انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
جنہیں ختم نبوت
سے عشق تھا!
ترتیب و تدوین
محمد طاہر رزاق
Note: See Index at the end of the book at page No 209
منافقت کے کردار
مسلمانو! آج ہم میں سے ہر کوئی یہ اعلان کرتا ہے ----- کہ جناب رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی جان سے پیارے ہیں ----- جناب خاتم النبیین ﷺ مجھے اپنی اولاد سے پیارے ہیں ----- جناب سید المرسلین ﷺ مجھے اپنے ماں باپ سے پیارے ہیں ----- جناب رحمۃ اللعالمین ﷺ مجھے اپنے مال سے پیارے ہیں ----- جناب امام النبیین ﷺ کی عزت و ناموس پر میرا سب کچھ قربان ----- لیکن عاشقان رسول کے اس معاشرے میں قادیانی بڑے امن و سکون سے رہ رہے ہیں -----
قادیانی کون ہیں؟ اللہ کی زمین پر نبی اکرم ﷺ کے سب سے بڑے گستاخ ----- سب سے بڑے شاتم ----- سب سے زیادہ ایذا پہنچانے والے -----
آپ کے تاج و تخت ختم نبوت کے ڈاکو ۔۔۔۔۔ مسلمانو ایک سوال کا جواب دینا جس شخص کا نبی اکرم ﷺ سے محبت و غیرت کا تعلق ہو گا۔۔۔۔۔
- کیا وہ کسی قادیانی کا دوست ہو سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کی دعوت میں شریک ہو سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کو اپنے ہاں دعوت پہ مدعو کر سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کو دوست بنا سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھا سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی سے کاروبار کر سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کا عدالت میں مقدمہ لڑ سکتا ہے؟
- کیا وہ کسی قادیانی کی ملازمت کر سکتا ہے؟
- کیا وہ مسلمانوں کی کسی کمیٹی یا انجمن میں قادیانی کو شامل کر سکتا ہے؟
- کیا وہ شیزان اور دیگر قادیانی مصنوعات خرید سکتا ہے؟
- کیا وہ شیزان اور دیگر قادیانی مصنوعات بیچ سکتا ہے؟
اگر کوئی ایسا کرتا ہے۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ وہ اپنی محبت کے تمام دعوؤں کی اپنے عمل سے نفی کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اپنی زبان سے نفی کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اپنے کردار اور افعال سے نفی کر رہا ہے۔۔۔۔۔ تو ایسا شخص۔۔۔۔۔ مسلمان ہے۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔منافق؟ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وفا کر رہا ہے۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔جفا کر رہا ہے؟ وہ محب اسلام ہے۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔غدار اسلام۔۔۔۔۔؟ مرنے کے بعد اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جانا چاہیے۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ قادیانیوں کے قبرستان میں۔۔۔۔۔؟
آخرت میں اس کا انجام مسلمانوں کے ساتھ ہو گا-----یا-----قادیانیوں کی ساتھ-----؟
حشر کے میدان میں وہ شافع محشر ﷺ کے جھنڈے تلے ہو گا-----یا-----مرزا قادیانی کے منحوس ہیولے تلے-----؟
مسلمانو! ذرا سوچئے-----گستاخ رسول کا دوست-----گستاخ رسول کا رفیق----- رسول اللہ ﷺ کو کتنی تکلیف پہنچاتا ہے-----اور-----جو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچاتا ہے-----وہ-----اللہ کی آتش انتقام کو بھڑکا دیتا ہے-----
خدارا! اس فعل خبیث سے خود بچئے-----اپنے احباب کو بچائیے-----اپنے عزیز و اقارب کو بچائیے-----ورنہ-----
اک بگولا آئے گا سب کچھ اڑا لے جائے گا
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق لاہور بی ایس سی۔ ایم اے تاریخ ١٠ جون ١٩٩٩ء
سرمایہ
عزیزی محمد طاہر رزاق صاحب کی چودھویں کتاب "جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا" زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ رہی ہے۔ اس سے قبل ان کی شائع ہونے والی تیرہ کتابیں مذہبی اور علمی حلقوں سے بھرپور خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
ان کی موجودہ کتاب ان عاشقان رسولؐ کے متعلق ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں تحفظ ختم نبوت پر نچھاور کر دیں اور اس سلسلہ میں کسی بھی قربانی سے کبھی بھی دریغ نہ کیا۔ محمد طاہر رزاق صاحب نے نئی نسل کے سامنے ان کے بہادر اسلاف کے عشق رسولؐ سے آراستہ واقعات کو رکھا ہے تاکہ نوخیز نسل ان واقعات کو پڑھ کر اپنی آنکھوں کو روشنی اور دلوں کو ایمان کی حرارت مہیا کر سکے۔ کیونکہ یہی روشنی اور حرارت ایک مومن کا سرمایہ ہے
غبار راہ کو بخشا‘ فروغ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یٰسین‘ وہی طہ
خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل
حدیث عشق
انسان جذبات کی کان ہے۔ اس مختصر سی جسامت میں ایسی ایسی کیفیات اور اتنے عجیب خیالات سموئے ہوئے ہیں کہ ان کی رنگینی و بوقلمونی، ان کی وسعت و رفعت، ان کی شدت و حدت اور ان کی جودت و ندرت سے خود انسان حیران رہ جائے۔
انہی جذبات و کیفیات میں سے ایک حسین جذبے اور ایک لطیف کیفیت کا نام محبت ہے۔ محبت میں جب شدت کی آمیزش ہو جائے، روح جب اس کی لطافت سے مہکنے لگے، دل و دماغ جب اس کی گہرائی میں ڈوب جائیں اور ہوش و حواس جب اس کی وسعتوں میں کھو جائیں تو یہی محبت "عشق" کے نام سے جلوہ نما ہوتی ہے۔
عشق نعمت بھی ہے اور قوت بھی۔ دولت بھی ہے اور حشمت بھی، شوکت بھی ہے اور صولت بھی، عشق غیرت بھی ہے اور حمیت بھی، عشق عصمت بھی ہے اور عفت بھی، عشق ایثار بھی ہے، عشق انکسار بھی ہے، عشق وفا بھی ہے، عشق دعا بھی ہے، عشق جاہ بھی ہے، عشق آہ بھی ہے، عشق طلب بھی ہے اور ادب بھی۔ وارفتگی بھی ہے اور شائستگی بھی، عشق سلیقہ بھی ہے اور قرینہ بھی۔
بہر رنگے کہ خواہی سر بر آرد
درون سینہ بیش از نقطہ نیست
چو آید بر زباں پایاں ندارد
(پیام مشرق)
عشق کی نیرنگیاں تو دیکھئے۔
کبھی شاہ شہاں نوشیرواں عشق
کبھی عریاں و بے تیغ و سناں عشق
(بال جبریل)
اور۔
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق!
کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی خیبر شکن عشق!
(بال جبریل)
عشق ہی معیار ہے، عشق ہی اعتبار ہے۔
نہ ہو، تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق
(بال جبریل)
عشق زینہ رفعت ہے، عشق مایہ عزت ہے۔
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
(بال جبریل)
بندۂ عشق اور بندۂ عقل کے درمیان یہ فرق کیسا عجیب ہے کہ ۔
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
(بانگ درا)
کتاب حیات کی ورق گردانی کیجئے تو اس کی پائندہ و تابندہ سطور یہ دکھائی دیں گی۔
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پر حرام
عشق دم جبرئیل، عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام!
عشق کی مستی سے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہ حرم، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل، اس کے ہزاروں مقام!
عشق سے نور حیات‘ عشق سے نار حیات
(بال جبریل)
اور
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات
صدق خلیلؑ بھی ہے عشق‘ صبر حسینؑ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
(بال جبریل)
عشق حسن کائنات ہے‘ دو عالم میں عشق ہی کا سکہ چلتا ہے۔
عشق تنہا ہر دو عالم را بس است
دلبری بے قاہری جادوگری است
دلبری باقاہری پیغمبری است
ہر دو را در کارہا آمیخت عشق
عالمے در عالمے انگیخت عشق
(زبور عجم)
عشق تعمیر حیات بھی ہے۔ مردہ دل اسی سے زندہ ہوتے ہیں‘ شکستہ حوصلے اسی سے توانائی پاتے ہیں۔
بیا اے کشت ما‘ اے حاصل ما
کہن گشتند ایں خاکی نہاداں
دگر آدم بنا کن از گل ما
(پیام مشرق)
دین کے عقائد و احکام پڑھ لیجئے۔ حاصل یہی نکلے گا۔
انتہایش عشق و آغازش ادب
(جاوید نامہ)
تو دین و ایمان نام ہے عشق کا اور سرور دو عالم ﷺ سرچشمہ و خزینہ عشق ہیں۔
جز ایں چیزے نمیدانم ز جبریل
کہ او یک جوھر از آئینہ تست (ارمغان حجاز)
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
اس لیے اگر کوئی شخص دولت عشق سے سرفراز ہونا چاہتا ہے یعنی نعمت ایمان سے اپنے بخت جگانا چاہتا ہے تو اسے عشق رسول ﷺ کے نور سے اپنے دل کی دنیا کو جگمگانا ہوگا۔
حضور اکرم ﷺ نہایت وضاحت سے ارشاد فرماتے ہیں اور اسے حضرت انسؓ نے روایت کیا ہے:
”کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے باپ‘ اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الایمان)
اس ارشاد میں سب کا ذکر ہے لیکن ایماندار کی خود اپنی ذات کا ذکر نہیں ہے۔ یہ عقدہ ایک دوسری روایت سے کھلا:
”حضرت عبداللہ بن ہشامؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپؐ حضرت عمرؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے (اور کیا عجب ہے کہ یہی محبت ہی کی بات ہو رہی ہو کہ) حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ! آپؐ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں‘ سوا اپنی جان کے“ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ”نہیں اے عمر! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے‘ جب تک میں تجھے تیری جان سے زیادہ پیارا نہ ہوں گا (ایمان کامل نہ ہو گا) حضرت عمرؓ نے کچھ تامل کے بعد عرض کیا ”واللہ ! اب آپؐ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں“ تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”عمر! اب بات بنی“۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الایمان والنذور)
صحابہ کرامؓ نے سرور کون و مکان ﷺ کے اس فرمان کو حرز جان بنا لیا اور ان کی مقدس زندگیوں کا ایک ایک لمحہ اور ہر گوشہ عشق رسالت کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ یہ عشق ہی کی طاقت تھی جس سے ایک تاجر صدیق اکبر کے مقام بلند پر فائز ہوا اور پھر جب ۔
اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر اے تیری ذات باعث تکوین روزگار
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
(بانگ درا)
مکہ کی پہاڑیاں‘ طائف کی راہیں‘ مدینہ کی فضائیں اور بدر و احد کی رزم گاہیں آج بھی عشق نبوی کی ولولہ آفریں داستانیں سنا رہی ہیں۔ یہ صفر ٤ھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ عضل اور قارہ قبیلوں کی فرمائش پر صحابہؓ کی ایک جماعت دین کی تعلیم و تربیت کے لیے روانہ کرتے ہیں۔ لے جانے والے راستے میں بد عہدی کرتے ہیں۔ کچھ صحابہؓ شہید ہو جاتے ہیں اور کچھ گرفتار۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک زید بن دثنہؓ بھی ہیں۔ مشرکین مکہ آپؓ کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر تنعیم لے جاتے ہیں۔ تماشائیوں کا ایک ہجوم ہے۔ ان میں ابو سفیان بن حرب بھی ہیں۔۔۔۔۔۔ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔۔ قتل سے چند لمحے پہلے ابو سفیان آگے بڑھتے ہیں اور زید سے کہتے ہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم اسے پسند کرو گے کہ تمہیں چھوڑ دیں اور تمہارے بدلے محمد (ﷺ) کو قتل کر دیں اور تم اپنے گھر آرام سے رہو؟ زید بن دثنہؓ جھنجلا کر کہتے ہیں ! خدا کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ محمد ﷺ کے پاؤں میں کانٹا چبھے اور میں گھر بیٹھا رہوں۔ (کتب
سیرت)
چشم فلک نے عشق کی ایسی مثال کم ہی دیکھی ہوگی اور اگر دیکھی ہو گی تو انہیں عاشقان پاک طینت کے گروہ میں دیکھی ہو گی۔
یہ عشق ہے جو مشکلات کو آسان کر دیتا ہے۔ مصائب کو شیریں بنا دیتا ہے، موت کا مسکرا کر استقبال کرتا ہے اور پھانسی کا پھندا اپنے ہاتھوں گلے کا ہار بنا لیتا ہے۔ اسی لیے ہمارے شاعر، امت کے شاعر اقبالؔ فرماتے ہیں ۔
بحر و بر در گوشہ دامان اوست
سوز صدیق و علی از حق طلب
زانکہ ملت را حیات از عشق اوست
برگ و ساز کائنات از عشق اوست
روح را جز عشق او آرام نیست
عشق او روزیست کو را شام نیست (پیام مشرق)
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جس عشق کا قرآن وحدیث میں حکم دیا گیا ہے‘ صرف ذات رسولؐ سے ہی نہیں بلکہ صفات رسولؐ سے بھی لازم ہے۔ عاشق وہ ہے جو آپؐ کی صفات لازمہ کو صرف آپؐ ہی کے ساتھ لازم جانے۔ اس کا ظل اور عکس کسی اور میں نہ دیکھے۔
آپؐ کی صفات لازمہ میں نمایاں ترین صفت ”ختم نبوت“ ہے۔ جیسے ”رحمان“ اللہ جل شانہ کی صفت لازمہ ہے۔ کسی دوسرے پر کسی رنگ میں ”رحمان“ کا اطلاق درست نہیں۔ اسی طرح ”ختم نبوت“ آپؐ کی رسالت کی صفت لازمہ ہے۔ کسی دوسرے پر کسی رنگ میں نبوت کا اطلاق کرنا‘ جس سے ختم نبوت پر حرف آئے‘ ہرگز درست نہیں۔ آپؐ کی رسالت اور ختم نبوت لازم وملزوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی رسالت کے ساتھ ہی ختم نبوت کا ذکر فرمایا۔ ”ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین (احزاب‘ ٤٠) اس لیے جہاں بھی آپؐ کی رسالت کا ذکر ہوگا‘ ختم نبوت اس میں آپ سے آپ داخل ہوگی۔ ختم نبوت کے بغیر آپؐ کی رسالت کا اقرار ناتمام ہے۔
اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر تکوینی طور پر شان اعجاز کے ساتھ بھی ظاہر فرمایا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ آتے ہوئے کہیں سے گوہ اٹھالایا۔ کہنے لگا میں تب ایمان لاؤں گا اگر یہ گوہ آپ کو مان لے! (آپؐ کا قلب مبارک انسان کی محبت سے لبریز تھا۔ آپؐ ہر انسان کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتے تھے) چنانچہ آپؐ نے فرمایا! اے گوہ تو کس کی عبادت کرتی ہے؟ تو اس نے نہایت فصیح عربی میں جواب دیا‘ جسے سب لوگ سمجھ رہے تھے ”اس ہستی کی آسمان میں جس کا عرش ہے‘ زمین میں جس کی حکومت ہے‘ سمندر میں جس کے راستے ہیں‘ جنت
میں جس کی رحمت ہے اور جہنم میں جس کا عذاب ہے“ آپؐ نے فرمایا: ”اچھا تو میں کون ہوں؟“ کہا ”آپؐ رسول رب العالمین اور خاتم النبیین ہیں“۔
(ترجمان السنۃ ١ / ٣٨٩)
صحابہ کرامؓ نے بھی آپؐ کو یونہی مانا اور ہمیں بھی اسی طرح ماننے کا حکم ہے کہ آپؐ صرف رسول نہیں بلکہ آخری رسول ہیں۔۔
بر رسول ما رسالت ختم کرد
رونق از ما محفل ایام را
او رسل را ختم و ما اقوام را
خدمت ساقی گری با ما گذاشت
داد مارا آخرین جامے کہ داشت
لا نبی بعدی ز احسان خدا است
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
قوم را سرمایہ قوت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو
(اسرار و رموز)
سرور دو عالم ﷺ کا اسم گرامی ”محمد“ اور ”احمد“ آپؐ کا پرچم ”لواء الحمد“، آپؐ کا ترانہ ”الحمد“ آپؐ کا مقام ”محمود“ آپؐ کی امت ”حمادون“ یہ تمام عناوین صفت حمد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور حمد ہمیشہ نعمت کے ختم پر ہوتی ہے۔ اگر دوسرے دلائل نہ بھی ہوتے تو بھی آپؐ کے یہ اسماء و عناوین یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ نعمت نبوت آپؐ پر ختم ہوچکی اور قصر رسالت آپؐ کی آمد سے تکمیل پذیر ہوچکا۔ گویا ختم نبوت آپؐ کی رسالت کے خمیر میں گندھی ہوئی ہے جسے کسی طور کسی رنگ میں آپؐ سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
جن لوگوں نے آپؐ کو دیکھا، سنا، جانچا، پرکھا اور آپؐ کو مانا، انہوں نے آپؐ کو اسی شان کے ساتھ مانا۔ آپؐ کی اسی شان سے عشق کیا اور پھر اس شان کے منافی کسی رنگ کا کوئی دعویٰ کسی زبان سے سننا گوارا نہ کیا۔ اس لیے کہ عشق غیرت مند ہوتا ہے۔ جس دل میں عشق جلوہ نما ہو، اس کی تو کیفیت یہ ہو جاتی ہے۔
غیر کی ہو کے رہے یا شب فرقت میری
"المجادلہ" اور "الممتحنہ" پکار پکار کر اعلان کر رہی ہیں کہ عاشق کا دل غیر کی مودت سے پاک ہونا ضروری ہے۔ عشق اتنا لطیف جذبہ ہے کہ شرکت کی کسی رنگ میں بھی کثافت برداشت نہیں کر سکتا۔ الوہیت میں شرک اور رسالت میں شرکت دونوں ناقابل معافی جرم ہیں۔ تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جن پاک نہاد قدسی صفات اصحابؓ نے انوار نبوت کا بچشم خود مشاہدہ کیا‘ انہوں نے ختم نبوت کا یہی مفہوم سمجھا اور اسی مفہوم سے عشق کیا۔
یہ عشق ختم نبوت ہی کا اعجاز تھا کہ صدیق اکبرؓ تاریخ اسلام کے نازک ترین اور جان گداز لمحوں میں نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب کے سامنے صف آرا ہوئے اور اسے کیفر کردار تک پہنچایا----- حالانکہ مسیلمہ کذاب کئی اعتبار سے مسیلمہ پنجاب سے بہتر تھا----- کیونکہ عشق شرکت برداشت نہیں کرتا اور یہی شرکت کی خواہش ہی تو تھی جس کی وجہ سے مسیلمہ کو بارگاہ رسالت سے "کذاب" کا ٹائٹل ملا۔ اور اب قیامت تک جو بھی نبوت میں شرکت کی کھلی یا چھپی خواہش یا کوشش کرے گا "کذاب" کے لقب سے یاد کیا جائے گا۔
اور عشق ختم نبوت کی یہ کیسی تابناک مثال ہے کہ حبیب بن زید بن عاصم انصاری مازنیؓ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے مسیلمہ کے پاس یمامہ جاتے ہیں۔ مسیلمہ تمام آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپؓ سے ناروا برتاؤ کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ کیا تم محمد (ﷺ) کو اللہ کا رسول مانتے ہو؟ آپؓ فرماتے: ہاں۔ پھر کہتا ہے "کیا تم مجھے اللہ کا رسول مانتے ہو؟ آپؓ فرماتے: میں بہرا ہوں‘ سنتا نہیں۔ مسیلمہ حکم دیتا ہے ایک ہاتھ کاٹ دو۔ ہاتھ کٹ جاتا ہے۔ پھر وہی سوال کرتا ہے۔ حبیبؓ وہی جواب دیتے ہیں۔ دوسرا ہاتھ بھی کٹ جاتا ہے۔ پھر وہی سوال و جواب ہوتے ہیں۔ پاؤں بھی کٹ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حبیب پورے جسم کے ٹکڑے تو کروا لیتے ہیں لیکن اپنے حبیبؐ کی رسالت میں شرکت کی بات تک سننا گوارا نہیں کرتے۔
(الاستیعاب‘ ١ / ١٢٥)
جی ہاں! سچے عاشق ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
تذرو مرده را شاہیں نگیرد
(پیام مشرق)
یہ طبقہ تو صحابہؓ کا تھا۔ تابعین نے صحابہؓ سے ختم نبوت کا یہی مفہوم سمجھا اور اسی مفہوم سے عشق کیا۔
یہ عبداللہ بن ثوب ابو مسلم خولانیؒ ہیں۔ عابد و زاہد‘ صاحب کرامات و فضائل‘ جلیل القدر تابعی۔ اسود بن قیس بن ذی الحمار نے یمن میں نبوت کا دعویٰ کیا تو آپؒ کو بلا بھیجا۔ ملاقات ہوئی تو کہا: کیا تم محمد (ﷺ) کی رسالت کا اقرار کرتے ہو؟ فرمایا ہاں! کہا: کیا تم اقرار کرتے ہو کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ فرمایا: میں سن نہیں رہا۔۔۔۔۔اسود نے کئی مرتبہ یہی پوچھا اور آپؒ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا۔ اسود کے حکم سے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ دہکایا گیا اور ابو مسلم خولانیؒ کو اس میں پھینکا گیا۔
خدا کی قدرت اور عشق ختم نبوت کی برکت دیکھئے کہ آگ نے آپؒ کا بال تک بیکا نہیں کیا اور آپؒ کے لیے یونہی برد و سلام بن گئی جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے برد و سلام بن گئی تھی۔ آپؒ مسکراتے ہوئے آگ سے باہر تشریف لے آئے۔
(استیعاب ٢ / ٦٨٧)
امت کے دوسرے طبقے تابعین نے آگ میں گرنا تو گوارا کیا لیکن رسالت میں شرکت کی بات تک سننا گوارا نہ کی۔ عشق ختم نبوت کا یہ مقدس جذبہ اپنے اسی مفہوم کے ساتھ امت کے ہر طبقے میں منتقل ہوتا رہا۔
ہارون الرشید عباسی کا دور حکومت تھا۔ ایک شخص نے نبوت کے نام پر قسمت آزمائی کی۔۔۔۔۔جیسے مرزا قادیانی نے کی۔۔۔۔۔گرفتار ہو کر دربار میں پیش ہوا۔ ہارون نے کہا تم نے یہ کیا جھک ماری ہے! اس نے کہا مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ پوچھا کون سی؟ کہا: ”انا اعطیناک الجماھر فصل لربک وجاھر ولا تطع کل ساحر“ (”ہم نے تجھے بڑی بڑی چیزیں دیں‘ تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور زور سے پڑھ اور کسی ساحر کی بات نہ مان“)
کہاں سورۃ الکوثر کی بلاغت اور کہاں اس تک بندی کی سقمیت! اس وحی میں اتنا ہی وزن تھا جتنا مرزا قادیانی کی وحی میں ہوتا تھا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اس میں صرف ونحو
کی کوئی غلطی نہیں۔ جبکہ مرزا کی وحی گرائمر کی غلطیوں سے شرابور ہوتی تھی۔ ہارون نے کہا: اس کی خواہش پوری کی جائے اور بڑے پل پر، بڑی دیر تک، بڑی سولی پر لٹکایا جائے۔۔۔۔۔ جی ہاں! اسلامی حکومت میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی اگر اسلامی حکومت کے دور میں یہی دعویٰ کرتا تو راوی پل پر آپ کو اسی حالت میں نظر آتا۔۔۔۔۔
حکم کی تعمیل ہوئی۔ کئی دنوں کے بعد جعفر برمکی وزیر اعظم کا دجلہ پل سے گزر ہوا تو دیکھا کہ لاش سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر برمکی نے فی البدیہہ کہا:
ضامن لک ان لا تعود"
"ہم نے تجھے سولی دی، تو اپنے رب کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھ اور میں ضمانت
دیتا ہوں کہ اب تم دوبارہ نہیں آؤ گے"
عشق ختم نبوت کا یہ پاکیزہ اور لطیف جذبہ صدی بہ صدی، صدر بہ صدر، نسل در نسل سفر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ماضی قریب میں مرزا غلام احمد نے قادیان میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔۔۔۔۔ پہلے جھوٹے دعویداروں اور مرزا میں یہ فرق ہے کہ پہلوں کے دل میں جو بات تھی، انہوں نے جرات کے ساتھ کھل کر کہی۔ مرزا بزدل تھا، تاویلات کے پردوں میں چھپتا رہا لیکن بالآخر عاشقان ختم نبوت نے اس کا یہ سیاہ نقاب نوچ ڈالا۔ افغانستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ وہاں جب مرزا کے پیروکاروں نے اس کے افکار کی اشاعت کی کوشش کی تو سرکاری طور پر سنگسار ہوئے کہ قرن اول سے یہی روایت چلی آرہی ہے۔
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، ٧١٤)
یہاں بدقسمتی سے انگریز کی عملداری تھی۔ اور یہ پودا لگایا ہوا بھی اسی کا تھا۔ اس لیے یہاں یہ پودا پروان چڑھتا رہا۔ حضرت اقدس پیر مہر علی شاہ گیلانیؒ (گولڑہ شریف) حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت میں عاشقان ختم نبوت کی پوری جماعت اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اس فتنے کے تار و پود بکھیرتی رہی۔ عشق ختم نبوت میں سرشار اس جماعت نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور تقاضوں کو اس انداز میں اجاگر کر دیا کہ آج پوری دنیا میں کسی کی باتوں میں اگر دعویٰ نبوت کی بو بھی
آئے تو امت چوکنا ہو جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے۔
عاشقان ختم نبوت کی اس پاکیزہ جماعت کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ہزاروں دلوں کو عشق ختم نبوت سے مالا مال کر دیا اور بے شمار گمنام سینوں میں عشق کی ایسی جوت جگائی کہ انہوں نے ختم نبوت کی خدمت کو سرکاری ملازمت‘ خاندانی قرابت اور سماجی تعلقات الغرض دنیا کی ہر شئے سے مقدم رکھا۔
میں ایک صاحب کو جانتا ہوں۔ سرکاری ملازم تھے اور عاشق ختم نبوت تھے۔ اس دور میں جب ختم نبوت کا نام لینا جرم تھا‘ اسے فرقہ واریت سمجھا جاتا تھا۔ مقدمے قائم ہوتے تھے اور پھر عاشقوں کے پاکیزہ انفاس سے جیل کی کوٹھریاں مہکتی تھیں۔۔۔۔۔ آج کی نسل اس دور کی سنگینی کا صحیح ادراک نہیں کر سکتی۔ اب تو ہم اس قدسی صفات جماعت کی قربانیوں کا پھل کھا رہے ہیں۔ موجودہ نسل جو یہ دیکھ رہی ہے کہ ختم نبوت کے عنوان سے جلوس نکالنا‘ ختم نبوت کے موضوع پر بولنا اور لکھنا سب سے آسان ہے۔ اس نسل کو کون سمجھائے اور کیسے سمجھائے کہ اس عظیم اور بے مثال خدمت کی قدر کرو اور اس لازوال قربانی کی حفاظت کرو ۔۔۔۔۔ بہر کیف ٧١ء سے پہلے اور بہت پہلے وہ سرکاری ملازم امیر شریعتؒ کی خدمت اور مولانا محمد علی جالندھری کے تلمذ کے فیض سے پوری استقامت کے ساتھ ختم نبوت کی خدمت میں مصروف رہے۔ دشمنان رسولؐ کو مارا بھی‘ ان سے ماریں بھی کھائیں‘ اپنے دانت تڑوائے‘ اپنے حلقے میں برابر عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت و اشاعت کرتے رہے۔ ختم نبوت کے جلسوں میں دھڑلے سے شریک ہوتے‘ دریاں بچھاتے‘ قناتیں کھڑی کرتے‘ سٹیج سجاتے‘ نعرے لگاتے‘ نعتیں پڑھتے‘ کبھی تقریر کرتے۔ مجلس ختم نبوت کے ادنیٰ سے ادنیٰ مبلغ کا بڑوں کی طرح احترام کرتے‘ ان کی خدمت بجا لاتے۔ عید الاضحیٰ آتی تو بیٹوں کو ساتھ لے کر گھر گھر سے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرتے۔ ہر سال پابندی سے پہلے چنیوٹ اور پھر ربوہ (حال چناب نگر) ختم نبوت کے جلسوں میں شریک ہوتے۔
٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں شریک ہونے کے لیے اپنے گھر جمال دین والی اسٹیٹ (صادق آباد) سے لاہور کی جانب روانہ ہوئے۔ اپنے حلیے کی وجہ سے راستے میں پہچانے
گئے ۔ گرفتار ہوئے ، کسی جنگل میں چھوڑے گئے ۔ وہاں سے پیدل چلتے ہوئے کئی دنوں کے بعد گھر پہنچے ۔ تادم آخر احرار کی وردی اور ختم نبوت کے بیج اپنے سینے سے لگائے رہے ۔ آپ کے اس عشق ختم نبوت کی تاثیر یہ تھی کہ آپ کا ایک کولیگ آپ سے کسی ضرورت کے تحت ملنے آیا ۔ اس نے سلام کیا تو جواب نہیں دیا ۔ بڑی بے رخی سے اپنے کام میں مصروف رہے ۔ وہ کچھ دیر بیٹھا رہا ۔ آخر مایوس ہو کر چلا گیا ۔ اس نے جاتے ہوئے پھر سلام کیا لیکن ادھر بالکل سکوت ۔۔۔۔۔ قریب بیٹھے بیٹے نے پوچھا ابا جان یہ بے رخی آپ کی طبیعت کے سراسر خلاف ہے ۔ آخر کیا ہوا ؟ فرمایا : یہ قادیانی تھا ۔۔۔۔۔ اس بات کا بیٹے پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اس کرسی پر بیٹھنا چھوڑ دیا ، جس پر قادیانی بیٹھا تھا ۔ وہ کرسی بڑی خوبصورت اور بہت آرام دہ تھی ۔ لیکن بیٹے کو اس سے قادیانی بدبو محسوس ہوتی تھی ۔ شب و روز گزرتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ کرسی مرزا قادیانی جیسے انجام کو پہنچ گئی ۔
یہ سرکاری ملازم تھے حضرت مولانا عبداللہ مسعودؒ اور بیٹا تھا راقم السطور ، اور مجھے یقین ہے کہ یہ انہی کا فیضان نظر اور سوز دروں کا اثر ہے کہ آج مجھے عاشقان ختم نبوت کے ایمان افروز تذکرے پر چند حروف لکھنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ محترم محمد طاہر رزاق نے بڑی محنت اور محبت سے عاشقان ختم نبوت کے روشن روشن واقعات اور خوشبو خوشبو حکایات کو جمع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی جزائے خیر دے ۔ اپنے دل میں عشق ختم نبوت پیدا کرنے کا آسان اور بہترین ذریعہ یہی ہے کہ عاشقان ختم نبوت کی مجلس اختیار کی جائے اور ان کی پر استقامت اور پر عزم زندگیوں کے مطالعے سے اپنے اوقات کو معطر اور منور کیا جائے ۔
طے شود جادۂ صد سالہ باہے گاہے
(زبور عجم)
قرآن مجید نے غالباً اسی حکمت کے پیش نظر انبیاء کرام اور گزشتہ اقوام کے قصص بڑی تفصیل سے بیان فرمائے ہیں ۔
اس کتاب کا موضوع اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اسے پڑھ کر دل میں عشق رسالت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اور سورہ توبہ : آیت ٢٤ کی روشنی میں جذبہ عشق ہی ہے جو امت کی سربلندی اور ہر دور کے تمام مسائل کے حل کی ضمانت بخشتا ہے ۔ ہمارے
شاعر نے اسی آیت کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند
(ارمغان حجاز)
اور کہیں فرمایا کہ امت جہاں بھی جائے گی‘ دھکے کھائے گی‘ ہمارا اصل ٹھکانہ مدینہ ہے‘ وہی ہماری جائے پناہ ہے۔
نوا خواں از سرور عاشقانہ
چو آں مرغے کہ در صحرا سر شام
کشاید پر بہ فکر آشیانہ
(ارمغان حجاز)
اور کہیں ہر امتی کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا۔
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
اور۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ و بارک وسلم۔
حاصل یہ ہے کہ ہمارے محبوب‘ محمد مصطفیٰ ﷺ اور مرکز محبت‘ مدینہ ہے۔ دشمنان اسلام نے مرزا قادیانی کی شکل میں یہی سازش کی کہ اس امت کا محبوب اور مرکز محبت بدل دیا جائے کہ قبلہ دل بدلنے سے سب کچھ بدلنا آسان ہوتا ہے۔ بس امتی کو ہر لمحے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے ۔
خدایا از تو عشق مصطفیٰ را
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مجھے تعجب ہے کہ عاشقان ختم نبوت کی اس صف میں اقبالؔ کا نام نظر نہیں آیا۔ ممکن ہے مولف موصوف نے اقبالؔ کا ذکر خیر کسی مستقل رسالے میں کیا ہو۔ تاہم یہاں بھی تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ زیر نظر سطور امید ہے کہ اس کی کمی کی تلافی کریں گی۔
کتاب میں درج بعض واقعات آپ بیتی ہیں۔ لیکن راوی کا نام مذکور نہیں۔ اس سے قاری شدید تشنگی محسوس کرتا ہے۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ آئندہ ایڈیشن بہتر صورت میں جلوہ افروز ہو گا۔
مولانا پروفیسر ظفر اللہ شفیق شعبہ اسلامیات، ایچی سن کالج، لاہور خطیب مسجد خالد، کیولری گراؤنڈ، لاہور کینٹ ٦ ربیع الاول ١٤٢٠ھ، ٢١ جون ١٩٩٩ء
مراجع
- ١- قرآن مجید
- ٢- صحیح بخاری، مطبع مجتبائی، دہلی
- ٣- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر (متوفی ٤٦٣ھ) دائرۃ المعارف، حیدر
آباد دکن۔
- ٤- کلیات اقبال (اردو فارسی) شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور
- ٥- قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، محمد الیاس برنی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان۔
- ٦- سیرت المصطفیٰ ﷺ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ جامعہ اشرفیہ، لاہور
- ٧- ترجمان السنۃ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی
سکھر کی خوفناک جیل
سکھر جیل کا بلاک نمبر ٦ جس کا رقبہ اپنی وسعت کے اعتبار سے ان قیدیوں کی حیثیت کے مطابق نہیں تھا لیکن حکام جیل نے انہیں یہیں رکھنا مناسب سمجھا۔ اس کے صحن میں نہ تو سائے کے لیے درخت تھا اور نہ پانی کا معقول انتظام۔ ہر قیدی کو نہانے کے لیے صرف ایک لوٹا پانی ملتا تھا۔ نو قیدی‘ نو لوٹے پانی لے کر ایک قیدی کے نہانے کا انتظام کرتے اور اس طرح ایک آدمی کی باری نو دن کے بعد آتی تھی۔ خوراک میں چاول کے آٹے کی روٹی‘ گھاس پھونس اور تیل کے بھگار کی سبزی‘ مسور کی دال‘ قریباً پندرہ دن یہی خوراک دی جاتی رہی۔ کیونکہ بی کلاس کے کاغذات آنے میں دیر ہو گئی تھی۔ حالانکہ قیدی کی ایک جیل سے دوسری جیل میں تبدیلی کے ساتھ ہی اس کے متعلقہ کاغذات بھیج دیے جاتے ہیں‘ مگر ختم نبوت تحریک کے قیدیوں سے امتیازی سلوک کے پیش نظر حکام کی یہ حرکت بھی اپنی جگہ عجیب رہی۔ اس غفلت اور سی کلاس خوراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت امیر شریعتؒ کی بیماری (شوگر اور درد گردہ) میں اس قدر اضافہ ہوا کہ آخر کار یہی امراض جان لیوا ثابت ہوئے۔ کیونکہ حکماء کی تاکید تھی کہ چاول کبھی استعمال نہ کریں لیکن چاول کی روٹی‘ بہر حال کھانی پڑی اور بہتر خوراک کے کاغذات پہنچنے تک امیر شریعتؒ اپنی رہی سہی توانائی بھی ضائع کر بیٹھے اور مسور کی دال کا بینائی پر بھی اثر ہوا۔ ان دنوں سکھر جیل کا درجہ حرارت ١٢٤ ڈگری تک پہنچ چکا تھا۔ جیل میں پانی کی قلت‘ سائے کی کمی اور خوراک کی بے ضابطگی‘ ایسی بے اعتدالیوں کو دیکھ کر حضرت امیر شریعتؒ سکھر کے جیل خانہ کو سقر (جہنم) کہا کرتے تھے۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٣٦٧-٣٦٨‘ از جانباز مرزا)
قصہ ایک شہید ختم نبوت کا
سردیوں کی ایک خوشگوار دوپہر جب میں جمعتہ المبارک کی ادائیگی کے لیے مسجد دارالسلام پہنچا تو حسب معمول باغ جناح کے سبزہ زار ڈاکٹر اسرار صاحب کی گرجدار آواز سے گونج رہے تھے۔ صحن مسجد میں بیٹھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے فضائیں اس ذکر سے معمور ہوں جس سے نہ صرف خزاں رسیدہ قلوب پر بہار آتی ہے بلکہ جسے سن کر بے حس زندگی بھی اپنا قرض اتار آتی ہے اور بعض اوقات سر دار بھی یہ پکار آتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
اک ایسا ہی مقتل‘ بلکہ اک ایسا ہی مشہد جو 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پہ قائم ہوا تھا‘ ڈاکٹر صاحب اسی مشہد کے شہیدوں کا ذکر کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تحریک کے زمانے میں بطور ڈاکٹر میری تعیناتی میو ہسپتال میں تھی۔ ہم چند دوست ہسپتال کی چھت پہ کھڑے تھے‘ اچانک دیکھا کہ نسبت روڈ چوک کی جانب سے ختم نبوت کے پروانوں کا ایک جلوس بڑھا آ رہا ہے جسے روکنے کے لیے فوج نے ہسپتال کے گیٹ کے آگے ریڈ لائن لگا دی اور انتباہ کر دیا کہ جو بھی اسے پار کرے گا‘ اسے گولی مار دی جائے گی۔ یہ ایک ایسا انتباہ اور ایسی وارننگ تھی جسے عاشقان مصطفیٰ کی پوری تاریخ میں کبھی پرکاہ سی اہمیت بھی حاصل نہیں رہی۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ جلوس نام محمد کی عظمتوں کے ترانے بلند کرتا اسی آن سے آگے بڑھتا رہا۔ ریڈ لائن پہ اک لمحے کو رکا اور دوسرے ہی لمحے فلک نے دیکھا کہ غلامی رسولؐ پہ ناز کرنے والا اک خوبرو جوان آگے بڑھا۔ اس نے اپنا سینہ کھولا اور نعرہ لگایا ختم نبوت زندہ باد اور سرخ لائن کراس کر گیا۔ دوسری طرف سے قادیانیت نوازی کی بندوق سے گولی نکلی اور سرخ سرحد عبور کرنے والا جوان عشق مصطفیٰؐ کے سفر میں اتنا تیز نکلا کہ ایک ہی جست میں زندگی کی سرحد عبور کر کے قدم بوسی حضورؐ کے لیے روانہ ہو گیا۔
بات اسی پہ بس نہ ہوئی بلکہ یہ حقیقت ایک دفعہ پھر تاریخ پہ اپنی شہادت رقم کر گئی کہ
بہتا خون، گرتی جوانیاں اور کٹے جسم کا منظر کبھی بھی عاشقان مصطفیٰ کے قدموں کی رفتار مدھم نہ کر سکا۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اسی رفتار سے دوسرا جوان آگے بڑھا۔ اس نے بھی گریبان چاک کیا اور محبت رسول سے بھرا دل ارباب استبداد کے سامنے کرتا ہوا پوری قوت سے نعرہ زن ہوا ”ختم نبوت زندہ باد“ جبر کی روایت کے مطابق ادھر سے پھر گولی آئی اور عشق و محبت کی تاریخ کا اک اور صفحہ رنگین کرتے ہوئے گزر گئی۔ وہ جوان لڑکھڑایا اور لبوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ لیے راہی فردوس بریں ہو گیا۔ پتہ نہیں اس کے لبوں پہ یہ الفاظ آئے ہوں یا نہ مگر وجدان یہی کہتا ہے کہ اس کے دل نے بھی صحابہ کی سنت میں یہ ضرور کہا ہو گا کہ فزت ورب الکعبہ
اس سے پہلے کہ تیسرا جوان آگے بڑھتا ہم چھت سے نیچے آ چکے تھے اور ادھر خبر ملی کہ ان دونوں جوانوں کے لاشے بھی ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ دوران زیارت معلوم ہوا کہ دونوں جوان نہ صرف عاشقان رسول تھے بلکہ سگے بھائی بھی تھے۔
یہ دونوں بھائی کون تھے ، کہاں سے آئے تھے ، کہاں کے رہنے والے تھے ، کن کی آنکھوں کا نور اور کن کے جگر گوشے تھے ، شاید ان سوالوں کا جواب آج کوئی نہ دے سکے اور شاید اسی وجہ سے آنے والا مورخ اگر کبھی شہدائے یمامہ کے تاریخی تسلسل میں ان کے نام لکھنا بھی چاہے تو نہ لکھ سکے گا مگر اللہ کی رحمت سے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ علیم بھی ہے اور بصیر بھی۔ سمیع بھی ہے اور خبیر بھی۔ شہدائے یمامہ ہوں یا یہ جوان ، مقصد تو دونوں کا تحفظ ختم نبوت تھا۔ گرچہ ١٣٠٠ برس کا سفر درمیان میں حائل ہو چکا ، خلوص ہو تو اللہ قادر بھی ہے اور قدیر بھی۔
(مجاہد ختم نبوت جناب محمد صدیق شاہ بخاری کا مکتوب مولف کے نام)
ٹینڈے
مجاہد ختم نبوت جناب شوکت علی نکانہ صاحب کی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرخیل ہیں۔ ان کی سرکردگی میں قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔ چونکہ شوکت
صاحب سبزی کا کاروبار کرتے ہیں اس لیے انہوں نے سبزی فروشوں کی یونین بنائی، جس نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ کسی قادیانی کو سبزی فروخت نہیں کی جائے گی۔ ایک دن ایک قادیانی بڑھیا سبزی خریدنے شوکت صاحب کی دکان پر آئی اور پوچھا ٹینڈے کیا بھاؤ ہیں۔ انہوں نے کہا ٤٠٠ روپے کلو۔ اس نے پوچھا پیاز؟ انہوں نے کہا پانچ سو روپے کلو‘ اس نے پوچھا ہری مرچیں‘ انہوں نے جواب دیا پچاس روپے کی ایک۔ بڑھیا نے کہا تیرا دماغ تو خراب نہیں؟ شوکت صاحب نے فرمایا مائی دماغ تو تیرا خراب ہے جس نے ایک کانے بھینگے کو نبی مان رکھا ہے۔ یہ ایمان افروز جواب سن کر بڑھیا فوراً نو دو گیارہ ہو گئی۔
(”مجاہد ختم نبوت صدیق شاہ صاحب کا مکتوب مولف کے نام)
مرزا جہنم میں دیکھو
سنا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ یہ شنید اس وقت دید میں بدل گئی جب قادیانیوں کے جشن صد سالہ کی رٹ جسٹس خلیل الرحمٰن خان کی عدالت میں زیرِ سماعت تھی۔ اس عدالت میں بھی عدالت بہاولپور کی تاریخ دہرائی گئی۔ جس طرح وہاں مرزائیوں کا وکیل جلال الدین شمس‘ محدث العصر سید انور شاہ کشمیریؒ کے روبرو خائب و خاسر ہو کر فرار ہوا تھا‘ اسی طرح اس عدالت میں مرزائیوں کا وکیل مجیب الرحمٰن‘ مجاہدِ ختم نبوت جناب رشید مرتضیٰ قریشی صاحب کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوا۔ دوران سماعت ایک دن یوں ہوا کہ جب بحث طول پکڑ گئی تو جناب رشید مرتضیٰ قریشی عدالت میں کھڑے ہوئے اور پر جلال انداز میں فرمایا کہ جناب عالی! یہ بحث آج ہی ختم ہو جاتی ہے۔ میں انور شاہ کشمیری تو نہیں‘ ان کا ادنیٰ خادم ہوں۔ لیکن جس ذات پہ ان کا بھروسہ تھا‘ اسی ذات پہ بھروسہ کرتے ہوئے آج رشید مرتضیٰ قریشی اعلان کرتا ہے کہ اگر مجیب الرحمٰن میرے ہاتھوں میں ہاتھ دے تو میں اسے اسی عدالت میں مرزا قادیانی کو جہنم میں جلتے دکھا سکتا ہوں۔ یہ سننا تھا کہ عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ رشید مرتضیٰ صاحب نے بار بار چیلنج دیا مگر اس کا جواب نہ آنا تھا‘ نہ آیا۔ اسلام ایک دفعہ پھر سربلند رہا اور باطل منہ کے بل گر کے رہا۔ بے شک ان
الباطل كان زهوقا ("مجاہد ختم نبوت جناب ڈاکٹر محمد صدیق شاہ صاحب بخاری کا مکتوب مولف کے نام")
تانگہ اور مرزائی
مجاہد ختم نبوت جناب شوکت علی صاحب کے بھائی محترم تاج صاحب ننکانہ میں تانگہ یونین کے صدر ہیں۔ ننکانہ کی دیگر تنظیموں کی طرح تانگہ یونین نے بھی قادیانیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور فیصلہ ہوا کہ کوئی تانگے والا کسی قادیانی کو سوار نہیں کرے گا۔ مگر ایک دن ایک تانگے والے نے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی اور ایک قادیانی کو اپنے تانگے میں سوار کر لیا۔ محترم تاج کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنی یونین کا اجلاس بلایا اور اس تانگے والے کو طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ آخر ایسی کیا ضرورت پیش آگئی تھی کہ تم نے اس فیصلہ کی خلاف ورزی کی۔ اس نے کہا کہ سخت گرمی کا موسم تھا، فاصلہ زیادہ تھا۔ اس قادیانی نے بڑی منت سماجت کی۔ میں نے اس پہ رحم کھاتے ہوئے سوار کر لیا۔ تاج محمد صاحب نے جواب دیا، تم مجھے ایک بات کا جواب دو کہ تمہاری ایک یتیم بہن ہو، جسے تم نے بڑے پیار سے پالا ہو اور پھر بڑے ناز سے اس کی شادی کی ہو مگر شادی کے کچھ دن بعد اس کا خاوند طلاق دے کر اسے تمہارے گھر بھیج دے اور پھر ایک دن ایسا آئے کہ وہ سخت گرمی میں سڑک کے کنارے تانگے کے انتظار میں کھڑا ہو اور تمہارا تانگہ وہاں سے گزرے اور وہ شخص تمہارے تانگے میں بیٹھنا چاہے تو کیا تم اسے بٹھا لو گے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ بالکل نہیں۔ تاج صاحب نے فرمایا تو کیا پھر تمہارا خیال ہے کہ نبی ﷺ کی عزت و ناموس تمہاری بہن جتنی بھی نہیں کہ تم اپنی بہن کی ناموس سے بغاوت کرنے والے سے اتنی نفرت کرو کہ اس پہ تمہیں ذرا رحم نہ آئے اور نبی کی عزت و ناموس کے باغی قادیانیوں پہ تمہیں رحم آجائے؟ یہ کس بات کی علامت ہے، 'ایمان کی یا کفر کی؟
(ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری کا مکتوب مولف کے نام)
میں کیسے مسلمان ہوا؟
مولانا تاج محمودؒ کی دوسری برسی تھی کہ وہاں ایک سابق قادیانی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ اس طرح بیان کیا ”مجھے باوجود قادیانی ہونے کے حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ سے بڑی عقیدت تھی۔ میں باقاعدہ ان کے مزار پہ حاضری دیتا۔ ایک دن داتا صاحب نے خواب میں کہا کہ ہم سے بھی محبت کرتے ہو اور مرزا مردود کو بھی مانتے ہو؟ چنانچہ اسی دن اللہ نے ہدایت نصیب فرمائی اور صبح ہوتے ہی اسلام قبول کرلیا اور مرزا قادیانی پہ لعنت بھیج دی“۔
(”ڈاکٹر سید صدیق شاہ بخاری کا مکتوب راقم کے نام)
شہید کی ماں
کتابیں اک سلیقہ سے سجی ہوں تو انہیں پڑھنے کو خواہ مخواہ دل مچلنے لگتا ہے اور پھر اگر ان کا تعلق بھی آپ کے من پسند موضوع سے ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ مولانا محب النبی کے سادہ مگر پروقار کمرے کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کمرے کی چھوٹی سی لائبریری میں مولانا نے اک گوشہ کتب ختم نبوت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ اس لیے کمرے میں داخل ہوتے ہی نگاہیں مولانا کے بعد ادھر کو اٹھتی ہیں۔ اس روز بھی جب میں عشاء کے بعد حاضر خدمت ہوا تو ایسا ہی ہوا۔ نگاہوں کا ادھر اٹھنا تھا کہ بات ختم نبوت پہ چل نکلی اور مولانا حسب عادت دھیمی آواز میں یوں گویا ہوئے کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت اپنے عروج پہ تھی اور شہر لاہور صدیق اکبرؓ کے بعد تحفظ ختم نبوت کے لیے چلنے والی امت کی سب سے بڑی تحریک کا عینی شاہد بن رہا تھا۔ دہلی دروازے کی طرف نیلا گنبد کے آس پاس کی گلیاں اور سڑکیں بھی شب و روز شہداء کے گرم خون کو بوسے دینے میں مصروف تھیں اور ایسے ماحول میں کہ جب کرفیو‘ قید و بند اور ظلم و ستم کی ساری زنجیریں غلامان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی جارہی تھیں‘ سوئے مدینہ اٹھنے والی ساری نظریں جھکائی جا
رہی تھیں اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بلند ہونے والی ہر صدا کا گلا گھونٹا جا رہا تھا۔
ایک صبح دھنی رام روڈ پر واقع ایک مکان کا دروازہ کھلا اور خوبرو، خوبصورت، صحت مند اور دراز قد نوجوان باہر نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ملٹری کی گن بردار گاڑیاں ایک جانب سے دوسری جانب بڑی چستی سے رواں دواں تھیں۔ کبھی اکا دکا کوئی سول گاڑی بھی گزر جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کے دبے پاؤں ادھر سے ادھر جانے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں مگر نہ جانے اسے یہ کیوں محسوس ہوا کہ جیسے آج چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا ہے، اک ہو کا عالم ہے اور وہاں واقعی سناٹا تھا کہ ان آوازوں میں کوئی بھی ختم نبوت زندہ باد کی آواز نہ تھی۔ اور کوئی صدا بھی محمد عربی کے نام کی صدا نہ تھی۔ وہ کچھ لمحے کو ٹھہرا، غور کیا۔ شاید سوچا ہو گا کہ کیا یہ لمحات نام محمد کی عظمتوں کے گواہ بنے بغیر گزر جائیں گے؟ اور اگر یہ لمحے اپنے ساتھ کسی بھی عاشق کی آواز گنبد خضراء تک نہ لے کے گئے تو دل مصطفیٰ پہ کیا گزرے گی؟ یہی سوچ کر آگے بڑھا اور پوری قوت سے نعرہ لگایا ”ختم نبوت زندہ باد“ ایسا جاندار نعرہ کہ جس کی بازگشت بڑی دیر فضا میں گونجتی رہی اور یہی گونج جب باغیان ختم نبوت کے محافظوں کی سماعت سے ٹکرائی تو گاڑیاں دوڑ پڑیں۔ حکم ہوا کہ دیکھو محمد رسول اللہ کے نام پہ بننے والے اس ملک میں محمد کی عظمتوں کا نعرہ کس نے لگایا۔ دیکھو یہ ”بغاوت“ کس نے کر دی۔ پکڑو اور گولی مار دو کہ اس ”باغی“ نے ہماری نافذ کردہ حدود کو توڑا ہے۔ اس نے کرفیو کی پابندیوں کو زیر و زبر کیا ہے۔
ارباب اختیار کو ختم نبوت کی پابندیوں کا ٹوٹنا تو گوارا تھا مگر کرفیو کی پابندیاں ٹوٹ جائیں، یہ منظور نہ تھا۔ چنانچہ اسی ”جرم“ کی پاداش میں اس عاشق صادق کا محبتوں بھرا سینہ بارود کی نذر کر دیا گیا۔ نوجوان نے سینے پہ ہاتھ رکھا، کچھ لمحے کو جھکا اور اپنے خون احمریں سے آقا کے حضور سلام پیش کرتا ہوا اپنے ہی گھر کے پہلو سے اگلے گھر کے لیے روانہ ہو گیا۔
چشم زدن میں وہ کتنی صدیوں کا سفر طے کر چکا تھا۔۔۔۔ ہاں وہی سفر جو اس گلی اور میدان احد کے درمیان حائل ہے۔ اس کا شمار احد کے میدان میں آقا کے ارد گرد کٹ مرنے والے پروانوں میں تو بے شک نہیں ہو سکتا مگر ان سے نسبت تو بنتی ہے اور نسبت ہی
سے حیثیت بدل جایا کرتی ہے۔ ارد گرد سب گھروں کے دروازے کھلے، لوگ آئے۔ میں بھی پہنچا تو یوں لگا کہ جیسے بڑی دور سے کوئی یہ کہہ رہا ہو کہ اب اگر ”گولی والے“ آئیں تو کہنا کہ ”مسافر تو گیا“ اور یہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو، کیوں نہ جاتا کہ جب ساقی کوثر خود جام کوثر لیے منتظر کھڑے ہوں۔ اسی اثناء میں اس جوان کی ماں بھی آئی۔ وہی ماں جو چند لمحے پہلے اک عام ماں تھی، مگر اب وہ اک شہید کی ماں بن چکی تھی۔ اس کے چہرے پہ واقعی شہید بیٹوں کی ماؤں جیسا جلال اور عظمت تھی۔
وہ آئی اور اس نے بڑے سکون و وقار سے اپنے بیٹے کو اک نظر دیکھا اور دوسرے ہی لمحے اس اکیلی ماں نے اپنے جوان بیٹے کی نعش دونوں ہاتھوں سے خود اٹھا کر چارپائی پہ رکھ دی۔ لوگ پرسہ دینے کے لیے آگے بڑھے تو وہ پر جلال انداز میں بولی لوگو! میرا بیٹا مرا نہیں بلکہ شہید ہے۔ اسے مردہ کہنے کو تو خود رب نے منع کر دیا ہے۔ یہ تو حیات جاودانی پا چکا، اسے تو اپنے رب کے ہاں رزق دیا جائے گا۔ لوگو یہ مرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔ اس لیے جو مجھے پرسہ دینے آیا ہے، وہ یہاں سے چلا جائے۔ ہاں جو مبارک باد دینا چاہے، وہ ٹھہر سکتا ہے۔ لوگوں کی نگاہیں جھک گئیں اور میں بھی اس ماں کی عظمت کو سلام کرتے ہوئے سر جھکا کے چل دیا۔ اور پھر چلتے چلتے مجھے قادسیہ کا میدان نظر آیا اور اس میں حضرت خنساءؓ نظر آئیں جو اپنے چار بیٹوں سے کہہ رہی تھیں بیٹو! جس طرح تم ایک ماں کے بیٹے ہو، اسی طرح ایک باپ کے بیٹے ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموں کی عزت کو بٹہ لگایا۔ کل جب جنگ کا میدان گرم ہو تو ایک ایک کر کے جانا اور اللہ کے راستے میں شہید ہو جانا تاکہ قیامت میں مجھے چار شہیدوں کی ماں کہہ کے بلایا جائے۔ نگاہوں سے یہ منظر ہٹا تو میں نے سوچا کہ میں خوش قسمت ہوں یا میری آنکھیں کہ جنہوں نے ١٤٠٠ برس بعد اک ویسا ہی منظر دیکھا۔ یہ ماں بھی تو زبان حال سے یہی کہہ رہی تھی کہ لوگو میں نے اپنے بیٹے کو بڑے پیار سے پالا، بڑی اچھی پرورش کی۔ بڑے ناز سے اسے پروان چڑھایا۔ یہ مجھے اس دنیا میں سب سے پیارا تھا۔ میری کل کائنات اور میرا سب سے بہترین ”مال“ یہی تھا۔ سو اسے میں نے اللہ کی راہ میں لٹا دیا۔ سو تم گواہ رہنا کہ میں نے اللہ کا یہ فرمان پورا کر دیا ”لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون
(”مجاہد ختم نبوت جناب ڈاکٹر صدیق شاہ صاحب کا مکتوب مولف کے نام“)
قاطع مرزائیت حضرت مولانا
سید لعل شاہ دوالمیالوی رحمۃ اللہ علیہ
صوبہ پنجاب میں ضلع چکوال کی تحصیل چوآسیدن شاہ کے گاؤں دوالمیال میں سادات مشہدی کاظمی کا ایک خانوادہ آباد ہے۔ اس خاندان کے ایک بزرگ حضرت مولانا سید رسول شاہ نواحی گاؤں تترال کی درمیانی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ ان کے ہاں فرزند پیدا ہوا، جس کا نام سید لعل شاہ رکھا گیا۔ اس فرزند کو ابتدائی تعلیم چکوال شہر کے مولانا غلام حسین نے دی اور مزید تعلیم بھیرہ، پشاور اور لاہور میں مولانا عبدالعزیز بگوی، مولانا غلام قادر قریشی اور مولانا قاضی غلام محی الدین پشاوری سے حاصل کی۔ قرآن کریم حفظ کیا۔ آپ خدا داد ذہنیت کے مالک تھے۔ چنانچہ جب آپ بھیرہ میں زیر تعلیم تھے تو امتحان میں شامل سو طالب علموں میں سے آپ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں خواجہ احمد میروی قدس سرہ العزیز کے مرید و خلیفہ مجاز ہوئے۔ ١٨٩٤ء کے قریب آپ نے سفر حج و زیارت کیا۔ حرمین شریفین میں آپ کو تقاریر کا شرف حاصل ہوا۔ سفر سے واپسی پر آپ بہت سی کتب خرید کر ہمراہ لائے۔ آپ کئی خوبیوں کے مالک تھے۔ مثلاً مفتی، مصنف، شاعر، پیر طریقت، مبلغ اسلام اور مناظر اسلام وغیرہ۔
اس زمانے میں آپ کا گاؤں دوالمیال قادیان کے بعد مرزائیوں کا دوسرا بڑا مرکز تھا۔ یہاں کے مرزائیوں کا سرخیل مولوی کرم داد مرزائی تھا جو کہ مولوی نور دین بھیروی مرزائی کا شاگرد تھا۔ حضرت شاہ صاحب نے مرزائیت وغیرہ کی سرکوبی کے لیے تحریر و تقریر کے ذریعے بساط بھر کوشش کی۔ چنانچہ کرم داد دوالمیالوی مرزائی سے یہاں آپ کے متعدد مناظرے ہوئے اور مقدمات بھی قائم ہوئے۔ مرزائیوں نے دوالمیال کی مسجد میں علیحدہ جمعہ قائم کرنے کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس کی مسلمانوں کی طرف سے حضرت
سید لعل شاہ صاحب نے پیروی کی ۔ ٩ فروری ١٩٠٧ء کو اسسٹنٹ کمشنر پنڈ دادنخان نے فیصلہ شاہ صاحب کے حق میں سنایا۔
آپ نے تبلیغ و اشاعت اسلام کے لیے ایک تنظیم ”انجمن اسلامیہ حنفیہ“ قائم کی۔ اس کا تیسرا اجلاس ١٣ تا ١٥ مارچ ١٩٢٤ء کو موضع پیر مخدوم جہانیاں اور دوالمیال میں منعقد ہوا۔ مرزائی مبلغ کرم داد دوالمیالی نے کہا کہ اگر حیات مسیح ثابت ہو گئی تو میں مرزا جی کو کافر اور سب دعوؤں میں کذاب اور جھوٹا مان لوں گا۔ چنانچہ انجمن کے متذکرہ بالا اجلاس میں ١٦ مارچ ١٩٢٤ء کو چو اسیدن شاہ شہر میں حضرت سخی سیدن شاہ شیرازی کی آخری آرام گاہ سے ملحق ایک بڑے میدان میں بہ انتظام پولیس مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان مناظرہ طے پایا۔ مسلمانوں کی طرف سے حاجی عبد الواحد علمبردار لاہوری صدر مناظرہ اور مولانا سید لعل شاہ دوالمیالوی اور قاضی فضل احمد لدھیانوی معاون مقرر ہوئے جبکہ مرزائی کرم داد دوالمیالوی مناظر اور فتح محمد نمبردار دوالمیالوی اور محمد بخش باشندہ دوالمیالوی معاون مقرر ہوئے ۔ اختتام مناظرہ پر انسپکٹر پولیس جناب مہر خان صاحب نے مسلمانوں کے دلائل کی تائید کی اور قادیانیوں کو اپنا موقف ثابت کرنے میں بری طرح ناکامی ہوئی۔ اس کے باوجود کرم داد مرزائی کو قبول حق کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔ اس مناظرہ کی مکمل روداد انجمن تائید اسلام لاہور کے ماہوار رسالہ کے شمارہ ١٥ مئی ١٩٢٤ء میں شائع ہوئی۔
گجرات شہر کا ملک عبدالرحمن خادم ایڈووکیٹ مرزائی مبلغ اور مرزا کے قریبی حواریوں میں سے تھا‘ جس نے بعد ازاں ١٩٥٢ء میں مرزائیت کے فروغ کے لیے ”احمدی پاکٹ بک“ کتاب تصنیف کر کے شائع کی۔ حضرت شاہ صاحب کے گاؤں دوالمیال کے قریب ہی ایک دیہات محمی کوٹ راجگان نام سے آباد ہے۔ یہاں کے راجہ علی محمد گجرات میں محکمہ جنگلات کے افسر تھے۔ راجہ صاحب کا رابطہ ملک عبدالرحمن خادم سے تھا۔ انہوں نے مرزائیت اختیار کی اور ملک عبدالرحمن مرزائی کی بہن سے دوسری شادی کرلی۔ اس طرح ملک عبدالرحمن خادم کا اس علاقے میں آنا جانا اور زیادہ ہوا۔ حضرت شاہ صاحب نے اس کا تعاقب کیا۔ چنانچہ ١٩٣٢ء کے لگ بھگ موضع محمی کوٹ راجگان میں حضرت مولانا سید لعل شاہ اور عبدالرحمن خادم کے درمیان مناظرہ ہوا جس میں مرزائیت کو ہزیمت اٹھانا
پڑی۔ اس کے علاوہ بھی دوسرے مذاہب باطلہ سے آپ کے مختلف موضوعات پر کئی مناظرے ہوئے۔ لیکن مرزائیت کا تو آپ نے اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کے علماء کرام نے ایسا ناطقہ بند کیا کہ مرزائی مبلغین کی تمام تر کوششوں کے باوجود مرزائیت اب تک اس گاؤں کی حدود سے باہر نہیں نکل سکی اور سچ فرمایا مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب مدظلہ نے کہ اگر اس علاقہ میں حضرت مولانا سید لعل شاہ اور حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیر موجود نہ ہوتے تو پورا علاقہ مرزائی و سبائی ہو چکا ہوتا۔ تحفظ اسلام کا فریضہ آپ نے آخر دم تک سرانجام دیا۔ چنانچہ ١٩٤٠ء میں جبکہ آپ انتہائی ضعیف ہو چکے تھے اور آپ کی عمر نوے برس سے تجاوز کر چکی تھی تو دوالمیال کے مرزائیوں سے مناظرہ کی نوبت آئی، آپ نے خود اس کا اہتمام و سرپرستی فرمائی اور مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی کو جو ان دنوں نواحی قصبہ ڈلوال میں خطیب تھے‘ اپنی طرف سے مناظر مقرر کیا۔ مرزائی مناظر کرم الٰہی ٹیچر منڈی بہاؤ الدین کو شکست فاش ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ اس مناظرہ کی مکمل روداد علامہ زاہد الحسینی کی مطبوعہ کتاب ”درۃ الزاھدیہ بر فرقہ احمدیہ“ میں محفوظ ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے تصنیف و تالیف کا کام بخوبی انجام دیا۔ آپ کے دور میں جہلم شہر سے ہفت روزہ ”سراج الاخبار“ حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیر کی زیر ادارت نکلا کرتا تھا۔ اس اخبار میں مسلمانوں کے دین سے متعلق سوالات شائع ہوا کرتے جن کے جوابات آئندہ شمارے میں علماء کرام دیا کرتے۔ جوابات دینے والوں میں آپ سرفہرست تھے۔ امرتسر سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ”الفقیہ“ میں بھی حضرت شاہ صاحب اور آپ کے فرزند مولانا حکیم سید کرم حسین شاہ کے رد مرزائیت پر مضامین و مراسلات شائع ہوا کرتے۔ آپ کی مطبوعہ تصانیف میں الہی عتاب بر دشمن‘ ابوبکر و عمر بن خطاب‘ اظہار حق‘ تیغ الٰہی بر فرقہ سبائی اور باغ فدک کا قصہ شامل ہیں۔ رد مرزائیت پر آپ نے ”حقیقت مرزائیت“ تالیف کی۔
حضرت شاہ صاحب کے شاگردوں میں آپ کے دو فرزندان حضرت مولانا سید فضل شاہ اور حضرت مولانا سید کرم حسین شاہ کے علاوہ مولانا میاں لعل دین دھولوی‘ حضرت پیر مہتاب شاہ دھولہ اور حال ہی میں قصور شہر میں فوت ہونے والے مشہور عالم دین سید
فردوس شاہ قابل ذکر ہیں۔ مولانا سید کرم حسین شاہ جید عالم‘ مصنف اور شاعر تھے۔ آپ کی تصانیف میں سوز احقر اور ذکر ولی مطبوعہ صورت میں ہیں اور عبدالرحمٰن خادم مرزائی کی کتاب ”احمدیہ پاکٹ بک“ کے جواب میں آپ نے ”حنفی پاکٹ بک“ مرتب کی تھی۔ علاوہ ازیں مولانا لعل دین دھولوی نے اپنے استاد محترم سید لعل شاہ صاحب کی سوانح حیات قلمبند کر کے ”گودڑی کے لعل“ کے نام سے ١٩٤٧ء میں شائع کیا۔
١٣ فروری ١٩٤٧ء مطابق ٢١ ربیع الاول ١٣٦٦ھ بروز جمعرات دوالمیال میں حضرت مولانا سید لعل شاہ نے مختصر علالت کے بعد تقریباً ایک سو سال کی عمر میں بروز جمعہ وفات پائی اور اپنے آبائی قبرستان میں مدفون ہوئے۔
(از قلم عابد حسین شاہ‘ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی)
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
ربوہ میں منزل بہ منزل
٢٧ ستمبر ١٩٧٤ء سے پہلے ربوہ میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا مسلمان یہاں داخل ہو بھی گیا تو اس کی جان پر بن آئی۔ حبس بے جا میں رکھنا‘ درد ناک اذیتیں دے کر اسے انٹروگیٹ کرنا‘ ظلم وستم اور جبرو تشدد کا نشانہ بنانا اہل ربوہ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس شہر میں کوئی پتہ مرزائی قیادت کی اجازت کے بغیر ہل نہیں سکتا تھا۔ کسی کو دم مارنے کی اجازت نہ تھی۔ مولوی غلام رسول جنڈیالوی مرحوم (ایڈیٹر روزنامہ ایام) فیصل آباد کا لڑکا اپنے دوست کے ہمراہ ربوہ آیا تو مرزائیوں نے ان دونوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ابدی نیند سلا دیا۔ یہ ان کے ظلم کی ادنیٰ مثال ہے۔ حکومت چاہے تو اس قسم کے جبر و تشدد کے بیسیوں واقعات اور راز ہائے درون پردہ کو طشت از بام کیا جاسکتا ہے جن پر کوئی رپٹ‘ کوئی مقدمہ‘ بلکہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
مسٹر جسٹس صمدانی ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے جب یہاں تشریف لائے تو تھانہ ربوہ کے کورے کورے رجسٹر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عرصہ تین سال تک ان میں کوئی رپورٹ تک درج نہ کی گئی ۔ مرزائیوں کا اپنا عدالتی نظام تھا ۔ مرزائی ربوہ کو اپنی خود مختار سٹیٹ سمجھتے تھے ۔ مرزائی سربراہ کے دفتر پر اپنا جھنڈا لہرایا جاتا تھا ۔ جسے وہ ”لوائے احمدیت“ کا نام دیتے ہیں ۔ اس تمام پس منظر کے مسٹر جسٹس صمدانی عینی گواہ ہیں ۔ صمدانی رپورٹ چھپ جاتی تو قادیانی فرعونیت کے کئی خوفناک کردار عیاں ہو جاتے اور ربوہ کی اندھیر نگری میں لاقانونیت اور ان کے حکومت کے اندر حکومت کرنے کے کئی پروگرام قوم پر واضح ہو جاتے ۔ خدا جانے وہ رپورٹ کس سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے ۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ صمدانی رپورٹ، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ، ١٩٧٤ء کی نیشنل اسمبلی کی کارروائی اور شریعت بینچ کی کارروائی شائع کی جائیں تاکہ قادیانی سازشیں بے نقاب ہوں اور پاکستانی قوم و حکومت آستین میں چھپے ہوئے ان سانپوں کے زہر سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے ۔
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے سانحہ ربوہ کے بعد حکومت نے ربوہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا جس میں آر ۔ ایم مقرر ہوا ۔ فون، پولیس، بجلی، ڈاک، ریلوے، بلدیہ غرضیکہ تمام محکموں سے قادیانی ملازمین کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مسلمان عملہ متعین کیا گیا تاکہ ربوہ کی سنگینی کو توڑا جا سکے ۔ سب کچھ اس دور میں ہوا، جب شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر تھے ۔ آپ کی دور رس مومنانہ فراست نے بھانپ لیا کہ یہی وہ موقع ہے جس کے لیے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ ، مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ اور دوسرے اکابر ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔
ان تمام حضرات نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ جدوجہد کی کہ ربوہ میں تبلیغی کام کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے مگر قدرت کو منظور نہ تھا ۔ آج وقت ہے کہ ان اکابر کی سالہا سال کی امنگوں اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اپنے ایک
مکتوب کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی کہ جس مناسب وقت کا مدت سے انتظار تھا، وہ آ پہنچا ہے۔ آپ ربوہ میں کام کرنے کی راہیں تلاش کریں اور ربوہ کی مہم کو سر کرنے کا انچارج حضرت مولانا تاج محمود کو بنائیں۔
مولانا محمد شریف جالندھری کی ہدایات لے کر ٥ دسمبر ١٩٧٤ء کو مولانا اللہ وسایا‘ مولانا خدا بخش‘ قاری عبدالسلام حاصل پوری ربوہ کے پہلے آر۔ ایم جناب منیر لغاری سے ملے اور ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے احاطہ عدالت (ان دنوں بلدیہ ربوہ کی عمارت میں آر۔ ایم کی عدالت قائم تھی) کے ایک کونے میں چبوترا نما مسجد پر مجلس تحفظ ختم نبوت نماز باجماعت کا اہتمام کر دے۔ موصوف جو بڑے بہادر اور غیرت رکھنے والے قابل قدر خاندان کے چشم و چراغ ہیں‘ نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر چند دنوں تک آپ دوبارہ رابطہ قائم کریں۔
٢٦ دسمبر ١٩٧٤ء کو حضرت مولانا محمد شریف جالندھری جن کی قیادت باسعادت پر ہمیں فخر ہے‘ وہ جس مہم پر بھی روانہ ہوئے‘ رحمت خداوندی ہمیشہ ان پر سایہ فگن رہی اور فتح و ظفر نے ان کے قدم چومے۔ آپ اس وقت کے مبلغ سرگودھا مولانا عزیز الرحمن خورشید کے ہمراہ جناب آر۔ ایم ربوہ سے ملے۔ انہوں نے ظہر و عصر کی نماز باجماعت پڑھانے پر خوشی کا اظہار کیا اور اجازت دے دی۔ کیونکہ عدالتی اوقات میں یہی ٢ نمازیں آتی تھیں۔
پہلی باجماعت نماز
اسی دن ٢٦ دسمبر ٧٤ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کھرڑیانوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ مولانا حافظ سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے ظہر کی نماز ربوہ پہنچ کر پڑھائی۔ خود اذان کہی‘ خود ہی امامت کرائی۔ پہلے دن شاہ صاحب کے علاوہ دو نمازی تھے۔
قارئین محترم! ربوہ جیسی کرب و بلا کی دھرتی پر اہل اسلام کی یہ پہلی آواز حق اور صدائے توحید تھی جو ایک سید آل رسول‘ سید ممتاز الحسن کی زبان سے بلند ہوئی اور
مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز جو تین مسلمانوں نے مل کر ادا کی‘ اس کے بعد مولانا عزیز الرحمن خورشید نمازیں پڑھاتے رہے۔ چار ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر مولانا محمد شریف احرار کا کراچی سے چنیوٹ تبادلہ کیا گیا۔ وہ ربوہ پہنچ کر نمازیں پڑھاتے رہے۔ جمعہ پڑھانے کا فرض بھی انہی کے سپرد کیا گیا۔ شان خداوندی دیکھئے کہ ان دنوں جمعہ کو عدالتوں میں سرکاری تعطیل نہ ہوتی تھی۔ لوگ مقدمات کے لیے جمعہ کو بھی عدالت میں آتے اور یوں جمعہ کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کو ربوہ میں اجتماع میسر آجاتا۔ جبکہ جمعہ کی تعطیل نہ تھی۔ تو جمعہ احاطہ عدالت میں ہوتا رہا۔ جب جمعہ کا اعلان تعطیل ہوا تو اس وقت تک قدرت نے ربوہ کے قلب میں واقع ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مسجد محمدیہ کا انتظام کرا دیا۔ الحمد للہ مولانا محمد شریف احرار کے بعد ربوہ کے لیے مولانا خدا بخش شجاع آبادی کا بحیثیت مبلغ و خطیب تقرر کیا گیا۔
مسجد محمدیہ کی تعمیر
ریلوے کا ایک وفد ٢٥ جنوری ١٩٧٦ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن آیا۔ اس کے آفیسر نیک مسلمان تھے۔ نماز پڑھنا چاہی تو مسلمانوں کی کوئی مسجد نہ تھی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور ان کی تحریک پر ربوہ ریلوے اسٹیشن کا مسلمان عملہ مسجد کے لیے کمربستہ ہو گیا۔ مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور فیصل آباد کے دوستوں کی توجہ دلائی۔ ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت اور اہل اسلام نے معاونت کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کبھی کبھار رقم کی دقت پیش آتی تو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکز ملتان سے تعاون حاصل ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد بن گئی۔ حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے اس کا نام ”مسجد محمدیہ اہل سنت و جماعت“ تجویز فرمایا۔ اس پر جو کتبہ لگوایا گیا‘ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود نے اس پر یہ عبارت تحریر کروائی
قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
”کہہ دیجئے! حق آیا اور باطل بھاگ کھڑا ہوا۔ تحقیق باطل ہے ہی بھاگنے
کے لیے"۔
مسجد محمدیہ ربوہ
اہل سنت و جماعت
مسجد کی خطابت کے لیے مولانا خدا بخش اور امامت، اذان اور مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے قاری شبیر احمد عثمانی کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے مقرر کیا جنہوں نے آج تک اس گلستان ختم نبوت کو اپنے خون سے سینچا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کے لیے سرگودھا، جھمرہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ کے احباب بالخصوص مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز کی گرانقدر اعانت شامل ہے۔
٢٢ ستمبر ٧٨ء بروز جمعہ المبارک سے فروری ٨٢ء تک کم و بیش چار سال تک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مسجد محمدیہ ربوہ کے خطیب رہے۔ انہوں نے بہادری اور جرات رندانہ کے ساتھ جمعہ کے خطبات میں قادیانیت کو ایسا رگیدا اور ایسے چرکے لگائے کہ قادیان کی جھوٹی نبوت اور اس کے پیروکار تڑپ اٹھے۔ حضرت مولانا تاج محمود کی علالت اور پھر ان کی وفات کے بعد انہیں جامع مسجد محمود ریلوے اسٹیشن فیصل آباد کے خطبہ جمعۃ المبارک کا فرض سونپا گیا اور مسجد محمدیہ میں مولانا خدا بخش صاحب دوبارہ تشریف لائے۔ تاحال اس کے وہی خطیب ہیں جبکہ قاری شبیر احمد امام و مدرس۔ ان حضرات کی مساعی نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ یہ گرمی، سردی، دوست دشمن کی پرواہ کیے بغیر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر پر کتنے اخراجات ہوئے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ ٩٨ھ محرم، صفر ٩٩ھ صرف پانچ ماہ کے عرصہ میں مجلس نے اپنے محفوظ فنڈ سے مسجد کے برآمدے، صحن، فرش اور چار دیواری پر اسی ہزار روپے سے زائد خرچ کیا۔ اب بھی مسجد کے تمام تر اخراجات، مدرس و خطیب کی تنخواہ، بجلی، سوئی گیس اور تعمیر و مرمت کے تمام مصارف مجلس ادا کرتی ہے۔
اس کی متولی و مہتمم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ہے۔ مسجد میں بارہ ہزار روپے کا سپیکر نصب کیا ہے۔ سوئی گیس لگوانے پر پندرہ ہزار روپے خرچ ہوئے۔
آج یہ مسجد ربوہ کے قلب میں رشد و ہدایت کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ ٢٨ دسمبر ٧٩ء کو الشیخ محمد اسماعیل بن عقیل نمائندہ رابطہ عالم اسلامی نے اس مسجد میں جمعہ پڑھایا۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق میلے کا سماں تھا۔ مسجد کا ہال، برآمدہ، صحن، چھت اور ریلوے اسٹیشن پر مخلوق کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔ مسجد سے باہر بھی تقریباً بیس صفیں تھیں۔ ضلع بھر کی انتظامیہ اور مارشل لاء حکام بھی موجود تھے۔
ربوہ میں اہل اسلام کا اتنا بڑا اجتماع چشم تصور نے بھی شاید آج تک نہ دیکھا تھا۔ اس سے قبل قاری فتح محمد صاحب پانی پتی، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دوسرے فرزندان اسلام یہاں تشریف لائے جن کی آمد پر عظیم اجتماعات ہوئے۔ رابطہ کے نمائندے نے اس مسجد کو ”حجۃ اللہ“ کا لقب دیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی سے اس مسجد کے بن جانے کے بعد قادیانی قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں گے کہ اے اللہ ! ہمیں حق کا پیغام نہیں پہنچایا تھا۔ اس مسجد کے بعد ان پر حجت پوری ہو گئی ہے۔ اس موقعہ پر حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب بھی موجود تھے۔ جن کی طرف سے حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ نے رابطہ کے نمائندے کے اعزاز میں استقبالیہ پڑھا اور کراچی سے مجلس کے مرکزی شوریٰ کے رکن ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر نے اردو سے عربی میں ترجمانی کے فرائض انجام دیے۔
١٢ ربیع الاول ١٤٠٠ھ ١٠ فروری ١٩٧٩ء سے یہاں پر سالانہ اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر کے عظیم راہنما تشریف لاتے ہیں۔ اس مسجد کے مینار فروری ٨٠ء میں مکمل ہوئے۔ ٨٢ء کے اوائل میں مدرسہ کے دو کمرے، برآمدہ، چار دیواری مکمل ہوئی جن کے مصارف فیصل آباد کے جناب شہزادہ صاحب نے برداشت کیے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بیش از بیش نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔
اہم اجتماعات
اب تک ربوہ میں متعدد اہم اجتماعات منعقد ہو چکے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل
ہے:
٢٥ دسمبر ٨٠ء کو جمعہ کا عظیم اجتماع ہوا جس میں حضرات امیر مرکزیہ کے علاوہ حضرت علامہ مولانا عبدالستار تونسوی‘ مولانا مفتی احمد الرحمٰن کراچی‘ مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد شریک ہوئے۔ ٣١ اکتوبر ٨١ء کو مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب عبداللہ بن زائد تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں مجلس نے استقبالیہ دیا۔ ٢ مئی ٨٢ء کو حضرت الامیر دامت برکاتہم‘ خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی کے اعزاز میں حالیہ صدارتی آرڈیننس کی خوشی میں استقبالیہ دیا گیا۔ اس دن مجلس کے رہنماؤں کی ربوہ آمد اور مرزا طاہر کے ملک سے فرار پر ربوہ میں عجیب سماں تھا۔ ربوہ کے قادیانیوں پر خسر الدنیا والاخرہ کی جھلک نمایاں تھی۔
الغرض یہ مسجد ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس مسجد کا کچھ کام ابھی باقی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت (مسلم کالونی)
٧٥ء میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے سلسلہ میں حکومت پنجاب نے یہ قدم اٹھایا کہ محکمہ ہاؤسنگ کے تحت ربوہ میں مسلم کالونی کے نام سے کالونی قائم کی۔ اس میں مسجد و مدرسہ کے لیے ٩ کنال کا پلاٹ مختص کیا۔ کچھ اور لوگوں کے علاوہ اس پلاٹ کے لیے مجلس نے بھی درخواست دی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کو سلام کرتا ہوں کہ جن کی فراست ایمانی نے مستقبل کو بھانپتے ہوئے مجلس کو رجسٹرڈ کرا لیا تھا۔ آج سے نصف صدی قبل ہونے والی یہ رجسٹریشن کام آئی اور پلاٹ مجلس کو مل گیا۔ کیونکہ قاعدے کے مطابق یہ کسی رجسٹرڈ ادارے یا انجمن کو ہی مل سکتا تھا۔ ٢٦ دسمبر ٧٦ء کو محکمہ ہاؤسنگ کے ملتان مرکزی دفتر کو آرڈر ملا کہ آپ کی درخواست منظور ہو گئی ہے۔ آپ جلد پلاٹ کا قبضہ حاصل کریں۔ چنانچہ ٢٨ جون ٧٦ء کو حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ نے محکمہ ہاؤسنگ کے افسران کے ہمراہ ربوہ آکر پلاٹ کا قبضہ لیا۔
٨ رجب ١٣٩٦ھ ؍ ٧ جولائی ١٩٧٦ء بروز بدھ حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ، امیر مرکزیہ نے اس پلاٹ پر نماز عصر کی پہلی جماعت پڑھائی۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ ان دنوں پاؤں زخمی ہونے کے باعث چل نہ سکتے تھے۔ ان کو ہماری چنیوٹ مجلس کے ناظم اعلیٰ چودھری ظہور احمد کاندھوں پر اٹھا کر لائے۔ حضرت مولانا عبد الرحمٰن سیالویؒ بیماری کے باوجود اس تقریب میں شریک ہوئے۔ اب یہ دونوں حضرات گو ہم میں موجود نہیں لیکن ان کے اخلاص بھرے ہاتھوں لگا ہوا پودا تناور درخت کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے۔ حضرت امیر نے جس اخلاص دل اور سوز جگر سے دعا کرائی، اس کا نتیجہ ہے کہ آج اس جگہ پر تیسری سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اس پہلی تقریب کے بعد نماز کے لیے عارضی جگہ اور ایک رہائشی کمرے کی تعمیر کرائی گئی۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات مرحوم و مغفور کو ملتان دفتر میں پلاٹ ملنے کی خبر سنائی تو آپ نے کھانا چھوڑ دیا، چنے کھانے لگے۔ مولانا محمد شریف جالندھری ملتان گئے تو مولانا نے کھانا نہ کھانے اور چنے چبانے کی وجہ پوچھی۔ فرمایا کہ میں اپنے دانتوں کی ریہرسل کر رہا ہوں کہ اگر مجھے ربوہ میں کھانا نہ ملے تو کیا میرے دانت چنے چبا سکتے ہیں یا نہیں۔ حضرت مولانا محمد حیات مرحوم کے اس دلی لگاؤ کو دیکھ کر فیصلہ کیا کہ آپ قادیان کی طرح ربوہ میں بھی اپنے بزرگوں کی امانت کو سینے سے لگائیں۔
مولانا محمد حیات جن کی عظمت کو قلب و جگر کی گہرائیوں سے سلام پیش کرنے پر مجبور ہوں، وہ ٢١ اکتوبر ١٩٧٩ء کو ربوہ تشریف لائے اور دم واپسیں تک یہیں قیام پذیر رہے۔ ان کا وجود قادیانیت کے خلاف امت محمدیہؐ کے لیے انعام الٰہی تھا۔ پہلے قادیان میں اور پھر ربوہ میں انہوں نے جس طرح مرزائیت کا تعاقب کیا، اس پر پوری امت مسلمہ ان کی شکر گزار ہے۔
٢٢ اکتوبر ١٩٧٩ء کو یہاں جامع مسجد ختم نبوت کا سنگ بنیاد رکھا۔ تبلیغی جماعت کے راہنما مولانا جمیل احمد صاحب میواتی نے دعا کرائی۔ اس تقریب میں جن خوش نصیب راہنماؤں نے شرکت کی، ان کے نام یہ ہیں: حضرت مولانا محمد حیاتؒ ، حضرت مولانا تاج محمودؒ ، حضرت مولانا محمد شریف
جالندھری‘ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری‘ مولانا سید منظور احمد شاہ‘ مولانا قاضی اللہ یار‘ مولانا اللہ وسایا‘ مولانا عبدالرؤف‘ مولانا کریم بخش‘ قاری شبیر احمد‘ سید غلام مصطفیٰ شاہ‘ عمر سید‘ قاری منیر احمد‘ مدرسہ کے طلباء اور تبلیغی جماعت کے احباب۔
(از قلم مولانا محمد اشرف ہمدانی‘ ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ٢١‘ شمارہ
٢٦-٢٧)
بہشتی مقبرے میں چند لمحے
جون ١٩٨٢ء کے دوسرے ہفتے مجھے ایک دوست کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی غرض سے امرتسر جانے کا اتفاق ہوا۔ مورخہ ١٢ جون کو میں فرصت نکال کر امرتسر سے بٹالہ گیا اور وہاں خانقاہ قادریہ فاضلیہ میں حضرت ابو الفرح فاضل الدین اور ان کے اجداد کے مزارات کی زیارت کی۔ میں بٹالہ سے کلانور جانا چاہتا تھا لیکن کافی انتظار کے باوجود بس نہ مل سکی۔ اتنے میں ایک خوبصورت بس‘ بس اسٹینڈ میں داخل ہوئی۔ میرے استفسار پر ڈرائیور نے بتایا کہ یہ بس قادیان جا رہی ہے۔ میرا اس روز قادیان جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا‘ لیکن بس جاتی دیکھ کر طبیعت مچل گئی اور میں بٹالہ سے کوئی بیس منٹ میں قادیان پہنچ گیا۔
قادیان کے بس اسٹینڈ کے قریب ہی ایک ادھیڑ عمر مرزائی سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ اس نے ایک ہاتھ میں رسید بک تھامی ہوئی تھی۔ شاید وہ بازار میں چندہ جمع کرنے نکلا تھا۔ میں نے اس سے انجمن احمدیہ کے دفاتر کی طرف جانے کا راستہ پوچھا تو اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ علی گڑھ سے آیا ہوں۔ وہ فوراً بولا کہ وہاں ہمارے فلاں فلاں طالب علم پڑھتے ہیں۔ آپ ان سے واقف ہیں؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کہنے لگا اگر میں کچھ دیر انتظار کر لوں تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں ذرا عجلت میں ہوں اس لیے مجھے صرف راستہ بتا دو۔ اس نے راستہ بتایا تو میں پر پیچ اور گندی گلیوں سے گزرتا ہوا انجمن احمدیہ کے دفاتر کے پاس پہنچ گیا۔ مرزائیوں کے
مخصوص بازار میں دکانیں کھلی تھیں اور ان پر سائن بورڈ آویزاں تھے۔ ایک طبیب کے مطب پر نظر پڑی تو اس نے حکیم عبد الواحد درویش نمبر ٥٢ کا بورڈ لگایا ہوا تھا۔ وہ شکل و شباہت سے پٹھان معلوم ہوتا تھا اور اس نے پٹھانوں کی طرز پر شملہ دار مشہدی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ اسی جگہ میں نے ایک اور پٹھان کو اسی طرز کی پگڑی باندھے ہوئے سائیکل پر بہشتی مقبرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔
بازار میں دبلے پتلے سیاہ فام بہاری مرزائی آتے جاتے دکھائی دیے۔ ان کے چہروں پر فرنچ کٹ داڑھیاں اور کلونس ایک عجیب سماں باندھ رہے تھے۔ میں ان سے لا تعلق ہو کر جامعہ احمدیہ کی طرف مڑ گیا۔
جامعہ احمدیہ میں مرزائیت کی تبلیغ کے لیے مبلغ تیار کیے جاتے ہیں۔ دو پہر کا وقت تھا۔ اس لیے مجھے کوئی زیر تربیت مبلغ نظر نہیں آیا۔ جامعہ احمدیہ والی گلی میں ایک مکان کے باہر ”خدام الاحمدیہ“ کا بورڈ آویزاں تھا اور ایک کوٹھڑی کے دروازے پر ”لجنہ اماء اللہ“ کی تختی لگی ہوئی تھی۔ ایک مکان میں ”جماعت احمدیہ قادیان“ کا دفتر تھا۔ یہ جماعت صرف قادیان میں رہنے والے مرزائیوں کے مسائل حل کرتی ہے۔
اسی گلی میں تعلیم الاسلام ہائی سکول تھا۔ جو اب حکومت کی تحویل میں ہے۔ جس وقت میں وہاں سے گزرا‘ اس وقت ایک سکھ ماسٹر ایک ننھے مرزائی طالب علم کا ردیف قافیہ درست کر رہا تھا۔ اسی گلی میں مہمان خانہ بھی ہے جہاں مجھے گزشتہ سفر قادیان میں قیام کرنے کی دعوت ملی تھی۔
اسی گلی کے خاتمہ پر ایک بڑا سا جوہڑ ہے جسے عرف عام میں ”ڈھاب“ کہتے ہیں۔ اسی ڈھاب میں ہوس کا شکار معصوم لڑکیاں اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے خود کشی کیا کرتی تھیں یا ان کا گلا گھونٹ کر رات کے اندھیرے میں ڈھاب میں پھینک دیا جاتا تھا۔
میں اسی خونی ڈھاب کے کنارے چلتا ہوا بہشتی مقبرے کی طرف بڑھا۔ ڈھاب سے بہشتی مقبرے کا فاصلہ بمشکل ایک فرلانگ ہو گا۔ مقبرے کے ارد گرد ایک مضبوط اور بلند چار دیواری ہے۔ میں ایک آہنی پھاٹک سے گزر کر بہشتی مقبرے میں داخل ہوا۔ کلکتہ کے ایک مرزائی تاجر نے بہشتی مقبرے کی آرائش کے لیے کافی رقم خرچ کی ہے۔ میں پھاٹک
سے گزر کر سیدھا جنازگاہ کی طرف بڑھا۔ اس کے قریب ہی درختوں کے ایک جھنڈ میں ایک پتھر نصب ہے جس پر ”ظہور قدرت ثانیہ“ کندہ ہے۔ اس پتھر پر منقوش ایک عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نماز جنازہ کے بعد اس مقام پر حکیم نور الدین بھیروی کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی تھی۔ اس روایت کے راوی ”بھائی عبدالرحمن قادیانی“ کا نام بھی پتھر پر درج ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مرزا غلام احمد کو الہام ہوا تھا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ بھائی عبدالرحمن پیدائشی سکھ تھا لیکن بعد میں مرزائی ہو گیا تھا۔ اس کا شمار مرزا غلام احمد کے خواص میں ہوتا ہے۔ وہ اس بیعت کا عینی شاہد تھا۔ اس لیے اس کی روایت اور نشاندہی پر اس تاریخی مقام پر پتھر نصب کر دیا گیا ہے۔
بھائی عبدالرحمن آزادی کے بعد پاکستان آ گیا تھا۔ اس کا انتقال ربوہ میں ہوا اور اس کی میت تدفین کے لیے قادیان لے جائی گئی اور اسے بہشتی مقبرہ میں خواص کی صف میں دفن کیا گیا۔ یہ پہلی اور غالباً آخری مثال ہے کہ کسی مرزائی کی میت تدفین کے لیے پاکستان نے قادیان لے جائی گئی ہو۔ ورنہ مرزا بشیر الدین محمود اور ان کی ماں نصرت جہاں بھی اس ”سعادت“ سے محروم رہے ہیں۔ ربوہ میں بشیر الدین محمود کی قبر پر ایک تختی نصب ہے جس پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اس کے معتقدین کا یہ فرض ہے کہ جب بھی موقعہ ملے اس کا تابوت ربوہ سے قادیان پہنچا دیا جائے۔ بہشتی مقبرہ میں غلام احمد متبنی کی قبر کے دائیں جانب حکیم نور الدین کی قبر ہے اور بائیں طرف نصرت کے لیے جگہ مخصوص ہے۔
نصرت سے یاد آیا‘ مولانا احمد سعید دہلویؒ بیان کیا کرتے تھے کہ جب نصرت کا غلام احمد کے ساتھ نکاح ہوا تو دلی والیاں اسے وداع کرنے آئیں۔ انہوں نے نصرت کو مخاطب کر کے کہا ”اری نصو سنا ہے کہ تمہارا نکاح کسی پنجابی نبی کے ساتھ ہوا ہے“ دلی میں پنجابی کو گنوار سمجھا جاتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ متبنی بھی ہے۔ مولانا احمد سعید کی کرخنداری زبان میں یہ مصرع سن کر جو لطف آتا تھا‘ وہ بیان سے باہر ہے۔
میں جنازگاہ سے مرزا غلام احمد کی قبر کی طرف چلا۔ مرزا اور اس کے رشتہ داروں اور خاص خاص دوستوں اور حواریوں کی قبریں ایک مخصوص احاطے کے اندر ہیں۔ اس احاطے کے باہر ایک ہینڈ پمپ نصب ہے جس کا پانی مرزائیوں کے نزدیک کوثر و سلسبیل کے
پانی کا حکم رکھتا ہے۔ مجھے اس وقت پیاس محسوس ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود میں نے اس پمپ کا پانی پینا مناسب نہ سمجھا۔
مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین کی قبروں کی جانب غرب ایک "مواجہہ" بنایا گیا ہے اور ایک ایسا ہی مواجہہ جانب جنوب بھی ہے جسے میں اپنے پہلے سفر قادیان میں نہیں دیکھ سکا تھا۔ جنوبی مواجہہ کے قریب مرزا بشیر الدین محمود کی تین بیویاں دفن ہیں۔ ان میں سے ایک بیوی ام طاہر موجودہ سربراہ طاہر احمد کی ماں ہے۔ دوسری بیوی سارہ کے بطن سے طاہر احمد کا حریف مرزا رفیع احمد ہے۔ تیسری بیوی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں رہا۔ وہ لجنہ اماء اللہ کی سیکرٹری تھی۔
ان میں سے ایک بیوی کی لوح مزار پر بشیر الدین محمود نے ایک طویل عبارت کندہ کروائی ہے اور اس میں اس بات کا ادعا کیا گیا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے لیے اس کا انتخاب مرزا غلام احمد نے بذریعہ الہام کیا تھا۔ چند روز قبل میں نے اس کا ذکر مرزا محمد شفیق سے کیا تو انہوں نے کہا کہ باپ کے لیے بذریعہ الہام جس خاتون (محمدی بیگم) کا انتخاب خالق کون و مکان نے کیا تھا، وہ تو اسے مل نہ سکی، بیٹے کو وحی کے ذریعے کیسے مل گئی؟
بہشتی مقبرے میں مدفون لوگوں کی قبروں کے اندر جو حالت ہوگی، وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ امام حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ جس خطہ زمین کو شہر خموشاں کہتے ہیں، اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ وہاں مدفون لوگوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے تو لوگ مارے ڈر کے اپنے مردے وہاں لانے سے انکار کر دیں۔ بس ایسا ہی معاملہ بہشتی مقبرہ میں دفن مردوں کے ساتھ پیش آ رہا ہو گا۔
بہشتی مقبرے میں مخصوص خطے کے باہر جانب غرب "مرزا کے خواص" کی قبریں ہیں جن کی الواح پر ان کی نمایاں خدمات منقوش ہیں اور جانب جنوب ان موصیوں کی قبریں ہیں جنہوں نے اپنی جائیداد میں سے ١/١٠ کی وصیت انجمن احمدیہ کے لیے کی تھی۔ کئی جگہ صرف الواح نصب ہیں اور قبروں کے نشان نظر نہیں آتے۔ ان پر ان موصیوں کے نام کندہ ہیں، جنہوں نے یہاں دفن ہونا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے ان کی میتیں یہاں نہیں پہنچ سکی ہیں۔ اب ان کے نام کی الواح درج ہیں اور جب زائرین بہشتی مقبرہ میں مدفون "خوش قسمت"
مرزائیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو وہ بھی دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ "حواریوں" کی قبروں کے سرہانے ایک لمبا چوڑا بورڈ نصب ہے جس پر یہ نوید لکھی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کو یہ الہام ہوا تھا کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے سے کوئی شخص بہشتی نہیں ہو جائے گا بلکہ بہشتی ہی اس میں دفن ہو گا"۔ یہ ناک کو بجائے سیدھی طرف سے پکڑنے کے ہاتھ گھما کر پکڑنے کے مترادف ہے۔
مرزا غلام احمد کے الہام اسی طرح کے ہوا کرتے تھے۔ ایک بار اس پر یہ وحی نازل ہوئی "فٹم۔ فٹم۔ فٹم" حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ وہ اس وحی کا مطلب نہیں سمجھ سکے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہی کیا جو وحی کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔ ایک بار حضرت کے پیٹ میں درد اٹھا۔ انہوں نے عالم رویا میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ غالباً "ٹیچی ٹیچی" جو حضرت پر وحی لے کر آیا کرتا تھا‘ ان کے سامنے کھڑا ہے اور اس کی مٹھی بند ہے۔ اس نے حضرت کے سامنے اپنی مٹھی کھولی تو اس کی ہتھیلی پر ایک میٹھی گولی پڑی تھی جس پر "خاکسار پیپر منٹ" لکھا ہوا تھا۔
میٹھی گولی سے بات چلی ہے تو آئیے مرزا بشیر احمد ایم۔اے کی تصنیف "سیرت المہدی" بھی دیکھتے چلیں۔ فرزند ارجمند اپنے والد بزرگوار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ حضرت کو گڑ کھانے کا بڑا شوق تھا۔ اور ان کے کوٹ کی ایک جیب میں گڑ کی ڈلیاں پڑی رہتی تھیں۔ جس زمانے میں حضرت کو سلسل البول کی تکلیف لاحق ہوئی تو موصوف کوٹ کی دوسری جیب میں استنجے کے ڈھیلے رکھنے لگے۔ بارہا ایسا ہوتا کہ حضرت مسیح موعود گڑ کھانے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالتے اور بے دھیانی کے عالم میں مٹی کا ڈھیلا منہ میں ڈال لیتے۔ "سبحان اللہ جو شخص استنجے کے ڈھیلے اور گڑ کی ڈلی میں تمیز نہ کر سکے‘ وہ ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ آئے اور ہمسری کا دعویٰ کرے۔
میں جس وقت مرزا غلام احمد کی قبر سے پھاٹک کی طرف روانہ ہوا تو ایک نئی بات مشاہدہ میں آئی۔ مخصوص احاطے سے جو سڑک پھاٹک کی طرف جاتی ہے وہ منارۃ المسیح کی عین سیدھ میں ہے۔ جس طرح فیصل آباد کے کسی بھی بازار میں کھڑے ہو کر دیکھیں تو گھنٹہ گھر بالکل سامنے نظر آتا ہے۔ بعینہ اس سڑک سے منارۃ المسیح سامنے نظر آ رہا تھا۔ دو سال قبل پہلی بار جب میں قادیان گیا تھا تو اس وقت اس منار کے گرد سنگ مرمر کی سلیں لگا رہے
تھے۔ اب یہ کام مکمل ہو گیا ہے۔
مرزائیوں کے ذہن کا ایک پیچ ڈھیلا ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی ہر منطق نرالی ہوتی ہے۔ ”منارۃ المسیح“ کی تعمیر کے بارے میں عرض ہے کہ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پہلے کیا اور جس منار پر مسیح نے نازل ہونا تھا‘ وہ بعد میں بنایا گیا۔ مرزائی اس کی آرائش و زیبائش میں اس قدر دلچسپی لے رہے ہیں جیسے اب کوئی اور بلا نازل ہونے والی ہے۔ جس کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
بہشتی مقبرے سے نکل کر میں سیدھا بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک اور بات مشاہدے میں آئی کہ گلیوں میں موٹے تازے چوہے مرے پڑے تھے۔ میں نے دل میں سوچا کہ شاید اس مقہور بستی میں کوئی وبا پھوٹنے والی ہے۔ کیونکہ طاعون پھیلنے سے پہلے چوہے مرنے لگتے ہیں۔
بس اسٹینڈ پر پہنچتے ہی مجھے بس مل گئی اور میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں امرتسر پہنچ گیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ١‘ شمارہ ١٣)
اور میں کامیاب ہو گیا
١٩٦٥ء کے حج کے بعد سے رابطہ عالم اسلامی میں قادیانیت پر بحث ہوتی رہی اور کلکتہ میں قادیانیوں کے خلاف ایک لہر دوڑ گئی۔ بعض قادیانی تو بمبئی سے ہی پاکستان چلے گئے اور بعض نے اپنے گھروں میں عافیت سمجھی۔ جو ذرا ڈھیٹ قسم کے تھے‘ انہوں نے بکنا شروع کیا ”سنت پر عمل ہو گیا“ اور مختلف جگہوں پر جلسے ہونے لگے۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی مناظر قادیانیت کو طلب کیا جانے لگا اور میرا بھی اکثر جلسوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اس وقت ہرنیا کا مریض تھا اور باوجود علالت کے مجھے جلسہ میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک جلسہ میں شرکت کی اور جلسہ سے قبل میں نے مقامی مدرسوں وغیرہ کو متوجہ کیا کہ اس قسم کے جلسوں سے فائدہ کم ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی لوگ قادیانیت سے واقفیت حاصل کریں اور ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
کلکتہ میں اس سے قبل بھی مولانا لعل حسین اختر کو بلایا گیا تھا اور ان کے دو مہینے قیام کے دوران قادیانی مبلغ حضرات کلکتہ سے باہر چلے گئے اور کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔ اس کے بعد قادیانی پھر سرگرم ہو گئے اور عوام میں سوالات‘ شکوک و شبہات کی بھرمار کر دی۔ میں نے مولانا لعل حسین اختر سے (جن کا قیام ہماری ہی بلڈنگ میں تھا) یہ استفادہ ضرور کیا کہ مرزا کی کتابوں کا چیدہ چیدہ مطالعہ کیا۔ کیونکہ اس کی کتاب پڑھنے کے لیے کافی صبر و برداشت سے کام لینا پڑتا ہے۔ تھوڑے بہت مطالعہ سے ہی مجھے اپنی پرانی رائے ”مسلمانوں کے سینکڑوں فرقوں میں سے یہ بھی ایک فرقہ ہے“ بدلنا پڑی اور اسلام دشمنی کی بو مجھے محسوس ہوئی۔ اسی لیے میرا خیال تھا کہ مقامی لوگ قادیانیت سے واقفیت حاصل کریں۔ اسی مجلس میں ایک نو قادیانی بنگالی مجھ سے سوال کرنے پہنچ گیا۔ اس نے آکر مجھ سے تین سوال کیے کہ ان کا جواب قرآن و حدیث سے دوں۔ ایک تو معراج کے جسمانی ہونے کا ثبوت‘ دوسرے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کا ثبوت اور تیسرا مجھے یاد نہیں۔
میں نے اس سے پوچھا کہ عربی جانتے ہو۔ قرآن و حدیث تو عربی میں ہے؟ اس نے کہا نہیں‘ تو پھر میں کوئی بھی آیت پڑھ کر جو ترجمہ کردوں گا‘ اس کو مان لو گے؟ کہنے لگا میں اپنے مولوی سے اس کی تحقیق کروں گا‘ اور دوبارہ میں کوئی دوسری آیت پڑھ دوں گا تو پھر؟ پھر میں دوبارہ اپنے مولوی کے پاس جاؤں گا۔ اس طرح کب تک چکر کاٹو گے؟ وہ خاموش ہوا تو میں نے کہا کہ دیکھو تمہاری زبان بنگالی ہے اور مرزا کی زبان پنجابی ہے۔ لیکن تم دونوں کے درمیان اردو ایسی زبان ہے جس کو دونوں جانتے ہیں تو پھر میں تم کو مرزا کی اردو کتاب سے ہی کیوں نہ حوالہ دے دوں۔ جس کو تم خود یہاں سمجھ لوگے۔ اس نے کہا یہی بہتر ہے۔ مرزا نے کہا ہے کہ ”مردے زندوں سے نہیں ملتے“ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے مرزاجی کا یہ کہنا کہ ”میں نے اس کو بارہا دیکھا ہے‘ ایک بار میں نے اور مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا“ (تذکرہ صفحہ ٤٠٣) سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ مرزاجی مرگئے تھے۔ یہ سن کر وہ اٹھ کر بھاگ گیا کہ پھر آؤں گا۔
پہلے تو قادیانیوں نے مجھے ایذاء رسانی کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد مجھ سے گفتگو کی کوشش کی۔ ہمارے جاننے والے ایک پڑوسی کے ذریعہ ملاقات کا وقت مقرر کیا کہ تین آدمی ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں تیار ہو گیا اور میں نے اپنے ہمراہ مولانا معصومی صاحب کو شریک کیا۔ وقت مقررہ پر تین متعین اشخاص میں سے دو آئے اور ایک نیا شخص (جو اپنی بکواس سے مجھ سے خاموش ہو کر نکل گیا تھا) شریک گفتگو ہوا۔ مجلس شروع ہوئی اور سربراہ نے میری تعریف شروع کی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں اپنے کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس میں وقت ضائع نہ کریں۔ اصل مقصد پر گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ شبہات ہیں، جن کی توضیح چاہتے ہیں اور اپنے تیسرے شخص سے کہا کہ آپ سوال کریں۔ انہوں نے آل عمران کی آیت (٨١) واذ اخذ الله میثاق النبیین اور احزاب کی آیت (٧) واذ اخذنا من النبیین میثاقہم پڑھی اور اس کا ترجمہ الٹا سیدھا کیا۔ میں بالکل خاموش رہا۔ تھوڑی دیر ان کے بولنے کے بعد میں نے سربراہ کو مخاطب کیا کہ آپ لوگوں کا قرآن کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ ہم قرآن پر کلام اللہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اپنے سینوں میں اس کو محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے دل و دماغ سے کہیں بلند و بالا ہے۔ جاہلوں کو اس میں بولنے کا کوئی حق نہیں اور اگر جاہل کچھ کہتے ہیں تو اس کو ہم استہزاء بالقرآن یا اہانت کلام اللہ سمجھتے ہیں۔ جو عربی سے واقف نہ ہوں ان کو قرآنی الفاظ پر کچھ کہنے کی جرأت ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ کسی پڑھے لکھے سے ہم گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس پر سائل کو غصہ آ گیا اور اول فول بکنے لگا۔ مجلس میں اچھی خاصی ہنگامی شکل پیدا ہو گئی اور مؤذن نے بروقت عشاء کی اذان دے دی۔ ہم دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے نماز کے لیے رخصت ہو گئے۔ دراصل اس شخص کا غصہ اور اس کی حرکتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں نے اپنی ہنسی کو روکنے کی پوری کوشش کی اور اس منظر سے کافی محظوظ ہوئے۔
وہ آپس میں لڑتے جھگڑتے رخصت ہو گئے۔ دو تین ہفتے بعد دوبارہ سربراہ کا پیغام آیا کہ ملاقات چاہتے ہیں۔ میں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں صریح آدمی ہوں اور صراحت پسند ہوں۔ وہ صاف بتائیں کہ کون آئے گا؟ بعد میں کسی دوسرے کو لائیں
گے تو میرا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ میں خود ملاقات کرنے کے بجائے کسی گدھے کو سامنے کر دوں گا۔ اس سے بات کر لیں۔ میرے اس جملے نے ان کے حوصلے ختم کر دیے۔
ان حالات کا یہ اثر ہوا کہ مجھے قادیانیوں کی اصل کتابیں ملنے لگیں اور بدر کا پرچہ بھی اکثر مجھ تک پہنچنے لگا جس سے میری معلومات میں کافی اضافہ ہوا اور میں مرزا کا مستقل مد مقابل بن گیا۔
١٩٧٦ء میں دوبارہ آٹھ قادیانیوں نے حج کے فارم پر کیے اور اس طرح کہ نام اور پتہ تبدیل کر لیا اور ہمیں خبر نہ ہونے دی۔ حج کے قریب جب جانے کا وقت ہوا تو راز کھلا اور کلکتہ والوں نے دوبارہ مجھے بمبئی بھیجنے کا ارادہ کیا۔ میں باوجود اپنی علالت کے سفر کرنے پر مجبور ہو گیا۔ بمبئی پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ سعودی ویزا آفیسر سے ملاقات مشکل ہے۔ بہر حال میں براہ راست اس تک پہنچا اور مجھے کافی اطمینان سے گفتگو کا موقع ملا اس مرتبہ شاذلی نام کے عربی شخص تھے۔ کافی دیر تک گفتگو جاری رہی۔ شاذلی صاحب نے کہا ”جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، وہ اگر حج کے لیے جانا چاہیں تو ان کو کیوں روکا جائے؟“ میں نے جواب دیا کہ اعمال صالح کے لیے ایمان شرط ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر ایمان کے روزہ رکھتا ہے تو اس کو عمل صالح کہا جائے گا؟ مگر ایمان تو دل سے تعلق رکھتا ہے، میں نے کہا صحیح ہے لیکن اس کے کچھ مظاہر تو ضرور ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ داڑھی رکھتے ہیں، شیروانی پہنتے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا؟ میں نے جواب دیا اگر سنت پر عمل کرنے کی بات ہوتی تو آپ کا جواب ٹھیک تھا۔ بات تو ایمان کی ہے۔ اس کے لیے قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد اس نے کہا یہ تو کم سے کم ہے۔ میں نے کہا جو شخص یہ کہے ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا“ وغیرہ (اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد صاحب قادیانی، مطبوعہ ریاض الہند امرتسر) اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ مسلمان ہے؟ نہیں تو پھر انسان ہے؟ نہیں تو پھر حیوان ہے؟ نہیں تو کیا ابلیس ہے؟ نہیں ابلیس نے صرف نافرمانی کی تھی۔ خدا پر تہمت نہیں لگائی۔ اس کے لیے لغت میں کوئی لفظ موجود نہیں
جس سے تعبیر کیا جائے۔ اس درمیان ہم لوگ ان کی شناخت اور نشاندہی پر بھی گفتگو کرتے رہے اور میرے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ان کی شناخت کا نہیں تھا۔ اس لیے وہ فکرمند ہوئے۔ میں اٹھنے لگا تو انہوں نے کہا ایک بات اور بتا دیجئے۔ مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ اس سے قبل بھی اس سلسلے میں آئے تھے۔ آپ کا مقصد کیا ہے؟ یا آپ کیا چاہتے ہیں؟ ان کے جواب میں قرآن کی دو آیتوں کے ٹکڑے ہیں۔ پہلا وان الشیطین لیوحون الی اولیائہم لیجادلوکم وان اطعتموہم انکم لمشرکون خطاب ابتدائی طور پر صحابہ سے ہے۔ اگر ان کو کہا جائے انکم لمشرکون بالتاکید تو پھر ہمہ شما کا کہاں؟ اس نے تصدیق کی۔ اس کے بعد دوسری آیت یا ایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس خطاب کسی بادشاہ کو نہیں، کسی زعیم کو نہیں بلکہ الذین آمنوا کو ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں الذین آمنوا میں ہوں تو خطاب مجھ سے ہے اور اسی حکم کے امتثال میں اپنی آخر حد کو پہنچ چکا ہوں۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مجھ سے اسی آیت کے بارے میں سوال نہ کریں گے کہ تو نے کیا کیا؟ اس شخص پر لرزہ سا طاری ہو گیا اور کچھ توقف کے بعد اس نے کہا کہ بے شک قیامت کے دن گواہی دینا ہوگی کہ آپ نے پورا عمل کیا۔ اب ہمارے لیے دعا کیجئے کہ ہمیں بھی توفیق ہو کہ عمل کریں۔ میں نے کہا دعا اور جو کچھ بھی ہو سکے گا، میں انشاء اللہ کروں گا۔
میرے پیچھے ایک نیم قادیانی لگے ہوئے تھے جو مجھ سے ملتے رہتے تھے اور پوچھتے رہتے تھے کہ کیا ہوا؟ میں نے یہی ظاہر کیا تھا کہ میں حج کے لیے جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اتفاق سے ویزا آفس سے نکلنے کے بعد وہ مجھے مل گئے اور انہوں نے وہی سوال دہرایا کہ آپ کا کیا ہوا؟ میں نے نہ بتا کر کہا کہ مایوسی ہے اور کوئی راستہ نہیں۔ وہ کہنے لگے ”آپ ضرور جائیں گے“۔ میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی دانست میں اپنے وسائل استعمال کر چکا اور نفی میں جواب مل چکا ہے۔ انہوں نے پھر کہا آپ ضرور جائیں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ وہ بولے آٹھ قادیانی جو جا رہے تھے، ان کا ویزا کینسل ہو جائے گا اور آپ ان کی جگہ چلے جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک تو
قادیانیوں کے نہ جانے سے بھی مجھے سیٹ نہ ملے گی۔ اس لیے کہ میرا نام ویٹنگ لسٹ میں بھی نہیں ہے۔ لیکن یہ آپ نے کیا کہا کہ وہ نہیں جائیں گے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وہ نہیں جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب آپ یہ سب جانتے ہیں تو میں آپ کو حقیقت بتادوں۔ اس مرتبہ میں قادیانیوں کو روکنے کے لیے بمبئی نہیں آیا تھا بلکہ ان کو روانہ کرنے آیا تھا۔
وہ بڑے لوگ ہیں، مال خرچ کر سکتے ہیں۔ میں متوسط آدمی ہوں، ملازمت کرتا ہوں اور زندگی گزارتا ہوں۔ ہر سال دو سال بعد وہ ارادہ کرتے ہیں، مجھے چھٹی لینا پڑتی ہے اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ پھر سفر خرچ میرے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس لیے میں نے اس مرتبہ یہ سوچا کہ یہ لوگ جائیں اور میں نے یہاں کے چند دن کے قیام میں صرف ایک کام کیا ہے کہ حاجیوں سے ملاقات کی اور اتفاق سے مجھے چالیس حاجی جانے والے مل گئے۔ میں نے ان کو سبق پڑھا دیا کہ جب بھی کسی قادیانی پر نظر پڑے تو پولیس سے کہہ دینا ھذا قادیانی۔ آگے پولیس خود اپنا کام کرلے گی اور یہ گرفتار ہو کر (وہاں کے حکم کے مطابق واجب القتل ہیں) اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ مجھے ان لوگوں سے فرصت مل جائے گی اور اس کے بعد میں روانہ ہو گیا۔
میں ابھی کلکتہ پہنچا بھی نہیں تھا کہ قادیانیوں کو واقعہ سے باخبر کر دیا گیا۔ اور ان کا سربراہ فوراً ہوائی جہاز سے بمبئی پہنچ گیا اور اسی ویزا آفیسر سے ملا اور اس سے کہا کہ ہم آٹھ قادیانی حج کے لیے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس پاسپورٹ ویزا سب جائز ہیں اور ٹکٹ وغیرہ سب اوکے ہو چکا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہاں ہمارے لیے خطرہ ہے تو آپ کو ہم مطلع کر رہے ہیں کہ ہماری حفاظت کا وہاں بندوبست کیا جائے۔ شازلی صاحب نے ان سے کہا اپنے نام و پتے وغیرہ نوٹ کرائیے اور لکھنا شروع کیا۔ اس نے آٹھوں کے پاسپورٹ نمبر، ٹکٹ وغیرہ سب لکھادیے۔ شازلی نے پوچھا اور کوئی؟ کہنے لگے اور کوئی نہیں۔ اس نے دو خط کھینچے اور مخاطب ہوا، ان معلومات کے لیے آپ کا شکریہ۔ ہم پریشان تھے اور تلاش کر رہے تھے۔ آپ نے ہماری مشکل آسان کر دی۔ اس کا مکرر شکریہ۔ اب ہم صرف انسانیت کے ناطے آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ نہ جائیں۔ ورنہ آپ یقین رکھیں سب
سے پہلے ہم خدا کے بندے ہیں اور دوسرے نمبر پر ہم سعودیہ کے ملازم ہیں۔ ہمارا کام یہی ہے کہ غیر مسلموں کو نہ جانے دیں۔ ہم اپنا فرض ادا کریں گے اور ایئر پورٹ پر آپ کا استقبال پولیس کرے گی۔ وہ آپ کو گرفتار کر کے ملکی قانون کے مطابق آپ کا فیصلہ ہو گا۔ اب آپ کو اختیار ہے جو چاہے کریں۔ ”دام میں خود صیاد آگیا“ اس کے بعد کس میں ہمت تھی کہ سفر کرتا؟
یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوا ورنہ
اے باد صبا یہ تری مہربانی
فالحمدلله علی ذالک
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ١٣‘ شمارہ ٦‘ از قلم مولانا محبوب الرحمٰن ازہری)
کروڑ لعل عیسن میں دس مرزائیوں کو دکان سے نکال دیا
کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ میں مٹھائی کی مشہور دکان زاہد سویٹ شاپ میں دس مرزائی داخل ہوئے۔ انہوں نے محمود کنول کو چائے اور مٹھائی کا آرڈر دیا۔ اچانک وہاں پر مقامی پریس رپورٹر‘ ہفت روزہ ختم نبوت کے نمائندے اور عالمی مجلس کے شعبہ نشر و اشاعت کے انچارج حافظ خلیل احمد پہنچ گئے جنہوں نے محمود کنول سے کہا کہ آج آپ کی دکان پر یہ مرزائی کیوں جمع ہیں؟ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ مرتد مرزائی ہیں تو اس نے ان میں سے ایک کو بلایا اور کہا کہ تم قادیانی مرتد اور زندیق ہو۔ اگر تم ابھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ‘ مرزا قادیانی پر لعنت بھیجو اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دامن سے وابستہ ہو جاؤ تو ہم تمہیں اپنے سینے سے لگانے کے لیے تیار ہیں۔ ورنہ اسی وقت دکان سے نکل جاؤ۔ کیونکہ اس دکان میں مرزائی مرتدوں کا داخلہ بند ہے۔ اس پر وہ مرزائی اپنا سا منہ لے کر دکان سے نکل گئے۔ محمود کنول نے بتایا کہ جب سے ہمیں ہفت روزہ ختم نبوت کے ذریعے مرزائیوں کے ارتدادی نظریات کا علم ہوا‘ اس وقت سے یہاں مرزائیوں اور مرزائی
مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ اسی طرح ایک مرزائی محسن سویٹ شاپ پر آ گیا۔ اس وقت مولوی عبدالرؤف عثمانی کی جگہ محمود کنول صاحب بیٹھے ہوئے تھے اس نے چائے کا آرڈر دیا۔ محمود کنول نے چائے دی اور پیسے بھی لے لیے۔ اچانک خیال آیا کہ یہ تو مرزائی ہے۔ اسے بلایا اور پیسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں تمہارے بد کردار مرزا قادیانی کو نہیں مانتے اگر تو آئندہ ہماری دکان پر آیا تو تیرا انجام بہت برا ہو گا۔ محمود کنول نے اپنی دکان پر لکھ دیا کہ یہاں مرزائیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر تمام مسلمان اسی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں تو مرزائیوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ٩‘ شمارہ ٤٤)
خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد
شجاع آبادی سے میری آخری ملاقات
اگست ١٩٧٧ء میں سید ابوذر بخاری شاہ نے ملتان میں حضرت امیر شریعت مرحوم کے یوم وصال پر ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا تو مولانا عبیداللہ احرار کو بھی جلسہ میں شرکت کا دعوت نامہ ارسال کیا۔ میں ان دنوں کسی نجی کام سے فیصل آباد گیا ہوا تھا۔ مولانا سے ملنے ان کے مکان پر گیا تو وہاں مرزا نیاز بیگ مرحوم جو فیصل آباد میں مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے‘ بیٹھے ہوئے تھے۔ مسئلہ زیر بحث یہ تھا کہ ملتان کے جلسے میں شرکت کے لیے کون جائے۔ مولانا چونکہ بیمار تھے اور پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ طے یہ پایا کہ مرزا نیاز بیگ اور شیخ عبدالحمید (راقم) ملتان جائیں اور جلسہ میں شرکت کریں۔ چنانچہ مقررہ دن سے ایک روز پہلے ہم دونوں ملتان پہنچ گئے۔ رات دفتر میں قیام کیا‘ باہم مشورہ سے حضرت قاضی صاحب مرحوم سے ملاقات کا پروگرام بنا جو کہ ان دنوں موذی مرض یرقان میں مبتلا اور گھر میں ہی مقیم تھے۔ چنانچہ صبح نماز فجر کے بعد حافظ جی سے اجازت لے کر شجاع آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔ جلسہ چونکہ رات کو تھا اس لیے حافظ
جی مانع نہ ہوئے۔ جلد واپسی کی تاکید کر دی اور قاضی صاحب کو سلام بھیج دیا۔ جمعہ کی نماز سے کچھ دیر پہلے ہم شجاع آباد شاہی مسجد میں پہنچ گئے۔ قاضی عبد اللطیف صاحب سے مل کر حضرت خطیب پاکستان سے ملنے کی استدعا کی لیکن انہوں نے عذر کیا‘ مرض کی شدت کے پیش نظر ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے کہ کوئی ملاقاتی ملنے نہ پائے۔ میں نے کہا‘ آپ میرا رقعہ لے جائیں۔ حضرت کو دیں اگر وہ بھی منع کر دیں تو ہمارا سلام عرض کر دیں‘ ہم واپس چلے جائیں گے۔ آپ سے کوئی شکوہ نہ ہو گا۔ سو میں نے اپنا تعارفی رقعہ لکھ دیا تھوڑی دیر کے بعد عبد اللطیف صاحب واپس آئے اور اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ میں اور مرزا نیاز بیگ ساتھ ہو لیے۔ گھر میں داخل ہوئے تو برآمدے میں قاضی صاحب مرحوم چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اللہ اللہ وہ لحیم شحیم اور قد آور شخصیت‘ مردانہ وجاہت کا نادر پیکر‘ اب ایسے معلوم ہوا جیسے سات سال کے بچے کو داڑھی لگا دی گئی ہو۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے‘ شدت مرض سے نڈھال‘ صابر و شاکر‘ اپنے اللہ سے لو لگائے ہوئے۔ میں نے سلام عرض کیا مجھے دیکھتے ہی بازو پھیلا دیئے۔ معانقہ کرتے ہوئے میرے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔ ان کی پلکیں بھی بھیگ گئیں۔ مرزا صاحب بھی ملے۔ بیٹھنے کو کہا۔ فرمانے لگے ”میں تندرست ہوتا تو یہ دن میرے لیے عید کا دن ہوتا۔ انتہائی خوشی کا دن۔ میں تو اکثر آپ کے پاس آتا رہا۔ آپ پہلی بار آئے ہیں۔ بڑی شفقت کا اظہار کیا۔ حافظ جی کا سلام عرض کیا۔ انہوں نے تمام احباب سے دعا کی درخواست کی اور جلسہ عام میں بھی دعا کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر باتیں ہوتی رہیں‘ پھر فرمایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد کھانا کھا کر جائیں۔ معذرت کرنا چاہی تو فرمانے لگے ”انکار مت کرنا میری دل شکنی ہو گی۔ جو کچھ ساگ ستو تمہاری اماں نے پکائے ہیں‘ کھا کر جانا۔“ اب جائیں نماز کے بعد مسجد میں ہی کھانا پہنچ جائے گا۔ بیماری کی وجہ سے زیادہ گفتگو بھی نہیں کر سکتا۔“ چنانچہ سلام عرض کیا اور واپس مسجد میں آ گئے۔ نماز کے بعد ایک ہجوم تھا جو خطیب پاکستان سے ملاقات اور سلام و دعا کا متمنی اور بضد تھا کہ بغیر ملاقات کے نہ جائیں گے۔ چنانچہ یوں کیا گیا کہ حضرت کی چارپائی صحن میں لائی گئی اور لوگوں کو اجازت دی گئی کہ ایک طرف سے آئیں اور سلام کر کے دوسری طرف سے باہر نکل جائیں۔ یہ ترکیب کارگر رہی‘ اتنے میں قاضی عبد اللطیف صاحب کھانا لے کر آگئے۔ پر تکلف کھانا
تھا۔ گوشت روٹی‘ سویاں اور کئی قسم کی کھجوریں طشتری میں الگ الگ باہتمام رکھی گئی تھیں۔ کھانے کے بعد اجازت لی اور واپس ملتان روانہ ہوئے۔ ٹرین میں زیادہ رش نہ تھا۔ سکون سے بیٹھتے ہی پرواز خیال کہاں سے کہاں لے گئی۔ ستائیس سال پیشتر جب قاضی مرحوم سے میری پہلی ملاقات امرتسر میں ہوئی۔
١٩٤٠ء میں مجلس احرار اسلام کی ہائی کمان کا اجلاس امرتسر میں ہوا۔ جس میں فوجی بھرتی کے خلاف ریزولیوشن منظور کیا گیا اور امرتسر ہی سے اس تحریک کا آغاز ہوا۔ شیخ حسام الدین مرحوم صدر اور آغا شورش کاشمیری مرحوم سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ابھی گو مگو میں تھیں۔ مجلس احرار اسلام نے اس معاملہ میں سبقت حاصل کرلی:
عقل تھی محو تماشائے لب بام ابھی
انگریز دشمنی میں مجلس احرار صف اول میں شمار ہوتی تھی۔ استخلاء وطن کے لیے مجلس احرار اسلام کے ایثار و قربانی کے انمٹ نقوش تاریخ کا انمول حصہ ہیں۔ آزادی ہندوستان کی تاریخ مجلس احرار اسلام کے تذکرہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ شورش کاشمیری مرحوم ”پس دیوار زنداں“ میں لکھتے ہیں۔ اپریل ١٩٣٩ء میں آل انڈیا مجلس احرار اسلام کا سالانہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ چوہدری افضل حق صدر تھے۔ انہوں نے ایک تاریخی خطبہ پڑھا جس میں قریباً تمام سیاسی مسائل پر روشنی ڈالی اور فرمایا جنگ قضائے مبرم کی طرح یورپ کے سر پر منڈلا رہی ہے۔ جانے کب بگل بج جائے۔ میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ برطانیہ جنگ جیتے یا ہارے‘ ہندوستان اس کو چھوڑنا پڑے گا۔ ملک آزاد ہو کر رہے گا۔ چوہدری مرحوم کا یہ خطبہ نہ صرف ان کی سیاسی بصیرت و فراست کا شہ پارہ تھا بلکہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ حرف بہ حرف پورا ہو کر رہا۔ مجلس احرار اسلام کے راہنماؤں نے امرتسر ریزولیوشن کے تحت ملک کا طوفانی دورہ شروع کیا۔ جلسے ہوتے‘ جلوس نکلتے۔ لوگ انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انگریز کو اپنا سنگھاسن ڈولتا ہوا نظر آنے لگا۔ پنجاب میں سر سکندر حیات وزیر اعظم تھے جو انگریز کی ناک کا بال سمجھے جاتے
تھے۔ اور تھے بھی انگریز کے پشتی وفادار یا دوسرے لفظوں میں غدار ابن غدار۔ اس نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت قریباً تمام احرار رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مجلس احرار اسلام نے امرتسر میں فوجی بھرتی بائیکاٹ کی قرارداد منظور کرنے کے بعد اسی دن یا اگلے دن گلوالی دروازہ میں ایک جلسہ عام منعقد کیا۔ جس کی صدارت مولانا حبیب الرحمان مرحوم نے کی۔ دیگر رہنماؤں کے علاوہ سب سے زیادہ جوشیلی تقریر آغا شورش کشمیری مرحوم نے کی‘ حتیٰ کہ دوران تقریر مولانا حبیب الرحمان نے شورش مرحوم کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور جلسہ برخاست کر دیا۔ احرار رہنماؤں نے اپنے حلقوں میں انگریز کے خلاف میدان کار زار گرم کر رکھا تھا۔ احرار رضاکار دھڑادھڑ گرفتار ہو رہے تھے۔ سیاسی تحریکوں میں امرتسر کا مسلمان ہمیشہ سرگرم عمل رہا۔ امرتسر شہر کا اپنا ایک مزاج تھا۔ جلیانوالہ باغ کے خونی سانحہ کے بعد کانگریس‘ مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے مرکزی اجلاسوں کے انعقاد نے اس شہر کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا تھا۔ یہاں کے لوگ صحیح معنوں میں جیالے تھے۔ ایثار و قربانی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کسی معاملہ میں وہ کبھی پیچھے نہ رہتے بلکہ ہر معاملہ میں سبقت لے جاتے۔ تجارت ہو یا صنعت‘ پہلوانی ہو یا خطابت‘ صحافت ہو یا شاعری یا نعت گوئی۔ حتیٰ کہ بدمعاشی میں بھی نمبر ایک تھے۔ بہرحال تمام سیاسی اور مذہبی تحریکوں کو امرتسر نے جلا بخشی۔ تقسیم ملک کے وقت مارچ ١٩٤٧ء سے لے کر اگست ١٩٤٧ء تک چھ ماہ مسلمانان امرتسر نے جس جرات اور مردانگی سے اپنا دفاع کیا بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کیا‘ یہ ایک الگ ولولہ انگیز داستان ہے جو میرے دوسرے مضمون "میں مجلس احرار اسلام میں کیسے شامل ہوا؟" میں آئے گی۔
قاضی احسان احمد شجاع آبادی سے پہلی ملاقات
خیر‘ مذکورہ بالا تحریک کے سلسلہ میں دورہ کرتے ہوئے قاضی صاحب مرحوم اچانک امرتسر دفتر مجلس احرار اسلام میں شام کے وقت آگئے۔ ہم دو چار کارکن بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے قاضی صاحب کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ یہ قاضی صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی۔ جو مصافحہ تک محدود تھی۔ قاضی صاحب کو فوراً دفتر سے کسی دوسری جگہ پہنچا دیا گیا۔ پولیس
کو سن گن مل گئی تھی۔ رات بھر معروف احراری کارکنوں کے گھروں پر چھاپے پڑتے رہے۔ قاضی صاحب نہ ملے۔ صبح جمعرات کا دن تھا۔ ایک رضا کار تانگے میں نوبت بجائے آیا، ہر چوک پر نوبت بجاتا، لوگ اکٹھے ہوتے تو اعلان کرتا حضرات! ایک ضروری اعلان سنئے! کل بروز جمعتہ المبارک جمعہ کی نماز جامع مسجد خیر دین ہال بازار میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی پڑھائیں گے۔ آپ سے اپیل ہے کہ جوق در جوق جامع مسجد خیر دین میں آکر نماز ادا کریں اور احرار راہنما کے خیالات سے مستفید ہوں۔
سارے شہر میں منادی ہوتی رہی۔ پولیس نے جگہ جگہ تانگہ روک کر منادی کرنے والے سے سخت باز پرس کی، بلکہ مارا پیٹا کہ بتاؤ قاضی صاحب کہاں ہیں؟ رضا کار سہمی صورت بنا کر کہتا جناب مجھے کیا پتہ؟ میں تو مزدور آدمی ہوں، دیہاڑی کر رہا ہوں۔ ایک آدمی نے یہ رقعہ دیا جو لکھا ہے ۔ میں وہی پڑھ رہا ہوں۔ نوبت میری اپنی ہے۔ تانگے کا کرایہ اس نے دے دیا ہے اور میری دیہاڑی بھی دے دی ہے۔ شام تک مجھے یہی کام کرنا ہے۔ تھانیدار نے کہا ”بس اب بند کرو اور بھاگ جاؤ“ وہ کہتا ”نہیں جی، ایمانداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں نے شام تک کے پیسے لیے ہیں، میں بے ایمانی کیوں کروں۔“ اور نوبت بجاتا یہ جا وہ جا۔ بہر حال اعلان ہوتا رہا اور پولیس شکاری کتوں کی طرح قاضی صاحب کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ ادھر قاضی صاحب ہر دو تین گھنٹہ کے بعد اپنا ٹھکانہ بدل دیتے شام کو وہ پٹہ کنڈہ (سفید کھدر) میں شیخ ابراہیم سبزی اور پھل فروش کی دوکان کے اوپر پھلوں کے خالی کریٹوں اور ٹوکریوں کے ڈھیر میں چھپے بیٹھے تھے۔ (شیخ ابراہیم صاحب جھنگ میں مقیم ہیں اور بحمد اللہ بقید حیات ہیں) قاضی صاحب کے ساتھ حکیم عبدالجبار صاحب کے رشتہ کے بھائی فیروز الدین تھے۔ ان کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا۔ حضرت امیر شریعت سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ احرار کے شیدائی تھے۔ رات گیارہ بجے اطلاع ملی کہ یہ جگہ بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب کو وہاں سے بھی نکالا گیا اور سفید لمبا برقعہ اوڑھا کر زنانہ سینڈل پہنا دیا۔ ساتھ میں دھان پان سے ایک مولوی صاحب بھی تھے جو معمر بھی تھے، دو پلی ٹوپی شیروانی میں ملبوس تنگ پاجامہ، ایک چھوٹا سا ٹرنک ہاتھ میں لئے آگے آگے اور قاضی صاحب زنانہ لباس میں پیچھے پیچھے۔ ابھی بازار ورق کٹاں کی طرف مڑے
ہی تھے کہ پولیس کی لاریاں آگئیں اور پولیس پورے بازار میں اٹینشن ہو گئی اور قاضی صاحب اس ہیئت کذائی میں چلتے چلتے ورق کٹاں سے بتی ہٹہ میں پہنچ گئے۔ آگے بازار صابونیاں میں پھر پولیس سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اصل میں کسی نے مخبری کی تھی کہ بازار کے اندر دوشمنی ڈیوڑھی میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کا امام احراری تھا۔ قاضی صاحب اس مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ تمام علاقہ ہندوؤں کا تھا۔ خال خال مسلمانوں کی دکانیں تھیں۔ اس لیے پولیس کو یقین آگیا کہ چھپنے کا معقول ٹھکانہ ہے۔ اب اتفاق کہئے کہ قاضی صاحب خود ہی اس راستے پر ہولئے‘ یہ راستہ اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ رات کو بازار بند ہونے کی وجہ سے آمد و رفت کم ہو جاتی ہے اور سارا علاقہ ہندوؤں کا تھا۔ کوئی شبہ نہ کرتا۔ بہرحال اب تو پھنس گئے۔ جانا مسجد خیرالدین میں ہی تھا۔ وہاں انتظام ہوچکا تھا‘ راستہ متعین تھا۔ پولیس نے پورا بازار گھیر رکھا تھا۔ لیکن ٹارگٹ تو مسجد ہی تھا۔ بس مولوی صاحب کو سوجھ گئی تھانے دار ہی سے جاکر پوچھنے لگے ۔ اماں تھانیدار صاحب یہاں کوئی تانگہ وغیرہ اسٹیشن کے لیے مل جائے گا۔ ”اور اس کا جواب سننے سے پہلے قاضی صاحب سے مخاطب ہوئے۔ ”اری بیگم جلدی چلو گاڑی چھوٹ جائے گی۔ ایک تو تم عورتوں کے ساتھ سفر پر جانا ایک مصیبت سے کم نہیں۔ ارے ہاں تھانیدار صاحب کوئی تانگہ مل جائے گا۔“ اس نے کہا بڑے میاں ادھر کرموں ڈیوڑھی چوک میں تانگا مل جائے گا‘ بے فکر رہیں۔ ”اچھا میاں اللہ آپ کا بھلا کرے۔ اری بیگم تم پھر پیچھے رہ گئیں‘ جلدی چلو“ یوں چلتے چلاتے ہوئے کٹڑہ جیمل سنگھ سے ہوتے ہوئے چوک فرید اور پیلا ہسپتال کے قریب سے ہوکر ہال بازار کے قریب ایک گلی میں ایک پریس تھا‘ اس میں داخل ہوگئے۔ یہ انتظامات پہلے ہی کیے جا چکے تھے۔ پولیس کے قیام سے قبل یہ جگہ بلا تعمیری تھی۔ مسجد کا ایک چھوٹا سا دروازہ اسی طرف کھلتا تھا۔ جو اب بند رکھا جاتا تھا۔ اس کی طرف کوئی آمد و رفت بھی نہ تھی۔ اس لیے کسی کا دھیان اس طرف نہ تھا۔ طالب علموں کے لیے اس طرف غسل خانے بنا دیے گئے تھے۔ رہائشی کمرے بھی ادھر ہی تھے۔ اس دروازے سے قاضی صاحب اندر داخل ہوئے اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ صبح فجر کے بعد شہر میں پھر اعلان شروع ہوگیا کہ حضرت قاضی صاحب شہر میں تشریف لاچکے ہیں اور مسجد خیرالدین میں جمعہ کی
نماز سے پہلے خطاب فرمائیں گے۔ دو چار جگہ اعلان کرنے والوں کی پولیس نے پٹائی بھی کی، جہاں جہاں شبہ ہو سکتا تھا۔ پولیس چھاپے مار رہی تھی۔ کئی کارکنوں کو کوتوالی میں بٹھائے رکھا۔ تلاشیاں بھی ہوئیں۔ قاضی صاحب پنجاب کے تمام معروف شہروں کا دورہ کر چکے تھے۔ نصف درجن کے قریب وارنٹ گرفتاری ان کے تعاقب میں تھے۔ امرتسر ان کی آخری رزم گاہ تھا۔ ہر جگہ یہی ہوتا رہا کہ قاضی صاحب بگولے کی طرح آتے، طوفان کی طرح چھا جاتے اور چھلاوے کی طرح نکل جاتے، پولیس ہاتھ ملتے رہ جاتی۔ امرتسر میں بھی پولیس جھک مار رہی تھی۔ سی آئی ڈی کو جھاڑیں پڑ رہی تھیں۔ احراری کارکنوں کے ساتھ آنکھ مچولی ہو رہی تھی۔ سکندر حیات نے انا کا مسئلہ بنالیا تھا۔ پنجاب پولیس کے لیے شرم کا مقام تھا۔ آئی جی صاحب ماتحتوں پر برس رہے تھے کہ چوبیس گھنٹوں سے اعلان ہو رہا ہے کہ قاضی صاحب شہر میں موجود ہیں جیسے جیسے نماز کا وقت قریب آ رہا تھا۔ پولیس کی سرگرمیاں بڑھ رہی تھی۔ کارکن مار کھا رہے تھے لیکن بتاتے کیا؟ جن دو چار کارکنوں کو اصل بات کا پتہ تھا، وہ شہر سے غائب تھے۔
سر بسجود ہے مسیحا کہ میری بات رہے!
کسی بھی طرح مخبری ہو جاتی تو کیے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہیں۔ بس اسی حکمت سے اسباب بنتے چلے گئے۔ نماز فجر کے وقت سے ہی پولیس نے مسجد کا صدر دروازہ گھیر رکھا تھا۔ ایک ایک آدمی کی شناخت ہو رہی تھی۔ چھت پر الگ پہرہ تھا۔ قریب کے گھروں پر بھی پولیس موجود تھی۔ ہال بازار دروازہ سے لے کر گول ہٹی تک ارد گرد کی تمام گلیوں کی ناکہ بندی ہو چکی تھی۔ نمازیوں کا اتنا اژدھام تھا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ مسجد کا صحن اور چھت بھر گئی تو بازار میں صفیں لگ گئیں۔ مسجد کے صدر دروازے پر ڈی ایس پی اور اعلیٰ افسر موجود تھے۔ گرفتاری کے تمام لوازمات کر لئے گئے تھے۔ لٹھ بند دستہ تیار۔ تا آنکہ اذان کی آواز گونجی لوگ نماز کے لیے تیار ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد سپیکر پر آواز آئی۔ ”حضرات میں قاضی صاحب اور آپ کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہتا۔ آیئے قاضی صاحب خطاب شروع کیجئے۔“ قاضی صاحب منبر کے قریب ہی کمبل
اوڑھے بیٹھے تھے۔ اٹھ کر مائیک پر آ گئے۔ خطبہ مسنونہ کے بعد قاضی صاحب نے آغاز اس شعر سے کیا۔
مزہ تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
ادھر قاضی صاحب نے شعر پڑھا، ادھر ڈی آئی جی نے بے اختیار ہی سی آئی ڈی انسپکٹر کے منہ پر چانٹا رسید کر دیا۔ قاضی صاحب نے آدھ پون گھنٹہ تقریر کی۔ انگریز حکومت مردہ باد، سر سکندر حیات مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ نماز کا وقت ہوا تو قاضی صاحب نے اعلان کیا، حضرات باقی باتیں نماز کے بعد ہوں گی۔ تشریف رکھیں۔ نماز کے بعد جب تقریر کے لیے قاضی صاحب نے ابتدائی کلمات ہی ادا کیے تھے کہ پولیس جو پہلے ہی بھری پڑی تھی، نے بلا اشتعال اور بغیر وارننگ کے لاٹھی چارج کر دیا تاکہ لوگ بھاگ جائیں اور گرفتاری میں رکاوٹ نہ ہو، عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ پولیس سے لاٹھیاں چھین کر مقابلہ پر اتر آئے، ممکن ہے بہت نقصان ہوتا، گولی چلنے کی نوبت آجاتی۔ قاضی صاحب نے للکارتے ہوئے پولیس کو وارننگ دی۔ او بزدلو! کیوں نہتے عوام کو مارتے ہو، میں باہر آ رہا ہوں، چاہوں تو یہاں بھی گرفتاری نہ دوں۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے، تجربہ تو آپ کر ہی چکے ہیں، لیکن پروگرام میں ہے کہ مجھے امرتسر میں گرفتاری دینا ہے۔ اور میں باہر آ رہا ہوں چنانچہ قاضی صاحب ملتے ملاتے مصافحہ کرتے ہوئے مسجد سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے قاضی صاحب کو پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا۔ ہجوم چونکہ بپھر چکا تھا۔ گورنمنٹ برطانیہ اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی ہو رہی تھی۔ ایس پی نے موٹر سائیکل جس کے ساتھ ایک نشستی سائیڈ کار لگی ہوئی تھی، مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ لگا دی اور قاضی صاحب کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ لوگوں نے موٹر سائیکل کو راستہ دینے سے انکار کر دیا اور دور تک لمبے لیٹ گئے۔ ایس پی اپنی بے بسی پر سٹ پٹا گیا۔ اور قاضی صاحب سے ملتجی ہوا کہ آپ ان لوگوں کو سمجھائیں۔ ہماری ڈیوٹی ہے۔ ہم مجبور ہیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے دس پندرہ منٹ خطاب کیا اور کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزادی کے لیے جدوجہد کریں، سو ہم کر رہے ہیں اس میں جیل کا مرحلہ بھی آتا ہے۔ جس کو ہمیں خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔
آپ کی محبت، آپ کی ہمدردی، آپ کا یہ جذبہ اور انگریز سے بیزاری سب قابل قدر ہیں۔ انگریز سے گلو خلاصی کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا بھی ہماری جدوجہد کا حصہ ہے۔ آپ اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔ شکریہ۔
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
یہ تمام واقعات فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ کی سکرین پر آتے ہیں اور میں گم سم پس و پیش سے بے نیاز انہی مناظر میں کھویا ہوا تھا۔ تا آنکہ مرزا نیاز بیگ نے مجھے جھنجھوڑا۔ شیخ صاحب کہاں کھو گئے، ملتان آگیا۔ میں تصوراتی دنیا سے باہر آگیا۔
نوٹ: قاضی صاحب کی گرفتاری کے بیرونی مناظر تو میرے سامنے تھے اندرونی کہانی میں نے شیخ ابراہیم صاحب امرتسری (جھنگ والے) سے بالمشافہ سنی تھی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، جلد ٣١ شمارہ ١٢٠ از قلم شیخ عبدالحمید امرتسری)
جب مرزائیت رسوا ہوئی
٢٤ جولائی ١٩٦٦ء اپنے مطب واقع ہرنولی بیٹھا ہومیو پیتھک بورڈ کے سامنے سرگودہا ٢٧ جولائی ١٩٦٦ء کو انٹرویو کی تیاری کے لیے کاغذات سمیٹ رہا تھا کہ میرا دوست غلام قادر چک 13 / بی۔ ڈی میرے پاس آیا، ملتے ہی کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب چک 15 / بی۔ ڈی میں مرزائیوں نے مسلمانوں کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے اور شرائط تحریر ہو چکی ہیں، میں نے پوچھا کہ چک 15 / بی۔ ڈی میں مرزائی ہیں۔ اس نے کہا کہ اس چک میں تو ١٩٤٧ء سے ہی مرزائی آباد ہیں۔ اور نمبرداری بھی مرزائیوں کے پاس ہے۔ غلام قادر کے والد غلام نبی کا تعلق مجلس احرار سے رہا تھا۔ مجھے جوش آیا اور غلام قادر کو سخت سست کہا کہ تم احراری کے بیٹے ہو کر اپنے قریب اتنی مدت سے مرزائیت کو برداشت کرتے آ رہے ہو نہ خود کچھ کیا نہ ہمیں خبر کی۔ مناظرہ کب ہو گا۔ فوراً بتاؤ۔ غلام قادر نے کہا کہ صحیح تاریخ یاد نہیں، البتہ
اگست میں کسی تاریخ کو مناظرہ ہے۔ میں نے کہا کہ جس مسلمان نے مرزائیوں کے مقابلے میں تحریر دی ہے۔ اسے میرا پیغام پہنچا دو کہ میں انشاء اللہ ٢٨ جولائی ١٩٦٦ء کو اس کے پاس پہنچ جاؤں گا۔ غلام قادر میرا پیغام لے کر چلا گیا۔ میں نے خدا سے دعا کی کہ یا اللہ انٹرویو میں بندہ کو تو کامیابی عطا فرما‘ تیری مدد سے چک ١٥ میں مرزائیت کا بیڑا غرق کرنے میں‘ میں اپنی صلاحیتیں پوری نیک نیتی سے صرف کر دوں گا۔
٢٧ جولائی کو سرگودہا بورڈ کے سامنے پیش ہوا۔ دعا میں برکت وہیں ظاہر ہو گئی کہ بورڈ کے ممبران نے صرف کاغذات ہی ملاحظہ فرمائے تھے کوئی سوال نہیں کیا۔ بلکہ کامیابی کا مژدہ وہیں سنا دیا۔ اسی دن شام تک واپس ہرنولی پہنچا‘ اپنے دوست اور ساتھی رانا خلیل احمد جو نڈلوی کو بلایا۔ چک ١٥ کا معاملہ سامنے رکھا۔ رانا صاحب صبح میرے ساتھ چلنے پر تیار ہو گئے۔ ہم اس سے قبل کبھی بھی اس علاقہ میں نہیں گئے تھے۔ اور نہ ہی کوئی واقفیت تھی۔ کئی بستیوں میں پوچھ گچھ کے بعد ایک بجے دن رانا عبد الستار صاحب کے ہاں پہنچے۔ رانا صاحب کو کھیتوں سے بلایا گیا۔ دونوں باپ بیٹا آئے۔ گفتگو کے دوران علم ہوا کہ یہاں رستم نمبردار کا بیٹا قادیانی جماعت کا امیر ہے اور اس کا تمام خاندان قادیانی ہے۔ اس کے زیر اثر تقریباً آدھا چک خود کو قادیانی کہلوانا پسند کرتا ہے۔ مسلمان جو ہیں ان میں صرف دو چار گھر ایسے ہیں جو ساتھ دیں گے‘ باقی کہتے ہیں کہ یہ جھگڑا نہ کرو۔ رستم نمبردار خود کو مسلمان کہتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزا نبی نہیں تھا۔ البتہ عیسیٰ ؑ کے بارے میں عقیدہ رکھتا ہے کہ فوت ہو گئے۔ عبدالستار کہنے لگا کہ میرا خیال ہے کہ رستم نمبردار کے بارے میں نرم رویہ رکھنا چاہیے۔ ان حالات میں اس کا یہ عقیدہ بھی قابل قبول ہے۔ جبکہ وہ مرزا کو نبی نہیں تسلیم کرتا۔ میں نے تمام بات سن کر کہا کہ اصل اور پکا مرزائی رستم نمبردار ہے۔ جو یہاں مرزائیت پھیلانے میں پشت پناہی کا مرتکب ہے۔ لہٰذا مقابلہ اس سے بھی ہو گا۔ اتنے میں سامنے سے ایک بوڑھا آتا دکھائی دیا۔ عبدالستار نے اشارہ دیا کہ یہی رستم نمبردار ہے۔ نمبردار آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا‘ میں نے کہا کہ ہم ہرنولی سے آئے ہیں اور ہمارا تعلق مجلس تحفظ ختم نبوت سے ہے۔ اتنا سنتے ہی نمبردار کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اور خوف زدہ آواز میں کہنے لگا کہ جی میں چک کا نمبردار ہوں‘ میں یہاں کسی قسم کا جھگڑا پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا
کہ نمبردار صاحب! آپ نے یہ بات قادیانی مبلغین سے کیوں نہیں کہی کہ مسلمانوں کو چیلنج نہ دیں۔ نمبردار کہنے لگا کہ دیکھو جی ان کی یہاں جماعت ہے اور وہ لوگ بہت منظم ہیں‘ حکومت میں ان کا اثر ہے۔ میں مرزا کو نبی تو مانتا نہیں مگر عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں‘ میری اولاد کا جماعت احمدیہ سے پورا تعلق ہے۔ میرا ایمان ختم نبوت پر ہے۔ میں نے کہا کہ نمبردار صاحب آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں‘ تو ہم ڈرنے والے نہیں۔ آپ مرزا کو نبی مانتے نہیں۔ مگر مرزا نے خود کو نبی کہا ہے۔ اور اس کے ماننے والے اسے نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ کیا آپ ختم نبوت کے منکرین کی تکفیر کرنا گوارا کریں گے۔ نمبردار کہنے لگا۔ جی کسی کو کافر کہنا ٹھیک نہیں جو چاہے عقیدہ رکھے‘ اس کا اپنا فعل ہے۔ میں نے کہا‘ نمبردار صاحب باتیں بنا کر ہمیں نہ الجھائیں‘ سب سے پہلے قادیانی آپ ہیں‘ مرزائیوں نے یہاں مسلمانوں کے ساتھ مناظرہ تحریر کیا ہے۔ ہم یہاں پہنچیں گے۔ اور کسی بھی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ نمبردار میری باتوں سے خائف ہو کر وہاں سے فوراً اٹھ گیا‘ رانا عبد الستار نے مناظرے کی تحریر لا کر مجھے دی اور کہا کہ آپ جانیں اور آپ کا کام‘ میں تو تحریر کر کے پریشان تھا۔ گفتگو کے دوران علم ہوا کہ ہالا یونین کونسل کا سیکرٹری میاں محمد اسی چک میں رہائش پذیر ہے۔ میں نے انہیں بلایا ہے‘ یہ ہمارے دیرینہ دوستوں میں سے تھے۔ ان سے صورت حال پر گفتگو کی۔ مشورہ یہ ٹھہرا کہ سیکرٹری صاحب علاقہ بھر کے معززین کو دفتر یونین کونسل میں بلائیں گے۔ آپ انہیں خطاب کر کے امداد پر تیار کریں۔ ہم واپس ہرنولی ہوئے صبح تمام صورتحال اور مناظرہ کی تحریر ملتان حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو روانہ کر دی۔ مولانا صاحب نے فوری واپس ہمیں اطلاع دی کہ ٢١ اگست تاریخ مناظرہ پر میں مولانا لال حسین اختر کو بھیج رہا ہوں۔ تم علاقہ کے معززین سے تحریر حاصل کر لو کہ یہاں مرزائیوں نے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا اور مناظرہ تحریر کیا ہے۔ میں یہ کام پہلے ہی کر چکا تھا۔ یونین کونسل کے تمام ممبران بمعہ چیئر مین اور ارد گرد کے تمام سفید پوش اور نمبرداروں سے اس قسم کی تحریر پر دستخط کروا چکا تھا وہ تحریر بھی ملتان بھیج دی گئی۔
مرزائیوں نے جب دیکھا کہ اب مقابلہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مناظرین سے ہو گا تو وہ بوکھلا گئے‘ پہلے تو رانا عبد الستار سے تحریر واپس لینے کی کوشش کی۔ رانا صاحب نے کہا کہ
تحریر ڈاکٹر دین محمد فریدی لے گیا۔ پھر علاقہ میں دیوبندی، بریلوی چکر چلا دیا۔ ایک حلوائی مولوی علاقہ میں کھڑا ہو گیا کہ مرزائیوں سے ہم مقابلہ کریں گے۔ علاقہ کا اجلاس بلایا گیا۔ میں اجلاس میں پہنچا اور میں نے اعلان کر دیا کہ آپ مناظرہ بے شک کریں۔ ہمیں صرف محفل مناظرہ میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ یہ تمام مسلمانوں کی عزت کا سوال ہے۔ اگر کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ بھی ہم آپ کے ذریعے پیش کریں گے۔ کسی کتاب کی ضرورت ہوگی تو ہم آپ کو دیں گے۔ ہم پیچھے، آپ آگے! شرط ایک ہے کہ چک 15 / بی۔ڈی کے مسلمانوں پر کسی بھی فریق کی طرف سے خرچہ کا کوئی مطالبہ نہیں ہو گا۔ یہ شرط منظور کر لی گئی۔ علاقہ کے معززین نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ مگر اس حلوائی مولوی نے تیسرے دن ہی چک ١٥ والوں سے قریباً بارہ سو روپیہ خرچہ کا مطالبہ کر دیا۔ جس پر چک والوں نے مجھے بلا بھیجا۔ میں محترم حافظ سراج الدین مرحوم کلور کوٹ کے ہمراہ چک میں پہنچا تو حافظ صاحب نے تمام صورت حال دیکھ کر کہا کہ ہمارے مناظرین کا آپ پر کوئی خرچ نہیں۔ ہم آپ کے ہاں سے کھانا تک بھی نہیں کھائیں گے۔ آپ ہمیں صرف بیٹھنے کی جگہ دیں۔ حافظ صاحب کے اس اعلان کے بعد مرزائیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کی علاقہ میں دیوبندی، بریلوی تصادم کروانے کی سازش ناکام ہو گئی۔ ادھر ضلع میانوالی میں کھلے مناظرے کی اطلاع ہر جگہ کر دی گئی۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے مرکز سے ضلع میانوالی کے ہر بڑے عالم کہ خطوط لکھے کہ ہرنولی کے ڈاکٹر دین محمد فریدی کی امداد کو پہنچو۔ ٢١ اگست کے مناظرے کو کامیاب بناؤ۔
بھکر سے مولانا محمد عبداللہ، جنڈانوالہ سے حافظ عباس، کلور کوٹ سے مولانا محمد سلیمان اور حافظ سراج الدین پپلاں سے قاضی سبحان احمد۔ میانوالی سے مولانا محمد رمضان صاحب تمام تر توانائیوں کے ساتھ تشریف لائے خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا خان محمد امیر مرکزیہ مدظلہ نے اپنی تمام تر توجہ ہماری طرف مبذول کر دی۔
حافظ محمد حنیف ندیم سہارنپوری اپنے ایک ساتھی حافظ صاحب کے ساتھ ہی ایک دن پہلے ہرنولی سے ہدایت لے کر چک ١٥ میں ڈیوٹی سنبھال چکے تھے۔ حافظ صاحب نے اس محاذ پر دلائل کے میدان میں بڑا کام کیا۔ کیونکہ میرا تو اس وقت صرف نام کا رعب تھا۔
قادیانیت کے مقابلے میں میرے پاس دلائل کا فقدان تھا۔ حافظ صاحب نے علاقہ بھر میں اپنی تقریروں سے مسلمانوں میں ایک جذبہ قربانی پیدا کر دیا۔ مناظرہ کی تاریخ قریب آگئی۔ قادیانی بد حواس ہونے لگے۔ علاقہ کے مسلمانوں کا رخ ١٢ اگست کو چک ١٥ کی طرف ہو گیا۔
اس مناظرے میں پہنچنے والے مشاہیر اسلام میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام لال حسین اخترؒ، مولانا عبدالکریمؒ صاحب شاہ پور صدر۔ مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ، مولانا عبداللطیف جہلمی مدظلہ، مولانا عبدالشکور ترمذی، مولانا حبیب الرحمٰن خانقاہ سراجیہ علاوہ ازیں ضلع میانوالی و بھکر کے تقریباً تمام علماء تھے۔ انتظام میرے سپرد تھا۔ کام اور ڈیوٹی کی انجام دہی سے مجاہد ملت مولانا جالندھریؒ بہت خوش تھے۔ رات جلسہ سے فارغ ہو کر تقریباً تمام دوست اپنے اپنے مقام پر آرام فرما تھے مگر ہرنولی میں اس رات امت کا سرمایہ اکٹھا تھا۔ مقابلہ سخت تھا۔ علماء آرام فرما ہوئے۔ میں تمام رات ایک منٹ کے لیے نہ سویا۔ پو پھٹنے کے قریب مولانا جالندھریؒ جس کمرے میں آرام فرما تھے۔ اس طرف بڑھا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ چارپائی کے نیچے سے نکل رہے ہیں۔ مجھے ساتھیوں کی لاپروائی پر سخت شرمندگی ہوئی۔ سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔ مولانا اخترؒ نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموشی کا اشارہ کیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر باہر لے آئے۔ کہنے لگے۔ اللہ کے بندے کی ساری عمر سے آرزو تھی کہ مولانا جالندھریؒ کی چارپائی کے نیچے سوؤں مگر حضرت موقع نہیں دیتے تھے۔ آج تمہاری وجہ سے عمر بھر کی آرزو پوری ہو گئی۔ میں خوش ہوں، تو شرمندہ نہ ہو۔ اللہ اللہ کیا علماء تھے اور کیا قدریں تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ حضرت جالندھریؒ اٹھ چکے ہیں، میں پھر سے دروازے میں داخل ہوا۔ حضرت چلنے کی تیاری میں تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ ابھی چلنا ہے۔ میں نے کہا ”حضرت اس وقت یہاں کوئی سواری نہیں، ہرنولی موڑ ڈیڑھ میل ہے پیدل جانا ہو گا۔ اندھیرا ہے۔ حضرتؒ نے فرمایا ابھی چلنا ہے۔ میں نے عرض کیا جو حکم........
میں نے روشنی کے لیے جلتا ہوا گیس سر پر رکھ لیا۔ حضرت جالندھریؒ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ہرنولی شہر کے اڈے کے قریب پہنچے تو حضرت جالندھریؒ ایک دم کھڑے ہو گئے۔ میری پشت پر ہاتھ رکھا فرمانے لگے۔ بیٹا اپنوں سے نہ ٹکرانا۔ غیر تیرے مقابلے میں نہیں
ٹھہرے گا۔ میں تم سے خوش ہوں۔ قبولیت کا وقت تھا۔ مجھے ایک ولی دوراں کی دعا مل گئی۔ جب کبھی بھی ایسا موقع آتا ہے۔ باطل طاقت میرے مقابلے میں نہیں ٹھہرتی اور اس وقت میں اپنی پشت پر رکھا ہوا ایک ہاتھ محسوس کرتا ہوں۔ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے بیتابانہ قدم اٹھتے ہیں۔ منصوبے خود بخود ذہن میں آتے ہیں۔ قدم آگے بڑھتے ہیں، جب اپنے حال میں واپس آتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یا اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مجھ جیسے کمزور آدمی سے اتنا بڑا کام لیا۔ یہی حال اس دن ڈپٹی کمشنر بھکر کی کچہری میں ہوا۔ ڈی سی بھکر میری بات ختم ہونے پر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے ۔ ”ڈاکٹر صاحب آپ کی نیت پر مجھے قطعاً شبہ نہیں‘ مجھے شام تک کا وقت دو‘ میں آپ لوگوں کو مطمئن کردوں گا اور صحیح کام ہوگا۔ نیز ڈسٹرکٹ پبلک سکول کے لیے نیا پرنسپل ملک اللہ بخش کچھی جو بھکر کا ماہر تعلیم ہے۔ اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے‘ مجھے دو۔ کیونکہ موجودہ پرنسپل اس سازش میں شامل ہے۔ میرے ساتھ ختم نبوت کا ایک نمائندہ بھی ہونا چاہیے تاکہ میری کارگزاری آپ تک صحیح پہنچ جائے۔ مولانا محمد عبد اللہ صاحب نے ملک غلام نبی کا نام پیش کر دیا ہم نے وعدہ کیا کہ کل تک آپ کو ملک اللہ بخش کچھی مل جائے گا۔ مغرب کے وقت ملک غلام نبی صاحب نے ہمیں رپورٹ دی کہ ہم ڈپٹی کمشنر بھکر کے ساتھ ڈسٹرکٹ پبلک سکول گئے۔ انکوائری ہوئی مبارکہ قادیانی قرآن پاک پڑھوانے کی مجرم پائی گئی۔ اس نے الزام تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی‘ میں اسے معاف کر آیا ہوں۔ مبارکہ کو حصہ پرائمری کے انچارج سے معطل کر کے عام ٹیچرس کی جگہ دے دی گئی ہے۔ پرنسپل کو برخواست کر دیا گیا۔ ملک صاحب نے یہ بات مولانا محمد عبد اللہ صاحب کے سامنے بیان کی۔ میں نے کہا کہ ملک صاحب آپ ہمارے نمائندے تھے۔ جو کر آئے اب تو ہو گیا۔ مبارکہ قادیانی ملزم بن چکی تھی۔ اسلام اور آئین پاکستان کی توہین کا مقدمہ قائم ہونا تھا۔ قادیانیوں کے قابو میں کوئی نادانستگی میں بھی آجائے تو یہ طبقہ بہت ظالم بن جاتا ہے۔ آپ لوگوں میں مرتد اور زندیق کے خلاف بھی رحم کا جذبہ موجود ہے اور معافی دے دیتے ہو۔ آئندہ آپ کبھی اس قسم کی معافی استعمال نہ کریں۔
خدا کی غائبانہ امداد
میں بھکر میں نووارد تھا۔ اللہ بخش کچھی کو نہیں جانتا تھا۔ رات عشاء کی نماز جامعہ فاروقیہ میں پڑھی۔ محترم حافظ سرفراز کے صاحبزادے حافظ عطا اللہ صاحب ملک صاحب کے واقف کار تھے۔ ان سے ساتھ چلنے کی استدعا کی۔ رانا شفیق صاحب کو بھی ساتھ لیا۔ عشاء کی نماز کے بعد تبلیغی دوستوں کی طرز پر مسجد سے نکلتے ہوئے خدا سے عاجزی کے ساتھ کامیابی کی دعا مانگی۔ ملک صاحب کے مکان پر پہنچ کر ملاقات کی۔ ڈی سی صاحب کی طرف سے خان محمد افضل خان صدر ضلع مسلم لیگ بھکر اور ملک غلام نبی بھی تشریف لے آئے۔ ہم نے ڈسٹرکٹ پبلک سکول کی صورت حال سامنے رکھی۔ ملک صاحب فرمانے لگے کہ ڈی سی ریاض صاحب نے مجھے اس سکول کا پرنسپل بنانا چاہا میں نے انکار کر دیا۔ ڈی سی جمیل صاحب نے مجھے پرنسپل بنانا چاہا میں نے انکار کر دیا۔ حاجی امان اللہ شاہانی جب ایم این اے تھا اس نے مجھے پرنسپل بنانا چاہا میں نے انکار کر دیا۔ اب میں دل میں ڈرا۔ الٰہی خیر کا ورد کرنے لگا کہ یہاں تو انکار انکار کی رٹ لگی ہوئی ہے۔ ہم کمزور ہیں کیا بنے گا؟ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ملک صاحب گویا ہوئے کہ وہ بڑے تھے۔ میں نے ان سے بڑائی لینا پسند نہ کی۔ آپ کی نیت میں خلوص ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب خود خدا کی طرف سے مجھے یہ مقام دیا جا رہا ہے۔ لہٰذا مجھے یہ عہدہ قبول ہے۔ اتنے الفاظ سن کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ کہ ہم کمزوروں کی عزت تو نے رکھ لی۔
خان محمد افضل خان کی خدمت میں عرض کیا کہ جاکر ڈی سی سید محمد حامد شاہ صاحب کو یہ خوشخبری سنا دیں اور ہماری طرف سے مبارک باد دیں۔
ملک صاحب پرنسپل بن گئے۔ مذہبی آدمی تھے۔ ایک ہفتہ بعد ایک مشترکہ دوست کے ذریعہ ملک اللہ بخش کچھی سے ملاقات ہوئی۔ ان کو ختم نبوت کی کتابوں کا سیٹ دیا اور مبارکہ نامی قادیانی ٹیچرس کی اصل حقیقت کھولی۔ اس کے بعد پبلک سکول میں مبارکہ کی اہمیت بالکل ختم ہو گئی۔ مبارکہ نے سکول سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر بھکر کے عوام میں اتنی بدنام ہوئی کہ شہر بھکر بالکل چھوڑ کر ہالینڈ چلی گئی۔ خس کم جہاں پاک۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ٢٩-٣٠‘ شمارہ ٢٠‘ از قلم ڈاکٹر دین محمد فریدی)
مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی
١٩٥٠ء کی ایک تقریر
برادران ملت۔۔۔۔۔۔
آپ حضرات نے صدر مرکزیہ اور ناظم اعلیٰ کے خیالات سن لیے۔ ان حضرات نے نہایت سلجھے ہوئے اور موثر انداز میں جماعتی پالیسی بیان کی اور مرزائیت کی اندرونی سازشوں کو پوری طرح بے نقاب کیا۔ اب مجلس احرار کا ایک ادنیٰ رضا کار بھی اپنی چند معروضات عرض کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ آپ حضرات پوری توجہ کے ساتھ سنتے رہیں گے۔
مجلس احرار اسلام نے ہمیشہ سے اپنی تمام تر کوششیں اور مساعی‘ ملی اور ملکی خدمات کے لیے وقف کر رکھی ہیں اور قیام پاکستان کے بعد ہم نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملکی حالات کا بغور مطالعہ کیا۔ وقت کی نزاکت کو پہچانا اور یہ کہ پاکستان ایک نوزائیدہ مملکت ہے۔ ہمیں اس کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے یہاں اپنی زندگی بسر کرنا ہے۔ ہم اس ملک میں کسی قسم کی بدامنی گوارا نہیں کر سکتے۔
میرے بزرگو اور میرے دوستو! ہمارے اس فیصلے کو ساری دنیا نے مستحسن قرار دیا۔ پاکستان کے ایک ایک فرد نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ مجلس کی ان سرگرمیوں کو دیکھ کر جو وہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں کر رہی ہے‘ بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قاضی صاحب! آپ خوامخواہ کیوں مرزائیوں پر حملے کر رہے ہیں؟ اپنے مسلمان بھائیوں کی زبان سے یہ الفاظ سن کر مجھے دکھ ہوتا ہے
ان سے کوئی نہیں کہتا کہ تو بیداد نہ کر
میں کہتا ہوں کہ جس طرح سورج کو حق ہے کہ وہ سیاہی اور تاریکی پر حملہ کرے‘ اسی طرح ہمیں بھی یہ حق ہے کہ فخر دو عالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں۔ حق‘ باطل کی ریشہ دوانیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔
ہماری پوزیشن
حضرات ہماری پوزیشن اسی باطل کے مقابلے میں اوفینسو (Offensive) نہیں ڈیفنسو (Defensive) ہے۔ ہم جارحانہ اقدام نہیں کرتے۔ بلکہ ہم دشمن کے حملوں کی مدافعت میں صف آراء ہو کر کھڑے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ آوازیں جو حضور سرور کائنات کی شان میں گستاخی کے لیے اٹھ رہی ہیں انہیں آپ دنیا کے کسی گوشہ میں نہ اٹھنے دیتے۔ وہ آواز فوراً دبا دی جاتی‘ جو پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی نئی نبوت و شریعت کا دعویٰ کرتی۔
اس وقت مرزائیوں کا متعفن لٹریچر پیش کرنے کو دل نہیں چاہتا کہ شریفوں کی محفل میں ایسے بد اخلاق انسانوں کا لٹریچر پڑھ کر سنایا جائے۔ میں نے اپنے حالیہ دورہ میں پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین سے لے کر ایک ایک وزیر کے سامنے جب یہ لٹریچر پیش کیا تو انگشت بدنداں رہ گئے۔
ایک کمشنر کے سامنے جب یہ مرزائیت کی لاش رکھی تو انہوں نے حیرت سے پوچھا قاضی جی کیا یہ لٹریچر جو مرزا غلام احمد نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا ہے‘ اسے کوئی شریف آدمی پڑھ سکتا ہے؟
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
"قرآن مجید کی آیت محمد رسول اللہ والذین معہ میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں۔ یہ آیت محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق نہیں بلکہ میرے متعلق ہے"۔
ابھی مجھ سے پہلے اس آیت کی تشریح میں حضرت مولانا محمد علی صاحب نے مفصل واقعات بیان فرما دیے ہیں۔ اس سلسلہ میں، میں تو صرف اتنا عرض کروں گا کہ جب مرزائی اس آیت کو پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن محمدؐ عربی کی طرف نہیں جاتے بلکہ قادیان کی طرف جاتے ہیں۔ پھر یہ اپنی تبلیغ کے ذریعہ بھولے بھالے مسلمانوں کو ورغلا کر ان کا رشتہ مدینہ منورہ سے توڑ کر قادیان سے جوڑ رہے ہیں۔ کیا کوئی غیرت مند مسلمان یہ برداشت کر سکتا ہے کہ اپنا تعلق محمدؐ عربی سے توڑ کر سرکاری نبی مرزا غلام احمد سے جوڑ لے؟
حضرات مجھے آج مرزائیوں کی طرف سے اس قسم کے پمفلٹ ملے ہیں جن میں انہوں نے نہایت چالاکی اور دیدہ دلیری سے شعائر اسلام کی توہین کی ہے۔ سر ظفر اللہ کی وزارت پر یہ اچھل کود۔ تم ایک وزارت پر ناز کرتے ہو، میں نے سلطنتوں کا حشر دیکھا ہے۔
ہوائے تند کے باوصف جلتا رہتا ہے
وزارتوں کے مقدر پہ ناچنے والو
وزارتوں کا مقدر بدلتا رہتا ہے
ابھی کل کا واقعہ ہے۔ نیپال ہی کو لیجئے۔ کل جو وزیر تھے، انہیں آج اسیر ہوئے بھی دیکھا۔ کل جو امیر تھے، وہ آج گداگری کر رہے ہیں۔ کہیں روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ اپنی وزارتوں کی عزت بچانے کے لیے سیفٹی ایکٹ استعمال کرنے والو! محمد ﷺ عربی کی عزت و عظمت کی حفاظت کے لیے بھی آپ کے پاس کوئی قانون ہے؟
بد معاملہ
میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو مرزا غلام احمد کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے ہیں۔ آپ نے ایک بد معاملہ انسان کو محمد عربی ﷺ کے تخت پر کیوں بٹھایا ہے۔ میں نے اپنی تقریر کے دوران مرزا غلام احمد کو بد معاملہ کہا ہے۔ یہ شاعرانہ گفتگو نہیں ہے۔ بلکہ ایک حقیقت ہے میں بغیر دلیل اور ثبوت کے کوئی چیز عرض نہیں کروں گا۔ جہاں تک مرزا کی بد معاملگی کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں مرزا کی اپنی کتاب براہین احمدیہ ملاحظہ فرمائیے۔ یہ
ان دنوں کی بات ہے جب مرزا غلام احمد نے یہ اپیل کی تھی کہ میں حضور سرور کائنات کی شان میں پچاس جلدوں کی ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جس کے لیے مجھے کافی روپے کی ضرورت ہے۔ لوگوں نے سرور کائنات ﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت کی بناء پر کافی رقم دی۔ کتاب کی طباعت کے سلسلہ میں لوگوں سے یہ وعدہ کیا گیا کہ جب پچاس جلدوں کی کتاب پوری ہو گی تو اس رقم کے عوض اس کتاب کا ایک ایک مکمل حصہ ضرور دیا جائے گا۔ مرزا نے وہ کتاب ”براہین احمدیہ“ پانچ حصوں میں لکھ کر ختم کر دی۔ لوگوں نے پچاس جلدوں کا مطالبہ کیا تو مرزا ارشاد فرمانے لگا اگرچہ میں نے پچاس جلدوں کا وعدہ کیا تھا اور اب اس کی پانچ جلدیں پوری ہو گئی ہیں۔ پانچ اور پچاس میں صرف ایک نکتہ (٠) کا فرق ہے۔ اس لیے میں اپنے وعدہ میں پورا اتر آیا ہوں۔
حضرات اس سے بڑھ کر چالاکی اور عیاری کیا ہو سکتی ہے۔ میں ملتان کلاتھ ہاؤس کے مالکوں سے پوچھتا ہوں جو ملتان میں مرزائیوں کا بہت بڑا مرکز ہے۔
آپ کی دکان سے کوئی شخص پانچ سو روپے کا کپڑا خرید لے اور جب آپ اس کپڑے کا بل پیش کریں تو وہ بجائے پانچ سو روپیہ دینے کے آپ کو صرف پانچ روپے عنایت کر دے کیا آپ ایسے سودے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔۔ کیا یہ معاملہ آپ کو منظور ہے؟
بد زبان
میں نے اپنی تقریر کے دوران مرزا غلام احمد کو بد زبان کہا ہے۔ یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ مرزا کی اپنی کتاب ”نور الحق“ ص ١٢١ پر ملاحظہ فرمائیے ”جو شخص میری تحقیر کرتے ہیں ان پر میری طرف سے ایک ہزار مرتبہ لعنت ہے“۔
آپ حضرات میں سے کوئی شخص اسٹیج پر آکر ملاحظہ فرمائے۔ اس کتاب میں پورے کے پورے کئی صفحات پر سوائے لعنت، لعنت، لعنت........ کے اور کچھ نہیں لکھا۔
ایسا شخص اپنے آپ کو کہتا ہے کہ میں محمد ہوں! معاذ اللہ!
کیا محمد عربی ﷺ کی مثال ایسی تھی۔۔۔۔ وہ رحمتہ للعالمین تھے۔ آپ پر دنیا پتھر پھینکتی، آپ کو گالیاں دیتی، آپ کو زخمی کرتی۔ لیکن آپ کی زبان مبارک سے سوائے ان
کلمات کہے اور کچھ سرزد نہ ہوتا:
”اے اللہ اگر میں اس قوم سے دکھی ہو کر‘ ناراض اور خفا ہو کر کوئی بددعا مانگوں تو میری اس بددعا کو قبول نہ فرمانا“
”اے اللہ میری قوم کو وہ سمجھ عطا فرما دے جس سے یہ تیرے ارسال کردہ قرآن کو مان جائیں اور تیرے دین‘ اسلام کو قبول کر لیں“۔
قربان جاؤں ایسی پاکیزہ اخلاق والی ذات کے‘ جس کے اخلاق و عادات کا مشرکین عرب اور کفاران مکہ بھی اعتراف کرتے تھے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی ایک کتاب میں تحریر کرتا ہے جو شخص میری صداقت کا قائل نہیں ہے تو اسے صاف سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ”ولد الحرام“ ہے۔ (انوار الاسلام‘ ص ٣٣)
میں پوچھتا ہوں کہ حضرت قائد اعظم نے مرزا غلام احمد کی صداقت کا اعتراف کیا؟ ہمارے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان مرزا کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔۔۔۔۔؟
آپ حضرات جو بے پناہ سمندر کی طرح میرے سامنے موجود ہیں‘ کیا آپ تمام حضرات مرزا غلام احمد کی نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔؟
اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ”ولد الحرام“ کا لفظ کن حضرات کے لیے استعمال کیا ہے؟
صرف اسی پر بس نہیں مسلمانان عام کو خنزیر اور کتوں کا خطاب دیا اور مسلمان عورتوں کو یہ کہا کہ وہ سب کتیاں ہیں۔ ایسا شخص اپنے آپ کو نبی اور رسول کہے‘ یہ تو دنیا میں اپنے آپ کو ایک شریف انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔
توہین رسالت
یہ وہ الفاظ ہیں جو مرزا غلام احمد نے مسلمانان عالم کے حق میں استعمال کیے۔ اب چند چیزیں وہ بھی عرض کیے دیتا ہوں جو مرزا نے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استعمال کیے۔
مرزا خطبہ الہامیہ میں لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو پہلی رات کا چاند تھے اور میں چودھویں رات کا چاند ہوں"۔ اس چودھویں رات کے چاند کا اگر آپ نے فوٹو دیکھنا ہو تو ملاحظہ فرمائیے: "اس پر قاضی صاحب نے مرزا کا ایک فوٹو عوام الناس کے سامنے پیش کیا۔ لوگوں نے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے پناہ عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے"۔ ختم نبوت زندہ باد اور سرکاری نبوت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
شعور انبیاء
مرزا غلام احمد کے شعور کا ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دفعہ مرزا غلام احمد کا ایک مرید اس کے لیے گرگابی لایا اور مرزا کے سامنے لا کر رکھ دی۔ مرزا نے اسے بے حد پسند فرمایا اور اس جوتہ کو اسی وقت اپنے پاؤں میں ڈال لیا۔ جوتا پہننے میں آپ نے دایاں پاؤں بائیں جوتا میں اور بایاں پاؤں دائیں جوتا میں ڈال دیا۔ (سیرت المہدی‘ ص ٢٨، ج ٢)
مرزا غلام احمد کے ایسے شعور کے واقعات بہت سے ہیں۔ خوف طوالت کی وجہ سے ان کا ذکر مناسب نہیں ہے۔ ویسے آپ حضرات ان واقعات سے تو واقف ہیں کہ مرزا صاحب چونکہ گڑ کھانے کے عادی تھے اور آپ گڑ اور مٹی کے ڈھیلے ایک ہی جیب میں رکھا کرتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آپ گڑ کی جگہ مٹی کا ڈھیلہ کھا لیا کرتے تھے۔ کھانڈ کی جگہ چونہ پھانک لیا کرتے تھے۔ اپنی واسکٹ کے بٹن لگانے لگتے تو نچلا بٹن اوپر کے سوراخ میں اور اوپر کا نچلے سوراخ میں لگایا کرتے تھے
واقعی دنیا کو ایسے بے شعور نبی کی بڑی ضرورت تھی۔ قاضی صاحب نے مرزائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا "اے بھولے ہوئے انسانو! آپ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ سے اپنا رشتہ توڑ کر بے شعور انسان کے ساتھ جوڑ رہے ہو۔ تمہاری عقل کو کیا
ہو گیا ہے؟ تم اپنی فکر و دانش کو کہاں کھو چکے ہو۔۔۔۔۔۔؟ حضرات یاد رکھئے! انبیاء علیہم السلام مہد (بچپن کے دوران) میں بھی باشعور ہوتے ہیں۔
ایک ایک نبی کی زندگی کے حالات سامنے رکھئے اور پھر بچپن کے شعور کو دیکھئے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ابھی دودھ پیتے تھے اس وقت آپ اپنے حصے کا دودھ پیتے تھے۔ کئی دفعہ میں نے کوشش کی کہ آپ دوسرے بھائی کے حصے کا دودھ پی لیں۔ آپ منہ پھیر لیتے۔ اگر زبردستی آپ کے منہ میں دودھ دیتی تو آپ منہ بند فرمالیا کرتے تھے۔ قربان جاؤں ایسے نبی کے جو بچپن میں بھی مساوات اور انصاف کا سبق دے رہا ہے۔
توہین الوہیت
حضرات میں نے مختصر الفاظ میں آپ کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کے بد معاملہ‘ بد زبان‘ بد اخلاق ہونے کے واقعات عرض کر دیے ہیں۔ اب اس سے بڑھ کر اس کی دیدہ دلیری اور عیاری ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے الہام فرمایا انت منی وانا منک یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ صاف لفظوں میں یوں سمجھئے اللہ تعالیٰ مرزا صاحب سے فرماتے ہیں کہ اے مرزا تو میری اولاد ہے اور میں تیری (لاحول ولا قوۃ)
سوال
اس پر ایک دفعہ ایک مرزائی نے اعتراض کیا کہ حضور ﷺ نے بھی تو حضرت علیؓ کے لیے فرمایا تھا کہ انت منی وانا منک حالانکہ حضرت علیؓ اور حضور ﷺ کے والدین جدا جدا تھے۔ پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ اے علی تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔
جواب
سیرت سے معمولی واقف انسان کو بھی یہ معلوم ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے دادا کا نام عبد المطلب تھا اور حضرت علیؓ کے دادا بھی وہی عبد المطلب ہی تھے۔ تو گویا حضور ﷺ اور حضرت علیؓ دونوں ایک ہی دادا کے پوتے ہوئے۔ اب اس میں کیا اشکال باقی رہ جاتا ہے دونوں ایک ہی خون کے رشتے ہوئے۔
ایک دوسرے مقام پر مرزا صاحب اپنے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ :
رایتنی فی المنام انی عین الله فتیقنت انی ثم خلقت السموات والارض (الخ)
"یعنی میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ پھر میں نے یقین کر لیا کہ واقعی میں خدا ہی ہوں۔ پھر میں نے زمین اور آسمان پیدا کیے"۔
(استغفر الله)
اندازہ فرمائیے کہ یہ کس انسان نے جرات کی ہے۔ یہ تو اپنے متعلق تھا۔ اب مرزا بشیر الدین محمود کی بابت بھی سنئے ”جب مرزا محمود پیدا ہوا تو اس کی مثال یوں ہے کان الله نزل من السماء جیسے اللہ تعالیٰ آسمان سے اترے ہیں۔
ایک مرزائی نے اعتراض کیا کہ اجی قاضی صاحب مرزا نے یہ تو اپنا ایک خواب بیان کیا ہے۔ کہ میں خواب میں خدا بن گیا تھا۔ میں ایسے انسان سے پوچھتا ہوں کہ یہ الہامات جو کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں، یہ بھی سارا معاملہ خواب کی حالت میں ہی مکمل ہو گیا تھا۔ وہ پریس کون سا تھا جو خواب میں چلتا رہا اور کتابیں تیار ہوتی رہیں۔
یاد رکھئے خداوند قدیر سے لے کر تمام انبیاء اور اولیاء کی توہین اور ان کی مقدس اور پاکیزہ زندگی کو داغ دار کرنے کے لیے انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی جیسے بد اخلاق، بد معاملہ انسان کو تیار کیا۔ اگر یہ شخص صحابہ کرام کے زمانہ میں اس قسم کی توہین و حرکات کرتا تو اسے یک قلم ختم کر دیا جاتا۔ دنیا میں اس سے بڑھ کر ایسا شخص ہے جس نے حقانیت اسلام کو نیست و نابود کیا ہو۔۔۔۔۔!
حرف آخر
حضرت قاضی صاحب نے ولولہ انگیز لہجہ میں فرمایا کہ آپ حضرات پورے ہوش اور پوری ذمہ داری سے جواب دیں کیا ایسے دشمنان اسلام اور دشمنان ملک و ملت گروہ کا استیصال ضروری ہے یا نہیں؟
ہم مرزائیوں کو اسلام اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہیں اور اس کے استیصال کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
حاضرین نے جوش آمیز لہجہ میں جواب دیا خدا آپ کو کامیابی دے۔
قاضی صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے اپنے تاریخی فیصلہ میں کہا تھا کہ ہمیں یہ کام وقت کے اہم مقتضیات کے تحت کرنا ہے اور اگر اس کام کو ملک کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ سنبھال لے تو ہم احرار کا بورڈ اتار دینے کے لیے تیار ہیں۔
آپ نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”پچھلے دنوں راولپنڈی اور اوکاڑہ میں دو آدمی کسی گھریلو مناقشات کی وجہ سے قتل ہوگئے تھے تو مرزائیوں نے سارے ملک میں شور مچانا شروع کر دیا کہ ان دونوں کے قتل میں دراصل مجلس احرار کا ہاتھ ہے۔ آج یہاں جلسہ گاہ میں ایک مرزائی جو پوسٹ آفس ملتان کا ایک ملازم ہے‘ مرزائی لٹریچر اور اشتہارات تقسیم کرتا ہوا پکڑا گیا۔ احرار رضا کاروں نے اسے کچھ نہیں کہا اور اسے نہایت پر امن طریقہ سے مقامی پولیس کے سپرد کر دیا۔
حضرات اب آپ فرمائیے یہ پیش قدمی کس کی جانب سے ہے۔ اگر یہاں کوئی مسلمان مشتعل ہو کر اسے مار پٹائی کر دیتا تو ذمہ داری کس پر عائد ہوتی۔ وہ کس بل بوتے پر مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع میں گمراہ کن لٹریچر تقسیم کرنے کی جرات کرتے ہیں؟
دراصل مرزائی اپنی خطرناک سازشوں سے اسلام اور پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے تمام مسلمانوں اور حکومت کو ان کی ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنا چاہیے۔ وما علینا الا البلاغ
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ١٩‘ شمارہ ٢٨)
جیل میں مولانا احمد علی کو زہر دیا گیا
١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت یکایک نہیں ابھری تھی اور نہ ہی کسی سیاسی طالع آزما کے اشارۂ ابرو پر اس نے وسعت اختیار کر کے پورے ملک کے نظام کو معطل کیا تھا۔ اس تحریک کی بنیاد اسی وقت پڑ گئی تھی جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کاذبہ کا دعویٰ کیا تھا اور بعد ازاں انگریز حکمرانوں کی خاص سرپرستی سے مرزائی (احمدیہ) فرقہ کے لوگوں نے مختلف شعبوں میں اقتدار و اختیار کے کلیدی وسائل پر قبضہ کر لیا تھا۔ قادیانی افسروں، اہلکاروں، تاجروں اور بڑے بڑے زمینداروں نے قیام پاکستان کے بعد جب مسلمانوں کے دینی، سیاسی اور معاشی حقوق پامال کرنا شروع کر دیے تو مرزائیوں کے خلاف نفرت و حقارت کا جذبہ ابھرنا ایک فطری امر تھا۔ پھر جب قیام پاکستان کے بعد انگریز گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے ”ربوہ“ کے نام پر سینکڑوں ایکڑ زمین چند پیسے مرلہ کے حساب سے عطا کر کے صرف مرزائیوں کا الگ سے شہر آباد کرنے کی بنیاد ڈالی تھی اور نہایت پراسرار طریقہ سے مرزائیوں کا ایک ایسا مرکز قائم کرنے کا اقدام کیا تھا جسے وہ بلا شرکت غیرے اپنی مضبوط چھاؤنی کی حیثیت دے سکیں۔ تو یہ انداز کار اہل اسلام کے لیے سخت اضطراب اور تشویش کا باعث بنا۔ کیونکہ پورے ملک میں کسی بھی فرقہ کی ایسی کوئی آبادی موجود نہ تھی۔ جو صرف اس فرقہ کے لوگوں کے لیے ہی مخصوص ہو اور اس میں دوسرا کوئی بھی شخص نہ تو بلا اجازت آ جاسکے اور نہ ہی اسے وہاں ٹھہرنے کی اجازت ہو۔
پاکستان کی سرزمین پر ”ربوہ“ کے نام سے پہلی آبادی تھی جو مسلمانوں سے علیحدگی کی اساس پر قائم ہوئی۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ مرزائی فرقہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود ”آنجہانی“ نے مختلف سرکاری محکموں پر قبضہ کرنے کی ایک زبردست تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اپنے مریدوں اور جماعتی کارکنوں کے نام اپنے اخبار الفضل کے ذریعہ باقاعدہ ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اب فوجی ملازمت کی طرف سے توجہ ہٹالیں کیونکہ اس میں ہمیں اس قدر پوزیشن حاصل ہو گئی ہے کہ مزید ضرورت نہیں رہی اب انہیں دوسرے محکموں
کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ اسی قسم کی ہدایات کے ساتھ ساتھ مرزا محمود نے اپنے مریدوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی پوری توجہ اور کوشش بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کے لیے وقف کر دیں تاکہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ہمارا بھی ایک صوبہ ہے۔
مرزا محمود آنجہانی نے اپنی مجلس علم و عرفان میں پاکستان کی تقسیم کو عارضی قرار دیتے ہوئے ایک رویا کے ذریعہ پاکستان اور ہندوستان کو پھر سے متحد کرنے کے لیے اکھنڈ بھارت کی پیش گوئی کی۔ اس قسم کے خطرناک نظریات کے خلاف برہمی کے جذبات پورے ملک کے مسلمانوں کے دلوں میں ابھر رہے تھے۔ ٹھیک انہی دنوں پاکستان کے سابق مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے کراچی کے آرام باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ اسلام کو ایک مردہ مذہب اور احمدیت و قادیانیت کو زندہ مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی۔
سر ظفر اللہ خاں کی اس اشتعال انگیز اور قابل اعتراض تقریر پر کراچی میں زبردست ہنگامہ ہو گیا۔ پولیس نے سر ظفر اللہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو لاٹھیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے زخمی کیا۔ اور بے شمار افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونس دیا۔
تحریک ختم نبوت کے محرکات
ایک طرف اندرون ملک مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مذہبی اور سیاسی بنیاد پر اختلاف و نزاع نے سنگین صورت اختیار کر لی تھی اور دوسری طرف قوم کے سامنے دستور سازی کا مرحلہ درپیش تھا۔
پاکستان میں دستور اسلامی کے نفاذ کے لیے کراچی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام متفقہ امور پر مشتمل سفارشات مرتب کر رہے تھے۔ اس میں چونکہ پاکستان کے صدر مملکت کے لیے مسلمان ہونا ضروری قرار دیا گیا تھا اس لیے تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر مسلمان کی تعریف کرنے، عقیدہ ختم نبوت کے منکروں کو مسلمانوں کی صف سے خارج کر کے غیر مسلم قرار دینے اور سر ظفر اللہ خاں کو وزارت سے الگ کرانے کے لیے ملک کی تمام دینی و
سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے جب مطالبات تسلیم کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین کو ایک ماہ کا نوٹس دے دیا اور ٢٨ فروری ١٩٥٣ء کو اس کی مدت ختم ہو گئی تو مطالبات تسلیم کرانے کے لیے احتجاجی جلوسوں اور مظاہروں کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔
اسی سلسلہ میں ملتان تھانہ کپ کے سامنے ایک پرامن جلوس پر پولیس نے فائرنگ کر کے چند مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیے۔ اس پر پورے ملک میں اشتعال پھیلنا ایک فطری امر تھا۔ ہر شہر‘ ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں جلسے جلوسوں کی صورت مظاہروں کا سلسلہ شدت اور وسعت اختیار کرتا گیا۔ سرگودھا کی جامع مسجد میں منعقدہ جلسے میں شیخ حسام الدین‘ ماسٹر تاج الدین انصاری اور ذکاء اللہ شائی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حکومت کے رویے کی مذمت کی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں صاحبزادہ فیض الحسن اور ان کے لڑکے چن پیر بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیے گئے۔
تحفظ ختم نبوت کا مرکزی مقام لاہور بن گیا تھا۔ یہاں منعقد ہونے والے جلسے جلوسوں نے ابھی ہنگامہ خیز صورت اختیار نہ کی تھی۔ لاہور نے ناموس رسالت کے تحفظ کی سلسلہ میں راجپال‘ مغلپورہ ایجی ٹیشن کے علاوہ غازی علم الدین شہید کی معرکہ آراء تحریکات کا نہ صرف قریب سے مشاہدہ کیا تھا بلکہ ان تحریکات کو جنم دینے اور پروان چڑھانے کا سہرا بھی لاہور ہی کے جاں نثاران محمد عربی کے سر تھا۔
اہل لاہور کی زندگی ہمیشہ گہما گہمی اور ہماہمی میں گزری ہے۔ بڑی بڑی دینی اور سیاسی تحریکات کی تلاطم خیزی اور اتار چڑھاؤ کا نظارہ کیا ہے۔ اسی لاہور میں ایشیاء کی سب سے بڑی تحریک ختم نبوت رفتہ رفتہ جوان ہو رہی تھی۔
پنجاب کے ارباب اقتدار نے اہل اسلام کے مستقل جذبات اور حالات کی سنگین صورت کا جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا کہ عوام کے دونوں مطالبات کی منظوری کا تعلق چونکہ مرکزی حکومت سے ہے اور حکومت پنجاب پہلے ہی ان کی تائید و حمایت کر چکی ہے۔ اس لیے تحریک کا رخ مرکز کی جانب ہونا چاہیے۔
مطالبات کے سلسلہ میں حکومت پنجاب کی یقین دہانی پر جلسے جلوسوں کا مرکز اگرچہ
پنجاب رہا لیکن مظاہرین کے قافلے ٹرینوں کے ذریعے کراچی کا رخ کرنے لگے اور چند روز کے اندر اندر لاہور کے بعد کراچی بھی تحریک ختم نبوت کا مرکز بن گیا اور چند روز کے اندر اندر مغربی پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبات، دیہات میں تحریک کا زور اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ نظم و نسق درہم برہم ہو گیا۔
گرفتاریوں، ہڑتالوں اور ہنگاموں نے ہمہ گیر صورت اختیار کرلی۔ محکمہ ریلوے، ٹیلی فون اور تار کے علاوہ سیکرٹریٹ میں بھی قلم چھوڑ ہڑتال ہو گئی۔ اس اثناء میں لاہور اور لائل پور کے مظاہرین پر پولیس نے گولی چلا دی۔ کئی مسلمان شہید ہو گئے۔ اس پر جان نثاران محمد عربی کے جذبات سخت مشتعل ہوئے کہ ایک اسلامی ریاست کے ارباب اقتدار جو خود بھی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو خدا کا آخری رسول تسلیم کرتے اور اس پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں۔ وہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ چاہنے والوں کے سینے گولیوں سے کیوں چھلنی کرتے ہیں۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ ارباب اقتدار انگریز کے خود کاشتہ پودے، مرزائیت کو تحفظ دے کر اور اس فتنہ کی سرپرستی کر کے عملاً عقیدۂ ختم نبوت کا انکار کرنے کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
مسئلہ کی نزاکت کے پیش نظر ملک کے تمام مسلمان بلا اختلاف عقائد و نظریات اس بات میں متفق و متحد تھے کہ ملک کی دستور سازی کے مرحلہ میں عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کر کے حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کاذبہ پر ایمان لانے والوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ ان مطالبات کی تائید میں چونکہ اہلسنت، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ تمام فرقوں کے علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے اور مشترکہ طور پر ہی جدوجہد کر رہے تھے۔ اس لیے مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں لاتعداد لوگ شرکت کیا کرتے تھے۔
مارچ ١٩٥٣ء کی پانچ تاریخ تک لاہور میں تحریک ختم نبوت پوری شدت کے ساتھ جاری تھی کہ چوک دالگراں میں پولیس نے ایک شخص کو گولی کا نشانہ بنا دیا اور مبینہ طور پر اس کے گلے میں آویزاں قرآن مجید کو ٹھوکریں ماریں جس کے باعث اوراق بکھر گئے۔ اس حادثہ نے مسلمانوں کے جذبات پر پٹرول کا کام دیا اور ردعمل کے طور پر جامع مسجد وزیر خاں کے قریب پولیس کے ایک عہدہ دار فردوس شاہ کو قتل کر دیا گیا۔
حضرت لاہوری کی گرفتاری
ان حادثات کے بعد عوامی جذبات و احساسات چنداں محتاج وضاحت نہیں۔ پورا لاہور خون آشام تھا۔ شہر کی سڑکیں خون مسلم سے دھل رہی تھیں۔ نالیوں میں پانی کی جگہ اہل اسلام کا خون رواں دواں تھا۔ ٦ مارچ کو لاہور شہر اگرچہ فوج کی تحویل میں آگیا تھا۔ جان نثاران محمد عربی کے جذبات اور ان کے سینوں میں موجزن عشق و محبت کی آگ کے شعلے پورے جوش و خروش کے ساتھ بڑھتے جارہے تھے۔
مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنما روزانہ گرفتاریاں دے رہے تھے۔ کراچی میں مجلس عمل کے تمام رہنماؤں (جن میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا ابوالحسنات‘ سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خاں لاہور‘ مولانا عبدالحامد بدایونی‘ صاحبزادہ سید فیض الحسن‘ مولانا لال حسین اختر‘ ماسٹر تاج الدین انصاری اور دوسرے حضرات شامل تھے) کی گرفتاری کے بعد پنجاب‘ سندھ اور سرحد کے تمام علماء کرام کی گرفتاریوں کا سلسلہ ہمہ گیر تھا۔ انہی دنوں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری امیر انجمن خدام الدین لاہور ایک بہت بڑے جلوس کی صورت میں گرفتار کرلیے گئے اور آپ کو سنٹرل جیل ملتان بھیج دیا گیا۔
ملتان جیل میں مقامی علماء‘ سیاسی رہنماؤں اور ملی کارکنوں کے ساتھ ساتھ خطیب پاکستان اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنما مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی قید و بند کی سلاخوں میں تھے۔
ان دنوں قائد اعظم کے بعد پہلے گورنر جنرل اور قائد ملت کے بعد پہلے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمیٰ کا بلند و بالا مینار دھڑام سے نیچے آچکا تھا اور صوبائی و مرکزی وزارتوں کی گدیوں پر نئے وزیر براجمان ہو رہے تھے۔ وزارت عظمیٰ پر محمد علی بوگرہ اور پنجاب پر ملک فیروز خان نون فائز ہوئے تھے۔ احساسات کا صحیح اندازہ نہ تھا۔ انہوں نے مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو پھر اپنی کابینہ میں شامل کرلیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز مرزائی افسروں کا رویہ سخت ہوگیا اور انہوں نے تحریک ختم
نبوت میں حصہ لینے والوں کے خلاف سخت انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ان دنوں پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کرنل بشیر حسین سید مرزائیوں کے لاہوری فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت کے ممتاز رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سخت منتقمانہ رویہ اختیار کیا اور جیل کے ارباب اختیار کی وساطت سے انہیں بے بس اور لاچار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
خود راقم الحروف کو سنٹرل جیل لاہور میں کئی روز تک ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند رکھا جو جیل خانہ کی چہار دیواری میں جرم کا ارتکاب کرنے والے خطرناک مجرموں کے لیے مخصوص ہوا کرتی تھی اور جس میں بھڑوں کے چھتے اور کیڑے مکوڑوں کے گھروندے خاص اہتمام کے ساتھ تیار کرائے گئے تھے۔ گویا وہ جیل کا قید خانہ تھا۔
زہر خورانی کا ہولناک واقعہ
راقم الحروف کو چند دنوں کے بعد لاہور کے حراست خانہ سے نکال کر ”بم کیس وارڈ“ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایک روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ ملتان سنٹرل جیل میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی حالت یکا یک سخت خراب ہو گئی ہے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لینے والے ان ممتاز رہنماؤں کو مسلسل قے اور اسہال کی تکلیف تھی۔ ڈاکٹر ان حضرات کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چند روز بعد اطلاع ملی کہ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کو لاہور جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ایک روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے (جو حضرت لاہوری کے مرید تھے) مجھے یہ خوشخبری دی کہ حضرت شیخ التفسیر کو بغرض علاج لاہور سنٹرل جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ میں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، اور سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات سے درخواست کی کہ حضرت لاہوری کو ہمارے وارڈ ”بم کیس احاطہ“ میں رونق افروز کیا جائے۔ چنانچہ حسب پروگرام جب حضرت لاہوری سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے تو ”بم کیس وارڈ“ کو آپ کی ذات سے شرف بخشا گیا۔
یہ وارڈ تاریخی نوعیت کا حامل تھا۔ بھگت سنگھ اور دت وغیرہ تحریک آزادی کے جن
نوجوانوں نے اسمبلی میں بم پھینک کر انگریزوں کو خطرناک نقصان پہنچایا تھا‘ یہ وارڈ ان کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور ”بم کیس“ کے عنوان سے انہی کے نام موسوم ہوا۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری جب سنٹرل جیل میں تشریف لائے تو کڑکڑاتی گرمی کا سخت موسم تھا۔ گرمی کی شدت کے باعث پورا ماحول آتش فشاں تھا۔
بم کیس وارڈ حضرت کے معتقدین اور مریدوں کی نگاہ شوق و عقیدت کا مرکز بن گیا۔
نماز عصر کے بعد میں نے جیل کے ذمہ دار افسروں سے رابطہ قائم کر کے حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے لیے چارپائی کا انتظام کرنے کو کہا۔ کیونکہ تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار ہونے والے تمام نظر بندوں کے بستر تپتی زمین کے فرش پر ہی دراز کیے جاتے تھے۔ ان بستروں کے درمیان جب میں نے حضرت شیخ کی چارپائی بچھائی تو آپ نے اسے دیکھتے ہی دریافت کیا یہاں صرف ایک چارپائی کیوں بچھائی گئی ہے؟ میں نے عرض کیا۔۔۔۔۔ یہ حضرت کے لیے ہے۔ آپ نے فرمایا۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جان نثاران محمد عربی ﷺ تپتے فرش پر ہوں اور احمد علی ان کے درمیان چارپائی پر آرام کرے۔۔۔۔؟
آپ نے یہ چند جملے۔۔۔ کچھ اس انداز میں فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئیں۔ تعمیل ارشاد میں آپ کا بستر خصوصی اہتمام کے ساتھ زمین پر ہی بچھا دیا گیا اور پائنتی کی جانب اپنا بستر رکھا تو حضرت نے اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر سرہانے کی جانب کر دیا۔
نماز مغرب کے بعد راقم الحروف نے علیحدگی میں ملتان جیل میں یکا یک صحت خراب ہونے کے اسباب معلوم کیے تو حضرت لاہوری نے فرمایا:
”ایک روز شام کے کھانے کے بعد سب کی حالت غیر ہو گئی۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے جیل حکام سے جب پر زور مطالبہ کیا کہ ہمارا طبی معائنہ ہونا چاہیے اور جیل کی خوراک بند کر دینے کا فیصلہ کیا تو ان سب کو مختلف بارکوں میں تبدیل کر دیا گیا اور مجھے یہاں سنٹرل جیل لاہور پہنچا دیا گیا ہے۔
جیل کے ارباب اختیار کے بقول اگر ہماری صحت کا بگاڑ غذائی سمیت
(فوڈ پوائزن) کے باعث تھا تو طبی معائنہ کرانے میں کیا قباحت تھی۔۔۔۔؟ اور پھر چند روز کے بعد مختلف جیلوں کے دوسرے نظر بندوں نے بھی قے اور اسہال کی تکلیف کا شکوہ کیا۔ وسیع پیمانہ پر ایک ہی شکایت کا اظہار در حقیقت تحریک تحفظ ختم نبوت کے نظربندوں خصوصاً ممتاز رہنماؤں کے خلاف کسی سازش کا غماز تھا۔
حضرت شیخ التفسیر لاہوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ملتان کی تکلیف کے بعد میرے اعصاب میں کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ اور گھٹنے میں مسلسل درد نے اگرچہ سخت پریشان کر رکھا ہے لیکن حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے خطرناک صعوبتیں وجہ سکون قلب اور باعث راحت جاں ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں نے ہمارے انہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا تھا
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
شیخ التفسیر حضرت لاہوری قریباً ایک ماہ بم کیس وارڈ میں رونق افروز رہے۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ملک فیروز خاں نون نے خرابی صحت کی بنا پر حضرت کی رہائی کے احکام جاری کر دیے اور پھر زندگی بھر آپ کو صحت و تندرستی کی وہ پہلی حالت نصیب نہ ہو سکی۔ اسی طرح قاضی احسان احمد شجاع آبادی بھی مسلسل بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔
(ماہنامہ ”صوت الاسلام“ فیصل آباد، جلد١، شمارہ ٤-٥، از قلم مجاہد الحسینی)
صدائے قاضی
نسل انسانی کے لیے رب اکبر کے سوا اور کوئی رب نہیں۔ کعبہ کے سوا اور کوئی مرکز نہیں۔ قرآن کے سوا اور کوئی قانون نہیں اور محمدؐ کے سوا اور کوئی نبی نہیں۔ ربوبیت رب پر ختم ہے، مکتب قرآن پر ختم ہے، امتیں اسلام پر ختم ہیں اور نبوت محمدؐ پر ختم۔ رب اکبر کے بعد کوئی رب نہیں ہو سکتا۔ کعبہ کے بعد کوئی گھر نہیں ہو سکتا تو محمدؐ کے
بعد اور کوئی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔
("قاضی احسان احمد شجاع آبادی" ص ١٩٤‘ محمد نور الحق قریشی)
حضور سب کے ہیں سب کے لیے پیام حضور (مولف)
خان لیاقت علی خان سے
قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی ملاقات
اس ملاقات کے عینی شاہد برادرم جناب حفیظ رضا پسروری ہیں۔ انتخابی مہم میں احراری راہنما مختلف حلقوں کے دورے کر رہے تھے۔ خاص طور پر وہ حلقے جہاں مرزائی امیدوار، لیگ کے ٹکٹ پر یا آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ احرار کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکے تھے۔ سیالکوٹ کے قصبہ سمبڑیال میں ایک مرزائی امیدوار انتخاب لڑ رہا تھا جس کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا امیدوار بھی موجود تھا۔ ان دنوں حضرت قاضی احسان احمد اور خان لیاقت علی خان سیالکوٹ کا دورہ کر رہے تھے۔ قاضی صاحب سیالکوٹ انتخابی مہم کے سلسلہ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کا قیام محترم جناب ماسٹر تاج دین کے مکان پر تھا۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خواجہ صفدر صاحب‘ جنرل سیکرٹری مسلم لیگ سیالکوٹ‘ قاضی صاحب کے پاس آئے اور درخواست کی کہ کل ٤ بجے شام سمبڑیال میں مسلم لیگ کا جلسہ ہے‘ جہاں خان لیاقت علی خاں وزیر اعظم بھی تشریف لا رہے ہیں۔ آپ وہاں تقریر کریں۔
اس جلسہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مسلم لیگی امیدوار کے مقابلہ میں ایک مرزائی امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہا ہے۔ چونکہ مقابلہ سخت ہے‘ اس لیے احرار کی طرف سے آپ کی تقریر ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ آپ نے خان صاحب سے پوچھ لیا ہے کہ مجھے تقریر کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ خواجہ صفدر نے کہا قاضی
صاحب! یہ میری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب، اپنے ساتھیوں، جناب حافظ محمد صادق صاحب اور سالار بشیر کی معیت میں ایک تانگہ پر سوار ہو کر ہمبڑیال گئے۔ ہمبڑیال، سیالکوٹ سے ١٤ میل کے فاصلہ پر ہے۔ راستے میں قاضی صاحب نے ”اگوکی“ نامی قصبہ میں بھی تقریر کی۔ ٤ بجے شام ہمبڑیال پہنچے، جلسہ کی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ جب قاضی صاحب، حافظ محمد صادق صاحب اور سالار بشیر کے ساتھ جلسہ گاہ میں پہنچے تو جلسہ گاہ میں، مجلس احرار اسلام زندہ باد، قاضی احسان احمد زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد کے نعرے بلند کیے گئے۔ لیگی اراکین نے بڑی گرمجوشی سے آپ کا استقبال کیا۔ خواجہ محمد صفدر، محمد اقبال چیمہ و دیگر شہری و ضلعی اراکین مسلم لیگ نے آگے بڑھ کر قاضی صاحب کو اسٹیج پر بٹھا دیا۔ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ لیاقت علی خان صاحب تشریف لائے۔ سارے مجمع میں نعروں کی گونج پیدا ہو گئی۔ خواجہ صفدر نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔
سب سے پہلے قاضی صاحب کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ آپ نے اپنی تقریر کے دوران مجلس احرار اسلام کا نپے تلے انداز میں تعارف کرایا۔ احرار نے استحکام و دفاع پاکستان کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دیں، ان کا ذکر کیا۔ آخر میں آپ نے محتاط انداز میں مسلم لیگی امیدوار کی حمایت میں عوام سے پر زور اپیل کی۔ آپ کی تقریر دس منٹ تک جاری رہی۔ بعد میں لیاقت علی خان کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ جلسہ کے اختتام پر اسٹیج پر ہی لیاقت علی خان نے خواجہ صفدر سے پوچھا کہ یہ مولوی صاحب کون ہیں؟ خواجہ صفدر نے لیاقت علی خان سے قاضی صاحب کا تعارف کرایا جس پر خان صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دو گھنٹے بعد سیالکوٹ شہر میں جو لیگ کا جلسہ ہو رہا ہے، جس سے وہ خطاب کر رہے ہیں، اس سے قاضی صاحب بھی خطاب فرمائیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کی یہ دعوت منظور کر لی۔
سیالکوٹ شہر میں مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجتماع تھا۔ جونہی اہل شہر کو معلوم ہوا کہ احرار کی طرف سے قاضی احسان احمد بھی تقریر کرنے آنے والے ہیں تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ سیالکوٹ حلقہ کا انتخاب اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا کہ اس حلقہ سے خواجہ محمد صفدر کے مقابلہ میں نواب افتخار حسین ممدوٹ بنفس نفیس الیکشن لڑ رہے
تھے۔ قاضی صاحب اور لیاقت علی خان کی زبردست تقاریر ہوئیں۔ نعرہ ہائے تکبیر، ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، مسلم لیگ، لیاقت علی خان، قاضی احسان احمد زندہ باد کے نعروں سے سرزمین سیالکوٹ گونج اٹھی۔ جلسہ کے اختتام پر قاضی صاحب نے بڑھ کر لیاقت علی خاں سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ میں آپ سے بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر لیاقت علی خان نے کہا کہ آپ ابھی میرے سیلون میں تشریف لائیں۔ قاضی صاحب نے کہا آدھ گھنٹہ میں حاضر ہوتا ہوں۔
قاضی صاحب فورا حفیظ رضا کے گھر پہنچے۔ مرزائیوں کی کتابوں کا ایک صندوق جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف شامل تھیں، اٹھانے کو کہا۔ حفیظ صاحب صندوق اٹھائے قاضی صاحب کے ساتھ چل دیے۔ اسٹیشن پہنچے۔ پلیٹ فارم پر وزیر اعظم کو رخصت کرنے کے لیے صوبہ بھر کے ممتاز لیگی لیڈر موجود تھے اور انتظار میں تھے کہ لیاقت علی خاں کب ملاقات کے لیے انہیں اپنے سیلون میں بلاتے ہیں۔ جب قاضی صاحب اسٹیشن پر ہجوم کو چیرتے ہوئے لیاقت علی خاں کے سیلون کی طرف بڑھے تو نواب صدیق علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ نے دیر کر دی۔ قاضی صاحب اندر جانے لگے تو صدیق علی خاں نے کہا کہ ملاقات کے لیے دس منٹ مقرر ہیں۔ حفاظتی گارڈ نے آپ کی تلاشی لی، پھر اندر جانے دیا۔
لیاقت علی خاں نے اپنی کرسی کے ساتھ قاضی صاحب کو بٹھالیا۔ حفیظ صاحب فرش پر بیٹھ گئے۔ قاضی صاحب نے ابتدائی بات چیت میں احرار اسلام کا تعارف کرایا۔ نیز بتایا کہ احرار، استحکام پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ مزید بتایا کہ جب سے آپ نے بھارت کو ”تاریخی مکہ“ دکھایا ہے، اس وقت سے احرار ملک کے طول و عرض میں جہاد کانفرنسوں میں مصروف ہیں۔ برصغیر کی آزادی کے لیے علماء نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، ان کا ذکر کیا۔ مرزائیت کا پس منظر بیان کیا۔ سب سے پہلے مرزائیوں کی مشہور کتاب ”تذکرہ“ دکھائی اور صفحہ ١٤ پڑھا جس پر لکھا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رات کا چاند تھے اور میں (مرزا غلام احمد) چودھویں رات کا چاند ہوں“ لیاقت نے اس جملہ پر خود اپنی پنسل سے نشان لگایا اور کتاب میز پر رکھ دی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے مرزا غلام احمد کی وہ
تمام تصانیف دکھائیں جن میں حضور نبی کریم علیہ السلام، حضرت فاطمہؓ ، حضرات حسنینؓ اور دیگر اہل اللہ کے خلاف توہین آمیز کلمات موجود تھے۔ لیاقت علی خاں ان تمام عبارات کو خود انڈر لائن کرتے گئے اور وہ کتابیں اپنی میز پر رکھ دیں۔
حفیظ رضا پہروردی حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جب قاضی صاحب نے لیاقت علی خان کو اکمل قادیانی کا یہ شعر
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
پڑھ کر سنایا تو خود تو زار و قطار رو ہی رہے تھے، لیاقت علی خاں کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اور پرنم آنکھوں سے فرمایا کہ قاضی صاحب! آپ اسی سیلون میں میرے ساتھ کراچی چلیں۔ میں چند مزید باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی صاحب نے اپنے جماعتی پروگراموں کو منسوخ نہ کرنے کی بنا پر ساتھ چلنے سے معذوری ظاہر کی۔ البتہ وعدہ کیا کہ چند روز تک کراچی حاضر ہو کر مزید ملاقات کروں گا۔ لیاقت و قاضی کی یہ ملاقات بجائے دس منٹ کے پورے پینتالیس منٹ جاری رہی۔ رخصت ہوتے وقت لیاقت علی خاں نے قاضی صاحب کو یہ الفاظ کہے کہ:
”مولانا! آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین“۔
ایک ملاقات میں چودھری محمد علی سابق وزیر اعظم نے قاضی صاحب سے کہا کہ جب سے لیاقت علی خاں نے آپ سے ملاقات کی ہے، اب کیبنٹ میٹنگ میں ظفر اللہ خاں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ بلکہ سنا ہے کہ ایک میٹنگ میں ظفر اللہ خاں کو ان الفاظ میں لیاقت علی خاں نے مخاطب کیا:
”میں جانتا ہوں کہ آپ ایک خاص جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں“۔
حفیظ رضا کا کہنا ہے کہ قاضی صاحب نے لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد ایک
ملاقات میں بتایا کہ لیاقت علی خاں کا پروگرام یہ تھا کہ مرزائیوں کو ایک سیاسی جماعت کی حیثیت دے کر خلاف قانون قرار دیا جائے۔ لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور اس ملاقات کے تھوڑے عرصہ بعد لیاقت علی خاں کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کر دیا گیا۔
(”قاضی احسان احمد شجاع آبادی“ ص ٣٤٧-٣٤٢‘ محمد نور الحق قریشی)
اخلاص اور جدوجہد
ان دنوں احرار رہنما ضلع گجرات میں فوجی بھرتی کے خلاف تقریریں کر رہے تھے۔ کیونکہ انگریز کو یہاں سے بہتر اور ارزاں فوجی کھیپ اور کہیں سے میسر نہ تھی۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری خاندانی طور پر اسی ضلع کے وسنیک تھے۔ اسی بنا پر جماعت نے یہ اضلاع شاہ جی کو سونپ رکھے تھے۔
شاہ جی ڈاکٹر عبدالقادر ڈینٹل سرجن کے ہاں گجرات میں مقیم تھے۔ نماز فجر کے بعد حسب عادت چائے پر بیٹھے تھے کہ ایک فوجی نے سلام عرض کرتے ہوئے کہا:
”شاہ جی! فوج میں مرزائیوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ روزانہ بیسیوں دیہاتی فوجیوں سے مرزائیت کے فارم پر انگوٹھے یا دستخط کرا کے انہیں مرزائی بنایا جا رہا ہے۔ خدا کے لیے اس طرف توجہ کریں“۔
یہ مولانا کثیر خاں (رحمۃ اللہ علیہ) کے کوئی عزیز تھے جو فوج میں کسی اونچے رینک کے آفیسر تھے۔ بعض محاذوں کی انہوں نے نشاندہی کی۔ جہاں سورما لتاڑ رہے تھے۔
یہ سن کر شاہ جی کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ جلدی سے مولانا غلام محمد کو بلایا۔ یہ ان دنوں گجرات میں مجلس احرار کے صدر تھے اور فوراً ہی جماعت کے آئینی مشیر خواجہ غلام حسین ایڈووکیٹ کو لائل پور (فیصل آباد) سے بلوانے کے لیے مقامی جماعت کے سالار چودھری محمد سرور کو بھیج دیا۔ شام تک وہ آن پہنچے۔
ڈاکٹر عبدالقادر‘ خواجہ غلام حسین ایڈووکیٹ اور مولانا غلام محمد کے مشورے پر طے پایا کہ فی الحال ..... محاذ پر توجہ دی جائے۔ اگر یہاں قابو پا لیا گیا تو باقی درست ہو جائیں
گے۔ مگر یہ کام کس کے سپرد کیا جائے؟ اس کے لیے رازداری ہونے کے ساتھ مرزائیت سے پوری طرح واقف ہونا بھی لازمی ہے۔
چنانچہ مولانا غلام محمد ایک نوجوان مولوی کو شاہ جی کے پاس لائے۔ یہ تھے مولانا محمد شریف (جو آگے چل کر مولانا محمد شریف احرار کے نام سے ملک بھر میں معروف ہوئے۔ دیوبند سے فارغ ہو کر آئے تھے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ علوم شریعت کے علاوہ مرزائیت پر خاص عبور تھا۔ شاہ جی انہیں ایک طرف تنہائی میں لے گئے اور قرآن کریم کی قسم دلا کر کہا:
”دیکھو برخوردار! میں تمہارے ذمہ ایک اہم کام لگا رہا ہوں۔ اگر تم اپنے کو اس کام کے اہل سمجھو تو قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاؤ کہ یہ راز افشا نہیں ہو گا اور اگر تم اس معاملے میں کامیاب ہو گئے (انشاء اللہ) تو داور محشر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود رب اکبر سے تمہیں جنت کی ضمانت لے کر دیں گے۔“
مولانا محمد شریف (آبدیدہ ہو کر) شاہ جی! میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جو کام آپ میرے سپرد کریں گے، میں کروں گا اور راستے میں کوہ گراں بھی اگر آجائیں تو عبور کروں گا۔
مولانا محمد شریف طالب علمی کے عہد میں شاہ جی کی تقریروں سے متاثر تھے۔ سبق اور مدرسہ سے غیر حاضر ہو کر شاہ جی کے جلسے سننے جایا کرتے تھے۔ اس طرح کی تربیت میں جوان ہوئے تھے۔ انگریز کے خلاف بغاوت اور مرزائیت سے نفرت ان کے جسم اور روح کی غذا بن چکی تھی۔
شاہ جی نے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے مولانا سے کہا: ”میری اطلاع ہے کہ فوج میں بعض مرزائی آفیسر عام فوجی سپاہیوں کو مرزائی بنا رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ فوج میں بطور خطیب بھرتی ہو کر مسئلہ ختم نبوت واضح کریں تاکہ ان لوگوں کے ایمان محفوظ رہیں۔“
اس پر مولانا بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ مولانا بشیر کے عزیز کی کوشش سے مسلمان
فوجی یونٹوں میں نماز پڑھانے کے لیے مولانا محمد شریف کو بھرتی کرا دیا گیا۔
آدمی سمجھ دار تھے۔ بات سمجھ گئے۔ ابتداء میں کچھ مشکلات آئیں۔ لیکن بہت جلد پتہ چل گیا کہ کانٹے کہاں کہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ نیز اب تک کس قدر پھول ان کی چھبن سے زخمی ہو چکے ہیں۔ مولانا نے زخم کریدنے کی بجائے کانٹوں کی تلاش شروع کر دی۔
ارادہ نیک ہو تو پہاڑ پانی پانی ہو کر پاؤں دھونے لگتے ہیں۔ مولانا نے اپنے کام کی ابتداء ڈیرہ دون سے کی اور برما کے محاذ تک اندر خانے نہایت خاموشی سے کچھ نوجوان تیار کیے جنہیں پہلے اسلام‘ پھر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آخر میں دجال قادیان کے جھوٹے دعوؤں سے واقفیت کرائی۔ جب یہ کھیپ تیار ہو چکی‘ پھر انہیں شہادت کے درجات سمجھائے۔ انگریز کی فوج میں فرقہ واریت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وہاں صرف فوجی احکام کی تعمیل ہوتی ہے اور بس۔ اس کے باوجود مولانا نے مختلف یونٹوں میں ان ہاتھوں کی نشاندہی کر لی جو باغ نبوت کے پھول توڑ کر کذاب قادیان کے گریبان میں ٹانک رہے تھے۔ اس نے پندرہ نوجوان ایسے تیار کیے جنہوں نے گستاخ رسول کے ہاتھ کاٹ ڈالے جو پرچم ختم نبوت کو اکھاڑ رہے تھے۔
آخر ایک محاذ سے جب مرزائی آفیسروں کی لاشیں کیمپ میں آئیں تو یہ راز کھل گیا۔ وہ اس طرح کہ مولانا سے انگریز کمانڈر نے مرزائیوں کی نماز جنازہ کے لیے کہا لیکن مولانا کا جواب تھا:
”نماز جنازہ مسلمان کی پڑھائی جاتی ہے اور یہ مرزائی تھے۔ اسلام مجھے ان کی نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت نہیں دیتا“۔
پیشتر مختلف جگہوں سے مرزائی فوجی آفیسروں کے قتل کی اطلاعات آچکی تھیں۔ اس سے انگریز آفیسر پریشان تھے کہ یہ کیا ہے۔ فوج میں کوئی بیماری نہیں اور نہ ہی دشمن سے آمنا سامنا ہے۔ پھر یہ اموات کیوں اور کیسی؟
جیسے ہی مولانا نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تو انگریز کو شبہ ہوا کہ ہو نہ ہو یہ تمام شرارت اسی مولوی کی ہے۔ اس پر مولانا محمد شریف کو گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی کارروائی میں دھمکی‘ پیار اور عہدے کا لالچ دیا گیا تاکہ کسی طرح یہ ذمہ داری قبول کریں کہ مرزائی
آفیسروں کے قتل میں ان کا ہاتھ ہے لیکن مولانا نے صاف انکار کر دیا۔ اگر کہا تو صرف یہ کہا کہ:
”مقتول میرے مذہبی عقیدہ اسلام کے خلاف تھے۔ نیز میں نہ صرف مسلمان ہوں بلکہ مذہبی ذمہ داریوں کا امانت دار بھی ہوں جو کہ خدا تعالیٰ کے بعد حکومت نے فوج میں رہتے ہوئے مجھے سونپ رکھی ہیں۔ مقتول چونکہ میرے نزدیک مسلمان نہیں تھے۔ بنابریں ان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کی یہی وجہ ہے“۔
اس پر مولانا کا کورٹ مارشل ہوا اور فوجی عدالت میں ان پر قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا۔
”تمہارے ساتھ اور کون لوگ اس قتل میں شریک ہیں“
اس سوال کے جواب میں مولانا پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ تپتی دھوپ میں پتھر کٹوائے گئے۔ بندوق کے کندے مار مار کر بدن لہولہان کر دیا گیا۔۔۔۔ مگر
لبوں پر مہر خاموشی‘ دلوں میں یاد کرتے ہیں
نہ تو مقتولین کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی ان جوانوں کے نام اور پتے بتائے جنہوں نے مختلف محاذوں پر مرزائی آفیسروں کو قتل کیا تھا۔ یہ جوان بدستور فوج میں اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر متعین رہے۔ لیکن مولانا کو مارشل لاء کے تحت تین سال قید سخت کی سزا دے کر جبل پور جیل میں بھیج دیا گیا۔
اس کارروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج میں مرزائی آفیسروں کو آئندہ جرات نہ ہو سکی کہ وہ کسی مسلمان فوجی جوان کو کفر کی تبلیغ کر سکیں۔۔۔۔۔ ایک عالم دین کی ایمانی جرات سے نبوت باطلہ کو اس موڑ پر بہت بڑی شکست ہوئی۔
اس واقعہ پر سہ برس گزر چکے تھے کہ لاہور مرکزی دفتر میں اچانک نہایت بوسیدہ لباس میں ایک شخص آیا
”میں شاہ صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔“
شاہ جی: ”کہو بھائی کیا حکم ہے“۔
”علیحدگی میں عرض کروں گا“۔
شاہ جی اجنبی کو الگ کمرے میں لے گئے۔
”ہاں بھائی! اب کہو“۔
اجنبی: شاہ جی! آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ میرا نام محمد شریف ہے۔ آج سے تین برس پیشتر آپ نے گجرات میں میرے ذمہ ایک کام لگایا تھا۔ الحمد للہ‘ میں اس میں کامیاب و کامران رہا ہوں۔ جس کے جرم میں انگریز کی فوجی عدالت نے مجھے تین سال قید سخت کی سزا دی..... مولانا آگے کچھ کہنا چاہتے تھے کہ شاہ جی نے انہیں اپنے آنسوؤں کی چادر میں لپیٹ لیا۔ مگر کسی کو خبر تک نہ ہونے دی کہ یہ کون ہے۔ اگر کسی نے اصرار کیا تو کہا‘ یہ میرا بیٹا ہے۔ اسی وقت بازار سے کپڑا منگوا کر سلوایا گیا اور گجرات مولانا غلام محمد کو اطلاع کر دی کہ مولانا محمد شریف رہا ہو کر گجرات پہنچ رہے ہیں۔ اسٹیشن پر ان کا استقبال کریں۔
(”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ ص ٢٨٢ تا ٢٨٧‘ از جانباز مرزاؒ)
چودھری ظفر اللہ خان کے متعلق ایک مکتوب
”محترم ایڈیٹر صاحب‘ ہفت روزہ ”لولاک“ لائل پور ! السلام علیکم!
گزارش ہے کہ ”نوائے وقت“ (١١ فروری) میں سر راہے کے کالم نویس نے علماء اسلام کی تنقیص و مذمت اور چودھری ظفر اللہ خان کی مدح و منقبت کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے‘ میں اس کے بعض اجزاء کی نسبت مختصر گزارشات پیش کرتا ہوں۔
کالم نویس نے اپنے بزرگ چودھری ظفر اللہ خان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :
”ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب پاکستان مل جائے گا تو ہم اس میں اسلامی اور قرآنی نظام حیات قائم کریں گے۔ لیکن ہم نے دین کو دنیا کا تابع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت دیر سے شروع ہوتی ہے‘ لیکن بڑی سخت ہوتی ہے“۔
میں کالم نویس صاحب کی وساطت سے ان کے بزرگ چودھری صاحب سے پوچھتا
ہوں کہ آپ اس پاکستان کے کئی سال تک وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، کیا آپ نے اپنے زمانہ وزارت میں پاکستان میں قرآنی اور اسلامی نظام حیات قائم کرنے کی کوئی کوشش کی تھی؟ اگر کی تھی تو بتائیے اس کی نوعیت کیا تھی اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ اور اگر آپ نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی تو آپ کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ آپ نے دین کو دنیا کا تابع بنایا۔ پھر آپ کس منہ سے مسلمانوں کو خدا کی گرفت میں آنے کی وعید سنا رہے ہیں۔ آپ کو خود كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون کی وعید سے ڈرنا چاہیے۔ اور اگر قرآنی نظام حیات سے آپ کی مراد آپ کے مخصوص عقائد کی تبلیغ اور اس کے لیے فضا ہموار کرنا ہے تو بلاشبہ آپ نے اس ”فرض“ کی ادائیگی میں اپنے دور وزارت میں بھی نہ صرف پاکستان میں، بلکہ بیرونی ممالک میں بھی نہایت اہم کردار پیش کیا ہے۔ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، ہر کہ شک آرد ”کافر“ گردد۔ چودھری صاحب کا قول مذکور نقل کرنے کے بعد ”نوائے وقت“ کے کالم نویس صاحب فرماتے ہیں:
”ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مسلمانوں کو اس یاد دہانی کی سعادت ایک ایسے بزرگ کو حاصل ہوئی ہے، جسے عام مسلمان ”مرزائی“ کہتے ہیں اور علماء دین ”مسلمان“ ہی تسلیم نہیں کرتے۔ اب ہم علماء دین کو کیسے یاد دلائیں کہ یہ فرض ان کا تھا لیکن ادا کرنے کی سعادت چودھری ظفر اللہ خان کو ہوئی“۔
خدا جانے کالم نویس صاحب سے کس مسخرے نے کہہ دیا ہے کہ یہ سعادت صرف چودھری صاحب کے حصہ میں آئی اور علماء اسلام اس سعادت سے محروم رہے؟ واقعہ یہ ہے کہ علماء اسلام پاکستان کے یوم تاسیس سے اس وقت تک پاکستان کی تمام وزارتوں اور حکومتوں کے دور میں اسلامی نظام کے قیام کا پر زور مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تقریروں، تحریروں، قرار دادوں، تاروں، محضر ناموں اور ارباب اقتدار سے ملاقاتوں کے ذریعہ برابر صدائے حق بلند کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ لیکن علماء کرام کی یہ آواز وزارتوں اور حکومتوں کے نقار خانے میں ہمیشہ طوطی کی صدا بن کر رہ گئی۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اور جمعیتہ علماء اسلام کی کوشش سے خان لیاقت علی خان مرحوم کے عہد میں خدا خدا کر کے قرار داد مقاصد منظور ہوئی تھی لیکن شاطران سیاست نے اس
قرارداد کو مات دے دی۔ پھر اس صورت حال کے ہوتے ہوئے چودھری ظفر اللہ خان کی عمر کے آخری دور کی ایک خلاف معمول تقریر کو (جس کے ”راز دروں“ کا پردہ مستقبل ہی اٹھائے گا) بنیاد ٹھہرا کر علماء اسلام کو اعلائے کلمۃ الحق کی سعادت سے محروم قرار دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟
کالم نویس صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :
”بارشیں نہیں ہو رہیں، ہوتی ہیں تو نہ ہونے کے برابر ۔ ابر آتا ہے، لیکن برستا نہیں۔ روزانہ زلزلے آ رہے ہیں، لیکن ہم مسلمان ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اشارہ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کوئی عجب نہیں گرفت شروع ہو چکی ہو اور بڑوں اور علماء کرام کی نافرمانیوں کی سزا ساری ملت کو بھگتنی پڑے“۔
اس عبارت کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی آنجہانی بول رہے ہوں۔ مرزا صاحب بعینہ اسی طرح تمام زمینی اور آسمانی بلاؤں کے نزول کا سبب علمائے کرام کی ”نافرمانیوں“ کو قرار دیا کرتے تھے۔ اگر ”نوائے وقت“ کے کالم نویس صاحب ”کرے مونچھوں والا اور پکڑا جائے داڑھی والا“ کے فلسفہ کے قائل نہیں ہیں تو وہ مہربانی کر کے بتائیں تو سہی کہ خدا کی نافرمانیوں اور گناہوں کا جو سیلاب موجود ہے اور معصیتوں اور بد معاشیوں اور الحاد و زندقہ کا جو طوفان برپا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ زنا کاری، قمار بازی، شراب نوشی، ناچ رنگ، سینما، فحاشی، بے حیائی، سود، چوری، ڈکیتی، رشوت، خیانت کے کاروبار کون کرتا ہے؟ اور اس کاروبار کو فروغ دینے والے کون لوگ ہیں؟ اور کیا یہی وہ جرائم نہیں ہیں جن کی گرم بازاری خدائے قہار کے عذاب کو دعوت دینے کا موجب ہے؟ پھر یہ بھی سوچئے کہ کیا بدعملی کے ساتھ بداعتقادی اور الحاد و زندقہ کی اعلانیہ نشر و اشاعت نے قوم کو ”نیم چڑھا کریلا“ بنا کر نہیں رکھ دیا ہے؟
جب کچھ لوگ خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت و پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگیں اور ان کی تصدیق کے لیے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور بعض لوگ ”رواداری“ کے ہیضہ کا شکار ہو کر ان کی پیٹھ ٹھونکنے لگیں اور بعض منافقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو حاکمانہ اور وقتی اور ہنگامی اطاعت قرار دے کر مسلمانوں کو
اسلام ہی سے باغی بنانے کی سعی لاحاصل میں لگے ہوئے ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب و غصہ کیوں نہ بھڑکے؟
یہ وہ ہولناک جرائم ہیں جو اس ملک میں ڈنکے کی چوٹ ہو رہے ہیں اور جن پر قرآن و حدیث میں جابجا شدید عذابوں سے ڈرایا گیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دنیا کے آخر پر مختلف عذابوں کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ یہ پیش گوئی انجیل متی‘ باب ٢٤‘ آیت ٤ تا ١١ میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ :
”بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔ (الیٰ قولہ) بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے“۔
علماء اسلام دنیاوی وسائل و اسباب سے محرومی بلکہ بے نیازی کے باوجود دین کے مختلف شعبوں میں جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں‘ اس پر اگر ”نوائے وقت“ ان کو داد تحسین نہیں دے سکتا تو کم از کم ان کی توہین کر کے دشمنان دین کے ہاتھ بھی تو مضبوط نہ کرے۔
”نوائے وقت“ کے کالم نویس صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ : ”ممکن ہے کل یہ علماء ہمارا جنازہ پڑھانے سے ہی انکار کردیں۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مصلحت پسند علماء کو‘ جو حق بات کہنے کی بھی جرات نہیں رکھتے‘ جلد سے جلد اپنے پاس بلالے‘ ہم ان کے بغیر ہی اچھے ہیں“۔
آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن مطمئن رہئے‘ آپ نماز جنازہ کے بغیر دفن نہیں ہوں گے۔ مرزا ناصر احمد یا ان کا کوئی قائم مقام آپ کا جنازہ پڑھا دے گا۔ بشرطیکہ آپ علماء اسلام کی موت اور ربوہ اور قادیان کی سلامتی کی دعائیں بالالتزام فرماتے رہیں“۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ لائل پور‘ ١١ مارچ ١٩٦٦ء‘ مضمون مولانا بہاء الحق قاسمی)
مرزا ناصر کی عبرتناک موت
ربوہ کالج میں فزکس کے پروفیسر تھے ڈاکٹر نصیر۔ ان کی ہمشیرہ ایم بی بی ایس کر کے آئیں۔ ڈاکٹر نصیر نے انہیں دعا کے لیے اپنے خلیفہ ناصر احمد کے پاس بھجوایا۔ ناصر احمد نے دعا کی اور وہ قبول ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ناصر احمد نے اپنے تقدس کا لبادہ اتار کر اس معصوم پر لٹا دیا اور یوں دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ہنی مون منانے اسلام آباد آگئے۔ مگر یہ گاڑی چلی نہیں۔ یہ قصہ بھی خوب ہے۔
اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے مولانا عبد الرؤف الازھری مرحوم۔ انہوں نے ان کی آمد پر وہاں ختم نبوت کانفرنس رکھ لی اور جیسا کہ چاہیے تھا‘ ویسا ہی شایان شان استقبال کیا۔
یکم جون ١٩٨٢ء منگل کے دن شام کو ختم نبوت کانفرنس نے شروع ہونا تھا۔ صدارت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی تھی۔ جبکہ مقررین میں حضرت مولانا عبدالشکور دینپوری اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب تھے۔ شاعر ختم نبوت حضرت سید امین گیلانی بھی تشریف لائے۔
جس کوٹھی میں ناصر احمد اپنی نوبیاہتا دلہن کے ساتھ موجود تھا‘ اس میں اور جس مسجد میں یہ کانفرنس ہو رہی تھی‘ درمیان میں صرف ایک سڑک کا فاصلہ تھا۔ مسجد کی انتظامیہ نے سپیکروں کا رخ بھی کوٹھی کی طرف کر دیا۔
ہماری حکمت عملی یہ تھی تو گورنمنٹ نے بھی لائحہ عمل تیار کیا اور مرزائیوں نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے پولیس اور ملیشیا فورسز اور مرزائیوں کی طرف سے جماعت احمدیہ اور دوسری قادیانی تنظیموں کے نوجوان اس کوٹھی کے پہرے دار بنے جہاں یہ جوڑا گن گن کر سانس لے رہا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ان سارے پہرے داروں کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔ ختم نبوت کانفرنس شروع ہوئی تو مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزا ناصر احمد کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز یوں کیا:
”میں آج اس جذبے سے، اس خلوص سے، اس درد کے ساتھ معروضات پیش کروں گا کہ کل قیامت کے دن مرزا ناصر احمد اللہ پاک پروردگار عالم کی بارگاہ میں یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مسئلہ کسی نے سمجھایا نہیں تھا۔ آج کی میری ساری گفتگو میں آپ درشتگی محسوس نہیں کریں گے۔ کوئی گالی گلوچ نہیں ہوگی، کوئی سخت بات نہیں ہوگی۔ میں مرزا ناصر احمد صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ جس درد سے میں عرض کر رہا ہوں وہ بھی اسی خلوص اور محبت کے ساتھ میری معروضات سنیں گے“۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے دوران تقریر ایک موقع پر فرمایا:
”میری خواہش یہ ہے کہ دلائل کی روشنی میں بات ہو ورنہ اگر بات ختم کرنے کی ہو تو میں آپ سے درخواست کروں گا بڑے درد کے ساتھ ختم کروں گا کہ اگر دلائل کی بات آپ نہیں سنتے تو میں ربوہ میں پورے ملک عزیز سے اور بیرونی دنیا میں کام کرنے والی جماعت ختم نبوت کا نمائندہ ہوں۔ مجھے شرف حاصل ہے کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کا ہاتھ میرے سر پر ہے۔ میں آج اپنے امیر کی موجودگی میں پوری امت کی طرف سے نمائندگی کے طور پر کہتا ہوں کہ میں مسلمانوں کا نمائندہ ہوں۔ تم اپنے جماعت کے نمائندے ہو۔ آؤ مباہلہ کرو۔ آگ کی بھٹی تیار کرتے ہیں۔ تم غلام احمد کا نعرہ لگا کر جاؤ میں محمدؐ کی غلامی کا دم بھر کر جاؤں گا“۔
اجتماع میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے بلند ہوئے۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے منع کرتے ہوئے فرمایا:
”نہ بھئی آج میری تقریر میں کوئی منفی نعرہ نہ لگائے۔ بات جذبات کی نہیں۔ آگ فیصلہ کرے گی سچا کون ہے، جھوٹا کون ہے“۔
مرزا ناصر احمد میں اتنی جرات کب تھی کہ میدان میں آتا۔ پون گھنٹہ تک مسلسل مولانا اللہ وسایا صاحب مرزائیت کا آپریشن کرتے رہے اور مرزا ناصر احمد کو جواب کے لیے
للکارتے رہے۔ دلائل کی رو سے بھی، مباہلہ کے چیلنج سے بھی۔ جب مرزا ناصر احمد پر اتمام حجت ہو چکی اور مرزا ناصر احمد مرزائیت کی کفریہ دلدل پہ بے یار و مددگار بے حس و حرکت یوں کھڑا تھا کہ اس کی ذرا سی لغزش اسے اس دلدل کی پستیوں تک لے جائے گی۔ دوران گفتگو نہ جانے مولانا اللہ وسایا صاحب کی اڑان کہاں تھی۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنے اس تاریخی خطاب کے آخری الفاظ یقیناً اسی کیفیت میں بیان فرمائے۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزا ناصر احمد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اور میں آج آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری اس گفتگو کو ٹھنڈے دل سے سوچو۔ میں قدرت کی طرف سے تمہیں وارننگ دینے کے لیے آیا ہوں۔ میں عرش الٰہی پہ لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ رب کعبہ کی قسم اب تمہاری موت کے دن قریب آچکے ہیں۔ میری آخری بات، مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ جب قادیانیوں کا فتنہ اٹھا میں سوچتا تھا یا اللہ کیا ہو گا کہ مجھے خواب میں حضور سرور کائناتؐ کی زیارت ہوئی۔ حضورؐ نے فرمایا، انور شاہ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب پوری کائنات میں تلاش کرنے کے باوجود تمہیں قادیانیوں کا بیج تک نہیں ملے گا۔ وہ وقت آگیا ہے“۔
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے خطاب کے دوران ہی باہر سڑک پر ایمبولینس کی چیخ و پکار شروع ہو گئی۔
بعد میں پتہ چلا کہ مرزا ناصر احمد کو دل کا دورہ پڑا ہے اور میرے اللہ کی شان۔ ایک ولی کامل کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اللہ کریم نے اپنی قدرت کاملہ سے پورے فرما دیے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزا ناصر احمد سے کہا تھا کہ میں قدرت کی طرف سے تمہیں وارننگ دینے کے لیے آیا ہوں اور میں عرش الٰہی پر لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ رب کعبہ کی قسم اب تمہاری موت کے دن قریب آچکے ہیں۔
ٹھیک ایک دن بعد مرزا ناصر احمد کے دل کا یہ دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ مرزا ناصر احمد کی موت پر اللہ کی تقدیر وہ علم لیے ایک بار پھر سامنے آئی جو حضورؐ نے مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ سے خواب میں فرمایا تھا ”وہ وقت آئے گا جب پوری کائنات میں تلاش کرنے کے باوجود تمہیں قادیانیوں کا بیج تک نہیں ملے گا“ ہائے کاش کوئی قادیانی آج اس حقیقت کا اقرار کر لیتا۔ ورنہ یہ زمانہ تو مرزائیت کے خلاف طبل جنگ بجا چکا ہے۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا خط راقم کے نام)
قبول اسلام
پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع ایبٹ آباد کے انتخابات مکمل ہوئے تو عامر شریف نامی ایک قادیانی بھی نشر و اشاعت کے سیکرٹری کے طور پر سامنے آئے۔
چونکہ صدر قاضی تنویر اور جنرل سیکرٹری سید حبیب الرحمن شاہ اور سینئر نائب صدر عدالت خان اور جوائنٹ سیکرٹری مقصود خان تھے۔ یہ تمام کا تمام پینل مذہبی درد رکھنے والے لوگوں کا تھا۔ جب یہ انکشاف ہوا کہ عامر شریف قادیانی ہے تو سب کو پریشانی لاحق ہوئی۔ ہمیں ہسپتال بلوایا گیا۔
عامر شریف سے ملاقات ہوئی اور مرزا قادیانی کے متعلق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اسے کیا سمجھتے ہیں۔ وہ کہنے لگے میں انہیں جانتا ہی نہیں، مکر گئے۔ اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا۔
ان کا سارا خاندان قادیانی تھا۔ بہنیں قادیانیوں میں بیاہی گئی تھیں۔ ہم نے بھی حکمت عملی بدل لی اور آہستہ آہستہ ان پر کام شروع کیا۔ پیرا میڈیکل کے دوست شام کو انہیں لے کر آجاتے تھے۔ مل بیٹھتے اور گفتگو شروع ہو جاتی۔ کبھی ختم نبوت کا عقیدہ زیر بحث ہوتا، کبھی حضورؐ کے اوصاف بیان کیے جاتے۔ کبھی مقام نبوت پر بات ہوتی۔ جب یہ سمجھا کہ مکمل مل گئے ہیں تو قادیانی عبارات انہیں پڑھ کر سنائی جاتیں اور ان سے رائے لی جاتی۔
جب قادیانی عبارات سنتے اور کتابوں کے حوالے انہیں دیے جاتے تو کہتے یہ بات تو کوئی نہیں مانتا۔ یہ تو کفر ہے۔
جب انہیں اچھی طرح یقین دلا دیا گیا کہ قادیانی عبارات اور عقائد کفریہ ہیں اور انہوں نے اقرار کر لیا اور انہیں تسلیم کرنے سے انکار کیا تب انہیں "الفضل" اور دیگر قادیانی رسائل جو ان کے نام ربوہ سے آتے تھے، مہیا کیے۔ انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا کہ ٹھیک ہے۔ وہ بھیج دیتے ہیں مگر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں چندہ وغیرہ بھیجتا ہوں۔
ہم نے کہا اس کا باضابطہ اعلان کریں اور اجتماع عام میں مرزائیت سے برات کا اعلان کر کے اسلام قبول کریں۔
چونکہ تین ماہ تک مسلسل ان کی ذہن سازی ہوتی رہی تھی اس لیے انہوں نے حامی بھر لی اور کہا جب آپ چاہیں، جہاں چاہیں مجھ سے اعلان کروا لیں۔
١٤؍ فروری ١٩٩١ء کو ملک بھر میں شناختی کارڈ میں مذاہب کے خانے کے اندراج کے سلسلہ میں یوم احتجاج منایا جارہا تھا۔ ہم نے بھی اس موقع پر ختم نبوت چوک مین بازار ایبٹ آباد میں احتجاجی پروگرام رکھا۔
ضلع بھر کے علماء کرام اور دینی قیادت جمع تھی۔ اس موقع پر عامر شریف نے مرزائیت سے برات کا اعلان کر کے مسلمان ہونے کا شرف حاصل کیا۔ اسی موقع پر ایک عیسائی جن کا نام عمر تھا، اہل خانہ سمیت مسلمان ہوئے۔ ان کا اسلامی نام عمر عبداللہ رکھا گیا۔ عمر عبداللہ نے سٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بتایا کہ میں اسلام اس لیے قبول کر رہا ہوں کہ علی الصبح جب میں اپنے کام کے لیے اٹھتا ہوں تو اذان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ جاکر مسجد میں نماز ادا کروں۔ بس یہی خواہش مجھے مشرف باالاسلام ہونے میں کام آئی۔
لوگوں نے ہر دو نو مسلموں کو ہاروں سے لاد دیا اور مبارک بادیں دیں۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا خط راقم کے نام)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ
خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آج کل کراچی میں ہیں‘ عابد‘ زاہد‘ متقی نوجوان ہیں۔ اپنے اخلاص ونیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابل احترام ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ کے موقعہ پر فقیر سے بیان کیا کہ :
”میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں محبت واضطراب کی کیفیت ہے۔ عظیم اجتماع استقبال کے لیے امڈ آیا ہے۔ لوگ ادھر ادھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا جس طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم.... تشریف لا رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا کہ کہاں تشریف لے جانے کا ارادہ ہے۔ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ -----جامع مسجد ختم نبوت میں ہماری کانفرنس ہو رہی ہے۔ ادھر جانے کا پروگرام ہے۔ سبحان اللہ۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ٣٨٠‘ از مولانا اللہ وسایا)
اپنا اپنا ظرف جس کو جو میسر آ گیا (مولف)
حضرت خواجہ خان محمد صاحب کی کرامت
قاری محمد عارف صاحب مظفر گڑھ کے ایک دینی مدرسہ میں معلم ہیں اور وہ حضرت قبلہ کے مخلص ارادت مند ہیں۔ ایک مرتبہ خانقاہ شریف میں حاضر ہوئے اور حضرت قبلہ سے عرض کیا کہ میں آپ جیسی عظیم الشان ہستی کا مرید ہوں مگر مجھے واردات و کیفیات وغیرہ کا کبھی ادراک نہیں ہوا۔ آپ یہ کرم فرمائیں کہ مجھے حضور رسالت مآب ﷺ کی
زیارت ہو جائے۔ آپ یہ سن کر مسکرا دیے اور خاموش رہے۔ اسی رات قاری صاحب حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم بھی آپ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ حضرت قبلہ مدظلہ نے فرمایا کہ قاری صاحب! آپ خوب جی بھر کر حضور علیہ السلام کی زیارت کر لو‘ اس کے بعد خواب ختم ہو گیا۔ صبح کو جب حضرت قبلہ مولانا خان محمد صاحب مدظلہ مجلس مبارک میں تشریف لائے تو قاری صاحب موصوف نے حاضر ہو کر پھر التماس کیا کہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کا ہنوز مشتاق ہوں۔ اس سعادت کے حصول کے لیے آپ ضرور توجہ فرمائیں۔ حضرت قبلہ نے جواب دیا کہ قاری صاحب روز روز پروگرام نہیں بنا کرتے۔
("تحفہ سعدیہ" ص ٣٣٥)
غیبی مدد
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری راوی ہیں کہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتاری کے لیے پیش ہونے والے مجاہدین ختم نبوت کو پولیس پکڑ کر کراچی سے بلوچستان کی طرف تقریباً سو میل دور ایک مقام پر چھوڑ آئی۔ لیکن پولیس والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہتی جب ٹھیک تین چار گھنٹوں بعد انہی کارکنوں کو وہ کراچی میں پھر جلوس نکالتے ہوئے پاتے۔ پولیس انکوائری کر کے تھک گئی کہ کون سی طاقت ان کو اس دور کے جنگل سے اتنی جلدی کراچی میں پہنچا دیتی ہے۔ زمین سمیٹ دی جاتی ہے، غائبانہ سواری کا انتظام ہوتا ہے یا اس گروہ کو لانے والی مستقل تنظیم ہے۔ بہرحال پولیس کے لیے یہ معمہ رہا اور واقعہ یہ ہے کہ تمام کارکنوں کو جونہی دور دراز کے جنگل میں چھوڑا جاتا، اللہ رب العزت ان کے لیے فی الفور کراچی پہنچانے کا انتظام فرما دیتے۔ وہ کارکن کراچی آتے ہی پھر تحریک کے الاؤ کو روشن کرنے میں لگ جاتے۔ بالآخر پولیس نے تھک کر یہ پروگرام ترک کر دیا۔
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ
تیرہویں صدی ہجری کے آخری ربع (١٢٧٥ھ) عالم اسلام کی ڈوبتی نیا کو بچانے کے لیے اللہ کریم نے خاندان گیلانیہ گولڑویہ میں سید مہر علی جیلانیؒ کے روپ میں ایک ایسا کھیون ہار تولد فرمایا جس نے نہ صرف برصغیر ہند و پاک میں اٹھنے والے بے شمار فتنوں میں سے دو خصوصی ابتلاؤں سے ملت اسلامیہ کو نجات دلائی بلکہ پوری اسلامی دنیا میں دین خالص کو رائج و راسخ کرنے میں کمال کامیابی حاصل کی۔ کفر قریباً تمام اسلامی دنیا کو اپنی طاغوتی آغوش میں سمیٹ چکا تھا اور برصغیر میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑنے کے لیے اس نے مرزا قادیانی کی صورت میں ایک نبی کاذب اور کانگریسی علماء کی شکل میں خود ساختہ مصلحین پیدا کر کے امت اسلامیہ کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ مگر سرخیل گروہ علماء و اولیاء، پیر خواجہ مہر علی شاہ جیلانی کی ذات ستودہ صفات نے اس (گروہ) کا ایسا توڑ کیا اور دین خالص کو اس شان سے نافذ کیا کہ قیامت تک کفر تلملاتا رہ گیا۔
١٤ اپریل ١٨٥٩ء کو بروز پیر پیدا ہونے والے اس عبقری نے صرف بیس سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے علوم متداولہ میں بڑے اعزاز کے ساتھ سند تکمیل پائی اور مولانا لطف اللہ علی گڑھی ایسے مستند استاد زمانہ کی تربیت سے فیض یاب ہوئے۔ جب آپ حج کے لیے بلاد عرب میں گئے تو وہاں موجود علماء نے آپ کی علمی رفعتوں کے سامنے سر نیاز خم کر دیا۔ یہاں تک کہ مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے ایک ہی ملاقات پر آپ کو اپنے سلسلہ کی خلافت (سلسلہ صابریہ) سے سرفراز فرمایا۔ درود شریف مستغاث کے ضمن میں آپ کی تحقیق اور حضور علیہ السلام کی ہر جگہ موجودگی کو آپ نے جس مستحسن طریقہ سے حدیث شریف سے ثابت کیا، اس پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی اور ان کے رفقاء نے برملا اعلان کیا کہ یہ آپ کے علم لدنی کا الم نشرح ثبوت ہے۔
میدان طریقت میں آپ اس دور کے قطب مدار اور شہباز طریقت حضرت پیر خواجہ شمس الدین علوی سیالویؒ سے فیض یاب ہوئے اور جلد ہی تکمیل نسبت کے مراحل طے کر
لیے۔ ١٢٩٥ھ بمطابق ١٨٧٦-٧٧ء آپ تحصیل علم سے فارغ ہو کر گولڑہ آئے اور سلسلہ درس و تدریس شروع کیا۔ ١٢٩٦ھ سیال شریف میں سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت کی۔ انہی ایام میں مرزا غلام احمد قادیانی ایک مسلمان محقق و مناظر سے بڑھ کر مجدد وقت اور مسیح موعود کی خود ساختہ سیڑھی پر قدم جما رہا تھا اور اشتہارات و مناظروں کی صورت میں ملت کو گمراہ کر رہا تھا۔ آپؒ کو بحالت بیداری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ کو اس فتنہ کی سرکوبی پر مامور کیا گیا۔ آپ کے ملفوظات میں یہ واقعہ یوں ہے (ترجمہ) ”جن دنوں مرزا غلام احمد قادیانی نے بظاہر تحقیق حق کی غرض سے بذریعہ اشتہارات دعوت دی تھی اور میں اسے منظور کرنے کا ارادہ کر رہا تھا‘ مجھے نعمت عظمیٰ کا شرف حاصل ہوا۔ میں بحالت بیداری آنکھیں بند کیے‘ تنہا اپنے حجرے میں بیٹھا تھا کہ حضور علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اس حجرے میں بحالت قعدہ جلوس فرما ہیں اور یہ عاجز اس حالت میں جیسے ایک مرید اپنے شیخ کی خدمت میں ہو چار بالشت کے فاصلے پر آپؐ کے بالمقابل بیٹھا ہے۔
غلام احمد اس جگہ سے دور مشرق کی طرف منہ کیے اور آنحضرت کی طرف پشت کیے بیٹھا ہے۔ اس روایت کے بعد میں بمعہ احباب لاہور پہنچا۔ لیکن مرزا اپنے وعدہ سے پھر گیا اور لاہور نہ آیا“۔ اس طرح آپؒ نے فرمایا کہ عالم رؤیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مرزا کی تردید کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ شخص میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے کتر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو“ حضور علیہ السلام کے ان ارشادات کے بعد مجھے یقین راسخ ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی بیخ کنی کے لیے میں مامور من اللہ ہوں اور یہ کہ اگر اس راہ میں مجھے چاند سورج کو بھی زمین پر اتارنے کی ضرورت پڑی تو میرا اللہ میری ضرور معاونت کرے گا اور مرزا کو سنگسار کرے گا۔
١٨٩٨ء میں مرزا نے منٹو پارک (اقبال پارک) لاہور میں مسلمانوں کے ایک جم غفیر کی موجودگی میں مینار پاکستان کے مقام پر سٹیج لگائی ہوئی تھی اور بار بار اعلان کر رہا تھا کہ اگر وہ اپنے دعویٰ (مسیح موعود) میں جھوٹا ہے تو اس سٹیج سے اس کا رد کیا جائے۔ مگر جو بھی یہ کوشش کرتا‘ ناکام رہتا۔
ان دنوں اتفاقاً آپ جامعہ نظامیہ بازار حکیماں لاہور میں مقیم تھے۔ قبلہ عالم کی
خدمت میں یہ صورت حال پیش کی گئی تو آپ نے مرزا کے مقابل آنے کی ٹھانی۔ بقول حضرت صاحبزادہ سید نصیر الدین گیلانی (نبیرہ قبلہ عالم) مدظلہ العالیٰ ، خواجگان تونسہ شریف تک نے یوں برملا آپ کو اس کے مقابل آنے سے روکنا چاہا اور فرمایا کہ وہ یقیناً کچھ عملیات کا عامل ہے اور علماء کی زبان بندی پر مہارت رکھتا ہے۔ آپ اپنے روحانی تصرفات سے اس کی بیخ کنی فرمائیں مگر مامور من اللہ ہونے کی بشارت کی وجہ سے آپ نے برسرعام اس کی سرکوبی کی ٹھانی اور منٹو پارک روانہ ہو گئے۔ جب آپ شاہی مسجد کی طرف سے جلسہ گاہ میں پہنچے تو مرزا اس وقت بھی اپنے دعویٰ باطل کو سٹیج سے دہرا رہا تھا۔
پنڈال کے قریب پہنچ کر آپ نے وہاں موجود مسلمانوں سے مرزا کے اس دعویٰ کا جواب دینے کی اجازت لی اور فرمایا کہ یہ شخص مسیح موعود (نبی) ہونے کا دعویدار ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابن غلام ابن غلام ....... کو اپنی ولایت سے سرفراز فرمایا ہے۔ نبی کا درجہ ہر حال میں ولی سے بالاتر ہوتا ہے۔ میں اس شخص پر چار سوال کرتا ہوں۔ یا یہ ان سوالات کو پورا کر دکھائے اور اپنی صداقت کا ثبوت دے ورنہ پھر میں اس کی تردید کرنے کی غرض سے بفضل ایزد تعالیٰ ان سوالات کا جواب دوں گا۔
- ١۔ مرزا حکم دے کہ دریائے راوی اپنا موجودہ رخ تبدیل کر کے فی الفور اس پنڈال
کے ساتھ ساتھ بہنا شروع کر دے۔
- ٢۔ ایک نہایت پاکباز ناکتخدا لڑکی کو پنڈال کے قریب چوطرفہ پردہ میں رکھ کر دعا کی
جائے کہ بغیر مرد کے اختلاط کے۔ اللہ کریم اس کے ہاں یہیں ایک بیٹا دے جو اس کی نبوت یا میری ولایت کی تصدیق کرے۔
- ٣۔ اپنے لعاب دہن سے باہر کڑوے پانی کے کنوئیں کو میٹھا کر دے یا پھر میں کر دیتا
ہوں۔
- ٤۔ یا وہ مجھے شیر بن کے کھا جائے یا پھر میں اسے کھا جاتا ہوں۔
آپ کی زبان پاک سے یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ آپ کی گردن سے شیر کے بال نمودار ہونے لگے لیکن آپ کے ساتھ کھڑے ایک مولانا صاحب نے فوراً آپ کی گردن
مبارک پر ہاتھ رکھ کر کہا سرکار شریعت ۔ شریعت۔ اس پر آپ اپنی اصل حالت پر آگئے۔ مگر اس دوران مرزا اپنی سٹیج چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔
بعد میں آپ اس واقعہ کے یاد آنے پر فرمایا کرتے کہ اگر مولوی صاحب نے مجھے روکا نہ ہوتا تو میں اسے تحت الثریٰ میں بھی ڈھونڈ کر ختم کر دیتا مگر خدا کی مرضی یہ نہ تھی ...... آپ فرماتے کہ دراصل اس کے پاس تین جن تھے جو اس کے مقابل بولنے والے کی زبان پکڑ لیتے تھے مگر اللہ کے فضل سے وہ مجھ پر حاوی نہ ہو سکے۔
آپ نے اپنی علمی اور روحانی مصروفیات کے باوجود ایسے تمام فتنوں کی سرکوبی فرمائی۔ ملت کو دین خالص پر جمع کیا۔ جہاد سے فرار اور نبی پاک صاحب لولاک کی محبت سے گریز ایسے فتنوں کا عملی سد باب کیا۔ انگریزوں کے تنخواہ دار (چھ چھ روپے ماہوار لینے والے) مصلحین دین کی سازشوں کو مسلمانوں کے سامنے بے نقاب کیا اور جناب غوث صمدانی محبوب ربانی شہباز لامکانی حضرت محی الدین سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی نیابت کا ایسا اعلیٰ و ارفع نمونہ پیش کیا کہ محی الدین ثانی کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ ٥ اکتوبر ١٩٩٥ء)
ختم نبوت اور مرزائیت
عقیدۂ ختم نبوت اساس اسلام اور روحِ قرآن ہے۔ اگر مسلمان اس سے بال برابر بھی ادھر ادھر ہو جائیں تو پھر محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قرآن باقی رہتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی وہ تنزیہہ و تقدیس کہ جس پر آدم علیہ السلام سے لے کر نبی ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و سلم تک تمام انبیاء متفق ہیں۔
مرزائیت اسی اساس دین، روحِ قرآن اور جانِ اسلام پر مرتدانہ ضرب ہے۔ میں اس کے استیصال کو ہر مسلمان کے لیے فرض نہیں بلکہ افرض جانتا ہوں۔ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی کی آخری بازی لگا دوں گا۔
مرزائیت پاکستان کے مقدس جسم کا سیاسی ناسور ہے۔ اگر حکمرانوں نے اس کا
آپریشن نہ کیا تو یہ ناسور سارے جسم کو خدانخواستہ تباہ کر دے گا۔ لیکن! میری جماعت مجلس احرار اسلام کے غیور ساتھی یہ ظلم کبھی گوارا نہیں کریں گے۔ ہمارا عہد ہے کہ ہم اپنے عقیدہ، ملک اور قوم کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے اور مرزائیت کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کاٹ پھینکیں گے۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
آخری فیصلہ
جب خدا نے خود یہ فیصلہ دے دیا کہ فلاح کے لیے صرف نبی امی کی اتباع کی ضرورت ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اب جو (نبی) آئے گا یا آنا چاہتا ہے، وہ کیا کرنے آئے گا؟ کیا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرے گا اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کرے گا؟ کیا وہ پانچ نمازوں کی بجائے سات یا تین کر دے گا؟ کیا وہ رمضان کے ٣٠ یا ٢٩ روزوں کی بجائے ١٥ یا ٢٠ کر دے گا؟ آخر جو آئے گا، وہ کیا کرے گا؟
پر کوئی اتنا تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
چیلنج
مرزا کے جانشین مسیو محمود سے کہو کہ فیصلہ آج ہی ہو جاتا ہے۔ تم اپنے باپ کی خانہ ساز نبوت لے کر آؤ میں اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم لہراتا ہوا آؤں گا۔ تم اپنے ابا کی عادت کے مطابق یاقوتیاں کھاؤ اور پلومر کی ٹانک وائن پی کر آؤ میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کے ستو کھا کر آؤں گا۔ تم حریر و پرنیاں پہن کر آؤ میں اپنے نانا کے مطابق
موٹا جھوٹا پہن کر آؤں گا
آؤ اور اپنے باپ کو ایک صحیح العقل انسان تو ثابت کر دکھاؤ۔ مناظرہ میرا تمہارا اس بات پر ہے اور یہ فیصلہ کن مناظرہ ہو گا۔ میں ملت اسلامیہ کا نمائندہ ہوں۔ تم میدان میں اترو۔ لکھنؤ، دلی یا تمہارے مرقد قادیان میں کہیں بھی، جہاں تم چاہو۔
با درد کشان ہر کہ در افتادہ بر افتاد
(شیرازی)
نبوت کے ڈاکوؤ! تم میں اتنی ہمت کہاں کہ تم بخاری کے مقابلہ میں آؤ۔ ہمارے مقابلہ میں جو بھی آیا ہم نے اسے پچھاڑا ہے۔ تم انگریز کے ذلہ خوار ہو اور میں ابن حیدر کرارؓ، حیدر نے یہودیت کے مرکز خیبر کو اکھاڑا اور میں مرزائیت کے مرکز تمہارے قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا"۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
پس آئینہ
رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس نے مختلف فرقہ بندیوں کے باوجود مسلمانوں کی وحدت کو بر قرار رکھا ہوا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئی نبوت کا تصور وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کر دینے کے مترادف ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور وہ مسلمانوں ہی کو انقلاب ١٨٥٧ء کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ گو مسلمان غیر منظم ہونے کی وجہ سے آزادی کی جنگ ہار چکے تھے لیکن ہنوز انگریزوں کو کھٹکا لگا ہوا تھا۔ چنانچہ اس دور میں مسلمانوں کے جذبہ حریت کو کچلنے کے لیے انگریزوں نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے باوجود برطانوی استعمار پرستوں کو اطمینان قلب حاصل
نہیں تھا۔ یہ کانٹا بدستور ان کے دل میں کھٹک رہا تھا کہ یہ شیر جو زخمی ہو چکا ہے' ایک بار پھر حملہ آور ہو گا۔ انگریز چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کیا جائے اور ان کے شیرازے کو منتشر کر دیا جائے تاکہ وہ پھر سر نہ اٹھاسکیں لیکن اس آرزو کے پورا ہونے کی صورت نہ تھی' جب تک مسلمان رسول عربیؐ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے ہوئے تھے۔ مرزائیت کی تحریک جو مذہبی روپ میں نمودار ہوئی' دراصل مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد فنا کرنے اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ایک خوفناک سازش تھی جو انگریزی عہد حکومت میں کی گئی۔ بالفاظ دیگر مرزائیت کی تنظیم انگریزی راج کو دوام بخشنے کی ایک تدبیر تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی ساری زندگی انگریزوں کی قصیدہ خوانی میں گزری۔ مرزائیت کو ہم ایک ایسے درخت سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کی آبیاری اور حفاظت اپنی سیاسی مصلحت کے تحت انگریز کرتے رہے اور جب تک وہ یہاں رہے' اس کے برگ و بار سے متمتع ہوتے رہے۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
مولانا غلام غوث ہزارویؒ
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا نے نہایت ہمت' تندہی اور جانفشانی سے اس کی قیادت کی جبکہ دیگر رہنما پہلے ہی گرفتار ہو چکے تھے۔ اس وقت کی حکومت نے مولانا کی گرفتاری کے لیے دس ہزار روپیہ انعام مقرر کیا۔ ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران ہی مولاناؒ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مولانا جہاں ملیں گولی مار دی جائے۔ اس مجلس میں مشہور مسلم لیگی رہنما جناب سردار بہادر خان صاحبؒ نے مولانا قاضی شمس الدین کو بلا کر کہا مولانا کی حفاظت کریں۔ انہیں کہیں روپوش کر دیں یا ملک سے باہر بھیج دیں۔ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ چنانچہ مولانا خفیہ طور پر تحریک کی قیادت کرتے رہے اور خداوند قدوس نے مولانا کی حفاظت کی۔ لیکن گولی مروانے والوں کو خدا نے قاہرہ کے قریب ہوائی حادثے میں جلا کر بھسم کر دیا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ٢٢٥‘ از مولانا اللہ وسایا)
مولانا غلام غوث ہزارویؒ زندہ ہو گئے
مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے ایک خادم کے ساتھ بھیس بدل کر خانقاہ سراجیہ آئے۔ اس وقت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا محمد عبداللہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ انہوں نے اپنے ایک مرید‘ جو بھلوال ضلع سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کے ایک دور دراز کھیتوں کے ڈیرہ پر مولانا کی رہائش کا انتظام کر دیا۔ پولیس اور فوج آپ کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں مجھے سخت پریشانی لاحق تھی اور اپنی حالت پر سوچتا تھا۔ اگر اس حالت میں گولی سے مارا جاتا ہوں تو یہ بزدلی کی موت ہے اور اگر گرفتاری کے لیے ظاہر ہوتا ہوں تو مرکز کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پریشانی تین دن تک رہی اور تیسرے دن مجھے کچھ نیند اور کچھ بیداری کی حالت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مبارک نصیب ہوئی اور آپؐ نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”مولوی غلام غوث تم نے اللہ کے رسول کی عزت کے لیے قربانی دی ہے۔ پریشان مت ہو‘ کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا“۔
جب میری آنکھ کھلی تو طبیعت میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور کامل اطمینان پیدا ہو گیا۔ بعد میں بہت سی تکالیف بھی آئیں لیکن مجھے قطعاً پریشانی نہیں ہوئی اور اس کے بعد ہی میں فوج اور پولیس کو جل دے کر نکل گیا اور ایسے اوقات بھی آئے کہ میرے پیچھے فوج اور پولیس والے نماز پڑھتے رہے لیکن پہچان نہ سکے۔ یہ سب حفاظت الٰہی اور بشارت نبویؐ کا نتیجہ تھا۔
کچھ عرصہ بھلوال رہے۔ کچھ وقت ادھر ادھر خفیہ طور پر تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرتے رہے۔ تحریک ختم نبوت ختم ہوئی تو اب مولانا کے ظاہر ہونے کا مرحلہ تھا۔ ادھر ان کو گرفتار کر کے گولی مار دینے پر انعام مقرر تھا۔ چنانچہ خانقاہ سراجیہ آئے۔ حضرت ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ میں طے پایا کہ جمعہ کے دن علی الاعلان اجتماع عام میں جا کر تقریر
کریں تاکہ ہر خاص و عام کو پتہ چل جائے کہ مولانا ابھی زندہ سلامت ہیں۔ اس حالت میں اگر گرفتاری ہوئی تو پولیس کو گولی مارنے کی جرات نہ ہوگی۔
ادھر پولیس والوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ مولانا کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس پر ایبٹ آباد و ہزارہ کے لوگ آپ کے لیے غائبانہ دعائیں‘ ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی و خیراتیں کر چکے تھے۔ چنانچہ آپ کو رفقاء کی معیت میں ایبٹ آباد بھیجا گیا۔ جمعہ کے وقت الیاس مسجد ایبٹ آباد میں مولانا محمد اسحاق ایبٹ آبادی خطبہ دے رہے تھے تو یکدم ان کی مولانا پر نظر پڑی۔ برجستہ کہا لوگو! تم نے یہ تو سن رکھا ہو گا کہ جنات ایک مخلوق ہے مگر آج تک کسی جن کو دیکھا نہیں ہو گا۔ لو آج تمہیں ایک جن دکھاتا ہوں جو مولانا غلام غوث ہزاروی کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ اس لیے کہ ہماری اطلاع کے مطابق تو مولانا کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس پر لوگوں نے پیچھے پلٹ کر مولانا کو دیکھا۔ ہزاروں کے اجتماع نے پرجوش استقبال کیا۔ آپ نے خطاب فرمایا‘ جمعہ کا خطبہ دیا۔ پولیس و حکومت کی سازش ناکام ہو گئی۔ مولانا کی جان لینے کے درپے دشمن نامراد ہو گئے اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے قادیانیت اور قادیانیت نواز لوگوں کا احتساب پھر سے نئے ولولے کے ساتھ شروع کر دیا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ٢٢٥-٢٢٧‘ از مولانا اللہ وسایا)
نہیں اہل جنوں کا یہ زمانہ (مولف)
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ سندھ‘ راوی ہیں کہ دفتر ختم نبوت ملتان جن دنوں بیرون لوہاری دروازہ میں واقع تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ دفتر میں تشریف رکھتے تھے۔ پولیس انسپکٹر آیا‘ اس نے ایک کاغذ نکالا اور مولانا کے آگے رکھ کر کہا کہ آپ کا فلاں ضلع میں داخلہ بند ہے۔ اس پر آپ دستخط کر دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ
صرف دستخط یا کچھ لکھ بھی سکتا ہوں۔ اس نے کہا کہ نہیں صرف دستخط۔ فرمایا میں نہیں کرتا۔ اس نے کہا کہ جناب ڈپٹی کمشنر کا حکم ہے۔ فرمایا کسی کا ہو‘ میں دستخط نہیں کرتا۔ اس نے کہا کیوں؟ فرمایا میری مرضی۔ اس نے سخت لہجہ میں کہا کہ کرنے ہوں گے۔ یہ کہنے کی دیر تھی کہ آپ نے فورا پھرتی سے ہاتھ اس کے گلا کی طرف بڑھا کر اس کا پستول نکال کر اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ گئے۔ مولانا کے جلدی میں یہ اقدام کرنے سے وہ اتنا مبہوت ہو گیا کہ اس کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہو گئی۔ اس کی حالت دیکھ کر حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ تھانہ نہیں ختم نبوت کا دفتر ہے۔ آپ کو پستول کا نشہ تھا‘ میں نے کافور کر دیا۔ اب سنئے کہ میں صرف دستخط نہیں کروں گا بلکہ ضلع بندی کے آرڈر پر لکھوں گا کہ اگر اس ضلع میں مرزائی تبلیغ نہیں کرتے تو میں نہیں جاؤں گا۔ ضلع بندی کے احکام کی پابندی کروں گا۔ اگر مرزائی اس ضلع میں تبلیغ کرتے ہیں یا کریں گے تو پھر میں احکام ضلع بندی توڑ کر جاؤں گا اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کروں گا۔ اس نے کہا جناب آپ یہی لکھ دیں۔ چنانچہ آپ نے یہ لکھ کر دستخط کر کے پستول اور کاغذ اس کو پکڑا دیا۔ اس نے جھک کر سلام کیا۔ آپ نے اس کی پشت پر ہاتھ پھیر کر جواب دیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔
("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت" ص ٢٠٤-٢٠٥‘ از مولانا اللہ وسایا)
یہ سب ٹکڑے ہیں اک میری محبت کے فسانے کے (مولف)
حکیم عبدالمجید سیفی
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مولانا خواجہ خان محمد تحریر کرتے ہیں کہ تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء‘ وکلاء کی تیاری‘ مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ جناب حکیم
عبدالمجید احمد سیفی نقشبندی مجددیؒ خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت ٧۔ بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لیے وقف کر دیا۔ تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لیے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعر اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ١٨٧ از مولانا اللہ وسایا)
وہ پھول چمن کی امید ہے (مولف)
محبت کی باتیں
مولانا خلیل احمد قادری صاحب مدظلہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے سکھر جیل کے پتہ پر والد محترم حضرت ابوالحسنات شاہ قادریؒ کو اپنی خیریت کا خط لکھا جسکا جواب مجھے پندرہ روز کے بعد موصول ہو گیا۔ والد صاحب نے اپنے خط میں لکھا تھا ”مجھے یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ تم رتبہ شہادت حاصل نہیں کر سکے لیکن بہرحال یہ جان کر دل کو اطمینان ہوا کہ تم ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لڑ رہے ہو“ خط کے آخر میں لکھا تھا ”کاش اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا“۔
مولانا خلیل احمد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میں میرے ہاتھوں کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ جب مجھے حوالات میں بند کرنے کے لیے پولیس کی بارک کے سامنے سے گزارا گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور پھر ہتھکڑی کو چوم کر آنکھوں سے لگا لیا۔ میرے ساتھ چلنے والے سپاہیوں نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے انہیں کہا ”خدا کا شکر ہے کہ میں نے یہ ہتھکڑیاں کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں نہیں پہنیں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اللہ کے پیارے حبیب، شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عظمت کے تحفظ کی خاطر یہ زیور
پہنا ہے۔ یہ سن کر وہ سپاہی خاصے متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا ”دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے‘ ملازمت کا معاملہ ہے“ میں نے ان سے کہا ”یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی۔ اگر تم مجھے حق پر سمجھتے ہو تو اسوۂ حُرؓ پر عمل کرو۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہو گئے۔
مولانا خلیل احمد قادری صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے سلسلہ میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ (نیلا گنبد) کے پاس گیا اور ان سے تحریک میں باقاعدہ شمولیت کے لیے درخواست کی تو انہوں نے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور پھر کہنے لگے کہ میں ٹانگوں سے معذور ہوں مگر آپ مجھے جب چاہیں گرفتار کروا دیں۔ اگر آپ ابھی چاہیں تو میں اسی وقت آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں“۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ١٤٦-١٤٧ از مولانا اللہ وسایا)
بس تیرے شہر میں یہ رسم ادا ہم سے ہوئی (مولف)
مرزائیت کے خلاف تاریخی فیصلہ کرنے والے
جج صاحب کی نماز جنازہ
سید غلام محی الدین شاہ صاحب ہمدانی مرحوم و مغفور ٹامیوالی کے مشائخ میں سے ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ اور جج مرحوم کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ وفات کی شب کو ہی انہیں خواب میں بشارت ہوئی کہ محمد اکبر فوت ہو گیا ہے۔ بہاولپور جا کر اس کی نماز جنازہ پڑھاؤ۔ چنانچہ از خود آپ بہاول پور تشریف لے آئے اور مرحوم کی نماز جنازہ پڑھائی۔ وصیت کے مطابق آپ کو احاطہ درس تعلیم القرآن واقع محلہ مبارک پورہ اپنی خرید کردہ اراضی میں سپرد خاک کیا گیا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ٣٦‘ از مولانا اللہ وسایا)
ہم جہنم سے بچ گئے
یہ اس زمانے کی بات ہے جب خواجہ ناظم الدین کا دور حکومت تھا اور قادیانی فتنہ کے خلاف مشرقی اور مغربی پاکستان کے تمام صلحاء‘ علماء اور زعماء کراچی میں جمع ہو کر اس فتنے کے استیصال کا طریقہ کار سوچ رہے تھے۔ ایک روز ہم دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت بندر روڈ کراچی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مرزا غلام احمد دجال کی ذات موضوع سخن تھی۔ ایک مولانا جن کی عمر اس وقت ٥٥-٥٠ سال تھی‘ وہ بھی تشریف رکھتے تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ صاحب دارالعلوم دیوبند کے فارغ ہیں اور ان کے بڑے بھائی دارالعلوم میں مدرس بھی رہ چکے ہیں۔ ان مولانا کا نام مجھے یاد نہیں آ رہا۔ انہوں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے فرمایا کہ طالب علمی کے زمانہ میں ہم غالباً ٨ طالب علم ایک دفعہ ایک مرزائی مبلغ و مناظر کے پھندے میں پھنس گئے۔ ہم اپنی کم علمی اور کم عمری کے باعث اس کے دلائل کو وقیع سمجھ کر مرزا غلام احمد کے نبی ہونے کا نعوذ باللہ گمان کرنے لگے اور باہم یہ مشورہ کیا کہ فی الحال اس بات کو پوشیدہ رکھیں گے تاکہ دارالعلوم سے ہمیں خارج نہ کر دیا جائے اور ہم اپنے والدین کو بھی کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ طے کر کے ہم سب طالب علم واپس دارالعلوم میں آگئے۔ رات جب سو گئے تو سب نے ایک ہی خواب دیکھا۔ کیونکہ صبح جب آپس میں ملے تو سب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا۔ وہ ایک ہی خواب تھا جو بیک وقت ہم سب نے دیکھا۔
خواب
کوئی شہر ہے۔ بازار میں منادی ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فلاں مسجد میں تشریف لائے ہوئے ہیں‘ جس نے زیارت کرنی ہو‘ وہاں پہنچ جائے۔ چنانچہ ہر طالب علم نے کہا کہ میں بھی وہاں پہنچا تو دیکھا واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں تشریف فرما ہیں۔ میں حاضر خدمت ہو کر سلام عرض کرتا ہوں۔ پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ
یا رسول اللہ! غلام احمد قادیانی واقعی نبی ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: انا خاتم النبیین لانبی بعدی پھر ایک طرف انگلی سے اشارہ فرما کر کہا کہ ادھر دیکھو! دیکھا تو ایک گول دائرہ ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے اور ایک شخص اس آگ میں جل رہا ہے اور تڑپ تڑپ کر چیخ رہا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ غلام احمد ہے“ اس خواب کے بعد ہم سب نے توبہ کی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر یقین محکم ہو گیا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ٤٧-٤٨‘ از مولانا اللہ وسایا)
عجیب واقعہ
(حضرت) مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ نے عرض کیا کہ کچھ آدمیوں کی دعوت پر ایک گاؤں میں جو ضلع جالندھر ہی کا تھا‘ میں تبلیغ اسلام اور تردید مرزائیت کے لیے گیا۔ جس اسٹیشن پر اترا‘ وہاں کئی آدمی لینے آگئے مگر میرے وہ دوست جنہوں نے مجھے دعوت دی تھی‘ اپنے دوسرے گاؤں سے بروقت نہ پہنچ سکے۔ مجھے اس گاؤں میں ایک ایسے گھر میں ٹھہرایا گیا‘ جس پر مالک مکان کا نام احمدی لکھا ہوا تھا۔ مجھے مغرب کے بعد شبہ ہو گیا کہ یہ مرزائیوں کی طرف سے یہاں ٹھہرانے میں میرے ساتھ کوئی پرخطر شرارت نہ ہو۔ اس لیے عشاء کے لیے مسجد جانے کو تھا کہ مسجد کے نمازیوں سے حالات دریافت کروں گا۔ اتنے میں میرے مدعو کرنے والے دوست آگئے اور دیر لگنے کی معذرت کی۔ عشاء کے بعد جب تقریر کا موقعہ آیا تو میزبانوں اور دوسرے مقامی مرزائیوں‘ دیگر لوگوں اور مدعو کرنے والے دوستوں میں صلاح مشوروں کی طوالت رہی اور مرزائیوں کے ساتھ بعض دوسرے لوگ جو مسلمان ہی تھے‘ تردید مرزائیت پر تقریر روکنے میں شریک تھے اور اس وقت معاملہ ٹل گیا۔ صبح کی نماز کے بعد میں ذرا سو گیا کہ پھر جمعہ کی وجہ سے دوپہر کو سونا نہ مل سکے گا۔ میں لیٹے لیٹے ان کے باہم اس سلسلہ میں کارروائی سنتا رہا۔ دو آدمی اور بھی
مرزائیت کے سلسلہ میں جھگڑنے آئے۔ میں ان سنا لیٹا رہا۔ وہ اس خیال سے چلے گئے کہ مولوی صاحب سورہے ہیں ورنہ کافی مسائل دریافت کرتے۔ ان کے جانے کے بعد میں سو گیا۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک بہت خوبصورت بزرگ آسمان سے سیدھے زمین پر نازل ہوئے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کون بزرگ ہیں۔ فرمایا میں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کے نازل ہونے کا وقت تو ابھی دور ہے۔ آپ پہلے ہی کیوں تشریف لائے ہیں۔ انہوں نے غصے کے لہجے میں فرمایا کہ جب تم لوگ میری حیات ثابت نہ کرو تو میں خود نہ آؤں تو کیا ہو۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت ناراض نہ ہوں۔ حضرت کی حیات ثابت کرنا تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ضرور ثابت کروں گا۔ چنانچہ میں نے ارادہ کر لیا اور میرے بلا کر لانے والوں پر جو یہاں کے مرزائیوں کے رشتہ دار بھی تھے‘ واضح کر دیا۔ اگر یہاں کے مسلمان مجھے مرزائیت کی تردید کی اجازت نہ دیں گے تو میں بازار میں ہندوؤں سے جلسہ کے لیے جگہ لے کر تقریر کروں گا اور ضرور کروں گا۔ چنانچہ جمعہ کے بعد جامع مسجد میں ہی مرزائیت کی امکانی تردید کی۔
(”مجالس حضرت رائے پوری“‘ ص ٤١٩-٤٢٠‘ از مولانا حبیب الرحمٰن رائے پوری)
ہم ہواؤں کے رخ بدلتے ہیں (مولف)
شاہ جی کی جیل کی زندگی
کراچی کے ارباب اختیار نے ہم بوڑھوں (مولانا ابو الحسنات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے ساتھ کیا سلوک کیا اور پھر سکھر جیل کے افسروں کی اخلاق باختگی اور ان کی سرد مہری کے واقعات سنائے اور کہا کہ جون جولائی کی ہلاکت خیزیاں‘ سکھر جیل‘ پھر اس کے رحم دل اور ذرہ نواز ارباب اختیار‘ بس یہ تو میرے اللہ میاں کا فضل و کرم ہوا کہ ہم وہاں سے زندہ اور سلامت آ گئے ہیں۔ ورنہ ان لوگوں نے اپنی جانب سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا تھا۔
چاول اور نامعلوم اشیاء کے امتزاج سے جو سخت سے سخت روٹی تیار ہو سکتی تھی، وہ ہمارے لیے مہیا کی جاتی تھی۔ ساگ پات کی جگہ گھاس پھونس اور مسلسل مسور کی دال۔ یہ ہمارے لیے سب سے بہتر خوراک تھی اور یہ تھا صحت افزا مقام۔ تپتے ہوئے مختصر قبر نما کمرے جن سے معمولی ہوا کا گزر بھی مشکل سے ہو سکے، یہ تھی ہماری قیام گاہ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان تکلیف دہ اور دلگداز حالات میں میری صحت کا ستیاناس ہو گیا۔ جسم پر پہلے گرمی کے دانے نمودار ہوئے پھر وہ سخت پھوڑے بن گئے۔ جنہوں نے میرے بدن میں اس طرح آگ لگا دی جس طرح کہ دہکتے ہوئے انگارے جسم پر رکھ دیے گئے ہوں۔
متحدہ ہندوستان میں، میں نے سخت سے سخت جیل خانے دیکھے ہیں اور سفاک سے سفاک جیل کے انگریز افسروں سے بھی واسطہ پڑا ہے اور بعض افسروں سے تو ایسی ٹھنی کہ رہائی تک اکھاڑہ جما رہا لیکن سکھر جیل میں ہمارے ساتھ کچھ نرالا ہی سلوک ہوا ہے۔
میں قید و بند کے مصائب بیان کرنے کا عادی نہیں ہوں بلکہ ان کا تذکرہ معیوب سمجھتا ہوں۔ لوگ حوالات میں ایک رات کاٹ آئیں تو باہر آکر اخبارات کے نمبر نکالتے ہیں اور زنداں کی ساعتیں منٹوں میں حساب لگا کر بیان کی جاتی ہیں۔ بابو! یہ پروپیگنڈے کی دنیا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تو ہمارے لیے جیل خانہ ایک گلشن بنا دیا ہے۔ پھولوں تک رسائی کانٹوں سے الجھنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ایسے ہی گلشن زندگی میں ہم تلخیوں اور تنگیوں کے بعد ہی ثمر مراد پا سکتے ہیں۔ سبحان اللہ! انہوں نے کتنی بلند بات کی ہے ربی السجن احب الی مما یدعوننی الیہ (اے میرے پروردگار یہ قید خانہ مجھے اس سے کہیں زیادہ محبوب ہے، جدھر وہ مجھے بلا رہے ہیں)
یوسف علیہ السلام کے ذکر سے مجھے ڈنڈم جیل یاد آگئی۔ ١٩٣٠ء کے ایام اسیری میں ایک رات سورۃ یوسف کی تلاوت کر رہا تھا۔ چاندنی رات پورے نکھار پر تھی۔ فضا میں سناٹا اور ماحول دم بخود تھا۔ ایسے میں تلاوت قرآن مجید میں رات کا کچھ سماں بیت گیا۔ اتنے میں داروغہ جیل پنڈت رام جی لال نے مجھے پیچھے سے پکارا۔ مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی۔ کہنے لگا ”شاہ جی! خدا کے لیے بس کر دو۔ میرا دل قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ اب مجھ میں رونے کی سکت نہیں رہی“ بھائی! قرآن پڑھا جائے تو آج
بھی اس کے اعجاز دکھائی دیتے ہیں۔" خیر! تو ذکر سکھر جیل کا ہو رہا تھا۔ میری تو بھلی پوچھئے۔ میں تو سرد گرم چشیدہ تھا اور پوری زندگی جیل یا ریل کی نظر ہو گئی ہے یہ بڑے میاں (مولانا ابو الحسنات) بے چارے اس وادی پر خار میں پہلی بار قدم رنجہ ہوئے تھے۔ مجھے ان کا بڑا احساس رہا۔ لیکن ماشاء اللہ ان کو تو میں نے اپنے سب ساتھیوں سے صابر و شاکر پایا"۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٣٧٤ تا ٣٧٦‘ از جانباز مرزا)
علامہ ابوالحسنات
مولانا ابوالحسنات کو جیل میں یہ خبر دی گئی کہ ان کے اکلوتے جواں سال صاحبزادے خلیل احمد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ جیل میں بوڑھے باپ پر کیا گزری ہو گی۔ یہ کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ہم لکھ سکتے ہیں۔ اس کیفیت کو وہ محسوس کر سکتے ہیں جو ان حالات میں کسی اصول کی خاطر نبرد آزما ہوتے ہیں۔ علامہ مرحوم نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کی سنت میں صبر جمیل کا مظاہرہ کر کے اپنے کردار کو ہمارے لیے مشعل راہ بنا دیا۔
مولانا نے ”ملزم“ کی حیثیت سے عدالت عالیہ میں جس بے باکی سے اپنے نصب العین کی وضاحت کی اس کے لیے ہائی کورٹ کا مفصل فیصلہ دیکھئے جسے سابق چیف جسٹس محمد منیر صاحب نے لکھا اور منیر رپورٹ کے نام پر سامنے آیا ہے۔ ایک کتابی شکل میں حکومت مغربی پاکستان نے چھپوایا تھا۔ جیل کی بے جا سختیاں، موسم کی شدت میں گرم علاقوں کی سرد اور ناقص غذا کے استعمال کی بے پناہ بلاؤں نے پس دیوار زنداں ہی آپ کی صحت پر ناگوار اثر ڈالا تھا۔ رہائی کے بعد پوری کوشش کے باوجود آپ کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور اس بیماری نے جب طول پکڑا تو موت کو بہانہ مل گیا۔ آج اصولوں کو مصلحت وقت کی نذر کرنے والے، جب مولانا کی سیاسی اور دینی خدمات پر تنقید کرتے ہیں تو غالب یاد آتا ہے
غریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد
جیل کی پیہم سختیوں نے صحت پر برا اثر ڈالا اور آپ ختم نبوت کی تحریک کی قید سے مستقل بیمار بن کر آزاد ہوئے۔ رہائی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ پیک اجل نے آلیا اور سنیوں کا یہ عظیم زعیم ٢ شعبان المعظم ١٣٨٠ھ جمعہ ساڑھے بارہ بجے ١٩٦١ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ رحلت سے چند لمحات پیشتر یہ شعر زبان پر تھا
ایک ہچکی میں طلسم آرزو باطل ہوا
آپ کی آخری آرام گاہ حضرت خواجہ علی ہجویری گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے احاطہ میں ہے۔ یہ آپ کی دینی خدمات اور محبت رسولؐ کا صلہ تھا کہ ایسی بزرگ ہستی کے پہلو میں جگہ ملی
("تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور" ص ٣٣٥، از پیرزادہ علامہ اقبال احمد فاروقی)
حضرت کشمیری اور حضرت شاہ صاحب
شاہ جی سے مجھے محبت زائد اس وجہ سے ہوئی کہ میرے والد مرحوم فطرتاً بہت خاموش، دنیا داری سے بالکل الگ، ملنے ملانے سے نفور اور تعلقات میں ایک زبردست معیار کے انسان تھے۔ بڑے سے بڑے انسان کے لیے بھی یہ مشکل تھا کہ وہ اباجی کو متاثر کر سکتا اور ان سے تعریف و تحسین کے دو کلمے پالیتا۔
آپ نے سنا ہو گا کہ ٣٠ء یا ٣٢ء میں گاندھی جی نے میرے والد مرحوم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، مگر انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ "میں گوشہ نشین فقیر، لیڈروں سے ملنے کا سلیقہ نہیں رکھتا"۔
نظام حیدر آباد نے انہیں گھیر گھار کر اپنے یہاں بلایا۔ کہتے ہیں کہ نظام ترجمہ قرآن کے سلسلہ میں اباجی سے کوئی خدمت لینا چاہتے تھے اور اس کام کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے لیے تیار تھے مگر اباجی نے کہا کہ "میں پیسہ لے کر قرآن کی کوئی خدمت کرنے کا
ارادہ نہیں رکھتا”۔ آپ اس کام سے مجھے معذور سمجھیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے غیر ملنسار اور غیر دنیا دار آدمی کا کسی سے متاثر ہونا واقعی مشکل تھا۔ مگر ابا جی‘ شاہ جی کے سو جان سے دیوانے تھے۔ ہر وقت شاہ جی کا کلمہ پڑھتے‘ ہر وقت انہی کا حال پوچھتے۔ کتاب سے فراغت ہوئی چارپائی سنبھال کر بیٹھ گئے۔ سادہ چائے آئی‘ اس کا دور چلا۔ سامنے میرے ماموں جناب حکیم سید محفوظ علی صاحب یا مولانا حفظ الرحمن‘ مولانا محمد ادریس صاحب‘ مولانا عتیق الرحمن صاحب ہوئے اور ابا جی نے سلسلہ کلام شروع کر دیا۔
کیوں مولوی صاحب! ہم عطاء اللہ شاہ کو اگر سب کاموں سے ہٹا کر صرف تردید قادیانیت پر لگا دیں تو یہ کیسا رہے؟ مولوی صاحب! یہ صاحب واقعی مخلص ہیں۔ بہت محنتی اور بہت زیادہ بہادر‘ انہوں نے پنجاب میں چند تقریریں کر کے قادیانیت کے خلاف ایک عام جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسی طرح محنت سے کام کیا تو قادیانیت انشاء اللہ ختم ہو جائے گی۔
(”یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ“ ص ٦٢-٦٣ ‘ از ازہر شاہ قیصرؒ)
اسلامی غیرت و حمیت
حضرت علامہ کشمیری طبعاً بڑے حلیم اور بردبار تھے لیکن اسلامی اور دینی معاملات میں وہ کسی طرح کے تساہل یا غفلت شعاری کو گوارا نہیں کرتے تھے۔
مقدمہ بہاولپور میں مرزائی وکیل ایک دفعہ کہنے لگا کہ فلاں بزرگ‘ مرزا غلام احمد کو کافر نہیں کہتے۔ آپ نے فرمایا نہ کہتے ہوں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس نے اس بات کی تکرار کی۔ دراصل بات یہ تھی کہ اس بزرگ سے نواب بہاول پور کا روحانی تعلق تھا۔ مرزائی وکیل چاہتا تھا کہ شاہ صاحب کوئی سخت بات کہیں جس سے مقدمہ پر کوئی اثر پڑے۔ شاہ صاحب سمجھ گئے تھے۔ اس لیے نرمی سے کہتے رہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ جب اس نے تکرار کی تو شاہ صاحب جلال میں آگئے اور تن کر فرمایا ”اللہ کی جہنم بہت وسیع ہے۔ اس میں (اس بزرگ کا نام لے کر) وہ بھی جا سکتا ہے۔ فبہت الذی
کفر۔ مرزائی حیران دیکھتا رہ گیا۔
(ہفت روزہ ”خدام الدین“ لاہور، شیخ بنوری نمبر، ص ٥٨)
جب شاہ جی جیل میں تھے
١٩٥٣ء کے مارچ کے پہلے ہفتے کی کوئی تاریخ تھی کہ مولانا داؤد غزنوی نے ان حضرات سے جیل میں ملاقات کا پروگرام بنایا۔ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ مزنگ چونگی سے گلبرگ کو جاتے ہوئے شادمان چوک پہنچے تو بائیں جانب نکڑ پر ایک مسجد ہے جو پہلے چھوٹی سی مسجد تھی، اب خاصی وسیع ہوچکی ہے۔ اس کے بالکل سامنے سڑک سے دوسری طرف سنٹرل جیل کی ڈیوڑھی تھی جس میں انگریزی عہد کی ہیبت کے تمام عناصر خوفناک صورت میں نمایاں تھے۔ قاعدے کے مطابق سنتری بندوق کندھے پر رکھے ہر آن وہاں کھڑا رہتا تھا۔ مولانا داؤد غزنوی کی آخری سیاسی قید کے تین سال (١٩ اگست ١٩٣٢ء سے ستمبر ١٩٣٥ء تک) اسی جیل میں گزرے تھے۔ مولانا نے اپنا ملاقاتی کارڈ جیل کے ایک ملازم کے ہاتھ سپرنٹنڈنٹ جیل کو بھیجا۔ وہ باہر آئے۔ مولانا کو نہایت ادب سے جھک کر سلام کیا اور اپنے دفتر لے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ مولانا کے کہنے پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مولانا ابوالحسنات، شیخ حسام الدین اور شاہ جی کو وہیں بلا لیا اور گفتگو کے لیے دفتر کا ایک کمرہ دے دیا گیا۔ مولانا نے ان حضرات کو جیل سے باہر کی صورت حال سے آگاہ کیا اور جس رفتار سے تحریک چل رہی تھی اور گرفتاریاں ہو رہی تھیں، اس کی تفصیل بتائی۔
اب شاہ جی بوڑھے ہو چکے تھے اور جسمانی کمزوری کے آثار ان کے چہرے پر ابھر آئے تھے مگر ان کا دل جوان تھا۔ جذبات کی دنیا پوری طرح آباد تھی اور کلمہ حق کہنے کا داعیہ جوبن پر تھا۔ انہوں نے مولانا سے فرمایا، آپ ہماری فکر نہ کریں۔ ہم بالکل ٹھیک ہیں۔ جیل کی یہ کوٹھڑیاں ہمارے لیے نئی نہیں ہیں۔ عمر کا بہت بڑا حصہ انہی کوٹھڑیوں میں گزرا ہے۔ ہمیں یہاں کامل اطمینان اور سکون حاصل ہے۔ آپ ہمیں ہماری حالت پر چھوڑ دیجئے اور تحریک جاری رکھئے۔ خود ایسا قدم نہ اٹھائیے کہ گرفتاری تک نوبت پہنچ
جائے۔ اگر ایسا ہوا تو تحریک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک ان سے ملاقات رہی اور ہم واپس آگئے۔
جب تک تحریک تحفظ ختم نبوت میں گرفتار ہونے والے حضرات لاہور سنٹرل جیل میں محبوس رہے، مولانا داؤد غزنوی کئی مرتبہ ان سے ملاقات کے لیے گئے۔ میں ان کے ساتھ صرف دو مرتبہ گیا۔
تحریک میں حصہ لینے والوں پر حکومت نے بے پناہ سختیاں کی تھیں اور بے شمار لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اخبارات پر سنسر لگادیا تھا اور مجلس احرار خلاف قانون قرار دے دی گئی تھی۔ پھر ایک تحقیقاتی عدالت قائم کردی گئی تھی جو جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم۔ آر کیانی پر مشتمل تھی۔ عدالت لاہور ہائی کورٹ میں قائم کی گئی تھی اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے بہت سے رہنماؤں کے بیانات قلم بند کیے گئے تھے جنہیں جیل سے پولیس کی تحویل میں لایا جاتا تھا۔ تحریک کی طرف سے مولانا داؤد غزنوی وکیل تھے۔ کمرۂ عدالت لوگوں سے بھر جاتا تھا اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اکثر وکلاء کارروائی سننے کے لیے آتے تھے۔
مرزائیوں کی طرف سے بھی وکیل مقرر تھے۔ شاہ جی کو بیان دینے کے لیے جس دن عدالت میں طلب کیا گیا تھا، لوگوں کا بہت بڑا ہجوم وہاں جمع تھا اور تمام اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ تحقیقاتی عدالت کی پوری کارروائی سنسر کی وجہ سے اخباروں میں نہیں آسکتی تھی۔ صرف اتنی خبر چھپتی تھی جتنی حکومت دینا مناسب سمجھتی تھی۔
شاہ جی کو جب ہائی کورٹ میں لایا گیا، ان کے آگے پیچھے پولیس کے اہلکار تھے۔ وہ کمرۂ عدالت میں آئے تو شلوار قمیص میں ملبوس تھے اور سر ننگا تھا۔ پہلے بتا چکا ہوں کہ جب سے انہیں پتا چلا تھا کہ جالندھر ریلوے اسٹیشن پر مولانا حسین احمد مدنی کی پگڑی اتار دی گئی ہے، انہوں نے سر سے ٹوپی اتار دی تھی۔ شاہ جی نے اپنے بیان میں مرزائیت کے پس منظر کی وضاحت کی اور پھر تفصیل سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ شریعت اسلامی کی رو سے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جو لوگ اس کو نبی مانیں اور اس کے
لیے ظلی یا بروزی کی اصطلاح استعمال کریں یا اس کی مدافعت کریں یا حامیان تحفظ ختم نبوت کو صرف اس وجہ سے اذیت میں مبتلا کریں کہ وہ مرزا غلام احمد اور اس کے ماننے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں‘ میں صاف لفظوں میں اعلان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک وہ مسلمان نہیں ہیں۔
شاہ جی نے نہایت جرات مندانہ انداز میں کہا’ جب تک زندہ ہوں‘ میں یہ اعلان کرتا رہوں گا اور یہ اعلان کرنا اور اس پر قائم رہنا میری زندگی کا نصب العین ہے۔ جس سے دنیا کی کوئی طاقت مجھے روک نہیں سکتی۔ جو شخص مجھے اس سے روکنے کی کوشش کرے گا‘ میں اسے مسلمان نہیں سمجھتا۔ میں اس کی بات ماننے سے انکار کرتا ہوں ۔
شاہ جی کا بیان خاصی دیر تک جاری رہا۔ درمیان میں بعض لوگوں نے نعرے لگائے تو عدالت نے نعرے لگانے سے روک دیا۔ خود شاہ جی نے بھی لوگوں سے کہا کہ نعرہ بازی بند کر دیں۔ اگرچہ یہ باقاعدہ عدالت نہیں ہے‘ تحقیقاتی عدالت ہے‘ تاہم عدالت کا احترام ضروری ہے۔ چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو۔ بیان کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ جب تک تحریک کے رہنماؤں کے بیانات اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے‘ شاہ جی کو لاہور سنٹرل جیل میں رکھا جائے۔ ممکن ہے کسی موقع پر عدالت کو انہیں دوبارہ بلانا پڑے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر‘ حصہ اول‘ ص ٥٤٦ تا ٥٤٨)
ظلمت شام کو میں صبح نہیں کہہ سکتا (مولف)
مقام نبوت
توحید‘ رسالت‘ قیامت اور تمام عقائد‘ عبادات اور معاملات اسلام کی اصل ہیں۔ میرا استدلال یہ ہے کہ ”ان تمام مسائل کی تعریف اور تعین نبوت کرتی ہے۔ اگر نبوت بدل سکتی ہے تو یہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔ یہاں تک کہ حلال و حرام بھی بدل سکتا ہے“۔
(امیر شریعت)
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر‘ حصہ اول‘ ص ٣٢٥)
زندگی کی اہم رات
ایک سی۔ایس۔پی افسر جو کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر تھے، قاضی صاحب کے دوست تھے مگر قادیانیت سے متاثر تھے۔ نہ صرف ان کے دماغ کی تطہیر کی بلکہ ان کو اس کام پر لگا دیا کہ ان کا شمار بھی مرزائیت کے بدترین مخالفوں میں ہونے لگا۔ اسی کمشنر نے بہت سے قادیانی دوستوں کو‘ اور ان کو جو قادیانیت سے متاثر تھے‘ جمع کیا اور پھر قاضی صاحب کو شجاع آباد سے بلایا۔ قاضی صاحب مرزا غلام احمد کی تصنیفات لے کر کوئٹہ پہنچے۔ اس مسئلہ پر ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ساری رات کتابوں کے ورق الٹتے رہے۔ حوالوں پر حوالہ دیا جاتا رہا۔ ادھر صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نور ہدایت سے منور کر دیا اور قاضی صاحب مرحوم اپنی زندگی کی اس قیمتی رات کا اکثر تذکرہ کرتے اور خدا کا شکر بجا لاتے۔
(”قاضی احسان احمد شجاع آبادی“ ص ٤٤٦‘ محمد نور الحق قریشی)
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا (مؤلف)
مولانا سید یوسف بنوریؒ کا خط کرنل قذافی کے نام
برادر گرامی قدر! آپ نے پاکستان کے موقف کی تائید کر کے اور ہر ممکن مادی مدد مہیا فرما کر جو احسان فرمایا ہے اس کا ہمیں اجمالی علم ہوا۔ حق تعالیٰ آپ کو اس حسن سلوک کا بدلہ عطا فرمائیں اور دنیا و آخرت میں آپ پر انعامات فرمائیں۔ آمین۔
اور اب میں آنجناب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک عظیم خطرہ میں گھرا ہوا ہے اور وہ ہے فتنہ قادیاں یا قادیانی تحریک۔ بحریہ کا قائد ایک بڑا قادیانی ہے‘ فضائیہ کا سربراہ قادیانی ہے اور بری فوج میں ٹکا خان کے بعد سترہ جرنیل ہیں جو سب قادیانی
ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد ٹکا خان بھی ریٹائر ہو جائیں گے ۔ حکومت مسلمان افسروں کو فوجی مناصب سے معزول کر رہی ہے ۔ صدر کا اقتصادی مشیر ایم۔ ایم احمد قادیانی ہے اور سر ظفر اللہ خان کے ' جو بڑا خبیث سازشی قادیانی ہے ' صدر سے خصوصی روابط ہیں اور صدر اس کے مشوروں کی تعمیل کرتا ہے ۔
غالباً آنجناب کو علم ہو گا کہ اس گروہ کا ضال و مضل مقتدا مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت تھا۔ اس نے پہلے مجدد ' مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد ازاں نبوت کا دعویٰ کر دیا ۔ اس کا عقیدہ تھا کہ برطانوی حکومت روئے زمین پر خدا کا سایہ ہے ۔ جہاد منسوخ ہے اور یہ کہ برطانیہ کی نصرت و حمایت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ۔ وغیر ذالک من کفر وھرا ۔
" قادیان " کے بعد (جو ہندوستان میں رہ گیا) انہوں نے مغربی پاکستان میں " ربوہ " آباد کیا ' جس کی حیثیت ان کے دارالخلافہ کی ہے ۔ وہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سرگرمی سے سازشیں تیار ہوتی ہیں اور یہ عجلت میں تحریر کردہ عریضہ ان تفصیلات کا متحمل نہیں ۔ میں آنجناب سے اس وقت دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں ۔
ایک یہ کہ صدر بھٹو کو اس خطرۂ عظیمہ سے آگاہ کیجئے۔ یعنی قادیانی بغاوت ' ملک کا قادیانی حکومت کے تحت آجانا ' بحر احمر میں برطانیہ کی عزت رفتہ کا دوبارہ لوٹ آنا اور بیک وقت تمام عربی و اسلامی ممالک کا ناک میں دم آجانا ۔ پس آنجناب سے درخواست ہے کہ آج حکومت پاکستان کو قادیانیوں کے یا بلفظ صحیح برطانیہ کے چنگل سے چھڑا کر اس پر احسان کیجئے۔ جیسا کہ قبل ازیں آپ اس کی اخلاقی و مادی امداد کر کے اس پر احسان کر چکے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کی ' اس کے رسول کی ' اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے ہر قسم کی تدبیر و حکمت اور عزم و حزم کے ساتھ " صدر بھٹو " کی کج روی کی اصلاح کیجئے ۔ بلاشبہ اسلام کی یہ عظیم الشان خدمت اللہ و رسول کی رضامندی کا موجب ہو گی ۔ اسی کے ذریعہ اس رخنہ کو بند کیا جا سکتا اور اس شگاف کو پر کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ فتنہ کا سیلاب خطرہ کے نشان سے اوپر گزر رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت و مدد فرمائے ۔ " اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا"۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ جمہوریہ لیبیا میں جو قادیانی ڈاکٹر یا انجینئر کی حیثیت سے آئے ہیں، انہیں نکالئے۔ سنا گیا ہے کہ آپ کے ملک میں قادیانی کی ایک بڑی تعداد آئی ہے۔ ان میں ایک ڈاکٹر خلیل الرحمٰن طرابلس میں ہے جو شعاعوں کے ذریعہ سرطان کے علاج کا خصوصی ماہر ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا سراغ لگایا جائے اور محض اللہ کی، اس کے رسول کی، اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے قائدین کی خیر خواہی کی غرض سے آپ کو ان کی اطلاع دی جائے۔
(”مقالات یوسفی“ ص ٥٣-٥٤، مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
احرار کے سرفروش
قادیان میں حضرت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد کے جمعہ پڑھانے کا اعلان کیا۔ سرکار نے پابندی لگا دی۔ قاضی صاحب پابندی توڑ کر تشریف لے گئے۔ گرفتار ہوئے، سزا ہوئی۔ کئی بزرگ اور ساتھی جمعہ کے خلاف پابندی کی خلاف ورزی کر کے گرفتار ہوئے۔ انگریز نے پابندی کے جواز کے لیے دلیل دی کہ قادیان میں مرزائیوں کی اکثریت ہے اور اقلیت کو وہاں جلسہ یا تقریر کی اجازت نہیں۔ اکابرین جماعت نے انگریز کی دلیل تسلیم کر لی اور کہا کہ قادیان کے باہر جہاں جہاں مرزائی اقلیت میں ہیں، وہاں ان کے جلسے جلوس بند کیے جائیں اور اگر بند نہ کیے گئے تو احرار رضاکار خود ایسے جلسے بند کرنے کا انتظام کریں گے۔ انگریز تو کیا بند کرتا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس سال سرفروش احرار رضا کاروں نے ملک کے کسی کونہ میں مرزائیوں کا جلسہ کامیاب نہ ہونے دیا۔ حتیٰ کہ ظفر اللہ دہلی میں باوجود انگریز کی پوری مدد کے جلسہ کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو قادیان میں جلسہ کرنے کی پابندی واپس لے لی گئی۔
(”تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء“ جلد اول، ص ٩٨، مولانا اللہ وسایا)
جو دل میں ہوا وہ یہاں ہم نے کیا ہے (مولف)
حضرت پیر مہر علی شاہ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری
حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ اپنے آغاز شباب میں حضرت پیر سید مہر علی صاحب گولڑہ شریف قدس سرہ العزیز کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو کئی دن تک آستانے میں رکنا پڑا۔ لوگ آتے، بیعت ہوتے اور چلے جاتے۔ حضرت پیر صاحب شاہ جی کی طرف راجع ہی نہ ہوئے تو ایک دن حضرت پیر صاحب گھوڑے پر سوار ہو کر گاؤں سے باہر جا رہے تھے۔ شاہ جی پیچھے پیچھے روانہ ہو گئے۔ حضرت نے مڑ کر دیکھا تو شاہ جی متعاقب تھے۔ فرمایا آپ کہاں جا رہے ہیں؟ عرض کیا اتنے روز سے یہاں پڑا ہوں، اس اثناء میں آپ نے سینکڑوں لوگ بیعت کیے۔ مجھے یہ عزت نہ بخشی؟ بیعت فرما لیجئے۔
حضرت نے فرمایا کچھ دن ٹھہرو۔ جاتے کہاں ٹھہرے رہے۔ حتیٰ کہ حضرت نے بیعت فرمایا اور بعض قرآنی وظائف پڑھنے کی ہدایت فرمادی۔ شاہ جی نے عرض کیا کہ آپ اکثر قصیدہ غوثیہ پڑھنے کے لیے ہدایت فرماتے ہیں۔ مجھے نہیں بتایا؟
حضرت نے تبسم فرمایا اور کہا شاہ جی میں نے آپ کو وہ چیز بتائی ہے جسے پڑھ کر غوث، غوث ہو گئے ہیں۔
پھر فرمایا شاہ جی قدرت نے آپ کو لسان پیدا کیا ہے۔ اس میدان میں آپ کبھی پیچھے نہیں رہیں گے۔
حضرت کا آخری وقت تھا۔ شاہ جی حاضر ہوئے عرض کیا کوئی نصیحت فرمائیے۔ عالم جذب میں تھے۔ فرمایا ”اتباع شریعت“
("چٹان" سالنامہ، ص ١٢)
انعام
حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جلسہ عام میں مسئلہ جلسہ عام میں
ختم نبوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ جی کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور فرمایا چونکہ شاہ جی نے اپنی ساری زندگی ختم نبوت کی حفاظت میں صرف کر دی اس لیے اللہ تعالی نے ان کے درجات بہت بلند کر دیے اور انہیں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا۔ مولانا نے اس مجمع عام میں بتایا کہ مجھ سے ایک بہت بڑے عارف اور بزرگ نے اپنا خواب بیان کیا۔ میں ان کا نام عام لوگوں میں نہیں بتاؤں گا۔ ہاں کوئی خاص شخصیت تنہائی میں دریافت کرے تو بتا دوں گا! پھر بیان کیا کہ وہ بزرگ فرماتے ہیں‘ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ تشریف فرما ہیں۔ دائیں بائیں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ بیٹھے ہیں اور سامنے ایک تو سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور دوسرے حضرت عبد القادر صاحب رائے پوری بیٹھے ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس دو عمامے ہیں۔ آپ نے ایک عمامہ سیدنا صدیق اکبر کو دے کر بخاری صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ عمامہ اس کے سر پر رکھ دو۔ اس نے ہماری ختم نبوت کی حفاظت کے لیے بڑی محنت کی اور دوسرا عمامہ حضرت رائے پوری کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ ان کے سر پر رکھ دو۔ حضرت صدیق اکبر جب عمامہ بخاری کے سر پر رکھنے کے لیے بڑھے تو بخاری نے عرض کیا حضور میں نے جو کچھ لیا‘ اپنے حضرت سے لیا ہے۔ یعنی حضرت رائے پوری سے۔ اگر مناسب خیال فرمائیں تو پہلے عمامہ ان کے سر پر رکھیں۔ پھر حضور سے اجازت لے کر جناب صدیق اکبر نے حضرت رائے پوری کا عمامہ ان کے سر پر پہلے پہنایا اور پھر شاہ جی کا عمامہ شاہ جی کے سر پر پہنا دیا گیا۔
(”بخاری کی باتیں“ ص ١٤٨-١٤٩‘ مصنفہ سید امین گیلانی)
بخاری کا مقام
حضرت مولانا عبید اللہ صاحب انور خلف الرشید حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہفت روزہ پرچہ ”خدام الدین“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت والد ماجد فرمایا کرتے کہ لوگ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کو ایک بہت بڑا خطیب‘ ایک سیاست دان‘ ایک محب وطن اور جرات و بے باکی کا ستون ضرور تسلیم کرتے ہیں
لیکن شاہ جی کے روحانی مرتبے سے قطعی طور پر واقف نہیں۔ ورنہ ان کے پاؤں دھو دھو کر پیتے۔ حضرت اکثر فرمایا کرتے شاہ جی ولی کامل اور اسلام کی شمشیر برہنہ ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے اوپر ”مزاح“ کی چادر اوڑھ لی ہے۔ اس لیے ظاہر بین لوگ ان کے مقام کا تعین نہیں کر سکتے۔ یہ بھی فرمایا کہ میں نے اس شیر دل مجاہد اعظم کے ساتھ جیل میں رہ کر دیکھا ہے۔ اتنا ہنستے ہیں اور رفقائے جیل کو اتنا ہنساتے ہیں کہ ان کے سب غم غلط ہو جاتے ہیں۔
(”دو بزرگ“ ص ١٧-١٨، مصنفہ سید امین گیلانی)
دنیا ہی میں رہتے ہوئے جنت کا مزا دیکھ (مولف)
شاہ جیؒ کا حال
”مجھے یہی محسوس ہوتا ہے لیکن بوڑھا ہو گیا ہوں۔ اب ہمت نہیں رہی۔ کس سے کہوں اور کن سے لڑوں؟ آپ نے جو کچھ کہا ہے اس سے میرا اندر ہل گیا ہے۔ میں دوستوں سے کہوں گا کہ وہ اس خطرہ سے آگاہ ہو جائیں اور عوام و حکام دونوں کو حتی المقدور آگاہ کریں“
کرنل صاحب بولے۔
”شاہ جی پاکستان کو اس خطرے سے صرف آپ نکال سکتے ہیں۔ کراچی سے لاہور اور لاہور سے پشاور تک آپ کی چند تقریریں موجودہ حکمرانوں کے کان کھول دیں گی۔ کسی سے روبرو لڑائی کا سوال نہیں۔ بلکہ جو دیمک مسلمانوں کو چاٹ کر پاکستان کو حسب منشاء ہضم کرنا چاہتی ہے اس کا عوام کی معرفت احتساب ہو گا کہ پوری قوم خبردار ہو جائے گی اور حکمرانوں کو بھی ہوش آئے گی کہ ملک فی الواقعہ کسی مہلکہ میں ہے۔ شاہ جی ہم آپ تک یہ بات پہنچا سکتے تھے اور ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم سے ہم مل نہیں سکتے ورنہ ان سے ملتے اور کہتے۔ بہر حال ان تک پہنچانا آپ کا فرض ہے۔ آپ نے کوتاہی برتی تو ذمہ دار آپ ہوں گے۔ عنداللہ بھی اور عندالناس بھی۔ پاکستان مرزائی ہو گیا تو قیامت کے دن
ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو آپ کے دامن گیر ہوں گے۔
وہ دونوں صاحب یہ کہہ کر چلے گئے لیکن شاہ جی کا یہ حال تھا کہ پہلے کچھ دیر چپ رہے پھر دو چار ہچکیاں آئیں۔ اب جو ہچکیاں بند ہوئیں تو پون گھنٹہ روتے رہے۔ زبان سے کچھ نہ کہا۔ دیر تک آہیں ہی بھرتے رہے۔ پھر اتنا فرمایا
ایسے موقعوں پر ہم لوگ خود ان کے ساتھ گم سم ہو جاتے اور اس طرح اپنی بے چارگی کا تماشا کرتے۔
(”سید عطاء اللہ شاہ بخاری“، ص ١٦ تا ١٨‘ مصنفہ شورش کاشمیریؒ)
میں لا رہا ہوں خود اپنے لہو سے بھر کے چراغ (مولف)
ایڈیٹر روزنامہ زمیندار کی دردناک سرگزشت
فتنہ قادیانیت کے تعاقب اور انسداد کے سلسلے میں مولانا ظفر علی خاں اور آپ کے فرزند مولانا اختر علی خاں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے شعر و شاعری‘ ولولہ انگیز خطابت اور اپنے اخبار زمیندار کے ذریعے مرزائیت کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں‘ وہ تاریخ ملت کا درخشاں باب ہیں۔
ان کے جانشین مولانا اختر علی خاں نے بھی اپنے والد محترم کی جلائی ہوئی شمع روشن رکھنے کے لیے روزنامہ زمیندار کو وقف کیے رکھا۔ چنانچہ ١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران اخبار زمیندار اس محاذ پر صف اول میں تھا۔ اور اس کے مدیر اعلیٰ مولانا اختر علی خاں کو اسی ”پاداش“ میں پس دیوار زنداں کیا گیا تھا۔ وہ لاہور سنٹرل جیل کے ”شاہی احاطے“ میں نظربند تھے۔
ایک روز مولانا اختر علی خاں حضرت امیر شریعت سے ملاقات کو آ گئے۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں رعشہ طاری تھا۔ جسم مضمحل اور سخت درد و کرب کا عالم۔ ان کی حالت
قابل رحم تھی۔ شاہ صاحب نے مولانا اختر علی خاں سے یکایک خرابی صحت کی وجہ دریافت کی تو مولانا اختر علی خاں نے اپنی درد ناک سرگزشت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ صاحب مجھے اس جیل کے جس نام نہاد شاہی ”احاطے“ میں رکھا گیا ہے‘ وہ پھانسی احاطے سے بالکل ملحق ہے۔ میرے احاطے اور پھانسی خانے کی دیواریں مشترک ہیں۔ یہ بات تو آپ کے علم میں ہوگی کہ حکومت کی خاص ہدایات کے مطابق پورے پنجاب کی جیلوں میں سے پھانسی کی سزا پانے والے قیدی لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیے گئے ہیں اور ان کی خاصی تعداد یہاں جمع ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ تحریک میں حصہ لینے والوں کو ذہنی کوفت دینے اور نفسیاتی پریشانی میں مبتلا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ روزانہ رات کے آخری حصے میں تین بجے کے قریب ایک قیدی کو پھانسی کوٹھری سے نکال کر جب پھانسی کی جانب لایا جاتا ہے تو کوٹھری سے نکلتے وقت بلند آواز کے ساتھ نعرہ لگاتا ہے‘ کوئی کلمہ شریف کا ورد کرتا ہوا دارورسن تک پہنچتا ہے۔ پھر جب اسے تختہ دار پر کھڑا کر کے اس کا جرم بتا کر وصیت کرنے اور آخری مرتبہ کلمہ شریف پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے تو دیوار قریب تر ہونے کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک شخص کے ”وقت آخریں“ کا منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر جب مجسٹریٹ کے حکم سے کھڑاک سے تختہ دار گھومتا ہے تو پھانسی والے کے ساتھ ساتھ میری گردن کا جوڑ بھی ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح پھانسی پانے والوں کے ساتھ میں بھی روزانہ دارورسن کے مراحل سے گزرتا ہوں۔
شاہ صاحب! آپ ذرا تصور کیجئے کہ صرف نفسیاتی اعتبار سے ہی نہیں عملی طور پر مجھ پر کیا قیامت گزرتی ہوگی؟ میں تو اس شاہی احاطے میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ میرے اعضاء جواب دے گئے ہیں‘ ہاتھ پاؤں میں رعشہ طاری ہے۔ سخت پریشان حال ہوں۔ میں جس درد اور کرب میں مبتلا ہوں‘ بیان نہیں کر سکتا۔ خدا کے لیے مجھے اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ ۔۔۔ اور مجھے اس ”شاہی احاطے“ سے نکال کر اپنے ہاں یہاں بلا لیں تو بڑی مہربانی۔ تاکہ جیل کی زندگی تو ٹھیک سے گزرے۔
مولانا اختر علی خاں کی لرزہ خیز سرگزشت سن کر شاہ جی نے اپنے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ”مولانا یہ تو ارباب جیل کی کمینہ حرکت ہے۔ آپ کوئی اخلاقی
قیدی نہیں بلکہ اس ملک کے سب سے بڑے روزنامے زمیندار کے مدیر اعلیٰ اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے ایک ممتاز رہنما ہیں۔ آپ کو شاید علم نہیں کہ آئی۔ جی جیل خانہ جات (کرنل بشیر حسین سید) مرزائی ہے اور آپ کے علاوہ اور بھی ساتھی ایسے ہیں جن کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ اور ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے۔ یہ سب انتقامی کارروائی ہے۔ شاہ صاحب نے جیل کے حکام کی توجہ مولانا اختر علی خاں کی صحت کی طرف مبذول کرائی۔ مگر صدا بصحرا ثابت ہوئی۔
ارباب جیل کے ظالمانہ سلوک کی وجہ سے مولانا اختر علی خاں کی صحت خراب سے خراب تر ہو گئی۔ ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور جب بیماری ہاتھوں کے رعشہ سے بڑھ کر ”لرزہ براندام“ ہو گئی تو خرابی صحت کا احساس کرتے ہوئے حکومت نے انہیں رہا کر دیا۔ چند ماہ بعد ان کی روح بھی جسم سے آزاد ہو گئی۔
(”خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ص ٤٣ تا ٤٥ از مولانا مجاہد الحسینی)
پھول کے سینے پر توڑے گئے پتھر کتنے (مولف)
اعمال روزانہ پیش ہوتے ہیں
ایک کتاب ہے حافظ ابن قیم کی۔ وہ اہل حدیث حضرات کے امام ہیں۔ ہم ان کے امام کی بات مان لیتے ہیں۔ اگر چہ وہ ہمارے امام کی بات نہیں مانتے۔ ”کتاب الروح“ میں حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی امتوں کے حالات پیر اور جمعرات کو ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حالات روز کی روز پیش کر دیے جاتے ہیں۔ آپ نے جو کچھ کیا، اور اس وقت تحفظ ختم نبوت کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں، وہ سب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ جاتا ہے۔
(”خطبات حضرت مولانا احمد علی لاہوری“، ص ٨٦)
جذبہ محبت رسول
مجاہد ریف غازی عبدالکریم کے سالے ایک مرتبہ لاہور تشریف لائے۔ ہمارے مسجد میں مجھ کو ملنے آگئے۔ پھر نیڈو ہوٹل میں، میں بھی ان سے ملنے گیا۔ مجھ سے کچھ دیر پہلے ان کے پاس مرزائی آئے اور مجاہد ریف کو اپنی کتابیں پیش کیں تو انہوں نے کہا کہ اگر میرا ہاتھ ناپاک نہ ہو جائے تو میں ان کتابوں کو اٹھا کر سامنے جلتی آگ میں ڈال دیتا اور اپنے ملازم سے کہا ایھا الولد اخرجوا ھذا الکلاب من مکانی ان کتوں کو میرے مکان سے باہر نکال دو۔
("خطبات حضرت مولانا احمد علی لاہوری" ص ١٢٨)
میں روز حساب ہو گیا ہوں (مؤلف)
حضرت بابوجی غلام محی الدین گولڑوی
اور شورش کاشمیری
آغا شورش مرحوم کو روحانیت سے بڑا شغف تھا۔ وہ اہل دل حضرات کی خدمت میں بڑے ذوق و شوق سے حاضر ہوتے۔ ان کا زیادہ تعلق دیوبند کے مسلک سے تھا۔ مگر وہ دیگر مسالک کے ارباب تصوف کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے۔ وہ حضرت مجدد الف ثانی، حضرت سید احمد بریلوی، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت گنگوہی سے بے حد متاثر تھے۔ مولانا عبدالقادر رائے پور کے بھی بڑے مداح تھے۔ کئی سال قبل حضرت صاحبزادہ غلام محی الدین ان کے دولت کدہ پر خود تشریف لائے۔ پھر تو راہ و رسم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب سماع کے قائل تھے مگر ان کے سماع کی قید اور شرائط
تھیں۔ ان کے پسندیدہ قوال تھے۔ آغا شورش کاشمیری نے بھی سماع کی کئی مجالس میں شرکت کی۔ سماع کی ایک مجلس آغا صاحب کے مکان پر ہوئی۔ حضرت صاحبزادہ نے کئی بار آغا مرحوم کو تحائف سے نوازا۔ آغا صاحب نے ان تحائف کو لوٹا دینے کی بڑی کوشش کی مگر حضرت صاحبزادہ نے کہا کہ میں نے تو حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کے ارشاد کے مطابق آپ کی خدمت کی ہے۔ آپ کو لوٹانا ہو تو حضرت پیر صاحب کو لوٹا دیجئے گا۔
(ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کاشمیری نمبر‘ ص ٤٨)
مفتی محمد شفیع صاحب کا جذبہ
مقدمہ بہاول پور میں حضرت امام العصر شاہ صاحب کے دست راست رہے اور آپ ہی کے قلم سے حضرت شیخ رحمہ اللہ کی دقیق و عمیق تعبیرات سہل اردو میں مرتب ہوئیں۔ جو مقدمہ بہاول پور کے نام سے معروف ہے اور فرمایا کہ ایک رات اسی کام میں ایسی گزری کہ عشاء کے بعد صبح تک اس کی تکمیل میں مشغول رہا۔ اس طرح حضرت شیخ کی دعاؤں اور توجہات کے مرکز بنے رہے۔ ١٩٧٤ء میں قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں جو محاذ قائم ہوا تھا اور حضرت شیخ کے جوتوں کے صدقے میں حق تعالیٰ نے راقم الحروف سے کام لیا۔ اس کے لیے حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے صاحبزادے عزیز گرامی برادرم مولانا تقی صاحب کو میں نے راولپنڈی میں بلایا تھا۔ مسئلہ قادیانی میں امت اسلامیہ کے موقف کی ترتیب و تالیف میں برادر موصوف نے ایک دفعہ پوری رات گزار دی۔ ایک لمحہ کے لیے بھی آرام نہ کرسکے۔ میں نے حضرت مفتی صاحب سے فون پر اور بعد میں زبانی یہ عرض کیا تھا کہ آپ کے مقدمہ بہاولپور اور حضرت شیخ کی خدمت و مساعدت سے پوری مشابہت اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمادی۔ جس سے حضرت مفتی صاحب بہت خوش ہوگئے۔
(”ابلاغ“ مفتی اعظم نمبر‘ ص ٣٦-٣٥)
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان خراب میں (مولف)
دستار بندی
حکیم صوفی محمد طفیل صاحب متمکن چیچہ وطنی نہایت صادق القول، متقی اور پرہیز گار بزرگ ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کی بھی گرفتاری ہوئی تھی۔ ٧ اپریل ١٩٥٣ء کو جب آپ منٹگمری (ساہیوال) جیل میں تھے خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے جو پہلے ہری روشنی سے بھر گیا اور پھر وہ چمکدار سفید روشنی میں تبدیل ہو گئی۔ بعد میں ایک تخت ظاہر ہوا جس کے وسط میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جلوہ افروز تھے اور چاروں کونوں پر آپ کے چاروں خلفاء راشدین مسند نشین تھے۔ تخت میدان میں ایک اونچی جگہ آکر ٹھہر گیا۔ سامنے بے شمار مخلوق موجود تھی۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور ختم نبوت میں حصہ لینے والوں کی بہت تعریف فرمائی اور خوش ہو ہو کر حضرات خلفاء راشدین کی جانب اشارے کر کر کے اس کا ذکر فرمایا۔ جوں ہی آپؐ کی تقریر ختم ہوئی غیب سے ابر کا ایک ٹکڑا ظاہر ہوا جس سے آواز آئی کہ ہم نے ان تمام لوگوں کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جنہوں نے صدق دل سے ختم نبوت میں حصہ لیا اور قربانیاں دیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور ابر کا ٹکڑا ظاہر ہوا جس میں سے ایک انسانی ہاتھ برآمد ہوا جس پر ایک سینی رکھی تھی اور اس میں ایک دستار تھی۔ آواز آئی کہ دستار آپؐ اپنے دست مبارک سے عطاء اللہ شاہ بخاری (شاہ جیؒ) کے سر پر پہنائیں۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ جی کے سر پر اپنے دست مبارک سے وہ دستار پہنادی۔ مجلس برخاست ہوا چاہتی تھی کہ کسی نے درخواست کی کہ ہماری تمنا ہے کہ ہم کو مصافحہ کا شرف بخشا جائے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا دو رویہ سب کھڑے ہو جاؤ۔ سب کھڑے ہو گئے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیان سے ہر شخص سے مصافحہ کرتے ہوئے گزر گئے۔ پھر ایک دم میری آنکھ کھل گئی۔ شاہ جی ان دنوں سکھر کے جیل خانہ میں تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیڈر کی حیثیت سے صوفی صاحب نے شاہ جی سے ملاقات پر جب یہ خواب سنایا تو شاہ جی دھاڑیں مار کر روئے
اور ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے اور صوفی صاحب کو سینے سے چمٹالیا۔ یہ خواب غیر مطبوعہ ہے۔ صوفی صاحب نے مجھے (مولف کتاب ہذا) خود یہ خواب ٢٨.١٠.٦٨ کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں بعد از نماز مغرب میرے مرشد گرامی حضرت مولانا محمد رسول خاں صاحب کے روبرو سنایا۔
(”سیرت النبی بعد از وصال النبی“ ص ٣٥٠-٣٥١‘ از محمد عبدالمجید صدیقی)
مولانا یوسف بنوری کے سجدے
کوئٹہ کے سفر میں احقر مولانا کے ہمراہ تھا۔ یہاں مولانا کو کل چوبیس گھنٹہ ٹھہرنا تھا جس میں تین مجلسوں سے خطاب کرنا تھا۔ ایک پریس کانفرنس تھی۔ گورنر بلوچستان سے ملاقات تھی اور عشاء کے بعد جامع مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ عام تھا۔ سارا دن مولانا کو ایک لمحہ بھی آرام نہ مل سکا۔ اور رات کو جب ہم جلسہ عام سے فارغ ہو کر آئے تو بارہ بج چکے تھے۔ خود میں تھکن سے نڈھال ہو رہا تھا۔ مولانا تو یقیناً مجھ سے زیادہ تھکے ہوئے ہوں گے۔ میں نے بارہا کوشش کی تھی کہ مولانا کبھی جسمانی خدمت کا موقع دے دیں لیکن وہ ہمیشہ سختی سے انکار فرما دیتے تھے۔ اس رات احقر نے کچھ ایسے ملتجیانہ انداز میں مولانا سے پاؤں دبانے کی اجازت چاہی کہ مولانا کو رحم آگیا اور انہوں نے اجازت دے دی۔ لیکن یہ محض میری خاطر داری تھی۔ چنانچہ ہر تھوڑی دیر بعد وہ کچھ دعائیں دے کر پاؤں سمیٹنے کی کوشش کرتے۔ بالآخر میں نے جب محسوس کیا کہ ان کو پاؤں دبوانے میں راحت سے زیادہ طبیعت پر بار ہو رہا ہے تو میں نے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں سو گیا۔ رات کے آخری حصے میں آنکھ کھلی تو دیکھا کہ مولانا کی چارپائی خالی ہے اور وہ قریب بچھے ہوئے ایک مصلے پر سجدے میں پڑے ہوئے سسکیاں لے رہے ہیں۔
(”نقوش رفتگاں“ ص ٩٠‘ مولانا محمد تقی عثمانی)
تیرے آنے کے زمانے آئے (مولف)
مولانا محمد علی جالندھری کی آخری خواہش
ختم نبوت کا یہ جاں نثار ”تحفظ ختم نبوت“ کرتے کرتے اپنے رب سے جاملا۔ زندگی کی آخری خواہش یہ تھی کہ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں وفات ہو اور دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت سے جنازہ اٹھے۔ اللہ کریم نے یہ آخری خواہش بھی پوری فرمادی۔
٢١ اپریل ١٩٧١ء مطابق ٢٤ صفر الخیر ١٣٩١ھ بروز بدھ ختم نبوت کے اس مجاہد نے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں جان‘ جان آفرین کے سپرد کی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے ہی آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔
(ماہنامہ ”الخیر“ جلد ٤‘ شمارہ ٨-٩ ص ١٤٣)
بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں (مولف)
میاں شیر محمد شرقپوری اور حضرت لاہوری
قطب دوراں حضرت میاں شیر محمد شرقپوری اکثر و بیشتر آپ کے درس قرآن میں شرکت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بارہا فرمایا کہ احمد علی اللہ کا نور ہے۔ میں شیرانوالہ کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے فرش زمین سے عرش بریں تک نور کی قندیلیں روشن ہیں اور دنیا کو منور کر رہی ہیں۔ آج سے تقریباً پچاس برس پہلے جب شیخ التفسیر مولانا احمد علی شرقپور تشریف لے گئے تو میاں صاحب نے بصد اصرار آپ کو منبر پر بٹھا دیا اور آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ کر آپ کے امام وقت ہونے کا اعلان کیا۔
(”خدام الدین“ حضرت لاہوری نمبر‘ ص ١٤٦)
کچھ اس طرح وہ ہمیں کر کے بے قرار گیا (مولف)
آغا شورش کے آخری الفاظ
آغا شورش کاشمیری کی رحلت پر ان کی نماز جنازہ کے سلسلہ میں لاہور جانا ہوا۔ آغا صاحب کی رہائش گاہ پر مظفر علی شمسی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میرے سلام عرض کرنے پر بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے صرف آواز ہی پہچان سکے۔ فرمانے لگے:
”بھائی غلام نبی! ادھر میرے پاس بیٹھو۔ میں رات آغا صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ آغا صاحب کی آواز پست ہو چکی تھی۔ مجھے آغا صاحب نے قریب بلایا اور میرے کان میں کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ’ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ’ بے ایمان اور جھوٹا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد جو کوئی دعویٰ نبوت کرے ’ دجال ہے ’ کافر ہے ’ بے ایمان ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ میرا ایمان اور عقیدہ ہے۔ اور پھر اس کے بعد دنیا فانی کو چھوڑ کر مولائے حقیقی سے جاملے“۔
اتنا کہہ کر مولانا شمسی زار و قطار رونے لگے۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ٣٠١ ’ از چودھری غلام نبی)
زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا (مولف)
بنگالی فوجی منگوا لیے گئے
گوجرانوالہ میں مرکزی جامع مسجد (جو جامع مسجد شیرانوالہ باغ کہلاتی ہے) تحریک کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ جلسہ و جلوس بڑی شدت سے ہو رہے تھے۔ پورا شہر ڈکٹیٹر کے کنٹرول
میں تھا۔ انتظامیہ بھی ڈکٹیٹر سے پوچھ کر ہی قدم اٹھاتی تھی۔ ایک روز حکومت نے چال چلی کہ ڈھاکہ سے بنگالی فوجی منگوا لیے جو ہماری زبان نہیں سمجھتے تھے اور ہم ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ ملک بھر میں جو جلوس نکال رہے ہیں یہ ملک کے دشمن اور غدار ہیں اور حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ اس صورت حال نے ہمیں پریشان کیا۔ اس پر ہم نے بنگالی میں پمفلٹ چھاپے اور فوجیوں میں تقسیم کیے جس سے ہمارے خلاف فوجیوں کی نفرت ختم ہو گئی۔
("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ١٥٣-١٥٤‘ از چودھری غلام نبی)
علامہ ”کشمیری“ کی وصیت
میں نے خود حضرت رحمۃ اللہ سے سنا کہ ”جب یہ فتنہ کھڑا ہوا تو چھ ماہ تک مجھے نیند نہیں آئی اور یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دین محمدی (علی صاحب الصلوٰۃ والسلام) کے زوال کا باعث یہ فتنہ نہ بن جائے۔ فرمایا چھ ماہ کے بعد دل مطمئن ہو گیا کہ انشاء اللہ دین باقی رہے گا اور یہ فتنہ مضمحل ہو جائے گا۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی بزرگ اور عالم کو اس فتنہ پر اتنا دردمند نہیں دیکھا جتنا کہ حضرت امام العصر کو۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دل میں ایک زخم ہو گیا ہے جس سے ہر وقت خون ٹپکتا رہتا ہے۔ جب مرزا کا نام لیتے تو فرمایا کرتے تھے ”لعین ابن اللعین قادیاں“ اور آواز میں ایک عجیب درد کی کیفیت محسوس ہوتی۔ فرماتے تھے کہ ”لوگ کہیں گے کہ یہ گالیاں دیتا ہے فرمایا کہ ہم اپنی نسل کے سامنے اپنے اندرونی درد دل کا اظہار کیسے کریں‘ ہم اس طرح قلبی نفرت اور غیظ و غضب کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔ ورنہ محض تردید و تنقید سے لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ تو علمی اختلافات ہیں جو پہلے سے چلے آتے ہیں“ مرض موت میں جب تمام قوتیں جواب دے چکی تھیں اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھے ایک دن (یہ جمعہ کا دن تھا) مسجد میں ڈولی میں لائے گئے اور اپنے شاگردوں اور علماء اور اہل دیوبند کو آخری وصیت فرمائی کہ دین اسلام کی حفاظت کی خاطر اس فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے
لیے پوری کوشش کریں اور فرمایا ”میرے تلامذہ کی تعداد جنہوں نے مجھ سے حدیث پڑھی ہے‘ دو ہزار ہوگی۔۔۔۔۔ ان سب کو میں وصیت کرتا ہوں کہ اس فتنہ کے خلاف پوری جدوجہد کریں“۔
(”خاتم النبیین ﷺ “ ص ٢٤‘ از مولانا انور شاہ کشمیری)
ظفر علی خان۔۔۔۔ زندہ باد
آخر میں مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی نے ارشاد فرمایا: ”مولانا ظفر علی خاں بلاشبہ سیاسی مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی قائد بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ آڑے وقتوں میں نتائج سے بے پروا ہو کر ملت اسلامیہ کی صحیح نمائندگی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ قید وبند اور دیگر مصیبتوں میں بسر ہوا ہے۔ مولانا اور ان کے اخبار نے جو خدمات انجام دی ہیں‘ وہ میرے دل پر نقش ہیں۔ فتنہ قادیان کے استیصال میں مولانا ظفر علی خاں نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے‘ وہ زمانہ حال کے عین مناسب و مطابق ہے۔ اگرچہ ہمارے علماء نے اس فتنہ کی ابتداء سے اب تک قادیانیت کے خلاف جو عظیم الشان کام کیے ہیں‘ وہ بھی قابل قدر ہیں۔ مگر مولانا ظفر علی خاں نے چند سال میں اس فتنہ کی سرکوبی میں جو کامیابی حاصل کی ہے‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ فتنہ اب قیامت بن رہا ہے اور بحث و مناظرہ سے اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا تو انہوں نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ کے دل میں گھر کر گیا۔ اس میں انہیں اتنی کامیابی ہوئی جو علماء کی متفقہ جدوجہد سے نہیں ہوئی۔ وہ مسلمانوں کو راستہ دکھا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ان کی خواہش پر طول و عرض ملک میں ہر جگہ ”دعوت و ارشاد“ کی شاخیں قائم ہوں“ آخر میں ایک قرارداد کے ذریعے مولانا اور ان کے رفقاء کو ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اور یقین دلایا گیا کہ جملہ مسلمان
اس مہم میں آپ کے ساتھ ہیں" (زمیندار " ١٥ مارچ ١٩٣٣ء)
("ظفر علی خان اور ان کا عہد " ص ٤٠١ ' از عنایت اللہ نسیم سوہدروی)
آندھی اگر اٹھی تو ہمیں باد صبا لگی (مولف)
علامہ انور شاہ کشمیری کا اعلان
میں جنت کا ضامن ہوں
حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس دنیا کو الوداع کہنے والے تھے۔ اس کا بھی ایک واقعہ بروایت حضرت علامہ مولانا شمس الحق صاحب افغانی سن لیں۔ حضرت علامہ افغانی رحمتہ اللہ علیہ بھی حضرت علامہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کے اجل شاگردوں میں سے تھے۔ حضرت علامہ افغانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب حضرت کشمیری کا آخری وقت آیا، کمزوری بہت زیادہ تھی۔ چلنے کی طاقت بالکل نہ تھی۔ فرمایا کہ مجھے دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں پہنچائیں۔ اس وقت کاروں کا زمانہ نہ تھا۔ ایک پالکی لائی گئی۔ پالکی میں بٹھا کر حضرت شاہ صاحب کو دارالعلوم کی مسجد میں پہنچایا گیا۔ محراب میں حضرت کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہاں پر بٹھا دیا گیا۔ حضرت کی آواز ضعف کی وجہ سے انتہائی ضعیف اور دھیمی تھی۔ تمام اجل شاگرد حضرت کے ارد گرد ہمہ تن گوش بنے بیٹھے تھے۔ آپ نے صرف دو باتیں فرمائیں۔ پہلی بات تو یہ فرمائی کہ تاریخ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے، اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا خطرناک اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔
دوسری بات یہ فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنی خوشی اس شخص سے ہوگی جو قادیانیت کے استیصال کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوں گے اور پھر آخر
میں جوش میں آکر فرمایا کہ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو لگا دے گا، اس کی جنت کا میں ضامن ہوں۔ (انتہی) سبحان اللہ دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آخری وقت ہے۔ اگر فکر ہے تو اس فتنہ کی۔
("چراغ ہدایت" ص ٤٤ تا ٤٦، از مولانا محمد چراغ۔ تقریظ مولانا منظور احمد چ
اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
محمدؐ کی محبت آن ملت، شان ملت ہے
محمدؐ کی محبت روح ملت جان ملت ہے
محمدؐ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمدؐ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جان اولاد سے پیارا (مولف)
مولوی عبداللہ کا خواب
مولوی صاحب نے اس رات قادیانی کے متعلق دو متقی آدمیوں سے استخارہ کرایا اور خود بھی استخارہ پڑھ کر سو گئے۔
مولوی عبداللہ مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک بلند مکان پر اپنے بھائی مولوی محمد اور خواجہ احسن شاہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دور سے تین آدمی دھوتیاں باندھے آتے دکھائی دیے۔ جب نزدیک پہنچے تو تینوں میں سے جو آگے تھا اس نے دھوتی کھول کر اس کو تہہ بند کی طرح باندھ لیا۔ خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اس وقت خواب سے بیدار ہوئے۔ دل کی پراگندگی یک لخت دور ہوئی اور یقین ہو گیا کہ یہ شخص اسلامی پیرایہ میں مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دوسرے دن خواب کے مطابق قادیانی صاحب دو ہندوؤں کی رفاقت میں لدھیانہ وارد ہوئے۔ دوسرے دو پرہیز گار
آدمیوں نے جو استخارہ کیا تھا‘ ان میں سے ایک نے دیکھا کہ مرزا غلام احمد ایک بے علم آدمی ہے۔ دوسرے نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک برہنہ عورت کو گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ دنیا جمع کرنے کے درپے ہے۔ اسے دین کی طرف اصلاً التفات نہیں۔ (فتاوائے قادریہ مرتبہ مولوی محمد صاحب لدھیانوی‘ مطبوعہ مطبع قیصر ہند‘ لدھیانہ‘ صفحہ ١-٣)
(”رئیس قادیان“ جلد دوم‘ ص ٢‘ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)
شاہ عبدالرحیم سہارنپوری کا فرمان
اس کے بعد شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے فرمایا کہ جو علماء اس کی تردید میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی اسے خارج از اسلام قرار دیں گے۔ (فتاویٰ قادریہ)
(”رئیس قادیان“ جلد دوم‘ ص ١٠‘ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)
حضرت پیر مہر علی شاہ اور مولانا ظفر علی خان
جب بغاوت کے الزام میں حضرو ضلع کیمبل پور میں ایک تقریر کی بنا پر مقدمہ چلانے کا ارادہ کیا تو سید لال شاہ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے استغاثہ کے گواہوں میں پیر صاحب قبلہ کا نام لکھوا دیا۔ لیکن پیر صاحب نے سرکار کی خواہش و اصرار کے باوجود گواہی دینے سے انکار کر دیا اور لعل شاہ سے کہا‘ آپ نے میرا نام دینے کی جرات کیونکر کی۔ ظفر علی خان حضور ختم المرسلین کا شیدائی ہے اور قادیانی کے حصار کو توڑ رہا ہے۔ آپ اسے قید
کرانا چاہتے ہیں۔
("تحریک ختم نبوت" ص ٥٦‘ از شورش کاشمیری)
حضرت پیر مہر علی شاہ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری
سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے پہلی بیعت پیر صاحب قبلہ ہی کے دست مبارک پر کی اور اپنے لیے سحر بیانی کی خواہش و استدعا کی۔ پیر صاحب قبلہ نے آپ کو ایک ورد بتایا جو آپ ہر تقریر سے پہلے زیر لب پڑھتے۔ پھر تقریر شروع کرتے اور مجمع ان کی مٹھی میں ہوتا۔
("تحریک ختم نبوت" ص ٥٦‘ شورش کاشمیری)
حضرت بابو جی گولڑوی
بابو جی سیاسی انسان بالکل ہی نہ تھے۔ ان کا وجود ایک دینی تحریک تھا۔ وہ نگاہ کرتے اور انسان اپنے اندر ایک انقلاب محسوس کرتا۔ وہ بات چیت کے انسان نہ تھے۔ ان کا ختم نبوت کے مسئلہ سے موروثی تعلق تھا۔ اس غرض سے قطعا کسی تحریک، تنظیم یا موتمر میں شامل نہ ہوتے۔ لیکن سفر و حضر میں دعا گو رہتے۔ ١٩٥٣ء کی تحریک میں علماء و صلحاء کی یکجہتی کے لیے لاہور میں مجلس مشاورت کا اجلاس ہوا تو آپ پہلی دفعہ مدعوین کی زبردست خواہش پر تشریف لائے۔ آپ کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری آپ سے کچھ دیر بعد تشریف لائے اور اگلی صف کی ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ کسی نے کہا شاہ جی! وہ ادھر پیچھے حضرت صاحبزادہ محی الدین شاہ گولڑہ شریف فروکش ہیں۔ شاہ صاحب نے پلٹ کر دیکھا۔ فوراً آگے بڑھے۔ آپ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا۔ جھک گئے۔ کہنے لگے حضرت آپ آ گئے، بحمد اللہ ہماری نصرت قریب ہو گئی ہے۔ میرے سامنے اعلیٰ حضرت ہیں۔ ہم تو انہی کا مشن لے کر چل رہے ہیں۔ شاہ جی نے دعا کرائی۔ بابو جی نے دعا کی۔ بابو جی ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر جو بعض فروعی جھمیلوں کے باعث کبھی اکٹھا نہ ہوتے تھے
اس تحریک میں اکٹھے ہو کر قادیانیت سے ٹکرا گئے۔
("تحریک ختم نبوت" ص ٥٨، شورش کاشمیری)
کون کہتا ہے کہ مر جائیں گے ہم
(مولف)
ایک عجیب مہم جوئی
مرزا عبدالغنی لدھیانوی گوجرانوالہ میں مقیم ہیں۔ وہ جماعت کی ”آنکھیں“ بن کر مرزائی جماعت میں شامل ہوئے تو انہوں نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیے کہ پوری جماعت ان کا احسان نہیں چکا سکتی۔ مرزا عبدالغنی لدھیانوی جماعت کے مشورے پر بظاہر مرزائی ہو گئے۔ انہوں نے آنجہانی مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ جس کے بعد وہ ہم سے دور دور رہنے لگے تاکہ ان کی ”جعلی بیعت“ پر حقیقت کا رنگ چڑھا رہے۔ کچھ عرصہ بعد مرزائیوں نے گوجرانوالہ شہر میں اشتہارات لگانے شروع کر دیے۔ مفتی شہر مولانا مفتی عبدالواحد مرحوم نے مجھے مرکزی جامع مسجد میں بلایا اور فرمانے لگے ”احراریو! افسوس ہے، مرزائی مسلمانوں کے خلاف رات کو اشتہارات شہر بھر میں لگاتے ہیں اور تم ہو کہ خاموش بیٹھے ہو“
میں نے عرض کی ”حضرت آپ بتائیے، جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی کریں گے“۔
انہوں نے فرمایا ”میں بس یہ چاہتا ہوں کہ شہر میں مرزائیوں کا اشتہار نہ لگے۔ اگر کوئی بات ہوئی تو اس ذمہ داری کو میں اپنے سر لے لوں گا“۔
میں نے عرض کی ”بس حضرت آپ کی اجازت لینی تھی۔ انشاء اللہ آئندہ شہر میں مرزائیت کے اشتہار نہیں لگیں گے“۔
مرزائیوں کی خدمت
ان دنوں ہم قومی رضاکاروں میں شامل تھے اور ڈمی رائفلوں کے ساتھ پریڈ کیا کرتے تھے۔ اسی رات میں مرزا عبدالغنی سے گھر ملا اور ان سے عرض کی "مرزا صاحب یہ اشتہار جو مرزائی لگارہے ہیں، آئندہ ان کا جو پروگرام ہو، ہمیں پہلے ہی بتا دینا"۔
غالباً دو تین روز بعد وہ چھپتے چھپاتے مجھے ملے اور کہنے لگے ”لو بھائی! تیار ہو جاؤ۔ آج مرزائیوں نے اشتہار لگانے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ہوں گا۔ ذرا دیکھ لینا کہیں میری پٹائی نہ کر دینا"۔
میں نے دوستوں کو اطلاع کر دی۔ رات کو پریڈ کے بعد ڈمی رائفلوں کے ساتھ دفتر مجلس احرار سیالکوٹی دروازہ کے ارد گرد کی دکانوں کے چھجوں میں پوزیشنیں لے کر بیٹھ گئے۔ رات کو بارہ بجے کے قریب تین چار مرزائی اشتہار لے کر دفتر کے پاس پہنچ گئے تو ان میں سے ایک بولا ”لو بھائی آج میدان صاف ہے۔ یہاں کوئی احراری نہیں ہے۔ زیادہ تر اشتہار ان کے دفتر کے دروازہ پر لگا دو"۔
سردی کا موسم، چاندنی رات، اس میں ڈمی رائفلیں اس طرح چمک رہی تھیں، جیسے اصلی ہوں۔ جب وہ اشتہار لگانے کی تیاری کر رہے تھے، ہم نے فوجی انداز میں انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور خوب پٹائی کی۔ اس دوران سلیم صاحب آئے (سلیم صاحب ہمارے احراری دوست تھے) اور پٹائی کے بعد مرزائیوں کو اپنے کارخانے لے گئے اور چائے وغیرہ پلا کر انہیں چھوڑ دیا۔ انہوں نے دوڑ لگا دی۔ سب سے آگے مرزا عبدالغنی دوڑ رہا تھا۔ صبح مرزائی تھانے پہنچ گئے اور انہوں نے سلیم صاحب کا نام لیا کہ ان کے ساتھیوں نے پیٹا ہے۔ اس پر سلیم صاحب کو تھانے بلا لیا گیا۔
چائے پلانے پر مجرم ٹھہرے
تھانیدار نے سلیم صاحب سے پوچھا "تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے انہیں مارا ہے؟"
”سلیم صاحب نے جواب دیا ”جناب میں انہیں بچا کر لے گیا تھا۔ یہ خدا کا شکر ادا
کریں کہ اس وقت دفتر میں کوئی احراری موجود نہ تھا۔ اگر کوئی احراری ہوتا تو یہ زندہ بچ کر نہ آتے۔ میں نے انہیں اپنے کارخانے میں بٹھا کر چائے پلائی۔ مجھے نہیں معلوم کس نے مارا تھا؟ یہ چائے پی کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے"
تھانیدار نے مرزائیوں سے پوچھا "کیا واقعی اس نے تمہیں چائے پلائی تھی؟" مرزائیوں نے جواب دیا "ہاں اس نے چائے پلائی تھی"۔ تھانیدار نے کہا "مارنے والے تو بھاگ گئے تم کسی کا نام نہیں بتا سکتے اور جس نے چائے پلائی اس کو تم نے تھانے بلا لیا ہے" اس طرح یہ کیس خود بخود ختم ہو گیا۔
دوبارہ اشتہار لگانے کی کوشش
چند روز خاموشی اور اطمینان سے گزر گئے۔ پھر مرزا عبد الغنی لدھیانوی ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے "لو بھائی آج رات پھر مرزائیوں نے اشتہار لگانے ہیں۔ اب ان کی تعداد آٹھ ہوگی اور ان میں سے دو کے پاس چھرے بھی ہوں گے۔ ان کے ساتھ میں بھی ہوں گا۔ میرا خاص خیال رکھنا"۔
اس روز میں دوستوں کو ملا اور سلیم صاحب کو بھی پروگرام بتا دیا تو کہنے لگے "بھائی آج ہم نہیں جا سکیں گے۔ میرا نام تو اسی روز سے تھانے میں لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات ہوئی تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال دی جائے گی"۔
اب مایوسی بھی ہوئی اور پریشانی بھی کہ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ یہ بہت برا ہوا۔ مرزا عبد الغنی صاحب تو جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہے ہیں اور ہم ان کا کوئی ساتھ بھی نہ دیں؟ میں نے اللہ کا نام لیا۔ کلہاڑی لے کر گھر سے نکلا اور دفتر کے نیچے آکر کھڑا ہو گیا۔ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ
حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی ان دنوں مجلس احرار گوجرانوالہ کے صدر اور مدرسہ انوار العلوم شیرانوالہ باغ کے مدرس تھے۔ وہ چہل قدمی کرتے ہوئے تشریف لے
آئے۔ میرے پاس آ کھڑے ہوئے اور پوچھنے لگے ”کیا بات ہے تم اس وقت یہاں کیوں کھڑے ہو؟“
میں نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کرنے کے بعد عرض کیا ”مولانا آج کوئی جائے نہ جائے‘ میں اکیلا جاؤں گا“ تو فرمانے لگے ”نہیں بھائی! آپ اکیلے نہیں جائیں گے میں آپ کے ساتھ جاؤں گا“
میں نے عرض کی ”مولانا آپ نہیں جائیں گے۔ آپ جماعت کے صدر ہیں۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی تو مرزائی کہیں گے کہ دیکھو یہ جماعت کا صدر بھی ایسے کام کر رہا ہے“
مولانا فرمانے لگے ”چھوڑو یار! اس وقت میں صدر نہیں ہوں۔ میں ایک رضا کار ہوں“۔
اسی اثناء میں مدرسہ انوار العلوم سے ان کے دو شاگرد بھی آگئے۔ انہوں نے جب ماجرا سنا تو کہنے لگے مولانا ہم بھی ساتھ جائیں گے۔ میں بار بار مولانا سے کہہ رہا تھا کہ آپ نہ جائیں مگر وہ بضد رہے کہ تمہیں اکیلا نہیں جانے دیا جائے گا۔ اس طرح ہم چاروں دفتر سے جڑ محلہ چلے گئے۔ یہاں ہمارا ایک کارکن رمضان عرف بابا جانی پان فروش تھا۔ وہ اس وقت اپنی دکان سمیٹ رہا تھا۔ وہ دکان بند کرنے لگا کہ ہم وہاں پہنچ گئے۔ تو اس نے کہا ”کہاں جارہے ہو‘ کیا بات ہے؟“
میں نے اسے بھی حالات سے آگاہ کیا تو اس نے جلدی جلدی دکان بند کر کے ایک چار فٹ لمبا نصف انچ موٹا سریا لیا اور کہنے لگا کہ میں ساتھ چلوں گا۔ دو اور لڑکوں کو بلا کر ساتھ لے لیا۔ جڑ محلہ کے بعد ہم سب اڈہ گوندلانوالہ پہنچے تو اشتہار لگانے والے مرزائی بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہ اپنے پروگرام کے مطابق اشتہار لگا رہے تھے۔ ہم نے ایک آدمی پیچھے لگا دیا جو اشتہار پھاڑتا جاتا تھا۔ اس طرح وہ اسٹیشن کے قریب پہنچ گئے۔ بابا جانی نے ہمیں پکڑنے کا مشورہ دیا۔ میں نے کہا نہیں ہم انہیں سیالکوٹی دروازہ میں پکڑیں گے۔ جہاں ان کی شامت نہ بن سکے گی“ اس طرح وہ آگے آگے ہم پیچھے پیچھے جارہے تھے۔ جب ہم سیالکوٹی دروازہ کے قریب پہنچے تو میں نے مولانا عبد القیوم ہزاروی سے عرض کیا ”حضرت
یہ اسٹیشن کے قریب اشتہار لگا آئے ہیں۔ وہ تو پھاڑ آئیں“۔ اس طرح میں نے بہانے سے انہیں ادھر بھیج دیا۔ جب مرزائی سیالکوٹی دروازہ کے اندر پہنچے تو میں نے کمبل کے اندر سے کلہاڑی نکال لی۔ ان میں سے ایک نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اسے چاندنی رات میں کلہاڑی نظر آگئی۔ انہوں نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے آپس میں کھسر پھسر کی۔ اس وقت سیالکوٹی گیٹ کے ساتھ گجرات بس اسٹینڈ تھا اور ساتھ ہی مسلم لیگ کا دفتر بھی تھا۔ وہ مرزائی مسلم لیگ کے دفتر کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ میں نے بابا جانی کو کہا ”بابا یہ وقت ہے ان کو یہیں پکڑ لو۔ صبح مسلم لیگ کا ہی نام لگے گا“۔
چھپرے والے مرزائی پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ گئے۔ جو پیچھے تھے ' ان کو ہم نے پکڑ لیا اور سریش (گوند) لگانے والے سٹول کو بابا جانی نے اٹھا کر ایک مرزائی کو دے مارا۔ اس سے اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ دوسرے کو میں نے کلہاڑی ماری۔ اتنی زور کی لگی کہ اگر گردن پر پڑتی تو وہ الگ ہو کر لٹکنے لگتی۔ مگر اس کی گردن پر کلہاڑی کی نوک لگی اور کلہاڑی کا دستہ ٹوٹ گیا۔ میں نے کلہاڑی زمین سے اٹھا کر ہاتھ میں لے لی۔ ہمارے ایک ساتھی نے ایک مرزائی کو زمین پر زور سے پٹخ دیا۔ اس سے اس کا پاخانہ نکل گیا۔ بابا جانی نے مرزا عبدالغنی لدھیانوی کی ران پر زور سے سریا دے مارا۔ چونکہ عبدالغنی نے اپنا منہ ڈھانپا ہوا تھا۔ اس لیے وہ پہچان نہ سکا۔ سنگر مشین کا مالک قد میں عبدالغنی کے برابر تھا۔ ایک رضا کار ادھر لپکا میں اسے عبدالغنی سمجھتے ہوئے بچانے کے لیے دوڑا۔ جب قریب جا کر دیکھا تو مرزائی نکلا۔ میں نے ٹوٹے دستے والی کلہاڑی ہی اسے دے ماری۔ اس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ جب کہ مرزا عبدالغنی لدھیانوی بس اسٹینڈ میں ایک بس کے نیچے چھپ گیا۔ میں نے سب کو آواز دی کہ اپنا اپنا راستہ لو۔ اسی اثناء میں نشاط سینما میں فلم کا شو ٹوٹ گیا۔ ہجوم باہر آیا تو ہم اس میں گھل مل گئے اور گھر کو چلے گئے۔
مولوی عبدالواحد نے مروا دیا ہے
رات مرزائی اکٹھے ہو کر تھانہ آگئے اور تھانیدار سے کہا ”رات ہمارے آدمیوں کو مولوی عبدالواحد نے مروایا ہے۔ ہم ان کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں“۔
تھانہ کے ساتھ ہی مرکزی جامع مسجد ہے۔ تھانیدار حضرت مولانا مفتی عبدالواحد کا بہت احترام کرتا تھا۔ اس نے بڑے احترام سے مولانا کو بلوایا اور کہنے لگا ”مولانا یہ مرزائی آپ کے خلاف شکایت کر رہے ہیں کہ رات ان کے آدمی اشتہار لگا رہے تھے اور آپ نے ان کی پٹائی کروائی ہے“۔
مولانا مفتی مرحوم بہت ہی دلیر اور جرات مند تھے۔ انہوں نے تھانیدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ”یہ تو مجھے پتہ نہیں ان کی پٹائی کرنے والے کون تھے؟ مگر میں آج فیصلہ کر کے جاؤں گا۔ یہ مرزائی رات بارہ ایک بجے مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں پر اشتہار کیوں لگاتے ہیں؟ جب یہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں، یہ ہماری دکانوں اور مکانوں پر اشتہار کیوں لگاتے ہیں؟ ہم نہیں لگانے دیں گے۔ اگر ان میں اتنی جرات ہے تو صبح اشتہار لگائیں۔ پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
تھانیدار مرزائیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ”مولانا کی بات درست ہے۔ وہ اپنے مکان پر اشتہار نہیں لگانے دیتے۔ تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ زبردستی کرتے پھرو؟“
اب مرزائیوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مولانا نے مرزائیوں سے تحریر لکھوائی ”ہم آج سے کسی مسلمان کی دکان اور مکان پر اشتہار نہیں لگائیں گے“ اور یوں مرزائی بے نیل و مرام چلے گئے۔
مرزا عبدالغنی مشکوک ہو گئے
مرزا عبدالغنی لدھیانوی اپنی پٹائی کے متعلق بتاتے ہیں: ”جب سب کی پٹائی ہو گئی تو وہ سارے زخموں سے چور ہو کر مجھ سے پہلے ہی مرکز پہنچ گئے۔ میں چوٹ کی وجہ سے دیر سے پہنچا۔ ان سب کو مجھ پر شبہ تھا کہ یہ شخص ہماری مخبری کرتا ہے۔ کیونکہ جس روز سے یہ شخص آیا ہے، ہماری پٹائی ہو رہی ہے۔ ادھر یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میں پہنچ گیا۔ تو وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان کا سیکرٹری مجھ سے پوچھنے لگا کہ تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے اپنی ران سے کپڑا اٹھا کر اپنا زخم دکھایا اور کہا کہ اتنا بڑا زخم ہے اور یہ
مجھے وہاں چھوڑ کر بھاگ آئے ۔ اگر میں بس کے نیچے نہ چھپتا تو میری لاش ہی یہاں آتی۔ اس طرح انہیں یقین ہو گیا کہ میں (عبدالغنی) بے قصور ہوں۔
ربوہ کے اسرار کھلنے لگے
مرزا عبدالغنی لدھیانوی گوجرانوالہ سے ربوہ چلے گئے اور انہوں نے آنجہانی مرزا محمود سے ملنا جلنا شروع کر دیا اور انہوں نے ربوہ سے مرزائیوں کے ایسے ایسے راز ہم تک پہنچائے کہ جن کے متعلق ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے فوج میں مرزائیوں کی تعداد اور ان کے عہدوں ، فرقان بٹالین اور اس میں مرزائیت کی کثرت اور اس بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر نذیر قادیانی کے متعلق معلومات حاصل کیں اور ریکارڈ حاصل کر کے ہم تک پہنچایا۔ یہ وہی بٹالین ہے جس نے قائد ملت لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش بھی کی تھی۔ جس کے بعد اسے توڑ دیا گیا تھا۔ یہ سب کے سب افسران اور فوجی اسلحہ سمیت ربوہ پہنچ گئے تھے اور انہوں نے ربوہ کو ریاست کی شکل دے رکھی تھی۔
آنجہانی مرزا محمود اور آنجہانی ظفر اللہ کی اہم خط و کتابت
مرزا عبد الغنی لدھیانوی کا سب سے اہم اور سنہری حروف میں لکھا جانے والا کارنامہ یہ تھا کہ آنجہانی سر ظفر اللہ نے امریکہ سے آنجہانی مرزا محمود کو ایک خط لکھا تھا اور اس میں لکھا ہوا تھا:
"حضرت امیر المومنین مرزا محمود (نقل کفر، کفر نباشد ) صاحب سندھ میں زمین خرید کر اپنا مرکز وہاں لے جائیں ۔ کیونکہ پنجاب میں علماء کا ہمارے خلاف پروپیگنڈہ بہت ہے ۔ یہاں ہمارا کامیاب ہونا بہت مشکل ہے ۔ سندھ کے لوگ سادہ لوح ہیں ۔ ان کو آپ اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہو جائیں گے"۔
آنجہانی مرزا محمود نے یہ خط پڑھا اور میز پر رکھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ یہ انتہائی اہم خط تھا۔ مرزا عبدالغنی نے خط اٹھایا اور دوڑ لگا دی ۔ وہاں سے بس پر بیٹھ کر چنیوٹ آگئے ۔ چنیوٹ میں رضا کاروں سے مل کر بتایا کہ میرے پیچھے مرزائی لگے ہوئے ہیں
اور مجھے جان کا خطرہ ہے۔ چنیوٹ کی جماعت نے اپنے رضا کاروں کی حفاظت میں انہیں لاہور پہنچا دیا۔ مرزا عبدالغنی نے خط ماسٹر تاج الدین انصاری تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد مولانا غلام غوث ہزاروی اور ماسٹر تاج الدین انصاری نے مرزا عبدالغنی لدھیانوی کو ہدایت کر دی۔ اب آپ ربوہ قطعاً نہ جائیں۔ اس طرح مرزا عبدالغنی کی جھوٹی بیعت سے جان چھوٹی۔ مرزا عبدالغنی کے اس لائے گئے خط کو بعد میں ”زمیندار“ میں چھپوا دیا گیا۔ جس سے بہت تہلکہ مچا۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ١٣١ تا ١٤٠‘ از چودھری غلام نبی)
حضرت علامہ انور شاہ صاحب کی پریشانی
حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ اس فتنہ کے متعلق اس قدر پریشان تھے کہ بروایت استاذی المکرم حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ‘ حضرت شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ چھ ماہ تک مجھے اس پریشانی کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔ دعائیں اور استخارے کرتا رہا۔ آخر چھ ماہ کے بعد یہ تسلی دی گئی کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے گا۔ حضرت نے اس فتنہ کے استیصال اور خاتمے کے لیے سیاسی‘ فکری اور عملی ہر سطح پر کام شروع کیا۔ ایک طرف راسخ العلم علماء کی ایک جماعت تیار کی جو اس فتنہ کا محاسبہ کریں اور میدان مناظرہ میں ان کا مقابلہ کریں۔ ان میں سرفہرست مناظر اسلام حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری‘ محدث شہیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھی‘ ثم المدنی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم جیسے جید علماء تھے جنہوں نے ملک بھر میں ان کے ساتھ مناظرے کر کے ان کا ناطقہ بند کر دیا۔ دوسری طرف آپ نے مجلس احرار اسلام کی سرپرستی کی اور ان کے روح رواں خطیب الہند حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمتہ اللہ علیہ جیسے آتش بیاں اور شعلہ نوا مقرر کی سرپرستی میں مقررین کی ایک ٹیم کو متوجہ کیا جس میں خطیب اسلام قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری‘ خطیب خوش الحان مولانا گل شیر‘ شیر سرحد مولانا غلام
غوث ہزاروی ، مفکر احرار چودھری افضل حق ، ضیغم احرار شیخ حسام الدین ، مفکر احرار ماسٹر تاج الدین انصاری اور بے باک صحافی مقرر و شاعر آغا شورش کاشمیری ، صاحبزادہ سید فیض الحسن اور مولانا مظہر علی اظہر جیسے شعلہ بیاں مقررین تھے۔
(”چراغ ہدایت“ ص٣٠-٣١‘ از مولانا محمد چراغ)
حضرت امیر شریعت کا جذبہ اخلاص
میں ایک روز حضرت شاہ جی سے ملنے کے لیے قادیان سے امرتسر ان کے مکان پر پہنچا تو وہ بے تابانہ مجھ سے بغلگیر ہوئے۔ فرمانے لگے ہم نے تمہیں خطرناک محاذ پر بھیج رکھا ہے۔ ہم وہاں پہنچ بھی نہیں سکتے کیا کیا جائے۔ پھر فرمانے لگے یار کوئی ٹکرم لڑاؤ مجھے کسی طرح قادیان لے چلو۔ میں نے ادب سے عرض کیا شاہ جی اپنے بس کی بات نہیں ہے۔ کچھ دن خاموش رہنا مناسب ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔ آپ کی دعائیں شامل حال ہیں۔ میں اپنے کو کبھی تنہا محسوس نہیں کرتا۔ اس طرح کافی دیر قادیان کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔ قادیان سے جانب مشرق تقریباً دس میل کے فاصلے پر ایک ہفتہ بعد احرار کی یک روزہ کانفرنس میں حضرت شاہ جی کی تقریر ہونے والی تھی۔ مجھے شاہ جی نے فرمایا اس اجتماع کے موقع پر تم آؤ گے؟ میں نے حاضری کا وعدہ کیا اور واپس قادیان چلا آیا۔ آٹھ میل والی پابندی ختم ہوئی تو مرزائیوں نے پھر واویلا شروع کیا۔ ان کا پراپیگنڈہ یہ تھا کہ جس روز عطاء اللہ شاہ بخاری قادیان میں قدم رکھیں گے ‘ یہاں خوفناک فساد ہو گا۔ مگر حکومت نے اس پراپیگنڈے کا کوئی اثر نہ لیا۔ اب وہ نئی پابندی لگانے میں پس و پیش کر رہی تھی۔ یعنی پابندی کا معاملہ معلق تھا۔
یک روزہ احرار کانفرنس
اعلان کے مطابق قادیان کے نو دس میل جانب مشرق کسی بڑے گاؤں میں مسلمانان علاقہ کا بہت بڑا اجتماع ہوا۔ نماز عشاء کے بعد حضرت امیر شریعت نے ایمان افروز تقریر
کی۔ مجمع خاموشی سے دم سادھے ہمہ تن گوش تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے نور کی بارش ہو رہی ہو۔ حضرت شاہ جی جب لحن داؤدی میں آیات ربانی تلاوت کرتے تو سامعین پر وجد طاری ہو جاتا۔ تہجد کے وقت تک رشد و ہدایت کے دریا بہتے رہے۔ دعا کے بعد اجلاس بخیر و خوبی برخاست ہوا۔ مجھے اسی کمرے میں سونے کے لیے جگہ مل گئی جہاں حضرت شاہ جی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ فجر کی اذان سے تھوڑی دیر قبل میری آنکھ کھلی تو حضرت شاہ جی کو جگایا اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں سورج طلوع ہونے سے قبل بٹالے پہنچ جانا چاہیے۔ آپ ضروریات سے فارغ ہو کر وضو بنا لیں۔ میں ڈرائیور کو جگاتا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ بس کو سٹارٹ کرے۔ ہم نے صبح کی نماز پڑھی۔ میں نے ڈرائیور سے سرگوشیوں میں پروگرام طے کر لیا۔ اگلی سیٹ پر میں اور حضرت شاہ جی بیٹھ گئے۔ پیچھے باقی کارکن بیٹھ گئے۔ بس چلی تو سبھی اونگھنے لگے۔ حضرت شاہ جی مجھ سے باتوں میں مشغول ہو گئے۔ پانچ چھ میل کے فاصلے پر موڑ آگیا۔ ایک راستہ بٹالے کو اور دوسرا قادیان کو جاتا تھا۔ بس قادیان کی سڑک پر ڈال دی گئی۔ میرے اور ڈرائیور کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا کہ بس کدھر جارہی ہے۔ سورج کی شعاعیں پھوٹیں تو ہر شے نظر آنے لگی۔ ریلوے لائن کو جب بس نے کراس کیا تو جھٹکا سا محسوس ہوا اور اونگھنے والے بیدار ہوئے۔ چھڑی گھماتے ایک صاحب خراماں خراماں چلے جا رہے تھے۔ حضرت شاہ جی نے مجھ سے دریافت کیا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں یہ کیسی آبادی ہے ۔۔۔۔۔؟ میں نے عرض کیا یہ صاحب جو چہل قدمی فرما رہے ہیں، ڈاکٹر محمد اسماعیل ہیں۔ مرزا محمود کے ماموں جان اور یہ سامنے دیکھئے منارۃ المسیح اور یہ ہے قادیان۔ اتنے میں ہماری بس قادیان کی بستی میں داخل ہو چکی تھی۔ حضرت شاہ جی کی قادیان میں آمد کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ مسلمان ہندو اور سکھ گھروں سے نکل آئے۔ دوسری طرف مرزائیوں کے ہاں بھی کھلبلی مچ گئی۔ مسلمانوں کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے انہیں کو عید کا چاند نمودار ہو گیا ہو۔ چہل پہل شروع ہو گئی۔ تھانیدار دوڑا دوڑا ہانپتا کانپتا میرے پاس آیا۔ کہنے لگا کیا غضب کیا ہے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں اور شاہ جی بلا اطلاع قادیان پہنچ گئے ہیں۔ ارے بھئی افسران بالا کو ہم کیا جواب دیں گے۔ بیچارہ بوکھلا گیا تھا۔ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کوئی غضب نہیں ہوا۔ بس اک ذرہ سا پروگرام ہے۔ منہ ہاتھ دھو کر
حضرت شاہ جی چائے کی ایک پیالی پی لیں ابھی ایک آدھ گھنٹے میں تشریف لے جائیں گے۔ گھبراؤ نہیں تھانے میں جاکر آرام سے بیٹھو۔ بے چارہ بے وقوف بن کر چلا گیا۔ ایک گھنٹہ بعد پھر آگیا۔ پوچھنے لگا شاہ جی جانے کے لیے تیار ہو گئے؟ میں نے کہا رات بھر کے جاگے ہوئے تھے، سوگئے ہیں۔ ایک گھنٹہ آرام کر لیں گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ زیادہ دیر ٹھہریں گے نہیں۔ چلے جائیں گے۔ تھانیدار چکمہ کھا کر پھر واپس چلا گیا۔ مسلمانوں نے واقعی عید کی سی خوشی منائی۔ ایک بکرا ذبح ہوا، تنور گرم ہو گئے، روٹیاں پکنے لگیں۔ عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ شاہ جی جب دس بجے کے قریب سو کر اٹھے تو تھانیدار صاحب پھر وارد ہوئے۔ مجھ سے دریافت کیا تو میں نے تھانیدار کو بتادیا کہ اب شاہ جی واپس تشریف لے جانے سے قبل غسل فرمائیں گے۔ تب جائیں گے۔ تھانیدار پھر واپس ہو گیا۔ ایک گھنٹے بعد کھانا تیار ہو گیا۔ تھانیدار آیا اور دیکھ کر چلا گیا اسے اطمینان ہو گیا کہ ایسے معزز مہمان کو کھانا کھلائے بغیر کون جانے دیتا ہے۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے اپنے ایک رضا کار کو بلایا اسے کہا کہ ٹین کا کنستر بجا کر قادیان کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو کہ ظہر کی نماز کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مسجد شیشاں میں ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کریں گے۔ اس اعلان سے قادیان میں ہڑبونگ مچ گئی۔ بھاگیو، دوڑیو، لیجیو، پکڑیو، پولیس الگ بھاگی پھرتی تھی۔ مرزائیوں کی سی آئی ڈی الگ پریشان ہو رہی تھی۔
قصر خلافت میں اہم میٹنگ
مجھے نہیں معلوم کہ مرزا محمود کے قصر خلافت میں کیا مشورہ ہوا۔ مگر جو کچھ میرے سامنے آیا، میری آنکھوں نے جو نظارہ دیکھا، اس سے جو نتیجہ اخذ ہو سکتا تھا، وہ یہی تھا کہ حضرت شاہ جی کو تقریر کا موقعہ نہ دیا جائے۔
حضرت شاہ جی کی تاریخی تقریر
اعلان کے فوراً بعد پولیس گارڈ مسجد شیشاں کے موڑ پر پہرا جما کر کھڑی ہو گئی۔ اسے
خیال نہ تھا کہ حضرت شاہ جی بازار کے سیدھے راستے مسجد میں تشریف لائیں گے مگر میں کسی اور فکر میں تھا۔ چنانچہ میں نے حضرت شاہ جی سے عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ آئیں۔ میں آپ کو ایسے راستے سے لے چلوں گا کہ آپ کا جی خوش ہو جائے گا۔ میں انہیں مرزائیوں کے خاص محلے میں سے گزار کر سیدھا قصر خلافت کی جانب لے گیا۔ مرزا محمود کے محل کے پاس سے ایک چھوٹی سی گلی سے نکل کر ہم مسجد شیخاں میں بخیریت پہنچ گئے۔ کس قدر خطرناک راستہ تھا مگر اللہ کا فضل شامل حال تھا۔ کسی شخص کو کوئی شرارت نہ سوجھی اور نہ کسی نے ہم سے تعرض کیا۔
حضرت شاہ جی منبر پر کھڑے ہوئے۔ تقریر سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت شروع کی۔ اتنے میں مرزائی رضاکار جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں، مسجد میں داخل ہوئے۔ قادیان کے ایک جیالے مسلمان نے مرزائیوں کے داخلے پر احتجاج کرنا چاہا مگر حضرت شاہ جی نے اسے ڈانٹ کر خاموش کر دیا اور فرمایا یہ نوجوان ہمارے مہمان ہیں اور یہ خانہ خدا ہے۔ اس میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کے بعد مرزائی نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا آؤ میرے عزیزو آگے آکر بیٹھو۔ ہٹو بھئی ان کو جگہ دو۔ وہ لوگ آ گئے آکر بیٹھ گئے۔ حضرت شاہ جی نے الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی کی آیت درد میں ڈوبی ہوئی آواز سے تلاوت کی اور اس کے بعد مسئلہ ختم نبوت پر مثبت انداز میں تقریر فرمائی۔ تقریر کیا تھی، جادو تھا۔ سحر تھا، پھولوں کی بارش ہو رہی تھی۔ تقریر کا ہر لفظ دل کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا۔ خدا جانے کیا ہوا حاضرین سانس بھی آہستہ لیتے تھے۔ شاہ جی نے اس مسئلے پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔ دوران تقریر وہ دریافت بھی کرتے گئے کہ مسئلہ ٹھیک طرح سے سمجھ میں آگیا ہے۔ سب لوگ مع مرزائیوں کے اقرار کر رہے تھے، جھوم رہے تھے۔ فرط عقیدت سے بعض کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تقریر کے بعد جب شاہ جی نے دعاء کے لیے ہاتھ اٹھائے تو مرزائی نوجوانوں نے ایک دوسرے کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا مگر انہیں بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر آمین کہنا پڑی۔ اپنے عقیدت مندوں کے مجمع میں تقریر کر کے واہ واہ کرالینا کچھ مشکل کام نہیں مگر جو لوگ بدترین مخالف ہوں، جو مخالفت کے ارادے سے آئے ہوں، انہیں وجد
میں لے آنا یہ وصف' یہ ہمت اور حوصلہ خدا نے بخاری کو دے رکھا تھا۔ آہ وہ شیدائے رسول ﷺ وہ پیکر ایثار و محبت اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان ' امیر شریعت نمبر ' حصہ اول ' ص ٩٩ تا ١٠١)
گر ہوسکے تو وقت کی چلن سے جھانک لو (مولف)
کچھ لوگ جیل میں کچھ تخت پر
تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے دنوں میں شاہ جی سندھ کی کسی جیل میں محبوس تھے۔ ایک بہت بڑا سرکاری افسر ملنے کے لیے گیا۔ باتوں باتوں میں کہنے لگا شاہ جی اب اسلامی حکومت ہے۔ پہلے جیل جاتے تھے تو لوگ قدر کرتے تھے اب تو وہ دن نہیں رہے۔ لوگ بھول جائیں گے۔ چھوڑئیے اس قضیہ کو باہر آکر کوئی اور کام کیجئے۔
فرمایا ”ٹھیک ہے بھائی لیکن میں کبھی لوگوں کے لیے جیل نہیں گیا۔ میں تو اسلام اور آزادی کے لیے جیل جاتا رہا ہوں۔ رہا اسلامی حکومت کا سوال تو مجھے تم سے اتفاق ہے مگر یہ نہ بھولو کہ اسلامی حکومتوں میں کچھ لوگ جیل میں رہا کرتے ہیں اور کچھ لوگ تخت پر۔ کچھ گوالیار کے قلعہ میں' کچھ دہلی کے قلعہ میں“۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر ' حصہ اول ' ص ٦١)
مولانا ظفر علی خان کی مرزا قادیانی کی علمیت پر گرفت
اسلامیہ کالج لاہور کے طلبہ نے ڈاکٹر تاثیر کی سرپرستی میں بزم فروغ اردو قائم کر رکھی تھی۔ ایک روز بزم نے آپ کی صدارت میں ادبی مذاکرہ منعقد کیا۔ افتتاحی تقریر کے لیے اٹھے تو اردو کے تمام شاعروں اور ادیبوں کا تذکرہ ایک ہی سانس میں کر ڈالا۔ معاً مرزا غلام احمد کی نظم و نثر کا ذکر لے بیٹھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔”عزیزوا! اردو زبان کی بنیاد اٹھانے میں مذہب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد نے اردو کا چہرہ مسخ کرنے میں زبان و محاورہ اور انشاء و بیان کا جو خون کیا ہے، اس سے پیشتر اور کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ جعفر زٹلی بھی زبان و بیان کے اعتبار سے اس کے مقابلہ میں قادر الکلام تھے۔
(”ظفر علی خاں“ ص ٦٥، از شورش کاشمیری)
میں زندہ جاوید ہوں پائندہ رہوں گا (مولف)
امیر شریعت اور والد صاحب
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری والد گرامی پر بہت مہربان اور مشفق تھے۔ جب کبھی فیصل آباد تشریف لاتے، ہمارے غریب خانہ کو شرف میزبانی بخشتے جو ہمارے لیے وجہ سعادت اور کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ ایک دفعہ شاہ صاحب ہمارے ہاں تشریف لائے۔ گرمیوں کا موسم تھا، رات کے گیارہ بجے کا وقت۔ گھر سے ملحقہ احاطہ میں ان کے آرام کے لیے چارپائی بچھا دی گئی۔ شاہ صاحب نے بلند آواز سے پوچھا ” تاج محمود کھانے کو کچھ ہے؟“ والد صاحب نے کہا کہ شاہ جی کھانا ابھی آ جاتا ہے۔ آپ تھوڑی دیر آرام فرمائیں۔ اس دن گھر میں مسور کی دال پکی ہوئی تھی۔ والدہ نے ابا جان سے کہا میں دال کو تڑکا لگاتی ہوں۔ آپ تنور سے گرم گرم روٹیاں لے آئیں کیونکہ گھر میں آٹا موجود نہیں۔ خدا جانے یہ شاہ جی کا وجدان تھا یا ان کی سماعت کا کمال تھا۔ فوراً جلال بھری آواز دی ”تاج محمود ذرا باہر آئیو۔ پھر پوچھا اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ والد صاحب نے کہا شاہ جی تنور سے روٹی لینے جا رہا ہوں۔ فرمایا نہیں گھر میں جو کچھ ہے، لے آؤ۔ ورنہ میں ابھی یہاں سے چلا جاؤں گا۔ ابا جان نے لاکھ جتن کیے، لیکن شاہ صاحب ان کی کہاں ماننے والے تھے۔ فرمایا مجھے خوب معلوم ہے بچوں والے گھر روٹی کے ٹکڑے ضرور ہوتے ہیں۔ وہی لے آؤ۔ ناچار اور مایوس ہو کر بادل نخواستہ والد صاحب نے بگھاری ہوئی دال اور روٹی کے
ٹکڑوں کے ساتھ کھانا کھلایا۔ نصف صدی تک لوگوں کے دماغ مسخر کرنے اور روحوں میں انقلاب پیدا کرنے والا خطیب بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے کھا رہا تھا جبکہ ان سے لوگوں کی عقیدت اور عشق کا یہ عالم تھا کہ وہ بخاری کی ریزہ خوری میں فخر محسوس کرتے تھے۔ شاہ صاحب کھانا کھا چکے تو اپنے افسردہ میزبان سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے۔ فرمایا ”تاج محمود جو لطف اور مزہ اس دال اور خشک ٹکڑوں میں آیا ہے‘ خدا کی قسم بڑے سے بڑے رئیس کے دستر خوان پر بھی کبھی نہیں آیا“۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ مولانا تاج محمود نمبر‘ ص ٧٦)
یاد بن کے آتی ہے آہ بن کے جاتی ہے (مولف)
حضرت اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری میں موانست
حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ہر وقت ذکر اللہ میں مشغول رہتے۔ جیل میں ہوں یا جیل سے باہر‘ یاد الٰہی کو ہرگز ترک نہ کرتے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ دل میں ذکر اللہ کثرت سے کرتے تھے۔ ان کو تنہائی بہت پسند تھی۔ جیل میں دوسرے لوگ آپ کو خاموش بیٹھے دیکھ کر یہ سمجھتے کہ آپ مغموم و پریشان ہیں اور آپ کو اٹھا کر حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس میں لے آتے۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنے کلام سے اتنا ہنساتے کہ جیل کی تکلیف بالکل بھول جاتی۔
(”مقالات و ارشادات“ ص ٢٦٩‘ از مولانا عبید اللہ انور)
قادیانی رپورٹ
شاہ جی اپنی زندگی کے دو مقاصد بیان کرتے ہیں۔ ایک انگریز حکومت کا خاتمہ اور دوسرا قادیانی تحریک کا انہدام۔ وہ کہتے تھے کہ انگریز تو گیا مگر ابھی قادیانی فرقہ موجود ہے
جس کے خلاف ہم میدان میں آئے ہوئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ شاہ جی آپ کی سرگرمیوں کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ برخوردار ہماری قادیانی مخالف تحریک کا یہ اثر ہوا ہے کہ تمہارے والد قادیانی ہوگئے تو ہوگئے مگر تمہیں ہم نے قادیانی نہیں ہونے دیا۔ نئے قادیانیوں کی نرسری مرجھا گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی کسی غیر قادیانی کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ مگر جب اس تحریک کے زیر اثر نوجوانوں نے ان کی مرمت کی تو مرزا بشیر الدین محمود نے الفضل میں ایک خبر شائع کرائی ہے کہ مرزا غلام احمد کی ایک تحریر مل گئی ہے جس کے مطابق غیر قادیانیوں کے جنازہ میں شرکت کی جاسکتی ہے انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر ایک ضرب اور لگ گئی تو دوسری تحریر برآمد ہو جائے گی کہ مرزا غلام احمد نبی نہیں ہیں۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان ' امیر شریعت نمبر ' حصہ دوم ' ص ٤٠٥)
اس شخص کا عشق
میری دعائیں مجلس احرار اسلام کے ساتھ ہیں۔ میں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن میرا عزم جوان ہے۔ میری رگوں میں اب بھی جوانی کا لہو دوڑ رہا ہے۔ احرار کے سرفروش جوانو! تمہیں دیکھ کر آج میں بہت طاقتور ہو گیا ہوں۔ میں مطمئن ہوں کہ جب تک احرار زندہ ہیں ' مرزائی کامیاب نہیں ہو سکتے اور جب تک احرار باقی ہیں ' نئی نبوت نہیں چلنے دیں گے۔ مسلمانو! متحد ہو کر احرار کی اس دینی جنگ میں شریک ہو جاؤ اور اپنی ایمانی قوت سے انگریزی نبوت کا ٹاٹ لپیٹ دو"۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان ' امیر شریعت نمبر ' حصہ دوم ' ص ٢٩١)
قادیانیت کا ایک تجزیہ
امیر شریعت اکثر فرمایا کرتے کہ نبوت کا صحیح معیار معلوم کرنا ہو تو اس کے خاندان
کے کوائف پر غور کر لینا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ نبوت کے لیے جو گھرانا چنا جاتا ہے‘ وہ بھی انہی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جن سے اس کی امتیازی حیثیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ وہ تملق اور غلامانہ ذہنیت سے بالکل مبرا ہوتا ہے۔ لیکن مرزا صاحب کے خاندانی حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ان کے بزرگوں نے ہمیشہ حکومت وقت کی اطاعت و غلامی میں اپنی زندگیاں بسر کیں۔ عطا محمد‘ مرزا صاحب کے دادا اور ان کے والد گل محمد رام گڑھیا اور کنہیا سکھ جماعتوں سے لڑتے رہے۔ عطا محمد اپنی جائیداد کھو کر سردار فتح سنگھ اہلووالیاں کی پناہ میں بیگووال چلا گیا جہاں بارہ سال تک مقیم رہا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عطا محمد کی وفات پر اس کے بیٹے غلام مرتضیٰ اور مرزا غلام احمد کو واپس بلا کر جدی جاگیر کا بہت حصہ واپس دے دیا۔ جب پنجاب کا انگریزوں سے الحاق ہو گیا تو خاندان کے دوسرے افراد کی جاگیر ضبط کر لی گئی۔ لیکن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو سات سو روپے بطور پنشن ملتے رہے۔
جب انگریز ملک پر مسلط ہو گیا تو مرزا صاحب کے خاندان نے ان سے بھی اطاعت کا رشتہ قائم کر لیا اور ١٨٥٧ء کے دوران نہایت وفادارانہ خدمات انجام دیں۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کیے۔ اس کا بیٹا غلام قادر جو مرزا غلام احمد کا بھائی تھا‘ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھا۔ اس نے ٤٦ نیٹو انفنٹری سیالکوٹ کے باغیوں کو تہہ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن نے غلام قادر کو ایک سند عطا کی جس میں یہ لکھا تھا کہ ”ان کا خاندان“ قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا ہے“ یہ سب واقعات سر لیپل گریفین نے اپنی کتاب رئیسان پنجاب میں لکھے ہیں۔
امیر شریعت ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ میں ان حالات کی روشنی میں کہتا ہوں کہ مرزا صاحب کی نبوت انگریز کی مرہون کرم ہے اور یہ اس کا خود کاشتہ پودا ہے جو مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے کاشت کیا گیا تھا۔ تاکہ ملک کی وحدت فکر پارہ پارہ ہو کر مفلوج ہو جائے۔ اس لیے ہم یہ عزم لے کر اٹھے ہیں کہ ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے لیکن کسی باطل مدعی نبوت کے افکار کو ملک میں نہ پھیلنے دیں گے اور ہم ہر اس حکومت کا مقابلہ کرنے کو بھی تیار رہیں
گی جو مرزائیت کے نظریات کو پھیلانے کی روادار ہو گی۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص٢٠٩)
شاہ جی پھانسی خانہ میں
ایک مرتبہ شاہ جی نے جیل میں پھانسی خانے کو دیکھا۔ آپ نے تختہ دار پر قدم رکھا اور پھر اپنے آپ کو ٹٹولا کہ اگر اس راہ میں پھانسی آجائے تو میں اس پر تیار ہوں یا نہیں تو فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو مطمئن اور تیار پایا۔ (امروز‘ ص٥)
(”شاہ جی کے علمی و تقریری جواہر پارے“ ص٢٢٣‘ از اعجاز احمد سنگھانوی)
قیامتیں سی گزرتیں‘ جہاں گزرتا تھا (مولف)
یادگار چوک میں یادگار خطاب
پشاور کے چوک یادگار میں مفتی سرحد مولانا عبدالقیوم پوپلزئی کی زیر صدارت مسئلہ ختم نبوت کے عنوان پر تقریر کرتے ہوئے امیر شریعت نے فرمایا ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کا جہاں ذکر کیا ہے‘ وہاں ہر نبی کے بعد آنے والے دوسرے نبی کی پہلے اطلاع دے دی۔ چنانچہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتے رہے۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ نبوت‘ خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک آن پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں“۔
اور حضور کے بعد کسی اور نبی نے آنا ہوتا اور یہ سلسلہ نبوت جاری رہنا ہوتا تو
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ اعلان نہ فرماتے کہ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا)
یہ تاجدار مدینہ، رحمت دو عالم، خاتم الانبیاء کی شان اقدس پر انتہائی کمینہ اور گستاخانہ حملہ ہے کہ ایک انگریز کا پروردہ اٹھ کر یہ اعلان کرے کہ قرآن پاک کی وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ (بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ)
("شاہ جی کے علمی جواہر پارے" ص ١٨٦-١٨٧' از اعجاز احمد سکھانوی)
لوگ آواز کی لذت میں گرفتار ملے (مولف)
مولانا محمد علی جالندھری کا عشق رسول
کبھی کبھی تو یہ مقدس تعلق غلبہ حال کی کیفیت طاری کر دیتا اور وہ دیوانگی پر اتر آتے۔ میرے محسن اور بزرگ مولانا طفیل احمد جالندھری نے بتایا کہ ایک بار جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں آپ نے فخر انبیاء ﷺ کے اختیاری فقر و فاقہ اور سادگی کے موضوع پر تقریر کی۔ جب فارغ ہو کر مہمان خانہ میں تشریف لائے تو انہیں شیشہ کے گلاس میں پانی پیش کیا گیا۔ رو پڑے اور فرمانے لگے میرے لیے مٹی کا پیالہ لاؤ۔ آج تو یہ غلام اپنے سردار ﷺ کے طریقہ پر پانی پیے گا۔ قلندر کے ان الفاظ میں کیا جادو تھا کہ تمام حاضرین پر گریہ طاری ہو گیا۔
سر پر کبھی رکھیں، کبھی آنکھوں سے لگائیں
کلمہ طیبہ اور نبی اکرم ﷺ کے گنبد خضراء کی برکت
جن دنوں وہ دسمبر جنوری ١٩٦٩ء میں نشتر ہسپتال ملتان میں مثانہ کی غدود کے آپریشن کے بعد زیر علاج تھے اور راقم ان کی خدمت کی سعادت پا رہا تھا۔ ایک دن مجھے کہنے لگے
”جب ڈاکٹر مجھے آپریشن تھیٹر میں لے گئے تو میری طبیعت سخت گھبرائی اور موت کے ڈر سے میری کیفیت یہ ہو گئی جیسے میرے جسم میں کانٹے چبھو دیے گئے ہوں۔ جب ڈاکٹروں نے مجھے لٹایا تو میں نے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کیا کہ بس اب تو کریم آقا کی حاضری کا وقت آہی گیا۔ معاً میرا خیال نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس اور گنبد خضراء کی طرف چلا گیا۔ اللہ پاک نے وہ محویت عطا فرمائی کہ ڈاکٹروں نے میرا پیٹ چاک کر کے کس کر سی بھی دیا اور مجھے معمولی تکلیف کا احساس ہوا۔ یہ آپ ﷺ کی محبت کی کرشمہ سازی تھی۔
اے گل بہ تو خورسندم
آپ کے صاحبزادے مولانا عزیز الرحمن نے راقم کو بتایا کہ جس دن وہ اس دار فانی سے رخت سفر باندھ رہے تھے اس دن آپ نے جدائی سے تھوڑی دیر پہلے انہیں بلایا اور کہا ”وہ رومال جو میں مدینہ منورہ سے لایا تھا وہ میرے تکیہ پر پھیلا دو تاکہ اسے اپنی آنکھوں سے لگاؤں اور انہیں ٹھنڈا کروں۔ اپنے رخسار اس سے رگڑوں اور سکون حاصل کروں۔ اس رومال میں میرے سردار ﷺ کے مبارک شہر کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ فراق کا وقت ہے پھر یہ وصال نصیب ہو نہ ہو۔
مولانا عزیز الرحمن کہتے ہیں کہ چونکہ ان پر خاص وجدان کی کیفیت طاری تھی میں نے فوراً وہ رومال نکال کر ان کے تکیہ پر پھیلا دیا اور انہوں نے اس پر اپنی آنکھیں بچھا دیں۔
(”ہمیں مردان حق“ ص ١٨٤‘ از مولانا عبد الرشید ارشد)
شور اٹھا کہ محمدؐ کا غلام آتا ہے (مؤلف)
مولانا غلام غوث ہزاروی کی حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
١٩٣٤ء میں مولانا غلام غوث ہزاروی نے نوشہرہ ضلع پشاور میں انگریز کے خود کاشتہ پودے کے خلاف تقریر کی۔ اس پر گرفتار ہو گئے۔ اے ۔ سی نوشہرہ کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ وہ انگریز تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ ملزم کو دیکھتے ہی برا بھلا کہتا تھا۔ اس کا مقصد اس کارروائی سے ملزم کو مرعوب کرنا ہوتا تھا۔ مولانا کو دیکھتے ہی وہ کہنے لگا ”تم بدمعاش ہو‘ ہر جگہ تم فساد کرتا ہے‘ ہم تم کو سیدھا کرے گا“ مولانا بڑے تحمل سے کہنے لگے یہ عدالت ہے۔ قانونی طریقہ یہ کہ وکیل استغاثہ پیش کرتا ہے اور ملزم صفائی بیان کرتا ہے۔ پھر جج طرفین کی بات کو سن کر انصاف سے فیصلہ کرتا ہے مگر یہاں کا نقشہ کچھ اور ہی ہے۔ یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مولانا نے اسی کے لب ولہجہ کی نقل اتارتے ہوئے زوردار آواز میں کہا ”تم بڑا بدمعاش ہو‘ تم ہر جگہ فساد کرتا ہے‘ ہم تم کو سیدھا کردے گا“ اس ناگہانی غیر متوقع جوابدہی سے وہ بدحواس ہو کر کہنے لگا تم کو ایک سال کی سزا دی جاتی ہے۔ مولانا جیل بھیج دیے گئے۔ پشاور کے ایک مشہور وکیل نے مولانا کی طرف سے ایک اپیل دائر کردی کہ اے۔سی نوشہرہ نے عدالتی ضوابط کی تکمیل کے بغیر سزا سنادی ہے جو انصاف کے خلاف ہے۔ ملزم کو صفائی کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ ایک ہفتہ کے بعد مولانا کی جیل سے رہائی ہو گئی۔
(”ہیں مردان حق“ ص ٦٦٤-٦٦٣‘ از مولانا عبد الرشید ارشد)
یہی ہے موقعہ اظہار آؤ سچ بولیں (مولف)
فورٹ سنڈیمن میں کام کی ابتداء
مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے فعال اور مجاہد رہنما جناب فیاض حسن سجاد سٹاف رپورٹر روزنامہ ”جنگ“ کوئٹہ کے والد گرامی ملک محمد حسن فورٹ سنڈیمن میں کاروبار کیا کرتے تھے۔ اوائل ١٩٦٨ء میں فیاض حسن سجاد صاحب اپنے والد گرامی سے ملنے کے لیے فورٹ سنڈیمن گئے تو انہوں نے صوفی محمد علی صاحب کلاتھ مرچنٹ سے مجلس کی ژوب میں شاخ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوفی صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو ژوب میں آنے کی دعوت دی جائے‘ وہ تقریر فرمائیں‘ ذہن سازی ہو پھر مجلس کی شاخ یہاں پر قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔
مولانا محمد علی جالندھری کی فراست ایمانی:
فیاض حسن سجاد صاحب کا کہنا ہے کہ مولانا محمد علی جالندھریؒ جب کوئٹہ تشریف لائے تو میں نے ژوب کے لیے درخواست کی۔ میں درخواست کر کے ابھی فارغ نہ ہوا تھا کہ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فوراً آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ میری عرصہ سے دلی خواہش تھی کہ ژوب میں مجلس کی شاخ قائم ہو۔ آپ ان کو اطلاع کریں‘ فلاں دن ژوب چلیں گے۔ فیاض صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس وقت نہ سمجھ سکا کہ مولانا اتنی جلدی ژوب کے دورہ کے لیے کیوں آمادہ ہو گئے۔ بعد میں آنے والے حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ مولانا کی یہ فراست ایمانی‘ وجدان و مومنانہ کشف تھا کہ ژوب نے ہی آگے چل کر تحریک ختم نبوت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
١١ اگست ١٩٦٩ء:
کو حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ژوب کے لیے کوئٹہ سے سفر کیا۔ فیاض صاحب آپ کے ساتھ تھے۔ ژوب سے ١٤ میل باہر ژوب کے عوام نے مولانا کا والہانہ استقبال کیا۔ استقبال کنندگان نے پٹھان روایات کے مطابق فضا میں فائر کر کے ارتعاش کی کیفیت پیدا کر دی۔ نعرہ تکبیر‘ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد‘ پاکستان زندہ باد‘ اسلام زندہ باد‘ مولانا محمد علی جالندھری زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گرد و نواح کا ماحول جھوم اٹھا۔ موٹر گاڑیوں‘ سکوٹروں‘ جیپوں‘ بسوں‘ ٹرکوں کے جلوس میں آپ ژوب تشریف لائے۔ مرکزی جامع مسجد میں آپ نے خطاب فرمایا۔ ١١ اگست ١٩٦٩ء بروز پیر بعد از عشاء صوفی محمد علی کی صدارت میں ختم نبوت ژوب کے زیر اہتمام پہلے تبلیغی جلسہ ختم نبوت سے مولانا محمد علی جالندھری نے خطاب فرمایا۔ فیاض حسن سجاد نے اپنی نو عمری کے باوجود قراردادیں اور ان پر مختصر تقریر کی۔ جناب الحاج شیخ محمد عمر صاحب کو مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کا امیر اور الحاج صوفی محمد علی صاحب کو ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد ہر سال یہاں پر کانفرنس منعقد ہوتی رہی۔ مولانا لال حسین اختر‘ مولانا محمد شریف بہاولپوری‘ مولانا محمد حیات‘ مولانا محمد شریف جالندھری اور دوسرے بزرگ تشریف لا کر اہالیان ژوب کے قلب و جگر کو منور کرتے رہے۔ یہاں پر مجلس کا دفتر بھی قائم ہو گیا۔ سالانہ کانفرنس کے علاوہ گاہے بگاہے مبلغین حضرات دورہ کے لیے تشریف لاتے رہے‘ ١٩٧٢ء میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی وفات کے بعد مولانا لال حسین اخترؒ کو مجلس کا مرکزی امیر منتخب کیا گیا تو آپ ١٩٧٢ء میں ژوب تشریف لائے۔ آپ کے خطاب نے کفر و اسلام مرزائیت و مسلمانوں میں حد تمیز قائم کر دی۔ آپ کا یہ خطاب بہت ہی زیادہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔
حق و باطل کا پہلا معرکہ :
١٩٧٣ء میں مرزائیوں نے ربوہ کے چھپے ہوئے قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخے ژوب میں تقسیم کیے۔ ان کی اس سازش کی اطلاع ملتے ہی صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے نو
روز ہزاروی نامی ایک شخص سے یہ تحریف شدہ نسخہ قیمتا حاصل کیا۔ دوسرا نسخہ سکندر شاہ پی۔این۔ڈی۔آر ٹریکٹر ڈرائیور سے حاصل کیا۔ اس وقت ژوب میں قادیانیوں کے تقریبا ساٹھ گھرانے آباد تھے۔ مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے باعث ان کی فرعونیت اپنے عروج پر تھی۔ وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دن رات مرزائیت کی تبلیغ میں مصروف رہتے۔ ان قرآن مجید کے محرف و مبدل نسخوں پر علماء کرام کی میٹنگ میں غور و فکر کیا گیا۔ اس میٹنگ میں مولانا محمد شاہ، مولانا میرک شاہ، مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد زاہد، مولانا عبدالرحمن، مجاہد ختم نبوت مولانا شمس الدین شہید، اور حافظ عبدالغفور نے شرکت کی۔ علماء کرام نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں تحریف و تبدیلی کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی سازش کی گئی ہے۔ ان کی اس جابرانہ سازش و شرارت کے خلاف احتجاجی جلسہ کا فیصلہ کیا گیا۔
چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے ناظم اعلی صوفی محمد علی نے جیپ پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے شہر میں احتجاجی جلسہ عام کا اعلان کیا۔ ١٣ جولائی ٧٣ء ظریف شہید پارک میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ کی صدارت شیخ محمد عمر صاحب نے کی۔ حاضرین کی تعداد تیس چالیس ہزار سے متجاوز تھی۔ علماء کرام کی ایمان پرور تقریروں نے عوام میں جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ مقررین نے غازی علم الدین اور دوسرے عاشقان رسالتمآبؐ کے مجاہدانہ کارنامے سنائے تو عوام بھڑک اٹھے۔ جلسہ کے بعد جلوس نکالا گیا، شہر میں ہڑتال ہوگئی پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ رزاق نامی بہائی کی دکان کھلی دیکھ کر مظاہرین نے اس پر پتھراؤ کیا۔ رزاق زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔
جلوس شہر کے مختلف راستوں سے گزر کر ڈی۔سی۔ آفس گیا اور بالاتفاق ایک ہی مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو ہمیشہ کے لیے فورٹ سنڈیمن (ژوب) سے نکال دیا جائے۔ اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ احتجاجی جلوس، ہڑتال اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرزائیوں کو فورٹ سنڈیمن ضلع سے ہمیشہ کے لیے نکالنے کا وعدہ کر لیا۔ مگر عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بالاتفاق کہہ دیا کہ جب تک اس وعدہ پر عمل درآمد نہیں ہوتا، ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہمیشہ کے لیے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا:
بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا مرزا بشیر الدین محمود نے ١٩٤٨ء میں اپنی جماعت کو مژدہ سنایا۔ مگر آج ١٦ جولائی ٧٣ء کو چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ وہی صوبہ جس کی طرف مرزائی للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، آج اس کے اہم ضلع ژوب سے ہمیشہ کے لیے مرزائیوں کو وفاقی فورس نے نکال دیا۔ چنانچہ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد ضلع ہے جہاں حکماً مرزائیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا اور یوں مرزائی نحوست کو اس ضلع سے دیس نکالا دے دیا گیا۔ ژوب کے عوام، مجلس کے کارکن، تمام علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا شمس الدین شہید جو ان دنوں بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے اس عظیم معرکہ کو سر کرنے کا سہرا ان کے سر ہے۔ ان دنوں ژوب کے ڈپٹی کمشنر فقیر محمد صاحب بلوچ تھے جو آج کل صوبائی حکومت کے چیف سیکرٹری ہیں۔
تحریک ختم نبوت کے کارکنوں و رہنماؤں کی گرفتاری:
یہاں رزاق کے مرنے کی وجہ سے تحریک ختم نبوت کے ٣٤ کارکنوں و رہنماؤں کو تھانہ میں بند کر دیا گیا۔ شیخ محمد خان انسپکٹر پولیس نے گفتگو کے لیے بلایا اور دھوکہ سے بند کر دیا۔ ان دنوں بلوچستان کے گورنر اکبر بگٹی تھے اور چیف سیکرٹری ایس بی اعوان مرزائی تھے۔ وہ فورٹ سنڈیمن سے مرزائیوں کے اخراج پر سیخ پا تھے مگر عوام کے جوش و خروش کے سامنے دم مارنے کی ان کو ہمت نہ تھی۔
چنانچہ بھائی رزاق کے قتل کے جرم میں ٣٤ آدمی تھانہ میں بند کر دیے گئے۔ صبح سویرے مولانا شمس الدین ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی اور حافظ نور الحق صاحب بھی تھانہ میں قیدیوں کے ہمراہ شامل ہو گئے۔
ادھر شہر میں جس وقت مرزائیوں کو نکالا جا رہا تھا تو غازی عبدالرحمن بنگش زرگر نے پستول سے فائر کر کے ایک قادیانی اللہ یار کو زخمی کر دیا۔ چنانچہ غازی عبدالرحمن کو بھی گرفتار کر کے حوالات میں قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ وفاقی فورس ان قیدیوں کی
نگرانی کے لیے تعینات کر دی گئی۔ وہ ان قیدیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنا چاہتے تھے۔ مگر تمام قیدیوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ وفاقی فورس پر گورنر بگٹی بڑے برہم ہوئے اور تشدد کا حکم دے دیا، ایس بی اعوان بھی یہی چاہتے تھے۔
حکم ماننے سے انکار کر دیا
مگر وفاقی فورس جس میں سرحد کے پٹھان تھے انہوں نے ختم نبوت تحریک کے کارکنوں پر تشدد کرنے اور گولیاں چلانے سے انکار کر دیا۔
ژوب کی سرزمین سراپا احتجاج بن گئی
قیدیوں کے چلے جانے کے بعد جب اہالیان ژوب کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ حکومت نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے شہر میں مکمل ہڑتال کر دی۔ پہیہ جام ہڑتال‘ یہ صورت حال آٹھ دن تک جاری رہی۔ مغرب کے قریب ایک آدھ دکان کھلتی لوگ خورد و نوش کا سامان لے لیتے۔ دن بھر مکمل بازار سنسان ہو کا عالم چار سو ویرانہ۔ حکومت اس صورت حال سے سخت پریشان ہو گئی۔ جناب عبدالرحیم صاحب ایڈووکیٹ اور جناب صالح محمد خان کو مجلس عمل کی سربراہی سونپی گئی۔ ژوب روڈ بلاک کر دیا گیا۔ شیریں روڈ‘ وزیرستان روڈ‘ دانا سر روڈ‘ رواگنی روڈ سب بند کر دیے گئے۔ ملٹری وغیرہ یا حکومت کی کوئی گاڑی اگر ایمرجنسی جانا ہوتا تو مجلس عمل سے اجازت نامہ لے کر چل سکتے تھے۔ ورنہ نہیں‘ گویا حکومت و انتظامیہ عملاً معطل اور مجلس عمل کا چار سو غلغلہ بلند ہو رہا تھا۔ جس دن قیدیوں کو کوئٹہ لے جایا گیا اسی رات مجلس عمل کے زیر اہتمام ژوب میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔ سخت احتجاج کیا گیا اور قیدیوں کو بلا مشروط رہائی تک ہڑتال و احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ جلسہ کے نتیجے میں رات مولانا شمس الدین شہید کو گرفتار کر لیا گیا۔
مولانا شمس الدین کی گرفتاری
اسی رات کو چار بجے کے وقت وفاقی پولیس نے مولانا شمس الدین کے گھر پر گھیرا ڈال دیا۔ مولانا شمس الدین کو گھر سے نکل آنے کا حکم دیا۔ مولانا شمس الدین کی بہنوں نے آپ کی پگڑی اور چپل کو چھپا دیا کہ ہم آپ کو نہیں جانے دیں گی۔ اس پر مولانا شمس الدین نے کہا کہ خدا کے لیے شرم کی بات ہے ‘ ہماری پگڑی اور چپل دے دو۔ اسی وقت انہوں اپنی بہنوں اور اہلیہ سے کہا کہ یہ میرا سینہ گولی کے لیے بنا ہوا ہے۔ شہادت کا رتبہ مل کر مجھے بڑی خوشی ہوگی۔ گھر میں سب نے رونا دھونا شروع کیا۔ آپ نے سب کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ مرنا تو ایک دن ہے ‘ روز روز کیا مرنا۔
اس سے قبل جب مولانا شمس الدین دفعہ ١٤٤ کو توڑ رہے تھے تو اس وقت بھی گھر میں والدہ نے ایک بیل منت مانی۔ والد مولوی زاہد صاحب نے دو دنبوں کی منت مانی۔ بہنوں نے نفلیں مانیں اور جب وہ سرخ لکیروں کو پار کر گئے تو سب نے چین کا سانس لیا۔ مولانا شمس الدین پہلے سے ہی اپنی بہنوں سے کہہ چکے تھے کہ اگر ختم نبوت کے لیے شہید ہو جاؤں تو مجھے مبارک باد دینا۔
جب مولانا شمس الدین کو گرفتار کر کے لے جایا جا رہا تھا تو ان سب نے اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں وغیرہ لیں اور انہیں کپڑوں سے چھپا لیا۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ رائفل ہیں۔ مورچے سنبھال لیے۔ ملیشیا والے سمجھ گئے کہ بندوق ہیں۔ چنانچہ قبیلہ والوں نے کہا کہ آپ مولانا شمس الدین کو ہماری عورتوں سے بھی نہیں لے جاسکتے ہیں ‘ ہم تو مرد ہیں۔ ملیشیا والے رک گئے اور انہیں بتایا کہ مولوی صاحب کو واپس شغالہ پوسٹ پر لے جاؤ۔ چنانچہ اسے واپس شغالہ پوسٹ پہنچا دیا گیا اور حکومت کو اطلاع کر دی۔ کہ ہم لوگ مولوی شمس الدین صاحب کو باہر نہیں لے جاسکتے ہیں۔ پھر حکومت نے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کیا۔ ہیلی کاپٹر میں شغالہ سے مولانا شمس الدین کو سوار کر کے سیدھا میوند پہنچایا گیا۔ میوند میں دس پندرہ پوسٹ میں انہیں پھرایا گیا۔ احتجاجی ہڑتال چار سو عالمگیر تحریک کے حالات میں گورنر بگٹی اور ایس ۔ بی اعوان مجبور ہوگئے اور انہوں نے سبی میں موجود قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ سوائے غازی عبدالرحمن زرگر کے ‘
چنانچہ تحصیلدار محمد جان مندوخیل‘ مولوی محمد خان شیرانی‘ حاجی شیخ عمر‘ صوفی محمد علی وغیرہ نے فیصلہ کرایا کہ ہم لوگ عبدالرحمن کے بغیر نہیں جائیں گے عبدالرحمن کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا جائے تب ہم جائیں گے۔
قیدیوں کا مطالبہ مان لیا گیا
٢٤ جولائی ١٩٧٤ء کو دن کے تقریبا ایک بجے پولیس کی بند گاڑی میں بٹھا کر سبی سے سب قیدیوں کو روانہ کیا گیا۔ عبدالرحمن زرگر کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا۔ عصر کے وقت کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ سے ١٥ میل کے فاصلے پر جمعیت علماء اسلام کے نمائندے عبدالمنان کاکڑ بازئی نے کچلاک میں ٣٢ آدمیوں کے کھانے کا بندوبست ہوٹل میں کیا۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔ رات بھر سفر کیا قلعہ سیف اللہ جب پہنچے تو وہاں پر خوب بارش ہوئی۔ کچھ دیر کے لیے وہاں پر ٹھہرے۔ قلعہ سیف اللہ ہی میں کوئٹہ والے سات آدمی بھی پہنچ گئے۔ صبح تقریبا نو بجے ژوب پہنچ گئے۔
رہائی
ژوب میں تمام قیدیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے ان قیدیوں اور ختم نبوت کے دیگر پروانوں کو بڑی پر تکلف دعوت دی۔ قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد تمام قیدیوں نے مولانا شمس الدین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ظریف شہید پارک میں خیمہ گاڑ کر شہریوں نے بھوک ہڑتال کی۔ یہ ہڑتال مولانا شمس الدین کی رہائی کے واسطے کی گئی۔ ١٥‘ ١٦ دن کے بعد ڈی۔ سی۔ مسٹر اعوان نے ان کی رہائی کا مطالبہ منظور کر لیا اور انہیں کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ کوئٹہ سے آنے پر ژوب سے ایک میل کے فاصلے پر تمام شہر والوں نے مولانا شمس الدین کا استقبال کیا وہ منظر قابل دید تھا پورا ماحول ختم نبوت زندہ باد کی فضاؤں سے گونج رہا تھا۔
جلسہ عام
دوسرے دن جامع مسجد میں جلسہ عام ہوا۔ مولانا شمس الدین نے اپنے تاثرات بیان کیے اور بھٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا۔ بھٹو نے مولانا شمس الدین سے کہا تھا کہ ہم بینک کا چیک آپ کے ہاتھ میں دے دیں گے، آپ جتنی رقم چاہیں لے لیں۔ مگر مولانا شمس الدین نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور صاف صاف بتا دیا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کے ہاتھ فروخت ہو جائے پھر وہ کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہیں ہو سکتا۔ یہ سننے کے بعد بھٹو صاحب نے اسی وقت آپ سے کہا تھا۔ کہ ملا پھر گولی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مولانا شمس الدین حج پر گئے۔ حج سے واپسی پر سیدھے خانپور گئے اور مولانا درخواستی صاحب سے ملاقات کی۔ درخواستی صاحب نے بتایا کہ مولوی شمس الدین کو دیکھ کر میں نے اسی وقت، محسوس کر لیا کہ یہ آدمی بکنے والا نہیں ہے، ضرور شہید ہوگا۔ وہاں سے پھر مولانا شمس الدین کوئٹہ آئے۔
مولانا شمس الدین کی شہادت
کوئٹہ سے ژوب آتے ہوئے بلکنی کے مقام پر مولانا شمس الدین مردہ پائے گئے۔ ملک گل حسن کے پٹرول کی گاڑی اس وقت وہاں سے گزر رہی تھی۔ انہوں نے ژوب اطلاع کر دی کہ مولوی صاحب موٹر میں مردہ پڑے ہیں، کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے، لوگ وہاں گئے اور انہیں ژوب لے آئے۔ یوں بھٹو حکومت کی شرارت پر ١٣ مارچ ١٩٧٤ء کو ہزاروں اشکبار آنکھوں نے انہیں رخصت کیا۔ انہیں دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پھولوں کی بارش ہوئی۔ ان کے خون سے عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔
صوبہ بلوچستان کے تمام قبائلی معتبرین نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ چالیس دن بعد ذیلی انتخابات ہوئے۔ جمیعت نے مولانا شمس الدین کے والد مولوی زاہد کو انتخاب لڑنے کے لیے کھڑا کیا۔ ان کے مقابلے میں نواب تیمور شاہ حکومت کی جانب سے مقابلہ لڑ رہے تھے۔ اس انتخاب میں حکومت نے دھاندلی سے کام لیا۔ ژوب میں
ایک پولنگ سٹیشن زنانہ ہسپتال میں علماء کو نتیجہ دینے سے انکار کر دیا۔ شیخ محمد عمر اور دیگر علماء نے ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی کو ١٤ نمبر فارم پر نتیجہ لانے کے لیے بھیجا۔ اس وقت الیکشن کمشنر محمد علی درانی تھے۔ وہ بھی اس زنانہ ہسپتال میں موجود تھے۔ ڈی۔ایس۔پی چوہدری جو کہ بہت موٹا آدمی تھا۔ صوفی محمد علی نے ان سے کہا کہ موٹا تو اتنا ہو گیا ہے، مگر ایمان ذرہ بھر نہیں ہے، نتیجہ کیوں نہیں دے رہے ہو۔ اس کے بعد صوفی محمد علی الیکشن کمشنر محمد علی درانی سے ملا اور انہیں بھی فوراً نتیجہ دینے کو کہا سختی سے وہ ڈر گیا۔ صوفی محمد علی کے ہاتھ میں چونکہ پستول تھا اس لیے وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ جمعیت کے تمام کارکن ہزاروں کی تعداد میں اسٹیشن کے باہر کھڑے تھے۔ تب محمد علی درانی نے نتیجہ دینے کا حکم دیا۔ سلیمہ سیٹھی سے انہوں نے نتیجہ وصول کیا (جو کہ پریزائیڈنگ آفیسر تھیں) اس وقت بھی نتیجہ فارم پر نہیں تھا بلکہ کاغذ پر تھا۔ باہر جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ نتیجہ صحیح ١٤ نمبر فارم پر نہیں ہے تو انہوں نے واپس صوفی محمد علی کو بھیج دیا۔ صوفی محمد علی نے پھر الیکشن کمشنر سے صحیح نتیجہ دینے کے لیے کہا اور ساتھ ہی انہیں خوب لتاڑا۔ اس کے بعد ١٤ نمبر فارم پر صحیح نتیجہ دے دیا گیا۔ چونکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر کھڑے تھے۔ صوفی محمد علی نے ان سب سے مخاطب ہو کر کہا کہ صحیح نتیجہ دے دیا ہے، پھاٹک کھول دو اور چلے جاؤ۔ یہ سن کر لوگ خوش ہوئے اور چلے گئے۔ بھٹو حکومت نے دھاندلی سے کام لے کر نواب تیمور شاہ کو کامیاب کر لیا۔
ژوب میں دوسرا معرکہ
٢٩ مئی ٧٤ء کو ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے مسلمان طلبہ کو مارا جس کے نتیجے میں تحریک چل پڑی۔ ١٤ جولائی ١٩٧٤ء کو بھٹو ژوب تشریف لائے۔ چلڈرن پارک میں انہوں نے جلسہ عام کرنا تھا۔ ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے ختم نبوت کے مطالبات پر مبنی پوسٹر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے اور کوئٹہ سے منگوائے اور تمام پارٹیوں کے ان مطالبات پر بالاتفاق دستخط کرائے اور پوسٹرز کو نائب امیر محمد عمر عبداللہ زئی کے حوالہ کر دیا۔ بھٹو کے ژوب میں آنے پر سب لوگوں میں یہ بینرز بانٹ دیے
گئے ۔ جلسہ کے وقت بطور حفاظت ملیشیا کے ٦٠ گھوڑے تعینات کیے گئے، ملٹری بھی تھی ۔ بھٹو صاحب جب سٹیج پر تشریف لائے تو ختم نبوت کے اراکین نے ان سے صاف صاف کہہ دیا کہ بھٹو صاحب آپ مرزائیوں کے ایجنٹ ہیں، آپ ہی مولوی شمس الدین کے قاتل ہیں ۔ اب آپ پھر ژوب آئے ہیں اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں ۔ بھٹو صاحب چلا چلا کر کہنے لگے ، بیٹھو بھائی، سنو بھائی ۔
اس کے بعد بھٹو صاحب پر ٹماٹروں ، پیازوں اور انڈوں کی بوچھاڑ کر دی گئی جس کے نتیجہ میں جلسہ منتشر ہوا ۔ جام غلام قادر کٹورئی ایک طرف بھاگ رہے تھے ۔ نواب تیمور شاہ اور پولیٹیکل ایجنٹ نے بھٹو صاحب سے گولی چلانے کو کہا مگر بھٹو صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔ سب نے بھاگنا شروع کر دیا ۔ پولیٹیکل ایجنٹ محبت خان ایک طرف کو بھاگ رہے تھے ۔ تو باقی لوگ دوسری جانب کو بھاگ رہے تھے ۔ یوں بھٹو صاحب جلسہ نہ کر سکے ۔ تمام وزراء کسی نہ کسی طرح جان چھڑا کر چلے گئے ۔ جب جلسہ ختم ہوا تو نائب امیر ختم نبوت محمد عمر کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بھٹو صاحب نے رات وہیں ژوب میں بسر کی ۔ اس رات بھٹو صاحب نے غصہ میں تمام وزراء ، پولیٹیکل ایجنٹ ، پیپلز پارٹی کے اہلکاروں سے کہا کہ تم لوگوں نے مجھے اس بے عزتی کے لیے بلایا تھا ۔ جب صبح ہوئی تو بھٹو صاحب جہاز میں بیٹھ کر ژوب سے روانہ ہوئے ۔ سب سے پہلے شغالہ گئے ۔ اس کے بعد قمرالدین ۔ وہاں پر سب ملکوں کو بلا کر ان میں خوب رقم بانٹ دی ۔ وہاں ہی سے پھر بھٹو صاحب مسلم باغ گئے ۔ مسلم باغ میں بھی خوب رقم تقسیم کی مگر وہ حالات سے اس حد تک پریشان تھے کہ کوئٹہ کے جلسہ میں جا کر ٧ ستمبر ٧٤ء کی مرزائیوں کے فیصلہ کے لیے تاریخ مقرر کر دی ورنہ پہلے وہ تاریخ مقرر نہ کر رہے تھے ۔
یوں اہالیان ژوب نے ٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کیا ۔ ان حالات میں ٢٥ جولائی کو ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے کوئٹہ اور ملتان ختم نبوت کے تمام علماء کو تار دیا (جو کانفرنس کرنے کے لیے ژوب آنے والے تھے) ان حالات میں کانفرنس ملتوی کر دی گئی ۔ کیونکہ منتظمین کا کوئی اعتبار نہیں تھا ۔ کسی بھی وقت وہ گرفتار ہو سکتے تھے ۔
حاجی محمد یٰسین مندوخیل کو بھی گرفتار کیا ۔ وہ چونکہ بیمار تھا اس لیے اٹھائیس دن
تک ہسپتال میں رکھا۔ اسی دوران امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے صوفی محمد علی سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دے دوں گا تاکہ پولیس آپ کو گرفتار نہ کر سکے۔ مگر صوفی محمد علی نے پناہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ حاجی صاحب مجھے انہوں نے چھوڑنا نہیں ہے کیونکہ میں نے جلسہ خراب کیا ہے' اس لیے میں چھپنا نہیں چاہتا۔
گرفتاریاں
٢٥ جولائی ہی کو صوفی محمد علی حاجی احمد کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس شیخ عبدالمجید تھانیدار آیا۔ انہیں گرفتار کر کے تھانے میں الگ کمرے میں بند کر دیا۔ ان کے علاوہ جتنے بھی علماء کرام نظر آئے ان سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ مسجد میں نماز پڑھانے والا بھی کوئی نہ رہا۔ ملا خانول تین دن تک چھپا ہوا تھا۔ تیسرے دن جب مسجد آیا تو مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
مولوی نور محمد کو منی بازار لیویز بھیج کر بلایا گیا۔ مولانا شمس الدین کے چچا زاد بھائی مولوی احمد شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا میرک شاہ صاحب' حافظ علیم الدین موسیٰ خیل' ملا اسحاق' اور جمعیت علماء اسلام کے اراکین کی بڑی تعداد میں گرفتاری عمل میں آئی۔ صوفی محمد علی کو الگ کمرہ میں رکھا گیا۔ انہیں سونے کے لیے بسترہ تک نہیں دیا۔
طالب نامی پولیس مین (جو کہ لورالائی کا رہنے والا تھا) نے قیدیوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ تم سب لوگ بے ایمان ہو۔ قیدیوں نے گیارہ دن تھانے میں گزارے۔ اس کے بعد انہیں سب جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب یہ قیدی جیل چلے گئے تو طالب پولیس والا بیمار پڑ گیا' اس کی نکسیر پھوٹ گئی اور مرغا کنزئی (ژوب سے ٥٥ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں) میں مر گیا۔ پھر اسے گھر پہنچا دیا گیا۔
اسمبلی میں بحث
بھٹو صاحب نے چمن سے واپس اسلام آباد اسمبلی میں مرزائیوں کا کیس پیش کر دیا۔ چنانچہ مرزا ناصر کو اسلام آباد میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا۔ وہاں
پر چودہ دن تک بحث و مباحثہ ہوا۔ جس میں کتابیں مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب پیش کرتے تھے اور پیرزادہ وزیر تعلیم کو یہ بتایا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ ”جو مرزا غلام محمد کو نبی نہیں مانتے وہ کنجری اور جنگلی سوروں کی اولاد ہیں“ یہ سن کر پیر زادہ نے کہا کہ مرزائی تو پکے بے ایمان ہیں۔
مفتی محمود صاحب نے بھٹو صاحب کو صاف صاف بتلایا کہ یہ ١٩٥٣ء کی بات نہیں ہے۔ جس میں ختم نبوت والوں پر گولیاں چلائی گئیں اور انہیں شہید کر دیا گیا۔ قوم میں اشتعال ہے کہ یہاں پر نہ تم رہ سکتے ہو نہ یہ قوم۔ اگر آپ نے مرزائیوں کو کافر قرار دے دیا تو آپ بھی بچ جائیں گے اور یہ قوم بھی‘ بھٹو نے انہیں بتایا کہ میں کیا کروں‘ مجھے ڈر سا محسوس ہوتا ہے۔ بعد میں فوج کو تمام جگہوں پر تعینات کر دیا گیا۔
٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو دن کے ساڑھے بارہ بجے ٣١ دن جیل میں رہنے کے بعد تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔
نائب امیر ماسٹر محمد عمر عبداللہ زئی ڈیڑھ سال جیل میں رہنے کے بعد رہا کر دیے گئے۔
اسی رات کو ٨ بجے مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ یوں مرزائیوں کا بیڑہ تباہ ہو گیا۔ ملک بھر میں خوشی ہوئی۔ اسی خوشی میں ژوب میں مدرسہ شمس العلوم میں خیرات کی گئی۔ یہ خیرات ختم نبوت کے اراکین نے کی جس کے انچارج حاجی شیخ محمد عمر تھے۔ صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے کھانا کھلایا۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کی کہانی مولانا
تاج محمودؒ کی زبانی
٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر آہنی سلاخوں، لوہے کی تاروں کے بنائے ہوئے کوڑوں، آہنی پنچوں سے حملہ کیا گیا۔ ان کو خوب مارا پیٹا، زخمی کیا گیا۔ ایک ہفتہ پہلے یہ لڑکے تفریحی سفر پر پشاور کے لیے جاتے ہوئے چناب ایکسپریس سے ربوہ اسٹیشن پر اتر کر اپنے کلاس فیلو قادیانی طلباء سے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ قادیانیوں کا اس زمانہ میں معمول تھا کہ وہ ربوہ سے تمام گزرنے والی ٹرینوں پر مسافروں میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس روز ان طلباء میں بھی انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا، اس سے قبل طلباء کا نشتر میڈیکل کالج ملتان میں انتخاب ہوا تھا۔ ایک قادیانی اس میں امیدوار تھا، مسلمان طلباء نے قادیانیت کی بنیاد پر اس کی مخالفت کی تھی۔
قادیانیت کے خلاف مسلمان طلباء کی ذہن سازی تھی، اس لیے اس قادیانی لٹریچر کے تقسیم ہوتے ہی مسلمان طلباء بپھر گئے۔ قادیانیوں نے بھی ان کی جرات رندانہ کا شدید نوٹس لیا۔ قریب کی گراؤنڈ میں قادیانی نوجوان کھیل رہے تھے، ان کو اطلاع ملی وہ ہاکیوں سمیت اسٹیشن پر آ دھمکے۔ مسلمان طلباء بھی برہم، تو تکرار تک معاملہ پہنچا۔ خدا کا شکر ہے، ٹرین روانہ ہو گئی اور کوئی حادثہ نہ ہوا۔ تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا، قادیانیوں نے لڑکوں پر سی آئی ڈی لگا دی، ان کے پروگرام کا معلوم کیا اور ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔ ہفتہ کے بعد جب وہ اسی ٹرین سے واپس ہوئے تو سرگودہا سے ہی ان کے ڈبے میں قادیانی نوجوان خدام الاحمدیہ نیم فوجی تنظیم کے رضا کار سوار ہو گئے۔
جب یہ گاڑی چنیوٹ پہنچی وہاں کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے بذریعہ ریلوے فون
ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو مطلع کیا کہ طلباء کا ڈبہ آخری سے تیسرا ہے۔ اس سے قبل ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر سرگودہا تک کے اسٹیشن سے ٹرین کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا۔ گویا قادیانی قیادت بڑی تیاری سے دیوانگی کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ نشتر آباد لالیاں سے بھی قادیانی نوجوان اس ڈبہ میں سوار ہوئے، حالانکہ یہ ڈبہ ریزرو تھا۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو پہلے سے موجود قادیانی غنڈوں نے طلبہ کے ڈبہ کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کر لیا۔ قادیانی غنڈوں نے موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی قیادت میں بڑی بیدردی سے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا، زخمی کیا، طلباء لہولہان ہو گئے۔ ان کے کپڑے پھٹ گئے، جسم زخموں سے چور چور ہو گئے۔ غنڈوں نے ان کا سامان لوٹ لیا۔
جب تک قادیانی غنڈوں کا ایکشن مکمل نہیں ہوا، اس وقت تک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو ربوہ سٹیشن پر روکے رکھا۔ فیصل آباد ریلوے کنٹرول نے پوچھا کہ ٹرین اتنی دیر ہو گئی چلی کیوں نہیں، تو ریلوے کے عملہ نے بتایا کہ فساد ہو گیا ہے۔ ریلوے کنٹرول کے ذریعہ یہ خبر مقامی انتظامیہ و صوبائی انتظامیہ تک پہنچی۔ ہم لوگ بے خبر تھے، ٹرین چنیوٹ برج سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ پہنچ گئی، وہاں سے فیصل آباد کا سفر پندرہ بیس منٹ سے بھی کم کا ہے۔ اتنے میں دوپہر کے وقت ہانپتا کانپتا ایک آدمی میرے مکان کے عقبی دروازہ پر آیا، دستک دی، بچوں نے مجھے اطلاع کی، میں نے کہا کہ اسے کہو کہ مسجد کے اوپر سے ہو کر مین گیٹ کی طرف سے آئے مگر اس نے کہا کہ ضروری کام ہے، مولانا ایک منٹ کے لیے جلدی سے تشریف لائیں۔ میں گیا تو وہ ریلوے کنٹرول کا ایک ذمہ دار آفیسر تھا، اس کی زبان و ہونٹ خشک، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ خیریت تو ہے اس نے ڈبڈباتی آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا، میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ خدایا خیر ہو، اتنا ذمہ دار آدمی اور یہ کیفیت۔ اس نے اپنی طبیعت کو سنبھالا تو مجھے ربوہ حادثہ کی اطلاع دی، اب ٹرین کو پہنچنے میں صرف دس پندرہ منٹ باقی تھے۔ میں نے شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء علماء، شہریان، فیصل آباد کے ڈی۔ سی، ایس۔ پی کو فوراً اسٹیشن پر پہنچنے کا کہا۔ پریس رپورٹران، پنجاب میڈیکل کالج، گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹس اور چیدہ چیدہ حضرات کو جہاں جہاں اطلاع ممکن تھی، کر دی۔
ریلوے لوکو شیڈ میں کام کرنے والے تمام لوگ میرے جمعہ کے مقتدی ہیں۔ ان کو پیغام بھجوایا کہ کام چھوڑ کر فوراً اسٹیشن پر پہنچ جائیں، میں ان امور سے فارغ ہو کر جب اسٹیشن پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ نعرہ بازی، احتجاج ہو رہا ہے، پولیس کی گارڈ، مجسٹریٹ، ڈاکٹر صاحبان موجود ہیں جو مسلمان اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے، جنہوں نے قادیانی غنڈہ گردی کا ربوہ میں نظارہ دیکھا تھا، وہ بھی ہمارے اس احتجاج میں شریک ہو گئے۔ اسٹیشن پر اشتعال انگیز نعروں کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی احتجاجی نعروں کا فلک شگاف شور اٹھا، اس عالم میں مسلمان زخمی طلباء کو ٹرین سے اتارا۔ ڈاکٹر صاحبان کے مشورہ پر ان طلبہ کو گرم دودھ سے گولیاں دی گئیں، زخموں پر مرہم پٹی کی گئی۔ ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ایک قادیانی ڈاکٹر تھا، میں نے دیکھا تو سخت پریشان ہوا کہ اگر کسی کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہو گیا تو اس کا یہیں پر کام تمام ہو جائے گا۔ میں نے معتمد کے ذریعہ اس کو وہاں سے چلتا کر دیا کہ اگر بد بخت تو رکا رہا تو اپنی جان کا خود ذمہ دار ہو گا۔ ابھی اس قضیہ سے میں فارغ ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ فلاں اگلے ڈبہ میں ایک قادیانی کو چھرا مار دیا گیا ہے۔ میں وہاں گیا تو مشتعل ہجوم نے ادھیڑ عمر کے فربہ بدن قادیانی کو زخمی کیا ہوا ہے، اس کی پٹائی جاری ہے۔
لوگوں نے اسے نکال کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لا کر بند کر دیا۔ اس قادیانی نے مجھے کہا کہ مولانا مجھے بتایا جائے کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے، میں نے کہا جس جرم میں ربوہ کے قادیانیوں نے ہمارے معصوم مسلمان بچوں کو مارا ہے۔ ان دنوں فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین احمد تھے، ان کو فون کر کے بلا لیا گیا، ان کے ہمراہ ایس۔ پی بھی تھے۔ ان کو کہا کہ وہ آکر دیکھیں کہ ہمارے بے گناہ بچوں کو قادیانیوں نے کس بیدردی سے زدوکوب کیا ہے۔ ان افسران نے طلبہ سے ملاقات کی، اس ڈبہ کو دیکھا جس کے اوپر کے لوہے کے کنڈے مڑے ہوئے تھے۔ جب مرہم پٹی کے عمل سے فارغ ہوئے تو افسران نے کہا کہ اب گاڑی کو آگے جانے دیں۔ ان زخمی طلباء کو یہاں اتار لیا جائے اور ان کا علاج معالجہ کیا جائے۔ ان زخمی طلباء سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم اسی حالت میں ملتان جائیں گے، ہم وہاں نشتر ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ کہا کہ اب آپ گاڑی آگے جانے دیں، میں نے ان سے کہا کہ جب
تک صوبائی حکومت ہمارے یہ مطالبات نہیں مان لیتی اس وقت تک گاڑی آگے نہیں جا سکتی۔
- ١۔ اس سانحہ کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں۔
- ٢۔ اس سانحہ میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر قادیانی ربوہ و نشتر آباد کو
گرفتار کیا جائے۔
- ٣۔ اس سانحہ کے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرہ سے چیف سیکرٹری کو فون کیا اور تمام مطالبات ان کو پیش کیے۔ چیف سیکرٹری منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے، انہوں نے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔ ڈپٹی کمشنر نے مجھے یقین دلایا کہ آپ کے تینوں مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ میں نے ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کھڑے ہو کر تقریر کی، طلباء کو مخاطب ہو کر کہا: ”بچو! تم ہماری اولاد ہو، جگر کے ٹکڑے ہو، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک قادیانیوں سے آپ کے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لے لیا جاتا، اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے“۔ پریس رپورٹران نے فوٹو لیے، زخمی طلباء کو ائرکنڈیشنڈ کوچ میں شفٹ کیا گیا اور ٹرین روانہ ہو گئی۔ پلیٹ فارم پر ہی شام کے پانچ بجے، الخیام ہوٹل میں پریس کانفرنس اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرنے کے لیے میں نے پریس والوں کو ٹائم دے دیا۔ گھر آ کر گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شورکوٹ، عبدالحکیم، مخدوم پور، خانیوال اور ملتان جہاں جہاں ٹرین رکتی تھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو مظاہرہ کرنے کا سگنل دے دیا۔ چنانچہ جہاں جہاں سے ٹرین گزرتی گئی، احتجاجی مظاہرہ ہوتا گیا۔
ملتان دفتر میں فون کر کے مولانا محمد شریف جالندھری، لاہور آغا شورش کاشمیری اور راولپنڈی سے مولانا غلام اللہ خان مرحوم کو سانحہ کی اطلاع دی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے کراچی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کو جو اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے اور خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کو جو اس وقت نائب امیر تھے، اطلاع دی۔ سارا دن فون کے ذریعے مولانا محمد شریف جالندھری ملک بھر میں اطلاع کرتے رہے اور تحریک کے لیے احباب کو اپنے مشوروں سے
نوازتے رہے، حالات قادیانیت کے متعلق پہلے سے ہی تحریک کے متقاضی تھے، یہ خبر بجلی کا کام دے گئی۔
شام کو الخیام میں پریس کانفرنس ہوئی جس میں مولانا مفتی زین العابدین، مولانا فقیر محمد، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، صاحبزادہ سید افتخار الحسن، مولانا فضل رسول حیدر، مولانا محمد صدیق، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے رہنما موجود تھے۔ اخباری نمائندوں کے سامنے پوری تفصیلات بیان کیں اور دوسرے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ لاہور، کراچی، بہاولپور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، پشاور، راولپنڈی کے علماء سے مشوروں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ان سے رابطہ کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ شہر کی تمام مساجد کے سپیکروں اور رکشہ پر سپیکر باندھ کر شہر میں اگلے روز کی ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرایا گیا۔ رات عشاء کے قریب ان امور سے فارغ ہو کر گھر آیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ٹیلیفون کیا، کہ آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں، میں نے ساری تفصیلات بتائیں۔
آغا مرحوم نے فرمایا کہ کل کے جلسہ عام میں ”قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کریں“۔ تاکہ عوام کا غصہ حکومت کی بجائے قادیانیت کی طرف ہو، اس لیے کہ پچھلی تحریک میں قادیانیوں نے ہمارا تصادم حکومت سے کرا دیا تھا۔ اب تصادم بجائے حکومت کے قادیانیوں سے رہے تاکہ پرامن تحریک جاری رکھ سکیں۔ دوسرے روز شہر میں مثالی ہڑتال اور تاریخ ساز جلسہ عام ہوا، کچہری بازار کی جامع مسجد میں علماء کرام کی تقریریں ہوئیں۔ ان کے علاوہ اس جلسہ عام میں ملک احمد سعید اعوان نے بھی شرکت کی جو پیپلز پارٹی فیصل آباد کے صدر تھے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت وہ وفاقی منسٹر ہیں، ٢٥/٩/٨٩، انہوں نے بھی دھواں دھار تقریر کی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے صدر کی یہ تقریر، ہمیں اس سے خوشی ہوئی۔ یہ ملک صاحب کا ذاتی مبارک اقدام تھا، پیپلزپارٹی کی پالیسی نہ تھی، ان کے ضمیر کی آواز تھی۔
لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جلوس نکالا جائے، جلسہ ختم کیا جائے۔ احمد سعید اعوان نے عوام کا مطالبہ سنا تو ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور پرامن جلوس کی اجازت لے کر
آگئے۔ انہوں نے آکر جلوس کا اعلان کر دیا مگر ستم یہ ہوا کہ ڈپٹی کمشنر نے جلوس کی اجازت تو دے دی مگر بازار میں متعین ڈیوٹی افسران کو اجازت کی اطلاع نہ دی، وہ پہلی اطلاع کے مطابق جلوس کو روکنے کے پابند تھے۔ جلوس کا اعلان ہوا، انہوں نے پوزیشن سنبھال لی۔ جلوس نعرے لگاتا ہوا کچہری بازار میں جونہی داخل ہوا، انہوں نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ ایک شیل میرے بازو پر لگا، میں زخمی ہو گیا، دوسرے رہنماؤں کا بھی یہی حال ہوا، افراتفری کا عالم چار سو دھواں ہی دھواں۔ اس دھکم پیل میں جلوس نے دھرنا مار لیا، اس افسوسناک سانحہ کی ڈپٹی کمشنر کو اطلاع ملی تو انہوں نے تازہ احکامات بھجوائے اور جلوس کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔
جلوس مختلف بازاروں کا چکر لگاتا ہوا جامع مسجد میں میرے خطاب پر اختتام پذیر ہوا۔ مولانا مفتی زین العابدین نے دعا کرائی اور جلوس کو پرامن منتشر ہونے کی ہدایت کی۔
پہلے دن ہی قادیانیوں کے ٨٤ مکانات و دکانیں شہر میں جلا دی گئیں۔ اس حساب سے کہ اگر پراپرٹی بھی مرزائی کی ہوتی تو اس کے سامان کو پراپرٹی سمیت جلا دیا گیا، اور میں اور میرے رفقاء اس سے بے خبر ہیں کہ یہ کون لوگ تھے، ایسی ترتیب و حکمت اور منظم کوشش کیونکر اپنائی گئی؟ بعد میں خبر ہوئی کہ قادیانیوں نے ٢٩ مئی سے دو چار دن قبل اپنے کارخانوں اور بڑی بڑی دکانوں کی انشورنس (فسادات کی نذر ہونے کی صورت میں) کرالیں۔
جس روز ہم فیصل آباد میں جلسہ جلوس میں مصروف تھے، اسی دن آغا شورش کاشمیری، مولانا عبیداللہ انور، نوابزادہ نصراللہ خان نے لاہور میں تمام مکاتب فکر کی میٹنگ کی اور اسی طرح کے فیصلے کیے جو ہم فیصل آباد میں کر چکے تھے۔ ملتان اور راولپنڈی میں تیسرے روز مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا غلام اللہ خان کو فون کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بلایا جائے۔ چنانچہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی طرف سے مولانا محمد شریف جالندھری نے لاہور، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور، کراچی، سرگودھا، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے علماء کرام کو ٣ جون ١٩٧٤ء کو میٹنگ کے لیے
راولپنڈی پہنچنے کی دعوت دی۔ فیصل آباد سے میں، مولانا مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا محمد صدیق صاحب راولپنڈی کے لیے تیار ہوئے۔ مولانا محمد صدیق صاحب کار کے ذریعہ اور ہم لوگ ٢ جون کی شام کو چناب ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئے۔ ٹیلیفون کے ذریعہ تمام تر پروگرام کی اطلاع تھی، ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے۔ گورنمنٹ منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھی۔ رات بارہ بجے کے قریب ٹرین لالہ موسیٰ پہنچی تو پولیس کا ایک دستہ اور مجسٹریٹ آدھمکے۔ ہمارے ڈبہ کے دروازے اور کھڑکیوں کو کھٹکھٹایا، ہم لوگ بیدار ہوئے۔ دروازہ کھولا، تعارف ہوا، ہمیں اپنا سامان باندھ کر نیچے اترنے کا حکم ملا۔ اسٹیشن سے پیادہ پا تھانہ لالہ موسیٰ لائے، سامان پولیس والوں نے اٹھایا۔ مولانا محمد اسحاق صاحب زمیندار ٹائپ انسان ہیں، ہرچند کوشش کی کہ یہ بچ جائیں۔ مگر ان کا مولوی ہونا رکاوٹ بن گیا وہ بھی ہمارے ساتھ دھر لیے گئے۔ تھانہ سے ہمیں ایک بس میں بٹھا کر رات کوئی ایک بجے کے قریب جہلم کی طرف روانہ ہو گئے۔ آگے بڑی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سڑک پر رواں دواں صبح سحری کے وقت ہم ایک دیہاتی تھانہ میں پہنچا دیئے گئے۔
بھٹو مرحوم کا دور تھا، گرفتار ہونے والوں کے ساتھ عجیب و غریب سانحات پیش آ رہے تھے۔ ہزاروں وساوس کا شکار بے خبری کے عالم میں وہاں پہنچے۔ حیران تھے کہ شہر کے تھانہ سے دیہات کے لمبے آباد علاقہ کے تھانہ میں ہمیں کیوں لایا گیا؟ چارپائیاں دی گئیں، تھوڑی دیر لیٹے، نماز کا وقت ہوگیا۔ ہم نماز کے عمل میں مشغول ہوئے، پولیس والوں کی ایک بیرک میں انہوں نے ہماری چارپائیاں ڈال دیں۔ ایس ایچ او نے اپنی جیب سے دس روپے دیئے، ہمیں چائے پلائی گئی۔ ہم نے اپنے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی مگر ایس ایچ او صاحب راضی نہ ہوئے۔ ادھر ادھر کی گفتگو ہوئی، ہمارا تعارف ہوا تو وہ کچھ مانوس ہوا۔ ہم نے پوچھا کہ ہم اس وقت کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ ڈنگہ ہے، گجرات کا ضلع ہے۔ ہم نے پوچھا کہ ہمیں یہاں کیوں لایا گیا، انہوں نے خود لاعلمی ظاہر کی، ہم لوگ لیٹ گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو ایس ایچ او نے بڑے اہتمام سے کھانا کھلایا، کھانا کھا کر پھر لیٹ گئے۔ نماز کے لیے اٹھے، ابھی نماز پڑھ کر فارغ
نہ ہوئے تھے تو اطلاع ملی کہ جناب ذوالقرنین ڈپٹی کمشنر‘ محمد شریف چیمہ ایس پی صاحب آپ کی ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں۔ نماز پڑھ کر ہم نے عمداً تھوڑی تاخیر کی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے‘ تھانہ میں لوٹے‘ آپس میں گپ شپ ہوئی۔ اتنے میں دیکھا کہ صحن میں میز کرسیاں لگائی جا رہی ہیں‘ تازہ پھل‘ مٹھائیاں‘ چائے کا اہتمام ہو رہا ہے۔
ہم سمجھے کہ پولیس والے ایس پی و ڈی سی صاحب کی خاطر تواضع کے لیے اپنے عمل میں مصروف ہیں۔ ان کی آؤ بھگت کا اہتمام ہو رہا ہے‘ تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بلایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور ایس پی صاحب آپ حضرات کو بلاتے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دونوں بڑے تپاک سے ملے‘ ذوالقرنین مجھے ذاتی طور سے جانتے تھے‘ وہ فیصل آباد میں اے ڈی سی جی رہ چکے تھے۔ گفتگو شروع ہوئی‘ دونوں کا روئے سخن میری طرف تھا۔ قبلہ مفتی صاحب و حکیم صاحب بڑی محتاط گفتگو کے دلدادہ ہیں۔ میں ایک دبنگ انسان ہوں‘ اب لگے وہ معافی مانگنے کہ خدا کے لیے آپ ہمیں معاف کر دیں‘ غلطی ہو گئی۔ ہم نے کہا کہ آپ ہم سے کیوں مذاق کرتے ہیں‘ آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ نہیں جناب بس تھوڑی سی غلطی ہو گئی۔ چیف سیکرٹری صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ جاکر ان سے معافی مانگیں اور سرکاری گاڑی پر راولپنڈی پہنچائیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ نہیں جہلم میں ہمارے دوست ہیں‘ آپ ہمیں وہاں پہنچا دیں‘ ہم کوئی مزید آپ سے مراعات نہیں چاہتے۔ ہم نے جہلم پہنچ کر فیصلہ کیا کہ اب راولپنڈی جانا فضول ہے‘ میٹنگ کا وقت گزر گیا ہے‘ جو فیصلے ہوں گے اطلاع ہو جائے گی۔ اب ہمیں فیصل آباد جانا چاہیے۔ حضرت مفتی صاحب کے ایک تعلق والے کے ہاں ہم جہلم میں ٹھہرے تھے کہ جہلم کی ضلعی انتظامیہ کا اعلیٰ آفیسر آیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں‘ انہوں نے فون کیا تو چیف سیکرٹری صاحب لگے معذرت کرنے اور کہا کہ ہم نے آپ چاروں حضرات کے گھروں میں پیغام دے دیا ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔
اس سارے ڈرامے کا بعد میں پس منظر معلوم ہوا کہ ربوہ کے وفاقی منسٹر خورشید حسن پر تنقید کرتے ہوئے میں نے اسے مرزائی نوازی تک کا طعنہ دے دیا‘ یا مرزائی لکھ دیا اس پر وہ بہت جزبز ہوئے۔ اس نے مجھے ایک خط لکھا کہ میرے طعنوں
میں بعض لوگ مجھے مرزائی کہہ رہے ہیں، اب آپ بھی ان کے ساتھ ہو گئے۔ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے جس کا آپ شکار ہو گئے، آپ اس کی تردید شائع کریں۔ میں نے جواب میں تحریر کیا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کرنے کے باعث کافر دجال و کذاب لکھ دیں، میں آپ کی یہ تردید شائع کر دوں گا، اور جو کچھ پہلے ”لولاک“ میں لکھا ہے اس کی بھی معذرت چھاپ دوں گا، لیکن ان کا جواب آج تک نہ آیا، نہ میں نے تردید کی۔ انہوں نے دل میں ناراضگی رکھ لی۔ کچھ عرصہ بعد ریلوے نے راولپنڈی اور فیصل آباد کے درمیان نئی ٹرین فیصل آباد ایکسپریس چلائی۔ ریلوے کے مقامی حکام نے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد کی معرفت اس کے افتتاح کرنے کی استدعا کی، میں نے افتتاح کیا۔ فیتہ کاٹا، اخبارات میں خبر اور فوٹو شائع ہوئے۔ خورشید حسن میر خبریں اور فوٹو پڑھ کر آگ بگولا ہو گیا تو مقامی حکام کی شامت آ گئی کہ میں ریلوے منسٹر ہوں، میری پیشگی اجازت کے بغیر مولانا تاج محمود صاحب سے افتتاح آپ نے کیوں کرایا۔
جب ہم راولپنڈی جانے کے لیے تیار ہوئے تو ایک دن پہلے میں سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں کمشنر سرگودھا ڈویژن کاظمی صاحب اور ڈی آئی جی میاں عبدالقیوم سے مرزائیت کے عنوان پر ملاقات ہوئی۔ مرزائیت کے کفر و ارتداد ملک دشمنی کے حوالے ان کو سنائے تو وہ بہت حیران اور متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے کاش آپ وزیر اعظم بھٹو صاحب سے ایک ملاقات کریں اور یہ تمام چیزیں ان کے علم میں لائیں۔ اس لیے کہ اعلیٰ طبقہ مرزائیوں کے ان عقائد و عزائم سے بے خبر ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کل میں راولپنڈی جا رہا ہوں، میری پوری کوشش ہو گی کہ میں وزیر اعظم سے ملوں۔ ایک تو اس طرح، دوسرا یہ کہ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے، تیسرے یہ کہ ہماری روانگی کی اطلاع مقامی سی آئی ڈی نے اعلیٰ حکام تک پہنچا دی۔ کسی طرح خورشید حسن میر کو بھی ہماری راولپنڈی آمد کی اطلاع ہو گئی۔
ان دنوں پنڈی کے کمشنر مسعود مفتی تھے جو پہلے فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے۔ میرے ان سے دوستانہ مراسم تھے لیکن خورشید حسن میر کے دباؤ میں آکر انہوں نے ہدایت کی کہ جونہی ہم راولپنڈی ڈویژن کی حدود میں داخل ہوں، لالہ موسیٰ سے
ہمیں گرفتار کر لیا جائے، چنانچہ ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ ٹرین راولپنڈی پہنچی تو مولانا غلام اللہ خان کے آدمی ہمیں لینے کے لیے آئے ہوئے تھے، وہ خالی واپس لوٹے تو مولانا نے میرے گھر فون کیا، اطلاع ملی کہ وہ تو راولپنڈی کے لیے چناب ایکسپریس سے روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہنچے نہیں اب فیصل آباد اور راولپنڈی دونوں جگہ تشویش ہوئی کہ ہوا کیا۔ مولانا غلام اللہ خان معاملہ سمجھ گئے، انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ہو گئے۔ یہ خبر فیصل آباد کے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ فیصل آباد کی مقامی مجلس عمل کے رفقاء نے شہر میں ہڑتال اور جلسہ عام اگلے دن کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ ڈی سی صاحب سے میرے رفقاء نے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ ڈی سی صاحب نے کمشنر و ڈی آئی جی سے پوچھا جو ابھی فیصل آباد سرکٹ ہاؤس میں مقیم تھے، سرگودھا نہ گئے تھے، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ کمشنر صاحب اور ڈی آئی جی نے کہا کہ اتنے بڑے آدمیوں کو پنجاب گورنمنٹ کی اطلاع و منظوری کے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا۔ راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر صاحب سے چیف سیکرٹری نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈی سی اور ایس پی گجرات نے انہیں گرفتار کیا ہے، چیف سیکرٹری نے ہماری رہائی کے آرڈر کیے۔
ہم لوگوں نے فون کر کے گھر اطلاع دی کہ ہم چناب ایکسپریس کے ذریعے کل واپس آ رہے ہیں۔ ہماری آمد کی اطلاع سن کر دوسرے روز پورا شہر اسٹیشن پر امڈ آیا، پورے ملک میں تحریک کا زور تھا، ہر جگہ ہڑتالیں، جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع تھا۔ راولپنڈی ہم نہ جا سکے چونکہ وقت تھوڑا تھا باقی حضرات بھی بہت کم تعداد میں پہنچے۔ اس لیے اس راولپنڈی کی میٹنگ میں مولانا سید محمد یوسف بنوری نے فیصلہ کیا کہ ٩ جون ٧٤ء کو لاہور میں اجلاس رکھا جائے۔ اب اس کی تیاری کے لیے صرف ٦ دن باقی تھے، اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا، ٩ جون ٧٤ء کو لاہور میں میٹنگ ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں عوام و خواص میٹنگ کے فیصلوں کو سننے کے لیے جمع تھے، ملک بھر کے اکابر علماء نے اس میں شرکت کی۔
مولانا مفتی محمود، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبد الستار
خان نیازی‘ مولانا غلام اللہ خان‘ نوابزادہ نصراللہ خان‘ مولانا غلام علی اوکاڑوی‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ مولانا محمد شریف جالندہری‘ چوہدری غلام جیلانی‘ مولانا عبید اللہ انور‘ سید مظفر علی شمسی اور دیگر حضرات اس میں شریک تھے۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ پورے ملک کی اپوزیشن متحد تھی تحریک چلی تو تمام اسمبلی کے ممبران اور اور دینی و سیاسی جماعتوں نے مل کر رحمت دو عالم ﷺ کے وصف خاص عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ ساری صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ آخر طویل بحث کے بعد شورش کاشمیری کی تحریک و تجویز پر مولانا محمد یوسف بنوری کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کنوینر بنایا گیا۔ (٢) قادیانیوں کے اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ (٣) ١٤ جون کو ملک بھر میں ہڑتال کی اسلامیان پاکستان سے اپیل کی گئی۔ (٤) اور ١٦ جون کو فیصل آباد میں مجلس عمل کے مستقل انتخاب کا طے ہوا۔
١١ جون کو آغا شورش کاشمیری‘ ”مولانا سید محمد یوسف بنوری“ اور دیگر حضرات نے وزیر اعظم بھٹو سے قادیانیت کے مسئلہ پر ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا‘ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے بھٹو صاحب سے کہا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان قادیانیت کا مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے مگر وہ شہید ہو گئے۔ اس پر بھٹو نے کہا کہ آپ مجھے بھی شہید کرانا چاہتے ہیں۔ شیخ بنوری نے زور سے وزیر اعظم کی میز پر مکہ مار کر فرمایا کہ آپ کے اتنے مقدر کہاں۔ اس پر بھٹو صاحب ششدر رہ گئے۔
١٤ جون کو تمام ملک میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت میں ہڑتال ہوئی۔ اتنی بڑی ہڑتال اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اس ہڑتال کو ریفرنڈم سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مسجد وزیر خان لاہور میں جلسہ ہوا۔ مولانا عبد الستار خان نیازی‘ نوابزادہ نصر اللہ خان‘ آغا شورش کاشمیری‘ مولانا عبید اللہ انور‘ سید مظفر علی شمسی‘ احسان الٰہی ظہیر اور سید محمود احمد رضوی نے تقریریں کیں۔ سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے مسٹر جسٹس صمدانی کو مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ٣ مئی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔ وزیر اعظم بھٹو نے ١٤ جون کو تقریر کر کے قوم کو عوامی امنگوں کے متعلق مسئلہ حل کرنے کا مژدہ سنایا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جانے کا وعدہ کیا۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ
کی موثر تحریک شروع ہو گئی۔
-----O-----
١٦ جون کو فیصل آباد کی تاریخ میں ایک عظیم تاریخی دن تھا۔ پورے ملک کی دینی و سیاسی طاقت یہاں پر جمع ہوئی۔ ماڈل ٹاؤن سی میں مجلس عمل کی میٹنگ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد یوسف بنوری‘ مولانا خواجہ خان محمد‘ سردار میر عالم خان لغاری‘ بندہ تاج محمود‘ مولانا محمد شریف جالندھری‘ مولانا مفتی محمود‘ مولانا عبدالحق‘ مولانا عبیداللہ انور‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ مولانا عبدالستار خان نیازی‘ مولانا صاحبزادہ فضل رسول‘ مولانا سید محمود احمد رضوی‘ میاں فضل حق‘ مولانا عبدالقادر روپڑی‘ مولانا محمد اسحاق رحیم‘ شیخ محمد اشرف‘ مولانا محمد شریف اشرف‘ مولانا محمد صدیق‘ علامہ احسان الہی ظہیر‘ مولانا مفتی زین العابدین‘ مولانا علی غضنفر کراروی‘ مولانا محمد اسماعیل‘ سید مظفر علی شمسی‘ میجر اعجاز‘ رانا ظفر اللہ خان‘ نوابزادہ نصراللہ خان‘ مولانا عبیداللہ احرار اور مولانا سید عطاء المنعم بخاری‘ چوہدری ثناء اللہ بھٹہ‘ چوہدری صفدر علی رضوی‘ ملک عبدالغفور انوری‘ مولانا غلام اللہ خاں‘ سید عنایت اللہ شاہ بخاری‘ مولانا غلام علی اوکاڑوی‘ سید محمود گجراتی‘ مفتی سیاح الدین‘ مولانا محمد چراغ‘ سید نورالحسن بخاری‘ مولانا عبدالستار تونسوی‘ مولانا خلیل احمد قادری‘ آغا شورش کاشمیری‘ ارباب سکندر خان‘ امیر زادہ‘ پروفیسر غفور احمد‘ چوہدری غلام جیلانی‘ مولانا ظفر احمد انصاری‘ مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور دوسرے حضرات شریک ہوئے۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری صدر قرار پائے۔ ناظم اعلیٰ سید محمود احمد رضوی‘ ناظم مولانا محمد شریف جالندھری‘ نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازی‘ سید مظفر علی شمسی‘ مولانا عبدالحق‘ مولانا عبدالواحد‘ نوابزادہ نصراللہ خان‘ خازن‘ میاں فضل کو بنایا گیا۔
١٦ جون کی شام کو فیصل آباد کی تاریخ کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ ملک بھر سے آئے ہوئے مقررین رہنماؤں نے دھواں دھار تقریریں کیں۔ بھٹو صاحب کی ریڈیو‘
ٹی وی کی تقریر کو ناقابل قبول قرار دے دیا گیا۔ مجلس عمل کے اجلاس کی تمام قراردادوں کو مولانا محمد شریف جالندھری اور پروفیسر غفور احمد نے مرتب کیا۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی تحریک زوروں پر تھی۔ کراچی سے خیبر تک مسلمان عوام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو وقف کیے ہوئے تھے۔
٢٠ جون کو سرحد اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی متفقہ سفارشی قرارداد پاس کی۔ ٢٢ جون کو قادیانی مسئلے کے متعلق حکومت نے مری میں اجلاس منعقد کیا اس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ جس میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ ٢٣ جون کو صالح نوانے صمدانی کمیشن کے سامنے بیان دے کر مرزائیوں پر بوکھلاہٹ طاری کر دی۔
یکم جولائی سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ حزب اقتدار و حزب اختلاف نے متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی قرار دے کر اجلاس شروع کر دیا۔ ربوہ کے مرزائیوں کے پوپ مرزا ناصر اور لاہوریوں کے مولوی صدرالدین کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا۔ انہوں نے اپنا موقف بیان کیا۔ تمام ممبران سوالات لکھ کر یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل کی معرفت ان پر سوالات کرتے تھے۔ مولانا مفتی محمودؒ نے یحییٰ بختیار کی دینی و شرعی امور میں معاونت کی۔
١٩ جولائی کو مرزا ناصر صمدانی کمیشن کے سامنے پیش ہوا۔ ہائیکورٹ میں مرزا ناصر کی پیشی سے قبل اجلاس کو کھلے عام کی بجائے بند قرار دے دیا گیا۔ تمام جماعتوں نے اپنے وکلاء کے ذریعہ اس تحقیقاتی کمیشن میں اپنا فرض ادا کیا۔
٢٠ جولائی کو مرزائی نواز عناصر اور بعض حکومتی ارکان علماء سو نے اپنی ایک لے پالک ایجنسی کو ہزاروں روپے دے کر مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خلاف اخبارات میں اشتہارات لگوائے۔ شیخ بنوری کو مشکوک قرار دینے کی بجائے عوام نے حکومت اور مرزائیوں کو مجرم قرار دیا۔ غرض یہ کہ مرزائی و مرزائی نواز تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے جتنے حربے اختیار کرتے گئے اتنا ہی ان کے خلاف عوام میں اشتعال پھیلتا گیا۔
مرزائیوں نے اپنے عقائد کو توڑ مروڑ کر ایک اخبار میں اشتہار دیا۔ اتنا شدید
رد عمل ہوا کہ دوسرے دن اس اخبار نے اپنی طرف سے مرزائیوں کے کفریہ عقائد و ملک دشمن سرگرمیوں پر مشتمل اشتہار شائع کیا۔ مجلس عمل فیصل آباد کی طرف سے بھی مرزائیوں کے عقائد پر مشتمل ایک اشتہار مرزائیوں کے اشتہار کے جواب میں اخبارات میں شائع کر دیا گیا۔ غرض یہ کہ ہر طرح دشمن کے تمام ہتھکنڈوں کو غیر موثر کر کے رکھ دیا گیا۔ اب اس پر جرح ہونا تھی۔
٢٤ جولائی کو مرزا ناصر کا اسمبلی میں بیان مکمل ہوا۔
اس پر باقی ارکان تو درکنار پیپلز پارٹی کے غیر جانبدار ارکان اس درجہ برافروختہ تھے کہ انہوں نے مرزا ناصر پر درشت لہجہ میں جرح کی۔ اس کے بعض گستاخانہ کلمات پر حاضر ارکان نے سخت الفاظ میں اس کو ٹوکا۔ تمام ارکان اسمبلی قادیانیت کے خارج از اسلام ہونے پر متفق ہو گئے۔ مرزائیوں کے قومی اسمبلی میں بیانات کے جواب کے لیے مولانا سید محمد یوسف بنوری کی سربراہی میں مولانا تقی عثمانی (حال جج سپریم کورٹ شریعت بینچ) مولانا سمیع الحق (حال ممبر سینٹ) نے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب مرتب کی۔ مذہبی حصہ کے لیے مولانا تقی عثمانی کی معاونت مولانا محمد حیات فاتح قادیان‘ مولانا عبدالرحیم اشعر نے کی۔ سیاسی حصہ کے لیے مولانا سمیع الحق کی معاونت محمد شریف جالندھری اور بندہ تاج محمود نے کی۔ کتاب کا جتنا حصہ مکمل ہوتا رات کو مولانا مفتی محمود‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ پروفیسر غفور احمد‘ چوہدری ظہور الہی سن لیتے اس میں ترمیم و اضافہ کر کے مسودہ کتابت کے لیے ملک عزیز کے نامور کاتب جناب سید انور حسین نفیس رقم کے سپرد کر دیا جاتا۔ کاتبوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ وہ اس کی کتابت کرتے جاتے۔ مختصر وقت میں جامع کتاب تیار کر کے چھپنے کے لیے دے دی گئی اس کے اور تحریک کے تمام تر مصارف مجلس نے برداشت کیے۔
-----O-----
اس سلسلہ میں ایک روز عجیب مسئلہ درپیش آیا۔ مجلس عمل کا ایک خصوصی اجلاس جاری تھا تحریک کے اخراجات کے لیے فنڈز کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ چوہدری ظہور
الہی نے تجویز پیش کی کہ تمام ارکان اور مجلس عمل میں شامل جماعتیں پانچ پانچ ہزار روپیہ میاں فضل حق کے پاس اخراجات کے لیے جمع کرا دیں‘ مزید اخراجات کے لیے بعد میں غور کر لیا جائے گا۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے مجھے اور مولانا محمد شریف جالندھری کو علیحدہ لے جا کر فرمایا کہ تمام جماعتوں نے اپنی ضروریات و اخراجات کے لیے فنڈ کیا ہے ان میں سے کسی نے ختم نبوت کے لیے فنڈ نہیں کیا تو ان کی رقوم کو ختم نبوت پر کیسے خرچ کریں۔ البتہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسی مد کے لیے فنڈ کیا ہے‘ اس لیے مجلس ہی تمام اخراجات اپنے محفوظ فنڈ سے ادا کرے۔ میں نے اور مولانا محمد شریف نے درخواست کی کہ حضرت ہمارے پاس تو مبلغین و ملازمین لٹریچر و مجلس کے اتنے اخراجات ہیں کہ اگر یہ فنڈ اس پر لگا دیا گیا تو ہمارا کام ٹھپ ہو جائے گا۔ اس وقت شیخ بنوری پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ مخاطب ہو کر ہمیں فرمایا کہ ”مولانا صاحبان جو مجلس کے پاس ہے وہ بلا دریغ خرچ کریں آئندہ کے اخراجات کے لیے فکر نہ کریں۔ یوسف بنوری کا ہاتھ خدا کے خزانوں میں ہے جتنی ضرورت ہو گی خدا تعالیٰ کے خزانہ سے نکال لوں گا۔“ اس پر ہم آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ تحریک کے تمام اخراجات مجلس نے برداشت کیے۔
-----O-----
مجلس عمل کی قادیانیوں کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک نے مرزائیت کی کمر توڑ دی۔ ان پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی‘ کئی مرزائی مسلمان ہوئے۔ اخبارات میں مرزائیت سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ بعض جگہ کچھ مسلمان مرزائیوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا ردعمل مرزائیوں کے احتساب کے لیے مزید سخت ہوتا گیا۔ تحریک جاری رہی ملک بھر کے تمام مکاتب فکر نے اپنی ہمت توفیق کے مطابق تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ سعودی عرب کی بعض اہم شخصیات نے حکومت کو مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مشورہ دیا۔ مصر کے جامعہ ازہر کے شیوخ نے مرزائیوں کے بائیکاٹ کو واجب قرار دے دیا اس سے رائے
عامہ مزید پختہ ہو گئی۔ تحریک کو بے حد فائدہ پہنچا۔ بھٹو حکومت کا بھی تحریک کے بارے میں مناسب رویہ تھا۔ اکا دکا واقعات کے علاوہ کہیں تحریک نے خطرناک شکل اختیار نہ کی۔ پر امن جدوجہد کو مرزائی تشدد کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہے۔ البتہ حکومت نے فوری مطالبہ ماننے کی بجائے طویل المیعاد سکیم تیار کی۔ اس سے وہ عوام کے حوصلہ کا امتحان یا اپنی گلو خلاصی کی شکل نکالنا چاہتے تھے۔ بعض جگہ گرفتاریاں، بعض جگہ لاٹھی چارج و اشک آور گیس استعمال ہوئی، لیکن مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں رہے۔ حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ مسلمان حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اب مسئلہ کو حل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں مسئلہ لے جا کر بھٹو صاحب ایک آئینی راہ اختیار کر کے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ آئین کی بالا دستی کے قائل ہیں۔ وہ تنہا اس کی پوری ذمہ داری اپنے سر لینے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ مولانا مفتی محمود مرحوم نے قومی اسمبلی میں ”ملت اسلامیہ کا موقف“ نامی کتاب پڑھی۔ تمام ارکان اسمبلی میں اسے تقسیم کیا گیا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی طرف سے قادیانیوں اور لاہوریوں کے جواب میں مواد جمع کر کے شائع کر دیا اور اسمبلی میں اسے پڑھا۔ اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ان ساری کوششوں کے بڑے خوش گوار اثرات مرتب ہوئے۔
ممبران اسمبلی پر پہلے رواداری کا بھوت سوار تھا۔ مرزا ناصر نے جب جرح کے دوران تسلیم کیا کہ وہ لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں تو اس سے ممبران اسمبلی کی آنکھیں کھلیں کہ یہ تو ہم کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ امت کا موقف جب پیش کیا گیا تو ان ممبران کے سامنے مرزائیت کا کفر الم نشرح ہو گیا۔
-----O-----
حکومت اور مجلس عمل نے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی۔ مجلس عمل کی طرف سے مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور چودھری ظہور الٰہی حکومت کی طرف سے عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی اور لاء
سیکرٹری افضل چیمہ اس کے ممبران مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے، مگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔
کمیٹی کے سرکاری ارکان لمبا کرو اور لٹکاؤ کی پالیسی پر گامزن تھے۔ ان کی ٹال مٹول کی کیفیت نے بحرانی شکل اختیار کر لی۔ قومی اسمبلی کے فیصلے کے لیے ٧ ستمبر کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔
٢٥ اگست کو مرزا ناصر پر گیارہ روزہ جرح مکمل ہوئی۔ سات گھنٹے لاہوری مرزائیوں کے سربراہ صدرالدین پر جرح ہوئی۔ قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہمارے ارکان مطمئن تھے مگر حکومت گومگو کی کیفیت سے دوچار تھی۔
٢ ستمبر کو شاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان تاریخی جلسہ عام منعقد ہوا۔ ملک بھر کے دینی و سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے اس جلسہ سے خطاب کیا۔ پورے ملک بالخصوص پنجاب سے عوام کے پرجوش قافلے شریک ہوئے۔ شاہی مسجد لاہور اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ناکافی ثابت ہوئی۔ چاروں طرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ حد نگاہ تک انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس سے قبل بھٹو صاحب بلوچستان گئے تو فورٹ سنڈیمن اور کوئٹہ کے اجتماعات میں عوام نے مرزائیت کے خلاف اتنا اظہار نفرت کیا کہ بھٹو صاحب جیسے مضبوط اعصاب کے انسان کا بھی دم گھٹنے لگا۔ گجرات کے ایس پی شریف احمد چیمہ کی بعض حماقتوں کے باعث کھاریاں کے ایک گاؤں ڈنگہ میں دو مسلمان نوجوان غلام نبی اور محمد یوسف پولیس کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں ملک بھر میں کہیں بھی تحریک کو مدہم نہ ہونے دیا گیا۔ جوں جوں وقت بڑھتا گیا حکومت اور مرزائیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ ظفر اللہ قادیانی نے بیرونی دباؤ اور بین الاقوامی پریس کے ذریعہ بیان بازی سے حکومت کو جھکانا چاہا لیکن عوام کے بے پناہ جذبہ نے حکومت کو ایسا نہ کرنے دیا۔ غرض یہ کہ کفر و اسلام دونوں نے اپنے تمام تر وسائل کو میدان کار زار میں جھونک دیا تھا۔
مجلس عمل نے ٦ ستمبر کو راولپنڈی تعلیم القرآن راجہ بازار میں اپنا اجلاس طلب کیا ہوا تھا۔ ٦‘ ٧ ستمبر کی درمیانی رات کو اسی دارالعلوم کی وسیع و عریض جامع مسجد میں آخری جلسہ عام منعقد ہونے والا تھا۔ اس کے بعد تحریک نے ٧ ستمبر کے بعد نیا رخ
اختیار کرنا تھا۔ ٥ ستمبر رات کے آخری حصہ میں راولپنڈی کے لیے میں روانہ ہوا۔ پلیٹ فارم کے قریب سے گزرا کوئی ٣ بجے کا عمل ہو گا۔ اس وقت فوجی مال گاڑیوں کے ڈبوں سے ٹینک توپ بردار گاڑیاں اور اسلحہ اتار رہے تھے۔ فوج کی مسلح آمد اور اس تیاری کے تیور دیکھ کر میں بھانپ گیا کہ یہ سب کچھ ٧ ستمبر کے بعد تحریک کو کچلنے کے لیے ہے۔
دوسری بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ یہ تھی کہ ٥‘ ٤ ستمبر کو مرزائیوں نے ملک بھر کی فون کی ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر مرزا قادیانی کی صداقت کے دلائل اور اسے قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط ارسال کیے۔ ٦ ستمبر کو چھٹی تھی۔
مرزائیوں کا خیال تھا کہ ٧ ستمبر کو جب یہ ڈاک مسلمانوں کو ملے گی اس وقت تحریک کے رہنماؤں کی لاشیں سڑکوں پر ہوں گی۔ تحریک کچلی جا چکی ہوگی‘ قوم کے حوصلے پست ہوں گے‘ مرزا کی صداقت کا یہ خط ایک عظیم پیش گوئی کا کام دے جائے گا۔
-----O-----
تیسرا یہ کہ ٤‘ ٣ ستمبر کو ڈی سی فیصل آباد آفس میں ایک خاص واقعہ پیش آیا جس کی اطلاع اسی دن شام کو مجھے مل گئی تھی۔ وہ یہ کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک سربمہر لفافہ جس پر ٹاپ سیکریٹ لکھا تھا‘ موصول ہوا۔ اتفاق سے جس کلرک نے اس دن ڈاک کھولی وہ مرزائی تھا۔ اس نے یہ لفافہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ یہ چٹھی ڈی سی صاحب کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے تحریک ختم نبوت کے متعلق تازہ ہدایات پر مشتمل ہو گی۔ چوری چوری اس لفافہ کو اس نے کھول لیا اور اس کے باہر سے فوٹو سٹیٹ کاپی کرائی اور امیر جماعت مرزائیہ فیصل آباد کو مہیا کر دی۔ واقعی وہ چٹھی تحریک ختم نبوت کے متعلق تھی۔ جس میں صوبائی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات بھیجی گئی تھیں کہ ٧ ستمبر کے بعد جو تحریک ختم نبوت میں مزید شدت آنے والی ہے اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ ایک اے ۔ ایس ۔ آئی کو بھی گولی چلانے اور بغیر نوٹس دیے‘ کسی مکان
میں داخل ہوئے، تلاشی لینے جس کو مناسب سمجھے گرفتار کرنے کے اختیار ہوں گے اس چٹھی کا فوٹو سٹیٹ مرزائی جماعت کے امیر کو اور اصل چٹھی کو ڈی سی آفس کے سٹاف روم میں میز کے نیچے ڈال دیا۔ اسی روز اس مرزائی کے علاوہ ایک مسلمان کلرک نے بھی کچھ ڈاک کھولی تھی، کچھ دیر بعد تیسرے کلرک کی میز کے نیچے سے اس چٹھی پر کسی کی نظر پڑ گئی۔ اسے اٹھایا گیا تو اس کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس صورت حال سے تمام کلرک پریشان ہو گئے کہ یہ چٹھی کیوں کھولی گئی، کس نے کھولی۔ اس لیے کہ اسے تو ضابطہ کے مطابق ڈی سی صاحب کے سامنے کھولنا تھا۔ معاملہ سنگین تھا۔ ڈی سی صاحب کے نوٹس میں لایا گیا انہوں نے مسلمان کلرک اللہ رکھا کو معطل کر دیا۔ سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس مسلمان اور سمجھدار شخص تھا۔ اس نے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ کھولنے سے قبل لفافے کے کونے پر کس کے دستخط ہیں، اس لیے کہ ڈی سی آفس کی ڈاک کھولنے سے پہلے ہر لفافہ پر کھولنے والا اپنے دستخط کرتا ہے، جب وہ دستخط دیکھے گئے تو وہ مرزائی کلرک کے تھے۔ اللہ رکھا مسلمان کلرک بحال ہو گیا اور مرزائی کلرک کو معافی مانگنے پر معاف کر دیا گیا۔ اس چٹھی اور پورے ملک میں حکومت پولیس و فوج کے عمل سے مرزائیوں نے اندازہ لگا لیا کہ تحریک کچلی جائے گی اس لیے انہوں نے خطوط لکھے۔
.....O.....
٦ ستمبر کی صبح گورنمنٹ ایم این اے ہاسٹل میں مولانا مفتی محمود کے کمرہ میں مجلس عمل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الٰہی، امیر زادہ خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان، مفتی زین العابدین، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشرف، میاں فضل حق اور بندہ تاج محمود شریک ہوئے۔ میں نے یہ تینوں واقعات گوش گزار کیے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے میری معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے لاہور میں فوج کی پوزیشن سنبھالنے کے چشم دید واقعات بیان کیے۔ مجلس پر سناٹا طاری رہا، چوہدری ظہور الٰہی نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ
حکومت ہمارے مطالبات مان لے گی اور آج ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ ہماری معلومات کے خلاف ان کی یہ بات ہمارے لیے اچنبھا معلوم ہوئی، دوستوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں۔ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ کل مسز بندرا نائیکے وزیر اعظم سری لنکا پاکستان کے دورہ پر آئی تھیں۔ ان کے اعزاز میں بھٹو صاحب نے ضیافت دی۔ تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بلایا گیا۔ کھانے کی میز پر تمام کے ناموں کی چٹیں لگی ہوئی تھیں۔ کوئی اپوزیشن رہنما اس میں شریک نہ ہوا۔ اتفاق سے میں چلا گیا، کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو مسز بندرا نائیکے اور وزیر اعظم بھٹو صاحب دونوں بیرونی گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ ہر جانے والے کو الوداع کہہ رہے تھے۔ میں اس روش پر چلتا ہوا بھٹو صاحب کے قریب پہنچا تو میرا دل ان سے ملاقات کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ راستہ چھوڑ کر پلاٹ سے گزر کر گیٹ کے ایک سائیڈ سے گزرنا چاہا۔ بھٹو صاحب نے فوراً مجھے آواز دی ظہور الٰہی مل کر جاؤ، چھپ کر کیوں جا رہے ہو۔ میں واپس لوٹ کر بھٹو صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ چوہدری ظہور الٰہی تمہیں کیا ہو گیا ہے، تو میرا جانی دوست تھا۔
میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا سخت مخالف ہو گیا ہے۔ اتنے میں لاء سیکرٹری افضل چیمہ آگئے۔ بھٹو صاحب نے ان کو کہا کہ چیمہ صاحب آپ ظہور الٰہی کو سمجھائیں اس کو کیا ہو گیا ہے یہ آپ کا میرا دونوں کا دوست تھا۔ خدا جانے میں نے اس کا کیا قصور کیا ہے کہ اب یہ مجھے جلوسوں اور جلسوں میں گالیاں دیتا ہے۔ میری سی آئی ڈی رپورٹ یہ ہے کہ یہ اگر گھر پر ہو اور کوئی مخاطب نہ ہو تو بھی مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے۔ چوہدری ظہور الٰہی صاحب نے کہا کہ جناب ایسے نہیں ہے آپ سے ہمارے اصولی اختلافات ہیں، ہم اخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں اور اب ختم نبوت کا مسئلہ آپ کے سامنے ہے اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں ١٤ جون کو (ملک گیر ہڑتال کے دن) لاہور کی تقریر کے دن اس مسئلہ کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا لیکن بعد از خرابی بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں۔ افضل چیمہ نے کہا کہ بھٹو صاحب باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اتنا اصرار نہیں ہے البتہ چوہدری ظہور الٰہی صاحب بڑا اصرار کر رہے ہیں، اڑا ہوا ہے اور
ضد کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ بھٹو صاحب یہ چیمہ صاحب آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں۔ میں ضد نہیں کر رہا‘ علمائے کرام کا اپنا موقف ہے وہ میرے تابع نہیں ہیں ایک دینی موقف اور شرعی امر پر علماء کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب کے لیے مناسب نہیں ہے اور صرف علماء کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیان پاکستان اس مسئلہ کو حل کرانے کے لیے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں۔
دنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلہ کے لیے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ دنیائے عالم کے مسلمان اس مسئلہ کا مثبت حل چاہتے ہیں۔ اسے صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ علماء کرام قطعا اس مسئلہ میں کسی بھی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ آپ اس بارے میں علمائے کرام سے خود دریافت کر لیں بلکہ میں ایسے عالم دین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں‘ آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلہ ختم نبوت فروعی امر ہے یا دین کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا کون سے عالم دین۔ میں نے کہا کہ ظفر احمد انصاری‘ آپ ان سے پوچھ لیں اگر وہ ختم نبوت کے مسئلہ کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تحریک سے لاتعلق ہو جائیں گے۔ بھٹو صاحب نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ مجھے (ظہور الٰہی) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاری سے ملیں اور ان کا موقف معلوم کریں۔ چنانچہ اب وقت ہو گیا ہے چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے‘ ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سے ملنا ہے۔ مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاری سے اچھے تعلقات تھے۔ چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ چوہدری ظہور الٰہی‘ افضل چیمہ‘ حکیم عبدالرحیم اشرف‘ مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا ظفر احمد انصاری کی طویل گفتگو ہوئی۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے صراحتاً فرمایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ دین کا بنیادی مسئلہ ہے اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے۔ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلہ میں ضد کر رہے تھے۔ تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب زچ ہو گئے تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ اگر آپ لوگ ملک
کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کر جائیے‘ بہر حال مولانا ظفر احمد انصاری کی ملاقات کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی۔
-----O-----
اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا۔ ظہور الٰہی‘ مولانا مفتی محمود‘ پروفیسر غفور احمد‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ حفیظ پیرزادہ‘ مولانا کوثر نیازی‘ افضل چیمہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمود نے ہمیں حکم فرمایا کہ آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں مجلس عمل کی میٹنگ کریں۔ میں نے مفتی محمود صاحب سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے رویہ سے ضرور باخبر رکھیں تاکہ اس کی روشنی میں ہم مجلس عمل میں اپنی پالیسی طے کر سکیں۔ دارالعلوم میں میٹنگ شروع ہوئی آغا شورش کاشمیری کی صحت ناساز تھی‘ وہ میٹنگ میں لیٹ شریک ہوئے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ سید مظفر علی شمسی‘ سید محمود احمد رضوی‘ مولانا خواجہ خان محمد صاحب‘ مولانا محمد شریف جالندھری‘ سردار میر عالم خان لغاری‘ بندہ تاج محمود‘ مفتی زین العابدین‘ حکیم عبدالرحیم اشرف‘ علی غضنفر کراروی‘ مولانا غلام اللہ خان‘ مولانا غلام علی اوکاڑوی‘ مولانا احسان الٰہی ظہیر‘ مولانا عبید اللہ انور‘ نوابزادہ نصر اللہ خان‘ خان محمد خان اچکزئی‘ مولانا محمد علی رضوی‘ مولانا عبدالرحمٰن جامعہ اشرفیہ‘ مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دوسرے کئی حضرات شریک اجلاس ہوئے۔ پوری مجلس عمل اس پر غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہو گا اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہو گا۔ سبھی تحفظ ناموس ختم نبوت کے لیے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے اتنے میں مولانا مفتی محمود صاحب کا فون آیا کہ حالات پر امید ہیں توقع ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسودہ پر کامیاب ہو جائے گی۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کر کے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا۔ بھٹو صاحب نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی
بھٹو صاحب نے تمام ارکان کا موقف سنا اور کہا کہ اب مزید وقت ضائع نہ کریں رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہو گا آپ تمام حضرات تشریف لائیں ۔ اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔
ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ میں سخت پریشان تھا بھٹو صاحب جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا۔ کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ تمام حالات ہمارے سامنے تھے، میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علوی کے گھر گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گا۔ ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گزرا۔ رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں۔ ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا۔ اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدان ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا جلسہ کی تقریروں میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی۔ بھٹو صاحب جلسہ کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ تمام حالات ان کے سامنے تھے، رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا، اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی رات ڈیڑھ بجے کے قریب مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور مفتی محمود صاحب نے سٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے اشارہ سے بلوایا اور فرمایا مبارک ہو کل آپ کی انشاء اللہ العزیز جیت ہو جائے گی۔ لیکن اس کا ابھی افشا نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔ میں سٹیج پر آیا شیخ بنوری کے کان میں کہا کہ افشا نہ کریں لیکن آپ کو مبارک ہو۔ شیخ بنوری کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا، الحمدللہ جس سے اکثر لوگ میری سرگوشی اور مولانا کے الحمدللہ کا مطلب سمجھ گئے۔ بھٹو صاحب بڑے ذہین آدمی تھے، وہ پہلے سے فیصلہ دل میں کیے ہوئے تھے کہ مسئلہ کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں گے، لیکن وہ اس مسئلہ کی مشکلات اور رکاوٹوں سے باخبر تھے، وہ یہ جانتے تھے کہ اس طرح جلدی سے فیصلہ کرنے سے امریکہ، برطانیہ، فرانس، مغربی جرمنی کی حکومتیں مجھ پر زبردست دباؤ ڈالیں گی اس نے پیرزادہ کو کہا کہ
آپ لوگ گھر جا کر آرام کریں کل میں قومی اسمبلی اور ایوان بالا دونوں سے متفقہ قرارداد منظور کرالوں گا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں اور ان کا نام غیر مسلم اقلیت میں شامل کر دیا جائے گا۔ صوبائی ڈویژنل ضلعی انتظامیہ کو تحریک کو کچلنے کی ہدایات‘ فوج کا اسلحہ سمیت شہروں میں متعین ہونا یہ محض مرزائی و مرزائی نواز طاقتوں کی توجہ کو دوسری طرف پھیرنے کے لیے تھا۔
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور ٧ ستمبر شام کو قومی اسمبلی و سینٹ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یوں یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی‘ کفر ہار گیا اسلام جیت گیا‘ ختم نبوت کا بول بالا ہوا۔ اس کے منکرین کا منہ کالا ہوا‘ الحق یعلو ولا یعلی حق سربلند ہوتا ہے نہ کہ پست۔ شام کو ریڈیو ٹی وی دوسرے دن اخبارات کے ذریعہ قوم کو جب اس خبر کی اطلاع ہوئی تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئے کسی کا اگر فوت شدہ باپ زندہ ہو جائے تو اسے اتنی خوشی نہ ہو گی جتنی اس مسئلہ ختم نبوت کے حل پر ہوئی۔
سچ ہے اس لیے کہ حضورؐ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں باپ‘ اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ مجھے عزیز نہ سمجھے اس حدیث پر عمل کر کے تحریک ختم نبوت میں مسلمان قوم نے ثابت کر دیا کہ فخر عالم ﷺ کی ذات اقدس سے محبت ہی کامل ایمان کی نشانی ہے۔ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد‘ مرزائیت مردہ باد۔
اے مسلمان! یہ وہ عظیم لوگ تھے جن کی زندگی کا ہر ہر سانس تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف تھا۔ جنہوں نے زندگی کی ساری بہاریں ناموس رسولؐ کی حفاظت کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔ جو قادیانیت کے منہ زور سیلاب کو روکنے کے لیے ہمالیہ بن گئے۔ جنہوں نے اس جہادی راستے کے سارے کانٹوں کو پھول سمجھ کر سینوں سے لگایا۔ جنہوں نے گھر کی راحت بخش زندگی پر جیل کی زندگی کو ترجیح دی۔ جن کے پرعزم قدموں کو مال اور اولاد کی زنجیریں راہ قربانی سے نہ روک سکیں۔
لیکن۔۔۔ اے مسلمان ! آج قادیانی ڈش انٹینا کے زبردست ہتھیار سے مسلح ہو کر ہوا کی لہروں کے ذریعے ارتداد کی تبلیغ کر رہا ہے۔ وائس آف اسلام کے نام سے ریڈیو سٹیشن کا ہولناک منصوبہ تیار ہوچکا ہے۔ قادیانی روزنامے چھپ رہے ہیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن و حدیث کے دجل و فریب پر مبنی تراجم پھیلائے جا رہے ہیں۔۔۔ درجنوں قادیانی ماہنامے اور ہفت روزے شائع ہو رہے ہیں۔۔۔ ہزاروں قادیانی مبلغین مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کا زہر ملت اسلامیہ کی رگوں میں گھول رہے ہیں۔ لیکن۔۔۔ ہم غفلت و بے حیائی کی چادر اوڑھے مردوں سے شرط باندھ کر سو رہے ہیں۔ ہمارا دکاندار کہتا ہے ‘ میں دکانداری میں مصروف ہوں۔۔۔ زمیندار کہتا ہے ‘ میں زمینداری میں مصروف ہوں۔۔۔ ملازم کہتا ہے ‘ مجھے ملازمت سے فرصت نہیں۔۔۔ طلبا کہتے ہیں ‘ ہم حصول تعلیم میں مشغول ہیں۔۔۔ ڈاکٹر اور انجینئر کہتے ہیں ‘ ہمارے پاس وقت نہیں۔۔۔ وکلا کہتے ہیں ‘ ہم اپنے دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔ صحافی اس عظیم کام کی طرف توجہ نہیں دیتے۔۔۔ عورتیں اپنے مشاغل میں مست ہیں۔۔۔ تو۔۔۔ اے مسلمان! پھر ناموس رسولؐ کی حفاظت کون کرے گا؟
تاج و تخت ختم نبوت کی چوکیداری کون کرے گا؟ قادیانیوں کے ظالم ہاتھوں سے اسلام کو قطع و برید سے کون بچائے گا؟ ارتداد کے بدمست ہاتھی کو زنجیر کون پہنائے گا؟
مندر میں پجاری جاگتا ہے، مسجد کا نمازی سوتا ہے
اے مسلمان! اگر ہم نے ناموس رسولؐ کی پرواہ نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی ہماری عزتوں
کی کوئی پرواہ نہ ہوگی--- جو شخص محمدؐ رسول اللہ کی ذات اقدس پہ غیرت نہیں کھاتا‘ اللہ کو بھی اس پہ غیرت نہیں آتی--- کیونکہ جس کا محمدؐ رسول اللہ سے تعلق نہیں‘ اس کا اللہ سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز 3
جنہیں
ختم نبوّت
سے عشق تھا!
ترتیب و تدوین محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر مسلمان اس کتاب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہو گی۔
*
نام کتاب -------- جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا ترتیب و تدوین -------- محمد طاہر رزاق تعداد -------- گیارہ سو کمپوزنگ -------- المدد کمپوزرز‘ پریم نگر لاہور ڈیزائننگ -------- عنایت اللہ رشیدی قیمت -------- =/80 روپے اشاعت اول -------- جون 1999ء ناشر -------- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ۔ ملتان مطبع -------- شرکت پرنٹنگ پریس۔ نسبت روڈ‘ لاہور
ملنے کا پتہ:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ حضوری باغ روڈ‘ ملتان السعود اکیڈمی۔ عزیز مارکیٹ‘ اردو بازار۔ لاہور مکتبہ سید احمد شہید۔ اردو بازار۔ لاہور
انتساب
شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری
- محبتِ رسولؐ سے سرشار
- تحفظِ ختمِ نبوت کی پکار
- جہادِ ختمِ نبوت کی یلغار
- قادیانیت کیلئے شمشیرِ آبدار
جناب طارق مغل کے نام
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمن‘ جناب عبد الرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
فہرست
- سکھر کی خوفناک جیل 21
- قصہ ایک شہید ختم نبوت کا 22
- ٹینڈے 23
- مرزا جہنم میں دیکھو 24
- تانگہ اور مرزائی 25
- میں کیسے مسلمان ہوا؟ 26
- شہید کی ماں 26
- قاطع مرزائیت حضرت سید لعل شاہ دوالمیالویؒ 29
- مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۔۔۔۔۔ ربوہ میں منزل بہ منزل 32
- پہلی باجماعت نماز 34
- مسجد محمدیہ کی تعمیر 35
- مسجد محمدیہ ربوہ اہل سنت و جماعت 36
- اہم اجتماعات 37
- جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت (مسلم کالونی) 38
- بہشتی مقبرے میں چند لمحے 40
ب
- اور میں کامیاب ہو گیا 45
- کروڑ لعل عیسن میں دس مرزائیوں کو دکان سے نکال دیا گیا 51
- خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے 52
میری آخری ملاقات
- قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے پہلی ملاقات 55
- جب مرزائیت رسوا ہوئی 60
- خدا کی غائبانہ امداد 66
- مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی 1950ء کی ایک تقریر 67
- ہماری پوزیشن 68
- بد معاملہ 69
- بد زبان 70
- توہین رسالت 71
- شعور انبیاء 72
- توہین الوہیت 73
- سوال 73
- جواب 74
- حرف آخر 75
- جیل میں مولانا احمد علی لاہوریؒ کو زہر دیا گیا 76
- تحریک ختم نبوت کے محرکات 77
- حضرت لاہوریؒ کی گرفتاری 80
- زہر خورانی کا ہولناک واقعہ 81
ج
- صدائے قاضی 83
- خان لیاقت علی خان سے قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی ملاقات 84
- اخلاص اور جدوجہد 88
- چودھری ظفر اللہ خان کے متعلق ایک مکتوب 92
- مرزا ناصر کی عبرت ناک موت 96
- قبول اسلام 99
- ختم نبوت کانفرنس ربوہ 101
- حضرت خواجہ خان محمد صاحب کی کرامت 101
- غیبی مدد 102
- حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ 103
- ختم نبوت اور مرزائیت 106
- آخری فیصلہ 107
- چیلنج 107
- پس آئینہ 108
- مولانا غلام غوث ہزارویؒ 109
- مولانا غلام غوث ہزارویؒ زندہ ہو گئے 110
- حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ 111
- حکیم عبدالمجید سیفی 112
- محبت کی باتیں 113
- مرزائیت کے خلاف تاریخی فیصلہ کرنے والے جج صاحب کی نماز 114
جنازہ
- ہم جہنم سے بچ گئے 115
- خواب 115
- عجیب واقعہ 116
- شاہ جیؒ کی جیل کی زندگی 117
- علامہ ابو الحسناتؒ 119
- حضرت کشمیریؒ اور حضرت شاہؒ صاحب 120
- اسلامی غیرت و حمیت 121
- جب شاہ جیؒ جیل میں تھے 122
- مقام نبوت 124
- زندگی کی اہم رات 125
- مولانا سید یوسف بنوریؒ کا خط کرنل قذافی کے نام 125
- احرار کے سرفروش 127
- حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ 128
- انعام 128
- بخاریؒ کا مقام 129
- شاہ جیؒ کا حال 130
- ایڈیٹر روزنامہ ”زمیندار“ کی دردناک سرگزشت 131
- اعمال روزانہ پیش ہوتے ہیں 133
- جذبہ محبت رسولؐ 134
- حضرت بابو جی غلام محی الدین گولڑویؒ اور شورش کاشمیریؒ 134
- مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا جذبہ 135
- دستار بندی 136
- مولانا یوسف بنوریؒ کے سجدے 137
- مولانا محمد علی جالندھریؒ کی آخری خواہش 138
- میاں شیر محمد شرقپوریؒ اور حضرت لاہوریؒ 138
- آغا شورشؒ کے آخری الفاظ 139
- بنگالی فوجی منگوا لیے گئے 139
- علامہ کشمیریؒ کی وصیت 140
- ظفر علی خان ------ زندہ باد 141
- علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا اعلان ----- میں جنت کا ضامن ہوں 142
- مولوی عبداللہؒ کا خواب 143
- شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ کا فرمان 144
- حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ 144
- حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ 145
- حضرت بابو جی گولڑویؒ 145
- ایک عجیب مہم جوئی 146
- مرزائیوں کی خدمت 147
- چائے پلانے پر مجرم ٹھہرے 147
- دوبارہ اشتہار لگانے کی کوشش 148
- مولانا عبدالقیوم ہزاروی مدظلہ 148
- مولوی عبدالواحد نے مروا دیا ہے 150
- مرزا عبدالغنی مشکوک ہو گئے 151
- ربوہ کے اسرار کھلنے لگے 152
- آنجہانی مرزا محمود اور آنجہانی ظفر اللہ کی اہم خط و کتابت 153
- حضرت علامہ انور شاہ صاحبؒ کی پریشانی 154
- حضرت امیر شریعتؒ کا جذبہ اخلاص 154
- یک روزہ احرار کانفرنس 156
- قصر خلافت میں اہم میٹنگ 156
- کچھ لوگ جیل میں------کچھ تخت پر 158
- مولانا ظفر علی خانؒ کی مرزا قادیانی کی علمیت پر گرفت 158
- امیر شریعتؒ اور والد صاحبؒ 159
- حضرتؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ میں موانست 160
- قادیانی رپورٹ 160
- ایک شخص کا عشق 161
- قادیانیت کا ایک تجزیہ 161
- شاہ جیؒ پھانسی خانہ میں 163
- یادگار چوک میں یادگار خطاب 163
- مولانا محمد علی جالندھریؒ کا عشق رسولؐ 164
- کلمہ طیبہ اور نبی اکرم ﷺ کے گنبد خضراء کی برکت 164
- اے گل بہ تو خورسندم 165
- مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی حق گوئی و بے باکی 166
- فورٹ سنڈیمن میں تحریک ختم نبوت 167
- تحریک ختم نبوت 1974ء کی کہانی-----مولانا تاج محمودؒ کی زبانی 179