سہ ماہی
مجلہ تعلیم و تحقیق
اسلام آباد
الله
رسول
محمد
تحفظ ناموس رسالت نمبر
مرکز تعلیم و تحقیق
سہ ماہی
مجلہ تعلیم و تحقیق
تحفظ ناموس رسالت نمبر
مجلس مشاورت
- مولانا عبد المالک
- ڈاکٹر انیس احمد
- ڈاکٹر محمد عبد الجبار
- ڈاکٹر محمد طاہر منصوری
- ڈاکٹر شاہد رفیع
قیمت فی شمارہ 250 روپے سالانہ زر تعاون 800 روپے بیرون ملک سالانہ ممبر شپ 15 ڈالر
يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ مرکز تعلیم و تحقیق جلد: 1، شمارہ: 1
مدیر: حافظ حبیب الرحمن
نائب مدیران: محمد کاشف شیخ ، حافظ ساجد انور
انتظامی امور: جاوید اختر
کمپوزنگ و گرافکس عزیز الرحمن
طباعت: میثاق انٹرپرائزز اسلام آباد 051-5494175
مرکز تعلیم و تحقیق F-1، فرسٹ فلور، گیلانی پلازہ موٹروے چوک، اسلام آباد فون: 5107617-0333، 5101589-0334 ای میل: editor.mtt@gmail.com
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ
إِلَّا رَحْمَةً
لِّلْعَالَمِيْنَ
”اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں
کے حق میں ہماری رحمت ہے۔“ (سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد
فہرست مضامین
- اداریہ ۵
- توہین رسالت کا مقدمہ خرم مراد ۹
- قانون توہین رسالت: منظوری اور خاتمے کے مابین ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ۱۹
- تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری ڈاکٹر انیس احمد ۳۳
- ناموس رسول اکرم ﷺ اور شاتم رسول کی سزا (قرآن وسنت کی روشنی میں) مولانا محمد اسماعیل ۴۹
- مسئلہ اہانت قرآن ومنصب رسالت: پس پردہ محرکات کا ایک جائزہ ڈاکٹر محمد شاہد رفیع ۵۹
- توہین رسالت: عدالتی نظائر کی روشنی میں ڈاکٹر محمد مطیع الرحمٰن ۷۱
- پاکستان کا قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی مولانا محمد زاہد ۸۷
- گستاخ رسول کو قانونی کارروائی کے بغیر قتل کر دینے والے شخص کا شرعی حکم محمد مشتاق احمد ۹۳
- تحفظ ناموس رسالت کے قانون پر اعتراضات اور ان کا جائزہ مولانا حبیب الرحمٰن ۱۰۹
- گستاخان رسول کا انجام اور عشق مصطفیٰ ﷺ کے حقیقی تقاضے سید عارف شیرازی ۱۱۷
- سزائے توہین رسالت اور فقہی مذاہب: ایک جائزہ شمس الحق امین ۱۳۱
- گستاخ رسول بارگاہ رسالت میں: مستند احادیث کی روشنی میں طاہر صدیق ۱۴۳
- تعارف مرکز تعلیم و تحقیق ۱۶۲
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
اداریہ
امتناع توہین رسالت کے قانون پر وقتاً فوقتاً ذرائع ابلاغ میں مختلف نقطہ ہائے نظر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مختلف سوالات زیر بحث آتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور حساس مسئلہ ہے۔ بالخصوص توہین رسالت کے حوالے سے کوئی ایسا مقدمہ سامنے آ جائے جس میں توہین کا مرتکب کوئی ایسا شخص ہو جس کا تعلق کسی اقلیتی فرقہ سے ہو تو سیکولر لابی، بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز، نام نہاد حقوق انسانی کے علمبردار اور سفارت کار سب اسلام دشمنی میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ البتہ اس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ گولہ باری کدھر سے ہو رہی ہے اور اس میں کون کون سے ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں۔ توہین رسالت کے قانون کو ختم یا تبدیل کرانے کی جو کوششیں نظر آتی ہیں ان کے پیچھے یہی ایک مخصوص لابی ہے جسے پہلے روز سے ہی پاکستان کا اسلامی تشخص اور شناخت قبول نہیں۔
یہ لابی حضور اکرم ﷺ کی توہین ہی کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی مذموم کوشش بار بار کیوں کرتی ہے۔ اس کا جواب بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ آپ ﷺ کا نام مبارک اہل ایمان کے لیے ایک تحریک ہے جو رگِ مسلم میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ قلب کی دھڑکن اور آنکھوں کا نور بن کر چھلکتا ہے۔ کسی بھی ملک یا خطہ سے وابستہ کلمہ گو مسلمان اسی ایک ہستی سے وابستہ ہیں۔ احساسات و جذبات کے لطیف سے لطیف ارتعاش سے لے کر زندگی کے جملہ مسائل تک اسلامی تہذیب و تمدن اور فکر و عمل کے لیے قوتِ محرکہ کا عنوان بننے والا مبارک نام بلاشبہ نام محمد ﷺ ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے عشق و محبت مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں اگر کوئی زندگی ہر لحاظ سے سینوں اور سفینوں میں محفوظ ہے تو وہ صرف حضرت خاتم النبیین، احمد مجتبیٰ ﷺ کی مقدس زندگی ہے۔ یہی ایک زندگی ہے جو پوری کی پوری حافظے میں، ذہن و فکر میں بلکہ اعمال و کردار میں محفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، بات کرنے اور کھانا کھانے کی ایک ایک ادا کو اہل ایمان نے نہ صرف محفوظ کیا بلکہ آپ ﷺ کی سیرت کے ایک ایک جزئیے کو حرزِ جان بنایا اور اپنی زندگیوں میں جذب کرنے کی امکان بھر کوشش بھی کی ہے۔ حبّ رسول ﷺ جزوِ ایمان ہے اور جزو بھی ایسا کہ جس میں بال برابر کمزوری انسان کے سارے اعمالِ حسنہ پر پانی پھیر دیتی ہے:
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جس طرح امریکہ و یورپ کے مادیت پرستوں اور دین و مذہب سے بیگانہ اباحیت پسندوں کے لیے ذات رسالت مآب ﷺ سے مسلمانوں کی والہانہ محبت نا قابل فہم ہے، اسی طرح ہمارے ہاں لبرل فاشسٹ طبقہ اپنی خواہش بیمار کی تسکین کے لیے بڑی عیاری سے ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر ضربیں لگاتا ہے۔ دراصل یہ طبقہ زیادہ باوسیلہ، زیادہ بااثر، زیادہ بارسوخ اور مغربی فکر سے زیادہ قریب ہے۔ یہ پاکستان کو سیکولر ریاست اور عریاں تہذیب کی آماجگاہ بنانا چاہتا ہے لیکن مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتا ہے۔ اس طبقہ کو نہ صرف امتناع توہین رسالت کا قانون کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے بلکہ یہ اعتراض بھی ہے کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کیوں کہا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت پر کلمہ طیبہ کیوں لکھوایا گیا ہے، آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا ہے، صدر اور وزیر اعظم کا مسلمان ہونا آئینی تقاضا کیوں ہے، لہذا آئین کی اسلامی دفعات، فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے دستوری اداروں کے خلاف بھی وقتاً فوقتاً صدائے احتجاج بلند کی جاتی ہے اور انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ مملکت خداداد سے ہر اسلامی شناخت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔
توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کی کس طرح غیر معمولی عزت و تکریم کی جاتی ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مغربی سفارتخانوں سے مفت ویزے ملتے ہیں، جیل سے براہ راست ایئر پورٹ اور وہاں سے چارٹرڈ طیاروں میں مغربی ممالک میں پہنچا دیا جاتا ہے۔
سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے ملعون کرداروں کو امریکہ اور یورپ میں پذیرائی بلکہ توہین رسالت کے مرتکب ہر شخص کو عزت و احترام کے ساتھ یورپ اور دیگر ممالک میں ہر طرح کی مراعات اور سہولتیں فراہم کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ مسلمانوں کے بدن سے روح محمد ﷺ نکال کر متاع دین و ایمان سے محروم کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
ہمارے ہاں سیکولر حضرات جو ہمہ وقت یورپی ممالک کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں اور ان معاشروں کی رواداری، ٹالرنس، احترام انسانیت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے دلربا نغمے گاتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہے کہ کیا رواداری، احترام انسانیت اور دوسروں کے حقوق کا احترام یہی ہے کہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ قابل احترام ہستی کے گستاخانہ خاکے بنا کر ایک ارب سے زائد افراد کے جذبات کو کچلا جائے۔ کیا اس قسم کی آزادی اظہار کا مطلب انبیاء کی توہین کر کے اور قرآن کریم کو جلا کر نفرت اور ردعمل کی آگ بھڑکانا نہیں ہے۔ سویڈن کے جس کارٹونسٹ نے حضور اکرم ﷺ کا گستاخانہ خاکہ بنایا تھا وہ محض کارٹون نہیں بلکہ گستاخی، توہین اور تمسخر کی ان حدوں کو چھو رہا تھا جس کا کوئی مہذب انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جب تمام اسلامی ممالک کی سڑکیں، گلیاں اور بازار سراپا احتجاج تھے تو کئی یورپی ممالک کے وزراء بضد تھے کہ یہ آزادی اظہار ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔ کیا ان تعلیم یافتہ معاشروں کے پڑھے لکھے افراد یہ بھی نہیں جانتے کہ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۷ تحفظ ناموس رسالت نمبر
وہ مسلمان جو ان ممالک میں رہتے ہیں، وہاں کے شہری بھی ہیں ان کے مذہبی جذبات کا احترام نہ صرف ضروری ہے بلکہ تہذیب، مذہبی رواداری اور احترام انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ یہ چند جنونی لوگوں کا کارنامہ ہے بلکہ ناروے، سویڈن اور اٹلی کے حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ نے جس طرح ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ اپنایا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم عالمی سازش ہے اور ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو حقارت کا نشانہ بنانا، اس مقدس ہستی سے مسلمانوں کا رشتہ کمزور کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا ہے۔
دراصل اس قسم کے مواقع پر ان نام نہاد سیکولر ممالک کی تہذیب، رواداری اور احترام انسانیت جیسے خوشنما نعروں کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اور اسلام دشمنی میں یہ صرف ”عیسائی“ ممالک نظر آتے ہیں جو ”الكفر ملة واحدة“ کا عملی منظر پیش کرتے ہیں۔
ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں جب بھی توہین رسالت کا قانون اور سزا موضوع بحث بنتے ہیں تو انتہائی جذباتی فضا بن جاتی ہے۔ ایک طرف این جی او شعار لبرل طبقہ جدت پسندی، روشن خیالی اور انسانی حقوق کی آڑ میں کمال مہارت سے دوسروں کو وحشی، جاہل، انتہا پسند قرار دے کر خود کو نہ صرف عقل کل سمجھتا ہے بلکہ مفسر، محدث، فقیہ اور مفتی کی مسند ارشاد پر بھی براجمان نظر آتا ہے حالانکہ دینی علوم سے ان کی جہالت سب کے سامنے عیاں ہوتی ہے۔ ان کے ہاں بھی اعتدال اور توازن نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس مذہبی اجتماعات میں بھی ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے کہ بسا اوقات اعتدال کی راہ گم ہو جاتی ہے اور ایسا انداز فکر انتہا پسندانہ رویوں کو جنم دیتا ہے۔ اس طرح بہت سے لوگ خود اس قانون کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ کا پہلا شمارہ ہی ”تحفظ ناموس رسالت نمبر“ کے عنوان سے شائع کیا جائے۔ کیونکہ آسیہ مسیح کے حالیہ مقدمہ اور پھر سلیمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کے تناظر میں مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں مثلاً یہ سوال کہ گستاخ رسول کو قانونی کارروائی کے بغیر قتل کر دینے والے شخص کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس جرم کی نوعیت کیا ہے، قرآن و سنت میں اس جرم کے تفصیلی دلائل کیا ہیں، آیا شاتم رسول کی سزا صرف موت ہی ہے اور یہ سزا بطور حد ہے یا تعزیر ہے۔ پھر یہ کہ آیا یہ امت مسلمہ کا اجماعی موقف ہے یا اس بارے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ اس جرم کے مرتکب کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس حوالے سے اسے سمجھانے بجھانے کی بھی گنجائش ہے یا نہیں، جرم کا مرتکب غیر مسلم ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے اور مسلمان ہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس سلسلہ میں عہد رسالت ﷺ، خلفاء راشدینؓ اور امت مسلمہ کا تعامل کیا رہا ہے اور پاکستان میں رائج عدالتوں کے فیصلے کیا ہیں۔ اس نوع کے متنوع موضوعات کے ہر پہلو پر قرآن و سنت اور فقہی لٹریچر کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب بھی متعدد پہلو علمی و فقہی لحاظ سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس نازک صورتحال کا بے لاگ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب و
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
محرکات کا معروضی تجزیہ کیا جائے۔ محض الزام کی بنیاد پر کسی کو گستاخ رسول نہیں کہا جاسکتا کہ جذبات میں توازن کھو دیا جائے، اسے واجب القتل قرار دیا جائے اور فوراً اسے صف دشمناں میں شامل کر دیا جائے۔ بلکہ اس کے لیے جو شرعی ضابطہ اور معیار ثبوت ہے ان کا تعین بھی ضروری ہے۔ اس قانون کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے جو اپنے مذہبی حریف یا مخالف فرقے کے خلاف اس قانون کو غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ علماء کرام کا فرض ہے کہ اس نوع کے بیمار ذہنوں کے لیے سارے راستے مسدود کردیں کیونکہ عام حالات میں کوئی مسلمان بھی بقائمی ہوش و حواس توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا بلکہ غیر مسلم تک عزت و احترام سے نام لیتے ہیں۔ اس لیے یقیناً ایسے افراد انتہائی اقلیت میں ہوں گے (خواہ نام نہاد مسلمان ہوں یا غیر مسلم) جو اس نوع کی گستاخی یا توہین کے مرتکب ہوں۔ یہ معاملہ انتہائی نازک اور حساس ہے لیکن ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا، اعتدال و توازن کی راہ اختیار کرنا امت مسلمہ کا بنیادی وصف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ”امت وسط“ قرار دیا ہے۔ افراط و تفریط اور غلو سابقہ قوموں کے لیے بھی باعث ہلاکت بنا ہے اس لیے اس سے بچتے ہوئے ”امت وسط“ سے متصف ہو کر ہمیں اس مسئلہ کی شرعی پوزیشن کو سمجھنا چاہئے۔
مقالہ نگاروں نے قانون توہین رسالت کے مختلف پہلوؤں پر علمی و تحقیقی انداز سے بحث کی ہے۔ آزادانہ اظہار رائے کا اظہار ہمیشہ مسلمانوں کی روایت رہی ہے اور علماء کی طرف اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی رہی ہے بشرطیکہ مقصد حق اور درست موقف معلوم کرنا ہو۔ اس حوالے سے بعض حضرات کے نقطہ نظر یا تعبیر سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ ادارے کا مقالہ جات میں پیش کئے گئے خیالات سے اتفاق ضروری نہیں ہے۔
مرکز تعلیم و تحقیق ایک تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی ادارہ ہے جس کا مقصد ایسے نوجوان محققین کی تیاری ہے جو امت مسلمہ کو درپیش معاصر مسائل کا حل اور چیلنجز کا جواب اسلامی نقطہ نظر سے مدلل انداز سے دے سکیں۔ مرکز تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام ایک سہ ماہی تحقیقی جریدے ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ کے اجراء کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد اہم سماجی، تعلیمی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ اس مجلہ کا آغاز ”تحفظ ناموس رسالت نمبر“ سے کیا جارہا ہے۔
امید ہے کہ ادارے کی یہ کاوش اس قانون کے مالہ و ماعلیہ کو سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔
مدیر
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم وتحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
توہین رسالت کا مقدمہ
خرم مراد*
توہین رسالت کا حالیہ مقدمہ، معمول کے مطابق محض جرم وسزا کا ایک مقدمہ ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ اگر دونوں ملزم بے گناہ تھے، یا ان کا جرم شرعی معیار شہادت کے مطابق ثابت نہ ہو سکا تھا، یا اس میں کوئی ادنیٰ سا بھی شبہہ تھا، تو حق وانصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو بری کر دیا جاتا۔ اس حق وانصاف اور رحم و درگزر کا، جس کی تعلیم ہمیں اسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، جس کی توہین کا یہ مقدمہ تھا، جس نے بدترین دشمن کے ساتھ بھی عدل و رحم کا برتاؤ کیا ہے، اور ہر قیمت پر عدل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ تو ہمارے معاہد اور برابر کے شہری تھے، مگر پورے مقدمے کے دوران جس طرح اور جس پیمانے پر طاقت ور بیرونی اور اندرونی قوتیں اثر انداز ہوتی رہیں، اس نے مذکورہ مقدمے کو ایک غیر معمولی نوعیت دے دی ہے۔ اس نے توہین رسالت کے معاملے کو ہمارے مقدر کا، ہمارے حال اور مستقبل کا ایک آئینہ بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ملزمان کی برأت بھی مشتبہ ہو گئی ہے، جو یقیناً ان کے ساتھ ایک بے انصافی ہوئی ہے۔
اس آئینے میں وہ ساری کھلی اور چھپی صورتیں بالکل بے نقاب ہو گئی ہیں، جو آج ہمارے مستقبل کی نقشہ گری اور ہمارے مقدر کے بنانے اور بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان صورتوں میں، اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی، تہذیبی بھی ہیں اور سیاسی بھی، فکری بھی ہیں اور ابلاغی بھی۔ اس آئینے میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری بربادی کے مشورے کہاں ہو رہے ہیں، جنگ کا نقشہ کیا ہے، محاذ کہاں کہاں کھولے جا رہے ہیں، مورچے کہاں کہاں بنائے گئے ہیں، چالیں کیا کیا چلی جا رہی ہیں، دور مار توپیں کدھر کدھر سے گولہ باری کر رہی ہیں، ہتھیار کون کون سے استعمال ہو رہے ہیں، پیش قدمی کن کن راستوں سے ہو رہی ہے، اندر کون کون ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، عزائم کیا ہیں اور اصل ہدف کیا ہے؟ ___ اور یہ بھی کہ___ ہماری قوت کا اصل راز کیا ہے، ہم بازی کیسے پلٹ سکتے ہیں، بلکہ جیت سکتے ہیں۔
- ● ایک چہرہ مغرب کا ہے، اس کے حکمرانوں، اہل کاروں اور سفارت کاروں اور ذرائع ابلاغ کے سحر کاروں کا چہرہ، جو پورے
مقدمے کے دوران تیز تیز چلتے، بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے رہے۔ یہ چہرہ اب کچھ ایسا ڈھکا چھپا بھی نہیں رہا۔ ذرا موقع نکلتا ہے، فوراً اُوپر سے تہذیب، روشن خیالی اور انسانی ہمدردی کا چھلکا اتر جاتا ہے، اور نیچے سے وہی مسلمان اور اسلام کی دشمنی کا چودہ سو سال پرانا رویہ اور
* معروف مفکر سابق مدیر ”ترجمان القرآن“ شمارہ اپریل ۱۹۹۵ء، لاہور۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت اور غصہ ٹپکتا ہوا چہرہ نمودار ہو جاتا ہے۔
سیکولرازم اور انسانی حقوق کی علم بردار ریاستیں بالآخر محض ’عیسائی‘ ریاستیں ثابت ہوتی ہیں، جو ہر ملک کے ملکی قوانین کے خلاف ’عیسائی حقوق‘ کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ فلسطین ہو یا بوسنیا، کشمیر ہو یا چیچنیا، الجزائر ہو یا فرانس — چہرہ روشن، اندرون چنگیز [۱۹ لاکھ ۴۰ ہزار انسانوں کا قاتل تاتار حکمران۔ م: ۱۲۲۷ء] سے تاریک تر۔ مغرب کی یہ قوتیں ہمارے ہاں تہذیبی اور سیاسی غلبہ رکھتی ہیں، ہماری قسمت کے ساتھ کھیل رہی ہیں، یہاں تک کہ اب ہمارا ایک قانون اور ہمارے دو شہریوں کے خلاف، ہماری عدالت میں ایک مقدمہ بھی ان کے غلبے سے آزاد نہیں۔
- ایک چہرہ مغرب کے فرزندوں کا ہے، جو برطانوی مورخ لارڈ [تھامس بابنگٹن] میکالے [م: ۱۸۵۹ء] کے خواب کی مکمل
تعبیر ہے: ”خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہم میں سے ہیں، مگر مذاق اور رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز“۔ یا لبنانی ادیب خلیل جبران [م: ۱۹۳۱ء] کے الفاظ میں: ”[جن کے جسم خواہ یہاں پیدا ہوئے ہوں، مگر] ان کی روحوں نے مغربی ہسپتالوں میں جنم لیا ہے۔ جو فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہیں، مگر ہمارے [فرنگی سامراجیوں] کے سامنے کمزور اور گونگے ہیں۔ جو آزادی کے علم بردار ہیں، مصلح ہیں، پُر جوش ہیں، مگر اپنے اسٹیجوں پر، اہل مغرب کے سامنے اطاعت کیش اور رجعت پسند ہیں“ — یہ فرزندان مغرب، توہین رسالت جیسے معاملات میں ایک سو ایک فی صد مغرب کے ہم نوا رہتے ہیں، مغرب سے بڑھ کر پیش پیش ہوتے ہیں۔
- ایک چہرہ ان کا ہے، جو کسی طرح بھی لارڈ میکالے کے خواب کی مکمل تعبیر نہ بن سکے، وہ اسلام اور ملت سے اپنا رشتہ کھرچ
نہیں سکے، لیکن اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی درجے میں فرنگی افکار کے جادو میں گرفتار ہیں۔ ان کے مزاج کے لیے بھی یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ توہین رسالت کی سزا موت ہو۔
وہ پوچھتے ہیں: کیا یہ سخت سزا قرآن سے ثابت ہے؟ کہیں یہ مُلّا کی تنگ نظری اور شدت کا شاخسانہ تو نہیں؟ جو رحمت للعالمین تھے اور جنھوں نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں، ان کی توہین پر ایسی سخت سزا! دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی، ہمیں کیا سمجھے گی، ہم اسے کیا منہ دکھائیں گے؟ خودنگری اور مستقبل بینی کا یہ آئینہ ہمارے ہاتھوں میں اگر مسئلہ توہین رسالت کے ذریعے آیا، تو بالکل بجا آیا ع
”ما ز حکم نسبت او ملتیم“: آں حضور کی ذات مبارک ہی ہماری قوت کا سرمایہ ہے، ہماری وحدت کا راز آپ سے وابستگی میں ہے، آپؐ کی نسبت ہی نے ہمیں ایک ملت بنایا ہے، بلکہ ہمارے جسدِ ملی میں رسالت ہی کی جان پھونکی گئی ہے، اسی کے دم سے ہمارا دین ہے، ہمارا آئین ہے:
از رسالت در جہاں تکوین ما از رسالت دین ما آئین ما
مغرب کا اضطراب اور شور و غوغا قابل فہم ہے۔ اس لیے نہیں، جیسا بعض لوگ [گستاخی رسول کے مرتکب] سلمان رشدی کی یاوہ گوئی کے وقت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک رسول کا مقام کیا ہے، اور کیوں ہے۔ مغرب
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۱ تحفظ ناموس رسالت نمبر
سے ہماری مراد سارے اہل مغرب نہیں، تاہم ان میں سے اکثر کے بارے میں یہ بات صحیح ہے۔ اور مغرب کے طلسم میں گرفتار سادہ دل مسلمانوں کے بارے میں بھی۔ یقیناً ان سب کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ان کو سمجھا لینے ہی میں ہماری کامیابی پوشیدہ ہے۔ مگر جو حکمران، سفارت کار، دانش ور اور ذرائع ابلاغ کے سحر کار قانون توہین رسالت کے خلاف پیش پیش ہیں، وہ اسی لیے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ملت کی زندگی، وحدت اور قوت و توانائی کا راز اور ان کی سربلندی کا راز بھی حضور کے ساتھ وابستگی اور عشق و محبت میں پوشیدہ ہے ”در دل مسلم مقام مصطفیٰ است“۔
اسی لیے ہزار سال سے اُوپر مدت ہو گئی، ان کے نقشۂ جنگ کا ہدف یہی مقام مصطفیٰ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کا یہی ’قلب‘ اور ’دارالحکومت‘ ہے۔ اس کی شکست و ریخت، بربادی اور اس پر قبضہ کے بغیر اس ملت کو زیر کرنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ اسی لیے آں حضورؐ کی ذات ان کے سارے حملوں کا اولین ہدف رہی ہے، اور ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل ہر قسم کے انتہائی غلیظ وار، آپؐ کے خلاف کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے سلمان رشدی ان کی آنکھوں کا تارا ہے، یورپ کی حکومتوں کے سفارتی تعلقات اور تجارتی مفادات اس کے خلاف ’فتویٰ‘ کے محور پر گھوم رہے ہیں۔ اسی لیے تسلیمہ نسرین ان کی ہیروئن ہے۔ اسی لیے ہر وہ مسلمان جو: شریعتِ مصطفویٰ کو بے وقعت کرے، جو تعلیماتِ محمدی کو مشکوک بنائے، جو مقامِ مصطفویٰ کو مجروح کرے، وہ انھیں محبوب ہے۔ اور یہ حکیمانِ مغرب کا فتویٰ ہے:
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
اسی لیے مذکورہ دو افراد کے خلاف مقدمہ دائر ہوتے ہی، غیر مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ اور سفارت کار حرکت میں آ گئے اور یہ واقعہ عالمی شہرت کا حامل بن گیا۔ ان سب کا ہدف ملزموں کی بے گناہی ثابت کرنا نہیں، بلکہ توہین رسالت کے قانون کی تنسیخ رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس آف امریکا، وائس آف جرمنی کی نشریات، اخبارات، رسائل و جرائد میں مضامین اور خبروں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ انھی بیرونی لابیوں کے ساتھ پاکستان کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی متحرک ہو گیا۔
امریکا میں پاکستانی سفیر، ملیحہ لودھی، گوجرانوالہ گئیں اور ملزموں کی ضمانت کے لیے عدالت پر زور ڈالا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ، رابن رافیل نومبر ۱۹۹۳ء میں اسلام آباد آئیں، تو وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس کیس کو اٹھایا۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے انھیں یقین دلایا کہ ”ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا“۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس مقدمے میں ذاتی دل چسپی لی اور جب مجرموں کو سزا ہوئی تو انھیں سخت دکھ ہوا۔ اپریل ۱۹۹۴ء میں پاکستان کی وفاقی کابینہ نے موصوفہ کی صدارت میں، توہین رسالت کے مرتکب فرد کے لیے موت کی سزا کو ۱۰ سال قید کی سزا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
پھر جب ملزموں کو سیشن کورٹ سے سزا ہو گئی تو سارے بین الاقوامی، سفارتی اور ابلاغی ذرائع نے نفرت انگیز پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مہم تیز تر کر دی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ملزمان سے ملاقات کے لیے جیل پہنچ گئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے، جو عارضی [ایڈہاک] ججوں پر مشتمل تھا، مسلسل روزانہ اپیل کی سماعت شروع کر دی۔ بالآخر ملزمان رہا
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہوگئے اور راتوں رات ان کو جرمنی روانہ کر دیا گیا۔
عدالتوں کے فیصلے تسلیم کیے بغیر کوئی مہذب اور پُر امن معاشرہ قائم بھی نہیں ہو سکتا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ ہائی کورٹ نے صحیح فیصلہ ہی کیا ہوگا۔ لیکن، اس مسلسل بین الاقوامی اور حکومتی دباؤ اور عدالتی کارروائی میں حیرت انگیز سرعت نے پورے فیصلے کو مشکوک بنا دیا۔ اس دباؤ کے آگے اس دباؤ کی کیا حیثیت اور کیا وزن، جو عدالتی کارروائی کے دوران اور فیصلے کے بعد عوام نے لاہور کی سڑکوں پر نکل کر ڈالا۔ ہر تجزیہ نگار، پورا پس منظر جان بوجھ کر نظر انداز کرکے، سارا زور عوامی احتجاج کی مذمت کرنے میں لگاتا رہا۔ ہم بھی کسی عدالت پر اس طرح عوامی دباؤ ڈالنے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ لیکن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دوسری طرف سے وہ لوگ زبردست دباؤ ڈال رہے تھے، جن کی مٹھی میں حکمرانوں کے اقتدار کی کنجی ہے، ڈالر ہیں، دہشت گرد قرار دینے کی لاٹھی ہے اور ’مہذب‘ بھی کہلاتے ہیں۔
تہذیب کے دعووں کے ساتھ اب مغرب کے لیے قرونِ وسطیٰ کی طرح دشنام طرازیاں تو ممکن نہیں، البتہ ان کی جگہ آج کے رائج الفاظ کے پردے میں توہین رسالت کے قانون پر حملہ ہو رہا ہے: ’’یہ قانون، انسانی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، مذہبی آزادی کے خلاف ہے، اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے، اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز پر مبنی ہے، اقلیتی فرقوں کے سر پر ننگی تلوار لٹکا دی گئی ہے، فرقہ واریت اور ذاتی عناد کی بنا پر، اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس سے مُلا، بنیاد پرستی، مذہبی جنون اور تنگ نظری کا زور بڑھ گیا ہے، تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
توہین رسالت کے لیے سزا، اس مقصد کے لیے رائج الوقت قانون، اس کا استعمال اور اس بارے میں خدشات کو حالیہ مقدمہ سے الگ کر کے دیکھا جائے، تب ہی ایک منصف مزاج آدمی اس قانون کے خلاف سارے مباحث میں کسی صحیح نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔
- ● بنیادی اور اولین سوال یہ ہے: ’’کیا توہین رسالت کوئی جرم نہیں ہے، اور جرم ہے بھی تو کیا اس پر کوئی سزا نہیں ہونا چاہیے؟‘‘
رسالت تو بڑی چیز ہے، دنیا بھر میں ہمیشہ سے کسی بھی انسان کی عزت و آبرو کو تحریری یا زبانی نقصان پہنچانا، ایک جرم قرار دیا گیا ہے، اور اسی لیے ہر معاشرے میں ہتک عزت [defamation] کے جرم کے لیے سزا کا قانون موجود رہا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں آیا کہ کسی دوسرے انسان کی بے عزتی اور توہین کرنا، ایک فرد کا انسانی اور بنیادی حق ہو سکتا ہے، اور اگر اس پر سزا دی جائے تو گویا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ آج مغرب میں بھی یہی تصور اور یہی قانون ہے۔ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ مغربی قوانین کے تحت جس کی ہتک عزت ہوئی ہو، وہ خود ہی مدعی بن سکتا ہے۔ چونکہ رسول، یا کوئی بھی دنیا سے گزرا ہوا آدمی، اب خود مدعی نہیں بن سکتا، اس لیے اس کی جتنی توہین کر لی جائے، یہ جرم قابل سزا نہیں ہو سکتا۔
لیکن اس سے زیادہ بودی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟ —— جب ایک عام آدمی کی ہتک عزت بھی قابل تعزیر جرم ہو، تو اس شخص کی ہتک عزت کیوں نہ قابل تعزیر ہو، جو ایک ارب سے زیادہ انسانوں کو اپنی جان و مال ہی نہیں، اپنی ذات سے بڑھ کر محبوب ہے۔ جس کی
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
عزت اور نام سے ان کی عزت اور نام وابستہ ہے۔ جس کی توہین سے ان کی اپنی ذات، ان کے نام، ان کی اپنی عزت، ان کے دین، ان کے آئین اور ان کی ملت کی توہین ہوتی ہے۔ آں حضور کا مقام تو ہر مسلمان کے لیے یہی ہے۔ ایک مسلمان کی آبرو آپ کے نام سے ہے۔ آبروے ما ز نام مصطفیٰ است۔ وہ مسلمان ہو نہیں سکتا، جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی جان، مال، والدین، دنیا کی ہر چیز، یہاں تک کہ اپنے نفس اور ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَ وَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ
(بخاری، مسلم)
- ● دوسرا سوال یہ ہے: ”کیا اس جرم کے لیے موت کی سزا بہت سخت اور احترام آدمیت کے خلاف ہے؟“
اگر اعتراض فی نفسہٖ موت کی سزا پر ہے کہ یہ وحشیانہ ہے، تو وہ زمانہ گزر گیا جب تہذیب کے جوش میں موت کی سزا کو بالکل منسوخ کرنے کی ہوا چلی تھی۔ اب تو انتہائی ’مہذب‘ اور ’انسان دوست‘ ہونے کے دعوے دار ملکوں میں، ایک کے بعد ایک، یہ سزا بحال کی جارہی ہے، بلکہ ہر ملک جہاں یہ سزا ختم کی گئی، وہاں کی بھاری اکثریت موت کی سزا کی بحالی کے حق میں ہے، نہ صرف موت کی سزا، بلکہ جسمانی سزا کے حق میں بھی۔ ۱۹۹۴ء میں جب سنگاپور میں ایک امریکی کو چھ بید مارنے کی سزا دی گئی تو امریکی حکومت اور چند طبقات کی مخالفت کے باوجود امریکیوں کی اکثریت نے اس سزا کی حمایت کی تھی۔ مغرب میں بھی اس قسم کے جرم پر سخت سزاؤں کے قوانین موجود ہیں، اور پہلے تو زندہ جلایا جاتا رہا ہے۔
اگر اعتراض یہ ہو کہ یہ سزا جرم کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے، تو اس جرم کی نوعیت کا فیصلہ تو وہی کر سکتے ہیں، جن کو اور جن کے پورے معاشرے کو اس جرم سے نقصان پہنچ رہا ہو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار، اخلاق، صداقت، امانت، عدالت کو مجروح کرنا دراصل دین، ایمان، آئین، ریاست اور پوری اُمت مسلمہ، سب کو مجروح کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان ہی اس معاملے میں مناسب قانون سازی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کی مقننہ نے یہی سزا مناسب سمجھ کر یہ قانون منظور کیا ہے، ان کی اعلیٰ عدالتوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ ایک جمہوری طریقے سے طے کردہ قانون ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عمر قید کی سزا، موت کی سزا سے زیادہ وحشیانہ اور ظالمانہ سزا ہے، لیکن کوئی پارلیمنٹ یا کانگرس اپنی حدود میں یہ سزا دینے کا قانون بنائے، تو ہم اس کا فیصلہ کیسے بدلوا سکتے ہیں؟
- ● تیسرا سوال یہ ہے: ”کیا یہ قانون واقعی عیسائی اور ہندو جیسے اقلیتی فرقوں کے خلاف تعصب و امتیاز پر مبنی ہے، ان کو کچلنے،
دبانے اور حقوق سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے؟“ جہاں تک قانون کا تعلق ہے، اس میں ایک حرف اور ایک نکتہ بھی ایسا نہیں بتایا جا سکتا، جو اقلیتی فرقوں کے خلاف ہو یا ان کا کوئی حق سلب کرتا ہو۔ اس کا اطلاق کسی نام نہاد مسلمان پر بھی بالکل اسی طرح ہوگا، جس طرح غیر مسلم پر۔ تعصب و امتیاز کی بات اس وقت صحیح ہو سکتی ہے، جب یہ گمان کیا جائے کہ اقلیتی فرقوں کی باقاعدہ نیت یا پروگرام ہے کہ وہ توہین رسالت کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ عمومی سطح پر ان کا ایسا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں، اگرچہ باہر والے ان سے یہ حرکت کروا کے انھیں اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑانے اور
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
انھیں پاکستان میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے رکھتے ہوں۔ اگر اعتراض کی بنیاد یہ ہو کہ اس میں دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کی توہین کو شامل نہیں کیا گیا ہے، تو اس اعتراض کو اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت کورٹ کی سفارش کے مطابق، دُور کیا جانا چاہیے۔
- ● چوتھا سوال یہ ہے: ”کیا یہ قانون اس لیے منسوخ کر دیا جائے، کہ ذاتی عناد یا فرقہ واریت کی خاطر اس کا غلط استعمال ہوا
ہے، یا خدشہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے؟“
اگر خود قانون میں ایسی کوئی خامی، خلا یا ابہام ہے، جو غلط استعمال کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو ہماری رائے میں ایسی ہر خامی کو دُور کیا جانا چاہیے، اور ممکنہ غلط استعمال کے خلاف ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جو باہمی گفت و شنید سے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔ ہمیں صرف مقام رسالت کا تحفظ مطلوب ہے، بے گناہ لوگوں کو توہین رسالت کے نام پر سزا دلوانا تو خود توہین رسالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔
لیکن اگر قانون کا غلط استعمال کسی فرد یا پولیس کے غلط کردار کی وجہ سے ہے، تو اس کا علاج قانون کی منسوخی نہیں ہے۔ اس وجہ سے تو ہر قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ قیامِ امن کے، انسدادِ دہشت گردی کے، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے قوانین حکومتیں بے دردی کے ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، کیا اس وجہ سے ان سب کو منسوخ کر دیا جائے؟ قتل کے قانون کے تحت پولیس اور بااثر لوگ بے گناہوں کو پھانستے ہیں، ان کو لُوٹا جاتا ہے، بعض پھانسی پر بھی چڑھ جاتے ہیں، کیا ان کو بھی منسوخ کر دیا جائے؟ کوئی بھی معقول آدمی یہ بات نہیں کہے گا۔ ذاتی عناد کی بنا پر بھی ملک میں بے شمار مقدمات کھڑے کیے جاتے ہیں۔ اس ظلم کا کوئی خصوصی تعلق اقلیتی فرقوں سے نہیں۔
- ● پانچواں سوال یہ ہے: ”کیا قانون توہین رسالت کی وجہ سے فرقہ واریت میں، مذہبی جنون میں، اقلیتوں کے خلاف تشدد
میں اضافہ ہوا ہے، کہ یہ قانون منسوخ کر دیا جائے؟
اگر شدت پیدا ہوئی ہے تو شیعہ سنی فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے محض چند جنگجو عناصر میں، جب کہ عام سطح پر تو شیعہ سنی ہم آہنگی پہلے کی طرح قائم ہے اور یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ حد سے بڑھتی ہوئی قتل و غارت اور خون ریزی کی وجہ نسلی اور لسانی تعصبات، سیاسی جھگڑے اور انتقامی کارروائیاں ہیں۔ اس میں کوئی دخل قانون توہین رسالت کا نہیں، اور نہ کسی دوسرے قانون کا۔ ان کارروائیوں کا شکار اکثریتی فرقہ ہے، نہ کہ اقلیتی فرقے۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں روز بروز تشدد اور خون ریزی بڑھ رہی ہے، اس معاشرے میں کیا صرف اقلیتی فرقوں کے لوگ ہی اس لہر سے بالکل محفوظ رہ سکتے ہیں؟ پھر تشدد کے ہر واقعے کو فوراً اقلیت کے خلاف ظلم قرار دینا کہاں تک قرینِ انصاف ہے؟ پاکستان میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ ذرا بھارت کے جمہوری، سیکولر، روشن خیال ملک پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے، جہاں کوئی مذہبی
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم وتحقیق‘‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
قوانین نہیں، جہاں عملاً ’غلبہ‘ نہیں، لیکن وہاں پر تو فرقہ وارانہ فسادات روز کا معمول ہیں۔ قرآن وسنت کے دلائل سے جس طرح شاتم رسول کی سزا ثابت ہے، اور اس پر جس طرح فقہائے اُمت کا اجماع ہے۔ جس طرح اس پر، ماسوا دورِ غلامی کے، ہر مسلمان ملک میں، ہر زمانے میں عمل درآمد ہوتا رہا ہے، اور دورِ غلامی میں بھی مسلمان جس طرح اپنا خون دے کر اسے نافذ کرتے رہے ہیں، اسے بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ اس بارے میں عام مسلمانوں کے درمیان نہ کبھی اختلاف رہا اور نہ کوئی شک وشبہہ۔ جس کو تحقیق کا شوق ہو، اس کے لیے حسبِ ذیل کتب کا مطالعہ کافی ہے:
- ۱- محمد اسماعیل قریشی: ناموس رسول اور قانون توہین رسالت
- ۲- امام ابن تیمیہ: الصارم المسلول علی شاتم الرسول
- ۳- تقی الدین سبکی: السیف المسلول علی من سب الرسول
- ۴- ابن عابدین: تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام
- ● لوگ چھٹا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ: ’’رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تو گالیاں سن کر، پتھر کھا کر دعا دی، اب ان کو گالی
دینے والے کو موت کی سزا دی جائے؟‘‘
ایسے لوگ رحمت کے مفہوم سے آگاہ نہیں۔ رحمت کا تقاضا جہاں عفو و درگزر ہے، وہاں انصاف بھی ہے۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے: واقعہ افک میں قذف کے مرتکبین کو کوڑے لگوائے، زنا کے مجرموں کو سنگسار کرایا، مسلح لشکر لے کر نکلے جس نے بدر کے میدان میں ۷۰ سردارانِ قریش کو تہہ تیغ کر دیا، فتح مکہ کے دن جب ہر جانی دشمن کو معافی مرحمت فرما دی گئی، چھے مرتدین اور شاتمین کے قتل کا حکم صادر ہوا۔ آپ یہ نہ کرتے تو فساد مچتا، اور زیادہ ظلم برپا ہوتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم اپنی ذات کی خاطر نہیں دیا، دین اور ملت کے تحفظ کی خاطر دیا۔ جب رسالت ہی ایمان کی، دین کی، ملت کی بنیاد ہے، اس کی زندگی کی ضمانت ہے، تو توہینِ رسالت کے مجرم کو سزا دینا عین رحمت کا تقاضا تھا۔ اسی لیے یومِ قیامت کو ___ جس دن نیکوکاروں کو انعام سے نوازا جائے گا، مگر بدکار جہنم میں جھونکے جائیں گے ___ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت، رحمانیت اور رحیمیت کا دن قرار دیا ہے۔ (الفاتحہ، الانعام)
شانِ رسالت میں گستاخی کے مرتکب فرد کے لیے موت کی سزا کے قانون کی تائید اور حمایت کچھ فقہا وعلما، ملاؤں اور جنونیوں ہی کا ’جرم‘ نہیں ہے، بلکہ وہ اچھے اچھے مغربی تعلیم یافتہ مسلمان حضرات، جنھوں نے روحِ اسلام کو ضائع نہ کیا اور مقامِ محمدیؐ سے آگاہ رہے، کسی بھی مداہنت کے بغیر اس مذہبی جنون کے ’جرم‘ میں شریک رہے۔
غازی علم الدین شہید [۴؍ دسمبر ۱۹۰۸ء - ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۲۹ء] نے [شانِ رسالت میں گستاخی پر مبنی کتاب کے ناشر] راج پال کو قتل [۶؍ اپریل ۱۹۲۹ء] کیا تو اس کے مقدمے کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح [م: ۱۱؍ ستمبر ۱۹۴۸ء] نے کی۔ علامہ محمد اقبال نے رشک
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے ساتھ فرمایا: ”اسیں گلاں کردے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔ (ہم باتیں کرتے رہ گئے، اور ایک بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)۔ علم الدین شہید کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا، اور اس فضا میں یہ شعر بھی کہا ؎
قدر و قیمت میں ہے جن کا خون حرم سے بڑھ کر
شانِ رسالت میں گستاخی کے جرم میں ایک خانساماں نے ایک انگریز میجر کی بیوی کا کام تمام کر دیا۔ سر میاں محمد شفیع [م: جنوری ۱۹۳۲ء] نے، جو برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، اس کے مقدمے کی پیروی کی۔ دورانِ بحث ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
ہائی کورٹ کے انگریز جج نے انھیں بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا: ”سر شفیع، کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟“
سر میاں محمد شفیع نے رنج اور حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا: ”جناب، آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ بھی یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے“۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے بعض مسیحی بھائیوں نے اس قانون کے معاملے میں حق پسندانہ اور معتدل مسلک اختیار کیا ہے۔ صوبہ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر، آنجہانی بشیر مسیح کے الفاظ ایسے ہی موقف کے آئینہ دار ہیں، انھوں نے کہا تھا:
ہم اس [قانون] کے خلاف نہیں۔ کوئی بھی سچا مسیحی، توہین رسالت کا تصور نہیں کر سکتا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر واقعی کوئی اس قبیح جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ موت سے بھی سخت سزا کا حق دار ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بے گناہ کو اس قانون کا نشانہ بنایا جائے۔
اسی طرح ماہنامہ کلامِ حق میں پادری ڈاکٹر کے ایل ناصر کے بیٹے، میجر ٹی ناصر کے الفاظ ہیں:
ہم مسیحی، تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی یعنی گستاخ رسول [کی سزا] کے مخالف نہیں۔ ہم صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ ایک خصوصی کمیشن بنایا جائے، غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر ملزم واقعی مجرم ہو تو اس کو قانون کے مطابق سزادی جائے، ورنہ بصورت دیگر رہا کر دیا جائے۔ مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چلایا جائے، اور ملزم کو تمام قانونی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں، تاکہ اقلیتوں، خاص طور پر مسیحی اقلیت کو تحفظ و انصاف کا احساس ہو ـــــ اور یہ مطالبات بجا ہیں۔
لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مسیحی لیڈروں کی اکثریت، سوچے سمجھے بغیر، قانون توہین رسالت کی اندھی مخالفت پر تل گئی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف مغربی سامراجی طاقتوں کے آلہ کار بھی بن رہے ہیں، دوسری طرف پاکستان میں اسلام دشمن اور سیکولر عناصر کے دوش بدوش کھڑے ہو گئے ہیں۔
ہم پورے خلوص اور دردمندی سے ان کی خدمت میں ادب سے عرض کریں گے، کہ اگر ان کے پیش نظر اس قانون کے بارے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
میں خدشات کے خلاف ضروری تحفظات حاصل کرنا ہے، بلکہ پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے پاکستان میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا ہے، تو انھوں نے ایک غلط راستہ اختیار کیا ہے۔ نہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے انھیں یہ مقام حاصل ہو سکتا ہے، نہ سیکولر عناصر کی مدد سے کچھ پاسکتے ہیں، اگرچہ وہ اقتدار میں بھی آجائیں۔
ان کے لیے درست اور معقول راستہ یہ ہے کہ وہ محبّ اسلام ممتاز شہریوں اور حق پسند علما اور دینی جماعتوں سے گفت و شنید کا آغاز کریں۔ انھیں اپنے خدشات سے آگاہ کریں، ممکن ہو تو ایک مشترکہ مسلم اینڈ کرسچین کونسل تشکیل دیں۔ دلیل اور شواہد کے ساتھ مسلمانوں پر زور دیں کہ وہ خاص طور پر اس قانون کے ضمن میں اسلام کے قانون عدل و شہادت کے تقاضوں کی تکمیل یقینی بنائیں۔ وہ ایسی ترامیم کرانے میں ان کی مدد کریں جو قانون کو بے اثر بنائے بغیر کی جاسکتی ہیں، اور ان کے ساتھ انھی بنیادوں پر معاملہ کریں، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ اختیار کیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح دونوں کے تعلقات بھی خوش گوار ہو جائیں گے اور ان مسائل کا حل بھی خوش اسلوبی سے نکل آئے گا۔
شاید انھیں اسلام کے قانون عدل کے ان تقاضوں کا علم نہیں، جن کا نفاذ ان کے خدشات کے ازالے کے لیے کافی ہو سکتا ہے:
- ۱- حد کی سزا صرف حکومت دے سکتی ہے، کسی مسلمان کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں۔
- ۲- عدالت کے لیے یہ بھی ضروری ہے، کہ وہ گواہوں کی مناسب جانچ پڑتال کرے۔ اس لیے کہ ’حد‘ کی سزا میں شہادت کا معیار،
عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ ایسے گواہوں کی شہادت قبول ہوتی ہے، جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں، صادق القول اور عادل ہوں، اور مزید برآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔
- ۳- جرم ثابت ہونے میں ایک شبہہ بھی رہ جائے تو شک کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ حدیث مبارک
ہے: ادرؤا الحدود بالشبهات، حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کرو۔
- ۴- عدالت ملزم کی نیت کا تعین بھی کرے گی، کیونکہ ’نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہوتا‘۔
- ۵- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اسلامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ”ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک بے گناہ
کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔
- ۶- بجائے اس کے کہ ہمارے مسیحی بھائی پاکستان کی سیکولر حکومت کے وعدوں پر زندہ رہیں یا باہر کی مسیحی طاقتوں سے آس
لگائیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ مسلمان، عیسائی، ہندو مل کر ایک متفقہ ترمیمی بل حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیں، جو اسلامی قانون کے مطابق بھی ہو اور اقلیتوں کے لیے انصاف اور تحفظ کا ضامن بھی۔ ہماری رائے میں علما اور دینی جماعتوں کو اس مقصد کے لیے عیسائی رہنماؤں سے مکالمہ شروع کرنا چاہیے۔ قانون توہین رسالت پر مخالفانہ ردعمل نے جو آئینہ ہمیں دیا ہے، اس میں مسلم ملت کی قوت کا اصل سرچشمہ بھی عیاں ہو رہا ہے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ سرچشمہ وہی ہے، جس کے پیچھے ہمارے دشمن چودہ سو سال سے آج تک لگے ہوئے ہیں۔ ہماری قوت وتوانائی کا سامان: اس اسلحہ، قرض اور امداد میں نہیں ہے جو ہمارے دشمن خود ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سرچشمہ تو روز اول سے دل مسلم میں مقام مصطفیٰؐ ہے، عشق مصطفیٰؐ ہے، اور ملت کی پوری زندگی میں اتباع اور اطاعت مصطفیٰؐ سے منسوب ہے۔ ہمیں اسی سرچشمے سے سیراب ہونے میں لگ جانا چاہیے۔
آج تاریخ کا اسٹیج، اسلام اور مغرب کے درمیان معرکے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ بظاہر ہمارا اور مغرب کا کیا مقابلہ؟ نہ ہمارے پاس اسلحہ، نہ ٹکنالوجی، نہ معاشی ترقی، نہ اتحاد، نہ لیڈرشپ، نہ منزل اور نہ مقصد۔ لیکن ان میں سے ہر چیز ہمیں حاصل ہو جائے گی، اگر ہم قوت اور توانائی کے اس سرچشمہ تک پہنچ جائیں ؎
دل ز عشق او توانا می شود خاک ہم دوش ثریا می شود
اس سے زیادہ فریب انگیز مغالطہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہم یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جائیں: ہم کو ترقی پسند بننا ہے یا بنیاد پرست۔ ہمیں نہیں معلوم بنیاد پرست کے کیا معنی ہیں۔ لیکن ہم کو یہ ضرور معلوم ہے کہ ہماری بنیاد تو حضورؐ کی ذات، آپؐ کی لائی ہوئی کتاب، آپؐ کی سنت اور آپؐ کا اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم جو اس بنیاد کے ناتے بظاہر 'بنیاد پرست' ہیں، فی الحقیقت سب سے بڑھ کر ترقی پسند ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ضمن میں اگر امریکا کی انگلی پکڑ کر چلے تو ترقی نہیں موت اور ذلت کا گڑھا ہمارا مقدر ہے۔ اس راہ کو چھوڑ کر چلنے والے ترقی یافتہ مسلمان ممالک کے ڈھانچے ہمارے سامنے بہت موجود ہیں ؎
مقام خویش اگر خواہی دریں دیر بحق دل بند و راہ مصطفیٰؐ رو
دامنش از دست دادن موت است، حضورؐ کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا پروانہ موت ہے۔ آج کل مسلمان ہر جگہ، خصوصاً وطن عزیز پاکستان میں، زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں، علاج کیا ہے، حل کیا ہے؟ علاج اور حل تو ایک ہی ہے۔ پہلے بھی قوم زندگی از دم او یافت، حضورؐ کے دم سے ہی زندگی ملی تھی، اور آج بھی سب کچھ آپؐ کا دامن پکڑ کے، آپؐ کا مشن پورا کرنے، اور آپؐ کے پیچھے چلنے ہی سے ملے گا ؎
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
قانون توہین رسالت: منظوری اور خاتمے کے مابین
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی*
پاکستان میں امتناع توہین رسالت کا قانون ایک بار پھر لادین طبقہ کے پیدا کردہ شبہات اور اعتراضات کی زد میں ہے۔ سیکولر لابی کے لگا تار دباؤ اور عالمی قوتوں کے پر زور اصرار کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں اس کو کتاب قانون سے حذف یا کم از کم غیر موثر کر دیا جائے۔ جبکہ ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے حکومت کا یہ بنیادی فرض بنتا ہے کہ یہاں براہ راست کتاب وسنت کو نافذ کر کے پاکستان کے مقصد وجود کے مطابق ضروری اقدامات کئے جائیں۔
پاکستان کے سیکولر عناصر کو پہلے روز سے پاکستان کا اسلامی تشخص قبول نہیں اور وہ آئے دن اس کو ختم کرنے کی تمام تر کوششیں بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔ اس لابی کو پہلے حدود قوانین پر شدید اعتراضات تھے جنہیں پرویز مشرف کے دور میں آخر کار ویمن پروٹیکشن بل کے نام سے غیر موثر کرنے میں شرمناک کامیابی حاصل کی گئی، ان لوگوں کا اگلا مرحلہ پاکستان کے ’قصاص و دیت کے قوانین‘ ہوں گے جنہیں عالمی سطح پر موت کی سزا کے خاتمے کی تحریک سے ہم آہنگ کر کے پاکستان میں ان اسلامی قوانین کے خاتمے کی کوشش کی جائے گی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں پاکستان کے نام میں ”اسلامی“ کا لفظ کھٹکتا ہے اور اگلے دنوں میں پاکستانی دارالحکومت کا نام ”اسلام آباد“ اور پارلیمنٹ کی پیشانی پر کلمہ طیبہ بھی کھٹکنا شروع ہو جائے گا۔ ان لوگوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حکومتی فیصلہ کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہی وہ طبقہ ہے جو نصاب سے قرآن مجید اور اسلامی تاریخ کے نامور کردار حذف کرانے کے لیے کوشاں ہے اور پاکستان کی تاریخ اور کلچر کا ناطہ ہندومت، راجہ داہر اور موہنجوداڑو کی تہذیب سے جوڑنا چاہتا ہے۔ کلچر اور ہندوستانی تہذیب سے والہانہ شغف کی بنا پر اس طبقہ کو برصغیر کی تقسیم بھی بہت کھٹکتی ہے، اور یہ بھارت سے فلمی کلچر کی درآمد کے علاوہ غیر مشروط تجارتی و معاشرتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔
آسیہ مسیح کے واقعہ کے تناظر میں ایک بار پھر یہ طبقہ قانون توہین رسالت کی تنسیخ کے حوالے سے انتہائی متحرک ہو چکا ہے اور اس متحرک اقلیت کی نمائندہ شیری رحمن نے اپنی ماضی کی الحادی روایات کے عین مطابق، قومی اسمبلی میں مورخہ ۲۴ نومبر ۲۰۱۰ء کو ایک بل جمع کرایا ہے، جیسا کہ اس سے قبل ۲۰۰۶ء میں حدود قوانین کے خلاف بھی پیپلز پارٹی کی اسی دین بیزار راہنما
* مدیر ماہنامہ محدث، لاہور
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تھا، اور ۲۰۰۴ء میں پاکستان میں قتل غیرت کے جرائم پر مطلوب قانون سازی بھی اس نے ایک بل کی صورت پیش کی تھی۔ حالیہ بل کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ امریکہ نواز حکومت سے اور بہت سے ظالمانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ قانون توہین رسالت کا خاتمہ بھی کروا لیا جائے۔ ملک میں اس وقت توہین رسالت کے قانون کے حوالہ سے جاری مظاہرے اور مباحثے کا یہی پس منظر ہے۔ قانون توہین رسالت پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور شبہات کا ایک جائزہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے، مزید برآں ایک مختصر تاریخی تجزیہ کے ساتھ اس قانون کو غیر مؤثر کرنے کی مرحلہ وار تفصیل پیش کی جا رہی ہے جس کی روشنی میں آئندہ کا منظر نامہ بڑی حد تک واضح ہو جائے گا:
کیا پاکستان ایک سیکولر ملک ہے؟
توہین رسالت کے قوانین کے خلاف پاکستان کا ملحد و سیکولر طبقہ اور عالمی قوتیں اس لیے مجتمع ہیں کہ انہیں پاکستان جیسی ایٹمی قوت کا اسلامی تشخص بہت چبھتا ہے۔ سیکولر نظریات کے ناطے وہ ہر اس قانون اور علامت کو ختم کرنا چاہتا ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں لائی گئی ہو۔ یہ لوگ اسلام کے کسی قانونی تصور کو ریاستی سطح پر نافذ کرنے کے شدید مخالف ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اگر اہانت رسول کا کوئی قانون اسلام میں موجود ہو بھی، تب بھی اس کو ریاستی سطح پر ”جرم“ کی بجائے مغرب کی طرح یہاں بھی محض مذہبی بنیاد پر، ایک گناہ، کی حیثیت تک محدود کر دیا جائے اور ان قوانین کی تنفیذ سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ دوسری طرف یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا وجود ہی کلمہ طیبہ کا مرہون منت ہے۔ قرارداد مقاصد کی منظوری اور اس کے بعد ۱۹۷۳ء کے متفقہ آئین میں پاکستان میں کئی ایک اسلامی قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ اگر بانی پاکستان کی کسی تقریر میں پاکستانی معاشرہ کے بارے میں کوئی احتمالی الفاظ ملتے بھی ہیں جن کا مخصوص پس منظر ہے، تو بعد ازاں ان کے دیگر متعدد بیانات اور واضح قومی پیغامات سے اس کی صریح نفی ہو جاتی ہے۔ قرارداد مقاصد کے ذریعے قیام پاکستان کی جدوجہد کے حقیقی رخ اور اہداف و مقاصد کا دستوری تعین کیا جا چکا ہے جس کو بعد میں آئین پاکستان ۱۹۷۳ء میں واضح تر الفاظ میں کئی ایک قانونی دفعات کی بھی شکل دے دی گئی۔ لیکن نام نہاد سیکولر دانشور آئین کی حاکمیت کا دم بھرنے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اتنے صریح استدلال کو کیوں نظر انداز کر دینے پر مصر ہیں۔ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل ہو، خلاف شریعت قانونی دفعات کی بات ہو یا پاکستان کے نام کا مسئلہ ہو، حدود قوانین ہوں یا شرعی عدالتیں، ان کو دستور میں طے شدہ طریق کار کے مطابق پاکستان کی اسمبلیوں نے منظور کیا ہے۔ ان صریح زمینی اور قانونی حقائق کی روشنی میں پاکستان کے سیکولر عناصر کا مغالطہ اور مباحثہ اساس کے لحاظ سے ہی غلط ہے اور انہیں پاکستان کی عظیم اکثریت کا یہ موقف کہ وہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے شدید خواہش مند ہیں، تسلیم کر لینا چاہئے اور اپنے اس لگا تار خلاف دستور جرم سے باز آ جانا چاہئے جو وہ غیر ملکی قوتوں کی آشیر باد سے اہلیان پاکستان پر بزور جبر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
کیا قانون توہین رسالت جنرل ضیاء الحق مرحوم نے نافذ کیا تھا؟
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ قانون ایک آمر ضیاء الحق نے متعارف کرایا تھا، جبکہ امر واقعہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ آمروں کے بنائے ہوئے قوانین سے تو پاکستان میں لادینیت اور فحاشی کو تحفظ حاصل ہو رہا ہے جس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی نہیں جاتی اور تحریک بپا نہیں کی جاتی۔ پاکستان میں خلاف اسلام عائلی قوانین ہوں یا ویمن پروٹیکشن بل، یہ دونوں قوانین واضح طور پر فوجی آمر ایوب خان اور پرویز مشرف کے لاگو کردہ ہیں، اس کے باوجود سیکولر حلقوں اور بزعم خود، سول سوسائٹی میں ان کو بسر و چشم قبول کیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین کے خلاف فضائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ان پر ”آمر کے قوانین“ کی پھبتی کسی جاتی ہے۔
۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور کی دفعہ نمبر ۲۲۷ میں اہلیانِ پاکستان کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ خلافِ اسلام دفعات کی نشاندہی کر کے ان کو اسلام کے مطابق تبدیل کرا سکتے ہیں۔ بھٹو کے زیرِ نگرانی تیار کردہ اس دستور کو دیے ہوئے حق کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدِ ناموسِ رسالت محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ نے ۱۹۸۴ء میں وفاقی شرعی عدالت میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس میں مذہبی دل آزاری کے سابقہ قوانین کو ناکافی قرار دیتے ہوئے، ان میں توہینِ رسالت کے جرم کی سزا کے تعین کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس دوران ۷ مئی ۱۹۸۶ء کو سیکولر ایجنڈے کی ان تھک منادی عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا جس کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی میں محترمہ نثار فاطمہ نے توہینِ رسالت کی مجرم کے لیے سزائے موت کا بل پیش کیا جس کے نتیجے میں فوجداری ترمیمی ایکٹ نمبر ۳ (سال ۱۹۸۶ء) کے ذریعے ۲۹۵ سی کی صورت میں توہین رسالت کا قانون نافذ کیا گیا لیکن اس قانون میں توہینِ رسالت کی سزا، سزائے موت یا عمر قید مع جرمانہ کی صورت میں رکھی گئی تھی۔
چونکہ اس بل سے یہ قانون عین اسلام کے مطابق نہ ہوسکا، اور جناب محمد اسمعیل قریشی کی رٹ پٹیشن کی ضرورت باقی رہی، اس بنا پر وفاقی شرعی عدالت میں داخل اس رٹ پٹیشن کا فیصلہ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو آیا جس میں ۲۹۵ سی سے عمر قید کی سزا حذف کرنے کی سفارش کی گئی اور فاضل عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت پاکستان نے اگر یہ مجوزہ تبدیلی نہ کی تو ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء کے بعد، عمر قید کی سزا کے الفاظ خود بخود حذف ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس فیصلہ میں یہ سزا تمام انبیاء کرام کی گستاخی تک وسیع کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔ (۱)
یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ وفاقی شرعی عدالت کے پانچ فاضل جج صاحبان نے ملک کے جید علمائے کرام کی معاونت سے صادر کیا۔ ان جج صاحبان کے نام یہ ہیں:
- ۱۔ چیف جسٹس گل محمد خان، سابق جج لاہور ہائی کورٹ
- ۲۔ جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، سابق جج پشاور ہائی کورٹ
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۳۔ جسٹس عبدالرزاق تھیم، سابق جج کراچی ہائی کورٹ
- ۴۔ جسٹس عبادت یار خان، سابق جج کراچی ہائی کورٹ
- ۵۔ جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان، پی ایچ ڈی، اسلامی قانون
مذکورہ تاریخ تک حکومت نے مطلوبہ قانون سازی نہ کی جس کے نتیجے میں فاضل عدالت کا فیصلہ ازخود نافذ ہو گیا۔ یہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کا پہلا دور تھا اور حکومت سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ اسی دوران عوام کے پرزور مطالبے پر نواز حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا، اور حکومت نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں بل پیش کر دیا۔ اس موقع پر ناموس رسالت کے قائدین نے اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر حکومت اس سے متفق ہے تو سپریم کورٹ میں اپیل کی پیروی نہ کرے، نتیجتاً یہ قانون خود ہی مطلوبہ ترمیم کے ساتھ نافذ ہو جائے گا۔ تاہم ۲ جون ۱۹۹۲ء کو قومی اسمبلی میں یہ قانون زیر بحث آیا اور اسمبلی نے ”عمر قید“ کی سزا کے خاتمے کو منظور کر لیا اور ۸ جولائی ۱۹۹۲ء کو پاکستان کی سینیٹ نے بھی اس بل کو اتفاق رائے سے منظور کیا۔
گویا توہین رسالت کا حالیہ قانون تین مختلف سمتوں سے ہونے والی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کے مجموعہ تعزیرات کا حصہ بنا ہے:
- ۱۔ جناب محمد اسمعیل قریشی کی ۱۹۸۴ء میں وفاقی شرعی عدالت کو دی جانے والی درخواست اور اس پر وفاقی شرعی عدالت کا
۱۹۹۰ء کا فیصلہ (یہی اس قانون کا اصل محرک ہے)
- ۲۔ قومی اسمبلی میں آپا نثار فاطمہ کا پیش کردہ بل اور اس کے نتیجے میں محدود قانون سازی۔
- ۳۔ آخر کار جون ۱۹۹۲ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں سزائے عمر قید کے خاتمے کا بل پیش ہونا اور اس کا منظور ہو جانا، گو کہ
اس آخری مرحلہ کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد قانون خود ہی تبدیل ہو چکا تھا، تاہم پارلیمان کی قانون سازی نے اس ترمیم کی مزید تائید کر دی۔ اب اس قانون کو دستور ۱۹۷۳ء میں دیے ہوئے حق کے استعمال یا قومی اسمبلی کی ۱۹۹۲ء میں منظوری کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ ہر دو اقدامات کسی آمر کے ذریعے حاصل نہیں ہوئے۔
(۲)
- ۴۔ بلکہ حقیقت واقعہ تو یہ ہے کہ قانون توہین رسالت تو فاضل عدالت اور پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کا حاصل ہے، جبکہ اس کو
غیر موثر کرنے کی باضابطہ ترمیم ۲۰۰۴ء میں پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں ہوئی، جیسا کہ تفصیل آگے آ رہی ہے۔
یہ اسلام کا ایک متفقہ شرعی تقاضا اور پاکستانی پارلیمنٹ کا منظور شدہ قانون ہے، اس کے باوجود افسوس ناک امر یہ ہے کہ ۱۸ سال سے اس قانون کے نفاذ کے باوجود آج تک کسی کو توہین رسالت کی سزا نہیں دی جا سکی جس کی ایک وجہ سیکولر عناصر کا یک
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
طرفہ بدترین پروپیگنڈا اور شدید عالمی دباؤ ہے تو دوسری طرف پاکستانی حکومتوں کی منافقت بھی ہے کہ اس قانون کے معاً بعد سے اس قانون میں ایسی ترامیم کر دی گئیں جس سے قانون ناقابل عمل ہو گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سیکولر قوتوں کے شدید پروپیگنڈہ کے نتیجے میں جو شخص بھی توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ اہانت اس کے لیے خصوصی اعزاز کا سبب بن جاتی ہے۔ جس طرح عاصمہ جہانگیر کی توہین رسالت کے بعد آج ہماری قوم نے عدلیہ کے ایک اعلیٰ منصب یعنی سپریم کورٹ بار کی صدارت کا اعزاز اسے بخشا ہے اور اس کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھر پور منصوبہ بندی اور لابنگ کی ہے، اسی طرح توہین رسالت کے دیگر مرتکبین کو عاصمہ جہانگیر کا انسانی حقوق کمیشن عالمی قوتوں کا تحفظ فراہم کرتا اور انہیں خصوصی پروٹوکول عطا کرواتا ہے۔ ماضی میں سلامت مسیح کا کیس ہو یا رحمت مسیح کا، شانتی نگر کا واقعہ ہو یا جوزف روئس کا، ان واقعات میں آسیہ مسیح کے کیس کی طرح ملزمین کو ہمیشہ عالمی ہمدردی اور خصوصی اعزاز حاصل ہوا ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل کمیشن برائے عدل و امن کی رپورٹ کی رو سے پاکستان میں ۱۹۸۶ء تا ۲۰۰۹ء تک کل ۹۸۶ کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے ۴۷۹ کا تعلق مسلمانوں سے اور صرف ۱۹۹ کا تعلق عیسائیوں سے ہے۔ ان تمام مقدمات میں کسی ایک کو بھی سزائے موت نہیں دی گئی۔ اس سے ایک طرف حکومت کے منافقانہ کردار کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف اس اعتراض کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔
دیگر ممالک میں قانون توہین رسالت کے مماثل قوانین:
کہا جاتا ہے کہ اس قانون سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص ایک کٹر اور شدت پسند ملک کے طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو بلاوجہ مطعون اور پاکستان کے مذہبی اقدامات کے بارے میں غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ بلاوجہ ہی کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے قانون میں صرف مسلمانوں کے نبی آخر الزمان ﷺ کو ہی یہ تحفظ و تقدس حاصل نہیں بلکہ تمام انبیاء اور جملہ ادیان کی توہین کو یہاں قابل سزا جرم (۳) قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں مذہبی جذبات کے احترام کا یہ تحفظ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کو بھی حاصل ہے، اس کے بعد اس الزام کی بھی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف یا مذہبی امتیاز پر مبنی ہے۔ دفعہ ۲۹۵ سی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے:
دفعہ ۲۹۵ (ج) : ”پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ وغیرہ استعمال کرنا: ”جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا نقوش کے ذریعے، یا کسی تہمت، کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بلا واسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہوگا۔“
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۲۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
اسلام کا قانون توہین رسالت تو کائنات کی عظیم الشان ہستی کی ذات کے تقدس کے بارے میں ہے جس کی عظیم الشان خدمات کی مثال انسانی تاریخ کسی بھی حوالے سے پیش کرنے سے قاصر ہے۔ نبی کریم ﷺ کی اس ہمہ جہتی عظمت کا اعتراف مسلمانوں سمیت غیر مسلموں نے بھی کیا ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں ایسا ہی تحفظ ان کے ایسے حکمرانوں کو حاصل ہے جو گناہوں اور کوتاہیوں میں بری طرح غرق ہیں۔ ان میں سے ایک ملکہ برطانیہ بھی ہے جس کے تقدس کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔
ایسا ہی تحفظ یہودیوں کے ہولوکاسٹ (ہٹلر کے دور میں یہودیوں کے خلاف ڈھائے گئے مظالم) کو بھی حاصل ہے جس میں یہودی جذبات کو احترام نہ کرنے والوں اور ایک تاریخی واقعہ کے بارے میں مطلوبہ اظہار نہ کرنے کو سنگین سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ سزا فرانس، جرمنی، ہنگری، ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہے۔ (۴)
علاوہ ازیں ہر ملک میں چند انسانوں کے بنائے ہوئے دستور کی مخالفت کرنے والے شخص کو ریاست کا باغی قرار دے کر آج کی ریاست اس سے جینے کا حق چھین لیتی ہے اور اسے موت کی سزا دیتی ہے۔ (۵) صد افسوس کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی ﷺ کو مغرب کی متعصب تہذیب وہ تحفظ دینے کی روادار نہیں جو وہ اپنے دستور کی کتاب مقدس کو دیتے ہیں۔ آج کی حکومتیں ریاست سے بغاوت کو تو قابل گردن زدنی قرار دیتی ہیں لیکن مذہب سے بغاوت کو وہ جرم نہیں سمجھتیں۔
سیکولرزم کی مالا جپنے والی یہ مغربی ریاستیں آئے روز پاکستان کو تو توہین رسالت کے جامع قانون کے خاتمہ کی تلقین کرتی ہیں لیکن اپنے آپ کو ایک سیکولر ریاست باور کرانے کے باوجود اپنے ہاں عیسائیت کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے اور اس کو برقرار رکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ ان کی منتخب اخلاقیات کا نوحہ لکھا جائے یا انہیں منافقت اور دھوکہ دہی کا مجرم سمجھا جائے۔ جیسا کہ امریکہ نے اپنے ہاں عیسائی حقوق کے تحفظ کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور امریکہ کی سپریم کورٹ توہین مسیح سے متعلق اپنی ایک فیصلہ (۶) میں واضح طور پر یہ قرار دیتی ہے کہ:
”امریکہ میں چرچ اور سٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں، لیکن دیگر مذاہب کے مقابلہ میں امریکہ میں مسیح کے پیروکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ امریکہ کے بڑے عہدیدار بائبل پر ہی حلف لیتے ہیں، چنانچہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا مذہب سے یک گونہ تعلق بالکل واضح ہے۔ اس بنا پر آزادی مذہب، آزادی پریس اور بنیادی حقوق، توہین مسیح کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی میں قطعاً مزاحم نہیں ہیں۔“ (مختصراً)
یاد رہے کہ امریکہ میں دیگر مذاہب اور ان کی مقدس شخصیات کی توہین قابل مواخذہ جرم نہیں، البتہ توہین مسیح کی سزا موت کی سزا کے خاتمہ کے بعد عمر قید کر دی گئی ہے۔
ایسے ہی جب برطانیہ میں شاتم رسول سلمان رشدی کو تحفظ دینے کا واقعہ پیش آیا تو برطانیہ اس کی حفاظت کے لیے کھڑا
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہو گیا۔ برطانیہ کے مسلمان باشندوں نے یہ مطالبہ کیا کہ برطانیہ میں توہین مسیح کے قانون کے ساتھ توہین محمد ﷺ کی شق کو بھی شامل کر لیا جائے تو برملا اس سے انکار کیا گیا اور واضح جانبداری دکھائی گئی کہ برطانیہ صرف عیسائیوں کے حقوق کا ہی محافظ ہے۔ یہ ہے مذہبی غیر جانبداری کا دعویٰ کرنے والوں کا مکروہ چہرہ!
اس موقع پر برطانیہ کے وزیر قانون جان بیٹس نے مسلمانوں کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر بتلایا کہ حکومت برطانیہ توہین مسیح کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کو جائز قرار نہیں دیتی۔ پھر برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت ہاؤس آف لارڈز نے اس بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے حکومت برطانیہ کے موقف کو درست قرار دیا اور لکھا کہ:
”برطانوی قانون کی رو سے مذہب اسلام پر جارحانہ حملہ غیر قانونی نہیں ہے۔ اگر حکومت برطانیہ قانون توہین مسیح میں اسلام کے قانون توہین رسالت کی کوئی شق شامل کر دے تو برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ اس کو یہاں نافذ کرنے سے گریز کرے گی۔“
یہ رویہ صرف یورپ و امریکہ کا ہی نہیں بلکہ یورپ کی ہیومن رائٹس کورٹ کو بھی جب مسلمانوں نے اس ضمن میں درخواست دی تو اس نے مسلمانوں کی یہ درخواست مسترد کر دی۔ (۷)
توہین رسالت کی سزا کیا ”انسانی حقوق“ کے منافی ہے؟
اوپر بیان کردہ حقائق کے بعد یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جب توہین مسیح کا قانون مغرب کے اکثر ممالک میں نافذ العمل ہے اور یورپی ممالک کی عدالتیں ان کے فیصلوں کو نافذ کرتی اور یہ بھی قرار دیتی ہیں کہ یہ قانون انسانی حقوق کے خلاف نہیں ہے تو پھر پاکستان میں کیوں کر اس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے؟
یورپ کے بعض ممالک مثلاً ڈنمارک‘ اسپین‘ فن لینڈ‘ جرمنی‘ یونان‘ اٹلی‘ آئرلینڈ‘ ناروے‘ آسٹریا‘ نیدرلینڈ وغیرہ میں بھی مذہبی جذبات کی توہین پر سنگین سزائیں موجود ہیں اور برطانیہ میں تو ملکہ کی توہین کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں اس قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینے کی کیا تک ہے؟
دراصل انسانی حقوق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رہنمائی سے کٹ کر انسانوں نے اپنے تئیں بعض حقوق کا تعین کر لیا ہے۔ دوسری طرف اسلام نام ہی اس امر کا ہے کہ کوئی انسان اپنے آپ کو مخلوق تسلیم کر کے خالق کی رضا کے لئے مطیع و فرمانبردار ہو جائے۔ اور جو حقوق اس مطیع بندے کو اس کا خالق دے یعنی حقوق العباد تو ان حقوق تک اکتفا کرے۔ اسلام کے نظریہ حقوق میں سب سے بالا تر حق اس ذات گرامی ﷺ کا ہے جو انسان کو اس کے خالق رب العالمین سے جوڑتی ہے۔ اگر اس ذات پر ایمان کامل ہو اور اس کی محبت و اطاعت موجود ہو تو اس کے نتیجے میں ہی قرآن کریم اور خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کی نظر میں تمام حقوق سے بالا تر حق ذات گرامی ﷺ کا ہے‘ جسے اسلام میں ’ام الحقوق‘ کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بالمقابل مغرب کا نظریہ حقوق خالق کے تصور سے نا آشنا اور انسان پرستی‘ کے رویے کا حاصل ہے۔ ایک طرف حقوق
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
العباد کی بات ہے تو دوسری طرف حقوق انسان کی بات ہے۔ دونوں حقوق کا سرچشمہ اور نظریہ و ڈھانچہ ہی مختلف ہے تو دونوں میں ظاہری مطابقت حاصل ہو بھی جائے تو بھی جزوی مماثلت سے کیا حاصل۔ الغرض انسانی حقوق کے ایجنڈے پر کارفرما جدید مغربی ریاست سب سے بالا تر حق ریاست کا قرار دیتی ہے تو اسلام سب سے بالا تر حق اس ملت اسلامیہ کے مرکز و محور کا قرار دیتا ہے جس سے چودہ صدیوں سے پوری اسلامیت وابستہ چلی آرہی ہے۔ اور اسلام یہ حق ذات گرامی کو منصب رسالت کی بنا پر دیتا ہے جو محمد ﷺ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تمام انبیائے کرام کا بھی حق ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ حق اللہ کے حق اطاعت سے مقرون و متصل ہے اور اس پر قرآن کریم کی درجنوں آیات شاہد ہیں۔
قانون امتناع توہین رسالت کو غیر مؤثر کرنا:
پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو سیکولر عناصر نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس قانون کے نفاذ کے فوراً بعد سے پاکستان کو عالمی اداروں کی طرف سے ملنے والی تمام تر امداد اس قانون کے خاتمہ سے مشروط رہی ہے۔ اگر برطانیہ، فرانس یا امریکہ نے کبھی کوئی تجارتی لین دین یا اسلحے کی خرید و فروخت کا معاہدہ کیا تو اسے بھی اس قانون کے خاتمے سے مشروط کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بارہا اس بنا پر پاکستان کے خلاف رپورٹیں پیش کی ہیں، حالانکہ بیشتر رپورٹوں میں کوئی شے حقائق پر مبنی نہیں۔ ان عالمی اداروں کی رپورٹیں پاکستان میں مغرب کے گماشتوں کی تیار کردہ ان فرضی رپورٹوں کا چربہ ہوتی ہیں جنہیں وہ ادارے اپنے علاقائی یا عالمی مقاصد کے تحت ایک تسلسل سے امریکہ واقوام متحدہ وغیرہ میں ارسال کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال اس لگا تار مہم بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے حکمران اس قانون کو نافذ کرنے کی بجائے اسے ختم کرنے کے درپے ہوگئے۔ نواز شریف جس کے پہلے دور حکومت میں قومی اسمبلی نے یہ قانون منظور کیا تھا‘ اس کے دوسرے دور حکومت میں اس قانون کی تاثیر پر اس طرح شب خون مارا گیا کہ اس پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے۔ حکمرانوں میں نہ تو ایسی سیاسی قوت ہے کہ وہ اس قانون کو براہ راست نشانہ بنا سکیں اور نہ ہی پاکستان کا دستور اس خلاف شرع اقدام پر ان کی حمایت کرتا ہے‘ چنانچہ حکمرانوں نے ہمیشہ اصل قانون کی بجائے قانون کے اجرا کے طریقہ کار میں ترمیم کی درپردہ کوششیں کیں۔
۱۔ بے نظیر حکومت اور قانون توہین رسالت :
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا موجودہ قانون ۱۹۹۱ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ اور پھر جولائی ۱۹۹۲ء پارلیمان کی قانون سازی کے نتیجے میں حتمی ہو کر کتاب قانون کا حصہ بنا‘ لیکن قانون کی تشکیل کے موقع پر ۱۹۹۲ء میں ہی پیپلز پارٹی کی قیادت اس حوالے سے شدید پریشانی اور خلجان میں مبتلا تھی۔ قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو نے ۱۹۹۲ء میں پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کے موقع پر اس بے چینی کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا کہ ”پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں ایسا قانون غیر ضروری ہے‘ یہاں کی مسلم اکثریت خود ہی اپنے نبی کے تقدس کی حفاظت کر سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۲۷ تحفظ ناموس رسالت نمبر
ذریعے ایسا قانون منظور کرانا ملک کو بنیاد پرست ریاست بنانے کی کوشش ہے جس سے عوام کے حقوق سلب ہوں گے اور پاکستان بدنام ہوگا۔‘‘
(۸)
اگلے سال اقتدار میں آتے ہی بینظیر حکومت نے ’لاء کمیشن‘ کے ذریعے ۲۰ دسمبر ۱۹۹۳ء کو اسلامی نظریاتی کونسل سے اس قانون میں ترمیم کی سفارش کی اور یہ مطالبہ کیا کہ اس جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس بنا دیا جائے۔ اپریل ۱۹۹۴ء میں بینظیر حکومت کی وفاقی کابینہ نے اس جرم کی سزا محض ۱۰ سال قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ دیا۔ جولائی ۱۹۹۴ء میں اس حکومت کے دو وزراء: وزیر تعلیم ڈاکٹر شیر افگن اور وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے یہ بیانات دیے کہ توہین رسالت اب ایک قابل دست اندازی پولیس جرم نہیں رہا، اب اس کی رپورٹ سیشن کورٹ یا کم از کم علاقہ مجسٹریٹ کے پاس ہی بطور استغاثہ درج ہوگی۔ مزید برآں غلط شکایت پر ۱۰ سال کی سزا بھی لاگو کر دی گئی ہے۔
(۹)
پولیس کے قابل دست اندازی جرم نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس جرم کی سزا دلوانا، دیگر جرائم کی طرح پاکستانی حکومت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس جرم کے وقوع پر سیشن کورٹ میں شکایت درج کرانے پر ہی اس کے خلاف کاروائی ہوگی، اور پہلے شکایت کنندہ کو جرم کا وقوع ثابت کرنا ہوگا۔ گویا یہ جرم ریاست کے خلاف نہیں بلکہ مسلمان کے خلاف ہے، جس کی تلافی کے لئے اسے شکایت کر کے حکومت کی مدد حاصل کرنا ہوگی۔ اس ترمیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ شکایت کنندہ مسلمان کو وقوعہ کے اندراج کے تمام اخراجات نہ صرف خود ہی برداشت کرنا ہوں گے، بلکہ گواہوں کے ذریعے وقوعہ کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ اس ترمیم کا مقصد واضح طور پر اس جرم کی سزا کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا۔
۲۔ نواز شریف حکومت اور قانون توہین رسالت:
بینظیر کے دورِ حکومت ۱۹۹۶ء میں سینٹ کے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے ۷ مارچ ۱۹۹۶ء کو امریکی حکومت کے مطالبے پر اس قانون کے طریقہ کار میں اس تبدیلی کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ لیکن ۱۹۹۸ء میں جب نواز شریف حکومت کا دوسرا دور تھا، تو اس وقت وفاقی وزیر مذہبی و اقلیتی امور نے ۷ مئی ۱۹۹۸ء کو یہ بیان دیا کہ حکومت اس قانون میں تبدیلی کے بجائے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ اور وہ یہ کہ ”توہین رسالت کی سماعت عام عدالت کی بجائے سپیشل کورٹ میں کی جائے۔ علاوہ ازیں ایسے کیس چلنے سے قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس جائیں تاکہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ یہ کیس چلنا بھی چاہیے یا نہیں؟‘‘
(۱۰)
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ بیان دینے والی مبارک شخصیت وہی تھی جنہوں بے نظیر دور میں اس قانون میں تبدیلی کی بھرپور مخالفت کی تھی لیکن اپنے دورِ حکومت میں وہ خود اس قانون میں تبدیلی پر کمر بستہ ہو گئے حتیٰ کہ نواز حکومت کے وفاقی وزیر قانون خالد انور نے تو چند دنوں بعد یہ بیان بھی دیدیا کہ حکومت قانون توہین رسالت میں بھی ترمیم کرے گی۔‘‘
(۱۱)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس پس منظر کے ساتھ آخر کار وزیر اعظم نواز شریف نے جون ۱۹۹۸ء کو اس قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔ اس موقعہ پر روزنامہ ’نوائے وقت‘ میں شائع ہونے والی خبر کا متن یہ تھا: ”وزیر اعظم میاں نواز شریف نے وفاقی وزیر مذہبی و اقلیتی امور سینیٹر راجہ ظفر الحق کی رپورٹ پر توہین رسالت کے مبینہ واقعات میں FIR کے اندراج کے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کے رکن اور سابق وزیر مملکت ڈاکٹر روفن جولیس نے سینیٹر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ جہاں توہین رسالت کا مبینہ واقعہ پیش آئے‘ اس علاقے کے اچھی شہرت کے حامل دو ایمان دار‘ سچے مسلمان اور دو عیسائی منتخب کیے جائیں ۔ ڈپٹی کمشنر‘ ایس ایس پی اور ان چار افراد سمیت چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی اور اگر تفتیش کے دوران جرم ثابت ہو گیا تو کمیٹی کی رپورٹ پر FIR درج کی جائے گی ۔“ (۱۲)
افسوس ناک امر یہ ہے کہ صدر مملکت محمد رفیق تارڑ‘ وفاقی وزیر مذہبی امور سینیٹر راجہ ظفر الحق اور نواز شریف و شہباز شریف جیسے بظاہر عاشقان رسول کی حکومت میں قانون توہین رسالت کو غیر مؤثر کرنے کے قانونی تقاضے پورے کر لئے گئے ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اس سے قبل عوام میں سستی مقبولیت کے لئے اس قانون کی برملا حمایت کیا کرتے تھے ۔ بینظیر حکومت نے اس قانون کو نا قابل دست اندازی پولیس قرار دیا‘ لیکن اصل قانون میں تبدیلی نہ کر سکی ۔ جبکہ نواز حکومت نے ایسی کمیٹی کو اس کی شکایت کے لئے ضروری قرار دیا‘ جو ڈپٹی کمشنر‘ ایس ایس پی اور دو مسلمان‘ دو عیسائی سچے افراد پر مشتمل ہو ۔ اس قدر سنیئر افسران اور ہر محلہ میں مسلم عیسائی افراد کی موجودگی کی مشکل اور تاخیری شرائط کے ذریعے جرم کی سزا کے نفاذ میں ایسی سنگین رکاوٹیں کھڑی کی گئیں کہ قانون بظاہر باقی رہے لیکن اس کی سزا کسی کو نہ ہو سکے ۔ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی پیش بہا مصروفیات اور اس پر مستزاد ان کے عموماً دین گریز رجحانات کا واضح نتیجہ یہ تھا کہ ایسے جرم کی سزا آغاز میں ہی اس قدر مشکل بنا دی جائے کہ اس کی شکایت کرنے سے قبل کوئی مسلمان بیسیوں بار سوچے ۔
۳۔ مشرف حکومت اور قانون توہین رسالت:
جنرل پرویز مشرف نے ۲۱مئی ۲۰۰۰ء کو یہ اعلان کیا کہ قانون توہین رسالت کا غلط استعمال ہو رہا ہے‘ اس لئے اس کہ طریقہ نفاذ میں مزید تبدیلی کی ضروت ہے لیکن عوام کے شدید ردّعمل کے بعد عملاً اس تبدیلی کو ملتوی کر دیا گیا ۔مئی ۲۰۰۲ء میں جنرل مشرف نے قانون توہین رسالت پر دوبارہ نظر ثانی کا اعلان کر دیا ۔ ان دنوں اعجاز الحق وزیر مذہبی اُمور تھے‘ اُنہوں نے جولائی ۲۰۰۲ء میں یہ بیان جاری کیا کہ توہین رسالت کی غلط شکایت کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے گی‘ گویا اصل جرم کی سزا کہ عین برابر ۔ وزیر موصوف کی یہ قانون فہمی اور سفارش بھی شرمناک جسارت سے کم نہ تھی ۔ آخر کار نومبر ۲۰۰۴ء میں پاکستان میں قتل غیرت کے جملہ قوانین کے ساتھ قانون توہین رسالت میں بھی تبدیلی کر دی گئی ۔ یاد رہے کہ قتل غیرت کے حوالے سے
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
قانون سازی کے مطالبے میں بھی شیری رحمٰن پیش پیش تھی‘ اور اس موقع پر اس نے قومی اسمبلی میں ’خواتین کو با اختیار بنانے‘ کے عنوان سے ایک بل جمع کرایا تھا۔ قانون توہین رسالت میں مشرف حکومت نے جو ترمیم پیش کی‘ اس کا تعلق بھی طریقہ نفاذ کی تبدیلی سے تھا۔ واضح رہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۵۶ کا تعلق وقوعہ جرم کی رپورٹ سے ہے‘ اس میں نومبر ۲۰۰۴ء میں پیش کئے جانے والے ’کریمنل لاء ایکٹ ۲۰۰۴ء‘ کی دفعہ ۹ کی رو سے ۱۵۶ اے اور بی‘ دو ترامیم کا اضافہ کیا گیا۔ ۱۵۶ بی کا تعلق تو حدود قوانین کی رپورٹ سے تھا‘ جبکہ ۱۵۶ اے کا تعلق قانون توہین رسالت کی تنفیذ سے ۔ اس بل کی منظوری کے بعد ضابطہ فوجداری میں ۱۵۶ اے کا اضافہ کر دیا گیا‘ جس کا متن یہ تھا: ۱/۱۵۶اے: تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کے تحت جرم کی تفتیش: ”سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے سے کم رتبے کا کوئی پولیس آفیسر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵سی کے تحت درج مقدمے کے ملزم سے تفتیش نہیں کر سکے گا۔“ یہ قانون اس وقت ضابطہ فوجداری میں محولہ دفعہ کے تحت موجود اور نافذالعمل ہے۔
زرداری دور میں قانون توہین رسالت کو غیر مؤثر اور تبدیل کرنے کی کوشش:
موجودہ دور میں آسیہ مسیح کے کیس کے ذریعہ ایک بار پھر قانون توہین رسالت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ننکانہ کی آسیہ مسیح کی دریدہ دہنی اور بار بار اس کا اعتراف‘ اپنی بقید حیات بہن کے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح جس کی بنا پر اس علاقہ کے عیسائی بھی آسیہ کے مخالف ہیں‘ اور مسیحیت کی تبلیغ کے ساتھ اس کی شان رسالت میں گستاخی کی تمام تفصیلات (۱۳) میڈیا پر آ چکی ہیں، اس کے باوجود ۲۰ نومبر کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا اپنی بیٹیوں اور بیوی کے ہمراہ شیخوپورہ جیل میں اس سے ملاقات کرنا اور اس کو بے گناہ قرار دینا ، بعد ازاں حکومت کا شاتمہ آسیہ مسیح کو شیخوپورہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کرنا اور صدر زرداری کو اس کی سزا معافی کی درخواست ، ایسی عجیب و غریب چیزیں ہیں جو حکمرانوں کو توہین رسالت کے مجرموں کے ساتھ غیر معمولی ہمدردی کا برملا اظہار کر رہی ہیں۔
آسیہ مسیح نے شان رسالت میں چند مسلمان خواتین کی موجودگی میں مورخہ ۱۴ جون ۲۰۰۹ء کو گستاخی کا ارتکاب کیا۔ اور ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ جناب حیات محمد نوید اقبال نے کئی ماہ پر محیط تفصیلی سماعت کے بعد ۸ نومبر ۲۰۱۰ء کو ملزمہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ جس کے بعد ۲۰ نومبر کو گورنر پنجاب نے جیل جا کر پورے عدالتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے آسیہ کو بے گناہ قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ قانون کے اجراء کی راہ میں ماضی میں تمام تر رکاوٹیں حائل کرنے کے باوجود آخر کار سیشن کورٹ سے بھی کسی ملزمہ کو سزا ہو جائے تو پاکستان کے لادین عناصر اس کو بھی گوارا کرنے کو تیار نہیں۔ چنانچہ انہوں نے اصل قانون میں تبدیلی کی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اس بار مزید پیش قدمی کی۔
میڈیا میں اس واقعہ کے نمایاں ہونے کے چند ہی دنوں کے دوران شیری رحمٰن نے ۲۴ نومبر کو قومی اسمبلی میں قانون توہین
سہ ماہی ’مجلة تعلیم وتحقیق‘ اسلام آباد ۳۰ تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسالت کے خلاف ترمیم کا بل [بنام توہین رسالت ترمیمی ایکٹ ۲۰۱۰ء] داخل کر دیا۔ بل میں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس بار اس کا مقصد ایک طرف اصل قانون میں تبدیلی اور دوسری طرف اس قانون کے ضمن میں شکایت کرنے والے کو نشان عبرت بنا دینا ہے۔
- (۱) دفعہ ۲۹۵بی میں قرآن کریم کے تقدس کو پامال کرنے کی سزا عمر قید کی بجائے صرف پانچ سال قید یا جرمانہ کر دی
جائے۔ (۲) جبکہ ۲۹۵سی توہین رسالت کی سزا کو موت کی بجائے ۱۰سال قید یا جرمانہ سے تبدیل کر دیا جائے۔
- (۳) یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ۱۲۰۳اے کی صورت میں یہ اضافہ کیا جائے کہ توہین کے تمام قوانین ۱۲۹۵اے بی اور سی کی غلط
رپورٹ کرنے والے کو وہی سزا دی جائے جو اس جرم کے ارتکاب کی صورت میں بنتی ہے۔ گویا توہین رسالت کی سزا کی غلط رپورٹ کرنے والے کو وہی سزا دی جائے جو توہین رسالت کے مرتکب کو دیا جانا مطلوب تھی۔
- (۴) اقلیتوں کے تحفظ کے لئے مطالبہ یہ بھی ہے کہ ۱۲۹۸ای کی ایک شق کا اضافہ کیا جائے جس کی رو سے مذہبی منافرت
پھیلانے میں ایسی معاونت جو امتیاز اور تشدد کو تحریک دے اس کے مرتکب کو سات سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قدر سنگین اہانتوں کے مرتکب کے لئے سزائے قید یا جرمانہ ہر دو کا امکان برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ جرمانہ کا کوئی تعین بھی نہیں کیا گیا۔ گویا توہین رسالت کے مرتکب کو چند روپے جرمانہ بھی کر دیا جائے تو قانوناً اس کی گنجائش موجود ہے۔
تبصرہ و تجزیہ:
مذکورہ بالا ترامیم سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی ترامیم ہیں جو قانون توہین رسالت کی منظوری کے معا بعد بے نظیر بھٹو کی وفاقی کابینہ نے ۱۹۹۴ء میں پیش کی تھیں کہ توہین رسالت کی سزا ۱۰ سال قید اور غلط شکایت کرنے والے کو بھی وہی سزا دی جائے۔ مشرف دور میں کی جانے والی قانونی تبدیلی میں بظاہر تو ایف آئی آر کی تفتیش کے طریقہ کار میں تبدیلی تجویز کی گئی تھی لیکن درحقیقت یہ تبدیلی قانون توہین رسالت کے تحت درج مقدمات میں پیش رفت کو سست بلکہ بے اثر بنانے کے لئے عمل میں لائی گئی تھی۔ فوجداری قانون کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب بھی کسی تھانہ کے انچارج پولیس آفیسر کو کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کی اطلاع موصول ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس اطلاع کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرے اور اس کے بعد اپنی تفتیش کا آغاز کرے۔ تفتیش کے بعد اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ اطلاع غلط یا بے بنیاد تھی تو وہ دیگر اختیارات کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۵۷ کے تحت متعلقہ مجسٹریٹ کو تحریری رپورٹ بھجوا کر مزید کاروائی کو نہ صرف روک سکتا ہے بلکہ حتمی رائے قائم کرنے کے بعد دفعہ ۱۸۲ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کروانے پر اطلاع دہندہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے عدالت سے باقاعدہ سزا بھی دلوا سکتا ہے۔ اس طے شدہ قانونی طریقے سے انحراف کر کے توہین رسالت کے معاملے میں تفتیش کو ایس ایچ او کے بجائے ایس پی کے حوالے کرنا ایک تو رائج الوقت قانونی تقاضوں سے ہٹ کر ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ہر شخص
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جانتا ہے کہ ایک وسیع و عریض سرکل میں صرف ایک ایس پی تعینات ہوتا ہے۔ بے شمار دیگر انتظامی اُمور اسکے ذمہ ہوتے ہیں۔ عام آدمی کا اپنے علاقے کے تھانہ تک پہنچنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ دوسرے قصبات اور علاقوں سے سفر کر کے ایس پی صاحب کے دفتر میں حاضر ہونا اور پھر مسلسل شامل تفتیش ہونے کے مراحل سے گزرنا عملی طور ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس جرم کے ارتکاب کی اطلاعات کا اندراج درپیش مشکلات کی وجہ سے ازخود کم ہو جائے گا اور جو افراد ایس پی تک رسائی کر کے اطلاع فراہم بھی کر دیں گے اُنہیں بھی پہلے ایک مجرم کی طرح تفتیش کے مراحل سے گزرنا پڑے گا اور گواہوں کے سفر و حضر کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ یہ صورت حال دیکھ کر یقین ہونے لگتا ہے کہ توہین رسالت کے متعلق مقدمات کے اندراج اور مقدمات پر کارروائی کو عملی طور پر ناممکن بنایا جا رہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قانون توہین رسالت کی مخالفت کرنے والی این جی اوز دیگر خود ساختہ وجوہات کے علاوہ یہ اعتراض بھی بہت شدومد سے کرتی ہیں کہ قانون توہین رسالت ایک امتیازی قانون ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک ترمیمی قانون کے ذریعے اس کا طریقہ تفتیش ضابطہ فوجداری میں بیان کردہ عام طریقے سے الگ کرنا بجائے خود ایک امتیازی اقدام ہے۔ جس کے نتیجے میں لازمی طور پر فریقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا مغرب نواز این جی اوز کے اپنے نکتہ نظر کی روشنی میں بھی امتیازی خصوصیت کے باوصف یہ ترامیم قابل استرداد ہیں۔ قانونی ماہرین اور مسلم مفکرین کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں عوام الناس میں آگہی کی ایک تحریک چلائیں اور ارکان اسمبلی کو درست سمت میں رہنمائی مہیا کر کے اُنہیں اس تبدیلی کے خلاف متحرک کریں۔ نیز قانون توہین رسالت کے اجرائی قانون میں تاخیری حربوں کے انسداد کی بھی تحریک چلائیں، جن کی بنا پر اس قانون کی بنا پر کسی کو سزا دلوانا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
جہاں تک اصل قانون توہین رسالت میں تبدیلی کا تعلق ہے تو یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ۱۰ سال قید یا چند روپے جرمانہ کی سزا کا قانون شریعت اسلامی سے سنگین انحراف ہے، جو خلاف اسلام ہونے کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی دفعہ ۲۲۷ وغیرہ کے بھی خلاف ہے، جن میں پاکستان کے تمام قوانین کو اسلام کے مطابق کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ان دریں حالات پاکستان کے حکمرانوں، مقتدر طبقہ اور مسلمان عوام پر یہ لازم ہوتا ہے کہ اس خلاف اسلام تبدیلی کو ہر مرحلہ پر رد کرنے کی بھر پور کوششیں کریں تا کہ پاکستان میں شان رسالت میں گستاخی کرنے والے اپنے حقیقی انجام کو پہنچ سکیں۔ دنیا بھر میں ناموس رسالت کو اس قدر ارزاں کر دیا ہے کہ انسانی تاریخ اس ہمہ گیر و مسلسل زیادتی و اہانت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک پاکستان میں بھی اگر شان مصطفیٰ ﷺ کی حفاظت نہ کی جاسکی اور سالہا سال میں ہونے والی ایک مثبت قانونی پیش قدمی کو تحفظ نہ دیا جاسکا تو پھر دیگر اسلامی قوانین کی کیا قدر و وقعت باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی قوت و نصرت عطا فرمائے جس سے اس دور میں ناموس رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو ان
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے مکروہ انجام تک پہنچایا جاسکے۔ آمین!
حوالہ جات:
- ۱۔ PLD,FSC 1991, P.10
- ۲۔ مزید تفصیل کے لیے: قانون توہین رسالت، از محمد اسماعیل قریشی، ص ۱۵۵
- ۳۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان: دفعہ ۲۹۵، ۲۹۵ الف، ۲۹۸
- ۴۔ مزید تفصیل کے لیے: ترجمان القرآن: دسمبر ۲۰۱۰ء، ص ۱۰
- ۵۔ مثلاً دیکھیے: دستور پاکستان کی دفعہ ۶
- ۶۔ کیس کا نام: موکس بنام سٹیٹ
- ۷۔ دیکھیے مضمون: قانون توہین رسالت کے نئے معنی و مفہوم، از محمد اسماعیل قریشی، روزنامہ نوائے وقت
- ۸۔ روزنامہ جنگ، کراچی: ۱۰ اگست ۱۹۹۲ء
- ۹۔ روزنامہ دی نیوز: ۱۴ جولائی ۱۹۹۴ء
- ۱۰۔ روزنامہ خبریں، لاہور: ۹ مئی ۱۹۹۸ء
- ۱۱۔ روزنامہ خبریں، لاہور: ۲۴ مئی ۱۹۹۸ء
- ۱۲۔ روزنامہ نوائے وقت، لاہور: ۱۴ جون ۱۹۹۸ء
- ۱۳۔ مکمل تفصیل: مقدمہ توہین رسالت کے اصل حقائق: ماہنامہ مدینہ، فیصل آباد، دسمبر ۲۰۱۰ء، ص ۱۶ تا ۲۳
-----------------------------------
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری
ڈاکٹر انیس احمد *
پاکستان کی داخلی سیاست میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد ، خصوصاً ایسے مواقع پر جب ملک کو سخت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا سامنا ہو ، بعض ایسے معاملات کو جو غیر متنازع اور اُمت کے اندر اجماع کی حیثیت رکھتے ہوں ، نئے سرے سے کھڑا کر دیا جاتا ہے تا کہ عوام کی توجہ کو معاشی اور سیاسی مسائل سے ہٹا کر ان معاملات میں الجھا دیا جائے اور غیر متنازع امور کو متنازعہ بنا دیا جائے ۔ اس سلسلے میں الیکٹرونک میڈیا باہمی مسابقت اور بعض دیگر وجوہ سے مسئلے کو الجھانے میں اور ان سوالات کو اُٹھانے میں سرگرم ہو جاتا ہے جو نام نہاد حقوق انسانی کے علم بردار اور سیکولر لابی کے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔
ان موضوعات میں ایک قانون ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس میں سیکولر لابی اور بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے نہ صرف خصوصی دل چسپی لیتے ہیں بلکہ منظم انداز میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔
آج ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حوالے سے ملکی صحافت اور ٹی وی چینل عوام الناس کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مروجہ قانون ایک انسانی قانون ہے۔ یہ کوئی الٰہی قانون نہیں ہے، اس لیے اسے تبدیل کر کے شاتم رسول کے لیے جو سزا قانون میں موجود ہے، اسے ایسا بنا دیا جائے جو ’مہذب دنیا‘ کے لیے قابل قبول ہو جائے ( حالانکہ اس ’مہذب دنیا‘ کے ہاتھوں دنیا کے گوشے گوشے میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے ، اسی ’مہذب دنیا‘ نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر پوری دنیا میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس سے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور اب بھی ہزاروں کو محض شبہے کی بنیاد پر گولیوں اور میزائل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے )۔
گورنر پنجاب نے بھی اپنے اخباری بیان میں اسی بات پر زور دیا تھا کہ یہ ایک انسان کا بنایا ہوا قانون ( بلکہ العیاذ باللہ ان کے الفاظ میں : ’کالا قانون‘) ہے اور اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وہ اپنے منصب کے دستوری تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے جیل میں پہنچ گئے اور ملزمہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس تک منعقد کر ڈالی جو ملک میں نافذ دستور اور نظام قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف
* وائس چانسلر ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد
سہ ماہی ”مجلۂ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
تھی۔ ہم چاہیں گے کہ اس موضوع پر انتہائی اختصار کے ساتھ معاملے کے چند بنیادی پہلوؤں کی طرف صرف نکات کی شکل میں اشارتاً کچھ عرض کریں۔
مسئلے کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو وہی ہے جسے ایک صوبائی گورنر نے متنازعہ بنانا چاہا ہے، یعنی شاتمِ رسول کی سزا کیا انسانوں کی طے کی ہوئی شے ہے، یا یہ اللہ کا حکم ہے جس کی بنیاد قرآن وسنت کی واضح ہدایات اور نصوص ہیں، نیز کیا یہ حکم اسلام کے ساتھ خاص ہے یا یہ الٰہی قانون تمام مذاہب اور تہذیبوں کی مشترک میراث ہے۔ مناسب ہوگا کہ قرآن کریم یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے سے قبل یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا قبل اسلام اس نوعیت کا کوئی الہامی یا الٰہی حکم پایا جاتا تھا یا نہیں۔
قانون انسداد توہین رسالت یہودیت اور عیسائیت میں:
یہودی اور عیسائی مذہب کی مقدس کتابوں عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید پر نظر ڈالی جائے تو عہد نامہ قدیم میں واضح طور پر یہ الفاظ ملتے ہیں:
you shall not revile God (Exodus 22: 28)
اس کا مفہوم یہ ہوگا:
”تو خدا کو نہ کوسنا“ اور بُرا بھلا نہ کہنا“
(ملاحظہ ہو، کتاب مقدس پرانا اور نیا عہد نامہ، لاہور ۱۹۹۳ء، بائبل سوسائٹی، ص ۷۵)
عہد نامہ قدیم میں آگے چل کر مزید وضاحت اور متعین الفاظ کے ساتھ یہ بات کہی گئی:
اور جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔
(ایضاً احبار، باب۲۴: ۱۵-۱۷، ص ۱۱۸)
انگریزی متن کے الفاظ بھی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے:
And he that blasphemeth the name of the Lord, he shall surely be put to death, and all the congregation shall certainly stone him: as well as the stranger, as he that is born in the Land, when he blasphemeth the name of the Lord, shall be put to death. (Leviticus 24: 11-16).
میثاق جدید کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں:
Wherefore I say unto you, all manner of sin and blasphemy shall be forgiven unto men: but the blasphemy against the Holy Ghost, shall not be
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
forgiven unto men. (Mathew 12:31)
اس کا مفہوم یہ ہوگا: ”اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح مقدس کے بارے میں ہو، وہ معاف نہ کیا جائے گا۔“
(متی باب ۱۲: ۳۱، کتاب مقدس، مطبوعہ بائبل سوسائٹی، انارکلی لاہور، ۱۹۹۳ء، میثاقِ جدید، ص ۱۵)
قرآن وسنت کی رو سے:
اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص بغاوت (treason) کرتا ہے، قرآن کریم نے اس کی سزا کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا گیا:
اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ O (المائده ۳۳:۵)
”جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلاوطن کر دیے جائیں۔ دنیا میں ان کے لیے یہی رسوائی ہے اور ان لوگوں کے لیے آخرت میں بھی بڑا عذاب ہوگا۔“
سورۂ مجادلہ میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا، چنانچہ فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ط وَلِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ O (المجادلہ ۵:۵۸) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے تھے اور ہم نے صاف اور کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔
گویا الٰہی قانون میں توہین رسالت (blasphemy) کی سزا بنی اسرائیل کے لیے، عیسائی مذہب کے پیروکاروں کے لیے، اور اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یکساں طور پر مجرم کا قتل کیا جانا ہے۔
ایک لمحے کے لیے اس پہلو پر بھی غور کر لینا مفید ہوگا کہ کیا ایسی سزا کا نفاذ ایک ایسی ہستی ﷺ کے مزاج، طبیعت اور شخصیت سے مناسبت رکھتا ہے جسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہو، جو خون کے پیاسوں کو قبائیں دینے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنے چچا کے قاتلوں کو بھی معاف کر دینے کا دل گردہ رکھتا ہو۔ بات بڑی آسان سی ہے۔ سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تابناک ابواب میں سے فتح مکہ کے باب کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ہر ممکنہ ظلم مکی دور میں آپؐ پر کیا، حضرت
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۳۶ تحفظ ناموس رسالت نمبر
یوسف کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ ﷺ نے ان سب کو معاف کر دیا، لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ــــــ لیکن بات یہاں رک نہیں گئی ــــــ اس عظیم معافی کے باوجود وہ چار افراد جو ارتداد اور توہین رسالت کے مرتکب ہوئے پیش کیے گئے تو ان کے قتل کا فیصلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا اور ان تین مردوں اور ایک خاتون کو موت کی سزا دی گئی۔ ان میں سے خاتون قریبہ جو ابن خطل کی لونڈی تھی مکہ کی مغنیہ تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ہجو پر مبنی گیت اس کا وتیرہ تھے۔
(ملاحظہ ہو: بخاری، فتح مکہ اور شبلی نعمانی کی سیرت النبی ﷺ، جلد اول، اعظم گڑھ، مطبع معارف، ۱۹۳۶ء، ص ۵۲۵)
محض ایک واقعے سے استدلال نہیں، نبی اکرم ﷺ کے ایک قانونی فیصلے کا معاملہ ہے جو اُمت کے لیے ہمیشہ کے لیے حجت ہے۔ قرآن وسنت رسول ﷺ کے ان نصوص کے بعد قرآن اور حدیث کو سند اور حجت ماننے والا کوئی شخص کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ شاتم رسولؐ کی سزا قتل کے علاوہ کچھ اور ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اُمت مسلمہ کا اجماع ہے۔ چنانچہ وہ اہل سنت ہوں یا اہل تشیع، پندرہ سو سال میں اس مسئلے پر کسی کا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس سلسلے میں فقہائے اُمت میں علامہ ابن تیمیہ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول، تقی الدین سبکی کی السیف المسلول علی من سب الرسول، ابن عابدین شامی کی تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیرالانام ان چند معروف کتب میں سے ہیں جو اس اجماعِ اُمت کو محکم دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرتی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیکولر لابی عموماً اس معاملے میں اپنا نزلہ مولویوں پر ہی گراتی ہے کہ یہ ان کا پیدا کردہ مسئلہ ہے ورنہ جو لوگ روشن خیال، وسیع القلب اور تعلیم یافتہ شمار کیے جاتے ہیں، وہ اس قسم کے معاملات میں نہ دل چسپی رکھتے ہیں اور نہ ایسے مسائل کی توثیق کرتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ اس حوالے سے صرف دو ایسی شخصیات کا تذکرہ کر دیا جائے جنھیں سیکولر لابی کی نگاہ میں بھی ‘روشن خیال’، ‘وسیع القلب’ اور ‘تعلیم یافتہ’ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ مغربی قانون اور فلسفہ قانون پر ان کی ماہرانہ حیثیت بھی مسلم ہے۔ گویا کسی بھی زاویے سے انھیں مولویوں کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا، یعنی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور تصور پاکستان کے خالق اور شارح علامہ ڈاکٹر محمد اقبال۔
اس خطے میں جب غازی علم الدین شہید نے ایک شاتمِ رسولؐ کو قتل کیا تو ملزم کا وکیل کوئی ‘مولوی’ نہیں وہی ‘روشن خیال’ برطانیہ میں تعلیم پانے والا، اصول پرست اور کھرا انسان محمد علی جناح تھا جس نے کبھی کوئی جھوٹا یا مشتبہ مقدمہ لڑنا پسند نہیں کیا اور اپنے ملزم کے دفاع میں اور ناموس رسول ﷺ کے دفاع میں اپنی تمام تر صلاحیت کو استعمال کیا۔ اور جب غازی علم الدین کی تدفین کا مرحلہ آیا تو ‘روشن دماغ’ علامہ اقبال نے یہ کہہ کر اسے لحد میں اتارا کہ ‘ایک ترکھان کا بیٹا ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا’۔
سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ کیا یہ دو ماہر قانون دان ‘حریت بیان’، ‘قلم کی آزادی’، ‘انسان کے پیدائشی حق اظہار’ سے
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اتنے ناواقف تھے کہ جذبات میں بہہ گئے۔
بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی:
معاملے کا دوسرا پہلو حقوق انسانی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرے اور اگر کوئی چیز قابل تنقید ہو تو اس پر تنقید بھی کرے، لیکن کسی بھی انسان کو آزادی قلم اور حریت بیان کے بہانے یہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد کی عزت، ساکھ، معاشرتی مقام اور کردار کو نشانہ بنا کر نہ صرف اس کی بلکہ اُس سے وابستہ افراد کی دل آزاری کا ارتکاب کرے۔
اگر یورپ کے بعض ممالک میں (مثلاً ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، آئرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا وغیرہ) آج تک blasphemy یا مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قانون پایا جاتا ہے اور برطانیہ جیسے رواداری والے ملک میں ملکہ کے خلاف توہین blasphemy کی تعریف میں آتی ہے، تو کیا کسی کارٹونسٹ یا کم تر درجے کے ادیب یا ادیبہ بلکہ کسی بھی فرد کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ گھٹیا ادب کے نام پر جو ہرزہ سرائی چاہے کرے۔ معاملہ تحریر کا ہو یا تقریر کا، ہر وہ لفظ اور ہر وہ بات جو ہتک آمیز ہو، اسے ’آزادی رائے‘ کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی عقل کا اندھا ہی کر سکتا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں آزادی رائے کے نام پر کسی دوسرے کے حق شہرت، حق عزت کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
ہولو کاسٹ پر تنقید جرم:
سیکولر اور آزاد خیال دنیا جس چیز کو اہم سمجھتی ہے، اس پر حرف گیری کو جرم قرار دیتی ہے اور عملاً اپنے پسندیدہ تصورات اور واقعات پر تنقید، محاسبے اور بحث و استدلال تک کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج جو لوگ اللہ کی مقدس کتابوں کی تحقیر و تذلیل اور اللہ کے پاک باز رسولوں کو سب و شتم کا نشانہ بنانے سے روکنے کو آزادی رائے اور آزادی اظہار کے منافی قرار دیتے ہیں اور ان گھناؤنے جرائم کے مرتکبین کو پناہ دینے میں شیر ہیں، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جرمنی میں ہٹلر کے دور میں یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اور جنہیں بین الاقوامی قانون اور سیاست کی اصطلاح میں ’ہولو کاسٹ‘ کہا جاتا ہے محض یہودیوں اور صہیونیت کے علم برداروں کو خوش کرنے کے لیے ان پر تنقید کو اپنے دستور یا قانون میں جرم قرار دیتے ہیں۔ ایسے محققین، مؤرخین اور اہل علم کو جو دلیل اور تاریخی شہادتوں کی بنا پر ’ہولوکاسٹ‘ کا انکار نہیں صرف اس کے بارے میں غیر حقیقی دعووں پر تنقید و احتساب کرتے ہیں، نہ صرف انھیں مجرم قرار دیتے ہیں بلکہ عملاً انھیں طویل مدت کی سزائیں دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریا کا قانون National Socialism Prohibition Law 1947 amendments of 1992 کی رُو سے جو مندرجہ ذیل جرم کا ارتکاب کرے گا:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
Whoever denies, grossly plays down, approves, or tries to excuse the National Socialist genocide or other National Socialist crimes against humanity in print publication, in broadcast or other media....will be punished with imprisonment from one to ten years, and in cases of particularly dangerous suspects or activity be punished with upto twenty years imprisonment.
جو کوئی طباعتی، نشریاتی یا کسی اور میڈیا میں انسانیت کے خلاف قومی سوشلسٹ جرائم یا قومی سوشلسٹ نسل کشی کا انکار کرتا ہے، یا اسے بہت زیادہ کم کر کے بیان کرتا ہے یا اس کے لیے عذر فراہم کرتا ہے، اسے ایک تا ۱۰ سال کی سزاے قید اور خصوصی طور پر خطرناک مجرموں کو یا سرگرمیوں پر ۲۰ سال تک کی سزاے قید دی جاسکے گی۔
آسٹریا میں یہ قانون کتابِ قانون کی صرف زینت ہی نہیں ہے بلکہ عملاً دسیوں محققین، اہل علم، صحافیوں اور سیاسی شخصیات کو سزا دی گئی ہے اور برسوں وہ جیل میں محبوس رہے ہیں۔ اس سلسلے کے مشہور مقدمات میں مارچ ۲۰۰۶ء میں برطانوی مؤرخ ڈیوڈ ارونگ کو ایک سال کی سزا اور جنوری ۲۰۰۸ء میں وولف گینگ فروہلچ کو ساڑھے چھے سال کی سزا دی گئی اور عالمی احتجاج کے باوجود انھیں اپنی سزا بھگتنی پڑی۔ حقوقِ انسانی کے کسی علم بردار ادارے یا ملک نے ان کی رہائی کے لیے احتجاج نہیں کیا اور نہ سیاسی پناہ دے کر ہی انھیں اس سزا سے نجات دلائی۔ یورپ کے جن ممالک میں محض ایک تاریخی واقعے کے بارے میں تشکیک یا تخفیف کے اظہار کو جرم قرار دیا گیا ان میں آسٹریا کے علاوہ بیلجیم ۱، چیک ری پبلک ۲، فرانس ۳، جرمنی ۴، ہنگری ۵، سوئٹزرلینڈ ۶، لکسمبرگ ۷، ہالینڈ ۸ اور پولینڈ ۹ میں قوانین موجود ہیں۔ اسی طرح اسپین، پرتگال اور رومانیہ میں بھی قوانین موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام آدمی کی عزت کی حفاظت کے لیے Law of Libel and Slander آزادیِ اظہار کے خلاف نہیں اور ہولوکاسٹ کے انکار یا بیان میں تحقیر یا تخفیف کو جرم قابلِ سزا تسلیم کیا جاتا ہے تو اللہ کے رسولوں اور انسانیت کے محسنوں اور رہنماؤں کی عزت و ناموس کی حفاظت کے قوانین نعوذ باللہ کالے قوانین کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں۔
رہی آج کی مہذب دنیا جو انسانی جان، آزادی اور اظہارِ رائے کی محافظ اور علم بردار بن کر دوسرے ممالک اور تہذیبوں پر اپنی رائے مسلط کرنے کی جارحانہ کارروائیاں کر رہی ہے، وہ کس منہ سے یہ دعویٰ کر رہی ہے جب اس کا اپنا حال یہ ہے کہ محض شبہے کی بنیاد پر دو چار اور دس میں نہیں لاکھوں انسانوں کو اپنی فوج کشی اور مہلک ہتھیاروں سے موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ بیسویں صدی انسانی تاریخ کی سب سے خوں آشام صدی رہی ہے۔ جس میں صرف ایک صدی میں دنیا کی کل آبادی کا ۷٫۳ فی صد استعماری جنگوں اور مہم جوئی کی کارروائیوں میں لقمۂ اجل بنا دیا گیا ہے اور اکیسویں صدی کا آغاز ہی افغانستان اور پاکستان میں بلاامتیاز شہریوں کو ہلاک
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کرنے سے کیا گیا ہے ؎
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ
قانون توہین رسالت کی ضرورت:
تیسرا قابل غور پہلو اس قانون کا اجماعی قانون ہونا ہے۔ یہ کسی آمر کا دیا ہوا قانون ہے یا پارلیمنٹ کا پاس کردہ، اس پر تو ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ اس قانون کی ضرورت کم از کم چار وجوہات کی بنا پر تھی:
اول، یہ قانون ملزم کو عوام کے رحم و کرم سے نکال کر قانون کے دائرے میں لاتا ہے۔ اس طرح اسے عدلیہ کے فاضل ججوں کے بے لاگ اور عادلانہ تحقیق کے دائرے میں پہنچا دیتا ہے۔ اب کسی کے شاتم ہونے کا فیصلہ کوئی فرد یا عوامی عدالت نہیں کرسکتی۔ عوام کے جذبات اور دخل اندازی کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جب تک فاضل عدالت پوری تحقیقات نہ کرلے، ملزم کو صفائی کا موقع فراہم نہ کرے، کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہ قانون سب سے زیادہ تحفظ ملزم ہی کو فراہم کرتا ہے اور یہی اس کے نفاذ کا سب سے اہم پہلو ہے۔
دوم، یہ قانون دستور پاکستان کا تقاضا ہے کیونکہ دستور پاکستان ریاست کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کا احترام و تحفظ کرے اور ساتھ ہی مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچائے۔
سوم، یہ قانون پاکستان کی ۹۵ فی صد آبادی کے جذبات کا ترجمان ہے جس کا ہر فرد قرآن کریم اور حدیث رسول ﷺ کے ارشادات کی رُو سے اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنی جان، اپنے والدین اور اپنی اولاد دنیا کی ہر چیز اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔ (بخاری ، مسلم)
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ National Commission for Justice & Peace کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۹ء تک اس قانون کے حوالے سے پاکستان میں کل ۹۶۴ مقدمات زیر سماعت آئے جن میں ۴۷۹ کا تعلق مسلمانوں سے، ۳۴۰ کا احمدیوں سے، ۱۱۹ کا عیسائیوں سے، ۱۴ کا ہندوؤں سے اور ۱۲ کا دیگر مسالک کے پیروکاروں سے تھا۔ ان تمام مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی اس قانون کے تحت عملاً کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی۔ عدالتیں قانون کے مطابق انصاف کرانے کے عمل کے تمام تقاضے پورا کرتی ہیں، جب کہ سیکولر لابی ہر ملزم کو مظلوم بنا کر پیش کرتی ہے۔ انصاف کے عمل کو سبوتاژ کیا جاتا ہے۔ میڈیا اور بیرونی حکومتوں، اداروں اور این جی اوز کا واویلا قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو ناکام کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہتک، توہین، سب وشتم کا ارتکاب کرتا ہے تو عدالت کو حقیقت کو جاننے اور اس کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ صحافت اور الیکٹرونک میڈیا اور این جی اوز اس کی ہمدردی اور ’مظلومیت‘ میں رطب اللسان ہوجاتے ہیں، حالانکہ مسئلہ ایک عظیم شخصیت انسان کامل ﷺ اور ہادی اعظم ﷺ کو نشانہ بنانے کا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ہے۔ کیا اہانت اور استہزا کو محض ’آزادی قلم ولسان‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا اسی کا نام عدل و رواداری ہے؟ حقیقی مظلوم کون ہے؟
جو کھیل ہمارے یہ آزادی کے علم بردار کھیل رہے ہیں وہ نہ اخلاق کے مسلّمہ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ یہ محض جانب داری اور من مانی کا رویہ ہے۔ اسلام ہر فرد سے انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور ایک شخص اس وقت تک صرف ملزم ہے مجرم نہیں جب تک الزام عدالتی عمل کے ذریعے ثابت نہیں ہوجاتا۔ لیکن جس طرح عام انسانوں کا جذبات کی رو میں بہہ کر ایسے ملزم کو ہلاک کردینا ایک ناقابل معافی جرم ہے، اسی طرح ایسے فرد کو الزام سے عدالتی عمل کے ذریعے بری ہوئے بغیر مظلوم قرار دے کر اور سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ کو استعمال کر کے عدالتی عمل سے نکالنا بلکہ ملک ہی سے باہر لے جانا بھی انصاف کا خون کرنا ہے اور لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔
حالیہ مقدمہ اور قانون کی تنسیخ کا مطالبہ
قانون توہین رسالت پر جس کیس کی وجہ سے گرد اڑائی جارہی ہے، اب ہم اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرتے ہیں:
آسیہ کیس کے بارے میں دی نیوز کی وہ رپورٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے جو ۲۶ نومبر کے شمارے میں شائع کی گئی ہے اور جس میں اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ واقعہ جون ۲۰۰۹ء کا ہے جس کو ایس پی پولیس کی سطح پر واقعے کے فوراً بعد شکایت کرنے والے ۲۷ گواہوں اور ملزمہ کی طرف سے پانچ گواہوں سے تفتیش کے بعد سیشن عدالت میں دائر کیا گیا۔ ملزمہ نے ایک جرگے کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔ مقدمے کے دوران کسی ایسے دوسرے تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے اب وجہ تنازع بنایا جارہا ہے۔ جس جج نے فیصلہ دیا ہے وہ اچھی شہرت کا حامل ہے اور ننکانہ بار ایسوسی ایشن کے صدر رائے ولایت کھرل نے جج موصوف کی دیانت اور integrity کا برملا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی صاف الفاظ میں درج ہے کہ:
علاقے کی بار ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلے کو پڑھے بغیر شور وغوغا کیا جارہا ہے، حالانکہ عدالت میں ملزمہ کے بیان میں کسی دشمنی یا کسی سیاسی زاویے کا ذکر نہیں جس کا اظہار اب کچھ سیاست دانوں یا حقوقِ انسانی کے چیمپئن اور این جی اوز کی طرف سے کیا جارہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اصل فیصلے کے مندرجات کو یکسر نظر انداز کر کے اس کیس کو سیاسی انداز میں اچھالا جارہا ہے اور قانون ناموس رسالت کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ ہم اس رپورٹ کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی عدالتی عمل کے اہم مراحل موجود ہیں۔ ہائی کورٹ میں
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
اپیل اور سپریم کورٹ سے استغاثہ وہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے ایک گروہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور اس سے بھی زیادہ قابل مذمت بات یہ ہے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون ہی کی تنسیخ یا ترمیم کا راگ الاپا جارہا ہے جو ایک خالص سیکولر اور دین دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کی حکومت اور قوم کو اس کھیل کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔
آزادی اظہار کے نام پر جرم کی تحلیل اور مجرموں کی توقیر کا دروازہ کھلنے کا نتیجہ بڑی تباہی کی شکل میں رونما ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا یہ قانون ایک حصار ہے اور ایک طرف دین اور شعائر دین کے تحفظ کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف سوسائٹی میں رونما ہونے والے کسی ناخوش گوار واقعے کو قانون کی گرفت میں لانے اور انصاف کے عمل کا حصہ بنانے کا ذریعہ ہے ورنہ معاشرے میں تصادم، فساد اور خون خرابے کا خطرہ ہوسکتا ہے جس کا یہ سد باب کرتا ہے۔ قانون اپنی جگہ صحیح، محکم اور ضروری ہے۔ قانون کے تحت پورے عدالتی عمل ہی کے راستے کو ہر کسی کو اختیار کرنا چاہیے، نہ عوام کے لیے جائز ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ ان طاقت ور لابیز کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قانون کا مذاق اڑائیں اور عدالتی عمل کی دھجیاں بکھیرنے کا کھیل کھیلیں۔ معاشرے میں رواداری، برداشت اور قانون کے احترام کی روایت کا قیام از بس ضروری ہے اور آج ہر دو طرف سے قانون کی حکمرانی ہی کو خطرہ ہے۔
حق تو یہ ہے کہ یہ قانون نہ صرف اہل ایمان بلکہ ہر ایسے انسان کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو رواداری، عدل و انصاف اور معاشرے میں افراد کی عزت کے تحفظ پر یقین رکھتا ہو۔ یہ معاملہ محض خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی عزت و ناموس محترم ہے۔ اس لیے اس قانون کو نہ تو اختلافی مسئلہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ اسے یہ کہہ کر کہ یہ محض ایک انسانی قانون ہے، تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اگر کہیں اس کے نفاذ کے حوالے سے انتظامی امور یا کارروائی کو زیادہ عادلانہ بنانے کے لیے طریق کار میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہو، تو دلیل اور تجربے کی بنیاد پر اس پر غور کیا جاسکتا ہے اور قانون کے احترام اور اس کی روح کے مطابق اطلاق کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدام ہوسکتے ہیں تاکہ عدالت جلد اور معقول تحقیق کرنے کے بعد فیصلے تک پہنچ سکے۔ بیرونی دباؤ اور عالمی استعمار اور سیکولر لابی کی ریشہ دوانیوں کے تحت قانون کی تنسیخ یا ترمیم کا مطالبہ تو ہمارے ایمان، ہماری آزادی، ہماری عزت اور ہماری تہذیب کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہی نہیں ان کے خلاف اعلان جنگ ہے جن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معذرت خواہانہ رویہ دراصل کفر کی یلغار اور دشمنوں کی سازشوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا بل
میڈیا، این جی اوز، عیسائی اور احمدی لابی اور پیپلز پارٹی کے گورنر اور ترجمانوں کی ہاؤ ہو کو ناکافی سمجھتے ہوئے اور استعماری
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
قوتوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے پیپلز پارٹی کی ایک رکن پارلیمنٹ نے عملاً قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کے نام پر ایک شرانگیز مسودہ قانون جمع کروا دیا ہے، جو اب قوم کے سامنے ہے اور اس کے ایمان اور غیرت کا امتحان ہے۔ اس قانون کے دیباچے میں قائد اعظم کی ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو ایک بار پھر اس کے اصل پس منظر اور مقصد سے کاٹ کر اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور سارا کھیل یہ ہے کہ دین و مذہب کا ریاست اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قانون سازی کو شریعت کی گرفت سے باہر ہونا چاہیے حالانکہ یہ اس بنیادی تصور کی ضد ہے جس پر تحریک پاکستان برپا ہوئی اور جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا ہے اور جسے قرارداد مقاصد میں تسلیم کیا گیا، وہ قرارداد مقاصد جسے سیکولر لابی کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود پاکستان کے دستور کی بنیاد اور اساسی قانون (grundnorm) تسلیم کیا گیا ہے۔
قائد اعظم کی اس تقریر کو قائد اعظم کی دوسری تمام متعلقہ تقاریر کے ساتھ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس تقریر کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں کہ تقسیم ملک کے خوں آشام حالات میں قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جو وہ اس سے پہلے ہی بارہا دے چکے تھے اور جو پوری پاکستانی قوم کا عہد ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مذہب کا اور شریعت کا قانون سے کوئی تعلق نہیں اور ریاست پاکستان قانون سازی کے باب میں اسی طرح آزاد ہے جس طرح ایک لادین ملک ہوتا ہے تو یہ حقیقت کے خلاف اور اقبال اور قائد اعظم پر ایک بہتان ہے۔
۲۴؍ نومبر ۲۰۱۰ء کو پارلیمنٹ میں جو بل داخل کیا گیا ہے اس میں محرک نے یہ درخواست کی ہے کہ مروجہ قانون توہین رسالت C-295 اور اس سے متعلقہ دیگر دفعات میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ بل میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں ان کا مقصد ترمیم نہیں، بلکہ اس قانون کی عملی تنسیخ ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترمیم کی ضرورت پر غور کر لیا جائے۔ ترمیم کا عمومی مقصد قانون کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے کسی ایسے پہلو کا دُور کرنا ہوتا ہے جو قانون کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہو یا کسی ایسے پہلو کی تکمیل مقصود ہو جو مروجہ قانون میں رہ گیا ہو۔ اس حیثیت سے اگر حالیہ قانون کی دفعہ C-295 اور مجوزہ ترمیم کے الفاظ کا مقابلہ کیا جائے تو صورتِ حال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ مروجہ قانون میں B-295 میں ارتکابِ جرم کرنے والے کے لیے سزا عمر قید ہے، shall be punishable with imprisonment to life۔ 295 میں الفاظ ہیں: shall be punished with death جب کہ مجوزہ بل میں B-295 کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ ہیں:
shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to five years or with fine or both.
سہ ماہی ’مجلة تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اسی طرح C-295 کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں:
shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years or with fine or with both.
گویا دونوں مجوزہ دفعات میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف قید کی مدت یعنی B-295 میں حد سے حد پانچ سال، C-295 میں حد سے حد ۱۰ سال! جو بھلا انسان بھی باہوش و حواس اس تقابل کو دیکھے گا وہ یہی کہے گا کہ اس تجویز کا اصل کام ’تنسیخ‘ ہے ترمیم نہیں۔ واضح رہے کہ اس میں قید اور جرمانہ کے درمیان ’یا‘ کا رشتہ قائم کیا گیا ہے۔ گویا سزا کے بغیر صرف جرمانہ، جس کا تعین بھی نہیں کیا گیا ادا کر کے کوئی بھی شاتم رسول اُمت مسلمہ کے جذبات کا خون اور اُن کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے۔
اس تجویز میں ناموسِ رسالت کو پامال کرنے والے کے لیے قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت کے فیصلے کی جگہ ملزم کو معصوم اور بے گناہ تصور کرتے ہوئے ساری ہمدردی اسی کے پلڑے میں ڈال دی گئی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناموسِ رسالت یا قرآن کریم کی بے حرمتی کرنا ایک اتنا ہلکا سا جرم ہے کہ اگر حد سے حد پانچ سال یا ۱۰ سال کی قید دے دی جائے یا صرف چند روپے جرمانہ کر دیا جائے تو اس گھناؤنے جرم کی قرار واقعی سزا ہو جائے ۔ یہ بھی نہ بھولیے کہ اس سزا کو چند لمحات بعد کوئی نام نہاد صدر مملکت معاف بھی کر دے تو اُمت مسلمہ بری الذمہ ہو جائے گی!
ہمارے خیال میں کسی مسلمان سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ اگر اس کے نسب کے بارے میں ایک بُرا لفظ منہ سے نکالا جائے تو وہ کہنے والے کی زبان کھینچنے کو اپنا حق نہ سمجھے لیکن اگر قرآن کریم یا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حملہ ہو اور کھلی بغاوت ہو تو ’رواداری‘ اور ’عفو و درگزر‘ میں پناہ دی جائے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجویز پیش کرنے والوں کے خیال میں کسی کی عزت، جذبات، شخصیت اور مقام پر حملہ کرنا تو ’انسانی حق‘، ’آزادیِ رائے‘ اور ’اقلیتی حقوق‘ کی بنا پر ایک نادانستہ غلطی مان لیا جائے، اور جس پر یہ حملہ کیا جا رہا ہے، جس کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس زیادتی کو نہ ظلم کہا جائے، نہ اسے انسانی حقوق کی پامالی سمجھا جائے، بلکہ الزام تراشی کرنے والے کو معصوم ثابت کرنے اور جرم کی سنگینی اور گھناؤنے ہونے کو کم سے کم کیا جائے اور عملاً اس جرم پر گرفت ایک سنگین جرم بنا دیا جائے۔ گویا ع
یہ بل ملت اسلامیہ کے ایمان، حب رسول ﷺ اور عظمت قرآن کے ساتھ ایک ہتک آمیز مذاق کی حیثیت رکھتا ہے، اور اقلیتوں کے تحفظ کے نعرے کے زور سے اُمت مسلمہ کی اکثریت کو بے معنی قرار دیتے ہوئے اس کی روایات اور قرآن وسنت کے واضح فیصلوں کی تردید بلکہ تنسیخ کرتا ہے۔
اس موقع پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ہی میں نہیں، پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان مسلم ممالک میں غالب
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اکثریت رکھتے ہیں غیر مسلموں کا تحفظ ان کا دینی فریضہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کا ذمہ لیا ہے، اس لیے کوئی مسلمان ان کی جان، مال اور عزت کو اپنے لیے حلال نہیں کر سکتا لیکن کوئی شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم ، اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ برسر عام جب چاہے قرآن اور صاحب قرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے حرمتی کا مرتکب بھی ہو اور اس پر کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کی جائے کہ ایسا کرنے سے بعض پڑوسی ناراض ہو جائیں گے۔
یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ بل میں اے-۲۰۳ میں یہ اضافہ کرنے کی تجویز کی گئی ہے کہ:
Anyone making a false or frivolous accusation under any of the sections 295-A, 295 B and 295-c, of the Pakistan Penal Code shall be punished in accordance with similar punishment prescribed in the Section under which the false or frivolous accusation was made.
حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے افراد قانون کی پاسبانی کا دعویٰ کرتے ہیں جو قانون کے بنیادی تصورات کو کھلے عام پامال کرنے پر آمادہ ہیں۔ ملزم کے ساتھ تمام تر ہمدردی کے باوجود کیا ۱۵ سو سال میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص نے کسی پر بدکاری کا الزام لگایا جس کے ثابت ہونے کی شکل میں بدکار کو سنگسار کیا جانا تھا لیکن الزام ثابت نہ ہوسکا تو الزام لگانے والے کو سنگسار کر دیا گیا ہو۔ قذف کا قانون اسلامی قانون کا حصہ ہے لیکن وہ نصوص پر مبنی ہے اور صرف زنا کے ایک جرم کے ساتھ خاص ہے۔ البتہ اتہام، جھوٹی شہادت وغیرہ تعزیری جرم ہو سکتے ہیں اور ان پر ضرورت اور حالات کے مطابق غور کیا جاسکتا ہے مگر جھوٹے گواہ کو ہمیشہ کے لیے نا قابل قبول گواہ قرار دینا اسلام کے تعزیری قانون کا حصہ ہے۔ لیکن جس طرح یہاں ان نا مساوی چیزوں کو برابر برابر (juxtapose) کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ قانون کا صحیح نفاذ نہیں بلکہ قانون سے جان چھڑانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جو تصور اس ترمیم میں پیش کیا گیا ہے کیا تمام تعزیری قوانین پر اس کا اطلاق ہوگا؟ اس کا اصول قانون وانصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو جنگل کے قانون کی طرف مراجعت کا نسخہ معلوم ہوتا ہے! کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ ہمارا حکمران طبقہ اس معاملے میں شاید اُس مقام زوال تک پہنچ گیا ہے جہاں عقل کا استعمال قابل دست اندازی پولیس جرم تصور کر لیا جائے گا؟
اسلامی قانون میں قذف کی سزا کی موجودگی میں نہ تو حد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور نہ قذف کے ملزم پر زنا کی حد جاری کی جاسکتی ہے۔ ایک پارلیمنٹ کے رکن کی جانب سے ردعمل کی بنیاد پر یہ تجویز بنیادی انسانی حقوق اور قانون کے فطری اصولوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو سمجھ بوجھ سے نوازے تا کہ وہ اپنی فکری غلطیوں کو محسوس کر سکے۔
قوم کا امتحان
ایک ایسے قانون کو جسے ملک کی وفاقی شرعی عدالت نے تجویز کیا ہو، جسے پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اجلاس نے متفقہ طور پر
سہ ماہی ’مجلۂ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد ۴۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
قانون کا درجہ دیا ہو، محض یہ کہہ کر ایک طرف رکھ دینا کہ یہ فلاں فوجی آمر کے دور میں پارلیمنٹ نے بنایا، ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ نیز یہ دستورِ پاکستان کے ساتھ ایک مذاق کے مترادف ہے۔
۱۸۶۰ء سے ۱۹۲۷ء تک جو قانون عوامی ضرورت کی بنا پر وجود میں آیا جس میں ناموس رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے اضافی قانون شامل کیا گیا وہ ایک غیر متنازع اور متفق علیہ معاملہ ہے۔ اسے ایسے وقت میں ایک اختلافی مسئلہ بنا کر پیش کرنا جب ملک کو شدید معاشی زبوں حالی اور سیاسی انتشار کا سامنا ہے، ملک کے باشندوں کے ساتھ بے وفائی اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔
اس امر کی ضرورت ہے کہ یک طرفہ پروپیگنڈے بلکہ ایک نوعیت سے کروسیڈ کا بھر پور انداز میں مقابلہ کیا جائے۔ اس موقع پر اہل حق کی خاموشی ایک جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اس سے ان عناصر کو شہ ملے گی جو دلیل، قانون اور سیاسی عمل کے ذریعے اصلاح سے مایوس ہو کر تشدد کے راستے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ جہاں قانون کا منصفانہ نفاذ وقت کی ضرورت ہے اور عوام و خواص سب کی تعلیم اور رائے عامہ کی استواری ضروری ہے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک مبنی برحق قانون کو جھوٹے سہاروں اور نفاذ کے باب میں مبینہ بدعنوانیوں کے نام پر قانون کو مسخ کرنے کی کوشش کا دلیل اور عوامی تائید کے ذریعے مقابلہ کیا جائے۔ میڈیا پر ناموسِ رسالت کے قانون کا مؤثر دفاع اور اس کی ضرورت اور افادیت کے تمام پہلوؤں کو اُجاگر کیا جائے، وہیں عمومی تعلیم اور انتظامیہ، پولیس اور عدالت سب کے تعاون سے اس قانون کے غلط استعمال کو جہاں کہیں بھی ہو، قانون اور عدل و انصاف کے معروف ضابطوں کے مطابق روکا جائے ، اور جو عناصر مسلمانوں کے ایمان اور ان کے جذبات سے کھیلنے پر تلے ہوئے ہیں اور جو کردار ان کے آلہ کار بننے کو تیار ہوں ان کی سرپرستی اور بیرونِ ملک آباد کاری کے مذموم کھیل میں مصروف ہیں، ان کی ہر شرارت کا دروازہ بند کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف اہل علم اور اہل قلم اپنی ذمہ داری ادا کریں تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مسجد اور منبر سے بھی پورے توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اس آواز کو اٹھایا جائے۔ نیز پارلیمنٹ کے ارکان تک حق کی آواز کو مؤثر انداز میں پہنچایا جائے اور ہر ہر حلقے میں اہل علم اور سیاسی کارکن اپنے امیدواروں کو پاکستان کے دستور اور اسلام کے شعائر کی حفاظت کے لیے مضبوطی سے سرگرمِ عمل ہونے کی دعوت دیں۔
قائدِ اعظم کی ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو بددیانتی اور دیدہ دلیری سے استعمال کیا جارہا ہے۔ قراردادِ مقاصد کے خلاف جو فکری جنگ برپا ہے اس کا بھر پور مقابلہ کیا جائے اور قائدِ اعظم کے بیان کو آج جس طرح اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس کا پردہ چاک کیا جائے۔ اس لیے کہ قائدِ اعظم نے قیامِ پاکستان کی ساری جنگ دو قومی نظریے، مسلمانوں کی نظریاتی قومیت، دین پر مبنی ان کی شناخت اور اسلامی نظریے کے لیے پاکستان کو تجربہ گاہ بنانے کے مسلسل وعدوں پر لڑی تھی۔ آج سیکولر لابی اس عظیم تاریخی تحریک کو جس کے دوران ملتِ اسلامیہ ہند نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے محض معاشی
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
مفادات کا کھیل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو تاریخ کے ساتھ مذاق ، قائداعظم سے بے وفائی اور اُمت مسلمہ اور پاکستان کے لیے قربانی دینے والوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔
قائداعظم کا تصورِ پاکستان
قائداعظم نے پاکستان کس مقصد اور کس عہد و پیمان پر قائم کیا تھا وہ بار بار سامنے لانا ضروری ہے۔ ہم قائداعظم ہی کے چند زریں اقوال پر ان گزارشات کا خاتمہ کرتے ہیں تا کہ ناموسِ رسول ﷺ کی حفاظت کے قانون پر ان تازہ حملوں کے لیے قائداعظم کے نام کو استعمال کرنے والوں کی بد باطنی سب پر آشکارا ہو جائے۔ کاش ! وہ خود بھی اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیں اور قائداعظم کا سہارا لے کر اپنے اس شیطانی کھیل سے اجتناب کریں۔
قائداعظم نے ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کے بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں ان تمام غلط فہمیوں کو خود دور کر دیا تھا جو مخالفین پیدا کر رہے تھے بلکہ واضح الفاظ میں پاکستان کے قیام کے مقاصد اور اس عمرانی معاہدے کا برملا اعلان کیا تھا جو انھوں نے ملت اسلامیہ پاک و ہند سے کیا تھا:
”پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم ۱۰ سال سے کوشاں تھے بفضلہ تعالیٰ اب ایک زندہ حقیقت ہے لیکن خود اپنی آزاد مملکت کا قیام ہمارے اصل مقصد کا صرف ایک ذریعہ تھا، اصل مقصد نہ تھا۔ ہمارا اصل منشاء مقصود یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت قائم ہو جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہیں، جس کو ہم اپنے مخصوص مزاج اور اپنی ثقافت کے مطابق ترقی دیں اور جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصول آزادی کے ساتھ برتے جائیں۔“
قائداعظم اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام محض عقائد اور عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو تطہیر افکار اور تعمیر اخلاق کے ساتھ اجتماعی زندگی کی نئی صورت گری کا تقاضا کرتا ہے اور جس میں قانون ، معاشرت اور معیشت سب کی تشکیل کو قرآن و سنت کے مطابق ہونا ہی اصل مطلوب ہے۔ معاملہ حدود قوانین کا ہو یا تحفظ ناموسِ رسالت کے قانون کا ، زکوٰۃ وعشر کے قوانین ہوں یا اسلام کا قانونِ شہادت، یہ سب پاکستان کے مقصد وجود کا تقاضا ہیں اور قائداعظم کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ ان کا ارشاد ہے:
”ان لوگوں کو چھوڑ کر جو بالکل ہی ناواقف ہیں ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔ مذہبی، معاشرتی، دیوانی ، معاشی ، عدالتی، غرض یہ کہ ہماری مذہبی رسومات سے لے کر روزمرہ زندگی کے معاملات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک ، اجتماعی حقوق سے انفرادی حقوق تک، اخلاقیات سے جرائم تک کو دنیاوی سزاؤں سے لے کر آنے والی زندگی کی جزا و سزا تک کے تمام معاملات پر اس کی عمل داری ہے اور ہمارے پیغمبر ﷺ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہر شخص اپنے پاس قرآن رکھے اور خود رہنمائی حاصل کرے۔ اس لیے اسلام صرف روحانی احکام اور تعلیمات اور مراسم تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ ایک کامل ضابطہ ہے جو مسلم
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
معاشرے کو مرتب کرتا ہے۔“
۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر سے قبل دہلی میں پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے قائدِ اعظم نے بہت صاف الفاظ میں اُس وقت کے صوبہ سرحد میں استصواب کے موقع پر جو عہد و پیمان قوم سے کیا تھا خود اس کو بھی ذہن میں تازہ کر لیں۔ یہ کوئی عام تقریر نہیں بلکہ سرحد کے مسلمانوں کے ساتھ ایک عہد (covenant) ہے جس کے مطابق انھوں نے خان عبدالغفار خان کے موقف کو رد کیا اور قائدِ اعظم کے موقف پر اعتماد کر کے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا:
”خان برادران نے اخبارات میں ایک اور زہریلا نعرہ بلند کیا ہے کہ مجلسِ دستور ساز پاکستان، شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین کو نظر انداز کر دے گی۔ یہ بھی ایک بالکل نادرست بات ہے۔ ۱۳ سے زیادہ صدیاں بیت گئیں، اچھے اور بُرے موسموں کا سامنا کرنے کے باوجود، ہم مسلمان نہ صرف اپنی عظیم اور مقدس کتاب قرآنِ کریم پر فخر کرتے رہے، بلکہ ان تمام ادوار میں جملہ مبادیات کو حرزِ جاں بنائے رکھا..... معلوم نہیں کہ خان برادران کو اچانک اسلام اور قرآنی قوانین کی علم برداری کا دورہ کیسے پڑا ہے، اور اُنھیں اُس ہند مجلسِ دستور ساز پر اعتبار ہے کہ جس میں ہندوؤں کی ظالمانہ اکثریت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ صوبہ سرحد کے مسلمان واضح طور پر یہ سمجھ لیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پٹھان۔“
(قائد اعظم: تقاریر و بیانات، ج ۴، ترجمہ اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۳۴۶-۳۴۷)
دیکھیے بات بہت واضح ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی اور زندگی کے پورے نظام کو ان اصولوں اور ہدایات کے مطابق منظم اور مرتب کرنا تھا۔ اس لیے آج ایشو یہ ہے کہ کیا ناموس رسالت کی حفاظت اور توہین رسالت ﷺ کے خلاف قانون قرآن وسنت کا حکم اور اقتضا ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو پھر اس سلسلے میں کسی معذرت کی ضرورت نہیں۔ قانون کی تنسیخ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف بغاوت ہوگی اور قانون میں ایسی ترمیم جس سے وہ محض ایک نمائشی چیز بن کر رہ جائے قرآن و سنت سے مذاق اور ذاتِ رسالت مآب ﷺ سے بے وفائی ہوگی۔ بلاشبہہ قانون کا نفاذ اس طرح ہونا چاہیے کہ کوئی شاتمِ رسول ﷺ اپنے جرم کی سزا سے بچ نہ سکے اور کوئی معصوم فرد ذاتی، گروہی، معاشی مفادات کے تنازعے کی وجہ سے اس کی زد میں نہ آسکے۔ انصاف سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارک کے بارے میں کسی کو بھی تضحیک اور توہین کی جرأت نہ ہو۔ پھر انصاف معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ ضروری ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ کہ مجرم اور صرف مجرم قانون کے شکنجے میں آئے۔ نہ عام انسان قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ کسی کو قانون کی گرفت سے نکلوانے کے لیے سیاسی وڈیروں، دولت مند مفاد پرستوں، سیکولر دہشت گردوں یا بین الاقوامی شاطروں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے۔ اس سلسلے میں جن انتظامی اصلاحات یا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جن تدابیر
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں نہ ماضی میں کوئی مشکل حائل تھی اور نہ آج ہونی چاہیے۔ لیکن ترمیم کے نام سے قانون کو بے اثر کرنے اور امریکا و یورپ اور عالمی سیکولر لابی اور سامراج کے کارندوں کو کھل کھیلنے کا موقع دینا ہمارے ایمان، آزادی، عزت اور حمیت کے خلاف ہے اور اس کی یہ قوم کبھی اور کسی کو بھی اجازت نہیں دے گی۔ اس لیے کہ ؎
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
--------------------------------------------------
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ناموس رسول اکرم ﷺ اور شاتم رسول کی سزا
(قرآن وسنت کی روشنی میں)
مولانا محمد اسماعیل *
خاتم النبیین محمد مصطفی ﷺ کا منصب نبوت اور کارِ رسالت قرآن حکیم میں کئی مقامات پر واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَیُزَكِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ O (ال عمران 164)
”درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اُٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے“۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَیُزَكِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ O (الجمعة - 2)
”وہی ہے جس نے اُمیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اُٹھایا، جو انہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ۔“
بحیثیت مسلمان ہمیں پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنی ہے اور آپ ﷺ کے طریقوں سے سرمو انحراف نہیں کرنا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کی عادات مبارکہ بھی ہمارے لئے نمونہ ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورة الاحزاب - 21)
”درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے“۔
* مدیر تفہیم دین اکیڈمی حیات آباد پشاور ۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
رسول بھیجنے کے بعد اب ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ O
(النساء 80)
”جس نے رسول کی اطاعت کی تو یقیناً اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ۔
(النساء 64)
”ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بناء پر اُس کی اطاعت کی جائے“۔
اطاعت کے لئے محبت بنیاد ہے۔ دل میں محبت ہوگی تو اطاعت ہوگی دل محبت سے خالی ہے تو اطاعت بھی نہیں ہوگی۔
اللہ سے محبت بھی تب معتبر ہوگی جب رسول اللہ ﷺ سے محبت ہوگی۔ فرمانِ رسول ﷺ ہے:
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔
(۱)
”تم میں سے کوئی بھی اُس وقت تک مؤمن نہیں بن سکتا جب تک میں اسے اس کے باپ اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں“۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کیسی ہونی چاہئے اس معیار کا تعین اس واقعہ سے ہوتا ہے جسے صحیح بخاری، مسند احمد وغیرہ میں نقل کیا گیا ہے:
عن عبداللہ بن ہشام قال کُنَّا مع النبی ﷺ وھو اٰخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَئٍ اِلَّا مِنْ نَّفْسِیْ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ ”لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْکَ مِنْ نَّفْسِکَ“ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ فَاِنَّہُ الْاٰنَ وَاللّٰہِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ ”الْاٰنَ یَا عُمَرُ“
(۲)
”حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے اور آپ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جب تک میں آپ کو اپنی جان سے بھی محبوب نہ بن جاؤں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب آپ ﷺ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا اب بات بن گئی اے عمر (رضی اللہ عنہ)!
علامہ سہل بن عبداللہ التستری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عَلَامَةُ حُبِّ اللّٰهِ حُبُّ الْقُرْاٰنِ وَعَلَامَةُ حُبِّ الْقُرْاٰنِ حُبُّ النَّبِيِّ ﷺ وَعَلَامَةُ حُبِّ النَّبِيِّ ﷺ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
حُبُّ السُّنَّةِ وَعَلَامَةُ حُبِّ السُّنَّةِ حُبُّ الْآخِرَةِ وَعَلَامَةُ حُبِّ الْآخِرَةِ بُغْضُ الدُّنْيَا وَعَلَامَةُ بُغْضِ الدُّنْيَا اَنْ لَّا يَدَّخِرَ مِنْهَا إِلَّا زَادًا وَبُلْغَةً إِلَى الْآخِرَةِ (۳) ”اللہ سے محبت کی نشانی قرآن سے محبت ہے اور قرآن سے محبت کی نشانی پیغمبر ﷺ سے محبت ہے اور پیغمبر ﷺ سے محبت کی نشانی سنت سے محبت ہے اور سنت سے محبت کی نشانی آخرت سے محبت ہے اور آخرت سے محبت کی نشانی دُنیا سے نفرت ہے اور دُنیا سے نفرت کی نشانی یہ ہے کہ اس سے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرے سوائے سفر خرچ اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا سامان“۔
ناموس رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کی روشنی میں:
قرآن حکیم میں ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ( الحجرات 2)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ہی نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دُوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“۔
آپ ﷺ کی مخالفت صراحتاً کفر ہے اور آپ ﷺ کی شان میں معمولی سی بے ادبی بھی غارت گر اعمال اور موجب کفر ہوسکتی ہے۔
اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد آپ ﷺ کا استخفاف واہانت ہو کیونکہ وہ تو کفر ہے بلکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے جن کے لئے آپ ﷺ کی ذات گرامی ہی اصل ایمان ہے۔
سورۃ الحجرات کی آیت ”یاایھاالذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم..... الایۃ“ سے ثابت ہوتا ہے کہ:
آپ ﷺ کی وفات کے بعد کے لوگوں کو بھی ایسے تمام مواقع پر یہی ادب ملحوظ نظر رکھنا چاہئے جب آپ ﷺ کا ذکر ہورہا ہو یا آپ ﷺ کی احادیث بیان کی جائیں۔
آپ ﷺ کا احترام دراصل اللہ کا احترام ہے جس نے آپ ﷺ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ ﷺ کے احترام میں کمی کے معنی خود اللہ کے احترام میں کمی ہیں۔
جو دل رسول اللہ ﷺ کے احترام سے خالی ہے وہ درحقیقت تقویٰ سے خالی ہے اور رسول ﷺ کے مقابلے میں کسی کی آواز کا بلند ہونا محض ایک ظاہری بدتہذیبی نہیں ہے بلکہ باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے۔ (۴)
اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی رفعت شان کا قرآن حکیم میں ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
تحفظ ناموس رسالت نمبر ۵۲ سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ط (الم نشرح۔ 4)
’’اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا ہے۔‘‘
یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا ذکر بلند فرمانے کا ایسا انتظام فرمایا کہ جو لوگ بھی کلمہ توحید پڑھتے ہیں تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ بھی پڑھتے ہیں جس کے بغیر ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا۔ اور آج کل تو ’’ورفعنا لك ذكرك‘‘ کے معنی بڑی آسانی سے سمجھے جاسکتے ہیں کہ دُنیا میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جس میں دُنیا کے کسی کونے میں کہیں یہ صدا بلند نہ ہورہی ہو کہ ’’اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ۔‘‘ اور مؤمنوں کو قرآن نے باقاعدہ حکم دیا کہ جب بھی آپ کا نام سنیں تو آپ پر درود وسلام بھیجیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
(الْاَحْزَاب۔56)
’’بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پیغمبر ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے مؤمنو! تم بھی پیغمبر ﷺ پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘
حمایت ونصرت رسول ﷺ ایمان کا لازمی تقاضا ہے اس حوالے سے صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین کا طرز عمل قرآن حکیم میں کچھ یوں بیان ہوا ہے:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ O وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْ ۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ O (الانفال 74 تا 75 )
’’جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لئے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سیرت اور ان کے تاریخی کارنامے قوت ایمانی کے ایسے قوی سرچشمے ہیں جن سے پوری اُمت نور ایمان حاصل کرتی ہے اور اس نور کے بغیر یہ پوری اُمت بے نور، یتیم اور سب کچھ سے محروم رہتی ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی زندگی ہمارے لئے حسن سیرت و کردار کا ایک مکمل نمونہ ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اُنہوں نے آپ ﷺ کی تعظیم وتکریم کو اپنے آپ پر لازم کرلیا تھا اور یہ محبت ان کے دلوں میں رچ بس گئی تھی۔ اس محبت کی دلیل حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی کی وہ رپورٹ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے بات چیت کر کے واپس مشرکین کے پاس جا کر اس
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے پیش کی تھی اس نے کہا:
”میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں مگر اللہ کی قسم! میں نے اصحاب محمد ﷺ کو جس طرح محمد ﷺ کا فدائی دیکھا ہے ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے ہاں بھی نہیں دیکھا، ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ محمد (ﷺ) وضو کرتے ہیں تو ان کے اصحاب پانی کا ایک قطرہ تک زمین پر نہیں گرنے دیتے اور سب اپنے جسم اور کپڑوں پر مل لیتے ہیں اب تم لوگ سوچ لو کہ تمہارا مقابلہ کس سے ہے؟
آپ ﷺ کی زندگی میں جس طرح آپ ﷺ کا ادب، تکریم و تعظیم لازمی تھی اسی طرح آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ کی تکریم و ادب لازمی ہے۔ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت و عظمت حاصل ہے جو آپ ﷺ کی زندگی میں حاصل تھی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے دیگر تلامذہ امام سفیان ثوری، امام اوزاعی کا مجموعی قول یہ ہے کہ:
”ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا آپ ﷺ کی ذات مقدسہ، آپ ﷺ کے نسب و دین یا آپ ﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ ﷺ پر طعنہ زنی کی یا آپ ﷺ کو کسی نامناسب چیز سے تشبیہ دی وہ آپ ﷺ کو براہ راست گالی دینے والا ہے، اُسے قتل کر دیا جائے گا اس میں کوئی استثنا نہیں نہ اس میں شک ہے خواہ توہین صراحتاً ہو یا کنایۃً ۔
ایسی کوئی بات جس سے آپ کو تکلیف پہنچنے کا احتمال ہو اس سے بھی منع فرمایا گیا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو لفظ رَاعِنَا کہنے سے روکا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا ط وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ O
(البقرة 104)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو رَاعِنَا نہ کہا کرو، بلکہ انْظُرْنَا کہو اور توجہ سے بات کو سُنو، یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں“۔
اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”میرے نام جیسا نام رکھو لیکن میری کنیت جیسی اپنی کنیت نہ رکھو۔“
ایسا اس لیے کہا گیا تا کہ آپ ﷺ کی ذات شریفہ اذیت سے محفوظ رہے کیونکہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ کسی شخص کی ندا کا جواب دیا کہ وہ پکار رہا تھا أبا القاسم! تب اس شخص نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو آواز نہیں دے رہا تھا میں تو فلاں کو پکار رہا تھا۔
شاتم رسول ﷺ کی سزا:
رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک علماء وائمہ فتویٰ کا اجماع رہا ہے کہ جو کوئی رسول
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
اللہ ﷺ کو گالی دے یا تنقیص شان کرے اُسے قتل کر دیا جائے۔ گالی سے مراد وہ تمام باتیں ہیں جن سے آپ ﷺ کی عیب جوئی ہو یا آپ ﷺ کی ذات شریفہ یا آپ ﷺ کے دین یا آپ ﷺ کے اُسوہ یا آپ ﷺ کے خصائل میں نقصان لاحق ہوتا ہو یا بطریق سب (گالی) آپ ﷺ پر تعریض یا اس کے مشابہ لفظ بولے یا برسبیل سب و شتم استخفاف یا تحقیر شان و تصغیر شان کرے یا آپ ﷺ کی نکتہ چینی یا عیب جوئی کرے وہ سب گالی میں شمار ہوگا اور اس کا حکم گالی دینے والے کی طرح حکم قتل ہوگا۔ اس حکم سے کسی کے لئے کوئی استثناء نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی شک و شبہ ہے خواہ یہ تنقیص صراحتاً ہو یا اشارتاً۔
یہی حکم اس شخص کا ہے جو آپ ﷺ پر لعنت کرے یا آپ ﷺ پر بددعا کرے یا آپ ﷺ کے نقصان کا خواہشمند ہو یا آپ ﷺ کی طرف بطور مذمت ایسی چیز منسوب کرے جو آپ ﷺ کے منصب عالی کے لائق نہ ہو یا آپ ﷺ کی طرف کوئی بیہودہ یا فحش یا بُری یا جھوٹی بات منسوب کرے یا آپ ﷺ کو کسی ایسی مصیبت یا مشقت کے ساتھ عار دلائے جو آپ ﷺ پر گزری ہو۔ یہ سب آپ ﷺ کی اہانت وتنقیص میں شمار ہوں گی اور اس کی سزا بالاجماع قتل ہے۔ (۸)
اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا تو وہ کافر بن جاتا ہے اور بغیر کسی اختلاف کے واجب القتل ہے اس پر چاروں ائمہ کا اتفاق ہے۔ ہاں ! اگر وہ ذمی ہے (وہ غیر مسلم جو معاہدہ کی وجہ سے اسلامی حکومت میں رہتا ہو ) تو اس کے بارے میں بھی امام مالک رحمہ اللہ، اہل مدینہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اُس کو قتل کیا جائے گا کیونکہ توہین رسالت کے ذریعے اس نے خود معاہدے کو توڑ دیا ہے جو اس کے امان کے لئے اس کے ساتھ ہوا تھا۔
یہ بات عقلاً بھی ٹھیک ہے کہ ذمی اگر اسلامی حکومت کے اندر رہتا ہو تو وہ کام جس پر مسلمان کے لئے سزا مقرر ہے وہی کام ذمی کرے تو اس کو وہی سزا کیوں نہ دی جائے گی؟ اس کا صاف مطلب تو یہ ہوگا کہ غیر مسلم جب بھی چاہے اسلامی حکومت میں آکر ذمی بن جائیں اور پھر جو اس کی مرضی ہو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کے بارے میں جو اس کا دل چاہے گالیاں دیتا رہے اور گستاخیاں کرتا رہے اور اگر کوئی اس کو کچھ کہنا چاہے تو جواب یہ دیا جائے کہ چونکہ یہ ذمی ہے اس لئے اس کو کچھ نہ کہا جائے۔
رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچانے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں لعنت اور آخرت میں توہین آمیز عذاب، دردناک عذاب اور لعنت کی سزائیں سنائی گئی ہیں، خصوصاً سورۃ احزاب کی آیت 61 میں تو مدینہ کے ان اوباش لوگوں کو، جو آپ ﷺ کو تنگ کرتے تھے، ایذاء دیتے تھے اور جھوٹی افواہیں اُڑایا کرتے تھے، کو ملعون اور واجب القتل قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَلْعُونِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوا، اُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيْلًا (الاحزاب ٦١)
”وہ ملعون ہیں جہاں پائے جائیں انہیں پکڑ لیا جائے اور بری طرح قتل کر دیئے جائیں“۔
اس لئے اس بات پر تو علماء کا اجماع ہے کہ ایسے شخص کو خواہ وہ کوئی بھی ہو قتل کیا جائے اسلاف اُمت میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
سہ ماہی 'مجلہ تعلیم و تحقیق' اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جو غیر مسلم مسلمانوں کے ذمہ میں رہتا ہو اور رسول اللہ ﷺ یا قرآن کریم یا اللہ کے دین کے بارے میں نامناسب بات کہے تو اس سے اللہ کا اور امیر المؤمنین اور تمام مسلمانوں کا ذمہ اٹھ جاتا ہے۔ اور اس کا امان ختم ہو جاتا ہے۔ اور امیر المؤمنین کے لئے اس کی جان اور اس کا مال حلال ہو جاتا ہے جیسے دارالحرب کے لوگوں کے مال و جان حلال ہو جاتے ہیں۔
(۹)
قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ تمام اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والا یا آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے۔
مشہور فقیہ محمد بن سحنون رحمہ اللہ (متوفی 256ھ) فرماتے ہیں کہ پیغمبر کو گالی دینے والا یا گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے عذاب کی وعید آئی ہے یہ واجب القتل ہے اور جس نے اس کے کفر میں شک کیا ہے وہ بھی کافر ہے۔
(۱۰)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ایک واقعہ جسے حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ نے روایت کیا ہے بھی اس کی دلیل ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔
عَنْ أَبِيْ بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِّأَبِيْ بَكْرِ الصِّدِّيْقِ فَقُلْتُ أَقْتُلُهُ؟ فَانْتَهَرَنِيْ وَقَالَ لَيْسَ هٰذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ ۔
(۱۱)
ترجمہ: حضرت ابو برزہ اسلمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو گالی دی تو میں نے کہا: اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ آپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا: یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں۔
اس روایت سے ائمہ نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو ناراض کرے خواہ وہ کسی قسم کا ہو یا آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائے یا آپ ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دینا چاہئے۔ اور یہ حکم آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی اسی طرح نافذ ہے جیسے آپ ﷺ کی زندگی میں تھا بلکہ آپ ﷺ کی تحریم و تکریم وفات کے بعد علی وجہ الکمال مطلوب ہے۔
قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب الشفاء میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں استفسار کیا جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی تھی اور ذکر کیا کہ فقہائے عراق نے تو کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اس پر امام مالک رحمہ اللہ نے غضبناک ہو کر فرمایا:
اے امیر المؤمنین! کسی نبی کو گالی دینے کے بعد وہ اُمت میں باقی نہیں رہتا اُسے قتل کر دینا چاہئے اور جو اصحابِ نبی ﷺ کو گالی دے اُسے کوڑے مارنے چاہئیں۔
احادیث میں توہین رسالت کی سزا:
سیدنا حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے بالاسناد مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
”جس نے کسی نبی کو گالی دی تو اسے قتل کر دو اور جس نے میرے کسی صحابی کو گالی دی تو اسے دُرے مارو“۔ (۱۲)
اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کی نسبت آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتا ہے اور اس کی طرف اس شخص کو بھیجا جس نے ایک چال کر کے بغیر دعوت اسلام قتل کر دیا بخلاف اس کے سوا دوسرے مشرکین کے (کہ انہیں بغیر دعوت اسلام قتل کا حکم نہ فرمایا)۔ (۱۳)
اس کی علت یہ بتائی کہ وہ آپ کو ایذا دیتا تھا تو یہ خصوصیت کے ساتھ اس پر دلالت کر رہی ہے کہ اس کا قتل شرک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اذیت رسانی کی بنا پر تھا۔
یہی حال ابو رافع کے قتل کا ہے۔ براء ؓ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتا تھا اور دشمنوں کو آپ ﷺ کے خلاف اُبھارتا تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فتح مکہ کے روز ابن خطل اور اس کی ان دونوں باندیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو آپ ﷺ کو گانے میں گالیاں دیا کرتی تھیں۔ (۱۴)
دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتا تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کون وہ شخص ہے جو میرے دشمن کو مجھ سے کفایت کرے۔ تب خالد ؓ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں بھیجا اور اُنہوں نے اسے قتل کر دیا۔ (۱۵)
اسی طرح آپ ﷺ نے اس گروہ کفار کو قتل کرنے کا حکم فرمایا جو آپ ﷺ کو ایذا دیتا اور گالی دیتا تھا جیسے نضر بن حارث، عقبہ بن ابی محیط وغیرہ اور فتح مکہ سے پہلے اور بعد ایک گروہ کفار کے قتل کرنے کا وعدہ صحابہ سے لیا۔ چنانچہ وہ سب قتل کر دیئے گئے بجز اس کے جو اس پر گرفت سے پہلے اسلام میں سبقت کر گیا اور بزار رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ بن ابی محیط نے پکارا: اے گروہ قریش! کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے درمیان گھر کر قتل ہورہا ہوں؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اپنے اس کفر وافتراء کی وجہ سے جو اللہ کے رسول ﷺ پر باندھتا تھا۔ (۱۶)
عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو میرے دشمن کو مجھ سے کفایت کرے۔ اس پر حضرت زبیر ؓ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں۔ چنانچہ وہ اس سے لڑے اور اُنہوں نے اس کو قتل کر دیا۔
ایک روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کو گالی دیتی تھی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو میرے دشمن کو مجھ سے کفایت کرے تو اس کی طرف سیدنا خالد بن ولید ؓ نکلے اور اسے قتل کر دیا۔ (۱۷)
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت زبیر ؓ کو اس کی طرف بھیجا تا کہ یہ دونوں اس کو قتل کر دیں۔ (۱۸)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
مہاجر بن ابی امیہ ؓ کو جو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی جانب سے یمن کے والی تھے خبر پہنچی کہ اس جگہ مرتدین میں سے ایک عورت ہے جو گانے میں نبی کریم ﷺ کو گالی دیتی ہے۔ تو اُنہوں نے اس کے ہاتھ کاٹ ڈالے اور اُس کے اگلے دو دانت اکھیڑ ڈالے۔ جب اس کی خبر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو پہنچی تو فرمایا: کاش اگر تم ایسا نہ کرتے تو یقیناً میں تم کو اس عورت کے قتل کرنے کا حکم دیتا۔ اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کی حد دیگر حدود کے مشابہ نہیں ہے۔
ابو داؤد اور نسائی میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قصہ نقل ہوا ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک نابینا شخص تھا جس کی لونڈی تھی اور وہ اس کی اُم ولد تھی۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی۔ یہ نابینا اس کو روکتا تھا اور جھڑکتا تھا لیکن وہ باز نہ آئی۔ ایک رات جب وہ آپ ﷺ کو گالی دینے لگی تو اس نابینا نے اپنی ”مغول“ (تیز دھار والی چھوٹی تلوار نما آلہ جسے لوگ چھپا کر اپنے پاس رکھتے ہیں) کو اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور اس کے اُوپر بیٹھ گیا حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا۔ صبح جب آپ ﷺ کو اس عورت کے قتل کا پتہ چلا تو لوگوں کو جمع کیا اور قاتل کو ڈھونڈنے کا فرمایا تو اس دوران وہ نابینا بے قراری کی کیفیت میں اُٹھ کر آنے لگا اور آ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ یہ عورت آپ ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی اور آپ ﷺ کی بے عزتی کرتی تھی۔ میں نے اس کو بار بار ٹوکا لیکن یہ باز نہ آتی تھی اور میرے اس سے ہیروں جیسے دو بچے بھی ہیں اور یہ مجھ پر بڑی مہربان بھی تھی۔ گذشتہ رات جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو میں نے اپنے ”مغول“ سے اس کے پیٹ کو پھاڑ کر اُسے قتل کر ڈالا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: خبردار تم سب گواہ رہو کہ اس عورت کا خون ضائع ہے۔ (۱۹)
قرآن کریم کی آیت ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم“ کے ذیل میں امام سیوطیؒ اور امام ابن کثیرؒ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی اپنا معاملہ طے کرانے آئے۔ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ یہ فیصلہ جس کے خلاف ہوا تو اس نے درخواست کی کہ ہمیں فیصلہ کرانے کے لئے عمر ؓ کے پاس بھیج دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ٹھیک ہے عمر ؓ کے پاس چلو۔ یہ دونوں جب حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے تو ان دونوں میں سے جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا اے ابن خطاب! رسول اللہ ﷺ نے اس معاملے کا فیصلہ میرے حق میں کر دیا ہے اور میرے اس مخالف نے پھر کہا کہ ہمیں عمر ؓ کے پاس بھیج دیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آپ کے پاس بھیج دیا ہے اس پر عمر ؓ نے فریق مخالف سے پوچھا ”کیا واقعی ایسا ہے؟“ اس شخص نے کہا ہاں! عمر ؓ نے کہا: ٹھہرو میں ابھی تمہارا فیصلہ کرتا ہوں پھر گھر سے اپنی تلوار لے کر آئے اور اس شخص کو قتل کر دیا جس نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے بعد عمر ؓ کے پاس فیصلے کے لئے آنے کا کہا تھا۔ دوسرا شخص یہ سمجھنے لگا کہ مجھے بھی قتل کرے گا، دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور کہا اے اللہ کے رسول! عمر نے تو میرے فریق مخالف کو قتل کر دیا ہے اور اگر میں بھاگنے میں کامیاب نہ ہوتا تو مجھے بھی قتل کر دیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
”میرا یہ اندازہ نہیں تھا کہ عمر کسی مؤمن کی قتل کی جرأت کریں گے۔“
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ (النساء 65)
”نہیں، اے محمد ﷺ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔“
حواشی:
- (۱) صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب وجوب محبۃ رسول اللہ ـــــ حدیث رقم ۱۶۹
- (۲) صحیح بخاری ، کتاب الایمان والنذور ، باب كيف كانت يمين النبى ﷺ حدیث رقم ٦٦٣٢
- (۳) الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ ، قاضی عیاض مالکی ، ناشر دار الفیحاء ،عمان، اشاعت دوم ١٤٠٧ھ،
جلد دوم ص ٦٣ (تفسیر القرطبی ج ٤ ص ٦٠)
- (٤) تفہیم القرآن ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ، جلد ٥ ، ص ٧١ ، ٧٢
- (٥) ایضاً، جلد ٥ ، ص ٣٧
- (٦) الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ ، جلد دوم ص٤٧٣
- (٧) صحیح بخاری کتاب الخمس ج ٦٦/٤ - صحیح مسلم کتاب الادب ١٦٨٣-١٦٨٤
- (٨) الشفاء بتعريف حقوق المصطفیٰ ، جلد دوم ص٤٧٣
- (٩) الصارم المسلول لابن تيمية ص ٢٨
- (١٠) الصارم المسلول ص ٢٤
- (١١) سنن النسائی - باب الحكم فيمن سب النبى ﷺ
- (١٢) مجمع الزوائد ٦ / ٢٦٠
- (١٣) صحیح بخاری کتاب المغازی ٥ / ٨٦؛ صحیح مسلم کتاب الجھاد ٣ / ١٤٢٥
- (١٤) دلائل النبوۃ ٤ / ٦٢؛ صحیح بخاری ٣ / ١٥؛ صحیح مسلم کتاب الحج ٢ / ٩٩٠
- (١٥) دلائل النبوۃ للبیہقی ٤ / ٥٩
- (١٦) مجمع الزوائد ٦ / ٨٩
- (١٧) مصنف عبدالرزاق ٥ / ٣٠٧
- (١٨) دلائل النبوۃ للبیہقی ٦ / ٢٨٤
- (١٩) ابوداؤد ٤٣٦١ ؛سنن النسائی ج ٧ ص ١٠٧۔١٠٨
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
مسئلہ اہانت قرآن و منصب رسالت
پس پردہ محرکات کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمد شاہد رفیع٭
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت انسان کی تخلیق کے وقت ہی سے اس کی ہدایت کا انتظام بھی کیا۔ بالکل آغاز ہی سے ہدایت ربانی کا اہتمام اس لیے ضروری تھا کہ انسان میں فجور اور تقویٰ دونوں داعیے ودیعت کیے گئے تھے:
فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰهَا (الشمس ۸:۹۱)
”پھر اس (نفس) کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی۔“
ان دونوں رجحانات کی موجودگی رب العالمین کے اس منشاء کی غماز تھی کہ انسان کو مجبور محض بنا کر نہیں بلکہ کچھ اختیارات کے ساتھ تخلیق کیا گیا ہے۔ فجور اور تقویٰ کے جذبات اور تفویض اختیارات ہی کی بناء پر فرشتوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ انسان دنیا میں فساد برپا کرے گا:
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيْفَةً قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ (البقرة ۳۰:۲)
”پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خون ریزیاں کرے گا؟“
حضرت آدمؑ کو پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ فلاں درخت کے قریب نہ جانا:
وَ قُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ (البقرة ۳۵:۲)
”پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے۔“
٭ اسسٹنٹ پروفیسر، دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
سه ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ سمجھنا کہ حضرت آدم وحوا کو آزمانے (Test) کی غرض سے یہ پابندی عائد کی گئی تھی، زیادہ درست معلوم نہیں ہوتا (۱) کیوں کہ کوئی چیز ایجاد کر کے اس کی جانچ پرکھ کرنا ناقص اور محدود علم والے انسان کے لیے تو ضروری ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس احتیاج سے پاک ہیں۔ حضرت آدم وحوا کو دی جانے والی اس ہدایت کا منشاء یہ ہو سکتا ہے کہ انسان کی یہ تربیت کر دی جائے کہ کچھ چیزیں جائز ہیں کچھ ناجائز، بہت سے کام اچھے ہیں بہت سے برے، بعض امور حلال ہیں اور بعض حرام۔ اور یہ سمجھا دیا جائے کہ جائز، اچھے اور حلال کام پسندیدہ اور باعث اجر و ثواب ہیں جبکہ ناجائز، برے اور حرام کام ناپسندیدہ ہیں اور ان پر گرفت ومؤاخذہ ہو سکتا ہے۔ (۲)
انسان کو دنیا میں بھیجتے ہوئے اللہ رب العالمین نے واضح ہدایت فرمائی کہ:
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا فَاِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (البقرة ۳۸:۲)
”ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہاری طرف پہنچے، تو جولوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔“
”میری طرف سے جو ہدایت تم تک پہنچے“ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے گویا ترسیلِ ہدایت کا کام اپنے ذمے لیا اور انسانوں تک شریعت و ہدایت پہنچانے کے لیے انبیاء ورسل کا سلسلہ شروع کیا جن پر آسمانی کتب اور صحائف نازل کیے جاتے رہے۔ یہ انبیاء اور رسول ہر دور، ہر آباد علاقے اور ہر گروہ انسانی میں آتے رہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُوْلٌ (یونس ۴۷:۱۰)
”ہر امت کے لیے ایک رسول ہے۔“
وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد ۷:۱۳)
”اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے۔“
سلسلۂ انبیاء کی آخری کڑی کے طور پر نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب ۴۰:۳۳)
”(لوگو) محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“
اور آخری کتابِ ہدایت کے طور پر قرآن مجید نازل کیا گیا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ (البقرة ۱۸۵:۲)
”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔“
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن کے وقت رب ارحم الراحمین نے پیغام ہدایت پہنچانے کی اپنی ذمہ داری کا پھر اعادہ فرمایا اور کہا:
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی (اللیل ۹۲:۱۲)
”بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے۔“
نبی مکرم کی ذات گرامی (اور آپ کی سنت مطہرہ) اور قرآن مجید فرقان حمید وہ دو بنیادی اثاثے ہیں جن کی بدولت فرد، گروہ اور امت صراط مستقیم پر قائم رہ سکتی ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله و سنة نبيه (۳)
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم نے ان کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا تو تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔
وہ ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی (میری) سنت۔
لیکن اسی صراط مستقیم سے بھٹکانے کے لیے تو شیطان ازل سے سرگرداں ہے:
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (ص ۳۸:۸۲۔۸۳)
”اس (شیطان) نے کہا تیری عزت کی قسم، میں ان سب کو بہکا کر رہوں گا، بجز تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے۔“
توہین قرآن کی کوشش ہو یا اہانت رسول کی جسارت، اس کے پیچھے لوگوں کو راہ راست سے ہٹانے کا جذبہ ہی کارفرما ہے۔ اسی لیے اللہ رب العالمین نے ان دونوں کو یکساں قرار دیا ہے:
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (الانعام ۶:۳۳)
”اے نبی ﷺ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔“
حقیقت یہی ہے کہ قرآن یا رسول کی بے حرمتی دراصل اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کے مترادف ہے کیوں کہ قرآن مجید اللہ کا کلام اور نبی کریم ﷺ اس کے پیغام بر ہیں اور کسی کی بات کا مذاق اڑانا یا اس کے بھیجے ہوئے سفیر کی ہتک کرنا دراصل خود اس شخصیت کی تحقیر کرنا ہے۔
لوگوں کو ہدایت و فلاح کی راہ دکھانا اور انہیں صحیح راستے پر چلانا تاکہ اللہ کی مخلوق حقیقی مستقر، جنت کی حق دار بن سکے اور دائمی آلام و اذیت کے مقام، جہنم سے بچ سکے، ایسا عظیم الشان کام ہے جس کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے گویا اسے خدائی کام قرار
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۶۲ تحفظ ناموس رسالت نمبر
دیا ہے۔ اسی لیے انبیاء ہی نہیں وہ لوگ بھی جو بطور داعی دین اس فریضے کی ادائیگی میں مصروف ہوں انہیں اپنا محبوب حقیقی نے اپنا دوست ہی نہیں مددگار قرار دیا اور اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا:
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُوْنُوْا أَنْصَارَ اللّٰهِ
(الصف ۶۱:۱۴)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو۔“
جب ہر داعی دین کو اللہ نے اپنے مددگار جیسے بلند مرتبے پر فائز قرار دیا ہے تو انبیاء و رسل، جن کی عظمت و رفعت کا عام اہل ایمان کے ساتھ کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا، کس قدر عظیم ہستیاں ہوں گی؟ اور جو ہستی گروہ انبیاء و رسل کی سردار و خاتم ہو اس کے بلندی مرتبہ و درجات کے کیا کہنے۔ اس کی شان اور اس کا ذکر بلند ہونے کا اعلان تو خود اللہ رب العالمین نے کیا:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(انشراح ۹۴:۴)
”اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا۔“
اس ذات والا صفات کی رفعت شان اور ذکر کی بلندی کا ہر فرد بشر گواہ ہے خواہ وہ آپ کا پیروکار ہو یا نہ ہو، کسی مسلمان معاشرے کا حصہ ہو یا غیر مسلم خطے کا باشندہ۔ کسی دن کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا کہ دنیا میں کسی نہ کسی جگہ کسی نہ کسی وقت اذان بلند نہ ہو رہی ہو اور مؤذن پکار پکار کر یہ صدا بلند نہ کر رہا ہو:
اشهد ان محمد رسول اللّٰه
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔
قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان جاری کر دیا کہ:
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا
(الفتح ۴۸:۸۔۹)
”اے نبیؐ، ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تا کہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا (یعنی رسول کا) ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔“
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ
(الحجرات ۴۹:۱)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو۔“
جس ہستی کی شان جتنی بلند ہو، اس کے اوصاف جس قدر پسندیدہ ہوں، اس کی مقبولیت جتنی زیادہ ہو، اس کے فرامین جتنے شان دار ہوں، اس کے کارنامے جتنے نمایاں ہوں اور اس کی تعلیمات جتنی مبنی بر حقیقت ہوں اس کے مخالفین کا طیش، غیض، حسد، کینہ، دشنام طرازیاں اور دسیسہ کاریاں اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اور اگر معاملہ اشرف و اعلیٰ ترین ہستی کا ہو تو پھر تو کیفیت:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۶۳ تحفظ ناموس رسالت نمبر
مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ (آل عمران ۱۱۹:۳)
”اپنے غصے میں آپ جل مرو۔“
والی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کے اعلان نبوت کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد (۴) اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”معوذتین“ (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) سکھائی تاکہ آپ ہر قسم کے شر سے پناہ کی دعا کرتے رہیں۔ اس میں خصوصیت کے ساتھ حاسدین کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے:
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ــــــــ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (الفلق ۱۱۳: ۵)
”کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔۔۔۔۔ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔“
بعض مفسرین انہیں مدنی سورتیں بھی کہتے ہیں (۵) لیکن اس کا مفہوم یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ مدنی دور میں جب منافقین اور یہود کی سرگرمیاں اور ریشہ دوانیاں عروج پر تھیں، یہ سورتیں دوبارہ نازل فرمائی گئیں۔ (۶)
مضحکہ اڑانا، شکلیں بگاڑنا، جملے کسنا، الفاظ بدلنا، مفہوم کے بارے میں مغالطہ پیدا کرنا اور الزام تراشیاں کرنا اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایسا کرنے والے کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اسی لیے حسد کی آگ میں جل کر، بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے یہ ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ کیوں کہ جس کے پاس دلیل ہوتی ہے وہ گالی نہیں دیا کرتا۔
مخالف کو زیر کرنے کے لیے اس کے مضبوط ترین قلعے پر قبضہ کرنا یا اسے تباہ کرنا ہمیشہ سے جنگی اصول رہا ہے اہل اسلام کی محبتوں اور عقیدتوں کا اہم ترین مرکز اور دین کی بنیاد قرآن وسنت ہے۔ قرآن آخری کتاب ہدایت اور ذات رسول گرامی ﷺ شریعت کی آخری اور حتمی تعبیر ہے۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کی شخصی محبت وعقیدت ہی نہیں نظریاتی وابستگی اور تعلق بھی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جب تک دینی و قرآنی تعلیمات سے نبی محترمؐ کی ذات، آپؐ کے اسوۂ حسنہ اور آپؐ کی تعلیمات کو علیحدہ نہ کر دیا جائے، بحیثیت مجموعی دین کے نقشے اور اس کی روح کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ان اسباب کی بناء پر مختلف مواقع پر حدیث سے انکار کی تحریکیں چلائی جاتی رہیں۔ لیکن اللہ رب العالمین کا اس فرمان کو قرآن میں درج کر دینا کہ:
وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة ۵: ۶۷)
”اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔“
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں کے شر سے آپ کی حفاظت کا وعدہ صرف آپ کی دنیاوی زندگی ہی میں نہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے لہٰذا جس جس دور میں جو جو فتنے سر اٹھاتے رہے اللہ ملک الملک نے ان کے سدباب کے اسباب بھی پیدا فرمائے اور فتنہ انکار حدیث کے مواقع پر حجیت حدیث کے ایسے علم بردار پیدا فرمائے جن کے آگے اس فتنے کو پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔
توہین رسالت کی موجودہ کارروائیاں بھی ذات رسالت مآب ﷺ سے امت کا رشتہ کمزور کرنے اور دیگر اقوام کو بدظن کرنے کی
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔ "چوری اور اوپر سے سینہ زوری" کے مصداق توہین قرآن اور توہین رسالت کی مذموم حرکات کی جاتی ہیں اور اگر اس پر کوئی آواز بلند کرے، احتجاج کرے یا کسی ردعمل کا اظہار کرے تو اسے شدت پسندی، انتہا پسندی، مذہبی جنونیت اور نہ جانے کیا کیا نام دے کر واویلا کیا جاتا ہے کہ ہمارے آزادی اظہار رائے کے حق کو پامال کیا جا رہا ہے یعنی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ گویا کسی کی توہین کرنا، کسی کو گالی دینا بھی کوئی ایسا حق ہے جس سے منع نہیں کیا جا سکتا۔ دشنام طرازی بھی اس ہستی اور اس کتاب ہدایت پر جس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ جس نے تمام انسانوں کی بھلائی کی تعلیم دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توہین کرنے، خاکے بنانے، بے سروپا الزام لگانے کا، جو کہ ظاہر ہے کسی کا بنیادی حق نہیں، مقصد کیا ہے؟
مقاصد توہین قرآن ومنصب رسالت کا تجزیہ کرنا ہو تو اسے دو مختلف سطحوں پر دیکھنا ہوگا۔ ایک عالمی یا غیر مسلم ممالک میں اور دوسرے اپنے ملک پاکستان کے اندر۔ تجزیے سے پہلے ایک بات واضح کر لینی ضروری ہے کہ قرآن کریم ہو یا نبی مکرم کی ذات والا صفات، ان دونوں کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْن
(الحجر ۱۵: ۹)
”اس ذکر (قرآن) کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔“
اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَهْزِئِیْنَ
(الحجر ۱۵: ۹۵)
”تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں۔“
لہٰذا یہ کہنا یا سمجھنا کہ شیاطین انس میں سے کسی یا کچھ لوگوں کی کسی حرکت سے توہین قرآن یا توہین رسالت ہو گئی، غالباً درست نہ ہوگا۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلاں نے توہین کرنے کی جسارت کی۔
غیر مسلم ممالک میں کی جانے والی ان گستاخیوں کی، جنہیں ذرائع ابلاغ عامہ کی وساطت سے دنیا کے بڑے حصوں تک پہنچایا جاتا ہے، چند وجوہات واضح طور پر نظر آتی ہیں۔
- ۱۔ طاقت کی فطرت میں خواہش تسلط موجود ہوتی ہے۔ جو قوم علمی طور پر مضبوط ہو وہ اقتصادی طاقت حاصل کر لیتی ہے، جس کے
پاس اقتصادی برتری ہو وہ سیاسی لحاظ سے بالا دست ہو جاتی ہے، جسے سیاسی قوت حاصل ہو وہ تہذیبی غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس وقت مغرب اور ان کا سرخیل امریکہ علمی، اقتصادی، سیاسی اور تہذیبی قیادت کے منصب پر فائز ہیں اسی لیے عالم گیریت کا مطلب مغربیت سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے۔
تہذیبی برتری کے اس معرکے میں متصادم عنصر صرف مسلمانوں کا ہے۔ واضح رہے کہ تہذیب کا اظہار صرف لباس سے نہیں ہوتا جیسا کہ ہمارے ہاں بالعموم سمجھا جاتا ہے، دراصل یہ ایک طرز فکر کا نام ہے۔ یوگنڈا اور لیسوتھو کے مقامی بلکہ مسیحی افراد کا لباس بھی مغربی پیرہن سے انتہائی مختلف ہونے کے باوجود اس سے ڈنمارک کی تہذیب کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن جینز اور بش شرٹ میں ملبوس خاتون کے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
سر پر اسکارف لے لینے سے جرمنی کی تہذیب و معاشرت کی جڑیں تک ہل جاتی ہیں۔
آج کی مسلمان حکومتوں اور حکمرانوں میں وہ دم خم کہاں کہ ان کا کسی کے ساتھ علمی، اقتصادی، سیاسی یا تہذیبی تصادم ہو، ہاں عوامی سطح پر مسلمان اب تک بالعموم دوسروں کے ایسے کسی غلبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ عدم آمادگی بھی غالب قوتوں کو گوارا نہیں، اس لیے وہ اسے بھی تصادم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ہمیں اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔ مخالف کو مستقل اذیت میں رکھنا بھی دشمن کی نفسیات میں شامل ہوتی ہے۔ توہین قرآن اور توہین رسالت کی کوششوں کا ایک محرک یہ بھی ہے۔
- ۲۔ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس اور قرآنِ مجید کی محیر العقول اثر انگیزی دیکھ کر، بالخصوص یہ معلوم ہونے پر کہ کسی نے
یا کچھ افراد نے اس سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے، طیش کے عالم میں اپنے دل کا غبار نکالنے کے لیے، اسلام مخالف شدت پسند اس قسم کا اقدام شروع کر دیتے ہیں۔ اور یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ لوگ اشتعال میں آکر محض جذبۂ انتقام کو تسکین دینے کے لیے بہت سے نازیبا کام کر گزرتے ہیں۔
- ۳۔ نبی محترم ﷺ کی شخصیت اور قرآن مجید کے ساتھ مسلمانوں کو جو والہانہ عشق اور وارفتگی ہے، یہ دین کے ساتھ ان کے تعلق کو
جوڑے رکھنے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ کم زور سے کم زور اور بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی ان مقدسات کی بے حرمتی کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن توہین کی یہ کوششیں تھوڑے تھوڑے وقفے سے بڑے تواتر سے جاری ہیں۔ جس کا ایک مقصد یہ نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ کو مسلسل کچوکے لگا لگا کر اس کی مجموعی دینی حس کو سُن کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایک دفعہ ایسی حرکت ہوگی تو طوفان اٹھ کھڑا ہوگا، ابھی اس کی گرد بیٹھ ہی رہی ہوگی کہ دوسری حرکت کر دی جائے، پھر ہنگامہ ہوگا، ابھی وہ فرو نہ ہوا ہو تو ایک اور کارروائی کر دی جائے، پھر شور مچے گا، وہ آواز دبتے ہی پھر ایک جسارت کی جائے، پھر کچھ لوگ چیخیں گے ان کی سنی ان سنی کرتے ہوئے پھر یہی کام کیا جائے۔ جب زیادہ فساد ہو تو وقفہ کچھ بڑھا دیا جائے لیکن کام جاری رکھا جائے۔ آخر قیادت سے محروم، وسائل سے تہی، علم میں کورے عوام کب تک چلاتے رہیں گے؟
اپنے ملک کے اندر کے اس طرح کے واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی کڑیاں انہی مذموم مقاصد سے ملتی ہیں۔ کیوں کہ خواہ کسی گم نام قصبے کے کسی معمولی سے فرد ہی نے ایسی کوئی حرکت کی ہو اس کی حمایت و معاونت کے لیے دنیا کے بڑے بڑے افراد اور ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بعض اوقات کسی اہم مسئلے کو دبانے کے لیے بھی کوئی نیا جذباتی مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ خواہ وہ حکومت وقت کی انتظامی نا اہلی کا کوئی بڑا واقعہ سامنے آگیا ہو، کرپشن کا کوئی معاملہ ذرائع ابلاغ عامہ نے اٹھایا ہوا ہو یا کسی آئینی بحران کا سامنا ہو۔ ایسی صورت حال میں محض موضوع سخن تبدیل کرنے کے لیے بھی کوئی واقعہ رونما کرایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں قانون توہین رسالت پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کا جائزہ لینے سے پہلے خود اس قانون کو جان لینا
سہ ماہی ’مجلہ علوم و تحقیق‘ اسلام آباد ۶۶ تحفظ ناموس رسالت نمبر
بہتر ہوگا کہ قانون ہے کیا اور اس کی تاریخ کیا ہے؟ ۱۸۵۷ء کی جدوجہد آزادی کو کچل دینے کے بعد برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ومستحکم ہوگیا تھا۔ ۱۸۶۰ء میں انڈین پینل کوڈ نافذ کیا گیا۔ برطانیہ میں اس وقت بھی اور آج بھی توہین مسیح کا قانون (Blasphemy Act) ہر فرد پر لاگو قانون (Common Law) کے طور پر موجود تھا اور ہے۔ ۱۸۹۸ء تعزیرات ہند میں دفعہ ۱۵۳۔اے شامل کی گئی جس کے تحت عوام کے مختلف گروہوں میں نفرت یا دشمنی پیدا کرنے یا انہیں پروان چڑھانے کی کوشش کرنے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا (۷)۔ گستاخانِ رسول کے خلاف مقدمات اسی دفعہ کے تحت درج ہوتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۱ء میں کچھ ترامیم ہوئیں لیکن یہ تکنیکی ضرورت کے تحت لفظی ردو بدل تھا۔ ۱۹۸۰ء میں ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے سے دفعہ ۲۹۸۔اے کا اضافہ کیا گیا۔ یہ دفعہ درج ذیل ہے:
جو فرد تحریری ، تقریری، علانیہ، اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلا واسطہ امہات المومنین، یا کسی اہل بیت یا خلفاء راشدین میں سے کسی خلیفہ یا صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی توہین کرے، طعنہ زنی کرے یا بہتان لگائے اسے تین سال تک کی سزائے قید یا کوڑے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دفعہ میں نبی کریم ﷺ کے متعلقین کی بے حرمتی کی کوشش کو تو قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا لیکن خود نبی محترم ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کی سزا کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ آپا نثار فاطمہ نے جید علماء اور تجربہ کار وکلاء کی مدد سے تیار کردہ توہین رسالت بل اسمبلی میں پیش کیا جس میں اس کے مجرم کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی تھی۔ اس پر بحث وتمحیص کے بعد اسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی کی صورت میں نافذ کیا گیا۔ اس میں تجویز کے برخلاف سزائے موت کے ساتھ ساتھ عمر قید کی سزا کا دروازہ بھی کھول دیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۹۰ء میں دفعہ ۲۹۵۔سی میں ترمیم کر کے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے۔ (۸)
اس وقت پاکستان میں رائج قانون توہین رسالت ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء کے وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ بالا فیصلے کے مطابق ہے۔ اعلیٰ عدالت کا یہ فیصلہ کھلی عدالتی سماعت میں جید علماء وفقہاء اور ماہرین قانون کی آراء کی روشنی میں سنایا۔ جن فاضل جج صاحبان نے اس کی سماعت کی اور فیصلہ دیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
- ۱۔ چیف جسٹس جناب گل محمد خان (سابق جج لاہور ہائی کورٹ)
- ۲۔ جسٹس جناب عبدالکریم خان کندی (سابق جج پشاور ہائی کورٹ)
- ۳۔ جسٹس جناب عبدالرزاق تھہیم (سابق جج سندھ ہائی کورٹ)
- ۴۔ جسٹس جناب عبادت یار خان (سابق جج سندھ ہائی کورٹ)
- ۵۔ جسٹس جناب ڈاکٹر فدا محمد خان (پی ایچ ڈی، اسلامی قانون) (۹)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
عدالت نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ نبی کریم ﷺ ہی نہیں تمام انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والے کی یہی سزا ہو گی۔
مذکورہ بالا قانون توہین رسالت پر ملک میں اکثر و بیشتر بہت دھول اڑائی جاتی ہے۔ اس قانون پر وارد تمام اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا خلاصہ غالباً کچھ یوں ہوگا:
- ۱۔ توہین رسالت کا عمل تو درست نہیں لیکن یہ قانون الہامی نہیں، انسانوں کا بنایا ہوا ہے لہٰذا اسے تبدیل ہونا چاہیے۔
- ۲۔ توہین رسالت کے مرتکب کو سزا دینے سے دنیا میں ہماری رسوائی ہو گی لہٰذا اسے ”مہذب دنیا“ کے لیے قابل قبول بنایا جانا
چاہیے۔
- ۳۔ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال سے بے گناہوں کے پھنسنے کے امکانات ہیں اس لیے اس قانون کو ختم کر دینا
چاہیے۔
- ۴۔ توہین رسالت کو جرم قرار دینے کی وجہ سے لوگ جسے مجرم سمجھتے ہیں اسے قتل کر ڈالتے ہیں لہٰذا اس کے جرم ہونے کے تصور ہی کو مٹا
دینا چاہیے۔
- ۵۔ یہ حقوق انسانی، بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کے منافی قانون ہے اس وجہ سے یہ ناقابل قبول ہے۔
- ۶۔ نبی رحمت ﷺ تو عفو و درگزر کا مجسمہ تھے۔ آپؐ نے خود ایسے لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے آپؐ کی رسالت کا انکار کیا، آپؐ پر
بے تحاشہ زیادتیاں کیں اور برا بھلا کہا تو ہمیں سزا دینے کا کیا حق پہنچتا ہے۔
آئیے ان اعتراضات کا نقطہ وار جائزہ لے کر ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
- ۱۔ یہ صحیح ہے کہ قانون انسانوں کا تیار کردہ ہے لیکن کیا کسی قانون کو محض اس بنیاد پر تبدیل کر دینا چاہیے کہ یہ انسانوں نے بنایا ہے؟
اگر یہ اصول مان لیا جائے تو دنیا بھر میں انارکی پھیل جائے گی۔ دوسرے یہ کہ اس کو موجودہ قوانین کی شکل میں تو اب لایا گیا ہے لیکن ماہرین علوم شریعت اور ماہرین قانون نے قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے تعامل کی روشنی میں بہت غور و خوض کے بعد یہ قانون تیار کیا اور منظور کیا ہے۔
- ۲۔ توہین رسالت کے مرتکب کو محض ”مہذب دنیا“ کی نظروں میں اچھا بننے کی خواہش ناتمام کی بنیاد پر ہر طرح کا کھیل کھیلنے کی
اجازت دینا، انتہائی تعجب خیز دلیل ہے۔ ایک تو یہ کہ دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کی غرض سے اپنی اقدار اور اپنے دین کو بدل ڈالنے کا خیال ”مہذب دنیا“ کو کیوں نہیں آجاتا؟ دوسرے یہ کہ وہ دنیا مہذب ہونے کا دعویٰ کس منہ سے کرتی ہے اور اسے مہذب تسلیم کرنے والے کس ذہن سے اسے مہذب مانتے ہیں جو دنیا بھر میں جہاں چاہے، جسے چاہے، جب چاہے اور جتنے عرصے کے لیے چاہے بموں، میزائیلوں، ٹینکوں، توپوں، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں، ابوغریب اور گوانتانامو کے عقوبت خانوں کی طرح کی تباہی، بربادی اور اذیت پہنچانے سے گریز نہیں کرتی۔ انسان میں اتنی تو غیرت ہونی چاہیے کہ صحیح کو صحیح اور غلط
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۶۸ تحفظ ناموس رسالت نمبر
کو غلط کہے اور اتنا بزدل نہیں ہونا چاہیے کہ قاتلوں اور دہشت گردوں کو راضی کرنے کے خیال سے اپنے ہاتھ پاؤں خود ہی توڑ کر بیٹھ جائے۔ ایسے خیال والوں کے لیے قرآن نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ:
وَلَنْ تَرْضىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ (البقرة ۲: ۱۲۰) ”یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔“
- ۳۔ قانون کے غلط استعمال سے بے گناہ کو سزا ملنے کے خدشے کے پیش نظر قانون ہی کو ختم کر دینے کی دلیل تسلیم کر لی جائے تو پھر تو
تمام قوانین ہی ختم کر دینے چاہئیں۔ حتیٰ کہ ٹریفک قوانین بھی باقی نہیں رہنے چاہئیں۔ قتل، رہزنی، دھوکہ دہی، رشوت خوری، ٹیکس چوری غرض کون سا جرم ہے جس کے حوالے سے قانون موجود نہیں ہے اور وہ جرم بھی جاری ہے اور ان قوانین کا غلط استعمال بھی جاری ہے۔ بہت سے مواقع پر بے گناہ پھنس جاتے ہیں اور مجرم بچ جاتے ہیں۔ کسی قانون کے غلط استعمال پر قانون ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو درست اور مؤثر طور پر استعمال کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جاتے ہیں۔
- ۴۔ کسی غلط حرکت کو قانوناً جرم قرار دینے کی وجہ سے لوگ خود سزا دینے کے لیے نہیں اٹھ کھڑے ہوتے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی
اصل وجہ لوگوں کا یہ احساس ہوتا ہے کہ مجرم یا تو قانون کے کٹہرے میں لایا ہی نہیں جائے گا یا پھر وہاں سے اسے قرار واقعی سزا نہیں ملے گی۔ لوگ چور ڈاکوؤں کی مار پیٹ حتیٰ کہ ان کو قتل تک اسی بناء پر کر دیتے ہیں کہ یہ قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ قانون کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے نہ کہ یہ کہ قانون ہی کو ختم کر دیا جائے۔
- ۵۔ قانون توہین رسالت کو انسانی حقوق یا اقلیتوں کے حقوق کے منافی قرار دینے سے زیادہ مضحکہ خیز بات شاید ہی کوئی اور ہو۔ کسی کی
بھی توہین کرنا، اس کا مذاق اڑانا، اس پر بے بنیاد الزام لگانا کسی کا بنیادی حق کس طرح ہو سکتا ہے؟ اگر کسی نے کسی کو کوئی نقصان پہنچایا بھی ہے تب بھی نقصان اور ظلم کے ازالے کے لیے وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ دشنام طرازی تو خود قانون کو ہاتھ میں لینے والی بات ہے۔ لیکن ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق جو توہین کا جرم کرے وہی مظلوم بن کر دہائی بھی دے گویا ”وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا“ توہین بھی اس کی جس نے اپنی زندگی میں اور آج تک بھی ہر ایک کا بھلا اور ہر ایک کی فلاح ہی چاہی۔ فداہ امی وابی۔
- ۶۔ یہ درست ہے کہ نبی کریم ﷺ رحمت مجسم اور عفو و درگزر کا پیکر تھے۔ آپؐ ظلم و زیادتی کرنے والوں کو معاف کر دیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
عن عائشة زوج النبي ﷺ : ما انتقم رسول الله ﷺ لنفسه الا ان تنتهك حرمة الله عز وجل (۱۰) ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، ہاں اگر معاملہ حدود اللہ کی پامالی کا ہو تو اور بات ہے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ٦٩ تحفظ ناموس رسالت نمبر
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رسول خدا ﷺ اور آپؐ کے اصحاب نے کئی گستاخانِ رسول کو قتل بھی کیا اور کرایا۔
- ٭ فتح مکہ کے موقع پر ابن خطل کو خانہ کعبہ کے پردے کے ساتھ چمٹے ہونے کے باوجود قتل کیا گیا۔ (۱۱)
- ٭ کعب بن اشرف کو گستاخی رسول کے جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ (۱۲)
- ٭ ایک یہودی عورت کو رسول کی شان میں گستاخی کی بناء پر ایک شخص نے قتل کر دیا۔ آپ نے اس کی قصاص یا دیت نہیں
دلوائی۔ (۱۳)
اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ گستاخِ رسول کو سزا دی جائے گی۔
اوپر بیان کردہ حدیث عائشہؓ کی روشنی میں معاف کرنے اور سزا دینے کی تمام مثالوں کا تجزیہ کیا جائے تو غالباً یہ بات سامنے آئے گی کہ آپ نے ذاتی ایذا پہنچانے والوں سے درگزر کیا بلکہ ان کے ساتھ احسان کی روش بھی اپنائی لیکن جس نے منصبِ رسالت کی توہین کی اسے ہرگز نہیں بخشا گیا۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ ذات محمد ﷺ کو تکلیف دینا اور منصبِ رسالت کو ہدف تمسخر بنانا آپ کی دنیوی زندگی میں تو دو الگ الگ باتیں ہو سکتی تھیں لیکن آپ کے اس دنیا سے پردہ فرما لینے کے بعد جو بھی آپ کی زندگی کے کسی پہلو کو ہدف طعن بناتا ہے وہ دراصل آپ کی رسالت ہی پر طعنہ زن ہوتا ہے۔ کیوں کہ اسے اب آپ سے کوئی ذاتی لاگ یا لگاؤ نہیں ہے۔
آخری بات یہ کہ ہمارے ملک کی وہ شخصیات اور این جی اوز جو اہانت رسول کے مرتکب کو بچانے کے لیے انسانی حقوق کی دہائی دیتے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں وہ نبی مکرم ﷺ کی عزت پر حملہ آور کے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھاتیں؟ کسی کی عزت کی حفاظت تو اس کا انسانی ہی نہیں، آئینی، اخلاقی اور قانونی حق ہے جس کے لیے آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ جبکہ اہانت کرنا کسی کا بھی کسی طرح کا کوئی حق نہیں بنتا۔ دوسرے یہ کہ وہ طبقہ جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کو سیکولر ثابت کر کے اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جب توہین رسالت کرنے والے راج پال کو علم دین نے قتل کیا تو علامہ اقبال نے یہ کہہ کر علم دین کو سراہا کہ "اسی گلاں کر دے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا" اور قائد اعظم نے اس کے مقدمے کی پیروی کی۔ لیکن یہ طبقہ تو گویا راج پال کی حمایت کرتا ہے اور غازی علم دین شہید کو دہشت گرد سمجھتا ہے۔
حواشی و حوالہ جات:
- ۱۔ صاحبان تفسیر ابن کثیر، تفہیم القرآن اور فی ظلال القرآن وغیرہ کا ذہن امتحان و آزمائش کی طرف گیا ہے۔
- ۲۔ صاحبان معارف القرآن و تدبر قرآن وغیرہ نے اسے تربیتی عرصہ شمار کیا ہے۔
- ۳۔ الموطأ للامام مالک ، کتاب القدر،باب نہی عن القول بالقدر، ص ۵۶۴
- ۴۔ صاحبان تفسیر عثمانی ، تفہیم القرآن اور فی ظلال القرآن وغیرہ کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مکی ہیں۔
- ۵۔ صاحبان معارف القرآن ، تدبر قرآن ، تفسیر مظہری ، جواہر القرآن اور ضیاء القرآن وغیرہ نے انہیں مدنی سورتیں کہا ہے۔
- ۶۔ ابو الکلام آزاد نے ترجمان القرآن میں انہیں مکی مدنی سورتیں قرار دیا ہے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کا بھی ایک رجحان اسی طرف ہے کہ یہ مکی اور مدنی
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
دونوں ادوار میں دو دفعہ نازل ہوئیں۔
- ۷۔ مجموعہ تعزیرات ہند، دفعہ ۱۵۳۔اے
- ۸۔ PLD-FSC-1991
- ۹۔ ان میں سے بعض بعد میں سپریم کورٹ کے بنچ بھی بنے۔
- ۱۰۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب مباعدة النبی للآثام و اختیارہ من المباح اسہلہ و انتقامہ للہ عند انتہاک حرماتہ، حدیث ۲۳۲۷
- ۱۱۔ سنن الدارمی، کتاب السیر ، باب کیف دخل النبی ﷺ مکہ و علی راسہ المغفر ،حدیث ۲۳۵۶، دار الکتاب العربی ، ۱۹۸۷ء
- ۱۲۔ صحیح البخاری، کتاب المغازی ، باب قتل کعب بن اشرف، حدیث ۳۸۱۱، اشاعت دوم، دار ابن کثیر، ۱۹۹۳ء
قال ابن سعد فی الطبقات الکبریٰ: کعب بن الاشرف کان سبب قتلہ انہ کان رجلاً شاعراً یہجو النبی ﷺ واصحابہ و یحرض علیہ ویؤذیہم
- ۱۳۔ سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ حدیث ۴۳۶۱، دار الفکر بیروت، ۱۹۹۵ء
--------------------------------------------------
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۷۱ تحفظ ناموس رسالت نمبر
توہین رسالت: عدالتی نظائر کی روشنی میں
ڈاکٹر محمد مطیع الرحمن*
اسلام میں عزت و احترام کے لحاظ سے تمام انبیاء کرام برابر ہیں ان میں سے کسی ایک کی توہین کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین کی گئی ہو۔ انبیائے کرام اور مقدس ہستیوں کی توہین کا قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ ہر مذہب والوں نے اپنے پیشواؤں کی توہین پر سزائیں دی ہیں۔ موسوی قانون کے تحت قبل مسیح کے انبیاء کی اہانت اور توراۃ کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر کی گئی تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین نے جب مسیحیت قبول کی تو اس نے قانون موسوی کو منسوخ کر کے صرف یسوع مسیح کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا موت مقرر کی۔ روس اور سکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس قانون پر عمل جاری رہا۔ روس میں بالشیویک انقلاب کے بعد موت کی سزا اشتراکی امپریلزم کے سربراہ کی توہین پر دی جاتی تھی۔ کامن لاء کے تحت blasphemy ایک قابل تعزیر جرم ہے جس کے تحت یسوع مسیح کی توہین کرنے والے کو موت کی سزا دی جاتی تھی۔ امریکہ میں ۱۶۱۱ء میں توہین رسالت کا قانون بنا جس کے تحت نظریہ تثلیث یا حضرت عیسیٰ کی توہین کی انتہائی سزا موت مقرر کی گئی۔ (۱) اس قانون کے تحت اٹھارویں صدی میں تقریباً چھ درجن مجرموں کو سزائیں ملی ۔ انگلینڈ میں ۱۸۲۱ء سے ۱۸۳۴ء کے دوران ۷۳ مجرموں کو سزا دی گئی۔ نیو یارک کا مشہور مقدمہ پیپل بنام ریگلز میں سپریم کورٹ نے قانون توہین مسیح کو قانون کے مطابق قابل گرفت قرار دیا اور اسے امریکی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار نہیں دیا۔ (۲)
توہین رسالت کی سزا قرآن کریم ، احادیث مبارکہ اور اجماع امت کی روشنی میں قتل ہے۔ اس پر وفاقی شرعی عدالت کا تفصیلی فیصلہ بھی آچکا ہے۔ شاتم رسول کو موت کی سزا بطور حد کا قانون حجاز، شام، عراق، مصر، سوڈان، مراکش، سپین، ترکی، سمرقند، بخارا، ایران ، افغانستان میں نافذ رہا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق توہین کے زمرے میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک یا سب کے سب امور آتے ہیں:
”جو کوئی شخص دانستہ ایسا کلام یا ایسی حرکت کرے گا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے بارے میں اہانت آمیز ہو یا اہانت کی طرف مائل ہو یا سوء ادبی ظاہر کرتا ہو ، مستوجب سزائے موت ہو گا ۔ الا یہ
* ایڈوائزر وفاقی شرعی عدالت، اسلام آباد
سہ ماہی ”مجلہ علوم و تحقیق“ اسلام آباد ۷۲ تحفظ ناموس رسالت نمبر ثابت ہو کہ اس نے دانستہ ایسی حرکت نہیں کی یا ایسا کلام نہیں کیا اس کا بار ثبوت ملزم پر ہوگا۔ (۳) برصغیر پاک و ہند پر جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی تو توہین رسالت پر موت کی سزا دی جاتی رہی۔ انگریزوں کے تسلط کے دور میں بھی مسلمانوں کی کوشش رہی ہے کہ توہین رسالت پر سزا کیلئے باقاعدہ قانون ہو۔ مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پر قانون ساز اسمبلی نے ۱۹۲۷ء کو تعزیرات ہند میں توہین مذہب کرنے والوں کو سزا دینے کیلئے دفعہ ۲۹۵۔اے کا اضافہ کر کے مرتکب جرم کو دو سال تک قید کی سزا مقرر کی۔
پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کا تاریخی پس منظر:
ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس پاکستان زون نے توہین رسالت کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد کی جس میں پاکستان کے علمائے دین کے علاوہ عالم اسلام کے دو ممتاز سکالرز ڈاکٹر ربیع المدخلی اور پروفیسر سعید صالح نے بھی شرکت کی اور متفقہ فتویٰ دیا کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے شاتم رسول کیلئے سزائے موت کی سفارش کی اور آپا نثار فاطمہ ایم این اے نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵ سی کا اضافہ کیا گیا جس کے رو سے شاتم رسول کی سزا موت تجویز ہوئی وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں سزائے موت کے ساتھ ”عمر قید“ کا اضافہ کر دیا گیا اور اسی شکل میں شاتم رسول کی سزا سزائے موت یا عمر قید کیلئے ۲۹۵ سی کا اضافہ ہوا۔ محمد اسماعیل قریشی نے مذکورہ دفعہ کی شق ”عمر قید“ کو وفاقی شرعی عدالت کے سامنے خلاف اسلام ہونے کے بنیاد پر چیلنج کیا۔ جس کو عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ اہانت رسول کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن بعد میں اپیل کنندہ نے اپنی اپیل واپس لے لی اور اس طرح شاتم رسول کی سزا صرف اور صرف موت قرار پائی۔ (۴)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی اور سزا کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے خود بھی فیصلے دیئے ہیں جبکہ خلفائے راشدین اور بعد کے مسلمان خلفاء نے بھی مرتکب توہین رسالت کو قتل کی سزا دی ہے۔ مختصر الفاظ میں ان فیصلوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تفصیل کیلئے متعلقہ کتب سے رجوع کیا جائے۔
رسول کریم ﷺ کے فیصلے
- ا۔ ایک نابینا شخص نے اپنی ام ولد کو قتل کر دیا (جو دو بچوں کی ماں تھی) جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا
”الا اشهدوا أن دمها هدر“ (۵) ”گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے۔“
- ۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں رسول کریم ﷺ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپیل مسترد کرتے ہوئے
اسے اہانت رسول کے جرم میں قتل کر دیا۔ اور فرمایا: هكذا اقضى لمن لم يرض بقضاء الله و رسوله. ”جو اللہ اور اس
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہے، اس کا فیصلہ میں اسی طرح کرتا ہوں ۔“ یہ معاملہ عدالت نبوی میں پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عمر ؓ کے فیصلے کی توثیق ہوگئی (۶) اور آپ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا اور جبریل امین نے آپ ﷺ سے فرمایا ” ان عمر فرق بين الحق والباطل “ کہ حضرت عمر ؓ نے حق اور باطل میں فرق کردیا ہے، اسی دن سے اس کا نام فاروق ہو گیا۔ (۷)
- ۳۔ کعب بن اشرف ایک بااثر یہودی شاعر تھا جو رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہجو کرتا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے محمد بن مسلمہ کو
حکم دیا کہ اسے قتل کردے۔(۸)
- ۴۔ ابورافع آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا اور گالیاں دیتا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ بن عتیق ؓ کی سربراہی میں ایک جماعت
بھیجی جنہوں نے اسے قتل کردیا۔ (۹)
- ۵۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوعفک جس کی عمر ۱۲۰ سال تھی ، نے حضور ﷺ کے بارے میں دشنام طرازی
کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ”کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے“۔ اس پر جناب سالم بن عمیر ؓ نے کہا، ”میں حاضر ہوں“۔ پھر اُس نے اس گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کیا۔ (۱۰)
- ۶۔ ایک بدبخت عورت حضور ﷺ کو گالیاں دیتی رہتی تھی۔ حضور ﷺ کے حکم سے حضرت خالد بن ولید ؓ نے اسے قتل کر
دیا۔ (۱۱)
- ۷۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی، ایک آدمی نے
اس کا گلا گھونٹ دیا حتیٰ کہ وہ مرگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون ہدر (ضائع) قرار دے دیا۔ (۱۲)
- ۸۔ حضرت علی ؓ نے آپ ﷺ کے حکم پر حویرث بن نقیض کو توہین رسالت کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (۱۳)
- ۹۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی تکذیب کی۔ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ اور حضرت زبیر ؓ
سے فرمایا : ”جاؤ اور اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو“۔ (۱۴)
- ۱۰۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے حضور کی ہجو کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، ”کون ہے
جو میری خاطر اس کو ٹھکانے لگائے“۔ اسی قبیلہ کے ایک شخص نے آپ ﷺ کے حکم پر اس عورت کو قتل کر دیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ”اس کا خون مباح ہے“۔ (۱۵)
- ۱۱۔ ابن قانع سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا ”یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک ) میں
نے اپنے والد کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا ، اس لیے میں نے اُسے قتل کر دیا“۔ آپ ﷺ نے اس سے باز پرس نہیں فرمائی۔ (۱۶)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۷۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۱۲۔ عبداللہ بن خطل نے مرتد ہونے کے بعد دو لڑکیوں فرطنی اور قرینہ یا ارنب کو ہجویہ گانوں کی تربیت دی۔ آپ ﷺ کے حکم پر اس
کو صحن کعبہ میں قتل کر دیا گیا۔ (۱۷)
- ۱۳۔ مقیاس مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف تند و تیز طعن و تشنیع کی مہم شروع کر دی
آپ ﷺ کے حکم پر نمیلہ بن عبداللہ نے اسے قتل کر دیا۔ (۱۸)
- ۱۴۔ نضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی معیط کو رسول کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر سے واپسی پر مقام الصفراء
پر قتل کیا۔ عقبہ بن ابی معیط نے اپنے قتل کی وجہ دریافت کی تو اسے رسول ﷺ نے فرمایا: بکفرک وفجورک وعتوک علی اللہ ورسولہ (۱۹)
- ۱۵۔ عصمہ بن مروان نے اپنے شعر و شاعری کے ذریعے آپ ﷺ کی تضحیک اور بے حرمتی کی آپ نے جب اس کی شاعری سنی تو
آپ ﷺ کے حکم پر اس کے اپنے قبیلے کے آدمی عمیر بن عدی خطمی نے قتل کر دیا۔ (۲۰)
- ۱۶۔ عمیر ابن اُمیہ نے اپنی بہن کو رسول کریم ﷺ کی اہانت کے جرم میں اپنی تلوار سے ہلاک کر دیا۔ آپ ﷺ نے اُس کی موت کو
رائیگاں قرار دیا۔ (۲۱)
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور کے فیصلے
- ۱۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قاضی مہاجر بن اُمیہ گورنر یمامہ نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی مرتکب دو گانے والی عورتوں
کے ہاتھ کاٹ دیئے اور ان کے دانت توڑ دیئے گئے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ان کو یہ سزا نہ دی جا چکی ہوتی تو میں ان کو سزائے موت دیتا۔ (۲۲)
خلیفہ دوم ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے فیصلے
- ۱۔ ایک راہب نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر کیا۔ (۲۳)
- ۲۔ کوفہ کے چیف جسٹس عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عبداللہ ابن النواحہ کو توہین رسالت پر موت کی سزا دی تھی۔
- ۳۔ مجاہد نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو رسول کریم ﷺ کو گالی دیتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل
کر دیا۔ (۲۴)
اموی اور عباسی دور میں توہین رسالت پر سزائیں
- ۱۔ حاکم عدن ایوب بن یحییٰ کے سامنے ایک نصرانی لایا گیا جس نے توہین رسالت کی تھی، آپ نے عبدالرحمن صنعانی کے مشورہ
سے اسے قتل کی سزا دی جس کو خلیفہ عبدالملک نے کنفرم کیا۔ (۲۵)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۷۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۔ قیروان کے فقہاء کے فتویٰ پر ابراہیم فزاری کو توہین رسالت کے جرم میں قاضی یحییٰ بن عمر نے پھانسی کی سزا دی۔
- ۳۔ حسن بن زید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (۲۶) کیونکہ ازواج مطہرات کو گالی دینا آپ کی
توہین کے مترادف ہے۔
- ۴۔ مامون نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گالی دینے والے کو قتل کر دیا تھا۔ (۲۷)
- ۵۔ محمد بن زید نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دینے والے ایک عراقی شخص کو قتل کر دیا تھا۔ (۲۸)
سپین میں عبدالرحمن الاوسط کے زمانے میں ایک متعصب عیسائی راہب یولوجیس نے ۸۵۰ء میں تحریک شاتمان رسول شروع کی۔ یہ تحریک ۸۶۰ء میں محمد بن عبدالرحمن کی خلافت میں ختم ہوئی۔ عبدالرحمن الاوسط اور محمد بن عبدالرحمن نے یولوجیس، فلورا، اسحاق راہب، سانکو، جرمیاس، سیسی نند، پولوس، تھیوڈومیر، اَنرک، میری نام عیسائیوں کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت دی اور یوں تحریک شاتمان رسول اپنے انجام کو پہنچی۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے بارہویں صدی کے آخر میں ارناط کے شہزادے ریجینالڈ کو جب گرفتار کیا تو اسے حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی پاداش میں قتل کی سزا دی۔
سلطان نور الدین زنگی نے ان دو بدبخت نصرانیوں کو قتل کر کے ان کے ناپاک نعشوں کو جلا دیا جنہوں نے سرنگ بنا کر روضہ انور سے آپ کے جسم مبارک کو نکالنا چاہا تھا۔ (۲۹)
ہندوستان میں توہین رسالت کے مجرموں کو سزا
مغلیہ دور میں توہین رسالت کے مجرم کو موت کی سزا دی گئی ہے۔ ملا عبدالقادر بدایونی نے لکھا ہے کہ عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ عبدالغنی قاضی القضاۃ کے ہاں ایک سرکش مالدار برہمن کے خلاف توہین رسالت کا استغاثہ کیا اور گواہ پیش کئے۔ قاضی القضاۃ نے اکبر بادشاہ سے اجازت طلب کی کہ اس گستاخ رسول کو قتل کیا جائے۔ اکبر نے کہا کہ اس معاملے کا تعلق شرع سے ہے جو آپ کے اختیار میں ہے۔ قاضی القضاۃ نے اسے قتل کی سزا دلوائی۔ (۳۰)
۱۷۳۴ء کو سیالکوٹ کے ایک کھتری حقیقت رائے باغ مل پوری نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ عدالت نے اسے قتل کی سزا دی۔ غیر مسلم آبادی نے گورنر پنجاب محمد زکریا سے نظر ثانی کی درخواست کی جو نامنظور ہوئی اور مجرم کی گردن اڑا دی گئی۔ (۳۱)
انگریزوں کے تسلط کے بعد رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں نے آپ ﷺ کی توہین کرنے میں کافی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ یہ توہین مسلمانان ہند سے برداشت نہ ہوسکی تھی اور انہوں نے مروجہ قانون کو ناکافی سمجھ کر از خود تحفظ کا بیڑا اٹھایا اور درجنوں مجرموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد تعزیرات ہند کے نام سے ایک قانون منظور ہوا۔ اس قانون میں مذہب کی توہین کرنے پر مجرم کو سزائے قید دی جاتی تھی۔ چند واقعات درج ذیل ہیں:
- ۱۔ راج پال بنام شہنشاہ: توہین رسالت کے موضوع پر یہ ایک اہم مقدمہ ہے جو ایک بڑے فتنے کا سبب بنا۔ مختصراً اس مقدمے کے
واقعات کچھ اسی طرح ہیں۔
راج پال نے ایک کتاب شائع کی جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کا مذاق اڑایا گیا جس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳اے کے تحت مقدمہ درج ہوا جس کو ٹرائل کورٹ نے مذکورہ دفعہ کے تحت سزا دی لیکن ہائیکورٹ نے نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ دیتے وقت ملزم کو بری کر دیا۔ (۳۲)
- ۲۔ آریہ سماجی لیڈر سوامی دیانند نے ایک دل آزار کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ لکھی، جس میں اسلام اور شارع اسلام ﷺ کی ذات
گرامی پر رکیک اور سوقیانہ حملہ کیے گئے تھے جس کے خلاف مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا۔ برٹش گورنمنٹ نے اس کتاب کی ضبطی کا حکم دیا۔ اس کے بعد مہاشہ کرشن، ایڈیٹر ”پرتاپ“ نے پنڈت چمو پتی لال کے فرضی نام سے ایک اور رسوائے زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول“ لکھی۔ لاہور کا ایک بدبخت کتب فروش راج پال ۱۹۲۴ء میں اس کتاب کو چھپوا کر بازار میں لایا تو مسلمانوں نے راج پال کے خلاف فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا۔ لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ملزم کو چھ ماہ قید کی سزا دی۔ اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جسٹس کنور دلیپ سنگھ نے ۱۹۲۷ء میں راج پال کو بری کرتے ہوئے تحریر کیا کہ کتاب کی عبارت کتنی ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہو، اس سے بہرحال کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔
- ۳۔ گستاخ راج پال کو سزا کی بجائے بری ہونے پر اسی جرم کا ایک اور مقدمہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ کے سامنے پیش
ہوا، جس میں جسٹس براڈوے سینئر جج تھا۔ اس نے دلیپ سنگھ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ دفعہ ۱۵۳ الف ایسے لٹریچر پر بھی حاوی ہے جو فرقہ وارانہ فساد پھیلانے یا مذہبی دل آزاری کا باعث بنے۔ لیکن یہ فیصلہ مسلمانوں کو مطمئن نہ کر سکا۔ (۳۳)
- ۴۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء کو وہ ملعون راج پال اپنی دکان میں کاروبار میں مشغول تھا۔ خدا بخش نام ایک عاشق رسول نے اس خبیث پر تیز
دھار چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا، لیکن اس نے بھاگ کر اپنی جان بچالی۔ غازی خدا بخش کو زیر دفعہ ۳۰۷ الف تعزیرات ہند گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور مسٹر ای۔ ایم۔ بی۔ اوگلوی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ غازی خدا بخش نے اپنی طرف سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ اقرار جرم کے بعد غازی خدا بخش کو سات سال قید سخت، جس میں تین ماہ قید تنہائی شامل تھی، کی سزا سنائی گئی اور میعاد قید کے اختتام پر پانچ پانچ ہزار کی تین ضمانتیں حفظ امن کے لیے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
داخل کرنے کا حکم دیا گیا۔ (۳۴)
- ۴۔ ۹؍اکتوبر ۱۹۲۷ء کی شام ایک اور عاشق رسول عبدالعزیز راج پال کی دکان پر آیا۔ اتفاقاً اس وقت راج پال کا ایک دوست سوامی
ستیانند بیٹھا تھا، جسے غازی عبدالعزیز نے شاتم رسول سمجھ کر چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا، لیکن پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر غازی عبدالعزیز کو گرفتار کر لیا۔ اسی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اوگلوئی نے سرسری سماعت کے بعد ۱۲؍اکتوبر ۱۹۲۷ء کو اس مرد مجاہد کو بھی وہی سزا دی جو غازی خدا بخش کو دی گئی تھی۔
- ۵۔ ان کارروائیوں کے بعد غازی علم الدین شہید کی باری آتی ہے۔ علم الدین ایک محنت کش نجار ”طالع مند“ کا بیٹا تھا اس نے اپنے
والد سے دریافت کیا کہ ”کیا کوئی شخص ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے زندہ رہ سکتا ہے؟“ باپ نے جواب دیا: ”بیٹا مسلمان اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے“۔ اس طرح علم الدین نے موقع پاتے ہی راج پال کے سینے میں چاقو پیوست کر دیا، جو اس کے دل کو چیرتا ہوا نکل گیا۔ یہ ضرب ایسی کاری ثابت ہوئی کہ اس نے وہاں ہی دم توڑ دیا۔ ۲۲؍مئی ۱۹۲۹ء کو سیشن کورٹ نے علم الدین کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے ۱۷؍جولائی ۱۹۲۹ء کو سیشن کورٹ کی سزائے موت کا فیصلہ بحال رکھا۔...... (۳۵)
- ۶۔ ہندو نتھو رام نے سال ۱۹۳۳ء میں ”ہسٹری آف اسلام“ (History of Islam) کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس میں
اس نے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کو ہدف تنقید و ملامت بنایا اور شان رسالت میں گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ نقض امن کے اندیشہ سے ملزم کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کر کے اسے ایک سال قید اور جرمانہ کی سزا دی گئی۔ نتھو رام کا مقدمہ سماعت کے لیے جس دن سندھ چیف کورٹ کے دو انگریز ججوں کے بینچ کے سامنے پیش ہونا تھا، اُس دن عدالت کے باہر ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں فیصلہ سننے کے لیے کھڑے تھے۔ ایک عاشق رسول ﷺ عبدالقیوم نے کمرہ عدالت کے اندر اس ملعون کے پیٹ میں خنجر بھونک کر اس کی آنتیں باہر نکال دیں۔ اور بعد میں اس کی شہ رگ کاٹ کر اسے قتل کر دیا۔ اقبال جرم پر سیشن کورٹ سے غازی عبدالقیوم کو سزائے موت سنائی گئی۔
ہزاروں مسلمان جب میوہ شاہ کے قبرستان میں اس شہید وفا کے جنازے کو لے جا رہے تھے تو ایسے میں حکومت افرنگ کے فرعون مزاج فوجیوں نے عاشقان ناموس رسول ﷺ کے اس ہجوم پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جس کے نتیجہ میں سینکڑوں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔
- ۷۔ غازی محمد صدیق فیروز پور ضلع قصور کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ قصور کے
ایک دریدہ دہن گستاخ پالامل زرگر نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ اس مرد مجاہد نے پالامل کو راستہ ہی میں ہلاک کر دیا۔ اس مرد مجاہد کا مقدمہ سیشن کے سپرد ہوا چونکہ آپ نے عدالت کے روبرو پوری جرات کے ساتھ اعتراف قتل کر لیا اس لیے اسے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
سزائے موت سنائی گئی۔
- ۸۔ ۱۹۳۴ء کو ایک بدبخت سکھ چہل سنگھ نے شیخوپورہ کے نواحی علاقہ میں نبی کریم ﷺ کے خلاف یاوہ گوئی کی۔ قصور کے ایک جوان
عبداللہ نے چہل سنگھ پر حملہ کیا اور پوری قوت سے اس کی شہ رگ کاٹ دی اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ غازی عبداللہ نے عدالت کے روبرو اعتراف جرم کر لیا تھا، اس لیے سزائے موت سنائی گئی۔
- ۹۔ ان مجاہدین باوفا کے علاوہ تلہ گنگ کے غازی محمد شہید، چکوال کے غازی مرید حسین اور محمد منیر شہید کے نام بھی ان جانثاران
مصطفےٰ کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے توہین رسالت کے مجرموں کو تہ تیغ کر کے خود جام شہادت نوش کیا اور عشق رسالت مآب ﷺ کی داستان خونچکاں کو رنگین تر کرتے چلے گئے۔ (۳۶)
پاکستان میں توہین رسالت کے جرائم پر فیصلے
پاکستان بننے کے بعد بھی دو قسم کے فیصلے تاریخ میں نظر آتے ہیں ایک قسم کے فیصلے وہ ہیں جو غازیانِ تحفظ ناموس رسالت کے خلاف قائم ہوئے ہیں جنہوں نے توہین رسالت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ دوسرے قسم کے مقدمات وہ ہیں جو توہین رسالت کے مرتکبین کے خلاف قائم ہوئے۔ کچھ مقدمات ایسے بھی ہیں جن میں اس قانون کا غلط استعمال ہوا ہے، فرقہ وارانہ تعصب یا ذاتی دشمنی کے نتیجے میں مخالف گروپوں کے خلاف قائم ہوئے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کی رو سے ان مقدمات کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ غازی زاہد حسین
سال ۱۹۶۱ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں آنحضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ غازی زاہد حسین نے اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا اور عدالت کے سامنے اعتراف جرم کر لیا جس کے نتیجے میں اسے جرمانہ کی سزا ہو گئی۔ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ’امہات المومنین‘ جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود تھے، فروخت ہو رہی تھی۔ غازی زاہد حسین ایک مرتبہ پھر تڑپ اٹھا اور اپنے ایک ساتھی الطاف حسین کے ساتھ مل کر اس دوکان کو آگ لگا دی اور مینجر ہیکٹر گوہر مسیح پر حملہ کیا لیکن وہ بچ گئے۔ دونوں نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کر لیا۔ جس کے بنیاد پر انہیں تین تین سال قید کی سزا ہوئی۔ اپیل پر ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا، تو فاضل جج نے مسٹر جری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اگرچہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں، وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں، جنہیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے“۔ اس لیے انہوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے۔ (۳۷)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۷۹ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۔ ظہیر الدین ولد عطاء الرحمن، رفیع احمد ولد ظفر احمد، عبدالمجید ولد عبدالسلام، عبدالرحمن خان ولد محمد عبداللہ احمد قادیانی تھے اور
انہوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے۔ سماعت کے دوران کسی نے بھی انکار نہیں کیا اس لیے سٹی مجسٹریٹ/اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی عدالتوں میں ان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ ج کے تحت فرداً فرداً ایک سال قید بامشقت کے علاوہ ایک ایک ہزار روپے فی کس جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت سیشن میں اپیل دائر کر دی گئی جو جون ۱۹۸۷ء کو خارج ہوئی۔ فاضل عدالت نے کافی غور و خوض کے بعد سزا میں معمولی تخفیف کے ساتھ پانچوں درخواستوں کو برخاست کیا۔ (۳۸)
- ۳۔ غلام اکبر کے خلاف الزام تھا کہ اس نے محمد عباس سے کہا کہ وہ اپنا نام محمد عباس کی بجائے غلام عباس رکھیں اور آپ ﷺ کے
خلاف توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کئے جس کے خلاف ۱۹ اگست ۱۹۹۸ء کو ایڈیشنل سیشن جج خانپور نے غلام اکبر کو دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ جس کے خلاف اس نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت اپیل نے قرار دیا کہ ملزم نے ابتدائی عدالت میں سماعت کے دوران اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کیا ہے اور رسالت مآب کے خلاف کسی قسم کے توہین آمیز الفاظ کے استعمال کرنے سے قطعی انکار کر دیا ہے اور الزام کو محض پارٹی بازی اور دشمنی کی بنیاد قرار دیا ہے جبکہ اس نے موقعہ کا اہم گواہ محمد عباس بھی پیش نہیں کیا اور مزید براں ایف آئی آر میں بھی بغیر کسی معقول وجہ کے ۲۱ دن تاخیر ہوئی ہے۔ لہٰذا سزائے موت کی توثیق نہیں کی گئی اور اپیل منظور شد۔ (۳۹)
- ۴۔ ۸ مئی ۱۹۹۸ء کو بھنگری بازار فیصل آباد میں مسیحیوں کا ایک جلوس جا رہا تھا۔ جلوس میں مسلمانوں کے خلاف نعرہ بازی ہو رہی
تھی۔ راستے میں جگہ جگہ پر بورڈ نصب تھے جن پر درود لکھا گیا تھا جبکہ ایک پان شاپ کے بورڈ پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔
رانجھا مسیح وغیرہ نے ان بورڈوں کو جوتوں سے مارا اور مسلمانوں کو گالیاں بھی دیتے رہے۔ ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد نے ملزم کے خلاف دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت ملزم کو عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی۔ اس کے خلاف ملزم نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ عدالت اپیل نے قرار دیا کہ استغاثہ میں وقوعہ کا کوئی وقت درج نہیں کیا گیا ہے اور اس بات کا بھی نوٹس لیا گیا کہ وقوعہ کا دن جمعہ ہے جبکہ جمعہ کو اکثر دکانیں بند رہتی تھی لیکن کسی بھی گواہ نے وہ خاص الفاظ بیان نہیں کئے بالخصوص اپیلانٹ کے الفاظ جبکہ اپیلانٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ رسول کریم ﷺ دوسرے انبیائے کرام کی طرح اور قرآن کریم دوسرے آسمانی کتابوں کی طرح مقدس ہے۔ اپیل منظور کر کے ملزم کی رہائی کا حکم دیا گیا۔ (۴۰)
- ۵۔ قاری محمد یونس کے خلاف الزام تھا کہ اس نے اہل حدیث کی ایک مسجد واقع چک نمبر 355/JB میں منعقدہ جلسہ سے
خطاب کرتے ہوئے اولیاء کرام کے خلاف توہین آمیز لہجہ استعمال کیا اور کہا کہ آپ ﷺ شراب پیتے تھے، اس نے سنی فرقہ بریلوی اور دیوبندیوں پر بھی اعتراض کیا۔ ایڈیشنل سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ۔ جس کے خلاف اس نے جیل سے اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ شکایت درج کرتے وقت دفعہ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
۱۹۶ ضابطہ فوجداری کے لوازمات پورے نہیں کئے گئے، مزید براں یہ دو مخالف مذہبی جماعتوں کا جھگڑا ہے۔ جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں وہ سماعی شہادتیں ہیں اور غلط الزام تراشی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اس لیے اپیل منظور کی جاتی ہے۔
(۴۱)
- ۶۔ ملزم محبوب (بوبہ) ۱۷، ۱۸ ستمبر ۱۹۹۹ء کو جامع مسجد، مینا بازار خوشاب کے گیٹ اور دیواروں پر اشتہار لگا رہا تھا جو اس کے اپنے
ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔ اس اشتہار میں درج تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا، اس اشتہار میں نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف توہین آمیز لہجہ اختیار کیا گیا۔ سرگودھا کے سپیشل جج، انٹی ٹیررزم کورٹ نے ۱۲ نومبر ۲۰۰۱ء کو ملزم کو موت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی اور فیصلہ ہائی کورٹ کو توثیق کیلئے بھیج دیا جبکہ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کر دی گئی۔ عدالت نے اپیل اور ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے ناقص اور نامکمل تفتیش اور اسلامی علم نہ رکھنے والے آفیسر ز اور گواہوں کی بے احتیاطی کے خوفناک نتائج کے انتباہ کے بعد ملزم / اپیلانٹ کو بری کرتے ہوئے اپیل منظور کی اور اپنے فیصلے میں ماتحت عدالتوں اور پولیس افسروں کو ہدایات جاری کر دی کہ اس قسم کے مقدمات میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے اور اس کی تفتیش دو اعلیٰ تفتیشی افسران کی ٹیم سے کروائی جائے جو اسلامی فقہ کا علم رکھتے ہوں۔ اگر اس طرح نہ ہو تو کسی ایسے عالم کو ٹیم میں شامل کیا جائے جو اچھی شہرت کا حامل ہو اور اسلامی تعلیمات پر عبور رکھتا ہو۔ سماعت ایسی عدالت کرے جس کا سر براہ کم از کم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے کا ہو۔
اس کیس میں اعدادوشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ۱۹۷۹ء سے لیکر ۱۹۹۸ء تک توہین رسالت کے صرف گیارہ مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۶ تک صرف تین مقدمات قائم ہوئے۔ ۱۹۸۷ سے لیکر ۱۹۹۹ء تک ۴۴ مقدمات ، ۲۰۰۰ میں ۵۲ مقدمات جن میں ۴۴ مسلمانوں کے خلاف قائم کئے گئے۔ جبکہ ۸ مقدمات غیر مسلموں کے خلاف ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ میرٹ بنانے کیلئے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف Blatantly استعمال کیا گیا۔ جب کہ پولیس بھی بغیر تحقیق کے اور کسی غیر متعصب اور مشہور مذہبی سکالر کی ہدایات کے بغیر دھڑا دھڑ مقدمات درج کرتی ہے۔
(۴۲)
- ۷۔ پاک پتن کے ایوب مسیح نے آپ ﷺ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور شکایت کنندہ کو سلمان رشدی کی
کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا۔ جس کے خلاف محمد اکرم نے عارف والہ پولیس سٹیشن میں دفعہ ۲۹۵سی تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ساہیوال کے سیشن جج نے ملزم کو موت کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ جس کے خلاف اس نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ (ملتان) نے سیشن جج کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ملزم کو شک کا فائدہ دے کر اپیل منظور کر کے سزا ختم کر دی۔
(۴۳)
- ۸۔ پیر ظہور احمد کے خلاف قرآن کریم کے مخالفانہ پرچار بذریعہ ایک پمفلٹ ”فیضان قلندر“ ، کلمۂ طیبہ میں تحریف اور
رسول کریم ﷺ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں استغاثہ کیا گیا۔ جہلم کے ایڈیشنل سیشن جج نے تعزیرات پاکستان کے دفعہ ۲۹۵سی کے تحت اسے ۱۲ مارچ ۲۰۰۱ء کو سزائے موت دی۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
پیر ظہور نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، اپیلانٹ نے تمام الزامات کا انکار کر دیا اور دعویٰ کیا کہ علاقے میں مذہبی منافرت موجود ہے جس کی وجہ یہ سب کچھ مخالفین کا کیا دھرا ہے۔ عدالت اپیل نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور اپیل منظور کی۔
(۴۴)
- ۹۔ سلیم مسیح اور رشید مسیح باشندگان پسرور ضلع سیالکوٹ کے خلاف یہ الزام تھا کہ انہوں نے ۲۹ مئی ۱۹۹۹ء کو فالودہ کی
دوکان پر رسالت مآب ﷺ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ ایڈیشنل سیشن جج پسرور نے دفعہ ۲۹۵سی کے تحت دونوں ملزموں کو عمر قید اور پچاس ہزار روپے اور دفعہ ۲۹۵۔اے کے تحت دس سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔ سلیم مسیح نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی جبکہ مقصود احمد نے سزا بڑھانے کیلئے Revision (نگرانی) کی درخواست دے دی۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے انتہائی سزا جو اس جرم کی ہے نہیں دی تو لازمی بات ہے کہ اس کے ذہن میں مذکورہ گواہان پر اعتماد نہیں تھا۔ اس قسم کے مقدمات میں ضروری ہے کہ گواہان قابل اعتماد ذرائع سے مہیا کئے جائیں۔ تفتیشی افسر نے حقائق تک پہنچنے کے بجائے تفتیش مکمل کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔ گواہوں کے بیان میں تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ نگرانی مسترد اور اپیل منظور۔
(۴۵)
- ۱۰۔ حاجی بشیر احمد باشندہ بستی جرانہ کے خلاف الزام عائد کیا گیا کہ وہ نعوذ باللہ آپ ﷺ، امہات المؤمنین، صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین، کعبہ شریف، مریم علیہا السلام جیسی پاک ہستیوں کے خلاف توہین آمیز باتیں کرتا ہے۔ اور امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے۔ اور آڈیو کیسٹ بھی شائع کرتا ہے۔ ملزم نے ان ساری باتوں کا انکار کر دیا۔ عدالت نے شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جس کے خلاف اس نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ یہ اپیل مسترد ہو گئی۔
(۴۶)
- ۱۱۔ محمد ادریس ربانی کے خلاف الزام تھا کہ اس نے زبانی اور تحریری دونوں طرح مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے
ہوئے مقدس ہستیوں اور اسلامی تعلیمات کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ اس کی تعلیمات کے مطابق جو شخص کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہ مشرک ہے۔ (نعوذ باللہ) واقعہ معراج ایک دیو مالائی کہانی ہے۔ رسول کریم ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں۔ اور اس نے خود رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ابتدائی عدالت نے اسے دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت سزائے موت دی جس کی توثیق کیلئے ریفرنس ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا جبکہ محمد ادریس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کر دی۔ عدالت نے اپیل منظور کر دی اور قرار دیا کہ پمفلٹ کی بنیاد پر اپیلانٹ کے خلاف مقدمہ بنایا گیا ہے۔ قابل اعتماد شہادت سے ثابت نہ کر سکی کہ یہ اس کا لکھا ہوا ہے۔ صرف ماہر خط کی گواہی کافی نہیں ہے۔ جبکہ استغاثہ گواہان کی گواہی میں تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ اپیلانٹ نے مذکورہ الزاموں کا انکار کر دیا ہے۔ اس لئے ہم اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دے سکتے۔
(۴۷)
- ۱۲۔ یکم فروری ۲۰۰۱ء کو محمد شریف نے امیر محمود کے ساتھ مکالمہ کے دوران آپ ﷺ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
استعمال کئے، ٹرائل کورٹ نے بعد از تفتیش محمد شریف کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت عمر قید اور ۵۰۰۰۰ روپے جرمانے کی سزا دی جس کے خلاف محمد شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت اپیل نے قرار دیا کہ متعلقہ ایف آئی آر با اختیار صوبائی یا مرکزی کسی عہدیدار نے درج نہیں کی ہے۔ اس لئے ٹرائل کورٹ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۹۶ کے تحت اس مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتی۔ یہ کہ جو شہادت پیش کی گئی ہے اس میں گواہ جانب دار ہے۔ جس کی تصدیق کسی آزاد گواہ سے نہیں ہو سکی۔ تفتیش میں کافی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہے۔ لہذا اپیل منظور۔
(۴۸)
- ۱۳۔ نیاز احمد نے چائے کی دکان پر رسول کرم ﷺ کو ایک مسلمان کے سلام کے جواب میں گالیاں دیں جس کے خلاف
تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت ۱۱ فروری ۲۰۰۸ء کو بہاولنگر کے پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج ہوا۔ عدالت نے اسے اسی سیکشن کے تحت موت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی جس کے خلاف نیاز احمد نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اپیلانٹ نے ٹرائل کورٹ میں بیان دیا تھا کہ وہ ایک مسلمان ہے اس نے آپ کو گالیاں نہیں دیں بلکہ شکایت کنندہ گان نے پرانی دشمنی کے بنیاد پر اس کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا ہے ساتھ ہی بعض گواہوں کے بیان سے واضح نہیں ہو سکا کہ گالیوں کا ہدف آپ ﷺ تھے یا شکایت کنندہ، بناء برین عدالت اپیل نے ملزم کو جرم سے بری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ جرم کی جتنی سزا سخت ہے اس طرح اس کو ثابت کرنے کا معیار بھی سخت ہوگا۔
(۴۹)
- ۱۴۔ محمد اشرف کے خلاف شان رسالت میں گستاخی کرنے کے جرم میں ۲۴ ستمبر ۲۰۱۰ء کو پنڈ دادن خان میں مقدمہ درج
ہوا۔ ایڈیشنل جج نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ جبکہ دفعہ ۲۹۸ تعزیرات پاکستان کے تحت مزید ایک سال قید اور ۱۰۰۰۰ روپے جرمانے کا حکم بھی دیا ہے۔
(۵۰)
حاصل بحث:
- ۱۔ انبیاء کرام ادیان سماویہ کے منبع ہیں۔ نبی کی توہین، مذہب کی توہین ہے۔ اور ہر مذہب کے پیروکاروں نے اپنے پیشوا کی توہین پر
سزا مقرر کی ہے۔
- ۲۔ دین اسلام میں انبیائے کرام کی توہین کو ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور مرتکب جرم کیلئے سخت ترین یعنی قتل کی سزا مقرر کی
ہے۔
- ۳۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دیگر انبیائے کرام کے صریح لفظوں یا واضح اعمال کے ذریعے توہین کرنے والوں کی سزا
موت ہے۔ اس لئے اگر کسی ملزم کے خلاف توہین بذریعہ گواہ یا اقرار ثابت ہو جائے تو اسے ہر حالت میں سزا دینا امت مسلمہ کا حق ہے کسی فرد واحد کی رائے سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔
- ۴۔ اس قانون کا صحیح استعمال عقیدہ توحید اور قانون اسلام کا خاصہ ہے۔ نیتوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے البتہ کسی معصوم شخص کو فرقہ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
وارانہ بنیادوں پر متہم کرنا اتنا ہی جرم ہے جتنا کہ توہین رسالت ہے۔ اس لئے احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔
- ۵۔ سزا دیتے وقت حاکم کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ مجرم کے خلاف گواہی دینے والے وہ لوگ نہ ہوں جن کی مجرم سے سابقہ دشمنی
ہو اور انہوں نے سابقہ عداوت کی وجہ سے اس کی شکایت کی ہو یا اس کے خلاف کوئی مقدمہ بنایا ہو۔ گواہوں سے خوب جرح کی جائے اور اگر ان دونوں گواہوں کے علاوہ اور کوئی شخص مجرم کے جرم کی شہادت دینے والا نہ ہو تو ان گواہوں کی شہادت مجروح تصور کی جائے گی اور یہ تصور کیا جائے گا کہ اس جرم کا گواہ ہے ہی نہیں لہٰذا اس شخص پر فرد جرم (قتل یا سزا) ناجائز متصور ہوگی۔ (۵۱)
- ۶۔ اسلامی حکومت کے غیر مسلم باشندے (ذمی) اسلامی احکام ماننے کے عہد کی بنیاد پر اسلامی حکومت میں رہ سکتے ہیں اس لئے وہ
پابند ہیں کہ وہ رسول کریم ﷺ اور انبیائے کرام کے بارے میں سب وشتم نہیں کرینگے۔ اگر انہوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو ان کو بھی توہین رسالت کی سزا دی جائے گی۔ امام مالک ، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کے نزدیک ذمی کو قتل کی سزا حدًا دی جائے گی جبکہ احناف کے نزدیک تعزیراً یا سیاسۃً دی جائے گی ، حدًا نہیں۔ کیونکہ توہین سے شرک اور کفر بڑا جرم ہے جس کا یہ لوگ ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۸۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
حواشی وتعلیقات:
- ۱۔ خروج 22:28 Exodus میں توہین کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ 16 : 24 Leviticus میں مرتکب کے لیے سنگسار کی سزا مقرر تھی۔ یہودی نزدیک بھی توہین رسالت کی سزا موت ہے، ان کی اصطلاح میں اس جرم کو LINQOU کہا جاتا ہے۔
- ۲۔ ۱۵۵۳ء کو یورپ میں مائیکل سرویٹس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین یعنی تثلیث کی مخالفت پر سزائے موت دی گئی۔ اس طرح ۱۵۷۹ء میں پادری ڈیوڈ ہنگری کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ انگلینڈ میں ۱۵۵۳ء کو مذہبی قوانین کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہ ماننے کے جرم میں پانچ اشخاص کو ایلیزبتھ کے دور میں زندہ جلا دیا گیا۔ اس طرح جان بول کو سترہ سال قید کی سزا ہوئی جیمز ٹیلر کو ۱۶۵۶ء اور جان نیلر کو ۱۶۷۶ء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے توہین پر سزائیں دی گئی ہیں۔
The Enceylopedia of Relegion, Mircea Eliade editor in chief, Macmullan publishing company Newyark London 1986, Vol. 2, P.239--P.241.
- ۳۔ اسلامی نظریاتی کونسل سالانہ رپورٹ۔
- ۴۔ محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان، پی ایل ڈی ۱۹۹۱ء ایف ایس سی۔ ۱۰
- ۵۔ ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی، صحیح سنن مصطفیٰ جلد سوم حدیث نمبر ۹۵۵، باب سزاؤں کا بیان، گستاخ رسول ﷺ کی سزا۔
- ۶۔ رسول کریم ﷺ کے حکم نہ ماننا ایمان کی منافی ہے ارشاد ربانی ہے: فَلَا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً (۶۵:۴) (تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کرو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہو سکتے۔ سورۃ نساء کی آیت نمبر ۶۰ میں بھی اسی سے متعلق ہے: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيداً (۶۰:۴) (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے)
- ۷۔ ابو قاسم جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری الحوارزمی، الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، جلد اول، صفحہ ۵۳۶ دار المعرفہ، بیروت۔ بذیل آیت نمبر ۶۰ : ۴، ابو عبد الله محمد بن احمد الانصاری القرطبی : الجامع لاحکام القرآن ، جلد ۵، صفحہ ۲۶۴، احیاء التراث ، لبنان ۔
- ۸۔ بخاری، کتاب المغازی، کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ، حدیث ۱۲۱۴۔
- ۹۔ بخاری، کتاب المغازی، قصہ قتل ابو رافع عبداللہ ابی الحقیق، حدیث نمبر ۱۲۱۵۔
- ۱۰۔ امام ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام : الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ نشر السنۃ، ملتان۔ ص ۱۰۴۔
- ۱۱۔ ابوبکر عبدالرزاق بن ھمام الصنعانی، المصنف، جلد پنجم صفحہ ۳۰۷، حدیث نمبر ۹۷۰۵۔
- ۱۲۔ سنن ابو داؤد: جلد سوم: حدیث نمبر ۹۵۶، باب سزاؤں کا بیان، گستاخ رسول ﷺ کی سزا۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۱۳۔ سیرت ابن ہشام ۸۶۸/۲۔
- ۱۴۔ المصنف جلد پنجم حدیث نمبر ۹۷۰۷، صفحہ ۳۰۷۔
- ۱۵۔ ابوالفضل، عیاض بن موسیٰ: الشفاء جلد دوم، ص ۳۸۶۔
- ۱۶۔ بخاری، باب قتل اسیر، جلد اول، صفحہ ۴۲۷۔
- ۱۷۔ الصارم المسلول، صفحہ ۱۲۶؛ سیرت ابن ہشام ۸۲۸/۲، فتح الباری ۱۲/۸، البدایہ والنہایۃ ۲۹۲/۳۔
- ۱۸۔ الصارم المسلول، صفحہ ۱۲۷؛ سیرت ابن ہشام ۸۲۸/۲۔
- ۱۹۔ المصنف جلد پنجم، حدیث نمبر ۹۷۳۱، صفحہ ۳۵۵۔
- ۲۰۔ السیف الصارم، ص ۱۹۴۔
- ۲۱۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۲۶/۵۔
- ۲۲۔ السیف الصارم، ۱۹۴۔
- ۲۳۔ النبی خاتم، مناظر احسن، ص ۳۰۔
- ۲۴۔ الصارم المسلول ۴۱۹/۴
- ۲۵۔ المصنف، جلد پنجم حدیث نمبر ۹۷۰۵، صفحہ ۳۰۷۔
- ۲۶۔ السیف الصارم، ۵۷۱، ۵۷۲
- ۲۷۔ السیف الصارم، ۵۷۱،
- ۲۸۔ السیف الصارم، ۵۷۲
- ۲۹۔ محمد اسماعیل قریشی: ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت، صفحہ ۳۰۳۔۳۱۷۔
- ۳۰۔ ملا عبدالقادر بدایونی: منتخب التواریخ (اردو ترجمہ) ص ۶۰۶ و ۶۰۷، مطبوعہ غلام علی لاہور۔
- ۳۱۔ ناموس رسول ﷺ ص ۳۲۲۔
- ۳۲۔ راج پال بنام شہنشاہ، اے آئی آر ۱۹۲۷ء ص ۲۵۰۔
- ۳۳۔ ناموس رسول ﷺ، ص ۴۱۱، ۴۱۳۔
- ۳۴۔ ناموس رسول ﷺ، ص ۴۱۴۔
- ۳۵۔ غازی علم الدین شہید بنام سرکار، اے۔ آئی۔ آر ۱۹۳۰، لاہور ص ۱۶۵۔
- ۳۶۔ ناموس رسول ﷺ صفحات ۴۲۸، ۴۳۱۔
- ۳۷۔ غازی زاہد حسین والطاف حسین شاہ بنام سرکار۔
- ۳۸۔ ظہیر الدین وغیرہ بنام سرکار، پی ایل ڈی ۱۹۸۸ء کوئٹہ ۲۲۔
- ۳۹۔ غلام اکبر بنام سرکار ۲۰۰۰ء وائی ایل آر ۱۲۷۳۔
- ۴۰۔ رانجھا مسیح بنام سرکار ۲۰۰۰ء وائی ایل آر ۳۳۶، لاہور۔
- ۴۱۔ قاری محمد یونس بنام سرکار ۲۰۰۱ وائی ایل آر ۴۸۴۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۴۲۔ محمد محبوب (بویہ) بنام سرکار، پی ایل ڈی ۲۰۰۲ء لاہور ۵۸۷۔
- ۴۳۔ ایوب مسیح بنام سرکار، پی ایل ڈی ۲۰۰۲ء ایس سی ۱۰۴۸۔
- ۴۴۔ ظہور احمد بنام سرکار ۲۰۰۳ء وائی ایل آر ۲۰۰۔
- ۴۵۔ سلیم مسیح وغیرہ بنام سرکار ۲۰۰۳ء وائی ایل آر ۳۲۲۲، لاہور۔
- ۴۶۔ حاجی بشیر احمد بنام سرکار ۲۰۰۵ء وائی ایل آر ۹۸۵۔
- ۴۷۔ محمد ادریس بنام سرکار ۲۰۰۷ء وائی ایل آر ۲۲۷۶، لاہور۔
- ۴۸۔ محمد شریف بنام سرکار ۲۰۰۹ء وائی ایل آر ۳۸۷۔
- ۴۹۔ نیاز احمد بنام سرکار، ۲۰۰۹ء ایم ایل ڈی ۶۱۶۔
- ۵۰۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی مورخہ ۹ مارچ ۲۰۱۱ء صفحہ ۸۔
- ۵۱۔ کتاب الشفاء، جلد دوم، صفحہ نمبر ۴۴۵۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
پاکستان کا قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی
مولانا محمد زاہد *
توہین رسالت کے قانون کو ختم یا اس میں تبدیلی کرنے کی جو کوشش نظر آ رہی تھی اور جس کے پیچھے ایک خاص لابی بھی موجود تھی جو ہمیشہ پاکستانی عوام کے احساسات و جذبات کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے یہ کوشش تو دینی جماعتوں کے باہمی اتحاد اور عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت دکھانے سے دم توڑ گئی ہے۔ اس پر یقیناً یہ جماعتیں اور عوام تبریک کے مستحق ہیں۔ اس مسئلے پر گرما گرمی کے دوران میں نے ایک نجی مجلس میں یہ بات عرض کی کہ موجودہ ماحول سے قطع نظر تعزیرات پاکستان کی ۲۹۵ سی کے متعدد پہلو علمی و فقہی لحاظ سے غور کے متقاضی ہیں ، نارمل حالات میں علما کو ان پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ اس پر ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کیا نارمل حالات میں علما کو غور کی فرصت ملے گی؟ یہ سوال میرے ذہن کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے اور ابھی تک میرے دماغ میں گدگدی کر رہا ہے۔ دوسری طرف اس مسئلے پر عوامی اجتماعات میں جو طرز گفتگو اختیار کیا گیا یا کرنا پڑا اس کی وجہ سے یہ تاثر عام ہو گیا ہے کہ یہ قانون ہماری قانون کی کتاب پر جس انداز سے موجود ہے اسی طرح سے یہ اجماعی اور قطعی ہے جس میں کسی پہلو میں نہ تو فقہا کے درمیان کوئی اختلاف موجود ہے اور نہ ہی کسی اختلاف کی گنجائش۔ عامۃ الناس سے لے کر اچھے خاصے پڑھے لکھوں تک بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ جبکہ کسی شرعی مسئلے کی درست حیثیت واضح کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے خیال ہوا کہ فقہی عبارات اور اصطلاحات سے بوجھل کئے بغیر عام قاری کے لئے کم از کم فقہ حنفی کی پوزیشن اس مسئلے پر واضح کر دی جائے جس پر یہاں کے مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت عمل پیرا ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ فقہ حنفی میں کیا شاتم رسول کی سزا موت ہے اور یہی متعین سزا ہے تو جواب اثبات میں ہوگا۔ لیکن دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس سزا کی فقہ حنفی میں نوعیت کیا ہے، یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے، اس لئے کہ یہ سزا کہاں لاگو ہوگی اور کہاں نہیں اس کا فیصلہ اسی سوال کے جواب سے ہوگا۔ فقہ حنفی کے ایک طالب علم کے لئے یہ بات واضح ہے کہ یہ متعین سزا حقیقت ارتداد کی سزا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی کتب میں اس سزا کا تذکرہ عموماً کتاب الحدود کی بجائے کتاب الجہاد کے باب المرتد میں ملتا ہے۔ فقہ حنفی سے واقفیت رکھنے والے کے لئے یہ بات حوالہ جات کی محتاج نہیں۔ سزا کی نوعیت کے اس تعین کے
* مہتمم جامعہ امدادیہ، فیصل آباد
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
بعد اس پر چند اثرات خود بخود مرتب ہو جاتے ہیں اور ان اثرات کی تصریح بھی فقہ حنفی کی کتب میں موجود ہے، لیکن چونکہ یہ سطور ایک عام قاری کو مد نظر رکھ کر لکھی جا رہی ہے اس لئے یہاں عبارات پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
- (۱) جب یہ طے ہو گیا کہ یہ سزا ارتداد کے زمرے میں آتی ہے تو یہ بات بھی خود بخود طے ہو جاتی ہے کہ اس سزا کا
اطلاق اسی شخص پر ہو گا جو پہلے سے مسلمان ہو۔ جو پہلے سے ہی غیر مسلم ہو وہ ظاہر ہے کہ مرتد نہیں کہلا سکتا ، اس متعین سزا کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا۔ غیر مسلم اگر ایسا فعل کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، اس کا جواب ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔
- (۲) چونکہ یہ سزا ارتداد کے طور پر دی جا رہی ہے اس لئے جس بات پر یہ سزا دی جائے اس میں ان تمام احتیاطوں
کو پیش نظر رکھنا ضروری ہو گا جو فقہا کے نزدیک کسی شخص کو کافر اور مرتد قرار دینے کے لئے ضروری ہیں۔
- (۳) مرتد کے بارے میں فقہ حنفی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ نہ صرف یہ کہ قبول کی جاتی ہے
بلکہ قاضی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے توبہ کی تلقین کرنے کا انتظام کرے اور اسے اس کا موقع دے۔ ہمارے ہاں جلسے جلوسوں میں جوشِ خطابت میں یہ بات کثرت سے کہی گئی ہے کہ اس جرم کی کوئی توبہ نہیں اور کسی انسان کو توبہ کی بنیاد پر یہ سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں اور یہ کہ یہ بات امت میں ہمیشہ سے مسلمہ چلی آ رہی ہے۔ جبکہ توبہ قبول نہ کرنے کا نقطہ نظر بعض فقہا نے اختیار ضرور کیا ہے لیکن فقہ حنفی کا یہ نقطہ نظر ہرگز نہیں ہے۔ علامہ ابن عابدین شامیؒ کی شخصیت سے فقہ حنفی کا کوئی بھی طالب علم ناواقف نہیں ہو سکتا۔ ان کی کتابوں سے حنفی اہل افتا کے ہاں سب سے زیادہ استفادہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی متعدد کتب میں مسئلے کے اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اہل علم ان کی کتاب رد المحتار کے باب أحکام المرتدین اور توہین رسالت کے مسئلے پر ان کے مشہور رسالے ”تنبیہ الولاۃ والحکام“ (جو مجموعہ رسائل ابن عابدین میں شامل ہے) کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ نویں صدی ہجری کے ایک حنفی عالم البزازی (وفات: ۸۲۷ھ) نے سب سے پہلے یہ بات لکھی کہ اگر کوئی شخص نبی کریم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو اور بعد میں سچے دل سے توبہ کر لیتا ہے اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے تب بھی اس کی سزا معاف نہیں ہو گی ، بزازی کے بعد آنے والے بعض حضرات نے بھی ان کی یہ بات اسی طرح سے نقل کر دی۔ لیکن علامہ شامیؒ نے البزازی کی اس بات پر شدید رد کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان سے پہلے فقہ حنفی کا نقطہ نظر خواہ وہ کسی حنفی عالم نے بیان کیا ہو یا غیر حنفی نے سب نے یہی بتایا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق شاتم رسول کی توبہ قابل قبول ہے۔ فقہ شافعی کا نقطہ نظر بھی حنفیہ کے قریب قریب ہے۔ فقہ مالکی اور فقہ حنبلی میں بھی ایک ایک قول یہی ملتا ہے۔ اہل علم مسئلے کی علمی تفصیل تو مذکورہ حوالوں میں دیکھ سکتے ہیں، البتہ یہاں امام ابو حنیفہؒ کے براہ راست شاگرد امام ابو یوسفؒ کی عبارت کا ترجمہ ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں ”جو مسلمان مرد بھی نبی کریم کو برا بھلا کہے ، آپ کی تکذیب کرے ، آپ کی عیب جوئی کرے یا آپ کی تنقیص کرے تو اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔ اس کی بیوی اس سے جدا ہو جائے گی۔ اگر وہ توبہ کر لے تو ٹھیک وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ یہی حکم عورت
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کا ہے، تاہم امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک عورت کو (توبہ نہ کرنے کے باوجود بھی) قتل نہیں کیا جائے گا‘‘ (کتاب الخراج ص ۱۸۲ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) یاد رہے کہ کتاب الخراج در حقیقت امام ابو یوسف کا خلیفہ ہارون الرشید کے نام خط ہے، اس لئے اس میں جو کچھ وہ تحریر فرما رہے ہیں اس کی مخاطب ریاست ہے۔
بہر حال شاتم رسول کی توبہ قبول نہ ہونے کا قول بزازی سے پہلے حنفیہ میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا۔ گویا نویں صدی ہجری تک فقہ حنفی میں اس بات کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ پھر بزازیؒ نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بارے میں علامہ شامی نے تفصیل سے ثابت فرمایا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ ان کی رائے نہیں ہے بلکہ انہیں بعض عبارات کے سمجھنے میں شدید غلطی ہوگئی ہے۔ تاہم فقہ حنفی ہی کی معروف کتاب ”الدر المختار“ (ج ۴ ص ۲۳۶) میں یہ ذکر کیا ہے کہ ۹۴۴ھ میں یہ امر سلطانی جاری ہوا تھا کہ اگر مجرم کی توبہ سچی معلوم ہو پھر تو حنفیہ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے توبہ قبول کر لی جائے اور سزائے موت کی بجائے قید وغیرہ تعزیری سزا پر اکتفا کیا جائے، اور اگر ایسا شخص ہو جس سے خیر کی کوئی توقع نہ ہو، توبہ محض بہانہ ہو (جس کا پتا اس جرم کے تکرار سے بھی چل سکتا ہے) تو فقہ حنفی کے علاوہ بعض دیگر فقہا کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۹۹۰ء میں اس مسئلے پر وفاقی شرعی عدالت کے معروف فیصلے جس کی روشنی میں پارلیمنٹ نے اس جرم پر عمر قید کی سزا کو حذف کر کے صرف سزائے موت کو برقرار رکھا تھا میں بھی اس بات کی صراحت ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے متعدد اہل علم نے بھی یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون میں توبہ کا موقع ملنا چاہئے۔ ان علما میں دیوبندی مکتب فکر سے دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمودؒ، بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم مفتی غلام سرور قادریؒ اور معروف اہل حدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف قابل ذکر ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے میں جو بحث کی گئی ہے اس بحث کی پوری جھلک کورٹ آرڈر اور اس کی روشنی میں ہونے والی قانون سازی میں نظر نہیں آتی۔ بہتر ہوتا کہ اس وقت یہ مسئلہ اپیل کے لئے سپریم کے شریعت بنچ میں چلا جاتا جہاں اس وقت مفتی محمد تقی عثمانی اور پیر کرم شاہؒ جیسے جید علما موجود تھے۔ اس وقت وفاقی حکومت کی طرف سے اپیل کی بھی گئی تھی۔ لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اپیل واپس لینے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اس جرم کی سزا اگر موت سے بڑھ کر کوئی ہوتی تو وہ تجویز کی جاتی۔ نواز شریف صاحب کا جذبہ قابل قدر، لیکن بہر حال وہ باقاعدہ عالم دین نہیں ہیں۔ جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ صاحب نے ایک کتابچے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس وقت وزیر اعظم کو پیغام بھیجا تھا کہ یہ اپیل واپس لی جائے ”وگرنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے“۔ اسماعیل قریشی صاحب ہمارے لئے بہت ہی محترم ہیں، خاص طور پر ان کا جذبہ عشق رسول سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ کسی شرعی مسئلے کو ماہرین شریعت پر مشتمل آئینی فورم پر اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مزید غور کر لیا جائے تو اس میں جذبات مشتعل ہونے والی کونسی بات تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس مسئلے میں
تحفظ ناموس رسالت نمبر ٩٠ سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
شروع ہی سے صرف ایک نقطۂ نظر کو جو کہ یہاں کی اکثریتی فقہ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا کو ایمان اور عقیدے کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ یادرہے کہ مذکورہ فیصلہ صادر کرنے والے وفاقی شرعی عدالت کے بنچ میں کوئی باقاعدہ عالم دین شامل نہیں تھے، جبکہ سپریم کورٹ شریعت بنچ میں مذکورہ دو جید عالم موجود تھے۔
- (۴) چوتھا نتیجہ سزائے موت کی مذکورہ فقہی نوعیت کا یہ ہوگا کہ امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کے مطابق اس قانون کے
تحت عورت کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ جیسا کہ امام ابو یوسف کی عبارت میں گزرا۔
اب تک کی گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ فقہ حنفی کی رو سے شاتم رسول کے سزائے موت متعین ہے بشرطیکہ جس سے جرم سرزد ہوا ہے وہ مسلمان مرد ہو اور توبہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو، اور جرم کی نوعیت ایسی ہو کہ اسے بلا شک وشبہ ارتداد میں داخل کیا جاسکے۔ اگر کسی مجرم میں ان میں کوئی شرط مفقود ہو، مثلاً توہین کرنے والا غیرمسلم ہو یا ملزمہ عورت ہو تو کیا اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلمان معاشرے اور ملک میں نبی کریمﷺ کی توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک انتہائی سنگین برائی ہے، اور اسلامی ریاست کے فرائض میں برائیوں کی روک تھام بھی شامل ہے۔ اور برائیوں کی روک تھام کے لئے سزا پر مشتمل قوانین بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔ مذکورہ شرائط مفقود ہونے کی صورت میں شرعی طور پر کوئی متعین سزا تو موجود نہیں ہے، ایسے موقع پر تعزیری سزا سے کام لیا جاتا ہے۔ تعزیری سزا سے مراد وہ سزا ہے جو شریعت نے ازخود متعین نہیں کی ہوتی، اس کے بارے ریاست یا ریاستی اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جرم اور مجرم کی نوعیت دیکھ کر اور حالات اور مصالح کو سامنے رکھ کر جو سزا مناسب سمجھیں تجویز کر سکتے ہیں۔ ناگزیر حالات میں بطور تعزیر سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے، بلکہ جہاں جرم کی نوعیت شدید ہو وہاں سزائے موت ملنی چاہئے۔ مثلاً وہ علانیہ طور پر بار بار اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے یا جرم کے انداز میں ڈھٹائی اور سرکشی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔
اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ موجودہ حالات میں فقہ حنفی کے نقطۂ نظر کو اختیار کرنا زیادہ مناسب ہو گا یا کسی اور رائے کو، موجودہ قانون فقہ حنفی کی بجائے بنیادی طور پر ابن تیمیہؒ کی رائے کی نمائندگی کرتا ہے، وہ بھی ایک قابلِ احترام رائے ہے لیکن جس مسئلے میں فقہ حنفی کا اختلاف موجود ہو اسے مسلمہ اور اجماعی مسئلے کے طور پر پیش کرنا بہر حال ایک دینی مسئلے کی غلط تصویر دکھانا ہے۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں توہین رسالت جیسا سنگین جرم کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے قانون تو ضرور ہو، تاہم اس قانون کی تفصیلات پر دلائل شرعیہ کی روشنی میں غور ہو سکتا ہے۔ اہل علم سے یہ درخواست ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں کو اور ملک کی معروضی صورت حال کو سامنے رکھ کر سنجیدہ غور کا سلسلہ شروع کریں اور بجائے اس کے کہ کوئی موقع دیکھ کر حکومت کوئی کسٹم میڈ قسم ترمیم لے آئے اور دینی حلقوں کے ساتھ اسی طرح کا ہاتھ ہو جائے جیسا ۲۰۰۶ء میں حدود کے مسئلے پر ہوا تھا علما کے لئے مناسب ہو گا کہ مختلف طبقات کے جائز تحفظات کو سامنے رکھ کر از خود قرآن وسنت
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد ۹۱ تحفظ ناموس رسالت نمبر
کی روشنی میں کوئی قانونی پیکج پیش کر دیں۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ یہاں دلائل کی تفصیل میں جانا مقصود نہیں ہے۔ تاہم اختصار کے ساتھ اتنا عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں عہد رسالت کے جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے ان میں کچھ تو ایسے تھے جن کا اسلامی ریاست کا شہری ہونا ہی ثابت نہیں ہے، بعض تو محارب (برسر پیکار) تھے۔ بعض کے اس جرم کے علاوہ اور بھی کئی جرائم تھے، اور یہ بات تو اکثر و بیشتر واقعات میں ہے کہ ان سے یہ جرم ایک آدھ مرتبہ صادر نہیں ہوا تھا بلکہ بار بار اور عادت کے طور پر انہوں نے یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا، اس جرم پر سیاسۃً یا تعزیراً سزائے موت کے سلسلے میں متعدد فقہاء حنفیہ نے اسی صورت حال یعنی عادت اور تکرار کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں صرف ابو داود کی ایک روایت کی مثال دینا مناسب ہوگا جس کا ہمارے ہاں عام تقریروں میں بکثرت حوالہ دیا گیا ہے۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی باندی کو اس وجہ سے قتل کر دیا تھا کہ وہ آنحضرتؐ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی تھی اور آنحضرتؐ نے اس صحابی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی تھی۔ لیکن اسی واقعے میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ باندی بار بار ایسا کر رہی تھی اور اس صحابی نے اسے کئی بار سمجھایا بجھایا بھی، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آئی۔ اس سے یہ بات بھی نکل رہی ہے کہ اس مسئلے میں سمجھانے بجھانے کا بھی کوئی خانہ موجود ہے۔ آنحضرتؐ نے انہیں یہ نہیں فرمایا کہ اتنی مرتبہ سمجھانے بجھانے میں کیوں لگے رہے، تمہیں تو پہلی مرتبہ اسے سزائے قتل دلوانے کی فکر کرنی چاہئے تھی۔
--------------------------------------------------
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ : ”أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِّنَ الْاَنْبِيَآءِ قَبْلِىْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ وَّ جُعِلَتْ لِيَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّ طَهُوْرًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِّنْ اُمَّتِىْ اَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَآئِمُ وَكَانَ النَّبِىُّ يُبْعَثُ اِلٰى قَوْمِهٖ خَاصَّةً وَّ بُعِثْتُ اِلَى النَّاسِ كَآفَّةً وَّ اُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ“
(صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ، حدیث ۳۳۵)
جابر ابن عبداللہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی جو مجھ سے پہلے دیگر انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے زمین کو پاکیزہ اور نماز کی جگہ بنایا گیا ہے، میری امت میں سے جو شخص بھی نماز کا وقت پالے اسے نماز پڑھ لینی چاہئے (جس جگہ میں بھی ہو)، میرے لیے مال غنیمت کو جائز قرار دیا گیا ہے، دیگر انبیاء کو کسی خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ۔“
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
گستاخ رسول کو قانونی کارروائی کے بغیر قتل
کر دینے والے شخص کا شرعی حکم
محمد مشتاق احمد *
کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ”گستاخ رسول“ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ (۱) پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو عدالت میں گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے ضابطہ اور معیار ثبوت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ متعین کیا جائے کہ توہین رسالت کے جرم کی نوعیت کیا ہے کیونکہ جرم کی نوعیت کے مختلف ہونے سے اس کے اثبات کا طریقہ بھی مختلف ہو جاتا ہے؟ (۲)
”توہین رسالت“ کے جرم کی دو مختلف صورتیں
فقہائے احناف کا موقف یہ ہے کہ ملزم کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے سے اس جرم کی نوعیت پر فرق پڑتا ہے۔ اگر کسی مسلمان نے اس شنیع جرم کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور اس فعل پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو ارتداد کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں، جبکہ غیر مسلم چونکہ مرتد نہیں ہو سکتا اس لیے اگر غیر مسلم اس فعل کا ارتکاب کرے تو اس کے اثرات مختلف ہوں گے۔ (۳)
ارتداد کے قانونی اثرات
پہلے اس شخص کا معاملہ لیجیے جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہو گیا۔
- ۱۔ ارتداد کے احکام میں ایک اہم حکم یہ ہے کہ ارتداد کی سزا چونکہ حد ہے (۴) اس لیے اس کے اثبات کے لیے ایک مخصوص ضابطہ
ہے، جو آگے ذکر کیا جائے گا۔ اس مخصوص ضابطے کے سوا کسی اور طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
- ۲۔ حد کی سزا شبہۃ سے ساقط ہوتی ہے۔ (۵) اب چونکہ حد ارتداد تکفیر کے بعد ہی نافذ کی جاسکتی ہے اس لیے کسی بھی ایسے قول یا
فعل کی بنیاد پر یہ سزا نہیں دی جاسکتی جس کے کفر ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہو۔ (۶) اسی طرح اگر کسی قول یا فعل کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہوں اور ان میں کوئی تعبیر ایسی ہو جس کی رو سے اسے کفر نہ قرار دیا جاسکتا ہو تو اسی تعبیر کو اپنایا
* اسسٹنٹ پروفیسر قانون، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جائے گا۔ (۷) چنانچہ ملزم سے پوچھا جائے گا کہ اس قول یا فعل سے اس کی مراد کیا تھی، الا یہ کہ وہ کفر بواح کا مرتکب ہوا ہو۔ (۸) اگر ملزم کفر سے انکاری ہو تو اس کے انکار کو قبول کیا جائے گا خواہ اس کے خلاف گواہ موجود ہوں کیونکہ اس کے اس انکار کو رجوع اور توبہ سمجھا جائے گا۔ (۹)
- ۳۔ اگر اقرار یا گواہی کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم کا متعلقہ قول یا فعل ارتداد کے زمرے میں آتا ہے تو عدالت اسے توبہ
کے لیے تلقین کرے گی اور سوچ و بچار کے لیے تین دن کی مہلت دے گی۔ (۱۰) اگر وہ اس کے بعد بھی اپنے اس قول یا فعل سے رجوع کر کے اس سے مکمل براءت کا اظہار نہ کرے تب عدالت اسے سزا سنائے گی اور یہ سزا نا قابل معافی ہو گی۔ (۱۱) پوری امت کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس سزا کو نافذ کرے۔ (۱۲)
- ۴۔ چونکہ ارتداد کی سزا حد ہے اس لیے اس کا نفاذ افراد کا کام نہیں، بلکہ حکومت کا کام ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
- ۵۔ کسی شخص کے مرتد ثابت ہو جانے کے بعد اس کی عائلی زندگی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً اس کی بیوی اس کے
لیے حرام ہو جاتی ہے (۱۳) اور ارتداد کے بعد وہ جس مال کا مالک بنا ہو وہ اس کی موت کے بعد اس کے ورثا کو نہیں ملے گا۔ (۱۴)
اگر ذمی توہین رسالت کا ارتکاب کرے
اگر ملزم غیر مسلم ہو تو اس فعل کو کفر میں اضافہ کہا جائے گا لیکن ظاہر ہے کہ اس کو ارتداد نہیں کہا جا سکتا۔ (۱۵) چنانچہ فقہا اس مسئلے کو ارتداد کے بجائے نقض ذمہ کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں اور یہ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔
فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ نہیں ٹوٹتا۔ (۱۶) تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فعل شنیع کے ارتکاب پر ذمی کو سزا نہیں دی جاسکے گی۔ بہ الفاظ دیگر ان کا موقف یہ ہے کہ اس فعل سے ذمی کا دارالاسلام میں سکونت کا حق ختم نہیں ہو جاتا لیکن چونکہ یہ فعل دارالاسلام کے ملکی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے اسے سزا دی جاسکے گی۔ اس قسم کی سزا کو فقہائے احناف سیاسۃ کہتے ہیں۔ (۱۷)
حد اور سیاسۃ میں فرق
حد اور سیاسۃ میں کئی لحاظ سے فرق ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بنیادی فرق واضح کر دیا جائے۔
اسلامی قانون کی اصطلاح میں حد کی سزا کا تعلق حق اللہ سے ہے۔ (۱۸) حق اللہ قرار دینے کے کئی اہم نتائج ہیں:
- ۱۔ حد کی سزا قیاس اور رائے سے نہیں بلکہ نص کے ذریعے مقرر کی گئی ہے جس میں کمی وبیشی کا اختیار ریاست کے پاس نہیں ہے۔ (۱۹)
- ۲۔ حد کی سزا شبہۃ سے ساقط ہو جاتی ہے اور شبہۃ سے مراد صرف یہ نہیں کہ جرم کے ثبوت کے متعلق جج کے ذہن میں کوئی ابہام پایا
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۹۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
جاتا ہے۔ جس کا فائدہ (Benefit of the Doubt) وہ ملزم کو دے دیتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر ملزم کے ذہن میں اس فعل کے قانونی جواز کے متعلق کوئی ابہام، یقیناً یا فرضاً پایا جاتا تھا تو اس کی وجہ سے اسے حد کی سزا نہیں دی جا سکے گی۔ (۲۰)
- ۳۔ حد کی سزا کے اثبات کے لیے صرف دو ہی طریقے ہیں، کسی تیسرے طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا : ایک مجرم کی
جانب سے عدالت کے سامنے آزادانہ اقرار جرم اور دوسرا اس کے خلاف گواہی جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق ہو۔ (۲۱) وہ مخصوص نصاب یہ ہے کہ حد زنا کے ماسوا تمام حدود میں کم سے کم دو ایسے مسلمان عاقل بالغ مرد گواہی دیں جن کا کردار بے داغ ہو۔ (۲۲) حد زنا کے اثبات کے لیے باقی شروط تو یہی ہیں لیکن گواہوں کی تعداد چار ہونی چاہیے۔ (۲۳)
- ۴۔ حد کی سزا کی معافی کا اختیار نہ متاثرہ فرد کے پاس ہے اور نہ ہی حکومت یا ریاست کے پاس۔ (۲۴)
سیاسة کی سزا کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں حق الامام کہتے ہیں۔ (۲۵) حق الامام قرار دینے کے اہم نتائج یہ ہیں :
- ۱۔ اس سزا کی کوئی کم یا زیادہ حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دیا ہے اور حکومت اس کی
بعض شنیع صورتوں میں سزائے موت بھی مقرر کر سکتی ہے۔ (۲۶)
- ۲۔ یہ سزا فعل کے قانونی جواز کے متعلق ملزم کے ذہن میں پائے جانے والے ابہام کی بنا پر ساقط نہیں ہوسکتی۔ (۲۷)
- ۳۔ اس جرم کے اثبات کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہے بلکہ جس طرح کا ثبوت عدالت کو فعل کے وقوع کے بارے میں مطمئن
کردے وہ قابل قبول ہے اور اس کی بنا پر مناسب سزا دی جاسکتی ہے۔ (۲۸)
- ۴۔ اس سزا کی معافی کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔ (۲۹)
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا ایک صورت میں حد ہے اگر فعل کا مرتکب اس فعل کے ارتکاب سے پہلے مسلمان ہو، اور دوسری صورت میں سیاسة ہے اگر اس فعل کا مرتکب پہلے ہی سے غیر مسلم ہو۔
اب آئیے توہین رسالت کے جرم کی ہر دو صورتوں کی سزا کے نفاذ کی طرف۔
حدود کا استیفاء حکمران کا حق ہے۔
فقہا نے تصریح کی ہے کہ حدود کا استیفاء حکمران کا حق ہے۔ اس لیے اصولی طور پر حدود کا نفاذ حکمران کے ماسوا کوئی اور شخص نہیں کر سکتا۔ (۳۰)
اسی اصول پر طے کیا گیا ہے کہ اگر ملک کا سب سے برتر حکمران حد کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی کیونکہ وہ خود اپنے اوپر حد کا نفاذ نہیں کر سکتا اور کسی اور کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حد نافذ کرے۔ (۳۱)
تاہم اگر عدالت میں ثابت ہو جائے کہ کسی شخص نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے بعد کوئی اور شخص اپنی جانب سے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس مجرم پر سزا کا نفاذ کرے تو اس صورت کو فقہا افتیات کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں۔ افتیات سے مراد یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی جانب سے حد کا نفاذ کر کے حکمران کا حق ضائع کر دیا ہے اور اس طرح فساد کا مرتکب ہوا ہے۔ (۳۲)
اس کی تعبیر کے لیے آج کل ہم ”قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا“ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں۔
قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حد کی سزا کا نفاذ
اگر کسی شخص نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر حد کے مجرم کو سزا دی تو فقہا یہاں دو صورتیں ذکر کرتے ہیں:
ایک یہ کہ اس نے حد کے بجائے کچھ اور سزا دی تو ظاہر ہے کہ وہ فساد کا مرتکب ہوا اور اس لیے مناسب سزا کا مستحق بھی ہے۔ (۳۳)
دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے حد کی مقررہ سزا ہی دی اور سزا کے نفاذ کی شروط کا لحاظ رکھا، تب بھی افتیات کے مرتکب اس شخص کو حق الامام کی پامالی، یا بہ الفاظ دیگر فساد کے ارتکاب پر حکمران مناسب سزا دے سکتا ہے۔ (۳۴)
یہ سزا چونکہ حق الامام میں دی جائے گی اس لیے اس پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو سیاسۃً دی جانے والی سزا کے لیے ہیں۔ (۳۵)
واضح رہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں پہلے سے ہی ثابت ہو کہ قانون ہاتھ میں لے کر جس شخص کو سزا دی گئی اس نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگر پہلے یا بعد میں اس کا جرم ثابت نہیں کیا جاسکا تو پھر قانون ہاتھ میں لینے والا یہ شخص اس عدوان (ظلم) کے لیے الگ سزا کا مستحق ہوگا جو اس نے اس شخص پر کیا تھا۔ (۳۶)
گستاخ رسول کے معاملے میں چونکہ حد ارتداد کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے مقررہ حد سزائے موت ہے۔ پس اگر افتیات کے مرتکب شخص نے کسی شخص کو گستاخ رسول سمجھ کر قتل کر دیا اور اس نے عدالت میں مقررہ ضابطے پر ثابت کر دیا کہ مقتول واقعی گستاخ رسول تھا، تو اس صورت میں اسے قصاصاً سزائے موت نہیں دی جاسکے گی کیونکہ مقتول مرتد ہونے کی وجہ سے مباح الدم تھا۔ البتہ افتیات کے ارتکاب کی وجہ سے قاتل کو مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی۔
اگر مقتول کو مقررہ ضابطے پر گستاخ رسول اور مرتد ثابت نہ کیا جاسکا تو قاتل کو مومن کے قتل عمد کا ذمہ دار ٹھہرا کر قصاصاً سزائے موت دی جائے گی۔ نیز اسے فساد کے ارتکاب کی وجہ سے سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی دی جاسکے گی۔
سیاسۃ کا استیفاء بھی حکمران کا حق ہے۔
سیاسۃ کی سزا چونکہ حق الامام میں دی جاتی ہے اس لیے اس کا استیفاء بھی حکمران ہی کا حق ہے۔ (۳۷)
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والا پہلے ہی سے غیر مسلم تھا تو اسے دی جانے والی سزا حد ارتداد نہیں،
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد
بلکہ سیاسۃ ہے۔ یہ بھی مذکور ہوا کہ سیاسۃ دی جانے والی سزا کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے بلکہ اسے حکمران اور عدالت کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ اس غیر مسلم کو سزائے موت ہی دی جائے۔ باقی اصول وہی ہیں جو اوپر حد کے سلسلے میں ذکر ہوئے۔
چنانچہ اگر کسی شخص نے کسی غیر مسلم کو گستاخ رسول قرار دیتے ہوئے قتل کر دیا تو دیکھا جائے گا:
اگر مقتول کا جرم ثابت تھا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی تو اس کے قاتل سے قصاص نہیں لیا جاسکے گا لیکن قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اسے مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی۔
اگر مقتول کا گستاخ رسول ہونا ثابت نہیں کیا جاسکا، یا اسے سزائے موت کے بجائے کوئی اور سزا دی گئی تھی، یا اس کی سزا میں تخفیف یا معافی کی گئی تھی، اور اس کے باوجود اسے قتل کر دیا گیا، تو ان تمام صورتوں میں چونکہ وہ مباح الدم نہیں تھا اس لیے اس کے قاتل سے قصاص لیا جائے گا اور اسے سیاسۃ مزید سزا بھی دی جاسکے گی۔
خلاصہ بحث
- ۱۔ کسی شخص کو اس وقت تک ”گستاخ رسول“ قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک مقررہ شرعی ضابطے پر اس کا جرم ثابت نہ ہو۔
- ۲۔ اگر گستاخ رسول اس جرم سے پہلے مسلمان تھا تو اس کے اس جرم پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا اور اگر وہ پہلے ہی غیر مسلم تھا تو
پھر اس فعل پر سیاسۃ کے احکام کا اطلاق ہوگا۔
- ۳۔ حد ارتداد کو ملزم کے اقرار یا دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی، جن کا کردار بے داغ ہو، سے ہی ثابت کیا جاسکتا ہے، جبکہ
سیاسۃ کو عورتوں اور غیر مسلموں کی گواہی، نیز قرائن اور واقعاتی شہادتوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔
- ۴۔ پہلی صورت میں سزا بطور حد موت ہے لیکن سزا کے نفاذ سے پہلے عدالت مجرم کو توبہ کے لیے کہے گی اور اگر عدالت اس کی توبہ
سے مطمئن ہو تو اس کی سزا ساقط کر دے گی۔ دوسری صورت میں کوئی مقررہ سزا نہیں ہے بلکہ جرم کی شدت و شناعت اور مجرم کے حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت مناسب سزا سنائے گی، جو بعض حالات میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔ سیاسۃ دی جانے والی سزا کو حکومت معاف کرسکتی ہے اگر مجرم کا طرز عمل تخفیف کا متقاضی ہو۔
- ۵۔ حد ارتداد حق اللہ ہے اور سیاسۃ کی سزا حق الامام ہے، اور حنفی فقہا کے مسلمہ اصولوں کے مطابق حقوق اللہ اور
حقوق الامام دونوں سے متعلق سزاؤں کا نفاذ حکومت کا کام ہے۔
- ۶۔ اگر کسی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے شخص کو قتل کیا جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہو گیا تھا
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اور اس کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت ہوا تھا، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اس قاتل کو سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی۔ اگر مقتول کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت نہیں ہوا تھا تو سیاسۃ کے علاوہ قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی۔
- ۷۔ اگر مقتول پہلے سے ہی غیر مسلم تھا اور اس کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا تھا، یا اسے عدالت کی جانب سے سزائے موت نہیں
سنائی گئی تھی، یا اس سزا میں تخفیف کی گئی تھی، تو قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی اور سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی دی جاسکے گی۔ اگر مقتول کا جرم بھی ثابت تھا اور اسے سزائے موت بھی سنائی گئی تھی، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر تادیب کے لیے اسے سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی۔
هذا ما عندي ، و العلم عند الله ۔
اللّهم أرنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعه ، و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابه ۔
حواشی
- ۱۔ یہ اسلامی قانون کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ جب تک باقاعدہ عدالتی کاروائی کے نتیجے میں کسی شخص کے خلاف دعویٰ ثابت نہ ہو جائے اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا
جاسکتا کیونکہ الأصل براءة الذمة ۔ (شہاب الدین السید احمد بن محمد الحموی، غمز عیون البصائر شرح كتاب الأشباه و النظائر (بیروت ۔ دار الکتب العلمیہ ، ۱۹۸۵م ) ۔ ج ۱، ص ۲۰۳۔ دراصل یہ قاعدہ ایک اور بنیادی قاعدے الیقین لا یزول بالشک کا لازمی نتیجہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: مصدر سابق۔ ص ۱۹۳۔۲۴۵۔
- ۲۔ جیسا کہ آگے ہم واضح کریں گے، اسلامی قانون کی رو سے حدود، قصاص، تعزیر اور سیاسۃ میں سے ہر ایک کے اثبات کے لیے مختلف نصاب وضع
کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے ہر جرم اقرار سے ثابت ہوتا ہے لیکن حدِ زنا میں اقرار کا طریقہ دیگر جرائم میں اقرار کے طریقے سے کسی قدر مختلف ہے ۔ پھر ان میں سے ہر جرم شہادت سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن شہادت کا نصاب مختلف جرائم کے لیے مختلف ہے۔
- ۳۔ اس موضوع پر خاتمۃ المحققین علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی کی معرکۃ الآراء تحقیق کے لیے ان کا رسالہ دیکھئے:تنبیہ الولاة و الحکام علی أحکام
شاتم خیر الأنام أو أحد أصحابه الکرام علیه و علیهم الصلاة و السلام ۔ انھوں نے اس رسالے میں اس مسئلے کے ہر پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور متعدد متون، شروح اور فتاویٰ کا تجزیہ کر کے یہی نتیجہ نکالا ہے۔ (مجموعة رسائل ابن عابدین (دمشق: المطبعة الهاشمية، ۱۳۲۵ھ ) ۔ ج ۱، ص ۳۱۳۔۳۷۰۔
- ۴۔ علامہ ابن عابدین نے ارتداد کی سزا کے حد ہونے پر بھی تفصیلی بحث کی ہے۔ چنانچہ پہلے وہ مرتد اور عام کافر میں چند فروق ذکر کرتے ہیں۔ مثال کے
طور عام کافر کو ذمی بنا کر اس پر جزیہ عائد کیا جاسکتا ہے اور اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جبکہ مرتد کو ذمی نہیں بنایا جاسکتا اور اگر اس نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا تو اسے قتل کیا جائے گا۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قتل مرتد کی علت کفر نہیں بلکہ کفر کی خاص شکل ۔ مسلمان کی طرف سے ارتداد ہے اور ارتداد کی یہ سزا بطور حق اللہ واجب ہے۔ لہٰذا مرتد کی سزائے موت حد ہے خواہ حنفیہ میں فقہائے احناف نے کتاب الحدود
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
میں اس کا ذکر نہ کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ متقدمین بھی ارتداد کے لئے ان ساری صفات کے قائل ہیں جو حد کی ہیں۔ (مجموعة رسائل ابن عابدين ـ ج ۱، ص ۳۱۸۔۳۱۹)
یہاں ابن عابدین اس شبہے کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر یہ سزا حد ہے تو پھر یہ توبہ سے ساقط کیسے ہوتی ہے؟ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں:
كون قتل المرتد حداً لم يجب لخصوص الردة ، بل وجب لها و لارادته البقاء على الكفر ـ و العلة ذات الجزئين تنتفى بانتفاء أحدهما ـ فلا تبقى الردة موجبة للقتل وحدها بعد العود الى الاسلام لأن القتل جزاء الفعلين معاً ـ (ایضاً، ص ۳۱۹)
[ مرتد کی بطور حد سزاے موت کی وجہ خاص فعل ارتداد نہیں ہے بلکہ فعل ارتداد کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا سبب اس کا کفر پر قائم رہنے کا ارادہ ہے۔ اور ایسی علت جو دو اجزا پر مشتمل ہو وہ ان میں کسی ایک کے بھی نہ ہونے کی صورت میں موجود نہیں رہتی۔ پس اس کے اسلام کی طرف لوٹ آنے کے بعد تنہا ارتداد سزاے موت کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ سزاے موت بیک وقت دو افعال کی جزا تھی۔ ]
وہ مزید کہتے ہیں کہ عام قاعدے کے تحت تو بقیہ حدود کی طرح چاہیے تھا کہ یہ حد بھی توبہ سے ساقط نہ ہوتی لیکن کئی آیات واحادیث میں صراحتاً قرار دیا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے پر پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس لئے فقہا نے اسے عام قاعدے سے استثنا قرار دیا ہے۔ (فایضاً) اسی طرح اس سزا پر یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے کہ اگر یہ حد ہے تو پھر مرتد عورت پر کیوں نہیں نافذ کی جاتی کیونکہ کئی روایات میں صراحتاً کافر عورتوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ ممانعت بھی ایک استثنائی حکم ہے۔ (ایضاً)
- ۵۔ فقہا جب شبهة کے نتیجے میں حدود سزاؤں کے سقوط کی بحث کرتے ہیں تو اس سے وہ ”شک کا فائدہ“ (Benefit of the Doubt) مراد
نہیں لیتے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد فعل کے مرتکب کو امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں لاحق ہونے والی خطا (Mistake of Law or of Fact) ہوتی ہے۔ جرم کے ثبوت کے متعلق اگر جج کے ذہن میں کوئی شک ہے تو اس کا فائدہ تو لازماً ملزم کو دینا چاہیے، اسلامی قانون کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم امر قانونی کے سمجھنے میں خطا کو انگریزی قانون کوئی عذر نہیں سمجھتا، جبکہ اسلامی قانون نے حدود سزاؤں میں، جو کہ حقوق اللہ سے متعلق ہیں، اسے عذر مانا ہے اور اس کی بنا پر حد کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔ جو سزائیں حقوق اللہ سے متعلق نہیں ہیں ان میں شبهة کا یہ اثر نہیں ہوتا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے : Imran Ahsan Khan Nyazee, General Principles of Criminal Law: Western and Islamic (Islamabad: Advanced Legal Studies Institute, 1998), 142-43.
- ۶۔ علامہ علاء الدین محمد بن علی الحصکفی فرماتے ہیں:
لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن ، أو كان في كفره اختلاف ، ولو رواية ضعيفه ـ (رد المحتار على الدر المختار (القاهرة: مصطفى البابی الحلبی، تاریخ ندارد)۔ ج ۳، ص ۴۱۶)
[ مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا اگر اس کے کلام کی بہتر تاویل ممکن ہو، یا اس کے کفر میں اختلاف ہو، خواہ اختلاف ضعیف روایت سے مروی ہو۔ ]
علامہ خیر الدین الرملی نے وضاحت کی ہے کہ اگر کسی بات کے کفر ہونے کے متعلق ہمارے مسلک میں کوئی اختلافی روایت نہ ہو لیکن کسی دوسرے مسلک میں وہ کفر کی موجب نہ ہو تب بھی کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ اس کی تائید میں ابن عابدین تکفیر کے لیے اس مسلمہ شرط کا ذکر کرتے ہیں:
و يدل على ذلك اشتراط كون ما يوجب الكفر مجمعاً عليه ـ (ایضاً)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
[اس کی دلیل یہ ہے کہ کسی بات کے موجب کفر ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس پر اجماع ہو۔]
- ۷۔ ملا علی القاری فرماتے ہیں:
المسئلة المتعلقة بالكفر اذا كان لها تسع و تسعون احتمالاً للكفر ، و احتمال واحد في نفيه ، فالأولى للمفتي والقاضي أن يعمل بالاحتمال النافي ، لأن الخطاء فى ابقاء ألف كافر أهون من الخطاء فى افناء مسلم واحد ۔(شرح الفقه الأكبر ( کراچی: محمد سعید اینڈ سنز، تاریخ ندارد ) ، ص ۱۹۵)
[ کفر سے متعلق مسئلے میں اگر ننانوے احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال کفر کی نفی کا ہو تو مفتی اور قاضی کو چاہیے کہ کفر کی نفی کے احتمال پر عمل کرے کیونکہ ایک ہزار کافروں کے باقی چھوڑنے کی غلطی ایک مسلمان کے قتل کرنے کی غلطی کی بہ نسبت ہلکی غلطی ہے۔]
- ۸۔ چنانچہ جن نصوص میں قرار دیا گیا ہے کہ کفر کی موجب کوئی بات کہنے والے شخص کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ اسے اس بات کے کفر ہونے کا علم نہیں
تھا، بلکہ اسے تجدید ایمان کے لیے کہا جائے گا، ان کا محل یہی ہے کہ جب بات بالکل صریح اور قطعی طور پر موجب کفر ہو، اور اس کی بہتر تاویل ممکن نہ ہو، تو اسے کفر ہی سمجھا جائے گا۔ (رد المحتار ۔ ج ۳،ص۳۱۶)
- ۹۔ کمال الدین محمد ابن الہمام الاسکندری نے صراحت کی ہے:
اذا شهدوا على مسلم بالردة ، وهو منكر ، لا يتعرض له ، لا لتكذيب شهود العدول ، بل لأن انكاره توبة و رجوع ۔ ( فتح القدير على الهداية شرح بداية المبتدى ( القاهرة : دار الكتب العربية ، ۱۹۷۰ء ) ، ج ۵، ص۳۳۲)
[ اگر گواہ کسی مسلمان کے ارتداد کی گواہی دیں، اور وہ اس سے انکاری ہو، تو اس کے خلاف کاروائی نہیں کی جائے گی، اس لیے نہیں کہ سچے گواہوں کو جھوٹا سمجھا جائے گا، بلکہ اس لیے کہ ملزم کے انکار کو توبہ اور رجوع سمجھا جائے گا۔ ]
- ۱۰۔ فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ مرتد کو توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ (الهداية ۔ ج ۲، ص ۴۰۶) تاہم اگر اسے توبہ کے لیے کہے بغیر ہی سزائے موت
دے دی گئی تو اس سزا کو غلط نہیں سمجھا جائے گا، اگرچہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (ایضاً) ابن عابدین نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ احناف کا موقف یہی ہے کہ مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس پر ارتداد کے احکام لاگو ہوتے ہیں جن میں ایک حکم یہ ہے کہ اسے توبہ کے لئے کہا جائے گا اور اگر اس نے توبہ کی تو وہ مقبول ہوگی۔ (مجموعة رسائل ابن عابدین ۔ ج ۱، ص ۳۲۰۔۳۳۸) انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ توبہ کی قبولیت سے مراد یہ ہے کہ اسے دنیوی سزا نہیں دی جائے گی ، باقی رہی آخرت کی سزا تو وہ اللہ اور اس کا معاملہ ہے۔
معنى قبول التوبة عندنا سقوط القتل عنه فى الدنيا ، و نجاته من العذاب فى الآخرة ان طابق باطنه ظاهره ۔ (ایضاً،ص۳۳۲)
[توبہ کی قبولیت کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس سے دنیا میں سزائے موت ساقط ہو جائے گی اور آخرت میں وہ نجات پائے گا، اگر اس کا باطن اس کے ظاہر کے مطابق ہو۔ ]
و أما الحكم الأخروى فانه مبنى على حسن العقيدة و صدق التوبة باطناً ، و ذلك مما يختص بعلمه علام الغيوب جلّ و علا ۔ (ايضاً)
[جہاں تک اخروی حکم کا تعلق ہے تو وہ باطنی طور پر صحیح عقیدے اور سچی توبہ پر منحصر ہے، جس کا علم صرف خفیہ رازوں کے جاننے والے بزرگ و برتر خدا کے پاس ہے۔]
- ۱۱۔ حق جس کا ہوتا ہے اس کے پاس معافی کا اختیار بھی ہوتا ہے۔ کسی کام کو حق اللہ قرار دینے کا قانونی نتیجہ یہ ہے کہ اس میں معافی کا اختیار اللہ کے
سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا، حتی کہ معاشرہ یا حکمران بھی اسے معاف نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ملک العلماء علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی یہ ثابت کرنے
تحفظ ناموس رسالت نمبر ۱۰۱ سہ ماہی "مجلہ تعلیم و تحقیق" اسلام آباد
کے بعد کہ قذف یا تو خالصتاً حق اللہ ہے یا اس میں حق اللہ غالب ہے، قرار دیتے ہیں:
و اذا ثبت أن حد القذف حق اللہ تعالى خالصاً أو المغلب فيه حقه فنقول : لا يصح العفو عنه ، لأن العفو انما يكون من صاحب الحق ، و لا يصح الصلح و الاعتياض ، لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ، و لا يجرى فيه الارث ، لأن الارث انما يجرى فى المتروک من ملک أو حق للمورث ... و لم يوجد شيء من ذلک فلا يورث ، و يجرى فيه التداخل ۔
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، تحقیق علی المعوض وعادل أحمد عبدالموجود (بیروت: دار الكتب العلمية، ۲۰۰۳ء)، ج ۹، ص ۲۵۰)
[ اور جب یہ ثابت ہوا کہ حد قذف اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، یا اس میں غالب حق اللہ کا ہے تو ہم کہتے ہیں (کہ اس کے نتائج یہ ہیں): کہ اس کا معاف کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ معافی صاحب حق کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسی طرح اس میں صلح یا عوض قبول کرنا بھی صحیح نہیں، کیونکہ کسی اور کے حق کا عوض لینا (یا کسی اور کے حق پر صلح کرنا) صحیح نہیں۔ اور اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی، کیونکہ وراثت تو مورث کی چھوڑی ہوئی ملکیت یا حق میں جاری ہوتی ہے۔۔۔ اور اس قسم کی کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی، اس لئے اس میں وراثت نہیں ہوتی ۔ اور اس میں تداخل جاری ہوتی ہے (یعنی ایک ہی نوعیت کے کئی جرائم کے ارتکاب پر ایک ہی سزا ملتی ہے)۔]
- ۱۲۔ انگریزی قانون میں حقوق کو بنیادی طور دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے : انفرادی حق (Private Right) اور اجتماعی حق (Public
Right)۔ اس تقسیم سے لاشعوری طور پر متاثر ہونے کے سبب سے کئی لوگوں نے قرار دیا کہ اسلامی قانون میں حق العبد سے مراد Private Right اور حق اللہ سے مراد Public Right ہے۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ بعض اوقات فقہا حق السلطان یا حق الامام کی بھی بات کرتے ہیں تو انہوں نے قرار دیا کہ حق الامام اور حق اللہ ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو دیگر کئی سنگین غلطیوں کا باعث بنی ہے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، حق جس کا ہوتا ہے اسے جرم کی معافی کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ اگر حقوق اللہ اور حقوق الامام ایک ہی ہوتے تو پھر جن جرائم کو حقوق اللہ سے متعلق سمجھا جاتا ہے (حدود) ان میں ریاست کے پاس معافی کا اختیار ہوتا۔ اس غلط فہمی کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات فقہا کی بعض عبارات کا محض ایک سرسری جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کا باقاعدہ قانونی تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر امام کاسانی نے لکھا ہے:
و کل جناية يرجع فسادها الى العامة و منفعة جزائها يعود الى العامة كان الجزاء الواجب بها حق اللہ عز شأنه على الخلوص ۔ (ایضاً، ص ۲۴۹)
[اور ہر وہ جرم جس کے مفاسد عامۃ الناس تک پہنچیں اور اس کی سزا کے فوائد بھی عامۃ الناس کو پہنچیں، اس کی واجب سزا اللہ عز شانہ کا خالص حق ہے۔]
اس سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ بعض جرائم کو حق اللہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان کا اثر مجتمع پر پڑتا ہے، یا بہ الفاظ دیگر اجتماعی حق اور حق اللہ مترادف ہیں۔ تاہم معمولی غور سے بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اس عبارت کا صحیح مفہوم نہیں ہے ۔ جملے کے آخر میں ان الفاظ کے معا بعد امام کاسانی خود واضح کر دیتے ہیں کہ کسی کام کو حق اللہ کہنے کا نتیجہ کیا ہے:
تأکیداً للنفع و الدفع ، کی لا یسقط باسقاط العبد ، و هو معنی نسبة هذه الحقوق الی اللہ تبارک و تعالی ۔ (ایضاً)
[ تا کہ اس کے فوائد کا حصول اور مفاسد کی روک تھام یقینی ہو، تاکہ وہ سزا بندے کے ساقط کرنے سے ساقط نہ ہو، اور یہی مفہوم ہے ان حقوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا۔]
پس پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ یہ حدود اللہ ضائع نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ کے حقوق ہیں جن کے نفاذ کے لیے پوری امت اجتماعی طور پر اور ہر ہر
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
مسلمان انفرادی طور پر اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔
- ۱۳۔ امام ابو حنیفہ کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم نے تصریح کی ہے:
و أيما رجل مسلم سبّ رسول الله ﷺ ، أو كذّبه ، أو عابه ، أو تنقصه ، فقد كفر بالله تعالى ، و بانت منه امرأته ۔ فان تاب ، و الا قتل ۔
(كتاب الخراج (بيروت: دارالمعرفة للطباعة والنشر ، ۱۹۷۹م)۔ص۱۸۲)
[ جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، یا ان کی تکذیب کرے، یا ان کی عیب جوئی کرے، یا ان کی شان میں تنقیص کرے، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے کفر کا ارتکاب کیا اور اس کی بیوی بائن ہوگئی۔ پس اگر اس نے توبہ کی تو بہتر ، ورنہ اسے سزائے موت دی جائے گی ۔ ]
- ۱۴۔ اگر مرتد حالت ارتداد میں ہی مر جائے یا اسے سزائے موت دی جائے تو جس مال کا مالک وہ ارتداد سے قبل بنا تھا، وہ اس کے ورثاء کو منتقل ہو جائے گا،
اور جو مال ارتداد کے بعد اس نے حاصل کیا اس پر فے کے احکام کا اطلاق ہوگا۔ (برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانی، الهداية فی شرح
بداية المبتدی (بيروت: دار احياء التراث العربی، ۱۹۹۵م)۔ ج۱،ص۴۰۷۔)
- ۱۵۔ امام کاسانی فرماتے ہیں:
لو سبّ النبی ﷺ لا ينتقض عهده لأن هذا زيادة كفر علی كفر ، و العقد يبقى مع أصل الكفر فيبقى مع الزيادة ۔ (
بدائع الصنائع ـ ج۹،ص۴۴۷۔۴۴۸)
[ اگر ذمی نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو اس کا عقد ذمہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ کفر پر مزید کفر کا اضافہ ہے، اور عقد جب اصل کفر کے ساتھ باقی تھا تو اضافے کے ساتھ بھی باقی رہے گا۔ ]
- ۱۶۔ صاحب ہدایہ کے الفاظ قابل غور ہیں:
ان سبّ النبی ﷺ كفر ، و الكفر المقارن لا يمنعه ، فالطارئ لا يرفعه ۔
(الهداية ـ ج۱،ص۳۰۵)
[ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کفر ہے، اور جب عقد ذمہ کے وقت موجود کفر اس عقد کے انعقاد سے مانع نہیں تھا تو عقد کے بعد طاری ہونے والا کفر اس عقد کو ختم بھی نہیں کرسکتا۔ ]
علامہ ابن الہمام نے حنفی مذہب کے اس موقف سے مختلف رائے اپنائی ہے۔ وہ کہتے ہیں: و الذی عندی أن سبّه ﷺ أو نسبة ما لا ينبغی الی الله تعالیٰ ان كان مما لا يعتقدونه كنسبة الولد الی الله تعالیٰ و تقدس عن ذلك اذا أظهره يقتل به ، و ينتقض عهده ـ و ان لم يظهر و لكن عثر عليه و هو يكتمه فلا ۔
( فتح القديرـ ج۵،ص۳۰۳)
[ میری رائے یہ ہے کہ اگر وہ علانیہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی یا اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات کی نسبت کرے جو ان کے اعتقاد کا حصہ نہ ہو، جیسے اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ اس کی شان اس سے اونچی اور پاک ہے، تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر وہ اس کا اظہار نہ کرے بلکہ اسے ایسی حالت میں پکڑا گیا جب کہ وہ چوری چھپے یہ کر رہا تھا تو نہیں ۔ ]
اس پر نقد کرتے ہوئے خیر الدین الرملی کہتے ہیں: ان ما بحثه فی النقض مسلّم مخالفته للمذهب ، و أما ما بحثه فی القتل فلا ۔
( رد المحتار ـ ج ۳،ص۳۰۵)
[ جو تحقیق اس نے عہد ٹوٹ جانے کے متعلق کی ہے اس کا مذہب حنفی کے خلاف ہونا مسلم ہے، البتہ جو تحقیق اس نے سزائے موت کے متعلق کی ہے وہ مذہب حنفی کے خلاف نہیں ہے ۔ ]
سہ ماہی ”مجله تعليم و تحقيق“ اسلام آباد ۱۰۳ تحفظ ناموس رسالت نمبر
ابن عابدین نے ابن الہمام کے دفاع میں اس قول کی تاویل اس طرح کی ہے کہ اظہار سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے عادت بنالے یا کھلے عام گستاخی کا ارتکاب کر کے متمرد اور مفسد بن جائے۔ (ایضاً ، ص ۳۰۶) تاہم اس تاویل کے باوجود ابن الہمام کا قول حنفی مذہب کے مطابق نہیں ہے کیونکہ بات اگر صرف قتل کے جواز تک ہوتی تو ٹھیک تھی لیکن وہ عقد ذمہ ٹوٹ جانے کے بھی قائل ہیں۔ اسی وجہ سے الخیر الرملی کی بات صحیح ہے کہ عقد ذمہ ٹوٹنے کی بات درست نہیں ہے، البتہ قتل کے جواز کی بات صحیح ہے۔
شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ الحرانی نے توہین رسالت کی سزا کے متعلق اپنی شہرۂ آفاق کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں احناف کے موقف کی وضاحت اس طرح کی ہے:
و أما أبو حنيفة و أصحابه فقالوا: لا ينتقض العهد بالسبّ ، و لا يقتل الذمی بذلك ، لكن يعزر علی اظهار ذلك ، كما يعزر علی اظهار المنکرات التی ليس لهم فعلها ... و من أصولهم أن ما لا قتل فيه عندهم مثل القتل بالمثقل ، و الجماع فی غير القبل ، اذا تكرّر فللامام أن يقتل فاعله ، و كذلك له أن يزيد علی الحد المقرر اذا رأی المصلحة فی ذلك ، و يسمونه القتل سياسة ، و كان حاصله أن له أن يعزر بالقتل فی الجرائم التی تغلظت بالتكرار و شرع القتل فی جنسها ۔
(الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، دراسة وتحقیق محمد بن عبد اللہ بن عمر الحلوانی ومحمد کبیر أحمد شودری (الریاض : سلسلة الرسائل الجامعية، ۱۹۹۷ء ) ۔ ج ۲، ص ۳۱)
[ جہاں تک ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے ان کی رائے یہ ہے کہ شتم رسول سے ذمی کا عہد نہیں ٹوٹتا ، اور اس جرم پر اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس کے اظہار پر اسے تعزیر دی جائے گی ، جیسے انہیں دیگر ناجائز کاموں پر تعزیری سزا دی جاسکتی ہے جن کے کرنے کی ان کو قانوناً اجازت نہیں ہوتی ۔۔۔ اور احناف کے اصولوں میں ہے کہ جس جرم میں ان کے نزدیک سزائے موت نہ ہو ، جیسے بھاری پتھر سے کسی کو قتل کرنا یا غیر فطری طریقے سے جماع ، تو جب اس طرح کا جرم بار بار کیا جائے تو امام اس کے کرنے والے کو سزائے موت دے سکتا ہے ، اور اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ حد کی مقررہ مقدار سے زائد سزا دے اگر اسے اس میں مصلحت نظر آئے ۔ اور احناف اسے سياسة قتل کے نام سے تعبیر کرتے ہیں ، جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ جرائم جو بار بار کیے جانے کے سبب سے سنگین نوعیت اختیار کر لیں اور جن کی جنس میں سزائے موت مشروع ہو ان میں تعزیر کے طور پر سزائے موت دی جاسکتی ہے ۔ ]
ہماری ناقص رائے میں یہ احناف کے موقف کی بالکل صحیح توجیہ ہے۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین نے رد المحتار میں اس عبارت کو نقل کر کے اس کی تصویب کی ہے۔ (ج ۳، ص ۳۰۵) نیز انہوں نے اپنے رسالے تنبیہ الولاة و الحکام میں اس مسئلے کے ہر پہلو پر تفصیلی بحث کے بعد یہی نتیجہ نکالا ہے۔
- ۱۷۔ علامہ ابن عابدین شامی اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
فالسياسة استصلاح الخلق بارشادهم الی الطريق المنجی فی الدنيا و الآخرة ۔ (رد المحتار ۔ ج ۳، ص ۱۶۲)
[ پس سياسة سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو دنیا و آخرت میں نجات دینے والا راستہ دکھا کر ان کی اصلاح کی جائے۔ ]
اس تعریف کی وضاحت کرتے ہوئے ابن عابدین کہتے ہیں :
و قوله : ( لها حكم شرعی ) معناه انها داخلة تحت قواعد الشرع و ان لم ينص عليها بخصوصها ، فان مدار الشريعة بعد قواعد الايمان علی حسم مواد الفساد لبقاء العالم ۔ (ايضاً)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۰۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
[اس تعریف میں ”جس کے لئے شرعی حکم موجود ہو“ سے مراد یہ ہے کہ سیاست کا اختیار شرعی قواعد کے ماتحت ہوگا خواہ اس کے لئے خصوصی طور پر کوئی نص وارد نہ ہوئی ہو، کیونکہ ایمان کی پختگی کے بعد شریعت کا مدار اسی پر ہے کہ دنیا سے فساد کا خاتمہ کیا جائے۔]
علامہ زین العابدین ابراہیم ابن نجیم نے یہی حقیقت ان الفاظ میں بیان کی ہے:
و ظاهر كلامهم ههنا أن السياسة : هي فعل شيء من الحاكم لمصلحة يراها ، و ان لم يرد بذلك الفعل دليل جزئي ۔
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق (بيروت: دارالمعرفة ، تاریخ ندارد) ۔ ج ۵ ،ص ۱۱)
[یہاں فقہا کے کلام کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ سیاست سے مراد حاکم کا وہ اقدام ہے جو وہ کسی مصلحت کی بنیاد پر اٹھائے خواہ اس مخصوص فعل کے لئے کوئی خاص نص نہ پائی جائے۔]
یوں سیاست کا تصور کافی وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ تاہم بالخصوص فوجداری قانون کے حوالے سے جب اس اصطلاح کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ سزائیں ہیں جو حاکم شرعی قواعد کی روشنی میں فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے مقرر کرتا ہے۔ اس قاعدے کے تحت حکمران کو صرف سزا دینے ہی کا اختیار حاصل نہیں ہے بلکہ جرائم کی روک تھام کے لئے بھی وہ مناسب احتیاطی اقدامات (preventive measures) اٹھا سکتا ہے۔ چنانچہ فقہائے احناف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے نصر بن حجاج کی مدینہ سے جلاوطنی کے اقدام کو بھی سیاست قرار دیتے ہیں کیونکہ اگرچہ نصر نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا لیکن اس بات کا قوی اندیشہ وجود میں آ گیا تھا کہ اس کے حسن کی وجہ سے کوئی خاتون فتنے میں پڑ جائے گی۔ (شمس الائمہ ابو بکر محمد بن ابی سہل السرخسی ، المبسوط ،تحقیق محمد حسن اسماعیل الشافعی (بیروت: دار الکتب العلمیۃ ،۲۰۰۱م) ۔ ج۹،ص۵۲)
تاہم یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ حکمران کا یہ اختیار مطلق نہیں ہے بلکہ اسے عدل کے متعلق اسلامی قانون کے قواعد عامہ کے تحت ہی اس اختیار کا استعمال کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر اس کے اقدام کو سياسة ظالمة قرار دیا جائے گا اور اس حکم کا ماننا جائز نہیں ہوگا۔ ابن عابدین نے ممتاز حنفی فقیہ شہاب الدین الحموی کا قول نقل کیا ہے:
السياسة شرع مغلظ ، و هى نوعان : سياسة ظالمة ، فالشريعة تحرمها ، و سياسة عادلة تخرج الحق من الظالم و توصل الى المقاصد الشرعية ، فالشريعة توجب المصير اليها و الاعتماد فى اظهار الحق عليها - و هى باب واسع ۔ (رد المحتار ۔ ج ۳، ص ۱۶۲)
[سیاست سخت سزا کو کہتے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں: ایک سياسة ظالمة جسے شریعت حرام ٹھہراتی ہے اور دوسری سياسة عادلة جو ظالم سے مظلوم کا حق حاصل کرتی ہے اور مقاصد شریعت کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے، پس شریعت اس سیاست پر عمل کو واجب ٹھہراتی ہے اور حق کے غلبے کے لئے اس پر انحصار کو لازم کرتی ہے۔ اور اس سیاست کا باب بہت وسیع ہے۔]
سیاست اور تعزیر کے تصورات میں موازنہ کرتے ہوئے ابن عابدین کہتے ہیں:
قلت : و الظاهر أن السياسة و التعزير مترادفان - و لذا عطفوا أحدهما على الآخر لبيان التفسير ، كما وقع فى الهداية و الزيلعى و غيرهما - بل ، و اقتصر فى الجوهرة على تسميته تعزيراً ۔۔۔ و قالوا ان التعزير موكول الى رأى الامام - فقد ظهر لك بهذا ان باب التعزير هو المتكفل لأحكام السياسة ۔۔۔ و به علم أن فعل السياسة يكون من القاضى أيضاً ، و التعبير بالامام ليس للاحتراز عن القاضى ، بل لكونه هو الأصل و القاضى نائب عنه فى تنفيذ الأحكام ۔ (ایضاً)
[میری رائے یہ ہے کہ بظاہر سیاست اور تعزیر مترادف ہیں۔ اسی وجہ سے بیان تفسیر کے طرز پر ان کو ایک دوسرے پر عطف کیا جاتا ہے، جیسے ہدایۃ، زیلعی اور دوسری کتابوں میں ہوا ہے۔ بلکہ الجوہرۃ میں تو اسے صرف تعزیر کہنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔۔۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ تعزیر امام کی رائے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کے سپرد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ باب تعزیر ہی سیاسۃ کے احکام پر متضمن ہے اور امام کا ذکر قاضی سے احتراز کے لئے نہیں کیا جاتا، بلکہ اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ امام ہی قاضی کے اختیارات کی اصل ہے اور احکام کے نفاذ میں قاضی اس کا نائب ہے۔]
ابن عابدین بہت بڑے فقیہ تھے اور انہیں بجا طور پر خاتمة المحققین کہا جاتا ہے مگر ہماری ناقص رائے میں سیاسۃ اور تعزیر کو مترادف قرار دینے میں ان سے تسامح ہوا ہے۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ تعزیر اور سیاسۃ کے الفاظ وسعاً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مترادف ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعزیر حقوق العباد میں دی جاتی ہے اور سیاسۃ حقوق الامام میں، اور امام چونکہ امت کا وکیل ہوتا ہے اس لئے حقوق الامام سے مراد دراصل امت کے اجتماعی حقوق ہیں۔ پس تعزیر اور سیاسۃ دونوں درحقیقت حقوق العباد میں ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں میں کوئی بھی سزا شبہۃ کی بنا ساقط نہیں ہو سکتی کیونکہ شبہۃ کی بنا پر صرف حقوق اللہ سے متعلق سزائیں (حدود اور قصاص) ساقط ہوتی ہیں۔ ان کی یہ بات بھی صحیح ہے کہ قاضی کے اختیارات کے لئے اصل امام ہے اس لئے اگر سیاسۃ کو امام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ قاضی کے پاس سیاسۃ کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ درحقیقت قاضی کا اختیار سیاسۃ کے قاعدے میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم اس سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ یہ دونوں مصطلحات مترادف ہیں۔ مخصوص اصطلاحی مفہوم میں ان دونوں کے درمیان کچھ اہم فروق پائے جاتے ہیں:
- الف۔ تعزیر چونکہ فرد کے حق سے متعلق ہوتی ہے اس لئے معافی ، صلح اور ابراء کا حق متاثرہ فرد ہی کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سیاسۃ کا تعلق چونکہ
امام کے حق سے ہوتا ہے اس لئے دیگر حقوق بھی امام کے پاس ہوتے ہیں۔ شمس الائمہ سرخسی نے تصریح کی ہے کہ حکمران کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ فرد کے حقوق کی معافی کرے۔
ليس للامام ولاية اسقاط حقوق العباد ۔ (المبسوط ۔ ج ۱۰ ص ۱۳۹)
[امام کے پاس بندوں کے حقوق ساقط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔]
- ب۔ تنہا عورت کی گواہی یا واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر تعزیری سزا نہیں دی جاسکتی۔ چنانچہ فقہا نے تصریح کی ہے کہ گواہوں کی تعداد کے لحاظ سے
شہادت کے تین مراتب ہیں:
حد زنا کے اثبات کے لئے چار مرد گواہ چاہئیں؛
باقی حدود اور قصاص کے اثبات کے لئے دو مرد گواہ درکار ہیں؛ اور
تعزیر کے اثبات کے لئے وہی معیار ثبوت ہے جو مالی حقوق کے اثبات کے لئے ہے، یعنی دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی۔ (المبسوط ۔ ج ۱۶ ص ۱۳۴؛ الھدایة ۔ ج ۳ ص ۱۱۶۔۱۱۷)
اسی لئے حقیقت یہ ہے کہ تعزیر کا دائرہ کار حد سے کچھ وسیع ہونے کے باوجود درحقیقت نہایت محدود ہے۔ سیاسۃ کے اثبات کے لئے ایسی کوئی قید نہیں ہے، بلکہ قاضی واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر بھی سزا سنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر عہد رسالت میں ایک یہودی کا سر کچلنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ اس نے ایک عورت کا سر بھاری پتھر سے کچل دیا تھا۔ فقہاے احناف اس سزا کو سیاسۃ کہتے ہیں اور یہ سزا اقرار یا شہادت پر نہیں بلکہ قرائن اور واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ (المبسوط ۔ ج ۲۴ ص ۱۲۶)
- ج۔ تعزیر اگر ایسے جرم میں دی جا رہی ہے جس کی جنس میں حد کی سزا مشروع ہو مگر وہ شبہۃ کی بنا پر یا کسی شرط کے فقدان کی وجہ سے نہ دی جاسکتی ہو تو تعزیر
کی مقدار حد سے کم ہوگی۔ چونکہ حدود میں کم سے کم سزا غلام کے لئے شرب خمر ۔ چالیس کوڑے کی ہے، اس لئے امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ تعزیر کی زیادہ سے زیادہ مقدار انتالیس کوڑے ہے۔ (بدائع الصنائع ۔ ج ۹ ص ۲۷۱) ایسی کوئی قید اس سزا کے لئے نہیں ہے جو سیاسۃ دی جائے۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد
چنانچہ سیاسۃً سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے، بلکہ اس سزائے موت کے لئے کوئی عبرتناک طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اوپر یہودی کی سزا کا ذکر ہوا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: محمد مشتاق احمد ، ”آبرو ریزی کے جرم کی شرعی تکییف“ ، معارف اسلامی ، ج ۹، نمبر ۱ (جنوری ۔ جون ۲۰۱۰ء )، ص ۷۳۔۸۰۔
- ۱۸۔ امام کاسانی نے حد کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
عقوبۃ مقدرۃ واجبۃ حقاً للہ تعالیٰ ۔ (ایضاً۔ ص ۱۷۷) [ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ بطور حق اللہ واجب ہے۔]
- ۱۹۔ امام سرخسی نے اس حوالے سے کئی قواعد ذکر کیے ہیں:
الحد بالقیاس لا یثبت ۔ (المبسوط ۔ ج ۹، ص ۱۱۰) [حد قیاس کے ذریعے ثابت نہیں ہوتی۔]
لا مدخل للقیاس فی مقادیر الحدود ، و الزیادۃ علی النص بالقیاس لا تجوز ۔ (ایضاً۔ ج ۱۶، ص ۱۳۳) [حدود کی مقادیر میں قیاس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اور نص پر قیاس کے ذریعے اضافہ جائز نہیں۔] بعینہ اسی طرح حدود کے معاملے میں اپنی جانب سے کسی شرط کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی کسی شرط کو معطل کیا جاسکتا ہے۔ شرط الحد بالرأی لا یمکن اثباتہ ۔ (ایضاً۔ ج ۹، ص ۴۴) [حد کی شرط کا رائے کے ذریعے اثبات ممکن نہیں ہے۔]
- ۲۰۔ Nyazee, General Principles of Criminal Law, 142-43.
- ۲۱۔ امام کاسانی فرماتے ہیں:
الحدود کلھا تظہر بالبینۃ و الاقرار ، لکن عند استجماع شرائطھا ۔ (ج ۹، ص ۲۴۹) [تمام حدود بینہ اور اقرار سے ثابت ہوتے ہیں لیکن اسی وقت جب اس کی تمام شرائط پوری ہوں۔] آگے وہ واضح کرتے ہیں کہ بینۃ سے مراد شہادت ہے اور یہ کہ حدود میں شہادۃ علی الشہادۃ ، کتاب القاضی اور علم القاضی وغیرہ قابل قبول نہیں ہیں۔
- ۲۲۔ نیز اگر ملزم مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے۔ (بدائع الصنائع ۔ ج ۹، ص ۵۶) عورت یا غیر مسلم کی گواہی پر حد کی سزا نہیں دی
جاسکتی۔ یہ خواتین یا غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی نہیں، بلکہ ملزم کے ساتھ تخفیف ہے۔
- ۲۳۔ المبسوط ۔ ج ۱۶، ص ۱۳۳؛ الہدایۃ ۔ ج ۳، ص ۱۱۶۔ ۱۱۷۔
- ۲۴۔ اوپر ہم نے امام کاسانی کے حوالے سے حدود کی صفات ذکر کی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ حد چونکہ حق اللہ ہے اس لیے اس میں معافی کا اختیار نہ متاثرہ
فرد کے پاس ہے، نہ ہی حکمران کے پاس۔ و اذا ثبت أن حد القذف حق اللہ تعالیٰ خالصاً أو المغلب فیہ حقہ فنقول : لا یصح العفو عنہ ، لأن العفو انما یکون من صاحب الحق ، و لا یصح الصلح و الاعتیاض ، لأن الاعتیاض عن حق الغیر لا یصح ۔ (بدائع الصنائع ۔ ج ۹، ص ۲۵۰) [اور جب یہ ثابت ہوا کہ حد قذف اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، یا اس میں غالب حق اللہ کا ہے تو ہم کہتے ہیں ( کہ اس کے نتائج یہ ہیں): کہ اس کا معاف کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ معافی صاحب حق کی طرف سے ہوتی ہے۔ اسی طرح اس میں صلح یا عوض قبول کرنا بھی صحیح نہیں، کیونکہ کسی اور کے حق کا عوض لینا (یا کسی اور کے حق پر صلح کرنا) صحیح نہیں۔]
- ۲۵۔ المبسوط ۔ ج ۹، ص ۹۱۔
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد
تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۶۔ چنانچہ مثال کے طور پر عادی چور، داعی زندیق، جادوگر، ہم جنس پرستی کے عادی شخص اور دیگر مفسدین کی سزائے موت کو فقہاء اتلاف سياسة ہی کہتے ہیں۔ (المبسوط ۔ ج۹،ص۹۰۔۹۱؛ الهداية ۔ ج۲،ص۴۴۶۔۴۴۷؛ رد المحتار ۔ ج۳،ص۱۶۲)
پاکستانی قانون میں گستاخ رسول کی سزا کے ضمن میں مسلمان اور غیر مسلم کے فرق کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور دونوں صورتوں میں سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔ (مجموعہ تعزیرات پاکستان میں پارلیمنٹ نے ۱۹۸۶ء میں دفعہ ۲۹۵۔ ج کا اضافہ کیا جس کی رو سے گستاخ رسول کے لیے سزائے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی تھی اور ساتھ ہی قرار دیا گیا تھا عدالت جرمانہ بھی عائد کر سکتی ہے۔ تاہم اسماعیل قریشی بنام وفاق پاکستان، 1991 PLD 10 FSC ، میں وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دے کر اسے ختم کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے اپیل کی لیکن بعد میں وہ اپیل واپس لے لی جس کے بعد وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حتمی قانون کی صورت میں نافذ ہوا۔ چنانچہ اب دفعہ ۲۹۵۔ ج میں ”یا عمر قید“ کے الفاظ موجود ہیں لیکن ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔) اگر یہ کہا جائے پاکستانی حکومت نے سياسة کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے کے مخصوص ماحول اور حالات کو دیکھتے ہوئے غیر مسلموں کے لیے بھی سزائے موت مقرر کی ہے تو اس سزا کو حنفی فقہ سے متصادم قرار نہیں دیا جا سکے گا، بشرطیکہ دو باتیں مان لی جائیں:
اولاً : یہ کہ چونکہ غیر مسلم کے لیے یہ سزا حد نہیں بلکہ سياسة ہے، اس لیے حکومت مناسب سمجھے تو بعض حالات میں اسے معاف بھی کر سکتی ہے۔
ثانیاً: یہ کہ چونکہ یہ سزا سياسة ہے اس لیے غیر مسلموں کے لیے حکومت اس سزا کو تبدیل بھی کر سکتی ہے۔
باقی رہا اس مسلمان کا معاملہ جو توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوا تو اس کی سزائے موت چونکہ حد ہے اس لیے حکومت نہ اسے معاف کر سکتی ہے، نہ ہی اس سزا کو تبدیل کر سکتی ہے۔ البتہ اس قانون میں ایسے مجرم سے توبہ کے لیے کہنے کے متعلق کوئی شق نہیں ہے، نہ ہی ایسی کوئی گنجائش ہے کہ توبہ سے یہ سزا ساقط ہو جائے گی۔ مزید برآں، جرم کے اثبات کے لیے اس قانون میں شریعت کے مقرر کردہ ضابطے کی پابندی لازم نہیں کی گئی۔ اس لیے بہت حد تک یہ قانون حنفی مسلک سے متصادم ہے ۔ و اللہ اعلم ۔
- ۲۷۔ سياسة چونکہ حق الله نہیں ہے اور نیز تعزیر کے وسیع مفہوم میں داخل ہے، اس لیے تعزیر کی طرح یہ بھی شبهة یعنی فعل کے قانونی جواز کے متعلق ملزم کے ذہن میں پائے جانے والے ابہام کی بنا پر ساقط نہیں ہوگی۔
- ۲۸۔ چنانچہ سياسة کی سزا تنہا خواتین کی گواہی، غیر مسلموں کی گواہی، شہادۃ علی الشہادۃ، کتاب القاضی بلکہ واقعاتی شہادتوں اور قرائن کی بنیاد پر بھی دی جا سکتی ہے۔
- ۲۹۔ چونکہ معافی کا اختیار صاحب حق کے پاس ہوتا ہے اور سياسة کی سزا حق الامام میں دی جاتی ہے اس لیے حکمران کے پاس معافی کا اختیار ہوتا ہے۔
- ۳۰۔ امام سرخسی نے تصریح کی ہے: استيفاء الحد الى الامام ۔ (المبسوط ۔ ج۹،ص۱۲۱)
[حد کا استیفا امام کا کام ہے۔]
امام کاسانی حدود کی اقامت کی شروط کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو شرط تمام حدود کی اقامت کے لیے عام ہے: أما الذي يعم الحدود كلها فهو الامامة، و هو أن يكون المقيم للحد هو الامام ، أو من ولاه الامام ۔ (بدائع الصنائع ۔ ج۹،ص۲۵۰)
[وہ شرط جو تمام حدود کے لیے ضروری ہے، امامت کی ہے، کہ حد کا قائم کرنے والا امام (حکمران) ہو یا وہ جسے امام نے یہ اختیار سونپ دیا ہو۔]
- ۳۱۔ البتہ حق العبد سے تعلق رکھنے والے امور (مثلاً اموال و تعزیر) میں حکمران پر عدالتی فیصلہ نافذ کیا جائے گا۔ یہی حکم قصاص کا بھی ہے کیونکہ اس
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
میں بھی حق العبد غالب ہے۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید اور فقہ حنفی کے مدون اول، امام محمد بن الحسن الشیبانی نے یہ جزئیہ ذکر کیا ہے: اذا فعل الإمام الذى ليس فوقه امام شيئاً مما هو الى السلطان فليس عليه حد الا القصاص و الأموال ۔ (المبسوط ۔ ج ۹،ص۱۲۱) [جب وہ حکمران جس کے اوپر کوئی اور حاکم نہ ہو کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جس کی سزا کا نفاذ حکومت کا کام ہے تو اسے حد کی سزا نہیں دی جائے گی، لیکن اموال اور قصاص کی سزا دی جائے گی۔]
- ۳۲۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : افتيات کے عنوان سے مقالہ: الموسوعة الفقهية (الكويت : وزارة الأوقاف و الشئون الاسلامية ،
۱۹۸۶ء)۔ ج ۵، ص ۲۸۰-۲۸۱۔
- ۳۳۔ رد المحتار ۔ ج ۳، ص ۱۷۶۔
- ۳۴۔ ایضاً۔ فقہائے احناف کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص کا فعل اگر فی نفسہ شرعاً جائز بھی ہو لیکن اس سے حکمران کے حق کا افتيات ہوتا ہو تو حکمران اسے
مناسب تادیبی سزا سنا سکتا ہے۔ اسی اصول پر امام سرخسی فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں کسی مقاتل کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ حکمران کی اجازت کے بغیر دشمن میں کسی کو امان دے اور اگر کسی نے ایسا کیا تو امان نافذ تو ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک مومن امان دے تو سب پر اس کی پابندی لازم ہو جاتی ہے، لیکن یہ حکمران کے حق کا افتيات ہے اور اسی لیے حکمران مناسب سمجھے تو اسے تادیبی سزا دے سکتا ہے۔ ( شرح كتاب السير الكبير ، تحقیق محمد حسن اسماعیل الشافعی ( بیروت : دار الكتب العلمية ، ۱۹۹۷م)۔ ج ۲، ص ۱۰۸-۱۰۹) ایک اور اہم جزئیہ ملاحظہ ہو: فقہائے احناف کا موقف یہ ہے کہ غیر مسلم مقاتل کو جب قید کیا جائے تو جیسے اسے میدان جنگ میں قتل کیا جا سکتا تھا ایسے ہی اسے قید کیے جانے کے بعد بھی قتل کیا جا سکتا ہے (ایضاً ۔ ج ۳، ص ۱۴۴) کیونکہ وہ مرتد کی طرح مباح الدم ہوتا ہے (ایضاً ۔ص ۱۲۶) لیکن انھوں نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ کوئی شخص اسے حکمران کی اجازت کے بغیر قتل نہیں کرے گا۔ (ایضاً ۔ ج ۲، ص ۱۹۷) پھر اگر کسی نے اسے حکمران کی اجازت کے بغیر قتل کیا تو اسے حکمران مناسب تادیبی سزا دے سکتا ہے کیونکہ وہ افتيات کا مرتکب ہوا۔ (ایضاً ۔ ج ۳، ص ۱۴۶)
- ۳۵۔ چنانچہ مثال کے طور پر اس سزا میں کمی بیشی اور معافی کا اختیار حکمران کے پاس ہے۔
- ۳۶۔ رد المحتار ۔ ج ۳، ص ۱۷۵۔ ظاہر ہے کہ جسے حد کی سزا دی گئی اس کا جرم ثابت نہیں ہوا تو وہ معصوم اور بری تھا۔ اس لیے اس کے خلاف کیا جانے
والا اقدام عدوان ہی ہے، خواہ اسے حد کا نام دیا گیا ہو۔ چنانچہ عدوان کی ماہیت کو دیکھتے ہوئے اس پر قصاص، دیت، ارش يا حكومة عدل (جسے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ”ضمان“ کہا گیا ہے) کے احکام کا اطلاق ہوگا۔
- ۳۷۔ اس کی وجہ واضح ہے۔ یہ سزا حق الامام میں دی جاتی ہے۔ اس لیے حکمران ہی کے پاس استیفاء کا حق ہے۔ اس کے برعکس تعزیر چونکہ حق العبد
میں دی جاتی ہے اس لیے بنیادی طور پر اس میں استیفاء کا حق متاثرہ فرد یا اس کے قانونی وارث کے پاس ہوتا ہے اور حکمران کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس متاثرہ شخص کے حق کے استیفاء میں اس کی مدد کرے اور اسے اپنے حق سے تجاوز نہ کرنے دے۔ (بدائع الصنائع ۔ ج ۹، ص ۲۵۳) یہی حکم قصاص کا بھی ہے کیونکہ اس میں بھی حق العبد غالب ہوتا ہے۔ (ایضاً ۔ ج ۱۰، ص ۲۷۳-۲۷۸)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
تحفظ ناموس رسالت
کے قانون پر اعتراضات اور ان کا جائزہ
حافظ حبیب الرحمن *
توہین رسالت کے قانون کو ختم یا تبدیل کرانے کی کوشش کرنے والی لابی کی طرف سے بالعموم جو اعتراضات کئے جاتے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے:
- توہین رسالت کے قانون پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی قانون ہے اور قرآن وسنت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور یہ
ایک آمر نے متعارف کرایا تھا۔ انہی اعتراضات کے ضمن میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ: قرآن میں اہانت رسول ﷺ کی سزا بیان نہیں کی گئی، سنت میں اس سزا کا ذکر نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین تھے، آپ ﷺ نے تو بڑے بڑے گستاخان رسول کو بھی معاف کر دیا۔
- بعض متجددین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فقہ حنفی میں ذمی شاتم رسول کی کوئی سزا نہیں ہے۔
- نام نہاد روشن خیال طبقہ کہتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے ہاں فرقہ وارانہ ماحول کا پیدا کردہ مسئلہ ہے۔ تعلیم یافتہ افراد کا اس سے
کوئی سروکار نہیں۔ اسے مذہبی تقدس حاصل نہیں۔
- سیکولر لابی کا موقف یہ ہے کہ ریاستی سطح پر اس نوع کا قانون نہیں ہونا چاہئے: یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے اور ہر انسان کا
انفرادی معاملہ ہے۔ اگر اسلام میں اہانت کی سزا ہے بھی تو اس کی سزا قیامت میں مل جائے گی۔ مذہبی معاملات میں ریاست کو دخل نہیں دینا چاہئے۔
- نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار کہتے ہیں کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے: ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ بلا
جھجک اپنی رائے کا اظہار کرے اور قابل تنقید چیزوں پر تنقید کرے۔
- اقلیتوں کے نمائندے بالعموم یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس قانون کی وجہ سے اقلیتیں غیر محفوظ ہیں اور ان کی جان و مال کو
خطرہ ہے، جبکہ غیر مسلموں کے حقوق کی پاسداری مسلم ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
* اسسٹنٹ پروفیسر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۱۰ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس قانون کا استعمال غلط کیا جارہا ہے۔ غلط مقدمات بنائے جاتے
ہیں ۔ مخالف فرقے پر توہین کا الزام لگا دیا جاتا ہے جس کی بنیاد بسا اوقات ذاتی دشمنی، فرقہ وارانہ تعصب وغیرہ ہوتے ہیں۔
- ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام دین کے حوالے سے مکمل آزادی دیتا ہے جیسا کہ اس آیت ”لا اکراہ فی
الدین“ میں ہے۔ کہ دین میں جبر نہیں ہے، جبکہ یہ سزا اس آیت میں مذکور حکم کے منافی ہے۔
بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہونے کا الزام:
بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے منظم انداز میں قانون توہین رسالت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
۲۰۰۹ء (جون تا اگست) میں گوجرہ، قصور اور گوجرانوالہ میں مختلف واقعات کے تناظر میں Int. catholic peace Movement اور بعض دیگر این جی اوز نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو ایک مشترکہ تحریری یادداشت ارسال کی تھی۔ اس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 295C , 298B اور 298C کے بارے میں یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ دفعات 1986 میں ایک فوجی آمر کے دور میں تعزیرات پاکستان کا حصہ بنائی گئیں۔ 295B, 295C کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ دفعات 1980-86 کے درمیان متعارف کرائی گئی:
- 1. "Blasphemy laws were made part of the P.P.C. between 1980
and 1986, mainly through Presidential orders by military dictator Gen Zia Ulhaq."
- 2. "The text of the Blasphemy law is religion speciffic and higly
discriminatory."
یعنی یہ قانون حد درجہ امتیازی اور مذہبی ہے۔ اس یادداشت میں درج ذیل اعتراضات کئے گئے:
اس میں بچے، پاگل اور غیر مسلم کے لیے بھی کوئی استثناء نہیں ہے۔
- قانون میں "Insult" یعنی توہین کی تعریف نہیں کی گئی۔
- اس قانون کی سزا غیر متوازن اور سخت ہے، اس کا اعتراف بعض مسلم سکالرز نے بھی کیا ہے۔
پھر اس پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ ان بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی ہے جو اظہار رائے کا حق اور مذہبی آزادی کا حق دیتے ہیں:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
"Pakistan blasphemy laws are inherently Arbitrary and restrict freedom of speech and other freedoms guaranted by international human right laws."
یہاں یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 9 (یہ کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں، یہ قانون کسی بھی نوع کے امتیاز کے خلاف ہے۔) آرٹیکل 4,3,2 (جو مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر عدم برداشت کے خلاف ہے۔) اور آرٹیکل 18 (مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس تحریری یادداشت میں قانون توہین رسالت کے درج ذیل نتائج اور اثرات کا بھی ذکر کیا گیا:
- ۱۔ اس قانون کو اقلیتوں کے خلاف بلا جواز استعمال کیا جا رہا ہے۔
- ۲۔ سینکڑوں بے گناہ جیلوں میں بند ہیں یا مسلک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
- ۳۔ قانون توہین رسالت اقلیتوں کے خلاف معاندانہ اور جارحانہ قانون ہے۔ جس نے مذہب و قانون کے غلط استعمال کا
با ضابطہ لائسنس دے رکھا ہے۔
- ۴۔ قانون توہین رسالت کی آڑ میں ذاتی انتقام، ذاتی دشمنیوں یا مخالف فرقے کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر
مذہبی افراد ہی اس طرح کے مقدمات درج کرانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔
- ۵۔ غلط مقدمات کی وجہ سے بے گناہ کئی کئی سالوں تک پولیس تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور اس طرح کے مقدمات میں کوئی وکیل
پیروی کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا جیسا کہ اس عبارت سے ظاہر ہے:
- ۶۔ "Availability of a lawyer becomes difficult and judges are reluctant to try
"these cases" بطور ثبوت یہ بات بھی کی گئی کہ 1996ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج عارف حسین بھٹی نے جب ایک ملزم کو بری کیا تو اسے اس الزام میں اپنے دفتر میں قتل کر دیا گیا کہ اس نے ملزم کو بری کر کے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔
- ۷۔ قانون توہین رسالت کی وجہ سے عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ جس میں ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں:
The state machinery becomes a party to this scheme of religious intolerance and the socity losses an opportunity for genuine interfaith dialogue.
اس مشترکہ یادداشت کے آخر میں اقوام متحدہ کو درج ذیل سفارشات پیش کی گئیں:
سفارشات: قانون توہین رسالت کی مکمل تنسیخ کے لیے جو سفارشات کی گئی ہیں ان سے سیکولر عناصر کے پس پردہ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۱۲ تحفظ ناموس رسالت نمبر
مذموم مقاصد پوری طرح بے نقاب ہو جاتے ہیں کہ یہ تنظیمیں قانون توہین رسالت کی آڑ میں اسلام کی ہر شناخت کو مٹانے کے درپے ہیں اور کسی طرح بھی اسلامی تشخص انہیں گوارا نہیں۔ اس یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ دستور اور دیگر قوانین میں جہاں جہاں اس نوع کے امتیازی قوانین ہیں ان سب کو ختم کیا جائے۔ گویا آئین کی کوئی بھی اسلامی دفعہ انہیں گوارا نہیں، پھر آخر میں قانون توہین رسالت کے منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی:
"To remove all discriminations on the basis of religion that are part of the constitiution."
آرٹیکل 25 کے منافی ہر دفعہ یا قانون کو کالعدم قرار دیا جائے اور اس کے لیے ایک میکنزم بنایا جائے جو اس بات پر چیک رکھے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔
"To take steps to repeal Blasphemy laws as procedural amendements have delivered no results."
اس امر کی بھی سفارش کی گئی کہ:
- قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے غلط مقدمات درج کرانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور قرار
واقعی سزا دی جائے تا کہ انتہا پسند مذہبی عناصر کا دباؤ کم ہو اور قانون کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
- اشتعال انگیز لٹریچر پر پابندی لگائی جائے۔
- وہ وکلاء، جج صاحبان، ادارے اور مذہبی اور سیاسی شخصیات جو اس قانون کی تبدیلی کے لیے نامزد کئے جائیں ان کی
حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔
- تعلیمی پالیسی میں اسلامیات کو لازمی کے بجائے اختیاری کا درجہ دیا جائے۔ نصاب تعلیم سے ایسے مواد کو خارج کیا جائے
جس سے جنسی یا مذہبی امتیاز کو فروغ ملتا ہے۔
- اقوام متحدہ براہ راست اس معاملہ کی نگرانی کرے۔
اس کے علاوہ بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد سفارشات ہیں جو اس موضوع سے متعلق نہیں۔
نقد و تبصرہ:
ان سفارشات سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نام نہاد حقوق انسانی کے علمبردار اور سیکولر لابی کس طرح منظم انداز میں اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے فرضی رپورٹیں بنا بنا کر بھیجتے رہتے ہیں تا کہ ان کے نان نفقہ کا سلسلہ بھی بحال رہے اور ملک کو بھی انتشار کی نذر کر دیا جائے جو امداد دینے والوں کا بنیادی مقصد ہے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان اداروں کی منظم مہم بازی کے نتیجہ میں براہ راست قانون کو تبدیل کرنے کی جرات تو نہیں ہوسکی البتہ اسے بہت حد تک غیر مؤثر کر دیا گیا اور نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کبھی یہ ترمیم کی گئی ہے کہ یہ ناقابل دست اندازی پولیس نہیں ہے۔ یعنی ریاست کے خلاف جرم نہیں کہ وہ تفتیش کر کے مجرم کو سزا دلوائے بلکہ انفرادی معاملہ ہے۔ جو شخص گستاخ رسول کے ملزم کے خلاف دعویٰ دائر کرتا ہے وہی گواہ بھی پیش کرے اور ثبوت بھی مہیا کرے اس قسم کی ترمیم کے نتیجہ میں اس قانون کا نفاذ عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ جاتا ہے۔
رپورٹ اور سفارشات دونوں کو دیکھنے سے باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف ہر قسم کی مراعات، آزادی اور دیگر حقوق کو ایک مخصوص اقلیت نہ صرف اپنا حق سمجھتی ہے بلکہ عالمی دباؤ کے ذریعے اکثریت سے اس کے مذہبی احساسات اور جذبات کے مظہر مذہبی حقوق چھیننا چاہتی ہے۔ عالمی اداروں سے ملنے والی امداد کو قانون توہین رسالت کے خاتمے سے مشروط کرنا کیا ایک خود مختار ملک پر اپنی رائے ٹھونسنے کی جارحانہ کارروائی نہیں ہے۔
انسانی حقوق کے چیمپین سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ کو استعمال کر کے، ہر ملزم کو مظلوم بنا کر عدالتی عمل سے نکالنا، اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس طرح وہ خود قانون و انصاف کا خون کرتے ہیں جس کی اجازت دنیا کا کوئی قانون بھی نہیں دیتا۔
کیا قانون توہین رسالت انسانی حقوق کے منافی ہے؟
عام طور پر یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 19,18,9,4,3,2 کو بنیاد بنا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ توہین رسالت کا قانون ایک امتیازی قانون ہے اور یہ ایک مخصوص مذہب کے تحفظ سے متعلق ہے، حالانکہ اسی ڈیکلریشن میں کچھ بنیادی اصول دیئے گئے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آزادی کا یہ حق غیر مشروط اور مطلق نہیں ہے بلکہ اس کی حدود و قیود کا تعین بھی ساتھ ہی کر دیا گیا ہے: (۱)
پہلا اصول ہی یہ بتایا گیا کہ یہ قوانین آفاقی اور عالمگیر ہیں یعنی ہر جگہ اور ہر شخص پر ان کا اطلاق ہوگا۔ اس لیے "Rights are universal." کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے:
"Meaning that rights apply to every one whoever or where ever that person is."
سوال یہ ہے کہ آیا آزادی رائے کا یہ حق غیر مشروط ہے یا آزادی کے علمبرداروں نے خود ہی اس حق کو محدود اور مشروط کیا ہے؟ اس کا جواب اسی ڈیکلریشن میں موجود ہے:
"It is closely related to other rights and may be limited when conflicting with other rights."
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو آزادی رائے کا حق ہر جگہ مطلق (absloute) اور غیر مشروط نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مغربی ممالک نے مفاد عامہ کے تحت اس پر حدود اور قیود مقرر کی ہیں۔ یورپ کے بعض ممالک مثلاً ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، ائر لینڈ، ناروے، آسٹریا وغیرہ میں مذہبی جذبات مجروح کرنے یا توہین پر سخت سزائیں موجود ہیں۔ اسی طرح توہین مسیح کا قانون مغرب کے بیشتر ممالک میں ہے۔ یہ قوانین اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ آزادی رائے کا حق غیر مشروط نہیں ہے:
"Despite the constitution Guarntee of the free speech in the U.K. legal system have not treated of speech as absolute" (oxford dictonory of politacs).
امریکی دستور کی پہلی ترمیم ہی آزادی رائے کے حق کو مشروط کرنے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ وہ وہاں کی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہے:
"The Court decided National Security, Justice or personal safty override freedom of speech".
یہ سب آزادی اظہار رائے پر وہ قدغنیں ہیں جو مغرب کے نام نہاد مہذب ممالک میں نہ صرف کتاب قانون کی زینت ہیں بلکہ ان کی خلاف ورزی کی صورت میں متعدد محققین، اہل علم، صحافیوں اور سیاسی شخصیات کو سزائیں ہو چکی ہیں اور ان کی اعلیٰ عدلیہ نے ان سزاؤں کے نفاذ کے وقت بھی یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہاں اکثریت عیسائیوں کی ہے اور آزادی کا حق غیر مشروط نہیں ہے۔
لیکن وہاں حقوق انسانی کے کسی علمبردار ادارے یا ملک نے ان کی رہائی کے لیے نہ احتجاج کیا اور نہ انہیں سیاسی پناہ دی۔ نہ کسی نے اسے کالا قانون یا غیر مہذب قانون قرار دے کر ملزم کو عدالتی عمل سے نکالنے کی کوشش کی، کیونکہ مہذب معاشروں میں حق شہرت یا حق عزت پامال کرنے کو انسانی حقوق کے منافی تصور نہیں کیا جاتا، اس کے برعکس یہاں انسانی حقوق کے نام پر ایک طوفان برپا ہے اور یورپی یونین بھی اس کے ہم آواز ہے۔
دوہرے معیار کیوں؟ ایک جلیل القدر پیغمبر ﷺ کی توہین ہی کو اپنا حق قرار دینے پر کیوں اصرار ہے؟ دراصل معاملہ اظہار رائے کی آزادی کا نہیں، اصل مقصد مسلمانوں کے بدن سے روح محمد ﷺ نکالنے کا ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی امریکہ اور یورپ میں پذیرائی اور ان کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے وسائل صرف کرنا اور انہیں ہیرو بنا کر ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنا اس کا واضح ثبوت ہے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کیا اس قانون سے عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے؟
یہ اعتراض انتہائی سطحی نوعیت کا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے، کیونکہ اس قانون سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ یہ قانون تو ملزم کو عوام کے غیض و غضب سے نکال کر تحفظ فراہم کرتا ہے اور ملزم کو صفائی کا موقع ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۹۶۴ مقدمات میں اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے اب تک کسی کو بھی سزائے موت نہیں ہوئی ہے۔ اگر ان ملزمان کو یونہی عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تو شاید ایک بھی زندہ نہ بچ سکتا۔ یہ اس قانون کے جواز اور ضرورت کا اہم پہلو ہے۔
کیا صرف اقلیتیں ہی اس کا نشانہ بن رہی ہیں؟
بلاشبہ ریاست کا بنیادی فریضہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ لیکن ملکی قوانین کا احترام اور ان کی پابندی سب کے لیے ہے۔ اس اعتراض کی حقیقت مختلف عدالتوں میں درج مقدمات سے بے نقاب ہو جاتی ہے۔ ۱۹۸۸ء کے بعد قائم کئے مقدمات میں سے ۴۸۰ کا تعلق مسلمانوں سے ۳۴۰ کا احمدیوں سے، صرف ۱۱۹ کا تعلق عیسائیوں سے، ۱۴ ہندوؤں اور ۱۲ کا دیگر مسالک سے ہے۔ ان مقدمات میں کسی کو بھی سزائے موت نہیں ہوئی۔ عدالتیں تو قانون کے تقاضے پورے کرتی ہیں جبکہ نام نہاد سیکولر لابی اور اقلیتوں کے چیمپیئن ہر ملزم کو مظلوم بنا کر ایک طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔
کیا یہ قانون پہلی مرتبہ فوجی آمر کے دور میں بنا؟
یہ پروپیگنڈہ کہ یہ قانون پہلی مرتبہ ایک فوجی آمر (جنرل ضیاء الحق) نے مذہبی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے بنایا بالکل بے بنیاد ہے۔ اس بات کو سیاسی انداز سے اچھالا جا رہا ہے کہ اسے پارلیمنٹ کی تائید حاصل نہیں ہے۔ یہ بات حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ برصغیر میں ۱۹۲۷ء میں مولانا محمد علی جوہر نے اس کی ضرورت کا احساس دلایا اور اس کے بعد مختلف سمتوں میں کاوشیں ہوئی ہیں۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ قانون توہین رسالت کو وفاقی شرعی عدالت (۱۹۹۰ء کا فیصلہ) اور پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری حاصل ہے۔
قانون توہین رسالت کا غلط استعمال :
یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قانون توہین رسالت کی آڑ میں غلط مقدمات بنائے جاتے ہیں اور اسے ذاتی انتقام اور ذاتی دشمنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس قانون کو ختم کیا جانا چاہئے۔ درحقیقت یہ اعتراض انتہائی بے بنیاد ہے۔ پاکستان میں کون سا قانون ہے جسے طاقت ور اپنے حق میں اور دوسروں کے خلاف بلا جواز استعمال نہ کرتے ہوں۔ یہ معاملہ نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے جاتے ہیں لیکن ان قوانین کو کالا قانون قرار دے کر ختم کرنے کی بات کسی نے نہیں کی۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ کوئی قانون کسی کے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
خلاف غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ اور کسی ترمیم سے مقصود بے گناہوں کو بچانا اور عادی مقدمہ بازوں کی حوصلہ شکنی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن غلط استعمال کے پروپیگنڈے کی آڑ میں سرے سے قانون کو ختم کرنے کی بات دراصل کچھ اور مذموم مقاصد کی نشاندہی کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم کر دیا جائے تو اس کا غلط استعمال بڑھ جائے گا۔ کیونکہ قانون ملزم کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور عوام کے غیظ و غضب سے نکال کر اسے مکمل طور پر صفائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ قانون کی عدم موجودگی میں ملزم کو عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ قانون کی اس ضرورت کا احساس سب سے پہلے مولانا محمد علی جوہر نے ۱۹۲۷ء میں اس وقت کیا تھا جب نبی اکرم ﷺ کی گستاخی پر مبنی کتاب ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کو بری کر دیا تو مولانا نے فرمایا کہ اس میں جج کا قصور نہیں۔ قصور قانون کا ہے۔ دو سال بعد ہی اس کتاب کا ناشر راج پال غازی علم الدین شہید کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا۔
کیا ریاستی سطح پر قانون توہین رسالت نہیں ہونا چاہئے؟
ایک مخصوص طبقہ ریاستی سطح پر اہانت قانون کے وجود اور نفاذ کا شدید مخالف ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے اور ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔ اگر کسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو آخرت میں اسے سزا مل جائے گی لیکن ریاست کو لوگوں کے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ اس اعتراض کی بنیاد وہ سیکولر تصور ہے جسے تہذیب جدید کا پہلا سنگ بنیاد قرار دیا جارہا ہے کہ مذہب ایک پرائیویٹ معاملہ ہے — بندہ اور خدا کے درمیان۔
مغربی دنیا میں اس سیکولر تصور کا ایک خاص پس منظر ہے۔ اور اس کے خاص اسباب تھے جو مغربی دنیا کے ساتھ مخصوص تھے کیونکہ مسیحیت میں بے شمار چیزیں ہیں جو دین اور دنیا کی تفریق کے فلسفے کی تائید کرتی ہیں۔ لیکن اسلام اس قسم کی تقسیم سے نا آشنا ہے۔ یہ زندگی کو اللہ اور قیصر کے درمیان بانٹنے کی بجائے پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت میں دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں بھی قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی اور پورے نظام کو ان اصولوں اور ہدایات کے مطابق ڈھالنے کی بات کی گئی ہے جو قرآن و سنت میں مذکور ہیں۔
حاصل: یہ ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اس قانون کا ہر سطح پر مؤثر دفاع بھی کرے اور نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرے۔ مزید یہ کہ قانون اور عدل و انصاف کے معروف ضابطوں کے مطابق اس کے غلط استعمال کو بھی روکے۔ قانون کو متنازعہ بنانے اور اس سے معاشرہ میں انتشار پیدا کرنے کی جو منظم مہم ہے اس کا دفاع ہم سب کا فریضہ ہے۔
--------------------------------------------------
سہ ماہی ’’مجلہ تعلیم و تحقیق‘‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
گستاخان رسول ﷺ کا انجام اور
عشق مصطفیٰ ﷺ کے حقیقی تقاضے
سید عارف شیرازی
حضور نبی اکرم ﷺ کی عظیم جدوجہد سے جو صالح معاشرہ قائم ہوا اس میں صحابہ کرامؓ کی عظیم جماعت سب سے نمایاں تھی جس کی تربیت خود نبی اکرم ﷺ نے فرمائی ، فرمان باری تعالیٰ ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِىْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى التَّوْرٰةِ وَمَثَلُهُمْ فِى الْاِنْجِيْلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ م
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد ۱۱۸ تحفظ ناموس رسالت نمبر
صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ زیادہ وقت آپ ﷺ کی مجلس میں گزارتے اور آپ ﷺ کی تربیت سے فیض یاب ہوتے۔ بعض صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ انہوں نے آپس میں باریاں متعین کی ہوئی تھیں کہ ایک تلاش معاش کے لیے نکلتا تو دوسرا آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور وہ شام کو تلاش معاش والے کو پوری مجلس کی روداد سناتا اور پھر دوسرے دن وہ تلاش معاش کو نکلتا اور دوسرا صحابیؓ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور پھر شام کو اپنے دوسرے بھائی کو مجلس کی روداد سناتا۔ (۲)
قرآن مجید صحابہ کرام کو عشق مصطفیٰ کے تقاضے اس طرح سمجھاتا ہے کہ ان باتوں کا خیال رکھنا ورنہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ﴿۴۹:۲﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“
صحابہ کرام کو منع کیا گیا کہ وہ اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند کریں۔
يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَ إِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ﴿۵:۱۰۱﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔“
یعنی نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر سوالات پر سوالات نہ کرتے چلے جانا ورنہ اپنے لیے مشکلات پیدا کر لو گے کیوں کہ نبی ﷺ نے تو جواب دینا ہے لیکن اپنے لیے مشکلات پیدا کرو گے اور رہتی امت کے لیے بھی دین کو مشکل بنا دو گے۔
امت مسلمہ اور صحابہ کرام کو ایک ہدایت یہ بھی دی گئی:
وَ مَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴿۵۹:۷﴾
”جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔“ رسول ﷺ جو کچھ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس چیز سے منع کر دیں اس سے بچ کر رہو۔ یعنی حلال و حرام اور قوانین زندگی بنانا تمہارا اختیار نہیں بلکہ یہ کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے جو کچھ تمہارے مفاد میں ہے وہ تمہارے لیے حلال کیا جا رہا ہے اور جو کچھ تمہارے لیے نقصان دہ ہے اس کو تمہارے لیے حرام کیا جا رہا ہے اس لیے اب ان امور میں عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں۔ اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا:
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ﴿۶۵:۴﴾
”نہیں، اے محمد! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر تم جو کچھ فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔“
یعنی باہمی اختلافات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اگر نبی ﷺ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کر لیں تو اس پر کسی کو یہ اختیار بھی نہیں ہے کہ وہ دل میں اس پر تنگی محسوس کرے۔ یہ ہیں عشق مصطفیٰ کے حقیقی تقاضے، نہ یہ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قوانین اور فیصلوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔
(۳)
”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماں، باپ اور اولاد اور باقی تمام اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو جائے۔“
قرآن اور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرامؓ اور امت مسلمہ کو صرف یہی اصول نہیں بتائے کہ صرف نبی اکرم ﷺ کی ناموس کا خیال رکھا جائے بلکہ مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان لائیں اور تمام آسمانی کتب پر اجمالی ایمان کہ تمام آسمانی کتب برحق تھیں اور من جانب اللہ تھیں اور انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے تھیں۔ یہی بات اہل ایمان کا عقیدہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ ﴿۲۸۵:۲﴾
”رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی لیکن تمام رسولوں پر یہ ایمان لانا کہ وہ ہادی برحق تھے من جانب اللہ تھے، انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے تھے، بلکہ قرآن تو اہل ایمان کو یہاں تک رواداری سکھاتا ہے کہ تم غیر مذاہب کے مذہبی پیشواؤں کو برا بھلا بھی نہ کہو ورنہ وہ تمہارے حقیقی معبود کو لاعلمی میں برا بھلا کہیں گے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ؕ ﴿۱۰۸:۶﴾
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
”(اور اے مسلمانو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔“
یہی وہ رواداری ہے جو اسلام نے اہل ایمان کو سکھائی کہ اگر تم کسی معاشرے میں اکثریت میں ہو تو وہاں اقلیت میں رہنے والے کفار کی حفاظت ان کے گرجوں اور معبد خانوں کی حفاظت بھی اسلام نے اپنے ذمہ لی ہے، یہاں تک کہ اسلام میں کسی پر جبر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے بلکہ اگر کوئی خوش دلی سے اسلام قبول کرے تو کرے ورنہ اقلیتیں اپنے مذہب پر عمل پیرا رہیں گی۔ یہ ساری رواداری اسلام نے ہی اہل ایمان کو سکھائی ہے۔ اور یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے دور میں بھی ہمیشہ اقلیتوں کے ان حقوق کا خیال رکھا گیا۔ لیکن اقلیتوں کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ توہین دین اور توہین رسالت کریں اور مسلمان معاشرہ پھر بھی ان کے ساتھ حسن سلوک روا رکھے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد کے ساتھ عہد رسالت سے کیا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
توہین رسالت کا انجام اور سزا:
توہین رسالت پر سابقہ اقوام و افراد جس انجام سے دوچار ہوئے اس کی کئی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ قوم نوح علیہ السلام کی مثال کو دیکھ لیجئے۔ نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال اپنی قوم میں دعوت وتبلیغ کے فرائض سر انجام دیتے رہے، لیکن ان کی قوم ہمیشہ ان کا مذاق اڑاتی رہی بالآخر نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی اور کہا کہ اے اللہ ان کو ہلاک کر دے یہاں تک کہ دنیا پر کوئی گھر باقی نہ رہے، اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو کشتی تیار کرنے کا حکم دیا، کشتی کی تیاری کے دوران اور بعد میں بھی نوح علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم مسلسل ان کا مذاق اڑاتی رہی بالآخر اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو عذاب کی نشانیاں بتا دیں کہ جب تنور سے پانی ابل پڑے تو سمجھ لینا اللہ کا عذاب آ رہا ہے تو پھر ہر چیز کے جوڑوں کو کشتی میں سوار کر لینا۔ صرف کشتی میں سوار ہی بچ سکیں گے باقی کوئی نہ بچ سکے گا اور پھر ایسا ہی ہوا کہ نوح علیہ السلام کا اپنا بیٹا بھی عذاب الٰہی سے نہ بچ سکا۔ نوح علیہ السلام نے آخری وقت تک بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیٹے نے کہا کہ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا، اسی دوران ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور اس طرح نوح علیہ السلام کی قوم پر سخت ترین عذاب نازل کیا گیا، پوری قوم کو غرق آب کر دیا گیا۔ (۴)
اسی طرح قوم لوط (۵)، قوم عاد و ثمود (۶) اور قوم شعیب کا بھی یہی انجام ہوا کہ ہر ایک نے اپنے اپنے نبی کی توہین کی۔ دعوت دین کو چھوڑ کر بے حیائی میں مبتلا ہوئے۔ معاشی و معاشرتی برائیوں میں مبتلا رہے۔ قوم شعیب تو یہاں تک کہنے لگی کہ اے شعیب اگر تمہاری قوم اور برادری طاقت ور نہ ہوتی تو ہم تمہارے ساتھ دیکھ لیتے، تو شعیب علیہ السلام نے فرمایا کیا میری قوم اور برادری زیادہ طاقت ور ہے یا اللہ۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی، رہزنی اور اپنے نبی کی توہین کی بدولت عذاب میں مبتلا ہوئی اور پھر صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دی گئی۔ (۷)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۲۱ تحفظ ناموس رسالت نمبر
پھر بنی اسرائیل کی تاریخ تو نہ صرف توہین انبیاء بلکہ قتل انبیاء سے بھری پڑی ہے۔ بنی اسرائیل کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے یا تو اس کو قتل کر دیا یا پھر براہ راست نبی کی اطاعت سے ہی انکار کر دیا (۸)۔ بنی اسرائیل کی دوسری روش یہ تھی کہ وہ کبھی توحید کے قائل ہو جاتے اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد شرک میں مبتلا ہو جاتے۔ بنی اسرائیل وہ قوم ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ انبیاء بھیجے اور سب سے زیادہ نافرمانی بھی بنی اسرائیل نے ہی کی۔ جس کے نتیجہ میں اللہ نے نبوت کا سلسلہ بنی اسرائیل میں بند کر کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو بنی اسماعیل میں سے پیدا کیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کو اس عظیم منصب سے معزول کر دیا گیا تو نبی ﷺ کی بعثت کے بعد اقامت دین کا فریضہ اب امت محمدیہ کی ذمہ داری ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی توہین پر ابوجہل، ابولہب اور اُم جمیل کا انجام: قرآن مجید کی آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد جب نبی ﷺ نے علانیہ دعوت کا آغاز کیا تو ساتھ ہی مکہ میں مخالفین بھی سرگرم عمل ہو گئے اور ان مخالفین میں نبی اکرم ﷺ کے حقیقی چچا ابولہب اور چچی اُم جمیل نے توہین رسالت کی اور نبی اکرم ﷺ کی سب سے زیادہ مخالفت کی۔ اسی طرح سرداران قریش میں سے ابو جہل، نبی اکرم ﷺ کا سب سے زیادہ مخالف تھا اور آپ ﷺ کی توہین بھی کرتا تھا۔ ابو جہل، ابولہب اور ام جمیل کا انجام بھی ہمارے سامنے ہے۔
ابو جہل غزوہ بدر کے لیے بڑی شان و شوکت سے نکلا اور اسے گمان تھا کہ وہ مدینہ منورہ کا خاتمہ کر کے لوٹے گا، اسی وجہ سے اس نے اپنے ساتھ گانے بجانے والیاں بھی لی ہوئی تھیں اور وہ غزوہ بدر کے موقع پر کفار کو طیش دلاتی رہتی تھیں۔ ابو جہل کفار کی صفوں کو ترتیب دے رہا تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں سے دو بچے معاذ ؓ اور معوذ ؓ لپکتے ہیں اور ابو جہل کو واصل جہنم کر دیتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ بہت خوش ہوئے۔
اسی طرح ابولہب اور ام جمیل کا انجام بھی بہت برا ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے قریش کے لوگوں کو جب کوہ صفا پر جمع کیا اور توحید کا اعلان کیا تو ابولہب بول پڑا اور کہنے لگا:
”تَبّاً لَكَ أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا“ (۹)
”یعنی تو برباد ہو جائے (العیاذ باللہ) کیا ہم کو اسی بات کے لیے جمع کیا تھا۔“
ابولہب آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو کہتا کہ ان کی بات مت سننا یہ بے دین ہیں اور کہتا کہ محمد ﷺ ہم سے ان چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی اور کبھی تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی کہ پتھر اٹھا اٹھا کر آپ ﷺ پر پھینکتا اور آپ ﷺ کو زخمی کر دیتا۔ لیکن جب ابولہب کو عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تو آگے سے آپ ﷺ کو جواب دیتا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو پھر میرے پاس مال و اولاد بہت ہے ان سب کو فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤں گا۔ دوسری طرف اس کی بیوی اُم جمیل کو بھی نبی ﷺ سے بہت ضد اور عداوت تھی، ابولہب جو آگ بھڑکاتا یہ عورت لکڑیاں ڈال کر اس کو اور تیز کر دیتی تھی اور اس کا تو
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
یہ معمول تھا کہ آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے ڈال دیتی، پڑوسن ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے گھر میں گندگی پھینک دیتی اور نبی ﷺ کی عداوت میں کوئی موقع نہ جانے دیتی یہی وجہ تھی کہ ان کے انجام بد کو سورہ لہب میں بیان کر دیا گیا۔ اس سورت میں دونوں کا انجام بتلا دیا گیا کہ خواہ کوئی مرد ہو یا عورت اپنا ہو یا بیگانہ، بڑا ہو یا چھوٹا جو حق کی عداوت پر کمر باندھے گا وہ آخر کار ذلیل و خوار ہو کر رہے گا، ابولہب کا بھی انجام یہی ہوا کہ غزوہ بدر سے کچھ ہی دنوں کے بعد اس کے جسم پر انتہائی خطرناک قسم کے دانے نکلے اور آہستہ آہستہ پورے جسم پر پھیل گئے اور بیماری کے پھیل جانے کے خطرے سے گھر والوں سے اس کو الگ کر دیا، پھر اسی تنہائی میں اس کو موت آئی اور مرنے کے بعد بھی تین دن تک لاش گھر میں پڑی رہی اور کوئی اس کے قریب نہ جاتا تھا یہاں تک کہ بدبو پھیلنا شروع ہو گئی اور باقی لوگوں نے ان کے بیٹوں کو عار دلانی شروع کر دی۔ بالآخر ایک حبشی کو بلایا گیا اس نے ایک گڑھا کھود کر اس کی لاش کو گڑھے میں ڈال دیا اور اوپر سے مٹی ڈال کر گڑھے کو بند کر دیا، دوسری طرف ام جمیل ایسی عورت تھی کہ بڑی مال دار ہونے کے باوجود سخت کنجوس تھی جنگل سے خود لکڑیاں چن کر لاتی تھی۔ ام جمیل ایک بد زبان عورت تھی جب سورہ لہب نازل ہوئی تو ام جمیل نے جب اس کو سنا تو سخت بھری ہوئی غصہ کے عالم میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی، اس کے ہاتھ میں پتھر تھے، جب آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار پڑھتے ہوئے حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ ﷺ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ ﷺ کے موجود ہونے کے باوجود آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تمہاری ہجو نہیں کی ہے۔ (حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری ہجو نہیں کہ بلکہ تمہاری ہجو تو اللہ تعالیٰ نے کی ہے) یہ سن کر وہ واپس چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا اس نے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا فرشتہ آڑ بن کر کھڑا ہوا تھا جب تک وہ واپس نہ چلی گئی۔
ام جمیل کا معمول تھا کہ جنگل سے لکڑیوں کا گٹھا لاتی تو جس رسی سے لکڑیاں باندھتی تھی اس کو اپنے گلے کے گرد بھی لپیٹ لیتی تھی، ایک دن لکڑیوں کا گٹھا سر پر اور رسی گلے میں تھی، تھک کر ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ لکڑیوں کا گٹھا سر سے پیچھے گر گیا جس کی وجہ سے اس کا گلہ گھٹ گیا اور اس طرح وہ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
توہین رسالت پر صحابہ کرام کے اقدامات : تاریخ اسلام میں کئی واقعات ایسے ملتے ہیں کہ جن میں صحابہ کرام نے توہین رسالت کرنے والے افراد کو قتل کیا اور جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے خوشی کا اظہار فرمایا۔
گستاخ رسول عصماء بنت مروان کا قتل : عصماء بنت مروان یزید بن زید بن حصن خطمی کی بیوی تھی۔ یہ رسول
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۲۳ تحفظ ناموس رسالت نمبر
اللہ ﷺ کو ایذاء و تکلیف دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی ﷺ کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی خطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں کا اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگا اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینہ پر تھا۔ جسے وہ دودھ پلا رہی تھی، عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی، پھر نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کی، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے۔ کہنے لگے جی ہاں، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول۔ عمیر ؓ کو اس بات سے خوف محسوس ہوا کہ کہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا، کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔
(۱۰)
گستاخ رسول ابوعفک یہودی کا قتل: شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ مؤرخین کے حوالے سے شاتم رسول ابوعفک یہودی کا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ بنی عمرو بن عوف کا ایک شخص جسے ابوعفک کہتے تھے وہ نہایت بوڑھا آدمی تھا، اس کی عمر ۱۲۰ سال تھی جس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ ﷺ کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے، غزوہ بدر میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دی اور بغاوت و سرکشی پر اتر آیا۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی مذمت اور ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا۔ اس قصیدہ کو سن کر سالم ؓ بن عمیر نے نذر مان لی کہ میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود مر جاؤں گا، سالم ؓ موقع کی تلاش میں تھے۔ موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا، سالم ؓ بن عمیر اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ کر اس کو قتل کر دیا۔
یہ سارے وہ اقدامات تھے جو صحابہ کرامؓ نے کیے، لیکن اب ہمیں دیکھنا ہے کہ براہ راست آپ ﷺ نے گستاخان رسول کے ساتھ کیا رویہ رکھا۔
توہین رسالت پر نبی اکرم ﷺ کے اقدامات: تاریخ اسلام میں بعض واقعات ایسے ملتے ہیں کہ قتل کے کچھ مقدمات آپ ﷺ کی عدالت میں پیش ہوئے، جب آپ ﷺ نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ مقتول توہین رسالت کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے تو ایسے تمام مقتولین کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں چلا گیا۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
گستاخ رسول لونڈی کا قتل: حضرت عبداللہ ؓ بن عباس فرماتے ہیں کہ ایک اندھے شخص کی ایک لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہ آتی تھی، وہ اس کو جھڑکتا تھا مگر وہ پھر بھی باز نہ آتی تھی، ایک رات اس عورت نے آپ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں، اس نے ایک چھرا لیا اور اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اپنا پورا زور اس پر لگا دیا۔ جس سے وہ مرگئی، صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے اس کو قتل کیا ہے، میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے، رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر وہ نابینا آدمی کھڑا ہو گیا، خوف کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اس نے آکر کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس عورت کو منع کرتا تھا لیکن وہ آپ ﷺ کی ہجو سے باز نہ آتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی، اس عورت کے بطن سے میرے دو بیٹے بھی ہیں اور یہ میری خدمت بھی بہت کرتی تھی، لیکن گزشتہ رات جب وہ آپ ﷺ کی ہجو کرنے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا، میں نے زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے ساری گفتگو سنی اور پھر فرمایا تم سب گواہ رہو اس عورت کا خون رائیگاں چلا گیا۔ (۱۲)
آپ ﷺ نے خود صحابہ کرام کو کسی شخص کے قتل کا حکم دیا: توہین رسالت پر آپ ﷺ کا طرز عمل یہ بھی رہا ہے آپ ﷺ نے خود صحابہ کرام کو روانہ کیا کہ جاکر فلاں شخص کو قتل کردو، کیوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء پہنچا رہا ہے، یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر تو آپ ﷺ نے معافی کا عام اعلان کرنے کے باوجود چھ افراد کے نام لے کر فرمایا:
”اقتلوهم وان وجدتموهم متعلقين باستار الكعبة“ (۱۳) ”تم اگر ان کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا بھی پاؤ تب بھی انہیں قتل کردو۔“
ان میں عکرمہ بن ابو جہل، حبار بن اسود، ابن ابی سرح، مقیس بن صبابہ، حویرث بن نقیذ اور ابن خطل کا نام لیا گیا۔
گستاخ رسول ابن خطل کے قتل کا حکم: ان چھ افراد میں سے فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ کو بتایا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے اسی جگہ قتل کردو۔ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس گستاخ رسول کی گردن اڑا دی گئی۔ ابن خطل پہلے مسلمان ہو گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے عامل بنا کر صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک غلام اس کے ساتھ تھا، راستے میں ایک مقام پر ابن خطل نے غلام کو کھانا تیار کرنے کے لیے کہا، غلام کسی وجہ سے سو گیا تو ابن خطل کھانا تیار نہ ہونے کی وجہ سے غلام سے ناراض ہوا، ناراضگی اور غصہ کی وجہ سے ابن خطل نے اسے قتل کر دیا پھر ڈر اور خوف کے مارے مرتد ہو گیا کہ اب بدلہ میں مجھے قتل کیا جائے گا اور صدقات کے اونٹ بھی ساتھ لے گیا اس کے علاوہ ابن خطل رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہتا تھا اور اپنی لونڈیوں کو بھی اشعار گانے کا حکم دیتا تھا۔ یہ وہ سارے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۲۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
جرائم تھے جن کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو حدود حرم میں قتل کروایا۔ (۱۴)
گستاخ رسول کعب بن اشرف کے قتل کا حکم : حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف (یہودی) نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت اذیتیں پہنچائی ہیں، ہے کوئی جو اس کی خبر لے؟ محمد بن مسلمہ ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ کی مرضی ہے کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا آپ مجھے کچھ ناگفتنی بات کہنے کی اجازت دیدیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تمہیں اس کی اجازت ہے، محمد بن مسلمہ ؓ (مع چند ساتھیوں کے) کعب بن اشرف کے پاس پہنچے اور کہا اس آدمی (محمد ﷺ) نے تو ہم لوگوں سے صدقہ کا مطالبہ کیا ہے اور طرح طرح سے مشقت میں ڈال رکھا ہے اور اب میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تم سے کچھ قرض لوں، کعب نے کہا ابھی کیا ہے؟ خدا کی قسم وہ تم لوگوں کو تنگ کر کے رہے گا اور انتہائی تکالیف کا تمہیں مقابلہ کرنا ہوگا، محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا اب ہم لوگ اس کا اتباع کر چکے ہیں، جلدی سے اس کو چھوڑنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں ذرا دیکھ لیجئے کہ اور کیا گل کھلاتا ہے؟ اب تو تم مجھے غلہ کا ایک یا دو وسق ادھار دے دو، کعب نے کہا ہاں میں ادھار دے دوں گا لیکن میرے پاس کچھ رہن رکھنا ہوگا، محمد بن مسلمہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ ہم تمہارے پاس کیا رہن رکھ دیں؟ اس نے کہا اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو، ان حضرات نے کہا بھلا ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس کیسے رہن رکھ دیں؟ تم تمام عرب میں سے انتہائی حسین وجمیل ہو (ہم لوگوں کو اپنی عورتوں پر ابتلا کا اندیشہ ہے) اس نے کہا اچھا تو پھر اپنے بیٹوں کو رہن رکھ دو، ان حضرات نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو تمہارے پاس رہن رکھ دیں دنیا انہیں اس بات کا طعنہ دیا کرے گی کہ تم لوگ وہی تو ہو جو ایک وسق یا دو وسق کے بدلہ میں رہن رکھے گئے تھے، یہ بات تو ہم لوگوں کے لیے انتہائی شرم کی ہے، ہاں ہم لوگ یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ دیں چنانچہ اس سے اس بارے میں عہد و پیمان ہو گیا کہ ہم لوگ اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ دیں چنانچہ اس سے اس بارے میں عہد و پیمان ہو گیا کہ ہم لوگ اپنے ہتھیار لے کر آتے ہیں، حضرت محمد بن مسلمہ ؓ (مع رفقا) رات کے وقت اس کے پاس پہنچے ان کے ساتھ ابونائلہ کعب بن اشرف کا رضاعی بھائی بھی تھا، کعب نے ان لوگوں کو قلعہ کے اندر بلا لیا، یہ اپنے بالاخانہ پر سے ان کی طرف چلا، اس کی بیوی نے کہا اس وقت کہاں باہر جا رہے ہو؟ کعب نے کہا کوئی خطرہ کی بات نہیں، محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابو نائلہ ہیں، اس کی عورت بولی میں تو ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں، اس نے کہا نہیں! وہ تو میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ شریک بھائی ابو نائلہ ہیں، اور مرد کو اگر رات میں مقابلہ ہی کے لیے بلایا جائے تو رات میں بھی وہ ضرور نکلتا ہے۔ اور محمد بن مسلمہ ؓ اپنے ساتھ دو آدمی قلعہ کے اندر لے گئے تھے۔ ان دو آدمیوں سے کہنے لگے کہ جب کعب میرے پاس آئے گا تو میں اس کے بالوں کو سونگھونگا جب تم دیکھنا کہ میں نے اس پر قابو پالیا ہے تو فوراً تم اس پر تلوار سے وار کر دینا، کعب موتیوں سے جڑی ہوئی ایک پیٹی پہنے ہوئے نیچے اترا اور اس
تحفظ ناموس رسالت نمبر ۱۲۶ سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد میں سے بہترین خوشبوئیں پھوٹ رہی تھیں، محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ آج جیسی بہترین خوشبو تو مجھے سونگھنی کبھی میسر نہ ہوئی تھی۔ کعب نے اترا کر کہا کہ میرے پاس عرب کی عورتوں میں سے ایک ایسی حسین عورت ہے جو عطر کو بہت پسند کرتی ہے اور استعمال کرتی ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ کیا مجھے اپنے سر کو سونگھنے کی آپ اجازت دیتے ہیں؟ کعب نے کہا ضرور، چنانچہ انہوں نے خود سونگھا، پھر اپنے ساتھیوں کو سونگھایا اور کہا کہ ایک مرتبہ اور سونگھنے کی اجازت دے دو، اس نے کہا بہت بہتر، جب حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے اس طرح سے اس کے سر پر قابو پالیا، بڑی مضبوطی سے اس کے بالوں کو پکڑ کر اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا تو ساتھیوں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ان حضرات نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے قتل کی خبر دی عروہ ؓ کی روایت میں ہے کہ جب یہ حضرات واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو نعرہ تکبیر بلند کیا، حضور ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے یہ دعا دی کہ اللہ تمہارے چہرے مبارک فرمائے، ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! آپ کا چہرہ بھی مبارک ہو، اور کعب کے کٹے ہوئے سر کو آپ ﷺ کے سامنے ڈال دیا، آپ ﷺ نے اس کے قتل ہونے پر اللہ کی حمد و ثنا کی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ کعب کے قتل سے وہاں کے یہود میں بہت خوف و ہراس پیدا ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان لوگوں نے آ کر کہا، کہ ہمارا سردار دھوکہ سے مارا گیا ہے، حضور ﷺ نے ان لوگوں سے اس کی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا اور آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا اور مسلمانوں کو طرح طرح سے ستاتا تھا، (آپ ﷺ کی باتیں سن کر) یہ یہودی ڈرے اور پھر آپ ﷺ سے اس کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی۔ (۱۵)
گستاخ رسول ابورافع سلام بن ابی الحقیق کے قتل کا حکم : حضرت براء ؓ سے بخاری شریف میں اس طرح سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ابورافع یہودی کے قتل کے لیے چند حضرات کو انصار میں سے بھیجا اور ان پر عبداللہ ؓ بن عتیک کو امیر مقرر کر دیا۔ ابورافع حضور ﷺ کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتا رہتا تھا اور آپ ﷺ کے مخالفین کی امداد و اعانت کرتا رہتا تھا۔ یہ حجاز (خیبر) کے ایک قلعہ میں رہا کرتا تھا، جب یہ حضرات وہاں پہنچے، سورج غروب ہو چکا تھا اور چرواہے اپنے جانور لا رہے تھے، حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو میں جا کر دربان سے حیلہ کرتا ہوں شاید میں اندر داخل ہو سکوں، یہ چلے اور جب دروازے کے قریب پہنچے تو کپڑے کی اوٹ اس طرح کر کے بیٹھ گئے جیسے کہ کوئی قضاء حاجت کر رہا ہو قلعہ کے سارے لوگ اندر جا چکے تھے دربان نے انہیں آواز دے کر کہا کے اے اللہ کے بندے! اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ جا میں اب دروازے میں تالا لگاتا ہوں میں داخل ہو گیا اور چھپ کر بیٹھ گیا جب لوگ داخل ہو گئے اور دربان نے دروازہ بند کر دیا اور دروازہ کی چابیاں کیل پر لٹکا دیں تو میں نے چپکے سے کھڑے ہو کر وہ ساری چابیاں لے لیں اور دروازہ کھول دیا، ابورافع کے پاس قصے کہانیاں ہوا کرتی تھیں یہ اپنے بالا خانے پر رہتا تھا، جب اس کے پاس سے قصے کہانی کہنے والے چلے گئے میں اس کی طرف چڑھا، میں جس دروازے کو کھول کر اندر جاتا اس کو اندر سے بند کرتا چلا جاتا اور میں نے اپنے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جی میں کہا کہ جب تک لوگ میرے پاس پہنچیں گے اوّل تو وہ آسانی سے مجھ تک نہیں پہنچ سکتے ، میں اس کے قتل سے فارغ ہو جاؤں گا ، میں اس کے پاس پہنچا تو وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے بال بچوں کے درمیان تھا ، میں یہ نہ جان سکا کہ اس کمرے میں ابو رافع کونسا ہے ؟ یہ جاننے کے لیے میں نے اسے آواز دی کہ اے ابو رافع ! اس نے کہا کون ہے ؟ میں تلوار لے کر اس کی آواز کی طرف جھپٹا اور میں نے تلوار سے اسے مارنا شروع کر دیا ، چونکہ میں کچھ گھبرایا ہوا تھا لہٰذا میں کوئی کام نہ کر سکا ، اس نے شور مچایا تو میں کمرے سے نکل کر تھوڑی دور کھڑا ہو گیا ، پھر میں اس کے کمرے میں داخل ہوا اور میں نے کہا ابو رافع یہ شور کیسا تھا ؟ اس نے کہا کہ تیری ماں کا ناس جائے ایک آدمی اس کمرہ میں تلوار سے قتل کرنا چاہتا ہے ، عبداللہ ؓ بن عتیک نے کہا یہ سنتے ہی میں نے اس پر ایک وار کیا اسے گھائل تو کر دیا ، لیکن وہ قتل نہ ہو سکا تو میں نے اپنی تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھی اور رکھ کر دبایا وہ اس کی پیٹھ تک جا پہنچی ، تب میں نے جانا کہ ہاں اب اس کا کام میں نے تمام کر دیا ، اور پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتا وہاں سے چلا یہاں تک کہ سیڑھیوں تک پہنچا ، میں نے اپنا پیر بڑھایا ، میرا یہ خیال تھا کہ سیڑھی تک پہنچ گیا ہوں ، لیکن میرا پیر چاندنی رات میں کہیں سے کہیں جا پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی ۔ میں نے سر سے پگڑی اتار کر اس سے پاؤں کو باندھ دیا اور (قلعہ کے) دروازہ پر بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا کہ آج رات میں جب تک یہ نہ سن لوں کہ ابو رافع قتل ہو گیا ہے یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔ جب مرغ بولا تو موت کی خبر دینے والا قلعہ پر چڑھا اور اس نے بلند آواز سے پکار کر کہا : ابو رافع جو اہل حجاز کا مددگار تھا میں اس کی خبر مرگ دیتا ہوں ، تو میں وہاں سے اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا اللہ نے نجات دی ، اللہ نے ابو رافع کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ ﷺ کو سارے واقعہ کی اطلاع دی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنا پیر پھیلا ۔ میں نے اپنا پیر پھیلایا آپ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا ۔ آپ ﷺ کا دست مبارک پھیرنا ہی تھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ جیسے میرے اس پیر میں کبھی کوئی شکایت ہی نہیں ہوئی تھی ۔ (۱۶)
توہین مذہب اور توہین رسالت پر اہل کتاب کا رویہ اور پاکستان میں رائج الوقت قوانین کا تجزیہ
قانون توہین مذہب اور مذہبی پیشواؤں کی ایک طویل تاریخ ہے ، شریعت موسوی میں تو اس کے لیے انتہائی سخت سزا مقرر تھی ، یعنی ایسے افراد کو سزائے رجم دی جاتی تھی (جس کو بعد میں سزائے موت میں تبدیل کر دیا گیا ) اور اس قانون سے کوئی غیر ملکی بھی مستثنیٰ نہ تھا ۔ جو شخص بھی توہین مذہب یا توہین باری تعالیٰ کا ارتکاب کرتا اسے سزا ملتی تھی ۔
موسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے تو اس میں حد درجہ غلو اختیار کیا ، توہین رسل اور توہین مذہب والوں کو نہ صرف سزائے موت دیتے بلکہ انہوں نے ایسے افراد کو زندہ جلانے کا قانون پاس کیا ہوا تھا ۔ اس قانون میں انہوں نے اس درجہ غلو اختیار کیا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی نافرمانی کرے گی تو اس کو بھی زندہ جلا دیا جائے گا ۔ اس سلسلے کی آخری سزا انہوں نے انگلستان میں ۱۷۸۹ء میں ایک عورت کو دی ، لیکن بعد میں ۱۷۹۰ء میں انہوں نے بھی اس قانون میں تبدیلی کر کے اس کو سزائے
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
موت میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح کی تمام سزاؤں کا اختیار مذہبی عدالتوں کو حاصل ہوتا تھا، اور بسا اوقات پادری اسے سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے تھے اس لیے سترہویں صدی کے آغاز میں توہین مذہب کے وہ مقدمات جن کی سیاسی حیثیت بھی تھی مذہبی عدالتوں کے بجائے خصوصی عدالتوں یعنی کورٹ آف ہائی کمیشن میں جانے لگے لیکن بعد میں ایسے مقدمات کو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لے لیا گیا۔ اور ایک مشہور مقدمے اسٹیٹ بنام ٹیلر ۱۶۷۰ء میں چیف جسٹس ہال نے یہ رولنگ دی:
”اگرچہ مذہب کو دھوکہ بازی کہنا چرچ کی عدالت کا دائرہ کار ہے لیکن انگلستان کی حکومت، دستور اور قانون سب کے سب عیسائیت کے نظریات پر مبنی ہیں لہٰذا ایسا کہنے سے حکومت، قانون اور ریاست سب کی نفی ہوتی ہے لہٰذا سپریم کورٹ کو ایسے مقدمات کی سماعت کا اختیار ہے۔“
اس بات سے اندازہ کر لیجئے کہ جب تک انگلستان کی حکومت عیسائیت کے مذہب پر کچھ نہ کچھ عمل پیرا تھی اس وقت تک تو محض مذہب کو دھوکہ بازی کہنا ہی حکومت، دستور اور قانون کی توہین قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ وہاں کی حکومت عیسائی کو اپنا مذہب سمجھتی تھی۔ لیکن جب یہی انگریز پوری دنیا پر قابض ہوئے ہیں، فلپائن سے مراکو تک پوری دنیا پر اپنا کریمنل کوڈ نافذ کرتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی دوسرے مذہب کا، دوسرے لوگوں کے عقیدہ کا کوئی خیال نہیں رکھتے بلکہ وہ اس بات کو اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ کسی طرح سے اسلام کو سرے سے مٹا دیا جائے۔ مسلمانوں کے عقائد تبدیل کر دیئے جائیں اور اس عرصہ میں انہوں نے مسلمانوں سے اسلام کی روح کو ختم کرنے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
مغربی استعمار کی یہی بدنیتی تھی جس کے مطابق وہ خود تو انیسویں صدی تک عیسائی عقیدے کو تحفظ دیتے رہے لیکن انہوں نے جب دوسرے ممالک پر اپنا کریمنل لاء نافذ کیا تو وہاں اس نقطہ نظر کو کوئی جگہ نہ دی۔ انہوں نے شخصی عزت اور حیثیت عرفی کو تحفظ دینے کے لیے دفعہ 499 اور 500 وضع کی۔ جب کہ مذہب کو تحفظ دینے کے سلسلہ میں انگریزوں نے فقط تعزیرات ہند میں دفعہ 295 وضع کی۔ جس میں صرف مذہبی مقدمات کو لیا جاتا تھا۔ اور وہ بھی اس لیے کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہی ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے کئی مقدمات چل رہے تھے اور ایک مذہبی کشمکش جاری تھی۔ لیکن جب ۱۹۲۷ء میں ہندوستان میں توہین رسالت پر ہندو مسلم فسادات برپا ہوئے تو تعزیرات ہند میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس طرح تعزیرات ہند میں دفعہ (295A) کا اضافہ کیا گیا۔ اس دفعہ کی رو سے اس بات کی ممانعت کی گئی کہ کوئی شخص کسی گروپ کے مذہب اور مذہبی عقائد کی توہین کرے۔ اس میں کہیں بھی مذہبی راہنماؤں کے احترام کا ذکر نہ کیا گیا۔ حالانکہ قانون ازالہ حیثیت عرفی میں یہ درج تھا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کے فوت شدہ رشتہ داروں کی توہین بھی کرے گا اور اس کا اثر اس شخص کی عزت و وقار پر پڑتا ہے تو اسے بھی ازالہ عرفی تصور کیا جائے گا۔ ۱۹۲۷ء کی اس ترمیم میں نہ تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات کو کوئی تحفظ فراہم کیا گیا اور نہ ہی دوسرے مذاہب کے اوتاروں اور رہنماؤں کو کوئی تحفظ دیا گیا۔ دراصل یہ اس لیے کہ انگریزوں نے عیسائی
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
مشنری اداروں اور افراد کو توہین مذہب کے لیے کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ اور وہ اپنے مقبوضہ علاقوں میں سے دیگر مذاہب کو ختم کر کے عیسائیت کو مسلط کرنا چاہتے تھے۔
لیکن قیام پاکستان کے بعد مسلمان ان دفعات پر مطمئن نہ تھے اس لیے ان دفعات کے اندر مزید ترامیم کی گئیں، چنانچہ ۱۹۸۲ء میں دفعہ 295B کا اضافہ بذریعہ آرڈیننس نمبر ۱ مجریہ ۱۹۸۲ء وضع کیا گیا اس کے ذریعہ توہین قرآن کی ممانعت کی گئی تاکہ قرآن مجید کے اوراق کو غلط استعمال سے روکا جائے۔
اس کے بعد ۱۹۸۶ء میں ایک ترمیمی ایکٹ کے ذریعے دفعہ (295C) وضع کی گئی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک اور آپ ﷺ کی ذات گرامی کی توہین نہ کی جائے اور اس کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی یا پھر عمر قید اگر عدالت مناسب سمجھے۔ توہین رسالت کے مرتکبین کو یہ سزا کیسے دی جائے گی اس کی صورتیں درج ذیل ہوں گی۔
توہین رسالت کرنے والا شخص یا تو مسلمان ہوگا یا معاہد اور ذمی غیر مسلم ہوگا اور یا پھر کافر حربی ہوگا، ان تینوں کے احکام مختلف ہیں اور یہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۱۲ سے ماخوذ ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَیْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ ﴿۹: ۱۲﴾
”اگر یہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین کے بارے میں لعن طعن کریں تو کفر کے ان علم برداروں سے جنگ کرو کیوں کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، شاید کہ وہ باز آجائیں۔“
توہین رسالت کا مرتکب اگر کوئی مسلمان ہے تو اس کے واجب القتل ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کیوں کہ وہ مرتد ہو جائے گا۔ امام ابو بکر جصاصؒ لکھتے ہیں ”اہل اسلام کے درمیان اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دین اسلام کا کوئی مدعی اگر حضور ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق یہ رویہ اختیار کرے گا تو وہ مرتد ہو جائے گا اور وہ واجب القتل قرار دیا جائے گا۔“
لیکن توہین رسالت کا مرتکب اگر کافر حربی اور دارالحرب کا کوئی حکمران ہو تو مسلمانوں کی حکومت اس کے خلاف اعلان جنگ کرے گی لیکن اگر اس کی طاقت نہ رکھتی ہو تو وہ مناسب وقت کا انتظار کرے گی تا کہ ائمہ کفر کی سرکوبی کی جاسکے۔
لیکن اگر توہین رسالت کا مرتکب کوئی مستأمن (ذمی) ہو تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ تعزیری سزا دی جائے گی اور اس کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔ بہر حال امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں کسی دوست ملک کے ساتھ عہد امن، کسی ذمی کے حقوق اور عارضی طور پر ویزے کے ذریعے اسلامی ریاست میں آنے والے کے معاہدوں کا یہ بنیادی حصہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام اور شعائر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں کریں گے۔ لیکن اگر کوئی ذمی یہ کام کرے گا تو اس کا ذمہ ختم
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
ہو جائے گا۔ البتہ امام ابوحنیفہؒ اور اس کے اصحاب کی رائے یہ ہے کہ ایسے ذمی اور مستأمن کو سزائے موت تو نہیں دی جائے گی، بلکہ محض تعزیری سزا دی جائے گی یہی مسلک امام سفیان ثوریؒ کا بھی ہے۔
دراصل اہل کتاب اور پھر برصغیر پاک و ہند میں رائج الوقت قانون توہین رسالت اور توہین مذاہب کا یہ تجزیہ اس لیے پیش کیا گیا کہ مغرب کے ہاں مسلمانوں کے مقابلہ میں انتہائی سخت قوانین نافذ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آج مغرب مسلمانوں کو رجعت پسند، شدت پسند اور دہشت گرد تصور کرتا ہے دراصل یہ مغرب کی دوغلی پالیسی ہے۔
مصادر وحواشی:
- (۱) مسند احمد بن حنبل ۱:۲۷۹ (المعجم المفہرس)
- (۲) صحیح البخاری کتاب العلم، باب التناوب فی العلم حدیث رقم ۸۹
- (۳) صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان، حدیث رقم ۱۴
- (۴) الاعراف ۷ : ۷۲
- (۵) الاعراف ۷ : ۸۳، ۸۴
- (۶) الاعراف ۷ : ۸۶، ۸۸
- (۷) الاعراف ۷ : ۹۱، ۹۲
- (۸) المائدۃ ۵ : ۱۳
- (۹) صحیح البخاری، کتاب التفسیر باب قولہ ”سیصلیٰ ناراً ذات لہب“ حدیث رقم ۴۹۷۳
- (۱۰) الصارم المسلول فی شاتم الرسول ﷺ ، امام ابن تیمیہؒ ، ص ۹۵، ۹۶ ، طبع : الحرس الوطنی السعودی ، س ن ۔
- (۱۱) ایضاً ، ص ۱۰۴ ، ۱۰۵
- (۱۲) سنن ابی داؤد ، کتاب الحدود ، باب الحکم فی من سب النبی ﷺ حدیث رقم ۴۳۶۱
- (۱۳) سنن النسائی ، کتاب المحاربۃ ، باب الحکم فی المرتد حدیث رقم ۴۰۷۲
- (۱۴) ایضاً ، حوالہ بالا
- (۱۵) صحیح البخاری ، کتاب المغازی ، باب قتل کعب بن الاشرف ، حدیث رقم ۴۰۳۷
- (۱۶) ایضاً ، باب قتل ابی رافع ............. حدیث رقم ۴۰۳۹
تحفظ ناموس رسالت نمبر ۱۳۱ سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
جرمِ توہینِ رسالت کی سزا: مذاہب فقہیہ کی روشنی میں
شمس الحق امین*
قرآن ،سنت اور فقہی ذخیرہ توہین رسالت کے جرم و سزا کی تفصیلات سے معمور ہے۔ قرآن و سنت اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں توہین رسالت کی سزا ذکر کی جاتی ہے۔
قرآن مجید فرقان حمید میں توہین رسالت پر دلالت کرنے والے صراحتاً اور کنایۃً دونوں طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں لفظ ”ایذاء، استہزاء“ وغیرہ واضح طور پر اس جرم شنیع کے بارے میں آئے ہیں۔ (۱) سورۃ احزاب میں ارشاد ہے ”تمہارے لیے یہ درست نہیں کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچاؤ، نہ یہ جائز ہے کہ کبھی بھی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو اپنے نکاح میں لاؤ۔ کیونکہ بلاشبہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک گناہ عظیم ہے۔“ (احزاب:۵۳)
سورۃ انفال میں اذیت رسول ﷺ کے مرتکبین اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”پس تم ان کی گردنوں پر اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ (یہ حکم) اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دے گا تو یاد رکھو اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“ (سورۃ انفال:۱۲،۱۳) یہ آیت کریمہ مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئی تھی جب دشمنان اسلام اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت اور ایذا رسانی پر کمر بستہ تھے۔ حق تعالیٰ شانہ نے اس جرم کی پاداش میں یہ سنگین سزا تجویز فرمائی۔ اسی طرح سورۃ احزاب میں درود و سلام کو واجب قرار دینے کے بعد ایذا رسانی کے جرم کے مرتکب کو لعنت کا سزاوار ٹھہرایا گیا۔ ارشاد ہوا ”اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“ (سورۃ احزاب:۵۷) مفتی محمد شفیعؒ فرماتے ہیں ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذاء پہنچائے ، آپ ﷺ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی ہوگی۔ (كـذا قــال القاضي ثناء الله في التفسير المظهري۔) (۲)
آیت مذکورہ میں لعنت کی بنیاد پر بعض مفسرین نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ چونکہ ملعون شخص رحمت الٰہی سے محروم ہوتا ہے، اس لیے وہ شریعت اسلامی کی رو سے ”مباح الدم“ یعنی واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ (۳) اسی ضمن میں عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ
* لیکچرار ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
نے حضرت معاذؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جو اللہ کے نیک بندوں اور دوستوں کے خلاف دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھتے ہیں، وہ اللہ کے خلاف جنگ آزمائی کرتے ہیں۔“(۴) یہ بالکل واضح ہے کہ جنگ میں مد مقابل مباح الدم ہی ہوتا ہے۔
سورۃ توبہ کی اس آیت، ”اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنسی کھیل میں تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیات اور اس کا رسول ﷺ ہی کیا تمہارے ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہو گئے ہو۔“ کی تفسیر میں ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ ”اہلِ تفسیر بیان کرتے ہیں کہ ان کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے متعلق ایسے کلمات کہے تھے جو آپ ﷺ کے شایانِ شان نہ تھے۔“(۵) اسی طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ آیت کریمہ اس مسئلے میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کا مذاق اڑانا کفر ہے، پس گالی دینا تو بطریقِ اولیٰ کفر ہے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسولِ کریم ﷺ کی توہین کرے، خواہ سنجیدگی سے یا ازراہِ مذاق وہ کافر ہو جائے گا۔“(۶) علامہ ابن العربی مالکیؒ نے لکھا ہے کہ ” انہوں (شاتمِ رسول) نے جو کچھ کہا وہ یا تو بطورِ مذاق کہا ہوگا یا سنجیدگی سے جو انداز بھی ہو بہر حال کفر ہے، کفر یہ مذاق کرنا کفر ہی ہے، ائمہ دین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں۔“(۷)
علامہ خفاجیؒ فرماتے ہیں ”اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ حضور ﷺ کو ایذاء دینا کفر ہے اور مفسرین نے اس آیت کریمہ سے حضور ﷺ کو ایذاء دینے والے کا کفر ثابت کیا ہے۔“(۸)
معترضین اور ملحدین نے ان گنت شبہات میں ایک شبہ یہ بھی اٹھایا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، چونکہ وہ پہلے سے مؤمن نہ تھے تو پھر یوں کیوں فرمایا گیا کہ: قد كفرتم بعد ايمانكم (کہ تم ایمان کے بعد کافر ہو گئے۔ اس کا جواب مختلف مفسرین نے مختلف انداز سے دیا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں : ” قد کفرتم یعنی تم نے حضور ﷺ کو ایذاء دے کر اور ذات رسول ﷺ میں طعن کر کے کفر کا اظہار کیا، بعد ایمانکم یعنی ایمان کا اظہار کرنے کے بعد۔“(۹) علامہ اسماعیل حقیؒ نے لکھا ہے کہ ”قد کفرتم“ یعنی تم نے رسول کریم ﷺ کو اذیت دے کر اور ذات رسول ﷺ میں طعن کر کے کفر کیا (بعد ایمانکم) یعنی اس سے پہلے تم ایمان کا اظہار کرتے تھے کیونکہ اس سے پہلے بھی وہ یقیناً مؤمن نہ تھے بلکہ منافق تھے۔“(۱۰) شیخ محمد عبدہٗ نے مفسرین کی آراء کا خلاصہ پیش کیا ہے کہ وہ پہلے ہی مؤمن نہ تھے بلکہ منافق تھے لیکن انہوں نے حضور ﷺ کو کان کا کچا کہہ کر ایسا جرم کیا جو کفر ہے، اس طرح ان کا کفر مزید قوی ہو گیا یا وہ اپنے نفاق کو چھپا کر ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ یہ کفر کہنے سے ان کا کفر ظاہر ہو گیا۔(۱۱)
علامہ قرطبیؒ سورۃ حجرات کی اس آیت (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”اس آیت میں جس
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد آنحضور ﷺ کا استخفاف واہانت ہو کیونکہ ایسی بلند آواز تو کفر ہے۔ علامہ آلوسی بغدادی کی تشریح بھی نہایت اہم ہے، فرماتے ہیں ”یہ مسلمہ قاعدہ ہے، کہ آنحضور ﷺ کو کسی قول وفعل کے ذریعہ تکلیف پہنچانا کفر ہے، اس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایا گیا ہے جس سے آپ ﷺ کو اذیت پہنچنے کا احتمال ہو اور اس پر تمام آئمہ کا اجماع ہے کہ جو شخص بھی ایذائے رسول ﷺ کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہے، اور اس کی معافی اور توبہ قابل قبول نہیں ۔“ علامہ ابن تیمیہ کی بھی یہی رائے ہے کہ ” شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قابل قبول نہیں ۔“
محمد اسماعیل قریشی صاحب کہتے ہیں کہ ” ان آیات قرآنیہ سے قانون الٰہی صاف طور پر اور کھل کر سامنے آگیا ہے کہ اگر کوئی کافر یا منافق جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا صرف موت ہے۔ ایک مسلمان جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان ہے، وہ حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کا تصور ہی نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی یا سوء ادب برداشت کر سکتا ہے ۔“ (۱۲)
توہین رسالت کے جرائم کے واقعات اور دربار نبوی ﷺ سے جاری کردہ احکامات سے ذخیرہ سنت نبوی ﷺ بھرا ہوا ہے۔ ذیل میں چند احادیث پر بطور مثال اکتفا کیا جاتا ہے۔
حضرت عکرمہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی کی ایک ام ولد تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ ﷺ کی عیب جوئی کیا کرتی تھی۔ وہ صحابی اسے روکتے مگر وہ باز نہ آتی وہ اسے ڈانٹتے مگر وہ نہ رکتی۔ ایک رات اس نے حضور ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو اس نابینا صحابی نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے قتل کر دیا۔..... رسول کریم ﷺ نے فرمایا ”گواہ رہو اس کا خون رائیگاں گیا ۔“ (۱۳) یعنی مباح الدم تھی اس لیے کوئی قصاص وغیرہ نہیں ہے۔
مولانا خلیل احمد سہارنپوری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ”شوکانی کہتے ہیں کہ حدیث ابن عباسؓ اور حدیث اعمی اس بات پر دلیل ہے کہ رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا۔“ (۱۴) شمس الحق عظیم آبادی فرماتے ہیں ”اس میں دلیل ہے کہ ذمی اگر اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی توہین سے باز نہ آئے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے، یہ سدی کا قول ہے ۔“ (۱۵)
حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا۔ حضور ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ (۱۶)
حضرت امام حسینؓ اپنے والد ماجد حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ”جو انبیاء میں سے کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابی کو گالی دے اسے کوڑے مارو۔“ (۱۷)
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد ۱۴۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
آخری حدیث جس کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتا ہوں، وہ ہے کعب بن اشرف یہودی والی طویل حدیث، جو توہین رسالت کے ارتکاب کی بدولت واجب القتل ہوا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ”کہ تم میں سے کون کعب بن اشرف کی خبر لے گا، اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو تکلیف دی ہے، یہ سن کر محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: کیا آپﷺ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپﷺ نے فرمایا ”ہاں“، جس پر انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اجازت مرحمت فرمائیے کہ میں اس سے نپٹنے کے لیے جس طرح مناسب سمجھوں معاملہ کروں، تو حضورﷺ نے فرمایا جو چاہو کرو...... انہوں نے اسے قتل کر دیا، پھر حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور آپﷺ کو اس کی خبر دی۔ (۱۸) اس حدیث مبارکہ سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ کعب بن اشرف کو نبی کریمﷺ کے حکم سے قتل کیا گیا تھا، اور اس کے قتل کی علت اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کو اذیت بیان کی ہے۔ امام نوویؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ’اس کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے معاہدہ توڑا، حضورﷺ کی ہجو کی اور آپﷺ کو گالیاں دیں۔‘ (۱۹) یہی حال ابورافع کے قتل کا ہے۔ براءؒ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کو ایذا دیتا تھا اور دشمنوں کو آپﷺ کے خلاف ابھارتا تھا۔ اسی طرح آپﷺ نے فتح مکہ کے روز ابن خطل اور اس کی ان دونوں باندیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو آپﷺ کو گانے میں گالیاں دیتے تھے۔ (۲۰) مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کو گالیاں دیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: کون ہے جو میرے دشمن کو مجھ سے کفایت کرے۔ اس پر حضرت زبیرؓ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں۔ چنانچہ وہ اس سے لڑے اور اسے قتل کر دیا۔ (۲۱)
خیر القرون میں توہین رسالت کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچانے پر سختی سے عمل کیا گیا، جس کی مثالیں تو بہت زیادہ ہیں جن میں سے چند کا ذکر بطور مثال کیا جاتا ہے۔ حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا۔ میں نے عرض کیا۔ اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دوں ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا سارا غصہ ختم ہو گیا۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا؟ عرض کیا کہ آپ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا تو تم یہ کام کرتے؟ میں نے عرض کیا اگر آپ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں۔ اللہ کی قسم۔ رسول اللہﷺ کے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی۔ (۲۲) ابن وہب نے حضرت عمرؓ سے روایت کی ہے کہ ایک راہب نے حضورﷺ کی شان میں دشنام طرازی کی۔ جب حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی تو ان لوگوں سے کہا جنہوں نے یہ واقعہ سنایا ”تم نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا؟ اگر میں وہاں ہوتا تو اسے زندہ نہ چھوڑتا۔“ (۲۳)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب الشفاء میں توہین رسالت کے انجام بد کے بارے میں ایک جامع ذکر فرمایا ہے کہ اگر سیرت اور تاریخ اسلام کے واقعات پر محض سرسری سی نظر ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ عہد رسالت سے لیکر خلفائے راشدین اور ہر دور کے مسلمان حکمرانوں نے توہین رسالت کی سزا قتل کو ہی جاری و ساری رکھا ہے اور یہ امت میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
(۲۴)
اس پر تمام فرقے مثلاً شیعہ سنی وغیرہ متفق و مجتمع ہیں لہذا یہی وجہ ہے کہ امت کے بڑے بڑے فقہاء نے اس پر مستقل کتابیں لکھیں اور اجماع امت نقل کیا ہے۔
فقہاء اسلام :
مسلمان مرتکب توہین رسالت کی سزا اور دیگر قانونی نتائج مثلاً ارتداد وغیرہ کے بارے میں علماء متفق ہیں، البتہ ذمی کے معاملے میں جمہور اور احناف (بطور خاص متقدمین) کے ہاں اختلاف ہے، احناف میں سے بعض متاخرین نے جمہور کی رائے اختیار کی ہے۔ اسی طرح قبول توبہ کے بارے میں مذاہب فقہیہ کے ہاں تفصیلات موجود ہیں۔ اس سلسلے میں قاضی عیاضؒ نے اجماع نقل کی ہے کہ ”جو شخص بھی حضور ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ کی ذات، نسب، دین یا عادات میں سے کسی عادت میں کسی نقص کی نسبت کرے یا بطریق گستاخی آپ ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ ﷺ کو ناقص کہے یا آپ ﷺ کی شان کو کم کرے یا آپ ﷺ پر یا آپ ﷺ کی کسی بات پر عیب لگائے وہ آپ ﷺ کو گالی دینے والا شمار ہوگا، اس کا وہی حکم ہے جو آپ ﷺ کو (صراحتاً) گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ اس پر علماء امت اور صحابہؓ سے لے کر آج تک جملہ اہل فتویٰ کا اتفاق و اجماع ہے۔ نیز فرمایا کہ ہمارے علم کے مطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا شخص مباح الدم ہے۔ اسلاف امت اور تمام علماء اس بات پر متفق ہیں۔ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کے قتل و تکفیر پر اجماع ہے۔“ (۲۵) آئندہ صفحات میں اختصار کے ساتھ مسلم اور غیر مسلم مرتکب توہین رسالت، ذمی، استتابہ اور قبول توبہ کے بارے میں گفتگو سمیٹنے کی کوشش کی جائے گی۔
مسلمان توہین رسالت کے مرتکب کا حکم :
کسی بھی مسلمان کا معصوم الدم ہونا صحیح حدیث کی رو سے قاعدہ کلیہ کے طور پر ثابت ہے۔ البتہ مستثنیات (کہ کب مباح الدم ہے) بھی نفس حدیث میں مذکور ہیں۔ جن میں ایک استثناء مشرف باسلام ہونے کے بعد ارتداد کا ہے۔ اگرچہ اجمالی طور پر کسی مسلمان مرتکب توہین رسالت کے قتل کا جواز بھی اسی استثناء (یعنی ارتداد) کے تحت فراہم کیا گیا ہے، لیکن تفصیلی طور پر ارتداد کے سارے اصول و احکام اس پر من و عن منطبق نہیں کئے جاتے، مثلاً قبول توبہ میں تین دن کی مہلت وغیرہ۔ اس لیے بعض فقہاء نے توہین رسالت کے جرم کو حدود (حد الردۃ) کے تحت نقل کرنے کے بجائے ”سیاسۃً“ کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے۔ جس کی تنفیذ و تعطیل کے سارے اختیارات ریاست (اولو الامر) کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ اور حسب مصلحت اس میں معافی کی گنجائش بھی ہے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۳۶ تحفظ ناموس رسالت نمبر
لہٰذا ان تفصیلات کے پیش نظر توہین رسالت کا جرم اور سزا فی نفسہ حد اور تعزیر اور سیاسۃ میں مختلف فیہ ہے، جس کے اثرات اس کی نوعیت، تطبیق اور دیگر اہم پہلو اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ بنیادی طور پر اس حوالے سے دو نقطہ ہائے نظر ہیں جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
جمہور فقہاء (مالکی، شافعی اور حنبلی؛ جبکہ متأخرین احناف کا بھی یہی رجحان ہے): یہ اس بات پر متفق ہیں کہ جو لوگ آنحضرت ﷺ کی اہانت و گستاخی اور توہین و تنقیص کا ارتکاب کریں، اگر وہ پہلے مسلمان تھے تو اب مرتد ہو گئے اور ان کی سزا قتل ہے۔
احناف: امام ابو یوسفؒ کی کتاب الخراج میں ہے: جس مسلمان نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی یا آپ ﷺ کی کسی بات کو جھٹلایا، یا آپ ﷺ میں کوئی عیب نکالا یا آپ ﷺ کی تنقیص کی، وہ کافر و مرتد ہو گیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا، پھر اگر وہ اپنے اس کفر سے توبہ کر کے اسلام و نکاح کی تجدید کرے تو فبہا، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔
اس کے علاوہ علامہ شامیؒ نے تنبیہ الولاۃ والحکام میں علامہ تقی الدین سبکیؒ کی کتاب اَلسَّیْفُ الْمَسْلُوْلُ عَلٰی مَنْ سَبَّ الرَّسُوْلَ ﷺ کے حوالے سے اس پر پوری امت، تمام اہل علم اور فقہائے امت کا اجماع نقل کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: امام خاتمۃ المجتہدین تقی الدین ابی الحسن علی بن عبد الکافی السبکی اپنی کتاب السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ میں لکھتے ہیں کہ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ امت کا اجماع ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں تنقیص کرے اور سب و شتم کرے وہ واجب القتل ہے، ابوبکر ابن المنذرؒ فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کو سب و شتم کرے اس کا قتل واجب ہے، امام مالک بن انس، امام لیث، امام احمد اور امام اسحق (رحمہم اللہ) اسی کے قائل ہیں اور یہی امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ اس طرح کا قول امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب، امام ثوریؒ، اور امام اوزاعیؒ سے شاتم رسول کے بارے میں منقول ہے۔ امام محمد بن سحنونؒ فرماتے ہیں کہ علماء نے نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کرنے والے اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے کفر پر اجماع کیا ہے، اور ایسے شخص پر عذاب الٰہی کی وعید ہے اور جو شخص ایسے موذی کے کفر و عذاب میں شک و شبہ کرے وہ بھی کافر ہے، امام ابو سلیمان الخطابیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی ایسا مسلمان معلوم نہیں جس نے ایسے شخص کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔
(۲۶)
علامہ ابن عابدین شامیؒ اپنی کتاب رسائل ابن عابدین میں لکھتے ہیں کہ جو ملعون اور موذی آنحضرت ﷺ کی شان عالی میں گستاخی کرے اور سب و شتم کرے، اس کے بارے میں مسلمانوں کے دل ٹھنڈے نہیں ہوتے جب تک کہ اس خبیث کو سخت سزا کے بعد قتل نہ کیا جائے یا سولی پر نہ لٹکایا جائے، کیونکہ وہ اسی سزا کا مستحق ہے، اور یہ سزا دوسروں کے لئے عبرت ہے۔
(۲۷)
ابن الہمامؒ نے لکھا ہے کہ ”جس نے رسول اللہ ﷺ سے دل میں بغض رکھا وہ مرتد ہو گیا اور شاتم رسول تو اس سے بھی بدتر ہے۔ ہمارے نزدیک واجب القتل ہے اور اس کی توبہ سے سزائے موت موقوف نہیں ہوگی۔ یہ مذہب اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا بھی ہے اور یہ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۳۷ تحفظ ناموس رسالت نمبر
حکم حضرت ابوبکرؓ سے منقول ہے۔ صدر الشہید حنفیؒ، امام خیر الدین رملیؒ، ابواللیث سمرقندیؒ اور امام نصرؒ کے علاوہ اکثر فقہائے احناف کا اس پر اتفاق ہے۔“
(۲۸)
مالکی مذہب: ابو مصعب اور ابن ابی اویسؒ نے امام مالکؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ”جو شخص حضور ﷺ کو گالی دے یا برا بھلا کہے، آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے، اسے قتل کیا جائے گا۔ اگر وہ مسلمان ہو تو اس کی توبہ یا کافر ہو تو اس کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔
(۲۹)
شافعی مذہب: امام ابو بکر الفارسیؒ، جن کا تعلق شافعی مسلک سے ہے شاتم رسول کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر سب کا اجماع ہے۔ اس اجماع سے ان کی مراد صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا اجماع ہے۔
(۳۰)
حنبلی مذہب: اس مذہب کے اساطین علماء میں سے ابن تیمیہؒ کی تالیف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ“ اور مجموع الفتاویٰ پوری امت کے لیے بنیادی مصادر میں سے اہم مصدر اور جامعیت اور دلائل ملزمہ کے لحاظ سے انسائیکلو پیڈیا ہے، انہوں نے موضوع کا کوئی بھی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا، بلکہ پوری تفصیل کے ساتھ مدلل انداز میں موضوع کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کر کے اس امت پر احسان کیا ہے۔ ان کے علاوہ ابن قدامہؒ، مرداویؒ اور ابن مفلحؒ وغیرہ کی رائے بھی جمہور کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہی ہے۔
(۳۱)
گستاخ رسول ﷺ اور مسئلہ توبہ :
توہین رسالت کے مسلمان مرتکب کی سزا کے ذکر کرنے بعد اس کے قبولیت توبہ کا ذکر اس لیے مفید ہوگا کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ کیا اس سزا کو توبہ کے بعد کالعدم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس سے ایک اور اہم مسئلے کو سمجھنے میں مدد ملے گی، اور وہ یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کی سزا ہر لحاظ سے حد (ارتداد) ہے جس پر استتابہ اور تین دن کی مہلت وعظ وتلقین وغیرہ امور کا انطباق ہوگا، یا اس میں اور عوامل اور حقوق بھی شامل ہیں جن کی بدولت اس میں استتابہ، مہلت اور وہ دیگر امور جو جرم ارتداد میں ملحوظ رکھے جاتے ہیں وہ من وعن یہاں پر منطبق نہیں کئے جائیں گے؟ اس سلسلے میں بعض آراء کا تذکرہ ضمناً گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے جن کا اعادہ نہ ضروری ہے اور نہ مناسب، البتہ بعض اکابر علماء کی آراء پیش خدمت ہیں۔
فقہاء اسلام کی تصریحات:
شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہؒ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کی توہین رسالت والی روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ عمل اس بارے میں نص ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔
امام صدر الشہید حنفیؒ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ ہم اس کی توبہ اور اسلام لانے کو قبول نہیں کریں گے بلکہ اسے قتل کر دیں گے۔“ اسکی
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
توبہ اللہ کے ہاں دنیا میں مقبول نہیں ہے (البتہ آخرت کا معاملہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے چاہے تو اس کی توبہ قبول فرمالے یا عذاب دے) دیگر فقہاء کے نزدیک اس کا حکم سوائے قتل کے کچھ نہیں۔ اس پر تمام متاخرین علماء کا اجماع ہے۔ اور یہی رائے اکثر متقدمین کی ہے۔‘‘
(۳۲)
کیا گستاخ رسول ﷺ کا حکم دیگر مرتدین سے الگ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گستاخ رسول گستاخی کی وجہ سے مرتد تو ہو جاتا ہے مگر اس کا جرم دیگر جرائم سے بڑھ کر ہے، کیونکہ اس نے اس ہستی کی عزت و ناموس پر ہاتھ ڈالنے کی ناپاک جسارت کی ہے جن کا ساری کائنات میں خیر الخلائق ہونا متفقہ ہے۔ لہٰذا یہ جرم دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مرتدین کو اسلام قبول کرنے کا کہا جائے گا اور اگر وہ اسے قبول کرلیں تو انھیں چھوڑ دیا جائے گا، مگر گستاخ رسول ﷺ کو اسلام قبول کرنے کا اس لیے نہیں کہا جائے گا، کہ توہین رسالت کا معاملہ حضور ﷺ کے خصوصی حقوق مثلاً تعظیم وتوقیر سے متعلق ہے اور ہمیں نبی مہربان ﷺ کی وفات کے بعد کسی کو یقینی علم نہیں کہ آپ ﷺ اگر زندہ ہوتے تو آپ ﷺ اسے معاف فرماتے یا نہیں، لہٰذا معافی کا مفروضہ رحلت نبی ﷺ کے بعد قابل عمل ہی نہیں رہا۔ بلکہ قرآن وسنت، عمل صحابہؓ اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں سدالذرائع اور دینی حمیت کا تقاضا اپنے محبوب کے لیے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کو عبرتناک سزا سے دوچار کیا جائے۔ اس سلسلے میں بعض علماء کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں:
امام ابن نجیم حنفی رسالت مآب ﷺ کی گستاخی کرنے والے شخص کو مرتد قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دیگر مرتدین سے اس کا حکم جدا ہے کیونکہ دیگر مرتدین کی توبہ قبول کی جائے گی مگر گستاخ رسول ﷺ کی توبہ قابل قبول نہیں، فرماتے ہیں کہ ”ہر قسم کے ارتداد کے بعد اگر مرتد اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہیں، ان میں پہلا یہ ہے کہ جو گستاخ رسول ﷺ ہوا اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
(۳۳)
امام ابن عابدینؒ ایسے شخص کے جرم کو دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”شاتم رسول ﷺ کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں ہے کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور اس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا، اس لیے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے مگر شاتم رسول ﷺ اگر توبہ بھی کرلے تو صحیح مذہب کے مطابق اسے حداً قتل ہی کیا جائے گا۔‘‘
(۳۴)
اسی طرح امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ”حضور ﷺ کو سب وشتم کرنا اسلام سے اعراض (ارتداد) کی بہ نسبت بدرجہ ہا بدتر ہے۔‘‘
(۳۵)
توبہ سے توہین رسالت کی سزا ساقط ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں امام خیر الدین رملی حنفی فتاویٰ بزازیہ میں رقمطراز ہیں: شاتم رسول ﷺ کو بہرحال حداً قتل کرنا ضروری ہے۔ اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی توبہ سے یہ حد ساقط ہوسکتی ہے، خواہ یہ توبہ گرفتار ہونے کے بعد ہو یا پھر وہ اپنے طور پر تائب ہوا ہو۔ کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہے جس کی توبہ قابل توجہ ہی نہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس جرم کا تعلق حقوق العباد (حضور ﷺ کے حق)
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
سے ہے اور یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا جس طرح دیگر حقوق مثلاً چوری اور زنا وغیرہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، اہل کوفہ اور امام مالک کا مذہب بھی یہی ہے۔ (۳۶) قاضی عیاضؒ مالکی لکھتے ہیں: ”حضور ﷺ کی گستاخی دوسرے ارتداد کی طرح نہیں کہ جس میں توبہ قبول ہو جاتی ہو، کیوں کہ مطلق ارتداد ایک انفرادی عمل ہے، اس میں کسی اور شخص کا حق متعلق نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔ لیکن سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا معاملہ دوسرا ہے کیوں کہ اس میں حضور ﷺ کا حق بھی متعلق ہو گیا ہے اور یہ بات اس طرح سمجھی جائے گی کہ جس نے اپنے ارتداد کے وقت کسی کو قتل کیا ہو یا کسی پر تہمت لگائی ہو تو اس طرح اس کے توبہ کر لینے سے قتل اور تہمت کی حد ساقط نہیں ہوگی۔“ (۳۷)
شافعیہ اور حنابلہ کا بھی یہی موقف ہے کہ توبہ سے سزائے توہین رسالت ساقط نہیں ہوتی۔ امام ابو بکر الفارسیؒ فرماتے ہیں کہ اس پر سب کا اجماع ہے۔ اس اجماع سے ان کی مراد صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا اجماع ہے۔ (۳۸) امام احمد بن حنبلؒ سے شاتم رسول کے بارے میں فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا قتل واجب ہو چکا ہے اور اس کی توبہ قابل قبول نہیں۔ نیز امام احمدؒ سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی، زبان درازی اور تنقیص کرنے والے کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس پر حد واجب ہو جاتی ہے اور یہ حد کافر اور مسلمان ہر ایک پر لاگو ہوگی۔ (۳۹)
۲۔ توہین رسالت اور ذمی :
اگر ایسا بد بخت غیر مسلم حربی ہے تو وہ چونکہ اسلامی ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس لیے اسے متعلقہ سزا نہیں دی جاسکتی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حنفیہ کے ہاں ایک شرط اسلامی ریاست کے دائرہ اختیار میں موجود ہونا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اسلامی ریاست کے حدود سے باہر ہو، تو اس پر بعض احکام مثلاً وہ جو عدالت کی وساطت سے ریاست نافذ کرتی ہے، نافذ نہیں کئے جاسکتے۔ البتہ اس کے خلاف جہاد کا راستہ کھلا ہے۔ اور عصر حاضر میں بین الاقوامی قانون کے تحت مختلف معاہدات مجرمین کے تبادلے اور دیگر سفارتی ذرائع سے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے۔
ذمی کے بارے میں جمہور کی رائے :
مالکی اور شافعی فقہا کا ایک گروہ مسلمانوں کے مذہب، مذہبی شخصیات اور شعائر کے احترام کی اس اجمالی شرط کو کافی نہیں سمجھتا کہ وہ اسلامی شعائر کا احترام کریں گے اور یہ تجویز کرتا ہے کہ عقد ذمہ میں یہ بات باقاعدہ ایک واضح شرط کے طور پر شامل ہونی چاہیے کہ کوئی ذمی نبی ﷺ کو علانیہ سبّ وشتم نہیں کرے گا، اور پھر اگر وہ ایسا کرے تو معاہدہ توڑنے کی پاداش میں اسے قتل کر دیا جائے۔ فقہائے شوافع کے ایک بڑے گروہ کے نزدیک اگر معاہدے میں یہ شرط شامل نہ کی گئی ہو تو پھر شتم رسول کے مرتکب ذمی کو قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ حنابلہ کے ہاں بھی شتم رسول ﷺ کی صورت میں نقض عہد کے متحقق ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دو اقوال پائے جاتے ہیں۔ (۴۰)
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۴۰ تحفظ ناموس رسالت نمبر
لہٰذا جمہور فقہاء نے توہین رسالت پر سزائے موت کو ’عقد ذمہ‘ کی خلاف ورزی سے متعلق قرار دیا ہے اور ان کا استدلال یہ ہے کہ اہل ذمہ کے ساتھ جزیہ کی ادائیگی کی شرط کے ساتھ اسلامی ریاست میں رہنے کا معاہدہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں گے اور اس میں یہ بات ازخود شامل ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہب، مذہبی شخصیات اور شعائر کا احترام ملحوظ رکھیں گے۔ چنانچہ اگر کوئی ذمی شتم رسول کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ اس معاہدے کو جس کی وجہ سے اس کی جان کو تحفظ حاصل تھا، توڑ دیتا ہے اور نتیجتاً مباح الدم قرار پاتا ہے، اس وجہ سے اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اگرچہ فقہاء کی یہ رائے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے کہ شتم رسول کو نقض عہد کے ہم معنی قرار دیا جائے، تاہم مختلف مجرمین کے واقعات کے تجزیاتی مطالعے اور تحقیق سے سزا کو اصلاً عقد ذمہ کی خلاف ورزی کا نتیجہ قرار دینا محل نظر معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ خود نبی ﷺ کے دور میں شتم رسول کے جن مجرموں کو موت کی سزا دی گئی وہ سب کے سب یا تو ’معاہد‘ تھے یا مسلمانوں کے کھلم کھلا دشمن اور ان میں سے کوئی بھی فقہی اصطلاح کے مطابق ’ذمی‘ نہیں تھا۔
حنفیہ کی رائے: فقہائے احناف میں اس حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا نبی ﷺ کی شان میں گستاخی سے عقد ذمہ پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ نبی ﷺ پر سب وشتم کفر ہی کی ایک شکل ہے جس پر قائم رہنے کی اجازت عقد ذمہ کی صورت میں غیر مسلموں کو پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس وجہ سے شتم رسول ﷺ کے ارتکاب کو فی نفسہ نقض عہد کے ہم معنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (۴۱)
تاہم اس استدلال میں ایک لطیف خلط مبحث پایا جاتا ہے، اس لیے کہ کفر و شرک ایک اعتقادی مسئلہ ہے، جبکہ کسی پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنا ایک اخلاقی جرم ہے اور غیر مسلموں کو پہلی بات کی تو آزادی حاصل ہے، لیکن دوسری کی نہیں، دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چنانچہ خود فقہائے احناف غیر مسلموں کے کفر و شرک پر تو انھیں کوئی سزا دینے کے قائل نہیں، لیکن توہین رسالت کو ایک قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہیں۔
خاتمہ :
مغربی دنیا نے اس بدترین جرم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی مذموم کوششوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اسے آزادی اظہار رائے، بنیادی حقوق اور مذہبی مساوات وغیرہ کے لبادے میں ایک جائز اور قانونی فعل قرار دے کر ان کے اسلامی تشخص کو مسخ کرنے کے درپے ہیں۔
ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے کہ سلف صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے قول اور عمل سے عشق رسول ﷺ کا عملی ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اہل علم کا فرض ہے کہ وہ دور جدید کے تقاضوں اور حالات سے باخبر رہتے ہوئے علمی جہاد کے ذریعے ان مذموم ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں۔ مبلغین اور داعی حضرات سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ عشق رسالت مآب ﷺ اور آپ ﷺ کے حقوق اور مسلمانوں کے واجبات کو اپنی دعوت کا بنیادی موضوع بنائیں۔ اس طرح بجا طور پر یہ توقع کی
سہ ماہی ’مجلہ تعلیم و تحقیق‘ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
جاسکتی ہے کہ نبی مہربان ﷺ کی محبت وعقیدت ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں ہو۔
ائمہ دین نے بجاطور پر حضور ﷺ سے محبت اور قلبی تعلق کو امت کی زندگی اور لاتعلقی اور بے حرمتی کو امت کی موت قرار دیا ہے۔
مغربی دنیا کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ کوئی سیاسی، معاشی اور ثقافتی معاملہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جو ان کے اسلامی تشخص اور بقا کا ضامن ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحیح اور سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین
حوالہ جات:
- ۱۔ سورۃ التوبہ۔ ۶۱، ۶۵، ۶۶، سورۃ الانعام۔ ۱۰، سورۃ الرعد۔ ۳۲، سورۃ الانبیاء۔ ۴۱
- ۲۔ تفسیر معارف القرآن ۷/ ۲۲۹
- ۳۔ ناموس رسالت ﷺ اور قانون توہین رسالت، صفحہ ۹۴، محمد اسماعیل قریشی۔
- ۴۔ تفسیر ابن کثیر ۱ / ۹۳، بحوالہ: ارتداد اور توہین رسالت، ص ۸۹
- ۵۔ شرح شفا ۳/ ۴۰۴
- ۶۔ الصارم المسلول، صفحہ ۳۳
- ۷۔ احکام القرآن ۲/ ۹۷۶
- ۸۔ شرح شفا ۴/ ۴۸۸
- ۹۔ تفسیر مظہری ۲/ ۲۶۱
- ۱۰۔ تفسیر روح البیان ۲۵۹/۳
- ۱۱۔ تفسیر المنار ۱۰/ ۲۱۵
- ۱۲۔ ناموس رسالت ﷺ اور قانون توہین رسالت، صفحہ ۹۹
- ۱۳۔ سنن أبى داؤد ۲۵۲/۲ کتاب الحدود ، باب الحكم فيمن سبّ النبی ﷺ
- ۱۴۔ بذل المجهود شرح سنن أبى داؤد
- ۱۵۔ عون المعبود شرح سنن أبى داؤد ۲۲۶/۳ ، أبو الطيب محمد شمس الحق عظیم آبادی، دار الكتب العلميه، بيروت.
- ۱۶۔ سنن أبو داؤد ۵۲۵/۲ کتاب الحدود ، باب الحكم فيمن سبّ النبی ﷺ
- ۱۷۔ کنز العمال ۵۳۱/۱۱، مجمع الزوائد و منبع الفوائد ۳۶۰/۶۔
- ۱۸۔ صحیح بخاری ۵۲۸/۲ ، کتاب الرهن، باب رهن السلاح.
- ۱۹۔ المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج ۱۱۰/۲، أبو زكريا يحيى بن شرف النووى، دار احياء التراث العربی، طبع دوم۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم وتحقیق“ اسلام آباد ۱۴۲ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ۲۰۔ صحیح بخاری ۱۵/۳ ، کتاب المغازی، باب این رکز النبیﷺ الرأية، یوم الفتح، وباب قتل أبي رافع عبد الله بن
أبي الحقيق، دلائل النبوة للبيهقي۔
- ۲۱۔ مصنف عبدالرزاق ۳۰۷/۵ ، أبوبکر عبد الرزاق بن همام الصنعانی، المكتب الاسلامی، بیروت، طبع دوم ، تحقيق:
حبيب الرحمن الأعظمى۔
- ۲۲۔ سنن أبى داؤد ، كتاب الحدود باب الحكم فيمن سبّ النبیﷺ۔ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
- ۲۳۔ الصارم المسلول ، صفحہ ۲۷۶۔
- ۲۴۔ الشفا بتعريف حقوق المصطفىٰ، مذيلاً بالحاشيه المسماة مزيل الخفاء عن الفاظ الشفاء ۲۱۴/۲ لعلامه القاضي أبو
الفضل عياض، مع الحاشيه : لعلامه احمد بن محمد بن محمد الشمنى۔
- ۲۵۔ ایضاً ۱۲۵،۲۱۴
- ۲۶۔ ملاحظہ ہو: تنبيه الولاة والحكام، صفحہ ۳۰۸ وبعد، اور الصارم المسلول، صفحہ ۱۹۲۔
- ۲۷۔ رسائل ابن عابدین ۳۵۵/۱
- ۲۸۔ شرح فتح القدیر ۴۰۷/۴ لابن الهمام الحنفی، مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : فتاویٰ عالمگیری ۳۶۰/۳ اکفار الملحدین،
صفحہ ۴۱، ۵۱،۵۰ شاہ ولی اللہ محدث دھلوی، الشهاب الثاقب، علامہ شبیر احمد عثمانی۔
- ۲۹۔ الشفاء ۲۱۰/۲ وبعد۔
- ۳۰۔ ایضاً۔
- ۳۱۔ مغنی ۴۰/۲ لابن قدامه، الفروع ۳۴۵/۱۱ محمد ابن مفلح، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف على مذهب
الإمام أحمد بن حنبل ۴۴۴/۹، للمرداوی۔
- ۳۲۔ خلاصة الفتاوى ۳/ ۳۸۶
- ۳۳۔ بحر الرائق شرح کنز الدقائق ۵/ ۱۳۵
- ۳۴۔ تنقیح حامدیہ، صفحہ ۱۷۵، درمختار ۲۹۸/۳ ،نیز ملاحظہ ہو : درمختار ۲۹۰/۳ لحصکفیٰ۔
- ۳۵۔ الصارم المسلول ، صفحہ ۸۹۳ وبعد
- ۳۶۔ تنبيه الولاة والحكام ، صفحہ ۳۲۸
- ۳۷۔ الشفا ۲/ ۲۵۶
- ۳۸۔ السراج المنير ۲/ ۳۶۳
- ۳۹۔ الصارم المسلول على شاتم الرسول، صفحہ ۳۲۰ وبعد۔
- ۴۰۔ الكافى ۱/ ۵۸۵ لابن عبد البر: المهذب ۵۰۳/۳ أبو اسحاق الشيرازى: الاحكام السلطانيه ۱۵۹،۱۵۸ أبو يعلىٰ۔
- ۴۱۔ بدائع الصنائع ۱۱۳/۷،کاسانی۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۴۳ تحفظ ناموس رسالت نمبر
گستاخِ رسول بارگاہِ رسالت میں
مستند احادیث کی روشنی میں
طاہر صدیق*
قرآن کریم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے والے کے لیے عذاب مہین کی وعید سنائی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا (الاحزاب:۵۷)
”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے۔“
یعنی دنیا میں بھی اس کے لیے سزا ہے اور آخرت میں بھی عذاب تیار کر رکھا ہے، عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی قرآنی احکام کے مطابق شاتم رسول کو سزا دی جاتی رہی اور رہتی دنیا تک قرآن و سنت کی روشنی میں یہ سزا جاری رہے گی۔
زیر نظر مضمون میں صرف احادیث رسول پیش کی جارہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ خود دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔
کعب بن اشرف کا قتل
محدثین نے کعب بن اشرف کے بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں جن کے الفاظ تو مختلف ہیں لیکن مفہوم ایک ہی ہے کہ وہ گستاخ یہودی رسول خدا کا صریح دشمن تھا، مسلمانوں کو تکالیف دیتا تھا، رسول اللہ کی ہجو کرتا تھا اور آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔ قریب قریب تمام محدثین نے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور اس سے متعدد احکام کا استنباط کیا ہے۔
حضرت جابرؓ سے کعب بن اشرف کے متعلق واقعہ کی روایت مختلف محدثین نے بیان کی ہے اور اسی مفہوم میں متعدد احادیث مختلف طرق سے بیان ہوئی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے انتہائی تفصیل سے سارا قصہ بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا،
* لیکچرر، دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
قَالَ: قُلْ ، فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ، قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ، قَالَ : إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ، فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ، وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ -وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ يَذْكُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ أَوْ : فَقُلْتُ لَهُ : فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ؟ فَقَالَ : أُرَى فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ -فَقَالَ : نَعَمْ، ارْهَنُونِي، قَالُوا : أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ؟ قَالَ : ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ، قَالَ: فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ أَبْنَاءَنَا، فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ، فَيُقَالُ : رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ، هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ -قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي السِّلَاحَ -فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَجَاءَهُ لَيْلًا وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ، وَهُوَ أَخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الحِصْنِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ، وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو، قَالَتْ : أَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ، قَالَ : إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لَأَجَابَ، قَالَ : وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ -قِيلَ لِسُفْيَانَ : سَمَّاهُمْ عَمْرٌو؟ قَالَ : سَمَّى بَعْضَهُمْ -قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ، وَقَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو : أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَالحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ، فَقَالَ : إِذَا مَا جَاءَ فَإِنِّي قَائِلٌ بِشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِنْ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۴۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
ان کی پیروی کی ہے ہم نہیں چاہتے کہ انہیں چھوڑ دیں، یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ ان کا انجام کار کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں ایک یا دو وسق بطور ادھار میعادی دے دے، (عمرو کے علاوہ دوسرے راوی وسق کا ذکر چھوڑ گئے) میں نے انہیں عرض کیا کہ اس میں ایک یا دو وسق کا ذکر ہے، تو وہ بولے میری رائے یہی ہے کہ ایک یا دو وسق کا ذکر حدیث میں ہے۔ کعب کہنے لگا جی دیتا ہوں مگر تم مجھے رہن دو، محمد اور ان کے ساتھیوں نے کہا کون سی چیز تو رہن رکھنا چاہتا ہے؟ وہ کہنے لگا مجھے اپنی عورتوں کو بطور رہن دے دو، محمد اور ان کے ساتھی بولے ہم تجھے اپنی عورتیں کیسے رہن دے سکتے ہیں تو تو عربوں میں بہت حسین ہے بدی ہو سکتی ہے، وہ کہنے لگا پھر اپنے بیٹے مجھے رہن دے دو۔ انہوں نے جواب دیا ہم کیسے اپنے بیٹے تجھے رہن دے دیں، ان میں سے کسی کو گالی دی جائے تو کہنے والا کہے گا کہ ایک وسق یا دو وسق میں اسے رہن رکھ دیا گیا تھا۔ یہ بات اس کے لئے عار ہوگی لیکن ہم تجھے لامہ رہن کر دیتے ہیں، سفیان نے بتایا کہ لامہ کا مطلب اسلحہ ہے۔ محمد نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ رات کو آئے گا۔ وہ رات کو آئے اب ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی تھے جو کعب کے رضاعی بھائی تھے۔ اس نے انہیں قلعے کی طرف بلایا۔ وہ قلعے سے اتر کر ان کے پاس آ گیا، اس کی بیوی نے اس سے کہا اس وقت کدھر جا رہے ہو، اس نے بیوی سے کہا کہ وہ محمد بن مسلمہ اور میرے بھائی ابو نائلہ ہیں۔ عمرو کے علاوہ باقی راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے کہا میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے۔ کعب نے بیوی کو جواب دیا وہ تو صرف محمد بن مسلمہ اور میرا رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں، بڑا تو وہ ہوتا ہے کہ رات کو اگر اسے نیزے کی مار کی طرف بلایا جائے تو وہ آگے بڑھتا ہے اور لازماً جواب دیتا ہے۔ راوی نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ دو مردوں کے ساتھ آئے تھے۔ سفیان (راوی) سے کہا گیا آیا عمرو (راوی) نے ان کے نام لیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا بعض کے نام لیے تھے، عمرو نے کہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ دو مردوں کو لائے تھے۔ عمرو کے علاوہ باقی راوی بتاتے ہیں کہ وہ دو آدمی ابو عبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر تھے، عمرو فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کے ساتھ دو آدمی تھے۔ محمد نے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ آئے گا تو میں ان کے بالوں کی بات کروں گا اور ان کو سونگھوں گا، جب تم دیکھو کہ میں نے اس کے سر پر قابو پا لیا ہے تو تم اسے پکڑ کر قتل کر دینا۔ ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ وہ خوشبو تمہیں بھی سونگھاؤں گا، خوشبو کی مہکیں بکھر رہی تھیں۔ محمد نے کہا میں نے آج کے دن جیسی خوشبو کبھی نہیں محسوس کی عمرو کے علاوہ باقی راوی کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے کہا میرے سامنے سب عربوں کا سردار اور سب عربوں سے کامل ترین عطر والا شخص کھڑا ہے (عمرو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا، کیا مجھے تو سر کو سونگھنے کی اجازت دے سکتا ہے، اس نے کہا جی ہاں! اجازت ہے، انھوں نے اس کے سر کو سونگھا۔ پھر خوشبو اپنے ساتھیوں کو سنگھائی، پھر کعب سے کہا ایک دفعہ پھر اجازت دے سکتے ہو، اس نے کہا اجازت ہے۔ جب اس پر قدرت پالی تو ساتھیوں سے کہا کرو جی کام۔ ساتھیوں نے اسے قتل کر دیا، پھر سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا واقعہ آ کر بتایا۔
اس حدیث میں تفصیل ہے جس سے دیگر احادیث کی وضاحت ہو جاتی ہے، مختلف راویوں کے الفاظ میں جو فرق ہے اسے امام بخاری نے واضح فرمایا ہے:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
کعب بن اشرف کے قتل کے اسباب
- ۱۔ نبی کی شان میں دریدہ دہنی، سب وشتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکالنا۔ فرمایا: فإنه قد أذى الله ورسوله، وہ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتا تھا۔
- ۲۔ آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہتا تھا۔
- ۳۔ غزلوں اور بے ہودہ اشعار میں مسلمان خواتین کے حسن کا ذکر کرتا تھا۔
- ۴۔ غدر (دھوکہ دہی) اور نقض عہد کا مرتکب تھا۔
- ۵۔ لوگوں کو آپ ﷺ کے مقابلہ کے لیے ابھارتا، اکساتا اور ان کو جنگ پر آمادہ کرتا تھا۔
- ۶۔ دعوت کے بہانہ آپ ﷺ کے قتل کی سازش کی۔
- ۷۔ دین اسلام پر طعن کرتا تھا۔
کعب بن اشرف مسلمانوں اور خود رسول اللہ کو تکلیف دینے سے باز نہ آیا تو آپ ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کے قتل کے لیے لشکر روانہ کرو۔
(۲)
حافظ ابن حجر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: فقد آذانا بشعره وقوى المشركين ”اس نے اپنی ہجو سے ہمیں تکلیف دی اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کی۔“
(۳)
محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں کو کعب کے قلع قمع کے لیے بھیجتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ
(۴)
”اللہ کا نام لے کر جاؤ۔ اے اللہ ان کی مدد فرما۔ آپؐ بقیع غرقد تک ان کے ساتھ گئے اور ان کو روانہ کرتے ہوئے ان کے لیے خود دعا فرمائی۔
(۵)
قتل کا سب سے قوی سبب آپ ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی، سب وشتم اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول میں اس پر مفصل کلام کیا ہے۔
(۶)
کعب بن اشرف کے بارے میں بیہقی نے تفصیل سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں :
أَن كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ الْيَهُودِيَّ كَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فِي شِعْرِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطًا مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ الَّذِينَ تَجْمَعُهُمْ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمُ الْمُشْرِكُونَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَمِنْهُمُ الْيَهُودُ وَهُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ، وَهُمْ حُلَفَاءُ لِلْحَيَّيْنِ : الْأَوْسِ، وَالْخَزْرَجِ، فَأَرَادَ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۴۷ تحفظ ناموس رسالت نمبر
رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ اسْتِصْلَاحَهُمْ كُلَّهُمْ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَبُوهُ مُشْرِكٌ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ مُسْلِمًا وَأَخُوهُ مُشْرِكٌ.
”کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا، رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور قریش مکہ کو آپ ﷺ کے خلاف ابھارتا تھا۔ رسول اللہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں ہر رنگ ونسل کے لوگ تھے ان میں وہ مسلمان بھی تھے جو رسول اللہ کی دعوت پر جمع ہوئے تھے اور ان میں مشرکین بھی تھے جو بت پوجتے تھے اور ان میں یہودی بھی تھے جو ہتھیاروں اور قلعوں کے مالک تھے اور وہ بھی تھے جو اوس اور خزرج کے حلیف تھے۔ رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے عوام کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ اگر ایک شخص مسلمان ہوتا تو اس کا باپ مشرک ہوتا۔ کوئی دوسرا مسلمان ہوتا تو اس کا بھائی مشرک ہوتا“
آپ ﷺ کی آمد پر مشرکین اور یہود آپ ﷺ کے خلاف برسر پیکار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کافروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ (۷)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ”لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (آل عمران:۱۸۶)
”مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے، اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔“
اور فرمایا : وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقره:۱۰۹)
”اہلِ کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگر چہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے۔ مطمئن رہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“
گستاخ رسول ام ولد لونڈی کا قتل
عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ :حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقَعُ فِيهِ، فَيَنْهَاهَا، فَلَا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ :أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ ، فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، كَانَتْ تَشْتُمُكَ ، وَتَقَعُ فِيكَ ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي ، وَأَزْجُرُهَا ، فَلَا تَنْزَجِرُ ، وَلِى مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ ، وَكَانَتْ بِى رَفِيقَةً ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ ، وَتَقَعُ فِيكَ ، فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا ، وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ
” حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ” ایک اندھے شخص کی ایک اُمّ ولد (لونڈی) تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات وہ نبی کریم کو برا بھلا کہنے لگی تو اس نے بھالا لے کر اُس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اُسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہو گئی تو اس کی ٹانگوں کے درمیان بچہ گرا اور وہ خون میں لت پت ہو گئی ۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں اُس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے یہ قتل کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ “ یہ سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہوا اور کانپتا ہوا لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ اُس نے کہا : یا رسول اللہ ! اسے میں نے قتل کیا ، وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی ، میں اُسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی ، میں اُسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پروا نہ کرتی ۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں ، وہ میری رفیقہ حیات تھی ۔ گزشتہ شب جب وہ آپ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اُس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اُسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مر گئی ۔ تو رسول اللہ نے فرمایا : گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے ۔ “ (۸)
امام ابو داود اور نسائی رحمہما اللہ تعالیٰ نے اس باب : باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله عليه وسلم کے تحت متعدد احادیث اور واقعات جمع کر دیے ہیں :
عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ رَجُلًا أَعْمَى فَانْتَهَيْتُ إِلَى عِكْرِمَةَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَسُبُّهُ، فَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَتْ فِيهِ، فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ، فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا، فَأَصْبَحَتْ قَتِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ النَّاسَ وَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ، فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ أُمَّ وَلَدِي، وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً، وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَأَزْج
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۴۹ تحفظ ناموس رسالت نمبر
”الشحام سے روایت ہے کہ میں ایک نابینا آدمی کی رہنمائی کرتا تھا کہ میں عکرمہ کے پاس پہنچا وہ ہمیں باتیں سنانے لگے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابن عباس نے یہ بات بتائی کہ عہد نبوی میں ایک اندھا تھا اسکی ایک ام ولد (۹) تھی جس سے اس نابینا کے دو بیٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ پر اعتراضات کرتی اور گالیاں بکتی۔ وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ ڈانٹ کی پرواہ نہ کرتی، وہ اسے روکتا تو وہ نہ رکتی، نابینا صحابی کہتے ہیں پھر ایک رات کو ایسا ہوا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو پھر وہ بکواس کرنے لگ گئی، میں صبر نہ کر سکا، بھالا لے کر اس کے پیٹ میں اتار دیا بھالے کو خوب دبایا اور اسے قتل کر دیا۔ وہ صبح کو مری پڑی تھی۔ اس بات کا نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر ہوا تو لوگ اکٹھے ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دلاتا ہوں جس آدمی پر میرا حق ہے اس نے جو کرنا تھا کر دیا اب کھڑا ہو جائے، اب نابینا لڑکھڑاتا ہوا آگے آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اس کا قاتل ہوں وہ میری ام ولد تھی، وہ میرے لئے بڑی لطیف اور رفیق تھی، اس سے میرے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی ہیں لیکن وہ کثرت سے آپ ﷺ پر اعتراضات کرتی تھی اور آپکے خلاف دشنام درازی کرتی، میں اسے روکتا تو وہ نہ رکتی میں اسے ڈانٹتا تو وہ ڈانٹ کا اثر نہ لیتی، گزشتہ رات پھر اس نے آپ کا ذکر کیا اور گالیاں بکنے لگ گئی میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ میں اتار دیا اور اسے خوب دبایا یہاں تک کہ وہ قتل ہو گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خبردار گواہ رہو، اس کا خون رائیگاں ہے (اس کا کوئی قصاص نہیں ہے)۔ (۱۰)
شاتم رسول ابو رافع بن ابی الحقیق کا قتل
ایک روایت ہے کہ اس کا نام سلام بن ابی الحقیق تھا، یہ خیبر میں رہتا تھا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سرزمین حجاز میں ایک قلعہ میں رہتا تھا، امام بخاری فرماتے ہیں کہ علامہ زہری کا قول ہے کہ اس کا قتل کعب بن اشرف کے بعد ہوا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ اليَهُودِيِّ رِجَالًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الحِجَازِ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ، وَقَدْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ : اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ، فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ، وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ، لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ، فَأَقْبَلَ حَتَّى دَنَا مِنَ البَابِ، ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً، وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ، فَهَتَفَ بِهِ البَوَّابُ، يَا عَبْدَ اللَّهِ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ البَابَ، فَدَخَلْتُ فَكَمَنْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ البَابَ، ثُمَّ عَلَّقَ الأَغَالِيقَ عَلَى وَتَدٍ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى الأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا، فَفَتَحْتُ البَابَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ، وَكَانَ فِي عَلالِيَّ لَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ، قُلْتُ : إِنِ القَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۵۰ تحفظ ناموس رسالت نمبر
فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ، لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ البَيْتِ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ، قَالَ : مَنْ هَذَا؟ فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَأَنَا دَهِشٌ، فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا، وَصَاحَ، فَخَرَجْتُ مِنَ البَيْتِ، فَأَمْكُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ؟ فَقَالَ : لِأُمِّكَ الوَيْلُ، إِنَّ رَجُلًا فِي البَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ، قَالَ : فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنْتُهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ ظُبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الأَبْوَابَ بَابًا بَابًا، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي، وَأَنَا أَرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الأَرْضِ، فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مَقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى البَابِ، فَقُلْتُ : لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ : أَقَتَلْتُهُ؟ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ، فَقَالَ : أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الحِجَازِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ : النَّجَاءَ ، فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ : ابْسُطْ رِجْلَكَ فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا، فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّo
”یوسف بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن موسیٰ نے ان سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ابو اسحاق سے روایت کی انہوں نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند انصار صحابہ کو ابو رافع یہودی کی طرف بھیجا۔ ان لوگوں کا قائد حضرت عبداللہ بن عتیک کو بنایا، ابو رافع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام سے ایذا دیتا تھا اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا وہ حجاز کی زمین میں اپنے ایک قلعے میں رہتا تھا، جب یہ گروہ قلعہ کے قریب پہنچا تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ واپس جا رہے تھے، اب عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم حضرات اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ میں چلتا ہوں۔ دربان سے بچ کر کوشش کروں گا شاید میں کسی طرح قلعے میں داخل ہو جاؤں، وہ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ پھر انھوں نے چادر لپیٹ لی گویا وہ رفع حاجت کر رہے ہیں، لوگ قلعے میں داخل ہو گئے، دربان نے پکارا اے اللہ کے بندے اگر تو اندر داخل ہونا چاہتا ہے تو ہو جا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں، اب میں اندر چلا گیا، اور چھپ گیا، جب لوگ اندر آ گئے تو دربان نے دروازہ بند کر دیا پھر اس نے چابیاں اندر ایک کھونٹی کے ساتھ لٹکا دیں۔ میں اب اٹھا چابیاں لیں اور دروازہ کھول لیا، ابو رافع کے پاس قصہ گو بیٹھے تھے۔ وہ اپنے ایک بالا خانے میں تھا جب اس کے پاس سے قصہ گو چلے گئے تو میں اوپر چڑھا میں جو دروازہ بھی کھولتا اندر سے اسے بند کر کے آگے بڑھتا تھا تا کہ لوگوں کو پتہ بھی چل جائے تو مجھ تک نہ پہنچ پائیں اور میں اسے قتل کر سکوں، میں اس تک پہنچ گیا، وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل خانہ کے درمیان سو رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کس حصے میں ہے، میں نے پکارا اے ابو رافع ! اس نے کہا یہ کون ہے؟ میں آواز کی طرف لپکا اور اسے تلوار کی ایک ضرب لگائی ، مجھ پر دہشت طاری تھی یہ ضرب کافی نہیں تھی، وہ چلایا تو میں کمرے سے نکل گیا۔ میں کچھ فاصلے پر رک گیا پھر اندر داخل ہو کر کہا اے ابو رافع ! یہ آواز کیا تھی؟ وہ بولا تیری ماں مرے (اس نے اب اسے کوئی اپنا
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
محافظ سمجھا ہوگا) ابھی ایک شخص نے کمرے میں مجھے تلوار ماری ہے، فرماتے ہیں پھر میں نے زور سے تلوار کی ضرب لگائی لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں اتار دی، تلوار دوسری جانب سے نکل گئی مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مر گیا ہے۔ اب میں ایک ایک دروازہ کھول کر باہر نکل کر ایک سیڑھی سے اترا تو میں نے سمجھا کہ میں زمین پر پہنچ گیا ہوں مگر میں تو چاندنی رات میں نیچے گر چکا تھا میری پنڈلی ٹوٹ گئی تھی میں نے پگڑی سے اسے باندھ دیا۔ پھر چل کر میں گیٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور اپنے طور پر کہا کہ میں رات کو باہر نہیں نکلوں گا جب تک مجھے پتہ نہ چل جائے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، جب سحری کو مرغ بولا تو موت کی خبر دینے والا قلعے کی دیوار پر آیا اور کہا اہل حجاز کا تاجر ابو رافع مر گیا ہے۔ اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا نجات ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا، اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سارا واقعہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا پاؤں پھیلاؤ، میں نے اپنا پاؤں پھیلایا، آپ ﷺ نے اس پر ہاتھ مبارک پھیرا تو ایسا معلوم ہوا کہ اسے کبھی کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔“ (۱۱)
مسلمان نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی سے مرتد ہو جاتا ہے:
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ (۱۲)
”حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ سیدنا علی نے کچھ لوگوں کو جلا دیا جو مرتد ہوئے تھے، اس بات کی اطلاع حضرت ابن عباس کو پہنچی تو انھوں نے فرمایا اگر معاملہ میرے پاس آتا تو میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم عذاب نہ دو (آگ میں جلانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے) میں تو انہیں قتل کر دیتا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا دین تبدیل کر دے (مسلمان سے کافر ہو جائے) تو اسے قتل کر دو۔ اس بات کی خبر سیدنا علی کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا ابن عباس نے سچ فرمایا
عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا (۱۳)
”حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کو گالیاں بکتی اور اعتراضات کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا دبا دیا اور وہ مر گئی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا خون باطل فرما دیا (یعنی قاتل سے قصاص نہیں لیا)
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَغَيَّظَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ صَرَفَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَرْزَةَ مَا قُلْتَ آنِفًا قَالَ وَنَسِيتُ الَّذِي قُلْتُ قُلْتُ ذَكِّرْنِيهِ قَالَ
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ قَالَ قُلْتُ لَا وَاللّٰهِ قَالَ أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى الرَّجُلِ فَقُلْتَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللّٰهِ أَمَا تَذْكُرُ ذَالِكَ أَوَكُنْتَ فَاعِلًا ذَالِكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَاللّٰهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ قَالَ وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ إِنَّ تِلْكَ وَاللّٰهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(۱۵)
ابو برزہ سے روایت ہے انھوں نے کہا ہم سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے انہیں ایک شخص پر غصہ آیا جو مسلمان تھا غصہ بہت سخت ہوتا گیا۔ جب میں نے یہ حالت دیکھی تو عرض کیا اے خلیفہ رسول آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں، کہتے ہیں میری بات سن کر انہوں نے موضوع بدل دیا اور دوسری بات شروع کر دی (اور ان کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا) وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ بلایا تو میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو بھول گیا ہوں آپ یاد کرا دیجیے۔ فرمایا آپ کو یاد نہیں کیا کہا تھا۔ میں نے عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم نہیں، ابوبکرؓ نے فرمایا آپ کو علم ہے جب میں ایک شخص پر شدید غصے میں تھا تو آپ نے کہا تھا۔ اے خلیفہ رسول اس کی گردن اڑا دوں تمہیں وہ بات یاد ہے، اگر آپ کو حکم دیتا تو آپ ایسا کر دیتے؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں ایسا کر دیتا، اگر اب بھی ایسا حکم دیں تو میں کر گزروں گا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیرا برا ہو۔ اللہ کی قسم ایسا نہیں ہو سکتا، یہ صرف محمد رسول اللہ کا حق ہے اور کسی کا حق نہیں (کہ اس کی گستاخی پر قتل کر دیا جائے)۔
امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ صدیق کا یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو سوائے تین جرموں کے قتل کرنے کا حکم دیں یہ تین جرم:
- ۱۔ کوئی شخص ایمان کے بعد مرتد ہو جائے۔
- ۲۔ محصن شادی شدہ (ہونے کے باوجود زنا کرے۔
- ۳۔ یا کسی کو جان کے بدلے مار دے، ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حق ہے کہ کسی کو قتل کرنے کا حکم دیدیں۔
قتل مرتد کے حوالے سے محدثین نے متعدد احادیث بیان کی ہیں:
عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ : إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، أَوْ يُرِيدُ يُفَرِّقُ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَائِنًا مَنْ كَانَ فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّ يَدَ اللّٰهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ يَرْكُضُ
(۱۶)
عرفجہ بن شریح اشجعی فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے سنا۔ فرما رہے تھے میرے بعد کئی مصیبتیں اور خرابیاں ہوں گی جسے تم دیکھو کہ اس نے مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ دیا ہے یا چاہتا ہے کہ امت کا معاملہ بگڑ جائے تو اسے مار دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور یقیناً شیطان جماعت کو چھوڑنے والوں کے ساتھ ناچتا ہے۔
یہ حدیث بھی مزید چار اسناد کے ساتھ امام نسائی نے نقل کی ہے۔
تحفظ ناموس رسالت نمبر سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد
قریب قریب سب محدثین نے قبیلہ عکل کے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں مدینہ طیبہ سے باہر چراگاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوجہ بیماری ٹھہرایا جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام چھوڑ دیا۔ چرا گاہ کے محافظ کو قتل کیا، بھاگ کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کا حکم دیا:
بخاری شریف میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ أَنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُوا، قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَجَاءَ الخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَتْ أَعْيُنَهُمْ، وَأَلْقَوْا فِي الحَرَّةِ، يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَهَؤُلَاءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(۱۷)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبائل عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ آئے تو انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹ اور اونٹنیاں ان کے ساتھ کر دیے کہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں تو صحت یاب ہو جائیں گے۔ وہ لوگ چلے گئے جب صحت یاب ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو بھگا کر لے گیا۔ اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دن کے آغاز ہی میں مل گئی تو آپ ﷺ نے چند صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا۔ جلد ہی وہ انہیں پکڑ کر مدینہ لے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے نیز ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں ( کیونکہ انہوں نے بھی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا ) اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا گیا اور وہ پانی مانگتے رہے لیکن ان کو نہ دیا گیا ۔ ابو قلابہ کہتے ہیں ان لوگوں نے چوری کی، قتل کیا اور ایمان کے بعد کفر (ارتداد) کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔
چرواہے کا نام یسار النوبی رضی اللہ عنہ تھا جب قبیلے والے مرتد ہو کر اونٹ لے کر بھاگنے لگے تو یسار النوبی نے مزاحمت کی۔ اس پر انہوں نے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے اور اس کی زبان اور آنکھ میں کانٹے گاڑ دیئے جس سے انہوں نے شہادت پائی۔ اسی قصاص میں ان ڈاکوؤں کے ساتھ وہ کیا گیا جو روایت میں مذکور ہے۔ حرہ کالے پتھروں کی زمین ہے۔ وہ ڈاکو مرض استسقاء کے مریض تھے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے واسطے یہ نسخہ تجویز فرمایا۔ محدثین کے نزدیک درج ذیل آیت کا شان نزول یہی ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۵۴ تحفظ ناموس رسالت نمبر
عَظِيمٌ (المائدہ:۳۳) ”جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے اور زمین میں فساد کے لئے دوڑیں لگاتے ہیں ان کی صرف یہ جزا ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں ، ایک دایاں ایک بایاں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں زمین میں ان کے گھروں سے جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔“
امام نسائی نے مزید سترہ اسناد سے یہ روایت کی ہے۔ اور بہت سے راویوں نے اسے کئی صحابہ سے روایت کیا ہے اس طرح یہ حدیث ہر لحاظ سے صحیح ہے۔ اگر چہ ارتداد کا مسئلہ گستاخ رسول کے مسئلہ سے الگ ایک موضوع ہے لیکن مناسبت یہ ہے کہ گستاخ رسول اگر مسلمان ہو تو گستاخی کرنے سے مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کا قتل شرعی حد ہے جس میں کسی فرد کسی ادارے یا کسی شوری یا اسمبلی کو ترمیم کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس قانون کو اپنی اصلی شکل میں قائم رکھنا ہی اسلام اور ایمان کا تقاضا ہے۔
مصنف عبدالرزاق میں اکثر احادیث ثلاثی ہیں اور امام بخاری کی تصریح کے مطابق تمام حدیثیں صحیح ہیں۔ اس میں امام صاحبؒ نے سب النبی کا علیحدہ باب قائم کیا ہے۔ جس کا عنوان رکھا ہے بَابُ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ، وَعُقُوبَةِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( باب: جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا اس کیساتھ کیا سلوک کیا جائے اور ایسے شخص کی سزا جس نے آپ پر جھوٹ باندھا ) اور اس کے تحت متعدد روایات نقل کی ہیں۔
عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ رَجُلٌ فَقَالَ : مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي فَقَالَ الزُّبَيْرُ :أَنَا فَبَارَزَهُ، فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ (۱۸)
عکرمہ مولی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور کے بارے میں دشنام طرازی کی۔ حضور نے فرمایا : کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا؟ اس پر حضرت زبیرؓ نے کہا : میں حاضر ہوں۔ پھر حضرت زبیرؓ نے جا کر اس گستاخ کو قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے حضرت زبیرؓ کو اس کا چھینا ہوا مال عطا کر دیا۔
أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي فَخَرَجَ إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَتَلَهَا (۱۹)
”ایک بد بخت عورت آپ کو گالیاں دیتی رہتی تھی۔ آپ کے حکم سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کو قتل کر دیا۔“
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ :أَنَّ رَجُلًا كَذَّبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ: اذْهَبَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ فَاقْتُلَاهُ (۲۰)
”حضرت سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا۔ آپ نے علیؓ اور زبیرؓ سے فرمایا : جاؤ اگر
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۵۵ تحفظ ناموس رسالت نمبر
وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔“
عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ :فِيمَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :يُضْرَبُ عُنُقُهُ (۲۱)
”حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ جس نے رسول اللہ پر جھوٹ باندھا، اس کی گردن مار دی جائے۔“
رَوَى ابْنُ قَانِعٍ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رَسُولَ اللَّهِ .. سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِيكَ قَوْلًا قَبِيحًا فَقَتَلْتُهُ .. فَلَمْ يَشُقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلم. (۲۲)
”ابن قانع سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ میں نے اپنے والد کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا تو آپ نے اس سے باز پُرس نہیں فرمائی۔“
رسول کریم نے فتح مکہ کے روز ابن نقیذ کے قتل کا حکم بھی دیا تھا جیسا کہ علمائے سیرت کے یہاں معروف ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم نے صحابہ کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا ماسوا اس کے جو خود جنگ کی طرح ڈالے لیکن آپ نے بطور خاص چار آدمیوں کے قتل کا حکم دیا۔ ان میں ایک حویرث ابن نقیذ تھا۔
العواجی نے مرویات زہری میں لکھا ہے:
وبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سعد بن عبادة في كتيبة الأنصار في مقدمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فدفع سعد رايته إلى قيس بن سعد ابن عبادة وأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يكفوا أيديهم فلا يقاتلون أحداً إلا من قاتلهم، وأمرهم بقتل أربعة نفر، منهم : عبد الله بن سعد ابن أبي سرح، والحويرث بن نقيذ، وابن خطل، ومقيس بن صبابة أحد بني ليث ــــــــــــ (۲۳)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کی سربراہی میں ہراول دستہ روانہ کیا اور سعد نے علم قیس بن سعد بن عبادہ کو دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل سے منع کیا سوائے اس کے جو لڑائی کرے البتہ چار آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا: عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ، حویرث بن نقیذ ، ابن خطل اور مقیس بن صبابہ ۔۔۔۔“
واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے منع کیا مگر چھ آدمیوں اور چار عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حویرث بن نقیذ رسول کریم کو ایذا دیا کرتا تھا اس لیے آپ ﷺ نے اس کے خون کو ضائع قرار دیا۔ (۲۴)
علامہ ابن تیمیہ اس روایت کی صحت پر اظہار خیال فرماتے ہیں:
ومن ذلك أنه أمر يوم الفتح بقتل الحويرث بن نقيذ وهو معروف عند أهل السير قال موسى
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
بن عقبة فى مغازيه عن الزهرى وهى من أصح المغازى كان مالك يقول :من أحب أن يكتب المغازى فعليه بمغازى الرجل الصالح موسى بن عقبة (۲۵)
اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر حویرث بن نقید کے قتل کا حکم دیا تھا اور اہل سیر کے ہاں یہ مشہور ہے موسیٰ بن عقبہ نے اسے اپنے مغازی میں زہری کے حوالے سے روایت کیا ہے اور یہ صحیح ترین مغازی کی کتاب ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امام مالک کہتے ہیں :جو مغازی پر لکھنا پسند کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ صالح آدمی موسیٰ بن عقبہ کو دیکھے۔۔۔اس کے بعد امام ابن تیمیہ نے حویرث کے قتل کا ذکر کیا ہے مزید فرماتے ہیں :
قال :وأما الحويرث بن نقيد فإنه كان يؤذى النبى صلى الله عليه وسلم فأهدر دمه فبينا هو فى منزلته يوم الفتح قد أغلق عليه وأقبل على رضى الله عنه يسأل عنه فقيل :هو فى البادية فأخبر الحويرث أنه يطلب وتنحى على عن بابه فخرج الحويرث يريد أن يهرب من بيت إلى بيت آخر فتلقاه على فضرب عنقه.(۲۶)
جہاں تک حویرث بن نقید کے قتل کا تعلق ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا قتل مباح قرار دیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ فتح مکہ والے دن اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم صادر فرما چکے تھے ،حضرت علیؓ اس کے بارے میں پوچھتے ہوئے آئے تو کہا گیا کہ وہ باہر گیا ہے۔حویرث کو پتہ چل گیا کہ اسے تلاش کیا جارہا ہے ۔حضرت علی جب اس کے دروازے سے پیچھے ہٹے تو حویرث اپنے گھر سے نکل کر دوسرے گھر کی طرف بھاگنے لگا۔ حضرت علی نے پکڑ کر اس کی گردن اڑا دی۔
یہ واقعہ زہری ، ابن عقبہ ، ابن اسحاق واقدی اور اموی وغیرہ کے نزدیک مشہور ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس میں یہ بات ہے کہ یہ مرسل روایت ہے۔ اور مرسل جب متعدد طرق سے مروی ہو اور اس کے راوی فن روایت میں مہارت رکھتے ہوں اور اس کی تائید میں روایت بھی موجود ہو تو وہ مسند و مرفوع روایت کی طرح کی ہوتی ہے۔
واقعہ ابن ابی سرح
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ :لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ :اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ فَقَتَلَهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۵۷ تحفظ ناموس رسالت نمبر
فَقَتَلُوهُ ، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ ، فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ : أَخْلِصُوا، فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا . فَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي مِنَ الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ، لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا ، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا ، فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ، جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى ، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ فَقَالُوا : وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ ، هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ (۲۷)
”مصعب بن سعد حضرت سعد سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا باقی سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امان دے دی۔ فرمایا ان چار آدمیوں کو قتل کر دو۔ اگرچہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں۔ وہ آدمی یہ ہیں۔ عکرمہ بن ابی جہل ، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، ان میں سے عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا کہ اسے پکڑ لیا گیا۔ سعید بن حارث اور عمار بن یاسر اس کی طرف بھاگے سعید زیادہ جوان تھے۔ انھوں نے عمار سے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ مقیس کو لوگوں نے بازار میں پکڑ کر قتل کر دیا۔ باقی رہا عکرمہ تو وہ بحری جہاز میں سوار ہوا لیکن جہاز آندھی کی زد میں آ گیا۔ جہاز والوں نے کہا : توحید کے قائل ہو جاؤ اس لیے کہ تمہارے بت تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ عکرمہ نے کہا : بخدا : اگر سمندر میں ایک خدا نجات دیتا ہے تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اے اللہ میں تیرے حضور عہد کرتا ہوں اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے نجات دی تو میں محمد کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں انہیں معاف کرنے والا اور کریم پاؤں گا۔ چنانچہ عکرمہ آیا اور اسلام قبول کیا۔ باقی رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان کے یہاں چھپ گیا۔ جب رسول کریم نے لوگوں کو دعوت بیعت دی تو حضرت عثمان نے اسے لا کر رسول کریم کے پاس کھڑا کر دیا اور کہا اے اللہ کے رسول عبداللہ سے بیعت لیجئے راوی کہتے ہیں آپ ﷺ نے سر اوپر اٹھایا اور اس کو ایک نظر دیکھا ، تین مرتبہ ایسا ہی کیا اور آپ ﷺ نے بیعت نہ لی۔ تیسری مرتبہ کے بعد آپ ﷺ نے بیعت لے لی اس کے بعد آپ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میں سے کوئی ایسا دانا نہ تھا جو اس کی طرف اٹھتا اور جب مجھے دیکھتا کہ میں بیعت سے ہاتھ کھینچ رہا ہوں تو اسے قتل کر دیتا ، صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کے دل میں کیا ہے۔ آپ ﷺ ہمیں آنکھ سے اشارہ ہی کر دیتے ، آپ ﷺ نے فرمایا : کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ آنکھوں سے چوری اشارے کرے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد تحفظ ناموس رسالت نمبر
نبی کریم کی شان اقدس میں ہجویہ اشعار گانے والی کا قتل:
فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں اور عورتوں کے قتل کو مباح الدم قرار دیا تھا، ان میں یہ دونوں مغنیات بھی شامل تھیں۔ ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا تھا اور دوسری امان حاصل کر کے مسلمان ہو گئی تھی۔ قریبہ اور ارنب یہ دونوں باندیاں ابن خطل کی گانے والیاں تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتی تھیں قتل کر دی گئیں۔ اس کی ایک باندی قرتنا یا فرتنی بھاگ گئی۔ لوگوں نے اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امان مانگی۔ آپ ﷺ نے اسے امان دے دی۔ پھر وہ آئی اور مسلمان ہو گئی۔ (۲۸)
اس روایت کی صحت پر علامہ ابن تیمیہؒ اظہار خیال کرتے ہیں : دو گلوکار لونڈیوں کے بارے میں علماء سیرت کے یہاں اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس واقعہ کو اس قدر شہرت نصیب ہوئی کہ اخبار آحاد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ (۲۹)
گلوکاروں کا جرم:
ابن خطل ہجویہ اشعار کہتا اور ان کے گانے کا حکم دیتا۔ اس کی لونڈیوں کے پاس لوگ آتے، شراب پیتے اور یہ انہیں ہجویہ اشعار گا کر سناتیں۔
علامہ ابن تیمیہؒ مزید لکھتے ہیں :
قبل ازیں جن عورتوں کا ذکر کیا گیا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔
سنن ابی داؤد میں ہے:
عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ (۳۰)
کسی لڑائی میں ایک عورت کی لاش ملی تو رسول کریم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
ایک دوسری روایت میں ہے:
كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ :انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ؟ فَجَاءَ فَقَالَ :عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ .فَقَالَ :مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ قَالَ :وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا .فَقَالَ :قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا (۳۱)
روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ کسی چیز کے گرد جمع ہیں آپ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کہ دیکھو یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟ اس نے آ کر بتایا کہ ایک مقتولہ عورت کے گرد جمع ہیں ، فرمایا : یہ جنگ تو نہیں کرتی تھی۔ خالد بن ولید ہراول دستے میں تھے ، آپ ﷺ نے قاصد بھیجا اور فرمایا کہ خالد کو بتاؤ عورت اور معذور کو قتل نہ کرے۔
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۵۹ تحفظ ناموس رسالت نمبر
بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی محیط اور نضر بن حارث کا قتل
عام کفار اگر فساد اور جنگ وجدل نہ کریں تو انہیں عہد و پیمان کے تحت امان دی جاسکتی ہے مگر رسول اللہ پر طعن کرنا جنگ اور فساد سے شدید تر جرم ہے۔ فتنہ اور فساد میں مسلمان پر حملہ ہوتا ہے جبکہ آپ ﷺ پر طعن اصل ایمان پر حملہ ہے۔ محارب کا ایک جرم درخت کے پھل کا توڑنا اور دوسرا جرم درخت کی جڑ پر کلہاڑی چلانا ہے۔ ہر دو جرائم اپنی نوعیت میں جدا ہیں۔ ایسے ہی ان کی سزا کی نوعیت میں بھی شدید ہوگی اگر عقبہ بن ابی محیط اور نضر بن الحارث دیگر بدری قیدیوں کی طرح محض کافر ہوتے اور ارنب اور قریہ دوسری کافرہ عورتوں کی مانند ہی ہوتیں تو یقیناً ان سے بھی وہی سلوک کیا جاتا جو باقی ماندہ کفار سے روا رکھا گیا تھا۔ مگر ان بدبختوں نے اپنے کفر کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرکے بدترین گناہ بنالیا جس کی سزا بھی بدترین ہی ہوسکتی ہے اور یہ اساس ایمان ہے۔ اگر نبی کی حرمت پہ حرف آئے اور مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہو، ایمان میں اضطراب پیدا نہ ہو، غیرت ایمان انگڑائی نہ لے تو پھر ایسے ایمان کی تجدید لازم ہے۔ صحابہ تو ابروئے چشم کی حرکت کے منتظر رہتے تھے۔ گستاخی تو دور کی بات ہے قرآن تو اونچی آواز سے بولنے والے کے اعمال برباد ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
خاتمہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کرو اور جس نے میرے صحابی کو گالی دی اس کو مارو۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم فرمایا کیونکہ وہ آپ کو تکلیف دیتا تھا اور یہ حکم دیا کہ اس کو اس طرح قتل کرو کہ اسے خبر تک نہ ہو حالانکہ دشمن کے ساتھ جنگ کے اصول یہ ہیں کہ پہلے اسے خبر دی جاتی ہے، بالکل اسی طرح ابورافع کو بھی قتل کرایا اور فتح مکہ کے موقع پر ابن خطل اور اس کی دو لونڈیوں کو قتل کا حکم دیا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھیں حضرت خالد بن ولید، حضرت علی، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے گستاخوں کو قتل کیا۔
اب جن لوگوں کا دعویٰ ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین ﷺ تھے، آپ ﷺ تو کسی سے بدلہ نہ لیتے تھے اور آپ ﷺ معاف فرماتے تھے، ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے مثالیں دی گئی ہیں کہ بعض جرم ایسے ہیں جن کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ اور پھر خود آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو کسی بھی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے۔ اس طرح ہمارے لیے تمام انبیاء کی عصمت اور دفاع لازم ہے۔ نبی کو گالی دینے والا دو قسم کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایک حقوق اللہ کا اور دوسرے حقوق العباد کا، اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ لیکن جہاں تک حقوق النبی اور حقوق العباد کا تعلق ہے تو وہ اسی صورت میں معاف ہوں گے جب نبی یا امت نبی اس کو معاف کرے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کسی نے مسافر کو لوٹا اور اس دوران مسافر کو قتل بھی کر دیا اب اس کے پکڑے جانے کے بعد مال چاہے وہ واپس کر دے، توبہ بھی کر لے لیکن جان بوجھ کر ایک فرد کے قتل کا قصاص تو باقی رہے گا چاہے سچے دل سے توبہ ہی کر لے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بعض گستاخوں کو
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ١٦٠ تحفظ ناموس رسالت نمبر
معاف کیا اور بعض کو مصلحت کے تحت معاف نہیں کیا، امام ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تو یہ ممکن تھا کہ کسی کو معاف بھی کر دیں لیکن اب یہ حق ساقط ہو گیا ہے اور جو کوئی بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوگا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے اور اس کی کوئی توبہ نہیں اس لیے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا دین سے خارج ہو جاتا ہے اور دین سے خارج ہونے والا مرتد ہے۔ مرتد کی سزا قتل ہے۔ جس دل میں نبی کی محبت اور نبی کے لیے جان دینے کی تڑپ نہ ہو اس میں دینی حمیت اور غیرت ہی نہیں _ مذکورہ بالا واقعات سے واضح پیغام ملتا ہے کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع اور عزت کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر کوشاں رہتے تھے _ ان صحیح ترین واقعات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو نبی کریم کی شان میں گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے چاہے بظاہر مسلمان ہو یا کافر ہو۔
اس کاوش کو محض جمع معلومات ہی سمجھا جائے تو کافی ہوگا، اس مقالہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور نے خود اپنے گستاخوں کیساتھ کیا سلوک کیا؟ اس سوال کا جواب حدیث کی کتابوں کے مستند حوالوں سے دینے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ سارے حوالے فقہ کی کتابوں یا فتاویٰ سے نہیں بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات طیبہ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے دیے گئے ہیں اور ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو کہتے ہیں کہ حضور تو معاف کرنے والے تھے ہم کیوں سزا کا تقاضا کریں۔ اس موضوع پر اس سے پہلے بہت لکھا جا چکا ہے۔ صحاح ستہ کی بعض کتابوں میں عنوان اس طرح ہے: "حكم فيمن سب النبي" اسی طرح سیرت کی معتبر کتابوں میں اس طرح کے واقعات نقل ہوئے ہیں چاروں اماموں کے فتاویٰ موجود ہیں، اہم تحقیق علامہ ابن تیمیہ نے کی ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے "الصارم المسلول علی شاتم الرسول" لکھ کر امت کا قرض چکا دیا۔ یہ اس قدر مدلل کتاب ہے کہ اس کے بعد اسلام کا موقف جاننے کے لیے کسی اور کتاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اسی طرح بعد میں آنے والے محققین نے بھی عصمت نبی اور شاتم نبی کی سزا پر خوب لکھا ہے _ اردو میں بھی اس موضوع پر وقیع کام ہوا ہے۔
حوالہ جات
- ١۔ صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل بخاری، بَابُ قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ حدیث ٤٠٣٧۔
- ٢۔ أبو بكر البيهقى أحمد بن الحسين بن علی، دلائل النبوة، (المتوفى : ٤٥٨هـ) : دار الكتب العلمية، دار الريان
للتراث، : ١٩٧/٣
- ٣۔ العسقلانى أحمد بن على بن حجر فتح البارى شرح صحيح البخارى باب قوله باب قتل كعب بن الأشرف
دار المعرفة -بيروت، ١٣٧٩
- ٤۔ احمد بن حنبل المسند رقم الحدیث ٢٣٩١
- ٥۔ البيهقى دلائل النبوة، : ١٩٧/٣
- ٦۔ ابن تيمية تقى الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم الصارم المسلول على شاتم الرسول ١/٢٢٠ ١/٢٠٤:
سہ ماہی ”مجلہ تعلیم و تحقیق“ اسلام آباد ۱۶۱ تحفظ ناموس رسالت نمبر
- ٦- حرس الوطنى السعودى، المملكة العربية السعودية
- ۷۔ البيهقي، دلائل النبوة باب ما جاء فى قتل كعب: ٣/١٩٧
- ۸۔ أبو داود، سلمان بن الأشعث، السنن رقم الحديث: ٤٣٦١
- ۹۔ ام ولد وہ لونڈی جس کے ہاں مالک کی اولاد ہو جائے
- ۱۰۔ النسائي، أحمد بن شعيب :السنن المجتبى رقم الحديث: ٤٠٧٠
- ۱۱۔ البخاري، الجامع الصحيح، رقم الحديث : ٤٠٢٨
- ۱۲۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ابن تیمیہ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول: ۱۲۰
- ۱۳۔ الترمذي، ابو عيسى محمد بن عيسى، السنن رقم الحديث: ١٤٥٨
- ١٤۔ سنن أبي داود : ٤٣٦٢
- ١٥۔ مسند أحمد: ١/٢٢٦
- ١٦۔ النسائي، السنن المجتبى : ٤٠٢٠
- ۱۷۔ دیکھیے البخاری : ۲۳۳ الترمذی : ۷۲ النسائی : ٣٠٦۔٤٠٢٧۔٤٠٢٨، ٤٠٣٤، ٤٠٣٥ ، أبو داود الطيالسي:
٢١١٤ سنن الدار قطني : ٤٨٧٤
- ۱۸۔ عبد الرزاق ابو بكر المصنف : ٩٧٠٤۔
- ۱۹۔ ايضاً : ٩٧٠٥۔
- ۲۰۔ ايضاً : ۹۷۰۷۔
- ۲۱۔ ايضاً : ۹۷۰۷۔
- ۲۲۔ القاضي عياض الشفا بتعريف حقوق المصطفى: ٢/٤٨٩۔
- ۲۳۔ العواجي محمد بن محمد، مرويات الإمام الزهرى فى المغازى: ٢/٧٢٦ الطبعة ٢٠٠٤م۔
- ٢٤۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے الواقدی، المغازی، شأن غزوة الفتح : ٢/٨٢٥، تاريخ الرسل والملوك للطبرى :
۳/۵۹۔
- ٢٥۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ابن تیمیہ ، الصارم المسلول علی شاتم الرسول : ١٤١ ، ١٤٢ ، ١٤٣ ـ
- ٢٦۔ أيضاً۔
- ۲۷۔ النسائی، السنن المجتبی : ٤٠٦٧۔
- ۲۸۔ أحمد بن على بن عبد القادر، إمتاع الأسماع بما للنبى من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع: ١/٣٨٥ دار
الكتب العلمية بيروت ۔
- ۲۹۔ ابن تيمية، الصارم المسلول : ۱/۱۲۸ ۔
- ۳۰۔ ابو داود ، السنن : ٢٦٦٨ ـ
- ۳۱۔ أيضاً : ٢٦٦٩ ـ
---------------------------------------