانی نے کثرت بول لیا ہو۔ کیسی اچھی تاویل کی۔ مرزا قادیانی اس پر جتنا بھی فخر کریں تو پھر بھی کم ہے۔
(مؤلف)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے۔ مجھے مراق کی بیماری ہے۔
- ......٢ "ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود
سے سنا کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ میں دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے ایک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا۔ ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک!"
(سیرۃ المہدی ص ٥٥ حصہ دوئم، بروایت نمبر ٣٦٩)
مرزا قادیانی کے فرزند کی تصنیف کردہ کتاب میں خود بھی انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے مراق اور ہسٹریا کا اقرار مرزا قادیانی کی زبانی نقل کر دیا۔ مگر کوئی تاویل نہ کر سکے۔ بجز اس کے کہ علامات ہسٹریا ومراق تھی۔ یعنی علامات تھی۔ مگر مراق نہ تھا کیا مرزا قادیانی نے جھوٹ کہا؟ حالانکہ ایک ہزار کتاب طب ان کی نظر سے بقول ان کے گزری تھی اور خاندانی حکیم تھے۔
٦٣
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے ویق و دعوت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں ی اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان ) جھنگ نگر
مرزائی کہتے ہیں: ”ہسٹریا تو عورتوں کو ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا دوسرا نام اختناق الرحم ہے۔“ اس کا جواب تو مرزائیوں کو دینا چاہئے کیونکہ مرزا قادیانی اقراری ہیں۔ ہم کیا کریں۔ لیکن جواب چنداں مشکل بھی نہیں۔
- ١...... الزامی جواب۔ مرزا قادیانی جب ١٠ ماہ تک حمل کی حالت میں حاملہ بنے رہے تو پھر
واضح ہو گیا کہ رحم شریف بھی کہیں ہوگا۔ شاید بعد میں اپریشن کروا لیا ہو کیونکہ بچہ حاملہ کے رحم میں ہوتا ہے۔ مرد حامل نہیں ہو سکتا۔
- ٢...... کیونکہ لازم تھا کہ ابن مریم بننے کے لئے کچھ عرصہ ام مسیح بنتے۔ ظاہر ہے کہ ام مسیح
عورت ہی تو ہوگی نہ کہ مرد، ورنہ اب مسیح ہونا لازم آئے گا۔ معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا۔ (اشارہ کافی)
- ٣...... یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی میں نشان کے طور پر رحم فٹ کر دیا گیا ہو۔ یہاں تک تو
الزامی جواب تھا۔ تحقیقی جواب اگر چہ ہمارے ذمہ نہیں۔ یہ تو مرزائیوں کے ذمہ تھا۔ اپنے مجدد کے لئے ربط اقوال کی تشریح بے صواب کرتے تاہم تحقیقی جواب پہلے ہم مخزن حکمت سے نقل کر آئے ہیں کہ بعض اندرونی اعضاء میں فتور سے مردوں کو بھی یہ بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔
اب قادیانیوں کے خلیفہ ثانی کی زبانی سنیں۔
”ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٨٤، مورخہ ٣٠/اپریل ١٩٢٣ء)
مرزا قادیانی کی عصبی کمزوری
”حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوراں سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال (یعنی دست) کثرت پیشاب وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“ (رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء)
بے شک عصبی کمزوری ہی کی بناء پر مرزا قادیانی کو مراق لاحق ہو گیا تھا اور نبوت بھی اس عصبی کمزوری و مراق نامراد کا کرشمہ تھا۔ کیونکہ مراق کی خصوصیت ہے۔ ایک صاحب علم مراق میں مبتلا ہو کر نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے۔ ورنہ طب کا اصول ہی باطل ہو جاتا ہے۔ چونکہ طب کی بنیاد تجربہ ہے۔ تجربہ کو جھٹلانا محال ہے۔ھو المراد!
٦٤
اب ایک مرزائی ڈاکٹر کا فتویٰ مراقی کے متعلق
متعلق اگر یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخو تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(مندرجہ رسالہ ر
ڈاکٹر صاحب نے خوب کہا۔ واقعی مرزا قاد عمارت اکھاڑ دی۔ بلکہ کثرت بول کی طوفانی لہروں نے
مرزا قادیانی کے نیچے کے دھڑ کی کارستانی
”دوسری بیماری بدن کے نچلے حصہ میں ہے کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب نوبت پہنچتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ دن رات ضعف بہت ہو جاتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین
واقعی مرزا قادیانی کی حالت قابل رحم ہے تواضع نہ کرے تو کیا کرے۔ جواب صحیح سوچنے کی فرصت کر جواب دیتے۔ دماغ کو مراق نامراد نے تباہ کر دیا سہاگہ کا کام کیا۔
آخر اس کی بھی تصریح ہونی چاہئے کہ یہ برکات شروع ہوئے۔ لیجئے! اس کی ابتداء بھی مرزا قادیانی نے خو
”اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس ہونے کا شائع کیا۔“
بہت خوب ملہم من اللہ ہوتے ہی انعام ملا محفوظ۔ کیا کہنے مرزا قادیانی کے الہام کی برکات کے۔
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ا
ایک دائم المرض آدمی ہوں....... ہمیشہ دردسر اور دوران گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ میرے شا
٦٥
اب ایک مرزائی ڈاکٹر کا فتویٰ مراق کے متعلق ملاحظہ فرمائیں: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
ڈاکٹر صاحب نے خوب کہا۔ واقعی مرزا قادیانی کے مراق نے ان کی صداقت کی عمارت اکھاڑ دی۔ بلکہ کثرت بول کی طوفانی لہروں نے باقی ماندہ آثار بھی مٹا کر برابر کر دیئے۔
مرزا قادیانی کے نیچے کے دھڑ کی کارستانی
”دوسری بیماری بدن کے نچلے حصہ میں ہے جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے۔ جس کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب کثرت سے آتا ہے اور پندرہ یا بیس دفعہ نوبت پہنچتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ دن رات میں پیشاب آتا ہے اور اس سے بھی ضعف بہت ہو جاتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٣)
واقعی مرزا قادیانی کی حالت قابل رحم ہے۔ آخر بے چارہ مخالفین کی گالیوں سے تواضع نہ کرے تو کیا کرے۔ جواب صحیح سوچنے کی فرصت کب ملتی تھی کہ کچھ دماغ سے کام لے کر جواب دیتے۔ دماغ کو مراق نامراد نے تباہ کر دیا۔ اور اس پر کثرت پیشاب نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔
آخر اس کی بھی تصریح ہونی چاہئے کہ یہ برکات مراق و ذیابیطس کب سے نازل ہونے شروع ہوئے۔ لیجئے! اس کی ابتداء بھی مرزا قادیانی نے خود ہی رقم فرما دی ہے۔
”اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)
بہت خوب ملہم من اللہ ہوتے ہی انعام ملا۔ بہت اچھا انعام ملا۔ نہ سر محفوظ نہ دھڑ محفوظ۔ کیا کہنے مرزا قادیانی کے الہام کی برکات کے۔
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠،٤٧١) پر مرزا قادیانی رقم طراز ہیں: ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت سے پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
٦٥
مرزا قادیانی نے کیا ہی درست فرمایا کہ عوارض مراق و پیشاب شامل حال ہیں۔ لوگ تو بزرگوں کے متعلق بلکہ عام مؤمنین کے متعلق یہ خیال بلکہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے شامل حال پیشاب و مراق آیا۔
کسی شاعر نے کہا ہے ؎
ادنی باوفر حظها قسامها
یعنی جب کہ ازل میں کسی قوم میں امانت کی تقسیم کی گئی تو قسام ازل نے ہماری قوم کو امانت کا وافر حصہ عطاء کیا۔ میں اہل علم سے معذرت چاہتے ہوئے مرزا قادیانی کے بارے میں یوں کہہ دوں تو معاف رکھنا ؎
اوفے باوفر حظها قسامها
جب کسی مفتری کو عوارضات تقسیم کئے گئے تو ازل میں قسام ازل نے مرزا قادیانی کو وافر حصہ عطاء کیا۔
حافظہ نہ باشد
مرزا قادیانی کو ماشاء اللہ خرابی حافظہ سے بھی وافر حصہ ملا تھا۔ جیسا کہ خود تحریر فرماتے ہیں: ”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٤ ص ٢١)
مرزا قادیانی نے کیا پتے کی بات کی کہ: ”بیان نہیں کر سکتا۔“ کس طرح بیان کریں۔ ”اگر گویم زباں سوزد“ اگر یہ خرابی نہ ہوتی تو دوسرا الہام پہلے کے خلاف کبھی نہ گھڑتے۔ چونکہ دروغ گورا حافظہ نباشد کے مصداق پہلا الہام شائع تو کر دیتے۔ مگر یاد نہ رہتا کیا الہام شائع کیا تھا۔
کتاب دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ جس طرح معلوم ہو چکا ہے۔ ہر وقت لوٹا ہاتھ میں ہوتا پھر ڈھیلے بھی ساتھ۔ لہٰذا جب دوسرا الہام شائع ہوتا تو پہلے کے خلاف ہوتا۔ اس کی تاویل پر تاویل ہوتی۔ پھر ظاہر ہے مرزا قادیانی کو بڑا قلق ہوتا ہوگا۔ اب اسے کس طرح بیان کریں۔ کیونکہ اعتراف کذب نہایت ہی کٹھن معاملہ ہے۔ زباں سوزد والا معاملہ ہے۔
٦٦
مرزا قادیانی کی اہلیہ کو بھی مراق تھا۔ ”میر میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردے کا پورا اور پھر واپس آ جاتے ہیں۔“
(مرزا قادیانی کا بیان عدالت مندرجہ اخبار الحکم م
میاں محمود احمد خلیفہ ثانی کو مراق
”جس پر خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب ہوتا ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز قادیا
چونکہ علم طب کی رو سے یہ مرض موروثی بھ احمد سے ورثہ میں ملا اور مرزا قادیانی کی اہلیہ صاحبہ بھ عجب نہیں کہ اکثر مرزائی بھی روحانی یا جسمانی مراق کچھ حصہ دار ہوں۔ ورنہ صحیح العقل انسان ایسے مذہب
مرزا قادیانی کی سنت طعام
”حضرت مسیح موعود صاحب کھانا کھایا کر اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چور تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ۔ لیتے۔ باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔
معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے والا ہے اور کون سا نہیں۔“
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ ثانی م
مندرجہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ مر چھوڑ دیتے۔ تسبیح والے ٹکڑے چن چن کر کھاتے باق وہ بچ رہتے۔
غالباً مرزا قادیانی مسیح موعود نے قرآن م شئ الا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تس
٦٧
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ انی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دیتے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں ن اور انکشاف کا ثمرہ کلمہ اللّٰہ کو دم مسیح راجیل احمد کی اس بھی اسلام کی آغوش میں (آمین) اسلام پاکستان) چناب نگر
مرزا قادیانی کی اہلیہ کو بھی مراق تھا۔ ”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔ ان کے ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردے کا پورا انتظام ہوتا ہے۔...... ہم باغ تک جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں۔“
(مرزا قادیانی کا بیان عدالت مندرجہ اخبار الحکم مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء منقول از منظور الٰہی ص ٢٧٤)
میاں محمود احمد خلیفہ ثانی کو مراق
”جس خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بیشک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود احمد صاحب) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز قادیانی رسالہ ریویو قادیان ص ١١ بابت ماہ اگست ١٩٣٦ء)
چونکہ علم طب کی رو سے یہ مرض موروثی بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا خلیفہ ثانی کو مراق مرزا غلام احمد سے ورثہ میں ملا اور مرزا قادیانی کی اہلیہ صاحبہ بھی مرزا قادیانی کے مراق سے متاثر ہوئیں۔ عجب نہیں کہ اکثر مرزائی بھی روحانی یا جسمانی مراق میں مرزا قادیانی سے بطور ورثہ روحانی کچھ نہ کچھ حصہ دار ہوں۔ ورنہ صحیح العقل انسان ایسے مذہب کے قریب بھی نہیں آ سکتا۔
مرزا قادیانی کی سنت طعام
”حضرت مسیح موعود صاحب کھانا کھایا کرتے تھے۔ تو بمشکل ایک پھلکا آپ کھاتے اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورا آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے۔ پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے۔ باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے۔ مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ روٹی کے ٹکڑوں میں کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔“
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ ثانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣ مارچ ١٩٣٥ء)
مندرجہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی روٹی کا چورا بنا کر کچھ کھا لیتے کچھ چھوڑ دیتے۔ تسبیح والے ٹکڑے چن چن کر کھاتے باقی چورا پڑا رہتا۔ یعنی وہ ٹکڑے جو تسبیح نہ کرتے وہ بچ رہتے۔
غالباً مرزا قادیانی مسیح موعود نے قرآن بھی نہیں دیکھا۔ ارشادات ربانی ”ان من شئ الا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم“ ہر چیز اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے۔ مگر تم
٦٧
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کبھی محبت تھی اور پھر بیعت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے د شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا شرک ٹھہرا اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
ان کی تصنع سمجھ نہیں سکتے۔
یہاں سے تو معلوم ہوتا ہے۔ جناب بڑے غور سے روٹی کے ٹکڑوں میں بھی امتیاز کرتے تھے۔ مگر ایک دوسری عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب روٹی یوں کھاتے تھے کہ معلوم بھی نہ ہوتا تھا کہ کیا کھا رہا ہوں۔ لیجئے وہ عبارت بھی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی کی غفلت شعاری
"ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جسمانی عادات میں اتنے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں۔ بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن، دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیۃً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال دیتے اور بایاں دائیں میں۔
چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں۔ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے۔"
(سیرۃ المہدی حصہ دوئم ص ٥٨، بروایت نمبر ٧٢)
مرزا قادیانی کے خلیفہ تو فرما رہے ہیں کہ حضرت روٹی بڑی توجہ سے کھاتے تسبیح والے ٹکڑے چن کر کھاتے تھے۔ مگر دوسرے صاحبزادے فرماتے ہیں۔ ان کو مطلق یہ علم بھی نہ ہوتا تھا کہ کیا کھاتے ہیں۔ جب کوئی کنکر دانت تلے آکر پستا تو خیال ہوتا کہ ما بدولت روٹی کھا رہے ہیں۔
واہ رے مراق تیرے کرشمے، کیونکہ مراق میں بھی اشتہا بہت کم ہوتی ہے۔ اس لئے روٹی کی طرف توجہ نہ ہوتی۔ نیز جرابوں پر اور جوتوں پر توجہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید ایسی بدحواسیاں بھی قادیانی نبوت کا جز ہوں۔
امید ہے تمام قادیانی بھی اس سنت پر عمل کرتے ہوں گے۔ اگر قادیانی حضرات اکٹھے ہو کر دایاں جوتا بائیں پاؤں میں اور بایاں جوتا دائیں میں اور جراب کی ایڑی اوپر کئے ہوئے ڈھیلے اور گڑ جیب میں بھر کر ایک ہاتھ میں ڈھیلے اور دوسرے میں گڑ لئے سامنے روٹی کے ٹکڑوں کا انبار رکھے ہوئے سنت مسیح کی نمائش میں پریڈ کریں تو پھر تماشائیوں کو وجد آجائے۔ اگر اس نمائش پر ٹکٹ لگا دیں تو یقیناً تبلیغ کے لئے کافی مقدار میں فنڈ جمع ہو سکتا ہے۔
٦٨
٨٣
قولنج زخیری
مرزا قادیانی ایک اور مرض میں بھی مبتلا زخیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ س باہر ہے۔"
مرزا قادیانی دوسروں کے بارے میں کہت ڈر گیا۔ فلاں کا لڑکا بیمار ہو یا فوت ہو گیا۔ لہٰذا وہ عذاب اس قسم کی بہت سی عبارتیں آپ کو ملیں گی۔ کیا یہ بیماریا بول، اسہال وغیرہ۔ ان کو عذاب نہ کہا جاوے گا؟ بلکہ دعوؤں کی بناء پر مسلسل معذب رہے۔ بلکہ یہ زندگی تو جاوے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔
مرغوب اشیاء
"مرزا قادیانی کو تیتر، بٹیر، مرغ کا گوشت نرم بھی شوق سے تناول فرمایا کرتے تھے۔ مشک عنبر، بھی زیر استعمال رہتے تھے۔"
آپ کو یاد ہوگا ہم پہلے علاج مراق میں بیو لئے ایسی خوشبوئیں، دیگر مقوی اشیاء، جو زود ہضم ہوں ضرور کرنی چاہئے۔ یہ سب علاج معالجہ مرزا قادیان کے لئے کرتے تھے۔ اب بھی مرزائیوں کو آپ کے کے مکذب ٹھہریں گے۔
ایسی باتیں ہم بیان کرتے ہیں تو مرزائ افسوس ہوتا ہے کیا ہم ان کے نبی کی احادیث و شمائل نبی سے محبت نہیں ہے؟
ہمارے نبی علیہ السلام کے شمائل و احادیث ہو کر اپنے محبوب پیغمبر علیہ السلام کے شمائل و احادیث کہ تم ناراض ہو۔ یہ کیسی محبت؟ "بئس ما یأمرکم
٦٩
قولنج زخیری
مرزا قادیانی ایک اور مرض میں بھی مبتلا تھے۔ فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں قولنج زخیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن تک پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)
مرزا قادیانی دوسروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ فلاں بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ فلاں ڈر گیا۔ فلاں کا لڑکا بیمار ہو یا فوت ہو گیا۔ لہٰذا وہ عذاب میں مبتلا ہو گیا۔ کیونکہ وہ ہمیں نہیں مانتا۔ اس قسم کی بہت سی عبارتیں آپ کو ملیں گی۔ کیا یہ بیماریاں جو اس قدر شدید ہیں۔ مراق، قولنج، سلسل بول، اسہال وغیرہ۔ ان کو عذاب نہ کہا جاوے گا؟ بلکہ مرزا قادیانی دنیا کی پوری زندگی میں جھوٹے دعوؤں کی بناء پر مسلسل معذب رہے۔ بلکہ یہ زندگی تو موت سے بھی زیادہ مصیبت تھی۔ مگر کیا کیا جاوے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔
مرغوب اشیاء
”مرزا قادیانی کو تیتر، بٹیر، مرغ کا گوشت بہت پسند تھا۔ پلاؤ، فیرنی، میٹھے چاول، نرم نرم بھی شوق سے تناول فرمایا کرتے تھے۔ مشک عنبر، روغن بادام، مروارید، یاقوت، مرجان وغیرہ بھی زیر استعمال رہتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٥٠، ٥١)
آپ کو یاد ہوگا ہم پہلے علاج مراق میں بوعلی سینا سے نقل کر آئے ہیں کہ ایک مراقی کے لئے ایسی خوشبوئیں، دیگر مقوی اشیاء، جوز، زود ہضم ہوں استعمال کرنے ضروری ہیں۔ چہل قدمی بھی ضرور کرنی چاہئے۔ یہ سب علاج معالجہ مرزا قادیانی اس مراق نامراد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کرتے تھے۔ اب بھی مرزائیوں کو آپ کے مراق میں شبہ ہو تو ہو۔ وہ خود ہی مرزا قادیانی کے مکذب ٹھہریں گے۔
ایسی باتیں ہم بیان کرتے ہیں تو مرزائی چڑتے ہیں۔ مجھے تو ان کی اس حرکت پر افسوس ہوتا ہے کیا ہم ان کے نبی کی احادیث و شمائل بیان کریں تو وہ ناراض ہوں۔ کیا ان کو اپنے نبی سے محبت نہیں ہے؟
ہمارے نبی علیہ السلام کے شمائل واحادیث آپ دن رات ہمیں سنائیں ہم ہمہ تن گوش ہو کر اپنے محبوب پیغمبر علیہ السلام کے شمائل واحادیث سنیں گے۔ بلکہ سننا ثواب سمجھتے ہیں۔ افسوس کہ تم ناراض ہو۔ یہ کیسی محبت؟ ”بئس ما یأمرکم بہ ایمانکم“
٦٩
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان پر بھی محنت تھی اور یہ محنت ان ار انسان ہونے کے ساتھ سائی مذہب کا مطالعہ کر کے دعوت دینے لگے۔ ان موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انجیل کا شر کھلم کھلا شو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) کی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان ) جہانگیر
مرزا قادیانی کا نسب نامہ
”ہمارا شجرہ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد، ابن مرزا غلام مرتضیٰ صاحب، ابن مرزا عطاء محمد صاحب، ابن مرزا گل محمد صاحب، ابن مرزا فیض محمد صاحب، ابن مرزا محمد اسلم صاحب، ابن مرزا محمد دلاور صاحب، ابن مرزا الہ دین صاحب، ابن مرزا جعفر بیگ صاحب، ابن مرزا محمد بیگ صاحب، ابن مرزا عبد الباقی صاحب، ابن مرزا محمد سلطان صاحب، ابن مرزا ہادی بیگ صاحب، مورث اعلیٰ۔“ (حاشیہ کتاب البریہ ص ١٥٤، مندرجہ خزائن ج ١٣ ص ١٦٢) ”جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے۔“
مرزا قادیانی نے اپنا نسب نامہ مندرجہ بالا ایک صاحب حاجی محمد اسماعیل خاں صاحب رئیس وتاولی کی درخواست پر لکھا ہے۔ کیونکہ حاجی صاحب مشہور اشخاص کی سوانح حیات لکھنا چاہتے تھے۔ جس طرح اسی کتاب کے ص ١٤٠ پر مذکور ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنا صحیح نسب نامہ لکھ کر ان کی آرزو پوری کی ہے اور اس میں لکھا ہے کہ: ”ہماری قوم مغل برلاس ہے۔“ (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)
مگر طرفہ تماشا یہ ہے کہ مرزا قادیانی ایک حدیث والی پیشین گوئی اپنے اوپر چسپاں کرنے کے لئے اپنے نسب نامہ میں بھی تبدیلی کے مرتکب ہوئے۔ مگر کوئی تاریخی شہادت نہ ملی تو کہہ دیا کہ الہام کے ذریعہ معلوم ہوا ہے۔
”مجھے الہام ہوا ہے کہ میرے باپ دادا فارسی الاصل تھے۔“ اگر ایسا ہی تھا تو مرزا قادیانی کو گورنمنٹ انگلشیہ سے اپنا نسب نامہ تبدیل کروانے کے متعلق کوئی درخواست پیش کرتے تو آسانی سے فارسی الاصل بن جاتے۔ اگر ایک مرزا قادیانی ایسے کرتے تو باقی قوم ہرگز یہ گوارا نہ کرتی کہ اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو باپ بناتی۔ یہ مرزا قادیانی ہی کی خصوصیات ہیں۔ بھلا کبھی الہاموں سے بھی نسب بدلتے ہیں؟
یہ تو الٹا مرزا قادیانی کے الہام کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا ہے۔ ١٣ پشتوں تک تو سب مغل تھے۔ جیسا کہ نسب نامہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اب فارسی الاصل ہونا الہام سے ٹپک پڑا۔ مرزائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو شخص اپنا نسب کسی غیر سے ملائے اس پر حضورﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔
مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔ محض ایک روایت اپنے اوپر چسپاں کرنے کے لئے الہام گھڑا ہے۔ جس طرح ابن مریم بننے کے لئے مرزا قادیانی دس ماہ تک حاملہ بن گئے
٧٠
تھے۔ پھر ماشاء اللہ خود ہی مولود بھی ہو گئے۔ یاللعجب ا ایسا آدمی صحیح الدماغ ہی نہیں ہو سکتا۔
”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں۔ میری آخری وقت میں ہوئی ہے۔ (نوٹ: میں توام پیدا ہوا بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر کر دیا۔ (سبحان اللہ! کیا ہی حکمت کی بات کہی ہے۔ میں تانیث کا مادہ بھی ہوتا۔ یعنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہوتے۔ بہت کا مادہ ضرور ہوتا ہوگا۔ تو پھر مرزا قادیانی حاملہ کس طر لازم ہے۔ چاہے استعارہ کے رنگ میں ہو تو پھر ماشا ما بدولت حمل سے نوازے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے گود ہر خود تھے۔ اگر مرزائی یہ پہیلی بوجھ لیں تو سو روپیہ انعام ہوتا تو خدا جانے کیا غضب ہو جاتا شاید مذکر ومؤنث موعود بے مثل ہی ہو جاتے۔ یہ تو مرزا قادیانی کا ایک از مؤلف) اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں نہیں ہوا تھا۔“
مرزا قادیانی کی تعلیم و تربیت
”پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے ک طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا۔۔۔، اور میں ۔ اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ای اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میر پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور صاحب سے پڑھی۔“
(ک
٧١
تھے۔ پھر ماشاء اللہ خود ہی مولود بھی ہو گئے۔ یاللعجب ایسے آدمی کو پاگل قوم نبی بنا رہی ہے۔ حالانکہ ایسا آدمی صحیح الدماغ ہی نہیں ہو سکتا۔
”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں۔ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔ (نوٹ: میں توام پیدا ہوا تھا) ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند روز بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بالکل جدا کر دیا۔ (سبحان اللہ! کیا ہی حکمت کی بات کہی ہے۔ یعنی اگر ساتھ لڑکی نہ پیدا ہوتی تو مرزا قادیانی میں انثیت کا مادہ بھی ہوتا۔ یعنی ...... ہوتے۔ بہت خوب جو تنہا پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں انثیت کا مادہ ضرور ہوتا ہوگا۔ تو پھر مرزا قادیانی حاملہ کس طرح ہوئے تھے؟ حمل کے لئے تو انثیت اشد لازم ہے۔ چاہے استعارہ کے رنگ میں ہو تو پھر ماشاء اللہ انثیت کا مادہ الگ ہونے کے باوجود مابدولت حمل سے نوازے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے گود ہری کر دی۔ نیز ...... کرنے والے بھی آنجناب خود تھے۔ اگر مرزائی یہ پہیلی بوجھ لیں تو سو روپیہ انعام حاضر کر دوں گا۔ اگر مادہ انثیت بکلی الگ نہ ہوتا تو خدا جانے کیا غضب ہو جاتا شاید مذکر ومؤنث والی صفات عالیہ کا اجتماع ہو جاتا۔ پھر تو مسیح موعود بے مثل ہی ہو جاتے۔ یہ تو مرزا قادیانی کا ایک نشان ہوتا۔ پھر کسی کافر کو جرأت انکار ہوتی۔ از مؤلف) اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔ ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں ہوا تھا۔“
(حاشیہ کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
مرزا قادیانی کی تعلیم و تربیت
”پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں۔ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائی اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا ...... اور میں نے بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٦٢، ١٦٣، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١)
٧١
ان مندرجہ بالا بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کافی عرصہ تک تعلیم حاصل کی اور اچھے ماہر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ: ”میں نے قرآن مجید کی تعلیم کسی سے حاصل نہیں کی۔“
یہ غلط ہے بلکہ مرزا قادیانی کے اپنے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مروجہ علوم تمام پڑھے ہیں۔ مروجہ علوم میں تفسیر، حدیث کا علم نیز فقہ، اصول فقہ اور عربی، تاریخ وغیرہ کا علم سب شامل ہیں۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ آنجناب پہلے سے ہی نبوت کی تیاری میں مشغول تھے۔ صرف موزوں وقت کے منتظر تھے۔
مندرجہ بالا بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے چھ سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا اور اٹھارہ سال کی عمر میں بڑی کتب پڑھنی شروع کی اور اس کے چند سال بعد تک پڑھتے رہے۔ کم از کم چند سال میں تین چار سال کی گنجائش تو ہے۔ اسی طرح کم از کم مرزا قادیانی نے سولہ سال تک علوم مروجہ کے حاصل کرنے پر صرف کئے۔ پھر ان کا یہ ادعاء کہ میں نے علم کسی استاد سے نہیں پڑھا بلکہ علم لدنی تھا۔ بہت خوب سولہ سال پڑھنے کے بعد بھی علم لدنی رہا۔
مولانا ابوالکلام مرحوم کے متعلق مشہور ہے کہ سولہ سترہ سال کی عمر میں علوم مروجہ ختم کرنے کے بعد شمس بازغہ جیسی فلسفہ کی کتاب پڑھانی شروع کردی تھی۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی گھر سے بھاگ کر اپنے کسی عزیز کے ساتھ آوارہ گھومنے پھرنے میں اپنے والد صاحب کی پنشن اڑا ڈالی تو پھر سیالکوٹ میں ملازم ہو گئے اور انگریزی تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور ایک امتحان میں شرکت کی مگر ناکام ہوئے۔ یہاں سے مرزا قادیانی کی لیاقت خود معلوم ہوگئی اور سچ ہے کہ آپ کے انگریزی الہامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو فیل ہی ہونا چاہئے تھا۔
مرزا قادیانی کے خاندان کے سکھوں اور انگریزوں سے تعلقات
مرزا قادیانی کا پورا خاندان انگریزوں کا نمک خور اور وفادار ہے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں انہوں نے انگریزوں کی حمایت میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ اسی طرح سکھوں کے ماتحت بھی مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ لیا۔ اسی صلہ میں جاگیر واپس ملی۔
پھر جب مرزا قادیانی کے والد صاحب پنشنر ہو گئے تو اب مرزا قادیانی صاحب توانا تو نہ تھے اور نہ ہمت تھی۔ البتہ قلم کی تلوار سے سرکار انگریز کی خوب خدمت کی۔ شاید انگریزوں نے مسلمانوں کو خصوصاً اور اہل ہند کو عموماً غلام بنانے کا فرسودہ لڑائی والا طریقہ بدل دیا تھا۔ ایک طرف کالج یہ خدمت انجام دے رہے تھے۔ دوسری طرف مرزا قادیانی۔
٧٢
اس نے مسلمانوں کے عقائد متزلزل کر کے مسلمانوں اور اس میں انگریز کامیاب رہا۔ اب ہم مرزا قادیانی کی عبارات کی خود اپنی خدمات جو انگریزوں کے لئے وقف تھیں بیان کرتے مرزا قادیانی انگریزوں کے تنخواہ دار تھے اور باقاعدہ انگریزوں اچھے اعلیٰ عہدہ پر متمکن تھے۔ امید ہے آپ ان انکشافات سے بدل جائے گی۔
مرزا قادیانی کا خاندان اور سکھ
مرزا قادیانی کا خاندان سکھوں کے زمانہ میں نہایت حلیف تھا۔ مرزا قادیانی کے خاندان کی تلواریں مسلمانوں کے
فرزند مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے: ”آخر تمام جاگیر کو کھو کر اہلووالیہ کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن وامان سے سنگھ نے جو رام گڑھیا مثل کی تمام جائیداد پر قابض ہو گیا تھا، اس کی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔ اس مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے دیں۔“
”نونہال سنگھ اور شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دو خدمات پر مامور رہا۔ ١٨٤١ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی
پھر مرزا بشیر الدین لکھتا ہے: ”١٨٤٢ء میں ایک کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدہ میں اس نے کارہائے نمایاں کئے اور اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔“
مندرجہ بالا جن مہموں کا ذکر ہوا ہے یہ مسلمانوں مرزا قادیانی کے والد صاحب حق نمک ادا کرتے رہے اور مسلم ہیں کہ: ”اس موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے اچھی سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف میجر صاحب ویال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور
٧٣
ش پروردہ اور حق گو انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گو اور خوش گفتار انسان
پر بھی محبت تھی اور میر محبت ان
ارا انسان ہونے کے ساتھ
باقی مذہب کا مطالعہ کر کے
نہیں دعوت دینے لگے۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
ہی اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو
وم شیخ راحیل احمد کی اس
بھی اسلام کی آغوش میں
(آمین)
اسلام پاکستان) چناب نگر
ہے کہ مرزا قادیانی نے کافی عرصہ تک تعلیم طے کیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی بعض کتابوں صل نہیں کی۔“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مروجہ علوم تمام پڑھے فقہ اور عربی، تاریخ وغیرہ کا علم سب شامل کی تیاری میں مشغول تھے۔ صرف موزوں
کہ مرزا قادیانی نے چھ سال کی عمر میں نی شروع کی اور اس کے چند سال بعد تک ش تو ہے۔ اسی طرح کم از کم مرزا قادیانی گئے۔ پھر ان کا یہ ادعاء کہ میں نے علم کسی ، پڑھنے کے بعد بھی علم لدنی رہا۔ لہ سولہ سترہ سال کی عمر میں علوم مروجہ ختم رع کر دی تھی۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ ہاتھ آوارہ گھومنے پھرنے میں اپنے والد ہ اور انگریزی تعلیم حاصل کرنی شروع کی سے مرزا قادیانی کی لیاقت خود معلوم ہوگئی تا ہے کہ آپ کو فیل ہی ہونا چاہئے تھا۔
یزوں سے تعلقات
خور اور وفادار ہے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ اسی طرح اسی صلہ میں جاگیر واپس ملی۔ و گئے تو اب مرزا قادیانی صاحب بکواس تو ا خوب خدمت کی۔ شاید انگریزوں نے وہ لڑائی والا طریقہ بدل دیا تھا۔ ایک مرزا قادیانی۔
اس نے مسلمانوں کے عقائد متزلزل کر کے مسلمانوں کو غلام بنانے کی تدبیر پر عمل کیا اور اس میں انگریز کامیاب رہا۔ اب ہم مرزا قادیانی کی عبارتوں سے اس خاندان اور مرزا قادیانی کی خود اپنی خدمات جو انگریزوں کے لئے وقف تھیں بیان کریں گے اور یہ بھی ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کے تنخواہ دار تھے اور باقاعدہ انگریزوں کی سی آئی ڈی میں ملازم تھے۔ بلکہ اچھے اعلیٰ عہدہ پر متمکن تھے۔ امید ہے آپ ان انکشافات سے محفوظ ہوں گے اور نظر فکر کی راہ بھی بدل جائے گی۔
مرزا قادیانی کا خاندان اور سکھ
مرزا قادیانی کا خاندان سکھوں کے زمانہ میں بھی مسلمانوں سے متنفر اور سکھوں کا حلیف تھا۔ مرزا قادیانی کے خاندان کی تلواریں مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ مرزا قادیانی کا فرزند مرزا بشیر الدین محمود لکھتا ہے : ”آخر تمام جاگیر کو کھو کر عطاء محمد بیگو وال میں سردار فتح سنگھ ریاڑ والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن وامان سے زندگی بسر کی۔ اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیا مسل کی تمام جائیداد پر قابض ہو گیا تھا۔ غلام مرتضیٰ کو واپس قادیان بلا لیا اور اس کی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔ اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔“
(سیرۃ مسیح موعود ص ٤)
”نو نہال سنگھ اور شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمات پر مامور رہا۔ ١٨٤١ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا۔“ پھر مرزا بشیر الدین لکھتا ہے : ”١٨٤٢ء میں ایک پیادہ فوج کا کپتان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدہ میں اس نے کارہائے نمایاں کئے اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔“ مندرجہ بالا جن مہموں کا ذکر ہوا ہے یہ مسلمانوں کے ساتھ سکھوں کی جنگیں ہوئی ہیں۔ مرزا قادیانی کے والد صاحب حق نمک ادا کرتے رہے اور مسلمانوں کو تہ تیغ کرتے رہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ : ”اس موقع پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین نے مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ ان کو سوائے ٧٣
ق، پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی مبہوت تھی اور یہ مبحث ان دار انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دیتے لگے۔ ان ام موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ان کا سر شکن قادیانیت کا اس کی آغوش میں (آمین) اسلام پاکستان ) جہانگیر
دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا۔ جہاں چھ سو آدمی ڈوب مرے۔‘‘
(سیرۃ المسیح موعود ص ٥)
لو مرزا قادیانی کے خاندان کی خدمات یہ مولراج صاحب ملتانی ایک ظالم حاکم تھے۔ جن کے خلاف مسلمانوں نے اعلان جہاد کر دیا تھا اور ان کی سرکوبی کے لئے مرزا قادیانی کا خاندان حرکت میں آیا۔ مگر یہ حرکت سکھوں کے جھنڈے تلے ہوئی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے خاندان کی نمک حلالی ہے۔ مرزا قادیانی کا خاندان کبھی اسلام کے لئے نہیں لڑا۔ البتہ جب بھی کہیں مسلمان نظر آئے۔ ان کے خلاف ضرور کاروائی کی۔ شاید مرزا قادیانی کے پورے خاندان کا یہی مذہب تھا کہ دین کے لئے غیروں سے لڑنا حرام ہے۔ البتہ مسلمانوں کو سکھوں اور انگریزوں کی خاطر قتل کرنا حقیقی اور صحیح جہاد ہے۔
یہ قربانیاں تو مرزا قادیانی کے خاندان نے سکھوں کے لئے پیش کی ہیں۔ جو عام طور پر لوگوں سے اوجھل ہیں۔ رہا انگریزوں کے ساتھ وہ تو اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ سکھوں سے تو صرف ان کے دسترخوان سے بچے ہوئے چند ٹکڑے اور ہڈیاں ملی تھیں۔ مگر سرکار انگریز کے عہد میں تو نبوت عطاء ہوئی ہے۔ پھر کیوں نہ شکر ادا کریں۔ یہ الگ بات ہے کہ عیسائی دجال ہیں۔ بقول مرزا قادیانی، مگر پناہ بھی مسیح کو زیر سایہ عاطف دجال ہی ملی۔ بہت خوب! مرحبا مسیحا دجال کا نمک خوار بن گیا۔ خوب کسر صلیب اور قتل دجال ہوا۔
مرزا قادیانی کا خاندان اور ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی
مرزا قادیانی اپنی آبائی ریاست کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔ گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔
١٨٥٧ء میں انہوں نے سرکار انگریز کی خدمت میں پچاس گھوڑے معہ پچاس سوروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجالائے خدمات عمدہ عمدہ...... چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دل عزیز تھے۔ بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنران کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٨، خزائن ج ١٣ ص ١٧٦، ١٧٧)
٧٤
مرزا قادیانی کے خاندان کی خدمات صرف پچاس ہوئیں۔ بلکہ خود بھی جنگ کی آگ میں اپنے آقا کا اقتدار قائم چنانچہ (سیرۃ المسیح موعود ص ١٠٥) میں لکھتے ہیں کہ: ” دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت آ جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا۔ جس ٤٦ نیوانفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے نہ جنرل نکلسن بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی ج خاندان قادیان، ضلع گورداس پور تمام دوسرے خاندانوں سے پھر انہیں صفحات میں لکھتے ہیں: ”نظام الدین کا ہوا دہلی کے محاصرہ کے وقت ہاڈسن ہارس رسالہ میں رسالہ تحصیلدار تھا۔“
مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی غدار، سکھوں اور انگریزوں کا نمک خوار اور وفادار تھا۔ محاصر اور ہندوستان میں اسلامی سلطنت کے آخری تاجدار کو کا مجاہدوں کے قتل کرنے میں بھر پور حصہ لیا۔ تب ہی تو جزا خاندان زیادہ نمک حلال رہا۔ کیونکہ اس نے براہ راست حت چنانچہ انگریزوں کی دور رس نگاہوں نے بھانپ کرنے کے لئے بھی یہی خاندان کارآمد ثابت ہو سکتا ہے غداری) غیر مشکوک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم سکھوں جاری رہی۔ ورنہ سکھ کسی بھی پڑھے لکھے مسلمان کو برداش برداشت کر لیا۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ آنجناب کو مسلمانوں ایسا ہی ہوا۔ (الولد سرلابیہ)
چونکہ مرزا قادیانی کا خاندان لالچی اور اقتدار سکھوں کا زور ٹوٹا انگریزوں کے برسر اقتدار آنے کے ام کا خاندان ان سے منسلک ہو گیا اور مرزا قادیانی ان کے ٧٥
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ آبائی مذہب کا مطالعہ کر کے ی دعوت دینے لگے۔ ان تائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں ں اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) سی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان) چناب نگر
مرزا قادیانی کے خاندان کی خدمات صرف پچاس سوار اور گھوڑے دینے پر ختم نہیں ہوئیں۔ بلکہ خود بھی جنگ کی آگ میں اپنے آقا کا اقتدار قائم کرنے کے لئے کود پڑے۔
چنانچہ (سیرۃ مسیح موعود ص ٦،٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”اس خاندان نے غدر ١٨٥٧ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا۔ جب کہ افسر موصوف تریموں گھاٹ پر ٤٦ ویں انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہہ تیغ کیا۔“
جنرل نکلسن بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ: ”١٨٥٧ء میں خاندان قادیان، ضلع گورداس پور تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔“
پھر انہیں صفحات میں لکھتے ہیں: ”نظام الدین کا بھائی امام الدین جو ١٩٠٤ء میں فوت ہوا دہلی کے محاصرہ کے وقت ہاڈسن ہارس رسالہ میں رسالدار تھا اور اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔“
(سیرۃ مسیح موعود ص ٦٠)
مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا خاندان ابتداء ہی سے مسلمانوں کا غدار، سکھوں اور انگریزوں کا نمک خوار اور وفادار تھا۔ محاصرہ دہلی میں انہوں نے بذات خود حصہ لیا اور ہندوستان میں اسلامی سلطنت کے آخری تاجدار کو گرفتار کرنے اور شہزادوں، شہریوں اور مجاہدوں کے قتل کرنے میں بھر پور حصہ لیا۔ تب ہی تو جنرل نکلسن نے اپنی سند میں لکھا کہ یہ خاندان زیادہ نمک حلال رہا۔ کیونکہ اس نے براہ راست حصہ لیا۔
چنانچہ انگریزوں کی دور رس نگاہوں نے بھانپ لیا کہ مسلمانوں کو جذبہ جہاد سے عاری کرنے کے لئے بھی یہی خاندان کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ان کی وفاداری (مسلمان سے غداری) غیر مشکوک ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم سکھوں کے زمانہ میں بھی نہایت عمدہ طریق پر جاری رہی۔ ورنہ سکھ کسی بھی پڑھے لکھے مسلمان کو برداشت نہ کرتے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کو برداشت کر لیا۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ آنجناب کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ (الولد سرلابیہ)
چونکہ مرزا قادیانی کا خاندان لالچی اور اقتدار پرست ثابت ہوا تھا۔ اس لئے جونہی سکھوں کا زور ٹوٹا انگریزوں کے برسر اقتدار آنے کے امکانات روشن تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا خاندان ان سے منسلک ہو گیا اور مرزا قادیانی ان کے شرعی وفادار بن گئے اور انگریزوں کی تنخواہ
٧٥
پر ان کے پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کی جاسوسی کا فریضہ انجام دینے لگے۔ بلکہ آنجناب مہدی و عیسیٰ کے روپ میں کھلے بندوں انگریز کی غلامی کی تعلیم دینے لگے۔ رہا مہدی کا ڈھونگ اس لئے رچایا تا کہ لوگوں کو یہ شبہ نہ ہو کہ مرزا قادیانی جاسوس اور انگریزی ایجنٹ ہیں ورنہ مقصد اور تھا۔
مرزا قادیانی کی عبارتیں ہمیں بتلاتی ہیں کہ مرزا قادیانی کی تمام سعی و تبلیغ صرف انگریزی راج قائم کرنے کے لئے ہیں۔ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد نکالنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایک تجویز بدیں صورت پیش کرتے ہیں۔ یہ تجویز (براہین احمدیہ حصہ سوئم ص ١٣٠،١٤٩، خزائن ج ١ ص ایضاً) میں اسلامی انجمنوں کی خدمت میں التماس کے زیر عنوان درج ہے۔
’’سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور، کلکتہ، و بمبئی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چند نامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو۔ اس امر کے لئے چن لئے جائیں کہ اطراف واکناف کے اہل علم کو جو اپنے مسکن کے گرد و نواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں۔ اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ، سلطنت انگلیشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی ومحسن ہے۔ جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں یہ ثبت مواہیر بھیج دیں۔ (سلطان القلم صاحب مہر کی جمع مواہیر لکھتے ہیں۔ شاید یہ بھی القاء ہوا ہو) کہ جو بموجب قرار داد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب سب خطوط جمع ہو جائیں تو یہ مجموعۂ خطوط کو جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہو سکتا ہے۔ کسی خوشخط مطبع میں بہ صحت تمام چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ اس کے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب و ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں۔‘‘
مرزا قادیانی اپنی مندرجہ بالا تجویز میں خود ہی نہیں بلکہ تمام علماء سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی امت مرحومہ کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے میں ان کا ساتھ دیں گے۔ کس عیاری سے مختلف انجمنوں سے فتوے طلب فرمارہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کا یہی کاروبار ہے کہ انگریزوں کو راضی کر کے اپنی جاگیر واپس لیں۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
انگریزوں کی تائید و حمایت میں پچاس الماریاں
’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد، انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں
٧٦
کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس ا رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائی جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلو معدوم ہو جائیں۔‘‘
علامہ اقبال مرحوم نے خوب فرمایا
زندگانی از خودی
سترہ برس سے انگریز سرکار کی امداد
’’تاہم سترہ برس سے سرکار انگریز کی امداد او سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہ تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس ا کے لئے عربی، فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور گئی ..... پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگر روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پور اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے نظیر ہے؟‘‘
مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے انگریز کی مدح سرائی بلکہ انگریز کی آقائی کو تسلیم کروانے ک ڈالیں۔ پھر تمام ممالک میں پھیلا دیں۔ بڑی رقم خرچ سر انجام دی۔
غالباً مسیح موعود کی بعثت اسی لئے ہوئی کیونک صرف یہ کہ کفار کی اطاعت سے دین اسلام نے منع کیا تھ اور بس۔ اگر اب بھی انگریز مرزا قادیانی کو سرکار کا پجاری ن مرزا قادیانی نے یہ بھی درست فرمایا کہ دیگر م
٧٧
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی کھینچتی تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ باقی مذہب کا مطالعہ کر کے ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں ہی اور انکشاف کا شرک ٹھہرایا م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) بھی اسلام کی آغوش میں اسلام پاکستان ) چناب نگر
کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں ...... میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
علامہ اقبال مرحوم نے خوب فرمایا ہے
زندگانی از خودی محرومی است
سترہ برس سے انگریز سرکار کی امداد
”تاہم سترہ برس سے سرکار انگریز کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ۔ ان سب میں سرکار انگریز کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اس امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی ، فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزار ہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئی ...... پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریز کی امداد امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟“
(کتاب البریہ ص ٧ تا ٨ ، خزائن ج ١٣ ص ایضاً)
مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے عیاں ہے کہ آنجناب کی عمر کا اکثر حصہ انگریز کی مدح سرائی بلکہ انگریز کی آقائی کو تسلیم کروانے میں گزرا ہے۔ پچاس الماریاں کتابیں لکھ ڈالیں۔ پھر تمام ممالک میں پھیلا دیں۔ بڑی رقم خرچ ہوئی۔ نہایت استقامت سے یہ خدمت سر انجام دی۔
غالباً مسیح موعود کی بعثت اسی لئے ہوئی کیونکہ دین تو پہلے ہی مکمل تھا۔ اگر کوئی کمی تھی تو صرف یہ کہ کفار کی اطاعت سے دین اسلام نے منع کیا تھا اور اس حکم کو آنجناب نے منسوخ کر دیا اور بس۔ اگر اب بھی انگریز مرزا قادیانی کو سرکار کا پجاری تسلیم نہ کریں تو صریح ظلم ہوگا۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی درست فرمایا کہ دیگر مسلمانوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ بے
٧٧
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی تھی اور محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ باقی مذہب کا مطالعہ کر کے لوگ دعوت دینے لگے ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو دم مسیح قادیانی راحیل احمد کی اس آمین) ہی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان ) چناب نگر
شک اس کی نظیر نہیں کیونکہ اس گئے گزرے زمانے میں بھی کسی مسلمان کا ضمیر اس قدر نور ایمان سے خالی نہ تھا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے فرمان کی صریح خلاف ورزی کرتا۔ یہ فضیلت صرف مرزا قادیانی کو حاصل ہوئی۔ نمک خواری کا حق یوں ایمان دے کر بطریق احسن ادا کیا۔ واقعی استقامت اسی کو کہتے ہیں۔ بحسن شکریہ اسی طرح ادا کیا جاتا ہے۔
سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں
”اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کے ہر روز کی مفتریانہ کاروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم اور نیز میرے قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں۔ سب کی سب ضائع اور برباد نہ ہو جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔“
(کتاب البریہ ص ٩، خزائن ج ١٣ ص ٣٤٩)
خود کاشتہ پودا
پھر اس کے بعد مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ محکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔“
(کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)
مندرجہ بالا عبارت واضح طور پر مرزا قادیانی کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈال رہی ہے۔ مرزا قادیانی اعتراف کرتے ہیں کہ میرا خاندان ہی نہیں بلکہ میں خود بھی مدت مدید سے سرکار انگلشیہ کی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ بلکہ میں سرکار کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ لہٰذا آبیاری کا خیال رکھنا کہیں خود کاشتہ پودہ عدم توجہی کا شکار ہو کر نیست و نابود نہ ہو جائے۔
اپنے تمام سرکاری حکام سے خصوصیت سے آبیاری کے متعلق فرمان جاری کیا جاوے۔ ورنہ بصورت دیگر صحیح خدمات سرانجام دینا دشوار ہو جائیں گی۔ مذکورہ بالا عبارت کے بعد مرزا قادیانی کے بارے میں کسی طرح کا شبہ نہیں رہتا۔ بلکہ بالکل عیاں ہوجاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کی بنیاد انگریزی پالیسی کا ایک جز ہے۔
٧٨
گھر سے فرار اور سیالکوٹ کی ملازمت
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحب نے ایک دفعہ اپنی جو موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے مرزا امام الدین پنشن ملی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے با رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں چلا کے مارے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا ت اس لئے آپ سیالکوٹ ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو
(سیرۃ المہد
اسی (سیرۃ المہدی ص ٤٤، بروایت نمبر ٤٩) پر ہے کہ: ”عرصہ ہے۔ یعنی مرزا قادیانی چار سال سیالکوٹ کچہری میں ملازم رہے ہیں نیز مرزا قادیانی پنشن لے کر امام الدین کے ساتھ بھاگ وہ ہستی ہیں جن کا تذکرہ سیرۃ المہدی حصہ اول میں مذکورہ بالا اسی ص نے مرزا قادیانی سے الگ ہو کر ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا تو گرفتار ہو مرزا قادیانی کی کرامت ہو کیونکہ مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو گیا تھا۔
اب سوال یہ رہا کہ ایک صاحب ملہم من اللہ بننے والے ہ والد کی پنشن اڑا کر چند دنوں میں ختم کر دینا وہ بھی ایک شریف ذات ہمارے زمانے کے سات ہزار سے بھی زیادہ۔ آخر ان دو حضرات ۔ ہوگی۔ مگر زمانہ جوانی تھا۔ لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ا اخراجات خاص قسم کے ہوتے ہیں۔ پھر امام الدین صاحب ساتھ ہو
مرزا قادیانی اپنی چار سالہ مدت ملازمت میں سیالکوٹ سے بھی شناسا ہو گئے تھے۔ بلکہ نوبت مباحثات تک پہنچ گئی تھی۔ ایم اے صاحب۔ چنانچہ ان کا تذکرہ مرزا قادیانی کے فرزند خلیفہ کرتے ہیں: ”ریورنڈ بٹلر ایم اے سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھ کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت جانے ۔ پاس ملنے چلے آئے۔“
٧٩
گھر سے فرار اور سیالکوٹ کی ملازمت
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحب نے ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا اور حضرت مسیح موعود شرم کے مارے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٤٣، بروایت ٤٩)
اسی (سیرۃ المہدی ص ٤٤، بروایت نمبر ٤٩) پر ہے کہ: ”عرصہ ملازمت ١٨٦٤ء تا ١٨٦٨ء ہے۔ یعنی مرزا قادیانی چار سال سیالکوٹ کچہری میں ملازم رہے ہیں۔“
نیز مرزا قادیانی پینشن لے کر امام الدین کے ساتھ بھاگ گئے۔ یہ امام الدین صاحب وہ ہستی ہیں جن کا تذکرہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل میں مذکورہ بالا اسی صفحہ میں ہے۔ مرزا امام الدین نے مرزا قادیانی سے الگ ہو کر ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا تو گرفتار ہوا۔ مگر آخر کار رہا ہو گیا۔ شاید مرزا قادیانی کی کرامت ہو کیونکہ مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو گیا تھا۔
اب سوال یہ رہا کہ ایک صاحب ملہم من اللہ بننے والے ہیں۔ بلکہ ظلی بروزی نبی اور پھر والد کی پینشن اڑا کر چند دنوں میں ختم کر دینا وہ بھی ایک شریف ذات کے ساتھ پینشن ٧٠٠ روپیہ جو ہمارے زمانہ کے سات ہزار سے بھی زیادہ۔ آخر ان دو حضرات نے اتنی ساری رقم کہاں اڑائی ہوگی۔ مگر زمانہ جوانی تھا۔ لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس زمانہ میں نوجوان کے کچھ اخراجات خاص قسم کے ہوتے ہیں۔ پھر امام الدین صاحب ساتھ ہوں تو اور بھی معاملہ سہل ہو گیا۔
مرزا قادیانی اپنی چار سالہ مدت ملازمت میں سیالکوٹ میں ایک اور ذات شریف سے بھی شناسا ہو گئے تھے۔ بلکہ نوبت مباحثات تک پہنچ گئی تھی۔ یہ صاحب پادری ریورنڈ بٹلر ایم، اے صاحب۔ چنانچہ ان کا تذکرہ مرزا قادیانی کے فرزند خلیفہ ثانی (سیرت مسیح موعود ص ١٥) پر کرتے ہیں: ”ریورنڈ بٹلر ایم، اے سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے چلے آئے۔“
٧٩
مندرجہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف مباحثات نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ پادری صاحب نے مرزا قادیانی کو کسی خاص کام کے لئے تیار کر لیا تھا۔ تب ہی تو جاتے وقت ضرور کچہری میں اوقات کاری میں ملنے چلے آئے۔ تاکہ فرض مفوضہ کی ادائیگی کی مزید تاکید کی جاسکے اور معاہدہ بھی پکا ہو جاوے۔
اس کے بعد مرزا قادیانی جلدی واپس قادیان تشریف لے گئے۔ وہ بھی فوراً ملازمت چھوڑ کر، جس طرح انہیں صفحات سیرت مسیح میں ذکر ہے۔ اب مرزا قادیانی قادیان تشریف لاکر ایک نئی ملازمت کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ مہدی مسیح ظلی بروزی نبوت کا لبادہ بھی در حقیقت ان ہی فرائض کی انجام دہی کے لئے تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنی ملازمت کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر مکمل طور پر تاکہ راز کھل نہ جائے۔
مرزا بشیر احمد ایم۔ اے (سیرۃ المہدی ص ٤٨، بروایت ٥٢) پر رقمطراز ہیں: ”بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کالہواں نے کہ میں بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے بڑے مرزا صاحب نے کہا جاؤ غلام احمد کو بلا لاؤ۔ ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے۔ اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدہ پر ملازم کرا دوں۔ جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں مرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھا، چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام دیا۔ مرزا صاحب کے پاس آئے اور جواب دیا کہ میں نوکر ہو گیا ہوں۔ بڑے مرزا صاحب کہنے لگے اچھا کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو؟ مرزا صاحب نے کہا ہاں ہو گیا ہوں۔ بڑے مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہو گئے ہو تو خیر ہے ۔“
مرزا قادیانی کے والد نے مرزا قادیانی سے کہا کہ تمہیں کسی اچھے عہدہ پر نوکر کرا دوں۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا نوکر ہو گیا ہوں۔ دوبارہ پوچھنے پر تصدیق کر دی کہ نوکر ہو گیا ہوں۔ مرزا قادیانی کے والد نے پھر یہ نہ پوچھا کہ نوکری کیا ہے؟
ظاہر ہے کہ آپ کو پہلے سے کچھ معلوم تھا۔ اس لئے جھنڈا سنگھ کے سامنے نہ پوچھا۔ ورنہ نوعیت کا علم جھنڈا سنگھ کو ہو جاتا تو راز کھل جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ نوکری وہی تھی جو مرزا قادیانی کتابوں کا ڈھیر لگا کر سرکار کی حمایت میں لکھ رہے تھے۔ جس طرح خود اعتراف کیا ہے کہ : ”میں نے سرکار انگریز کی حمایت میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں جن سے پچاس الماریاں بھر جائیں۔ پھر تمام ممالک اسلامیہ میں پھیلا دیں۔ مصر، عرب، عراق، روم، ہند، کابل وغیرہ میں تاکہ مسلمانوں کے دل سے جہاد کا خیال نکل جائے اور انگریزوں کو سلطنت قائم رکھنے میں آسانی
٨٠
٩٥
ہو۔ اس طرح مسلمان غلامی کے جال میں پھنس کر ہمیشہ علامہ اقبالؒ نے خوب کہا ہے؎
رقص ہا کرد کلیسا
اب بحث طلب امر یہ ہے کہ مرزا قادیانی ک بھی مرزا قادیانی کی زبانی سنیں۔ مرزا قادیانی نے اس ن اب مرزا قادیانی کی کتابوں میں جا بجا یہ آ پھر دوسرے دن مل گیا۔ اکثر کے متعلق یہ بھی معلوم نہ ہ معلوم ہو جاتا وہ اکثر نوابوں کی طرف سے ہوتا یا کسی ر نہیں کہ ایسے ہی لوگ انگریز کے جاسوس ہوا کرتے تھ انگریز کے ایما پر مرید بنا لیا تھا۔ بعض سادہ لوح بھی پھنس
تنخواہ کی برآمدگی
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”مرزا دین محمد ساک کیا کہ ایک مرتبہ مسیح موعود نے مجھے صبح کے وقت جگا پوچھا کیا خواب ہے؟ فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ میر ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہت میں چار دن وہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آ نے دیکھا تو بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ بھیجا ؟“
مندرجہ بالا عبارت میں تین چیزیں قابل تعبیر، تیسرا بھیجنے والے کا پتہ نہ معلوم ہونا۔
آپ نے خواب اس لئے مرید سے بیان کیونکہ اس کو آئندہ نشان کے طور پر ظاہر کرنا تھا۔ پھر ہے کہ آپ تاریخ دیکھنا چاہتے تھے کہ تاریخ کون س ذرائع سے ملتی تھی۔ کبھی بذریعہ منی آرڈر، کبھی کسی ایجن
٨١
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان انسان ہونے کے ساتھ ن کی مذہب کا مطالعہ کر کے ور سچائی دعوت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف سر چشمہ اشکو سلیم راجپوت م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
ہو۔ اس طرح مسلمان غلامی کے جال میں پھنس کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مفلوج ہو جائیں۔“ علامہ اقبالؒ نے خوب کہا ہے؎
رقص ہا گرد کلیسا کرد مرد
اب بحث طلب امر یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تنخواہ کیا تھی اور کن ذرائع سے ملتی تھی۔ وہ بھی مرزا قادیانی کی زبانی سنیں۔ مرزا قادیانی نے اس تنخواہ کا بھی خود اعتراف کر لیا ہے۔
اب مرزا قادیانی کی کتابوں میں جابجا یہ آئے گا کہ مجھے الہام ہوا کہ اتنا روپیہ ملا ہے۔ پھر دوسرے دن مل گیا۔ اکثر کے متعلق یہ بھی معلوم نہ ہوتا۔ کس نے بھیجا ہے۔ تاہم بعض اوقات معلوم ہو جاتا وہ اکثر نوابوں کی طرف سے ہوتا یا کسی سرکاری ملازم کی طرف سے۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ ایسے ہی لوگ انگریز کے جاسوس ہوا کرتے تھے۔ البتہ مرزا قادیانی کا کمال یہ ہے کہ ان کو انگریز کے ایما پر مرید بنالیا تھا۔ بعض سادہ لوح بھی پھنس گئے۔
تنخواہ کی برآمدگی
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”مرزا دین محمد ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مسیح موعود نے مجھے صبح کے وقت جگایا اور فرمایا کہ مجھے خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب ہے؟ فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن وہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔ جس میں ہزار سے زیادہ روپیہ تھا.......ہم نے دیکھا تو بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا؟“
(سیرۃ المہدی ج ٣ ص ١٠١، ١٠٢، روایت نمبر ٦٣٦)
مندرجہ بالا عبارت میں تین چیزیں قابل غور ہیں۔ ایک خواب، دوسرا کتاب۔ دیکھ کر تعبیر، تیسرا بھیجنے والے کا پتہ نہ معلوم ہونا۔
آپ نے خواب اس لئے مرید سے بیان کیا تا کہ آئندہ کام آئے اور مرید گواہ رہے۔ کیونکہ اس کو آئندہ نشان کے طور پر ظاہر کرنا تھا۔ پھر کتاب دیکھ کر تعبیر بتلانا یہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ تاریخ دیکھنا چاہتے تھے کہ تاریخ کون سی ہے۔ کیونکہ مقررہ تاریخوں میں تنخواہ خفیہ ذرائع سے ملتی تھی۔ کبھی بذریعہ منی آرڈر، کبھی کسی ایجنٹ کے ذریعہ۔
٨١
بغیر پتہ کے منی آرڈر آنا یہ بھی بتلارہا ہے کہ رقم خفیہ ذرائع سے آئی ہے اور سی.آئی.ڈی کے طریق کار ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ نے سی.آئی.اے کے کارنامے پڑھے ہوں تو بالکل واضح ہو جائے گا کہ وہ اسی طرح جاسوسوں کو رقم عموماً ادا کرتی ہے۔ البتہ مرزا قادیانی اس کو غیبی امداد ظاہر فرماتے تھے۔
آج کل بھی سی.آئی.اے اسی طرح ادائیگی کرتی ہے۔ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ جاسوسی کے لئے عموماً ایسے لوگ منتخب ہوتے ہیں جو حکومت کے با اعتماد ہوں اور لوگ بھی ان کے تقدس کے قائل ہوں یا لوگوں میں ذی جاہ اور شہرت یافتہ ہوں تاکہ ان پر کوئی شبہ نہ کرسکیں۔
یہ ہیں مرزا قادیانی کے نشانات۔ ان ہی نشانوں نے حقیقت میں مرزا قادیانی کی ہنڈیا چوراہے میں پھوڑ دی۔ کیونکہ طبعاً لالچی واقع ہوتے تھے۔ اس لئے جب بھی روپیہ آنے کی اطلاع ملتی، ایک تیر سے دو شکار کر لیتے۔ اعلان کر دیتے تھے منی آرڈر کا خواب آیا۔ روپیہ ملنے کا خواب آیا۔ ظاہر ہے پہلے اطلاع مل جاتی تھی۔ لہٰذا صحیح وقت پر روپیہ مل جاتا تو مرزا قادیانی کی پانچوں گھی میں ہوتیں۔ اگر چہ میں دوسرا جملہ نہیں کہتا۔ (یعنی سر کڑھائی میں)
مرزا قادیانی نے صرف ممانعت جہاد ہی کے لئے کتابیں نہیں لکھیں۔ بلکہ ایسے لوگوں کے نام بھی قلم بند کئے ہیں۔ جن سے گورنمنٹ برطانیہ کو خطرہ لاحق رہتا تھا۔ جس کا اعتراف مرزا قادیانی نے خود کیا ہے۔
مرزا قادیانی انگریزوں کے پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٢٧) پر یوں درج ہے: ”گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں۔ جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں۔ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے۔ جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب نہ کرے۔“
مندرجہ بالا عبارت دیکھنے کے بعد کسی بھی سیاسی بصیرت رکھنے والے کو مرزا قادیانی کے پولیٹیکل ایجنٹ ہونے میں شک نہیں ہو سکتا۔ جو مسلمانان ہند کے خلاف خفیہ ڈائریاں انگریزوں تک پہنچاتا تھا۔ بلکہ اس شعبہ کا مرزا قادیانی کو انچارج کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ
٨٢
٩٧
مرزا قادیانی خفیہ طور پر اس طرح خدمات انجام دیتے تھے اور جماعت کی بنیاد ڈالی جس کے دل میں پہلے اپنے متعلق یہ عقید ہیں۔ پھر ان سے عہد لیا کہ انگریز کی اطاعت کرنا بلکہ انگریز چنانچہ مرزا قادیانی اسلام کے دو حصے بیان کر انگریز کی اطاعت۔ بہت خوب اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہود طرہ یہ کہ مرزا قادیانی عیسائیوں کو دجال بھی کہتے ہیں۔ اب کے متبعین و فرمانبردار مجرمی ہوئے یا دجالی؟
انگریزوں کا ذکر خطبہ جمعہ میں
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١٠، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٦ تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شک بھی ...... اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ انگریزی نے ...... ہم پر بھی عنایت کی نظر کی۔“
دیکھا مرزا قادیانی کا دجل جن کو مرزا قادیانی اطاعت پر بھی بس نہیں ۔ بلکہ ان کا ذکر نماز جمعہ کا جز بنانے ک نماز میں دعا کی جاوے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ یہ طوق غلامی کس قدر ذلیل تجویز ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے تو خطبہ میں اللہ کے ذکر کا ح ذکر کا حکم صادر فرمارہے ہیں۔ واقعتاً مرزا قادیانی نمک خور مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے نبی تسلیم کر لو۔ اگر لئے مسلمانوں کے اندر رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ چہ جاوے۔ اگر ان انگریز کے ایجنٹوں سے ہم اپنی حکومت کو ہے نہ کہ مکہ اور ان کی وفاداریاں سمندر پار کے آقاؤں ۔ شورش پسند کہا جاتا ہے۔
خدارا سوچو! کدھر جارہے ہو؟ کن لوگوں کو ام پچھتانا پڑے گا۔ وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا۔ نکلا ہو ارادوں سے ہوشیار رہو۔ یہ جذبہ جہاد مٹا کر دوبارہ غلامی م
٨٣
ش پروردہ اور حق گو انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
کی محبت تھی اور یہ محبت ان
ارا انسان ہونے کے ساتھ
بانی مذہب کا مطالعہ کر کے
توجہ دینے لگے۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو
ام شیخ راحیل احمد کی اس
آمین)
ی اسلام کی آغوش میں
سلام پاکستان) جہانگیر
٩٧ مرزا قادیانی خفیہ طور پر اس طرح خدمات انجام دیتے تھے اور ظاہراً مذہب کے لبادہ میں ایک ایسی جماعت کی بنیاد ڈالی جس کے دل میں پہلے اپنے متعلق یہ عقیدہ پیدا کیا کہ ما بدولت مسیح و مہدی و نبی ہیں۔ پھر ان سے عہد لیا کہ انگریز کی اطاعت کرنا بلکہ انگریز کے لئے جان تک قربان کر دینا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اسلام کے دو حصے بیان کرتے ہیں۔ ایک اللہ کی اطاعت دوسری انگریز کی اطاعت ۔ بہت خوب اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہود نامسعود کی کیسی اچھی تقلید کی۔ اس پر طرہ یہ کہ مرزا قادیانی عیسائیوں کو دجال بھی کہتے ہیں۔ اب مرزائی صاحبان ہی بتلائیں کہ دجال کے متبعین و فرمانبردار محمدی ہوئے یا دجالی؟
انگریزوں کا ذکر خطبہ جمعہ میں
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٦) میں یوں لکھا ہے: ”ہم رعایا کی یہ تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شکر کے ساتھ خطبہ میں ذکر ہوتا ہے۔ ہم بھی ...... اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ کے ممبروں پر اپنا وظیفہ بنالیں کہ سرکار انگریزی نے ...... ہم پر بھی عنایت کی نظر کی ۔“
دیکھا مرزا قادیانی کا دجل جن کو مرزا قادیانی دجال کہہ رہے ہیں۔ ان کی ظاہر اطاعت پر بھی بس نہیں۔ بلکہ ان کا ذکر نماز جمعہ کا جز بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں کہ ان کے لئے نماز میں دعا کی جاوے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ یہ طوق غلامی مسلمانوں کے گلے کا ہار بنائے رکھے۔ کس قدر ذلیل تجویز ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے تو خطبہ میں اللہ کے ذکر کا حکم دیا ہے۔ مرزا قادیانی انگریزوں کے ذکر کا حکم صادر فرما رہے ہیں۔ واقعتاً مرزا قادیانی نمک خوری کا کیا حق ادا کر رہے ہیں۔ یہ صاحب مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے نبی تسلیم کر لو۔ اگر مسلمان کو غیرت ہو تو ایسے لوگوں کے لئے مسلمانوں کے اندر رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ چہ جائیکہ ان کو کلیدی عہدوں پر متمکن کیا جاوے۔ اگر ان انگریز کے ایجنٹوں سے ہم اپنی حکومت کو آگاہ کریں اور کہیں کہ ان کا قبلہ انگلینڈ ہے نہ کہ مکہ اور ان کی وفاداریاں سمندر پار کے آقاؤں سے وابستہ ہیں نہ کہ پاکستان سے تو ہم کو شورش پسند کہا جاتا ہے۔
خدارا سوچو! کدھر جا رہے ہو؟ کن لوگوں کو اپنے اوپر مسلط کر رہے ہو۔ یاد رکھو تمہیں پچھتانا پڑے گا۔ وقت تمہارا انتظار نہیں کرے گا۔ نکلا ہوا تیر واپس نہیں لوٹایا جاسکتا۔ ان کے ارادوں سے ہوشیار رہو۔ یہ جذبہ جہاد مٹا کر دوبارہ غلامی کے اندھے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں۔
اگر مسلمانوں میں جذبہ جہاد نہ ہوتا تو ہماری مٹھی بھر فوج اتنی بڑی فوج کا مقابلہ ہرگز نہ کر سکتی۔ ہماری بقاء کا دارو مدار جذبہ جہاد ہی میں ہے۔ مگر مرزائی اسی درخت کی جڑوں پر تیشہ چلا رہے ہیں۔ ربوہ میں یہی کچھ سکھایا جاتا ہے۔ یہ ربوہ جو ہر آزادی سلب کرنے کا کارخانہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کلام پاک میں ارشاد فرماتے ہیں: ”كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ عَسٰى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ“ ﴿تم پر (کفار سے) قتال فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناپسند ہے۔ قریب ہے جس چیز کو تم ناپسند کرو وہ بہتر ہو تمہارے لئے۔﴾
یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف جہاد بالسیف یعنی لڑائی کا حکم دیا ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ جہاد صرف کفار کے ساتھ ہے۔ جو حملہ آور ہوں۔ اگر یہ ہی تسلیم کر لیا جاوے تو کیا انگریز حملہ آور نہ تھا؟ اس نے مسلمانوں سے ملک ہندوستان بزور شمشیر نہیں چھینا؟ کیا ایسی کوئی حدیث مرزائی پیش کر سکتے ہیں کہ غیر مسلموں نے مسلمانوں سے کوئی ملک چھینا ہو تو حضور علیہ السلام نے مسلمانوں کو حکم دیا ہو کہ غیر مسلم کی حکومت رحمت الٰہی سمجھ کر تسلیم کر لی جاوے۔ اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرم ہے۔ بلکہ شریعت حقہ نے تو بیٹھ رہنے کو جرم قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلّٰهِ“ ﴿لڑو ان کافروں سے یہاں تک کہ مکمل اللہ کی حکومت قائم ہو جاوے۔﴾
حضورﷺ نے فرمایا : ”الجهاد ماض الى يوم القيامة“ ﴿جہاد قرب قیامت تک جاری رہے گا۔﴾
خدارا سوچیں جس جہاد کی تاکید قرآن وحدیث میں آئی ہو۔ سورۃ انفال اور توبہ پوری کی پوری جہاد کے بارے میں اتری ہیں۔ اس جہاد کو قادیانی کذاب بیہودہ بات کہہ رہا ہے۔ کیا یہ قرآن مجید کی تکذیب نہیں؟ کیا جو قرآن مجید کی تکذیب کرے وہ دائرہ اسلام میں رہ سکتا ہے؟ بے شک نہیں رہ سکتا۔ قادیانی اس سے بخوبی واقف تھا۔ مگر دنیا کے لالچ نے اندھا کر دیا۔ ایمان چند ٹکوں میں فروخت کر دیا۔ مہدویت ونبوت کی آڑ میں انگریزوں کی جاسوسی تنظیم کو مضبوط کیا۔
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:۔
گرچہ گوید از مقام بایزید
وہ نبوت ہے مسلمان کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت وشوکت کا پیام
٨٤
قادیانی غیر مسلم اقلیت
یا
اسلام قبول
حضرت مولانا محمد مال
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی مبحث علمی اور یہ بحث ان ارا انسان ہونے کے ساتھ مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان اہم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشاعت کا شرف محترم عبداللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
حق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی بحث تھی اور یہ بحث ان دار انسان ہونے کے ساتھ باقی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان دائم موجود ہے۔ ضرورت ر قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا شرف بحمد اللہ کو یم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ہی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان ) چناب نگر
أنا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانی غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں
یا
اسلام قبول کریں
حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ
فوج کا مقابلہ ہر گز نہ کر سکتی.. ت کی جڑوں پر تیشہ چلا رہے نے کا کارخانہ ہے۔ يکم القتال وهو كره لكم ) قتال فرض کیا گیا ہے اور وہ لئے۔﴿ کا حکم دیا ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ جاوے تو کیا انگریز حملہ آور نہ کیا ایسی کوئی حدیث مرزائی ہو تو حضور علیہ السلام نے ہا جاوے۔ اس کے خلاف نة ويكون الدين كله ے۔ ﴿ یۃ " ﴿ جہاد قرب قیامت سورۃ انفال اور توبہ پوری وہ بات کہہ رہا ہے۔ کیا یہ و اسلام میں رہ سکتا ہے؟ نے اندھا کر دیا۔ ایمان وی تنظیم کو مضبوط کیا۔
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی بحث تھی اور یہ بحث ان ار انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ائمہ کا شرعاً حکم اللہ کو رم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
- خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے پیروکاروں سے
جہاد فرمایا اور بعد کے تمام خلفاء نے یہی کیا۔
- حضرت علی بن ابی طالبؓ نے خارجیوں کے ساتھ قتال کیا۔
- برطانیہ کے قدیم قانون میں وہاں کی اقلیت یہودی اپنی ثقافت ونظریات کی کوئی
اشاعت اور اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ ١١٩٠ء میں ایڈورڈ اوّل نے شاہی فرمان کے ذریعہ یہودیوں کی مذہبی آزادی ختم کر دی تھی اور ان کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا۔ برطانیہ میں ١٢٧١ء میں ہنری ثالث نے یہودیوں کو زمین خریدنے کے حق سے محروم کیا تھا۔
- برطانیہ میں یہودیوں پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے ایک پیلا
بیج استعمال کریں۔
- ١٧٥٤ء تک کوئی یہودی اپنی کوئی جائیداد اپنے مذہبی اداروں کے لئے وصیت نہ
کر سکتا تھا اور اگر وصیت کرے تو اس کو کالعدم قرار دے کر عیسائیوں کو حق تھا کہ وہ وقف اور جائیداد اپنے اداروں کو منتقل کردیں۔
حضرات! ہمارے پاکستان کے قادیانی مسیلمہ کذاب کی امت کا نمونہ اور حضرت علیؓ کے دور کے خوارج اور برطانیہ کی اقلیت یہودیوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
فیصلہ کے لئے پیش کردہ تحریر ملاحظہ فرمائیں۔
آپ کا مخلص: محمد مالک کاندھلوی
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"الحمد لله رب العلمين والعاقبة خاتم الانبياء والمرسلين سيدنا ومولانا مح یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خاتم ا شخص بھی کسی بھی قسم کا دعویٰ نبوت کرے وہ خارج از کرنے والے ہر ایک مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ و فیصلہ ہمیشہ سے تھا۔ تاریخ اسلام میں مدعیانِ نبوت نہیں ۔ سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی تھا۔ جس صحابہؓ کی ایک جماعت روانہ فرمائی تھی۔ جنہوں نے اسود پھر ابوبکر صدیقؓ نے خلافت پر متمکن ہو جماعت کے مقابلہ کے لئے لشکر روانہ کیا۔ اس کو اور اس قتل کیا گیا اور گویا انہوں نے مدعی نبوت اور اس کی ج خلاف جہاد سے مقدم رکھا۔ بہرکیف تاریخ اسلام کے اور خود آنحضرت ﷺ کا فیصلہ یہی رہا۔ ہندوستان می دعویٰ کیا۔ اسی وقت سے علماء نے اس فرقہ کے کفر کو دلا عجم کے علماء بلکہ کل دنیائے اسلام نے متفق ہو کر اس فی الحمد للہ ! کہ حکومت پاکستان نے بھی آ اور خارج از اسلام ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔ جس کو اسلام میں اس قابلِ فخر تاریخی فیصلہ کی تائید وحمایت ہوئے۔ اس وقت اس بحث اور تفصیل کی ضرورت ن میں یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا۔ جو عالم اسلام کی تمنا اور کہ اس فیصلہ نے نہ صرف یہ کہ عالم اسلام کے ایمانی وعظمت کی بلندی کا بھی باعث ہوا۔
٣
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
”الحمد لله رب العلمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين سيدنا ومولانا محمد وآله واصحابه اجمعين“
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ خاتم الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص بھی کسی بھی قسم کا دعویٰ نبوت کرے وہ خارج از اسلام اور مرتد ہے۔ وہ اور اس کی پیروی کرنے والے ہر ایک مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ دنیائے اسلام کی یہ متفقہ قرارداد اور اجمالی فیصلہ ہمیشہ سے تھا۔ تاریخ اسلام میں مدعیان نبوت کے ساتھ جو معاملہ کیا گیا وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی تھا۔ جس کے دعوے نبوت پر خود آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت روانہ فرمائی تھی۔ جنہوں نے اسود عنسی کو قتل کیا۔
پھر ابوبکر صدیقؓ نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی مسیلمہ کذاب مدعی نبوت اور اس کی جماعت کے مقابلہ کے لئے لشکر روانہ کیا۔ اس کو اور اس کی پیروی کرنے والوں کو جہاد و قتال کر کے قتل کیا گیا اور گویا انہوں نے مدعی نبوت اور اس کی جماعت سے جہاد کرنے کو یہود و نصاریٰ کے خلاف جہاد سے مقدم رکھا۔ بہرکیف تاریخ اسلام کے آغاز ہی سے دنیائے اسلام خلفاء راشدین اور خود آنحضرت ﷺ کا فیصلہ یہی رہا۔ ہندوستان میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسی وقت سے علماء نے اس فرقہ کے کفر کو دلائل و حقائق سے واضح کر دیا۔ نہ صرف ہند اور عجم کے علماء بلکہ کل دنیائے اسلام نے متفق ہو کر اس فیصلہ کی حمایت کی۔
الحمد للہ ! کہ حکومت پاکستان نے بھی آئینی طور پر قادیانیوں اور لاہوریوں کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا فیصلہ جاری کیا۔ جس کو تمام دنیا کے مسلمانوں نے سراہا اور کل عالم اسلام میں اس قابل فخر تاریخی فیصلہ کی تائید و حمایت اور پسندیدگی میں مقالے اور مضامین شائع ہوئے۔ اس وقت اس بحث اور تفصیل کی ضرورت نہیں کہ کن حقائق و دلائل اور اصول کی روشنی میں یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا۔ جو عالم اسلام کی تمنا اور ان کے ایمانی تقاضوں کا مظہر تھا۔ الحمد للہ ! کہ اس فیصلہ نے نہ صرف یہ کہ عالم اسلام کے ایمانی تقاضے کی تکمیل کی۔ بلکہ یہ پاکستان کے وقار و عظمت کی بلندی کا بھی باعث ہوا۔
٣
خیال تھا کہ اس فیصلہ پر مرتب ہونے والے نتائج بھی ضرور اس فرقہ پر عائد ہوں گے اور جس طرح وہ اس فیصلہ سے قبل اسلام کا بہروپ بھر کر قادیانیت کی تبلیغ واشاعت میں سرگرم تھے۔ اب اس فیصلہ کے بعد ان کو اس طرح کے سازشی نظام اور دین اسلام کو مسخ کرنے کی قانوناً گنجائش نہیں رہے گی۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے اس سازشی نظام میں کسی طرح کا فرق نہیں آیا۔ جب حقائق اور دلائل کی رو سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ یہ مذہب اور فرقہ دراصل انگریز کا لگایا ہوا پودا تھا۔ جو اس نے اسلام کو مسخ کرنے اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لئے لگایا تھا۔ اسی کی سرپرستی میں اس کو اپنی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر چلانے کی قدرت ہوئی اور اسی کے زیر سایہ ان کو یہ تحفظ حاصل رہا۔
الغرض حکومت پاکستان کے فیصلہ کے بعد ان کے اس نظام کو اصولاً کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ حقائق نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ اس فرقہ کی تمام تر کاوشیں اور جدوجہد براہ راست اسلام کو مسخ کرنے اور ایک نیا دین قائم کرنا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ ملک جس کا نظریہ بھی اسلام ہو اور یہی اس کا مذہب ہو تو یقیناً اس میں اسلام کی تخریب، اسلام کو مسخ کرنے کی جدوجہد دراصل ملک اور نظریہ مملکت سے بغاوت ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی حکومت ایسی سرگرمیوں کو برداشت کر سکتی ہے یا اس کی اجازت دے سکتی ہے۔ جو براہ راست اس ملک کی بنیاد کو مٹانے والی ہوں اور یہ موضوع اس قدر واضح دلائل سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کی تفصیل یا حوالہ کی ضرورت نہیں۔ اس وجہ سے کہ ان ہی حقائق کے ثابت ہونے کی بناء پر حکومت نے یہ فیصلہ صادر کیا ہے۔
اس سلسلہ میں یہ بات بھی نہایت واضح ہے کہ ان حالات کے بعد قادیانی فرقہ کی تبلیغی سرگرمیوں کو اقلیتی فرقہ کی مذہبی آزادی اور اس سے متعلقہ حقوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ مثلاً اگر کوئی بت پرست، بت پرستی کرے یا آتش پرست مجوسی اپنی دینی روایات کو باقی رکھتے ہوئے آتش پرستی، یا عیسائی اپنے گرجاوں میں اپنے مخصوص طریقوں پر عبادت کریں یا اس کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ رکھیں تو ان کی یہ باتیں اور اعمال وافعال براہ راست اسلام کی تخریب اور اسلام کا باغیانہ مقابلہ نہیں۔ لیکن اس کے برعکس قادیانیت دراصل اسلام کی تخریب مقابلہ ہے۔ اصل اسلام اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی جگہ پر دوسری جعلی نبوت اور مذہب باطل کو لانا ہے۔ جس کے دلائل تحقیقاتی عدالتوں میں موجود ہیں اور بلکہ ١٩٥٣ء میں انہی علماء نے ان دلائل وشواہد کا ایک انبار لگا دیا تھا۔ ٤
بہرکیف جب ان سازشانہ امور کے باعث قادیانیوں کی ایسی تمام سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابند وشبہ نہیں۔ اسلام اور ملت اسلام کی تخریب کا یہ سازشی نظا ہی کوئی فرقہ چلا سکتا ہے۔ اس لئے کہ عام مسلمانوں کو ب طرح پورا ہو سکتا ہے کہ مسجدوں کی شکل میں عمارات کاروائیاں جاری کی جائیں۔ جیسے کہ منافقین نے اسی ط مدینہ منورہ میں بنائی تھی اور اس مسجد کو تحفظ دینے کے س میں لے کر آئیں اور آپ ﷺ اس میں نماز پڑھا دیں مسجد ہے۔ پھر اس مرکز تخریب سے وسیع پیمانے پر اسل گی۔ لیکن خداوند نے آپ کو اس پر آگاہ کر دیا اور آنج جاتے آپ نے صحابہ کو بھیجا کہ اس مرکز تخریب کو جس ڈھا دو اور اس کو آگ لگا دو۔ جس کی تفصیل آئندہ انشا
پہلے یہ بات عرض کر دینی ضروری ہے کہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے۔ امت کے تمام آئمہ، علماء اور یہی متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو تعمیر مساجد کا ہرگز حق مسئلہ طے ہو چکا کہ وہ اسلام سے خارج ہیں اور پھر اس بنائیں۔ قرآن کریم کا یہ صاف اور واضح فیصلہ ان الفاظ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”مَا کَانَ لِلْمُـ شٰهِدِیْنَ عَلٰی اَنْفُسِهِمْ بِالْکُفْرِ ط اُولٰٓئِکَ حَبِـ
(توبه:١٧)“
”اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ وَ اٰتَی الزَّکٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰـ
(توبه:١٨)“
مشرکوں کے واسطے اس بات کی کوئی گنجائ وہ گواہ ہیں۔ اپنے اوپر کفر کے۔ یہ لوگ تو وہ ہیں کہ جن ٥
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بی بھی تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ نی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دیتے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انیقہ کا شرک ہم اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
بہر کیف جب ان سازشانہ امور کے باعث یہ فیصلہ ہو چکا تو یقیناً اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کی ایسی تمام سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی عائد ہونی چاہئے اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ اسلام اور ملت اسلام کی تخریب کا یہ سازشی نظام اسلام کا بہروپ بھر کر اور مسجدیں بنا کر ہی کوئی فرقہ چلا سکتا ہے۔ اس لئے کہ عام مسلمانوں کو بہکانے اور دھوکہ کا شکار بنانے کا مقصد اسی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ مسجدوں کی شکل میں عمارات بنا کر اس عمارت کے اندر تخریب اسلام کاروائیاں جاری کی جائیں۔ جیسے کہ منافقین نے اسی مقصد کو بروئے کار لانے کے لئے ایک مسجد مدینہ منورہ میں بنائی تھی اور اس مسجد کو تحفظ دینے کے لئے چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کو اس مسجد میں لے کر آئیں اور آپ ﷺ اس میں نماز پڑھا دیں۔ تو مسلمانوں کو اطمینان ہو جائے گا کہ یہ مسجد ہے۔ پھر اس مرکز تخریب سے وسیع پیمانے پر اسلام کی تخریب کی کاروائیاں جاری کی جائیں گی۔ لیکن خداوند نے آپ کو اس پر آگاہ کر دیا اور آپ بجائے اس کے کہ اس میں تشریف لے جاتے آپ نے صحابہ کو بھیجا کہ اس مرکز تخریب کو جس کی شکل وصورت مسجد کی طرح بنائی ہے۔ ڈھا دو اور اس کو آگ لگا دو۔ جس کی تفصیل آئندہ انشاء اللہ پیش کرتا ہوں۔
پہلے یہ بات عرض کر دینی ضروری ہے کہ تعمیر مساجد صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ یہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے۔ امت کے تمام آئمہ، علماء اور ہر دور کے فقہاء قاضی اور حضرات مفتیان کا یہی متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو تعمیر مساجد کا ہرگز حق نہیں تو اس صورت حال میں کہ قادیانیوں کا مسئلہ طے ہو چکا کہ وہ اسلام سے خارج ہیں اور پھر اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ مسجدیں بھی بنائیں۔ قرآن کریم کا یہ صاف اور واضح فیصلہ ان الفاظ میں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”ماكان للمشركين ان يعمروا مساجد الله شاهدين على انفسهم بالكفر٠ اولئك حبطت اعمالهم وفى النار هم خالدون (توبه:١٧)“
”انما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر واقام الصلوة واتى الزكوة ولم يخش الا الله فعسى اولئك ان يكون من المهتدين (توبه:١٨)“
مشرکوں کے واسطے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں۔ حالانکہ وہ گواہ ہیں۔ اپنے اوپر کفر کے۔ یہ لوگ تو وہ ہیں کہ جن کے اعمال برباد ہوئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں
٥
ش پروردہ اور حق گو انسان خوش گوار اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے پر بھی بحث تھی اور یہ بحث ان ار انسان ہونے کے ساتھ بنی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشاعت کا شہرہ مسلم تھا مگر ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
رہنے والے ہوں گے۔ مساجد اللہ کی تعمیر صرف ایسے ہی لوگ کرتے ہیں۔ جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان لائیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہ ہوں تو ایسے لوگ تو امید ہے کہ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں گے۔
اس آیت مبارکہ نے اس امر کی وضاحت کر دی کہ مشرکین کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ مسجدیں بنائیں اور آباد کریں۔ اگرچہ آیت میں لفظ مشرکین ہے۔ لیکن اس لحاظ سے کفر کی تمام قسمیں خواہ وہ بت پرستی کی شکل میں ہو۔ یا ستاروں کی پرستش یا آگ کی پوجا یا سرے سے خدا کے وجود کا انکار سب کی شکل میں ہو۔ حکم ایک ہی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”الکفر ملة واحدة“
اس بناء پر مرزائی اور قادیانی جو اپنے اس اعتقادی بناء پر اسلام سے خارج ہیں۔ ان میں اور مشرکین میں کوئی فرق نہیں۔ غیر مسلم ہونا جب طے ہو گیا اور مسجد کی تعمیر کا حق بنص قرآنی مسلمان کو ہے۔ لہٰذا یہ سوچنے کی قانوناً کوئی گنجائش نہیں کہ مرزائی تو بت پرست نہیں۔ اگرچہ بت پرست نہیں ۔ مگر کافر تو ہیں اور ہر کافر و بت پرست کا حکم شرعی ایک ہی ہے۔ آیت مبارکہ میں صرف اس منفی پہلو ہی پر اکتفاء نہیں کیا گیا۔ بلکہ مثبت پہلو سے یہ فرما دیا گیا۔ مسجدوں کی تعمیر اور آبادی تو صرف ان ہی لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔ جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ تعمیر مساجد اہل ایمان کا کام ہے جو اپنے عمل اور عقیدے کی رو سے صحیح مسلمان ہوں۔ احکام الٰہی کے پابند ہوں اور ظاہر ہے کہ احکام خداوندی کی پابندی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بغیر کیونکر ہو سکتی ہے؟ تو جس فرقہ کا کفر ثابت ہو چکا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بجائے ایک مدعی نبوت کو نبی قرار دے لیا اور اس طرح کھلم کھلا اسلام اور اصول اسلام کے باغی ہو کر جماعت کی تنظیم کی۔ اپنے آپ کو خود امت مسلمہ سے علیحدہ کر لیا۔ اسی حد تک نہیں بلکہ تمام دنیائے اسلام کے مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔ اپنا قبرستان علیحدہ بنایا۔ اپنے حج کی جگہ قادیان پھر ربوہ تجویز کیا۔ ان تمام باتوں کے شواہد قادیانی فرقہ کی کتابوں میں کثرت سے موجود ہیں اور عدالت میں پیش بھی کئے گئے تو ان سب باتوں کے بعد ان کا مؤمن اور مسلمان ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں اور جب مؤمن نہ ہوئے تو مساجد کی تعمیر کا حق کیونکر حاصل ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اللہ کی مسجدیں اللہ کی عبادت اور بندگی کے واسطے بنائی جاتی ہیں اور جو اس کا باغی ہو اور اسلام کو مٹانے کے درپے ہو وہ ظاہر ہے کہ مسجدوں کی تعمیر کا کوئی حق نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے کہ اگر وہ مسجدیں بنائے
٦
گا تو اللہ کے دین کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ پر بنیادی طور پر یہ بات عقلاً اور شرعاً ثابت ہو گئی کہ ہو۔ وہ اسلام کی مسجدیں نہیں بنا سکتی۔
عمارت کا جو لفظ آیت مبارکہ میں ہے پر در و دیوار کی تعمیر کا کرنا۔ اسی شق میں اس کی مرم دوسرے عبادت اور ذکر الٰہی و تلاوت قرآن سے چیزیں ایمان پر موقوف ہیں۔ جو ایمان والا ہو گا ا ثابت اور مسلم ہو چکا وہ یقیناً کسی درجہ میں مستحق نہیں واعانت کو بھی مساجد کی تعمیر میں درست نہیں قرار دیا
ابن کثیر نے (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥٠ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انـمـا عـمـار ا کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ والے یعنی اور ظاہر ہے کہ جو شخص کافر ہے وہ اللہ وا علیٰ انفسهم بالكفر (توبہ:١٧) ”کہ جو
آلوسی صاحب (تفسیر روح المعانی ج ٢ ص ٥٨) میں آ کے معنی یہ ہیں کہ ان سے وہ باتیں ظاہر اور صادر ہو اپنی زبان سے یہ نہ کہتے ہوں کہ ہم کافر ہیں۔ مراد ی اس کے گواہ ہوتے ہیں۔ خواہ زبان سے وہ کچھ ہی منفی ہی پہلو بیان کرنے پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ شبہ مسجدیں بنانے کا حق صرف اہل ایمان کو ہے اور اس اس سے غرض یہ ہے کہ ان اہل ایمان کو جن کا مقص ہے کہ احکام دین کی اسی صورت میں اتباع اور ان پر ایمان نہیں ہوتا ایک نئی شریعت اور متبادل دین ا ہوئی۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے قبرستان علیحدہ بن ثابت کر دیا کہ ہم امت مسلمہ سے علیحدہ ہیں۔ وہ ام سے ہمارا موت وحیات میں کوئی واسطہ نہیں۔
٧
گا تو اللہ کے دین کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کے دین کو مٹانے کے واسطے بنائے گا۔ اس بناء پر بنیادی طور پر یہ بات عقلاً اور شرعاً ثابت ہو گئی کہ کوئی بھی فرد یا جماعت جو خارج از اسلام ہو چکی ہو۔ وہ اسلام کی مسجدیں نہیں بنا سکتی۔
عمارت کا جو لفظ آیت مبارکہ میں ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک ظاہری اور حسی طور پر در و دیوار کی تعمیر کا کرنا۔ اسی شق میں اس کی مرمت حفاظت صفائی دیکھ بھال بھی داخل ہے۔ دوسرے عبادت اور ذکر الٰہی وتلاوت قرآن سے اس کو آباد کرنا تو تعمیر کرنا اور آباد کرنا دونوں چیزیں ایمان پر موقوف ہیں۔ جو ایمان والا ہوگا اس کو اس بات کا حق پہنچے گا اور جس کا کفر واضح ثابت اور مسلم ہو چکا وہ یقیناً کسی درجہ میں مستحق نہیں۔ اسی وجہ سے فقہاء نے غیر مسلموں کی امداد واعانت کو بھی مساجد کی تعمیر میں درست نہیں قرار دیا۔
ابن کثیر نے (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص١٠٥) پر انس ابن مالکؓ کی حدیث ذکر کی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انما عمار المساجد هم اهل الله“ کہ مسجدوں کو تعمیر کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ والے یعنی ایمان والے ہوں۔
اور ظاہر ہے کہ جو شخص کافر ہے وہ اللہ والوں میں کیونکر شمار ہو سکتا ہے۔ ”شاهدين على انفسهم بالكفر (توبہ:١٧)“ کہ جو اپنے اوپر گواہ ہیں کفر کے۔ کی تفسیر میں علامہ آلوسی صاحب (تفسیر روح المعانی ج١٠ ص٥٨) میں فرماتے ہیں کہ اپنے نفس پر کفر کے گواہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان سے وہ باتیں ظاہر اور صادر ہیں جو ان کے کفر کو ثابت کر رہی ہیں۔ اگرچہ وہ اپنی زبان سے یہ نہ کہتے ہوں کہ ہم کافر ہیں۔ مراد یہ ہے کہ انسان کے مشرکانہ اور کافرانہ افعال خود اس کے گواہ ہوتے ہیں۔ خواہ زبان سے وہ کچھ ہی دعویٰ کرتا ہو۔ اس جگہ پر قرآن حکیم نے صرف منفی ہی پہلو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ مثبت انداز میں بحیثیت قانون یہ واضح فرما دیا کہ مسجدیں بنانے کا حق صرف اہل ایمان کو ہے اور اس کے ساتھ اقام الصلوٰۃ وآتی الزکوٰۃ فرمایا گیا۔
اس سے غرض یہ ہے کہ ان اہل ایمان کو جن کا مقصد دین اسلام کو مجموعی طور پر قائم کرنا ہو اور ظاہر ہے کہ احکام دین کی اسی صورت میں اتباع اور ان کی اقامت ہو سکتی ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ ہو بلکہ ایک نئی شریعت اور نیا دین اور علیحدہ مذہب اختیار اور اختراع کرنے والی جماعت ہو۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے قبرستان علیحدہ بنا کر اپنی مسجدیں جدا تعمیر کر کے خود اس بات کو ثابت کر دیا کہ ہم امت مسلمہ سے علیحدہ ہیں۔ وہ امت مسلمہ جس کو تمام دنیا مسلمان کہتی ہے۔ اس سے ہمارا موت وحیات میں کوئی واسطہ نہیں۔
٧
الغرض یہ روشن اور طریقہ ان کے کفر کا کھلا ہوا ثبوت ہیں اور یہ بھی قادیانیوں پر تمام و کمال صادق آرہے ہیں اور اگر یہ لوگ کسی عمارت کو مسجد کے عنوان سے بنائیں تو اس بارہ میں علامہ آلوسی کی یہ تصریح کافی ہے۔ فرماتے ہیں بعض سلف مفسرین کا اس آیت کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ ایسے لوگ اگر کوئی عمارت بنائیں تو یہ محال ہے کہ اس کا نام مسجد قرار دیا جائے۔
(روح المعانی ج ٣ ص ٥٨)
قرآن شریف نے صرف اسی قانون پر انتہاء نہیں فرمائی۔ بلکہ غیر مسلموں کے لئے مساجد کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا فرمایا گیا: ”يا ايها الذين امنوا انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا وان خفتم عيلة فسوف يغنيكم الله من فضله ان شاء ان الله عليم حكيم (توبه: ٢٨) “
اے ایمان والو! سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ مشرک نجس (پلید) ہیں۔ سو نزدیک نہ آنے پائیں مسجد حرام کے اس سال کے بعد اور اگر تم کو ڈر ہو۔ فقر وتنگ دستی کا تو اللہ اپنے فضل سے تم کو غنی کر دے گا اگر وہ چاہے بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔
نجس کا لفظ عام ہے جو ظاہری اور معنوی ہر قسم کی نجاست کو شامل ہے۔ امام راغبؒ نے فرمایا۔ اس میں وہ نجاست بھی داخل ہے جو آنکھ، ناک یا ہاتھ وغیرہ سے محسوس ہو اور وہ بھی جو علم اور عقل کے ذریعے معلوم ہو۔ اسی وجہ سے ان معنوی نجاسات کو بھی نجس کہا جاتا ہے۔ جن کی گندگی اور نجاست کا حکم شریعت کے ذریعے معلوم ہوا اور اس پر وضو یا غسل واجب کیا گیا اور اسی کے ساتھ ان باطنی نجاسات کو بھی شامل ہے۔ جن کا تعلق انسان کے قلب سے ہے۔ جیسے عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ اور جب کوئی قوم جھوٹے نبی کی پیروی کر کے اسلام سے خارج ہوگئی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نجاست و گندگی ہوگی۔ آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے بعد اس وحی الہی کے ذریعہ یہ اعلان کر دیا کہ مشرکین نجس ہیں۔ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہیں آسکتا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ابو بکر صدیق کو امیر الحج بنا کر مکہ مکرمہ روانہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ اس حکم خداوندی کا جا کر حرم میں اعلان کر دو۔ ابو بکر صدیقؓ اور پھر حضرت علیؓ گئے اور ہر ہر موقعہ پر اس اعلان کو نشر کیا گیا۔
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ (تفسیر معارف القرآن ج٤ ص٣٥٤) پر فرماتے ہیں۔ ” آیت مذکورہ میں جو حکم دیا گیا کہ کوئی مشرک آئندہ مسجد حرام کے قریب
٨
بھی نہیں آسکتا۔ اس میں تین باتیں غور طلب ہیں کہ دوسری مسجدیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں اور اگر مسجد غیر مسلم) کا داخلہ مسجد حرام میں مطلقاً ممنوع ہے یا ہے۔ ویسے جاسکتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اُمت میں یہ بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں؟
ان تفصیلات کے متعلق الفاظ قرآنی چونکہ روایات حدیث کو سامنے رکھ کر ائمہ مجتہدین نے اپنے اس سلسلہ میں پہلی بحث اس بارے میں یہ ہے کہ قرآن دیا ہے۔ اگر ظاہری نجاست یا جنابت وغیرہ مراد ہے جائز نہیں۔ اسی طرح جنابت والے شخص یا حیض ونفاس اور اگر اس نجاست سے مراد کفر و شرک کی باطنی نجاست سے مختلف ہو۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ فقہاء مدینہ امام کے اعتبار سے نجس ہیں۔ ظاہری نجاست سے بھی بعد بھی غسل کا بھی اہتمام نہیں کرتے اور کفر و شرک حکم تمام مشرکین اور تمام مساجد کے لئے عام ہے اس پیش کیا جس میں انہوں نے امراء (حکام) بلاد کو ہدایت دیں اور اس فرمان میں اسی آیت کو بطور دلیل تحریر فرمایا نیز یہ کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان لحائض ولا جنب “ کہ میں کسی حائضہ عورت اور ظاہر ہے کہ مشرکین و کفار عموماً حالت جنابت میں داخلہ مساجد میں ممنوع ہے۔
امام شافعیؒ نے فرمایا کہ یہ حکم مشرکین مسجد حرام کے لئے مخصوص ہے۔ دوسری مساجد میں میں ثمامۃ بن اثال کا واقعہ پیش کیا جن کو مسلمانوں
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ آبائی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ائمہ کا شرعاً حکم، شکو م معہ رابیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
ور یہ بھی قادیانیوں پر تمام سے ہٹائیں تو اس بارہ میں آیت کی تفسیر میں یہ قول ر دیا جائے۔
(روح المعانی ج ٣ ص ٥٨)
بلکہ غیر مسلموں کے لئے ما المشرکون نجس عیلۃ فسوف یغنیکم پلید) ہیں۔ سو نزدیک نہ دستی کا تو اللہ اپنے فضل والا ہے۔ ا ہے۔ امام راغبؒ نے سوس ہو اور وہ بھی جو علم جاتا ہے۔ جن کی گندگی یا گیا اور اسی کے ساتھ ۔ جیسے عقائد فاسدہ اور ج ہوگئی۔ اس سے بڑھ نے فتح مکہ کے بعد اس آئندہ کوئی مشرک مسجد احج ہٹا کر مکہ مکرمہ روانہ یق اور پھر حضرت علیؓ ر معارف القرآن ج ٤ رہ مسجد حرام کے قریب
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی پکی تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ بائی مذہب کا مطالعہ کر کے دیتا بحث دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس کا ثمر سلم الشکو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
بھی نہیں آ سکتا۔ اس میں تین باتیں غور طلب ہیں کہ یہ حکم مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے یا دنیا کی دوسری مسجدیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں اور اگر مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے تو کسی مشرک (یا غیر مسلم) کا داخلہ مسجد حرام میں مطلقاً ممنوع ہے یا صرف حج اور عمرہ کے لئے داخلہ کی ممانعت ہے۔ ویسے جاسکتا ہے۔ تیسرے یہ کہ آیت میں یہ حکم مشرکین کا بیان کیا گیا ہے۔ کفار اہل کتاب بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں؟
ان تفصیلات کے متعلق الفاظ قرآنی چونکہ ساکت ہیں۔ اس لئے اشارات قرآن اور روایات حدیث کو سامنے رکھ کر ائمہ مجتہدین نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق احکام بیان فرمائے۔ اس سلسلہ میں پہلی بحث اس بارے میں یہ ہے کہ قرآن کریم نے مشرکین کو نجس کس اعتبار سے قرار دیا ہے۔ اگر ظاہری نجاست یا جنابت وغیرہ مراد ہے تو ظاہر ہے کہ کسی مسجد میں نجاست کا داخل کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح جنابت والے شخص یا حیض و نفاس والی عورت کا داخلہ کسی مسجد میں جائز نہیں اور اگر اس نجاست سے مراد کفر و شرک کی باطنی نجاست ہے تو ممکن ہے کہ اس کا حکم ظاہری نجاست سے مختلف ہو۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ فقہاء مدینہ امام مالکؒ وغیرہ نے یہ فرمایا ہے کہ مشرکین ہر معنی کے اعتبار سے نجس ہیں۔ ظاہری نجاست سے بھی عموماً اجتناب نہیں کرتے اور جنابت وغیرہ کے بعد بھی غسل کا بھی اہتمام نہیں کرتے اور کفر و شرک کی باطنی نجاست تو ان میں ہے ہی۔ اس لئے یہ حکم تمام مشرکین اور تمام مساجد کے لئے عام ہے اور اس کی دلیل میں عمر بن عبدالعزیزؒ کا وہ فرمان پیش کیا جس میں انہوں نے امراء (حکام) بلاد کو یہ حکم بھیجا تھا کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیں اور اس فرمان میں اسی آیت کو بطور دلیل تحریر فرمایا تھا۔
نیز یہ کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے : ”انـــی لا احـــل الـمـسـجـد لــحــائــض ولا جـنـب “ کہ میں کسی حائضہ عورت یا جنبی شخص کے داخل ہونے کو حلال نہیں سمجھتا اور ظاہر ہے کہ مشرکین و کفار عموماً حالت جنابت میں غسل کا اہتمام نہیں کرتے۔ اس وجہ سے ان کا داخلہ مساجد میں ممنوع ہے۔
امام شافعیؒ نے فرمایا کہ یہ حکم مشرکین و کفار اور اہل کتاب سب کے لئے عام ہے۔ مگر مسجد حرام کے لئے مخصوص ہے۔ دوسری مساجد میں ان کا داخلہ ممنوع نہیں۔ (قرطبی) اور دلیل میں ثمامۃ بن اثال کا واقعہ پیش کیا جن کو مسلمان ہونے سے قبل گرفتاری کے بعد مسجد نبوی کے
٩
سلام پاکستان) جہانگیر ی اسلام کی آغوش میں آمین) م شیخ راحیل احمد کی اس اور اللہ کا شکر ہے کہ اس کو قادیانیوں اور مسلمانوں ائم موجود ہے۔ ضرورت شجاعت دینے لگے۔ ان لی مذہب کا مطالعہ کر کے ار انسان ہونے کے ساتھ م بھی محبت تھی اور یہ محبت ان خوش خو اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے ق پروردہ اور حق گو انسان
ستون سے باندھ دیا تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک آیت میں مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے کی ممانعت کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ سال سے ان کو مشرکانہ طرز پر حج وعمرہ کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔
حضرات حنفیہ نے کسی شدید ضرورت اور مجبوری کے باعث غیر مسلم کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے اور یہ واقعہ ثمامہ بن اثال کا اور اسی طرح نصاریٰ نجران کے وفد کا مسجد نبوی میں آنے کا ان احکام اور آیات کے نزول سے قبل کا ہے۔ کیونکہ یہ آیت ٩ ہجری میں نازل ہوئی اور یہ واقعات اس سے بہت پہلے کے ہیں۔ پھر یہ کہ نصاریٰ نجران کے وفد کا مسجد میں آنا ان کی عبادت کے لئے نہیں تھا۔ وہ تو صرف گفتگو کے لئے تھا۔ یہ قطعا بے بنیاد اور خلاف حقیقت ہے کہ یہ کہا جائے کہ آپ ﷺ نے نصاریٰ کو ان کے طریقہ کے مطابق مسجد میں عبادت کی اجازت دی تھی۔ علیٰ ہٰذا القیاس ثمامة کو ایک قیدی کی حیثیت سے مسجد میں باندھا گیا تھا۔ اس طرح کے تو اتفاقی واقعات ہیں۔ حیوان اور اونٹ کا بھی مسجد میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔ جس کی بناء پر امام بخاری نے صحیح بخاری میں حیوان کے مسجد میں داخل ہونے کا ایک باب قائم کیا۔
الغرض یہ ثابت ہوا کہ کفر و شرک کی نجاست حسی لحاظ سے بھی ہے اور شرعی لحاظ سے بھی۔ اس کے ہوتے ہوئے یہ درست نہیں کہ مسجدوں میں داخل ہونے کی غیر مسلموں کو اجازت دی جائے۔ (احکام القرآن للجصاص جلد دوم ص ٨٨) پر تصریح ہے کہ ثقیف کا وفد فتح مکہ ہی کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ آیت ٩ ہجری میں نازل ہوئی۔“
یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں کو حج بیت اللہ اور حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں اور یہ بات حکومت پاکستان نے بھی تسلیم کر رکھی ہے۔ چنانچہ حج فارم میں یہ تصریح کرنی ہوتی ہے اور اس بیان و ثبوت پر ویزا جاری ہوتا ہے کہ یہ شخص قادیانی نہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع ہوا اور اس طرح ان کو کوئی حق نہیں رہا کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں اور مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں۔ کیونکہ نماز اسلام کی نشانی ہے۔ جب ایک گروہ اسلام سے خارج ہے اور یہ خارج از اسلام ہونا صرف علمی تحقیقی اعتقادی اور مذہبی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ قانون اسلام کو ملک کے فیصلے سے اور شرعی فیصلے کو حکومت پاکستان کی قرارداد اور فیصلہ کرنے کا مقام حاصل ہو چکا۔ جس کی وجہ سے اس فیصلہ کو قانون ہی کی حیثیت میں سمجھنا ہوگا۔ یہ بات نہایت ہی بعید از فہم ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کوئی قانون نہیں ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ جب
١٠
ملک کے آئین میں ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے اظہار اور اس چیز سے ہم یہ کہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ کیو ہم اس کو ظاہر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
اول تو اس لئے کہ جس ملک کا مذہب اس قانونی حیثیت حاصل ہے اور پھر جب کہ آئین میں جاری کر دیا گیا ہے تو قانون اسلام ہونے کے ساتھ
یہ بات کہ ہر ایک کو اپنے عقیدے کے جس عقیدے کا اظہار اعلان اس حکومت کے فیصلہ اور بغاوت ہو۔ اس کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اس بھی دانشمند انسان کے نزدیک لائق توجہ امر نہیں۔
تو اس صورتحال میں کہ مسجد میں اسلام کا مسجد ہے۔ قادیانیوں کو نہ مسجد بنانے کا حق ہو سکتا ہے نہ ان کو قبلہ رخ بنا سکتے ہیں۔
جب حکومت پاکستان قادیانیوں کو حج ہے۔ اس بنیاد پر حج بیت اللہ مسلمان کی عبادت کا خا ہٰذا القیاس نماز بھی اسلام ہی کا رکن خاص ہے اور د طور پر نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔
مسجدیں صرف مسلمانوں کی ہوتی ہیں امر کو ثابت کر رہی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ولو لهدمت صوامع وبيع وصلوات وم (الحج:٤٠) ”اور اگر نہ ہوتا اللہ کا ہٹانا لو صوامع یعنی (یہود کی خانقاہیں) اور کلیسا وگر جے ا جاتا ہے۔ کثرت سے۔﴾
احکام القرآن روح المعانی اور تفسیر مذاہب کی عبادت گاہوں کے نام بیان کر کے یہ ت
ملک کے آئین میں ہر شخص کو اپنے مذہب اور عقیدے کے اظہار کی آزادی ہے تو ہم کو اسلام کے اظہار اور اس چیز سے ہم یہ کہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ کیسے روکا جا سکتا ہے۔ یہ ہمارا اپنا عقیدہ ہے اور ہم اس کو ظاہر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
اوّل تو اس لئے کہ جس ملک کا مذہب اسلام ہو اس ملک میں اسلامی فیصلہ کو خود بخود قانونی حیثیت حاصل ہے اور پھر جب کہ آئین میں ترمیم کے ساتھ اس کو حتمی فیصلہ کی نوعیت سے جاری کر دیا گیا ہے تو قانونِ اسلام ہونے کے ساتھ یہ ملک کا بھی قانون ہو گیا۔
یہ بات کہ ہر ایک کو اپنے عقیدے کے اظہار کی آزادی ہے۔ یہ درست ہے۔ لیکن جس عقیدے کا اظہار اعلان اس حکومت کے فیصلہ اور قانون کے صریح خلاف بلکہ اس کا مقابلہ اور بغاوت ہو۔ اس کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اس کا نام حقوقِ مذہب کی آزادی قرار دینا کسی بھی دانشمند انسان کے نزدیک لائقِ توجہ امر نہیں۔
تو اس صورتحال میں کہ مسجدیں اسلام کا نشان ہیں اور مسلمان ہی کی عبادت گاہ کا نام مسجد ہے۔ قادیانیوں کو نہ مسجد بنانے کا حق ہو سکتا ہے اور نہ اپنی مسجدوں کا نام مسجد رکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو قبلہ رخ بنا سکتے ہیں۔
جب حکومتِ پاکستان قادیانیوں کو حج سے روکنے کو اس قرارداد کے نتائج میں سے سمجھتی ہے۔ اس بنیاد پر حج بیت اللہ مسلمان کی عبادت کا نام ہے۔ اسی وجہ سے غیر مسلم حج نہیں کر سکتا۔ علیٰ ہٰذا القیاس نماز بھی اسلام ہی کا رکنِ خاص ہے اور دینِ اسلام کا خصوصی نشان ہے۔ اس لئے قانونی طور پر نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔
مسجدیں صرف مسلمانوں کی ہوتی ہیں۔ اس کے لئے قرآن کریم کی واضح تصریح اس امر کو ثابت کر رہی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”ولولا دفع اللہ الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع وبيع وصلوات ومساجد يذكر فيها اسم الله كثيراً (الحج:٤٠) “ ﴿اور اگر نہ ہوتا اللہ کا ہٹانا لوگوں کو بعض کو بعض کے ذریعہ تو ڈھا دیئے جاتے صوامع یعنی (یہود کی خانقاہیں) اور کلیسا و گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ کثرت سے۔ ﴾
احکام القرآن روح المعانی اور تفسیر خازن میں یہ تصریح ہے کہ اس آیت میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کے نام بیان کر کے یہ ظاہر کر دیا گیا کہ راہبوں کے خانقاہ صوامع اور یہود
١١
کے عبادت خانے صلوات اور عیسائیوں کی عبادت گاہیں بیع یعنی کلیسا (گرجا) ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہی ثابت ہوا کہ مسجدوں کی تعمیر صرف مسلمانوں کا حق ہے اور کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ کا نام مسجد نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ اصحاب کہف کے قصے میں یہ مضمون : ”قال الذین غلبوا على امرهم لنتخذن عليهم مسجداً
(الکھف: ٢١)
“کہ کہا ان لوگوں نے جو اپنے معاملہ پر غالب رہے کہ البتہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔
مسجد کا اطلاق قبل از اسلام ایک ملت میں بولا گیا اور قبل از اسلام جو ادیان سماویہ اپنی اصلی ہیئت اور تعلیم پر برقرار رہے۔ ان کی اصلی بنیاد اور روح دراصل اسلام ہی کی روح ہے اور اسلام تمام ہدایات حقہ اور تعلیمات سماویہ کا لب لباب اور جوہر اور مجموعہ ہے۔ لیکن اسلام کے بعد جب قرآن نے دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کیا اس میں لفظ مسجد خاص طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ کے واسطے مخصوص کیا گیا۔ اس وجہ سے یہی ثابت ہوا کہ قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے کا کوئی جواز اس قرآنی وضاحت کے بعد باقی نہیں رہتا۔ یہ لوگ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود بھی کہتے ہیں۔ اس لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو بیوت احمدیہ قرار دیں۔ یا ہر عبادت گاہ کو دار احمدیت کہیں۔ یا ایسا ہی کوئی اور مناسب نام اور اگر قادیانی کہنے میں کوئی عار محسوس کریں تو مسیح موعود کی طرح منسوب ہونے کے باعث اپنا نام مسیحی رکھیں۔ کیونکہ مسلمان تو وہی ہوگا جو اسلام کے تمام اصول پر بنیادی باتوں کو مانتا ہو اور اس کا کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ہو۔ مگر وہ قوم جس نے اپنا نیا پیغمبر تجویز کر لیا ہو اور کلمہ بھی احمد رسول اللہ متعین کر لیا ہو۔ (جس کے ثبوت موجود ہیں) اب ان کو کوئی حق نہیں کہ خود کو مسلمان کہیں۔ یہ فلسفہ کوئی عقل والا نہیں سمجھ سکتا کہ اسلام کی بنیاد کو ختم کر ڈالیں اور تمام دنیا کے مسلمانوں سے جدا عبادت گاہیں بنائیں۔ قبرستان علیحدہ کرلیں تو جب سب باتیں علیحدہ کر لی گئیں تو پھر اس کا کیا جواز رہ گیا کہ وہ یوں کہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو مسلمان کے ساتھ نماز پڑھتے ۔ مسلمانوں کی مسجدوں کو اپنی مسجد سمجھتے ۔ مسلمانوں کے پیغمبر کے علاوہ اور کوئی پیغمبر تجویز نہ کرتے۔ یہ بات تو ایسی ہی ہو گئی کہ کوئی شخص توحید خداوندی کا انکار کر دے یا یوں کہنے لگے کہ فلاں خدا ظلی اور بروزی خدا ہیں اور میں یہ دوسرا ظلی اور بروزی خدا کا قائل ہونے سے اصل خدا کا منکر نہیں۔ بلکہ موحد ہی ہوں اور میرا اس پر ایمان ہے تو اس تمسخر اور خلاف عقل بات کو کوئی گوارا ١٢
تک نہیں کرے گا اور پھر بھی یہ کہے کہ میرا عقیدہ یہی ہے مرزائیوں اور قادیانیوں کا ایمان بالرسالت کے معاملہ میں پرستی کرتا ہو یا بتوں کو سجدہ کرتا ہو اور پھر بھی اس کا اصرار ہو ہے۔ خواہ قانون کی نظر میں اس کو مشرک یا آتش پرست کہا ختم نبوت کا انکار یا خاتم الانبیاء کے بعد کسی اور پیغمبر کے وہ طرح خارج کر دیتا ہے جیسے کہ بت پرست یا آتش پرستی یہ منطق کوئی عقل والا کیسے سن سکتا ہے کہ ایک شخص میں اس جانے کے بعد بھی دعویٰ کر رہا ہو کہ نہیں میں اسلام سے خا میرا عقیدہ ہے۔
الغرض اس قانونی میعاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ قانونی اور شرعی فیصلہ خارج از اسلام ہونے کا ہو چکا ہو اس جائے۔ ان حالات میں ایسی جماعت کا اپنے اسلام کا دع ساتھ بغاوت ، کے مترادف ہے۔ رہی یہ بات کہ کوئی یہ ک نے ارشاد فرمایا: ”من صلى صلوتنا واستق المسلم الذی له ذمة الله ذمة رسوله (البخا کہ جس شخص نے ہم جیسی نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کا ایسا مسلمان ہے جس کے واسطے اللہ اور اس کے رسول کا ذ اور اس بناء پر کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور قبلہ اور مجھ کو مسلمان شمار کرنا چاہئے۔ تو یہ استدلال بھی نہا قادیانیوں کی نماز ہماری نماز یعنی مسلمانوں کی نماز ہی ہماری مسجد میں ہو۔ ہمارے ساتھ ہو ہمارے امام کے پچھ جب ہر چیز میں قادیانی جدا ہو گئے اعتقاد میں جدا ، مسجد تو عجب بات ہے کہ جب سب کچھ علیحدہ ہو گیا تو پھر ف حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ جو شخص ہمارے جیسی نماز نماز کہلانے کی کسی حیثیت سے مصداق نہیں ہو سکتی ۔ ١٣
سلام پاکستان) جہانگیر ی اسلام کی آغوش میں آمین) م شیخ راحیل احمد کی اس اور انتحاف کا شر لکھم اللہ کو قادیانیوں اور مسلمانوں ائم موجود ہے۔ ضرورت یہ جماعت دینے لگے۔ ان بانی مذہب کا مطالعہ کر کے ار انسان ہونے کے ساتھ سچی محبت تھی اور یہ محبت ان خوش گو اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے ش پروردہ اور حق گو انسان
تک نہیں کرے گا اور پھر بھی یہ کہے کہ میرا عقیدہ یہی ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ بالکل یہی حال مرزائیوں اور قادیانیوں کا ایمان بالرسالت کے معاملہ میں ہے یا ایسا سمجھ لیجئے کہ کوئی شخص آتش پرستی کرتا ہو یا بتوں کو سجدہ کرتا ہو اور پھر بھی اس کا اصرار ہو کہ مجھے مسلمان کہو اور یہ میرا اپنا عقیدہ ہے۔ خواہ قانون کی نظر میں اس کو مشرک یا آتش پرست کہا جائے اور یہی حال قادیانیوں کا ہے کہ ختم نبوت کا انکار یا خاتم الانبیاء کے بعد کسی اور پیغمبر کے وجود کا تصور انسان کو دین اسلام سے اسی طرح خارج کر دیتا ہے جیسے کہ بت پرست یا آتش پرستی سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو یہ منطق کوئی عقل والا کیسے سن سکتا ہے کہ ایک شخص میں اسلام سے خارج ہو جانے کی علت پائے جانے کے بعد بھی دعویٰ کر رہا ہو کہ نہیں میں اسلام سے خارج نہیں۔ بلکہ میں مسلمان ہوں اور یہ میرا عقیدہ ہے۔
الغرض اس قانونی بنیاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ جس فرقہ کا حکم اور فیصلہ قانونی اور شرعی خارج از اسلام ہونے کا ہو چکا ہو اس کو مسلمان کہنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ ان حالات میں ایسی جماعت کا اپنے اسلام کا دعویٰ کھلم کھلا قانون اور ملک کے فیصلہ کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔ رہی یہ بات کہ کوئی یہ کہے کہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”من صلی صلوٰتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی له ذمة الله و ذمة رسوله
(البخاری ج ١ ص ٥٦ ، مشکوۃ المصابیح)“
﴿کہ جس شخص نے ہم جیسی نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ شخص تو ایسا مسلمان ہے جس کے واسطے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔﴾
اور اس بناء پر کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور قبلہ کا استقبال کرتا ہوں۔ لہٰذا میں مسلمان ہوا اور مجھ کو مسلمان شمار کرنا چاہئے۔ تو یہ استدلال بھی نہایت ہی بعید از عقل و قانون ہے۔ کیونکہ قادیانیوں کی نماز ہماری نماز یعنی مسلمانوں کی نماز ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری نماز تو وہ ہو گی جو ہماری مسجد میں ہو۔ ہمارے ساتھ ہو ہمارے امام کے پیچھے ہو اور ہمارے جیسے اعتقاد کے ساتھ ہو۔ جب ہر چیز میں قادیانی جدا ہو گئے اعتقاد میں جدا، مسجدیں جدا، نمازیں جدا، امام بھی علیحدہ تو عجب بات ہے کہ جب سب کچھ علیحدہ ہو گیا تو پھر ان کی نماز مسلمانوں جیسی نماز کہاں ہوئی۔ حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھے اور یقیناً قادیانیوں کی نماز ہی ہماری نماز کہلانے کی کسی حیثیت سے مصداق نہیں ہو سکتی۔ پھر جب کہ قادیانی کے نزدیک دنیا کے کل
١٣
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی گھٹی تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ بائی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور احناف کا شرعاً حکم الشکوٰ ام شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
مسلمان اس بناء پر کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ان کے زعم میں کافر ہیں تو ان کی نماز ہماری جیسی نماز کیونکر ہوگی تو کیا کافروں جیسی نماز سے انسان مسلمان کہلائے گا۔
الغرض! یہ نہایت واضح اور سیدھی بات ہے۔ جب تک تمام دنیا کے مسلمان، مسلمان ہیں۔ کوئی قادیانی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر کوئی طاقت ایسی ہے کہ کل دنیا کے اسلام کے مسلمانوں کا کفر ثابت کر دے تو پھر اس کا امکان ہوگا کہ کسی قادیانی کو مسلمان کہا جا سکے اور اس امر کا فیصلہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے کر دیا۔ جب کہ انہوں نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی اور اس موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے بھی نماز میں شریک ہونے کے بجائے ان لوگوں کی جگہ بیٹھے رہے۔ جہاں غیر مسلم سفراء اور زعماء تھے۔ جب دریافت کیا گیا کہ قائد اعظم کے جنازے میں کیوں نہیں شریک ہوئے۔ جواب دیا اس میں کیا تعجب کی بات ہے۔ میں تو کافر حکومت کا ایک مسلمان وزیر ہوں۔ تو چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے اس وجہ کو بیان کر کے یہ اعتراف کر لیا اور ثابت کر دیا کہ قادیانی اور غیر قادیانی دونوں مسلمان نہیں ہو سکتے۔ ان میں سے ایک ہی مسلمان ہو سکتا ہے اور دوسرا کافر ہوگا۔
اس لئے اس فیصلہ کی رو سے جب تک دنیائے اسلام کے مسلمان مسلمان ہیں کوئی قادیانی مسلمان نہیں کہلایا جا سکتا اور اس بات کے واسطے کہ قادیانی شخص کو مسلمان کہا جاسکے۔ پہلے تمام دنیا کے مسلمانوں کے کفر کو ثابت کرنے کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔
عدالت عالیہ کیا اس جسارت کا اندازہ نہیں لگاتی کہ کس بے باکی کے ساتھ ایک جھوٹے نبی کی نبوت پر ایمان نہ لانے کی بناء پر دنیا کے کل مسلمانوں کو کافر کہا جارہا ہے تو اگر اس مفروضہ پر قادیانی شخص روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک سچے برحق پیغمبر خاتم الانبیاء والمرسلین کی ختم نبوت کا انکار کرنے والے اور ان کے فرمان کا کفر کرنے والوں کو کافر نہ کہا جائے اور پھر یہ کیا بوالعجبی ہے کہ کفر کا ارتکاب ہو۔ ہزاروں دلائل اور براہین سے کفر ثابت ہو چکا ہو اور پھر بھی دعویٰ! کہ ہم مسلمان ہیں۔
دنیا میں کوئی قانون اس بات کے جواز کا تصور نہیں کر سکتا۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر مذہب کے شعائر اور خصوصی نشانات ہوتے ہیں اور ان ہی چیزوں کو اس مذہب کی نشانی اور امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ نماز اور مسجد اسلام کا شعار اور خصوصیت ہے۔ تو جو گروہ اسلام سے خارج
١٤
ہے اس کو کیسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ان خصوصیات کو اختیار کرے فوجی لباس پہن لے تو قانونا مجرم ہے اور سزا کا مستحق ہے تو مسلمانوں سکتا ہے جو مسلمان ہو۔
اس سلسلہ بحث میں کہ کیا غیر مسلموں کو اسلامی شعائر اور حق حاصل ہے یا نہیں؟ ہم ایک بہت اہم اور وزنی دستاویز کا حوالہ پیش امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق کا وہ معاہدہ ہے جو شام ” مدينة كذا علينا سالناكم الامان لانفسنا وذرارينا واموالنا وفيما حو على انفسنا ان لا نحدث فى مدينتنا ولا فيما حولها قلاية ولا صومعة راهب ولا نجدد ما خرب منها ولا نـ للمسلمين وان لا نمنع كنائسنا ان ينزلها احد من المـ وان نوسع ابوابها للمارة وابن السبيل وأن ننزل ثلاثة ايام نطعمهم ولا نؤوى فى كنائسنا ولا منازلنا جـ للمسلمين ولا نعلم اولادنا القرآن ولا نظهر شركنا و نمنع احد من ذوى قرابتنا الدخول فى الاسـ قر المسلمين وان نقوم لهم من مجالسنا ان ارادو الجلو شئ من ملابسهم فى قلنسوه ولا عمامة ولا نعلين ولا فـ جس کو حفاظ محدثین نے عبدالرحمن بن غنم الاشعری کی سنـ عمر فاروق کا وہ معاہدہ لکھا تھا اور ان سے شام کے نصاریٰ نے کہا تھا۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
یہ معاہدہ ہے امیر المؤمنین عمر بن الخطاب کے لئے فلاں طرف سے کہ آپ لوگ ہمارے یہاں آکر اترے (یعنی فتح کے بعد طلب کیا اپنی جانوں کے نصرانیوں سے انہوں نے قبول کیا اور اس پر ا زندگی کے جملہ عملی شعبوں میں اس کی پابندی کریں گے۔
اس معاہدہ کا متن حافظ عمادالدین ابن کثیر الدمشقی نے اپ والنہایۃ “ اور تفسیر ابن کثیر میں نقل کیا ہے۔ معاہدہ کا متن آئندہ آ
١٥
ہے اس کو کیسے یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ ان خصوصیات کو اختیار کرے۔ اگر فوج کا باغی اور غیر فوجی فوجی لباس پہن لے تو قانوناً مجرم ہے اور سزا کا مستحق ہے تو مسلمانوں کے شعار صرف وہی اختیار کر سکتا ہے جو مسلمان ہو۔
اس سلسلہ بحث میں کہ کیا غیر مسلموں کو اسلامی شعائر اور خصوصیات کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ ہم ایک بہت اہم اور وزنی دستاویز کا حوالہ پیش کر سکتے ہیں وہ اہم دستاویز امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق کا وہ معاہدہ ہے جو شام میں ”مدينة كذا وكذا انكم لما قدمتم علينا سالناكم الامان لا نفسنا وذرا رينا واموالنا واهل ملتنا وشرطنا لكم على انفسنا ان لا تحدث فى مدينتنا ولا فيما حولها ديراً ولا كنيسة ولا قلاية ولا صومعة راهب ولا نجد و ما خرب منها ولا نحي منها ماكان خططاً للمسلمين وان لا نمنع كنائسنا ان ينزلها احد من المسلمين في ليل او نهار وان نوسع ابوابها للمارة وابن السبيل وأن ننزل من مرّبنا من المسلمين ثلاثة ايام نطعمهم ولا نوؤى فى كنائسنا ولا منازلنا جاسوساً ولا نكتم غشا للمسلمين ولا نعلم اولادنا القرآن ولا نظهر شركا ولا ندعو اليه أحداً ولا نمنع احد من ذوى قرابتنا الدخول فى الاسلام ان ارادوه وان نو قر المسلمين وان نقوم لهم من مجالسنا ان ارادو الجلوس ولا نتشبه بهم في شئ من ملابسهم فى قلنسوه ولا عمامة ولا نعلين ولا فرق شعر“ جس کو حفاظ محدثین نے عبدالرحمن بن غنم الاشعری کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں عمر فاروق کا وہ معاہدہ لکھا تھا اور ان سے شام کے نصاریٰ نے کہا تھا۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
یہ معاہدہ ہے امیر المؤمنین عمر بن الخطاب کے لئے فلاں فلاں علاقہ کے نصاریٰ کی طرف سے کہ آپ لوگ ہمارے یہاں آ کر اترے (یعنی فتح کے بعد) اور ہم نے آپ سے امن طلب کیا اپنی جانوں کے لیے انہوں نے قبول کیا اور اس پر ان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے جملہ عملی شعبوں میں اس کی پابندی کریں گے۔
اس معاہدہ کا متن حافظ عماد الدین ابن کثیر الدمشقی نے اپنی کتاب ”البدایــــــــــه والنهایة“ اور تفسیر ابن کثیر میں نقل کیا ہے۔ معاہدہ کا متن آئندہ آتا ہے۔ تو پھر ان حالات میں
١٥
سلام پاکستان) جہانگیر ی اسلام کی آغوش میں آمین) م شیخ راحیل احمد کی اس اور اشاعت کا شرف سلمہ اللہ کو قادیانیوں اور مسلمانوں ائم موجود ہے۔ ضرورت و شجاعت دینے لگے۔ ان باقی مذہب کا مطالعہ کر کے ار انسان ہونے کے ساتھ ہی کی محبت تھی اور یہی محبت ان خوش گوار اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے ں پروردہ اور حق گو انسان
شرعی اصول قرآنی تصریح اور حکومت پاکستان کے فیصلہ کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں کہ مرزائیوں کو خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری مسجدوں کی اجازت دی جائے۔
اس آیت کی تفسیر میں حافظ عمادالدین ابن کثیر رحمہم اللہ نے اپنی تفسیر کی جلد ثانی ص ١١٧، ١١٨ پر امیرالمومنین عمر فاروقؓ کا ایک معاہدہ نقل کیا ہے جو انہوں نے شام کے نصاریٰ سے کیا۔ اس معاہدہ کی رو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی اسلامی سلطنت میں اقلیت کے حقوق کیا ہیں اور ان پر کس طرح کی پابندی عائد ہے اور کیا کیا کام کرنے کا ان کو استحقاق ہے۔ اس معاہدہ کو ائمہ محدثین نے عبدالرحمٰن بن غنم کی سند سے روایت کیا ہے۔ جس کا متن حسب ذیل ہے۔
”وذلك مما رواه الائمة الحفاظ من رواية عبدالرحمن بن غنم الاشعرى قال كتبت الى عمر بن الخطاب حين صالح نصارى من اهل الشام“
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”هذا كتاب لعبد الله عمر امير المؤمنين من نصارى“ اور اپنی ذریت اور اپنے مالوں کے لئے اور (اس بناء پر) ہم نے اپنے اوپر اس بات کی پابندی قبول کی ہے کہ ہم اپنے شہر اور شہر کے اطراف میں کوئی گرجا نہیں تعمیر کریں گے اور نہ راہبوں کی کوئی خانقاہ و تعلیم گاہ اور جو عبادت گاہیں منہدم ہوں یا ان میں ٹوٹ پھوٹ ہو ہم اس کی تجدید بھی نہ کریں گے اور ایسی کوئی عمارت ہم مسلمانوں کے علاقہ میں بھی نہیں بنائیں گے اور ہم اپنے گرجاؤں کو مسلمانوں سے نہیں روکیں گے کہ اس چیز سے وہ ان میں ٹھہریں رات میں یا دن میں اور ان کے دروازے ہم کھلے رکھیں گے۔ گزرنے والے لوگوں اور مسافروں کے لئے اور جن مسلمانوں کو ہم ان میں دیکھیں گے ہم اس کو کھانا کھلائیں گے اور ہم اپنے گرجاؤں اور صومعوں میں کسی جاسوس کو پناہ نہیں دیں گے اور مسلمانوں کے لئے ہم کسی قسم کا کھوٹ اپنے دلوں میں نہیں رکھیں گے اور ہم اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم نہیں دیں گے اور نہ شرک کا اظہار کریں گے۔ یعنی نصاریٰ کے مشرکانہ طریقوں کا ہم کسی کے سامنے اظہار اعلان نہیں کر سکیں گے اور نہ ایسے شرک کی طرف کسی کو دعوت دیں گے اور ہم اپنے قرابت داروں میں سے کسی کو اسلام میں آنے سے نہیں روکیں گے۔ اگر کوئی اسلام میں داخل ہونا چاہے گا ہم مسلمانوں کی تعظیم وتکریم کریں گے اور ان کے احترام میں ہم اپنے مجلسوں سے اٹھا کریں گے اور ہم نہ ان کے لباس میں مشابہت اختیار کریں گے اور نہ ان کی ٹوپی اور عمامہ میں اور نہ جوتوں میں اور نہ ہی سر کے بالوں اور مانگ میں۔
١٦
”ولا تكلم لكلامهم ولا نكتنى بكنا السيوف ولا نتخذ شيئا من السلاح ولا بالعربية ولا نبيع الخمور و ان نجز مقاديم ر وان نشد الزنانير على اوساطنا وأن لا نظ نظهر صليبنا ولا كتبنا فى شئ من طرق ال نواقيسنا فى كنائسنا الاضربا خفيفا وأ نظهر النيران معهم فى شئ من طرق المس بموتانا ولا نتخذ من الرقيق ماجرى المسلمين ولا نطلع عليهم فى منازلهم“
”قال فلما اتيت عمر بالكتاب المسلمين شرطنا لكم ذلك على انفسنا وا نحن خالفنا فى شئ مما شرطناه لكم وو جدلكم مناما يحل من اهل المعاندة والشقاق
اور نہ ان کے خصوصی الفاظ بولیں گے اور نہ سوار ہوں گے (یعنی اگر گھوڑے پر بیٹھنے کی ضرورت ہو طرح اپنے تذلل اور پستی کو ظاہر رکھیں گے) اور نہ تلوا انگشتریوں پر نقش کندہ کرائیں گے نہ ہتھیار مہیا کریں شرابوں کی بیع وشراء کریں گے اور نہ سر کے آگے کے ہوں گے اپنی خصوصی وضع برقرار رکھیں گے اور زنار گرجاؤں میں بھی نمایاں نہیں کریں گے اور نہ اپ راستوں اور بازاروں میں نمایاں کریں گے اور نہ اپ اپنے جنازوں کے ساتھ آوازیں بلند کریں گے اور نہ جیسا کہ ان کا طریقہ تھا) مسلمانوں کے راستوں میں حصے میں آگئے ہیں ان سے ہم کوئی خدمت نہیں لیں ایسے ہی مسلمانوں کے گھروں تک بھی پہنچائیں گے (
١٧
و سے یہ ممکن ہی نہیں کہ مرزائیوں کو خواہ ثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کی جلد ثانی یا ہے جو انہوں نے شام کے نصاریٰ سلطنت میں اقلیت کے حقوق کیا ہیں ان کو استحقاق ہے۔ اس معاہدہ کو ائمہ کا متن حسب ذیل ہے۔ من رواية عبدالرحمن بن ث حین صالح نصارى من ن من نصاریٰ“ اور اپنی ذریت بات کی پابندی قبول کی ہے کہ ہم ر نہ راہبوں کی کوئی خانقاہ و تعلیم گاہ کی تجدید بھی نہ کریں گے اور ایسی ہم اپنے گرجاوں کو مسلمانوں سے دن میں اور ان کے دروازے ہم اور جن مسلمانوں کو ہم ان میں صومعوں میں کسی جاسوس کو پناہ ں میں نہیں رکھیں گے اور ہم اپنی گے۔ یعنی نصاریٰ کے مشرکانہ ایسے شرک کی طرف کسی کو دعوت نے سے نہیں روکیں گے۔ اگر کوئی ں گے اور ان کے احترام میں ہم ست اختیار کریں گے اور نہ ان کی میں۔
”ولا تكلم لكلامهم ولا نكتنى بكناهم ولا نركب السروج ولا نتقلد السيوف ولا نتخذ شيئا من السلاح ولا نحمله معنا ولا ننقش خواتيمنا بالعربية ولا نبيع الخمور و ان نجز مقاديم رؤسنا وان نلزم زينا حيثما كنا وان نشد الزنانير على اوساطنا وأن لا نظهر الصليب على كنائسنا وان لا نظهر صليبنا ولا كتبنا فى شئ من طرق المسلمين ولا أسواقهم ولا نضرب نواقيسنا فى كنائسنا الا ضربا خفيفا وان لا نفرع اصواتنا مع موتانا ولا نظهر النيران معهم فى شئ من طرق المسلمين ولا اسواقهم ولا تجاورهم بموتانا ولا نتخذ من الرقيق ماجرى عليه سهام المسلمين وأن نرشد المسلمين ولا نطلع عليهم فى منازلهم“
”قال فلما اتيت عمر بالكتاب زادفيه ولا نضرب احداً من المسلمين شرطنا لكم ذلك على انفسنا واهل ملتنا وقبلنا عليه الأمان فان نحن خالفنا فى شئ مما شرطناه لكم ووظفنا على انفسنا فلا ذمة لنا وقد حللكم مناما يحل من اهل المعاندة والشقاق“
(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ١١٧، ١١٨)
اور نہ ان کے خصوصی الفاظ بولیں گے اور نہ ان کی کنیت اختیار کریں گے اور نہ زین پر سوار ہوں گے (یعنی اگر گھوڑے پر بیٹھنے کی ضرورت ہوگی تو بلا زین کے ان پر بیٹھیں گے۔ گویا اس طرح اپنے تذلل اور پستی کو ظاہر رکھیں گے) اور نہ تلواریں لٹکائیں گے اور نہ عربی الفاظ میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش کندہ کرائیں گے نہ ہتھیار مہیا کریں اور نہ ان کو اپنی ساتھ اٹھائیں گے اور نہ شرابوں کی بیع وشراء کریں گے اور نہ سر کے آگے کے حصے کے بال کاٹا کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے اپنی خصوصی وضع برقرار رکھیں گے اور زنار اپنی پشت پر ڈالیں گے اور ہم صلیب کو اپنے گرجائوں میں کبھی نمایاں نہیں کریں گے اور نہ اپنے صلیب اور مذہبی کتابیں مسلمانوں کے راستوں اور بازاروں میں نمایاں کریں گے اور نہ اپنے گرجائوں میں ناقوس بجائیں گے اور نہ ہم اپنے جنازوں کے ساتھ آوازیں بلند کریں گے اور نہ آگ روشن کریں گے۔ (جنازوں کے ساتھ جیسا کہ ان کا طریقہ تھا) مسلمانوں کے راستوں میں اور نہ بازاروں میں اور جو غلام مسلمانوں کے حصے میں آگئے ہیں ان سے ہم کوئی خدمت نہیں لیں گے اور مسلمانوں کو راستہ بھی بتائیں گے اور ایسے ہی مسلمانوں کے گھروں تک کبھی پہنچائیں گے (اگر کوئی اس کا ضرورت مند ہوگا)
١٧
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ انی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ان کا حشر معلوم (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
راوی بیان کرتے ہیں کہ جب میں یہ معاہدہ لکھ کر عمر فاروق کے پاس لایا تو آپ نے اس میں ایک چیز کا اور اضافہ کر دیا کہ: ”ہم کسی مسلمان کو ماریں گے بھی نہیں ۔ ہم نے یہ معاہدہ قبول کیا ۔“ اس معاہدہ کے متن سے واضح طور پر یہ باتیں ثابت ہوئیں کہ غیر مسلم اقلیت کو تو خود اپنے مذہبی نشانات اور عبادت گاہوں کو نمایاں کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو سکتی اور جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہیں ان کی بھی نہ کوئی مرمت کی جائے گی اور نہ تجدید بلکہ اسی حالت پر باقی رہنے دیا جائے گا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ اقلیت کو اس بات کا حق نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں کسی مسلمان کو آنے سے نہیں روکیں گے۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ قادیانیوں نے جو عبادت گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں وہ ان سے مسلمانوں کو نہیں روک سکتے۔ بلکہ ان کے حوالہ ہی کرنا چاہئے۔ اس معاہدہ میں اس بات کی تصریح کہ ہم مسلمانوں کو کسی چیز میں مشابہت نہیں اختیار کریں گے نہ ان کے لباس میں نہ ٹوپی اور عمامہ میں اور جوتے میں اور نہ سر کے بالوں میں اور نہ ان کلمات اور عبارتوں کے تلفظ میں جو مسلمانوں کے خصوصی کلمات و عبارات ہیں۔
اس معاہدہ میں یہ تصریح کہ وہ نہ تلواریں لٹکائیں گے اور نہ ہتھیار مہیا کریں۔ اس امر کو بخوبی ثابت کر رہی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت ہو جانے کے بعد کسی طرح کی مجاہدانہ اور رضا کارانہ تنظیم کی گنجائش نہیں۔ اس معاہدہ میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لباس اور وضع قطع میں ایسی چیزیں نمایاں کریں گے جس سے ان کا غیر مسلم ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اس بناء پر یہ ضروری ہے کہ قادیانیوں کے لباس اور ہیئت اس طرح ممتاز کر دی جائے کہ دیکھنے سے پہچانے جائیں کہ وہ غیر مسلم ہیں اور یہ بھی تصریح ہے کہ وہ اپنے مذہبی رسوم نہایت مخفی اور پوشیدہ انداز سے انجام دیں گے۔ ان کا اظہار اور نمائش نہیں کر سکیں گے۔ الغرض فاروق اعظم کے اس فیصلہ کی رو سے اور اس معاہدے کے متن سے واضح طور پر یہ باتیں ثابت ہو رہی ہیں کہ غیر مسلم اقلیت کو تو خود اپنے مذہبی نشانات کو نمایاں کرنے اور مذہبی رسوم کو پھیلانے اور اپنی کتابوں کی اشاعت و تقسیم کی اجازت نہیں۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ قادیانیوں کو کس طرح یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مذہبی خصوصیات اور اپنی کتابوں اور لٹریچر کی اشاعت کریں اور مسلمانوں کے طریقوں اور روایات میں کسی ایسی چیز کا اظہار کریں کہ اس سے وہ مسلمان سمجھے جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے جو فاروق اعظم کے ساتھ یہودیوں نے کیا تھا۔ یہودیوں کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے گرجا نئے تعمیر کریں یا اس کی عمارت
١٨
کی تجدید کریں۔ تو اس بناء پر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قادیانی مسجد تعمیر کریں۔ ان مساجد میں وہی کام انجام دیں جو ان کا موضوع ہے اور ظاہر ہے کہ مسجد بنا کر وہی کام کریں گے۔ جس کے وہ علم بردار ہیں۔ اس ضمن میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ قادیانیوں کو ضروری ہے کہ وہ اپنے لباس اور ہیئت میں کوئی بات مسلمانوں کی سی اختیار نہ کریں۔ جب اقلیتی فرقہ لباس اور وضع قطع میں مسلمانوں سے امتیاز برقرار رکھنے کا پابند ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اصل عبادت گاہ میں مسلمانوں سے مشابہت اور ان کی مذہبی خصوصیات کو اختیار کرے۔ مسجدیں مسلمانوں کا مرکز عبادت ہیں اور مسلم قوم کی حیات اور اس کے ایمانی مقاصد کی تکمیل کے لئے مساجد ہی محور زندگی اور اساس مذہب ہیں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے اسلام اس مرکز حیات کے ساتھ کافروں کے کفر کے مراکز کو مشابہت اور یکسانیت اختیار کرنے کی اجازت دی جائے۔
جب لباس و ٹوپی اور سر کے بال میں التباس گوارا نہیں کیا گیا۔ تو اصل مرکز دین میں التباس کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ فاروق اعظمؓ کے اس معاہدہ کی رو سے کہ یہود اور نصاریٰ کو مسلمانوں جیسے الفاظ استعمال کرنے کا حق نہ ہوگا اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے خصوصی کلمات کا تکلم کریں گے۔ واضح طور سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کسی قادیانی کو اپنے متعلق لفظ مسلم کے اطلاق کی ہرگز اجازت نہیں ہو سکتی۔
اللہ نے صرف مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ ”هو سمّٰكم المسلمين“ کہ اللہ نے صرف تمہارا ہی نام مسلمان رکھا ہے کہ جو قوم اپنے باطل عقیدہ کی رو سے خارج از اسلام ہے۔ اسے اپنے آپ کو مسلم اور مسلمان کہنے کا کوئی حق نہیں ہو سکتا۔
عدالت عالیہ کو میں اس طرف خاص طور سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات کو نظر انداز نہ کرے کہ ایک گروہ اصول اسلام کا منکر ہونے کے باوجود آخر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر کیوں مصر ہے؟ ظاہر ہے کہ جس طرح وہ خود ایسی گمراہی میں مبتلا ہوا جس کی بناء پر وہ خارج از اسلام ہوا۔ وہ اپنا نام مسلمان قرار دے کر دوسروں کو بھی اسی گمراہی میں پھنسانے کے لئے صرف اسی نام سے کسی کو بھی گمراہ کر سکتا ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ خارج اسلام ہونے کی صورت میں اسلام کا دعویٰ اور اپنے کو مسلمان کہنا بدترین جرم ہے۔ اسی طرح کفر کے داعی کو مسجد کے عنوان سے کوئی عمارت بنانا قطعاً مسجد ضرار والی بات ہے جو منافقین نے مسجد کے نام پر ایک اڈہ کفر کا اور مسلمانوں میں تفریق اور پھوٹ ڈالنے کے لئے بنایا تھا۔ جس کا ذکر
١٩
قرآن کریم میں ان الفاظ میں ہے۔
"والذین اتخذوا مسجد اضرار وكفراً وتفريقاً بين المؤمنين وارصاداً لمن حارب الله ورسوله من قبل وليحلفن ان اردنا الا الحسنى والله يشهد انهم لكاذبون (توبه:١٠٧)"
اور جنہوں نے بنائی ایک مسجد ضد پر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کے لئے مسلمانوں میں اور مورچہ بنانے کے لئے ان لوگوں کے واسطے جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پہلے سے اور وہ قسمیں کھائیں گے ہم نے تو بھلائی اور نیکی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور خدا گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
علامہ آلوسیؒ اور دیگر مفسرین نے اس مسجد ضرار کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ جب تشریف لائے تو پہلے آپ چند روز مدینہ سے باہر قباء میں ٹھہرے جو بنو عمرو بن عوف کی جگہ تھی۔ اسی جگہ آپ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی تعمیر ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کو اس مسجد سے بہت زیادہ تعلق اور محبت تھی اور آپ کا مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد یہ معمول رہا کہ ہفتہ کے روز وہاں تشریف لے جا کر دو رکعت نماز پڑھا کرتے۔ چنانچہ احادیث میں اس کی فضیلت بھی بیان فرمائی گئی۔ بعض منافقین نے یہ چاہا کہ اس مسجد کے نزدیک ایک ایسا مکان بنائیں جس کا نام مسجد رکھیں۔ اس میں اپنی علیحدہ جماعت ٹھہرائیں اور جن سادہ لوح مسلمانوں کو بہکایا جاسکے۔ ان کو مسجد قباء سے ہٹا کر اس طرف لے آئیں اور گویا اس طریقہ سے ان کا رشتہ اسلام اور اسلام کے مرکز سے جدا ہو جائے۔ ان کو یہ بات ایسے سازشی مقاصد کی تکمیل کے لئے بہت مناسب معلوم ہوئی اس کا نام مسجد رکھا جائے۔ کیونکہ مسجد کے تقدس کو ملحوظ رکھنے کے باعث ان کے ناپاک ارادوں اور ان کی سازشوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی اور بڑے تحفظ کے ساتھ مسجد کا عنوان دے کر اسلام کی بیخ کنی کرتے رہیں گے۔ دراصل اس ناپاک سازش کا اصل محرک ایک شخص ابو عامر خزرجی تھا۔ ہجرت سے پہلے اس شخص نے نصرانی بن کر راہبانہ زندگی اختیار کی تھی۔ مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے لوگ خصوصاً قبیلہ خزرج والے اس کے زہد و درویشی کے رنگ کو دیکھ کر بڑے معتقد ہو گئے تھے اور کافی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر جب ایمان وعرفان کا آفتاب چمکنے لگا تو اس کی درویشی کا بھرم لوگوں پر کھلنے لگا۔ ابو عامر اس صورتحال کے باعث عداوت اور حسد کی آگ سے بھڑک اٹھا۔
٢٠
آنحضرت ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو کہنے لگا سے قائم ہوں۔ حقیقی ملت ابراہیمی والا اسلام تو میرے پاس ہ مزید کوئی چیز اختیار کروں۔
آنحضرت ﷺ نے اس کی تردید فرمائی اور نصیحت غصہ میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا۔ ہم میں سے جو جھوٹا ہو خدا اس آپ نے اس پر فرمایا۔ آمین!
جنگ بدر کے بعد جب اسلام کی جڑیں مضبوط ہو گ کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگا تو ابو عامر کو برداشت نہ ہوسکی تو یہ کے لئے آمادہ کرے۔ اسی وجہ سے معرکہ احد میں خود بھی کفار نے آگے بڑھ کر انصار مدینہ میں سے جو اس کے معتقد تھے ان چاہا۔ اس احمق نے یہ نہ سمجھا کہ جن ہستیوں کو انوار نبوت لے جادو کیسے چل سکے گا۔ آخر وہ انصار جو اس کی پہلے تو تعظیم کر مخاطب ہوئے اور فاسق دشمن خدا تیری آنکھ کبھی ٹھنڈی نہ ہ تمہارا ساتھ دیں گے۔ انصار کا یہ مایوس کن جواب سن کر کچھ ح میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا۔ اے محمد (ﷺ) آئندہ جو قوم میں برابر اس کے ساتھ رہوں گا۔ چنانچہ غزوہ حنین ٨ ہجری ت مسلمانوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ احد میں اسی کی خباثت اور شرار پر زخم آیا تھا اور دندان مبارک بھی شہید ہونے کا واقعہ پیش مورچوں کے درمیان گڑھے کھدوا دیئے تھے۔ حنین کے بعد کہ اب عرب کی کوئی طاقت اسلام کو کچلنے میں کامیاب نہیں مدینہ (جو اس کی تیار کردہ جماعت تھی وہ اپنے کو مسلمان کہا ک آیات بھی پڑھا کرتے اور ہر طرح سے اپنے آپ کو مسلمان کہ میں قیصر روم سے مل کر ایک لشکر جرار محمد (ﷺ) کے مقا میں مسلمانوں کو ختم کر ڈالے گا۔ تم لوگ فی الحال ایک عمار کے عنوان سے جمع ہوا کرو۔ تاکہ وہاں اسلام کے خلاف سا
٢١
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش رفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ا را انسان ہونے کے ساتھ آتی مذہب کا مطالعہ کر کے تک جا پہنچے لگے ۔ ان قائم موجود ہے ۔ ضرورت تو جہاں بتوں اور مسلمانوں اور انشا کا سر چشمہ اللہ کو ام شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
وکفراً وتفريقاً بين المؤمنين وليحلفن ان اردنا الا الحسنی پھوٹ ڈالنے کے لئے مسلمانوں میں ں کے رسول کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور خدا
تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ پہلے آپ چند روز مدینہ سے باہر مسجد قباء کی بنیاد رکھی اور پھر اس کی ور محبت تھی اور آپ کا مدینہ منورہ یف لے جا کر دو رکعت نماز پڑھا ۔ بعض منافقین نے یہ چاہا کہ اس ا۔ اس میں اپنی علیحدہ جماعت سجد قباء سے ہٹا کر اس طرف لے سے جدا ہو جائے۔ ان کو یہ بات س کا نام مسجد رکھا جائے۔ کیونکہ ان کی سازشوں میں کوئی رکاوٹ انی کرتے رہیں گے۔ دراصل ت سے پہلے اس شخص نے نصرانی سے خصوصاً قبیلہ خزرج والے اس کافی تعظیم وتکریم کرتے تھے۔ چمکنے لگا تو اس کی درویشی کا بھرم کی آگ سے بھڑک اٹھا۔
آنحضرت ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو کہنے لگا کہ اصل ملت ابراہیمی پر تو میں پہلے سے قائم ہوں۔ حقیقی ملت ابراہیمی والا اسلام تو میرے پاس ہے۔ اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ مزید کوئی چیز اختیار کروں۔
آنحضرت ﷺ نے اس کی تردید فرمائی اور نصیحت کی تو بجائے صحیح اثر قبول کرنے کے غصہ میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا۔ ہم میں سے جو جھوٹا ہو خدا اس کو غربت و بے کسی کی موت مارے آپ نے اس پر فرمایا۔ آمین!
جنگ بدر کے بعد جب اسلام کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور مسلمانوں کا عروج حاسدوں کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگا تو ابو عامر کو برداشت نہ ہوسکی تو بھاگ کر مکہ پہنچا۔ تا کہ کفار مکہ کو مقابلہ کے لئے آمادہ کرے۔ اسی وجہ سے معرکہ احد میں خود بھی کفار مکہ قریش کے ساتھ آیا۔ پہلے تو اس نے آگے بڑھ کر انصار مدینہ میں سے جو اس کے معتقد تھے ان کو خطاب کر کے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ اس احمق نے یہ نہ سمجھا کہ جن ہستیوں کو انوار نبوت نے منور کر دیا ہے ان پر اب اس کا پرانا جادو کیسے چل سکے گا۔ آخر وہ انصار جو اس کی پہلے تو تعظیم کرتے تھے۔ اس کے ساتھ اس طرح مخاطب ہوئے اے فاسق دشمن خدا تیری آنکھ کبھی ٹھنڈی نہ ہو۔ کیا رسول خدا کے مقابلے میں ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ انصار کا یہ مایوس کن جواب سن کر کچھ حواس ٹھکانے آئے۔ لیکن غیظ وغضب میں برافروختہ ہو کر کہنے لگا۔ اے محمد (ﷺ) آئندہ جو قوم بھی تمہارے مقابلہ کے لئے اٹھے گی میں برابر اس کے ساتھ رہوں گا۔ چنانچہ غزوہ حنین ٨ ہجری تک ہر معرکہ میں کفار کے ساتھ رہا اور مسلمانوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ احد میں اسی کی خباثت اور شرارت سے آنحضرت ﷺ کے چہرہ انور پر زخم آیا تھا اور دندان مبارک بھی شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس نے دونوں صفوں اور مورچوں کے درمیان گڑھے کھدوا دیئے تھے۔ حنین کے بعد جب ابو عامر نے جب یہ محسوس کرلیا کہ اب عرب کی کوئی طاقت اسلام کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی تو بھاگ کر شام پہنچا اور منافقین مدینہ (جو اس کی تیار کردہ جماعت تھی وہ اپنے کو مسلمان کہا کرتے۔ نمازیں بھی پڑھتے۔ قرآن کی آیات بھی پڑھا کرتے اور ہر طرح سے اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کرتے) کو خط لکھا کہ میں قیصر روم سے مل کر ایک لشکر جرار محمد (ﷺ) کے مقابلہ کے لئے بھیج رہا ہوں۔ جو چشم زدن میں مسلمانوں کو ختم کر ڈالے گا۔ تم لوگ فی الحال ایک عمارت مسجد کے نام سے بناؤ۔ جہاں نماز کے عنوان سے جمع ہوا کرو۔ تاکہ وہاں اسلام کے خلاف سازشیں اور مشورہ ہوسکیں اور میرے تمام
٢١
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان کبھی بحث تھی اور نہ یہ مبحث ان ارا انسان ہونے کے ساتھ یانی مذہب کا مطالعہ کر کے رجیح دیتے گئے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا ثمرہ انکو ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
خطوط وغیرہ قاصد تم کو وہیں پہنچایا کرے گا اور میں بذات خود آؤں تو سب سے ملاقات کو ایک موزوں یعنی قابل اطمینان اور مامون جگہ ہو۔
یہ تھے خبیث مقاصد جن کے لئے یہ مسجد ضرار تعمیر ہوئی۔ یہ منافقین حضورﷺ کے روبرو حاضر ہوئے اور بڑی ہی قسمیں کھائیں کہ یا رسول اللہ اس مسجد کی تعمیر میں ہمارا یہ مقصد ہے کہ بارش اور سردی کے زمانے میں بیماروں، ضعیفوں کو مسجد قباء تک پہنچنے میں دشواری ہوگی۔ اس لئے ہم نے یہ مسجد بنادی ہے تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو اور مسجد قباء میں جگہ کی دقت بھی لوگوں کو ہوتی ہے وہ بھی دور ہوجائے۔ حضورﷺ ایک مرتبہ چل کر وہاں نماز پڑھ لیں تو ہمارے واسطے موجب برکت اور سعادت ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر حضورﷺ وہاں ایک دفعہ بھی تشریف لے گئے تو پھر سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانا آسان ہوگا۔ آپﷺ اس وقت غزوہ تبوک کے لئے پا بہ رکاب تھے۔ فرمایا اب تو میں تبوک کے لئے روانہ ہورہا ہوں۔ واپسی پر دیکھا جائے گا۔ یا یہ لفظ فرمایا۔ ایسا ہوسکے گا۔ آنحضرتﷺ جب تبوک سے واپس ہوکر بالکل مدینہ منورہ سے قریب پہنچ گئے تو جبرائیل امین یہ آیات لے کر آئے۔ جن میں منافقین کی ناپاک اغراض پر مطلع کر کے مسجد ضرار کا پول کھول دیا گیا۔ آپﷺ نے مالک بن دخشم اور معن بن عدیؓ کو حکم دیا کہ اس مکان کو جس کا نام ازراہ خداع وفریب مسجد رکھا ہے۔ گرا کر پیوند زمین بنادو۔ انہوں نے فوراً تعمیل کی اور اس مکان کو جلا کر خاک بنادیا اور ابو عامر منافق اور اس کے ٹولے کے سب ارمان خاک میں مل گئے۔
اس آیت میں مسجد مذکور کے بنانے کی تین غرضیں ذکر کی گئیں۔ اوّل! ضراراً یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے۔ ضرار کے معنی دوسرے کو نقصان پہنچانا خواہ خود کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ چونکہ یہ مسجد اسی مقصد کے لئے بنائی گئی۔ دوسری! غرض تفریق بین المومنین کہ اہل ایمان میں تفریق کردی جائے۔ ایک امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر کے اس کو ٹکڑوں اور فرقوں میں بانٹ دیا جائے۔ تیسری! غرض ”و ارصاداً لمن حارب اللّٰه ورسوله (توبۃ: ١٠٧)“ کہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کرنے والوں کے واسطے ایک پناہ گاہ ہو اور سازشوں کا مرکز ہو۔ تو مرزائیوں کی مسجدیں بالکل ان ہی تین اغراض کا پورا پورا پیکر ہیں۔ ضرر پہنچانا اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اور دشمنان اسلام کے لئے سازشوں کا مرکز۔ اس بناء پر قادیانیوں کی ہر مسجد بلاشبہ مکمل مسجد ضرار ہے اور ظاہر ہے کہ جب کہ کوئی جماعت اسلام سے خارج ہے اسلام کی بنیادیں ٢٢
اکھاڑنا اس کا نصب العین ایک جھوٹے نبی کی نبوت پورا پورا منافقین کا کردار ہے۔ ایسی حالت میں ان کی کا حکم اور نوعیت قرآن کریم کی نص صریح اور رسول اللہﷺ لہٰذا یہ بات قرآنی تصریح سے ثابت ہوگئی موسوم کر رکھی ہیں ان کو جلا کر پیوند زمین کر دیا جائے کے تعمیر ونگرانی کے حقدار ہیں اور آئندہ قادیانیوں جائے۔ اسی طرح قادیانیوں کو اذان دینے کی بھی اجاز
اوّل تو اس وجہ سے کہ اذان اسلام کا خصو اس کو حق نہیں کہ وہ اس کو اختیار کرے۔ دوسرے اس تو پھر ان کی اذان و نماز کا کیا مطلب۔ عبادات تو ایما آیات میں فرمایا: ”ومن یعمل من الصلحت وھ ”من عمل صالحاً من ذکر او انثیٰ جب ایمان ہی نہیں تو پھر عبادات کا کیا کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی عبادات کہلاتی ہی دائرہ سے خارج ہوچکی تو پھر اس دین کی عبادات کا خارج از اسلام ہیں تو پھر اسلام کی ان خصوصیات کو غ جو کسی بھی قانون سے قابل برداشت نہیں۔ فریب، ہوسکتی ہیں جو غیر مسلم مسلمانوں جیسے افعال اختیار کر دنیا کا کوئی قانون فریب دہی اور جعل
استدلال کہ یہ میری اعتقادی عبادات ہیں۔ اس دلیری کا مصداق ہے۔ پھر مزید برآں اس پر یہ آی مساجد اللّٰه ان یذکر فیه (بقرۃ: ١١٤) مساجد کو اس چیز سے روکے کہ اس میں اللہ کا نام مسجدیں تو مسجد ہی نہیں۔ یہ تخریب وضرار کا اڈہ ہیں پابندی کو آیت مذکور سے چیلنج کیا جائے۔ جب یہ ب ٢٣
ش پروردہ اور سچا انسان حصول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی بھٹک گئی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ انی مذہب کا مطالعہ کرکے نجات دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس فتنہ کا شر ختم ہوسکے م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
اکھاڑنا اس کا نصب العین ایک جھوٹے نبی کی نبوت کا بہروپ تو ایسی جماعت کا اسلام کا نام لینا پورا پورا منافقین کا کردار ہے۔ ایسی حالت میں ان کی مسجدیں لامحالہ مسجد ضرار ہوں گی اور مسجد ضرار کا حکم اور نوعیت قرآن کریم کی نص صریح اور رسول اللہﷺ کے فیصلہ سے معلوم ہوگئی۔
لہٰذا یہ بات قرآنی تصریح سے ثابت ہوگئی۔ جو عمارتیں قادیانیوں نے مسجد کے نام سے موسوم کر رکھی ہیں ان کو جلا کر پیوند زمین کر دیا جائے یا مسلمانوں کو ان کا وارث بنائے جو مسجدوں کے تعمیر و نگرانی کے حقدار ہیں اور آئندہ قادیانیوں کو مسجد کے نام سے کوئی عمارت بنانے نہ دی جائے۔ اسی طرح قادیانیوں کو اذان دینے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
اوّل تو اس وجہ سے کہ اذان اسلام کا خصوصی شعار ہے اور جو قوم اسلام سے خارج ہے اس کو حق نہیں کہ وہ اس کو اختیار کرے۔ دوسرے اس وجہ سے کہ جب قادیانی مسلمان ہی نہیں ہیں تو پھر ان کی اذان و نماز کا کیا مطلب۔ عبادات تو ایمان کے ساتھ ہیں۔ جیسے قرآن کریم کی متعدد آیات میں فرمایا: ’’و من یعمل من الصلحت وهو مؤمن (الانبياء: ٩٤)‘‘
- ’’من عمل صالحاً من ذكر او انثی وهو مؤمن (النحل:٩٧)‘‘
جب ایمان ہی نہیں تو پھر عبادات کا کیا مطلب اور ہر شریعت کی عبادات اس شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی عبادات کہلاتی ہیں۔ جب کوئی فرد یا جماعت کسی شریعت کے دائرہ سے خارج ہو چکی تو پھر اس دین کی عبادات کا تصور ہی بے معنی ہے اور پھر یہ کہ جب قادیانی خارج از اسلام ہیں تو پھر اسلام کی ان خصوصیات کو عملاً اختیار کرنا بلاشبہ ایک فریب اور دھوکہ ہے۔ جو کسی بھی قانون سے قابل برداشت نہیں۔ فریب ، دھوکہ دہی ، جعل سازی اور سازش یہی وہ باتیں ہو سکتی ہیں جو غیر مسلم مسلمانوں جیسے افعال اختیار کرنے میں مقصد بناتا ہے۔
دنیا کا کوئی قانون فریب دہی اور جعل سازی کی روش کو گوارا نہیں کر سکتا اور اس پر یہ استدلال کہ یہ میری اعتقادی عبادات ہیں۔ اس میں میں آزاد ہوں فریب کاری کے ساتھ دیدہ دلیری کا مصداق ہے۔ پھر مزید برآں اس پر یہ آیت کا حوالہ دینا۔ ’’و من اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيه (بقره: ١١٤)‘‘ کہ اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مساجد کو اس چیز سے روکے کہ اس میں اللہ کا نام لیا جائے۔ جرمِ بالا تر جرم ہے۔ قادیانیوں کی مسجدیں تو مسجدیں نہیں۔ یہ تخریب و ضرار کا اڈہ ہیں۔ تو یہ نہایت ہی افسوسناک حرکت ہے کہ ان کی پابندی کو آیتِ مذکور سے چیلنج کیا جائے۔ جب یہ بہروپ کھل گیا کہ مسجدوں کے عنوان سے جگہ بنانا
٢٣
دین کے خلاف سازشوں کے اڈے تیار کرنا ہے تو ان کی بندش پر یہ آیت پڑھتے ہوئے شرمانا چاہئے کیا یہی چیز اللہ کا ذکر ہے اور اس کی عبادت ہے جو ان جگہوں میں انجام دی جا رہی ہے۔
ہم اس سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ ربوہ کیس میں اور اس سے قبل ١٩٥٣ء کے زمانے میں یہ سب حقائق عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔
دس مدعیان نبوت
مدعیان نبوت کے خروج اور ظہور کی پیشین گوئی
حضور پرنور ﷺ نے بہت سی پیشین گوئیاں فرمائیں اور سب کی سب حرف بحرف سچی نکلیں۔ ایک پیشین گوئی حضور ﷺ نے یہ بھی فرمائی کہ قیامت سے پہلے بہت سے کذاب اور دجال ظاہر ہوں گے۔ ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں۔ خوب سمجھ لو کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ خدا کا آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ خاتم النبیین کے بعد کسی کا فقط یہ دعویٰ کہ میں نبی ہوں یہی اس کے کاذب اور دجال ہونے کی دلیل ہے۔
حضور ﷺ نے اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی پیشین گوئی نہیں فرمائی۔ بلکہ مدعیان نبوت کی پیشین گوئی فرمائی اور ایک حرف یہ بھی نہ فرمایا کہ تم اس مدعی نبوت سے ادلہ دریافت کرنا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے اور تیری نبوت کی کیا دلیل ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی نیا آنے والا ہوتا تو حضور پرنور ﷺ اس کی خبر دیتے اور لوگوں کو ہدایت فرماتے کہ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کا انکار کر کے دوزخی نہ بننا بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ البتہ کذاب و دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کے مدعی ہوں گے۔ تم ان کے دھوکہ اور فریب میں نہ آنا اور اس کے جھوٹا ہونے کی علامت ہی یہ ہوگی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ چنانچہ اس کا ظہور آپ کی اخیر زندگی ہی سے شروع ہو گیا اور نبوت کے دعویدار ظاہر ہونے لگے۔ چنانچہ یمن میں اسود عنسی نے اور یمامہ میں مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
"وروى ابویعلی باسناد حسن عن عبدالله بن الزبیر ذکر تسمية بعض الكذابين المذكورين بلفظ لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا منهم مسيلمة والعنسی والمختار (فتح الباری ج ٦ ص ٦١٧) " ابویعلی نے عبداللہ بن زبیر سے باسناد حسن روایت فرمائی ہے۔ جس میں بعض کذابوں کے نام بھی آپ نے ذکر فرمائے
٢٤
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش رفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ اتی مذہب کا مطالعہ کر کے ر شجاعت دینے لگے ۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سر حکم اللہ شو قام شیخ راحیل احمد کی اس ی اسلام کی آغوش میں (آمین) سلام پاکستان) جہانگیر
ہیں۔ آپ ﷺ کے الفاظ یہ ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو گی ان میں مسیلمہ اور عنسی اور مختار ہوں گے۔
سب سے پہلا مدعی نبوت اور اس کا قتل
سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی ہے جو رکھتا تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر مانوس ہوگئے مذہج نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور ان کے علاوہ ہوگئے۔
آنحضرت ﷺ نے مسلمانان یمن کے پا کیا جائے۔ امام ابن جریر طبری ١١ ہجری کے واقعات الديلمي قال قدم علينا وبربن يحنس بکت دديننا والنهوض في الحرب العمل في الا
جشیش راوی ہیں کہ وبر بن یحنس ت آئے۔ جس میں ہم کو یہ حکم تھا کہ دین اسلام پر قائم تیار ہو جائیں اور جس طرح ممکن ہو اسود کا کام تمام ک اور تدبیر سے۔
اور (تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٠٢) پر ہے:
عليه وجاء اليهم والى من باليمن م بقتال الاسود فقام معاذ في ذلك وقو بكتاب النبي ﷺ وبربن يحنس الازدی النبي ﷺ يأمرنا بقتاله اما مصادمة او غ
"ذکر اخبار الاسود العنسی ب حضرت معاذ نے نکاح کیا اور تمام مسل مسلمانان یمن کے پاس آنحضرت ﷺ کا خط موصو حضرت معاذ اس بارے میں کھڑے ہوئے اور مسل
٥
ہیں ۔ آپ ﷺ کے الفاظ یہ ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی ۔ جب تک کہ تیس کذاب برآمد نہ ہوں ۔ ان میں مسیلمہ اور عنسی اور مختار ہوں گے ۔
سب سے پہلا مدعی نبوت اور اس کا قتل
سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی ہے جو بڑا شعبدہ باز تھا اور کہانت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر مانوس ہو گئے اور اس کے پیچھے ہو لئے اور قبیلہ نجران اور مذحج نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور ان کے علاوہ یمن کے اور بھی قبائل اس کے ساتھ شامل ہوگئے ۔
آنحضرت ﷺ نے مسلمانان یمن کے پاس حکم بھیجا کہ جس طرح ممکن ہو اسود کا فتنہ ختم کیا جائے ۔ امام ابن جریر طبری ١١ ہجری کے واقعات میں لکھتے ہیں : ” عن جشيش بن الديلمي قال قدم علينا وبر بن يحنس بكتاب النبي ﷺ يامر فيه بالقيام على ديننا والنهوض فى الحرب والعمل فى الاسود اما غيلة او مصادمة “
(تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٤٨)
جشیش راوی ہیں کہ وبر بن يحنس نبی اکرم ﷺ کا والا نامہ ہمارے نام لے کر آئے ۔ جس میں ہم کو یہ حکم تھا کہ دین اسلام پر قائم رہیں اور اسود کے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے تیار ہو جائیں اور جس طرح ممکن ہو اسود کا کام تمام کریں ۔ خواہ کھلم کھلا قتل کریں یا خفیہ طور پر یا کسی اور تدبیر سے ۔
اور (تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٠٢) پر ہے: ”فنزوج معاذ الى لسكون فعطفوا عليه وجاء اليهم والى من باليمن من المسلمين كتاب النبي ﷺ يأمرهم بقتال الاسود فقام معاذ في ذلك وقويت نفوس المسلمين وكان الذى قدم بكتاب النبي ﷺ وبربن يحنس الازدى قال جشيش الديلمى فجاء تنا كتب النبي ﷺ يأمرنا بقتاله اما مصادمة اوغيلة الى آخره “
(تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٠٢)
” ذکر اخبار الاسود العنسى باليمن “ حضرت معاذ نے نکاح کیا اور تمام مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے پاس اور مسلمانان یمن کے پاس آنحضرت ﷺ کا خط موصول ہوا ۔ جس میں اسود کے ساتھ قتال کا حکم تھا ۔ حضرت معاذ اس بارے میں کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کے قلوب کو تقویت حاصل ہوئی ۔ جو شخص
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی بحث تھی اور یہ بحث ان ارا انسان ہونے کے ساتھ بانی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور تالیف کا شرف سلمہ اللہ کو ترم شیخ راحیل احمد کی اس قادیانیوں ) کی اسلام کی آغوش میں (آمین) سلام پاکستان) جہانگیر
آنحضرت ﷺ کا خط لے کر آیا تھا اس کا نام وبر بن یحنس ازدی تھا۔ جیش دیلمی فرماتے ہیں ۔ ہمارے پاس آنحضرت ﷺ کے کئی خط موصول ہوئے۔ جن میں اسود کے قتل کا حکم تھا۔ علانیہ ہو یا تدبیر سے۔
چنانچہ حضرات صحابہؓ نے حسن تدبیر سے اس کذاب کا کام تمام کیا اور اس واقعہ کی خبر دینے کے لئے ایک قاصد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ لیکن قاصد کے پہنچنے سے پہلے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی خبر ہو گئی۔ آپ ﷺ نے اسی وقت صحابہؓ کو بشارت دی اور فرمایا: ”قتل العنسي البارحة قتله رجل مبارك من اهل بيت مباركين قيل ومن قال فيروز فاز فيروز“
(تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٥١، تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٠٢، تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٢٣٦)
کہ شب گذشتہ اسود عنسی مارا گیا۔ اس کو ایک مبارک گھرانے کے مبارک مرد فیروز نے مارا ہے۔ فیروز کامیاب اور فائز المراد ہوا۔ قاصد یہ خبر لے کر مدینہ اس وقت پہنچا کہ آنحضرت ﷺ وصال فرما چکے تھے۔ عبد الرحمن شامیؒ نے اس بارہ میں یہ اشعار کہے؎
لقد جزعت عنس بقتل الاسود
قسم ہے میری زندگی کی اور میری قسم معمولی قسم نہیں قبیلہ عنس اسود عنسی کے قتل سے گھبرا اٹھا۔
علي خير موعود واسعد اسعد
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے قتل کے لئے جاؤ اور بہترین وعدہ اور اعلیٰ ترین خوش نصیبی کی بشارت دی یعنی مدعی نبوت کا قتل اعلیٰ ترین سعادت ہے۔
علي حين أمر من وصاة محمد
پس ہم چند سوار اسود کذاب کے قتل کے لئے روانہ ہو گئے۔ تا کہ آپ ﷺ کے حکم اور وصیت کی تعمیل و تکمیل ہو۔
(حسن الصحابة في شرح اشعار الصحابة ص ٤١٣)
خلافت راشدہ اور مدعیان نبوت کا قلع قمع
خلافت راشدہ اس حکومت کو کہتے ہیں کہ جو منہاج نبوت پر اور اس حکومت کا حکمران ٢٦
نبی کے ظاہری اور باطنی کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہو۔ خلافت حجت اور واجب العمل ہے۔ احادیث صحیحہ میں خلفاء راشدین وسنت کے بعد خلافت راشدہ کا فیصلہ شرعی حجت ہے۔ جس پر قیامت تک آنے والی اسلامی حکومتوں کے لئے عدالت ہے۔ جس کی کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ کسی اسلامی حکومت کے فیصلہ پر کوئی نظر ثانی کا تصور بھی کر سکے۔ خلافت راشدہ کے دستخط ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بعد اور اگر بفرض محال کوئی دیوانہ یہ خیال کرے کہ خلفاء راشدین نہیں تو پھر بتلائیے کہ دنیا میں خلفاء راشدین سے بڑھ کر کون
اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا اور کس طرح صفحہ ہستی سے ان کا ن تعالى عن الاسلام وسائر المسلمين خيرا كثيرا
٢...... طلیحہ اسدی
اسود عنسی کی طرح طلیحہ اسدی نے بھی حضور پر نور تھا۔ اسود کی طرح یہ بھی کاہن تھا کچھ قبیلے اس کے بھی تابع سرکوبی کے لئے ضرار بن الازورؓ کو صحابہ کی ایک جماعت ساتھ خوب سرکوبی کی اور مرتدین کو اتنا مارا کہ طلیحہ کی جماعت کمزور ہو کی وفات کی خبر آ گئی۔ حضرت ضرارؓ اپنے ساتھیوں کو ساتھ آ جانے کی وجہ سے طلیحہ کا فتنہ پھر زور پکڑ گیا۔ صدیق اکبرؓ نے لشکر اس کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ خالدؓ بن ولید نے جان حصن، طلیحہ کی طرف سے لڑ رہا تھا اور طلیحہ لوگوں کو دھوکہ دینے وحی کے انتظار میں ایک طرف بیٹھا تھا۔ جب مرتدین کے عیینہ بن حصن لوگوں کو لڑتا چھوڑ کر طلیحہ کے پاس آیا اور س جبرائیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا اور سوال کیا کہ کیا اس اثناء میں ٢٧
نبی کے ظاہری اور باطنی کمالات کا آئینہ اور نمونہ ہو۔ خلافت راشدہ کا فیصلہ قیامت تک کے لئے حجت اور واجب العمل ہے۔ احادیث صحیحہ میں خلفاء راشدین کے اتباع کی تاکید آئی ہے۔ کتاب وسنت کے بعد خلافت راشدہ کا فیصلہ شرعی حجت ہے۔ جس سے عدول اور انحراف جائز نہیں۔
قیامت تک آنے والی اسلامی حکومتوں کے لئے خلافت راشدہ ہائیکورٹ اور آخری عدالت ہے۔ جس کی کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ کسی اسلامی حکومت کی یہ مجال نہیں کہ وہ خلافت راشدہ کے فیصلہ پر کوئی نظر ثانی کا تصور بھی کر سکے۔ خلافت راشدہ کے رشد اور صواب پر رسول اللہ ﷺ کے دستخط ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بعد خلفاء راشدین واجب الاطاعت ہیں اور اگر بفرض محال کوئی دیوانہ یہ خیال کرے کہ خلفاء راشدین کا فیصلہ حجت اور واجب الاطاعت نہیں تو پھر بتلائیے کہ دنیا میں خلفاء راشدین سے بڑھ کر کون ہے۔ جس کا فیصلہ حجت سمجھا جائے۔
اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ خلافت راشدہ نے کس طرح مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا اور کس طرح صفحہ ہستی سے ان کا نام ونشان مٹایا۔ ”جزاهم الله تعالى عن الاسلام وسائر المسلمين خيرا كثيرا كثيرا آمين“
٢...... طلیحہ اسدی
اسود عنسی کی طرح طلیحہ اسدی نے بھی حضور پر نور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسود کی طرح یہ بھی کاہن تھا کچھ قبیلے اس کے بھی تابع ہو گئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی سرکوبی کے لئے ضرار بن الازورؓ کو صحابہ کی ایک جماعت ساتھ دے کر روانہ کیا۔ حضرت ضرارؓ نے خوب سرکوبی کی اور مرتدین کو اتنا مارا کہ طلیحہ کی جماعت کمزور پڑ گئی۔ لیکن اتنے میں آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر آ گئی۔ حضرت ضرارؓ اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر مدینہ آ گئے۔ ان کے واپس آ جانے کی وجہ سے طلیحہ کا فتنہ پھر زور پکڑ گیا۔ صدیق اکبرؓ نے خالدؓ بن ولید کی سرکردگی میں ایک لشکر اس کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ خالدؓ بن ولید نے جاتے ہی میدان کارزار گرم کیا عیینہ بن حصن، طلیحہ کی طرف سے لڑ رہا تھا اور طلیحہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک چادر اوڑھے ہوئے وحی کے انتظار میں ایک طرف بیٹھا تھا۔ جب مرتدین کے پیر میدان جنگ سے اکھڑنے لگے تو عیینہ بن حصن لوگوں کو لڑتا چھوڑ کر طلیحہ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ کیا میرے بعد تیرے پاس جبرائیل امین کوئی وحی لے کر آئے ہیں۔ طلیحہ نے کہا نہیں کوئی وحی نہیں آئی۔ عیینہ لوٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا اور سوال کیا کہ کیا اس اثناء میں جبرائیل کب تک آئیں گے۔ ہم تو تباہ
٢٧
ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد عیینہ پھر آیا اور طلیحہ سے پھر یہی سوال کیا۔ طلیحہ نے کہا ہاں ابھی جبرائیل آئے تھے اور یہ وحی لے کر آئے ہیں: ”ان لك رحی کرحاه حديثا لا تنساه“ ”تیرے لئے بھی خالد کی طرح ایک چکی ہو گی اور ایک بات پیش آئے گی جس کو تو کبھی نہ بھولے گا۔“ عیینہ نے یہ سن کر کہا کہ بے شک اللہ کو معلوم ہے کہ کوئی بات ایسی ضرور پیش آئے گی جس کو تو نہ بھولے گا اور اس کے بعد قوم سے مخاطب ہو کر یہ کہا: ”انصرفوا يا بنى فزارة فانه كذاب“
عیینہ کا یہ لفظ سنتے ہی تمام لوگ بھاگ گئے اور میدان خالی ہو گیا اور کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ طلیحہ نے اپنے لئے اور اپنی بیوی کے لئے پہلے ہی سے ایک گھوڑا تیار کر رکھا تھا۔ جب اس پر سوار ہو کر بھاگنے لگا تو لوگوں نے آ کر اس کو گھیر لیا۔ طلیحہ نے جواب دیا: ”من استطاع يفعل هكذا وينجو بامراته فليفعل“ ”جو شخص ایسا کر سکتا ہو اور اپنی بیوی کو بچا سکتا ہو وہ ضرور ایسا کر گزرے گا ۔
اس طرح طلیحہ بھاگ کر ملک شام چلا گیا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں تائب ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت عمرؓ کے دست مبارک پر بیعت کی اور جنگ قادسیہ میں کارنمایاں کئے۔
والسلام! (تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٦٢، تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٠٩، تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ٤٠٦)
وحی طلیحہ کا ایک نمونہ
ملكنا العراق والشام “ (تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢١٠)
٣...... مسیلمہ کذاب
یہ شخص قبیلہ بنی حنفیہ کا تھا۔ ١٠ہجری میں شہر یمامہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک خط بھیجا جس کی عبارت یہ ہے: ”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله سلام عليك فانی قد اشركت في الامر معك وان لنا نصف الارض ولقريش نصف الارض ولكن قريش قوم يعتدون“ ”من جانب مسیلمہ رسول اللہ بطرف محمد رسول اللہ تم پر سلام ہو۔ تحقیق میں نبوت میں تمہارے ساتھ شریک کر دیا گیا ہوں۔ نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی۔ لیکن قریش ایک ظالم قوم ہے۔“ مسیلمہ نے یہ خط دو آدمیوں کے ہاتھ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔
٢٨
حضور ﷺ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس کی ہے۔ ان دونوں نے کہا ہاں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرما اڑانے کا حکم دیتا۔ بعد ازاں اس کے خط کا یہ جواب لکھوایا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”من محمد رسول الله الى مسيلم الهدى اما بعد فان الارض لله يورثها من يشاء
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
من جانب محمد رسول اللہ، بطرف مسیلمہ کذاب، اتباع کرے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ تحقیق زمین اللہ کی ہے اس کو زمین کا مالک اور وارث بنائے اور اچھا انجام خدا سے
(ابن اثیر اپنی تاریخ ج ٢ ص ١٦٦، ١٦٨) پر لکھتے ہیں حنيفة من مسيلمة شهد ان محمد ﷺ قد اشرک یعنی بنی حنفیہ کے حق میں فتنہ کا بڑا سبب یہ ہ اللہ ﷺ نے مجھ کو اپنی رسالت میں شریک کر لیا ہے۔ انہ تصدیق کی اور اس کی دعوت کو قبول کیا۔
اور مسیلمہ کو اس دعوے کی تائید کے لئے نہایت حنیفہ میں سے تھا۔ ہجرت کر کے مدینہ منورہ حاضر ہوا ا قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ آپ ﷺ نے فرما کی تعلیم دو۔ یہ بدبخت مدینہ سے واپس آکر مسیلمہ سے مل میں نے خود محمد رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسیلمہ نبوت کے لوگ فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور مسیلمہ کے بہکائے میں آ
مسیلمہ یمامہ اور مسیلمہ قادیان میں فرق
مرزا قادیانی نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا ک چالاکی میں مسیلمہ سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مسیلمہ تو یہ کہ میں شریک کر لیا ہے اور مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ
٢٩
ن پروردہ اور حق گو انسان
خول سے نکلا کہ اسلام کے
خوش گوار اور خوش گوار تھا کہ انسان
سچی محبت تھی اور یہ محبت ان
ار انسان ہونے کے ناطے
انی مذہب کا مطالعہ کر کے
شجاعت دینے لگے۔ ان
اتم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور اللہ کا شکر ھم اللہ کو
ہم شیخ راحیل احمد کی اس
آمین)
کی اسلام کی آغوش میں
سلام پاکستان) چاپ گر
حضور ﷺ نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ ان دونوں نے کہا ہاں ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر قاصد قتل کئے جاتے تو میں گردن اڑانے کا حکم دیتا۔ بعد ازاں اس کے خط کا یہ جواب لکھوایا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
”من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب سلام على من اتبع الهدى اما بعد فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين “
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
من جانب محمد رسول اللہ، بطرف مسیلمہ کذاب سلام ہو اس شخص پر کہ جو اللہ کی ہدایت کا اتباع کرے۔ اس کے بعد یہ ہے کہ تحقیق زمین اللہ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کو زمین کا مالک اور وارث بنائے اور اچھا انجام خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ہے۔
(ابن اثیر اپنی تاریخ ج٢ ص ١٦٦، ١٦٨) پر لکھتے ہیں: ” فکان اعظم فتنة على بنى حنيفة من مسيلمة شهد ان محمداً ﷺ قد اشرك معه فصدقوه واستجابواله“
یعنی بنی حنیفہ کے حق میں فتنہ کا بڑا سبب یہ ہوا کہ مسیلمہ نے یہ مشہور کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو اپنی رسالت میں شریک کر لیا ہے۔ انہوں نے حضور ﷺ کا نام سن کر مسیلمہ کی تصدیق کی اور اس کی دعوت کو قبول کیا۔
اور مسیلمہ کو اس دعوے کی تائید کے لئے نہار نامی ایک شخص ہاتھ آ گیا۔ یہ شخص شرفاء بنی حنیفہ میں سے تھا۔ ہجرت کر کے مدینہ منورہ حاضر ہوا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہ کر قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور دین کی تعلیم دو۔ یہ بد بخت مدینہ سے واپس آکر مسیلمہ سے مل گیا اور علی الاعلان آ کر یہ شہادت دی کہ میں نے خود محمد رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسیلمہ نبوت میں میرا شریک ہے۔ اس لئے بنی حنیفہ کے لوگ فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور مسیلمہ کے بہکائے میں آگئے۔
مسیلمہ یمامہ اور مسیلمہ قادیان میں فرق
مرزا قادیانی نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا کہ جو مسیلمہ یمامہ نے کیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی چالاکی میں مسیلمہ سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مسیلمہ تو یہ کہتا تھا کہ حضور پرنور ﷺ نے مجھ کو اپنی نبوت میں شریک کر لیا ہے اور مرزا قادیانی یہ فرماتے ہیں کہ میں نبوت میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک
٢٩
نہیں بلکہ عین محمد ہوں اور میری بعثت ، بعینہ بعثت محمدیہ ہے اور بعثت ثانیہ بعثت اولیٰ سے کہیں افضل اور اکمل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ قادیان جو بعثت ثانیہ کا محل ہے۔ مکہ مکرمہ سے افضل اور بہتر ہے اور مرزا قادیانی باوجود مراق اور مالیخولیا کے محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل اور اکمل ہیں ۔ ابلہ گفت دیوانہ باور کرد۔ کی مثل صادق ہے۔ پاگل نے کہا اور دیوانہ نے اس کو مان لیا۔ اس خط و کتابت کے بعد آنحضرت ﷺ کا وصال ہو گیا اور بغیر اس فتنہ کی تدبیر کئے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اسی اثناء میں ایک عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ (جس کا ہم عنقریب ذکر کریں گے ) جس کا نام سجاح تھا۔ مسیلمہ نے اس سے نکاح کر لیا۔ اس کے لشکر سے مسیلمہ کو مزید قوت اور شوکت حاصل ہوئی۔
صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کے مقابلہ کے لئے اوّلاً عکرمہ بن ابی جہل کی زیر امارت ایک لشکر روانہ کیا۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ پھر ان کے بعد دوسرا لشکر شرحبیل بن حسنہ کی سرکردگی میں ان کی امداد کے لئے روانہ کیا۔ اس لشکر کو بھی شکست ہوئی۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر چالیس ہزار جنگ آزمودہ سپاہی تھے۔ صحابہ کرامؓ کے چھوٹے چھوٹے لشکر پورا مقابلہ نہ کر سکے۔ بالآخر صدیق اکبرؓ نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ خالدؓ بن ولید کو مسیلمہ کذاب کی مہم کے لئے روانہ فرمایا۔ اس معرکہ میں صدیق اکبرؓ کے لخت جگر عبدالرحمٰن ابن ابی بکرؓ اور فاروق اعظمؓ کے لخت جگر عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن الخطاب بھی شریک تھے۔
مرتدین سے اب تک جس قدر معرکے پیش آئے ان میں مسیلمہ کذاب کا معرکہ سب میں زیادہ سخت تھا اور قوت اور شوکت میں سب سے بڑھ کر تھا۔ مسیلمہ کی فوج چالیس ہزار تھی اور مسلمانوں کی فوج دس ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ مسیلمہ کذاب کو جب خالدؓ بن ولید کی آمد کی خبر ملی تو آگے بڑھ کر مقام عقرباء میں پڑاؤ ڈالا۔ اس میدان میں حق اور باطل اور نبوت صادقہ اور کاذبہ کا خوب مقابلہ ہوا۔ معرکہ نہایت سخت تھا۔ کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری نظر آتا تھا اور کبھی مسیلمہ کا۔ یہاں تک کہ مسیلمہ کے کئی سپہ سالار مارے گئے۔ سب سے اوّل مسیلمہ کی طرف سے نہار میدان میں آیا۔ جو حضرت زیدؓ بن الخطاب کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مسیلمہ کا دوسرا مشہور سردار محکم بن طفیل حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کے تیر قضاء سے ختم ہوا۔ مرتدین کے قدم اکھڑ گئے۔ مسلمانوں نے ان کو مارتے مارتے مقام حدیقہ تک پہنچا دیا۔ یہ مقام چار دیواری سے محصور تھا۔ یہ ایک باغ تھا جس کو حدیقۃ الرحمٰن کہتے تھے۔ مسیلمہ نے اپنا خیمہ اسی باغ میں نصب کیا تھا۔ اسی باغ میں مسیلمہ ٣٠
قدم جمائے کھڑا تھا۔ دشمنوں کا لشکر بھاگ کر حدیقہ حضرت براء بن مالکؓ نے اس وقت صحابہ سے کہا: ” الحديقة فقالوا لا نفعل فقال والله اشرف على الجدار فاقتحمها عليهم ودخلوها عليهم فاقتتلوا اشد قتال بنى حنيفة فلم يزالوا كذالك حتى قتلوا مولى جبير بن مطعم ورجل من الانصار ) عليه حربته وضربه الانصارى بسيفه “ اے گروہ مجھ کو حدیقہ میں پھینک دو۔ یہ براء بن مالکؓ نے کہا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ دیوار پر پہنچا دیا۔ براءؓ بن مالک دیوار پر سے اندر مسلمانوں کے لئے دروازہ کھول دیا۔ مسلمان اندر بہت آدمی مارے گئے۔ یہاں تک مسیلمہ کذاب بھی مارا۔ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہ کر سکا اور ایک انصاری ہیں جنہوں نے جنگ احد میں حضرت حمزہؓ کو اسی نیزہ اسی نیزہ سے مسیلمہ کذاب کو مارا اور بطور فخر بلکہ بطور في جاهليتي خير الناس وفي الاسلام زمانہ جاہلیت میں اس نیزہ سے ایک بہترین انسان میں ۔ میں نے اسی نیزہ سے ایک بدترین انسان جنہوں نے مسیلمہ کا سر اپنی تلوار سے قلم کیا۔ ان کا انہی کا یہ شعر ہے؎
لو مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کہ میں نے تلوار ماری اور وحشیؓ نے نیزہ مارا۔
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ آئی مذہب کا مطالعہ کر کے پر شجاعت دینے لگے ۔ ان ٹائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں تا اور انکشاف کا سر خم اللہ کو تھا۔ شیخ راحیل احمد کی اس اور ی اسلام کی آغوش میں آمین) سلام پاکستان ) چناب نگر
قدم جمائے کھڑا تھا۔ دشمنوں کا لشکر بھاگ کر حدیقہ میں داخل ہوگیا اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ حضرت براء بن مالکؓ نے اس وقت صحابہ سے کہا: ”یا معشر المسلمین القونی علیهم فی الحدیقة فقالوا لا نفعل فقال والله لتطرحننی علیهم بھا فاحتمل حتی اشرف علی الجدار فاقتحمھا علیھم وقاتل علی الباب وفتحه للمسلمین ودخلوھا علیھم فاقتتلوا اشد قتال وکثر القتلی فی الفریقین لاسیما فی بنی حنیفة فلم یزالوا کذالک حتی قتل مسیلمة واشترک فی قتله وحشی مولیٰ جبر بن مطعم ورجل من الانصار (کل ھما قد اصابه) اما وحشی فدفع علیه حربته وضربه الانصاری بسیفه“
(تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢٢٢)
اے گروہ مجھ کو حدیقہ میں پھینک دو۔ مسلمانوں نے کہا ہم ہرگز ایسا نہیں کرنے کے۔ براء بن مالکؓ نے کہا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ کو اندر پھینک دو۔ لوگوں نے مجبوراً اٹھا کر دیوار پر پہنچا دیا۔ براءؓ بن مالک دیوار پر سے اندر کودے اور دروازہ پر کچھ دیر مقابلہ کیا۔ بالآخر مسلمانوں کے لئے دروازہ کھول دیا۔ مسلمان اندر گھس آئے اور خوب مقابلہ ہوا۔ فریقین کے بہت آدمی مارے گئے۔ یہاں تک مسیلمہ کذاب بھی مارا گیا۔ وحشیؓ نے مسیلمہ کے ایک نیزہ پھینک مارا۔ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہ کرسکا اور ایک انصاری نے تلوار سے اس کا سر قلم کیا۔ یہ وحشیؓ وہی ہیں جنہوں نے جنگ احد میں حضرت حمزہؓ کو اسی نیزہ سے شہید کیا تھا۔ اب اسلام لانے کے بعد اسی نیزہ سے مسیلمہ کذاب کو مارا اور بطور فخر بلکہ بطور شکر اور بطریق شکریہ کہا کرتے تھے۔ ”قتلت فی جاھلیتی خیر الناس وفی السلامی شرالناس روح المعانی“ اگر میں نے زمانہ جاہلیت میں اس نیزہ سے ایک بہترین انسان کو مارا ہے۔ (یعنی حضرت حمزہؓ کو) تو زمانہ اسلام میں، میں نے اسی نیزہ سے ایک بدترین انسان یعنی ایک مدعی نبوت کو مارا ہے اور وہ انصاری جنہوں نے مسیلمہ کا سر اپنی تلوار سے قلم کیا۔ ان کا نام عبداللہ بن زید ہے۔
انہی کا یہ شعر ہے۔
لوگ مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کو کس نے مارا تو میں جواب میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں نے تلوار ماری اور وحشیؓ نے نیزہ مارا۔
٣١
اس معرکہ میں مسلمانوں کے چھ سو ساٹھ آدمی شہید ہوئے اور مسیلمہ کذاب کے بقول ابن خلدون سترہ ہزار آدمی مارے گئے۔ امام طبری فرماتے ہیں کہ بنی حنیفہ کے سات ہزار آدمی عقرباء میں اور سات ہزار حدیقہ میں مارے گئے اور یہ باغ حدیقۃ الموت کے نام سے مشہور ہو گیا اور حضرت خالد مظفر و منصور مدینہ منورہ واپس آئے۔
محمد بن الحنفیہ
محمد بن الحنفیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادہ ہیں اور حنیفہ آپ کی والدہ ماجدہ ہیں جو قبیلہ بنی حنیفہ کی باندی تھیں۔ مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں گرفتار ہو کر آئیں اور صدیق اکبر کی طرف سے حضرت علی کو عطاء ہوئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مدعی نبوت کی اولاد اور ذریت اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنا کر لوگوں پر تقسیم کرنا باجماع صحابہ بلاشبہ و ریب جائز اور روا ہے۔
مسیلمہ کذاب کے متبعین اور اذناب کا حشر
”روى الزهرى عن عبيد الله بن عبدالله قال اخذ لكوفة رجال يؤمنون بمسيلمة الكذاب فكتب فيهم الى عثمان فكتب عثمان اعرض عليهم دين الحق وشهادة ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله فمن قالها وتبرا من دين مسيلمة فلا تقتلوه ومن لزم دين مسيلمة فاقتلوه فقبلها رجال منهم ولزم دين مسيلمة رجال فقتلوا (احكام القرآن للجصاص ج ٢ ص ٢٨٨، باب استتابة المرتد وسنن كبرى للامام البيهقى ج ٨ ص ٣٥٠) “زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ کوفہ میں کچھ آدمی گرفتار کئے گئے جو کہ مسیلمہ کذاب پر ایمان لائے تھے۔ سو ان کے بارہ میں حضرت عثمان کے پاس لکھا گیا کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں کیا کرنا چاہئے۔ حضرت عثمان نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ان پر دین حق اور ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ پیش کیا جائے۔ جو شخص اس کلمہ کو پڑھے اور دین مسیلمہ سے برأت کا اظہار کرے اس کو قتل نہ کرو اور جو شخص دین مسیلمہ کذاب پر جما رہے اسے قتل کر دو۔ تو بہت سے آدمیوں نے کلمہ اسلامی کو قبول کر لیا اور بہت سے دین مسیلمہ پر قائم رہے۔ انہیں قتل کیا گیا۔
٤.......سجاح بنت حارث
سجاح بنت حارث قبیلہ بنی تمیم کی ایک عورت تھی۔ نہایت ہوشیار تھی اور حسن خطابت و تقریر میں مشہور تھی۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ایک گروہ اس ٣٢
کے ساتھ ہو گیا۔ مدینہ منورہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔ مگر کسی وجہ سے نے مسیلمہ کا رخ کیا۔ مسیلمہ نے یہ خیال کر کے کہ اگر سجاح ہو جائے۔ اس لئے مسیلمہ نے بہت سے ہدایا اور تحائف طلب کیا اور ملاقات کی درخواست کی، مسیلمہ بنی حنیفہ کے جاکر ملا اور یہ کہا کہ عرب کے کل بلاد نصف ہمارے تھے بدعہدی کی اس لئے وہ نصف میں نے تم کو دے دیئے۔
بعدازاں مسیلمہ نے سجاح کو اپنے یہاں آئے قبول کیا۔ مسیلمہ نے ملاقات کے لئے ایک نہایت عمدہ خیمہ اس کو معطر کیا اور تنہائی میں ملاقات کی۔ کچھ دیر تک سجاح نے اپنی اپنی وحی سنائی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کی نبو نبیہ کا بلا گواہوں اور بلا مہر کے نکاح ہوا۔ تین روز کے بعد لوگوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہا کہ میں نے مسیلمہ سے نکاح ناگوار ہوا اور سجاح کو لعنت ملامت کی۔ قوم نے پوچھا کہ میں پوچھ کر آتی ہوں کہ میرا مہر کیا ہے؟ سجاح مسیلمہ کے کہا کہ جا اپنے ہمراہیوں سے یہ کہہ دے کہ مسیلمہ رسول عشاء کی تم سے معاف کر دیں۔ جن کو محمد (ﷺ) نے فر رفقاء کو اس مہر کی خبر کی۔ اس پر عطارد بن حاجب نے یہ شعر
واصبح انبیاء الناس
(شرم کی بات ہے) ہماری قوم کی نبی عور
اور لوگوں کے نبی مرد ہوتے چلے آئے ہیں۔
سجاح جب مسیلمہ کے پاس سے لوٹی تو اس سجاح کے رفقاء تو منتشر ہو گئے اور سجاح روپوش ہو گئی گئی اور وہیں اس کا انتقال ہوا اور سمرۃ بن جندب نے وقت حضرت معاویہ کی طرف سے امیر تھے۔ ٣٣
کے ساتھ ہو گیا۔ مدینہ منورہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔ مگر کسی وجہ سے یہ ارادہ ملتوی ہو گیا۔ بعد ازاں سجاح نے مسیلمہ کا رخ کیا۔ مسیلمہ نے یہ خیال کر کے کہ اگر سجاح سے جنگ چھیڑی تو کہیں قوت کمزور نہ ہو جائے۔ اس لئے مسیلمہ نے بہت سے ہدایا اور تحائف سجاح کے پاس بھیجے اور اپنے لئے امن طلب کیا اور ملاقات کی درخواست کی، مسیلمہ بنی حنیفہ کے چالیس آدمیوں کے ہمراہ سجاح سے جا کر ملا اور یہ کہا کہ عرب کے کل بلاد نصف ہمارے تھے اور نصف قریش کے لیکن قریش نے بد عہدی کی اس لئے وہ نصف میں نے تم کو دے دیئے۔
بعد ازاں مسیلمہ نے سجاح کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔ سجاح نے اس دعوت کو قبول کیا۔ مسیلمہ نے ملاقات کے لئے ایک نہایت عمدہ خیمہ نصب کرایا اور قسم قسم کی خوشبوؤں سے اس کو معطر کیا اور تنہائی میں ملاقات کی۔ کچھ دیر تک سجاح اور مسیلمہ میں گفتگو ہوتی رہی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی وحی سنائی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کی نبوت کی تصدیق کی اور اسی خیمہ میں نبی اور نبیہ کا بلا گواہوں اور بلا مہر کے نکاح ہوا۔ تین روز کے بعد سجاح اس خیمہ سے برآمد ہوئی۔ قوم کے لوگوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہا کہ میں نے مسیلمہ سے صلح کر لی اور نکاح بھی کر لیا۔ لوگوں کو بہت ناگوار ہوا اور سجاح کو لعنت ملامت کی۔ قوم نے پوچھا کہ آخر مہر کیا مقرر ہوا؟ سجاح نے کہا کہ اچھا میں پوچھ کر آتی ہوں کہ میرا مہر کیا ہے؟ سجاح مسیلمہ کے پاس آئی اور مہر کا مطالبہ کیا۔ مسیلمہ نے کہا کہ جا اپنے ہمراہیوں سے یہ کہہ دے کہ مسیلمہ رسول اللہ نے سجاح کے مہر میں دو نمازیں فجر اور عشاء کی تم سے معاف کر دیں۔ جن کو محمد ﷺ نے تم پر فرض کیا تھا۔ سجاح نے واپس آکر اپنے رفقاء کو اس مہر کی خبر کی۔ اس پر عطارد بن حاجب نے یہ شعر کہا ؎
واصبح انبیاء الناس ذكرانا
(شرم کی بات ہے) ہماری قوم کی نبی عورت ہے جس کے گرد ہم طواف کر رہے ہیں اور لوگوں کے نبی مرد ہوتے چلے آئے ہیں۔
سجاح جب مسیلمہ کے پاس سے لوٹی تو اثناء راہ میں خالدؓ بن ولید کا اسلامی لشکر مل گیا۔ سجاح کے رفقاء تو منتشر ہو گئے اور سجاح روپوش ہو گئی اور اسلام لے آئی اور پھر وہاں سے بصرہ چلی گئی اور وہیں اس کا انتقال ہوا اور سمرۃ بن جندبؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت سمرۃؓ اس وقت حضرت معاویہؓ کی طرف سے امیر تھے۔
(تاریخ ابن الاثیر ج ٢ ص ٢١٣ تا ٢١٦)
٣٣
اطلاع
سجاح اور مسلمہ کے وہ الہامات جو اس خیمہ میں ہوئے وہ تاریخ ابن اثیر اور تاریخ طبری میں مذکور ہیں۔ ہم نے شرم کی وجہ سے ان کو حذف کر دیا۔
٥...... مختار بن ابی عبید ثقفی
مختار بن ابی عبید ثقفی، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔ مدعی نبوت تھا اور یہ کہتا تھا کہ جبرائیل امین میرے پاس آتے ہیں ٦٧ ہجری میں عبداللہ بن زبیرؓ کے حکم سے قتل کیا گیا۔ لعنة الله عليه!
”وفی ایام ابن الزبير كان خروج المختار الكذاب الذي ادعى النبوة فجهزا بن الزبير يقتاله الى ان ظفر به فى سنة سبع ستين وقتله لعنه الله (تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ١٨٠)“
”وقد ظهر بالعراق وكان يدعى ان جبرائيل يأتيه بالوحى (كذافى دول الاسلام للحافظ الذهبي ج ١ ص ٣٠)“
عبداللہ بن زبیرؓ کے زمانہ میں مختار کذاب مدعی نبوت کا خروج ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اس کے قتال کے لشکر تیار کیا۔ یہاں تک کہ اس پر فتح پائی۔ ٦٧ھ کا یہ واقعہ ہے۔ یہ شخص ملعون آخر کار قتل ہوا۔ (تاریخ الخلفاء ص ١٨٥) پر حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ یہ شخص عراق میں ظہور پذیر ہوا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ جبرائیل امین میرے پاس وحی لاتا ہے۔ (دول الاسلام ج ١ ص ٣٥)
٦...... حارث بن سعید کذاب دمشقی
حارث بن سعید نے عبدالملک بن مروان کے زمانہ خلافت میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ عبدالملک بن مروان نے اس کو قتل کر کے عبرت کے لئے سولی پر لٹکایا۔ عبدالملک بن مروان خود تابعی تھا۔ حضرت عثمانؓ، ابو ہریرہؓ، ابو سعید خدریؓ، عبداللہ بن عمرؓ، معاویہؓ، ام سلمہؓ اور بریدہؓ سے حدیث سنی تھی اور عروة بن زبیر اور خالد بن معدان اور زہریؒ جیسے علماء تابعین عبدالملک سے روایت کرتے تھے۔ کما فی (تاریخ الخلفاء ص ١٨٦) ”ان حضرات کی موجودگی میں عبدالملک نے اس متنبّی کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا گیا۔
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: ”عبدالملک بن مروان نے حارث متنبّی کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا۔ اسلامی خلفاء اور بادشاہوں نے ہر زمانہ میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے اور علماء عصر نے ان کے فعلِ صواب پر اتفاق کیا۔ کیونکہ یہ جھوٹے مدعیانِ نبوت مفتری علی اللہ
٣٤
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ ئی مذہب کا مطالعہ کر کے ود شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشرار کا شر مسلم امہ کو (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان ) جہانگیر
ہیں ۔ خداوند قدوس پر جھوٹے الزام رکھتے ہیں کہ ا النبیین اور ”لا نبی بعدہ“ کے منکر ہیں اور علا نبوت کی تکفیر کرنے والوں سے بھی اختلاف کرے کفر اور تکذیب علی اللہ پر راضی و خوش ہے۔“
٧، ٨...... مغیرہ بن سعید عجلی، بیان بن سمع
١١٩ھ میں مغیرہ بن سعید عجلی اور بیان بن عبداللہ قسری نے جو ہشام بن عبدالملک کی طرف سے لئے پھانسی پر لٹکایا اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈال
(تار
شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عمر اور نافع مولیٰ ابن عمر اور طاؤس اور سلیمان بن سیرین اور مکحول اور عطاء بن ابی رباح اور امام باق بنائی اور مالک بن دینار اور ابن شہاب زہری اور اب تھے اور شعراء میں جریر اور فرزدق تھے۔
امام عبد القاہر بغدادی نے فرمایا ہے مغیرہ بن سعید عجلی کے پیروکار ہیں۔ آگے چل کر ا کا دعویٰ کرنا اور اسمِ اعظم کے علم کا مدعی ہونا وغیر بھی ظاہر کیا تھا کہ اسمِ اعظم کے ذریعہ سے وہ مرد دے سکتا ہے۔
٩...... ابو منصور عجلی
یہ شخص ابتداء میں رافضی تھا۔ بعد می قرآنیہ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں اور نبوت ک عبدالملک کی طرف سے عراق کا والی اور امیر ابو منصور کو گرفتار کر کے کوفہ میں پھانسی پر لٹکایا۔
چنانچہ شیخ عبدالقاہر بغدادی اپنی منصوریہ ابو منصور عجلی کے متبعین کا نام ہے۔ اس
ہیں ۔ خداوند قدوس پر جھوٹے الزام رکھتے ہیں کہ اس نے ان کو نبی بنایا اور پیغمبر ﷺ کے خاتم النبیین اور ”لا نبي بعده“ کے منکر ہیں اور علماء کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ جو شخص مدعیان نبوت کی تکفیر کرنے والوں سے بھی اختلاف کرے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ ان مدعیان نبوت کے کفر اور تکذیب علی اللہ پر راضی و خوش ہے۔“
(نسیم الریاض ج ٣ ص ٥٧٥)
٧، ٨...... مغیرۃ بن سعید عجلی، بیان بن سمعان تمیمی
١١٩ھ میں مغیرہ بن سعید عجلی اور بیان بن سعید تمیمی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خالد بن عبداللہ قسری نے جو ہشام بن عبدالملک کی طرف سے امیر عراق تھا۔ دونوں کو قتل کر کے عبرت کے لئے پھانسی پر لٹکایا اور پھر آگ کے گڑھے میں ڈال کر جلوایا۔
(تاریخ طبری ج ٣ ص ١٧٤، تاریخ ابن الاثیر ج ٤ ص ٢٢٨)
شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ ہشام کے زمانہ خلافت میں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع مولیٰ ابن عمر اور طاؤس اور سلیمان بن یسار اور قاسم بن ابی بکر اور حسن بصری اور محمد بن سیرین اور مکحول اور عطاء بن ابی رباح اور امام باقرؒ اور وہب بن منبہ اور سکینہ بنت حسین اور ثابت بنانی اور مالک بن دینار اور ابن شہاب زہری اور ابن عامر مقری شام وغیرہ وغیرہ یہ اکابر علماء موجود تھے اور شعراء میں جریر اور فرزدق تھے۔
(تاریخ الخلفاء ص ٢١١)
امام عبدالقاہر بغدادی نے فرمایا ہے۔ تیسری فصل فرقہ مغیریہ کے ذکر میں ہے۔ یہ لوگ مغیرہ بن سعید عجلی کے پیروکار ہیں۔ آگے چل کر لکھا ہے کہ مغیرہ نے کفر صریح اختیار کیا۔ مثلاً نبوت کا دعویٰ کرنا اور اسم اعظم کے علم کا مدعی ہونا وغیرہ وغیرہ اس نے اپنے مریدوں کے آگے یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ اسم اعظم کے ذریعہ سے وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے اور لشکروں کو بھی شکست دے سکتا ہے۔
٩...... ابو منصور عجلی
یہ شخص ابتداء میں رافضی تھا۔ بعد میں ملحد اور زندیق بنا اور مرزائیوں کی طرح آیات قرآنیہ میں عجیب عجیب تاویلیں کیں اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ یوسف بن عمر ثقفی جو کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا والی اور امیر تھا۔ اس کو جب اس کے عقائد کفریہ کا علم ہوا تو ابو منصور کو گرفتار کر کے کوفہ میں پھانسی پر لٹکایا۔
چنانچہ شیخ عبدالقاہر بغدادی اپنی کتاب ”الفرق بین الفرق“ میں لکھتے ہیں کہ فرقہ منصوریہ ابو منصور عجلی کے متبعین کا نام ہے۔ اس شخص کا دعویٰ تھا کہ امامت اولاد علی کرم اللہ وجہہ میں
٣٥
دائر ہے اور اپنے آپ کو امام باقر کا خلیفہ بتلایا۔ اس کے بعد اپنی ملحدانہ دعاوی میں اضافہ کیا کہ مجھے معراج آسمانی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا! بیٹے میری تبلیغ کرتا رہ۔ اس کے بعد زمین پر اتار دیا اور کہا کرتا تھا کہ آیت خداوندی ”وان يروا كسفاً من السماء ساقطاً يقولوا سحاب مركوم“ میرے حق میں نازل ہوئی یہ فرقہ (آج کل کے نیچریوں اور منکرین حدیث کی طرح) قیامت اور جنت و دوزخ کا منکر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جنت سے مراد دنیا کی نعمتیں اور دوزخ سے مراد دنیا کے رنج والم اور مصائب ہیں اور ان کے نزدیک باوجود اس ضلالت کے اپنے مخالفوں کا خفیہ قتل کرنا جائز بتاتا تھا۔ یہ فتنہ جاری رہا یہاں تک کہ یوسف بن عمر ثقفی والی عراق نے ابو منصور عجلی کو سولی پر لٹکا کر اس فتنہ کا قلع قمع کیا۔
ابو الطیب احمد بن حسین متنبی
ابوالطیب احمد بن حسین کوفی جو متنبی کے نام سے ایک مشہور شاعر ہے اور جس کا دیوان دنیا میں مشہور ہے اور فن ادب کا جزو نصاب ہے۔ حمص کے قریب مقام ساوہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کچھ اہل حماقت اور اہل غباوت اس کے متبع ہو گئے۔ امیر حمص نے متنبی کو جیل خانہ میں بند کر دیا۔ بالآخر جب جیل خانہ سے دعوائے نبوت سے تحریری توبہ نامہ لکھ کر بھیجا تب رہا ہوا۔
حافظ ابن کثیر (البدایۃ والنہایۃ ج ١١ ص ٢٥٧) میں لکھتے ہیں۔ اس شخص نے دعویٰ کیا میں نبی ہوں اور میری طرف وحی آتی ہے۔ جاہلوں اور سفلہ لوگوں کی ایک جماعت نے اس کو مان لیا۔ نزول قرآن کا بھی یہ شخص مدعی تھا۔ چنانچہ اس کی وحی اور قرآن کے چند جملے شہرت پاچکے ہیں۔ ”والنجم ايسيار والفلك الدوار والليل والنهار ان الكافر لفى خسارا مض على سنتك واقف اثر من كان قبلك من المرسلين فان الله قامع بك من الحدفي دنيه وينه وضل عن سبيله“ اس قسم کے ہذیانات (جیسا کہ غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں وحی اور الہامات اکٹھے کئے ہیں ) اس شخص کے بھی مشہور ہو گئے تھے۔ جس وقت اس مدعی نبوت کی خبریں اور چرچے عام ہوئے اور ایک جماعت اہل غباوت وحماقت اس کے گرد جمع ہو گئی تو حمص کے حاکم امیر لؤلؤ نے اس پر چڑھائی کی اور قتال ومقابلہ کے بعد اس کے آدمیوں کو منتشر کیا اور اسے گرفتار کر کے قید و بند میں ڈال دیا۔
چنانچہ جب احمد بن حسین کافی عرصہ جیل خانے میں بیمار رہنے کے بعد ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تو امیر نے اسے نکال کر توبہ کا مطالبہ کیا۔ اس وقت احمد بن حسین دعوائے نبوت سے تائب ہوا اور اپنے پچھلے تمام دعاوی کو جھٹلایا اور ایک تحریری تو بہ نامہ شائع کیا۔ جس میں لکھا تھا کہ ٣٦
میں تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہوتا ہوں اور اس پر امیر لؤلؤ نے اس کو آزاد کر دیا۔
اختصار کی بناء پر عربی عبارات کو حذف کـ
ص ٢٥٩ پر لکھتے ہیں: ”وقد شرح ديوانه الـ شرحا وجيزاً وبسيطاً“ علما بلغت اور علماء شرحیں لکھی ہیں۔ یہ ساٹھ شرحیں تو حافظ ابن کثیر کے سن وفات ہے۔ اس سے لے کر ١٣٧٢ھ جو شروع فـ
قصیدہ اعجاز یہ مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا قادیانی کو اپنے قصیدہ اعجازیہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو جاننا چاہئے کہ مرزا متنبی کے اشعار سے کوئی نسبت بھی نہیں۔ ممکن ہے قصیدہ اعجازیہ پر ایمان لے آئیں۔ مگر ذرا دنیا کے ابھی معلوم ہو جائے گا کہ قادیان کے دہقان کا کیسا اس وقت ہم فقط ان دس مدعیان نبو کرتے ہیں۔
کہ دل آزردہ شوی مـ
مرزا غلام احمد قادیانی
منجملہ مدعیان نبوت ایک مرزا غلام احمد کا دعویٰ کیا۔ اس زمانہ میں اور بھی بہت سے لوگوں سے زیادہ مشہور مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی بـ ہے اور اپنے آپ کو ان کا ہمسر بلکہ ان سے برتر بتا دعوے سے نہیں حـ پہلے بھی بہت گزریـ ہندوستان کے علاقہ پنجاب کے ایک ہے۔ وہاں ایک معمولی زمیندار مرزا غلام مرتضیٰ تھـ
ش پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ آئی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور حنیف کاشر حفظہم اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
میں تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہوتا ہوں اور میرے پچھلے تمام دعاوی غلط اور جھوٹ تھے۔ اس پر امیر لؤلؤ نے اس کو آزاد کر دیا۔
(تاریخ البدایہ والنہایہ)
اختصار کی بناء پر عربی عبارات کو حذف کر دیا گیا ہے۔ حافظ ابن کثیر کتاب مذکور کے ص ٢٥٩ پر لکھتے ہیں: ”وقد شرح دیوانہ العلماء بالشعر واللغة نحوا من ستین شرحا وجیزاً وبسیطاً“ علماء لغت اور علماء شعر نے متنبی کے دیوان کی مختصر اور مطول ساٹھ شرحیں لکھی ہیں۔ یہ ساٹھ شرحیں تو حافظ ابن کثیر کے زمانہ تک لکھی گئیں اور ٧٧٤ھ جو کہ ابن کثیر کا سن وفات ہے۔ اس سے لے کر ١٣٧٤ھ جو شروح وحواشی لکھے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔
قصیدہ اعجازیہ مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا قادیانی کو اپنے قصیدہ اعجازیہ پر ناز ہے۔ جو غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔
مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے اشعار کو دیوان متنبی کے اشعار سے کوئی نسبت بھی نہیں۔ ممکن ہے کہ قادیان کے کچھ دہقان مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ پر ایمان لے آئیں۔ مگر ذرا دنیا کے ادباء اور شعراء کے سامنے پیش کر کے دیکھیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ قادیان کے دہقان کا کیسا ہذیان ہے۔ ”فتلك عشرة كاملة“ اس وقت ہم فقط ان دس مدعیان نبوت کے قتل اور صلب کے واقعات پر اکتفاء کرتے ہیں۔
کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
مرزا غلام احمد قادیانی
منجملہ مدعیان نبوت ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے۔ جس نے اس زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس زمانہ میں اور بھی بہت سے لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے۔ مگر اس زمانہ کا سب سے زیادہ مشہور مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ خوب دعویٰ کرتا ہے اور انبیاء کی نقلیں اتارتا ہے اور اپنے آپ کو ان کا ہمسر بلکہ ان سے برتر بتاتا ہے اور دلیل کا نام و نشان نہیں۔
پہلے بھی بہت گزرے ہیں نقال محمد
ہندوستان کے علاقہ پنجاب کے ایک ضلع گورداسپور میں ایک گاؤں کا نام قادیان ہے۔ وہاں ایک معمولی زمیندار مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔ اس کے گھر میں ١٨٤٠ء میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔
٣٧
حق پروردہ اور حق گو انسان
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
پر بھی تھی اور یہ محبت ان
ار انسان ہونے کے ساتھ
ائی مذہب کا مطالعہ کر کے
دعوت دینے لگے۔ ان
دائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم اللہ کو
یم شیخ راحیل احمد کی اس
(آمین)
سلام پاکستان) جناب خلیق
کی اسلام کی آغوش میں
جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی رکھا گیا۔ مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔
مرزا قادیانی بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ اس کے بعد کچھ کیمیا سازی کا شوق پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ اس کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ بعد میں کچھ تعلیم حاصل کی اور جب جوان ہوئے تو ایک معمولی محرر (کلرک) کے طور پر عدالت ضلع سیالکوٹ میں ملازم ہوئے تنخواہ کی کمی کے باعث مختاری کے امتحان میں شامل ہوئے ۔ مگر فیل ہوگئے ۔ اب فکر ہوا کہ مذہبی راستہ سے کچھ حاصل کیا جائے تو پیری مریدی کی راہ اختیار کی اور مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے انہی عقائد اور اعمال کی تلقین کرتا رہا کہ جو اہل اسلام اور اس سلسلہ میں ایک اشتہار اس عنوان سے جاری کیا کہ حقانیت اسلام پر پچاس جلدوں کی ایک کتاب لکھی جاوے گی اور تین سو محکم دلائل پر مشتمل ہوگی اور قیمت اس کی ١٠، ٥ فی جلد پیشگی ہوگی۔
(دیکھو اشتہار براہین احمدیہ)
مسلمانوں نے خدمت اسلام سمجھ کر ہر طرف سے روپیہ بھیجنا شروع کردیا۔ جس سے مرزا قادیانی مالا مال ہوگئے۔ جب مرزا قادیانی کی منہ مانگی مراد حاصل ہوگئی تو تین سو بینظیر دلائل کے بجائے اپنی تعلیوں اور بلند پروازیوں کو حاشیہ در حاشیہ لکھ کر ایک پشتارہ براہین احمدیہ کے نام سے شائع کردیا اور آخیر میں یہ لکھ کر کہ اب براہین احمدیہ کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ تو اس کی اشاعت کو بند کردیا۔ جب لوگوں نے اپنے روپیہ کا تقاضہ کیا تو ان کو دنی الطبع کمینہ سفیہ وغیرہ وغیرہ کے الفاظ سے ڈانٹ دیا اور سارا روپیہ ہڑپ کر گئے ۔ اس طرح سے مرزا قادیانی تنگدستی کی حالت سے نکل کر ایک دولتمند ہوگئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اس نے میری ایسی دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١، نزول المسیح ص ٣٢، اربعین نمبر ٢ ص ٤)
سلسلہ دعاوی
اب اس کے بعد مختلف قسم کے دعوؤں کا سلسلہ شروع ہوا کہ میں مجدد ہوں، محدث من اللہ ہوں، یعنی ملہم من اللہ ہوں، امام الزمان ہوں، مسیح موعود ہوں، مثل مسیح ہوں، مہدی موعود ہوں، حارث موعود ہوں، رجل فارسی ہوں، کرشن اوتار ہوں، ذوالقرنین ہوں، نبی ہوں، رسول ہوں، احمد مختار ہوں، خاتم الانبیاء ہوں، خاتم الاولیاء ہوں، خاتم الخلفاء ہوں، یسوع کا ایلچی ہوں، مسیح بن مریم سے بہتر ہوں، بروزی محمد واحمد ہوں، مریم ہوں، میکائیل ہوں، بیت اللہ ہوں، حجر اسود ٣٨
ہوں، آریوں کا بادشاہ ہوں، آدم ہوں، نوح ہوں، ابراہیم ہو ہوں، سلیمان ہوں، یعقوب ہوں، تمام انبیاء کا مظہر ہوں، تمام
اب آگے چلئے! یہ دعاوی تو مقام ولایت ونبوت اب اس کے بعد مقام الوہیت ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی مظہر خدا ہوں، خدا ہوں، مانند خدا ہوں، خالق ہوں۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار تعلیاں اور لن ترانیا مشہور ہیں۔
اے مرزائیو! ذرا بتاؤ تو سہی کہ مرزا قادیانی آخر
خدارا غور کرو اور اپنے اوپر رحم کرو کہ کدھر جارہ زمانہ حیات میں قسم قسم کے دعوے شائع کئے جو بلاشبہ محال اور
- ا....... سب سے پہلے مرزا قادیانی نے ملہم من اللہ ہو
اور میں نبوت کے خلعت سے سرفراز کیا گیا ہوں۔ پھر اور آ مبشر ہوں کہ جس کی آمد کی عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ ”واذ قال عيسى بن مريم يابني اس مصدقالمابين يدي من التوراة ومبشرا برسو یعنی جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائی توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک آنے والے رسول کی اور اس کا نام احمد ہے۔
اے مسلمانو! مرزائے قادیان کی جسارت اور مبشر میں ہوں۔ جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
- ٢....... اور کہتا ہے کہ یہ آیت ”انا انزلناه بالقاد
میں ایک رسول اتارا اور حق پر اتارا۔
اے مسلمانو! کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر ہو رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ ان کے متعلق میں نازل ہوئی یا کوئی گستاخ آیات قرآنیہ میں قادیان یہ آیت میرے اور میرے شہر کے بارہ میں نازل ہوئی ٣٩
ہوں، آریوں کا بادشاہ ہوں، آدم ہوں، نوح ہوں، ابراہیم ہوں، یوسف ہوں، موسیٰ ہوں، داؤد ہوں، سلیمان ہوں، یعقوب ہوں، تمام انبیاء کا مظہر ہوں، تمام انبیاء سے افضل ہوں۔
اب آگے چلئے! یہ دعاوی تو مقام ولایت و نبوت اور مقام بادشاہت سے متعلق تھے۔
اب اس کے بعد مقام الوہیت ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی کے دعاوی سنئے ۔
مظہر خدا ہوں، خدا ہوں، مانند خدا ہوں، خالق ہوں، خدا کا بیٹا ہوں، خدا کی بیوی ہوں۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار تعلیاں اور لن ترانیاں ہیں۔ جو کتابوں میں مذکور اور مشہور ہیں۔
اے مرزائیو! ذرا بتاؤ تو سہی کہ مرزا قادیانی آخر کیا تھے
خدارا غور کرو اور اپنے اوپر رحم کرو کہ کدھر جارہے ہو۔ الغرض مرزا قادیانی نے اپنے زمانہ حیات میں قسم قسم کے دعوے شائع کئے جو بلاشبہ محال اور سراپا لغو تھے۔
- ١...... سب سے پہلے مرزا قادیانی نے ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر کہ مجھ پر وحی آتی ہے
اور میں نبوت کے خلعت سے سرفراز کیا گیا ہوں۔ پھر اور آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں وہ موعود اور مبشر ہوں کہ جس کی آمد کی عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ جو قرآن کریم بدین الفاظ مذکور ہے۔ ”واذ قال عيسى بن مريم يابني اسرائيل انى رسول الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشرا برسول ياتى من بعدى اسمه احمد“
یعنی جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک آنے والے رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہے۔
اے مسلمانو! مرزائے قادیان کی جسارت اور دیدہ دلیری کو دیکھو کہ یہ کہتا ہے کہ وہ احمد مبشر میں ہوں۔ جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
- ٢...... اور کہتا ہے کہ یہ آیت ”انا انزلناہ بالقادیان وبالحق نزل“ ہم نے قادیان
میں ایک رسول اتارا اور حق پر اتارا۔
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)
اے مسلمانو! کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر ہو سکتا ہے کہ قرآن کی جو آیتیں خاص محمد رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ ان کے متعلق کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ آیت میرے بارہ میں نازل ہوئی یا کوئی گستاخ آیات قرآنیہ میں قادیان یا اپنے کسی شہر کا نام بڑھا کر یہ کہنے لگے کہ یہ آیت میرے اور میرے شہر کے بارہ میں نازل ہوئی۔ کیا ایسے گستاخ اور شوخ چشم کے کافر
٣٩
السلام کی آغوش میں
حق پروردہ اور حق گو انسان
ماحول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش رفتار انسان
میں بھی محبت تھی اور یہ محبت ان
دار انسان ہونے کے ساتھ
قادیانی مذہب کا مطالعہ کر کے
لوگ نجات دینے لگے۔ ان
قائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور اشاعت کا مشن کھلم کھلا شرو
مظہر، مرزا جمیل احمد کی اس
(آمین)
سلام پاکستان ) جہانگیر
١٣٨
ہونے میں کوئی شبہ بھی ہو سکتا ہے۔
- ٥...... اور کہتا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت میری شان میں نازل ہوئی ہے: ”هو الذی
ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یعنی خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے۔
- ٦...... پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود بن کر آیا ہوں اور میں ہی کلمۃ اللہ اور
روح اللہ اور عیسیٰ ہوں اور بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہوں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی کا قول
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین اردو)
کوئی دیوانہ اور پاگل ہی اس بات کو مان سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان اس عیسیٰ ابن مریم سے بہتر ہے جس کے فضائل اور معجزات کے ذکر سے قرآن اور حدیث بھرا پڑا ہے۔
- ٧...... پھر ذرا پلٹا کھایا اور بولا کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی ان کا شبیہ اور مماثل ہوں۔ جب
مرزا قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو سوال ہوا کہ آپ جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں عیسیٰ بن مریم کا مثیل اور شبیہ ہوں تو آپ میں تو ان آیات باہرہ اور معجزات ظاہرہ کا نام و نشان بھی نہیں کہ جو قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت مذکور ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں روح پھونکتے تھے اور وہ زندہ ہوکر اڑ جاتا اور وہ بیماروں کوڑھیوں جذامیوں کو چنگا کرتے تھے۔
مرزا قادیانی سے سوال ہوا کہ جب آپ مثیل مسیح ہیں بلکہ ان سے بہتر ہیں تو آپ بھی مسیح بن مریم کی طرح کرشمہ مسیحائی دکھائے۔
تو جواب میں یہ کہتا ہے
کہ حضرت مسیح بن مریم سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔ بلکہ یہ تمام کام مسمریزم کے ذریعہ کرتے تھے اور میں (مرزا قادیانی) ایسی باتوں کو مکروہ سمجھتا ہوں ورنہ میں بھی کر دکھاتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧، ٢٥٨) میں لکھتا ہے۔
”بہر حال مسیح کی یہ تر بی کاروائیاں (مسمریزی) زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کی تھیں۔ مگر یاد رکھنا کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے
٤٠
١٣٩
ہیں ۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت سبحان اللہ! کیا خدا تعالیٰ نے جو عیسیٰ عل معجزات نہ تھے۔ وہ محض مسمریزم کے کرشمے اور ا وکمالات کو حضرت مسیح بن مریم کی فضیلت اور منقبت تماشہ اور مکروہ اور قابل نفرت قرار دینا کفر نہیں بلاشبہ ک
نیز اس مرزائے غلام نے بہت سی پیشین کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کی پیشین گوئیاں
سبحان اللہ! مرزا قادیانی سے جب اپنی تو بے دھڑک کہہ دیا کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغ
مطلب یہ ہے کہ نبی کے لئے صادق اور سچا ہونا ضرو نکلے تو اس سے میری نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ در ثابت ہو جائے گی۔ اس کے لئے ہم تیار ہیں کہ آپ کاذب مان لیں۔ وانا على ذلك من الشاهدين
حضرات! ذرا یہ بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ مر ان بیہودگیوں کے مرتکب اور اس کے پیروکار اس اسلام کا نام استعمال کریں۔ دیکھئے:
دعویٰ الوہیت وابنیت
سال دیگر گر خدا خو
منجملہ وجوہ کفر کی ایک وجہ یہ ہے کہ مر بھی دعویٰ ہے۔
اور دعوائے الوہیت و
چنانچہ کہتا ہے: ”رأيتني في الم لی ارادة ولا خطرة وبينما انا في
٤١
ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
سبحان اللہ! کیا خدا تعالیٰ نے جو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ذکر کئے ہیں۔ وہ حقیقتاً معجزات نہ تھے۔ وہ محض مسمریزم کے کرشمے اور اعجوبہ نمائیاں تھیں اور خدا تعالیٰ تو ان فضائل وکمالات کو حضرت مسیح بن مریم کی فضیلت اور منقبت میں ذکر فرماتا ہے اور مرزائے غلام ان کو کھیل تماشا اور مکروہ اور قابل نفرت قرار دینا کفر نہیں بلاشبہ کفر ہے۔
نیز اس مرزائے غلام نے بہت سی پیشین گوئیاں کیں اور جب وہ جھوٹی نکلیں تو کہنے لگا کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کی پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہو چکی ہیں۔
سبحان اللہ! مرزا قادیانی سے جب اپنی صداقت ثابت نہ ہو سکی بلکہ جھوٹا ہونا ثابت ہوا تو بے دھڑک کہہ دیا کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کی پیشین گوئیاں جھوٹی نکل چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کے لئے صادق اور سچا ہونا ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر میری کوئی پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو اس سے میری نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درست فرمایا جھوٹی پیشین گوئی سے جھوٹی نبوت ثابت ہو جائے گی۔ اس کے لئے ہم تیار ہیں کہ آپ کی نبوت کو نبوت کاذبہ مان لیں اور آپ کو نبی کاذب مان لیں۔ وانا علی ذلک من الشاھدین!
حضرات! ذرا یہ بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا کیا دعوے کئے۔ کیا ان بیہودگیوں کے مرتکب اور اس کے پیروکار اس بات کا حق رکھ سکتے ہیں کہ وہ مسجدیں بنائیں یا اسلام کا نام استعمال کریں۔ دیکھئے:
دعویٰ الوہیت وابنیت
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
منجملہ وجوہ کفر کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا ہونے کا اور خدا کا بیٹا ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔
اور دعوائے الوہیت پر ان کا اختتام ؎
چنانچہ کہتا ہے: ”رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو ولم یبق لی ارادة ولا خطرة وبینما انا فی ھذہ الحالة کنت اقول انا نرید نظاما
٤١
ش پروردہ اور حق گو انسان خوش گوار اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ بانی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے ۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس کا ثمر ہم اللہ کو ام شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان ) جہانگیر
جديداً وارضا جديدة فخلقت السموات والارض اولا بصورة اجمالية لا تفريق فيها ولا ترتيب ثم فرقتها ورتبتها وكنت اجد نفسى على خلقها كالقادرين ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ثم قلت نخلق الانسان فى احسن تقويم وكنا كذلك الخالقين“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
میں نے خواب میں اللہ کی ذات کو دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا کوئی ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ۔ اسی حال میں جبکہ میں بعینہ خدا تھا۔ میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام، نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی اور میں نے اپنے آپ کو اس وقت ایسا پایا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنيا بمصابیح پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہتر صورت پر پیدا کیا اور اسی طرح سے ہم خالق ہو گئے۔“
عبارت مذکورہ میں دعوائے الوہیت وخالقیت کو اگرچہ خواب کا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر خود مرزا قادیانی کا یہ قول ہے کہ نبی کا خواب اور الہام بھی بیداری کا حکم رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی کہتا ہے: ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ خود وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
مرزا قادیانی کا الہام
اور مرزا قادیانی کا الہام تھا۔ ”ماينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ یعنی مرزا قادیانی اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہی کہتا ہے جو اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
پر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔“ کیا مرزائی حضرات مرزا قادیانی کو عین خدا ماننے پر تیار ہیں۔ ان کو ضرور تیار ہو جانا چاہئے ۔ ورنہ کافر ہو جائیں گے اور ان کی آخرت تباہ ہو جائے گی۔
مرزا قادیانی کشف کے ذریعہ سے اپنا خالق ہونا لوگوں سے منوانا چاہتے ہیں اور ایسا کشف جس میں صریح الوہیت کا دعویٰ ہو لوگوں کے سامنے اس کو بیان کرنا اور اس کو القاء ربانی کہنا
٤٢
یہ بھی کفر ہے۔ یہ القاء القاء ربانی نہیں بلکہ القاء شیطانی ہے
خدائے تعالیٰ کے صاحبزادہ ہونے کا دعویٰ
سبحانه ان يكون
- .......١ "انت منی بمنزلة ولدی تو مجھ سے بمنزلہ
- .......٢ "انت منی بمنزلة اولادی“
- .......٣ "اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن۔“
- .......٤ "خدا قادیان میں نازل ہوا۔“
- .......٥ "انت بمنزلة بروزی یعنی تیرا ظہور میرا
اور ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کی الوہیت اور فرز ہو جاتا ہے۔ ایک طرف تو مرزا قادیانی خدائی اور صاح عقیدہ ہے اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ میں ان عیسائیو اے مسلمانو! توحید شریعت اسلامیہ کا ایک ذات وصفات میں یکتا اور بے نظیر و بے مثل ہے اور او وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا ان لوگوں خدا یا فرزند خدا کہتے تھے اور نمرود اور فرعون کو اسی وجہ رب اعلیٰ کہتے تھے۔
اور یہود یہ کہتے تھے: ”نحن ابناء الله و محبوب ہیں۔ پس اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوائے مرزائے قادیان اپنے کو کبھی عین خدا کہتا ہے اور کبھی خد ہی انصاف کریں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا کفر اور شرک اور اگر کسی مرزائی کو مرزا قادیانی کے ان فرعون اور نمرود کے ماننے والوں کے لئے بھی تاویل م ممکن ہوگی اور جو لوگ رام چندر اور گاندھی کو خدا مانتے ہ
دعویٰ تثلیث پاک
”مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی ) کی
٤٣
یہ بھی کفر ہے۔ یہ القاء القاء ربانی نہیں بلکہ القاء شیطانی ہے۔
خدائے تعالیٰ کے صاحبزادہ ہونے کا دعویٰ
سبحانه ان يكون له ولد
- ١...... ”انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھ سے بمنزلہ فرزند کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ٢...... ”انت منی بمنزلۃ اولادی“
(تاویل المتشابہات)
- ٣...... ”اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
- ٤...... ”خدا قادیان میں نازل ہوا۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦، مجموعہ الہامات مرزا)
- ٥...... ”انت بمنزلۃ بروزی بعینہ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔
(مکاشفات ص ٦٥٠)
اور ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کی ابنیت اور فرزندیت کا دعویٰ کرے وہ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے۔ ایک طرف تو مرزا قادیانی خدائی اور صاحبزادگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جو نصاریٰ کا عقیدہ ہے اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ میں ان عیسائیوں کے قتل کے لئے آیا ہوں۔
اے مسلمانو! توحید شریعت اسلامیہ کا ایک امتیازی مسئلہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا اور بے نظیر و بے مثل ہے اور اولاد اور بیوی سے پاک اور منزہ ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا ان لوگوں کو کافر قرار دیا ہے کہ جو مسیح بن مریم کو عین خدا یا فرزند خدا کہتے تھے اور نمرود اور فرعون کو اسی وجہ سے ملعون اور مطرود قرار دیا کہ وہ اپنے کو رب اعلیٰ کہتے تھے۔
اور یہود یہ کہتے تھے: ”نحن ابناء الله واحبأه“ کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ پس اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوائے الوہیت اور ابنیت کو کفر اور ضلال سمجھے۔ مرزائے قادیان اپنے کو کبھی عین خدا کہتا ہے اور کبھی خدا کا فرزند اور کبھی بمنزلہ فرزند کہتا ہے۔ آپ ہی انصاف کریں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا کفر اور شرک ہوگا۔
اور اگر کسی مرزائی کو مرزا قادیانی کے ان کفریات و شرکیات میں تاویل ممکن ہے تو فرعون اور نمرود کے ماننے والوں کے لئے بھی تاویل ممکن ہوگی اور گؤ سالہ پرستوں کے لئے بھی ممکن ہوگی اور جو لوگ رام چندر اور گاندھی کو خدا مانتے ہیں ان کے لئے بھی تاویل ممکن ہوگی۔
دعویٰ تثلیث پاک
”مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے کہ جس کو استعارہ کے طور پر
٤٣
اہلیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ محبت الہی کے چمکنے والی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔"
(توضیح المرام ص ٢٢ تا ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٢ تا ٦٤)
مرزا قادیانی کہتے تو یہ ہیں کہ میں نصاریٰ کی تثلیث کو مٹانے کے لئے آیا ہوں اور خود تثلیث کے مدعی ہیں۔ گویا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک تثلیث کی دو قسمیں ہیں۔ ایک پاک تثلیث جس کے مرزا قادیانی قائل ہیں اور ایک نجس تثلیث جس کے نصاریٰ قائل ہیں۔ مرزا قادیانی دوسری تثلیث کے مٹانے کے لئے آئے ہیں۔ نصاریٰ کی تثلیث تو شرک ہے اور مرزا قادیانی کی تثلیث توحید ہے۔
دعواے حلول ذات ربانی در پیکر انسانی
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”جب کوئی شخص زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے تو خدا کی روح اس کے اندر آ جاتی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٥، خزائن ج ٣ ص ٧٦)
یادر ہے کہ ہندو بھی اپنے اوتاروں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور سامری جو گوسالہ کی بابت کہتا تھا کہ هذا الهكم واله موسیٰ اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ خدا تعالیٰ اس پیکر جسمانی میں حلول کر آیا ہے۔ مرزائی حضرات بتلائیں کہ مرزا قادیانی کے ان تعلیمات کے بعد مرزائیوں میں اور عیسائیوں اور مشرکوں میں کیا فرق رہا۔
دعواے مریمیت و زوجیت خداوندی
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“ مرزا قادیانی نے اپنی اس مکاشفہ میں اپنے لئے استقرار حمل کا اقرار فرمایا اور پھر یہ فرمایا کہ دس ماہ یا اس کے بعد میں مریم سے عیسیٰ بن گیا۔ سبحان اللہ! مرزا قادیانی:
کا مصداق ہیں۔ کیونکہ ولادت کے لئے دردزہ ضروری ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١) پر اس دردزہ کے متعلق لکھتے ہیں: ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردزہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے کچھ اور بھی الہامات ٤٤
ہیں۔ شرم کی وجہ سے ہم نے ان کو نقل نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد بی۔ اے اپ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ نے ایک موقعہ پر اپنی یہ حالت بیان فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آم گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار اشارہ کافی ہے۔ ”استغفر الله ولا حول ولا قوة الا بالله!“ اے مسلمانو! دیکھ لو شیطانی الہام ایسا ہوتا ہے۔ ایسا الہام مسلمانو! مرزا قادیانی کے اس حیا سوز کشف کو آپ نے پڑھ لی مرزا قادیانی کے الہامات پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ خود مرزا قا
بخدا پاک دانم اش از
ہمچو قرآن منزہ اش
از خطاہا ہمیں است
اے مرزائیو! خدارا اپنے اوپر رحم کرو اور ان خرافات س کے ظل عاطفت میں آ جاؤ۔
کرشن ہونے کا دعویٰ
منجملہ وجوہ کفر کے ایک وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی ا ہیں۔ جو مشرکین ہند اور بت پرستان بھارت کا امام الائمہ تھا۔ جس الکفر والشرک ہونا ثابت ہوا۔ ہندوؤں کے اعتقاد میں کرشن بھی بناء عقیدہ تناسخ اور حلول پر ہے۔ مرزا قادیانی کے کفر کی یہ اٹھائیس وجہ ہوئیں جو ہم ن کہ اہل بصارت اور اہل بصیرت کی ہدایت کے لئے یہ وجوہ کافی کلام کو ختم کرتے ہیں۔ ورنہ اگر حقیقت پر نظر کی جائے تو مرزا قا نکلیں گی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تالیفات ہزاراں ہزار صفحے ان بھرے پڑے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کلمہ کفر اور شرک سو مرت ٤٥
ل پروردہ اور حق گو انسان خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی سمجھتی تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ بانی مذہب کا مطالعہ کر کے پوخا دعوت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انتباہ شرعکم اللہ کو یم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
ہیں ۔ شرم کی وجہ سے ہم نے ان کو نقل نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد بی،او،ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی یہ حالت بیان فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے واسطے اشارہ کافی ہے۔“ استغفر الله ولا حول ولا قوة الا بالله!
اے مسلمانو! دیکھ لو شیطانی الہام ایسا ہوتا ہے۔ ایسا الہام تو احتلام سے بدتر ہے۔ اے مسلمانو! مرزا قادیانی کے اس حیا سوز کشف کو آپ نے پڑھ لیا۔ مرزائیوں کے نزدیک تو مرزا قادیانی کے الہامات پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ خود مرزا قادیانی کا یہ شعر ہے؎
بخدا پاک دانم اش از خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(درثمین فارسی)
اے مرزائیو! خدارا اپنے اوپر رحم کرو اور ان خرافات سے تائب ہو کر خاتم النبیین ﷺ کے ظل عاطفت میں آ جاؤ۔
کرشن ہونے کا دعویٰ
منجملہ وجوہ کفر کے ایک وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو کرشن کا بروز بتلاتے ہیں۔ جو مشرکین ہند اور بت پرستان بھارت کا امام الائمہ تھا۔ جس سے مرزا قادیانی کا امام الائمۃ الکفر والشرک ہونا ثابت ہوا۔ ہندوؤں کے اعتقاد میں کرشن بھگوان، پرمیشور کا اوتار تھا۔ جس کی بناء عقیدہ تناسخ اور حلول پر ہے۔
مرزا قادیانی کے کفر کی یہ اٹھائیس وجہ ہوئیں جو ہم نے ہدیہ ناظرین کر دیں۔ امید ہے کہ اہل بصارت اور اہل بصیرت کی ہدایت کے لئے یہ وجوہ کافی ہوں گی۔ اس لئے اب ہم اپنے کلام کو ختم کرتے ہیں۔ ورنہ اگر حقیقت پر نظر کی جائے تو مرزا قادیانی وجوہ کفر کم از کم اٹھائیس ہزار نکلیں گی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تالیفات ہزاراں ہزار صفحے انہیں کفریات کی تکرار اور اعادہ سے بھرے پڑے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کلمہ کفر اور شرک سو مرتبہ یا ہزار مرتبہ کہے تو یہی کہا جائے گا
٤٥
کہ اس نے ہزار مرتبہ کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ چودہ صدی کے تمام مدعیان نبوت میں اس قدر وجوہ کفر نہ ملیں گی۔ جو تنہاء ایک مرزا قادیانی کی ذات میں جمع تھیں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ گذشتہ مدعیان نبوت کو تمام دعوؤں کو مع شئے زائد اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرزا چودہ صدی کے دجالین اور کذابین کا ظل اور بروز تھا۔ بلاشبہ مسیح دجال کا اکمل ترین بروز تھا۔
مرزائیوں کے مختلف فرقے اور ان کا باہمی فرق
مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے زیادہ تر تین پارٹیوں پر منقسم ہیں۔ ایک پارٹی ظہیر الدین اروپی کی ہے اور دوسری پارٹی مرزا محمود قادیانی کی ہے اور تیسری پارٹی محمد علی لاہوری کی ہے۔ پہلی اروپی پارٹی کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مستقل نبی تھے اور ناسخ قرآن تھے اور شریعت محمدیہ مرزا قادیانی کے آنے سے منسوخ ہو چکی ہے۔
مرزا محمود قادیانی خلیفہ قادیان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہیں اور جو شخص مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر اور جہنمی ہے اور محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی تو نہیں مگر مجازی اور لغوی نبی ہیں اور مسیح موعود حقیقی ہیں۔ اوّل الذکر دو جماعتوں کا کفر لوگوں کی نظر میں ظاہر ہے۔ البتہ لاہوری جماعت کے بارہ میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ جماعت کیوں کافر ہے۔ جب کہ یہ جماعت مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی۔
جواب یہ ہے کہ کسی جماعت کا مسلمان یا کافر ہونا اس پر موقوف نہیں کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی مانتی ہے یا نہیں۔ اوّل دیکھنا یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کیا کہتا ہے۔ سو ہم دعوائے نبوت کے متعلق خود مرزا قادیانی کی عبارتیں نقل کر چکے ہیں کہ جن میں مرزا قادیانی نے صاف صاف الفاظ میں بآواز بلند یہ کہہ دیا کہ میں خدا کا نبی اور رسول ہوں اور ہر بات میں تمام انبیاء سے بڑھ کر ہوں اور دعوائے نبوت کے بارے میں مرزا قادیانی کی صد ہا عبارتیں بلکہ ہزار ہا عبارتیں ایسی صریح موجود ہیں کہ جن کی مراد اور مفہوم بالکل واضح ہے
اور مرزا قادیانی نے بار بار اس بات کا اعلان کر دیا کہ جو میری نبوت کو نہ مانے یا میرے بارے میں متردد ہو وہ کافر اور جہنمی ہے اور اس سے بیاہ شادی کے تعلقات جائز نہیں اور نہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت جائز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اپنے دعوؤں کے انکار کرنے والوں کو کافر کہنا انہی نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ
٤٦
لے کر آئے ہوں۔
پس لاہوری جماعت والے مرزا قادیانی کے ہوئے۔ کیونکہ لاہوری جماعت والے مرزا قادیانی کو نبی دوم یہ کہ لاہوری جماعت آنحضرت ﷺ کو کے لئے نبوت کو جائز نہیں مانتی۔ تو سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ثابت ہو گیا تو ایسی صورت سمجھنا بھی کفر ہے۔ جس شخص کا کفر ثابت ہو جائے مدعی کو مجدد سمجھنا تو اس سے بڑھ کر کفر ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص مانے۔ لیکن اس کو مجدد مانے تو یہ شخص بھی بلاشبہ کافر ہے قول میں کسی قسم کی تاویل کرنا یا اس کی طرفداری کرنا یہ بھی
نیز یہ کہ مرزا غلام احمد فقط دعوائے نبوت کی ہے۔ جن کا بیان پہلے ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کے زبان میں ہیں۔ جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں مرز قادیانی کی کتابوں میں مذکور ہے۔ جس میں تاویل مرتد کو تو ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ
اور لاہوری جماعت اگر چہ مرزا قادیانی نہیں۔ لیکن سوائے دعوائے نبوت کے مرزا قادیانی کی وجان سے ان پر ایمان رکھتی ہے کہ جو بلاشبہ کفر ہیں خلاف ہیں۔ خلاصتہ کلام یہ کہ لاہوری جماعت اگر نہیں کرتی۔ لیکن دیگر عقائد کفریہ میں تو اس کی ہم نوا کرتا تب بھی وہ ان عقائد کفریہ کی بناء پر کافر اور مر ٹھہراتی ہے۔ اس لئے کہ کافر اور ارتداد کی ہمنوائی بھی
مثلاً اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ خاتم النبیین بھی مانے۔ لیکن وہ شخص ان امور کا ان سے ثابت ہیں۔ مثلاً
- ١....... انبیاء کرام کی توہین کرے۔
دل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی بحث تھی اور یہ بحث ان ہر انسان ہونے کے ساتھ آئی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشک کا مرثیہ لکھ تم اللہ کو ہم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
لے کر آئے ہوں۔
پس لاہوری جماعت والے مرزا قادیانی کے قول اور فتوے کے مطابق کافر اور جہنمی ہوئے۔ کیونکہ لاہوری جماعت والے مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ محض مجدد مانتے ہیں۔
دوم یہ کہ لاہوری جماعت آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہے اور آپ کے بعد کسی کے لئے نبوت کو جائز نہیں مانتی۔ تو سوال یہ ہے کہ جب ایسی بے شمار صریح عبارتوں سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ثابت ہوگیا تو ایسی صورت میں تو مرزا قادیانی کو ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ جس شخص کا کفر ثابت ہو جائے مدعی نبوت کو تو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے اور اس کو مجدد سمجھنا تو اس سے بڑھ کر کفر ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کو نبی تو نہ مانے۔ لیکن اس کو مجدد مانے تو یہ شخص بھی بلاشبہ کافر ہے اور مدعی نبوت اور یقینی کفر کرنے والے کے قول میں کسی قسم کی تاویل کرنا یا اس کی طرفداری کرنا یہ بھی بلاشبہ کفر ہے۔
نیز یہ کہ مرزا غلام احمد فقط دعوائے نبوت کی وجہ سے کافر نہیں بلکہ اور وجوہ سے بھی کافر ہے۔ جن کا بیان پہلے ہو چکا ہے اور مرزا قادیانی کے یہ عقائد کفریہ صریح اور صاف ہیں اور اردو زبان میں ہیں۔ جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں اور پھر ہر کفر سوسو عنوان اور سوسو تعبیر سے مرزا قادیانی کی کتابوں میں مذکور ہے۔ جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے صریح کافر اور مرتد کو تو ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مجدد یا مسیح موعود مانا جائے۔
اور لاہوری جماعت اگرچہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی اور اس کی نبوت کے قائل نہیں۔ لیکن سوائے دعوائے نبوت کے مرزا قادیانی کی ان تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے اور دل و جان سے ان پر ایمان رکھتی ہے کہ جو بلاشبہ کفر ہیں اور قرآن اور حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ لاہوری جماعت اگرچہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی تصدیق نہیں کرتی۔ لیکن دیگر عقائد کفریہ میں تو اس کی ہم نوا ہے۔ بالفرض اگر مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ نہ کرتا تب بھی وہ ان عقائد کفریہ کی بناء پر کافر اور مرتد تھا تو اس بناء پر بھی لاہوری جماعت کافر ٹھہرتی ہے۔ اس لئے کہ کافر اور مرتد کی ادنیٰ ہمنوائی بھی کفر ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے اور آنحضرت ﷺ کو صدق دل سے خاتم النبیین بھی مانے۔ لیکن وہ شخص ان امور کا انکار کرے جو آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ثابت ہیں۔ مثلاً
- ......١ انبیاء کرام کی توہین کرے۔
٤٧
پل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا شرف عظیم الش یم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں
سلام پاکستان) چناب نگر
- ٢....... اور ان کے معجزات کا انکار کرے۔
- ٣....... اور ان کے حسب ونسب میں طعن کرے تو ایسا شخص بلا شبہ کافر ہے۔
اور جو شخص ان عقائد کفریہ میں اس کا ہمنوا بنے تو وہ بھی کفر میں ان کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔ یہی حال لاہوری جماعت کا ہے کہ اگرچہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتی۔ لیکن مرزا قادیانی کے دوسرے عقائد کفریہ کو دل و جان سے حق سمجھتی ہے۔ علاوہ ازیں پیشوائے جماعت لاہوریہ محمد علی لاہوری نے انگریزی اور اردو میں قرآن کریم کی تفسیر لکھی ہے۔ جس میں بہت سی آیات قرآنیہ کی تحریف کی ہے۔ یہ تحریفات ہی اس جماعت کے کفر کے مستقل وجوہ ہیں۔ خواہ یہ جماعت مرزا قادیانی کو مانے یا نہ مانے یہ تحریفات اس جماعت کے کفر اور الحاد کے مستقل وجوہ ہیں۔ نیز پہلے گزر چکا ہے کہ مرزا قادیانی صاف اور صریح الفاظ میں بآواز بلند یہ کہتے ہیں کہ جو مجھ کو نہ مانے وہ کافر اور جہنمی ہے تو مرزا قادیانی کے اس فتوے کی بناء پر لاہوری جماعت کافر اور جہنمی ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ لاہوری جماعت مرزا قادیانی کو بھی نہیں مانتی۔ محض مجدد یا محدث ماننے سے ان کو کفر سے نجات نہیں ملتی۔ بہر حال لاہوری جماعت مرزا قادیانی کے فتوؤں کی رو سے بھی کافر اور جہنمی ہے۔ کیونکہ لاہوری جماعت مرزا قادیانی کو نبی اور رسول نہیں مانتی۔
لاہوری مرزائیوں سے سوال
اگر مرزا قادیانی حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے تو یہ بتلایا جائے کہ حقیقی نبوت کا دعویٰ کن الفاظ سے ہوتا ہے اور نبی اکرم ﷺ تو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی حقیقی نبی تھے جو الفاظ حضور ﷺ کے نبوت کے لئے قرآن کریم میں آئے ہیں۔ وہی الفاظ مرزا قادیانی نے اپنے لئے استعمال کئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی حقیقی نبوت کے مدعی نہ تھے۔ صریح مکابرہ اور مجادلہ ہے۔ ایک شخص صراحتاً علے الاعلان یہ کہہ رہا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں اور آپ یہ کہتے ہیں کہ اس کی مراد ظلی اور بروزی اور مجازی اور لغوی وزارت ہے۔ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی عبارتیں عموماً ہر زبان میں ہیں۔ کیا سوائے محمد علی لاہوری کے کوئی اردو زبان سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔
اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مرزا قادیانی نے نبوت حقیقیہ کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ ظلی اور بروزی اور مجازی نبوت کے مدعی تھے تو یہ بتلایا جائے کہ کیا ظلی اور مجازی نبوت پر ایمان لانا فرض ہے اور کیا اس کا انکار کفر اور ارتداد ہے۔
نیز یہ بتلایا جائے کہ لاہوری جماعت اس گروہ کو جو مرزا قادیانی کو حقیقتاً نبی مانتی ہے۔ جیسے بشیر الدین محمود اس کی تکفیر کیوں نہیں کرتی۔ لاہوری جماعت کو چاہئے کہ قادیانی جماعت کے
٤٨
کفر کا اعلان کرے اور ان سے بیاہ شادی اور میراث کے برعکس ہے۔ جو لوگ حضور ﷺ کو صحیح معنی میں خاتم النبیین کافروں کا سا معاملہ کرتی ہے اور کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح کے پیچھے نماز درست سمجھتی ہے اور قادیانی جماعت سے بیاہ سمجھتی ہے۔ حالانکہ یہ جماعت ختم نبوت کی منکر ہے اور خاتم ہے۔ جو سراسر عقیدہ نبوت کے خلاف ہے۔
نیز اگر آپ کے نزدیک مرزا قادیانی نے نبو السلام کو گالیاں ہی نہیں دیں اور آنحضرت ﷺ کی مساوات کیا مرزا قادیانی نے اسلام کے قطعی اور اجماعی امور میں تا کیا ان باتوں سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے نہیں بلکہ صد ہا وجوہ سے صریح کافر اور مرتد ہیں۔ لاہوری نہیں کہتے۔ لیکن دعوائے نبوت کے علاوہ تو مرزا قادیانی صریح کافر کو کافر نہ سمجھے تو وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ مثلاً کرے تو وہ بھی کافر ہے۔
لاہوری جماعت کا عجب حال ہے
کہ مرزا قادیانی کو ملہم اور مامور من اللہ نبوت سے انکار بھی کرتی ہے۔ قادیان کے متنبّی سے رہنا چاہتی ہے۔
قادیانی جماعت سے سوال
جب آپ کے نزدیک مرزا قادیانی حقیقتاً کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ آپ کے اعتقاد کے مطا حیرت ہے کہ مرزا محمود کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان مرتد ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اور ان کے متبعین اگرچہ م مرتد نہیں بھائی بھائی ہیں۔
٤٩
کفر کا اعلان کرے اور ان سے بیاہ شادی اور میراث کے عدم جواز کا فتویٰ دے۔ لیکن معاملہ برعکس ہے۔ جو لوگ حضور ﷺ کو صحیح معنی میں خاتم النبیین مانتے ہیں لاہوری جماعت ان سے کافروں کا سا معاملہ کرتی ہے اور کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیر مرزائی سے جائز نہیں سمجھتی اور نہ ان کے پیچھے نماز درست سمجھتی ہے اور قادیانی جماعت سے بیاہ شادی و میراث وغیرہ سب کو جائز اور حق سمجھتی ہے۔ حالانکہ یہ جماعت ختم نبوت کی منکر ہے اور خاتم النبیین کے بعد مرزا قادیانی کو نبی مانتی ہے۔ جو سراسر عقیدہ نبوت کے خلاف ہے۔
نیز اگر آپ کے نزدیک مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں ہی نہیں دیں اور آنحضرت ﷺ کی مساوات بلکہ افضلیت کا بھی دعویٰ نہیں کیا اور کیا مرزا قادیانی نے اسلام کے قطعی اور اجماعی امور میں تاویل اور تحریف بھی نہیں کی۔
کیا ان باتوں سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے یا نہیں۔ بلاشبہ مرزا قادیانی ایک وجہ سے نہیں بلکہ صدہا وجوہ سے صریح کافر اور مرتد ہیں۔ لاہوری مرزائی اگرچہ ظاہراً مرزا قادیانی کو نبی نہیں کہتے۔ لیکن دعوائے نبوت کے علاوہ تو مرزا قادیانی کی تمام کفریات کو حق سمجھتے ہیں اور جو شخص صریح کافر کو کافر نہ سمجھے تو وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ مثلاً کوئی شخص مسیلمہ کذاب کے کفر میں تاویل کرے تو وہ بھی کافر ہے۔
لاہوری جماعت کا عجب حال ہے
کہ مرزا قادیانی کو ملہم اور مامور من اللہ بھی مانتی ہے اور ان کے خاص دعوائے نبوت سے انکار بھی کرتی ہے۔ قادیان کے متنبّی سے بھی وابستہ رہنا چاہتی ہے اور مسلمان بھی رہنا چاہتی ہے۔
قادیانی جماعت سے سوال
جب آپ کے نزدیک مرزا قادیانی حقیقتاً نبی ہے تو پھر آپ لاہوری جماعت کی تکفیر کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ آپ کے اعتقاد کے مطابق ایک حقیقی نبی اور رسول کے منکر ہیں۔ حیرت ہے کہ مرزا محمود کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانیں تو وہ کافر اور مرتد ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اور ان کے متبعین اگرچہ مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کریں وہ کافر اور مرتد نہیں بھائی بھائی ہیں۔
٤٩
پل پروردہ اور حق گو انسان خوش گوار اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے سچی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ آبی مذہب کا مطالعہ کر کے پر شجاعت دینے لگے۔ ان اتم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس فتنہ کا سر قلم اٹھا کر ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
آخر مرزا طاہر بتلائیں کہ وہ لاہوریوں کو کیوں کافر نہیں کہتے۔ آخر وہ بھی ہماری طرح مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور تمہارے باپ دادا مرزا غلام احمد کا فتویٰ ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا یہ اختلاف سب جنگ زرگری اور نفاق ہے۔ آخر اس کا مطلب کیا ہے کہ لاہوری مرزا قادیانی کو نبی نہ مانیں تو کافر نہیں اور تمام دنیا کے مسلمان مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اور لاہوری در پردہ سب ایک ہیں۔ "والكفر ملة واحدة"
اصل وجہ یہ ہے کہ
جب لاہوری جماعت نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مامور من اللہ مان لیا تو گویا نبی ہی مان لیا۔ بلکہ سب کچھ مان لیا۔ ہمارے نزدیک محمد علی لاہوری منافق تھا۔ مرزا محمود اور طاہر منافق نہیں۔ صاف کہتے ہیں کہ میرا باپ حقیقتاً نبی تھا اور لاہوری جماعت بہ نسبت قادیانی جماعت کے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق کے پردہ میں اپنے کفر کو چھپاتی ہے۔
مرزا قادیانی کے تھیلے میں سب کچھ ہے
مرزا قادیانی کی تصانیف میں سب قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایمان کی بھی اور کفر کی بھی۔ اسلام اور عیسائیت اور ہندو مذہب اور مجوسیت سب کچھ ہے۔ جس وقت جس چیز کی ضرورت ہوئی وہ پیش کر دی جاتی ہے۔ لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ مرزائیوں کا یہی طریقہ ہے۔ جہاں ضرورت پیش آئی وہاں مرزا قادیانی کو مجدد اور ملہم من اللہ بتا دیا اور جہاں کچھ گنجائش ملی وہاں مرزا قادیانی کو ظلی اور بروزی نبی بتلا دیا اور جہاں احباب خاص کا مجمع ہوا وہاں مرزا قادیانی کو مستقل اور صاحب شریعت نبی بتلا دیا اور دس لاکھ معجزات بتلا دیئے اور جہاں ہندوؤں کا مجمع ہوا وہاں مرزا قادیانی کو کرشن بتلا دیا۔ کبھی مذکر ہو گئے اور کبھی حاملہ اور حائضہ اور کبھی عاقل اور دانا بن گئے اور کبھی خبطی اور مراقی بن گئے۔
مرزائی دھوکہ
مرزائی دھوکہ دینے کی غرض سے مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں ختم نبوت کا اقرار اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جلالت قدر اور عظمت شان کا اعتراف ہے۔ اس قسم کی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ عبارتیں جن میں دعوائے نبوت اور حضرات انبیاء کرام کی توہین اور تحقیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مطہر میں صریح گالیاں ہیں ان کو
٥٠
چھپا لیتے ہیں۔ یہود بے بہود کا یہی شیوہ تھا۔ "قراطیس
جواب
جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ بعد میں نبوت کا خیال پیدا ہوا ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی مرزا قادیانی کی کوئی صاف اور یہ تصریح ہو کہ میری کتاب میں اس کے خلاف جو یا وہ ہ نے قبل دعوائے نبوت لکھا ہے اور اب دعوائے نبوت ک السلام کی گالیوں اور حضرات انبیاء کی توہین سے توبہ کرتا ہ عبارت دکھلا دیں تو ہم بھی ان کی تکفیر سے تائب ہو جائیں
ایک ضروری اطلاع
مرزا قادیانی کے وجوہ کفر اگر تفصیل کے سا مسیلمۃ پنجاب مصنفہ مولانا مرتضی حسن کا ضروری مطا مرزا قادیانی کے اور تینوں پارٹیوں کے عقائد کفریہ کو بان
مرزا قادیانی کے مضامین میں اختلاف کیوں
مرزا قادیانی کی کتابوں میں جس قدر مختلف کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کے کلام میں اس کا ہزارواں مرزا قادیانی چالا کی اور عیاری میں سب سے آگے تھے خود ساختہ اور پرداختہ ہے۔ کبھی ختم نبوت کا اقرار اور ک کبھی ان میں جرح و قدح کبھی نزول مسیح کو متواترات اس کو مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں۔ غرض یہ تھی کہ حقیقت ضرورت مفر باقی رہے اور زنادقہ کا ہمیشہ عبارتیں جو عام اہل سنت والجماعت کے عقائد کے کفارہ نہیں بن سکتیں۔ جب تک دو باتیں صراحتاً ثا تصریح کریں کہ میری وہ عبارتیں جو عام اہل سنت کے ہے جو جمہور امت نے سمجھی ہیں۔ دوم یہ کہ عبارتیں الل
٥١
چھپا لیتے ہیں۔ یہود بے بہود کا یہی شیوہ تھا۔ ”قراطيس تبدونها وتخفون كثيراً“
جواب
جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے کافر پیدا نہ ہوئے تھے۔ ابتداء میں اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ بعد میں نبوت کا خیال پیدا ہوا۔ لہٰذا پہلی عبارتوں کا پیش کرنا تب مفید ہوسکتا ہے کہ جب مرزائی مرزا قادیانی کی کوئی صاف اور صریح عبارت ایسی دکھا دیں کہ جس میں یہ تصریح ہو کہ میری کتاب میں اس کے خلاف جو یاوہ سب غلط ہے۔ صحیح صرف وہی ہے کہ جو میں نے قبل دعوائے نبوت لکھا ہے اور اب دعوائے نبوت سے تائب ہوتا ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گالیوں اور حضرات انبیاء کی توہین سے توبہ کرتا ہوں۔ مرزائی اگر مرزا قادیانی کی کوئی ایسی عبارت دکھلا دیں تو ہم بھی ان کی تکفیر سے تائب ہو جائیں گے۔
ایک ضروری اطلاع
مرزا قادیانی کے وجوہ کفر اگر تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہیں تو رسالہ اشد العذاب علی مسیلمۃ پنجاب مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسنؒ کا ضروری مطالعہ فرمائیں۔ جس میں مولانا صاحب نے مرزا قادیانی کے اور تینوں پارٹیوں کے عقائد کفریہ کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔
مرزا قادیانی کے مضامین میں اختلاف کیوں ہے
مرزا قادیانی کی کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں غالباً دنیا کے کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کے کلام میں اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں مل سکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی چالاکی اور عیاری میں سب سے آگے تھے۔ مرزا قادیانی کی یہ روش دیدہ و دانستہ اور خود ساختہ اور پرداختہ ہے۔ کبھی ختم نبوت کا اقرار اور کبھی انکار کبھی حضرت مسیح بن مریم کی مدح اور کبھی ان میں جرح و قدح کبھی نزول مسیح کو متواترات اور قطعیات اسلام سے بتلاتے ہیں اور کبھی اس کو مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں۔ غرض یہ تھی کہ حقیقت کوئی متعین نہ ہو۔ بات گڑ بڑ رہے اور بوقت ضرورت مخلص اور مفر باقی رہے اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں جو عام اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق ہیں۔ ان کے اقوال کفریہ اور الحاد کا کفارہ نہیں بن سکتیں۔ جب تک دو باتیں صراحتاً ثابت نہ ہو جائیں۔ اول یہ کہ مرزا قادیانی یہ تصریح کریں کہ میری وہ عبارتیں جو عام اہل سنت کے مطابق ہیں ان عقائد سے میری مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی ہیں۔ دوم یہ کہ عبارتیں اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف میری
٥١
ن پروردہ اور حق گو انسان
حول سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
سچی محبت تھی اور یہ محبت ان
ارا انسان ہونے کے ساتھ
نی مذہب کا مطالعہ کر کے
و شجاعت دینے لگے ۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور انکشاف کا شرف الحمد للہ کہ
قادیانی احمدی اس
م شیخ راحیل احمد کی اس
ی اسلام کی آغوش میں
(آمین)
سلام پاکستان) چناب نگر
کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان سے علانیہ طور پر توبہ اور رجوع کرتا ہوں اور کتاب وسنت کی تمام نصوص کو اسی معنی پر جانتا ہوں کہ جس معنی کے اعتبار سے صحابہؓ و تابعین سے لے کر اس وقت تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی مدح وثنا بھی کرتا ہے اور اس کی اطاعت اور محبت کا بھی دم بھرتا رہے ۔ لیکن کبھی کبھی ذرا دل کھول کر اس کو ماں بہن کی گالیاں بھی دے لیا کرے تو ایسا شخص واقعی اس کا مطیع اور متبع سمجھا جاسکتا ہے؟ ”و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد خاتم الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین“
(٢٧؍شوال ١٤٠٤ھ)
عدالت کے لئے لمحہ فکریہ
ان پیش کردہ حقائق کے بعد عدالت کو بخوبی یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ قادیانی فرقہ کو نہ مسجد کا حق ہے اور نہ ان کی عبادت گاہ کو مسجد کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو کسی طرح یہ حق ہے۔ وہ اپنے متعلق لفظ اسلام اور مسلمان استعمال کریں اور اپنے کسی رسالہ یا کتاب میں یہ عنوان استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ۔ اگر ایک جعلی نوٹ بنانے والا مجرم اور قابل سزا ہے تو اسلام اور دین کے جعلی سکے ڈھالنے والے کیونکر سزا سے بچ سکتے ہیں۔ اس طبقہ کو یقیناً مجرم اسلام کا غدار کہا جائے گا۔ بلکہ یہ تو حکومت پاکستان کے بھی غدار ہیں۔ ثبوت کے لئے ایک اخبار کا فوٹو سٹیٹ پیش ہے۔
مرزائی...... اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر عربوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں
اسرائیل پاکستان کا دشمن ہے لیکن مرزائیوں کا وہاں مشن موجود ہے
مولانا ظفر احمد انصاری کے لرزہ خیز انکشاف کے بعد حکومت اپنا فرض ادا کرے
ہفتہ وار طاہر لاہور کی اشاعت مورخہ ٢٨؍دسمبر ١٩٧٥ء میں مولانا ظفر احمد انصاری ایم۔این۔اے کراچی کے حوالہ سے پولیٹیکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی ٹی نعمان کی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ کا یہ لرزہ خیز انکشاف چھپا ہے کہ اسرائیل کی فوج میں مرزائی موجود ہیں اور ١٩٧٦ء میں ان کی تعداد چھ سو تھی۔
اس سے پہلے یہ خبر اخبارات میں چھپ چکی ہے کہ مرزائیوں کا مشن اسرائیل میں موجود ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ٣؍جون ١٩٦٦ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں زیر بحث آئی
٥٢
١٥١ تھی ۔ اوکاڑہ کے ایک ایم۔این۔اے میاں عبدالحق اسرائیل میں مرزائیوں کا کوئی مشن موجود ہے۔ اس لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسے اس کے مشکور ہوں گے۔
راقم الحروف نے مرزائیوں کی مشہور کتاب صاحب اور ذوالفقار علی بھٹو اور جناب آغا شورش کاشمیری کیں۔ تار روانہ کئے ہفتہ وار لولاک نے یہ ساری روئیداد اسرائیل کی فوج میں مرزائیوں کی موجودگی پھر ہم مرزائیوں کی کتاب ”آور فارن مشن“ کے ص شائع کئے دیتے ہیں۔ تا کہ آئندہ جو کچھ ہم کہنا چاہیں سمجھ میں آسکے ۔
احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کر ایک مسجد ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری ایک بک ڈ سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے۔ جس میں مختلف م تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔
فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی میں موجود ہیں۔ ہمارا مشن ان کی خدمت کر رہا ہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہماری مشنری کے لوگ حیفہ کے نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لئے کبابیر میں م دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار ا ممبر اور سکول کے طالبعلم بھی موجود تھے۔ ان کی آم میں انہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے رجسٹر میں بھی تحریر کئے۔ ہماری جماعت کے مؤثر واقعہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
تھی۔ اوکاڑہ کے ایک ایم این اے میاں عبدالحق نے قومی اسمبلی میں سوال کیا تھا کہ کیا اسرائیل میں مرزائیوں کا کوئی مشن موجود ہے۔ اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسے مشن کے متعلق ہمیں اطلاع دے گا تو ہم اس کے مشکور ہوں گے۔
راقم الحروف نے مرزائیوں کی مشہور کتاب ”آور فارن مشن“ حاصل کی میاں عبدالحق صاحب اور ذوالفقار علی بھٹو اور جناب آغا شورش کاشمیری مرحوم کو اس کی فوٹوسٹیٹ کاپیاں ارسال کیں۔ تار روانہ کئے ہفتہ وار لولاک نے یہ ساری روئیداد شائع کی۔
اسرائیل کی فوج میں مرزائیوں کی موجودگی کے سلسلہ میں کچھ کہنے سے پہلے ایک دفعہ پھر ہم مرزائیوں کی کتاب ”آور فارن مشن“ کے ص ٧٩ سے انگریزی عبارت کا لفظ بلفظ ترجمہ شائع کئے دیتے ہیں۔ تاکہ آئندہ جو کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں وہ کھل کر قارئین لولاک اور حکومت کی سمجھ میں آسکے۔
احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرمل) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک مسجد ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ البشریٰ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے۔ جو تیس مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔
فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں۔ ہمارا مشن ان کی خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہماری مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت و شنید کی۔ میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لئے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔
کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا۔ جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور سکول کے طالبعلم بھی موجود تھے۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں انہیں سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کئے۔ ہماری جماعت کے مؤثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
٥٣
١٩٥٦ء میں جب ہمارے مبلغ چوہدری محمد شریف ربوہ پاکستان واپس آ رہے تھے۔ اس وقت اسرائیل کے صدر نے ہماری مشنری کو ایک پیغام بھیجا کہ چوہدری صاحب روانگی سے پہلے صدر صاحب سے ملیں۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چوہدری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا صدر محترم کو پیش کیا۔ جس کو صدر صاحب نے خلوص دل سے قبول کیا۔ چوہدری صاحب کا صدر صاحب سے انٹرویو، ریڈیو اسرائیل سے نشر کیا گیا اور ان کی ملاقات اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کی گئی۔
اور فارن مشن ص ٧٩ کی اس عبارت کے پڑھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائی فلسطین میں اسرائیل کے قیام سے قبل گئے ہوئے تھے اور وہاں یہ یہودیوں کے لئے سنہری خدمات سر انجام دیتے رہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ اسرائیل بن جانے کے بعد کسی دوسرے عیسائی، ہندو، بدھ وغیرہ کو وہاں مشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لیکن مرزائیوں کو وہاں سکول قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ وہاں اسکول قائم ہو گئے۔ عربی زبان میں اخبار نکلنا شروع ہو گیا۔ وہاں کے حکام سے راز و نیاز قائم رہا۔ جب کہ مرزائیوں کے اس مشن کا مرکز ربوہ پاکستان میں تھا اور پاکستان نے اسرائیل کے وجود کو نہ اس وقت تسلیم کیا تھا اور نہ ہی آج تک تسلیم کیا ہے۔
پھر آخر اس کی کیا وجہ تھی کہ عیسائیوں کے مشن تو اسرائیل سے نکال دیئے گئے اور مرزائیوں کے مشن کو یہودیوں نے سینے سے لگائے رکھا۔ انہیں مراعات دیں اور ان کے چرچے ریڈیو اسرائیل سے بلند ہوتے رہے۔ اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ مرزائیوں نے عربوں کے خلاف غداری کی۔ ان کے لئے خفیہ خدمات سر انجام دے کر اسرائیل کے قیام میں امداد دی اور جب اسرائیل بن گیا تو یہودیوں نے انہیں سابقہ خدمات اور آئندہ کی ضروریات کے لئے وہاں قائم رکھا۔
ہمارا ایمان ہے کہ یہ اب تک مسلمانوں اور عربوں کے خلاف یہودیوں، برطانیہ اور امریکہ کے لئے جاسوسی اور غداری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ بہر حال جب ہم نے اوپر فارن مشن کے حوالے سے اس وقت حکومت کو یہ اطلاع دی تھی کہ مرزائیوں کا مشن اسرائیل میں موجود ہے۔ جب کہ پاکستان کا کوئی تعلق اسرائیل سے نہیں ہے۔ نہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ وہاں ہمارا سفارت خانہ ہے۔ تو ہمارا خیال تھا کہ اب پاکستانی حکومت اس جرم میں مرزائیوں کو سزا دے گی اور انہیں اس اسلام اور عرب دشمنی کا خوب مزا چکھائے گی۔
٥٤
لیکن کچھ بھی نہ ہوا الٹا ذو الفقار علی بھٹو ہی وزار سے باہر آ گئے۔ بلکہ صدر ایوب خان کے ارد گرد مرزائیو احمد، این. اے فاروقی اور سائنس مسٹر عبدالسلام اور دوس خوب چھا گئے۔
مرزائیوں کا مشن بدستور اسرائیل میں قائم رہا او نے دریافت نہیں کیا کہ تم لوگ وہاں کیسے آتے جاتے ہو۔ تم یہ عرب دشمنی اور اسلام دشمنی کا کھلم کھلا ارتکاب کیوں کر ر
اب مولانا ظفر احمد انصاری نے نیا انکشاف ک کتاب کے حوالے سے کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ تعداد یقیناً ہزاروں تک پہنچ چکی ہو گی اور یہ اسرائیل کی فو پاکستان کی فوج سے نکل کر وہاں گئے ہوں گے۔ ہمارے فو گئے ہوں گے۔ اس سے بڑی غداری اور اسلام دشمنی مرزا یہودیوں کے نئے اسلامی ممالک خصوصاً عرب ممالک رہے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں۔ بلکہ ان کی فوج انہیں یہودیوں کا غلام بنانے میں شریک ہیں۔
دنیا نے عرب اسلام کا منبع اور مصدر ہونے کی ہے۔ لیکن اب تو ہم عربوں کے اس لئے بھی ممنون اور اح نازک موقعہ پر ہر طرح کا تعاون ملا ہے اور اب بھی و ہمارے لئے یہ معمہ نا قابل فہم ہے کہ اس قیامت خیز انکش کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ مرزا کے مسلمہ اور مصدقہ دشمن ہیں۔ ان کی عرب دشمنی کا زند غیرت اس کی حمیت اور اس کی رگ احتساب کیوں ن کرنے کے لئے کیوں آمادہ نہیں ہے۔
آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اس کا ایکشن لے۔ مرزائی خواہ بھارت میں خواہ پا
٥٥
لیکن کچھ بھی نہ ہوا الٹا ذوالفقار علی بھٹو ہی وزارت خارجہ سے بوریا باندھ کر حکومت سے باہر آگئے ۔ بلکہ صدر ایوب خان کے ارد گرد مرزائیوں کا گھیرا اور مضبوط ہوگیا۔ ایم ۔ایم احمد ، این ۔اے فاروقی اور سائنسدان مسٹر عبدالسلام اور دوسرے چھپے ہوئے قادیانی حکومت پر خوب چھا گئے۔
مرزائیوں کا مشن بدستور اسرائیل میں قائم رہا اور آج تک قائم ہے مرزائیوں سے کسی نے دریافت نہیں کیا کہ تم لوگ وہاں کیسے آتے جاتے ہو۔ تمہیں وہاں اخراجات کیسے ملتے ہیں اور تم یہ عرب دشمنی اور اسلام دشمنی کا کھلم کھلا ارتکاب کیوں کررہے ہو۔
اب مولانا ظفر احمد انصاری نے نیا انکشاف کر دیا ہے اور وہ بھی یہودی پروفیسر کی کتاب کے حوالے سے کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر ١٩٧٢ء میں چھ سو قادیانی تھے تو اب ان کی تعداد یقیناً ہزاروں تک پہنچ چکی ہوگی اور یہ اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہونے والے لوگ ظاہر ہے پاکستان کی فوج سے نکل کر وہاں گئے ہوں گے۔ ہمارے فوجی راز یہودیوں کے قبضہ میں یقیناً چلے گئے ہوں گے۔ اس سے بڑی غداری اور اسلام دشمنی مرزائیوں کو اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ نہ صرف یہودیوں کے لئے اسلامی ممالک خصوصاً عرب ممالک میں جاسوسی کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں۔ بلکہ ان کی فوج میں شامل ہوکر عربوں کو برباد کرنے اور انہیں یہودیوں کا غلام بنانے میں شریک ہیں۔
دنیائے عرب اسلام کا منبع اور مصدر ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے بے حد قابل احترام ہے۔ لیکن اب تو ہم عربوں کے اس لئے بھی ممنون اور احسان مند ہیں کہ ان کی طرف سے ہمیں ہر نازک موقعہ پر ہر طرح کا تعاون ملا ہے اور اب بھی وہ ہماری بے پناہ مالی امداد کررہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ معمّہ ناقابل فہم ہے کہ اس قیامت خیز انکشاف کے بعد بھی ہماری حکومت مرزائیوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ مرزائی جو اسلام ملک اور موجودہ حکومت تینوں کے مسلمہ اور مصدقہ دشمن ہیں۔ ان کی عرب دشمنی کا زندہ ثبوت سامنے ہے۔ ان کے متعلق اس کی غیرت اس کی حمیت اور اس کی رگ اعصاب کیوں نہیں پھڑکتی اور وہ ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کے لئے کیوں آمادہ نہیں ہے۔
آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرے اور اس کا ایکشن لے۔ مرزائی خواہ بھارت میں خواہ پاکستان میں ہیں۔ خواہ یورپ میں اور خواہ
٥٥
ل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دیتے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں سچا تعارف کر سکیں اللہ کو اور اللہ کا شکر کہ اس م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
اسرائیل میں وہ سب کے سب مرزا ناصر احمد کے وفادار ہیں اور ہر جگہ انہی کی ہدایات کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اگر اس خوفناک اقدام کے بعد بھی حکومت مرزائیوں سے کوئی ایکشن نہیں لیتی تو عوام بے شمار شکوک وشبہات میں مبتلا ہو جانے میں حق بجانب ہوں گے اور کوئی شخص پھر اس طرح بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری وزارت خارجہ کے علم اور مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔
ربوہ میں بھارتی جاسوس
ایک دفعہ ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر چند غیر ملکی لوگ دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے لائے گئے تھے۔ ان غیر ملکی لوگوں میں ١٥ مرزائی بھارت سے بھی آئے ہوئے تھے۔ جلسہ ختم ہو جانے کے بعد ربوہ میں کچھ مخصوص مشاورتیں ہوئیں۔ جتنے مرزائی وکیل آئے ہوئے تھے۔ انہیں جمع کر کے ان کی ایک الگ مشاورت ہوئی۔ اسی طرح اگلے روز تمام ضلعی امیروں کا اجلاس ہوا۔ پھر صوبائی امیروں کا اجلاس ہوا۔ اس کے بعد ٣٠؍ دسمبر کو بھارتی اور صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کے مرزائیوں کے اجلاس ہوئے۔ اس کے بعد تمام باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو اجازت دے دی گئی۔ لیکن بھارت، صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کے مندوبین کو چند دنوں کے لئے روک لیا گیا ہے اور ان سے خفیہ مشاورتیں ہو رہی ہیں۔
ہماری شروع ہی سے رائے ہے کہ مرزائی ایک سازشی ٹولہ ہے۔ یہ لوگ اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ پاکستان کے مخالف اور اسے کسی نہ کسی طرح توڑنا ان کا مذہبی عقیدہ اور جماعتی فرض ہے۔ اس وقت یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ اسرائیل کی فوجوں میں بھرتی ہو کر دنیائے عرب اور دنیائے اسلام کی بربادی میں عملاً حصہ لے رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد گزشتہ دنوں علاج کے بہانے لندن اور یورپ کا دورہ کر آئے ہیں۔ ہماری اطلاعات کے مطابق وہ وہاں بھارت، برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس کے افسروں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور دنیائے اسلام کی بربادی کے منصوبے ہی زیر بحث آئے ہوں گے۔ ایسے حالات میں حکومت کی سادگی ہے کہ اس نے بھارت کے ان ١٥ مرزائیوں کو جو یقیناً بھارت کی انٹیلی جنس کے آدمی ہیں۔ پاکستان میں داخل ہونے دیا ہے اور وہ امتیازی طور پر ٹھہرائے گئے۔ ادھر بلوچستان اور سرحد سی۔ آئی۔ اے کی سازشوں کی زد میں ہیں ان کے نمائندوں سے مشورے ہو رہے ہیں۔ ٥٦
پھر مرزائیوں کا اتنا خفیہ اور راز دارانہ نظام مشاورتیں کر رہے ہیں اور کون کون سے سازشی منصو ہماری معلومات اور وجدان کی تصدیق کریں گے اور محض ایک فراڈ ہے۔ اس میں اسلام کی تبلیغ ایک دوسری سامراجی طاقتوں کی ایجنٹ ہے اور یہ اجتماع وجود کے خلاف ہوتی رہی ہیں۔
قابل اعتراض
مرزائیوں کے ربوہ کے سالانہ جلسہ میں اعتراض ہیں اور جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس وقت سے اور مسلمانوں کے خلاف ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کو وہ کے دینی عقیدے کی اہمیت کے پیش نظر انتہائی غلط کام کرنے والوں کو وہ حرامزادہ اور کنجریوں کی اولا
گزشتہ حکومت کے دور میں باوجود یکہ دے دیا تھا۔ لیکن حکومت کی سطح سے ان کے ساتھ طرح نوازا جاتا رہا۔ ان کے سالانہ جلسے کے موقع اور سیکورٹی کے بے پناہ انتظامات ہوئے۔
حالانکہ یہ ان کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس تھی۔ اسی طرح سرکاری سکولوں کی عمارتیں جو قومی ملکیت میں آنے کے بعد سرکاری املاک، کرنے کے لئے دی گئیں۔ چنانچہ تعلیم الاسلام کیمبل پور ضلع ہزارہ اور ضلع لائل پور کے مرزائی سکول کی بلڈنگ میں ضلع وشہر گجرات کے مرزائی جہلم ضلع ملتان اور خیر پور ڈویژن کے مرزائی گوجرانوالہ اور ضلع ڈیرہ غازیخان کے مرزائی ط
پھر مرزائیوں کا اتنا خفیہ اور راز دارانہ نظام ہے کہ کسی کو معلوم نہیں ہونے دیتے کہ وہ کیا مشاورتیں کر رہے ہیں اور کون کون سے سازشی منصوبے ان کے زیر بحث ہیں۔ بہر حال حالات ہماری معلومات اور وجدان کی تصدیق کریں گے اور جلد یا بدیر حکومت تسلیم کرے گی کہ ان کا جلسہ محض ایک فراڈ ہے۔ اس میں اسلام کی تبلیغ ایک دھوکہ ہے۔ اصل میں یہ تنظیم یہودیوں اور دوسری سامراجی طاقتوں کی ایجنٹ ہے اور یہ اجتماع اور ان کی یہ مشاورتیں پاکستان کی سالمیت اور وجود کے خلاف ہوتی رہی ہیں۔
قابل اعتراض
مرزائیوں کے ربوہ کے سالانہ جلسہ میں ہمیشہ باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جو سخت قابل اعتراض ہیں اور جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس وقت سے مرزائیوں کا رویہ پہلے سے کئی گنا زیادہ حکومت اور مسلمانوں کے خلاف ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کو وہ پہلے ہی کافر اور پکے کافر کہتے ہیں۔ ختم نبوت کے دینی عقیدے کی اہمیت کے پیش نظر انتہائی خلوص سے تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور رد مرزائیت کا کام کرنے والوں کو وہ حرامزادہ اور کنجریوں کی اولاد کہتے ہیں۔
گزشتہ حکومت کے دور میں باوجودیکہ ستمبر ١٩٧٤ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا۔ لیکن حکومت کی سطح سے ان کے ساتھ غیر مسلموں کا سا کیا معاملہ کیا جاتا ان کو پوری طرح نوازا جاتا رہا۔ ان کے سالانہ جلسے کے موقعوں پر ان کی بے جا ناز برداری ہوتی رہی۔ پولیس اور سیکورٹی کے بے پناہ انتظامات ہوئے۔
حالانکہ یہ ان کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس کے انتظام اور دوسرے کام ان کی اپنی ذمہ داری تھی۔ اسی طرح سرکاری سکولوں کی عمارتیں جو کبھی مرزائیوں کی انجمن کی ملکیت تھیں۔ لیکن اب قومی ملکیت میں آنے کے بعد سرکاری املاک، میں وہ مرزائیوں کو مہمان خانوں کے طور پر استعمال کرنے کے لئے دی گئیں۔ چنانچہ تعلیم الاسلام کالج کی پرانی عمارت میں ضلع وشہر لاہور، ضلع وشہر کیمبل پور ضلع ہزارہ اور ضلع لائل پور کے مرزائی ٹھہرے ہوئے تھے۔ بشیر ہال تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بلڈنگ میں ضلع وشہر گجرات کے مرزائی تعلیم الاسلام کی اصل بلڈنگ میں ضلع ساہیوال ضلع جہلم ضلع ملتان اور خیر پور ڈویژن کے مرزائی اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں ضلع گوجرانوالہ اور ضلع ڈیرہ غازیخان کے مرزائی ٹھہرائے گئے تھے۔
٥٧
البتہ فضل عمر ہوسٹل، طبیہ کالج، جامعہ احمدیہ ہوسٹل، جامعہ احمدیہ ایوان محمود، دارالضیافت دفاتر انصار اللہ اور خیمہ جات مرزائیوں کی اپنی ملکیتی بلڈنگیں اور انتظام تھا۔ اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن سرکاری بلڈنگوں کو کفر کے تعاون کے لئے دینا، سواد اعظم اور خود اسلام کے نزدیک ایک ناجائز فعل تھا اور یہ زیادتی حکومت کے کارپردازان کی تھی۔ اس سلسلہ میں انتظامیہ یہ کہہ سکتی ہے کہ چنیوٹ کی کانفرنس کے لئے چنیوٹ کے دو تعلیمی اداروں کی بلڈنگیں دے دی جایا کرتی ہیں۔ اگر مرزائیوں کے جلسہ کے لئے ربوہ کے تعلیمی اداروں کی عمارتیں دے دی جائیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہم حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ اسلام اور اسلام کے ایک اہم ترین مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ کے لئے منعقد ہوتی ہے۔ اس کے لئے قومی ذرائع اور وسائل کا استعمال ہونا اس مملکت کے سرکاری مذہب اور نظریہ کے عین مطابق ہے۔ لیکن ربوہ کانفرنس اس مملکت کے سرکاری مذہب اور اس مملکت کے بنیادی نظریہ کے منافی اور مخالفانہ تبلیغ کے لئے ہوتی ہے۔ اس میں سرکاری ذرائع اور وسائل کا استعمال اصولی طور پر غلط اور مملکت کے مفاد کے خلاف ہے۔
اس لئے ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ ربوہ کا جلسہ نظریہ پاکستان اور مملکت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہے۔ اس جلسہ کو بالکل بند کر دیا جانا چاہئے۔ دنیا میں چین اور روس نظریاتی مملکتیں ہیں۔ ان کا بنیادی نظریہ کمیونزم ہے۔ وہاں کمیونزم کے علاوہ کسی نظریہ کی تبلیغ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہاں کمیونزم کے علاوہ کسی دوسرے مذہب یا ازم کی تعلیم تدریس اور تبلیغ کے لئے اجتماع منعقد کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کا بنیادی نظریہ اسلام ہے۔ اس مملکت میں بھی نہ تو اسلام کے خلاف کسی ازم یا دوسرے مذہب کی تبلیغ ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی نظریہ یا ازم کی تبلیغ کا کوئی اجتماع منعقد کیا جانا چاہئے۔ امید ہے کہ حکومت ہماری گزارشات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرے گی۔
یوم قائد اعظمؒ اور ربوہ
٢٥ دسمبر قائد اعظمؒ کا یوم ولادت ہے۔ امسال بھی حسب سابق پورے ملک میں یوم قائد اعظمؒ ہر شہر ہر قصبہ اور ہر قریہ میں منایا گیا۔ کہیں اہتمام سے اور کہیں سادگی سے۔ لیکن پورے ملک میں ربوہ ایک ایسا مقام ہے جہاں یوم قائد اعظمؒ نہیں منایا گیا۔
ربوہ والوں نے اپنے جلسہ کے بڑے انتظامات کئے ہوئے تھے۔ لیکن بانی پاکستان ٥٨
کے یوم ولادت کے سلسلہ میں کوئی ادنیٰ تقریب یا کم از کم قو کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیوں کے دل میں قائد اعظمؒ یا ا اور جگہ نہیں ہے۔
چوہدری ظفر اللہ کو قائد اعظمؒ نے وزارت خارجہ د اپنے اس محسن کی وفات کے بعد ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ ب سفیروں اور دوسرے لوگوں میں بیٹھا رہا۔ لیکن نماز میں شرکت ن تو کافر حکومت کا ایک مسلمان وزیر ہوں۔ اس لئے میں ای ہوتا۔ جب اس پر ملک میں لے دے شروع ہوئی تو مرزائیوں قائد اعظمؒ کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تو اس میں تعج مصطفےٰ ﷺ نے بھی تو ابو طالب کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ مق تھے۔ اس لئے حضور نے انہیں غیر مسلم سمجھتے ہوئے ان کی ن چونکہ ظفر اللہ خاں کے نزدیک کافر تھے۔ اس لئے انہوں ن نہیں کی۔
تعجب ہے کہ مرزائی قائد اعظمؒ کے جنازے م مسلمانوں اور اپنے میں کفر و اسلام کا فرق قرار دیتے ہیں رابطہ عالم اسلام میں یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کا مذہب مسلما دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور دنیائے اسلام کے منتخب علما اور فیصلہ کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں ک دے دیا تو مرزائی سیخ پا ہیں اور سخت ناراض ہیں۔ مسلمانوں کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی سب س کے ایجنٹ بن گئے ہیں۔ اس کی فوجوں میں بھرتی ہو رہے فراہم کردہ راز یہودیوں کو دے رہے ہیں۔ وہ ملکی مجرم ہو ونظریات کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان اور ن حرامزادے، کنجریوں کی اولاد کہیں تو یہ عقل اور سلامتی کی با کے کافرانہ اور مرتدانہ عقائد کی روشنی میں انہیں کافر اور مرتد
٥٩
پروردہ اور حق گو انسان ماحول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان اپنی محمدی تھی اور یہ محبت ان انسان ہوئے کے ساتھ بنی مذہب کا مطالعہ کرکے ترجیحات دینے لگے۔ ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ان کے شر سے ہم اللہ کو امام شیخ راحیل احمد کی اس کی اسلام کی آغوش میں (آمین) سلام پاکستان) چناب نگر
کے یوم ولادت کے سلسلہ میں کوئی ادنیٰ تقریب یا کم از کم قومی جھنڈا لہرانے کی رسم تھی وہ بھی نہیں کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیوں کے دل میں قائد اعظم یا ان کے پاکستان کے لئے کوئی احترام اور جگہ نہیں ہے۔
چوہدری ظفر اللہ کو قائد اعظم نے وزارت خارجہ عطاء کی تھی۔ لیکن اس نمک حرام نے اپنے اس محسن کی وفات کے بعد ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ موقعہ پر موجود ہوتے ہوئے غیر مسلم سفیروں اور دوسرے لوگوں میں بیٹھا رہا۔ لیکن نماز میں شرکت نہ کی اور دریافت کرنے پر کہا کہ میں تو کافر حکومت کا ایک مسلمان وزیر ہوں۔ اس لئے میں ایک کافر کے جنازے میں کیسے شریک ہوتا۔ جب اس پر ملک میں لے دے شروع ہوئی تو مرزائیوں نے لکھا کہ اگر چوہدری ظفر اللہ خاں قائد اعظم کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی تو ابو طالب کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ابو طالب اسلام نہ لائے تھے۔ اس لئے حضور نے انہیں غیر مسلم سمجھتے ہوئے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی تھی۔ قائد اعظم بھی چونکہ ظفر اللہ خاں کے نزدیک کافر تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کے جنازے کی نماز میں شرکت نہیں کی۔
تعجب ہے کہ مرزائی قائد اعظم کے جنازے کے سلسلہ میں بھی اور دوسری کئی جگہ پر مسلمانوں اور اپنے میں کفر واسلام کا فرق قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب پوری دنیائے اسلام نے رابطہ عالم اسلام میں یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کا مذہب مسلمانوں سے جدا ہے۔ وہ ہمارے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور دنیائے اسلام کے منتخب علمائے کرام اور مفتیان عظام کے اسی فتویٰ اور فیصلہ کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دے دیا تو مرزائی سیخ پا ہیں اور سخت ناراض ہیں۔ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے پاکستان کو ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی سب سے زیادہ دشمن اسلام طاقت اسرائیل کے ایجنٹ بن گئے ہیں۔ اس کی فوجوں میں بھرتی ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور دنیائے اسلام سے فراہم کردہ راز یہودیوں کو دے رہے ہیں۔ وہ مٹھی بھر ہوتے ہوئے اپنے کافرانہ مرتدانہ عقائد ونظریات کے ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان اور ناجی اور کل دنیا کے مسلمانوں کو کافر، حرامزادے، کنجریوں کی اولاد کہیں تو یہ عقل اور سلامتی کی بات ہے؟ اور اگر پوری دنیائے اسلام ان کے کافرانہ اور مرتدانہ عقائد کی روشنی میں انہیں کافر اور مرتد کہے تو یہ ظلم اور بے عقلی کی بات ہے؟
٥٩
ب پروردہ اور حق گو انسان خوش گو اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ کی مذہب کا مطالعہ کر کے پر شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اللہ کا شکر ھم اللہ کو رابعہ راحیل احمد کی اس آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
قادیانیوں نے قرآنی علوم ومضامین اور شریعت اسلام کے اصول ہی اس طرح مسخ کئے کہ اصل اسلام ہی کی کوئی حقیقت باقی نہ رہی۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرات! ان تمام حقائق اور دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ پاکستان میں مرزائی اور قادیانی جماعت بالکل ان یہودیوں کی طرح ہے جو مدینہ منورہ اور مدینہ منورہ کے قرب وجوار میں تھے۔ ان کے بارہ میں قرآن کریم نے کن احکام و ہدایات سے اپنے پیغمبر ﷺ کو مامور فرمایا؟ اس بارے میں پوری سورۂ حشر نازل فرمائی گئی۔ جس میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء کے بعد اسی حکم سے ابتداء فرمائی گئی۔
”هو الذى اخرج الذين كفروا من اهل الكتاب من ديارهم لاول الحشر (حشر:٢)“ وہی پروردگار ہے جس نے نکالا ان اہل کتاب میں سے منکروں کو ان کے گھروں سے پہلے ہی مرتبہ کی جلاوطنی کے لئے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اپنے فوائد قرآن میں فرماتے ہیں۔ مدینہ منورہ سے چند میل کی مسافت پر ایک قوم یہود بستی تھی۔ جس کو بنی نضیر کہتے تھے۔ ان لوگوں کی قوت وشوکت کی حد تھی۔ مضبوط قلعے تھے۔ جن پر ان کو ناز تھا۔ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر پہلے انہوں نے آپ ﷺ سے صلح کا معاہدہ کر لیا تھا کہ ہم آپ ﷺ کے مقابلہ میں کسی کی مدد نہ کریں گے۔ مگر درپردہ وہ کفار مکہ سے ساز باز کرتے رہے۔ حتیٰ کہ ان کے ایک بڑے سردار کعب بن الاشرف نے چالیس سواروں کے ہمراہ مکہ مکرمہ جا کر بیت اللہ کے سامنے قریش سے عہد و پیمان باندھا جب اس کی سازش بڑھتی رہی تو ایک صحابی محمد بن مسلمہؓ نے آنحضرت ﷺ سے اجازت لے کر اس خبیث کا کام تمام کیا۔ پھر دوسری جماعت یہود جو بنو نضیر کہلاتی تھی۔ ان کی طرف سے سلسلہ غدر اور سازشوں کا جاری رہا۔ حتیٰ کہ انہوں نے ایک دفعہ دھوکہ سے آنحضرت ﷺ کو اپنے یہاں بلا کر یہ چاہا کہ اوپر سے پتھر آپ ﷺ کے سر مبارک پر پھینک کر نصیب دشمن ہلاک کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی وحی نے عین اس وقت آگاہ کر دیا اور خفیہ طور پر دو آدمی بھیج دیئے کہ اوپر سے جا کر پتھر گرا دیئے جائیں تو اس کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کا لشکر ان پر حملہ کرنے کے لئے روانہ فرمایا اور ان کا محاصرہ کر لیا گیا۔ جب یہودی گھبرا گئے تو مجبوراً صلح کی التجاء کی۔ آپ نے مصالحت تو قبول فرمائی۔ مگر حکم دیا کہ مدینہ منورہ خالی کر دو۔ چنانچہ ان کو خیبر کی طرف جلاوطن کر دیا گیا۔ مگر یہ پہلی مرتبہ کی جلاوطنی تھی۔ جو اللہ نے پہلے ہی ظاہر کر دی تھی۔
آنحضرت ﷺ نے مرض الوفات میں وصیت فرمائی۔
٦٠
١٥٩
’’اخرجوا اليهود والنصارى من جز یہود اور نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔ اس وجہ سے مرتبہ جلاوطنی کا حکم دیا اور شام کے علاقہ کی طرف ان سب کو
اقلیتی فرقہ کی سازشی روش اور تخریبی کاروائیوں ہی کا نہیں بلکہ برطانیہ کے قدیم زمانے کے قوانین میں تو ا اس طرح کی کوئی آزادی نہیں دی گئی کہ وہ خود اپنی مذ حالانکہ ان کے اس طرح کی باتوں میں برطانیہ کے عیسائی نہیں ہوتے تھے۔ مثلاً ١٢٩٠ء میں ایڈورڈ اوّل نے ایک بدر کر دینے کی تاکید کی اور ان کی جلاوطنی ایک قانون کی شک
یہودیوں کی مذہبی آزادی کے سلسلہ میں پ کیا گیا۔ جس کی رو سے ہنری ثالث نے یہودیوں کو ز ہی ان کو اس کی اجازت تھی کہ وہ عیسائیوں کو نوکر بنا کر ر لباس کے ساتھ ایک پیلا بیج استعمال کیا کریں۔ جوان ٹیکس بھی ان پر تھا۔ جو وکٹوریہ کے زمانہ تک رہا اور ١٨٤٦ یہودیوں کو قانونی تحفظ حاصل نہ تھا۔ حتیٰ کہ یہودی کے باوجود یہ درست تھا کہ وہ وصیت کردہ سرمایہ عیسائی
یہودیوں کے مذہبی اداروں کا رجسٹریشن کا ١٨٥٥ء میں زمانے کے برطانیہ میں بسنے والے یہودی ہمارے ملک تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان پر قسم قسم کی پابندیاں عائ میں اسی وقت ان کو قرار دلایا جائے۔ اگر وہ غیر مسلم اق کے آرڈیننس کا احترام کریں تو ان کو اقلیتوں کے حقوق اس کے برعکس اس فیصلہ کا مقابلہ اور اس کی مخالفت ک ہوئی مراعات میں کسی چیز کا حق نہ ہوگا اور حکومت یہودیوں کے لئے فیصلہ فرمایا تھا۔ اب یہ ممکن نہیں کہ اور نہ ہی اصولاً اس بات کا حق ہے کہ اپنی عبادت گا فرض عائد ہے کہ اگر قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہ
٦١
”اخرجوا اليهود والنصارىٰ من جزيرة العرب (بخاری ومسلم)“ کہ یہود اور نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔ اس وجہ سے فاروق اعظمؓ نے ان لوگوں کو دوسری مرتبہ جلاوطنی کا حکم دیا اور شام کے علاقہ کی طرف ان سب کو جلاوطن کر دیا گیا۔
اقلیتی فرقہ کی سازشی روش اور تخریبی کارروائیوں کے باعث یہ فیصلہ صرف قرآن کریم ہی کا نہیں بلکہ برطانیہ کے قدیم زمانے کے قوانین میں تو اسی طرح کی نظیریں ملتی ہیں کہ ایسے گروہ کو اس طرح کی کوئی آزادی نہیں دی گئی کہ وہ خود اپنی مذہبی وثقافتی روایات ہی کو نمایاں کرسکیں۔ حالانکہ ان کے اس طرح کی باتوں میں برطانیہ کے عیسائی کسی درجہ میں بھی من حیث المذہب متاثر نہیں ہوتے تھے۔ مثلاً ١١٩٠ء میں ایڈورڈ اوّل نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے یہودیوں کو ملک بدر کر دینے کی تاکید کی اور ان کی جلاوطنی ایک قانون کی شکل میں جاری کی گئی۔
یہودیوں کی مذہبی آزادی کے سلسلہ میں برطانیہ میں ١٢٧١ء میں ایک قانون نافذ کیا گیا۔ جس کی رو سے ہنری ثالث نے یہودیوں کو زمین خریدنے کی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ہی ان کو اس کی اجازت تھی کہ وہ عیسائیوں کو نوکر بنا کر رکھیں اور یہ حکم جاری کیا گیا کہ یہودی اپنے لباس کے ساتھ ایک پیلا بیج استعمال کیا کریں۔ جو ان کے واسطے ایک امتیازی نشان ہو اور سالانہ ٹیکس بھی ان پر تھا۔ جو وکٹوریہ کے زمانہ تک رہا اور ١٨٤٦ء میں اسے منسوخ کیا گیا۔ ١٨٥٣ء تک یہودیوں کو قانونی تحفظ حاصل نہ تھا۔ حتیٰ کہ یہودی کے اپنے مذہبی اداروں کے لئے وصیت کے باوجود یہ درست تھا کہ وہ وصیت کردہ سرمایہ عیسائی مذہبی اداروں میں استعمال کر لیا جائے۔ یہودیوں کے مذہبی اداروں کا رجسٹریشن کا ١٨٥٥ء میں قانون نافذ ہوا۔ اگر موازنہ کیا جائے تو اس زمانے کے برطانیہ میں بسنے والے یہودی ہمارے ملک میں بسنے والے قادیانیوں سے کم خطرناک تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان پر قسم قسم کی پابندیاں عائد تھیں۔ ہمارا مدعا یہ نہیں کہ بالکل اسی درجہ میں اسی وقت ان کو قرار دلایا جائے۔ اگر وہ غیر مسلم اقلیت کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کے آرڈیننس کا احترام کریں تو ان کو اقلیتوں کے حقوق پاکستان میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے برعکس اس فیصلہ کا مقابلہ اور اس کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اصولاً ان کو پاکستان کی دی ہوئی مراعات میں کسی چیز کا حق نہ ہوگا اور حکومت کو پھر وہی کرنا چاہئے جو فاروق اعظمؓ نے یہودیوں کے لئے فیصلہ فرمایا تھا۔ اب یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے بارے میں اسلام کا لفظ اختیار کریں اور نہ ہی اصولاً اس بات کا حق ہے کہ اپنی عبادت گاہیں مسجد کی ہیئت پر بنائیں۔ حکومت پر بھی یہ فرض عائد ہے کہ اگر قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہیں تو ان پر قانونی چارہ جوئی کرے۔ کیا کسی
٦١
حکومت میں یہ برداشت ہو سکتا ہے کہ کوئی گروہ جعلی کرنسی ملک میں پھیلائے تو پھر یہ کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ ایک اسلامی مملکت میں جعلی اسلام جو سراسر کفر ہے اور اس کے کفر ہونے کا فیصلہ بھی ہو چکا۔ پھیلایا جائے۔
۔ تاریخ اسلام سے یہ بات ثابت ہے کہ خارجیوں کے ساتھ قتال کیا گیا۔ حالانکہ خوارج نے کوئی نبی نہیں بنایا تھا۔ بلکہ ان کی گمراہی اسلام کے مسلمہ اصول ونظریات سے انحراف کرتے ہوئے ایک باطل اور غلط نظریہ اختیار کرنے کی وجہ سے تھی۔ کیونکہ اسلام کا یہ طے شدہ قانون ہے کہ جب تک اسلام کے جملہ بنیادی نظریات کو تسلیم نہ کیا جائے۔ اس وقت تک کوئی فرد یا جماعت مسلمان نہیں اور اگر اسلام کے کسی ایک بنیادی عقیدہ اور نظریہ کے خلاف کوئی عقیدہ اختیار کیا جائے تو وہ قابل عفو جرم نہیں ہے۔ اس وجہ سے حضرت علیؓ نے خارجیوں سے قتال کیا جس کی تفصیلات تاریخ میں موجود ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ روزے بھی رکھتے تھے اور قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتے تھے۔ لیکن اس لئے کہ اسلام کا قانون تو یہی ہے ”ادخلوا فی السلم کافة “ ان سے قتال کیا گیا۔ ان تاریخی حقائق اور اسلام کے اصول کے پیش نظر اس قوم سے بدترین قوم کوئی نہیں ہو سکتی۔ جنہوں نے ختم نبوت کا انکار کیا اور جھوٹے مدعی نبوت کی نبوت پر ایمان لائے۔
غرض پاکستان میں بسنے والے قادیانی تاریخ قدیم کے برطانیہ میں بسنے والے یہودیوں اور قرن اوّل کے خارجیوں سے زیادہ خطرناک قوم ہیں۔ ان حالات میں کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ مسجدیں بنا کر اور اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر دھوکہ دیں۔ بس یہ ناچیز ان ہی الفاظ پر اکتفاء کرتے ہوئے عدالت عالیہ سے درخواست کرتا ہے کہ پاکستان کے قادیانیوں کو پوری قوت کے ساتھ مسجدوں کی تعمیر اذان اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور قادیانیت کو اسلام کے عنوان سے تعبیر کرنے پر پابندی عائد کرے۔ میں پوری امید رکھتا ہوں کہ پاکستان جیسی عظیم اسلامی مملکت کی عدالت عالیہ قانون اسلام کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے قادیانیوں کے اسلام دشمنی کے تمام مراکز کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کرے گی۔ تاکہ یہ ان مراکز سے اسلام اور پاکستان کی تخریب کا کوئی کام نہ کر سکیں۔ ”وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین“
احقر: محمد مالک کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور ٢٨ اگست ١٩٨٤ء ٦٢
ق پرورده اور حق گو انسان خوش گو اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے سچی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انصاف کا سر چشمہ اللہ کو ہم شیخ راحیل احمد کی اس ی اسلام کی آغوش میں آمین) سلام پاکستان) چناب نگر
فتنہ انکار ختم نبوت
(حقائق و واقعات کے
حضرت مولانا سید پیر محمد
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم
فتنہ انکار ختم نبوت
(حقائق و واقعات کی روشنی میں)
حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہری
ت پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ ملی مذہب کا مطالعہ کر کے ن شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکے شر سے ہم اللہ کی م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) سلامی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
١٦٢ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عرض ناشر
مجلس الدعوۃ الاسلامیہ کے زیر اہتمام ”آل پاکستان عظمت تاجدار ختم نبوت کانفرنس“ منعقدہ مورخہ ٢، ٣؍ اپریل ١٩٨٣ء کے موقع پر ادارہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز: ایک مفید اور علمی مقالہ ”فتنہ انکار ختم نبوت“ شائع کر رہا ہے۔ جس میں عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے اس فتنہ کو بھی پوری طرح بے نقاب کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ اس مقالہ کے مطالعہ کے بعد قاری کا ذہن اس مسئلہ سے متعلق بالکل صاف ہو جائے گا۔
یہ مقالہ ”مجلس الدعوۃ الاسلامیہ“ کی فرمائش پر شائع کیا جا رہا ہے۔ یقین ہے کہ فرزندانِ توحید کے علمی استفاضہ کے ساتھ یہ ”گرفتاران فتنہ قادیانیت“ کے لئے بھی ہدایت و راہنمائی کا باعث بنے گا۔ منیجر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز (وقف)
٢
١٦٣ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے ان چند بنیادی عقیدوں اجماع رہا ہے۔ اگرچہ بدقسمتی سے امت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹی ملت کے امن وسکون کو درہم برہم کیا اور فتنہ وفساد کے شعلوں نے لیکن اتنے شدید اختلافات کے باوجود سارے فرقے اس پر م ہیں اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ گذشتہ بننے کا دعویٰ کیا اس کو مرتد قرار دے دیا گیا اور اس کے خلاف عظمت کو خاک میں ملا دیا۔ مسیلمہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا ت پرواہ کئے بغیر اس کے خلاف لشکر کشی کی اور تب چین کا سانس ل گھاٹ اتار دیا۔ بیشک اس جہاد میں کافی مسلمان بھی شہید ہوئے عظیم المرتبت صحابہؓ بھی تھے۔ لیکن حضرت صدیق اکبرؓ نے ا ضروری سمجھا۔ آپ نورِ صدیقیت سے دیکھ رہے تھے کہ اگر گروہوں میں نہیں سینکڑوں امتوں میں بٹ جائے گی۔ ن شریعت اور سنت کو اپنائے گی۔ اس طرح رحمۃ للعالمین ﷺ انسانیت کے اتحاد کی ساری امیدیں ختم ہو جائیں گی اور ”انم سہانا منظر کبھی بھی نظر نہیں آئے گا۔
ناظرین! کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ مسیلمہ کذاب اپنے دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ وہ حضور ﷺ کی رسالت الانبیاء والرسل ﷺ کی ظاہری زندگی کے آخری ایام میں اس اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”من مسيلمة رسول الله الى کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے، محمد رسول اللہ کی طر علامہ طبری نے اس امر کی بھی تصریح کی ہے کہ میں ”اشھد ان محمد رسول اللہ “ بھی کہا جاتا تھا مرتد اور واجب القتل یقین کر کے اس پر لشکر کشی کی اور اس اسلام کی تیرہ صد سالہ تاریخ میں جب کبھی ک اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی اس کو قتل کر دیا گیا۔
٣
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے ان چند بنیادی عقیدوں میں سے ایک ہے جن پر امت کا اجماع رہا ہے۔ اگرچہ بدقسمتی سے امت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے۔ باہم تعصب نے بارہا ملت کے امن و سکون کو درہم برہم کیا اور فتنہ و فساد کے شعلوں نے بڑے المناک حادثات کو جنم دیا۔ لیکن اتنے شدید اختلافات کے باوجود سارے فرقے اس پر متفق رہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ گذشتہ تیرہ صدیوں سے جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا اس کو مرتد قرار دے دیا گیا اور اس کے خلاف علم جہاد بلند کر کے اس کی جھوٹی عظمت کو خاک میں ملا دیا۔ مسیلمہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبر نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس کے خلاف لشکر کشی کی اور تب چین کا سانس لیا جب اس جھوٹے نبی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بیشک اس جہاد میں کافی مسلمان بھی شہید ہوئے۔ جن میں سینکڑوں حفاظ کرام اور عظیم المرتبت صحابہ بھی تھے۔ لیکن حضرت صدیق اکبر نے اتنی قربانی دے کر بھی اس فتنے کو کچلنا ضروری سمجھا۔ آپ نور صدیقیت سے دیکھ رہے تھے کہ اگر ذرا تساہل برتا تو یہ امت سینکڑوں گروہوں میں نہیں سینکڑوں امتوں میں بٹ جائے گی۔ ہر امت کا اپنا نبی ہوگا اور وہ اسی کی شریعت اور سنت کو اپنائے گی۔ اس طرح رحمت للعالمین ﷺ کے زیر سایہ اسلام کے پلیٹ فارم پر انسانیت کے اتحاد کی ساری امیدیں ختم ہو جائیں گی اور ”انی رسول اللہ الیکم جمیعاً“ کا سہانا منظر کبھی بھی نظر نہیں آئے گا۔
ناظرین کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ مسیلمہ حضور ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا۔ بلکہ اپنے دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ وہ حضور ﷺ کی رسالت کو بھی تسلیم کرتا تھا۔ چنانچہ حضور خاتم الانبیاء والرسل ﷺ کی ظاہری زندگی کے آخری ایام میں اس نے جو عریضہ ارسال خدمت کیا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”من مسیلمۃ رسول اللہ الیٰ محمد رسول اللہ“ کہ یہ خط مسیلمہ کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے، محمد رسول اللہ کی طرف لکھا جا رہا ہے۔ علامہ طبری نے اس امر کی بھی تصریح کی ہے کہ اس کے ہاں جو اذان مروج تھی۔ اس میں ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ بھی کہا جاتا تھا۔ بایں ہمہ حضرت صدیق اکبر نے اس کو مرتد اور واجب القتل یقین کر کے اس پر لشکر کشی کی اور اس کو واصل جہنم کر کے آرام کا سانس لیا۔ اسلام کی تیرہ صد سالہ تاریخ میں جب بھی کسی سرپھرے طالع آزما یا فتنہ پرداز نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی اس کو قتل کر دیا گیا۔
٣
انگریز کی غلامی کے دور میں ملت اسلامیہ کو جس طرح کئی مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ اسی طرح ایک جھوٹی نبوت قائم کر کے امت میں انتشار پیدا کیا گیا۔ وہ مدعی نبوت بظاہر عیسائیت کا رد کرتا تھا اور پادریوں سے مناظرے کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ انگریز کا پرلے درجے کا وفادار تھا۔ ملکہ انگلستان کی شان میں اس نے ایسے تعریفی پمفلٹ لکھے کہ کوئی با غیرت مسلمان ان کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ انگریز کی اسلام دشمنی اظہر من الشمس ہے۔ جنہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا تختہ الٹا۔ سلطنت عثمانیہ کو پارہ پارہ کر دیا۔ ایسی ظالم اور اسلام دشمن حکومت کو اپنی وفاداری کا یقین دلانا اسلام سے غداری نہیں تو اور کیا ہے؟ انگریز نے اس کی نبوت کو اپنی سنگینوں کے سایہ میں پروان چڑھنے کا موقع دیا اور اس کو قبول کرنے والوں کے لئے بے جا نوازشات کے دروازے کھول دیے۔ ہر مرزائی کے لئے کسی استحقاق کے بغیر اچھی سے اچھی ملازمتیں مختص کر دی گئیں۔ سیاسی میدان میں بھی ان کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ بے شک وہ شخص عیسائیت کے خلاف لکھتا اور بولتا تھا۔ لیکن انگریز نے اس کے ذریعہ امت مسلمہ میں ایک نئی امت پیدا کر کے اور ان کے متفقہ بنیادی عقیدہ میں تشکیک پیدا کر کے جو مقصد عظیم حاصل کیا وہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اپنے دور رس نتائج کے اعتبار سے بڑا اہم تھا۔ اگر ایسا شخص عیسائیت کے خلاف کچھ بولتا ہے تو بولا کرے۔ اس سے انگریزی سیاست کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلکہ عیسائیوں کی مخالفت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ انگریزی استعمار کی خدمت پوری دل جمعی کے ساتھ کر سکتا تھا۔ اگر وہ عیسائیوں کے خلاف کچھ نہ کرتا تو اس کی بات کوئی آدمی سننے کے لئے تیار نہ تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا پیغام لے کر جب مرزائی مبلغ اسلامی ممالک میں گئے۔ وہاں ان کا جو حشر ہوا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ کئی ممالک میں تو انہیں مرتد قرار دے دیا گیا۔ عالم اسلام کے تمام علماء نے بالاتفاق اس مدعی نبوت کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دیا۔
یہ عرض کرنے کا مقصد صرف اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ان بنیادی عقیدوں میں سے ایک ہے۔ جن پر گوناگوں اختلافات کے باوجود سترہ صدیوں تک امت کا کلی اتفاق اور قطعی اجماع رہا ہے۔ جس طرح ایک مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید، قیامت، حضور ﷺ کی رسالت کسی دلیل کی محتاج نہیں۔ اسی طرح ختم نبوت کا مسئلہ بھی کبھی زیر بحث نہیں آیا اور اس کے ثبوت کے لئے کسی مسلمان کو کسی دلیل یا بحث و تمحیص کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ٤
٥ لیکن مرزا قادیانی نے وہ کام کر دکھایا جس کی جرا ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر شرح وبسط سے لکھا جا اپنے آقائے کریم سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ رس و دولت کے حصول کی خاطر دین بدلنے میں بھ ہوشمندی سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علاج کسی چاہئے۔ نہ ایسے ابن الوقتوں کی خدانخواستہ دوت ہمارا دعویٰ بلکہ غیر متزلزل عقیدہ او اللہ ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور ﷺ حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا اور جو اس کے اس دعویٰ کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ ہے۔ جو اسلام نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ۔
اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے جن میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ سب ارشاد خداوندی ہے : ”ماكان محمد ابا النبيين وكان الله بكل شئ عليما () اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم ال ہیں۔ جب مولا کریم جو بکل شئ علیم ہے۔ ۔ آخری نبی ہیں تو حضور ﷺ کے بعد جس تکذیب کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشا خاتم النبیین کا جو معنی یہاں کیا وقت میرے پاس علم لغت کی دوسری کتب موجود ہیں۔ جن کا شمار لغت عرب کی امہات کی تصحیح بھی کریں۔ ایک تیز بین نظر رہنے وا ولادت ٣٣٢ ہجری اور سال وفات ٣٣
ل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان چی بھی تھی۔ اور بیعت ان ار انسان ہونے کے ساتھ فی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انشا کا شکر مسلم اللہ کو آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان جناب نگر
لیکن مرزا قادیانی نے وہ کام کر دکھایا جس کی جرات آج تک شیطان کو بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر شرح وبسط سے لکھا جائے تا کہ حضورﷺ کا امتی کسی غلط فہمی کے باعث اپنے آقائے کریم سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ رہے وہ لوگ جو شکم کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور مال ودولت کے حصول کی خاطر دین بدلنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ اسے کمال ہوشمندی سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علاج کسی کے پاس نہیں۔ ہمیں ان کے لئے ملول نہیں ہونا چاہئے۔ نہ ایسے ابن الوقتوں کی خدا کو ضرورت ہے اور نہ اس کے رسول کو۔
ہمارا دعویٰ بلکہ غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے۔ ”حضور سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ حضورﷺ کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ حضورﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے اس دعویٰ کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اسی سزا کا مستحق ہے۔ جو اسلام نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ہے۔“
اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے ہم ایسے دلائل پیش کریں گے جو قطعی اور یقینی ہیں اور جن میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ سب سے پہلے ہم قرآن کریم سے استدلال کرتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (الاحزاب:٤٠)“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرمﷺ کا اسم گرامی لے کر فرمایا ہے کہ محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب مولا کریم جو بکل شی علیم ہے۔ نے یہ فرمایا کہ محمدﷺ مصطفےٰ نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں تو حضورﷺ کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا اس نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تکذیب کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔
خاتم النبیین کا جو معنی یہاں کیا گیا ہے۔ اہل لغت نے اس کا یہی معنی لکھا ہے۔ اس وقت میرے پاس علم لغت کی دوسری کتب کے علاوہ الصحاح للجوہری اور لسان العرب لابن منظور موجود ہیں۔ جن کا شمار لغت عرب کی امہات الکتب میں ہوتا ہے۔ آؤ! ان کے مطالعہ سے اس لفظ کی تحقیق کریں۔ ایک چیز پیش نظر رہے کہ صحاح کے مؤلف علامہ حماد بن اسماعیل الجوہری کا سن ولادت ٣٣٢ ہجری اور سال وفات ٣٩٣ھ یا ٣٩٨ھ ہے اور لسان العرب کے مؤلف علامہ
٥
ابوالفضل جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصری کا سن ولادت ٦٣٠ھ اور سال وفات ٧١١ھ ہے۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ (موجودہ) فتنہ انکار ختم نبوت سے صدہا سال پہلے یہ کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مذہبی تعصب یا ذاتی عقیدہ کے باعث لکھا ہے۔ تاکہ ان کا قول حجت نہ رہے۔ بلکہ ان کی نگارشات اور ان کی تحقیقات اہل لغت کے اقوال کے عین مطابق ہیں۔ پہلے صحاح کی عبارت ملاحظہ فرمائیے۔ ”ختم الله له بخيرا “ خدا اس کا خاتمہ بالخیر کرے۔ ”وختمت القرآن بلغت آخره “ یعنی میں نے قرآن مجید آخر تک پڑھ لیا۔ ”اختتمت الشئ نقيض افتتحته “ افتتاح کی نقیض اختتام ہے۔ ”والخاتم والخاتم والختام والخاتام كله بمعنى واحد وخاتمة الشئ آخره “ یعنی خاتم خاتم ختام خاتام سب کا ایک ہی معنی ہے اور کسی چیز کے آخر کو خاتمۃ الشی کہتے ہیں۔ ومحمدﷺ خاتم الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام۔ حضورﷺ تمام نبیوں سے آخر میں تشریف لے آئے۔
علامہ ابن المنظور لسان العرب میں لکھتے ہیں۔ ختام الوادی، اقصاه، وختام القوم وخاتمهم وخاتمهم آخرهم ومحمدﷺ خاتم الانبياء عليه وعليهم الصلوة والسلام ۔ وادی کے آخری کونہ کو ختام الوادی کہتے ہیں۔ قوم کے آخری فرد کو ختام، خاتم اور خاتم کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے نبی پاکﷺ کو خاتم الانبیاء کہا گیا ہے۔ لسان العرب میں التہذیب کے حوالے سے لکھا ہے۔ الخاتم والخاتم من اسماء النبی ﷺ وفى التنزيل العزيز ولكن رسول الله وخاتم النبيين ای آخرهم ومن اسمائه العاقب ايضا ومعناه آخر الانبياء یعنی خاتم اور خاتم نبی کریمﷺ کے اسماء میں سے ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين “ یعنی سب نبیوں سے پیچھے آنے والا اور حضورﷺ کے اسماء میں سے العاقب بھی ہے۔ اس کا معنیٰ آخر الانبیاء ہے۔
اہل لغت کی ان تصریحات سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خاتم کی تاء پر زبر ہو یا زیر اس کا معنیٰ ”آخری“ ہے۔ اس معنی کی تائید کے لئے اہل لغت نے ایک دوسری آیت سے بھی استدلال کیا ہے۔ ”وختامه مسک ای آخره مسك “ یعنی اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائے گا اس کے آخر میں انہیں کستوری کی خوشبو آئے گی۔
قادیانی اعتراض
ختم نبوت کے منکرین اس موقع پر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ خاتم کا جو معنی آپ نے ٦
ل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی چھڑ گئی اور یہ بحث ان فی مذہب کا مطالعہ کر کے ار انسان ہونے کے ساتھ شجاعت دینے لگے۔ ان اتم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اسٹیفن کا سر فخر سے اٹھ گیا م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
بیان کیا ہے (آخری) وہ یہاں مراد نہیں بلکہ اس کتابوں میں موجود ہے۔ جن کا حوالہ آپ نے ایک معنی مراد لینے پر بضد ہونا اور دوسرے معنی کو کہتے ہیں کہ ہم بھی اس آیت کو مانتے ہیں اور اس تحریف قرآن کا الزام نہ لگایا جائے۔ بلکہ لغت ع کسی کو ہم پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔
صحاح اور لسان العرب دونوں میں یہی معنی ابلغ اور شان رسالت کے شایان ہے حضورﷺ نے مہر لگا دی وہ نبوت کے شرف ۔ منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔
جواب
اس کے متعلق گزارش ہے کہ بیشک مرقوم ہے۔ لیکن انہوں نے تصریح کر دی ہے ہے۔ یہاں فقط یہی معنی مراد ہے اور یہ لوگ ا سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ایسے معلو سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے مہر سے مراد ڈا ک ٹھپہ لگایا اور اسے آگے بھیج دیا، یا کسی کی درخ لئے متعلقہ دفتر روانہ کر دیا۔ حالانکہ مہر کا جو م کاش انہیں بے جا تعصب اس امر کی اجازت
آئیے! ہم آپ کی خدمت میں پہنچ سکیں۔ لسان العرب میں ہے۔ ”ختم ومختم شدد للمبالغة “ یعنی ختم کا مبالغہ کے طور پر ختم کہتے ہیں۔
اس کے بعد لکھتے ہیں۔ ”وم على الشئ والاستيثاق عن ان لا
بیان کیا ہے (آخری) وہ یہاں مراد نہیں بلکہ اس کا دوسرا معنی مراد ہے اور یہ معنی بھی ان لغت کی کتابوں میں موجود ہے۔ جن کا حوالہ آپ نے دیا ہے۔ جب ایک لفظ کے دو معنی ہوں تو وہاں ایک معنی مراد لینے پر بضد ہونا اور دوسرے معنی کو ترک کر دینا تحقیق حق کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی اس آیت کو مانتے ہیں اور اس کے معنی اپنی طرف سے نہیں گھڑتے۔ تاکہ ہم پر تحریف قرآن کا الزام نہ لگایا جائے۔ بلکہ لغت عرب کے مطابق ہی اس کا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ کسی کو ہم پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔
صحاح اور لسان العرب دونوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا مذکور ہے۔ آیت کا یہی معنی ابلغ اور شان رسالت کے شایان ہے کہ حضور ﷺ انبیاء پر مہر لگانے والے ہیں۔ جس پر حضور ﷺ نے مہر لگا دی وہ نبوت کے شرف سے مشرف ہوگا اور جس پر مہر نہ لگائی۔ وہ نبوت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔
جواب
اس کے متعلق گزارش ہے کہ بیشک لغت کی کتابوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا مرقوم ہے۔ لیکن انہوں نے تصریح کر دی ہے کہ مذکورہ آیت میں خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین ہے۔ یہاں فقط یہی معنی مراد ہے اور یہ لوگ اگر مصر ہوں کہ یہاں خاتم کا دوسرا معنی مراد ہے تو اس سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مطالعہ کرتے ہوئے غور و تدبر سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے مہر سے مراد ڈاکخانہ کی مہر یا کسی افسر کی مہر سمجھی ہے کہ لفافہ یا کارڈ پر مہر ٹھپہ لگایا اور اسے آگے بھیج دیا، یا کسی کی درخواست پر اپنی مہر ثبت کی اور اسے مناسب کاروائی کے لئے متعلقہ دفتر روانہ کر دیا۔ حالانکہ مہر کا جو مفہوم اہل لغت نے لیا ہے وہ قطعاً اس کے خلاف ہے۔ کاش انہیں بے جا تعصب اس امر کی اجازت دیتا کہ وہ ائمہ لغت کی عبارتوں میں غور کرتے۔
آئیے ! ہم آپ کی خدمت میں یہ عبارتیں پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کسی صحیح فیصلہ پر پہنچ سکیں۔ لسان العرب میں ہے۔ ”ختمه، يختمه ختماً وختاماً، طبعه فهو مختوم ومختم شدد للمبالغة“ یعنی ختم کا معنی مہر لگانا ہے اور جس پر مہر لگا دی جائے اس کو مختوم اور مبالغہ کے طور پر مختم کہتے ہیں۔
اس کے بعد لکھتے ہیں۔ ”ومعنى ختم وطبع فى اللغة واحد هو التغطية على الشئ والاستيثاق عن ان لا يدخله شئ كما قال جل وعلا ام على قلوب
٧
پروردہ اور حق گو انسان خوش گو اور خوش گفتار انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس ی اسلام کی آغوش میں آمین) سلام پاکستان) چناب نگر
اقفالها“ اس عبارت کا ترجمہ ذرا غور سے سنئے۔ یعنی ختم اور طبع کا لغت میں ایک ہی معنی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا اور مضبوطی سے بند کر دینا کہ اس میں باہر سے کسی چیز کے داخلہ کا امکان ہی نہ ہو۔ پہلے زمانہ میں خلفاء، امراء، سلاطین وغیرہ اپنے خطوط کو لکھنے کے بعد کسی کاغذ کے لفافہ اور کپڑے کی تھیلی میں رکھ کر سر بمہر کر دیتے کہ جو کچھ لکھا جا چکا ہے اب اس کو سر بمہر کر دیا گیا ہے۔ تاکہ اس مہر کی موجودگی میں اس میں کوئی ردو بدل نہ کر دے۔ اگر کوئی ردو بدل کرے گا تو وہ پہلے مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا۔ اس پر احکام سلطانی میں تغیر و تبدل کرنے اور امانت میں خیانت کرنے کے سنگین الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس صورت میں خاتم النبیین کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلے انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا اور اس پر مہر لگا دی گئی۔ تاکہ کوئی کذاب، دجال اس میں داخل نہ ہو سکے۔ اگر کوئی شخص زبردستی اس زمرہ میں گھسنا چاہے گا تو پہلے مہر توڑے گا اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا اور اسے جہنم کی دھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
قرآن کریم کے الفاظ کا مفہوم سمجھنے میں عربی زبان کی لغات سے بھی بڑی مدد ملتی ہے۔ لیکن اس سلسلے میں بھی قول فیصل اور حرف آخر حضور ﷺ کی بیان کردہ تشریح ہوتی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے ارشاد فرماتے ہیں۔
آیئے ! اب احادیث نبویہ کا بغور مطالعہ کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ حضور خاتم الانبیاء نے خاتم النبیین کے کلمات کا کیا مفہوم بیان فرمایا ہے۔ خاتم النبیین کے معنی کی وضاحت کے لئے بے شمار صحیح احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں۔ سب کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ فقط چند احادیث یہاں تحریر کی جاتی ہیں۔ جن کے دلوں میں ہدایت کی سچی طلب ہوگی۔ مولا کریم اپنے حبیب رؤف رحیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل ہدایت کی راہیں ان کے لئے کھول دے گا اور اس کی توفیق ان کی دست گیری کرے گی۔
”قال النبى ﷺ ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هل لا وضعت هذه البنة قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“
(بخاری ج ١ ص ٥٠١، کتاب المناقب باب خاتم النبیین)
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال
٨
ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حس اینٹ کی جگہ چھوڑی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے ارد ہوتے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ النبیین ہوں۔
اگر آپ اس حدیث میں غور کریں گے تو بلا پڑے گا۔ جب ایک عمارت مکمل ہو جاتی ہے اور اس میں انجینئر بھی اس میں ایک اینٹ کا اضافہ نہیں کر سکتا۔ ہاں میں سے کوئی اینٹ توڑ کر وہاں سے نکال لی جائے اور لگادی جائے۔ حضور کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قص کی گنجائش نہیں۔ بجز اس کے کہ سابقہ انبیاء میں سے کسی احمد قادیانی کے لئے جگہ بنائی جائے کیا کوئی عقل سلیم چھوڑ کر کیا اللہ تعالیٰ کی غیرت برداشت کرے گی؟ ہرگز نہیں معنی خیز اور اتنی بصیرت افروز ہے کہ ختم نبوت کے لئے اس حدیث کو امام بخاریؒ کے علاوہ امام مسلمؒ نے کتاب ترمذیؒ نے کتاب المناقب اور ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند
- ٢...... ”ان رسول الله ﷺ قال فضلت
الكلم ونصرت بالرعب واحلت لى وطهوراً وارسلت الى الخلق كافة وختم بي
رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مجھے چھ باتو الکلم سے نوازا گیا۔ یعنی الفاظ مختصر اور معانی کا بحرِ بے گئی۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے تیمم کی اجازت دی گئی۔ مجھے تمام مخلوق کے لئے رسو کر دیا گیا۔
- ٣...... حضرت انس ابن مالکؓ سے مروی ہے
والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا
٩
ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے ارد گرد پھرتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
اگر آپ اس حدیث میں غور کریں گے تو بلاغت نبوی کے اعجاز کا آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا۔ جب ایک عمارت مکمل ہو جاتی ہے اور اس میں کوئی خالی جگہ نہیں رہتی تو کوئی ماہر سے ماہر انجینئر بھی اس میں ایک اینٹ کا اضافہ نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کی ایک ہی صورت ہے کہ پہلی اینٹوں میں سے کوئی اینٹ توڑ کر وہاں سے نکال لی جائے اور پھر اس خالی کرائی ہوئی جگہ پر کوئی نئی اینٹ لگا دی جائے۔ حضور کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قصر نبوت مکمل ہو گیا اب اس میں کسی اور نبی کی گنجائش نہیں۔ بجز اس کے کہ سابقہ انبیاء میں سے کسی نبی کو وہاں سے نکالا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے جگہ بنائی جائے کیا کوئی عقل سلیم اس کو گوارہ کرے گی۔ قصر نبوت کی اس توڑ پھوڑ کو کیا اللہ تعالیٰ کی غیرت برداشت کرے گی؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایک حدیث ہی اتنی جامع اور اتنی معنی خیز اور اتنی بصیرت افروز ہے کہ ختم نبوت کے لئے مزید کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اس حدیث کو امام بخاریؒ کے علاوہ امام مسلمؒ نے کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں اور امام ترمذیؒ نے کتاب المناقب اور ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں مختلف اسناد سے نقل کیا ہے۔
- ٢...... "ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع
الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبییون"
(مسلم ج١ ص١٩٩، ترمذی، ابن ماجہ)
رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی۔ مجھے جوامع الکلم سے نوازا گیا۔ یعنی الفاظ مختصر اور معانی کا بحر بے پیدا کنار۔ رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی۔ میرے لئے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور اس سے تیمم کی اجازت دی گئی۔ مجھے تمام مخلوق کے لئے رسول بنایا گیا۔ میری ذات سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
- ٣...... حضرت انس ابن مالکؓ سے مروی ہے: "قال رسول الله ﷺ ان الرسالة
والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی"
(ترمذی ج٢ ص٥٣)
٩
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
سرور دو عالم ﷺ کی اس تصریح کے بعد جس کی کوئی تاویل ممکن نہیں۔ کسی نبوت کا دعویٰ کرنا اور کسی کا اس باطل دعوے کو تسلیم کرنا سراسر کفر اور الحاد ہے۔
- ......٤ "قال رسول الله ﷺ ان الله لم يبعث نبياً الا حذر امته الدجال
وانا آخر الانبياء وانتم آخر الامم وهو خارج فيكم لا محالة"
(ابن ماجہ)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ وہ ضرور تمہارے اندر ہی نکلے گا۔
اس حدیث سے جس طرح حضور ﷺ کا آخرالانبیاء ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کی امت کا آخرالامم ہونا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
- ......٥ امام ترمذیؒ نے کتاب المناقب میں یہ حدیث روایت کی ہے: "قال النبى ﷺ
لوكان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب"
(ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩)
اگر میرے بعد کسی کا نبی ہونا ممکن ہوتا تو عمر بن الخطابؓ نبی ہوتے۔
- ......٦ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے فضائل صحابہؓ کے عنوان کے نیچے یہ ارشاد نبی ﷺ نقل کیا:
"قال رسول الله ﷺ لعلىؓ انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى"
(بخاری ج ٢ ص ٦٣٣)
رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک پر روانہ ہوتے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مدینہ طیبہ ٹھہرنے کا حکم دیا۔ آپ کچھ پریشان ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون کی تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
آخر میں ایک اور حدیث سماعت فرمائیے اور اسی کے ذکر پر احادیث کی نقل کا سلسلہ ختم ہوتا ہے۔
- ......٧ "عن ثوبان قال رسول الله ﷺ وانه سيكون فى امتى كذابون
ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى"
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧، کتاب الفتن)
١٠
حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
علامہ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ متعدد احادیث نقل اخبر الله تعالى فى كتابه ورسوله ﷺ فى بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعدہ مضل" یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرم حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تاکہ ساری دنیا جان لے دعویٰ کرے گا وہ کذاب ہے۔ جھوٹا ہے، دجال ہے، گمراہ ہے
علامہ سید آلوسی متوفی ١٢٧٠ھ روح المعانی میں النبيين مما نطق به الكتاب وصرحت به ال مدعى خلافه ويقتل ان اصر" یعنی حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو شخص نبوت کا دعو نے توبہ نہ کی اور اس دعویٰ پر مصر رہا تو اس کو قتل کیا جائے گا
علامہ ابن حیان اندلسی متوفی ٧٤٥ ھ اپنی تفسیر الى ان النبوة مكتسبة لا تنقطع اوالى ان ال يجب قتله وقد ادعى ناس النبوة فقتل عصرنا شخص من الفقراء ادعى النبوة الاحمر ملك الاندلس بغرناطة وصلب حتى ہو کہ نبوت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور اسے اب بھی حاصل نبی سے افضل ہوتا ہے وہ زندیق ہے اور واجب القتل ہے کیا مسلمانوں نے ان کو قتل کر دیا۔ ہمارے زمانے میں میں نبوت کا دعویٰ کیا تو اندلس کے بادشاہ نے غرناطہ میں چڑھا دیا اور وہ اسی حالت میں لٹکارہا۔ یہاں تک کہ اس
١١
یہ پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ انی مذہب کا مطالعہ کر کے و شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سرچشمہ اللہ کو ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جناب نگر
حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
علامہ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ھ متعدد احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ”فقد اخبر الله تعالى فى كتابه ورسوله ﷺ فى السنة المتواترة عنه انه لا نبى بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب، افاك دجال، ضال مضل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول کریم ﷺ نے سنت متواترہ میں بتایا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تاکہ ساری دنیا جان لے کہ جو شخص بھی حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ہے۔ جھوٹا ہے، دجال ہے، گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔
علامہ سید آلوسی متوفی ١٢٧٠ھ روح المعانی میں لکھتے ہیں: ”وكونه ﷺ خاتم النبيين ممانطق به الكتاب وصرحت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر“
(تفسیر روح المعانی ص٢٢، ٣٩)
یعنی حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسا عقیدہ ہے جس کی تصریح قرآن وسنت نے کی ہے۔ جس پر امت کا اجماع ہے۔ پس جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے توبہ نہ کی اور اس دعویٰ پر مصر رہا تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
علامہ ابن حیان اندلسی متوفی ٧٤٥ھ اپنی تفسیر بحر محیط میں رقمطراز ہیں۔ ”ومن ذهب الى ان النبوة مكتسبة لا تنقطع او الى ان الولى افضل من النبى فهو زنديق يجب قتله وقد ادعى ناس النبوة فقتلهم المسلمون على ذالك وكان فى عصرنا شخص من الفقراء ادعى النبوة بمدينة مالقه فقتله السلطان بن الاحمر ملك الاندلس بغرناطة وصلب حتى تناثر لحمه“ یعنی جس شخص کا یہ نظریہ ہو کہ نبوت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور اسے اب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے یا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے وہ زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔ آج تک جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا مسلمانوں نے ان کو قتل کردیا۔ ہمارے زمانے میں بھی فقراء میں سے ایک شخص نے شہر مالقہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو اندلس کے بادشاہ نے غرناطہ میں اس کا سر قلم کردیا اور اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دیا اور وہ اسی حالت میں لٹکا رہا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت گل کر گر پڑا۔
11
ن پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان جا سمجھتی تھی اور بہر سمت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ تی مذہب کا مطالعہ کر کے ی شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور ائمہ کا سر چشمہ اللہ کو ام شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
ان مذکورہ بالا اقتباسات سے امت کا ختم نبوت کے عقیدہ پر اجماع ثابت ہو گیا اور ہر زمانے کے علماء نے مدعی نبوت کو گردن زنی قرار دیا۔ آخر میں ہم ختم نبوت پر عقلی دلیل پیش کرتے ہیں۔
ختم نبوت کے عقلی دلائل
قدرت کے کام حکمت سے خالی نہیں ہوتے۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت جملہ اقوام عالم کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہے۔ جب حضور ﷺ پر نازل شدہ کتاب بغیر کسی ادنیٰ تحریف کے جوں کی توں ہمارے پاس موجود ہے۔ جب سرور عالم ﷺ کی سنت مبارکہ اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ اس کتاب کی تشریح وتوضیح کر رہی ہے۔ جب کہ شریعت اسلامیہ روز اول کی طرح آج بھی انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری راہنمائی کر رہی ہے۔ جب قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ آج بھی اعلان کر رہی ہے۔ ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ:٣)‘‘ تو پھر کسی اور نبی کی بعثت کا کیا فائدہ ہے اور اس سے کس مقصد کی تکمیل مطلوب ہے۔ آفتاب محمدی طلوع ہو چکا۔ عالم کا گوشہ گوشہ اس کی کرنوں سے روشن ہورہا ہے۔ تو پھر دن کے اجالے میں کسی چراغ کو روشن کرنا قطعا قرین دانشمندی ہے؟
مزید غور فرمائیے ! نبی کی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتی کہ نبی آیا۔ جس نے چاہا مان لیا اور جس نے چاہا انکار کر دیا اور بات ختم ہوگئی۔ بلکہ نبی کی بعثت کے بعد کفر اور اسلام کی کسوٹی نبی کی ذات بن کر رہ جاتی ہے۔ کوئی کتنا نیک، پاکباز، پارسا اور عالم باعمل ہو۔ اگر وہ کسی سچے نبی کی نبوت کو تسلیم نہیں کرے گا تو اس کا نام مسلمانوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا اور کفار مشرکین کے زمرہ میں اس کا نام درج کر دیا جائے گا اور یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔
اب ذرا عملی دنیا میں مرزا قادیانی کی آمد کا جائزہ لیجئے۔ مسلمانوں کی تعداد کم سے کم اعداد و شمار کے مطابق پچاس کروڑ سے زائد ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ تمام انبیاء جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ان کی نبوت اور صداقت کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کی آمد کے قائل ہیں۔ عملی طور پر غافل اور کاہل سہی۔ لیکن احکام خداوندی اور ارشادات نبوی کے برحق ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ ضرور یاتِ دین میں سے ہر چیز پر ان کا ایمان ہے اور اس امت میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ١٢
ایسے بندگان خدا بھی ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔ جو شریعت پر پوری سختی سے پابند رہے ہیں۔ ان کے اخلاص وللہیت پر فرشتے رشک کرت ہیں، جن پر خود ان کے خالق کو ناز ہے۔ اسی پاک امت میں آکر مرزا نے جنم دیا۔ ان کی آمد سے پہلے تو یہ سارے کے سارے مسلمان تھے۔ جلوا گناہ کرتے ہیں۔ لیکن کم از کم نعمت ایمان سے تو وہ بہرہ ور تھے۔ اب ٩٠ سالہ کوششوں کے باوجود چند لاکھ کی نفری نے مرزا قادیانی کو نبی مان کو دجال اور کذاب قرار دیا۔ نبی کو ماننا اسلام ہے اور انکار کفر ہے۔ مرزا نے دنیائے اسلام میں رکھا تو یہ بہار آئی کہ سارے کے سارے مسلمان ایمان سے محروم ہو کر کفر میں مبتلا ہو گئے۔ صرف گنتی کے چند آدمی مسلمان ر جن کی اکثریت بلیک مارکیٹ کرنے والوں، رشوت لینے والوں، اقرباء پ اور اپنی قربان گاہوں پر لاکھوں حقداروں کے حقوق بھینٹ چڑھانے وال زانی، بے نمازی، ڈاڑھی منڈے اور آوارہ مزاج لوگ ہیں۔ ہر قسم کی رذیل خ کا سمندر ان میں جوار ٹھاٹھیں مارتا ہوا۔ آپ کو نظر آئے گا۔ آپ خود فیصلہ کریں ک کہ مرزا قادیانی کی آمد برکت کا باعث بنی یا نحوست کا؟
اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کو پسند نہیں کرتی کہ مرزا قادیانی آکر اسلام کے سارے ہرے بھرے پیڑ اپنے خنک سائیوں، میٹھے پھلوں، پھولوں سمیت اکھاڑ پھینک دیئے جائیں اور چند خاردار جھاڑیوں کا بورڈ آویزاں کر دیا جائے۔ متقیوں، پرہیزگاروں، عالموں اور کو آگ لگا دیا جائے اور چند زاغ صفت طالع آزما افراد کو مسلمان ہو مرزا قادیانی کے امتی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم دنیا کے گو پھیلے ہیں۔ ہماری کوششوں سے یورپ میں اتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ اس ان سے گزارش ہے تم مرزا قادیانی کو اس لئے نبی کہتے ہ اس نے پڑھایا۔ ہم اولیاء کرام کے زمرہ سے آپ کو ایسے ایسے مبلغ دک جنہوں نے لاکھوں کفار کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر گام خواجہ الہند معین الحق والدین اجمیریؒ نے لاکھوں مشرکوں کے زنار تو ١٣
ایسے بندگان خدا بھی ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔ جو شریعت پر پوری طرح کار بند اور عبادات پر سختی سے پابند رہے ہیں۔ ان کے اخلاص وللہیت پر فرشتے رشک کرتے ہیں اور ان کے کارہائے نمایاں پر خود ان کے خالق کو ناز ہے۔ اسی پاک امت میں آکر مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ ان کی آمد سے پہلے تو یہ سارے کے سارے مسلمان تھے۔ چلو! بعض میں عملی کوتاہیاں ہم تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن کم از کم نعمت ایمان سے تو وہ بہرہ ور تھے۔ اب حقیقت حال یہ ہے کہ پچاس سالہ کوششوں کے باوجود چند لاکھ کی نفری نے مرزا قادیانی کو نبی مانا اور باقی پچاس کروڑ نے ان کو دجال اور کذاب قرار دیا۔ نبی کو ماننا اسلام ہے اور انکار کفر ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنا سبز قدم جب دنیائے اسلام میں رکھا تو یہ بہار آئی کہ سارے کے سارے مسلمان مرتد قرار پائے اور اسلام سے محروم ہو کر کفر میں مبتلا ہوگئے۔ صرف گنتی کے چند آدمی مسلمان باقی رہے۔ ان میں بھی غالب اکثریت بلیک مارکیٹ کرنے والوں، رشوت لینے والوں، اقرباء نوازی اور مرزائیت پروری کی قربان گاہوں پر لاکھوں حقداروں کے حقوق بھینٹ چڑھانے والوں کی ہے۔ ان میں اکثر بے نماز، ڈاڑھی منڈے اور آوارہ مزاج لوگ ہیں۔ ہر قسم کی رذیل حرکتیں کرنے والوں کا ایک لشکر جرار ٹھاٹھیں مارتا ہوا۔ آپ کو نظر آئے گا۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ دنیا اسلام کے لئے عملی طور پر مرزا قادیانی کی آمد برکت کا باعث بنی یا نحوست کا؟
اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کو پسند نہیں کرتی کہ مرزا قادیانی کو سچا نبی بنا کر بھیجا جائے۔ تاکہ اسلام کے سارے ہرے بھرے پیڑ اپنے خنک سائیوں، میٹھے پھلوں، رنگین اور مہکتے ہوئے پھولوں سمیت اکھاڑ پھینک دیئے جائیں اور چند خاردار جھاڑیوں کے جھرمٹ پر ”گلشن اسلام“ کا بورڈ آویزاں کر دیا جائے۔ متقیوں، پرہیزگاروں، عالموں اور عاشقوں کی امت پر کفر کا فتویٰ لگادیا جائے اور چند زاغ صفت طالع آزما افراد کو مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا جائے۔ مرزا قادیانی کے امتی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام پہنچا رہے ہیں۔ ہماری کوششوں سے یورپ میں اتنی مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ اتنے لوگوں کو ہم نے کلمہ پڑھایا۔
گزارش ہے تم مرزا قادیانی کو اس لئے نبی کہتے ہو کہ انہوں نے چند کافروں کو کلمہ پڑھایا۔ ہم اولیاء کرام کے زمرہ سے آپ کو ایسے ایسے مبلغ دکھاتے ہیں۔ جنہوں نے ہزاروں لاکھوں کفار کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ خواجہ خواجگان سلطان الہند معین الحق والدین اجمیریؒ نے لاکھوں مشرکوں کے زنار توڑے اور ان کی پیشانیوں کو بارگاہ
١٣
پ پروردہ اور حق گو انسان
خوف سے اٹھا کر اسلام کے
خوش گوار اور خوش گفتار انسان
بھی مجھتیں اور یہ محبت ان
ر انسان ہونے کے ساتھ
ملی مذہب کا مطالعہ کر کے
ن شجاعت دینے لگے۔ ان
ائم موجود ہے۔ ضرورت
قادیانیوں اور مسلمانوں
اور ایمان کا سرچشمہ اللہ کو
م شیخ راحیل احمد کی اس
آمین)
ی اسلام کی آغوش میں
سلام پاکستان) جہانگیر
رب العزت میں شرفِ جود بخشا۔ داتا گنج بخش ہجویریؒ نے اس کفرستان میں راوی کے کنارے پر توحید کا جو پرچم گاڑا تھا وہ آج بھی لہرا رہا ہے اور لاکھوں خفتہ بختوں کو خوابِ غفلت سے جگا رہا ہے۔ مشائخ چشت اور دیگر اولیاء کرام نے اسلام کی جو تبلیغ کی اور جو فرشتہ صفت مرید بنائے۔ ان کے مقابلے میں ساری امت مرزائیہ کی تبلیغی کوششوں کی نسبت سمندر اور قطرہ کی بھی نہیں۔ ان کارہائے نمایاں کے باوجود حضرات نے نہ نبوت کا دعویٰ کیا ۔ نہ مہدویت کا، نہ مسیحیت کا ، نہ ظلی کا، نہ بروزی کا، بلکہ اپنے آپ کو غلامان مصطفیٰ ہی کہا اور اسی کو اپنے لئے باعث صد افتخار اور موجب سعادت دارین سمجھا۔
مسیح علیہ السلام زندہ ہیں
مرزا قادیانی کو اپنی نبوت تک پہنچنے کے لئے بڑا دور کا چکر کاٹنا پڑا۔ آخر کار اس کی کند فکر یہاں آ کر رکی کہ یہ تو احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئیں گے۔ میں کیوں نہ اپنے آپ کو مسیح موعود کہنا شروع کر دوں۔ تاکہ مجھے لوگ مسیح مان لیں۔ لیکن اس میں مشکل یہ پیش آئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو زندہ ہیں ان کی زندگی میں میں مسیح کیسے بن سکتا ہوں۔ خیال آیا کہ پہلے مسیح کو مردہ ثابت کرو جب وہ مردہ قرار پا گئے تو پھر میرے لئے میدان صاف ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے اپنا سارا زور وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے پر لگا دیا۔
بیشک رحمت عالم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت سے قبل حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ جن احادیث میں نزول مسیح کے متعلق تصریح کی گئی ہے۔ وہ اس کثرت سے مروی ہیں کہ معنوی طور پر وہ درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ آئیے ! آپ بھی ان احادیث کی جھلک ملاحظہ کیجئے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ نبی برحق نے کوئی مبہم پیشین گوئی نہیں کی۔ کسی ایسے مسیح کی آمد کی اطلاع نہیں دی۔ جس کی پہچان نہ ہوسکے اور جس شاطر کا جی چاہے وہ آنے والا مسیح بن بیٹھے ۔ بلکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس کا نام بتایا۔ اس کی والدہ کا نام بتایا۔ اس کے لقب سے خبردار کیا۔ اس وقت اور مقام کی نشان دہی کی جس وقت اور جس مقام پر وہ نزول فرمائے گا جو کارہائے نمایاں وہ انجام دے گا۔ اس کی تفصیل بیان فرمادی اور اس کے مدفن کا بھی تعین فرما دیا اور اس کا حلیہ بھی بیان کر دیا۔ اب اگر وہ احادیث صحیح ہیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی خبر دی گئی ہے۔ تو ان تفصیلات کو بھی من و عن صحیح اور سچ تسلیم کرنا پڑے گا جو ان کے متعلق بتائی گئی ہیں اور اگر کوئی شخص ان تفصیلات کو ماننے سے انکار کر دے گا۔ تو پھر اسے ان
١٤
تمام احادیث کو بھی ساقط الاعتبار قرار دینا پڑے گا۔ جن میں ال تحقیق اور انصاف کا یہ کیسا معیار ہے کہ ایک روایت کی مفید روایت کی دیگر تفصیلات کو نظر انداز کر دیا۔
ان کثیر التعداد احادیث میں سے چند احادیث ج نزول کا ذکر ہے۔ ملاحظہ کریں۔
پہلی حدیث جسے امام بخاریؒ، امام مسلم، امام ترمذ میں روایت کیا ہے۔
- .......١ "عن ابی هریرة قال قال رسول
ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيـ ويضع الحرب ويفيض المال حتىٰ لا يقبله احد خير من الدنيا وما فيها "
(بخاری ج ١ ص ٣٩٠، کتاب احا
ج ١ ص ٨٧، باب بیان نزول عیسیٰ، ترمذی، ابواب الفتن باب فی نزول
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دست قدرت میں میری جان ہے۔ ضرور اتریں گے تمہار حیثیت سے پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو مار ڈالی مال کی اتنی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا اور (دین کی جناب میں ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
- ......٢ امام بخاریؒ نے کتاب المظالم باب کسر الصلیب
الساعة حتى ينزل عيسى بن مریم“ اس وقت تک مریم کا نزول نہ ہو۔
- ......٣ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابی ہریرہؓ سے منقو
يسوون الصفوف اذا اقيمت الصلوة فينزل عدوالله يذوب كما يذوب الملح في الماء فـ يقتله الله بيده فيريهم دمه في حربة “ حضور بعد فرمایا۔ اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی خا
١٥
تمام احادیث کو بھی ساقط الاعتبار قرار دینا پڑے گا۔ جن میں ان کی آمد کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ تحقیق اور انصاف کا یہ کیسا معیار ہے کہ ایک روایت کی مفید مطلب آدھی بات تو مان لی اور اسی روایت کی دیگر تفصیلات کو نظر انداز کر دیا۔
ان کثیر التعداد احادیث میں سے چند احادیث جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر ہے۔ ملاحظہ کریں۔
پہلی حدیث جسے امام بخاریؒ، امام مسلم، امام ترمذیؒ اور امام احمدؒ نے اپنی کتب حدیث میں روایت کیا ہے۔
- .......١ ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ
لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد حتیٰ تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا ومافیھا “ (بخاری ج ١ص ٤٩٠، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ص ٨٧، باب بیان نزول عیسیٰ، ترمذی، ابواب الفتن باب فی نزول عیسیٰ مسند احمد مرویات ابی ہریرہؓ)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس خدا کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ ضرور اتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم عادل حاکم کی حیثیت سے پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جنگ کا خاتمہ کر دیں گے اور مال کی اتنی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی لینے والا نہ ہوگا اور (دینداری کا یہ عالم ہوگا) کہ اپنے پروردگار کی جناب میں ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔
- ......٢ امام بخاریؒ نے کتاب المظالم باب کسر الصلیب میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”لاتقوم
الساعة حتی ینزل عیسی بن مریم “ اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی جب تک عیسیٰ بن مریم کا نزول نہ ہو۔
- ......٣ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابی ہریرہؓ سے منقول ہے: ”فبیناھم یعدون للقتال
یسوون الصفوف اذا اقیمت الصلوٰة فینزل عیسی بن مریم فامھم فاذا راہ عدو اللہ یذوب کما یذوب الملح فی المآء فلو ترکہ انذاب حتی یھلک ولکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربة “ حضور علیہ السلام نے خروج دجال کے ذکر کے بعد فرمایا۔ اس اثناء میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ صفیں درست کر
١٥
رہے ہوں گے اور نماز کے لئے اقامت کہی جا چکی ہو گی کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی امامت کرائیں گے اور دشمن خدا دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔ اگر آپ اس کو اپنی حالت پر ہی چھوڑ دیں تو وہ از خود پگھل کر مر جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ہاتھ سے قتل کروائے گا اور آپ اپنے نیزے میں اس کا خون لگا ہوا لوگوں کو دکھائیں گے۔
- ٤...... ”عن ابی ھریرة ان النبیﷺ قال لیس بینی وبینہ نبی (یعنی
عیسیٰ) وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجلا مربوعاً الی الحمرة والبیاض بین ممصرتین کأن رأسہ یقطروان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیہ ویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا غیر الاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون“
(مسند احمد مرویات ابو ہریرہ ج٢ ص ٤٣، تفسیر ابن جریر ج ٦ ص ٢٢، ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور ان (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اترنے والے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ ان کا قد درمیانہ ان کی رنگت سرخ وسفید دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ خنزیر کو مار ڈالیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے بغیر تمام ملتوں کو ختم کر دے گا اور وہ (مسیح) دجال کو قتل کردیں گے اور وہ زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
- ٥...... ”عن جابر بن عبداللہؓ سمعت رسول اللہﷺ فینزل عیسیٰ بن
مریم علیہ السلام فیقول امیرھم تعال فصل بنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ لھذہ الامۃ“
(الحاوی للفتاوی ج ٢ ص ١٦٤، مسلم بیان نزول عیسیٰ علیہ السلام بن مریم، مسند احمد، مرویات جابر بن عبداللہ)
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کو یہ فرماتے سنا۔ عیسیٰ بن مریم
١٦
علیہ السلام اتریں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا کہ آ فرمائے تو آپ فرمائیں گے نہیں تم میں سے بعض دوسروں کے ام سے اس امت کی تکریم کے طور پر ہے۔
- ٦...... ”عن النواس بن سمعان (فی قصۃ الدجال
بعث اللہ مسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ الب مھروذتین واضعا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا ط تحدر منہ جمان کاللؤلو فلا یحل لکافر یجد ریح نفس الی حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد ف
(ابوداؤد کتاب الملاحم ج ٢ ص ١٣٥، مسلم ج ٢ ص ٤١
حضرت نواس بن سمعان نے دجال کا قصہ بیان کر اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصہ میں کے دو کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھ سر جھکائیں گے تو یوں محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی وہ زن کا پیچھا کریں گے اور لد کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل
آخر میں ایک اور حدیث سماعت فرمائیے: ”عن ثو عصابتان من امتی احرزھما اللہ تعالیٰ من النار عص تکون مع عیسیٰ بن مریم علیہ السلام“
(نسائی کتاب الجہاد ج ٢ ص ١٣، ١
حضور نبی کریم ﷺ کے غلام ثوبانؓ سے مروی ہے کہ کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے بچ حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگا۔
آپ نے ان احادیث کا مطالعہ فرمالیا۔ ان میں کو مقام اور وقت نزول آپ کے کارہائے نمایاں سب کے سب تف شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا نام بھی عیسیٰ نہیں
١٧
حق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان چی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ فی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے ۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکی کاوش عظیم الشان ہم شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جناب نگر
علیہ السلام اتریں گے۔ مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا کہ حضور تشریف لائیے اور امامت فرمائیے تو آپ فرمائیں گے نہیں تم میں سے بعض دوسروں کے امیر ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی تکریم کے طور پر ہے۔
٦...... "عن النواس بن سمعان (في قصة الدجال) بينهما هو كذالك اذا بعث الله مسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلو فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى الى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله"
(ابوداؤد کتاب الملاحم ج ٢ ص ١٣٥، مسلم ج ٢ ص ٤٠١، ترمذی ابواب الفتن ج ٢ ص ٤٨)
حضرت نواس بن سمعان نے دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ اس اثناء میں اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو بھیج دے گا اور وہ دمشق کے مشرقی حصہ میں سفید منارہ کے پاس زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو یوں محسوس ہو گا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں اور جب سر اٹھائیں گے ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لد کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کر دیں گے۔
آخر میں ایک اور حدیث سماعت فرمائیے: "عن ثوبان مولى رسول الله ﷺ عصابتان من امتى احرزهما الله تعالى من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم عليه السلام"
(نسائی کتاب الجہاد ج ٢ ص ٦٣، مسند احمد مرویات ثوبان ج ٥ ص ٢٧٨)
حضور نبی کریم ﷺ کے غلام ثوبان سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ہوگا۔
آپ نے ان احادیث کا مطالعہ فرمالیا۔ ان میں مسیح موعود کا حلیہ، نام، والدہ کا نام، مقام اور وقت نزول آپ کے کارہائے نمایاں سب کے سب مذکور ہیں۔ خدا کی شان ملاحظہ ہو کہ یہ شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا نام بھی عیسیٰ نہیں۔ حالانکہ ہزاروں مسلمان اس نام
١٧
کے موجود ہیں۔ ان کی والدہ کا نام بھی مریم نہیں۔ حالانکہ ہزاروں مسلمان عورتیں اس نام کی اب بھی ہیں اور خود قادیان میں اس نام کی کئی لڑکیاں ہوں گی۔ صلیب کو توڑنا، خنزیر کو قتل کر کے عیسائیت کو نیست و نابود کرنا تو کجا میاں جی ساری عمر عیسائی حکومت کے جھولی چک بنے رہے اور اس کی خیرات پر پلتے رہے اور اس کی اسلام کش سرگرمیوں پر تعریف و توصیف کے قصیدے لکھتے رہے۔ ساری دنیا کو دارالاسلام بنا کر جزیہ ختم کرنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ خدائے مصطفےٰ نے یہ بھی پسند نہ فرمایا کہ قادیان کا خطہ پاکستان کا حصہ بنے۔ اب بھی جو لوگ انہیں مسیح موعود مانتے ہیں ان کی نادانی قابل صد افسوس ہے۔
فتنہ منکرین ختم نبوت کے بارے تاجدار ختم نبوت کا انتباہ
اللہ عزاسمہ نے اپنے نبی مکرم حبیب معظم ﷺ پر سلسلۂ نبوت کو ختم کر دیا۔ وحی نبوت کا نزول ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ ہر راہ رو جو حق کا جویا ہے۔ اس پر لازم ہو گیا کہ وہ اس نبی مکرم کے نقوش پا کو اپنا خضر راہ بنائے۔ یہی وہ چشمہ فیض ہے جس سے تمام نوع انسانی کو روز قیامت تک سیراب ہونا ہے۔ اس کی بتائی ہوئی راہ کو چھوڑ کر کوئی بھی منزل مراد تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو اس چشمۂ شیریں سے اپنی پیاس نہ بجھائے اس کے مقدر میں تشنہ لبی کے سوا کچھ نہیں جس نے اس کے دامن رحمت کو چھوڑ دیا وہ ہمیشہ کے لئے شقاوت و محرومی کی دلدل میں پھنس کر رہ گیا۔
جب حقیقت یہ ہے تو پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ کاروان انسانیت کو یہ نبی ان تمام خطرات سے آگاہ نہ کر دے۔ جو قیام قیامت تک پیش آنے والے ہیں۔ ان فتنوں کی واضح طور پر نشاندہی نہ کر دے۔ جو ان کے خرمن ایمان پر بجلیاں بن کر گرنے والے ہیں اور انہیں ایسے موڑوں اور چوراہوں سے باخبر نہ کر دے۔ جہاں سے وہ بھٹک سکتے ہیں اور غلط ڈگر پر چل کر اپنے آپ کو برباد کر سکتے ہیں۔ اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان ختم نبوت کا یہ تقاضا تھا کہ حضور ﷺ ان فتنوں اور فتنہ بازوں اور راہزنوں سے اپنی امت کو مطلع فرما دیں جو کسی زمانہ میں لوگوں کی گمراہی اور تباہی کا سبب بننے والے تھے۔ چنانچہ کتب احادیث میں بکثرت ایسی احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ جن میں خاتم النبیین ﷺ نے ایسے فتنوں اور فتنہ بازوں کی مکمل طور پر نشاندہی فرمائی ہے۔
- ١...... حضرت حذیفہؓ جو صاحب سرّ رسول اللہ ﷺ (راز دان رسالت) کے لقب سے
معروف ہیں سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "والله انى لا علم الناس بكل فتنة هى كائنة فيما بينى وبين الساعة ومالى الا ان يكون رسول الله ﷺ اسرالى فى
١٧٩ ذلك شيئا لم يحدثه غيرى ...... لكن رسول فقال رسول الله وهو يعد الفتن منهن ثلا كرياح الصيف منها صغار ومنها كبار قا غيرى"
بخدا ہر فتنہ جو قیامت تک برپا ہونے والا ہوں اس کی وجہ یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حضور ﷺ نے ایک مجلس میں انہیں بیان کیا۔ جس میں شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ ان میں سے تین ایسے فتنے سے کئی فتنے موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں۔ ان حضرت حذیفہؓ نے فرمایا ان حاضرین مجلس میں سے
- ٢...... انہی حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے آپ
ام تناسوا والله ماترك رسول الله ﷺ عن من معه ثلاث مائة فصاعداً الا قد سماه لنا با
حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں۔ بخدا میں نہیں کر دیا یا دانستہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔ بخدا اختتام دن ایسے قائد جن کے پیرو تین سو یا زائد ہوں گے۔ حضور اور اس کے قبیلے کا نام ہمارے سامنے ذکر فرما دیا۔
ان ارشادات سے مقصد یہ تھا کہ امت پھنس کر راہ حق سے منحرف نہ ہو جائے۔ کوئی بدقماش ان تمام فتنوں میں سب سے مہلک فتن ہونے والا تھا۔ کئی طالع آزما اپنی ناموری اور شہرت ان لوگوں کی فتنہ انگیزیوں سے صرف یہی نہیں کہ مکمل لوگوں کے ایمان ویقین میں شک و ارتیاب کا زہر ملت اسلامیہ کی وحدت اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے
١٨
ت پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ عیسائی مذہب کا مطالعہ کر کے تی شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور تصنیف کا شر م راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
ذلك شيأ لم يحدثه غيرى...... لكن رسول الله قال وهو يحدث مجلساً انا فيه فقال رسول الله وهو يعد الفتن منهن ثلاث لا يكدن يذرن شيئا ومنهن فتن كرياح الصيف منها صغار ومنها كبار قال حذيفة فذهب اولئك الرهط كلهم غيرى"
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٠)
بخدا ہر فتنہ جو قیامت تک برپا ہونے والا ہے۔ میں اسے تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں اس کی وجہ یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ہی راز داری سے ان کے متعلق بتایا ہو۔ بلکہ حضور ﷺ نے ایک مجلس میں انہیں بیان کیا۔ جس میں میں بھی حاضر تھا۔ حضور ﷺ نے فتنوں کا شمار کرتے ہوئے فرمایا۔ ان میں سے تین ایسے فتنے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے اور ان میں سے کئی فتنے موسم گرما کی آندھیوں کی طرح ہیں۔ ان میں بعض چھوٹے ہیں اور بعض بڑے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ نے فرمایا ان حاضرین مجلس میں سے اب میرے سوا کوئی باقی نہیں۔
- ٢...... انہی حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ”والله ما ادرى انس اصحابى
ام تناسوا والله ماترك رسول الله ﷺ من قائد الفتنة الى ان تنقضى الدنيا يبلغ من معه ثلاث مائة فصاعداً الا قد سماه لنا باسمه واسم ابيه واسم قبيلة“
(ابوداؤد کتاب الفتن ج ٢ ص ١٢٦)
حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں۔ بخدا میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھیوں نے اسے فراموش کر دیا یا دانستہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔ بخدا اختتام دنیا تک جتنے فتنے برپا ہونے والے ہیں ان کے ایسے قائد جن کے پیرو تین سو یا زائد ہوں گے۔ حضور ﷺ نے ایسے قائد کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام ہمارے سامنے ذکر فرما دیا۔
ان ارشادات سے مقصد یہ تھا کہ امت اسلامیہ ان فتنہ بازوں کے دام فریب میں پھنس کر راہ حق سے منحرف نہ ہو جائے۔ کوئی بدقماش ان کی متاع ایمان کو لوٹ کر نہ لے جائے۔ ان تمام فتنوں میں سب سے مہلک فتنہ وہ تھا جو انکار ختم نبوت کی صورت میں نمودار ہونے والا تھا۔ کئی طالع آزما اپنی ناموری اور شہرت کے لئے نبوت کا سوانگ رچانے والے تھے۔ ان لوگوں کی فتنہ انگیزیوں سے صرف یہی نہیں کہ مملکت اسلامیہ کا امن وسکون برباد ہونے والا تھا۔ لوگوں کے ایمان ویقین میں شک وارتیاب کا زہر گھولا جانے والا تھا۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ یہ فتنہ ملت اسلامیہ کی وحدت اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے والا تھا اور اسلام میں تحریف و تغیر کا ایسا دروازہ
١٩
کھولنے والا تھا۔ جس سے اس چشمہ فیض کے مکدر ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ اس لئے سرور کونین خاتم النبیین ﷺ نے خصوصیت سے اس فتنے کا ذکر کر کے اپنے غلاموں کو ہوشیار کر دیا کہ وہ ایسے جھوٹے اور کذاب مدعیان نبوت کے چنگل میں اسیر نہ ہو جائیں۔ حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے۔ "قال رسول الله ﷺ وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى"
(ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، ترمذی ج ٢ ص ٤٥)
یعنی میری امت میں تیس جھوٹے نمودار ہوں گے۔ ان میں ہر ایک دعویٰ کرے گا وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اسی مفہوم کی ایک دوسری حدیث ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہؓ ہیں۔ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا "لاتقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله " یعنی قیامت نہیں ہوگی جب تک تیس کے قریب دجال اور کذاب نمودار نہ ہوں۔ ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے۔
آپ ان احادیث میں مکرر غور فرمائیے۔ ہادی برحق نے کتنی فصاحت سے اپنی امت کو ایسے بد بخت لوگوں کی شر انگیزیوں سے متنبہ فرما دیا۔ پہلی حدیث میں ارشاد فرمایا کہ وہ تیس کذاب دعویٰ کریں گے کہ وہ نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ پھر خاتم النبیین کی تشریح بھی خود فرمادی کہ کوئی محرف اس کی غلط تاویل کر کے لوگوں کو گمراہ نہ کردے۔ فرمایا: "لا نبي بعدى" میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ دوسری حدیث میں ان جھوٹے مدعیان نبوت کو کذاب کے ساتھ دجال بھی فرما دیا۔
لغت عرب میں دجال کی یہ تشریح کی گئی ہے۔ "الدجال المموه وسمى دجلاً لتمويهه على الناس وتلبيسه وتزيينه الباطل (لسان العرب)" یعنی دجال ملمع ساز کو کہتے ہیں جو لوہے پر سونے کا پانی چڑھا کر لوگوں کو دھوکہ دے۔ دجال کو دجال اس لئے کہا جائے گا کہ وہ لوگوں کے سامنے چکنی چپڑی باتیں کرے گا۔ باطل کو حق کا لباس پہنائے گا اور اس کو اپنی لن ترانیوں سے مزین کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرے گا۔
ان واضح تصریحات کے بعد ہر وہ شخص جو نبی مکرم رسول معظم ﷺ پر صدق دل سے ایمان لایا اور حضور ﷺ کے جملہ ارشادات کو برحق اور سچ تسلیم کرتا ہے۔ وہ کبھی بھی کسی ملمع ساز کے ٢٠
دجل وفریب کا شکار ہو کر عقیدہ ختم نبوت سے انکار ہو کر اس کی نبوت کا اقرار کر سکتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان روشن تمام کر دی۔ اب اگر کوئی گمراہی کے اس غلیظ اور گن اس کے مرشد کامل نے تو اس کو سمجھانے کا حق ادا کر د
جب نبی صادق ومصدوق نے یہ فرمایا کہ دعویٰ کریں گے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ ایسا نہ ہو والسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ حضور ﷺ کی اس مدعیان نبوت کا سلسلہ خلافت صدیقی میں ہی شروع تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی تشریف فرما کے فرمودات اور ان کے طریقہ کار کا بنظر غائر مطا آتی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے سابق طرح استفادہ کیا ہے اور متفرق لوگوں سے متفرق مرزا قادیانی ختم نبوت کے قائل بھی ہیں اور ساتھ انہوں نے یہ کہہ کر دور کیا ہے کہ حقیقی نبی تو حضر در حقیقت یہ تاویل کتنی ہی بھونڈی کیوں نہ ہو۔ بہ ظاہر بین شخص ضرور اس ندرت آفرینی پر حیران ہو سرقہ ہے۔ جو انہوں نے اپنے ایک پہلے پیشرو ام بخت شمالی افریقہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے تمام علو قرآن کریم کے علاوہ تورات، انجیل، زبور میں ب مکانی کر کے بہت دور اصفہان میں آپہنچا اور ایک رہا۔ ایک رات اس نے اچانک زور زور سے ہو گئے۔ جب اس کے پاس پہنچے وہ نماز میں مشغ بآواز بلند قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھ کی دھاک بیٹھ گئی تو اس نے ایک دن اپنے نبی اپنی نبوت کا اعلان کیا وہ قابل غور ہے۔ کہنے لگا،
ل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ ئی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اللہ کا شکر ہے ہم اللہ کو ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) سلام پاکستان) پشاور کی آغوش میں
دجل وفریب کا شکار ہو کر عقیدہ ختم نبوت سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ کسی کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر اس کی نبوت کا اقرار کر سکتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان روشن ارشادات سے تمام فرزندان اسلام پر حجت تمام کر دی۔ اب اگر کوئی گمراہی کے اس غلیظ اور گہرے گڑھے میں گرنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی اس کے مرشد کامل نے تو اس کو سمجھانے کا حق ادا کر دیا۔
جب نبی صادق ومصدوق نے یہ فرمایا کہ تیس دجال، کذاب قیامت سے پہلے نبوت کا دعویٰ کریں گے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ ایسا نہ ہوتا۔ چنانچہ امت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ حضورﷺ کی اس پیشین گوئی کی تصدیق کر رہی ہے۔ جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ خلافت صدیقی میں ہی شروع ہو گیا تھا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی تشریف فرما ہوئے۔ ان کے دعاویٰ، ان کی تعلیمات، ان کے فرمودات اور ان کے طریقہ کار کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ان میں ہمیں کوئی جدت نظر نہیں آتی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ پیشروؤں کی تعلیمات اور نظریات سے پوری طرح استفادہ کیا ہے اور متفرق لوگوں سے متفرق چیزیں لے کر اپنی نبوت کی دکان سجائی ہے۔ مرزا قادیانی ختم نبوت کے قائل بھی ہیں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو نبی بھی کہتے ہیں۔ اس تضاد کو انہوں نے یہ کہہ کر دور کیا ہے کہ حقیقی نبی تو حضورﷺ ہیں اور میں ظلی اور بروزی نبی ہوں۔ در حقیقت یہ تاویل کتنی ہی بھونڈی کیوں نہ ہو۔ بہر حال مرزا قادیانی کی ذہنی سطح سے بلند تر ہے۔ ظاہر بین شخص ضرور اس ندرت آفرینی پر حیران ہو جاتا ہے۔ لیکن در حقیقت یہ مواد مرزا قادیانی کا سرقہ ہے۔ جو انہوں نے اپنے ایک پہلے پیشرو اسحاق اخرس مغربی مدعی نبوت سے کیا ہے۔ یہ کم بخت شمالی افریقہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے تمام علوم رسمیہ کی تکمیل کی۔ مختلف زبانیں سیکھتا رہا اور قرآن کریم کے علاوہ تورات، انجیل، زبور میں مہارت تامہ حاصل کی۔ پھر اپنے وطن سے نقل مکانی کر کے بہت دور اصفہان میں آ پہنچا اور ایک عربی مدرسہ میں قیام کیا اور دس سال تک گونگا بنا رہا۔ ایک رات اس نے اچانک زور زور سے چیخنا شروع کر دیا۔ مدرسہ کے تمام لوگ بیدار ہو گئے۔ جب اس کے پاس پہنچے وہ نماز میں مشغول ہو گیا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ بآواز بلند قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی عش عش کر اٹھے۔ جب لوگوں کے دلوں پر اس کی دھاک بیٹھ گئی تو اس نے ایک دن اپنے نبی ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس طریقہ سے اس نے اپنی نبوت کا اعلان کیا وہ قابل غور ہے۔ کہنے لگا۔ ”فرشتہ نے ایک سفید سی چیز میرے منہ میں رکھ
٢١
دی۔ یہ تو معلوم نہیں وہ چیز کیا تھی۔ البتہ اتنا جانتا ہوں وہ شہد سے زیادہ شیریں مشک سے زیادہ خوشبودار اور برف سے زیادہ سرد تھی۔ اس نعمت خداوندی کا حلق سے نیچے اترنا تھا کہ میری زبان گویا ہو گئی اور میری منہ سے یہ کلمہ نکلا۔ ”اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ“ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ محمد کی طرح تم بھی رسول ہو۔ میں نے کہا میرے دوستو! تم یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ مجھے اس سے سخت حیرت ہے۔ بلکہ میں تو عرق خجالت میں ڈوبا جاتا ہوں۔ فرشتے کہنے لگے۔ خدائے قدوس نے تمہیں اس قوم کے لئے نبی مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا کہ جناب باری نے تو سیدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام روحی فداہ کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور آپ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔ اب میری نبوت کیا معنی رکھتی ہے۔ کہنے لگے درست ہے۔ مگر محمد ﷺ کی نبوت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری بالتبع اور ظلی و بروزی ہے۔
(آئمہ تلبیس ص ١١٠)
مرزا قادیانی نے اس موضوع پر جو طومار لکھے ہیں ان کا مطالعہ فرمائیے۔ یہی چیز ہے جس میں ہیر پھیر کر کے انہوں نے اپنی نبوت کا سوانگ رچایا ہے۔ مرزا قادیانی نے وحی کا جو انداز اپنایا ہے وہ بھی ان کے قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت کا کوئی حصہ لیا۔ حدیث کا کوئی فقرہ چرایا۔ ایک دو لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیئے اور اسے وحی کا نام دے کر سادہ لوح لوگوں پر اپنی نبوت کا رعب جمایا۔ لیکن ان کا یہ انداز بھی طبع زاد نہیں بلکہ اس کوچہ ضلالت میں جو لوگ پہلے آوارہ گردی کرتے رہے انہی کی ان صاحب نے بھی نقل اتارنے کی کوشش کی ہے۔ حمران بن اشعث ایک صاحب گزرے ہیں۔ اس نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور امام محمد بن حنفیہ کے فرزند احمد کی رسالت کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے معتقدین کو ایک خود ساختہ سورت نماز میں پڑھنے کی تلقین کی۔ اس سورت کے چند فقرے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے: ”الحمد لله بكلماته وتعالى باسمه قل ان الاهلة مواقيت للناس ظاهرها ليعلم عدد السنين والحساب اتقونى يا اولى الالباب وانا الذى الااسئل عما افعل وانا العليم الحكيم“ مرزا قادیانی نے بھی بے شمار دعوے کئے ہیں۔ میں مسیح ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں۔ میں
ا۔ اسحاق اخرس ہو یا مرزا قادیانی ہر دو کی یہ ہرزہ سرائی کہ میں ظلی نبی ہوں یا بروزی نبی ہوں۔ ان کے ذہنوں کی یہ شیطانی تلبیس ہے۔ وگرنہ پورے اسلامی کلچر (قرآن، حدیث، کتب سیر وغیرہ ) میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ ٢٢
مہدی ہوں وغیرہ وغیرہ ان دعاوی میں بھی انہوں نے ا اپنے پیروؤں پر رات دن میں پچاس نمازیں فرض کیں ی کی کثرت نے انہیں دنیاوی اشغال اور کسب معاش س متعلق ذات باری سے رجوع کروں گا۔ چنانچہ چند روز ب حمران کو خطاب کر کے لکھا تھا کہ تم بھی مسیح ہو تم ہی عیسیٰ ہ جبرائیل ہو۔ اس کے بعد کہنے لگا کہ جناب مسیح بن مریم ب مجھ سے فرمایا کہ تم ہی داعی ہو تم ہی حجت ہو تم ہی ناقہ ہو ت یحییٰ بن زکریا ہو۔ مرزا قادیانی آنجہانی نے اسی حمران ک ہے۔ البتہ ان نابکاروں میں سے کسی کو یہ جرات نہ ہوئی ک کہہ سکتا یہ گستاخی اور دنائت مرزا قادیانی کے لئے ہی مخت
مرزا قادیانی نے بھی اپنی صداقت کے لئ سکتا ہوں۔ میں عربی میں تفسیر لکھ سکتا ہوں۔ مرزا قادیا نے جو اشعار عربی میں لکھے ہیں اور جو عربی نثر لکھی ہ زبان نے اسے کبھی بھی لائق التفات نہیں سمجھا۔ بلکہ اہ علماء نے اس کے ایک ایک صفحہ میں بیسیوں اغلاط کی ن بیشتر عبارتیں سرقہ ہیں اور فضلاء نے ان مقامات کی ن کیا ہے۔ ایسے آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس قسم کی ا گو شاعر یا صاحب طرز ادیب تسلیم کر بھی لئے جائیں ت ہے۔ کیا ان سے بہتر ہزار ہا شعراء اور نثر نگار ادباء نہی تکلم بھی نہیں اگر اس قسم کی اناپ شناپ عربی لکھ ک فرزدق ، جریر نے کیا گناہ کیا تھا کہ وہ شرف نبوت س خود پیش نہیں کی۔ بلکہ یہ بھی اپنے ایک پیشرو سے ا موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو ایران کے علماء نے ان س سے ثابت ہو کہ واقعی آپ مہدی موعود ہیں۔ باب میں ہزار بیت لکھتا ہوں۔ علماء نے کہا اگر یہ بیان س ایک زود نویس کاتب ہو۔ مہدیت کیسے ثابت ہو سک
٢٣
میں پروردہ اور حق گو انسان ماحول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ اپنے مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سہرا ان کو قادیانیوں شیخ راحیل احمد کی اس کی اسلام کی آغوش میں آمین) سلام پاکستان) جہانگیر
مہدی ہوں وغیرہ وغیرہ ان دعاوی میں بھی انہوں نے اپنے استاد حمدان کے استاد اوّل قرمط نے اپنے پیروؤں پر رات دن میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ جب انہوں نے اس سے شکوہ کیا کہ نماز کی کثرت نے انہیں دنیاوی اشغال اور کسب معاش سے روک دیا ہے تو بولا اچھا میں اس کے متعلق ذات باری سے رجوع کروں گا۔ چنانچہ چند روز بعد لوگوں کو ایک نوشتہ دکھانے لگا جس میں حمدان کو خطاب کر کے لکھا تھا کہ تم ہی مسیح ہو تم ہی عیسیٰ ہو تم ہی کلمہ ہو تم ہی محمد بن حنفیہ ہو تم ہی جبرائیل ہو۔ اس کے بعد کہنے لگا کہ جناب مسیح بن مریم میرے پاس انسانی صورت میں آئے اور مجھ سے فرمایا کہ تم ہی داعی ہو تم ہی حجت ہو تم ہی ناقہ ہو تم ہی دابۃ ہو تم ہی روح القدس ہو اور تم ہی یحییٰ بن زکریا ہو۔ مرزا قادیانی آنجہانی نے اسی حمدان کے الفاظ کو کچھ اضافوں کے ساتھ دہرایا ہے۔ البتہ ان نابکاروں میں سے کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کہہ سکتا یہ گستاخی اور دریدہ دہنی مرزا قادیانی کے لئے ہی مختص تھی۔
مرزا قادیانی نے بھی اپنی صداقت کے لئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں عربی میں قصیدہ لکھ سکتا ہوں۔ میں عربی میں تفسیر لکھ سکتا ہوں۔ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی محض لغو اور لچر ہے۔ انہوں نے جو اشعار عربی میں لکھے ہیں اور جو عربی نثر لکھی ہے ذوق سلیم کو اس سے گھن آتی ہے۔ اہل زبان نے اسے کبھی بھی لائق التفات نہیں سمجھا۔ بلکہ اسے اغلاط کا پلندہ کہا ہے۔ خود ہندو پاک کے علماء نے اس کے ایک ایک صفحہ میں بیسیوں اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی بیشتر عبارتیں سرقہ ہیں اور فضلاء نے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں سے مرزا قادیانی نے سرقہ کیا ہے۔ ایسے آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس قسم کی ڈینگیں مارے۔ بفرض محال اگر وہ عربی لغت گو شاعر یا صاحب طرز ادیب تسلیم کر بھی لئے جائیں تو اس سے ان کی نبوت کیسے ثابت ہو سکتی ہے۔ کیا ان سے بہتر ہزارہا شعراء اور نثر نگار ادباء نہیں گزرے ہیں جن کے سامنے انہیں یارائے تکلم بھی نہیں اگر اس قسم کی اناپ شناپ عربی لکھ کر یہ انسان نبی بن سکتا ہے تو متنبی ابونواس، فرزدق، جریر نے کیا گناہ کیا تھا کہ وہ شرف نبوت سے محروم رہے۔ مرزا قادیانی نے یہ دلیل بھی از خود پیش نہیں کی۔ بلکہ یہ بھی اپنے ایک پیشرو سے اخذ کی ہے۔ مرزا علی محمد باب نے جب مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو ایران کے علماء نے ان سے پوچھا کہ اپنی کوئی کرامت بیان کیجئے۔ جس سے ثابت ہو کہ واقعی آپ مہدی موعود ہیں۔ باب نے کہا میری کرامت یہ ہے کہ میں ایک دن میں ہزار بیت لکھتا ہوں۔ علماء نے کہا اگر یہ بیان صحیح بھی ہو تو اس سے صرف اتنا ثابت ہوگا کہ تم ایک زود نویس کاتب ہو۔ مہدویت کیسے ثابت ہو سکتی ہے۔ متنبی کو بھی کچھ عرصہ اپنی قادر الکلامی نے ٢٣
نبوت کا دعویٰ کر کے قسمت آزمائی پر براہیختہ کیا تھا۔ لیکن اسے جلد اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور بیچارے مرزا قادیانی آخر وقت تک فریب نفس میں مبتلا رہے۔
قرۃ العین طاہرہ مرزا علی محمد باب کی عقیدت مند تھی۔ وہ خود بھی ضال اور مضل تھا اور یہ بھی ساری عمر دشت ضلالت میں خاک بسر رہی۔ اس نے باب کی شان میں بھی قصائد لکھے ہیں۔ لیکن بیان میں وہ زور ہے۔ کلام میں وہ بلا کی آمد ہے۔ ذوق وشوق کا وہ عالم ہے کہ درد وسوز الفاظ کے آبگینوں سے چھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک باطل شعار اور گمراہ کے کلام کا مطالعہ کرنے سے ایک عجیب سی کیفیت دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی کا کلام اپنے متکلم کی طرح عفونت زار کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپ چند شعر طاہرہ قرۃ العین کے پڑھئے۔ جو اس نے باب کی محبت میں وارفتہ ہو کر لکھے ہیں۔ کہتی ہیں۔
از پئے دیدن رخت ہمچو صبا افتادہ ام خانہ بخانہ در بدر کوچہ بکوچہ کو بکو
مے رود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام دجلہ بدجلہ یم بیم چشمہ بچشمہ جو بجو
درد دل طاہرہ گشت و نیافت جز ترا صفحہ بصفحہ لا بلا پردہ بپردہ تو بتو
بیچارے مرزا علی محمد باب کو بھی یہ خبط سوار تھا کہ قرآن کریم کی آیات کو اپنے اوپر چسپاں کیا کرتے۔ چنانچہ ’’ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثها عبادی الصالحون (الانبیاء: ١٠٥)‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے باب کے مشہور مرید حاجی مرزا جانی بابی نے لکھا ہے کہ آیت میں لفظ ذکر سے مراد علی محمد باب ہے۔ مرزا قادیانی بیچارے بھی ان آیات طیبات کو اپنے اوپر بڑی ڈھٹائی سے چسپاں کرتے رہے جو خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کی شان میں نازل ہوئی تھیں۔ جن کا تذکرہ قدرے تفصیل سے آگے آ رہا ہے۔
ان چیزوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو یہ علم ہو جائے کہ مرزا قادیانی کے سارے دعوے ان کی ساری دلیلیں ان کی تعلیمات اور ان کا انداز کار ان کا طبعزاد نہیں بلکہ ان سے پہلے جو بد قماش اور بدطینت لوگ گلشن اسلام کو برباد کرنے کے لئے مختلف لباس پہن کر آتے رہے ہیں۔ ان صاحب نے ان سے ہی دریوزہ گری کی ہے۔ البتہ ایک چیز میں مرزا قادیانی بالکل منفرد اور یکتا نظر آتے ہیں۔ ان کے پیشروؤں میں سے کسی میں یہ جرأت نہیں کہ اس وصف میں مرزا قادیانی آنجہانی کی ہمسری تو کجا محض شرکت کا بھی دعویٰ کر سکے۔ ان سے پہلے جتنے جھوٹے مدعیان نبوت اور مہدویت گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی مخالف حکومتوں سے ٹکر لی ہے۔ بڑی
٢٤
عزیمت اور بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ہے۔ اس دریا بہائے ہیں۔ اپنی جانیں قربان کیں ہیں۔ شجاعت و ہیں۔ لیکن جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے ساری عمر انگر خوشامد اور ثناگستری میں اپنی ساری عمر برباد کی ہے۔ اس جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اسلام کے دشمنوں سے نبرد آز اسلامیہ کے عام افراد انگریزی استعمار کے قلعہ کی بنیا کوڑے کھاتے رہے۔ تختہ دار پر مسکراتے ہوئے جان خلفاء اور ان کے مریدوں نے ہمیشہ باطل کی کاسہ لیسی م
اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب سازش کی اور اپنی نبوت کا سوانگ رچایا ملت اسلامیہ خارج کر دیا اور ان کی کسی تاویل کو بھی درخور اعتنا نہ جانا اور جب تک اس فتنہ کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک نہیں دیا۔ جہاد میں کسی جانی اور مالی اور وقت کی قربانی سے د مرزا غلام احمد قادیانی کی دکان اس لئے چل نکلی کہ یہ جیسے دشمن دین و ایمان کی عمل داری تھی۔ یہ امت اور ا میں میرٹھیوں سے بھی چار قدم آگے تھے۔ نیز انگریز یہ فتنہ پھلے پھولے۔ تاکہ ملت اسلامیہ ذہنی انتشار وافت جہاں بھی کوئی مسلمان حکمران تھا۔ وہاں مرزائیت ک اس کی یاد سے مرزائی مبلغوں پر آج بھی لرزہ طاری ہ
ہر زمانہ میں اور ہر جگہ منکرین ختم نبوت ۔ یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ملت اسلا اس سے انحراف کرتا ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں اس لئے حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخ دلیل طلب کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہ
الف لیلہ کے سند باد جہازی کا سفر نام
آیئے ! آج آپ کو قادیان کے منچلے سند باد جہازی
٢٥
عزیمت اور بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ہے۔ اپنے دعویٰ کی سربلندی کے لئے خون کے دریا بہائے ہیں۔ اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ شجاعت و بہادری کی دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ لیکن جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے ساری عمر انگریزوں کی کاسہ لیسی کی ہے۔ حکام وقت کی خوشامد اور ثناگستری میں اپنی ساری عمر برباد کی ہے۔ اس میں اور اس کے ماننے والوں میں کبھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اسلام کے دشمنوں سے نبرد آزمائی کا خیال بھی دل میں لاسکیں۔ ملت اسلامیہ کے عام افراد انگریزی استعمار کے قلعہ کی بنیادیں کھودتے رہے۔ قید ہوتے رہے۔ کوڑے کھاتے رہے۔ تختہ دار پر مسکراتے ہوئے جان دیتے رہے۔ لیکن مرزا قادیانی ان کے خلفاء اور ان کے مریدوں نے ہمیشہ باطل کی کاسہ لیسی میں ہی اپنی عزت سمجھی۔
اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے ختم نبوت کے عقیدہ کے خلاف سازش کی اور اپنی نبوت کا سوانگ رچایا ملت اسلامیہ کے اجتماعی ضمیر نے اسے اپنی صفوں سے خارج کر دیا اور ان کی کسی تاویل کو بھی درخور اعتناء نہ جانا۔ ایسے فتنہ بازوں کے خلاف اعلان جہاد کیا اور جب تک اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا۔ اس وقت تک آرام کا سانس نہیں لیا۔ اس جہاد میں کسی جانی اور مالی اور وقت کی قربانی سے دریغ نہیں کیا گیا۔ یہاں ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دکان اس لئے چل نکلی کہ یہاں کوئی آزاد مسلمان فرمانروا نہ تھا۔ انگریز جیسے دشمن دین و ایمان کی عمل داری تھی۔ یہ امت اور اس کا جھوٹا نبی ان کی خوشامد اور بے جا ستائش میں میراثیوں سے بھی چار قدم آگے تھے۔ نیز انگریز کی سیاسی مصلحتیں بھی اس کی متقاضی تھیں کہ یہ فتنہ پھلے پھولے۔ تاکہ ملت اسلامیہ ذہنی انتشار و افتراق کا شکار ہو کر کمزور ہو جائے۔ بیرون ہند جہاں بھی کوئی مسلمان حکمران تھا۔ وہاں مرزائیت کے مبلغ جب پہنچے تو ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی یاد سے مرزائی مبلغوں پر آج بھی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔
ہر زمانہ میں اور ہر جگہ منکرین ختم نبوت کے خلاف اس اجتماعی اور یکساں ردعمل سے کیا یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ملت اسلامیہ کے لئے روح کی حیثیت رکھتا ہے جو شخص اس سے انحراف کرتا ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہ سکتا۔ بلکہ وہ مرتد ہے اور لائق گردن زدنی اس لئے حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی مدعی نبوت سے اس کی صداقت پر فقط دلیل طلب کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
الف لیلہ کے سند باد جہازی کا سفر نامہ تو آپ نے مزے لے لے کر پڑھا ہوگا۔ آئیے! آج آپ کو قادیان کے منچلے سند باد جہازی کی داستان سفر سنائیں۔ یہ اس سے بھی زیادہ
٢٥
ورطۂ حیرت میں ڈالنے والی اور دلچسپ ہے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ صرف موٹی موٹی باتیں عرض کروں گا کہ کس طرح مرزا قادیانی سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں دس پندرہ روپے کی ملازمت اختیار کرنے کے بعد اور پھر مختاری کے امتحان میں فیل ہونے کے بعد نبوت کے قصر رفیع میں ایک مرصع اور زرنگار تخت پر جلوہ افروز ہو گئے۔
ابتداء میں یہ عام مسلمانوں کی طرح ختم نبوت کے قائل تھے اور حضور کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے اور اس پر نزول وحی کو محال سمجھتے تھے اور ایسے دعویٰ کرنے والے کو کافر اور کاذب کہا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی اپنی تحریروں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
(ازالہ اوہام) پر رقمطراز ہیں: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)
(اس کتاب کی جلد دوم ص ٢٩٢) پر لکھتے ہیں: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ﷺ ہے اور ختم کرنے والا ہے۔ نبیوں کو یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبیؐ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“
تیسرا حوالہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں: ”یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ کو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو۔ پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
آخر میں ایک اور حوالہ سنئے۔ جس میں مرزا قادیانی نے صاف الفاظ میں ایسے شخص کو کافر اور کاذب کہا ہے جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔
”سیدنا مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(دین الحق ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
یہ خیال رہے کہ مرزا قادیانی کے یہ ارشادات اس زمانہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ جب وہ دس پندرہ روپے کے مشاہرہ پر سیالکوٹ کچہری میں ایک معمولی ملازم تھے یا ابھی وہ کورانہ تقلید کی منزل طے کر رہے تھے۔ بلکہ یہ اس زمانے کی تحریریں ہیں۔ جب کہ ان پر ان کے قول کے مطابق براہ راست الہام ہوا کرتا تھا اور معارف قرآن کا ان کے دل میں منجانب اللہ القاء ہوا کرتا تھا۔ آگے چل کر انہوں نے ان عقائد کے برعکس نئے عقائد کو اپنایا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس
زمانہ کے الہامات جن کو وہ منجانب اللہ خیال کر رہے و صداقت سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ عین ممکن ہے بلکہ یہ حق وحی الٰہی کہنے پر مصر ہیں۔ وہ ابلیس لعین کی وسوسہ انگیز واسطہ نہ تھا۔ ورنہ یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ ایک مرتبہ تو الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی رسول کا آنا جائز نہیں۔ ا کرے وہ کاذب اور کافر ہے اور اسی خدا کی طرف سے کی جانب اس بین تضاد کی نسبت کو جہالت اور حماقت
آنجہانی مرزا قادیانی ان مراحل سے گزرا لقب سے اپنے آپ کو نوازا۔ ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہو فتنہ زائے بناوٹی نبوت کا جو سنگھاسن تیار کیا تھا اس پر آ
١٩٠٠ء میں اپنی مسجد کے خطیب مولوی ع نبوت کا کھلا اعلان تھا۔ خطیب صاحب نے مرزا قاد کئے۔ اس خطبہ کو سن کر مولوی احسن صاحب امروہی، نے ایک اور خطبہ پڑھا۔ جس میں مرزا قادیانی کو خاتم کرتا ہوں تو حضور ﷺ مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نب
مولوی صاحب نے اپنے سوال کا پھر جواب پوچھا۔ بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا مولوی عبدالکریم کے درمیان اس بارے میں خوب ب مکان سے نکلے اور یہ آیت پڑھی: ”یا ایھا الذی صوت النبی (حجرات:٢) ”اے ایمان والو
یہ تھا مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنے ہرزہ سرائی جو بزعم خویش بحیثیت ایک نبی کے و
آنجہانی نے ایک رسالہ ”تحفۃ الندوہ“ کے نام سے بار بار اعلان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قرآن اور توراۃ خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی و میں میری اطاعت واجب ہے۔“ ٢٦
زمانہ کے الہامات جن کو وہ منجانب اللہ خیال کر رہے تھے۔ وہ شیطانی الہامات تھے۔ ان کا حق وصداقت سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ عین ممکن ہے بلکہ یہ حق ہے کہ ان کے بعد والے خیالات جنہیں وہ وحی الٰہی کہنے پر مصر ہیں۔ وہ ابلیس لعین کی وسوسہ انگیزیاں تھیں۔ ان کا حق وصداقت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ ورنہ یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ ایک مرتبہ تو من جانب اللہ انہیں یہ القاء ہو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی رسول کا آنا جائز نہیں۔ اجرائے نبوت محال ہے اور جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کاذب اور کافر ہے اور اسی خدا کی طرف سے وحی ہو کہ تو نبی ہے اور رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب اس بین تضاد کی نسبت کو جہالت اور حماقت کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟
آنجہانی مرزا قادیانی ان مراحل سے گزر کر ١٨٨٢ء میں مجدد بنے اور مامور من اللہ کے لقب سے اپنے آپ کو نوازا۔ ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا سوانگ رچایا۔ آخر کار انگریز کی عقل فتنہ زا نے بناوٹی نبوت کا جو سنگھاسن تیار کیا تھا اس پر آ کر براجمان ہو گئے۔
١٩٠٠ء میں اپنی مسجد کے خطیب مولوی عبدالکریم سے ایسا خطبہ دلوایا جس میں ان کی نبوت کا کھلا اعلان تھا۔ خطیب صاحب نے مرزا قادیانی کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے۔ اس خطبہ کو سن کر مولوی احسن صاحب امروہی نے بڑی ناراضگی کا اظہار کیا۔ مولوی عبدالکریم نے ایک اور خطبہ پڑھا۔ جس میں مرزا قادیانی کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو حضور ﷺ مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ختم ہوچکا تو مولوی صاحب نے اپنے سوال کا پھر جواب پوچھا۔ مرزا قادیانی نے مڑ کر کہا مولوی صاحب ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ مرزا قادیانی چلے گئے اور مولوی احسن اور مولوی عبدالکریم کے درمیان اس بارے میں خوب جھگڑا ہوا اور آواز بہت بلند ہوگئی تو مرزا قادیانی مکان سے نکلے اور یہ آیت پڑھی: ”یا ایها الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبی (حجرات:٢)“ ﴿اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرو۔﴾
یہ تھا مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنے کا انداز۔ اب آپ ملاحظہ فرمائیں ان کی وہ ہرزہ سرائی جو بزعم خویش بحیثیت ایک نبی کے وقتاً فوقتاً ان سے سرزد ہوتی رہی۔ ١٩٠٢ء میں آنجہانی نے ایک رسالہ ”تحفۃ الندوہ“ کے نام سے لکھا اس میں کہتے ہیں: ”پس جیسا کہ میں نے بار بار اعلان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توراۃ خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی و بروزی نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)
٢٧
س پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بی محبت تھی اور یہ محبت ان را انسان ہونے کے ساتھ ئی مذہب کا مطالعہ کر کے تہ شجاعت دینے لگے۔ ان قادیانیوں اور مسلمانوں ام موجود ہے۔ ضرورت اور انٹرنیٹ کا ثمر دیکھو کہ اللہ م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
(تحفہ حقیقت الوحی) پر لکھتے ہیں: ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس نے مجھے بھیجا اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
(تحفہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) پر مرقوم ہے: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں مخصوص کیا گیا۔“
واقع البلاء میں اپنے بارے ڈینگ مارتے ہوئے لکھتے ہیں: ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیں: ”اب اگر اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے ...... باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
مرزا قادیانی کی تصنیف لطیف ایک غلطی کا ازالہ کا ایک حوالہ بھی پیش خدمت ہے۔
ایک جگہ لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
مرزا بشیر الدین آنجہانی نے مرزا قادیانی کی نبوت کے بارے میں جو تشریح کی ہے۔ اس کے بعد اس مسئلہ میں شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ وہ لکھتے ہیں: ”ہم حضرت مسیح موعود کی نبوت پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کی نبوت میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو نبی اللہ کے لئے لغت و قرآن ومحاورہ انبیاء گذشتہ سے لازمی معلوم ہوتی ہے ...... پھر یہ کہ آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا ہے۔ پس آپ قرآن کریم ولغت اور محاورۂ انبیاء گذشتہ کے مطابق نبی تھے۔“
(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ٦٣)
اس قسم کے دعاوی سے مرزا قادیانی کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ان واضح اقتباسات کے مطالعے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا وہ صرف اپنے آپ کو مجدد یا مہدی کہا کرتے تھے۔ ایسے شخص کی سادہ لوحی پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
٢٨
١٨٩
صرف مرزا آنجہانی نے اپنے کو نبی نہیں کہا۔ بلکہ ختم نبوت کے عقیدے کو لغو اور باطل کہتا ہے اور یہاں تک کہتا جہنم کی طرف لے جانے والا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ دروازہ بند ہو چکا ہے تو یہ اس امت کو خیر الامم کہنا جھوٹ ہو گا ان کی عبارتوں سے ملاحظہ فرمائیے۔
”کیسی قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ یہ خیال کیا جا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمد
اس کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”میں میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی
(ضمیمہ براہین احم
ایک اور ارشاد سنئے۔ فرماتے ہیں: ”گویا اللہ تعال خیر امۃ “ یہ جھوٹ تھا۔ نعوذ باللہ ! اگر یہ معنی لئے جائیں طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامت کی بجائے شر الامم ہوئی ۔ ن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ ک نے بڑے محتاط انداز سے قدم جمانے کی کوشش کی۔ جب ان کے کئی اندھے جمع ہو گئے ہیں تو انہوں نے اپنی عظمت شان کر دیا۔ لیکن عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے جب حضور سے اپنے آپ کو حضور کا ادنیٰ غلام کہتے اور اپنی نبوت کو حضور جب انہوں نے کئی اور برگشتہ قسمت لوگوں کو اپنے دام تزو آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم پلہ اور ہم پایہ کہنا ش ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں: ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں...... میں محمد ہوں (ﷺ ) پ
(
حدیث پاک میں ہے: ”اذا لم تستحی ف اتار دے۔ تو پھر جو چاہے کرتا رہ۔ مرزا قادیانی نے بھی جائے کم ہے۔
٢٩
صرف مرزا آنجہانی نے اپنے کو نبی نہیں کہا۔ بلکہ اس کی دریدہ دہنی کا یہ عالم ہے کہ وہ ختم نبوت کے عقیدے کو لغو اور باطل کہتا ہے اور یہاں تک کہتا ہے کہ ایسا مذہب شیطانی مذہب اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حضور سرور عالم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے تو یہ اس امت کو خیر الامم کہنا جھوٹ ہوگا۔ بلکہ یہ شرالامم ہوگی۔ اس چیز کو اب ان کی عبارتوں سے ملاحظہ فرمائیے۔
”یہ کسی قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج٢١ ص ٣٥٤)
اس کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج٢١ ص ٣٥٤)
ایک اور ارشاد سنئے۔ فرماتے ہیں: ”گویا اللہ تعالیٰ نے امت کو یہ جو کہا کہ ”کنتم خیر امۃ“ یہ جھوٹ تھا۔ نعوذ باللہ! اگر یہ معنی لئے جائیں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامت کی بجائے شرالامم ہوئی۔“
(الحکم قادیان مورخہ ١٧؍ اپریل ١٩٠٣ء)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مرزا قادیانی نے بڑے محتاط انداز سے قدم جمانے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے گرد عقل و دل کے کئی اندھے جمع ہوگئے ہیں تو انہوں نے اپنی عظمت شان اور دیگر انبیاء کی تنقیص کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لیکن عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے جب حضور ﷺ کا ذکر کرتے تو بڑے مؤدبانہ انداز سے اپنے آپ کو حضور کا ادنیٰ غلام کہتے اور اپنی نبوت کو حضور کا فیضانِ نبوت تسلیم کرتے۔ اس طرح جب انہوں نے کئی اور برگشتہ قسمت لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھانس لیا تو اب انہوں نے اپنے آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم پلہ اور ہم پایہ کہنا بھی شروع کر دیا۔ چنانچہ ان کی ایک بڑ ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں: ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ .....میں محمد ہوں (ﷺ) یعنی بروزی طور پر۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج٢٢ ص ٥٢١)
حدیث پاک میں ہے: ”اذا لم تستحی فاصنع ماشئت“ جب تو حیا کی چادر اتار دے۔ تو پھر جو چاہے کرتا رہ۔ مرزا قادیانی نے بھی شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ دیا اور داعی
٢٩
نیک پرور دہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان اپنی گہری علمی اور عمیق محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ قادیانی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دیتے لگے۔ ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشاعت کا ثمر ہم اللہ کو نام شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) کی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
تباہی باتیں شروع کردیں۔ بھلا ان پاک انبیاء سے مرزا قادیانی کو کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ آدم علیہ السلام کے علم کا یہ حال ہے کہ: ”علم آدم الاسماء كلها (البقره:٣١)“ کی شان عطاء ہوئی۔ فرشتے آپ کے علم کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی ہیں کہ عیاری کے امتحان میں فیل ہورہے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ نمرود کی طاغوتی طاقت کو للکارتے ہیں اور بڑی جرات سے آتش کدہ نمرود میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور مرزا قادیانی ہیں کہ ساری عمر انگریزوں کی خوشامد اور ثناگستری میں گزار دیتے ہیں۔
ایک جگہ لکھتے ہیں: ”براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
درثمین میں کہتا ہے ؎
آخریں جام ہمیں جام من است
میرا نام احمد آخر زماں ہے اور میرا جام ہی سب سے آخری جام ہے۔ یعنی حضور تو خاتم النبیین نہیں۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) میں لکھتا ہے۔
داد آں جام را مرا بہ تمام
مزید کہتا ہے ؎
آدم و نیز احمد مختار در برم جامۂ ہمہ ابرار
میں ہی آدم ہوں، میں ہی احمد مختار ہوں، میں نے تمام ابرار کا لباس پہنا ہوا ہے۔
پھر کہتا ہے ؎
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
٣٠
میرے آنے سے ہر نبی زندہ ہو گیا ہے اور ہر رسول آپ یہ نہ سمجھئے یہ شاعرانہ مبالغہ آرائی ہے اور اشعار میں ایسی بات آپ کو ایک ایسا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ جس سے آپ اندازہ کائنات سید موجودات سے بھی برتر سمجھتا ہے اور اس کے لئے اس ملحدانہ نظریہ بھی اسلام میں داخل کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے لکھتے ہیں۔ عربی متن اور ترجمہ دونوں ان کا اپنا ہے۔
”واعلم ان نبيناﷺ كما بعث فى الا آخر الالف السادس باتخاذه بروز مسيح الموعـ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بر کے آخر میں مبعوث ہوئے۔
آپ مقصد سمجھ گئے کہ مرزا قادیانی کی شکل میں حضر ذرا دل تھام کر یہ بھی پڑھئے۔
”بل الحق ان روحانية عليه السلام اعنى فى هذه الايام اشد واقوى واكمل من تلك ا حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر سالوں کے قوی اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ گستاخ اپنے آپ حضور ﷺ کو ہلال سے تشبیہ دے رہا ہے۔
اے مرزائیو! ”لـقـد جـئـتـم شـيـئاً اِدّ تـكـاد الارض وتخر الجبال هدا (مريم:٩٠)“
ان خرافات سے بھی زیادہ دلوں کو مجروح کرنے آنجہانی نے ان آیات الہیہ میں روا رکھیں۔ جن میں اللہ تعا واحسانات سے سرفراز فرمایا۔ اس نے از راہ گستاخی یہ کہنا ش میں نازل ہوئی ہیں۔
چنانچہ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣) پر لکھتا ہے: ”اللہ تعالٰی ”وما ارسلنك الا رحمة للعالمين“ نیز اسی آیت م
٣١
میرے آنے سے ہر نبی زندہ ہوگیا ہے اور ہر رسول میرے کرتے میں چھپا ہوا ہے۔
آپ یہ نہ سمجھئے یہ شاعرانہ مبالغہ آرائی ہے اور اشعار میں ایسی تک بندیاں ہوتی جاتی ہیں۔ میں آپ کو ایک ایسا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ جس سے آپ اندازہ لگائیں گے کہ وہ اپنے آپ کو فخر کائنات سید موجوداتؐ سے بھی برتر سمجھتا ہے اور اس کے لئے اس نے تناسخ اور حلول کا مشرکانہ اور ملحدانہ نظریہ بھی اسلام میں داخل کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اپنے خطبہ الہامیہ میں آنجہانی لکھتے ہیں۔ عربی متن اور ترجمہ دونوں ان کا اپنا ہے۔
”واعلم ان نبینا صلی اللہ علیہ وسلم كما بعث فى الالف الخامس كذلك بعث فى آخر الالف السادس باتخاذه بروز مسيح الموعود “ اور جان کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔
آپ مقصد سمجھ گئے کہ مرزا قادیانی کی شکل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت ہوئی۔ اب ذرا دل تھام کر یہ بھی پڑھئے۔
”بل الحق ان روحانية عليه السلام كان فى آخر الالف السادس اعنى فى هذه الايام اشد واقوى واكمل من تلك الاعوام بل كالبدر التام“ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے قوی اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ گستاخ اپنے آپ کو چودھویں کا چاند کہہ رہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلال سے تشبیہ دے رہا ہے۔
اے مرزائیو! ”لقد جئتم شيئاً اذ تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا (مریم:٩٠)“
ان خرافات سے بھی زیادہ دلوں کو مجروح کرنے والی وہ تحریفات ہیں جو مرزا قادیانی آنجہانی نے ان آیات الہیہ میں روا رکھیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مختلف انعامات واحسانات سے سرفراز فرمایا۔ اس نے از راہ گستاخی یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
چنانچہ (اربعین نمبر٣ ص٢٣) پر لکھتا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”وما ارسلنك الا رحمة اللعالمين “نیز اسی آیت کے بارے میں بھی کہا کہ یہ بھی میرے
٣١
حق میں نازل ہوئی ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)
”داعیاً الی اللہ وسراجاً منیراً“
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو شرف معراج سے مشرف فرما کر تمام انبیاء کرام پر فضیلت عطاء فرمائی اور اس مقام تک عروج ہوا۔ جہاں کسی کا طائر خیال بھی پرواز نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ صاحب کہتا ہے کہ یہ آیتیں بھی میرے حق میں نازل ہوئی ہیں۔ ”سبحن الذی اسرٰی بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوادنیٰ“
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے محبوب! جو تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ بے ادب کہتا ہے کہ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیہم“
(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
پھر کہتا ہے: ”انا اعطینک الکوثر“ میں بھی مجھ سے خطاب ہے کہ ہم نے تمہیں کوثر عطاء فرمایا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مقام محمود کی بشارت دی۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوا۔ ”اراد اللہ ان یبعثک مقاماً محموداً“ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تجھے (مرزا قادیانی) مقام محمود تک پہنچاوے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
(اعجاز احمدی) میں لکھتا ہے: ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ یعنی اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول (مرزا غلام احمد قادیانی) کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ وہ اس دین کو سارے دینوں پر غالب کرے۔ (نعوذ باللہ)“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) پر لکھتا ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ (محمد: ٢٩) اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“ یہ چند حوالے اس کے طومار خرافات سے مشت نمونہ از خروارے کے طور پر نقل کئے ہیں۔ ایک معمولی درجہ کا مسلمان جب ان گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو پڑھتا ہے تو اس کا کلیجہ شق ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔
٣٢
پل پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ فی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکش کا شر مگیں اشکد یم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
کیا ایسے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ ہرزہ سرائیاں ہیں ۔ والے جھوٹے مدعیان نبوت کو نہ ہوسکی۔ اسے ہم اپنے ایمان کرشمہ اس کے وجود کو برداشت کیا جاتا رہا ہے۔ ورنہ راجپال کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ وہ عقیدہ جس پر ابتدائی فضل الصلوٰۃ والسلام کا اجماع رہا ہو اور جس زمانہ میں جس ک کافر و مرتد قرار نہ دے دیا گیا ہو۔ بلکہ اس کا استیصال اور قلع ملت اسلامیہ کا جزو کیسے رہ سکتا ہے؟ خصوصاً مرزا غلام احمد قرآن میں تحریفات کی یہ کیفیت ہو اس کو اسلام اپنے ماننے سکتا ہے؟
مرزا قادیانی اور ان کے جانشینوں کی متذکرہ عیاں ہے کہ انہیں نہ امت مسلمہ کے ماضی سے کوئی عقید ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں ہماری امنگوں میں کوئی ہ تھے یہ لوگ انہیں سرپرست سمجھتے رہے۔ جس انگریز نے ہر ہماری ثقافتی اور تہذیبی قدروں کو بے رحمی سے روند ڈالا ہمارے مدارس اور علمی ادارے مقفل کر دیئے۔ وہ انگریز بے گناہوں کے قتل کے بوجھ سے خم ہے۔ جنہوں نے درختوں کے تنوں کے ساتھ باندھ کر گولی سے اڑا دیا۔
حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی اور ان انڈیمان میں انگریزوں کی سفاکانہ قید میں جام شہادت نو ملت کی ردائے ناموس کو تار تار کرنے میں اس وقت بھی دل میں ان دشمنان اسلام کے لئے خیر سگالی کے جذ ساری عمر ان کی چاپلوسی میں لگے رہے۔ انہی کی مدح پنجہ استبداد کو مضبوط کرنے کے لئے تقریری اور تصنیفی م کہ اگر ملت اسلامیہ اور فرقہ قادیانیہ میں ان کے علاوہ
٣٣
کیا ایسے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے متعلق ہمیں کسی عالم سے مسئلہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ ہرزہ سرائیاں ہیں۔ جن کی جرات اس سے پہلے آنے والے جھوٹے مدعیان نبوت کو نہ ہوسکی۔ اسے ہم اپنے ایمان کی کمزوری کہیں یا انگریز کی سنگینوں کا کرشمہ اس کے وجود کو برداشت کیا جاتا رہا ہے۔ ورنہ راجپال اور لیکھرام وغیرہ کی بکواسیات اس کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ وہ عقیدہ جس پر ابتداء سے آج تک امت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والسلام کا اجماع رہا ہو اور جس زمانہ میں جس کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو اسے صرف کافر و مرتد قرار نہ دے دیا گیا ہو۔ بلکہ اس کا استیصال اور قلع قمع کر دیا گیا ہو تو آج ایسا شخص یا گروہ ملت اسلامیہ کا جزو کیسے رہ سکتا ہے؟ خصوصاً مرزا غلام احمد قادیانی جس کی گستاخیاں اور آیات قرآنی میں تحریفات کی یہ کیفیت ہو اس کو اسلام اپنے ماننے والوں کی صفوں میں کیسے برداشت کر سکتا ہے؟
مرزا قادیانی اور ان کے جانشینوں کی مستند تحریروں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہیں نہ امت مسلمہ کے ماضی سے کوئی عقیدت ہے نہ اس کے حال سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں ہماری امنگوں میں کوئی یکسانیت ہے۔ ملت اسلامیہ کے جو دشمن تھے یہ لوگ انہیں سرپرست سمجھتے رہے۔ جس انگریز نے برصغیر میں اسلامی اقتدار کا چراغ گل کیا۔ ہماری ثقافتی اور تہذیبی قدروں کو بے رحمی سے روند ڈالا۔ ہمارے اوقاف کو درہم برہم کر دیا۔ ہمارے مدارس اور علمی ادارے مقفل کر دیئے۔ وہ انگریز جن کی خون آشام تلوار ہمارے لاکھوں بے گناہوں کے قتل کے بوجھ سے خم ہے۔ جنہوں نے ہمارے فخر روزگار علماء و فقہاء و اتقیاء کو درختوں کے تنوں کے ساتھ باندھ کر گولی سے اڑا دیا۔
حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی اور ان کے جاں نثار ساتھی رحمۃ اللہ علیہم جزائر انڈیمان میں انگریزوں کی سفاکانہ قید میں جام شہادت نوش کر گئے۔ وہ انگریز جن کے ناپاک ہاتھ ملت کی ردائے ناموس کو تار تار کرنے میں اس وقت بھی کوشاں تھے۔ کیا کسی باغیرت مسلمان کے دل میں ان دشمنان اسلام کے لئے خیرسگالی کے جذبات پائے جا سکتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی ساری عمر ان کی چاپلوسی میں لگے رہے۔ انہی کی مدح سرائیاں، انہی کے لئے دعائیں، انہی کے پنجۂ استبداد کو مضبوط کرنے کے لئے تقریری اور تصنیفی میدان میں مخلصانہ کوششیں، خود ہی فیصلہ کیجئے کہ اگر ملت اسلامیہ اور فرقہ قادیانیہ میں ان کے علاوہ اور کوئی اختلاف نہ ہوتا تو کیا ایسے غداروں
٣٣
اور ملت فروشوں کو اپنی صفوں میں جگہ دینے کے لئے ہم تیار ہوتے۔ قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس میں ایک بار نہیں بار بار حکم دیا گیا۔
یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا الیهود والنصاریٰ اولیاء بعضهم اولیاء بعض ومن یتولهم منکم فانه منهم ان الله لا یهدی القوم الظلمین (مائدہ:٥١) ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو شخص ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ ان میں سے ہوگا۔ (ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا جائے گا) بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہ تو ہے اللہ کا فرمان اور الہی فتویٰ۔
اب ذرا اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی بے شمار تحریروں سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔ اپنی کتاب ’شہادۃ القرآن‘ کے آخر میں لکھتے ہیں: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرو۔ دوسرا اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سائے میں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
ایک دوسری جگہ وہ اور کھل کر اپنی نیاز مندی اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں: ”مجھ سے جو سرکار انگریزی کے حق میں خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔“
(ستارۂ قیصریہ ص ٢،٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
مرزا قادیانی نے اپنے عربی رسالہ نور القرآن میں انگریز کے بارے میں جو خوشامدانہ الفاظ لکھے ہیں اور اپنے بارے میں جو تعلیاں کی ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں؟
”فلی ان ادعی التفرد فی هذه الخدمات ولی ان اقول اننی وحید فی هذه التائیدات ولی ان اقول انی حرز لها وحصن حافظ من الآفات وبشرنی ربی وقال ما کان الله لیعذبهم وانت فیهم فلیس للدولة نظیری ومثیلی فی نصری وعونی وستعلم الدولة ان کانت من المتوسمین“ مجھے حق ہے کہ میں دعویٰ کروں کہ میں ان خدمات کو انجام دینے میں منفرد ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں ان ٣٤ تائیدات میں یکتا ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں یہ قلعہ ہوں جو اس کو آفات و مصائب سے محفوظ رکھے اور فرمایا کہ اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔ جب تک میرا کوئی ہمسر اور نصرت و تائید میں میرا کوئی مثیل نگاہ عطاء کی ہے تو وہ اس کی تصدیق کرے گی۔“
آپ ان الفاظ کو بار بار غور سے پڑھئے گنہگار سے گنہگار مسلمان کی زبان سے یہ جملے نکل قلعہ کا کام دے رہا ہو اور جس کا وجود اس ناپاک صفت میں کھڑا ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔
خوشامد وتملق کا یہ سلسلہ بڑا طویل ہے۔ ہوں۔ یہ انداز لگانا آپ کا کام ہے کہ مرزا قادی فروری ١٨٩٨ء کو انہوں نے ایک درخواست ب جس کا ایک پیرا آپ بھی پڑھئے۔
”یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مد متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثاب حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیاں کے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں“ میں خود کا توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ا وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری
کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ نے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے بھی کئے بھی تصنیف کیں اور ان میں عیسائیوں کو خوب کے بارے میں عرض ہے کہ پس پردہ حقیقت ہے۔ ان کی تصنیف (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ملاحظہ کے قابل ہے۔
پروردہ اور حق گو انسان خول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گوار اور خوش گفتار انسان چکی تھی اور یہ بحث ان ہر انسان ہونے کے ساتھ فی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان قائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس کا شر کھلم کھلا مرزا غلام احمد کی اس اسلام کی آغوش میں (آمین) سلام پاکستان ) جہانگیر
تائیدات میں یکتا ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں یہ کہوں کہ میں اس حکومت کے لئے تعویذ اور ایسا قلعہ ہوں جو اس کو آفات و مصائب سے محفوظ رکھنے والا ہے اور میرے رب نے مجھے بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔ جب تک تم ان میں ہو۔ بس حقیقتاً اس حکومت کے پاس میرا کوئی ہمسر اور نصرت و تائید میں میرا کوئی مثیل نہیں۔ اگر خدا نے اس حکومت کو مردم شناسی کی نگاہ عطاء کی ہے تو وہ اس کی تصدیق کرے گی۔" (نور الحق حصہ اوّل ص ٣٤، ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٤٥)
آپ ان الفاظ کو بار بار غور سے پڑھئے کیا انگریز جیسی دشمن دین و ملت قوم کے لئے کسی گنہگار سے گنہگار مسلمان کی زبان سے یہ جملے نکل سکتے ہیں جو شخص انگریزوں کی حکومت کے لئے قلعہ کا کام دے رہا ہو اور جس کا وجود اس ناپاک اقتدار کی ضمانت ہو۔ وہ غلامان مصطفےٰ ﷺ کی صف میں کھڑا ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔
خوشامد و تملق کا یہ سلسلہ بڑا طویل ہے۔ آخر میں ایک اور حوالہ پیش کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔ یہ انداز لگانا آپ کا کام ہے کہ مرزا قادیانی ذلت کی کن پستیوں میں گر چکے تھے۔ چوبیس فروری ١٨٩٨ء کو انہوں نے ایک درخواست لیفٹینٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں ارسال کی۔ جس کا ایک پیرا آپ بھی پڑھئے۔
"یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم و احتیاط سے تحقیق و توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے۔"
(کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)
کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ انگریز مذہبًا عیسائی تھے۔ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے بھی کئے۔ اشتہار بھی نکالے۔ پمفلٹ بھی چھاپے اور کتابیں بھی تصنیف کیں اور ان میں عیسائیوں کو خوب رگیدا ہے۔ ان کی یہ خدمت کیا کوئی کم ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ پس پردہ حقیقت کچھ اور ہے جس سے مرزا قادیانی نے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کی تصنیف (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ب، ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠) ہے۔ جن کا عنوان ملاحظہ کے قابل ہے۔
٣٥
حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست
اس کے ضمن میں لکھتے ہیں: ”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی..... تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں میں جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا کہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو ۔“ اس اقتباس سے معمولی فکر و دانش کا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ عیسائیت اور اس کے رد میں یہ جوش وخروش مرزا قادیانی کی محض حکمت عملی تھی۔ ورنہ ان کا اصل مقصد تو صرف انگریز کی چاپلوسی کرنا اور قصیدہ خوانی کرنا تھا۔
اب میں آپ کو ایک دوسری چیز کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ افراد کی طرح قوموں پر بھی ادبار وانحطاط کے دور آیا کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو اپنی قوم سے قلبی انس ہوتا ہے وہ ان ناسازگار حالات میں بھی اپنی قوم کے جذبات غیرت وحمیت کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیتے۔ وہ انہیں ہر انداز سے اٹھنے اور ابھرنے پر برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان میں اپنی کھوئی ہوئی عزت و آزادی کو حاصل کرنے کی امنگ کو زندہ رکھتے ہیں۔ جب بھی حالات مساندت کرتے ہیں وہ دشمن کے خلاف جہاد کا نقارہ بجا دیتے ہیں۔ اسی وقت ان کے آغوش تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے جذبات سیلاب کی طرح امڈ آتے ہیں۔ چشم زدن میں وہ قوم جو بھیڑوں کے گلہ کی طرح بے بس اور ضعیف تھی۔ شیروں جیسی جرأت کے ساتھ دشمن پر جھپٹتی ہے اور اسے خاک میں ملا دیتی ہے اور فضائے آسمان میں ان کی عظمت کا پھریرا اونچا بہت اونچا لہرانے لگتا ہے۔ یہ کبھی نہیں دیکھا گیا ہے کہ قوم کا کوئی خیر اندیش ہو اور وہ ان جذبات حیرت کو کچل دینے کے لئے اپنی ساری عمر کھپا دے اور ان کو تلقین کرے کہ تم اپنے اجنبی آقا کے قدم چاٹتے رہو اور کتوں کی طرح بے غیرتی کی زندگی بسر کرو۔ ایسا کہنے والا قوم کا دشمن ہوتا ہے۔ قوم کا غدار ہوتا ہے۔ دشمن کا ففتھ کالم ہوتا ہے۔ نبی کا مقام تو بڑا اونچا ہے۔ اسے تو ایک شریف انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ اب آپ ذرا مرزا قادیانی کے دفتر پند ونصائح میں سے چند نصائح دل تھام کر غور سے
٣٦
پڑھے۔ آنجہانی کی حقیقت آپ پر واضح حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت اطاعت بارے میں اس قدر کتابیں لکھی بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تما ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ م خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں س
ایک دوسرے مقام پر اپنی کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ”اس کا م دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ بر نہیں دکھلا سکتا۔“
مرزا قادیانی نے منارۃ الم کے چند الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیں: ”سو آ دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نافرمان ہے۔“
(ا
ان کے دو شعر بھی سن لیجئے
منکر نبی کا
اب چھوڑ
دین کے لیے
جس نے امت کو انگریز کی مجبور ہیں کہ اسے ملت کا بدخواہ اور غدا نہیں ہونے دیتے۔ اسی طرح ہم ایسے
ب پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان بھی چھڑ گئی اور یہ بحث ان را انسان ہونے کے ساتھ ئی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشفاق کاشمیری سلمہ اللہ کو م شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) جہانگیر
پڑھیئے۔ آنجہانی کی حقیقت آپ پر واضح ہو جائے گی۔ آپ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ بن جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)
ایک دوسرے مقام پر اپنی کتابوں کی کثرت کا اظہار کرنے کے بعد ان کے اثرات کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ”اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے غلط خیال چھوڑ دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان نہیں دکھلا سکتا۔“
(ستارۂ قیصریہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
مرزا قادیانی نے منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے چندہ کرنے کے لئے جو اشتہار دیا اس کے چند الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیں: ”سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی کا نام رکھوا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج ١٦ ص ١٧)
ان کے دو شعر بھی سن لیجئے کہتے ہیں۔
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
(درثمین ص ٥٤، تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)
جس نے امت کو انگریز کی ابدی غلامی کے لئے تیار کرنے میں ساری عمر کھپا دی ہو ہم مجبور ہیں کہ اسے ملت کا بدخواہ اور غدار قرار دیں۔ جس طرح خارش زدہ کتے کو مسجد میں ہم داخل نہیں ہونے دیتے۔ اسی طرح ہم ایسے غداروں کو حرم ملت کے پاس تک نہیں پھٹکنے دیں گے۔ اس
٣٧
شخص کی بوالعجبیوں اور اسلام پر اس کی زیادتیوں اور ملت کے خلاف اس کی سازشوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ مرزا قادیانی نے صرف اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ امت محمدیہ کے مستحکم قلعہ میں شگاف ڈالنے کی جسارت سے بھی وہ باز نہ آئے۔ وہ عمر بھر ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کر کے اپنے انگریز محسنوں کے قدموں پر لا ڈالنے کے لئے سرگرداں رہے۔
ان دشمنان دین وملت کی گستاخیاں، قرآن کریم کی آیات میں واضح تحریف اور امت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتسلیمات کے خلاف ریشہ دوانیوں کی طویل داستان آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ لیکن اس گھناؤنی سازش کے ایک انتہائی سنسنی خیز کردار کو بے نقاب کرنے کے لئے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ قارئین کی خدمت میں مفکر اسلام شاعر مشرق ترجمان حقیقت حضرت علامہ اقبالؒ کے اس مضمون کا اقتباس پیش کیا جائے۔ جو انہوں نے جواہر لال نہرو کے سوالات کے جواب میں لکھا تھا۔
اس میں انہوں نے مسئلہ کی نزاکتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بحث کی ہے اور آخری فقرے میں اس چیز کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ ان مندرجہ بالا اختلافات کے باوجود مرزائی امت مسلمہ سے اپنے آپ کو ایک الگ امت کیوں نہیں مانتے۔
علامہ لکھتے ہیں۔ ”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کی حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم کی ختم رسالت پر ایمان دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو سماج خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔
ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔“
میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا
٣٨
ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے سا تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہوتا ک
مرزائی اپنے آپ کو امت تسلیم کرتے ہیں۔ وہ صرف س کے لئے ملت اسلامیہ میں گھسے رہنا چاہتے ہیں۔ جس کے متعلق حضر جب کبھی پہلے حضرت علامہ اور پنڈت نہرو کے اس علمی مب مجھے بڑی حیرت ہوتی کہ پنڈت نہرو کے دل میں قادیانیوں کی ہمدردی سیاسی، ذہنی اور نظریاتی اعتبار سے مرزائیوں کے بعد المشرقین تھا۔ وہ انگریزوں کے خوشامدی اور ان کے اقتدار کے کوشاں اور پنڈت نہرو ہندوستان کی آزادی کے لیڈر اور انگریز سوشلسٹ انہیں کیا سوجھی کہ وہ قادیانیوں کی وکالت کرنے لگ مرحوم و مغفور کی شہرہ آفاق کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈاکٹر گزرا۔ جس سے وہ اضطراب ختم ہو گیا۔ اخبار بندے ماترم مورخہ داس کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس کے ضروری اقتباسات پیش ک اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے۔ وہ یہ ہے ک طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے...... ہندوستانی مسلمان اس بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ا عرب کا نام دے دیں۔“
”اس تاریکی میں اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی نئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کری قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی تر ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔“
”جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتق مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ م
٣٩
پروردہ اور سچا انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان پکی محبت تھی اور یہ محبت ان ار انسان ہونے کے ساتھ ی مذہب کا مطالعہ کر کے ق شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے ۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اس فتنے کا شر ختم اللہ کرے (آمین) سلام پاکستان) چناب نگر
ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تا کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔
(حرف اقبال ص ١٤٦، ١٤٧)
مرزائی اپنے آپ کو امت تسلیم کرتے ہیں۔ وہ صرف سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لئے ملت اسلامیہ میں گھسے رہنا چاہتے ہیں۔ جس کے متعلق حضرت علامہ نے اشارہ کیا ہے۔
جب کبھی پہلے حضرت علامہ اور پنڈت نہرو کے اس علمی مباحثہ کے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو مجھے بڑی حیرت ہوتی کہ پنڈت نہرو کے دل میں قادیانیوں کی ہمدردی کا کیسے یکا یک جذبہ پیدا ہو گیا۔
سیاسی، دینی اور نظریاتی اعتبار سے مرزائیوں کے درمیان اور ان کے درمیان بعد المشرقین تھا۔ وہ انگریزوں کے خوشامدی اور ان کے اقتدار کے مضبوط کرنے کے لئے ہر طرح کوشاں اور پنڈت نہرو ہندوستان کی آزادی کے لیڈر اور انگریزی اقتدار کے دشمن، خدا کے منکر، سوشلسٹ انہیں کیا سوجھی کہ وہ قادیانیوں کی وکالت کرنے لگ گئے۔ آخر کار پروفیسر الیاس برنی مرحوم و مغفور کی شہرہ آفاق کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شنکر داس کا ایک مضمون نظر سے گزرا۔ جس سے وہ اضطراب ختم ہو گیا۔ اخبار بندے ماترم مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣٢ء میں ڈاکٹر شنکر داس کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس کے ضروری اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں: ”اس سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے...... ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔“
”اس تاریکی میں اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک نئی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔“
”جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام کشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم
٣٩
ہو جاتی ہے۔ مکہ، مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات رہ جاتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جو ہر وقت پان اسلام ازم اور پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں کتنی ہی مایوس کن ہو۔ مگر ایک قوم پرست کے لئے باعث مسرت ہے۔“
حضرت علامہ اقبالؒ کے مقالہ کے اقتباسات اور ڈاکٹر شنکر داس کے مندرجات سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مرزائی جماعت کی اصلیت کیا ہے اور یہ کس مسلم کش تحریک کا شاخسانہ ہے۔ اب جب کہ مملکت خداداد پاکستان کی ایک منتخب اسمبلی کی طرف سے اس خطرناک اقلیت کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور اسی اسمبلی کی طرف سے یہ قرارداد بھی پاس ہو چکی ہے کہ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کر دیا جائے اور انہیں اپنے باطل عقائد کی تبلیغ کی ہرگز اجازت نہ دی جائے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج تک ارباب بست و کشاد کی طرف سے اس سلسلہ میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور آج تک کوئی واضح اقدام نہیں کیا گیا۔
ستم کی بات تو یہ ہے کہ اس اسلامی جمہوریہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں غیر مسلم مرزائی اسلامیات کی تعلیم دینے پر مامور ہیں اور طلباء کے معصوم اذہان کو مسموم کرنے کے دھندوں میں مصروف ہیں۔ عوام کے بار بار اصرار کے باوجود محکمہ تعلیم کے کار پرداز ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
واضح رہے کہ مرزائی جماعت پٹیل اور گاندھی سے بھی زیادہ پاکستان کے بارے بداندیش ہے۔ ان کے کارکنوں نے کسی زمانہ میں بھی پاکستان کو کمزور بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ سرظفر اللہ کی وزارت کا دور ہو یا ایم ایم احمد کی اقتصادی پالیسی ہر ایک نے پاکستان کو کھوکھلا ہی کیا ہے۔ اس لئے مملکت خداداد پاکستان کی ہر بہی خواہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس اقلیت کو کلیدی آسامیوں خصوصاً محکمہ تعلیم سے دور رکھے اور ان کی نام نہاد مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے۔ کیونکہ کسی بھی اسلامی نظریاتی سلطنت میں خلاف دین اور خلاف وطن سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے کہ وہ اپنے محبوب کریم رؤف رحیم ﷺ کے طفیل امت مسلمہ کو ہر قسم کے ظاہری و باطنی دشمنوں سے محفوظ رکھے اور اس مملکت خداداد پاکستان کی آپ حفاظت فرمائے اور ہمیں توفیق ارزانی فرمائے کہ ہم یہاں اس کے محبوب ﷺ کا لایا ہوا نظام نافذ کر سکیں۔ آمین بجاہ حبیبه الامین ﷺ!
١؎ گورنمنٹ انٹر کالج بھیرہ ضلع سرگودھا اور گورنمنٹ البیرونی ڈگری کالج پنڈ دادنخاں اس کی واضح مثالیں ہیں۔
٤٠
خاتم النبیین ﷺ
فتنہ مرزا
اور
پاکستان
حضرت مولانا سید
ق پروردہ اور حق گو انسان حول سے اٹھا کر اسلام کے خوش گو اور خوش گفتار انسان سچی محبت تھی اور یہ محبت ان دار انسان ہونے کے ساتھ ئی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور اشفاق کا شکرگزار ہوں کہ م شیخ راحیل احمد کی اس (آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام آباد، پاکستان) جہانگیر
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
فتنہ مرزائیت
اور
پاکستان
حضرت مولانا سید پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزائیوں نے ١٩٨٨ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پاس درخواست دائر کی۔ پاکستانی حکومت ہمارے حقوق پامال کر رہی ہے اور ہمیں اس مملکت سے جائز مراعات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ حرکت وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت کے ملک کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے اس عالمی پلیٹ فارم پر مملکت خداداد پاکستان کی نمائندگی کے لئے حضور ضیاء الامتؒ (پیر سید کرم شاہ) کا انتخاب کیا۔ آپ نے اس اہم ترین موقع پر جس حسین انداز میں پاکستان اور اسلام کی نمائندگی کی وہ تاریخ کا جزو بن چکی ہے۔ آپ ”فتنہ مرزائیت اور پاکستان“ کے عنوان سے رقمطراز ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلٹ بنچ کا اجلاس ٣٠ جولائی ١٩٨٨ء سے لاہور میں منعقد ہو رہا تھا۔ اسی اثناء میں مرحوم و مغفور شہید صدر محمد ضیاء الحق کا ٹیلی فون موصول ہوا۔ جس میں انہوں نے مجھے فرمایا کہ یو، این، او کے ذیلی ادارہ ہیومن رائٹس (حقوق انسانی) کے سب کمیشن کا اجلاس ٨ اگست ١٩٨٨ء سے جنیوا میں منعقد ہو رہا ہے۔ وہاں مرزائیوں نے بڑا اودھم مچا رکھا ہے۔ پاکستان کے بارے میں انہوں نے یہ پراپیگنڈا زور و شور سے شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان میں ان کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کو ملازمتوں سے چن چن کر نکالا جا رہا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ ان کے افراد کو زدوکوب کیا جاتا ہے اور ہر قسم کے انسانی حقوق سے ان کو محروم کیا جا رہا ہے۔ صدر مرحوم نے مجھے حکم دیا کہ میں وہاں جا کر پاکستان کی نمائندگی کروں۔
مجھے اس قسم کے اجتماعات میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ پہلے تو میں سہما اور خیال کیا کہ صدر محترم سے معذرت کر لوں اور درخواست کروں کہ کسی اور موزوں آدمی کا اس اہم کام کے لئے انتخاب کیا جائے۔ لیکن پھر مجھے یہ حدیث شریف یاد آئی جس میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس منصب اور ذمہ داری کا کوئی شخص مطالبہ کرتا ہے اور وہ منصب اسے دیا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی ذاتی قابلیت کے حوالے کر دیتا ہے کہ تم نے یہ منصب طلب کیا تھا۔ ہم نے تمہیں دے دیا۔ اب تو جان اور تیرا کام، لیکن اگر بن مانگے وہ
٢
منصب اور ذمہ داری کسی کو سپرد کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خ راہنمائی فرماتا ہے۔“
میں نے سوچا کہ اس چیز کا مطالبہ میں نے تو نہیں حاشیہ خیال میں کبھی نمودار ہوئی۔ اب اگر یہ فرض میرے مصطفیٰ ﷺ ، اللہ تعالیٰ میری مدد اور راہنمائی فرمائے گا اور ج ہوگی تو پھر مشکلیں خود بخود آسان ہوتی جائیں گی۔ چنانچہ اللہ تعا صدر محترم کی اس خواہش کی تکمیل کا عزم کر لیا۔
لاہور سے میں ٨ اگست کو بھیرہ واپس آیا۔ ٩، ١٠ او انتظامات کئے اور اپنی طویل غیر حاضری میں جو منصوبہ بے زبا احباب کے ساتھ مشورہ بھی کیا اور انہیں مناسب ہدایات بھی ہوا۔ ساڑھے تین بجے فارن منسٹری کے دفتر میں متعلقہ حکام پی آئی اے کی فلائٹ سے جنیوا کے لئے روانہ ہو گیا۔ فرینکفر پھر لفتھنزا ایئر لائن کے طیارے سے تین بجے دوپہر جنیوا پہنچ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور ا ٹھہرایا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ مجھے یہاں کے حا پروگرام ہو اس سے بھی مطلع کریں۔
چنانچہ انہوں نے مجھے وہ پمفلٹ دیئے۔ جس م پر اور پاکستان کے عوام پر ہر قسم کے بے سروپا الزامات ل با تصویر تھے اور ایک خالی الذہن انسان کو طرح طرح س مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔
سفیر صاحب نے بتایا کہ ”ہیومن رائٹس“ ک دفعہ پاکستان ممبر نہیں ہے۔ اس لئے ہم نہ اس میں تقری جواب دے سکتے ہیں اور نہ ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہ شریک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ہر ر ( صبح کے کھانا) پر مدعو کیا جائے ایک بجے سے تین ب
٣
حق پرور دہ اور حق گو انسان خوش گو اور خوش گفتار انسان حصول سے اغماض کر اسلام کے سچی محبت تھی اور یہ محبت ان ارا انسان ہونے کے ساتھ ہی مذہب کا مطالعہ کر کے شجاعت دینے لگے۔ ان ائم موجود ہے۔ ضرورت قادیانیوں اور مسلمانوں اور انکشاف کا سر چشمہ اللہ کو ہم شیخ راحیل احمد کی اس آمین) ی اسلام کی آغوش میں سلام پاکستان) چناب نگر
منصب اور ذمہ داری کسی کو سپرد کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خود اس شخص کی امداد کرتا ہے اور راہنمائی فرماتا ہے۔“
میں نے سوچا کہ اس چیز کا مطالبہ میں نے تو نہیں کیا اور نہ اس قسم کی طلب میرے حاشیہ خیال میں کبھی نمودار ہوئی۔ اب اگر یہ فرض میرے ذمہ لگایا گیا ہے تو حسب ارشاد مصطفیٰ ﷺ، اللہ تعالیٰ میری مدد اور راہنمائی فرمائے گا اور جب اس کی امداد میرے شامل حال ہوگی تو پھر مشکلیں خود بخود آسان ہوتی جائیں گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے میں نے صدر محترم کی اس خواہش کی تکمیل کا عزم کرلیا۔
لاہور سے میں ٨ اگست کو بھیرہ واپس آیا۔ ٨، ٩ اگست دو روز یہیں ٹھہرا اور ضروری انتظامات کئے اور اپنی طویل غیر حاضری میں جو منصوبے زیر تکمیل تھے ان کے بارے میں اپنے احباب کے ساتھ مشورہ بھی کیا اور انہیں مناسب ہدایات بھی دیں۔ ١١ اگست کو بھیرہ سے روانہ ہوا۔ ساڑھے تین بجے فارن منسٹری کے دفتر میں متعلقہ حکام سے ملاقات کی، رات کو ڈیڑھ بجے پی آئی اے کی فلائٹ سے جنیوا کے لئے روانہ ہو گیا۔ فرینکفرٹ میں دو اڑھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑا پھر لفتھنزا ایئرلائن کے طیارے سے تین بجے دوپہر جنیوا پہنچا۔ عزت مآب سعید دہلوی ایئرپورٹ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور انٹرکانٹی نینٹل کے کمرہ نمبر ١٠٢٠ میں مجھے ٹھہرایا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ مجھے یہاں کے حالات سے بالتفصیل آگاہ کریں اور جو پروگرام ہو اس سے بھی مطلع کریں۔
چنانچہ انہوں نے مجھے وہ پمفلٹ دیئے۔ جس میں مرزائیوں نے حکومت پاکستان پر اور پاکستان کے عوام پر ہر قسم کے بے سروپا الزامات عائد کئے ہوئے تھے۔ یہ پمفلٹ باتصویر تھے اور ایک خالی الذہن انسان کو طرح طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کے لئے مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔
سفیر صاحب نے بتایا کہ ”ہیومن رائٹس“ (حقوق انسانی) کے سب کمیشن کا اس دفعہ پاکستان ممبر نہیں ہے۔ اس لئے ہم نہ اس میں تقریر کر سکتے ہیں نہ کسی مقرر کے اعتراض کا جواب دے سکتے ہیں اور نہ ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ البتہ بحیثیت مبصر اس اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ہر روز ان ممبران میں سے دو تین ممبران کو لنچ (صبح کے کھانے) پر مدعو کیا جائے ایک بجے سے تین بجے تک میٹنگ کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس وقفہ
٣
میں ان سے تبادلہ خیال کیا جائے اور حقیقت حال سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے لئے اور کوئی چارہ کار نہ تھا۔
محترم سفیر صاحب نے فرمایا تھا کہ وہ ہر روز کے لئے تین ممبران کو مدعو کریں گے۔ ہفتہ اور اتوار چھٹی ہوتی ہے۔ میں نے یہ دو دن مطالعہ میں اور اس موضوع کی تیاری میں صرف کئے۔ سوموار کو میں سفیر کے ساتھ سب کمیشن کے اجلاس میں بحیثیت مبصر شریک ہوا۔ اس اجلاس کے چیئر مین مسٹر بھنڈارا تھے۔ جو بھارت کے نمائندہ تھے۔ نصف گول دائرہ کی شکل میں سٹیج کے سامنے کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ پہلی قطار میں کمیشن کے ممبر صاحبان تشریف فرما تھے۔ دوسری قطار میں ان کے معاونین کے بیٹھنے کے لئے نشستیں تھیں۔ تیسری قطار میں مبصر بیٹھے تھے۔ جن میں میں بھی تھا اور پچھلی دو لائنوں میں غیر حکومتی انجمنوں کے نمائندگان تھے۔ کافی دیر تک میں ممبران کی تقاریر کو سنتا رہا۔ ایک بجے وقفہ ہوا تو میں واپس چلا آیا۔
ہم نے لنچ پر مختلف ممبران سے ملاقات اور تبادلہ خیالات کا جو پروگرام تشکیل دیا اس کی پہلی نشست ١٦ اگست ١٩٨٨ء بروز منگل ہوئی۔ ان میں مصر اور اردن کے معزز ارکان مدعو تھے اور رات کو خصوصی طور پر چین کے ممبر کو ہم نے ڈنر پر بلایا تھا۔ چنانچہ یہ سلسلہ ٢٥ اگست ١٩٨٨ء تک جاری رہا۔ اس روز بھی خلاف معمول رات کو ہم نے مسٹر بھنڈارا اور مسز بھنڈار کو ڈنر پر مدعو کیا۔ ان نشستوں میں ماحول بڑا دوستانہ اور تکلف و تصنع سے بالکل مبرا تھا۔ میں نے ان کو دو تین باتیں سمجھانے کی کوشش کی۔
پہلی بات! تو یہ تھی کہ دنیوی نقطہ نظر سے قوموں کے علیحدہ علیحدہ ہونے کی چند وجوہات ہیں۔ ان میں وطن، زبان، نسل، چہرے کی رنگت وغیرہ کو اہمیت حاصل ہے۔ لیکن مذہبی نقطہ نظر سے امتوں کی علیحدگی کا ایک ہی سبب ہے جب کسی امت کا خصوصی تعلق ایک نبی کے ساتھ ہو جاتا ہے تو ایک علیحدہ امت معرض وجود میں آجاتی ہے۔ میں نے انہیں کہا مثال کے طور پر آپ مسلمانوں کو لیجئے۔ ہم مسلمان، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صاحب کتاب، صاحب شریعت نبی اور رسول مانتے ہیں۔ اسی طرح ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی صاحب کتاب، صاحب معجزات نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہم یہودی ہیں نہ ہم عیسائی۔ چونکہ ہمارا خصوصی تعلق سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ اس لئے ہم مسلمان ہیں اور ایک علیحدہ امت ہیں اور جو عیسائی ممبر ہمارے ساتھ ہوتا میں اس سے عرض کرتا کہ آپ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے
ہیں ان کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آ پ کا خصوصی تعلق حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام س پیدا ہوا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ اس ن اس سے بحث نہیں کہ اس کا وہ دعویٰ سچا تھا یا جھوٹا لوگوں نے اس کو نبی تسلیم کیا۔ جن لوگوں نے مرزا غلا کے ساتھ وہی خصوصی تعلق ہو گیا جو مسلمانوں کا سیدنا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے یا یہودیوں کا خصوصی تعلق کی بناء پر وہ ایک الگ امت بن گئے۔ لیکن امت اسلامیہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر چہ وہ جیسے ہم موسیٰ علیہ السلام کو نبی مان کر بھی ان کے امتی کے باوجود حضورﷺ کی امت نہیں۔ کیونکہ ان کا خصو
میں نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ چونکہ یہ جلیل القدر رسول ہیں اور ہر شخص ان کے نا کے ساتھ خصوصی تعلق ہو گا وہ اسی کا امتی ہوگا۔
دوسری بات ! جو میں نے ان صاحبو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے ہوا۔ انہوں ن وہ کافر ہے۔ نیز اپنے متبعین کو حکم دیا کہ ان میں س کرے۔ کسی مسلمان کی نماز جنازہ نہ پڑھے۔ خوا ہو۔ نیز انہیں منع کیا کہ وہ اپنی بچیوں کے رشتے کے متبعین میں سے اگر کوئی شخص ان کاموں میں س کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا اور یہ واقعہ پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح نے انتقال فرمایا شرکت کی لیکن سر ظفر اللہ خان ، جو اس وقت پاکست ہوئے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تو انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے یہ کہا: ”اگر قائد
ہیں ان کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ یہودی نہیں۔ بلکہ آپ عیسائی ہیں۔ کیونکہ آپ کا خصوصی تعلق حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک میں ایک شخص پیدا ہوا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی نبی ہے۔ اس وقت ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس کا وہ دعویٰ سچا تھا یا جھوٹا ...... بہر حال اس نے نبی بننے کا دعویٰ کیا اور بعض لوگوں نے اس کو نبی تسلیم کیا۔ جن لوگوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کیا۔ ان کو مرزا قادیانی کے ساتھ وہی خصوصی تعلق ہو گیا جو مسلمانوں کا سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہے۔ عیسائیوں کا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے یا یہودیوں کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے۔ اس خصوصی تعلق کی بناء پر وہ ایک الگ امت بن گئے۔ جن کو مرزائی یا قادیانی یا احمدی کہا جاتا ہے۔ لیکن امت اسلامیہ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر چہ وہ کہیں کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کو نبی مانتے ہیں جیسے ہم موسیٰ علیہ السلام کو نبی مان کر بھی ان کے امتی نہیں۔ اسی طرح یہ بھی حضور ﷺ کو نبی ماننے کے باوجود حضور ﷺ کی امت نہیں۔ کیونکہ ان کا خصوصی تعلق مرزا غلام احمد قادیانی سے ہے۔ میں نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے نام بطور مثال ذکر کئے ہیں۔ چونکہ یہ جلیل القدر رسول ہیں اور ہر شخص ان کے ناموں سے آشنا ہے۔ ورنہ جس شخص کا جس نبی کے ساتھ خصوصی تعلق ہوگا وہ اسی کا امتی ہوگا۔
دوسری بات! جو میں نے ان صاحبوں کو ذہن نشین کرائی وہ یہ تھی کہ تکفیر کا آغاز آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے ہوا۔ انہوں نے ہی حکم دیا کہ جو میری نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔ نیز اپنے متبعین کو حکم دیا کہ ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کے ساتھ مل کر نماز ادا نہ کرے۔ کسی مسلمان کی نماز جنازہ نہ پڑھے۔ خواہ کتنا متقی اور پرہیز گار ہو۔ خواہ وہ چھ ماہ کا معصوم بچہ ہو۔ نیز انہیں منع کیا کہ وہ اپنی بچیوں کے رشتے مسلمانوں کو نہ دیں۔ پھر یہ حکم صادر کیا کہ ان کے متبعین میں سے اگر کوئی شخص ان کاموں میں سے کوئی ایک کام کرے گا تو اس کا نام میری امت کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا اور یہ واقعہ تو آفاق عالم میں مشہور و معروف ہے کہ جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے انتقال فرمایا تو لاکھوں مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی لیکن سر ظفر اللہ خان، جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ جب اخباری نمائندوں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے یہ کہا: ”اگر قائد اعظم مسلمان تھے تو آپ یوں سمجھیں کہ میں ایک
٥
مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ ہوں اور اگر وہ مسلمان نہ تھے تو میں ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ ہوں۔“
پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی تفصیلات سے آپ آگاہ ہوں گے۔ لیکن اتنی بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ قرار داد مذہبی علماء کی کسی کانفرنس اور کسی اجتماع میں منظور نہیں کی گئی۔ بلکہ اسے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا اور وہ بھی ہفتوں بلکہ مہینوں کی سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد وہ طویل مباحثہ اور علمی مذاکرہ یکطرفہ نہیں تھا۔ بلکہ قادیانی جماعت کے اس وقت کے امیر جناب مرزا ناصر احمد نے بھی اپنی جماعت کے علماء اور فضلاء کے ساتھ اس میں شرکت کی تھی اور ایک ایک نکتہ پر گرما گرم بحث ہوئی تھی اور آخر میں مرزا ناصر صاحب نے جب یہ اعلان کیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہوں اور جو شخص ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا اس کو کافر سمجھتا ہوں تب پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر اس قرار داد کو پاس کیا اور آپ جانتے ہیں کہ جو قرار داد قانون ساز اسمبلی میں پاس ہو اور اس کو صرف اکثریت نے ہی منظور نہ کیا ہو بلکہ اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہو۔ اس کی آئینی اور قانونی حیثیت کا کون انکار کر سکتا ہے؟ اور اس قرار داد کو اتفاق رائے سے پاس کرنے میں بھی مرزا ناصر کے اس اعلان کا بڑا دخل ہے جو انہوں نے آئین ساز اسمبلی کے ہال میں سب کے سامنے کیا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اس وقت مسلمانوں کی تعداد دنیا میں ایک ارب کے لگ بھگ ہے اور قادیانی ایک لاکھ پچیس ہزار ہیں۔ اگر ان کے امیر کے کہنے کے مطابق صرف یہی مسلمان ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو بیک قلم دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ یہ قادیانیوں کا ہی دل گردہ ہے۔ کوئی منصف مزاج شخص ایسا کہنے کی بلکہ ایسا سوچنے کی بھی جسارت نہیں کر سکتا۔
تیسری بات ! جو میں نے ان صاحبان کے گوش گزار کی تھی وہ یہ تھی کہ یہ لوگ شور مچا رہے ہیں کہ پاکستان میں ہمارے انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ ہمیں قتل کیا جارہا ہے۔ ہماری عبادت گاہوں کو پیوند خاک کیا جارہا ہے۔ ہمیں ملازمتوں سے نکالا جارہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
اس کے بارے میں عرض ہے کہ پاکستان کے عوام، اسلام کی برکت سے اتنے فراخ دل اور عالی ظرف واقع ہوئے ہیں کہ اس ملک میں بہت سی غیر مسلم اقلیتیں آباد ہیں۔ ہندو،
٦
عیسائی، پارسی وغیرہ لیکن جب سے پاکستان بنا ہے اس وقت سے لے کر آج تک وہاں کبھی فرقہ وارانہ فساد رو پذیر نہیں ہوا۔ کبھی کسی غیر مسلم کی جان، مال، آبرو پر دست تعدی دراز نہیں کیا گیا تو ان لوگوں پر ظلم و تعدی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کون سا ایسا انسانی حق ہے جو کسی اور پاکستانی کو میسر ہے۔ لیکن یہ اس سے محروم ہیں۔
مثال کے طور پر آپ سب سے پہلے تعلیمی میدان کو لیجئے۔ پرائمری سکول، ہائی سکول، کالج، پروفیشنل کالج ، ٹیکنیکل کالج ، پوسٹ گریجویٹ اور یونیورسٹی کی سطح تک حصول تعلیم کے جتنے مرحلے ہیں۔ ان میں داخلہ کے لئے ان قادیانیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ ان کے بچے میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج اور دوسرے کالجز میں سینکڑوں کی تعداد میں اب بھی زیر تعلیم ہیں اور جنہوں نے اس سال فائنل کے امتحان پاس کئے ہیں وہ حسب قواعد ملازمتوں پر متعین کر دیئے گئے ہیں۔ مقابلہ کے امتحانات میں بھی شریک ہونے پر بھی ان پر کوئی پابندی نہیں۔ ان میں سے جو کامیاب ہوتے ہیں ان کو اعلیٰ مناصب پر فائز کیا جاتا ہے۔
جہاں تک سرکاری محکموں میں ملازمت کا تعلق ہے۔ سب سے اہم محکمے محکمہ دفاع کے ہیں۔ ان میں وہ ہوائی، بحری، بری تمام افواج میں اعلیٰ ترین عہدوں پر متمکن ہیں۔ انٹیلی جنس محکمہ جو از حد اہم اور حساس محکمہ ہے۔ اس میں بھی بنیادی پوسٹوں پر یہ لوگ فائز ہیں۔ وزارت خارجہ میں اہم ممالک میں اس جماعت کے لوگ سفارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ملیں، فیکٹریاں، کارخانے ان کے تصرف میں ہیں۔ سینکڑوں مربع زرعی زمین کے یہ مالک ہیں۔ مشہور مقامات پر کاروباری مرکزوں کے یہ مالک ہیں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی اس کے علاوہ کون سا وہ حق ہے جو کسی اور پاکستانی کو تو حاصل ہے اور انہیں میسر نہیں۔ البتہ ایک حق ہے جو اور کسی پاکستانی کو حاصل نہیں۔ لیکن یہ اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یعنی اپنے ملک کی بدگوئی کرنا، اپنے ملک کو بدنام کرنا، اس درخت کی جڑیں کاٹنا۔ جس کے ٹھنڈے سائے میں یہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس کے میٹھے اور لذیذ پھلوں سے یہ اپنی کام و دہن کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ بیرون پاکستان آپ کہیں چلے جائیں ان ناشکر گزاروں کو آپ پاکستان کا گلہ کرتے اور برائی کرتے ہوئے پائیں گے۔ اس کے باوجود پاکستان کا دامن پھر بھی ان کے لئے کشادہ ہے۔ پھر بھی وہ اپنے انعامات و کرامات سے ان کو محروم نہیں کرتا۔ پاکستان کا اور کوئی شہری یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ وہ غیر اقوام کے سامنے اپنے ملک کی غیبت کرے اور یہ لوگ اپنے ملک پر سراسر جھوٹے الزام لگاتے ہیں اور اس کو
٧
بدنام کر کے خوش ہوتے ہیں۔
اثنائے گفتگو میں ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ یہ لوگ کلمہ شریف کا بیج لگاتے ہیں، آپ یہ بیج نوچ لیتے ہیں اور اس پر اپنی برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بات آپ کی انسانی حقوق کی پامالی کے زمرہ میں آتی ہے۔
میں نے انہیں عرض کی کہ بیشک ہمیں ان کے اس بیج پر اعتراض ہے اور ہمیں ان کے سینوں پر یہ بیج آویزاں دیکھ کر ناگواری ہوتی ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ سورۂ الفتح کی یہ آیت: ”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“ اس میں پہلا جملہ ”محمد رسول اللہ“ یعنی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہ ذات پاک نہیں جس کا نام ”محمد“ ان کے جدامجد نے رکھا جو چودہ سو سال سے اسی نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے دوست بھی، ان کے دشمن بھی، ان کے ماننے والے اور انکار کرنے بھی اسی نام سے ان کو جانتے ہیں۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس سے مراد فقط وہ نہیں بلکہ میں بھی ہوں۔ اس سے بڑی جسارت بھی کوئی ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم جو ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور آسمانی صحیفہ ہے۔ اس میں اپنی من مانی تاویل بلکہ من مانی تحریف سے کیا ہمارے دل نہیں دکھتے۔ اگر اقلیت کے انسانی حقوق ہیں تو کیا اکثریت کا کوئی انسانی حق نہیں۔ اگر اقلیت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بری بات ہے تو کیا اکثریت کے جذبات کو مجروح کرنا کار ثواب ہے؟
یہ آیت لکھ کر وہ آیت کا غلط معنی لیتے ہیں۔ اس لئے ہماری غیرت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کا نام پاک ذکر کر کے اس سے کوئی ایسا شخص مراد لیا جائے جسے ہم مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔
اس گفتگو میں سفیر صاحب جناب سعید دہلوی میری معاونت فرماتے رہے اور جب بھی مجھے ان کی اعانت کی ضرورت محسوس ہوئی بڑی فصاحت و بلاغت کے ساتھ وہ اپنا مدعا مہمانوں کے ذہن نشین کراتے رہے۔ اس کاوش کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال ممبران نے کھل کر ان لوگوں کی تائید کی تھی اور پاکستان پر تابڑ توڑ حملے کئے تھے۔ اس سال اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل وکرم فرمایا کہ کسی ایک ممبر نے بھی ہمارے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا۔
٨
اسی اثناء میں ١٧ اگست ١٩٨٨ء کو ایک واقعہ نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ ٦ بجے میں اپنے کام سے فار تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ریسیور اٹھایا۔ جنا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور شاید ان کے کرب والم کی کیا کہہ رہے ہیں۔ آخر بمشکل تمام وہ اتنا کہہ سکے کہ ص کرسکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔ کچھ عرض نہیں کر سکتا ک واپس پاکستان چلا جاؤں۔ لیکن پھر اس خیال نے را لئے یہاں بھیجا گیا ہوں اس فرض کی ادائیگی سے پہلے نہیں ۔ دل جتنا چاہے تلملائے اسے یہیں رہتا ہو گا صلاحیتوں کو مصروف کار رکھنا ہوگا۔
ہفتہ کے روز میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کے وقت کے مطابق شہید اسلام صدر جنرل محمد ضیا گھڑی پر گیارہ بجے تو میں نے سوچا اب پاکستان والے جنازہ کی کچھ جھلکیاں دکھائیں۔ میں نے ٹیلی کر دل تھام کر رہ گیا۔ پاکستانی فوج کے جیالے ا تھے۔ ایک گھنٹہ تک سوئٹزرلینڈ کے ٹیلی ویژن نے ب بھی آیا کہ وہ دبلا پتلا جنرل ضیاء الحق جس کی آواز تھا، اپنی آخری آرام گاہ میں رکھ دیا گیا۔ جس کے قوم نے اس کے فراق میں بہائے وہ آنکھیں جو ک سے اس کے لئے اور اس کے ساتھی شہداء کے لئے منظر تھا جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا۔ لاکھوں انسانوں ک کے ارد گرد حد نگاہ تک جتنے میدان ، جتنی پہاڑیاں ہ کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ مسجد کی چھت پر میں پاکستانی قوم کا نظم وضبط دیکھنے والوں کو ورط وخضوع کے ساتھ سراپا عجز و نیاز بن کر اپنے رحمن ا
اسی اثناء میں ١٧ اگست ١٩٨٨ء کو ایک عظیم سانحہ وقوع پذیر ہوا۔ جس نے قلوب واذہان کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٦ بجے میں اپنے کام سے فارغ ہو کر بستر پر آرام کرنے کے لئے لیٹا ہی تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ریسیور اٹھایا۔ جناب سفیر صاحب بول رہے تھے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور شاید ان کے کرب والم کی ایسی ہی کیفیت تھی۔ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ آخر بمشکل تمام وہ اتنا کہہ سکے کہ صدر صاحب کا طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا۔ یہ سن کر سکتہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ وہ کیا کیفیت تھی۔ بار ہا دل نے مجبور کیا کہ واپس پاکستان چلا جاؤں۔ لیکن پھر اس خیال نے راستہ روک لیا کہ میں جس فرض کی ادائیگی کے لئے یہاں بھیجا گیا ہوں اس فرض کی ادائیگی سے پہلے اپنا مورچہ چھوڑنا یہ مردانگی نہیں۔ یہ وفاداری نہیں۔ دل جتنا چاہے تلملائے اسے یہیں رہنا ہوگا۔ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے اپنی ساری صلاحیتوں کو مصروف کار رکھنا ہوگا۔
ہفتہ کے روز میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں تنہا تھا۔ اخبار میں پڑھا تھا کہ دو بجے پاکستان کے وقت کے مطابق شہید اسلام صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ جب گھڑی پر گیارہ بجے تو میں نے سوچا اب پاکستان میں دو بج رہے ہوں گے۔ شاید ٹیلی ویژن والے جنازہ کی کچھ جھلکیاں دکھائیں۔ میں نے ٹیلی ویژن آن کیا۔ سامنے وہ منظر نظر آیا جسے دیکھ کر دل تھام کر رہ گیا۔ پاکستانی فوج کے جیالے اپنے مرحوم صدر کے صندوق کو اٹھا کر لا رہے تھے۔ ایک گھنٹہ تک سوئٹزرلینڈ کے ٹیلی ویژن نے براہ راست تمام مناظر براڈ کاسٹ کئے۔ وہ لمحہ بھی آیا کہ وہ دبلا پتلا جنرل ضیاء الحق جس کی آواز کی گرج سے عالمی قوتوں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ اپنی آخری آرام گاہ میں رکھ دیا گیا۔ جس کے اوپر سینکڑوں من مٹی ڈال دی گئی۔ وہ آنسو، جو قوم نے اس کے فراق میں بہائے وہ آنکھیں جو گھنٹوں اس کی جدائی پر اشکبار رہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے اور اس کے ساتھی شہداء کے لئے اس کی رحمت کی بھیک مانگتی رہیں۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا۔ لاکھوں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا۔ فیصل مسجد کے اردگرد حد نگاہ تک جتنے میدان، جتنی پہاڑیاں، جتنی سڑکیں، جتنی کوٹھیاں تھیں سب لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ مسجد کی چھت پر بھی لوگوں کا ہجوم تھا۔ انتہائی غم و اندوہ کے لمحات میں پاکستانی قوم کا نظم وضبط دیکھنے والوں کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر رہا تھا۔ سب انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ سراپا عجز و نیاز بن کر اپنے رحمٰن اور رحیم، غفار اور ستار خدا کی بارگاہ میں اپنے شہید
٩
صدر کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے۔ نماز عصر کے بعد جنیوا کی مسجد میں جنرل صاحب کے ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن کریم کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نماز عصر سے پہلے میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ بہت سے پاکستانی ایمبیسی اور پاکستانی مشن کے افسر اور ملازمین اور عام پاکستانیوں کی کثیر تعداد وہاں جمع ہوگئی۔ قرآن کریم کے کئی ختم ہوئے، کلمہ شریف اور درود شریف پڑھا گیا۔ سب نے اس کا ثواب جنرل صاحب اور آپ کے شہید ساتھیوں کی ارواح طیبہ کو پہنچایا۔ سبھی رنجیدہ اور غمزدہ تھے۔ لیکن جو پٹھان وہاں آئے تھے ان کی حالت بڑی تکلیف دہ تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ کہہ رہے تھے آج ہم یتیم ہوگئے۔ ہمارا باپ رخصت ہوگیا۔ اسلام اور پاکستان کی جس دل میں جتنی محبت تھی اسی قدر وہ المناک حادثہ پر غمناک تھا۔ ہفتہ اور اتوار کو مشن کی ہفتہ وار چھٹی تھی۔ سوموار کو پھر اجلاس شروع ہوا۔ سب سے پہلے صدر صاحب اور ان کے ساتھیوں کی حسرتناک وفات پر دلی غم و اندوہ کا اظہار کیا گیا اور احتراما ایک منٹ کھڑے ہو کر اظہار تعزیت کیا گیا۔ ٢٦/اگست کو جمعہ تھا۔ میں نے سفیر صاحب سے پوچھا کہ اگر میرا یہاں کوئی کام ہو تو میں ٹھہرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن اگر میرا کام ختم ہو گیا ہو تو مجھے واپسی کی اجازت دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کا کام اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اب سب کمیشن کے ممبران خفیہ اجلاس کریں گے۔ جن میں وہ امور جو کمیشن میں زیر بحث آتے ہیں۔ ان پر خفیہ رائے شماری کریں گے۔ اس میں ہم کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔ چنانچہ بروز جمعہ ساڑھے ٦ بجے کی فلائٹ پر میں فرینکفرٹ (جرمن) پہنچا۔ فرینکفرٹ (جرمنی) کا ایک مشہور شہر ہے اور جرمنی کا ہوائی اڈہ ہے۔ وہاں دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کے فارغ التحصیل صاحبزادہ عابد حسین صاحب عرصہ دو سال سے خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ میں ان کے پاس آؤں۔ چنانچہ میں نے واپسی پر ان کے پاس جانے کا پروگرام بنایا اور انہیں اپنی آمد سے مطلع کیا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایئر پورٹ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ وہاں سے ہی پاک دارالاسلام مسجد تک پہنچے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ نماز ادا کی اس کے بعد احباب کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ باتوں باتوں میں صاحبزادہ عابد صاحب نے بتایا کہ یہاں کے مرزائیوں کو آپ کی ١٠
آمد کی اطلاع مل گئی ہے۔ وہ ملاقات کے لئے وقت عصر کے بعد انہیں ملاقات کے لئے وقت دیا۔ رات ہو کر سیر کرنے کا پروگرام بنایا۔ وہاں سے ساٹھ ستر کـ خوبصورت قصبہ ہے۔ جس کا نام اس وقت یاد نہیں ہے۔ جس پر لوہے کے رسوں کے ساتھ چھوٹے ڈبـ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ وہ بجلی سے رسے چلتے ہیں جا۔ خالی ڈبوں میں پہلے گئے ہوئے مسافر سیر و تفریح ڈیڑھ دو کلومیٹر کے برابر ہے۔ اس کے نیچے دائیں بیلیں لگی ہوئی ہیں۔ انگور کی بیلوں کو تقریباً دو دو فیـ ان لائنوں میں تار کھینچ دی گئی ہے۔ تاکہ وہ بیلیں ا بیلیں از حد سرسبز و شاداب ہیں۔ سامنے دریا کا پا۔ کھیت نظر آتے ہیں جو دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کیا گیا ہے اور ان کی نشوونما کے لئے بڑی توجہ اـ دلکش اور سہانا ہے۔ جب ہم اس پہاڑی پر پہنچے تو بڑا کشادہ چبوترہ بنا ہوا ہے۔ اس کے اوپر حضر حواری کا مجسمہ ہے اور اس کے نیچے پتھر پر کندہ قـ اور اس کے اردگرد اس کے فوجی مصاحب برابر واپس اسی جگہ آئے۔ جہاں خالی ڈبے ہماری و واپس پہنچے۔ ہم اپنی کار نیچے چھوڑ گئے تھے۔ وـ ہوئے اور فرینکفرٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جرمنی میں جہاں جہاں جانے کا اتفاق جانے کے لئے الگ اور آنے کے لئے علیحدہ سـ آ جاسکتی ہیں۔ زمین بڑی زرخیز معلوم ہوتی ہـ کرنے کی بہت کم ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ باہـ کے لئے کافی ہوتی ہے۔ درختوں کا خاص اہتماـ
آمد کی اطلاع مل گئی ہے۔ وہ ملاقات کے لئے وقت مانگ رہے ہیں۔ میں نے دوسرے روز نماز عصر کے بعد انہیں ملاقات کے لئے وقت دیا۔ رات کو آرام کیا۔ نماز صبح کے بعد ناشتہ سے فارغ ہو کر سیر کرنے کا پروگرام بنایا۔ وہاں سے ساٹھ ستر کلومیٹر دور دریائے رائیں کے کنارے ایک بڑا خوبصورت قصبہ ہے۔ جس کا نام اس وقت یاد نہیں۔ وہاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک یادگار بنی ہوئی ہے۔ جس پر لوہے کے رسوں کے ساتھ چھوٹے ڈبے آویزاں ہیں۔ جس میں چار آدمی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔ وہ بجلی سے رسے چلتے ہیں جانے والے مسافر ان پر بیٹھ کر اوپر جاتے ہیں اور خالی ڈبوں میں پہلے گئے ہوئے مسافر سیر وتفریح کے بعد لوٹ کر واپس آتے ہیں۔ یہ فاصلہ ڈیڑھ دو کلومیٹر کے برابر ہے۔ اس کے نیچے دامن کوہ ہے۔ جس پر بڑی خوبصورتی سے انگور کی بیلیں لگی ہوئی ہیں۔ انگور کی بیلوں کو تقریباً دو دو فٹ کے فاصلوں پر لائنوں میں لگایا گیا ہے اور ان لائنوں میں تار کھینچ دی گئی ہے۔ تاکہ وہ بیلیں سیدھی رہیں اور لائنوں میں گڑ بڑ نہ ہو۔ انگور کی بیلیں از حد سرسبز و شاداب ہیں۔ سامنے دریا کا پاٹ ہے۔ اس کی دوسری طرف بھی انگوروں کے کھیت نظر آتے ہیں جو دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جنہیں بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے کاشت کیا گیا ہے اور ان کی نشوونما کے لئے بڑی توجہ اور محنت سے کام لیا جاتا ہے۔ سارا منظر انتہائی دلکش اور سہانا ہے۔ جب ہم اس پہاڑی پر پہنچے تو ہم ان ڈبوں سے باہر نکلے۔ سامنے پتھر کا ایک بڑا کشادہ چبوترہ بنا ہوا ہے۔ اس کے اوپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک حواری کا مجسمہ ہے اور اس کے نیچے پتھر پر کندہ قیصر ولیم کی تصویر ہے جو اپنے گھوڑے پر سوار ہے اور اس کے ارد گرد اس کے فوجی مصاحب برابر میں کھڑے ہیں۔ کچھ دیر ہم وہاں ٹھہرے۔ پھر واپس اسی جگہ آئے۔ جہاں خالی ڈبے ہماری راہ دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ ان میں سوار ہو کر ہم واپس پہنچے۔ ہم اپنی کار نیچے چھوڑ گئے تھے۔ وہاں تک پیدل آنا پڑا۔ وہاں پہنچ کر کار میں سوار ہوئے اور فرینکفرٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔
جرمنی میں جہاں جہاں جانے کا اتفاق ہوا سڑکیں بڑی ہموار، کشادہ اور آرام دہ ہیں۔ جانے کے لئے الگ اور آنے کے لئے علیحدہ شاہراہ بنی ہوئی ہے۔ بیک وقت تین تین گاڑیاں آجاسکتی ہیں۔ زمین بڑی زرخیز معلوم ہوتی ہے۔ انہیں آبپاشی کے لئے مصنوعی ذرائع اختیار کرنے کی بہت کم ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ بارش اتنی کثرت سے ہوتی ہے کہ ہر موسم کے کھیتوں کے لئے کافی ہوتی ہے۔ درختوں کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے باہر کافی وسیع قطعہ زمین
١١
درختوں کے لئے مخصوص ہوتا ہے۔ سڑکوں کے دونوں طرف بڑے بڑے درخت ہیں جو اپنے گھنے اور ٹھنڈے سائے سے مسافروں کو آرام اور سکون پہنچاتے ہیں۔
ہم مناظر قدرت کو دیکھتے ہوئے ان کے خوبصورت چھوٹے چھوٹے گاؤں سے گزرتے ہوئے دو بجے کے قریب اپنی قیام گاہ پر پہنچے۔ نماز ظہر ادا کی۔ کھانا کھایا اور ستانے کے لئے لیٹ گئے۔ عصر کی نماز ساڑھے چھ بجے ادا کی اور قادیانیوں کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔ پونے سات بجے کے قریب پہلے دو آدمی آئے۔ کچھ دیر کے بعد دو آدمی پھر آئے۔ پھر کچھ وقفے کے بعد دو تین آدمی پھر آئے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد نو دس کے لگ بھگ ہو گئی۔ انہیں اپنے پاس بلایا اور انہیں گفتگو کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک صاحب کے ہاتھ میں چند پمفلٹ تھے۔ وہ انہوں نے میری طرف بڑھائے اور کہا یہ ہمارے امام نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ کیا آپ اس کو قبول کرتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے آپ کا یہ چیلنج عرصہ ہوا قبول کر لیا ہے اور اس کا اعلان اخبارات کے فرنٹ پیج پر کر دیا گیا ہے۔ ہم نے اس کے لئے بارہ ربیع الاول کی رات متعین کی ہے اور آپ کے مرزا طاہر کو کہا ہے کہ وہ اس رات مینار پاکستان کے میدان میں تشریف لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ نہیں وہاں آنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے گھر میں دعا کریں گے۔ آپ اپنے گھر میں دعا کریں میں نے کہا آپ نے چیلنج دیتے ہوئے مباہلہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ قرآنی اصطلاح ہے اور اس پر اسی طرح عمل کیا جائے گا۔ جس طرح آیت کریمہ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے اور اس کا طریق کار بتایا ہے۔
جب یمن کے علاقہ نجران کے عیسائیوں کے پادری مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور عقیدہ تثلیث پر رحمت دو عالم ﷺ سے گفتگو کی اور حضور ﷺ نے تثلیث کے بطلان اور عقیدہ توحید کے اثبات کے لئے دلائل پیش کئے تو انہوں نے اپنی ضد نہ چھوڑی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مباہلہ کا حکم اپنے حبیب ﷺ کو دیا اور اس آیت میں اس کی وضاحت فرمائی۔
”فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنت الله علی الکاذبین (آل عمران:٦١)“ ”آپ کہہ دیجئے کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو بھی اور تمہارے بیٹوں کو بھی۔ اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی۔ اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی پھر بڑی عاجزی سے اللہ کے حضور التجاء کریں۔ پھر بھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر۔“
١٢
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اہل خانہ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر مل کر بڑی عاجزی سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگیں گے کہ جو جھوٹا ہے اس پر اس کی لعنت ہو۔
مباہلہ کا قرآن کریم نے یہی طریقہ بیان کیا ہے۔ اگر آپ کے مرزا طاہر میں یہ ہمت نہ تھی تو انہوں نے مباہلہ کا لفظ کیوں استعمال کیا۔ کہنے لگے پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ہم نے انہیں بتایا کہ جو حق کے علمبردار ہوتے ہیں وہ جان کی پرواہ نہیں کرتے اور ہر قیمت پر اور ہر حالت میں اپنی دعوت کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے آتش کدے سے ڈر کر دعوت توحید سے پہلو تہی کری تھی۔ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے جابر اور متکبر کے سامنے کلمہ حق بلند نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ اس بات پر ہی بضد رہے کہ آپ اپنی جگہ بیٹھ کر بددعا کریں اور وہ اپنی جگہ بیٹھ کر بددعا کریں گے۔ ان کو بار بار سمجھایا گیا کہ مباہلہ کا لفظ آپ کے مرزا طاہر قادیانی نے استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے سے پہلے انہیں چاہئے تھا کہ اس لفظ کا مفہوم سمجھتے اور اس مفہوم پر پورا اترنے کی انہیں ہمت نہ تھی یا خاموشی اختیار کرتے اور یا کوئی اور لفظ استعمال کرتے۔ لیکن بجز سکوت کے ان صاحبان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ چنانچہ کچھ وقت کے بعد وہ تشریف لے گئے۔
اتوار کے روز ظہر کی نماز کے بعد عظیم الشان جلسہ ہوا۔ جس میں اس فقیر نے تقریباً سوا دو گھنٹے مرزائیت کے رد میں تقریر کی۔ جس سے مجھے یقین ہے کہ بفضلہ تعالیٰ حاضرین کو بہت فائدہ ہوا ہوگا اور ان میں وہ روایتی بے خبری ختم ہوگئی ہوگی۔ جس کے باعث قادیانی شاطر انہیں بآسانی اپنا صید زبوں بنالیا کرتے تھے۔
٢٩؍ اگست ١٩٨٨ء کو ساڑھے گیارہ بجے کی فلائٹ پر میں فرینکفرٹ سے جدہ کے لئے روانہ ہوا۔ جہاز ساڑھے آٹھ بجے کے قریب جدہ کے ہوائی اڈا پر اترا۔ وہاں محترم حکیم نذیر احمد صاحب، محترم گل احمد خان صاحب کار لے کر تشریف لائے ہوئے تھے اور بھائی عزیزم حاجی مہر محمد صدیق صاحب بھی آئے تھے۔ مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ رات گل احمد خان صاحب کے پاس بسر کی۔ نماز صبح کے بعد پر تکلف ناشتہ کا اہتمام فرمایا۔ وہاں سے میں اور عزیز محمد صدیق صاحب مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک عمرہ صدر شہید کی روح کو ایصال ثواب کے لئے کیا۔ منگل اور بدھ کے دو دن مکہ مکرمہ بسر ہوئے۔ بروز بدھ سوا چھ بجے بذریعہ بس
١٣
مدینہ طیبہ کے لئے روانہ ہوا۔ رات کے بارہ بج کر چند منٹ ہوئے تھے کہ اس مقدس اور پاکیزہ بستی میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ جس کی گلی کی خاک کے ذرے اپنی چمک دمک میں مہر و ماہ کو شرما دیتے ہیں۔
جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کی رات دیار حبیب ﷺ میں بسر ہوئی۔ ان مقامات پر حاضری کی لذتیں اور کیف وسرور نا قابل بیان ہے۔ اس کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جن کو اس سے لطف اندوز ہونے کی سعادت ارزانی کی جاتی ہے۔ بھائی غلام رسول صاحب اپنی کار میں مجھے واپسی پر مکہ مکرمہ لے آئے۔ واپسی پر بھی عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ پھر آخری بار غلاف کعبہ کو بوسہ دے کر الوداع کیا اور جدہ کے لئے روانہ ہوا۔ ساڑھے آٹھ بجے پی آئی اے کی فلائٹ پر کراچی اور وہاں سے چھ بجے صبح اسلام آباد پہنچا۔
اپنے مکان پر پہنچ کر پہلا کام یہ کیا کہ برن میں سفیر صاحب کو ٹیلیفون کیا تا کہ معلوم ہو کہ اس رائے شماری کا کیا نتیجہ نکلا۔ اتفاقاً فوراً رابطہ ہو گیا۔ انہیں جب پتہ چلا کہ ٹیلیفون پر میں ہوں تو بے ساختہ ان کی زبان سے مبارکباد، مبارکباد کے کلمے نکلے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو اس معرکہ میں شاندار کامیابی ہوئی ہے۔ یہ مژدۂ جانفزاء سن کر میں نے اپنے رب کریم کا شکر ادا کیا۔ جس نے اس ناچیز اور نا اہل کو یہ خدمت سر انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائی۔
"الحمد للہ رب العالمین ، والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین"
اس خوشی کے باوجود دل میں ایک قلق تھا کہ کاش یہ خوشخبری میں اپنی زبان سے اس گرامی قدر ہستی کو سنا سکتا۔ جس نے اس عظیم خدمت کے لئے اس بندہ ناچیز کا انتخاب کیا تھا۔ میرے پاکستان واپس آنے سے پہلے ہی شہادت کا تاج پہن کر وہ اپنے رب کریم کی بارگاہ رحمت میں پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ میں ان کے مزار پر گیا جو عمرہ میں نے ان کے لئے کیا تھا اس کا ثواب ان کی پاک روح کو نذر کیا اور انہیں یہ بھی عرض کی کہ جس کام کے لئے آپ نے مجھے بھیجا تھا اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اس میں سرخروئی عطاء فرمائی ہے۔ یقیناً ان کی روح نے یہ سنا ہوگا۔ یقیناً انہیں بے پایاں مسرت ہوئی ہوگی۔
"رحمۃ اللہ علیہ وعلیٰ اخوانہ وعلیٰ جمیع المسلمین الیٰ یوم الدین"
١٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
چودھویں صدی
کا
مسیح
حکیم مظہر حسین قریشی صدیقی میرٹھی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
دیباچہ
ہر ایک زمانے کا دستور عام ہے کہ ملک کے مشہور مشہور لوگوں کے حالات مختلف پیرایوں میں لکھے جایا کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ان کی شہرت کسی دینی پیشوائی یا ملکی خیر خواہی کی وجہ ہی سے ہو۔ مؤرخ کو اس سے مطلب نہیں وہ تو واقعات حقہ کے اظہار کا پابند ہوتا ہے۔
پنجاب میں مرزا قادیانی کو جو شہرت ہے۔ وہ مقتضی اس بات کی تھی کہ ان کے حالات سوانح عمری کو لکھے جاتے، مگر افسوس کہ ان کے مریدوں میں کسی نے اس کام کو (جو بحیثیت ارادت ان کا فرض منصبی تھا اور مرزا صاحب کی زندگی میں آسان بھی تھا) نہیں کیا۔ اس لیے مصنف رسالہ ہذا کو واقعات کی تلاش میں جو دقت اور محنت برداشت کرنی پڑی وہ کسی قدر حد سے زائد ہے، غالباً ان کے بعد جو لوگ اس کام کو کریں گے۔ یہ کتاب ان کو اس کام میں راہ نمائی کا کام دے گی۔
چونکہ زمانہ رواں میں انگریزی تعلیم کے اثر سے لوگوں میں ناول کا طرز پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔ اس لیے مصنف نے بھی یہی طریق اختیار کیا۔ اصل واقعات بالکل صحیح اور سچے ہیں:
منیجر
٢
آغاز کردہ نام
پہلا
ترقی
ہمارے ناول کا سلسلہ ١٨٦٧ء سے چیف کورٹ کا انتظام نہایت ہی نیا تھا اور وکالت کوئی شخص بغیر لائسنس وکالت حاصل کرنے ک شام کا وقت ہے۔ آفتاب مغرب شعاعیں درختوں کے پتوں پر سنہری جھلک ڈا اُٹھ اُٹھ کر شہر کی طرف رخ کئے جارہے ہیں۔ بستہ قلمدان ہاتھ میں حقہ اُٹھا کر چل دئے ہی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے کر گئے۔ گھوڑا فراٹے بھرتا ہوا ہوا سے باتیں کرتا ہ اہلکار بھی اپنے اپنے کاغذات س کوئی سوار چل کھڑے ہوئے۔ شہر سیالکوٹ شہر کو آتی ہے۔ اس کے کنارہ کنارہ ایک جوا بیضاوی چہرہ مختصر سے کاغذات اور ایک دو خیال سے باتیں کرتا مغموم و متفکر شکل کس جنبش ہے۔ کبھی کبھی ابرو پر بل پڑ جاتا ہے ا چلو پاس چل کر دیکھیں یہ کو حالت بتا رہی ہے۔ کہ بہت چھوٹے عہدہ کا ”جو عہدہ دار پاس سے گزرتا ہے اس پر نظ کسی کا وجود نہیں سمجھتا مگر بعض کے لیے با اک دور سے ایک فینس آ رہی ہ ہیں۔ قریب آ کہاروں نے کندھا بدلا فین
پہلا باب ١
ترقی کی فکر
ہمارے ناول کا سلسلہ ١٨٦٧ء کے اخیر سے شروع ہوتا ہے۔ جب ملک پنجاب میں چیف کورٹ کا انتظام بنا ہی نیا تھا اور وکالت کے امتحان کے واسطے قانون پاس ہو چکا تھا۔ کہ اب کوئی شخص بغیر لائسنس وکالت حاصل کئے کسی مقدمہ میں پیروکار یا مختار ہونے کا مجاز نہیں ہوگا۔
شام کا وقت ہے۔ آفتاب مغرب کی طرف جا کر منہ چھپانے لگا ہے۔ اس کی زرد شعاعیں درختوں کے پتوں پر سنہری جھلک ڈال رہی ہیں۔ کچہری ضلع کے احاطہ سے اہل مقدمہ اُٹھ اُٹھ کر شہر کی طرف رخ کئے جارہے ہیں۔ عرائض نویس بھی اپنا اپنا بوریا بندھنا لپیٹ بغل میں بستہ قلمدان ہاتھ میں حقہ اُٹھا کر چل دئے ہیں۔
صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے کمرہ کے دروازہ پر گاڑی کھڑی ہے۔ یہ لو وہ بھی سوار ہو گئے۔ گھوڑا فرّاٹے بھرتا ہوا سے باتیں کرتا دم اُٹھائے اُڑا جارہا ہے۔ گاڑی نظر سے غائب:
اہلکار بھی اپنے اپنے کاغذات سنبھال بستہ باندھ چپڑاسی کے کندھے پر رکھ کوئی پیادہ کوئی سوار چل کھڑے ہوئے۔ شہر سیالکوٹ کے گوشہ غرب و شمال کی جانب کچہری سے جو سڑک شہر کو آتی ہے۔ اس کے کنارہ کنارہ ایک جوان خوبرو، خوش قطع، ثقہ صورت۔ میانہ قد، گندمی رنگ۔ بیضاوی چہرہ مختصر سے کاغذات اور ایک دو رجسٹر رومال میں لپیٹے بغل میں دبائے آہستہ آہستہ اپنے خیال سے باتیں کرتا مغموم ومتفکر شکل کسی گہری فکر میں مستغرق آرہا ہے: ”کچھ کچھ لبوں میں ہی جنبش ہے۔ کبھی کبھی ابرو پر بل پڑ جاتا ہے اور گردن بھی ہل جاتی ہے۔“
چلو پاس چل کر دیکھیں یہ کون ہے؟ اہل مقدمہ تو نہیں، ضرور کوئی اہلکار ہے۔ اس کی حالت بتارہی ہے۔ کہ بہت چھوٹے عہدہ کا ملازم ہے۔ مگر عالی حوصلہ اور بلند خیالات کا انسان ہے: ”جو عہدہ دار پاس سے گزرتا ہے اس پر نفرت اور کراہت سے نظر ڈالتا ہے۔ اپنی کم ہمتی کے مقابل کسی کا وجود نہیں سمجھتا مگر بعض کے لیے با اکراہ وجبر سلام کے واسطے ماتھے تک ہاتھ بھی اُٹھاتا ہے۔“
دور سے ایک پینس آرہی ہے۔ آٹھ کہار اٹھائے قدم بجائے ہونہہ ہونہہ کرتے آتے ہیں ۔ قریب آ کہاروں نے کندھا بدلا پینس روکی :
٣
جوان ...... اپنے خیال کا سلسلہ توڑ کر آیا، رائے صاحب تسلیم مزاج شریف:
رائے صاحب ...... بندگی آج اس وقت کیا آج کل کام کی کثرت ہے۔ ملنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ عید کا چاند کہیں یا دسہرہ کا نیل کنٹھ ۔ ایک مکان میں رہنا اور یہ دوری۔
جوان ...... اپنی رفتار بدل کر تیز قدمی کے ساتھ۔ جی ہاں ماہواری ہے نا۔ دوسرے آج صاحب ڈپٹی کمشنر بھی دیر سے اٹھے۔ آپ بھی اب چلے ہیں۔ آزادی میں بھی ۔ آپ تو کسی کے نوکر نہیں ۔ بس جاتے ہی داخل دفتر ہو جاؤ گے۔ پھر الٹی شکایت:
رائے صاحب ...... ہاں ایک دیوانی مقدمہ میں بحث تھی اور ایک فوجداری مقدمہ سشن کا تھا۔ ڈپٹی صاحب تو ابھی بیٹھے ہیں رات کو ملیں گے۔
جوان ...... بہتر ڈپٹی صاحب ( کچھ آگے کہنے کو تھا ) ہنسی نکل گئی یہ جا وہ جا ہوا ہو گئی اور یہ پھر اسی خیال اور دھن میں لگ گئے۔ شہر میں داخل ہوئے۔ دروازہ پر دستک دی۔ دروازہ کھلا اندر قدم رکھتے ہی نوکر سے۔ پانی گرم ہے۔
نوکر ...... جی ہاں لیجیے۔
جوان ...... وضو کرتے ہوئے۔ عرب کہاں گئے۔
نوکر ...... مسجد میں نماز کے واسطے گئے ہیں۔ ابھی آجاتے ہیں۔
جوان ...... نے وضو سے فراغت پا نماز مغرب ادا کی۔ وظیفہ میں تھے۔ کہ دروازہ کھلا ایک شخص بزرگ صورت گول عمامہ سر پر ٹخنوں تک نیچا کرتہ اور عربوں کی وضع کی تسبیح ہاتھ میں ماتھے پر سجدہ کا گھٹہ پڑا داخل ہوئے ۔السلام علیکم !
جوان ...... وعلیکم السلام کہہ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ مصلیٰ اٹھا کر ایک طرف رکھا۔
عرب ...... آج بہت دیر لگائی نماز بھی اخیر وقت پڑھی ہو گی۔
جوان ...... بندگی پابندی اسی سبب سے تو میں ملازمت کو پسند نہیں کرتا۔ نوکری میں آدمی تقسیم اوقات کا پابند نہیں رہ سکتا۔ خصوص ماتحتی طرفہ بلا ہے۔ چھ پانچ برس ہو گئے ہنوز روز اول ہے اور نہ آئندہ کوئی امید ترقی۔
عرب ...... ہم آپ کو ایک عمل بتلاتے ہیں۔ تھوڑے دنوں کے ورد میں خدا نے چاہا تو نوکری کی پرواہ نہ رہے گی۔
جوان ...... درود ظائف کا مجھ کو لڑکپن سے شوق ہے اور ہمیشہ پڑھتا ہوں۔
٤
عرب ...... استقلال چاہے ۔ بے صبری اور تلون مزا
کہاں کی آہ کرے
اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں کر نزد له في حرثه و من كان يريد حرث الـ
جوان ...... آخر دیر بھی اتنا عرصہ تو گزرا۔
عرب ...... پھر وہی دیر آید درست آید پیش از وقت
پڑتا کہیں حکم
جوان ...... کوئی دست غیب کا عمل بھی یاد ہے مگ
عرب ...... اس کا بندہ قائل نہیں یہ تو قصہ کہانی ہے
جوان ...... جفر میں اس کے بہت سے عمل اور ان
عرب ...... ہاں ہیں ۔ مگر یہی دست غیب ہے۔ ک جائے۔
جوان ...... تو پھر یہ کیا ہوا تدبیر اور محنت سے ہرا
عرب ...... فقط پیر کے کنڈہ ہی سے کار براری نہی محنت سے کام نکلتا ہے اور نہ بسم اللہ کے گنبد میں ہو جاتی ہے۔ غرض کہ کوئی کام یا کارخانہ انسان ج جائے ۔ تو وہی دست غیب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ہاں جفر کے قاعدے سے اگر ترکیب اور ترتیب مراد ہوتا ہے۔
جوان ...... نوکری ہی میں ترقی ہو جانی چاہیے تم
عرب ...... ہر ایک انسان کی فطرت میں اللہ تع مادہ کے موافق میلان رکھتا ہے۔ آپ کی فطر سے فائدہ اٹھاویں۔ آپ ہمیشہ افسروں کے ش
عرب ....... استقلال چاہیے۔ بے صبری اور تلون مزاجی میں حسرت ویاس کے سوا کچھ نہیں ملتا:
کہاں کی آہ کرے بات یہی اثر پیدا
اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائے گاں نہیں جانے دیتا۔ من کان یرید حرث الاخرة نزدله فی حرثه و من کان یرید حرث الدنیا نؤته منها
جوان ....... آخر دیر بھی اتنا عرصہ تو گزرا۔
عرب ....... پھر وہی دیر آید درست آید پیش از وقت و پیش از قسمت
پتا کہیں حکم بن ہلا ہے؟
جوان ....... کوئی دستِ غیب کا عمل بھی یاد ہے مگر مجرب ہو یوں تو بہت لکھی ہوئی ہیں۔
عرب ....... اس کا بندہ قائل نہیں یہ تو قصہ کہانی سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔
جوان ....... جفر میں اس کے بہت سے عمل اور ان کے قاعدے لکھے ہیں۔
عرب ....... ہاں ہیں۔ مگر یہی دستِ غیب ہے۔ کہ کسی کار میں انسان کی رجوعات اور فتوحات ہو جائے۔
جوان ....... تو پھر یہ کیا ہوا تدبیر اور محنت سے ہر ایک روپیہ پیدا کر سکتا ہے:
عرب ....... فقط پیر کے گنڈہ ہی سے کار براری نہیں ہوتی کچھ ہمت بھی درکار ہے۔ نہ فقط تدبیر اور محنت سے کام نکلتا ہے اور نہ بسم اللہ کے گنبد میں بیٹھنے سے اللہ تعالیٰ سے اگر تائید ہو تو تدبیر درست ہو جاتی ہے۔ غرض کہ کوئی کام یا کارخانہ انسان جاری کرے۔ اگر اس میں فتوحات اور رجوعات ہو جائے۔ تو وہی دست غیب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی کے واسطے دعا اور اوراد ہیں ہاں جفر کے قاعدے سے اگر ترکیب اور ترتیب کر کے کوئی عمل کیا جائے تو اس کا اثر جلد اور حسب مراد ہوتا ہے۔
جوان ....... نوکری ہی میں ترقی ہو جانی چاہیے تھی۔
عرب ....... ہر ایک انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ پیدا کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے فطری مادہ کے موافق میلان رکھتا ہے۔ آپ کی فطرت میں یہ مادہ نہیں ہے۔ کہ آپ نوکری کے ذریعہ سے فائدہ اٹھاویں۔ آپ ہمیشہ افسروں کے شاکی رہتے ہیں؛ اور افسر آپ سے ناراض پھر آپ کو
٥
نوکری میں فائدہ معلوم۔
جوان...... میرا ارادہ ہے کہ قانون یاد کروں اور وکالت کا امتحان دوں۔ وکالت میں معقول آمدنی ہے اور آزادی ہے اور عزت بھی، ملازمت میں فرمانبرداری اور خوشامد بری بلا ہے۔ اگر امتحان پاس ہو گیا تو پو بارہ ہیں۔
عرب...... اللہ تعالیٰ کامیاب کرے یہ بات ہم کو بھی پسند آئی۔ نوکری میں ترقی کرنے کا مادہ آپ کی فطرت میں نہیں۔ انسان کے پاؤں کی چاپ معلوم ہوئی۔
جوان...... دروازہ کی طرف دیکھ کر ہیرا (آنے والے کا نام) لالہ کھانے سے فارغ ہو گئے:
ہیرا...... نہیں تو جی مجھے تمہارے لئے بھیجا ہے۔ کہ کہیں چلے نہ جانا۔ ہم کھانا کھا کر آتے ہیں۔ ابھی رسوئی میں گئے ہیں۔
آواز...... السلام علیکم !
جوان...... وعلیکم السلام، میر صاحب آج تو کئی دن بعد نظر آئے کہاں تھے۔
میر صاحب...... آپ ہی نہیں ملتے کچہری سے آئے اور سیدھے ملک تشاہ کے پاس وارد۔ لوگ آتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں کہو آج پنڈت صاحب (سررشتہ دار ضلع) سے کیا جوڑ ہورہی تھی۔
جوان...... عجب آدمی ہے۔ کیا کہوں بڑا ہی متعصب، مسلمانوں کو دیکھ ہی نہیں سکتا اور خصوص مجھ پر تو دھوکا ہی نہیں کھاتا۔ شوم بدذات کشمیری پنڈت۔ یہ کشمیری پنڈت اپنی قوم کو چاہتے ہیں اور کوئی نہ ہو۔
میر صاحب...... آخر بات کیا تھی صاحب ڈپٹی کمشنر نے تو منہ پھیر لیا تھا اور مسکراتے تھے۔
جوان...... صاحب تو میری لیاقت سے واقف ہیں۔ اس دن جو یہ (عرب) پیش ہوئے تو ضلع میں سے کوئی بھی ان کی بات نہ سمجھ سکا اور نہ سمجھا سکا اور پھر بندہ درگاہ ہی ترجمان ہوا۔ جب سے صاحب ڈپٹی کمشنر کے خیال میری طرف سے اچھے ہیں۔ یہ شیطان جب مجھ پر کوئی اعتراض کرتے ہیں۔ تو صاحب کے روبرو بلا کر کرتے ہیں۔ تا کہ میں جواب نہ دے سکوں اور آپ جانتے ہیں۔
میر صاحب...... آخر آج کا واقعہ تو سناؤ کیا تھا۔
جوان...... مجھ سے فرماتے تھے کہ اتنے عرصہ میں تم کو روپکار اور پروانہ کی تمیز نہیں ہوئی میں نے کہا کہ افسری ماتحتی شئی دیگر ہے ضلع میں بھی آپ کسی کو میرے مقابلہ کے واسطے بلا لیجیے۔ یہ گویا میدان۔
میر صاحب...... آخروہ افسر ہیں اور ہم ماتحت:
٦
جوان...... میں نے تو یہ کہنا تھا کہ آپ کو پڑھا سک کر بات کا پہلو بدل گیا۔ میاں کی املاک درست
شان ہے تم
زینہ سے آہٹ کسی کے اترنے کی محسو سب تعظیماً کھڑے ہو کر آئے آئیے
رائے صاحب...... بندگی کہیے۔ صاحبوں کے مز چہرے سے کچھ ملال پیدا ہے۔ راستہ میں جو آپ جانتے ہیں۔ مجھ کو ان دنوں میں امتحان کی وجہ سے دن تو موکلوں کے ساتھ جھک جھک بک بک میں دن ہیں۔ اپنے دوست قدیم کی پریشانی کا سبب ہی جائے گا۔ عدیم الفرصتی ہے ورنہ ایک مکان میں
حکیم صاحب...... (جوان) یہ تو آپ کو معلوم ہے
رائے صاحب...... یہ امر تو محتاج بیان نہیں میر بٹالہ میں پڑھا کرتے تھے۔ میں تو آج کی پریشا
حکیم صاحب...... پانچ چھ سال سے یہاں نوکر محال اور آئندہ ترقی کا لاطائل خیال افسروں کی
رائے صاحب...... آخر اس کی خبر بھی نکلے گی یا
حکیم صاحب...... آپ سے عرض کیا نا۔
رائے صاحب...... لاحول ولا قوۃ مجھ سے تو ک آج کیا بلی نے چھینک دیا۔
میر صاحب...... اجی آج ان کی پنڈت صاحب
رائے صاحب...... خوب یوں کہو نہ، مگر یہ با ہمارے حکیم صاحب گرو بننا چاہتے ہیں۔ جما گرو کیونکر بن سکتے ہیں۔ بھائی صاحب نوکر
جوان ...... میں نے تو یہ کہنا تھا کہ آپ کو پڑھا سکتا ہوں۔ مگر صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ سوچ کر بات کا پہلو بدل گیا۔ میاں کی املا تک درست نہیں اور ہم پر اعتراض۔
شان ہے تیری کبریائی کی
زینہ سے آہٹ کسی کے اترنے کی محسوس کر کے لالہ بھیم سین صاحب آئے۔ سب تعظیماً کھڑے ہو کر آئیے آئیے رائے صاحب تسلیم عرض۔
رائے صاحب ...... بندگی کہیے۔ صاحبوں کے مزاج شریف حکیم صاحب (جوان سے) آپ کے چہرے سے کچھ ملال پیدا ہے۔ راستہ میں جو آپ ملے تھے۔ آپ کی شکل سے پریشانی برستی تھی۔ آپ جانتے ہیں۔ مجھ کو ان دنوں میں امتحان کی وجہ سے قانون یاد کرنے کے لیے رات ہی کا وقت ملتا ہے۔ دن تو موکلوں کے ساتھ جھک جھک بک بک میں گزر جاتا ہے۔ میں نے کہا امتحان میں تو ابھی بہت دن ہیں۔ اپنے دوست قدیم کی پریشانی کا سبب حیرانی کا باعث تو دریافت کروں۔ یہ جھگڑا تو روز چلا ہی جائے گا۔ عدیم الفرصتی ہے ورنہ ایک مکان میں رہ کر کئی کئی دن صورت آشنا نہ ہوں۔
حکیم صاحب ...... (جوان) یہ تو آپ کو معلوم ہے۔ کہ میں اس نوکری سے ابتدا ہی سے بیزار ہوں۔
رائے صاحب ...... یہ امر تو محتاج بیان نہیں میرا آپ کا مکتب کے زمانہ سے اتحاد ہے۔ جب ہم بٹالہ میں پڑھا کرتے تھے۔ میں تو آج کی پریشانی کا سبب پوچھتا ہوں۔
حکیم صاحب ...... پانچ چھ سال سے یہاں نوکر ہوں۔ ہنوز روز اول اس قلیل تنخواہ میں بسر اوقات محال اور آئندہ ترقی کا لاطائل خیال افسروں کی ناز برداری مستزاد اس سے ناک میں دم ہے۔
رائے صاحب ...... آخر اس کی خبر بھی نکلے گی یا یوں ہی جملہ معترضہ چلا جائے گا۔
حکیم صاحب ...... آپ سے عرض کیا نا۔
رائے صاحب ...... لاحول ولا قوۃ مجھ سے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ آخر اتنے دن نوکری کرتے ہی تھے۔ آج کیا بلی نے چھینک دیا۔
میر صاحب ...... اجی آج ان کی پنڈت صاحب سے جھڑپ ہوگئی۔
رائے صاحب ...... خوب یوں کہو نہ، مگر یہ بات بھی کچھ نئی نہیں اس کا اتنا چکر کیوں دیتے تھے۔ ہمارے حکیم صاحب گرو بننا چاہتے ہیں۔ چیلہ بننا نہیں چاہتے اور یہ نہیں جانتے کہ چیلہ بنے بغیر گرو کیونکر بن سکتے ہیں۔ بھائی صاحب نوکری میں بے افسر کی خوشنودی کے نہ ترقی، نہ عزت، نہ
٧
لیاقت، نہ آسائش، نہ مفاد۔ اگر افسر خوش ہیں۔ تو یہ سب باتیں میسر۔ ملازمت میں افسر کی اطاعت اکسیر اور خود پسندی سم قاتل کا حکم رکھتی ہے۔ آخر افسر افسر اور ماتحت ماتحت۔ حکیم صاحب...... یہی ہم سے نہیں ہوسکتا۔ رائے صاحب...... یہ تو میں جانتا ہوں کہ مادہ آپ کی فطرت میں نہیں ہے۔ یہ بات اگر نہ ہوتی۔ تو آپ گھر سے نکل کر یہ پندرہ روپے کی نوکری کیوں کرتے۔ خدا کا فضل تھا وہاں کس بات کی کمی تھی۔ مگر یہ آپ کی غلطی ہے بلکہ خام خیالی۔ بغیر خوشامد اور اطاعت کے کوئی کام بھی نہیں چلتا۔ جب دس آپ کی خوشامد کریں۔ تو ایک دو کی خوشامد میں آپ کا کیا حرج ہے اور پھر خدانخواستہ وہ آپ سے کیا کسی سے بھی بے جا خوشامد اور ناجائز اطاعت نہیں چاہتے۔ ایسے نیک افسر تو تقدیر سے ملتے ہیں۔ حکیم صاحب...... بگڑ کر اور غصہ کو خلاف عادت ضبط کر کے۔ نہیں صاحب یہ رعایت کی بات ہے۔ یہ امر تو ہم سے بعید بلکہ دشوار نہیں ناممکن۔ رائے صاحب...... یہ تو میں جانتا ہوں کہ ضد آپ کی ارث ہے یا یوں کہ آبائی سنت، بڈھے حکیم صاحب بھی پیسہ کی جگہ روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ مگر ہٹ نہیں چھوڑتے تمام جائداد ضداً مقدمہ بازی میں برباد کردی۔ حکیم صاحب...... آشفتہ ہو کر وہ آدمی ہی کیا ہے۔ جس میں بات کی پچ نہ ہو: رائے صاحب...... شرافت اور کمینہ کا آپ نے معیار خوب نکالا۔ گویا ہٹ جزو شرافت ہے۔ کیا شیخ کا قول آپ نے نہیں سنا۔
کہ جاہا سپر باید انداختن
بھلا عقل سلیم اس کی مقتضی ہے؟ کہ دریا میں رہنا مگر مچھ سے بیر نوکری کرنی اور ضلع کے سرشتہ داروں سے مخالفت انجام اس کا: حکیم صاحب...... اسی واسطے تو میں نوکری کرنی نہیں چاہتا۔ وکالت کا امتحان دینے کا ارادہ ہے۔ رائے صاحب...... آپ سے یہ بھی نہیں ہوگا۔ ایں خیال است و محال است و جنون۔ اوّل تو وکالت کا امتحان پاس کرنا کیا خالہ جی کا گھر ہے۔ مرمر کی سنگ فلاخن کا کاٹنا، لوہے کے چنے چبانا ہے۔ پھر امتحان (خدا جانے وہ کیا پوچھے زباں میری سے کیا نکلے) کا نام برا، اور اس میں کیا ٨
خوشامد نہیں۔ محنت نہیں۔ اطاعت نہیں۔ کیا نہیں۔ حضرت بدون خوشامد اور محنت کے تو کوئی کام نہیں چلتا۔ بلکہ وکالت میں تو موکلوں کی ناز برداری اس سے بدرجہا زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ ایک سے ذرا ناک چڑھا کے بولے۔ چلو دکان چوپٹ ہوئی۔ یہاں تو فقط ایک افسر کی خوشنودی کی ضرورت اور وہاں دکان داری۔ بہ بین تفاوت رہ از کجاست تا بکجا۔ سب کچھ جائز اور ناجائز کاروائی کرنی پڑتی ہے۔ جب وہ دکان چلتی ہے۔
حکیم صاحب...... اجی اس میں آزادی اور عزت ہے اور آمدنی معقول جو سب کی جڑ ہے۔ اے زر
رائے صاحب...... ہاں یہ تو درست ہے۔ اگر امتحان پاس ہو جائے اور دکان چل جائے۔ آپ کو یاد ہوگا۔ کہ ہم جب مکتب پڑھا کرتے تھے اور آپ ایک گھڑیا (سیوچہ گلی) کو پانی میں بھر کر دولڑکوں کے ہاتھوں کی انگلیوں کے سہارے ایک طرف ایک لڑکے کو اور دوسری طرف ایک لڑکے کو پکڑاتے تھے اور کیمیا کے نسخہ کی ادویہ علیحدہ علیحدہ کاغذ پر لکھ کر گولیاں بناتے تھے اور ایک ایک گولی اس گھڑیا میں ڈالتے جاتے اور کوئی اسم پڑھتے جاتے تھے۔ جس گولی کی نوبت پر گھڑیا چکر میں (گھوم) آجاتی تھی۔ اس کو علیحدہ رکھتے تھے اور پھر اس نسخہ کا تجربہ کرتے تھے۔ اگر ان نسخوں میں سے کوئی نسخہ آپ کے علم اور عمل کے رو سے کامل نکل آتا اور کیمیا بن جاتی۔ تو کیا وہ اس نوکری اور وکالت سے اچھا اور اولیٰ نہیں ہے۔ پھر آپ کو کسی اور کام کی ضرورت پڑتی۔
اس بیان میں لالہ بھیم سین صاحب وکیل کی تصدیق اشاعۃ السنۃ سے ہوتی ہے۔ نمبر ١ جلد ١٥ صفحہ ٣٠ سوال بست و یکم بابت یہ کہ مولوی گل علیشاہ اور ان کے بعض متعلقین علم جفر میں دخل رکھتے تھے اور آپ کو ان سے صحبت واستفادہ کا تعلق تھا یا نہیں۔ صاحب اشاعۃ السنۃ اور لالہ بھیم سین صاحب اور ہمارے ناول کے ہیرو بٹالہ میں مولوی گل علیشاہ کے پاس پڑھتے تھے۔
حکیم صاحب...... اگر وہ نسخہ ہماری ترکیب یا عمل اور کوشش سے بن جاتا یا کوئی نسخہ کیمیا کا کامل مل جاتا تو ہم کو نوکری وکالت یا کسی اور کام کی کیا ضرورت تھی۔ مگر وہ ہماری ترکیب سے بنا ہی نہیں اور نہ اور کوئی کامل اور مجرب نسخہ ملا۔
رائے صاحب...... پھر آپ مکتب کے زمانہ میں ہی تحفۃ الہند۔ تحفۃ الیہود۔ و خلعت الہنود وغیرہ کتابیں اور سنی شیعہ اور عیسائی۔ اور آریہ و مسلمانوں کی مناظرہ کی کتابیں دیکھا کرتے تھے۔ اور ہمیشہ آپ کا ارادہ تھا کہ کل مذاہب مخالف اسلام کی تردید میں کتابیں لکھ کر شائع کرائیں۔ تو عمدہ معاش اور شہرت ہو جائے گی۔ اور خوب گزرے گی۔ کیونکہ مناظرہ کی کتابیں خوب فروخت ہوتی ہیں۔
٩
اگر یہ بات بھی آپ کے ارادہ کے مطابق پوری ہو جاتی اور یہ کارخانہ جاری ہو جاتا تو کیا پھر بھی آپ کو نوکری کی ضرورت ہوتی؟
حکیم صاحب ...... ہاں پھر بھی ہمیں نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ مذہبی کتابیں خصوصاً مناظرہ کی خوب فروخت ہوتی ہیں۔ اور خاطر خواہ قیمت وصول ہوتی ہے۔ اگر یہ تدبیر درست آجاتی تو بھی نوکری یا وکالت کی ضرورت کیا تھی۔ چین سے گزرتی ۔ دیکھو سرسید بالکابہ اور کنہیا لال، الکھ دھاری، پنڈت دیانند سرستی نے تصانیف کے ذریعہ سے کیا عروج حاصل کیا اور کس مرتبہ کو پہنچے۔ یہاں تک کہ رفارمر قوم جس کو نبی اور مرسل بھی کہہ سکتے ہیں۔ بن گئے یہ خیال تو اب بھی اگر کرسی نشین ہو گیا۔ تو دیکھو گے کیا ہوتا ہے۔ یار زندہ اور صحبت باقی۔ ان میں اول روپیہ کی ضرورت ہے۔ کہ زرزر کند در جہان گنج گنج۔ مشہور مقولہ ہے۔
رائے صاحب ...... فالحمد للہ یہ بات تو ثابت ہو گئی۔ کہ انسان کا کوئی ارادہ اس کی مرضی کے موافق نہیں ہوتا جب تک کہ مشیت ایزدی اور تائید ربی نہ ہو۔ اور اس کا وقت نہ آئے۔
حکیم صاحب ...... یہ تقریر جو آپ نے فرمائی تسلیم کرتا ہوں۔ اور آپ کی ہمدردی کا مشکور ہوں مگر میرا ارادہ مصمم ہو گیا ہے کہ وکالت کا امتحان دوں۔ اگر اس میں کامیابی ہوئی۔ تو فبھا ورنہ اور تدبیر کریں گے۔ نوکری کو تو اب استعفا دیتا ہوں۔
رائے صاحب ...... پھر وہی بھائی صاحب زمانہ کی رفتار اختیار کرنی چاہیے۔ زمانہ تو نسازد تو با زمانہ بساز۔ قانون میرے ساتھ یاد کرو۔ جب امتحان پاس ہو جائے استعفادینا اختیاری امر ہے دے دینا پھر نوکری کی ضرورت ہی کیا ہے۔
حکیم صاحب ...... امتحان میں کتابیں کیا کیا ہیں۔
رائے صاحب ...... میں صبح کو فہرست لکھ کر دیدوں گا۔ جو جو کتاب آپ مصلحت سمجھیں ۔ مطبع سے منگوالینا۔ باقی میرے پاس بھی کتابیں موجود ہیں۔ کل سے ہم باہم مل کر قانون یاد کیا کریں گے۔
حکیم ...... یہ تو سب کچھ ہو گیا۔ مگر اس روزمرہ کی تو تو میں میں کا کیا علاج ہے۔
رائے صاحب ...... میں نے اس کی تدبیر بھی سوچ لی ہے۔ اس کا بندوبست بھی میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔ آپ یہاں صرف پندرہ روپے پاتے ہیں۔ اس تدبیر میں آپ کی پندرہ کی ترقی بھی ہو جائے گی اور ان کی (سرشتہ داروں کی ) ماتحتی سے نکل جاؤ گے۔ یوں تو ایک طرح سے تمام ملازم ضلع سپرنٹنڈنٹ ضلع کے تحت حکومت ہیں۔ مگر کام کا تعلق ان سے بھی براہ راست نہ رہے گا۔ اور وہ یہ کہ آج مجھ کو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بلایا تھا یہ گفتگو ہوئی۔
١٠
٢٥
صاحب ...... تمہاری رخصت کے انتظام میں جو لوگ کو مستقل کیا جائے یا ہماری اصلی جگہ پر واپس کیا جائے میں ...... اپنی جگہ پر واپس آجاؤں گا۔ استعفیٰ د صاحب ...... اب تم کو کیا آمدنی ہوتی ہے اور تمہاری میں ...... اب مجھ کو سو روپیہ ماہواری اوسط پڑتی صاحب ...... تو اس صورت میں تمہارا بڑا نقصان آنے میں تمہارا کیا فائدہ ہے۔
میں ...... وکالت میں امتحان کی شرط ہے۔ اگر ناکام رہا تو اپنے عہدہ پر واپس آسکتا ہوں۔ بصور صاحب ...... ( کچھ سوچ کر تامل کے بعد ) اچھ کل جواب دو اس میں میں نے ایک تدبیر سوچی یہاں علی حسن ہے اگر میں اپنے عہدہ پر واپس گیا ت حکیم صاحب ...... بھلا پھر اس میں میری ترقی نجات ہوگی۔
رائے صاحب ...... میں کل میر عصمت اللہ سے مل آؤں گا اور ضرور آؤں گا۔ تو آپ کا بھی نقصان میرا بھی نقصان ہے۔ یہاں (مجھے وکالت میں جانا پڑے گا۔ تو وہ مجھ سے اس کی انسداد کی تدبیر پو کہ ان کو (یعنی آپ کو ) میری جگہ مقرر کر دیا جا لوگ اب قائم مقام ہیں۔ ان کو اپنے اصلی عہ منظور کریں گے۔ تو یہ تجویز صاحب ڈپٹی کمشنر (میر عصمت اللہ صاحب ) اس کی تائید کریں۔ کرلیں۔ اور ضرور ہی منظور کریں گے۔ کیونکہ وہ داروغہ صاحب کی بہت خاطر کرتے ہیں تو انکار نہیں ہوتا اور یہ تو ان کا ذاتی کام ہے۔
حکیم صاحب ...... تجویز تو عمدہ ہے خوب سوچی
صاحب...... تمہاری رخصت کے انتظام میں جو لوگ قائم مقام ہیں۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ ہم کو مستقل کیا جائے یا ہماری اصلی جگہ پر واپس کیا جائے اب تم یا تو استعفیٰ دے دو یا اپنی جگہ پر واپس آؤ۔ میں...... اپنی جگہ پر واپس آجاؤں گا۔ استعفیٰ دینا نہیں چاہتا۔ صاحب...... اب تم کو کیا آمدنی ہوتی ہے اور تمہاری اصلی عہدہ کی کیا تنخواہ تھی۔ میں...... اب مجھ کو سو روپیہ ماہواری اوسط پڑتی ہے۔ اور عہدہ کی تنخواہ بند ہے۔ صاحب...... تو اس صورت میں تمہارا بڑا نقصان ہے۔ پھر استعفیٰ کیوں نہیں دے دیتے واپس آنے میں تمہارا کیا فائدہ ہے۔ میں...... وکالت میں امتحان کی شرط ہے۔ اگر میں امتحان میں (جو اختیاری امر نہیں) ناکام رہا تو اپنے عہدہ پر واپس آ سکتا ہوں۔ بصورت استعفیٰ دینے کے، نہ ادھر کا رہوں گا نہ ادھر کا۔ صاحب...... ( کچھ سوچ کر تأمل کے بعد ) اچھا کوئی تدبیر سوچو جس میں تمہارا نقصان نہ ہو، ہم کو کل جواب دو اس میں میں نے ایک تدبیر سوچی ہے۔ میری رخصت کے انتظام کے اخیر سلسلہ میں علی حسن ہے اگر میں اپنے عہدہ پر واپس گیا تو علی حسن برخاست ہو جائے گا۔ حکیم صاحب...... بھلا پھر اس میں میری ترقی اور سپریڈنٹ اور ڈپٹی سپریڈنٹ کی ماتحتی سے کیونکر نجات ہوگی۔ رائے صاحب...... میں کل میر عصمت اللہ سے صبح ہی ملوں گا۔ اور کہوں گا۔ اگر میں اپنی جگہ واپس آ گیا اور ضرور آؤں گا۔ تو آپ کا بھی نقصان ہے۔ کہ آپ کا رشتہ دار برخاست ہو جائے گا۔ اور میرا بھی نقصان ہے۔ یہاں (مجھے وکالت میں) ایک معقول آمد ہو جاتی ہے۔ اور وہاں پر جانا پڑے گا۔ تو وہ مجھ سے اس کی انسداد کی تدبیر پوچھیں گے۔ تو آپ کا نام لے کر یہ تدبیر بتاؤں گا۔ کہ ان کو (یعنی آپ کو) میری جگہ مقرر کر دیا جاوے۔ اور علی حسن کو آپ کی جگہ مقرر کر دیں۔ اور جو لوگ اب قائم مقام ہیں۔ ان کو اپنے اصلی عہدہ پر واپس بھیج دیا جائے۔ اس تجویز کو وہ خواہ مخواہ منظور کریں گے۔ تو یہ تجویز صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے عرض کروں گا۔ اور داروغہ صاحب (یعنی میر عصمت اللہ صاحب) اس کی تائید کریں گے۔ تو غالباً کیا، قطعی امید ہے۔ کہ اس تجویز کو منظور کرلیں۔ اور ضرور ہی منظور کریں گے۔ کیونکہ اول تو ان کو میرا نقصان بھی منظور نہیں ہے۔ دوسرے وہ داروغہ صاحب کی بہت خاطر کرتے ہیں اور غیر کے واسطے جس کام کی سفارش کرتے ہیں۔ تو انکار نہیں ہوتا اور یہ تو ان کا ذاتی کام ہے۔ حکیم صاحب...... تجویز تو عمدہ ہے خوب سوچی ہے ”چہ خوش بود گر برآید بیک کرشمہ دو کار“ اگر درست ١١
آجائے۔ خدا نے چاہا تو ضروری ہی درست آئے گی۔ مگر کام کا انتظام کیا ہوگا۔ حساب کا کام ہے۔ رائے صاحب ...... شام آپ سب کاغذات یہاں لے آیا کرنا۔ میں پندرہ منٹ میں کر دیا کروں گا۔ جلسہ برخاست ہوا۔ لالہ بھیم سین صاحب اوپر بالا خانہ چلے گئے۔ اور میر صاحب اپنے گھر کو۔
حاشیہ جات
- ١۔ یہ عرب سیالکوٹ میں مسافرانہ وارد ہوئے تھے۔ لوگوں کی ان کے پاس جو آمد و رفت
زیادہ ہوئی تو پولیس نے ان کو امیگریشن ایکٹ کے بموجب صاحب مجسٹریٹ بہادر ضلع کے روبرو پیش کیا۔ چونکہ یہ ہندی نہیں بول سکتے تھے۔ صاحب ڈپٹی کمشنر نے ان سے گفتگو کے واسطے تمام عملہ ضلع میں تلاش کیا۔ کہ ترجمان ملے جو اس کے واسطے سے گفتگو کی جائے ہمارے ناول کے ہیرو کے سوا عربی دان اہلکار ضلع کے عملہ میں نہ ملا ان کو پیش کیا گیا۔ اور ان کے واسطے سے گفتگو ہوئی۔ اسی روز ہی صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے دل میں ہمارے جوان ناول کے ہیرو کی لیاقت کی جگہ ہو گئی۔ اور جب ہی یہ عرب ان کے پاس رہتے تھے۔ سنا ہے اس عرب کو علم فقہ میں اچھا ملکہ تھا۔
- ٢۔ اشاعت السنہ جلد ١٥، صفحہ ٢٩ سوال بابت سیالکوٹ کے ملک شاہ علوم نجوم یا رمل،
میں کچھ دخل رکھتے تھے۔ اور آپ کو ان سے محبت و ملاقات اور استفادہ کا کوئی تعلق رہا ہے یا نہیں۔
- ٣۔ ہمارے ناول کے ہیرو ضلع میں اہلمد متفرقات تھے اور لالہ بھیم سین لوکل بورڈ میں
اہلمد تھے۔ جن کی ٣٠ روپے تنخواہ تھی۔ صاحب ڈپٹی کمشنر کو ان کی خاص رعایت منظور تھی۔ کہ یہ ایک اسسٹنٹ کمشنر کے رشتہ دار ہیں جو صاحب ممدوح کے ملاقاتی ہیں۔ اور انہوں نے صیغہ مال اور فوجداری میں ایک سرسری امتحان پاس کیا ہوا ہے۔ جس وقت پنجاب میں چیف کورٹ کا انتظام ہوا تو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ایک تحریر خاص کے ذریعہ سے ان کو وکالت کی اجازت منگا دی تھی۔ تاکہ پاس کرنے امتحان وکالت کے اور شرط تھی کہ اگر امتحان میں ناکام رہیں تو اپنے اصلی عہدہ پر واپس آجائیں اس واسطے ان کو رخصت پر دکھلایا جاتا اور ان کی جگہ پر جو کام کرتے تھے۔ وہ قائم مقام دکھائے جاتے تھے۔ اور یہ وکالت کا کام کرتے تھے۔ ہمارے ناول کے ہیرو اور یہ مولوی گل علی شاہ صاحب کے پاس پڑھا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے لالہ بھیم سین کے مکان پر رہتے تھے۔
- ٤۔ علی حسن ایک امیدوار ہے۔ جو سید عصمت اللہ صاحب داروغہ جیل کا داماد ہے اور
داروغہ صاحب موصوف کا صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی مزاج میں بڑا دخل ہے صاحب ممدوح کو موصوف الیہ کی از حد خاطر منظور ہے۔
١٢
باب ٢ دوم
پیری، مریدی
رات کا وقت ہے جاڑے کی موسم آسمان پر ابر چھایا ہوا ہے۔ ہوا اس سناٹے سے چل رہی ہے۔ کہ کچھ سنائی نہیں دیتا۔ مینہ کی فوار برس رہی ہے۔ جاڑے کی شدت سے لوگ باگ شام سے کواڑ بند کر کے اپنے اپنے گھروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ امراء نے انگیٹھی روشن کر رکھی ہیں۔ کمرہ گرم ہیں لمپ کی روشنی میں گپ اڑ رہی ہیں۔ غریب اپنی گدڑی میں منہ سر لپیٹے جان کی خیر منا رہے ہیں آدمی تو کیا کسی جانور کا پتہ گلی کوچہ میں نہیں ملتا۔ ایک فقیر پھٹی کمبلی اوڑھے گلیوں میں صدا لگاتا پھرتا ہے۔ کوئی ہے جو خدا کی راہ پر بھوکے کو دے۔ ہوا کے سناٹے میں کون سنتا ہے۔ اور اگر کوئی سنے بھی تو اٹھے کون۔ کوئی روٹی کا ٹکڑا نہیں دیتا۔ نہ کہیں اس بارش میں بیٹھنے کو پناہ ملتی ہے۔ ایک شخص نے اپنے مکان کا دروازہ کھولا۔
شخص....... ارے بھائی تو کون ہے۔ یہ اندھیری رات جاڑے کی شدت ہوا کا زور بارش کا شور ہے۔ آدمی گھر سے باہر قدم نہیں رکھتا۔ اور تو بھیک مانگتا پھرتا ہے۔
فقیر....... جس کا گھر ہو۔ وہ منہ چھپا کر بیٹھا رہے۔ صبح سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھایا نہیں، کوئی اللہ کا بندہ ایک ٹکڑا نہیں دیتا۔ روٹی ایک طرف کہیں اتنی جگہ ہی مل جاتی کہ اس بارش میں سر چھپا کر بھوکا رات کاٹ دوں۔
شخص....... آجا یہاں پڑ رہ میں روٹی لاتا ہوں۔ ڈیوڑھی کی ایک گوشہ کی طرف اشارہ کیا۔
فقیر....... بابا، خدا تیرا بھلا کرے اللہ تعالیٰ نے تیرے دل میں رحم دیا ہے۔ اس نامراد نگری میں کسی نے جواب تک بھی تو نہیں دیا۔ ایسے بے رحم ناخدا ترس انسان کسی گاؤں یا بستی میں نظر نہیں آئے خدا تو کسی کو یاد ہی نہیں۔
شخص....... اندر گھر میں گیا اور دو روٹی اور ترکاری کا ایک پیالہ لایا۔ فقیر کو دے کر۔ لے سائیں۔
فقیر....... روٹی کھا کر پانی پیا۔ مالک مکان کو دعائے خیر دے کر۔ بابا تم حقہ بھی پیتے ہو۔
شخص....... سائیں حقہ تو ہمارے یہاں ہو، مگر ہم تجھ کو نہیں جانتے۔ تو کون ہے اس واسطے اپنا حقہ تو نہیں دیتے۔
فقیر....... بابا چلم ہی سہی ہوں تو میں مسلمان اللہ کا بندہ اور رسول کی امت۔ پر مسافرت میں کسی کی پرتیت نہیں۔ خدا تجھ کو جزائے خیر دے گا۔ اور اس کے عوض تیرا گھر روپیوں سے بھر دے گا۔
١٣
شخص...... چلم دے کر۔ سائیں تمہارا گھر کہاں ہے اور کون فقیر ہو۔
فقیر بابا...... فقیروں کی کیا موت، کیا زندگی جس جگہ مل رہی پڑ گئے۔ ہمارا گھر بار کہاں؟ جہاں رات کو سر چھپانے کو جگہ مل گئی۔ بسیرا کر لیا۔ مرشد بھی تمام عمر سیلانی رہے۔ کسی جگہ قیام نہیں کیا۔ ہم کو ہی حکم ملا ہے۔ پھرتے رہا کرو۔ قلندری فقیر ہیں۔
شخص...... سائیں پھرنے سے حاصل کسی جگہ جم کر بیٹھو۔ تو یار لوگوں کا بھی لٹکا دیکھو مرشد سے جو پایا اس کا مزہ تو پایا تمہاری تقریر سے پایا جاتا ہے کہ آپ کو مرشد کے بھی مرشد نے بھوکا ہی رکھا ہے۔ اب ہمارے چیلے بنو۔ تو تم کو لٹکا دکھائیں۔ یار جی چھکنے لگو۔ ڈونے چڑھیں تھالیاں آئیں مٹھائیاں اڑائیں۔ پری رخسار ماہ وش کا جھمگھٹا لگا رہے۔ ہر دم کھیوں میں ہیں بنے بیٹھے رہو۔ اندر کا اکھاڑ نظروں سے گر جائے۔ مگر یار جی تمہارے تو بال نہیں۔ بچہ نہیں۔ اچھا کھانا کھاؤ۔ خدمت کے واسطے دو چار چیلے مونڈ مڑے اڑاؤ۔ چڑھاوا ہمارا لنگر اور چیلوں کا خرچ ہم سے لو۔ اور مہنت بنے بیٹھے رہو۔ کچھ لینا دینا ہمارا ذمہ۔
فقیر...... (خوشی کے لہجہ میں) باوا اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں۔ رات دن مارے مارے پھرتے ہیں۔ پیٹ بھرائی ٹکڑا نہیں ملتا۔ اچھا کھانے کو آرام کے ساتھ مل جائے۔ اس کے سوا اور کیا چاہیے۔ چڑھاوے سے ہمیں کیا سروکار۔ شخص دیکھو لالچ برا ہوتا ہے۔ ”طمع را سہ حرف، ست ہر سہ تہی“ سبھی اکھڑ جاؤ۔
فقیر...... قول مردان جان دارد: زبان سے جو کہا جان کے ساتھ ہے سر جائے مگر بات نہ جائے۔
شخص...... دیکھو تم جانو اگر اقرار پر پورے رہے تو پانچوں گھی میں ہیں۔ سر کڑھائے میں اور اگر خلاف کیا خطا پاؤ گے۔
باتوں میں رات بہت گزر گئی مالک مکان اندر جا کر سو رہا فقیر ڈیوڑھی میں بند ہو گیا۔ جب صبح ہوئی۔ اور سورج نکلا۔ کسی نے دروازہ کھٹکایا۔
آواز...... چودھری! چودھری للو۔ دروازہ کھولو۔
چودھری...... (چودھری للو مالک مکان کا نام ہے اور یہ شخص سبزی فروشان کا چودھری ہے۔ اس نے جیل خانہ پر ترکاری کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔) اوہو آج تو بڑا دن چڑھ گیا مداری (آواز دینے والے کا نام) جیل خانہ پر ترکاری پہنچادی یا نہیں۔
مداری...... آج تو تم رات کو گھوڑے بیچ سوئے۔ ترکاری تو مزدوروں کے سر پر رکھ کر بھیج دی ہے۔ تم کو خبر کرنے آیا تھا۔
١٤
چودھری...... آج ہم تو نہیں جاتے پیراندا تا کو آواز آواز دے کر بھائی تو جیل خانہ جا اور ترکاری دے آ۔
پیراندا...... آنکھیں ملتا ہوا باہر آیا اچھا کہہ کر پھر ا گیا۔ چودھری للو نے بھی منہ ہاتھ دھویا حقہ پیا۔ آبادی سے ایک طرف نکل گیا۔ اور ایک مناسب کچھ کہے جواب نہ دینا۔ خاموش رہنا کھانا وہ تو وقت رکھیو۔ فقیر کو وہاں بٹھایا اور آپ شہر میں واپس آیا۔
کیا کر رہے ہو۔
بنیا...... آؤ چودھری جی اب تو مدت میں نظر آ نہ کبھی ملتے ہو۔ نہ چلتے ہو۔ رات آدھی اور مینہ س فائدہ ہے یا نقصان۔
چودھری...... بھائی جی ٹھیکہ کے نفع و نقصان کا حال تیرا لٹ جائے گا۔ ہم تین چار آدمی گھر کے ہیں۔ بھر پیٹ بھر کے روٹی کھالی۔ نہ کسی سے ملنے کے ب
بنیا...... روٹی دوکان میں کھاتے ہی تھے اب ک ڈال دی۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے۔ تھوڑا کھانا سکھ
چودھری...... یار ایک بات کہیں اگر تمہاری صلا
بنیا...... بتانا یار وہ کیا بات ہے جس میں دو چ پسند نہیں کرتے۔ نہ جھگڑے کا کام اگر مارے و مزدوری اچھی ہے۔ نہ کسی کا سلام نہ مجرا دو چار آتی ہے۔ شام کو تقاضا کے لیے رنڈیوں میں جا رات کو اپنے گھر آپڑتے ہیں۔
چودھری...... ایک فقیر اور کامل فقیر خدا کی قسم کوئی کے ٹیلہ پر بیٹھا ہے۔ بڑا صاحب کرامات ہے ہم مل کر اس کو اڑائیں۔ وہ مست ہے چڑیا اور میں چاندی ہے۔
چودھری...... آج ہم تو نہیں جاتے پیراندتا کو آواز دے وہ چلا جائے گا۔ پیراندتا (چودھری کا بیٹا) کو آواز دے کر بھائی تو جیل خانہ جا اور ترکاری دے آ۔
پیراندتا...... آنکھیں ملتا ہوا باہر آیا اچھا کہہ کر پھر اندر گیا منہ ہاتھ دھو کپڑے پہن جیل خانہ کو چلا گیا۔ چودھری للو نے بھی منہ ہاتھ دھویا حقہ پیا۔ فقیر کو کچھ کھانے کو دیا اور ساتھ لے کر شہر سے آبادی سے ایک طرف نکل گیا۔ اور ایک مناسب جگہ تجویز کر کے کہا تو یہاں بیٹھ جا کوئی آئے۔ کچھ کہے جواب نہ دینا۔ خاموش رہنا کھانا وہ تو وقت پر پہنچ جایا کرے گا۔ کسی سے بھی کچھ غرض نہ رکھیو۔ فقیر کو وہاں بٹھایا اور آپ شہر میں واپس آیا۔ ایک رنگریز کی دوکان آکر یار بنا (رنگریز کا نام) کیا کر رہے ہو۔
بنا...... آؤ چودھری جی اب تو مدت میں نظر آئے۔ جیل خانہ کا ٹھیکہ کیا لیا۔ قیدی ہی بن گئے۔ نہ کبھی ملتے ہو۔ نہ چلتے ہو۔ رات آدھی اور مینہ نے ہوش اڑا دیئے کہو کیا حال ہے۔ ٹھیکہ میں کچھ فائدہ ہے یا نقصان۔
چودھری...... بھائی جی ٹھیکہ کے نفع ونقصان کا حال تو سال ختم ہونے پر معلوم ہوگا۔ اگر نقصان ہو تو ٹپر الٹ جائے گا۔ ہم تین چار آدمی گھر کے ہیں۔ اور دو نوکر ہیں۔ اور اگر فائدہ ہوا تو بس یہی سال بھر پیٹ بھر کے روٹی کھالی۔ نہ کسی سے ملنے کے نہ کہیں آنے جانے کے۔
بنا...... روٹی دوکان میں کھاتے ہی تھے اب کیا ہو گیا مفت کی مصیبت خرید لی راہ جاتے بلا گلے ڈال دی۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے۔ تھوڑا کھانا سکھ کی نیند سونا نہ کسی کی ٹیں ٹیں نہ میں میں۔
چودھری...... یار ایک بات کہیں اگر تمہاری صلاح ہے۔ شریک ہو جاؤ تو پھر چین ہی چین ہے۔
بنا...... بتانا یار وہ کیا بات ہے جس میں دو پیسہ جیب میں پڑیں وہ بات ہو۔ مفت کا جھگڑا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ نہ جھگڑے کا کام اگر سارے دن مر کر شام کو دو چار آنہ بچے۔ تو اس سے تو یہ ہی مزدوری اچھی ہے۔ نہ کسی کا سلام نہ مجرا دو چار دوپٹے سنے دن میں رنگ دے۔ تو کنبہ کی روٹی نکل آتی ہے۔ شام کو تقاضا کے لیے رنڈیوں میں جا کر آنکھ سینک، ایک دو چلم تمباکو پی، گپ شپ اڑا، رات کو اپنے گھر آپڑتے ہیں۔
چودھری...... ایک فقیر اور کامل فقیر خدا کی قسم کوئی ولی اللہ اور خدا رسیدہ انسان ہے اور راجہ کے قلعہ کے ٹیلہ پر بیٹھا ہے۔ بڑا صاحب کرامات ہے۔ اور اکیلا بھی ہے۔ کوئی چیلا چوپڑا ساتھ نہیں آؤ ہم تم مل کر اس کو اڑائیں۔ وہ مست ہے چڑیا اور یاروں کے کام آئے گا۔ نصفا نصفی تھوڑی سی کوشش میں چاندی ہے۔
١٥
بنا...... ایسی بات تو خدا دے۔ چمڑی اور دودھ یہ تو یاروں کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ آج ہی دو چار رنڈیوں کو جو نہ ابھارا ہو۔ اور شام سے پہلے طبلہ کھڑکتا ہوا دیکھ لو میں جو بات کہوں تم اس کی تصدیق کر دینا۔
چودھری...... یہی میرا مطلب تھا۔ مگر یار تم سائیں ہو۔ اسی واسطے تو میں صبح ہی تمہارے پاس آیا۔
شام کو بنا رنگریز اور للو کوبزہ تمام رنڈیوں میں پھر گئے۔ اور ایک نئی داستان تراش نمک مرچ لگایا۔ اور سائیں صاحب کے دربار میں مجرا ہونے لگا۔ آج منگتی اور کل عمران، پرسوں۔ سلطانو۔ چوبیس رمضانوں روز مجرا کا نمبر لگ گیا۔ ٤ بجے شام سے آٹھ بجے رات تک اچھا میلہ ہو جاتا۔ شہر کے سرکاری خوش طبع انسان شام کو کپڑا بدل وہاں موجود ہو جاتے دو چار خوانچہ والے بھی آ جاتے اب شہر میں مہاجنوں کو بھی اس کی خبر پہنچی۔ پھر کیا تھا۔ تھالی پر تھالی آنے لگی۔ چڑھاوا چڑھنے لگا۔ چودھری للو اور بھائی بنا پانچ چھ روپیہ کے روز ٹکہ ٹول لے جانے لگے۔ سائیں صاحب کے کھانے کا انتظام ان کے ذمے تھا۔ مگر آخر پھوٹ پڑتے ہی پڑی۔
فقیر...... کیوں جی یہ بات تو اچھی نہیں۔ جو کچھ آئے وہ سب آپ ہی لے جائیں اور ہم فقط روٹی ماریں۔
چودھری...... دیکھو سائیں ہمارا تمہارا کیا معاہدہ ہوا تھا۔ اب اگر یہ رنگ لاؤ گے تو آپ کی دکان پھیکی پڑ جائے گی۔ تم کو روٹی کے سوا اور کیا ضرورت ہی کیا ہے؟ مزہ سے پریوں کے درشن کرو ہمارے سر کی خیر مناؤ۔ ورنہ تم تو وہی ہو جو گلیوں میں ٹکڑے مانگتے پھرتے تھے۔ اور ٹکڑا نہیں ملتا تھا۔
فقیر...... بگڑ کر ابے کوبزہ تیری عقل ماری گئی ہے۔ یہ ہماری کرامات ہے۔ اور مرشد کی مہربانی اور توجہ سے رجوعات اور فتوحات ہے۔
آخر للو اور بنا کی آمد رفت بند ہوئی اور لوگوں کی آمد و رفت میں فرق آنے لگا۔ پیران نمی پرند۔ مریدان مے پرانند۔ پھر سائیں صاحب وہی ڈھاک کے تین پات رہ گئے۔ اور گلیوں میں چکر کھانے لگے۔
باب ٣ سوم
لالہ بھیم سین کے ساتھ مختاری کا امتحان
سیالکوٹ سے جو امرتسر کو سڑک جاتی ہے۔ اس پر تین چار یکہ جا رہے ہیں۔ کچی سڑک ریت میں تین یکہ پھنسے ہوئے ہیں۔ گھوڑے ہیں کہ یکوں کو کھینچ رہے ہیں۔ پہیے ریت میں دھنسے ١٦
جاتے ہیں۔ گھوڑے ہانپ رہے ہیں۔ اور پسینے کی ن یکے کو دھکیلتا ہے۔ کبھی گھوڑے کو شراپ شراپ مارتا ہوئے غوں غوں کر رہا ہے۔ سفر کا تھکا۔ ساون بھادو سے اتر پڑی ہیں۔ اور پا پیادہ چلی جاتی ہیں جو تہہ میں ریت پہیے کو کھینچ کر لے جاتی ہے جوتا کو جھاڑ پھر آ دھوپ کاٹتی ہے۔ کپڑے پسینے میں نچڑ رہے ہیں۔ ک ہے۔ تو جان آجاتی ہے۔ ہوا کا جھونکا آیا اور نسیم سحری بدن کو جھلس دیا یا بائہمہ مرگ انبوه غشی وارد کے مصد نہیں ہوتی۔ خوش خوش ہنستے کودتے مذاق اڑاتے راس
- ......١ مشفق اگر امتحان پاس ہو گیا تو پوبارہ ہیں
- ......٢ لالہ بھیم سین کو امتحان میں بڑی سہولت ہ
پاس کر چکے ہیں۔ دوسرے ایک سال سے وکالت کر ر قانون یاد کرنے اور قانون کا استعمال کرنے کے او نوکری کے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ اور قانون
- ......٣ اس میں تو شک نہیں آخرش ہم نے بھی تو
بدکار و بدحال بنے:
- ......٤ بھائی مشکل تو ہماری ہے ہم کو اول تو سرکار
تحصیل دار صاحب کے دربار ہی سے اٹھے تو نائب تحصی نہ گفتگو نہ بحث نہ تقریر آپ لوگوں کو صدر مقام میں رہ جو کتاب اپنے پاس نہ ہو دوسرے سے لی۔ جو بات اپنی
- ......٥ ہمارا حال بھی بشرح صدر ہے۔ بھائی
ہے۔ اگر کوئی بات اپنی سمجھ میں غلط آئی تو فوراً صبح ک سے ہی نہیں ملتی۔ صبح سے آٹھ بجے رات تک کچہری کو ہم لوگوں کو کونسا وقت ہے۔
لالہ بھیم سین صاحب...... یارو یہ باتیں ہی باتیں ہ لیاقت پر بھروسہ ہے۔ وہ رہ جاتے ہیں۔ اور نا اہل ١٧
جاتے ہیں۔ گھوڑے ہانپ رہے ہیں۔ اور پسینے کی جگہوں میں سفید ہو رہے ہیں۔ یکے والا بھی یکے کو دھکیلتا ہے۔ کبھی گھوڑے کو شڑاپ شڑاپ مارتا ہے۔ یخ یخ مگر گھوڑا گھٹنے ریت میں ٹیکے ہوئے غوں غوں کر رہا ہے۔ سموم کا چھینٹا۔ ساون بھادوں کی دھوپ کہ ہرن کالا ہو۔ سواریاں یکوں سے اتر پڑی ہیں۔ اور پا پیادہ چلی جاتی ہیں جوتہ میں ریت بھر جاتا ہے۔ ایک قدم اٹھاتے ہیں۔ ریت پیچھے کو کھینچ کر لے جاتی ہے جوتا کو جھاڑ پھر آگے قدم رکھتے ہیں۔ پیچھے کو ہٹ جاتا ہے۔ دھوپ کاٹتی ہے۔ کپڑے پسینے میں نچڑ رہے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی ابر کا ٹکڑا سر پہ سایہ افگن ہو جاتا ہے، تو جان آجاتی ہے۔ ہوا کا جھونکا آیا اور نسیم سحری کا لطف دکھا گیا۔ کبھی پھر دھوپ نکل آئی اور بدن کو جھلس دیا۔ با ہمہ مرگ انبوہ جشنے دارد کے مصداق یہ پیادہ پائی۔ اور بادیہ پیمائی ناگوار معلوم نہیں ہوتی۔ خوش خوش ہنستے کودتے مذاق اڑاتے راستہ طے ہو رہا ہو۔
- ١...... مشفق اگر امتحان پاس ہو گیا تو پو بارہ ہیں یہ محنت مبدل براحت ہو جائے گی۔
- ٢...... لالہ بھیم سین کو امتحان میں بڑی سہولت ہوگی اول تو فوجداری اور مال میں ایک مرتبہ
پاس کر چکے ہیں۔ دوسرے ایک سال سے وکالت کرتے ہیں۔ قانون آگیا ہے۔ تیسرے سوائے قانون یاد کرنے اور قانون کا استعمال کرنے کے اور کچھ کام نہیں، مشکل تو ہم لوگوں کو ہے۔ کہ نوکری کے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ اور قانون بھی یاد کرتے رہے۔
- ٣...... اس میں تو شک نہیں آخرش ہم نے بھی تو محنت کی ہے۔ نا امید کیوں ہوں۔ حزن فال
بدکار و ردحال بد:
- ٤...... بھائی مشکل تو ہماری ہے ہم کو اول تو سرکاری کام آپ جانتے ہیں۔ تحصیلوں کا کام اس پر
تحصیل دار صاحب کی درباری سے اٹھے تو نائب تحصیلدار صاحب کے مکان پر جاؤ پھر قانون کا چرچا نہ گفتگو نہ بحث نہ تقریر آپ لوگوں کو صدر مقام میں بہت سہولت قانون یاد کرنے کی یہ میسر ہو سکتی ہے جو کتاب اپنے پاس نہ ہو دوسرے سے لی۔ جو بات اپنی سمجھ میں نہ آئی دوسرے سے پوچھ لی۔
- ٥...... ہمارا حال بھی بشرح صدر ہے۔ بھائی صاحب صدر میں بحث اور تقریر کا بڑا فائدہ
ہے، اگر کوئی بات اپنی سمجھ میں غلط آئی تو فوراً صحیح ہو جائے۔ مفصلات میں تو فرصت سرکاری کار سے ہی نہیں ملتی۔ صبح سے آٹھ بجے رات تک کچہری ہوتی ہے۔ پھر دربار داری قانون یاد کرنے کو ہم لوگوں کو کونسا وقت ہے۔
لالہ بھیم سین صاحب ...... یارو یہ باتیں ہی باتیں ہیں۔ امتحان کا نام برا ہوتا ہے جن کو اپنی یاد اور لیاقت پر بھروسہ ہے۔ وہ رہ جاتے ہیں۔ اور نا واقف اور نالائق نکل جاتے ہیں۔ (پاس ہو
١٧
جاتے ہیں ) ہمارے دوست حکیم جنہوں نے قانون یاد کرنے کے سوا عمل بھی کئے ہیں۔ اور چلے بھی کھینچے ہیں۔ خدا نے چاہا تو وہ بھی پاس ہوں گے کیوں پنڈت صاحب۔ پنڈت نندلال صاحب ...... کیا حکیم صاحب نے چلے بھی کھینچے ہیں۔ لالہ بھیم سین صاحب ...... یہ تو ان کی لڑکپن سے عادت ہے جب کوئی بات ہوئی اور جھٹ وظیفہ شروع کر دیا۔
پنڈت موہن لعل صاحب تو یار ہمارے واسطے بھی دعا کرنا ہم نے تو قسم علم کی جو کچھ بھی یاد کیا ہو اور یاد کرتے بھی کس وقت ہم کو فرصت ہی کہاں تھی۔ مگر حکیم صاحب نے چھ ماہ کی رخصت لے کر ان میں قانون بھی یاد کیا اور تسبیح بھی پھیری بھائی انہوں نے تو دعا اور دوا دونوں سے کام لیا ہے۔ لالہ رام کشن ...... حضرت ہمیں یاد رکھنا بھول نہ جانا۔ خواجہ عبد الصمد ...... نہ ہاتھوں میں طاقت نہ پاؤں میں جنبش جو لیں کھینچ دامن ہم اس دلرباء کا۔ سر راہ بیٹھے اور یہ صدا ہے کہ اللہ ہی والی ہے بے دست و پا کا۔ لالہ گوکل چند ...... یارو ہم تو خدا سے امید نہیں توڑتے خدا نے چاہا تو ضرور پاس کریں گے۔
ہنسی مذاق میں کچی سڑک کا راستہ طے ہوا۔ یکہ والوں نے گھوڑوں کو ملا اور مالش کر کے نہلایا بھی پانی پلایا دانہ کھلایا۔ گھاس ڈال دی ہمارے رنگیلے اور بے فکرے مسافر بھی ایک درخت کے نیچے دری بچھا آرام لینے لگے۔ جب دن ڈھلا سورج نیچے کو ہوا۔ کچھ کچھ ٹھنڈک ہوئی۔ یکہ جوڑنے گئے۔ مسافر سوار ہوئے۔ دو گھنٹہ میں امرتسر داخل رات سرائے میں کاٹی۔ صبح کو ضلع کی کچہری کے احاطہ میں حاضر ہوئے ایک کمرہ میں مسٹردان صاحب اسسٹنٹ کمشنر مہتمم امتحان زیب دہ کرسی اجلاس ہوئے اور کمرہ کے اندر اور باہر برانڈہ میں امیدوار بیٹھ گئے۔ ضلع گورداسپور اور امرتسر اور سیالکوٹ کے امیدوار حاضر تھے۔ سوالات کئے گئے۔ جواب لکھا گیا۔ لفافہ بند کیا اور سہ بمہر اور سیدھے لاہور کو بھیج دئے اسی طرح دوسرے تیسرے دن امتحان ہوا اور کاغذات لاہور بھیجے گئے۔
باب ٤ چہارم
امتحان میں ناکامی
دوپہر کا وقت ہے گرمی کا موسم کچہری کے اہلکار دھوپ میں چلتے چھتری کا سایہ سر پر کئے درختوں کے نیچے پناہ پکڑتے۔ رومال سے منہ کا پسینہ پونچھتے ہوئے آ رہے ہیں۔ اور شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایک مکان کے دروازہ پر تین شخص کھڑے ہوئے چھتریوں کو بند کر کے اندر
١٨
داخل ہوئے اور صحن مکان پر پہنچ کر اُف آج گرمی ہے۔ ان دنوں میں تو تعطیل ہو جایا کرتی۔
- ١...... اس (شمال رویہ مکان کی طرف اشار
بچھوائی جائیں میں بھی کپڑے اتار کر اور اشنان (ک
- ٢...... لالہ روپ چند یہ اہتمام آپ کے ذمے
لوں۔ اور ایک دلان میں داخل۔ لالہ روپ چند س
مھتر..... بالٹی پانی لایا اور چھڑکاؤ کر کے اور حکیم لالہ روپ چند ..... تین چار پائی بچھا کر رائے صاح مھتر نے تعمیل حکم کی اور چلا گیا۔ لالہ
تھوڑی دیر بعد اوپر سے وہی صاحب واپس آئے گیا کیا لالہ روپ چند ارے بھائی عجب آدمی ہو
برآمد ہوئے حکیم صاحب دیکھنا یہ دوسرے لوگوں آدمی تھا۔ خدا مغفرت کرے۔
حکیم صاحب ..... آپ کو کچھ شوق بھی تو ہے شای لالہ بھیم سین صاحب ...... وہی صاحب اول اند حکیم صاحب ...... پھر اتنی دیر میں سو بھی گئے اور لالہ صاحب ...... یہ تو ایسے ہی سونے والے ہ صاحب بیٹھ گئے اور گفتگو ہونے لگی۔ لالہ صاحب ...... ابھی کچھ نتیجہ تو نکلا نہیں۔ معلو حکیم صاحب ...... آپ کو کیا سب نے محنت کی گر شماتت ہمسایہ پاس نہ ہونے میں مفت کی ت دل نہیں چاہتا۔ لالہ صاحب ...... جناب نوکری میں اگر امتحان ہم سے صاحب ڈپٹی کمشنر نے استعفا بھی لے
گئے دونوں جہا
نہ ادھر کے رہ
داخل ہوئے اور صحن مکان پر پہنچ کر اُف آج گرمی کا بھی شباب ہی پھونک دیا دیکھئے لو کیسی گرم ہے۔ ان دنوں میں تو تعطیل ہو جایا کرتی۔
- ١...... اس (شمال رویہ مکان کی طرف اشارہ کر کے) میں چھڑکاؤ کرائیے اور چار پائیاں
بچھوائی جائیں میں بھی کپڑے اتار کر اور اشنان (غسل) کر کے کھانا کھا کر آتا ہوں۔
- ٢...... لالہ روپ چند یہ اہتمام آپ کے ذمے رہا میں بھی ذرا کپڑے اتار کر بدن پر پانی ڈال
لوں۔ اور ایک دلان میں داخل۔ لالہ روپ چند نے جھتو کو آواز دی۔
جھتو...... پنہاری پانی لایا اور چھڑکاؤ کر گیا۔ اور حکم
لالہ روپ چند...... تین چار پائی بچھا کر رائے صاحب کا بستر کر دے۔
جھتو نے تعمیل حکم کی اور چلا گیا۔ لالہ روپ چند چارپائی پر بیٹھے۔ اور گرمی گرمی بولے
تھوڑی دیر بعد اوپر سے وہی صاحب واپس آئے۔ لالہ روپ چند اور روپ چند الہی خیر سانپ سونگھ گیا کیا لالہ روپ چند ارے بھائی عجب آدمی ہو۔ اس آواز کو سن دوسرے صاحب بھی دالان سے برآمد ہوئے حکیم صاحب دیکھنا یہ دوسرے لوکوں میں پہنچ گئے ان کے اٹھانے کی فکر کیجیے۔ کیا خوب آدمی تھا۔ خدا مغفرت کرے۔
حکیم صاحب ...... آپ کو کچھ شوق بھی تو ہے شاید۔
لالہ بھیم سین صاحب ...... وہی صاحب بولے اجی نہیں ابھی تو ہمارے ساتھ کچہری سے چلے آتے ہیں۔
حکیم صاحب ...... پھر اتنی دیر میں سو بھی گئے اور سوئے بھی ایسے کہ مردوں سے شرط باندھ کر۔
لالہ صاحب ...... یہ تو ایسے ہی سونے والے ہیں۔ راستہ میں چلتے چلتے سو جاتے ہیں۔ یہ دونوں صاحب بیٹھ گئے اور گفتگو ہونے لگی۔
لالہ صاحب ...... ابھی کچھ نتیجہ تو نکلا نہیں۔ معلوم نہیں کیا ہوا بڑی ہی فکر ہے۔
حکیم صاحب ...... آپ کو کیا سب نے محنت کی ہے۔ محنت کے سوائے بندہ پروری کے نقصان مایہ و گر شماتت ہمسایہ پاس نہ ہونے میں مفت کی ندامت ہوتی ہے۔ اور ندامت بھی سختی منہ دکھانے کو دل نہیں چاہتا۔
لالہ صاحب ...... جناب نوکری میں اگر امتحان پاس نہ ہوا اپنی نوکری پر قائم ہو۔ مشکل تو ہماری ہے۔ ہم سے صاحب ڈپٹی کمشنر نے استعفا بھی لے لیا۔ اگر امتحان میں ناکام رہے تو بڑا ہی غضب ہے۔
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
١٩
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
آپ جانتے ہیں ہمارا تو بھائی نوکری کے سوا اور کار نہیں۔ نہ جاگیر نہ کوئی اور وجہ معاش رکھتے ہیں۔ پھر خوش خرچی یہ بھی نہیں کہ جو آج کی آمدنی میں سے کوئی پیسہ بچا کر کل کی فکر رکھیں جو کھانا وہ کھا لیا حضرت متوکل جس کا نام ہے وہ ہماری قوم ہے۔
حکیم صاحب...... مسٹروان صاحب بڑا ہی نیک نیت اور شریف مزاج حاکم ہے اس نے تو اس غرض سے کہ ان لوگوں کو کچھ فائدہ پہنچے ۔ چشم پوشی کی تھی۔ ایسے انسان دنیا میں کم پیدا ہوتے ہیں۔ خیر محض ہے۔ مگر ہماری قوم فائدہ اٹھانا ہی نہیں جانتی ۔ جس کا انجام یہ ہوا۔ اس امتحان میں جس قدر سہولت تھی اگر ہم لوگ انسانیت سے اس کا فائدہ اٹھاتے تو کوئی کم بخت ہی محروم و ناکام رہتا۔ اب نتیجہ یہ ہوا۔ کہ حاکم کو بھی بدنام کیا۔ اور وہ دریائے بے تمیزی طغیانی پر آیا کہ شور مچا دیا۔ نوبت بانجا رسید چیف کورٹ تک شکایت گئی۔ اور چنے کے پیچھے گھن بھی پس گئی ۔ کئی بے قصور مارے گئے۔ اب کیا ہوگا۔ غالباً امتحان کینسل (منسوخ) ہو جائے گا۔ اور سب جوں کے توں کورے رہیں گے۔
لالہ صاحب ...... ہونا تو ایسا ہی چاہیے۔ اور غالباً ایسا ہی ہو گا مگر ایک بات ہے۔ منشی جیٹی رام صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بہادر ہماری ذات برادری ہیں اور وہ ممتحنوں میں ایک ممبر ہیں۔ مسٹر گرلین صاحب وغیرہ دوسرے ممتحنوں سے مشورہ کر کے یہ قرار دیا کہ بالکل امتحان کو کینسل (منسوخ) کرنا تو انصاف کا خون کرنا ہے۔ یہ تو مصلحت نہیں۔ ہر ایک ضلع کے ایک ایک دو دو امید وار پاس ہونے چاہئیں۔ آخر ان میں وہ شخص بھی تو ہیں جو لائق ہیں۔ اس واسطے مسٹروان صاحب سے دریافت کیا گیا ہے کہ تمہاری زیر نظر کون کون شخص ہے جن پر تم کو یقین ہے کہ انہوں نے سازش نہیں کی بجواب اس کے مسٹروان صاحب نے اُس کمرہ کا نقشہ جس میں امتحان ہوا تھا۔ کھنچوا کر ہر ایک شخص کو جہاں وہ بیٹھا تھا۔ اس جگہ دیکھا کر جو شخص کمرہ کے اندر بیٹھے تھے اُن کو لکھ دیا کہ یہ اشخاص میرے زیر نظر تھے مجھ کو یقین ہے کہ انہوں نے سازش نہیں کی ۔
حکیم صاحب...... تو آپ خوب رہے۔ پہلے تو برآمدہ میں ہمارے پاس ہی بیٹھے تھے پھر اٹھ کر جنگلہ کے اندر صاحب کی کرسی کے پاس جا بیٹھے تھے۔ کیا آپ کو اس واقعہ کا الہام ہو گیا تھا۔
لالہ صاحب...... نہیں ، الہام تو کیا ہونا تھا۔ جب مجھ کو آپ لوگوں نے زیادہ تنگ کیا کوئی کچھ دریافت کرتا اور کوئی کچھ تو میں اس خوف سے کہ کوئی حاکم دیکھ کر بے عزت نہ کرے وہاں سے اُٹھ
٢٠
کر صاحب کی کرسی کے پاس جا بیٹھا کہ یہاں تو کوئی نہیں ستائے گا کیونکہ پہلے ایسا تجربہ کئی مرتبہ ہوا ہے۔ میں اکثر مدارس کے امتحان میں طالب علمی کے زمانہ میں شامل ہوا ہوں اور قانونی امتحان میں بیٹھنے کا بھی مجھ کو اتفاق ہوا ہے۔
حکیم صاحب...... بھائی صاحب وقت کی بات ہے جو امر شدنی ہوتا ہے اس کے اسباب اسی طرح پیدا ہوجاتے ہیں۔
لالہ صاحب ہاں آپ سب صاحب تعطیل کے سبب اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے۔ مجھ کو صاحب ڈپٹی کمشنر نے بلا کر فرمایا تھا کہ چیف کورٹ سے اس بارہ میں چھٹی آئی ہے۔ وہاں تم لوگوں نے کیا بے احتیاطی کی ہے۔
میں ...... حضور میں تو خاص مسٹر وان صاحب کی کرسی کے پاس بیٹھا تھا۔ دوسرے حضور پر روشن ہے۔ کہ میں محتاج کسی سے دریافت کرنے کا بھی نہیں تھا۔ البتہ مجھ سے لوگ دریافت کرتے تھے۔
صاحب...... بے شک یہ تو ہم خوب جانتے ہیں کہ تم ہمارے ضلع کے امیدواروں میں سے قانون میں عمدہ واقفیت اور لیاقت رکھتے ہو۔
میں ...... حضور میں نے صیغہ مال اور فوجداری میں ایک مرتبہ امتحان پاس کیا ہوا ہے سال ڈیڑھ سال سے وکالت بھی کرتا ہوں۔
صاحب...... اور ہم کو خوب یاد دلایا ہم سے دریافت کیا گیا ہے۔ تمہارے ضلع میں کون لائق امید وار ہے۔ جس کی نسبت تم یقین رکھتے ہو کہ وہ پاس ہونے کے قابل ہے۔ ہم نے تمہارا حال مفصل لکھ کر شفارش کردی ہے۔
چنانچہ صاحب ممدوح نے بتفصیل لکھ کر میری شفارش بھی کی ہے۔
حکیم صاحب...... تو امید واثق ہے۔ کہ آپ تو ضروری کامیاب ہو جاؤ گے مثل مشہور ہے سویا سو چو کا۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ ہم سب غیر حاضر تھے اور آپ نے تنہائی میں اپنا کام نکال لیا اگر اور کوئی ہوتا تو شاید اس کو بھی کچھ مل جاتا۔ آنچہ نصیب ست بہم میرسد ورنہ ستانی بہ ستم میرسد
لالہ خوبچند (سوتے ہوئے بربڑاتے) پاس ہو گیا۔
دونوں صاحب حیران ہو کر ۔ ہیں لالہ خوبچند لالہ خوب چند کون پاس ہو گیا ارے بھائی خوب چند کون پاس ہو گیا۔
خوب چند...... پاس ہو گیا بس پاس ہو گیا۔
مجھ
٢٦
لالہ صاحب...... مالک مکان تو ہنس کر ”فلاں شخص ہے۔
خوب چند...... پاس ہو گیا سب حیران ہیں کہ اس کو آسیب ہے۔ یا سایہ ہو گیا۔ دماغ کو گرمی چڑھ گئی مالک مکان کے شاگرد پیشہ لوگ سب اکٹھے ہو گئے اٹھا کر بیٹھا دیا۔ وہ چلا گیا چلا گیا۔
لالہ صاحب...... ارے بھائی کون چلا گیا۔ آج تم کو کیا ہو گیا ہے کیا بک رہے ہو۔
خوب چند...... وہ جوگی جی جوگی جی۔
لالہ صاحب...... اب تک ہوش نہیں آیا منہ پر پانی کے چھینٹے دو ( اب خوب چند صاحب کے حواس خمسہ درست ہو گئے ) کیا حال ہے تم کو کیا ہوا تھا۔ بڑی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔
خوب چند...... ایک جوگی صاحب ہیں۔ وہ اکثر مجھ کو دکھائی دیا کرتے ہیں جب وہ آتے ہیں۔ میری یہی کیفیت ہو جاتی ہے۔ پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا حال ہوا ہے آج بھی نظر آیا تھا۔ چلا گیا۔
دونوں صاحب...... اور امتحان کس کا پاس ہو گیا۔
خوب چند...... مجھ کو کیا خبر میں کیا جانوں۔
دونوں صاحب...... ابھی تم کہتے تھے کہ پاس ہو گیا۔
خوب چند...... نہیں مجھ کو خبر نہیں۔
کچھ دیر اس خواب پریشان کا تذکرہ اور ہنسی مذاق رہ کر اپنے اپنے مشاغل میں مشغول ہو گئے۔ جلسہ برخاست ہر وقت نتیجہ امتحان کے ذکر اذکار کے سوا اور خیال نہ تھا۔ چو میرد مبتلا میرد چو خیزد مبتلا خیزد خواب بھی اسی کے کرتے ہیں۔
ایک دن
حکیم صاحب...... رائے صاحب (لالہ بھیم سین ) رات ہم نے خواب میں دیکھا کہ امتحان کے پرچہ سب کو تقسیم کئے گئے ہیں۔ وہ سب زرد رنگ کے ہیں۔ اور آپ کو جو پرچہ دیا گیا ہے وہ سرخ رنگ کا ہے۔ جس کی تعبیر ہم نے یہ نکالی کہ تم پاس ہو جاؤ گے اور سب ناکام۔
لالہ صاحب ( مذاقیہ ) اب آپ ولی بننا بھی چاہتے ہیں۔ آپ کے حکیم اور عامل وغیرہ ہونے کے تو ہم پہلے سے معترف ہیں۔ اگر فرمائیں۔ تو ولایت کی بھی منادی کرادیں۔ دو آنے کا خرچ ہے زیادہ تو نہیں۔
حکیم صاحب...... آپ مذاق سمجھتے ہیں۔ نہیں سچ کہتا ہوں آپ پاس ہوں گے۔
٢٢
لالہ صاحب..... نہیں مذاق کی بات نہیں جس خیال میں انسان ہوتا ہے۔ خواب دیکھتا ہے۔ اور اکثر خواب سچ بھی ہو جاتے ہیں۔ کئی دن ہوئے منشی جیشی رام صاحب کو خط گیا ہے۔ جواب نہیں آیا۔ دروازہ کھٹکا۔ اور چٹھی رسان اندر آیا۔ لالہ جی یہ آپ کی چٹھی ہے۔
لفافہ
لالہ بھیم سین صاحب وکیل سیالکوٹ
کھولا گیا تو ایک زرد رنگ کے کاغذ پر (یو بکیم) لکھا ہوا تھا۔ (یعنی تم ہوئے) نہ نام کاتب نہ مکتوب الیہ اور نہ آگے جملہ کے کچھ عبارت جس سے معلوم ہو کیا ہوئے (یعنی پاس یا فیل) مگر یہ یقین کیا گیا۔ کہ یہ تحریر منشی جیشی رام صاحب کی ہے۔
حکیم صاحب..... اجی آپ پاس ہو گئے۔ اس میں کوئی کلام نہیں۔ ہماری خواب کہتی ہے۔
لالہ صاحب..... یوں اس دن خوب چند کا بتانا بھی ایسا ہی واقع ہے جیسا آپ کا خواب۔ اس کے اگلے دن ان کے ایک دوست کا خط لالہ بھیم سین صاحب کے نام ایک سرخ رنگ کے کاغذ پر لکھا ہوا۔ ایک بڑی لمبی چوڑی مبارک سلامت کے بعد تم پاس ہو گئے اور کل کے گزٹ میں تمہارا نام درج ہو کر شائع ہوگا۔ خط پڑھ کر مبارک سلامت کا شور اٹھا۔
حکیم صاحب..... دیکھو ہماری خواب سچی ہوئی نا۔
لالہ صاحب..... یوں تو خوب چند کی خواب آپ سے پہلے ہوئی تھی۔ وہ ایک رند مشرب۔
افسوس دنیا میں کیا ہٹ دھرمی اور ناقدر دانی ایسی رؤیا صادقہ جس کا فوری اثر ظاہر ہو گیا۔ ایک رند مشرب کے اضغاث الاحلام کے برابر کر دی۔ اس دیرینہ موانست اور قدیمی محبت کو بالائے طاق رکھ دیا۔
خود غلط بود آنچه من پنداشتم
کم سے کم سیالکوٹ کے گلی کوچہ میں تو اس کا اشتہار اور سیالکوٹ کے خاص خاص کی زبان پر ذکر و اذکار ہوتا۔
ہفتہ کے گورنمنٹ گزٹ میں لالہ بھیم سین صاحب کا نام درج ہو کر شائع ہو گیا۔ اور سب ناکام رہے ہمارے ناول کے ہیرو حکیم صاحب بھی علیٰ ہذا القیاس۔
٢٣
باب ٥ پنجم
پارسائی کا پکھنڈ
اساڑھ اور ساون گزر کر بھادوں کے بھی کچھ دن اوپر گئے۔ برسات کے عین شباب کے دن میں مگر ابر و باران کا تو کیا کہیے، پروا ہوا بھی نہیں چلتی تالاب اور چشموں کے پانی کیا کنوؤں کے سوت بھی خشک ہو گئے ہیں۔ چشم عشاق فراق دیدہ رنج مہاجرت کشیدہ سے بھی اگر کوئی اشک گرتا ہے۔ تو گوہر کی طرح خشک ہوتا ہے۔ تری کا نام نہیں پایا جاتا، گرمی کا وہ زور کہ الامان والحفیظ آسمان تانبے کا لگتا ہے۔ زمین لوہے کی طرح تپتی ہے۔ جانوروں کو پانی پینے کو نہیں ملتا۔ زبان نکالے پڑے منہ کھلا ہوا ہے۔ اور آنکھیں بند دم نکل گیا۔ قحط کا یہ حال کہ آدمی کو آدمی کھاتا ہے۔ جنگل یا پہاڑوں میں سبزی کا نمود نہیں۔ جدھر دیکھو خاک اڑتی ہے پچھوا ہوا نے درخت سکھا دیے ہیں۔
ملخ بوستان خورد مردم ملخ
کا مصداق ہے۔ دریائے ستلج سے روپڑ کے مقام پر ایک نہر کاٹی جا رہی ہے۔ ہزارہا مزدور ٹھیکیداروں کی طرف سے نہر کی کھدوائی پر لگے ہوئے ہیں۔ اور تین جیل خانے جس میں دو ڈھائی ہزار قیدی رہتا ہے۔ خاص اس غرض سے اس جگہ قائم کئے گئے ہیں۔ قیدی نہر پر کھدائی کا کام کرتے ہیں۔ اور نہر کا ایک بڑا محکمہ یہاں پر موجود ہے۔ ایک یورپین صاحب اسسٹنٹ کمشنر بھی یہاں پر رہتا ہے۔ روپڑ کی گویا ایک مختصر سی چھاؤنی کا نمونہ (قصبہ روپڑ جو چند دنوں پیشتر ایک گاؤں تھا) بن گیا ہے۔
روپڑ کے نیچے آبادی کے قریب ریلوں کے جیل خانہ سے اس طرف ایک ندی (جو اب خشک پڑی ہے) میں ریت کے ٹیلہ کے اوپر ایک جوان سانولا رنگ میانہ قد اوسط اندام پچیس یا تیس برس کا سن سال بیٹھا ہے۔ دھوپ کے تمازت اور ریت کی تپش میں قدم نہیں رکھا جاتا۔ مگر اس شخص کے سر پر نہ کوئی سایہ ہے، نہ نیچے بستر ہے، یکہ و تنہا، نہ کوئی آس نہ پاس، نہ کھانے کا سامان، نہ پانی کا برتن اس گرمی اور تپش میں بھوک نہیں تو پیاس کا اندفاع تو ضروری ہے۔ تین دن اور رات اسی ہیئت سے گزرے چوتھے دن ایک خیمہ ایستادہ ہے۔ اور پانی کا چھڑکاؤ خیمہ کے اندر
٢٤
اور دور دور کے فاصلہ تک باہر ہوا ہے۔ اور بہت سے آ کا جمگھٹا خیمہ سے باہر ہے ڈھولک بج رہی ہے۔ بھجن گ کے محکمہ کے تقریبا کل اہل ہنود بابو موجود ہیں۔
شہر کی کھترانیاں عمدہ عمدہ لباس پہن کر اور ب دوپٹہ کے آنچل سے ڈھکے ہاتھ پر رکھے آ رہی ہیں۔
خیمہ کے اندر نوبت بہ نوبت باریاب ہوتی چرن نمسکار کر واپس آتے ہیں۔
یار لوگ لطف نظارہ اٹھا آنکھ مکھ سیک کر خوش کے ڈھیر اور جلتے ہوئے سنگریزوں کے سوا کچھ نظر نہیں چہل پہل ہنسی مذاق خوش طبعیاں ہوتی ہیں۔ عمدہ میلہ کا
- ١....... بھائی یہ مہنت جی کہاں سے آئے ہیں ۔ اور کس
- ٢....... ارے میاں کوئی بدمعاش ہوگا۔ کسی عورت کی
بہت دیکھے ہیں۔ یہ ہنود کی قوم عجیب ضعیف الاعتقاد ہ چڑھا دئے اور جب کسی عورت کو لے کر بھاگ گیا تو معلوم ہوا
- ٣....... ہندو کی قوم پر ہی کیا منحصر ہے۔ پنجاب کے
بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ پیر پرستی کو دارین کا ذریعہ نجا
- ٤....... اس ملک کی بھیڑ چال ہے کہ جس طرف ج
پر سال کا تو واقعہ ہے۔ دو چار سال تو نہیں گزرے۔ را دنوں میں کئی لاکھ آدمی کی جمعیت ہو گئی۔ یہاں تک کہ ک اور اس کو جلاوطن کیا۔
- ٥....... ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے۔ مسلمانوں میں
پیروں کا عقیدہ کچھ اس سے کم نہیں ہے۔ عام گاؤدی تو نبی سے کم نہیں جانتے سینکڑوں موضوع حدیثیں اپنے دعو کریم کی آیات کو دلیل لاتے ہیں مصرع
٢٥
اور دور دور کے فاصلہ تک باہر ہوا ہے۔ اور بہت سے آدمی خیمہ کے اندر ہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں کا ٹھٹھا خیمہ سے باہر ہے ڈھولک بج رہی ہے۔ بھجن گائے جاتے ہیں۔ ناقوس پھونکا جاتا ہے نہر کے محکمہ کے تقریباً کل اہل ہنود بابو موجود ہیں۔
شہر کی کھترانیاں عمدہ عمدہ لباس پہن کر اور زیورات سے آراستہ ہو کر تھالی میں کچھ لیے دوپٹہ کے آنچل سے ڈھکے ہاتھ پر رکھے آ رہی ہیں۔
خیمہ کے اندر نوبت بہ نوبت باریاب ہوتی ہیں۔ اور مہنت جی کو متھا (ماتھا) ٹیک اور چرن نمسکار کر واپس آتے ہیں۔
یار لوگ لطف نظارہ اٹھا آنکھ مٹکا کر خوش گپیاں اڑا رہے ہیں۔ کل جہاں ایک ریتی کے ڈھیر اور جلتے ہوئے سنگریزوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ آج جنگل میں منگل ہو رہا ہے۔ چہل پہل ہنسی مذاق خوش طبعیاں ہوتی ہیں۔ عمدہ میلہ کا ہجوم ہے۔ دس جاتے ہیں بیس آتے ہیں۔
- ١....... بھائی یہ مہنت جی کہاں سے آئے ہیں۔ اور کس پنتھ کے ہیں۔ اور یہاں بیٹھنے کیا غرض ہے۔
- ٢....... ارے میان کوئی بدمعاش ہوگا۔ کسی عورت کی خاطر یہ پکھنڈ پھیلایا ہے ہم نے ایسے جوگی
بہت دیکھے ہیں۔ یہ ہنود کی قوم عجیب ضعیف الاعتقاد ہے۔ جہان ذرا کسی کو سنا فقیر ہے لگے۔ ڈونہ چڑھانے اور جب کسی عورت کو لے کر بھاگ گیا تو معلوم ہوا کہ مہنت جی اس مقصد سے یہاں بیٹھے تھے۔
- ٣....... ہندو کی قوم پر ہی کیا منحصر ہے۔ پنجاب کے عموماً اور ممالک متحدہ کے خاص خاص مسلمان
بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ پیر پرستی کو دارین کا ذریعہ نجات اور موجب خیر و برکات سمجھتے ہیں۔
- ٤....... اس ملک کی بھیڑ چال ہے کہ جس طرف چار آدمیوں کو جاتے دیکھا اسی طرف کو ہوئے
پر سال کا تو واقعہ ہے۔ دو چار سال تو نہیں گزرے۔ رام سنگھ کوکا نے کوکوں کا پنتھ چلایا تھوڑے دنوں میں کئی لاکھ آدمی کی جمعیت ہوگئی۔ یہاں تک کہ گورنمنٹ کو دست اندازی کی ضرورت پڑی۔ اور اس کو جلاوطن کیا۔
- ٥....... ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے۔ مسلمانوں میں بھی بزرگوں کی قبروں کی پرستش اور زندہ
پیروں کا عقیدہ کچھ اس سے کم نہیں ہے۔ عام کا ذکر نہیں۔ جو عالم فاضل کہلاتے ہیں۔ وہ پیر کو خدا سے کم نہیں جانتے سینکڑوں موضوع حدیثیں اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کو دلیل لاتے ہیں مصرع
تسلی داد ہر یک را برنگے ....... خدا کے کارخانہ میں کسی کو دخل نہیں۔ ہر ایک شخص اپنی اپنی
٢٥
فطرت اور عقل کے مذاق کے موافق بنا ہوا ہے۔ اور اپنے کو حق پر اور دوسروں کو گمراہ جانتا ہے۔ ہر یکے ناصح برائے دیگران: ناصح خود گم یا کم اندر اندر جہاں۔
ایک صاحب نو وارد....... کہو صاحب کیا جھگڑا ہو رہا ہے۔ اور آج یہ میلہ کیسا پہلے تو کبھی یہاں ہجوم دیکھا نہیں۔
١....... اجی یہاں تین چار دن سے ایک ہندو فقیر آن کر بیٹھا ہے۔ کوئی جوگی یا اتیت سناسی یا او داسی وغیرہ میں سے معلوم نہیں ہوتا۔ نہ کوئی بیراگی یا منڈا ہوا معلوم ہوتا ہے دو تین روز تو یہاں دھوپ میں بے سایہ اور آڑ کے بیٹھا رہا آج یا کل شام سے خیمہ اور شامیانہ لگ گیا ہے نہر کے بابو اور شہر کے چند شوقین مزاج یہاں پر ہر وقت جمے رہتے ہیں۔ راگ رنگ ڈھولک طنبورہ اور ستار بجتا ہے۔ گپیں اڑاتے ہیں۔
شخص اول...... ( وہی صاحب ) چلو دیکھیں تو کیسا فقیر ہے۔ اور کس غرض سے بیٹھا ہے۔ سب متفق ہو کر شامیانہ کے نیچے خیمہ کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ اور مہنت جی کے درشن کی آرزو ظاہر کی۔
پوجاری...... ( یا یوں کہو مہنت جی کے مصاحب اور سیوک) خالی ہاتھوں درشن کرنے تو مصلحت نہیں کچھ لنگر کے خرچ کے واسطے نذرانہ کے طور پر دینا چاہیے۔ فقیروں اور بادشاہوں کے دربار میں خالی ہاتھ جانا بدسلوکی بے شرمی اور کم ہمتی ہے۔
شخص...... بھائی تو ٹکٹ لگا دیتا تھا۔ پہلے جو ٹکٹ لیتا وہ یہاں تک آتا درویش کی نذر نیاز خوشی اور رضا ورغبت سے ہوتی ہے۔ نہ کسی ٹکٹ کے طور پر
دوسرا پوجاری...... جی ہاں سچ کہتے ہیں۔ نہیں صاحب آپ کی مرضی ہم کوئی حصہ دار یا پوجاری یا چیلہ تو مہنت جی کے ہیں نہیں۔ آپ جیسے تماشائی ہیں ہم خوش عقیدت نہیں۔ اور میاں صاحب اس قول پر عمل ہے۔
ہر کہ را جامہ پارسا بینی..... پارسا دان و نیک مرد انگار۔ خاکساران جہاں را بحقارت منگر تو چہ دانی کہ درین گرد سواری باشد۔
شخص....... صاحب ہم بھی ان ( مہنت) کے مخالف نہیں۔ فقط درشن کے مشتاق ہیں۔
پوجاری...... بابو کامتا پرشاد صاحب یہ بابو محمد رمضان صاحب بابو حسین بخش صاحب وغیرہ درشن کرنا چاہتے ہیں۔
کہ پھر یہاں کوئی پہرہ چوکی یا ممانعت ہے۔ فقیر کا روبار ہے۔ جس کا دل چاہے
٢٦
آئے۔ جائے ہم بھی آپ صاحبوں کی طرح ہیں۔ کوئی کا منشا ہے۔ کہ یہاں ایک لنگر جاری کیا جائے۔ چنانچہ اپنے ہاتھ لیا جائے۔
غرض ان صاحبوں نے بوقت تمام خیمہ سے کو ایک لکڑی کی چوکی پر جس پر ایک کمبل کا آسن بچھا جٹا لپیٹا بیٹھا ہوا دیکھا اور گرد زمین پر آدمیوں کا ہجوم گنجائش نہیں کسی کے سر پر کسی کے کندہے پر ہاتھ رکھ کر پاس پہنچے۔ اور چھپتے چھپاتے شرمی شرماتے روپیہ الٹے قدموں واپس اپنی جگہ پر آئے اور گفتگو ہونے لگی
١....... یہ بڑے کامل فقیر ہیں کسی سے گفتگو یا بات پہلے یہ یہاں سے چار پانچ کوس کے فاصلہ پر رہتے اور یہ عہد کیا ہے۔ کہ جب تک بارش نہ ہوگی۔ اور باہر اس جگہ سے نہیں اُٹھوں گا۔ اور نہ کھاؤں گا نہ پیوں کئی دن یہ دھوپ میں بے دانہ پانی واسطے خیمہ کھڑا کر دیا۔ اب سائیں صاحب نہ کچھ ہیں۔ اس دن سے اسی طرح یک چلہ بیٹھے ہیں۔
٢....... اجی رات دن یہاں آدمیوں کا مجمع رہتا سے بیٹھے ہیں۔ نہ لیٹے ہیں، نہ کھانا کھایا، نہ رفع گئے۔ نہ لیٹتے ہیں نہ کھڑے ہوتے ہیں۔
٣....... یہاں رات کو کوئی دیا باتی یا لمپ وغیرہ رہتی ہے۔ تمام دنیا میں گرمی کے مارے لوگ جل گئے۔ کل نہیں پڑتی۔ مگر اس جگہ رات کو رضائی اوڑھ
٤....... کیوں نہ ہو فقیروں میں بڑی قدر ہے
لیکن زخدا
آئے۔ جانیے ہم بھی آپ صاحبوں کی طرح ہیں۔ کوئی مدارالمہام تو ہیں نہیں۔ ہاں مہنت صاحب کا منشا ہے۔ کہ یہاں ایک لنگر جاری کیا جائے۔ چونکہ یہ کارخیر ہے۔ اس کا سرانجام اور اہتمام اپنے ہاتھ لیا جائے۔
غرض ان صاحبوں نے بدقت تمام خیمہ کے اندر دخل پایا ایک سیاہ فام مضبوط جوان شخص کو ایک لکڑی کی چوکی پر جس پر ایک کمبل کا آسن بچھا تھا۔ اس کے پاس پا انداز کے طور پر مرگ چھالا پڑا بیٹھا ہوا دیکھا اور گرد زمین پر آدمیوں کا ہجوم ہے جو کثرت کے سبب نظر کو بھی دخل پانے کی گنجائش نہیں کسی کے سر پر کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ پاؤں پر یا زانو پر قدم رکھتے گرتے پڑتے بارگاہ پہنچے۔ اور چپتے چھپاتے شرماتے شرماتے روپیہ یا کچھ کم و بیش نذرانہ پیش کیا۔ سلام کر کے ان ہی قدموں واپس اپنی جگہ پر آئے اور گفتگو ہونے لگی۔
- ١...... یہ بڑے کامل فقیر ہیں کسی سے گفتگو یا بات چیت نہیں کرتے۔ نہ کچھ کھاتے پیتے ہیں۔
پہلے یہ یہاں سے چار پانچ کوس کے فاصلہ پر رہتے تھے اب چھ سات دن سے یہاں آ کر بیٹھے ہیں اور یہ عہد کیا ہے۔ کہ جب تک بارش نہ ہوگی۔ اور ندی کا پانی مجھ کو یہاں سے بہا کر نہ اٹھائے گا۔ تو اس جگہ سے نہیں اٹھوں گا۔ اور نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔
کئی دن یہ دھوپ میں بے دانہ پانی بیٹھے رہے۔ جب لوگوں کو خبر ہوئی تو سایہ کے واسطے خیمہ کھڑا کر دیا۔ اب سائیں صاحب نہ کچھ کھاتے ہیں۔ نہ پیتے ہیں۔ نہ کوئی بات کرتے ہیں۔ اس دن سے اسی طرح یک چلہ بیٹھے ہیں۔
- ٢...... اجی رات دن یہاں آدمیوں کا مجمع رہتا ہے۔ ہلتے تک بھی نہیں دیکھا۔ جس نشست
سے بیٹھے ہیں۔ نہ ہلتے ہیں، نہ کھانا کھاتے، نہ رفع حوائج ضروری کے واسطے اٹھتے، نہ رات کو سوتے ہیں، نہ لیٹتے ہیں نہ کھڑے ہوتے ہیں۔
- ٣...... یہاں رات کو کوئی دیوا بتی یا لمپ وغیرہ روشن نہیں کیا جاتا۔ مگر روشنی اس سے بھی زیادہ
رہتی ہے۔ تمام دنیا میں گرمی کے مارے لوگ جھلسے جاتے ہیں۔ پنکھا ہاتھ سے ایک دم کو نہیں چھوٹتا پھر بھی کل نہیں پڑتی۔ مگر اس جگہ رات کو رضائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- ٤...... کیوں نہ ہو فقیروں میں بڑی قدرت ہے۔
لیکن ز خدا جدا نباشند
٢٧
اور بڑے بڑے اظہار کمالات ہوتے رہے۔ یہ سب صاحب اٹھ کر اپنے گھر کو چلے۔
خیمہ کے پیچھے ایک مختصر سا باغیچہ ہے۔ اس میں کڑہا چڑھے ہوئے ہیں۔ سینکڑوں آدمی کھانا کھاتا ہے۔ بلا امتیاز ہندو مسلمان۔ عیسائی چوہڑا۔ چمار سب باشندے آتے ہیں۔ کھاتے جاتے ہیں۔ تانتا لگا ہوا ہے۔
- .......١ ارے میاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں میں اس فقیر کو خوب جانتا ہوں۔ اور اچھی طرح
پہچانتا ہوں۔ یہ فلاں موضع کا مانجھی ہے۔ اور فلاں بابو کے برتن مانجھنے پر نوکر تھا میرے پاس اکثر یہ اس بابو کی چٹھی و پیام لایا کرتا تھا۔ یہ تو محض مکر اور فریب ہے۔ کسی خاص کار کے واسطے یہ جال بچھایا گیا ہے۔ اس میں کوئی اسرار ضرور ہے۔
- .......٢ دیکھو بدمعاشوں نے لنگر بھی جاری کر دیا۔ تا کہ شہرت ہووے۔ اور لوگ کھانے کے
لالچ سے یہاں آئیں۔ اور اس بات کا چرچا کریں۔
- .......٣ کچھ ان کے پلہ سے خرچ تھوڑا ہی ہوتا ہے۔ جس کا درد ہو۔ دیکھو لوگ کیسے اندھے
ہیں۔ کہ برسوں یہ شخص مہنت بنا یہاں رہا ہے۔ اور اس کو سب جانتے ہیں مگر اندھے ہی ہوتے ہیں۔
پندرہویں دن مغرب کی جانب سے ابر سیاہ اُٹھا۔ اور زمانہ تیرہ و تار ہو گیا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنی شروع ہوئی۔ چھوٹی چھوٹی بوندیں پڑنے لگیں۔ تو لوگوں کی آنکھیں جو آسمان کو لگی ہوئی تھیں۔ شوق کی نظر سے دیکھنے لگیں۔ تھوڑی دیر میں اس زور شور سے بارش ہوئی کہ تمام تختہ جل تھل گیا۔ خدا کی شان کبریائی ہے۔ کہ پلک مارنے کی دیر تھی۔ کہ جہاں نظر کام کرسکتی تھی۔ پانی کے تختہ کے سوا زمین نظر نہ آتی تھی۔ ندی کے پانی نے مہنت جی کے خیمہ و شامیانہ کی طنابیں اکھاڑ کر پھینک دیں۔ نہ خیمہ کا پتا ملا نہ چوب خیمہ کا۔ ستلج نزدیک تھا۔ پانی نے بہا دریا میں ڈال دیا مہنت جی کو لوگوں نے اٹھایا۔ باغیچہ میں جو لنگر خانہ کے ذخیرہ کا خیمہ تھا۔ لے جا کر بٹھایا تین رات اور دن وہ موسلا دھار مینہ پڑا کہ بس کرادی مکانوں کا گرنا شروع ہوا اور اوہوں کی آواز چاروں طرف سے آنے لگی چوتھے روز مینہ بند ہوا۔ ابر کھلا سورج نے منہ دکھایا۔
نہر کے بابو اور شہر کے زندہ دل شوقین مزاج رئیس جو فقیر صاحب کے مشیر اور معاون تھے۔ انہوں نے ایک رئیس کا ہاتھی منگایا۔ اور مہنت جی کو اس پر سوار کیا:
باجا اور ڈھولک اور گھنٹہ اور ناقوس بجاتے اور بھجن گاتے آگے آگے ہوئے اور کئی طائفہ رقص کناں سواری کے ساتھ تھے۔
٢٨
مہنت جی کی سواری کا بڑے جلوس کے سا گشت کرایا۔
سفیر ہند کے کسی نامہ نگار نے پادری رجب کیفیت اس اخبار مذکور میں شائع ہوئی۔
چند نہر کے بابوؤں نے ایڈیٹر اخبار پر غلط تاریخیں پڑتی رہیں۔
مہنت صاحب کچھ دن اس باغ میں رونق اکھڑ گئی۔ پھر وہی بے آبروئی نصیب ہوئی۔
باب ٢٩
مولانا محمد حسین بٹالوی
یہ وہ غریب ہے کہ مسا
دوپہر کا وقت ہے۔ جیٹھ اساڑھ کی دھ پتوں میں پرندے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ لو کی تو ہے۔ چار پائے گرمی کے مارے زبان نکالے ہانپ کانپ رہے ہیں۔ آدمی کیا حیوان بھی دم چراتے ہی نہیں آتا۔ بے مارے مرے جاتے ہیں گھر میں نہیں چھپتا۔ پسینا ہے کہ اشک عشاق کی طرح جا ہے۔ الامان الحفیظ کا کلمہ جاری ہے۔ زبان پر کانٹے پرندوں کے پر جلتے ہیں۔ یکایک قدم نہیں اُٹھا ہیں یہ وقت اور سفر یہ یکہ کیسا آرہا ہے مریل ٹٹو مشکی رنگ کا جوتا یکہ والا پیادہ پریشاں حال چھپائے آرہا ہے۔ گھوڑا زبان نکالے کتے کی طرح چلتا ہے۔ اور گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتا ہے۔
مہنت جی کی سواری باجے جلوس کے ساتھ تمام قصبہ کے بڑے بڑے گلی کوچہ کا گشت کرایا۔
سفیر ہند کے کسی نامہ نگار نے پادری رجب علی اڈیٹر اخبار مذکور کو اس کا پرچہ دیا۔ مفصل کیفیت اس اخبار مذکور میں شائع ہوئی۔
چند نہر کے بابوؤں نے اڈیٹر اخبار پر غلط بیانی کا مقدمہ دائر کیا۔ ایک عرصہ اس کی تاریخیں پڑتی رہیں۔
مہنت صاحب کچھ دن اس باغ میں رونق افروز رہے۔ لنگر بدستور جاری رہا مگر آخر ہوا اکھڑ گئی۔ پھر وہی بے آبروئی نصیب ہوئی۔
باب ٦ ششم
مولانا محمد حسین بٹالوی کے حضور میں
یہ وہ غریب ہے کہ مسافر وطن میں ہے
دوپہر کا وقت ہے۔ جیٹھ اساڑھ کی دھوپ کہ چیل انڈا چھوڑتی ہے۔ درختوں کے پتوں میں پرندے منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ لو کی تھپیڑ منہ پھیرے دیتی ہے۔ بدن جھلسا جاتا ہے۔ چار پائے گرمی کے مارے زبان نکالے ہانپ رہے ہیں۔ درندہ گڑھوں میں زبان نکالے کانپ رہے ہیں۔ آدمی کیا حیوان بھی دم چراتے ہیں کوسوں کیا منزلوں انسان یا حیوان کا سایہ نظر نہیں آتا۔ بے مارے مرے جاتے ہیں گھر میں بیٹھے العطش العطش کا شور ہے۔ پنکھا ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ پسینا ہے کہ اشک عشاق کی طرح جاری ہے سانس بند ہوا جاتا ہے۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ الامان الحفیظ کا کلمہ جاری ہے۔ زبان پر کانٹے کھڑے ہیں۔ تقریر سے عاری ہے۔ انسان کیا پرندوں کے پر جلتے ہیں۔ پیک خیال قدم نہیں اُٹھاتا۔ قصد رفتار سے چھالے پڑتے ہیں۔
ہیں یہ وقت اور سفر یہ یکہ کیسا آ رہا ہے۔ اللہم احفظنا کچی سڑک اور یہ دھوپ اور ایک مریل ٹٹو مکھی رنگ کا جوتا یکہ والا پیادہ پا ہاں ہاں ٹیخ ٹیخ شتر دپ سانٹا لگا کر ہانکتا ہوا چادر سے منہ چھپائے آ رہا ہے۔ گھوڑا زبان نکالے کتے کی طرح ہونک رہا ہے۔ پسینے میں خوں خوں کرتا دو قدم چلتا ہے۔ اور گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتا ہے۔
٢٩
یکہ والا...... اجی میاں جی دو سواریاں تھوڑی دیر کے واسطے اتر ہی لو ذرا یکہ ہلکا ہو جائے۔ ریت نکل جائے تو پھر بیٹھ جانا۔
سواری...... ارے میاں کرایہ کیا کیا عذاب خرید لیا مقدمہ کر لیا۔ اس سے پیدل چلے آتے تو دن بھلا اور تین کوس
٢...... بھائی: یہ مصیبت بھی یاد رہے۔...... یکہ ایک اونچے ٹیلہ پر چڑھا اور الٹا ایک طرف سے اور ایک اس طرف سے تیسری سواری نے یکہ کا ڈنڈا پکڑا اور جم گیا۔
١...... اللہ
٢...... لاحول ولاقوة الا بالله!
یکہ والا میں تو پہلے ہی کہتا تھا ”صاحب تھوڑی دیر کے لیے اتر لو۔ بچ گئے چوٹ تو نہیں لگی۔
١...... کپڑے جھاڑ کے نہیں خیریت ہے۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیرگزشت۔
٢...... ذرا لنگڑاتے ہوئے اور مٹی جھاڑتے ہوئے بڑی خیر ہوئی یکہ بھی شیطان کا چرخہ ہوتا ہے (یکہ والہ کی طرف جھلا کر) ابے روک۔
یکہ والہ میں نے کیا کہا میاں اور جو میرا یکہ ٹوٹ جاتا یا گھوڑے کے چوٹ آجاتی میں تو پہلے ہی پکار پکار کر کہہ رہا تھا۔ بھائی دو آدمی اتر پڑو۔ پر آپ تو پاؤں کو مہندی لگا کر بیٹھے تھے۔
٣...... (تیسرے سوار جو یکہ میں بیٹھے تھے) میاں ہم نے رات خواب میں دیکھا تھا۔ اس سفر میں ہم کو ضرور تکلیف ہوگی ۔ سو ہونی چاہیے تھی۔ اس کا (یکہ والا) کیا قصور تھا۔
٢...... آمنا وصدقنا آپ کی خواب خلاف تو ہوتی نہیں۔ پہلے شخص کی طرف متوجہ ہو کر شخص صاحب ہم نے بار ہا تجربہ کیا ہے۔ سو بندہ سے ایک خواب بھی غلط نہیں نکلتے ۔ جو فرماتے ہیں۔ وہی ہوتا ہے۔
شخص...... صاحب بے شک جناب بالکل صحیح مومن کا خواب چالیسواں حصہ نبوت کا ہوتا ہے۔
دونوں سوار جو یکہ سے گرے تھے۔ اپنے کپڑے جھاڑ یکہ کے ساتھ ساتھ پا پیادہ چلے اور ایک صاحب جوان عمر بزرگ صورت زرد رنگ آنکھوں میں حلقہ پڑے رخساروں کی ہڈی نکلی ہوئی ۔ چہرہ پر مردنی چھائی ہوئی ۔ رشک پری ہے۔ جوانی مری کی مصداق یکہ میں سوار ہے۔ اور یکہ اپنی اسی رفتار سے آگے روانہ ہوا۔
بزرگوار (یکہ والہ سے) آج تم نے اور تمہارے گھوڑے نے ہم کو سخت تکلیف دی۔
٣٠
یکہ والہ.......حضرت جی سفر میں آرام تو ہوتا ہی نہیں۔ تکلیف ہی ہوتی ہے۔ چلا ہی جاتا ہے آخر گھوڑا بھی جاندار جانور کچھ ریل تو نہیں۔ کچی سڑک دھوپ کی تپش گرمی کی شدت ہماری کیا حالت ہو رہی ہے۔ یہ بیچارہ بوجھ کھینچتا ہے۔
بزرگوار.......بھائی اب تو بوجھ بھی ہلکا ہو گیا۔ ہانکے چل۔ کیا تمام دن دھوپ میں ہی چلائے گا۔
یکہ والہ.......دیکھئے ہانک تو رہا ہوں۔ شڑاپ ساٹا جھاڑ کر ٹچ ٹچ گھوڑے نے پستک جڑی الٰہی خیر۔
شیخ صاحب.......اب تو منزل طے کر چکے ہیں۔ وہ بٹالہ نظر آتا ہے۔ مرزا صاحب آج اس تکلیف کا سبب میں ہوا سخت شرمندہ ہوں۔
مرزا صاحب.......(بزرگوار) نہیں صاحب یہ تکلیف تو مقرر ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو امتحان کے واسطے ابتلاء میں ڈالا کرتا ہے۔ اس کا آپ کے اوپر کیا احسان تھا۔ دین کا کام ہے۔ اور اس عاجز نے تو اپنی زندگی اور جان اور مال کو اس کار کے واسطے وقف کر دیا ہے۔ اب میرا ارادہ یہ ہے کہ مخالف مذاہب والوں سے مناظرہ کر کے حقیقت اسلام کو ثابت کروں۔
شیخ صاحب.......حضرت دنیا میں نام رہ جاتا ہے۔ کوئی نیکی کے ساتھ چھوڑ جائے۔ کوئی بدی کے ساتھ آپ کا ارادہ نہایت مبارک ہے فی زماننا ذرائع اشاعت کافی و وافی ہیں۔ تصنیف و تالیف کے واسطے مطابع اور سفر کے واسطے ریل تھوڑے دنوں میں نزدیک و دور ملک و دیار شہر و امصار میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اور شہرت ہی ہر ایک کار کی عروج اور گرم بازاری کا سبب ہے۔ ہماری یاد میں پنجاب میں فقط ایک کوہ نور اخبار تھا۔ اور اب کتنے ہو گئے۔ اور روز بروز ترقی ہے۔ اب دیکھئے نہ مولوی محمد حسین، مولوی بن کر آیا ہے۔ اپنا مذہب ہی نیا نکال لیا۔ کل ابھی بٹالہ میں اس کو کوئی نہ جانتا تھا۔ اب دلی لاہور۔ امرتسر پنجاب ہندوستان میں مولوی کر کے پکارا جاتا ہے۔
مرزا صاحب.......مولوی محمد حسین ہمارا ہم مکتب ہے۔ ساتھ کھیلے، ساتھ پڑھے اب دہلی جا کر مولوی صاحب بن آئے۔ اب دیکھو گے اسی مسئلہ کی بحث میں جس کے واسطے یہ ان کو کیسا نیچا دکھاتا ہوں۔
شیخ صاحب.......دیکھئے صاحب ہماری تو آپ تک ہی دوڑ تھی۔ اور تھا ہی کون جس کو بلاتے سب بھائیوں نے کہا کہ بھائی مرزا صاحب کو لاؤ۔ وہی اس کو سیدھا کریں گے پس حضرت بندہ درگاہ تو یہ چاہتا ہی تھا۔ فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس تکلیف شاقہ کا باعث ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ حضرت جی تمام محلہ کے آدمی تنگ ہیں۔ دو چار نئے چیلے اور بنا لیے ہیں، نماز پڑھتے ہیں
٣١
کہ مسجد کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ اب بتائیے مسجد چھوڑ دیں یا دین۔ چھوڑ دیں۔ آخر ایک کو جواب ہے۔
مرزا صاحب ...... اس تذکرہ کو چھوڑو۔ قضیہ زمیں بر زمین۔ یہ فرماؤ ٹھہریں گے کہاں۔
شیخ صاحب ...... مکان آپ کے واسطے خالی کیا گیا ہے۔ اس میں قیام فرما کر آرام فرمائیے۔ صبح کو منادی کرا دی جائے گی۔ کہ مناظرہ ہوگا۔ مناظرہ کے واسطے جگہ اور شرائط فریقین کی مرضی پر۔
مرزا صاحب ...... میرے خیال میں یہ مصلحت نہیں کہ اول ہی بساط مناظرہ قائم کر کے پیام دیا جائے۔ یوں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اُن کا ہی مہمان ہوں کیونکہ میرے لنگوٹئے یار ہیں۔ ہم مکتب ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔ اول ان کو دوستانہ طور سے سمجھایا جائے اگر مان لیں۔ فہو المراد ! ورنہ پھر مناظرہ کیا جائے۔
شیخ صاحب ...... بہتر جو آپ کا منشا ہو ہم کو تو اپنے مطلب سے مطلب ہے۔ گڑ دئے سے مر جائے تو زہر کیوں دیں۔
مرزا صاحب ...... بات وہ کیجیے جس میں سانپ مرے اور لاٹھی نہ ٹوٹے سیخ و کباب دونوں رہ جائیں۔ میری ان کی لڑکپن کی ملاقات اور محبت ہے۔ اوّل اوّل ان سے مجادلانہ تقریر اور مخالفانہ مجلس آراستہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ مناظرہ میں بات کی پچ پڑ جاتی ہے۔ سخن پروری حق کو بالکل چھوڑ دیتی ہے۔
یکہ والہ ...... لو صاحب بٹالہ بھی آگیا وہ مکانات بٹالہ کے دکھائی دیتے ہیں۔
فتح خاں ...... ( ملازم مرزا صاحب ) ہاں کوئی دو میل ہوگا یہاں سے۔
شیخ صاحب ...... اچھا تو اب میں رخصت ہوتا ہوں دوسرے راستہ سے شہر میں چلا جاؤں گا۔
مرزا صاحب ...... کیوں یہ کیا۔ کیا ناراض ہو گئے؟
شیخ صاحب ...... نہیں حضرت اگر میں آپ کے ہمراہ گیا۔ تو شہرت ہو جائے گی کہ مرزا صاحب کو مناظرہ کے واسطے لائے ہیں۔ دوسرے راستہ جا کر جن صاحبوں کے مشورہ سے میں قادیان گیا تھا۔ آپ کے ارادہ سے ان کو مطلع کر دوں گا۔ کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔
مرزا صاحب ...... خوب سوجھی۔ واللہ کیا سوجھی آخر کو قانون گو کو دور کی سوجھتی ہے۔
شیخ صاحب تو علیحدہ ہو گئے۔ مرزا صاحب نے آواز دی۔ کہ میاں فتح خان آؤ تم بھی بیٹھ جاؤ۔
فتح خان ...... جی نہیں اب تو منزل قریب آ گئی ہے۔ گھوڑا تھکا ہوا ہے۔ اور حضور کو بھی گرمی کے سبب
٣٢
تکلیف ہوگی۔ میں درختوں کے سایہ میں چلتا ہوں ہوئے۔ اور گلیوں میں کھڑ کھڑ کرتے ایک جگہ یکہ ٹھہرا
مرزا صاحب نے جوتا پہنا اور فتح خان کمر پر ہاتھ رکھ کر السفر سقر لوکان میلا۔ اندر داخل ہو کر ۔ السلام علیکم!
مولوی محمد حسین صاحب نشست میں کـ برکاتہ غور تامل کے بعد آئیے آئیے اور مصافحہ کو ہاتھ
مرزا صاحب ...... آپ نے مجھ کو پہچانا نہیں۔
مولوی صاحب ...... کھڑے ہو کر معانقہ کرتے ہوئـ
یاد ہے جب مجھے وہ شوخ سی صورت آ
یا اللہ العظیم میں نے آپ کو آپ کی کـ مانجھا ڈھیلا عنفوان شباب میں چربی وصد عیب ـ خیریت۔
مرزا صاحب ...... الحمد للہ آپ کا مزاج مصافحہ اور شربت کا گلاس کیوڑا پڑا ہوا سامنے آیا۔ مرزا صاحـ کے حوالہ کیا تھا۔
مولوی صاحب ...... بڑے مرزا صاحب کے مزا
مرزا صاحب ...... خدا کا شکر ہے۔ خیر وعافیت ۔
مولوی صاحب ...... ہاں یاد آیا۔ آپ تو شیخ چلی بـ اور ادخوانی یا کتاب کے اوراق گردانی۔ بھائی صا حال سن کر بہت خوش ہوتا تھا اور خدا کا شکر کرتا تھا
مرزا صاحب ...... بے شک دنیا میں لذت بیـ حکومت کی ہے۔ مگر مشفق عبادت کی لذت خـ دے۔ زہے طالع اور زہے بخت اس شخص کی جنـ
تکلیف ہو گی۔ میں درختوں کے سایہ میں چلتا ہوں۔ کچھ رستہ اور طے کیا بہ خرابی بسیار داخل شہر ہوئے۔ اور گلیوں میں کھڑ کھڑ کرتے ایک جگہ یکہ ٹھہرا فتح خان نے مرزا صاحب کو جوتی نکال کر دی۔
مرزا صاحب نے جوتا پہنا اور فتح خان کا سہارا لے کر یکہ سے اترے اُف پھونک دیا کمر پر ہاتھ رکھ کر السفر سقر لوکان میلا۔ بڑی تکلیف اٹھائی۔ دستک نہ دی دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہو کر۔ السلام علیکم!
مولوی محمد حسین صاحب نشست میں کتاب کا ملاحظہ کر رہے تھے وعلیکم السلام رحمۃ اللہ و برکاتہ غور تأمل کے بعد آئیے آئیے اور مصافحہ کو ہاتھ بڑھایا۔
مرزا صاحب ...... آپ نے مجھ کو پہچانا نہیں۔
مولوی صاحب ...... کھڑے ہو کر معانقہ کرتے ہوئے اوہو
یاد ہے جب مجھے وہ شوخ سی صورت تیری
یا اللہ العظیم میں نے آپ کو آپ کی کلام سے پہلے بالکل نہیں پہچانا۔ میاں یہ جوانی اور مانجھا ڈھیلا عنفوان شباب میں پیری و صد عیب کے مصداق ہو گئے خوب مزاج شریف اور سب خیریت۔
مرزا صاحب ...... الحمد للہ آپ کا مزاج مصافحہ اور معانقہ کے بعد مرزا صاحب کو صدر کی جگہ بٹھایا۔ شربت کا گلاس کیوڑا پڑا ہوا سامنے آیا۔ مرزا صاحب نے غٹ غٹ پیا۔ چوغہ کوٹ اتار کر فتح خان کے حوالہ کیا تھا۔
مولوی صاحب ...... بڑے مرزا صاحب کے مزاج کی کیا کیفیت ہے۔
مرزا صاحب ...... خدا کا شکر ہے۔ خیر و عافیت ہے۔ وہی مزاج جبل گرد و جبلی نہ گرد۔
مولوی صاحب ...... ہاں یاد آیا۔ آپ تو شیخ چلی ہو گئے ہیں۔ سنا کہ چوبارہ سے نیچے نہیں اترتے اور اوراد خوانی یا کتاب کے اوراق گردانی۔ بھائی صاحب مشغلہ تو اچھا ہے۔ خدا توفیق دے میں آپ کا حال سن کر بہت خوش ہوتا تھا اور خدا کا شکر کرتا تھا۔ ہم میں سے ایک شخص اس مذاق کا بھی ہے۔
مرزا صاحب ...... بے شک دنیا میں لذت ہیں تو دو ہیں۔ عبادت یا مجامعت کچھ تھوڑی لذت حکومت کی ہے۔ مگر مشفق عبادت کی لذت خدا کی نعمت اور عنایت ہے۔ جس کو چاہے وہ توفیق دے۔ زہے طالع اور زہے محنت اس شخص کی جس کے حق میں یہ انعام ہو۔ میں نے جب سیالکوٹ
٣٣
کے سلسلہ ملازمت کو ترک کیا ایک سال تو قانون یاد کرنے میں کھویا۔ اور عمر عزیز کو برباد کیا۔ نتیجہ یاس و حرمان کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ یقین مانیں قانون تو میں نے ملازمت کے زمانہ ہی میں رخصت لے کر یاد کیا تھا۔ جب سے میں ملازمت سے علیحدہ ہوا کچھ دنوں والد صاحب مقدمات کی پیروی کے واسطے بھیجتے رہے پھر میں نے گوشہ تنہائی اختیار کیا نو ماہ تک چوبارہ سے سوائے حوائج ضروری کے قدم باہر نہ نکالا دن صوم اور رات صلوٰۃ سے گزاری اب ہفتہ عشرہ سے باہر نکلا ہوں۔ آپ کے ملنے کی طبیعت نہایت مشتاق تھی۔ مگر ہر ایک کام کے واسطے وقت مقرر ہے۔ آج اتفاق ہوا۔
مولوی صاحب ...... میں آپ کی عنایت کا نہایت مشکور ہوں۔ میری آنکھیں ہی آپ کو ڈھونڈتی تھیں۔ دل ملاقات کا خواستگار تھا۔ کئی مرتبہ ارادہ کیا قادیان جا کر آپ سے ملوں۔ مگر ہر بار یہی خبر ملتی رہی۔ کہ آپ عرصہ سے معتکف ہیں۔ کسی سے ملتے نہیں اگر میں جاتا یا آپ کا ہرج ہوتا یا مجھ کو رنج و ندامت کا سامنا کرنا پڑتا۔
مرزا صاحب ...... اب میرا ارادہ بھی قادیان کو چھوڑنے کا اور کسی شہر کے قیام کا ہے۔
مولوی صاحب ...... میری رائے میں بھی یہ امر مصلحت ہے۔ جب آپ کا ارادہ ہو مجھ کو اطلاع دینا اگر لاہور کا قیام پسند کرتے ہیں۔ تو میں آپ کی ہمت کو داد دیتا اور میرا قیام بھی لاہور ہی ہے۔ یہاں اتفاقاً آ جاتا ہوں۔ ہاں مرزا صاحب وہ آپ کے یار عرب کہاں ہیں اس کے کمال کی بڑی تعریف سنی گئی ہے۔ ان کی ملاقات کا تو ہمیں بھی شوق رہا۔ سنا ہے جفر اور رمل میں کامل ہے۔
مرزا صاحب ...... ان کا مجھ کو پتہ نہیں لاہور ہی میں مجھ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ پھر پتہ نہیں لگا کہاں گئے۔ زندہ ہیں یا چل بسے۔
مولوی صاحب ...... چل بسے کون سی گاڑی لدی ہے۔ دنیا نا پائیدار ہے۔ اس کا کیا اعتبار ہے۔ جو آیا دم تو دم ہے۔
اب شام ہو گئی رات کا کھانا مرزا صاحب نے مولوی صاحب کے مکان پر کھایا جس مسئلہ کے بحث کو آئے تھے۔ اس میں گفتگو ہوئی۔ مرزا صاحب کو بھی منظور نہ تھی فیصلہ ہو گیا۔
مرزا صاحب ...... میرا مدت سے ارادہ ایک کتاب جملہ مذاہب غیر اسلام کے رد میں لکھنے کا ہے۔
مولوی صاحب ...... درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست پھر دیر کیا ہے۔ آپ لکھیں اور ضرور لکھیں۔
مرزا صاحب ...... روپیہ کی اشد ضرورت ہے۔ بدون روپیہ کے اشاعت دشوار
مولوی صاحب ...... خدا خود کارساز ما است ارباب توکل را آپ کاروائی شروع کریں۔ اور
٣٤
اخبارات میں شائع کریں۔ میں بھی کوشش کروں گا۔ اور اپنے دوستوں کو تاکید کروں گا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے غیب آتی جائے گی۔ مگر قادیان کے قیام میں بے شک آپ امرت سر کے قیام میں انشاء اللہ نہایت آسانی سے اس کا
باب ٧ ہفتم
سیالکوٹ کا
مرثیہ پڑھ پڑھ مجنون
بازاروں میں دھما چوکڑی مچ رہی ہے۔ چاروں طرف سے ماتم کی آواز آ رہی ہے۔ تعزیہ دار ہے۔ ہمارے ناظرین کہیں گے۔ سیالکوٹ اور محرم اسسٹنٹ کمشنر اور میر قاسم حسین تحصیل دار اور میر مظہر ا دھوم دھام تعزیوں کی کثرت عزاداروں کا ہجوم اور ان محرم کا نقشہ آنکھوں میں پھر گیا۔ جو حسین مظلوم کے ماتمی لباس چہرہ اداس جس گھر میں دیکھو گریہ ہے نہ ننگے پاؤں پھر رہے ہیں۔ کوئی پیک بنا ہوا ہے۔ کسی میں لٹکائے چھن چھن کرتا پینترا بدلتا یہ گیا۔ وہ کیا ہرا عزا کے وقت کی خبر پہنچانا ان کا کام ہے۔ فلاں جا ذاکر حسین صاحب مرثیہ خوانی کے شاگرد لکھنو کے سنائیں گے۔ رات ہو گئی ہے۔ محفل کی تیاریاں برخاست ہوئی دوسری جگہ لوگ اٹھ کر جاتے ہیں یہ
......!
بھائی سماں باندھ دیا۔ مرثیہ خوانی بس کر دیتے ہیں۔
اخبارات شائع کریں۔ میں بھی کوشش کروں گا۔ اور اپنے احباب کو بھی اس بارہ میں کوشش کے واسطے تاکید کروں گا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے جس قدر کتاب شائع ہوتی جائے گی۔ قیمت آتی جائے گی۔ مگر قادیان کے قیام میں بے شک آپ اس کار کو انجام نہیں دے سکتے۔ لاہور یا امرت سر کے قیام میں انشاء اللہ نہایت آسانی سے اس کا سرانجام ہو جائے گا۔
باب ٧ ہفتم
سیالکوٹ کا محرم
مرثیہ پڑھ پڑھ مجنوں کو رلایا چاہیے
بازاروں میں دھما چوکڑی مچ رہی ہے۔ جدھر دیکھو غول کے غول جا رہے ہیں چاروں طرف سے ماتم کی آواز آ رہی ہے۔ تعزیہ داری کی دھوم ہے گلی کوچہ میں تماشائیوں کا ہجوم ہے۔ ہمارے ناظرین کہیں گے۔ سیالکوٹ اور محرم یہ کیا۔ ایک زمانہ تھا کہ میر وزیر علی اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور میر قائم حسین تحصیل دار اور میر مظہر علی سپرنٹنڈنٹ ضلع شیعہ مذہب تھے۔ پھر محرم کی دھوم دھام تعزیوں کی کثرت عزاداروں کا ہجوم اور اژدہام کیوں نہ ہو آج وہ رونق ہے کہ لکھنؤ کے محرم کا نقشہ آنکھوں میں پھر گیا۔ جو حسین مظلوم کے نام سے بھی واقف نہیں وہ عزادار حسین ہے۔ ماتمی لباس چہرہ اداس جس گھر میں دیکھو گریہ ہے زاری ہے شور ہے۔ شوق ہے ہر کہ و مہ برہنہ سر ننگے پاؤں پھر رہے ہیں۔ کوئی پیک بنا ہوا ہے۔ سبز قبا بر سیاہ و سفید بکیا سر، بڑے بڑے گھونگرو کمر میں لٹکائے چھن چھن کرتا پینترا بدلتا یہ گیا۔ وہ گیا ہر ایک مقام پر محفل عزا کا اہتمام ہے۔ انعقاد بزم عزا کے وقت کی خبر پہنچانا ان کا کام ہے۔ فلاں وقت سے فلاں وقت تک وہاں محفل ہو گی۔ میر ذاکر حسین صاحب مرزا دبیر کے شاگرد لکھنؤ کے مرثیہ تحت لفظ پڑھیں گے۔ مرزا عباس علی منور سنائیں گے۔ رات ہو گئی ہے۔ محفل کی تیاریاں چاروں طرف شروع ہو گئی ہیں۔ ایک محفل برخاست ہوئی دوسری جگہ لوگ اٹھ کر جاتے ہیں۔ اور باہم گفتگو ہوتی ہے۔
.......١ بھائی سماں باندھ دیا۔ مرثیہ خوانی بس لکھنؤ والوں کا کام ہے۔ غم کی تصویر مجسم کھڑی ہی کر دیتے ہیں۔
٣٥
جم غفیر اور مجمع سے بازاروں اور گلیوں میں ہے۔ کپڑے پھٹے ہوئے جاتے ہیں۔
چھوٹی سی مسجد آدمیوں کی کثرت سے محشر بنی ٹڈی دل کے مصداق آدمی پر آدمی گرا پڑتا ہے۔ غل ہے ہے۔ مگر سنے کون اپنے اپنے آلاپ رہے ہیں۔ ہلڑ ہی نہیں۔ جو مول لے آئیں یہ آدمی بنے سے آتی ہے
ہجوم طغیانی پر تھا۔ مجلس ختم ہوئی فاتحہ پڑھی گئی۔ تبرک سفیدہ صبح نمودار ہوا۔ تو اپنی اپنی جگہ پر آئے۔ دو پہر
چلے۔ اب چھاؤنی کے بھی تعزیہ نہایت آب و تاب ڈھول بجاتے اکھاڑہ والے اپنی اپنی پھکیتی اور بنوٹ کا ہوئے آگے اور شہر کے دروازہ پر مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اک
بدن سانولہ رنگ سادہ مزاج وضع دیکھو تو ایک معمو میدان میں کود پڑا اور ساتھ ہی پندرہ بیس پٹھے او برابر پڑتے ہیں۔ اور خالی پر پینترا بدلتے ہیں۔ کہ بجلی اچھل کر پھر موجود کبھی گٹکے سے چوٹ کاٹی۔ کبھی شاگردوں کو للکارا خبر دار اور پینترے رسید کیا کسی کی جھلا جھلا کر چوٹ پر چوٹ لگاتے ہیں۔ پھر منہ کی کھاتے پھرتے ہیں۔ آخر سب کا دم ٹوٹ گیا۔ سانس پھو
وہی دم وہی خم ۔ ذرا گٹکے کو ٹیکا میں ہاتھ اڑ گئے۔ سپر و کٹار کے وہ وہ ہاتھ دکھائے۔ لوگ حیران رہ اوپر نشان لگایا۔ اور دو ٹکڑے برابر کر دئے۔ کسی باندھ کر اڑایا۔ تلوار کی دھار سے آنکھوں میں سرمہ
- ......١ یہ ہاتھ کا کرتب نہیں، نظر بندی ہے۔
- ......٢ واللہ یہ تو جادو ہے، بے جادو کے یہ کما
- ......٣ کچھ بھی ہو، ہے کمال۔ کسب کمال کر
جم غفیر اور مجمع سے بازاروں اور گلیوں میں چلنے کو راستہ نہیں ملتا ہے۔ شانہ سے شانہ چھلتا ہے۔ کپڑے لتے ہوئے جاتے ہیں۔
چھوٹی سی مسجد آدمیوں کی کثرت محفل میں جگہ نہیں ملتی نیا نیا چاؤ تازہ تازہ شوق کل جدید لذیذ کے مصداق آدمی پر آدمی گرا پڑتا ہے۔ غل ہے۔ شور ہے۔ مرثیہ خوان گلا پھاڑ پھاڑ کے چلا رہا ہے۔ مگر سنے کون اپنے اپنے آلاپ رہے ہیں۔ ہلڑ ہے نہ محفل تہذیب۔ آدمیت۔ بازار میں بکتی ہی نہیں۔ جو مول لے آئیں یہ آدمی بنے سے آتی ہے آدمی بننا بہت دشوار ہے۔ ایک دریائے بے تمیزی طغیانی پر تھا۔ مجلس ختم ہوئی فاتحہ پڑھی گئی۔ تبرک تقسیم ہوا تعزیہ گشت کے واسطے اٹھائے گئے۔ سفیدہ صبح نمودار ہوا۔ تو اپنی اپنی جگہ پر آئے۔ دوپہر کے قریب پھر تعزیے اٹھائے گئے اور کربلا کو چلے۔ اب چھاؤنی کے بھی تعزیہ نہایت آب و تاب سے دھوم دھڑکہ کے ساتھ تاشی اور ڈھول سے ماتم بجاتے اکھاڑہ والا اپنی اپنی پھکتی اور نیولے کا ہنر دکھاتے آگے آگے مرثیہ خوان گشتی پڑھتے ہوئے آگے اور شہر کے دروازہ پر مٹھ بھیڑ ہو گئی۔ اکھاڑا جما۔ میر ہاد علی ایک سج دھج کا جوان چھریرا بدن سانولہ رنگ سادہ مزاج وضع دیکھو تو ایک معمولی سا انسان اکھاڑے کا استاد گتکا ہاتھ میں لیے میدان میں کود پڑا اور ساتھ ہی پندرہ بیس پٹھے اونچے بنے۔ گتکالے کودے۔ اب دیکھیے بیس گتکے برابر پڑتے ہیں۔ اور خالی پر میر ہاد علی ہیں۔ کہ بجلی کی طرح چمک کر وہ گئے۔ اور چھلاوہ کی طرح اچھل کر پھر موجود کبھی گتکے سے چوٹ کاٹی۔ کبھی بدن کو چورایا اور بچا گئے۔ کبھی پینترا بدلا اور شاگردوں کو للکارا خبردار اور ترے رسید کیا کسی کی پگڑی اور کسی کی ٹوپی اڑائی۔ اب شاگرد ہیں کہ جھلا جھلا کر چوٹ پر چوٹ لگاتے ہیں۔ پھر منہ کی کھاتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ سے گتکا ندارد ہے اور کسی کے چکر ہے۔ آخر سب کا دم ٹوٹ گیا۔ سانس پھول گئی مگر وہ شیر (استاد) اس طرح تازہ دم ہے۔ وہی دم وہی خم۔ ذرا گتکے کو ٹیکا میں ہاتھ اڑ گئے۔ شور اٹھا۔ واہ رے اُستاد کمال کرتا ہے۔ پھر بنوٹ سیف و کٹار کے وہ وہ ہاتھ دکھائے۔ لوگ حیران رہ گئے پھر سیف سنبھالی۔ اس کے ہاتھ نکالے لیموں پر نشان لگایا۔ اور دو ٹکڑے برابر کر دئے۔ کسی کے ناک پر مرچ کو رکھ کے کاٹا کوڑے کو بال میں باندھ کر اڑایا۔ تلوار کی دھار سے آنکھوں میں سرمہ لگایا شور اُٹھا۔
- ١...... یہ ہاتھ کا کرتب نہیں، نظر بندی ہے۔
- ٢...... غالباً یہ تو جادو ہے، بے جادو کے یہ ممکن ہی نہیں۔
- ٣...... کچھ بھی ہو، ہے کمال۔ کسب کمال کن کہ عزیز جہان شوی۔
٣٧
چار پانچ گھنٹہ یہ ہنگامہ رہا۔ شام کے قریب امام صاحب (کر بلا جہان تعزیہ دفن ہوتے ہیں) میں تعزیہ پہنچے۔ گڑھا کھودا گیا۔ اور تعزیہ دفن کئے گئے۔ اس موقع پر امام صاحب کا عرس ہوتا ہے۔ کچھ محرم کی دھوم کچھ میلہ کا ہجوم قابل دید تھا۔ نہ لائق شنید کوسوں تک آدمی ہی آدمی تھا۔
باب ہشتم
مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا دربار
ایک بزرگ، خضر صورت، فرشتہ خصلت، سرخ و سفید رنگ، لال لال بڑی بڑی ہرن کی سی آنکھیں۔ نورانی چہرہ رعب دار۔ سفید ریش، کشیدہ قامت حب دنیا سے دل خالی یاد الٰہی میں سر گرم دنیا سے ہاتھ اٹھائے ہے۔ خدا سے لو لگائے۔ ایک مسجد میں مصلیٰ بچھائے ممبر سے سہارا لیے بیٹھا ہے۔ ارد گرد صوفیاء اور طلباء کا مجمع ہے۔ ہر امیر و غریب حلقہ کئے ہوئے جیسے چاند کے گرد ہالہ بنائے بیٹھے ہیں۔ کوئی حدیث کا درس لیتا ہے۔ کوئی قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے کسی طرف متوجہ ہوئے ہر ایک استفسار حال فرما کر سائل کا جواب دے رہے ہیں۔ کوئی کسی مسئلہ میں استفتا کرتا ہے۔ کوئی حاجت روائی کی دعا مانگتا ہے۔ ہر ایک کو جواب باصواب دے کر تشفی فرماتے ہیں۔ مؤذن نے نماز عصر کی اذان دی۔ صدائے اللہ اکبر کی آواز سنتے ہی سب اپنا اپنا کام چھوڑ کر کتابوں کو طالب علم غلاف کر کے نماز کے واسطے آمادہ ہو گئے۔ وضو کی تیاریاں کرنے لگے۔ اقامت کہی گئی۔ جماعت کے ساتھ نماز ادا ہوئی بعد الفراغ نماز و دعا پیر مرد (بزرگ موصوف) نے کچھ کلمات بطور وعظ زبان فیض ترجمان سے فرمائے کچھ دیر قال اللہ وقال الرسول کا ذکر رہا پھر صحن مسجد میں بطور چہل قدمی ٹہل رہے تھے۔ ایک مسافر تازہ وارد قطع وضع سے جو متوسط درجہ کا انسان معلوم ہوتا تھا۔ وارد ہوا۔
مسافر ....... سلام علیکم!
بزرگ ....... وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
مسافر نے آفتابہ پانی کا لیا۔ وضو کر کے نماز ادا کی۔ ایک گوشہ مسجد میں بیٹھ گیا۔
اخون صاحب ....... (وہی بزرگ) فارسی زبان میں (جو ان کی مادری زبان تھی) تم مسافر معلوم ہوتے ہو۔
مسافر ....... حضرت کا قیاس درست ہے۔ بظاہر تو ہمارے پاؤں کے آبلے ہی پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مسافر ہیں۔
اخون صاحب ....... آپ کا کیا نام ہے اور کہاں رہتے ہیں۔
مسافر ....... مجھے غلام احمد کہتے ہیں۔ اور گورداسپور کے ضلع میں ایک موضع قادیان ہے وہاں رہتا ہوں۔
٣٨
اخون صاحب ....... یہاں کس تقریب سے آنے کا
مرزا صاحب ....... (مسافر) حضرت کی توجہ باطنی ا کے اوصاف حمیدہ سنتا تھا۔ قدم بوسی کا مشتاق تھا ا امید بر آئی۔ مراد پوری ہوئی۔
اخون صاحب ....... میں کیا اور میرے اوصاف کیا میرے خیال میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں۔ ان اکرمکم مجھ کو اور آپ کو اور سب مسلمان بھائیوں کو تقویٰ کی
حاضرین جلسہ آمین ! آمین ! آمین
مرزا صاحب ....... میں مدت سے حضرت کی ملاقات
اخون صاحب ....... جزاکم اللہ آپ کیا کام کرتے
مرزا صاحب ....... میرے والد میرزا غلام مرتضیٰ سیالکوٹ میں ملازم تھا۔ تنخواہ قلیل تھی اوقات وکالت کا امتحان دیا۔ تقدیر سے اس میں بھی ناکا
اخون صاحب ....... اگر دنیا نباشد دردمندیم و گر بر نیست کہ رنج خاطر است۔ آپ مرزا صاحب کے صاحب زاد ہے۔ اگر قناعت ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی میں برکت
مرزا صاحب ....... میرا ارادہ نوکری وغیرہ کا رجوعات اور فتوحات کی دعا کا خواستگار ہوں۔
اخون صاحب ....... اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اراد پورا کرے۔ خدا کا فضل ہے۔ اگر نیک نیتی سے کا
مرزا صاحب ....... میرا قصد ہے کہ میں مخالفی کتابیں لکھوں۔ اثبات حقیقت اسلام و کتاب اللہ وس اسی شغل و اشغال میں بسر کروں۔
اخون صاحب ....... جزاك الله ! اچھا عزم ہ
اخون صاحب ...... یہاں کس تقریب سے آنے کا اتفاق ہوا۔
مرزا صاحب ...... (مسافر) حضرت کی توجہ باطنی کی کشش یا تصرف ہے۔ ایک مدت سے حضرت کے اوصاف حمیدہ سنتا تھا۔ قدم بوسی کا مشتاق تھا۔ مکروہات زمانہ حارج کار تھیں۔ آج بفضلہ تعالیٰ امید بر آئی۔ مراد پوری ہوئی۔
اخون صاحب ...... میں کیا اور میرے اوصاف کیا آخر میں بھی اس کا ایک بندہ ہوں۔ جیسے کہ تم ہو میرے خیال میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم میں تو گناہ گار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اور آپ کو اور سب مسلمان بھائیوں کو تقویٰ کی توفیق دے دے۔
حاضرین جلسہ آمین! آمین!! آمین!!!
مرزا صاحب ...... میں مدت سے حضرت کی ملاقات کی آرزو رکھتا تھا۔ آج حسن اتفاق سے میسر آئی۔
اخون صاحب ...... جزاکم اللہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔
مرزا صاحب ...... میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب رئیس قادیان زمین دار ہیں۔ میں پہلے ضلع سیالکوٹ میں ملازم تھا۔ تنخواہ قلیل میں اوقات بسری نہیں ہوتی ہے۔ استعفیٰ دیا قانون یاد کیا۔ وکالت کا امتحان دیا۔ تقدیر سے اس میں بھی ناکامی رہی۔
اخون صاحب ...... اگر دنیا نباشد درد مندیم وگر باشد بمہرش پائی بندیم بلائے ایں جہاں آشوب برنست کہ رنج خاطر است۔
آپ مرزا صاحب کے صاحب زادہ ہیں۔ وہ تو ایک رئیس آدمی ہیں۔ گھر کام ہی بہت ہے۔ اگر قناعت ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی میں برکت دے گا۔ اب کیا ارادہ ہے۔
مرزا صاحب ...... میرا ارادہ نوکری وغیرہ کا تو ہے ہی نہیں۔ توکل پر گزارہ کرنا چاہتا ہوں۔ رجوعات اور فتوحات کی دعا کا خواستگار ہوں۔ دعا فرمادیں۔
اخون صاحب ...... اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے ارادہ میں ثابت قدم رکھے اور برکت دے تم گھر کے رئیس ہو۔ خدا کا فضل ہے۔ اگر نیک نیتی سے کام لو تو خدا اسی میں برکت دے گا۔
مرزا صاحب ...... میرا قصد ہے کہ میں مخالفین اسلام کے جملہ مذاہب کے رد اور ابطال میں کتابیں۔ اثبات حقیقت اسلام و کتاب اللہ وسنت خیر الانام لکھ کر شائع کروں۔ بقیۃ العمر کا حصہ اپنا اسی شغل اور اشغال میں بسر کروں۔
اخون صاحب ...... جزاک اللہ! اچھا عزم ہے۔ اللہ تعالیٰ نیت خیر کی توفیق دے۔ اور برکت عطا
٣٩
فرمائے۔ آپ کو کیا مشکل ہے۔ عنایت ایزدی سے صاحب اقتدار ہو۔ اور جب یہ کارخانہ چل پڑے گا۔ تو چنداں بار بھی تم پر نہ پڑے گا۔ ایسی کتابوں کے خریدار اب اس گئے گزرے زمانہ میں بھی اسلام کی قدر کرتے ہیں۔ اپنا خرچ وہ آپ نکال سکتے ہیں۔ درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست ...... اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حمایت کا قرآن پاک میں وعدہ فرمایا ہے۔
مرزا صاحب ...... یہ ارشاد تو بجا ہے۔ مگر ابتداء میں اس کار کے واسطے روپیہ کی اشد ضرورت ہے۔ اور روپیہ معلوم اور اس کا انتظار دشوار جائیداد بالکل رہن مکفول ہے۔ اگر خدانخواستہ والد ماجد کی اب آنکھیں بند ہو جائیں تو اغلباً تمام جائیداد بیع فروخت کے کرنے پر بھی بار قرضہ سے سبک دوش ہونا قرین قیاس نہیں۔ والد صاحب کی پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ ہوا ہے۔
اخون صاحب ...... بہر کاریکہ ہمت بستہ گردد اگر خاری بود گلدستہ گردد
اس عرصہ میں شام ہو گئی آفتاب غروب ہوا۔ مؤذن نے اذان دی۔ مغرب کی نماز جماعت سے ادا ہوئی۔ اخون صاحب اور مریدان با اخلاص ورد وظائف میں مصروف ہوئے۔ کوئی مراقبہ میں بیٹھا تھا۔ کوئی ذکر و اذکار میں مشغول تھا۔ طالب علم چراغ کی روشنی میں اپنا اپنا سبق یاد کر رہے ہیں۔ کھانا آیا سب نے مل کر کھایا عشاء کی نماز کے بعد اخون صاحب اندر زنان خانہ میں تشریف لے گئے۔ مرزا صاحب کے واسطے بسترہ وغیرہ کا انتظام کیا گیا۔ رات کو آرام کیا۔ صبح کے وقت نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوئی اخون صاحب نے دعا سے فارغ ہو کر وعظ کے طور پر کچھ بیان فرمایا فاصبر ان وعد الله حق و استغفر لذنبك و سبح بحمد ربك بالعشى و الابکار اس آیت میں صبر اور استغفار اور تسبیح اور تحمید کے واسطے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کے علاوہ بہت جگہ صبر اور تقویٰ اور استغفار اور تسبیح اور تحمید کے واسطے فرمایا ہے۔ جیسا کہ یوفی الصابرون اجرهم بغير حساب حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن ترازو کھڑی کی جائے گی اور ہر ایک عمل کا بدلہ تول کر دیا جائے گا مگر صبر کرنے والوں کو اجر بے حساب دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ پورا دیا جائے گا ثواب بے شمار اور استغفار کے فضائل احادیث میں بہت بیان ہوئے ہیں حضرت رسول کریم ﷺ دن میں سو بار استغفار پڑھا کرتے تھے۔ بندہ ہر دم قصور وار ہے اپنے حالات کے موافق ہر شخص کو استغفار پڑھنی چاہیے۔ استغفار کے معنی طلب بخشش کے ہیں اور وہ کبھی متضمن توبہ ہوتی ہے۔ اور کبھی نہیں جیسا کہ کہا جاوے تو بہ استغفار کرو اور استغفار زبان سے ہوتی ہے۔ اور تو بہ دل سے اور توبہ کے معنی ہیں پھرنا گنا
٤٠
ہوں سے طرف اطاعت کے اور غفلت سے طرف ذکر اللہ کے بندہ کے لیے یہ ہے کہ دنیا میں اس کے گناہوں میں پردہ پوشی کرتا ہوں اسے فرما کر اس کی گناہوں پر عذا اور نبی کریم ﷺ کو فرمایا کہ صبر کر اپنی قوم کے ایذاء پر ا تیری مدد کرنے کا تیرے بول ماننے کا اور تیرے دشمنوں کہ زیادہ ہو بسبب اس کے درجہ اور قرب حضرت کا اور یـ ہے کہ بخشش مانگ اپنی امت کے گناہوں کے لیے، حد کہ میرے دل پر ایک پردہ سا آجاتا ہے۔ اس میں بخـ اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ استغفار حضرت ﷺ کے وا بموجب حکم اللہ تعالیٰ توبو الی الله جمیعاً کی بحیثیت حال و مرتبہ اپنے مرتبہ کے گناہ اور چوک سے گناہوں گزشتہ سے توبہ کرے اور بخشش چاہے۔ اور آ استغفار کا ورد کرے تا کہ کفارہ ہوتا رہے تمام گناہوں کـ بسبب شومی گناہوں کے توفیق اطاعت سے محروم نہ رہـ نہ لے اور کفر اور دوزخ کو نہ پہنچ جائے ، حدیث شریف فرمایا رسول اللہ ﷺ من لزم الاستغفار جعل اللـ هم فرجا و رزقه من حيث لا يحسب یعنی جو اس کے واسطے ہر تنگی سے راہ نکلنے کی اور ہر غم سے خلاصی نہیں رکھتا۔ اور دوسری جگہ فرمایا طوبی لمن وجد فی صحیفـ پائے اپنے اعمالنامہ میں استغفار بہت اور یہ فضیلت استغفار کی تو اس کا دلی تعلق اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے اور متوکل میں آجاتا ہے۔ اور اس کی شان میں اللہ تبارک ومن يتق الله يجعل له مخرجا و يتوكل على الله فهو حسبه ترجمہ جو ڈرتا ہے ایک تنگی سے اور رزق دیتا ہے اس کو اس جگہ سے جہاں
٤١
ہوں سے طرف اطاعت کے اور غفلت سے طرف ذکر کے اور غیبت سے طرف حضور کے اور بخشش اللہ کے بندہ کے لیے یہ ہے کہ دنیا میں اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کر کے رسوا نہ کرے اور آخرت میں پردہ پوشی گناہوں سے فرما کر اس کی گناہوں پر عذاب نہ کرے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اور نبی کریم ﷺ کو فرمایا کہ صبر کر اپنی قوم کے ایذاء پر وعدہ اللہ کا یعنی تیرے پروردگار کا سچا ہے یعنی تیری مدد کرنے کا تیرے بول ماننے کا اور تیرے دشمنوں کے ہلاک کرنے کا یہ حکم بخشش مانگنے کا فرمایا کہ زیادہ ہو بسبب اس کے درجہ اور قرب حضرت کا اور سنت ہو امت کے واسطے اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ بخشش مانگ اپنی امت کے گناہوں کے لیے، حدیث میں آیا ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ میرے دل پر ایک پردہ سا آ جاتا ہے۔ پس میں بخشش مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ سے دن میں ستر بار، اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ استغفار حضرت ﷺ کے واسطے زیادتی قرب حق میں وارد ہے۔ بھائیو بموجب حکم اللہ تعالیٰ توبو الی الله جمیعاً کہ ہر بندے پر واجب ہے۔ کیونکہ ہر ایک شخص بحیثیت حال و مرتبہ اپنے مرتبہ کے گناہ اور چوک سے خالی نہیں۔ پس ہر ایک کو لازم ہے۔ کہ تمام گناہوں گزشتہ سے توبہ کرے اور بخشش چاہے۔ اور آئندہ کو تمام گناہ ترک کرے۔ اور صبح شام و استغفار کا ورد کرے تا کہ کفارہ ہوتا رہے تمام گناہوں کبیرہ وصغیرہ کا قصداً کئے ہوں یا خطا یا سہوا اور بسبب شومی گناہوں کے توفیق اطاعت سے محروم نہ رہے اور ظلمت اصرار گناہ پر دل کو بالکل گھیر نہ لے اور کفر اور دوزخ کو نہ پہنچ جائے، حدیث شریف میں استغفار کے فائدے بہت آئے ہیں۔
فرمایا رسول اللہ ﷺ من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا و من كل هم فرجا و رزقه من حيث لا يحسب یعنی جو کوئی لازم کرے استغفار کو بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے واسطے ہر تنگی سے راہ نکلنے کی اور ہر غم سے خلاصی اور روزی دیتا ہے اس کو اس جگہ سے کہ گمان نہیں رکھتا۔ اور دوسری جگہ فرمایا طوبی لمن وجد فی صحیفتہ استغفاراً کثیراً یعنی خوشحالی اس کے لیے ہے کہ پائے اپنے اعمالنامہ میں استغفار بہت اور یہ فضیلت اس لیے ہے۔ کہ جو کوئی مداومت کرتا ہے استغفار کی تو اس کا دلی تعلق اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ اور بخشے جاتے ہیں گناہ اس کے اور حکم متقی اور متوکل میں آ جاتا ہے۔ اور اس کی شان میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے۔
ومن يتق الله يجعل له مخرجا و يرزقه من حيث لا يحتسب و من يتوكل على الله فهو حسبه ترجمہ جو ڈرتا ہے اللہ سے گردانتا ہے اس کے لیے نکلنے کی ہر ایک تنگی سے اور رزق دیتا ہے اس کو اس جگہ سے جہاں سے گمان نہ ہو اور جو اعتماد کرتا ہے۔ اللہ پر
٤١
بس وہ کافی ۔ اور غرض ہماری اس بیان سے یہ ہے کہ صبر اور تقویٰ اور توکل جس کو حاصل ہو جائے اس کے واسطے اللہ کافی ہے۔ اور استغفار کی مداومت سے یہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اور اس کا کوئی کام نہیں رہتا۔ جو دنیا چاہے گا اللہ تعالیٰ دنیا دے گا۔ اور جو آخرت چاہے گا اس کو آخرت دے گا۔ اور دنیا میں بھی برکت دے گا۔ من كان يريد حرث الاخرة نزد له في حرثه و من كان يريد حرث الدنيا نوته منها و ما له في الاخرة من نصيب
مرزا صاحب کی طرف متوجہ ہو کر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور اس کے توکل سے جنگل مارنا اس سے بہتر کوئی عمل کوئی وظیفہ فتوحات اور رجوعات کے واسطے نہیں۔
سورج نکل آیا چار رکعت نماز نفل پڑھ کر زنان خانہ میں تشریف لے گئے مرزا صاحب رخصت ہوئے۔
باب ٩ نہم
لاہور کی چنیاں والی مسجد
مسجد کے صحن میں چند اصحاب صالح صورت نیک سیرت علماء و فضلاء کا مجمع ہے۔ ان کی قیل وقال اور صورت وحال سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ سب حمایت اسلام اور ترقی دین مبین کے کام میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔ ایک طرف مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی تشریف رکھتے ہیں۔ ان کے برابر مرزا غلام احمد صاحب قادیانی رونق افروز ہیں۔ ارد گرد دائیں بائیں سامنے اور بہت سے اصحاب جمع ہیں کچھ عالم معلوم ہوتے ہیں۔ کچھ طالب علم۔
مرزا صاحب کچھ اخبار سا دیکھ رہے ہیں۔ ایک اشتہار پر نظر پڑی۔ کسی دوائی کی تعریف میں کالم کے کالم سیاہ۔ خدائی کا دعویٰ مسیحائی معجزہ کا ادعا بیمار کا اچھا ہونا تو کیا ایک معمولی بات ہے۔ صد سالہ مردہ ایک قطرہ منہ میں ڈالنے سے زندہ ہو جائے۔ اگر زندہ کھالے موت کے ذائقہ سے کبھی آگاہی نہ ہو۔ مسکرا کر مولوی صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔ کمال کیا ہے۔ کوئی لفظ اور کلمہ تعریف کا باقی نہیں چھوڑا۔
مولوی صاحب...... آپ نے ایک اشتہار دیکھ کر حیرانی ظاہر کی ہے۔ جناب کوئی اخبار اور کتاب آپ نہ دیکھیں گے۔ جس میں کسی نہ کسی شے کا اشتہار نہ ہو۔ پہلے انگریزی کارخانوں میں یہ دستور تھا۔ اب نئی تعلیم کا اثر ہندوستان میں ہو گیا ہے۔ اُردو اخباروں کی روز بروز ترقی ہے۔ اور تہذیب
٤٢
کے ساتھ لوگ گرہ کترتے ہیں۔
مرزا صاحب...... یہ لیجیے یہ کتاب کا اشتہار ہے۔ اب ذرا ملاحظہ فرمائیے۔ تعریف کے پل باندھ دیے ہیں۔ آدم سے تا ایں دم کوئی ایسی کتاب نہیں ہوئی۔ اور نہ آئندہ ممکن قلم توڑ دئے ہیں۔ اب فرمائیے اب اس کے بعد کوئی کیا لکھ سکتا ہے۔ لوگ جھوٹ بولتے ہوئے خدا سے بھی نہیں شرماتے۔
مولوی صاحب...... حضرت ابھی کیا ہے۔ چند روز لاہور میں قیام رہا تو آپ واقف ہو جائیں گے۔ دنیا کمانے کے ڈھنگ ہیں تہذیب کا زمانہ ہے۔ تعلیم کی وجہ سے ہر شخص اپنے فطری جوش کی ترقی کر سکتا ہے نیک نے نیکی کی بد نے بدی کی۔
مرزا صاحب...... ہنس کر یہ لیجیے یہ ایک نئے مضمون کا اشتہار ہے۔ ہم کو آلو خریدنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص آلو فروخت کرنا چاہے۔ پاؤ سیر آلو نمونہ کے اور نرخ ہمارے پاس بھیج دے۔ جس کے آلو سب سے بڑے ہوں گے نرخ کے مطابق خریدے جائیں گے۔
مولوی صاحب...... دیکھا اس میں مشتہر نے کیا چالاکی کی ہے۔ ہزار ہا آدمی نمونہ بھیج دیں گے۔ ان کے پاس کئی من آلو جمع ہو جائیں گے۔ ایک سے خرید لیے تو کیا۔
مرزا صاحب...... لوگوں کو خوب دور کی سوجھتی ہے۔
مولوی صاحب...... آپ نے جو اشتہار براہین احمدیہ کا شائع کرایا ہے۔ کچھ درخواستیں خریداری کی آپ کے پاس آئیں۔
مرزا صاحب...... ابھی تک کچھ نہیں (کیا آلوؤں سے بھی گر گئی) میرا ارادہ ہے کہ میں ایک اشتہار شائع کروں۔ کہ یہ کتاب ایسی لاجواب ہو گی۔ اگر کوئی شخص اس کا جواب لکھے گا۔ اس کو ہم دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔
مولوی صاحب...... اگر آپ کے خیال میں وہ کتاب ایسی ہے۔ تو پھر یہ اشتہار کس دن کے واسطے رکھ چھوڑا ہے۔ کار امروز را بہ فردا مگذار۔ اور دیگر اصحاب جلسہ کی طرف خطاب کر کے آپ صاحب بھی اس کار خیر میں سعی فرمادیں۔ اور امداد کریں۔ سب صاحبوں نے وعدہ کیا اور جلسہ برخاست ہوا۔
اب مرزا صاحب کا لاہور میں قیام ہے اور مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب کا ربط ضبط بڑھا ہوا ہے۔ اور منشی الہی بخش اکاؤنٹ اور بابو عبدالحق صاحب اور حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار وغیرہ وغیرہ معاونین ہیں عمائد شہر کی آمد رفت شروع ہو گئی ہے۔ مشورے ہوتے ہیں۔ تدبیریں کی جاتی ہیں۔ کبھی آریوں سے مباحثہ کی چھیڑ چھاڑ ہے کبھی عیسائیوں کو ھل من مبارز کی صدا سنائی جاتی
٤٣
ہے۔ کبھی سکھوں کو مقابلہ کے واسطے ڈانٹتے ہیں۔ کوئی گھر کوئی جگہ نہیں۔ کہ جس جگہ مرزا صاحب کا ذکر نہیں۔ ہر گلی کوچہ بازار میں مرزا صاحب ہی مرزا صاحب ہیں۔ کہیں مناظرہ کا تذکرہ، کہیں حمایت اسلام کا بیان، کہیں زہد و تقویٰ عبادت و ریاضت کا اظہار ہے۔ کوئی وقت مرزا صاحب کو دربار داری سے فراغت نہیں۔ یہ گیا وہ آیا۔ دس بیس کا ہر وقت جم گھٹا لگا رہتا ہے۔ مرزا صاحب کسی سے جواب کا بیان فرمارہے ہیں۔ اور کس کو الہام سنارہے ہیں۔
مولوی محمد حسین صاحب والہی بخش صاحب و بابو عبدالحق صاحب وغیرہ آپ کی مدح میں رطب اللسان ہیں۔ ان کی مدح سرائی سونے پر سہاگہ کا کام کر رہی ہے۔
ہر وقت میلہ لگا رہتا ہے۔ آریوں کا سلسلہ نیا ہی نیا ہے اور آریہ سماج تیار ہوتے ہیں۔ مسٹر عبداللہ آتھم پٹشن لے چکے ہیں۔ لیڈر قوم کہلانے کے نام پر مٹے ہوئے ہیں۔ اور سکھوں کی طرف سے بھی کوئی نہ کوئی واعظ شام کو بازار میں آجاتا ہے۔ مرزا صاحب ہیں ۔ کہ آج نراین سنگھ سے جا ڈٹے ہیں۔ کل کسی پادری سے جا ٹکرائے آج کسی آریہ سے منہ بہ منہ ہو گئے کچھ دن یہ چرچا رہا وکیل اسلام کے نام سے نامزد ہو گئے۔ اور اشتہارات سلسلہ بھی جاری ہو گیا ہے۔ کہیں منشی اندرمن مراد آبادی کو ڈانٹ بتلائے جاتے ہیں۔ کہیں فلاسفروں کو للکارتے ہیں۔ کبھی عیسائیوں کبھی دہریوں کو بلایا جاتا ہے کبھی کسی نیچری کو سمجھایا جاتا ہے۔ کہیں براہین احمدیہ کا اشتہار ہے کہیں سرمہ چشم آریہ کا مژدہ۔
براہین احمدیہ کا اشتہار جاری کیا گیا کہ میں اسلام کا وکیل بن کر کل ادیان باطلہ کی مباحثہ کروں گا ہندو عیسائی ۔ یہود۔ آریہ۔ سکھ وغیرہ وغیرہ پر اسلام کی حقیقت اور قرآن کے الہام الہی ثابت کرنے کے بارہ میں میں نے کتاب تصنیف کی ہے۔ اس کتاب میں سو دلائل عقلی جو قرآن سے نکالے گئے ہیں شائع کرنے ہیں۔ اور یہ کتاب سو جزو کی ہوگی۔ اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔
پھر اس کے ساتھ یہ اشتہار بڑے جلی قلم سے لکھ کر لگا دیا۔ کہ مخالفین سے جو شخص اس کتاب کا جواب دے گا۔ اس کو دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔
یہ اشتہار کیا تھا۔ گویا جادو کی پڑیا تھی۔ اور براہین احمدیہ کی پہلی جلد معہ اشتہار ہے۔ اس اشتہار کے پڑھتے ہی مسلمان نہایت گرویدہ ہوئے۔
بسا کین دولت از گفتار خیزد
کی مصداق نادیدہ اس کے عاشق زار اور مشتاق دیدار کیا والہ وشیداء ہو گئے۔
٤٤
باب ١٠
ہر آنکہ زاد بنا چار بایدش نوشید ز جام
ایک پختہ اینٹوں کی عمارت دومنزلہ کا مکان کیا جاتا ہے۔ کہ مالک اس مکان کا اس گاؤں یا قصبہ کا نشست کا مکان بنا ہوا ہے۔ آگے ایک وسیع دالان کے آگے دالان کے وسط میں ایک چارپائی بچھی ہوئی کے بیچ میں سے ایک تختہ اور کٹا ہوا ہے۔ اور اس کے ہے کہ یہ چوکی واسطے رفع حاجت ضروری کے رکھی ضعیف العمر، سفید چادر اوڑھے ہوئے پڑا ہے۔ سر دوسری چار پائی پر پاس بیٹھے ہیں۔ ایک شخص اجنبی باہ
تیمار دار ....... جو پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وعلیکم السلام چادر اٹھائی آنے والے کی طرف دیکھ کر۔
بیمار ....... غلام احمد بیٹا آگئے خیر وعافیت ، خط پہنچ گیا تھ
نو وارد ...... نہیں خط تو نہیں پہنچا۔ میں نے آپ کو خواب
بیمار ...... ہاں مجھ کو پیچس نے ہلاک کر دیا۔ اب کل ہے۔ عمر بگذشت و نماند ست جز ایامی چند کہ دریا در جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے قطب وقت یا غوث ہوتا۔ دنیا کی بے ہودہ خرچوں وقت قریب ہے۔ اب جو دم ہے دم واپسیں ہے (ا
نو وارد ....... (بیمار یعنی اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر اور نی جوان آدمی کو ضعیف بنا دیتا ہے اور آپ کا تو مقتض صحت ہوتے ہی پھر طاقت عود کر آئے گی۔
باپ یعنی بیمار۔ ایک آہ کھینچ کر
دعا کرو شب فرقت
٥
باب١٠ وہم
ایک پختہ اینٹوں کی عمارت دومنزلہ کا مکان ہے۔ جو اس جگہ کی آبادی کی لحاظ سے خیال کیا جاتا ہے۔ کہ مالک اس مکان کا اس گاؤں یا قصبہ کا رئیس ہے۔ زنان خانہ کے قریب ایک مردانہ نشست کا مکان بنا ہوا ہے۔ آگے ایک وسیع دالان ہے اس کے پیچھے کوٹھا ہے۔ کوٹھے کے دروازہ کے آگے دالان کے وسط میں ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے۔ چارپائی کے قریب ایک لکڑی کی چوکی جس کے بیچ میں سے ایک تختہ گول کٹا ہوا ہے۔ اور اس کے نیچے ایک برتن رکھا ہوا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چوکی واسطے رفع حاجت ضروری کے رکھی ہوئی ہے۔ چارپائی پر ایک شخص سفید ریش، ضعیف العمر، سفید چادر اوڑھے ہوئے پڑا ہے۔ سرہانے ایک خادم پنکھا ہلا رہا ہے۔ اور چند آدمی دوسری چارپائی پر پاس بیٹھے ہیں۔ ایک شخص اجنبی باہر سے آ کر اندر داخل ہو کر اسلام علیکم۔
تیماردار ...... جو پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وعلیکم السلام غلام احمد تم آ گئے یہ سن کر بیمار نے منہ پر سے چادر اٹھائی آنے والے کی طرف دیکھ کر۔
بیمار...... غلام احمد بیٹا آ گئے خیر و عافیت، خط پہنچ گیا تھا۔
نو وارد...... نہیں خط تو نہیں پہنچا۔ میں نے آپ کو خواب میں بیمار دیکھا تھا۔
بیمار...... ہاں مجھ کو پیچش نے ہلاک کر دیا۔ اب کل سے کچھ افاقہ ہے افسوس دنیا بہت ناپائیدار ہے۔ عمر بگذشت و نماندست جز ایامی چند کہ در یاد کسے صبح کنم شامی چند سخت حسرت کا مقام ہے جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے۔ اگر میں وہ سعی دین کے لیے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث ہوتا۔ دنیا کی بے ہودہ خرچوں کے لیے میں نے عمر ناحق ضائع کی۔ اب ہمارا وقت قریب ہے۔ اب جو دم ہے دم واپسین ہے (اپنی نبض پر ہاتھ رکھ کر ) ضعف بہت ہو گیا ہے۔
نو وارد...... (بیمار یعنی اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر اور نبض دیکھ کر ) ہاں ضعف تو ہونا چاہئے تھا۔ یہ مرض جوان آدمی کو ضعیف بنا دیتا ہے اور آپ کا تو مقتضائے سن ہے۔ مگر اب افاقہ ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ صحت ہوتے ہی پھر طاقت عود کر آئے گی۔
باپ یعنی بیمار۔ ایک آہ کھینچ کر؎
دعا کرو شب فرقت کہیں سحر ہووے
٤٥
یہ تو اب امید نہیں کہ طاقت عود کرے۔ خیر جو اس کو منظور ہے وہ کرے مگر اس تکلیف سے تو نجات دے۔
بیٹا...... آپ گھبراتے کیوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ شافی مطلق ہے۔ اس کے نزدیک کوئی بات انہونی نہیں ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔
باپ....... اچھا تم سفر سے آئے ہو گرمی کا موسم ہے۔ تھوڑی دیر جا کر آرام کرلو۔
بیٹا...... بہت بہتر کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور ایک چوبارہ پر چڑھ کر آرام کیا۔ آنکھ لگ گئی۔ شام کو اُٹھ کر پھر باپ کی تیمار داری میں مصروف ہو گیا اگلے دن باپ نے وفات پائی۔ رسوم کے موافق تجہیز و تکفین کر کے متوفی کی وصیت کے مطابق مسجد کے گوشہ میں دفن کیا گیا۔
اب مرزا صاحب کی لاہور کے قیام اور اشاعت اشتہارات سے شہرت ہو گئی ہے رجوعات بھی ہوتی ہے۔ ایک ہندو منشی روز نامچہ نویس جو روز مرہ کے الہام قلم بند کرے۔ نوکر رکھا گیا کہ مرزا صاحب کے الہامات کا تذکرہ کرے۔
ہر وقت صبح شام الہام کا ذکر ہے۔ کوئی دعا کے واسطے آتا ہے کوئی دوا کو لالہ شرم پت رائے اور ملا واصل صاحب بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔
مولوی محمد حسین صاحب اور منشی عبدالحق اور بابو الہی بخش صاحب فراہمی چندہ براہین ١ میں ساعی اور کوشاں ہیں۔
مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم (ان کے والد) ان کے ارادوں سے خارج تھے۔ اب وہ روک ٹوک جاتی رہی ہے۔ اب کوئی اخبار یا کوئی رسالہ نہیں جس کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی ملہم ربانی جلی قلم سے لکھا ہوا نظر نہ آتا ہو۔
براہین احمدیہ کا پہلا حصہ یعنی جلد اول جو اشتہار انعام دس ہزار بڑے پرکار قلم کا لکھا ہوا صفحہ میں چار سطر اور سطر میں چار لفظ چلو ٢٨ صفحہ کی ایک کتاب خریداراں کے پاس پہنچ گئی ہے۔
خریداران ہیں کہ شوق میں دیوانہ وار پھرتے ہیں۔ تقاضا ہورہا ہے۔ کہ جلد یہ کتاب پوری ہو۔ اور ایک عالم اس کتاب کا مفتون و معتقد ہے۔
چاروں طرف سے منی آرڈر آ رہے ہیں۔ غرض کہ دس ہزار روپیہ براہین احمدیہ کے پیشگی قیمت کا مرزا صاحب کو وصول ہو چکا ہے اور کتاب ندارد۔
جب بہت تقاضا ہوا۔ تو چار جلدیں تیار ہوئیں۔ اور ان چاروں میں ان تین سو دلائل
٤٦
میں سے جن کے درج کر دینے کا اظہار کیا تھا۔ ایک دلیل بھی پوری بیان نہیں کی صرف چند تمہید باتوں کو مختلف پیرائیوں نظم اور نثر میں تکرار کے ساتھ لکھ کر خریداروں کو تسلی کر دی۔
جب خیال آیا۔ کہ اس کتاب کی بقیہ جلدوں کا خارج اور نفس الامر میں بجز اپنے خیال کے کہیں نام ونشان ہی نہیں۔ اور تین سو دلائل کا تو اپنے خیال میں بھی۔ وجود نہیں لہٰذا ان بقیہ حصوں کتاب کا چھاپنا ناممکن ہے۔ اور اس روپیہ کا جو اس کے عوض میں لیا گیا ہے۔ ہضم ہونا مشکل تو اس کتاب کی تیسری اور چوتھی جلد میں الہام بازی شروع کر دی اور اپنے خریداروں اور معتقدوں کی توجہ عقلی دلائل کی طرف سے اپنے الہامات کی تماشے کے طرف منعطف فرمادی۔
اور نیز خریداران کا دل بہلانے اور ان کے دماغ سے تین سو دلائل اور باقی حصوں کتاب کا اچھی طرح بھلانے کی غرض سے چند رسالے سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق وغیرہ جن میں متفرق مسئلوں پر بحث کی گئی ہے۔ شائع کر دے۔ اور ان جلدوں براہین اور اشتہارات میں ہندوؤں کو کوسنا اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو گالیاں دینا اور اپنے الہامات میں دھمکانا اور الہامی قتل سے ڈرانا اور ان کے معبودوں کو برا کہنا شروع کیا۔
(اشاعت السنہ نمبر ١ جلد ١٨)
پنڈت لیکھرام پشاوری اور منشی اندرمن مراد آبادی کو مباحثہ کے واسطے مخاطب بنایا اکثر علماء اسلام مقلدین نے مرزا صاحب کے خلاف بساط مخالفت آراستہ کی مگر مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے ریویو براہین احمدیہ میں ان کو امکانی ملہم اور ولی قرار دے کر ان کا اعتبار جما دیا مسلمانوں کو اکھڑنے نہ دیا۔
حاشیہ جات
- ١؎ (براہین احمدیہ ص ٢٧٦، خزائن ج ١ ص ٥٦٧) ”کیونکہ یہ انتظام اس عاجز نے پہلے سے کر
رکھا تھا۔ کہ جو کچھ ڈاکخانہ میں خط وغیرہ آتا تھا اس کو خود بعض آریہ ڈاک خانہ سے لے آتے تھے اور ہر روز ہر ایک بات سے مطلع ہوتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ اور ایک پنڈت کا بیٹا شام لعل نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا۔ بطور روزنامچہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا۔ اور محض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے۔ اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لعل مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔“
- ٢؎ کیونکہ اشاعت السنہ نے قادیانی کے دعاوی۔ حمایت اسلام اور مقابلہ مخالفین اسلام
و وعدہ تائید دین۔ بہ نشانہائے آسمانی و نصرت اصول اعتقادی اسلامی سے دھوکہ میں آکر ریویو براہین
٧٤
احمدیہ مندرجہ نمبر ٧ وغیرہ جلد ٧ میں اس کو امکانی ولی وملہم بنایا۔ اور لوگوں میں اس کا اعتبار جمایا تھا۔ اشاعت السنۃ نمبر ٣ جلد ١٣ صفحہ ٣۔
- ٣ (فتح الاسلام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ٢٩، ٣٠) ”میں نے سنا ہے۔ کہ بعض ناواقف یہ
الزام میری نسبت شائع کرتے ہیں۔ کہ کتاب براہین احمدیہ کی قیمت اور کسی قدر چندہ بھی قریب تین ہزار روپیہ کے جولوگوں سے وصول ہوا مگر اب تک کتاب بتمام و کمال طبع نہیں ہوئی۔ میں اس کے جواب میں ان پر واضح کرتا ہوں کہ روپیہ جو لوگوں سے وصول ہوا وہ صرف تین ہزار نہیں بلکہ علاوہ اس کے اور روپیہ بھی شاید قریب دس ہزار کے آیا ہوگا۔ کہ جو نہ کتاب کے لیے چندہ تھا۔ اور نہ کتاب کی قیمت میں دیا گیا۔ بلکہ محض دعا کے خواستگاروں نے محض نذر کے طور پر دیا یا بعض دوستوں نے محض محبت کی راہ سے خدمت کی۔ سو وہ سب اس کارخانہ کے لابدی اور پیش آمدہ کاموں میں وقتاً فوقتاً خرچ ہوتا رہا۔ اور چونکہ حکمت الہی نے سلسلہ تالیف کتاب کو تاخیر میں ڈالا ہوا تھا۔ اس واسطے اس کے لئے دوسری اہم شاخوں سے جو بامر الہی قائم تھیں۔ کچھ بچت نکل نہ سکی اور تاخیر طبع کتاب میں حکمت یہی تھی کہ تاکہ اس فترت کی مدت میں بعض دقائق اور حقائق مولف پر کامل طور پر کھل جائیں۔“
(نقل عبارت خط حکیم نورالدین مندرجہ، فتح اسلام ص ٦١، خزائن ج ٣ ص ٣٦)
”اگر خریداران براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں۔ تو مجھے اجازت فرمائیے کہ ادنی خدمت بجالاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس ہی سے واپس کردوں۔ حضرت پیرومرشد تابکار شرمسار عرض کرتا ہے۔ اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے میرا منشاء ہے۔ کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے۔“
(آئینہ کمالات ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام حقوق پر خدا تعالی کا حق غالب ہے اور ہر ایک جسم اور روح اور مال اسی کی ملک ہے۔ پھر جب انسان نافرمان ہو جاتا ہے۔ تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے۔ پھر اس مالک حقیقی کو اختیار ہوتا ہے۔ کہ چاہے۔ تو بلا توسط رسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرض عدم میں پہنچادے اور یا کسی رسول کے واسطہ سے۔ یہ تجلی قہری نازل فرمادے بات ایک ہی ہے۔“
- ٤ (شحنہ حق ص ١٣، خزائن ج ٢ ص ٣٤٥) میں آپ آریہ کو کہتے ہیں کہ تم نے مجھ سے اپنی
لڑکی کا رشتہ تو نہیں کرنا ہے۔ کہ میری جائیداد تحقیق کرتے پھرتے ہو۔ ایسا ہی (سرمہ چشم آریہ ص ٤٩، خزائن ج ٢ ص ٩٧) میں آریوں کی لڑکیوں کا ذکر مکروہ طور پر کیا ہے۔
(اشاعت السنۃ نمبر ٣ ج ١٩ ص ١٣)
٤٨
باب الیازدہ
قادیان کا لنگر خا
پر یہاں دیکھا تو وہ صاف ہی جھوٹی نکلی راست
جس طرح شام سے گرجے تھے
اب مرزا صاحب کے دربار میں لالہ شرم پت شہادت الہام کے واسطے موجود۔ اور منشی شام لعل۔ روہ ہے۔ اور اس پر اس کے دستخط ہوتے ہیں ملازم ہے، خوشامدی مفت خورے قورمہ پلاؤ کھانے والے ہاں میں بھی جمع ہو گئے ہیں۔
لنگر جاری ہے کہ آیا، گیا، بے تکلف مرزا صا لوگوں کی آمد و رفت ہو گئی ہے کوئی کھانے کا صدائے ف واسطے آتا ہے۔ مرزا صاحب کے حکیم ہونے میں تو کوئی کوئی دعا کو آتا ہے۔ مہم اور مستجاب الدعوات اشتہاروں ہے۔ کوئی آئندہ حالات کا استفسار کرتا ہے۔ غرض نذر ون شام دربار ہوتا ہے۔
- .......١ مصاحب: پیر و مرشد عاجز نے بڈھے ہڈی
صحبت اٹھائی ہے۔ خدا کی قسم یہ بات یہ تاثیر یہ کیفیت ی درو دیوار سے نور ہی نور برستا ہے۔
- .......٢ جناب میں مدتوں اجمیر شریف میں خواجہ
بزرگ اور درویش کامل صاحب کرامت رہتے ہیں۔ آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ مجھ کو مرید بنا لیجیے۔ م
مرزا صاحب...... ابھی ہمیں کس کو دست بیع کرنے کا ح نہ ہو۔ صبر چاہیے۔
حاضرین....... ہم لوگوں کا شوق اب صبر کی رخصت نہی
٤٩
باب یازدہم
قادیان کا لنگر خانہ
پر یہاں دیکھا تو وہ صاف ہی جھوٹی نکلی رات بھر نالہ کئے ہم نے تو دن بھر روئے
جس طرح شام سے گرجے تھے سحر تک برسے
اب مرزا صاحب کے دربار میں لالہ شرم پت رائے اور لالہ ملا دامل صاحب ہندو آریہ شہادت الہام کے واسطے موجود۔ اور منشی شام لعل۔ روزنامچہ نویس جو روزمرہ کے الہام تحریر کرتا ہے۔ اور اس پر اس کے دستخط ہوتے ہیں ملازم ہے۔ مریدوں کا بھی جم گٹھا ہو گیا ہے۔ اور خوشامدی مفت خورے قورمہ پلاؤ کھانے والے ہاں میں ہاں ملانے والے پرکا کو اپنانے والے بھی جمع ہو گئے ہیں۔
لنگر جاری ہے کہ آیا، گیا، بے تکلف مرزا صاحب کے باورچی خانہ سے کھانا کھائے۔ لوگوں کی آمد و رفت ہو گئی ہے کوئی کھانے کا صدائے عام سن کر آتا ہے کوئی حاجت مند دعا کے واسطے آتا ہے۔ مرزا صاحب کے حکیم ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں حکیم ابن حکیم ہیں کوئی دوا کو کوئی دعا کو آتا ہے۔ ملہم اور مستجاب الدعوات اشتہاروں اور شہادتوں نے نزدیک و دور مشہور کر دیا ہے۔ کوئی آئندہ حالات کا استفسار کرتا ہے۔ غرض نذر نیاز اور چڑھاوہ بھی چڑھنے لگ گیا ہے۔ صبح شام دربار ہوتا ہے۔
- ١....... مصاحب: پیر و مرشد عاجز نے بڑے بوڑھے بزرگوں اور صوفیوں اور درویشوں کی
صحبت اٹھائی ہے۔ خدا کی قسم یہ بات یہ تاثیر یہ کیفیت یہ برکت کہیں بھی نہیں سبحان اللہ وبحمدہ یہاں درودیوار سے نور ہی نور برستا ہے۔
- ٢....... جناب میں مدتوں اجمیر شریف میں خواجہ بزرگ کی بارگاہ میں رہا ہوں اچھے اچھے
بزرگ اور درویش کامل صاحب کرامت رہے ہیں۔ مگر یہ بات کسی میں بھی نہیں حضرت میں تو آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ مجھ کو مرید بنا لیجیے۔ سب سے اول بندہ ہے۔
مرزا صاحب....... ابھی ہمیں کس کو دست بیع کرنے کا حکم نہیں ہوا جب تک اس بارہ میں کوئی الہام نہ ہو۔ صبر چاہیے۔
حاضرین....... ہم لوگوں کا شوق اب صبر کی رخصت نہیں دیتا۔
٤٩
تو کام وہ کہتا ہے جو آتا نہیں مجھ کو
خوشامدی ...... بندہ درگاہ تہجد کے بعد جو مصلی پر پڑا ہوا تو غافل ہو کر فوراً ایک صحرا ق ودق میں داخل لیکن فردوس برین اس کے روبروے دشت پر خار نظر آئے شرم کے مارے منہ نہ دکھائے ۔ چاروں طرف سے گلاب اور کیوڑہ کی لپٹیں چلی آتی ہیں۔ دل کو فرحت دماغ کو طاقت پہنچاتی ہے۔
یکا یک آسمان سے روشنی کے آثار نمودار ہوئے اوپر جو دیکھتا ہوں۔ ایک قندیل نیچے کو آتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا تیسرا چوتھا۔ پانچواں ہزار ہا قندیل جنگل کیا ایمن مین بے تکلف سوئی میں تاگا ڈال لو۔ مکھی کی ایک ایک آنکھ گن لو۔
مگر مجھ پر سایہ کا کام کرگئی۔ بدن کا بند بند بید کی طرح کانپ گیا۔ اپنے سر و پا کا ہوش نہ رہا ایک ایک پاؤں سو سو من کا ہو گیا۔ بھاگنے کو قدم اٹھاتا ہوں۔ ٹھوکر کھا کر گرتا و بے ہوش۔ ہوش جو آتا ہے۔ ایک دربار لگا ہوا ہے۔ میرے ارد گرد آدمی ہیں۔ کوئی گلاب چھڑکتا ہے غالیہ سنگھاتا ہے۔
- ا....... تم کون ہو بھائی کیونکر آئے۔
میں ...... میں میں مجھ کو۔
- ٢....... اسے کیا پوچھتے ہو حضور میں لے چلو کسی نے میری کمر پر ہاتھ رکھ کر خبردار ہوشیار ہو
جاؤ۔ سینہ تک خشکی محسوس ہوئی۔ اور خوف کافور۔ مڑ کر دیکھتا ہوں ایک بزرگ نور مجسم ہے۔ میں...... حضور کا اسم مبارک ای آمدنت باعث آبادی ما۔ ذکر تو بود زمزمہ شادی ما۔ بزرگ...... ہمارا نام علی ابن ابی طالب ۔ یہ رسول کریم کا دربار ہے۔ میں ...... مجھ کو قریب سے زیارت نصیب ہو سکتی ہے۔ اور حضرت علی کے ہاتھ چومنے کو بڑھا۔ بزرگ...... تم کو ہم لے چلتے ہیں۔ تمہارے مرزا صاحب موجود ہیں۔ اور تم کو بلاتے ہیں۔ میرا بازو پکڑ کر مجلس میں لے گئے۔ ایک تخت مرصع پر حضرت رسالت مآب سرور کائنات رونق افروز ہیں۔ اور تخت کے برابر کرسی کے اوپر ہمارے مرزا صاحب متمکن اور ارد گرد صحابہ کرام اپنے درجہ پر بیٹھے ہیں اور اتنے میں صراحی شرابا طہورا آئی۔ تقسیم کا ارشاد ہے۔
حضرت مرزا صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ پہلے ان کو پلاؤ اور خوب پلاؤ میں ...... گلاس ہاتھ میں لے کر بیک جرعہ پی گیا۔
کان میں آواز اللہ اکبر آئی آنکھ کھل گئی۔ وضو کر کے نماز پڑھی۔
٥٠
حاضرین سبحان اللہ صلی علی کیا مبارک خواب مرزا صاحب ...... الحمد اللہ والمنتہ یہ اس واہب بے منت غیر مترقبہ کہاں ۔
وہ چہ احسان است
مصاحب ...... حضرت حضور کا مدارج قرب الہی ہیں ۔ خوشامدی ...... اجی قطب کیا بلکہ غوث الاعظم ۔ مرزا صاحب ...... مراقبہ سے سر اٹھا کر اس وقت ہم کو صاحب ) اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف القرآن لتنذر قوماً ما انذر بی اباء هم و امرت و انا اول المسلمين یعنی خدا نے تجھے قر یہ اس لیے کہ تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے جو جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے۔ اور تا ان مجرموں کی راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ۔ ان کو کہہ دے کہ میں
کئی آوازیں حاضرین جلسہ سے آمنا و بڑھے۔ اب مرزا صاحب نے چودھویں صدی کے دیا۔ ہمیشہ دربار منعقد ہوتا ہے۔ اور لوگ بیعت کر صاحب کے مناقب سنائے جاتے ہیں۔
- ا....... سبحان اللہ و بحمدہ دربار میں کیا رونق ہے۔
- ٢....... مجھ کو ابتدائے عمر میں صوفیا کی خدمت
مشائخ اور اولیاء اللہ کا دربار دیکھا ہے۔ مگر تو بہ تو بہ یہ
- ٣....... چہ نسبت خاک را با عالم پاک ۔ وہ لوگ
جماتے ہیں۔ روزی کا دھندا کرنے کو عبادت کہے سے مہجور نہ قرآن کی سمجھے نہ سنت سے واقف ان کا یہ
- ٤....... شیر قالین دگر و شیر نیستان دگر است۔ یہ
گویا وہ خدا کا کلام ہے۔
٥١
حاضرین سبحان اللہ صلی علی کیا مبارک خواب ہے۔ مرزا صاحب ...... الحمد للہ والمنۃ یہ اس واہب بے منت کا احسان ہے ورنہ میں کہاں اور یہ نعمت غیر مترقبہ کہاں ؎
ایں چہ احسان است قربانت شوم
مصاحب ...... حضرت حضور کا مدارج قرب الہی ہیں۔ کوئی درجہ بڑھا ہے۔ قطب الاقطاب ہو گئے۔ خوشامدی ...... اجی قطب کیا بلکہ غوث الاعظم۔ مرزا صاحب ..... مراقبہ سے سر اٹھا کر اس وقت ہم کو الہام ہوا ہے۔ اور خبر دی گئی ہے کہ تو (مرزا صاحب) اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ الرحمن علم القرآن لتنذر قوماً ما انذر آباء ہم و لتستبین سبیل المجرمین قل انی امرت و انا اول المسلمین یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔ اور صحیح معنی تیرے پر کھول دیئے یہ اس لیے کہ تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے جو بباعث پشت در پشت کی غفلت اور نامتنبہ کئے جانے کی غلطیوں میں پڑ گئے۔ اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے۔ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔ ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اول المومنین ہوں۔
کئی آوازیں حاضرین جلسہ سے آمنا و صدقنا اور یکے بعد دیگرے بیعت ہونے کو بڑھے۔ اب مرزا صاحب نے چودھویں صدی کے مجدد ہونے اور دعوت بیعت کا اشتہار شائع کر دیا۔ ہمیشہ دربار منعقد ہوتا ہے۔ اور لوگ بیعت کرتے ہیں اور خوابیں بیان ہوتی ہیں اور مرزا صاحب کے مناقب سنائے جاتے ہیں۔
- ١....... سبحان اللہ دیکھو دربار میں کیا رونق ہے۔ نور مجسم بلکہ نور علیٰ نور
- ٢....... مجھ کو ابتدائے عمر میں صوفیا کی خدمت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اور بڑے بڑے
مشائخ اور اولیاء اللہ کا دربار دیکھا ہے۔ مگر توبہ توبہ یہ بات کہاں۔
- ٣....... چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ وہ لوگ دنیا کے طالب ریا پرور دکانداری کا ڈھنگ
جماتے ہیں۔ روزی کا دھندا کرنے کو عبادت کے پردہ میں مکر بناتے ہیں۔ خدا سے اور معرفت سے مہجور نہ قرآن کچھ سمجھے نہ سنت سے واقف ان کا بیان کیا ذکر ہے۔
- ٤....... شیر قالین دگر و شیر نیستان دگر است۔ یہاں ہر دم خدا سے ہم کلامی جو زبان سے نکلتا ہے
گویا وہ خدا کا کلام ہے۔
٥١
سید امیر علی...... حضرت رات جو تہجد کے بعد آنکھ لگ جائے۔ تو عجب نظارہ دیکھتا ہوں۔ کہ حضرت امام (مرزا صاحب) تقوی اور طہارت کا وعظ فرما رہے ہیں۔ اور عجیب عجیب کلمات طیبات بڑے جوش سے بیان فرما کر اپنے مریدوں کو متنبہ کر رہے ہیں۔ اور فرماتے ہیں کہ تم سب ہوش کرو۔ اور اتقاء کی طرف رجوع لاؤ۔ اور اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے ڈرو اور دل و جان سے سچے اعتقاد (کے ساتھ نماز ادا کرو اور عبادت کرو کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ فرماتا ہے ان الصلوة تنهى عن الفحشاء و المنکر یعنی نماز روکتی ہے۔ برے اقوال اور برے افعال سے اور پھر قرآن بار بار منادی کر کے کہہ رہا ہے۔ یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله و آمنوا برسوله - یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ڈرو اللہ سے اور ایمان لاؤ ساتھ اس کے رسول کے اور ہم دعا کر رہے ہیں۔ خدایا خشک ڈالی ہمارے باغ سے کاٹ ڈال جب حضرت کے منہ سے یہ کلمات نکلے تو کل حاضرین مجلس بلند آواز سے گڑگڑا کر ایسے روئے کہ حواس باختہ ہو گئے پھر فرمایا کہ ہوش کرو۔ ان الفضل بید الله یوتیه من یشاء یعنی فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
- ٢....... میں نے رات کو دیکھا کہ ایک دریا نا پیدا کنار جو کناروں تک پُر ہے ایک گھوڑے پر سوار
کنارہ پر کھڑا ہوں۔ عبور کی فکر میں تھا کہ گھوڑا پانی میں داخل اور رپ رپ کرتا بے تکان چلنے لگا۔
آواز...... پل کے راستہ سے چل کر پار ہو جاؤ۔
میں...... جو راستہ ہم نے پانا تھا پالیا۔ اب کون سے غیر پل کی تلاش کر کے سہارا پکڑیں گے۔
ہمارے امام نے ہم کو یہی راستہ بتایا ہے دیکھتے جاؤ۔ اپنے راستہ سے پار ہو جاتے ہیں۔ ہم غیروں کے راستہ کیوں جائیں پار ہو کر حضرت امام ہمام (یعنی مرزا صاحب) کو جو ایک پاکیزہ جگہ بیٹھے تھے دیکھا۔ اور بہت اصحاب بیٹھے تھے۔ میں بیٹھ گیا وہاں ایک بڑا ڈھیر کئی سو من شکر تری کا لگا ہوا ہے۔ جس کو دیکھ کر متعجب ہو رہا ہوں۔
ایک شخص...... یہ کیسا ڈھیر ہے اور کس کا ہے۔
میں...... یہ ڈھیر ہمارے امام ہمام (مرزا صاحب) کی برکات وانوار کا ہے جو میرے سپرد ہے۔
شخص...... کچھ ہم کو بھی ملے گا۔
میں...... میرے سپرد کیا گیا ہے جس کو حکم ہوگا اس کو تقسیم کروں گا۔
حضرت امام...... اشارہ سے نماز کا وقت ہو گیا ہے۔
میں...... وضو کر کے نماز میں مشغول ہوا اٹھتے ہوئے۔ یہ الہام ہوا واسئلوا الله من فضله یعنی مانگو اللہ سے اس کا فضل۔
٥٢
حاضرین....... سبحان اللہ سبحان اللہ یہ سب
- ١....... جو ہمارے حضور کے حاشی
اللہ کو نصیب نہیں ہوا۔
- ٢....... اجی حضرت وہ قصہ کہانیاں ہ
- ٣....... بھائی اللہ کے دین کی باتیں
خدا کے دین کا موسیٰ سے کوئی پوچھو حال
- ٤....... اجی ہمارے حضرت (مرزا ط
- ٥....... اس میں کیا شک ہے۔ ہر
فوجی وردی زیب تن کئے کمر میں کرچ مرزا صاحب...... وعلیکم السلام مزاج ش فوجی افسر...... حضرت کے اوصاف حم کمال اشتیاق قدم بوسی کا پیدا ہوا آخر مرزا صاحب! آپ نے تشریف رکھیے۔
کرم نماو
کوئی میرے لائق خدم
افسر...... میں پہلے ایک رسالہ میں رہ ہے۔ خدا کی عنایت سے سب کچھ ہمیشہ کوئی رہا نہ رہے گا۔ بقا بجز خدا سنبھالے گا۔ کون مالک ہوگا۔ یہ غم روح ہے۔ خیر میں مرد جاہل گردہو عورتوں کو یہ غم سخت جانکاہ ہے۔ میر مرزا صاحب...... کیا آپ کو کوئی اولا رسالدار...... عرض کیا تا کہ اس بڑاہ
حاضرین....... سبحان اللہ سبحان اللہ یہ سب فیضان صحبت حضرت اقدس ہے۔
- ١...... جو ہمارے حضور کے حاشیہ نشینوں کو حاصل ہوا ہے۔ وہ سلف سے آج تک کسی اولیاء
اللہ کو نصیب نہیں ہوا۔
- ٢...... اجی حضرت وہ قصہ کہانیاں ہیں۔ اور یہ چشم دیدہ واقعات ان سے ان کو کیا کچھ حرف نسبت۔
- ٣...... بھائی اللہ کے دین کی باتیں ہیں واللہ ذو الفضل العظیم جس کو چاہے دے دیں۔
خدا کے دین کا موسیٰ سے کوئی پوچھو حال۔ کہ آگ لینے کو جائے پیغمبری مل جائے۔
- ٤...... اجی ہمارے حضرت (مرزا صاحب) کی جوتیاں سیدھی کرنے سے بایزید بسطامی بن گئے۔
- ٥...... اس میں کیا شک ہے۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد عیان را چہ بیان اس عرصہ میں ایک شخص
فوجی وردی زیب تن کئے کمر میں کرچ سنہری قبضہ، سینہ پر تمغہ لٹکائے ہوئے آئے۔ السلام علیکم!
مرزا صاحب...... وعلیکم السلام مزاج شریف۔
فوجی افسر...... حضرت کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق پسندیدہ اکثر احباب اور اتقیاء سے سن کر مجھ کو کمال اشتیاق قدم بوسی کا پیدا ہوا آخر جذبہ شوق یہاں تک بڑھا کہ کشاں کشاں لے ہی آیا۔
مرزا صاحب...... آپ نے بڑی عنایت کی، آپ کا مشکور ہوں۔ یہ گھر آپ کا گھر ہے تشریف رکھیے۔
کرم نماو فرود آکہ خانہ خانہ تست
کوئی میرے لائق خدمت آپ کی تعریف۔
افسر...... میں پہلے ایک رسالہ میں رسالدار بہادر تھا۔ اب پنشنر ہوں اور شہر لاہور میں میری سکونت ہے۔ خدا کی عنایت سے سب کچھ کمایا۔ خدا کا دیا بہت روپیہ جمع ہے۔ مگر زمانہ کا کچھ اعتبار نہیں ہمیشہ کوئی رہا نہ رہے گا۔ بقا بجز خدا کے کسی کو نہیں۔ آخر ایک دن جانا اس قدر جائیداد اور نقد کو کون سنبھالے گا۔ کون مالک ہوگا۔ یہ غم سینہ میں ہر دم کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے بے اولاد کا رنج سوہان روح ہے۔ خیر میں مرد جہاں گرد ہوں۔ ادھر ادھر پھر کر غم غلط کر دیتا ہوں۔ اور ہو بھی جاتا ہے۔ مگر عورتوں کو یہ غم سخت جانکاہ ہے۔ میری بیوی کو اس کا سخت صدمہ ہے۔
مرزا صاحب...... کیا آپ کو کوئی اولاد نہیں؟
رسالدار...... عرض کیا نا کہ اسی کا بڑا صدمہ ہے۔ اصل پوچھیے تو اپنی غرض یہاں تک لائی ہے۔ آپ
٥٣
کے زہد وتقویٰ اور بزرگی کی لوگوں سے تعریف سنی تھی۔ اور آپ کی تصانیف اور اشتہارات بھی دیکھے کہ آپ مستجاب الدعوات ہیں۔ اور اللہ کی بارگاہ میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اگر دن میں آپ خدا کو سو مرتبہ پکاریں۔ تو وہ آپ کو سو مرتبہ جواب دیتا ہے۔ اگر میرے حال زار پر رحم فرما کر دعا فرما دیں۔ تو گویا دوبارہ زندگی بخش دیں۔
مرزا صاحب...... مذاقیہ لہجہ میں اگر آپ کے فرزند پیدا ہو جائے۔ تو کیا دلواؤ گے۔
رسالہ دار...... درم ناخریدہ غلام تو ام۔ تمام عمر غلامانہ اور خادمانہ خدمت بجالاؤں گا۔ بندہ ام تا زندہ ام کا مصداق رہوں گا۔
مرزا صاحب...... سردار صاحب معاملہ صاف اچھا ہوتا ہے۔ ورنہ بعد کو بدمزگی ہو جاتی ہے۔ روپیہ کو مقراض المحبت کہتے ہیں۔
رسالہ دار...... جو فرمائیں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور بطیب خاطر بسر و چشم منظور کروں گا۔
مرزا صاحب...... نہیں یہ آپ کی رائے اور مرضی پر حصر ہے جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ ہم اپنا ایک سال خاص دعا کے واسطے آپ کی نذر کریں گے۔
رسالہ دار...... پانچ سو روپیہ نذرانہ اور شکرانہ اس کے علاوہ بعد کو۔
مرزا صاحب...... دل میں خوش ہو کر یہ رقم میری اور آپ کی دونوں کی حیثیت سے تھوڑی ہے۔ مگر خیر۔
رسالہ دار...... نے خدمت گار کو آواز دی اور پانصد روپیہ نقد کی تھیلی مرزا صاحب کے آگے رکھ دی۔
اجنبی...... سلام علیک
مرزا صاحب...... وعلیکم السلام مزاج شریف کہاں سے آنا ہوا کوئی کام۔
اجنبی...... میں ریاست مالیر کوٹلہ کا ہوں۔ نواب ابراہیم علی خان صاحب بہادر کے متعلقین کا بھیجا ہوا خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ جناب کو معلوم ہوگا۔ کہ نواب صاحب مرض دماغ میں بیمار ہیں۔ آپ کی تصانیف اور اشتہار میں جو دعاوی درج ہیں دیکھے گئے۔ تو نواب صاحب کی صحت کے واسطے دعا کے خواستگار ہیں۔
مرزا صاحب...... آپ جانتے ہیں مجھ کو اس قدر فرصت کہاں۔ کہ میں کسی کے واسطے دعا میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کروں۔ میری دعا عام آدمیوں کی دعا نہیں۔
اجنبی...... پانچ سو روپیہ کی تھیلی آگے رکھ کر یہ آپ کی نذر ہیں۔
مرزا صاحب...... خوش ہو کر اچھا میں دعا کروں گا۔ اور ایک وقت اپنا اس دعا کے واسطے بھی مقرر کروں گا۔ آپ اطمینان کریں۔ ضرور صحت پا جائیں گے۔
٥٤
اتنے میں ایک اور شخص آئے سلام وعلیک مرزا صاحب...... وعلیکم السلام آپ کا مزاج اور اسم نووارد...... میرا نام مولوی جلال الدین پیر کوٹ ضلع سے بینائی نے جواب دیدیا۔ دعا کے واسطے حاضر ہوا مرزا صاحب...... میں بس آپ کی تھوڑی رقم کو اور لوگوں ”از انجملہ ہمارے ایک دوست مول حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ ہیں۔ جو مرض نزول الما اور اب تک اس مرض سے صحت یاب نہیں ہوئے کرائے تو غالباً اچھے ہو جائے۔
حاشیہ جات
١؎ از انجملہ ایک ہمارے شہر لاہور کے ہیں۔ جن سے ان کے گھر میں بیٹا پیدا ہونے کے یکمشت اور کئی رقمیں متفرق اپنے ایک دلالی ( کرتے ہیں۔ اور اس کام کے پردہ میں۔ لوگوں جمع کراچکے ہیں) کی ذریعہ وصول کیں۔
٢؎ ”از انجملہ بعض متعلقین محمد ابراہیم سے دعا صحت نواب صاحب کے وعدہ امید پر اپن نہیں ہوئے۔“
باب ١٢
علی گڑھ
ستار عیوب
رات کا وقت ہے۔ لوگ کھانے سے کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ ہمارے ناول کے
اتنے میں ایک اور شخص آئے سلام وعلیکم ۔ مرزا صاحب...... وعلیکم اسلام آپ کا مزاج اور اسم مبارک ۔ نووارد...... میرا نام مولوی جلال الدین پیر کوٹ ضلع گوجرانوالہ میں رہتا ہوں ۔ نزول الماء کے عارضہ سے بینائی نے جواب دیدیا۔ دعا کے واسطے حاضر ہوا ہوں ماحضر نذر ہے۔ میں غریب آدمی ہوں۔ مرزا صاحب...... میں اس آپ کی تھوڑی رقم کو اور لوگوں سے افضل سمجھتا ہوں اپنے مقدور تک دعا کروں گا۔
"از انجملہ ہمارے ایک دوست مولوی جلال الدین صاحب ساکن پیر کوٹ علاقہ حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ ہیں۔ جو مرض نزول المأ نابینا ہو کر کئی بار قادیان ماحضر لے کر حاضر ہوئے اور اب تک اس مرض سے صحت یاب نہیں ہوئے ۔ اور اگر وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر آپریشن کرائے تو غالباً اچھے ہو جائے۔
(اشاعۃ السنۃ نمبر ١ ج ١٤ ص ١١)
حاشیہ جات
١؎ از انجملہ ایک ہمارے شہر لاہور کے معزز رئیس اور مہربان سردار بہادر رسالدار پینشنر ہیں ۔ جن سے ان کے گھر میں بیٹا پیدا ہونے کے لیے دعا کے وعدہ وامید پر آپ نے پانچ سو روپیہ یکمشت اور کئی رقمیں متفرق اپنے ایک دلالی (جو اہلحدیث کہلاتے اور آمین بالجہر اور رفع یدین کرتے ہیں ۔ اور اس کام کے پردہ میں۔ لوگوں پر اعتبار جما کر ان کا صد ہا روپیہ قادیانی خزانہ میں جمع کراچکے ہیں) کی ذریعہ وصول کیں۔
(اشاعۃ السنۃ ج ١٤ ص ١١)
٢؎ "از انجملہ بعض متعلقین محمد ابراہیم علی خانہ صاحب والی ریاست مالیر کوٹلہ ہیں جس سے دعا صحت نواب صاحب کے وعدہ امید پر اپنے پانچ سو روپیہ لیے ۔مگر وہ اب تک صحت یاب نہیں ہوئے۔"
(اشاعۃ السنۃ نمبر ١ ج ١٤ ص ١١)
باب ١٢ دوازدہم
علی گڑھ میں ورود
ستار عیوب و قاضی الحاجاتی
رات کا وقت ہے۔ لوگ کھانے سے فراغت پا کر تمام دن کے تھکے ماندے آرام گاہ کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ ہمارے ناول کے ہیرو ایک چوبارہ کی چھت پر ٹہل رہے ہیں۔
٥٥
جانماز بچھی ہوئی ہے کبھی اس پر بیٹھ کر مراقب ہو نفس سے محاسبہ ہوتا ہے۔ کبھی کیش بک کو کھول کر دیکھتے ہیں۔ دس ہزار، چھ ہزار، ایک ہزار، دو ہزار، پانسو۔ تین سو کوئی بیس ہزار کی رقم ہے۔ بڑی رقم ہے۔
اب ہمارے امیر کیا امیر الامراء ہوتے ہیں۔ کسی مردود کو شک یا تامل ہوگا۔ قرضہ ادا ہو جائے اور جائیداد وقف الرحمن ہو جائے۔ تو پھر ہم ہی ہم ہیں رئیس ہیں۔ امیر ہیں۔ شریف ہیں جو کچھ ہیں ہم ہیں۔
اور کوئی کارخانہ جاری کیا جائے تو معقول منافع ہوسکتا ہے۔ کہ زر زر کشند در جہان گنج گنج اب ایک رقم بڑی رقم جو ہمارے پاس جمع ہوگئی ہے۔ زمانہ نازک ہوا جاتا ہے ابھی کوئی آئے، جان سے مار کر روپیہ لے چلتا پھرتا نظر آئے اور آئندہ کو بھی امید واثق ہے کہ روپیہ کی آمد رفت رہے گی۔ کیونکہ اعتبار جمگیا ہوا بندھ گئی۔ رجوعات خاطر خواہ ہوگیا ہے۔ اور اب شہرت بھی جیسی چاہیے تھی کچھ اشتہاروں نے کچھ رسالوں نے نزدیک دور مشہور کردیا ہے۔
اور جو لوگ آتے جاتے ہیں۔ ان کی زبان سے جو اخبار اور اشتہار نہیں دیکھ سکتے سن کر واقف ہوں گے غرض اب بازار خوب گرم ہوجائے گا پھر چین ہی چین ہے۔
مگر ہاں براہین احمدیہ حسب وعدہ شائع نہ ہونے سے کہیں ہوا نہ اکھڑ جائے کیونکہ بد معاملگی دکانداری کی دشمن ہے۔ کسی طرف لوگوں کا خیال منعطف کرنا چاہیے۔
اور چند ایسے رسالوں کے بذریعہ اشتہارات بشارت دے دینی چاہیے۔ جس میں بہت سے الہاموں اور پیشگوئیوں کے درج کرنے کا وعدہ کیا جائے۔
نقد روپیہ کو سوچو کیوں ہے ہاتھی چھوٹے گھوڑا چھوٹے خدا جانے کیا ہو، کیا نہ ہو۔
اگر پولیس سے گارڈ کی درخواست کی جائے۔ ہوا اکھڑ جائے لوگ بد اعتقاد ہو جائیں ۔ گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل کا معاملہ ہے۔
ہاں اشاعت اشتہار اور تصانیف تو بہت ہوئے۔ اور ہوتے ہیں۔ اب مصلحت ہے کہ ایک سفر بھی کیا جائے۔ یہ بھی ایک شہرت کا ذریعہ ہے۔
تمام رات اسی ادھیڑ بن میں گئی آخر تھک کر چارپائی پر گرے تو آنکھ لگ گئی۔ سورج نکلا تو آنکھ کھل گئی منہ ہاتھ دھویا نماز پڑھ باہر برآمد ہوئے اور حوالی موالی نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔
٥٦
مصاحب ..... حضور آج صبح کی نماز میں بھی شامل نہیں ہوئے۔ مرزا صاحب ..... ہاں رات دیر تک جاگنے کا اتفاق ہوا ہم سو گے۔ تہجد کے بعد جو پڑے تو صبح اخیر وقت آنکھ کھلی اتنا وقت نہیں شامل ہوتے۔ خوشامدی ..... حضور کا تو سونا بھی عبادت ہے۔ ٢ ...... اس میں کیا شک ہے۔ مرزا صاحب ..... اس ذکر کو تو چھوڑو میں ایک مشورہ کرنا چاہتا ہوں مصاحب ..... ارشاد قبلہ عالم پیر و مرشد۔ ٣ ...... بندہ نواز ارشاد۔ مرزا صاحب ..... ہمارا ارادہ ہے کہ ایک سفر کیا جائے۔ ہم کو الہام کہ سفر لدھیانہ اور ہوشیار پور اور پٹیالہ وغیرہ کا مبارک ہوگا۔
لعل قیمت کو پہنچتا ہے بدخشاں
مصاحب ..... ہمارا تو ایمان ہے کہ آپ کا کوئی قول اور فعل بغیر حکمت نہیں ہے۔ اسی دن سے اس جگہ کا انتظام شروع ہوا اور سفر کی تیاریاں اور بندوبست سے فارغ ہو کر سفر کا بندوبست ہوا۔ اور شہر وامصار کا ورود علی گڑھ میں ہوا۔
روساء شہر و خاص و عام کی آمد رفت کا سلسلہ جاری اور مرزا صاحب سے مستفید ہوتے ہیں۔
ایک صاحب ..... متشرع، وضع عالمانہ، قطع جوان صالح، سلام علیک مرزا صاحب ..... وعلیکم السلام مصافحہ کر کے مزاج شریف، جناب نو وارد ..... میرا نام محمد اسماعیل ہے۔ میں اسی جگہ رہتا ہوں م ملاقات سامی کا مشتاق تھا۔ الحمدللہ کہ تمنائے دلی حاصل ہوئی نعمت غیر مترقبہ ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ کے افادات جلسہ میں کچھ مطالب توحید کچھ اسرار رسالت بیان فرمادیں۔
٥٧
مصاحب...... حضور آج صبح کی نماز میں بھی شامل نہیں ہوئے۔ مرزا صاحب...... ہاں رات دیر تک جاگنے کا اتفاق ہوا میں نے کہا تہجد سے فارغ ہو کر پڑیں گے۔ تہجد کے بعد جو پڑے تو صبح اخیر وقت آنکھ کھلی اتنا وقت نہیں تھا کہ مسجد میں آ کر جماعت میں شامل ہوتے۔
خوشامدی...... حضور کا تو سونا بھی عبادت ہے۔ ٢...... اس میں کیا شک ہے۔ مرزا صاحب...... اس ذکر کو تو چھوڑو میں ایک مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ مصاحب...... ارشاد قبلہ عالم پیر و مرشد۔ ٣...... بندہ نواز ارشاد۔
مرزا صاحب...... ہمارا ارادہ ہے کہ ایک سفر کیا جائے۔ ہم کو الہام کے ذریعہ سے خبر دی گئی ہے۔ کہ سفر لدھیانہ اور ہوشیار پور اور پٹیالہ وغیرہ کا مبارک ہوگا۔
لعل قیمت کو پہنچتا ہے بدخشاں چھوڑ کر
مصاحب...... ہمارا تو ایمان ہے کہ آپ کا کوئی قول اور فعل بغیر الہام کے نہیں ہوتا نہایت مصلحت ہے اسی دن سے اس جگہ کا انتظام شروع ہوا اور سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔ کچھ دنوں میں انتظام اور بندوبست سے فارغ ہو کر سفر کا بندوبست ہوا۔ اور شہر و امصار کی سیاحت کے بعد مرزا صاحب کا ورود علی گڑھ میں ہوا۔
روساء شہر و خاص و عام کی آمد رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور مرزا صاحب سے مستفید ہوتے ہیں۔
ایک صاحب...... متشرع، وضع عالمانہ، قطع جوان صالح، سلام علیک نہایت ذوق و شوق کے لہجہ میں۔ مرزا صاحب...... وعلیکم السلام مصافحہ کر کے مزاج شریف، جناب کا اسم مبارک۔ نووارد...... میرا نام محمد اسماعیل ہے۔ میں اسی جگہ رہتا ہوں۔ آپ کی تالیفات دیکھ کر مدت سے ملاقات سامی کا مشتاق تھا۔ الحمدللہ کہ تمنائے دلی حاصل ہوئی۔ آپ کی رونق افزائی اس دیار میں نعمت غیر مترقبہ ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ کے افادات سے مستفید ہوں۔ آپ کسی عام جلسہ میں کچھ مطالب توحید کچھ اسرار رسالت بیان فرماویں۔
٥٧
مرزا صاحب...... بر و چشم میرا کام ہی کیا ہے۔ میرا فرائض منصبی یہی ہے۔ اور اس عاجز نے اپنی جان و مال کو اس راہ میں وقف کیا ہوا ہے۔
مولوی صاحب...... اس گفتگو کے بعد مرزا صاحب سے رخصت ہو کر اپنے مسکن پر واپس آئے اور جوق در جوق و گروہ در گروہ مردمان مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ اور مولوی صاحب کے پاس جاتے تھے اور بیان کرتے تھے۔
- ١...... مرزا صاحب ہر ایک ملت اور مذہب کے انسان سے اس کی تمنا اور مرضی کے موافق
گفتگو کرتے ہیں۔
- ٢...... اہل بدعت سے اس کی منشاء اور مرضی کے موافق باتیں کر کے اس کو خوش کرتے ہیں۔
اہل سنت سے اس کی طبیعت اور خواہش کے موافق گفتگو کرتے ہیں۔ طرفہ معجون مرکب ہیں۔
مولوی صاحب نے کسی کو بہ لطائف الحیل اور کسی کو سکوت سے جواب دیا کہ کسی کو کہا صوفیوں کا یہی مشرب ہوتا ہے:
با مسلمان اللہ اللہ باہنودان رام رام
شہر کے گلی کوچہ میں کیا گھر گھر مشہور اور زبان زد خاص و عام ہو گئے کہ مرزا صاحب جلسہ عام میں وعظ فرمائیں گے۔ غول کے غول غث کے غث مردمان مولوی صاحب کی مسجد کی طرف جاتے ہیں۔ ایک مجمع کثیر اور جم غفیر مسجد میں اکٹھا ہے۔ مرزا صاحب کا عنایت نامہ بدین مضمون آیا۔ کہ ”مجھے آج صبح کی نماز میں خدا نے منع کیا ہے کہ میں کچھ بیان نہ کروں۔ مجھ کو اشارہ منع کا ہوا ہے۔“
مولوی صاحب اور تمام مشتاقان فیض اور استفادہ کو صدمہ ہوا۔
مرزا صاحب کی دعوت مولوی صاحب کے مکان پر ہوئی۔ سامان دعوت کیا گیا مرزا صاحب شریک جلسہ دعوت ہوئے۔
مرزا صاحب کے کچھ انگریزی الہام کا ذکر شروع ہوا۔
مولوی صاحب...... الہام کو بحق ملہم اس وجہ سے حجت سمجھا جاتا ہے کہ ملہم واسطہ کا محتاج نہیں ہوتا اور جب ایسی زبان میں الہام ہو جس کو ملہم نہ جانتا ہو۔ تو لامحالہ ایسی زبان سے مراد الہی سمجھے۔ نہیں ہے۔ محتاج کا واسطہ ہوگا۔ اس تقدیر پر ملہم اور غیر ملہم برابر ہو جائے گا۔ اور احتیاج واسطہ میں یہ
٥٨
مشکل متحمل ہے کہ بعض اوقات اگر واسطہ غیر خلاف منشاء ربانی سمجھائے۔ تو اس صورت میں ہو جاوے گا۔ میں اول تو پہلے ہی اطمینان نہی فرق ممکن ہو اور جب یہ احتمال پیش آ گیا۔ او بے کار ہو گئے۔
مرزا صاحب...... بعض عوام الناس کو خواب کے معنے وہ نہیں جانتے۔
مولوی صاحب...... متحیر ہو کر ساکت ہو گئے۔ ل
جمعہ کا دن آیا اور جمعہ کی نماز کے مرزا صاحب سے تواضع امامت کی نہ کی۔
مرزا صاحب...... سخت پیچ تاب میں تھے۔ نہ ہوئی۔ جس کو مرزا صاحب نے خود ہی لکھ
نماز کے بعد مولوی صاحب ۔ خان صاحب خلف رئیس چھتاری بھی موجو
مرزا صاحب (نہایت اضطراب مضطربانہ لہجہ میں ان کو مجھ سے بیعت کراو
مولوی صاحب...... خود درخواست کرنا مگر جائیں گے۔
مرزا صاحب مولوی صاحب ک صاحب محمد عبدالعلی خان صاحب کو ہمراہ ہوئے کہ اس وقت مرزا صاحب سے مرز چیت تفصیلی ہو گئی۔
مرزا صاحب...... رئیس موصوف کو علیحدہ ہے کہ مجھ سے بیعت ہو جائے۔
رئیس...... سبحان اللہ میرے ایسے نصیب ک
مرزا صاحب...... درکار خیر حاجت ہیچ است
یہ بھی محتمل ہے کہ بعض اوقات اگر واسطہ غیر معتبر ہو۔ یا مخالف معاند ہو اور الہام کی مراد کو بالکل خلاف منشاء ربانی سمجھائے۔ تو اس صورت میں بجائے ہدایت کے الہام اسباب ضلالت میں سے ہو جاوے گا۔ پس اول تو پہلے ہی اطمینان نہیں۔ کہ الہام ربانی اور وسوسہ شیطانی میں آسانی سے فرق ممکن ہو اور جب یہ احتمال پیش آگیا۔ اور ملہم خود مراد الٰہی سمجھنے سے محروم ہو گیا تو بالکل الہامات بے کار ہو گئے۔
مرزا صاحب ...... بعض عوام الناس کو خواب میں دوسری زبان کی دعائیں تلقین کی جاتی ہیں۔ جس کے معنے وہ نہیں جانتے۔
مولوی صاحب ...... متحیر ہو کر ساکت ہو گئے۔ اور سلسلہ گفتگو ختم ہوا اور کہا یہ جواب بھی الہام سے کم نہیں۔ جمعہ کا دن آیا اور جمعہ کی نماز کے واسطے مسلمان مسجد میں جمع ہوئے مولوی صاحب نے مرزا صاحب سے تواضع امامت کی نہ کی۔
مرزا صاحب ...... سخت پیچ تاب میں تھے۔ غالباً اسی غیظ و غضب میں نماز ادا فرمائی جو درحقیقت ادا نہ ہوئی۔ جس کو مرزا صاحب نے خود ہی لکھا ہے۔ ہماری نماز نہ ہوئی۔
نماز کے بعد مولوی صاحب کے مکان پر آئے۔ تو اس وقت اتفاق سے محمد عبد العلی خان صاحب خلف رئیس چھتاری بھی موجود تھے۔ مرزا صاحب سے ملاقات کرائی گئی۔
مرزا صاحب (نہایت اضطراب اور تغیر حالت میں) مولوی صاحب کو علیحدہ لے جاکر مضطربانہ لہجہ میں کہا ان کو مجھ سے بیعت کرا دو۔
مولوی صاحب ...... خود درخواست کرو، مگر اس عجلت کے ساتھ مصلحت نہیں انشاء اللہ وہ خود مرید ہو جائیں گے۔
مرزا صاحب مولوی صاحب کو خارج مطلب سمجھ کر رخصت ہو گئے۔ اگلے دن مولوی صاحب محمد عبد العلی خان صاحب کو ہمراہ لے کر مرزا صاحب کی خدمت میں اس غرض سے حاضر ہوئے کہ اس وقت مرزا صاحب سے سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ اب ملاقات خاص میں کچھ بات چیت تفصیلی ہو گئی۔
مرزا صاحب ...... رئیس موصوف کو علیحدہ لے جا کر (مولوی صاحب سے مخفی) تم کو خدا کا حکم ہوا ہے کہ مجھ سے بیعت ہو جائے۔
رئیس ...... سبحان اللہ میرے ایسے نصیب کہاں جس کو بیعت کے واسطے خدا کا خاص حکم ہو۔ مگر۔
مرزا صاحب ...... درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست تأمل کیا ہے اور اگر مگر کا موقع نہیں۔
٥٩
رئیس ...... بے شک اس میں کیا کلام ہے مگر میں کچھ سوچ کر جواب دوں گا۔ اور اس بارہ میں گزارش کروں گا۔ یہ کہہ کر ہر دو صاحب باہر آئے۔
مرزا صاحب ...... کے چہرہ نورانی اور مبارک پر کچھ آثار خفت اور رئیس کے چہرہ پر کچھ آثار تبسم بکنایت آمیز ظاہر تھے۔
رئیس ...... (مولوی صاحب سے خفت آمیز ہنسی کے ساتھ ) مرزا صاحب بیعت ہو جانے کو فرماتے ہیں۔
مولوی صاحب ...... کو نہایت ندامت اس وجہ سے ہوئی کہ اہل اللہ کی خفت اسلام کی تفضیح ہے۔
اس کے بعد مولوی صاحب مرزا صاحب سے نہیں ملے اور وقت رخصت جو چندہ پچاس چالیس روپیہ کا مرزا صاحب کے لیے اکٹھا ہوا۔ وہ مسلمانوں سے مولوی تفضل حسین صاحب نے اکٹھا کیا۔ مولوی صاحب جب شریک نہ ہوئے مرزا صاحب کی اشتعال طبع اور آشفتگی خاطر کے لیے یہ مصرع موزوں ہے۔
ڈاکٹر جمال الدین ...... مولوی صاحب سے مرزا صاحب آئے تھے کیا حالات دیکھے۔
مولوی صاحب ...... بھائی صاحب دکانداری ہے اور وہ بھی خوبصورتی اور خود داری کے ساتھ نہیں۔
سید احمد عرب ...... میں نے دو تین ہفتے قادیان میں رہ کر اس شخص کے مخفی حالات دریافت کیے ہیں۔ یہ شخص رمال اور رمالانہ پیشنگویاں بذریعہ آلات نجوم کے نکالا کرتا ہے۔ اس کا نام الہام رکھ چھوڑا ہے۔
(شفاء الناس صفحہ ٧٠، ٧١)
حاشیہ جات
١؎ ”ازانجملہ ایک رسالہ سراج المنیر ہے۔ جس کی نسبت ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو چند ہفتوں میں ختم کر کے چھاپنے کا اقرار کر کے صد ہا روپیہ اور بھی مسلمانان پٹیالہ وغیرہ سے وصول کر لیا لیکن رسالہ مئی ١٨٩٧ء تک شائع نہیں ہوا۔“
(اشاعت السنہ نمبر ١ ج ١٨)
باب ١٣ سیزدہم
مرزا قادیانی اور لیکھرام
مرزا صاحب نے ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو ایک اشتہار شائع کیا۔ جس میں سراج المنیر کی اشاعت کی بشارت اور کچھ پیشگوئیوں کا ذکر وغیرہ وغیرہ درج تھا۔ جس کا جواب پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین احمدیہ میں درج کیا ہے۔ وہ ہم ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
٦٠
”م“ سے مراد اشتہار ب... اشتہار مندرجہ ضمیمہ ریاض ہند یکم مار... مرزا صاحب ...... ”یہ رسالہ سراج ا... حقیقت اسلام اور معرکہ بین خیر الا...
لیکھرام ...... براہین احمدیہ کے چ... اس کے سارے بناوٹ... اور قطب کی طرح اس کا نزول ہو... بے نور سے کیا اندھیرا چھائے گا۔... م ...... ”اور بڑی بڑی پیشگ... ل ...... آج تک جتنی پیشگ... آئندہ اڑے گی۔ نہ کسی کا نام و... لیلیٰ اور بدرمنیر کی حکایتیں جھو... مجھے عیسیٰ، بنایا میں نے موسیٰ ... میرے مکان پر آئے اور حضر... ہوں فلاں جگہ سے میرے پاس... اصل میں دیکھو تو نہ کسی کا سر نہ پا... م ...... خدا نے اس ناکار... ہے۔ ل ...... بھلا قرین قیاس بھ... ہوں۔ کہ مرزا کے پاس فلاں جگ... امتحان میں پاس ہوگا۔ اور فلاں... بھاری بوجھ اس کی گردن پر ہے... م ...... ”حقیقت میں ا... مخلصی بخشی ہے۔“
”م“ سے مراد اشتہار یعنی مرزا صاحب سے۔ اور ”ل“ سے مراد پنڈت لیکھرام ہے۔
اشتہار مندرجہ ضمیمہ ریاض ہند یکم مارچ ١٨٨٦ء مرزا صاحب ...... ”یہ رسالہ سراج المنیر اس احقر نے اس غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے۔ کہ منکرینِ حقیقت اسلام اور مستہزئین خیرالانام کی آنکھوں کے آگے چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٧٩)
لیکھرام ...... براہین احمدیہ کے چھ سو صفحہ بھی اسی غرض سے سیاہ ہوئے تھے۔ اس کے سارے بناوٹی الہام اور تین سو ساٹھ دلائل براہین احمدیہ کا لشکر لے کر خدا کا آتا۔ اور قطب کی طرح اس کا نزول ہونا وغیرہ وغیرہ ثبوت رائے گاں گئے اور سب نکمے ہو گئے اب سراج بے نور سے کیا اندھیرا چھائے گا۔ یہ تو صدیقیوں کی صرصر حملہ سے ایک دم میں گل ہو جائے گا۔
م ...... ”اور بڑی بڑی پیشگوئیوں پر جو ہنوز وقوع میں نہیں آئیں متضمن ہے۔“
(ایضاً)
ل ...... آج تک جتنی پیشگوئیاں درج براہین احمدیہ ہوئی تھیں۔ ان میں کیا خاک اڑی جو آئندہ اڑے گی۔ نہ کسی کا نام ونشان ایک ہندو اور ایک آریہ اور چند مسلمان مجہول عبارتیں الف لیلیٰ اور بدرمنیر کی حکایتیں جھوٹے قصہ، فضول افسانے تمام کتاب خود ستائی سے بھری ہوئی خدا نے مجھے عیسیٰ، بنایا میں نے موسیٰ کے ساتھ کھانا کھایا، محمد صاحب، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حسنین میرے مکان پر آئے اور حضرت فاطمہ نے میرا سر اپنے زانو پر رکھا اور سب اولیاؤں سے میں برتر ہوں فلاں جگہ سے میرے پاس دس روپیہ آئے، فلاں شخص کا میں نے تپ دق کھویا۔ یہ کیا اور وہ کیا اصل میں دیکھو تو نہ کسی کا سر نہ پاؤں طبع زاد قصہ اور ابلہ فریب باتیں۔ اور قادیانی دھوکہ۔
م ...... خدا نے اس ناکارہ کو اپنے بعض اسرار مخفیہ پر مطلع کر کے بارِ عظیم سے سبکدوش فرمایا ہے۔
(ایضاً)
ل ...... بھلا قرین قیاس بھی ہے کہ ناکارہ آدمی کو خدا نے اپنے مخفی اسرار بتلا دیے اور وہ اسرار یہ ہوں۔ کہ مرزا کے پاس فلاں جگہ سے دس روپیہ آئیں گے اور مرزا کے بیٹا ہوگا اور مرزا کا فلاں دوست امتحان میں پاس ہوگا۔ اور فلاں ماخوذ بھلا حضرت قادیانی کی سبکدوشی کیونکر ہوئی جبکہ اعتراضات کا بھاری بوجھ اس کی گردن پر ہے جس سے قیامت تک نجات وہم وقیاس سے افزوں تر ہے۔
م ...... ”حقیقت میں اس کا فضل ہے۔ جس نے چار طرفہ کشاکش اور مخالفتوں سے اس ناچیز کو مخلصی بخشی ہے۔“
(ایضاً)
٦١
ل ...... اس کا نام فضل نہیں بلکہ قہر ہے۔ کہ آپ کی ضلالت اور بطالت کا باعث ہے اور مخالفین سے مخلصی نہیں۔ بلکہ شکنجہ عذاب میں گرفتاری ہے جو آپ کے حق میں موجب نہایت گریہ وزاری ہے۔
م ...... ”یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور چند ہفتوں کا کام ہے۔“
(ایضا)
ل ...... ہم کو یہ الہام ہوتے ہیں۔ کہ چند چھوٹے قصوں کا اس میں انصرام ہوا ہے۔ جس کا آغاز ہے نہ انجام ہے۔ بلکہ از اول تا آخر مجموعہ خیال ہے:
م ...... ”اس رسالہ میں تین قسم کی پیشگوئیاں ہوں گی۔ اول وہ پیشگوئیاں کہ جو خود اس احقر کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں ...... وہ پیشگوئیاں جو مذہب غیر کے پیشواؤں یا واعظوں سے تعلق رکھتی ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٨)
ل ...... یہ سب فریب ہے نہ کچھ رنج کا ذکر ہوگا، نہ راحت کا، نہ حیات کا، نہ وفات کا، اپنے معاونوں کی توصیف جابجا درج ہوگی۔ انشاء اللہ ہنگام طبع یہ سب حقیقت کھا جائے گی۔ جیسی براہین احمدیہ سے ظاہر ہے اور اس کے مطالعہ الہامات سے باہر۔
م ...... ”ہم نے صرف بطور نمونہ چند نامی آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندؤوں کو لیا ہے۔ جن کی نسبت مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔“
(ایضا)
ل ...... چند نامی آریہ صاحبان وہ ہوں گے جنہوں نے مرزا کا مکر و فریب جو بذریعہ اشتہارات شائع کیا ہے۔ اور قادیاں کے ہندو وہ دس ساہوکار فرضی معاہدہ کرنے والے ہوں گے۔ جنہوں نے علیحدہ اشتہار چھپوا دیا تھا۔ کہ نہ ہم نے وعدہ ایک سال تک کا کیا۔ نہ ہم اس کے الہام کو راست مانتے ہیں۔ یہ سب مرزا کی جعلسازی ہے۔ خود ہی مسودہ بنایا ہے۔ خود ہی نام لکھ دیا۔ خود ہی چھپوا دیا۔ اگر اپنی ذات کو لیتے تو بہتر تھا۔ کیونکہ جگ ہنسائی سے آپ ہنسی کا قصہ معتبر ہوگا۔
م ...... ”اور اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے کہ خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ کو جن کے احسانات سے ہم کو یہ تمام تر فراغت حاصل ہے۔ ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حمایت میں رکھے۔ روس منحوس کو محبوس کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح نصیب کرے تاہم وہ بشارتیں اگر مل جائیں تو درج کریں۔ انشاء اللہ۔“
(ایضا)
ل ...... اس الہام میں مرزا صاحب شاید انگریزوں کی فتح اور روس کی شکست بتائے گا۔ تاکہ انگریز خوش ہو کر اسے ثانی عیسیٰ مانیں۔ مگر یہ خیال خام ہے۔ دانایان فرنگ ان فریبوں کو خوب جانتے ہیں اور شعبدوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اگر مرزا کو الہام کا دعوے ہے۔ تو جنگ روس اور
٦٢
انگلش کا مفصل حال لکھیے کہ فلاں مقام اور رستہ میں لڑائی ہوگی اور فلاں فلاں مشہور اشخاص کام آئیں گے۔ اور فلاں گروہ مظفر اور منصور ہوگا وغیرہ مفصل حال لکھ کر دوسری براہین احمدیہ چھپوائیں تاکہ الہام کی حقیقت روشن ہو جائے ورنہ ایک نجومی کا قصہ شاہد حال ہوگا۔ بادشاہ ...... (ایک نجومی سے) یہ غنیم جو بپھر آیا ہے۔ اس جنگ میں جس کی فتح ہوگی۔ اس کا نام بتلاؤ۔ نجومی ...... آپ کو فتح ہوگی اور غنیم کو شکست۔ بادشاہ ...... اچھا لکھ دو۔ نجومی ...... بہت بہتر یہ لیجیے اور فوراً لکھ دیا۔ جب گھر واپس آیا تو گھر والی نے اس کو تنگ کیا۔ گھر والی ...... یہ تو نے کیا کیا جو لکھ دیا۔ لکھ دینا مناسب نہ تھا۔ غیب کی بات ہے خبر نہیں کیا ہو۔ نجومی ...... میں نے جو کچھ کیا ہے۔ سوچ کر کیا ہے۔ اگر شکست ہوئی تو ہم سے کون پوچھے گا۔ اور فتح ہوئی تو پانچوں گھی میں ہیں۔ قادیانی نے بھی یہی سمجھا ہوگا۔ کہ اگر انگریزوں کی فتح ہوئی تو ہم ملہم بن جائیں گے۔ ورنہ خدانخواستہ غدر میں کون پوچھے گا اور اس کے خیال میں جنگ کا بھی ابھی اس کی زندگی میں ہونا ہی غیر ممکن ہے۔
م...... ’’چونکہ پیشگوئیاں اختیاری بات نہیں۔ کہ ہمیشہ خوشخبری پر دلالت کریں۔‘‘
(ایضاً)
ل...... شاید خوشخبری آپ کے مخالفوں کے لیے اختیاری نہیں۔ اور اپنی ذات اور معاونین کے لیے درم خریده معلوم ہوتی ہے۔ اور اپنی ذات خاص اور معاونین کی نسبت کوئی نحوست بدبختی حیات اور ممات کا الہام نہیں دیکھا۔ خدا کا بھی یہ خوب قاعدہ ہے کہ یک طرفی خبریں دیا کرتا ہے۔ اور قادیانی پیغمبر بھی دریا ہے۔
م...... ’’اس لیے ہم بانکسار تمام مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔ کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت ناگوار طبع پائیں۔ جیسی خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت ہو تو اس بندہ ناچیز کو معذور تصور فرماویں۔‘‘
(ایضاً)
ل...... عجز و انکسار کا کیا موقع ہے عقلاً موت فوت کی خبر سے ناراض نہیں ہوتے بلکہ احسان مانتے ہیں۔ مگر مکاروں سے ضرور نفرت کرتے ہیں۔ آپ کسی کی حیات وفات کا حال اگر درج رسالہ کریں۔ تو چشم وا کر کے پہلے اپنی اور اپنی اولاد اور تمام کنبہ کو بھی اس خبر میں شامل کر لیں تا کہ درست سمجھی جائے۔ اور اگر صرف مخالفوں کی ہی نسبت دریدہ دہنی کی تو پھر ہمارے حملے بھی آپ جانتے ہیں۔ قبر تک بھی پیچھا چھوڑنا مشکل ہوگا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر پیشگوئی مطابق نہ پڑی تو
٦٣
پھر بھی شرماؤ گے۔ ہاں پیشین گوئی تو اس کا نام ہے کہ ہم کہتے ہیں۔ کہ آپ کی پیشگوئی لغو ہوگی اور اس کی بلا آپ کے سر پڑے گی۔ م ...... ”بالخصوص منشی اندرسن صاحب مراد آبادی اور پنڈت لیکھرام پشاوری وغیرہ کی نسبت غالباً اس رسالہ میں بقید وقت اور تاریخ کے ہوگا۔“
(ایضاً)
ل ...... ۔
سر پرخاش درہم کشد روئے را
پس حضرت جناب منشی اندرسن صاحب دام اقبالہم واجلہم سے تو مباحثہ کر چکے اب بھٹیاریوں کی طرح دست و گریباں ہو جانے پر آمادہ ہو جاؤ گے اور دشنام دہی اور بداندیشی پر ہمہ نوری فشاند سگ بانگ میدہد۔ ہر کسی بر طینت خود می تند۔ اگر آپ کو مخالفین کے بارے میں خبر ہوتی ہے تو اہل اسلام میں علامہ عبدالرحمن صاحب قصوری اور لودھیانہ اور دیوبند کے علماء جنھوں نے آپ کے حق میں کفر کا فتویٰ لگایا۔ آپ کی پیشین گوئی حیات ممات سے محروم رہے۔ یہ آپ کی پبلک کو صاف دھوکہ دہی ہے۔ آپ میں یہ قدرت ہرگز نہیں کہ کسی کے بارے میں صریح خبر بقید تاریخ و وقت لکھ سکیں۔ محض طول اور فضول پیچ دار باتیں لکھنا آپ کا شیوہ ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں پُر کر رکھی ہیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ انشاء اللہ وقت شیوع رسالہ مذکورہ بالا ناظرین خود دیکھ لیں گے۔ یہی الہام ہے۔ بجائے پنڈت لیکھرام لیکھرام لکھ دیا اب خدا پنڈت لیکھرام صاحب کی نسبت متغیر ہوا۔ جب وہ چھ ماہ قادیان میں رہ کر آپ کے الہام دیکھنے کے مدعی رہے اور طرح طرح کے اشتہارات چھپواتے رہے۔ اس وقت کچھ نہ بن آیا اور زک اٹھاتے رہے۔ م ...... ”ان صاحبوں کی خدمت میں گزارش ہے۔ کہ ہم دل سے کسی کے بدخواہ نہیں۔ خدا جانتا ہے ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٩)
ل ...... آپ میں نیکی کرنے کا مادہ ہی نہیں۔ خدا خوب جانتا ہے کہ آپ جیسا کوئی بدخواہ نہیں سچ تو یہ ہے کہ آپ کی خیر خواہی اور بدخواہی کا مول صرف پانچ سات روپیہ ہے جس نے کچھ دیدیا اس کی خیر خواہی ورنہ بدخواہی میں کچھ کلام نہیں۔ م ...... ”اور بدی کی جگہ نیکی کرنے کو مستعد ہیں۔“
(ایضاً)
ل ...... آپ میں نیکی کرنے کا مادہ ہی نہیں۔ آپ کی نیکی الم نشرح ہے۔ جن مسلمانوں نے ٦٤
کچھ نہ دیا۔ ان کو براہین احمدیہ میں لکھا وہ کی کتاب نہ خریدی ان کی کیسی اہانت کی ہـ مشتری کے دشمن جانی بن گئے کہ انہوں نے م ...... ”اور بنی نوع کی ہمدردی سے ل ...... سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشـ خاص اپنے جدی بھائیوں کی نسبت اپنے میرے جدی بھائیوں کی جڑ کٹ جائے تـ نازل کرے گا۔ یہاں تک وہ نابود ہو جائیں دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ اور اپنی نـ گی۔ اور گھر برکتوں سے بھر جائیں گے رہے گی وغیرہ وغیرہ ناظرین غور کریں کہ اس کا نام تھا۔ جیسا کہ مرزا نے اپنی نسبـ اور مورد بلا ہونا اور ان کا گھر بیواؤں سے
دل دشمناں
قطعه
کہ یاد و
م ...... ”لیکن جو بات کسی مخالف اس میں بکلی مجبور ہیں۔“ ل ...... ہاں اگر اپنی ذات اور عیال بیشک باعث مجبوری ہے۔ ورنہ قطعی کر ر معلوم ہوگا۔ م ...... ”ایسی بات کے دروغ ٹھہـ لعن طعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ل ...... لعن طعن سے آپ کو کیا ڈر
کچھ نہ دیا۔ ان کو براہین احمدیہ میں لکھا وہ جیتے جی ہی مرجائیں۔ اور جس نواب صاحب نے آپ کی کتاب نہ خریدی ان کی کیسی اہانت کی، مرزا امام الدین صاحب اپنے چچازاد بھائی کی تو بجائے مشکوری کے دشمن جانی بن گئے کہ انہوں نے آپ کو اس مکر و تزویر سے منع کیا تھا۔
م...... ”اور بنی نوع کی ہمدردی سے ہمارا سینہ منور ومعمور ہے۔“
(ایضاً)
ل...... سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشد۔ یہی ہمدردی ہے۔ کہ بنی نوع انسان تو ایک طرف خاص اپنے جدی بھائیوں کی نسبت اپنے اشتہار کے اخیری صفحہ کی تیسری سطر میں لکھتے ہیں۔ کہ میرے جدی بھائیوں کی جڑ کٹ جائے گی۔ اور وہ لاولد رہ کر ختم ہو جائیں گے۔ اور خدا ان پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک وہ نابود ہو جائیں گے اور ان کی گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ اور اپنی نسبت لکھا ہے۔ کہ میری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیلے گی۔ اور گھر برکتوں سے بھر جائیں گے۔ میری اولاد منقطع نہ ہوگی۔ اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی وغیرہ وغیرہ ناظرین غور کریں کہ بنی نوع کی ہمدردی ہے۔ یا خودستائی بیدردی؟ ہمدردی تو اس کا نام تھا۔ جیسا کہ مرزا نے اپنی نسبت لکھا ہے۔ اس کے برعکس اپنوں کی جڑ کاٹنا اور لاولد رہنا اور مورد بلا ہونا اور ان کا گھر بیواؤں سے بھرنا۔
دل دشمنان ہم نہ کردند تنگ
قطعہ
کہ با دوستانت خلاف است جنگ
م...... ”لیکن جو بات کسی مخالف کی نسبت یا خود ہماری نسبت کچھ رنج کی منکشف ہو۔ تو ہم اس میں بکلی مجبور ہیں۔“
(ایضاً)
ل...... ہاں اگر اپنی ذات اور عیال واطفال اور موافقین اور مخالفین کی کوئی خبر یکساں لکھے تو بیشک باعث مجبوری ہے۔ ورنہ قطعی مکر وفریب مفہوم ہوگا۔ اور عام و خاص کی رائے میں مکر قادیانی معلوم ہوگا۔
م...... ”ایسی بات کے دروغ نکلنے کے بعد جو کسی کے دل دکھنے کا موجب ہوگا۔ تو ہم سخت لعن طعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ٹھہریں گے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٩)
ل...... لعن طعن سے آپ کو کیا ڈر ہے۔ بلکہ باعث کر وفر ہے۔ آپ کے معاونین کہا کرتے
٦٥
ہیں ۔ کہ لعن طعن سے ترقی مناسب ہوتی ہے ...... اگر بصورت مختلف ہاتھ و زبان کٹوائے جانے کی شرط ہوتی تو بے شک دوسروں کے لیے عبرت ہوتی ۔
م ...... ”ہم قسمیہ کہتے ہیں ۔ کہ ہمارا سینہ نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے ۔“
(ایضاً)
ل ...... آپ کی قسم کا کیا اعتبار ہے ۔ جس کا فقط دو چار روپیہ پر مدار ہے نیک نیتی یہی ہے کہ جدی بھائیوں کی جڑ کاٹتے ہو اپنی نسل پھیلاتے ہو۔ ایک روپیہ کی کتاب کے سو سو پچاس پچاس لیتے ہو۔ لوگوں کی طرف سے جھوٹے دستخط کر کے جھوٹے خط چھپواتے ہو۔ بیواؤں کی پہلے مرکیاں تک اترواتے ہو۔ کتاب چھپوانے کے لیے لوگوں سے روپیہ لیے اور عیش و عشرت میں اڑا دیئے لوگوں کو زکوٰۃ نکالنے حج کرنے اور مسجد بنانے سے مانع آتے ہو۔ اور جو آپ سے ملنے آتا ہے اس سے پانچ چھ لیے بغیر بات نہیں کرتے اور یہی نیک نیتی ہے ۔ کہ مخالفین کا مرنا چاہتے ہو۔ اور یہی نیک نیتی ہے کہ منشی اندرمن صاحب مراد آبادی کو رجسٹری شدہ اشتہارات بھیج کر مباحثہ کرنے اور الہام دکھانے کے لیے تین سو کوس سے بلوایا۔ حسب وعدہ روپیہ دینا پڑا تو فوراً بھاگ گئے۔ اور اپنا عجز چھپا دیا جب منشی اندرمن صاحب وطن تشریف لے گئے ۔ تو پھر جھوٹے اشتہارات کا جاری کرنا شروع کر دیا اور کہتے ہو جو مسلمان میرے قدموں پر چلے گا۔ اس کی نجات ہوگی ۔ اوروں کی نہیں ۔ اور اپنے تئیں سب اولیاء عظام سے بزرگ تر بتلاتے ہو الحق کہ آپ کی نیک نیتی کہاں تک لکھی جائے ۔ کہ ناحق ناظرین مطالعہ سے کلفت اٹھائیں آپ کے الہامات اور کمالات کچھ معنا نہیں رکھتے ۔
ایں جبہ و عصارا من خوب مے شناسم
م ...... ”ہم کو خود اپنی نسبت اپنے جدی اقارب کی نسبت اپنے بعض دوستوں کی نسبت بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت اور ایک دیسی امیر نو وارد کی نسبت بعض متوحش خبریں مثل موت فوت کے منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔ جو بعد تصفیہ لکھی جائیں گی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٩، ١٠٠)
ل ...... مرزا آج تک تو آپ کو اپنی نسبت کوئی خبر متوحش نہ ملی خدا کو بھی جرأت نہیں کہ آپ کی نسبت بری خبر بھیجے خوف کے مارے تمام خبریں فرح بخش و نشاط افزا بھیجتا ہے۔ بعض جدی اقارب سے مرزا امام الدین صاحب وغیرہ آپ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ جو آپ کا مکر ظاہر کرتے
٦٦
دوستوں سے مراد قادیان کے دس ساہوکار ہوں گے۔ جنہوں نے آپ کا بطلان کیا تھا۔ اور فلاسفر قومی بھائیوں کی عبارت ابو عبدالرحمن صاحب قصوری اور دیوبند اور لدھیانہ کے بعض علماء سے ہوگی۔ جنہوں نے کفر کا فتویٰ آپ کے حق میں دیا اور ویسی امیر نووارد سے کوئی ایسا ہی روشن ضمیر ہوگا۔ جس پر آپ کی حقیقت کھلی ہوگی اور جب منجانب اللہ آپ کی نسبت متوحش خبریں منکشف ہو چکی ہیں۔ تو تصفیہ کس سے ہوگا۔ منصف کون بنے گا۔ محقق ہوں تو آپ جیسے ہوں۔ جو اللہ کی خبروں میں بھی مشکوک ہیں۔
کہ دادند ہمہ خلق را کید بر
م...... ”اور ہر ایک کے لیے ہم دعا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں۔ کہ اگر تقدیر معلق ہو دعاؤں سے ٹل سکتی ہے۔ اس لیے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠)
ل...... آپ تو مقبولوں کے سرغنہ ہیں اور آپ کی دعا تو تقدیر معلق کو بہ اسلوبی تمام ٹال سکتی ہے۔ ہم چند نامی اشخاص کے نام لکھتے ہیں۔ مرزا ان کی مراد پوری کیجیے۔ نواب صاحب کوٹلہ کو تھوڑے دنوں سے خلل دماغی ہے۔ نواب رام پور کو پتھری وغیرہ کا بڑا مرض ہے۔ صدیق حسن خان بھوپال والے معزول ہیں۔ اور ان کی نسبت جو جو مقدمات اور غبن سرکاری دائر ہیں۔ ان سے نہایت ملول ہیں انہیں کے سوشل ایک ناظم صاحب بجرم ظلم وتعدی دس سال کی قید میں مبتلا ہیں۔ جناب بیگم صاحبہ والی بھوپال صدیق حسن خان معزول کو تین لاکھ روپیہ دے کر خارج کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا ارادہ فسخ کیجیے۔ ایک ریاست کے ایک معزز اہلکار مشتاق ہیں۔ کہ ممبر کونسل ہو جائیں۔ دعا کا لٹکا دکھائیے۔ تاکہ خزانہ ریاست سے آپ کی خود مدد کریں۔ اور لوگوں کو دو دو چار چار روپیہ کی تکلیف نہ دیں۔ اور ایک ناظم ریاست پٹیالہ کی آنکھیں آپ کے غایت مطیع ایک ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ سے معالجہ میں جاتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پر احسان کیجیے۔ آپ نے ان سے نمبر وار ایک سال کا وعدہ بھی کیا تھا۔ کہ ہم نمبر وار دعا کرتے ہیں۔ ایک سال کامل ہو گیا اب تو ان کا نمبر آگیا ہوگا اور جانے دو شاہ برما کی طرف توجہ کیجیے کہ آپ کو کوئی ملک مل جائے مرزا صاحب نے تحصیل رزق کی ترکیب تو خوب سوچی ہے۔ کہ پہلے لوگوں کو ڈرا دیں۔ اور پھر دعا کے بہانہ ان کو لوٹیں۔ مگر میرا تجربہ تو یہ ہے کہ کوئی سادہ لوح بھی آپ کی کھوکھلی دعاؤں پر یقین کرے گا۔
م...... ”اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیش گوئی شاق گزرے۔ تو مجاز ہیں۔ کہ یکم مارچ سے یا
٦٧
اس تاریخ سے جو کہ کسی اخبار میں پہلی دفعہ مضمون چھپے۔ ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دے دے۔ تاکہ وہ پیش گوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر اس پر مطلع نہ کیا جائے۔ اور کسی کو اس کے وقت کے ظہور سے خبر نہ دی جائے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠)
ل ...... آپ کی علت غائی یہ ہے۔ کہ لوگ ڈر کر آپ کی طرف رجوع لاویں ۔ اور بھینٹ چڑھاویں اور تحریر بھیج دیں ۔ آپ سے کوئی نہیں ڈرتا ، بے شک جی کھول کر درج کیجیے اور ادھر ہمارا شعلہ طور پر بھی تیار ہوتا ہے۔ ہم بھی اپنا الہام سنائیں گے ۔ اور غیب کی باتیں بتائیں گے ۔مگر ناظرین کو آپ کے الہامات کی قسم کہ کوئی صاحب سہواً یا عمداً کوئی تحریر اقرار کی آپ کے پاس نہ بھیجیں۔ تاکہ معاون افتراء پردازی ہوں کہیں مومن خان کی شعر پر ناظرین صاحب عمل نہ کریں۔
خوش کنم خاطرے از وعدہ پشیمانے را
مگر مرزا صاحب خود بھی خبر دار رہنا کہ جیسے قادیان کے دس ساہوکاروں کی طرف سے جعلی خط مشتہر کیا تھا۔ کوئی قادیانی فریب بنا کر درج رسالہ نہ کر دینا ہم منتظر ہیں۔ فوراً آپ کا کچا چٹھا کھولا جائے گا ۔مرزا نے اشتہار کے مشتہر کرنے میں سوچا ہوگا۔ کہ دیکھیں کیا کیا اعتراض ہوتے ہیں ۔ تاکہ اس سے پہلو بچائیں۔
من ابلهانه گریزم در آبگینہ حصار
فریب کی بنیاد نہیں ہوتی ایک پہلو بچائیں گے ۔ دس پہلو نکل آئیں گے افسوس کہ جن چیزوں کے افشاء کا خدائی منشاء ہو۔ اور آپ اخفا کریں۔ اور یہاں تو امورات دل آزاری کو چھپانے کا۔ منشاء ظاہر کیا ہے اور اخیر صفحہ اشتہار پر دیکھو اپنے جدی بھائیوں کی نسبت کیا کیا سخت کلامیاں کی ہیں اور براہین احمدیہ میں کیا کیا بکواس بکے ہیں۔
م ...... "منجملہ ان پیشگوئیوں کے جو مفصل اس رسالہ میں درج ہوں گی پہلے ایک پیش گوئی جو اس احقر سے متعلق ہے آج ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں برعایت اختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھے جاتے ہیں۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٠)
ل ...... یہ محض خلاف ہی پیشگوئی نہیں ہوئی کیونکہ اس احقر کو صفائی قلب اور نیک نیتی کے سبب
٦٨
کبھی کبھی او تعالیٰ کی بارگاہ میں دخل روحانی ہوتا ہے آپ کا ذکر نہیں سنا۔ آج مبارک دن پھاگن سدی گزر ہوا۔ تو آپ کی تصدیق کلام کے لیے بارگاہ با ہی میری زبان پر گزرا تھا۔
اللہ تعالیٰ نہایت جلال سے: وہ شخص تو ہے اور زمانہ آئندہ میں ایک دو شخص ایسے ہی اور بھی
میں ...... یا خدایا ایسے مکار کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ جو
اللہ تعالیٰ ...... ابھی اس کے پچھلے اعمال کا بدلہ باقی ہـ
میں ...... پچھلے جنم میں وہ کون تھا۔
اللہ تعالیٰ ...... گھنی لومڑی تھی۔ جو مکر و فریب سے فریب اس کی ذات میں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ۔ سے اول نام نامی آپ کا درج تھا۔
میں ...... خداوند اس نے یہ اشتہار جاری کیا ہے کہ
اللہ تعالیٰ ...... محض جھوٹا ہے ہم نے کوئی الہام یا مـ اس کے برعکس ہوگا۔ تو جا اور بذریعہ اشتہار اس کو المامور معذور۔
م ...... "پہلی پیش گوئی۔"
ل ...... جبکہ یہ سب سے اول پیشگوئی ہے اس سے پہلے درج براہین احمدیہ ہو چکی ہیں۔ جو سر پر چڑھ کر بولے۔
م ...... "خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایـ
ل ...... رحمت کا نہیں زحمت کا کہا ہوگا آپ تو
م ...... "تیری دعاؤں کو میں نے سنا اور
ل ...... خدا کہتا ہے جھوٹوں کا جھوٹا ہے میـ
م ...... "تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لود
کبھی کبھی باری تعالیٰ کی بارگاہ میں دخل روحانی ہوتا ہے کسی وقت اور کسی مقرب یا خود اللہ تعالیٰ سے آپ کا ذکر نہیں سنا۔ آج مبارک دن پھاگن سدی ایکادشی ٤٤ بکرمی کو جو صفائی قلب میسر ہو کر پھر گزر ہوا۔ تو آپ کی تصدیق کلام کے لیے بارگاہ باری تعالیٰ میں جو عرض کرنا چاہا تو ابھی غلام احمد ہی میری زبان پر گزرا تھا۔
اللہ تعالیٰ نہایت جلال سے: وہ شخص تو روز ازل سے مکار و غدار اور مفتری پیدا کیا گیا ہے اور زمانہ آئندہ میں ایک دو شخص ایسے ہی اور بھی ہوں گے۔
میں...... یا خدایا ایسے مکار کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ جو بندگان ایزدی کو گمراہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ...... ابھی اس کے پچھلے اعمال کا بدلہ باقی ہے۔ تین سال میں سزا دی جائے گی۔
میں...... پچھلے جنم میں وہ کون تھا۔
اللہ تعالیٰ...... گدھی لومڑی تھی۔ جو مکر و فریب سے جنگل کے جانوروں کو کھایا کرتی تھی۔ وہی مکر و فریب اس کی ذات میں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو لوح محفوظ دکھائی جس میں سب مکاروں سے اول نام نامی آپ کا درج تھا۔
میں...... خداوند اس نے یہ اشتہار جاری کیا ہے کہ مجھ کو الہامات ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ...... محض جھوٹا ہے ہم نے کوئی الہام یا پیشگوئی نہیں بتلائی جو باتیں وہ بکتا ہے یا لکھے گا۔ اس کے برعکس ہوگا۔ تو جا اور بذریعہ اشتہار اس کا جھوٹ مشتہر کر تا کہ میرے بندے نجات پاویں:
المامور معذور۔
م...... ”پہلی پیش گوئی۔“
ل...... جبکہ یہ سب سے اول پیشگوئی ہے تو آپ کے اقوال کے موافق اور تمام پیشگوئیاں جو اس سے پہلے درج براہین احمدیہ ہو چکی ہیں۔ جھوٹی ہوئیں۔ حقا کہ دروغ گورا حافظہ نباشد جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔
م...... ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔“
(ایضاً)
ل...... رحمت کا نہیں زحمت کا کہا ہوگا آپ تو ہر ایک بات کو الٹا سمجھتے ہیں اور رمز میں امتیاز نہیں رکھتے۔
م...... ”تیری دعاؤں کو میں نے سنا اور اپنی رحمت سے قبول جگہ دی۔“
(ایضاً)
ل...... خدا کہتا ہے جھوٹوں کا جھوٹا ہے میں نے کبھی اس کی دعا سنی نہ قبول کی۔
م...... ”تیرے سفر کو جو ہوشیار پور اور لودھیانہ کا سفر ہے تیرے لیے مبارک کیا۔“
(ایضاً)
٦٩
ل....... خدا اس سفر کو نہایت منحوس بتلاتا ہے اپنے تیا کنجر کی سرائے میں شاید لدھیانہ جیل خانے کے متصل فروکش ہونے کو مبارک سمجھا ہوگا۔ مرزا صاحب کو فرقہ طوائف بہت پاک معلوم ہوتا ہے۔ کہ تمام شہر لدھیانہ چھوڑ کر کنجر کی سرائے پسند کی اور براہین احمدیہ کی مدد میں طوائفان کا مال جو شرع محمدی میں قطعی حرام ہے شامل کیا۔ انبالہ میں تو مرزا صاحب نے پلیٹ فارم پر پولیس کے سپاہیوں سے دھکے کھائے اور پٹیالہ میں امراء و رؤساء سے خوب روپیہ لے آئے قصبہ سنور میں ایک برہمن سے مباحثہ کرنے میں ہار کر رات کو بھاگ آئے مگر اس سفر میں اعلیٰ درجہ کی مبارک بادی کنجر کے گھر میں رہنے کی ہوگی۔
م....... ”سو قدرت اور رحمت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔“
(ایضاً)
ل....... خدا کہتا ہے۔ میں نے قہر کا نشان دیا ہے۔ رحمت کا نشان فقط تیا کنجر کی سرائے ہے اور بس۔
م....... ”اے مظفر تجھ پر سلام۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
ل....... الفاظ تو یہ تھے۔ اے منکر و مکار تجھ پر آلام۔
م....... ”خدا نے کہا تھا۔ وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔ موت کے پنجہ سے نجات پائیں قبروں سے دبے پڑے باہر آئیں۔“
(ایضاً)
ل....... خدا کہتا ہے کہ میں جلد مصنوعی کو فی النار کروں گا۔ اور قبر سے نکال کر جہنم میں ڈالوں گا۔
م....... ”دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔“
(ایضاً)
ل....... آج تک گویا جس کا نام اسلام ہے وہ محض خیال خام تھا۔ اور جس کا نام قرآن ہے۔ وہ شرف کے مرتبہ سے برکنار تھا۔ اب مرزا کی بدولت شرف و مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہوگا اور قرآن و اسلام کا نام نیک نام ہوگا یا بدنام۔
م....... ”اور حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔“
(ایضاً)
ل....... مرزا ہی کے منہ سے ثابت ہوا کہ اب تک دین اسلام میں باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ موجود تھا۔ اور حق معہ اپنی تمام برکتوں کے مفقود تھا اب ساحر قادیانی کے وجود سے حق آئے گا۔ اور باطل جائے گا۔
م....... ”میں تیرے ساتھ ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
٧٠
ل...... پہلے پیشوایان کے ساتھ کون تھا۔ البتہ خدا کا فرمان تھا کہ میں مرزا کے ساتھ نہیں اس کا مددگار شیطان ہے۔
م...... ”جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لائے۔ وہ خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ہے۔“
(ایضاً)
ل...... خدا کا ارشاد ہے کہ آریہ میرا دین ہے اور ویدا قدس میری کتاب ہے پر ہمارا رسول جن کا اس پر ایمان ہے۔ وہ مومن اور میرے وجود کے قائل ہیں اور جو اس سے منکر ہیں وہ کافر اور شیطان کی طرف مائل ہیں۔
م...... ”تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام لڑکا تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے تخم سے ہوگا۔“
(ایضاً)
ل...... خدا نے یہ فقرہ سن کر مسکرا کر فرمایا کہ تو اس فریب کو سمجھا۔ (میں نے) عرض کیا میں دوسو کوس کے فاصلہ پر رہتا ہوں مجھے کیا معلوم ہے (فرمایا) مرزا بڑا غلام الشہوت ہے۔ اب پچاس سالہ ہے اور سلطان احمد اور فضل احمد اس کے دو فرزند حیات ہیں۔ جن میں سے ایک ستائیس اور دوسرا پچیس سالہ ہے۔ باوصف اس کے ڈیڑھ سال ہوا کہ بندہ شہوت ہو کر خوبصورت عورت سے اور شادی کی ہے۔ شبانہ روز کے دھکا پیل سے وہ حاملہ ہوگئی۔ اس سے جو لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کا نام پاک لڑکا رکھا ہے۔ (میں) عرض کیا واقعی لڑکا ہوگا۔ (فرمایا) نہیں لڑکی ہوگی مگر اپنا الہام سچا کرنے کو مرزا اس وقت ضرور فریب کھیلے گا۔ اور اس وقت ہم تجھ کو اطلاع دیں گے۔
مرزا صاحب! اب میرا سوال ہے؟ کہ آپ کے ہاں یہ لڑکا اب کی دفعہ ہوگا یا دوسری دفعہ تاہم عبارت اصلی کہتی ہے۔ کہ اگر اب کی دفعہ لڑکا ہو گیا۔ تو الہام سچا ہو ورنہ دوسری دفعہ کی تاویل بناؤ گے۔ کیوں صاحب اب خدا نے آپ کو پاک اور زکی لڑکا دینے کی بشارت دی ہے کہ پہلے لڑکے دونوں گو بظاہر ناپاک غبی ہیں اپنی ذریت میں ہونے سے ان کی نسبت جناب کو کچھ شبہ بھی ہے۔
م...... ”اس کا نام عمانوئیل اور بشیر بھی ہے۔“
(ایضاً)
ل...... ہم نے سنا خدا کہتا ہے۔ اس کا نام عزرائیل اور شریر بھی ہے۔
م...... ”اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔“
(ایضاً)
ل...... کیا آپ کو شاید شیطانی روح عطا ہوئی ہے اور آپ کی نسبت یہی کہنا چاہیے کہ ناپاک اور پلید روح دی گئی ہے۔
٧١
م...... ”وہ نور اللہ ہے۔“
(ایضاً)
ل...... وہ دیجور کھلم کھلا ہے۔
م...... ”مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔“
(ایضاً)
ل...... خدا کہتا ہے۔ وہ آسمانی گولہ نہایت منحوس ہے جو پاتال کو جاتا ہے۔
م...... ”اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔“
(ایضاً)
ل...... آج تک مرزائی فرقہ میں عموماً اور مرزا صاحب پر خصوصاً قہر کا ساتھ تھا۔ جو اس مغضوب ربانی کے سبب جہان میں آیا تھا۔
م...... ”وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔“
(ایضاً)
ل...... شاید وہ صاحب ذلت و نحوست و نکبت ہوگا۔
م...... ”وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔“
(ایضاً)
ل...... خدا کہتا ہے کہ وہ مرزا کی طرح دنیا میں آ کر اعزاز شیطانی نفس اور روح منحوس کی نحوست سے بہتوں کو دائم المریض کر کے واصل فی النار کرے گا اور آخر کو خود بھی اسی میں پڑے گا۔ اس کا نام خردجال ہوگا۔
م...... ”وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔“
(ایضاً)
ل...... خدا اسے ناپاک بتلاتا ہے۔ جس کو شیطان نے اپنی شیطنت اور بے حمیتی سے بھیجا ہے۔
م...... ”وہ بہت ذہین اور فہیم ہوگا۔“
(ایضاً)
ل...... وہ نہایت غبی اور کودن ہوگا۔
م...... ”اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔“
(ایضاً)
ل...... خدا کہتا ہے وہ نہایت غلیظ القلب ہوگا۔ اور علوم صوری اور معنوی سے قطعی محروم رہے گا۔
م...... ”وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے)“
(ایضاً)
ل...... خدا نے اس کے معنے مجھ کو بتلائے ہیں۔ کان لگا کر سن لیجیے کہ ایک تو طلیحہ اور دوسرے اسود عنسی نے پیغمبر کا دعویٰ کیا تھا۔ اور اب غلام احمد قادیانی کر رہا ہے۔ یہ تین نئے دعوے رسالت کر کے تین کو چار کرے گا۔ قیاساً یہ صورت ہی ہو سکتی ہے ایک آپ اور دونوں آپ کی بیویاں چوتھا وہ۔
٧٢
م ...... ”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء۔“
(ایضاً)
ل ...... خدا کہتا ہے۔ غلام جہاں بد بخت خسر الدنیا والآخرة مصدر باطل والعاطل۔
م ...... ”كان الله نزل من السماء (گویا خدا ہی آسمان سے اتر آیا)“
(ایضاً)
ل ...... خدا کا فرمان ہے کان الشیطان نزل من الفلک۔ مرزا اس کا نزول تو ہوتا ہے۔ آپ کا اور آپ کے دونوں فرزند سابقہ کا نزول کہاں سے ہوا تھا؟
م ...... ”جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔“
(ایضاً)
ل ...... کیا آپ کے اور آپ کے دونوں فرزندوں کا ظہور نامبارک اور قہر الٰہی کے ظہور کا باعث ہوا تھا۔
م ...... ”نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہے۔“
(ایضاً)
ل ...... آیا آپ اور آپ کے دونوں لخت جگر ظلمت محض ہیں جن کو خدا نے اپنے قہر غضب کے قطران سے ملطخ اور گندہ کیا اس کو بھی خدا اسی تھیلے کا بند بناتا ہے۔
م ...... ”ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔“
(ایضاً)
ل ...... پہلے سابقہ حاملہ میں کس کی روحیں پڑی تھیں اور کس کے زیر سایہ تھے۔ اس کی نسبت تو خدا کا یہ فرمان ہے کہ اس میں شیطان کی روح پڑے گی۔ اور خدا کا غضب اس پر پڑے گا۔
م ...... ”وہ جلد جلد بڑھے گا۔“
(ایضاً)
ل ...... خدا کہتا ہے۔ کہ محض جھوٹا ہے جلد جلد تو مرغی کا بچہ یا چار پائے کا بچہ بڑھتا ہے۔ اگر وہ آپ کا بچہ ہے۔ تو آہستہ آہستہ پرورش پائے گا۔ بھلا مرزا صاحب آپ کے قول موافق وہ ہفتہ میں کتنے فٹ کا ہوگا اور بھلا سابقہ بچہ کتنے فٹ کا ہو جائے گا۔
م ...... ”اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔“
(ایضاً)
ل ...... کیا پہلا سابقہ اسیر فقیروں کی قید کا باعث ہوا ہے۔ اور اب خدا کہتا ہے وہ دائم الحبس ہوگا۔
م ...... ”اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠١، ١٠٢)
ل ...... پہلا سابقہ کیوں گمنام رہا اب خدا کہتا ہے۔ محض خلاف ہے۔ اس رذیل کا نام قادیان میں ہی بہت سے نہ جانیں گے۔
م ...... ”اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠٢)
ل ...... ثابت ہوا کہ آج تک سب فرقے اسلام کی برکت سے محروم ہیں۔ اور مرزا صاحب کے
٧٣
ارد گرد سے برکت معدوم ہے۔ اب برکت سے برکت پائیں گے۔ اور اپنا نام بڑھائیں گے۔
م...... ”پھر بشارت دی تیرا گھر برکت سے بھر جائے گا۔ اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری
(ایضا)
کروں گا۔“
ل...... معلوم ہوا کہ اب تک ساحر قادیانی کا گھر نحوستوں سے بھرا ہوا ہے اور خدا کی کوئی نعمت اس پر پوری نہیں ہوئی جب پچاس برس تک محروم رہا۔ تو اب کیا مقسوم رہا۔
م...... ”اور خواتین مبارکہ ہیں جن میں سے بعض کو تو بعد میں پائے گا۔ تیری نسل بہت
(ایضا)
ہوگی۔“
ل...... پچاس برس کی عمر ہو چکی ہنوز خواتین کی آرزو باقی ہے۔
سیاہی از سر رفت واز او زفت جب پچاس سال تک نسل نہ پھیلے تو اب ترا کہ دست باز و کمر چہ دانی سفت اولاد پھیلنے کی کیا امید ہے۔ پیری و صد عیب ہمیں گفتہ اند۔
م...... ”اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا۔“
(ایضا)
ل...... شاید خدا کہتا ہے کہ میں مرزا کی ذریت کو منقطع کروں گا۔ اور نحوست دوں گا۔ مرزا صاحب آپ ہر ایک بات کو الٹے ہی سمجھتے ہیں۔
تم الٹے بات الٹی یار الٹا
م...... ”مگر بعض ان میں سے کم عمر میں فوت بھی ہوں گے۔“
(ایضا)
ل...... بعض بھی مگر قادیانی ہے اصل میں کلہم حکم ربانی ہے۔
م...... ”اور ہر ایک تیرے جدی بھائیوں کی جڑ کاٹی جائے گی۔ اور لاولد رہ کر ختم ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔ اور ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے۔“
(ایضا)
ل...... خدا نے یہ الہام سن کر خفا ہو کر فرمایا۔ کہ یہ پیشگوئی ہے۔ یا قصہ گوئی جو بات مدت سے ظاہر ہے۔ چالاکی سے اپنا الہام بتا کر لوگوں کو ناحق دھوکہ میں ڈالنا ہے۔ اور اپنے جدی بھائیوں کا دل دکھانا ہے اس کے بعد خدا نے ایک کاغذ پر اس اور اس کے جدی بھائیوں کا نسب معہ کیفیت نقص لکھ کر میری طرف ڈال دیا اور اشارہ واسطے مشتہر کرنے کے کیا۔ لہٰذا وہ شجرہ نسب پیش ارباب بصیرت کر کے ملتجی ہوں۔ کہ سب صاحبان غور فرماویں۔ اور اس قادیانی نے جو محض جھوٹے قصہ بنا کر درج اشتہارات کیے ہیں۔ جب خود خدا اس کے کذب پر گواہی دیتا ہے۔ تو اب شک کیا ہے۔
٧٤
شجرہ نسب غلام احمد
غلام مرتضیٰ
غلام قادر غلام احمد اما م الدین
اخیر ١٨٨٣ء میں عمر ٥٥ سال لاولد فوت ہوا
سلطان احمد فضل احمد
ان کا سن شریف اس وقت ٥٥ سال ہے اولاد نہ ہو سکے
اب ناظرین شجرہ نسب سے اع کیونکہ جس حالت میں سوائے غلام احمد عورتیں بیوہ موجود ہیں۔ اور جو مرزا امام ا کے کچھ اولاد کی امید نہیں۔ پھر یہ لکھنا الہ جائیں گے۔ کسی جعلسازی اور پبلک کو دھو م...... ”خدا بڑی برکتیں ارد گرد پھیلا ل...... آج تک آپ کے ارد گرد کوئ قادیان آباد شدہ آپ سے اجاڑ اور ویران م...... ”ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے ل...... آج تک آپ کا گھر نحوستوں م...... ”تیری ذریت منقطع نہ ہوگی
شجرہ نسب غلام احمد قادیانی حسب ایماء ربانی
مورث اعلیٰ
عطاء محمد غلام مرتضیٰ غلام محی الدین غلام حیدر غلام قادر غلام احمد امام الدین نظام الدین کمال الدین حسن بیگ اخیر ١٨٨٣ء میں ٥٥ سال لاولد فوت ہوا سلطان احمد فضل احمد ان کی عمر شریف اس وقت ٥٥ سال ہے اولاد نہیں رکھتے آپ کی عمر قریب پچاس برس کے ہے اولاد کوئی نہیں قریب پچاس برس کے ہے اس کی ایک لڑکی ہے وہ لڑکا نہیں ہے ایک مرتبہ پھر نکاح کیا تھا مگر وہ لاولد مر گیا۔ عمر پینسٹھ سال ہے جب کہ اس کی قریب پندرہ بیس برس کی ایک منکوحہ آخر ہے اس کی عورت بطور بیوہ کے موجود ہے۔
اب ناظرین شجرہ نسب سے اندازہ کر سکتے ہیں۔ کہ آیا پیشگوئی ہے۔ یا بے ہودہ گوئی؟ کیونکہ جس حالت میں سوائے غلام احمد کے کسی کے گھر میں قدرت ہی سے اولاد نہیں۔ اور دو عورتیں بیوہ موجود ہیں۔ اور جو مرزا امام الدین وغیرہ حیات ہیں۔ ان کے آگے بوجہ مسن ہونے کے کچھ اولاد کی امید نہیں۔ پھر یہ لکھنا ان کی یعنی میرے جدی بھائیوں کی بیواؤں سے گھر بھر جائیں گے۔ کسی جعلسازی اور پبلک کو دھوکہ دہی ہے۔
م...... ”خدا بڑی برکتیں ارد گرد پھیلائے گا۔ اور ایک اجڑا ہوا گھر اتھتہ سے آباد ہوگا۔“
(ایضاً)
ل...... آج تک آپ کے ارد گرد کوئی برکت نہیں پھیلی۔ نحوستیں ہی نحوستیں پھیلتی ہیں اور قصبہ قادیان آباد شدہ آپ سے اجاڑ اور ویران ہو گیا۔ م...... ”ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر جائے گا۔“
(ایضاً)
ل...... آج تک آپ کا گھر نحوستوں سے خدا نے بھرا ہوگا۔ م...... ”تیری ذریت منقطع نہ ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔“
(ایضاً)
٧٥
ل...... آپ کی ذریت منقطع ہو جائے گی غایت درجہ تین سال شہرت رہے گی۔
م...... ”خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔ عزت کے ساتھ قائم رکھے گا“
(ایضاً)
ل...... خدا کہتا ہے۔ چند روز تک قادیان میں نہایت ذلت وخواری کے ساتھ کچھ تذکرہ رہے گا۔ پھر معدوم ومحض ہو جائے گا۔
م...... ”تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“
(ایضاً)
ل...... آپ تو کس باغ کی مولی ہیں۔
م...... ”میں تجھے اٹھاؤں گا“
(ایضاً)
ل...... آپ اٹھانے کے قابل ہیں۔ میری یہی دعا ہے کہ بہت جلد اٹھائے جائیں اور درکات میں ڈالے جائیں۔
گفتم این فتنہ است خوابش بردہ بہ
م...... ”تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٣)
ل...... جو آپ کا چہ چا رہے گا۔
م...... ”اور ایسا ہوگا۔ کہ سب وہ لوگ جو تیری ذات کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں۔ وہ سب ناکام رہیں گے اور ناکامی کے ساتھ مریں گے“
(ایضاً)
ل...... بقول مرزا آج تک تو کوئی اس کا مخالف اور مکذب ناکامی اور نامرادی سے نہیں مرا ...... مخالف اسی طرح شادکام رہ کر سرکوبی اور گوشمالی کرتے رہیں گے۔ اور بذریعہ اشتہارات بحکم خداوند تعالیٰ مکاروں کے مکر ظاہر کرتے رہیں گے۔
م...... ”لیکن خدا تجھے بھلی کامیاب کرے گا۔ اور تیری مرادیں تجھے دے گا“
(ایضاً)
ل...... آج تک تو آپ بلکلی ناکام رہے اور ساری مرادوں سے محروم تاہم جب اس عمر تک ناکامی رہی ہے۔ تو آئندہ بھی نامرادی رہے گی کوئی امید نہ بر آئے گی۔
م...... ”میں تیرے خالص دوست اور دلی محبوں کا گروہ بڑھاؤں گا۔ ان کے نفوس و مال میں برکت دوں گا اور کثرت بخشوں گا“
(ایضاً)
٧٦
ل....... اب تک تو آپ کی خالص اور دلی محبوں کا گروہ گھٹایا ہے۔ اور ان کی جانیں اور ان کے مال برباد ہوئے آئندہ بھی خدا کہتا ہے۔ خسر الدنیا و الآخرة!
م....... ”اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہے گی۔ جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔“
(ایضاً)
ل....... آپ کا گروہ بھی ایک لالہ شرم پت رائے پیشگوئی کے گواہ اور دوسرا عبداللہ سنوری اور دو ایک ایسے ہی ٹکر خور ہیں جس سے دو چار روپیہ مل گئے۔ اس کی مدح کر دی۔ ورنہ قدح آور آپ نے فریب بنایا وہ گواہ بن گئے۔
م....... ”خدا انہیں نہ بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا (اس کا جواب نہیں لکھا) تو مجھے ایسا ہے۔ جیسے انبیاء بنی اسرائیل (جواب نہیں لکھا) تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں۔“
(ایضاً)
ل....... دور و تسلسل ہوا سوال یہ ہے کہ پہلے کون باپ بنا تھا۔ اور والدہ شریفہ کا کیا نام تھا۔ خوب عیسائی تو فقط حضرت عیسیٰ اور مریم کو روحانی خدا کا زن و فرزند بتلاتے ہیں۔ یہ حضرت پیغمبر قادیان خوب پیدا ہوئے کہ نہ فقط خدا کے زن و فرزند ثابت کرتے ہیں۔ بلکہ خود خدا کا باپ بھی بننا چاہتے ہیں۔
م....... ”اور وقت آتا ہے۔ بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امراؤں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا۔ یہاں تک کہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈھیں گے۔“
(ایضاً)
ل....... خدا کہتا ہے کہ وقت اقرب ہے کہ حکام تجھے خوب افتراء پردازی کی سزا دیں گے اور لوگ تیرے نام سے نفرت کریں گے۔ اور لعنتیں پڑیں گی۔
م....... ”اے منکرو اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو۔ اگر تمہیں اس فضل واحسان سے کچھ انکار ہے۔ جو ہم نے اپنے بندہ پر کیا۔ تو اس نشان رحمت کی مانند تم اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو۔“
(ایضاً)
ل....... قادیانی خدا کا ارشاد ہے۔ تجھ پر کچھ فضل واحسان نہیں کیا۔ نہ کوئی رحمت کا نشان بھیجا۔ یہ سب تیری کارسازی ہے۔ سراسر جعلسازی ہے۔ اور خدا کا یہ بھی فرمان ہے کہ میں نے جو فضل احسان کیا ہے۔ سب آریوں پر کیا ہے اور وقتاً فوقتاً انہیں کو الہامات اور غیب کی چیزوں سے اطلاع دی ہے اور سب فرقے جھوٹے مدعی ہیں۔ یہ بشارت خدا تعالیٰ نے ہم کو دی ہے اگر آپ کو اس میں کچھ شک ہو تو اس کے مقابل کوئی دلیل پیش کیجیے۔ ورنہ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ وہ بڑا قادر مطلق ہے۔ جھوٹوں کو بہت سزا دے گا۔ اور ان کو عذاب سے معذب کرے گا۔
٧٧
عذر ...... مرزا صاحب اس اشتہار میں جو کچھ احقر نے عرض کیا ہے۔ حرف بحرف خدا تعالیٰ کی حکمت لکھا گیا ۔ اور اس کی حکم سے کسی کو گریز نہیں۔ کیونکہ وہ احکم الحاکمین ہے پس آپ اور آپ کے معاونین اس معروضہ کو پڑھ کر رنجیدہ دل اور کبیدہ خاطر نہ ہوں المامور معذور :بقول
از کمان دار بیند اہل خرد
الراقم قاطع براہین احمدیہ از پنجاب بھاگن شری اکادشی ١٩٤٢ء مطابق ١٨ مارچ ١٨٨٦ء کلیات آریہ مسافر صفحہ ٢٩٣ تا ٢٩٩
حاشیہ جات
١؎ انبالہ شہر میں ایک جڑوتی تھی وہ بڑی مالدار تھی۔ جب وہ اور اس کی بیٹی مسماۃ اللہ دی ایک دختر خرد سال چھوڑ کر مر گئیں تو اس کا بیٹا مسمی اللہ دیا اہل حدیث کی صحبت میں بیٹھ کر تائب ہو گیا اس کی لڑکی خورد سال یعنی اپنی بھانجی کا نکاح مولوی محمد صدیق صاحب سے کر دیا زیور اور جائیداد کو جو حرام کے ذریعہ سے پیدا کی گئی تھی۔ اس نے نہیں رکھا۔ لالہ راج کنوار داروغہ چنگی سے تمام قرض لے کر اس نے بساطی کی دکان کی خدا نے اس کو برکت دی۔ شاید یہ اس کی طرف اشارہ ہے اس کا تذکرہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنہ اور مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری نے ”رسالہ آسمانی“ میں لکھا ہے۔
٢؎ ہم کو ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ مرزا نظام الدین کے گھر اس پیشگوئی کے بعد اولاد خدا نے عطا فرمائی ہے ہم نے مرزا نظام الدین کو ایک جوابی کارڈ بھیج کر دریافت کیا۔ جو اب مورخہ ٢٧ مارچ ١٩٠٣ء کا لکھا ہوا آیا۔ جس کی نقل ہم ذیل میں درج کرتے ہیں ”جناب من! خداوند کریم نے مجھ کو دو فرزند عطا کیے ایک کی پیدائش ٢٥؍ اسوج ١٩٠٢ء بروز پیر اور نام اس کا مرزا دل محمد دوسرے کی پیدائش اگست ١٨٩٧ء بروز پیر اور نام اس کا علی محمد ہے۔ اور خیریت ہے، اور راقم مرزا نظام الدین مورخہ ٢٧ مارچ ١٩٠٣ء۔“
باب ١٤ چہار دہم
محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی
٧٨
زین ہر دو بتر دان تو شبی را کہ در اقلیم باخنجر خونریز دل نرم ندارد
زین ہر سہ تتمہ بشنو با تو بگویم پیرے کہ جوانی کند و شرم ندارد
ہائے تو کب تک ستائے گی اے نامراد محبت، اے خانہ خراب عشق، تیرا برا ہو۔ تو کیا شے ہے۔ محبت آہ کیا پیارا نام ہے۔ نہیں نام ہی پیارا نہیں اس کی ابتداء ہی نہایت ہی خوشگوار ہے۔ انجام خرابی اور عالم شباب اولیٰ۔ مگر ہائے ناکامی ہمیں تو شباب کبھی آیا ہی نہیں۔
ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے
”چالیس سال کی عمر میں ہی حالت مردمی کالعدم تھی۔ ضعف دماغ اور ذیابیطس مہلک مرض مستزاد“
(تریاق القلوب ص ٣٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣)
اور اب تو پیری وصد عیب کے مصداق سن شریف پنجاہ و شش تا بزم باین ریش فش اگر کسی پر یہ راز فاش ہوا تو کیا حالت ہوگی۔
ہیں ہیں میں کیا کہتا ہوں۔ وہ شریف اور پاک دامن، با عصمت، صاحب عفت، لڑکی کم سن ان نامحرموں میں کیونکر آسکتی۔
شاید بازاری تو ہے ہی نہیں۔ اور ابھی اس کو خبر ہی کیا ہے۔ سن تمیز اور بلوغ کو بھی نہیں پہنچی۔
ہائے ظالم تیری کس ادا نے مجھ گرگ باران دیدہ سرد و گرم زمانہ چشیدہ کو بیک نظر از خود رفتہ دین و دنیا سے بیگانہ کر دیا۔ پیری میں آہ کتنی بے مزہ سی زندگی۔ بجھ بجھ کر پھر بھڑکتی ہے۔ شمع سحر کی لو۔ اے کاش تو میری ہوتی یا اپنی صورت دیکھا کر یہ روز سیاہ مجھ کو نہ دیکھاتی مجھ کو کیا خبر تھی۔ لگتے ہی ہو گیا جگر کے پار۔ تیر مژگاں نے زود کام کیا۔
اس سفر کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیا اسی واسطے تقدیر کشان کشان وہاں لے گئی تھی۔ افسوس کھو بیٹھے کوئے یار میں ہم جا کے دوستو۔ ناموس ننگ وغیرت و صبر و قرار دل۔ دل ہے کہ سینہ میں تنور کی طرح جلتا ہے۔ آنکھ ہے کہ دریا کی طرح جاری۔ کسی کروٹ کسی پہلو آرام نہیں۔ ایک سب آگ ایک سب پانی۔ دیدہ و دل عذاب میں دونوں۔ پاؤں کی آہٹ سے چونک کر کراہا کون ہیں شاہ جی؟
٧٩
شاہ جی ...... حضور بندہ ہے آج حضور کی طبیعت کیسی ہے نصیب اعداء حضور کے حال سے از حد اضطراب اور پریشانی ہویدا ہے۔
حضور ...... کچھ اختلاج قلب سا معلوم ہوتا ہے۔ دل میں درد ہے اور قلب بہت اچھلتا ہے۔ دیکھو یہ کرتہ کے باہر سے قلب کی حرکت محسوس ہوتی ہے۔
شاہ جی ...... حضور کو یہ مرض دورہ کے طور پر ہو جاتا ہے۔ حکیم صاحب کو اطلاع کروں (بدوں اس کے کہ کچھ جواب ملے) فوراً واپس ہوئے اور حکیم صاحب کو اطلاع کی کہ حضرت اقدس کی طبیعت سخت ناساز ہے۔ اور بہت ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
حکیم صاحب ...... نہایت پریشانی کے لہجہ میں گھبرا کر خیر باشد کیا حال ہے۔ کچھ بیان تو کرو۔
شاہ جی ...... وہی اختلاج القلب دل میں درد بتلاتے تھے۔
حکیم صاحب ...... اضطراب اور پریشان حالی میں حاضر ہو کر حضور کے مزاج اقدس اللہ تعالیٰ اپنا فضل شامل حال رکھے ہمارا تو مدار زندگی حضور کے قدموں کے ساتھ ہے۔
مسیحا کو بھی دیکھا جان بلب ہے
حضرت اقدس ...... خلاف معمول قلب میں بے چینی سی معلوم ہوتی ہے۔ دل بیٹھا جاتا ہے۔ سانس بند ہوتا ہے۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے دل کو سینہ میں کوئی ملتا ہے۔ دل ہے کہ بہت اچھلتا ہے۔ نہ بیٹھے آرام ہے۔ نہ لیٹے تسکین نیند آجائے تو شاید کچھ سکون ہو جائے۔ مگر یہ محال بلکہ ناممکن۔
حکیم صاحب ...... نے فوراً مفرح یاقوتی جو ساتھ لائے تھے۔ عرق کیوڑہ اور بیدمشک کے ساتھ دیا۔ کچھ دل کو تسکین ہوئی۔
حضرت اقدس ...... چادر کو منہ پر کھینچ کر اچھا اب دیکھو آرام معلوم ہوتا ہے۔ آپ بھی آرام کیجیے۔ شاید آنکھ لگ جائے۔
حکیم صاحب ...... (مؤدبانہ) بہت بہتر اگر نیند آجائے تو فبہا المراد ورنہ دوا بھیجتا ہوں۔ اس میں سے تھوڑی دوا نوش فرما لیجیے۔ آنکھ لگ جائے گی۔
حضرت صاحب ...... تھوڑی دیر چارپائی پر چپکے پڑے رہ کر اُف آج تو نیند ہی حرام ہوگئی ہے۔ وضو کر کے مصلے پر بیٹھے۔
آج کی رات عبادت ہی سہی
٨٠
دو رکعت نماز پڑھی بیٹھا بھی نہیں جاتا
دل پھر گیا نہ تیرا آخر خدا سے دیکھا
نہ نیند آتی ہے نہ بیٹھا جاتا ہے۔ سرہانے سے کتاب اٹھا کر دو چار ورق الٹ پلٹ کر رکھ دی۔ خدایا یہ معاملہ کیا ہے۔ تو ہی عزت و آبرو کا نگہبان ہے۔ اگر بے تابی سے ایسے ہی پاؤں پھیلائے۔ تو سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔ غیر لوگ تو گئے جھولے میں اور آئندہ کی رجوعات بھاڑ میں جو مرید پھنس گئے ہیں۔ اور اب موجود ہیں۔ ان کا بھی بھروسہ نہیں کہ رہیں کروٹ لے کر۔
ہم سے تو رات کٹ نہ سکی انتظار کی
چار پائی پر بیٹھ کر سر کو پکڑ کر ہائے سر چکر کھانے لگا۔ یا ارحم الراحمین کیا کروں۔ دائم مرض کے سبب بدن میں ہلنے کی طاقت نہیں۔ ذیابیطس ضعف دماغ اور دوران سر میرے ہمزاد کی طرح جان کے ساتھ جائیں گے۔ اب بڑھاپے میں عشق اور کیا معنی اور عشق بھی ایک نادان لڑکی کا۔
ان کو تو وفا کیسی جفا بھی نہیں آتی
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَظِيْم ہمت ہارنی عشق میں انجام کار سوچنا عقل کے خلاف ہے۔
مزے ہیں سو طرح کے عالم امیدواری میں
آخر ہماری برادری میں بھی قریب رشتہ داری ہے۔ میں بھی کچھ چھوکرا نہیں، چمار نہیں خدا کی عنایت سے عزت میں، دولت میں، شہرت میں، امارت میں کچھ زیادہ ہی ہوں دوسرے قرابت قریبہ سے پھر سلسلہ جنبانی کیوں نہ کی جائے۔
لڑکی کے باپ کو خط لکھا جائے۔ لڑکی کی ماں بھی ہماری چچیری بہن ہے کسی کو کان و کان بھی خبر نہ ہوگی۔
کسی نے کر لیا معلوم راز دل تو کیا حاصل
٨١
یہ نامراد برادری کے جھگڑے تازہ ایسے ہیں قریبی عزیزوں کو دور کر دیتے ہیں۔ غیر کیا دشمن بنا دیتے ہیں۔
فضل احمد (چھوٹے بیٹے) کی بیوی کی معرفت سلسلہ جنبانی کی جائے تو مصلحت ہے۔
پہلے عزت بی بی کے باپ مرزا علی شیر سے اس معاملہ میں مشورہ کیا جائے یہ رات جو روز حشر سے طولانی اور حسرت عشاق سے لایعنی ہیں۔ بڑی مشکل سے کئی پاؤں کی آہٹ معلوم ہوئی۔
شاہ جی ...... (نو وارد) یہ دوا کی شیشی حکیم صاحب نے دی ہے۔ اس کو نوش جان فرما لیجیے۔ نیند آ جائے گی۔
حضرت اقدس ..... شیشی کلورائیڈات سے ایک گلاس میں ڈال غٹ غٹ نوش فرمایا اور فوراً آنکھ بند ہو گئی اور خراٹے لینے لگے۔
صبح کو جب آفتاب برآمد ہوا کمرہ کا دروازہ کھلا ایک خاتون صاحب عصمت و عفت و حیا، چالیس پچاس برس کا سن و سال سفید سادہ لباس زیب تن کیے ہوئے روبرو آئی۔
خاتون چارپائی کے پاس کھڑی ہو کر اور ہاتھ سے ہاتھ ملا کر کیوں خیریت تو ہے نماز صبح کا وقت اخیر ہوا اور آپ ابھی اٹھے نہیں۔ رات نصیب اعداء کیا طبیعت ناساز رہی۔
میاں ...... ہاں رات اختلاج القلب کی شکایت رہی۔
بیوی اللہ رحم کرے یہ نامراد بیماری نہیں جاتی ہے۔ ہمیشہ دورہ ہو جاتا ہے۔ علاج کرنا تھا۔ تم خود حکیم اور حکماء مکان پر رہتے ہیں۔ خدا نہ کرے۔ شیطان کے کان بہرے۔
میاں ...... علاج سے تو میں بھی غافل نہیں۔ ہاں خوب آیا میں نماز پڑھ لوں۔ تم سے ایک معاملہ میں مشورہ کرنا ہے۔
بیوی ..... الٰہی خیر مجھ سے کیا مشورہ ہے۔ کبھی آگے نہ پیچھے۔
میاں ...... (نماز پڑھ کر) احمد بیگ ہوشیار پوری کی بڑی بیٹی محمدی کی ابھی کہیں نسبت وغیرہ تو نہیں ہوئی۔
بیوی ..... نہیں مسکرا کر کیا اس سے نکاح کا ارادہ ہے؟
میاں ...... ہاں ہم کو الہام ہوا ہے کہ اس کا نکاح ہمارے ساتھ مقدر ہو چکا ہے۔
بیوی ..... (ذرا آشفتہ ہو کر ناک بھوں چڑھا کر) پھر کر لو۔
میاں ...... مگر تمہاری امداد کی ضرورت ہے۔ سعی کرنا۔
بیوی ..... جب خدا نے مقدر کر دی تو اس کا روکنے والا کون اور کسی کی امداد کی ضرورت کیسی؟
٨٢
میاں ...... (غصہ کے لہجہ میں) تم تو ہما سے بڑی امید تھی۔ کہ اپنے بھائی مرزا ا
بیوی ...... (تیوری چڑھا کر) اے چلو تھکواؤ گے کیا۔ لوگ کیا کہیں گے۔ اپن اور ابھی بیاہ کی ہوس؟ کہاں دس بارہ ب آتی؟ ایک تو ہے کیا جوروں کا باڑہ بھرن نیا نکاح ہوگا۔
کہ تقویٰ
میاں ...... خدا کا حکم اسی طرح ہے۔ طاعن کے طعن سے ڈر کر کوئی کام نہیں
بیوی ...... میرے سے تو یہ نہیں ہو سکتا ۔
بی بی جوان جس کے نکاح کو دو برس گ بیمار نہیں۔ بدشکل نہیں بے تمیز نہیں وعا ذکر ہے۔ وہ تو تقویم پارینہ بڑھیا ہو
بیوی کی معرفت (کہ اپنے بھائی سے
میاں ...... جو اس معاملہ میں جان تو ارادہ کو روکتا ہے۔ ہذا فراق بینی و بین
بیوی ...... جب خدا کا ارادہ ہے تو بند
ہمارے حضرت اقدس آ حاصل یہ ہے کہ : ”خدا تعالیٰ نے اس کلان کا رشتہ میرے ساتھ منظور کر چ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر ا دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ طرف موت کے ایسے ہیں۔ جن کو
میاں...... (غصہ کے لہجہ میں) تم تو بگڑ کر یہ باتیں کرنے لگیں۔ کہو (پھر نرم آواز سے) ہم کو تو تم سے بڑی امید تھی۔ کہ اپنے بھائی مرزا علی شیر کی معرفت یہ معاملہ بہ آسانی درست کرا دوگی۔
بیوی...... (تیوری چڑھا کر) اے چلو ہٹو بھی تمہیں تو بڑا عشق ہوا ہے میرے بھی سفید چونڈہ میں تھکواؤ گے کیا۔ لوگ کیا کہیں گے۔ اپنی سفید داڑھی کی طرف دیکھو۔ ساٹھ کے لگ بھگ عمر آئی۔ اور ابھی بیاہ کی ہوس؟ کہاں دس بارہ برس کی نادان لڑکی پوتیوں کے ہان کی اور کہاں تم کو شرم نہیں آتی؟ ایک تو ہے کیا جوروں کا باڑہ بھرو۔ ایک شادی کو تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں۔ کیا ہر سال نیا نکاح ہوگا۔
کہ تقویم پارینہ نیا بد بکار
میاں...... خدا کا حکم اسی طرح ہے۔ خدا کے مامور اس کے حکم کے خلاف کسی لائم کی ملامت اور طاعن کے طعن سے ڈر کر کوئی کام نہیں کرتے۔
بیوی...... میرے سے تو یہ نہیں ہوسکتا۔ میں کس منہ سے کرسکتی ہوں آخر وہ قریبی رشتہ دار ہیں۔ ایک بی بی جوان جس کے نکاح کو دو برس بھی نہیں ہوئے گھر میں موجود اور خدا نہ کرے کچھ بانجھ نہیں۔ بیمار نہیں۔ بدشکل نہیں بے تمیز نہیں دہلی کی رہنے والی کم ذات نہیں سیدانی ہے۔ دوسری بیوی کا تو کیا ذکر ہے۔ وہ تو تقویم پارینہ بڈھیا ہو کر پوتے پوتیوں والی ہوئی اب تیسری شادی کی تجویز ہے وہ بھی بیوی کی معرفت (کہ اپنے بھائی سے کہو وہ سعی کرے) جس کے دو جوان بیٹے لائق موجود ہیں۔
میاں...... جو اس معاملہ میں جان توڑ کوشش نہیں کرے گا۔ وہ خدا کا دشمن ہے۔ اور گویا وہ خدا کے ارادہ کو روکتا ہے۔ ہذا فراق بینی و بینک۔
بیوی...... جب خدا کا ارادہ ہے تو بندہ کون روک سکتا ہے۔ بیوی چلی گئی۔
ہمارے حضرت اقدس تدبیر میں کامیاب نہ ہوئے۔ تو مرزا احمد بیگ کو خط لکھا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے اپنے الہام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے۔ کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں۔ تو تمام نحوستیں آپ کی اس رشتہ سے دور کر دے گا۔ اور آپ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر برکت دے گا۔ اور اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا۔ تو آپ کے لیے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ اور اس کا انجام درد اور مصیبت اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف موت کے پھندے ہیں۔ جن کو آزمانے کے بعد صدق اور کذب معلوم ہوسکتا ہے۔ اب جس
٨٣
طرح چاہو آزما لو۔ میری برادری کے لوگ مجھ سے ناواقف ہیں۔ اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔ ہمارے کاموں کو ان پر بھی ظاہر کرے۔“
(خلاصہ خط مرزا قادیانی مندرجہ کلمۃ فضل رحمانی ص ١١٩، ١٢٠ ، مشمولہ احتساب ج ٢ ص ٤٧٥، ٤٧٦)
حاشیہ جات
- ١؎ عزت بی بی فضل احمد کی بیوی ہے مرزا علی شیر مرزا صاحب کی بیوی کا حقیقی بھائی فضل
احمد کے مامون اور عزت بی بی کے باپ ہیں۔
باب ١٥ پنج دہم
اشتہار صداقت آثار
اس میں جو نشان (الف) ہے۔ اصل مضمون اشتہار مرزا صاحب قادیانی سے مطلب ہے۔ اور (ج) کا جواب سے مراد ہے جو پنڈت لیکھرام کی طرف سے ہے۔ یہ عبارت کل بلفظہ کتاب کلیات آریہ مسافر صفحہ ٤٩٩ سے نقل کر کے ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ جس جگہ انبیاء علیہم السلام یا آنحضرت ﷺ کی جناب میں کلمات خلاف تہذیب لکھے ہیں۔ وہ چھوڑ کر نشان ..................بنا دیا ہے۔
الف...... ”میرے اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء پر جس میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد فرزند درج ہے حافظ سلطان کشمیری اور صابر علی سکنہ۔ قادیان نے نواب بیگ اور شمس الدین اور غلام علی ساکنان ایضاً کے روبرو یہ دروغ برپا کیا کہ ہماری دانست میں ڈیڑھ ماہ سے فرضی ملہم کے گھر لڑکا پیدا ہو گیا ہے حالانکہ یہ قول ان کا سراسر دروغ ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٤ ج ١ ص ٩٨)
ج...... دروغ گویم بروئے تو اسی کا نام ہے اور ہاتھ پر سرسوں جمانا آپ ہی کا کام ہے۔ صابر علی اور حافظ سلطان کا حوالہ محض دجل ہے۔ یہ بات انہوں نے بلکہ بعد چھپے اشتہار کے جو انہوں نے غلام احمد سے اس الہام سے کوئی جواب نہ بن آیا اور شرم کے مارے سر جھکایا۔ شمس الدین وغیرہ میں کس کی گواہی کا یہ حال ہے۔ کہ شمس الدین تو صفائیاں بیان کرتا ہے۔ کہ غلام احمد نے محض جھوٹ لکھا ہے۔ حاشا ثم حاشا میں ہرگز اس بات کا گواہ نہیں۔ نہ صابر علی وغیرہ نے کچھ کہا ہے۔ اور نواب بیگ آدمی نادان اور مرزا کا خدمت گار ہے۔ پس اس کی گواہی کا کیا اعتبار ہے۔ علیٰ ہذا غلام علی مرزا کا قریبی رشتہ دار ہے۔ شب و روز اس کی بہتری اور بھلائی کا خواستگار اب ناظرین کے ہاتھ انصاف
٨٤
ہے۔ اور مرزا کا جھوٹ صاف ہے۔ اگر کسی کو اس میں
الف...... ”جس سے وہ نہ مجھ پر بلکہ تمام مسلمانو
ج...... کیا آپ دین اسلام کے بانی مبانی ہی سے مسلمانوں پر حملہ آور محمول ہوتے ہیں۔ حالانک کھلم کھلا بدعتی بتلاتے ہیں اور کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں
الف...... ”اس لیے ہم ان کے قول دروغ کا رو
ج...... ان کا یہ قول ہی نہیں یہ سب آپ کی بن مشتہر کرتے ہیں۔
بہم برکند عاقبت
الف...... ”کہ آج ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء تک ہما
ج...... آج کل کی کیا خصوصیت ہے۔ بلکہ ا بذریعہ اشتہار مدلل شائع ہوچکا ہے۔
الف...... ”بجز ان لڑکوں کے جن کی عمر بائیس ب
ج...... مرزا کی کوئی بات خالی از مکر و فریب ن میں لکھی ہے۔ حالانکہ ایک کی عمر ستائیس سال کی ا یہ ہے۔ کہ لوگ لڑکوں کی عمر سے اس کا عالم پیری سمج
الف...... ”لیکن ہم جانتے ہیں۔ کہ ایسا لڑکا ہوگا۔“
ج...... یہ خوب یاد آئی کہ مخالفین کے مرنے گھر میں لڑکا پیدا ہونے میں سال کا اعلام نہ ہو ۔ ی
تو بر اوج فلک
یہ صریح آپ کی جعلسازی ہے۔ اگ پر قادر نہ تھا۔ اور اتنا تغیر تبدل نہ کرتا حالانکہ ی
ہے ۔ اور مرزا کا جھوٹ صاف ہے ۔ اگر کسی کو اس میں شک ہو قادیان جا کر محقق بے شک ہو ۔
الف ...... ”جس سے وہ نہ مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔“
(ایضاً)
ج ...... کیا آپ دین اسلام کے بانی مبانی ہیں ۔ اور موجد مسلمانی ہیں ۔ جو آپ پر حملہ کرنے سے مسلمانوں پر حملہ آور محمول ہوتے ہیں ۔ حالانکہ کوئی مسلمان آپ کو مسلمان ہی نہیں سمجھتا ۔ بلکہ کھلم کھلا بدعتی بتلاتے ہیں اور کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔
الف ...... ”اس لیے ہم ان کے قول دروغ کا رد واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں ۔“
(ایضاً)
ج ...... ان کا یہ قول ہی نہیں یہ سب آپ کی بناوٹ ہے پس گویا اپنے قول کا آپ ہی رد کر کے مشتہر کرتے ہیں ۔
بہم برکند عاقبت کفر و دین
الف ...... ”کہ آج ٢٢ ؍ مارچ ١٨٨٦ء تک ہمارے گھر میں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا ۔“
(ایضاً)
ج ...... آج کل کی کیا خصوصیت ہے ۔ بلکہ ابد تک آپ کے کوئی لڑکا پیدا نہ ہوگا ۔ جیسے عرصہ ہوا بذریعہ اشتہار مدلل شائع ہو چکا ہے ۔
الف ...... ”بجزان لڑکوں کے جن کی عمر بائیس بیس سال ہے پیدا نہیں ہوا ۔“
(ایضاً)
ج ...... مرزا کی کوئی بات خالی از مکر و فریب نہیں لڑکوں کی عمر میں بائیس سے زیادہ مبہم عبارت میں لکھی ہے ۔ حالانکہ ایک کی عمر ستائیس سال کی اور دوسرے کی پچیس سال کی تھی ۔ وجہ اس فریب کی یہ ہے ۔ کہ لوگ لڑکوں کی عمر سے اس کا عالم پیری سمجھ کر مطعون نہ کریں ۔ کہ مرزا مطیع شہوت ہے ۔
الف ...... ”لیکن ہم جانتے ہیں ۔ کہ ایسا لڑکا بحسب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا ۔“
(ایضاً)
ج ...... یہ خوب یاد آئی کہ مخالفین کے مرنے کا تو آپ کو بمعہ تاریخ ووقت الہام ہوا ۔ اور اپنے گھر میں لڑکا پیدا ہونے میں سال کا اعلام نہ ہوا ۔
تو براوج فلک چہ دانی چیست
یہ صریح آپ کی جعلسازی ہے ۔ اگر خدا سے الہام ہوتا تو کیا وہ تاریخ اور وقت بتانے پر قادر نہ تھا ۔ اور اتنا تغیر تبدل نہ کرتا حالانکہ پہلے اشتہار میں صاف صاف لکھا ہوا تھا ۔ کہ آپ کو
٨٥
مقدس روح دی اور روح آسمان سے روانہ کر چکے ہیں۔ پہلے کہا ہوگا۔ ابھی کہا نہ ہوگا۔ نو برس کی میعاد کے پھر عنقریب ملا کر اسی حمل سے وعدہ کیا، خاک یہ اڑی۔ کہ بجائے عموائیل کے مردہ لڑکی پیدا ہوئی پہلے یہ بھی اطمینان ہو گیا کہ آپ اور آپ کی بیوی زندہ رہیں گے ہمارا الہام تو تین برس کے اندر اندر آپ سب کا خاتمہ بتلاتا ہے۔ اور جب آپ ثانی عیسیٰ اور خلقت کی ہدایت کے لیے پیدا ہوئے۔ تو آپ کو سچا کرنے کے لیے اسی حمل سے خدا فرزند کیوں نہیں دے سکتا تھا۔ اگر یہی بات ہے تو پہلے اشتہار کے رد میں لکھ چکے ہیں۔ کہ یہ مہمل عبارت اس لیے گانٹھی ہے۔ کہ اگر آپ کے لڑکا نہ ہوا۔ تو آئندہ کے لیے تاویل بنائیں گے۔ سو وہی ہوا جب مردہ لڑکی کا پیدا ہونا خفیہ معلوم ہو گیا۔ تو فوراً نو برس کا بہانہ بنالیا۔ اور اس کا کیا سبب تھا۔ کہ اسی لڑکی کو اب ایسا کہے گا۔ کیا پہلے دونوں فرزندوں میں اس جوان عورت کو اپنے نکاح میں لائے ہو۔ اس کے اطمینان کے لیے وعدہ فرزند مذکور کا مضمون گانٹھا ہے۔ لیکن وہ ایسی باتوں سے ہرگز خوش نہ ہوگی۔
الف ....... ”خواہ جلد ہو یا دیر میں بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔“
(ایضاً)
ج ....... اس کا نام الہام نہیں بلکہ خیال خام ہے بھلا اگر اس مدت میں بھی پیدا نہ ہوا پھر بھی شرماؤ گے یا کوئی اور بہانہ بناؤ گے۔ یا خدا پر جھوٹے الہام کا الزام لگاؤ گے۔ بہرحال جس نے مرزا کے دل میں یہ فقرہ ڈالا ہے۔ وہ صحت لفظی سے بے بہرہ ہے۔ لفظ عرصہ مدت کے معنے سے مبرا ہے۔
الف ....... ”اور یہ الہام کہ ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے سراسر دروغ ہے۔“
ج ....... سچ تو یہ ہے کہ نہ اس الہام کی اصل ہے نہ کسی فہم سے نقل ہے یہ سب آپ کی بناوٹ ہے۔ اچھا ڈیڑھ ماہ سے ہونا جھوٹ تھا۔ اب ١٥ اپریل کو مردہ لڑکی کا پیدا ہونا بھی جھوٹ ہے۔ مرزا صاحب آپ کا جھوٹ کسی طرح چھپ نہیں سکتا ہے۔ اگر ایک تاویل بناؤ گے۔ تو سو جگہ الزام کھاؤ گے۔
دروغ آدمی را کند شرمسار
الف ....... ”ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لیے کہتے ہیں۔“
(ایضاً)
ج ....... لوگوں کا دروغ آپ سے ابد تک ثابت نہ ہوگا۔ البتہ آپ کا دروغ بات بات میں طشت از بام ہو رہا ہے۔ ابھی دیکھیے بجائے عموائیل کے دختر مردہ کا قدم منحوس آگیا۔
الف ....... ”اپنا شبہ رفع کرنے کے لیے ہمارے سسرال میں چلا جائے اگر کرایہ نہ ہو ہم اس کو دے دیں گے۔“
(ایضاً)
٨٦
ج....... سبحان اللہ آپ کا روپیہ دینا اور ایفاء وعدہ کرنا نقش الحجر ہے پہلے بھی بہت سے لوگوں کو چوبیس سو روپیہ دیا ہوگا۔ باوجودیکہ لوگ پانچ پانچ سات سات سو کوس سے آئے۔ اگر آپ میں کرایہ دینے کی وسعت ہوتی تو دس دس پانچ پانچ روپیہ کی خاطر بٹالہ وغیرہ میں کیوں در بدر پھرتے۔
الف...... ”اگر آپ ہی جا کر دریافت نہ کرے اور دروغ گوئی سے باز نہ آئے تو لعنت اللہ علی الکاذبین کا نصیب پاوے۔“
(ایضاً)
ج....... اب تو بغیر جائے اور دریافت حال کے اصل حال اظہر من الشمس ہو گیا ہے۔ آپ کہیے اپنے مجوزہ لفظ سے ملقب ہوئے یا نہیں۔
الف...... ”خدا ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے۔ جو جوش حسد میں آکر اسلام کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور دروغ گوئی کے مآل کو نہیں سوچتے۔“
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٣ ج ١ ص ٩٩)
ج....... حضرت یہ خدا کا قصور نہیں۔ اس کو ملزم نہ بنائیے اس نے بجز آپ کی ذات تزویر آیات کے ایسے شخصوں کو خوب ہدایت دے رکھی ہے۔ یہ ساری آپ کے فہمید کی کوتاہی ہے۔ جو بوالہوسی اور طمع نفسانی کے پردہ سے نظر نہیں آتا۔ ورنہ اس دروغ گوئی کا مآل سب کھل جاتا۔
کہ دارد پردہ پندار در پیش
الف...... ”اس پیشگوئی پر ہوشیار پور میں ایک آریہ صاحب نے یہ اعتراض پیش کیا۔ کہ لڑکا لڑکی کی شناخت دایاں کو بھی ہوتی ہے۔ سو یہ سراسر ان کی حق پوشی ہے۔ کیونکہ اول تو کوئی دائی ایسا دعوے نہیں کر سکتی دائی تو دائی کوئی طبیب بھی ایسا دعوے نہیں کر سکتا۔ صرف ایک اٹکل ہوتی ہے۔ جو بار ہا خطا جاتی ہے۔“
(ایضاً)
ج....... دایہ کا حوالہ محض جملہ ہے۔ ورنہ اس کا نام و نشان مفصل ہونا مرزا کا یہ مستمر قاعدہ ہے۔ کہ اپنے دل سے کوئی وسوسہ پیدا کر کے نام بھی درج کرتا ہے۔ جیسے براہین احمدیہ میں جا بجا درج ہے۔ بھلا دائیوں کی اٹکل کا خطا جانا کچھ بڑی بات نہیں۔ چونکہ وہ کم علم عورتیں ہوتی ہیں۔ لیکن آپ کا تو الہام تھا۔ اور خدا نے بتلایا تھا۔ وہ کیوں خطا ہوا؟ اور خطا بھی ایسا بجائے لڑکا کے لڑکی بھی زندہ نہ ہوئی اب بتلائیے حق پوش اور حیلہ کیش آپ ہوئے یا آریہ صاحب۔
الف...... ”علاوہ اس کے یہ پیشگوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور بعض مسلمانوں اور مولویوں اور حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی۔ چنانچہ آریوں سے ایک شخص ملاوا مل نام اور نیز شرم پت رائے ساکنان قادیان ہیں۔“
(ایضاً)
٨٧
ج....... ڈیڑھ سال تو آپ کی شادی کو ہوا چھ ماہ پیشتر سے مردہ ہو گیا تھا۔ اگر یہی بات ہے۔ تو پہلے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں کیوں نہ لکھتے اور اس وقت بذریعہ اشتہار علیحدہ شائع کرنا تھا۔
آریوں مسلمانوں مولویوں اس قدر فضول بناوٹی عبارت سے کیا ثبوت ہو۔ اگر دو چار معزز اشخاص کا نام جن کو اپنا الہام بتایا تھا لکھتے زیبا تھا تا کہ تصدیق کلام ہوتی۔ اور ملاوامل اور شرم پت رائے کا جو آپ نے نام لکھا وہ محض انکاری ہیں کہ یہ بات ہمارے خواب و خیال میں بھی نہیں محض طبع زاد مرزا ہے بلکہ لالہ شرم پت رائے کی باپ سے اسی سبب سے بگڑی ہے کہ آپ اس سے جھوٹی گواہی دلاتے تھے اور وہ راست کہتے تھے۔ اس کینہ سے یہاں فقط شرم پت لکھا پہلے اشتہار میں لالہ شرم پت رائے ممبر آریہ سماج قادیان لکھا جاتا ہے یعنی تفاوت رہ از کجاست تا بہ کجا۔
الف....... ”ماسوا اس کے اگر پیشگوئی کا مفہوم بنظر ایک جائے دیکھا جائے تو ایسا بشری طاقت سے بالاتر ہے جس کے نشان الہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں۔“
(ایضاً)
ج....... بیشک اس پیشگوئی کا مضمون انسانی طاقت سے بالاتر ہے۔ مگر شیطانی قدرت کے آگے کچھ بات نہیں لڑکوں کا کھیل ہے۔
الف....... ”جس کسی کو شک ہو اسی قسم کی پیشگوئی پیش کرے۔“
(ایضاً)
ج....... جس کسی کو شک ہوگا۔ پیش کرلے گا۔ ہمارے نزدیک تو شیطانی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔
الف....... ”یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں۔ بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم نے ہمارے نبی کریم رؤف کی صداقت اور عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا ہے۔“
(ایضاً)
ج....... اگر آسمانی نشانوں کا یہی گپ شپ نمونہ ہے تو کیفیت عالم بالا معلوم شد۔
الف....... ”در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ افضل ہے۔“
(ایضاً)
ج....... دست خود دہان خود جو دل چاہا گپ لگائی ورنہ عقلمند خوب جانتے ہیں۔ کہ آپ کی یہ لن ترانی اور کذب بیانی برتری یا مردہ زندہ کرنا بہتر ہے۔ اسی واسطے حضرت کے گھر بجائے زندہ مردہ لڑکی پیدا ہوئی۔
الف....... ”کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے میں خدا کی درگاہ میں دعا کر کے ایک روح واپس منگائی جائے۔ اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء کی نسبت بائبل میں لکھا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سے کلام ہیں۔“
(ایضاً)
ج....... اگر مردہ کا زندہ کرنا اور روح کا واپس منگوانا بہت آسان کام ہے تو اپنے آباؤ اجداد کی
٨٨
روح کو منگوا کر دکھلائیے اور جو اپنی فضیلت میں حضرت مسیح در اصل یہ ان کی تکذیب نہیں بلکہ تم نے محمد صاحب کی تکذیب اس میں حضرت مسیح اور دیگر انبیاء کی تصدیق لکھی ہے اور آپ ثابت ہوا کہ آپ کے نزدیک عیسیٰ اور بائبل اور قرآن سب جھ سب الف لیلیٰ کے قصے ہیں۔
الف....... ”اور مردہ صرف چند منٹ کے لیے زندہ رہتا تھا کر رخصت ہوتا تھا۔“
ج....... آپ کے الہام کی برکت سے تو دختر مردہ چند منٹ اب بتلائیے حضرت مسیح اور دوسرے انبیاء کا معجزہ افضل ٹھہرایا
الف....... ”اگر مسیح کی دعا سے کوئی روح دنیا میں آئی۔ تو ا
ج....... بھلا مسیح کی مدعوئی سے کچھ فائدہ ہوا یا نہ ہوا؟ مطلوبہ سے کیا فائدہ ہوا؟ البتہ اس کا آنا آپ کے لیے بہت کا کذب یہاں کھل گیا۔
الف....... ”مگر اس جگہ بفضلہ و برکت حضرت خداوند کریم با برکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ جس کی ظاہری اور باط
ج....... ایسے خدا کے وعدہ کا کیا اعتبار ہے جس کا دم پل اقرب وعدہ کیا پھر نو برس کی مدت بتلائی پھر اسی حمل سے لڑ عطا کی۔ چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔ یہی با برکت تھا۔ اور یہی اس کی ظاہری دنیا میں برکتیں تھیں۔ کہ آپ مہلک میں مبتلا کیا۔
الف....... ”جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں خوش نہیں ہوئے۔“
(مجموعہ اشتہ
ج....... ظاہر مسلمانوں میں آپ سے زیادہ کوئی مرتد مطالب کو حضرت کا معجزہ کہتے ہو اور اگلے پچھلے سب سے
٨٩
روح کو منگوا کر دکھلائیے اور جو اپنی فضیلت میں حضرت مسیح اور دیگر انبیاء کی تکذیب کی ہے۔ دراصل یہ ان کی تکذیب نہیں بلکہ تم محمد صاحب کی تکذیب اور قرآن کو باطل بتلاتے ہو۔ کیونکہ اس میں حضرت مسیح اور دیگر انبیاء کی تصدیق لکھی ہے اور آپ کے نزدیک لکیر پیٹنی ہی ہے۔ بس ثابت ہوا کہ آپ کے نزدیک عیسیٰ اور بائبل اور قرآن سب جھوٹے ہیں اور جو کچھ اس میں لکھا ہے سب الف لیلیٰ کے قصے ہیں۔
الف ...... ”اور مردہ صرف چند منٹ کے لیے زندہ رہتا تھا۔ اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر رخصت ہوتا تھا۔“
(ایضاً)
ج ...... آپ کے الہام کی برکت سے تو دختر مردہ چند منٹ بھی زندہ نہ رہی بلکہ مردہ ہی پیدا ہوئی اب بتلائیے حضرت مسیح اور دوسرے انبیاء کا معجزہ افضل ٹھہرا یا آپ کی جعل سازی کا ثمرہ بہتر ہوا۔
الف ...... ”اگر مسیح کی دعا سے کوئی روح دنیا میں آئی۔ تو اس کا آنا نہ آنا برابر ہے۔“
(ایضاً)
ج ...... بھلا مسیح کی مدعوئی سے کچھ فائدہ ہوا یا نہ ہوا؟ کلام اس میں ہے۔ کہ آپ کی روح مطلوبہ سے کیا فائدہ ہوا؟ البتہ اس کا آنا آپ کے لیے بہت مفید ٹھہرا جس سے ہمیشہ کے لیے آپ کا کذب یہاں کھل لکھا۔
الف ...... ”مگر اس جگہ بفضلہ و برکت حضرت خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ جس کی ظاہری اور باطنی برکتیں تمام دنیا میں کھلیں گی۔“
(ایضاً)
ج ...... ایسے خدا کے وعدہ کا کیا اعتبار ہے جس کا دم بدم دگر گونہ کام ہے پہلے اشتہار میں بہت اقرب وعدہ کیا پھر نو برس کی مدت بتلائی پھر اسی حمل سے لڑکا دینے کا اقرار کیا آخرش فقط مردہ لڑکی عطا کی۔ چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔ یہی بابرکت روح تھی۔ کہ جس کے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اور یہی اس کی ظاہری دنیا میں برکتیں تھیں۔ کہ آپ کو کاذب کر دیا۔ اور اپنی والدہ کو مرض مہلک میں مبتلا کیا۔
الف ...... ”جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں۔ وہ آنحضرت کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوئے۔“
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٣ ج ١ ص ١٠٠)
ج ...... ظاہر مسلمانوں میں آپ سے زیادہ کوئی مرتد نہیں ہوتا۔ جو اپنے شعبدے اور خود غرضی مطالب کو حضرت کا معجزہ کہتے ہو اور اگلے پچھلے سب سے افضل اور اعلیٰ بنتے ہو۔
٨٩
الف ...... ”میں کیا چیز ہوں۔ جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے۔ وہ اصل میں حضرت پر کرتا ہے۔“
(ایضاً)
ج ...... ابھی آپ کیا چیز بھی نہ ہوئے۔ آپ پر حملہ کرنا حضرت پر حملہ کرنا ہے۔ اور آپ کو جھوٹا بتلانا خدا پر الزام لگانا ہے۔ اور خدا نے آپ کو سب انبیاء اور اولیاء سے برگزیدہ کیا ہے۔ اور اپنے وحدت سے بھی نزدیک زیادہ بتلایا ہے بلکہ خود خدا آپ کا بیٹا ہوا ہے۔ اور آپ کا گھر برکتوں سے بھرے گا۔ اور آپ کے فرزند مردہ کا نام سمندر کے کناروں تک کرے گا۔ اور آپ کی خوشنودی میں خدا کی خوشنودی ہے۔ اور آپ کی خاطر لوگوں کے گھر بیواؤں سے بھر دے گا۔ اور لا ولد رکھ کر خاندان ختم کرے گا۔ اور آپ کی اعانت کے لیے براہین احمدیہ کا لشکر آسمانوں سے آیا ہے اور سب سے اعلیٰ اور برتر بنایا ہے۔ پھر بھی اگر ناچیز ہی رہے تو فقط اتنا قصور رہا کہ خدا مجبور مطلق ہو جائے۔ اور آپ مختار کل بنا دیں۔ آفرین باد برین عیب مردانہ تو الف ...... ”مگر اس کو یاد رکھنا کہ کوئی آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا۔“
(ایضاً)
ج ...... ..............................................................
باب ١٦ شانزدہم
پسر موعود کی پیش گوئی
اشتہار دوم ١٨ اپریل ١٨٨٦ء
الف ...... ”اس خاکسار کے اشتہار ٢٢ مارچ ١٨٨٦ء پر بعض صاحبوں نے جیسے منشی اندرمن مراد آبادی نے یہ نکتہ چینی کی ہے۔ کہ نو برس حد پسر موعود کے لیے بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی چوڑی میعاد تک تو کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٥ ج ١ ص ١٠١)
ج ...... منشی صاحب کی اس نکتہ چینی پر کس طرح اطلاع ہوئی۔ آیا بذریعہ تحریر یا تقریر بر تقدیر اول وہ تحریر موجود ہوگی ملاحظہ کرائیے بر تقدیر دوم مخبر معتبر کا نام بتائیے۔ ہم بار ہا متنبہ کر چکے ہیں۔ کہ ایسے صریح جھوٹ بولنے سے آپ ملزم نہ ہوں گے۔ بلکہ کذابوں میں محسوب کیے جائیں گے آپ پر لازم ہے کہ یا تو اپنے دعوے کو ثابت کریں۔ ورنہ لعنت اللہ علی الکاذبین کا مصداق بنیں۔ اور منشی صاحب کے سوا اور بعض صاحبوں کا نام کیوں مخفی کیا ہے۔ کیا کیا جاوے آپ کا یہی شیوہ ہے کہ خیالی پلاؤ پکاتے ہو اور حجرہ میں بیٹھے باتیں بناتے ہو یہ اعتراض منشی صاحب نے تو نہیں کیا اگر
٩٠
کسی اور صاحب نے کیا ہو۔ یا آپ نے اپنے لڑکا آسمانوں سے خدا کا مرسلہ آتا ہے۔ تو اس سے پیدا کرنا محال نہ تھا۔ یہ ساری آپ کی چالا اس مدت بعیدہ میں خفیہ خفیہ کوئی فریب بنا کر لڑ تھی۔ سو اس کا نتیجہ تو ظاہر ہو گیا۔ آئندہ جو مکر ب الہام یہ کہتا ہے۔ کہ لڑکا کیا تین سال کے اندر سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
الف ...... ”اس کا جواب یہ ہے کہ جن صفات نے میعاد سے اس کی عظمت و شان میں فرق نہیں درجہ کی خبر جو ایسے نامی آدمی کے تولد پر مشتمل ہے
ج ...... مرزا خود ہی سوال و جواب گھڑ کر اپن علت چھوٹ جائے عادت کبھی نہ جائے، سوال برس کی میعاد میں مکر و فریب کی گنجائش ہو سکتی ہے شان کا رونا رونے لگے۔ پہلے اعتراض میں یہ شان زائل ہو جائے گی۔ یا وہ ایسا ذلیل و خوار ہ اور آپ کو سر خرو نہیں بنا سکتا مرزا صاحب آپ ا دنیا میں خدا پیدا ہوئے ہیں اس لیے آپ سے ب
الف ...... ”ماسوا اس کے بعد اشتہار مندرجہ ب باری میں توجہ کی گئی تو ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو خدا کی والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔“
ج ...... لیجئے مدت حمل سے تو تجاوز کر گیا۔ بتلائیے وہ الہام کدھر گیا خدا جھوٹا ہوا یا آپ، ا آج تک اسی واسطے کوئی خبر اخبار یا اشتہار میں ایک ہی خبر چھپوائی سو دیکھو کیسی رسوائی اٹھائی اس باز آ کر تازیست منہ نہ دکھلائے۔
s. 175/- Markaz Sirajia 4. Akram Park, larket, Gulberg III, e. 042 5877456 telastprophet.org nned by: safdar_sher@hotmail.com
کسی اور صاحب نے کیا ہو۔ یا آپ نے اپنے دل سے گھڑا ہو۔ تو عین درست ہے۔ کیونکہ اگر وہ لڑکا آسمانوں سے خدا کا مرسلہ آتا ہے۔ تو اس کی قدرت کاملہ کے آگے نو ماہ کے اندر یا اسی حمل سے پیدا کرنا محال نہ تھا۔ یہ ساری آپ کی چالاکی ہے۔ جس سے ادنیٰ واعلیٰ شاکی ہے سوچا ہوگا اس مدت بعیدہ میں خفیہ خفیہ کوئی فریب بنا کر لڑکا پیدا کریں گے۔ اول تو آپ کی نظر حمل موجود پر تھی۔ سو اس کا نتیجہ تو ظاہر ہو گیا۔ آئندہ جو مکر بناؤ گے۔ اس کے ثمرہ سے خجالت اٹھاؤ گے۔ ہمارا الہام یہ کہتا ہے۔ کہ لڑکا کیا تین سال کے اندر اندر آپ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور آپ کی ذریت سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
الف...... ”اس کا جواب یہ ہے کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے۔ کسی نے میعاد سے اس کی عظمت و شان میں فرق نہیں آسکتا بلکہ عین انصاف کی بات ہے۔ کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی خبر جو ایسے نامی آدمی کے تولد پر مشتمل ہے۔ انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے۔“
(ایضاً)
ج...... مرزا خود ہی سوال و جواب گھڑ کر اپنی لطافت بیان کرتا ہے۔ مگر جہالت کہاں جائے۔ علت دھوبی جائے عادت کبھی نہ جائے ،سوال دیگر، جواب دیگر اعتراض تو ایسے بنا کر جمایا کہ نو برس کی میعاد میں مکر و فریب کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ تو اس کا جواب تو کہاں بخلاف اس کے عظمت و شان کا رونا رونے لگے۔ پہلے اعتراض میں یہ کہاں ہے۔ کہ نو برس کی میعاد میں اس کی عظمت و شان زائل ہو جائے گی۔ یا وہ ایسا ذلیل و خوار ہوگا۔ کیا خدا نو برس کا کام ایک لمحہ میں نہیں کرسکتا۔ اور آپ کو سرخرو نہیں بنا سکتا مرزا صاحب آپ انسان تو نہیں جو یہ کام آپ سے نہ ہوسکتا ہو آپ تو دنیا میں خدا پیدا ہوئے ہیں اس لیے آپ سے کچھ بڑی بات نہیں۔
الف...... ”ماسوا اس کے بعد اشتہار مندرجہ بالا کی دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لیے جناب باری میں توجہ کی گئی تو ٨؍اپریل ١٨٨٦ء کو خدا کی طرف سے یہ کہا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔“
(ایضاً)
ج...... لیجیے مدت حمل سے تو تجاوز کر گیا۔ لڑکا تو درکنار ١٥ اپریل کو مردہ لڑکی پیدا ہوئی۔ اب بتلائیے وہ الہام کدھر گیا خدا جھوٹا ہوا یا آپ، اب بھی شرماؤ گے یا شعبدہ دکھلاؤ گے۔ معلوم ہوا کہ آج تک اسی واسطے کوئی خبر اخبار یا اشتہار میں نہیں چھپوائی تھی۔ گھر بیٹھے بیٹھے مکر بناتے تھے۔ فقط ایک ہی خبر چھپوائی سو دیکھو کیسی رسوائی اٹھائی اب یا تو لڑکی سے لڑکا بنائیے۔ یا نہیں لعن ترانیوں سے باز آکر تا زیست منہ نہ دکھلائے۔
٩١
الف ....... ”چونکہ یہ ضعیف بندہ ہے۔ اسی قدر ظاہر کرتا ہے۔ جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا ۔“
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٥ ج ١ ص ١٠٢)
ج ....... آپ اپنے خیال شریف میں ضعیف بندہ نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے کل آفرین ہیں کوئی چیز خواہ آپ ظاہر کریں یا آپ کا خدا مگر ہمارا مطلب کہیں نہیں جاتا ہے۔ آپ جھوٹے ہوں یا آپ کے مرید۔
الف ....... ”چونکہ اشتہار چھپنے میں کسی قدر دیر ہو گئی اس واسطے چند قلمی نقلیں بذریعہ رجسٹر بخدمت مسٹر عبداللہ صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ و پادری عماد الدین صاحب وغیرہ بلا توقف بھیجے گئے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٣٥ ج ١ ص ١٠١ حاشیہ)
ج ....... اب بھی اسی طرح عجلت کرتے اور قلمی نقلیں بھیج کر اطلاع دیتے تھے۔ کہ میرا الہام جھوٹا ہوا یا فلاں شخص نے زہر دے کر مار دیا یا فلاں نے کی کارسازی سے لڑکے سے لڑکی ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔ جو کچھ ہو سکتا تھا اس کی بدستور سابق اطلاع واجب ہے۔
مرزا کی جعلسازی
مرزا غلام احمد نے جو سوامی دیانند سرسوتی کے بارہ میں براہین احمدیہ میں اپنی پیشگوئی لکھی ہے۔ وہ صریح البطلان تھی۔ اگر مرزا پیشگوئی پر قادر ہوتا۔ تو سوامی کی وفات سے پہلے اشتہار دیتا اور درج کراتا کہ بتاریخ فلاں و ماہ فلاں سنہ فلاں سوامی جی روانہ جنت ہوں گے۔ اس کا تو کچھ ذکر نہیں جب سوامی جی انتقال کر گئے۔ تو مرزا صاحب اپنی براہین احمدیہ کھول بیٹھے اور جہلاء کو سنانے لگے اسی طرح اب یکم مارچ ١٨٨٦ء سے ایک اشتہار مشتمل بر تیاری رسالہ بے نور جو چند براہین پر شامل ہے دے کر خاموش ہو گئے ہیں اور باوجود وعدہ قلیل کے اس مدت کثیر تک شائع نہیں ہوا۔ ہم فرضی ملہم صاحب کو متنبہ کرتے ہیں۔ کہ اگر پیشگوئی کا دعویٰ ہے تو رسالہ مذکور عرصہ پندرہ روز میں شائع کریں۔ اور کسی شہر کے حیات ممات کا نقشہ بھی بنا کر مشہور کریں۔ تاکہ اس کی قلعی کھلے۔ اور اگر اسی طرح خاموش رہے اور کسی وقوعہ کے بعد پھر آپ نے گپ ماری تو محض لن ترانی سمجھی جائے گی۔ بلکہ سب سے اول اپنی وفات کی پیشگوئی کا پتہ معہ سال و تاریخ بتا دیں تو بہت انسب ہے۔ کیونکہ ایک تو ان کے مکر و فریبوں سے مسلمان نجات پائیں گے اور دوسرے ان کے گرویدوں کو موقع فخر ملے گا۔ چہ خوش بود کہ برآید بیک کرشمہ دو کار۔
راقم ایک پنجابی الہاموں کا شائق ، (کلیات آریہ مسافر صفحہ ٤٩٩ تا ٨٠١)
٩٢
باب ٧٤ ہشتم
محمدی بیگم کے حصول کے لئے خطوط
تھی آگے تو کچھ بیشتر آزمائی
ایک بڑے پھاٹک دار دروازہ سے گزر کر ایک وسیع میدان صحن کا طے کر کے وسط مکانات کے آگے دائرہ نما ایک برآمدہ انگریزی کوٹھی کی وضع کا بنا ہوا ہے اس کے دروازوں کے اوپر سبز سبز کچھ پھولوں کی بیلیں چڑھی ہوئی ہیں اور کچھ گملے پھولوں کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔ برآمدہ کے وسط میں ایک چار پائی پر سفید بستر کے اوپر کوئی شخص فربہ اندام میانہ قد لال لال داڑھی سرخ و سفید چہرہ کا رنگ تکیہ پر سر اور سر کے نیچے دونوں ہاتھ چت لیٹا ہوا ایک ٹانگ کھڑی ہے دوسری ٹانگ ٹانگ پر رکھے ہوئے۔ لمپ کی روشنی مدھم کی ہوئی برآمدہ سے باہر صحن میں بہت سے آدمی پڑے ہیں۔ برآمدہ والے مکان کے دونوں بغلوں میں مکانات ہیں۔ جن کی روش اور حیثیت سے صاف ظاہر ہے۔ کہ یہ کوئی سرائے ہے۔ اور وہ شخص جو برآمدہ میں پڑا ہے۔ کوئی مسافرانہ طور پر اس مکان میں عارضی یا کرایہ پر رہتا ہے۔ مگر اپنی طبیعت کے مذاق کے موافق خوب آراستہ اور سجایا ہوا ہے۔
چلیں دیکھتے ہیں یہ تو کچھ آپ ہی آپ باتیں کرتا ہے۔ کوئی پاس تو ہے نہیں مگر کسی فکر میں محو خیال ہے۔
ہائے ناکامی واحسرت نہ رات کو چین نہ دن کو آرام ہے۔ دل کو خبر نہیں کیا چیز ہے۔ جو اندر ہی اندر گھلے ڈالتی ہے سینہ میں میٹھا میٹھا درد محسوس رہتا ہے۔ رات کو کسی پہلو اور کسی کروٹ آرام نہیں دن کو سوائے اس ادھیڑ بن کے اور کچھ کام نہیں۔
افشائے راز کے خوف سے اس بارہ میں جان توڑ کے کوشش بھی نہیں کی جاتی نامحرموں کا محرم کرنا غیرت نہیں چاہتی۔
اندرونی کارروائیوں میں بالکل ناکامی رہی۔ خدا جانے یہ بڑھاپے کا عشق کیا رنگ لائے گا کون پھرتا ہے؟
خادم ...... حضور میں ہوں کیا ارشاد ہے۔
٩٣
حضرت....... کیا بات تھی جو تم لوگ تذکرہ کر رہے تھے۔ ہوشیار پور سے آدمی آنے کا اور احمد بیگ کی لڑکی کی شادی کا۔
ہمارے ناظرین اب تو سمجھ گئے ہوں گے۔ یہ صاحب ہمارے ناول کے ہیرو مرزا صاحب ہیں۔
خادم...... حضور ہوشیار پور سے آدمی آئے تھے وہ ذکر کرتے تھے۔ کہ مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی کی شادی عنقریب ہونے والی ہے۔
حضرت....... کہاں اور کس سے۔
خادم...... کوئی پٹی گاؤں ہے ضلع لاہور میں وہاں سے برات آئے گی۔ اور کوئی مرزا سلطان محمد نامی شخص ہے اس کو ساتھ نکاح ہوگا۔
کاٹو تو لہو نہ تھا بدن میں
بے ساختہ مرزا رفیع السودا کا یہ شعر زبان سے نکلا
پر جو خدا دکھائے تو لاچار دیکھنا
ہائے افسوس دعا میں بھی کچھ اثر نہیں رہا جو تدابیر کیں الٹی پڑیں
پہلے تو دعا کو تیر بہدف پاتے تھے۔ بجلی کی طرح کوندتی تھی۔ بڑا بھروسہ تو اسی پر تھا کیا عشق میں سب کے ساتھ چھوڑ دیے ہیں۔
نہیں نہیں عاشق کی آہ تو خالی نہیں جاتی جذبہ کامل ہونا چاہیے۔ پہلے ان کے وارثوں کو سمجھاؤ دھمکاؤ ڈراؤ اگر نہ مانیں تو خدا کی طرف رجوع لاؤ دیکھو تو کیا ہوتا ہے۔
کچے دھاگے میں چلی آئے گی سرکار بندھی
سلطان محمد بیگ کو یہ لکھا کہ تم اس تعلق کو قطع کر دو۔ تمہارا نکاح دوسری جگہ کر دیا جائے گا۔ تمہاری جوانی پر مجھے رحم آتا ہے۔ تم اس ارادہ سے باز آؤ اور اس کے وارثوں کو بھی خطوں کے ذریعہ سے ڈرایا دھمکایا۔
٩٤
اور لڑکی کے ورثاء کو خطوط لکھے جن کی نقل ذیل میں درج ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ قادیاں میں میں نے جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند مرحوم کی خبر سنی تھی تو بہت درد و غم ہوا لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا۔ اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس واسطے عزاپرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ فرزنداں حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے۔ کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہو گا خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لیے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صحت و عمر عطا کرے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی بات اس کے آگے ان ہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو آخر اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے۔ کہ اس عاجز کا دل بالکل صاف ہے۔ اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لیے خیر و برکت چاہتا ہوں میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تاکہ میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے مسلمانوں کی ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے۔ تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے۔ کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا۔ کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا۔ تو خدا تعالیٰ کی وعید وارد ہوگی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لیے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں آپ سے عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں۔ کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لیے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا۔ اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین آسمان کی کنجی ہے۔ تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی۔ اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں۔ کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے۔ اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہے۔ جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔ اور ایک جہان کی اس کی طرف آنکھ لگی ہوئی ہے۔ اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے اور ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا۔ اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز
٩٥
کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے لیے صدق دل سے دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے۔ اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے۔ ایمان لایا ہے۔ اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورے ہونے کے لیے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین ودنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں۔ اور دین اور دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرما دیں۔
والسلام! خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧ جولائی ١٨٩٠ء
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٠، ١٢١ ، احتساب ج ٢ ص ٦٧٦ ، ٦٧٧)
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم رحمۃ اللہ
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا۔ اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں۔ اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے آپ کو معلوم ہے۔ کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کام کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ کہ اس کو خوار کیا جائے ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں
٩٦
چوہڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی و اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اب اس لڑکی کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آن کے لیے یہی چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور میری عزت کے پیاسے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ کہا۔ کہ ہمارا کیا رشتہ ہے صرف عزت بی بی نام طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔
اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری جواب نہیں آیا اور بار بار کہا اس سے ہمارا کیا رشتہ خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہ میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب رکھنے کی کیا حاجت ہے لہٰذا میں نے ان کی خدمت آویں۔ اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک ن بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا ب ہوگا۔ دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق لاوارث کروں گا اور اگر میرے لیے احمد بیگ س دل و جان سے حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جو میر کی بیٹی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا۔ میرا ما اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے ز لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے رو ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتہ ناطہ توڑ دوں گا۔ اگر ف حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا جب آم
دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت سول اللہ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ یمان لایا ہے۔ اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ لیے معاون بنیں تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ سکتا۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ تیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ دیا ہے۔ آپ کے سبب غم دور ہوں۔ اور دین سے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرما والسلام! اکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧ جولائی ١٨٩٠ء
حانی ص ١٢٠ ، ١٢١ ، احتساب ج ٢ ص ٦٧٦ ، ٦٧٧)
شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
سے کسی طرح سے فرق نہ تھا۔ اور میں آپ کو سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ں اللہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے۔ کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی وت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید والا ہے۔ اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ ایک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا ہتے ہیں۔ ہندوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور کی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ کہ روسیاہ کیا جائے یہ اپنی طرف سے ایک تلوار ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے نہ بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں
جو بڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی دیکھو وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے۔ اور اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اب اس لڑکی کے نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا۔ اور جن کی لڑکی کے لیے یہی چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا۔ کہ ہمارا کیا رشتہ ہے صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔
اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کی خلاف مرضی نہیں کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہیں آیا اور بار بار کہا اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا ہے جو چاہے کرے ہم اس کے لیے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا کبھی مرا ہی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں ذلیل ہوں خوار ہوں مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ہی ذلیل ہوں۔ تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے لہذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے۔ کہ آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں۔ اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کا منشا ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا۔ دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کروگی۔ اور یہ ارادہ اس کا بند کر دو گی تو میں دل و جان سے حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جو میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی بیٹی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا۔ میرا مال اس کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی کہتا ہوں۔ کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں۔ اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے۔ کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتہ ناطہ توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے۔ تو ایسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔
٩٧
ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی تھیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کہاں تک درست ہیں واللہ اعلم راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٣ مئی ١٨٩١ء ( کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٢، ١٢٣، احتساب ج ٢ ص ٧٨، ٦٧٩)
نقل خط مرزا صاحب
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے۔ کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطے توڑ دوں گا۔ اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لیے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں۔ کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ۔ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے۔ کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لیے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے۔ تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے۔ اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ مرزا احمد بیگ محمدی کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا۔ اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ آپ کو بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں۔ اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا۔ اور پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو۔ تو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لیے ہر طرح کوشش کرنا چاہتا تھا۔ اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر تقدیر غالب ہے۔
یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔
راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣، ١٢٤، احتساب ج ٢ ص ٦٧٩، ٦٨٠)
از طرف عزت بی بی بطرف والدہ
اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے اگر تم اپنے بھائی کو میری باتوں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہوگی۔
٩٨
اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں ت ٹھہرنا مناسب نہیں۔
جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید س بی کے لیے کوئی قادیان سے آدمی بھیج دو۔
یادداشت کتاب مذکور کے حاشی دستخطی خطوں کو جو مجھے ایک دوست شیخ نظام صاحب سمدھی مرزا صاحب سے ملے ہیں در مرزا احمد بیگ کی زوجہ مرزا غلام ا شیر صاحب کی لڑکی عزت بی بی فضل پسر مر دونوں کے خط سے معلوم ہوا کہ باوجود بہ اس لیے فضل احمد کو بھی علیحدہ کر دیا۔
حاشیہ جات
١؎ اشاعۃ السنۃ نمبر ٦ جلد ١١ ڈرانا شروع کیا مگر وہ لوگ بھی جواں مرد نک خیال پر قائم و مستحکم رہے ان کے نام کے خط بجائے اس کے قادیانی کے اعتراف واقرا آپ اشتہار چار ہزار کے نوٹ صفحہ ٢ میں فر تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی خط اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ نے
٢؎ ناظرین اس عبارت اور اش اللہ نزل من السماء جو کسی صفحہ گزشتہ پر درج بعد میں پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی اور یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مسیح پیدا ہو اس لیے یہودی اور یہودی عورتیں بیٹا ہو عبادتیں کرتی تھیں۔ کہ وہ شخص ہمارا ہی بی حالت میں پڑھنے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور
اور ہزار طرح کی رسوائی ہو گی۔ اگر منظور نہیں تو خیر جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔
جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے لکھا ہے۔ اگر نکاح نہیں ملتا۔ پھر بلا توقف عزت بی بی کے لیے کوئی قادیان سے آدمی بھیج دو۔
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٤، احتساب ج ٢ ص ٦٨٠)
یادداشت کتاب مذکور کے حاشیہ صفحہ ١٤٣ میں لکھا ہے۔ ”اس جگہ پر مرزا صاحب کے دستی خطوں کو جو مجھے ایک دوست شیخ نظام الدین صاحب پنشنر راہوں کی معرفت مرزا علی شیر صاحب سمدھی مرزا صاحب سے ملے ہیں درج کیے گئے ۔“
مرزا احمد بیگ کی زوجہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی چچا یا مامازاد ہمشیرہ ہے۔ مرزا علی شیر صاحب کی لڑکی عزت بی بی فضل پسر مرزا صاحب کی زوجہ ہے اب مرزا محمد حسین صاحب راہوں کے خط سے معلوم ہوا کہ باوجود بہت دھمکانے کے فضل احمد نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اس لیے فضل احمد کو بھی علیحدہ کر دیا۔
حاشیہ جات
١۔ اشاعۃ السنۃ نمبر ٦ جلد ١٣ اور ہر فریق ثانی نکاح اور اس کے وارثوں کو دھمکانا اور ڈرانا شروع کیا مگر وہ لوگ بھی جواں مرد نکلے اور اس کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبکیاں قرار دے کر اپنے خیال پر قائم و مستحکم رہے ان کے نام کے خطوط کو اس مقام میں نقل کرنے کی گنجائش نہیں دیکھی اور بجائے اس کے قادیانی کے اعتراف واقرار تخویف ڈرانے دھمکانے کو نقل کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ آپ اشتہار چار ہزار کے نوٹ صفحہ ٤ میں فرماتے ہیں ”احمد بیگ کے ورثاء کا قصور تھا کہ انہوں نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی خط پر خط بھیجے ان کو کچھ زبانی پیغام بھیج سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا آخر ۔“
٢۔ ناظرین اس عبارت اور اشتہار ٢٠ فروری ٨٦ء کی پیشگوئی بشارت فرزند ارجمند کان اللہ نزل من السماء جو کسی صفحہ گزشتہ پر درج ہے اور فقرہ (خواتین مبارکہ سے جن میں سے بعض کو تو بعد میں پائے گا۔ تیری نسل بہت ہوگی اور عبارت سرسید تفسیر القرآن جلد ٣ صفحہ ٣٢ (تمام یہودی یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مسیح پیدا ہونے والا ہے جو یہودیوں کی بادشاہت کو پھر قائم کرے گا اس لیے یہودی اور یہودی عورتیں بیٹا ہونے کی نہایت آرزو رکھتی تھیں اور دعائیں مانگتی تھیں اور عبادتیں کرتی تھیں۔ کہ وہ شخص ہمارا ہی بیٹا ہو ) ملا کر پڑھیں اور غور کریں کہ مجموعی حوالجات یکجائی حالت میں پڑھنے سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور اس کی اصل کیا ہے۔
٩٩
باب ١٨ ہژدھم
سرسید احمد خان اور مرزا قادیانی
ریل کا سفر
اسٹیشن ریلوے کے پلیٹ فارم پر مسافروں کا ہجوم ہے اور کثرت ازدحام سے ٹکٹ لینے کو جگہ نہیں ملتی۔ کوئی بنچ پر بیٹھا ہوا خدمت گار کا انتظار کر رہا ہے۔ کہ اب تک ٹکٹ لے کر نہیں آیا۔ ریل نے سیٹی دی وہ آگے ایک جنٹل مین پلیٹ فارم پر ٹہل رہے ہیں۔ ایک صاحب نہایت پستہ قد لاغر اندام دبلے پتلے سادہ مزاج ثقہ وضع متبرک صورت چوغہ ڈالے قریب آئے۔ السلام علیکم ! جنٹل مین ...... آہا حاجی صاحب وعلیکم السلام کہاں کا ارادہ ہے۔
حاجی صاحب ...... دہلی جاؤں گا دسمبر کی تعطیل ہے یہاں بٹھالے پڑے رہنے سے کیا حاصل آپ کا ارادہ کہاں کا ہے۔
جنٹل مین ...... میں لاہور جاؤں گا سرسید بذاتہ لیکچر دیں گے۔ میں تو سمجھا تھا کہ آپ بھی اسی جلسہ میں تشریف لے جاتے ہیں۔ لاہور راستہ میں تو پڑے ہی گا ایک مقام کر کے دہلی چلے جانا۔ یہ لطف بھی اتفاق سے حاصل ہو جائے گا۔ دیکھیے لوگ دور دور سے سفر کر کے خاص اسی ارادہ سے آئے ہوں گے۔
حاجی صاحب ...... حضرت میں اولڈ فیشن کا انسان ہوں ہر دیگی چمچہ نہیں جس کی رونق دیکھی کل جدید لذیذ پر عمل کیا اور اس طرف کو پھر گئے میں پرانی لکیر کا فقیر ہوں۔
جنٹل مین ...... مذہب میں تحقیقات ضرور چاہیے۔ بے تحقیقات اندھوں کی طرح چلنا ہم تو پسند نہیں کرتے۔
حاجی صاحب ...... میں اس امر میں آپ کے خلاف ہوں موافقت نہیں کرتا آخر متقدمین کیا کوئی محقق نہیں گزرا اب سرسید نے تیرہ سو سال بعد تحقیقات سے کیا ثابت کیا۔ کہ فرشتوں کا وجود نہیں حضرت عیسیٰ مر گئے۔ جنت دوزخ موجود نہیں معجزہ کوئی چیز نہیں یا کچھ اور۔
جنٹل مین ...... یہ آپ کی ضد ہے انصاف نہیں۔ جب یونانی فلسفہ کی بنیاد پڑی اور اس کا دور دورہ ہوا۔ اسلام سے اس کا مقابلہ ہوا اس وقت جو اس زمانہ کے علماء اسلام تھے۔ انہوں نے خدا ان پر رحمت کرے علم کلام ایجاد کیا۔ اور اپنا دل و دماغ خرچ کر کے نہایت جانفشانی سے کتابیں لکھیں۔ بعض مسائل کو اس کے ذریعہ سے یونانی فلسفہ سے تطبیق دی اور جو فلسفہ کے اصول رکیک تھے۔ ان کو علم کلام
١٠٠
کے ذریعہ سے مسترد و متروک کر دیا اب زمانہ کے گزرنے پر نیا فلسفہ جاری ہوا جس کی بناء (برخلاف قیاسات و توہمات) مشاہدہ اور تجربہ پر ہوئی جس کا رخ تیرہویں صدی کے اخیر میں ہندوستان اور پنجاب کی طرف ہوا۔ اور کل سرکاری اور قومی سکولوں اور کالجوں میں اس کی شاخوں میں اس کی تعلیم ہو رہی ہے۔ اور جس کی بدولت اس نظام عالم پر جس کو نامور حکیم بطلیموس نے قائم کیا تھا۔ طلباء ہنسی اڑا رہے ہیں۔ الغرض جب تجربہ اور مشاہدہ کے نظام عالم زمانہ حال کی سائنس اور فلسفہ نے یونانیوں کے اس وہمی اور قیاسی فلسفہ کو باطل کر دیا۔ تو وہ پرانا علم کلام بے مصرف رہ گیا۔
ہمارے زمانہ کے علماء اسلام کا حقیقی فرض تھا۔ کہ حال کی سائنس و فلاسفی وغیرہ کے مقابلہ میں کوئی نیا علم تیار کرتے۔ اور جو اوہام و شکوک زمانہ حال کے لوگوں کے دلوں میں جاگزین تھے۔ ان کے دور کرنے کی کوشش کرتے مگر کسی بزرگ نے اس طرف توجہ نہیں کی۔
ایسے نازک اور پرآشوب زمانے میں سرسید بالقابہ کہ جو قدرۃً ہمدردی بنی نوع انسان اور فطرۃً درد مند دل اپنے ساتھ لایا تھا۔ اپنی قوم کی جو ایسی ردی حالت دیکھی کہ خدا کسی کو بھی نہ دکھائے اور اسلام کو قابل رحم حالت میں پا کر سینکڑوں دیگر امور کی اصلاح کے ساتھ ہی یہ بھی عاقبت اندیشی کی کہ مروجہ سائنس اور فلاسفی کو جس کا مذہب اسلام سے مقابلہ پڑتا نظر آیا مدنظر رکھ کر ہندوستان کے بزرگ اور مقدس مولویوں کی خدمت میں اپیل کی کہ اس طوفان بے تمیزی کے مقابلہ میں کمر باندھیں۔ اور پرانے تیر تفنگ کی بجائے کسی نئی توپ اور سنائیدر بندوق سے کام لیں مگر کسی نے نہ سنی۔ اور سب کے سب نے اہل غرض اور دیوانہ بتلایا اس لیے اس مرد میدان نے سب سے مایوس ہو کر خود کمر ہمت باندھی اور بلند حوصلے اور مضبوط دل سے اس کام میں مصروف ہوا کہ خداوند تعالیٰ کی قولی اور فعلی (قرآن و نیچر) دونوں کتابوں کو جو دراصل ایک ہیں باہم مطابق اور موافق کر دکھایا۔ اور جن لوگوں نے مخالفت کی۔ سب کے سب ہارے تھکے اور ماندے ہو کر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ علماء وقت اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ......... اعلیٰ اور بے مثل تحقیقات میں اس (سرسید) نے بعض مقاموں میں ٹھوکریں بھی کھائی ہیں۔ اور کیا عجب ہے کہ ایسا ہوا ہو۔ کیونکہ غلطیوں سے پاک اور صاف رہنے کا منصب تو خداوند تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو عطا فرمایا ہے جو فطرۃً معصوم ہیں۔
سرسید نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نبی یا رسول ہوں۔ اور نہ اپنے تئیں امام وقت ظاہر کیا بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام سے برابری کرنے والوں کو مشرک فی صفۃ النبوۃ جانتا ہے اور قرآن شریف کو ہر وقت بلکہ ہر آن تمام دنیا کے لیے حی امام مانتا ہے۔ اس کا یہ مقولہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
١٠١
”میری یہ خواہش نہیں ہے کہ کوئی شخص گو وہ میرا کیسا ہی دوست ہو میرے خیالات کی پیروی کرے۔ میں رسولوں کے سوا کسی شخص کا ایسا منصب نہیں سمجھتا کہ (ان باتوں میں جو خدا اور بندوں میں دلی و روحانی امور سے متعلق ہیں اور جس کو مذہب کہتے ہیں) وہ یہ خواہش کرے۔ کہ لوگ اس کی پیروی کریں یہ منصب تو رسولوں کا تھا۔ اور آخر کو جناب رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ پر جن کا ازلی مذہب خدا ابد آباد تک قائم رکھے اور ضرور قائم رکھے گا۔“ (کیونکہ جب وہ ازلی ہے ابدی بھی ہے) ............ دیکھو سفرنامہ پنجاب میں لیکچر اسلام)
الغرض اس بہی خواہ اسلام اور دلی ہمدرد قوم کی بیش بہا اسلامی اور لاثانی خدمات کے حیرت انگیز اور تعجب خیز کارنامے خطبات احمدیہ۔ تہذیب الاخلاق، تفسیر القرآن وغیرہ کے لباس میں ہیں سب اس کے سامنے موجود ہیں۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے اور اپنی رائے قائم کر کے خذ ما صفا ودع ما کدر پر عمل کرے۔ آہا حکیم صاحب بھی پھر رہے ہیں۔ غالباً یہ بھی وہیں جاتے ہیں۔ چلو ملاقات کریں۔
حاجی صاحب...... میری ملاقات تو ہے نہیں۔ خواہ مخواہ مخل اوقات ہونا پسند نہیں کرتا۔
جنٹل مین...... اچھا تو میں جاتا ہوں اور چند قدم حکیم صاحب کی طرف چل کر السلام علیکم۔
حکیم صاحب...... وعلیکم السلام شاہ صاحب مزاج شریف کس طرف کا عزم بالجزم ہے۔
شاہ صاحب...... (جنٹل مین) جلسہ حمایت اسلام میں جاؤں گا۔ آپ کہاں تشریف لے جائیں گے۔
حکیم صاحب...... میں بھی وہیں جاتا ہوں خوب ہوا ساتھ ہو گیا مولوی صاحب نہیں آئے۔
شاہ صاحب...... علی گڑھ کالج کے واسطے جو چندہ جمع کیا گیا تھا۔ اکثر احباب پر باقی ہے۔ اس کے وصول کی وجہ سے وہ آج نہیں آسکے غالباً کل یا شام کی ریل میں وہ بھی تشریف لے آئیں۔
حکیم صاحب...... خوب اللہ تعالیٰ جزاء خیر دے مولوی صاحب کا بھی دم غنیمت ہے۔ ان کو بھی آپ کی طرح اس معاملہ میں نہایت دلچسپی ہے اور ایسا ہی چاہیے قومی ہمدردی کے یہی معنے ہیں۔
اتنے میں ریل نے سیٹی دی اور سب اپنا اپنا اسباب اٹھا کر سوار ہو گئے۔ اور ریل روانہ ہوئی۔
باب ١٩ انہدام
مہدیوں اور مسیحوں کا ڈربہ کھل گیا
لیجیے ملک جاوا میں ایک اور مہدی صاحب عالم بالا سے تشریف کا گھٹا کاندھے پر لاد کر کھٹ سے آ پہنچے ہیں۔ اور دنیا کو اپنی مہدویت کی دعوت دیتے ہیں۔ اور شعبدے (معجزے)
دکھانے میں بھی مدعی ہے۔ آج کل مہدیوں اور مسیحوں کی بم پھوٹ گئی ہے۔ لندنی مسیح، فرانسیسی مسیح ، شامی مہدی جاپانی مہدی اور قادیانی مرزاجی تو پھر مسیح موعود بھی ہیں۔ اور مہدی مسعود بھی ہے اور امام الزمان بھی اور خاتم الخلفاء ہیں۔ الغرض سب گنوں میں پورے اور تمام کمپونڈ مکسچرز کے سیرپ اور معجون بھی۔ اور باقی سب کے سب ادھورے یعنی کوئی مسیح ہے۔ تو مہدی نہیں اور مہدی ہے تو مسیح نہیں۔ پھر دنیا سب کو چھوڑ کر مرزاجی پر کیوں ایمان نہیں لاتی لوگ بالکل اندھے ہیں۔ اور ایشیا اور افریقہ سے بڑھ کر یورپ اندھا ہے۔ کیا معنے کہ مرزا صاحب اپنے بروز اور خروج کی تبلیغ کتابوں اور رسالوں اور تصویروں کے ذریعہ سے کامل طور پر کرچکے ہیں۔ اور اپنے تمام مجموعی صفات کا آئینہ دکھا چکے ہیں۔ غضب ہے کہ یورپ پھر بھی لندنی مسیح اور فرانسیسی مسیح پر لٹو ہے جنہوں نے کوئی شعبدہ کوئی کرشمہ کوئی پھٹک دک بھبکیپ کچھ نہیں دکھایا اور قادیانی مسیح خدا جھوٹ نہ بولائے۔ تو کوئی ڈیڑھ سو معجزہ لوگوں کی موت کی ٹال باندھی پیشین گوئیاں دکھا چکا ہے پیشگوئیوں کی ٹھیک میعاد کے درمیاں کے بیچوں بیچ کے اندر کوئی نہ مرا تو کیا ہوا، آخر مرا تو سہی۔ مرزاجی پیشگوئی نہ کرتے تو نہ آتھم مرتا نہ لیکھرام مرتا۔ لوگوں کی عقل کا چراغ تو ہو گیا ہے گل۔ پیشگوئی سے یہ ہرگز لازم نہیں۔ کہ ٹھیک وقت پر ہو ہاں شرط ہے۔ کہ برس دو برس پانچ برس دس برس میں ہو۔ ضرور ہو۔ ہزاروں میں لاکھوں میں ہو۔ سچ مچ ہو باون تولہ پاؤ رتی سو دیکھ لو مرزا صاحب کی آسمانی منکوحہ بی بی جو ایک ظالم نے غصب کر لیا تھا مرزا صاحب نے اس کی موت کی پیشگوئی کی تھی۔ تو وہ دس بیس برس میں ضرور مری اور ان کا رقیب ایک نہ ایک دن ضرور مرے گا۔ بھلا مامور من اللہ کی پیشگوئی اور خالی جائے۔ اجی کہیے اب بتائیے مذکورہ بالا مہدیوں اور مسیحوں میں سے کسی نے بھی ایسے روشن اور چمکتے ہوئے معجزات آج تک دکھائے پیشگوئی اگرچہ نجومیوں، رمالوں، سادھو بچوں کا کام ہے مگر جب مامور من اللہ کوئی پیشگوئی کرے گا۔ خواہ وہ جھوٹی ہو یا سچی ضرور معجزہ کہلائے گا۔ وہ آسمان میں پوری ہو جاتی ہے۔ مگر اندھوں کو نظر نہیں آتی۔ اور پیشگوئی نہ بھی پوری ہو۔ تو اس سے کسی نبی کی نبوت میں فرق نہیں آتا۔ پیشگوئی دوسری چیز۔ اور نبی ہونا دوسری چیز۔
نوٹ: مرزاجی کا حال الغریق یتشبث بحشیش کا مصداق اسی ذریعہ سے اسلام کے اصول توحید کو باطل کیا اور اپنے جدید مذہب کے اصول تصویر پرستی، مہتاب پرستی وغیرہ جائز ورائج کیے ہیں۔ مرزاجی کے الزامی دلائل عجیب وغریب ہیں کہ فلاں شخص نے چونکہ تصویر کی شہادت دی ہے۔ لہذا وہ ہماری طرح تصویر پرست ہے اور تصویر پرستی کا جائز کرنے والا بھی اس
١٠٣
صورت میں ہر مجرم کا گواہ مجرم ٹھہر سکتا ہے۔ اس لیے عدالتوں کے دروازوں کو قفل لگ گیا۔ کیونکہ کسی گواہ کی کیا شامت ہے کہ وہ کسی کے ارتکاب جرم کی شہادت دے کر مجرم بنے۔ مرزا جی نے جواز تصویر پرستی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے اس حکم کا بھی اسناد کیا لا تکتموا الشھادة ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ دیکھ لیجئے اسلام کے کیا اصول ہیں۔ کیا ایک اصل کے توڑنے سے بہت اصول ٹوٹ جاتی ہیں۔
ماشاء اللہ مرزا جی کے دلائل بہت معقول ہیں۔ مگر عملی طور پر سب مہدیوں اور سب مسیحوں کے کھرے کھوٹے کو آگ پر تپانا چاہیے۔
یعنی تمام مہدی میدان میں اتریں۔ اور اپنے اپنے کرتب دکھائیں جو کرتبوں میں کامل نکلے وہی مہدی اور مسیح تسلیم ہو۔ اور اگر سب ناقص اور جھوٹے نکلیں تو ایک ایک کو پھانسی پر لٹکایا جائے یا لوہے کے پنجروں میں قید کر کے کسی جزیرہ میں بھیجا جائے۔ کہ پھر وہاں سے نہ آسکیں اور دنیا ان کے کید سے محفوظ رہے۔
ہر ایک جھوٹا اور مکار مہدی اور مسیح دیکھ رہا ہے کہ اس کے چند رقیب ساتھی موجود ہیں۔ اور سب کے سب ایک ہی دعویٰ کے مدعی ہیں۔ حالانکہ مہدی اور عیسیٰ مجدد نہیں ہو سکتے پھر مسیح ایک ہی ہوگا۔ مگر بے ایمانی اور شرارت اور دیدہ دلیری دیکھے کہ ان بدمعاشوں اور دنیا کے لوٹنے والوں کو ذرہ شرم نہیں کہ ہم کیا جعلسازی اور دغابازی کر رہے ہیں۔ اور نہ ان حمقاء کو شرم آتی ہے۔ جو ان کے دام تزویر میں پھنس کر الو کے پٹھے بن گئے ہیں۔ اور احمقوں کا جتنا گروہ مرزا جی کی مٹھی میں ہے۔ اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ لندنی اور فرانسیسی اور افریقی اور جاوی مسیحوں اور مہدیوں کے پتلون اور بنیان میں ہے پس وحشی اور مہذب دونوں ایک سے سانچے میں ڈھل گئے ہیں۔ اور کسی میں کوئی ما بہ الامتیاز نہیں رہا کیوں نہیں وہ خوب جانتے ہیں۔ کہ ساری کارروائی خود ان کی کانشنس کے خلاف ہے اور ان کو کامل یقین ہے کہ محض خودغرضی اور جلب منفعت کے لیے ہم یہ تھیٹر تیار کر کے اسٹیج پر تماشا دکھا رہے ہیں تا کہ طفلانہ طبیعت کے حمقاء سے ٹکے سیدھے کریں۔ بہر حال چند روز میں عقدہ کھلا جاتا ہے۔ سب کے سب سر پکڑ کر آنسو نہ بہائیں ہمارا ذمہ۔
کس تخم کو خاک میں ملایا
ایڈیٹر شحنہ ہند میرٹھ ٨ مارچ ١٩٠٣ء
١٠٤
باب ٢٠ بیستم
ماں کرے نندلال
صبح کا سہانا وقت بہار کے دن ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ درختوں میں نو شگوفہ آیا ہوا ہے۔ اس کی بھینی بھینی خوشبو سے دل کو فرحت، دماغ کو طاقت پہنچتی ہے۔ دس بارہ آدمی بہ لحن داؤدی اونچے سروں میں الاپ الاپ کر گا رہے ہیں۔ سہاگن بچا ماں کرے نند لال۔ ایک ڈھولک پر تھاپ دے کر تال دے رہا ہے۔ ایک خنجری بجاتا ہے۔ اور لہرالہرا کر ایک لے میں سب کے سب گا رہے ہیں۔ سہاگن، بچا (زچہ) لاڈو گود کھلائے نندلاں۔ تالی بجا کر سہاگن بچا ماں کرے نندلال۔ ایک طرف سے ایک مالن انبہ کے پتے رسے میں باندھے ہوئے مکان کے دروازہ باندھ رہی ہے۔
قریب کی مسجد سے ایک صاحب باہر آئے ارے یارو نماز تو پڑھنے دو۔
- .......١ قربان جائیں یہ دن کیا روز روز آتا ہے۔ نمازیں تو ہمیشہ دن نکلتے ہی لگی رہتی ہے۔
- .......٢ خدا نے یہ دن دکھایا ہے۔ ہم اس دن کی دعا مانگتے تھے۔
- .......٣ سخی کی کمائی میں سب کا حصہ ہے۔
- .......٤ شوم کم بخت کے دروازے کون جاتا ہے۔
نمازی......ارے بھائیو نماز میں حرج ہوتا ہے۔ دن تو نکلنے دیا ہوتا۔ آواز (مسجد کے اندر سے) میاں بحث کیوں کرتے ہو۔ کچھ دے دلا کر رخصت کرو۔
نمازی نے صحن مسجد سے زنان خانہ کی طرف رخ کر کے کسی خادمہ کو آواز دی خادمہ اندر جاکر ان بھانڈوں اور مالن کو کچھ دے دلا رخصت کیا۔
نمازی...... صحن مسجد سے واپس اندر جاکر حضرت جی مبارک ہم کو تو خبر ہی نہیں ان لوگوں کو کہاں سے خبر ہو جاتی ہے۔
مصاحب...... حضرت اقدس نے تو ذکر ہی نہیں فرمایا۔
حضرت اقدس...... بے شک رات ڈیڑھ بجے بعد یہ مولود مسعود پیدا ہوا اس وجہ سے بے خوابی ہی رہی صبح کی نماز میں بہ توقف آنے کا اتفاق ہوا۔ جماعت تیار تھی اس ذکر مذکور کی فرصت نہ تھی فالحمد للہ اللہ نے ہماری پیشگوئی کو پورا کیا۔
١٠٥
مصاحب ...... الحمداللہ مبارک مبارک پھر ایک مرتبہ ہی مبارک مبارک کی آواز سے مسجد گونج گئی۔
حاضرین ...... الحمد للہ حضور اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا۔ لڑکی کے پیدا ہونے سے مخالفوں نے زبان طعن کو دراز کر رکھا تھا۔ اب ان کے منہ میں خاک پڑے گی۔ خدا تعالیٰ اس مولود کو عمر طبعی پر پہنچائے۔ اور حسب بشارت خود سب وعدہ پورا کرے۔
پھر بیک آواز آمین سے مسجد گونج اٹھی۔
مولوی صاحب ...... اب یہ مولود تو وہی بشیر موعود ہے جس کی نسبت حضور کو الہام ہوا تھا عزرائیل۔
حضرت اقدس ...... بے شک اب عقیقہ کا سامان کیا جائے ایک مضمون لکھو اور فوراً مطبع میں شائع ہونے کے واسطے بھیج دو۔ اور احباب عقیدت کیش کے پاس خط دعوت اور مخالفین کے پاس اشتہار قلمی بذریعہ رجسٹری بھیج دو۔
مولوی صاحب ...... نہایت مناسب بلکہ ضروری اور جواب ان نامعقول کے منہ میں دیا جائے
پہلے لڑکے کی پیشگوئی میں جو لڑکی ہوئی تو زمین کو سر پر اٹھا رکھا ہے۔ ذرا سر تو نیچا ہو جائے۔
حضرت ...... ہم نے شائع کرا دیا تھا۔ کہ یہ ضرور تھوڑا ہی ہے کہ وہ مولود موعود اسی حمل میں پیدا ہوتا اس میں نہیں اس کے قریب کے حمل میں سہی۔
مصاحب ...... اب تو خدا تعالیٰ نے سب مخالفین کو خاک در دہاں سرنگوں کر دیا۔
شاہ جی ...... حضور اب عقیقہ کی تقریب بڑی خوشی کی جائے کہ زمانہ میں یادگار ہو جائے اور اس کی نظیر زمانہ میں ہاتھ نہ آئے۔
اتنے میں نوبتی نقارخانہ لے کر آگئے نوبت خانہ رکھا گیا نفری کی آواز کے ساتھ ہی نقارہ پر چوٹ پڑی۔ اور لوگ ڈوم کنجر مراسی تیتر بٹیر ڈبے ہاتھ میں لئے آ وارد ہوئے اور ایک جلسہ قائم ہو گیا۔
مرید ...... یہ راگ اور نفیری کا بجانا اور نقار خانہ رکھا جانا جائز ہے۔
حضرت اقدس ...... جب آسمانوں پر اس مولود کے تولد کے شادیانہ بجتے ہیں اور نوبت خانہ تو زمین پر کیوں نہ ہو۔
خوشامدی ...... حق ہے حق ہے سبحان اللہ دیکھ کیا عمدہ جواب ہے اعجاز ہی اعجاز۔
- ٢...... اس میں کیا شک ہے ہر کہ شک آرد کافر گردد اللہ کے مامور اور مرسل کا کوئی کام خلاف
امر الٰہی کے نہیں۔ حضور کو کشف سے معلوم ہو گیا ہوگا۔ کہ آسمان پر نوبت خانہ رکھا گیا ہے۔
١٠٦
دیگر خوشامدیوں نے ہاں میں ہاں مولوی صاحب ...... نے مضمون اشتہار لکھ کر مزین ہوا، اور مطبع میں بھی روانہ کیا گیا اور چھپ بھیجے گئے۔
” جاء الحق وزهق الباطل
خوشخبری
” ناظرین میں آپ کو بشارت اشتہار ١٨ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشگوئی کی تھی میں لکھا تھا۔ کہ اگر وہ حمل موجود میں پیدا نہ پیدا ہوگا۔ آج ١٦ ذیقعدہ ١٣٠٢ ہجری مطاب بچے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ ال اب دیکھنا چاہیے کہ یہ کس قدر بات میں یہ سوال کرتے ہیں۔ کہ ہم وہ پیشگ یہ پیشگوئی انہیں منظور کرنی پڑی کیونکہ اس جائے گا۔ ضرور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ اس حمل الہام میں مجمل تھا لیکن میں نے اس اشتہا القدس سے قوت پا کر مفصل طور پر مضمون دوسرے حمل میں ضرور ہوگا۔ آریوں نے جم تجاوز نہیں کرے گا۔ حمل موجودہ سے خاص میں انہیں جواب دیا۔ کہ یہ حجت تمہاری فضو کہ ملہم آپ بیان کرے۔ اور ملہم کے بیان رکھتی۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی و اس کے معنے کرتا ہے۔ پس جس حالت میں چھپوا کر میں نے شائع کروائے۔ اور بو عبارت کے وہ معنے قبول نہ کرنا جو خود ایک
دیگر خوشامدیوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔
مولوی صاحب ...... نے مضمون اشتہار لکھ کر پیش کیا بعد ملاحظہ پسند خاطر اقدس ہو کر بدست خاص مزین ہوا، اور مطبع میں بھی روانہ کیا گیا اور چند مخالفین کے پاس قلمی اشتہار تحریر کرا کر بذریعہ رجسٹری بھیجے گئے۔
”جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا“
خوشخبری
”ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں۔ کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لیے میں نے اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشگوئی کی تھی اور خدائے تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا۔ کہ اگر وہ حمل موجود میں پیدا نہ ہو۔ تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے۔ ضرور پیدا ہوگا۔ آج ١٦ ذیقعدہ ١٣٠٦ ہجری مطابق ٧ اگست ١٨٨٧ء میں ١٢ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ الحمدلله علی ذلك!
اب دیکھنا چاہیے کہ یہ کس قدر بزرگ پیشگوئی ہے جو ظہور میں آئی۔ آریہ لوگ بات بات میں یہ سوال کرتے ہیں۔ کہ ہم وہ پیشگوئی منظور کریں گے۔ کہ جس کا وقت بتایا جائے سو اب یہ پیشگوئی انہیں منظور کرنی پڑی کیونکہ اس پیشگوئی کا مطلب یہ ہے کہ حمل دوم بالکل خالی نہیں جائے گا۔ ضرور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ اس حمل سے کچھ دور نہیں بلکہ قریب ہے یہ مطلب اگرچہ اصل الہام میں مجمل تھا لیکن میں نے اس اشتہار میں لڑکا پیدا ہونے سے ایک برس چھ مہینے پہلے روح القدس سے قوت پا کر مفصل طور پر مضمون مذکورہ بالا لکھ دیا یعنی یہ کہ اگر لڑکا اس حمل میں نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور ہوگا۔ آریوں نے حجت کی تھی کہ یہ فقرہ الہامی جو کہ ایک مدت سے حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ حمل موجودہ سے خاص تھا جس سے لڑکی ہوئی۔ میں نے ہر ایک تحریر اور تقریر میں انہیں جواب دیا۔ کہ یہ حجت تمہاری فضول ہے۔ کیونکہ کسی الہام کے معنے وہ ٹھیک ہوتے ہیں۔ کہ ملہم آپ بیان کرے۔ اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پا کر اس کے معنے کرتا ہے۔ پس جس حالت میں لڑکی پیدا ہونے سے کئی دن پہلے عام طور پر کئی سو اشتہار چھپوا کر میں نے شائع کروائے۔ اور بڑے بڑے آریوں کی جماعت میں بھیج دے۔ تو الہامی عبارت کے وہ معنے قبول نہ کرنا جو خود ایک خفی الہام نے میرے پر ظاہر کیے اور پیش از ظہور مخالفین
١٠٧
تک پہنچا دیئے گئے۔ کیا ہٹ دھرمی ہے یا نہیں۔ کیا ملہم کا اپنے الہام کا معانی بیان کرنا یا مصنف کا اپنی تصنیف کے کسی عقدہ کو ظاہر کرنا تمام دوسرے لوگوں کے بیانات سے عندالعقل زیادہ معتبر نہیں ہے۔ بلکہ خود سوچ لینا چاہیے۔ کہ ملہم جو کچھ پیش از وقوع کوئی امر غیب بیان کرتا ہے۔ اور صاف طور پر ایک بات کی نسبت دعویٰ کر لیتا ہے۔ تو وہ اسے اس الہام اور اس تشریح کا آپ ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور اس کی باتوں میں دخل بے جا دینا ایسا ہے۔ جیسے کوئی کسی مصنف کو کہے کہ تیری تصنیف کے یہ معنے نہیں بلکہ یہ ہیں جو میں نے سوچے ہیں۔
اب ہم اصل اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء ناظرین کے ملاحظہ کے لیے ذیل میں لکھتے ہیں۔ تاکہ اطلاع ہو کہ ہم نے پیش از وقوع اپنی پیشگوئی کی نسبت کیا دعویٰ کیا تھا اور پھر وہ کیسا اپنے وقت پر پورا ہوا۔
المشتہر: خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٤١، ١٤٢)
باب ٢١ بست و یکم
گوگائومی کا میلہ اور زندہ پیر کی زیارت
بھادوں کا مہینہ ہے آسمان پر ابر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرف سے اس طرف کو جا رہے ہیں۔ کہیں دھوپ کی تیزی بدن کو جلائے دیتی ہے بھادوں کی دھوپ جس سے ہرن کالا ہو۔ کبھی چھوٹا سا ٹکڑا ابر کا سر پر آگیا۔ سایہ ہو گیا۔ ہوا کا جھونکا بستی میں جو مددگار رہا جان آگئی۔ کبھی حبس ہوا تو گرمی نے وہ زور دکھایا کہ سانس بند ہو گیا۔ پسینہ ہے کہ سر سے لے کر پاؤں کے ناخن تک پہنچا ہے۔ کپڑوں سے بو آ رہی ہے۔ بٹالہ سے جو قادیان کو سڑک جاتی ہے۔ اس پر آدمیوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ دس دس بیس بیس چالیس چالیس پچاس پچاس کا جتھہ ابر کے ٹکڑوں کی طرح علیحدہ علیحدہ بولی میں مصروف ہے کسی کے ہاتھ میں مور کے پروں کا مورچھل ہے کوئی ڈھول بجا رہا ہے۔ ایک مرتبہ ہی ابر آیا اور برستا ہوا چلا گیا۔ لوگوں نے چاروں طرف کو دیکھا جائے پناہ نہیں پائی دھوپ نکل آئی۔ مسافروں نے اپنا راستہ لیا اور شام کے قریب قادیان میں داخل ہوئے۔ وہاں میلہ کا ہجوم ہے ایک وسیع میدان میں مجمع ہے۔ ازدہام سے آدمیوں کو آدمی چیر کر نکلتے ہیں۔ تو منزل مقصود پہنچتے ہیں۔ میدان میں ایک منڈی ہے۔ ........... ایک بڑے لمبے بانس
١٠٨
پر پتلا اور سفید کپڑا سبز رنگ کا پھریرا اڑ رہا ہے بانس کے پاس جھنڈا (چھڑے) کے نیچے چارپائی بچھی اوپر تکیہ کے سہارے ایک بزرگ درویش صورت ل عمامہ سر پر کھدر کا کرتہ بدن پر سبز سرخ سیاہ نیلے پیلے مع لال لال آنکھیں رعب دار چہرہ منہ سے حقہ لگائے لٹکائے۔ دنیا سے ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے۔ پیروں ہے۔ لوگ آتے ہیں۔ پیر کے پاؤں کو چوم قدم کو پ چڑھا روپیہ دو روپیہ پیر کے سر پر چادر پر ڈال دیتا ہ میں جا بیٹھتا ہے۔ خادم مرغا مرغی بھیڑ بکری کے بچہ پ پچیس پچیس کا غول دوڑے جاتے ہیں۔ بھجن گاتے روپیوں کے کوڑیوں کی طرح ڈھیر لگا ہوا ہے۔
پیر جی حقہ کا دم کھینچ دھواں اڑا۔ وہ بچہ ک مرید داتا پیر کے پاؤں کی برکت ہے ج اگلے برس اس کو گود میں لے کر آؤں۔ ....... بیاہ کرا دے گھر ویران ہے۔ تنہائی میں ساتھ ہو۔ ....... ابے چپ یہ موقع گفتگو کا نہیں دیکھ کوئی ....... بابا پیر کے مہر کی نظر چاہیے کہنے کی کیا سب کچھ روشن ہے یہی تو کرامات ہے۔ پیر جی ....... مسکرا کر ارے بھائی میں بوڑھا آدمی لڑکا ل عورتوں کی کیا میرے پاس بھیڑ لگی ہوئی ہے ہوتی ہے۔ اچھا کہیں گے۔ گرو بھلی کرے گا۔ مرید ....... کھڑے ہو کر اور ہاتھ باندھ کر بس مہاراج گرو کی کرم کی نظر ہو جائے آپ کا نام ہمارا کام ہو ج ....... پیر کے چرنوں لگ جا داتا گرو ساری م
١٠٩
پر پتلا اور سفید کپڑا سبز رنگ کا پھریرا اڑ رہا ہے بانس کے سر پر مور کے پر کا مورچھل بندھا منڈھی کے پاس جھنڈا (چھڑے) کے نیچے چارپائی بچھی ہے۔ اس پر سفید بستر لگا ہوا ہے چارپائی کے اوپر تکیہ کے سہارے ایک بزرگ درویش صورت لمبی داڑھی سرخ سفید رنگ نورانی چہرہ سبز کاہی عمامہ سر پر کہربائی کرتہ در بر سبز سرخ سیاہ نیلے پیلے منکوں کی پنچرنگی تسبیح گلے میں پتلا رومال ہاتھ میں لال لال آنکھیں رعب دار چہرہ منہ سے حقہ لگائے صوفی صافی کی شکل بنائے چارپائی سے پاؤں لٹکائے۔ دنیا سے ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے۔ پیروں کے پاس پلنگ کے نیچے ایک سفید چادر بچھی ہے۔ لوگ آتے ہیں۔ پیر کے پاؤں کو چوم قدم کو ہاتھ لگا ماتھا ٹیک کوئی مرغا کوئی بھیڑ بکری کا بچہ چڑھا روپیہ دو روپیہ پیر کے سر پر چادر پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح الٹے پاؤں نو قدم ہٹ کر مجلس میں جا بیٹھتا ہے۔ خادم مرغا مرغی بھیڑ بکری کے بچے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ چاروں طرف بیس بیس پچیس پچیس کا غول دوڑے آتے ہیں۔ بھجن گاتے ہیں۔ گوگا پیر کے مناقب سناتے ہیں۔ چادر پر روپیوں کا کوڑیوں کی طرح ڈھیر لگا ہوا ہے۔
پیر جی حقہ کا دم کھینچ دھواں اڑا....... وہ بچہ کیا کہتا ہے۔ خوش کر دیا۔
مرید داتا پیر کے پاؤں کی برکت ہے۔ تیری جوتیوں کا صدقہ ہے۔ ایک بچہ دلوا دے اگلے برس اس کو گود میں لے کر آؤں۔
- ٢....... بیاہ کرا دے گھر ویران ہے۔ تنہائی میں دل گھبراتا ہے۔ اگلے سال اکیلا نہ ہوں چوہڑی
ساتھ ہو۔
- ٣....... ابے چپ یہ موقع گفتگو کا نہیں دیکھ کوئی بولتا ہے۔
- ٤....... بابا پیر کے مہر کی نظر چاہیے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس پر
سب کچھ روشن ہے یہی تو کرامات ہے۔
پیر جی....... مسکرا کر ارے بھائی میں بڑھا آدمی لڑکا کیا میری جھولی میں ہے جو نکال کر دیدوں۔ اور عورتوں کی کیا میرے پاس کھڑک بھر دی ہوئی ہے۔ جو پکڑ کر دیدوں بابا فقیروں کے پاس تو دعا ہوتی ہے۔ اچھا کہیں گے۔ گرو بھلی کرے گا۔
مرید....... کھڑے ہو کر اور ہاتھ باندھ کر بس مہاراج یہی تو ہم چاہتے ہیں۔ اور ہم کیا کہتے دعا کرو گرو کی کرم کی نظر ہو جائے آپ کا نام ہمارا کام ہو جائے بر کریماں کارہا دشوار نیست۔
- ١....... پیر کے چرنوں لگ جا داتا گرو ساری مرادیں پوری کرے گا۔ پیر کے مہر کی نظر چاہیے
١٠٩
بیڑا پار ہے۔
پیر جی بابا گھبرانے سے کچھ نہیں ہوتا خدا کی مہربانی اور فضل پر نظر رکھنی چاہیے۔
نہ مایوس ہو اس سے امیدوار
راگ رنگ موقوف روشنی کے سامان بڑے دھوم سے کیا گیا تھا۔ اور سیر دیکھنے میں لوگ مصروف ہوئے پیر جی اٹھ کھڑے ہوئے۔ خادم نذر و نیاز کا روپیہ سب اکٹھا کر ساتھ ہوئے۔ کھانا ہر ایک اس کے قیام گاہ پر بھیجا گیا۔ صبح کو پیر جی کا دربار خاص منعقد ہوا ہر ایک مرید اور خواہش مند بمصداق تنہا پیش قاضی روی راضی آئے کے ایک کوٹھے میں جہاں پیر صاحب رونق افروز تھے۔ تنہا جاتا اپنا حال سناتا۔ روائے حاجت چاہتا۔ جواب شافی پاتا چلا آتا اندر زنانخانہ سے ایک خادمہ آئی۔
خادمہ ...... حضور محلے میاں کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا مبارک۔
ناظرین سمجھ تو گئے ہوں گے یہ دربار کس بزرگ وار کا ہے اور پیر جی کون صاحب ہیں۔ اور محلے میاں کون ہیں۔ مگر ہم بھی عام لوگوں کو سمجھانے کی غرض سے لکھتے ہیں یہ پیر صاحب سلطان العارفین ١؎ امام السالکین مرزا امام الدین صاحب ہیں۔ اور مرزا نظام الدین صاحب ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جو ہمارے ناول کے ہیرو حضرت مسیح زمان مہدی دوران مرزا صاحب کے چچا زاد بھائی ہیں۔
پیر جی ...... نہایت خوشی کے لہجہ میں الحمد للہ اللہ تعالیٰ عمر طبعی کو پہنچائے صاحب بخت و دولت کرے۔ کب ہوا۔
خادمہ ...... ابھی ابھی بس حضور کی خدمت میں دوڑی ہی آئی ہوں۔
پیر جی ...... ہاں خوب یاد آیا ہے۔ کہ ان لوگوں کو کہہ دیا کہ آج اور کل کوئی شخص نہ جائے جلسہ ہوگا۔
خادم ...... نے سب لوگوں کو پکار کر منادی کر دی کہ پیر جی کے بھتیجا (یعنی بھائی کے گھر لڑکا) پیدا ہوا ہے۔ اس کا جلسہ اور دعوت کا سامان ہوگا۔ کوئی بے اجازت نہ جائے۔
فوراً جلسہ کا سامان شروع ہوا شامیانہ لگایا گیا۔ لاہور امرتسر سے گائین بلائی گئیں۔ اور بڑی دھوم دھام سے جلسہ رقص و سرود اور دعوت کیا گیا۔ رنڈیوں کے گانے اور سارنگیوں کے دھنوں
١١٠
٢٥
کی آواز سے اور طبلہ کی تھاپ سے زمین سے آسما تازہ نو بنو گائی گئی۔
وقت پیری کے خدا نے دیا فرزند رشید
اس نے اس بارہ میں فرمائی جو پیشگوئی
رہے پر نور مدام اس سے شبستان امید
ہوا سرسبز گلستان تمنائے دل
مشتری زہرہ فلک پر نہ ہوں کیوں نغمہ سرا
آئے وہ دن بھی کہ ہو اس کا برادر ثانی
جشن جمشید نظر سے گرے وہ جشن ہو آج
حاشیہ جات
١؎ مرزا صاحب نے اشتہار ٢٠ فرور میں لکھی ہے اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیو گے یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے اور ان الدین ان کے حقیقی چچازاد بھائی ہیں وہ بھی اس
شجرہ نسب
عط غلام مرتضیٰ غلام محی غلام قادر امام الدین غلام احمد یحییٰ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کا موجود
کی آواز سے اور طبلہ کی تھاپ سے زمین سے آسمان تک نغمہ شادی کا شور تھا۔ غزل مبارک باد تازہ تازہ بتازہ گائی گئی۔
وقت پیری کے خدا نے دیا فرزند رشید معجز عیسیٰ موعود مبارک ہوئے
اس نے اس بارہ میں فرمائی جو پیشگوئی اثر الہام کا محمود مبارک ہوئے
رہے پر نور مدام اس سے شبستان امید تابش اختر مسعود مبارک ہوئے
ہوا سرسبز گلستان تمنائے دل گل سے پر دامن مقصود مبارک ہوئے
مشتری زہرہ فلک پر نہ ہوں کیوں نغمہ سرا مہ و خورشید تئیں موجود مبارک ہوئے
آئے وہ دن بھی کہ ہو اس کا برادر ثانی گائیں ہم آگے یہ مولود مبارک ہوئے
جشن جمشید نظر سے گرے وہ جشن ہو آج زود تر زود یہہ بہبود مبارک ہوئے
حاشیہ جات
١؎ مرزا صاحب نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں یہ پیشگوئی صفحہ اخیر کے تیسری سطر میں لکھی ہے اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جائے گی۔ اور وہ لاولد رہ کر ختم ہو جائیں گے یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے اور ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے چونکہ مرزا نظام الدین ان کے حقیقی چچازاد بھائی ہیں وہ بھی اس پیشگوئی میں آگئے۔
شجرہ نسب مرزا قادیانی
عطاء محمد غلام حیدر غلام محی الدین غلام مرتضیٰ حسن بیگ کمال الدین امام الدین غلام احمد غلام قادر نظام الدین یعنی لاولد یعنی مرزا غلام احمد قادیانی بانی فساد جس کے حق میں تھا
١١١
باب ٢٢ بیست و دوم
پسر موعود کی موت
امروز چنیں فراق عالم سوزی
افسوس کہ بر دفتر عمرت ایام
ایں را روزی نویسد و آں را روزی
رات کا وقت ہے۔ آندھی چل رہی ہے۔ ہوا کا وہ زور ہے کہ پاؤں اکھاڑے دیتی ہے۔ ہوش اڑے جاتے ہیں۔ گرد و غبار آنکھیں نہیں کھولنے دیتا۔ اندھیرا ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ مارا نظر نہیں آتا۔ تاریکی نے سیاہی بخت عشاق کی طرح دنیا کو سیاہ کر رکھا ہے کوئی بھولا بچھڑا ادھر راستہ میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ راستہ نظر نہیں آتا۔ تن آور درختوں سے ٹکر کھاتا ہے۔
ایک گھر کے کمرہ کے دوسرے درجہ میں چراغ روشن ہے مگر وہاں بھی ہوا ٹھہرنے نہیں دیتی۔ ٹم ٹم کرتا ہے کیواڑ ہیں کہ دروازہ سے لگ کر کھڑکتے ہیں۔ جیسا کوئی دکھیا ماں اپنے اکلوتے بچہ کے ماتم میں سینہ کوٹتی ہے۔ یا نامراد بوڑھا باپ ضعیفی کی عمر میں اس بچہ کی مرگ پر جس کی موت نے تمام آرزوؤں کا خون کر دیا ہو سر پیٹتا ہے۔ مکان کے اندر ایک چارپائی کے اوپر ایک بیمار پڑا ہے۔ اس کے سرہانے خاتون نو عمر غمگین اور ایک مرد مسن اداس صورت بنائے بیٹھے ہیں۔ چند خادمہ ادھر ادھر گھبرائی ہوئی پھر رہی ہیں۔
یہ کون بیمار ہے۔ یہ تو کوئی برس ڈیڑھ برس کا بچہ ہے۔ آنکھیں بند کیے پڑا ہے۔ ہونٹوں پر پپڑیاں جم گئیں ہیں۔ زبانوں پر کانٹے کھڑے ہیں۔
بچہ (بیمار) کبھی آنکھ کھول کر حسرت بھری نظروں سے ماں کے منہ کو دیکھ لیتا ہے۔ پھر بند کر لیتا ہے۔
ان آنکھوں کو دو پٹہ سے پونچھ کر سر کو جھکا کر ماں میاں بشیر۔ جواب سے مایوس ہو کر اور حسرت کے لہجہ میں یا اللہ رحم کر۔
باپ مایوسی کی حالت میں بچہ کے ہونٹوں کو ہاتھ لگا کر کیسے خشک ہو گئے ہیں۔ کچھ پڑھ کر پھو۔
بیوی...... (بچہ کی ماں) کیا امید ہے آنسو پونچھ کر اس سے تو خدا نہ دیتا تو اچھا تھا۔ یا اللہ ہم سے تو یہ تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔ جو کچھ کرنا ہے کر اس بچہ کی مشکل آسان کر۔
١١٢
میاں......(بچہ کا باپ) تم گھبراتی کیوں ہو۔ اور ناامید کیوں ہوتی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نزدیک کوئی بات ان ہونی نہیں اس میں سب قدرت ہے۔
بیوی......اب اس کی کیا امید ہے کوئی دم کا مہمان ہے۔ لبوں پر جان ہے۔ ایسے بیمار کبھی اچھے ہوئے ہیں؟ ہماری تقدیر میں جلنا اور کڑھنا ٹھہرا ہے۔ ایسی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے تو کوئی اولاد کی خواہش بھی نہیں کی تھی۔ اگر اللہ میاں نے مہربانی کر کے دی تھی۔ تو اس کو زندہ رکھتا۔
میاں......تم ناحق گھبراتی ہو۔ خدا پر نظر رکھو ناامید مت ہو۔ یحییٰ الموتیٰ اس کی صفت ہے وہ مردہ کو زندہ کرتا ہے۔ بیمار کا تندرست کرنا کیا بڑی بات ہے۔ حکمت کے رو سے بھی ہمارا تجربہ ہے۔ اس سے سخت سخت بیمار تندرست ہوجاتے ہیں ان کے علاوہ وہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے ذریعہ الہام بشارت دی ہے۔ یہ لڑکا بڑا صاحب بخت و اقبال ہوگا۔ اور اس کا نام سمندروں کے کناروں تک مشہور ہوگا اور قیامت تک اس کا نام صفحہ دنیا سے نہ مٹے گا۔
بیوی......اللہ کرے تمہاری زبان مبارک ہووے مگر مجھ کو تو کوئی امید کی صورت نظر نہیں آتی۔
میاں......تم کو ہمارے الہام پر بھی ایمان نہیں۔
بیوی......میں ان وحی باتوں کی قائل نہیں بھلا پہلے حمل میں الہام ہوا تھا لڑکا ہوگا اور وہ ایسا ہوگا ایسا ہوگا۔ تو لڑکی ہوئی وہ بھی زندہ نہیں مردہ اب اس لڑکے کی نسبت جو اشتہار دیا کہ یہ وہی موعود ہے۔ تو اس کی جان کے لالے پڑے ہیں۔ اللہ کرے یہ بچ جائے اب سے پیچھے مت کہنا۔ کہ یہ لڑکا موعود ہے۔ میرا بچہ جیتا رہے میں تمہارے وعدہ وعید سے درگزری۔
میاں......تم تو ناحق گھبراتی ہو اتنے میں خادمہ نے عرض کی حکیم جی آئے ہیں۔ پردہ ہوا۔
حکیم جی اندر آئے اور شیشی سے دوا نکال کر بچہ (بیمار) کو پلائی۔ اور کہا مجھ کو کیا حکم ہے۔
بزرگ......(بچہ کا باپ) اب کیا حالت ہے۔ میرے خیال میں تو اب ردی حالت ہے۔
حکیم......حضرت خود حکیم اور مؤید من اللہ ہیں۔ آپ کے روبرو کچھ کہنا بے ادبی میں داخل ہے۔ میرے خیال میں حضور باہر تشریف لے چلیں خدا نا کرے حضور کی طبع مبارک ناساز ہوجائے۔
یہ گفتگو ہو رہی تھی بچہ نے ایک ہچکی لی۔ اور جان بحق تسلیم ہوا۔
ماں......(بے خودی کے عالم میں) ہائے میرا بچہ، حکیم جی بچانا۔ ہائے ہائے یہ کیا ہوگیا۔
خادمہ......ہائے میرا لاڈلا اب میں کس کو کھلاؤں گی۔
٢...... روتی چلاتی ہوئی ہائے یہ کیا ہوا دوڑیو کوئی باہر جاکر حضور اقدس کو تو خبر کردو وہی کچھ خدا
١١٣
سے دعا کریں یہ بچہ جی جائے خدا کے مقبول بندے تو سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہائے میری گود کا پالا کئی دن جاگا۔ ایسی میٹھی نیند سویا۔ بچہ کے منہ سے کپڑا اٹھا کر ہائے میرا چاند۔
حکیم صاحب حضرت اقدس کو باہر مردانہ خانہ میں لے گئے۔ گھر میں کہرام مچ گیا۔ مکان جو عشرت کدہ خاص تھا۔ ماتم سرائے عام ہو گیا عورتوں سے گھر بھر گیا۔ در و دیوار سے حزن و غم برستا ہے۔ رونے پیٹنے واویلا کی صدا بلند ہے۔ فلک پیر نے اس قدر ماتم کیا کہ سرتا پا نیلگوں ہو گیا۔ مردانہ میں زنان خانہ سے زیادہ شورشیں اور ماتم بپا تھا۔ کسی کا ہوش نہ بجا تھا۔
میر صاحب...... افسوس کل کیا تھا۔ اور آج کیا ہو گیا۔ خدا کے کارخانہ میں کسی کو دخل نہیں۔
شاہ جی...... انسان کیا اس کا ماتم تو فلک پر فرشتوں میں ہوتا ہے۔
مولوی صاحب...... جس مولود کی پیدائش کے خوشی کے شادیانے فلک پر پہنچے تھے۔ اس کا ماتم آسمان پر کیوں نہ ہو۔
خوشامدی...... آج تو سب کو سیاہ لباس پہننا چاہیے۔ آسمانوں پر ملائک نے تو ضرور ماتمی لباس پہنا ہوگا۔
٣...... اس میں کیا شک ہے۔ جب حضرت اقدس کے والد ماجد مرحوم و مغفور کا انتقال ہوا تھا۔ تو خدا نے پرسا دیا یعنی عزاداری کی تھی۔ اور اولاد کا صدمہ تو بڑا صدمہ ہے۔ خدا دشمن کے بھی نصیب نہ ہو اور اولاد وہ اولاد كأن الله نزل من السماء جس کی شان میں نازل ہو۔
حکیم صاحب...... حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کرنا بے ادبی ہے۔ ہمارا منصب نہیں۔ بے اجازت زبان کھولیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ مگر بہ ادب عرض ہے۔ کہ ماتم وہ نہیں جس سے ہاتھ اٹھایا جائے۔ اور یہ غم وہ نہیں جس کا داغ تازیست کیا بعد مرگ بھی سینہ سے جائے مگر بجز صبر و شکیبائی چارہ ہی کیا ہے۔
صد سال میتوان بہ تمنا گریستن
مولوی صاحب...... اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کا امتحان کرتا ہے۔ یہ اس کی قدیم سنت ہے۔
٢...... ان اللہ مع الصابرین آخر سب کو ایک دن یہ راہ در پیش ہے۔
مرزا صاحب...... ”بعض نادان دل کے اندھے یہ اعتراض پیش کریں گے کہ یکم فروری ١٨٨٦ء کی پیشگوئی میں ایک پسر موعود کا وعدہ جیسا کہ ظاہر کیا گیا تھا پورا نہیں ہوا۔ کیونکہ پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور اس کے بعد جو لڑکا پیدا ہوا اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ جو سولہ مہینے کا ہو کر فوت ہو گیا۔“
(تریاق القلوب ص ٧١، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٩)
١١٤
مرید ...... بے شک یہ بڑا سخت مخالفین کا اعتراض ہوگا۔ اشتہار یکم فروری ١٨٨٦ء میں جلدی کر کے غلطی کھائی تھی۔ ٧ اگست ١٨٨٧ء کو ہی ذرا سوچ اور تامل کر کے چھپواتے مصرع
- ٢...... میاں تم بھی بڑے گستاخ اور بے ادب ہو۔ توبہ کرو کافر ہو جاؤ گے مردود ہو جاؤ گے
چھوٹا منہ بڑی بات ہے اپنے اندازہ سے گفتگو کیا کرتے ہیں۔ کوئی مامور من اللہ خدا کے الہام کو چھپا سکتا ہے۔ جو کچھ خدا کی جانب سے حکم ہوا ظاہر کر دیا۔
- ٣...... بے شک یہ گفتگو سوء ادبی میں داخل ہے ہم کو یا آپ کو یہ منصب نہیں۔ کہ ایسے الفاظ
زبان پر لائیں۔ ع
کے مصداق کسی کو چوں و چرا کی کیا گنجائش اور طاقت ہے۔
مرزا صاحب ...... ”٧ اگست ١٨٨٦ء کے اشتہار میں کہا ہے کہ اسی کو بابرکت موعود ٹھہرایا گیا ہے۔“
(ایضاً)
شخص غیر ...... اس اشتہار میں صرف یہی لکھا گیا کہ یہ ١٨ اپریل ١٨٨٦ء کے الہام والا لڑکا ہے۔ مگر زبانی ’زبان کس و ناکس‘ کو بھی کہا گیا۔ کہ یہ وہی لڑکا موعود و مسعود ہے۔ جس کا اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں وعدہ ہوا تھا۔ اور آپ نے خود ایک مضمون ایک پونہ کے رہنے والے اردو خوان سپاہی کے نام بھی شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ ١٦ ستمبر ١٨٨٧ء چھپوایا ہے (اشاعۃ السنہ) اور ٨ اپریل ١٨٨٦ء کا اشتہار بھی ضمیمہ اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء۔
مرزا صاحب ’اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس قسم کی خباثت ہے۔ جو یہودیوں کے خمیر میں ہے اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لبوں سے یہ نکلا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسے بھی لوگ مسلمانوں سے ہوں گے جو یہودیوں کی صفت اختیار کر لیں گے۔ اور ان کا کام افتراء اور جعلسازی ہوگا۔ بھلا آؤ اگر سچے ہو تو پہلے اسی کا فیصلہ کر لو کہ ہم نے کب اور کس وقت اور کس اشتہار میں شائع کیا تھا۔ کہ اس بیوی سے پہلے لڑکا ہی ہوگا اور وہ لڑکا وہی موعود ہوگا۔ جس کا یکم فروری کے اشتہار میں وعدہ دیا گیا تھا۔ اس اشتہار مذکور میں تو یہ لفظ بھی نہیں ہیں۔ وہ بابرکت موعود ضرور پہلا ہی لڑکا ہوگا۔ بلکہ اس کی صفت میں اشتہار مذکور میں یہ لکھا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ چوتھا لڑکا ہوگا یا چوتھا بچہ ہوگا۔ مگر پہلے بشیر کے وقت کوئی تین موجود نہ تھے۔ جن کو وہ چار کرتا ہاں اپنے اجتہاد سے یہ خیال ضرور کیا تھا۔
١١٥
شاید یہی لڑکا مبارک موعود ہو۔
(تریاق القلوب ص ٧١، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٩)
مریدان ..... (راسخ الاعتقاد) سبحان اللہ کیا فرمایا ہے اعجاز ہی اعجاز ۔
- ١....... یہ انسان کا کام نہیں منجانب اللہ ہے۔ ہمارے حضرت کا یہ بھی اعجاز ہے۔ کہ فوراً جواب
دندان شکن سوجھ جاتا ہے دوسرا برسوں سوچے تو بھی نہ سوجھے۔
- ٢....... لاحول ولا قوۃ یہ اعجاز احمدی ہے اس میں شک کا کیا دخل ہے گو خود خدا متکلم ہے اللہ
تعالیٰ نے یہ اعجاز ہمارے حضرت (مرزا صاحب) کے واسطے ہی ودیعت کیا ہے۔
- ٣....... یوں ہر ایک دعویٰ نہ کر بیٹھے یہ نشان آسمانی ہے۔ اور تائید ربانی
کوئی اور ہووے گا مرزا نہ ہوگا
مرزا صاحب ...... بد بخت ایسے سخت متعصب ہیں۔ ہر ایک بات کا جواب مدلل اور مطول دیا جاتا ہے۔ اس پر پھر کوئی اعتراض نکال دیتے ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہم سے مقابلہ کرنا گویا خود خدا سے مقابلہ کرنا ہے۔ اور خدا سے مقابلہ کر کے کوئی کامیاب ہو سکتا ہے۔ اور جھٹ قلم اٹھا ایک رسالہ چوبیس صفحہ کا لکھا حکم دیا کہ اس کو سبز کاغذ پر شائع کرا دو۔
معترض ....... (یعنی شخص غیر ) حضرت اس رسالہ کے صفحہ ١٧ و ٢١ وغیرہ میں آپ نے اس لڑکے کو الہامی اور موعود بنانے میں تاویلیں کی ہیں۔
مرزا صاحب ...... ”اگر اس نادان معترض کے اعتراض کی بنیاد ہمارا ہی خیال ہے جو الہام کے سرچشمہ سے نہیں بلکہ صرف ہمارے ہی غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ تو سخت جائے افسوس ہے۔ کیونکہ وہ اس خیال کی شناخت سے اسلام کی اونچی چوٹی سے ایسا نیچے گریں گے کہ صرف کفر اور ارتداد تک نہ تھمیں گے بلکہ نیچے کو لڑھکتے لڑھکتے دہریت کے نہایت عمیق گڑھے میں اپنے بد بخت وجود کو ڈالیں گے۔ وجہ یہ کہ اجتہادی غلطیاں کیا پیشگوئیاں سمجھنے اور ان کے مصداق ٹھہرانے میں اور کیا دوسری تدبیروں اور کاموں میں ہر ایک نبی اور رسول سے ہوئی تھیں اور ایک بھی نبی ان سے باہر نہیں۔ گو ان پر قائم نہیں رکھا گیا اب جبکہ اجتہادی غلطی ہر ایک نبی اور رسول سے ہوئی ہے۔ تو ہم بطریق تنزل کہتے ہیں کہ اگر ہم سے کوئی اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔ تو وہ سنت انبیاء ہے۔ ہاں اگر ہمارا کوئی ایسا الہام پیش کر سکتے ہو جس کا یہ مضمون ہو۔ کہ خدا تعالیٰ لکھتا ہے کہ ضرور پہلے ہی حمل سے وہ بابرکت اور آسمانی موعود پیدا ہو جائے گا۔ اور یا یہ کہ دوسرے حمل میں پیدا ہوگا اور بچپن میں نہیں مرے گا تو ہم کو دکھائیں ٧ اگست کا اشتہار دیانت دار کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس میں
١١٦
با برکت آسمانی موعود کی خدا تعالیٰ کی طرف
حاشیہ جات
- ١ (اشاعت السنہ نمبر ٨ ج ١٥ ص ١١
الہام تولد فرزند عموماً نذیر و بشیر کو بطور تمثیل نا جھوٹا ہو چکا ہے اور پھر بچے کا سچا بنا ہوا ہے میں یہ درج کیا: ”میرے گھر میں ایک لڑکا پ باطنی سے پر کیا جائے گا۔ تین کو چار کرنے وا الحق والعلا کان اللہ نزول من السماء وہ جلد ب زمیں کے کناروں تک شہرت پائے گا۔“ (ت صفات اس لڑکے کے بیان کئے ۔ یعنی خدا کا خود خدا تعالیٰ سے نازل ہوگا۔ ناظرین قادی تو بہت لوگوں کو کہا گیا ہے۔ مگر خدا کا باپ قا کر جو لوگ اس کو مسلمان مان رہے ہیں وہ ا ملاحظہ کے لائق ہیں۔ اس اشتہار کی نقل اس ہے۔ جو آسانی سے ملاحظہ ناظرین سے گز معلم الملکوت ہے) تاریخ ماہ و سال تولد ف ٢٢ / مارچ ١٨٨٦ء کو ایک اشتہار اس کی میعاد ”ایسا لڑکا حسب وعدہ الٰہی نو برس کے ع ہندوؤں وغیرہ نے قادیانی کو اسلام کا وکیل چھاپ کر مشتہر کی کہ نو برس کی میعاد لمبی ہے نے اپنے ملہم (معلم الملکوت) کے حضور م ادھر سے یہ الہام ہوا جس کو قادیانی نے اش لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک میں ایک خفی الہام ہوا جس کو وہ اشتہار با روح اللہ کا نتیجہ قرار دے چکا ہے۔ چنانچہ ج
بابرکت آسمانی موعود کی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیشگوئی نہیں ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ١٥ص ٢٩٠)
حاشیہ جات
- ١؎ (اشاعت السنہ نمبر ٨ ج ١٥ ص ١٧١) اس کی گزشتہ الہامات اور بشارت میں بھی ایک
الہام تولد فرزند عمانوایل و بشیر کو بطور تمثیل ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ بارہا جھوٹا ہو چکا ہے اور پھر سچے کا سچا بنا ہوا ہے۔ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کو آپ نے ایک اشتہار دیا جس میں یہ درج کیا: ”میرے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوگا خوبصورت شوکت و دولت ہوگا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء وہ جلد جلد بڑھے گا۔ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمیں کے کناروں تک شہرت پائے گا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ایسے ہی اور صفات اس لڑکے کے بیان کئے۔ یعنی خدا کا جلال اس سے مظہر ہوگا۔ حق اور بلندی کا محل ظہور گویا خود خدا تعالیٰ سے نازل ہوگا۔ ناظرین قادیانی کا بیٹا خدا ہوا۔ قادیانی خدا کا باپ ٹھہرا آج ابن اللہ تو بہت لوگوں کو کہا گیا ہے۔ مگر خدا کا باپ قادیانی سے پہلے کوئی نہیں سنا تھا۔ اس کے ایسے دعاوی سن کر جو لوگ اس کو مسلمان مان رہے ہیں وہ اگر دیوانے نہیں نا فہم نہیں تو پھر کون ہیں وہی بتائیں؟ جو ملاحظہ کے لائق ہیں۔ اس اشتہار کی نقل اب قادیانی نے اپنے وساوس کے۔ اخیر میں چھاپ دی ہے۔ جو آسانی سے ملاحظہ ناظرین سے گزر سکتی ہے۔ اس اشتہار میں چونکہ آپ کا ملہم (جو یقیناً معلم الملکوت ہے) تاریخ ماہ وسال تولد فرزند بھول گیا تھا۔ لہٰذا آپ کو اس کا فکر ہوا تو آپ نے ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء کو ایک اشتہار اس کی میعاد کی بابت جاری کیا ہے۔ اور اس میں یہ لکھا ہے کہ: ”ایسا لڑکا حسب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔“ اس پر اسلام کے مخالفوں ہندوؤں وغیرہ نے قادیانی کو اسلام کا وکیل وحامی سمجھ کر اس میعاد پر خوب ہنسی اڑائی اور یہ بات چھاپ کر مشتہر کی کہ نو برس کی میعاد لمبی ہے اس میں کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ جس پر قادیانی نے اپنے ملہم (معلم الملکوت) کے حضور میں اس کے لیے (یعنی تعیین میعاد کے لیے) عرض کی تو ادھر سے یہ الہام ہوا جس کو قادیانی نے اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں درج کر کے مشتہر کیا۔ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ پھر اس کو الہام کی تفسیر میں ایک خفی الہام ہوا جس کو وہ اشتہار ٧؍ اگست ١٨٨٧ء میں خفی الہام اور الہامی تفسیر اور قبض روح اللہ کا نتیجہ قرار دے چکا ہے۔ چنانچہ عنقریب وہ الہام پورا ہوگا۔ وہ الہام یہ ہے الہام منقولہ
١١٧
اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں اس حمل کا لفظ کہاں لکھا ہے ٨ اپریل میں اس حمل کا لفظ کہاں ہے اور اس کے ساتھ اتباع کی نظروں میں اپنا سچا ہونا ثابت کر دیا۔ اس لئے کہ اس اشتہار میں اس حمل کا لفظ نہیں تو کیا ہوا اس میں ہے۔ ’’تو صریح اور صاف موجود ہے۔ اور ہیں بھی یہ الہام ٨ اپریل ١٨٨٦ء جس کے الفاظ مذکورہ سے لڑکا یا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ اس الہام کو ہم شیطان کا الہام دست بردار ہو جائیں اور جو ذلت ہے اس سے پہلے مخالفین سے اسلام اور مسلمانوں کی اور ہنسی نہ کرائیں رکھتے۔ تو اپنا جھوٹا ہونا مانتے۔ وہ برابر اسی خیال میں منحوس و نامبارک لڑکا (بظاہر بشیر نام) قادیانی کے گھر چڑھ گیا۔ اور اس نے بڑا شور و غل مچایا۔ پنجاب اور ہند بلا کر یہ جتایا کہ وہ الہامی موعود لڑکا ہے عقیقہ کیا جس اعتراض کیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ فرشتے آسمان پیروی نہ کریں اور اس لڑکے کی پیدائش کے متعلق یہ پریس لاہور وغیرہ میں طبع ہوا۔
٢؎ اشاعۃ السنہ نمبر ٨ جلد ١٥ صفحہ ١٧٦ ا
ہند میرٹھ مطبوعہ ١٦ ستمبر ١٨٨٦ء ہمارے ایک عنایت اور ٨ اپریل ١٨٨٦ء از جانب مرزا غلام احمد صاحب پیشگوئی اور نیز ان کے وقوعہ کا ثبوت مدلل اور مفصل اشتہارات مندرجہ بالا یاد کر کے ٧؍اگست ١٨٨٧ء کے وقت یہ اشتہار صداقت آثار ہمارے ساتھ ہی رکھا تھا یہ پیشگوئی کس قدر عالی شان اور واضح اور کھلی کھلی ہے ہے غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔ بالضرور اس من السماء ونزل من السماء جو نزول یا قریب نزول حمل میں جو اس کے قریب سے پیدا ہوگا۔ یہ دونوں ١٩
اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں اس حمل کا لفظ کہاں لکھا تھا کہ اس حمل سے لڑکا ہو گا میرے اشتہار ٨؍ اپریل میں اس حمل کا لفظ کہاں ہے اور اس کے ساتھ آریوں کو لعنتیں اور گالیاں سنا کر اپنے احمق اتباع کی نظروں میں اپنا سچا ہونا ثابت کر دیا۔ اس نے یا اس کے اتباع سے کسی نے یہ خیال نہ کیا کہ اس اشتہار میں اس حمل کا لفظ نہیں تو کیا ہوا اس میں یہ لفظ ”جو لڑکا پیدا اب ہو گا آنے والا یہی ہے“ تو صریح اور صاف موجود ہے۔ اور ہیں بھی یہ الفاظ الہامی نہ فہم اور رائے پر مبنی پھر ہمارا وہ الہام ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء جس کے الفاظ مذکور سے لڑکا پیدا ہونے کا یقین ہوتا تھا۔ جھوٹا نہیں تو اور کیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ اس الہام کو ہم شیطان کا احتلام جان لیں۔ اور آئندہ اس دعوے سے دست بردار ہو جائیں اور جو ذلت ہے اس سے پہلے واقعہ ہو چکی ہے۔ اسی پر اکتفا کریں۔ آئندہ مخالفین سے اسلام اور مسلمانوں کی اور ہنسی نہ کرائیں مگر وہ حضرت حیا اور سچ سے کچھ تعلق...... رکھتے۔ تو اپنا جھوٹا ہونا مانتے۔ وہ برابر اسی خیال میں رہے۔ یہاں تک کہ ٧؍ اگست ٨٧ء کو ایک منحوس و نامبارک لڑکا (بظاہر بشیر نام) قادیانی کے گھر میں پیدا ہوا پھر تو کیا تھا۔ قادیانی آسمان کو چڑھ گیا۔ اور اس نے بڑا شور و غل مچایا۔ پنجاب اور ہندوستان کے دوستوں کو اس لڑکے کے عقیقہ پر بلا کر یہ جتایا کہ وہ الہامی موعود لڑکا ہے عقیقہ کیا جس میں دف اور ڈھول بجائے گئے پھر کسی نے اعتراض کیا۔ تو اس نے جواب دیا کہ فرشتے آسمان پر باجے بجا رہے ہیں پھر ہم کیوں ان کی پیروی نہ کریں اور اس لڑکے کی پیدائش کے متعلق یہ اشتہار جاری کیا جو مطبع چشمہ فیض بٹالہ وکٹوریہ پریس لاہور وغیرہ میں طبع ہوا۔
٢ اشاعۃ السنۃ نمبر ٨ جلد ١٥ صفحہ ١٧٦ تا ١٧٩ مراسلہ ایک محقق متکلم از پونہ مندرجہ شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ ١٦؍ ستمبر ١٨٨٦ء ہمارے ایک عنایت فرما نے تین اشتہار ٢٠؍ فروری و ٢٢؍ مارچ ٨٦ اور ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء از جانب مرزا غلام احمد صاحب ہمارے پاس بھیجے ہیں۔ ان میں ایک پیشگوئی اور نیز ان کے وقوعہ کا ثبوت مدلل اور معقول طور پر درج ہے..................مضمون اشتہارات مندرجہ بالا یاد کر کے ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کو مرزا صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا اس وقت یہ اشتہار صداقت آثار ہمارے سامنے ہی رکھا ہے جس کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی کس قدر عالی شان اور واضح اور کھلی کھلی ہے اشتہار میں موصوف کے دو فقرہ ہیں۔ پہلا فقرہ ہے غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔ بالضرور اس کے قریب حمل میں دوسرا فقرہ الہامیہ نازل من السماء ونزل من السماء جو نزول یا قریب نزول پر دلالت کرتا ہے پہلے یہ ظاہر کرتا ہے کہ لڑکا اس حمل میں جو اس کے قریب ہے پیدا ہو گا۔ یہ دونوں فقرہ بہ آواز بلند شہادت دے رہے ہیں۔ کہ ١١٩
لڑکا جس کی نسبت اشتہار مذکور میں پیشگوئی کی گئی ہے۔ بالضرور دوسرے حمل تک جو قریب ہے پیدا ہو رہے گا۔ اب اس پیشگوئی میں جس قدر صفائی پائی جاتی ہے۔ اس کے بیان کی حاجت نہیں یہ بات عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ کسی امر فوق الاعتبار کے ظہور کے لیے پیش از وقوع کوئی خاص اور حد معین قرار دینا اور تمام تر قطع و یقین کو اس حد متعین اور وقت مقررہ پر حصر کر دینا اور پھر اس کا ٹھیک ٹھیک اس وقت در حد معین میں ظہور پذیر ہو جانا۔ کاروبار انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے خاص کر تولد پسر کے بارے میں کوئی انسان دعوے کر کے اس قدر دم بھی نہیں مار سکتا۔ کہ میری عمر کے کسی حصہ میں کوئی لڑکا میرا ضرور پیدا ہو گا کیونکہ نہ تو عمر کا اعتبار اور نہ لڑکا پیدا کرنے پر کوئی اپنا اختیار اور پھر اس لڑکے کے جیتے رہنے کے یقینی آثار چہ جائیکہ بغیر کسی ظاہری قرینہ اور علامت کے لڑکا پیدا ہونے کے لیے بہت ہی قریب حد بتائی جائے اور پھوکڑ مارنا مخلوق کے مقابلہ پر میدان میں کھڑے ہو کر دعویٰ کیا جائے کہ تولد پسر اس حد معین سے تجاوز نہیں کرے گا اور لڑکا صاحب عمر ہوگا۔ یہ لفظ ناظرین توجہ سے پڑھیں اس لفظ کی نسبت یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ انسانی دعوے نہیں الہامی ہے۔ پھر قادیانی کے اس قول کو کہ اس لڑکے کو عمر پانے والا نہیں کہا گیا۔ جس کو وہ اشتہار مطبوعہ یکم دسمبر ١٨٨٨ء کے صفحہ ٢٧ میں کہہ چکا ہے۔ ملاحظہ فرما کر انصاف دیں۔ یہ شخص کذاب دروغ گو نہیں ہے۔
بداہت ظاہر ہے کہ ایسا دعویٰ کوئی انسان نہیں کر سکتا اور نہ کسی ابن آدم کو ایسی جرات ہے ۔ کہ اس قسم کا دعوے زبان پر لاوے بالخصوص جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص تو بدعویٰ مامور و ملہم من اللہ ہونے کی اس پیشگوئی کو ایک جہان کے سامنے اپنی عزت یا ذلت کا معیار بنایا اور لاکھوں مخالفوں کے سامنے یقینی اور قطعی طور پر دعوے کیا کہ دوسرے حمل تک جو بہت ہی قریب ہے۔ بالضرور لڑکا پیدا ہوگا۔ پھر خدائے تعالیٰ نے اس دعوے کو سچا کر کے دکھلایا اور منکروں کو نادم و رسوا کیا تو اور بھی زیادہ بزرگی اس پیشگوئی کے اور سچائی اس شخص کی ہم پر کھلتی ہے۔ کیونکہ خدائے عادل و انصاف پسند کی طرف سے ایک دروغ کی ایسی کھلی کھلی تائید ہونا غیر ممکن اور خلاف کاملہ قدرت حضرت باری ہے اور ایک اور نشانی یاد رکھنے کے قابل ہے۔ کہ مرزا صاحب نے اپنے اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں مولود موعود کے لیے ایک یہ علامت لکھی تھی۔ کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ سو یہ علامت بھی پوری ہوئی کیونکہ اس فرزند مبارک سے پہلے مرزا صاحب کی اولاد صرف تین ہیں۔ دو پسر اور ایک دختر بجز ان کے اور کوئی ایسی اولاد بھی نہیں کہ کسی وقت پیدا ہو کر فوت ہوگئی ہو۔ سو یہ لڑکا ہم رتبہ چہارم ہونے کی وجہ سے تین کو چار کرنے والا ہے۔ الراقم ایک محقق از پونہ! ١٢٠
اس مضمون کی عبارت کو ناظرین غور سے پہچان جائیں گے کہ یہ قادیانی کا اپنا لکھا ہوا مضمون طرف منسوب کیا ہے۔ یہ مضمون اول سے آخر تک بتا لڑکا سمجھا ہے جس کا اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں د کے مصداق قادیانی کے دستخطی خطوط اس میں خاکسار ( احسن امروہی کے پاس ہیں۔ اور نقل ان کے دستخطی ا پاس (یعنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) موجود ہے کو چار کرنے والا یہی لڑکا ہے اور وہی مصداق عربی ف نتیجہ الہام ٢٠ فروری ١٨٨٦ء سمجھا گیا مگر خدا نے اس تو ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو اس منحوس و نامبارک و باعث ضلا بڑا شور و غل مچ گیا اور اس پر بھی شیر بہادر قادیانی جھو چوبیس صفحہ کا سبز اوراق کا رسالہ (جس کی سبزی قادیان مضمون کا چھاپ دیا کہ میں نے کب کہا تھا کہ یہ لڑکا ف تھا۔ اور یہ عمر پانے والا ہے اور کہا میں نے اشتہار ٢ ہے۔ جس کا ذکر ١٨ اپریل کے اشتہار میں ذکر ہے اور لڑکے کا ذکر ١٨ اپریل کے اشتہار میں تھا۔ وہ کون سا لڑ اپنے علم سے اپنے دوبارہ انکشاف کا خیال تھا۔ اور ک ہوگا۔ کہ وہی ٢٠ فروری کے اشتہار والا لڑکا تھا۔ اسی ب میں اس لڑکے کا مژدہ سنایا گیا۔ اور یہ تو ہو نہیں سکتا ک ٢٠ فروری کے الہامی لڑکے کی مدت ہے اور جواب ٢ کہ اس جواب کو گول مول بنانے کے لیے جو میں ن یا ہم دوسرے کی راہ تکیں اس کا دوسرا حصہ اس جواب ک کرتا ہے کہ یہ لڑکا وہی موعود لڑکا ہے۔ لہذا یہ الہام پ کرنے والا نہیں ہے کہ یہ لڑکا وہ نہیں اور ہے۔
قطع نظر ...... اس سے ہم خود محقق متکلم پونہ بلکہ اخبار شح میں بیان کر چکے ہیں کہ تین کو چار کرنے والا یہی ل ١٢١
اس مضمون کی عبارت کو ناظرین غور سے پڑھیں گے تو اس کے الفاظ اور طرز تحریر سے پہچان جائیں گے کہ یہ قادیانی کا اپنا لکھا ہوا مضمون ہے جس کو اس کے برخلاف واقعہ دوسرے کی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ مضمون اول سے آخر تک بتا رہا ہے کہ راقم مضمون نے اس لڑکے کو وہی لڑکا سمجھا ہے جس کا اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں ذکر ہے اس مضمون کے پہلے اور پچھلے فقرات کے مصداق قادیانی کے دستخطی خطوط اس میں خاکسار (مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) جو اصل منشی احسن امروہی کے پاس ہیں۔ اور نقل ان کے دستخطی اور مولوی محمد بشیر صاحب کے مصدقہ میرے پاس (یعنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) موجود ہے ان میں سے قادیانی نے ظاہر کیا ہے کہ تین کو چار کرنے والا یہی لڑکا ہے اور وہی مصداق عربی فقرات الہام ہے۔ وہ لڑکا جب تک زندہ رہا نتیجہ الہام ٢٠ فروری ١٨٨٦ء سمجھا گیا مگر خدا نے اس ظالم و مفتری و کذاب کو دوبارہ ذلیل کرنا چاہا تو ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو اس منحوس و نامبارک و باعث ضلالت لڑکے کو دنیا سے اٹھا لیا۔ جس پر دنیا میں بڑا شور و غل مچ گیا اور اس پر بھی شیر بہادر قادیانی جھوٹا ہونے میں نہ آیا۔ یکم دسمبر کو اس نے ایک چوبیس صفحہ کا سبز اوراق کا رسالہ (جس کی سبزی قادیانی کی اندرونی سیاہی کی ایک نشانی ہے۔) اس مضمون کا چھاپ دیا کہ میں نے کب کہا تھا کہ یہ لڑکا وہی ہے جس کا ٢٠ فروری کے اشتہار میں ذکر تھا۔ اور یہ عمر پانے والا ہے اور کہا میں نے اشتہار ٧ اگست ٨٧ میں صرف یہ لکھا تھا یہ کہ وہ لڑکا ہے۔ جس کا ذکر ١٨ اپریل کے اشتہار میں ہے اور عقل و حیا کو پیش نظر رکھ کر اتنا نہ سوچا کہ جس لڑکے کا ذکر ١٨ اپریل کے اشتہار میں تھا۔ وہ کون سا لڑکا تھا۔ ١٨ اپریل کو کس لڑکے کی میعاد کی بابت اپنے الہام سے اپنے دوبارہ انکشاف کا خیال تھا۔ اور کس کی بابت جواب ملا آخر اس کا جواب یہی ہوگا۔ کہ وہی ٢٠ فروری کے اشتہار والا لڑکا تھا۔ اسی کی مدت تولد سے سوال تھا اور اسی کے جواب میں اس لڑکے کا مژدہ سنایا گیا۔ اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بمصداق سوال از آسمان جواب از ریسمان سوال تو ٢٠ فروری کے الہامی لڑکے کی مدت سے تھا اور جواب میں کسی اور کی مدت بتائی گئی ہو۔ اور نہ یہ سوچا کہ اس جواب کو گول مول بنانے کے لیے جو میں نے دوسرا الہام گھڑ لیا تھا۔ کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں اس کا دوسرا حصہ اس جواب کو گول بناتا ہے مگر اس کا پہلا حصہ صاف اشارہ کرتا ہے کہ یہ لڑکا وہی موعود لڑکا ہے۔ لہذا یہ الہام بھی ہمارے حق میں مفید اور اس امر کا متعین کرنے والا نہیں ہے کہ یہ لڑکا وہ نہیں اور ہے۔
قطع نظر اس سے ہم خود بصیغہ متکلم چونکہ اخبار شحنہ ہند میں اور پرائیویٹ خطوں میں اور مجلسوں میں بیان کر چکے ہیں کہ تین کو چار کرنے والا یہی ہے اور یہی لڑکا موعود معلوم ہوتا ہے اب ہم کچھ
١٢١
محمدی بیگم
عقل اور حیا سے کام لیں اور نہیں تو اتنا ہی کہہ دیں کہ ہم نے جو اس لڑکے کو موعود سمجھا تھا۔ یہ فہم اور اجتہاد تھا۔ اس میں ہم سے خطاء ہوئی ہے مگر یہ امر قادیانی اور اس کے اتباع سے کیونکر ہو سکتا ہے اپنے جھوٹ اور گناہ کا اقبال کرنا اور حق کو قبول کرنا تو موت سے زیادہ ان پر سخت و ناگوار ہے لہٰذا انہوں نے الٹا اسی سے معترضین کو الزام کیا اور چوبیس صفحہ رسالہ مذکور کو اپنے بیان کی تائید میں اپنے نامہ اعمال کی طرح سیاہ کیا ہم نے کب اور کہاں کہا تھا کہ یہ لڑکا ٢٠ فروری کا اشتہاری لڑکا ہے اور یہ نام پانے والا ہے۔ الغرض اس لڑکے کے مرجانے سے خدا تعالیٰ نے اس کو جھوٹا کیا کہ تمام دنیا نے مفتری ہی کہا مگر وہ جھوٹا ہونے میں نہیں آئے۔
(چنانچہ منحوس متوفی لڑکے کی نسبت اس نے سبز اوراق رسالہ مطبوعہ یکم دسمبر کے صفحہ ٧ و صفحہ ٢١ میں لکھ دیا ہے کہ: ”ہاں خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں ہم پر یہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہو گیا۔ ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی ہے۔ اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور اس کا نام باران رحمت اور مبشر و بشیر اور یداللہ بجلال و جمال وغیرہ اسماء بھی ہیں سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس کی صفات ظاہر کیں۔ یہ سب اس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں جن کے لیے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔“
(سبز اشتہار ص ٧، ٨، خزائن ج ٢ ص ٤٥٣، ٤٥٤)
اس تاویل کے علاوہ اس سبز رسالہ کے صفحہ ١٧ و ٢١ وغیرہ میں اس منحوس لڑکے کو الہامی بنانے کے لیے ایسی تاویلیں کی ہیں جن کو سن کر ناظرین یقین کریں گے کہ قادیانی روز روشن کی طرح جھوٹا ہو کر بھی کبھی جھوٹا ہونے کا اقراری نہ ہوگا۔ اس میں وہ کہتا ہے کہ پیشگوئی ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں اس لڑکے کی نسبت لفظ مہمان اور پاک کہہ کر یہ بتلایا گیا تھا۔ کہ وہ لڑکا لڑکپن میں فوت ہو جائے گا۔ لہٰذا اس کے فوت ہونے سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ کہ جھوٹی اور وہ لڑکا روحانی طور پر موجب نزول رحمت ہوا۔ اس تاویل پر جو بنظر ظاہری الفاظ پیشگوئی ٢٠ فروری ٨٦ پر اعتراض وارد ہوتا ہے اس لڑکے کو پیشگوئی مذکور میں صاحب شوکت و دولت و برکت وغیرہ کہا گیا ہے۔ اور پھر اس کا لفظ مہمان اور پاک کہہ کر فوت ہو جانا جتانا کیونکر ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب اس نے یہ دیا ہے کہ اس پیشگوئی کے دو خطوں میں دولڑکوں کی خبر دی گئی ہے۔ پہلے حصہ میں جس میں الفاظ مہمان و پاک وغیرہ میں فوت ہونے والے لڑکے کی خبر ہے دوسرے حصہ میں جو لفظ مبارک سے شروع ہوتا ہے دوسرے لڑکے کی بشارت ہے۔ جو صفات مذکورہ سے موصوف ہوگا اور کہا کہ یہ امر (تفصیل اور تقسیم
١٢٢
مذکور) الہام کے ذریعہ سے مکمل کیا ہے۔ ناظرین تفصیل کی بات قادیانی ملہم کو تب الہام ہوا۔ جس کذب ظاہر ہو کر قادیانی کی ذلت و خواری اور رسو ہے کہ وہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں جو راہ ایک مجمل اور غیر بین بات کہہ کر اور اس الہام کے نہیں کیا کرتا۔ بلکہ وہ الہام شیطان کا احتلام ہے میں پھنساتا ہے پھر ان کو ذلیل کر کے ان سے گنا کراتا ہے۔ جیسا اس فعل کی قران کی اس آیت میں الانسان اکفر فلما کفر قال انی بری من اور ناپاک ملہم قادیانی کو ذلیل کر رہا ہے۔ ١٨٨٦ یقین دلا کر اور مدعی بنا کر اس کو ذلیل کیا پھر ٨٨ سے اس کو ذلیل کرایا مگر چونکہ قادیانی کی عقل مار ہے۔ لہٰذا وہ اس بات کو نہیں سمجھتا اور چونکہ یہ شیط ہے اس سبز رسالہ اور دیگر اشتہارات متعلقہ پیشگ اظہار کے لیے نہ وقت ہے نہ اس رسالہ میں گنجائش
باب ٢٣
ایک مرزا
کہیں ظاہر
کہیں عابد
کہیں رندوں
ایک چھوٹا سا باغ ہے۔ چار پان ہے۔ کچھ آم و جامن و انار وغیرہ کے درخت ہ میں کھڑے ہیں اور کچھ اراضی مزروعہ ہے۔ ہے۔ مغربی دیوار احاطہ سے ملی ہوئی ایک وسیع
مذکور) الہام کے ذریعہ سے کھل گیا ہے۔ ناظرین غور کرو اور انصاف کو کام میں لاؤ کہ ١٨٨٦ء کی تفصیل کی بات قادیانی ملہم کو تب الہام ہوا۔ جب ١٨٨٨ء میں وہ لڑکا فوت ہوگیا اور اس الہام کا کذب ظاہر ہو کر قادیانی کی ذلت وخواری اور رسوائی کا موجب ظاہر ہوا۔ جس سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ وہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں جو راستبازوں کا ملہم ہے وہ اپنے راستباز بندوں کو پہلے ایک مجمل اور غیر مبین بات کہہ کر اور اس الہام کے سبب ان کی تذلیل اور تکذیب کرا کر اس کی تفصیل نہیں کیا کرتا۔ بلکہ وہ الہام شیطان کا احتلام ہے۔ اور اسی کا یہ کام ہے۔ کہ پہلے اپنے اتباع کو دھوکہ میں پھنساتا ہے پھر ان کو ذلیل کر کے ان سے کنارہ کر جاتا ہے۔ اور دشمنوں سے ان کی بے آبروئی کراتا ہے۔ جیسا اس فعل کی قرآن کی اس آیت میں حکایت ہے كمثل الشيطان اذ قال للانسان اكفر فلما كفر قال انى برى منك انى اخاف الله رب العالمين وہ ہی خبیث اور ناپاک ملہم قادیانی کو ذلیل کر رہا ہے۔ ١٨٨٦ء میں ایک بات کہہ کر اور اس کے ظاہری مضمون کا یقین دلا کر اور مدعی بنا کر اس کو ذلیل کیا پھر ١٨٨٨ء میں اس کے دوسرے معنی بتا کر دوبارہ دشمنوں سے اس کو ذلیل کرایا مگر چونکہ قادیانی کی عقل ماری گئی ہے۔ حیا اور شرم اس سے بالکل مسلوب ہوگئی ہے۔ لہٰذا وہ اس بات کو نہیں سمجھتا اور چونکہ یہ شیطان اس کو سکھلاتا ہے۔ وہ فوراً اس کا اشتہار کر دیتا ہے اس سبز رسالہ اور دیگر اشتہارات متعلقہ پیشگوئی مذکور میں اور عجائبات ہیں مگر اس کے بیان و اظہار کے لیے نہ وقت ہے نہ اس رسالہ میں گنجائش باز زندہ و صحبت باقی۔
باب ٢٣ بیست وسوم
ایک مرزائی کی کہانی
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا
کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا
ایک چھوٹا سا باغ ہے۔ چار پانچ فٹ اونچے احاطہ کی دیوار چاروں طرف کھنچی ہوئی ہے۔ کچھ آم و جامن وانار وغیرہ کے درخت اپنے اپنے موقع پر قرینہ اور خوبصورتی کے ساتھ اس میں کھڑے ہیں اور کچھ اراضی مزروعہ ہے۔ جس میں آلو اور گوبی وغیرہ کے ساتھ سبزی لہلہا رہی ہے۔ مغربی دیوار احاطہ سے ملی ہوئی ایک وسیع اور خوشنما مسجد بنی ہوئی ہے۔ مسجد کے صحن چبوترہ کے
١٢٣
نیچے خوش رنگ اور نازک اور طرح طرح کے موسمی پھولوں کے گملے رکھے ہیں۔ سامنے کی روش کے دونوں طرف لیموں اور نارنگی اور سنگترہ کے پیڑوں کی پھاٹک تک لین ہے۔ احاطہ کے ایک گوشہ میں پھاٹک کے برابر ایک مختصر سا مکان بعمارت پختہ و خام اپنی حیثیت کے موافق خوبصورت بنا ہوا ہے جس کا ایک دروازہ احاطہ کے اندر باغ میں ہے اور دوسرا مشرقی سڑک کی طرف ہے جو بزبان حال کہہ رہا ہے کہ یہ مکان اور باغ مسجد کے متعلق ہے اور اس میں کوئی مسجد کا متولی یا امام رہتا ہے۔ پردہ اور احاطہ مکان بتا رہا ہے کہ یہ زنانخانہ ہے اور اس میں پردہ نشین عورتیں رہتی ہیں۔
لیکن دروازہ شرقی روبہ کی حالت سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ کسی شوقین زندہ دل کی نشست کا مکان ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ کہ جس کے آگے دروازہ سے لے کر سڑک کی نالی تک ایک پر تکلف چبوترہ بنا ہوا ہے۔ دروازہ پر ایک خوبصورت چک لٹک رہی ہے۔ کمرہ میں دری کا فرش بچھا ہوا ہے۔ الماری میں کتابیں چنی ہوئی ہیں۔ ایک دروازہ اس کا زنانخانہ کی طرف ہے۔
ایک جوان وجیہ و شکیل سرخ و سفید رنگ بڑی بڑی آنکھیں۔ اونچی پتلی ستوان ناک گول چہرہ مٹھی داڑھی ماتھے پر سجدہ کا گھٹا پڑا ہوا ٢٥ یا ٣٠ سال کا سن و سال سیاہ داڑھی میں کوئی کوئی لال چمکتا ہوا مہندی کا رنگا بال کشیدہ قامت ترکی ٹوپی پھندے دار زیب سر کشادہ سفید لٹھا کی پتلون کھدر کا کوٹ در بر جنٹل مینوں کی شکل بنائے تکیہ سے کمر لگائے آنکھ بند کیے دونوں ہاتھ سر پر انگلیوں میں انگلیاں دیے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھے بحر فکر میں غرق بیٹھے ہیں۔
زنان خانہ کی طرف کا دروازہ کھلا اور چھاگلوں کی جھنکار سے آنکھیں کھول سیدھے ہو بیٹھے ایک لڑکی جوان خوبصورت زہرہ جبین مہ لقا گورا رنگ بیضاوی چہرہ ہرن کی سی آنکھیں۔ کالے کالے مگر لمبے کمر تک لٹکے ہوئے بال طوطی کی سی نوک دار اور موڑواں ناک جس میں ایک سونے کی ہنسلی پڑی ہوئی۔ بدن میں درلیس کا کڑتہ زرد رنگ کا نہایت قیمتی لاچہ (تہہ بند) باندھے سر پر سفید مگر میلا دوپٹہ اوڑھے۔ گدرایا ہوا بدن اٹھتی جوانی غضب کا جوبن شباب کا عالم الھڑ پنے کے دن بقول میر حسن ......
جوانی کی راتیں مرادوں کے دن
سرو قد کمر کو لچکا چھم چھم کرتے گانٹھ گانٹھ میں شوخی بند بند میں شرارت کوٹ کوٹ کر بھری تھی میلے کچیلے کپڑے مگر بدن میں سجے ہوئے شرارت کے لہجہ میں مولوی جی سلام۔
مولوی..... دروازہ کی طرف دیکھ کر آج تو بلا کا جوبن ہے۔ غضب کا ٹھاٹھ ہے خدا کی قسم کیا مار ہی ڈالا۔
١٤٢
اگر جی کا رنگ لایا
لڑکی..... مٹک کر اور ذرا منہ بنا کر اوں نہ مولوی..... نہیں میں سچ کہتا ہوں۔ جھو کی خواہاں اور جان کی دشمن ہے۔ لڑکی..... جوتی پیر سے نکال کر اپنا منہ تو مولوی جی..... کیا ہم تجھ سے کم ہیں۔ ک لڑکی ہاتھ چھڑا کر چلو ہٹو دو ٹھنڈی پکڑ کر ہاتھ کو کس زور سے پونچا مولوی..... کھسیانے ہو کر تجھ کو کہا کہ تو لڑکی..... چلو دل تو خوش کر لو کچھ ہو یا نہ مولوی جی..... ہائیں یہ کیا ہنسی ہنسی میں
سامان سوز
لڑکی..... تم نے تو مجھ کو کھو دیا دھوبی کا کے قابل نہیں رہی۔ مولوی..... (حیران ہو کر گھبراہٹ سے لڑکی..... شرما کر نیچے گردن کر کے رو مولوی..... ہاتھ کھینچ کر اور گود میں ۔ آنسو پونچھ کر آخر کیا بات کہی ہے بول معاملہ کیا ہے کسی نے کچھ کہا تو بتا اس مگر کوئی لفظ منہ سے نہ نکل سکا۔ بڑی مولوی جی..... منہ پر ہاتھ رکھ کر خام رسوا ہی کرے گی۔ دیکھ خبر دار ہوش ڈال لے جلد پی جا۔ لڑکی..... نے عرق اور شربت پیا کم
رنگ لایا ہے دوپٹہ تیرا میلا ہو کر
لڑکی...... مٹک کر اور ذرا منہ بنا کر اونہہ تم تو یوں ہی چھیڑا کرتے ہو۔ شرم نہیں آتی ۔
مولوی ...... نہیں میں سچ کہتا ہوں۔ جھوٹ نہیں کہتا آج تجھ پر غضب کا جوبن ہے۔ ہر ایک ادا دل کی خواہاں اور جان کی دشمن ہے۔
لڑکی ...... جوتی پیر سے نکال کر اپنا منہ تو دیکھ مینڈک کو بھی تو زکام ہوا۔
مولوی جی...... کیا ہم تجھ سے کم ہیں۔ کس بات میں آ آئینہ میں مقابلہ کریں۔ ہاتھ کو پکڑ کر۔
لڑکی ہاتھ چھڑا کر چلو ہٹو دادی نہ آجائے۔ لگے آگ ایسی گرمی کو ہوئیں سب چوڑیاں ٹھنڈی پکڑ کر ہاتھ کو کس زور سے پونچھ مروڑا ہے میں دادی سے جا کر کہتی ہوں۔
مولوی ...... کھسیانے ہو کر تجھ کو کہا کہ تو دادی نہ کہا کر وہ تو تیری سوکن ہے۔
لڑکی ...... چلو دل تو خوش کر لو کچھ ہو یا نہ ہو اور یہ کہ خود بخود رونے لگی۔
مولوی جی...... ہائیں یہ کیا ہنسی ہنسی میں رونا کیا معنے ۔
سامان سوز کا ہمیں حاصل نہ ساز کا
لڑکی...... تم نے تو مجھ کو کھو دیا دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اب میں کیا کروں گی کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔
مولوی...... (حیران ہو کر گھبراہٹ کے لہجہ میں ) کیوں کیا کیا بتا تو سہی۔
لڑکی...... شرما کر نیچے گردن کر کے رونے لگی ہچکی طاری ہوئی۔
مولوی...... ہاتھ کھینچ کر اور گود میں لے کر بتا تو سہی روتی کیوں ہے منہ کو چوم کر کوئی بات تو کہہ، آنسو پونچھ کر آخر کیا بات کیا ہے بول نا۔ چھاتی سے لگا کر گونگی ہو گئی کچھ منہ سے بول معلوم تو ہو معاملہ کیا ہے کسی نے کچھ کہا تو بتا اس کی زبان کاٹ ڈالوں۔ لڑکی ہچکیاں لیتے ہوئے۔ تیں تیں کیا کہا کوئی لفظ منہ سے نہ نکل سکا۔ ہچکی بندھ گئی اور آواز گریہ بلند ہوئی۔
مولوی جی...... منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش دیوار ہم گوش دارد۔ زور سے دبا کر اری کم بخت کیا آج رسوائی کرے گی۔ دیکھ خبردار ہوش میں آ اور جھٹ طاق میں سے گلاس اور بوتل اٹھا کر گلاس میں ڈال لے جلد پی جا۔
لڑکی...... نے عرق اور شربت پیا گریہ کو ضبط کر کے مولوی صاحب کے روبروے دوزانو بیٹھ کر
١٢٥
جزدان سے کتاب نکالی کچھ ورق گردانی کر کے کتاب کو رکھ دیا کچھ دیر سناٹا رہا۔
مولوی...... ہاں اب بیان کر کیا بات ہے۔ اور رونے کا کیا سبب تھا۔
لڑکی...... ذرا سی آواز سے میرے۔
مولوی جی...... منہ پر انگلی رکھ کر آہستہ بلکہ خاموش دیوار ہم گوش دارد۔
لڑکی...... میرے ماں باپ کو خبر ہو گئی ہے ماں نے کل مجھے گالیاں دیں۔ اب لوگ کیا کہیں گے۔ اور ایک تو عیب اور عیب بھی گھر میں ہے۔ ڈھائی گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے۔
مولوی...... پھر کیا ہوا شرعاً تو ہمارا نکاح ناجائز نہیں اگر ایسا ہی ہو گیا تو تیرے خاوند سے طلاق دلا کر ہم نکاح کر لیں گے یہ کیا بات ہے۔
لڑکی...... میرے ماں باپ کہتے تھے کہ ہم تجھ کو تیری سسرال میں بھیج دیں گے۔
مولوی...... پھر کیا ہوا وہاں سے تجھ کو ہم لے آویں گے۔ اور ایسا چھپا کر رکھیں کہ فرشتہ کو بھی خبر نہ ہو۔ یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ایسے اکھاڑوں میں تو ہم خوب کودنا جانتے ہیں۔
نامردی و مردی قدمی فاصلہ دارد
پک آگے پت رہی پک پاچھی پت جائے۔
لڑکی...... یہ تو اوباشوں اور بدمعاشوں کی سی تقریر ہے نہ بڑی رسوائی کی بات ہے لوگ کیا کہیں گے۔
مولوی......
ما نمی خواہم ننگ و نام را
اب تو جو کچھ ہونا تھا۔ وہ ہو چکا اب کوئی ہٹا جاتا ہے قدم عشق پیشتر بہتر۔
لڑکی...... میں تو شرم کے مارے ڈوبی جاتی ہوں کم بخت تو نے قرابت کا نہ رشتہ کا، نہ غیرت کا، نہ عزت کا، کچھ بھی پاس نہ کیا تو دھویا گیا کچھ ایسا کہ بس پاک ہو گیا۔ شرم وحیا سب کو جواب دے بیٹھا ہے۔ مشکل تو میری جان کو ہے۔ نہ دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ برادری میں بیٹھنے کے لائق نہ خاوند کے گھر بسنے جوگی، میں تو دین اور دنیا دونوں سے گئی آئی ہوئی۔
مولوی...... بے وقوف بے تکی ہانکے جاتی ہے۔ اری ظالم اب تو جو کچھ ہونا تھا۔ ہو چکا۔ اب پچھتائے کیا ہوت ہے۔ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت تو نے بھی اس وقت نہ سمجھایا اب کہتی ہے۔
لڑکی...... میں کیا سمجھاتی اور کیا کر سکتی تھی۔ تیری گردن پر اس وقت جن سوار تھا۔ اندھا ہوا ہوا تھا۔
١٢٦
میں تیرے ہاتھ سے کیسے اپنے آپ کو بچا سکتی تھی۔ تجھ سے زور میں، طاقت میں، زیادہ کیا؟ برابر بھی نہیں تھی۔ اگر چلاتی پکارتی۔ تیرا کیا بگڑتا اپنی عزت کھوتی دھوبی بیٹا چاند سا ڈوبا سو چنبل۔
مولوی ...... باتیں بنانے سے کیا فائدہ اب میں تجھ کو چھوڑ سکتا ہوں۔ جان مال عزت سب برباد کر دوں گا مگر تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔
لڑکی ...... اگر میرے خاوند نے اغوا کی نالش کی تو کیا ہوگا۔
مولوی ...... کچھ بھی ہو بس یہی نا قید ہو جائیں گے۔ پھر بعد رہائی کے قید اور رسوائی تو عاشقوں کی معراج ہے۔ کر چکے عشق ہم جو قید و ذلت سے ڈرگئے۔
لڑکی ...... جھلا کے غصہ کے لہجہ میں پھر وہی کہے جاتے ہو۔ نامراد نے مجھے دین و دنیا سے کھودیا اور پھر میری رسوائی اور خرابی کے درپے ہے میں کسی اپنے بیگانہ خویش واقارب کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی۔ زمین ہی نہیں ملتی جو میں سما جاتی ماں باپ کی عزت میں خاک پڑی خاوند کی آبرو کھوئی۔ اپنی قدر و منزلت گئی کسی سے بات کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اور اب بھی کوئی جانتا ہے کوئی نہیں بات دب جائے تو دب ہی جائے۔ مگر اس نے وہ شہدہ پن بکھیر رکھا ہے۔ کہ خدا کی پناہ نہ خدا کا خوف نہ دنیا کی شرم ننگا ہو گیا ہے اتر گئی لوئی تو کیا کرے گا کوئی۔
مولوی ...... تو گھبراتی کیوں ہے ہمت کر خدا پر تکیہ رکھو۔ اگر تجھ کو یہاں شرم آتی ہے۔ اور کسی کا خوف ہے۔ تو بس چلو حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کی خدمت میں چلے چلتے ہیں۔ وہیں رہا کریں۔ کتا دیکھے نہ بھونکے۔ نہ کوئی دیکھے گا نہ کچھ کہے گا۔ قادیان میں بس ایک مکان میں رہا کریں گے۔ وہاں کسی کو کیا خبر ہوگی۔ سب میاں بیوی ہی جانیں گے۔ چین سے گزرے گی تیرے خاوند کو بھی خبر نہ ہوگی کہ کہاں گئی دروازہ کھڑکا۔
آواز ...... مولوی صاحب۔
مولوی صاحب ...... کون، مرزا مناظر میں آتا ہوں۔
مولوی صاحب ...... شرقی دروازہ سے نکل کر باہر گئے۔ لڑکی زنان خانہ کے دروازہ میں سے نکل گئی۔
مولوی صاحب ...... مرزا مناظر کا ہاتھ پکڑ پھاٹک میں سے ہو باغ میں گلگشت کرنے لگے۔
مرزا مناظر ...... کیا باتیں ہورہی تھیں۔ میں تو بہت دیر سے کھڑا سن رہا تھا۔ کیا قرار پایا مولوی صاحب شکار تو اچھا ہے مگر شان کے خلاف اور بسا بعید ہے۔ اگر لوگوں پر یہ راز افشا ہوا تو بڑی رسوائی اور بدنامی ہوگی اول تو یہ کام ہی برا ہے۔ پھر ایسی قرابت قریبہ آپ امام مسجد ہیں۔
مولوی ...... کیا کروں یار دل سے لاچار ہوں۔ یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ اس کا انجام بخیر نہیں۔
١٢٧
مرزا مناظر ...... آپ کے دل کی عجب کیفیت ہے۔ بلبل کی طرح کسی گل پر قرار ہی نہیں ایک پر نہ دو پر نہ چار پر بس ہے۔ دل نہ ہوا بھٹیار خانہ ہو گیا۔
مولوی صاحب ......
سو دل خدا جو دیوے تو سو جا لگائے
باتیں کرتے کرتے ایک کچنار کے درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے۔
مرزا مناظر ...... اب یہاں کیسے کھڑے ہیں کیا اب بختاوری کا انتظار ہے۔
مولوی صاحب ...... کیا کہوں اس کمبخت بختاوری کے خیال میں تو تمام تمام رات نیند نہیں آتی کبھی باغ میں ہی ملنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ نہ اس کے مکان پر جانے کی کوئی صورت نکلتی ہے اور نہ اپنے گھر پر بلانے کا موقع ایسی میلی جگہ دل کا پھنسنا بقول عبث بدنامیوں کا ٹوکرا سر پر اٹھانا ہے۔ لگانا دل کا بس جھک مارنا اور گو کا کھانا ہے۔
مرزا مناظر ...... کیا خوب کہا ہے مولوی صاحب واہ کیا کہتے ہیں۔ ٹوکرا گوہ جھک مارنا۔
مولوی صاحب ...... یار کیا کہیں مہترانی کے خیال میں ہر دم دل میلا رہتا ہے۔ وہ حرام زادی ہم سے صاف نہیں ہوتی مکدر ہی رہتی ہے۔
مرزا مناظر ...... خوب خوب مولوی صاحب آپ تو ضلع جگت بھی خوب بولتے ہیں۔
مولوی صاحب ...... یہاں بولتے ہیں مرغی کے بچہ کُتیا کے پلہ ذرا چونچ سنبھال کر بولو۔
مرزا مناظر ...... حضرت آج تو آپ بالکل پکڑے گئے اتنے میں ایک چوہڑی نوجوان کم سن خوبصورت نازنین نازک تن چھریرا بدن ٹوکرا بغل میں دبائے سامنے آئی۔
مولوی صاحب ...... بہ آواز بلند سنا کر۔
کہ جوشن بن گیا ہوں اپنے دروازہ کے بازو کا
چوہڑی ...... بھونکے جا بیٹ کھا گیا ہے ابھی تو گرمی نہیں آئی پہلے ہی سے ہڑکا گیا۔ منہ مارتا ہے یہاں بیوقوف اس کے پٹا ڈال دو کوئی مار دے گا۔
مولوی صاحب ...... مہترانی غبار دل میں نہ رکھ مسکرانا تیرا قیامت ہے۔
مرزا مناظر ...... دیکھ بختاوری کیا کہتا ہے۔ اتنی بے رحمی اچھی نہیں۔ بیوقوف چاہنے والا کہاں ملتا ہے۔
١٢٨
چوہڑی ...... تم سب ایک جھاڑو کی تیلیاں ہو ایسے عاشق دیکھے نہ بھال ایسے ہرجائے کا کیا ٹھکانا۔
مولوی صاحب ...... مجروح سمجھ کر نہیں لیتا مرے دل کو ۔ انا
چوہڑی ...... چپ بھی ہو گا یا نہیں دستوں کی طرح چھڑ تا ہی
مولوی صاحب ......
گالیاں دیکے مرا
آج تو کچھ بہت ہی بگڑی ہوئی ہو کیوں اس
چوہڑی ...... میں تو جھاڑو بھی نہیں مارتی اور کچھ بڑبڑاتی ہو
مرزا مناظر ...... مولوی صاحب آپ نے اس حرامزادی کو بہت
مولوی صاحب ......
سجد از تار کرد اس
مرزا مناظر ...... عشق نہ ہو زکام ہو دیوانگی اور چیخیں ۔ پھر نماز کو جانا ہے۔
مولوی صاحب ...... خوب یاد دلایا ہم بھی غسل کر کے ن ہوئی ۔ دوسری اذان سن کر مولوی صاحب ممبر پر تشریف ب چند شعر عربی حمد ونعت میں پڑھ کر وعظ شرو
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو مخاطب کر کے فرمایا۔ اے واسطے بھیجا ہے جس کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے ۔ یہ زمانہ تھا کہ باہم قوموں میں اختلاف مذہبی ایسا تھا۔ کہ ایک نصاریٰ کہتے تھے یہود کے پاس کچھ نہیں ہ نہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش کھایا تو چ اس وقت زمانہ کی حالت کی وجہ سے کسی مصلح اور نبی کی ہمشکل ہے اب قوم میں خدا تعالیٰ کی نسبت واعتقاد و تقو مقتدر اور قدیر اور منعم اور علیم بذات الصدو
١٢٩
چوہڑی..... تم سب ایک جھاڑو کی تیلیاں ہو ایسے عاشقوں کے تو ڈربے بھر لو۔ ہر دیگی چمچہ مکھی دیکھے نہ بال ایسے ہرجائے کا کیا ٹھکانا۔
مولوی صاحب..... مجروح سمجھ کر نہیں لیتا مرے دل کو۔ اب لاؤں کہاں سے دل صد پارہ بدل کر۔
چوہڑی..... چپ بھی ہوگا یا نہیں دستوں کی طرح چھڑتا ہی چلا جاتا ہے۔
مولوی صاحب.....
گالیاں دیکے مرا نام تو لو
آج تو کچھ بہت ہی بگڑی ہوئی ہو کیوں اس خفگی کا کیا سبب ہے۔
چوہڑی...... میں تو جھاڑو بھی نہیں مارتی اور کچھ بڑ بڑاتی ہوئی آگے نکل گئی۔
مرزا مناظر..... مولوی صاحب آپ نے اس حرامزادی کو بہت ہی گستاخ کر لیا ہے اتنا بھی بیباک ہونا۔
مولوی صاحب.....
صید از تار کرد است و کند
مرزا مناظر..... عشق نہ ہوا زکام ہوا ذرا ہوا لگی اور چھینکیں....... اور آج جمعہ ہے نہا کر کپڑے پہنتے ہیں پھر نماز کو جانا ہے۔
مولوی صاحب....... خوب یاد دلایا ہم بھی غسل کر کے تیار ہو جائیں اس عرصہ میں جمعہ کی اذان ہوگئی۔ دوسری اذان سن کر مولوی صاحب ممبر پر تشریف لے گئے۔
چند شعر عربی حمد ونعت میں پڑھ کر وعظ شروع فرمایا لتنذر قوما ما انذر اباءھم فھم غافلون اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کو مخاطب کر کے فرمایا۔ اے محمدؐ ہم نے تم کو اس قوم کے اٹھانے کے واسطے بھیجا ہے جس کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے۔ پس وہ غافل ہیں۔ آنحضرت کی بعثت کا وہ زمانہ تھا کہ باہم قوموں میں اختلاف مذہبی ایسا تھا۔ کہ ایک دوسرے کو کافر کہتا تھا۔ نصاریٰ کہتے تھے یہود کے پاس کچھ نہیں۔ اور یہود کہتے تھے نصاریٰ کے پاس کچھ نہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش کھایا تو ہمارے رسول مقبول کو مبعوث فرمایا۔ کیونکہ اس وقت زمانہ کی حالت کی وجہ سے کسی مصلح اور نبی کی اشد ضرورت تھی۔ یہ زمانہ اسی زمانہ کے ہمشکل ہے اب قوم میں خدا تعالیٰ کی نسبت واعتقاد وتقویٰ اور خشیت پیدا کرنے کوئی نہیں رہا۔ مقتدر اور قدیر اور منعم اور علیم بذات الصدور ہرگز مانا نہیں جاتا ورنہ اس قدر جسارت
١٢٩
اور جرأت گناہ پر کیوں ہو اور دنیا میں جب کبھی گناہ اور شیطان کا تسلط ہوا ہے۔ اور فسق و فجور نے دلوں اور سینوں کو سیاہ اور تباہ کیا ہے اس کا اصلی سبب یہی ہوا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی نسبت حقیقی اعتقاد دلوں سے جاتا رہا جس طرح وہ قرآن جو رسول کریم کی بعثت کا مدعی اور مقتضی ہوا۔ اسی طرح یہ زمانہ ہے۔ اپنی کھلی بے حیائی اور بے باکانہ بدکاری کی وجہ سے آج چلا چلا کر مجدد مصلح کو بلاتا ہے۔
جس طرح اس وقت رسول کریم نے خدا دکھا کر مفاسد کی جڑ کاٹی آج بھی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ایسے وجود اور اسباب بہم پہنچائے جائیں اور ایسی تدبیر بروئے کار لائی جائیں۔ جو خدا کو یاد دکھا دیں۔ اور اس کی زندہ اور مقتدر ہستی کا یقین دلا دیں۔
سو اب جیسے ایک مصلح کی ضرورت شدید ہے۔ ویسے ہی وہ مصلح اس پایہ اور قوت کا ہونا چاہیے۔ یعنی ایک طرف وہ دلائل قویہ اور حجج ساطعہ اور معارف یقینیہ سے قلوب کو مطمئن اور سیراب کردے اور اس کے روح قدس سے دھلے ہوئے بیان اور زبان سے دل خود بخود بول اٹھیں کہ خدا ہے اور سچائی کی روح ان میں نفخ ہو جائے اور ناگہان ایک پاک تبدیلی ان میں پیدا ہو جائے اور دوسری طرف قادرانہ پیشگوئیوں پر جو علم غیب اپنے اندر رکھتے ہوں۔ قدرت رکھتا ہو اور یوں غیب الغیب مقتدر ہستی کی خلافت کا واقعی طور پر سزاوار ہو اس وقت وہ رسول کریم کا پورا مظہر ہوگا۔ اور ایسے ہی لوگ خفتہ زمانہ کو اپنے کامل نمونہ سے درست کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ رسول کریم کو بھی ان ہی طاقتوں کے سبب سے پورا امتیاز ہے۔ جہاں آپ نے قرآن کریم جیسے مدلل اور معقول علمی کتاب سے قلوب کو مسخر اور باطل کا معنوی استیصال کیا اس کے ساتھ بلافصل قادرانہ پیشگوئی کی تصدیق میں مخالفوں کو صوری اور مادی ذلت بھی دکھائی کیا ہی سچ کہا گیا ہے۔
در شکستہ کبر ہر متکبرے
یکطرف حیران از شاہان وقت
یکطرف مبہوت ہر دانشورے
غرض اس وقت پھر وہی وقت آگیا ہے کہ اس رنگ و صفت کا مجدد مصلح ہو۔
- .......٢ قوم میں سخت تفرقہ اور تفریق ہے اس وقت تہتر فرقہ نہیں بلکہ جتنے انسان ہیں ہر ایک
بجائے خود ایک فرقہ ہے خود رائے اور ذاتی اجتہاد کا یہ عالم ہے۔ کہ ایک مولوی دوسرے مولوی کے نزدیک راستی سے دور اور خطاء کے قریب ہے۔ دو مولوی ایک ہی شہر اور گاؤں میں اس طرح
١٣٠
٥
کارروائی کر رہے ہیں۔ گویا وہ الگ الگ مذہبوں خدا تعالیٰ کی کتاب اور سنت کی طرف خواہش اور رسم اور عادت کی طرف اور تفسیق کے یوں درپے ہے۔ جیسے وہ کلاب ج قبلہ ہمت بنا لیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی کلام اور سنت ہے۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے فرقے وہابی او گویا شمشیر چھت کے نیچے سے نکل گیا ہے۔ ا کہ دار البوار کو روانہ کر دے۔ اب وقت دہائی دے رہا ہے۔ کہ مقلدوں کے پیشوا اپنے کہہ رہے ہیں۔ اور وہاب کو جمع کرنا چاہا ان کی مثال ٹھیک ٹھیک دی ہوئی
چو دیدم عاقبت
انہوں نے بجائے جمع کے اور پری سب سے بڑا بھاری مفسدہ جو اس صلاح نہیں وہ بھی تفرقہ مذاہب و مشارب ۔ قدسیہ سے اس خانہ برانداز تفرقوں کا ستیا ناس ک
- .......٣ اور جو قوم کے پشیمان ہو سکتے تھے
اور اپنے ہی ہوا و ہوس اور کامرانیوں میں سراپ فجور اور اشتعال بالملاہی کے سبب سے جوانا بیٹھے ہیں۔ خدا کے دین کی اصلاح کی فکر کسی ک غرض فقراء کا یہ حال متوسلین کا ا مصلح کی ضرورت نہیں تو کب ہوگی۔
- .......٤ بڑا اور سب سے عظیم الشان مف
طرف سے لاکھوں روپے ان کے تصرف کے کی فسق فجور اور تن پروری اور خواب و خور می
کارروائی کر رہے ہیں۔ گویا وہ الگ الگ مذہبوں کے حامی اور متبع ہیں۔
خدا تعالیٰ کی کتاب اور سنت کی طرف پیٹھ دے گئے ہیں۔
خواہش اور رسم اور عادت کی طرف بکلی منہ کیا گیا ہے رات دن ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کے یوں درپے ہیں۔ جیسے وہ کلاب جس میں بیماری واقع ہو جائے بالکل دنیا اور جاہ کو اپنا قبلہ ہمت بنالیا ہے۔ خدا تعالیٰ کے کلام اور سنت خیر الانام کے ساتھ بازی کرتے ہیں جیسے بچے کھلونوں سے۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے فرقے وہابی اور مقلد اور شیعہ اور سنی قوم کی جان کو کھا گئے ہیں۔ گویا شہتیر چھت کے نیچے سے نکل گیا ہے۔ اور قریب ہے کہ بڑی بھاری چھت سب کو نیچے دبا کر دارالبوار کو روانہ کردے۔
اب وقت دہائی دے رہا ہے۔ کہ کوئی مرد میدان ایسا ہو۔ جو ان تفرقوں کو مٹائے مقلدوں کے پیشوا الگ کہہ رہے ہیں۔ اور وہابیوں کے الگ اور وہ چند کس جنہوں نے ان اضداد کو جمع کرنا چاہا ان کی مثال ٹھیک ٹھیک وہی ہوئی۔
چو دیدم عاقبت خود گرگ بودی
انہوں نے بجائے جمع کے اور پریشان کیا اور بجائے مسلمان کے بے ایمان کر دیا۔
سب سے بڑا بھاری مفسدہ جو اب ایک ہونے نہیں دیتا اور ایک ہونے کے بغیر فلاح و صلاح نہیں وہ بھی تفرقہ مذاہب و مشارب ہے پس یہ بڑی ضرورت مصلح کی ہے۔ کہ اپنی قوت قدسیہ سے اس خانہ برانداز تفرقوں کا ستیا ناس کرے۔
- ٣...... اور جو قوم کے پیشوا ہو سکتے تھے۔ اور ہونے چاہیے تھے۔ وہ لغو و لعب میں مشغول
اور اپنے ہی ہوا و ہوس اور کامرانیوں میں سراپا مستغرق ہیں اور بڑے بڑے رئیس اور پورے فسق و فجور اور اشتغال بالملاہی کے سبب سے جوانا مرگ ہوئے۔ اور جو باقی ہیں اکثر ان میں پا برکاب بیٹھے ہیں۔ خدا کے دین کی اصلاح کی فکر کسی کو نہیں۔
غرض فقراء کا یہ حال متوسطین کا وہ حال اور امراء اس رنگ کے۔ اب اگر پاک نفس مصلح کی ضرورت نہیں تو کب ہوگی۔
- ٤...... بڑا اور سب سے عظیم الشان مفسدہ صوفیوں اور سجادہ نشینوں کا مفسدہ ہے۔ قوم کی
طرف سے لاکھوں روپے ان کے تصرف کے لیے دیے جاتے ہیں۔ اور وہ بھی اکثر ان میں امراء کی طرح فسق و فجور اور تن پروری اور خواب و خور میں منہمک ہیں۔ ان کو مطلق خبر نہیں کہ اللہ اور رسول کا
١٤١
فرمودہ کیا ہے۔ سنت کیا ہے۔ بدعت کیا ہے اپنے ہی تراشیدہ خیالات اور ادھر ادھر کی باتوں پر مائل ہو رہے ہیں۔ ایسے خطرناک مشرب اور مذہب نکالے اور ان پر سرنگوں ہو رہے ہیں کہ اسلام اور مسلمانی ان پر دور سے دیکھ کر ہنستی اور روتی ہے۔ گویا اسلام کے لباس میں ہزاروں ہزار نئے مذہب نکلے ہوئے ہیں۔ اور اس سے دشمنان دین کو دین حق پر اعتراض اور طعن کا پورا موقع ملتا ہے ان لوگوں کو حس تک نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی کیا حالت ہوئی ہے۔ اور اسلام کے بیرونی دشمن اسلام پر کیا کیا خوفناک حملہ کر رہے ہیں اور تلے ہوئے ہیں۔ کہ اس کا شہتیر ہی نکال ڈالا جائے۔ غرض قوم ان کی غفلت کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہے۔ اور پریشان حال خدا سے چاہتی ہے۔ کہ کوئی مصلح آئے وغیرہ وغیرہ بیان کر کے فرمایا۔ اس وقت کا مصلح و امام و مجدد اور مہدی جس کا تیرہ سو برس سے انتظار تھا اور مسیح موعود جس کی حدیثوں اور قرآن میں پیشگوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا وہ کون ہے۔ حضرت امام اقدس ہمام مرزا صاحب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔ جس کے اوصاف حمیدہ کو میری زبان بیان نہیں کر سکتی خطبہ ختم ہوا نماز جمعہ ادا ہوئی۔
رات ہو گئی ہے۔ اندھیرا ہو رہا ہے ایک شخص دراز قد سر سے پاؤں تک چادر لپیٹے ہوئے چکلہ میں جا رہا ہے۔ ایک دروازہ پر ٹھہرا اور آواز دی جیواں۔ جیواں کیواڑ کھلے۔
جیواں کون؟ مولوی! اب تک کہاں تھا۔
مولوی ...... آج مجھ کو کام ہو گیا تھا۔
جیواں ...... تو بڑا بے حیا اور بے شرم ہے۔ تجھ کو شرم نہیں آتی۔ کہیں بختاوری چوہڑی سے گالیاں کھاتا ہے۔ کہیں موچنوں سے، تو آدمی ہے۔ یا بابوگڑھ کے اسٹڈ کا سانڈ ایک سے بس، نہ دو سے بس، نہ چار سے، گھر میں عورت موجود ہے ایک بازاری رنڈی سے ملاقات پھر موچنوں اور رسی والیوں اور کس کس کو گنواؤں۔
مولوی ...... یوں ہی مجھ سے کوئی جھوٹ لڑائی کرانے کی خاطر کہہ دیتا ہے اور تو اس کی باتوں میں آ جاتی ہے۔ خدا کی قسم بالکل جھوٹ ہے میں نے تو جب سے مرزا صاحب سے بیعت کی ہے بالکل توبہ کر لی ہے۔
جیواں ...... یہاں کیا تہجد پڑھنے آیا ہے۔ یا قرآن پڑھانے، چل دفع ہو۔ میرے گھر نہ آیا کر منہ جھلس دوں گی۔ جو پھر میرے گھر میں پیر رکھا یہ بات مجھ کو گوارا نہیں۔
مولوی ...... آ گئے نہ دم میں بیوقوف یہ لوگ لڑائی کے واسطے کہہ دیتے ہیں۔ خیر مولوی صاحب نے وہ رات وہاں کاٹی۔
١٣٢
کسی کی شب ہجر
ہماری یہ شب کیسی
نہ سوتے کٹی ہے نہ
باب ٢٤ بابت
مرزا کے دع
ہم طرز جنون اور ہی
١٨٩٠ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا۔ ہوں خدا کی طرف سے مبعوث ہو کر تجدید دین کے معجزات لایا ہوں خدا کا مرسل نبی، محدث، مجدد عیسیٰ کچھ دین اسلام میں تجدید کروں (یعنی نئی بات نکالو لوگ اس کو نہ مانیں وہ یہودی ہوں گے اور وہ آگ میں
ان دعاوی کے شائع ہوتے ہی مرزا قاد سید محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔ جو مخالف ہوئے۔ اول دوستانہ طور سے پند و نصائح سے کام ہوئی۔ اشاعۃ السنۃ میں بجز مرزا قادیانی کی تردید اور نہ درج ہوتا ہے۔
آخر تمام علماء اسلام مرزا قادیانی سے خلا فتوے لگایا گیا اور کل علماء دین کی مواہیر ثبت ہوئیں۔ مرزا قادیانی ...... میرا یہ دعویٰ کہ میں مسیح ہوں ایک ا کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث منتظر تھا کب وہ بشارتیں ظہور پذیر ہوں۔
کسی کی شب ہجر روتی کٹے ہے
ہماری یہ شب کیسی شب ہے الہی
نہ سوتے کٹی ہے نہ روتی کٹی ہے
باب ٢٤ بست و چہارم
مرزا کے دعاوی
ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے
١٨٩٠ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا۔ میں فقط ملہم ہی نہیں بلکہ مثل مسیح اور عیسیٰ موعود ہوں خدا کی طرف سے مبعوث ہو کر تجدید دین کے لیے آیا ہوں اور اپنے ساتھ آسمانی نشان اور معجزات لایا ہوں خدا کا مرسل نبی، محدث، مجدد، عیسیٰ مہدی، آدم احمد مبشر بزبان عیسیٰ ہوں۔ اور جو کچھ دین اسلام میں تجدید کروں (یعنی نئی بات نکالوں) وہ سب کے لیے واجب و قبول ہے۔ جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ یہودی ہوں گے اور وہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔ الی غیر ذالك!
(فتح وتوضیح المرام)
ان دعاوی کے شائع ہوتے ہی مرزا قادیانی کے معاونین میں سے پہلے شخص مولانا ابو سعید محمد حسن صاحب بٹالوی ہیں۔ جو مخالف ہوئے۔
اول دوستانہ طور سے پند و نصائح سے کام لیا پھر علم مخالفت بلند کیا اور خط و کتابت شروع ہوئی۔ اشاعۃ السنہ میں بجز مرزا قادیانی کی تردید اور ابطال کے اب اور مضمون کی گنجائش نہیں اور نہ درج ہوتا ہے۔
آخر تمام علماء اسلام مرزا قادیانی سے خلاف ہو گئے اور مولانا ابو سعید کے استفتاء پر کفر کا فتوے لگایا گیا اور کل علماء دین کی مواہیر ثبت ہوئیں۔
مرزا قادیانی ...... میرا یہ دعویٰ کہ میں مسیح ہوں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ظہور کی طرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث نبویہ کی متواتر پیشگوئیوں کو پڑھ کر ہر ایک شخص منتظر تھا کب وہ بشارتیں ظہور پذیر ہوں۔
١٣٣
بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی۔ کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا۔
(کتاب البریہ صفحہ ٧٢ خزائن ج ١٣ ص ٢٠٥ حاشیہ)
اہل حق کے نزدیک اس امر میں اتمام حجت اور کامل تشفی کا ذریعہ چار طریق ہیں۔
- ١...... اوّل نصوص صریحہ کتاب اللہ یا احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ آنے والے شخص کی ٹھیک ٹھیک
علامات بتلاتے ہوں اور بیان کرتے ہوں کہ وہ کس وقت ظاہر ہوگا۔ اور اس کے ظاہر ہونے کے نشان کیا ہیں اور نیز حضرت عیسیٰ کی وفات یا عدم وفات کے جھگڑا کا فیصلہ کرتے ہوں۔
- ٢...... وہ دلائل عقلیہ اور مشاہدات حسنہ جو علوم قطعیہ پر مبنی ہوں۔ جس سے گریز کی کوئی راہ نہیں۔
- ٣...... وہ تائیدات سماویہ جو نشانات اور کرامات کے رنگ میں مدعی صادق کے لیے اس کی دعا
اور کرامت سے ظہور میں آتے ہوں یا اس کی سچائی پر نشان آسمانی کی زندہ گواہی کی مہر ہو۔
- ٤...... ان ابرار اور اخیار کی شہادتیں جنہوں نے خدائی الہام پا کر ایسے وقت میں گواہی دی ہو
جبکہ مدعی کا نشان نہ تھا کیونکہ وہ گواہی ہے ایک غیب کی خبر ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نشان ہے۔ اور یہ خدا کا فضل و احسان ہے کہ یہ چاروں طریق اس جگہ جمع ہو گئے ہیں۔
- ١...... سب سے پہلے یہ امر ہے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات قرآن سے ثابت ہے۔ آیت
”فلما توفیتنی“ نے اس کا فیصلہ کر دیا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہ مانی جائے تو نصاریٰ کے عقائد کا بگڑنا جو ان کی وفات پر منحصر ہے ماننا ہی پڑے گا۔ ابھی نہیں بگڑے۔ بخاری میں اور بھی تقویت دی گئی ہے اور شارح عینی نے اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اس جگہ یاد رہے کہ ہمارے دعوے کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے۔ جس کی صحت پر قرآن حدیث قول ابن عباس ائمہ اسلام۔ عقل گواہی دیتی ہے ایلیا نبی کا قصہ دوبارہ آنے کا بھی گواہی دے رہا ہے۔ جس کی تاویل خود حضرت مسیح کے منہ سے یہ ثابت ہوئی کہ ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ ہے اور اس تاویل نے یہود کے اجماعی عقیدہ کو خاک میں ملا دیا۔ کہ درحقیقت ایلیا جو دنیا سے گزر گیا تھا پھر دنیا میں آئے گا۔ اس جگہ یاد رہے کہ میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کیے ہیں۔
(براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ حاشیہ)
وہ میری غلطی ہے۔ الہامی غلطی نہیں۔ میں نے براہین احمدیہ میں یہ بھی اعتقاد ظاہر کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٢)
مگر یہ بھی میری غلطی ہے جو اس الہام کی مخالفت تھی۔ جو براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے۔ کیونکہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور مجھے اس قرآنی پیشگوئی کا مصداق ٹھہرایا۔
١٣٤
جو حضرت عیسیٰ کے لیے خاص پیشگوئی ھو الذی لیظره علی الدین کلہ اور آنے والے مسیح موعود
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصوص صریحہ اور حق کھل گیا ہے اور اس کے مقابل پر یہ دوسرا حـ ہے۔ یہ سب استعارات لطیفہ ہیں جو از قبیل وحی و ہے اور وحی وراء الحجاب کے خدا تعالیٰ کے کلام میں کام نہیں ہے۔
علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے خاتم النبیین اور ایسا ہی یہ حدیث لا نبی بعدی خاتم الانبیاء ہیں۔ پھر کسی وقت وحی نبوت شروع ہو
اور جیسا کہ میں نے بیان کیا مسیح موعـ بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف استعارات طرز اور طریق سے اسرائیلی نبوتوں کا سلسلہ قائم کیا موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔ جائے۔ تو معلوم ہوگا کہ وہ سلسلہ حضرت موسیٰ علـ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔ اور اس نظام کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہو اور اس مماثلت کے پورا کرنے ۔ اسرائیلی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضر اور سلسلہ خلافت محمدیہ کے اخیر میں بھی ایک مسیح ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا اور نیز مکمل مشابہت دو خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح اسی مدت کے مشابہ زمانہ میں خلافت محمدیہ کا مسیح
اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے۔ وہ نہایت غلطی پر ہیـ
جو حضرت عیسیٰ کے لیے خاص پیشگوئی هو الذی ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله اور آنے والے مسیح موعود کے تمام صفات مجھ میں قائم کیے۔“
(ایضاً)
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ نصوص صریحہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے اور حق کھل گیا ہے اور اس کے مقابل پر یہ دوسرا حصہ احادیث کا جس میں نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے۔ یہ سب استعارات لطیفہ ہیں جو از قبیل وحی وراء الحجاب جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے اور وحی وراء الحجاب کے خدا تعالیٰ کے کلام میں ہزاروں آیتیں ہیں۔ اس سے انکار کرنا کسی کا کام نہیں ہے۔
علاوہ ان باتوں کے مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت ولكن رسول الله و خاتم النبيين اور ایسا ہی یہ حدیث لا نبی بعدی یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ باوجود یکہ ہمارے نبیؐ خاتم الانبیاء ہیں۔ پھر کسی وقت وحی نبوت شروع ہو جائے۔
اور جیسا کہ میں نے بیان کیا مسیح موعود کی پیشگوئی صرف حدیثوں میں ہی نہیں ہے۔ بلکہ قرآن شریف نے نہایت لطیف استعارات میں آنے والے مسیح کی خوشخبری دی ہے۔ کہ جس طرز اور طریق سے اسرائیلی نبوتوں کا سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔ وہی طرز اسلام میں ہوگی۔ یہ وعدہ مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری اپنے اندر رکھتا ہے۔ کیونکہ سلسلہ خلافت انبیاء بنی اسرائیل میں غور کی جائے۔ تو معلوم ہوگا کہ وہ سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور پھر چودہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہو گیا۔ اور اس نظام خلافت پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہودیوں کا مسیح موعود جس کے آنے کی یہود کو خوشخبری دی گئی ہے۔ چودہ سو برس بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آیا اور غریبوں اور مسکینوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔
اور اس مماثلت کے پورا کرنے کے لیے جو قرآن شریف میں دونوں سلسلہ خلافت اسرائیلی اور خلافت محمدی میں قائم کی گئی ہے ضروری ہے۔ کہ ہر ایک منصف اس بات کو مان لے اور سلسلہ خلافت محمدیہ کے اخیر میں بھی ایک مسیح موعود کا وعدہ ہو جیسا کہ خلافت موسویہ کے اخیر میں ایک مسیح موعود کا وعدہ تھا اور نیز مکمل مشابہت دونوں سلسلوں کے لیے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جیسا کہ خلافت موسویہ کے چودہ سو برس کی مدت پر مسیح موعود بنی اسرائیل کے لیے ظاہر ہوا تھا۔ ایسا ہی اور اسی مدت کے مشابہ زمانہ میں خلافت محمدیہ کا مسیح موعود ظاہر ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جولوگ یہ خیال کرتے ہیں۔ کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے۔ وہ نہایت غلطی پر ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور
١٣٥
اہم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے دیکھو اول قرآن شریف نے آیت کما ارسلنا الی فرعون رسولا میں صاف طور سے ظاہر کر دیا۔ کہ آنحضرت مثل موسیٰ ہوئے سو یہ دونوں واقعات اپنی سوانح کے لحاظ سے باہم ایسے مشابہت رکھتے ہیں گویا دو توام بھائیوں کی طرح ہیں۔
اور عیسائیوں کا یہ قول کہ مثل موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں بالکل مردود اور قابل شرم ہے۔
یاد رہے کہ جس مسیح یعنی روحانی برکات والے کے مسلمانوں کے آخر زمانہ میں بشارت دی گئی ہے۔ اس کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دجال معہود کو قتل کرے گا۔ اور یہ قتل تلوار وغیرہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے زمانہ میں وہ نابود ہو جائیں گے۔
حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال شیطان کا نام ہے۔ پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اس گروہ کا نام بھی استعارہ کے طور پر دجال رکھا گیا۔
(ایام الصلح ص ٣٨ تا ٦١ ، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٨ تا ٢٩٧)
حاشیہ جات
- ١؎ یہ اشارہ مرزا صاحب نے اشعار نعمت اللہ ولی کی طرف کیا ہے جس کا تذکرہ نشان
آسمانی میں ہے۔ اور اس کا رد مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری نے لکھا ہے۔
- ٢؎ اس آیت ”انی متوفیک “ اور دوسری آیت ”فلما توفیتنی “ میں خدا تعالیٰ
فرماتا ہے کہ اے مسیح میں تیرا متوفی ہوں۔ جب تو نے مجھ کو توفی دی لیکن دراصل یہ استدلال محض طمع بے علموں کو ورطہ ضلالت میں ڈالنے کے لیے کافی ہے خیر بہر حال ہم اس کی تردید کریں گے وہ یوں ہے کہ توفی کے معنی لغۃً کسی شے پر پورے طور پر قبضہ کرنا ہے اس کا مادہ (یعنی جس سے یہ لفظ لیا گیا ہے اور اس کو ماخذ بھی کہتے ہیں ) وفا ہے قاعدہ مقررہ مسلمہ ہے کہ ماخذ کے معنی ماخوذ کے تمام گردانوں میں معتبر ہوتا ہے۔ گو انکی صورتیں اور صیغہ مختلف ہوں۔ ماخذ کا معنے ماخوذ میں اس طرز پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے کہ جز کل میں داخل ہوتی ہے۔ لفظ علم کی مثال لکھ کر ..... اور اس کو ثابت کر کے ) جب یہ ثابت ہوا تو پھر ضرور ماننا پڑے گا۔ کہ توفی کے معنے میں وفا داخل ہے۔ کیونکہ وہ وفا سے ماخوذ ہے نیز اقرار کرنا پڑے گا کہ باب تفعل کا مقتضا جو اخذ ( بمعنے لے لینا ) ہے اس میں معتبر ہے پس جو الفاظ توفی سے ماخوذ ہیں بشرطیکہ وہ زمانہ پر دلالت کرتے ہیں چاروں چیزوں پر شامل ہوں گے۔ جب کہ توفیت ( پورا لے لینا میں سے ) جو زمانہ پر دلالت نہیں کرتے ہیں۔ ان میں جزئیں ہوں گی دیکھو متوفی اس لیے کہ اس میں زمانہ مضمر نہیں ہے۔ مختصراً کہ جو جو صیغہ کسی مصدر سے لیا گیا ہو اس میں یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ماخذ و مصدر پر شامل ہو۔ گو اس ترکیب کو حقیقی کہیں یا
١٣٦
اعتباری ہاں یہ تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ اگر اس ترکیب کا بھی ہوگا کہ اس اعتباری کا اس اعتباری کل سے اعتباری چھوڑ کر لیے جائیں گے تو یہ حقیقی نہیں ہوگا اس واسطے سے کل ہی سے تخلیہ لازم آتا ہے۔ نہیں تو باوجود ان ہے کہ ترکیب حقیقی ہو ) یا لازم آوے گا۔ کہ جو حکم اکثر ہے۔ اس لیے ثابت ہوا۔ وہ مجازی معنی ہو گا آخر یہ ہے۔ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ ماخذ بھی صرف منضم بہ لیں وہ مجازی ہی ہوگا خواہ اس جز کا دخول وضع شے اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا دوسری کی مثال مشتق نوعی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ جو مفعول کے فعل واقع ہوا ہو لینا حقیقی معنی جب کہ مرکب تام وضع کہلائے گا۔ اس لئے کہ مرتفع ہو جاتے۔ مجازی معنی کا انتفاء جیسے کہ تمام اجزا کے منفی اور معدوم ہو جانے ایک جز کے نابود ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اب دیکھا ہے کہ متوفی کے حقیقی معنے پورے طور پر لینے والا ہے۔ کہ جس کے حقیقی ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ پایا جا طرف نسبت ۔ پس (یا عیسیٰ انی متوفیک ) جس کا طرف تیرا اٹھالے جانے والا ہوں۔ اے مسیح میں فلما توفیتنی الخ سے بھی پورا اور تمام کا پ مقبوض ہونا صادق ہوگا۔ تب ہی ہے۔ کہ اٹھانے خالی روح کا اٹھایا جانا تو تمام پر قبضہ نہیں۔ بلکہ اِ کا اطلاق رفع روحی پر حقیقی ہے۔ تو یہ ناجائز ہے۔ اسی طرح پر کہ وفا سے مجرد ہے خواہ یوں کہ وفا عدم عدم اور چیز ہے۔ بنابران توفی کا اطلاق رفع روحی ہوا اور دوسری صورت میں عموم مجاز ہوگا۔ رہی یہ با کے عدم میں کیا فرق ہے سو فرق یہ ہے۔ کہ پہلا ع
٧
اعتباری ہاں یہ تو ماننا ہی پڑتا ہے کہ اگر اس ترکیب کو تحلیلی کہیں گے حق بھی یہی ہے۔ تو شمول کا معنے بھی ہوگا کہ اس اعتباری کا اس اعتباری کل سے اعتبار کر لینا جائز ہے۔ پس اگر توفی کے معنے وفا کو چھوڑ کر لیے جائیں گے تو یہ حقیقی نہیں ہوگا اس واسطے کہ موضوع لہ کے بعض اجزا کو الگ کر دینے سے کل ہی سے تخلیہ لازم آتا ہے۔ نہیں تو باوجود انتفاء جز کے کل کا تحقق چاہیے (یہ اس صورت میں ہے کہ ترکیب حقیقی ہو ) یا لازم آوے گا۔ کہ جو حکماً کل ہے وہ حکمی جز کے بغیر محقق ہو حالانکہ یہ باطل ہے۔ اس لیے ثابت ہوا۔ وہ مجازی معنی ہوگا آخر یہ تو ظاہر ہوا۔ کہ لفظ کا استعمال یا حقیقتاً یا مجازاً ہوتا ہے۔ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ ماخذ بھی صرف متغیر ہوگا نہیں بلکہ کوئی جز ہو جب کہ اس کا انتفاء مان لیں وہ مجازی ہی ہوگا خواہ اس جز کا دخول وضع شخصی یا وضع نوعی کے ذریعہ سے ہو پہلے کی مثال اینٹ کا دیوار میں داخل ہونا دوسری کی مثال مشتق کی جزء کا اس میں داخل ہونا کیونکہ یہ دخول بوضع نوعی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ جو مفعول کے وزن پر ہو وہ اس پر دلالت کرے گا۔ کہ جس پر فعل واقع ہوا ہو لینا حقیقی معنی جب کہ مرکب تا وقتیکہ آپس میں تمام اجزاء متحقق نہ ہوئیں حقیقی نہیں کہلائے گا۔ اس لئے کہ مرتفع ہو جاتے۔ مجازی معنی کے لیے ایک جز کا بھی انتفاء کافی ہے کیونکہ کل کا انتفاء جیسے کہ تمام اجزا کے منتفی اور معدوم ہو جانے سے ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی اس کا انتفاء کسی ایک جز کے نابود ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اب دیکھو کہ یہ تحقیق ثانی واضح طور پر اس پر دلالت کرتی ہے کہ متوفی کے حقیقی معنے پورے طور پر لینے والا ہے لا غیر، یہی متوفی کا حقیقی معنی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ جس کے حقیقی ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ پایا گیا ہے وہ یہ ہیں ایک و دوم لے لینا۔ سوم فاعل کی طرف نسبت۔ پس (یٰعیسیٰ انّی متوفیک) جس کا مضمون یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تیرا متوفی اور اسی طرف تیرا اٹھا لے جانے والا ہوں۔ اے مسیح میں تجھ کو پورے طور پر لینے والا ہوں ایسا ہی آیت فلما توفیتنی الخ سے بھی پورا اور تمام کا لے لینا مراد ہے لیکن مسیح علیہ السلام جو پورا اور تماماً مقبوض ہونا صادق ہوگا۔ تب ہی ہے۔ کہ اٹھائے گئے ہوں اگر ان کی روح اٹھائی گئی اس لیے کہ ۔ خالی روح کا اٹھایا جانا تو تمام پر قبضہ نہیں۔ بلکہ اکیلے حصہ پر قبضہ ہوا پھر باین ہمہ اگر کہو گے کہ توفی کا اطلاق رفع روحی پر حقیقی ہے۔ تو یہ ناجائز ہے۔ اگر یوں کہہ دیں۔ کہ توفی معنے لے لینا ہے۔ مگر اسی طرح پر کہ وفا سے مجرد ہے خواہ یوں کہ وفا عدم اس میں ایک اعتباری جز ہے۔ وفا کے اعتبار کا عدم اور چیز ہے۔ بنابران توفی کا اطلاق رفع روحی پر صحیح ہوگا مگر پہلی صورت میں کلی کا اطلاق جزو پر ہوا اور دوسری صورت میں عموم مجاز ہوگا۔ رہی یہ بات کہ کسی چیز کے عدم اعتبار اور اس چیز کے اعتبار کے عدم میں کیا فرق ہے سو فرق یہ ہے۔ کہ پہلا خاص ہے دوسرا عام ہے جز جو کچھ ہے سو ہے مگر ان ١٣٧
٣٥٢
میں شبہ نہیں کہ دونوں تقدیر پر یہ معنے مجازی ہے نہ حقیقی لیکن مجازی لینا تو تب ہی جائز ہوتا ہے کہ جب کوئی ایسا قرینہ موجود ہو۔ کہ اس کے ہوتے حقیقی لینا جائز نہ ہو ہاں اس جگہ کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے پھر کہو کہ یہ مجازی لے لینا کیوں کر درست ہوگا لہٰذا حقیقی سے مراد لینا لازم ہوا۔ نہ مجازی یہ ظاہر ہے کہ حقیقی و مجازی کا مدار وضع ہے۔ خواہ وہ نوعی ہو گا یا شخصی بہر حال لفظ کو جب ان دونوں میں کسی وضعی معنی میں استعمال کریں گے۔ تو وہ حقیقی استعمال ہو گا ورنہ وہ مجازاً ہوگا۔ پس مشتقات جو ایسے مادہ ہیئت ترکیبیہ رکھتے تھے۔ کہ اس میں پہلا موضع شخصی موضوع ہے دوسرا موضع نوعی مرکب ہیں۔ بسبب اس ترکیب کے مبدأ پر باعتبار مادہ بوضع شخصی اور معنے ترکیبی پر موضوع نوعی دال ہیں۔ نیز جب اس طرز پر ہوں گے تو استعمال حقیقی اسی صورت میں ہو گا کہ وہ دونوں وضع محقق ہوں نہ صرف ایک ہی محقق ہو تو پھر بھی حقیقی ہو گا البتہ مجاز تین صورتوں میں پایا جاتا ہے ایک جبکہ وضع شخصی نہ رہے دیکھو ناطق اس کے مبدأ کا موضع لہ دراصل موضع شخصی اور ان کلیات وجزئیات ہے جب ایسی دال مراد لی گئی تو یہ استعمال مجازی ہوگا ایسا ہی جب وضع نوعی کی انتفاء ہو۔ دیکھو قائلہ جب کہ اس سے مقولہ مقصود ہو گو اس میں قول جو اس کا مصدر ہے۔ اپنے اصل معنے پر دال ہے مگر باعتبار اس کے کہ اس میں وضع نوعی منتفی ہوا ہے مجازی ہو گا اگر دونوں کو اٹھا دیں نیز مجازی ہوگا۔ دیکھو ناطق سے جس حالت میں مدلول مراد رکھ لیں گے۔ کیونکہ ناطق مدلول کے لیے نہ توضع نوعی اور نہ توضع شخصی موضوع ہے۔ اس لیے معترض کو لفظ متوفیک توفیق ان کو کسی معنے پر معمول کریں گے کون سے معنے ان سے مراد لیں گے۔ اور اگر پورے طور پر لے لینا مراد ہے تو روح و جسد دونوں کے اٹھائے جانے کے بغیر نہیں ہو سکتا لیکن یہ استعمال حقیقی ہو گا۔ کیونکہ حقیقت کا مدار وضع شخصی اور نوعی پر ہے سو وہ پایا گیا ہے۔ اگر اس میں اخذ کو مراد رکھیں گے اور تمامیت کی قید سمجھیں گے خواہ کہ اخذ کے لیے تمامیت کا عدم قید یا مہمل طور پر لیں گے۔ یعنے اس کے ساتھ تمامیت کی قید لگی ہو یا نہ تو ان صورتوں میں یہ استعمال مجازی ہوگا۔ اس لیے ان تقدیروں پر لفظ موضوع لہ وضع شخصی ہی بتانا محقق ہوگا۔ لیکن یہ بات مسلمات سے ہے کہ حقیقی معنے کو قرینہ صادقہ کے بغیر چھوڑ کر مجازی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اور قرینہ یہاں موجود نہیں ہے۔ پس لامحالہ وہ حقیقی معنے سے لینا پڑے گا۔ ہاں یہ جو تم کہتے ہو۔ متوفی سے مارنا ہے سریع الفہم ہے۔ سریع الفہم ہونا بھی قرینہ ہے۔ نیز مسلم نہیں ہے اس لیے کہ یا تو کہو گے کہ توفی سے بلا قرینہ مارنا مرنا متبادر ہے۔ سو یہ پہلا جھگڑا ہے قرآن شریف میں تو کہیں بھی توفی اور متوفی کا مرنے مارنے میں بلا قرینہ مستعمل ہوا ہے۔ یا کہو گے کہ توفی اور متوفی سے مرنا مارنا بھی بمعہ قرینہ متبادر ہے۔ البتہ یہ ماننا لیکن حقیقی کی منافی تو یہ ہے کہ وہ بلا قرینہ ہی متجاوز
١٣٨
٣٥٣
ہے۔ نہ بمعہ قرینہ ورنہ سب مجازات حقیقی سے علیٰ ہذا طرف واضح نہ ہو گی کیونکہ بنا بر اس مذہب کے تو مجازا قرآن شریف میں کہیں بھی توفی کا لفظ بلا قرینہ موت لیکن ثبوت تو موجود ہے دیکھو آیت (یتوفھن الموت) ہے وہ یہ ہے۔ کہ توفی کو موت کی طرف اسناد کی گئی حوالہ دے کر اور لینے کے تقرر کے بعد ) لکھا ہے بحر مارنے میں حقیقی طور پر مستعمل نہیں ہے۔ اس لیے جاتا ہے۔ بلکہ مار دینے میں صرف بدن سے روح حصہ کا لے لینا ہے نہ پوری شے کا لے لینا۔ لیکن لفظ کہ واجب ہوا تو آیت یا عیسیٰ انی متوفیک ہمارے ہمارے لیے دلیل ہونے کو رافعک الی کا اس پر رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ ورنہ خاص کر مسیح علی اس آیت میں ان کی روح کا مرفوع ہونا بیان کیا جا خدا ایمان والوں اہل علم کے درجات کو (مرفوع) ایمان دار اور اہل علم مرفوع نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ ان پس روح مسیح سے بھی خود مسیح رفع مراد نہیں ہے با ہے کیونکہ اس آیت سابقہ میں خود مسیح علیہ السلام رو کیا گیا ہے ظاہر ہے۔ کہ رفع درجات اور خود شی رفع درجات سے رفع غیر جسمانی ثابت نہیں ہوگا۔
دیکھو کہا جاتا ہے کہ میں نے زید کو اٹھا کے ساتھ تعلق ہوا تھا لیتا ہے۔ اب اس صورت میں نہیں آتا کہ وہاں پر بھی خود زید کا رفع مراد نہ ہو بلکہ اور اس کے متعلق کا اور ہے۔ بناء غلبہ ثابت ہوا کہ مرفوع خود مسیح علیہ السلام سے پھر مرفوع کا مفہوم کرتے ہیں۔ دوسری دلیل اگر مسیح علیہ السلام کی کے اختیار میں رہتا اور کافروں کا مقصود بھی تھا نہ
٩
ہے ۔ نہ بمعہ قرینہ ورنہ سب مجازات حقیقت ہی بن جائیں گے۔ لہٰذا لفظ کی تقسیم حقیقت و مجاز کی طرف واضح نہ ہوگی کیونکہ بنا بر اس مذہب کے تو مجاز ممکن ہی نہیں ہے۔ بے شک یہ ہمارا دعوے کہ قرآن شریف میں کہیں بھی توفی کا لفظ بلا قرینہ موت میں مستعمل نہیں کیا گیا ہے۔ ثبوت طلب ہے لیکن ثبوت تو موجود ہے دیکھو آیت (یتوفھن الموت) یعنی وہ مرتے ہیں یہاں موت کا قرینہ موجود ہے وہ یہ ہے۔ کہ توفی کو موت کی طرف اسناد کی گئی ہے۔ نیز اور بھی بہت سی آیتیں (ان آیات کا حوالہ دے کر اور معنے کے تقرر کے بعد) لکھا ہے پس ثابت ہوا کہ آیت مذکورہ میں جو توفی ہے۔ وہ مارنے میں حقیقی طور پر مستعمل نہیں ہے۔ اس لیے کہ مار دینے میں پورے طور پر لے لینا نہیں پایا جاتا ہے۔ بلکہ مار دینے میں صرف بدن سے روح الگ کر کے اٹھائی جاتی ہے۔ اور یہ گویا ایک حصہ کا لے لینا ہے نہ پوری شے کا لے لینا۔ لیکن لفظ کا بصورت عدم قرینہ حقیقی معنے پر محمول کرنا جب کہ واجب ہوا تو آیت یا عیسیٰ انی متوفیک ہمارے واسطے دلیل ہوئی۔ نہ قادیانیوں کے لیے اس کا ہمارے لیے دلیل ہونے کو رافعک الیٰ کا اس پر معطوف ہونا قوت بخشتا ہے۔ اس واسطے کہ اس رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ ورنہ خاص کر مسیح علیہ السلام سے کیا اس رفع روحی کو خصوصیت تھی جو اس آیت میں ان کی روح کا مرفوع ہونا بیان کیا جاتا ہے۔ سوال ! چونکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا ایمان والوں اہل علم کے درجات کو (مرفوع) بلند کرتا ہے۔ تو اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خود ایمان دار اور اہل علم مرفوع نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے درجات مرفوع اور بلند کیے جاتے ہیں۔ پس روح مسیح سے بھی خود مسیح کا رفع مراد نہیں ہے بلکہ رفع روحی، الجواب ! دلیل کو مفید مطلب نہیں ہے کیونکہ اس آیت سابقہ میں خود مسیح علیہ السلام کا رفع مذکور ہے اور اس آیت میں رفع درجات کا ذکر کیا گیا ہے ظاہر ہے۔ کہ رفع درجات اور خود شے کے مرفوع ہونے میں غیریت ہے۔ اس لیے رفع درجات سے رفع غیر جسمانی ثابت نہیں ہوگا۔
دیکھو کہا جاتا ہے کہ میں نے زید کو اٹھا لیا ہے یا میں نے زید کا کپڑا لیا اور جو شے زید کے ساتھ تعلق ہو اٹھا لیتا ہے۔ اب اس صورت میں زید کے کپڑے کے اٹھائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں پر بھی خود زید کا رفع مراد نہ ہو بلکہ کپڑے کا مثلاً اس لیے کہ خود شے کا رفع اور ہے اور اس کے متعلق کا اور ہے۔ بناء علیہ ثابت ہوا کہ آیت یا عیسیٰ انی متوفیک الخ میں عبارت اور ضمیر کا مرجع خود مسیح علیہ السلام ہے پھر مرفوع کا مفہوم صادق ہے۔ اور یہ بعینہ وہی ہے۔ جو ہم دعوے کرتے ہیں۔ دوسری دلیل اگر مسیح علیہ السلام کی طرف روح مرفوع ہوئی ہوتی۔ تو آپ کافروں کے اختیار میں رہتا اور کافروں کا مقصود بھی یہی تھا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسیح ہم تجھ کو ١٣٩
کافروں کے اختیار سے الگ اور پاک کردیں گے۔ پس اگر خالی روح مرفوع ہوتی تو باری تعالٰی کا یہ ارشاد کیسا درست ہوگا۔ لہٰذا رفع روحی غلط ٹھہرا اور مسیح علیہ السلام کا بجسدہ مرفوع ہونا ثابت ہوا کیونکہ جب بجسدہ رفع مراد لیں گے۔ تو مسیح علیہ السلام بلاشبہ بالکل کافروں کے اختیار سے نکل گئے اور پاک ہوگئے اس لیے آیت مذکور سے رفع روحی مراد رکھ لینا بے علمی اور عجیب تر ہے۔ اور قادیانی اس آیت سے وقولهم انا قتلنا المسيح بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم سے استدلال کرتے ہیں اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ تم نے مسیح یعنی مریم کے فرزند کو قتل کر دیا ہے حالانکہ انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا ہاں شبہ میں ڈالے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ البتہ ان کل کے بارہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس پر یقین نہیں ہے صرف خلاف واقع کی تابعداری کرتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام کو انہوں نے قتل نہیں کیا بلکہ خداوند تعالٰی نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ اللہ تعالٰی غالب حکمت والا ہے۔ نہیں ہے کوئی بھی اہل کتاب میں سے مگر کہ اس پر ایمان لائے گا۔ اس کے مرنے سے پہلے وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔
طریقہ استدلال قادیانی : پہلی آیت میں رفع روحی مراد لے کر کہتا ہے اس کا بیان ہے۔ کہ اہل کتاب کا مسیح علیہ السلام کے مقتول ومصلوب ہونے میں شاق ہونا یہ ضمیر بہ کا مرجع ہے۔ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے اس کے بعد دو توجیہیں کرتا ہے پہلے کہ قبل موتہ میں ایمان کا لفظ مقدر ہے اس تقدیر آیت کا معنے یہ ہوا کہ ہر ایک کتابی مسیح کی طبعی موت پر جو ماضی میں واقع ہوچکی ہے ایمان لانے سے پہلے آپ کے مشکوک القتل ہونے پر ایمان رکھتا ہے۔
دوسری توجیہ : ہر ایک کتابی یقیناً جانتا ہے کہ ہم مسیح کے مقتول ہونے کے بارہ میں شک میں ہیں۔ اس شک پر ان کا ایمان مسیح علیہ السلام کے مرنے سے پہلے تھا۔ گویا مسیح ابھی زندہ ہی تھے۔ کہ ان کو آپ کے مقتول ہونے میں شک تھا۔ اور آپ کے مرنے سے پہلے بھی اپنے اس شک پر یقین رکھتے تھے۔ اب دیکھئے کہ استدلال پر کتنے اعتراض وارد ہوتے ہیں۔
اول ...... رفع سے روحانی مراد لینا غلط ہے۔ اس لیے کہ اس آیت میں مسیح علیہ السلام وصف مرفوعیت میں بطور قلب اور عکس کے محصور کر دیے گئے ہیں۔ لیکن اس حصر اور قصر کے لیے اوصاف کی منافات شرط ہے مثلاً ایک شخص اعتقاد رکھتا ہے کہ زید قائم ہے دوسرے نے اس سے مخاطب ہو کر کہہ دیا کہ زید قائم نہیں بلکہ بیٹھا ہے۔ پس دیکھیے یہاں متکلم نے ایسا بیان کیا کہ وہ مخاطب کے عقیدہ کا قلب الٹ ہی ظاہر ہے۔ کہ کھڑا ہونا بیٹھنا یہ دو صفتیں آپس میں منافات غیریت رکھتی ١٤٠
ہیں۔ بے شک یہ منافات عام طور پر لیے جاتے ہیں مگ کے واسطے شرط ہو نیز واقع میں منافات ہونا اعتقاد میں یہ ہے کہ انہوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خداوند تعالٰی قلب کے فرمائے گئے ہیں سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب ہیں۔ تو خداوند تعالٰی نے ان سے ان کے گمان کو برعکس ک نہیں ہوئے ہیں۔ بظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو وصف اور عکس کے طور پر پس ضرور ہوا کہ قتل اور رفع میں منافات کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہوئے۔ کیوں رفع بجسد روحانی مراد لیں گے۔ جیسا کہ قادیانی کا بیان ہے۔ تو ع جو شخص خدا کی راہ میں قتل کیا جاتا ہے۔ تو اس کی روح ا میں رفع روحانی پایا گیا ہے۔ تو منافات کہاں رہی جس ک میں بھی مجتمع ہوئے تو منافات سرے سے ہی اڑ گئی بناب قصر ہی غلط ہوگا۔ یا بہتر نہیں ٹھہرے گا۔ نعوذ باللہ منہ لہٰذا ا کرنا لازم ہے تو کہیے گا آیت اہل کتاب کی تردید کرت رفع میں منافات کا احتراز کرنا ہوگا۔ پس مسیح علیہ السلام ک دے گا کہ قصر القلب میں وصفین کے درمیان منافات ہ عربی کے قواعد کا عدم اور اس کے بخلاف ہونا لازم آ ہوسکتا۔ یا تو مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بجسدہ مرفوع ہو منحرف ہوگا پس اس سے جسے چاہے اختیار کرلے۔
دوسرا اعتراض : بہ کی ضمیر کا مشکوک فیہ القتل السلام کی جانب پھیرنے سے اولیٰ نہیں ہے۔ چنانچہ ی کے سلف خلف کے برخلاف ترجیح بلا مرجح بلکہ ضعیف ہے۔ لہٰذا آیت اس تقدیر پر یوں ہوں گے۔ کہ ہر ای ہونا حکمیہ ہے۔ ان کا مقتول ہونا یقینی نہیں ہے۔ ا حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے مسیح ہے۔ اور پھر اس کو مؤکد بھی کر دیا ہے۔ پس صراحت
ہیں۔ بے شک یہ منافات عام طور پر لیے جاتے ہیں خواہ قصر و حصر کسی معنی کے لیے یا نفس حصر کے واسطے شرط ہو نیز واقع میں منافات ہونا اعتقادی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ آیت کہ جس کا مضمون یہ ہے کہ انہوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خداوند تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے بطور قصر قلب کے فرمائے گئے ہیں سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب دعوے کرتے تھے کہ مسیح قتل کیے گئے ہیں۔ تو خداوند تعالیٰ نے ان سے ان کے گمان کو برعکس فرمایا کہ مسیح تو صرف مرفوع ہوئے ہیں قتل نہیں ہوئے ہیں۔ بظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کو وصف مرفوعیت میں قصر حصر کیا گیا ہے۔ مگر قلب اور عکس کے طور پر پس ضرور ہوا کہ قتل اور رفع میں منافات ہو لیکن یہ منافات تو جب ہی سے متصور ہے کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہوئے۔ کیونکہ رفع بجسدہ بداہتہ منافی قتل ہے مگر جب رفع سے رفع روحانی مراد لیں گے۔ جیسا کہ قادیانی کا بیان ہے۔ تو وہ قتل سے منافی نہیں ۔ کیا کہتے ہیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں قتل کیا جاتا ہے۔ تو اس کی روح مرفوع ہوتی ہے پس جب کہ قتل کی حالت میں رفع روحانی پایا گیا ہے۔ تو منافات کہاں رہی جس حالت میں یہ دونوں واقع ہیں بلکہ عقیدہ میں بھی مجتمع ہوئے تو منافات سرے سے ہی اڑ گئی بنا بر ایں آیت میں جو قصر طور پر فرمایا گیا ہے خود قصر ہی غلط ہوگا۔ یا عبث یقیناً ٹھہرے گا۔ نعوذ باللہ منہ لہٰذا قادیانی پر دو باتوں میں سے ایک کا التزام کرنا لازم ہے یا تو کہے گا آیت اہل کتاب کی تردید کرتی ہے۔ لیکن اس صورت میں قصر القلب قتل رفع میں منافات کا التزام کرنا ہوگا۔ پس مسیح علیہ السلام بجسدہ مرفوع ہونا ہی ماننا پڑے گا۔ یا یہ کہہ دے گا کہ قصر القلب میں وصفین کے درمیان منافات کا ہونا ضروری نہیں مگر اس صورت میں کلام عربی کے قواعد کا ہدم اور اس کے بخلاف ہونا لازم آئے گا مختصراً قادیانی کو اس سے گریز نہیں ہوسکتا۔ یا تو مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بجسدہ مرفوع ہونے پر ایمان لانا پڑے گا یا قواعد عربیت سے منحرف ہونا پڑے گا۔ پس ان میں سے جسے چاہے اختیار کر لے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ضمیر کو مشکوک فیہ القتل کی طرف راجع کرنے سے اس ضمیر کا خود مسیح علیہ السلام کی جانب پھیرنا اس سے اولیٰ نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ظاہر ہے۔ پھر مشکوک فیہ کو مرجع بنانا باوجود اس کے سلف خلف کے برخلاف ترجیح بلا مرجح بلکہ ضعیف کو ترجیح دینا ہے۔ یہ ترجیح پہلی ترجیح سے بدتر ہے۔ لہٰذا آیت اس تقدیر پر یوں ہوگی ۔ کہ ہر ایک کتابی ایمان رکھتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا قتل ہونا مشکوک فیہ ہے۔ ان کا مقتول ہونا یقینی نہیں ہے۔ چنانچہ قادیانی اس بات کو خود واضح کر رہا ہے حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو جملہ یقینیہ کے لباس میں بیان کیا ہے۔ اور پھر اس کو مؤکد بھی کر دیا ہے۔ پس صراحتہً اس پر دال ہے کہ وہ مسیح کے مقتول ہو جانے پر
١٤١
اذعان کر بیٹھے ہیں۔ آخر اسی واسطے تو خداوند تعالیٰ نے ان کی تردید کی کہ انہوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ اجی اگر ان کو مسیح کے قتل ہو جانے پر اذعان نہ ہوتا تو خداوند تعالیٰ اتنا ہی فرما دیتے کہ انہوں نے مسیح کو قتل نہیں کیا۔ اور یقیناً کے قید نہ بڑھاتے پس یہ کہنا کہ ان کو یقین و اذعان نہیں ہے۔ یہ صاف طور پر اس بات کا اقرار ہے کہ قرآن شریف میں یقیناً کی قید لغو ہے۔ نعوذ بالله منه ! اچھا صاحب اگر یہ دعوے کریں گے کہ اس آیت میں جو یقینی مذکور ہے وہ نفی قتل کی قید سے گویا یہ نفی قتل مقید پر وارد ہوئی ہے۔ پس یہ نفی جیسے کہ قید کے اٹھ جانے سے نفی ہو جاتی ہے۔ یہاں ایسا ہی ہے۔ کیونکہ یقینی قتل منفی ہے اس واسطے آیت کا معنی یوں ہوگا۔ کہ ان کا یقینی قتل نہیں پایا گیا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ باوجود ان لن ترانیوں کے یقیناً کی قید کا فائدہ مند ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ پھر بھی قادیانی کو اس کے لغو ہونے کا مقر ماننا پڑے گا۔ اولاً! کہ ان کی تردید کے لیے نفس قتل ہی کی نفی کافی ہے دوم! یہ بات اکثر قاعدہ سے مخالف ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ نفی جب مقید پر وارد ہوتی ہے تو وہ نفی صرف قید کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے علاوہ بران یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا ہے۔ کہ انہوں نے یہ جملہ انا قتلنا المسيح الخ جو اذعان سے کہہ دیا ہے جیسا کہ دوسرے ایک آیت میں بلا اذعان کہہ دینے پر دلیل موجود ہے۔ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں یا محمد کہ آپ بلاشبہ خداوند تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس دعوے کرنا کہ اہل کتاب نے باوجود یکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے عقیدہ کے خلاف کر دیا ہے کہ مسیح کو قتل کیا ہے۔ کیسے بلا دلیل قبولیت کے قابل ہے؟ البتہ اگر اس پر کوئی دلیل ہوتی۔ تو یقیناً کی قید کا لغو ہونا لازم نہ آتا مگر دلیل تو ندارد ہے۔ اس لیے قادیانی لغو ہونے کے الزام سے نہیں بچتے ہاں اس پر تو دلیل موجود ہے کہ وہ لوگ مسیح کے مقتول ہو جانے پر اذعان کر بیٹھے ہیں۔ دیکھو قرآن کی عبارت سے بھی شاہد عدل ہے دوم نصاریٰ اور فرقوں کو اسی بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کہ آؤ مسیح کے مقتول ہونے پر ایمان لاؤ اور یہ اس ہی گمان سے کہتے ہیں کہ مسیح امت کے گناہوں کے بدلہ قتل کیا گیا ہے۔ حال یہ ہے کہ یہ بات ان کی انجیل میں بھی لکھی ہوئی ہے گو تحریف کے طور پر بھی ہو لیکن وہ اس پر اس لیے اذعان کر بیٹھے ہیں کہ وہ انجیل کو بلا تحریف مانتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے پر اذعان نہیں رکھتے ہیں کیا صریح بہتان ہے باوجود اس روشن دلیل کے سب کی طرف شک کو منسوب کرنا کیونکر متصور ہے شاید ایسے لوگوں کو اس آیت سے جس کا مضمون یہ ہے کہ وہ لوگ مختلف ہوئے البتہ قتل کے بارہ میں شک میں ہیں۔ نہیں ان کو اس پر اذعان مگر ظن کی تابعداری کرتے ہیں۔ وہم پیدا ہو گیا ہوگا۔ سو واضح رہے کہ شک جو آیت میں مذکور ہے وہ ١٤٢
منطقیوں کے طور پر نہیں ہے۔ منطقی تو شک اس بلکہ شک سے آیت میں ضد علم مراد ہے جیسے حکم یقینی مطلوب ہے۔ پس اس لحاظ سے مسیح علیہ ا شک کنندہ اور متیقن ہوتے ہیں۔ منافات نہیں جو مختلف ہوئے البتہ قتل کے بارہ میں شک میں خلاف واقع ہے۔ گو وہ لوگ یہ حکم بزعم خود قط واقع نہیں علم و یقین نہیں ہے۔
بلکہ شک ہے کیونکہ یقین کے لیے کے تابعدار ہیں۔ یعنی اس خیال اور حکم کے تابعد ظن کا مآل اور مرجع ایک ہی ہوا اگر شک و ظن دونوں کا مصداق ایک نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے اور شک میں ان کے نزدیک مطلقاً رجحان ض میں کہیں بھی شک کا معنی برخلاف منطق کے موجود ہے دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان قرآن کے بارہ میں ریب یعنی انکار میں پڑ شک ہے ان کے انکار ان کے حکم پر بالجزم پر ہے۔ غرض کہ اعتراض مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ ہوتا لازم آئے گا یوں کہنا پڑے گا۔ کہ یہ آیت مسیح علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے۔ اسی ظاہر موجب موجود ہے پس جو لوگ پہلے کا الزام گے تو یہ نادانی ہے۔ تیسرا اعتراض یہ کہ توج کرتے ہو۔ یہ رجوع ہر گز متبادر نہیں ہے نیز قرآن شریف میں انتشار ضمائر ک ہے۔ چوتھی بحث کہ جب اس طرح پر ضمیر کا م علیہ السلام کی مقبولیت کے مشکوک ہونے پر بات ہے تو تصدیق کا شک ہے تعلق پکڑنا لاز
منطقیوں کے طور پر نہیں ہے۔ منطقی تو شک اس کو کہتے ہیں۔ جس کے دونوں جانب برابر ہوں۔ بلکہ شک سے آیت میں ضد علم مراد ہے جیسے حکم جازم مطابق واقع کہتے ہیں۔ مختصراً کہ شک سے ضد یقینی مطلوب ہے۔ پس اس لحاظ سے مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے کے بارے میں ان کے شک کنندہ اور متیقن ہوتے ہیں۔ منافات نہیں ہے بریں تقدیر آیت کا معنی یوں ہوگا۔ کہ وہ لوگ جو مختلف ہوئے البتہ قتل کے بارہ میں شک میں ہیں یعنی البتہ وہ ایسے خیال میں گرفتار ہیں کہ جو خلاف واقع ہے۔ گو وہ لوگ یہ حکم بزعم خود قطعاً و جزماً لگاتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ امر نفس الامر مطابق واقع نہیں علم و یقین نہیں ہے۔
بلکہ شک ہے کیونکہ یقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ مطابق واقع ہو پس بلاشبہ وہ ظن کے تابعدار ہیں۔ یعنی اس خیال اور حکم کے تابعدار ہیں جو واقع کے مطابق نہیں۔ اس لیے شک اور ظن کا مآل اور مرجع ایک ہی ہوا اگر شک و ظن کو منطقیوں کی اصطلاح کے موافق لیں گے۔ تو ان دونوں کا مصداق ایک نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے نزدیک ظن وہ خیال ہے۔ کہ طرف موافق قوی ہو اور شک میں ان کے نزدیک مطلقاً رجحان نہ چاہیے چنانچہ ظاہر ہے رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں کہیں بھی شک کا معنی برخلاف منطق کے لیا گیا ہے سو واضح ہو کہ قرآن شریف میں یہ بات موجود ہے دیکھو خداوند تعالیٰ فرماتا ہے۔ وانکنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا کہ اگر تم قرآن کے بارہ میں ریب یعنی انکار میں پڑ گئے ہو الخ اب دیکھو کہ اس آیت میں جو ریب بمعنی شک ہے ان کے انکار یا ان کے حکم پر بالجزم پر کہ یہ خدا کی کلام نہیں ہے بلکہ کسی بشر کی ہے سحر کہانت ہے۔ غرض کہ اعتراض مذکور کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پہلے ضمیر کو شک کی طرف پھیریں گے تو تاکید کا لغو ہونا لازم آئے گا یوں کہنا پڑے گا۔ کہ یہ آیت جس کا معنی یہ ہے کہ وہ اعتقاد کر بیٹھے ہیں۔ کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے۔ اسی ظاہری معنی پر محمول نہیں حالانکہ ظاہر پر محمول ہونے کا بھی موجب موجود ہے پس جو لوگ پہلے کا التزام کریں گے تو یہ کفر ہے۔ اگر دوسرے کو اختیار نہ کریں گے تو یہ نادانی ہے۔ تیسرا اعتراض یہ کہ توجیہ تکلف محض ہے کیونکہ نص کی طرف تم ضمیر کو راجع کرتے ہو۔ یہ رجوع ہر گز متبادر نہیں ہے نیز اس قسم کے ارجاع سے انتشار ضمائر لازم آتا ہے۔
قرآن شریف میں انتشار ضمائر کا قائل ہونا یہ تو بے عیب پر فصاحت قرآن کو بٹہ لگانا ہے۔ چوتھی بحث کہ جب اس طرح پر ضمیر کا مرجع مانا جائے تو آیت کا معنی یہ ہوگا۔ کہ اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی مقتولیت کے مشکوک ہونے پر تصدیق رکھتے ہیں۔ اور شک مشکوک فیہ چونکہ ایک سی بات ہے تو تصدیق کا شک سے تعلق پکڑنا لازم آتا ہے۔ یہ شک جو ایک قسم کا تصوری ہے۔ عام اس
١٣٤
سے کہ تصدیق علم یقینی جو مطلق ادراک و تصور کا قسم ہی مقصود ہو یا حالت کو بعد ادراک کے پیدا ہوتی ہے جیسے دانش کہتے ہیں۔ مطلوب ہو لیکن تصدیق کا بہر حال تصور معنی شک سے متعلق ہونا تصدیق محض تصور سے اگر لیں بہت فحش ہے۔ اس صورت سے کہ تصدیق کو بمعنی دانش لیں تو شک معلوم بن جائے گا اور تصدیق کو بہ نسبت شک کے علم قرار دینا پڑے گا۔ حالانکہ دلیل سے ثابت ہے کہ علم تصور و صورت علمیہ کے معنے سے معلوم کے ساتھ متحد ہوتا ہے۔ لہٰذا لازم آیا کہ تصدیق اور شک ایک ہی بات ہو۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ کیوں غلط نہ ہو کہ تصدیق و شک آپس میں غیریت رکھتے ہیں۔
پانچویں بحث کہ شک اصطلاحی جب ہی محقق ہوگا۔ کہ نسبت کے طرفین میں تردد یعنی یہ ایسا ہے یا ایسا لیکن دونوں میں سے کسی جانب کو ترجیح نہ ہو بلکہ طرفین کی تجویز برابر ہو پس قادیانی کی یہ تفسیر کہ اہل کتاب مشکوکیت قتل پر مسیح علیہ السلام کے طبعی مرنے سے پہلے ایمان رکھتے ہیں۔ اس طرف کو راجع ہوگی کہ اہل کتاب کا اس قسم کا شک بغیر اس کے کہ ان کو مسیح علیہ السلام کی موت طبعی پر یقین ہونا موجود تھا۔ کیونکہ تقدم کے لوازم سے ہے۔ کہ مابعد و مقدم پیدا ہونے کے زمانہ میں موجود نہ ہو۔ نیز جبکہ ایک شخص کی طبعی موت پر یقین ہو تو اس کے مقتول ہو جانے میں شک کا ہونا محالات سے ہے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے میں دو جانب ہیں ایک کو قتل نہیں ہوئے دوم کو قتل ہو گئے ہیں۔ اور نہ اس پر کہ وہ قتل نہیں ہوئے یقین ہو اور نیز اس پر جو عدم القتل میں مندرج ہے یقین نہ ہو لیکن یہ بات واضح ہے کہ طبعی موت عدم القتل میں مندرج ہے۔ ہاں یہ اندراج ایسا ہے کہ خاص و عام میں مندرج ہوتا ہے اس لیے عدم القتل جیسے کہ زندگی کو شامل ہے ویسے ہی طبعی موت کو شامل ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ جس صورت میں مسیح علیہ السلام کے قتل ہو جانے میں شک ہو۔ تو آپ کی طبعی موت پر یقین نہ ہو۔ اور یہ بالکل بدیہی ہے۔ کیونکہ شک کے لیے جانبین کی تجویز کا برابر ہونا ضروری ہے اور بتقدیر ایک جانب پر یعنی عدم القتل پر یقین کرنا محال ہے۔ چنانچہ کسی ذی فہم پر بھی مخفی نہیں ہے بنا بر آں اگر آیت سے وہی مراد ہے۔ جو قادیانی سمجھتے ہیں تو کہیے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے کیا فائدہ ہوا اس خبر پر کون سے فوائد مرتب ہوئے علاوہ بر ایں اگر اس آیت کو قادیانی کی ہی مراد پر محمول کریں تو اس سے لازم آئے گا کہ اس آیت نے شک کی ماہیت کے بعض اجزا بیان کیے ہیں۔ لیکن یہ اس بات کا دعویٰ ہے کہ قرآن نے وہ معانی بیان کیے ہیں جو قوم کے مصطلح ہیں۔ پس اس صورت میں لازم آئے گا۔ کہ قرآن بھی کافیہ شافیہ تہذیب کی مانند ایک کتاب ہے۔ حالانکہ اس امر کا کوئی عقلمند قائل نہیں ہے۔
دوسری توجیہ سو اس پر بھی پانچویں بحث کے سوا سب ابحاث و خدشہ وارد ہوتے ہیں۔
١٤٤
البتہ اس دوسری توجیہ پر خلاصۂ یہ بحث وارد حصر کر دینا پھر خاص صفت ان کے واسطے موصوفہ اسی صفت میں منحصر ہو جائیں۔ اس صفت ملحوظ نہ ہو۔ مقدر ہی ہو بعد ازاں کو کرنا اس کو چاہتا ہے۔ کہ وہ موصوف اس صفت کا نام حصر اضافی ہے۔ لیکن یہ دونوں موصوف صفت کا موصوف میں بطور انحصار حقیقی کے ہے۔ صفت کا موصوف میں بطور انحصار او موصوف میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اس کے ہے اور بعض میں نہیں پس چونکہ بعض ہی کی ہو پر ظاہر ہے کہ جس میں کوئی چیز منحصر ہو ہے۔ اب دیکھیے کہ آیت (جس کا مضمون ہ ایمان لائے گا) میں اہل کتاب صفت ایما طرف نسبت کر کے ہے نہ اور اوصاف کے مسلوب ہونا اسی کے لیے صفت الایمان کا ہے۔ یہ انحصار اضافی ہے کیونکہ اہل کتاب صفت محض کی طرف نسبت کر کے اوصاف ایمان میں نہ کفر میں منحصر ہوں گے اور صف وصف کفر مقدر ہے۔ مسلوب کر دیا گیا اس گئے کہ تمام اہل کتاب صفت ایمان میں منحص صادق آنا چاہیے۔ جیسا کہ کہہ دیں کہ ہر ایک محصورہ کلیہ بنا جب کہ ہم آیت مذکور سے وہ معنی ہوگا۔ کہ سب اہل کتاب حضرت مسیح ع ایمان لائیں گے حالانکہ یہ معنی مردود ہے۔ کا ماضی پر محمول کرنا لازم آتا ہے۔ اس ل چاہتا ہے۔ مگر اور طرز پر جو اعتراض وارد ہ
البتہ اس دوسری توجیہ پر خلاصہ یہ بحث وارد ہے وہ یوں ہے کہ تمام اوصاف سلب کسی شے کی ہر فرد سے کر دینا پھر خاص صفت ان کے واسطے ثابت کرنا جیسا کہ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ افراد موصوفہ اسی صفت میں منحصر ہو جائیں۔ اسی طرح پر ان افراد سے خاص صفت کا سلب کر دینا خواہ وہ صفت ملحوظ نہ ہو۔ مقدر ہی ہو بعد ازاں کوئی ایسی صفت جو مسلوب سے منافی ہو ان افراد کو ثابت کرنا اس کو چاہتا ہے۔ کہ وہ موصوف اس مسلوب کے منافی میں منحصر ہو پہلے کا نام حصر حقیقی دوسرے کا نام حصر اضافی ہے۔ لیکن یہ دونوں موصوف کی صفت میں منحصر ہونے کے لیے دو قسم ہیں۔ اول صفت کا موصوف میں بطور انحصار حقیقی کے ہو۔ اس واسطے کہ وہ صفت صرف اسی موصوف میں متحقق ہے۔ دوم صفت کا موصوف میں بطور انحصار اضافی کے منحصر ہونا سو اس لیے ہے کہ وہ صفت تو اس موصوف میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اس کے کل اغیار سے منفک نہیں ہوتی بلکہ بعض میں پائی جاتی ہے اور بعض میں نہیں پس چونکہ بعض ہی کی طرف نسبت کر کے منحصر ہے تو یہ حصر اضافی اور نسبتی ہوا اور ظاہر ہے کہ جس میں کوئی چیز منحصر ہو۔ وہ اس پر خارج میں کلیتہ منحصر ہے۔ کلی طور پر صادق آتا ہے۔ اب دیکھیے کہ آیت ( جس کا مضمون یہ ہے کہ نہیں ہے کوئی ایک بھی اہل کتاب میں سے مگر وہ ایمان لائے گا) میں اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر کر دیے گئے ہیں۔ لیکن یہ انحصار صفت کفر کی طرف نسبت کر کے ہے نہ اور اوصاف کے لحاظ سے پس سلب صفت الکفر کا تمام اہل کتاب سے مسلوب ہونا اسی کے لیے صفت الایمان کا ثابت ہونا ہے۔ تو غرض اس سے صاف طور پر واضح ہو گیا ہے۔ یہ انحصار اضافی ہے کیونکہ اہل کتاب جو صفت ایمان میں منحصر کر دیے ہیں۔ تو صرف ایک صفت محض کی طرف نسبت کر کے نہ اور اوصاف کے لحاظ سے لہذا مفاد الآیۃ یوں ہوا کہ سب اہل کتاب صفت ایمان میں نہ کفر میں منحصر ہوں گے اور صفات ان میں پائی جائیں یا نہ پس سب اہل کتاب سے وصف کفر مقدر ہی مسلوب کر دیا گیا اس کا منافی یعنی ایمان سب کو ثابت کر دیا گیا۔ جب یہ سمجھ گئے کہ تمام اہل کتاب صفت ایمان میں منحصر ہوں گے تو لازم آئے گا کہ صفت ایمان تمام کتابیوں پر صادق آنا چاہیے۔ جیسا کہ کہہ دیں کہ ہر ایک کتابی اس پر ایمان لائے گا۔ اس لیے یہ قضیہ موجبہ محصورہ کلیہ بنا جب کہ ہم آیت مذکور سے وہ مراد رکھ لیں جو قادیانی بیان کرتے ہیں تو اس تقدیر کا یہ معنی ہو گا۔ کہ سب اہل کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کی مشکوکیت پر اس کے مرنے سے پہلے ایمان لائیں گے حالانکہ یہ معنی مردود ہے۔ گو ہم اس سے قطع نظر کریں۔ کہ اس طرز پر صیغہ مضارع کا ماضی پر محول کرنا لازم آتا ہے۔ اس سے بھی اغماض کریں۔ کہ نون تاکید ثقیلہ معنی استقبال کو چاہتا ہے۔ مگر اس طرز پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے۔ وہ بالتصریح بیان کریں گے وہ یہ ہے کہ یہ حکم
١٤٥
خاص ایسا ہے بعض اہل کتاب کے لیے ہے جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ اور آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے۔ لیکن یہ تو قاعدہ مذکورہ مسلمہ سے مخالف ہے کیونکہ قاعدہ سے لازم آیا تھا۔ کہ یہ حکم کل کتابیوں کے واسطے ہے۔ نہ بعض کے واسطے، یا یہ کہو گے کہ یہ عالم اہل کتاب کے لیے ہے یعنی جو آپ کے زمانہ میں آپ کی مرفوعیت سے پہلے موجود تھے اور وہ جو اس کے بعد قیامت تک موجود ہوتے جائیں گے مگر اس سے تو پھر اور ہی محال لازم آئے گا۔ اس لیے کہ اب یہ تجویز کرنا پڑے گا۔ کہ ایک چیز جو موجود نہیں اور موجود ہونے کی حالت میں موجود ہو۔ اجی جب آپ مسیح علیہ السلام کے مرجانے کے قائل ہیں۔
اور ہر آیت کے معنے یہ ہوئے کہ مسیح علیہ السلام کے مرجانے سے پہلے ہی تمام کتابی ایمان لا چکے ہیں۔ تو صاف لازم آیا کہ جو اس زمانہ میں موجود نہیں ہے موجود ہو آخر جب سب کے لیے موت مسیح سے پہلی ہی صفت الایمان ثابت کیا گیا تو اس صفت کا موصوف ہے۔ تب ہی موجود ہونا چاہیے اور نہ لازم آئے گا۔ کہ صفت بغیر موصوف کے تحصیل ہو۔ یہ تجویز گویا اجماع النقیض کو جائز کر دیتا ہے۔ نیز اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہاں مصدر کو بلا موجب ماضی پر محمول کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ تاویل ہے۔ صاحبان فہم کے ناپسند ہی رہے۔ یہ بات کہ مستدل دو معنوں کو اپنے منہ سے اچھا کہنا ہے۔ اور دونوں کو اپنے منہ سے کشوف سے مؤید کرنا ہے سو واضح رہے۔ کہ بالضرور دو معنوں میں سے ایک تو بالکل باطل ہے۔ سبب یہ ہے کہ دوسری توجیہ اور معنے میں زیادہ نصوص کا ہی احتمال ہے۔ کیونکہ اگر عموم لیا جائے تو اجتماع النقیضین لازم آتا ہے۔ چنانچہ گزرا پہلی توجیہ میں خالی عموم ہی ہے۔ اور ظاہری عموم و خصوص یہ دونوں آپس میں متعارض ہیں۔ پس اگر پہلی توجیہ کو تسلیم کریں گے تو بالضرور دوسری ندارد ہے اگر دوسرے کو مان لیں گے تو دوسرا بذریعہ شیطانی ہوگا۔ اس لیے کہ اگر دونوں الہام اللہ سے ہوتے۔ تو ان میں تخالف نہ ہونا چاہیے تھا۔ لہٰذا حق یہی ہے کہ یہ دونوں ہی رحمانی نہیں ہیں۔ ورنہ کیوں ان دونوں پر شرعیہ اور عقلیہ اعتراضات مسلمہ قاطعہ وارد ہوتے لا محالہ ایسے مدعیوں کے خصائل سے یہ بات ہے کہ اگر ان کے مقابلہ پر قرآن پیش کرتے ہیں۔ تو انجیل طلب کرتے ہیں جب انجیل سامنے رکھتے ہیں۔ تو قرآن طلب کرتے ہیں۔ جب دونوں پیش کی جائیں تو عقل کے طالب ہوتے ہیں۔ پھر دلیل عقل اگر پیش کی جائے تو کشف لے بیٹھتے ہیں۔ تو پھر جب اس کشف پر دلیل طلب کی جاتی ہے۔ تو سرنگوں متحیر رہ جاتے ہیں۔
ہاں ہم اب یہ بیان کریں گے۔ کہ جس طرح پر کہ ہم اور سلف وخلف آیت (انا قتلنا المسیح
١٤٦
الخ) ہی سمجھتے ہیں۔ اس طرز پر اعتراضات ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ ہم مسیح علیہ السلام نے ان کی تردید فرمائی کہ انہوں نے مسیح کو جانے پر ان کو یقین کر بیٹھنا منصور ہے۔ اس کے مطابق ہو۔ کیا ہو سکتا ہے کہ واقع کے خلا قتل کے بارہ میں متقین ہیں باوجود یکہ در ا کیونکہ جہل مرکب کا معنی یہی ہے۔ کہ خلا شک میں مبتلا ہیں یعنی ایسے حکم میں وہ خلا مرکب کے تابعدار ہیں وجہ یہ ہے کہ انہوں ہے ایسا اس واسطے ہے کہ یقیناً نفی امام کی مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ اٹھا لی یعنی رفع روحی کیونکہ رفع روحانی واقع اور ا عزیزاً حکیماً) خداوند تعالیٰ کو مسیح کے جسد م والا ہے۔ رفع کے کام میں نہیں کوئی ایک غ سے مقر کہ مسیح پر ایمان لائیں گے ان کے مر جیسا کہ حالت حیات میں یا نافع نہ ہو۔ یہ میں نہیں وہ اس سے عام ہے کہ مسیح کے اتر میں غور کرو۔ کہ اس میں بہر حال ایمان ک نون ثقیلہ جو مدخول کے استقبال پر بال اعتراضات سابقہ میں سے کوئی اعتراض ہم نے بیان کیا ہے۔ اسی کو صحیح کہنا زیبا ۔ مارنا چاہیے یہی معنی تمام اشکالات کے د لائے گا۔ گو کوئی بے انصاف اور بے علم تجھ
- ☆ شاید کوئی کہہ دے گا کہ
ضروری اس موقع پر ہے کہ جب عامل متوفی ہے اس میں زمانہ معتبر ہے کیونکہ
الخ) ہی سمجھتے ہیں۔ اس طرز پر اعتراضات مذکورہ میں سے ایک اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا۔ وہ یوں ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ ہم مسیح علیہ السلام کے مقتول ہو جانے پر یقین رکھتے ہیں۔ سو اللہ عزوجل نے ان کی تردید فرمائی کہ انہوں نے مسیح کو نہ قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ پس کیونکر مسیح کے قتل ہو جانے پر ان کو یقین کر بیٹھنا متصور ہے۔ اس لیے کہ علم یقینی کے علم کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ واقع کے مطابق ہو۔ کیا ہو سکتا ہے کہ واقع کے مخالف ہو اور پھر بھی یقینی ہو ہرگز نہیں لہٰذا اس کا یہ دعویٰ کہ ہم قتل کے بارہ میں متیقن ہیں باوجودیکہ دراصل ان کو یقین حاصل نہیں ہے۔ بلاشبہ جہل مرکب ہے۔ کیونکہ جہل مرکب کا معنی یہی ہے کہ خلاف واقع ایک حکم لگایا جائے۔ پس وہ اس کے بارہ میں شک میں مبتلا ہیں یعنی ایسے حکم میں جو خلاف واقع ہے۔ نہیں ان کو یقین حاصل بلکہ ظن اور جہل مرکب کے تابعدار ہیں وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا یعنی قتل کا نہ پایا جانا یقینی ہے ایسا اس واسطے ہے کہ یقیناً نفی اعم کی قید ہی نہ منفی (قتلوہ) کے اصل قضیہ بلکہ خداوند عزاسمہ نے مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ اٹھا لینا کہ (بجسدہ) منافی قتل ہو۔ نہ وہ کہ اس کا منافی نہیں۔ یعنی رفع روحی کیونکر رفع روحانی واقع اور اعتقاد مخاطب میں قتل کے ساتھ مجتمع ہوتا ہے۔ (وکان اللہ عزیزاً حکیما) خداوند تعالیٰ کو مسیح کے بجسدہ مرفوع کرنے سے کوئی چیز عاجز نہیں (حکیما) خدا حکمت والا ہے۔ رفع کے کام میں نہیں کوئی ایک بھی (من اھل الکتاب الا لیؤمنن) اہل کتاب میں سے مگر کہ مسیح پر ایمان لائیں گے ان کے مرجانے سے پہلے ہی خواہ وہ ایمان ان کے لیے نافع ہی ہو جیسا کہ حالت حیات میں یا نافع نہ ہو جیسا کہ مرگ کی حالت میں اور یہ ایمان کہ جو مرگ کی حالت میں نہیں وہ اس سے عام ہے کہ مسیح کے اترنے سے پہلے ہو یا ان کے اترنے کے بعد ہو پس اس معنی میں غور کرو۔ کہ اس میں بہر حال ایمان کی حفاظت ہی دیکھو ایک صیغہ مضارع اپنے ہی معنے پر رہا نون ثقیلہ جو مدخول کے استقبال پر بالاجماع دلالت کرتا ہے اپنے ہی طور پر رہا اس معنی پر اعتراضات سابقہ میں سے کوئی اعتراض بھی وارد نہیں ہوتا کما ھو الظاھر بالتامل الفارق لہٰذا جو معنے ہم نے بیان کیا ہے۔ اسی کو صحیح کہنا زیبا ہے۔ اور اس کے خلاف الہامات و کشف کو کلہاڑوں پر دھر مارنا چاہیے یہی معنی تمام اشکالات کے دور کرنے کے لیے کافی اس پر بالضرور منصف مزاج ایمان لائے گا۔ گو کوئی بے انصاف اور بے علم جھگڑالو اس سے انحراف کرے۔
- ٭ شاید کوئی کہہ دے گا کہ اسم فاعل میں زمانہ ضروری ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ
ضروری اس موقع پر ہے کہ جب عامل ہو یہ مطلقاً یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آیت انی متوفیک میں جو متوفی ہے اس میں زمانہ معتبر ہے کیونکہ یہاں پر عامل ہو اس لیے متوفی کاف خطاب کے مضاف
١٤٧
ہے اور فاعل محلاً مجرور ہے نہ متوفی کا مفعول ہے۔ وضع کا معنے یہ ہے کہ ایک لفظ مانے کو کسی مفہوم کے واسطے معین کر دیا رہا یہ کہ شخصی کیا ہوا اور نوعی کیا سو واضح ہو کہ شخصی میں وضع اور موضوع لہ دونوں خاص ہوتے ہیں۔ جیسا کہ زید کا لفظ ذات زید کے لیے موضوع ہے۔ اب اس میں وضع اور موضوع لہ دونوں خاص ہیں پس یہ وضع شخصی ہوگا اور اینٹ کی دیوار میں داخل ہونا ابھی اسی شخص کے ذریعہ ہو کیونکہ وہ دیوار میں جز کی طرح داخل ہے اور وہ دیوار موضوع لہ بوضع شخصی ہے وضع نوعی وہ ہے جو مصنف نے خود فرما دیا۔
- ٭ عموم مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے ایک معنی مراد لیا جائے کہ وہ حقیقی و مجازی کو
شامل ہو جیسا کہ حضرت مصنف تقدس مآب نے فرمایا ہے کہ واقعاً مقارن ہو یا نہ ہو۔ جہاں پر مقارن ہوگا وہ حقیقی اور جہاں پر مقارن نہیں ہوگا وہ مجازی کہلائے گا۔ تو عموم کا معنی ہے۔
- ٭ دیکھو توفی مشتق ہے اس کا اصل ماخذ وفا ہے۔ اور توفی اپنے معنے پر بوضع شخصی دال ہے
جیسا کہ کہیں کہ یہ لفظ جو تفعّل کے وزن پر ہو۔ وہ تین چیزوں کے مجموعہ پر دال ہو گا۔ ایک ماخذ دوم بات کا اقتضاء سوم نسبت الی الفاعل ظاہر ہے۔ کہ توفی کا بھی مجموعہ ہے۔ تفعّل کے وزن پر ہے۔
- ٣ قادیانی کا استدلال یہ بھی ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہوں اور وہی پھر
اتریں گے تو یا تو نزول کے وقت وصف رسالت سے معزول ہوں گے۔ حالانکہ یہ ان کی تحقیر و ہتک ہے یا اس وصف کے ساتھ موصوف ہوتے ہی اتریں گے۔ جیسے کہ رفع سے پیشتر رسول تھے۔ لیکن قرآن میں ہمارے سید مولا حضرت رسول اکرم کی شان میں فرمایا گیا ہے کہ نہیں ہیں آنحضرت ہمارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ لیکن وہ خدا کے رسول ہیں پیغمبروں کے خاتم ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی از سر نو مبعوث نہیں ہو گا چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا پس جبکہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں تو مسیح علیہ السلام نبوت کی حالت میں کیسے نازل ہو سکتے ہیں۔ پس یہ عقیدہ کہ مسیح نبی ہی ہوتے ہوئے اتریں گے صاف طور سے اس آیت سے مخالف ہے۔
الجواب پہلے ہم اجمالاً تحقیق کریں گے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کے بعد جتنے پیغمبر تھے۔ وہ تمام عالم برزخ میں رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد وصف نبوت سے موصوف تھے یا عالم آخرت میں موصوف ہوں گے یا نہ اگر کہہ دیں کہ معزول ہیں یا ہوں گے تو صاف پیغمبروں کا ہتک ہے اور نہ یہ ان کی عالیشان سے مناسب ہے بھلا یہ کیونکر ہو۔ کتب عقائد میں یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے۔ کہ انبیاء علیہم السلام بعد الانتقال ہرگز اپنے مناصب سے معزول
١٤٨
نہیں ہوتے بلکہ بعض نے صراحۃً لکھا ہے کہ جو شخص ماننا پڑے گا۔ کہ وہ دونوں عالم میں وصف رسالت مگر یہ بات قادیانی کی طرز پر ثابت بـ ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے بـ نہیں ہونی چاہیے پس وہ پیغمبر عالم برزخ میں رسا کیوں نہیں عالم آخرت میں ان سے عہدہ رسالت کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد ہی ہے۔ پھر سے جواب ہے ثانیاً ہم تفصیلی نقض پیش کریں گے آسمان پر مستقر ہیں اور جس زمانہ میں اتریں گے ا میں بالضرور رسالت و نبوت کے ساتھ موصوف (جس کا مضمون مختصر یہ ہے کہ آنحضرت خاتم الانبیاء آنحضرت ﷺ مبعثاً آخر الانبیاء ہیں۔ بایں معنی کـ گئے ہیں۔ نبوت عنایت کیے گئے اور بوجہ بقاء نبوت النبیین ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اور پیغمبروں سے پیـ متاخر ہوئے۔ ان پیغمبروں کی رسالت و نبوت ا چیزوں کے بقاء میں حجت ایک کی بحجت دوسری معمار بناتا ہے اس لیے کہ عمارت معمار کے موجود ہونے کے بعد موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا عمارت معمار بـ
- ٤ دیکھو آیت وعد الله الذین آ
في الارض كما استخلف الذين من قبلـ
- ٥ اس کا ثبوت خود ان (مرزا صاحب
کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٨٥ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح جو تیر ہویں صدی کے ا تاریخ ہم نے ازل میں مقرر کر کے رکھی تھی۔ اور و پورے تیرہ سو ہیں‘ (اور عبارت ص ٢٩٢ بخزائن اس وقت یہودیوں میں آیا جب تورات کا مغزا
نہیں ہوتے بلکہ بعض نے صراحۃً لکھا ہے کہ جو شخص اس عزل کا قائل ہوگا وہ کافر ہے۔ اس لیے ماننا پڑے گا۔ کہ وہ دونوں عالم میں وصف رسالت ونبوت کے ساتھ موصوف ہوتے ہیں۔
مگر یہ بات قادیانی کی طرز پر آیت سے مخالف ہے کیونکہ ان کے نزدیک آیت سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد کسی نبی کو نبوت ورسالت کی صفت ثابت نہیں ہونی چاہیے پس وہ پیغمبر عالم برزخ میں رسالت ونبوت سے کیسے موصوف ہو سکتے ہیں۔ اور کیوں نہیں عالم آخرت میں ان سے عہدہ رسالت ونبوت کا چھینا گیا ہوگا۔ آخر وہ وقت ہے تو رسول کریم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد ہی ہے۔ پس جو کچھ قادیانی جواب دے گا۔ وہی ہماری طرف سے جواب ہے ثانیاً ہم تفصیلی نقض پیش کریں گے۔ وہ یوں ہے کہ مسیح علیہ السلام جس وقت کہ وہ آسمان پر مستقر ہیں اور جس زمانہ میں اتریں گے اسی طرح پر باقی انبیاء عالم برزخ میں اور آخرت میں بالضرور رسالت و نبوت کے ساتھ موصوف ہیں اور ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ عقیدہ آیت (جس کا مضمون مختصر یہ ہے کہ آنحضرت خاتم الانبیاء ہیں) اس سے مخالف ہے سو ایسا نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ بعثاً آخرالانبیاء ہیں۔ بایں معنے کہ نہ بعد ازاں کسی باقی انبیاء علیہم السلام کو نبوت دیے گئے ہیں۔ نہ نبوت عنایت کیے گئے اور آپ بقاء نبوت میں ان سے متاخر نہیں ہیں۔ یعنی آپ کے خاتم النبیین ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اور پیغمبروں سے پیغمبری چھین گئی آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ایسے متاخر ہونے سے ان پیغمبروں کی رسالت ونبوت باقی رہنے میں کچھ منافات نہیں ہے۔ کیونکہ دو چیزوں کے بقاء میں معیت ایک کی بعدیت دوسری کی حدوثاً اولیت مغائر نہیں ہے۔ دیکھو عمارت اور معمار بیٹا باپ اس لیے کہ عمارت معمار کے موجود ہونے کے بعد موجود ہوتی ہے بیٹا باپ کے موجود ہونے کے بعد موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا عمارت معمار بیٹا باپ بقا میں معیت رکھتے ہیں۔
- ٤ دیکھو آیت وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم
في الارض كما استخلف الذين من قبلهم
- ٥ اس کا ثبوت خود ان (مرزا صاحب) کے سوا کسی کو معلوم نہیں اس واسطے ان کی تحریر
کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠) ”مجھے کشفی طور پر توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر کے رکھی تھی۔ اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں“ (اور عبارت ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤ ازالہ اس کے خلاف ہے) ”مسیح اس وقت یہودیوں میں آیا جب تورات کا مغز اور بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا تھا۔ اور
١٤٩
وہ زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد تھا۔ کہ مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا تھا۔ (ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤) پر یہی اقرار ہے۔ بلکہ قرآن شریف کا حوالہ بھی دیا ہے۔ کہ قرآن شریف نے مسیح کے نکلنے کے چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔ (عربی قرآن میں تو نہیں کہیں اس قرآن میں تو نہیں جس میں قادیان کا نام ہے؟)
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں دنیا کی پیدائش سے الف ششم یعنی چھٹے ہزار میں آیا ہوں چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اس وقت مثل مسیح کی سخت ضرورت تھی اور ہزاروں ملائکہ جو زندہ کرنے کے لیے اترا کرتے ہیں حاجت تھی اور حضرت آدم کی پیدائش کے حساب سے الف ششم کا آخری حصہ آ گیا سو ضرور تھا کہ اس چھٹے (الف میں) آدم پیدا ہوتا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس عاجز مثیل مسیح اور نیز آدم الف ششم کر کے بھیجا“ ملخصاً ازالہ ١٥٥ ایضاً ١٦٢ اس کی نقیض اس کا خلاف ہے۔ سنیے پہلے اپنی رسالت اور نبوت اور تشریف آوری کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”طاعون جو ملک میں پھیلا ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک سبب سے ہے وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے۔ جو تمام نبیوں کی پیشگوئیوں کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)
اگر کسی کو شبہ ہو کہ چھٹے ہزار اخیر اور ساتویں کے شروع میں مرزا جی تشریف لائے ہوں گے اس لیے دونوں ہزاروں کو شمار میں لے لیا تو ایسے صاحبوں کے سمجھانے کو بھی مرزا صاحب کی عبارات موجود ہیں۔ (ازالہ ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩) پر لکھتے ہیں کہ ”دنیا کی عمر آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت ٤٧٥٣ تھے۔“ اور پھر (ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) کی عبارت جو اوپر درج ہوئی۔ کہ میں پورے تیرہ سو برس بعد آنحضرت کے آیا۔ اب دونوں عبارتوں کے ملانے سے ٤٧٥٣+١٣٠٠=٦٠٥٣ مرزا صاحب کی بعثت کے ٦٠٥٣ ہوتے ہیں۔ ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ٢٣ جون و یکم جولائی ١٨٩٩ء ملخصاً
باب ٢٥ بست و پنجم
شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین سے اڑنگا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
خوب ایک عرصہ سے یہ شعر حل طلب تھا۔ لوگوں نے بڑے بڑے زور لگائے طبع
١٥٠
آزمائی کی، طبیعت کے جوہر دکھائے مگر دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ دراصل نواب اسد اللہ خان غالب کی پیشگوئی تھی۔
کہ پورانیست بادنجان و بادنجان بورانی
اگر مرزا غالب مرحوم آج زندہ ہوتے تو کیا وہ دعویٰ نبوت کے مستحق نہ ہوتے۔ جنہوں نے تیس سال پہلے یہ پیشگوئی کی اور آئینہ کی طرح صفائی سے ظاہر ہوئی۔ جس میں مخالف اور موافق کسی کو کلام نہیں آج دہلی کے کوچہ و بازار کیا ہر در و دیوار پر اشتہار چسپاں ہیں۔ اور ہر ایک کی پیشانی بقلم جلی بنام نامی اسم گرامی مرزا غلام احمد قادیانی سے مزین ہے کوئی مرزا غلام صاحب قادیانی کی طرف سے اور کوئی بہ جواب اشتہار مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہیں۔ گو بازار کے دیوار و در کاغذی پیرہن سے ملبوس ہے مرزا غالب کے اس شعر کے معنے آج حل ہوئے۔
ایک مختصر سا کمرہ ہے نہایت آراستہ ہے مگر سادگی کے ساتھ اس میں ایک بزرگ فرشتہ خصلت ملائک سیرت متبرک صورت نورانی چہرہ سو سوا سو برس کا سن شریف ضعیف و ناتواں مگر اظہار حق رشد و ہدایت کے واسطے بایں چوبند گویا کمربستہ ہیں۔ قال اللہ و قال الرسول کے سوا گفتگو نہیں قرآن و حدیث کے شیدا دنیا وما فیہا کی کوئی آرزو نہیں علماء و فضلاء کا مجمع رؤساء و امراء کا جرگہ گرد زیب مجلس ہے مگر سب مؤدب سر جھکائے قالب بے جان کی طرح تصویر کی صورت بنائے خاموش بیٹھے ہیں۔ محفل میں سکوت کا عالم ہے بزرگ کے ہاتھ میں کاغذ ہے جس پر دستخط خاص کچھ ارقام فرماتے ہیں ضعف پیری کے باعث قلم قابو میں نہیں ہاتھ کہا نہیں مانتے مگر با ایں ہمہ لکھنے میں مصروف ہیں کچھ دیر بعد سر مبارک اٹھایا اور فرمایا لیجیے یہ رقعہ لکھ دیا ہے۔
حاضرین جلسہ ...... نے سر گریبان تفکر سے اٹھا ہمہ تن گوش ہو کر : ارشاد
مولانا صاحب ...... یعنی بزرگ بہ آواز بلند یہ لکھ دیا ہے۔ بمطالعہ گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔
راوی ...... خوب یہاں بھی مرزا صاحب قادیانی موجود ہیں۔
مولانا صاحب ...... بعد سلام مسنون مدعا یہ ہے کہ آپ کے رسائل سے آپ کی ادعائے نا مشروع شائع و ذائع ہو چکے تھے۔ کہ پرسوں ایک اشتہار جس کے اوائل میں تجدید ایمان و انابت ظاہر کی ہے۔ اور آخر میں اپنے خیالات فاسدہ اور توہمات باطلہ مندرج ہیں۔ نظر سے گزرا چونکہ آپ کو خود ان عقائد و خیالات اپنے کی نسبت رفع شکوک کا ادعا ہے۔ اور آپ نے اس عاجز سے بھی رفع شبہ کی استدعا کی ہے لہٰذا میں بذریعہ رقعہ ہٰذا آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ نے تکلف
١٥١
میرے غریب خانہ پر آکر حسب شرائط مقررہ خود سوائے موجودگی ایک انگریز کے میرے اختیار میں نہیں اور نہ احقاق حق میں اس کی ضرورت ہے۔ اپنا شک و شبہ رفع کر لیں۔ کسی نوع کا خیال دل میں نہ لائیں اگر یہاں آنے میں آپ کو کچھ عذر ہو۔ تو آج سے چوبیس (٢٤) گھنٹہ کے اندر اطلاع فرمائیں۔ تا کہ یہ عاجز اپنے تعلیم دادہ اشخاص میں سے ایسے شخص کو آپ کے پاس بھیج دے کہ اس سے انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے سب طرح کے شکوک رفع ہو جائیں گے۔ محمد نذیر حسین یکم ربیع الاول ١٣٠٩ھ مجری المقدس
ہمارے ناظرین اب تو خوب سمجھ گئے ہوں گے حضرت فرشتہ صورت کون بزرگوار ہیں۔ جناب فیض مآب محدث دہلوی سیدنا مولانا استاد عرب و عجم شمس العلماء حضرت شیخ الکل ہیں۔ مولانا صاحب....... حاضرین جلسہ کی طرف خطاب کر کے۔ اب کون صاحب اس کو لے جائیں گے۔ حاضرین....... جس کو ارشاد ہو۔
غرض جناب نواب سعید الدین احمد خان صاحب خلف الصدق جناب نواب ضیاء الدین احمد خان صاحب رئیس لوہارو۔ اور جناب حکیم عبدالمجید خان صاحب خلف الصدق حکیم محمود خان صاحب۔ اور مولوی محمد عبدالمجید صاحب واعظ اور جناب حاجی محمد احمد صاحب خلف حاجی عبد العزیز صاحب سوداگر اس کار کے واسطے بمشورہ حاضرین جلسہ منتخب ہوئے اور جس مکان پر مرزا قادیانی فروکش تھے۔ یہ اصحاب اربعہ پہنچے۔ اور بعد اطلاع باریاب ہوئے۔
اسلام علیکم !
مرزا قادیانی....... وعلیکم السلام آئیے حضرات مزاج شریف۔
مولوی عبدالمجید صاحب....... مولانا صاحب (یعنی شمس العلماء حضرت شیخ الکل صاحب) نے یہ رقعہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔
مرزا قادیانی....... تحیر اور پریشان خاطر سے کچھ سکوت کے بعد نامہ لیا پڑھا اور پھر الٹ پلٹ کر دیکھا اور پڑھا پھر ایک آہ سرد کھینچ کر نہیں صاحب یہ امر مجھ کو منظور نہیں۔ کہ امن قائم رکھنے کے لیے کوئی افسر انگریز جلسہ میں نہ ہو۔
نواب صاحب....... مرزا قادیانی بحث اصلاح حال اور صیانت عن الضلال کے لیے ہوتی ہے۔ خدا نخواستہ کسی سے کسی کی عداوت نہیں تاہم اس امر کے ذمہ دار ہم ہیں۔ اور آپ کو تحریری تسلی اور مہری اپنی دیئے دیتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو کسی نوع کا گزند نہ پہنچے گا۔
مرزا قادیانی....... نہیں صاحب یہ ہرگز نہیں۔
١٥٢
راوی....... کیونکر راضی ہوتے ان کو یہ امر معلوم تھا بہادر ڈپٹی کمشنر ہیں اور یہ وہی صاحب ہیں جنہوں وہ یہاں دہلی جیسے بڑے شہر میں کب اجازت دیں واقف ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس اصرار کا یہی اسر جان بچی لاکھوں پائے۔
مرزا قادیانی....... لوگ مجھے ناحق بدنام کرتے ہیں میں جانتا ہوں کہ آپ کی وفات ہو گئی ایسے اختلاف ہیں مگر کوئی کسی سے نہ جھگڑتا تھا مجھ سے کیوں لوگوں ک اور ولایت کا سلسلہ قیامت تک جاری
مولوی صاحب....... مرزا صاحب اگر آپ کو دعویٰ و ایک ولی مسلمانوں میں جہاں ہزاروں ولی ہو میں انکار و اصرار کی کوئی ضرورت نہیں لیکن آپ تو د
مرزا صاحب....... میں نے تو نبوت کا دعویٰ نہیں کیا یہ تو وفات مسیح پر منحصر ہے۔
مولوی صاحب....... تو ضیح مرام میں آپ نے صرا اور یقینی ادعاء ہے۔
مرزا صاحب....... کہاں۔
مولوی صاحب....... ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء کے پرچہ میں
مرزا صاحب....... مجھے محدثیت کا دعویٰ ہے نہ نبوت
مولوی صاحب....... آپ نے صاف صاف لکھا ہے
مرزا صاحب....... مولوی صاحب کون قسم کا نبی آپ
مولوی صاحب....... یہ امر آخر ہے محمد حسین ایک ش کے معنے کیا ہیں۔ تو جواب دیا کرتا کہ میں نے اس مضمون ہے۔ جس کے معنے ہی کوئی نہیں سمجھ سکتا کیا
مرزا صاحب....... یہ تو فی بطن کتاب ہے۔ فی بطن کیوں گفتگو کرتے ہیں آپ میری کتابیں دیکھیں۔
١٥٣
راوی....... کیونکر راضی ہوتے ان کو یہ امر معلوم تھا۔ کہ آج کل دہلی میں جناب مسٹر چوکس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ہیں اور یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے لدھیانہ میں ان کے مناظرہ کو بند کر دیا تھا۔ وہ یہاں دہلی جیسے بڑے شہر میں کب اجازت دیں گے اور صاحب بہادر مرزا قادیانی کے حال سے واقف ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس اصرار کا یہی اسرار ہے کہ نہ وہ اجازت دیں گے اور نہ مباحثہ ہوگا جان بچی لاکھوں پائے۔
مرزا قادیانی ...... لوگ مجھے ناحق بدنام کرتے ہیں صرف ایک مسئلہ حیات مسیح میں مجھے انکار ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی وفات ہوگئی ایسے اختلاف کی بہت سی نظیریں اصحاب رسول اللہ میں موجود ہیں مگر کوئی کسی سے نہ جھگڑتا تھا مجھ سے کیوں لوگوں کو بے جا اور بے وجہ خلاف و اختلاف ہے۔ اور ولایت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا اور مجھ کو دعویٰ ہے تو کونسا استعجاب ہے۔
مولوی صاحب ...... مرزا صاحب اگر آپ کو دعویٰ ولایت ہو تو میں سب سے پہلے کہتا ہوں اشہد انک ولی مسلمانوں میں جہاں ہزاروں ولی ہوئے ہیں۔ ایک آپ بھی سہی ہم کو آپ کی ولایت میں انکار واصرار کی کوئی ضرورت نہیں لیکن آپ تو دعویٰ نبوت اور وہ بھی بقید مسیح موعود کرتے ہیں۔
مرزا صاحب ...... میں نے تو نبوت کا دعویٰ نہیں کیا نہ مسیح موعود ہونے کا ضروری اور لازمی دعویٰ ہے یہ تو وفات مسیح پر منحصر ہے۔
مولوی صاحب ...... توضیح مرام میں آپ نے صریح دعویٰ کیا ہے اور اسی پرچہ میں مسیح ہونے کا قطعی اور یقینی ادعاء ہے۔
مرزا صاحب ...... کہاں۔
مولوی صاحب ...... ٢ اکتوبر ١٨٩١ء کے پرچہ میں یہ موجود ہے اور اشتہار دکھایا۔
مرزا صاحب ...... مجھے مجددیت کا دعویٰ ہے نہ نبوت کا۔
مولوی صاحب ...... آپ نے صاف صاف لکھا ہے کہ میں نبی ہوں۔
مرزا صاحب ...... مولوی صاحب کون قسم کا نبی آپ نہیں سمجھے۔
مولوی صاحب ...... یہ امر آخر ہے محمد حسین ایک شاعر تھا جب اس سے کہا جاتا کہ تیرے اس شعر کے معنے کیا ہیں۔ تو جواب دیا کرتا کہ میں نے اس میں ابھی معنے ڈالے ہی نہیں آپ کا ایسا وہ کیا مضمون ہے۔ جس کے معنے ہی کوئی نہیں سمجھ سکتا کیا آپ کی عبارت بھی المعنی فی بطن الشاعر ہے۔
مرزا صاحب ...... یہ تو فی بطن کتاب ہے۔ فی بطن شاعر نہیں آپ کو گفتگو کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کیوں گفتگو کرتے ہیں آپ میری کتابیں دیکھیں۔
١٥٣
مولوی صاحب ...... دو وجہ سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ایک یہ کہ آپ نے مجھ سے خطاب کر کے فرمایا دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ نے توضیح مرام میں لکھا ہے کہ جو کوئی میری نبوت کو نہ مانے گا وہ مستوجب عذاب ہوگا۔
مرزا صاحب ...... اس عذاب کے اور معنے ہیں۔
مولوی صاحب ...... تو میرا وہی قول صادق ہو گیا المعنی فی بطن الشاعر۔
مرزا صاحب ...... پھر تو یہ راست ہے کہ تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں ۔
مولوی صاحب ...... الحمد للہ یہ تو میرے قول کی آپ تائید کرتے ہیں۔ اس لیے باوجود تصنیف کے مصنف سے گفتگو کی ضرورت ہے آپ بیان فرمائیے۔ کہ آپ کے مسیح موعود ہونے کا کیا ثبوت ہے۔
مرزا صاحب ...... آپ وفات مسیح میں گفتگو کیجیے۔
مولوی صاحب ...... میں تو ہر امر میں گفتگو کے لیے موجود ہوں۔ مگر یہ مسئلہ آپ کے دعوے کی ایک دلیل ہے۔ دعویٰ نبوت مفید مسیح موعود ہونے کا ہے۔ پھر بحث ثبوت دعویٰ میں اول ہونی چاہیے نہ کہ دلیل میں ۔ فرض کرو اگر مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ تو اس سے یہ کیونکر ثابت ہو سکتا ہے۔ کہ پھر وہ مسیح موعود آپ ہیں۔ بعد وفات مسیح بھی آپ کو اپنے دعوے کے ثبوت کی ضرورت ہے۔
نواب صاحب ...... مرزا صاحب بل تو اپنا بل دوسرے کے ضعف سے آپ کے دعویٰ کو کیا فائدہ آپ اپنے دعویٰ کی قوت بیان کیجیے۔ حضرت مسیح مر گئے یا زندہ ہیں آپ کو کیا آپ اپنی سچائی کا ثبوت دیں ہر نبی نے اپنی نبوت اپنی ہی دلیل کی قوت سے ثابت کی ہے معجزہ دکھائے برہان لائے ہدایت کی، کسی دوسرے کے مرنے جینے پر کسی نبی نے اپنی نبوت کا حصہ نہیں رکھا۔ میاں جھگڑا کیوں بڑھاتے ہو ایک کرشمہ دکھا دو پھر گفتگو کی چنداں ضرورت نہیں رہے گی۔
حاجی صاحب ...... مرزا صاحب آپ ایمان سے کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔
مرزا صاحب ...... بے شک میں ایمان سے کہتا ہوں۔
حاجی صاحب ...... میں نے بہ تقلید آپ کے اس مسئلہ کو مان لیا۔ کہ مسیح فوت ہو گئے اب آپ اپنے مسیح ہونے کا ثبوت فرمائیے۔
مرزا صاحب ...... لکھ دیجیے۔
حاجی صاحب ...... بہتر۔
مرزا صاحب ...... نے قلم دوات اٹھائی پھر تامل کر کے کیا لکھو گے؟
حاجی صاحب ...... یہی کہ میں نے بہ تقلید مرزا صاحب وفات مسیح کو تسلیم کیا۔ گناہ وثواب مرزا
١٥٢
صاحب کی گردن پر۔
مرزا صاحب ...... یہ لکھو کہ میں صدق دل سے ا علیہ السلام فوت ہو گئے۔
حاجی صاحب ...... لا حول ولا قوۃ الا با آئے گا۔ میں تو پہلے کہہ چکا ہوں۔ میں مولوی نہیں ۔ آپ کی تقلید سے لکھتا ہوں۔
مرزا صاحب ...... میں نے کتاب میں لکھا ہے اس
حاجی صاحب ...... کتاب کے سمجھنے والوں سے ق ہو تو اس کو تسلیم کرلوں۔
مرزا صاحب ...... تو جانے دو۔
مولوی صاحب ...... ہاں حضرت آپ کے پا موجود ہے۔ تو بیان کیجیے۔
مرزا صاحب ...... آپ بحث وفات مسیح میں گری
مولوی صاحب ...... الحمد للہ کہ اس وقت میرے کی بدتہذیبی کی شکایت کرتے ہیں۔ اور خود ایسے
مرزا صاحب ...... معاف کیجیے۔ بے ساختہ میر سے نہیں کی۔
مولوی صاحب ...... میں مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اصل مطلوب میں گفتگو کریں۔
مرزا صاحب ...... میں آپ سے گفتگو کرنا نہیں
مولوی صاحب ...... میں آپ کا دشمن نہیں لیکن چاہتا ہوں دوستانہ طور پر سمجھا دیجیے۔
مرزا صاحب ...... آپ مجھے معاف کیجیے۔ یہ کہہ کر تحریر جواب رقعہ میں مشغول
حکیم صاحب ...... جب حضرت میان صاحب سوائے ایک انگریز کے پھر آپ کو ایسا لکھنا بے
صاحب کی گردن پر۔
مرزا صاحب...... یہ لکھو کہ میں صدق دل سے ایمان لایا اور قرآن حدیث سے سمجھ کر تسلیم کیا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔
حاجی صاحب...... لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظیم ایسے شیطانی دھوکے میں کون آئے گا۔ میں تو پہلے کہہ چکا ہوں۔ میں مولوی نہیں، مناظر نہیں۔ قرآن حدیث سے ابھی سمجھا نہیں۔ آپ کی تقلید سے لکھتا ہوں۔
مرزا صاحب...... میں نے کتاب میں لکھا ہے اس میں سمجھ کر ایمان لے آؤ۔
حاجی صاحب...... کتاب کے سمجھنے والوں سے تو کہتے ہیں کہ ہم پر فتوے کفر و الحاد لگائے ہیں۔ کہتے ہو تو اس کو تسلیم کر لوں۔
مرزا صاحب...... تو جانے دو۔
مولوی صاحب...... ہاں حضرت آپ کے پاس اگر کوئی ثبوت آپ کے دعوے نبوت کا بصیغہ مسیح موعود ہے۔ تو بیان کیجیے۔
مرزا صاحب...... آپ بحث وفات مسیح میں گریز کرتے ہیں۔
مولوی صاحب...... الحمد للہ کہ اس وقت میرے منہ سے کوئی کلمہ خلاف تہذیب نہیں نکلا آپ لوگوں کی بدتہذیبی کی شکایت کرتے ہیں۔ اور خود ایسے کلمہ منہ سے نکالتے ہیں۔
مرزا صاحب...... معاف کیجیے۔ بے ساختہ میرے منہ سے یہ بات نکل گئی۔ دل دکھانے کی نیت سے نہیں کی۔
مولوی صاحب...... میں مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اجازت دیتا ہوں کہ آپ جو چاہیں مجھ کو کہہ لیں مگر اصل مطلوب میں گفتگو کریں۔
مرزا صاحب...... میں آپ سے گفتگو کرنا نہیں چاہتا آپ میرے دوست ہیں۔
مولوی صاحب...... میں آپ کا دشمن نہیں لیکن آپ کے دعوے نبوت اور مسیح موعود ہونے کا ثبوت چاہتا ہوں دوستانہ طور پر سمجھا دیجیے۔
مرزا صاحب...... آپ مجھے معاف کیجیے۔
یہ کہہ کر تحریر جواب رقعہ میں مشغول ہو گئے اور بعد تحریر حاضرین جلسہ کو سنایا۔
حکیم صاحب...... جب حضرت میاں صاحب (شیخ الکل) آپ کی سب شرطیں منظور کرتے ہیں۔ سوائے ایک انگریز کے پھر آپ کو ایسا لکھنا بے جا ہے۔
١٥٥
مرزا صاحب ...... نہیں افسر انگریزی کا ہونا جلسہ بحث میں واسطے امن کے ضرور ہے۔ حکیم صاحب ...... امن میں کچھ خلل نہیں میاں ! صدہا مذہبی مناظرہ ہوئے خدا کے فضل سے کسی جلسہ میں صورت دیگر ظاہر نہیں ہوئی۔ آج تو آپ ایک افسر انگریز کے طلب گار ہیں۔ کل کہیں گے۔ کہ لفٹنٹ گورنر بہادر کو بلواؤ۔ یہ کیونکر ممکن ہے۔ اور احقاق حق کے لیے اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ مرزا صاحب ...... بیشک ضرورت ہے۔ حاجی صاحب ...... اچھا آپ نے اشتہار دیا اور مناظرہ کے متدعی ہوئے تو آپ ایک درخواست بھی دے دیں۔ مرزا صاحب ...... نہیں میں تو نہیں دینے کا۔ وہی دیں ۔ کہ وہ رئیس دہلی ہیں۔ حکیم صاحب ...... بہتر ہے ایک درخواست ہم جناب میاں صاحب سے لکھوائیں گے ایک آپ لکھ دیں۔ دونوں دے دی جائیں گی۔ مرزا صاحب ...... میں درخواست نہیں لکھنے کا اور نہ بے موجودگی افسر انگریز گفتگو کروں گا میری بہت سی پولیٹیکل مصلحتیں اس میں پنہاں ہیں جن کو میں مفصل آپ پر ظاہر نہیں کر سکتا۔ حاضرین جلسہ ...... (٦٠ یا ٧٠ کس ) تو مناظرہ سے صاف انکار ہے۔ مرزا صاحب ...... تم یہی سمجھ لو۔ اس کے بعد اپنا رقعہ صاحبان موصوفین کو دیا۔ اٹھ کھڑے ہوئے۔
رقعہ مرزا صاحب
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمد و نصلی ! حضرت مکرمی اخویم مولوی صاحب مولوی نذیر حسین صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا مجھے بسر و چشم منظور بلکہ عین مدعا اور مراد ہے کہ مسئلہ وفات حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام میں آپ سے بحث ہو۔ اور اس بحث میں امر تنقیح طلب یہ ہوگا۔ کہ آیا حضرت ابن مریم علیہ السلام فی الحقیقت جسد العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ اور زندہ موجود ہیں اور ان کا زندہ ہونا قرآن کریم کی آیات صریحہ الدلالت سے اور تائید اس کی احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ یا یہ ثابت ہوتا ہے۔ کہ در حقیقت وہ فوت ہو چکے ہیں۔ اگر وہ بجسد العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ تو پھر کوئی دوسری بحث کرنا عبث ہے۔ اور اس صورت میں میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا خود باطل ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس کی بناء وفات مسیح ابن مریم پر ہے لیکن اگر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے یہ اتفاق ثابت نہ ہوسکا۔ کہ وہ زندہ بجسدہ عنصری ١٥٦
برخلاف دوسرے انبیاء کے آسمان پر موجو آنے والا ابن مریم موعود اس امت سے کے شائع کر دیں گے۔ کہ اب ہمارا یہ اعـ پھر اس عاجز سے مسیح موعود کی نسبت ثبوت لیے آپ کی طرف سے یہ بندوبست ہو کے لیے مامور ہو کر جلسہ بحث میں تشریف سے سوال جواب لکھے اور اپنے دستخط فریقین کے مکان پر بحث نہ ہو۔ بلکہ تاوا
راوی خوب ......
جو چیرا تو
یہ تو بہت جلد بہ آسانی سے جواب دعویٰ تنقیح اور ثبوت داخل کر بحـ کے ذمہ ہے۔ کہ وہ اپنا عقیدہ کسی اختیا وقت پیدا بھی ہوگا۔ پھر مرزا صاحب گے۔ ہمارے خیال میں تو اس کا فیصلہ بـ کی کیا ضرورت ہے۔
رکے نہ پا
یوں تو رمو
فقیر گوشہ
ہم کو کیا جو اس میں دخل د ہے۔ حضرت شیخ الکل اپنا عقیدہ بذریـ امت سے پیدا ہوگا۔ تو ظاہر ہے۔ اس تواتر سے ثابت ہے کہ عیسیٰ موعود کا آنا
برخلاف دوسرے انبیاء کے آسمان پر موجود ہیں۔ تو پھر بوجہ اس قرینہ قویہ کے یہ سمجھا جائے گا۔ کہ آنے والا ابن مریم موعود اس امت سے پیدا ہوگا اس صورت میں اگر آپ یہ اقرار بذریعہ کسی اخبار کے شائع کردیں گے۔ کہ اب ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اسی امت میں سے مسیح موعود آنے والا ہے۔ تو پھر اس عاجز سے مسیح موعود کی نسبت ثبوت طلب کر سکتے ہیں لیکن اس بحث میں امن قائم رکھنے کے لیے آپ کی طرف سے یہ بندوبست ہونا چاہیے۔ کہ کوئی افسر انگریز خاص اسی خدمت حفظ امن کے لیے مامور ہو کر جلسہ بحث میں تشریف رکھتا ہو اور بحث تحریری ہو۔ اور ہر ایک فریق اپنے ہاتھ سے سوال جواب لکھے اور اپنے دستخط کے بعد فریق ثانی کو اصل تحریر دستخطی اپنی دے دیوے۔ فریقین کے مکان پر بحث نہ ہو۔ بلکہ ٹاؤن ہال یا کسی دوسرے ثالث کے مکان پر ہو۔ والسلام ! خاکسار غلام احمد ٢٥/ اکتوبر ١٨٩١ء
واہ جی خوب.......
جو چیرا تو ایک قطرہ خون نہ نکلا
یہ تو بہت جلد بہ آسانی سے فیصلہ ہوگیا۔ مرزا صاحب نے آپ ہی دعویٰ کیا اور خود ہی جواب دعویٰ تنقیح اور ثبوت داخل کر بحث کا خاتمہ ہی کر دیا اب فقط مولانا صاحب حضرت شیخ الکل کے ذمہ ہے۔ کہ وہ اپنا عقیدہ کسی اخبار کے ذریعہ سے شائع کرا دیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی وقت پیدا بھی ہوگا۔ پھر مرزا صاحب اپنے دعویٰ نبوت اور مسیح موعود ہونے کا ثبوت پیش کریں گے۔ ہمارے خیال میں تو اس کا فیصلہ بھی ساتھ کے ساتھ ہو جائے۔ تو اچھا ہے پھر دوبارہ تکلیف کی کیا ضرورت ہے۔
رکے نہ ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی
رموز مصلحت خویش خسروان دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ہم کو کیا جو اس میں دخل دیں مگر ہمارے خیال میں تو یہ امر بآسانی طے ہو سکتا ہے۔ حضرت شیخ الکل اپنا عقیدہ بذریعہ کسی اخبار کے شائع کردیں۔ کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت سے پیدا ہوگا۔ تو ظاہر ہے۔ اس صدی کے سر پر دعویٰ عیسیٰ موعود ہونے کا کسی نے نہیں کیا اور تواتر سے ثابت ہے کہ عیسیٰ موعود کا آنا ضروری امر ہے۔ اور مرزا صاحب کی گواہی آسمان اور زمین
١٥٧
اور قرآن حدیث پکار پکار کر دے رہے ہیں گو (نوری جامہ کی طرح) کسی کو محسوس نہ ہو یا نظر نہ آئے اس پر مرزا صاحب کے الہام اور پیشگوئی موجود اس سے زیادہ ثبوت اور کیا خدا کہنے آئے گا۔ فیصلہ ہوا مسئلہ حیات وفات مسیح علیہ السلام وہ فیصلہ ہو گیا۔ ثبوت نبوت بقیہ مسیح موعود کا فیصلہ ہو گیا۔
باتوں باتوں میں فیصلہ ہو گیا ہلدی لگی نہ پھٹکڑی
باب ٢٦ بست وششم
مناظرہ دہلی کے حالات
دیکھنے ہم بھی گئے تھے یہ تماشہ نہ ہوا
صبح کا وقت ہے۔ اکتوبر کا شروع مہینہ اعتدال کا موسم نہ گرمی کی شدت نہ سردی کی بدون شکایت میونسپل کے ملازموں نے سڑک کوچہ و بازار کو خس و خاشاک سے پاک کر دیا ہے۔ نیز چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔ جمنا کی طرف پری چہرہ مہوشاں کے غول کے غول خوبصورت خوب صورت زرد و سفید ریشمی اور سوتی باریک باریک ساڑھیاں باندھے چھوٹی چھوٹی برنجی لوٹیاں و گڑیاں ہاتھ میں لیے چھم چھم کرتے ہنسی مذاق اڑاتے جاتے ہیں۔ پازیب کی چھنکار سے شور قیامت برپا ہے اور رفتار ناز کی ہر ایک ٹھوکر پر فتنہ اٹھتا ہے۔ دل عشاق کو پامال کرتے جارہے ہیں۔ اور کوئی کوئی اشنان سے واپس آ رہے ہیں اور مسجدوں سے نمازی نماز صبح سے فراغت پا کر باہر نکل رہے ہیں۔ اور چاندنی محل کی طرف رخ ہے۔
دیکھیں تو وہاں کیا ہو رہا ہے۔ صفائی تو حسب مراد ہو گئی ہے۔ فرش فروش ہو رہا ہے۔ شامیانہ لٹکائے جا رہے ہیں۔ شہزادہ مرزا ثریا جاہ صاحب بہادر بہ نفس نفیس سرگرم آرائش مکان اور درستی سامان ہیں۔ اور مولوی عبدالمجید صاحب معہ چند عمائد شہر شہزادہ صاحب ممدوح کی معیت میں کمر بستہ ہیں۔ اور جوق در جوق مردمان جمع ہوتے جاتے ہیں اور بیٹھتے جاتے ہیں۔ بھئی آج کیا سامان ہے۔ شہزادہ صاحب کے ہاں کوئی تقریب شادی ہے ہزار ہا آدمیوں کا ہجوم اس وسیع مکان میں جس میں بیس پچیس ہزار کی گنجائش ہے۔ آج تل رکھنے کو جگہ نہیں چلو تو کسی سے دریافت کریں (مولوی صاحب سے) حضرت آپ بتا سکتے ہیں۔
مولوی صاحب....... آپ نے دہلی کے ہر در و دیوار پر نظر کی ہوگی۔
١٥٨
راوی....... جی ہاں سارا شہر آج کل کاغذی پی... مولوی صاحب...... اکتوبر کا اشتہار قادیانی ص... محفل میں ہلچل واقع ہوئی اور حضرت میاں صاحب کے تشریف لانے کا حضرت میاں صاحب (مسند پر ہوئے گل دان روبرو رکھا گیا سانس (جو غصہ حاضرین جلسہ کی طرف خطاب کر کے ) تو ع حکیم محمد عبدالمجید خان صاحب صاحب آنریری مجسٹریٹ وغیرہ چند صاحبان حضرت مولانا صاحب....... اوہو اور ادھر سے حاضرین....... ابھی تو صدر برخاست کا نقشہ حضرت...... کوئی حجت باقی نہ رہ جائے آخر ا مولوی عبدالمجید صاحب....... اشتہار قادیانی محمد حسین صاحب چھپ کر شائع ہوا تو فوراً سے قادیانی صاحب کی خدمت میں بھجوایا خاص میں دیا ١٩ اکتوبر کو شام سے پہلے مولوی کے لیے ان کے مکان پر (جو قادیانی صاحب انہوں نے مزید احتیاط کی نظر سے قادیانی ص چند اشخاص کے سامنے ان کو وہ جواب دیا و سے قادیانی صاحب کا انکار ظاہر ومشتہر نہ جواب کو پسند کر کے ١١ اکتوبر کو چاندنی محل میں گفتگو کرنا منظور کیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ا جانے کے بعد صرف فریق ثانی کی خواہش اشتہار میں بعد تسلیم شرائط خود اپنے حاضر ہو مشروط ومتعلق نہ کیا تھا۔
راوی..... جی ہاں سارا شہر آج کل کاغذی پیرہن سے ملبس ہے۔
مولوی صاحب..... ١١ اکتوبر کا اشتہار قادیانی صاحب کا اور ١٧ اکتوبر کا جواب آپ نے دیکھا ہوگا۔
محفل میں ہلچل واقع ہوئی اور آدمیوں نے راستہ چھوڑا اور تعظیم کو کھڑے ہوئے
حضرت میاں صاحب کے تشریف لانے کا شور و غل ہوا۔
حضرت میاں صاحب (مسند پر جو پہلے سے آراستہ ہو چکی تھی) تکیہ کے سہارے متمکن ہوئے گل دان روبرو رکھا گیا سانس (جو ضعف اور کبرسنی کی وجہ سے چڑھ گیا تھا) درست کر کے
حاضرین جلسہ کی طرف خطاب کر کے ٨ تو بج گئے ہوں گے۔
حکیم محمد عبدالمجید خان صاحب ڈپٹی محمد الہی بخش صاحب، نواب سید سلطان مرزا صاحب آنریری مجسٹریٹ وغیرہ چند صاحبان نے گھڑی جیب سے نکال کر کہا ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔
حضرت مولانا صاحب..... او ہو اور ادھر سے کچھ خبر نہیں آئی۔
حاضرین..... ابھی تو صدارت برخاست کا نقشہ ہے۔
حضرت..... کوئی حجت باقی نہ رہ جائے آخر انہوں نے آنا تو ہے نہیں۔
مولوی عبدالمجید صاحب..... اشتہار قادیانی مطبوعہ ١١ اکتوبر کا جواب ١٧ اکتوبر کو منجانب مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب چھپ کر شائع ہوا تو فوراً اس کا ایک پرچہ مولوی عزیز الحسن صاحب کی وساطت سے قادیانی صاحب کی خدمت میں بھجوایا گیا جو مولوی صاحب نے قادیانی صاحب کے دست خاص میں دیا ١٩ اکتوبر کو شام سے پہلے مولوی ابوسعید صاحب کو مولوی عبدالحق صاحب کی ملاقات کے لیے ان کے مکان پر (جو قادیانی صاحب کی فرودگاہ کے قریب ہے) پہنچنے کا اتفاق ہوا تو وہاں انہوں نے مزید احتیاط کی نظر سے قادیانی صاحب کے ایک حواری امیر علی شاہ سیالکوٹی کو بلایا اور چند اشخاص کے سامنے ان کو وہ جواب دیا دوسرے دن شام کے قریب تک اس جواب کے مضمون سے قادیانی صاحب کا انکار ظاہر ومشتہر نہ ہوا تو اس سے سمجھا گیا کہ قادیانی صاحب نے مضمون جواب کو پسند کر کے ١١ اکتوبر کو چاندنی محل میں حاضر ہو جانا اور مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب سے گفتگو کرنا منظور کیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے اشتہاروں اور خطوں میں اپنے شرائط کے مسلم ہو جانے کے بعد صرف فریق ثانی کی خواہش اور طلبی پر حاضر ہو جانا قبول کر لیا تھا۔ اور کسی تحریر یا اشتہار میں بعد تسلیم شرائط خود اپنے حاضر ہو جانے کو دوبارہ اطلاع منظوری یا کسی اور شرائط سے مشروط و متعلق نہ کیا تھا۔
١٥٩
اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩١ء میں (جس میں آپ نے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو بھی اپنا مخاطب اور مناظر بنایا ہے) فرماتے ہیں۔ اس صورت میں یہ عاجز مولوی صاحب کی مسجد میں بحث کے لیے حاضر ہوسکتا ہے۔ مگر دوسری (یعنی بجز حاضری افسر یورپین) تمام شرطیں اشتہار ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء قائم رہیں گی۔ ان فقرات میں منظوری کے دوبارہ اطلاع منظوری یا کسی اور شرط کی تصریح نہیں ہے۔ لہٰذا تکمیل احتیاط اور قطع حجت کی نظر سے ١٠؍اکتوبر ١٨٩١ء کو آپ کو اس امر کی اطلاع دی گئی۔ کہ آپ کی شروط کے مسلم ہو جانے سے آپ کو حاضری مجلس مباحثہ پر راضی سمجھ کر چاندنی محل میں انعقاد جلسہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ آپ وقت مقررہ پر تشریف لائیں۔ اور آئندہ کوئی نیا عذر پیش نہ کریں۔ اور اس مضمون کا ایک خط بھی منجانب مولوی ابوسعید صاحب آپ کے نام لکھوایا گیا۔ جس کو یہ عاجز اور میاں عبدالحق صاحب سوداگر اور حاجی نور احمد صاحب سوداگر اور مولوی عبد المجید صاحب نے آپ کی خدمت میں پہنچایا۔
نقل خط
جناب مرزا غلام احمد صاحب زاد عنایتہ بعد سلام مسنون واضح رائے شریف ہو کہ کل کے اشتہار میں جو جناب مولوی عبدالحق صاحب نے ٹاؤن ہال میں اطلاع دی تھی۔ آج بہ اتفاق چاندنی محل قرار پا گیا۔ وہ مکان اس قدر وسیع ہے۔ کہ جس میں ہزاروں آدمی کی گنجائش ہے۔ اور جناب شہزادہ مرزا ثریا جاہ بہادر و دیگر روساء شہر سے وہاں موجود ہوں گے اطلاعاً تحریر کیا آپ وہیں تشریف لائیں مکرر یہ کہ چند یورپین صاحب بھی تشریف لائیں گے۔ اور پولیس اپنا فرض منصبی (اقامت حفظ امن) کے ادا کرنے کے لیے حاضر رہیں گے چونکہ فرش و شامیانہ وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا آپ جانتے ہیں کہ اتنے بڑے مکان میں فرش شامیانہ کے لیے بہت روپیہ صرف ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ تشریف نہ لائیں اس کی اطلاع خاص و عام کو دی گئی ہے۔ ابوسعید محمد حسین وابومحمد عبدالحق۔
اس خط کے جواب میں آپ نے ٦؍اکتوبر ١٨٩١ء کے عہد کو توڑ دیا۔
پر عمل کیا اور یہ نیا عذر پیش کیا کہ میں مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب سے مباحثہ نہ کروں گا بلکہ خاص جناب میاں صاحب مولوی سید نذیر حسین صاحب سے گفتگو کروں گا۔ ہاں مولوی ابوسعید صاحب ان کے معاون رہیں میاں صاحب کہیں بھول جائیں تو وہ بتا دیں اور اگر میاں صاحب خاص اپنے ہاتھ سے تحریر سوال جواب نہ کریں تو ابوسعید صاحب ان کی تقریر کو تحریر ١٦٠
میں لائیں۔ اسی طرح مولوی عبدالحق صا اس مضمون کا ایک خط بھی میاں صاحب کے میاں صاحب کی طرف سے زبانی دے دیا صاحب سے مباحثہ کرنے سے گھبراتے ہیں جناب میاں صاحب کو وہاں لائیں گے۔ صاحب کی طرف سے وہ اشتہار ٦؍اکتوبر ١ ہے وہ ان کے پاس بھجوا دیا۔
ٹن ٹن کی آواز گھنٹہ گھر کی گھڑ دیکھا ٩ بجے۔
اس وقت چار پانچ ہزار آدمیوں علماء فضلاء شہر حاضر ہیں پتہ کھڑکا اور گردن ا تن چشم بنا ہوا چشم براہ ہے وقت مقرر گزر گیا ا
شہزادہ صاحب ...... مرزا ثریا جاہ بھائی ہم تو نواب صاحب ...... واللہ آنکھیں پتھرا گئیں مگر ممتاز الدولہ صاحب ...... (رئیس بھوپال) حکیم صاحب ...... کیوں نہ ہو یہ تو آپ کا ور ڈپٹی صاحب ...... یہ خبر ہوتی تو کھانا کھا کر آ نواب سید سلطان ...... مرزا صاحب ہندوست شہزادہ مرزا خورشید عالم صاحب ...... در س حکیم احمد سعید خان صاحب ...... آپ گھا ہے۔ جواب آجاتے۔ حکیم محمد ناصر خان صاحب ...... ناحق کا انتظ حکیم حسن رضا خان صاحب ...... جب آس واقف تھے تو اس سردردی کی ضرورت ہی ک دیگر حاضرین جلسہ ...... (معزز اور معتمدان ب باقی نہ رہے قرار پایا کہ کوئی صاحب م
میں لائیں۔ اسی طرح مولوی عبدالحق صاحب بلکہ اور دو چار علماء ان کو مدد دیں۔ تو مضائقہ نہیں اس مضمون کا ایک خط بھی میاں صاحب کے نام کا خاکسار کو دیا جس کا جواب میں نے پہلے تو خود ہی میاں صاحب کی طرف سے زبانی دے دیا۔ اور ان کا وہ عذر توڑ دیا کہ آپ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب سے مباحثہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ تو آئیں جناب میاں صاحب سے بحث کر لیں۔ ہم جناب میاں صاحب کو وہاں لائیں گے۔ اور وہی آپ سے بحث کریں گے۔ پھر جناب میاں صاحب کی طرف سے وہ اشتہار ٦ اکتوبر ١٨٩١ء جس میں سبھی شرائط قادیانی صاحب کی قبول کی گئی ہے وہ ان کے پاس بھجوا دیا۔
ٹن ٹن کی آواز گھنٹہ گھر کی گھڑی کی کان میں آئی سب صاحبان نے گھڑیاں نکال کر دیکھا ٩ بجے۔
اس وقت چار پانچ ہزار آدمیوں کا مجمع چاندنی محل میں جمع ہے اور جملہ عمائد اور رؤساء اور علماء فضلاء شہر حاضر ہیں پتہ کھڑکا اور گردن اٹھا کے دیکھا۔ ذرا آہٹ ہوئی اور جھانکا ہر ایک شخص ہمہ تن چشم بنا ہوا چشم براہ ہے وقت مقرر گزر گیا اور مرزا صاحب کی تشریف آوری کا انتظار بدستور ہے۔
شہزادہ صاحب ...... مرزا ثریا جاہ بھائی ہم تو شل ہو گئے۔
نواب صاحب ...... واللہ آنکھیں آ گئیں مگر وہ نہ آئے۔
ممتاز الدولہ صاحب ...... (رئیس بھوپال) سبحان اللہ کیا کہا ہے سادہ کلام میں بھی شاعری۔
حکیم صاحب ...... کیوں نہ ہو یہ تو آپ کا ورثہ آبائی ہے۔
ڈپٹی صاحب ...... یہ خبر ہوتی تو کھانا کھا کر آتے۔
نواب سید سلطان ...... مرزا صاحب ہندوستانیوں میں وقت کی قدر اور پابندی نہیں۔
شہزادہ مرزا خورشید عالم صاحب ...... درست فرمایا جناب نے۔
حکیم احمد سعید خان صاحب ...... آپ مات کھا گئے ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنا کوئی وعدہ وفا کیا ہے ۔ جو اب آ جاتے۔
حکیم محمد ناصر خان صاحب ...... ناحق کا انتظار ہے وہ نہ آئے ہیں نہ آئیں گے۔
حکیم حسن رضا خان صاحب ...... جب آپ لوگ مرزا صاحب کے عہد و پیمان اور قول و اقرار سے واقف تھے تو اس سردردی کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ناحق کی تضیع اوقات۔
دیگر حاضرین جلسہ ...... (معزز اور معتمدان و رؤساء بہ اتفاق) بیان شود اور آوازہ باید رسانید کوئی حجت باقی نہ رہے۔ بجائے قرار پایا کہ کوئی صاحب مرزا صاحب کی خدمت میں جائے اور پیغام لے جائے۔
١٦١
شہزادہ صاحب ..... میری سواری بند گاڑی لے جائیں۔
حاجی نور احمد صاحب منشی قمر علی صاحب گاڑی میں سوار ہوئے مرزا صاحب کی فرودگاہ پر داخل۔
مرزا صاحب ...... مجھ کو جواب اشتہار ١٦؍اکتوبر ١٨٩١ء جس میں مکان تاریخ کی تقرری ہے اب تک نہیں ملا اور ایک رقعہ اپنے حواری غلام قادر صاحب اڈیٹر پنجاب گزٹ کے ہاتھ بھیجا۔
نقل رقعہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی
بخدمت جناب مخدوم حضرت سید محمد نذیر حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ افسوس کہ اس عاجز سے بحث کے بارہ میں کوئی امر قرار پانے سے پہلے خودبخود مشہور کردیا گیا کہ فلاں مقام میں بحث ہوگی حالانکہ طریق دیانت یہ تھا کہ جب تک صاف اور کھلے کھلے طور پر یہ تصفیہ نہ ہوجاتا کہ وفات حیات مسیح میں بحث ہوگی اور جب تک آپ اپنے خاص دستخطی رقعہ سے قبول شرائط کی اطلاع نہ دیتے اور مشورہ سے تاریخ قرار نہ پاتی تب تک اشتہار جاری نہ کیا جاتا مگر میرے گمان میں ہے۔ کہ سب کارستانیاں بالا بالا ظہور میں آئی ہیں اور غالباً آپ کو ان باتوں کی خبر بھی نہ ہوگی لہٰذا آپ کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ اگر درحقیقت آپ اس بات پر مستعد ہیں۔ جو اظہار حق کے لیے اس عاجز سے بحث کریں گے تو آپ اپنے ہاتھ سے تحریر فرمادیں۔ کہ کل شرائط مندرجہ ذیل آپ کو منظور ہیں۔ اور وہ شرائط یہ ہیں۔
- ......١ بحث صرف مسئلہ حیات اور وفات حضرت مسیح ابن مریم کے بارے میں ہوگی اور کوئی
دوسرا امر خلط بحث کی طرح درمیان میں نہیں آئے گا۔ صرف حیات وفات مسیح میں بحث ہوگی۔
- ......٢ دوسرے یہ کہ امن قائم رکھنے کے لیے آپ ذمہ دار ہوں گے میں مسافر اور اکیلا
ہوں۔ اور لوگ خونی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔ اور بٹالوی صاحب مجھے کافر دجال بے ایمان الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ یہ آپ اپنے ہاتھ کی تحریر سے مجھے مطمئن کردیں کہ ہر ایک ہاتھ اور زبان کے روکنے کے آپ ذمہ رہیں گے اور کوئی خلاف تہذیب امر اور بے جا حرکات کسی سے سرزد ہوئیں تو اس کی جواب دہی آپ کے ذمہ ہوگی۔ یہ صاف اور کھلی تحریر سے اقرار کرنا چاہیے۔ تاکہ میرے پاس سند رہے۔
- ......٣ تیسرے یہ کہ فریقین اپنے ہاتھ سے تحریر کریں۔ اول ہر ایک فریق تحریر کر کے حاضرین
کو بلند آواز سے سنادے اور ایک نقل اپنے بیان کے دستخط کے بعد دوسرے فریق کو دے دیں دوسرا
١٦٢
فریق اس کا جواب لکھ کر حاضرین کو سنا دے اور ایک نقل فریق ثانی کو دے دے۔ اگر یہ تمام شرطیں آپ منظور کر لیں اور اپنے ہاتھ سے رقعہ لکھ کر تینوں شرطوں کی منظوری سے مجھے اطلاع دیں۔ تو پھر میں حاضر ہو جاؤں گا۔ والسلام علیٰ من تبع الہدیٰ۔ مرزا غلام احمد ١١؍اکتوبر ١٨٩١ء
حاضرین جلسہ مضمون رقعہ کو سن کر کہ یہ مرزا صاحب کا حیلہ گریز ہے۔ بوجوہات ذیل سخت تعجب۔
- .......١ جس حالت میں جواب اشتہار ١٦؍اکتوبر چھپ کر دہلی کے ہر گلی و کوچہ میں شائع و مشتہر
ہو چکا ہے اور چار معتبر ذریعوں سے وہ قادیانی صاحب کے پاس پہنچ چکا ہے۔ تو پھر اس کے بھیجنے سے قادیانی صاحب کا انکار کیونکر درست اور صحیح ہو سکتا ہے؟
- .......٢ جب کہ وہ جواب قادیانی صاحب کو پہنچ چکا ہے اور اس میں جملہ شروط قادیانی کو
بلا چون و چرا تسلیم کیا گیا ہے (جس پر انہوں نے اشتہار میں حاضری کا وعدہ دیا ہوا ہے) تو پھر قادیانی صاحب سے دوبارہ منظوری کا حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
- .......٣ جس حالت میں پہلے اس خط میں پہلی شرائط کے سوا کوئی نئی شرط نہیں ہے بلکہ ان ہی
شروط کا اعادہ ہے جن کو جواب اشتہار ١٢؍اکتوبر میں تسلیم کیا گیا تھا۔ تو پھر ان شرطوں کے اعادہ کی کیا ضرورت تھی؟
ان وجوہات سے تقریباً کل جماعت نے اس پر اتفاق کیا کہ اس خط کا کوئی جواب نہ دیا جائے۔ اور قادیانی صاحب کا مناظرہ سے گریز قرار دیکر جلسہ برخاست کیا جائے۔
نواب سید سلطان مرزا..... نہیں ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ان کی آخری حجت کو بھی قطع کیا جائے۔ اور اس خط کا یہ جواب دیا جائے کہ آپ کی جملہ شرائط منظور ہیں آپ تشریف لائیں۔
نواب سعیدالدین احمد خاں صاحب..... میرا بھی اس پر صاد ہے۔
دیگر حاضرین...... بہت بہتر تا بدروازہ باید رسانید۔
رقعہ لکھا گیا اور بدست حاجی محمد احمد صاحب و نور احمد صاحب و حواریان قادیانی صاحب بھیجا گیا۔
نقل رقعہ
بنام گرامی مرزا غلام احمد صاحب۔
بعد سلام مسنون آپ کا رقعہ مورخہ ١١؍اکتوبر ١٨٩١ء بدست غلام قادر صاحب ایڈیٹر پنجاب گزٹ سیالکوٹ وصول ہوا۔ جس میں تین شرطیں حسب مندرجہ ذیل ہیں۔
١٦٣
- ١....... بحث صرف حیات وفات مسیح میں ہو۔
- ٢....... امن قائم رکھنے کے لیے آپ ذمہ دار رہیں گے۔
- ٣....... فریقین اپنے اپنے ہاتھ سے تحریر کریں۔
جواب تحریر ہے کہ تینوں شرطیں منظور ہیں۔ اس قدر ترمیم کے ساتھ کہ راقم بسبب پیرانہ سالی کے اپنے ہاتھ سے نہیں تحریر کر سکتا۔ جس کو آپ اپنے رقعہ ١٠؍ اکتوبر ١٨٩١ء میں تسلیم کر چکے ہیں۔ یہاں سب انتظار میں ہیں اظہار واحقاق حق کے لیے جلسہ میں تشریف لائیے ورنہ معلوم ہوگا کہ آپ وقت ٹالنا چاہتے ہیں۔ الراقم العاجز سید محمد نذیر حسین۔
حاجی محمد احمد صاحب نے مرزا صاحب کی خدمت میں رقعہ پیش کیا۔
مرزا صاحب ...... نہیں صاحب میں نہیں جاؤں گا وہاں جانے میں مجھے اپنی جان کا خوف ہے اور رقعہ بھی تحریر کیا۔
حاجی محمد احمد صاحب ...... (تسلی اور وعدہ اطمینان دے کر) آپ کی حفاظت کے واسطے شہزادہ صاحب کی محفوظ سواری موجود ہے اور ابھی ان کے چار سوار حفاظت کے واسطے اور آ سکتے ہیں اور مجلس میں پولیس موجود ہے اور جلسہ میں معزز رؤساء اور مجسٹریٹ شامل ہیں۔
مرزا صاحب ...... نہیں صاحب مجھ کو اطمینان نہیں میری جگہ میرا رقعہ متضمن انکار لے جائیے۔
نقل رقعہ مرزا صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرمی حضرت مولوی سید نذیر حسین صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا رقعہ پہنچا چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ آج جوش عوام کا حد سے بڑھا ہوا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس جوش کی حالت میں کسی مفسدے کا اندیشہ ہے۔ اور ایک شخص مجھ کو کہہ گیا ہے۔ کہ میں محض خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ عوام کی نیت فساد پر ہے لہذا یہ تجویز قرار پائی ہے۔ کہ میرے دوست مولوی غلام قادر صاحب ڈپٹی کمشنر کے پاس جا کر آپ کی تحریر ذمہ داری سے اطلاع دے دیں۔ کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب بحث کریں گے اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار ہو چکے ہیں اور یہ بھی التجا اور درخواست کریں گے کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر بھی اپنی طرف سے امن قائم رکھنے کے لیے کچھ مدد کریں۔ یا آپ سے دریافت کر کے اطمینان کر لیں بعد اطلاع صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر آپ کو باقاعدہ اطلاع دی جائے گی۔ پھر ایک تاریخ مقرر ہو کر اسی تاریخ کا اشتہار شائع کر کے جلسہ ہوگا۔ اس اشتہار میں فریقین کے دستخط ہوں گے۔
العبد مرزا غلام احمد قادیانی ١١؍ اکتوبر ١٨٩١ء
١٦٤
٧٩
مرزا صاحب کا رقعہ جلسہ میں پڑھا گیا عالم رہا۔
مولوی عبدالمجید صاحب ...... آپ صاحبوں کو معلوم اس مجلس میں وہ ہرگز آنا نہیں چاہتے اور نہ مباحثہ امید رہی۔ کہ مرزا صاحب نہ خود تشریف لائے عقائد ان کی تصانیف میں ہیں ان ہی کے الفاظ میں
- ١....... ”مطلق نبوت ختم نہیں ہوئی نہ من کل
سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور
- ٢....... ”خاکسار محدث ہے المحدث نبی یعنی
- ٣....... ”کسی بشر کا (آنحضرت ہوں یا عیسیٰ
(یعنی قانون قدرت) کے خلاف ہے اور خدا تعالیٰ ایمان بالغیب کا تلف کرنا ہے۔“
- ٤....... ”حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ (یعنی
اس نے خدا کی محبت کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اس جس کا نام روح القدس ہے اور اس کو بطور استعارہ مغیث ہے۔“
- ٥....... ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے
کر سکتے ہیں۔ یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔“
- ٦....... ”ملائکہ وہ روحانیات ہیں۔ کہ ان کو
دساتیر اور وید کے اصطلاحات کے موافق ارواح سے ملائکہ اللہ کا ان کو لقب دیں۔ دراصل ملائکہ رکھتی ہیں۔ اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے ارواح
(توضیح المرام ص)
مرزا صاحب کا رقعہ جلسہ میں پڑھا گیا سن کر سب خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر سناٹے کا عالم رہا۔
مولوی عبدالمجید صاحب ...... آپ صاحبوں کو معلوم ہو گیا۔ کہ مرزا صاحب کو مناظرہ سے گریز ہے اور اس مجلس میں وہ ہرگز آنا نہیں چاہتے اور نہ مباحثہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اب پورے طور سے نا امیدی ہوگئی۔ کہ مرزا صاحب نہ خود تشریف لائیں گے۔ اور نہ مباحثہ کریں گے اس واسطے ان کے عقائد ان کی تصانیف میں ہیں ان ہی کے الفاظ میں حاضرین جلسہ کے روبرو پیش کرتا ہوں۔
- ١...... "مطلق نبوت ختم نہیں ہوئی نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور ہر ایک طور
سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔"
(توضیح المرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٢...... "خاکسار محدث ہے المحدث نبی یعنی محدث بھی نبی ہوتا ہے۔"
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٣...... "کسی بشر کا (آنحضرت ہوں یا مسیح) آسمان پر چڑھنا اور اترنا سنت اللہ اور فطرت
(یعنی قانون قدرت) کے خلاف ہے اور خدا تعالیٰ کا دنیا میں ایسی خوارق دکھانا اپنی حکمت اور ایمان بالغیب کا تلف کرنا ہے۔"
(توضیح المرام ص ٩، ١٠، خزائن ج ٣ ص ٥٥ ملخص)
- ٤...... "حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ (یعنی مرزا صاحب) کے دل میں جو قوی محبت ہے۔
اس نے خدا کی محبت کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی جس کا نام روح القدس ہے اور اس کو بطور استعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہیے۔ یہ پاک تثلیث ہے۔"
(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢)
- ٥...... "مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر
کر سکتے ہیں۔ یعنی ابن اللہ کہہ سکتے ہیں۔"
(توضیح المرام ص ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٣)
- ٦...... "ملائکہ وہ روحانیات ہیں۔ کہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں۔ یا
دساتیر اور وید کے اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں۔ یا سیدھے طریق سے ملائکہ اللہ کا ان کو لقب دیں۔ دراصل ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لیے جان کا حکم رکھتی ہیں۔ اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے ارواح کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔"
(توضیح المرام ص ٣٧، ٣٨، ٤٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧، ٧٠، ٧١ ملخص)
١٦٥
- ٧....... ”جبرائیل علیہ السلام جو انبیاء کو دکھائی دیتا ہے۔ وہ بذات خود زمین پر نہیں اترتا اور
اپنے ہیڈ کوارٹر (یعنی صدر مقام) نہایت روشن کرہ سے جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے اور اس کے عکس سے ان کی تصویر ان کے دل میں (یعنی انبیا) کے منقوش ہو جاتی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٦٨، ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧ ملخص)
- ٨....... ”آیت متضمن ذکر سجدہ آدم میں آدم کی طرف سجدہ کرنا مراد نہیں ہے۔ بلکہ ملائک کا
انسان کامل کی خدمت بجالانا اور اس کی اطاعت کرنا مراد ہے۔“ (توضیح المرام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ٧٦ ملخص) یعنی سجدہ حضرت آدم کی کچھ خصوصیت نہیں ہے بلکہ مرزا صاحب بھی مسجود و مخدوم ملائک ہیں۔
- ٩....... ”لیلة القدر سے رات مراد نہیں ہے بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کے
ہم رنگ ہے اور وہ نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزر جانے سے ہزار مہینے کے بعد آتا ہے۔“
(فتح الاسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢ ملخص)
- ١٠....... ”پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارہ میں انبیاء سے بھی امکان غلطی ہے۔ تو پھر امت کا
کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔“
(اقوال اصح ص ١٣)
اب ذرا غور و انصاف کریں کہ اہل اسلام کے یہ بھی اعتقاد ہیں۔ جو مرزا صاحب نے لکھے ہیں۔ اور انہیں اعتقادوں کے ظاہر کرنے کو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھیجا ہے یہ بھی الہام مرزا صاحب کو ہو رہا ہے۔ یہ تو ملحدوں کی پرانی گھڑت ہے جیسا کہ مرزا صاحب کی قلم سے نکلیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں جس کو الہام کہا جائے۔ کوئی الحادی بکواس بھی ہوتی مگر نئی ہوتی تو بھی الہام کا شبہ ہو سکتا تھا۔ فالهمها فجورها مگر ان سڑی بھسی گھڑتوں کو کون دل کا اندھا الہام کہے گا۔ مدت ہوئی۔ کہ علماء اہل اسلام اس کی دھجیاں اڑا چکے ہیں۔ مگر الحمدللہ اس وقت آپ لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ مرزا صاحب پر الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ بلکہ جو اعتقاد انہوں نے لکھے ہیں یہ ان کا اظہار کیا گیا ہے۔
تقریر ختم ہوئی اور حاضرین جلسہ سے خصوصی علمائے دین جو اس جلسہ میں شامل تھے رائے لی گئی۔
کل علماء دین نے بالاتفاق مرزا صاحب کے الحاد اور تکفیر پر اپنی رائے ظاہر کی اور فتویٰ تحریر ہوا علماء کے دستخط اور مہریں ثبت کرائی گئیں جلسہ برخاست ہوا۔
١٦٦
٨١
باب ٧ پر
مولانا عبدالمجید دہلوی
کبھی اقرار ہوتا ہے
١٣/ اکتوبر ١٨٩١ء کو منشی غلام قادر صاحب حواری مرزا صاحب ...... حضرت مولانا صاحب صاحب قادیانی کا پیش کیا۔
مولانا صاحب ...... مجھ کو اس قدر فرصت نہیں۔ کہ سعید محمد حسین صاحب اور مولوی عبدالمجید صاحب جواب لکھ دیں گے۔ آپ وہی جواب مرزا صاحب فرمائیں۔ موصوفین مولوی صاحبان موصوفین کے
خلاصہ رقعہ مرزا صاحب
١١/ اکتوبر ١٨٩١ء کے جلسہ میں بوجہ خو نے اپنے طور پر انتظام کر لیا ہے۔ ١٨/ اکتوبر ١٨٩١ مولانا صاحب کی طرف سے حاشیہ ج کا جواب مولوی ابو سعید صاحب اور مولوی عبد معاف رکھیں۔
جواب خط کہ مرزا صاحب
بسم الله الرحمن الرحیم
خاکسار عبدالمجید بخدمت گرامی مرزا غلام احمد صا ہے واضح رائے عالی ہو۔ آپ کا رقعہ مورخہ ١٤/ ا آجکل مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب پہنچا حسب اس کو دیکھ کر کمال حیرت و تعجب اور افسوس اور غی اوقات اس خیال میں ایک مدت سے کر رہے ہ
تا ہے۔ وہ بذات خود زمین پر نہیں اترتا اور ے جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی تاثیر نازل ہوتی یعنی انبیا) کے منقوش ہو جاتی ہے۔"
(توضیح المرام ص ٦٨، ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧ ملخص)
صرف سجدہ کرنا مراد نہیں ہے۔ بلکہ ملائک کا ا مراد ہے۔" (توضیح المرام ص ٣٩، خزائن ج ٣ نہیں ہے بلکہ مرزا صاحب بھی مسجود ومخدوم وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کے آنے سے ہزار مہینے کے بعد آتا ہے۔"
(فتح الاسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢ ملخص)
سے بھی امکان غلطی ہے۔ تو پھر امت کا
(اقوال اصح ص ١٣)
کے بھی اعتقاد ہیں۔ جو مرزا صاحب نے تعالیٰ نے ان کو بھیجا ہے یہ بھی الہام مرزا جیسا کہ مرزا صاحب کی قلم سے نکلیں۔ یہ کوئی کی مگر نبی ہوتی تو بھی الہام کا شبہ ہو سکتا تھا۔ ل کا اندھا کہے گا۔ مدت ہوئی۔ کہ علماء اہل سب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ مرزا صاحب پر کا بیان کا اظہار کیا گیا ہے۔ ں علمائے دین جو اس جلسہ میں شامل تھے نے الحاد اور تکفیر پر اپنی رائے ظاہر کی اور فتویٰ قامت ہوا۔
باب ٢٧ بیست و ہفتم
مولانا عبدالمجید دہلوی سے خط و کتابت
کبھی اقرار ہوتا ہے کبھی انکار ہوتا ہے
١٣ اکتوبر ١٨٩١ء کو منشی غلام قادر صاحب ایڈیٹر پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور امیر علی شاہ حواریان مرزا صاحب...... حضرت مولانا صاحب شیخ الکل کی خدمت میں پہنچے اور خط مرزا صاحب قادیانی کا پیش کیا۔
مولانا صاحب...... مجھ کو اس قدر فرصت نہیں۔ کہ اس کو پڑھوں اور اس کا جواب دوں ۔ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب اور مولوی عبدالمجید صاحب کے پاس آپ لے جائیں وہ اس کو پڑھ کر جواب لکھ دیں گے۔ آپ وہی جواب مرزا صاحب کو دے دینا وہ جواب میری طرف سے تصور فرمائیں۔ موصوفین مولوی صاحبان موصوفین کے پاس گئے اور خط مذکور پیش کیا۔
خلاصہ رقعہ مرزا صاحب
١١؍ اکتوبر ١٨٩١ء کے جلسہ میں بوجہ خوف میں حاضر نہ ہوسکا۔ اب پولیس وغیرہ کا میں نے اپنے طور پر انتظام کر لیا ہے۔ ١٨؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو آپ گفتگو کے واسطے تیار رہیں۔
مولانا صاحب کی طرف سے حاشیہ جواب خط پر تحریر ہوا۔ میری طرف سے آپ کی تحریر کا جواب مولوی ابو سعید صاحب اور مولوی عبدالمجید صاحب دیں گے۔ مجھ کو اپنے خطاب سے معاف رکھیں۔
جواب خط کہ مرزا صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم از خاکسار عبدالمجید بخدمت گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی زادہ لطفہ بعد سلام کہ حمیت اسلام ہے واضح رائے عالی ہو۔ آپ کا رقعہ مورخہ ١٤؍ اکتوبر ١٨٩١ء خدمت میں حضرت شیخنا ومولانا شیخ الکل مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب پہنچا حسب الحکم جناب ممدوح جواب اس کے گزارش ہے کہ اس کو دیکھ کر کمال حیرت وتعجب اور افسوس اور غیرت جناب کے حال سے ہوئی۔ آپ تو اپنی تضیع اوقات اس خیال میں ایک مدت سے کر رہے ہیں۔ اور اب اور بندگان خدا کی بھی اوقات عزیز
١٦٧
میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ اشتہار ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء سے یہ سمجھا گیا تھا کہ فی الحقیقت آپ کو تحقیق مسئلہ منظور ہے۔ بنا بر آن ٢؍اکتوبر سے اب تک کوئی دقیقہ اتمام حجت کا ایسا نہیں چھوڑا جواب باقی ہو اب سوائے افسوس اور دعائے خیر کے اور کوئی بات آپ کے حق میں کرنی باقی نہیں ہے۔ اس عرصہ میں جو جو نیرنگیاں خلاف حق وانصاف آپ سے ظہور میں آئیں وہ ظاہر ہیں۔ کہ آپ کو مجادلہ و مقابلہ و شہرت کے سوائے احقاق حق سے کچھ سروکار نہیں۔ کیوں جناب دوسری اکتوبر کے اشتہار میں آپ نے یہ وعدہ نہیں لکھا تھا۔ کہ اگر وہ شرائط مذکورہ بالا منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جاؤں گا۔ اس بات کو سچ اور طالب حق جان کر بعد قبول شرائط مقررہ آپ کی بدست چھ اشخاص معززین و معتبرین ایک خط جناب میاں صاحب نے آپ کے پاس بھیجا جس سے کامل امید تھی کہ بعد معائنہ اس خط کے کوئی عذر نہ کریں گے مگر آپ نے ترمیم شرط اول کا حیلہ کر کے انکار کر دیا پھر چند حاملین رقعہ جناب نواب سعید الدین احمد خان صاحب و جناب حکیم عبد المجید خان صاحب وغیرہم نے کہا کہ ہم ہر طرح ذمہ داری کی تحریر آپ کو دیتے ہیں۔ مگر آپ نے ہرگز نہ مانا جس سے مایوس ہوئے اور معلوم ہوا کہ جناب کا مقصود احقاق حق نہیں ہے اس کے بعد آپ نے ٦ تاریخ کا اشتہار ٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو پھر مشتہر کیا اور ان میں جناب میاں صاحب کے خط اور حاملین رقعہ کی گفتگو اور اپنے انکار کا بالکل ذکر نہیں کیا (جو دیانت اور انصاف سے مراحل دور ہے) اور اس اشتہار میں چند باتیں اور بڑھا دیں۔
- ......١ مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب مجھ کو بوجہ اعتقاد وفات مسیح ابن مریم ملحد اور اپنے
بھائی حنفیوں کو بدعتی اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کو علم حدیث سے بے خبر قرار دیتے ہیں۔ وہذا بہتان العظیم!
- ......٢ مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب کی گفتگو سے اعراض۔
- ......٣ افسر انگریزی کی عدم موجودگی کے جلسہ میں بحث منظور ہے۔
- ......٤ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے درخواست مناظرہ۔
- ......٥ درخواست شیوع حلفی اشتہار۔
- ......٦ نہایت پُر تواضع و عاجزی وانکسار۔
- ......٧ حضرت میاں صاحب کی مسجد میں حاضری کا اقرار۔
اگرچہ بعد معائنہ اس اشتہار کے آپ کے حال و قال پر زیادہ واقفیت ہوگئی تھی مگر ١٦٨
٣٨٣ برائے اطمینان خلق اور اتمام حجت اس اشتہار کی تحریر شائع کر دیا گیا گو آپ تو مسجد میں آنے کا اقرار کر کے کو تکلیف دی گئی۔ اور ان کا مکان چاندنی محل جس اور بموجب اجازت و وعدہ مشتہرہ آپ کے اشتہار اشتہار ایک تو اول مرتبہ آپ کو بدست مولوی عزیز ا حسین صاحب آپ کے آدمی امیر علی شاہ صاحب امیر علی شاہ صاحب کو دیا۔ چوتھی مرتبہ مولوی محمد ١٠؍ اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک خط بھی قلمی یہ خاکسار و مولو عبدالحق صاحب سوداگر و حاجی نور احمد صاحب و کے حوالہ کیا جس کا جواب اسی دن شام کو یہ خاکسا آپ کے مکان پر دے آیا۔ باوجود ان تمام باتوں آپ نے پھر کچھ لکھا جس کو صاف کرتے ہوئے چھ کو بہت سویرے پہنچا دیں گے مگر نہ وہ تحریر آئی او تشریف لائے آخر کار آپ کے واسطے شہزادہ صاح صاحب و سید قمر علی صاحب و سید آغا حسین صاحب تحریرات اور تقریر کا اعادہ کیا گیا ہے جو پہلے تحریر ہو اب جو عام شہر میں اور آپ کی حق جوئی کا قصہ گھر گ جناب شیخنا کے نام ارسال فرمایا اس سے وہ دھو جاسکتا کیا اس خط سے وہ وعدہ خلافیاں جو آپ ٢، ٦؍ اکتوبر ١٨٩١ء اور درمیان کی کارروائی جس میں ہے۔ آپ کی لکھی ہوئی نہیں ہیں؟ کیا ان رقعات ج ممکن ہے۔ کہ اس خط سے یا دوبارہ دعوٰی مناظرہ آپ کو پھر گفتگو کا خیال ہے تو ہم لوگ حاضر و مو وغیرہ کا انتظام کرکے اطلاع دیں۔ اور ہم سے جس حاضر و مستعد ہے۔ جناب شیخنا و شیخ الکل مولانا سید ١٦٩
برائے اطمینان خلق اور اتمام حجت اس اشتہار کی تحریر کے بموجب ایک اشتہار منظوری شرائط قطعی شائع کر دیا گیا گو آپ تو مسجد میں آنے کا اقرار کر چکے تھے تاہم جناب شہزادہ مرزا ثریا جاہ صاحب کو تکلیف دی گئی۔ اور ان کا مکان چاندنی محل جس میں ١٣ ہزار آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش ہے لیا۔ اور بموجب اجازت و وعدہ مشتہرہ آپ کے اشتہار ٢، ١٦ اکتوبر یوم یکشنبہ کو جلسہ مقرر کر دیا۔ اور یہ چٹھی اشتہار ایک تو اول مرتبہ آپ کو بدست مولوی عزیز الحسن صاحب بھیجا گیا۔ دوسری دفعہ خود مولوی محمد حسین صاحب آپ کے آدمی امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی کو دے آئے۔ تیسری مرتبہ خاکسار نے امیر علی شاہ صاحب کو دیا۔ چوتھی مرتبہ مولوی محمد دین صاحب آپ کو دے آئے اور احتیاطاً ١٠؍اکتوبر ١٨٩١ء کو ایک خط بھی قلمی یہ خاکسار و مولوی عبد الحمید صاحب و مولوی عبدالغنی صاحب، عبد الحق صاحب سوداگر و حاجی نور احمد صاحب دے آئے جس کے جواب میں پھر آپ نے کچھ حیلہ حوالہ لکھا جس کا جواب اسی دن شام کو یہ خاکسار قریب مغرب ہمراہی مولوی عبد الحمید صاحب آپ کے مکان پر دے آیا۔ باوجود ان تمام باتوں کے شب کو یہ خاکسار پھر آپ کے پاس گیا اور آپ نے پھر کچھ لکھا جس کو صاف کرتے ہوئے چھوڑ آیا۔ اور آپ کے آدمیوں نے کہا تھا کہ ہم صبح کو بہت سویرے پہنچادیں گے مگر نہ وہ تحریر آئی اور نہ وقت مقرر پر باوجود بار بار تاکید کے آپ تشریف لائے آخر کار آپ کے واسطے شہزادہ صاحب بہادر کی سواری اور تین آدمی حاجی نور احمد صاحب و سید قمر علی صاحب و سید آغا حسین صاحب لینے گئے اس پر بھی آپ تشریف نہ لائے (ان تحریرات اور تقریر کا اعادہ کیا گیا ہے جو پہلے تحریر ہو چکی تھی) لاچار ایک بجے جلسہ برخاست کر دیا گیا اب جو عام شہر میں اور آپ کی حق جوئی کا قصہ گھر گھر پھیل گیا تو آپ نے یہ رقعہ ١٤؍اکتوبر ١٨٩١ء جناب شیخنا کے نام ارسال فرمایا اس سے وہ دھبہ جو آپ کے دامن پر لگ چکا ہے۔ دھویا نہیں جاسکتا کیا اس خط سے وہ وعدہ خلافیاں جو آپ سے وقوع میں آئیں دور ہوسکتی ہیں؟ کیا اشتہار ٢، ١٦ اکتوبر ١٨٩١ء اور درمیان کی کارروائی جس میں آپ نے مجلس مناظرہ میں آنے سے انکار کیا ہے۔ آپ کی لکھی ہوئی نہیں ہیں؟ کیا ان رقعات میں آپ کا انکار موجود و مرقوم نہیں ہے پھر اب کیا ممکن ہے۔ کہ اس خط سے یا دوبارہ دعویٰ مناظرہ پر یہ دھبہ دھویا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو پھر گفتگو کا خیال ہے تو ہم لوگ حاضر و موجود ہیں۔ جب اپنی ذمہ داری کے ساتھ مکان وغیرہ کا انتظام کر کے اطلاع دیں۔ اور ہم سے جس کو آپ پسند کریں وہ آپ سے گفتگو کے لیے حاضر و مستعد ہے۔ جناب شیخنا و شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب کی شان اس سے ارفع اعلیٰ
١٦٩
ما گیا تھا کہ فی الحقیقت آپ کو تحقیق حجت کا ایسا نہیں چھوڑا جواب باقی ہو میں کرنی باقی نہیں ہے۔ اس عرصہ میں وہ ظاہر ہیں۔ کہ آپ کو مجادلہ و وں جناب دوسری اکتوبر کے اشتہار ور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ ان کر بعد قبول شرائط مقررہ آپ کی احب نے آپ کے پاس بھیجا جس ے مگر آپ نے ترمیم شرط اول کا حیلہ ی احمد خان صاحب و جناب حکیم عبد تحریر آپ کو دیتے ہیں۔ مگر آپ نے سود احقاق حق نہیں ہے اس کے بعد ان میں جناب میاں صاحب کے دیانت اور انصاف سے مراحل دور
و وفات مسیح ابن مریم لکھے اور اپنے ث سے بے خبر قرار دیتے ہیں۔ وہٰذا
لور ہے۔ کرہ۔
و قال پر زیادہ واقفیت ہوگئی تھی مگر
ہے۔ آپ دوبارہ گفتگو کے لیے تکلیف دیں بلکہ آئندہ آپ کسی قسم کی خط و کتابت سے مولانا صاحب سے نہ کریں جو کہنا اور لکھنا ہو ہم سے کہیں اور ہم کو لکھیں۔ آپ نے اپنے خط کے اخیر میں ایک نئی شرط اور بڑھائی ہے اس کا اور دیگر شرائط ضروریہ کا تصفیہ پبلک کی رائے سے ہوگا۔ ان شروط کو جلسہ میں پیش کیا جائے گا۔ جس امر پر کثرت رائے ہوئی اس کو ماننا پڑے گا بذریعہ تحریران شروط کا تصفیہ ناممکن ہے۔ والسلام عبدالمجید ١٣؍اکتوبر ١٨٩١ء
(مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کی جانب سے) ”خاکسار کا بھی اس جواب پر صاد ہے۔ اور اس پر یہ مستزاد ہے کہ آن قطرہ بہ پایان رسید۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت اب ہزاروں دعویٰ کریں اور بیسوں خط لکھیں وہ الزام گریز آپ سے اٹھ نہیں سکتا لہٰذا آپ کو مناظرہ کا دعویٰ ہے تو جب چاہیں ہم سے مناظرہ کرلیں۔ جناب شیخنا وشیخ الکل سے اب مناظرہ کا نام لینا موجب شرم ہونا چاہیے۔ ابوسعید محمد حسین بٹالوی ١٣؍اکتوبر ١٨٩١ء
یہ خبر پھر شہر میں مشتہر اور گھر گھر ہے۔ کہ مرزا صاحب نے پھر مناظرہ کا اقرار کیا۔ ١٨؍اکتوبر کی صبح سے ہر گلی کوچہ میں ہلا مچا ہوا تھا۔ جوق جوق اور غول غول مردمان مولوی عبدالمجید صاحب کے مکان پر آتے ہیں اور وہ جاتے ہیں۔
- ١....... کہئے جناب آج مناظرہ ہوگا قبلہ۔
مولوی صاحب ...... بھائی صاحب نہیں۔ خود انتظار میں ہوں ابھی تک کوئی خبر نہیں نکلی۔
- ٢....... حضرت مولانا صاحب ...... فرمائیے کیا بات قرار پائی وقت اور مکان مناظرہ کے لیے
کون مقرر ہوا؟ مولوی صاحب ...... ابھی تک مرزا صاحب کی طرف سے کوئی خبر یا اطلاع نہیں آئی میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
مولوی صاحب لوگوں کے سوال و جواب سے تنگ آکر ١٠ بجے کے قریب لوگوں کے ساتھ اٹھ کر مطبع فاروقی میں گئے اور بہ معیت میاں محمد صاحب مہتمم مطبع مذکور نے مرزا صاحب کو رقعہ بھیجا۔
رقعہ
بخدمت گرامی جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی دام لطفہ
بعد سلام مسنون التماس ہے کہ واضح رائے عالی ہو احقر حاضری سے تو بسبب کوتوالی کے پہرہ کے جو جناب نے اپنے مکان پر لگا رکھا ہے۔ معذور ہے ١٨؍اکتوبر یوم شنبہ کو آپ نے لکھا تھا کہ مکان اور انتظام کرکے گفتگو کروں گا۔ صبح سے انتظار ہے۔ کہ اگر آج بھی کوئی سبب خاص مانع
١٧٠
ہے ۔ تو براہ نوازش مطلع فرمائیں۔ اور امید جواب باصواب سے بھی ممنون فرمائیں گے
مرزا صاحب ...... بعد ملاحظہ خط ایک اشتہار مولوی صاحب سے کہہ دیں یہی آپ کا جواب راوی ...... ہم کو وہ اصل اشتہار باوجود تلاش شد
پر تیرا نامہ تو
یہی فقرات سب و شتم جو مولان تہذیب اور خارج از مطلب سمجھ کر قلم انداز
باب
مولانا عبدالم
وہی ساقی وہی
آج دہلی کی جامع مسجد میں بڑ ہوتا ۔ مسجد کے اندر اور صحن میں سڑکوں تک باقی آج تو جمعہ بھی نہیں منگل ہے۔ مسلمانو وقت بھی گزر چکا۔ اور آدمی جمع ہیں۔ اور لوگ سپرنٹنڈنٹ اور سید بشیر حسین صاحب انسپک حمائل کیے ڈنڈا ہاتھ میں لیے موجود ہیں الخ حضرت مسیح موعود ، مہدی مسعود دو فرشتوں مسجد کی سیڑھیوں پر قدم مبارک رکھا اور جوار اوپر چڑھے (مرزا صاحب آنے کے شور درمیانی دائیں بائیں جانب بیٹھ گئے لوگ
ہے ۔ تو براہ نوازش مطلع فرمائیں ۔ اور امید کہ آپ احقر کے اشتہار ١٣؍ربیع الاول ١٣٠٩ھ کے جواب باصواب سے بھی ممنون فرمائیں گے والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ ۔
خاکسار آپ کا خادم محمد عبدالمجید مالک مطبع انصاری دہلی ١٨؍ اکتوبر ١٨٩١ء از دفتر مطبع انصاری دہلی
مرزا صاحب...... بعد ملاحظہ خط ایک اشتہار مورخہ ١٧؍ اکتوبر ١٨٩١ء میاں محمد صاحب کو دے کر مولوی صاحب سے کہہ دیں یہی آپ کا جواب ہے۔
راوی...... ہم کو وہ اصل اشتہار باوجود تلاش نہیں ملا مگر اس کا خلاصہ جس کی سرخی یہ ہے۔
پر تیرا نامہ تو ایک شور کا دفتر نکلا
یہی فقرات سب و شتم جو مولانا صاحب کی نسبت ہیں۔ ہماری نظر سے گزرا خلاف تہذیب اور خارج از مطلب سمجھ کر قلم انداز کیا گیا۔
باب ٢٨ بست ہشتم
مولانا عبدالمجید دہلوی سے مناظرہ
وہی ساقی وہی ساغر وہی صہبا پھر ہو
آج دہلی کی جامع مسجد میں بڑا مجمع ہے۔ ایسا تو کبھی جمعہ کیا ، جمعہ الوداع میں بھی نہیں ہوتا۔ مسجد کے اندر اور صحن میں سڑکوں تک آدمی ہی آدمی ہے۔ جگہ کی تنگی کے سبب نظر بھی دخل نہیں پاتی آج تو جمعہ بھی نہیں منگل ہے۔ مسلمانوں کے سوا اور قوم کے آدمی بھی نظر آتے ہیں۔ جمعہ کا تو وقت بھی گزر چکا۔ اور آدمی جمع ہیں۔ اور لوگ دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ مسٹر ہائیڈ صاحب بہادر سٹی سپرنٹنڈنٹ اور سید بشیر حسین صاحب انسپکٹر اور ایک بڑی جماعت پولیس کی وردی ڈالے ہتھکڑی حمائل کیے ڈنڈا ہاتھ میں لیے موجود ہیں الٰہی خیر آج کیا ہے ٹن ٹن گھنٹہ گھر کی گھڑی نے دو بجائے۔ حضرت مسیح موعود، مہدی مسعود دو فرشتوں (حواریان) کے کاندھے پر ہاتھ کا سہارا دیئے ہوئے۔ مسجد کی سیڑھیوں پر قدم مبارک رکھا اور حواری ارد گرد چاند کے گرد ستاروں کی طرح ہجوم کیے ہوئے اوپر چڑھے (مرزا صاحب آئے کے شور کی آواز سے مسجد گونج گئی) مسجد میں داخل ہوئے اور درمیان دائیں بائیں جانب بیٹھ گئے لوگ زیارت کے واسطے گرد میں حلقہ کئے ہوئے نظر دوڑا رہے
١٧١
تھے۔ ابھی نظارہ زیارت سے سیر نہ ہوئے تھے کہ گھڑی نے تین بجائے ابھی چار نہیں بجے تھے کہ مؤذن نے صدائے اللہ اکبر بلند کی اور ایک طرف آدمیوں میں ہل چل پیدا ہوئی۔ آدمیوں کو چیر کر راستہ کیا گیا حضرت مولانا استاد عرب وعجم شمس العلماء و فضلاء عمائد شہر و امراء و انصار پیشتر ہی موجود تھے مولانا صاحب کا تشریف لانا تھا کہ اقامت کہی گئی جماعت کے ساتھ چار ہزار آدمیوں نے نماز عصر ادا کی مگر حضرت مسیح زمان معہ حواریان امام کے آگے بیٹھے رہے بعض مسلمین نے ان حضرات کو شرکت جماعت کے لیے کہا مگر یہ سب کے سب اسی طرح بیٹھے رہے بعد ادائے نماز عصر جناب مولوی عبدالمجید صاحب و سید بشیر حسین صاحب انسپکٹر پولیس و نواب سعید الدین احمد خان صاحب بہادر منجانب مولانا صاحب (حضرت شیخ الکل) مرزا صاحب کے پاس گئے۔
انسپکٹر صاحب ...... حسب قرار داد مولانا صاحب آپ لکھ دیں اگر جناب مولانا صاحب نے میرے دلائل بحلف رد کر دیے تو میں توبہ اسی مجمع میں کروں گا۔
مرزا صاحب ...... خاموش۔
حواریین ...... (گھبرا کر اور کھڑے ہو کر) ایک سال کے بعد توبہ کریں گے۔ مگر اس میں یہ شرط ہے کہ اگر جناب مرزا صاحب کی بددعا کا اثر نہ ہوا۔
حاضرین جلسہ ...... (چند آوازیں) یعنی اگر ایک سال کے اندر مولانا صاحب کو نصیب دشمنان بخار آ گیا یا درد سر ہو گیا تو توبہ نہیں کریں گے۔
ظریف ...... چلو نومبر کے مہینے میں تبدیل موسم کی وجہ سے نزلہ و زکام تو ایک طبعی امر ہے اور اس پیرانہ سالی سوا سو برس کی عمر میں تو لا بدی۔
صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ ہنس کر یہ تو کوئی کام کی بات نہیں آپ کی اس بات کو تو کوئی بھی منظور کر سکتا۔
مولوی عبدالمجید صاحب ...... صاحب ہم آپ کو ثالث مقرر کرتے ہیں آپ ان سے دریافت کریں کہ بموجب تحریر مولانا صاحب آپ اپنے عقائد کا ثبوت بیان کر سکتے ہیں اور درصورت عدم تسلیم مولانا صاحب کی قسم اور حلف پر اس وقت توبہ کریں گے یا نہیں۔ ہم بات بڑھاتے نہیں۔ چاہیے نہ وقت ٹالنا۔
صاحب بہادر ...... (مرزا صاحب اور ان کے اعوان سے) تم لوگ کیوں بات بڑھاتے ہو۔ ایک بات مختصر کہو کہ ہم کو یہ بات منظور ہے کہ نہیں۔
١٧٢
نے تین بجائے ابھی چار نہیں بجے تھے کہ ں میں ہل چل پیدا ہوئی۔ آدمیوں کو چیر کر و فضلاء عمائد شہر و امراء انصار و بیشتر ہی موجود ماعت کے ساتھ چار ہزار آدمیوں نے نماز بیٹھے رہے بعض مسلمین نے ان حضرات کو رح بیٹھے رہے بعد ادائے نماز عصر جناب لیس و نواب سعید الدین احمد خان صاحب حب کے پاس گئے۔
لکھ دیں اگر جناب مولانا صاحب نے ں گا۔
بعد توبہ کریں گے۔ مگر اس میں یہ شرط ہے
ء اندر مولانا صاحب نہ نہیں کریں گے۔ سے نزلہ و زکام تو ایک طبعی امر ہے اور اس
ے پرانند بات نہیں آپ کی اس بات کو تو کوئی بھی
ر کرتے ہیں آپ ان سے دریافت کریں ت بیان کر سکتے ہیں اور درصورت عدم تسلیم یا نہیں۔ ہم بات بڑھاتے نہیں۔ چاہیے
) تم لوگ کیوں بات بڑھاتے ہو۔ ایک
مرزا صاحب...... ہم صرف حیات و ممات مسیح میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔ مولوی صاحب...... اس مسئلہ حیات و ممات میں بھی اور آپ کے کل عقائد کا ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم کیوں ایک مسئلہ کا فیصلہ کریں۔ جب آپ کے بہت سے عقائد خلاف اہل اسلام ہیں۔ اور بڑا دعویٰ تو آپ کو مسیحائی کا ہے آپ اس کا کچھ ثبوت دے سکتے ہیں یا نہیں۔ صاحب بہادر ...... دیگر رؤساء بے شک ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مرزا صاحب...... (وہی معمولی جواب) نہیں ہم تو حیات و ممات مسیح میں بحث کریں گے۔ مولوی صاحب...... پبلک کی رائے پر آپ کیوں نہیں فیصلہ کرتے۔ حوارین...... پبلک آپ کے ساتھ ہے۔ صاحب بہادر ...... آپ مسیح موعود ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو ثبوت پیش کریں فرض کریں کہ مسیح مر گئے۔ تو اس حالت میں سب لوگ برابر ہیں آپ کو کیا زیادہ حق ہے کہ آپ کو مسیح سمجھا جائے بہر صورت آپ کو اپنے دعوے کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ مرزا صاحب...... خاموش جواب ندارد۔ یہ چپ ہوا ہے گویا نہیں زبان منہ میں۔ مولوی صاحب...... (بلند آواز سے صاحبو خاموش) ہم ہر مسئلہ میں گفتگو کے لیے تیار ہیں۔ آپ کے پاس اگر کوئی شرعی برہان ہے تو لائیے (بہت بلند آواز سے ھاتوا برھان کم ان کنتم صادقین۔ غلام قادر صاحب حواری ...... (صاحب سپرنٹنڈنٹ سے) دیکھیے صاحب یہ لوگوں کو سناتے ہیں۔ صاحب بہادر ...... کیوں نہ سنائیں۔ خواجہ محمد یوسف ...... (وکیل علی گڑھ منجانب مرزا صاحب مولوی صاحب سے) حضرت ایک شخص مسلمان ہوتا ہے۔ کیوں اسے مسلمان نہیں کرتے۔ مولوی صاحب...... اگر توبہ کرے ہمارا بھائی ہے۔ خواجہ صاحب ...... میں ابھی ان سے توبہ نامہ لکھوائے لیتا ہوں ۔ وہ لکھ دیں گے کہ جو کچھ قرآن و حدیث کے خلاف میں نے لکھا ہے وہ مردود ہے اور میں مسلمان ہوں۔ مولوی صاحب...... اگر وہ بغیر کسی مغالطہ کے ایسا لکھیں تو ہم ابھی منظور کرتے ہیں۔ مرزا صاحب...... توبہ نامہ لکھنے لگے مگر ویسا ہی لکھا جیسا کہ ١٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء کے اشتہار میں شائع کر چکے ہیں۔
مولوی صاحب یہ تو مرزا صاحب پہلے ہی لکھ چکے ہیں۔ لکھنا تو یہ چاہیے کہ جو عقائد خلاف اہل اسلام ہیں فی فتح الاسلام اور توضیح مرام اور ازالۃ الاوہام میں لکھے ہیں۔ ان سے توبہ کرتا ہوں۔
١٧٣
خواجہ صاحب...... مرزا صاحب نے کوئی امر خلاف اہل اسلام نہیں لکھا مگر سمجھنے کا فرق ہے۔
مولوی صاحب...... اچھا مرزا صاحب ہم سے گفتگو کرلیں۔ کہ یہ عقائد خلاف قرآن وحدیث ہیں یا نہیں۔ ہم ابھی ان کی کتابیں پیش کرتے ہیں۔
مرزا صاحب...... ہم گفتگو نہیں کرتے۔
اراکین جلسہ...... یہ جلسہ اس لیے ہوا ہے کہ آپ اپنے عقائد کا ثبوت بیان کریں۔ مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب تسلیم کریں۔ یا حلف سے ان کا خلاف قرآن وحدیث بیان کریں۔ تو آپ توبہ کریں۔
مرزا صاحب...... ہم صرف حیات و ممات مسیح میں تحریری ثبوت چاہتے ہیں (رومال سے عرق جبیں پاک کر کے) اور کوئی گفتگو نہیں کرتے۔
اراکین جلسہ...... یہ جلسہ مجمع تحریروں کے لیے منعقد نہیں ہوا یہ کام تو گھر بیٹھے ہی ہورہے ہیں۔ جب آپ ثبوت دعویٰ نہیں کرتے تو خلقت کو رخصت کر دینا چاہیے۔
نواب سعید الدین احمد خان صاحب...... (اراکین جلسہ سے) اچھا کچھ نہیں تو مرزا صاحب صرف ممات مسیح میں اپنے دلائل پیش کریں۔
مرزا صاحب...... (زبان کو ہونٹوں پر پھیر کر اور ایک گھونٹ پانی کا پی کر) ہم تو صرف مولانا صاحب سے تحریری ثبوت چاہتے ہیں۔
اراکین جلسہ...... اگر آپ گفتگو اور فیصلہ سننا چاہتے ہیں تو مولانا صاحب اور ان کے تلامذہ تیار ہیں۔ خلاف مقصود تحریروں کے لیے یہ جلسہ نہیں ہے۔
خواجہ صاحب...... میں مرزا صاحب کی ایک تحریر سناتا ہوں۔
مولوی صاحب...... آپ اس بات کا مجاز نہیں رکھتے۔
خواجہ صاحب...... آپ نہ بولیں (کھڑے ہوکر) میں ضرور سناؤں گا۔
مولوی صاحب...... آپ سنائیں ہم ہر ایک جملہ کا رد کر دیں گے۔
صاحب سپرنٹنڈنٹ...... (خواجہ صاحب کو روک کر) آپ ایسا نہیں کرسکتے اور مولوی عبدالمجید صاحب سے کہا آپ لوگوں کو پکار کر کہہ دیں۔ رخصت سب لوگ جاؤ مرزا صاحب گفتگو نہیں کرتے۔
مولوی صاحب...... صاحبو! جلسہ برخاست مرزا صاحب اپنے دعوے کا ثبوت نہیں بیان کرتے۔
صاحب سپرنٹنڈنٹ...... (مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی) کہہ دیجیے۔ کہ جلسہ برخاست۔
انسپکٹر صاحب...... (مولانا صاحب کی خدمت میں آکر) جلسہ برخاست مرزا صاحب گفتگو نہیں کرتے پھر انسپکٹر صاحب اور صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مرزا صاحب سے کہا تشریف لے
١٧٤
جائیے اب بیٹھنا بے کار ہے۔ مرزا صاحب ک تک پہنچا دیا۔ مسجد میں سناٹا ہو گیا۔
- ١...... افسوس آج بھی لوگ محروم ہی گئے
کیسے گئے۔ یہ تو دم میں آنے والی اسامی نہیں مقابلہ پر ایک دفعہ بھی آتے نہ دیکھا۔ جس کی ک
- ٢...... اس سے پہلے جو اشتہار جاری ہوا
صاحب دھوکہ میں آگئے۔ کہ شاید وہ نہ آئیں صاحب نے باایں ہمہ پیرانہ سالی اور ضعیف الع
- ٣...... آج تو مرزا صاحب کے منہ پر ز
پپڑیاں جم گئی تھیں۔ خشک زبان سے بولا بھی نہ کہاں آ پھنسا۔ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی ماری
سعدی از
- ٤...... میاں آج تو جس حالت سے گ
بہت بے آبرو ہو ک
- ٥...... میاں ایسی کیا ضرورت تھی۔ یہ
است۔ جب مرزا صاحب نے ایک دفعہ م سے نکال کر ٹال دیا اب کیا امید تھی۔ اور کس عزیز کی تفضیح کرتے ہیں۔
- ٦...... تم نے سنا ہوگا۔ اور اشتہارات
واسطے کہ عوام دھوکہ میں نہ پڑجائے۔ حضرت کو منظور کیا۔ اس مرتبہ یہ درخواست تھی۔ ہ دلائل وفات مسیح ایک مجلس میں اللہ جل شانہ سے عوام لوگ یہ سمجھیں کہ گویا جناب شیخ الم حضرت مولانا صاحب نے بذریعہ رقعہ
جائیے اب بیٹھنا بے کار ہے۔ مرزا صاحب کو صاحب بہادر پولیس کی حفاظت میں ان کی گاڑی تک پہنچا دیا۔ مسجد میں سناٹا ہو گیا۔
- .......١ افسوس آج بھی لوگ محروم ہی گئے۔ مگر آج تو بہت بری ہوئی مرزا صاحب آج پھنس
کیسے گئے۔ یہ تو دم میں آنے والی اسامی نہیں تھی۔ ایک مہینہ ہو گیا اشتہار بازی بھی ہوتی رہی مگر مقابلہ پر ایک دفعہ بھی آتے نہ دیکھا۔ جس کی کہ مزید تیاریاں ہوئیں۔
- .......٢ اس سے پہلے جو اشتہار جاری ہوا تھا۔ اس میں میاں صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ مرزا
صاحب دھوکہ میں آگئے ۔ کہ شاید وہ نہ آئیں۔ تو پھر میدان ہمارے ہاتھ رہ جائے گا۔ میاں صاحب نے بایں ہمہ پیرانہ سالی اور ضعیف العمری کے کوئی حجت باقی نہیں رکھی۔
- .......٣ آج تو مرزا صاحب کے منہ پر زردی چہرہ پر مردنی چھا گئی۔ ہونٹوں پر خشکی کے مارے
پپڑیاں جم گئی تھیں۔ خشک زبان سے بولا بھی نہیں جاتا تھا۔ دل میں تو بہت پچھتائے ہوں گے میں کہاں آ پھنسا۔ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مار لی۔ جاتی بلا اپنے گلے ڈال لی۔
سعدی از دست خویشتن فریاد
- .......٤ میاں آج تو جس حالت سے گئے ہیں تمام عمر ہی یاد رکھیں گے۔
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے
- .......٥ میاں ایسی کیا ضرورت تھی۔ یہ لوگ بھی دیوانہ ہو گئے ہیں۔ آزمودہ را آزمودن جہل
است۔ جب مرزا صاحب نے ایک دفعہ دو دفعہ تین دفعہ ہمیشہ مناظرہ کو ہزار بات اور ہزار حیلہ سے نکال کر ٹال دیا اب کیا امید تھی۔ اور کس بھروسہ پر لوگ بھاگے چلے آتے ہیں۔ اپنے اوقات عزیز کی تضیع کرتے ہیں۔
- .......٦ تم نے سنا ہوگا۔ اور اشتہارات تو دہلی کی دیواروں پر لگے دیکھے ہوں گے قطع حجت کے
واسطے کہ عوام دھوکہ میں نہ پڑ جائے۔ حضرت میاں صاحب نے مرزا صاحب کی ہر ایک درخواست کو منظور کیا۔ اس مرتبہ یہ درخواست تھی۔ کہ اگر میاں صاحب بحث کرنا نہیں چاہتے۔ تو میرے دلائل وفات مسیح ایک مجلس میں اللہ جل شانہ کی تین قسم کھا کر یہ کہہ دیجیے۔ کہ دلائل صحیح نہیں ہیں جس سے عوام لوگ یہ سمجھیں کہ گویا جناب شیخ الکل مرزا صاحب سے مناظرہ نہیں کرتے۔ اس کا جواب حضرت مولانا صاحب نے بذریعہ رقعہ بمنظوری شرائط مرزا صاحب کو لکھا۔
١٧٥
خط و کتابت دربارہ مناظرہ مندرجہ بالا
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ نبیہ الکریم بمطالعہ گرامی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سلمہ
ابرم کہ تلخ گیرم و شیرین عوض دہم
بعد سلام مسنون مدعا یہ ہے کہ آپ کا اشتہار مورخہ ١٧؍اکتوبر ، ١٨؍اکتوبر کو میرے پاس پہنچا اس میں ٢؍اکتوبر ، ٦؍اکتوبر کے اشتہار سے علاوہ کلمات مہذبانہ صرف ایک بات زیادہ ہے کہ مجمع عام میں آپ اپنے ثبوت دعوے میں آیات صریح الدلالت قرآنیہ اور احادیث صحیح پیش کریں۔ اور عاجز اس سے اقرار یا انکار تخلف کرے۔ لہٰذا یہ ایک ایسی بات ہے۔ جس نے ہم کو آپ کی آزمائش کے لیے پھر آمادہ کیا ہے کہ عاجز آپ کی اس بات کو بھی آزما دیکھے کیونکہ آپ کی دو باتوں کی آزمائش ہوچکی اول یہ کہ ٢؍اکتوبر کے اشتہار میں آپ نے عاجز سے استدعا رفع شکوک کی تھی۔ جس کے واسطے ٥؍اکتوبر کو آپ کو لکھا تھا۔ کہ آپ آکر حسب شرائط قرار داد خود رفع شکوک کرلیں مگر آپ ثابت قدم نہ نکلے۔
دوسرے ٦؍اکتوبر کے اشتہار میں آپ نے مناظرہ کے واسطے درخواست کی جس کے لیے ١١؍اکتوبر بروز یکشنبہ قرار پا کر جلسہ منعقد ہوا۔ مزید برآں کہ عین وقت جلسہ کے جو کچھ آپ نے کیا عاجز نے محض اظہاراً للحق قبول کیا مگر آپ تشریف نہ لائے۔
اب تیسری بات جو آپ نے ١٧؍اکتوبر کے اشتہار میں لکھی ہے۔ اس کے پورا کرنے کے لیے عاجز خالصا للہ آپ کی استدعا کے موافق اطلاع دیتا ہے کہ آپ کل بروز شنبہ ١٦؍ربیع الاول ١٣٠٩ھ کو ٣ بجے دن کے جامع مسجد میں آکر اپنے عقائد محدثہ (جو آپ کی تالیف میں مندرج ہیں۔ جو ان کی تفصیل ذیل میں واسطے وضاحت کے درج کی جاتی ہے اور جن کی وجہ سے علماء اہل سنت نے کفر و الحاد کے فتوے لکھے ہیں) بیان کریں اگر یہ عقائد آپ نے کتاب وسنت سے موافق قاعدہ مقررہ علماء اسلام مجمع عام میں میرے روبرو ثابت کردے تو واللہ باللہ مجھ کو کسی قسم کا عذر قبول کرنے میں نہ ہوگا۔ اور اگر ان عقائد وکلمات مذکورہ بالا کا ثبوت بدلائل کتاب وسنت نہ دیا۔ تو میں تین قسم سے کیا سو قسم کے ساتھ ان کا رد کردوں گا۔ لیکن ان میری قسموں کا معاوضہ آپ کو یہ کرنا ضرور ہوگا کہ آپ اسی مجمع عام میں تائب ہوجائیں اور عقائد مذمومہ اپنے کے چھوڑ دینے ہیں۔ کچھ حیلہ حوالہ نہ کریں۔ اور آئندہ کے واسطے ایک حلفی اقرار لکھ دیں۔ کہ میں گاہے ایسے عقائد
١٧٦
باطلہ کا اظہار نہ کروں گا۔ ہاں آپ دعا ایک سال نہیں بلکہ تا زندگی کرتے رہیں اور جب ظہور اجابت ہو رجوع کا اختیار ہے۔ اگر علاوہ جامع مسجد کے کوئی اور جگہ آپ نے تجویز کر رکھی ہے۔ تو حاملین رقعہ ہذا سے کہہ دیں عاجز وہاں آجائے۔ اور وہی مقام مشتہر کر دیا جائے کہ خلائق حیران نہ ہو مکرر آن کہ یہ تیسری دفعہ حسب استدعاء و تحریر آپ کے جلسہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس پر آپ نے کوئی عذر و حیلہ کیا تو مسموع نہ ہوگا۔ والسلام!
جواب رقعہ منجانب مرزا صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی مکرمی خدمت حضرت مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب
بعد سلام مسنون واضح ہو۔ آپ نے میرے ١٧ اکتوبر کے اشتہار کے جواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے متعلق قسم کھانے اور اس امر میں میری آزمائش کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ مگر یہ رقعہ اس قسم کا پیچیدہ ہے کہ یہ نہایت ضروری ہے۔ کہ اسکی توضیح کی جائے میں آپ کو پھر یاد دلاتا ہوں۔ اور وہ عبارت اشتہار کی نقل کرتا ہوں۔ تاکہ آپ کو خوب یاد رہے کہ آپ کو کس امر کے متعلق اور کس طریق پر قسم کھانی ہے۔ وہ الفاظ یہ ہیں۔ اگر آپ کسی طرح بحث کرنا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں تمام میرے دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جل شانہ کی تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں۔ اور صحیح اور یقینی امر یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور آیات قرآنی اپنی صریح اور قطعی الدلالتہ ہے اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ اپنے کھلے کھلے منطوق سے اسی پر شہادت دیتی ہیں اور میرا عقیدہ بھی ہے تب میں آپ کی اس حق پوشی پر آسمانی فیصلہ کے لیے دعا کروں گا اور اگر ایک سال تک اس کا کوئی کھلا کھلا آپ پر اثر نہ ہوا تو میں ضرور صدق دل سے توبہ کروں گا آپ ان الفاظ کو خوب یاد رکھیں۔ اور انہیں الفاظ کے ساتھ آپ کو قسم کھانی ہوگی اور یہ بھی یاد رہے کہ کسی شخص کو یا آپ کو میرے تقریر کرنے یا تحریر سنانے کے عرصہ میں بولنے کا اختیار نہ ہوگا۔ میری تقریر یا تحریر کو تمام و کمال سننے کے بعد آپ قسم کھائیں گے۔ غرض اس معاملہ میں آپ کو اشتہار ١٧ اکتوبر کے الفاظ کی پوری پابندی لازم ہوگی۔ علاوہ اس کے جو آپ نے بہت باتیں مسئلہ حیات وممات مسیح ابن مریم کے علاوہ تحریر کر کے رقعہ کی پشت پر لکھے ہیں۔ ان پر میں ہر طرح بحث تحریری کرنے کے لیے کسی اور جلسہ میں جو آپ مقرر کریں تیار ہوں۔ یہ جلسہ جو میرے اشتہار مذکور کے جواب میں آپ نے مقرر کیا ہے۔ صرف حیات وفات مسیح کے متعلق ہے۔ اور صرف اس امر کے متعلق میں نے آپ کو قسم کھانے کی
١٧٧
تحریک کی ہے اور یہ بھی اختیار دیا ہے کہ چاہیں تو تحریری بحث اس کے متعلق کریں۔ ان جملہ امور کے گوش گزار کرنے کے بعد میں آپ کو مطلع کرتا ہوں میں آج انشاء اللہ تعالیٰ جامع مسجد میں وقت مقررہ پر حاضر ہو جاؤں گا۔ اگر آپ انہیں شرطوں کے موافق بحث کے لیے یا قسم کھانے کے لیے جامع مسجد میں تشریف لاتے ہیں۔ تو واپسی مجھ کو اطلاع دیں یعنی مجھ کو اس امر سے مطلع فرما دیں کہ میں حسب منشاء آپ کے اشتہار ١٧ اکتوبر ١٨٩١ء بحث کرنا چاہتا ہوں۔ یا قسم کھانا چاہتا ہوں۔ تاکہ آپ کا رقعہ بطور سند رکھا جائے۔
خاکسار عبداللہ المعروف غلام احمد ٢٠ اکتوبر ١٨٩١ء
رقعہ ثانی جناب مولانا صاحب
بجواب رقعہ مرزا صاحب
بعد سلام مسنون مدعا یہ ہے میں تم کو کل خط میں جو کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس کے خلاف ایک حرف بولنے کا آپ کو مجاز نہ ہوگا۔ اس میں کوئی پیچیدہ بات نہیں لکھی گئی ہے۔ تمام مضمون صریح وصاف ہے۔ اس کو پیچیدہ کہہ کر حیلہ حوالہ کرنا یہ تمہاری اس موقع سے پہلو تہی کرنا ہے۔ آپ نے میرا قسم کھانا ایک امر پر چاہا تھا میں نے اس کے ساتھ چند امور شامل کر دیے۔ باقی امور کی شمولیت کو موقع پر ملتوی رکھنا۔ جس میں آپ کی درخواست سے زائد قبول ہوئی کچھ کمی نہیں ہوئی اور اس زیادتی میں کسی قسم کا حرج نہیں۔ جب فیصلہ قسم پر قرار پایا تو پھر ایک امر اور چند امور پر قسم کھانا مساوی ہے۔ اور تقریباً مساوی وقت چاہتا ہے لہٰذا اول آپ کو میری قسم پر اقرار نامہ کا اس مجمع میں لکھنا ہوگا۔ پھر میری طرف سے آپ کے عقائد سنائے جائیں گے۔ پھر ہر عقیدہ پر آپ کو ایک مرتبہ صریح الدلالت آیت یا حدیث صحیح پیش کرنی ہوگی اور قسم پر فیصلہ ہوگا۔ اور اس مجلس میں یہ اختیار آپ کو ہرگز نہ ہوگا۔ کہ اپنی طرف سے آپ کچھ بولیں۔ جب تک میری طرف سے سوال نہ کیا جائے۔ اور سوال کے بعد بھی آپ کو اس قدر بولنا ہوگا۔ جس قدر آپ سے پوچھا جائے۔ زائد از مطلوب اگر آپ بولیں گے تو فوراً روک دیے جائیں گے۔ اور یہ آپ کی صریح پہلو تہی اور حیلہ جوئی سمجھی جائے گی۔
یہ عاجز وقت معینہ پر مسجد میں جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ آپ بپابندی تحریر امروز و دیروز ضرور آئیں۔ اور میری دونوں تحریریں مرقومہ ١٩، ٢٠ اکتوبر سنداً ضرور ساتھ لائیں۔ الراقم سید محمد نذیر حسین ٢٠ اکتوبر ١٨٩١ء
١٧٨
حاشیہ جات
١ ؎ چنانچہ حضرت اقدس (مرزا صاحب چنانچہ جب انہیں (شیخ الکل صاحب) خبر ملی مر مقررہ سے آدھا گھنٹہ بعد بصد جبر واکراہ آئے میں قدم رکھا اور نماز عصر کے ادا کرنے میں مصر جمع کر کے باجماعت پڑھ آئے تھے۔
(ماخوذ صفحہ ٧ کالم دوم ضمیمہ اخبار
باب ٩
دہلی میں
ذکر میرا مجھ سے بہتر
دہلی کے ہر فرد و بشر برنا و پیر اعلیٰ و اد درباری و بازاری کی زبان پر مسیح موعود کا تذکر نے تو وہ کام کیا کہ چار دانگ خلائق میں ہند دی مہدی سوڈان نے گو جان دے دی۔ تما ہوئی اس کو فقط تعلیم یافتہ اخباروں کے شائق واقف ہو گیا۔ عرب عجم میں شہرت ہوگئی۔ یـ دقیقہ باقی نہیں رہا۔
اب مسیح موعود کا دہلی میں قیام ہـ لگائے مسیح موعود اور چاند کے گرد ستاروں کی طـ دروازہ پر پولیس کا پہرہ کھڑا ہـ میں لیے پھر رہے ہیں۔
مرزا صاحب ...... اپنے فضائل اور خوارق عاد
حواری ...... ہاں میں ہاں ملا کر آمنا و صدقنا کـ
مرزا صاحب ...... خوشی کے مارے پھول کر کـ
حاشیہ جات
١؎ چنانچہ حضرت اقدس (مرزا صاحب) چند خادموں کے پہنچتے ہی جامع مسجد جا پہنچے چنانچہ جب انہیں (شیخ الکل صاحب) خبر ملی مرزا صاحب تیار ومستعد مسجد میں تھے تو وہ بھی وقت مقررہ سے آدھا گھنٹہ بعد بصد جبر و اکراہ آئے ٹھیک ساڑھے تین بجے تھے جب انہوں نے مسجد میں قدم رکھا اور نماز عصر کے ادا کرنے میں مصروف ہوئے حضرت اقدس اور ان کے خدام ظہر و عصر جمع کر کے باجماعت پڑھ آئے تھے۔
(بلفظہ صفحہ ٧ کالم دوم ضمیمہ اخبار پنجاب گزٹ مورخہ ٤ نومبر ١٨٩١ء بحوالہ فضل رحمانی ص ١١٦)
باب ٢٩ بیست و نہم
دہلی میں رسوائی
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
دہلی کے ہر فرد و بشر برنا و پیر اعلیٰ واسفل صغیر و کبیر مرد و زن خاص و عام عمائد و رؤساء شہر درباری و بازاری کی زبان پر مسیح موعود کا تذکرہ ہے جہاں دیکھو یہی ذکر واذکار ہے اور اشتہاروں نے تو وہ کام کیا کہ چار دانگ خلائق میں ہند سے لے تا شام و روم بمبئی مدراس یورپ میں دھوم مچا دی مہدی سوڈان نے تو جان دے دی۔ تمام ممالک میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس کو یہ شہرت نصیب نہ ہوئی اس کو فقط تعلیم یافتہ اخباروں کے شائق جانتے تھے۔ مگر ان سے جاہل و عالم ہر فرقہ کا انسان واقف ہو گیا۔ عرب عجم میں شہرت ہو گئی۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ خیر یا شر کے ساتھ مگر شہرت میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہا۔
اب مسیح موعود کا دہلی میں قیام ہے ایک مکان میں مختصر سا فرش ہو رہا ہے ایک مسجد پر تکیہ لگائے مسیح موعود اور چاند کے گرد ستاروں کی طرح گرد حواری موجود ہیں۔ دروازہ پر پولیس کا پہرہ کھڑا ہے۔ مکان کے گرد چند کانسٹیبل ۔ کمر بستہ لیس ڈنڈا ہاتھ میں لیے پھر رہے ہیں۔
مرزا صاحب ...... اپنے فضائل اور خوارق عادت پیشگوئیوں کا ذکر اور الہاموں کا بیان فرما رہے ہیں۔
حواری ...... ہاں میں ہاں ملا کر آمنا وصدقنا کا کلمہ سنا رہے ہیں۔
مرزا صاحب ..... خوشی کے مارے پھول کر کپا ہو رہے ہیں۔
١٧٩
حواری...... حضرت اقدس وہ میدان مارا کہ باید وشاید ۔ ٢...... شیخ الکل حضور سے ڈر گئے قسم کھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ بھاگے ہی تھے۔ ٣...... رعب میں دب گئے۔ خدا کی قسم منہ پر ہوائیاں اڑتی تھیں۔ رنگ زرد گویا ہلدی پھیری ہوئی تھی۔ ٤...... اگر قسم کھاتے تو دیکھ لیتے کیا ہوتا سال ہی خیریت سے گزر جاتا ۔ خوشامدی...... ہوں سال کی بھی ایک ہی کہی مسجد ہی میں غضب الٰہی نازل ہو جاتا گھر پہنچنے کی نوبت نہ آتی۔ پتھر برسنے لگتے پتھر۔ ٥...... بھائی تم سچ کہتے ہو آسمان پر ایک ابر کا ٹکڑا سا تو نظر آنے لگا تھا۔ ٦...... دیکھا تو میں نے بھی تھا بلکہ مجمع کو تو اس میں فرشتے بھی نظر آتے تھے۔ ٧...... خدا کے مرسل کا کہنا کبھی ٹل سکتا ہے۔ اور مرسل بھی وہ جس کا خدا خود محکوم ۔ سید صاحب...... وہ خود اپنے نبی سے وعدہ کر چکا ہے ادعونی استجب لکم ۔ خادم...... حضور وہ حاجی صاحب (کچھ سوچ کر) حاجی محمد احمد صاحب سودا گر حضور کی زیارت کے واسطے آئے ہیں۔ مسیح...... آنے دو اور جو حواری ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ جھٹ آن بیٹھے۔ حاجی...... صاحب السلام علیکم ۔ مسیح...... وعلیکم السلام مزاج بخیر۔ حاجی صاحب...... الحمد للہ (مصافحہ کے واسطے ہاتھ بڑھائے) مسیح زمان...... (نے مسکرا کر ہاتھ ملایا) کیا آج کوئی اور پیغام لائے ہیں۔ حاجی صاحب...... پیغام سے خالی تو نیاز مند نہیں آیا۔ مسیح...... (کچھ گھبرا کر) کیا میاں صاحب کا کوئی پیغام ہے۔ حاجی صاحب...... نہیں بلکہ بھوپال سے یہ کہہ کر ایک خط پیش کیا۔ مسیح موعود...... اس کا جواب آپ کے پاس پہنچ جائے گا۔ حاجی صاحب...... پھر تخفیف تصدیعہ ۔ مسیح موعود...... اچھا تشریف لے جائیے۔ اس کو دیکھ کر اور جواب لکھ کر بھیج دوں گا۔ حاجی صاحب...... رخصت ہوئے اور حضرت مسیح زمان نے لفافہ کھول کر خط پڑھنا شروع کیا۔
بسم الله الرحمن الرحيم حامداً و مصلياً ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمته انك انت الوهاب . اما بعد السلام علیکم !
١٨٠
جناب مرزا صاحب قادیانی اور ان کے اتباع پر مخفی مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩١ء مذکور جو بمقابلہ جناب م ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں آئے معلوم نہیں کہ جن خاکسار محض نہ نظر احقاق حق و ابطال باطل کے ۔ کے ساتھ مناظرہ کے لیے تیار ہے اور شروط مسل ثالث میں تھوڑی ترمیم چاہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ بحثِ وفات مسیح میں غلطی پر نکلا تو دوسرے دعوے کر دیجیے اگر میں اس بحث وفات عیسیٰ میں صواب عدم نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور میرا مسیح موع السلام کے ان دونوں امور میں بلا عذر بحث ضرور گا تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور نزول عیسیٰ علیہ السل متصور نہ ہوگا۔ آپ کا دعویٰ جو تمام اہل اسلام کے علیہ السلام اور دعویٰ آپ کے مسیح موعود ہونے کا ثا
جواب
مجھے یہ منظور ہے کہ اول حضرت مسیح بحث کے تصفیہ کے بعد پھر ان کے نزول اور اس جائے اور جو شخص طرفین سے ترک بحث کرے
رقعہ مرزا صاحب موسومہ حاجی محمد احمد
مکرمی اخویم مولوی محمد احمد صاحب عرض کیا جاتا ہے۔ مجھے مولوی محمد بشیر صاحب بحث کرنا بدل و جان منظور ہے۔ پہلے بہر حال حاضرین کو سنا دے گا۔ والسلام !
جناب مرزا صاحب قادیانی اور ان کے اتباع پر مخفی نہ رہے کہ آپ کے اشتہارات ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء و مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩١ء مذکور جو بمقابلہ جناب مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی کے شائع ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں آئے معلوم نہیں کہ جناب میاں صاحب نے کیا جواب دیا۔ لیکن یہ خاکسار محض بنظر احقاق حق و ابطال باطل کے لیے صرف حق تعالیٰ کی نصرت پر اعتماد کر کے آپ کے ساتھ مناظرہ کے لیے تیار ہے اور شروط مسئلہ مندرجہ اشتہار ١٦ اکتوبر کو تسلیم کرتا ہے لیکن شرط ثالث میں تھوڑی ترمیم چاہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ تو آپ خود ہی حلفاً اقرار کرتے ہیں اگر میں اس بحث وفات مسیح میں غلطی پر نکلا تو دوسرے دعوے خود بخود چھوڑ دوں گا۔ اس قدر اس میں اور زیادہ کر دیجیے اگر میں اس بحث وفات عیسیٰ میں صواب پر نکلا تو صرف اتنی بات سے میرا اصل دعویٰ یعنی عدم نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور میرا مسیح موعود ہونا ثابت ہوگا۔ بعد ختم بحث وفات عیسیٰ علیہ السلام کے ان دونوں امور میں بلا عذر بحث ضرور کی جائے گی اور جو کوئی طرفین میں سے عذر کرے گا تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور نزول عیسیٰ علیہ السلام صرف ثبوت وفات عیسیٰ علیہ السلام سے باطل متصور نہ ہوگا۔ آپ کا دعویٰ جو تمام اہل اسلام کے مخالف سمجھا جاتا ہے وہ بھی تو دعویٰ عدم نزول عیسیٰ علیہ السلام اور دعویٰ آپ کے مسیح موعود ہونے کا ہے۔ والسلام علی من تبع الہدیٰ! خاکسار محمد بشیر عفی عنہ از بھوپال محلہ گوجر پورہ ٩؍ ربیع الاول ١٣٠٩ء
جواب
مجھے یہ منظور ہے کہ اول حضرت مسیح ابن مریم کی وفات حیات کے بارہ میں بحث ہو۔ بحث کے تصفیہ کے بعد پھر ان کے نزول اور اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں مباحثہ کیا جائے اور جو شخص طرفین سے ترک بحث کرے گا۔ اس کا گریز کرنا سمجھا جائے گا۔
رقعہ مرزا صاحب موسومہ حاجی محمد احمد صاحب سوداگر
مکرمی اخویم مولوی محمد احمد صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ حسب استفسار آپ کے عرض کیا جاتا ہے۔ مجھے مولوی محمد بشیر صاحب سے مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم علیہ السلام میں بحث کرنا بدل و جان منظور ہے۔ پہلے بہر حال یہی بحث ہوگی ہر ایک فریق سوال یا جواب لکھ کر حاضرین کو سناوے گا۔ والسلام !
خاکسار غلام احمد ١٥؍ اکتوبر ١٨٩١ء
١٨١
حاجی صاحب ...... نے مولوی محمد بشیر صاحب کو اس معاملہ سے اطلاع دے کر طلب کیا اور مولوی صاحب بھوپال سے رخصت ہو کر دہلی میں وارد ہوئے ۔
رقعہ اوّل از جانب مولوی محمد بشیر صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامداً و مصلیاً و مسلماً جناب مرزا غلام احمد صاحب دام مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ خاکسار حسب الطلب جناب آگیا ہے۔ اور جناب کی سب شروط کو پہلے سے تسلیم کر چکا ہے اور آپ بھی میری ترمیم کو قبول فرما چکے ہیں۔ اب تاریخ و وقت واسطے مناظرہ کے تحریر فرما کر خاکسار کو مطلع کیجیے۔ تا کہ واسطے مناظرہ کے حاضر ہو۔ محمد بشیر عفی عنہ، ١٧ ربیع الاول ١٣٠٩ء
جواب رقعہ اوّل
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ و نصلی ۔ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مجھے آپ کی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی اور خط آمدہ اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب سے آپ کے اخلاق اور محاسن اور تہذیب کا حال معلوم ہوا دل پہلے ہی سے مشتاق ہو رہا تھا کہ اس مسئلہ میں آپ سے اظہار الحق بحث ہو۔ سو الحمد للہ آپ تشریف لے آئے آج مجھے ضروریات سے فرصت نہیں کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا۔ لیکن بحث تحریری ہوگی تا کہ ہر ایک فریق کا بیان محفوظ رہے۔ اور دور دست کے لوگوں کو بھی رائے نکالنے کا موقع مل سکے۔ سب سے اول مسئلہ حیات ممات مسیح کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ اس ثبوت کے بعد آپ دوسری بحث کر سکتے ہیں۔ آپ کی خدمت میں ایک اشتہار بھی بھیجا جاتا ہے۔ جس سے آپ کو معلوم ہوگا۔ کہ حیات وفات مسیح ابن مریم کن شرائط کی پابندی سے آپ کو بحث کرنا ہوگی ۔ والسلام ! خاکسار عبداللہ الصمد غلام احمد ٢١؍ اکتوبر ١٨٩١ء
رقعہ دوئیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! حامداً و مصلیاً جناب مرزا غلام احمد صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا رقعہ مورخہ ٢١؍اکتوبر ١٨٩١ء وصول ہوا آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا اب تک آپ کے ایفاء وعدہ کا انتظار رہا اب گزارش
١٨٢
ہے ۔ آج اس وعدہ کا ایفاء ضرور فرمائیے تسلیم کر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہ سب سے اول ارشاد ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو بعد نزول حضرت مسیح علیہ السلام میں بحث آپ بھی اس کو پہلے سے تسلیم فرما چکے ہیں
جواب رقعہ دوم
مکرمی اخویم مولوی صاحب ہوگی ۔ یا اگر ایک ضروری کام سے فرصت ١٠ بجے کے بعد تو ضرور بحث ہوگی ۔ صرف مکان پر ہو۔ اس کی ضرورت خاص وجہ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں نہ ہوں اور نہ آپ کو ان بزرگوں کی کچھ ضر
جواب رقعہ سوم جو گم ہو گیا تھا
جناب مولوی صاحب مکرم بـ السلام علیکم ۔ میں امید کرتا ہو لکھا چکا ہوں ۔ قبول کرنے سے انحراف ہے تجربتہً اور مصلحتاً روکا ہے۔ اور میں خـ معلوم ہوتا ہے۔ کہ بعد از فراغ نماز جمـ سلسلہ بحث جاری ہو۔ اور دس آدمیوں بـ اور اس لحاظ سے کہ بحث کو طول نہ ہو۔ میـ ہوں ۔ اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔
بحث شروع ہوئی اور مولوی
ہے ۔آج اس وعدہ کا ایفاء ضرور فرمائیے۔ آپ کی یہ بات کہ بحث تحریری ہوگی خاکسار پہلے سے تسلیم کر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہ سب سے اول مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث ہوگی ۔اب آپ کا یہ ارشاد ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔ یہ بھی بسر وچشم قبول کرتا ہوں اس کے بعد نزول حضرت مسیح علیہ السلام میں بحث کی جائے گی۔ من بعد آپ کے مسیح موعود ہونے میں اور آپ بھی اس کو پہلے سے تسلیم فرما چکے ہیں ۔ والسلام خیر الانام۔
١٨ ربیع الاول ١٣٠٩ء، خاکسار محمد بشیر
جواب رقعہ دوم
مکرمی اخویم مولوی صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ کل دس بجے کے بعد بحث ہوگی ۔یا اگر ایک ضروری کام سے فرصت ہوئی۔ تو پہلے اطلاع دے دوں گا ۔ ورنہ انشاء اللہ القدیر ١٠ بجے کے بعد تو ضرور بحث ہوگی ۔صرف اس بات کا التزام ضروری ہوگا کہ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔اس کی ضرورت خاص وجہ سے ہے۔ جو زبانی بیان کر سکتا ہوں۔جلسہ عام نہ ہوگا۔ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں ۔آپ ساتھ لا سکتے ہیں۔مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید نہ ہوں اور نہ آپ کو ان بزرگوں کی کچھ ضرورت ہے والسلام۔
مرزا غلام احمد ٢٢ اکتوبر ١٨٩١ء
جواب رقعہ سوم جو گم ہو گیا تھا
جناب مولوی صاحب مکرم بندہ ۔ السلام علیکم ۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان تمام شرطوں کو جو میں اپنے کل کے پرچہ میں لکھا چکا ہوں۔ قبول کرنے سے انحراف ظاہر نہیں کریں گے۔ میں نے جن لوگوں کو آنے سے روکا ہے بقرینہ اور مصلحۃً روکا ہے۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ خیر و برکت اسی میں ہے۔ بہت مناسب معلوم ہوتا ہے۔کہ بعد از فراغ نماز جمعہ بحث شروع ہو۔اور شام تک یا جس وقت تک ممکن ہو سلسلہ بحث جاری ہو۔اور دس آدمیوں سے زیادہ ہرگز ہرگز کسی حال میں آپ کے ساتھ نہ ہوں۔ اور اس لحاظ سے کہ بحث کو طول نہ ہو۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہوں ۔اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔
مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٣ اکتوبر ١٨٩١ء۔
بحث شروع ہوئی اور مولوی صاحب نے پانچ آیتیں قرآن کریم اور حیات مسیح کی عین
١٨٣
بحث میں لکھ کر حاضرین کو سنا کر دستخط کر کے مرزا صاحب کو دیں۔ مرزا صاحب ...... میں مجلس بحث میں جواب نہیں لکھ سکتا میں جواب لکھ رکھوں گا آپ لوگ ١٠ بجے آئیں۔ حاجی محمد احمد صاحب ...... یہ معاہدہ کے خلاف ہے اس میں نقض عہد ہوتا ہے۔ مرزا صاحب ...... میری طبیعت اچھی نہیں آپ کل ١٠ بجے آئیں۔ حاجی صاحب ...... افسوس آپ کی جملہ شروط منظور کی گئیں۔ مگر ۔ مرزا صاحب ...... دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر مجھ کو دوران سر ہو گیا۔ اب زیادہ گفتگو کی طاقت نہیں رکھتا۔ جلسہ برخاست ہوا۔
باب ٣٠ مئی
مولانا محمد بشیر سہسوانی سے مباحثہ
صف باندھ کے ہم بھی تو یہاں سر سے کفن نکلے
برے پھنسے اب کوئی تدبیر مخلصی کی نہیں مختلف رقعوں میں شروط میں تغیر تبدل کیا عام جلسہ ہونے سے روکا چلتے ہوئے جواب لکھنے سے انکار کیا۔ مگر بلا کی طرح الجھ لپٹا کوئی صاحب غیرت ہوتا تو نام نہ لیتا یہ حضرت پہلے موجود۔
اب مولوی محمد بشیر صاحب مردانہ میں بیٹھے ہیں اور مرزا صاحب زنان خانہ سے برآمد نہیں ہوتے۔
حاجی صاحب ...... مولوی صاحب اب جانے دو ان حضرت کی تو یہی عادت ہے۔ ھل من مبارز پکارتے ہیں۔ جب کوئی خم ٹھوک مقابلہ پر آیا۔ تو پیچھے کو ہٹ گئے۔
مولوی صاحب ...... حضرت بندہ تو ان کے دروازہ کی اینٹیں اکھاڑ کر اٹھے گا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے ہر ایک رقعہ میں دو شرطیں بڑھائیں مگر میں نے تسلیم کیا لفظ کو ایسا پکڑا کہ انکار ہی نہیں کیا۔
- ١...... حیات مسیح کا ثبوت۔
- ٢...... بحث مرزا کے مکان پر۔
- ٣...... جلسہ عام نہ ہو، دس آدمی ساتھ لاؤ
- ٤...... شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ آئیں۔
- ٥...... پرچوں کی تعداد پانچ ہوں۔ ہر چند کہ ان سب شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم
١٨٤
تھا۔ اور نہ میرے احباب کی رائے ان کو تسلیم کر صاحب کو کوئی راہ یا حیلہ مناظرہ سے گریز کا نہ ملے پرچہ لے کر سر پکڑ کے بیٹھ گئے کہ میں جواب مجلس م آپ زنان خانہ میں چھپ کر بیٹھ رہے اب اخیر تک
حاجی صاحب ...... پھر بیٹھے رہیے وہ تو (مرزا صاحب نہیں لکھا گیا۔ اگر جبراً نکلوایا جائے۔ تو عزت رہ بیٹھے ہیں۔ باہر پولیس کا پہرہ موجود ہے۔ مداخلت ا
مولوی صاحب ...... یہ سب قبول مگر بات کو ایک طرف
خادم ...... حضرت اقدس فرماتے ہیں۔ ابھی جواب م
حاجی صاحب ...... مولوی صاحب بھی خوش تو بہو حسرت ہے۔
مولوی صاحب ...... تو ہم جائیں یا بیٹھے رہیں۔
خادم ...... (اندر سے واپس آکر) آپ تشریف ل آپ کو بلا لیا جائے گا۔
دو بجے مرزا صاحب نے مولوی صاح مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ل
چھ دن بحث کا سلسلہ جاری رہا تین پرچ کے ہوئے اور بحث ناتمام رہ کر سلسلہ بحث منقطع ہو
مرزا صاحب ...... مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں رہ
مولوی صاحب ...... (ایک مضمون جو پہلے بہ نظر ا صاحب کی جناب سے نقض عہد ومخالفت شروط ہو گیا۔ یہ احتمال اول ہے۔ اس پر کہ ان کے پاس ا نہیں ہے۔ اصل بحث کے لیے دو رکاوٹیں انہوں علیہ السلام (جو سرسید بالقابہ کی بنیاد ڈالی ہوئی ہے جب دیکھا کہ ایک روکاوٹ جوان ہ اس کے بعد دوسری رکاوٹ کی جو ضعیف ہے۔ ل
٥
تھا۔ اور نہ میرے احباب کی رائے ان کے تسلیم کرنے کی تھی۔ مگر محض اس خیال سے کہ مرزا صاحب کو کوئی راہ یا حیلہ مناظرہ سے گریز کا نہ ملے۔ یہ سب باتیں منظور کیں پھر کل کا معاملہ کہ پرچہ لے کر سر پکڑ کے بیٹھ گئے کہ میں جواب مجلس مناظرہ میں نہیں لکھ سکتا۔ کل ١٠ بجے آئیں اور آپ زنان خانہ میں چھپ کر بیٹھ رہے اب اخیر تک پہنچائے بغیر اٹھ چلنا حماقت نہیں تو کیا ہے؟ حاجی صاحب ...... پھر بیٹھے رہیے وہ تو (مرزا صاحب) باہر آتے نہیں مکان کا بیع نامہ آپ کے نام نہیں لکھا گیا۔ اگر جبراً نکلوا دیا جائے۔ تو عزت رہ جائے گی یہ اخلاق مسیحی ہے جو آپ دھرنا مار کر بیٹھے ہیں۔ باہر پولیس کا پہرہ موجود ہے۔ مداخلت بے جا میں ماخوذ نہ ہو جائیے گا۔ مولوی صاحب ...... یہ سب قبول مگر بات کو ایک طرف کیے بغیر اٹھنا قبول نہیں۔ خادم ...... حضرت اقدس فرماتے ہیں۔ ابھی جواب تیار نہیں ہوا۔ حاجی صاحب ...... مولوی صاحب بھی خوش تو بہت ہوئے ہوں گے اب اور فرمائیے کچھ اور بھی حسرت ہے۔ مولوی صاحب ...... تو ہم جائیں یا بیٹھے رہیں۔ خادم ...... (اندر سے واپس آکر) آپ تشریف لے جائیں۔ جب جواب تیار ہوگا۔ اس وقت آپ کو بلا لیا جائے گا۔
دو بجے مرزا صاحب نے مولوی صاحب کو جواب سنا کر دستخط کر کے دیا اور فرمایا کہ مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ مکان پر لے جائیں۔
چھ دن بحث کا سلسلہ جاری رہا تین پرچہ مولوی صاحب کے اور تین پرچہ مرزا صاحب کے ہوئے اور بحث ناتمام رہ کر سلسلہ بحث منقطع ہوا۔
مرزا صاحب ...... مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں رہی میرے خسر بیمار ہیں۔ مولوی صاحب ...... (ایک مضمون جو پہلے بہ نظر احتیاط لکھ رکھا تھا۔ اور متضمن اس امر پر تھا کہ مرزا صاحب کی جناب سے نقض عہد و مخالفت شروط ہوئی) مرزا صاحب کی موجودگی میں پڑھ کر سنا دیا گیا۔ یہ احتمال اوّل ہے۔ اس پر کہ ان کے پاس اس مسئلہ یعنی ان کے مسیح موعود ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اصل بحث کے لیے دو روکاوٹیں انہوں نے بنا رکھی ہیں۔ ایک بحث حیات و وفات مسیح علیہ السلام (جو سرسید نے مکتبہ کی بنیاد ڈالی ہوئی ہے) دوسری نزول عیسیٰ علیہ السلام۔
جب دیکھا کہ ایک روکاوٹ جو ان کے زعم میں بڑی راسخ تھی ٹوٹنے کے قریب ہے۔ اس کے بعد دوسری روکاوٹ کی جو ضعیف ہے۔ نوبت پہنچے گی۔ پھر کھل کر قلعہ پر حملہ ہوگا۔ وہاں ١٨٥
کو دیں۔ جواب لکھ رکھوں گا آپ لوگ ١٠ بجے آئیں۔ نقض عہد ہوتا ہے۔ آئیں۔ مگر ۔ سر ہوگیا۔ اب زیادہ گفتگو کی طاقت نہیں
سے مباحثہ لے گا کیوں کر ر سے کفن نکلے رقعوں میں شروط میں تغیر تبدل کیا عام یا۔ مگر بلا کی طرح اچھا لپیٹا کوئی صاحب
اور مرزا صاحب زنان خانہ سے برآمد
ت کی تو یہی عادت ہے۔ ھل من مبارز گئے۔ یں اکھاڑ کر اٹھے گا آپ جانتے ہیں کہ لیم کیا لفظ کو ایسا پکڑا کہ انکار ہی نہیں کیا۔
یہ شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم
کچھ بھی نہیں ہے۔ تو قلعی کھل جائے گی۔ اس لیے ضرور مناسب ہے۔ مرزا صاحب نے اسی دن یہ سفر درست کیا راتوں رات تاروں کی چھاؤں روانہ ہوا۔ صبح کو مکان خالی نہ پولیس کا پہرہ ہے نہ مکان اندر کوئی خادم یا حواری نظر آتا ہے۔ مولوی صاحب کچھ دن بھوپال واپس گئے۔ اس مضمون مناظرہ الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح ۔ مؤلفہ مولوی محمد بشیر صاحب اور الحق حصہ سوم مؤلفہ سید محمد احسن امروہی واعلام الناس سید صاحب موصوف۔ و بیان للناس مؤلفہ مولوی محمد عبد المجید صاحب میں مفصل درج ہیں۔ اور ان کا خلاصہ انشاء اللہ العزیز دوسرے حصہ ناول ہٰذا میں جمع کر کے دکھلائیں گے۔ اس جگہ گنجائش نہیں ہے۔ (نوٹ از مرتب) ناول کا دوسرا حصہ تو طبع نہ ہوا۔ البتہ فقیر مرتب احتساب کی جلد ٢٤، ٢٥ وغیرہ میں متذکرہ تمام کو شائع کرے گا۔ انشاء اللہ العزیز!
باب ٣١ سی و یکم
ایک قادیانی کی کہانی
یہی تو فرق ہے اشراف اور کمینہ میں
ہم اپنے ناظرین کو پھر احاطہ مسجد کے باغیچہ اور اس کے ملحقہ مکان کی سیر کراتے ہیں۔ اور مولوی صاحب واعظ مرزئی اور اس شاہد نازک ادا سے انٹرویو کراتے ہیں۔ اس موقع اور مکان پر ہمارے مولوی صاحب اور وہ نازنین شیرین دہن نازک تن رونق افزا ہیں۔ اور میٹھی باتیں ہو رہی ہیں۔
نازنین ...... خدا کا ہزار ہزار شکر اور احسان ہے واری جاؤں میں اپنے حضرت جی کے قدموں کے جن کی دعا اور بیعت کی برکت سے یہ روز سعید اور آوان حمید نظر آیا ورنہ کس کو امید تھی۔ خدا جانے شخص کیا کیا اڑاتے تھے۔ اور یہاں جب کسی نے کچھ آکر کہا سننے سے جان تن سے نکل گئی۔
مولوی جی ...... یہ تمہاری محبت کا تقاضا ہے۔ ورنہ اندیشہ ہی کیا تھا۔ ہم نے بھی دوران مقدمہ میں فکر نہیں کیا۔ اور ہم کو ابتداء سے بھی امید تھی۔ کہ ہم ہی جیتیں گے۔ اول تو حضرت صاحب کی دعا کی برکت اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس سے وعدہ فرمایا ہے۔ کہ تیرے تابعدار قیامت تک دوسرے مسلمانوں پر جو تیرے تابعدار نہیں غالب رہیں گے۔ اور دوسرے وہ (فریق ثانی) دہقانی آدمی
١٨٦
ہمارے مقابلہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔ نازنین ...... خدا کا شکر ہے ہم تو رات دن سر پیٹا نہ کسی سے ہنستا بولتا۔ راتوں کو خدا سے اٹھ کہیں ان ظالموں کے پھندے میں پھنسا نہ مولوی ...... یہ تمہاری ناتجربہ کاری کا نتیجہ ہ حضرت اقدس کا الہام غلط نہیں ہو سکتا۔ کیا تم نازنین ...... اللہ میاں کے وارے وارے جا بات نہیں ہے۔ وہ جو چاہے سو کرے ہمارے ہیں۔ اب بھی جو لوگ ایمان نہ لائیں۔ تو بڑا برخلاف اپنا بیگانہ سب دشمن پھر خدا نے کیسا ہے۔ پھر آنکھوں کے اندھے کہتے ہیں کہ حض مولوی ...... جب مقدمہ پیش ہوا ہم نے بحمد نکاح بھی جائز نہیں مسماۃ بوقت نکاح بالغہ دیوروں نے مار کر اور دیکھو بوقت ایجاب قبو مند نہیں تھی۔ اس واسطے شرعاً اس کا نکاح ثب نازنین ...... سو بھی تو خوب یہ بھی منجانب ا ہی سمجھا دیتا ہے۔ اگر نکاح کے گواہ گزر جات کرتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ کلیجہ چھ میرے دل کا کیا حال ہے۔ مولوی ...... (ہاتھ سینہ پر نازنین کے رکھ کر کیا گھبراہٹ اور اندیشہ ہے۔ اب تو معام اور فیصلہ ڈسمس ہو گیا۔ نازنین ...... میں نے تو سنا ہے کہ راضی ہ ہے۔ کہ عورت کو مدعی کے گھر پہنچا دیں ی ساتھ وہ بھی بڑی فضیحتی رہی۔ اب تو سچ م ناک بھی کٹی منہ بھی کالا ہوا اور بات بھی ک
ہمارے مقابلہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔
نازنین...... خدا کا شکر ہے ہم تو رات دن مردوں کی طرح پڑے رہتے تھے۔ نہ کھانا خوش آتا تھا۔ نہ پینا نہ کسی سے ہنسنا بولنا۔ راتوں کو خدا سے اٹھ اٹھ کر دعا مانگتی تھی۔ خدایا میری عزت تیرے ہاتھ ہے کہیں ان ظالموں کے پھندے میں پھنسا نہ دینا میری زندگی تلخ ہو جائے اور حرام موت مرنا پڑے۔
مولوی...... یہ تمہاری ناتجربہ کاری کا نتیجہ ہے۔ بھلا ہم اور ہار سکتے ہیں۔ زمین و آسمان ٹل جائے۔ حضرت اقدس کا الہام غلط نہیں ہو سکتا۔ کیا تم نے براہین احمدیہ میں نہیں دیکھا۔
نازنین...... اللہ میاں کے وارے وارے جائیں۔ وہ بڑا قادر قدیر ہے۔ اس کے نزدیک کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ وہ جو چاہے سو کرے ہمارے حضرت اقدس ضرور سچے اور پاک نبی اور خدا کے مرسل ہیں۔ اب بھی جو لوگ ایمان نہ لائیں۔ تو بڑا ہی غضب ہے۔ سارے شہر کے لوگ مخالف سارا کنبہ برخلاف اپنا بیگانہ سب دشمن پھر خدا نے کیسا صاف بچایا ہے۔ یہ حضرت اقدس کا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر آنکھوں کے اندھے کہتے ہیں کہ حضرت اقدس کا دعویٰ نبوت جھوٹا ہے۔
مولوی...... جب مقدمہ پیش ہوا ہم نے مجسٹریٹ کے روبرو صاف کہہ دیا مدعی کا مسمات کے ساتھ نکاح کبھی جائز نہیں مسمات بوقت نکاح بالغہ تھی اور اس نے نکاح سے انکار کیا تو اس کے باپ اور دیگروں نے مار کر اور دھمکا کر بوقت ایجاب قبول مسمات کا سکوت کرایا تھا۔ وہ اس نکاح سے ہرگز رضا مند نہیں تھی۔ اس واسطے شرعاً اس کا نکاح نہیں ہوا۔
نازنین...... سو بھی تو خوب یہ بھی منجانب اللہ ہے۔ جو خدا کو کرنا مقصود ہوتا ہے تو وہ انسان کو ویسے ہی سمجھا دیتا ہے۔ اگر نکاح کے گواہ گزر جاتے۔ اور نکاح ثابت ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ میرا تو اس ذکر کو کرتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے۔ کلیجہ پھٹتا ہے۔ (ہاتھ پکڑ کر اور اپنے سینہ پر رکھ کر ) دیکھو تو میرے دل کا کیا حال ہے۔
مولوی...... (ہاتھ سینہ پر نازنین کے رکھ کر اور اپنی طرف کھینچ کر اور چھاتی سے لگا کر ) میری جان اب کیا گھبراہٹ اور اندیشہ ہے۔ اب تو معاملہ طے ہو لیا۔ اور مقدمہ میں مدعی نے راضی نامہ دیدیا۔ اور مقدمہ ڈسمس ہو گیا۔
نازنین...... میں نے تو سنا ہے کہ راضی نامہ تو اس کم بخت ( مدعی نامراد نے اس شرط پر داخل کیا ہے۔ کہ عورت کو مدعی کے گھر پہنچا دیں گے ۔ اور خرچہ مقدمہ کا ادا کر دیں گے ) تو کیا ہوا میرے ساتھ وہ بھی ہزیمت و فضیحتی رہی۔ تو تو بچ گیا مجھ کو تو وہی روز سیاہ دیکھنا ۔ تمام دنیا میں بدنام بھی ہوئی۔ ناک بھی کٹی منہ بھی کالا ہوا اور بات بھی کچھ نہ ہوئی۔
١٨٧
مولوی جی....... (بوسہ لے کر) میں اور تجھ کو دیدوں لاحول ولا قوۃ الا باللہ العظیم یہ ہو سکتا ہے کبھی نہیں ۔ اور ہرگز نہیں۔
پھروں گا تجھ سے نہ ہرگز خدا پھیر دیئے
وہ ایک بات دفع الوقتی کے ساتھ تھی ہو چکی جو فیصلہ ہوا الو کا پٹھہ احمق تھا دم میں آ گیا۔ اپنے ہاتھ اپنے ہاتھ سے کاٹ چکا۔ اب کیا ہو سکتا ہے وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ہاں یہ بات ضرور ہے اگر اپنی خوشی اور رضامندی سے طلاق دے دے تو ہم مقدمہ کا خرچہ اسے دے دیں گے۔
نازنین...... اور جو اس نے طلاق نہ دی تو کیا پھر بھی دعویٰ کر سکتا ہے۔
مولوی...... نہیں اب وہ کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جب کہ اس نے راضی نامہ دیدیا۔
نازنین...... اگر اس (خاوند نے) نے طلاق نہیں دی۔ تو تمام عمر ہم حرام ہی کرتے رہیں گے اور جو اولاد ہوگی۔ وہ بھی حرام کی ہوگی۔
مولوی...... اوہ یہ کیا بات ہے۔ حرام اور حلال تو ہمارے اختیاری امر ہے۔ جس کو چاہیں حرام کردیں۔ جس کو چاہیں حلال ہر ایک مسئلہ میں تاویلیں نکل سکتی ہیں۔ اور تاویلیں نکالنا کوئی ہم سے سیکھ جائے۔ بات بات میں ہزاروں تاویلیں نکل سکتی ہیں۔ اگر اتنا بھی نہ ہوا تو علم پڑھنے سے کیا حاصل۔
نازنین....... اچھا ہم تو جب جانیں جب اس میں علمائے اسلام کا فتوے منگا دے۔ اس زبانی مداخلہ کو تو ہم مانتے نہیں بات تو وہ جو کر کے دکھائے۔ یوں زبانی جمع خرچ ہر ایک شخص کر سکتا ہے۔
اتنے میں سڑک کی طرف کا دروازہ کھلا اور ہمارے مولوی صاحب کے حبیب لبیب دوست قدیم محمد یوسف آموجود ہوئے۔
السلام علیکم مزاج شریف۔ (نازنین فوراً الماری کے پیچھے ہوئی)
مولوی...... وعلیکم السلام مشفق مزاج اچھے ہیں۔ اور گھر پر سب طرح خیریت کوئی خبر تازہ۔
محمد یوسف...... الحمد للہ! فضل الٰہی ہے خبر تازہ آپ سنائیں۔ مبارک مقدمہ جیت آئے۔ سنائیے مقدمہ کی کیفیت سنائیے۔
مولوی صاحب...... آپ جانتے ہیں۔ بندہ درگاہ نے وہ جوڑ توڑ لگائے اور دو چار معزز اشخاص کو بیچ میں ڈال مدعی کو سبز باغ دکھا کر جھٹ راضی نامہ داخل کرا دیا۔ مقدمہ داخل دفتر ہو گیا۔
محمد یوسف...... میں نے سنا ہے کہ آپ نے وعدہ کر لیا ہے کہ مسماۃ کو واپس اور مقدمہ کا خرچ مدعی کو دے دیں گے۔
١٨٨
٤٠٣
مولوی...... ہنس کر ارے میاں ایسے وعدے سینکڑوں جھگڑا ہی کیا تھا۔ عدالت تک نوبت پہنچی ، بدنامی ہو ہوئی ۔ یہ بھی ایک چال تھی۔
محمد یوسف...... اگر آپ نے ایفاء وعدہ نہ کیا۔ تو اس ہے۔ پھر آپ ہی فرمادیں دنیا کیا کہے گی۔ اور شریعت زبان ہے۔ اور قیامت اور حشر اور عذاب وہ تو اس واسطے ہیں مگر خلق کی زبان تو نہیں روکی جاتی۔
مولوی...... بھائی یوسف تم ہی انصاف سے کہو یہ ایسی ہے کہ بدنامی یا ذلت یا جان کے خوف سے ہندوستان اور پنجاب میں ایک سے ایک بڑھ کر حسین اس دشمن دین و ایمان کی ادا ہی اور ہے۔
بندہ طلعت آنیم
خدا کی قسم میری تو زندگی ہی اس بدون
محمد یوسف۔
اب مان نہ مان
چونکہ ہم آپ کے دوست ہیں۔ اس وا اور غرض نہیں کہ اب اس (نازنین ) کے خاوند کے ہمارا منشاء یہ ہے کہ آپ بدنام نہ ہوں ۔
مولوی...... بدنامی اور رسوائی جو کچھ ہونی تھی وہ ہو
محمد یوسف...... یہ بدنامی اس کے مقابلہ میں کچھ بھ اور میں نہیں کہتا کہ آپ اپنی معشوقہ اور مطلوبہ سے آپ اس کے خاوند سے خانگی طور پر فیصلہ کر لیجیے بھلے آدمیوں میں نکاح پڑھا لیجیے۔
مولوی صاحب...... میاں تم بھی پاگل ہو اس کا (ق
٩
مولوی ...... ہنس کر ارے میاں ایسے وعدے سینکڑوں ہوتے ہیں۔ اگر مسماۃ کو دینا منظور ہوتا تو جھگڑا ہی کیا تھا۔ عدالت تک نوبت پہنچی ، بدنامی ہوئی۔ پھر بھی مسماۃ کو دے دیں۔ یہ بھی ایک ہی ہوئی ۔ یہ بھی ایک چال تھی۔
محمد یوسف ...... اگر آپ نے ایفاء وعدہ نہ کیا۔ تو اس کے خاوند نے طلاق نہیں دینی اور یہ لازمی امر ہے۔ پھر آپ ہی فرمادیں دنیا کیا کہے گی۔ اور شریعت تو بقول آپ کے لوگوں ( قادیانی نبوت ) کی زبان ہے۔ اور قیامت اور حشر اور عذاب و ثواب جنت اور دوزخ یہ سب ترغیب و تخویف کے واسطے ہیں مگر خلق کی زبان تو نہیں روکی جاتی۔
مولوی ...... بھائی یوسف تم ہی انصاف سے کہو یہ معشوق کافر وش ، زاہد فریب ، سیم تن، نازک بدن ایسی ہے کہ بدنامی یا ذلت یا جان کے خوف سے اس کو چھوڑ دیا جائے۔ نہیں ہرگز نہیں یوں تو ہندوستان اور پنجاب میں ایک سے ایک بڑھ کر حسین و مہ لقا حیا پرور نازنین بے باک نظر ہیں ۔ لیکن اس دشمن دین و ایمان کی ادا ہی اور ہے۔
بندہ طلعت آنم کہ آنے دارد
خدا کی قسم میری تو زندگی ہی اس بدون حرام ہے۔
محمد یوسف۔
اب مان نہ مان تو ہے مختار
چونکہ ہم آپ کے دوست ہیں۔ اس واسطے ٹھیک مشورہ دیتے ہیں۔ ورنہ ہمارا یہ مطلب اور غرض نہیں کہ اب اس (نازنین) کے خاوند کے حوالے کردیں۔ اور آپ اپنا ایفاء وعدہ کریں بلکہ ہمارا منشاء یہ ہے کہ آپ بدنام نہ ہوں ۔
مولوی ...... بدنامی اور رسوائی جو کچھ ہونی تھی وہ ہوچکی اب کیا باقی رہا ہے۔
محمد یوسف ...... یہ بدنامی اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ جو اب ہوگی اور آئندہ کو قائم رہے گی۔ اور میں نہیں کہتا کہ آپ اپنی معشوقہ اور مطلوبہ سے علیحدگی اختیار کریں۔ بلکہ میں یہ چاہتا ہوں ۔ کہ آپ اس کے خاوند سے خانگی طور پر فیصلہ کرلیجیے ۔ اور کچھ لے دے کر طلاق دلوا دیجیے ۔ پھر چار بھلے آدمیوں میں نکاح پڑھا لیجیے۔
مولوی صاحب ...... میاں تم بھی پاگل ہو بغیر (خاوند ) نکاح جائز جب عورت بالغ (خواہ بکر ہو )
١٨٩
رضامند نہیں پھر طلاق کیسی اور اس کی رضامندی کیا معنے رکھتی ہے۔
باب ٣٢ سی و دوم
نیچریت، مرزائیت، عیسائیت
چند صاحب ...... ایک جگہ جمع ہیں۔ اور باہم گفتگو ہو رہی ہے۔
نیچری ...... مرزا صاحب نے مبعوث ہو کر کیا کیا جو دین اسلام میں انہوں نے تجدید فرمائی وہ تو سرسید بالقاب کی تجدید ہے یا یہ کہیے۔ ان کا اثر مرزا صاحب نے لیا باقی جو ان کی دعاوی ہیں بے سروپا۔
مرزائی ...... یہ آپ کا دعوے بالکل غلط، سرسید کو قرآن فہمی کا ملکہ اور مادہ ہی کہاں تھا۔ مرزا صاحب نے جو جو نکات معارف قرآن فہمی کے ظاہر فرمائے وہ ایک اعجاز ہے اور اعجاز کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ سرسید نے اپنی گردن فلسفہ کے آگے جھکا دی۔ اور جو کچھ لکھا فلسفہ کی تابعداری کی ہے اور وہ بالکل ارتداد اور الحاد ہے۔ اب دیکھیے سرسید دعا اس کی اجابت کے قائل نہیں اور قرآن کی اول تعلیم دعا ہے۔ دیکھو قرآن کریم تعلیم کرتا ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم اب گویا قرآن سے بالکل انکار ہے۔
نیچری ...... مرزا صاحب کا فقط دعویٰ ہی دعویٰ ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں بالکل شک نہیں۔ کہ مرزائیت سے نیچریت بہتر ہے کیونکہ کسی نیچری نے آج تک نبوت کا دعوے نہیں کیا۔ کیونکہ آج کل نئی تہذیب نئی روشنی اور پھر سائنس اور فلسفہ کی تعلیم کا زور ہے۔ لہٰذا سرسید مرحوم خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں مغربی تعلیم کو ٹھوکر مار گئے ہیں اور اس لحاظ سے ان کو ایجوکیشن ریفارمر کہنا بے جا نہیں اور اس وقت تقریباً ایک کروڑ مسلمان ان کے پیرو ہیں اور درحقیقت ان کو ریفارمر سمجھتے ہیں۔ مرزا جی کو تمام عمر بھی یہ فروغ نصیب نہ ہوگا۔ ہاں مرنے کے بعد مرزائی لوگ منارہ کی پرستش کیا کریں۔ تو شاید مرزائیت کا چراغ روشن رہے۔
مرزائی ...... نبوت کا دعوے کوئی یوں ہی کر سکتا ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت بلا دلیل اور ثبوت کے نہیں کیا زمین نے گواہی دی آسمان سے نشان ظاہر ہوئے۔ قرآن کریم میں الحمد سے لے کر والناس تک مرزا صاحب کے دعاوی کا ثبوت ہے تمام انبیاء علیہم السلام نے مرزا صاحب کے آنے کی پیش گوئی کی، احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ شاہد ہیں۔ زمانہ کی ضرورت پکار پکار کر مستدعی ہے۔ کہ کوئی مصلح آئے مرزا صاحب کی پیشن گوئیاں گواہی دے رہی ہیں۔ کہ مرزا صاحب نبی اللہ اور رسول اور مامور من اللہ ہیں۔
190
نیچری...... نہ تو سرسید نے آج تک نبی ہونے کا دعویٰ کیا نہ ان کے معتقدین نے کبھی ان کو نبی سمجھا۔ نہ خلاف اصول و عقائد اسلام ان میں کوئی عظمت اور فضیلت بتائی نہ پیدا کی۔ حالانکہ اگر سرسید چاہتے۔ تو دعویٰ نبوت میں کامیاب ہو سکتے تھے۔ مگر انہوں نے ایسے دعوے کو الحاد اور ارتداد اور سراسر کفر سمجھا کیونکہ مسلمان تھے۔ اور قرآن پر ان کا ایمان تھا۔ بھلا وہ قرآن کے خلاف کیونکر کر سکتے تھے۔ مرزائیت تو عیسائیت سے پہلے گئی گزری ہے۔ عیسائی عیسیٰ مسیح کو خدا کا بیٹا اور خدا یقین کرتے ہیں۔ مرزا جی بھی ان کی تقلید پر اپنے کو خدا کا لے پالک بتاتے ہیں۔ نہ کہ بیٹا کیونکہ اس سے عیسوی مذہب سے تشبہ ہوتا تھا۔ لیکن اب بھی بات ایک ہی ہے کہ بیٹوں کی دو ہی قسمیں ہیں۔ صلبی اور متبنیٰ مرزا جی نے تو یہ غضب ڈھایا کہ بندہ اصح کو گالیاں دیں کیونکہ وہ رقیب اور وراثت کا شریک تھا۔ پس انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ باپ نے صلبی بیٹے کو عاق کر دیا ہے کیونکہ اس کے خوارق اچھے نہ تھے۔ اور مجھے گود میں لے لیا ہے۔ لیکن کسی نے یہ دعویٰ تسلیم نہ کیا۔ عیسائیوں نے برأت چاہی اور مسلمانوں نے کافر اور ملحد بنا کر اسلام کی چاردیواری سے بارہ پتھر باہر نکال دیا اور از انسو راندہ ازین سو درماندہ۔ مرزا جی نے سب کچھ بننا چاہا۔ کہ بروزی محمد میں، مہدی میں، مسیح بھی میں، مگر میں کے گلے پر بالآخر چھری ہی پھر گئی۔ جو دعویٰ ہے لچر اور متناقض جب آپ لے پالک ہیں۔ تو بروزی محمد کیونکر ہیں۔ کہ آن حضرتؐ نے امیت کا دعویٰ کیا تھا۔ اور آپ مسیح ہیں تو محمد کیونکر ہیں۔ کیا مسیح علیہ السلام اور محمدؐ پہلے خاتم بروزی ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ مسیح آپ کے نزدیک ایک مہذب انسان ہی تھا کیا مہذب کا غیر مہذب کے ساتھ بروز ہو کر ایک چینی الاصل مغل کے قالب میں بطور اجتماع الضدین حلول کر سکتے ہیں۔ یہ اوٹ پٹانگ دعوے بچے بھی سنیں۔ تو قہقہے اڑائیں۔ مگر پیروان نابالغ مرزا اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ سنی مسلمان...... کرزن گزٹ کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ ہم مرزا کو اس وقت سچا جانیں کہ وہ کابل شیراز، ایران، روم، عربستان، بخارا میں خود جا کر یا کسی حواری کو بھیج کر تبلیغ رسالت کریں۔ تو ہم بھی نقد چہرہ شاہی حال کا دس ہزار روپیہ نذر کریں گے۔ اس شرط پر کہ وہ مرقومۃ الصدر شہروں میں پہنچ کر ہم کو ایک خط بھیجیں کہ لو صاحب ہم وہاں پہنچ گئے۔ اور اشاعت دین احمدیہ (مرزائیہ) کر رہے ہیں ہم اسی وقت خالص اور کھرے کھرے دس ہزار روپے پانچ ہزار گن کر حوالے کر دیں گے اگر ضمانت مانگتے ہیں۔ تو ہم مولوی سراج الدین احمد صاحب بیرسٹر ایٹ لا مالک چودھویں صدی کو پیش کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی اپنی وحی بھی شائع کر دیں گے جو ہم کو اس وقت ہو گی کہ مرزا صاحب پھر مع الخیر کبھی قادیان (جس کو دارالامان کہتے ہیں) کی ہوا کھائیں گے یا اس ملک کے لوگ آپ کی
١٩١
زیارت اسی جگہ بنالیں گے۔
ناظرین ! پر بخوبی روشن ہے کہ ہر وقت مرزاجی اور مرزائی جماعت اس دھن میں لگے رہتے ہیں۔ کہ کوئی موٹا مرغا پھنسے کوئی فربہ شکار ہاتھ لگے دھڑا دھڑ چندے ہوں مینار بنے اثاث البیت زیورات سجاوٹ کے سامان عیش و عشرت کے اسباب مہیا ہوں ۔ ایک صاحب جھٹ شعر موزوں کر اخبار کی ٹائٹل پیج پر داغتے ہیں ۔
دوسرے صاحب کہتے ہیں۔
آنحضرت نے تو یہ دنیاوی سامان بنائے نہ چندے بٹورے نہ زیورات خریدے وہ تو ایک مسافر کی طرح بغیر ہمیشگی کے جیسے تشریف لائے ویسے ہی تشریف لے گئے ۔ میں حیران ہوں کہ کیسی ظلیت اور کیسی بروزت اور کیسا آئینہ کا عکس مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ تو مماثلت ہونی چاہیے ۔ ہم بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں ۔
چہ حیلہ برائے درہم و دینار است یا ابلہ
مگو دارالاماں آنرا کہ آں دارے ست از خران
عزیز من مرو آنجا کہ ایمان زیان بینی
اور اس پر یہ غرور اور خشونت اور بد زبانی جیسا کہ اس جماعت کا طریقہ ہے۔ اس کی نظیر دنیا میں نہیں گویا قلم موعظہ حسنہ خلق محمدی یہ جماعت بالکل ضد ہے مرزاجی کی جماعت میں آگے سے جو موٹے موٹے شکار موجود ہیں کسی کو حکیم الامت کا خطاب کسی کو خلیفہ اول کا کسی کو خلیفہ ثانی کی عزت کسی کو خلیفہ ثالث کا فخر کسی کو خلیفہ چہارم کا عرف بخشا گیا ہے ۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ کہ جب مرزا جی نے خود خلعت نبوت پہن کر محمد کا روپ دھار لیا ہے تو مریدوں کو خلفاء اربعہ کا خطاب ملنا ضروری ہے ۔ یہ مرزاجی کی فیاضی ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ خدا کا وعدہ ہے ۔ نحن نزلنا الذکر و انا لحافظون قرآن کریم کی گم شدہ عظمت اور عزت کو پھر بحال کرنے کے لیے غلام احمد کی صورت میں یقینا محمد رسول اللہ آیا اور خدا نے آسمان سے قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی عظمت و جلال کے اظہار کا ذریعہ پیدا کیا اور ارادہ کیا کہ قرآن کریم کا نزول دوبارہ ہو اور پھر دنیا کو اس کی عظمت پر اطلاع دی جائے اور اس غرض کے لیے اس نے پھر محمد کو ﷺ کے بروزی رنگ
١٩٢
میں غلام احمد قادیانی کی صورت میں نازل کیا۔ الحکم ١٠ مئی ١٩٠٢ء صفحہ ٩ کالم اول۔
اور پھر ایسے سامان کی موجودگی میں یہ بھی لازم ہوا کہ بقول مرزا صاحب مماثلت سلسلہ موسوی کی غرض سے خدا نے تیرہ سو برس تک تو نبوت اور وحی پر مہر لگائی رکھی۔ اور بپاس ادب آنحضرت کسی نئے نبی ورسول کی ضرورت نہ سمجھی مگر اب تیرہ سو سال بعد (چونکہ مرزاجی کی خاطر تواضع اور آؤ بھگت خدا کو زیادہ منظور تھی) مہر توڑی اور اس عاجز (یعنی مرزا جی) کو یا نبی اللہ صریح طور پر پکار کر ممتاز فرمایا اور سلسلہ موسوی کی طرح جیسا کہ حضرت موسیٰ کے حواری تھے کہلائے اسی طرح حضرت محمد رسول کا (مرزا جی) بھی نبی کہلایا۔ الحکم ٢٣ اپریل ١٩٠٣ء
اس پر طرہ یہ کہ مرزاجی کو آنحضرت کی قبر میں مسیح موعود کے دفن ہونے کا بھید بہت ہی عجیب طور سے منکشف ہوا۔
تحریر فرماتے ہیں: ”رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر میں ہوگی اس پر میں نے سوچا کہ یہ کیا اسرار ہے۔ تو معلوم ہوا کہ آنحضرت کا یہ ارشاد ہر قسم کے دورے اور دوئی کو دور کرتا ہے۔ اس سے آپ نے مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کرتا ہے۔ اور ظاہر کر دیا ہے۔ کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کا آنا گویا آن حضرت کا آنا ہے۔ جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے دوئی لازم آتی اور عزت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا خداوند کریم نے جو قرآن کریم میں اس قدر تعریف رسول صلعم کی کی ہے اور آپ کو خاتم انبیاء ٹھہرایا ہے اگر کسی اور کو آپ کے بعد تخت نبوت پر بٹھا دیتا۔ تو آپ کی کس قدر کسر شان ہوتی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت صلعم کی قوت قدسی بہت ہی کمزور ہے آنحضرت نے فرمایا اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اطاعت کرتے اس سے مطلب یہ ہے کہ کتنی بڑی بات ہے کہ اگر سوائے میرے مسیح موعود وہ عیسیٰ جو بنی اسرائیل کا آخری نبی ہے آوے اور آنحضرت کی ختم نبوت کی مہر توڑے۔ تو آپ کو غیرت نہ آئے گی اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت کے اس قدر ہتک کرنا چاہتا ہے؟ افسوس کہ لوگ باوجود مسلمان ہونے کے اور آنحضرت کو ختم الانبیاء ماننے کے نبوت کی مہر توڑتے ہیں۔“ الحکم صفحہ ٢ کالم ٢، مورخہ ١٠ مئی ١٩٠٤ء
مرزا صاحب کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ اولوالعزم پیغمبر خود تشریف لاتیں۔ تو اس سے ہتک اور کسر شان اور قوت مذہبی کی کمزوری آنحضرت کی ثابت ہوتی ہے۔ اور خود بدون مرزاجی نبی بن کر اس مہر کو توڑیں۔ اور اس میں نہ نبی کو غیرت آئے اور خدا نہ برا مانے کیونکہ محمد نے مرزاجی میں روپ دھارا ہے۔ میرا اور ہر مسلمان کا کانشنس کیسا ہے کہ خدا نے
١٩٣
محمد رسول اللہ صلعم کو ختم الانبیاء فرمایا اور نبوت پر مہر لگا دی اب تو حضرت عیسیٰ کی مجال ہے کہ خدا کی لگائی مہر توڑ سکے اور نہ حضرت موسیٰ کی۔ مرزا جی بے چارے کس باغ کی مولی ہیں۔ کسی کو کیا پڑی ہے کہ مرزا جی کی ابلہ فریبیوں میں آئے اور ہاتھ کو سر کے گرد گھما کر ناک کو پکڑے مرزا جی عقل کے اندھوں کو جل دے کر اپنا الو سیدھا کریں۔ ہم ایسے خدا کو کہ جس کا قول اور فعل مخالف ہو ایک ناقص بے کار کم عقل خدا کہیں گے۔ کہ کہے کچھ اور کرے کچھ تیرہ سو سال تک تو نبوت کی مہر مضبوط لگائی رکھی اور تیرہ سو سال کے بعد کمال بے وقوفی سے ایک ادنیٰ ترین انسان کے واسطے اپنے قول کا خیال نہ کر کے اس مہر کو توڑ دیا ہمارا خدا تو صادق الوعد ہے دانا بینا قول کا سچا ہے جو بات کہتا ہے اس کو کبھی نہیں بدلتا اس کا قول اور فعل سوامی ہے۔ ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ٨ جون ١٩٠٣ء
باب ٣٣ سی وسوم
میر ناصر کی نظم
ہے اپنا اپنا مقدر جُدا نصیب جدا
ادھر غنچہ صبح کھلکھلایا اور خورشید خاوری نے اپنا رخ زیبا آب و تاب کے ساتھ دکھایا۔ ادھر مہر سپہر امامت و نیر اعظم افق رسالت حضرت مسیح زمان مہدی دوران حضرت اقدس جناب مرزا صاحب زنان خانہ سے برآمد ہوئے۔ مریدان عقیدت کیش حواریان خیر اندیش مصاحب و رفیق پہلے ہی سے اپنے اپنے پایہ اور مرتبہ سے ڈٹے ہوئے لیس تھے تعظیم کو کھڑے ہو گئے اور فراشی سلام ہوا۔
مصاحب ...... مزاج بخیر صبح کی نماز تو بیت الفکر میں ادا ہوئی۔
حواری ...... حضور کی خواب بھی نماز ہے جو دم ہے عبادت میں شمار ہوتا ہے ان نابکار دنیا پرست مولویوں کی نماز ریا اور شب بیداری سے حضور کی خواب ناز بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل و اولیٰ ہے۔
مرید ...... اس میں کیا شک ہے مردان خدا کو ہر دم و ہر لحظہ قرب الٰہی حاصل ہے۔ زاہد خشک کی تمام عمر کی عبادت ان کی ایک دم کے برابر نہیں۔ اتنے میں خادمان با سلیقہ ستھری چائے کی پیالیاں نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجائی ہوئیں سامنے لائے۔ گنگا جمنی سنہری روپہلی کٹوریاں اور بیش بہا جرمن سلور کی چمچیاں آب و تاب کے ساتھ پاس رکھی ہوئی۔ حضرت اقدس نے خاص دست مبارک سے اٹھا اٹھا رفقاء اور مصاحبین کی طرف سرکائیں ہر ایک نے شکریہ ادا کیا گھونٹ گھونٹ
١٩٤
گرما گرم دودھیا چاء دار چینی اور الائچی کی لپٹن ا حواری ...... ہم نے مہاراجہ جموں کے ہاں کشمیری پ بات اس میں کہاں۔
خوشامدی ...... یہ تو حضرت اقدس کا اعجاز ہے کچھ
- ٢ ...... ایسی چاء تو بادشاہوں کے یہاں بھی
آسانی حضور اقدس کی غلامی کے تصدق میں ہم عظمیٰ غیر مترقبہ کہاں۔
- ٣ ...... یہ بہشتی چاء ہے نعماء جنت ۔ انسان کی
نہیں آتی۔
حضرت اقدس ۔
کسے را با کسے
جنت کیا شے ہے وفیہا ماتشتہیہ نام جنت ہے اپنے بندوں کو وہ ہر ایک جگہ جنت کی لذت عطا کر دیتا ہے۔
حاضرین ...... حق ہے حق ہے۔ سبحان اللہ صل ع کہ آہستہ سے کچھ عرض کیا۔ حضرت کے چہرہ م سی چھا گئی۔ مردنی سی آگئی منہ زرد لب پر آہ م کاسٹیں کھڑی ہوگئیں۔ آنکھوں میں بے اختیا ہوگئی۔ عنان ضبط و استقلال ہاتھ سے نکل گئی۔ کہیں روکے سے رکتا ہے بے ساختہ زبان پر آ
پر اثر نالہ و فغان
حضرت اقدس ...... نہایت درد کے ساتھ آہ کھ درد سر محسوس کرتا ہوں شاید دوران سر کا دورہ ہ حضرت اقدس بیت الفکر میں داخل ن
گرما گرم دودھیا چاء دارچینی اور الائچی کی لپٹیں اٹھتی ہوئی کا پینا شروع کیا۔
حواری...... ہم نے مہاراجہ جموں کے ہاں کشمیری باورچیوں کی بنائی ہوئی چاء پی ہے۔ مگر نعوذ باللہ یہ بات اس میں کہاں۔
خوشامدی...... یہ تو حضرت اقدس کا اعجاز ہے کچھ چاء تھوڑی ہے۔
٢...... ایسی چاء تو بادشاہوں کے یہاں بھی نہیں بنتی۔ یہ نسخہ کوئی الہامی ہے اور یہ ذائقہ نشان آسمانی حضور اقدس کی غلامی کے تصدق میں ہم لوگوں کو بھی نصیب ہو گیا ورنہ ہم کہاں اور یہ نعمت عظمیٰ غیر مترقبہ کہاں۔
٣...... یہ بہشتی چاء ہے نعماء جنت۔ انسان کی بنائی ہوئی تو نہیں۔ کیوں حضرت بہشت ہی سے نہیں آئی۔
حضرت اقدس۔
کسے را با کسے کارے نباشد
جنت کیا شے ہے وفیہا ما تشتہیہ الانفس وتلذ الاعین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نام جنت ہے اپنے بندوں کو وہ ہر ایک جگہ جنت دے دیتا ہے جو اس کے مخلص بندے ہیں ان کو وہ لذت عطا کر دیتا ہے۔
حاضرین...... حق ہے حق ہے۔ سبحان اللہ صلی علیٰ کیا ارشاد ہوا ہے۔ اتنے میں ایک خادم نے جھک کر آہستہ سے کچھ عرض کیا۔ حضرت کے چہرہ منور کا رنگ متغیر ہو گیا۔ ہوائیاں اڑنے لگیں۔ زردی سی چھا گئی۔ مردنی سی آگئی منہ زرد لب پر آہ سرد۔ ہونٹوں پر خشکی سے پپڑیاں جم گئیں۔ زبان پر کانٹیں کھڑی ہو گئیں۔ آنکھوں میں بے اختیار اشک جاری۔ حزن و اضطراب کی حالت طاری ہوگئی۔ عنان ضبط و استقلال ہاتھ سے نکل گئی۔ ہر چند دل کو روکا طبیعت کو سنبھالا مگر بوجہ جنون عشق کہیں روکے سے رکتا ہے بے ساختہ زبان پر آیا۔
پر اثر نالہ و فغان میں کہاں ہے کہ جو تھا
حضرت اقدس...... نہایت درد کے ساتھ آہ کھینچ کر انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر کھڑے ہو گئے۔ کچھ درد سر محسوس کرتا ہوں شاید دوران سر کا دورہ ہو۔ آپ صاحب بھی اپنے کاروبار میں لگ جائیں۔
حضرت اقدس بیت الفکر میں داخل۔
١٩٥
افسوس کوئی تدبیر درست نہ گئی نہ دعا نے اپنا اثر دکھایا نہ عمل نے کچھ عمل کیا۔ نقش لکھے تعویذ پہنے گئے۔ برسوں یا ودود کو باعزیمت پڑھا۔ خود فعل در آتش ہو گئے۔
واہ واہ جذب محبت کا اثر اچھا ہوا
جو تدبیر کی الٹی پڑی جو عمل کیا خلاف اثر دکھایا کہ اس بت کا دل تک نہ پسیجا نہ اس کے ورثاء کے دل کو مسخر کیا بلکہ ضد نے پتھر بنا دیا۔ ہر چند الہام سے بھی ڈرایا مگر اس لڑکی کا باپ عجب ضدی انسان ہے کچھ ہی خیال میں نہ لایا۔ اپنے متعلقین کو ہی بہتیرا دھمکایا سمجھایا مگر اس کا نتیجہ بھی سوائے اس کے کچھ نہ نکلا۔ بیوی سے تو پہلے ہی کچھ ایسا انس اور ارتباط نہ تھا مگر جوان اور لائق بیٹے سے قطع تعلق کرنا پڑا۔ اگر اس کی ماں کو طلاق دی تو بڑا بیٹا بھی خوش نہ ہوگا اس سے بھی گویا قطع رحم کرنا پڑا دونوں بیٹوں میں علیحدگی ہوئی۔ مخالفین میں مضحکہ ہوا اور جس قدر وہ ہنسی اڑائیں وہ کم ہے۔ موجودہ رفقاء اور رشتہ داروں میں بھی رنجش اور آزردگی کا سبب یہی نامراد عشق ہے۔
ایک کاغذ کو اٹھا کر دیکھنے لگے الٹا پلٹا پھر رکھ دیا اور پھر اٹھایا اور پھر رکھ دیا پھر اٹھا کر پڑھنے لگے الہی یہ کیا بوالعجبی ہے۔
کیا زمانے کا انقلاب ہوا
جن لوگوں کی خاطر اپنی جان کو تہلکہ میں ڈالا تمام دنیا کو اپنا دشمن بنایا۔ جو مال محنت، مشقت اور جانفشانی سے اکٹھا کیا تھا وہ ان کی آسائش اور آرام کا سامان بہم پہنچانے میں صرف کیا۔ رات دن خوشنودی اور رضامندی کو ہر ایک کام پر مقدم رکھا آج وہ بھی ہمارے خلاف اور دشمن ہیں۔ اب دیکھیے میر صاحب نے یہ نظم لکھی ہے کوئی ان ہی سے پوچھے بھائی تم کو کیا تکلیف پہنچی تمہاری کس خاطر داری مدارات میں، خدمت میں، آسائش میں، آرام میں، عزت میں، توقیر میں، کس بات میں فرق آگیا کس چیز میں کمی واقع ہوئی۔ ان کی بیٹی کی خاطر تواضع میں کوئی کوتاہی ہوئی ان کی محبت میں مؤانست میں کچھ نقص واقع ہوا۔ اسلام میں دوسرا نکاح منع نہیں حرام نہیں۔
آخر ان کی بیٹی سے جب نکاح کیا تھا اس سے پہلے بھی بیوی تھی اولاد تھی اگر یہ کہا جائے کہ اس نکاح کے بعد پہلی بیوی کی قدر و منزلت کم ہوگئی تھی تو اس کے حسین ہونے کا سبب تھا۔ ان کی لڑکی تو نوجوان ہے حسین ہے صاحب تمیز ہے اور اگر اس کے بعد تیسرا نکاح ہو بھی تو اس کی محبت اور الفت میں کمی کیوں واقع ہوسکتی ہے۔ عدل سے کام لیا جاسکتا ہے۔ طبقہ
١٩٦
نسواں تو سلف سے ناقص العقل شمار کیا کے ہم خیال ہو گئے۔ ہم کو امید تھی کہ جھٹ ایک بڑی نظم لکھ ماری اگر یہ نظم کـ ان کے پاس پہنچ گئی ہوگی۔ اگر یہ شیخ بٹالوی کے ہاتھ شائع کر کے مشتہر کر دے گا۔
مثنوی در حالات مکاری نـ مہدی دوراں مرزا غلام احمد صاحب قا
ہیں دعا میں آج کل سرگر
ہیں ڈولوں کی کسی جا
شہد کہتے ہیں مگر دیتے ہـ
ظاہری اور باطنی دکاں
حافظ و حاجی بہت پھرتے ہـ
قبر کا کوئی مجاور ہـ
ٹڈی دل کی طرح نکلے ہـ
ہے کہیں ہوس بزرگی کـ
ہو ہمارے فضل میں تم بھی
مال و دولت اور شے تم
مال جو دے وُہ مرید خاص
جو نہ دے کچھ مال وہ کیـ
ہے مریدی واسطے پیسوں کـ
ہر گھڑی ہے مالداروں کـ
کوئی مل جائے جو دولت کـ
قرض سے اک دفعہ ہو جائـ
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں
نسواں تو سلف سے ناقص العقل شمار کیا گیا ہے مگر یہ مرد ذی شعور صاحب تجربہ جہاندیدہ ہو کر عورتوں کے ہم خیال ہو گئے۔ ہم کو امید تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو سمجھا بجھا کر اس کی رنجش کو دور کریں گے۔ مگر وہ ایسے بگڑے کہ جھٹ ایک بڑی نظم لکھ ماری اگر یہ نظم کسی ہمارے دشمن کے ہاتھ لگ جائے اور ضرور لگے گی اور غالباً ان کے پاس پہنچ گئی ہوگی۔ اگر یہ شیخ بٹالوی کے ہاتھ چڑھ گئی تو غضب ہو گیا وہ فوراً اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کر کے مشتہر کر دے گا۔
مثنوی در حالات مکاری زمانہ، من نتائج افکار میر صاحب، خسر ثانی حضرت مسیح زمان
مہدی دوران مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔
ہیں دغا میں آج کل سرگرم لوگ سینکڑوں دنیا میں اب پھیلے ہیں روگ
ہیں بڈولوں کی کسی جا اشتہار کھلے گل لوگوں کو دیتے ہیں وہ خار
شہد کہتے ہیں مگر دیتے ہیں سم جاہلوں کو رات دن دیتے ہیں دم
ظاہری اور باطنی دکان دار خلق کو دھوکہ میں کرتے ہیں شکار
حافظ و حاجی بہت پھرتے ہیں یاں حال ہے جن کا زمانہ پر عیاں
قبر کا کوئی مجاور ہے بنا ہے کوئی زائر بنا اجمیر کا
ٹڈی دل کی طرح نکلے ہیں فقیر مارے مارے پھرتے ہیں حضرات پیر
ہے کہیں نوٹس بزرگی کا لگا آؤ لوگو ہم پر ہے فضل خدا
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک ہم تمہیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک
مال و دولت اور شے تم پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے
مال جو دے وہ مرید خاص ہے اس کے دل میں بالخصوص اخلاص ہے
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید
ہے مریدی واسطے پیسوں کی اب ہائے دنیا میں پڑا ہے یہ غضب
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش تاکہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
کوئی مل جائے جو دولت کا سبب ایک دم میں ہوں دلدر پاک سب
قرض سے اک دفعہ ہو جائے نجات گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
١٩٧
حرفے چند نسبت اشتہار واجب الاظہار
جو مرزا قادیانی کی طرف سے ١٣ مارچ ١٨٩٨ء کو شائع ہوا
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بھائیوں ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ کوئی صاحب میری طرف سے کوئی ایسا اشتہار شائع کرنا چاہتے ہیں جس میں مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کا حال درج ہو جو انہوں نے میرے متعلق کی تھی۔ جس کے اخیر میں وہ لکھتے ہیں "اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر میں نے اس کو جھوٹا نہ سمجھا تو پھر میرے لئے یہ پیشگوئی ایک بڑی بھاری وعید ہے" ۔ میں اس اشتہار شائع کرنے والے کی نیت پر شبہ نہیں کرتا، لیکن میں اس کو چھاپنے سے روکتا ہوں کیونکہ مرزا قادیانی نے جو کچھ میری نسبت لکھا ہے وہ خود اپنی تحریر سے جھوٹا ثابت ہو گیا ہے۔ اس لئے اس کے ازالہ کی ضرورت نہیں ۔
اس کے ازالہ کی ضرورت نہیں
خاکسار عبدالحق غزنوی
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
آج کل مکار ایسے پیر ہیں
ان کے حال و قال بے تاثیر ہیں
کچھ نہ صحبت میں اثر نے بات میں
ڈالتے ہیں ہم کو وہ آفات میں
رہ گئے دنیا میں اب ظاہر پرست
دن بدن ہیں دین میں ہم لوگ پست
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار
یہ ہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ
خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت اس کی سب
اس طرح پڑ گیا یارو غضب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار
جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے
وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے
سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پلے سے اس نے زر دیا
دوسرا بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا
کچھ گھٹا اس کا نہ ہرگز اتقا
چیز کی اپنے کرے تعریف جو
جاننا اس کو نہ تم مردوں کو
مشک کی خوشبو تو خود اڑتی ہے یار
مالک دکان نہ دے گو اشتہار
آم اور کٹھل تو ہوتے ہیں جدا
جوز جانے ہے وہ اندھا عقل کا
آج دنیا مکر سے لبریز ہے
اب دغا بازی پہ ہر ایک تیز ہے
کہہ کے میٹھا دیتے ہیں کھٹا دہی
کچھ نہیں پرتیت دنیا کی رہی
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے
بو مسلم آج احمدؐ بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں
ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
ظاہر افعال ان کے نیک ہیں
سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں
عالم و صوفی ہیں اور شب خیز ہیں
مال پر لوگوں کے دندان تیز ہیں
ہر طرح سے مال وہ ہیں نوچتے
ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے
جس طرح ہو مال کچھ کھا جائیے
کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائیے
عقل کا اندھا کوئی ہووے مرید
گانٹھ کا پورا کوئی ہووے مرید
ہو کوئی کیسا ہی گرچہ بدمعاش
میوہ زر ہی وہ دیدے ان کو کاش
پھر تو وہ مقبول رحمان ہے ضرور
ان کے دل کو اس نے پہنچایا سرور
١٩٨
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول
جو کوئی دے ہاتھ کر دیں گے دراز
لیتے دم کرتے نہیں چون و چرا
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ
علم ہے دنیا کمانے کے لیے
دل میں اپنے مستقل ہوتے نہیں
غیظ میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ
نیک رکھتے ہیں گمان وہ نفس پر
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
اگر کوئی روکے تو ہوتے ہیں خفا
سینکڑوں کرتے ہیں گو وعدہ خلاف
ہے اسی دن کے لیے منطق پڑھی
بات کی ہوتی ہے گنجائش بہت
نہ عیاں اس میں عیسوی برکات
نیک سب اٹھ گئے زمانہ سے
حب دنیا نے گھیر رکھا ہے
بدعتوں کی بہت ترقی ہے
نہیں آتا نظر کہیں اخلاص
حب مولیٰ جہان سے ہے معدوم
نہ بچا اس سے مولوی کوئی
نہ فقیروں میں صبر باقی ہے
لذت نفس میں وہ ہیں سرشار
مرغ بریان کا شوق ہے ان کو
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول
جو کوئی دے ہاتھ کر دیں گے دراز اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز
لیتے دم کرتے نہیں چوں و چرا وہ روا ہو مال یا ہو ناروا
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ دینداری کی نہیں ہے کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لیے دولتِ دنیا ہے کھانے کے لیے
دل میں اپنے مستقل ہوتے نہیں ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں
غیظ میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ اپنی چالاکی پہ اتراتے ہیں وہ
نیک رکھتے ہیں گمان وہ نفس پر اسی کا ہے یہی ان پر اثر
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب آیت قرآن ہے گویا ان کی خواب
اگر کوئی روکے تو ہوتے ہیں خفا دشمن اپنا جانتے ہیں برملا
سینکڑوں کرتے ہیں گو وعدہ خلاف کم نہیں ہوتی مگر لاف و گزاف
ہے اسی دن کے لیے منطق پڑھی ہے اسی تدبیر سے عزت بڑھی
بات کو ہوتی ہے گنجائش بہت حیلہ سازی میں ہے آسائش بہت
دیگر
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام و نشان
نیک سب اٹھ گئے زمانہ سے باقی میں نہیں رہی ہے جاں
حب دنیا نے گھیر رکھا ہے ہے بہت ہی ضعیف اب ایماں
بدعتوں کی بہت ترقی ہے حد سے باہر ہے کفر اور عصیاں
نہیں آتا نظر کہیں اخلاص ہیں دکھاووں میں لوگ سرگرداں
حب مولیٰ جہان سے ہے معدوم حرص دنیا میں پھنس گئے انساں
نہ بچا اس سے مولوی کوئی نہ کسی اہل دل کو اس سے اماں
نہ فقیروں میں صبر باقی ہے نہ امیروں میں شکر کا ہے نشاں
لذت نفس میں وہ ہیں سرگرم آج کل ہیں جو پیشوائے جہاں
مرغ بریان کا شوق ہے ان کو ہیں ملائک خصال جو انسان
١٩٩
جو ولایت میں ہیں قدم رکھتے ان کی صدقہ پہ ہے فقط گزراں
جب حقیقت کھلی بزرگی کی ان کے دیکھے اگر کوئی ساماں
ٹھاٹھ ہیں ان کے سب امیرانہ درِ دولت پہ ہیں کئی درباں
رات دن ہیں عمارتیں بنتی مال کرتے ہیں مفت میں ویراں
ہائے آتے نہیں نظر وہ لوگ دیکھنے کو ترس گئے دل و جاں
ہر صدی میں ہو رہے ہیں اہل حق رہبرِ خلق صاحبِ عرفاں
دینِ اسلام جن سے تازہ ہوا جن سے رونق پذیر تھا ایماں
ہے از آنجملہ ایک عبد اللہ قاطعِ شرک و بدعت و عصیاں
ملکِ غزنی کا رہنے والا ہے ہے جہالت بھرا جو کوہستاں
استقامت میں ہے مثالِ کوہ کر کے ظلم و ستم تھکے افغاں
راہِ حق میں اٹھائیں تکلیفیں نہ پھرے حق سے پر کسی عنواں
ان کو حاصل تھا صبر ایوبی کرتے تھے شکرِ خالقِ سبحاں
تھے عبادت میں رات دن مشغول اور جاری تھی ذکرِ حق میں لساں
تھے نمونہ سلف کے وہ بیشک پاک سیرت تھے اور پاک زباں
اپنے مولا کا ان کو تکیہ تھا تھی نہ اک ذرہ فکرِ آب و ناں
تھے دعاؤ نماز میں مصروف ورد تھا یا حدیث یا قرآں
ان کی صحبت میں تھی عجب برکت یاد آتا تھا وہاں خدائے جہاں
لطف آتا تھا وہاں عبادت میں روز و شب تھی ترقی ایماں
ذکرِ مولا کی تھی وہاں کثرت بات دنیا کی ہو یہ کیا کر مکاں
امرِ معروف آپ کرتے تھے پاس آتے تھے ان کے جو انساں
نہیِ منکر شعار تھا ان کا فضلِ مولیٰ سے تھی یہ پخت زباں
ایسے شیریں کلام اور خوش خلقی پراز حکمت تھا ان کا قول و بیاں
کچھ کسی سے غرض نہ تھی ان کو بے طمع تھے وہ صاحبِ عرفاں
ان کی محفل میں ذکرِ عقبیٰ تھا وہاں نہ ہوتا تھا لغو اور ہذیاں
رہ گیا ذکرِ خیر دنیا میں کر گئے کوچ اب وہ عالی شاں
١٥
نیک بندے جہاں میں اب ہیں
پر مجھے وہ نظر نہیں آتے
تیری قدرت سے کچھ نہیں ہے دور
ناصر اب ختم کر کلام اپنا
اس نظم کو پڑھ کر امید ہے کہ میر صاحب میں آکر قادیانی سے منحرف ہو گیا تھا، واپس لیں گے ہے۔ اس کو جھوٹا مسیح اور جھوٹا مہدی سمجھتے تھے۔ ا موعود مسیح سمجھنے لگے تھے۔ جس سے پھر ان کو رجوع
حاشیہ جات
- ١ جیسے حکیم نور الدین جن کے اخلاص
کہ وہ بہت روپیہ دے چکے ہیں۔
- ٢ دیکھو (فتح اسلام ص ٦٠، ٦١، خزائن
روپیہ مانگا گیا ہے اور اشتہار مطبوعہ برورق اخیر الدین نے اس کی رد میں شائع کیا ہے۔ وغیرہ و
- ٣ جیسا کہ بہاء اللہ دیاناتی تائب مر
اب اس کا جواز انجیلی کے حوالہ سے اور ایک نقلی السنہ نمبر ٩ جلد ١٨ میں درج ہے۔
- ٤ براہین احمدیہ کی قیمت پیشگی لی
خود ہڑپ کر لیا۔ اور فتح اسلام میں اس کو تسلیم بھی ک
- ٥ یہ قادیانی کے نام اور دعوے پر
جو بجز قادیانی احمد اور عیسیٰ کہلاتا ہو۔
- ٦ اس اشارہ کی تعریف میر صاح
قادیانی کے پاس آتا ہے اس کی دعوت کرتا ہ والا گوہر آئے تو ان کی بڑی دھوم دھام سے دعو
- ٧ اس اشارہ کی تشریح آپ نے
٢٠٠
نیک بندے جہاں میں نایاب ہیں حق کو رکھتے ہیں جو عزیز از جاں
پر مجھے وہ نظر نہیں آتے دے ملا مجھ کو ان سے یا رحماں
تیری قدرت سے کچھ نہیں ہے دور مجھ کو مشکل ہے اور تجھے آساں
ناصر اب ختم کر کلام اپنا حق تری مشکلیں کرے آساں
اس نظم کو پڑھ کر امید ہے کہ میر صاحب اپنی اس بات کو کہ میں اشاعۃ السنہ کے دھوکہ میں آکر قادیانی سے منحرف ہو گیا تھا، واپس لیں گے۔ اور اقرار کریں گے کہ وہ قدیم سے منحرف ہے۔ اس کو جھوٹا مسیح اور جھوٹا مہدی سمجھتے تھے۔ اب وہ قادیانی کے دھوکہ میں آکر اس کو سچا مہدی موعود و مسیح سمجھنے لگے تھے۔ جس سے پھر ان کو رجوع ہے۔
(از اشاعۃ السنہ نمبر ١٢ جلد ٣ صفحہ ٣٧١ تا ٣٧٠)
حاشیہ جات
- ١؎ جیسے حکیم نورالدین جن کے اخلاص کی قادیانی نے جابجا اسی وجہ سے تعریف کی ہے
کہ وہ بہت روپیہ دے چکے ہیں۔
- ٢؎ دیکھو (فتح اسلام ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ٣ ص ٣٦) جس میں اشاعت کتب کے بہانے
روپیہ مانگا گیا ہے اور اشتہار مطبوعہ برورق اخیر کشتی نوح واسطے توسیع مکان اور اشتہار جو مرزا امام الدین نے اس کی رد میں شائع کیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
- ٣؎ جیسا کہ باللہ دتا نامی تائب مرحوم کا روپیہ جو اس قسم سے تھا۔ قادیانی نے منگایا اور
اب اس کا جواز انجیل کے حوالہ سے اور ایک نقلی دلیل سے ثابت کیا ہے۔ جس کا بیان مفصل اشاعۃ السنہ نمبر ٩ جلد ١٨ میں درج ہے۔
- ٤؎ براہین احمدیہ کی قیمت پیشگی لینے کی طرف اشارہ ہے کہ جس کا وعدہ مرزا صاحب کر کے
خورد برد کر لیا۔ اور فتح اسلام میں اس کو تسلیم بھی کر لیا ہے۔
- ٥؎ یہ قادیانی کے نام اور دعوے پر صاف تصریح ہے اور اس وقت دنیا میں کوئی نہیں ہے
جو بجز قادیانی احمد اور عیسیٰ کہلاتا ہو۔
- ٦؎ اس اشارہ کی تعریف میر صاحب نے زبانی یہ کی تھی کہ جو کوئی دنیا دار اور مال دار
قادیانی کے پاس آتا ہے اس کی دعوت کرتا ہے۔ لدھیانہ میں خاص ایک وہاں کے رئیس شاہزادہ والا گوہر آئے تو ان کی بڑی دھوم دھام سے دعوت کی۔ و قس علیٰ ہذا۔
- ٧؎ اس اشارہ کی تشریح آپ نے یا ایک اور گھر کے بھیدی فتح خان نامی نے یہ کی ہے
٢٠١
تحفظ ختم نبوت کے عظیم محاذ پر آپ کا مالی تعاون ضروری ہے یاد رکھئے قادیانیت اسلام اور ملک و ملت کے خلاف کھلی بغاوت ہے
کہ قادیانی کی پرائیویٹ مجلس میں خوب کھلی بازی ہوتی ہے۔ ٨ یہی آپ کے حالات میں کھانے کی تشریح میر صاحب نے زبانی یہ کی ہوئی ہے کہ آپ گھی کی جگہ کھانے میں بادام روغن ڈلواتے ہیں اور چاول ایسی باریک نوش جان فرماتے ہیں جس کی قیمت فی آثار دو روپیہ یا کم سے کم اس امر کے لیے اپنے منشی مولا بخش ملازم سفری ڈاک خانہ کو جو دہلی جایا کرتے تھے مامور کیا گیا تھا۔
باب ٣٤ سی و چہارم
مرزا صاحب کے عقائد اور تجدید اسلام
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
مرزا صاحب ...... ”آیت فلما توفیتنی نے صاف طور پر خبر دیدی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ اور وہ جھگڑا جو اس سے پہلے ہو چکا ہے جو یہود اور حضرت ایلیا کے نزول کے بارہ میں تھا کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اس میں یہود کو سچا قرار دے۔ سو دنیا میں دوبارہ آنے کے معنے جو ایک نبی کہے وہی ہم حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارہ میں کرتے ہیں مگر ہمارے مخالف مولوی جو معنے کرتے ہیں ان کے پاس ان معنوں کی کوئی سند نہیں۔
اب سوچنا چاہیے کہ ہم تو اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی پہلی کتابوں میں نظیر موجود ہیں اور جس کا قرآن مصدق ہے اور ہمارے مخالف مولوی حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارہ میں اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی تمام انبیاء کے سلسلہ میں کوئی نظیر موجود نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے پھر ہمارے مخالف جبکہ اس بحث میں عاجز آجاتے ہیں تو افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں لیکن یادر ہے کہ یہ سب افتراء ہیں ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہل سنت کے قائل ہیں صرف یہ فرق ہے کہ ہمارے مخالف اپنی جہالت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا حقیقی طور پر انتظار کرتے اور ہم بروزی طور پر جیسا کہ تمام معصومین کا مذہب ہے اور ہم مانتے ہیں کہ نزول مسیح کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔
معترض...... آپ کی تالیف و تصنیف میں یہ عقائد موجود ہیں جن کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
- ١۔ دعویٰ نبوت (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) ”اس میں شک نہیں کہ یہ عاجز خدا کی
٢٠٢
طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیا اگرچہ اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی ہمکلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے م اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبی بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا ا
”فاعلم ارشدک الله تعالی ٹائیٹل پیج ازالہ اوہام از تصانیف مرزا
(دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨)
(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
کے طاعون دور ہو سکتی ہے۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
نہیں ۔“ (ایضاً) ”سچا شفیع میں ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص
احمد ۔ مگر ہمارے رسول فقط احمد نہیں بلکہ محمد بھی میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیق محمد دونوں تھے لیکن برطبق پیشگوئی صرف احمد
(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص
نبوت ہی رکھتا ہے غرض محدث دونوں رنگوں احمد یہ میں اس عاجز کا نام امتی نبی رکھا ہے۔ انکار معراج جسمی آنحضرت (او
طرف سے اس امت کے لیے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے اگرچہ اس کے لیے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور سے ایک نبی ہی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔ اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔“
(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
ٹائٹل پیج ازالہ اوہام از تصانیف مرسل یزدانی مامور رحمانی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔
(دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔“
(دافع البلاء ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) ”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) ”باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩) ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) ”بجز اس مسیح (مرزا صاحب) کے اور کوئی شفیع نہیں۔“ (ایضاً) ”سچا شفیع میں ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) ”آیت ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ مگر ہمارے رسول فقط احمد نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا ہے رسول اللہ تو احمد اور محمد دونوں تھے لیکن برطبق پیشگوئی صرف احمد مبشر (خود) ہے نہ رسول اللہ ﷺ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦) ”لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے غرض محدث دونوں رنگوں سے رنگین ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی نبی رکھا ہے۔“
انکار معراج جسمی آنحضرت (ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) ”معراج اس جسم
٢٠٣
کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔
ملائکہ سیاروں کی ارواح ہیں۔ (توضیح المرام صفحہ ٣٠ تا ٣٧، خزائن ج ٣ ص ٣٩ تا ٦٦) ”ملائکہ ستاروں کی ارواح ہیں وہ سیاروں کے لیے جان کا حکم رکھتے ہیں لہٰذا وہ کبھی سیاروں سے جدا نہیں ہوتے۔“
جبرائیل علیہ السلام۔ جبرائیل جس کا سورج سے تعلق ہے وہ بذات خود وہ اور حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا ہے اس کا نزول جو شرع میں وارد ہے اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبریل وغیرہ فرشتوں کی انبیاء دیکھتے تھے وہ جبریل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی جو انسان کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی۔
ملکوت سے بذات خود زمین پر اتر کر فیض روح نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی تاثیر سے فیض ارواح ہوتا ہے۔
دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔
حضرت عیسیٰ ابن مریم کے معجزات سے انکار اور یوسف نجار کا بیٹا ہونے کا اقرار۔ حصہ اول (ازالہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣) ”غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد ہے اور مشرکانہ اعتقاد ہے کہ مسیح مٹی کے پرند بنا کر اور ان میں یہ پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ عمل التراب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔“ (ازالہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) ”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دیدی ہو۔ جو ایک کھلونا کل کے دبانے سے یا کسی پھونک مارنے کے طور سے پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیر سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھی کا کام ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنا لینے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“ (ازالہ ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٥) ”کیونکہ حال کے زمانہ ہی میں دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی ہیں اور ہنستی ہی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔“ (ازالہ ص ٢٧٥، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣) یہ بھی قرین قیاس ہے کہ مسمریزی طور سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“ (ازالہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٥) ”بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور حاضر مصلحت کے
٢٠٤
تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے یہ عمل ایسا قدر کے لا یہ عاجز (مرزا) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت جا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
عیسیٰ کجاست
(توضیح المرام ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٣ ص
ذوالافق الاعلیٰ۔ جن کا ذکر شروع میں ہے انسا محبوب انسان کی محبت باہم ملتے جلتے متولد ہو القدس) کا مجموعہ پاک تثلیث ہے۔“
(ابن اللہ ہونے کا دعویٰ، حقیقت الو
صاحب) کا مقام ایسا ہے جس کو استعارہ کے طو دعویٰء مسیح موعود ...... ”مسیح موعود میں ہوں جس اسرائیلی کی۔“ (فتح الاسلام ص ١٠، خزائن ج ٣ ص ١٠ کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے م وقت تم نے پالیا۔“ (فتح الاسلام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص کرو۔“ (ازالہ ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢) ”میرے فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ آنے والے مسیح کے اوصاف جو ہ ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨) ”گویا یہ فقرہ جو احا القا کیا ہے کہ انا انزلناہ قریبا من القادیان ۔ ا
بطرف شرقی عند المنارة البيضاء
پر ہے منارہ کے پاس۔ پس الہام الٰہی کا یہ فقرہ پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیشگوئی واقعی طور پر ص ٤٠٩) زرد کپڑوں کے یہ معنے ہیں کہ اس کی دو
تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز (مرزا) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پایہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
(توضیح المرام ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦٢) ”روح القدس ، روح الامین ، شدید القوٰی ، ذو الافق الاعلیٰ ۔ جن کا ذکر شروع میں ہے انسان کی نیک صفت ہے ۔ جو خدا کی محبت یا اس کے محبوب انسان کی محبت باہم ملنے جلنے سے متولد ہوتی ہے ان دونوں محبتوں اور ان سے متولد نتیجہ (روح القدس) کا مجموعہ پاک تثلیث ہے ۔“
(ابن اللہ ہونے کا دعویٰ ، حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) ”اور اس عاجز (مرزا صاحب) کا مقام ایسا ہے جس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔“
دعواے مسیح موعود ...... ”مسیح موعود میں ہوں جس کی بشارت حدیثوں میں وارد ہے نہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی کی ۔“ (فتح الاسلام ص ١٠، خزائن ج ٣ ص ٧) ”شکر کے سجدے بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں سفر کر گئیں۔ وہ وقت تم نے پالیا۔“ (فتح اسلام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١٠ حاشیہ) ”مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔“ (ازالہ ص ٥٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢) ”میرے پر خاص الہام سے ظاہر کیا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔ وَكَانَ وَعْدُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا!
آنے والے مسیح کے اوصاف جو احادیث میں وارد ہیں اور ان کی تاویل ۔ (ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٤٨) ”گویا یہ فقرہ جو اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القا کیا ہے کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان ۔ اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلنا قرین دمشق بطرف شرقی عند المنارة البضاء! کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے منارہ کے پاس ۔ پس الہام الٰہی کا یہ فقرہ کہ کان وعد الله مفعولاً! اس تاویل ہے۔ پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیشگوئی واقعی طور پر پوری ہو جاتی ہے ۔“ (ازالہ اوہام ص ٢١٩، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩) زرد کپڑوں کے یہ معنے ہیں کہ اس کی صحت اچھی نہ ہوگی ( آپ ہمیشہ بیمار جو رہتے ہیں)“
٢٠٥
(ازالۃ الاوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦) ”دو فرشتوں کے بازوؤں پر اترنے کی یہ مراد ہے کہ وہ دراصل وہی آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کیے گئے ہیں اور ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے یہ مراد ہے کہ وہ مسیح کے انصار اور مددگار ہو جائیں گے پایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔ سو اے بزرگو دجال معہود یہ ہے جو آچکا ہے۔ مگر تم نے اسے شناخت نہ کیا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٥٠٦، خزائن ج ٣ ص ٣٧١) ”یک چشم کے یہ معنی ہیں کہ دین کی آنکھ بالکل نہ ہوگی جیسے کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا حال ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩) ”یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٠٣، خزائن ج ٣ ص ٣٧٠) ”دابۃ الارض سے علماء ظاہر مراد ہیں کہ ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی علمائے ظاہر ہوں گے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٥، خزائن ج ٣ ص ٣٧٦) ”اس عاجز پر جو رویا میں ظاہر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کیے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“ (ازالہ اوہام ص ٥١٧، خزائن ج ٣ ص ٣٧٧) ”وہی لوگ اسلام سے محروم رہ جائیں گے جن پر دروازہ توبہ کا بند ہے یعنی فطرتیں بالکل مناسب حال اسلام کے نہیں۔ توبہ کا دروازہ بند ہونے کے یہ معنے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو جائیں گے۔“
(فتح اسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢) ”لیلة القدر جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ رات مراد نہیں بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے اور نبی یا مجدد کے گزر جانے سے ایک ہزار مہینے بعد آتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ٧٦) ”آیۂ متضمن ذکر سجدہ ملائکہ بآدم کی طرف سجدہ کرنا مراد نہیں بلکہ ملائک کا انسان کامل کی خدمت بجالانا اور اس کی اطاعت کرنا مراد ہے۔“
حاشیہ جات
١ (صحیح بخاری ص ١٤١، صحیح مسلم ص ١٥٩) اصل حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی تو اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم جانتے ہو خدا تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے اصحاب نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں کوئی مجھ پر ایمان لاتا ہے اور کوئی کافر ہوتا ہے۔ جو یہ کہے کہ ہم پر خدا کے فضل وکرم سے
٢٠٦
بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ... فلاں مقام پر پہنچنے کے سبب بارش ہوئی ہے تو ...
باب
شیخ مہر علی صا...
ہیچ قوی را...
كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ... آج صبح سے حضرت مسیح موعود... خانے میں معمول سے زیادہ سامان ہے یو... ٹھاٹھ ہوتا ہے کچھ آج نئی بات نہیں۔ اور ام... امیر یا رئیس مہمان رہتا ہے مگر آج اس معمو... دوروپے سیر والے چاول کی دیگچیاں دم ہور... وغیرہ علیحدہ دم پخت ہورہا ہے۔ شامی کبا... ہیں۔ فیرنی کی پیالیاں علیحدہ جمائی جارہی... باقر خانیاں تنور سے گرما گرم پک کر آرہی ہی... شام کا وقت قریب آگیا حوار... ہیں۔ حضرت اقدس مرزا صاحب بھی زیب... خادم ...... شیخ صاحب تشریف لے آئے ہی... لائے مرزا صاحب کے برابر جگہ پائی آؤ بیٹھ... بچھا کھانا چنا گیا۔ مرزا صاحب ...... نے شیخ صاحب کے مق... کامیابی کی مسرت ظاہر فرما کر لیکچر کے ط... خاک ہونے کے پھر اپنی عاجزی کیسے بھو... بدلنے سے اپنی فروتنی کا لہجہ فوراً بدل لیتا ۔ ہوشیار پورے واقف ہوں گے اور میرے ...
بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں سے منکر اور جو یہ کہے کہ فلاں ستارہ کے فلاں مقام پر پہنچنے کے سبب بارش ہوئی ہے تو ستاروں پر ایمان لاتا ہے اور مجھ سے کافر ہے۔
باب ٣٥ سی و پنجم
شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور
ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد
كَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰى اَنْ رَّآهُ اسْتَغْنٰى
آج صبح سے حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود، امام زمان مجدد دوران کے باورچی خانے میں معمول سے زیادہ سامان ہے یوں تو خدا کی عنایت سے روز شاہانہ سامان اور امیرانہ ٹھاٹھ ہوتا ہے کچھ آج نئی بات نہیں۔ اور امراء رؤساء کی مہمانداری بھی معمولی بات ہے روز کوئی امیر یا رئیس مہمان رہتا ہے مگر آج اس معمول سے زیادہ سامان ہے۔ بریانی، مطنجن، زردہ، پلاؤ، دو روپے سیر والے چاول کی دیگچیاں دم ہو رہی ہیں۔ گوشت بھی کئی قسم کا قورما، قلیا اور بریان وغیرہ وغیرہ علیحدہ دم پخت ہو رہا ہے۔ شامی کباب، مچھلی کے کباب، سیخ کے کباب علیحدہ تیار ہوتے ہیں۔ فیرنی کی پیالیاں علیحدہ جمائی جارہی ہیں۔ کیوڑہ کے قرابہ الٹائے جاتے ہیں۔ شیر مال اور باقر خانیاں تنور میں گرما گرم پک کر آرہی ہیں۔
شام کا وقت قریب آگیا حواری اور مصاحب اپنے اپنے پایہ و مرتبہ سے ڈٹے بیٹھے ہیں۔ حضرت اقدس مرزا صاحب بھی زیب دہ مسند ہیں۔ گاڑی کی کھڑ کھڑاہٹ ہوئی۔ خادم...... شیخ صاحب تشریف لے آئے ہیں۔ چند حواری استقبال کو گئے۔ اور شیخ صاحب تشریف لائے مرزا صاحب کے برابر جگہ پائی آؤ بھگت اور مزاج پرسی کے بعد ہاتھ دھلائے گئے دستر خوان بچھا کھانا چنا گیا۔
مرزا صاحب...... نے شیخ صاحب کے مقدمہ کی زیر باری اور تکالیف کا افسوس اور بمنظوری اپیل کامیابی کی مسرت ظاہر فرما کر لیکچر کے طور پر شروع کیا کہ: ”انسان باوجود سخت ناچیز اور مشت خاک ہونے کے پھر اپنی عاجزی کیسے بھول جاتا ہے ایک ذرہ درد فرو ہونے اور آرام کا کروٹ بدلنے سے اپنی فروتنی کا لہجہ فوراً بدل لیتا ہے۔ پنجاب کے قریباً تمام آدمی شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور سے واقف ہوں گے اور میرے خیال میں ہے کہ جس ایک بے جا الزام میں اپنے بعض
٢٠٧
پنہانی قصوروں کی وجہ سے جن کو خدائے تعالیٰ جانتا ہو گا پھنس گئے تھے اس قصہ کو ہمارے ملک کے بچے اور عورتیں جانتی ہوں گی۔ (شیخ مہر علی صاحب ہوشیار پور کے رئیس اعظم ہیں اور پنجاب کے مسلمانوں میں دولت و ثروت میں کوئی آپ کا ہم پلہ نہیں ہے) سو اس منسوخ شدہ قضیہ سے تو مطلب نہیں۔
(اشتہار شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور ملحقہ آئینہ کمالات ص ٦٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اس کے اعادہ سے سوائے رنج اٹھانے اور دل دکھانے کے اور پرانا زخم تازہ کرنے کے اور کیا حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس بلا کو دفع کیا ورنہ کس کو امید تھی۔ آج وہ مبارک دن ہے کہ شیخ صاحب ہمارے پاس بیٹھے ہیں اور خدا کے فضل و کرم سے صحیح و تندرست ہیں۔
شیخ صاحب ........ اس قصہ کو سن کر اپنے مصائب اور تکلیف کا زمانہ یاد کر کے آبدیدہ ہو گئے بلکہ رقت طاری ہو گئی۔
مرزا صاحب ...... ”صرف اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ اس قصہ سے تخمیناً چھ ماہ پہلے اس عاجز کو بذریعہ ایک خواب کے جتلایا گیا تھا کہ شیخ صاحب کی خانہ نشست کے فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے پانی ڈال ڈال کر بجھایا ہے۔ اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یقین کامل ڈالا گیا کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آئے گی۔ اور میرا پانی ڈالنا یہ ہوگا کہ آخر میری ہی دعا ہے نہ کسی اور وجہ سے وہ بلا دور ہو جائے گی۔ میں نے اس خواب کے بعد شیخ صاحب کو بذریعہ ایک مفصل خط کے اپنے خواب سے اطلاع دیدی اور توبہ اور استغفار کی طرف توجہ دلائی۔ اس کا جواب تو شیخ صاحب نے کچھ نہ لکھا۔
”آخر قریباً چھ ماہ گزر جانے پر ایسا ہی ہوا اور میں انبالہ چھاؤنی میں تھا کہ ایک شخص محمد بخش نام، شیخ صاحب کے فرزند جان محمد کی طرف سے میرے پاس پہنچا اور بیان کیا کہ فلاں مقدمہ میں شیخ صاحب حوالات میں ہو گئے ۔“
(ایضاً)
میں ........ ”ہم نے چھ ماہ کا عرصہ ہوا بذریعہ خط کے شیخ صاحب کو اطلاع دی کہ آپ اور آپ کی عزت پر کوئی سخت مصیبت آنے والی ہے۔“
(ایضاً)
محمد بخش ...... ”مجھ کو اس خط کا علم نہیں مگر مجھ کو شیخ صاحب کے فرزند جان محمد نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور دعا کے واسطے کہا ہے۔“
(اشتہار شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور ملحقہ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٥٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کئی راتیں نہایت مجاہدہ سے دعائیں کی گئیں اور اوائل میں
٢٠٨
صورت قضاء قدر کی نہایت پیچیدہ اور مبرم معلوم ہوتی تھی۔ آخر خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی اور ان کے بارہ میں رہا ہونے کی بشارت دیدی اور بشارت سے ان کے بیٹے کو مختصر لفظوں میں اطلاع دی گئی۔"
(ایضاً)
مصاحب ...... بیشک حضور کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا۔ ورنہ مقدمہ بہت پیچیدہ ہو گیا تھا کس کو امید تھی کہ شیخ صاحب بچ جائیں گے۔
حواری ...... حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ صورت قضاء قدر کی نہایت پیچیدہ تھی۔ یعنے قضائے مبرم تھی بھلا قضائے مبرم بدل سکتی ہے۔ یہ حضور کے قدموں کا صدقہ تھا کہ قضائے مبرم کو بدل دیا۔
- ٢....... ہمارے حضرت اقدس امام ہمام نے کئی مرتبہ قضائے مبرم کو بدل دیا ہے یہ خاص
حضرت اقدس ہی کا مرتبہ ہے پہلے کسی انبیاء اور اولیاء کو یہ منصب نہیں ملا۔ قضائے معلق تو ہر نبی ولی کی دعا سے بدل جاتی ہے قضائے مبرم کسی سے نہیں بدلی۔
- ٣....... یہ ہمارے امام ہمام پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے دوسرے انبیاء اولیاء کو یہ بات نصیب
نہیں ہوئی۔
شیخ صاحب ...... خاموش سنتے رہے (جیب سے گھڑی نکال کر) دس بج گئے میں اجازت چاہتا ہوں۔
مرزا صاحب ...... کتنے دن قیام رہے گا آپ کو بڑی تکلیف ہوئی معافی مانگتا ہوں۔
شیخ صاحب ...... ہاں ابھی کئی دن یہاں رہوں گا اور پھر بھی بشرط فرصت حاضر ہوں گا۔
مرزا صاحب ...... ہمارا ارادہ ہے اپنی کل پیشگوئیاں ایک جگہ جمع کی جائیں اور ان کے پوری ہونے کی تصدیق بھی لکھی جائے اس لیے آپ سے التماس ہے کہ آپ اس کی تصدیق تحریری بھیج دیں۔
شیخ صاحب ...... مجھ کو پہلا خط یاد نہیں نہ دوسرے خط کا علم ہے آپ کا پہلا خط تلاش کروں گا کسی صندوقچے میں پڑا مل گیا تو اس کو دیکھ کر اور جان محمد سے آپ کے دوسرے خط کا حال دریافت کر کے لکھوں گا۔ مصافحہ کیا اور رخصت ہوئے ( محمد بخش سے استفساراً) تم کو ان خطوں کا علم ہے؟
(ایضاً)
محمد بخش ...... میں سخت حیرانی میں تھا۔ مرزا صاحب اور دعوت۔ اس کی کوئی علت ضرور ہے ورنہ ان کی خاطر مدارات اور تواضع مریدان خاص کی ہوتی۔ یہ دعوت بے سبب کیا معنے۔
(ایضاً)
نہ مرید نہ کبھی کوئی رقم چندہ کی دی۔ اب معلوم ہوا کہ
شیخ صاحب ...... بھائی بے سوچے اور دیکھے تو سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا ہوں یوں تو سینکڑوں دوائی فروشوں کی درخواستوں پر رعایتی سرٹیفکیٹ اخباروں میں دوائیوں کے اشتہاروں کے ساتھ شائع ہوتے ہیں کیا وہ سب سچے ہوتے ہیں، نہیں ایک بھی نہیں فقط رعایتی۔ مگر اس دکانداری کا دین پر
٢٠٩
اثر پڑتا ہے۔
محمد بخش ...... جب مقدمہ دائر تھا۔ شیخ جان محمد صاحب نے مرزا صاحب کے اشتہارات اجابت دعا کے دیکھ کر مجھ کو بھیجا تھا اور ضرور دعاء کی درخواست کی تھی مگر کوئی جواب شافی سوائے معمولی الفاظ کے نہیں دیا تھا۔
جان محمد ..... ”وہ خط تو گم ہو گیا مگر غالباً یہی الفاظ تھے یا اس کے قریب قریب فضل ہو جائے گا دعا کی جاتی ہے۔“ (ایضاً) اس اثناء میں مرزا صاحب کا ایک حواری آموجود ہوا۔ السلام علیکم۔
شیخ صاحب ..... وعلیکم السلام آئیے تشریف لائیے مزاج کیسے تشریف لائے۔
حواری ..... حضرت اقدس جناب امام ہمام مرزا صاحب نے آپ کو سلام علیکم کہا ہے اور فرمایا ہے جس معاملہ میں رات گفتگو تھی وہ تحریر بھیج دیں۔
شیخ صاحب ..... حیران اور ششدر ہو کر کون سی تحریر اچھا وہ پیشگوئی کی بارہ میں۔
حواری ..... جی ہاں وہی۔
شیخ صاحب ..... وہ خطوط تو گم ہو گئے اور خطوط کی صحیح عبارات یاد نہیں میں کیا لکھ دوں۔
حواری ..... آپ کا کیا حرج ہے جیسا حضرت اقدس صاحب فرماتے ہیں وہ لکھ دیجیے کسی فیصلہ میں تو پیش ہی نہیں کیا جانا۔ جو کسی کے مال یا عزت یا جان پر کچھ اثر پہنچے۔
شیخ صاحب ..... بیشک کسی مال و جان پر تو اس کا اثر نہیں پہنچتا مگر ایمان پر تو ایک جہاں کے پہنچے گا۔
حواری ..... کچھ بات تو ہے نہیں آخر دنیا میں رعایت و مروت بھی کوئی چیز ہے۔
شیخ صاحب ..... نہیں صاحب مجھ ہی سے یہ نہیں ہو سکتا آخر ایک دن خدا کے ساتھ معاملہ پڑنا ہے۔ وہ علیم بذات الصدور ہے اس کو کیا جواب دوں گا۔ جس قدر انسان میری تحریر پڑھ کر گمراہ ہوں گے وہ سب میرے ہی نامہ اعمال میں درج ہوں گے۔
حواری ..... بے نیل و مرام واپس آئے اور مفصل حال حضور اقدس میں عرض کیا۔
مرزا صاحب ..... ( اس قدر تاب یارا ئے ضبط کہاں غصہ میں لال ہو گئے سروپا کی خبر نہ رہی فوراً اصل خطوط شیخ صاحب سے طلب کیے گئے اور جواب نفی میں سن کر سمندر غیظ کو ایک اور تازیانہ ہوا۔ پھر کیا تھا منہ میں کف بھر آئی۔ زمین پر پاؤں مار کر ) یہ کیسی ناخدا ترسی ہے کہ مجالس میں افتراء کی سخت تہمت لگا کر دل کو دکھایا جائے خیر اب ہم بطریق تنزل ایک آسان فیصلہ اپنے صدق اور کذب کے بارہ میں کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔
٢١٠
فیصلہ
آج رات میں جو ٢٥ فروری دردمند ہو کر آسمانی فیصلہ کے لیے دعا کی خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا ک وہ ایک عمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے اس وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا ک اس پر نالش کروں گا۔ اور پھر عدالت می ہے۔ تب دکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا ک ایک سودائی پھرتا ہے اس کا اثر میرے د اور اب وہی چیز دینے کو تیار آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں پھر میں نے توجہ کی تو یہ الہام ہوا۔ انا ف قلبت فی الارض انا معك نرفع علی کی خیر اندیشی سے بددعاء کی طرف ب تو زمین پر پھرے گا ہم تیرے ساتھ ہیں لہٰذا یہ اشتہار شیخ صاحب کی کے عرصہ میں اپنی خلاف واقع فتنہ انداز کے نہ بھیج دیں تو آسمان پر میرا ان کا مقد اور آرام کے لیے کی تھیں واپس لے لوں یہ مجھے اللہ جل شانہ کی طرف اپنے افتراؤں کی نسبت میری معرفت نشان ہے کہ میری بددعا کا اثر ان پر ظا اس کی کوئی تاریخ بیان نہیں کر سکتا۔ کیو نہیں۔ اور اگر میری بددعا کا اثر کچھ بھ صاحب نے مجھ کو سمجھ لیا۔ میں اللہ جل صاحب کو خبر دی تھی اور مصیبت کے با
فیصلہ
آج رات میں جو ٢٥؍فروری ١٨٩٢ء کی رات تھی شیخ صاحب کی ان باتوں سے سخت دردمند ہو کر آسمانی فیصلہ کے لیے دعا کی۔
خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دکاندار کی طرف میں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے اس نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی۔
وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا کہ جاؤ دکاندار کو کہہ دو کہ وہی چیز دے ورنہ میں اس دغاء کی اس پر نالش کروں گا۔ اور پھر عدالت میں کم سے کم چھ ماہ کی اس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے۔ تب دکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے اس کا اثر میرے دل پر پڑ گیا اور میں بھول گیا۔
اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ شیخ صاحب پر یہ ندامت آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں گے۔ اور ابھی کسی دوسرے آدمی کا ان کے دل پر اثر ہے۔ پھر میں نے توجہ کی تو یہ الہام ہوا۔ انا نرى تقلب وجهك فى السماء نقلب فى السماء ما قلبت فى الارض انا معك نرفعك درجات یعنی ہم آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ تیرا دل مہر علی کی خیراندیشی سے بددعاء کی طرف پھرا سو ہم بات کو اسی طرح آسمان پر پھیر دیں گے جس طرح تو زمین پر پھرے گا ہم تیرے ساتھ ہیں تیرے درجات بڑھائیں گے۔
لہٰذا یہ اشتہار شیخ صاحب کی خدمت میں رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں۔ کہ اگر وہ ایک ہفتہ کے عرصہ میں اپنی خلاف واقعہ فتنہ اندازی سے معافی چاہنے کی غرض سے ایک خط بہ نیت چھاپنے کے نہ بھیج دیں تو آسمان پر میرا ان کا مقدمہ دائر ہو گیا اور میں اپنی دعا کو جو ان کی عمر اور بحالی عزت اور آرام کے لیے کی تھیں واپس لے لوں گا۔
یہ مجھے اللہ جل شانہ کی طرف سے بتصریح بشارت مل گئی ہے پس اگر شیخ صاحب نے اپنے افتراؤں کی نسبت میری معرفت معافی کا مضمون شائع نہ کرایا۔ تو پھر وہی صدق اور راستی کا یہ نشان ہے کہ میری بددعا کا اثر ان پر ظاہر ہوگا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو وعدہ دیا ہے۔ ابھی میں اس کی کوئی تاریخ بیان نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ابھی تک خدائے تعالیٰ نے کوئی تاریخ میرے پر کھولی نہیں۔ اور اگر میری بددعا کا اثر کچھ بھی نہ ہوا تو بلاشبہ میں اسی طرح کاذب اور مفتری ہوں جو شیخ صاحب نے مجھ کو سمجھ لیا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مصیبت سے پہلے شیخ صاحب کو خبر دی تھی اور مصیبت کے بعد میں اگر جھوٹا ہوں تو شیخ صاحب میری بددعا سے صاف
٤١١
بچ جائیں گے اور یہی میرے کاذب ہونے کی کافی نشانی ہوگی اگر یہ بات صرف میری ذات تک محدود ہوتی تو میں صبر کرتا لیکن اس کا دین پر اثر ہے اور عوام میں ضلالت پھیلتی ہے اس لیے میں نے فقط حمایت دین کی غرض سے دعا کی تھی اور خدا تعالیٰ نے میری دعا منظور فرمائی ۔ سو دنیا داروں کو اپنی دنیا کا تکبر ہوتا ہے اور فقیروں کو کبریائی کا تکبر اپنے نفس پر بھروسہ کر کے پیدا ہوتا ہے اور کبریائی خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے پیدا ہوتی ہے ۔ پس میرے صادق یا کاذب ہونے کی یہی ایک نشانی ہے۔ یہ دعویٰ ہے کہ شیخ صاحب کی نجات صرف میری دعا سے ہوئی تھی ۔ جیسا کہ میں نے آگ پر پانی ڈالا تھا۔ اگر میں اس دعوے میں صادق نہیں ہوں تو میری ذلت ظاہر ہو جائے۔
وَالسَّلَام عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی
(اشتہار شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور ملحقہ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٥٥ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
(خاکسار غلام احمد قادیانی)
(مطبوعہ و مشمولہ آئینہ کمالات یا دافع وساوس)
(عصائے موسیٰ ص ٣٤، مطبوعہ ستمبر ١٩٠٠ء)
شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کو اشتہار فروری ١٨٩٣ء بذریعہ رجسٹری بھیجا۔ جس میں خوف دلانے والے الہامات درج کر کے لکھا کہ ایک ہفتہ میں اگر معافی طلب خط چھپوانے کے لیے نہ بھیج دیں تو پھر آسمان پر میرا اور ان کا مقدمہ دائر ہوگا۔ اور میں اپنی دعاؤں کو جو ان کی عمر بحالی عزت و آرام کے لیے کی تھیں واپس لے لوں گا۔ اس مقدمہ کا قضیہ بھی اب تک نا معلوم ہے۔ شیخ صاحب کا کوئی معافی طلب خط چھپا ہوا نہیں دیکھا۔ شاید مرزا صاحب نے شفقت سے اس میں راضی نامہ دیدیا ہو اور مشتہر نہ کیا۔ اگرچہ ایسا کرنا ضروری تھا کیونکہ دائر کردہ مقدمہ کا اشتہار مشتہر کر چکے تھے۔
باب ٣٦ سی و ششم
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
ایک چھوٹی سی مسجد ہے اس کے صحن میں چند صاحب بیٹھے اپنے اپنے خیالات اور مذاق کے موافق گفتگو کر رہے ہیں۔
- ١....... دوسرے سے بھلا کیا آپ کو باوصف احمدی ہو جانے کے حضرت اقدس کی نبوت میں
کچھ شک ہے۔
- ٣....... ہاں میں حضرت اقدس کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھتا ہوں مگر ان کو نبی سمجھنا ایک مشکل اور
نازک مرحلہ ہے۔
پہلا اس اشکال اور نازک مرحلہ
- ٢....... اتا پتا کیا پہلے ہی بال کی کھال
اور مادر زاد گونگے بہرے کیا سنیں۔
پہلا آپ سوانکھے اور دانا بینا ہو ناطقہ کس دن کے لیے رکھ چھوڑی ہیں۔
- ٢....... نبوت ختم ہوچکی ہے اگر خدا
قرآن میں آیت ما کان محمد اب النبیین اور حدیث لا نبی بعدی طاہ
(پہلا) ہم لوگ زیادہ تر عقل حدیثیں موضوع ہوگئی ہیں تو از روئے عقل ہو گیا ہو آیت ختم نبوت کچھ گڈ مڈ اور بے جوڑ کیا تعلق ہے۔ یہ بھی وہی بات ہوئی ”مار آنحضرت کسی کے باپ نہیں اور یہ بھی پیوند یاروں نے لگایا ہے اتنا ٹکڑا ضرور الحاق پیغمبر عرب جیسا کوئی نبی پیدا نہ ہو۔ اور بنا جائے جو خود فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ شَیْ خزانے موجود ہیں۔ پیغمبر عرب بھی شش عرب کے پیدا کرنے کے بعد اپنا خزانہ خ دیوالیہ نکال بیٹھا۔ کیونکہ جب خدا کے پاس
ایسے مفلس اور نادار خدا سے بہر حال لفظ خاتم النبیین الحاقی نہ سہی۔ ہاں آیت النبیین میں الف لام عہد ذہنی کا ہے چکے ہیں نہ کہ قیامت تک آنے والے انبی کتب مقدسہ توریت، انجیل، زبور میں ای
٢١٢
نازک مرحلہ ہے۔
پہلا اس اشکال اور نازک مرحلہ کا اتا پتا کھولیے۔
- .......٢ اتنا پتا کیا پہلے ہی بال کی کھال اور ہندی کی چندی نکل چکی ہے مگر اندھوں کو کیا سوجھے
اور مادر زاد گونگے بہرے کیا سنیں۔
پہلا آپ سوا سمجھے اور دانا بینا ہیں تو کیوں نہیں بتاتے سکھائی بجھائی بصر اور سمع اور قوت ناطقہ کس دن کے لیے رکھ چھوڑی ہیں۔
- .......٢ نبوت ختم ہو چکی ہے اگر خدا نے آپ کو آنکھیں دی ہیں اور آپ لکھے پڑھے ہیں تو
قرآن میں آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی ملاحظہ فرمائیے۔
(پہلا) ہم لوگ زیادہ تر عقل کے پیرو ہیں آپ کو معلوم ہے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں حدیثیں موضوع ہو گئی ہیں تو از روئے عقل وقیاس و مشاہدہ ممکن ہے کہ قرآن میں بھی آیات کا الحاق ہو گیا ہو آیت ختم نبوت کچھ گڈ مڈ اور بے جوڑی معلوم ہوتی ہے۔ بھلا اُبُوَّۃ کی نفی کا ختم رسالت سے کیا تعلق ہے۔ یہ بھی وہی بات ہوئی ”مارے گھٹنا پھوٹے بے پتلی کی آنکھ“ یہ تو قرین قیاس ہے کہ آنحضرت کسی کے باپ نہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپ رسول ہیں مگر اس آیت خاتم النبیین کا پیوند یاروں نے لگایا ہے اتنا ٹکڑا ضرور الحاق ہوا ہے۔ کیونکہ یہ بات خلاف عقل ہے کہ قیامت تک پیغمبر عرب جیسا کوئی نبی پیدا نہ ہو۔ اور عقلاء کے نزدیک اس کی نظیر پیدا کرنے سے خدا بھی عاجز ہو جائے جو خود فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهٗ یعنی ہمارے پاس ہر شے کے خزانے موجود ہیں۔ پیغمبر عرب بھی شَئ ہیں اِلَّا شَیْئًا نہیں۔ پھر خدا کو ضرورت ہے کہ پیغمبر عرب کے پیدا کرنے کے بعد اپنا خزانہ خالی کر کے نادار اور تہی دست نہ رہ جاتا بلکہ اپنی کوٹھی کو محلے کا دیوالیہ نکال بیٹھتا۔ کیونکہ جب خدا کے پاس رسالت ہی نہ رہی تو رہا کیا۔
ایسے مفلس اور نادار خدا سے ہمارے ملک کے پرچونئے بہت اچھے ہیں۔ اور بفرض محال لفظ خاتم النبیین الحاقی نہ سہی۔ الہام و وحی سہی مگر اس سے ختم نبوت قیامت تک کیوں لازم آئی۔ النبیین میں الف لام عہد ذہنی کا ہے یعنی پیغمبر عرب ان انبیاء کا خاتم ہے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں نہ کہ قیامت تک آنے والے انبیاء کا کیا وجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کسی نبی کو خاتم بنائے۔ نہ کتب مقدسہ توریت، انجیل، زبور میں ایسا نادر شاہی حکم صادر کرے۔ جیسا قرآن میں صادر کیا۔
چلا آتا ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ورنہ کتب اہلِ اسلام اور خود حضرت اقدس کو یہ کہنے کا موقع جب الحاق کے قائل ہیں تو حضرت اقدس کے د اسلام بتاتے ہیں نہ محرف نہ مبدل اسلام نہ ان کا ی یہ فرمانا کہ خدا نے پیغمبر عرب ﷺ کو کیوں خاتم الن اس سے باز پرس کرنا ہے۔ حضرت اقدس میں مسلمانان دنیا کے خدا نے انہیں کو کیوں بروزی ن آپ اسلام سے خارج ہو کر ایسے اعتراضات کر میں بدنام کر دیا ہے۔ راوی ...... اس سے یہ نتیجہ تو ضرور نکل سکتا ہے کہ خود مرز مجددانہ مشرقیہ ...... مرزا جی کی بڑی بھاری غلطی کل نصوص سے) جو کہ ان کے مطلب کے موا رکیکہ سے جوتیوں کا ان گانٹھتے ہیں سبب وہ بروز اور جیسے دوسرے انبیاء کے صحف ہیں ویسے ہی ا حریف اور کلہ توڑ جواب میں انہیں قرآن وحدی کرنے کی ضرورت کیا۔ قرآن سے تاویل کرنا موافق چپکانا کوئی خوش عقیدت مرزائی پسند نہ کر نہیں کوئی تعزیر کی چکی نہیں جس میں مرزا کو اپنے کوئی پھانسی نہیں کوئی سولی نہیں جس پر کھینچے جانے چھینکا ٹوٹ پڑا ہے۔ پس یہ بودا پن۔ یہ سخرا پن نبی کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن کوئی کوئی چیستان اور معمے نہیں جس کے حل کرنے تِبیَاناً لِّكُلِّ شَيْءٍ اور تفصیل کل ہے اور ہد نسیان پر نہ رکھ دیں گے اپنے مقاصد میں ہر گز کا ایسا کیا ہے مگر یہ دکھانے کو کہ میں اسلامی مجدد ہ ناطقہ لڑکھڑاتی ہے کیونکہ ان کو اپنے خام کار چیلوں
چلا آتا ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ورنہ کتب محرفہ میں اور قرآن میں کچھ فرق نہ رہے گا اور نہ اہلِ اسلام اور خود حضرت اقدس کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ انجیل میں تحریف ہوگئی ہے۔ اور آپ جب الحاق کے قائل ہیں تو حضرت اقدس کے دائرہ بیعت سے خارج ہیں کیونکہ وہ اپنے کو مجدد اسلام بتاتے ہیں نہ محرف نہ مبدل اسلام نہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن میں الحاق ہوگیا ہے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ خدا نے پیغمبر عرب ﷺ کو کیوں خاتم النبیین بنایا خدا کی قدرت وحکمت میں دخل دینا اور اس سے باز پرس کرنا ہے۔ حضرت اقدس میں بھی یہی باز پرس ہوسکتی ہے کہ منجملہ ٣٢ کروڑ مسلمانان دنیا کے خدا نے انہیں کو کیوں بروزی نبی بنایا۔ الغرض اسلام کے اصول کے خلاف ہیں آپ اسلام سے خارج ہو کر ایسے اعتراضات کر سکتے ہیں۔ انہیں خرافات نے ہمیں اسلامی پارٹی میں بدنام کر دیا ہے۔
راوی ..... اس سے یہ نتیجہ تو ضرور نکل سکتا ہے کہ خود مرزائی مرزا جی کی نبوت میں مذبذب اور مشکک ہیں۔
مجدد السنۃ شرقیہ ..... مرزا جی کی بڑی بھاری غلطی یہی ہے کہ قرآن وحدیث کی بعض نصوص (نہ کہ کل نصوص سے) جو کہ ان کے مطلب کے موافق ہیں اپنا دعویٰ ثابت کرتے ہیں اور تاویلات رکیکہ سے جوتیوں کا ان گانٹھتے ہیں بسبب وہ بروزی نبی ہیں۔ تو جیسے دوسرے انبیاء ویسے ہی وہ بھی اور جیسے دوسرے انبیاء کے صحف ہیں ویسے ہی ان کے الہامات ہیں۔ پس وہ دوسرے انبیاء کے حریف اور کلہ توڑ جواب میں انہیں قرآن وحدیث سے استدلال کرنے اور ان سے اپنا مدعا ثابت کرنے کی ضرورت کیا۔ قرآن سے تاویل کرنا اور آیات مقدسہ کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کے موافق چپکانا کوئی خوش عقیدت مرزائی پسند نہ کرے گا۔ کوئی دباؤ کا کوہلو نہیں کوئی ریاست کا شکنجہ نہیں کوئی تعزیر کی چکی نہیں جس میں مرزا کو اپنے پیلے جانے، پسے جانے، دبے جانے کا خوف ہو۔ کوئی پھانسی نہیں کوئی سولی نہیں جس پر کھینچے جانے کا دھڑکا ہو، آزادی کا زمانہ ہے۔ بلی کے بھاگون چھینکا ٹوٹ پڑا ہے۔ پس یہ بودا پن۔ یہ سخرہ پن مسیح موعود اور امام الزمان اور بروزی نبی یعنی بروزی نبی کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن کوئی پہیلی نہیں جس کا اتا پتا بتانے کی ضرورت ہو قرآن کوئی چیستان اور معمے نہیں جس کے حل کرنے اور تاویلات چھانٹنے کی حاجت ہو اس کی شان تبياناً لِّكُلِّ شَيْءٍ اور تفصیل کل ہے اور بیانٌ لِّلنَّاسِ ہے۔ پس جب تک کہ قرآن کو طاق نسیان پر نہ رکھ دیں گے اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہوں گے۔ اگرچہ دل میں تو انہوں نے ایسا کیا ہے مگر یہ دکھانے کو کہ میں اسلامی مجدد ہوں اور نبی ہوں۔ کھلم کھلا اقرار کرتے ہوئے قوت ناطقہ لڑکھڑاتی ہے کیونکہ ان کو اپنے خامکار چیلوں پر ابھی پورا پورا اعتماد نہیں ہے ان پر ابھی گہرا رنگ ٢١٥
نہیں چڑھاتا کہ ان سے سرخروئی ہو۔ اور سیہ روئی کا ڈر جاتا رہے۔ ایک بگلا بھگت منافق مرزائی اکثر ہماری خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور وہ شیر نیستان تجدید کا شاگرد بھی ہے اور گفتگو رہتی ہے۔ مرزائی....... حضرت اقدس نبی نہیں ہیں نہ ہم ان کو نبی تسلیم کرتے ہیں ہاں مجدد ضرور ہیں۔ ہم....... وہ (مرزا صاحب) تو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں اور آیت هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى اور يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ کا نزول اپنے حق میں بتاتے ہیں۔ مرزائی....... یہ ان کی اجتہادی غلطی ہے بلکہ ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم کے مصداق ہیں۔ مجدد السنۃ مشرقیہ ....... اس سے صاف ثابت ہے کہ سینکڑوں مرزائی اور بھی ایسے ہوں گے جو مرزا جی کو صرف ............. سمجھتے ہوں گے کہ بروزی نبی اور آسمانی لے پالک۔ یہ لوگ مرزائی نہیں ہیں بلکہ مرزاجی کے یہودی منافق ہیں وغیرہ ۔ اگر مرزا جی اسلام سے علیحدہ ہو کر اپنا جدا گانہ جتھہ قائم کرنے کا اعلان دیتے تو ہمارے علماء اور مشائخ کو ان کا تعاقب کرنے اور تکفیر کے فتوے دینے کی کچھ ضرورت نہ ہوتی چونکہ مرزاجی نے خلاف جمہور قرآن میں تاویلیں کیں لہذا ان سے مواخذہ کیا گیا۔
(ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ٨ دسمبر ١٩٠٣ء ص ٥ تا ٧)
مرزاجی جس طرح اپنے کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لیے عیسیٰ کو مارتے ہیں۔ اسی طرح اپنے کو خلاف قرآن وحدیث نبی بنانے کے لیے آیت وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور اسی مضمون کی احادیث صحیحہ سے بھی انکار کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض سمجھ دار مرزائی ........... اور مرزاجی کو نبی نہیں مانتے۔ مگر گونگے کا گڑ کھا کر حق پوش بن گئے ہیں ........... اور بعض مرزائی جو ہاتھی کے روٹ میں اپنا حصہ لگاتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا ایمان کو نگل کر بروزی نبوت کی تصدیق اور ختم رسالت کی تکذیب کرتے ہیں۔
جیسا کہ امروہی صاحب نے ضدین کو اور نقیضین کو جمع کیا ہے یعنی آنحضرت خاتم النبیین ہی ہیں اور آپ کے بعد دیگر انبیاء بھی آتے رہیں گے۔ آپ نے تکملہ مجمع بحار الانوار سے حضرت عائشہؓ کا قول اور مذہب یوں نقل کیا ہے۔ عن عائشة قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبي بعدہ یعنی یہ تو کہو کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اگر یہ قول بالفرض حضرت عائشہؓ کا ہے تو آنحضرت ﷺ کی ان احادیث کا معارض نہیں ہوسکتا جو صحابہ کرامؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کی فضیلت کے باب میں آپ نے فرمائی ہیں کہ میرے بعد نبی ہوتے تو فلاں فلاں ہوتے۔ امروہی صاحب فرمائیے کیا حضرت عائشہؓ کی یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے چند ارشادات کی ناسخ ہے۔
٢١٦
آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر المومنین علیؓ کی نسبت فرمایا اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوسٰی اِلَّا اَنَّه لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ یعنی تجھ کو مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسی ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لا نبی میں تحت النفی ایسا ہے جیسا لَا إِله میں یعنی بجز خدا تعالیٰ کے کوئی سچا یا جھوٹا معبود موجود نہیں۔
خلفا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کبھی کسی نے اپنی نبوت کا دعویٰ نہ کیا نہ ایسی تاویلیں چھانٹیں جیسے مرزا اور اس کے شکم پرست حواری چھانٹتے ہیں مرزا جی کا مرتبہ خلفا اور صحابہ سے بھی بڑھ گیا (نہیں جناب انبیا سے بھی) صحابہ نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم پر وحی نازل ہوتی ہے۔ حالانکہ مرزا جی پر ہردم اٹھتے بیٹھتے وحی نازل ہوتی ہے۔
لم يبق من النبوة الا المبشرات
(ایام الصلح ص ٧١، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٥) ’’و آخرین منهم جو اس گروہ کو منعم کی دولت سے یعنے صحابہ سے مشابہ ہونے کی نعمت سے حصہ دیا گیا ہے یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ (ایام الصلح ص ٧٣، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٧) ’’اور آیت و آخرین منھم میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہؓ سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے۔ (مرزا صاحب) وہ بھی ظلی طور پر آنحضرت ﷺ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘ (دفع البلا ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) ’’اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا صاحب) جو اس حسین سے بڑھ ہے اور اگر میں (مرزا) اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
معلوم نہیں امروہی صاحب کیوں تاویل کا لٹھ لے کر اپنے بروزی نبی کی نبوت کے پیچھے پڑے ہیں۔ کیونکہ آیات کلام مجید جو مکرر اب بطور وحی نازل ہوتی ہیں۔ مثلاً هُوَ الَّذِي اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدى اور يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اِسْمُهُ اَحْمَدُ ان سے مرزاجی کے نبی کامل اور رسول برحق ہونے میں امروہی صاحب کو کیوں شک ہے کیا وجہ ہے کہ وہ قرآن کو چھوڑ کر حدیثوں کو ٹٹولتے ہیں اور ان کی لنگڑی لولی تاویل کرتے ہیں کہ مبشرات سے نبوت نکال کر اپنے بروزی نبی کی نبوت کی جوتیوں میں ٹانکا گانٹھتے ہیں اور گدی کے پیچھے ہاتھ لے جاکر ناک پکڑتے ہیں قرآن تو قطعی اور یقینی وحی ہے جب وحی پر ایمان نہیں تو اپنے بروزی نبی کی نبوت پر بھی ایمان نہیں۔۔۔۔ وہ کیوں غل مچاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نبی کامل تھے اور ہمارا بروزی نبی ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔ جب کہ دونوں کے لیے ایک ہی قرآنی وحی موجود ہے۔ بھلا خدا تعالیٰ جس
٢١٧
ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان ختم نبوت کی شان میں یہ قطعی وحی نازل کرے کہ هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی تو وہ کیونکر نبی ناقص ہوسکتا ہے! کوئی وجہ نہیں کہ ایک ہی وحی پیغمبر عرب وعجم صلعم کو تو کامل نبی بنائے اور وہی وحی جب کسی اور پر نازل ہو تو اسے ناقص نبی بنائے۔ کیا قرآنی وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ناقص دوسری کامل پھر وہی ایک آیت جب آنحضرت پر نازل ہوئی تھی تو کامل تھی اور مرزا جی پر نازل ہوئی تو ناقص ہوگئی۔ اس حماقت آمیز تعارض کا کوئی جوابدہ ہے۔ اگر امروہی صاحب یا ان کا کوئی پیر بھائی بلکہ مرزا جی اس اعتراض کا جواب دیں تو ہم دو سو روپیہ دینے کو تیار ہیں۔ افسوس کہ حقاً پھر بھی نہیں سمجھتے اور دین ودنیا کی تباہی خریدتے ہیں بحث اس میں تھی کہ امروہی صاحب نے حدیث مندرجہ عنوان پیش کر کے مبشرات سے نبوت تراشی ہے اور استثناء متصل و منقطع پر بحث کی ہے۔ حالانکہ آپ دونوں سے نابلد ہیں جیسا کہ ہم ثابت کر دیں گے۔ استثناء متصل تو اس لیے نہیں کہ نبوت اور شے ہے اور مبشرات اور شے۔ ورنہ استثناء شے من نفسہ لازم آئے گا کیا یہ معنی ہوں گے کہ لم یبق من النبوة الا النبوة حالانکہ امروہی صاحب نے استثناء متصل بتایا ہے اور منقطع مانا جائے گا تو امروہی صاحب کو اپنے ہاتھوں اپنا سر پیٹنا پڑے گا کیونکہ مبشرات نبوت کی جنس نہ ٹھہریں گی۔ بھلا جب ہم یہ فقرہ موزوں کریں کہ لم یبق فی القادیان الا الحمر تو کیا یہ معنے ہوں گے کہ آدمیوں میں سے قادیان میں کوئی باقی نہیں رہا مگر گدھے رہ گئے یا یہ معنے ہوں گے کہ نہ قادیان میں آدمی رہے نہ گدھے دونوں معنوں میں سے کوئی معنے قبول کر کے اطلاع دیجیے۔ کہ ہم بحث کریں کہ یہاں استثناء متصل ہے یا منقطع۔
اگر امروہی صاحب نے کتاب شرح ملا کسی استاد سے پڑھی ہوتی تو ضرور سمجھ جاتے کہ لا اله الا الله میں نہ استثناء متصل ہے نہ منقطع بلکہ الا صفت کا بمعنی غیر ہے یہی ترکیب حدیث بالا کی ہے یعنی نبوت میں سے کوئی شے جو ان احکام کے سوا ہو جن میں مومنوں کو جنت الخلد اور عیش دوام کی بشارتیں دی گئی ہیں باقی نہیں رہی۔ یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب کہ مبشرات اسم مفعول جمع مونث سالم ہو اور اگر اسم فاعل مراد لیا جائے گا تو یہ معنی ہوں گے کہ نبوت میں سے کوئی شے بجز قرآن وحدیث کے احکام ونصوص کے باقی نہیں رہی جو اعمال صالحہ پر مومنین متقین کو نعیم جنت کی بشارت دینے والے ہیں کس کا رویائے صادقہ اور کہاں کی پیشگوئیاں اور الہامات جن کی آڑ میں ہر ایک معلن یا غیر معلن فاجر و فاسق کہہ سکتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ مجھے حمل ہے اور اس حمل سے ہاتھی کا پٹھا لمبی سونڈ نکالے پیدا ہوا ہے اور منفذ و مبرز حمل ویسا ہی تنگ اور غیر وسیع ہے جیسا پہلے تھا اور ایک سادہ لوح بچہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ مجھ پر فلاں شخص کے مرنے کا الہام ہوا ہے۔ یا جب ٤١٨
ملک میں وبا پھیلے کہہ دے کہ مجھ پر تو پہلے سے ہلاک ہوں گے۔ ہر ایک مومن کا بشارت دینے والا نہیں۔ خواہ ولی ہو یا داخل ہیں۔ کیونکہ کامل نبوت ان کے نز حدیث میں ختم نبوت کی نہیں رہی صرف آیات واحادیث باقی سے دیکھنا چاہیے کہ حدیث میں لفظ نبو الانبياء الا المبشرات لفظ ال اکھڑتا ہے ہاں نبوت وابوت کا منارہ ج پھر اس حدیث میں المب موصوف بیان کر دیا کہ الآیات الم دعوے کے موافق موصوف بیان کری کھولنا آسان نہیں۔ (ایڈیٹر)
حاشیہ جات
- ١ (ایام الصلح) الہام ہوا خ
الانبیاء اس الہام میں میرا نام رسول رکھے ہوں اس کو عوام میں سمجھنا کمال
مباحثہ مرزا صاحب
صبح کا وقت ہے گرمی کا م ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کی خنکی میں اور سر اٹھا کر دیکھا ابھی تو دن نہیں چڑ کاروباری اپنے اپنے ک طالب علم بغلوں میں کتابیں دبائے صاف کر دیا بہشتی چھڑکاؤ کر رہے ہی
ملک میں وبا پھیلے کہہ دے کہ مجھ پر تو پہلے ہی انکشاف ہو چکا ہے کہ جو لوگ مجھے آزمائیں گے ضرور وبا سے ہلاک ہوں گے۔ ہر ایک مومن کا اس پر یقین اور اعتقاد ہے کہ قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی بشارت دینے والا نہیں۔ خواہ ولی ہو یا غوث ہو یا قطب ہو جو مرزاجی کے نزدیک انبیاء ناقص میں داخل ہیں۔ کیونکہ کامل نبوت ان کے نزدیک بھی ختم ہو چکی ہے۔
حدیث میں ختم نبوت کی طرف اشارہ ہے نہ کہ بقاء نبوت کی جانب۔ جبکہ نبوت باقی نہیں رہی صرف آیات و احادیث باقی رہ گئیں جو مومنوں کو بشارت دینے والی ہیں۔ ذرا یہ بھی غور سے دیکھنا چاہیے کہ حدیث میں لفظ نبوت وارد نہیں ہوا ہے بلکہ یوں فرمایا کہ لم یبق من الانبیاء الا المبشرات لفظ انبیا اور نبوت میں بڑا فرق ہے نبوت کے لفظ سے مرزا جی کا قدم اکھڑتا ہے ہاں درجہ ولایت کاملہ ضرور نصیب ہوتا ہے۔
پھر اس حدیث میں المبشرات صفت ہے جس کا موصوف مقدر ہے۔ ہم نے تو موصوف بیان کر دیا کہ الآیات المبشرات یا الاحکام المبشرات ذرا امروہی صاحب ہی اپنے دعوے کے موافق موصوف بیان کریں خدا نے چاہا تو بھاگتے راہ نہ ملے گی۔ مجدد کے سامنے منہ کھولنا آسان نہیں۔ (ایڈیٹر)
(ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ٢٤ دسمبر ١٩٠٣ء)
حاشیہ جات
- ١ (ایام الصلح) الہام ہوا ھُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی یعنے جری اللہ فی حلل
الانبیاء اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔ پس جس شخص کے خود خدا نے یہ نام رکھے ہوں اس کو کاذب سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔
باب ٣٧ سی و ہفتم
مباحثہ مرزا صاحب قادیانی اور مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی
صبح کا وقت ہے گرمی کا موسم بے فکرے اور آزاد طبع لوگ رات بھر کی گرمی کے مارے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کی خنکی میں سو گئے ہیں اور خوشگوار نیند کے مزے لے رہے ہیں انگڑائی لی اور سر اٹھا کر دیکھا ابھی تو دن نہیں چڑھا کروٹ بدل کر پھر آنکھ بند کر لی۔
کاروباری اپنے اپنے کام کی طرف جا رہے ہیں۔ کارخانوں کے مزدور کارخانوں طالب علم بغلوں میں کتابیں دبائے مدرسہ میں جا رہے ہیں میونسپلٹی کے خاکروبوں نے سڑکوں کو صاف کر دیا سقے چھڑکاؤ کر رہے ہیں نالیاں پانی سے دھوئی جا رہی ہیں امرت سر کے بازار میں
٢١٩
دوکاندار دوکانیں کھول کر سجا رہے ہیں۔ مالن اور ٹوکری والا سبزی فروش ہری ہری ترکاریوں کی ٹوکری شہر میں دھو کر بازار میں لارہے ہیں شہر سے باہر ایک احاطہ گرد پختہ اینٹوں کی چار پانچ فٹ اونچی چاردیواری کھینچی سڑک کنارہ ایک دروازہ ہے جس میں لوہے کا پھاٹک لگا ہوا ہے دروازہ کے اندر پڑتی ہے ایک باغیچہ ہے اور روش کی دونوں طرف ڈیڈم برابر تراشی ہوئی۔ اور سڑک پار باریک باریک کٹی ہوئی سرخی پڑی ہے اور تازہ چھڑکاؤ ہوا ہے اور آگے چل کر وسط باغ میں کوٹھی بنی ہوئی ہے کوٹھی کے آگے روش یعنی سڑک کے اوپر گھوڑا گاڑی کے آرام کے واسطہ ایک شیڈ بنا ہوا ہے اور ان میں خوش رنگ پھولوں کے گملے رکھے ہیں دیوار پر بیل چڑھی ہوئی ہے۔ باغیچہ کی گری پڑی خس و خاشاک مالیوں نے نکال کر صاف کر دی تھیں۔ برانڈہ میں فرش کیا جا رہا ہے غیر معمولی آدمیوں کی آمد شروع ہے اور اپنے اپنے قرینہ سے ہر ایک بیٹھتا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ کسی یورپین مشنری کی کوٹھی ہے۔ پھاٹک کے روبرو ہی سڑک کے اوپر جو شہر سے آتی ہے۔ نظر لگائے آنکھیں گڑائے چند اشخاص سفید پوش کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا انتظار ہے۔ دور سے ایک گاڑی آتی ہوئی نظر آئی۔
- ١...... وہ آئی دیکھو وہ جو گاڑی آتی ہے۔
- ٢...... کہا نہیں وہ تو نہیں معلوم ہوتی کوئی اور ہے۔
- ٣...... یہ تو خواجہ یوسف شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ کی گاڑی ہے۔ اس عرصہ میں گاڑی
قریب آئی پھاٹک میں سے ہو کر کوٹھی میں داخل ہوئی اور خواجہ ایک کرسی پر متمکن ہوئے۔
پادری صاحب...... مرزا صاحب تشریف نہیں لائے ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب اور سب صاحب تشریف لے آئے ہیں۔
خواجہ صاحب...... وہ بھی آتے ہی ہوں گے میں تو خیال کرتا تھا کہ وہ پہنچ گئے ہوں گے (گھڑی نکال کر ) ابھی تو ٦ بجنے میں پانچ منٹ ہیں اتنے میں گاڑی کے پہیوں کی آواز آئی اور سب اس طرف متوجہ ہوئے اور گاڑی شیڈ میں آکر کھڑی ہوئی سواریاں اتریں۔
مرزا صاحب...... میں آپ صاحبان سے معافی مانگتا ہوں مجھ کو چند منٹ کی دیر لگ گئی آپ صاحبوں کو تکلیف ہوئی گی۔
حاضرین جلسہ...... آپ کا بہت دیر سے انتظار ہو رہا تھا۔
حکیم نور الدین صاحب...... خواجہ صاحب سے ہم آپ کا مکان پر انتظار کرتے رہے کہ ہمراہ چلیں گے آپ بالا بالا تشریف لے آئے۔
٢٢٠
خواجہ صاحب...... بے شک قصور ہوا مجھ کو خی
سید محمد احسن صاحب ...... خیر جی غرض یہاں دیر کرنے سے حاصل۔
مرزا صاحب...... نے ٦ بج کر ١٥ منٹ پر ج آواز سے سنایا گیا یا یہی اتفاق ہوا کہ آج بحث
مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔
مرزا صاحب نے ٩ بج کر ٢٣ م تقریباً مناظرہ ختم کر کے ) ”چونکہ ڈپٹی ع منکر ہیں اور اس کی پیشگوئی سے بھی انکار کیا گیا۔ کہ اگر دین اسلام سچا ہے اور تم فی میرا دعویٰ نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ صاحبوں کی ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی ہے اور بہروں کو اچھا کریں گے مگر تاہم میں ا ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال اور ہم عاجز بندے تیرے فیصلہ کے سوا کچ دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جا۔ رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آئے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔
الحمد لله والمنة کہ اگر یہ پیشگ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عاد کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھ ہے لیکن اب بین فیصلہ کا وقت آگیا۔ میں
خواجہ صاحب ...... بے شک قصور ہوا مجھ کو خیال تھا کہ آپ تشریف لے گئے ہوں گے۔
سید محمد احسن صاحب ..... خیر جی غرض یہاں آنے سے تھی آگے اب مباحثہ شروع کیا جائے دیر پر دیر کرنے سے حاصل۔
مرزا صاحب ..... نے ٦ بج کر ١٠ منٹ پر جواب لکھنا شروع کیا اور ٧ بج کر ١٠ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا باہمی اتفاق ہوا کہ آج بحث ختم ہو اور آج کا دن بحث کا آخری دن سمجھا جائے۔
مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے ٧ بج کر ٥٥ منٹ پر شروع کیا اور آٹھ بج کر ٥٥ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔
مرزا صاحب نے ٩ بج کر ٢٣ منٹ پر پھر شروع کیا اور ١٠ بج کر ٣٣ منٹ پر ختم کیا (اور تقریباً مناظرہ ختم کر کے ) ”چونکہ ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات کے عمداً منکر ہیں اور اس کی پیشگوئی سے بھی انکاری اور مجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا۔ کہ اگر دین اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھے کر کے دکھاؤ۔ حالانکہ میرا دعویٰ نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا۔ بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کی ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی ہے کہ اگر وہ سچے ایماندار ہیں تو وہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو اچھا کریں گے مگر تاہم میں اس کے لیے دعا کرتا رہا۔ اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ ١٥ دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنے فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کیے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے۔ سو الحمد لله والمنة کہ اگر یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب بین فیصلہ کا وقت آگیا۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا
٢٢١
معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لیے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنے وہ فریق خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دیا جائے ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔
اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپ کی منشاء کے مطابق کامل پیشگوئی اور خدا کی پیشگوئی ٹھہرے گی یا نہیں اور رسول اللہ کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جن کو اندرونہ باطل میں دجال کی لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں۔ محکم دلیل ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ اب ناحق ہنسی کی بات نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میری سولی تیار رکھو اور شیطانوں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو لیکن اگر میں سچا ہوں تو انسان کو خدا مت بناؤ، توریت کو پڑھو کہ اول اور کھلی کھلی تعلیم کیا ہے۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٨ تا ١٩٠، خزائن ج ٦ ص ١٩١ تا ١٩٣)
خواجہ یوسف شاہ صاحب نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر فرمائی۔ حاضرین جلسہ کی طرف سے دونوں میر مجلسوں کا خصوصاً ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی خوش اخلاقی اور عمدہ انتظام کی وجہ سے یہ جلسہ پندرہ دن تک بڑی خوش اسلوبی اور خوبی کے ساتھ انجام پذیر ہوا اور اگر کسی امر پر اختلاف ہوا تو دونوں میر مجلسوں نے ایک امر پر اتفاق کر کے ہر دو فریق کو رضامند کیا اور ہر طرح انصاف کو مدنظر رکھ کر صورت امن قائم رکھی۔ بعد ازاں تحریروں پر میر مجلسوں کے دستخط ہو کر جلسہ برخاست ہوا۔
باب ٣٨ سی و ہشتم
سلطان بیگ کا محمدی بیگم سے نکاح
یہ ایسا کون بختاور ہے جس کا بخت جاگا ہے
ایک نہایت وسیع اور فراخ مکان ہے۔ فرش فروش سے آراستہ بلور کے جھاڑ سوسو بتی کے
٢٢٢
روشن کیے ہوئے لٹک رہے ہیں چار طرف ہانڈی اور فانوس جل رہے۔ اور لمپ اور دیوار گیروں سے رات دن سے زیادہ روشن ہے سوئے پڑے دور سے نظر آتے ہیں۔ رنڈیوں کے طائفے بھانڈوں کی چوکیاں، ہجڑے، زنانے قوال ربابی، سرودیئے حاضر ہیں ناچ رنگ ہو رہا ہے۔ ابتداء کا اکھاڑہ ہے یا برج کا منڈل، نعرہ ہائے شادی بلند ہیں۔ رقص و سرود جوبن دکھا رہا ہے۔ پہلے رنڈیوں کا ناچ گانا شروع ہوا۔ غزل ٹھمری ۔ ٹپہ گا کر محفل کو محظوظ کیا پھر نقال کود پڑے۔ اوسری گئی اور اوسرا آیا طوائف پیچھے ہٹ گئی اور دھماچوکڑی مچ گئی۔
- ......١ ہین۔ ہین۔ ہین۔
طوق زرین ہمہ در گردن خر می بینم
میرا گھوڑا ہے کہ گھوڑے والے کے باپ دادے کا دین ایمان ہے۔ میں اپنے گھوڑے کو دمڑی کا گیرو اور ادھی کا تیل کھلا دیتا ہوں ترکی ٹوپیاں لید کرتا ہے۔ گھوڑا کیا ہے نیچری سکول ہے۔
- ......٢ ہین۔ ہین۔ ہین۔
روز میدان نہ گاو پرواری
میرا گھوڑا کیا ہے کہ ہوا کا پر کالا ہے۔ فلک سیر رکاب میں پاؤں رکھا اور ساتوں طبق کھل گئے۔ خدا سے دو باتیں کیں اور نبی بنے۔ دہلی کے ٹھگ کہلائے اور کشف کھلا۔ قوم کے لیڈر اور ریفارمروں کی لید کردی۔ گھوڑا کیا ہے۔ مسیحوں کا گاہک ہے۔
- ......٣ ہین۔ ہین۔ ہین۔
ہم چناں از طویلہ خر بہ
یہ ٹٹو میرا ہے اس کے اوصاف کچھ نہ پوچھیے دہلی کا کھٹمل کیمپ اور رسیا ہی کہلائے خطاب پہ خطاب جڑ دیئے۔ گھوڑا کیا ہے جنوری ١٩٠١ء کا گورنمنٹ گزٹ ہے۔
- ......٤ ڈھولک پر تھاپ لگا کر اور سُر میں سُر ملا کر
بھلے کو حضور اب بھی تشریف لائے مبارک مبارک سلامت سلامت
٢٢٣
تمام نے ایک لے میں الاپ لگا کر مبارک مبارک سلامت سلامت وہ وہ نقلیں سنائیں کہ اہل مجلس کو ہنسا ہنسا کر لوٹن کبوتر بنا دیا۔ جب یہ ہنگامہ فرو ہوا قوال اور بھگتیے اور ربابیئے اور سرودیئے آئے اور انہوں نے اپنی اپنی نوبت پر گایا جس راگ یا راگنی کو چھیڑا سماں باندھ دیا مجسم سامنے کھڑی کر دی۔
دس بجے کے قریب ایک شخص مشعل ہاتھ میں لیے۔ (یعنے حجام) آیا۔ اس کے پیچھے ایک مختصری جماعت ایک پر تکلف کشتی میں باکر کا جوڑا سجا آگے آگے آئے۔ دلہا کو جوڑا پہنایا سہرا باندھا۔ مبارک سلامت کا شور اٹھا اور گائینوں نے اسی وقت تازہ بتازہ نو بنو سہرا بنایا اور گا سنایا۔
ہو مبارک کہا زہرہ نے سنا کر سہرا
گوندھ کر پھولوں کا اور طشت میں رکھ کر سجا
باغ فردوس سے رضوان نے سجا کر سہرا
سلک گوہر سے بنا سر پہ جو باندھا تیرے
ہو گیا عکس سے چہرے کے منور سہرا
سر پہ دستار ہے دستار پہ زرین طرہ
افشاں پیشانی پہ پیشانی کے اوپر سہرا
کیا ستاروں میں چناں اور چنیں ہے باہم
تو نے افشاں کو چھڑایا جو اٹھا کر سہرا
نظر بد سے پہنچے نہ کبھی پائے گزند
باندھے سورہ والنون کو پڑھ کر سہرا
ہے فلک پر تیری شادی کا فرشتوں میں غریو
گایا رقاصہ گردوں نے خود آ کر سہرا
ہار دلہن کے لیے پھولوں کا لائیں حوریں
اور ملائک نے گوندھا زگل تر سہرا
خاطر عیسیٰ موعود ہے ماشاء اللہ
مطرب چرخ جو گاتا ہے فلک پر سہرا
ان کی منکوحہ کشفی کے جو ہے عقد کا دن
لائے خورشید و قمر گوند کر اختر سہرا
مدتوں دائم و قائم ہو قران السعدین
خضر نے باندھا ہے اخلاص سے آ کر سہرا
عیسیٰ عہد کی پوری ہو یہ پیشین گوئی
سایہ حفظ خدا ہو تیرے سر پر سہرا
ہر بلا سے رہے محفوظ تو از فضل خدا
لائیں شعرا تیری اولاد کا کہہ کر سہرا
اور پھر ادھر سے بری پری کا سامان دلہن کے گھر کو چلا کئی خوان جوڑوں سے سجائے ہوئے اور زیورات سنہری روپہلی ملمع سے لگائے ہوئے اور کئی سو چاٹیاں (گھڑے) قند اور میوؤں وغیرہ سے پُر لوگوں کے کندھوں پر رکھ کر نقارہ اور مشعلیں ساتھ ساتھ بھیجے گئے۔ جب دلہن کے گھر یہ سامان پہنچا ڈومنیوں نے سیٹھنیاں گائیں دلہا کو اندر بلایا لونا رائی واری گئی۔
صبح کے قریب قاضی آیا اور ایجاب و قبول کرا کے بالتعیین مہر شرع محمدی نکاح پڑھا گیا۔
راوی...... ناظرین کو پوشیدہ نہ رہے مرزا احمد بیگ صاحب ہوشیار پوری کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کی
٢٢٤
٢٩ شادی کے واسطے مرزا سلطان محمد بیگ صاحب آ صبح بیٹی والوں نے بھی بڑے فراخ نے پاؤنی گا کر ایسا رلایا کہ آنکھیں کبوتر کی ط اشک جاری نہ تھا۔
باب ١٩
پیر مہر علی شاہ
بہتر ہے ملاقات
ریلوے سٹیشن پر مسافر اکٹھے ہوئے مضطرب ہیں ایک دوسرے سے دریافت کرت فارم پر جاتا ہے اور ٹائم پیس دیکھتا ہے ویٹنگ امیرانہ کر و فر سے ایک کرسی پر متمکن ہیں ارد ادب سے دست بستہ کھڑے ہیں کوئی رومال بزرگ...... اب تو ریل عنقریب آنے والی ہے خدام...... بہت بہتر فوراً ایک کرسی پلیٹ فارم پر بزرگ...... اٹھ کر کرسی پر رونق افروز ہوئے بڑا خدام...... غریب نواز ایک جماعت کثیر حض تشریف آوری کی خبر سن کر زیارت کے واسطے سوار ہونے والے تو بہت ہی کم ہیں۔ یہ سب باعث ہے۔ ہمیشہ تو یہ ازدحام یہاں نہیں ہو نووارد...... سلام علیکم حضرت کا مزاج اقدس بزرگ...... وعلیکم السلام۔ آئیے مولوی صاہ مولوی صاحب...... الحمد للہ بعد مدت حض قدم بوسی کا مشتاق تھا۔ بزرگ...... خوب ماشاء اللہ ابتداء ہی غلط
شادی کے واسطے مرزا سلطان محمد بیگ صاحب آئے ہوئے ہیں اور یہ اس برات کا سامان ہے۔ صبح بیٹی والوں نے بھی بڑے فراخ حوصلہ سے جہیز دیا اور دلہن کو رخصت کیا۔ ڈومنیوں نے پاؤنی گا کر ایسا رلایا کہ آنکھیں کبوتر کی طرح لال ہوگئیں۔ کوئی بشر نہ تھا جس کی آنکھ سے اشک جاری نہ تھا۔
باب ٣٩ سی ونہم
پیر مہر علی شاہ گولڑوی لاہور میں
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
ریلوے سٹیشن پر مسافر اکٹھے ہوتے جاتے ہیں اور ریل کی آمد آمد ہے لوگ انتظار میں مضطرب ہیں ایک دوسرے سے دریافت کرتا ہے اب کتنا عرصہ باقی ہے کبھی کوئی گھبرا کر پلیٹ فارم پر جاتا ہے اور ٹائم پیس دیکھتا ہے ویٹنگ روم میں ایک بزرگ فرشتہ صورت ملائک سیرت امیرانہ کروفر سے ایک کرسی پر متمکن ہیں ارد گرد خدام با سلیقہ گیروائی لباس زیب تن کئے نہایت ادب سے دست بستہ کھڑے ہیں کوئی رومال سے مگس رانی میں مصروف، کوئی پنکھا جھلاتا ہے۔
بزرگ ...... اب تو ریل عنقریب آنے والی ہے پلیٹ فارم پر چل بیٹھیں۔
خدام ...... بہت بہتر فوراً ایک کرسی پلیٹ فارم پر بچھا کر۔ حضور تشریف لے جائیں کرسی بچھادی ہے۔
بزرگ ...... اٹھ کر کرسی پر رونق افروز ہوئے بڑا ہجوم ہوجاتا ہے۔ ہر ایک اسٹیشن پر یہی حال رہتا ہے۔
خدام ...... غریب نواز ایک جماعت کثیر حضور کی ہمرکابی میں ہے اور بہت آدمی فالتو حضور کی تشریف آوری کی خبر سن کر زیارت کے واسطے آئے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن ہے مسافر ریل پر سوار ہونے والے تو بہت ہی کم ہیں۔ یہ سب ہجوم اور کثرت مردمان تو حضور کی تشریف آوری کے باعث ہے۔ ہمیشہ تو یہ ازدحام یہاں نہیں ہوتا۔
نو وارد ...... سلام علیکم حضرت کا مزاج اقدس۔
بزرگ ...... وعلیکم السلام۔ آیئے مولوی صاحب آپ کے مزاج اچھے ہیں۔
مولوی صاحب ...... الحمد للہ بعد مدت حضرت کی زیارت نصیب ہوئی۔ عرصہ سے دل نیاز منزل قدم بوسی کا مشتاق تھا۔
بزرگ ...... خوب ماشاء اللہ ابتداء ہی غلط۔ بھائی ہماری زیارت کیا ملاقات سے بھی آپ گنہگار
٢٢٥
ہوتے ہیں اور اظہار اشتیاق زیارت ۔
مولوی....... حضرت میں متعصب نہیں بے شک حضرت اقدس کا یہ ارشاد ہے مگر میں اس سے علیحدہ ہوں میرا مسلک صلح کل ہے۔
بزرگ....... آپ کا مرزا صاحب سے بیعت کرنا کیا باعث ہے۔
مولوی....... قرآن کی تفسیر لکھنے میں مرزا صاحب عدیم المثیل ہیں اپنا نظیر نہیں رکھتے۔
بزرگ....... آپ مرزا صاحب کو مسیح موعود جانتے ہیں۔
مولوی....... ان کے اس دعویٰ سے میں علیحدہ ہوں۔
بزرگ....... متعجب ہو کر ۔ جب آپ ان کو اس دعوے میں کاذب اور مفتری علیٰ اللہ خیال فرماتے ہیں تو بیعت کیسے ہوئی؟ کیوں جس شخص کو مفتری علیٰ اللہ سمجھا جاتا ہے تو اس کی وقعت اتنی نہیں ہوتی کہ اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ سمجھ کر اپنے ہاتھ پر رکھا جائے۔
مولوی....... مرزا صاحب قرآن دان بہت عمدہ ہیں۔
بزرگ....... مرزاجی کی تفسیر متعلق سورۃ زلزال کے بارہ میں آپ کیا فرماتے ہیں۔
مولوی....... اس تفسیر سے بھی میں علیحدہ ہوں۔
بزرگ....... تعجب کے لہجہ میں۔ کیا آپ کو کوئی شخص مفتری علیٰ اللہ اور قرآن کا محرف مرزا صاحب جیسا اپنے علاقہ میں نہیں ملا تھا اس لیے قادیان میں جا کر مرزاجی سے بیعت کی۔
مولوی....... خیر میں نے بیعت تو نہ کی ہے ازالہ اوہام کو دیکھوں گا۔
ناظرین! یہ مخفی نہ رہے یہ بزرگ حضرت فخر اصفیا و علماء عصر جناب پیر سید مہر علی شاہ صاحب سے مراد ہے اور مولوی صاحب حبیب شاہ صاحب خوشابی سے جن کا نام نامی مرزاجی ایک اشتہار میں اپنے مولویوں اور مریدوں میں لکھتے ہیں۔
(عن سیف چشتیائی ص ٨٣)
ریل روانہ ہو گئی مجمع منتشر اور مسافر ریل میں بیٹھ گئے واپسی کے وقت آپس میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔
سنی مسلمان....... یارو مرزاجی نے بھی عجب جال پھیلایا ہے جو اس کی جماعت میں داخل ہوا مولوی بے بدل اور فاضل افضل بن گیا اب مرزائی مولوی کی تقریر سنی کیا معقول گفتگو تھی پرائمری کے طالب علم بھی ہنسی اڑاتے ہیں۔
مرزائی....... نہایت جوش کے لہجہ میں۔ خدا کے خوف سے ڈرو کوئی بلا تم پر نہ نازل ہو جائے۔ خدا
٢٢٦
کے مامور اور مرسل صادق کی نسبت ایسے ک
سنی مسلمان....... مرزا صاحب کے صادق کیسے وہ ظاہر ہیں۔
مرزائی....... آسمان ان کے صادق ہونے بارش کی طرح برستے ہیں۔
سنی مسلمان....... کچھ تو ہم پر بھی ظاہر کرو ہ
مرزائی....... ہزاروں پیشگوئیاں حضرت ا
سنی مسلمان....... حضرت بس رہنے دیجئے ہند کی عبارت کو ذرا سنیے۔
”اجی مرزاجی بس رہنے دی ہو گئی ہے۔
- ١....... کسی شخص کے بیٹا پیدا ہو
رقم بھی اس سے ہتھیا لی۔ مگر بیٹا اب تک
- ٢....... عبداللہ آتھم کے لیے (از ھ
- ٣....... ملا محمد بخش وغیرہ کی بربادی
- ٤....... لیکھرام کے لیے ہزار سر تی
- ٥....... آسمانی منکوحہ کے لیے آسما
- ٦....... کسی شخص کی بیوی کے اچھا ہ
- ٧....... آپ نے جس لڑکے کو موعو
بھی آپ کو مفارقت دے گیا۔
- ٨....... جس قدر مباحثہ آپ نے
خطا ہوتے ہیں۔
- ٩....... جن آدمیوں نے آپ کو با
- ١٠....... ہمیشہ آپ نشان دکھلانے
چنانچہ اب بھی ایک بڑے بھاری نشا
- ١١....... آپ کہتے ہیں شاہان یو
کے مامور اور مرسل صادق کی نسبت ایسے کلمہ نکالے۔
سنی مسلمان ...... مرزا صاحب کے صادق ہونے کے دلائل تو جو آپ کے مولوی صاحب نے بیان کیے وہ ظاہر ہیں۔
مرزائی...... آسمان ان کے صادق ہونے کی گواہی دیتا ہے زمین شاہد ہے اور نشانات آسمان سے بارش کی طرح برستے ہیں۔
سنی مسلمان...... کچھ تو ہم پر بھی ظاہر کرو ہم کو بھی تو معلوم ہو۔
مرزائی...... ہزاروں پیشگوئیاں حضرت اقدس نے فرمائیں اور وہ کل پوری ہوئیں اور ہوتی ہیں۔
سنی مسلمان ...... حضرت بس رہنے دیجیے مرزاجی کی پیشگوئیاں تو دن کی طرح روشن ہیں۔ ضمیمہ شحنہ ہند کی عبارت کو ذرا سنیے۔
”اجی مرزا جی بس رہنے دیجیے خلق اللہ تیس سال تک آپ کے نمونہ دیکھتے دیکھتے سیر ہو گئی ہے۔
- ١......... کسی شخص کے بیٹا پیدا ہونے کے لیے آپ نے ......... بہتیرا سر مارا بلکہ ایک معقول
رقم بھی اس سے پھٹکار لی۔ مگر بیٹا اب تک ندارد۔
- ٢......... عبداللہ آتھم کے لیے (ازحد) گڑگڑائے مگر وہ میعاد متعینہ میں نہیں مرا۔
- ٣......... ملا محمد بخش وغیرہ کی بربادی کے لیے ہزار آہ وزاری کی مگر اس کا بھی بال بیکا نہ ہوا۔
- ٤......... لیکھرام کے لیے ہزار سر پٹکا مگر اس کی موت نے آخر آپ کو ہی مشتبہ کیا۔
- ٥......... آسمانی منکوحہ کے لیے آپ کا چہرہ بھی خشک ہو گیا۔ مگر حسرت ہی رہی۔
- ٦......... کسی شخص کی بیوی کے اچھا ہونے کے لیے بہتیرے توڑ جوڑ کئے مگر وہ بیچاری تو چل ہی بسی۔
- ٧......... آپ نے جس لڑکے کو موعود قرار دیا اور اپنے لیے اور دنیا کے لیے باعث برکت سمجھا وہ
بھی آپ کو مفارقت دے گیا۔
- ٨......... جس قدر مباحثہ آپ نے کیے شکست ہی کھا کر بھاگے اب مباحثہ کے نام سے اوسان
خطا ہوتے ہیں۔
- ٩......... جن آدمیوں نے آپ کو بالمقابل دعا کرنے کو بلایا آپ ایک دن بھی سامنے نہ ہوئے۔
- ١٠......... ہمیشہ آپ نشان دکھلانے کے لیے میعاد مقرر کرتے رہے مگر آخر ندامت ہی اٹھانی پڑی
چنانچہ اب بھی ایک بڑے بھاری نشان کے لیے میعاد مقرر ہے۔
- ١١......... آپ کہتے ہیں شاہان یورپ کو اسلام کی دعوت دی اور اپنی تصانیف بھیجیں مگر ایک
٢٢٧
عیسائی بھی آپ پر ایمان لاتے نہ دیکھا۔
- ١٢...... آپ نے کہا کہ سب خلقت مجھے قبول کرے گی مگر سب آپ سے متنفر اور بے زار
رہی۔ سوائے معدودے چند اشخاص کے جو کسی شمار میں نہیں آسکتے۔ (آپ نے سورہ فاتحہ کی تفسیر دعوے سے لکھی لوگوں نے اس کے پرخچے اڑائے۔
- ١٣...... آپ نے منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت گیارہ کا ہندسہ ظاہر کر کے الہام شائع کیا
بفضلہ تعالیٰ اب گیارہ ماہ بھی قریب الاختتام ہیں مگر ان کے عصائے موسیٰ نے آپ کا سارا بنایا کھیل درہم وبرہم کر دیا۔
- ١٥...... پیر مہر علی شاہ صاحب کے لیے آپ ہر چند دانت پیستے رہے مگر ان کی شہرت ہی شہرت
اور عزت ہی عزت ہوتی رہی۔
- ١٦...... آپ نے عرصہ سے منارہ بنانا چاہا مگر ہنوز روز اول۔
- ١٧...... آپ نے رسالہ انگریزی شائع کرنا چاہا مگر اب تک اقرار اور وعدہ کے مطابق آپ کو
ناکامی حاصل ہے۔
- ١٨...... آپ نے بجائے اتوار کے جمعہ کے دن تعطیل کرانی چاہی مگر سوائے ناکامی کے اور کچھ
حاصل نہ ہوا۔
- ١٩...... سینکڑوں اشخاص کے لیے آپ دعا کرتے رہے مگر کوئی اثر یا نتیجہ نہیں نکلتا۔ اور پھر آپ
کہتے ہیں کہ دعا کرنے کو یہ کرنا چاہیے۔ وغیرہ۔
مرزا جی کی یہ دعائیں مشتے نمونہ از خروارے کافی نہیں ہیں۔
پھر آپ کو بار بار اعلان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
(عن سیف چشتیائی ص ٨٥،٨٢)
مرزائی...... کیا اتنے بڑے عالم فاضل اور مولوی اندھے ہیں جو بے سوچے سمجھے بیعت ہو گئے آخر کچھ تو دیکھا ہے۔
سنی مسلمان...... بھائی تم بھولے بھالے آدمی ہو یہ بھی ایک دھوکا ہے ایک مولوی کا تو حال آپ اپنی آنکھ سے دیکھ چکے ہیں اسی پر اور مولوی کو قیاس کر لیں۔
مرزائی...... تو کیا یونہی لوگوں کو مولوی لکھ دیا ہے ایسا ہو سکتا ہے کہ جھوٹ لکھ دیا جائے کہ یہ مولوی ہے اور دراصل وہ کچھ نہ جانتا ہو۔
سنی مسلمان...... یہ بات تو کچھ محتاج بیان نہیں ہے عام قاعدہ ہے جو کوئی اپنا اصلی مذہب ترک کر کے دوسرے مذہب کو اختیار کرتا ہے تو اس مذہب والے اس کی تعریفوں کے پل باندھتے
٢٢٨
ہیں۔ کہ وہ ایسا ہے ویسا ہے ایسے کا تیسا ہے اس
مرزائی...... اتنی اتنی بڑی مضبوط کتابیں لکھی ہیں
سنی مسلمان...... کتابیں لکھنا تو کوئی دلیل مولوی چھانٹ کر لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں تمام کتابیں کے علاوہ جتنے کتابیں لکھنے والے ہیں۔ مرزا صا کھاتے ہیں۔ پھر جس کا کھائے اسی کا گائے،
مرزائی...... حضرت حکیم الامت جناب مولوی ن ان کو کیا لالچ ہے۔ جو اپنے گھر بار روزگار کو چھ بود و باش اختیار کر لی ہے۔ یہ ایک جلیل الشان فا اور تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں ذخیرہ ہے۔ کیا وہ بغیر کسی بات کے دیکھنے کے دی تکلف کے ساتھ کچی کوٹھیوں میں بسر کرتے ہیں
سنی مسلمان...... پہلے ہم کو بھی قبل از تجربہ وہ قو گمان تھا لیکن جوں جوں حالات سے آگاہی بھی نجات ہوتی گئی۔
مثلاً سب سے اول تو اس حسن صاحب ) کا وہ حلفی اشتہار ہوا جو انہوں نے مب باوجودیکہ اس اشتہار سے پہلے آپ کہ وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔
- ٢...... مولوی صاحب کے علم وفضل کا پا
موجود ہے وہ جیسا عبرتناک پردہ پر انداز مخالفت اور برس چھ ماہ تک نشان دیکھنے کے ب کہ ایسا کوئی خط نہیں لکھا۔ بعد جب وہ خط ط لوگوں کے رو برو اقبال کر دیا۔ تو پھر وہی خط م
- ٣...... مولوی صاحب نے مخالفت قاد
اخبار الحکم ٢٤ نومبر ١٨٩٩ء میں ایسا اندھیر کیا
ہیں ۔ کہ وہ ایسا ہے ویسا ہے ایسے کا تیسا ہے اس کا باپ ڈبل پیسا ہے۔
مرزائی...... اتنی اتنی بڑی مضبوط کتابیں لکھی ہیں کیا بے مولوی ہونے کے لکھتے ہیں۔
سنی مسلمان ...... کتابیں لکھنا تو کوئی دلیل مولوی ہونے کی نہیں اردو خوان بھی کتابوں سے چھانٹ چھانٹ کر لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں تمام کتابیں موجود ہیں قرآن کے حدیث کے تراجم موجود اس کے علاوہ جتنے کتابیں لکھنے والے ہیں۔ مرزا صاحب سے تنخواہ پاتے ہیں ان کے دسترخوان پر روٹی کھاتے ہیں۔ پھر جس کا کھائے اسی کا گائے ، بیچارے ان کو خدا اور خدا کے دین سے کیا کام ۔
مرزائی...... حضرت حکیم الامت جناب مولوی حافظ حاجی نور الدین صاحب کیا تنخواہ پاتے ہیں اور ان کو کیا لالچ ہے۔ جو اپنے گھر بار روزگار کو چھوڑ کر کچے مکانوں میں قادیان دارالامان میں ہی بودوباش اختیار کرلی ہے۔ یہ ایک جلیل الشان فاضل انسان ہیں اور مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین ہیں اور تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ہے۔ کیا وہ بغیر کسی بات کے دیکھنے کے دانستہ اپنی خانماں کو چھوڑ کر قادیان میں آبیٹھے ہیں اور تکلیف کے ساتھ کچی کوٹھیوں میں بسر کرتے ہیں کیا کوئی دانستہ اس تکلیف کو گوارا کرتا ہے۔
سنی مسلمان ...... پہلے ہم کو بھی قبل از تجربہ و وقوف بر اصل حقیقت خام بنیاد پر حسن ظن بے جا ایسا ہی گمان تھا لیکن جوں جوں حالات سے آگاہی ہوتی گئی۔ بفضلہ تعالیٰ و تقدس اس غلط حسن ظن سے بھی نجات ہوتی گئی۔
مثلاً سب سے اول تو اس حسن ظن میں فرق ڈالنے والا مولوی صاحب ( حکیم صاحب ) کا وہ حلفی اشتہار ہوا جو انہوں نے عبداللہ آتھم کے بارہ میں پیشگوئی پورا ہو جانے کا دیا۔ باوجودیکہ اس اشتہار سے پہلے ایک شخص کے استفسار پر تحریری شہادت دے چکے تھے کہ وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔
- ٢...... مولوی صاحب کے علم وفضل کا جو نمونہ خط و کتابت مندرجہ رسالہ ”خلاف بیانی“ میں
موجود ہے وہ جیسا عبرتناک پردہ در انداز ہے محتاج بیان نہیں کہ اول ایک خط بدرخواست ترک مخالفت اور برس چھ ماہ تک نشان دیکھنے کے لیے خاموش رہنے کے واسطے لکھ کر بھیجا۔ پھر انکار کر دیا کہ ایسا کوئی خط نہیں لکھا۔ بعد جب وہ خط ظاہر ہونے لگا اور آرندہ خط نے وہ خط لا کر پہنچا دینے کا لوگوں کے روبرو اقبال کر دیا ۔ تو پھر وہی خط مشہور کر دیا۔
- ٣...... مولوی صاحب نے بمخالفت قاضی سلیمان صاحب اپنے خط موسومہ نور الدین مطبوعہ
اخبار الحکم ٢٤ نومبر ١٨٩٩ء میں ایسا اندھیر کیا اور اپنی لیاقت اور دیانت کا ایسا ثبوت دیا کہ اپنے فضل
٢٢٩
وکمال کے بارہ میں کسی قسم کے حسن ظن کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ بتوں اور مندروں کے پجاریوں کو نعوذ باللہ سچے بھی کہا اور پھر اپنے امام صاحب کی حمایت میں ان کی پیشگوئیوں کو جھٹلایا ہے اور ایسے بدیہی البطلان وغلط حوالہ جات سے کام لیا ہے کہ الامان، مشن اسکول کے طالب علم بھی ان کی تورات دانی اور کج فہمی پر حیران ہیں اور مولوی صاحب نے باوجود اپنی اس سقیم الحالی کے الٹا قاضی صاحب کو خلاف دیانت وامانت دھوکہ دہ و ٹھوکر کھانے والا کہہ کر ان کی (إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ) کا مصداق نبی کو (وہ آیت قرآن مجید قاضی صاحب نے اپنی کتاب کے سرورق پر تبرکا لکھی ہے۔) محل طعن قرار دیا ہے بایں وجہ کہ وہ سکھ ریاست میں نوکر ہیں۔ حالانکہ مذہبی آزادی میں اس ریاست جیسی کوئی دوسری ریاست نہیں۔ کیونکہ علاوہ انتظامی اراکین مسلمان ہونے کے اس کا رئیس مسجد کا بانی اور خادم ہے وہاں تعطیل کا دن بھی مقرر ہے۔ لیکن مولوی صاحب کی فہم پر کچھ ایسا سر پوش آیا کہ انہوں نے اس تحریر کے وقت اتنا نہ سوچا کہ ہم بمقابلہ قاضی صاحب حق پوشی کر کے اور ایسی ریاست میں سالہا سال رہ کے جہاں دینی آزادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کیونکر حق نما اور نور الدین بنے رہے۔ سبحان اللہ نور امامت نے کیسا انعکاس کیا ہے کہ صاف جگہ پر تو تنکے نظر آتے ہیں اور جہاں شجر اور لٹھوں کے ڈھیر لگے ہیں ان کی خبر ہی نہیں۔
مرزائی....... یہ سب افتراء ہے حضرت حکیم الامت کے پاس ایک بڑا کتب خانہ ہے تمام جہان کی تفاسیر اور دیگر علوم کی کتب ہیں ان کی جانب ایسا گمان ہو سکتا ہے۔
سنی مسلمان....... اول تو تمام جہان کی تفاسیر رکھنا خلاف واقعہ امر ہے جو مبالغہ سے مرزا صاحب نے ان کی تعریف میں لکھ دیا ہے جس سے وہی خوش ہوں گے۔ پھر اگر کوئی تمام جہان کی تفسیریں اور کتابیں درحقیقت اپنے پاس بھی رکھے تو کیا مجرد رکھنے ہی سے وہ خدا رسیدہ، معارف وحقیقت شناس، لطائف و نکتہ رس، معانی سنج، حقائق و رموز دان، عالم باللہ، ولی الرحمٰن روحانی صفت مہاتما فوق العادت خارق اعجازی شخص بلاعمل ہی بن جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے ان کی تفاسیر داری پر ایسا فخر اور ناز کیا ہے اگر ایسا ہے تو یہ آیت کریمہ قرآن مجید (مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَاراً الخ) کے کیا معنے ہیں یعنی جن لوگوں پر توریت اٹھوائی گئی (دی گئی) پھر انہوں نے اس کو برداشت نہیں کیا (یعنے اس پر کار بند نہ ہوئے) ان کی مثال بعینہ گدھے کی مثال ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ اور اس کا شان نزول کیا ہے کتاب داری تو تب ہی قابل قدر ہوتی ہے کہ جب تعلیم احکام واطاعت خیر الانام میں اس کا پیروکار ہوکر اپنی صحت فہم، درایت حقیقت وحقیقت ذاتی کا علمی اور عملی نمونہ دکھائے۔ ورنہ حمار کی طرح
٢٣٠
بار برداری وطوطے کی طرح حفظ کرنے اور رٹنے
علم گر بر تن
جان جملہ علما
کہ بدانی من
مرزائی....... فقط یہی تو نہیں کہ کتابوں کا ذخیرہ ذخیرہ بھی تو ہے جس کی نسبت حضرت اقدس
سنی مسلمان....... معارف کا ذخیرہ جو مولوی صا ہی کو نظر آتا ہوگا اور وہ ہی اس ذخیرہ سے فیض یا ذائقہ اور سرور میں محظوظ و مسرور رہتے ہوں گے میں بطور مشتے نمونہ از خروارے ذخیرہ معارف من
- ١....... کہ مولوی صاحب خط مندرجہ ”خلا
مخالف الہامات میں کس معیار سے ہم فیصلہ کری کتاب وسنت ایسے کامل اکمل معیار ہیں جن جاسکتا ہے۔ خواہ کوئی کسی بھیس میں روپ بدل ن
- ٢....... خوبی قسمت سے فہم و علم بائبل میں
پجاری و سچے نبی میں ان کو امتیاز نہیں اور ایک پجاریوں کو سچے کہہ کر پھر ان کی پیشگوئی کو جھو لیکن اگر مرزا صاحب کے مخالف کسی کو سچا الہام اور اسلام کا سر چور ہوتا ہے۔ جیسا خط مندرجہ سب ملہمین راشدین سالکین تربیت یافتہ حس چھوڑ کر مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہونا ہوتا ہے جو وہ خود فرمایا کرتے ہیں کہ بعض پنجا کی صحبت میں ٹھہرنے نہیں دیتے۔ سو نہ معلوم قصور کی پاداش میں مولوی صاحب کو باوجود صحبت کیمیا خاصیت میسر آچکی ہے ان کو ان
بار برداری وطوطے کی طرح حفظ کرنے اور رٹنے سے کیا فائدہ؟ بقول مولوی روم۔
علم گر بر تن زند مارے بود
جان جملہ علمہا این است این
کہ بدانی من کیم در یوم دین
مرزائی...... فقط یہی تو نہیں کہ کتابوں کا ذخیرہ ان کا فخر کا باعث ہے ان کا علم باعمل اور معارف کا ذخیرہ بھی تو ہے جس کی نسبت حضرت اقدس نے خود لکھا ہے۔
سنی مسلمان...... معارف کا ذخیرہ جو مولوی صاحب میں مرزا صاحب بتلاتے ہیں وہ مرزا صاحب ہی کو نظر آتا ہوگا اور وہ ہی اس ذخیرہ سے فیض یاب ہوتے ہوں گے۔ یا خود مولوی صاحب اس کے ذائقہ اور سرور میں محظوظ ومسرور رہتے ہوں گے۔ دوسروں پر جو مولوی صاحب نے اس عرصہ دراز میں بطور مشتے نمونہ از خروارے ذخیرہ معارف منتشر فرمایا ہے اس میں سے تو یہی نکلا و ظاہر ہوا ہے۔
- ١...... کہ مولوی صاحب خط مندرجہ ”خلاف بیانی“ میں دریافت کرتے ہیں کہ دو ملہموں کے
مخالف الہامات میں کس معیار سے ہم فیصلہ کریں گویا ان کو اب تک یہ معلوم ہی نہیں کہ اسلام میں کتاب وسنت ایسے کامل اکمل معیار ہیں جن سے حق وباطل صحیح وغلط درست وکج خوب کماحقہ پرکھا جاسکتا ہے۔ خواہ کوئی کسی بھیس میں روپ بدل مدعی الہام ووحی ونبوت ورسالت وغیرہ ہو کر آوے۔
- ٢...... خوبی قسمت سے فہم وعلم بائبل میں جو ان کو کمال ہے وہ یہ ہے کہ بتوں ومندروں کے
پجاری وسچے نبی میں ان کو امتیاز نہیں اور ایک دوسرے سے فرق نہیں کر سکتے۔ پھر طرفہ یہ کہ چارسو پجاریوں کو سچے کہہ کر پھر ان کی پیشگوئی کو جھوٹا لکھیں تو جناب الہی کی شان میں کوئی بٹہ نہیں لگتا۔ لیکن اگر مرزا صاحب کے مخالف کسی کو سچا الہام ہو تو نعوذ باللہ جناب الہی کی شان میں بٹہ لگتا ہے اور اسلام کا سر نیچا ہوتا ہے۔ جیسا خط مندرجہ رسالہ خلاف بیانی میں لکھا ہے۔ مولوی صاحب کا سب ملہمین راشدین سالکین تربیت یافتہ حسب سنت رب العالمین وطریقہ سیدالاولین وآخرین کو چھوڑ کر مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہونا مولوی صاحب کے اسی قول صادق کے موافق معلوم ہوتا ہے جو وہ خود فرمایا کرتے ہیں کہ بعض پنہانی قصور وگناہ ایسے ہوتے ہیں کہ مرتکب کو کسی صادق کی صحبت میں ٹھہرنے نہیں دیتے۔ سو نہ معلوم (غافر الذنوب معاف فرمائے) کہ کس نہانی جرم و قصور کی پاداش میں مولوی صاحب کو باوجود بہت سے اولیاء اللہ صادقین مستغرقین ذکر اللہ تعالیٰ صحبت کیمیا خاصیت میسر آچکی ہے ان کو ان بزرگان عارفان باللہ کی خدمت میں جس کی انہوں
٢٣١
نے ایک لمبی فہرست بیان فرمائی ہے ٹھہرنا و مستفیض ہونا نصیب نہیں ہوا اور تکفین کے مال کی طرح کورے صاف نکل کر چلے آئے اور آخر کار ایسی دلدل میں آ کر پھنس گئے جس سے رہائی کے لیے اگر صدق دل سے انابت الی اللہ توبہ واستغفار نہ کرے گا تو عاقبت محمود معرض خطر میں ہے۔ مرزائی ...... پھر وہ (مولوی صاحب) آپ کے خیال میں دیوانہ ہیں جو گھر بار خانماں کو چھوڑ کر چلے آئے اور یہاں دیدہ و دانستہ تکلیف گوارا کر رہے ہیں۔ سنی مسلمان ...... مولوی صاحب کی دیوانگی خانماں چھوڑ کر مرزا صاحب کے پاس رہنا کچے کوٹھوں میں بسر کرنا کچھ نیا نہیں۔ اول تو ان کا خانماں عیال اکثر سب کے سب ان کے ساتھ ہیں۔ دوم مرزا صاحب اور مولوی صاحب کا مذاق ملتا ہے کیونکہ مولوی صاحب سے پہلے ہی با تباع یا بموافقت سرسید نیچری، مسیح علیہ السلام کے مرنے مارنے اور ان کی قبر کھودنے کا خبط موجود تھا۔ اب ان کو ایک مددگار و ہم خیال مل گیا بلکہ اکثر تو اس بات کے قائل ہیں کہ یہ چھیڑ انہوں نے ہی چھیڑی تھی اور مرزا صاحب نے اپنے مفید مطلب سمجھ کر اس کی تکمیل کا بیڑا اٹھا لیا اور شاید کوئی اور تعلقات بھی باعث ہوں۔ اس لیے وہ مرزا صاحب کے گرویدہ ہیں اسی طرح بموجب عام قاعدہ کے دوسرے ہزاروں بلکہ لاکھوں مرید اپنے پیروں پر باعث ہم مذاقی و ہم جنسی کے فدا ہیں یہ کچھ تعجب واچنبہ نہیں۔
کبوتر با کبوتر باز با باز
مولوی صاحب کا ڈیرہ لگانا تو ذرا ہی تعجب نہیں۔ ان کی طبیعت و عادت قدیم سے ہی ایسی ہے، کیا مرزا صاحب کو یاد یا خیال نہیں رہا کہ عمر گزشتہ میں انہوں نے کس کس جگہ ڈیرہ نہیں لگایا۔ رامپور میں، لکھنو میں، حکیم علی حسین صاحب کی خدمت میں، مکہ معظمہ زاد اللہ شرفہا میں، مولوی رحمت اللہ صاحب ومولوی محمد صاحب کی خدمت مدینہ منورہ میں، شاہ عبدالغنی صاحب مجددی نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں تھے کہ سرسید آنجہانی کے بھی جو مرزا صاحب کے دعاوی کے کبھی موافق نہیں ہوئے محب و معتقد رہ کر یہ صرف خود ہی ان کو مضامین ضروریہ سے امداد دیتے رہے بلکہ دوسروں کو بھی ان کی موافقت وامداد کی دعوت و ہدایت امدادِ اسلام سمجھ کر کرتے رہے وغیرہ وغیرہ ان کے علاوہ دیگر مقامات واشخاص بھی ہیں جن کا ذکر مولوی صاحب اپنے خط بجانب الٰہی بخش صاحب میں کیا ہے۔ غرض صرف حسن عقیدت سے سب کچھ آرام و آسائش رونق آمدنی وغیرہ فراموش
٢٣٢
کر کے ڈیرہ لگانا تو در کنار ان پر خوبی قسمت سے ماد غلبہ فطرت کے باعث عمداً مکار دغاباز فریبیوں کے فری تعمیل دھوکہ کھا کر بعد تجربہ بھی کرتے رہے۔ جیسے انہو اس لیے یہ بات سب میں ان کے دوستوں تک مشہو وہ کبھی مقامات طبیعت و مذاق پسند پر ایسا ہی کرتے ر کیا کچھ کریں گے۔ پھر مرزا صاحب کے پاس کچے کوٹھو
باب ٤٠
عبداللہ آتھم
پھیلائے کب تک رہوں
آج صبح سے امرتسر کے ریلوے اسٹیشن یورپین اور کرسچین بناؤ سنگار کیے ہوئے کوئی تنہا و کوئی کیے چھتری کو پکڑے ایک ہاتھ سے سایہ کو اٹھائے ہزاروں دل پامال ہو رہے ہیں کوئی کھڑ کھڑ کرتی فٹن سے قدم اٹھائے چلی جاتی ہے۔ اسٹیشن کیا پریوں کا اکھاڑہ آج آنکھوں سے دیکھ لیا پلیٹ فارم پر عجیب جمگھٹ اوہو یہ تو انگریزی باجا بھی آ رہا ہے اور آ رہے ہیں ڈپٹی صاحب ان میں تو عمائد شہر اور رئیس و ہر فرقہ ومذاہب کے معززین اور واعظ ان میں شامل ہیں۔ آج کوئی تہوار نہ عیسائیوں کا ہے نہ اور کسی مذہب کا تہوار نہیں ہوتا۔ یہ ہاتھی پر کون آیا یہ تو پادری صاحب ہیں بھائی یہ بات کیا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ جو بات
٢٣٣
کرکے ڈیرہ لگانا تو در کنار ان پر خوبی قسمت سے مادہ حسن ظنی تو ایسا غالب تھا کہ اس کے سبب یا غلبہ فطرت کے باعث عمداً مکار دغاباز فریبیوں کے فریب میں بھی آ جاتے رہے اور ان کے کہنے کی تعمیل دھوکہ کھا کر بعد تجربہ بھی کرتے رہے۔ جیسے انہوں نے کئی مواقع خود بیان فرمائے ہیں۔ اور اس لیے یہ بات سب میں ان کے دوستوں تک مشہور ہے کہ ان میں مادہ مردم شناسی ہرگز نہیں ہے وہ سبھی مقامات طبیعت و مذاق پسند پر ایسا ہی کرتے رہے ہیں اور رہی بشرط زندگی خدا جانے آئندہ کیا کچھ کریں گے پھر مرزا صاحب کے پاس کچے کوٹھوں میں رہنا کیا تعجب اور انوکھی بات ہے۔
(از عصائے موسیٰ ص ٣٧٢)
باب ٤٠ چہلم
عبداللہ آتھم کا جلوس
پھیلائے کب تک رہوں اے انتظار ہاتھ
آج صبح سے امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر میلہ جم رہا ہے۔ نازنینان پری چہرہ حوروش یورپین اور کرسچین بناؤ سنگار کیے ہوئے کوئی تنہا، کوئی کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے ادھر کو رخ کیے چھتری کو پکڑے ایک ہاتھ سے سایہ کو اٹھائے رف رف کرتی آ رہی ہیں سایہ کے ساتھ ہزاروں دل پامال ہو رہے ہیں کوئی کھڑ کھڑ کرتی ٹمٹم پاس سے نکل جاتی ہے کوئی پیادہ پا خرام ناز سے قدم اٹھائے چلی جاتی ہے۔ اسٹیشن کیا پریوں کا اکھاڑہ ہے راجہ اندر کا دربار کہانیوں میں سنتے تھے آج آنکھوں سے دیکھ لیا پلیٹ فارم پر عجیب گھٹمگھٹا قدم رکھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ اوہو یہ تو انگریزی باجا بھی آ رہا ہے اور شہر کے بے فکرے تماشائی پرا جمائے اڑے آ رہے ہیں نہیں صاحب ان میں تو عمائد شہر اور رئیس و امراء بھی ہیں۔ مسلمانوں سکھوں آریوں سب فرقہ و مذاہب معزز اور واعظ ان میں شامل ہیں۔
آج کوئی تہوار نہ عیسائیوں کا ہے نہ اور کسی مذہب و ملت کا ٦ ستمبر ہے آج کے دن تو کوئی عیسائیوں کا تہوار نہیں ہوتا۔
یہ ہاتھی پر کون آیا یہ تو پادری صاحب ہیں۔ خوب ہاتھی کی مستک پر پھولوں کا ہار پڑا ہے
بھائی یہ بات کیا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ جو بات ہے، ہے ہی۔
٢٣٣
ریل کے آنے میں ابھی تو عرصہ ہے کوئی ٩ بجے ہوں گے چلو تو پلیٹ فارم دیکھیں۔ اللہ اللہ! یہاں تو نظر کو بھی دخل نہیں ملتا۔ لوگ لین کی طرف جھکے ہوئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گاڑی کو دیکھ رہے ہیں۔ ابھی گاڑی کہاں۔
- ١....... کیا آج لیٹ ہو گئی جو اب تک گاڑی نہیں آئی۔
- ٢....... بھائی اپنے ٹائم پر آئے گی۔
- ٣....... کیا ابھی وقت نہیں ہوا گھڑی دیکھ کر اوہو ابھی تو ١٠ منٹ باقی ہیں۔
- ٤....... انتظار کیا بری بلا ہے حالانکہ ابھی ٹائم میں ١٠ منٹ باقی ہیں۔ پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ
گاڑی لیٹ ہو گئی۔
- ٥....... انتظار کیا شوق کہو بہتر تھا کہ تار دیا جاتا کہ اسپیشل ٹرین میں آئیں۔
- ٦....... بھائی کہا تو درست لو وہ گاڑی آئی۔ دیکھو اب تمام خلقت جھک رہی ہے۔ اسٹیشن ماسٹر
گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا ہے۔ پیچھے ہٹ جاؤ پولیس ہے کہ ہٹا رہی ہے مگر آدمی پر آدمی گرا پڑتا ہے۔ پولیس مین...... ارے بھائی کوئی گر کر کٹ جائے گا۔ اسٹیشن ماسٹر...... گھبرانے کی کیا بات ہے اب گاڑی تم لوگوں کے سامنے آجاتی ہے۔ انجن نے سیٹی دی۔ اوہو انجن کے اوپر بھی پھولوں کے ہار پڑے ہیں۔ گاڑی اسٹیشن کے رو برو کھڑی ہوئی ایک صاحب اترے۔ آیا یہ پادری ہنری کلارک ہیں اور ان کے بعد ایک اور صاحب اسی گاڑی سے اترے۔ یہ تو ڈپٹی صاحب مسٹر عبداللہ آتھم ہیں۔ آدمی ہیں کہ ایک دوسرے پر گرا پڑتا ہے وہ اس سے آگے یہ اس سے آگے دوڑتے ہیں مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے سر سے ٹوپی اتار کر سلام کیا یکلخت ٹوپی اچھالی گئی اور بڑے شور نے اسٹیشن کو گونجا دیا۔ مرزائی...... اس کی نسبت (مسٹر عبداللہ آتھم ) تو حضرت اقدس نے پیشگوئی کی تھی وہ تو مر بھی گیا۔
- ٢....... ربڑ کا آدمی بالکل عبداللہ آتھم کا ہم شکل بنا کر اس میں کل لگادی چلتا پھرتا ہے دیکھو وہ
بوڑھا وہی سن کے بال وہی سفید بھویں وہی چہرہ وہی چتون وہی پیشانی کمر جھکی ہوئی منہ پر جھریاں پڑی ہوئیں، ہاتھوں کی نسیں کھڑی، واللہ کمال کیا ہے۔
جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
- ٣....... انگریزوں نے صنعت میں تو کمال ہی پیدا کیا ہے اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اصلی انسان
٢٢٣٤
نہیں ہے ربڑ کا بنایا ہوا پتلا ہے۔
- ٤....... یہ اگر اصل عبداللہ آتھم ہو تو ہمار
جائے ، آسمان ٹل جائے مگر یہ بات کبھی ٹل ن منتظر کھڑے تھے انہوں نے باجا بجانا شرو باجے بجاتے ناچتے گاتے عیسائی مرد اور گشت لگانے لگے۔
آتھم اب زندہ ہے آ کر دیکھو تو آنکھوں سے
کچھ کرو شرم و حیا تاویل کا اب کام ن
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا برا
حق ہے صادق اور صادق حق کے سب الہام ہ
ہو گیا ثابت کہ سب اقوال ہیں یہ آپ ک
اپنے پنجہ سے تمہیں شیطان نہیں دیتا نجا
تم ہو اس کے اور وہ اب ہے تمہارا یار غ
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ
ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پر پھٹکار
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام
اب بتاؤ ہیں کہاں وہ آپ کے پیروم
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس س
آپ نے خلقت کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھو
کچھ کرو خوف خدا کیا حشر کو دو گے جو
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر
نہیں ہے ربڑ کا بنایا ہوا پتلا ہے۔
- ٤...... یہ اگر اصل عبداللہ آتھم ہو تو ہمارے حضرت اقدس کی پیشگوئی غلط ہو جائے۔ زمین ٹل
جائے، آسمان ٹل جائے مگر یہ بات کبھی ٹل سکتی ہے ہرگز نہیں اسٹیشن سے باہر جو باجا بجانے والے منتظر کھڑے تھے انہوں نے باجا بجانا شروع کیا مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کو ہاتھی پر سوار کرایا گیا باجے بجاتے ناچتے گاتے عیسائی مرد اور عورت آگے غلغلہ زنان ہر کوچہ اور گلی اور بازاروں میں گشت لگانے لگے۔
آتھم اب زندہ ہے آکر دیکھو تو آنکھوں سے تم بات کب یہ چھپ سکی ہے اب چھپائی آپ کی
کچھ کرو شرم و حیا تاویل کا اب کام کیا بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپ کی
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
حق ہے صادق اور صادق حق کے سب الہام ہیں ہوگئی شیطان سے ثابت آشنائی آپ کی
ہو گیا ثابت کہ سب اقوال ہیں یہ آپ کے کر رہا بے شک ہے شیطان رہنمائی آپ کی
اپنے پنجہ سے تمہیں شیطان نہیں دیتا نجات اس کو کب منظور ہے ایکدم جدائی آپ کی
تم ہو اس کے اور وہ اب ہے تمہارا یار غار رات دن کرتا ہے وہ ہی پیشوائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پر پھٹکار ہے دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام ہے کس لیے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
اب بتاؤ ہیں کہاں وہ آپ کے پیر و مرید جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا ڈوم کنجر دھوبی کنجڑے اور قصائی آپ کی
آپ نے خلقت کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
کچھ کرو خوف خدا کیا حشر کو دو گے جواب کام کس آئے گی دولت کمائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے سوار فیصلہ کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
٢٣٥
جھوٹ میں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
سخت گمراہ ہو، نہیں سمجھے مسیح کی شان کو راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
خاتمہ بالخیر ہوگا اور ہوگی سرخرو ہوگئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپ کی
اب دام مکر اور کسی جا بچھائیے بس ہوچکی نماز مصلے اٹھائیے
سیالکوٹ میں ریچھ کا تماشا
شہر سیالکوٹ میں ایک دھما چوکڑی مچی ہوئی اور لوگ دوڑے جارہے ہیں اور ایک مجمع کثیر جم غفیر ایک جگہ اکٹھا ہو رہا ہے۔
- ١....... ارے بھائی کیا ہے۔ کہاں جاتے ہو۔
- ٢....... وہ دروازہ کے پاس جو قصائیوں کی دوکانیں ہیں وہاں چھچھڑوں پر لڑائی ہوئی اور چھری
چل پڑی اس کا شور۔
- ٣....... شہباز خان کے بازار میں ایک خانگی کو کسی نے قتل کر ڈالا وہاں یہ شور ہے اور لوگ
جاتے ہیں۔
- ٤....... جو اس طرف سے آتا تھا یہاں کچھ تماشا ہے۔
- ٥....... یہاں سنا تھا کہ ریچھ کا تماشا ہے۔
دکاندار۔ یہاں بازار میں ریچھ کے تماشے کا کیا کام۔ گلی کوچہ اور گھروں میں تماشہ بچوں کو دکھا کر تماشہ والے دانہ روٹی مانگ لاتے ہیں۔
- ٦....... ارے بھائی یہ تو پاگل ہے ریچھ کے تماشے کے ساتھ یہ سامان انگریزی باجا بجتا ہے۔
معزز و سفید پوش تماشائی ساتھ ہیں۔ ریچھ کے تماشہ میں لڑکوں کا ہجوم ہوتا۔
- ٧....... ہاتھ کنگن کو آرسی کیا دکان پر بیٹھے باتیں بناتے ہو اٹھ کر دیکھو تو کیا عجیب تماشہ ہے۔
- ٨....... اوہو یہ تو عیسائی ہیں سوانگ بنایا ہوا ہے ایک شخص کو کمبل میں سر سے پاؤں تک لپیٹ
رکھا ہے اور ریچھ کا چہرہ منہ پر لگا رکھا ہے اور گلے میں رسی ڈالی ہوئی ہے۔ اور ایک عیسائی قلندر کا بہروپ بھرے ریچھ کو نچاتا ہے اور برابر گاتا ہے۔
نہ باز آیا تو کچھ بکنے سے اب بھی بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی
نچا دے ریچھ کو جیسے قلندر یہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
٢٣٦
٥١
نچادیں تجھ کو بھی ایک ناچ ایسا ہر ایک لکڑی ریچھ کے مار کر رسی کو ہلاتا قلندر ..... ارے سن او رسول قادیانی لعین و بے ح تری مرجائے نانی۔ دیگر عیسائی ...... سب ایک آواز ملا کر ارے سن اور غرض ایک شور و غوغا بلند ہوا اور عیسائ نکالے۔ دو دروازہ (بازار کا نام ہے) کے قریب پولیس نے آکر اس ہنگامہ کو بموجب حکم صاحب اڈیٹر پنجاب گزٹ میونسپل کمشنر اور دیگر میونسپل کمش اطلاع کی کہ عیسائیوں نے یہ شور مچا دیا ہے اندیشہ نے خود آکر اس مجمع کو منتشر کر دیا۔
(سراج منیر ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٥٥)
نے آتھم کے معاملہ میں حق پوشی کر کے بہت غ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں ناچتے پ ابتدائی عملداری انگریزی سے کوئی نظیر نہیں مل سکتی
لدھیانہ
عیسیٰ نتواں گشت
لدھیانہ کی گلی کوچے میں ہر ایک کی زبا
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو
مسیح و مہدی معہود بن کر
ہوا بحث نصاریٰ میں نہ آخر
تیری تکذیب کی شمس و قمر نے
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے
کہاں ہے وہ تیری پیشین گوئی
ہر ایک لکڑی ریچھ کے مار کر رسی کو ہلاتا اور نچاتا ہے اور کچھ غل مچاتا ہے۔
قلندر...... ارے سن او رسول قادیانی ۔ لعین و بے حیا شیطاں ثانی۔ پھر ریچھ کے لکڑی مار کر اور ہلا کر تری مر جائے نانی۔
دیگر عیسائی...... سب ایک آواز ملا کر ارے سن او رسول قادیانی
غرض ایک شور و غوغا بلند ہوا اور عیسائیوں نے اسلام کی توہین میں کچھ کلمے زبان سے نکالے۔ دودروازہ (بازار کا نام ہے) کے قریب یہ شور و غوغا پہنچا۔ اس طرف مرزائی رہتے ہیں۔ پولیس نے آکر اس ہنگامہ کو بموجب حکم صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر فرو کیا کیونکہ منشی غلام قادر فصیح اڈیٹر پنجاب گزٹ میونسپل کمشنر اور دیگر میونسپل کمشنروں نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی خدمت میں اطلاع کی کہ عیسائیوں نے یہ شور مچادیا ہے اندیشہ ہے کہ مذہبی جوش میں فساد ہو جائے۔ پولیس نے خود آکر اس مجمع کو منتشر کر دیا۔
(سراج منیر ص ٤٧، خزائن ج ١٢ ص ٥٥) میں مرزا صاحب خود لکھتے ہیں ۔ ”غرض پادریوں نے آتھم کے معاملہ میں حق پوشی کر کے بہت شوخی کی اور امرتسر سے شروع کر کے پنجاب اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں ناچتے پھرے اور بہروپ نکالا اور ایسا شور و غوغا کیا کہ ابتدائی عملداری انگریزی سے کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔
لدھیانہ
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
لدھیانہ کی گلی کوچے میں ہر ایک کی زبان پر یہ نظم مرد و عورت چھوٹی چھوٹی گاتی پھرتی ہیں۔
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو رسول حق بہ استحکام مرزا
مسیح و مہدی معہود بن کر بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصارٰے میں نہ آخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
تیری تکذیب کی شمس و قمر نے ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے کہیں کا اور بدو بدنام مرزا
کہاں ہے وہ تیری پیشین گوئی جو تھا شیطان کا الہام مرزا
٢٣٧
بشیر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا تیرا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
لیکن تو نہ آیا باز پھر بھی یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
نہ کہتا کچھ اگر منہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
گلے میں اب تیرے رسہ پڑے گا سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
سزا بھی کم سے کم اتنا تو ہوگی کہ ہو جائے تجھے سرسام مرزا
ہے سولی اور پھانسی کار سرکار رعایا کا نہیں یہ کام مرزا
کہ اک بھائی ہے مرشد بھنگیوں کا اور اک ہجڑوں کا بے اندام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا پڑا کہلا نبی تام مرزا
کہا اسلامیوں نے حلف پا کر ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
تو ہے ایک انبیاء بغل میں سے سلف کو دے رہا دشنام مرزا
زمین و آسماں قائم ہیں اب تک تیری وہ ٹل گئی الہام مرزا
براہین سے ٹھگے تو نے مسلماں کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
بحمد اللہ کہ چھپ گئے فتح و توضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
در توبہ ہے وا، ہو جا مسلماں یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
اور کہیں لوگوں کی زباں پر یہ غزل تھی۔
ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم یہ گونج اٹھا امرتسر چٹھی ستمبر کی
ذلیل و خوار ندامت اٹھا رہے تھے کہ تھا تیرے مریدوں میں محشر چٹھی ستمبر کی
یہ لدھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی کہ جینا ہوگیا دوبھر چٹھی ستمبر کی
مسیح و مہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتے پھرتے ہیں گھر گھر چٹھی ستمبر کی
ہے روسیاہ مثیل مسیلمہ و اسود ملاحدہ کا وہ رہبر چٹھی ستمبر کی
یہ قادیانی کی تذلیل کے لیے تھی بہت مباہلہ کا اثر ہے چٹھی ستمبر کی
پنجاب کے شہروں میں پادریوں میں عموماً ایک شورش اور آوازہ شادمانی بلند ہے اور
٢٣٨
مرزائیوں میں خصوصاً ایک سناٹا ہے اور سکوت کے دیکھیں وہاں کیا کیفیت ہے۔ مرزا صاحب کا دربار کیش و مشیران خیر اندیش چاند کے گرد ہالہ کی طرح جھکائے خاموش۔ صم بکم کا عالم ہر ایک۔ چپڑاسی نے ایک خط دیا۔
مرزا صاحب۔ خط کا لفافہ پڑھا اور ایک
”وہ پیشگوئی جو امرتسر کے عیسائیوں کے جس کی آخری تاریخ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تھی وہ خدا کے حکم پوری ہوگئی کہ ایک منصف اور دانا کو بجز اس کے ماننے ایک متعصب اور احمق یا جلد باز جوان واقعات اور صر مخالف ظہور میں آئے اور الہامی الفاظ کی پیروی نہیں ہے اس کا مرض نادانی لاعلاج ہے“۔
اور اگر وہ ٹھوکر کھائے تو اس کی پست فط ورنہ کچھ شک نہیں کہ فتح اسلام ہوئی۔ اور عیسائیوں کو ہیں کہ دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ وہ انہی دنوں میں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔ اور اس اندھے سے سوجا کھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے
اب یاد رہے کہ پیشگوئی میں فریق مخالف وعدہ تھا ایک گروہ سے مراد ہے جو اس بحث سے تعلق حامی یا سر گروہ تھا۔ ہاں مقدم سب سے عبد اللہ آ
(ایک لمبی چوڑی تقریر میں الہام کا ترجمہ اور تفسی
”بشرطیکہ حق کی طرف رجوع کرے۔ لیکن عبد اللہ اس نے پیشگوئی کی تعظیم کی ۔“
(انوار الاسلام ص ٣،٤
فرما کر) ”توجہ سے یاد رکھنا چاہیے کہ ہاویہ میں گران
-٩
مرزائیوں میں خصوصاً ایک سناٹا ہے اور سکوت کے عالم میں دم بند ہے چلیں قادیان کا سین بھی دیکھیں وہاں کیا کیفیت ہے۔ مرزا صاحب کا دربار ڈر بار ہو رہا ہے حواری موالی حواریان عقیدت کیش و مشیران خیر اندیش چاند کے گرد ہالہ کی طرح گرد و پیش بیٹھے ہیں۔ مگر سب ادب سے سر جھکائے خاموش۔ صم بکم کا عالم ہر ایک ۔ ”یہ چپ ہوا ہے کہ گویا نہیں زبان منہ میں۔“ چٹھی رساں نے ایک خط دیا۔
مرزا صاحب نے خط کا لفافہ پھاڑا اور ایک آہ سرد کھینچ کر افسوس کیا ۔ ”وہ پیشگوئی جو امرتسر کے عیسائیوں کے ساتھ مباحثہ ہو کر ٥ جون ١٨٩٣ء میں کی گئی تھی جس کی آخری تاریخ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تھی وہ خدا کے حکم کے مطابق ایسے طور سے اور ایسی میعاد کے اندر پوری ہوگئی کہ ایک منصف اور دانا کو بجز اس کے ماننے اور قبول کرنے کے کچھ بن نہیں پڑتا ہاں ایک متعصب اور احمق یا جلد باز جو ان واقعات اور حوادث کو یکجائی نظر سے دیکھنا نہیں چاہتا جو فریق مخالف میں ظہور میں آئے اور الہامی الفاظ کی پیروی نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کی آرزوؤں کی پیروی کرتا ہے اس کا مرض نادانی لا علاج ہے“۔
اور اگر وہ ٹھوکر کھائے تو اس کی پست فطرتی اور احمق اور سادہ لوحی اس کا موجب ہوگی ورنہ کچھ شک نہیں کہ فتح اسلام ہوئی۔ اور عیسائیوں کو ذلت اور ہاویہ نصیب ہو گیا۔ پیشگوئی کے لفظ یہ ہیں کہ دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں میں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔ اور اس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔
اب یاد رہے کہ پیشگوئی میں فریق مخالف کے لفظ سے جس کے لیے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا ایک گروہ سے مراد ہے جو اس بحث سے تعلق رکھتا تھا خواہ خود بحث کرنے والا تھا یا معاون یا حامی یا سرگروہ تھا۔ ہاں مقدم سب سے عبداللہ آتھم تھا۔ (انوار الاسلام ص ١،٢، خزائن ج ٩ ص ١،٢) (ایک لمبی چوڑی تقریر میں الہام کا ترجمہ اور تفسیر فرما کر ماحصل اس کا) اس کے الفاظ میں۔ ”بشرطیکہ حق کی طرف رجوع کرے۔ لیکن عبداللہ آتھم نے مضطربانہ حرکات سے ثابت کر دیا کہ اس نے پیشگوئی کی تعظیم کی ۔“ (انوار الاسلام ص ٣، خزائن ج ٩ ص ٤) (اس کی خوفناک حالت کی تقریر فرما کر) ”توجہ سے یاد رکھنا چاہیے کہ ہاویہ میں گرایا جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے
٢٣٩
اپنے ہاتھ سے پورے کیے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا ہے اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لیے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود ہی نہیں۔...... (پھر کچھ تقریر کو طول دے کر ) پس اے حق کے طالبو یقیناً سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی...... (پھر دور چل کر ) یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی۔“
(انوار الاسلام ص ٧٥ تا ٧٧، خزائن ج ٩ ص ٧٥ تا ٧٧)
”یہ تو مسٹر عبداللہ آتھم کا حال مگر اس کے باقی رفیق بھی جو فریق بحث کے لفظ میں داخل تھے اور جنگ مقدس کے مباحثہ سے تعلق رکھتے تھے خواہ وہ تعلق اعانت کا تھا یا بانی کار ہونے یا مجوز بحث یا حامی ہونے کا یا سرگروہ ہونے کا ان میں سے کوئی بھی اثر پذیر ہونے سے خالی نہ رہا اور ان سب نے میعاد کے اندر اپنی اپنی حالت کے موافق ہاویہ کا مزا دیکھ لیا۔ چنانچہ اول خدا تعالیٰ نے پادری رائٹ کو لیا جو دراصل اپنے رتبہ اور منصب کے لحاظ سے اس جماعت کا سرگروہ تھا اور عین جوانی میں ایک ناگہانی موت سے اس جہان فانی سے گزر گیا۔“
(انوار الاسلام ص ٧٨ خزائن ج ٩ ص ٧٨)
پھر خط پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ میاں محمد علی خاں صاحب رئیس کا خط ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! مولانا مکرم، سلمکم اللہ تعالیٰ، السلام علیکم!
آج ٧؍ستمبر ہے اور پیشگوئی کی میعاد مقررہ ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء ہے گو پیشگوئی کے الفاظ کچھ بھی ہوں لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے وہ یہ ہے۔
”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیشگوئی جھوٹ نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے مجھ کو پھانسی دیا جائے ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جلّ شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
اب کیا پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اور اگر یہ سمجھو کہ پیشگوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہو گئی جیسا کہ مرزا خدا بخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنے جو سمجھے گئے ہیں ٹھیک نہیں تھے۔
٢٤٠
اول تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کا اثر عبداللہ آتھم پر پڑا ہو۔ دوسرے پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں ۔’’اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے فی دن ایک ماہ لے کر ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کیے جائیں گے بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘
پس اس پیشگوئی میں ہاویہ کے معنے اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لیے جائیں اور صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بیشک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا ہے عیسائی مذہب جھوٹا اسی حالت میں سمجھا جائے اگر یہ پیشین گوئی سچی سمجھی جائے جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں (مسلمانوں کو تو نہیں بلکہ مرزائیوں کو شرمندگی اور بڑی شرمندگی ہوئی) پس اگر اس پیشگوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے فریق کو عزت ہوگی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل کی بات ہے کہ پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ لڑکے کی پیشگوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا گیا اور وہ مر گیا تو اس وقت بھی غلطی نہ ہوئی اب اس معرکہ کی پیشگوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے سے تو غضب ہی ڈھا دیا۔ اگرچہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی آخر شکست ہوئی۔ تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے معرکہ کی پیشگوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہوگئی تھی اور پھر جب مجمع ہوگئے تو فتح ہوئی۔ کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بمقابل کفار کے ایسا صریح وعدہ ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ہوئی ہو۔ مجھ کو تو اب اسلام پر شبہ پڑنے شروع ہوگئے لیکن الحمدللہ! کہ ابتک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بمقابل دیگر ادیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے لیکن آپ کی دعاؤں کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہوگیا پس میں نہایت دل سے التجا کرتا ہوں کہ اگر آپ فی الواقعہ سچے ہیں تو خدا کرے میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زعم کے لیے کوئی مرہم عنایت فرمائیں۔ کہ جس سے تشفی کلی ہو جائے جیسا لوگوں نے مشہور کیا تھا کہ اگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو آپ ہی لکھ دیں گے کہ ہاویہ سے مراد موت نہ تھی۔ الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی براہ مہربانی بدلائل تحریر فرمائیں۔ اور آپ نے مجھ کو ہلاک کر دیا ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔ برائے
٢٤١
استغفار و نہایت دلی رنج سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔ راقم محمد علی خاں از : (الہامات مرزا ص ٣٢، ٣٣، ٣٤) مرزا صاحب ...... ”یہ جو کہا جائے کہ وہ (آتھم ) میعاد کے اندر فوت نہیں ہوئے تو یہ صاف صاف ہے کیونکہ پیشگوئی میں یہ قطعی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ ضرور اسی میعاد کے اندر ہی فوت ہوں گے بلکہ پیشگوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیشگوئی کے اندر فوت ہوں گے ورنہ ان کی موت میں تاخیر ڈال دی جائے گی۔ ہاں کسی قدر ہاویہ کا بھی مزا چکھ لیں گے۔ سو بلاشبہ پیشگوئی نے میعاد کے اندر اس ہاویہ کا مزا ان کو چکھا دیا۔ جس ہاویہ کی تکمیل رفتہ رفتہ ہوگئی۔ اور ضرور تھا کہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں ہاویہ کے پورے اثر سے بچے رہتے۔ کیونکہ انہوں نے اسلامی پیشگوئی کا ڈر اپنے اوپر ایسا غالب کر لیا کہ ایک قسم کی موت ان پر آگئی اور وہ مردوں کی طرح چپ ہو گئے اور عیسائیت کے پلید عقائد کی حمایت میں جو پہلے تالیفات کرتے رہتے تھے دلشکن ہو گئے اور خوف کے صدمات نے ان کو سراسیمہ کردیا۔ پس کیا ضرور نہ تھا کہ خداوند تعالیٰ اپنے الہام کی شرط کے موافق موت کو دوسرے وقت پر ٹال دیتا۔ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ ہر ایک شریف عیسائی کے چھپانے کے لیے کیا کیا مکروہ اور نالائق افتراؤں سے کام لیا۔ اور کس طرح دلیری کے ساتھ بے بنیاد جھوٹ کو پیش کیا نالائق آتھم نے سراسر بے وجہ مجھے زہر خورانی کے اقدام کی تہمت دی۔ میرے پر افتراء باندھا کہ گویا میں نے اس کے قتل کرنے کے لیے اس کی کوٹھی میں سانپ چھوڑے تھے اور گویا میں ایسا پرانا خونی تھا کہ تین مرتبہ میں نے مختلف شہروں میں اس کے مارنے کے لیے اپنی جماعت کے جوانوں سے حملہ کرائے۔“
(انجام آتھم ص ١٤، ١٣، خزائن ج ١١ص ایضاً)
یہ بھی یاد رہے کہ اگر کوئی ناسمجھ ہمارا پیرو مرید اس پیشگوئی کی غلط فہمی سے منحرف ہو گیا تو یسوع صاحب پر سب سے پہلے یہ الزام ہے کیونکہ یہودا اسکرایوطی یسوع صاحب سے بڑے زور شور کے ساتھ منحرف ہوا تھا۔
حاشیہ جات
- ١؎ (مولوی ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری ) اس پیشگوئی نے مرزا جی کو ایسا حیران کر
رکھا ہے کہ بلا مبالغہ انہیں کبھی یہ خبر بھی نہیں رہتی کہ میری آواز کدھر سے نکل رہی ہے آج تک باوجود کامل ٩ سال گزر جانے کے وہ سخت حیرانی میں ہیں۔ رسالہ ہٰذا کی طبع اول کے بعد کی تحریریں پہلی تحریروں سے بھی مزیدار ہیں آپ (کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ص ٦) پر لکھتے ہیں کہ ”پیشگوئی میں ٢٤٢
یہ بیان کیا تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقید سے پہلے مر گیا۔‘ کیا ہی احمقوں کی آنکھوں میں بھی قائل ہیں کہ اُلوؤں کی جیب کترنے میں آپ
باب ٤١
عبداللہ آتھم
ضعف کے ہاتھ سے کب
اب چلیں لاہور کی بھی سیر کریں دیکھیں ایک مختصر اور چھوٹا سا کمرہ شاہجہانی ح کے ساتھ آراستہ کیا ہوا الماریوں کی کتابوں سے چ ہوئی۔ ایک طرف مخملی قالین اس پر ایک جانماز بچھی رونق افروز ہیں اور ادھر ادھر دائیں بائیں اور آگے کمرہ ثقہ اور متقی مسلمانوں سے بھرا ہوا ہے۔ بحکم ر کو جگہ نہیں ملتی۔ مولانا صاحب کے روبرو اشتہار ا کھلے بھی نہیں اسی ڈاک میں آئے ہیں اہل مجلس کے سب خاموش سکتہ کے عالم میں سرگر خموشاں ہے۔ ہر ایک سر اٹھا کر مولانا صاحب کی چندے یہی عالم سکوت رہا۔ آخر مولانا صاحب ن مولانا صاحب ۔ ٥ ستمبر تو گزر گئی اللہ آتھم فیروز پور سے آتے ہوئے گزرے تھے ا
- ١....... میں اس وقت اسٹیشن پر موجود تھا جس
آتھم اور ڈاکٹر کلارک صاحب تھے۔
- ٢....... میں بھی گیا تھا بڑا ہجوم تھا عیسائی تو
قرب و جوار کے موجود تھے۔ قس علی ہٰذا آریہ بھ ایک بڑا پُر رونق میلہ تھا۔ عیسائیوں میں تو عموماً غ
یہ بیان کیا تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا سو آتھم مجھ سے پہلے مر گیا۔“ کیا ہی احمقوں کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ ڈالا ہے۔ مرزا جی اس بات کے تو ہم بھی قائل ہیں کہ اُلوؤں کی جیب کترنے میں آپ کو کمال ہے۔ الہامات مرزا ص ٣٩۔
باب ٤١م چہل و یکم
عبداللہ آتھم کا جلوس
ضعف کے ہاتھ سے کب وقت دعا اٹھتے ہیں
اب چلیں لاہور کی بھی سیر کریں دیکھیں وہاں کیا ہو رہا ہے۔
ایک مختصر اور چھوٹا سا کمرہ شاہجہانی عمارات کا یادگار پرانی روش کا بنا ہوا نہایت سادگی کے ساتھ آراستہ کیا ہوا الماریوں کی کتابوں سے سجی ہوئی ایک دری کا فرش اس پر سفید چاندنی بچھی ہوئی۔ ایک طرف مخملی قالین اس پر ایک جانماز بچھی ہوئی اس کے اوپر مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب رونق افروز ہیں اور ادھر ادھر دائیں بائیں اور آگے پیچھے علماء و فضلا اور طلبہ اور عمائد شہر کا مجمع ہے۔ تمام کمرہ ثقہ اور متقی مسلمانوں سے بھرا ہوا ہے۔ بحکم ع ”جائے تنگ است و مردماں بسیار۔“ قدم رکھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ مولانا صاحب کے روبرو اشتہارات اور اخبارات کا ڈھیر لگا ہوا ہے بعض بعض تو ابھی کھلے بھی نہیں اسی ڈاک میں آئے ہیں اہل مجلس کے ہاتھ بھی اشتہار یا اخبار سے خالی نہیں۔
سب خاموش سکتہ کے عالم میں سرگریباں مراقبوں کی ہیئت میں بیٹھے ہیں محفل کیا شہر خموشاں ہے۔ ہر ایک سر اٹھا کر مولانا صاحب کی طرف دیکھتا ہے پھر بدستور مراقب ہو جاتا ہے۔ چندے یہی عالم سکوت رہا۔ آخر مولانا صاحب نے اس طلسم سکوت کو توڑا۔
مولانا صاحب۔ ٥، ٦ ستمبر تو گزر گئی آپ لوگ ریلوے اسٹیشن پر گئے ہوں گے مسٹر عبد اللہ آتھم فیروز پور سے آتے ہوئے گزرے تھے اور کچھ دیر ریل یہاں ٹھہری تھی۔
- ١...... میں اس وقت اسٹیشن پر موجود تھا جب فیروز پور سے گاڑی آئی تھی جس میں مسٹر عبداللہ
آتھم اور ڈاکٹر کلارک صاحب تھے۔
- ٢...... میں بھی گیا تھا بڑا ہجوم تھا عیسائی تو عموماً لاہور کے کیا امرتسر گوجرانوالہ وغیرہ امصار
قرب و جوار کے موجود تھے۔ قس علیٰ ہذا آریہ بھی موجود تھے اور ہندو مسلمان بھی موجود تھے غرض ایک بڑا پُر رونق میلہ تھا۔ عیسائیوں میں تو عموماً نعرہ شادمانی بلند ہوئے اور قوم کے لوگ اور خصوصاً
٢٣٣
مسلمانوں نے بھی اظہار مسرت کیا مسٹر عبداللہ آتھم اور پادری کلارک صاحب پلیٹ فارم پر ٹہلتے رہے عجب نظارہ تھا۔
مولانا صاحب ...... آپ صاحبوں نے بچشم خود دیکھا اور اخبارات کا ملاحظہ کیا ہو گا عبداللہ آتھم اب تک زندہ ہے اور قادیانی کی پیشگوئی جھوٹی ہوئی۔ اشاعۃ السنہ جلد ١٥ میں ہم نے مفصل اس کا حال لکھ کر اس شخص کے آلہ یا حربہ کا گلٹ یا ملمعہ کھول دیا ہے فقط فقرہ بازی ہے اور کچھ نہیں اگر کوئی پیشگوئی اتفاقیہ صحیح بھی ہو جائے تو وہ کیونکر معجزہ ہو سکتی ہے عرب کے کاہن، نجومی، جفری، رملی، جوتشی، طبعی فلاسفر، سنیٹفک وغیرہ وغیرہ۔ قیافہ شناس، اٹکل باز، بھنگڑ، پھکڑ، اڑپو پونجھی کہا کرتے ہیں جو بعض اوقات سچی نکلتی ہیں معہذا وہ نبی مرسل محدث ملہم نہیں کہلاتے اور یہ بھی ثابت اور مبرہن کر دیا کہ پیشگوئی فی نفسہ و بانفرادہ اسلام میں کچھ وقعت و حقیقت نہیں رکھتی جب تک کہ پیشگوئی کرنے والے میں حسن اعتقادی۔ کریم الاخلاقی، مدت العمری۔ راستبازی، رحمدلی۔ بے غرضی۔ عفت عدالت وغیرہ اوصاف حمیدہ پائے نہ جاتے ہوں۔ جن تین ہزار پیشگوئیوں کو اپنے دعوے اور منجانب اللہ ہونے کی تائید و تصدیق میں یہ پیش کرتا ہے ان میں سے ایک بھی صادق اور منجانب اللہ ثابت نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس کی پیشگوئی محض دروغ گوئی۔ چالاکی، فقرہ بندی۔ دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ دگر ہیچ، از انجملہ اس کی پیشگوئی کے متعلق موت خسر فرضی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری پر جلد ١٥ میں اسی (٨٠) سوالات جرح وارد کر کے یہ ثابت کیا کہ اس قسم کی اس کی اور پیشگوئیاں ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی سچی نکل آئے تو وہ منجانب اللہ نہیں ہو سکتی دوسری پیشگوئی موت مسٹر عبد اللہ آتھم کے متعلق مدلل طور سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ پیشگوئی نہیں بلکہ محض لاف زنی ہے۔
پانچ دلیلیں (اندرونی شہادتیں) اس پیشگوئی کے الفاظ سے اخذ کر کے بیان کیں۔ اس بیان سے بہت سے مسلمانوں کو اس کے دام تزویر سے بچ جانا نصیب ہوا۔ لیکن بعض ضعیف الاعتقاد جو اس بات پر جمے ہوئے تھے کہ اگر چہ آج تک قادیانی کی کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی مگر حال میں جو اس نے مسٹر عبداللہ آتھم کے پندرہ مہینے میں مر جانے کی پیشگوئی کی اور اس کے عدم پر اپنے لیے سخت سزا مانی ہوئی ہے اس کا انتظار کرنا ضروری ہے اس میں وہ جھوٹا نکلا تب اس کو ضرور دجال کذاب سمجھا جائے گا۔
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں بھی اس کو جھوٹا کیا۔ اس کی میعاد ٤ ستمبر ١٨٩٤ء کو گزر گئی اور آتھم کو زندہ رکھا ...... اب گھر گھر قادیانی کے دروغ ظاہر ہونے پر خوشیاں منائی جاتی ہیں دور و نزدیک سے مبارکباد کی آوازیں و پیغام آتے ہیں اکثر نامی شہروں کے گلی کوچوں
کوچوں میں اس مضمون کے اشتہار و اخبار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام پر بڑا فضل جاتی تو قادیانی کو ولی اور ملہم سمجھ کر اس کے د خوشی میں آریہ ہندو، سکھ وغیرہ اشخاص مذاہب وجوہات واسباب مختلف ہیں مسلمانوں کی خو عیسائی اس لیے خوش ہیں کہ ان پیشگوئی کے وقوع صدق کی صورت میں وہ ج ١٥ ص ٢٣٨) سنہ گزشتہ میں بیان ہو چکا شرمندہ کرنے کے حق دار ہو گئے ہیں اور اب جناب وعدہ وفا کیجیے اور ہمیں قدرت واقع ڈاڑھی سرخ ہی رہے گی۔
اور گلوئے اقدس میں رسی ڈا سیالکوٹ، امرتسر خصوصاً جنڈیالہ اور نیز دیگر جب آپ پیدل چلنے سے تھک جائیں تو آ سایہ ہر وقت موجود رہتا ہے سوار کرائیں گے نیز آپ کو اجازت دی جاتی ہے لیکن آپ کو اپنے اصلی رنگ و روپ میں ب ہوئے وغیرہ۔
مگر عیسائیوں پر افسوس ہے کہ اس کے جھوٹا ہونے سے مسلمانوں کو جھوٹ مطبوعہ اختر پریس امرتسر ضمیمہ نور افشاں ١٢ خارج اور ان کے اتفاق سے کافر تسلیم کر زیادتی بھی کی ہے کہ اسلام کے ہادی اور اس کی سزا ہمارے جوان اہل اسلام ڈاکٹر لدھیانوی ومولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کافی دیدی ہے۔
کوچوں میں اس مضمون کے اشتہار واخبار شائع ہو رہے ہیں اور مسلمان خدا تعالیٰ کا شکرانہ ادا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام پر بڑا فضل کیا ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمان اگر یہ پیشگوئی صحیح ہو جاتی تو قادیانی کو ولی اور ملہم سمجھ کر اس کے دام تزویر میں پھنس جاتے۔ طرفہ یہ کہ اہل اسلام کی اس خوشی میں آریہ، ہندو، سکھ وغیرہ اشخاص مذاہب غیر بھی شریک ہیں۔ گو ان سب کے خوش ہونے کی وجوہات واسباب مختلف ہیں مسلمانوں کی خوشی کی وجہ تو اوپر ابھی بیان ہوچکی ہے۔
عیسائی اس لیے خوش ہیں کہ اس پیشگوئی میں خاص کر وہی مخاطب تھے۔ ہر چند اس پیشگوئی کے وقوع صدق کی صورت میں وہ کسی الزام قادیانی کے مورد نہ ہو سکتے چنانچہ (اشعۃ السنہ ج ١٥ ص ٢٣٨) سنہ گزشتہ میں بیان ہو چکا ہے مگر اس کے جھوٹے نکلنے کی حالت میں وہ قادیانی کو شرمندہ کرنے کے حق دار ہو گئے ہیں اور اب وہ اس کو شرمندہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آئیے جناب وعدہ وفا کیجیے اور ہمیں قدرت واختیار دیجیے کہ ہم آپ کے چہرہ مبارک کو کالا کریں مگر ڈاڑھی سرخ ہی رہے گی۔
اور گلوئے اقدس میں رسی ڈالیں۔ پھر جوتیوں کی مالا آراستہ کر کے بٹالہ، لاہور، سیالکوٹ، امرتسر خصوصاً جنڈیالہ اور نیز دیگر مشہور ومعروف ہندوستان کے شہروں کی سیر کرائیں۔ جب آپ پیدل چلنے سے تھک جائیں تو آپ کو اسی فارسی گدھے پر جو آپ کی دمشقی مسجد کے زیر سایہ ہر وقت موجود رہتا ہے سوار کرائیں گے۔
نیز آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ اپنے مقرب فرشتوں کو بھی اپنے ہمراہ رکھیں۔ لیکن آپ کو اپنے اصلی رنگ و روپ میں رہنا ہوگا۔ تاکہ آپ کا نور دین بوجہ احسن ظاہر و آشکار ہوئے وغیرہ۔
مگر عیسائیوں پر افسوس ہے کہ انہوں نے قادیانی پر فتح یابی کو اسلام پر فتح یابی بنایا اور اس کے جھوٹا ہونے سے مسلمانوں کو جھوٹا کرنا چاہا۔ حالانکہ وہ اشتہار ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک مطبوعہ اختر پریس امرتسر و ضمیمہ نور افشاں ١٢؍مئی ١٨٩٣ء میں قادیانی کو جماعت مسلمانوں میں سے خارج اور ان کے اتفاق سے کافر تسلیم کرچکے ہیں۔ ...... ان ناشکر عیسائیوں نے اس ناشکری پر یہ زیادتی بھی کی ہے کہ اسلام کے ہادی اور رہنما کی عالی جناب میں کسی قدر گستاخی کی ہے مگر ان کو اس کی سزا ہمارے جوان اہل اسلام ڈاکٹر حکیم غلام رسول صاحب امرتسری ومفتی مولوی سعد اللہ لدھیانوی ومولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ میاں امام الدین صاحب لاہور وغیرہ صاحبان نے کافی دیدی ہے۔
٢٣٥
وغیرہ وغیرہ بڑا طول طویل بیان فرمایا پھر اشتہاروں اور اخباروں کی رائے کا اظہار ہونے لگا۔ پہلے اشتہار پڑھے گئے۔
(مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری) مرزا قادیانی اور آتھم کی لڑائی میں اسلام کی صداقت اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ آج ہم اس آیت کی تصدیق پاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دین اسلام کی کیسی تائید کرتا ہے جو لوگ اس دین کی آڑ میں ہو کر اس دین کو بگاڑنا چاہتے ہیں ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے ہیں چنانچہ مرزا قادیانی کے ساتھ یہی معلوم ہوا۔ کہ تمام مخلوق کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہوا کہ آتھم امرتسری باوجود پیرانہ سالی کے پندرہ مہینے کی مدت میں نہیں مرے نہ صرف آتھم ہی بلکہ ایک اور صاحب بھی (جن کی موت کے بعد مرزا صاحب نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا تھا جس کی مدت حسب تحریر شہادت القرآن مصنف مرزا صاحب ١٣ اگست ٩٤ء کو پوری ہوگئی) نہیں مرے۔
وہ ساری اس کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کیا آج کوئی نہیں جو مرزا کا ساتھ دیوے۔ حکیم نور الدین کہاں ہیں۔ احسن صاحب کہاں ہیں پنجاب گزٹ کے اڈیٹر کہاں ہیں۔ نوجوان ریاض ہند کے منیجر جو مارے خوشی کے پھولے نہ سماتے تھے کہاں ہیں۔ اور سیالکوٹ کے لیکچرر معذور کہاں ہیں جو مسلمانوں کو ابوسفیان کا نقشہ بتلاتے تھے کہاں ہیں۔ خواجہ صاحب لاہوری کہاں ہیں۔ سچ ہے اور بالکل سچ ہے۔ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ مگر افسوس صد افسوس عیسائیوں کے حال پر کہ انہوں نے مسلمانوں کا اس میں ناحق دل دکھایا اور اپنی عادت قدیمہ کے موافق بدزبانی سے کام لیا۔
(منشی محمد سعد اللہ صاحب) مسیح کذاب قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئی (اٹل) جھوٹی ہونے کے سبب پادری صاحبان کا اہل اسلام پر طنز کرنا بالکل غلط ہے خود انہی کی تحریرات اور مسلمات کے برخلاف۔
ایک شخص مسمی مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی سال سے ایسے ایسے دعاوی اور عقائد پھیلائے ہیں جن کی وجہ سے سب علماء اسلام نے اس پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
چند لوگ جو بوجوہ مختلف اس کے دام تزویر میں آچکے تھے اسی طرح پھنسے رہے۔ ذیقعد ١٣١١ھ میں بن بلائے مسلمانوں کا وکیل بن کر پادریوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا۔ حالانکہ پادری کلارک صاحب پریذیڈنٹ مناظرہ نے اہل جنڈیالہ بانیان مناظرہ کو لکھا بھی کہ تم ایک ایسے
٢٤٦
بزرگ کو بحث کے لیے پیش کرتے ہو جس کو ایک محمدی نے اس کو اسلام سے خارج کر رکھا ہے لیکن یہ بن بلایا اور جلسہ مباحثہ میں مان نہ مان میں تیرا مہمان اپنی خو یہاں بھی وہی اس کے مدنظر تھی کہ کوئی ایسی تدبیر کر رحمت اللہ صاحب اور پادری فنڈر صاحب کے مباحثہ کہ کسی طرح مسیحیت کا سکہ جمے چنانچہ فریق ثانی کا یافتہ آدمی تھا ایام مناظرہ میں اس کو بیمار دیکھ کر کذاب مہینے تک یہ شخص مرجائے گا۔ اور اس کے بعد کئی کتابوں اور اس کے نہ مرنے کی صورت میں اس کیں میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے وغیرہ وغیرہ۔
ایک ضعیف العمر آدمی کو ایسی دھمکیاں محض ادھر مسلمانوں سے مباحثہ کی ٹھہرائی کہ مجھے اہل اسلام میں بھی ایک مرد صالح عبدالحق جناب باری میں قادیانی کے مقابل آکر اس عجز و نیاز میں جھوٹے پر اس کا اثر اسی وقت نمایاں تھا اور اس قادیانی کو یہ روز بد ایسی سخت ذلت ساتھ لے کر پیش آئی جو اپنے منہ سے کہی تھی۔
خیر آج ٦ تاریخ کا دن ہے اور آتھم مذکور کوئی شخص بن آئی نہیں مرسکتا خواہ اپنے کی تدابیر عملی، سحر، عزائم، عمل الترب وغیرہ سے
لدھیانہ کے پرانے مسیحی پادریوں نے کیا۔ اور ان کی روز مرہ کی لن ترانیوں پر خوب فضیح ان کو حق تھا۔ جو کچھ چاہتے کرتے۔ کیونکہ قادیانی اب چیلے بھی اس کے مستحق ہیں۔
پرانے مسیحیوں نے بہت کچھ بے جا الفا جو ان کے بے جا تعصب پر دلالت کرتے ہیں۔
٤٧
اشتہاروں اور اخباروں کی رائے کا اظہار
ا قادیانی اور آتھم کی لڑائی میں اسلام کی حق آج ہم اس آیت کی تصدیق پاتے ہیں اس دین کی آڑ میں ہو کر اس دین کو بگاڑنا دیانی کے ساتھ یہی معلوم ہوا۔ کہ تمام مخلوق ودہ پندرہ سالی کے پندرہ مہینے کی مدت میں جن کی موت کے بعد مرزا صاحب نے ان ت القرآن مصنف مرزا صاحب ٣٠ اگست
شئ پکارتے وہ گھڑی کے بعد حکیم نورالدین کہاں ہیں۔ احسن صاحب بیاض ہند کے منیجر جو مارے خوشی کے پھولے کہاں ہیں جو مسلمانوں کو ابوسفیان کا نقشہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے۔ لَوْ تَقَوَّلَ مگر افسوس صد افسوس عیسائیوں کے حال پر کہ ت قدیمہ کے موافق بدزبانی سے کام لیا۔ ک وافی مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئی اسلام پر طنز کرنا بالکل غلط ہے خود انہی کی
کئی سال سے ایسے ایسے دعاوی اور عقائد کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ میں آچکے تھے اسی طرح پھنسے رہے۔ ذیقعد با کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا۔ حالانکہ پادری باغیان مناظرہ کو لکھا بھی کہ تم ایک ایسے
بزرگ کو بحث کے لیے پیش کرتے ہو جس کو ایک مبتدی شخص بھی تصور کرنا مشکل ہے۔ علمائے اسلام نے اس کو اسلام سے خارج کر رکھا ہے لیکن یہ بن بلایا مہمان ان احمق مسلمانوں کے سر ہی چڑھ گیا اور جلسہ مباحثہ میں مان نہ مان میں تیرا مہمان اپنی خودکلامی و خود غرضی سے جو اس کے خمیر میں ہے یہاں بھی وہی اس کے مدنظر تھی کہ کوئی ایسی تدبیر کروں جس سے میری مسیحیت سرسبز ہو۔ مولوی رحمت اللہ صاحب اور پادری فنڈز صاحب کے مباحثہ میں کئی مدارج طے ہو چکے تھے نئی بات یہ تھی کہ کسی طرح مسیحیت کا سکہ جمے چنانچہ فریق ثانی کا مناظر عبداللہ آتھم جو ایک سن رسیدہ پینشن یافتہ آدمی تھا ایام مناظرہ میں اس کو بیمار دیکھ کر کذاب قادیانی نے یہ ڈینگ ہانک دی کہ پندرہ (١٥) مہینے تک یہ شخص مر جائے گا۔ اور اس کے بعد کئی کتابوں میں اس کی تشہیر خوب واضح طور پر کر دی۔ اور اس کے نہ مرنے کی صورت میں اپنے لیے سخت سزائیں جو مخالف چاہیں منظور کیں میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے وغیرہ وغیرہ۔
ایک ضعیف العمر آدمی کو ایسی دھمکیاں سخت برا اثر پہنچاتی ہیں۔
ادھر مسلمانوں سے مہدی کی ٹھہرائی کہ مجھے عیسیٰ و مہدی و نبی و رسول بشر کیوں نہیں مانتے۔
اہل اسلام میں بھی ایک مرد صالح عبدالحق (عافاہ اللہ ) غزنوی مقیم امرتسر وہیں اٹھا اور جناب باری میں قادیانی کے مقابل آکر اس عجز و نیاز سے جھوٹے پر لعنت کی کہ اہل بصیرت کی نظر میں جھوٹے پر اس کا اثر اسی وقت نمایاں تھا اور اس کی قبولیت کے آثار ایک جہان دیکھ رہا ہے۔ قادیانی کو یہ روز بد ایسی سخت ذلت ساتھ لے کر پیش آگیا جو اس نے اپنی لعنت میں جھوٹے کے لیے اپنے منہ سے کہی تھی۔
خیر آج ٦ تاریخ کا دن ہے اور آتھم مذکور چنگا بھلا زندہ موجود ہے۔
کوئی شخص بن آئی نہیں مرسکتا خواہ اپنے ہاتھ سے اپنے مرنے کی کوشش کرے پھر کسی کی تدابیر علمی عملی سحر ، مسمریزم و عمل الترب وغیرہ سے کیا ہو سکتا ہے۔
لدھیانہ کے پرانے مسیحی پادریوں نے یہاں کے مرزائی نئے مسیحوں کو خوب شرمندہ کیا۔ اور ان کی روزمرہ کی لن ترانیوں پر خوب فضیحت کی کہ وہ منہ چھپا کر اپنے اندر جا گھسے۔ یہ تو ان کو حق تھا۔ جو کچھ چاہے کرتے۔ کیونکہ قادیانی اپنے لیے سب سزائیں منظور کر چکا ہے اس کے چیلے بھی اس کے مستحق ہیں۔
پرانے مسیحیوں نے بہت کچھ بے جا الفاظ بحق اسلام بھی اسی خوشی میں آکر لکھ مارے۔ جو ان کے بے جا تعصب پر دلالت کرتے ہیں۔
٢٤٧
اس مباحثہ میں کوئی مسلمان جس کو محمدی بمعنی امت محمد رسول کہا جائے۔ عیسائیوں کے مقابل نہ تھا۔ تماشائی ہونا اور بات ہے۔ یوں تو ہندو بھی شریک ہوں گے۔ افسوس ہے کہ قادیانی کا خالہ زاد سالہ جو تھوڑے دنوں سے پرانے مسیحیوں میں ملا ہے۔ اس جھگڑے کا نام مسیحیوں اور محمدیوں کا جنگ مقدس رکھے۔ یہ خود نیا مسیحی اور مسلمانوں کا فتویٰ اپنے نئے مسیح کے حق میں دیکھ چکا تھا۔ اور سمجھ میں نہیں آتا۔ کہ اس نے کلارک صاحب کا اشتہار تو دیکھا ہو گا جو اہل جنڈیالہ کے لیے مشتہر ہو چکا ہے۔ وغیرہ وغیرہ (عام مسلمانان لدھیانہ)
فتح اسلام شکست قادیانی ناکام
مسیح کاذب مہدی کذاب سراپا جھوٹ کی آثار مرزا
ترا چھوٹا سا منہ اتنی بڑی بات نہ ہو کیونکر ذلیل و خوار مرزا
پڑے گی ہر طرف سے تجھ پہ لعنت بس اب ہر وقت رہ تیار مرزا
ذرا خوش ہو کے گھر جا کر دکھانا گلے میں لعنتوں کا ہار مرزا
خفامت ہو کہ عبدالحق سے تو نے طلب کی تھی یہی پھٹکار مرزا
نشانہ کیسا اس تیر دعا کا ہوا تیرے جگر کے پار مرزا
تجھے روتے ہی گزرے پندرہ ماہ ہوئی حالت یہ تیری زار مرزا
رگ جان کاٹنے آیا تھا تیری ستمبر کی چھٹی کا تار مرزا
ولے پھر بھی نہ مرنے پایا آتھم وہ بھی پہلے سے تھے تیار مرزا
کہاں ہے سیالکوٹی واحد العین تیرا مداح کج رفتار مرزا
کہاں ہے تیرا نورالدین و احسن فصیح و حامد و طرار مرزا
مصیبت ہر طرف سے تجھ پہ آئی ابھی ہے وقت استغفار مرزا
مسٹر عبداللہ آتھم کے ایک خط کا خلاصہ مندرجہ اخبار وفادار لاہور ۔ ١٥ ستمبر ١٨٩٤ء میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں ..... میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی پیشین گوئی جو ہے۔ اسے شروع کر کے آج تک جو کچھ گزری۔ آپ کو معلوم ہے۔ اب مرزا صاحب کہتے ہیں کہ آتھم نے دل میں اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لیے نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں۔ سو لکھیں۔ جب انہوں نے میرے مرنے کی بابت جو چاہا سو کیا اور ان کو خدا نے جھوٹا
٢٤٨
کیا۔ اب بھی ان کو اختیار ہے۔ جو چاہیں ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا۔ اب بھی عیسائی میں جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے آتھم مر گیا ہے۔ نہیں آئے گا۔ اور جب یـ بڑے حکمت والے ہیں۔ ربڑ کے آدمی ہـ ہے۔ میں راضی خوشی تندرست ہوں۔
اور ویسے ایک دن مرنا تو ضرو ہے۔ اب میری عمر ٦٨ برس سے زیادہ ہے
اس مقام پر اس بات کا ذکر کر اللہ آتھم ) کے قتل کرنے کے لیے تین حملہ اس لیے ڈپٹی صاحب ٣٠ اپریل کو امرتسر کو چلے گئے۔ جہاں ایک شخص نے برچھی کچھ دن رہ کر ڈپٹی صاحب فیروز پور میں بندوق کی بھی دو دفعہ گولی چلی۔ ایک دفعـ آدھی رات کے وقت قریب کے کھیتوں کرنے پر مفرور ہو گئے اور انہی میں سے رہے تھے۔ چونکہ ایسے وقت میں زیادہ حفـ اس لیے ڈاکٹر کلارک صاحب ٥ ستمبر ٩٤ وقت حسب معمول پہرہ رہا۔
مسٹر عبداللہ آتھم کا امرتسر کا آنا
(مسٹر آتھم ) میرا خیال تھا کہ کلام کو یاد رکھے۔ جو موسیٰ کی معرفت ہوا کرے اور اس کے کہنے کے بموجب ہو بـ آزماتا ہے۔
اور یہ جو مہینے گزرے ہیں۔ اس
کیا۔ اب بھی ان کو اختیار ہے۔ جو چاہیں تاویل کریں۔ کون کسی کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا۔ اب بھی عیسائی ہوں۔ اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔ کہ جب اس امرت سر میں جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے کو آیا تھا۔ تو وہاں بعض اشخاص نے تو ظاہر کر دیا تھا۔ کہ آتھم مر گیا ہے۔ نہیں آئے گا۔ اور جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا گیا۔ تو کہنے لگے۔ انگریز بڑے حکمت والے ہیں۔ ربڑ کے آدمی میں کل لگا دی۔ ایسی ایسی باتوں کا جواب صرف خاموشی ہے۔ میں راضی خوشی تندرست ہوں۔
اور ویسے ایک دن مرنا تو ضرور ہے زندگی موت صرف رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اب میری عمر ٦٨ برس سے زیادہ ہے۔ نور افشاں لدھیانہ ١٤ ستمبر ١٨٩٤ء
اس مقام پر اس بات کا ذکر کرنا خالی از لطف نہ ہوگا کہ امرتسر میں ڈپٹی صاحب (عبد اللہ آتھم) کے قتل کرنے کے لیے تین حملہ کیے گئے۔ چونکہ ان کا امرتسر میں رہنا باعث اندیشہ تھا۔ اس لیے ڈپٹی صاحب ٣٠ اپریل کو امرتسر سے جنڈیالہ میں تشریف لے گئے اور وہاں سے لدھیانہ کو چلے گئے۔ جہاں ایک شخص نے برچھی سے ڈپٹی صاحب کا کام تمام کرنا چاہتا تھا۔ لدھیانہ میں کچھ دن رہ کر ڈپٹی صاحب فیروز پور میں رونق افروز ہوئے۔ اس جگہ ان پر چار حملے ہوئے۔ بندوق کی بھی دو دفعہ گولی چلی۔ ایک دفعہ ایک شخص گنڈاسا لئے ہوئے نظر آیا۔ دو دفعہ تین تین آدمی رات کے وقت قریب کے کھیتوں میں چھپے ہوئے معلوم ہوئے۔ جو پولیس کے تعاقب کرنے پر مفرور ہو گئے اور انہی میں سے ایک دفعہ رات کے وقت تین آدمی کوٹھی کا دروازہ توڑ رہے تھے۔ چونکہ ایسے وقت میں زیادہ حفاظت کی ضرورت تھی۔ (جو پیشگوئی کا آخری روز تھا) اس لیے ڈاکٹر کلارک صاحب ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کو امرتسر سے فیروز پور تشریف لے گئے رات کے وقت حسب معمول پہرہ رہا۔
مسٹر عبداللہ آتھم کا امرتسر کا آنا
(مسٹر آتھم) میرا خیال تھا کہ شاید میں مارا ہی جاؤں۔ لیکن اس پر بھی کلیسیا خدا کی کلام کو یاد رکھے۔ جو موسیٰ کی معرفت ہوا۔ کہ اگر تمہارے درمیان جھوٹا نبی آئے اور نشان مقرر کرے اور اس کے کہنے کے بموجب ہو۔ تو خبردار تم اس کے پیچھے نہ جانا کیونکہ خداوند تمہارا تم کو آزماتا ہے۔
اور یہ جو مہینے گزرے ہیں۔ اس کی بابت میں نے دو باتیں دیکھیں۔ جن سے میری
٢٤٩
تسلی رہی۔ تجھے خداوند روح القدس کا سہارا اور خداوند یسوع مسیح کا خون (یہ کہہ کر اس کے بے اختیار آنسو نکل پڑے اور جماعت کے آدمی بھی اشکبار ہوئے۔)
(مولانا صاحب) قادیانی چونکہ ایسا شیر بہادر دلیر ہے کہ عقل اور حیا دونوں سے اکیلا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس نے عبداللہ آتھم کی اس بات کے کہنے کو کہ میں مارا جاتا۔ اور اس پر رونے کو اپنے دعوے کی دلیل بنالیا۔ اور یہ مشتہر کیا۔ کہ عبداللہ آتھم نے میری پیشگوئی سے ڈر کر یہ کلمہ بولا۔ اور اس پر رو پڑا اس کے ردو جواب اور نیز قادیانی کی درخواست قسم وغیرہ کے جواب میں مسٹر عبد اللہ آتھم کو یہ مشتہر کرنا پڑا۔ کہ میں تیری پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا۔ بلکہ تیرے ناجائز وسائل و تدابیر سے ڈرنا پڑا۔ اور قسم کھانا اور مال کا لالچ کرنا میرے مذہب میں منع ہے۔
خط مسٹر عبداللہ آتھم
بخدمت مکرم ایڈیٹر صاحب نور افشاں! بعد نیاز تصدیق یہ ہے کہ فتح اسلام اور مختصر تقریر مرزا صاحب قادیانی کا جواب میری طرف سے یہ ہے۔ کہ میں نے کچھ بھی عظمت اسلام سے جناب کی نبوت اور اس سے نجات کے لیے مدد نہیں لی۔ ہاں میں آپ کے خونی فرشتوں سے چھپتا رہا ہوں۔ خصوصاً چار مہینے آپ کی ١٥؍ماہ کی مدت میں۔ نہ اسلام کی عظمت الہامی اور نہ اسلامی توحید کی تعظیم سے اور نہ تثلیث میں کچھ تزلزل ہو کر۔ اقانیم الوہیت میرے نزدیک صحیح ہے جو بوقت مباحثہ میں نے شرح کی تھی۔ باقی رہی یہ بات کہ میں نے پہلے جناب کے ساتھ کوئی قسم یا شرط باندھی تھی۔ اور نہ آئندہ باندھوں گا۔ اور نہ آپ کے روپوں کا مجھے لالچ ہے۔ اور جنہوں نے آپ کے ساتھ بے ہودگی کی ہے اور جو آپ کے ساتھ کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ شامل نہیں۔
یہ بھی جناب مرزا صاحب کو معلوم ہو کہ قریب ستر برس کے تو عمر اب میری ہے۔ پھر آئندہ سال بڑھانا جناب کے کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا جناب کے خونی فرشتوں کو پہلے موقع میرے مارنے کا نہیں ملا۔ جو ایک سال مہلت اور طلب ہوتی ہے۔ مرزا صاحب! سچے خدا سے ڈرو۔ میں تو موت کے لیے تیار ہی بیٹھا ہوں۔ مگر آپ کو بھی مرنا ہے۔ میں آپ سے بدلہ کچھ نہیں چاہتا۔ مگر خدا سے آپ کے لیے خیر وعافیت کی دعا مانگتا ہوں۔ والسلام
عبداللہ آتھم مقام فیروز پور ١٧ ستمبر ١٨٩٤ء اشاعۃ السنہ نمبر ١ تا ٨ جلد ١٦ ص ١١٢ تا ١١٣
ڈپٹی آتھم صاحب کا خط آمدہ ٢٧ ستمبر ١٨٩٤ء
جناب محسن بندہ جناب ملا محمد بخش صاحب مالک اخبار جعفر زٹلی لاہور۔ تسلیم آپ ٢٥٠ کے خط کے جواب میں قلمی ہے۔ کہ میں ا میں اشتہار دے چکا ہوں۔ کہ میں سچے د قائم ہوں۔ اور ہرگز اسلام کی طرف ذرا ب اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہوں۔ جو آدمی س باقی رہا مرزا صاحب کا شرط لگانا کہ آتھم مذہب میں تو قسم کھانا منع ہے۔ متی کی انجی ہاں ہاں اور نہ نہ ہونی چاہیے۔
اور ہزار دو ہزار کی شرط لگانا ق میرے مذہب میں اس طرح کا لالچ بھی من میں تو پہلے سے یہ دعا مانگتا تھا۔ اب بھی یہی رحم کر اور اس کو ہدایت کر، راہ راست پر کرد اس سے زیادہ سب کچھ فضول ہے۔ اور میں آخر کہاں تک جیوں گا۔ کون جانتا ہے کہ کس
اشتہار
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مسلمان نہیں۔ کفر کا فتویٰ لگا کر اسلام س صاحب مجمع عام میں ایک لقمہ خنزیر کے گوش تو ہم یقین کریں گے کہ علماء اسلام کا فتویٰ د
اور اگر مرزا صاحب یہ نہیں کر سمجھیں گے۔ کیونکہ جیسے قرآن کے حکم س انجیل کے حکم سے قسم نہیں کھا سکتے۔ جب ک قسم کھانا جائز نہیں ہے اگر آتھم صاحب قسم
پس مرزا صاحب کو لازم ہے کہ ہماری اس ثابت کریں۔ ورنہ بار بار قسم کے اشتہارا اور مرزا صاحب کو یا الہام ہ
کے خط کے جواب میں قلمی ہے۔ کہ میں اپنے ایمان مسیحی کی بابت مفصل اخبار نور افشاں وغیرہ میں اشتہار دے چکا ہوں۔ کہ میں سچے دل سے عیسائی جس طرح تھا اب تک اپنے ایمان پر قائم ہوں۔ اور ہرگز اسلام کی طرف ذرا بھی مائل نہیں ہوا نہ ظاہر، نہ باطن، تو اب فرمائیے۔ کہ اس سے زیادہ کیا کر سکتا ہوں۔ جو آدمی کچھ بھی عقل رکھتا ہو۔ اس سے صاف جان سکتا ہے۔ باقی رہا مرزا صاحب کا شرط لگانا کہ آتھم قسم کھا کر یہ بات کہہ دے۔ سو صاحب من! میرے مذہب میں تو قسم کھانا منع ہے۔ متی کی انجیل میں صاف لکھا ہے کہ تم ہرگز قسم مت کھاؤ۔ ہاں کی ہاں اور نہ کی نہ ہونی چاہیے۔
اور ہزار دو ہزار کی شرط لگانا تو ایک طرح کی جوئے بازی ہے۔ میرے خیال اور میرے مذہب میں اس طرح کا لالچ بھی منع ہے۔ مرزا صاحب کی مرضی جو چاہیں کہتے جائیں۔ میں تو پہلے سے یہ دعا مانگتا تھا۔ اب بھی یہی دعا مانگتا ہوں کہ یا خدا تعالیٰ تو مرزا صاحب قادیانی پر رحم کر اور اس کو ہدایت کر، راہ راست پر کر دے۔ اور اس کو صحت و تندرستی جسمی اور دماغی بخشے آمین۔ اس سے زیادہ سب کچھ فضول ہے۔ اور میں ایک ضعیف العمر آدمی قریب ستر سال کی عمر کا ہوں۔ آخر کہاں تک جیوں گا۔ کون جانتا ہے کہ کب خدا تعالیٰ بلا لے۔ زیادہ نیاز آپ کا مشکور عبداللہ آتھم پنشنر اکسٹرا اسسٹنٹ از مقام فیروز پور۔
اشتہار
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مہدی ہوں۔ اور علماء اسلام کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں۔ کفر کا فتویٰ لگا کر اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ اب ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب مجمع عام میں ایک لقمہ خنزیر کے گوشت کا سب کے سامنے کھا کر کہیں۔ کہ میں مسلمان ہوں تو ہم یقین کریں گے کہ علماء اسلام کا فتویٰ غلط اور یہ درحقیقت مسلمان ہیں۔ اور اگر مرزا صاحب یہ نہیں کر سکتے تو وہ مسٹر آتھم صاحب کو بھی قسم کھانے سے معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ جیسے قرآن کے حکم سے وہ سور کا گوشت نہیں کھا سکتے اسی طرح آتھم صاحب انجیل کے حکم سے قسم نہیں کھا سکتے۔ جب تک کہ کسی حاکم سے قسم پر مجبور نہ کرائے جائیں۔ عیسائی کو قسم کھانا جائز نہیں ہے اگر آتھم صاحب قسم کھاتے تو ثابت کر دیتے۔ کہ میرا عمل انجیل پر نہیں ہے۔ پس مرزا صاحب کو لازم ہے کہ ہماری اس دعوت کو قبول کر کے اس شرط کو بموجب اپنے تئیں مہدی ثابت کریں۔ ورنہ بار بار قسم کے اشتہار آتھم صاحب کے نام پر دینے بند کر دیں۔ اور مرزا صاحب گویا الہام سے یہ بھی کہتے ہیں۔ کہ آتھم صاحب ہرگز قسم نہ کھائیں
٢٥١
گے۔ سو معلوم ہو کہ اگرچہ مجھے الہام نہیں ہوتا۔ اور جبرائیل ہمارے پاس نہیں آتا۔ تاہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب ہرگز خوک کا گوشت کھا کر اپنے تئیں مسلمان ثابت نہ کر سکیں گے۔ الراقم ڈاکٹر ایچ ایم کلارک ایم ڈی میڈیکل مشنر۔ از اشاعۃ السنۃ ص ١٥ تا ١٩ نمبر ١ تا ٨ جلد ١٦۔
باب ٤٢ چہل و دوم
پیش گوئی کی بابت
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ادھر صبح ہوئی اور سورج کی کرنوں نے اپنا سنہری عکس دیواروں کی چوٹیوں اور درختوں کے پتوں پر ڈالا۔ اور روشنی نے اپنا قبضہ کیا۔ ادھر حضرت اقدس امام ہمام مسیح وقت مہدی دوراں عشرتکدہ خاص میں برآمد ہو کر دربار عام میں رونق افروز ہوئے۔ مصاحب با توفیق و رفقاء طریق اور خوشامدی لنگر کے ٹکڑے کھانے والے مرید پیروں کو بے پر کی اڑانے والے پہلے سے منتظر چشم براہ حاضر تھے۔ سلام و مجرا ادا ہوا۔ نعت و مناقب نظم و نثر حضرت اقدس (مرزا صاحب) کی شان میں پڑھی گئی۔ اپنے اور بیگانے اپنے اپنے پایہ اور ٹھکانے سے جاگزیں ہوئے۔ دربار عام منعقد ہوا۔
خدا جانے کیا بات تھی کہ مرزا صاحب نے پہلے ذکر رقیب ہی چھیڑا۔
(مرزا صاحب) بہت لوگ دریافت کرتے ہیں کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد سلطان محمد ساکن پٹی کی نسبت جو پیشگوئی تھی۔ اس کی میعاد پوری ہوگئی اور ابھی پیشگوئی کے پورے ہونے کا نام و نشان بھی نہیں۔ اس لیے ان کو اصل حقیقت پر مطلع کیا جاتا ہے۔
اس پیشگوئی کے دو حصے تھے۔ پہلا حصہ مرزا احمد بیگ کی وفات معہ اس کی دوسری مصیبتوں کے اور دوسرا حصہ اس کے داماد کی وفات کی نسبت تھا۔ یہ دونوں حصہ ایک ہی پیشگوئی اور ایک الہام میں داخل تھے۔ چنانچہ مرزا احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہوگیا۔ اور جیسا کہ پیشگوئی کا منشاء تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں پیشگوئی کے بعد اپنے بیٹے کی وفات اور دو ہمشیروں کی وفات اور کئی قسم کے جرح اور تکالیف مالی اور ناکامیاں دیکھیں اور اس حصہ پیشگوئی کی نسبت میاں شیخ بٹالوی صاحب نے اپنے اشاعۃ السنہ میں لکھا۔ کہ اگرچہ یہ پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ مگر الہام سے
٢٥٢
نہیں ۔ بلکہ علم رمل یا نجوم وغیرہ کے ذریعہ سے کی گئی۔ غرض اس بات سے بڑے دشمن بھی انکار نہ کرسکے۔ کہ اس پیشگوئی کا نصف حصہ بڑی صفائی سے پورا ہو گیا۔
(مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن ج اول ص ٣٩٦، اشتہار نمبر ١٢٣)
(حاضرین جلسہ) آمنا و صدقنا۔ اس میں کیا شک ہے؟ ہر کہ شک آرد کافر گردد۔
(غیر) حضرت جی! مرزا احمد بیگ کا مرنا تو عجائبات سے نہیں کہ ایک امر طبعی ہے۔ اور ہر ایک ذی روح کے واسطے بحکم کل من علیہا فان ایک دن آنا ہے۔ گفتگو تو یہ ہے کہ احمد بیگ کی وفات آپ کی پیشگوئی کا نتیجہ نہیں یہ آپ کا نرالا ڈھکوسلا ہے۔ مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی اشاعۃ السنہ میں اس پیشگوئی کے کسی حصہ کے پورا ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ نمبر ١ جلد ١٥ ص ٢٥ میں بسوال سوم مولانا صاحب نے یہ لکھا ہے کہ اس اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء کو جس میں آپ نے یہ تینوں پیشگوئیاں درج کی ہیں۔ آپ نے پبلک میں شائع کیا تھا۔ اور اس کا کیا ثبوت آپ دے سکتے ہیں۔ کہ اس کو چھاپ کر اپنے پاس رکھ چھوڑا تھا۔ اور پرائیویٹ طور پر خاص خاص آدمیوں میں شائع کیا تھا۔ جب کہ آپ کے بعض اشتہارات کی نسبت یہ معلوم ہو چکا ہے۔
اس سوال سے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ اشتہار جس میں یہ پیشگوئی درج ہے۔ احمد بیگ کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ اس صورت میں آپ ہی فرمادیں۔ کہ آپ کی پیشگوئی کی بنیاد اور الہام کی وقعت کیا ہے۔ جب کہ وہ بعد وقوع ظاہر کیا گیا۔ دوسرے حصہ سلطان محمد داماد احمد بیگ یا رقیب خود کی بابت جو پیشگوئی ہے۔ خواہ الہام سے ہو یا کچھ اور۔ حصہ اول مرقوم جناب کی نسبت نہ کسی کو سوال ہے اور نہ اس کو نتیجہ آپ کی پیشگوئی کا کوئی شخص سمجھتا ہے۔ جب تک کہ آپ ثابت نہ کردیں۔ کہ احمد بیگ کی وفات کی نسبت پیشگوئی اس کی وفات سے پہلے پبلک میں شائع ہو چکی ہے۔ اب آپ سے ان کے نکاح آسمانی اور آپ کی محبوبہ و مطلوبہ کے زوج ثانی کی وفات کی بابت سوال ہے۔ جو اب تک پوری نہیں ہوئی۔
(مرزا صاحب) اس شخص کو کہہ دو۔ کہ خاموش بیٹھا ہماری تقریر سنتا جائے اور کچھ گفتگو دخل در معقولات نہ کرے ورنہ محفل سے (پابدست وگری دست بدست وگری) نکلوا دئے جاؤ گے۔
(حوارین) آپ سنتے نہیں کہ حضور کیا فرماتے ہیں خاموش۔ دم درکش۔ ورنہ ہم کو مجبوراً تعمیل ارشاد میں آپ سے بُرا بننا پڑے۔
(غیر) ہم کو کیا غرض۔ ہم نے ایک حق بات کہی تھی۔ اگر یہاں سچ بولنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اور اس پر جرم میں گلے کٹتے ہیں۔ تو لیجیے ہمارا سلام۔
٢٥٣
(مرزا صاحب) باقی رہا دوسرا حصہ جو احمد بیگ کے داماد کی وفات ہے۔ یہ میعاد مقررہ میں پورا نہ ہوا۔ بلکہ میعاد کے بعد پورا ہوگا۔ تو اس پر وہی لوگ اعتراض کریں گے۔ جن کو خدا تعالیٰ کی ان سنتوں اور قانون سے بے خبری ہے جو اس کی پاک کتاب میں پائے جاتے ہیں۔ ہم کئی بار لکھ چکے ہیں۔ کہ جو تخویف اور انذار کی پیشگوئیاں جس قدر ہوتی ہیں۔ جن کے ذریعے سے ایک بے باک قوم کو سزا دینا منظور ہوتا ہے اور ان کی تاریخیں اور میعادیں تقدیر مبرم کی طرح نہیں ہوتیں۔ بلکہ تقدیر معلق کی طرز سے ہوتی ہیں اور اگر وہ لوگ نزول عذاب سے پہلے توبہ اور استغفار اور رجوع الی الحق سے کسی قدر اپنی شوخیوں اور چالاکیوں اور تکبروں کی اصلاح کریں۔ تو وہ عذاب کسی ایسے وقت پر جا پڑتا ہے۔ کہ جب وہ لوگ اپنی پہلی عادت کی طرف پھر رجوع کرلیں یہی سنت اللہ ہے۔ کہ قرآن کریم اور دوسری الٰہی کتابوں سے ثابت ہوتی ہے اور چونکہ یہ نسبت مستمرہ اور عادت قدیمہ حضرت باری عزوجل کی ہے جس کا ذکر ...... اب بعد اس تمہید کے جاننا چاہیے۔ کہ یہ پیشگوئی بھی بطور انذار اور تخویف کے تھی اور موت کا بطور عذاب کے وعدہ تھا۔
پس خدا تعالیٰ نے تمام ظالم گروہ کے حق میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ...... كَذَّبُوْا بِآيٰتِنَا وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِؤُنَ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللَّهُ وَيُرَدُّهَا إِلَيْكَ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ یعنی ان لوگوں نے ہمارے نشانوں کی تکذیب کی اور ان سے ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے شر دور کرنے کو تیرے لیے کافی ہوگا۔ اور انہیں یہ نشان دکھائے گا۔ کہ احمد بیگ کی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی۔ اور خدا اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا۔ یعنی وہ آخر تیرے نکاح میں آئے گی۔ اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھا دے گا خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ تیرا رب ایسا قادر ہے۔ کہ جس کام کا وہ ارادہ کرے اس کام کو وہ اپنی منشاء کے موافق ضرور پورا کرتا ہے سو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اس قوم کے لیے نشان تھا۔ جو بے باکی اور نافرمانی اور ٹھٹھے میں حد سے زیادہ بڑھ گئے تھے۔ فقرہ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللہُ کی شرح دوسرے الہاموں سے یہ معلوم ہوئی۔ کہ خدا احمد بیگ کو نکاح سے تین سال کے اندر بلکہ بہت قریب موت دے گا۔ اور اس کے داماد کو اڑھائی سال کے اندر ...... احمد بیگ نکاح سے چھ ماہ بعد فوت ہوگیا۔ اور اس نے اس ڈرانے والے الہام کی کیفیت دیکھ لی۔ جو اس کو سنایا گیا تھا۔ اور ایسے ہی اس کے بے دین اقارب کو اُس کے مرنے کا صدمہ کامل طور پر پہنچ گیا۔ لیکن اس کا داماد جو اڑھائی سال کے اندر فوت نہ ہوا تو اس کی یہی وجہ تھی۔ جو اس عبرت انگیز واقعہ کے بعد جو احمد بیگ اس کے خسر کی وفات تھی۔ ایک شدید خوف اور حزن اس کے دل پر وارد ہوگیا۔ وغیرہ وغیرہ ...... چنانچہ اس کے بزرگوں کی ٢٥٤
طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے۔ جو ایک حکیم صا جن میں انہوں نے اپنی توبہ اور استغفار کا حال لک تھا۔ کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی یـ میں سے ہوتی ہیں۔ ہمیشہ بطور تقدیر معلق کے ہو پر جا پڑتی ہیں۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہـ عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات ٹل جائے۔ تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے ہیں۔ اور انہوں تک ان کو دی گئی تھی۔ تو وہ اپنے پاک کلام کی طرح کرے گا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا کہ: میں اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گـ میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا۔ جو اس حکم کے نفاذ ظاہر ہے۔ کہ وہ کیا کیا کرے گا۔ اور کون کون سـ کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھائے گا وغیرہ وغیرہ
(
اس کے بعد جو اس سے انکار کرے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدا پر پکار کر ایک ڈانٹ بتلائی ہے۔
(از انوار الحق پـ
معتقدین و خوشامدی ...... سبحان اللہ ہے اور خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ کے مصداق
باب ٢٣
مولانا محمد حسین
ہم اپنے ناظرین کو مولانا ابوسعید محـ کراتے ہیں۔ مولانا ممدوح معہ چند عمائد شہـ
طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے۔ جو ایک حکیم صاحب باشندہ لاہور کے ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے۔ جن میں انہوں نے اپنی توبہ اور استغفار کا حال لکھا ہے۔ سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا تھا۔ کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ ایسی تاریخیں جو تخویف اور انذار کے نشانوں میں سے ہوتی ہیں۔ ہمیشہ بطور تقدیر معلق کے ہوتی ہیں۔...... جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہیں۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن نفس اس پیشگوئی کا یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبديل لكلمات الله یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے۔ تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا۔ جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی۔ تو وہ اپنے پاک کلام کی پیشگوئی پوری کرنے کے لیے متوجہ ہوگا۔ اور اسی طرح کرے گا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی۔ اور میرے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔ اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا۔ جو اس حکم کے نفاذ میں مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیشگوئی سے ظاہر ہے۔ کہ وہ کیا کیا کرے گا۔ اور کون کون سے قہری عذاب دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھائے گا وغیرہ وغیرہ!
(مجموعہ اشتہارات ج اول اشتہار نمبر ١٣٣ ص ٣٩٦ تا ٣٩٨)
اس کے بعد جو اس سے انکار کرے۔ ان کو صلواتیں سنا کر ایک لمبی چوڑی تقریر فرمائی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبدالجبار صاحب اور مولوی رشید احمد صاحب کو مقابلہ پر پکار کر ایک ڈانٹ بتلائی ہے۔
(از انوار الحق)
معتقدین و خوشامدی ...... سبحان اللہ ! صلی علیٰ کیا کیا نکات فرمائے ہیں۔ جو دل کے اندھے ہیں اور خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کے مصداق ہیں۔ وہ کیا خاک سمجھیں گے۔
باب ٤٣ چہل و سوم
مولانا محمد حسین بٹالوی کا معرکہ
ہم اپنے ناظرین کو مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب کی مجلس وعظ کے کمرہ کی آج پھر سیر کراتے ہیں۔ مولانا ممدوح معہ چند عمائد شہر اور طلبہ معمول کے موافق رونق افروز
٢٥٥
ہیں ۔ مرزا صاحب قادیانی کا مصنفہ ایک رسالہ انوار الاسلام رو برو پڑا ہے۔ اور اس کے چند اوراق ہاتھ میں ہیں۔ حاضرین کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ......
از ہر چہ فہم رنگ رنگ بگذر و حیا کنند
از سخنی که غیر خموشی علاج نیست
پر ہرزہ است تکیہ بچون و چرا کنند
قادیانی کی فرضی و خیالی زوجہ مرزا احمد بیگ مرحوم کی دختر نیک اختر کے شوہر ثانی مرزا سلطان محمد بیگ ساکن پٹی علاقہ قصور ضلع لاہور ( خدا اس کو زندہ رکھے اور اس کی موت چاہنے والے کے منہ میں خاک ڈالے ) کی نسبت قادیانی نے یہ پیشگوئی کی تھی ۔ کہ جس تاریخ وہ قادیانی کی زوجہ مذکورہ اپنے نکاح میں لائے گا اس تاریخ سے اڑھائی برس کے عرصے تک وہ فوت ہو جائے گا۔ اور اس کے مرنے کے بعد پھر خدا تعالیٰ اس زوجہ قادیانی کو قادیانی کی طرف واپس لائے گا۔ اصل عبارت یہ ہے جو اس کے اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء سے نقل کی جاتی ہے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ اول اشتہار نمبر ٤٨ ص ١٣٣ تا ١٣٨)
بسم الله الرحمن الرحیم . نحمده و نصلی . یا معین برحمتك نستعين
ایک پیشگوئی پیش از وقوع کا اشتہار
قدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں قوی فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا
اخبار نور افشاں ١٠مئی ١٨٨٨ء میں جو ...... ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے۔ اس کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجب طرح کی زباں درازی کی ہے......
( دو ورق دافع البلاء میں ص ٢٨١ سے ص ٢٨٢ تک اڈیٹر نور افشاں کی خبر لی گئی ہے۔ جس نے اس پیشگوئی کو شہوت پرستی قرار دیا تھا )
اب یہ جاننا چاہیے کہ جس خط کو ١٠مئی ١٨٨٨ء کے نور افشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے۔ وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرگروہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کی حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی نشان آسمانی کی طالب
٢٥٦
تھی اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد جو چشمہ نور امرتسر میں آپ کی طرف سے مندرج ہے۔ ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا ج اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ انکو خیال کرتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی سمجھتے ہیں او کے لیے ہو رہی ہیں۔ تبھی تو نقارہ بجا یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو ا کا خوب حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسا مکار اور دروغ گو خیال کرتے ہیں۔ او ہیں۔ اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگے تھی۔ سو وہ دعا قبول ہوگئی۔ خدا تعالیٰ ب کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تف چچازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی مفقود الخبری سے اس کی زمین ملکی کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئ جاری ہے۔ نامبردہ ( یعنی ہمارے خط زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف س کے بے کار تھا۔ اس لیے مکتوب الیہ س پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دی کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کامو چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دی آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آگیا خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا ب اور ان کو کہہ دے۔ کہ تمام سلوک اور ی
تھی اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتی تھی اور اب بھی رکھتے ہیں چنانچہ اگست ١٨٨٥ء میں جو چشمہ نور امرتسر میں آپ کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست ان کے اس اشتہار میں بھی مندرج ہے۔ ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے دشمنی ہے۔ اور والد اس دختر کا باعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فداء اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے۔ اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اس کی مدار الہام اور بطور نفس ناطقہ کے ان کے لیے ہو رہی ہیں۔ تبھی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارے میں آپ ہی شہرت دے دی۔ یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفریں بریں عقل و دانش ماموں ہونے کا خوب حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہی ہوں۔ غرض یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعوٰی الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے ہیں۔ اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں۔ اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو گئی۔ خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی۔ کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچازاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبری سے اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے۔ نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام پر کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نامبردہ (یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بے کار تھا۔ اس لیے مکتوب الیہ نے بہ تمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔ اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا۔ کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے۔ کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا۔ اور یہ نکاح تمہارے
٢٥٧
لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن نکاح سے انحراف کیا۔ تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ اور درمیانی زمانہ میں اس دختر کے لیے کراہت اور غم کا امر پیش آئے گا۔
پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی۔ تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے۔ کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کہ جس کی نسبت درخواست کی گئی ہے۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کی نکاح میں لائے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا۔ اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ الہام میں اس بارہ میں یہ ہے۔ كذبوا بآيتنا يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا۔ اور پہلے ہی ہنسی کر دی تھی۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لیے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا۔ اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو چاہے وہ ہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اول احمق اور ناداں لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں۔ اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے۔ اور سچائی کے کہنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔
اس جگہ ایک اور اعتراض نور افشاں کا رفع دفع کرنے کے لائق ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس پر اعتماد کلی تھا۔ تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا۔ اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کے لیے تاکید کی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ایک خانگی معاملہ تھا۔ اور جس کے لیے یہ نشان تھا ان کو تو پہنچا دیا گیا تھا۔ اور یقین تھا کہ والد اس دختر کا ایسی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا اس لیے ہم نے دل شکنی اور رنج دہی سے گریز کیا۔ بلکہ یہ بھی چاہا کہ درحالت انکار وہ بھی اس امر کو شائع کریں۔ اور گو ہم شائع کرنے کے لیے مامور تھے۔ مگر ہم نے مصلحتاً دوسرے وقت کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے۔ شدت غیض وغضب سے اس
٢٥٨
مضمون کو آپ ہی شائع کرا دیا۔ اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک دو ہفتہ تک دس ہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہوں گے۔ اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا۔ اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جابجا پڑھا گیا۔ اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کی منادی کی گئی۔ اب جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق بے جا افتراء کرنا شروع کر دیا۔ تو ہم پر فرض ہو گیا۔ کہ اپنے قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔ یہ خیال لوگوں کو واضح ہو۔ کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں۔ کہ جو پہلے پہلے اسی وقت ظاہر کی ہو۔ بلکہ مرزا امام الدین و نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ جانتے ہیں۔ کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اس کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی۔ یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے والا ہے۔ اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے۔ کہ وہ اس پیشگوئی کا شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی اور اس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہیں تھا۔ اور اس میں شرائط کی تصریح اور وہ بھی اجمالی حالت میں تھی۔ سمجھ دار آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ پہلی پیشگوئی اس زمانہ کی ہے کہ جب کہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی۔ اور جبکہ یہ پیشگوئی بھی اسی شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی۔ یعنی اس زمانہ میں یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔ تو اس پر نفسانی افتراء کا گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو کیا ہے۔ والسلام من اتبع الہدیٰ!
خاکسار غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور۔ پنجاب ٢١ جولائی ١٨٨٨ء
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠ تا ٢٨١، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠ تا ٢٨١)
ازانجا کہ پیشگوئی یا الہام صرف نتیجہ جوش احتلام قادیانی تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ اس پیشگوئی کے مضمون اور وعدہ پر مطمئن نہ تھا۔ اور خوب جانتا تھا کہ میں نے ایک شکار کے لیے جال پھیلایا ہے۔ جو ہاتھ پاؤں مارنے کے بغیر دام میں آنا نہایت مشکل ہے۔ لہٰذا اس نے اس وعدہ پر صبر وسکوت اختیار نہ کیا۔ بلکہ وہ ناجائز وسائل و تدابیر کے درپے ہو گیا۔ پس پہلے تو اس نے مرزا احمد بیگ اپنی فرضی زوجہ کے والد کو ڈرانا۔ اور پھسلانا شروع کیا۔ اور کئی خط متضمن ترغیب و ترہیب (ڈرانے) کے ذریعے سے اس کو دام میں لانا چاہا۔ اور جب وہ قابو میں نہ آیا۔ تو پھر اس کی ہمشیرہ کو جو قادیانی کے بیٹے فضل احمد کی خوش دامن تھی۔ (اس خیال سے کہ عورتیں عموماً بزدل ہوتی ہیں۔ اور
٢٥٩
ایسی باتیں سن کر ڈر جاتی ہیں) ڈرانا اور پھسلانا چاہا اور اس کے نام ایک خط رجسٹری شدہ متضمن ترغیب و ترہیب روانہ کیا۔ وہ عورت بھی جوانمرد نکلی۔ تو اس کے شوہر کو (مرزا علی شیر بیگ) کے نام اس مضمون کا خط لکھا۔ وہ خط میں نقل کیا جاتا ہے جس میں پہلے خطوں کی بھی تصدیق پائی جاتی ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی مشفق مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح فرق نہ تھا۔ اور میں آپ کو ایک غریب مزاج اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو میں آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ اس سے آپ کو بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں اللہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں۔ اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے۔ کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورے میں ساتھ ہیں آپ سمجھ سکتے ہیں۔ کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھے بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھا بلکہ وہ تو ایک ہاں سے ہاں ملاتے رہے۔ اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا۔ اور اب نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے۔ مگر یہ تو آزمایا گیا۔ کہ جس کو میں خویش سمجھتا تھا۔ اور جس کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور میری وارث ہو۔ میرے خون کے پیاسے رہے۔ میری عزت کے پیاسے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیا کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھا کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آ کر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم
٢٦٠
اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص ک آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہیں رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صا ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں جب میں ایسا ذلیل ہوں۔ تو میرے بیٹے سے تعلق خدمت میں خط لکھ دیا ہے۔ کہ اگر آپ اپنے ارادے روک نہ لیں۔ تو پھر جیسا کہ آپ کا خود منشاء ہے۔ میر نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی (آسمانی منک دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے لاوارث کروں گا۔ اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے میں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جواب پ آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور ہوں۔ کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور احمد بیگ اور گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی ک ہے۔ کہ اب ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتا توڑ دوں گا۔ آ ایسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جہ میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناتے رشتے ٹوٹ ہیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔
الخ
جب وہ صاحب بھی قابو نہ آئے۔ تو ت بیگ کے خیر خواہ وصلاح کار تھے۔ گھورنا اور ڈرانا پرلے درجے کے شہوت پرست سے (بشرطیکہ وہ م ضعیف العمری بیوی کی طلاق دینے کا ڈر سنایا اور چھپ اشتہار چھاپ کر مشتہر کر دیا اور ادھر فریق ثانی اور ا ٭ مرزا سلطان احمد بیگ کو لکھا۔ کہ تم اس جائے گا۔ تمہاری جوانی پر مجھے رحم آتا ہے تم اس
اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہیں دیا۔ اور بار بار کہا اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں۔ تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے؟ لہٰذا میں نے آپ کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے۔ کہ اگر آپ اپنے ارادے سے باز نہ آئیں۔ اور اپنے بھائی کو نکاح سے روک نہ لیں۔ تو پھر جیسا کہ آپ کا خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی (آسمانی منکوحہ نام ہے) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا۔ تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اور اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا۔ اور اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے۔ اور یہ ارادہ ان کا بند کر دو گی تو میں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور میرا مال اور اس کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں۔ کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائیں۔ اور گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے۔ کہ اب ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتا توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے۔ تو ایسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناتے رشتے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں یہ نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! الراقم: غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩٢ء
جب وہ صاحب بھی قابو نہ آئے۔ تو قادیانی نے اپنی پرانی بیوی اور بچوں کو جو مرزا احمد بیگ کے خیر خواہ و صلاح کار تھے۔ گھورنا اور ڈرانا شروع کیا۔ سب کو ایسی ناجائز دھمکی دی۔ کہ کسی پرلے درجے کے شہوت پرست سے (بشرطیکہ وہ شریف کہلاتا ہو) ایسی جرأت نہ ہو سکے۔ عاجز اور ضعیف العمر بیوی کی طلاق دینے کا ڈر سنایا اور بچوں کو عاق اور لاوارث کر دینے کا۔ اور اس مضمون کا اشتہار چھاپ کر مشتہر کر دیا اور ادھر فریق ثانی اور اس کے وارثوں کو دھمکانا اور ڈرانا شروع کیا۔
- مرزا سلطان احمد بیگ کو لکھا۔ کہ تم اس تعلق کو قطع کر دو۔ تمہارا نکاح دوسری جگہ کرا دیا
جائے گا۔ تمہاری جوانی پر مجھے رحم آتا ہے تم اس ارادہ سے باز آؤ۔ اور اس کے وارثوں کو متعدد ٢٦١
خطوں کے ذریعہ سے ڈرایا اور دھمکایا۔ مگر وہ لوگ بھی جوانمرد نکلے۔ اور اس کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبکیاں قرار دے کر اپنے خیال پر قائم و مستحکم رہے ہم ان کے نام کے خطوط کی اس مقام پر نقل کرنے کی گنجائش نہیں دیکھتے۔ اور بجائے اس کے قادیانی کے اعتراف و اقرار تخویف (ڈرانے) و خطوط نویسی کو نقل کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ آپ اشتہار چار ہزار کے نوٹ ص ٤ میں فرماتے ہیں۔ ”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر پروانہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی۔ اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی و استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا۔ کہ پیشگوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔ مگر اے حضرات ناظرین چونکہ وہ الہام محض کذب اور صرف جوش احتلام قادیانی تھا۔
(اگر اس میں صدق کا دخل ہوتا۔ تو قادیانی اس کو سچ بنانے کے لیے ان مکروہات کا مرتکب نہ ہوتا کہ بیوی کو طلاق اور بیٹے کو عاق اور بہو کو بیٹے سے طلاق دلوائے) لہذا اس کا کوئی ناجائز حیلہ کارگر نہ ہوا۔ اور سات تاریخ اپریل ١٨٩٢ء کو قادیانی کی منکوحہ آسمانی کا نکاح خوانی اسی گاؤں میں (جوان) مرزا سلطان محمد بیگ سے (خدا اس کو اس نکاح پر دیر گاہ متمتع رکھے) ہو گیا۔ چنانچہ اشاعۃ السنۃ نمبر ١ جلد ١٥ کی ص ١٦ میں قادیانی سے منقول ہے۔ پھر اس نکاح سے چار مہینے کے بعد مرزا احمد بیگ نے حسب مقتضائے قضا و قدر و تقاضائے عمر رحلت کی۔ تو اس سے قادیانی کی جان بچ گئی۔ اور رال ٹپک پڑی۔ اپنی بغلیں بجانی شروع کر دیں۔ اور متعدد تحریرات میں (کہ از انجملہ بعض اشاعۃ السنۃ نمبر ١ جلد ١٥ میں منقول ہیں) یہ باتیں کیں کہ اس کی موت میری ہی پیشگوئی کا اثر ہے اور آئندہ سلطان محمد کے لیے بھی موت تیار ہے۔
ہرچند ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ نے قادیانی کی ان باتوں کا دنداں شکن جواب دیدیا اور جلد ١٥ کے نمبر ١، ٢ میں اس پر پچاسی سوالات جرح کر کے اس کو مجروح و نیم بسمل بلکہ مردہ کر دیا۔ ان سوالات میں اس نے یہ ثابت کر دیا۔ کہ ایسی پیشگوئیاں نجومی و جفری جوتشی بھی کیا کرتے ہیں۔ جو بعض اوقات سچی نکلتی ہیں یہ پیشگوئی الہامی نہیں ہو سکتی۔ جن کے جواب میں قادیانی سے بجز سکوت کچھ بن نہ پڑا۔ جس سے سمجھا گیا۔ بس قادیانی کا پردہ پھٹ گیا مگر اے حضرات ناظرین! قادیانی بڑا صاحب حوصلہ و ہاضمہ ہے وہ اس قدر سوالات جرح کا بار سہہ کر بے ہوش و حواس ہو کر گر پڑا۔ اور پھر بھی مرزا احمد بیگ کی موت کو اپنے الہام کا نتیجہ قرار دے کر اس سے مرزا سلطان محمد اور ان کے بہی خواہان اسلام کو ڈرانے لگ گیا۔ اور اپنے دام افتادہ احمقوں کو اپنی تقلید پر جمانے لگا۔
٢٦٢
چنانچہ رسالہ (شہادۃ القرآن مطبوعہ ١٨٩٣ء ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) میں اس نے کہا ہے۔ ”پھر ماسوا اس کے بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ١٥؍ جون ١٨٩٣ء سے ١٥ ماہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے۔ اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١؍ ستمبر ١٨٩٣ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لیے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور امات دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو۔ خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کرسکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دے۔ اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرا دے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ ۔۔۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے۔ تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے۔ اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ ڈھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- ٥...... اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے۔ کہ تمام واقعات انسان کے
اختیار میں نہیں۔
واز انجا کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ جھوٹوں کا منہ کالا کرتا ہے۔ گو ایک وقت تک ان پر حمرہ الخجل (ندامت کی سرخی) ۔۔۔۔ رہی۔ لہٰذا سات اپریل ٩٣ء سے اڑھائی سال کی مدت گزر گئی۔ مرزا سلطان محمد زندہ صحیح و سالم خوش و خرم رہا۔
اور اس نکاح سے ان کو خدا تعالیٰ نے ولد صالح بھی عطاء کیے جس سے قادیانی کی
٢٦٣
دروغ گوئی اور ذلت اور رسوائی تمام دنیا پر ظاہر ہوئی۔ اور اس کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ مگر اے حضرات قادیانی بڑا صاحب حیا و حوصلہ و ہاضمہ ہے کہ وہ اس ذلت اور رسوائی کو شیر مادر کی طرح غٹ غٹ کر کے نوش فرما کر ہضم کر گیا۔ اور اس جوان کی عدم وفات پر اس نے ایسی راست بیانی کی ہے۔ جس نے جہان کے بے شرموں اور جھوٹوں کو مات کر دیا۔ ٢٦ اکتوبر ١٨٩٣ء کو اس نے عنوان ذیل کی ایک تحریر شائع کی ہے۔
مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد سلطان محمد کی نسبت جو پیشگوئی کی تھی۔ اس کی حقیقت اس تحریر میں چونکہ قادیانی نے حسب عادت قدیم تطویل بلا طائل کی ہے اور پورے آٹھ صفحہ میں بے ہودہ سرائی اس سے ہوئی ہے لہٰذا ہم اس کی پوری عبارت کے نقل کرنے کی اس مقام میں گنجائش نہیں پاتے۔ صرف اس کا خلاصہ نقل کرتے ہیں۔
- ١....... اس پیشگوئی کے دو حصہ ہیں پہلا اور بڑا مرزا احمد بیگ کی وفات تھی دوسرا حصہ اس کے
داماد مرزا سلطان محمد بیگ کی وفات۔
- ٢....... پہلا حصہ پورا ہو گیا جس کا اقرار صاحب اشعۃ السنہ نے بھی کیا اور کہا ہے کہ اگرچہ
پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔ مگر یہ الہام سے نہیں۔ بلکہ نجوم یا رمل وغیرہ سے کی گئی ہے۔
- ٣....... دوسرا حصہ گو میعاد میں پورا نہیں ہوا۔ مگر بعد میعاد پورا ہوگا۔ میعاد میں پورا نہ ہونے کی
وجہ یہ ہے کہ مرزا سلطان محمد بیگ بھی عبداللہ آتھم کی طرح ڈر گیا تھا۔ بلکہ اس کے دل پر شدید خوف وحزن وارد ہوا تھا۔ اس لیے وعدہ عذاب موت کو خدا نے میعاد سے ٹلا دیا۔
- ٤....... مرزا سلطان محمد بیگ کے ڈر جانے پر دو دلیلیں ہیں۔ ایک عقلی ، دوسری نقلی.......عقلی یہ
ہے کہ جب ایک پیشگوئی میں دو شخصوں کے ہونے کی خبر دی جائے۔ اور ان میں سے ایک شخص مطابق پیشگوئی فوت ہو جائے۔ تو اس سے دوسرے کا ڈر جانا لازمی امر ہے۔ بناء علیہ خبر پیشگوئی کے مطابق مرزا احمد بیگ کے مرجانے سے۔ سلطان محمد بیگ ایسا ڈر گیا ہوگا۔ کہ وہ جیتا ہی مر گیا۔
نقلی.......دلیل یہ ہے کہ مرزا سلطان محمد بیگ کی بزرگوں کی طرف سے ہمیں دو خط پہنچے۔ جو ایک حکیم صاحب باشندہ لاہور کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔ جن میں انہوں نے اپنی توبہ واستغفار کا حال لکھا ہے سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی۔
- ٥....... مرزا سلطان محمد بیگ کے ڈر جانے سے اس عذاب موت کا ٹل جانا گو اس پیشگوئی میں
بطور شرط مذکورہ نہیں تھا۔ مگر یہ ربانی کتابوں کی تعلیم سے ثابت ومعلوم ہے۔ کہ خدا تعالیٰ مؤقت اور
٢٦٤
موعود عذاب موت کو لوگوں کے ڈر جانے سے قدیم سنت ہے۔ لہٰذا اگر کسی خبر و پیشگوئی میں لحاظ کرتا ہے اور اس کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔
- ٦....... اس سنت الٰہی سے مولوی عبدالجبار
غزنوی واقف ہیں۔ اگر وہ اس سے انکار کریں جلسہ عام میں مجھے (قادیانی) سے اس بارہ میں مباحثہ سنیں اور صرف دو گھنٹہ تک مجھے ان کے ہوگا۔ کہ یہ دعویٰ نصوص صریحہ سے ثابت نہیں دوں گا۔ اگر وہ قسم کھا کر کہیں عادت نہیں ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور میعادوں
یہ آپ کے آٹھ صفحہ کا پورا مطلب
ریمارکس (تشریحات) سنیں۔
- ١....... میں جو آپ نے فرمایا ہے کہ اس پیش
پہلے فرمایا ہے کہ احمد بیگ مر چکا تھا نہ مرتا تو یہی
مگر قادیانی کے اصل الہام یا اشتہار ٢٠ فروری ١٨٩٣ء ص ١٨٢ اور اس کے خط ٤ مئی ١٨٩٣ء ١٨٧ اشاعۃ السنہ نمبر ١ تا ٢ جلد ١٦ کے ملاحظہ سے مقصود الہام منکوحہ آسمانی قادیانی کا اس کے پہلا حصہ اور ایک ذریعہ یا زینہ ہے۔ اس کو قادیانی
- ٢....... میں جو قادیانی نے کہا ہے کہ پیش
اعتراف کرلیا ہے۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے اش کہاں ہے۔ تو بتا دے کہ اشاعۃ السنہ کا یہ اعتراف کس نمبر ١ و ٢ میں تو اس کے وقوع کی لاعلمی ظاہر کی گئی ہے
- ٣....... جو قادیانی نے مرزا سلطان محمد بیگ
کے ایک دوست (منشی محمد سعید نقشہ نویس ریلو سے سوالات اس امر کے متعلق کیے تو انہوں نے
موعود عذاب موت کو لوگوں کے ڈر جانے سے اپنے وقت سے ٹلا دیا کرتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنت ہے۔ لہٰذا اگر کسی خبر و پیشگوئی میں اس کا ذکر بطور شرط نہ بھی ہو۔ تو بھی خدا تعالیٰ اس کا لحاظ کرتا ہے اور اس کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔
- ٦...... اس سنت الٰہی سے مولوی عبدالجبار امرتسری اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور ابوسعید محمد
حسین واقف ہیں۔ اگر وہ اس سے انکار کریں تو وہ تینوں یا ان میں سے ایک تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام میں مجھے (قادیانی) سے اس بارہ میں نصوص صریحہ کتاب اللہ اور احادیث نبویہ و کتب سابقہ سنیں اور صرف دو گھنٹہ تک مجھے ان کے بیان کرنے کی مہلت دیویں۔ پھر اگر ان کا یہ خیال ہوگا۔ کہ یہ دعویٰ نصوص صریحہ سے ثابت نہیں۔ اور جو دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ وہ باطل ہیں تو ہم دوسو روپیہ انعام دیں گے۔ اگر وہ قسم کھا کر کہہ دیں گے کہ وہ دلائل باطل ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور میعادوں میں کسی کی توبہ یا خوف سے تاخیر ڈال دیتا ہے۔
یہ آپ کے آٹھ صفحہ کا پورے مطالب کا خلاصہ ہے۔ اب ناظرین اس پر ہماری ریمارکس (تشریحات) سنیں۔
- ١...... میں جو آپ نے فرمایا ہے کہ اس پیشگوئی کا بڑا حصہ مرزا احمد بیگ کی موت تھی۔ یہ اس
لیے فرمایا ہے کہ احمد بیگ مر چکا تھا نہ مرتا تو یہی چھوٹا حصہ ہو جاتا۔
مگر قادیانی کے اصل الہام یا احکام اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء ص ١٤٥ اور اشتہار ٢ مئی ١٨٩٣ء ص ١٨٢ اور اس کے خط ٣ مئی ٩٣ء اور اس کے مضمون ص ٨٠ شہادت القرآن منقول ص ١٨٧ اشاعۃ السنہ نمبر ١ تا ٢ جلد ١٦ کے ملاحظہ سے ناظرین پر مخفی نہ ہوگا۔ کہ بڑا حصہ اس کا اور اصل مقصود الہام منکوحہ آسمانی قادیانی کا اس کے پاس آنا ہی موت مرزا احمد بیگ تو اس کا ایک چھوٹا حصہ اور ایک ذریعہ یا زینہ ہے۔ اس کو قادیانی بڑا حصہ قرار دیتا ہے جو سفید جھوٹ ہے۔
- ٢...... میں جو قادیانی نے کہا ہے کہ پہلے حصہ کے پورا ہونے کا صاحب اشاعۃ السنہ نے
اعتراف کر لیا ہے۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے اور دروغ گوئم بر روئے تو۔ کا مصداق ۔ قادیانی سچا ہے۔ تو بتاوے۔ کہ اشاعۃ السنہ کا یہ اعتراف کس صفحہ میں مرقوم ہے۔ اشاعۃ السنہ کے ص ٣٩ جلد ١٥ نمبر ٢ میں تو اس کے وقوع کی لاعلمی ظاہر کی گئی ہے۔
- ٣...... جو قادیانی نے مرزا سلطان محمد بیگ کا ڈر جانا بیان کیا ہے یہ بھی محض کذب ہے۔ ہم
نے ایک دوست (منشی محمد سعید نقشہ نویس راولپنڈی) کی معرفت مرزا سلطان محمد بیگ سے چند سوالات اس امر کے متعلق کیے تو انہوں نے جواب میں ڈر جانے سے انکار کیا۔ جو معہ سوال ذیل
٢٦٥
میں نقل کیا جاتا ہے: (اشعۃ السنہ ) مرزا غلام احمد کے الہام سے آپ کے دل پر کیا اثر ہوا تھا کیا آپ ڈر گئے تھے یا نہیں۔ (مرزا سلطان محمد ) مرزا صاحب کو میں جھوٹا اور دروغ گو جانتا تھا۔ اور جانتا ہوں اور میں مسلمان آدمی ہوں۔ خدا کا ہر وقت شکر گزار ہوں۔ سلطان محمد بیگ بقلم خود:
حضرات ناظرین! کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ درصورت انکار مرزا سلطان محمد بیگ سے قادیانی نے قسم کا مطالبہ بوعدہ انعام ہزار لغایت چار ہزار کیوں نہیں کیا۔ جب کہ عبداللہ آتھم سے کیا تھا۔ اس کی وجہ بھی ہم سے سنیں۔ قادیانی کو خوب یقین تھا کہ سلطان محمد مسلمان پھر نوجوان پھر انگریزی خواں پھر پولیس والوں کا صحبتی اور متعلق ہے۔ وہ اپنے سچے انکار پر فوراً قسم کھا کر روپیہ وصول کرے گا۔ عبداللہ آتھم کی طرح بڈھا اور ضعیف القلب اور عیسائی نہیں کہ وہ سچی قسم سے ڈر جائے گا۔ حضرات! اس شخص کی ان پالیسیوں کو اور اس کے مکار اور عیار ہونے کا یقین کریں۔
٤....... یہ جو مرزا سلطان محمد بیگ کے ڈر جانے پر عقلی دلیل بیان کی ہے وہ بھی محض دروغ و مغالطہ دہی عقل مند انسان اگر کسی پیشگوئی کرنے والوں کو جھوٹا جانتا ہو۔ تو ایک نہیں ہزار بار اگر وہ کسی شخص کے موت کی پیشگوئی کرے اور پھر وہ شخص فوت بھی ہو جائے تو وہ عقل مند اس موت کو پیشگوئی کا اثر نہیں سمجھتا اور نہ اس سے ڈرتا ہے بناء علیہ احمد بیگ کی موت سے سلطان محمد کا ڈر جانا لازمی اور ضروری نہ ہوا۔
اور جو نقلی (مروی) دلیل بیان کی ہے وہ ہرگز لائق اعتماد و قبول نہیں کیونکہ اس روایت کے راوی اور ان خطوط کے کاتب حکیم فضل الہی صاحب متوطن (کوٹ بھوانداس ضلع گوجرانوالہ) مقیم لاہور ہیں۔ خاکسار نے ان کو اپنی فرودگاہ لاہور میں بلا کر حال دریافت کیا۔ تو انہوں نے چند اشخاص کے ساتھ اقرار و اظہار کیا۔ کہ کل خطوطوں کا کاتب میں ہی ہوں۔ اور ان کی یہ روایت قادیانی کی تائید وتصدیق میں تین وجہ سے لائق قبول واعتماد ہیں۔
اول....... کہ ان خطوط کا بقول قادیانی وحسب بیان حکیم صاحب مرزا سلطان محمد بیگ کا اعتراف قصور وتوبہ درج نہیں جو کچھ ہے۔ ان کے بزرگوں کی طرف سے ہے وازانجا کہ قصور نکاح ثانی زوجہ آسمانی قادیانی کا مرتکب اور اصل مباشر خود مرزا سلطان محمد بیگ صاحب ہیں۔ نہ ان کے بزرگ جو صرف معاون ومشیر ہیں۔ لہذا وہ اعتراف قصور وتوبہ اصل مباشر کے انکار واصرار کے مقابلے کان لم یکن وناقابل اعتبار ہے۔ ٢٦٦
دوم....... یہ کہ مرزا سلطان محمد بیگ نے اپنی اس انہوں نے ارسال کی ہے۔ اس سے انکار کیا ہے استغفار غلام احمد کے نام بھیجا ہو۔ لہذا ان خطوط اعتراف ہے اور غیر راقم کے قلم سے لکھا ہوا ہے۔ ا سوم....... اس لیے کہ اس اعتراف توبہ کے ناقل چمچے حواری (مددگار) اور ذوالوجہین (دورخی) ہیں کہتے ہیں کہ میں قادیانی کا حواری نہیں ہوں۔ اور جب کرتے ہیں۔ تو ان کے ہم رنگ و مددگار بن جاتے سے ناظرین یقین کریں گے کہ حکیم صاحب قادیانی شہادت قادیانی کی تائید میں مقبول نہیں۔
مرزا سلطان محمد بیگ کے خوف پر عقلی د تمام قرائن کو دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا تھا۔ کہ تاریخ محض جھوٹ ہے۔ اور بناء فاسد علی الفاسد۔ آپ ہے اس کا گزرنا تو آپ ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء سے پہلے چھاپنے کے ایسے عادی ہیں۔ کہ اپنی محبوبہ زوجہ کرنے کے اشتہار میں نہیں رک سکے۔ پس اگر ا معلم الملکوت آپ کو القاء کرتا۔ یا واقعہ میں آپ طرف سے ملتا۔ تو آپ ضرور اس کا اشتہار کر دیتے اور اس جوان کی صحت کے ساتھ زندہ چمچے حواری کی مدد سے یہ ڈھکوسلا بنا لیا۔
دنیا میں کون ایسا احمق ہے جو ان واہ مان لے گا۔ اور اس کو آپ کی بناوٹ نہ کہے گا۔
٥....... جو آپ نے ڈر جانے سے الہیٰ وعدہ ہے۔ یہ بھی محض کذب ہے جس کا کافی بیان جلد ا
٦....... جو آپ نے ہم تینوں میں سے کسی ای
دوم...... یہ کہ مرزا سلطان محمد بیگ نے اپنی اس تحریر میں جو ہمارے سوالات کے جوابات میں انہوں نے ارسال کی ہے۔ اس سے انکار کیا ہے کہ ان کے کسی رشتہ دار نے کوئی خط متضمن توبہ و استغفار غلام احمد کے نام بھیجا ہو۔ لہٰذا ان خطوں کا اعتراف قصور توبہ باوجودیکہ وہ غیر مباشر کا اعتراف ہے اور غیر راقم کے قلم سے لکھا ہوا ہے۔ لائق اعتبار نہیں ہے۔
سوم...... اس لیے کہ اس اعتراف توبہ کے ناقل حکیم فضل الدین صاحب ہیں اور وہ قادیانی کے پکے حواری (مددگار) اور ذوالوجہین (دورخی) ہیں مسلمانوں کی جماعت میں وہ آتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ میں قادیانی کا حواری نہیں ہوں۔ اور جب قادیانی کے حواریوں اور پیروؤں میں خلوت کرتے ہیں۔ تو ان کے ہم رنگ و مددگار بن جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ.......... ان وجوہات ثلاثہ سے ناظرین یقین کریں گے کہ حکیم صاحب قادیانی کے پکے حواری ہیں۔ لہٰذا ان کی روایت و شہادت قادیانی کی تائید میں مقبول نہیں۔
مرزا سلطان محمد بیگ کے خوف پر عقلی و نقلی دلیل بیان کر کے جو قادیانی نے کہا ہے کہ ان تمام قرائن کو دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا تھا۔ کہ تاریخ وفات سلطان محمد بیگ قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ اور بناء فاسد علی الفاسد۔ آپ کو یہ یقین یا کم سے کم غالب ظن یا ادنیٰ درجہ کا وہم بھی اس کا گزرتا تو آپ ٦ اکتوبر ١٨٩٢ء سے پہلے اس مضمون کا اشتہار جاری کرتے۔ آپ اشتہار چھاپنے کے ایسے عادی ہیں۔ کہ اپنی محبوبہ زوجہ کا حصول اور منکوحہ زوجہ کی طلاق اور اولاد کو عاق کرنے کے اشتہار میں نہیں رک سکے۔ پس اگر آپ کو کچھ بھی اشارہ عالم بالا سے ہوتا یا آپ کا ملہم معلم الملکوت آپ کو القاء کرتا۔ یا واقعہ میں آپ کو کوئی خط معذرت بزرگان سلطان محمد بیگ کی طرف سے ملتا۔ تو آپ ضرور اس کا اشتہار کر دیتے۔ تاریخ وفات مرزا سلطان محمد بیگ گزر گئی۔ اور اس جوان کی صحت کے ساتھ زندگی آپ کی شرمندگی کا موجب ہوئی تب آپ کے پکے حواری کی مدد سے یہ ڈھکوسلا بنا لیا۔ دنیا میں کون ایسا احمق ہے جو ان واقعات کو سن کر یا جان کر آپ کے اس ڈھکوسلے کو مان لے گا۔ اور اس کو آپ کی بناوٹ نہ کہے گا۔
٥...... جو آپ نے ڈر جانے سے الٰہی وعدہ و عذاب ٹل جانے کو سنت قدیم خداوندی قرار دیا ہے۔ یہ بھی محض کذب ہے جس کا کافی بیان جلد ٢ نمبر ١٦ ص ٥٦ سے ص ١٠٠ تک ہو چکا ہے۔
٦...... جو آپ نے ہم تینوں میں سے کسی ایک کی قسم اس بیان پر چاہی ہے اس قسم کے لیے
٢٦٧
خاکسار قبل تاریخ جس مقام میں بجز قادیاں آپ چاہیں حاضر ہے۔ مگر اس پر انعام دو سو روپیہ نہیں چاہتا۔ بلکہ بجائے دو سو روپیہ کے آپ کے مسلمان ہو جانے اور عقائد جدیدہ کفریہ سے آپ کے تائب ہونے کا طالب ہے اور اگر آپ اس سے انکار کریں۔ تو پھر اور انعام تجویز کیا جائے گا۔ جو از قسم مال ہوگا۔ اس کا اظہار آپ کے مسلمان ہونے اور عقائد کفریہ سے تائب ہونے سے انکار کے بعد کیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اشاعۃ السنہ نمبر ٦ جلد ٩ ص ١٧٩ سے ١٩٥ تک۔
حاشیہ جات
- ١؎ وہ یہ ہے۔ ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین متین علی سنت
ابراہیم حنیفا۔ چو بدنداں تو کرمے افتاد۔ آں نہ دندانے بکن اے استاد۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصوصیت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم الہام الہیٰ یہ اشتہار دیا تھا۔ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر و قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے۔ یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔ چنانچہ تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیل دار لاہور میں ہے۔ اور تائی صاحبہ جنہوں نے بیٹا بنایا ہوا ہے۔ وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں۔ کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ دوسروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی۔ تو ہمیں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا وہی اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہو گئے ہیں۔ جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا۔ اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔ اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہیں دیا۔ اور بکلی مجھ سے بے زاری ظاہر کی۔ اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کے ذریعے بھی مجھے زخم پہنچتا۔ تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا۔ اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا۔ کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اور عمداً چاہا۔ کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔
٢٦٨
اول یہ کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی تھی اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے۔ اور دین کی ہتک ہوگی۔ اور مخالفوں کو فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چلانے میں کچھ فرق نہیں کیا۔ اور اس نادان نے یہ نہ سمجھا کہ خداوند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے وہ اپنے بندے کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اگر سارا جہان مجھے برباد کرنا چاہے۔ تو اپنی رحمت کے ہاتھ سے مجھے تھام لے گا کیونکہ میں اس کا ہوں اور وہ میرا۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں ناچیز قرار دیا۔ دینی مخالفوں کو مدد دی۔ اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور کی سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا اپنے خدا کا تعلق بھی چھوڑ دیا اور اپنے باپ کا بھی۔ اور ایسا ہی ان دونوں کی والدہ نے کیا۔ سو چونکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔ اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ سے کہ دوسری مئی ہے عوام اور خاص پر بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں۔ کہ اگر یہ لوگ اس ارادے سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ و نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے کر رہی ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا۔ اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ نکاح ہو گیا۔ تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اس روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو۔ طلاق نہ دیوے۔ تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا۔ اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی اور قرابت اور ہمدردی دور ہو جائے گی۔ اور کسی کی بدی، رنج راحت، شادی ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔ کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دیے۔ اور توڑنے پر راضی ہوگئے۔ جو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے برخلاف ہے اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مومن دیوث نہیں ہوتا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)
قطع رحم بہ ز مودت قربیٰ
والسلام علی من تبع الہدیٰ! مرزا غلام احمد لدھیانہ ٢ مئی ١٨٩١ء
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)
٢٦٩
باب ٤٥ چہل و پنجم
سید واجد علی ملتانی کا دافع البلاء کا جواب
ایک کھلی چٹھی
سید واجد علی صاحب سیکرٹری انجمن اسلامیہ ملتان نے مرزا صاحب کے رسالہ دافع البلاء پر ایک کھلی چٹھی شائع کی ہے جس کی تمہید حسب ذیل ہے۔
”میرے ایک دیرینہ کرم فرمانے جو مرزائی ہو گئے ہیں۔ رسالہ دافع البلاء میرے پاس پہنچایا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے طاعون کے متعلق لکھا ہے اور جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ابن مریم سے بدرجہا اچھا ہوں۔ میں نبی ہوں، خاتم الانبیاء و خاتم الاولیا ہوں اور محمد رسول اللہ خاتم النبیین کے برابر ہوں۔ کیونکہ میں سچا شفیع ہوں اور ہر ایک زمانہ میں قیامت تک نجات دلانے والا ہوں۔ اہل بیت رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر ہوں میں ابن اللہ ہوں۔ اور جس طرح ابن اللہ ہے بطور اولاد ہوں۔ اسی طرح مجھ سے بطور میری اولاد کے ہے۔ یعنی ابو اللہ ہی ہوں۔ میرا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے۔ مجھ سے بیعت کرنا خدا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کے برابر ہے مجھے اس طرح نہ ماننے کی وجہ سے اور مجھے بُرا کہنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بطور سزا کے اس ملک میں طاعون بھیجا ہے اور اس کا علاج جسمانی اور روحانی جو آج تک دنیا نے سوچا اور اختیار کیا ہے، کوئی ٹھیک نہیں۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکانا دعا مانگنا ہے کہ ہمیں اس وبا سے محفوظ رکھے یہ بھی ضلالت ہے علاج صحیح یہ ہے کہ مجھ پر ان اوصاف و فضائل و شرائط کے ساتھ ایمان لاؤ۔ جو اس طرح مجھ پر ایمان نہ لائے گا۔ مبتلائے طاعون ہو کر مر جائے گا۔
اور اپنے ان کل فضائل اور دعاوی کی صحیح اور حق ہونے کی دلیل یہ پیش کی ہے۔ کہ تمام پنجاب میں طاعون پھیل گیا ہے۔ قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلے پر طاعون کا زور ہے۔ مگر خاص قادیاں اس سے پاک ہے۔ اور ہمیشہ پاک رہے گا۔ بلکہ جو طاعون زدہ قادیاں میں آیا اچھا ہو گیا اور جو آئے گا۔ اچھا ہو جائے گا۔
میں نے مرزا صاحب کے ان دعاوی اور استدلال کو پڑھا۔ اور جو میری رائے اس پر ہوئی۔ میں نے نہایت نیک نیتی کے ساتھ بذریعہ ایک خط کے اپنے اس عنایت فرما دوست پر ظاہر کرنی چاہی۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ میری رائے مرزائی معتقدات اور تعلیمات کے خلاف ہے۔
٢٧٠
تو مجھے کچھ ڈرایا اور دھمکایا تا کہ میں اپنی اس بات پر زور دیا۔ لا تلبسوا الحق دوست مرزائی...... مناسب نہیں کہ آپ جس وقت آپ اس مقابلہ میں پھنس ج گے۔ کیونکہ یہ راستہ بڑا سخت راستہ ہے میں آپ کو مکرر کہتا ہوں۔ کہ آپ اوہام کریں۔
(میں) اپنے محترم دوست اور مجھے ان سے شرف نیاز مندی حاصل لکھنے سے میرا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ مرزا کچھ اس خط میں عرض کیا ہے۔ اس رس میں ہے۔ مثلاً۔
(یہ رسالہ) سکھاتا ہے کہ ا (میں) لکھتا ہوں۔ اسلام (رسالہ) سکھاتا ہے کہ تم ا (میں) قرآن مجید محمد صل نَبِيَّ بَعْدِي (رسالہ) ایک کلمہ گو آدمی کو (میں) جس اہل بیت کے
نبی نے کلام اللہ کے برابر فرمائی ہے۔ کا سردار فرمایا ہے۔ وہ اپنے ایک اد ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنے ہر ایک ق ہیں۔ پس اگر مقابلہ ہے تو اس رسالہ کا مرزا صاحب یا ان کے خدام سے۔
دوسرے مرزائی صاحب...... اگر تم ا جائے گی۔
تو مجھے کچھ ڈرایا اور دھمکایا تا کہ میں اپنی رائے ظاہر نہ کروں۔ مگر میرے دیگر ہم خیال احباب نے اس بات پر زور دیا۔ لا تلبسوا الحق بالباطل وتكتموا الحق وانتم تعلمون۔ دوست مرزائی...... مناسب نہیں کہ آپ مرزا صاحب یا مرزا صاحب کے خدام کا مقابلہ کریں۔ جس وقت آپ اس مقابلہ میں پھنس جائیں گے۔ اس وقت آپ کے تماشائی یار سب چلتے بنیں گے۔ کیونکہ یہ راستہ بڑا سخت راستہ ہے۔ یہ (مرزا صاحب) وہ شخص ہے جو کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ میں آپ کو مکرر کہتا ہوں۔ کہ آپ اوپن لیٹر کو بند رکھیں۔ اور اس راہ میں قدم مارنے کی جرات نہ کریں۔
(میں) اپنے محترم دوست اور کل ایسے احباب کی خدمت میں جو مرزائی ہوگئے ہیں۔ اور مجھے ان سے شرف نیاز مندی حاصل ہے عرض کرتا ہوں کہ اس رسالہ دافع البلاء پر اوپن لیٹر لکھنے سے میرا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ مرزا صاحب سے یا ان کے خدام سے مقابلہ کروں میں نے جو کچھ اس خط میں عرض کیا ہے۔ اس رسالہ کے مضمون پر یا اس تعلیم پر عرض کیا ہے۔ جو اس رسالہ میں ہے۔ مثلاً۔
(یہ رسالہ) سکھاتا ہے کہ انسان کے بیٹے کو ابن اللہ کہو۔
(میں) لکھتا ہوں۔ اسلام اس کے برخلاف یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔
(رسالہ) سکھاتا ہے کہ تم اللہ کو ایسا جانو۔ جیسی تمہاری اولاد۔
(میں) قرآن مجید محمد صلعم کو خاتم النبین کہتا ہے اور وہ خود سچا نبی صلعم فرماتا ہے۔ لا نَبِيَّ بَعْدِی
(رسالہ) ایک کلمہ گو آدمی کو اہل بیت رسول کریم صلعم سے بدرجہا بہتر مانو۔
(میں) جس اہل بیت کے واسطے قرآن مجید میں آیت تطہیر موجود ہے۔ جن کی عزت نبی نے کلام اللہ کے برابر فرمائی ہے۔ جن کے مخالف کو جہنمی قرار دیا ہے۔ جن کو نبی نے کل جنتیوں کا سردار فرمایا ہے۔ وہ اپنے ایک ادنیٰ امتی سے تقرب الی اللہ اور علو مدارج میں کسی طرح کم ہوسکتے ہیں۔ میں نے اپنے ہر ایک قول کی تائید میں آیات قرآنی اور احادیث نبوی پیش کردی ہیں۔ پس اگر مقابلہ ہے تو اس رسالہ کا قرآن کریم اور حدیث نبوی سے مقابلہ ہے نہ کہ مجھ ناچیز کا مرزا صاحب یا ان کے خدام سے۔
دوسرے مرزائی صاحب...... اگر تم اس خط کو شائع کر دو گے۔ تو تمہاری جان جوکھوں میں پڑ جائے گی۔
٢٧١
میں...... اگر ان دوستوں کا یہ خیال ہے کہ مرزا صاحب بددعا کریں گے اور اس سے مجھے نقصان پہنچے گا۔ تو ان کے اس خیال پر افسوس کرتا ہوں وہ مہربانی فرما کر بہ نظر انصاف میرا خط پڑھیں۔ تو انہیں سے معلوم ہو جائے کہ جس شخص کے یہ باطل دعاوی ہیں۔ جو قرآن مجید اور حدیث پاک کی رو سے کفر اور شرک تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ مستجاب الدعوات کس طرح ہو سکتا ہے۔ اگر ان دوستوں کا یہ خیال ہے کہ مرزا صاحب یا ان کے حواری اپنے کسی خادم کو میری جان لینے کے واسطے تعینات کریں گے۔ تو میں عرض کرتا ہوں کہ ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ مرزا صاحب اس کریکٹر کے آدمی ہوں گے۔ شاید ان دوستوں کا یہ خیال ان روایات پر مبنی ہو۔ جو عیسائیوں یا آریوں نے مرزا صاحب کی نسبت شائع کی ہیں۔ بالفرض محال ایسا ہو بھی۔ تو میرے ان نصیحت کرنے والے احباب کو خوش ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں کلمہ حق کہنے کے واسطے مارا بھی جاؤں گا۔ تو میراث جدی پاؤں گا۔ یا شاید یہ دھمکی مرزا صاحب کی تقلید میں ہو۔ کیونکہ مرزا صاحب بھی اس قسم کی دھمکیاں اپنے مخالفین کو دیا کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی رسالہ کے ص ٤ سطر ١٩ ، ٢٠ میں مرزا صاحب نے مولوی احمد حسن صاحب کو اسی طرح دھمکایا ہے۔ لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں۔ اس لیے اس مسیح کا کافرکش دم ضرور امروہہ تک پہنچے گا۔ لیکن حضرات کوئی معقول آدمی اس دم میں نہ آئے گا۔ یہ خالی خولی دم جھانسہ ہے۔ اس دم میں جس کا نام اس دم خم کے ساتھ کافرکش رکھا گیا ہے۔ کوئی دم نہیں۔
بہرحال میں نہیں جانتا کہ ان کا مجھے دھمکانا اور ڈرانا کیا معنے رکھتا ہے اصل یہ ہے کہ یوں تو شاید میں اس خط کو شائع نہ بھی کرتا۔ مگر ان کے اس دھمکانے اور ڈرانے نے مجھے شائع کرنے پر مجبور کر دیا۔ کہ دیکھوں کیا ہوتا ہے میرا ضمیر کہتا ہے کہ اگر تو میں کلمہ حق کو کسی کے خوف سے چھپاتا ہوں۔ تو میں ایمان کامل نہیں رکھتا، میرا عقیدہ ہے اگر کوئی شخص اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا تو وہ گناہ گار ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو ڈرائے کہ اگر تو نماز پڑھے گا۔ تو تجھ کو یہ نقصان ہوگا۔ اور اس ڈرانے سے وہ تارک الصلوٰۃ ہو جائے۔ تو وہ کافر ہے اسی طرح جو چند تعلیمات مرزا جو رسالہ دافع البلاء سے مجھے خلاف اسلام معلوم ہوئیں۔ اور میں نے ان کو بموجب حکم خدا اور رسول کفر و شرک سمجھا۔ مگر علانیہ ان کا اظہار نہ کیا۔ تو میں ایک حد تک گنہگار رہتا۔ لیکن جب مجھ کو ڈرایا گیا کہ اگر میں کلمہ الحق کا اعلان کروں گا۔ تو مجھ کو اس سے نقصان پہنچے گا۔ تو اب میرا دھمکی کی وجہ سے اعلان قال الله وقال الرسول سے باز رہنا کفر کے درجہ تک پہنچتا ہے۔ پس مرزائی دوست مجھے معاف فرما دیں کہ میں اس خط کو شائع کرتا ہوں۔ اور صرف اس سبب سے کہ ٢٧٢
اپنے اللہ اور اپنے رسول اللہ کے ساتھ قرار و کے ابن اللہ کو نیچا دکھاؤں۔ اور ناموری حاصل الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ مرزا صاحب نے اپنی تھی۔ کہ قادیاں میں کبھی طاعون نہ آئے گا۔ گا۔ مگر چونکہ قادیاں میں طاعون آگیا۔ اور خا طاعون میں مرچکے۔ جن کی فہرست اس خط م کہ مرزا صاحب کہاں تک سچے رہے اور جو س کیا لکھتا ہے۔ اب میرے مرزائی دوستو! مگ کرنے کے ارادہ سے ہے۔ کیونکہ تم خود کو ڈراتے ہو۔ تو میں بھی حق دوستی ادا کرنے کی جھوٹے ڈر سے نکالنے کے واسطے خالصتاً للہ ع کی تحریرات اور خصوصاً یہ رسالہ جو میں نے تھو اپنی بڑائی اور خودستائی میں اس درجہ محو ہیں۔ کہ تحریرات کو کوئی وقعت نہ دیں۔ چہ جائیکہ ان کو
اے مرزائی دوستو! میں نے دو م پر آپ کے گوش گزار کی ہیں۔ اگر آپ ان صاحب کا ایک قول بھی اس قابل نہ پائیں ۔
انسان جس مذہب میں ہو۔ اس اور حدیث رسول اللہ یعنی اسلام کو مرزا صاحب معیار انہوں نے اپنی سچائی کا اس رسالہ میں ہو گئے۔ تو آپ مرزائی معتقدات سے اب تو
- اول ....... اللہ تعالیٰ کو انہیں صفات کے ساتھ
- دوم ....... قرآن مجید کلام اللہ مان کر اس پ
ہیں۔
- سوم ....... چونکہ وہ نبی پاک دین کی کوئی بات
پوشی۔ پس اس نبی کے قول لا نَبِيَّ بَعْدِي ۔
اپنے اللہ اور اپنے رسول اللہ کے ساتھ قرار دیا جاؤں ۔ نہ اس غرض سے کہ آپ کے نبی اور آپ کے ابن اللہ کو نیچا دکھاؤں ۔ اور ناموری حاصل کروں ۔ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی الصُّدُوْرِ وَاِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ مرزا صاحب نے اپنی کل دعاوی کی تصدیق اس رسالہ میں اس بات پر رکھی تھی۔ کہ قادیاں میں کبھی طاعون نہ آئے گا۔ اور جو میرا معتقد ہوگا۔ وہ کبھی اس مرض سے نہ مرے گا۔ مگر چونکہ قادیاں میں طاعون آگیا۔ اور خاص قادیاں میں اور دیگر مقامات میں بہتیرے مرزائی طاعون میں مر چکے۔ جن کی فہرست اس خط کے ساتھ شامل ہے۔ تو مرزائی دوست خود فیصلہ کرلیں کہ مرزا صاحب کہاں تک سچے رہے اور جو سچا نہیں وہ کاذب ہے اور کاذب کی نسبت قرآن کریم کیا لکھتا ہے۔ اب میرے مرزائی دوستو! ممکن ہے کہ آپ کا مجھے ڈرانا اور دھمکانا حق دوستی ادا کرنے کے ارادہ سے ہے۔ کیونکہ تم خود کسی دھوکا میں آ کر ڈر گئے ہو۔ اور اسی طرح مجھے بھی ڈراتے ہو۔ تو میں بھی حق دوستی ادا کرنے کی نیت اور آپ کو صراط مستقیم پر لانے کی غرض اور اس جھوٹے ڈر سے نکالنے کے واسطے خالصتاً للہ عرض کرتا ہوں کہ اے میرے مکرم دوستو! مرزا صاحب کی تحریرات اور خصوصاً یہ رسالہ جو میں نے غور سے پڑھا ہے بتلاتا ہے کہ وہ نفس امارہ کے مطیع ہو کر اپنی بڑائی اور خودستائی میں اس درجہ محو ہیں۔ کہ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ کی حد تک پہنچ گئے ہیں آپ ان کی تحریرات کو کوئی وقعت نہ دیں۔ چہ جائیکہ ان کو معتقدات میں شامل کرلیں۔
اے مرزائی دوستو! میں نے دو چار موٹی موٹی باتیں اس رسالہ میں سے مخلصانہ طریق پر آپ کے گوش گزار کی ہیں۔ اگر آپ اس رسالہ کو بنظر انصاف ملاحظہ فرما دیں گے۔ تو مرزا صاحب کا ایک قول بھی اس قابل نہ پائیں گے۔ کہ کوئی سلیم العقل تسلیم کرے۔
انسان جس مذہب میں ہو۔ اس کو اس طرح خراب نہیں کرتا۔ جس طرح قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ یعنی اسلام کو مرزا صاحب نے اس رسالہ میں خراب کیا ہے۔ اور اب تو جو معیار انہوں نے اپنی سچائی کا اس رسالہ میں قرار دیا تھا۔ اس کے بموجب وہ خود کاذب ثابت ہوگئے ۔ تو آپ مرزائی معتقدات سے اب تو باز آئیں۔
- اول ....... اللہ تعالیٰ کو انہیں صفات کے ساتھ وحدہ لا شریک مانیں۔ جو قرآن مجید سکھاتا ہے۔
- دوم ....... قرآن مجید کلام اللہ مان کر اس امر کا ایمانی یقین رکھیں۔ کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین
ہیں۔
- سوم ....... چونکہ وہ نبی پاک دین کی کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کے نہ کہتا تھا۔ بلکہ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ
یُّوْحٰی ۔ پس اس نبی کے قول لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ کو برحق سمجھیں۔
٢٧٣
چہارم ...... تصدیق قلب کے ساتھ کہیں۔ کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ابن اللہ ہوں ۔ تو وہ کفر کہتا ہے۔
پنجم ...... اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں تو سچے دل سے پکار کر کہہ دو کہ ایسا دعویٰ کرنے والا کاذب ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے اس قول کے بعد کہ لا نبی بعدی کسی کا دعویٰ نبوت کرنا قرآن مجید اور نبی کریم کو جھٹلاتا ہے۔
ششم ...... جو شخص اہل بیت نبی کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے وہ ضلالت میں ہے۔
ہفتم ...... اگر یہ دعویٰ برابری اور برتری کسی بغض اور نفسانیت کی وجہ سے ہے۔ تو وہ شخص جہنمی ہے۔ میرے اس قول کی تائید میں آپ کو آیات قرآنی اور احادیث نبویہ میرے اس خط میں آپ کو مل جائے گی۔ جو ایک مسلمان کے اطمینان قلب کے واسطے کافی اور وافی ہیں۔
اے میرے پیارے دوستو! مجھ سے ناراض نہ ہونا اور یہ نہ سمجھنا کہ میں آپ کے مرزا صاحب کو خدانخواستہ بُرا کہتا ہوں۔ میرا یہ ارادہ مطلق نہیں۔ میں تو صرف یہ عرض کرتا ہوں کہ رسالہ دافع البلاء جو تعلیم دیتا ہے وہ ضلالت ہے۔ جو شخص یہ تعلیم دیتا ہے وہ مسلمان نہیں اور اگر مسلمانی کا دعویٰ کرتا ہے تو سلیم العقل نہیں۔ اور جو شخص اس تعلیم کو اپنے معتقدات میں سمجھے۔ خسر الدنیا والآخرہ ہوگا۔
خودش گمراہ شدست و خلق را ہم میکند گمراہ کسی کہ پیروش باشد نہ بینم نیک انجامش
والسلام علی من اتبع الہدی! خاکسار واجد علی از ملتان
ماخوذ از ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ۔ مطبوعہ مارچ ١٩٠٣ء ۔ نمبر ١٠ جلد ٢١ و ٢٢
باب ٤٦ چہل وششم
لیکھرام کا قتل
چھری کو پیٹ میں جلاد جب یوں کھوب دیتے ہیں
شام کا وقت ہے۔ ٦ بج گئے ہیں۔ آریہ سماج لاہور کے احاطہ کے اندر سے ایک چیخ کی آواز درد سے بھری ہوئی نکلی۔ ارے کوئی ہے دوڑیو! مار ڈالا۔ اور قاتل ہاتھ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ادھر ادھر سے تو پل میں چند آدمیوں کا انبوہ اکٹھا ہو گیا۔
٢٧٤
٩
ایک کمرے میں چارپائی پر ایک جوان ہے۔ ایک جوان اور حسین عورت پریشان حال دھاڑیں مار مار کر روتی ہے۔ اغلب کہ یہ آواز اس
تماشائی ...... ارے بھائیو! کیا ہوا خیر تو ہے۔ یہ تک آیا ہے۔
دوسرا ...... ارے غضب ہوا۔ دن دہاڑے لاہو خون سر بازار ہو گیا تھا۔ ان ظالم قاتلوں کو دوس اندیشہ نہیں کرتے۔
تیسرا ...... کون مارا گیا کس نے مار دیا۔ کوئی لڑائی تو رات بھی نہیں جو کوئی چور مار گیا ہو۔ اندر جا کر ہے۔ فوراً ڈاکٹر صاحب کو خبر ہوئی۔
ڈاکٹر ...... زخم کاری ہے۔ امید نہیں کہ مجروح جان
صاحب مجسٹریٹ نے مجروح کا اظہا
مجروح ...... میرا نام پنڈت لیکھرام ہے۔ میں آر اس نے کہا کہ مجھ کو لوگوں نے مسلمان کر لیا تھا پہ مجھ کو شدھی کر لیجیے۔ میں نے اس کو اپنے پاس ٹھہرا آج شام کو میں باہر سے آ کر اپنے شخص) نے میرے پیٹ میں چھری ماری۔ کہ م گرا۔ گرا تو بے ہوش۔
عورت ...... میں مجروح کی بیوی ہوں۔ میں دو اور ہائے کی آواز میرے کان میں پہنچی۔ میں فو نے اس کو پکڑا۔ مگر وہ جوان اور مضبوط مرد اور بھاگ گیا۔
پولیس نے اور لوگوں سے دریافت مجرم ہونے لگی۔ مگر کچھ پتہ نہیں چلا۔
مجروح کا نہایت سرگرمی کے ساتھ
یہ کہتا ہے کہ میں ابن اللہ ہوں۔ تو وہ کفر سے پکار کر کہہ دو کہ ایسا دعویٰ کرنے والا نبی بعدی کسی کا دعویٰ نبوت کرنا
وہ ضلالت میں ہے۔ سانیت کی وجہ سے ہے۔ تو وہ شخص جہنمی حادیث نبویہ میرے اس خط میں آپ کو کافی اور وافی ہیں۔ ہوتا اور یہ نہ سمجھنا کہ میں آپ کے مرزا میں تو صرف یہ عرض کرتا ہوں کہ رسالہ دیتا ہے وہ مسلمان نہیں اور اگر مسلمانی کا معتقدات میں سمجھے۔ خسر الدنیا والآخرہ
ن اللہ شدست وہم رہ حق می نہد نامش ۔ کی پیروش باشند نہ یتیم نیک انجامش خاکسار واجد علی از ملتان مطبوعہ مارچ ١٩٠٣ء ۔ نمبر ١٠ جلد ٢١ و ٢٢
شم
وقت خونریزی وب دیتے ہیں اہور کے احاطہ کے اندر سے ایک چیخ کی ڈالا۔ اور قاتل ہاتھ چھوڑ کر بھاگ گیا۔
ایک کمرے میں چار پائی پر ایک جوان پڑا ہائے ہائے کر رہا ہے اور خون کا پرنالہ جاری ہے۔ ایک جوان اور حسین عورت پریشان حالت سر کے بکھرے ہوئے بال نوچ رہی ہے۔ اور دھاڑیں مار مار کر روتی ہے۔ اغلب کہ یہ آواز اس کی عورت کی تھی۔
تماشائی......ارے بھائیو! کیا ہوا خیر تو ہے۔ یہاں تو خون کا نالہ بہہ رہا ہے دیکھو تو کمرہ سے باہر تک آیا ہے۔
دوسرا......ارے غضب ہوا۔ دن دہاڑے لاہور بھی پشاور ہو گیا۔ ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک خون سر بازار ہو گیا تھا۔ ان ظالم قاتلوں کو دوسرے کا درد یا خدا کا خوف نہیں۔ اپنی جان کا بھی اندیشہ نہیں کرتے۔
تیسرا......کون مارا گیا کس نے مار دیا۔ کوئی لڑائی فساد کا شور غل ہی نہیں سنا۔ یہ کیا بات ہے؟ ابھی تو رات بھی نہیں جو کوئی چور مار گیا ہو۔ اندر جاکر دیکھا تو مجروح کے پیٹ میں چھری کا ایک گہرا زخم ہے۔ فوراً ڈاکٹر صاحب کو خبر ہوئی۔
ڈاکٹر......زخم کاری ہے۔ امید نہیں کہ مجروح جانبر ہوسکے۔ صاحب مجسٹریٹ کو اطلاع دی۔
صاحب مجسٹریٹ نے مجروح کا اظہار قلمبند کیا۔
مجروح......میرا نام پنڈت لیکھرام ہے۔ میں آریوں کا اپدیشک ہوں۔ کچھ دن سے ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو لوگوں نے مسلمان کر لیا تھا پہلے میں ہندو تھا۔ اب میں پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ مجھ کو شدھی کر لیجیے۔ میں نے اس کو اپنے پاس ٹھہرنے کی جگہ دی۔ کہ تجھ کو شدھی کیا جائے گا۔ آج شام کو میں باہر سے آکر اپنے کمرہ میں لیٹنے کو آیا۔ بستر پر قدم رکھا۔ کہ ظالم (اس شخص) نے میرے پیٹ میں چھری ماری۔ کہ تادستہ اندر چلی گئی۔ پھر مجھ کو خبر نہیں کیا ہوا۔ بیٹھا تو گرا۔ گرا تو بے ہوش۔
عورت......میں مجروح کی بیوی ہوں۔ میں دوسرے کمرہ میں تھی۔ جب ظالم نے ضرب لگائی۔ اور ہائے کی آواز میرے کان میں پہنچی۔ میں فوراً اس طرف آئی۔ قاتل مجھ کو دروازہ میں ملا۔ میں نے اس کو پکڑا۔ مگر وہ جوان اور مضبوط مرد اور میں عورت ذات مجھ کو دھکا دیا۔ اور ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔
پولیس نے اور لوگوں سے دریافت کیا۔ سب نے لاعلمی بیان کی۔ تفتیش مقدمہ تلاش مجرم ہونے لگی۔ مگر کچھ پتہ نہیں چلا۔
مجروح کا نہایت سرگرمی کے ساتھ علاج ہوا۔ مگر زخم کاری تھا۔ جانبر نہ ہوا۔ دن نکلنے
٢٧٥
آریہ مسافر پنڈت لیکھرام کا انجام
بحوالہ رسالہ شحنہ ہند میرٹھ
سے پہلے دم نکل گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ اور نتیجہ پولیس میں بھیج کر لاش ورثاء مقتول کو دی گئی۔ آریوں نے مقتول کے حسب دستور تجہیز و تکفین کا سامان کیا۔ گوجرانوالہ وامرتسر وغیرہ کے آریہ بھی آگئے تھے۔ بڑے دھوم دھام سے ارتھی نکالی گئی۔ پولیس کی تفتیش اور تلاش سے قاتل کا پتہ یا سراغ نہیں لگا۔ لوگوں کے دل پر اس ناگہانی موت کا سخت اثر ہوا۔ ہر ایک شخص کی آنکھ سے آنسو جاری ہچکی طاری ہوئی۔
- پہلا...... اگر پیر نودسالہ بمیر دغمی نیست۔ ایں ماتم سخت ست کہ گوئند جواں مرد۔
- دوسرا...... بھائیو! اس دنیا کے لیے بغض و عداوت حسد و کینہ سے تو تو میں میں کرتے ہیں۔ یہ نہیں
سوچتے کہ دنیا چند نفس ہے اس کا اعتبار کیا ہے ایک قدم اٹھایا۔ دوسرے کا بھروسہ نہیں۔ یہ چل چلاؤ لگی ہوئی ہے۔ کل شام پنڈت لیکھرام بازار میں پھرتا تھا۔ اس کو خبر تھی کہ میں رات کو مرجاؤں گا۔ آج اس کو پھونکنے کے لیے جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں خاک کی ڈھیر کے سوا نشان بھی نہ ملے گا۔ پھر وہ بھی نہیں۔
دردا کہ خیال خویشتن داری ہست
فغاں کہ قافلہ عمر رفت نیم قدم
طریق راست نہ پیمود نفس غافل
- تیسرا...... دنیا کے بھی کارخانے ہیں۔ ایک آتا ہے ایک جاتا ہے کہیں شادی ہے کہیں غم ہے کس
کس کو روئیں اور کس کس کا غم کریں۔ آخر سب کے واسطے ایک روز یہ دن درپیش ہے۔
بہت سا روئے اس پر جو اس جینے پہ مرتے ہیں
- چوتھا...... آدمی اپنی آن کا پورا تھا۔ کسی سے دبکے نہیں چلا۔
- پانچواں...... جب ہی تو یہ روز بد دیکھا۔ اکثر لوگ اسی وجہ سے اس کے دشمن ہو گئے۔ خصوص غیر
مذہب والے۔ منہ پھٹ تو تھا ہی۔ جو زبان پر آیا۔ بک دیا۔ تہذیب کلام یا زبان کو لگام تو تھا نہیں۔
- چھٹا...... ذاتی عداوت تو کسی سے تھی نہیں۔ مذہبی جوش میں ہر ایک سے اڑ جاتا تھا۔ اس واسطے
٢٧٦
سب سے برا تھا۔
گاہ گاہے تو
- ساتواں...... مرزا قادیانی نے اس کے مرنے
ہے۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم جو پیشگوئی کے موافق نہی اس نے خیال کیا اگر یہ پیشگوئی خالی گئی تو میری خاک میں مل جائے گی۔ ہمارے خیال میں ان
- آٹھواں...... بعض کہتے ہیں کہ یہ عورت جو اس
وارثوں کا کام ہے۔
ہر ایک اپنی اپنی رائے زنی میں ہے دیکھنے سے پتھر کے دل پانی ہوتے تھے۔ اور اس روتے تھے۔
عورت...... رو کر اور چھاتی پیٹ کر ہائے رے می کچھ بول تو سہی۔ ہائے اخیر وقت میں بات بھی
بتا دو پہلے ہمار
جواب نہیں دیتے۔ کچھ تو کہو مجھ کو کی
چلا ہے چھوڑ
میں تیری منتیں کرتی ہوں۔ مجھ کو بھی مجھ سے کیا کیا وعدے وعید تھے سب بھلا دیئے
کوئی تو نکلے اس
(لوگ) آپ بدحواس ہیں۔ آپ عورت...... میں نے بہت ضبط کیا۔ اب ضبط کا
سب سے برا تھا۔
گاہ گاہے تو کوئی یاد کرے
- ساتواں ...... مرزا قادیانی نے اس کے مرنے کی پیشگوئی کی تھی۔ اور میعاد مقررہ قریب الاختتام
ہے۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم جو پیشگوئی کے موافق نہیں مرا تو قادیانی کو بڑی ذلت اور رسوائی ہوئی تھی۔ اس نے خیال کیا اگر یہ پیشگوئی خالی گئی تو میری بڑی رسوائی ہوگی۔ اور ہوا اکھڑ کر ساری دوکانداری خاک میں مل جائے گی۔ ہمارے خیال میں ان میں اس کی سازش ہے۔
- آٹھواں...... بعض کہتے ہیں کہ یہ عورت جو اس کے پاس ہے اس کی بیاہتا نہیں ہے۔ اس کے
وارثوں کا کام ہے۔
ہر ایک اپنی اپنی رائے زنی میں ہے۔ مقتول کی عورت کا حال نہایت ابتر تھا۔ اس کے دیکھنے سے پتھر کے دل پانی ہوتے تھے۔ اور اس کے بین سے سنگدل سے سنگدل بھی آٹھ آٹھ آنسو روتے تھے۔
عورت ...... رو کر اور چھاتی پیٹ کر ہائے رے میرے پیارے مجھ سے کیوں روٹھا۔ میری خطا تو بتا۔ کچھ بول تو سہی۔ ہائے اخیر وقت میں بات بھی نہ کی۔ اپنی کہی نہ میری سنی۔
بتا دو پہلے ہماری خطا سنو تو سہی
جواب نہیں دیتے۔ کچھ تو کہو مجھ کو کس پر چھوڑا۔ کس کے سپرد کیا۔
چلا ہے چھوڑ کر تنہا کہاں کو؟
میں تیری منتیں کرتی ہوں۔ مجھ کو بھی لے چل۔ یہ بے مروتی خلاف امید مجھ سے نہ کر۔ مجھ سے کیا کیا وعدے وعید تھے سب بھلا دیئے۔
کوئی تو نکلے اس دلِ بیمار کی ہوس
(لوگ) آپ بدحواس ہیں۔ آپ کو پند دینا عقل کے خلاف ہے۔ صبر کرو۔
عورت ...... میں نے بہت ضبط کیا۔ اب ضبط کا یارا نہیں رہا
٢٧٧
اس کے سوا نہیں کوئی تدبیر دوسری
غرض بڑی سوزشیں غم واندوہ کے ساتھ میت اٹھائی گئی۔ اور مرگھٹ میں صندل کے ڈھیر میں رکھ کر آگ لگادی گئی۔ اور باہم گفتگو شروع ہوئی۔
پہلا ...... اس میں تو کلام نہیں کہ مرزا قادیانی کا الہام تھا۔ اس قتل میں اس کی سازش ہے۔ عام مسلمانوں کو بھی مقتول کی بدزبانی کا سخت رنج تھا۔ عجب نہیں کہ وہ بھی اس مشورہ میں شامل ہوں۔
دوسرا ...... بھائی مرزا اور مسلمانوں پر ہی کیا حصر ہے۔ ہندو، برہمو، عیسائی، سکھ بھی کون سے اس کی تیغ زبان کے زخم سے بچے تھے۔ سب ناراض ہیں۔ خوش کون تھا؟
آریہ ...... (جوش کے لہجے میں) مسلمانوں کے جس قدر لیڈر (رہنما) ہیں ان سب کو جام شہادت پلایا جائے ۔ تو سہی۔
مسلمان ...... بھائی ! مسلمانوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ مقتول نے اپنی بے خبری اور زبان درازی سے مذہبی اور قومی وکیل بن کر سالہا سال دل کھول کر اسلام اور اس کے ہادیﷺ کو بُرا بھلا کہا۔ اور براہین احمدیہ کے جواب میں چند کتابیں جو فقط بدکلامی اور بے تہذیبی سے پُر ہیں اور بڑا حصہ ان کا عیسائی متعصبوں کی تحریرات سے انتخاب ہوا ہے ادھر ادھر سے اکٹھا کر کے چھپوا کر شائع کرائی ہیں۔ اور عام جلسوں میں زبانی تقریروں میں بھی اسلام اور بانی اسلام ﷺ کو گالیاں سنائی ہیں۔ مسلمانوں کا دل دکھایا ہے۔ تو ان سے اور مذہب والے کون خوش ہیں۔ وہ (مقتول) جوان چلتا پھرتا منہ پھٹ زبان دراز آدمی تھا۔ پنڈت مقتول سے جیسے کہ مسلمان آزار رسیدہ اور ناخوش تھے ویسے ہی ہندو بھی تھے۔ ممکن ہے کوئی ہندو ہی اس کا قاتل ہو۔ مذہبی جوش سب قوم میں ہے۔ یہ (مقتول) ہندوؤں کے بزرگوں کو بھی پانی پی پی کر کوستا تھا۔ جیسا کہ اوروں کے بزرگوں کو۔
آریہ ...... بھائی! تمہارے ساتھ ہماری گفتگو نہیں ہے براہین احمدیہ کا جواب پنڈت لیکھرام نے سخت دیا تو کیا غضب کیا؟ اس نے بھی کتاب مذکور اور دیگر رسائل میں ہندوؤں کو کوسنا اور ان کی بہو بیٹیوں کو گالی دینا۔ اور اپنے الہامات میں ان کو دھمکانا اور الہامی قتل سے ڈرانا اور ان کے معبودوں کو بُرا کہنا شروع کیا تھا۔
مسلمان...... صاحب اس کا تو ہم کو بھی اعتراف ہے۔ مرزا قادیانی کی بدزبانی اس بدگوئی کی علت
٢٧٨
ہے مگر قادیانی کا مسلمانوں سے تعلق کیا؟ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت ہی کم لوگ ہیں۔ جو الہامی صاحب (مرزا قادیانی) کو مسلمان سمجھتے ہوں۔ جمہور علماء اسلام ان کو اسلام سے خارج کر کے تکفیر کا فتویٰ دے چکے ہیں۔ اور اس کو کافر کاذب کہتے ہیں اور اس (قادیانی) کی ایسی کارروائی ہے کہ وہ لوگوں کو گالیاں دیتا اور غیر مذاہب کے معبودوں کو برا کہتا ہے۔ وہ بھی ناراض ہیں۔ جو اس کو کافر نہیں کہتے۔ مگر گمراہ اور خطا کار سمجھتے ہیں۔ آریہ...... وہ (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمانوں کا وکیل امام اور مجدد بیان کرتا ہے اور خود مسلمان کہلاتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس کی سازش سے یہ قتل واقعہ ہوا۔ کیونکہ اس کے الہام کی تصدیق اس قتل سے ہوتی ہے۔ گو دوسرا نہ مانے۔ مگر وہ تو اپنے خیال میں یہ سمجھے ہوئے ہے۔ اور تھوڑی دنوں کا ذکر ہے کہ عبداللہ آتھم کی پیشگوئی جھوٹی ہونے پر اس کی کس قدر تذلیل اور تضحیک ہوئی۔ مسلمان....... اس میں ہم کو کوئی اعتراض نہیں۔ آپ اس کی نسبت اپنا اشتباہ ظاہر کریں۔ یا یقین کو اپنے دل میں جگہ دیں۔
باب ٤٧ چہل و ہفتم
عبداللہ آتھم کی پیش گوئی پر اخبار عام کا تبصرہ
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زبان اور
آج قادیان میں عجیب چہل پہل مچی ہوئی ہے در و دیوار سے فرح و انبساط کے آثار دکھلائی دیتے ہیں۔ شادی و کامرانی کے پھریرے بلند ہیں۔ گو کچھ کچھ آریوں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ سوگ کا سامان نظر آتا ہے۔ حضرت مرزا صاحب کا دربار شاہانہ اور جلوس ملوکانہ منعقد ہے اور ہر ادنیٰ واعلیٰ کی مارے خوشی کے باچھیں کھلی ہیں۔ ریشہ خطمی ہو رہے ہیں۔ بند قبا ٹوٹے جاتے ہیں۔ کوٹوں کے بٹن ایسے اڑتے ہیں۔ جیسے بوتل کے کارک۔ ہر ایک سینہ اوبھارے نتھنے پھیلائے نہایت تبختر سے سینہ کو چوڑائے بیٹھا ہے اور چہرہ پر خوشی کے مارے ایک رنگ آتا اور ایک جاتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مسعود امام زمان مرزا صاحب بھی رونق افروز ہیں۔ آج ادب و تعظیم معاف ہے۔ قہقہہ اور خوش آوازیاں ہورہی ہیں۔ چھوٹ ہے جو جس کا جی
٢٧٩
چاہے کہے۔ لیکھرام کے قتل کا ذکر نہایت رنگ آمیزیوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ تہنیت اور مبارکباد کا شور ہے۔
مرزا صاحب ..... (اخبار ملاحظہ فرماتے ہوئے) اخبار عام ١٠ / مارچ ١٨٩٧ء ہماری نسبت اشارہ کر کے لکھتا ہے کہ ایک عیسائی ڈپٹی صاحب کی پیشگوئی فوت ہونے کی در عرصہ ایک سال مشتہر کی گئی ہے۔ اور اخباروں میں اس کا چرچا تھا اور خدانخواستہ ان ایام میں اگر ڈپٹی صاحب کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جاتا۔ (یعنی قتل) جس کا خمیازہ لیکھرام صاحب کو بھگتنا پڑا ہے۔ تب اور صورت تھی۔
اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایڈیٹر صاحب کی اس تقریر کا کیا مطلب ہے۔ بس یہی مطلب ہے۔ کہ اگر ڈپٹی آتھم صاحب قتل ہو جاتے۔ تو ایڈیٹر صاحب کے خیال میں گورنمنٹ کو پیشگوئی کرنے والے کی نسبت فی الفور توجہ پیدا ہوتی۔ اور تفتیش ہوتی۔ جو اب نہیں ہے۔
حواری ..... اس تقریر سے ایڈیٹر صاحب کی کوئی نیک نیت نہ ہوگی۔
مرزا صاحب ..... نہیں یہ تقریر ایک سطحی خیال اور خلاف سمجھ کا داغ رکھتی ہے۔
حواری ..... اوہ.. یہ تو حضور نے غور نہیں فرمایا۔ افسوس تو اس کا ہے۔
مرزا صاحب ..... ہاں ہاں میں خوب جانتا ہوں۔ ایڈیٹر صاحب کی تقریر سے پایا جاتا ہے۔ کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔
حواری ..... یہی تو میں عرض کرتا تھا۔
مرزا صاحب ..... ”ہم مختصر طور پر یاد دلاتے ہیں۔ کہ وہ پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہوئی۔ آتھم صاحب میرے ایک پرانے ملاقاتی تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ زبانی اور ایک خاص رقعہ کے ذریعہ سے بھی الحاح کیا تھا۔ کہ اگر میری نسبت کوئی پیشگوئی ہو اور وہ سچی نکلے تو میں کسی قدر اپنی اصلاح کروں گا۔ سو خدا نے ان کی نسبت یہ پیشگوئی ظاہر کی۔ کہ وہ پندرہ مہینے کے عرصہ میں ہاویہ میں گریں گے۔ مگر اس شرط سے کہ اس عرصہ میں حق کی طرف انہوں نے رجوع نہ کیا ہو۔ پس چونکہ خدا کی پیش گوئی میں ایک شرط تھی۔ آتھم صاحب خوفناک ہو کر اس شرط کے پابند ہو گئے تھے۔ پس ضرور تھا کہ وہ اس شرط سے فائدہ اٹھاتے۔ لہٰذا شرط کی تاثیر سے ان کی موت میں کسی قدر تاخیر ہو گئی ۔“
حواری ..... حضور اگر کوئی معترض اعتراض کرے۔ کہ اس کا ثبوت کہ انہوں نے دل میں اسلام کی طرف رجوع کیا اور ان پر اسلام کی پیشگوئی کا خوف غالب آگیا تھا۔
مرزا صاحب ..... ”جب خدا نے ہم کو اطلاع دی۔ کہ آتھم نے شرط سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اور اس
٢٨٠
٥
کی موت میں ہم نے کچھ تاخیر ڈال دی۔ تو ہم نے بلایا۔ اور وہ نہیں آیا اور نہ اس نے قسم کھائی ۔“ (سر
ان کو صاف اقرار تھا کہ میں میعاد کے اندر ڈرتا ر اور حملہ وغیرہ سے۔
حواری ..... آخر مر ہی گیا۔ اس وقت نہ مرا، چند ما
مرزا صاحب ..... ”میرے الہام میں یہ بھی تھا گا۔ تب سے اصرار کے بعد جلد مرے گا۔ چنانچہ سے سات مہینے کے اندر مر گئے۔
حواری ..... اس میں کلام کیا ہے؟ حضور آخر مرنا ت ہوں گے۔ یہ بھی اس ملعون (لیکھرام) کی طرح
مرزا صاحب ..... اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہماری اگر اب شیخ بٹالوی اور دیگر مولویوں نے اس الہا پیش آئے گا۔
حواری ..... آمنا و صدقنا کے نبی اور مرسل کی توہین
مرزا صاحب ..... ”یہ آریہ لوگوں کی بالکل غلطی ب کہ لیکھرام کے مقدمہ میں سعی نہیں کی ہے اور آ کرتے۔ ہم کہتے ہیں کہ گورنمنٹ ہندو مسلمانوں گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور ہے۔ اور کون سی س ساتھ گرفتار کرانا چاہتے ہیں۔ جس کے پکڑنے می دے سکتے۔ وہ اہل کتاب ہے خدا سے منکر نہیں دے۔ گویا وہ موجود ہے۔ کیا چھ سال کی میعاد صورت موت بیان کر دینا یہ خدا سے ہوتا محال ہ انسان کی ایسی پیشگوئی کیونکر ممکن ہے؟ کیا دور دراز اگر ہے۔ تو اس کی دنیا میں کوئی نظیر پیش کرو۔“
حواری ..... اخبار والوں نے اس پیشگوئی سے یہ ن مشتہر کیا گیا۔
٨١
کی موت میں ہم نے کچھ تاخیر ڈال دی۔ تو ہم نے آتھم کو چار ہزار کے انعام پر قسم کھانے کے لیے بلایا۔ اور وہ نہیں آیا اور نہ اس نے قسم کھائی۔'' (سراج المنیر ص ١٧، ١٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٠، ٢١) حالانکہ یہ ان کو صاف اقرار تھا کہ میں میعاد کے اندر ڈرتا رہا۔ مگر الہامی ہیبت سے نہیں۔ بلکہ تعلیم یافتہ سانپ اور حملہ وغیرہ سے۔
حواری ...... آخر مر ہی گیا۔ اس وقت نہ مرا، چند ماہ بعد سہی۔
مرزا صاحب ...... ''میرے الہام میں یہ بھی تھا۔ اگر آتھم سچی گواہی نہیں دے گا۔ اور قسم نہ کھائے گا۔ تب سے اصرار کے بعد جلد مرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آتھم صاحب میرے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر مر گئے۔ (سراج المنیر ص ١٨، خزائن ج ١٢ ص ٢١)
حواری ...... اس میں کلام کیا ہے؟ حضور آخر مرنا ہی تھا اور کیوں نہ مرتا۔ اور حضرت جی یہ سب تباہ ہوں گے۔ یہ بھی اس ملعون (لیکھرام) کی طرح لقمہ دہان اجل ہوں۔ تو حقیقت معلوم ہو۔
مرزا صاحب ...... اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہماری اہانت کرے گا وہ ذلیل ہوگا۔ اور پھر ذلیل ہوگا۔ اگر اب شیخ بٹالوی اور دیگر مولویوں نے اس الہام (قتل) کی تصدیق نہیں کی؟ ان کو بھی یہ روز بد پیش آئے گا۔
حواری ...... آمنا وصدقنا کے نبی اور مرسل کی توہین نعوذ باللہ۔ توبہ ہزار توبہ۔
مرزا صاحب ...... ''یہ آریہ لوگوں کی بالکل غلطی ہے۔ جو گورنمنٹ کی طرف سے خیال کرتے ہیں کہ لیکھرام کے مقدمہ میں سعی نہیں کی ہے اور آتھم کے مقدمہ میں اگر وہ قتل ہو جاتا۔ تو سستی نہ کرتے۔ ہم کہتے ہیں کہ گورنمنٹ ہندو مسلمانوں کو دونوں آنکھوں کی طرح برابر دیکھتی ہے۔ لیکن گورنمنٹ کا اس میں کیا قصور ہے۔ اور کون سی سستی کی۔ کس قاتل کو آریہ صاحب کس ثبوت کے ساتھ گرفتار کرانا چاہتے ہیں۔ جس کے پکڑنے میں تامل ہے لیکن خدا کی پیشگوئیوں میں دخل نہیں دے سکتے۔ وہ اہل کتاب ہے خدا سے منکر نہیں۔ جو عالم الغیب آئندہ زمانے کی اس طرح خبر دے۔ گویا وہ موجود ہے۔ کیا چھ سال کی میعاد بیان کرنا اور عید کے دوسرے دن کا پتہ دینا۔ اور صورت موت بیان کر دینا یہ خدا سے ہونا محال ہے؟ اگر خدا سے محال ہے۔ تو ان قیدوں کے ساتھ انسان کی ایسی پیشگوئی کیونکر ممکن ہے؟ کیا دور دراز عرصہ سے ایسی صحیح خبریں دینا انسان کا کام ہے؟ اگر ہے۔ تو اس کی دنیا میں کوئی نظیر پیش کرو۔'' (سراج المنیر ص ١٩، خزائن ج ١٢ ص ٢٢، ٢٣ ملخص)
حواری ...... اخبار والوں نے اس پیشگوئی سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک منصوبہ تھا جو پیشگوئی کے طور پر مشتہر کیا گیا۔
٢٨١
مرزا صاحب..... اس بات کو ہم خود مانتے ہیں کہ پیشگوئی کی تشریح میں ملہم الہی سے بار بار ظاہر کیا ہے کہ وہ ہیبت ناک طور پر ظہور میں آئے گی اور نیز یہ کہ لیکھرام کی موت کسی بیماری سے نہیں ہوگی بلکہ خدا کسی ایسے کو اس پر مسلط کرے گا جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہوگا۔ مگر پنجاب سماچار نے ١٠/ مارچ ١٨٩٧ء میں الہام کے حوالہ سے جو عید کا دن لکھا ہے یہ اس کی غلطی ہے۔ الہام کی عبارت یہ ہے کہ ستعرف یوم العید والعید اقرب ۔ یعنی تو اس نشان کو جو عید کی مانند ہے پہچان لے گا۔ اور عید اس نشان کے دن سے بہت قریب ہوگی۔ یہ خدا نے خبر دی ہے کہ عید کا دن قتل کے دن کے ساتھ ملا ہوا ہوگا۔ اور ایسا ہی ہوا۔
(سراج المنیر ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥، ٢٤)
حواری...... کوئی نہیں سوچتا۔ کیا یہ انسان کا کام ہے کہ تاریخ بتلائی گئی۔ دن بتلایا گیا۔ سبب موت بتلایا گیا۔ اور اس حادثہ کا وقوع ہیبت ناک طرز کی ظہور میں آنا بتلایا گیا۔ اشاعۃ السنہ کے پرچہ پیش کرکے۔ یہ حضور نے ملاحظہ فرمایا۔
مولانا محمد حسین صاحب...... چھریوں والے الہام کا کہیں وجود معلوم نہیں ہوتا۔ اور یوم العید والے الہام میں قتل لیکھرام کا کہیں ذکر یا اشارہ تک نہیں اس میں کشف کی آپ نے سرمہ چشم آریہ میں کچھ معنے لیے ہیں اور قتل لیکھرام کی بابت کچھ لیے ہیں۔ براہین احمدیہ کے الہامات میں سے علیٰ ہذا القیاس بعد قتل لیکھرام کے معنے گھڑ کر ڈالے گئے ہیں اس سے آپ یا آپ کے ملہم کے خیال میں ہے۔ یہ معنے نہیں تھے۔ اس باب میں جو کچھ آپ نے کہا ہے، سفید جھوٹ ہے۔ ہاں اس قدر مسلم ہے کہ چھ سال کی میعاد قتل لیکھرام کے لیے اشارہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء میں ضرور مقرر کی گئی تھی۔ مگر اس میعاد کے مطابق یہ قتل وقوع میں نہیں آیا۔
بلکہ اس میعاد سے دو سال پہلے چار ہی سال کے بعد قتل وقوع میں آیا۔ اس سے وہ پیشگوئی جھوٹی ہے نہ سچی۔
جو لوگ چار اور چھ میں فرق کر سکتے ہیں۔ وہ اس پیشگوئی کے جھوٹے ہونے میں شک نہ کریں گے۔ اس کے جواب میں اگر الہامی صاحب بھی کہیں کہ چار کا وعدہ چھ کے عدد میں داخل ہے۔ لہٰذا چار سال پیشگوئی کے پورے ہونے سے چھ سال میں اس کا پورا ہونا صادق آسکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا چار کا عدد چھ میں داخل ہے۔ دس میں اور سو میں بھی داخل ہیں۔ پھر کیا اس نظر سے جو واقعہ چار سال میں واقع ہونے والا۔ اس کا دس، بیس، سو برس، تین کی میعاد میں وقوع بیان کرنا اور اس کو تحدی اور کرامت کے طور پر مخالفین کے مقابلہ میں پیش کرنا جائز ہے؟ نہیں
٢٨٢
نہیں ہرگز نہیں۔ اس سے تو تحدی اور کرامت اسی صورت میں متصور ہے کہ جو اس واقع کے قریب کو بعید کر کے بتانا نہ صرف بطل تحدی و ہے اور سراسر حماقت اور سفاہت ہے جو خدا حکیم اور اس کا عکس کہ ایک امر بعید الوقو اس کا قریب ہونا مفہوم ہو۔ عین حکمت ہے۔
اس اصول سے اسلام میں اور باوجودیکہ ہزار برس گزر چکے ہیں۔ اور اس وجہ تھی۔ لفظ بضع سے اس کا اطلاق عرب میں تی تیسرے ہی سال کے بعد فتح کی امید شرو خوف پیدا ہو گیا تھا۔ بتایا گیا ہے جس کی تفص ہے۔ الہامی صاحب نے موت لیکھرام کے ت اس سے یہ ثابت کیا۔ کہ وہ پیشگوئی الہامی او نکلا۔ ایک وجہ اس پیشگوئی شش سالہ کی جھوٹی (جس کی اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے) الفاظ سے کہ وہ غیر معمولی اور خارق عادت ت برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ای خارق عادت اور اپنے اندر ہیبت الہی رکھتا ہو کیفیت سے وقوع میں آیا ہے۔ وہ معمولی کی ایسے واقعات صدہا وقوع میں آتے ہیں۔ بہ میں ایسے صدہا کیس ملاحظہ کرلو۔ تھوڑے دن فقیر نے چھری سے مار ڈالا۔ اس سے پہلے ی افغان نے چھری سے قتل کیا۔ ایسے واقعات اور مشاہدہ کرلو۔
ایسے واقعات کو کوئی ذی عقل ا
نہیں ہرگز نہیں۔ اس سے تو تحدی اور کرامت باطل ہوتی ہے اور تحدی اور کرامت اور اخبار غیب تو اسی صورت میں متصور ہے کہ جو اس واقع کے وقوع کی اصلی حد ہو۔ وہ بتا دی جائے۔ کسی میعاد قریب کو بعید کر کے بتانا نہ صرف بطل تحدی وخلاف کرامت ہے بلکہ وہ حکمت کے بھی برخلاف ہے اور سراسر حماقت اور سفاہت ہے جو خدا حکیم وعلیم ومُلہم الصادقین کی شان کے مخالف ہے۔
اور اس کا عکس کہ ایک امر بعید الوقوع کو ایسے سچے اور صحیح الفاظ میں بیان کرنا جس سے اس کا قریب ہونا مفہوم ہو۔ عین حکمت ہے۔
اس اصول سے اسلام میں اور پہلے دینوں میں قیامت کو قریب بتایا گیا ہے۔ باوجودیکہ ہزار برس گزر چکے ہیں۔ اور اس وجہ سے خبر فتح روم کو جو سات برس میں واقع ہونے والی تھی۔ لفظ بضع سے اس کا اطلاق عرب میں تین سے نو تک ہوتا ہے۔ اور اس لفظ کے بولنے سے تیسرے ہی سال کے بعد فتح کی امید شروع ہوگئی تھی۔ اور اس سے دوستوں کو خوشی اور دشمنوں کو خوف پیدا ہو گیا تھا۔ بتایا گیا ہے جس کی تفصیل ہمارے مضمون خط میں بصفحہ ٢٣٦ جلد ١٧ میں ہے۔ الہامی صاحب نے موت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی میں اس اصول حکمت کا خلاف کیا۔ اور اس سے یہ ثابت کیا۔ کہ وہ پیشگوئی الہامی اور روحانی نہ تھی۔ بلکہ ایک وسوسہ شیطانی تھا۔ جو جھوٹا نکلا۔ ایک وجہ اس پیشگوئی شش سالہ کی جھوٹی نکلنے اور سچی نہ ہونے کی یہ بھی ہے کہ اس عذاب کی (جس کی اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے) الہامی صاحب کے آئینہ کمالات کے صفحہ اخیر میں ان الفاظ سے کہ وہ غیر معمولی اور خارق عادت ہوگی۔ تفسیر کی ہے۔ چنانچہ کہا ہے کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا۔ جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ہیبت الہی رکھتا ہو۔ تو سمجھو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ اور یہ قتل جس کیفیت سے وقوع میں آیا ہے۔ وہ معمولی کیفیت ہے۔ نہ نرالی، نہ غیر معمولی، نہ خارق عادت، ایسے واقعات صدہا وقوع میں آتے ہیں۔ ہسپتالوں میں جا کر زخمی لاشیں دیکھ لو۔ پولیس اور عدالت میں ایسے صدہا کیس ملاحظہ کرلو۔ تھوڑے دن ہوئے کہ لاہور کے بازار انارکلی میں ایک میم کو ایک فقیر نے چھری سے مار ڈالا۔ اس سے پہلے چھاؤنی پشاور کے اسٹیشن پر ایک فوجی افسر کو ایک سرحدی افغان نے چھری سے قتل کیا۔ ایسے واقعات کو آنکھوں سے دیکھنا ہو تو پشاور کے قریب چلے جاؤ۔ اور مشاہدہ کرلو۔
ایسے واقعات کو کوئی ذی عقل اور صاحب فہم معمولی سی نرالی اور خارق عادت نہیں کہہ
٢٨٣
سکتا۔ معمول سے نرالے اور خارق عادت عذاب وہ تھا جو پہلے نبیوں کے منکروں پر آئے۔ کوئی زمین میں دھنسایا گیا کوئی آسمانی سخت آواز سے ہلاک ہوا۔ کسی پر آسمان سے پتھر برسے اور کئی غیر معمولی طور پر بہ ہیئت مجموعی غرق آب ہوئے۔ جن کا ذکر قرآن میں سورہ عنکبوت کے رکوع ٢ میں ہوا ہے۔ آج کل کا طاعون جو بمبئی اور کراچی پر مسلط ہے۔ کاش اس کا حصہ اکیلا لیکھرام کو پہنچتا۔ تو بھی تسلیم کیا جاتا کہ اس شہر میں جو عذاب سے مامون ہے۔ صرف لیکھرام کے لیے وہ غیر معمولی اور خارق عادت عذاب ہے۔ چھری مارنے کو جو رات دن لوگوں کو لگتی ہے۔ غیر معمولی اور خارق عادت قرار دینا آپ ہی کا کام ہے جو الہام سے ہوتا ہے۔ اس بیان سے یہ ثابت ہوا کہ پیشگوئی اور اس کے متعلق جس قدر الہامات الہامی صاحب نے بیان کیے ہیں۔ وہ سچے نہیں نکلے بلکہ سراسر کذب وفریب ظاہر ہوئے۔
حواری ...... حضور نے دیکھا۔ جس قدر الہام ودلائل اس میں گزرے گویا وہ اپنے دلائل لا طائل سے باطل کر چکے۔ براہین احمدیہ کے الہامات جو تیرہ برس اس واقع سے پہلے ہوئے۔ اور سرمہ چشم آریہ کا کشف جو بارہ برس پیشتر ہوا۔ اور الہامات سب کا بطلان کر دیا۔ اپنے خیال میں شبہ باقی نہیں رکھا۔
مرزا صاحب ...... خدا جانے یہ شخص کیسا ضدی ہے ہار مانتا ہے نہ جیتے بنتی ہے۔ اس کی چاپلوسی بھی کی ہے۔ طمع بھی دیا کہ ہم کو الہام ہوا ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب رجوع کریں گے۔ سراج المنیر میں شائع بھی کر دیا۔ مگر پتھر پر جونک کب لگتی ہے۔ کچھ اثر نہ ہوا۔ تلا ہوا بیٹھا ہے۔ بات منہ سے نکلے اور کاٹے۔ ہم نے (١١؍ اپریل ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٨٣ حاشیہ) کے اشتہار میں لکھا ہے اگر جلسہ عام میں میرے روبرو مولوی محمد حسین صاحب قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی اور نہ سچی نکلی اور اگر خدا کی طرف سے تھی اور فی الواقعہ پوری ہو گئی۔ تو اسے قادر مطلق ایک سال کے اندر میرے پر کوئی عذاب شدید نازل کر۔ پھر اگر مولوی صاحب موصوف اس عذاب شدید سے ایک سال تک بچ گئے۔ تو ہم اپنے تئیں جھوٹا سمجھیں گے۔ اور مولوی صاحب کے ہاتھ پر توبہ کریں گے اور جس قدر ہمارے پاس اس بارہ میں الہام ہوں گے جلا دیں گے۔
حواری ...... فریب نواز! مولوی صاحب نے اس بات کا جواب بھی تو اس پرچہ میں لکھا ہے۔
مولوی صاحب ...... اگر آپ کا وہ الہام بھی سچا تھا۔ جو تین بار آپ کو ہوا ہے۔ اور خدا کی طرف سے تھا اور آپ اس کے بیان میں سچے تھے۔ تو پھر آپ کو میری مخالفت اور مخالفانہ تحریر کی فکر کیوں
٢٨٤
پڑی۔ جب میں آپ کی طرف رجوع اور آپ کے موافق ہونے والا ہوں۔ تو چاہوں ہزار مخالفت کروں۔ آخر میدان تو آپ کے ہاتھ آنے والا ہے...... لہذا اس یقین کرنے کی کافی وجہ بھی موجود ہے۔ وہ الہام آپ کا محض افتراء ہے۔ جس سے آپ کی غرض یہ ہے کہ خاکسار آپ کی پیشگوئی کی نکتہ چینی نہ کرے۔ پھر آپ فرماتے ہیں۔ مخالفانہ تحریر کی کیا ضرورت ہے۔ مباہلہ سے آسانی سے فیصلہ ہو سکتا ہے۔
یہ خاکسار اپنی نیک نیتی اور سچائی کی نظر سے اور خدا تعالیٰ کو ناصر و معاون حق ہونے کے امید و بھروسا پر آپ کی دعوت قسم کی قبول کرنے کو بغیر کسی معاوضہ یا تاوان کے حاضر ہے۔ وغیر ہ وغیرہ۔
از اشاعت السنہ نمبر ٢ جلد ٨ ص ٥١ و ٥٢۔
حواری...... عجیب دلیر اور ضدی آدمی ہے۔ خدا کے نبی اور مرسل کے مقابلہ میں مباہلہ کو بھی تیار ہے۔
مرزا صاحب...... (آشفتہ خاطری سے) حاسد ہے۔ کم بخت اپنی جان کا بھی خوف نہیں کرتا۔ ہمارا مقابلہ گویا خدا کا مقابلہ ہے۔
ظریف...... حضور ! ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ یہ ایک مشہور مثل ہے۔ وہ بھی تو آپ کے ہم مکتب ہیں۔ ساتھ کھیلے۔ ساتھ پڑھے۔ ایک استاد کی شاگردی کی۔ ان کا شک و حسد بھی بجا ہے بے جا نہیں ۔ آپ کے ایک بھائی مرزا امام الدین چوہڑوں کے پیر سلطان العارفین ہو جائیں اور ایک ہجڑوں کے سردار اور آپ کے مدارج علوی کا تو ذکر کیا ہے۔ امام، مجدد، محدث، مسیح موعود، مہدی بے نظیر انبیاء واصفیاء سے اولیٰ و افضل بلکہ خدا اور خدا کے بیٹے اور خدا کے باپ بھی بن گئے۔ جو آدم سے لے کر آج تک کسی کو یہ منصب نہ ملا۔ اور نہ کسی نے یہ دعویٰ کیا۔
مولوی صاحب بے چارے نے برسوں جان کھپائی دماغ کھپایا۔ مغز کھایا گھر بار چھوڑا۔ اپنے بیگانے کا رشتہ توڑا۔ استاد کی خدمت کی۔ جوتیاں اٹھائیں۔ مولوی کے مولوی رہے۔ جو حضرت (مرزا صاحب) کے دربار سے ہر ایک کندہ ناتراش کو بے چھیلے چھلائے خراد پر چڑھائے یہ خطاب عطا ہو جاتا ہے۔ بس بیعت کی دیر ہے۔ ساتوں طبق کھلے۔ عالم فاضل بن گئے۔ حقائق و معانی قرآنی اور نکات وحدیث دانی کے واقف اور ماہر ہو گئے۔ اور واقف بھی ایسے کہ صحابہ کرام اور تابعین کا کیا ذکر ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بھی سمجھ میں جو بات نہ آئی۔ وہ ان کو بتلائی گئی۔ مولوی صاحب بھی انسان ہیں۔ کوئی فرشتہ نہیں۔
٢٨٥
حواری...... لو اور لیجیے۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری بھی پانچوں سواروں میں داخل ہوگئے۔ وہ بھی اس پیشگوئی کے صادق ہونے سے منکر ہیں۔
مرزا صاحب ......
ایک میں خوں گرفتہ سو جلاد
تمام دنیا مسلمان عیسائی، ہندو، آریہ میری مخالفت پر دوکھا کھائے بیٹھے ہیں۔ اور یہ میرے ساتھ ہی مخصوص نہیں۔ پہلے صادقوں اور خدا کے مرسل اور نبیوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ اب دیکھو اس تمام پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے۔ ایک ہیبت ناک واقعہ ہوگا۔ جو چھ سال کے اندر وقوع میں آئے گا۔ اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا۔ یعنی ٢ شوال کا ہوگا ( سراج المنیر ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥) اس کا تمام نقشہ برکات الدعاء کے مضمون میں دکھایا گیا ہے۔ کیا یہ کسی منصوبہ باز کا کام ہو سکتا ہے؟ کہ چھ برس پہلے ایسے صریح نشانوں کے ساتھ خبر دیدی۔ اور خبر پوری ہو جائے۔ توریت گواہی دیتی ہے کہ جھوٹے نبی کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ خدا اس کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ تا دنیا تباہ نہ ہو۔
حواری...... ان کی یہ بدگمانی ہے کہ حضرت کے کسی مرید نے لیکھرام کو مار دیا ہوگا۔ یہ کیسا شیطانی خیال ہے۔
مرزا صاحب ...... ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ مریدوں کا مرشد کے ساتھ ایک نازک تعلق ہوتا ہے۔ اور اعتقاد کی بنیاد تقویٰ اور طہارت اور نیکوکاری پر ہوتی ہے۔ جس قدر دنیا میں نبی اور مرسل گزرے ہیں۔ یا اگلے مامور اور محدث ہوں۔ کوئی شخص ان کے مریدوں میں اس حالت میں داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہوگا۔ جبکہ ان کو مکار اور منصوبہ باز سمجھتا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے معزز داخل ہیں۔ بی اے۔ ایم اے اور تحصیل دار اور اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کلکٹر اور بڑے بڑے تاجر اور ایک جماعت علماء وفضلا کی ۔ تو کیا یہ تمام لچوں اور بدمعاشوں کا گروہ ہے۔ ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ ہماری جماعت میں نہایت نیک چلن اور مہذب اور پرہیز گار لوگ ہیں (سراج المنیر ٢٢ تا ٢٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٥ تا ٢٧) کوئی ان سے پوچھے کہ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اوتار گزرے ہیں۔ جیسے رام چندر اور راجہ کرشن صاحب۔ کیا آپ لوگ ان کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں۔ ہم اس وقت کیونکر اور کن الفاظ سے آریہ صاحبان کی تسلی دیں۔ کہ بدمعاشی کی چالیں ہمارا طریق نہیں ہے۔ ایک انسان کی جان سے ہم دردمند ہیں۔ اور خدا کی ایک پیشگوئی سچ
٢٨٦
ہونے پر ہم خوش بھی ہیں کاش وہ سوچ پہلے خبر دینا انسان کا کام نہیں ہے۔ ج ہے۔ درد اس لیے کہ اگر لیکھرام رجو آجاتا۔ تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تو زندہ ہو ج نہیں۔ خوشی اس بات کی کہ پیشگوئی نما دوبارہ روشنی ڈال دی۔
حواری...... ایک خاص بہادر مسلمان تھا۔ اس نے پرچہ ٢٠؍ مارچ ١٨٩٧ء م دیجیے۔ اور میری نسبت کوئی پیشگوئی معقول تسلیم کر کے تائید کرتا ہے۔ مگر یہ
مولانا محمد حسین صاحب ...... حاصل یہ پر سازش قتل کا الزام لگایا۔ اور یہ کہا ب پوچھتا ہوں کہ آپ کے راجہ رام چندر کیا۔ اور کسی حیلہ سے کہا تھا؟ کہ میرا اس کا معتقد اور مرید کب رہتا ہے۔ چ
اس جواب کے نامعقول لگاتے ہیں۔ اور آپ کے مریدوں کو ا اکثر مسلمان آپ کو فریبی اور آپ کے اور ”یکے دزد باشد۔ یکے پردہ دار۔“ ب
آپ جو ایسے مریدوں کی کے حالات دیکھ رہے ہیں۔ کہ وہ اس بنگالی عورتوں کے اغوا کے مقدمات م عورت کو علیحدہ کردیں گے۔ سزا ے زنا کاری اور شراب خوری کے مرتکب علیحدہ کیا۔ اور ان کے حالات کو بذری
ہونے پر ہم خوش بھی ہیں کاش وہ سوچیں اور سمجھیں ۔کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا انسان کا کام نہیں ہے۔ ہمارے دل کی عجیب حالت ہے۔ درد بھی ہے اور خوشی بھی ہے۔ درد اس لیے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا، زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا۔ کہ وہ بدزبانیوں سے باز آجاتا۔ تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لیے دعا کرتا۔ اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تو زندہ ہو جاتا۔ وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں۔ اس سے کوئی بات انہونی نہیں۔ خوشی اس بات کی کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔ آتھم کی پیشگوئی پر بھی اس نے دوبارہ روشنی ڈال دی۔
(سراج المنیر ص ٢٣، ٢٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٧، ٢٨)
حواری.....ایک خاص بہادر مسلمان پیسہ اخبار کا ایڈیٹر اپنی وسعت اور کثرت کی وجہ سے بڑا دلیر تھا۔ اس نے پرچہ ٢٠؍مارچ ١٨٩٧ء میں حضور سے ڈر کر التجا کی ہے کہ مجھے کچھ عرصہ زندہ رہنے دیجیے۔ اور میری نسبت کوئی پیشگوئی نہ کیجیے گا۔ اور ٢٧ مارچ کے پرچہ میں اس جواب کو جواب معقول تسلیم کر کے تائید کرتا ہے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس کی تردید کرتے ہیں۔
مولانا محمد حسین صاحب..... حاصل جواب الہامی صاحب یہ ہے کہ اخبار پنجاب سماچار میں جو مجھ پر سازش قتل کا الزام لگایا۔ اور یہ کہا ہے کہ اس کے مرید نے مقتول کو قتل کر دیا ہوگا۔ اس سے میں پوچھتا ہوں کہ آپ کے راجہ رام چندر یا کرشن نے کسی اپنی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لیے ایسا حیلہ کیا۔ اور کسی حیلہ سے کہا تھا؟ کہ میری عزت رکھنے کے لئے ایسا کرنے پر اگر مرید سے یہ کہے تو وہ اس کا معتقد اور مرید کب رہتا ہے۔
اس جواب کے نامعقول ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو ہندو آپ پر سازش قتل کا الزام لگاتے ہیں۔ اور آپ کے مریدوں کو ایک صادق پیر کے مرید کب خیال کرتے ہیں۔ وہ تو ہندو ہیں اکثر مسلمان آپ کو فریبی اور آپ کے کئی مریدوں کو بناوٹی مرید اور کرایہ کے ٹٹو خیال کرتے ہیں۔ اور ”یکے دزد باشد۔ یکے پردہ دار۔“ کا مصداق نِصْفٌ لِّيْ وَنِصْفٌ لَّكُمْ کے شرکاء۔
آپ جو ایسے مریدوں کی پاکی ونیک چلنی بیان کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں وہ ان کے حالات دیکھ رہے ہیں۔ کہ وہ اسلامی انجمنوں کے وکیل بن کر اور ان کی طرف سے واعظ ہو کر بنگالی عورتوں کے اغوا کے مقدمات میں ماخوذ ہوئے۔ گو آخر مستغیث کو جھوٹا وعدہ دے کر ہم تیری عورت کو علیحدہ کر دیں گے۔ سزا سے بچ گئے۔ مگر عورت کو علیحدہ نہ کیا۔ اور انجمنوں کے چندہ سے زنا کاری اور شراب خوری کے مرتکب ہوئے۔ اس وجہ سے انجمنوں نے ان کو اپنی وکالت سے علیحدہ کیا۔ اور ان کے حالات کو بذریعہ اشتہارات مشتہر کیا۔
٢٨٧
ایسے بناوٹی مریدوں کا ایسے فریبی پیر کی کارروائیوں میں اگر وہ وقوع میں آئی ہوں۔ مددگار ہونا کون سے تعجب کا محل ہے۔ اور کیا مشکل ہے اس صورت میں اس جواب کو معقول نہ کہنا کیونکر معقول ہو سکتا ہے۔ ........ پہلے آپ اپنا صادق پیر اور مریدوں کا نیک چلن و نیک نیت مرید ہونا ثابت کریں۔ پھر ہندوؤں کے سامنے راجہ رام چندر اور مسلمانوں کے سامنے ولی مسلم ہوں۔ تو اس وقت یہ جواب معقول ہو سکتا ہے۔ اس اعتراض میں ہم نے فرض منصبی کو ادا کیا ہے۔ الہامی صاحب نے اپنی ساری جماعت کو پاک کہا اور اس کا اثر بد قوم پر ظاہر ہونے والا تھا۔ تو ہم کو ہمارے فرض نے مجبور کیا۔ کہ ہم اس امر کا اظہار کر دیں کہ اس جماعت میں ناپاک خصائل و افعال کے لوگ بھی ہیں۔ الہامی صاحب کے دھوکہ میں آکر ساری جماعت کو نیک نہ سمجھ لینا چاہیے۔ ورنہ ہم کو ذاتیات سے کوئی پرخاش مقصود نہیں ہے۔ از اشعۃ السنہ نمبر ١ جلد ١٨ ص ٧ و ٨۔
مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کو سچا اور نہایت صفائی سے پورا ہونا (سراج المنیر ص ١٩ تا اخیر کتاب تک) بڑے زور سے ثابت کیا ہے اور سراج المنیر وہ کتاب ہے۔ جو ٦؍فروری ١٨٨٦ء کے اشتہار میں اس کے شائع ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ اور ١٨٩٧ء میں لیکھرام کے قتل کے بعد ٧٤ صفحہ پر شائع ہوئی۔ اور ان میں فقط لیکھرام کی پیشگوئی کا ثبوت ہے یا کچھ پیشگوئیاں سابقہ اس کے ثبوت میں درج ہیں۔ جس صاحب کو شوق ہو۔ ملاحظہ کر سکتا ہے۔
حاشیہ جات
- ١ یہ دھمکی عام طور پر پہلے تو اشتہار ١٥؍مارچ ١٨٩٧ء آریہ کے ساتھ مولویوں کو شامل کر
کے خود الہامی قاتل نے شائع کی۔ پھر ان کے خلفا میاں معراج الدین صاحب وغیرہ نے آسمانی فیصلہ کے ذریعے مشتہر کی۔ پھر خصوصیت کے ساتھ خاکسار کو مخاطب کر کے الہامی صاحب کے خلیفہ اکبر و حواری اعظم حکیم نور الدین صاحب بھیروی نے ایک خط کے ذریعہ سے جو الہامی قاتل کے مرید میاں محمد صادق صاحب کلرک اکاونٹنٹ جنرل آفس اور میاں عبدالرحمٰن صاحب کلرک ریلوے میرے پاس لائے وہ دھمکی دی اور یہ بات لکھی کہ اس کے لیے بشرط انکار کم سے کم پنڈت لیکھرام کی طرح پیشگوئی کے واسطے صاف ارادہ فرمادیں۔ آخر حضرت الہامی صاحب نے اپنے اشتہار متعلق (قتل لیکھرام مطبوعہ ١١؍اپریل ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٨٣ حاشیہ) میں صاف لکھ دیا ہے کہ اگر مولوی محمد حسین صاحب قسم کھالیں کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ تو پھر ایک سال میں بچ رہے۔ تو ہم جھوٹے سمجھے جائیں گے اشاعۃ السنہ نمبر ١ جلد ١٨ ص ٤۔
٢٨٨
باب ٣٨
فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور
اب جگر تھام کے بیٹھو
ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ کا شور تو مرزا کے دعویٰ سے بھی دو ہاتھ اونچا اٹھا ہوا ہے۔ وہ ہیں۔ آج ہم اپنے ناظرین کو ان کے اجلاس کا جلسہ دانش اور اہل فضل موجود ہیں۔ نہایت خوبصورتی کے کے دربار گوہر بار سے ٹکر لیتا ہے۔ مجددالسنۃ شرقیہ پیرو حضرت اقدس مرزا صاحب کا ذکر خیر ہے مگر ڈوئی ایک ...... ڈاکٹر ڈوئی کے کیرکٹر سے ناظرین اچ قادیانی مسیح ہارا ہوا ہے۔ روزانہ پیسہ اخبار میں ال شائع ہوا ہے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بننے کے لیے فرانسیسی مسیح کے مقابلہ میں پرائمری تعلیم پا رہے لیڈر بنائیں۔ پھر دیکھیں کیسا چوکھا رنگ کھلتا ہے کرنے کی کل کے ذریعہ سے فی گھنٹہ کئی ہزار آ سرٹیفکیٹ دلوا سکتا ہے۔ مرزا جی نے تو ابھی تک ا مینار کی بنیاد ڈالی۔ اس کی تعمیر بھی ابھی تک ہوا پر اٹکے ہوئے ہیں افسوس اور نہایت افسوس۔
- دوسرا ...... سنا ہے ڈاکٹر ڈوئی کے نئے مذہب پر
ضرور لے لیتا ہے۔
- تیسرا ...... اس قدر تو مرزا صاحب قادیانی کو بھی ی
جاتا ہوگا۔ مگر یہ نہیں کہ وہ ظاہر الفاظ میں اقرار ک یوں تو بیعت کے وقت بیعت کرنے والے کے پا رقم وصول کرتے ہیں۔ نہایت نرمی اور خوب صورتی
باب ٤٨ چہل وہشتم
فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور اس کی دعا کے بیان میں
اب جگر تھام کے بیٹھو میری باری آئی
ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ کا شور تو مرزا صاحب اور ڈاکٹر ڈوئی کی مستجاب اور مسٹر پکٹ کے دعوائے سے بھی دو ہاتھ اونچا اٹھا ہوا ہے۔ وہ بھی تو مجدد السنۃ شرقیہ شوکت اللہ ہونے کے مدعی ہیں۔ آج ہم اپنے ناظرین کو ان کے اجلاس کا جلسہ بھی دکھادیں۔ بہت سے اصحاب خیر وارباب دانش اور علم فضل موجود ہیں۔ نہایت خوبصورتی کے ساتھ ایک مجمع جمع ہے جو جناب مرزا صاحب کے دربار کو ہر لحاظ سے ٹکر لیتا ہے۔ مجدد السنۃ شرقیہ ایک مسند پر رونق افروز ہیں۔ ہمارے ناول کے ہیرو حضرت اقدس مرزا صاحب کا ذکر خیر ہے مگر ڈاکٹر ڈوئی صاحب کے ساتھ۔
ایک...... ڈاکٹر ڈوئی کے کیریکٹر سے ناظرین اچھی طرح واقف ہیں ان کا ذکر ضمیمہ میں بمقابلہ قادیانی مسیح بارہا ہوا ہے۔ روزانہ پیسہ اخبار میں ان کی تصویر اور دعا کرنے کی کل کا فوٹو معہ کوائف شائع ہوا ہے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بننے کے لیے سائنس میں ابھی مرزاجی ادھورے ہیں۔ گویا فرانسیسی مسیح کے مقابلہ میں پرائمری تعلیم پارہے ہیں۔ بہتر ہو کہ چند روز ڈاکٹر ڈوئی کو اپنا ماسٹر یا لیڈر بنائیں۔ پھر دیکھیں کیسا چوکھا رنگ نکلتا ہے۔ ڈاکٹر ڈوئی کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ اپنی دعا کرنے کی کل کے ذریعہ سے فی گھنٹہ کئی ہزار آدمیوں کو آسمانی باپ کے اجلاس سے بخشش کا سرٹیفکیٹ دلواسکتا ہے۔ مرزاجی نے تو ابھی تک ایسی کل بھی ایجاد نہیں کی۔ بے دیکھی صرف ایک مینار کی بنیاد ڈالی۔ اس کی تعمیر بھی ابھی تک ہوا پر ہے۔ بلکہ بدخواہوں کی بدولت اس میں روڑے اٹکے ہوئے ہیں افسوس اور نہایت افسوس۔
دوسرا...... سنا ہے ڈاکٹر ڈوئی کے نئے مذہب پر جو شخص ایمان لاتا ہے۔ وہ اس سے آمدنی کا عشر ضرور لے لیتا ہے۔
تیسرا...... اس قدر تو مرزا صاحب قادیانی کو بھی مریدوں سے مختلف چندوں ودیگر وسائل سے مل جاتا ہوگا۔ مگر یہ نہیں کہ وہ ظاہر الفاظ میں اقرار لکھاتے ہوں کہ ١/١٠ کی آمدنی سے حصہ دار ہیں۔ یوں تو بیعت کے وقت بیعت کرنے والے کے جان ومال کا بیع کر کے بیع نامہ لکھا لیتے ہیں۔ مگر جو رقم وصول کرتے ہیں۔ نہایت نرمی اور خوب صورتی سے جو کسی کو ناگوار نہ گزرے۔
٢٨٩
چوتھا ...... ڈاکٹر ڈوئی کے اندر ایسی کیا صفت ہے؟ اور اس کے عقائد میں کیا جادو ہے۔ جس کے اثر سے اتنے آدمی اس کے گرد لوٹ پوٹ ہورہے ہیں ۔ حتی کہ اس کے مرید ایسے خوش اعتقاد ہیں ۔ کہ اپنی آمدنی کا عشر ہمیشہ خندہ پیشانی سے ادا کر کے اس کی سخت قواعد کی پوری تعمیل کرنے اور اس کے جوش انگیز وعظ دل لگا کر سنتے ہیں ۔ اور اپنی تندرستی اور آسودگی اس کی دعاء کی برکت سے سمجھتے ہیں۔ خواہ یہ دعا فی الحقیقت ان کے واسطے کی جائے یا ان کا صرف نام دعا کی مشین میں چھپ جائے ۔ ایسی کارروائیوں سے ہمیں خواہ مخواہ بت پرستوں کا زمانہ آجاتا ہے۔
ایڈیٹر ...... ڈاکٹر ڈوئی کی مشین ایک زبردست آلہ ہے۔ جب کبھی اس کا کوئی بیمار مزید صحت کا خواستگار ہوتا ہے۔ تو وہ صرف خط میں لکھ دیتا ہے کہ میں بیمار ہوں ۔ اور آپ کی دعا چاہتا ہوں ۔ جب نبی صاحب کو فرصت ہوتی ہے۔ تو وہ ایسے خطوط کی ٹوکری پر نظر ڈالتا ہے۔ اور ہر خط کو ایک منٹ کے لیے اوپر اٹھاتا ہے اور دعا پڑھتا ہے۔ پھر وہ خط کو ایک مشین میں جس میں ربر سٹامپ لگی ہوئی ہے ڈال دیتا ہے۔ اور اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے ہتھے کو گھماتا ہے۔ جس سے اس کے خط پر یہ الفاظ چھپ جاتے ہیں کہ تمہارے لیے دعا مانگی گئی۔ بیمار اسی وقت اپنی صحت تصور کرنے لگتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر ڈوئی کے لیے ایک بدقسمتی یہ ہے کہ بعض اوقات راسخ الاعتقاد مریدوں کو بھی صحت نہیں ہوتی ۔
ایک شخص ...... تعجب ہے کہ وہ مرید بداعتقاد ہو کر اکھڑتے نہیں ۔ یہ ہندوستانی جاہل اور پنجابی ڈھگے (بیل) تو ہیں نہیں یورپ کے تعلیم یافتہ ہیں ۔
ایڈیٹر ...... مگر یہ ایسا چالاک اور فطرتی شخص ہے کہ اپنی ناکامی کو بھی کامیابی کے پیرایہ میں دکھاتا ہے۔ ایک دفعہ اس کی حقیقی بیٹی کوئی چیز سپرٹ کے چولہے پر گرم کر رہی تھی ۔ کچھ بھول ہوگئی۔ تو بے رحم والد نے تاکیدی حکم دے دیا کہ اسی سپرٹ سے اسے جلا دیا جائے ۔ وہ جل کر اسی روز مرگئی ۔ اس کی نافرمانی سے مریدوں کو عبرت ہوئی ۔ اس نے کہا کہ بعد سزا دہی کے میں نے اور اس کے تمام بزرگوں نے اس کی جان بخشی کے لیے سفارش کی۔ لیکن قبول نہ ہوئی۔ شہر صیہون میں طبیب اور شراب خانہ اور دواخانہ کا نام تک نہیں ۔ یہاں تک کہ سوڈا واٹر بھی نہیں مل سکتا ۔ تاہم جعلی پیغمبر کا رسوخ پھیلا ہوا ہے۔ اور شہر معمولی رفتار سے ترقی کرتا جاتا ہے۔ اس شہر میں لیس کی بڑی تجارت ہے۔ اس لیے کہ ڈوئی بڑا دور اندیش تاجر ہے۔ اور ایسا نبی ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کو پہلے تاڑ لیتا ہے۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ اس کی کامیابی فصاحت اور مضبوطی دلائل پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس گرم جوشی اور کشش پر ہے۔ جو سننے والے کو اس کی صورت دیکھتے ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ بولتا
٢٩٠
٠٥
ہے ۔ تو بعض سامعین کو اس کے الفاظ سنائی نہیں رہتے ہیں۔ اور اس کے اوضاع چمکدار آنکھوں ا اپنے شاندار کلمات ختم کر کے بیٹھ جاتا ہے۔ تو س پر اعتراض کرنے کی کسی کو جرات نہیں پڑتی ۔ یا ک اپنے تین ہزار حواریوں کے بدیں غرض آئے ت حواریوں نے میڈلس کے میدان میں کھانا کھایا ا لیکن خود معہ اپنی بیوی کے ایک فیشن ایبل ہوٹ لکھائی ہے۔ کہ میری بیوی کا بروج جس کی قیم کسی نے استقبال کے وقت اڑا لیا۔ (ضمیمہ ایک صاحب ...... مسیحیوں کا ڈر بالکل گیا ۔ ان فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی، لندن میں مسٹر پکٹ او خود مسیح ہونے کا مدعی ہے اور لوگ بھی اندھا دھن ایڈیٹر ..... پائیر کے جس مضمون کا ذکر ہم نے ب حسب ذیل چھپا ہے۔
کرزن گزٹ ...... جو لوگ چشم بینا رکھتے ہیں ۔ خطہ زمین پر عجائبات نظر آتے ہیں کیا کوئی کہہ ہے۔ گورنمنٹ کی جانب خیال کیا جائے تو کیا ا بھی لوگ لا پرواہ یا بے غرض ہوتے ۔ یہاں تو میں چنگاری ۔ یہ بات صرف سر برآوردہ یا خا اور سرحدی فرقوں کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔ ایم جولس لوئس فرانسیسی سیاح ن مذہب کا پاس بالکل نہیں ۔ تصوف کا عقیدہ گھٹتا ہے۔ اکثر لوگ ایٹمی ہیں ان کے تنزل ہیں ۔
پائیر ...... اس نے یہ مذمت انگریزوں کی ہے ( ایم لوئس ) آگے چل کر یہ لوگ اس وقت ترق
اس کے عقائد میں کیا جادو ہے۔ جس کے اثر حتیٰ کہ اس کے مرید ایسے خوش اعتقاد ہیں۔ اس کی سخت قواعد کی پوری تعمیل کرنے اور اس تی اور آسودگی اس کی دعاء کی برکت سے سمجھتے یا ان کا صرف نام دعا کی مشین میں چھپ وں کا زمانہ آ جاتا ہے۔
ہے۔ جب کبھی اس کا کوئی بیمار مرید صحت کا میں بیمار ہوں۔ اور آپ کی دعا چاہتا ہوں۔ ط کی نوکری پر نظر ڈالتا ہے۔ اور ہر خط کو ایک و خط کو ایک مشین میں جس میں ربر سٹمپ لگی تھ کو گھماتا ہے۔ جس سے اس کے خط پر یہ بیمار اسی وقت اپنی صحت تصور کرنے لگتا ہے۔ وقات راسخ الاعتقاد مریدوں کو بھی صحت نہیں
تے نہیں۔ یہ ہندوستانی جاہل اور پنجابی ڈھگے
پنی ناکامی کو بھی کامیابی کے پیرایہ میں دکھاتا ولہے پر گرم کر رہی تھی۔ کچھ بھول گئی۔ تو بے اسے جلا دیا جائے۔ وہ جل کر اسی روز مر گئی۔ نے کہا کہ بعد سزا دہی کے میں نے اور اس کے گی۔ لیکن قبول نہ ہوئی۔ شیخوں میں طبیب اور کہ سوڈا واٹر بھی نہیں مل سکتا۔ تاہم جعلی پیغمبر کا رتا جاتا ہے۔ اس شہر میں لیس کی بڑی تجارت را ایسا نبی ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کو پہلے تاڑ لیتا حت اور مضبوطی دلائل پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس صورت دیکھتے ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ بولتا
ہے، تو بعض سامعین کو اس کے الفاظ سنائی نہیں دیتے۔ وہ صرف اپنی نظر اس کے چہرہ پر جمائے رہتے ہیں۔ اور اس کے اوضاع چمکدار آنکھوں اور عالمانہ ابروؤں پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ جب وہ اپنے شاندار کلمات ختم کر کے بیٹھ جاتا ہے۔ تو سامعین بے خودی سے ہوش میں آتے ہیں۔ مگر اس پر اعتراض کرنے کی کسی کو جرات نہیں پڑتی۔ یا عقل میں نہیں آتی۔ پچھلے دنوں وہ نیو یارک میں معہ اپنے تین ہزار حواریوں کے بدیں غرض آئے تھے۔ کہ خدا کے کام کے واسطے چندہ وصول کریں۔ حواریوں نے میڈسن کے میدان میں کھانا کھایا اور مختلف بورڈنگ ہاؤسوں میں رہنے کو چلے گئے۔ لیکن خود معہ اپنی بیوی کے ایک فیشن ایبل ہوٹل میں اترے۔ اور آپ نے پولیس میں اطلاع لکھائی ہے۔ کہ میری بیوی کا بروج جس کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپیہ ہے۔ گم ہو گیا ہے غالباً کسی نے استقبال کے وقت اڑا لیا۔ (ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ ١٦ نومبر ١٩٠٣ء نمبر ٣٣ جلد ٢١)
ایک صاحب ...... مسیحیوں کا ڈراما کھل گیا۔ ایک دو تین اس وقت ایک زمانہ میں پیدا ہو گئے۔ فرانس میں ڈاکٹر ڈوئی، لندن میں مسٹر پگٹ اور پنجاب میں مرزا غلام احمد قادیانی ہر ایک بجائے خود مسیح ہونے کا مدعی ہے اور لوگ بھی اندھا دھند رجوع ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ایڈیٹر ...... پائینر کے جس مضمون کا ذکر ہم نے مجمل طور پر کیا تھا۔ کرزن گزٹ میں اس کا پورا ترجمہ حسب ذیل چھپا ہے۔
کرزن گزٹ ...... جو لوگ چشم بینا رکھتے ہیں۔ یا اس تماشا گاہ کی آنکھ کھول کر سیر کرتے ہیں۔ ان کو خطہ زمین پر عجائبات نظر آتے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان میں ایک اور نبی کی ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کی جانب خیال کیا جائے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ اگر فرانس کی رعایا کی طرح یہاں کے بھی لوگ لا پرواہ یا بے غرض ہوتے۔ یہاں تو ذرا سی مذہبی بات بھی ایسی ہو جاتی ہے۔ جیسی بھس میں چنگاری۔ یہ بات صرف سر برآوردہ یا خاص لوگوں ہی میں نہیں۔ بلکہ عام ہے۔ سوڈانی مہدی اور سرحدی فرقوں کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔
ایم جولس بوئس فرانسیسی سیاح نے یہاں والوں کی نسبت حسب ذیل رائے قائم کی ہے۔ مذہب کا پاس بالکل نہیں۔ تصوف پھیلا ہوا ہے جس کو وہ اپنے زعم باطل میں مجذوبوں کا عقیدہ کہتا ہے۔ اکثر لوگ افیمی ہیں ان کے خصائل اور عادات غیر معمولی بچوں جیسے درندہ روبہ تنزل ہیں۔
پائینر ...... اس نے یہ مذمت انگریزوں کی ہے اور ہندوستانیوں کی نسبت عمدہ رائے قائم کی ہے۔ (ایم لوئس) آگے چل کر یہ لوگ اس وقت ترقی کر سکتے ہیں۔ جبکہ منشیات سے پرہیز کرنا اور ادائینگی
٢٩١
فرض ہم سے سیکھیں۔ منتشر الخیالی چھوڑ دیں۔ اور اپنی طاقت کے موافق مغربی طریقہ اختیار کریں۔ ایک خطرہ ملک میں یہ پھیلا ہوا ہے۔ کہ بے حساب مذہبی تحریکیں ہوتی رہتی ہیں۔ حالانکہ گورنمنٹ ہند نے اپنی حکمت عملیوں سے دینی حرارت یا تعصب کو بہت کچھ دبا دیا ہے۔
آپ بتائیں کہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں کتنے انگریزوں کو اس بات کا علم ہے۔ کہ پنجاب میں احمدیہ تحریک ہو رہی ہے۔ حالانکہ مذہب اسلام میں جو دو بڑی تحریک یا رخنہ اندازیاں ہوئیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ کل ہندوستان میں چار نئے گروہ پیدا ہوئے۔ ممالک متحدہ اور بنگال میں علی گڑھ والے اور برہم سماجی دو گروہ ترقی کر رہے ہیں یہ دونوں فرقہ آزاد منش بے تعصب قدرت کے قائل اور گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں۔ جو لوگ ہندوستان کی بہبودی چاہتے ہیں۔ ان کے پرسان حال نہیں ہوتے۔ کہ کیا کر رہے ہیں۔ اور کس رنگ میں ہیں۔
مدت ہوئی کہ آریہ سماج اصلاح کے لیے بمبئی میں قائم کیا گیا تھا مگر اب وہ پنجاب میں ترقی کر رہا ہے اور اپنی کمال عروج پر ہے۔ ہم اس وقت اس کے متعلق بحث کرنا نہیں چاہتے۔
اسلام کے نام پر فرقہ احمدیہ نے انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ یہ لوگ بالکل نئے عقائد کے پابند ہیں۔ کہتے ہیں۔ کہ ہم ملکی امن کے بڑے خواہاں ہیں۔ اور گائے کی طرح غریب اور حلیم الطبع ہیں۔ مگر ان کی حرکتوں پر ایک دو مرتبہ گورنمنٹ کو توجہ کرنی پڑی ہے۔
ہنوز اس فرقہ کی تحریک پنجاب تک محدود ہے۔ اس کے پیروؤں کی تعداد پر نظر ڈالنے کی سب سے پہلے ضرورت ہے گزشتہ مردم شماری کے آدمی گیارہ سو جو ان مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں۔ اس کا آرگن تو یہ لکھتا ہے کہ ہمارے ساتھ پچاس ہزار بلکہ ستر ہزار آدمی کا گروہ ہے (نہیں جناب تقریباً دو لاکھ) حال میں ٣٦ صفحہ کا ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس کا نام ”مرزا غلام احمد مہدی مسیح قادیانی“ ہے اس کے مصنف لاہور کے پادری ایچ ڈی گر اولڈ صاحب فلسفہ کے ڈاکٹر ہیں۔ اس رسالہ میں معمول سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر جو کچھ لکھا ہے وہ بادی النظر میں صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔ قادیاں ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔ وہاں ایک پینسٹھ سالہ آدمی رہتا ہے۔ جس کی صورت بزرگوں کی سی ہے۔ چہرہ سحر القلوب اور عقل تیز ہے۔ یہ مرزا غلام احمد رئیس قادیاں ہیں۔ اسی وجہ سے قادیانی کہلاتے ہیں۔ فرقہ احمدیہ کے بانی و سردار ہیں۔ ذات سے مغل ہیں۔ چار صدیاں گزریں۔ بابر کے عہد حکومت میں ان کے بزرگ سمرقند سے آئے تھے۔ مورثی پیشہ دوا فروشی ہے۔
غلام احمد نے اپنے مختصر رسالوں میں لاف زنی اور میٹھی میٹھی ادویات کے ذرائع سے وبا
٢٩٢
کے زمانہ میں بہت کچھ کر ڈالا۔ آخر کار گورنمنٹ نے دست اندازی کر کے اس کاروائی کو بند کیا۔ اس کا خاندان غدر کے زمانہ میں خیر خواہ تھا۔ چنانچہ سرلیپل گریفن نے اپنی کتاب روسائے پنجاب میں بھی ذکر کیا ہے۔
یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں گورنمنٹ کا بڑا خیر خواہ ہوں۔ مگر یہ دعویٰ بالکل تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ کہتا ہے کہ میرا فتویٰ جہاد کے خلاف ہے۔ پانچ سال ہوئے۔ سرسیکوریگ کو ایک میموریل اس نے لکھا تھا۔ کہ جہاد کے مسلمہ مسئلہ سے انکار کرنا ہی مجھ کو مسیح موعود اور مہدی مان لینا چاہیے۔
پادری صاحب کہتے ہیں کہ اہل اسلام میں تعصب اور مذہبی جوش کا میلان نہ ہوتا۔ تو یہ مذہب بہت ہی اچھے عقیدہ کا ہوتا۔ جبکہ مجھ کو بہت سے معزز ومحترم اصحاب کی ملاقات سے معلوم ہوا۔ (سبحان اللہ۔ اس مقدس مذہب کی عظمت اس سے ظاہر ہے کہ پادری صاحب کے قلم سے بے ساختہ اس کی تعریف نکل رہی ہے۔ بدنام کنندہ نکو نامے چند۔ ان کو دیکھ کر اسلام کے متعلق رائے قائم کر لینا سخت غلطی ہے)
مرزا صاحب کی تعلیم تعصب جہالت کے بند کھول رہی ہے۔ اور اس کوشش میں ہے۔ کہ مذہبی جوش جڑ بنیاد سے جاتا رہے۔
کسی تیز طرار مسلمان کا نام احمد ہونا ہی اس کے لیے قیامت ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں آنے والے احمد کی پیشگوئی درج ہے۔ لکھا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم نے فرمایا: کہ اے بنی اسرائیل لاریب میں خدا کا رسول ہوں۔ اور اس لیے بھیجا گیا ہوں۔ کہ خدا کے ان احکام کو مضبوط کروں جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں اور اس رسول کا اعلان دوں۔ جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا۔ اس آیت کا اسلامی تاریخ پر بہت بڑا اثر نہیں پڑا۔ بڑا تباہ کن سوڈانی مہدی بھی احمد نامی تھا۔ ہندوستان میں ہی چار احمد مذہبی سردار ہو چکے۔ (١) شیخ احمد سرہندی۔ (٢) سید احمد غازی بریلوی۔ (٣) سید احمد خان۔ (٤) قادیانی رسول (مگر یہ تو غلام احمد بیگ ہے۔ نہ کہ مرزا احمد۔ تاہم نہ صرف احمد سے بلکہ تمام انبیاء سے اپنے کو برتر سمجھتا ہے ) غلام احمد کے خاندان میں تعصب تو نہیں مگر لالچ ضرور ہے۔ اس کا چچا زاد بھائی پنجاب کے مہتروں (حلال خوروں) کا گرو بن بیٹھا۔ اس طرح ایک بھائی دوسرے کے خلاف چلتا ہے۔
اسی موضع قادیاں میں مہتروں کا سالانہ ہجوم یا میلہ ہوتا ہے غلام احمد وہاں کا رکن ہے اس کے اصول چار ہیں۔ تعلیم میٹنگس۔ مباحثہ کے مطالبے۔ قادیاں میں اس کا ایک کتب خانہ اور ایک مطبع ہے اردو میں الحکم شائع کرتا ہے۔ اور انگریزی میں ریویو آف ریلیجنز یعنی مذہب کی
٢٩٣
تحقیق۔ اس کے بیان کے موافق اسی گزشتہ بائیس سال میں مخمیناً پچاس کتابیں عربی، فارسی، اردو میں تصنیف کی ہیں۔ جو علاوہ ہندوستان کے ایران عربستان کابل سیریا اور مصر میں بھی شائع کی گئی ہیں۔ اس نے دنیا بھر کے مصنفوں کو ایک کھلی چٹھی میں مخاطب کر کے لکھا ہے کہ میں آپ کو نئی بات بتاتا ہوں۔ یعنی مسیح کشمیر میں آئے تھے اور ان کا مقبرہ آج تک وہاں موجود ہے۔
ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں تصویر کشی رنگ روغن میں جماعت خوجہ جا بجا پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں نہ کوئی مذہبی پابندی ہے نہ تعصب، ڈر کے مارے حج کرنے کو بھی نہیں جاتے۔ کہ کہیں سنیوں کے ہاتھوں جان سے نہ جاتے رہیں۔ وہ عجیب مخلوط گروہوں کے پیروؤں کا نام خوجہ رکھا گیا ہے۔ ایک وشنو (ہندو) دوسری علی ہزہائینس آغا خان جی سی ایس آئی۔ ہمارے شاہی خاندان کے جوان دوست کا یہ گروہ معتقد ہے۔ قانون کی رو سے یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد میں سے ہیں۔ اور جیسا کہ ایک مقدمہ میں ثابت ہوا ہے۔ یہ سیریا کے ایک ...... پہاڑی کی نسل سے ہیں۔ جس کے نام سے مجاہدین وغیرہ کانپتے تھے۔ اور جو قزاقوں کا سردار مشہور تھا۔ بغیر کسی ایسی حیثیت کے جیسے کہ آغا خان کی ہے۔ اور بغیر کسی تاریخی واقعہ کے غلام احمد بھی ان کی طرح مشہور ہونا چاہتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مسیح اور مہدی ہونے کا فوراً دعویٰ کر بیٹھا ہے۔ اور ثبوت میں کہتا ہے کہ عیسیٰ صلیب پر نہیں مرے۔ بلکہ فی الحقیقت ہندوستان میں آکے ستاسی سال کی عمر میں بمقام کشمیر میں فوت ہوئے۔
ان کا مقبرہ سڑک خان یار کے قریب سری نگر میں موجود ہے۔ مرزا اپنی شان میں لکھتا ہے کہ میں ایک سچی بات کے اخفاء کا گنہگار ٹھہروں گا۔ اگر میں اس بات کا اظہار نہ کروں۔ کہ نبوت باری تعالیٰ نے مجھ کو بخشی ہے وہ تقدس طاقت اور راستی میں اس رسالت سے کہیں زیادہ ہے۔ جو مسیح کی مہمل پیشگوئیوں پر مبنی تھی۔ میں خدائے برتر کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ کہ جن الفاظ کا میری شان میں الہام ہوا ہے وہ ان الفاظ سے بہت زیادہ وزنی اور مقدس ہیں۔ جو مسیح کے متعلق انجیل میں مندرج ہیں۔
باوجود ان بے ہودہ خیالات کے غلام احمد میں ذرا بھی تعصب نہیں خوش عقیدہ اہل اسلام نے اس کو اپنی برادری سے خارج کر دیا ہے۔ اور یہ لقب دیئے ہیں۔ کافر، دجال، ملحد، مرتد، کذاب مگر اس کو ذرا بھی پرواہ نہیں کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا؟
بلکہ مسلمانوں کے سر اوہام پرستی کی تہمت دھرتا ہے لکھتا ہے کہ تم پیروں کے ہاتھ بک گئے ہو۔ قبریں پوجتے ہو۔ جہاد کا عقیدہ رکھتے ہو۔ اور جاہل ملاؤں کے ساتھ ہر جگہ جانے کو رضا مند ہو۔ غلام احمد ایشیا کی تعلیم سے ناواقف تعلیم کے قالب میں روح پھونکنے کی کوش طرح چاہے مسلمانوں اور عیسائیوں سے خیال کریں۔ تو وہ اپنے طریق کا سچا نبی ہزاروں غلط نکلیں اکثر اس کی پیشین گوئی فلاں شخص مر جائے گا یا اس کو کوئی سخت مص آئندہ ایسا نہ کیا کرے۔ پھر بھی اس نے اس پیشگوئی سے زیادہ ہوگئی۔ جس میں جائے گا۔ اور اس کے بعد وہ قتل ہو گیا۔ ہوئی۔ ضعیف مسٹر آتھم اس کی تاریخ مقر فرزند کی بابت تھیں۔ مگر لڑکیاں ہوئیں موجودہ سردار ہمہ صفت موصوف ہے کیسا افسر ملتا ہے۔ اور غلام احمد کا جانشی ڈاکٹر ویسو ولڈ آخر میں یہ ہے۔ مگر خود فریب خوردہ ہے ایک افغا کہا ہے کہ امیر کابل یہاں کے حاکم انگریزی راج میں جو اس کے دل میں
ایک صاحب ...... (جو اس جلسہ میں م کا دعویٰ کیا ہے۔ مرزا جی کے پاؤں پ مسیح سچا اور اصلی مسیح تو میں ہوں۔ ب پوچھنا چاہیے۔ کہ وہ مرزا کو کیا سمجھتا ہ اور مرزا جی کے گروہ نے مرزا جی کو۔
دوسرا ...... حیرانی تو اس میں ہے کہ ہم اگر کسی نے کچھ تعلیم پائی۔ تو ناقص۔ اردو میں فلسفہ کے چند دلائل دیکھے۔
٢٩٤
مند ہو۔ غلام احمد ایشیائی تعلیم سے ناواقف نہیں معلوم ہوتا۔ یہ پہلا مسلمان ہے جس نے عبرانی تعلیم کے قالب میں روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت ہم کو اس سے بحث نہیں۔ وہ جس طرح چاہے مسلمانوں اور عیسائیوں سے جھگڑے مول لیتا پھرے۔ اگر ڈاکٹر ڈوئی کے واقعہ کو خیال کریں ۔ تو وہ اپنے طریق کا سچا نبی ہے۔ سینکڑوں پیشگوئیاں اس کی ثابت ہوچکی ہیں۔ اور ہزاروں غلط پہلے اکثر اس کی پیشین گوئی اس قسم کی ہوا کرتی تھیں۔ کہ کسی خاص تاریخ سے پہلے فلاں شخص مر جائے گا یا اس کو کوئی سخت صدمہ پہنچے گا۔ آخر کار اسسٹنٹ کمشنر نے اس کو مجبور کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہ کیا کرے۔ پھر بھی اس نے اس قسم کی ایک سو اکیس پیشین گوئیاں کیں۔ اس کی شہرت اس پیشگوئی سے زیادہ ہوگئی۔ جس میں اس نے یہ ظاہر کیا تھا کہ پنڈت لیکھرام اس کا مخالف مر جائے گا۔ اور اس کے بعد وہ قتل ہو گیا۔ ١٨٩٣ء کو امرتسر کے عیسائیوں میں اس کو چنداں کامیابی نہ ہوئی۔ ضعیف مسٹر آتھم اس کی تاریخ مقررہ سے کچھ دن بعد مرا۔ بہت سی پیشین گوئیاں اس کی تولد فرزند کی بابت تھیں۔ مگر لڑکیاں ہوئیں۔ اور اس کی پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ فرقہ احمدیہ کا موجودہ سردار ہمہ صفت موصوف ہے۔ لیکن اس کی آئندہ ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ اس کو آئندہ کیسا افسر ملتا ہے۔ اور غلام احمد کا جانشین قانون کے پنجہ سے بچنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ یا نہیں؟
ڈاکٹر ویسوولڈ آخر میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ پنجابی نبی فریبی نہیں ہے اور نہ فاتر العقل ہے۔ مگر خود فریب خوردہ ہے ایک افغانی بکس والے نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت کیا خوب کہا ہے کہ امیر کابل یہاں کے حاکم ہوتے۔ تو بہت جلد مرزا صاحب تین سرے ہو جاتے ہیں۔ انگریزی راج میں جو جس کے دل میں آئے کرے۔ شیر بکری ایک گھاٹ پانی پی رہا ہے۔
(ضمیمہ اخبار شحنہ ہند مطبوعہ ٢٤ نومبر ١٩٠٣ء)
ایک صاحب ...... (جو اس جلسہ میں موجود تھا) جب سے لندن میں مسٹر پگٹ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مرزا جی کے پاؤں تلے کی نکل گئی کہ ہیں یہ کیا ہو گیا۔ ایک وقت اور زمانہ میں دو مسیح سچا اور اصلی مسیح تو میں ہوں۔ یہ جھوٹا مکار فریبی کہاں سے آکودا مگر ذرا مسٹر پگٹ سے بھی پوچھنا چاہیے۔ کہ وہ مرزا کو کیا سمجھتا ہے اور کیا کہتا ہے۔ پگٹ کے گروہ نے پگٹ کو مسیح تسلیم کرلیا اور مرزا جی کے گروہ نے مرزا جی کو۔
دوسرا...... حیرانی تو اس میں ہے کہ ہندوستان میں الہی تعلیم کا اثر پورے طور پر نہیں ہوا۔ جہلاء میں اگر کسی نے کچھ تعلیم پائی۔ تو ناقص۔ دوسرے اختلاف مذاہب اپنے اصول دین سے واقف نہیں۔ اردو میں فلسفہ کے چند دلائل دیکھے۔ فلسفی بن گئے۔ اصول اس کا نہیں جانتے دم جھانسے میں پھنس
٢٩٥
جائیں تو عجب نہیں۔ مگر یورپ کے تعلیم یافتہ آزاد منش اندھے ہو کر جو گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ اور شروط کی سلاسل میں ان کو جکڑ لیتے ہیں۔ یہ عجب معاملہ ہے۔ ان (مسٹر پکٹ) میں ضرور کوئی بات ہوگی۔ جو ایک گروہ عظیم نے اس کو مسیح تسلیم کر لیا۔
تیسرا...... یہ تو ممکن ہے۔ دنیا میں ایک خیال کے کچھ آدمی جمع ہو کر سادہ لوح انسانوں کو اپنے جال میں پھانس لیں۔ اور یہ ہمیشہ ہوتا ہے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں۔ جن کے لاکھوں آدمی معتقد اور مرید ہیں۔ ان میں سے ہر ایک شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے۔ کہ میں مسیح ہوں۔ کیا وہ مسیح یا مہدی ہو جائے گا۔ اور کوئی مسیح یا مہدی ہو سکتا ہے سوڈان میں کتنے مہدی پیدا ہوئے۔ کیا ان میں کوئی سچا مہدی تھا۔ اپنی اپنی خود غرضی کو اس مکر و فریب کے پردہ میں دکھا کر معدوم ہو گئے۔
چوتھا...... مرزا صاحب مسٹر پکٹ کا دعویٰ مسیحیت سن کر جھلائے۔ تو بہت غصہ میں کچکچا غیظ و غضب میں دانتوں کو چبا کر مسٹر پکٹ کے نام ایک چٹھی لکھ ماری جس میں بدستور دو ٹوک پیشگوئی ہانکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر وہ (مسٹر پکٹ) اپنے دعوؤں سے توبہ نہ کرے گا تو بہت جلد میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ یہ ویسی تاویل ہے جیسی میعاد مقررہ پیشگوئی میں مسٹر عبداللہ آتھم کے مرنے پر کی گئی۔ یعنی اس کے دل میں خوف طاری ہو گیا تھا۔ اس لیے ہلاک نہ ہوا۔
پانچواں...... اس لغو تاویل کی بارہا پھٹکار ہو چکی ہے۔ چونکہ مرزا جی خود چاہتے ہیں کہ میری پیشگوئی غلط اور گوز شتر ہے۔ لہٰذا کوئی میعاد نہیں بتائی۔ کیونکہ ان کو آتھم والی پیشگوئی کا خوف ہوا۔ صرف لفظ (بہت جلد) لکھنے پر ٹالا۔
چھٹا...... خوب اگر مسٹر پکٹ مرزا جی کی زندگی میں نہ مرا۔ تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تو یہ قید لگادی تھی۔ کہ اگر وہ اپنے دعوؤں سے توبہ نہ کرے گا تب ہلاک ہوگا۔ اب چونکہ وہ زندہ رہا۔ لہٰذا ضرور اپنے دعوؤں سے تائب ہو چکا ہے۔ وہ ہی آتھم والی راگ مالا۔
اب فرمائیے! کہ مرزا جی کی پیشین گوئی نے کیا تیر مارا۔ ہر مدبر بلکہ ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ فلاں معاملے کا پہلو یوں نہ ہوا۔ تو ضرور مضر ہوگا۔ اور یوں ہوا تو مفید ہوگا۔ ایک وکیل اپنے ملزم موکل سے کہہ سکتا ہے کہ اگر اس نے اپنا ڈیفنس عمدہ طور پر کیا۔ تو تم رہا ہو جاؤ گے۔ ورنہ سزا پاؤ گے۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہتی ہے۔
مگر کیا ہر وکیل مسیح موعود ہے؟ معلوم نہیں کہ مرزائیوں کی عقل کہاں فوت ربود ہو گئی ہے۔ کہ اپنے پیر و مرشد کی چالوں کو نہیں سمجھتے اور اس کو مسیح تسلیم کر لیتے ہیں۔
(ضمیمہ شحنہ ہند ٢٣ مئی ١٩٠٣ء)
٢٩٦
ایڈیٹر ...... بے شک ہر انسان کے دل پر اس الہام نہ صرف نیکی ہے۔ بلکہ بدی سے متعلق کیفیت نہیں۔ کہ بجز ملہم کے کوئی اور محسوس ک الغیوب ہے۔ ہاں سچے ملہم کے آثار دوسرو آنکھوں سے محسوس نہیں ہوتی۔ مگر دماغی حس چونکہ کوئی شخص اپنا دل چیر کر کسی کو نہیں دکھا سکت احتلام یا خیالات فسق و حرام یا صور احتلام واہ ہے جس کا ثبوت مریدوں اور چیلوں کے مجم سادھو بچے تو روغن قاز مل کر وہ وہ روپ گانٹھے پھنس جاتے ہیں۔
بھوپال میں ایک بڑے مولوی صا ایک سادھو بچے نے ایسا افسوں دم کیا۔ کہ اس میں پھنس کر پر کٹے کبوتر بن گئے اور بیعت ہو شخص مجدد ہے۔ شوکت اللہ کو اس سادھو بچے تھا۔ جبکہ وہ ایک دفتری کے امرد لونڈے پر درس و وعظ سے جو کچھ کماتا۔ اس کے والد ب اس کے والدین کو دیا۔
یہ مکار بڑے بڑے چالوں سے نام خطوط منگوائے۔ کہ فلاں شخص کے قرض ک اس کو ڈگری دیدی ہے۔
اس عیار نے لوگوں کو وہ خطوط دک لونڈے کے عشق میں بدنام ہو کر یہ لوطی بدف ہمارے پاس آیا کہ للہ میری دستگیری کرو او روپے دیئے اور رخصت کیا۔
جب ہم کو مولوی صاحب بھوپا بعض معتبر اور مستند لوگوں کے خطوط آئے۔ ان
ایڈیٹر.....بے شک ہر انسان کے دل پر اس کی کانشنس کی صلاحیت کے موافق الہام ہوتا ہے۔ الہام نہ صرف نیکی ہے۔ بلکہ بدی سے متعلق ہے۔ (الهمها فجورها و تقوها) مگر یہ ایسی کیفیت نہیں۔ کہ بجز ملہم کے کوئی اور محسوس کر سکے۔ کیونکہ علیم بذات الصدور صرف خدائے علام الغیوب ہے۔ ہاں سچے ملہم کے آثار دوسروں پر بھی کھل جاتے ہیں۔ جیسے پھولوں کی خوشبو کہ آنکھوں سے محسوس نہیں ہوتی۔ مگر دماغی حس میں پہنچ جاتی ہے۔ سچے الہام کی یہی صفت ہے اور چونکہ کوئی شخص، اپنا دل چیر کر کسی کو نہیں دکھا سکتا۔ تا کہ معلوم ہو کہ الہام ہے یا اضغاث احلام یا وسوسہ احتلام یا خیالات فسق وحرام یا صور احتلام واوہام۔ لہذا ہر مکار دعویٰ کر سکتا ہے۔ کہ مجھ پر الہام ہوتا ہے جس کا ثبوت مریدوں اور چیلوں کے محض عقیدے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بعض بہروپئے اور سادھو بچے تو روغن قاز مل کر وہ وہ روپ گانٹھتے ہیں۔ کہ بڑے بڑے سیانے کوے ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔
بھوپال میں ایک بڑے مولوی صاحب جو مشاہیر علمائے اہل حدیث سے ہیں۔ ان پر ایک سادھو بچے نے ایسا افسوں دم کیا۔ کہ اس کے دلالوں کے جھانسوں اور مکر وزور کے دلاسوں میں پھنس کر پر کٹے کبوتر بن گئے اور بیعت ہو کر اس کا دم بھرنے لگے۔ اور بالآخر یہ اعلان دیا کہ یہ شخص مجدد ہے۔ شوکت اللہ کو اس سادھو بچے کی حقیقت اچھی طرح معلوم تھی۔ اور اس کا تجربہ ہو چکا تھا۔ جبکہ وہ ایک دفتری کے امرد لونڈے پر فریفتہ ہوا تھا اور رات دن اس کے تعشق میں روتا اور درس ووعظ سے جو کچھ کماتا۔ اس کے والدین کے چولہے میں جھونک دیتا تھا۔ چنانچہ کئی سو روپیہ اس کے والدین کو دیا۔
یہ مکار بڑے بڑے چالوں سے لوگوں کو ٹھگتا تھا۔ ایک مرتبہ اپنے وطن سے متواتر اپنے نام خطوط منگوائے۔ کہ فلاں شخص کے قرض میں آپ کا گھر نیلام ہونے والا ہے۔ اور عدالت نے اس کو ڈگری دیدی ہے۔
اس عیار نے لوگوں کو وہ خطوط دکھائے۔ اور یوں رقمیں اینٹھیں بالآخر اسی دفتری کے لونڈے کے تعشق میں بدنام ہو کر یہ لوطی بڑی رسوائی اور تشنیع کے ساتھ نکالا گیا۔ زار قطار روتا ہوا ہمارے پاس آیا کہ للہ میری دستگیری کرو اور مجھے وطن تک پہنچا دو۔ الغرض ہم نے ضروری صد روپے دیے اور رخصت کیا۔
جب ہم کو مولوی صاحب بھوپالی کی نو گرفتاری کا حال معلوم ہوا۔ اور چار طرف سے بعض معتبر اور مستند لوگوں کے خطوط آئے۔ اور بھوپال سے بھی نامہ نگار نے مولوی صاحب جیسے متقی
٢٩٧
اور عامل بالحدیث کی حالت پر افسوسناک مضمون بھیجا۔ تو ہم نے مولوی صاحب کو ڈانٹا۔ چنانچہ وہ اپنی سادہ لوحی اور اس حرکت سے تائب ہوئے۔ اور اعلان دیا۔ کہ مجھے پر اس مصنوعی مجدد فی الدین کا کذب ظاہر ہو گیا۔ لہذا بیعت فسخ کرتا ہوں۔
یہ سادھو متصل کے ایک قصبہ میں پہنچا۔ اور وہاں کے مسلمانوں کو چکنے چپڑے وعظ سے ٹھگنا چاہا۔ ایک صاحب نے حضرت شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مرحوم کے نام اس شخص کی کیفیت معلوم کرنے کے لیے خط بھیجا۔ حضرت مرحوم نے جواب میں لکھا۔ کہ یہ شخص بڑا ظالم ہے اس کے کید سے بچتے رہو۔ بالآخر وہاں سے بھی نکالا گیا۔
اس شخص کی ظاہری حالت یہ تھی کہ ایک لمبا کرتہ اور ایک تہ بند اور ایک کمبل اوڑھے ہوئے تھا۔ گلے میں حمائل کلام مجید تھی۔ اور بس خواہ مخواہ ہر شخص دھوکہ میں آجاتا تھا۔ کہ باخدا بلکہ ولی اللہ ہے۔
سادھو بچے تو وہ روپ گانٹھتے ہیں کہ مرزا جی ان کے مقابلہ میں پیر نابالغ ہیں کیا طاقت ہے کہ ان کی خود غرضی کا بھید کسی پر کھل سکے۔ مرزا جی نے تو اکثر اوقات آپ اپنی قلعی کھول دی ہے اور کھول رہے ہیں۔ گرگٹ کی طرح بیس پچیس برس کے عرصہ میں کیا کیا رنگ بدلے۔ اولاً الہام کے مدعی پھر مثیل مسیح پھر مسیح موعود پھر مہدی مسعود پھر ظلی اور بروزی نبی پھر خاتم الخلفاء اور امام الزمان ہو گئے۔ جس شخص کو ذرا بھی عقل ہے وہ اس تغیر حالت سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ آپ بظاہر سب کچھ ہیں۔ مگر درحقیقت کچھ بھی نہیں۔ مرزا جی اپنی زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
سر پر اٹھائے پھرتی ہے شور فغاں مجھے
مرزا صاحب مدعی الہام رہتے۔ تو دس گنی ترقی کرتے۔ مگر چور کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں؟ کچے سادھو بچوں میں استقلال کہاں، اولاً پیٹ میں قراقر ہوا۔ ریاح فاسد کی گھوڑ دوڑ ہونے لگی۔ پھر سوء ہضم کی نوبت آئی۔ پھر تخمہ ہوا۔ پھر ہیضہ ہوا۔ پھر اس کے سمیت وبائی طور پر تمام مرزائیوں میں پھیل گئی۔ کیونکہ بے احتیاطی کے نتائج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہیضہ اور طاعون وغیرہ سب انسانی افعال کے ثمرات ہیں۔ خدا تعالیٰ جس کی صفت رحمن و رحیم ہے کسی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا۔ بلکہ انسان خود ہلاکت میں پڑتا ہے۔ ورنہ خدائے تعالیٰ ہرگز یہ ارشاد نہ کرتا۔ (ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة ) یعنی اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس سے ثابت ہے کہ اکثر ہلاکتیں خلاف مرضی الٰہی اور خلاف مشیت ہیں جس طرح شراب خوری، حرام کاری، قتل اور
٢٩٨
سفک، ظلم، نہب خلاف مرضی الہی ہے۔ ی نہیں ہوتا۔ یہ تو خدا پر تہمت ہوتی ہے اور
براہین احمدیہ لکھی۔ تو بیان کیا کہ میرے بطن ہزار روپیہ جائیداد کا انعام اس شخص کے ل تکذیب براہین لکھ کر شائع کر دی۔ انعام م میں تھیلیاں اور ہمیانیاں اگلتے رہتے ہیں کرے۔ قسمت ہی پھوٹے اور تو کیا کہیں
فی الحقیقت چال تو بہت خاصی جائیداد تکئے پر دھرے دیتا ہے بالکل ولی ال
مرزا جی گویا اپنی نبوت کو روپیہ انعامی مجوزہ رقم دیدی۔ تو ثبوت گویا فروخ اگر کوئی گاہک نہ ہوا۔ تو آپ فرمائشی نبی غ نہیں۔ بلکہ ایک متمول سیٹھ ساہوں ، کارکن ج نبی نے اپنی نبوت کا دارو مدار روپیہ پیسہ پر کیا ہے۔ جب آتھم کی پیشگوئی میں مرزا جی نہ ہوا۔ تو آپ نے جھٹ اشتہار دیا۔ کہ آتھ نہیں ہوا تھا۔ ٤؍ ہزار حوالے جائے۔ م ہوسکے گی۔ کیونکہ اس کے یہ معنے تھے۔ کہ جی پھولے نہیں سماتے۔ وغیرہ وغیرہ۔
باب
ہم بیاباں میں
گورداسپور کی صلح کی کچہری م
دس اور دس پر سوسو آدمی گرتا ہے۔ جدھر دی
تو ہم نے مولوی صاحب کو ڈانٹا۔ چنانچہ وہ علان دیا۔ کہ مجھ پر اس مصنوعی مجدد فی الدین ر وہاں کے مسلمانوں کو چکنے چپڑے وعظ سے سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مرحوم بجا۔ حضرت مرحوم نے جواب میں لکھا۔ کہ یہ ہاں سے بھی نکالا گیا۔ تہہ کرتہ اور ایک تہ بند اور ایک کمبل اوڑھے خواہ ہر شخص دھوکہ میں آجاتا تھا۔ کہ با خدا بلکہ جی ان کے مقابلہ میں پیر نابالغ ہیں کیا طاقت نے تو اکثر اوقات آپ اپنی قلعی کھول دی ہے کے عرصہ میں کیا کیا رنگ بدلے۔ اولاً الہام پھر ظلی اور بروزی نبی پھر خاتم الخلفاء اور امام غیر حالت سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ آپ بظاہر زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
ہے شورِ فغاں مجھے
ترقی کرتے۔ مگر چور کے پاؤں کہاں ہوتے میں قراقر ہوا۔ ریاح فاسد کی گھوڑ دوڑ ہونے بند ہوا۔ پھر اس کے سمیت وبائی طور پر تمام ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہیضہ اور طاعون وغیرہ صفت رحمٰن و رحیم ہے کسی کو ہلاکت میں نہیں نے تعالیٰ ہرگز یہ ارشاد نہ کرتا۔ (ولا تلقوا کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس سے ثابت ہے کہ جس طرح شراب خوری، حرام کاری، قتل اور
سفک، ظلم، نہب خلاف مرضی الہی ہے۔ پس مکاروں اور کذابوں کا الہام بھی خدا کی طرف سے نہیں ہوتا۔ یہ تو خدا پر تہمت ہوتی ہے اور مفتری علی اللہ سخت عتاب کا مستوجب ہوتا ہے۔ جب براہین احمدیہ لکھی۔ تو بیان کیا کہ میرے بطن سے الہام کی سرسراہٹ ہوتی ہے۔ پھر جھٹ سے بارہ ہزار روپیہ جائیداد کا انعام اس شخص کے لیے مشتہر کیا۔ جو براہین کا جواب لکھ دے۔ آریوں نے تکذیب براہین لکھ کر شائع کردی۔ انعام کا خط تو آپ کی گھٹی میں نیچرل طور پر پڑا ہے۔ ہر معاملہ میں تھیلیاں اور ہمیانیاں اگلتے رہتے ہیں۔ مگر آج تک کسی کو پھوٹی کوڑی بھی دی ہو۔ تو خدا کرے۔ قسمت ہی پھوٹے اور تو کیا کہیں۔
فی الحقیقت چال تو بہت خاصی ہے۔ عقائد میں غل مچ جاتا ہے کہ ایک شخص اپنی ساری جائیداد تکیے پر دھرے دیتا ہے بالکل ولی اللہ اور خلوص اور للہیت کا پتلا ہے۔ یہ خبر نہیں کہ:
مرزا جی گویا اپنی نبوت کو روپیہ پیسہ کا لالچ دے کر فروخت کر رہے ہیں۔ اگر کسی نے انعامی مجوزہ رقم دیدی۔ تو نبوت گویا فروخت ہوگئی۔ اور مرزا جی اس کے حلقہ بگوش بن گئے۔ اور اگر کوئی گاہک نہ ہوا۔ تو آپ فرمائشی نبی ہی ہیں۔ گویا مرزا جی یہ ثابت کر رہے ہیں۔ کہ میں نبی نہیں۔ بلکہ ایک متمول سیٹھ ساہوکار ، کارخانہ دار ہوں۔ میرے پاس لاکھوں روپیہ جمع ہیں۔ کیا کسی نبی نے اپنی نبوت کا دارو مدار روپیہ پیسہ پر رکھا ہے۔ اور اس طرح اپنی نبوت اور اپنا اعجاز فروخت کیا ہے۔ جب آتھم کی پیشگوئی میں مرزا جی کے منہ پر قدرتی تھپڑ لگا۔ یعنی درمیعاد مقرر میں فوت نہ ہوا۔ تو آپ نے جھٹ اشتہار دیا۔ کہ آتھم حلف سے کہہ دے۔ کہ اس پر پیشگوئی کا خوف طاری نہیں ہوا تھا۔ اور چار ہزار لے جائے۔ مرزا جی کو خوب معلوم تھا کہ انعام کی یہ شرط ہرگز پوری نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ اس کے یہ معنے تھے۔ کہ آتھم جو مسیحی ہے۔ مرزائی بن جائے۔ اس عیاری پر مرزا جی پھولے نہیں سماتے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ضمیمہ شحنہ ہند مطبوعہ یکم جون ١٩٠٣ء
باب ٤٩ چہل و نہم
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
گورداسپور کی ضلع کی کچہری کے احاطہ میں آج معمول سے زیادہ رونق ہے۔ ایک پر دس اور دس پر سو سو آدمی گرتا ہے۔ جدھر دیکھو۔ ٹرکی ٹوپی کے پھندنے اڑ رہے ہیں۔ کوٹ پتلون
٢٩٩
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ڈالے جنٹل مین داڑھی کا صفایا کرائے محلقین ومقصرین کے اوپر عمل کیے پھر رہے ہیں۔ ایک طرف برابر جمگھٹ ہو رہا ہے۔ جنٹلمین رف رف کرتے جاتے ہیں۔ وعظ ونصیحت کی آواز آتی ہے۔ آہاہا! یہ تو حضرت مسیح دوراں، مہدی زماں، مرزا صاحب ہیں سامعین ہر ایک بزبان حال کہہ رہا ہے۔
اب میں ہمہ تن چشم بنوں یا ہمہ تن گوش
مسیح موعود ...... یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم میں تھیں ان کی تعلیم میں توریت پر کوئی بھی زیادت نہیں تھی۔ انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ میں انسان ہوں اور جیسا کہ خدا کے مقبولوں کو عزت اور قرابت اور محبت کے خدا تعالیٰ کی طرف سے القاب ملتے ہیں اور یا جیسا کہ وہ لوگ خود عشق کی محویت میں محبت اور یکدلی کے الفاظ منہ پر لاتے ہیں ایسا ہی ان کا بھی حال تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی انسان سے محبت کرے یا خدا سے تو جب وہ محبت کمال کو پہنچتے ہیں۔ تو محب کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روح اور اس کے محبوب کی روح ایک ہو گئی ہے۔ اور فنا نظری کے مقام میں بسا اوقات وہ اپنے تئیں محبوب بھی ایک ہی دیکھتا ہے جیسا کہ اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی سے ہے۔ اور دوسرے لوگ خشکی سے ہیں۔ اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے۔ جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں۔ خدا اپنے عرش سے بڑی تعریف کرتا ہے۔ تو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے اپنے لیے تجھ کو پسند کیا۔ تو جہان کا نور ہے۔ تیری شان عجیب ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور تیرے گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا تو برکت دیا گیا ہے۔ خدا نے تیری عزت کو زیادہ کیا۔ تو خدا کا وقار ہے پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔ تو کلمۃ الازل ہے پس تو مٹایا نہیں جائے گا۔ میں فوجوں کے سمیت تیرے پاس آؤں گا۔ میرا لوٹا ہوا مال تجھ کو ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا۔ اور تیری حفاظت کروں گا۔ وہ ہوگا یہ ہوگا۔ اور پھر انتقال ہوگا۔ تیرے پر میرے کامل انعام ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے چلو۔ تا خدا بھی تم سے پیار کرے۔ تیری سچائی پر خدا گواہی دیتا ہے۔ پھر کیوں تم ایمان نہیں لاتے۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔ اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں
٤٠٠
لوگ چاہیں گے کہ اس نور کو بجھائیں۔ مگر خدا ا کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح ہ جائے گا کہ یہ حق نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں منہ۔
تجھ سے بیعت کرنا ایسا ہے جیسا ک تیرے پاس آئیں گے۔ اور خدا کی نصرت تی پائیں گے۔ تیری حمد لبوں پر جاری کی گئی۔ اور تو بہادر ہے۔ اگر ثریا پر دین ہوتا۔ تو تو اس ک تیرے باپ دادے منقطع ہو جائیں گے اور جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھ کو پیدا ک تجھے ترک نہیں کرے گا۔ اور نہ چھوڑے گا۔ چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچا میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو مددو یا ساتھ نازل ہوا۔ اور تیرے ساتھ نبیوں کی ب تاکہ اپنے دین کو قوت دے۔ اور سب دینوں قریب نازل کیا۔ اور وہ حق کے ساتھ اترا۔ ا تم گڑھے کے کنارے پر تھے۔ تمہیں خدا ۔ مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری ب امام بناؤں گا۔ اور تیری مدد کروں گا۔ کیا لوگ ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور اپنے کاموں سے ۔ پناہ میں رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا۔ اور ز وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا م نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر ابتداء سے ہی م دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرب ہے۔ ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے م اپنی قدرت سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ا
لوگ چاہیں گے کہ اس نور کو بجھائیں ۔ مگر خدا اس نور کو جو اس کا نور ہے کمال تک پہنچائے گا۔ ہم ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح آئے گی۔ اور زمانہ کا کاروبار تم پر ختم ہوگا۔ اس دن کہا جائے گا کہ یہ حق نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ جہاں تو ہے جس طرف تیرا منہ، اس طرف خدا کا منہ۔
تجھ سے بیعت کرنا ایسا ہے جیسا کہ مجھ سے۔ تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔ اور خدا کی نصرت تیرے اوپر اترے گی۔ تیرے لیے لوگ خدا سے الہام پائیں گے۔ تیری حمد لبوں پر جاری کی گئی۔ اور تیرا ذکر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تو بہادر ہے۔ اگر ثریا پر دین ہوتا۔ تو تو اس کو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیے گئے۔ تیرے باپ دادے منقطع ہو جائیں گے اور خدا ابتداء تجھ سے کرے گا میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھ کو پیدا کیا ہے۔ اواھن (خدا تیرے اندر اتر آیا)۔ خدا تجھے ترک نہیں کرے گا۔ اور نہ چھوڑے گا۔ جب تک پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو مدد دیا جائے گا۔ اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تو حق کے ساتھ نازل ہوا۔ اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تاکہ اپنے دین کو قوت دے۔ اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔ اس کو خدا نے قادیان کے قریب نازل کیا۔ اور وہ حق کے ساتھ اترا۔ اور حق کے ساتھ اتارا گیا۔ اور ابتداء سے ایسا مقرر تھا۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے۔ تمہیں خدا نے نجات دینے کے لیے اسے بھیجا۔ اے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ اور تیری مدد کروں گا۔ کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں کہ خدا عجیب ہے۔ چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔ خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا۔ اور وہ تیری پناہ میں رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا۔ اور زمین بھی ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جائے گا۔ ہم تجھے لوگوں کے لیے نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر ابتداء سے ہی مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے اور تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسیدہ پائے محمدیاں بر مینار بلند محکم اوفتاد میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے
٤٠١
قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ اس کے لیے وہ مقام ہے۔ جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے نہیں پہنچ سکتا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لیے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے۔ جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو! تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔ پس تم منکر مت بنو۔ وغیرہ الخ!
(کتاب البریہ ص ٨٢ تا ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٠ تا ١٠٣)
اور ان کے ساتھ اور مکاشفات ہیں۔ جو ان کی تائید کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک کشف میں میں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے ٹکڑے ہیں اس کشف کو میں براہین میں چھاپ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات روحانی میرے اندر ہیں۔ اور جن کمالات سے وہ موصوف ہوسکتے ہیں۔ وہ مجھ سے بھی ہیں۔ اور ہر ایک کشف سے جو (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥) میں مدت سے چھپ چکا ہے۔ ”میں نے اپنی کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔ اور میرا اپنا کوئی امر کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا۔ اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اس شئے کی طرح جسے کسی دوسری شئے نے اپنے بغل میں دبا لیا ہو۔ اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی۔ اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہیں رہا۔ اور میں نے اپنی جسم کو دیکھا۔ تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی ہے۔ میرے رب نے مجھے پکڑا۔ اور ایسا پکڑا۔ کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے۔ اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمہ میرے دل کے چاروں طرف لگے ہیں۔ اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا۔ اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی۔ اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی۔ اور الوہیت بڑی زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر سے پاؤں کے ناخن ہا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہمہ تغیر ہو گیا۔ جس میں کوئی پوست نہ تھا۔ اور ایسا تیل بن گیا۔ کہ جس میں کوئی میل نہ تھا اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس میں اسی شئے کی طرح ہو گیا۔ جو نظر نہیں آتی۔ یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جاملے۔ اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں نہیں جانتا کہ اس سے پہلے میں کیا تھا۔ اور میرا وجود کیا ٣٠٢
تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء اپنے اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کرتا تھا۔ کہ میرے اعضاء میرے نہیں کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم متاع روکنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ م شیرینی اور حرکت اور مکان سب اس ک اور نیا آسمان اور نئی زمین بنانا چاہتے ہ پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفر تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں ا اور کہا کہ انـا زينـا السمـاء الـ خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میں جاری ہوا۔ اردت ان استخلف تقویم“ (کتاب ”اب حضرت پادری صاح الہامات سے مقابلہ کریں۔ اور پھر انصا خدائی نکالتے ہیں۔ ان الہامات سے کیا یہ سچ نہیں۔ اگر کسی ا میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خ سے بڑھ کر ہمارے سید ومولیٰ رسول ا نہیں۔ کہ جس نے تجھ سے بیعت کی ا آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے اور عن الهوى ان هو الا وحی یوح تمام بندوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے کہ جس قدر صراحت اور وضاحت ہوسکتی ہے۔ انجیل کے کلمات سے یسوع
تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی۔ اور میں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء اپنے کام میں لگائے۔ اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا۔ کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس گرفت سے میں بالکل معدوم ہو گیا۔ اور میں اس وقت یقین کرتا تھا۔ کہ میرے اعضاء میرے نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں۔ اور میں خیال کرتا تھا۔ کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعاً نکل چکا ہوں۔ اب کوئی شریک اور مانع روکنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا۔ اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اس کا ہو گیا اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین بنانا چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق ان کی ترتیب اور تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں اور میں نے آسماں وغیرہ کو پیدا کیا۔ اور کہا کہ انا زینا السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور زباں پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“
(کتاب البریہ ص ٧٨، ٧٩، تذکرہ ص ١٩٢، ١٩٣، خزائن ج ١٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥)
”اب حضرت پادری صاحباں سوچیں۔ اور غور کریں اور ان الہامات کو یسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں۔ اور پھر انصافاً گواہی دیں کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں۔ ان الہامات سے بڑھ کر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں۔ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات اور کلمات سے نکل سکتی ہے۔ تو ان میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہ اولیٰ ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ان سے بڑھ کر ہمارے سید ومولیٰ رسول اللہ کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ کی وحی صرف یہی نہیں۔ کہ جس نے تجھ سے بیعت کی۔ اس نے خدا سے بیعت کی۔ اور نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے اور آپ کے ہر فعل کو اپنا فعل ٹھہرایا ہے۔ اور یہ کہ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحٰی آپ کے تمام کلام کو اپنا کلام ٹھہرایا ہے۔ بلکہ ایک جگہ اور تمام بندوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے۔ قل یا عبادی یعنی کہہ کہ اے میرے بندو! پس ظاہر ہے کہ جس قدر صراحت اور وضاحت سے ان پاک کلمات سے ہمارے نبی ﷺ کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ انجیل کے کلمات سے یسوع کی خدائی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔
٣٠٣
روحانی خزائن جلد ١٣ صفحہ ٥١٨
بھلا اس سید الکونین ﷺ کی تو شان عظیم ہے ذرا انصافاً پادری صاحبان ان میرے الہامات کو ہی انصاف کی نظر سے دیکھیں اور پھر خود ہی منصف ہو کر کہیں کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر ایسے کلمات سے خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو میرے الہامات یسوع کے الہامات سے بہت زیادہ میری خدائی پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اگر خود پادری صاحبان سوچ نہیں سکتے ۔ تو کسی دوسری قوم کے تئیں منصف مقرر کر کے میرے الہامات اور انجیل میں بھی یسوع کے وہ کلمات جس سے اس کی خدائی سمجھی جاتی ہے۔ ان منصفوں کے حوالہ کریں پھر اگر منصف لوگ پادریوں کے حوالہ کریں۔ پھر اگر منصف لوگ پادریوں کے حق میں ڈگری دیں اور حلفاً یہ بیان کریں۔ کہ یسوع کے کلمات میں سے یسوع کی خدائی زیادہ صفائی سے ثابت ہو سکتی ہے۔ تو میں تاوان کے طور پر ہزار روپیہ ان کو دے سکتا ہوں اور میں منصفوں سے یہ چاہتا ہوں کہ اپنی شہادت سے پہلے یہ قسم کھا لیں۔ کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ہمارا بیان صحیح ہے اور اگر صحیح نہیں ہے۔ تو خدا تعالیٰ ایک سال تک وہ عذاب ہم پر نازل کرے۔ جس سے ہماری تباہی اور ذلت اور بربادی ہو جائے۔ اور میں خوب جانتا ہوں ۔ کہ پادری صاحبان ہرگز اس طریق فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے۔ لیکن اگر وہ یہ کہیں ۔ کہ جو مسیح کے منہ سے نکلا۔ وہ تو حقیقت میں خدا کا کلام تھا۔ اس لیے وہ دستاویز کس طور پر قبول ہو سکتا ہے۔ لیکن جو تمہارے منہ سے نکلا۔ وہ خدا کا کلام نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یسوع کے منہ سے جو کلام نکلا۔ اس کے خدا کے کلام ہونے میں ذاتی طور پر تو نرے عیسائیوں کو کچھ معرفت نہیں۔ خدا نے بلاواسطہ ان سے باتیں نہیں کیں ۔ ان کے کانوں میں کسی فرشتہ نے آکر نہیں پھونکا۔ کہ یسوع خدا یا خدا کا بیٹا ہے۔ انہوں نے نہیں دیکھا۔ کہ یسوع دنیا میں تولد پا کر ایک مکھی بھی پیدا کی ۔ صرف چند کلمات ان کے ہاتھ میں ہیں۔ جو یسوع کی طرف منسوب کیے گئے ہیں جس کو مروڑ تڑوڑ کر یہ خیال کر رہے ہیں۔ کہ ان سے ان کی خدائی ثابت ہوتی ہے۔
یہ کلمات اور مکاشفات جو میں نے پیش کیے ہیں ۔ وہ ان سے صد ہا درجہ بڑھ کر ہیں۔ پھر اگر اس خیال سے ان کلمات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ معجزات سے ثابت ہوچکے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ معجزات جو اس زمانہ کے لیے صرف قصہ اور کہانیاں ہیں ۔ کوئی بھی کہہ نہیں سکتا ۔ کہ میں نے ان میں سے کچھ آنکھوں سے بھی دیکھا ہے۔ مگر وہ خوارق اور نشان جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ تو ہزاروں انسانوں کی چشم دید باتیں ہیں۔ پھر یسوع کے معجزات کو جو محض قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں بتائی جاتی ہیں۔ ان چشم دید نشانوں سے کیا مناسبت۔ پھر جب کہ بائبل کے گزشتہ قصہ جن میں جھوٹ کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے۔ قبول کیے ٣٠٤
گئے ہیں تو موجودہ نشان بدرجہ اولیٰ قبول کرنے کے انصاف ہے۔ تو میری اس تقریر کو نہایت منصفانہ تقر
"میں دوبارہ لکھتا ہوں کہ میری تقریر خدا بنا رکھا ہے۔ یہ سراسر ان کی غلطی ہے۔ جن کلما ابن اللہ ہے ان کلمات سے بڑھ کر میرے الہام سوچیں ۔ اور اور بار بار سوچیں۔ کہ یسوع کے خد کے اور کیا چیز ہے۔ پس میں ان سے یہی چاہتا کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں۔ اور پھر انصافاً ڈگر شخص کے خدا بنانے کے لیے جیسے میرے الہامی کلمات ہرگز ایسی دلالت نہیں کرتے۔ تو پھر کیا وجہ وہی کلمات بلکہ ان سے بڑھ کر جب دوسرے ہ جاتے ہیں۔ اگر کہو کہ پہلی کتابوں میں مسیح کے ل کتابوں میں بلکہ مسیح کی زبان سے مسیح کے دوبارہ اور وہ میں ہوں جیسا کہ انجیل میں لکھ لڑائیاں بھی ہوئیں ۔ سخت سخت وبائیں پڑیں اور کے مطابق آیا ہوں ۔" (کتاب
آرڈر ..... بمقدمہ پادری کلارک صاحب اور مرزا غلام اجلاس ..... مسٹر ڈگلس صاحب بہادر
ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب
١٠٧ ضابطہ فوجداری ۔ بیان ہنری مارٹن کلارک با
میں پندرہ سال سے ڈاکٹر مشنری ہو ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم اور ان کے درمیان جب م احمد نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے پیشواء ہو نے ایک کتاب پیش کی ۔ جو مولوی محمد حسین صا اسلام کے پیشواؤں نے قرار دیا۔ کہ مرزا صاحب ہیں۔
گئے ہیں تو موجودہ نشان بدرجہ اولیٰ قبول کرنے کے لائق ہیں۔ اگر دنیا میں کسی عیسائی کے دل میں انصاف ہے۔ تو میری اس تقریر کو نہایت منصفانہ تقریر سمجھے گا۔
”میں دوبارہ لکھتا ہوں کہ میری تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ عیسائیوں نے جو حضرت عیسیٰ کو خدا بنا رکھا ہے۔ یہ سراسر ان کی غلطی ہے۔ جن کلمات سے وہ یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ یسوع خدا یا ابن اللہ ہے ان کلمات سے بڑھ کر میرے الہامی کلمات میں پادری صاحبان سوچیں۔ اور خوب سوچیں۔ اور بار بار سوچیں۔ کہ یسوع کے خدا بنانے کے لیے ان کے ہاتھ میں بجز چند کلمات کے اور کیا چیز ہے۔ پس میں ان سے یہی چاہتا ہوں کہ وہ میرے الہامی کلمات کو ان کے کلمات کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں۔ اور پھر انصافاً ڈگری دیں کہ اگر ظاہر الفاظ پر اعتبار کیا جائے تو ایک شخص کے خدا بنانے کے لیے جیسے میرے الہامی کلمات قوی دلالت کرتے ہیں یسوع کے الہامی کلمات ہرگز ایسی دلالت نہیں کرتے۔ تو پھر کیا وجہ کہ جن کلمات سے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔ اور وہی کلمات بلکہ ان سے بڑھ کر جب دوسرے کے حق میں ہوں۔ پھر اس کے اور معنے کیوں کیے جاتے ہیں۔ اگر کہو کہ پہلی کتابوں میں مسیح کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔ تو میں کہتا ہوں کہ ان ہی کتابوں میں بلکہ مسیح کی زبان سے مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی۔
اور وہ میں ہوں جیسا کہ انجیل میں لکھا تھا۔ زلزلہ بھی آئے گا ایک قوم کی دوسری قوم سے لڑائیاں بھی ہوئیں۔ سخت سخت وبائیں پڑیں اور آسمان سے ظاہر ہوئے۔ غرض میں ہی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٧٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥ تا ١٠٨، بقیہ حاشیہ ص ٨٢)
آرڈلی ....... پادری کلارک صاحب اور مرزا غلام احمد قادیانی حاضر ہے؟
مرزا صاحب....... حاضر۔ پادری صاحب پہلے سے کچہری کے کمرہ کے اندر تھے۔ مقدمہ پیش ہوا۔
ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب، مستغیث بنام مرزا غلام احمد قادیانی، جرم زیر دفعہ
١٨٨ ضابطہ فوجداری، بیان ہنری مارٹن کلارک باقرار صالح
میں پندرہ سال سے ڈاکٹر مشنری ہوں۔ ہماری واقفیت مرزا صاحب سے ١٨٩٣ء سے ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم اور ان کے درمیان جب مناظرہ مذہبی ہوا تھا۔ اس کا میں صدر تھا۔ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے پیشواء ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ مناظرہ ہو۔ ہم نے ایک کتاب پیش کی۔ جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھی ہوئی تھی۔ اور اس میں اہل اسلام کے پیشواؤں نے قرار دیا۔ کہ مرزا صاحب مسلمان نہیں۔ بلکہ کافر ہیں۔ اور دجال کے چچا ہیں۔
٣٠٥
میں عیسائیوں کی طرف سے پریذیڈنٹ کمیٹی مناظرہ تھا۔ دو مرتبہ ہم کو مناظرہ میں بیٹھنا پڑا۔ مرزا صاحب نے اظہار کیا کہ وہ معجزات دکھلاتے ہیں۔ ہم نے اندھوں، لنگڑوں کو اچھا کرنے کے واسطے کہا۔ جو موجود کیے گئے تھے مگر وہ نہ کر سکے۔ پھر مرزا صاحب نے وہ پیشگوئی کی کہ عیسائی مخالف پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا۔ یعنی جو شخص فریقین سے راستی پر نہیں ہے۔ پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔
کتاب جنگ مقدس چھاپہ شدہ پیش کرتا ہوں۔ اور جس جگہ مرزا صاحب نے یہ پیشگوئی لکھی۔ A کر دیا ہے بعد ازاں لوگوں کے خیالات عبداللہ آتھم صاحب کی طرف تھے۔ عبد اللہ آتھم ضعیف آدمی تھا۔ تاہم عبداللہ آتھم کی تیمارداری کی طرف تھے۔ عبداللہ آتھم پر حملے کیے گئے۔ جس سے اس کو اپنے مکان کی تبدیلی کرنی پڑی۔ وہ امرتسر سے لدھیانہ اور لدھیانہ سے فیروز پور گیا۔ اور پیشگوئی کے آخری دو ماہ میں خاص نگرانی بذریعہ پولیس دن رات کرائی گئی۔ خاص حملہ جو کیا گیا۔ ایک امرتسر میں ہوا تھا۔ ایک سانپ (کوبرا) ایک برتن میں بند کر کے ایک شخص پادری عبداللہ آتھم کے گھر میں ڈال گیا۔ گو ہم نے خود نہیں دیکھا۔ مگر یہ امر سچ ہے کہ وہ سانپ مارا گیا تھا۔ اور عام لوگ کہتے تھے۔ مسٹر آتھم نے ہی ہمیں اطلاع دی ہے کہ ایسا ہوا۔ فیروز پور میں دو دفعہ عبد اللہ آتھم پر بندوق چلائی گئی اور ایک دفعہ عبداللہ آتھم کے اوپر بندوق چلائی گئی۔ اور ایک دفعہ عبد اللہ آتھم کے سونے کے کمرہ کا دروازہ توڑا گیا۔ مرزا غلام احمد دولت مند آدمی ہیں وہ ہمیشہ اپنے دعاوی کی تصدیق کرنے کے واسطے بڑی بڑی رقمیں شرطیہ لکھتے ہیں۔ چنانچہ اشتہار معیار الاخیار و الاشرار میں پانچ ہزار انعام کا وعدہ انہوں نے لکھا ہے۔ مجھ کو علم ہوا ہے کہ وہ بہت روپیہ اپنے پیروؤں سے حاصل کرتا ہے۔ ڈاک خانہ کی معرفت بہت روپیہ حاصل ہوتا ہے۔ عبداللہ آتھم کی زندگی پر حملے جو ہوئے۔ وہ عام طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کیے گئے۔ اخباروں میں اسی طرح درج ہوتا رہا۔ مگر مرزا صاحب نے کبھی ان کی تردید نہیں کی۔ بلکہ ایک طرح پر خوشی منائی۔ اور یہ اظہار کیا کہ عبداللہ آتھم اندر سے مسلمان ہو گئے تھے۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ ایک قسم کا خوف عام پیدا ہو جائے۔ اور مسیح موعود ہونے کے دعویٰ سے لوگوں کے دلوں میں رعب قائم کرے اور وہ لوگ اس کے دعاوی کو مان لیں۔
مرزا صاحب ..... عدالت کے استفسار پر کتاب جنگ مقدس میں جو الہامی فقرات صفحہ ١٦۔ ١٧ پر درج ہیں۔ وہ میری طرف سے ہیں اور اشتہار جو پانچ ہزار کا وعدہ ہے۔ وہ بھی میری طرف سے ہے۔ اور کتاب شہادت میں صفحہ ١٨٥ پر جو پیشگوئیوں کا ذکر ہے۔ وہ قریباً میرے الفاظ ہیں۔ ٣٠٦
پادری صاحب ..... کتاب شہادت میں پیشگو ایک احمد بیگ کے داماد کی نسبت مسلمانوں س اور مسٹر عبداللہ آتھم کی نسبت عیسائیوں سے ہ عبداللہ آتھم کی حفاظت کا انتظام کرتا رہا۔ اور میں نے عام طور پر مرزا صاحب کے جھوٹا ہو مسلمانوں نے مرزا صاحب کو سخت نفرت کی ن صاحب میرے سخت مخالف ہو گئے۔ ایک ش چھاپا۔ (حرف D) جس میں مرزا صاحب بزرگوں کو گالیاں دلوائی ہیں۔ پھر قرآن م آریوں نے مرزا صاحب کو کہا کہ گال ایک تعداد اشخاص کی عیسائی ہو گئی جن میں اور پر ہیز گار دین دار مجاہد سمجھا جاتا تھا۔ اور ی
دوسرا آدمی میر محمد سعید تھا۔ جو مر ہوا۔ اور خاص ہمارے ساتھ اس کا تعلق تھا ہو گئے۔ جب محمد یوسف خاں عیسائی ہوا۔ ا آتھم کی بابت پوری کرتے ہو۔ یہ بات خلو بیگ کے ہوئی۔ وہ پوری نہیں ہوئی۔ پیشگوئ پوری نہیں ہوئی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا۔ کہ مرزا صا کی بند ہو گئی۔ اور لوگ ٹھٹھا کرنے لگے ۔ اب کچھ عرصہ گزرا ہے۔ کہ لیکھرام قتل کیا گیا ہ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپن پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا رسو اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا۔ قتل عام طو میں ایک کتاب مصنف مولوی محمد حسین صا اس قتل کا الزام لگاتے ہیں۔
مرزا صاحب ..... میں نے کچھ کچھ کتاب حر
دستخط گواہ ثبوت باجلاس مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
پادری صاحب...... کتاب شہادت میں پیشگوئیاں موت کی ہیں۔ مذاہب کے واسطے کی گئی ہیں۔ ایک احمد بیگ کے داماد کی نسبت مسلمانوں سے۔ دوسری لیکھرام پشاوری کی نسبت ہندوؤں سے اور مسٹر عبداللہ آتھم کی نسبت عیسائیوں سے۔ جس سے مرزا صاحب کی مراد ڈرانے کی تھی۔ میں عبداللہ آتھم کی حفاظت کا انتظام کرتا رہا۔ اور جب عبداللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ تو میں نے عام طور پر مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی بابت مشتہر کیا۔ اور عام جلسہ کیے گئے جس سے مسلمانوں نے مرزا صاحب کو سخت نفرت کی نظر سے دیکھا۔ اور ان کی بہت حقارت ہوئی۔ اور مرزا صاحب میرے سخت مخالف ہو گئے۔ ایک شخص مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار چھاپا۔ (حرف D) جس میں مرزا صاحب کی نسبت انہوں نے لکھا کہ اس نے آریہ وغیرہ سے بزرگوں کو گالیاں دلوائی ہیں۔ پھر قرآن کا اردو ترجمہ پادری عمادالدین صاحب نے کیا۔ جس سے آریوں نے مرزا صاحب کو کہا کہ کیوں پادری عمادالدین کو ابھارا کہ اس نے ترجمہ کیا علاوہ ازیں ایک تعداد اشخاص کی عیسائی ہوگئی جن میں ایک شخص محمد یوسف خاں جو ایک اچھا مقرر آدمی ہے۔ اور پرہیزگار دین دار مجاہد سمجھا جاتا تھا۔ اور سیکرٹری اور ایلچی مباحثہ میں رہا تھا عیسائی ہو گیا۔
دوسرا آدمی میر محمد سعید تھا۔ جو مرزا صاحب کی بیوی کا خالہ زاد بھائی تھا وہ بھی عیسائی ہوا۔ اور خاص ہمارے ساتھ اس کا تعلق تھا۔ اور جس سے اور بھی مرزا صاحب ہمارے برخلاف ہو گئے۔ جب محمد یوسف خاں عیسائی ہوا۔ اس کو مسلمانوں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی آتھم کی بابت پوری کرتے ہو۔ یہ بات خلوت میں انہوں نے پوچھی تھی۔ پیشگوئی جو نسبت احمد بیگ کے ہوئی۔ وہ پوری نہیں ہوئی۔ پیشگوئی جو عیسائیوں سے آتھم صاحب کی بابت ہے۔ وہ بھی پوری نہیں ہوئی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا۔ کہ مرزا صاحب کی عزت اور آمدنی میں فرق آگیا۔ دوکان اس کی بند ہوگئی۔ اور لوگ ٹھٹھا کرنے لگے۔ اب صرف پیشگوئی برخلاف ہندوؤں کے باقی رہی ہے۔ کچھ عرصہ گزرا ہے۔ کہ لیکھرام قتل کیا گیا ہے۔ جس کے مرنے سے عام آگ ملک میں لگ گئی۔ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا۔ اور کہا کہ مسلمان ہو گیا تھا۔ اب پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا رسوخ اور اعتبار لیکھرام کے ساتھ پیدا کیا۔ اور یہ واقعہ قتل اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا۔ قتل عام طور پر نسبت مرزا غلام احمد کے قریباً منسوب کیا جاتا ہے میں ایک کتاب مصنف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیش کرتا ہوں۔ جس میں وہ مرزا صاحب پر اس قتل کا الزام لگاتے ہیں۔
مرزا صاحب...... میں نے کچھ کچھ کتاب حرف E کو دیکھا ہے۔
٣٠٧
پادری صاحب ...... مرزا صاحب نے ٢٢؍ مارچ ١٨٩٧ء کو ایک ہینڈ بل ضیاء الاسلام پریس قادیاں سے شائع کیا۔ جو اس امر پر بڑا زور دیتا ہے۔ ہم کو خبر تھی کہ لیکھرام ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو ٦ بجے شام کے وقت مارا جائے گا مگر واقعہ کے بعد یہ ہینڈ بل شائع کیا گیا اور یہ کہ ہماری پیشگوئی کے مطابق تھا۔
مرزا صاحب ...... ہم نے پہلے سے یہ پیشگوئی کی ہوئی تھی۔ اور اس کے حوالے سے الہامی طور پر اشتہار دیا گیا ہوگا۔
پادری صاحب ...... قاتل کبھی نہیں ملے گا۔ یہ امر مرزا صاحب نے کہا تھا عام مشہور ہے۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ لیکھرام کا قاتل بھی قتل کیا گیا ہے۔ جو کاغذات اس بارے میں ہمارے پاس تھے۔ وہ سرکار میں ہم نے بھیج دیئے تھے۔ اور ایک وجہ مجھ کو ایذاء پہنچانے کے واسطے یہ تھی کہ جب سے مسٹر عبداللہ آتھم انتقال کر گئے۔ صرف میں ہی اس مباحثہ کے متعلق ایک سرگروہ رہ گیا ہوں۔ اور مرزا صاحب ہر طرح سے ہم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور ہماری نسبت واہیات طریقہ اختیار کر رکھا ہے اپنے قلم اور زبان کو قابو میں نہیں رکھا ہوا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ایک کتاب انجام آتھم شائع کی۔ جو ہر قسم کی ہزلیات سے پر ہے اور اس کتاب میں صفحہ ٤٤ پر اس قدر جرات کی ہے۔ کہ ہمارے حق میں لکھا ہے کہ مقابلہ کے واسطے آؤ۔ اس کتاب پر حرف F لگایا گیا۔
مرزا صاحب ...... تسلیم کر کے واقعی یہ کتاب ہم نے شائع کی تھی۔ ١٤ ستمبر ١٨٩٦ء کو شائع کی ہے۔
مجھ کو الہامی طور پر خبر دی گئی تھی کہ دیانند مرجائے گا۔ اور یہ خبر قبل از وقت دی گئی تھی اور بعض آریہ لوگوں کو علم تھا۔ میں نے بعض کو اطلاع کر دی تھی۔ لیکھرام کے مرنے سے قریب پانچ سال پہلے میں نے اس کے مرنے کے اطلاع کی تھی۔
سرسید احمد خاں کی بابت میں نے پیشگوئی کی تھی۔ کہ اس پر آفت آئے گی۔ احمد بیگ اور اس کی لڑکی کے بارے میں اور داماد کے بارے میں پیشگوئی کی تھی۔
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بابت ٤٠ یوم کے مرنے یا تکلیف بابت کوئی پیشگوئی نہیں کی۔
(آئینہ کمالات مشتہرہ ١٨٩٣ء)
عبداللہ آتھم کی بابت ایک ہزار اور دو ہزار اور تین ہزار اور چار ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ کیا۔
انجام آتھم شائع کیا جانا تسلیم ہے۔
پادری صاحب ...... انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ ٩٤ مولوی اور ٦٨ چھاپہ والے ہمارے پر ایمان نہیں لائے
مرزا صاحب ...... نہیں یہ ہم نے
پادری صاحب ...... اس پیشگوئی کرو۔
مرزا صاحب ...... تسلیم کیا۔ مگر کے مباہلہ کے واسطے بلانا تسلیم
شیخ مہر علی کو دھمکی د نہیں کیا۔
پیشگوئیاں مذکورہ با کیا گیا ہے۔ لیکھرام کے قتل ک صاحب نقصان پہنچائے۔ ایک ہے۔ اور کچھ حصہ جلد مٹنے والا مٹ گیا۔ وہ لیکھرام کی بابت ۔ میں اطلاع دی تھی۔ کہ اشتہار حالانکہ میں نہ چندہ دیتا ہوں۔ تک رہی۔ اور پھر بعد ازاں ہر دیا۔ ٣ ماہ گزشتہ میں ہم نے کوئی میرا یہ خیال ہے کہ وہ یہ سمجھے۔ ان عمر میرے پاس آیا۔ اور ا بتلایا۔ اور اس نے کہا میں جنم ہے۔ اور بھنڈاری دروازہ بٹالہ کا ٦ سال گزرے ہیں۔ وہ ایک وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ میرا دو اور بٹالہ میں کپوری دروازہ ۔ صاحب کے یہاں میں طالب دعاوی کی نسبت الہامات باطل
٣٠٨
والے ہمارے پر ایمان نہیں لائیں گے تو مرجائیں گے۔
مرزا صاحب...... نہیں یہ ہم نے نہیں کہا۔
پادری صاحب...... اس پیشگوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بلاتے ہیں۔ کہ مباہلہ کرو۔
مرزا صاحب...... تسلیم کیا۔ گنگا بشن مولوی محمد حسین بٹالوی۔ رائے چند سنگھ پیشگوئی بابت لیکھرام کے مباہلہ کے واسطے بلانا تسلیم ہے۔
شیخ مہر علی کو دھمکی دی گئی۔ کہ اگر وہ بیعت نہ کریں۔ تو عذاب ان پر نازل ہوگا۔ تسلیم نہیں کیا۔
پیشگوئیاں مذکورہ بالا کا (دستی تحریر شدہ) کاغذ نمبر F میں درج ہے جو عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکھرام کے قتل کے بعد مخفی طور پر آگاہ کیا گیا کہ ہم کو خبر دار رہنا چاہیے۔ مبادا مرزا صاحب نقصان پہنچائے۔ ایک اشتہار میں مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا۔ کہ کچھ حصہ کفر کا مٹ گیا ہے۔ اور کچھ حصہ جلد مٹنے والا ہے۔ یہ فقرات جو ہیں۔ ان کی بابت میرا خیال ہے کہ جو حصہ کفر کا مٹ گیا۔ وہ لیکھرام کی بابت ہے۔ اور جو باقی ہے جو میری نسبت ہے۔ اور اس لیے میں نے سرکار میں اطلاع دی تھی۔ کہ اشتہار وغیرہ جو میرے پاس آتے ہیں۔ وہ ہمیشہ قادیاں سے آتے ہیں۔ حالانکہ میں نہ چندہ دیتا ہوں۔ اور نہ کوئی تعلق ہے بعد مناظرے کے ہماری خط و کتابت چند عرصہ تک رہی۔ اور پھر بعد ازاں ہر طرح سے ہم نے خط و کتابت وغیرہ کا مرزا صاحب سے قطع تعلق کر دیا۔ ٣ ماہ گزشتہ میں ہم نے کوئی اشتہار وغیرہ مرزا صاحب کی طرف سے وصول نہیں پایا۔ جس سے میرا یہ خیال ہے کہ وہ یہ سمجھے۔ کہ میری طرف سے وہ غافل ہیں۔ ١٦ جولائی ١٨٩٧ء کو ایک شخص جو ان عمر میرے پاس آیا۔ اور اس نے عیسائی ہونے کی درخواست کی۔ اس نے اپنا نام عبد المجید بتلایا۔ اور اس نے کہا میں جنم کا برہمن ہوں اور میرا ہندو نام رلیا رام ہے اور والد کا نام رام چند ہے۔ اور کھجوری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں۔ ١٨ سال کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا۔ جس کو ٦ سال گزرے ہیں۔ وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا۔ اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہو گیا تھا۔ میرا دوست اوڈھ قوم کا تھا۔ اور کرپارام اس کا نام تھا۔ اب عبد العزیز ہے۔ اور بٹالہ میں کھجوری دروازہ کے اندر تمباکو کی دوکان کرتا ہے۔ سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں میں طالب علم رہا۔ اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا۔ حال میں جو مرزا صاحب کے دعاوی کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے۔ تو اس کو یقین ہوا۔ کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں۔
٣٠٩
اور اس نے خیال کیا۔ کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں اور شرانگیز ہیں۔ سیدھا قادیان سے آیا ہوں اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی ہیں۔ جب وہاں سے چلا تھا۔ میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا خداوند یسوع کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو۔ میں کچھ اور نہیں چاہتا۔ صرف بپتسمہ لینا چاہتا ہوں۔ اپنی معاش نوکری اٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ کیوں آیا ہے کیونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں۔ اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی۔ کہ وہ کیوں خاص کر میرے پاس آیا ہے۔ جبکہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں۔ جب ہم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غور کے واسطے ہوئی۔ اور غور طلب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گزرا کہ اس کے بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں پس ہم نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے کچھ واقفیت دین عیسوی بھی ظاہر کی ہم نے پوچھا کہ تم نے کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی۔ اس نے کہا قادیان میں ایک عیسائی بٹالہ کا رہتا ہے۔ جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے ہاں رہتا ہے۔ نام اس کا سائیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی۔ اور مطالعہ کیا کرتا تھا۔ جہاں سے مجھے شوق ورغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو مہاں سنگھ گیٹ والا شفاخانہ میں بھیج دیا۔ کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے۔ اور ہم نے اس کو بوتلوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اول قابل توجہ ہمیں یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب کے حق میں بہت ہی برا بکتا تھا۔ دوم وہ بپتسمہ لینے کی از حد خواہش رکھتا تھا اور سوم بلاوجہ اور بلا طلبی ہماری کوٹھی پر آکر گشت اور سیر اور ملاقات چاہتا تھا اور باوجودیکہ ١٥/سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے ناواقف تھا۔ اور نانکوں سے ناواقف تھا اور مختلف اشخاص سے اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک شخص سے اس نے اپنے دوست کا نام ایشر داس بجائے کرپا رام بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم نے اپنے ہسپتال واقع بیاس پر اس کو بھیج دیا۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے تھے۔ جاتے ہی اس نے ایک خط مولوی نور الدین صاحب کے نام جو مرزا صاحب کے داہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے لکھا۔ یہ اسی شخص کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ خط اس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں عیسائی ہونے لگا ہوں آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔ یہ مطلب بھی اس کی زبانی معلوم ہوا تھا۔ اور دیگر شہادت بھی تھی۔ باعث خط لکھنے کا یہ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ یہ بہتر ہوگا۔ کہ ہم مرزا
٣١٠
صاحب کو خط لکھیں۔ کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے کہ نہیں میں خود خط لکھتا ہوں اور اس نے خط لکھ کر سے منع کیا تھا۔ جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہوئ نے اس نوجوان لڑکے کی بابت دریافت کرنا شروع بھیجا گیا۔ اس آدمی کا نام عبدالرحیم ہے۔ اس نے پائے۔ ذرا بھی اس میں سچ نہ تھا۔ تب مولوی عبد پہنچا۔ اور مکان پر پہنچ کر اس نے دریافت کیا۔ کہ وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں تھا۔ مگر مرزا صاحب الرحیم مرزا صاحب کے پاس گیا۔ اور دریافت ک دریافت کیا۔ مرزا صاحب نے کہا وہ جھوٹا ہے یہ ہے۔ اور وہ مولوی برہان الدین جہلمی کا بھتیجا ب قادیان میں آکر پھر مسلمان ہو گیا تھا۔ اور کچھ ع سے یہاں سے چلا گیا ہے اور یہ عرصہ اس نے کہا مرزا صاحب نے کہا۔ اس کی اچھی طرح خا تمہارے پاس رہے گا۔ پھر ہم نے جہلم سے دری آدمی کا نام عبدالمجید نہیں ہے اور اس کا باپ مرگیا کر لیا ہے اور دوسرا چچا اور خاندان کا ممبر برہان ا سے مشہور ہے۔ وہ قوم کے گھکڑ ہیں۔ برہان الد برہان الدین مجاہدین سے ہے۔ میرا مطلب ی تعلق رہا ہے۔ اور وہ بڑا بے دھڑک ہے۔ اگ معاش ضرور ہے۔ اور نسبت سب خاندان ک نوجوان آدمی کی کچھ حقیقت نہیں جانتا قریباً سو اس کے والد کے اس کے چچوں کے قبضہ میں آ صاحب کا سابق مرید تھا اور خود بھی مجاہدوں کی اس کا خط ہمارے پاس ہے۔ جو پیش کیا جاتا ہ کبھی بپتسمہ نہیں دیا گیا تھا۔ اور وہ نہایت بری
٥٢٤ آدمی نہیں ہیں اور شرانگیز ہیں۔ سیدھا قادیاں سے آیا صاحب کو گالیاں دی ہیں۔ جب وہاں سے چلا تھا۔ میں کہا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو۔ میں کچھ اور نہیں تلاش نوکری نہ پا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا۔ ہم کو کوئی چونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں۔ یوں خاص کر میرے پاس آیا ہے۔ جبکہ اور بھی مشنری اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں۔ پتہ اس کا کہاں سے ملا تو وہ بتلانے لگا۔ ان باتوں پر ہماری معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گزرا کہ اس سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں پس ہم نے اس کی طرف ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے کچھ واقفیت دین اس سے یہ واقفیت حاصل کی۔ اس نے کہا قادیاں میں مرزا صاحب کے ہاں رہتا ہے۔ نام اس کا سائیاں مطالعہ کیا کرتا تھا۔ جہاں سے مجھے شوق و رغبت ہوئی۔ شفا خانہ میں بھیج دیا۔ کہ وہاں طالب علموں کے پاس اس کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم عادت تھی کہ وہ مرزا صاحب کے حق میں بہت ہی برا بکتا تھا اور سوم بلاوجہ اور بلا طلبی ہماری کوٹھی پر آکر گھنٹہ بھر سال کی عمر میں وہ محمدی ہوا تھا۔ اپنی گوت (برہمن) سے مختلف اشخاص سے اپنی نسبت کہانی بیان کی۔ مثلاً ایک نام بجائے کرپارام بتلایا۔ بعد انقضائے پانچ روز ہم ۔ وہاں بھی میرے طالب علم پڑھتے تھے۔ جاتے ہی کے نام جو مرزا صاحب کے داہنے ہاتھ کا فرشتہ ہے خط اس نے لکھا ہے۔ مطلب اس خط کا یہ تھا کہ میں روک لیں۔ یہ مطلب بھی اس کی زبانی معلوم ہوا تھا۔ تھا کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ یہ بہتر ہوگا۔ کہ ہم مرزا ٣١٠
٥٢٥ صاحب کو خط لکھیں۔ کہ یہ شخص عیسائی ہونا چاہتا ہے کل کو یہ نہ کہیں کہ تم ان کے چور ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں خود خط لکھتا ہوں اور اس نے خط لکھ کر بیرنگ ڈاک میں ڈالا۔ اور مجھے خط کے لکھنے سے منع کیا تھا۔ جب تک میرے بپتسمہ کا وقت ہو۔ وہ ہمارے پاس ہے ہم پیش کریں گے۔ پھر ہم نے اس نوجوان لڑکے کی بابت دریافت کرنا شروع کیا۔ ایک آدمی بٹالہ میں دریافت کے واسطے بھیجا گیا۔ اس آدمی کا نام عبدالرحیم ہے۔ اس نے بٹالہ کے متعلق حالات عبدالمجید کے محض جھوٹے پائے۔ ذرا بھی اس میں سچ نہ تھا۔ تب مولوی عبدالرحیم سیدھا قادیاں میں مرزا صاحب کے پاس پہنچا۔ اور مکان پر پہنچ کر اس نے دریافت کیا۔ کہ آیا کوئی شخص عبدالمجید نام یہاں پر ہے۔ ایک لڑکا وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں تھا۔ مگر مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ پھر مولوی عبد الرحیم مرزا صاحب کے پاس گیا۔ اور دریافت پر کہا کہ میں عیسائی ہوں۔ اور عبدالمجید کی بابت دریافت کیا۔ مرزا صاحب نے کہا وہ جھوٹا ہے پیدائشی مسلمان ہے۔ اور اس کا پیدائشی نام عبدالمجید ہے۔ اور وہ مولوی برہان الدین جہلمی کا بھتیجا ہے۔ وہ راولپنڈی میں عیسائی ہوا تھا۔ اور یہاں قادیان میں آکر پھر مسلمان ہو گیا تھا۔ اور کچھ عرصہ محنت نوکری اٹھا کرتا رہا اور قریباً سات آٹھ یوم سے یہاں سے چلا گیا ہے اور یہ عرصہ اس سے مطابق ہے۔ جب وہ ہماری کوٹھی پر آیا تھا۔ اور آخر کار مرزا صاحب نے کہا۔ اس کی اچھی طرح خاطر اور مدارت کرو۔ اور خوراک پوشاک عمدہ دو وہ تمہارے پاس رہے گا۔ پھر ہم نے جہلم سے دریافت کیا۔ وہاں سے ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان آدمی کا نام عبدالمجید نہیں ہے اور اس کا باپ مر گیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کے ایک چچا سے نکاح کر لیا ہے اور دوسرا چچا اور خاندان کا ممبر برہان الدین ہے۔ جو مولوی برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے۔ وہ قوم کے گکھڑ ہیں۔ برہان الدین معہ کل خاندان کے نہایت ہی پکے محمدی ہیں۔ برہان الدین مجاہدین سے ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جو مجاہدین سرحد پر ہیں۔ ان سے اس کا واسطہ تعلق رہا ہے۔ اور وہ بڑا بے دھڑک ہے۔ اگرچہ اب عمر رسیدہ ہے۔ جہاں تک سنا ہے، نیک معاش ضرور ہے۔ اور نسبت سب خاندان کے برہان الدین مرزا صاحب پر جاں نثار ہیں۔ نوجوان آدمی کی کچھ حقیقت نہیں جانتا قریباً سولہ بیگہ اراضی ہے۔ اور کچھ نقد بھی ہے جو بوقت وفات اس کے والد کے اس کے چچوں کے قبضہ میں آیا۔ یہ تحقیقات محمد یوسف خاں نے کی تھی۔ جو مرزا صاحب کا سابق مرید تھا اور خود بھی مجاہدوں کی بو رکھتا تھا۔ اور برہان الدین کا دوست قدیمی تھا۔ اس کا خط ہمارے پاس ہے۔ جو پیش کیا جاتا ہے مگر ضرورت پیش کرنے کی نہیں۔ اس نوجوان کو کبھی بپتسمہ نہیں دیا گیا تھا۔ اور وہ نہایت بری اور ناشائستہ زندگی بسر کرتا تھا۔ اور اس نے اپنے چچا ٣١١
کے چالیس روپیہ چوری کر کے شہوت پرستی میں خراب کیے تھے۔ رات دن وہ بدمستوں اور عیاشوں اور رنڈی بازوں میں پھرتا رہتا تھا پھر ہم نے اس کے عیسائی ہونے کے متلاشی ہونے کی بابت گجرات سے دریافت کیا۔ بذات خود ہم نے دریافت کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ گجرات کے ضلع سونگ کے ریلیف ورکس پر میٹ رہا تھا۔ اور روز شادی کی بابت آکر پادری صاحب یا عیسائیوں کو دق کرتا تھا۔ اور اپنی بہن کے پاس جو کہوا میں رہتی تھی۔ سکونت رکھتا تھا۔ اور کہا کہ ایک روز میں انجیل پڑھتا تھا۔ ایک دن بہنوئی نے نکال دیا۔ اور پادری صاحب کے پاس گجرات آیا۔ ہماری دریافت کا نتیجہ یہ تھا۔ کہ وہ لڑکا نہایت بدچلن اور مشکوک سا آدمی گجرات میں تھا۔ اور اس لیے زنا کاری کی علت میں گجرات سے مشن والوں نے نکال دیا تھا۔ کسی صورت میں اسے عیسائی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ نہایت برا محمدی سمجھا جاتا تھا۔ گجرات میں اس کی ایک دوست بازاری عورت تھی۔ ایک شخص میراں بخش جولاہا تھا۔ جو مرزا صاحب کا سخت عقیدت مند مرید ہے۔ جب ہم نے یہ باتیں سنیں۔ تو ہمارا اشتباہ مرزا صاحب کی نسبت اور زیادہ ہوا۔ کہ وہ قادیاں میں نوکری اٹھاتا رہا تھا۔ اور آخر کار گالیاں دے کر چلا آیا ہے۔ جس کا اصل مدعا یہ ہے کہ اس امر کا اشتباہ نہ ہو۔ کہ اس نوجوان کی مرزا صاحب سے سازش ہے۔ اور مرزا صاحب سے جو دریافت کیا گیا۔ تو جو معلوم تھا کہہ دیا تھا۔ ہم نے جرائم کے ارتکاب کے اصول کا جو قانون ہے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ بموجب اس علم کے جو شخص زنا پر آمادہ ہو۔ اس کو قتل پر آمادہ کرنا آسان ہے۔ نیز ایسے اشخاص جن کو حوران بہشت کی تمنا ہو۔ اور ایسے نوجوان جن کو زنا کی لت ہو۔ قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یعنی ایسے شخص کو حوران بہشت کا خیال بڑھ کر لقمہ ہے۔ جاں جائے تو چلی جائے۔ حوران بہشت تو ملیں گی۔ نیز ہم کو یہ بھی علم ہوا کہ وہ نوجوان ایک نکمے مسلمان خاندان جہلمی سے تھا۔ جن کو مرنے کا ذرا خوف نہیں ہے۔ اور اگر وہ بطور مرید مرزا صاحب مرتا۔ تو مرزا صاحب کی عزت تھی اور اگر وہ بطور مسلمان کے مرتا۔ تو شہید کہلاتا اور اگر یوں مر جاتا تو اس کی جائیداد سے اس کے بچوں کو فائدہ تھا۔ ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ہم بیاس گئے۔ اور روبروئے گواہاں کے ہم نے اس نوجوان سے گفتگو کی۔ اور میرے وعدہ پر کہ ہم تمہارا برا نہیں چاہتے۔ اس لڑکے نے پانچ کس گواہاں کے روبروئے اقرار کیا۔ اور خود لکھ کر دیا حروف H جو ہمارے روبروئے اس نے لکھا تھا۔ اور پھر روبروئے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر تصدیق بھی کرا دیا تھا۔ علاوہ اس اقرار نامہ کے اس نوجوان نے خود مجھے کہا کہ میں بائیمائے مرزا صاحب جان بوجھ کر ان کو گالیاں دے کر آیا تھا۔ اور یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ ریل کا کرایہ بطور مزدوری نوکری اٹھانے کے مرزا صاحب نے دیا
٣١٢
ہے۔ اور پھر یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ جو خط مولوی تھا کہ میری سکونت کا اس کو پتہ ملے اس نے یہ بھی ہے اور نہ اس نے کبھی اس بارہ میں کہا تھا۔ پر پیچھے دو آدمی اور پھرتے تھے۔ اور ہمارا خیال لکھ کہ وہ دو آدمی اس کو بھی مار ڈالیں گے۔ بعد اس اور احتیاط سے اس نوجوان لڑکے کی جان کی حفا لے گئے۔ اور حکام ضلع کو اطلاع دی۔ پھر تحقیقاً ہے کہ مرزا صاحب کے ایماء سے نقص امن ہو نسبت کی ہے۔ وہ ہتک آمیز ہے اور ممکن ہے کہ کہ میں خود ان کی بے عزتی الفاظ کو دیکھ کر نقص ام ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر ہیں۔ ہم کو اکثر اوقات بی اندیشہ لاحق حال رہتا ہے کہ شاید نقص امن ہ پیشگوئی جو میرے نقصان یا موت وغیرہ کی کی ایک زندہ سانپ پکڑا گیا تھا۔ تو عبدالمجید نے بڑ دیا ہے۔ کہ جب کوئی سانپ پکڑا جائے۔ ہمار تھا۔
ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاک سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مر جائیں گے رجوع بحق نہ کرے گا۔ تو مر جائے گا۔ عبداللہ آ واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئ پیشگوئی کی گئی تھی۔ ہم نے کی تھی چنانچہ وہ پوری
عبدالمجید ولد سلطان محمد ساکن جہل عیسائی ہوں۔ پہلے محمدی تھا۔ میں عیسائی لوگوں
ہے۔ اور پھر یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ جو خط مولوی نورالدین کے پاس بھیجا تھا۔ اس غرض سے بھیجا تھا کہ میری سکونت کا اس کو پتہ ملے اس نے یہ بھی کہا کہ مولوی نورالدین کو اس سازش کا کچھ علم نہیں ہے اور نہ اس نے کبھی اس بارہ میں کہا تھا۔ پریم داس کی زبانی ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کے پیچھے دو آدمی اور پھرتے تھے۔ اور ہمارا خیال لیکھرام کے قاتل کے نہ پائے جانے پر غور کر کے یہ تھا کہ وہ دو آدمی اس کو بھی مار ڈالیں گے۔ بعد اس کے کہ مجھے قتل کرے۔ اس لیے ہم نے بڑے خرچ اور احتیاط سے اس نوجوان لڑکے کی جان کی حفاظت کی۔ ١٣ جولائی ١٨٩٧ء کو ہم اس کو پھر امرتسر لے گئے۔ اور حکام ضلع کو اطلاع دی۔ پھر تحقیقات ہوئی۔ جس کا ہم کو حال معلوم نہیں ہم کو اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب کے ایماء سے نقض امن ہونے کا احتمال جو پیشگوئی مرزا صاحب نے ہماری نسبت کی ہے۔ وہ ہتک آمیز ہے اور ممکن ہے کہ ہماری طرف سے وہ نقض امن کرانا چاہتے ہیں۔ کہ میں خود ان کی بے عزتی الفاظ کو دیکھ کر نقض امن کروں۔ ہم کو اپنی حفاظت کا اکثر انتظام کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر ہیں۔ ہم کو اکثر اوقات ہر قسم کے اشخاص سے تعلق پڑتا ہے۔ اور اس قسم کا اندیشہ لاحق حال رہتا ہے کہ شاید نقض امن ہو جائے۔ ہمارے خیال میں آئندہ کے لیے کوئی پیشگوئی جو میرے نقصان یا موت وغیرہ کی کی جائے۔ اس کو نقض امن تصور کیا جائے۔ بیاس پر ایک زندہ سانپ پکڑا گیا تھا۔ تو عبدالمجید نے بڑی منت اور زاری کی تھی۔ کہ ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے۔ کہ جب کوئی سانپ پکڑا جائے۔ ہمارے پاس لانا۔ حالانکہ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تھا۔
(کتاب البریہ ص ١٤٠ تا ١٥٥، خزائن ج ١٣ ص ١٦٩ تا ١٨٧)
دستخط حاکم 15.8.97
بیان مرزا غلام احمد بلا حلف ١٣؍اگست ١٨٩٧ء
ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر صاحب مرجائیں گے۔ ہرگز ہمارا منشاء کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مرجائیں گے۔ عبداللہ آتھم کی نسبت شرطیہ پیشگوئی کی تھی۔ کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا۔ تو مرجائے گا۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ تھی۔ لیکھرام کی درخواست پر اس کے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ہم نے کی تھی چنانچہ وہ پوری ہوئی۔
دستخط حاکم 15.8.97
بیان گواہ استغاثہ باقرار صالح۔
عبدالمجید ولد سلطان محمد ساکن جہلم ذات گھکڑ عمر اٹھارہ سال بیان کیا کہ میں متلاشی عیسائی ہوں۔ پہلے محمدی تھا۔ میں عیسائی لوگوں کے پاس گجرات میں گیا تھا۔ چار ماہ ہوئے ہیں۔
٣١٣
اس وقت مرزا صاحب سے میری واقفیت نہیں تھی۔ پبلک سول ریلیف ورکس پر جان محمد بابو کے تحت میٹ تھا۔ دو تین ماہ عیسائیوں کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ وہاں محمدی لوگوں نے مجھے بلا لیا۔ اس لیے گجرات میں چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے بہت مرید گجرات میں ہیں۔ انہوں نے مجھے قادیاں میں بھیجا۔ جب میں وہاں گیا۔ میرا چچا برہان الدین اس وقت وہاں نہ تھا۔ مجھے صلاح دی گئی ۔ کہ جو شکوک تمہارے ہیں۔ قادیاں میں جا کر رفع کرلو۔ مجھے مولوی نور الدین اور مرزا صاحب نے سکھلایا تھا۔ قرآن کی تعلیم نہیں دی تھی۔ گجرات سے آکر صرف چار دن تک قادیاں میں رہا تھا۔ میں جہلم واپس چلا گیا تھا۔ اور چچا لقمان کے گھر میں جا کر رہا تھا۔ برہان الدین کے گھر میں گیا تھا۔ میرا چچا مولوی برہان الدین غازی ہے اور مرزا صاحب کا مرید ہے۔ دوسرا چچا میرا لقمان ہے۔ مگر وہ مرید مرزا صاحب کا نہیں ہے۔ میری ماں نے بعد میرے والد کے مرجانے کے لقمان سے نکاح کر لیا ہوا ہے۔ اور اس سے اولاد بھی ہے۔ میری دونوں نے پرورش کی۔ دو تین روز جہلم رہ کر پھر میں قادیاں میں چلا آیا۔ مرزا صاحب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک روز ایک علیحدہ مکان میں مجھے لے گئے۔ اور کہا کہ جاؤ امرتسر میں ڈاکٹر کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دو۔ میں نے کہا کہ میں کیوں یہ کام کروں۔ تو مرزا صاحب نے کہا کہ اگر دین محمدی پر ہو کہ تم یہ قتل کرو گے۔ تو تم مقبول ہو جاؤ گے پہلے مجھے پڑھایا کرتے تھے۔ پھر جب مجھے قتل کرنے کے واسطے مرزا صاحب نے کہا تو مجھے یہ کہا کہ اب تم چار پانچ روز مزدوری کرو۔ تاکہ لوگ یہ کہیں کہ مزدوری کرنے آیا ہے پھر یہ کہا کہ جب تو جانے لگے تو ہم کو گالیاں نکال کر جائیو۔ میں امرتسر چلا گیا اور ڈاکٹر صاحب مستغیث مقدمہ ہذا کے پاس گیا۔ اور کہا کہ میں عیسائی ہونے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری خاطر و تواضع کی۔ اور مجھے ہسپتال میں بھیج دیا۔ مجھے مرزا صاحب نے کہا تھا کہ پہلے اپنا نام رلیا رام بتلانا۔ پھر عبدالحمید بتلانا۔ کہ مسلمان ہو کر یہ نام حاصل کیا ہے۔ قریب ایک ماہ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس امرتسر میں رہا۔ پہلے پانچ چھ روز امرتسر رہا۔ پھر بیاس پر رہا۔ کاغذ H مشمولہ میرے قلم کا لکھا ہوا ہے جو بطور اقبال کے میں نے ڈاکٹر صاحب کو لکھ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت موجود تھے۔ جب لکھ کر میں نے دیا تھا۔ بیاس سے ایک خط میں نے مولوی نور الدین کو لکھا تھا کہ میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ یہ سچا دین ہے۔ محمدی دین سچا نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ مرید مرزا کا ہمارے پاس آیا ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اس کو عیسائی بنالیں۔ جب مولوی نور الدین کو خط لکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو علم نہ تھا۔ اور عیسائیوں کو بتلایا تھا۔ کاغذ حرف H کے لکھنے سے پہلے خط مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا۔ بھگت رام اور ایک اور منشی جس کا نام ٣١٤ یاد نہیں دیکھ رہے تھے۔ قریب ایک ماہ صاحب کے پاس سے ڈاکٹر صاحب کے مطلب تھا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ مجھ ١٤ آنے کرایہ دیا تھا اور قادیاں میں نوکری دیئے تھے۔ میں نے عبداللہ آتھم کی بابت کوئی علم نہیں ہے۔ کہ کب حملے ہوئے اور ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا۔ تو میرا ارادہ ما صاحب کے پاس نہیں بھیجا تھا۔ اور نہ ڈاکٹ رنج مولوی برہان الدین کے مرزا صاحب ہے اور برہان الدین کا پتہ نہیں کہ کہاں ہے
بعد بیان کے عرض کیا۔ چونکہ اندیشہ جان ہے۔ ڈاکٹر صاحب ...... ہم اس کو اپنی حفاظت کے پاس رہنے کی دی گئی۔ اور گواہان کے اظہار اور خر مجسٹریٹ نے صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈن عبدالحمید گواہ استغاثہ کو پولیس میں بھیجا گی میں لکھایا تھا۔ محض کہانی اور غلط بیان کیا۔ ہو جاتی ہے۔
عدالت نے کل کارروائی مقد یہ ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئیاں غ فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں۔ مرزا صاحب اس صورت میں اس امر کا ثابت کرنا صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر صا شہادت پیش کی گئی ہے۔ ہم منجملہ ان ۔ سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوت
یاد نہیں دیکھ رہے تھے۔ قریب ایک ماہ کے ہوا ہے کہ میں قادیاں سے روانہ ہو کر امرتسر مرزا صاحب کے پاس سے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تھا۔ مولوی نور الدین کی طرف خط بھیجنے سے یہ مطلب تھا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ میں بیاس میں ہوں۔ جب قادیاں سے امرتسر گیا تھا۔ ٤ آنے کرایہ دیا تھا اور قادیاں میں ٹوکری اٹھانے کی اجرت میں ١٢ آنے مرزا صاحب نے مجھے دیئے تھے۔ میں نے عبداللہ آتھم کی بابت سنا ہے دیکھا نہیں۔ اس پر حملے کیے جانے کی نسبت مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ کہ کب حملے ہوئے اور کیا کیا حملے ہوئے اور کس نے حملے کیے۔ جب میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا۔ تو میرا ارادہ مارنے کا تھا۔ بعد میں ارادہ بدل گیا۔ مجھے لقمان نے مرزا صاحب کے پاس نہیں بھیجا تھا۔ اور نہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھیجا ہے۔ ہمارے خاندان میں کوئی رنج مولوی برہان الدین کے مرزا صاحب کا مرید ہونے سے نہیں ہے۔ لقمان اس وقت جہلم میں ہے اور برہان الدین کا پتہ نہیں کہ کہاں ہے؟ وغیرہ .........
بعد بیان کے عرض کیا۔ چونکہ میں نے صاف صاف حالات بیان کر دیئے ہیں۔ مجھ کو اندیشہ جان ہے۔
ڈاکٹر صاحب ...... ہم اس کو اپنی حفاظت میں رکھنا چاہتے ہیں چنانچہ گواہ کو اجازت ڈاکٹر صاحب کے پاس رہنے کی دی گئی۔
اور گواہان کے اظہار اور خرچ فریقین کی طرف سے ہوئے۔ صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ بہادر کو اس مقدمہ کی تفتیش کے لیے کہا اور عبدالمجید یا عبدالحمید گواہ استغاثہ کو پولیس میں بھیجا گیا۔ وہاں اپنے بیان کو بالکل بدل دیا۔ اور جو بیان عدالت میں لکھایا تھا۔ محض کہانی اور غلط بیان کیا۔ اگر کل کارروائی بلفظہ درج کی جائے تو بذاتہ ایک کتاب ہو جاتی ہے۔
عدالت نے کل کارروائی مقدمہ اور وجوہات کو ججمنٹ میں درج کر کے فیصلہ دیا۔
یہ ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئیاں ڈیلفک الہاموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں۔ اور ایسے میں فائدہ ہے کہ وہ ایسی ہوں۔ مرزا صاحب کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کچھ اور۔ اس صورت میں اس امر کا ثابت کرنا ناممکن ہے۔ کہ ڈاکٹر کلارک کے معنی ٹھیک ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر کلارک کی نسبت کوئی پیشگوئی نہیں کی۔ اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے۔ ہم منجملہ ان کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے۔ جس سے مرزا صاحب کے بیان کی تردید ہوتی ہو۔ غلام احمد نے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے۔ کہ ان کو
٣١٥
ان حملات کا بھی علم نہیں ہے۔ جو آتھم کی جان پر کیے گئے۔ مگر کہا کہ لیکھرام کی نسبت اس کو علم تھا کہ وہ مرجائے گا۔ اور نیز اس نے دن اور گھنٹہ کی پیش از وقت اطلاع دے دی تھی۔ جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تعلق ہے۔ ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لیے ضمانت لی جائے۔ یا یہ کہ مقدمہ پولیس سپرد کیا جائے۔ لہٰذا وہ بری کیے جاتے ہیں۔ لیکن ہم اس موقعہ پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا۔ اور اس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں۔ کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی ہیں۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کیے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کی ایذاء مقصود ہے۔ جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں جو اثر اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر ہوگا۔ اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ اور ہم انہیں متنبہ کرتے ہیں۔ کہ جب تک وہ زیادہ میانہ روی کو اختیار نہ کریں۔ وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے۔ بلکہ ان کی زد کے اندر آجاتے ہیں؟ دستخط ایچ انگلش ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور 23.8.97
(کتاب البریہ ص ٢٥٨ تا ٢٦١، خزائن ج ١٣ ص ٢٩٦ تا ٣٠٢)
الحكم اور شحنہ ہند کی نوک جھونک
(الحكم قادیان ١٠ مارچ ١٩٠٣ء) کلمات طیبات امام آخر الزماں۔ واقعی بھی ہمارے پر چلتے ہیں۔ اور اپنی جگہ عیسائیوں کی طرح امام حسینؓ کے خون کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اعمال کی کوئی ضرورت ہے۔ تو فقط اتنی کہ ان کے مصائب کو یاد کر کے آنکھوں سے آنسو گرا لیے یا کچھ سینہ کوبی کر لے۔ ساری اعمال حسنہ کی روح یہی اشکباری اور سینہ کوبی ہے مگر میں نہیں سمجھتا کہ اس کو نجات سے کیا تعلق؟
شحنہ ہند..... لیکن مرزا جی بھی ماشاء اللہ عیسائیوں اور شیعہ سے کسی بات میں کم نہیں کیا معنے کہ اسلام میں نجات صرف خدائے وحدہ لاشریک کی توحید اور آنحضرت کی رسالت اور قرآن مجید اور اس کے احکام پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔ توحید تو یوں رخصت ہوئی کہ مرزا جی نے اپنے کو خدا کا بمنزلہ ولد (متبنی یا لے پالک) قرار دیا۔ اور ان پر ”اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ “ الہام ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت سے جن کی صفت ختم نبوت ہے۔ یوں انحراف ہوا۔ کہ اپنے کو بروزی نبی بتایا۔ قرآن مجید سے یوں ارتداد ہوا۔ کہ آیت تو ولكن رسول الله وخاتم النبیین کو توڑا دوئم اس کی آیات کا نزول تیرہ سو برس کے بعد اپنی شان میں بتایا۔ اور غلام احمد
٣١٦
میں جو لفظ احمد موجود ہے۔ چونکہ وہ حمد سے مشتق ہے۔ لہٰذا قرآن کی سورہ الحمد کو اپنی حمد وثناء ٹھہرایا۔ اور پھر مرزائیوں کو یہ ہدایت کی کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے۔ وہ مسلمان نہیں اور جہاں تک ممکن ہو وہ واجب القتل ہے۔
فرمائیے! آپ بڑے رہے یا شیعہ یا عیسائی شیعہ خدا تعالیٰ کی توحید اور آنحضرتؐ کی رسالت پر ضرور ایمان رکھتے ہیں۔ اگر چہ افعال شرکیہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
عیسائی اپنی کتاب انجیل کو ضرور مانتے ہیں۔ اگرچہ محبت مفرط میں عیسیٰ مسیح کو خدا سمجھنے سے یہ بہک گئے ہیں۔
الغرض سب قومیں اپنے اپنے نبی اور خدائے واحد پر ایمان رکھتی ہیں۔
آپ نے تو باوصف مسلمان ہونے کے ادھر خدا کی توحید سے انکار کیا اور ہر رسالت کی تردید کر کے اپنے کو نبی بلکہ خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بنا دیا۔
دنیا میں کوئی بدبخت قوم ایسی نہیں ہے۔ جس نے اپنے نبی سے انحراف کیا ہو۔ اور کسی قوم و مذہب کا کوئی فرد ایسا نہیں جو اپنے نبی کو چھوڑ کر خود نبی بن گیا ہو۔
پس مرزا جی کا کیا منہ ہے کہ کسی وحشی سے وحشی اور بت پرست سے بت پرست قوم و مذہب پر بھی کسی قسم کا اعتراض کر سکیں۔ (ایڈیٹر)۔
(ضمیمہ شحنہ ہند ١٦ مارچ ١٩٠٣ء ص ٦)
باب ٥٠ پنجا ہم
بیگم کے نام زمین رہن کرادی
آج اس شوخی سے لڑ لیجیے دل کھول کے خوب
کوٹھے کی چھت کے اوپر مسہری کے نیچے ایک چارپائی پر سفید بستر جس سے بنگلہ کے پریاں شرمائیں چاندنی رات میں عجب لطف دکھا رہا ہے۔ جھالر دار غلاف مخملی تکیوں پر چڑھے دونوں بغلوں میں سرہانے رکھے ہیں۔ ایک نازنین پری چہرہ زہرہ جبیں سرخ وسفید رنگ غنچہ لب شیریں دہن مہ لقا نازک بدن طناز خوش ادا۔ خوش انداز شباب کا عالم اٹھتی جوانی الھڑپنے کے دن ہیں بیس یا بائیس برس کا سن بستر راحت پر پاؤں پھیلائے ایک تاری ململ کا ہلکا دوپٹہ اوڑھے آنچل سے منہ چھپائے مست خواب ناز ہے۔ شمع کی روشنی میں رخساروں کا رنگ ایسا نظر آتا ہے۔ جیسے گلاب کی
٣١٧
پٹی، ایک خادمہ آہستہ آہستہ پنکھا جھلا رہی اور کہہ رہی ہے۔
چاند مکھڑا ہے دوپٹہ آسمانی چاہیے
آدمی کے پاؤں کی چاپ ہوئی۔ خادمہ نے مڑ کے دیکھا۔ اور ادب سے سلام کر کے علیحدہ۔
آنے والا ...... ہیں یہ کیا! آج شام سے ہی ابھی ابھی ٩ بجے ہیں اور ٨ بجے کے قریب آفتاب غروب۔
خادمہ ...... ہاں نصیب اعداء کچھ طبیعت ناساز ہے۔
شخص ...... گھبراہٹ کے لہجہ میں خیر باشد۔
خادمہ ...... کچھ درد سر کی شکایت تھی۔ ابھی ابھی آنکھ لگی ہے فرماتی تھیں کہ جگانا نہیں۔
شخص ...... تخت پوش پر (جو چار پائی کے پاس بچھا ہوا تھا) تکیہ کو سہارا دے کر آخر جگانا پڑے گا۔ حنائی داڑھی پر ( جو اس نازنین کے دستِ نازک سے رنگ میں ایک غوطہ زیادہ کھائے ہوئے تھی) ہاتھ پھیر کر۔ دریافت تو کیا جائے طبیعت کی کیا حالت ہے۔
خادمہ ...... حضور کو اختیار ہے۔ مجھ کو جیسا حکم تھا۔ عرض کر دیا۔
میاں ...... (شخص) چار پائی کے قریب آکر اور منہ سے دوپٹہ اٹھا کر دیکھنے لگے۔ ان نازک رخساروں پر مہندی کے رنگے ہوئے سخت سخت بال جو لگے۔ آنکھ کھل گئی۔
نازنین ...... انگڑائی لے کر ہائے کمبخت رو رو کے آنکھ لگی تھی۔ جگا دیا۔ کیا اس مردار نے نہیں کہا تھا۔ طبیعت اچھی نہیں۔
میاں ...... نہیں اس نے تو کہہ دیا تھا اس غریب کی تو خطا نہیں۔ یہ تو اس دل ناصبور کا قصور ہے۔
تم بھی مجبور ہو بندہ کا بھی لاچار ہے دل
بیوی ...... تمہاری ہر وقت یہی باتیں ہیں۔ خوش طبعی اور دل لگی سے کام دوسرے کی طبیعت بھی دیکھا کرو۔
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
میاں ...... کیوں خیر تو ہے۔ طبیعت کیا حال ہے؟ میں بھی تو یہی دریافت کرتا ہوں۔ کوئی آرزوئے
٣١٨
دل تو ظاہر نہیں کی ۔
یہ ادھر صدقہ
بیوی ...... پھر وہی میں کہتی ہوں میری ط مرمر کے آنکھ لگی تھی۔ جگا دیا پھر اس پر مجھ
میاں ......
درد سر کی
بیوی ...... چہ خوش، چرا نباشد ۔ آپ صند
شام کہتے
میاں ...... کچھ چھپ کر۔ کیا تمہارے ہوگی۔ ورنہ جس کو اللہ وجیہہ کہے۔
بیوی ...... تو کسی کو کیا ؟
میاں ...... کیوں؟ تم کو کیوں نہیں ۔ تمہ چاہتی بیوی ہونے کے سبب ( حسرت
اے باد
بن تیری
پھر آ تو
بیوی ...... لے چلو ہٹو بھی۔ مجھے یہ رو گئے گزرے ہوئے۔ اب ہمارے وا
میاں ...... وہ ہم نے کون سا وعدہ کیا پیچھے منہ سوجایا ہے۔ صاف کیوں نہی دکھانا۔ کل لو۔ انشاء اللہ سب سے او عیش وطرب میں رات بسر ہوئی۔
دل تو ظاہر نہیں کی۔
یہ ادھر صدقہ دیا تو نے ادھر اچھا ہوا
بیوی....... پھر وہی میں کہتی ہوں میری طبیعت اچھی نہیں۔ صبح سے درد سر نے ہلکان کر رکھا تھا۔ اب مر مر کے آنکھ لگی تھی۔ جگا دیا پھر اس پر بھی سکوت نہیں۔
میاں.......
درد سر کی کس کے ماتھے جائے گی
بیوی...... چہ خوش، چرا نباشد۔ آپ صندلی رنگ بھی ہیں۔
شام کہتے ہو جسے ہے سحر پروانہ
میاں....... کچھ جھینپ کر۔ کیا تمہارے نزدیک صندلی رنگ نہیں۔ اس لال داڑھی کو دیکھ کر کہتی ہوگی۔ ورنہ جس کو اللہ وجیہہ کہے۔
بیوی....... تو کسی کو کیا؟
میاں....... کیوں؟ تم کو کیوں نہیں۔ تمہارا بھی تو فخر پنجاب امام الزماں مہدی دوراں۔ مسیح جہاں کی چہیتی بیوی ہونے کے سبب (حسرت کے لہجہ میں)۔
اے باعث لطف زندگانی پھر آ
بن تیرے ہوں میں دیدۂ خوباں میں ذلیل
پھر آ تو اب اے میری جوانی پھر آ
بیوی....... لے چلو ہٹو بھی۔ مجھے یہ روکھی محبت اور خالی خولی فقرہ نہیں بھاتا۔ وہ وعدہائے شیریں سب گئے گزرے ہوئے۔ اب ہمارے واسطے صرف فخر ہی فخر رہ گیا ہے۔
میاں....... وہ ہم نے کون سا وعدہ کیا جو وفا نہیں کیا۔ اہاہا! خوب یاد آیا بس یہی بات ہے۔ جس کے پیچھے منہ سوجایا ہے۔ صاف کیوں نہیں کہتیں۔ ذرا سی بات کی خاطر خود رنج ہونا دوسرے کا دل دکھانا۔ کل کو۔ انشاء اللہ سب سے اول یہی کام کیا جائے گا۔ بیوی خوش ہو کر اٹھ بیٹھیں۔ اور عیش و طرب میں رات بسر ہوئی۔
٣١٩
جب نوبتی نے صبح کی نوبت بجائی۔ مرغ سحر پکارا۔ موذن نے نعرہ اللہ اکبر مارا۔ سپیدۂ صبح نمودار ہوا۔ غسل سے فراغت پا کر میاں باہر آئے رفیقوں اور مصاحبوں، حواریانِ خیر اندیش۔ مریدان عقیدت کیش نے اغل بغل دائیں بائیں فرش بوریائے بے ریا پر جگہ پائی۔ قلم دوات۔ کاغذ منگوایا گیا۔ سب رجسٹرار کو بلانے کی درخواست لکھ کر ایک آدمی کو روانہ کیا گیا۔ اور اسٹام فروش سے اسٹام منگوا کر دستاویز تحریر ہوئی۔
دستاویز
”منکہ مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم قوم مغل ساکن و رئیس قادیاں تحصیل بٹالہ کا ہوں۔ موازی ١٤رکنال اراضی نمبری خسرہ ٧٢٤/ ٧٠٣/١، ٧٢١/١ قطعہ کا کھاتہ نمبر ١٧٠؍ معاملہ بمعہ مجمل جمع بندی ١٨٩٦ء و ١٨٩٧ء واقعہ قصبہ قادیاں مذکور موجود ہے ١٤رکنال منظورہ میں سے موازی ١رکنال اراضی نمبری خسرہ نمبری ٧٠٣/٧٢٤/١ مذکورہ میں باغ لگا ہوا ہے اور درختان آم و کھٹہ ومٹھہ وشہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے پھلے ہوئے ہیں اور موازی ١٣رکنال اراضی مزروعہ چا ہی ہے۔ اور بلا شرکتہ الغیر مالک و قابض ہوں۔ سو اب مقر نے برضا و رغبت خود وبدرستی ہوش وحواس خمسہ اپنی کے کل موازی ١٤رکنال اراضی مذکور کو معہ درختان ثمرہ وغیرہ موجودہ باغ واراضی زرعی ونصف حصہ آب وعمارت وچرخ چوب چاہ موجودہ اندرون باغ ونصف حصہ کنواں ودیگر حقوق داخلی وخارجی متعلقہ اس کے بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائجہ نصف جن کے ٢٥٠٠ ہوتے ہیں۔ بحق مسمات نصرت جہاں بیگم زوجہ خود رہن وگروی کر دی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذیل زیورات ونوٹ کرنسی نقد مرتہنہ سے لیا ہے۔ کڑی کلاں طلاء قیمتی ٧٥٠، کڑے خورد طلاء قیمت ٢٥٠، چوڑیاں ٤ عدد بالیاں دوعدد ہسلی ١ عدد زنجیر طلائی دوعدد بالی گھنگھرو والی طلائی دو عدد کل قیمتی ٦٠٠، کنگن طلائی قیمتی ٢١٠ روپے بند طلائی قیمتی ١٠٠ روپے کٹھملہ طلائی قیمتی ٢٢٥ روپے چمپاکلی جڑاؤ طلائی قیمتی ٣٠٠ روپے پونچیاں طلائی بڑی ٤ عدد قیمتی ١٥٠ روپے۔ جوشن اور چوٹکی چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے پان کلاں ٣ عدد، طلائی قیمتی ٢٠٠ روپے چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپے بالیاں جڑاؤ سات ہیں۔ قیمتی ١٥٠ روپے نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپے ٹیکہ خورد طلائی قیمتی ٢٠ روپے حمائل قیمتی ٢٥ روپے پونچیاں خورد طلائی ٢٢ دانہ ٢٥ روپے بندی طلائی قیمتی ٤٠ روپے ٹپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٦ روپے کرنسی نوٹ نمبری ١٥٩٠٠٠ / ١٢٩ لاہور، مالیتی ایک ہزار اقرار یہ کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد تیس سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر
٣٢٠
رہن دوں۔ تب فک الرہن کرالوں، ورنہ سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع با قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔ داخل خارج وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ حق ہے تین میں نصف مبلغ ورقم بیس ہزار روپے کے صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرہ واسطے ہر ضرورت و آلات کشاورزی کے ا سند ہو۔ المرقوم ٢٥؍جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی مقبول ولد حکیم کرم دین صاحب بقلم خود گوا
اسٹام بک مکرر و دوقطعہ
حسب درخواست جناب مرزا آج واقعہ ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء یوم شنبہ وقت دو دستاویز صاحب موصوف نے بغرض رجسٹر احمد بقلم خود ٢٥ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش اس رجسٹری پر ملا محمد بخش قادیانی ہے۔
رجسٹری مذکورہ بالا پر ہمارا منصفانہ ر اگر مرزا صاحب کو اسپ و زن و ز رجسٹری نہ کرانے۔ مرزا صاحب نے خواہ م راضی کرنے کی کوشش کی جب مرزا صاحب نے ایک چھلہ تک نہیں دیا۔ کہ مرزا صاحب عوض میں جناب سے تمام باغات زمین و خ باتیں اس کی فرمانبرداری کی ہیں۔ ہرگز نہیں پس جب گھر کا یہ حال ہو رہا ہے۔ تو دوسروں اوّل...... ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا صاحب م
رہن دوں۔ تب فک الرہن کرالوں، ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے تیسویں سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت کا نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔ داخل خارج کرا دوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی کی جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر تین میں نصف مبلغ و رقم یک ہزار روپے کے آگے رقم دو سو ساٹھ کو قلمزن کر کے پانچ سو لکھا ہے۔ جو صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہوگا اور درختان غیر ثمرہ یا خشک شدہ کو مرتہنہ واسطے ہر ضرورت وآلات کشاورزی کے استعمال کرسکتی ہیں۔ بنا بریں رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند ہو۔ المرقوم ٢٥؍جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی فیض احمد نمبر ٩٤٩، العبد مرزا غلام احمد بقلم خود گواہ شد مقبول ولد حکیم کرم دین صاحب بقلم خود گواہ شد نبی بخش نمبردار بقلم خود بٹالہ حال قادیان۔
اسٹام بک مکرر دو قطعہ
حسب درخواست جناب مرزا غلام احمد صاحب خلف مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم آج واقعہ ٢٥؍جون ١٨٩٨ء یوم شنبہ وقت ٢ بجے بمقام قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور آیا اور یہ دستاویز صاحب موصوف نے بغرض رجسٹری پیش کی۔ العبد مرزا غلام احمد قادیانی راہن مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش رجسٹرار۔
اس رجسٹری پر ملا محمد بخش قادری نے اپنے ایک اشتہار میں مندرجہ ذیل ریمارک کیا ہے۔
رجسٹری مذکورہ بالا پر ہمارا منصفانہ ریمارک
اگر مرزا صاحب کو اسپ و زن و شمشیر وفادار کہ دید کی خبر ہوتی۔ تو ہرگز اپنی بیوی کے نام رجسٹری نہ کراتے۔ مرزا صاحب نے خواہ کتنا ہی لطائف الحیل طمع دنیوی سے نصرت جہاں بیگم کو راضی کرنے کی کوشش کی جب مرزا صاحب کو کچھ روپیہ وغیرہ کی ضرورت پیش آئی۔ تو اس عفیفہ نے ایک چھلہ تک نہیں دیا۔ کہ مرزا صاحب کے وقت بیوقت کام آتا۔ بلکہ اس سے زیورات کے عوض میں جناب سے تمام باغات زمین وغیرہ رہن گروی رکھ لی۔ اور رجسٹری کرالی۔ کیا یہ سب باتیں اس کی فرمانبرداری کی ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اس نے ایسے شخص ...... کا ذرا بھی اعتبار نہیں کیا۔
پس جب گھر کا یہ حال ہو رہا ہے۔ تو دوسروں پر کیا شکایت۔
اول ...... ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا صاحب نے جو زیورات مالیتی پانچ ہزار روپے کے عوض باغات و
٣٤١
اراضی وغیرہ اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کے پاس گروی رہن کر کے رجسٹری کرا دی ہے۔ تو یہ زیورات آپ کی اہلیہ کے پاس آپ کے دیئے ہوئے تھے یا نہیں۔ اگر آپ کے ہی تھے تو کیا آپ کو بوقت ضرورت اس سے عاریتاً لینے کا حق نہ تھا۔ اگر تھا تو اس کے عوض اس قدر اراضی باغات کا یہ گروی نامہ رجسٹری کرا دینا دوسرے لڑکوں فضل احمد صاحب وسلطان احمد صاحب کے حقوق زائل کر دینے کا منشاء ظاہر نہیں کرتا؟ آپ کے بعد اس جہان سے گم ہوتے ہی یہ رجسٹری ڈھائی منٹ میں منسوخ ہو جائے گی۔ مرزا صاحب! کیا خدا تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔ کہ حقداروں کے حقوق چھین کر دوسروں کو دیئے جائیں۔
- دوم...... آپ کو اس قدر روپیہ کی ضرورت کیا تھی کہ آپ نے یہ کام بھی خلاف شرع کیا۔
- سوم...... جب کہ آپ اس قدر مالدار ہیں۔ آپ کا دعویٰ کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ کس طرح سچا
سمجھا جائے۔ جبکہ خود مسیح جس کی مثیل آپ بنتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ چرند پرند کے لیے بسیرا کرنے کے لیے جگہ ہے۔ مگر ابن آدم (مسیح) کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کہ وہ اپنا سر چھپا سکے۔
- چہارم...... اگر آپ نصرت جہاں بیگم سے زیورات مالیتی پانچ ہزار لے لیتے۔ اور اس کے عوض
باغات زمین نہ رکھتے تو ہم کہتے ہیں کہ آپ نے اس جھگڑے کو اپنے حین حیات میں مطابق شرع محمدی کیوں فیصلہ نہیں کیا۔
- پنجم...... جو اراضی و باغات آپ نے نصرت جہاں بیگم کے پاس گروی و رہن کر دی ہے۔ اس
کی آمدنی و خرچ کا حساب آپ کی تحویل میں رہے گا یا نہیں اور آپ اس کام کی انجام دہی کے عوض کچھ ماہانہ لیا کریں گے یا نہیں۔ اگر لیں گے تو بیوی کے نوکر کہلائیں گے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
- ششم...... اگر یہی خدمت کوئی دوسرا انجام دے۔ تو آپ کی اجازت درکار ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو
کیوں نہیں؟
- ہفتم...... باغ کے پھل وغیرہ کو آپ اپنی بیوی کی بلا اجازت حاصل کریں گے یا نہیں؟ اگر حاصل
کریں گے تو کیوں؟
غرض کہ مرزا صاحب کو رتی رتی پھل پھول پر شرعاً اجازت لینی پڑے گی ورنہ حرام کھائیں گے۔
خادم قوم۔ ملا محمد بخش قادری منیجر اخبار جعفر زٹلی لاہور
٣٢٢
باب ٥١
مولانا ثناء اللہ
بحث کرنے کو جو
لب پر تو نہ لا وہ
جھوٹا نہ کہیں جوہری
جاڑا ہے کہ زمہریر کا طبقہ ٹوٹ گیا ہے بڑے بڑے تناور درخت بید کی طرح کانپ رہے ایک دوسرے سے وصلی کی کاغذ کی طرح چمٹے ہوئے
پرند پروں میں سر چھپائے آشیانہ ب بغلوں سے ہاتھ جدا نہیں ہوتے۔ کنار دلدار کا مز دھواں دھار ہو جاتا ہے۔ بات دم گفتار زباں سے باہر نہیں آتی ہے۔ دانت سے دانت بج نکل آیا ہے۔ مگر ڈر کے مارے چادر میں منہ چھپا رہا ہے۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو رہا ہے۔ ہاتھ ک انگیٹھیوں میں آگ ٹھنڈی ہو گئی ہے لوگ ہاتھوں کچی سڑک پر کیچڑ میں ایک یکہ پھنسا کھڑا ہے۔ گھ نہیں کھاتا۔ گویا برف میں جم گیا ہے یکہ وان ہیں۔ مگر تا ہم وہ کوشش کر رہا ہے۔ تین چار آدمی ک زور لگا کر دھکیل رہے ہیں مگر یکہ بھی ہلتا نہیں۔
ایک صاحب شنگرفی رنگ کی پشمینہ کی ب اور ناک سے پانی بہہ رہا ہے رومال سے پونچھتے پو سپاہی...... اجی حضرت مولانا صاحب! آپ کو تو
٣
باب ٥١ پنجاہ و یکم
مولانا ثناء اللہ قادیان میں
بحث کرنے کو جو آئینہ مقابل ہو گیا
لب پر تو نہ لا وعدہ خلافی کی سخن
جھوٹا نہ کہیں جوہری اس لعل یمن کو
جاڑا ہے کہ زمہریر کا طبقہ ٹوٹ گیا ہے۔ ہوا کے سناٹے سے کان بہرے ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے تناور درخت بید کی طرح کانپ رہے ہیں۔ درختوں کے پتوں پر برف جم گئی ہے۔ ایک دوسرے سے وصلی کی کاغذ کی طرح چمٹے ہوئے بزبان حال کہہ رہے ہیں:۔
یوں وصلی کے بھی کاغذ چسپاں بہم نہ ہوں گے
پرند پروں میں سر چھپائے آشیانہ میں بیٹھے ہیں۔ منہ باہر نہیں نکالتے انسانوں کی بغلوں سے ہاتھ جدا نہیں ہوتے۔ کنار دلدار کا مزہ لے رہے ہیں۔ دم تقریر دود آسا منہ سے نکل کر دھواں دھار ہو جاتا ہے۔ بات دم گفتار زبان سے نکل کر لبوں پر جم جاتی ہے۔ سامع کے کان تک جانے کا بار نہیں پاتی ہے۔ دانت سے دانت بجتے ہیں۔ صبح ہو گئی ہے۔ خورشید خاور حجرہ افق سے نکل آیا ہے۔ مگر ڈر کے مارے چادر کہر سے منہ چھپائے کانپ رہا ہے۔ کہر کا غبار چاروں طرف چھا رہا ہے۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو رہا ہے۔ ہاتھ سے ہاتھ مارا نظر نہیں آتا راستہ تو کیا ذکر ہے۔ انگیٹھیوں میں آگ ٹھنڈی ہو گئی ہے لوگ ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں۔ مگر حرارت نہیں آتی۔ ایک کچی سڑک پر کیچڑ میں ایک یکہ پھنسا کھڑا ہے۔ گھوڑا جان توڑ کر زور لگاتا ہے مگر پہیا حرکت کیا جنبش نہیں کھاتا۔ گویا برف میں جم گیا ہے یکہ والے کی آواز کانپ رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں شل ہورہے ہیں مگر تاہم وہ کوشش کر رہا ہے۔ تین چار آدمی کالی وردی پہنے کمبل کی بارانی میں لپٹے ہوئے یکہ کو زور لگا کر دھکیل رہے ہیں مگر یکہ بھی ہلتا نہیں۔
ایک صاحب شنگرفی رنگ کی پشمینہ کی چادر سے منہ سر لپیٹے یکے کے اندر بیٹھے ہیں۔ آنکھ اور ناک سے پانی چو رہا ہے رومال سے پونچھتے پونچھتے ناک گوشت کی بوٹی کی طرح لال ہو گئی ہے۔ سپاہی....... اجی حضرت مولانا صاحب! آپ کو تو کوئی ضرورت ہوگی۔ ہم غریب سپاہیوں کو ناکردہ
٣٢٣
گناہ کیوں عذاب میں پھنسایا۔
- دوسرا...... یہ تو یکہ میں منہ سر لپیٹے ہاتھ پاؤں چھپائے بیٹھے ہیں چلو یہ پاس گاؤں ہے۔ وہاں
چل کر آگ اور لکڑیاں لائیں۔ سینک کر ہاتھ پاؤں کھولیں۔
- تیسرا...... یہ بزدلی خوب نہیں۔ اگر کوئی معرکہ آرائی ہو۔ تو تم کیا کرو۔
- چوتھا...... حوالدار صاحب! ان میں سے ایک آدمی کو ضرور بھیج دینا چاہیے۔ جب تک دھوپ
نکلے آگ جلا کر سینکیں۔ جب دھوپ نکلے گی ۔ تو یکہ کو گھوڑا کھینچے گا۔
حوالدار صاحب...... اچھا تم سے ایک آدمی جاؤ۔ مولوی صاحب! آپ حقہ تو نہیں پیتے؟
مولوی صاحب...... نہیں صاحب! میں حقہ تو نہیں پیتا۔ مگر آگ تو ضرور منگانی چاہیے۔
حوالدار صاحب...... حضرت مولانا صاحب! اس موسم میں سفر! ہم لوگ تو ملازم پیٹ کی خاطر مارے مارے پھرتے ہیں۔ آپ کو ایسی کیا ضرورت پیش آئی۔ جو اس قدر تکلیف شاقہ کی روادار ہوتے۔
مولوی صاحب...... کیا کہیں تم مرزا کو جانتے ہوگے؟
حوالدار صاحب...... واہ صاحب! آپ نے مرزا کے جاننے کی بھی ایک ہی کہی وہ تو شیطان سے زیادہ مشہور ہے۔ اسے کون نہیں جانتا۔
خوب! یہ مولانا صاحب تو ہمارے مخدوم مکرم و معظم حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ہیں۔ یہ اس وقت یہاں کہاں؟
مولوی صاحب...... میں نے قادیاں میں جانا ہے۔ مرزا قادیانی نے ایک رسالہ اعجاز احمدی چھاپا ہے جس میں ہم کو مخاطب کر کے لکھا ہے۔ اگر یہ (مولوی ثناء اللہ) سچے ہیں تو قادیاں میں آ کر کسی پیشگوئی کو جھوٹی ثابت کریں تو ہر ایک پیشگوئی کے لیے ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ
(ص ١١ خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨)
مولوی ثناء اللہ نے کہا تھا۔ کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لیے ہم آپ کو مدعو کرتے ہیں۔ اور خدا کی قسم دیتے ہیں۔ کہ وہ اس تحقیق کے لیے قادیاں میں آئیں۔ رسالہ نزول المسیح میں میں نے ڈیڑھ سو پیشگوئی لکھی ہے۔ تو گویا جھوٹ ہونے میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب کے لیے اپنے مریدوں سے ایک ایک روپیہ لوں گا۔ تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔
(ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)
٣٤٤
اسی بیان کے متعلق ایک دو پیشگو کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تہ
- ١...... وہ قادیاں میں تمام پیشگوئیوں کو
اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کر
- ٢...... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ
مریں گے۔
- ٣...... اور سب سے پہلے اس اردو مضمو
کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔
حوالدار صاحب...... اجی حضرت! کیا آپ ایسے وعدہ وفا ہوتے۔ تو یہ جائیداد عمرانان اڑاتے۔ آپ نے سنا نہیں کہ بخیل نے کسی فق ہے۔
شخص...... ارے میاں ہمیں بھی دکھانا۔ کہ
بخیل...... جو اس طرح دکھاتے تو وہ کیونکر
سو حضرت! ہاتھی کے دانت کھا ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ جو کسی کے دم کے قابو میں نہیں آتے۔ لاکھوں انعام کے مناظرہ کو بلائے گئے۔ کسی سے کسی بات کا ہی رہے۔
اس عرصہ میں سورج نے منہ د مسافران آگے کو روانہ ہوا۔ کبھی ٹیلہ پر یکہ
ہر ہر قدم پر
غرض بصد حیرانی صبح سے چل کی زیارت نصیب ہوئی۔ خدا کا شکر بجال اطلاع دی۔
اسی بیان کے متعلق ایک دو پیشگوئیاں بھی جڑ دی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔
- ١...... وہ قادیاں میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لیے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔
اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لیے موت ہوگی۔
- ٢...... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائیں گے تو ضرور وہ پہلے
مریں گے۔
- ٣...... اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان
کی روسیاہی ثابت ہو جائے گی۔
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
حوالدار صاحب ...... اجی حضرت! کیا آپ مرزا صاحب کے وعدوں سے واقف نہیں۔ اگر وہ ایسے وعدہ وفا ہوتے۔ تو یہ جائیداد عمارتات اور زیورات اور حلوائے تر اور قورما اور پلاؤ کہاں سے اڑاتے۔ آپ نے سنا نہیں کہ بخیل نے کسی شخص سے کہا کہ ہمارے گھر ہمارے دادا کے وقت کا اچار ہے۔ شخص ...... ارے میاں ہمیں بھی دکھانا۔ کہ اس کا کیسا ذائقہ ہے۔ بخیل ...... جو اس طرح دکھاتے تو وہ کیونکر رہتا؟
سو حضرت! ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور ہیں۔ مرزا صاحب ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ جو کسی کے دم میں آجائیں۔ اچھوں اچھوں کو اس نے دم دیا ہے۔ کسی کے قابو میں نہیں آتے۔ لاکھوں انعام کے اشتہار شائع ہوچکے۔ کسی کو کوئی پیسہ ملا؟ سینکڑوں آدمی مناظرہ کو بلائے گئے۔ کسی سے کسی بات کا فیصلہ ہوا۔ آخر کو للو نکل گئے۔ اور سب دیکھتے کے دیکھتے ہی رہے۔
اس عرصہ میں سورج نے منہ دکھایا۔ دھوپ کی گرمی سے ذرا ہاتھ پاؤں کھلے۔ یکہ معہ مسافران آگے کو روانہ ہوا۔ کبھی ٹیلہ پر یکہ چڑھتا اور کبھی گڑھے میں دھڑام کرکے گرا۔
ہر ہر قدم پر ہے گماں یہ رہ گیا وہ رہ گیا
غرض بصد حیرانی صبح سے چل کر قریب عصر قادیاں کی صورت دیکھی۔ اوہو جی منارۃ المسیح کی زیارت نصیب ہوئی۔ خدا کا شکر بجالائے۔ ایک مسجد میں قیام کیا۔ مرزا صاحب کو بذریعہ رقعہ اطلاع دی۔
٣٢٥
رقعہ مولانا ثناء اللہ امرتسری بنام مرزائے قادیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
بخدمت جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیاں خاکسار حسب دعوت مندرجہ (اعجاز احمدی ص ١١ تا ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٩ تا ١٣٠) قادیاں میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں۔ کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ بقول خود ایک عہدہ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لیے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لیے خصوصاً ہے اس لیے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے۔ کہ میں مجمع میں آپ کی پیشگوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ کہ مجھے ضرور موقع دیں۔ ابوالوفاء ثناء اللہ از قادیاں ۔ ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء
جواب از مرزائے قادیان
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
از طرف عائذ باللہ الصمد عافا اللہ ۔ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو۔ کہ اپنے شکوک وشبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا اس کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں۔ رفع کرادیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی۔ اور اگر چہ کئی سال ہو گئے۔ کہ میں کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں۔ کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب کے شبہات دور کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے۔ کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے۔ کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔ سو یہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے۔ کہ آپ اس مرحلہ کے صاف کرنے کے لیے اول یہ اقرار کر دیں۔ کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہ جائیں گے اور وہی اعتراض کریں گے۔ جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ پر یا حضرت موسیٰ یا حضرت یونس پر عائد نہ ہوتا ہو۔ اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زد ہو۔
٣٢٦
دوسری یہ شرط ہوگی۔ کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے صرف آپ ایک سطر یا دو سطر تحریر دیدیں۔ کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لیے لمبا لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔
تیسری یہ شرط ہو گی کہ آپ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آ گئے اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے۔
یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو............ آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کریں۔ بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔ جیسے صم و بکم۔ یہ اس لیے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے اول صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں۔ اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا۔ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی ہے۔ تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا۔ کہ اس کو سنا دیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے۔ مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا۔ کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے۔ اگر یہ چاہو۔ کہ بحث کے رنگ میں آپ کو موقع دیا جائے۔ تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔
چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک میں اس جگہ ہوں۔ بعد میں ١٥ جنوری ١٩٠٣ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگر چہ بہت کم فرصتی ہے۔ لیکن چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لیے خرچ کر سکتا ہوں اگر آپ لوگ نیک نیتی سے کام لیں۔ تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔
سوچ کر دیکھ لو۔ کہ یہ بہتر ہوگا۔ کہ آپ نے بذریعہ تحریر، سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو۔ ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں گے اور میں وسوسہ دور کرتا جاؤں گا۔ ایسا ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وساوس دور کراتے ہیں۔ اور کچھ غرض نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے۔ ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔ بالآخر اس غرض کے لیے کہ اب آپ شرافت اور ایمان رکھتے ہیں۔ تو قادیاں سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جائیں۔
دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اول چونکہ میں انجام آتھم میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا
٣٢٧
ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں ۔ کہ میں آپ کی زبانی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جائے گا۔ کہ اول آپ ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ایک سطر یا دو سطر یا حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں۔ جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور منہاج نبوت کی رو سے قابل اعتراض ہے۔ اور پھر چپ رہیں۔ اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا۔ جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں ۔ پھر دوسرے دن اس طرح دوسری پیشگوئی لکھ کر پیش کریں ۔ یہ میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا۔ اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا۔ اور آپ کی مجال نہیں ہوگی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں۔ اور آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں۔ تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں۔ اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا۔ اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے۔ آمین سو اب میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبوی کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں ۔ یا قادیاں سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں ۔ اور چاہیے کہ اول آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جاوے اور آپ کو بلایا جائے گا ۔ اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جائیں گے ۔ مرزا غلام احمد بقلم خود۔
نوٹ: کیسی صفائی اور ہوشیاری کے ساتھ بحث سے انکار کرتے ہیں ۔ حالانکہ تحقیق کے لیے جو بالکل بحث سے مترادف (ہم معنی) لفظ ہے (ص٢٣، خزائن ج ١٩ص١٣٢) پر ان کو بلاتا ہے۔ اور اب صاف منکر ہیں۔ بلکہ ایسی خاموشی کا حکم دیتے ہیں کہ صم بکم ( بہرا، گونگا ) ہو کر آپ کا لیکچر سنتے جائیں ۔ مگر نہیں معلوم بکم ( گونگا) ہو کر تو کوئی سن سکتا ہے ۔ صم ( بہرہ ) ہو کر کیا سنے گا۔ شاید یہ بھی معجزہ ہو ۔
جواب الجواب از مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
الحمد لله و سلام علی عباده الذین اصطفی . اما بعد ! از خاکسار ثناء اللہ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب: آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ مگر افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کا گمان تھا۔ وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا جبکہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ (اعجاز احمدی ص ١١ تا ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٩ تا ١٣٠) حاضر ہوا ہوں۔ اور صاف لفظوں میں انہیں صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں۔ تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے ۔ بجز العادت طبيعة الثانية اور کیا معنی رکھتی
٣٢٨
ہے ۔ جناب من! کس قدر افسوس کی بات ہے مند کو تحقیق کے لیے بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کروں ۔ تو فی پیشگوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں پابند کرتے ہیں ۔ اور اپنے لیے تین گھنٹے تجویز تحقیق کا طریق ہے کہ میں ایک دو سطر میں لکھ صاف سمجھ میں آتا ہے آپ مجھے دعوت دے کر سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ ہے۔ جناب والا! کیا انہیں ایک دو سطروں ہونے کی دعوت دی ہے جس سے عہدہ برآ اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلا نیل مرام و آپ کی اس بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں گھنٹہ تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ ہر گھنٹہ کے بعد پانچ نہایت دس منٹ تک آ آپ مجمع عام پسند نہیں کرتے ۔ اس لیے فرما زیادہ نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چھ کو کہتے ہیں ۔ اطلاع دینا آپ نے شرط کیا آپ جو مضمون سنائیں گے۔ وہ اسی وقت جائے ۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا عرض ہے ۔ جو حدیث میں موجود ہے ۔
کیا جانے لکھ دی
رقعہ آدمی لے جا کر مرزا صاحب آئے ۔ ہزاروں بے نقط سنائیں ۔ اور حواری
جواب بحکم مرزا قادیانی
بسم الله الرحمن مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا
ہے ۔ جناب من! کس قدر افسوس کی بات ہے ۔ کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیاز مند کو تحقیق کے لیے بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیشگوئیاں کو جھوٹا ثابت کروں ۔ تو فی پیشگوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کے پابند کرتے ہیں۔ اور اپنے لیے تین گھنٹے تجویز کرتے ہیں۔ تلك اذا قسمة ضيزى بھلا یہ کیا تحقیق کا طریق ہے کہ میں ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹہ تک فرماتے جائیں اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ نے مجھے (ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) پر دعوت دی ہے۔ جناب والا! کیا انہیں ایک دو سطروں کے لکھنے کے لیے آپ نے مجھے در دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی ہے جس سے عمدہ میں امرتسر میں بیٹھا کر سکتا تھا۔ اور کر چکا ہوں مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلانیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اس لیے میں آپ کی اس بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلاشک تین گھنٹہ تک تقریر کریں۔ مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر گھنٹہ کے بعد پانچ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ آپ مجمع عام پسند نہیں کرتے۔ اس لیے فریقین کے معدود آدمی آئیں گے جو پچیس پچیس سے زیادہ نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط کیا تھا؟ علاوہ اس کے آپ کو آسانی اطلاع مل گئی ہوگی آپ جو مضمون سنائیں گے۔ وہ اسی وقت مجھ کو دیدیا جائے گا۔ کارروائی آج وہی شروع ہو جائے۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کی نسبت وہی عرض ہے۔ جو حدیث میں موجود ہے۔ مورخہ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء
کیا جانے لکھ دیا اسے کیا اضطراب میں
رقعہ آدمی لے جا کر مرزا صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ نہایت طیش وغضب میں آئے۔ ہزاروں بے نقط سنائیں۔ اور حوارین کو حکم دیا کہ جواب لکھ دو۔
جواب بحکم مرزا قادیانی
بسم الله الرحمن الرحيم حامداً مصليا
مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزماں مسیح موعود مہدی مسعود
٣٢٩
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے۔ طلب حق سے بعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے اس کا یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے۔ اور حضرت اقدس انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقومہ جواب رقعہ سامی میں قسم کھا چکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں۔ کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ طالب حق کے لیے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے۔ کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے۔ وہ ہرگز منظور نہیں ہے۔ اور یہ بھی منظور نہیں ہے۔ کہ جلسہ محدود ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ کل قادیاں وغیرہ کے اہل الرائے مجتمع ہوں۔ تاکہ حق و باطل سب پر واضح ہو جائے۔
والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ: ١١ جنوری ١٩٠٣ء
خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں
گواہ شد محمد سرور وابو سعید عفی عنہ
خط پڑھ کر حضرت اقدس امام الزماں کو سنایا گیا۔
حضرت ..... خبیث گستاخ حفظ مراتب تو جانتے ہی نہیں۔ اس سؤر سے کوئی دریافت کرے۔ کہ خدا کے مرسل اور نبیوں کو اسی طرح شوخی اور شرارت سے گستاخانہ خط لکھا کرتے ہیں۔
حواری ..... حضور یہ کیا اس کے ہم خیال یہودی صفت علماء اسلام کل دریدہ دہن گستاخ ہیں۔ خدا کے مسیح موعود اور مرسل صادق اور نبی برحق کی شان میں بے ادبی کرنا اپنا فرض منصبی سمجھ رکھا ہے۔ خدا ان کو سزا بھی تو نہیں دیتا۔
حضرت ..... ان گوہ خور یہودیوں کے بڑے بھائیوں کو عنقریب کتے کی موت مارے گا۔ کہ بد ذات اونٹوں کی طرح سوتے رہ جائیں گے۔
حواری ..... ہم اس کو کبھی نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے۔ اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔ لعنت ہی لے کر جائے گا۔
حضرت ..... اس نابکار سے کہہ دو کہ وہ لعنت لے کر قادیاں سے چلا جائے۔
حکیم محمد صدیق ..... (جو مولوی صاحب کا خط مرزا صاحب کی خدمت میں لے گئے تھے۔ ان مغلظ و شنام کو سن کر سخت حیران ہو کر واپس آئے) مولوی صاحب سے۔ حضرت! سننے میں اور اس وقت کی حالت دیکھنے میں بڑا فرق ہے۔ ہم حلفیہ بطور شہادت کہتے ہیں۔ کہ ایسی گالیاں ہم نے مرزا
٣٣٠
صاحب کی زبان سے سنی ہیں۔ جو کسی چوہڑے چ
محمد ابراہیم ..... (یہ بھی حکیم صاحب کے ساتھ گئے تھ نے علماء اسلام کی نسبت عموماً اور آپ (مولوی ثناء ا
حواری ..... (مولوی ثناء اللہ صاحب سے) یہ ب تمہارے خط کے
مولوی صاحب ..... (خط کو دیکھ کر) چونکہ میرا رو کہ میں کسی ان کے ماتحت کی تحریر نہ لیتا۔ مگر اس خ جائے۔ اس خط کو قبول کرتا ہوں۔ ان حضرات م افسوس ان لوگوں پر ہے۔ جو ایسے لوگوں کو دراز ر خبر نہیں۔ کہ مناظرہ اور تحقیق ایک ہی چیز ہے۔ ر میں صاف مرقوم ہے کہ کسی مسئلہ کی نسبت وہ شخص سے متوجہ ہونا اسی کا نام مناظرہ ہے۔
حوالدار ..... مولوی صاحب سلام۔ کیوں صاحب نہیں۔ مگر اردو کی کتابیں دیکھ کر اپنا مطلب سمجھ نہیں۔ روز اخباروں اور اشتہاروں میں شائع کر آپ سے وعدہ وفا کرتے۔
کوئی اور ہوگا
حکیم صاحب ..... حضرت بندہ نے امرتسر سے ہوتے ہیں۔ مرزا صاحب ہرگز ہرگز آپ کے م یہ ان کی عادت مستمرہ ہے۔ دعوت تو دے بیٹھے ہ
مولوی صاحب ..... ان کی حجت تو پوری کرنی ہ آئے ہیں۔ نہ اب آئیں گے۔ رسالہ (اعجاز لفظوں میں دعوت دیتی ہیں۔ ”اگر یہ (مولوی ثناء اللہ) سچے ہیں
سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب کی دوری اس سے صاف ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا حضرت فی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے۔ اور حضرت مہ جواب رقعہ ہذا میں قسم کھا چکے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی ب کر سکتا ہے۔ طالب حق کے لیے جو طریق حضرت لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ظور نہیں ہے۔ کہ جلسہ محدود ہو۔ بلکہ فرماتے ہیں کہ کل کہ حق و باطل سب پر واضح ہو جائے۔
والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ: ١١ جنوری ١٩٠٣ء
خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں
گواہ شد محمد سرور و ابو سعید عفی عنہ
زماں کو سنایا گیا۔
جانتے ہی نہیں۔ اس سؤر سے کوئی دریافت کرے۔ کہ شرارت سے گستاخانہ خط لکھا کرتے ہیں۔
وی صفت علماء اسلام کل دریدہ دہن گستاخ ہیں۔ خدا کی شان میں بے ادبی کرنا اپنا فرض منصبی سمجھ رکھا ہے۔
ے بھائیوں کو عنقریب کتے کی موت مارے گا۔ کہ بد
گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے۔ اور گندگی جائے گا۔
لے کر قادیاں سے چلا جائے۔
مرزا صاحب کی خدمت میں لے گئے تھے۔ ان مغلظ
مولوی صاحب..... حضرت! سننے میں اور اس وقت یہ بطور شہادت کہتے ہیں۔ کہ ایسی گالیاں ہم نے مرزا
٣٤٠
صاحب کی زبان سے سنی ہیں۔ جو کسی چوہڑے چمار سے بھی کبھی نہیں سنیں۔
محمد ابراہیم ..... (یہ بھی حکیم صاحب کے ساتھ تھے ) میں بیان نہیں کر سکتا۔ جو الفاظ مرزا صاحب نے علماء اسلام کی نسبت عموماً اور آپ ( مولوی ثناء اللہ ) کی نسبت خصوصاً فرمائی ہیں۔
حواری ..... (مولوی ثناء اللہ صاحب سے ) یہ خط حضرت اقدس امام ہمام نے یہ نامہ بجواب تمہارے خط کے دیا ہے۔
مولوی صاحب ..... (خط کو دیکھ کر) چونکہ میرا روئے سخن خود بدولت سے تھا۔ اس لیے میرا حق تھا۔ کہ میں کسی ان کے ماتحت کی تحریر نہ لیتا۔ مگر اس حال سے کہ پبلک کو مرزاجی کے فرار کا نشان بتلایا جائے۔ اس خط کو قبول کرتا ہوں۔ ان حضرات مرسلین رقعہ یا گواہاں کی حالت پر افسوس نہیں بلکہ افسوس ان لوگوں پر ہے۔ جو ایسے لوگوں کو دراز ریش دیکھ کر مولوی یا عالم سمجھ لیتے ہیں۔ جن کو یہ بھی خبر نہیں۔ کہ مناظرہ اور تحقیق ایک ہی چیز ہے۔ رشیدیہ جو علم مناظرہ میں ایک مستند کتاب ہے۔ اس میں صاف مرقوم ہے کہ کسی مسئلہ کی نسبت دو شخصوں کا نیک نیتی اور سچائی کے اظہار کرنے کی غرض سے متوجہ ہونا اسی کا نام مناظرہ ہے۔
حوالدار ..... مولوی صاحب سلام۔ کیوں صاحب! ہم کیا کہتے تھے۔ حضرت! ہم ایسے لکھے پڑھے نہیں۔ مگر اردو کی کتابیں دیکھ کر اپنا مطلب سمجھ لیتے ہیں۔ مرزا صاحب کا حال کوئی مخفی راز تو ہے نہیں۔ روز اخباروں اور اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں۔ کسی اقرار پر کسی جگہ قائم رہے ہیں؟ جو آپ سے وعدہ وفا کرتے۔
کوئی اور ہوگا وہ مرزا نہ ہوگا
حکیم صاحب ..... حضرت بندہ نے امرتسر سے چلتے وقت عرض کیا تھا۔ کہ آپ کیوں ناحق خراب ہوتے ہیں۔ مرزا صاحب ہرگز ہرگز آپ کے مقابلہ پر نہیں آئیں گے۔ اور نہ وہ گفتگو کریں گے۔ یہ ان کی عادت مستمرہ ہے۔ دعوت تو دے بیٹھتے ہیں۔ مگر پھر بہزار حیلہ گریز کر جاتے ہیں۔
مولوی صاحب ..... ان کی ہمت تو پوری کرنی تھی۔ یہ تو میں بھی جانتا تھا کہ مقابلہ پر وہ نہ کبھی پہلے آئے ہیں۔ نہ اب آئیں گے۔ رسالہ (اعجاز احمدی ص ١١، ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٩، ١٣٠) پر ہم کو ان لفظوں میں دعوت دیتی ہیں۔
"اگر یہ (مولوی ثناء اللہ ) سچے ہیں۔ تو قادیاں میں آکر کسی پیشگوئی کو جھوٹی تو ثابت
٣٤١
کریں۔ اور ہر ایک پیشگوئی کے لیے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔“
(ص ١١ خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨)
”مولوی ثناء اللہ نے کہا تھا۔ کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لیے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں۔ اور خدا کی قسم دیتے ہیں۔ کہ وہ اس تحقیق کے لیے قادیاں میں آئیں۔ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے۔ تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لیے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا۔ تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔“
(ص ٣٣٢ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
مولوی صاحب ...... ہم مرزا صاحب کی صداقت اور راست بیانی کے ظاہر کرنے کو ان کے حوالہ رسالہ انجام آتھم وغیرہ کی بھی پڑتال کرتے ہیں۔ آپ انجام آتھم کے صفحہ اخیر پر بیشک یہ لکھتے ہیں کہ: ”ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ کہ اس سے بعد علماء سے خطاب نہ کریں گے۔ گو وہ ہم کو گالیاں دیں اور یہ کتاب ہمارے خطابات کا خاتمہ ہے۔“
اس کتاب (انجام آتھم) پر گو تاریخ طبع نہیں۔ مگر اس کے اول صفحہ سے ١٨٩٦ء معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کے بعد آپ نے علماء کرام کو صاف مباحثہ اور مقابلہ کے واسطے بلایا ہے۔ چنانچہ آپ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کے (اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن اشتہار نمبر ٤٢٣ ص ٣٩٠) پر لکھتے ہیں۔
”اگر آپ لوگ اے اسلام کے علماء! اب بھی اس قاعدہ کے موافق جو سچے نبیوں کی شناخت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ قادیاں سے کسی قریب مقام میں جیسا کہ بٹالہ ہے یا اگر آپ کو اگر انشراح صدر میسر آئے۔ تو خود قادیاں میں ایک مجلس مقرر کریں۔ جس مجلس کے سرگروہ آپ کی طرف سے چند ایسے مولوی صاحبان ہوں۔ کہ جو حلم اور برداشت اور تقویٰ اور خوفِ باری تعالیٰ میں آپ لوگوں کے نزدیک مسلم ہوں۔ پھر ان پر واجب ہوگا۔ کہ منصفانہ طور پر بحث کریں۔ اور ان کا حق ہوگا۔ کہ تین طور سے مجھ سے اپنی تسلی کر لیں۔
- ١...... قرآن وحدیث کی رو سے۔
- ٢...... عقل کی رو سے۔
- ٣...... سماوی تائیدات اور خوارق اور کرامات کی رو سے۔
کیونکہ خدا نے اپنے کلام میں مامورین کے پرکھنے کے لیے یہی تین طریق بیان
٣٣٢
فرماتے ہیں۔ پس اگر میں ان تینوں طوروں سے ان کی تسلی نہ کر سکا۔ یا اگر ان تینوں سے صرف ایک یا دو طور سے تسلی کی۔ تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں کاذب ٹھہروں گا۔ لیکن اگر میں نے ایسی تسلی کر دی۔ جس سے وہ ایمان اور حلف کی رو سے انکار نہ کر سکیں۔ ان پر وزن ثبوت میں ان دلائل کی نظیر پیش نہ کر سکیں۔ تو لازم ہوگا کہ تمام مخالف مولوی اور ان کے نادان پیرو خدا تعالیٰ سے ڈریں۔ اور کروڑوں انسانوں کے گناہوں کا بلاوجہ اپنی گردن پر نہ لیں۔‘‘
کیا مرزا جی نے اس تحریر میں فریق مخالف کو خطاب نہیں کیا۔ یا ان سے مجلس میں دلائل طلب نہیں کیے کیا ان کو بحث کے لیے نہیں بلایا گیا قادیاں میں ١٩٠٠ء، ١٨٩٦ء سے پہلے ہونے کی وجہ سے یہ تحریر منسوخ ہے؟ یا نہیں۔ تو پھر میں نے کیا بھس ملایا تھا۔ کہ مجھ کو مناظرہ تو کیا؟ زیارت سے بھی محروم رکھا۔ ہائے
ہمیشہ گھات میں رہتا ہے آسمان صیاد
ہاں یاد آیا کہ یہ تحریر ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کی بھی تو اس قابل نہیں کہ اس کو پیش کیا جائے۔ کیونکہ مرزا جی نے اس کو عملی طور پر منسوخ کر کے ردی کے صندوق میں ڈال دیا ہے۔ اس لیے تو ندوۃ العلماء کے جلسہ منعقدہ امرتسر کے موقع پر ١٨؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو مرزا جی کے نام ٤٣ علماء نے مشترکہ نوٹس دیا۔ تو حضور نے بغیر رسید ڈاک خانہ کے اُف تک نہیں کی۔ (الہامات مرزا)
باب ٥٢ پنجاہ و دوم
ملا محمد بخش اور ابوالحسن تبتی کے خلاف بددعا
حسو درا چہ کنم کوز خود برنج درست
آج حضرت مرزا صاحب دربار برخاست کر کے صبح کی سیر سے فراغت پا کر بیت الفکر میں تنہا بیٹھے ڈاک کا جو آج ہی آئی ہے۔ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ منی آرڈر اور روپیوں کا مقابلہ اور پڑتال اور میزان اور ٹوٹل ملا کر رکھ دیئے ہیں۔ خطوط کے ملاحظہ سے بھی فرصت پالی۔ ایک اشتہار کا ملاحظہ بڑے غور کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کے مضمون سے چہرہ پر تغیر محسوس ہوتا ہے۔ اشتہار کو پڑھ کر رکھ دیا۔ افسوس یہ سب فتنہ انگیزی اور کارستانی شیخ بٹالوی کی ہے اور اسی کے ایماء اور
٣٣٣
اشتعال سے یہ اشتہار چھاپا گیا ہے اور اس کو آتش حسد نے ایسا جلایا ہے کہ خدا کی پناہ۔ میں نے کوئی تدبیر اٹھا نہیں رکھی کہ اس کے بغض وحسد کو فرو کیا جائے مگر بمصداق جبل گردد جبلت نہ گردد۔ ضد اس کی خمیر میں گھٹی کے ساتھ مخمر ہوگئی ہے نہ دھمکانے اور ڈرانے کا اثر ۔ نہ طمع کا۔ پھر کیا کیا جائے۔ ملا محمد بخش اور ابوالحسن بھٹی اور ساتھ لگ گئے ہیں۔
ایک عرصہ انہی خیالات اور ردو بدل کے بعد قلم دوات اور کاغذ اٹھایا اور ایک اشتہار لکھنا شروع کیا۔
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلی علی رسوله الكريم ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين
آمین ! ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں
اور مبارک وہ کہ خدا کے فیصلہ کو عزت کی نظر سے دیکھیں۔ جن لوگوں نے شیخ محمد حسین بٹالوی کے چند سال کے پرچہ اشاعۃ السنہ دیکھے ہوں گے۔ وہ چاہیں تو للہ گواہی دے سکتے ہیں۔ کہ شیخ صاحب موصوف نے اس راقم کی تحقیر اور دشنام دہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ان کا اشاعۃ السنہ کف لسان اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے طریق کا مؤید تھا اور کفر کی ننانوے وجوہ کو ایک ایمان کی وجہ پائے جانے سے کالعدم قرار دیتا تھا۔ اور آج وہی پرچہ ہے کہ جو ایسے شخص کو کافر اور دجال قرار دے رہا ہے۔ جو کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول الله کا قائل اور آنحضرت کو خاتم الانبیاء سمجھتا اور تمام ارکان اسلام پر ایمان لاتا ہے اور اہل قبلہ میں سے ہے اور ان کلمات کو سن کر شیخ صاحب اور ان کے ہم زبان یہ جواب دیتے ہیں کہ تم لوگ اصل میں کافر اور منکر اسلام اور دہریہ ہو۔ صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنا اسلام ظاہر کرتے ہو۔ گویا شیخ صاحب اور ان کے دوستوں نے ہمارے سینہ کو چاک کر کے دیکھ لیا ہے کہ ہمارے اندر کفر بھرا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تائید میں اپنے نشان بھی دکھلائے۔ مگر وہ نشان بھی حقارت اور بے عزتی کی نظر سے دیکھے گئے اور کچھ بھی ان نشانوں سے شیخ محمد حسین اور اس کے ہم مشرب لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ بلکہ سختی اور بدزبانی روز بروز بڑھتی گئی۔ چنانچہ ان دنوں میں میرے بعض دوستوں نے کمال نرمی اور تہذیب سے شیخ صاحب موصوف سے یہ درخواست کی تھی۔ کہ مسلمانوں میں آپ کے فتویٰ کفر کی وجہ سے روز بروز تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اور اب اس بات سے نہ امیدی کلی ہے کہ آپ مباحثات و مناظرات سے کسی بات کو مان لیں اور نہ ہم آپ کی بے ثبوت باتوں کو مان سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ مباہلہ کر کے تصفیہ کرلیں کیونکہ جب کسی طرح
٣٣٤
جھگڑے کا فیصلہ نہ ہو سکے۔ تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے۔ جس کو مباہلہ کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اثر مباہلہ کے لیے اس طرف سے ایک سال کی شرط ہے اور یہ شرط الہام کی بنا پر ہے لیکن تاہم آپ کو اختیار ہے کہ اپنے مباہلہ کا اثر تین دن یا ایک دن ہی رہنے دیں۔ کیونکہ مباہلہ دونوں طرف کی لعنت اور بددعا کا نام ہے۔ آپ اپنی بددعاء کے اثر کی مدت قرار دینے میں اختیار رکھتے ہیں۔ ہماری بددعاء کے اثر کا وقت ٹھہرانا آپ کا اختیار نہیں ہے۔ یہ کام ہمارا ہے کہ ہم وقت ٹھہرا دیں۔ اس لیے آپ کو ضد نہیں کرنی چاہیے۔ آپ اشاعت السنہ نمبر ١١ جلد ٧ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ شخص ملہم کو جہاں تک شریعت کی سخت مخالفت پیدا نہ ہو۔ اپنے الہام کی متابعت ضروری ہے۔ لہٰذا ایک سال کی شرط جو الہام کی بنا پر ہے اس وجہ سے رد نہیں ہو سکتی۔ کہ حدیث میں ایک سال کی شرط بصراحت موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اول تو حدیث مباہلہ میں سال کا لفظ موجود ہے اور اس سے انکار دیانت کے برخلاف ہے۔ پھر اگر فرض کے طور پر حدیث میں سال کا لفظ موجود بھی نہ ہوتا۔ تو چونکہ حدیث میں ایسا لفظ ہی موجود نہیں۔ جو سال کی شرط کو حرام اور ممنوع ٹھہراتا ہو۔ اس لیے آپ ہی حرام اور ناجائز قرار دے دینا دیانت سے بعید ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کی عادت فوری عذاب تھا۔ تو قرآن شریف میں یا تعلیم رسول اللہ میں اس کی تصریح ہونی چاہیے تھی۔ لیکن تصریح تو کیا بلکہ اس کے برخلاف عمل درآمد پایا گیا ہے دیکھو مکہ والوں کے عذاب کے لیے ایک سال کا وعدہ دیا گیا تھا یونس کی قوم کے عذاب کے لیے چالیس دن مقرر ہوئے۔
کتابوں میں بعض عذابوں کی پیشگوئی صد ہا برس کے وعدوں پر کی گئی۔ پھر خواہ نخواہ کچی اور بے ہودہ بیانی کر کے اور سراسر بددیانتی کو شیوہ ٹھہرا کر فیصلہ سے گریز کرنا۔ ان علماء کا کام نہیں ہو سکتا۔ جو دیانت اور امانت اور پرہیزگاری کا دم بھرتے ہیں۔ اگر ایک شخص درحقیقت مفتری اور جھوٹا ہے۔ تو خواہ مباہلہ ایک سال کی شرط پر ہو۔ اس سال کی شرط میں افترا کرنے والے کبھی فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ غرض نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس درخواست مباہلہ کو جو نہایت نیک نیتی سے کی گئی ہے۔ شیخ محمد حسین نے قبول نہیں کیا۔ اور یہ عذر کیا کہ تین دن کی مہلت اثر مباہلہ ہم قبول کر سکتے ہیں زیادہ نہیں۔ حالانکہ حدیث شریف میں سال کا لفظ تو ہے۔ مگر تین دن کا نام ونشان نہیں۔
اور اگر فرض بھی کر لیں۔ حدیث میں جیسا کہ تین دن کی تحدید نہیں ایسا ہی ایک سال کی بھی نہیں تاہم ایک شخص جو الہام کا دعویٰ کر کے ایک سال کی شرط پیش کرتا ہے۔ علماء امت کا حق ہے کہ ان پر حجت پوری کرنے کے لیے ایک سال ہی منظور کرلیں۔ اس میں تو حمایت شریعت
٣٣٥
ہے ۔ تا مدعی کو آئندہ کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ خدا لکھ چکا ہے۔ میں اور میرے نبی اور میرے پر ایمان لانے والے غالب رہیں گے۔ سو شیخ محمد حسین نے باوجود بانی تکفیر ہونے کے اس راہ راست پر قدم مارنا نہیں چاہا۔ اور بجائے اس کے فوراً مباہلہ کے میدان میں آنا یہ طریق اختیار کیا کہ ایک گندہ اور گالیوں سے بھرا ہوا اشتہار لکھ کر محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کے نام سے چھپوایا۔ اس وقت وہ اشتہار میرے سامنے رکھا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے۔ اور وہ دعاء جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ:
”میرے ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠؍نومبر ١٨٩٨ء کو چھپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں۔ تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے پندرہ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کی جھگڑے کو فیصلہ فرما۔
لیکن اگر اے میرے آقا، میرے مولا، میرے منعم میری ان نعمتوں کو دینے والے جو تو جانتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے۔ تو میں عاجزی سے یہی دعا کرتا ہوں۔ کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کی جائے گی۔ شیخ محمد حسین جعفر زٹلی اور تبتی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لیے یہ اشتہار لکھا ہے۔ ذلت کی مار سے دنیا میں رسواء کر۔ غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیزگار ہیں اور میں کذاب اور مفتری ہوں۔ تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لیے یہ نشان ظاہر فرما۔ کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا کر اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین!
یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دونوں فریقوں میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے۔ یعنی یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن تبتی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بنا پر ہے اس لیے حق کے طالبوں کے لیے ایک کھلم کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔
٣٣٦
اب ہم ذیل میں شیخ محمد حسین کا شائع کیا گیا ہے۔ تا خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے عبرت اور نصیحت پکڑ سکیں اور عربی الہامات لیے بدزبانی کر رہے ہیں۔ اور منصوبے با ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے تیرہ مہینے ہیں۔ جیسا وہ توبہ اور رجوع کے لیے مہلت ہے۔ فقط
نقل اشتہار مولانا ابوالحسن تبتی
سچے اور قطعی دجال قادیانی دجال قادیانی کو ڈگلس صاحب لے لیا۔ کہ آئندہ دِل آزار الفاظ مفصل بیان ہوا ہے اور اس وجہ سے اس کو بند کرنا پڑا۔ اور آسمانی گولے چلانا یا یوں آزاری کے سوا اس کا کام بند ہونے لگا۔ تیں ذریعہ شروع کر دیا۔ تب اشتہاروں کے ذریعے سے لوگوں کی دل الہ نمبر ٣ ج ١٩ص ٧٧) وغیرہ میں ہوا ہے۔ تاسیس لاہور و لدھیانہ و پٹیالہ و شملہ کے اشتہار جاری کیے ہیں کہ وہ بمقام ہند ظاہر ہونے کی صورت میں آٹھ سو پچیس ر گے انعام لیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں کا ارمان نکال لیا۔ اور قادیانی کی نیابت کرتا ہوں کہ باوجود یکہ مولانا مولوی صا جلد ١٨ کے صفحہ ٨٦) اور دیگر مقامات میں اس سے گریز انکار اسی قادیانی بدکردار کی
اب ہم ذیل میں شیخ محمد حسین کا وہ اشتہار لکھتے ہیں جو جعفر زٹلی اور ابوالحسن کے نام پر شائع کیا گیا ہے۔ تاخدا تعالیٰ کے فیصلہ کے وقت دونوں اشتہارات کے پڑھتے ہی حق کے طالب عبرت اور نصیحت پکڑ سکیں اور عربی الہامات کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ جولوگ سچے کی ذلت کے لیے بدزبانی کر رہے ہیں۔ اور منصوبے باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل کرے گا۔ اور میعاد ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے تیرہ مہینے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور ١٤؍دسمبر ١٨٩٨ء تک جو دن ہیں۔ وہ توبہ اور رجوع کے لیے مہلت ہے۔ فقط
خاکسار مرزا غلام احمد قادیاں
(٢١؍ نومبر ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٦٢٧ تا ٦٢٤)
نقل اشتہار مولانا ابوالحسن تبتی
دجال قادیانی کے اشتہار مباہلہ کا جواب
دجال قادیانی کو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے دبایا۔ اور اس نے عہد لے لیا۔ کہ آئندہ دل آزار الفاظ سے زبان کو بند رکھے۔ چنانچہ (اشاعۃ السنہ نمبر ٩ ج ١٨ ص ٢٥٩) میں مفصل بیان ہوا ہے اور اس وجہ سے اس کو مجبوراً الہام کے ذریعے لوگوں کی دل آزاری سے زبان کو بند کرنا پڑا۔ اور آسمانی گولے چلانا یا یوں کہو گوز چھوڑنا ترک کرنا ضروری ہوا۔ اور پھر الہامی دل آزاری کے سوا اس کا کام بند ہونے لگا۔ اور اس کی دکانداری میں نقصان واقع ہوا۔ تو یہ کام اپنے تلامیذ کے ذریعہ شروع کر دیا۔ تب سے وہ کام اس کے نام سے کر رہے ہیں اور اخباروں اور اشتہاروں کے ذریعے نئے لوگوں کی دل آزاری میں مصروف ہیں۔ ازانجملہ بعض کا ذکر (اشاعۃ السنہ نمبر ٣ ج ١٩ ص ٧٧) وغیرہ میں ہوا ہے۔ وازانجملہ بعض کا ذکر ذیل میں ہوتا ہے۔ کہ اس کی چند تلامیذ ساکن لاہور و لدھیانہ و پٹیالہ و شملہ نے مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب کے نام اس مضمون کے اشتہار جاری کیے ہیں کہ وہ بمقام بٹالہ قادیانی کے ساتھ مباہلہ کریں۔ اور اس مباہلہ کا اثر نہ ظاہر ہونے کی صورت میں آٹھ سو پچیس روپیہ جس کو وہ چاروں مواضع سے جمع کر کے پیش کریں گے انعام لیں۔ اس کے ساتھ ان لوگوں نے دل کو کھول کر دل آزاری اور بدگوئیوں سے اپنے دل کا ارمان نکال لیا۔ اور قادیانی کی نیابت کو پورا کر دکھایا۔ میں ان لوگوں کی جرأت اور حیاء پر تعجب کرتا ہوں کہ باوجودیکہ مولانا مولوی صاحب (اشاعۃ السنہ نمبر ٨، ١٣ ج ١٥ ص ١٣٦ و ١٨٨ و ٢١٢ اور نمبر ٣ جلد ١٨ کے صفحہ ٨٦) اور دیگر مقامات میں قادیانی سے مباہلہ کے لیے مستعدی ظاہر کر چکے ہیں۔ اور اس سے گریز انکار اسی قادیانی بدکردار کی طرف سے ہوا ہے۔ نہ مولانا صاحب موصوف کی طرف
٣٤٧
سے یہ لوگ کس منہ سے مولانا مولوی صاحب کو مباحثہ کے لیے بلاتے ہیں۔ اور شرم و حیاء سے کچھ کام نہیں لیتے۔ اسی وجہ سے مولوی صاحب ان مجاہیل کی فضول لاف و گزاف کی طرف توجہ نہیں کرتے اور ان لوگوں کو مخاطب بنانا نہیں چاہتے۔ البتہ ان کے مرشد دجال اکبر کذاب العصر سے مباہلہ کرنے کے لیے ہر وقت بغیر کسی شرط کے مستعد و تیار ہیں۔ اگر قادیانی اپنی طرف سے دعوت مباہلہ کا اشتہار دے یا کم سے کم یہ مشتہر کردے کہ اس کے مریدوں نے جو اشتہار دیئے ہیں۔ وہ اسی کی رضامندی اور ترغیب سے دیئے ہیں۔ ان میں مولوی صاحب اپنی طرف سے کوئی شرط نہیں کرتے صرف قادیانی کی شرط و میعاد ایک سال کو اڑا کر یہ چاہتے ہیں کہ اثر مباہلہ اس مجلس میں ظاہر ہو یا زیادہ سے زیادہ تین روز عبداللہ کے مباہلہ و قسم کے لیے اس نے تسلیم کیے ہیں اور قبل از اثر مباہلہ قادیانی اس اثر کے تعین ہی کو دے کہ وہ کیا ہوگا۔ اس کی وجہ و دلیل تفصیل و حوالہ حدیث و تفسیر (اشعۃ اللمعات نمبر ٨ ج ٥ ص ١٧١ وغیرہ اور نمبر ٣ ج ٨ ص ١٨٦) میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ میعاد ایک سال کے خلاف سنت ہے اور اس میں قادیانی کی حیلہ سازی و فریب بازی کی بڑی گنجائش ہے اور ضرورت نہ ہونے اثر مباہلہ کے کچھ نقد انعام لینا نہیں چاہتے۔ صرف یہی سزا تجویز فرماتے ہیں۔ قادیانی نے عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے خود تجویز کی ہے کہ اس کا منہ کالا کیا جائے اس کو ذلیل کیا جائے۔ (دیکھو جنگ مقدس میں آخری پرچہ کا صفحہ اخیر)
پس ہم کو یہ شرط منظور ہے۔ لیکن اس روسیاہی کے بعد اس کو گدھے پر سوار کر کے کوچہ بکوچہ ان چاروں شہروں میں پھرایا جائے اور بجائے دینے جرمانہ یا انعام آٹھ سو پچیس روپیہ کے صرف آٹھ سو پچیس جوتے ...... حضرت اقدس (اکذب) کے سر مبارک پر رسید ہوں۔ جن کو چاروں مواضع کے مرید ...... آپ کی نذر کریں۔ اور کفش کاری اور پاپوش باری کے بعد پھر گدھے کی سواری پر آپ کا جلوس نکلے۔ اور آگے آگے آپ کے مخلص مرید بطور مرثیہ خوانی یہ مصرع پڑھتے جائیں۔
اور یہ شعر صائب کا:
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
اور یہ رباعی
باز میگوئی کہ دجالست نہ خوانند اے حمار
٣٣٨
رو سیہ گشتی میاں
اور یہ بیت اردو
یہ کھاتا جوتیاں سر پر
باب ٥٣
مرزا قادیانی گور
رگوں میں دوڑنے جو آنکھ ہی آج پھر گورداسپور کے ضلع کی کچھ امام زماں مجدد دوراں مہدی موعود اور مسیح ذو الاقتدار اور رفقاء والا تبار اور صحابہ باوقار اپنے میں پھر رہے ہیں۔
کچھ گفتگو ہو رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ طور پر تقریر دلپذیر سننے کے واسطے حلقہ کیے کھڑے
- پہلا ...... (سامعین) یہاں کوئی عیسائی تو ن
صلواتیں سنائی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی عیسائی آ ج جائز ہیں؟
- دوسرا ...... یہ اس چودھویں صدی کے مسیح ع
- تیسرا ...... بھائی! رقابت جو ہوئی ان (مسیح)
(مرزا صاحب) کی فضیلت ان پر کیونکر ہو سکتی ہ میں کیسے جم سکتا ہے۔
- چوتھا ...... یہ پرانے خیالات (عیسیٰ ابن مریم ک
کو مباحثہ کے لیے بلاتے ہیں۔ اور شرم و حیا سے کچھ ان مجاہل کی فضول لاف و گزاف کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ البتہ ان کے مرشد دجال اکبر کذاب العصر سے کے مستعد و تیار ہیں۔ اگر قادیانی اپنی طرف سے دعوت دے کہ اس کے مریدوں نے جو اشتہار دیئے ہیں۔ وہ ان میں مولوی صاحب اپنی طرف سے کوئی شرط نہیں سال کو اڑا کر یہ چاہتے ہیں کہ اثر مباہلہ اس مجلس میں کہ مباہلہ و قسم کے لیے اس نے تسلیم کیے ہیں اور قبل از ں وہ کیا ہوگا۔ اس کی وجہ و دلیل تفصیل و حوالہ حدیث و ر ج ١٨ ص ١٨٦) میں یہ بیان کرچکے ہیں کہ یہ میعاد دیانی کی حیلہ سازی وفریب بازی کی بڑی گنجائش ہے انعام لینا نہیں چاہتے۔ صرف یہی سزا تجویز فرماتے کوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے خود تجویز کیا جائے۔ (دیکھو جنگ مقدس میں آخری پرچہ کا صفحہ اخیر ) اس کے بعد اس کو گدھے پر سوار کر کے کوچہ بکوچہ ان دینے جرمانہ یا انعام آٹھ سو پچیس روپیہ کے صرف آٹھ ) کے سر مبارک پر رسید ہوں۔ جن کو چاروں مواضع اری اور پاپوش باری کے بعد پھر گدھے کی سواری پر میں مرید بطور مرثیہ خوانی یہ مصرع پڑھتے جائیں۔ عاقل کہ باز آرد پشیمانی
بہ تصدیق خرے چند
امت نہ خوانند اے حمار
٣٣٨
روسیاہ گشتی میاں مردم قرب و جوار
اور یہ بیت اردو
یہ کھاتا جوتیاں سر پر میرا دیوانہ آتا ہے
راقم: ابوالحسن متقی حال وارد کوہ شملہ
(٣١ اکتوبر ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٢ تا ٦٤)
باب ٥٣ پنجاہ وسوم
مرزا قادیانی گورداسپور عدالت میں
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے
آج پھر گورداسپور کے ضلع کی کچہری کے احاطہ میں ہمارے ناول کے ہیرو حضرت امام زماں مجدد دوراں مہدی مسعود اور مسیح موعود مرزا صاحب رونق افروز ہیں۔ اور حواریان ذوالاقتدار اور رفقاء والا تبار اور صحابہ باوقار اپنے اپنے پایہ اور قرینہ پر متمکن کچھ ادھر ادھر انصرام کام میں پھر رہے ہیں۔
کچھ گفتگو ہورہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ اور غیر بھی تماشائیوں کے طور پر تقریر دلپذیر سننے کے واسطے حلقہ کیے کھڑے ہیں۔
- پہلا...... (سامعین) یہاں کوئی عیسائی تو نظر نہیں آتا۔ پھر کیوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
صلواتیں سنائی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی عیسائی بھی ہوتا تو کیا ایک اولوالعزم نبی کی شان میں یہ الفاظ جائز ہیں؟
- دوسرا...... یہ اس چودھویں صدی کے مسیح جو ٹھہرے اور کیا ذکر کریں۔
- تیسرا...... بھائی! رقابت جو ہوئی ان (مسیح ابن مریم) کی وفات اور نفی معجزات نہ ہو۔ تو ان
(مرزا صاحب) کی فضیلت ان پر کیونکر ہوسکتی ہے اور ان کا اعتقاد اور محبت کا سکہ لوگوں کے دلوں میں کیسے جم سکتا ہے۔
- چوتھا...... یہ پرانے خیالات ( عیسیٰ ابن مریم کی حیات الی السماء معہ جسدہ العنصری پھر نزول)
٣٣٩
دلوں سے نہ نکلیں ۔ ان (مرزا صاحب) کو کوئی مسیح موعود نہیں مان سکتا ۔ اس واسطے یہ لازم ہوا کہ ہر ایک وعظ اور تقریر اسی بارہ میں ہو۔
مسیح زماں ...... ”عیسائی کہتے ہیں کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ سو ہم اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے بارے میں بہت کچھ ثبوت رسالہ انوار الاسلام اور ضیاء الحق اور رسالہ انجام آتھم میں دے چکے ہیں اور اب بھی ہم بیان کر چکے ہیں ۔ کہ اس پیشگوئی کی بنیاد نہ آج سے بلکہ پندرہ برس پہلے سے ڈالی گئی تھی ۔ جس کا مفصل ذکر براہین احمدیہ میں بہ صفحہ ٢٤١ موجود ہے۔ سو ایسے انتظام کے ساتھ پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔
یسوع کی تمام پیشگوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے۔ اگر ایک پیشگوئی بھی اس پیشگوئی کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے ۔ تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں ۔
اس درماندہ انسان کی پیشگوئیاں کیا تھیں صرف یہی کہ زلزلہ آئیں گے قحط پڑیں گے، لڑائیاں ہوں گی ۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں۔ اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے ۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے ۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا ؟
پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی چیزوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا۔ تو یسوع صاحب فرماتے ہیں ۔ کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا ۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی ۔ اب کوئی حرام کار بدکار بنے۔ تو اس سے معجزہ مانگے یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ لوگوں میں یہ مشہور کیا ۔ کہ میں ایک ایسا ورد بتلا سکتا ہوں ۔ جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نظر آجائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو۔ اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک وظیفہ پڑھنے والے کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب! نظر آ گیا یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں ۔ اپنا پیچھا چھوڑانے کے لیے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت و شجاعت آزمانے کے لیے سوال کیا ۔ کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ آپ کو یہ سوال سنتے ہی جان کی فکر پڑ گئی ۔ کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں ۔ سو جب معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا۔ اس جگہ بھی وہ ہی کارروائی کی ۔ کہ قیصر کا قیصر کو دو۔ اور خدا کا خدا کو دو۔ حالانکہ حضرت کا یہ عقیدہ تھا کہ یہودیوں کے
٣٤٠
لیے یہودی بادشاہ چاہیے نہ کہ مجوسی ۔ اسی بہا نے یاوری نہ کی۔
متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے عادت تھی ۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آجاتا تھا میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسو ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔
یہ بھی یادرہے کہ آپ کو کس قدر اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر ک پکڑی گئی۔ عیسائی بہت شرمندہ ہوئے۔
آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ ۔ قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ ن آپ کو محض سادہ لوح کہا۔ بہر حال آپ علمی مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔
ایک فاضل پادری صاحب فرم الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کو ایک مرتبہ ہوگئے تھے۔
آپ کی انہیں حرکات سے آپ ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرو شفاخانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو۔ شفا
لیے یہودی بادشاہ چاہیے نہ کہ مجوسی۔ اسی بنا پر ہتھیار بھی خریدے ۔ شہزادہ بھی کہلائے ۔ مگر تقدیر نے یاوری نہ کی۔
متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے۔ اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔
یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں۔ جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں۔ اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے چوری پکڑی گئی۔ عیسائی بہت شرمندہ ہوئے۔
آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کی ہوگی۔ کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی۔ اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہی ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا۔ اور یا اس استاد کی یہ شرارت تھی کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔
ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کو ایک مرتبہ اپنے الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لیے بھی تیار ہو گئے تھے۔
آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے۔ اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔ اور وہ ہمیشہ چاہتے رہتے تھے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو۔ شاید خدا تعالیٰ نے شفا بخشی۔ عیسائیوں نے بہت سے
٣٤١
احتساب
معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اس روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔ اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا یہ بالکل جھوٹ ۔ کیونکہ آج کل کے زہر کے ذریعے سے یورپ میں بہت خودکشی ہو رہی ہے۔ ہزارہا مرتے ہیں ایک پادری کو کیسا ہی موٹا ہو۔ تین رتی اسٹرکینا کھانے سے دو گھنٹہ تک بآسانی مرسکتا ہے پھر یہ معجزہ کہاں گیا۔ ایسا ہی آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیرو پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اٹھ اور وہ اٹھ جائے۔ یہ کس قدر جھوٹ ہے۔ بھلا ایک پادری صرف بات سے ایک الٹی جوتی کو سیدھا کرکے دکھلائے۔
ممکن ہے کہ آپ نے کسی تدبیر سے کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اسی تالاب کی مٹی ہی آپ استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے۔ اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے۔ کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو۔ تو وہ معجزہ آپ کا نہیں۔ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس ہے کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں اور دادیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر یہ بھی خدا کے لیے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا۔ کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔ کہ ایسا انسان کس چلن کا انسان ہو سکتا ہے۔ آپ وہی حضرت ہیں کہ جنہوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ابھی تمام لوگ زندہ ہوں گے۔ کہ میں پھر واپس آجاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں اس کے بعد بھی انیس صدیوں میں مرچکیں مگر اب تک تشریف نہیں لائے۔ خود تو وفات پاچکے۔ مگر اس جھوٹی پیشگوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔ سو عیسائیوں کی یہ حماقت ہے کہ ایسی پیشگوئیوں پر ایمان لائیں۔ مگر آتھم کی پیشگوئی کی نسبت جو صاف اور صریح طور پر پوری ہوئی۔ اب تک انہیں شک ہو۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨،٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٢)
٣٣٢
محکمہ نشر و اشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
اردلی ...... مرزا غلام احمد قادیانی دعویٰ محمد مرزا صاحب ..... حاضر! سب کچہری کے اِن صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ..... بہتر ہے کہ تم اِس مرزا صاحب ..... بہت بہتر جیسا حکم۔ مولوی صاحب ...... مجھ کو کوئی عذر نہیں ہے البتہ میں شائع کرچکا ہوں کہ اب میں مرزا کو صاحب بہادر ...... یہ بہت اچھی بات ہے ک مسودہ مشتمل چھ شرائط تیار کیا ہے جس کو مرزا منظور کرلیا ہے۔ ان اقرار نامجات کی نقل لہٰذا ہم مرزا قادیانی کو رہا کرتے ہیں۔ دستخط نمبر قادیاں نمبر مقدمہ ٣ / نقل مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری اجلاس
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحض
- ١....... میں ایسی پیشگوئی شائع کرنے
خیال کیے جائیں کہ کسی شخص کو یعنی مسلماں یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٢....... میں خدا کے پاس ایسی اپیل (
کہ وہ کسی شخص کو (مسلمان ہو خواہ ہندو یا ع سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی سے یہ ظاہر کرے
- ٣....... میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع
کے رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو۔ کہ فلاں
مسئلہ ختم نبوت اور بزرگان دین
یں ہوا۔ اور اس دن سے کہ زام کی اولاد ٹھہرایا۔ اس روز کار اور حرام کی اولاد نہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ۔ کیونکہ آج رار ہا مرتے ہیں ایک پادری سکتا ہے پھر یہ معجزہ کہاں گیا۔ خدا درد اٹھ جائے گا۔ یہ کس رحا کر کے دکھلائے۔ اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور ایسی ب بھی موجود تھا۔ جس سے مٹی ہی آپ استعمال کرتے ق ہے۔ اور اسی تالاب نے کا نہیں۔ بلکہ اس تالاب کا ا۔ پھر افسوس ہے کہ نالائق ور مظہر ہے۔ تین نالیاں اور جو ظہور پذیر ہوا۔ مگر یہ بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی موقعہ نہیں دے سکتا۔ کہ وہ اس کے سر پر ملے اور اپنے چلن کا انسان ہو سکتا ہے۔ زندہ ہوں گے۔ کہ میں پھر بعد بھی انیس صدیوں میں ئی پیشگوئی کا کلنک اب تک لوگوں پر ایمان لائیں۔ مگر انہیں شک ہو۔
(شجرہ ابن ج ١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٢)
اردلی ...... مرزا غلام احمد قادیانی و مولوی محمد حسین وغیرہ ۔ مرزا صاحب ...... حاضر ! سب کچہری کے اندر داخل ہوئے ۔ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ...... بہتر ہے کہ تم ایک اقرار نامہ لکھ دو ۔ مرزا صاحب ...... بہت بہتر جیسا حکم ۔ مولوی صاحب ...... مجھ کو کوئی عذر نہیں ہے۔ اس اقرار نامہ پر دستخط کردوں گا۔ میں پہلے سے اشاعۃ السنہ میں شائع کرچکا ہوں کہ اب میں مرزا کو اپنا مخاطب بنانا پسند نہیں کرتا ۔ صاحب بہادر ...... یہ بہت اچھی بات ہے کہ روز روز کا جھگڑا طے ہو ۔ حکم ! ہم نے اقرار نامہ جات کا مسودہ مشتمل چھ شرائط تیار کیا ہے جس کو مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے منظور کرلیا ہے۔ ان اقرار نامجات کی نظر سے یہ مناسب ہے کہ کارروائی حال مسدود کی جائے۔ لہٰذا ہم مرزا قادیانی کو رہا کرتے ہیں ۔
دستخط جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء نمبر قادیاں نمبر مقدمہ ٣ / نقل اقرار نامہ مرجوعہ فیصلہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری اجلاس ٥ جنوری ١٨٩٩ء ٢٥ فروری ١٨٩٩ء مسٹر جی ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ یہ اقرار صالح کرتا ہوں کہ آئندہ:
- ...... ١ میں ایسی پیشگوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی
خیال کیے جائیں کہ کسی شخص کو یعنی مسلمان ہو۔ خواہ ہندو ہو یا عیسائی ہو وغیرہ ۔ ذلت پہنچے گی۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا ۔
- ...... ٢ میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا۔
کہ وہ کسی شخص کو (مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی سے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا ہے۔ اور کون جھوٹا ہے؟
- ...... ٣ میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا جس کا یہ منشاء ہو یا ایسا منشاء
کے رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو۔ کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلت
٣٤٣
اٹھائے گا۔ یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٤....... میں اس امر سے بھی باز رہوں گا۔ کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو
کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں۔ یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست یا پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال کافر کاذب بٹالوی نہیں لکھوں گا۔ (یعنی بٹالوی کے ہجے ٹ سے کیے جانے چاہئیں۔ جب یہ لفظ بطالوی کر کے لکھا جاتا ہے تو اس کا اطلاق باطل پر ہوتا ہے) میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا۔ جن سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
- ٥....... میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا۔ کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے دوست یا
پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لیے بلاؤں کہ وہی خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔ تاکہ وہ ظاہر کریں کہ میدان مباحثہ میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ نہ میں ان کو ان کے دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیشگوئی کرنے کے لیے بلاؤں گا۔
- ٦....... جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار
ہے۔ ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے رقعہ نمبر ٢١ و ٢٣ و ٢٥ میں اقرار کیا ہے۔
العبد شاہد شد
مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی
اسی مضمون کے اقرار نامہ پر مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بھی دستخط فقط یہ فرق بجائے (قادیانی) قادیانی کو چھوٹے کاف سے کادیاں نہ لکھیں۔
باب ٥٤ پنجاہ و چہارم
ترکی پھندنی دار لال ٹوپی
ایک پرانا پکی عمارت کا مکان ہے۔ جس کا بڑا وسیع اور فراخ صحن ہے۔ جس میں آم اور بیری وغیرہ کے چند درخت کھڑے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بانی مکان نے تعمیر مکان کے وقت صحن میں مختصر سا پھل دار باغ بھی لگایا ہوا ہے۔ جس کی اب زمانہ کی گردش و تغیر و تبدل قبضہ و ملک کے سبب اب وہ صورت نہیں رہی۔ ڈیوڑھی کی بغل میں ایک چھوٹا سا کوٹھا ہے۔ جس کا
٣٤٤
ایک دروازہ ڈیوڑھی کے اندر ہے۔ اور ایک دروازہ یعنی کوچہ کی سڑک کی طرف ہیں۔ ان میں بوسیدہ اور ٹو عیاں ہے کہ یہ مردانہ نشست کا مکان ہے۔ اندر گا عیب چھپانے کو سرخ کاغذ کی چھتگیری جس کے ب صفائی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ ایک طرف دیوار میں ہوئے اور شیشہ کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے۔ جن م طرح چمکتی ہیں۔ دروازہ پر ایک انگلش نیٹ کا خوشنما پر پردہ پوشی کرتا ہے۔ دہلیز کے دروازہ کے دونوں گوشو کانچ کے لمپ اور کچھ چینی کے گلدان مگر سب مجرو ہے۔ دوسری میز پر ایک بڑا آئینہ اور کچھ چینی کے ضرو رنگ کی بوتلیں ہیں۔ جن میں سرخ و سبز رنگ کا پ چوکھٹ و آئینہ میں جڑے ہوئے لٹک رہے ہیں۔ ی مہدی وقت مجدد جہاں جناب حضرت مرزا صاحب اس خستہ اور شکستہ مکان کو اپنے مذاق کے موافق آرا حالی اور زندہ دلی پر بزبان حال گواہی دے کر کہہ رہا
دس بارہ آدمی خشخاشی ڈاڑھی بڑھے ہوئے نصرانی قطع کا در بر ڈھیلی پتلون یہودیوں کی وضع ک ان میں کئی تو ایسے ہیں مگر ڈاڑھی کے مقصر کراتے ہی مغائرت رکھے ان میں شامل ہیں۔ باقی سب صا گپیں اڑا رہے ہیں۔ ایک صاحب دہلیز کی جانب
شخص ...... السلام علیکم ! مزاج شریف۔
حاضرین جلسہ ...... وعلیکم السلام ۔ کوتوال صاحب (
کوتوال صاحب ...... الحمد للہ علیٰ کل حال۔ اگر آپ
حاضر ہوں۔
حاضرین ...... آئیے تشریف لائیے یہ آپ کے فر
٢٥
ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو آزار لفظ استعمال کروں ۔ یا کوئی ایسی تحریرا کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کاذب بٹالوی نہیں لکھوں گا۔ (یعنی بٹالوی وی کر کے لکھا جاتا ہے تو اس کا اطلاق باطل ذاتی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں
مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے دوست یا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔ تا کہ وہ تا ہے؟ نہ میں ان کو ان کے دوست یا پیرو کو گا۔ ں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار عمل کریں۔ جس طریق پر کار بند ہونے کا
مال الدین ای ای ایل ایل ڈی حسین صاحب بھی دستخط فقط یہ فرق بجائے
چہارم
ال ٹوپی
بڑا وسیع اور فراخ صحن ہے۔ جس میں آم علوم ہوتا ہے کہ بانی مکان نے تعمیر مکان ۔ جس کی اب زمانہ کی گردش و تغیر و تبدل کی بغل میں ایک چھوٹا سا کوٹھا ہے۔ جس کا
ایک دروازہ ڈیوڑھی کے اندر ہے۔ اور ایک دروازہ اور دو طاقیاں (چھوٹے دروازے) سڑک یعنی کوچہ کی سیڑھی طرف ہیں۔ ان میں بوسیدہ اور ٹوٹے ہوئے کواڑ لگے ہوئے ہیں۔ جس سے عیاں ہے کہ یہ مردانہ نشست کا مکان ہے۔ اندر گاڑھی سفیدی ہوئی ہے۔ پرانی اور بوسیدہ چھت کا عیب چھپانے کو سرخ کاغذ کی چھتگیری جس کے چاروں طرف سبز کاغذی حاشیہ خوبصورتی اور صفائی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ ایک طرف دیوار میں ایک رنگدار کپڑا جس پر ریشم کے پھول بنے ہوئے اور شیشہ کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے۔ جن میں رات کو لمپ کی روشنی کا عکس پڑ کر جگنو کی طرح چمکتے ہیں۔ دروازہ پر ایک گلبدن کا خوشنما پردہ لٹک رہا ہے۔ جو ٹوٹے ہوئے کواڑوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ دہلیز کے دروازہ کے دونوں گوشوں میں دو میز رکھے ہیں۔ ایک کے اوپر دو ایک کانچ کے لمپ اور کچھ چینی کے گلدان مگر سب مجروح۔ کسی کا کنارہ ٹوٹا ہے اور کسی کی گردن ندارد ہے۔ دوسری میز پر ایک بڑا آئینہ اور کچھ چینی کے ضرب کھائے برتن پڑے ہیں۔ طاقوں میں سفید رنگ کی بوتلیں ہیں۔ جن میں سرخ و سبز رنگ کا پانی بھرا ہے دیواروں پر طغرائے خط کے کتبہ چوکھٹ و آئینہ میں جڑے ہوئے لٹک رہے ہیں۔ ایک طرف حضرت اقدس امام زماں مسیح دوراں مہدی وقت مجدد جہاں جناب حضرت مرزا صاحب کے دربار کی عکسی تصویر آویزاں ہے۔ غرضیکہ اس خستہ اور شکستہ مکان کو اپنے مذاق کے موافق آراستہ و پیراستہ کر کے سجایا ہوا ہے۔ جو مکین کی شکستہ حالی اور زندہ دلی پر بزبان حال گواہی دے کر کہہ رہا ہے۔
دس بارہ آدمی خشخاشی ڈاڑھی چہرے سے ملی ہوئی ترکی پھندنی دار لال ٹوپی سر پر اور کوٹ نصرانی قطع کا در بر ڈھیلی پتلون یہودیوں کی وضع کی زیب تن کیے بیٹھے ہیں۔ ایک صاحب لباس میں تو ایسے نہیں مگر ڈاڑھی کے مقصر کراتے ہیں۔ اور ایک صاحب ڈاڑھی اور لباس میں کلی مغائرت رکھے ان میں شامل ہیں۔ باقی سب صاحب ایک وضع اور ایک قطع بنائے باہم بیٹھے خوش گپیں اوڑا رہے ہیں۔ ایک صاحب دہلیز کی جانب سے داخل ہوئے۔
شخص ....... السلام علیکم ! مزاج شریف ۔
حاضرین جلسہ ...... وعلیکم السلام ۔ کوتوال صاحب (شخص آنے والا) مزاج بخیر؟
کوتوال صاحب...... الحمد للہ علی کل حال۔ اگر آپ صاحبوں کا مخل اوقات اور حارج کار نہ ہوں تو حاضر ہوں۔
حاضرین ....... آئیے تشریف لائیے یہ آپ کے فرمانے کی بات ہے ہمارا کیا حرج ہے عین راحت
٣٤٥
بلکہ فخر اور عزت ہے۔
کرم نماہ و فرود آ کہ خانہ خانہ تست
(کوتوال صاحب) تسلیم مشکور ہوں مگر۔
نہ کہیں عیش تمہارا بھی منغض ہووے
دیکھئے نا میرے آنے سے آپ سب خاموش ہو گئے۔ پہلے بلبل کی طرح سے چہک رہے تھے۔
ہمارے خان صاحب (کمین) تو آپ کے ایسے چنگ پر چڑھے ہیں کسی قماش کے بھی نہیں رہے۔ جب سے مرزا صاحب سے دست بیع ہوئی بدون آپ کے حکم کے کسی سے ملنا تو کیا سلام علیک کے بھی روادار نہیں۔
خاں صاحب...... بھائی صاحب! میرا دل ہی بجھ سا گیا۔ دنیا کی محبت سے بالکل سرد ہو گیا۔ کسی سے ملنے اور میل ملاپ رکھنے کو نہیں چاہتا۔ جب سے حضرت اقدس سے بیعت کی۔ دنیا ومافیہا سے طبیعت بیزار ہو گئی۔ اب گوشہ تنہائی اور یاد الٰہی کو ہی دل چاہتا ہے۔
کوتوال صاحب...... ہاں یہ امر تو محتاج بیان نہیں۔ آپ کے حالات ہی شاہد ہیں۔ آپ بھی قال اللہ اور قال الرسول کے سواء اور کوئی ذکر نہیں تھا۔ اور اب اس جلسہ کے بعد بھی آپ عبادت الٰہی کے واسطے جائیں گے۔ تو ایک بجے کے قریب ہی واپس آئیں گے ہم تو ان شغل کے لائق نہیں جس میں آپ مشغول تھے نہ دوسرے شغل میں جو اس کے بعد ہوگا ہم سے آپ کی طبیعت کیوں ملنے لگی۔
حاضرین...... نہیں اس میں تو کلام نہیں کہ ہمارے حضرت اقدس کی بیعت کا یہ تو فوری اثر ہے۔ ادھر بیعت ہوا ادھر تائب ہوا۔ اور کل منہیات سے متنفر۔
کوتوال صاحب...... صاحبو! آپ میں سے کوئی ولایت سے تو آیا نہیں۔ سب اس جگہ کے رہنے والے یہیں پیدا ہوئے یہاں ہی پرورش پائی۔ ہوش سنبھالا میں بھی ولایت سے نہیں آیا جو آپ کے حالات سے بے خبر ہوں۔ دائی سے تو پیٹ نہ چھپایئے۔
خاں صاحب...... جناب بھائی صاحب! یہ بات تصنع یا مبالغہ سے نہیں کی گئی۔ صحیح ہے اور بالکل صحیح ہے اگر آپ کو اس میں کلام ہے۔ ہم اتنے شخص بیٹھے ہیں۔ ان میں سے کسی کا نام لے دیجیے مگر
٣٤٦
بیعت کی بدی بھی اس سے پہلے کی نہیں بدی۔
کوتوال صاحب...... نہیں صاحب گڑھے مردے اکھاڑنے سے کیا حاصل بیعت کے بعد بھی پرانی سڑی بسی باتیں ہیں۔ ہفتہ عشرہ کی میعاد لگائی اور جس کی نسبت ارشاد ہو۔ اس کا حال ظاہر کروں مگر میں نہیں جانتا گناہ کس گناہ کو کہتے ہیں۔ قتل کو یا ڈکیتی کو پہلے اس کی شرح فرمائے۔
خاں صاحب...... اوّل تو یہ لیجیے! ادنیٰ بات ہے کہ ہماری جماعت میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔
کوتوال...... گستاخی معاف! کوئی صاحب رنج نہ کرے اگر کسی صاحب کو ناگوار ظاہر ہو۔ تو آپ فرما دیجیے ورنہ۔ تیر از شست رفتہ رفتہ باز بدست نے آید۔
حاضرین جلسہ...... بالاتفاق نہیں صاحب! بے تکلف فرمائیں اس میں رنج کی کیا بات ہے۔ ہماری طرف سے اجازت ہے۔
کوتوال صاحب...... اچھا تو اول مولوی صاحب سے ہی شروع کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ آپ سب صاحبوں کے مقتداء اور امام و لیڈر (پیشوا) کے سوا حضرت مرزا صاحب کے حواری خاص اور مقرب بھی ہیں اگر اصحاب اربع سے نہیں تو عشرہ مبشرہ میں سے تو ضرور ہیں۔ حضرت آپ ہی فرمائیں۔ کہ آپ نے جو مسجد کے مقدمہ میں اظہار دیا تھا۔ کتنی باتیں سچ کہی تھیں اور آپ کو حلف سے پہلے دیا گیا تھا۔ میں بھی عدالت میں موجود تھا۔ اگر آپ خود انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں۔ تو خیر ورنہ جہاں تک میرا حافظہ یاری دے گا بیان کر دوں گا۔
مولوی صاحب...... نہیں صاحب! دنیا میں رہ کر بغیر جھوٹ کے کارروائی اور مقدمہ میں تو ممکن ہی نہیں کہ سچ ہی سے کام نکل سکے سچے کو بھی بغیر جھوٹ کے چارہ نہیں۔ سچ سے تو مقدمہ کی رویداد بدل جاتی ہے۔
کوتوال صاحب...... دوسرے یہ منشی صاحب ہیں یہ فرمائیں کہ انہوں نے غریب اندھے کی دکان دبالی اور سینہ زوری سے دعویٰ کیا کہ ڈگری لے لی۔ انہوں نے عرضی دعویٰ میں کتنا سچ لکھوایا اور کس قدر بیان حلفی سچ بولا اور جو گواہ ان کی طرف سے گزرے۔ انہوں نے کتنا سچ بولا اور جنہوں نے اس مقدمہ میں پیروی کر کے ڈگری دلائی انہوں نے سچ کا کس قدر استعمال کیا۔ یہ والسابقون الاولون بھی ہیں۔
دوسرے اس مہاجن کے روپیہ کو جواب دے دیا۔ اس مقدمہ میں کتنا سچ تھا۔
مولوی صاحب...... اجی آپ تو مقدمات کی نظیر پیش کرتے ہیں یہ جائیداد کا معاملہ ہے اور عدالت میں بغیر جھوٹ بولنے کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور ملکیت کی جو آپ کہیں تو حقیقی مالک ہر چیز کا اللہ
٣٤٧
تعالیٰ ہے۔ نافرمان بندہ کی ملکیت سے نکال کر خواہ تلف کرادے یا کسی کو دلا دے۔
کوتوال صاحب...... پھر یہ کہیے کہ از روئے نبی کوئی گناہ نہیں پھر ایسا دین کیوں نہ اختیار کریں۔
کھٹ کھٹ کی اندر سے آواز آئی۔ خان صاحب اندر گئے اور ایک ٹرے (خواں) میں چاء کی پیالیاں اور ولایتی مشین کی بسکٹوں سے بھری ہوئی دو قاب آئے۔ گرما گرم دودھ چائے تھی سب صاحبوں نے نوش فرمائی اور جلسہ برخاست ہوا۔ اور ہمارے خان صاحب کوٹ پہنا اور ٹوپی سر پر رکھ کر ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ کر گشت کو روانہ ہو گئے۔
صبح کا وقت ہے ابھی آٹھ تو نہیں بجے خان صاحب کے دروازہ پر پولیس موجود ہے اور مکان کے ادھر ادھر قریب قریب کچھ وردی والے داہنے ہاتھ میں ڈنڈا لیے کانسٹیبل چکر لگا رہے ہیں اور سفید پوش پولیس کے بھی جوان پہرہ دے رہے ہیں۔ اور ایک حواری مرزا صاحب بھی دروازہ پر بیٹھے ہیں۔ کیا آج ٹی پارٹی عام ہے جو احمدی جماعت کے لوگ اور تھانہ دار پولیس کانسٹیبلان حاضر ہیں۔ دیکھیں تو چاء کا سامان تو کچھ نظر نہیں آتا ہمارے خان پٹھے ملزموں کی صورت بنائے بیٹھے ہیں۔
تھانہ دار...... دیکھو اس میں تمہاری بہتری ہے کہ تلاشی سے پہلے تم دے دو تو ہم اٹھ جاتے ہیں اور اگر تلاشی کے بعد تم نے اقبال کیا اور مال مسروقہ نکالا اور سزا یاب ہو گا تو بہتر نہ ہوگا۔
خان صاحب...... نہیں صاحب مجھ کو کیا خبر ہے میں چور نہیں چور کا بھائی نہیں بھلا ہم ایسا کام کر سکتے ہیں۔ ہم مرزا صاحب کے مرید۔
تھانہ دار...... حضرت آپ کا مدعی بھی مرزا صاحب کا مرید ہے۔ بے الہام کے تو اس نے بھی استغاثہ نہیں کیا۔ آپ دونوں الہام لڑاؤ جس کا الہام غالب رہے وہی جیتے ۔ کیوں حافظ صاحب (مدعی)۔
حافظ صاحب...... میں تو کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ کہہ دیں میرے پاس نوٹ اور روپیہ ہے۔ اگر ان کے پاس سے خرچ ہو گیا ہے تو مجھے رفتہ رفتہ دے دیں۔
تھانہ دار صاحب...... اچھا تم جانو اپنا کیا پاؤ گے۔ اور انسپکٹر صاحب کے روبرو تم گئے تو سب بھول جاؤ گے (کانسٹیبل کی طرف مخاطب ہو کر) ان کو لے جاؤ اور شاہی کمرہ (حوالات) میں ان کے واسطے فرش وغیرہ کر کے رکھیے۔ جب حضرت نے حوالات کے کمرہ کی ہوا کھائی تو کل کیفیت کہہ سنائی۔ پانی کے نالے سے گڑھے میں دفن کیا ہوا بکس نکال کر اور اپنے مکان کی زمین کھود کر روپیہ اور نوٹ جو تین سو کے قریب تھا۔ حوالہ پولیس کیا اب ہر ایک جانتا ہے کہ فلاں خان صاحب
٣٤٨
جو مرزائی تھے چوری کی علت میں پکڑے
- ١...... ارے یہاں اس نے تو
بنیوں کے بکس اٹھا کر ایک دوسرے نے لحاظ کیا اور خاموش رہا۔
- ٢...... ریاست جموں میں ایک
ایک گھڑی اور دس روپے کا نوٹ اڑا
- ٣...... پرسوں رات کا ذکر تو تم
گاڑھی دوستی تھی۔ رات کو گیارہ بجے مر پہنچتے اور ایک دو بجے رات تک جاتے تھے اور چند روز سے تو گویا یہ فارغ ہو کر چارپائی بچھا دونوں صاحب
خان صاحب...... کچھ دیر تامل اور تف کنجیوں کو تکیہ کے نیچے تلاش کیا اور ان قفل کھول اور نوٹ اور نقد جو نو سو روپ
خانساماں...... رجو کی ماں تم کہاں ت خراب ہوئی۔
عورت...... (ایک طمانچہ رسید کر کے بچوں کو کھلائے گا کیا نوکری بھی چھوڑ
خانساماں...... (طمانچہ کی ضرب محسوس کنجیوں کی جگہ ہاتھ مارا ندارد۔ آنکھ سمجھے حریف کام کر گیا۔ آگے بڑھ کر
خان صاحب...... (پاؤں پر گر کر) اعلان کر دیا نوٹوں کا لفافہ اور روپیا
خانساماں...... ارے ظالم تو دو ڈیڑھ م میں نہیں آٹھ آنے میں کھانے کا جرم کا مرتکب ہوا۔ میرا تو صفایا کر دی
جو مرزائی تھے چوری کی علت میں پکڑے گئے۔
- ١…… ارے یہاں اس نے تو تھوڑے دنوں سے غدر مچا رکھا تھا ایک بساطی کی دوکان سے
بٹنوں کے بکس اٹھا کر ایک دوسرے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیے پھر وہ پہچانے گئے مگر اس بیچارہ نے لحاظ کیا اور خاموش رہا۔
- ٢…… ریاست جموں میں ایک دوست سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے تھے اور اس کی
ایک گھڑی اور دس روپے کا نوٹ اڑا لیا۔ وہ بھی بیچارہ چپ ہو گیا۔
- ٣…… پرسوں رات کا ذکر تو تم نے سنا ہی نہیں۔ ایک خانساماں صاحب سے ان کی بڑی
گاڑھی دوستی ہو رات کو گیارہ بجے مرزائی پارٹی کی چاء پارٹی سے جب ان کو فرصت ملتی تو یہ وہاں پہنچتے اور ایک ایک دو بجے رات تک شطرنج بازی ہوتی تھی۔ بعض رات حضرت وہاں ہی آرام فرما جاتے تھے اور چند روز سے تو گویا یہ مقرر ہی کر لیا تھا کہ اب کون جائے پرسوں رات شطرنج سے فارغ ہو کر چارپائی بچھا دونوں صاحب دراز ہو گئے۔
خان صاحب…… کچھ دیر تامل اور استراحت کے بعد اٹھے اور اپنے حریف شاطر کو غافل ہوتا پا کر کنجیوں کو تکیہ کے نیچے تلاش کیا اور ان کو بہم پہنچا اور دروازہ کا قفل کھلو کر اندر داخل ہوئے اور صندوق کا قفل کھول اور نوٹ اور نقد جو نو سو روپے سے کچھ زیادہ تھا اور زیور طلائی اور نقرئی پر قبضہ کیا۔
خانساماں…… رجو کی مان تم کہاں تمہارے بعد ہم کو بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا بچوں کی مٹی خراب ہوئی۔
عورت…… (ایک طمانچہ رسید کر کے) تو غافل ہوتا ہے اور صندوق کی صفائی بھی ہو گئی کل کو میرے بچوں کو کھلائے گا کیا نوکری بھی چھوڑ دی۔
خانساماں…… (طمانچہ کی ضرب محسوس کر کے) گھبرا کر اٹھے اور خود دروازہ کی طرف دیکھا کھلا پایا۔ کنجیوں کی جگہ ہاتھ مارا ندارد۔ آنکھ کھلی تو چاندنا تھا۔ تب خان صاحب کی چارپائی بھی خالی پائی۔ سمجھے حریف کام کر گیا۔ آگے بڑھ کر دیکھا تو خان صاحب ابھی گئے نہیں موجود ہیں۔
خان صاحب…… (پاؤں پر گر کر) بھائی صاحب مجھ سے خطا ہو گئی بخش دو۔ ضرورت نے بے ایمان کر دیا نوٹوں کا لفافہ اور روپیہ اور زیور کی پوٹلی آگے رکھ دی۔
خانساماں…… ارے ظالم تو دو ڈیڑھ روپے روز کا کاری گر ہے۔ دو میاں بیوی کا خرچ عمدہ سے عمدہ ٤ میں نہیں اٹھ آنے میں کھانے کا انصرام ہو سکتا ہے۔ تجھ کو ایسی کیا ضرورت داعی ہوئی۔ جو اس جرم کا مرتکب ہوا۔ میرا تو صفایا کر دیا تھا۔ صبح کے کھانے کو ہی نہیں چھوڑا تھا۔ خواب میں رجو کی ماں
٣٤٩
(خدا اس کو بخشے) نے مجھ کو خبر کی اور جگایا جو آنکھ کھل گئی۔
خان صاحب...... بھائی جی جب سے میں مرزا صاحب سے بیعت ہوا میرا خرچ بڑھ گیا اور آمدن کم ہوگئی۔
خانساماں...... یہ کیونکر الٹا معاملہ ان کی بیعت کی یمن و برکت سے فراخی رزق ہوتی نہ کہ عکس۔
خان...... حضرت میری جماعت کے قریبا کل آدمی صبح و شام میرے مکان پر کرم فرماتے ہیں ان کی خاطر داری چاء پان تمباکو میں دو روپیہ صرف ہوجاتے ہیں اور روز روز کا چندہ آج شامیانہ مسجد خادماں کے واسطے ١٥٠ اکٹھے ہوئے۔ کل حافظ غلام رسول کے واسطے ص ٥٠ جمع کر کے دیے گئے ہیں۔ کہ ان کو مقدمہ کی اپیل کرنا ہے کہیں بیت الدعاء کے کہیں توسیع مکان کے واسطے چندہ جمع ہو رہا ہے اور ماہواری لنگر اور مدرسہ وغیرہ کا معمولی چندہ مستزاد اور جب سے ہماری جماعت میں مقدمہ بازی کا ہمیشہ جاری ہوا ہے تب سے تو چندہ کی بھر مار نے مار ہی دیا۔ اب میری عزت اور آبرو اور جان آپ کے رحم کے حوالہ ہے۔
خانساماں...... نوٹ اور روپیہ اور زیور سنبھال کر اور قابو کر کے چلو اٹھو میں تمہیں کچھ نہیں کہتا مگر احتیاط رکھو۔
خان...... بھائی جی تم مجھ کو ابتداء سے جانتے ہو میری آپ کی قدیمی ملاقات۔ میں بد معاش نہیں چور نہیں مگر ضرورت نے مجبور کیا۔
خانساماں...... پھر وہی میاں تو دو روپیہ روز کا کاریگر ہے تیری دوکان بھی اچھی چلتی تھی اب کیا ہو گیا۔
خان...... یہ آپ کا قیاس درست ہے مگر دوکان پر بیٹھوں تو بیشک دو روپے سے کم پیدا نہیں کر سکتا۔
خانساماں...... (ہنس کر) کیا یہ بھی مرزا صاحب کی بیعت میں شرط ہے کہ اپنا کاروبار نہ کرو اور عند الضرورت لوگوں کا مال مارو۔
خان...... نہیں یہ تو نہیں مگر بات یہ ہے کہ چند مدت ابتداء ابتدا میں نیا چاؤ تھا نماز وغیرہ سے فرصت ملی تو وعظ میں چلے گئے یہاں روز وعظ ہوا کرتے تھے اور وعظ میں بیان ہوتا اس مسئلہ کا بیان فلاں کتاب میں ہے اسمیں دیکھو اور اس مسئلہ کو اس کتاب میں دیکھو۔ مکان پر آ کر تمام دن کتاب بینی اور مطالعہ میں گزرتا جو بات سمجھ میں نہ آتی اور اکثر ایسا ہوتا۔ اس کے سمجھنے کو کبھی کسی کے پاس جا اور کسی کے پاس جا جب کسی سے تسلی نہ ہوتی تو مولوی صاحب کے پاس جا کر سمجھتے۔ غرض یونہی
٣٥٠
رات دن شوق اور چاؤ میں گزر جاتا۔ آخر جب روز کا چاہ پانی اور اپنا ذاتی خرچ بدستور رہا تو آمد بند ہوگئی کچھ عرصہ جو دوکان کا سرمایہ تھا فروخت کر کے کھایا۔ پھر القرض نصف المعیشہ پر عمل کیا اب قرض کا دروازہ بھی مسدود ہو گیا۔ دوکان پر بیٹھیں تو کچھ مزدوری کریں دو پیسہ کمائیں۔ مگر دوکان پر قرض خواہ پاؤں نہیں جمنے دیتے اب کیا کریں ضرورت نے اس پر مجبور کیا۔
بازار میں اپنی اپنی حکایتیں اور تازہ روایتیں بیان ہوتی تھیں آخر پولیس نے تحقیقات کے بعد مقدمہ چالان کیا۔
صاحب مجسٹریٹ نے استغاثہ کی شہادت لے کر ملزم پر فرد قرار داد جرم لگا کر اظہار لکھا۔
ملزم ...... بے شک مجھ سے قصور ہوا مجھ کو ضرورت نے مجبور کیا۔ قرض مجھ کو کہیں سے نہ ملتا تھا۔ مستغیث میرا دوست تھا۔ اس نے میرے روبرو روپیہ و نوٹ مبلغ پانچصد ایک بکس میں بند کر کے الماری پر رکھا۔ میرا دل بے ایمان ہو گیا۔ رات کو مستغیث کی دوکان پر جا دروازہ کی چٹخنی اکھاڑ الماری کا قفل کھولا اور بکس اٹھا لیا۔ اب عدالت کے رحم کا خواستگار ہوں۔
صاحب مجسٹریٹ بہادر ..... نہایت رحم دل آدمی ہیں ملزم کی صاف بیانی پر رحم فرما کر تادیبا ایک ماہ کی قید دی ملزم ضلع کے جیل خانہ میں بھیجا گیا۔
داروغہ جیل نے بھی چند معزز اصحاب کی سعی سفارش سے جس کام کا ملزم دستکار تھا اسی کام کی مرمت کے کام پر لگا دیا۔
باب ٥٥ پنجاه و پنجم
لاہور میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی آمد
پاؤں تھک جائیں تو سر رہتا ہے اکثر پھرتا
لاہور کے موچی دروازہ بیرون ہال انجمن اسلامیہ میں بڑا مجمع ہے۔ کمال رونق ہے۔ میلہ کا سا اہتمام ہے۔ بڑے بڑے علماء اور فضلاء باکمال اور نامی گرامی صوفیاء باصفا صاحب حال باہر کے اور شہر کے وہاں موجود ہیں۔ اور رؤساء اور عمائد شہر کا پرا جما ہوا اس طرف کو جارہا ہے عوام کا تو ذکر ہی نہیں۔
- ١....... کہو بھائی آج کوئی جلسہ ہے یا کوئی لکچرار آیا ہے۔
٣٥١
٢....... نہیں کوئی لیکچر وغیرہ تو نہیں آیا۔ مگر کیا تم کو خبر نہیں۔ یہ بات زبان زد عام ہے اس امرتسر میں تو مدت سے اشتہار بازی ہو رہی ہے۔ لاہور کے گلی کوچے میں اشتہار لگا ہوا ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب اور مرزا صاحب کی بحث ہوگی۔
پہلا شخص ...... ہاں رات منادی تو میں نے بھی سنی تھی کہ شاہی جامع مسجد میں جلسہ ہوگا اور وہاں سب لوگ جمع ہوں گے مگر یہ لوگ محمدن ہال کی طرف کیوں دوڑے جا رہے ہیں۔
٣....... ہاں جلسہ تو وہیں ہوگا۔ مگر حضرت پیر صاحب یہاں قیام پذیر ہیں۔ اور یہ علماء عظام اور صوفیائے کرام کچھ تو حضرت پیر صاحب کے ہمراہ آئے ہیں۔
پہلا شخص ...... اچھا تو پیر صاحب تشریف لے آئے ہیں۔ اور مرزا صاحب کہاں ٹھہرے ہیں۔
٢....... مرزا صاحب تو ابھی آئے نہیں اور نہ آئیں ان کا تو ہمیشہ یہی قاعدہ ہے اشتہار شائع کیا اور موقع پر کوئی بات رکھ کر طرح دی جاتی ہے۔ پہلے کیا مولانا مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ یہاں اور لدھیانہ اور دہلی میں مغالطہ نہیں ہوا کہیں تو مرزا صاحب نے بالمقابل گفتگو کی نہیں۔
١....... پھر کیوں یہ اشتہار مشتہر کر دیتے ہیں کیا پیچھے ان کو ندامت نہیں اٹھانی پڑتی۔ یا بہ ایں شور و شغب یا یہ بے حیائی ۔
٢....... میاں ان کا الو سیدھا ہو جاتا ہے۔ ان کی غرض فقط شہرت سے ہے وہ خوب ہو جاتی ہے۔ پھر لطف یہ کہ دوسروں کے روپیوں سے۔ اس (اشتہار ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٣٤) میں بھی تو مرزا صاحب نے حضرت پیر صاحب کو لکھا کہ پانچ ہزار کاپی اس مباحثہ کو چھپوا کر دور دراز ملکوں میں شائع کراویں۔ کیا آپ نے وہ اشتہار نہیں دیکھا۔
١....... ہاں خوب یاد آیا۔ لکھا تو ضرور تھا بڑی دور کی سوجھتی ہے۔
٢....... اگر اتنی دور کی نہ سوجھتی تو نبوت کا دعویٰ کیونکر ہوتا۔ یہ ہزار ہا روپیہ مسلمانوں کا کیونکر کھایا جاتا۔ یہ لنگر خانہ کہاں سے جاری ہوتا ہے۔ یہ بڑھاپے اور ناتوانی میں نئی عورتوں کی تلاش اور ان کے واسطے ہزاروں روپے کے طلائی اور مرصع زیور کیسے بنتے۔ یہ لنگڑے لولے اندھے کانے خوشامدی دروازہ پر بیٹھ کر ٹکڑے کہاں سے توڑتے۔ حضرت یہ سب اسی دور کی سوجھنے کا نتیجہ ہے۔
١....... بیشک جب سے صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور کے روبرو مرزا صاحب سے ایک اقرار نامہ لکھایا گیا تب سے اس کو چپ رہنا پڑا جس سے ان کی دوکانداری پھیکی پڑ گئی تھی اتنے دن اس اقرار نامے نے چپ رکھا ورنہ چپ رہنے والی آسامی تو تھے نہیں۔
٣٥٢
میں اور چین دیوے گھڑی
٢....... مرزا صاحب آدمی عقل مند ہے بڑے بڑے علماء سے منہ کی کھا چکا ہے تو صوفیوں کی طرف رجوع ہے۔ ہمیں تو امید نہیں کہ وہ لاہور تک بھی آئیں۔ مناظر
١....... سکوت میں سارا کارخانہ درہم برہم ہو۔ بیکار، اشاعت بند۔ تبلیغ کا سلسلہ مسدود آگے کی ترقی م فقود ہو جائیں۔ غرض کہ شہرت تو کیا کل وسائل کل صیغے الہام دے کر ڈرایا۔ کسی کو عزت کے زوال سے دھمکایا سب بند ہوئے جس کسی کی نسبت موت یا زوال عزت کی گئی۔ اس واسطے حسب صوابدید یاران محرم و مشیران خویش
نغمہ شادی نہ سہی نوحہ
٢....... اس کو یہ خبر تھوڑی تھی کہ پیر صاحب لاہور کرام کا مسلک مرنج و مرنجان ہوتا ہے اس کو بحث و مبا افکار ان کو اس بات کی فرصت ہی کب دیتے ہیں کہ مباحثہ کو کیوں ترجیح دینے لگے۔ ان باتوں کی آڑ میں بات بن جائے گی۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ دعوت دے بیٹھے۔
١....... یہ تو یقین ہے کہ وہ مقابلہ میں نہیں آئے اشتہارات اور تاویلیں ہوتی ہیں۔ وہ چند صاحب کی مسجد میں گفتگو ہو رہی۔ چلو پاس چل کر سنیں کچھ سخن ہیں۔
حافظ صاحب....... ٥؍ جنوری ١٨٩٩ء کو مرزا صاحب فوجداری بعدالت صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع فیصلہ پر اس کو ایک مفصل اقرار نامہ بوجہ برأت لکھنا
١....... وہ ایسی پیشگوئی کرنے سے پرہیز کر
٥٤٠
میں اور چمن دیوے گھڑی بھر فغاں مجھے
- ٢...... مرزا صاحب آدمی عقل مند ہے بڑے بڑے ہی آدمیوں سے مُڈھ بھیڑ کرتا ہے جب
علماء سے منہ کی کھا چکا ہے تو صوفیوں کی طرف رجوع ہوا ہے۔ حضرت پیر صاحب کو مخاطب کیا ہے۔ ہمیں تو امید نہیں کہ وہ لاہور تک بھی آئیں۔ مناظرہ اور مباحثہ تو شے دیگر ہے۔
- ١...... سکوت میں سارا کارخانہ درہم برہم ہونے لگا تھا۔ اگر کسی سے چھیڑ چھاڑ نہ ہو تو مطبع
بیکار، اشاعت بند۔ تبلیغ کا سلسلہ مسدود آگے کی ترقی محدود کیا پچھلے ہی ٹھنڈے ہو کر کچھ بیدم اور کچھ فتر و ہو جائیں۔ غرض کہ شہرت کا کیا کل وسائل کل صیغوں کا مدار اسی چھیڑ چھاڑ پر ہے۔ کسی کو موت کا الہام دے کر ڈرایا۔ کسی کو عزت کے زوال سے دھمکایا۔ اب اقرار کے اوپر دستخط کرنے سے یہ صیغے تو سب بند ہوئے نہ کسی کی نسبت موت نہ زوال عزت کا الہام کرتے ہیں مباحثہ میں زبان روک دی گئی۔ اس واسطے حسب صوابدید یاران محرم و مشیران خوش فہم صوفیوں کی طرف توجہ فرمائی۔
نغمہ شادی نہ سہی نوحہ ماتم ہی سہی
- ٢...... اس کو یہ خبر تھوڑی تھی کہ پیر صاحب لاہور میں آ ہی جائیں گے وہ تو یہ سمجھتا ہوگا صوفیاء
کرام کا مسلک مرنج و مرنجان ہوتا ہے اس کو بحث و مباحثہ اور مناظرہ سے کیا تعلق اس کے اشغال و افکار ان کو اس بات کی فرصت ہی کب دیتے اور نہ وہ ان باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ ذکر للہی پر مباحثہ کو کیوں ترجیح دینے لگے۔ ان باتوں کی طرف ان (پیر صاحب) کو توجہ ہی نہ ہوئی۔ ہماری بات بن جائے گی۔ آؤ دیکھا یہی دعوت دے بیٹھا۔
- ١...... یہ تو یقین ہے کہ وہ مقابلہ میں نہیں آئے گا اور ضرور نہیں آئے گا۔ مگر بعد کو دیکھنا کیسے
اشتہارات اور تاویلیں ہوتی ہیں۔ وہ چند صاحب گفتگو کر رہے ہیں۔ آہا یہ تو حافظ صاحب اور مفتی صاحب میں گفتگو ہورہی۔ چلو پاس چل کر سنیں یہی معاملہ ہوگا۔ اور یہ تیسرے صاحب مولوی محمد حسن ہیں۔
حافظ صاحب...... ٥؍ جنوری ١٨٩٩ء کو مرزا صاحب ایک مقدمہ فوج داری میں زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری بعدالت صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور بحیثیت ملزم حاضر تھا اور اخیر تاریخ فیصلہ پر اس کو ایک مفصل اقرار نامہ بوجہ برأت لکھنا پڑا جس کی تین شرطیں حسب ذیل ہیں۔
- ١...... وہ ایسی پیشگوئی کرنے سے پرہیز کرے گا جس کے معنے یہ خیال کیے جاسکیں کہ کسی
٣٥٣
شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الہی ہوگا۔
- ٢...... وہ خدا کے پاس اپیل کرنے سے اجتناب کرے گا کہ وہ کسی شخص کے ذلیل کرنے سے
یا ایسے نشان کرنے سے کہ مورد عتاب الہی سے یا یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- ٣...... کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہے گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا ایسے منشاء
رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الہی ہوگا۔ اس اقرار کے بعد کچھ دن مرزا صاحب چپ رہے۔ مگر جب آمدنی میں فتور اور الہامی یافتوں میں قصور واقع اور معتقدان میں انتشار پیدا ہوا۔ پرانے رفیق منشی الہی بخش صاحب ملہم اور منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹینٹ حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار راولپنڈی علی شاہ صاحب وغیرہ وغیرہ پیرو و معاون علیحدہ ہونے لگے تو پھر مرزا صاحب کو ضرورت نفس نے مجبور کیا کہ پھر وہی پرانی طرز اور رفتار اختیار کریں۔
تب اشتہار منارۃ المسیح معراج یوسف معیار الاخیار نکالے مگر اس سے بھی مطلب برآری نہ ہوئی تو سوچ سوچ کر حضرت پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑہ شریف (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤١ تا ٣٤٤) علماء کرام وصوفیائے عظام کو بالخصوص اور باقی عام علماء وصوفیاء پنجاب و ہند کو مباحثہ کے لیے مقام لاہور بمقابلہ خود دعوت دی اور ان الہامات سے کام لیا جس کی عدم شیوع کی نسبت وہ اقرار نامہ مذکور الصدر میں اقرار کر چکے تھے اور یہ چاہا کہ پیر صاحب موصوف میرے مقابلہ میں مباحثہ تحریری و تقریری ( تفسیر القرآن) کریں اور اپنے الہام ہائے متعددہ سے جتایا کہ پیر صاحب ایسا مباحثہ کرنے سے بالکل ناکام رہیں گے بلکہ یہاں تک کہ وہ اس مباحثہ کے واسطے لاہور تک نہیں آئیں گے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو میرا غالب ہونا تصور ہوگا۔ چنانچہ لکھا ہے : ”میں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب ہونا اس صورت میں متصور ہوگا۔ کہ جب پیر مہر علی شاہ صاحب بجز ایک ذلیل اور قابل شرم اور رکیک عبارت اور لغو تحریر کے کچھ بھی نہ لکھ سکیں اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھوکیں۔ اور نفریں کریں۔ کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا کرے اور میں جانتا ہوں وہ ایسا ہی کرے گا اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بھی اپنے تئیں مومن و مستجاب الدعوات جانتے ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں۔ اور یاد رہے کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا کے مامور و مرسل کے دشمن ہیں۔ اس لیے آسمان پر ان کی عزت نہیں ۔“
مولوی صاحب ...... مرزا نے یہ اشتہار دے دیا۔ اس کو کیا امید تو ہرگز نہیں تھی کہ پیر صاحب اپنا عزیز
٣٥٤
وقت ایسے جھگڑوں میں ضائع کرنے کے ہوئی کہ حضرت پیر صاحب بہ نظر اس کے طے بمقابلہ اشتہار کے ذریعہ سے بوجہ ہو ان کی ٢٥ اگست ١٩٠٠ء تاریخ مقرر کر کے جھانکتے ہیں اور کہتے ہیں۔
خود کردہ
سب پکار پکار کر کہتے ہیں۔ ہائے
سعدی از
اور بیت الفکر سے باہر قدم نہیں
حافظ صاحب ...... مرزا صاحب اصلی منشا
بدنام بھی گر
یہ مطلب تو ہتھکنڈہ سے اچک خیال مرزا کو لاہور، دہلی، لدھیانہ وغیرہ خفت اور بے عزتی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں
مفتی صاحب ...... ( نہایت جوش کے لہج تفسیر لکھیں یا معارف بیان کریں۔ اور ن کہ ان کے مریدوں نے اشتہار دیا ہے۔ کر لیں گے تو خواہ مخواہ بے عزتی ہوگی۔ اس واسطے چار و ناچار ایسی بات نکالو ج نے کہا کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں مگ تقریری مباحثہ ہو جس کا حکیم مولوی محمد ح کر دیں تو مرزا صاحب ہمارے ساتھ
وقت ایسے جھگڑوں میں ضائع کرنے کے واسطے میرے مقابلہ میں مباحثہ کو آ جائیں گے مگر دقت یہ ہوئی کہ حضرت پیر صاحب بہ نظر اس کے مرزا کو عوام الناس میں جھوٹی شیخی بگھارنے کا موقع نہ ملے بمقابل اشتہار کے ذریعہ سے بوجہ ہمدردی مباحثہ کے لیے آمادہ ہو گئے اور حسب درخواست ان کی ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء تاریخ مقرر کر کے لاہور تشریف لے آئے۔ مرزا صاحب ہیں کہ بغلیں جھانکتے ہیں اور کہتے ہیں۔
خود کردہ را علاجے نیست
سب پکار پکار کر کہتے ہیں۔ ہائے افسوس ہائے ناکامی۔
سعدی از دست خویشتن فریاد
اور بیت الفکر سے باہر قدم نہیں نکالتے۔
حافظ صاحب...... مرزا صاحب اصلی منشاء تو شہرت اور تشہیر کا تھا۔
بدنام بھی گر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
یہ مطلب تو ہتھکنڈہ سے اچھی طرح حاصل ہو چکا باقی رہا واقعی مقابلہ سو اس کا جانگداز خیال مرزا کو لاہور، دہلی، لدھیانہ وغیرہ مقامات کا وہ پرانا اور پردرد نظارہ کا سماں جس میں اس کی خفت اور بے عزتی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہا۔ دکھائی دیتا تھا اس لیے لاہور تک آنا گوارا نہ کیا۔
(روئیداد جلسہ اسلامیہ ص ٢)
مفتی صاحب...... (نہایت جوش کے لہجہ میں) پیر مہر علی شاہ میں اتنی لیاقت تو ہے نہیں کہ عربی میں تفسیر لکھیں یا معارف بیان کریں۔ اور نہ اتنا بھروسہ خدا پر ہے کہ خدا اس کی دعا قبول کرے۔ جیسا کہ ان کے مریدوں نے اشتہار دیا ہے۔ اس واسطے انہوں نے سوچا کہ اگر ہم تفسیر میں مقابلہ منظور کر لیں گے تو خواہ مخواہ بے عزتی ہوگی اور اگر نہ مانیں گے تو مرید بھاگنے شروع ہو جائیں گے۔ اس واسطے چار و ناچار ایسی بات نکالو جس سے معاملہ ہی ٹل جائے اور مقابلہ بھی نہ ہو پس انہوں نے کہا کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں مگر ایک شرط ہماری بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ تفسیر سے پہلے ایک تقریر مباحثہ ہو جس کا حکیم مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی صاحب دیگر ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں تو مرزا صاحب ہمارے ساتھ بیعت کر لیں وغیرہ وغیرہ۔ (رسالہ واقعات مکہ صفحہ ٢٣، ٢٥)
٣٥٥
حافظ صاحب ...... یہ بالکل غلط ہے مرزا صاحب نے ایک مطبوعہ چٹھی بصورت اشتہار مطبوعہ ٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء بذریعہ رجسٹری خدمت میں حضرت پیر صاحب بشمولیت نام دیگر علمائے کرام و مشائخ عظام زید مجدہم اللہ تعالیٰ اکثرہم کے بھیجی جس کے پہلے دو صفحوں پر مرزا نے اپنی عادت کے موافق اپنے مرسل، مامور من اللہ اور مجدد اور مہدی و مسیح ہونے کے ثبوت میں بخیال خود بیہودہ دلائل پیش کیے۔ اور عالی جناب حضرت پیر صاحب موصوف اور دیگر علماء وفضلاء اسلام کو لکھا کہ میرے دعویٰ کی تردید میں کوئی دلیل اگر آپ کے پاس ہے تو کیوں پیش نہیں کرتے ہو۔ اس وقت مفاسد بڑھ گئے ہیں اس لیے مجھے مصلح کے عہدہ میں بھیجا گیا ہے۔ اخیر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”اگر پیر صاحب ضد سے باز نہیں آتے یعنی وہ میری دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل پیش نہیں کرتے ہیں اور نہ مجھے سچ وغیرہ مانتے ہیں تو اس ضدیت کے رفع کرنے کے واسطے ایک طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرتا ہوں اور وہ طریق یہ ہے کہ پیر صاحب مقابلہ پر دارالسلطنت پنجاب (لاہور) میں چالیس آیات قرآنی کی تفسیر لکھیں۔ اور ان چالیس آیات قرآنی کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی کے کرلیا جائے۔ یہ تفسیر فصیح عربی میں سات گھنٹوں کے اندر بیس ورقوں میں لکھی جائے اور میں (مرزا) انہی شرائط سے چالیس آیات کی تفسیر لکھوں گا۔ ہر دو تفسیریں تین ایسے علماء کی خدمت میں فیصلہ کے لیے پیش کی جائیں جو فریقین سے ارادت اور عقیدت کا ربط نہ رکھتے ہوں۔ ان علماء سے فیصلہ سنانے سے پہلے وہ مغلظ حلف لیا جائے جو قذف محصنات کے بارہ میں مذکور ہے۔ اس حلف کے بعد جو فیصلہ ہر سہ علماء فریقین کی تفسیروں کی بابت صادر فرمادیں۔ وہ فریقین کو منظور ہوگا۔ ان ہر سہ علماء کو جو حکم تجویز ہوں گے فریقین کی تفسیروں کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا کہ قرآن کریم کے معارف اور نکات کس کی تفسیر میں صحیح اور زیادہ ہیں اور عربی عبارت کس کی بامحاورہ اور فصیح ہے۔“ یہ چٹھی ١٢ صفحہ کی تھی۔ مگر اس کی دلخراش گالیاں نامشروع اور بے ہودہ بدظنیوں کو حذف کر دیا جائے تو اس کا تمام ماحصل اور خلاصہ صرف یہی ہے جو اوپر لکھا گیا ۔ باایں ہمہ کہ حضرت فخر الاصفیاء والعلماء کو اپنے مشاغل للہی سے عدیم الفرصتی کی وجہ سے ان جھگڑوں سے کچھ تعلق نہیں تھا لیکن ایسے نازک وقت میں کہ اسلام کو ایک خطرناک مصیبت کا سامنا تھا۔ مرزا کے مقابلہ میں آنے کو اپنی عزلت نشینی پر ترجیح دی اور حسب درخواست مرزا جواب قبولیت دعوت بصورت اشتہار بتاریخ ٢؍اگست ١٩٠٠ء ارسال فرمایا اور لکھ دیا کہ وہ خود ٢٥؍اگست ١٩٠٠ء کو (اس لیے کہ مرزا نے اختیار تقرر تاریخ حضرت پیر صاحب کو دیا تھا) لاہور آجائیں گے آپ بھی تاریخ مقررہ پر تشریف لے آئیں۔ چونکہ مرزا نے (٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢٦) کی چٹھی میں اس طریق ٣٥٦
فیصلہ کی دعوت کرنے سے پہلے اپنے ذ ہے کہ: ”کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے ۔ گے۔ اگر لکھا ہے تو ایسی حدیث پیش نہی انزلناہ فی لیلۃ القدر اور ذکر رسول میں کسوف خسوف کا ہونا دیکھ چکے ہیں مجدد نہیں جانتے۔“ یہ تمام استدلالات اس چٹھی میں تحریر کیے اور صرف ایک طر تھیں۔ اس سے حضرت ممدوح نے بھی بھی اس کی استدلالات جو اپنی چٹھی تحر مسیح علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ صریح سے ثابت نہ ہو تو پھر کیا کرنا چا کے معنی جواب تک تیرہ سو سال سے جو کیا ہوں گے اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آت کیونکہ آپ کی مسیحیت کا نشان ہے اس ضروری خیال کرتے تھے کہ تحریری فی موافق تفسیر لکھی جائے۔
مفتی صاحب ...... پیر صاحب کے جو صاحب کی طرف سے شائع ہوا اس ک قرآن میں مرزا صاحب کے ساتھ من طریق اختیار کیا ہے ہم اشتہار کی چند دینے میں پیر صاحب اور ان کے مری ١....... صفحہ ٦ بھلا یہ تو فرمادیجیے ک شام تک بے ہودانہ بیٹھ کر منھ دیکھتے ر کون سا اہم علم ہے جس کی شہادت طلب کرتے ہیں۔
فیصلہ کی دعوت کرنے سے پہلے اپنے دعوے پر اور کئی استدلال پیش کیے تھے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ: ”کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور نہ کسی زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانے میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے۔ اگر لکھا ہے تو ایسی حدیث پیش نہیں کرتے ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنے کرتے ہیں۔ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر اور ذکر رسول کا راز نہیں سمجھتے میری مسیحیت اور مہدویت کا نشان رمضان میں کسوف خسوف کا ہونا دیکھ چکے ہیں پھر نہیں مانتے صدی سے سترہ سال گزر گئے ہیں پھر مجھے مجدد نہیں جانتے۔“ یہ تمام استدلالات مرزا نے اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اس چٹھی میں تحریر کیے اور صرف ایک طریق فیصلہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر دو باتیں علی الترتیب پیش کی تھیں۔ اس سے حضرت ممدوح نے بھی ہر دو طریق فیصلہ کو علی الترتیب تسلیم کیا اور پسند فرمایا کہ مرزا بھی اس کے استدلالات جو اپنی چٹھی تحریری میں فیصلہ سے پہلے پیش کیے ہیں۔ سن لیے جائیں اور مسیح علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کی بابت حدیث بلکہ قرآن کریم کے نص صریح سے ثابت نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے۔ حدیث کی جستجو کی جائے یا کیا سمجھ میں نہیں آتا۔ نزول کے معنی جو اب تک تیرہ سو سال سے مجتہدین ومحدثین بلکہ صحابہ کرام اور اہل بیت نے نہیں سمجھے وہ کیا ہوں گے اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ رمضان میں کسوف وخسوف جن تاریخوں میں ہوا ہے وہ کیونکر آپ کی مسیحیت کا نشان ہے احقاق حق کی غرض سے حضرت ممدوح مرزا کی اپنی زبانی سننا ضروری خیال کرتے تھے کہ تحریری فیصلہ کی طرف رجوع کریں اور مرزا کی قرار دادہ شرائط کے موافق تفسیر لکھی جائے۔
مفتی صاحب ...... پیر صاحب کے جواب کا ضمیمہ جو اس کے ساتھ ہی ایک اشتہار میں مولوی غازی صاحب کی طرف سے شائع ہوا اس کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پیر صاحب ہرگز تفسیر قرآن میں مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ کرنا نہیں چاہتے ہیں اور صرف انہوں نے ٹالنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے ہم اشتہار کی چند عبارتیں نقل کر دیتے ہیں پبلک خود اندازہ کر لے کہ ایسا اشتہار دینے میں پیر صاحب اور ان کے مریدوں کی کیا نیت ہے۔
- ١....... صفحہ ٦ بھلا یہ تو فرما دیجیے کہ اس قدر کثیر جماعت علماء کی جمع ہو کر کیا کرے گی۔ صبح سے
شام تک بے ہودانہ بیٹھ کر منہ دیکھتے رہیں گے کہ کس کے قلم کا زور چلتا ہے اور کون سی دلچسپی ہے اور کون سا اہم علم ہے جس کی شہادت کے واسطے آپ اس قدر علماء کو بصورت حاضری پیر صاحب طلب کرتے ہیں۔
٣٥٧
- ٢...... صفحہ ١٤١ مگر شرط یہ ہے کہ قبل از بحث تحریری مذکورہ مجوزہ مرزا صاحب ایک بحث تقریری
دعوئی مسیحیت ومہد ویت وغیرہ عقائد مرزا صاحب پر جو تعداد میں ١٣ کے قریب ہیں اور ان کی الہامی کتب میں درج ہیں بپابندی امور ذیل ہو جائے۔
- الف...... تعین اور تقرر حضرت پیر صاحب کا منصب ہوگا۔
- ب...... بحث تقریری بحث تحریری سے اول ہوگی۔ اگر ایک روز میں ختم نہ ہوگی تو دوسرے اور
تیسرے روز تک جاری رہے گی۔
- ج...... جو شخص بحث میں مغلوب ہوگا اس کو بیعت کرنا فوراً لازمی ہوگا۔
- د...... چونکہ احتمال ہے کہ ایک شخص مغلوب بھی ہو جائے اور پھر بھی توبہ نہ کرے اس لیے
فریقین ایک ایک معتبر ضمانت ٥٠٠٠، ٥٠٠٠ کی دیدیں۔
- ہ...... مرزا صاحب یہ بھی لکھ دیں کہ اس بحث کے وقت یا دوران بحث میں اگر کوئی الہام اس
قسم کا ان کو ہو جائے جو مبدل یا ناسخ شرائط مباحثہ ہو۔ مرزا صاحب مباحثہ کو حسب شرائط مقررہ پابند نہ رہویں گے اور الہام، تار، خط، پیام وغیرہ پر کار بند نہ ہوں ۔ اگر مرزا صاحب اب بھی تشریف نہ لائے اور اس مباحثہ سے منہ پھیر کر ان میں کوئی حیلہ حجت کریں یا اب شرائط میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی پیدا کردیں گے۔ جس سے اس معاملہ کا غیر وقوع اغلب ہو جائے تو پھر سمجھا جائے گا۔ اور اس کا نتیجہ فطری طور پر یہ ہوگا کہ مرزا صاحب کی الٰہی طاقت (وہی خدائے عامی والی) مغلوب ہوگی۔ (تم کلامہ )
(واقعات عجیبہ ص ٢٧ تا ٢٩)
حافظ صاحب ...... اس عرصہ میں آج تک مرزا کی طرف سے کوئی جواب نہ نکلا:
یہ چپ ہوا ہے کہ گویا نہیں زبان منہ میں وہ اس کا جواب دے کر فیصلہ کرتا البتہ ان کے بعض حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکلے اور شائع ہوئے کہ تقریری مباحثہ کی کوئی شرط نہیں ہے۔
مولوی صاحب ...... مرزا کو اپنی شہرت کی خواہش ہے وہ جانتا تھا کہ صوفیائے کرام کا طریق مرنجان و مرنج ہوتا ہے یہ لوگ گوشہ تنہائی میں عمر بسر کرنا غنیمت سمجھتے ہیں کسی کی دل شکنی انہیں منظور نہیں ہوتی۔ پھر حضرت صاحب ممدوح کے دینی مشاغل اور مصروفیت سے بھی یہی قیاس ہو سکتا تھا کہ آپ عزلت نشینی کو ہر طرح ترجیح دیں گے اور اس طریق فیصلہ کو جو درحقیقت مرزا کی دعاوی کی تصدیق کا فیصلہ نہیں ۔ یہ شرط ٹیڑھی کھیر ہے اس پر تو ہم بھی صاد کرتے ہیں ۔ یہ شرط صاف لفظوں میں گویا مرزا صاحب کو قطعی طور پر پکار پکار کر منع کیا جاتا ہے کہ میدان مناظرہ میں بھول کر بھی قدم نہ رکھنا تھا۔
٣٥٨
پسند نہیں فرمائیں گے، جو ظاہر بینوں کی نظر میں مرزا کی فتحیابی کا نشان ہوگا۔ نیز دوسرے علماء کرام کے ساتھ تحریری معارضہ کو چالیس والی شرط کے ساتھ گانٹھنا بھی راز رکھتا ہے کوئی بتلا سکتا ہے کہ مرزا چالیس سے کم علماء کے ساتھ کیوں اب تحریر سے مباحثہ نہیں کرتا اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کو جھوٹی شیخی اور بیہودہ تعلی دکھانی مطلوب ہے ورنہ اگر صرف تصدیق دعویٰ اور ہدایت علماء مقصود ہوتی تو اس خاکسار نے جو ١٣؍ اگست ١٩٠٠ء کو سراج الاخبار جہلم میں بہ تسلیم جملہ شرائط مرزا کو میدان مباحثہ میں بلایا تھا اور بعد ازاں خط بھی ارسال کیا تھا۔ اور صاف لکھا تھا کہ مجھے بلا کم و کاست آپ کی جملہ شرائط منظور ہیں۔ آئیے جس صورت پر چاہو مقابلہ کر لیجیے۔ اس کے جواب میں مرزا جی ایسے دم بخود ہوئے کہ اب تک کروٹ نہیں بدلی۔ وہ مضمون بھی اڑا دیا اور وہ خط بھی غائب کر دیا۔
مفتی صاحب...... پیر صاحب اور ان کے مولوی غازی صاحب اس اشتہار مطبوعہ ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء کے جواب میں حضرت مولوی سید محمد حسن صاحب امروہوی نے ایک اشتہار قادیاں سے ١٤؍ اگست ١٩٠٠ء کو نکالا۔ جس میں سید صاحب موصوف نے پیر صاحب اور غازی صاحب ہر دو کی تمام باتوں کے مفصل جوابات نہایت عمدگی سے دیئے۔ اور پھر اتمام حجت کے لیے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر پیر صاحب سیدھی طرح حضرت امامنا کی مقابلہ پر تفسیر لکھنا نہیں چاہتے اور تفسیر القرآن میں مقابلہ کو ٹالنے کے واسطے ضرور مباحثہ ہی کرنا چاہتے ہیں تو مباحثہ کے واسطے میں حاضر ہوں اور ساتھ ہی محمد حسن صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ اگر وہی تین مولوی جو ہمارے مخالف اور پیر صاحب کے موافق ہیں اس وقت مجوزہ قسم کھا کر یہ شائع کریں کہ پیر صاحب گولڑوی نے رعب میں آ کر مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے یہ تجویز نہیں کی۔ بلکہ انہوں نے نیک نیتی سے یہ کارروائی کی تھی۔ تب بھی ہم مان لیں۔ اس پر نہ تو مولوی محمد حسن صاحب کے ساتھ منظور کیا گیا اور نہ ان مولویوں میں بھی کسی کو قسم دلائی گئی۔
حافظ صاحب...... ان تحریروں کو اس لیے بے معنی خیال کیا گیا کہ خود مرزا نے اپنے اشتہار مشتہرہ ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے کہ ہر دو امور کا فیصلہ علی الترتیب مطلوب ہے۔ اور پہلے ایک اشتہار میں مولوی محمد غازی صاحب نے مرزائی جماعت کو صاف طور پر مطلع کر دیا تھا کہ پیر صاحب موصوف اس صورت میں قلم اٹھائیں گے یا کوئی مباحثہ کریں گے جب کہ بالمقابل مرزا خود میدان میں آئے یا کچھ تحریری بحث کرے۔ ورنہ نہیں پس حضرت پیر صاحب کی جوابی چٹھی مطبوعہ ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء خاص مرزا کے نام پر تھی بصورت انکار مرزا کو بذات خود جواب دینا
٣٥٩
چاہیے تھا۔ لیکن اس نے باوجود عرصہ مدت ایک ماہ کے کوئی انکار شائع نہیں کرایا۔ بلکہ اپنے طریق عمل سے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ اس امر پر راضی ہے۔ (یعنی خاموشی ہے)
مفتی صاحب ...... پیر صاحب تو خاموش رہے لیکن راولپنڈی سے ان کے ایک مرید نے (حکیم سلطان محمود خاں) گند کا بھرا ہوا ایک اشتہار شائع کر دیا کہ مولوی محمد احسن کے ساتھ مباحثہ نہیں کرتے۔ خود مرزا صاحب کریں اور لوگوں کو دھوکا دینے کے واسطے اپنی طرف سے اخیر میں مضحکہ کے طور پر (حکیم سلطان محمود خاں صاحب نے) یہ بھی لکھ دیا کہ اگر مرزا صاحب نہیں مانتے۔ تو پیر صاحب کو ساری شرائط منظور ہیں۔ ہم نے بذریعہ اشتہار درخواست کی کہ جو کچھ آپ کا مرید کہہ بیٹھا ہے۔ آپ اپنی زبان مبارک سے فرمادیں کہ ہم کو سب شرائط مرزا صاحب کی بلا کم و بیش منظور ہیں مگر مجال کیا ہے کہ پیر صاحب ایسا کہتے بلکہ وہ دل ہی دل میں حکیم سلطان محمود پر خفا ہوتے ہوں گے کہ وہ بے مراد بغیر ہماری اجازت ایسا کہہ بیٹھا۔ اس کے بعد پیر صاحب لاہور میں آئے تو پیر صاحب کے مریدوں نے پھر وہی اشتہار مباحثہ کا دیا۔ از واقعات صحیحہ۔
حافظ صاحب ...... تمہاری زبان سے خود اقرار ہے کہ حکیم سلطان محمود نے اشتہار شائع کیا۔ اصل یہ ہے کہ میں نے خود ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مرزا کے سکوت پر چھاپ کر خاص مرزا کے نام بھیجی اور عام مشتہر کی۔ اس کا بھی کچھ جواب نہ آنے پر رجسٹری شدہ چٹھی نمبر ٤ چھاپ کر مرزا صاحب کو روانہ کی اور عام تقسیم کر دی اس کے جواب کا بھی انتظار ہی رہا۔ مگر مرزا کو کہاں ہوش و تاب کچھ جواب دیتا۔ تاہم اس کا رہا سہا عذر رفع کرنے کے لیے حکیم سلطان محمود صاحب ساکن حال منڈی نے (جس کی طرف سے پہلے اشتہارات شائع ہوئے تھے) ایک مطبوعہ اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا کے پاس روانہ کر دیا۔ جس کا آخری مضمون یہ تھا اگر مرزا کی علمی اور عملی کمزوریاں اس کو اپنی من گھڑت شرائط کے احاطہ سے باہر نہیں نکلنے دیتیں۔ اور اسی ضدی (اوں اوں) ہماری ہی پیش کردہ شرائط تسلیم کرو۔ تو ہم بحث کریں گے ورنہ نہیں خیر یہ ہی سہی پیر صاحب تمہاری پیش کردہ شرطیں بعینہ جس طرح تم نے پیش کی ہیں منظور کر کے تمہیں چیلنج کرتے ہیں۔ کہ تم مقررہ تاریخ یعنی ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور آجاؤ علاوہ ازیں پیر صاحب نے مجھ کو ایماء فرمایا۔ کہ ہماری طرف سے مرزا کی جملہ شرائط کی منظوری کا اعلان کردو۔ چنانچہ بندہ نے حسب ایماء پیر صاحب بذریعہ اشتہار ٢٤؍ اگست ١٩٠٠ء مشتہر کر دیا کہ آج بروز جمعہ ٤ بجے شام کی ٹرین میں بوجہ ہمدردی اسلام پیر صاحب مرزا کی تمام شرائط منظور کر کے لاہور تشریف فرما ہوں گے اور محمدن ہال انجمن اسلامیہ واقع موچی دروازہ لاہور میں بغرض انتظار مرزا صاحب قیام فرماویں گے۔ چنانچہ وہ
٣٦٠
اسی شام گاڑی میں معہ دو تین سو علماء و مشائخ وغیرہ ہمراہیاں کے تشریف فرمائے لاہور ہوئے۔
حضرت ممدوح کی زیارت اور استقبال کے لیے اس شوق و ولولہ سے لوگ گئے کہ اسٹیشن اور بادامی باغ پر شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ شوق دیدار سے لوگ دوڑتے اور ایک پر گرتے چلے جاتے تھے۔ حضرت ممدوح اسٹیشن سے باہر ایک باغ میں چند منٹ استراحت فرما کر محمدن ہال موچی دروازہ میں مقیم ہوئے۔
لاہور کے علماء کرام جو آپ کی تشریف آوری کے منتظر تھے۔ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے نیز اور بھی علماء اور مشائخ و معززین اسلام، پشاور، پنڈی، جہلم، سیالکوٹ، ملتان، ڈیرہ جات، گجرات، گوجرانوالہ، امرتسر وغیرہ وغیرہ قصبات سے بغرض شمولیت مجلس مناظرہ مصارف کثیرہ کے متحمل ہوکر آپہنچے۔ مرزا کے لاہوری پیروں نے مرزا کے نام خطوط ضروری و تار روانہ کیے۔ بلکہ بعض گرم جوش چیلے نہایت مضطرب حالت میں قادیاں پہنچے۔ اور ہر چند اپنے پیر مرشد مرزا کو لاہور لانے کے لیے منت و سماجت کی۔ پاؤں پڑے۔ مگر دلی کمزوری نے ان (مرزا صاحب) کو اپنے ضدی پیروؤں کی طرف مائل نہ کیا اور بیت الفکر میں ہی داخل رہا۔
حضرت پیر صاحب ٢٢ اگست ١٩٠٠ء سے آج تک لاہور میں رونق افروز ہیں۔ اور مرزا کا ہر ایک ٹرین میں بڑے شوق سے اس وقت تک انتظار کیا جاتا ہے۔ مگر ادھر سے صدائے برنخواست کا معاملہ ہے۔ یہ حقیقت میں خود مرزا صاحب کے اپنے قول کے مطابق ایک الٰہی عظمت و جلال کا کھلا کھلا نشان تھا جس نے مرزا کی جھوٹی اور بیجا شیخی کو کچل ڈالا۔ اور آپ کے حواس کی وہ گت ہوئی کہ مقابلہ و مباحثہ لاہور تو درکنار آپ کو سوائے اپنے بیت الفکر کے تمام دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی۔ وقذف فی قلوبہم الرعب کا مضمون دنیا کے صفحہ پر معرض ظہور میں آیا برخلاف اس کے حضور پرنور حضرت پیر صاحب ممدوح کے دست پر خداوند کریم نے وہ نشان ظاہر کر دیا وکان حقا علینا نصر المومنین ۔ جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔ خداوند عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس اور پاک ذات پر نبوت اور رسالت کے تمام مدارج ختم کر دیے ہیں۔ جس طرح سے سینکڑوں جھوٹے رسولوں کو اپنی غیرت سے اور خود ان کی اپنے کفر و غرور سے انہیں ذلیل و خوار کر دیا ہے۔ ایسا ہی اس نے مرزا کی جھوٹی مہدویت اور رسالت مسیحیت کا بھی خاتمہ کر دیا۔ اور آج دنیا پر بخوبی روشن ہو گیا کہ سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ کی مخصوصہ شناخت اور مفوضہ مراتب کے اندر بیجا مداخلت کرنے والے اسی طرح علی رؤس الاشہاد روسیاہ ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے خود ذبح ہو جاتا ہے کیا غور و عبرت کا مقام نہیں ہے کہ مرزا نے بلا کسی تحریک کے خود بخود
٣٦١
حضرت پیر صاحب اور نیز ہند و پنجاب کے تمام مسلم الثبوت مشائخ و علماء کو تحریری اور تقریری مباحثہ کی دعوت کا اعلان جس کی ہزار کاپیاں ہند و پنجاب کے تمام اضلاع واطراف میں مرزا نے خود تقسیم کیں۔ اور اپنی عربی و قرآن دانی میں وہ درافشانی کی ۔ کہ جس کا خواب میں بھی خیال کرنے کا مستحق نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے لکھا کہ میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ پہنچوں تو پھر میں مردود جھوٹا اور ملعون۔ اس شدومد کے اشتہار کے بعد جب اس کو پیر صاحب نے بمعہ دیگر علماء کرام بمنظوری شرائط لاہور میں طلب کیا۔ تو فرار کے سوائے بزدلانہ گریز کے اور کوئی کارروائی ظہور میں نہ آئی۔ سخت افسوس کا موقع ہے۔ کہ مرزا کے مرید انہیں دنوں میں جبکہ پیر صاحب خاص لاہور میں سینکڑوں علماء و فقراء اور ہزاروں مریدوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ اس معنوں کے اشتہارات شائع کرتے ہیں کہ پیر صاحب مباحثہ سے بھاگ گئے۔ اور شرائط سے انکار کر گئے۔ سبحان اللہ ڈھٹائی اور بے شرمی ہو تو ایسی ہو ورنہ ع بگوئم روبروئے ما۔
اس موقع پر مرزا مسیحی تعلیم پر سخت افسوس کرتا ہے کہ کیا امام الزماں کی تعلیم کا بھی اثر ہونا چاہیے کہ ایسا سفید جھوٹ لکھ کر مشتہر کیا جائے ۔ اور زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ ہندو اخبار بھی مرزائیوں کی اس ناشائستہ حرکت پر نفریں کر رہے تھے اور ہنسی اڑا رہے ہیں ۔ سلسلہ تقریر ختم ہوا اور سب لوگ جامع مسجد شاہی میں جمع ہوئے اور کارروائی جلسہ شروع ہوئی۔
مولوی محمد علی صاحب ...... نے دربارہ عقائد مرزا قادیانی کچھ وعظ فرمایا کہ یہ اس کے عقائد ہیں۔ جو صریحاً مخالف قرآن شریف وسنت و اجماع امت ہیں۔
مولانا مولوی عبدالجبار صاحب ...... غزنوی نے وعظ فرمایا جس کا ماحصل یہ تھا۔ کہ رسول کریم اور صحابہ کرام کے افعال واقوال یہ تھے۔ پس جو شخص ان کے مطابق چلنے والا ہے۔ وہ ان کا پیرو ہے اور جو ان کے مخالف ہے وہ مرتد اور کافر ہے چنانچہ مرزا قادیانی کے افعال اور اقوال قطعاً مخالف سنت نبویہ و روش صحابہ کرام ہیں اس لیے اہل اسلام کو اس سے بچنا چاہیے۔
ابو الفیض مولوی محمد حسن صاحب ...... ایک پر زور تقریر میں اصحاب جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔ خصوص ان صاحبوں کا جو دور دراز بلاد وامصار سے تشریف لائے تھے۔
مولوی تاج الدین صاحب ...... مولانا مولوی ابو الفیض محمد حسن صاحب کی تائید کی۔ اور مرزا کے چند اشتہارات سے ان کی اس قسم کی کارروائیوں پر نہایت تہذیب اور شائستگی سے نکتہ چینی کی۔
مولانا ابو سعید عبد الخالق صاحب ...... نے مرزا اور اس کی بیہودہ کارروائیوں کی نسبت سنجیدہ ریمارک کیے۔
٣٦٢
پھر ایک نابینا صاحب نے جو نظم پڑھی ۔ جس کی نسبت حضرت ابو سعید نظمیں پڑھنے کا موقعہ نہیں ہے بلکہ یہاں مولانا ابو الوفاء مولوی ثناء اللہ صاحب ا نسبت زبر دست دلائل بیان فرمائے اور جواب دینا بھی گویا علماء کرام کی ہتک ہے
مولوی مفتی محمد عبد اللہ صاح اسلام لاہور ...... چند آیات قرآن کریم ت نسبت تردید کی۔
مولوی احمد الدین صاحب ...... ساکن مو پراثر تقریر کی۔ آخر میں حضرت فخر الاصفی نے آمین کے نعرے بلند کئے جلسہ بر خاس
ہمارے حضرت اقدس مراقبہ میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ پاؤں
خادم ..... حضور مبارک ، پیر مہر علی شاہ ص
حضور ..... فالحمد لله على ذلك ا
خادم ..... کل اور ایسے سر پر پاؤں رکھ کر
حضور ...... ذرا ہوش و حواس درست کری کیا۔ حقے کا طلائی پیچ سنبھالا ۔ رومال ۔ تمام حواری اور مصاحب ح قالبوں میں جان آگئی ۔ ہنس کر بیٹھ گے
بلند ہوا۔
حواری ..... وقذف في قلوبهم الرعب آئے تھے۔ سب بھاگے اگر حضور لاہو
مرزا صاحب ..... یہ بھی ایک نشان آس
مشیر اعلیٰ ..... اب وہ اشتہار چھپوا کر شا
پھر ایک نابینا صاحب نے جو اپنے آپ کو ”ظریف“ تخلص کرتے تھے۔ ایک ظریفانہ نظم پڑھی۔ جس کی نسبت حضرت ابوسعید عبد الخالق صاحب موصوف فوراً کھڑے ہو کر فرمایا کہ یہ نظمیں پڑھنے کا موقعہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو اقوال فیصل اہل الرائے علماء کرام کے بکار ہیں۔
مولانا ابوالوفاء مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری...... مرزا کی تمام پیشگوئیاں غلط ثابت ہونے کی نسبت زبردست دلائل بیان فرمائے اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے شخص کو مخاطب کرنا یا اس کی کسی تحریر کا جواب دینا بھی گویا علماء کرام کی ہتک ہے اور ان کی شان سے بعید۔
مولوی مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی پروفیسر اوری انٹیل کالج و پریذیڈنٹ حمایت اسلام لاہور...... چند آیات قرآن کریم و احادیث نبویہ اور نیز دلائل عقلیہ سے مرزا کے عقائد کی نسبت تردید کی۔
مولوی احمد الدین صاحب...... ساکن موضع شاہاں ضلع جہلم نے مرزائی خیالات کی تردید میں ایک پراثر تقریر کی۔ آخر میں حضرت فخر الاصفیاء و علماء پیر مہر علی صاحب نے دعا خیر کی۔ اور تمام حاضرین نے آمین کے نعرے بلند کئے جلسہ برخاست۔
ہمارے حضرت اقدس امام الزماں مسیح موعود جناب مرزا صاحب بیت الفکر میں تنہا مراقبہ میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ پاؤں کی چاپ ہوئی سر اٹھا کر جو دیکھا تو خادم ہے۔
خادم...... حضور مبارک، پیر مہر علی شاہ بھاگ گئے۔
حضور...... فالحمد لله على ذلك! دل میں، رسیدہ بود بلائے ولے بخیرگزشت کب بھاگے؟
خادم...... کل اور ایسے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے کہ پیچھے پھر کر نہیں دیکھا۔
حضور...... ذرا ہوش و حواس درست کر کے عمامہ سر سے اتار کر پھر سر پر رکھا۔ آئینہ سے اس کو درست کیا۔ لنگی کا طلائی پیچ سنبھالا۔ رومال سے منہ صاف کر باہر تشریف لائے۔
تمام حواری اور مصاحب جو مردہ صد سالہ کی طرح بے جان پڑے تھے اٹھے سب کے قالبوں میں جان آگئی۔ ہنس کر بیٹھ گئے اور کھڑے ہو کر سرو قد تعظیم دی۔ اور مبارک سلامت کا شور بلند ہوا۔
حواری...... وقذف فی قلوبہم الرعب۔ حضور کا رعب چھا گیا۔ سب ملاں (علماء) اور سجادہ نشین جو آئے تھے۔ سب بھاگے اگر حضور لاہور تشریف لے جاتے خدا جانے ان کی کیا کیفیت ہوتی۔
مرزا صاحب...... یہ بھی ایک نشان آسمانی ہے کہ ہم نہ جائیں ہمارا دشمن ڈر کر بھاگ جائے۔
مشیر اعلیٰ...... اب وہ اشتہار چھپوا کر شائع کرا دیجیے اب کیا انتظار پیر صاحب تو اب بھاگ ہی گئے۔
٣٦٣
مرزا صاحب...... ایک اشتہار اس مضمون کا لکھ دو کہ میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ہمراہ ہیں اور ایسے ہی لاہور کے بھی۔
پس اس اشتعال کے وقت میں بجز لاہور کے رئیسوں کے پورے طور کی ذمہ داری کے۔ میرا لاہور میں قدم رکھنا گویا آگ میں قدم رکھنا ہے۔
مخالفین...... سبحان اللہ تقریر کا عذر رفع ہونے پر اب معززین اسلام کی ذمہ داری اور تشریف آوری کا حیلہ نکالا اور قادیانی اور چال چلا۔
کیا پہلے اس کے الہامی خدا نے اسے یہ خبر نہ دی تھی۔ پس حیلہ سازیوں سے بجز رسوائی کے اس یعنی مرزا کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟
باب ٥٦ پنجاہ و ششم
طاعون
مرزا صاحب نے پہلے اہل اسلام کی طرف سے وکیل ہو کر بمقابلہ مخالفان اسلام ھل من مبارز کی آواز بلند کی۔ جب اس میں کامیابی ہوئی۔ تو ملہم مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور چار جانب دعوت بیعت کے اشتہار دیئے اور ایک سفر ملک پنجاب وغیرہ کا کیا اس کے بعد اپنی پیشگوئیوں اور مستجاب الدعوات ہونے کا اعلان دیا۔ اس میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ پھر دعویٰ نبوت بقیہ مسیح مشتہر کر کے علماء اہل اسلام کی مخالفت میں علم مناظرہ افراشتہ کیا۔ لاہور، لدھیانہ، دہلی وغیرہ میں اشتہارات کے ذریعہ سے تاریخ مجالس مناظرہ مقرر کیں۔ گو قیود شرائط کی وجہ سے بالمقابل مناظرہ تو کہیں نہیں ہوا۔ مگر فریقین کے اشتہاروں کی اشاعت نے مرزا صاحب کو تمام دنیا میں مشہور کر دیا اور یہی ان کی غرض تھی۔ اس میں بھی مرزا صاحب کو کامل طور سے کامیابی حاصل ہوئی۔ پھر لوگوں کی نسبت موت اور ذلت اور عذاب الٰہی کے نازل ہونے کے الہام اور پیشگوئیاں شروع کیں۔ ان پیشگوئیوں کے ظہور یا عدم ظہور کی نسبت ہم کوئی رائے ظاہر نہیں کرتے۔ ناظرین! خود اپنے اپنے مذاق کے موافق نتیجہ نکال سکتے۔ مگر شہرت ان میں بھی خوب ہوئی۔ کوئی مذہب اور ملت ایسی نہ ملے گی۔ جس میں کوئی کتاب یا رسالہ مرزا صاحب کے حالات کا شائع نہ ہو۔ مگر آخر کار مرزا صاحب کو ایسی پیشگوئی اور الہام کے اظہار اور اشاعت نہ کرنے کے بارے میں ایک اقرار نامہ صاحب ڈسٹرکٹ ضلع گورداسپور کی عدالت میں لکھنا پڑا۔ اس واسطے مرزا صاحب کو دوسرا پہلو اپنے خیالات کی اشاعت کے واسطے بدلنا پڑا۔ ایک رسالہ ماہواری غیر
٣٦٤
ملکوں (یورپ) میں انگریزی میں جاری کیے اور واعظوں کو بھی مقرر کیا ہے ایک رسالہ دافع البلاء ہولناک مرض کے بارے میں جو ملکہ
- ١....... پہلے ڈاکٹر اور حکماء کے خ
- ٢....... پھر مسلمانوں کے خیالا
- ٣....... پھر آریہ اور سناتن دھرم
فرمائے ہیں۔ پھر فرمایا ہے۔ ” اب اے ناظرین خو کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فرو جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ لائق ہے جو جلد تر گلے میں آ سکیں ثبوت پیش کرتا ہوں۔ چار سال ہو طاعون آنے والا ہے۔ اور میں نے اور گاؤں میں لگائے گئی ہیں۔ اکٹھ کر دے گا۔ مگر بجائے توبہ کے بھ جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے ہوئی۔ اس کی یہ عبارت ہے۔ ان الله لا يغير ما بـ یعنی خدا نے یہ ارادہ کر لیا تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر اور رسول کو مان نہ لیں۔ تب تک سے محفوظ رکھے گا۔ تم سمجھو کہ یہ قادیاں میں تھا۔ اب دیکھو تین برس ہو
ملکوں (یورپ) میں انگریزی میں نکالا گیا۔ ہفتہ وار الحکم اور البدر دو اخبار ہندوستان کے واسطے جاری کیے اور واعظوں کو بھی مقرر کیا گیا کہ جاہلوں کی ترغیب و تحریص کے واسطے یہ امر ضروری تھا۔
ایک رسالہ دافع البلاء نام چھاپا۔ جس کی پیشانی پر سرخی (طاعون) لکھا ہے اس ہولناک مرض کے بارے میں جو ملک میں پھیلتی جاتی ہے۔ لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔
- ١...... پہلے ڈاکٹر اور حکماء کے خیالات دو صفحوں میں ظاہر کیے ہیں۔
- ٢...... پھر مسلمانوں کے خیالات لکھے ہیں۔
- ٣...... پھر آریہ اور سناتن دھرم کے فرقہ ہندوں میں سے ہیں اور عیسائیوں کے خیالات ظاہر
فرمائے ہیں۔ پھر فرمایا ہے۔
’’اب اے ناظرین خود سوچ لو کہ اس قدر متفرق اقوال اور دعاوی سے کس قول کو دنیا کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اعتقادی امور ہیں اور نازک وقت میں جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ کرے۔ خود دنیا کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس لیے وہ بات قبول کے لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آسکتی ہے اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے۔ سو میں وہ بات معہ ثبوت پیش کرتا ہوں۔ چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی۔ کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والا ہے۔ اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں۔ اگر لوگ توبہ کریں تو یہ مرض جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی۔ خدا اس کو رفع کر دے گا۔ مگر بجائے توبہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں۔ اور سخت بدزبانی کے اشتہار شائع کیے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اب دیکھ رہے ہو۔ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی۔ اس کی یہ عبارت ہے۔
ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا مابا انفسهم انه اوى القرية۔
یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے۔ کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں۔ جو ان کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں۔ تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔ اور قادر خدا قادیاں کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تم سمجھو کہ قادیاں اسی لیے محفوظ رکھے گا کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیاں میں تھا۔
اب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہوگئے یعنی ایک
٣٦٥
طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی۔ اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیاں کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلے پر طاعون کا زور ہو رہا ہے۔ مگر قادیاں طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیاں میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہوگا؟ .......... وغیرہ اس بیماری کے دفع کے لیے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ بھی یہی کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔ .................
پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی مجھے خبر دی چنانچہ وہ عزوجل فرماتا ہے:
ما كان الله ليعذبهم وانت فيهم انه اوى القرية لولا الاكرام لهلك المقام انى انا الرحمن دافع الاذى ٠ انى لا يخاف لدى المرسلين انى حفيظ انى مع الرسول اقوم الوم من يلوم افطر و اصوم غضبت غضبا شديد الارض تشاع والنفوس تضاع الا الذين آمنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون انا ناتى الارض ننقصها من اطرافها انى اجهز الجيش فاصبحوا فى دارهم جاثمين۔ سنريهم آياتنا فى الافاق وفى انفسهم نصر من الله وفتح مبين۔ انى بايعتك بايعنى ربى انت بمنزلة اولادى انت وانا منك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا۔ الفوق معك والتحت مع اعدئك فاصبر حتى ياتى الله بامره ياتى على جهنم زمان ليس فيها احد (ترجمہ)
”خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو ان میں رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچا لے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا۔ اور تیرا اکرام مدنظر نہ ہوتا۔ تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔ میں رحمٰن ہوں جو دکھ دور کرنے والا ہے۔ میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں۔ میں نگاہ رکھنے والا ہوں میں اپنے رسولوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا۔ جو میرے کو ملامت کرتا ہے۔ میں وقتوں کو تقسیم کر دوں گا۔ کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی۔ یا بالکل نہیں رہے گی۔ میرا غضب بھڑک رہا ہے۔ بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ایمان میں کچھ نقص نہیں ہوگا۔ وہ امن میں رہیں گے اور ان کو مخلصی کی راہ ملے گی۔ یہ خیال مت کرو۔ جرائم پیشہ بچے ہوئے ہیں ہم ان کی زمین کے قریب آتے جاتے ہیں۔ میں اندر ہی اندر اپنا لشکر تیار کر رہا ہوں۔ یعنی طاعونی کیڑوں کو پرورش دے رہا ہوں۔ پس وہ اپنے
٣٦٦
گھروں میں ایسے ہو جائیں گے جیسا کہ اونٹ مرا رہ جاتا ہے۔ ہم اپنے نشان پہلے تو دور دور کے لوگوں میں دکھائیں گے۔ پھر انہی میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔ میں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے یعنی ایک چیز میری تھی جس کا تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔ تو بھی اس خرید و فروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی ہے تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد تو مجھ سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔ وہ وقت قریب ہے۔ کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا۔ کہ دنیا تیری حمد و ثناء کرے گی۔ فوق تیرے ساتھ ہے اور تحت تیرے دشمنوں کے ساتھ۔ پس صبر کر جب تک کہ وعدہ کا دن آجائے۔ طاعون پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ کوئی بھی اس میں گرفتار نہ ہوگا۔ یعنی انجام کار خیر و عافیت ہے۔"
(دافع البلاء ص ٦ تا ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦ تا ٢٢٨)
اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں۔
- ١...... اول یہ کہ طاعون دنیا میں اس لیے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا
گیا۔ بلکہ اس کو دکھ دیا گیا۔
- ٢...... دوسری ...... یہ کہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی۔ جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول
کرلیں گے۔
- ٣...... یہ کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے
قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے۔ اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔
اب اگر اللہ تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہے اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے ........... وغیرہ وغیرہ باوجود مخالفت اور دشمنی اس رسول کے طاعون دور ہوسکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابلِ پذیرائی نہیں۔ پس جو شخص ان تمام فرقوں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے۔ اب بہت اچھا موقعہ ہے۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لیے ایک نمائش گاہ مقرر کی گئی ہے۔ اور خدا نے سبقت کرکے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے۔
اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ بنارس کی نسبت وغیرہ وغیرہ سناتن دھرم والا کسی اور شہر کو جہاں گائیاں بہت ہوں ...... اور عیسائی لوگ کلکتہ کی نسبت
٣٦٧
اسی طرح میاں شمس الدین اور ان کی انجمن حمایت الاسلام کے ممبروں کو چاہیے لاہور کی نسبت۔
الٰہی بخش اکاؤنٹینٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اپنے الہام سے لاہور کی نسبت اور مولوی عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت۔
اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دہلی ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دہلی کی نسبت۔
خدا اور اپنے اپنے معبودوں سے دعا کر کے پیشگوئی کریں کہ یہ شہر طاعون سے محفوظ رہیں گے۔
پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کی بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ اسی سال یا اس سے آئندہ سال میں قادیاں میں چند کیس طاعون کے ہوئے مگر مرزا صاحب نے رسالہ مذکور کے صفحہ ٥ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ: ”اوی عربی لفظ ہے جس کے معنی میں تباہی اور انتشار سے بچانا اور اپنی پناہ میں لے لینا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے۔ طاعون کی قسموں سے وہ طاعون جو سخت بربادی بخش ہے۔ جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو دینے والا جس سے لوگ جا بجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے پس اس کلام الٰہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیاں پر وارد نہ ہوگی۔“ وغیرہ وغیرہ۔
اس واسطے اس طاعون کا ذکر جو سنین گزشتہ میں ہوا۔ ان کا حال جو درج پیسہ اخبار ہوا یا صحیفہ بجنور وغیرہ میں درج ہوا۔ بوجہ طوالت کے نہیں کرتے اس سال یعنی ١٩٠٤ء میں قادیاں میں طاعون پھوٹا۔ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
(الحکم قادیان ١٠ اپریل ١٩٠٤ء) اللہ تعالیٰ کے امر و منشاء کے ماتحت قادیاں میں مارچ کی آخری تاریخوں میں پلیگ پھوٹ پڑی۔ ٤، ٥ کے درمیان روزانہ اوسط موتوں کی مدد سے بازار بند ہو گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پلیگ افسر کو بذریعہ چٹھی قادیان کی حکام کو ڈس انفیکٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ مگر ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی گئی تھی۔ اور پھر باشندگاں قصبہ نے صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی خدمت میں بھی ایک درخواست دی تھی۔ جو غالباً منظور ہو چکی ہے۔
٣٦٨
مگر ابھی تک کوئی ڈاکٹر قادیاں میں صفائی مکانا کر دن بھر باہر کھیتوں اور میدانوں میں بسر کر کم ہو گیا ہے اور جو لوگ کہتے تھے کہ ہمارے گ کی پیشگوئی غلط ہو جائے۔ وہ اپنے ایسے دعو طاعون بھی پھوٹ پڑی۔ اور پیشگوئی بھی پور قادیاں میں طاعون نہ ہوگی۔ بہر حال اس وق سکول آخر اپریل تک فی الحال بند کر دیا گیا ہ الحال اپنے ارادے کو ملتوی رکھیں تو مناسب ہ
خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے ذمہ اور کوئی فوت بھی نہیں ہوا۔ سب تندرست ہیں او
ہاں قصبہ کے اندر ایک احمدی کی بچ کے سینہ سے خون آنے لگا تھا۔ وہ فوت ہو گئی ہ
(اہلِ حدیث ٢٢؍ اپریل ١٩٠٤ء) ( قا
تکبر نہ بری شے ہ
اللہ اللہ! ابھی کل کا ذک آئے گا۔ کوئی ہے کہ ہماری طرح ا قادیان سے دو دو کوس پر طاعو قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ ر
وہ ساری ان کی س
آج کوئی ہے کہ قادیان میں ج آبادی سے بہ مشکل تین سو آدمی نظر آتے ہیں ہیں۔ مراسلہ مندرجہ ذیل کو پڑھیے۔
جناب اڈیٹر صاحب اخبار اہل
مگر ابھی تک کوئی ڈاکٹر قادیاں میں صفائی مکانات وغیرہ کے واسطے نہیں آیا۔ باشندہ گاؤں کو چھوڑ کر دن بھر باہر کھیتوں اور میدانوں میں بسر کرنے لگے ہیں۔ وہ ہنسی ٹھٹھا جو چند روز پیشتر تھا۔ اب کم ہو گیا ہے اور جو لوگ کہتے تھے کہ ہمارے گھروں میں طاعون بیشک پڑ جائے لیکن مرزا صاحب کی پیشگوئی غلط ہو جائے۔ وہ اپنے ایسے دعوؤں پر پچھتاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا بڑا نقصان ہوا۔ طاعون بھی پھوٹ پڑی۔ اور پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔ حضرت اقدس نے کبھی یہ نہیں فرمایا تھا کہ قادیاں میں طاعون نہ ہو گی۔ بہرحال اس وقت قادیاں پر طاعون کا حملہ ہو رہا ہے۔ تعلیم الاسلام سکول آخر اپریل تک فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔ آج کل دارالاماں میں آنے والے احباب فی الحال اپنے ارادے کو ملتوی رکھیں تو مناسب ہے۔
خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے ڈیرہ میں اس وقت تک پوری خیریت ہے کوئی بیمار بھی نہیں اور کوئی فوت بھی نہیں ہوا۔ سب تندرست ہیں اور اللہ جل شانہ سب کو بامن وامان تندرست رکھے۔
ہاں قصبہ کے اندر ایک احمدی کی بیوی جو بہت دنوں سے بیمار چلی آتی تھی۔ اور آخر اس کے سینہ سے خون آنے لگا تھا۔ وہ فوت ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(اہل حدیث ٢٢ اپریل ١٩٠٤ء) (قادیاں میں طاعون) شعر
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
اللہ اللہ! ابھی کل کا ذکر ہے کہ قادیانی مسیح للکار للکار کر کہتا تھا کہ قادیاں میں طاعون نہ آئے گا۔ کوئی ہے کہ ہماری طرح الہام سے دعویٰ کرے کہ انہ اوی القریۃ کوئی ہے کہ بتلا دے۔ قادیاں سے دو دو کوس پر طاعون نے جو محشر قائم کر رکھا ہے۔ قادیاں میں کیوں نہیں آتا۔ خدا قادیاں کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ اللہ اللہ!
(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
آج کوئی ہے کہ قادیاں میں جا کر طاعون کی تباہی آنکھوں سے دیکھے۔ کہ تین ہزار کی آبادی سے بہ مشکل تین سو آدمی نظر آتے ہیں۔ دوکانیں بند ہیں۔ بازار ویران اور سنسان نظر آتے ہیں۔ مراسلہ مندرجہ ذیل کو پڑھیے۔
جناب اڈیٹر صاحب اخبار اہل حدیث۔ تسلیم! قادیاں میں آج کل سخت طاعون ہے
٣٦٩
مرزا صاحب اور مولوی نور الدین کے سوا تمام مرید قادیاں سے بھاگ گئے ہیں۔ مولوی نور الدین کا خیمہ قادیاں سے باہر ہے۔ اوسط اموات ٢٠۔٢٥ یومیہ ہے۔ مولوی نور الدین کی سالی کا لڑکا منظور الحق بھی چل بسا۔ مرزا جی نے اپنے گھر میں بالکل بندش کر دی ہے کہ کوئی آدمی نہ آنے پائے۔ حکیم نور الدین اور قطب الدین کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی مریض کے مکان پر نہ جائیں۔ مرزا جی کا سکول بھی بیماری کی وجہ سے بند ہے
(نامہ نگار قادیاں ١٤؍اپریل ١٩٠٤ء)
(اخبار البدر قادیاں ١٦؍اپریل ١٩٠٤ء) میں بھی کمال صفائی سے ایڈیٹر نے طاعون سے قادیاں کی صفائی کو تسلیم کیا ہے۔ (ایڈیٹر)
(پیسہ اخبار ٣٠؍اپریل ١٩٠٤ء) بہار قادیاں بینی : دارالاماں قادیاں آج کل پنجاب میں اول نمبر پر طاعون میں مبتلا ہے۔ بائیس موتوں کی پرسوں ١٢؍اپریل کو اوسط ہے۔
قصبہ میں خوفناک ہل چل مچی ہوئی ہے حضرت مسیح اور ان کے خاص حواری متفکر اور حواس باختہ ہو رہے ہیں۔ تعجب ہے کہ جو شخص حضرت امام حسینؑ سے برتری کا مدعی ہو۔ اتنے ہنگامہ میں بے اوسان ہو جائے۔ اگر کربلا کے مصائب میں سے ایک چھوٹی سی ساعت بے بس مرزا کے سامنے آ جاتی۔ تو خبر نہیں غریب کی کیا حالت ہوتی۔ بے محل نہ ہوگا۔ اگر الحکم اپنا مانو بدل دے اور لکھا کرے۔
دوا بینی شفا بینی غرض دارالاماں بینی
کی جگہ
وبا بینی بلا بینی غرض دارالزیاں بینی
بڑی بے موقعہ اور خلاف بات ہے کہ مرزا صاحب کو ایسے نازک وقت میں یہ کہہ کر سنائیں ۔ کہ آپ کی پیشگوئی کے خلاف یہ کیا آفت نازل ہو رہی ہے۔ بلکہ اس وقت میں ان کی دستگیری اور مدد کرنی چاہیے۔ کہ وہ آڑے وقت ہمارے کام آئیں: الراقم ایک سیاح۔
الحکم ٢٤؍اپریل ١٩٠٤ء
قادیان میں طاعون
کبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا
٣٧٠
مندرجہ بالا عنوان پر ٢٤؍اپریل ١٩٠٤ء کے اہل حدیث نے استہزاء کے رنگ میں ایک نوٹ لکھا ہے۔ اہل حدیث نے بہت سی دیسی اخباروں کے خلاف اپنے یوم اجراء سے یہ التزام کر رکھا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے صادق مرسل مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی نسبت سخت تلخ کلامی اور غیظ سے زہر اگلتا ہے۔ اور ایک سرآشفتہ کی طرح چودہویں صدی کے مجدد خدا تعالیٰ کے مسیح ومہدی کی عزت پر بڑھ بڑھ کر حملہ کرنا اپنا ایک فرض سمجھتا ہے۔ جس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ:
مقتضائے طبیعتش این است
ہم کو نہایت افسوس سے ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ باوجود ادعائے تقویٰ و دیانت ایسی تحریریں شائع کرتے ہوئے ذرا بھی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ اور نہ قوم کے سامنے ایسی جرأت اور دلیری کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ ہم حضرت مسیح موعود اور طاعون کے متعلق ایک مبسوط آرٹیکل لکھنا چاہتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ نے اس میں توفیق دی۔ تو اس مضمون پر سیر کن بحث کریں گے اور اس جلیل القدر نشان کو پیش کریں گے۔ اس وقت ہم صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں۔ کہ کیا کبھی قادیاں میں طاعون نہ ہونے کے متعلق حضرت اقدس نے کوئی پیشگوئی یا الہام شائع کیا ہے؟ یا نہیں؟ حضرت حجۃ اللہ کی کوئی بات مخفی راز نہیں ہے۔ بلکہ ایسے تمام الہامات اور پیشگوئیاں قبل از وقت ہم شائع کرتے رہے ہیں۔ اس لیے کہ کسی قدر اختصار کے ساتھ ہم الحکم کی ایک سال کی فائل میں سے چند اقتباس دانش مند اور انصاف پسند پبلک کے سامنے رکھتے ہیں۔ اور پھر اہل حدیث کے ایڈیٹر سے پوچھتے ہیں۔ کہ اگر خدا کے سامنے حاضر ہونے کا کچھ بھی خوف ہے تو بتاؤ یہ کہاں کہا گیا ہے؟ کہ قادیاں میں کبھی طاعون نہیں آئے گا۔
(دافع البلاء صفحہ ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ حاشیہ) ”آویٰ عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں تباہی اور انتشار سے بچانا اور اپنی پناہ میں لے لینا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون جو سخت بربادی بخش ہے۔ جس کا نام طاعون جارف ہے۔ یعنی جھاڑو دینے والی۔ جس سے جا بجا لوگ بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح سے مرتے ہیں۔ یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے۔ پس اس کلام الٰہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیاں پر وارد نہیں ہوگی۔ اسی کی تشریح یہ دوسرا الہام کرتا ہے۔ لولا الاکرام لھلک المقام (یعنی اگر مجھے اس
٣٧١
سلسلہ کی عزت ملحوظ نہ ہوتی تو میں قادیاں کو بھی ہلاک کر دیتا اس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں۔
- ......١ یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیاں میں بھی کوئی واردات شاذ و
نادر طور پر ہو جائے۔ جو بربادی بخش نہ ہو۔ اور موجب فرار و انتشار نہ ہو۔ کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے۔
- ......٢ بمقابلہ قادیاں کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بدچلن اور مفسد اس سلسلہ کے
خطرناک دشمن جن دیہات میں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ ان کے شہروں یا دیہات میں ضرور بربادی بخش طاعون پھوٹ پڑے گی۔ یہاں تک کہ لوگ بدحواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے۔ ہم نے اویٰ کے لفظ جہاں تک وسیع ہے اس کے مطابق تو یہ معنے کر دیے ہیں۔ اور ہم دعوٰی سے لکھتے ہیں کہ قادیاں میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے۔ مگر اس کے مقابل دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں۔ ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی تمام دنیا میں ایک قادیاں ہے جس کے لیے یہ وعدہ ہوا۔ فالحمد لله علی ذالك!
(الحکم ١٣ مئی ١٩٠٣ء)
قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون سے کوئی جگہ باقی نہ رہی گی۔ جیسا کہ فرمایا ان من القرية الا نحن مهلكوها قبل يوم القيامة او معذبوها اس سے لازم آتا ہے کہ کوئی قریہ مس طاعون سے باقی نہ رہے گا۔ اس لیے قادیاں کی نسبت یہ فرمایا۔ انه اوى القرية یعنی اس کو انتشار اور افراتفری سے اپنی پناہ میں لے لیا۔ سزائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک بالکلیہ ہلاک کرنے والی جس کے مقابلہ میں فرمایا لو لا الاكرام لهلك المقام یعنی یہ مقام ہلاک سے بچایا جائے گا۔ دوسری قسم کی سزا بطور تعذیب ہوتی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے قادیاں کو ہلاکت سے محفوظ رکھا ہے۔ اور تعذیبی سزا ممنوع نہیں بلکہ ضروری ہے۔
یہ حضرت اقدس کے ملفوظات ہیں۔ جو مندرجہ بالا تاریخ کو شائع ہوئے کیا اس سے صاف طور پر نہیں نکلتا کہ قادیاں میں طاعون کا آنا ضروری ہے اور اس طرح پر قادیاں میں طاعون کا آنا مصدق پیشگوئی ہے نہ مبطل پیشگوئی۔
پھر (الحکم نمبر ١٧ مورخہ ١٠؍مئی ١٩٠٢ء) میں مندرجہ ذیل ڈائری حضرت اقدس درج ہے:
(ملفوظات مرزا قادیانی ج ٣ ص ٢٨٠، مورخہ ٥؍مئی ١٩٠٢ء) رات کو تین بجے حضرت اقدس کو الہام ہوا۔ انی احافظ كل من فى الدار الا الذين حلوا بالاستکباری یعنی میں وار
٣٧٢
کی اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا۔ سوائے جنہوں نے تکبر کے ساتھ علو کیا۔ فرمایا علو دو قسم کا ہوتا ہے ایک جائز اور ایک ناجائز ...... جائز کی مثال وہ علو ہے۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا۔ اور ناجائز کی مثال وہ علو ہے جو فرعون میں تھا اور فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد یہ الہام ہوا۔ انی اری بالملائکہ الشداد یعنی میں سخت فرشتوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ مثلاً ملک الموت وغیرہ ہیں۔
فرمایا کہ خدا کے غضب شدید سے بغیر تقویٰ وطہارت کے کوئی بچ نہیں سکتا۔ پس سب کو چاہئے۔ تقویٰ وطہارت کو اختیار کریں وغیرہ وغیرہ۔
لیکن انہ اوی القریۃ میں یہ امر نہیں۔ وہاں انتشار اور ہل چل شدید ہے بچنے کا وعدہ معلوم ہوتا ہے۔
اس گاؤں میں دراصل اس قسم کے سخت دل اور مخالف دین اسلام لوگ موجود ہیں کہ اگر اس سلسلہ کا اکرام نہ ہوتا تو یہ سارا گاؤں ہلاک ہو جاتا۔ اور اب بھی اگر چہ ممکن ہے کہ بعض وارداتیں ہوں مگر تاہم اللہ ایک مابہ الامتیاز قائم رکھے گا۔
ایک بڑی طول طویل بحث کی اور اڈیٹر اہل حدیث کو ایک سخت ڈانٹ بتائی ہے پھر اس دعا پر ختم کیا ہے۔ اے خدائے قدیر و حکیم تو اس امت کی آنکھیں کھول کہ وہ تیرے مامور و مرسل کی شناخت کریں اور اس طوفان عظیم سے نجات پائیں۔ آمین
اس کے بعد چہ در قادیاں بینی کی سرخی لکھ کر ایڈیٹر پیسہ اخبار اور نامہ نگار سیاح کی خوب خبر لی ہے۔
(اہل حدیث ٢٦ مئی ١٩٠٤ء)
قادیاں میں طاعون
خزاں بینی وبا بینی غرض دارالزیاں بینی
مثل مشہور ہے دہقان کی پینتالیس عزتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ وہ ایک دو بلکہ تین چار بلکہ پانچ سات آٹھ دفعہ ذلیل ہونے سے اپنے آپ کو ذلیل نہیں جانتا۔ جب تک کہ حسب تعداد عزت ذلیل ہو کر سلب کلی نہ ہوئے۔ پھر یہ بھی شرط ضروری ہے کہ کسی حساب میں اس کو غلطی نہ ہو جائے۔ یہی حال ہمارے مرزا صاحب کا ہے۔ ایک دفعہ دو دفعہ نہیں۔ دس بیس دفعہ نہیں مرات کرات دفعہ آپ کی خاطر خواہ عزت ہوتی ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ مرزا صاحب زبان حال سے کہا کرتے ہیں:
٣٧٣
مرزا بنا کے کیوں میری مٹی خراب کی
کون سا مہینہ کون سا سال ہے جس میں ہمارے مرزاجی بحکم آیت کریمہ افـــــــلا یرون انهم يفتنون فى كل عام مرة او مرتين دو تین دفعہ ابتلاء میں نہ آتے ہوں سالہا گزشتہ کی رپورٹ کا دہرانا فضول ہے اسی سال کی سناتے ہیں۔ ٢٢ اپریل کے اہل حدیث میں قادیاں میں طاعون ہونے کا واقعہ درج کیا گیا تھا۔ اس پر بحکم الحق مر۔ مرزائی اخباروں میں ایک غیر معمولی طیش پیدا ہوا۔ اور اہل حدیث جیسے راست باز حق شعار پرچہ کی نسبت بہت کچھ زہر اگل رہے ہیں۔ چنانچہ الحکم سوال کرتا ہے کہ اہل حدیث کو اگر خدا کا خوف ہے تو بتلاوے کہ کہاں کہا گیا ہے کہ قادیاں میں کبھی طاعون نہیں آئے گا۔ ٢٤ اپریل۔
گو ناظرین اس عبارت سے مرزائیوں کی بے بسی معلوم کر سکتے ہیں کہ قادیاں میں طاعون ہونے کا کس لطیف پیرایہ میں اقرار ہے۔ اس لطیف سے الطف پیرایہ ایک اور ہے جس کو سن کر ناظرین اس پاک جماعت کی چالاکی اور شرم وحیا سے انگشت بدنداں ہوں گے اخبار البدر قادیاں کے دفتر سے ٢٥ اپریل کو خریداروں کو اطلاع دی گئی کہ اخبار یکم مئی تک بند رہے گا۔ مطبوعہ کارڈ میں لکھتے ہیں کہ: ”طاعون حضرت مسیح موعود کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔“ اللہ اللہ! کس دبی زبان سے اور کس ناز وانداز سے معشوقانہ ادا میں تسلیم کیا گیا ہے۔ اب سنیے! ہم آپ کو بتلاتے ہیں اور آپ کے سوال کا جواب دیتے ہیں۔
(دافع البلاء ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦) کو پڑھو کیسا صاف لکھا ہے کہ: ”قادیاں کے چاروں طرف تمام پنجاب میں پھیل گئی ہے۔ اور دوسری طرف باوجودیکہ قادیاں کے دو دو میل کے فاصلے پر طاعون کا زور ہورہا ہے۔ مگر قادیاں طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیاں میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت ہوگا؟“
اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ: ” قادیاں کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا کہ تم سمجھنا کہ قادیاں اسی لیے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول قادیاں میں تھا۔“
پھر (ص ٧ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) پر ایک الہام کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ: ”خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو (خود بدولت مرزا صاحب) اسی میں رہتا ہے۔“
پھر (ص١٠، خزائن ج١٨ ص ٢٣١) پر اپنے مخالفوں کو ڈانٹ بتلائی ہے کہ: ”میاں شمس
٣٧٤
الدین ........... وغیرہ وغیرہ ......... فلاں فلاں شہروں کی نسبت پیشگوئی کریں کہ طاعون سے محفوظ رہیں گے اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا ہے۔“
یہ ہیں مرزاجی کی تعلیاں ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان عبارات کا کیا مطلب ہے ہاں ہم اس سے انکاری نہیں کہ مرزاجی کو چونکہ اندر کا چور ڈرا رہا تھا کہ میری باتیں تو جیسی ہیں وہی ہیں۔ اس لیے بطور پیش بندی یا بحکم لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا کثیرا یہ بھی مرزاجی نے لکھا تھا کہ : ”کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیاں میں بھی کوئی واردات شاذ و نادر طور پر ہو جاتی۔ جو بربادی بخش نہ ہو۔ اور موجب فرار و انتشار نہ ہو۔ کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے۔“
(دافع البلا حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ حاشیہ)
ناظرین! الہامی صاحب کی اس عبارت کو بھی ہماری سفارش سے الہامی مان لیں لیکن مطلب اس کا خوب یاد رکھیں۔ بھولے ہوں تو ہم پھر بتلائے دیتے ہیں کہ قادیاں میں شاذ و نادر واردات ہوں گی۔ جو ایسی قلیل ہوں گی کہ کالعدم تصور ہوں گی۔
اس کلام کے بعد قادیانی عادل گواہ کی گواہی سنیے جس کا نام اخبار البدر ہے۔ آپ ١٦ اپریل کے پرچہ ص ٧ میں لکھتے ہیں کہ: ”یوگندر پال ( آریہ ) نے بڑے دعوے سے یہ پیشگوئی کی تھی۔ کہ ہم بذریعہ ہون کے قادیاں کو طاعون سے پاک وصاف کریں گے تو جلسہ کا ختم ہونا تھا کہ یوگندر پال تو کیا صاف کرتے ۔ خود طاعون نے صفائی شروع کر دی۔“
اب ناظرین! اس شاذ و نادر کو اور اس صفائی کو ذرا صفائی سے دیکھیے تاکہ کسی قسم کی کدورت باقی نہ رہے۔ اللہ اللہ ! کہاں یہ وعدے کہ قادیاں سے دو دو کوس تک طاعون نہ آئے جو بیمار اندر آتا ہے اچھا ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر اس کا نام دارالامن والامان رکھا گیا تھا۔
پھر یہ ترمیم کہ شاذ و نادر واردات ہوں گے جو معدوم کے حکم میں ہوں گی۔ جس کا یہ انجام بقول اڈیٹر البدر طاعون سے صفائی ہو گئی۔ ناظرین منتظر ہوں گے کہ صفائی کس حد تک ہوئی تو ان کی آگاہی کے لیے ہم اتنا بتلاتے ہیں کہ مارچ اپریل کے دو مہینوں میں قادیاں میں ٤١٣ آدمی طاعون سے مرے۔ حالانکہ کل آبادی قادیاں کی ٢٨٠٠ کی ہے۔ مفصل معہ شہادت آئندہ:
اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
٢٧٥
ناحق لوگ لڑتے مرتے ہیں۔ قادیان طاعون سے صاف ہو جائے تو کیا اور اگر پاک رہے تو کیا حضرت اقدس مرزا صاحب کے الہام اور تشریح میں دونوں باتیں درج ہیں قادیاں طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور طاعون آئے گا بھی نہ بھی بالکل انکار ہے نہ اقرار دونوں مترادف ہیں۔ ہاں خاندان رسالت میں طاعون کا دخل ہو جائے تو محل اعتراض ہے وہ بھی چار دیواری کے اندر اور اگر ان میں بھی طاعون گھس جائے ۔ تو مرزا صاحب کی پیشگوئی کا کیا قصور؟ حضرت اقدس نے بچنے کی تدابیر بتا دی تھیں۔ اس کو کوئی نہ مانے تو اس کا قصور ۔ اگر چہار دیواری مستحکم ہو جائے اور پھر طاعون آجائے۔ تو ہم ذمہ لیتے ہیں۔ بر رسولاں بلاغ باشد وبس. ماعلینا الا البلاغ ناظرین ان اشتہاروں یا درخواست اور اس کی تردید کو ذرا غور سے پڑھ کر خود ہی منصف ہوں اس میں کس کا قصور ہے۔
درخواست چندہ برائے توسیع مکان
”چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں ۔ سخت تنگی واقعہ ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں۔ کہ اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کے لیے جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے ۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں میری دانست میں یہ حویلی جو ہمارے مکان کا ایک جز ہو سکتی ہے دو ہزار تک تیار ہو سکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا۔ اس لیے یہ کام بہت جلدی کا ہے خدا پر بھروسا کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی اس لیے توسیع کی ضرورت پڑی ، والسلام علی من اتبع الہدیٰ المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی“
(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٨٦)
ہمارے خیال میں تو ساری بحث کے معنے اس اشتہار کے مضمون سے سمجھ میں آسکتے ہیں آئندہ اپنی اپنی سمجھ ہے۔
طوطی شاہ اپنی مطلب اوروں کی بھلی کی کہتا ہے اب کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس میں حضرت اقدس کے اوپر کیا الزام ہے؟ کیوں جذبہ دل کا قصور اس نے نکالا
٣٧٦
الٹا ناظرین! آپ حضرت مرزا صاحب کی ملاحظہ فرمائیں پھر اگر قادیاں میں طاعون صا کیا نتیجہ ہو۔
حضرات! انصاف اور غیرت ا صاف ہو جاتا۔ پیشی کے ساتھ گھن بھی پس جا صادق کا اکرام کیا جو اتنی ہی ہل چل پر بس فرما
جواب درخواست چندہ
برخوردار مرزا فضل
بعد دعا درازی عمر کے واضح ہو کہ تک تمہاری خبر پہنچی ہوئی ہے اور لوگ جوق د بزرگ ہوں میری طرف تم نے کوئی خاص توجہ دل سے از خود تم کو اطلاع کرتا ہوں کہ میں تمہارا گوز شتر سمجھتا ہوں ۔ تم نے تو مولوی ثناء اللہ صا ان کے آنے پر تم گھر سے بھی نہ نکلے مگر میں تم کو میری پیش کردہ پانچ پیشگوئیاں بھی مجھے گ ثابت کر سکو تو صرف تم کو مسلمان ہی نہ بذریعہ اشتہار جلدی دینا۔ کیونکہ خدا و آتی ذا القربیٰ حقه یعنی قریبیوں س بھلا یہ کیا انصاف ہے کہ کشتی نوح کے اخیر م ہمارے شرکاء مکان دینے کو راضی ہیں۔ دو ہزا خبر بھی نہیں اور نہ ہی ہم دینا چاہتے ہیں۔ ایسے کو تو ایک دفتر چاہیے۔ جو میں الگ کسی وقت کے جواب کا منتظر ہوں۔ راقم :
مولائی مرزا امام الدین برادر کلا
(مطبوعہ اہل حدیث پریس )
بھلا صاحب ! خدارا انصافاً ان خر
الٹا ناظرین! آپ حضرت مرزا صاحب کی دل سوزی اور ہمدردی کو دیکھیے اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں پھر اگر قادیاں میں طاعون صفائی نہ کرے تو خدا کے مرسل کی نافرمانی اور گستاخی کا کیا نتیجہ ہو۔
حضرات! انصاف اور غیرت الہی تو اسی کی مقتضی تھی کہ قادیاں مع خاندانی رسالت صاف ہو جاتا۔ چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح موعود اور مرسل صادق کا اکرام کیا جو اتنی ہی ہل چل پر بس فرمائیے۔
جواب درخواست چندہ
بعد دعا درازی عمر کے واضح ہو کہ میں تمہارے دعوے ہمیشہ سے سنتا ہوں اور دور دراز تک تمہاری خبر پہنچی ہوئی ہے اور لوگ جوق در جوق آتے ہیں مگر افسوس ہے میں تمہارا بھائی اور بزرگ ہوں میری طرف تم نے کوئی خاص توجہ نہ کی جو تمہاری نالائقی کا ثبوت ہے۔ آخر میں بھرے دل سے ازخود تم کو اطلاع کرتا ہوں کہ میں تمہاری ذاتی عیوب سے قطع نظر تمہاری پیشگوئیوں کو ایک گوزشتر سمجھتا ہوں۔ تم نے تو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو فی پیشگوئی سو روپیہ دینا کہا تھا۔ جو ان کے آنے پر تم گھر سے بھی نہ نکلے مگر میں تم کو فی پیشگوئی ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ اگر تم میری پیش کردہ پانچ پیشگوئیاں بھی مجھے سچی کر دو۔ تو فی پیشگوئی ہزار روپیہ تم کو دوں گا۔ اور اگر نہ ثابت کر سکو تو صرف تم کو مسلمان ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ پس ایک ہفتہ تک اس دعوت کا جواب بذریعہ اشتہار جلدی دینا۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی کو یہی حکم فرمایا ہے۔ و اتی ذا القربی حقہ یعنی قریبیوں کے حقوق ادا کرو۔ قریبیوں کا حق دوسروں سے زیادہ ہے بھلا یہ کیا انصاف ہے کہ کشتی نوح کے اخیر صفحہ پر تو ہم کو اپنا شریک قرابتی بتاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ ہمارے شرکاء مکان دینے کو راضی ہیں۔ دو ہزار روپیہ چندہ جمع کر لیا ہے۔ حالانکہ ہمیں اس کی کوئی خبر بھی نہیں اور نہ ہی ہم دینا چاہتے ہیں۔ ایسے جھوٹ کا بھی کوئی علاج ہے؟ خیر ان باتوں کے ذکر کو تو ایک دفتر چاہیے۔ جو میں الگ کسی وقت تفصیل سے بیان کر دوں گا۔ سردست میں اس اشتہار کے جواب کا منتظر ہوں۔ رقیم:
(مطبوعہ اہل حدیث پریس)
بھلا صاحب! خدارا انصافاً ان تحریروں کا ملاحظہ فرما کر خدا لگتی کہنا۔ آخر کسی چیز کی حد
٣٧٧
بھی ہے اور ان خطوں کی بنیاد قادیاں سے بھی ہے پھر کب تک غیرت الہی جوش میں نہ آئے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ قادیاں کا تختہ الٹ دینے کے قابل نہیں۔ اگر قادیاں میں طاعون آ گیا۔ تو کیا عجب اور کب خلاف الہام ہوا۔ الہام میں کہاں لکھا ہے؟ کہ قادیاں بالکل طاعون سے پاک رہے گا۔
یہ انسان کا کام ہے اتنے دنوں پیشتر ایسی پیش بندی کر دے دیکھو صفحہ ٥ کے حاشیہ دافع البلاء میں کیا لکھا ہے اگر یہ بھی نہ ہوتا۔ تو لوگ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ مدبر کا کام ڈرانا ہے جیسا موقعہ دیکھے لوگوں کو ڈرا دے۔ جس غرض سے ڈرایا گیا وہ پوری ہوگئی۔ اس میں الہام کا جھوٹ معترض نے کیا ثابت کیا؟
الحکم...... لیکن یہ ترقی بمقابلہ اس عظیم الشان ترقی کے جو گزشتہ سال کی اخیری حصہ میں اس فرقہ نے کی ہے بہت ہی کم کی ہے۔ جیسا کہ ایک طرف طاعون کے خطرناک حملوں سے پنجاب کی تمام مردم شماری میں کمی آگئی ہے۔ فرقہ احمدیہ کی تعداد بڑے زور کے ساتھ بڑھتی گئی تھی۔ کیونکہ لوگوں نے تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ طاعون سے بچاؤ کی صرف ایک صورت انہیں نظر آئی ہے۔ اور وہ یہ کہ حضرت مسیح کی تعلیم کو قبول کر لیا جائے۔ اس لیے طاعون کی ترقی کے ساتھ جوق در جوق لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے گئے ہیں۔ الحکم ٧ فروری ١٩٠٣ء صفحہ ٣
اب ناظرین بہ نظر غور وانصاف دیکھیں اور حق کی کہیں۔ قادیاں کیا ہزار قادیاں جیسی بستیاں معہ خاندان رسالت کے لقمہ طاعون ہو جائیں تو کیا الہام جھوٹ ہوسکتا ہے نہیں کبھی نہیں۔ وہ سب جھوٹے جو الہام کو جھوٹا کہیں۔ مرزائی کیا ایسے اندھے تھے۔ جو بن دیکھے کنوئیں میں گر پڑے۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
کوئی بات تو ہے جو اس پیشگوئی کی سچائی پر ایمان لائے ہوں۔ گو عام اس کو نہ دیکھ سکیں۔
تمت
(نوٹ) مصنف نے تمت کے بعد لکھا (دوسری جلد ملاحظہ ہو) جو غالباً شائع نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے تو فقیر مرتب اس تک رسائی نہیں پاسکا۔ کوئی صاحب یہ کتاب پڑھنے کے بعد رہنمائی فرمادیں تو مہربانی۔ فقیر: اللہ وسایا، مورخہ ١٤ /جنوری ٢٠١٢ء
حاشیہ جات
١؎ اخبار البدر کا ایڈیٹر بھی ٢٢/مارچ ١٩٠٥ء کو طاعون کا شکار ہو گیا۔
٣٧٨