رَدّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
- حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
احتساب قادیانیت
دہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
ردّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
احتساب قادیانیت
دہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون : 514122
باسمہ تعالیٰ
پیش لفظ
مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کے شاگرد رشید تھے۔ ١٣٠٤ھ میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے۔ حضرت مولانا رفیع الدینؒ صاحب سے شرف بیعت حاصل تھا۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی طرف رجوع کیا اور مجاز بیعت ہوئے۔
دربھنگہ اور مراد آباد کے مدارس میں صدارت تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے پھر ایک عرصہ تک دارالعلوم دیوبند کے ناظم تعلیمات اور ناظم شعبہ تبلیغ رہے، یکم رمضان ١٣٥٠ھ سے وطن مالوف چاند پور (بجنور) میں قیام فرمالیا تھا اور وہیں ربیع الثانی ١٣٧١ھ میں واصل بحق ہوگئے۔
مولانا مرحوم فرق باطلہ بالخصوص قادیانیت واہل ھواء کے رد و مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے تھے، بارہا قادیانیوں کو شکست فاش دی، ہندوستان بھر میں آپ کی شعلہ نوائی کی گونج تھی، تقریر و خطابت کے بادشاہ تھے، باطل فرقوں کے رد میں بہت سے مفید رسائل بھی تالیف فرمائے، رد قادیانیت کے سلسلہ میں آپ کے رسائل ”احتساب قادیانیت“ کی اس جلد میں پیش کرنے کی سعادت پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔
- ٢...... حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ کے رد قادیانیت پر مجموعہ رسائل بھی اس جلد
میں شامل ہیں۔ ان کا تعارف ان رسائل کے اول میں اپنے مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔
فقیر اللہ وسایا
بسم الله الرحمن الرحیم
فہرست
- ١....................صحیفۃ الحق (الملقب) بمباہلۃ الحق ٥
- ٢.............................تحقیق الکفر والایمان ١٧
- ٣....................فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ ١٠٥
- ٤..............مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج ١١١
- ٥..............................مرزائیت کا خاتمہ ١١٩
- ٦....................مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن ١٢٥
- ٧................ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج ١٣١
- ٨...........مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج ١٤٧
- ٩..................................[زلزلۃ الساعۃ! ١٤٥
قادیان میں قیامت خیز بھونچال]
- ١٠.......اول السبعین علی الواحد من الثلاثین ١٥٥
- ١١................................سبعین کا ثانی نمبر ١٨١
- ١٢........................دفع العجاج عن طریق المعراج ٢١٣
- ١٣............[اشدالعذاب علی مسیلمۃ الفنجاب ٢٤٣
یعنی دین مرزا کفر خالص ہے]
- ١٤.....................................حلیۃ اھل النار ٣٢٣
- ١٥.......[لابطال الاستدلال الدجال (حصہ اول) ٣٣٥
تعلیم الخبیر فی حدیث ابن کثیر]
- ١٦........[لابطال الاستدلال الدجال (حصہ دوم) ٣٥٧
...دفع الکائد عن حدیث اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد]
- ١٧.........................................البیان الاتقن! ٣٩٧
تصانیف حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
- ١........................رجم الشیاطین براغلوطات البراہین ٤٤٥
- ٢................................فتح رحمانی بدفع کید قادیانی ٥٤٧
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
صحیفۃ الحق
(الملقب)
بمباہلۃ الحق
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
باسمه تعالیٰ حَامِدًا وَّمُصَلِّيًا وَّمُسَلِّمًا
صحیفہ الحق الملقب بہ مباہلہ الحق المعروف بہ
قادیانی چیلنج پر لبیک
اور بلاشرط مناظرہ
ہمارے نام عبداللہ قادیانی الہ دین بلڈنگس اکسفورڈ اسٹریٹ سکندرآباد دکن کی جانب سے ایک چیلنج پہنچا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے پاک کلام کے مطابق مجدد اعظم، ربانی امام اور مرسل من اللہ ہیں آپ کا انکار اللہ اور اس کے رسول کریم کا انکار ہے آپ کے ہر منکر کو یہ چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر آپ دعووں میں سچے نہیں تو اور کون اس زمانہ میں مذکورہ بالا کلاموں کے مطابق سچا مدعی ہے؟ اسے پبلک میں پیش کیا جائے اور ہم سے مقررہ دس ہزار روپیہ کا انعام حاصل کیا جائے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ قادیانی جماعت میں مشتہر صاحب کس پایہ کے شخص ہیں اور ان کے کلام اور کارروائیوں کا مرزائی جماعت پر کہاں تک اثر اور قادیانیوں کے دو فرقوں میں سے کس میں داخل ہیں؟ اس وجہ سے ہم مرزا محمود قادیانی مدعی خلافت اور واقعی خلیفہ محمد علی لاہوری ایم۔ اے کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر یہ چیلنج واقعی اپنے اندر کوئی معنی رکھتا ہے اور آپ صاحبان بھی اس کے ذمہ دار ہیں تو پھر یہ بندہ حقیر خدائے ذوالجلال والاکرام کے فضل پر بھروسہ کر کے آپ دونوں صاحبوں اور ہندوستان کے جملہ قادیانیوں کو چیلنج دیتا ہے کہ میں مرزا قادیانی کو نہ مرسل من اللہ جانتا
٢
ہوں، نہ مجدد، نہ محدث، نہ امام ربانی بلکہ ان کو مسلمان کیا مہذب اور سچا انسان بھی نہیں جانتا، ان کے اقوال بھی ان کو ایک مفتری اور کذاب بتاتے ہیں اس کے برخلاف اگر آپ صاحبان ان کو مجدد اعظم ربانی، امام زماں، مرسل من اللہ جانتے ہیں تو پھر میں آپ سے بلاشرط مناظرہ کے لیے تیار ہوں جو شرائط مناظرہ میں ہوتی ہیں اور کتب مناظرہ میں درج ہیں اور جن شرائط میں مساوات طرفین کا لحاظ رہتا ہے ان سے غالباً آپ صاحبوں کو انحراف نہ ہوگا وہی شرائط ہوں۔
ہاں صرف اس قدر عرض ہے کہ مناظرہ کی شان یہ ہوگی کہ علماء اسلام نے جن رسائل میں مرزا قادیانی کا کاذب مفتری ہونا ثابت کیا ہے اور ان الزامات کو قادیانی اب تک نہیں اٹھا سکے ان مضامین کو ہم عرض کریں آپ جواب دیں اور طرفین کی تقریریں لکھی جائیں اور اسی وقت مجمع میں سنا کر طرفین کے دستخط ہو کر شائع ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء اسلام نے مرزا قادیانی کی لغویات باطلہ کا پورا رد اور خود ان کا کذاب اور مفتری ہونا ایسا ثابت کر دیا ہے کہ منصف کے لیے تو کافی ہے ہی، مرزائی جیسے ہٹ دھرموں کے بھی منہ بند کر دیئے اور قلم توڑ دیئے اور ان کو جواب کی تاب باقی نہ رہی۔ لہٰذا اب نہ مناظرہ کی ضرورت، نہ مباہلہ کی، فقط جاہل مریدوں کو جہنم تک پہنچانے کے لیے یہ راہ اختیار کی جاتی ہے کہ کہیں مناظرہ کا اشتہار اور کہیں مباہلہ کا چیلنج، ورنہ نہ وہ مناظرہ کرسکیں نہ مباہلہ ۔
ہمیں عام مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ علماء اسلام اپنا فرض ادا فرما چکے اور نہ ماننا اور نہ تسلیم کرنا یہ محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے ہے۔ ورنہ مناظرے بھی ہوچکے اور جس کو فتح دینی تھی اور جس کو ذلیل کرنا تھا وہ بھی ہوچکا۔ سرور شاہ قادیانی امیر وفد مونگیر سے دریافت کرلو۔ حافظ روشن علی قادیانی، مختار احمد قادیانی شاہجہانپوری، غلام رسول پنجابی (مناظر قادیانی) ان میں سے جو زندہ ہوں ان سے دریافت کرلو۔ ضلع مونگیر و بھاگلپور کے رہنے والوں سے دریافت کرلو۔ جب ذلت کی کوئی حد باقی نہ رہی تو امیر وفد نے فرمایا کہ یہ بھی حضرت کی پیشینگوئی پوری ہوئی کہ ایک جگہ تمہیں ذلت ہوگی، جی ہاں کیوں نہیں، اگر اسی بدعقیدہ پر مرگئے تو جب جہنم میں گرو گے جب بھی خدا چاہے۔ پیشینگوئی ہی پوری ہوگی۔ غرض مناظرہ بھی ہوچکا، مباہلہ بھی، اور جھوٹا سچے کے سامنے مر بھی گیا۔ اب بجز شور و غل کے کچھ حاصل نہیں۔ ہم کو اس برگزیدہ جماعت کا زیادہ تجربہ
ہے اور جن کو تجربہ نہ ہوگا وہ ان اشتہارات سے تجربہ کار ہو گئے ہوں گے جو اشتہارات حضرات دیوبند کی جانب سے شائع ہو رہے ہیں، دیوبند کی مرکزی جماعت نے انصافاً کوئی بات نہیں چھوڑی، مگر قادیانیوں نے جو بے انصافی کے جواب دیئے ہیں ان کا حال بھی ناظرین پر مخفی نہیں۔ یہ قوم کبھی ہارنے کا نام لینا ہی نہیں جانتی۔ مونگیر میں وہ شکست ہوئی جس کو مرتے دم تک نہ بھولیں گے۔ آدمی ہی نہیں وہاں کی زمین در و دیوار شاہد ہیں۔ مگر اس کا نام فتح عظیم ہوا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلے میں ہارے (اور تین سو روپیہ جرمانہ دیا) مگر وہ فتح روحانی ہو گئی۔ غرض جس قدر بھی ہٹ دھرمی بے انصافی ہو وہ ان کے یہاں عین انصاف اور فتح ہے۔ بلکہ ان کی فتح ہی بجز اس کے اور کچھ نہیں۔ اس وجہ سے ہم کو یہ امید نہیں ہے کہ ہماری بات کا کوئی جواب بھی دیں گے۔ لہذا ہم فضول اشتہار میں روپیہ ضائع نہ کریں گے۔ اس ایک صحیفہ میں انتہا تک کی بات کہے دیتے ہیں کہ اگر مناظرہ کرنا ہے تو اس کے جواب میں بس تاریخ اور جگہ بتا دیں۔ مگر تاریخ ایسی ہو جس میں ہندوستان کے شائقین کو خبر بھی ہو جائے اور فتنہ و فساد سے بے خوف رہیں۔ جو سلطنت اس قدر بڑے وسیع ملک کا انتظام کر رہی ہے وہ ایک جلسہ کا انتظام بھی بخوبی کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ قادیانی چاہیں۔ اور مناظرہ منظور ہو۔ ورنہ بات بنانے کو عمر صرف ہو جائے اور شرائط طے نہ ہوں جیسے کہ حضرات دیوبند کے ساتھ کیا اور کر رہے ہیں۔ رہے دس ہزار روپیہ تو نہ بڑے مرزا قادیانی نے کسی کو دیئے۔ نہ آپ دیں۔ یہ تو ہاتھی کے دانت اس کو دکھانے چاہئیں جس کو آنتوں تک کی خبر نہ ہو ہمیں تو جواب کی بھی امید نہیں ہے مناظرہ اور دس ہزار روپیہ تو کجا۔ اس وجہ سے مشتے نمونہ از خروارے مرزا قادیانی کے جھوٹ اور فریب کی طویل فہرست میں سے صرف تین جھوٹ پیش کئے ہیں ہندوستان کے تمام مرزائی ہاں جدید عیسائی (کیونکہ مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم بھی تو ہیں) مل کر جواب دیں تو معلوم ہو کہ یہ جماعت شاید کچھ کر سکے۔
جھوٹ : مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری (اپنی کتاب میں) اور مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھ والوں نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
اے مدعیان خلافت اگر واقعی خلیفہ یہی ہیں مجدد اعظم ربانی امام زماں مرسل من اللہ آپ مرزا قادیانی کو مجدد محدث امام رسول تو کیا ایک سچا انسان بھی ثابت کر سکتے ہو تو ثابت کر کے بتاؤ کیا یہی قمر الانبیاء ہے؟ اسی کی نبوت اور رسالت پر زمین و آسمان نے گواہی دی تھی۔ اسی کے کلمہ کو اللہ تعالیٰ پورا کرے گا اسی کے لیے اپنا دین و ایمان، عزت و آبرو کو برباد کرتے ہو؟ اسی جھوٹے کو ایک برگزیدہ نہیں بلکہ تمام انبیاء سے افضل جانتے ہو؟ خدا کے لیے اپنے حال پر رحم فرماؤ اور غور کرو کہ ایسے کذاب بھی مجدد اور نبی مرسل ہوئے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ لکھنا صحیح ہے تو وہ کتابیں بتاؤ۔ ورنہ خوب سمجھ لو کہ جو اس قدر کھلی باتوں میں اس دلیری سے جھوٹ بولتا ہے وہ خفیہ امور میں کس درجہ سچا ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا جھوٹ: ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشینگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لیے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
قرآن شریف دنیا میں موجود ہے کوئی جدید عیسائی بتا دے کہ یہ کس آیت کا ترجمہ ہے کس حدیث کے یہ الفاظ ہیں؟ خدا پر بھی افتراء کیا۔ رسول اللہ ﷺ پر قصداً جھوٹ بولا مگر واہ رے عقیدے تیرے قربان۔ پھر بھی قمر الانبیاء ہی رہے اور عیسیٰ علیہ السلام سے ہر شان میں افضل و اعلیٰ۔ اے تیرہویں صدی تیری قسمت تیرا قمر الانبیاء ایسا ہے تو تیرے کذاب اور دجال کیسے ہوں گے فرماؤ اب جو ان جھوٹوں کو جھوٹ اور افتراء سمجھے وہ مبارک ہے یا جو ان کو وحی الٰہی تسلیم کرے وہ مبارک اور برگزیدہ؟ کیا ان ہی باتوں کی طرف دنیا کو بلایا جاتا ہے کیا ان ہی باتوں کے نہ ماننے والے قیامت کو یہ کہیں گے لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر۔ آؤ مرد میدان بنو اور ہمت ہے تو ان باتوں کو سچا کر کے دکھاؤ۔
تیسرا جھوٹ: ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی ھذا خلیفۃ
ایھا المہدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ یا مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٤١ خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
مرزا قادیانی! سوچا اور خوب سمجھا یہ حدیث اس پایہ اور مرتبہ کی ہے جس پایہ اور مرتبہ کے آپ مجدد رسول محدث ہیں اللہ رے دلیری۔ بخاری شریف ایک مشہور کتاب ہے پھر جناب مرزا قادیانی کو ادنیٰ ادنیٰ بات پر وحی کی بارش ہوتی ہے اور ان کی وحی ظل شیطانی سے محفوظ روح القدس ہر وقت ساتھ الہام جناب کا قطعی مگر اس قدر جھوٹ سے نہ وحی نے روکا نہ روح القدس نے۔ پھر مرزائی ہیں کہ مرزا قادیانی پر مرے جاتے ہیں اسی سچائی کی طرف خلق اللہ کو بلا کر تباہ و برباد کیا جاتا ہے؟ اسی صدق پر چیلنج پر چیلنج دیئے جاتے ہیں اسی پر مناظرہ کی درخواست ہے اسی سچائی کے اظہار کے لیے دنیا سے مباہلہ کی درخواست ہے اس جھوٹ کے ظاہر ہونے کے بعد بھی مباہلہ کی درخواست کی یہ مثال ہے کہ کوئی بھنگی جس کے ایک ہاتھ میں جھاڑو اور دوسرے ہاتھ میں نالی صاف کرنے کا بانس ہو اور سقہ مشک لیے پانی ڈالتا ہو اور مھتر صاحب نالی بھی صاف کر رہے ہوں اور پھر دعویٰ یہ ہے کہ میں بادشاہ وقت ہوں جس کسی کو تردد ہو وہ میرے ساتھ مباہلہ کر لے اور ساتھ ہی میں اس کی اولاد بھی اپنے باپ کے بادشاہ ہونے پر مباہلہ کے لیے تیار ہو۔ بیشک یہ راز ہمیں پہلے سے کھلا ہوا ہے کہ مرزائیوں نے خدا کے حلم کو دیکھ لیا ہے اور یہ جانتے ہیں کہ دنیا دارالجزاء نہیں ہے ان کا کامل تجربہ ہے کہ جب ان کے متنبی کو اس صریح کذب و دجل، افتراء پر بھی دنیا میں مبتلائے عذاب نہیں کیا گیا تو وہ سمجھتے ہیں کہ جب اصل کاذب پر عذاب نازل نہ ہوا تو ہمارا کیا ہوتا ہے۔ چلو مباہلہ کی درخواست بھی کر دو۔ دو چار بدبخت عقل کے اندھے اور پھنس جائیں گے تو اچھا ہے مرزا قادیانی نے مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے مباہلہ کیا اور خود ان کے سامنے مر گئے تو اس سے مرزا قادیانی ان کے پیرو کب نادم ہوئے؟ جو اب کسی مباہلہ سے ان پر کوئی اثر ہوگا۔ خدا ندامت کی آگ بھڑکائے اور حسرت کے سمندر کو موجزن رکھے۔ مباہلہ کرنے والوں کو جلانے اور ڈبونے کے لیے کافی ہے۔
مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی اور مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرزا قادیانی کے سامنے مر گئے تو مرزا قادیانی کے صدق کی دلیل ہوگئی بلکہ معجزہ حالانکہ انہوں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ جھوٹا سچے کے سامنے ضرور مرے گا مگر مرزا قادیانی مولوی عبدالحق صاحب کے سامنے باوجود مباہلہ کرنے کے مر گئے۔ لیکن سچے کون مرزا قادیانی؟
٦
مولوی ثناء اللہ صاحب کے سامنے باوجود گڑگڑا کر دعا کرنے کے۔ کہ جھوٹا سچے کے سامنے مرے، خود مر گئے مگر پھر بھی ان کو اور ان کے متعلقین کو فتح روحانی برابر حاصل ہوتی ہی رہتی ہے۔ یہی دین و ایمان صدق و دیانت ہے جس پر دنیا کو چیلنج دیا جاتا ہے مناظرہ کر لو مباہلہ کر لو اے قادیانی مشن! تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے متنبی کذاب اور تم سے خدا نے خود مباہلہ فرمایا ہے اور تم سب کے سب خدائی لعنت سے ملعون ہو اس خدائی مباہلہ کے بعد بھی کسی اور مباہلہ کی خواہش اور خدائی لعنت کے بعد کسی اور لعنت کی تمنا باقی ہے؟ غصہ نہ ہوں ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے آپ کے حضرت قادیانی ہی کا مقولہ سناتے ہیں پھر سوچو اور شرمندہ ہو اور حیا کرو اگر ایمان ہے ”خدا کی جھوٹوں پر نہ ایکدم کی گئی لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٨)
فرمائیے! آپ لوگوں سے قرآنی مباہلہ کی درخواست فرماتے ہیں اور خدائی مباہلہ یہی ہے فنجعل لعنة الله علی الکاذبین یعنی اللہ کی لعنت جھوٹے پر کریں۔ اور اللہ خود بھی فرماتا ہے کہ لعنة الله علی الکاذبین چاہے کوئی کہے یا نہ کہے جھوٹے پر پھر بھی خدا کی لعنت ہے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جھوٹے پر ایکدم کی لعنت نہیں بلکہ قیامت تک خدا کی لعنت ہے تو اب آپ ہی فرمائیے کہ مرزا قادیانی پر قیامت تک خدا کی لعنت ہوئی یا نہیں؟ پھر اس کے بعد اور کس مباہلہ کی خواہش باقی ہے علماء دیوبند سے اب کیا مباہلہ کیا جائے گا علمائے دیوبند اور جملہ اہل اسلام کی طرف سے خدا خود مباہلہ فرما کر مرزا اور ان کے متعلقین کو قیامت تک ملعون کرچکا ہے۔ اور یہ ہم نہیں کہتے بلکہ آپ کے مرزا قادیانی مجدد اعظم، امام زماں، مرسل من اللہ۔ ہی فرماتے ہیں کیونکہ یہ نمونہ کے طور پر تین مذکورہ بالا جھوٹ بھی انہوں نے بولے اور خود ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت قیامت تک ہوتی ہے۔ پھر فرمائیے کہ نتیجہ یہ ہوا کہ نہیں کہ مرزا قادیانی پر قیامت تک خدا کی لعنت ہے اب یا تو مرزا قادیانی کے جھوٹوں کو سچا کر کے دکھا دو جو قیامت تک ناممکن ہے ورنہ اقرار کرو کہ وہ بیشک قیامت تک ملعون ہیں اور ساتھ .. میں ان کے خلفاء مریدین معتقدین بھی۔ ورنہ اس گورکھ دھندے کو ہمیں سمجھا دو کہ معاملہ کیا ہے۔ ابھی تو ہمیں ان جھوٹوں کی نسبت بہت کچھ عرض کرنا ہے اگر یہ سچے ہو گئے تو مرزا قادیانی نے جو اور بڑے بڑے سیاہ جھوٹ بولے ہیں انہیں ظاہر کریں گے پہلے کم از کم مرزا قادیانی کو سچا تو ثابت کرو پھر ہی کوئی اور بات کہنا ورنہ وہی مثل مذکور صادق آئے گی۔
٧
اب خلیفہ درجہ اوّل ایم اے صاحب اور خلیفہ دوئم مرزا محمود اور تمام ہندوستان کے قادیانی مدعیوں کی صداقت ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا جواب مرحمت ہوتا ہے؟ اور ہم نے جو ایم۔ اے صاحب کو واقعی اور درجہ اوّل کا خلیفہ اور مرزا محمود کو غیر واقعی اور درجہ دوئم کا خلیفہ لکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جس قدر ہٹ دھرمی مرزا قادیانی کے خلیفہ کے لیے چاہیے وہ ایم اے صاحب میں ہے مرزا محمود ابھی صاحبزادے ہیں ناتجربہ کار ہیں‘ اس میں شک نہیں کہ مرزا محمود صحیح کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے نبوت حقیقیہ کاملہ (جیسے کہ انبیاء سابقین مثلاً سیدنا و مولانا محمد و سیدنا ابراہیم و سیدنا موسیٰ و سیدنا عیسیٰ وغیرہم انبیاء مذکورہ فی القرآن علیہم السلام کی نبوت ہے) کا دعویٰ کیا اور اپنے منکرین کو کافر کہا اب ایم اے صاحب کا یہ فرمانا کہ مرزا قادیانی نے بجز جزوی ظلی نبوت کے جس کا حاصل محض مجددیت ہے دعویٰ ہی نہیں کیا بالکل غلط ہے اور اس بناء پر قادیانی مذہب اور مرزا قادیانی کی وحی کے مطابق خواجہ کمال الدین قادیانی اور ایم اے صاحب کے ہم خیال سب کافر ہوئے اس وجہ سے وہی اس قابل ہیں کہ مرزا قادیانی کے خلیفہ بنائے جائیں جس کو جھوٹ اور افتراء پر اس قدر دلیری نہ ہو وہ مرزا قادیانی کا سچا جانشین نہیں ہوسکتا۔
اور اس میں بھی شک نہیں کہ ایم اے صاحب کا یہ فرمانا بالکل صحیح ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں آپؐ کے بعد کوئی حقیقی نبی نہیں ہو سکتا اگر کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ یقیناً کافر ہے لہٰذا ایم اے صاحب کے فتوے کے موافق بھی مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کو حقیقی نبی جاننے والے کافر مرتد ہوئے۔ اس میں ہم دونوں صاحبوں کی وکالت کرکے دوسرے سے گفتگو کرنے کو بھی تیار ہیں اور خدا چاہے تو یہ ثابت کردیں گے کہ مرزائیوں کے دونوں فرقوں کے عقائد کی رو سے بھی جملہ مرزائی کافر اور عامہ علماء کے فتوے سے بھی کافر مرتد۔ مگر خلیفہ ہونے کے قابل ایم اے صاحب اور خواجہ کمال الدین ہیں اس وجہ سے جیسے مرزا قادیانی نے طرح طرح کے رنگ بدل کر دنیا کو مرتد اور کافر بنایا ہے خواجہ کمال الدین اور ایم اے صاحب نے بھی جب دیکھا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے تو لوگوں کا رنگ بدلا اور معتقدین میں تذبذب آگیا تو جھٹ انکار کر دیا کہ مرزا قادیانی نے کبھی حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہاں مجدد ہیں‘ محدث ہیں‘ بروزی نبی ضرور ہیں‘ مہدی مسعود‘ مسیح موعود بھی ہیں‘ ذات مقدس ہے اور بڑے برگزیدہ ہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ نبی تسلیم کرنے والوں کو مرزا محمود قادیانی نے سنبھالا اور جو نبوت
سے بدلے ان کا ہاتھ خواجہ کمال اور ایم اے صاحب نے پکڑ لیا مرزا قادیانی کو نہ نبی مان کر آدمی مسلمان رہ سکتا ہے نہ مجدد اور محدث بلکہ ان کے عقائد پر جو ان کی کتب میں مذکور ہیں مطلع ہو کر ان کو کافر نہ کہے وہ بھی مسلمانوں کے نزدیک مسلمان نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کی غرض یعنی دنیا کو کافر بنانا بہر صورت حاصل ہے چاہے نبی کہو یا مجدد۔ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی کھلی کھلی توہین کریں اور ایم اے صاحب کے نزدیک ان کی مجددیت و محدثیت نبوت ظلی بروزی جزوی بجا رہے اس میں کچھ فرق نہ آئے۔ ہم کچھ نہیں کہتے ہیں وہی کہتے ہیں جو خدائے اقدس و قہار فرماتا ہے الا لعنت اللہ علی الکاذبین اور جو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جھوٹے پر خدا کی قیامت تک لعنت ہم کو ایم اے صاحب اور خواجہ صاحب کا یہی عقیدہ معلوم ہوا ہے اور اگر وہ بھی مرزا محمود کے موافق ہیں یا ان کا مطلب بھی ایسا پیچدار ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا مطلب یہ کہ نہ خلیفہ نور الدین سمجھے نہ ان کے صاحبزادے سمجھے سمجھے تو کون ایم اے صاحب یا خواجہ صاحب تب ہم کچھ عرض نہیں کر سکتے جب تک صاف بات نہ معلوم ہو۔ ہمارے نزدیک تو بالکل جنگ زرگری ہے کہ حقیقت میں دونوں ایک ہی ہیں لفظوں کا پھیر ہے اور دنیا کو تباہ اور برباد کرنا اور عیسائی جدید بنانا منظور ہے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ رہی یہ بات کہ جب مرزا قادیانی اپنے دعوؤں میں جھوٹے اور مفتری کذاب ہیں تو پھر اس صدی کا مجدد کون ہے؟ اس کے متعلق میاں عبداللہ الہ دین قادیانی کی خدمت میں عرض ہے کہ پہلے آپ یہ تو تسلیم کر لیں کہ ہاں مرزا قادیانی یقیناً قطعاً جھوٹے ہیں اور وہ مجدد اعظم مرسل من اللہ تو کیا ایک مسلمان بھی نہیں ہیں بلکہ ایک سچے انسان بھی نہیں تو پھر اگر کوئی قادیانی تم سے کہے کہ اب تم پر امام زماں اور مجدد وقت کی تلاش فرض ہے اور بغیر اس کے نجات نہیں ہو سکتی اور جیسے مرزا قادیانی کے مجدد نبی نہ ماننے میں مرتد ہو کر جہنم میں داخل ہوتے امام اور مجدد وقت کی تلاش نہ کرنے یا تلاش کے بعد نہ ملنے سے بھی وہی حشر ہوتا ہے۔ تو ہمیں بہت کچھ عرض کرنا ہے بالفعل اسی قدر پر بس ہے کہ اس وقت تک کے تیرہ صدی کے گذشتہ مسلمانوں کا جو حال ہوگا وہی آپ کا بھی ہوگا یہ سب مرزائیوں کے مکائد اور مغالطے ہیں اور کچھ نہیں اور مرزائیوں نے مرزا قادیانی کے ان تین جھوٹوں کی نسبت کچھ ہمت کی تو انشاء اللہ ہم بھی اور عرض کریں گے ورنہ دیگ کا ایک چاول دیکھنے سے پختگی اور خامی کا حال معلوم ہو جاتا ہے۔
تمام اہل اسلام کی خدمت میں التماس
یہ تحریر جن حضرات کی خدمت میں پہنچے اس کی جہاں تک ہو سکے تشہیر کر کے اس فرقہ کے مکر و کید سے اہل اسلام کو بچائیں اور مضمون کو طبع کرا کر تقسیم کرائیں اور انصافاً اس فرقہ باطلہ کے بطلان اور کذب اور جھوٹ ظاہر فرمانے میں حضرت مولانا مولوی سید محمد علی صاحب دامت برکاتہم وارد حال مونگیر خلیفہ اعظم حضرت مولانا مولوی فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی قدس سرہ العزیز نے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا ہاں ضرورت اس کی ہے کہ بار بار طبع ہوں اور ہر جگہ کے اہل علم توجہ فرمائیں اور ان رسائل کو دیکھیں اور لوگوں کو سمجھائیں اور مبلغین اور واعظین ملازم رکھ کر ملکوں میں اس کی اشاعت فرمائیں اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو توفیق خیر عطا فرمائے ایک مقدس اور برگزیدہ ذات نے باوجود کثرت امراض و ضعف و ناتوانی کے اس قدر بڑا کام کر دیا اب دوسرے اہل اسلام سب مل کر تو اتنا کام کریں کہ پکے پکائے کھانے کو تقسیم فرما دیں۔ اہل اسلام کی توجہ اور ہمت کے سامنے یہ امر دشوار نہیں ہے اور حضرات علماء کرام دیوبند نے جو ایک سال تک اشتہار شائع فرمائے ہیں ان کا خلاصہ بھی طبع ہونے سے باقی نہ رہے ضرور منگوا کر دیکھیں تو حقیقت حال منکشف ہو جائے گی کہ قادیانیوں کو بے مباہلہ ہی ندامت کا طوق مل گیا اور روحانی موت سے مر گئے اور باوجودیکہ مناظرہ کی نوبت نہ آئی ہارنے کا ہار گلے میں پڑ گیا۔ اگر مناظرہ ہوتا تو خدا جانے حقیقت کھل جاتی واللہ تعالیٰ ھو المستعان۔
اب ہمیں دیکھنا ہے کہ تمام ہندوستان کے قادیانی کیا رنگ لاتے ہیں اور مرزا قادیانی کو کیسے سچا بناتے ہیں؟ مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری کی کون سی کتاب بتا دیں گے یا کسی عبارت میں الہام اور وحی کے ذریعہ سے نئے معنی ڈالے جائیں گے کوئی جدید قرآن جس کی شان انا انزلنہ قریبا من القادیان (حقیقت الوحی ص ٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ہے وہ پیش کر کے کوئی جدید آیات بنائیں گے یا کوئی حدیث کی کتاب جو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے پھینک دی تھی وہ دکھائیں گے کیونکہ وہ اپنے ہیڈکوارٹر سے نزول فرماتے ہی نہیں۔
یہ سب تو ممکن ہے، مگر بخاری کون سی ہوگی؟ جس میں وہ خلیفہ والی حدیث دکھائیں گے اللہ تعالیٰ ہمارے ان پرانے بھائیوں کو ہدایت فرما کر پھر راہ راست کی طرف لوٹائے۔ تعجب ہے آریہ لوگ اپنے مذہب کی لغویات دیکھ کر متنبہ ہوئے مگر یہ
١٠
مدعیان اسلام، عقل و دانش مرزا قادیانی کی لغویات سے واقف ہیں مگر آنکھیں نہیں کھولتے۔ خدا کے لیے اپنی عاقبت کو خراب نہ کرو۔ خدا نے عقل دی ہے۔ برے بھلے کو دیکھئے۔ اسلام تاریک مذہب نہیں ہے جس میں حق و باطل کی تمیز نہ ہو سکے اور مرزا قادیانی نے تو اپنے حق میں خود ہی فیصلہ کر دیا ان کے باطل ہونے میں تردد ہی کیا ہے؟ اگر مرزا قادیانی باوجود ان لغو اور جھوٹ باتوں کے حق پر ہیں تو پھر دنیا میں کوئی باطل پر کیسے ثابت ہوگا؟ کئی سال ہوئے حیدرآباد کے قادیانیوں کے کسی ایسے ہی اشتہار کے جواب میں ہم نے ایک اشتہار دیا تھا جس کا عنوان تھا ”حجة الله البالغه علی الفرقۃ الطاغیہ“ یعنی اہل حق کی طرف سے قادیانیوں کو مناظرہ کی دعوت جس کی آخر کی سطریں یہ ہیں ”خدائی حجت پورا کرنے کے لیے ہم مولوی محمد سعید مرزائی حیدرآبادی اور وہاں کے تمام مرزائیوں کو خصوصاً اور تمام دنیا کے مرزائیوں کو عموماً دعوت دیتے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں خواہ حیدرآباد میں یا ہندوستان کے کسی دوسرے مقام میں مناظرہ کر کے حق و باطل کو سمجھ لیں اور مرزا قادیانی کی کذابی کا معائنہ کر لیں مگر شرط یہ ہے کہ مناظرہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صدق اور کذب پر گفتگو ہوگی دوسرے یہ مناظرہ اعلیٰ پیمانہ پر فیصلہ کن ہو تاکہ پھر کسی مناظرہ کی ضرورت نہ رہے، تیسرے خلیفہ محمود یا دیگر مدعیان خلافت خود مناظر ہوں یا وہ اپنی طرف سے کسی کو مقرر کریں۔ اور یہ بھی نہ ہو تو کم از کم حیدرآباد کے تمام مرزائی کسی کو مقرر کریں۔ چوتھے فیصلہ کے لیے چند قابل اور ذی علم مقرر ہوں جو دونوں طرف کی تقریریں سن کر فیصلہ دیں۔ اگر کسی مرزائی کو اپنی نبوت کی حمیت ہے تو سامنے آئے اور قدرت حق کا تماشہ دیکھے۔“
اس اشتہار کا آج تک ہم کو کوئی جواب نہیں ملا۔ ممکن ہے اس چند سالہ فرصت میں حیدرآباد کے قادیانیوں نے کوئی مناظرہ کا سامان بہم پہنچایا ہو اس وجہ سے ہم کو بہت بے چینی کے ساتھ صحیفہ الحق کے جواب کا انتظار رہے گا ہمارے پاس بذریعہ رجسٹری بھیجا جائے ورنہ ہم جواب کے ذمہ دار نہیں۔ علیٰ ہذا! ہم بھی خاص خاص قادیانیوں کے پاس بذریعہ رجسٹری صحیفہ الحق ارسال کریں گے۔ فقط
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ
سرپرست انجمن تائید الاسلام و مدرس اوّل مدرسہ امدادیہ مراد آباد
١٤ محرم ١٣٤٥ جمعہ
١١
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاك﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تحقیق الکفر والایمان
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحقیق الکفر والایمان
نام نہاد مسلمان محمد علی شنی نے جو غالباً علی گڑھ کے تھے سیاسۃً قادیانیوں کو کافر کہنے کے خلاف تھے۔ لاہوری گروپ مرزائیوں کے پیغام صلح میں مرزائیوں کے کفر کے متعلق اس کا خط شائع ہوا۔ جس کے جواب میں مؤلف نے یہ رسالہ لکھا۔ (مرتب)
الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین امابعد۔!
١٠ رمضان المبارک ١٣٣٣ھ کے پیغام صلح (لاہوری گروپ کے مرزائیوں کا آرگن) میں ایک خط بنام مولوی ظفر علی خاں صاحب نظر سے گذرا۔ جس میں اوّل مولوی صاحب کے مضمون ”قتل مرتد“ کے متعلق اظہار شکریہ تھا اور پھر چار سوالوں کا جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں، جواب مفصل طلب کر کے لکھا تھا کہ اگر میرے سوالات مذکورہ کا تسلی بخش جواب مل جائے تو میں نے جو قادیانیوں کو مومن اور ان کے قتل کو قتل عمداً مومن لکھا ہے اس سے رجوع کرلوں گا۔ سوالات یہ ہیں:
چار سوال
- (١)...... خداوند کریم نے اپنے کلامِ پاک میں کفر و اسلام یا ایمان و ارتداد کی
کیا تعریف فرمائی ہے؟
٢
- (٢)....... وہ کون سے شعائر اللہ یا حدود اللہ ہیں جن کو توڑنے سے کوئی شخص
من کل الوجوہ دائرۂ اسلام سے خارج یا کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔
- (٣)....... آیا قادیانیوں نے ان جملہ شعائر اللہ یا حدود اللہ کو جو کسی شخص کے
مسلمان ہونے کی علامت ہو سکتے ہیں من کل الوجوہ خیر باد کہہ دیا ہے یا ابھی تک ان میں ان شعائر اللہ یا حدود اللہ کی کوئی ایسی رمق باقی ہے جس سے وہ مسلمان کہلائے جانے کا استحقاق رکھتے ہوں۔
- (٤)....... اگر ان میں اسلام کی ایک بھی نشانی موجود نہ ہو تب بھی موجودہ
صورت میں جب کہ دنیا کے ہر ایک نظام حکومت میں جملہ ملکی مسائل کا حل کثرت رائے کی بناء پر کیا جا رہا ہو۔ کسی ملک میں مسلمانوں کے مقابلہ پر غیر مسلموں کی کثرت رائے کا غلبہ توڑ کر مسلمانوں کو کامیاب بنانے کے لیے قادیانیوں کی آراء کا مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے کسی کے حق میں شمار کیے جانا مسلمانوں کے لیے مفید یا مضر ہو سکتا ہے؟
مرزائیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے کے لیے میرے نزدیک اس سے بہتر اور مختصر اور جامع تقریر مرزائی تو کیا مرزا قادیانی بھی نہیں کر سکتے۔ شاید اسی وجہ سے پیغام صلح لاہور نے ان سوالات کو شائع کیا ہو۔
سوال اوّل و دوم کا جواب
قرآن مجید میں کفر و اسلام، مومن و کافر کی حقیقت اور علامات و شعائر و احکامات کو نہایت شرح و بسط سے بیان فرمایا ہے میں اس وقت صرف ایک ہی آیت پیش کرتا ہوں جس میں خدائے قدوس نے کفر و اسلام‘ کافر و مرتد‘ مومن و مسلم‘ کو ایسی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ منصف تو منصف بڑے سے بڑا متعصب بھی شاید انکار کرنے کی جرأت نہ کر سکے بشرطیکہ انسانیت کے ساتھ کچھ بھی معقولیت رکھتا ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا“
(سورۃ النساء: ٦٥)
پس قسم ہے تیرے رب کی کہ وہ نہ مومن ہوں گے جب تک کہ تجھ کو ہر امر مختلف فیہ میں حکم نہ بنائیں پھر اپنے نفسوں میں آپؐ کے حکم سے تنگی تک نہ پائیں اور اس حکم کو پوری پوری طرح سے تسلیم نہ کرلیں۔
یہ ظاہر ہے کہ آسمان اور زمین، دریا اور پہاڑ‘ آگ و پانی جملہ مشاہدات جسمانی و محسوسات روحانی کو جاننا اور یقین کرنا نہ اس کا نام ایمان و اسلام ہے نہ ان کے
٣
انکار سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آگ جلاتی ہے اور پانی بجھاتا ہے اور دوسرا اس کے برخلاف کہے تو ان کو سچا اور جھوٹا تو کہیں گے لیکن اس کی وجہ سے کفر اور اسلام کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ فرما دیا گیا ہے کہ قرآن پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔ ”اَلَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ“ (البقرہ: ٣) جو لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں۔
وہ امور جو عقول مخلوقات سے غائب ہیں اور وہاں تک بجز اعلام خداوندی کسی شخص کا گزر ہو ہی نہیں سکتا اور وہ امور غیبیہ خاص انبیاء اور رسل ہی کو بتلائے جاتے ہیں۔ ”لَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ“ (الجن: ٢٧) وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس کو پسند کر لے اور وہ پسندیدہ کون ہوتا ہے وہ انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسلام کی جماعت سے کوئی رسول اور نبی ہوتا ہے۔
احکام و عقائد ایمانیہ کی اطلاع بجز انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کسی کو نہیں ہوتی۔ جس فعل کے کرنے یا نہ کرنے پر اخروی نجات کا مدار ہو۔ یہ امور غیبیہ مختص بالنبی ہیں۔ ایک امر غیب بھی بدون نبی کے کسی پر منکشف نہیں ہوتا۔ مطلق اخبار غیبیہ نبی سے مختص نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے یہاں بڑا دھوکا کھایا ہے کہ نبی کی حقیقت ان کے نزدیک ایک منجم اور جوتشی سے زیادہ نہیں۔ جس کسی شخص (بزعم خود) کی ڈیڑھ سو پیشین گوئیاں سچی ہو جائیں اور پھر بھی وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے تو اس سے زیادہ دنیا میں کوئی بدقسمت اور بدنصیب یا بدفہم اور کوڑھ مغز نہیں کہ خدا اسے نبی بناتا ہے اور وہ اپنے آپ کو نہ نبی کہتا ہے اور نہ نبی سمجھتا ہے۔
الحاصل مشاہدات اور تجربات وغیرہ جن حقائق کا انکشاف انسان اپنی عقلی یا تجربہ کے ذریعہ سے کر سکتا ہے ان کے انکار یا اقرار کا نام کفر و اسلام نہیں۔ سائنس کی جدید تحقیقات طبیعات کے نئے نئے اثرات کا تسلیم نہ کرنا اس کو اسلام و کفر سے کچھ تعلق نہیں۔ یہ سچ ہے کہ حق بات کو نہ ماننا کذب ہے جھوٹ ہے بے عقلی ہے۔ مگر اس سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ اگر آج کوئی ریل کا اور ہوائی جہاز اور کل یورپ کی ایجادات کا انکار کر دے اس کو متعنت متعصب مجنون دیوانہ جو چاہے سو کہو لیکن کافر نہیں کہہ سکتے اور نہ یورپ کی تمام ایجادات کے تسلیم کرنے والے کو مومن کا لقب دے سکتے ہیں جو امور انسانی عقل سے بالاتر ہیں جن کے ادراک کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں اور وہ امور انسانی حواس اور مشاہدات اور تجربات اور ادراکات سے بالکل اعلیٰ اور بالا ہیں اور ان پر
٤
کسی قسم کے دلائل عقلیہ اس قسم کے قائم نہیں ہیں کہ جن دلائل سے ان کا وجود قطع اور یقین کے درجہ کو پہنچ جائے پھر ان کے ماننے یا نہ ماننے اور کرنے یا نہ کرنے پر خدا راضی یا ناراض ہوتا ہو ایسے امور غیبیہ پر یقین کرنا جو صرف بواسطہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے حاصل ہو سکتے ہیں اس یقین و انکار کا نام کفر و اسلام ہے اور یہی وہ امور غیبیہ ہیں کہ جن کا علم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے کس عقیدہ یا فعل سے خدا راضی یا ناراض ہوتا ہے اور کس چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا انسان کو حکم کرتا ہے۔ یہ علم اپنے بندوں میں سے کسی کو نہیں دیتا مگر جس کو وہ پسند کر لے اور اسی کا نام رسول ہے کہ وہ خدا اور بندہ کے درمیان میں رسالت اور پیغمبری کا کام کرتا ہے۔
غرض جب انسان کی مرضیات اور نامرضیات پر دوسرے انسان کا بغیر اس کے بتلائے مطلع ہونا ناممکن ہے تو خدا کی مرضیات اور نامرضیات پر بدون اس کے بتلائے ہوئے مطلع ہونا بداہتہ محال ہوا۔ جس واسطہ کے ذریعہ سے مرضیات اور نامرضیات خداوندی پر انسان مطلع ہوتا ہے اسی کو رسول اور نبی کہتے ہیں۔
نبی کا معصوم ہونا
جب نبی خدا اور بندہ کے درمیان میں واسطہ ہوا تو ضروری ہے کہ وہ امین ہو اور کذب و خیانت سے معصوم اور سوء فہمی اور کم سمجھی سے محفوظ ہو۔ اگر بمقتضائے بشریت امور اجتہادیہ میں اس سے غلطی ہو جائے تو فوراً اس کو صحیح عمل پر مطلع کرنا ضروری ہے۔ ورنہ اگر مرزا قادیانی کی طرح نبی معاذ اللہ بدفہم اور غبی ہو کہ خدا کی وحی کو جو بارش کی طرح برستی ہو اسے بارہ برس تک بھی نہ سمجھے اور کجفہمی اس درجہ کی ہو کہ اپنے عقیدہ کفریہ پر باون برس کی عمر تک جما رہے اور خدا کی صاف اور صریح وحی کا مطلب اپنی پندار اور شاعرانه طبیعت سے وہی بتاتا رہے جو خلاف مرضی خداوندی ہونے کے علاوہ خلاف عقل اور نقل اور خلاف فطرت بھی ہو۔
نبی مطاع ہوتا ہے
نبی مقتداء اور مطاع ہو کر آتا ہے ”وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّٰهِ“ (نساء:٦٤) ”ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی لیے تاکہ وہ باذن اللہ مطاع بنے“ اس کا قول و فعل امت کے لیے حجت اور دلیل اور مشعل ہدایت ہے۔ اگر وہ بھی غلط کاریوں میں مبتلا ہو اور اس کا قدم راہ راست پر نہ پڑے تو واجب الاتباع نہیں ہو سکتا۔
٥
واجب الاتباع اسی کا قول و فعل ہو سکتا ہے جس میں غلطی کا احتمال تک باقی نہ رہے۔ ورنہ جس قول و فعل میں غلطی اور صواب کا احتمال ہو اس کو واجب الاتباع کون حق پرست کہہ سکتا ہے ”اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ“ (انعام: ٩٠) ”سرور انبیاء علیہ التحیۃ والصلوٰۃ کو خطاب ہوتا ہے کہ اس جماعت انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے تم بھی ان کی ہدایت کی اقتداء کرو۔“ جس جماعت کی ہدایت اس قدر سچی اور پکی اور قطعی اور یقینی ہو کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی اس کی اقتداء کا حکم ہو تو وہاں بجز ہدایت، رشد اور عصمت و عفت کے کیا ہو سکتا ہے۔ غرض جماعت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام چونکہ مقتداء اور مطاع ہے لہٰذا ان کا علم اور عمل دونوں صحیح ہیں جن میں غلطی اور گمراہی کا احتمال بھی باقی نہیں۔ بالخصوص جس کی شان ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحٰی“ (النجم: ٣) ہو وہاں تو ان خطرات کی مجال ہی کیا ہے۔ جب ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم“ (آل عمران: ٣١) کا اعلان خداوندی ہو۔ یعنی ان سے کہہ دو کہ اگر تم کو محبت خداوندی کا دعویٰ ہے تو میری اتباع کرو۔ خدا تم کو دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ پھر بھی اگر حکم نبوی میں خطا اور غلطی کی گنجائش ہو تو کس طرح سے علی الاطلاق نبی کی اتباع ضروری ہوگی؟ اور نبی وغیر نبی میں فرق ہی کیا رہے گا؟ دوسروں کی اتباع حق کے تابع ہے اور یہاں حق حکم نبی کے تابع۔ دوسری جگہ حق کو دلیل سے جانا جاتا ہے اور یہاں دلیل حقانیت حکم نبی ہے۔
آیت فلا وربک میں قسم کھانے کی مصلحت
چونکہ تاکید حکم انکار یا احتمال انکار کے موقع پر ہوتی ہے اور آیت بالا میں ایمان کو مطلق حکم نبوی کے تسلیم کرنے پر موقوف کیا گیا ہے چاہے کسی قسم کا امر مختلف فیہ ہو۔ دینی ہو یا دنیاوی، معاد سے تعلق رکھتا ہو یا معاش سے، اوامر و نواہی میں سے ہو یا اخلاق میں سے، تو یہاں گنجائش تھی کہ کسی کے قلب میں یہ شبہ پیدا ہوتا کہ حکم نبوی اگر امور دینیہ میں ہو تو اس کا تسلیم نہ کرنا تو بیشک کفر ہونا چاہیے۔ لیکن دنیاوی امور اور معمولی معاملات فصل خصومات ان میں نبی کا حکم بھی ویسا ہی واجب التسلیم ہو جیسا کہ مبداء و معاد۔ روزہ و نماز، حج و زکوٰۃ وغیرہ میں۔ یہ بات بظاہر موجب خلجان ہو سکتی تھی اس لیے حکیم و خبیر جل وعلا شانہ نے پہلے لانفی سے تاکید کی اور پھر قسم سے حکم کو مؤکد فرمایا اور لفظ رب اور کاف خطاب میں جو خصوصیت ہے اس کو سمجھنے والے خود غور فرمائیں۔ مجھے یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ شبہ مذکور کے دفع کرنے کے لیے اس حکم کو لانفی جو تاکید کے
لیے ہے اور قسم سے مؤکد اور موثق فرما دیا تا کہ کسی شخص کو کوئی گنجائش شک اور تردد کی باقی نہ رہے۔ اور ایمان و کفر کی حدود پورے طور سے متمیز ہو جائیں اور ہر مومن اس بات کو سمجھ لے کہ سرور عالمؐ کے ہر حکم کو جان و دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر ظاہر میں تسلیم ہو اور دل میں انکار یا کم سے کم تنگدلی ہی ہو تب بھی وہ شخص اپنے کو اہل ایمان کے گروہ سے خارج سمجھے۔
ایمان کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جناب رسول اکرم ﷺ کے جملہ احکام کو پوری طرح سے تسلیم کیا جائے اور کفر کی حقیقت بھی صرف یہی ہے کہ آپ کے کسی ایک حکم یا کل احکام کا انکار کیا جائے۔ کفر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ سرے سے توحید یا رسالت کا ہی انکار ہو یا سارے احکام نبویہ کو تسلیم نہ کیا جائے۔ بلکہ ایک حکم نہ ماننے والا بھی ویسا ہی کافر ہے جیسے جملہ احکام کا نہ ماننے والا۔ یا رسالت یا توحید کا انکار کرنے والا۔ کفر دون کفر کے لحاظ سے گو فرق مراتب ہو لیکن بمقتضائے الکفر ملۃ واحدۃ کافر ہونے میں سب شریک ہیں۔
حکم نبی کو نہ تسلیم کرنا کفر کیوں ہے؟
بارگاہ قدوسیت وزیر و مشیر سے منزہ ہے لیکن پیغمبر اور نبی کی کوئی نظیر تقرب بارگاہ الٰہی کی حیثیت سے اگر ہمارے سامنے ہے تو یہی ہے کہ اگر خدا کے یہاں نعوذ باللہ وزیر ہوتا تو یہ عہدہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو ملتا اور وزیر اعظم آپ ہوتے جو اعلیٰ مقرب بارگاہ احدیت ہیں ﷺ۔ جب نبی کے لیے امین مامون محفوظ معصوم صدیق فہیم ہونا شرط ہے کیونکہ وہ مطاع اور مقتدا اور پیکر ہدایت اور مجسمہ رشد ہو کر آتا ہے تو اس کا جو حکم بھی ہوگا بمقتضائے وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی سچا اور منجانب اللہ ہوگا۔ جس کی اطاعت ہر مومن کے لیے فرض ہے۔
اور امور اجتہادیہ میں بمقتضائے بشریت اگر کہیں اس سے لغزش ہوگی تو فوراً مطلع فرمایا جائے گا لہٰذا اس کے حکم کو غلط سمجھنا یا اس کا انکار کرنا یا تردد کرنا اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ معاذ اللہ یا خدا قصداً جھوٹوں کو یا غبی اور نافہموں کو یا بددیانتوں کو نبی بناتا اور جو خود معاذ اللہ گمراہ ہیں ان کو خلق اللہ کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے۔ یا معاذ اللہ العظیم اس نے تو ایسا ارادہ نہیں کیا مگر نبی کے ان اخلاق ذمیمہ پر اس کو اطلاع نہ ہوئی یا اطلاع ہوئی مگر اصلاح پر قدرت نہ تھی۔ یا قدرت تھی مگر اصلاح نہ کی۔ یا مخلوق میں کوئی
٧
شخص بجز اس نااہل کے کوئی نہ ملا۔ یا اس وجہ سے کہ علم نہ تھا کہ فلاں شخص منصب نبوت کے قابل ہے یا علم تھا مگر کوئی منصب نبوت کے قابل نہ تھا۔ کیوں؟ یا معاذ اللہ پیدا کرنے کی قدرت نہ تھی یا قدرت تھی مگر پیدا نہ کیا۔ غرض نبی کے حکم کے انکار یا اس میں تردد اور شک کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یا معاذ اللہ خدا خدائی کے قابل نہیں۔ یا نبی نبوت کے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص بظاہر ہزار حکم کو بھی اگر تسلیم کرے مگر وہ مومن نہیں رہ سکتا۔ خدائے علیم و حکیم کا اس حکم کو قسم سے مؤکد کرنا وہی جانتا ہے کہ اس میں کس قدر مصالح ہیں۔ مگر یہ مصلحت تو کھلی ہوئی ہے۔
نبی سے اجتہادی غلطی کیوں ہو سکتی ہے؟
بظاہر یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ جب نبی کی شان اس قدر اعلیٰ و ارفع ہے تو جس طرح سے تبلیغ وحی و تبلیغ احکام منصوصہ میں غلطی ناممکن ہے اسی طرح سے امور اجتہادیہ میں بھی اگر خطا ناممکن ہوتی تو نبی کا مطاع و مقتدا ہونا مکمل طور پر ثابت ہو جاتا۔ اور مخالفین کو کوئی اعتراض کی گنجائش نہ ہوتی۔
مرزائیوں کی بارگاہ نبوت میں گستاخی
جیسے کہ بے ادب اور گستاخ مرزا اور مرزائیوں نے اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کیا اور یہ کہا کہ کوئی ایسا اعتراض مرزا پر نہیں ہے جو انبیاء علیہم السلام بلکہ خود سرور انبیاءﷺ پر نہ ہوتا ہو۔
مسلمانو! انصاف فرماؤ اور اپنے قلوب پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کی زبان سے یہ ملعون الفاظ نکل سکتے ہیں؟ کہاں مرزا کذاب جس کی ساری عمر انگریزی ملازمت میں گزری۔ ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد قانون یاد کیا۔ امتحان میں فیل ہوئے تو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور پھر بھی ساری عمر انگریزوں کی مدح سرائی میں گزار دی۔ معاذ اللہ عین محمد و عین احمد ہوئے۔ بعثت اولیٰ سے بعثت ثانیہ اعلیٰ و اکمل تھی مگر بعثت اولیٰ میں رسول اللہﷺ قرآن کے حافظ تھے مگر جب مرزا قادیانی سے اتحاد ہوا تو معاذ اللہ قرآن بھی بھول گئے اور بجائے قرآن کے قانون انگریزی یاد کیا مگر پاس پھر بھی نہ ہوئے۔ غرض اپنے عیوب کا جب کوئی جواب نہ دے سکے تو یہ جواب دیا کہ یہ عیوب تمام انبیاء علیہم السلام میں موجود ہیں۔ جب کہا گیا کہ محمدی بیگم کی پیشینگوئی قطعی اور تقدیر مبرم تھی تو پوری کیوں نہ ہوئی۔
٨
جواب ملا کہ معاذ اللہ خدا کی عادت ہمیشہ ہی سے یہ ہے تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ پیشگوئی حتمی ہو اور کوئی شرط مذکور نہ ہو مگر پھر بھی خدا تعالیٰ جھوٹ بولنے کے لیے کوئی شرط مضمر رکھ لیتا ہے جس کی بنا پر پیشینگوئی پوری نہیں ہوتی اور یہ بیچارہ نبی جس کو شرط کی کچھ خبر نہ تھی اس نے خدا کے حتمی وعدہ اور تقدیر مبرم اور قدرت کاملہ کے بھروسہ پر اس پیشین گوئی کو اپنے صدق و کذب کے لیے معیار بنایا۔ مرزائی خدا تو اپنی عادت کے موافق پوشیدہ شرط کی وجہ سے وعدہ خلافی فرمائیں۔ نبی رسوا و ذلیل ہو۔ امت بوجہ پیشین گوئی پوری نہ ہونے کے جو معیار صداقت تھی نبی کو کاذب کہے جس میں بالکل وہ حق بجانب ہے مگر پھر بھی اس نبی کے نہ ماننے کی وجہ سے سب کافر ہوں اور ابد لاباد کے لیے جہنم میں جائیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائی چیختے پھریں کہ بمقتضائے یصبکم بعض الذی یعدکم کل پیشین گوئیوں کا پورا ہونا ضروری نہیں۔ بعض پوری ہو جائیں تو کافی ہیں۔ مگر لوگوں کی طرف سے یہی جواب ہے کہ بعض باتیں تو ساحروں اور کاہنوں اور منجموں بلکہ خود شیطان کی بھی پوری ہو جاتی ہیں ایسے شخص کو ہم نبی نہیں مان سکتے۔ کثرت و قلت کا جواب بھی لاحاصل ہے جب کہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سچی پیشین گوئیاں جھوٹی پیشین گوئیوں سے کم ہیں۔
مرزائیوں کی گستاخی کا جواب
مسلمان خوب سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے کفر و ارتداد کے لیے یہ ایک ہی گستاخی کافی ہے۔ کیا اس قاعدہ کو تسلیم کرنے کے بعد کوئی مذہب سماوی بالخصوص اسلام قابل اعتبار رہ سکتا ہے؟ جب نبی اور اس کی امت قرنوں تک مشرکانہ عقائد پر قائم رہے اور قرنوں تک وحی الٰہی بارش کی طرح برسے مگر مرزا قادیانی جیسا غبی متنبی پھر بھی نہ سمجھے تو کیا کوئی عاقل ایسے احکام کو خداوندی احکام تسلیم کر سکتا ہے جن کی غلطی بارہ سال نہیں بارہ سو سال کے بعد بلکہ تیرھویں صدی میں ظاہر ہو؟ مرزا قادیانی نے اپنی غرض اصلی یہی رکھی ہے کہ جو بات کہی جائے وہ ایسی ہو کہ خدانخواستہ دنیا میں اسلام باقی نہ رہے مگر ”واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرونO“ (الصف:٨) مرزا قادیانی اور مرزائی اور ان کے ہم مشرب بھائی جن کے ایسے خیالات ہوں ان اوہام باطلہ کے دور کرنے کے لیے یہ حکم قطعی نافذ فرمایا گیا جو ہمارے نبی ﷺ کے کسی حکم میں انکار کیا‘ یعنی کسی قسم کا شک اور تردد بھی کرے گا تو فوراً کافر ہو جائے گا کیونکہ اگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے
٥
امور اجتہادیہ میں غلطی ہو سکتی ہے تو اس کا تدارک بھی فوراً کیا جاتا ہے اور نبی کا غلطی پر قائم رہنا محال ہے جیسے نبی بالقصد جھوٹ نہیں بول سکتے۔ دیدہ و دانستہ خلاف حق نہیں کر سکتے اسی طرح بمقتضائے بشریت اگر کوئی غلطی امور اجتہادیہ میں ہو جائے تو اس پر باقی بھی نہیں رہ سکتے بلکہ فوراً مطلع فرما دیا جاتا ہے تاکہ ان کے مقتداء مطاع واجب الاتباع ہونے میں کسی خلجان اور تردد کی گنجائش باقی نہ رہے۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بشریت سے خارج نہیں ہو سکتے
اب رہی یہ بات کہ غلطی ہوئی ہی کیوں؟ جو رفع کرنے کی ضرورت ہوئی اور مرزائیوں کو اس قدر کہنے کی گنجائش ہوئی تو جواب یہ ہے کہ خدا کو تمام فرق باطلہ کا جواب دینا ہے جیسے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا جواب اس میں ہے کہ نبی غلطی پر قائم نہ رہے فوراً مطلع کیا جائے اسی طرح سے اہل بدعت کے مشرکانہ خیال کی بھی تردید ہے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو معاذ اللہ بشریت سے خارج کر کے خدا بنا بیٹھے ہیں۔ اور ہر ہر قبر کو یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں خدا گھسا ہوا ہے اور ہر جاہل پیر انا ربکم الاعلیٰ کی ندا بلند کر کے اپنے لیے اور بزرگان دین کی قبور کے لیے سجدہ و طواف اور نذر و نیاز جائز ہی نہیں بلکہ ضروری کہتا ہے اور ہر جاہل پیر انی انا اللہ کی صدا بلند کر کے یہ کہتا ہے کہ میں ہی تمہارا حاجت روا اور تمہاری موت و حیات کا مالک ہوں خدا تو اب بھی معاذ اللہ تمہاری گلی کوچوں میں پھرتا ہے اور تیرہ برس تک مدینہ کی گلیوں میں پھرا مگر اس کو کسی نے نہ پہچانا ان نام نہاد پیروں سے نماز روزہ حج زکوٰۃ سب قضا ہو جائے پروا بھی نہیں ہوتی۔ لیکن قبروں پر چادر چڑھانا اور سجدہ کرنا طواف کرنا عرسوں میں جانا اپنی حاجات کو اہل قبور سے طلب کرنا قضا نہ ہو۔ کوئی ان کو حاجت روا و مشکل کشا اس وجہ سے سمجھتا ہے کہ ان میں خدا کے حلول کا معتقد ہے اور کوئی خدائی اختیارات کی کنجی ان کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھول چوک اور امور اجتہادیہ میں غلطی ہو جانا اس وجہ سے بھی ہے کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ باوجود اس قرب الٰہی کے کہ جبرائیل علیہ السلام کی بھی وہاں رسائی نہیں پھر بھی یہ ہمارے انبیاء اور بزرگ بشر ہی ہیں خدا نہیں نہ کبھی بشریت سے جدا ہو سکتے ہیں نہ کبھی خدا بن سکتے ہیں۔ جو ان کو بشر نہ کہے خدا کہے وہ بھی کافر اور مرزائیوں کی طرح مرتد مرزائی اگر آج خاتم النبی کے منکر ہیں تو بدعتی قل انما انا بشر مثلکم کے منکر ہیں اور جس طرح مرزا قادیانی انا ارسلنا الیکم رسولا
١٠
شاهدًا عليكم كما ارسلنا الی فرعون رسولًا کے یہ معنی بیان کر کے کہ مرزا قادیانی بالکل ہر طرح موسیٰ علیہ السلام کے مثل ہیں۔ کافر و مرتد ہوئے اسی طرح جو شخص اپنے کو بالکل ہر طرح سے جناب رسول اللہ ﷺ یا دیگر انبیاء کا مثل کہے وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح سے کافر و مرتد ہے جیسے آیت شریفہ ”وقال الملا من قومه الذین کفروا وکذبوا بلقاء الاخرة واترفنہم فی الحيوة الدنيا. ماهذا الا بشر مثلكم. يا كل مما تاكلون منه ويشرب مما تشربون o ولئن اطعتم بشرا مثلكم انکم اذا لخسرون o“ (المومن:٣٣-٣٤) میں کفار کا مقولہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اپنا مثل کہہ کر ان کی اطاعت سے اعراض کرتے تھے۔ الحاصل خدائی فرمان یہ ہے کہ جناب رسول مقبول ﷺ یوں فرمائیں کہ میں تمہارے مثل بشر ہوں اور یہ فرمانا بالکل حق اور بالکل بجا۔ اس پر ایمان لانا فرض اور اس کا انکار کفر ہے اور کفار نے بھی انبیاء کو مثلکم کہا وہ کہنا بھی کفر ہے کیونکہ کافروں کی نیت اس مقولہ سے تحقیر کی تھی، لفظ دونوں جگہ ایک ہی ہیں مگر معنی کا فرق ہے جس معنی سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام امت کے مثل ہیں اس کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان ہیں اشرف المخلوقات کے فرد ہیں، آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ مٹی اور پانی وغیرہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ نہ معاذ اللہ جن ہیں نہ فرشتہ ہیں نہ خدا ہیں۔ جو خدا کہتا ہے وہ بھی کافر۔ ایک تو اس وجہ سے کہ خداوند عالم جل شانہ کی توہین کی۔ دوسرے جناب رسول مقبول ﷺ کا وہ مرتبہ بتلایا جو واقعہ کے خلاف ہے۔ اگر کوئی شخص کسی وزیر کو بادشاہ کہہ دے تو جس طرح اس میں بادشاہ کی توہین ہے وزیر کو بھی اپنے عہدہ سے معزول کرنا ہے۔ کیونکہ بادشاہ تو وہ ہے نہیں اور جو ہے یعنی وزیر یہ ادنیٰ مرتبہ کہنے والا اس کے لیے جائز نہیں سمجھتا تو نہ وہ بادشاہ ہوا نہ وزیر۔ وزیر کو وزیر نہ کہنا یہ اس کی توہین ہے۔
توہین اور بیان منصب میں فرق
اہل بدعت نے بڑا دھوکہ کھایا اور دیا ہے جب انہوں نے اولیاء کو منصب نبوت پر پہنچایا اور انبیاء کو خدا بنایا علمائے ربانیین نے اس کا رد کیا تو اہل بدعت نے عوام کو یہ دھوکہ دیا کہ ان کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے عداوت ہے۔ یہ ان کو دیکھ نہیں سکتے، جلتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی غلطی یا افترا ہے ۔ ”گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی“ علمائے سنت حافظان شریعت نے معاذ اللہ کسی کی توہین نہیں کی بلکہ یہ بتلایا ہے کہ کوئی امتی ولی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ کسی نبی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا کسی ولی کو
١١
خصائص نبوت سے متصف تسلیم کرنا نبی کی شان میں تو گستاخی ہے ہی‘ ولی کو بھی ایذا دینا اور شرمندہ کرنا ہے اگر یقین نہ ہو تو کسی کلکٹر کو وائسرائے کے سامنے یہ کہہ دو کہ یہ وائسرائے ہیں یا وائسرائے کے عہدہ کے ان کو اختیارات ہیں تو کلکٹر یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں وائسرائے کی اس گستاخی سے خوش نہیں ہوں اس کہنے والے کو وائسرائے کے سامنے ہی اگر موقعہ پائے تو ہنٹروں سے سیدھا کر دے اور اس کا بس ہو تو اس کے عہدہ سے معزول کردے۔ اسی طرح سے بدعتی خوب سمجھ لیں کہ جنہوں نے اپنے پیروں اور بزرگوں کو اس خیال سے کہ وہ ہمارے شفیع ہوں گے ان کو رسول اور خدا بنا رکھا ہے یا نبیوں کو خدائی صفات سے موصوف مانا ہے ممکن ہے کہ قیامت کے دن یہ ان کے معتقد علیہ ہی ان کو جہنم میں ڈلوائیں اور ان کی شفاعت کرنے میں یہ امر بھی مانع ہو تو کچھ مستبعد نہیں کہ اگر میں اس کو دربار نبوی یا دربار خداوندی میں پیش کروں اور اس کے عقیدہ کا بطلان ظاہر کرنے کے لیے مجھ کو یہ کہا جائے کہ آئیے رسول صاحب یا خدا صاحب۔ ان کی آپ سفارش و شفاعت کرنے آئے ہیں جو آپ کو خدا یا رسول سمجھتے ہیں۔ تو فرمائیے کہ کیا یہ خیال ان بزرگ اور نبی کے لیے خجالت و موجب ندامت اور شفاعت و سفارش سے مانع نہیں ہو سکتا؟
علماء خادمان شریعت نے ہمیشہ اسی سے روکا ہے کہ ہر بزرگ کو اس کے مرتبہ سے نہ ہٹایا جائے نہ ولی کو نبی کے مرتبہ میں لے جاؤ نہ نبی کو ولی کے۔ علیٰ ہٰذا القیاس! نہ نبی کو خدائی تک بڑھاؤ۔ نہ خدا کی کسر شان کر کے نبی بناؤ۔ بس یہ ہے اصل حقیقت۔ اب غلطی سے یا دانستہ عوام کو علمائے ربانیین سے متنفر کرنے کی غرض سے جو چاہو سو کہو۔
قرآن میں جو آپ (ﷺ) کو قل انما انا بشر مثلکم کا حکم ہوا ہے اس کے صرف وہ معنی ہیں جو مذکور ہوئے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو مثلکم سے مراد کفار کی تھی کہ ان میں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں کوئی مابہ الامتیاز ہی نہیں جس کی بنا پر ان کو مقتداً اور مطاع بنایا جائے۔ اور اس امتیاز کو انما یوحی الی، الایۃ میں بیان فرمایا گیا۔ یعنی باوجود بشر ہونے کے رسول ہوں‘ تم پر میری اطاعت لازم اور فرض ہے۔ جب تم بشر ہو تو تمہارا رسول بھی بشر ہی ہوگا۔ تم فرشتے نہیں ہو جو تمہارا رسول بھی فرشتہ ہوتا لو کان فی الارض ملئکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیہم من السماء ملکاً رسولاً ہ (بنی اسرائیل: ٩٥) تم بشر ہو کر اس کی استدعا کرتے ہو کہ تمہارا رسول فرشتہ ہو۔ یہ استدعا تمہاری بے محل ہے قاصد وہی ہونا چاہیے جو تمہارا ہم جنس، ہم زبان اور ہم ملک
١٤
ہو۔ فرشتوں سے تم کو کیا مناسبت؟ تو جو شخص اس معنی سے آپ کی مماثلت اور بشریت سے انکار کرے وہ کافر ہے ایسے ہی وہ بھی کافر ہے جو آپ کو بالکل اپنے مثل بتلائے اور معاذ اللہ ایک دنیوی ایلچی اور قاصد کی قدر رسالت اور نبوت کی سمجھے جیسے کہ کبھی ایک خط لے جانے والا اس سے ادنیٰ ہوتا ہے جس کے پاس خط پہنچایا ہے اسی طرح سے معاذ اللہ اگر کوئی یہ کہے کہ اگر کسی امتی کے اعمال جناب رسول اللہ ﷺ سے افضل اور اعلیٰ یا مماثل ہوں تو وہ آپ کی مثل یا اعلیٰ بن سکتا ہے۔ یہ عقیدہ بالکل کفر و ارتداد کا باعث ہے۔
علمائے دیوبند کے عقائد
مرزائیو! بدعتیو! وہابیو! نیچریو! سمجھ لو اور خوب سمجھ لو۔ یہ ہیں عقائد حقہ علمائے دیوبند کے نہ یہ بدعتی ہیں نہ نیچری نہ وہابی نہ غیر مقلد سچے اور پکے کتب حنفیہ کے مطابق حنفی ہیں بزرگوں کے معتقد ان کے مرید۔ بحمداللہ خود صاحب سلسلہ ذکر و شغل بیعت و طریقت کرنے والے رسول اللہ ﷺ کو افضل المخلوقات اور خاتم الانبیاء جانتے ہیں اسی وجہ سے ہر فرقہ باطل کے مد مقابل ہیں۔ کہاں ہیں رات دن مولود شریف پڑھنے والے اور محبت کے دعوے کرنے والے ان کو خبر نہیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے کیا کیا کلمات کفر کہے اور کہتے ہیں؟ اور تمہیں شرم نہیں آتی کہ مرزائیوں کو اپنے جلسوں میں بلاتے ہو اور ان سے تقریریں کراتے ہو (تصنیف کتاب کے زمانہ میں کسی احمق نے ایسے کیا ہوگا۔ مرتب) اور ان کے سامنے گردنیں جھکاتے ہو۔ جس پر مرزائی فخر کرتے ہیں۔ تمہارا قصور نہیں ہے یہ اس بدعت ملعونہ کا قصور ہے جو تمہارے دل میں بس گئی ہے۔ کیا آج کسی بدعتی کا منہ ہے کہ علماء دیوبند پر اعتراض کرے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین جاننے والے وہ کام کرتے ہیں جو علمائے دیوبند نے مرزائیوں کے ساتھ کیا۔ تمہیں تو صرف مولود کی جلیبیاں چاہئیں مسلمانوں سے ملیں یا کفار سے ابرار سے حاصل ہوں یا اشرار سے۔
علمائے دیوبند یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کوئی نبی اور ولی کچھ نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ نافع اور ضار صرف خدا ہے۔ ہاں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بے شمار معجزات اور ان کے اتباع کی وجہ سے اولیائے کرام کو بے حد کرامات دی گئیں۔ معجزہ اور کرامت دونوں خارق عادت ہیں۔ نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو معجزہ اور ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو کرامت ہے۔ اور اولیائے امت کی جملہ کرامات جناب رسول مقبول ﷺ کے معجزات
١٣
ہیں ۔ معجزات اور کرامات اور ان حضرات کی دعاؤں کی برکات سے باذن اللہ مشکلیں حل ہوتی ہیں ۔ مریض شفا پاتے ہیں ۔ نامراد اپنی مرادوں کو پہنچتے ہیں ۔ دوست آباد اور دشمن برباد ہوتے ہیں ۔ مگر یہ سب کچھ باذن اللہ وقدرۃ اللہ ہوتا ہے ۔ وہ حقیقۃً خدا کا فعل ہوتا ہے ۔ نبی اور ولی فقط اس کے مظہر ہوتے ہیں ۔ ان کا اس فعل میں کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ ان کے ارادے اور حرکات وسکنات بالکل ارادۂ الٰہی کے تابع ہوتے ہیں ان کی دعائیں قبول مگر دعا ہی جب کرتے ہیں جب ارادۂ خداوندی ہوتا ہے ۔ اگر ارادۂ الٰہی نہ ہو تو نہ ان کے مبارک لب جنبش کر سکیں اور نہ ان کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ سکیں ۔ نبی کی نبوت ثابت اور ولی کی ولایت ظاہر کرنے کے لیے معجزہ اور کرامت ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کی تفصیل سبیل السداد اور توضیح المراد میں ملاحظہ ہو:
مگر جس طرح سے نبی کی بشریت ظاہر کرنے کے لیے لوازمِ بشریت اس کے ساتھ ہیں اور کبھی کبھی امورِ اجتہادیہ میں خطا بھی ہو جاتی ہے جس کا تدارک فوراً کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح سے ان کی بندگی اور ان کا الی اللہ محتاج ہونا ۔ تاکہ لوگ ان کو خدا نہ سمجھیں ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی امر کا یہ مقدس جماعت ارادہ کرے کسی امر کی نہایت الحاح و زاری کے ساتھ دعا کی جائے مگر قبول نہ ہو ۔ اس دعا اور ارادہ کے پورا نہ ہونے سے ان کی شانِ نبوت اور شانِ ولایت میں ذرا بھر فرق نہیں آتا ۔ وہ ہر صورت میں اس کی رضا پر راضی ہیں اور اپنی مرضیات کو اس کی قضا کے سامنے تیز چھری سے ذبح کر چکے ہیں ۔ علمائے دیوبند باوجود اس عقیدہ کے ان کا ایمان یہ ہے کہ جو جناب رسول مقبول ﷺ کے ایک حکم کا انکار کرے ۔ حق نہ سمجھے، حق ہونے میں تردد یا شک کرے وہ ایسا ہی کافر ہے جیسا مرزا غلام احمد قادیانی ۔ اور مسیلمہ کذاب اور ابو جہل اور امیہ بن خلف ۔ انسان کا کوئی عمل اعلیٰ و ادنیٰ جب تک آپ کے حکم کے مطابق نہ ہو قبول ہی نہیں ہو سکتا ۔ بزرگانِ دین کی محبت ایمان کے ساتھ لازم وملزوم ہے ۔ جو ان سے محبت نہ رکھے اسے گمراہ اور بے دین سمجھتے ہیں جو اولیاء اللہ سے دشمنی رکھے وہ خدا کا دشمن اور اس کے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے ۔ جس کو نئی نظیر دیکھنی ہو وہ مرزا قادیانی کے حالات کو دیکھ لے ۔ ان کے دل میں اولیاء اللہ کی تو کیا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بھی عظمت نہ تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خبیث مرتد ہو کر مرا اور ان سے اور ان کے متبعین سے ایمان سلب کر لیا گیا ۔ اللّٰہم احفظنا اللّٰہم احفظنا ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ۔ حضرات علمائے دیوبند کی یہ شان ہے کہ ۔
١٤
یہ بزرگوں سے محبت اس وجہ سے نہیں رکھتے کہ ان کو کارخانہ قضا و قدر کا مالک جانتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ وہ خدا کے محبوب اور خدا کے پیارے اور خدا کے متقی بندوں میں سے ہیں یہ حضرات خدا سے ڈرتے ہیں علمائے دیوبند ان سے ڈرتے ہیں غرض علمائے دیوبند سچے اور پکے حنفی ہیں۔ مسلمان اہل بدعت کے بہکانے میں نہ آئیں۔ ہم خدا کے فضل پر بھروسہ کر کے دعوے سے کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کیا روئے زمین پر کسی کو قدرت نہیں ہے کہ علمائے دیوبند کی حنفیت اور متبع سنت ہونے پر اعتراض کرسکے۔ ہاں اگر کوئی حنفیت اور اتباع سنت ہی کو غلط سمجھے یہ دوسری بات ہے۔ ایک صاحب اور ان کے متبعین نے پہلے غوغا کیا تھا تو ان کو معلوم ہے کہ ان کے مجدد مائۃ حاضرہ کی کیا گت بنی جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا اور انشاء اللہ تعالیٰ نہ قیامت تک کوئی دے سکے گا۔ اب پھر ان لوگوں نے کچھ غوغا کیا ہے مگر افسوس کچھ نہ کیا۔ وہی باسی کڑھی کا ابال ہے۔ وہ بے جا ہمارے بزرگوں کو برا کہتے ہیں جس کا ہم بارہا جواب دے چکے ہیں مگر یاد رہے کہ پھر جب ہمارا قلم چلا تو خدا چاہے پھر وہی حالت ہوگی جو پہلے ہوئی تھی۔ ہمیں تو کل اہل باطل سے انشاء اللہ تعالیٰ مقابلہ کرنا ہے پھر اس کی پروا ہی کیا ہے؟ ہاں اپنی طرف سے بلا ضرورت کسی سے جھگڑا بھی نہیں کرتے ہیں اور جب وقت آجاتا ہے تو بحول اللہ وقوۃ ہٹنا بھی نہیں جانتے جس کو آریہ (دیکھو رسالہ فاتح وغیرہ) مرزائی بدعتی وغیرہ وغیرہ خوب جانتے ہیں۔
ایمان اور کفر کا مدار حکم رسول اللہﷺ کو اور آپؐ کی حدیث کو قرار دیا
گیا حالانکہ ایمان اور کفر کا مدار حکم اللہ اور قرآن مجید پر ہونا چاہیے تھا؟
ممکن ہے کہ بعض صاحبوں کو یہ خلجان پیش آئے کہ اصل تو حکم خدا اور قرآن مجید ہے۔ اور حکم رسول اللہﷺ اور حدیث کا مرتبہ اس کے بعد ہے اس بناء پر چاہیے تھا کہ تمام احکام اللہ یعنی قرآنی احکام کا ماننا تو ایمان ہوتا اور ان میں سے ایک کا انکار بھی کفر ہوتا ہے۔ مگر یہ قلب موضوع کیسے ہوا کہ اگر کوئی رسول اللہﷺ کا ایک حکم بھی نہ مانے اور ایک حدیث کو بھی تسلیم نہ کرے تو وہ کافر ہو جائے۔
تو اس شبہ کے جواب کو خوب غور سے سمجھ لینا چاہیے۔ حکم اللہ حکم الرسول علی ہٰذا القیاس! قرآن و حدیث کو دو سمجھنا من کل الوجوہ صحیح نہیں۔ گو بظاہر دو ہیں اور بعض
١٥
احکام میں تفاوت بھی ہے مگر یہ تفاوت اور اختلاف حقیقت کے اختلاف پر مبنی نہیں ہے عوارضات اور جہات اور اعتبارات کا یہ کرشمہ ہے اور ایسا ضرور ہونا چاہیے تھا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ان الحکم الا للہ (انعام: ٥٧) حکم بجز خداوند عالم کے کسی کا نہیں۔
جب حاکم حقیقی وہ ہے اور دین اسی کے احکام پر چلنے اور اسی کے بتلائے ہوئے اعتقادات پر یقین کرنے کا نام ہے تو پھر کسی دوسرے شخص کو دین میں حکم دینے کا کب اختیار ہو سکتا ہے؟ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام احکام خداوندی اور اس کی مرضیات و نامرضیات ہی کو اس کے فرمانے کے مطابق بندوں تک پہنچاتے ہیں ان کی یہ مجال نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی حکم بھی بیان کر کے اس کو خدا کی طرف منسوب فرمائیں۔ یہ تو ایک جھوٹ اور بددیانتی اور خیانت اور خلاف منصب نبوت ہے اسی احتمال کو باطل کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے: ”ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین“ (الحاقہ: ٤٤) یعنی اگر نبی ہم پر کوئی جھوٹی بات اپنی طرف سے باندھے اور ہماری طرف غلط نسبت کرے تو البتہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی شہ رگ کو قطع کر دیں گے یعنی اس کو فوراً ہلاک کر دیں گے اور تقول کی نوبت ہی نہ آنے دیں گے۔
غرض یہ ہے کہ جس نبی کی نبوت کو معجزات اور دلائل قطعیہ یقینیہ سے روز روشن کی طرح ظاہر کر دیا اور لوگوں کا مقتداء اور مطاع بنا کر اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کو مدار نجات بنا دیا اور اس کی حکم عدولی کو کفر قرار دیا تو اب یہ جو عقلی احتمال تھا کہ کوئی نبی بعد ثبوت نبوت اور ظہور معجزات اگر کوئی خیانت کرے اور تبلیغ رسالت میں امانت داری نہ کرے تو اس احتمال کو رفع کرنے اور عصمت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ثابت فرمانے کی غرض سے یہ فرما دیا کہ نبی کی امانت اور عصمت و عفت اور یہ کہ وہ کوئی امر اور کوئی حکم خلاف مرضی خداوندی نہیں کر سکتا اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ اگر کوئی نبی بفرض محال ایسی جرأت کرے تو فوراً ہلاک کر دیا جائے ورنہ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ معاذ اللہ خود خداوند عالم خلق اللہ کو ہدایت کے پردہ میں گمراہ کرتا ہے اور رسول کو نجات کے لیے نہیں بلکہ ہلاکت کے لیے بھیجتا ہے اور کہتا تو یہ ہے انبیاء تم کو صراط مستقیم بتلاتے ہیں حالانکہ وہ منزل مقصود سے خود کوسوں دور ہیں۔ آیت مذکورہ کا یہ مطلب ہے کہ اول مدعی نبوت کی نبوت کو جب تم نے خوب جانچ لیا کہ وہ مدعی صادق ہے کاذب نہیں۔ تو اب تم کو بے کھٹکے اس کی اتباع کرنی چاہئے اب اس کے اتباع میں بجز رشد و ہدایت کے
١٦
ضلالت و گمراہی کا نام بھی نہیں۔ ہاں اس کے خلاف اور عدول حکمی کفر خالص اور ٹھیک جہنم کا راستہ ہے۔
مرزا قادیانی کی خود غرضی اور آیت کا غلط مطلب بیان کرنا
مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا علوم دینیہ سے ناواقف ہونا اور اپنی خود غرضی اور خود مطلبی کے لیے تحریف قرآنی ایسا شرمناک امر ہے کہ کوئی طالب حق ایک منٹ کے لیے بھی اس فرقہ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت جمانے کے لیے آیت مذکورہ بالا کا یہ مطلب گھڑ لیا کہ جو مدعی نبوت تئیس برس تک زندہ رہے وہ سچا نبی ہے اور چونکہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کے بعد تئیس برس تک زندہ رہے لہٰذا وہ سچے ہیں۔
پیغامیوں (لاہوری گروپ) سے ایک سوال
جو منافق نفاق کی گہری پالیسی لیتے ہوئے مرزا قادیانی کے قدم بقدم چلتے ہیں وہ مرزا قادیانی کے اس کفریہ اور لعنتی عقیدہ دعوائے نبوت کو چھپانے کی غرض سے یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ تو مجازی اور بروزی وظلی ہونے کے مدعی تھے۔ ان سے یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا تمام دنیا مرزائیوں کی طرح عقل مرزا قادیانی پر فدا اور نثار کر چکی ہے؟ جو اندھے ہو کر مرزا قادیانی کی غلط باتوں اور لغو خیال اور کفریات صریحہ پر ایمان لا کر بے ایمان ہو جائے۔ اگر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت حقیقتاً نہیں کیا اور اپنے کو حقیقی نبی نہیں کہتے تو پھر اس آیت سے مرزا قادیانی کو کیا تعلق؟ کیا لغوی اور مجازی و بروزی وظلی نبی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معصوم ہو اور اس سے کوئی غلطی اور خیانت اور بددیانتی نہ ہو سکے۔ کیا اس کا امر اور نہی واجب الاتباع ہے؟ تفصیل کا یہ موقعہ نہیں اہل فہم کے لیے یہ اشارہ کافی ہے جس سے وہ پیغامیوں کے کفر و نفاق کو اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں ورنہ پیغامیوں (لاہوری مرزائی لاہور سے پیغام صلح اخبار نکالتے ہیں اس لیے ان کو پیغامی بھی کہا جاتا ہے۔ مرتب) کے امیر کو تاویل میں بہت دعویٰ ہے وہ مرزا قادیانی کے اس استدلال کا جواب دیں کہ جب مرزا قادیانی مدعی نبوت نہیں تو پھر اپنے اس دعوے کے صدق پر اس آیت کو دلیل میں کیوں پیش کرتے ہیں؟ دنیا میں کس قدر جھوٹے مدعی نبوت و رسالت بلکہ مدعی الوہیت پیدا ہوئے اور تئیس برس سے بہت زائد عرصہ تک زندہ رہے اور اپنے کفریات پھیلاتے رہے اور بیشمار لوگ ان کے مذہب میں داخل ہوئے لیکن جب ان کا دعویٰ ہی بداہتاً باطل تھا اور ان
١٧
کے صدق دعوے کی کوئی دلیل بھی من اللہ قائم نہ ہوئی تھی تو پھر اس کے تئیس کیا تین سو سال تک بھی زندہ رہنے سے خلقت کا گمراہ ہونا خداوند قدوس کی طرف اس وجہ سے منسوب نہیں ہوسکتا کہ اس نے ایسے کاذب کو اتنی مدت تک ہلاک کیوں نہیں کیا؟ خدائے حکیم نے اس کا رسول اور من اللہ ہونا کب کسی دلیل اور معجزہ سے ثابت کیا تھا جو خدا کو اسے ہلاک کرنا چاہیے تھا؟ بلکہ اس نے اس دجال کے جھوٹے اور باطل اور مفتری علی اللہ ہونے کے دلائل جب روز روشن کی طرح سے پیدا کر دیئے تو پھر کوئی اندھا گمراہ ہو کر جہنم میں جائے تو جائے وہ پیدا ہی جہنم کے لیے ہوا ہے۔
ایک شخص مدعی اسلام ہو کر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دے۔ غلام احمد ہو کر احمد کی مساوات اور عینیت کا مدعی ہو اور اسی پر بس نہ کرے بلکہ بعثت ثانیہ کو بعثت اولیٰ سے افضل کہہ کر اپنی فضیلت کا مدعی ہو تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اپنے کو اعلیٰ و افضل قرار دے ضروریات دین کا انکار کرے۔ قرآن مجید کی تحریف کرنے میں اتنا جری ہو کہ جو چاہے سو کہہ دے۔ ایسا شخص قطعاً یقیناً مرتد اور کافر ہے۔ پھر بد نصیب بدبخت نام کے مسلمان ایسے کھلے ہوئے گمراہ و مرتد کو جو ادنیٰ مسلمان بھی نہیں ہوسکتا مجدد۔ محدث آدم نوح ابراہیم یوسف موسیٰ عیسیٰ محمد احمد علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اعلیٰ و افضل قرار دے کر قمر الانبیاء، نبی، بروزی، ظلی، حقیقی، تشریعی تک کہیں تو پھر خداوند کریم جل شانہ پر کیا الزام ہے؟ آخر لوگ اپنے ہی ہاتھ سے بت بنا کر خدا کہتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں۔ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتے ہیں اور اسی کو خدائی حکم اور تقرب الی اللہ کا مدار قرار دیتے ہیں اور ما نعبدهم الا ليقربونا الی اللہ زلفی کہہ کر اس عبادت کی تحسین بھی بیان کرتے ہیں اور ایک تئیس نہیں بلکہ سو سو برس کی عمر پا کر مرتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک کیا یہ سب سچے ہیں؟ اگر مرزائی معیار صداقت یہی ہے تو کیا یہ گاندھی جی کا مذہب اختیار کریں گے یا شردھانند جی کے ہاتھ پر شدھی ہوں گے؟ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔ دین کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
مرزا قادیانی کے بطلان اور کذب، دجل اور دغل پر یہ امور مذکور ایسے کافی وافی تھے کہ کسی اور امر کی ضرورت نہ تھی مگر خدا کی رحمت کے قربان جائیے کہ اس نے ضعیف الایمان اور عوام کی ہدایت کے لیے مرزا قادیانی نے جس قدر امور کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا ان سب کو ایک ایک کر کے جھوٹا کیا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب و مولوی ثناء اللہ صاحب کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے مرزا قادیانی کو ناکامی اور
١٨
لعنتی موت سے مار کر ان کے اقرار کے مطابق ہر بد سے بدتر ثابت کر دیا۔ پھر مرزا قادیانی اپنے دعوے کے بعد تئیس برس نہیں تیس ہزار برس تک بھی زندہ رہتے تو مرزا قادیانی کا وجود کسی طالب حق کے لیے باعث لغزش اور موجب گمراہی نہ ہوتا۔ ہاں مرزا قادیانی جہنمیوں میں بڑے بھاری رئیس بلکہ بادشاہ ہوتے۔ قادیان کی طرح وہاں بڑے بڑے مکان اور کالج تعمیر کراتے۔ دنیا میں تو بادشاہوں نے ان کے کپڑوں سے برکت نہ ڈھونڈی لیکن وہاں جہنمی سلاطین شاید برکت تلاش کرتے۔
الغرض آیت مذکورہ کی جو مرزا قادیانی نے تحریف کر کے اپنی صداقت کی دلیل بنائی ہے یہ ان کا ملحدانہ اور کفریہ خیال ہے۔ آیت مذکورہ سچے نبی رسول مقبول ﷺ کی عصمت اور امانت ثابت کرتی ہے۔
الحاصل رسول مقبول ﷺ جب امین اور صادق و مصدوق اور تبلیغ احکام الہیہ میں معصوم ہوئے تو اب آپ کا کوئی حکم ہی نہیں جو بھی آپ کا حکم ہے وہ حکم خداوندی ہے۔ اس کو آپ کا حکم قرار دینا اس وجہ سے ہے کہ آپ اس کو بیان فرماتے ہیں تو اب شبہہ مذکورہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اور اگر تعمق نظر سے کام لیا جائے تو یہ کہنا بھی بے محل نہیں کہ گو قرآن مجید کلام الہی ہے اور اس میں احکام خداوندی مذکور ہیں لیکن ہم کو چونکہ قرآن کا قرآن ہونا بھی جناب رسول مقبول ﷺ ہی کے ارشاد سے معلوم ہوا ہے اس وجہ سے جس قدر احکام قرآنی ہیں وہ بھی حکم رسول ﷺ کے افراد ہیں مثلاً قرآن مجید میں نماز روزہ وغیرہ کی فرضیت کا حکم ہے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا نے تم کو یہ حکم دیا ہے تو فرضیت صلوٰۃ جیسے حکم خداوندی ہے ویسے ہی حکم نبوی بھی ہے کیونکہ آپ تو بمقتضائے ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی (النجم:٣) کے جو کچھ بھی ارشاد فرماتے ہیں اللہ ہی کے احکام بیان فرماتے ہیں۔ تو اب چاہے لفظوں میں یہ مذکور ہو یا نہ ہو کہ خدا تم کو یہ حکم کرتا ہے کہ یہ کام کرو یا نہ کرو یا یہ عقیدہ رکھو یا نہ رکھو۔ مگر حقیقت میں ہر امر و نہی کا یہی مطلب ہے تو اب حکم نبوی اور حکم خداوندی کو ایک ہی کہہ سکتے ہیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ بلا واسطہ آپ ہی سے ملتا ہے۔ لہٰذا ہر امر شریعت چاہے قرآن میں مذکور ہو اور چاہے حدیث میں وہ در حقیقت امر رسول ﷺ ہی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ خدا کا یہ حکم ہے تو آیت مذکورہ الصدر (فلا وربک الآیۃ) میں حکم نبوی کے ماننے اور نہ ماننے کو مدار کفر و ایمان بلکہ عین ایمان
١٩
اور کفر قرار دینا بالکل صحیح ہوا جس کسی حکم کا انکار کر کے انسان کافر یا مرتد بنتا ہے اس میں در حقیقت حکم رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار ضرور ہے۔
حدیث اور قرآن میں فرق
جب قرآن کا قرآن اور من اللہ ہونا اور جو احکام قرآن میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ امت کو یہ حکم دیتے ہیں کہ خدا تم کو یہ حکم فرماتا ہے تو اب اس کی دو صورتیں ہوئیں ایک تو یہ کہ الفاظ بھی خدائی ہی ہوں اور نظم بھی اور اس نظم کا نام قرآن ہو اور وہ نظم حد اعجاز کو پہنچی ہو جس کے مقابلہ کی تمام کفار کو دعوت دی گئی ہے اور نماز میں اس کے پڑھنے کا حکم ہو اور جیسے وہ کلام نازل ہو اس کے لکھنے کا بھی حکم ہو اور اس کی ترتیب بھی آسمانی ہو اور اس کا نام بھی کلام اللہ اور قرآن ہو اور کتابی صورت بھی رکھتا ہو یہ تو قرآن ہے۔
اور جو احکام جناب رسول مقبول ﷺ اپنے الفاظ مبارکہ میں بیان فرماتے تھے اور ان میں خصوصیات مذکورہ نہ ہوں تو وہ حدیث ہے۔ صحابہؓ کے لیے جو جناب رسول مقبول ﷺ سے بلاواسطہ حکم سنتے تھے واجب العمل ہونے میں قرآن و حدیث کا بالکل ایک مرتبہ تھا اور حیثیات مذکورہ میں من حیث اللفظ امتیاز تھا لیکن وجوب عمل کے لحاظ سے کوئی فرق نہ تھا اور حدیث اور قرآن کا مسند عمل پر ایک ہی مرتبہ تھا۔ چونکہ قرآن کا اہتمام بلیغ تھا اور لکھا جاتا تھا اور کثرت سے صحابہؓ اس کو حفظ کرتے تھے اور منبع احکام وہی تھا۔ حدیث کے جس قدر احکام جناب رسول مقبول ﷺ نے بیان فرمائے ہیں گو وہ ہم کو معلوم نہ ہوں مگر ان کا ماخذ اور سرچشمہ اور کل تفصیل کا اجمال قرآن مجید ہی تھا اس وجہ سے قرآن مجید ہی کا کتابتاً و حفظاً زیادہ اہتمام تھا اور حدیث تاکہ اختلاط نہ ہو جائے لکھی نہیں جاتی تھی۔ صحابہؓ خود بلاواسطہ احکام سنتے اور عمل کرتے تھے۔
اس امتیازی حکم نے جس کا ہونا ضروری تھا آئندہ چل کر حدیث اور قرآن میں عملی حیثیت سے بھی بہت بڑا امتیاز اور فرق پیدا کر دیا۔ چونکہ حدیث کی روایت کے سلسلہ میں راوی آئے۔ کہیں زائد اور کہیں کم۔ کہیں قوی، کہیں ضعیف، کہیں بہت سمجھدار، کہیں کم اور کہیں کذاب اور وضاع۔ قرن اول میں اس کا بھی التزام نہ تھا کہ قرآن مجید کی طرح سے حدیث میں جناب رسول مقبول ﷺ کے الفاظ ہی نقل کیے جائیں اس وجہ سے حدیث کی بہت سی قسمیں خبر واحد خبر مشہور، خبر متواتر، صحیح، حسن، ضعیف، موضوع وغیرہ
٢٠
پیدا ہو کر حدیث من حیث العمل ہمارے لیے قرآن کے بعد ہو گئی۔ ایک حدیث کو ایک صحابی نے یا دو تین نے سن کر اپنی فہم کے مطابق اس مضمون کو اپنے الفاظ میں نقل کیا۔ علیٰ ہٰذا القیاس! دوسرے اور تیسرے نے ہر سلسلہ میں احتمال پیدا ہو گیا کہ سامع سے سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔ یا جن الفاظ سے ادا کیا ہے وہ الفاظ چونکہ نبوی الفاظ نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ ادائے مراد میں کوئی زیادتی یا کوئی نقصان ہوا ہو۔ اس وجہ سے خبر واحد مفید ظن اور گمان ہے اس سے عقائد اور امور قطعیہ ہم ثابت نہیں کر سکتے۔ لیکن صحابہ کے نزدیک چونکہ حدیث ویسی ہی قطعی اور یقینی تھی تو ان کے لیے من حیث العمل کوئی فرق نہیں نکل سکتا۔ اور جو حدیث بطریق تواتر ہم تک پہنچ گئی ہے وہ ہمارے لیے بھی اثبات حکم میں ویسی ہی ہے جیسے قرآن مجید۔ وہ حدیثیں مفید قطع و یقین بھی ہوں گی۔ ان سے عقائد بھی ثابت ہوں گے اور حدود و قصاص بھی اور جس طرح ایک آیت دوسری آیت کے معارض ہو کر پچھلی پہلی کے لیے ناسخ ہو سکتی ہے خبر متواتر کو بھی یہ درجہ حاصل ہے۔
ایک قابل لحاظ نکتہ
خبر واحد سے قطعیات اور حدود و قصاص جو مندرء بالشبہات ہیں ثابت نہیں ہو سکتے کیونکہ خبر واحد میں احتمالات مذکورہ سابقہ موجود ہیں اس وجہ سے وہ مفید قطع و یقین نہیں اور حدیں ادنیٰ شبہہ سے دفع ہو جاتی ہیں وہ خبر واحد سے باوجود شبہہ کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ لیکن چونکہ یہ احتمال مخالف کسی دلیل سے ثابت اور مؤکد نہ ہوا ہے اس وجہ سے خبر واحد ساقط الاعتبار بھی نہیں۔ ظنی احکام اس سے ثابت ہوتے ہیں۔ اور اجتہادیات اور فقہ کی بناء اکثر اخبار احاد ہی پر ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آج کوئی حکم ثابت اور قطعی و یقینی ہے لیکن اس حکم کی دلیل ایک خبر واحد ہے کہ جس کے راوی دو چار سے زائد نہیں تو بظاہر یہ امر متعارض معلوم ہوتا ہے مثلاً قتل مرتد کا مسئلہ اس کا ثبوت بظاہر تو خبر واحد سے ہے اور حد ہے جو خبر واحد سے ثابت نہیں ہو سکتی یا رجم محصن زانی۔ حکم تو اتنا سنگین کہ قادیانیوں کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں لیکن نہ قرآن میں صریح آیت اور نہ حدیث ہی بظاہر متواتر تو پھر زانی محصن کا رجم ہو تو کیسے اور مرزائی مرتد کابل میں قتل ہوئے تو کیوں؟ اس نکتہ کو غور سے سمجھنا چاہیے۔
بات یہ ہے کہ ایک حکم جناب رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کے سامنے متعدد بار یا ایک بار بیان فرمایا وہ حکم صحابہ کے لیے قطعی اور یقینی تھا اس میں شک اور تردد کی کوئی
٢١
گنجائش نہ تھی۔ روایت کے سلسلے میں تو وہ حدیث خبر واحد کے درجہ سے بڑھی نہیں۔ متواتر تو کیا ہوتی مشہور بھی نہیں۔ مگر چونکہ صحابہؓ کو اس حکم کا قطع اور یقین تھا اس حکم پر سب کا اجماع ہو گیا مثلاً ماعز اسلمی اور امراۃ غامدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا رجم سرور عالم ﷺ کے حکم سے صحابہؓ نے کیا۔ کابل میں رجم ہوا ہے اور ہندوستان کے مرزائی خواب میں چونک اٹھتے ہیں۔ کسی درخت کا پتا ہلتا ہے تو شبہہ ہوتا ہے کہ کسی کابلی نے پتھر تو نہیں مار دیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنا بڑا واقعہ سنگساری کا مدینہ طیبہ میں واقع ہو اور وہ بھی ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ سالہا سال تک یہ خبر کہ فلاں فلاں شخص بحکم رسولؐ فلاں جرم کی وجہ سے سنگسار کیے گئے حد تواتر کو نہ پہنچا ہو اسی وجہ سے تمام صحابہؓ کا اس پر اجماع ہو گیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا بعید ہے کہ ان کو یہ معلوم کرا دیا گیا ہو کہ آخری زمانہ میں ایک مرتد فرقہ قادیانی رجم محصن کا انکار کرے گا جیسا یہ حکم حدیث سے ثابت تھا اس حکم کا قرآنی حکم ہونا بھی مجمع صحابہؓ میں بیان فرما دیا اور تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمانے کی وجہ سے بلکہ اپنے ذاتی علم اور تواتر کی وجہ سے اس پر اجماع کیا اور آج تک تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع چلا آتا ہے۔ تو اس اجماع کی بنا خبر واحد نہیں ہے بلکہ وہ قطع اور یقین تواتر اور علم حقیقی ہے جو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حاصل تھا۔ علیٰ ھذا القیاس قتل مرتد کا مسئلہ ہے۔
مرزائی اپنی قسمت کو روئیں اور مرزا قادیانی کی قبر کو سنگسار کریں کہ وہ ان کو علاوہ گمراہ کرنے کے اس درجہ ذلیل کر گئے ہیں کہ ان کو دنیا و آخرت میں عزت نصیب نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی کے اس فقرے کو یاد کریں جہاں انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ ”اجماع کی بنا یقین اور انکشاف کلی پر ہوتی ہے۔“
(ازالہ ص ٥٥١ خزائن ج ٣ ص ٣٩٧)
کہو قتل مرتد اور رجم محصن زانی پر اجماع ہے یا نہیں اور ہے تو کس کا۔ صحابہؓ کا یا علماء دیوبند نے اجماع کیا ہے؟ ہاں یہ تو کہو کہ یہ اجماع کہیں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی طرح عیسائیوں سے تو نہیں لیا گیا؟ ہاں یہ بھی دیکھ لو کہ پیشین گوئی تو نہیں؟ جس کا مضمون امت اور صحابہؓ تو کیا خود رسول مقبول ﷺ بھی معاذ اللہ بقول مرزا قادیانی نہ سمجھے ہوں؟ حمل تو نہیں تھا جو تیرہ سو سال کے بعد وضع ہوا ہو؟
مرزائیوں نے بھی سمجھ لیا ہے چہ آب از سر گذشت چہ یک نیزہ چہ یک انگشت۔ ایک حکم کا انکار کرنے والا بھی مرتد اور سو کا بھی تو اب پھر دل کھول کر ہی مرزا قادیانی کے منشاء کو کیوں نہ پورا کیا جائے۔ مرزا قادیانی تو گویا فرما ہی چکے ہیں ۔
٢٢
معلوم ہو گیا کہ قتل مرتد اور رجم محصن زانی۔ حکم سرور عالم ﷺ ہے۔ یہ حکم اسلام کے چہرے پر سیاہ داغ نہیں البتہ یہ کہہ کر مرزائیوں نے اپنے چہرہ اور دل اور نامہ اعمال کو ضرور سیاہ کرلیا۔ حکم رسول اللہ ﷺ کا منکر بے شک کافر اور مرتد ہے اور قتل مرتد اور رجم زانی یہ اجماعی حکم رسول اللہ ﷺ کا ہے جس اجماع کی بناء کسی خبر واحد پر نہیں ہے اس کا مبنی ظن اور تخمین نہیں بلکہ بقول مرزا قادیانی بھی اس کی بنا ”یقین اور کشف کلی“ پر ہے جس کا منکر قطعاً کافر اور مرتد ہے۔
الحاصل قرآن و حدیث میں فرق من حیث العمل نیچے چل کر پیدا ہوتا ہے اور جن لوگوں نے حدیث کو خود سرور عالم ﷺ سے بلاواسطہ سنا ہے وہاں اصلاً کوئی فرق نہیں خبر واحد اور حدیث جس درجہ میں قرآن سے عمل میں دوسرے درجہ پر ہے وہاں اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ حکم رسول ہونے کی وجہ سے قرآن اور حکم الہی سے مرتبہ میں بعد کو ہے بلکہ کثرت وسائل وغیرہ کی وجہ سے اس کے حکم رسول ہونے ہی میں شک و شبہ پیدا ہوگیا ہے۔ حکم الرسول ہو اور مفروض الاطاعت نہ ہو ناممکن ہے۔ قرآن کو چونکہ تواتر کا درجہ حاصل ہے تو اس کی نسبت یہ بھی متواتر ثابت ہوا کہ اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے قطعاً اور یقیناً قرآن کہا جیسے زمانہ حیات میں کسی صحابی سے کسی آیت کے متعلق آپؐ فرماتے کہ یہ آیت قرآن ہے اور اس کو اس آیت قرآنی کا قرآن ہونا بوجہ ارشاد نبوی قطعاً اور یقیناً معلوم ہوا تھا آج بھی قرآن کے ایک ایک حرف کی نسبت ہر مسلمان کو اس کا یقین ہے کہ آپؐ نے اس کو قرآن فرمایا آج اگر کوئی ایک آیت کا بھی انکار کرے گا تو رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا یہ آیت قرآن ہے منکر ہو کر کافر ہو جائے گا۔ پس اگر کسی حدیث کو بھی یہ درجہ تواتر کا حاصل ہو جائے تو اس کا منکر بھی ویسا ہی کافر ہوگا جیسے قرآن کا۔
غرض جس کسی حدیث یا جس کسی حکم کی نسبت جس حیثیت سے قطعاً اور یقیناً یہ ثابت ہو جائے کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کا ہے اس کا منکر اور اس میں تردد و شک کرنے والا ویسا ہی کافر اور مرتد ہے جیسے جناب رسول مقبول ﷺ کی رسالت کا منکر مرتد ہے۔ آخر رسالت کا منکر کافر اور مرتد کیوں ہے؟ اسی وجہ سے کہ رسالت کا ثبوت قطعی اور یقینی ہو چکا ہے جو امر من الرسول قطعاً و یقیناً ہوگا اس کا انکار بھی ضرور کفر ہونا چاہیے اور کفر ہے ورنہ رسول رسول نہیں رہ سکتا۔ علیٰ ہٰذا القیاس! اگر خدانخواستہ قرآن مجید بھی
٢٣
متواتر نہ ہوتا اور اس کی بھی روایت حدیث ہی کی طرح ہوتی تو آج وہ بھی بالکل حدیث ہی کی طرح سے ہوتا اور عمل میں قرآن وحدیث دونوں ایک مرتبہ میں رکھے جاتے۔
دلائل کی باعتبار ثبوت اور دلالت کے تقسیم
اول قسم‘ دلیل اور نص یعنی قرآن و حدیث یا قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہے یعنی ثبوت بھی یقینی کہ اس میں غلطی کا احتمال بھی نہ رہے اور اپنے مفہوم پر دلالت بھی قطعی اور یقینی ہو کہ غیر معنی مراد کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اس قسم کی آیات و احادیث سے عقائد اور فرائض ومحرمات وغیرہ جو کچھ بھی ثابت ہوتے ہیں وہ سب قطعی ہیں ان کا انکار کفر و ارتداد ہے۔ ...... دوسری قسم‘ وہ ہے کہ ثبوت تو قطعی ہو لیکن معنی مراد پر قطعی الدلالت نہ ہو جیسے والمطلقات یتربصن بانفسهن ثلثة قروء (بقرہ: ٢٢٨) یہ آیت مثل قرآن کے قطعی الثبوت ہے لیکن چونکہ قرء کا لفظ حیض وطہر میں مشترک ہے اس وجہ سے اپنی مراد پر قطعی الدلالت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض آئمہ عدت طلاق کے اندر تین حیض کہتے ہیں اور بعض تین طہر ...... تیسری قسم وہ ہے کہ ثبوت تو ظنی ہو مگر اپنے معنی پر دلالت کرنے میں قطعی ہو جیسے کثرت سے وہ احادیث احاد کہ جن کے معنی متفق علیہ طور پر ایک ہی ہیں اور دوسرے معنی کی وہاں گنجائش نہیں ...... چوتھی قسم وہ ہے کہ جس کا ثبوت بھی ظنی ہو اور معنی پر دلالت بھی ظنی جیسے کثرت سے وہ احادیث ہیں جن کے معنی میں اختلاف ہو۔ یا دوسرے معنی کا احتمال موجود ہو۔
صرف اوّل قسم کے انکار سے انسان کافر ہوتا ہے اور اگر پہلے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوگیا اور بعض آئمہ کفر و ارتداد کے لیے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہونے کے ساتھ مزید احتیاط کی غرض سے ایک قید اور بڑھاتے ہیں کہ وہ امر باوجود قطعی اور یقینی ہونے کے ضروریات دین سے بھی ہو کہ جس کو ہر مسلمان جانتا ہے کہ یہ امر دین میں یقینی ہے اور ایمان اسلام کے لیے اس کا تسلیم کرنا واجب اور ضروری ہے اور تین صورتیں جو آخر کی ہیں ان سے کوئی امر قطعی اور یقینی اور کوئی شریعت کا عقیدہ ثابت نہیں ہوسکتا ہاں مسائل فقہیہ اجتہادیہ کی ہزاروں کتابوں کے لاکھوں مسائل کا مدار یہی دلائل ثلاثہ ہیں اور ان سے جو مسائل ثابت ہوتے ہیں وہ سب فروعی ہیں۔ اصولی اسلام اور ارکان اسلام جن کے انکار و اقرار پر ایمان و کفر کا مدار ہے ایک بھی ثابت نہیں ہوتا۔
٢٤
مرزائیوں کے الزام کا جواب
مرزائی جو علمائے اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ علماء فروعی مسائل میں نزاع اور جھگڑا کر کے ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں یہ ان کا الزام بالکل غلط اور بے محل ہے کسی مرزائی یا نیچری کی مجال نہیں کہ وہ اس کو ثابت کر سکے کہ علمائے امت نے فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی تکفیر کی ہو۔ یہ مساکین جانتے ہی نہیں کہ اصول کیا ہیں؟ اور فروع کیا؟ جس کو چاہا اصول میں داخل کر دیا اور جس کو چاہا فروع میں۔
علمائے اہلسنت والجماعت کے نزدیک جب تک کفر کی وجہ آفتاب سے زائد روشن نہ ہو جائے اور جب تک قائل کی مراد معنی کفر پر متحقق نہ ہو جائیں تب تک کفر کا فتویٰ دینا ناجائز اور حرام ہے اور جب تک کلام میں صحیح تاویل کی گنجائش ہو حتی الوسع مسلمان کے کلام کو اسی معنی پر حمل کرنا چاہیے جس سے اسے مسلمان کہا جاسکے۔
انکار ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں!
لیکن اگر انکار ایسے امر کا ہو کہ جس میں تاویل کی گنجائش ہی نہ ہو تو پھر وہ تاویل معتبر نہیں اور اس تاویل کو تاویل نہ کہا جائے گا بلکہ وہ صریح انکار کے ہم معنی سمجھی جائے گی۔ دن کے بارہ بجے نہ ابر ہو، نہ غبار، لوئیں چل رہی ہوں دھوپ شدید ہو اور پھر بھی کوئی شخص یوں کہے کہ دن موجود نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تمام روشنی اور شعاع اور حرارت بجلی کی ہو جو آسمان پر متصل کوند رہی ہو دنیا میں کوئی عاقل اس کو یہ نہ کہے گا کہ یہ تاویل کرتا ہے۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ بدیہی اور مشاہد چیز کا منکر ہے اسی طرح سے ضروریات دین کے انکار میں کوئی تاویل مسموع نہیں انکار کرنے والا یقیناً کافر اور مرتد ہے ورنہ دنیا میں کون کافر ہے جو اپنے عقائد کے دلائل نہیں رکھتا۔ اگر دلیل کی وجہ سے کافر نہ کہا جائے تو پھر دہریہ اور منکر توحید و رسالت بھی کافر نہ ہوں گے۔ مرزائیوں کا اصول اسلام اور ضروریات دین کو فروعی مسائل قرار دینا مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے کم نہیں۔
مسلمانوں کو مطمئن ہو جانا چاہیے کہ علمائے اسلام ایسے جلد باز اور غیر متدین نہیں ہیں جو بلاوجہ کسی کی تکفیر کر دیں۔ ہاں اگر کہیں ایسا ہو تو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ واقع میں عالم ہے یا جیسے تحریک خلافت کے زمانہ میں بہت سے لیڈر اور بہت سے بے لکھے پڑھے مولوی اور مولانا بن گئے یا آج کل جو وکلاء اور مختار مسلمان ہوتے ہیں ان کو عوام
٢٥
مولوی صاحب کہتے ہیں جیسے اندھے کو چاہے اس نے کچھ بھی نہ پڑھا ہو بعض لوگ حافظ جی کہہ کر پکارتے ہیں۔
ناظرین کرام! آپ کو معلوم ہے کہ بہت سے لوگ گورنمنٹ کی جانب سے شمس العلماء کا خطاب پاتے ہیں مگر ان میں سے بعض جیسے آفتاب علم ہوتے ہیں؟ آپ مجھ سے زائد ان کی شعاعوں کو جانتے ہیں۔ جب تحریک خلافت میں گورنمنٹی خطابات واپس کیے گئے تو ضرور تھا کہ قوم اپنی جانب سے خطابات تقسیم کرتی۔ اس قسم کے مولوی اور مولانا گو آج اپنے کو ائمہ مجتہدین کے برابر سمجھیں اور ان کے خیال میں ان کو تنقید بخاری کا بھی حق حاصل ہو مگر آپ سمجھتے ہیں کہ جیسے خان بہادر کے خطاب سے کوئی بزدل نہ خان بنتا ہے نہ بہادر اسی طرح اگر کسی جاہل کو مولوی اور مولانا کا خطاب دے دیا جائے تو نہ وہ عالم بنتا ہے نہ فاضل۔
شیر آں باشد کہ مردم می خورد ہ شیر آں باشد کہ مردم را خورد
ایسے فرمائشی علماء ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔ ان کے فتوؤں کا تو اعتبار نہیں اور اگر واقعی کسی نے دانستہ ایسا جرم کیا ہے یا غلطی ہوئی ہے تو اسی وقت دوسرے علماء نے تغلیط بھی کی ہے پھر کس قدر حق پوشی ہے کہ غلط فتوے کا تو ذکر کیا جائے اور صحیح کا نام بھی نہ لیا جائے۔ دنیا میں صحت اور غلطی ساتھ ساتھ ہے لیکن غلطی اور صحت میں تمیز بھی ہے۔ دو چار فتووں کے غلط ہونے سے کل فتوے غلط تھوڑا ہی ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان کی غلطی سے تکفیر کی گئی تو اس سے مرزائی کیا نفع اٹھا سکتے ہیں؟ دنیا میں آخر مرزا قادیانی کی طرح جھوٹے مدعی نبوت بھی ہوئے ہیں تو پھر کیا کوئی سچے نبیوں کی اس بنا پر تکذیب کر سکتا ہے کہ سلسلہ مدعیان نبوت میں کاذب بھی ہیں جیسا کہ دنیا و دین کے اور امور میں صدق و کذب کی پڑتال کی جاتی ہے اسی طرح سے فتاویٰ تکفیر کو بھی دیکھنا چاہیے جو صحیح ہے وہ صحیح اور جو غلط ہے وہ غلط۔ لیکن مرزائیوں کی تکفیر کا فتویٰ بالکل صحیح ہے کہ جس میں غلطی کا احتمال بھی نہیں۔
بیان سابق سے یہ بات محقق ہو گئی کہ ایمان جمیع احکام رسول اللہ ﷺ کے تسلیم کرنے کا نام ہے اور ان ہی احکام میں سے کسی ایک حکم کو بھی تسلیم نہ کرنے کا نام کفر ہے۔ یہ بات اور سمجھ لینا چاہیے کہ احکام نبویہ میں ایک تو عقائد متعلق مبداء و معاد وغیرہ ہیں اور دوسرے اعمال جائز یا ناجائز۔ تو جس امر کے متعلق جس حیثیت سے آپ کا
٢٦
حکم قطعاً و یقیناً ثابت ہو اس کا تسلیم کرنا ضروری اور ایمان ہے اور اس حکم کا اس حیثیت سے تسلیم نہ کرنا بھی کفر و ارتداد ہے یہ نہیں کہ آدمی فرائض کے ہی انکار کرنے اور حلال کے حرام جاننے سے کافر ہوتا ہے بلکہ اگر کسی چیز کا واجب اور سنت اور مباح یا مستحب ہونا یا کسی چیز کا مکروہ تحریمی یا مکروہ تنزیہی ہونا بھی بطریق قطع و یقین ثابت ہو تو اس کے وجوب اور سنیت اور اباحت و استحباب و کراہت و خلاف اولیٰ ہونے کے وصف کا انکار بھی کفر ہے۔ مثلاً اذان نماز کے لیے مسنون ہے اور مسواک وضو کے لیے۔ اگر کوئی تمام عمر بھی اذان نہ کہے اور مسواک نہ کرے تو وہ تارک سنت ہوا اور بہت بڑی فضیلت اس سے چھوٹ گئی۔ مگر اس کا وضو اور نماز ہوگئی۔ لیکن اذان کا اور مسواک کا مسنون ہونا یہ ایسا متواتر اور قطعی ہے جیسے نماز اور روزہ، تو اذان اور خود مسواک نہ فرض نہ واجب مگر یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ مسنون ہے ضروریات دین میں سے ہے۔ آپﷺ نے اذان اور مسواک کے مسنون ہونے کا حکم دیا۔ یہ اس طرح سے اجماعاً اور بالتواتر ثابت اور محقق امر ہے کہ تمام امت نے اس کو بلا انکار قبول کیا ہے اور اگرچہ خاص خاص احادیث خبر احاد کا درجہ رکھتی ہوں لیکن قدر مشترک تواتر کے درجہ کو پہنچ چکا ہے اور ہر مسلمان اس کے مسنون ہونے کو جانتا ہے۔ تو جو شخص آج اس حکم کا انکار کرے کہ اذان اور مسواک سنت نہیں یہ بھی ویسے ہی کافر ہوگا جیسے ظہر کی چار رکعت ہونے کا منکر کافر ہے یا مثلاً قرآن شریف میں اذا حللتم فاصطادو (مائدہ: ٢) (جب احرام سے نکلو تو شکار کرو) سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر محرم حلال کو شکار کرنا جائز ہے تو گو شکار کرنا حلال کے لیے حل میں نہ فرض نہ واجب لیکن یہ اعتقاد رکھنا کہ اس حالت میں شکار کرنا مباح ہے۔ یہ فرض اور قطعی اور یقینی اور ضروریات دین سے ہے اس کا منکر ویسا ہی کافر اور مرتد ہوگا جیسے کوئی شخص فرضیت نماز کا منکر کافر و مرتد ہوتا ہے کیونکہ اگر انکار نماز میں اقیموا الصلوۃ کا انکار ہے۔ تو انکار جواز شکار میں آیت اذا حللتم فاصطادو کا۔
غرض یہ بات خوب سمجھنے اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو حکم جس حیثیت سے قطعیت کے درجہ کو پہنچ جائے گا اس کا انکار کفر ہے۔
عمل نہ کرنے اور انکار کرنے میں فرق
اگر کوئی شخص تمام عمر نماز نہ پڑھے، روزہ نہ رکھے، زکوٰۃ، حج ادا نہ کرے، مگر ان کو اسی طرح سے فرض سمجھے جس طرح شریعت سے ثابت ہے۔ چوری، زنا، شراب
٢٧
خواری میں مبتلا ہو مگر ان کو ویسا ہی حرام سمجھے جیسا کہ ثابت ہے تو یہ شخص باوجودیکہ اعلیٰ درجہ کا فاسق اور فاجر ہے لیکن مومن ہے بخلاف اس کے کہ جو تمام فرائض کو ادا کرے اور محرمات سے بچے لیکن فرائض کو فرض نہ سمجھے اور محرمات کو حرام نہ سمجھے وہ قطعاً کافر ہے۔
مرزائیوں کی عداوت اسلام
بیان بالا سے حدیث کا مرتبہ اور یہ کہ وہ بھی درحقیقت وحی الٰہی اور حکم الٰہی ہے ۔ اور ویسی ہی واجب الاطاعت ہے جیسے قرآن مجید، اور اعمال کا بہت بڑا حصہ اور دین کی کثرت سے فروع احادیث سے ہی ثابت ہیں اور بمقتضائے وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتہوا (الحشر : ٧) (رسول تم کو جو کچھ حکم دیا کرے اس کو تسلیم کیا کرو اور جس سے روکے تم اس سے رک جایا کرو) اور ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی (النجم : ٣) نہیں بولتا وہ اپنی خواہش نفسانی سے بلکہ وہ وحی سے جو وحی کی جاتی ہے اس کی طرف ۔ اور قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران : ٣١) کہہ دو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو خدا تم سے محبت کرنے لگے گا۔) اور دوسری آیات جو قرآن میں بکثرت موجود ہیں جن میں اتباعِ نبوی کا حکم ہے اگر ان سے حدیث پر عمل کرنا مقصود نہیں تو اور کیا غرض ہے؟ پس اس وقت مرزائیوں کا قتل مرتد اور رجم محصن زانی سے اس بناء پر انکار کرنا کہ قرآن میں یہ حکم صراحۃً موجود نہیں اگر عداوٹ اسلام اور تکذیب رسول ﷺ نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ جو فعل احادیث صحیحہ سے ثابت اور تمام صحابہؓ و خلفائے راشدینؓ اور کل امت اس کو قبول کرے اور عمل کرے اور مرزائی اس کو خلاف انسانیت خلاف تہذیب و تمدن اور اسلام کے چہرہ پر سیاہ و سفیدی کے بدنما داغ اور وحشیانہ حرکت بتلائیں اگر یہ جناب رسول مقبول ﷺ کی رسالت سے انکار نہیں اور آپؐ کی شان اقدس میں گستاخی اور توہین نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ دونوں مسئلے کسی امام کے اجتہاد کا نتیجہ نہیں۔ کسی صحابیؓ کی رائے نہیں۔ کم فہم ملاؤں کا فتویٰ نہیں تو پھر یہ کس کا حکم ہے؟ جس کے ساتھ یہ گستاخی اور تمسخر کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اگر اس توہین و استہزا و تمسخر اور انکار احکام نبویہ کے بعد بھی آدمی کافر اور مسلمان مرتد نہ ہو تو پھر ایسے اسلام کو مسلمانوں کا سلام ہے۔ تعلیم یافتہ طبقہ آج خوش نہ ہو کہ مرزائی اسلام کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ حمایت اور خیر خواہی ایسی ہی ہے کہ جیسے کسی بڑھیا نے شاہی باز کی چونچ اور شکاری ناخنوں کو کاٹ کر بیکار کر دیا تھا گو اس کا فعل نیک نیتی پر مبنی تھا اور
٢٦
ان کی حرکت بدنیتی پر۔ اگر آج تم نے قتل مرتد اور رجم زانی محصن سے اس وجہ سے دستبرداری کی کہ یہ قرآن میں صراحۃً موجود نہیں ہے تو کل کو اگر ان کی جانب سے یا ان کے کسی اور بھائی کی طرف سے یہ سوال ہوا کہ نماز کی تعیین اوقات وعدد رکعات اور ترکیب الصلوٰۃ قرآن میں صراحۃً مذکور نہیں اور زکوٰۃ، روزہ، حج جملہ عبادات و معاملات کو اسی طرح سے ترک کرنا چاہا۔ تو پھر تمہارے پاس کیا جواب ہوگا؟ یہی اسلام جو بالکل تمام قیود سے آزاد ہوگا اسی کو مرزا قادیانی دنیا کے سامنے پیش کرنے آئے ہیں۔ یہی دین کامل ہے اور یہی اتمام نعمت ہے؟ جس کا "الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا" (مائدہ: ٣) آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے دین مسلمانی۔ میں ذکر فرمایا گیا ہے اگر ایسا سوال قادیانیوں کی طرف سے پیش ہوا یا جن عیسائیوں سے آج لندن میں قتل مرتد کے خلاف جلسہ کرا کر اظہار نفرت کراتے اور پیغام صلح میں چھاپتے ہیں کل کو انہیں پادریوں سے ایک جلسہ کرا کر یہ رزولیوشن پاس کرا دیا جائے کہ یہ جو تمہاری کتابوں میں عبادات کی تفصیل ہے یہ قرآن میں کہاں ہے؟ اگر قرآن میں تھی اور آیت رجم کی طرح لکھی نہیں گئی تو قرآن غیر مکمل اور اگر قرآن میں نہیں تھی حدیث کی بنا پر معمول بہا ہے تو قتل مرتد اور رجم کی طرح سے یہ بھی متروک ہونے چاہئیں اور اگر مرزائی یہ کہیں کہ قتل مرتد لا اکراہ فی الدین (بقرہ: ٢٥٦) دین میں اکراہ نہیں۔ کے خلاف ہے اور رجم الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ (نور: ٢) زنا کرنے والی عورت اور مرد ہر ایک کو دونوں میں سے سو کوڑے مارو۔ کے تو یہ تفاصیل عبادات یرید اللہ بکم الیسر ولایرید بکم العسر (بقرہ: ١٨٥) اللہ کو تمہارے ساتھ آسانی کرنا منظور ہے اور دشواری منظور نہیں۔ اور ماجعل علیکم فی الدین من حرج (الحج: ٧٨) (خدا نے) دین میں تم پر کوئی مشکل نہیں رکھی۔ اور لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا (بقرہ: ٢٨٦) خدا کسی شخص کو اس کی گنجائش سے زائد تکلیف نہیں دیتا۔ اور فالھمھا فجورھا وتقوھا (شمس: ٨) پھر نفس کو اس کی بدکرداری اور نیک کرداری دونوں کا شعور دیا۔ کے خلاف ہیں۔ لہٰذا یہ تمام احادیث واجب الترک ہیں۔ یورپ کے لیے ہر وقت وضو کرنا خلاف عقل اور تکلیف مالا یطاق ہے۔ پتلون پہن کر رکوع میں دقت اور سجدہ کے بعد بیٹھنا محال ہے لہٰذا یہ نماز جو مسلمانوں میں رائج ہے قرآن کی تعلیم کے موافق نہیں ہوسکتی۔
٢٩
کہو مسلمانو! اس دن کیا جواب دو گے؟ شاید نیچریوں کی طرف سے تو یہ جواب ہو کہ ہاں ہاں ہم بھی اس رزولیوشن کی تائید کرتے ہیں اور اسی وجہ سے معاذ اللہ ان نامعقول حرکات کو ہم پہلے ہی سے ترک کرچکے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ کا مرزائیت میں کثرت سے داخل ہونا اس کی زیادہ وجہ یہی ہے کہ ان میں سے اکثر پہلے ہی سے اصول اسلام کو خیر باد کہہ چکے ہیں اور احکام اسلام کا استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ کسی قومی مصلحت اور تحفظ حقوق کی وجہ سے اسلام کا نام باقی رکھنا چاہتے ہیں مگر اسلام وہ ہو کہ جس کی ترمیم و تنسیخ ان کے ہاتھ میں ہو۔ فقہ میں چونکہ نہایت بسط ہے وہ تو قابل اعتبار تھا ہی نہیں۔ بعض بعض ایڈیٹر جیل میں جانے کے طفیل سے مجتہد ہونے کا دعویٰ کرنے لگے۔ جو علماء کو بار بار ڈراتے اور دھمکاتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ ہم خود مجتہد ہیں۔ ہم احکام سننے نہیں آئے بلکہ احکام سنانے آئے ہیں۔ حدیث کی وقعت کو یوں مٹانا چاہتے ہیں کہ قرآن کتاب کامل ہے۔ وہ ریگستان افریقہ کے باشندوں اور عرب کے بدوؤں کے لیے بھی ہادی بن کر آئی ہے اگر وہ اپنی ہدایت میں بخاری، مسلم، عینی اور فتح الباری صد ہا من کتابوں کے انبار کی محتاج ہو تو وہ کتاب کیا ہادی ہو سکتی ہے؟ اور اس کو تِبياناً لِّكُلِّ شَيْءٍ (النحل: ٨٩) قرآن ہر چیز کا بیان ہے۔ اور تَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (انعام: ١٥٤) قرآن ہر چیز کی تفصیل ہے کب کہہ سکتے ہیں اور وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ (انعام: ٥٩) (ہر رطب و یابس کتاب مبین میں ہے) اس پر کب صادق آ سکتا ہے؟ قرآن شریف کو ہاتھ میں لو اور جو کچھ وہ فرمائے اس پر عمل کرو۔ قرآن کتاب کامل ہے۔ وہ ہدایت میں کسی کا محتاج نہیں ہو سکتا دین میں آسانی ہے۔ سختی اور تشدد اور تنگی یہ ملانوں کا کام ہے، صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں۔ وضو بے وضو دعا مانگ لیا کرو اور اگر وضو ہی کرنا ہو تو ایک دفعہ کافی ہے۔ زکوٰۃ کے معنی پاک کرنے کے ہیں۔ ایتائے زکوٰۃ کے یہی معنی ہیں کہ پاکی اور صفائی اور ستھرائی رکھنی چاہیے۔ اپنے مالوں کو بھی دھوپ دکھاتے اور دھوتے صاف کرتے رہو تا کہ ان میں طاعونی جراثیم اور ملیریا کے کیڑے اثر نہ کریں۔ علیٰ ہذا القیاس! تمام قرآن کے معنی اسی طرح سے کر لینا چاہئیں ۔
مسلمان کے مسلمان رہے قومیت ہاتھ سے نہ گئی یورپ کی تہذیب ساتھ رہی آزادی اس سے بھی زیادہ حاصل ہو گئی۔ عیسیٰ علیہ السلام اگر فوت ہو گئے تو ہمارا کیا گیا۔ یہاں تک تو صبر تھا مگر جب مرزا قادیانی نے وفاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد
٣٠
اپنی مسیحیت اور نبوت کی بناء ڈالنا شروع کی تو نیچریوں نے بھی اپنا رنگ بدلا اور یہ کہا کہ نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام احادیث سے ثابت ہے اور وہ کل موضوعات اور قرآن کے مخالف ہیں لہٰذا نہ کوئی مسیح ہے نہ مثیل مسیح۔ ”مردن موقوف مقبرہ مسمار“ تب تو مرزا قادیانی کو بڑی فکر ہوئی اور جھٹ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیشینگوئی کو تواتر کا اعلیٰ درجہ دے کر یہ فرمایا کہ یہ قابل رد نہیں ہے۔ یہ فرقہ نیچریوں کا بھی اسلام میں ایسا پیدا ہوا ہے کہ دن بدن اس کا قدم الحاد اور بے دینی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ غرض مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے دین اسلام کو ایک لڑکوں کا کھلونا بنا رکھا ہے۔ جب چاہا بنایا اور جب چاہا بگاڑا۔ قتل مرتد اور رجم زانی کا اس بناء پر انکار کرنا کہ قرآن میں صراحۃً مذکور نہیں اسلام کی کھلی کھلی عداوت اور بیخ کنی ہے جس کو خدا نے سمجھ دی ہے وہ سمجھے اور جس کو اسلام سے نکل کر مرزائیت میں جانا ہے وہ اپنے نفع و نقصان کا خود ذمہ دار ہے۔
قرآن مجید نے مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ سے مستغنی نہیں بتلایا
یہ بڑا ملحدانہ اور ملعون خیال ہے کہ کوئی مسلمان یہ کہے کہ قرآن ہم کو کافی ہے۔ جناب رسول مقبول ﷺ کی اتباع اور حدیث کی پیروی کی ہم کو کچھ ضرورت نہیں۔ اگر یہ ہے تو قرآن بار بار کیوں فرماتا۔ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (نساء:٥٩) اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (حشر:٧) جو کچھ تم کو رسول امر کریں وہ قبول کرو اور جس سے تم کو روک دیں اس سے رک جاؤ۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب:٢١) تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں اسوہ حسنہ ہے۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (نساء:٨٠) رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔
رسول کی اتباع اور اس کی پیروی اور اس کے حکم ماننے کا اس قدر تاکید کے ساتھ کیوں حکم دیتا اور ایمان و فکر کا مدار ٹھہراتا ہے؟ فیضی کے قرآن کی طرح کسی صندوق میں بند کر کے کسی کھجور کے درخت پر نازل کر دیا جاتا۔ یا ویدوں کی رشیوں کی طرح کسی گائے بیل کی پشت پر رکھ کر کہیں بھیج دیا جاتا لوگ خود اس کو دیکھ کر جو سمجھتے جس طرح چاہتے عمل کر لیا کرتے۔
ایک گمراہ فرقہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبت معاذ اللہ ترک اتباع و احترام تو کیا ایسی گستاخی کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اگر ”نقل کفر کفر نباشد“ نہ ہوتا تو کوئی
٣١
مسلمان ان لفظوں کو نقل بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں ”کہ جیسے معمولی انسان کسی کا خط کسی کو پہنچا دیتا ہے پھر کچھ واسطہ نہیں۔ مکتوب الیہ کے ذمہ اس ڈاکیہ کا کوئی اعزاز و احترام ضروری نہیں۔ معاذ اللہ اسی طرح خدا اور بندوں کے درمیان میں رسول اللہ ﷺ ہیں۔“
علمائے دیوبند ان جملہ خیالات کو کفر والحاد و زندقہ اور بے دینی جانتے ہیں۔
بیشک قرآن مجید خدا کا کلام اور اس کی صفت ازلی ہے وہ غیر مخلوق وغیر حادث ہے مگر جس طرح سے بندے باذن اللہ و ارادت بغیر رسول اللہ ﷺ کے خدا سے کوئی نفع نہیں اٹھا سکتے۔ اس وجہ سے کہ ارادۂ الٰہی یوں ہی ہوا کہ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر ہر قسم کی رحمت اور فیض و کرم سے جملہ مخلوقات کو آپ ہی کے وجود باجود سے مستفیض فرمائے. منجملہ ان برکات کے وجود دیگر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام و نزول کتب سماوی و قرآن مجید بھی ہے۔ قرآن مجید سے فیض بھی آپ ہی کی برکت اور آپ ہی کے وجود باجود سے ہم کو مل سکتا ہے۔ نبی علیہ السلام فقط قرآن مجید کے الفاظ ہی نہیں لائے بلکہ ان کے ساتھ بیشمار انوار و برکات اور علوم اور حکم بھی ہیں کہ وہ بدون آپ کی اتباع کے میسر نہیں آ سکتے ورنہ رسالت کے ماننے کی کیا ضرورت تھی؟ بے رسالت بھی ہدایت کا کام چلنے کی بہت سی صورتیں نکل سکتی ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائی اور باب اور بابی اور بہاء اللہ اور بہائی اور بہت سے مدعیان اسلام کو جو قطعاً اور یقیناً بالاتفاق کافر اور مرتد ہیں کیا ان کے ہاتھ میں قرآن مجید نہیں ہے؟ ان کے گمراہ ہونے کی اکثر وجہ یہی ہے کہ انہوں نے یا تو حدیث کو صاف چھوڑ دیا یا اپنے منشاء کے مطابق حدیث اور بنالی۔ اور یا جس طرح سے قرآن مجید کے معنی غلط کیے تھے اسی طرح سے حدیث کو بھی اپنی رائے کے تابع بنالیا۔ اگر فقط قرآن مجید کا کسی کے پاس ہونا ہدایت کے لیے کافی ہے تو پھر یہ لوگ کیوں گمراہ ہوئے؟
خوب سمجھ لینے کی بات ہے کہ الفاظ چاہے قرآن مجید کے ہوں یا احادیث کے وہ مقصود بالذات نہیں ہو سکتے۔ الفاظ معانی ہی کے سمجھانے کے لیے ہوتے ہیں اور ہر کلام کا مطلب صحیح اور غلط ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود ہرفن کی کتابیں متون، حواشی اور شروح بکثرت موجود ہونے کے دنیا ان کتابوں کی وجہ سے استاذ سے مستغنی نہیں۔ یہی نیچری اور تعلیم یافتہ طبقہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے بعد لندن اور برلن جا کر ہزاروں روپے خرچ کر کے استادوں کے جوتے کیوں سیدھے کرتے ہیں؟ ڈاکٹری اور انجینئری کی ہزار ہا کتابیں گھروں میں موجود ہیں مگر نہ کوئی ایل ایل بی اور نہ کوئی ایل ایل
٣٢
آدمی خود علاج کرتا ہے نہ خود مکان بناتا ہے۔ ڈاکٹروں اور انجینئروں کی کیوں ضرورت ہوتی ہے؟ جس یورپ کی تقلید میں دین اور ایمان برباد کیا جاتا ہے وہ بھی ماہرین فن اور اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں۔
مسلمانو! خدا کے لیے غور کرو اور فکر کرو اور جناب رسول مقبول ﷺ سے کچھ تو شرماؤ ادنیٰ ادنیٰ کتاب اور فن حاصل کرنے کے لیے ہر ادنیٰ اور اعلیٰ کے شاگرد بنتے اور اسے استاذ بناتے ہو۔ لیکن قرآن مجید باوجود خدا کی کتاب ہونے کے نہ اس کے لیے استاد کی ضرورت نہ شرح کی جس کتاب کا مصنف کوئی بڑا حکیم اور ڈاکٹر ہوتا ہے اس کی کتاب پر بڑے بڑے حاشیے اور شرحیں لکھی جاتی ہیں اور بڑے بڑے اساتذہ سے ان کو پڑھا جاتا ہے۔ کیا مخلوقات میں آج تک اور آج سے قیامت تک کسی کتاب کا بنانے والا قرآن کے منزل علیم و حکیم سے کوئی نسبت رکھ سکتا ہے؟ اس کتاب حمید کا کوئی معلم اور استاد شارح اور محشی سوائے اس شخص کے جو خاص خدا کا شاگرد ہو جس نے علوم الہیہ اور حکم قرآنیہ خاص خدا ہی سے سیکھے ہوں ہو سکتا ہے؟ پھر اب تم ہی انصاف سے کہو کہ قرآن کی تفسیر حدیث رسول اللہ ﷺ ہوگی یا زید و عمرو کے خیالات یا مرزا قادیانی کے شیطانی الہامات؟ حدیث سے جدا ہو کر جو شخص محض قرآن مجید کو ہاتھ میں لے گا وہ سمجھ لے کہ اس کو قرآن مجید سے ہدایت نہ ہوگی بلکہ گمراہ ہوگا۔ خدا خود فرماتا ہے: يُضِلُّ بِهِ كَثِيْرًا وَّيَهْدِيْ بِهِ كَثِيْرًا (بقرہ: ٢٦) اسی سے بہت لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اسی سے راستہ پر لگاتا ہے۔
قرآن بالکل رشد و ہدایت ہے لیکن کیا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے؟
قرآن ہدایت اور محض ہدایت ہے اس میں ضلالت اور گمراہی کا نام تک نہیں لیکن قرآن محض الفاظ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ ان الفاظ کے ساتھ معنی بھی وہی ہونے چاہئیں جو مراد خداوندی ہیں: ان میں گمراہی کا وجود ایسا ہی محال ہے جیسے دن میں رات کا اور رات میں دن کا لیکن اگر کوئی شخص نظم قرآنی کے معنی ہی بدل دے تو گمراہی ان غلط معنوں کی وجہ سے پیدا ہوئی لیکن چونکہ ان معانی کو منسوب نظم قرآن ہی کی طرف کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہ کہا جائے گا کہ قرآن میں اگرچہ ضلالت اور گمراہی نہیں مگر اس شخص کی گمراہی کا سبب اس کی غلطی کی وجہ سے قرآن بن گیا۔ ایک شخص کے ہاتھ میں مشعل ہے مگر اس نے خلاف مقصود سڑک پر روشنی ڈال کر اس پر چلنا شروع کیا اور اس
٣٤
روشنی ہی سے اس سڑک کو دیکھا جو منزل مقصود کے خلاف تھی۔ تو گو مشعل میں ظلمت نہیں مگر اس غلط راہ اختیار کرنے والے کے لیے اس کی غلطی کی وجہ سے گمراہی کا سبب مشعل ہی بنی۔ اسی وجہ سے قرآن مجید کو یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا فرمایا گیا۔ قرآن مجید کتاب کامل تبیانا لکل شئی۔ تفصیلا لکل شیء بہ ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین، انہ لقول فصل وما ھو بالھزل یہ اس کی شان ہے مگر کسی کتاب کے کمال اور جامعیت اور لاجواب اور بینظیر اور بے مثال ہونے میں یہ امر قادح اور موجب نقصان نہیں ہے کہ اس کے مطالب عالیہ حل کرنے کے لیے استاد کی ضرورت ہو بالخصوص جب کہ کتاب کا بنانے والا بھی بینظیر اور جس فن میں کتاب ہو وہ بھی نیا ہو۔ بلکہ جس کتاب کے مضامین عالیہ معلوم کرنے کے لیے بہت بڑے استاد کی ضرورت ہو وہی کتاب بہت بڑی سمجھی جائے گی۔ تو اس کا نازل کرنے والا قرآن جس کا کلام ہے۔ جب وہ رب العالمین حکیم و علیم و خبیر ہے تو قرآن مجید کا معلم اس کی شرح اور اس کی تفصیل بیان کرنے والا بھی بجز سید الانبیاء والمرسلین محمد رسول اللہ ﷺ کے جنہوں نے علم قرآن خاص خدا سے حاصل کیا ہے کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب کتاب کا بنانے والا بے مثل اور بے نظیر ہے اور اس کے ساتھ فن بھی ایسا کہ جس کا تعلق مغیبات سے ہے جو عقول مخلوقات سے بالکل اعلیٰ و بالا اور کتاب ان اصطلاحات اور امور اصطلاحیہ پر مشتمل ہے جن کا علم بجز صاحب کتاب کے کسی کو نہ ہے نہ ہو سکتا ہے۔ تو اب اس کتاب کا دنیا میں درس دینے والا بجز خدائی شاگرد کے اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کا ذکر الرحمٰن، علم القرآن میں فرمایا گیا۔
لہٰذا جس کو قرآن مجید سمجھنا اور اس پر عمل کرنا منظور ہو تو جیسے دیوان حافظ اور دیوان غالب سے پہلے ان کی شرح کی تلاش لازم اور ضروری ہے اسی طرح قرآن کی تعلیم کے لیے پہلے بخاری اور مسلم اور صحاح اور ان کی شروح کو جمع کر لے اور ان کو مشعل ہدایت بنالے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن مجید معاذ اللہ ناقص ہے۔ حدیث کا محتاج ہے۔ قرآن کامل ہے اور حدیث کا محتاج نہیں۔ ہاں! چونکہ تم ناقص ہو اور تمہاری سمجھ ان مضامین عالیہ تک نہیں پہنچ سکتی نہ تم بلاواسطہ خدا کے شاگرد ہو اس لیے تم فہم قرآن میں حدیث کے محتاج ہو۔ حافظ شیرازی اور غالب دیوان حافظ اور دیوان غالب کی کسی شرح کے محتاج نہیں نہ وہ شخص شرح کا محتاج ہے جس نے ان کتابوں کو خود ان کے مصنفوں سے پڑھا ہے۔ شرح کے محتاج وہ کم استعداد طلبہ ہیں کہ حافظ اور غالب کا ٣٣
رتبہ رکھتے ہیں نہ ان کی شاگردی سے مشرف ہیں۔ اب بتاؤ کہ کثرت شروح اور حواشی کے محتاج ان کتابوں کے مصنف ہوئے یا خود وہ کتابیں یا دوسرے لوگ؟
مسلمانو! معاذ اللہ تمام مخلوقات میں سے کوئی شخص نہ خدا ہے نہ اس کا بھائی، بیٹا جو کچھ خدا سے مناسبت ہو، نہ اس کے برابر علم، نہ اس سے شاگردی اور تلمذ کا تعلق، پھر قرآن مجید تمہاری سمجھ میں کس طرح آسکتا ہے؟
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کا سمجھنے والا مخلوقات میں صرف ایک ہی فرد کامل ہے جس کو خدا نے بلاواسطہ تعلیم دے کر وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللّٰہ علیک عظیماہ (نساء: ١١٣) (تم کو خدا نے وہ سکھایا جس کو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا فضل تم پر بڑا ہے۔) کے شرف سے مشرف فرمایا ہے۔
اہل فہم کی سمجھ میں یہ بات پوری طرح سے انشاء اللہ آگئی ہوگی کہ ہماری ہدایت کے لیے قرآن اور محض قرآن نازل ہوا لیکن قرآن جس کا کلام ہے اس سے چونکہ ہم کو کوئی مناسبت نہیں اس وجہ سے قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ہم حدیث کے اور جناب رسول مقبول ﷺ کے اس سے بھی زیادہ محتاج ہیں جیسے کہ ایک ابجد خواں بچہ اپنے استاد کا، اور جب تک ہمارے سامنے اقوال و افعال رسول اللہ ﷺ نہ ہوں ہم کو قرآن سے ہدایت میسر نہ ہوگی بلکہ ضلالت اور گمراہی اور اس سے قرآن کے فضل و کمال میں کوئی نقصان لازم نہیں آتا۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوگئی ہوگی کہ ہم حدیث رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اتباع سے ایک آن کے لیے مستغنی نہیں۔
مرزائیو! تم کافر اور مرتد اس وجہ سے بھی ہو کہ تمہارے نزدیک حدیث نہ واجب العمل ہے اور نہ قرآن پر عمل کرنے کے لیے حدیث کی ضرورت۔ ہاں! تمہارے نزدیک قرآن کے برابر مرزا قادیانی کی وحی اور مرزا قادیانی کے اضغاث احلام اور پریشان خوابیں ضرور ہیں۔ تم ڈوبے ہی تھے مگر اپنے ساتھ بہت سے ان مسلمانوں کو بھی لے مرے کہ جو مرزائی تو نہیں مگر مرزا قادیانی کے یا تمہارے کفر میں شک اور تردد کرتے ہیں۔
تقریر بالا کے بعد یہ مسئلہ تو انشاء اللہ تعالیٰ محقق اور روشن ہوگیا کہ جو لوگ حدیث کو واجب العمل نہیں کہتے ہیں یا جب ہی واجب العمل کہتے ہیں جب کہ قرآن کے موافق ہو وہ لوگ بمقتضائے آیت فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ (نساء: ٦٥) (قسم ہے تیرے پروردگار کی کہ وہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمہارے فیصلہ اور حکم کو قبول نہ کریں گے) کے احکام رسول اللہ کے منکر ہو کر مومن تو نہیں رہے
٣٥
لیکن ان کا فرضی اسلام بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ ہم ایمان اور اسلام اور عمل بالقرآن میں حدیث رسول اللہ ﷺ سے ایک آن کے لیے مستغنی نہیں ہو سکتے۔ اب اس کے بعد جس کا جی چاہے وہ قتل مرتد اور سزائے محصن زانی کا اقرار کرے یا انکار حدیث کو واجب العمل کہے یا فضول و بیکار مسلمان رہے یا مرزائی۔
اتباع صحابہؓ و سلف صالحینؒ بھی ضروری ہے
یہاں یہ بات بھی عرض کر دینا ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح قرآن پر عمل کرنے کے لیے اور فہم مراد میں امت رسول اللہ ﷺ حدیث کی محتاج ہے اسی طرح سے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو جناب رسول مقبول ﷺ کے بلاواسطہ شاگرد تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو حدیث فرماتے اور عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے جو معنی قرآن مجید اور احادیث کے سمجھے ہیں ان کی اتباع بھی ضروری ہے۔ کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی آیت اور کسی حدیث کے وہ معنی بیان کرے جو اجماع صحابہؓ یا کل آراء صحابہؓ کے مخالف ہوں۔ علیٰ ہٰذا القیاس! تابعینؒ جو صحابہؓ کے بلاواسطہ اور جناب رسول اللہ ﷺ کے ایک واسطہ سے شاگرد ہیں انہوں نے جو قرآن و حدیث کے معنی سمجھے ہیں بعد اس کے لوگوں کو ان کا بھی خلاف کرنا جائز نہیں۔ یہ امر آخر ہے کہ ان کے خلاف کرنے سے اگر مسئلہ اجماعی اور قطعی نہیں ہے تو انسان کافر نہ ہو مگر گمراہی اور بیراہی ضرور ہے ہاں ان میں سے اگر کسی ایک کی رائے کے مطابق بھی اس کی رائے ہے تو پھر گمراہ اور بیراہ اور اہلسنت والجماعت کی جماعت سے بھی خارج نہیں ہو سکتا۔ اور اگر اس کی رائے کسی کی رائے کے مطابق بھی نہیں تو البتہ اہل سنت والجماعت سے بھی خارج ہو جائے گا اور اگر وہ انکار کسی ضروری دین کے انکار کا باعث ہو جائے گا تو ممکن ہے کہ کفر تک بھی نوبت پہنچ جائے لیکن کفر اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ کسی ضروری دین کا انکار قطعاً اور یقیناً ثابت نہ ہو جائے۔
بعض ناواقف غیر مقلد اور اہل حدیث کا جواب
بعض ناواقف اور متعصب آج کل کے اہل حدیث اور غیر مقلد فقہ کے باطل کرنے کی غرض سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ فقہ کوئی چیز نہیں۔ کیا قرآن کوئی پہیلی یا چیستاں ہے کہ بجز چار اماموں کے کسی نے نہ سمجھا۔ کیا قرآن کے مخاطب یہ چار ہی ہیں انہیں کی فہم کا اعتبار ہے انہیں کا فقہ واجب العمل ہے حالانکہ قرآن مجید میں صاف مذکور ہے۔
٣٦
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (قمر:٤٠) بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ اور قرآن کو تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (قرآن ہر شے کا بیان ہے) اور قول فصل فرمایا ہے۔ پھر فقہ اور فقہاء کی اتباع اگر شرک نہیں تو اور کیا ہے؟ میں یہ نہیں کہتا کہ سب غیر مقلد ایسا ہی خیال رکھتے ہیں مگر ایسا خیال رکھنے والے بھی کثرت سے ہیں اور عوام ہی نہیں بلکہ بعض خواص کالعوام بھی اس خیال باطل میں مبتلا ہیں ان صاحبوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آیت مذکور کا اگر یہ مطلب ہے کہ قرآن کے لیے کسی استاد اور مفسر کی ضرورت نہیں اور وہ خود کامل ہے تو پھر فقہ کے ساتھ حدیث بھی جاتی ہے اور ایسا کہنے والے بجائے اہل حدیث ہونے کے اہل قرآن ہوئے جاتے ہیں جس کو وہ ہرگز بھی پسند نہ کریں گے اور اگر قرآن کے ساتھ ساتھ باوجود اس کے آسان ہونے کے صحاح ستہ اور ان کے حواشی اور شروح کی بھی ضرورت ہے تو پھر کتب فقہ کا دین سے خارج ہونا بڑا مشکل ہے اگر فہم قرآن کے لیے حدیث کی ضرورت ہے تو فہم حدیث کے لیے فقہ کی ضرورت ہے۔ اگر قرآن کے لیے رسول کریم ﷺ کی ضرورت ہے تو حدیث کے لیے آپ کے خاص خاص شاگرد اور شاگردان شاگرد و صحابہ و تابعین و تبع تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ضرورت ہے۔ اگر قرآن خدا کا کلام ہے تو یہ اس کے رسول اور سیدالرسل کا کلام ہے۔ اگر حدیث قرآن کی تفسیر ہے تو فقہ حدیث کی شرح ہے اگر قرآن فہمی کے لیے علم نبوی کی ضرورت ہے تو حدیث فہمی کے لیے علم صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین کی ضرورت ہے یہ سچ ہے کہ حدیث حجت ہے دلیل ہے کلام شارع علیہ السلام ہے۔ اس بناء پر حدیث و فقہ میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق ہے وہ کلام نبی ہے یہ کلام امتی ہے۔
مگر ان امتیوں نے نبی ہی کے کلام کا اپنی سمجھ اور اپنے علم اور قواعد شرعیہ کے مطابق مطلب بیان فرمایا ہے جدید نبوت یا الہام قطعی کے مدعی نہیں ایسے حاکم ہو کر نہیں آئے کہ جن کو اختیار ہو کہ جس حدیث کو چاہے خدا سے حکم پا کر ردی کے ٹوکرے میں پھینک دے۔ مرزا قادیانی کی طرح قرآن و حدیث ان کی نفسانی خواہشوں کا ماتحت نہیں بلکہ ان کی پاک عقلیں اور ان کے قویٰ مطیعہ قرآن و حدیث کے تابع ہیں لہٰذا انہوں نے دین میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا۔ بلکہ جو کام ہمیں کرنا تھا اور ہم اس کے لائق اور اہل نہ تھے وہ انہوں نے ہماری طرف سے ہمارے لیے کر دیا۔ فجزاہم اللہ عنا
٣٧
خیر الجزاء وہ شکریہ کے قابل ہیں نہ کہ مذمت کے، تو بس قرآن کے آسان کر دینے کے یہی معنی ہیں کہ قرآن اپنی اندرونی فصاحت و بلاغت اور سلاست عبارت سہولت احکام و عبادات اور عقائد حقہ کے ساتھ اس خارجی آسانی سے بھی آراستہ اور پیراستہ ہے کہ اس کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین کو مقرر فرمایا اور آپ ﷺ نے احادیث کے ذریعہ سے احکام قرآنیہ کی تفصیل فرمائی اور احادیث کی تفصیل اور تسہیل بذریعہ فقہائے امت ظہور پذیر ہوئی جیسے متن کے لیے شرح ہوتی ہے اور شرح کے لیے حواشی ہوتے ہیں تو کوئی شخص اگر مشکل سے مشکل متن کو شروح اور شروح کو حواشی سے سہل کر دے تو اس کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ ہم نے اس کتاب کو پڑھنے والوں کے لیے بالکل سہل کر دیا۔ زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں مختصراً عرض ہے کہ جیسے قادیانیوں اور نیچریوں کے نزدیک فہم قرآن کے لیے حدیث کی ضرورت نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین ایک بے معنی چیز اور لڑکوں کا کھیل بن جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں ہر شخص کو اختیار ہوگا کہ قرآن کے جو چاہے سو معنی کر لے اسی طرح سے اگر حدیث کے ساتھ فقہ اور اقوال سلف کی ضرورت نہ ہو تو حدیث کا بھی کوئی مفہوم محصل باقی نہ رہے گا جس کا جو جی چاہے گا حدیث کے معنی بیان کرے گا اور جب حدیث کے معنی غلط ہو گئے تو قرآن کے معنی کس طرح سے صحیح رہ سکتے ہیں؟ نتیجہ پھر وہی اسلام کی تباہی اور بربادی ہے (العیاذ باللہ) اس وجہ سے صحیح طریقہ وہ ہے جو سلف نے اختیار کیا ہے کہ اصل الاصول قرآن مجید ہے اور اس کے بعد احادیث کا مرتبہ ہے لیکن فہم مراد اور تعین معنی نصوص میں بالکل سلف صالحین کی اتباع کی جائے کہ جن کی خیریت کی رسول اللہ ﷺ نے شہادت دی ہے اور صحابہ اور تابعین میں جو کچھ اجتہادی امور میں اختلاف رائے ہوا ہے جس کا ہونا ضروری تھا ان میں سے کسی کو گمراہی اور ضلالت پر نہیں کہہ سکتے بلکہ بمقتضائے بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکوٰۃ ص ٥٥٤ باب مناقب الصحابہ) (صحابہ آسمان ہدایت کے ستارے ہیں جس کی پیروی کی جائے وہی رشد و ہدایت کے لیے کافی ثابت ہوگا) چونکہ تمام صحابہ کے ہاتھ میں دامن نبوی ہے اور تابعین صحابہ کے دامنوں میں چھپے ہوئے ہیں اور آئمہ مجتہدین انہیں دونوں مقدس جماعتوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں لہٰذا جو آئمہ مجتہدین کی اتباع کرتا ہے وہ بھی مدینہ طیبہ ہی کے راستہ پر چل رہا ہے اور بالآخر واسطہ بواسطہ سب آپ ہی کے دربار تک پہنچتے ہیں ﷺ اور آپ تک پہنچنا خدا تک پہنچنا ہے تو معلوم ہو گیا کہ آئمہ کا اختلاف اور ان کی کثرت ایسی ہے جیسے ایک درخت کی چند شاخیں جس میں اگرچہ بظاہر
٣٨
اختلاف اور تعدد معلوم ہوتا ہے لیکن جب پھول پھل پتوں کو دیکھا جاتا ہے تو باوجود کثرت کے وحدت ہی نظر آتی ہے اور یہی کہا جاتا ہے کہ یہ کل ایک ہی درخت ہے۔
کوئی صاحب اس کلام سے یہ غلطی نہ کھائیں کہ آئمہ حدیث اس سے باہر ہیں بلکہ یہ سب ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں اور جس کی کوئی اتباع کرے گا وہ سب صراط مستقیم ہی پر چلنے والے ہیں ان خطوط میں اختلاف اوپر کی جانب میں ہے اور اصل میں اتحاد ہے یہی وجہ ہے کہ باوجود اختلاف کے سب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سب اہلسنت والجماعت میں داخل ہیں اتخذوا احبارهم ورهبانهم ارباباً من دون الله (توبہ: ٣١) یہ قرآن کی آیت ہے جس میں عیسائیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عالموں اور سادھوؤں کو خدا بناتے ہیں اس زمانہ کے اہل حدیث اس آیت کو مقلدین پر منطبق کرتے ہیں۔ اس کا مصداق اتباع آئمہ کو قرار دینا سخت جہالت اور کوتاہ فہمی ہے جس طرح سے ایک درخت کے بہت کثرت سے اور بہت بڑی بڑی شاخیں ہوں اور کثرت سے اس پر پھول اور پھل آئیں تو یہ انشعاب اور شاخوں کا بڑھنا اور بار و برگ کی کثرت درخت کی عظمت اور عزت کا باعث اور موجب ازدیاد نفع خلق اللہ ہے اسی وجہ سے علماء کے ان اجتہادی اختلافات اور فروعی خلافوں کو بفحوائے اختلاف امتی رحمۃ (کنزالعمال ج ١٠ ص ١٢٦ حدیث نمبر : ٢٨٦٨٦ کتاب علم) رحمت فرمایا گیا ہے۔
اہلسنت والجماعت کے اختلاف کو فرقہ بندی بتلانا سخت غلطی ہے
یہاں سابق سے اس شبہہ کا بھی ازالہ ہو گیا جو بعض ناواقف کہہ دیتے ہیں کہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اہلحدیث یہ اسلام میں فرقہ بندیاں کہاں سے آگئیں کون حق پر اور کون باطل پر ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں سے آم کے درخت میں کثرت سے شاخیں آگئیں اور ایک بہت بڑا سایہ دار درخت بن گیا۔ وہیں سے یہ انشعاب بھی پیدا ہوا ہے اور جیسے یہاں یہ کہنا غلط ہے کہ آم کی یہ شاخ آم ہے یا وہ۔ دونوں شاخیں آم کی نہیں ہو سکتی ہیں؟ کیونکہ یہ سب شاخیں ایک ہی درخت کی ہیں اور سب پر ایک ہی پھل آتا ہے اسی طرح یہاں بھی یہی جواب ہے کہ سب مسلمان اور اہلسنت والجماعت ہیں۔
ایک غلطی کا ازالہ
یہاں ہماری مراد اہل حدیث سے وہ جماعت ہے جو پہلے سے اہل حدیث
٣٩
کے لقب سے ملقب ہے وہ نہ تقلید آئمہ کو شرک اور فسق کہتے ہیں اور نہ مقلدین کو مشرک اور فاسق بلکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یا امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ یا کسی اور محدث نے کسی خاص مسئلہ میں کسی حدیث کی صحت کی بناء پر جو اس کے نزدیک ثابت ہوئی ہے اس نے کسی امام کا یا اپنے امام کا خلاف کیا لیکن اس کا مذہب بھی آئمہ مجتہدینؒ اور سلف صالحینؒ کے اختلاف سے باہر نہیں ایسے محدث کا کوئی شخص اس مسئلہ میں متبع ہو جائے کسی دوسرے مسئلہ میں کسی دوسرے محدث کا غرض وہ اپنا مسلک یہ قرار دے کہ ہر مسئلہ میں جو حدیث صحیح ثابت ہوگی اس پر عمل کروں گا۔ اور اس حدیث پر بایں معنی بعض سلف صالح نے بھی عمل کیا ہے تو ایسے اہل حدیث سے ہمارا کوئی نزاع نہیں ہم ان کو بھی اہلسنت والجماعت میں داخل سمجھتے ہیں۔ ہاں آج کل کے بعض اہل حدیث جو تقلید آئمہ کو شرک اور بدعت قرار دیتے ہیں اور آئمہ کی شان میں گستاخیاں کرتے اور فقہ کو شرک اور مقلدین کو مشرکین اور اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دون اللہ کا مصداق بتاتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم گمراہ اور بیدین اور اہلسنت والجماعت سے خارج اور جن کے بعض عقائد کفر کی حد تک پہنچ گئے ہیں ان کو کافر سمجھتے ہیں جب کہ وہ کسی ضروری دین کا انکار کریں۔
بہتر فرقوں کا ذکر
جس طرح درخت میں سرسبز شاخیں ہوتی ہیں مگر ان میں سے بعض کسی مرض کی وجہ سے بالکل خشک ہو جاتی ہیں کہ ان پر نہ پتہ ہوتا ہے نہ پھول نہ پھل اور بعض شاخیں اگرچہ ہری ہوتی ہیں مگر ان کے پتے بھی مرجھانے لگتے ہیں جو اس کے بہت جلد خشک ہونے کی خبر دیتے ہیں بعض شاخیں ہوتی تو ہیں سرسبز مگر ان پر پھل نہیں آتا یا آتا ہے تو گر جاتا ہے بڑا نہیں ہوتا یا بڑا بھی ہوتا ہے تو پکتا نہیں۔ یا پکتا ہے تو اس میں فوراً کیڑے پڑ جاتے ہیں غرض یہ تمام شاخیں جلانے ہی کے قابل ہوتی ہیں اسی طرح سے ماانا علیہ واصحابی (مشکوۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) کے سوا وہ بہتر (٧٢) فرقہ ہیں کہ جن کے اہلسنت والجماعت کے علاوہ اسلام میں پیدا ہونے کی جناب رسول اکرم ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی ہے یہ بہتر فرقہ بھی مسلمان ہی ہیں اور ان کے بعض عقائد رسول اللہ ﷺ و صحابہؓ کے عقائد سے مختلف ہیں صحابہؓ کی جماعت میں ایک صحابیؓ بھی ان فرقوں میں سے کسی کا ہم عقیدہ نہیں نکل سکتا۔ جب ہی تو ماانا علیہ واصحابی سے
٤٠
خارج ہو کر یہ دوسرا فرقہ قرار دیا گیا۔ لیکن ان کا اختلاف کسی ایسے عقیدہ میں نہیں جو ضروریات دین میں سے ہو بلکہ ایسے امور میں اختلاف ہے کہ جن میں تاویل کی گنجائش ہے لیکن چونکہ تاویل غلط ہے اس وجہ سے ماانا علیہ واصحابی سے وہ نکل گیا لیکن چونکہ کسی ضروری دین کا منکر نہیں اس وجہ سے اسے کافر بھی نہیں کہہ سکتے ان بہتر فرقوں کا اختلاف اہلسنت والجماعت سے اعمال میں ہونا ضروری نہیں فرقہ کا اختلاف عقیدہ کے اختلاف سے ہوتا ہے یہ بہتر فرقہ اگرچہ ماانا علیہ واصحابی سے بعض عقائد میں مختلف ہیں جن میں تاویل کی گنجائش ہے لہٰذا یہ سب اسلام ہی کی شاخیں ہیں اور اسلام میں داخل لیکن بوجہ فساد عقائد جلانے کے قابل ہیں اسی واسطے آپؐ نے فرمایا کہ کلہم فی النار یعنی فرقہ اہلسنت والجماعت کے عقائد چونکہ صحیح اور ماانا علیہ واصحابی کے موافق ہیں اس واسطے ان کا کوئی عقیدہ مستوجب نار نہ ہوگا اگرچہ بداعمالی کی سزا میں ان میں سے کوئی مستحق نار ہو اعاذنا اللہ منہا اور یہ بہتر فرقے باعتبار عقائد کے مستحق نار ہیں اگرچہ ان کے اعمال اچھے ہوں اور وہ جنت کا تقاضا کریں۔ اور یہ لوگ چونکہ مشرک اور کافر نہیں ہیں اس وجہ سے ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ بمقتضائے ویغفر مادون ذلک لمن یشاء (نساء:٤٨) کے بالکل بخش دیں اور یا بوجہ شفاعت ان کی مغفرت ہو جائے اور سیدھے جنت کو چلے جائیں۔ جہنم ہی میں جانا ضروری نہیں کلہم فی النار ان کا مستحق نار ہونا بیان فرمایا گیا ہے نہ دخول۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ یا اپنے عقائد اور اعمال کے مطابق جہنم میں جائیں اور سزا بھگت کر پھر ابدالآباد کے لیے جنت میں داخل ہوں۔
علماء کو تنگ خیال کہنا غلط ہے
مرزائیو! نیچریو! دیکھا علمائے اسلام کیا فرماتے ہیں یہ بہتر فرقے بھی اسلام میں داخل ہیں اور چونکہ کسی ضروری دین کا انکار نہیں کیا لہٰذا ان کی سکونت بھی اسلامی محل ہی میں ہے (ہاں ان بہتر فرقوں کے بعض شعبے ایسے بھی ہیں جو کسی ضروری دین کے انکار کی وجہ سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں اگرچہ ان کا نام بھی وہی ہے مگر درحقیقت یہ ایک مستقل جداگانہ ان بہتر فرقوں سے خارج فرقے ہیں۔) اگر تم یہ چاہو کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو یا جو شخص کسی ضروری دین کا انکار کرے یا کسی مرزائی یا مرزا قادیانی یا کسی ضروری دین کے منکر کو مسلمان کہہ کر خود کافر ہو جائے ایسے لوگوں کو بھی علماء مسلمان کہیں یہ ناممکن ہے علماء تنگ خیال نہیں نہایت وسیع الخیال ہیں مگر وسیع الخیال ہی ہیں، غیر محدود الخیال نہیں۔
٤١
غرض یہ بہتر فرقے بھی اسلام ہی میں داخل ہیں اور درخت اسلام ہی کی شاخیں ہیں ابھی تک اس سے جدا نہیں ہوئیں لیکن وہ شاخ کہ جو آندھی کے جھونکے سے درخت سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوگئی اور درخت سے اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہا وہ درخت کی خشک اور تر بار آور اور غیر بار آور شاخوں میں شمار نہیں ہو سکتی اگرچہ بالفعل اس پر پتے بھی سرسبز ہوں اور پھل بھی لگے ہوئے ہوں مگر درخت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں حیرت بھری نظروں سے دیکھ کر بے شک کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ کبھی یہ بھی اس درخت کی شاخ تھی۔ جیسے ہم آج حسرت سے کہتے ہیں کہ ہائے یہ مرزائی بھی کبھی ہمارے بھائی اور مسلمان تھے۔
خواجہ کمال الدین مرزائی کے ایک شبہہ کا جواب
خواجہ کمال کو یورپ میں یہ دقت پیش آئی کہ اگر عیسائیوں نے یہ سوال کیا کہ اسلام میں بہت سے فرقے ہیں ہم کس میں داخل ہوں تو میں کیا جواب دوں گا؟ اس وجہ سے یہ فرمایا کہ اسلام میں کوئی فرقہ نہیں سب میں فروعی اختلاف ہے جس کی وجہ سے متعدد فرقے نہیں۔
خواجہ کمال نے مرزائیت کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے تمام مدعیان اسلام کا اختلاف فروعی اختلاف قرار دے دیا مگر اسلام کا معجزہ ہے کہ خواجہ کمال مرزائی نے اپنے رسالہ مسماۃ ”اسلام میں کوئی فرقہ نہیں“ کو اس پر ختم کیا کہ اسلام میں دو نئے فرقے ایک بہائی اور ایک مرزا محمود اور ان کے فدائی اسلام سے خارج ہیں‘ حالانکہ جو جرم ان دو فرقوں نے کیا ہے ایسے مجرم بلکہ اس سے زیادہ پہلے بہت مدعیان اسلام گزر چکے ہیں اگر وہ اسلام میں داخل ہیں تو بہائی اور مرزا محمود اور ان کے فدائی اسلام سے کیوں خارج ہیں؟ اور اگر یہ خارج ہیں تو وہ کیوں داخل ہیں؟ غرض جیسے دجل مرزا قادیانی کے کلام میں تھا وہی مرزائیوں کا طرز عمل ہے۔ یہ ہے مرزائیوں کی تبلیغ اسلام اور یہ ہیں ان کے علوم و معارف حقہ۔
حالانکہ عیسائیوں کے سوال مذکور کا جواب بہت سہل تھا کہ یہ ضروریات دین ہیں ان کو جو مانے وہ اسلام میں داخل ہے جو ان میں سے کسی ایک کو نہ مانے وہ خارج ہے‘ چاہے کتنا ہی اسلام کا دعویٰ کرے۔ ان ضروریات دین کے بعد یہ عقائد اہلسنت والجماعت کے جو کامل اسلام کے افراد ہیں اس کے علاوہ مختلف عقائد ہیں جن کا اختلاف انکار ضروریات دین تک نہ پہنچے وہ گو اسلام میں داخل ہیں مگر ایک درجہ گمراہی سے خالی
٤٢
نہیں۔ ان کے عقائد کامل ایمان والوں کے سے عقائد نہیں اس کی جانچ اور پڑتال کے لیے ایک معیار بتا دینا چاہیے تھا:
خواجہ کمال مرزائی سے ایک سوال
آج اگر کوئی خدانخواستہ اپنے ایمان کو تباہ اور برباد کر کے مرزائی ہونا چاہے اور یہ سوال کرے کہ مرزائیوں میں بھی بہت سے فرقے ہیں اروپی۔ قدنی (بعض مرزائی قادیان کی نسبت میں بجائے قادیانی کے مدنی کا قافیہ بنانے کے لیے قدنی کہتے ہیں ہم نے بھی مطلق قادیانیوں سے مرزا محمود کے فرقہ کو تمیز کرنے کے لیے قدنی لکھا ہے۔) لاہوری‘ گنا چوری‘ تما پوری تو وہ کون سا فرقہ ہے جس میں تم داخل ہو؟ خواجہ کمال اگر یہ جواب دیں کہ جس میں چاہو داخل ہو جاؤ تو گویا اس کو کافر ہونے کی اجازت دینا ہے اور اگر کوئی اور جواب ہے تو وہی جواب یورپ کے عیسائیوں کو بھی دے سکتے تھے۔
جب ہم نے آیات قرآنی اور دلائل قطعیہ سے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان اس ہی کا نام ہے کہ جمیع احکام رسول اللہ ﷺ کو دل و جان سے اس طرح تسلیم کیا جائے کہ دل میں تنگی تک بھی نہ واقع ہو اور کفر و ارتداد یہی ہے کہ احکام قطعیہ ضروریہ میں سے کسی ایک کا بھی انکار کر دیا جائے تو مرزائی قتل مرتد اور رجم زانی کا انکار کر کے فقط مرتد ہی نہیں ہوئے بلکہ وہی چال چلنے لگے جو منافقین کا طریقہ تھا۔ واذا قیل لھم آمنوا کما امن الناس قالوا انؤمن کما امن السفھاء الا انھم ھم السفھاء ولکن لا یعلمون (بقرہ: ١١ تا ١٣) جب ان سے کہا جاتا ہے جیسے آدمی ایمان لاتے ہیں ایمان لے آؤ (یعنی جیسے تمام مسلمان قتل مرتد اور رجم زانی کو اسلامی حکم مانتے ہیں تم بھی اس کو تسلیم کرو تو کہتے ہیں کہ کیا ہم اس طرح سے ایمان لے آئیں جیسے کہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔ (یعنی جب قتل مرتد اور رجم زانی سفاہت اور بیوقوفی کا حکم ہے تو ہم اس کو کم فہم مُلاؤں کی طرح تسلیم نہیں کر سکتے۔ جس چیز پر یورپ کی تہذیب اور تمدن ایمان لانے کی اجازت نہ دے جس امر کے خلاف لندن میں جلسہ ہو اور اس پر اظہار نفرت کیا جائے ایسے حکم شریعت پر گو ساری امت نے کیوں نہ قبول کر لیا ہو مرزائی امت ایمان نہیں لا سکتی۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ) یہ منافقین ہی بیوقوف ہیں لیکن ان کو اپنی بے وقوفی کا علم نہیں۔
گو مسئلہ واضح ہو چکا ہے مگر چونکہ مرزائی ہی نہیں بلکہ نیچری اور بعض تعلیم یافتہ طبقہ کا خیال کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اس وجہ سے کچھ آیات قرآنی کا اور لکھ دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (١) ”انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ
٤٣
لیحکم بینهم ان یقولوا سمعنا و اطعنا واولئک هم المفلحون“ (نور:٥١) جب کہ مومنین اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان کے بارہ میں کوئی حکم کریں تو ان کا جواب بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ یہ کہیں کہ ہم نے اس حکم کو سنا اور اطاعت کی صرف یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔“
اس آیت کا بھی وہی حکم ہے کہ مومن حکم اللہ وحکم الرسول کے خلاف کر ہی نہیں سکتا۔ اگر اطاعت اور تسلیم نہیں ہے تو نہ وہ مومن ہے نہ وہ ناجی، اگر حکم اللہ قرآن ہے تو حکم الرسول حدیث ورنہ دونوں وحی کے حکم میں۔ اگرچہ بظاہر دو ہیں۔
(٢) ”وما کان لمومن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امرا ان یکون لهم الخيرة من امرهم ومن يعص الله ورسوله فقد ضل ضلالا مبينا“ (احزاب:٣٦) کسی مومن اور مومنہ کو یہ جائز ہی نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم کرے تو ان کو اس حکم کے قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار ہو۔ بلکہ ضرور قبول کرنا ہی ہوگا۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے یعنی ان کے حکم کو قبول نہ کرے وہ کھلم کھلا گمراہ ہے۔ (٣) ”ان الذين يكفرون بالله ورسوله ويريدون ان يفرقوا بين الله ورسله ويقولون نؤمن ببعض ونكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلک سبیلا اولئک هم الکفرون حقا واعتدنا للكفرین عذابا مهینا“ (نساء:١٥١-١٥٠) جو لوگ کہ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور ان کا ارادہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول میں جدائی کر دیں (یعنی خدائی کتاب پر ایمان لاویں اور حدیث اور فرمان رسول کو واجب العمل نہ سمجھیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں بعض پر اور کفر و انکار کرتے ہیں بعض کا (یعنی کل احکام شرعیہ پر ایمان نہیں لاتے بعض قرآن پر لائیں اور بعض پر نہیں۔ یا بعض حدیث پر ایمان لائیں اور بعض پر نہیں یا کل قرآن پر ایمان لائیں اور حدیث میں بعض کا اقرار ہو اور بعض کا انکار غرض اللہ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ میں جو کوئی تفریق کرتا ہے اس کی نسبت حکم خداوندی یہ ہے کہ) ایسے لوگ قطعی اور یقینی کافر ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے نہایت ذلیل کرنے والا عذاب مقرر کیا ہے۔ (٤) ”رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّیْهِمْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ“ (بقرہ:١٢٩) اے ہمارے رب اور بھیج ان میں ایک پیغمبر ان ہی میں سے کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور ان کو سکھائے کتاب اور حکمت اور پاک صاف بناوے بیشک تو ہی غالب صاحب تدبیر ہے۔ (٥) ”قُلْ اِنْ
٤٤
كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْلَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (آل عمران: ٣١) کہہ دو (اے محمدؐ) اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو میرا اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور بخش دے گا تمہارے گناہ اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ (٦) "قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ" (آل عمران: ٣٢) کہہ دو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا پس اگر وہ انحراف کریں تو بیشک اللہ محبت نہیں کرتا کافروں سے۔ (٧) "وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ" (آل عمران: ١٣٢) اور کہنا مانو اللہ اور رسول کا تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (٨) "يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِىْ شَيْئٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا" (النساء: ٥٩) اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں صاحب حکومت ہوں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی امر میں تو اس میں رجوع کرو اللہ اور رسول کی جانب اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روزِ آخرت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے انجام کے اعتبار سے۔ (٩) "وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰى اُولِى الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَا تَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا" (النساء: ٨٣) اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی خبر امن کی یا خوف کی تو اس کو مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا دیتے رسول اور اپنے صاحبانِ حکومت تک تو اس کی مصلحت کو معلوم کر لیتے ان میں سے وہ لوگ جو مصلحت معلوم کر سکتے ہیں۔ اور اگر اللہ کا تم پر کرم نہ ہوتا۔ اور اس کی مہربانی تو تم سب پیچھے لگ لیے ہوتے شیطان کے سوائے چند کے۔ (١٠) "وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا" (النساء: ٦٩) اور جو کہنا مانتے ہیں اللہ اور رسول کا تو وہ ان کے ساتھ ہیں جن پر انعام فرمایا اللہ نے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ لوگ اچھے رفیق ہیں۔ (١١) "وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيْرًا" (النساء: ١١٥) اور جو مخالفت کرے گا رسول کی اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کھل چکی اور چلے گا مسلمانوں کے راستہ کے سوا دوسرے راستہ پر تو ہم اس کو چلائے جائیں گے اسی راستہ پر جس پر وہ چلا اور اس کو جھونک دیں گے دوزخ میں اور وہ بری جگہ ہے۔ (١٢) "قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ۣ الَّذِيْ لَهٗ
٤٥
مُلْكُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ“ (الاعراف:١٥٨) (اے محمدؐ) کہہ دو کہ اے لوگو بیشک میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی جانب کہ جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا اور مارتا ہے‘ پس ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے سب کلام پر اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ (١٣) ”وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ“ (الانبیاء:١٠٧) اور نہیں بھیجا ہم نے تم کو (اے محمدؐ) مگر رحمت بنا کر دنیا جہاں کے لیے۔ (١٤) ”فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْيُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ“ (نور:٦٣) تو ڈرنا چاہیے ان کو جو خلاف کرتے ہیں رسول کے حکم کا اس بات سے کہ ان پر پڑے کوئی بلا یا ان کو پہنچے درد ناک عذاب۔ (١٥) ”وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا“ (الاحزاب:٧١) اور جو شخص کہنا مانتا ہے‘ اللہ اور اس کے رسول کا تو بیشک اس نے پائی بڑی مراد۔ (١٦) ”هُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيِّيْنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“ (الجمعة:٢) اور وہی ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک پیغمبر ان ہی میں سے جو پڑھتا ہے ان پر اس کی آیتیں اور ان کو پاک بناتا اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور دانشمندی اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔ (١٧) ”وَاَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ“ (النحل:٤٤) اور ہم نے اتارا تمہاری جانب قرآن تاکہ تم بیان کرو لوگوں سے جو کچھ اتارا گیا ہے ان کی طرف اور شاید وہ دھیان کریں۔
اکثر وسیع الخیال حضرات فرما دیتے ہیں کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں تو جو شخص قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ اور اس بات کو اکثر مرزائی بالخصوص لاہوری پیش کرتے ہیں۔
سو وہ خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اہل قبلہ سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ضروریات دین کا قائل ہو اس کی تکفیر ناجائز ہے۔ قبلہ کی طرف منہ کر کے یا صرف زبان سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا مراد نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا۔ (١٨) ”لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ“ (بقرہ:١٧٧) مشرق اور مغرب
٤٦
کی طرف منہ کرنا کوئی بالذات بھلائی کی بات نہیں لیکن بھلائی یہ ہے کہ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیین پر۔ (١٩) ”اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَیُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلاً بَعِیْداً“ (نساء: ٦٠) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوے کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا اور جو آپؐ سے پہلے نازل ہوا۔ ارادہ ان کا یہ ہے کہ مقدمات کا حکم طاغوت (یعنی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سوا) کو بنائیں حالانکہ وہ مامور اس کے ہیں کہ غیر کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کا انکار کریں۔ اور شیطان کا ارادہ یہ ہے کہ ان کو ایسا گمراہ کرے جو گمراہی حق سے بہت دور ہو۔ (٢٠) ”وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا“ (نساء: ٦١) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف آؤ۔ تو تم منافقین کو دیکھو گے کہ تم سے پورا پورا اعراض کریں گے۔ (٢١) ”فَکَیْفَ اِذَا اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْکَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا اِحْسَانًا وَّتَوْفِیْقًا“ (نساء: ٦٢) اور جب ان کو ان کے کرتوت کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو پھر آپؐ کے پاس آکر خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہماری غرض تو بجز احسان اور توفیق کے کچھ بھی نہ تھی۔ (٢٢) ”اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَّهُمْ فِیْ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا“ (نساء: ٦٣) جو ان کے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے پس آپ ان سے اعراض کیجئے۔ اور ان کو نصیحت فرمائیے اور ان کے حق میں وہ بات فرمائیے جو انتہا کی ہو۔ (٢٣) ”وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا“ (نساء: ٦٤) ہم نے ہر رسول کو اسی واسطے بھیجا ہے تاکہ باذن اللہ مطاع بنے اور جس وقت وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں اگر آپ کے پاس حاضر ہو کر طلب مغفرت کریں اور آپ بھی ان کی مغفرت کی سفارش کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور رحیم پائیں۔ (٢٤) ”فَلَا وَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا“ (نساء: ٦٥) پس تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہر امر مختلف فیہ میں آپ کو حکم قاضی نہ بنادیں۔ پھر جو آپؐ نے حکم
٤٧
دیا ہے اس سے ان کے دلوں میں تنگی تک نہ ہو اور آپ کے حکم کو پورا پورا نہ مان لیں۔
فاتحۃ الآیات ہی کو خاتمۃ الآیات بنانا مناسب خیال کیا۔ کیونکہ یہ چند آیات جو آیت مذکورہ سے پہلے ہیں ان میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ مدعی ایمان ہو کر پھر بھی خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے سوا کسی غیر کو حکم بنانا چاہتے ہیں چاہے وہ غیر ان کی عقل ہو یا یورپ کی تہذیب، سیاست ہو یا مصلحت وہ کھلی ہوئی ضلالت اور شیطان کا دھوکہ ہے جب ضرورت پڑتی ہے تو اسلام اور سیاست کو ایک کہتے ہیں اور جب غرض نکل جاتی ہے تو اسلام اور سیاست الگ الگ ہو جاتے ہیں جو ان کی اصلی غرض ہے خدا اسے خوب جانتا ہے ان سے اعراض کرو اور ان کو انتہا درجہ کی نصیحت کر دو۔
اور علت ان تمام امور کی یہ ہے کہ جب تک تمام امور مختلف فیہا میں رسول اللہ ﷺ کو دل و جان سے حکم قبول نہ کریں اور آپ کے حکم کو ظاہراً و باطناً تسلیم نہ کریں گے تو مومن ہی نہیں ہو سکتے۔ کیا اس صاف اور صریح حکم کے بعد بھی گنجائش ہے کہ کوئی مسلمان حدیث کو واجب العمل نہ کہے۔
"یایہا الناس قد جاء کم الرسول بالحق من ربکم فامنوا خیرا لکم وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ علیماً حکیماً" (نساء:١٧٠) اے لوگو بیشک رسول تمہارے پاس حق لے کر آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم کفر کرو پس بیشک اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمان اور زمین میں ہے اور اللہ علم اور حکمت والا ہے۔
اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ رسول جو کچھ فرمائے وہ حق ہے اس کو ماننا ایمان ہے اور نہ ماننا کفر ہے۔
"انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا" (حجرات:١٥) مومن صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک نہیں کیا، یعنی رسول اللہ ﷺ نے کوئی امر یا نہی فرمائی تو اس کے من اللہ ہونے میں شک نہ کیا بلکہ قبول کیا۔ اس لیے کہ رسالت کے اقرار کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان کی اتباع کرو ورنہ رسالت کا اقرار بالکل بے معنی بات ہو جائے گی۔
"والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وهو الحق من ربهم کفر عنهم سیاتهم واصلح بالهم" (محمد:٢) جو لوگ مومن ہیں اور اعمال صالحہ کرتے ہیں محمد (ﷺ) پر نازل شدہ وحی کا ایمان بھی رکھتے ہیں جو ان کے پروردگار کی
٤٨
طرف سے حق ہے خدا ان کی برائیوں کو دور کردے گا اور ان کی حالت کو درست کردے گا۔
”وما منعہم ان تقبل منہم نفقاتہم الا انہم کفروا باللہ ورسولہ“
(توبہ: ٥٤) ان کے نفقات کو مقبول ہونے سے سوائے اس کے اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ اللہ اور رسول کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔
”الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ فان لہ نار جہنم خالداً فیہا وذلك الخزی العظیم“ (توبہ: ٦٣) کیا ان کو معلوم نہیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف کرتا ہے تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ (تیار) ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔
ان آیات کا بھی حاصل یہی ہے کہ جس طرح خدائی احکام کے نہ ماننے اور مخالفت کرنے کی وجہ سے ناری اور کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے رسول اللہ ﷺ کے احکام کا نہ ماننا بھی کفر کا موجب ہے۔ اس قسم کی آیات قرآن مجید میں اور بھی بہت ملیں گی مگر میرے نزدیک جس قدر مذکور ہوئیں کافی سے بہت زائد ہیں۔ اور ایک طالب حق کے لیے مسئلہ بداہت کی حد کو پہنچ گیا ہے اس وجہ سے اس کو یہیں ختم کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
سوال اوّل: (یعنی خداوند کریم نے اپنے کلام پاک میں کفر و اسلام یا ایمان و ارتداد کی کیا تعریف فرمائی ہے) کا جواب معلوم ہوگیا کہ معمولی طرح سے نہیں بلکہ نہایت تاکید اور توثیق سے قسم کھا کر خدائے قدیر نے قرآن مجید میں ایمان و اسلام اور کفر و ارتداد کی یہی تعریف بیان فرمائی ہے کہ جمیع احکام رسول اللہ ﷺ کو جن کا حکم نبوی ہونا قطعاً اور یقیناً ثابت ہوگیا ہو ان سب کو قبول کرنا ایمان اور اسلام ہے اور ان میں سے ایک کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ اور اگر اسلام کے بعد یہ انکار ہوا تو اس کا نام ارتداد ہے۔ ضروریات دین کا انکار کرنا (چاہے تاویل سے ہو یا بلا تاویل بہرصورت) بلاتامل و تردد کفر اور ارتداد ہے۔
سوال دوم: (وہ کون سے شعائر اللہ یا حدود اللہ ہیں جن کو توڑنے سے کوئی شخص من کل الوجوہ دائرۂ اسلام سے خارج یا کافر و مرتد ہو جاتا ہے؟) کا جواب سوال اول کے جواب سے بخوبی واضح اور روشن ہوگیا ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک ضروری دین کا انکار کرنا اسی کا نام کفر و ارتداد ہے اسلام کے لیے تو البتہ اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام ضروریات دین کا اقرار کرے لیکن کفر و ارتداد کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ سارے ہی کفریات جمع ہوں تو کفر متحقق ہوگا، چنانچہ اس کی تشریح پہلے بھی مذکور ہوچکی اور آیات
٤٩
ذیل سے مزید وضاحت کی جاتی ہے۔
”يايها الذين امنوا ادخلوا فى السلم كافة ولا تتبعوا خطوت الشيطن انه لكم عدو مبين“ (بقرہ:٢٠٨) اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یعنی بعض امور اسلامیہ کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا یہ اتباع شیطان ہے۔
”امن الرسول بما انزل اليه من ربه والمؤمنون كل امن باالله وملئكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير“ (بقرہ:٢٨٥) جو کچھ رسول پر من اللہ نازل ہوا ہے وہ رسول اس سب پر ایمان لایا اور تمام مومن بھی اس پر ایمان لائے اور سب کے سب اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی تمام کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں میں تفریق نہیں کرتے (یعنی خدا پر ایمان لاویں اور رسولوں پر نہ لائیں یا بعض رسولوں کو تسلیم کریں اور بعض کا انکار) اور کہتے ہیں کہ ہم نے (احکام خدا و رسول کو) سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طالب ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
علیٰ ہذا القیاس! پہلے جو آیات مذکور ہوئیں ان سے یہ امر ظاہر ہے کہ اسلام میں تمام حدود اللہ اور شعائر اللہ کا تسلیم کرنا ضروری ہے جن کو دوسرے لفظوں میں ضروریات دین سے تعبیر کیا جاتا ہے ان آیات کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
البتہ کفر و ارتداد کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ تمام ہی ضروریات دین کا انکار کرے بلکہ بعض کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسے کل کا۔ چنانچہ آیات ذیل سے یہ امر بخوبی ثابت ہوتا ہے۔
”ومن الناس من يقول امنا باالله وباليوم الاخر وما هم بمؤمنين“ (بقرہ:٨)
بعض آدمی کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں۔
اس آیت میں باوجود اقرار توحید اور ایمان بالقیامت کے پھر بھی ان کو مسلمان نہیں کہا گیا گذشتہ آیات میں جن لوگوں کا یہ قول مذکور ہے کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں ان کے متعلق اولئک هم الکفرون حقا (یہ لوگ تو بالیقین کافر ہیں) فرمایا گیا ہے اس میں اس امر کی تصریح ہے کہ بعض ضروریات دین کا تسلیم نہ کرنا قطعاً کفر ہے۔
٥٠
”اذا جاء ک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون“ (منافقون:١) جب تمہارے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہاری نبوت کی شہادت دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تم بلاشبہہ اس کے رسول ہو اور اللہ (اس کا بھی) شاہد ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں (ان کو آپؐ پر ایمان نہیں)
اس آیت شریفہ میں باوجودیکہ منافقین کا اقرار بالرسالت مذکور ہے مگر پھر بھی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کافر ہی کہا گیا۔
”قالت الاعراب امنا قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا ولمایدخل الایمان فی قلوبکم“ (حجرات:١٤) یہ اعراب ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ان کو ایمان کا دعویٰ کرنے سے روک دیجئے ہاں ظاہری نمائش اور اطاعت کے دعوے کرنے کی ان کو اجازت ہے اور ایمان تو قلوب اعراب میں اب تک داخل نہ ہوا۔ یہاں بھی باوجود اقرار ایمان دل میں انکار ہونے کی وجہ سے یہی کہا گیا کہ تم مومن نہیں ہو۔
”واذا قاموا الی الصلوۃ قامو کسالیٰ“ (النساء:١٤٢) (جب یہ منافقین نماز کی طرف کھڑے ہوتے ہیں تو بیدل کھڑے ہو جاتے ہیں) سے منافقین کا نماز پڑھنا بھی معلوم ہوتا ہے غرض وہ حدود اللہ اور شعائر اللہ جو مرزائیوں میں موجود ہیں وہ سب کم و بیش منافقوں میں موجود تھیں مگر پھر بھی ان کو کافر ہی کہا گیا۔ بلکہ وہ جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں رکھے گئے۔ ”ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار“ (نساء:١٤٥) (بیشک منافق دوزخ کے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے)
یہود و نصاریٰ چونکہ اہل کتاب ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر اور کتابوں پر اور یوم آخرت پر بعث بعد الموت پر (جس پر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا ایمان نہیں) غرض پوری آمنت باللہ پر مرزائیوں سے زیادہ ایمان رکھتے ہیں۔ بلکہ نصاریٰ کے بعض فرقے محمد رسول مقبولﷺ کو سچا رسول اور قرآن کو کتاب اللہ بھی مانتے ہیں مگر تاویل یہ کرتے ہیں کہ آپؐ کی بعثت اور دعوت عرب کے ساتھ مخصوص ہے کیا یہ لوگ بھی ان شعائر اللہ یا حدود اللہ کے موجود ہونے کی وجہ سے مسلمان ہو سکتے ہیں اور کفر کی زد سے بچ سکتے ہیں؟ چونکہ اسلام مجمع محاسن و مکارم اخلاق ہے سچائی اور بھلائی کا کوئی امر ایسا نہیں جو اسلام نے چھوڑ دیا ہو۔ اور دنیا کے دوسرے مذاہب سے بھی کوئی مذہب غالباً ایسا نہیں ہوگا جس میں کوئی بھی سچی بات علماً وعملاً موجود نہ ہو۔ تو اب کیا دنیا کے باطل سے باطل
٥١
مذاہب بھی اسلام کے بعض حدود اور شعائر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسلام میں شامل ہو جائیں گے؟ سچ بولنا عدل و انصاف کرنا صلہ رحمی ضعفاء اور مساکین پر شفقت مرحمت کس مذہب میں اچھے اور زنا اور چوری ظلم و تعدی لوٹ مار وعدہ کا خلاف کرنا کس مذہب میں برے نہیں تو پھر کیا تمام دنیا کے مذاہب اسلام میں ہی داخل ہو جائیں گے؟
مرزائی اپنے کو مسلمان کہتے ہیں پھر کیوں کافر ہیں؟
اگر یہ کہا جائے کہ یہود و نصاریٰ میں اگرچہ اسلام کے بہت عقائد اور شعائر پائے جاتے ہیں اور آریہ سماج سناتن دھرم وغیرہ جملہ مذاہب بھی اسلامی احکام سے بالکلیہ بیگانہ نہیں۔ بہت سی باتیں دونوں میں مشترک ہیں مگر چونکہ وہ خود اپنے کو مسلمان نہیں کہتے بلکہ اسلام کے باطل ہونے کے قائل ہیں لہٰذا وہ مسلمان نہیں بخلاف مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے کہ وہ اسلام کی حقانیت کے قائل خود اس کے اتباع کے مدعی لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتے ہیں لندن اور برلن میں مسجد بنواتے ہیں جو آج کل کے کسی مولوی سے تو کیا آٹھ سو برس سے ترک بھی باوجود اس خلافت اور سلطنت کے نہ کر سکے نہ انہوں نے تبلیغ کے لیے ایسی مشنریاں اور اشاعت اسلام کے لیے ایسے اخبار اور اشتہارات جاری کیے جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے کر کے دکھلا دیا۔ تو یہ مرزا قادیانی اور مرزائی کیسے کافر اور مرتد ہو سکتے ہیں اور ان کا قیاس یہود و نصاریٰ آریہ سماج سناتن دھرم وغیرہ پر کیونکر صحیح ہوگا؟
اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اگر ہمارے سامنے دعوائے اسلام کرتے ہیں تو منافقین جناب رسول اللہ ﷺ کے سامنے مدعی اسلام تھے۔ انہوں نے اگر لندن اور برلن میں مسجد بنائی ہے تو انہوں نے مدینہ طیبہ میں مسجد ضرار بنوائی تھی۔ ان کی مساجد کا اگر پیغام صلح اور الفضل اور چند انگریزی اور دیسی اخباروں میں ذکر ہے تو مسجد ضرار (یہ اس مسجد کا نام ہے جس کو منافقوں نے بنایا تھا جو بظاہر پختہ عقلمند سچے مسلمان تھے مگر اندرونی طور پر اسلام کو ہر قسم کی مضرت پہنچانے کے درپے تھے جیسے مرزائیوں کے متعلق جرمن کی ڈاک سے سننے میں آیا کہ اسلام کی تبلیغ کی صورت میں وہ کچھ اور ہی کام کرتے ہیں) کا ذکر خود خدا نے قرآن شریف میں فرمایا ہے نیز یہ کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت سب اسلام ہی کا دعویٰ کرتے تھے۔ اور تبلیغ اسلام بھی بعض نے ایسی کی کہ ملک کے ملک ان کے مذہب میں داخل ہو گئے۔ اور پشتوں تک
٥٢
سلاطین رہے۔ کیا کوئی مسلمان یا خود مرزائی ان لوگوں کو مسلمان کہہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر مرزائیوں کا دعوائے اسلام ان کے لیے کیسے مفید ہو سکتا ہے؟ اگر مدعی کا دعویٰ ہی قابل قبول ہوتا تو گواہ اور شاہد کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور ہر مدعی فتح یاب ہی ہوا کرتا ہے۔
مرزائی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں یا اپنے کفریات کی؟
علاوہ ازیں جب مرزائیوں کا اسلام ہی علیحدہ ہے تو پھر ان کی تبلیغ محمدی اسلام اور خدائی اسلام کی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں جس کا نام انہوں نے اسلام رکھ چھوڑا ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی خود اس وجہ کا رد کر چکے ہیں ان کے نزدیک بھی دعوائے اسلام اور بعض شعائر اللہ و حدود اللہ اور بعض ضروریات دین کا اقرار انسان کے مسلمان اور مومن ہونے کے لیے کافی نہیں ان کے نزدیک بھی کسی ایک ضروری دین کے منکر ہونے کی وجہ سے انسان کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اگرچہ باقی تمام ضروریات دین کو دل و جان سے مانتا ہو بلکہ مرزا قادیانی اور ان کی وحی کو بھی کسی درجہ میں تسلیم کرتا ہو اور مرزا قادیانی کو سچا جانتا ہو۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اس قول کا مرزائی اور ان کے ہم نوا بہت زور سے انکار کریں گے اور مرزا کی جان کو اس اپنے کرتوت کی زد سے بچانے کے لیے جھوٹ اور خلاف دیانت کہنے اور کرنے سے بھی دریغ نہ کریں گے مگر جب ہم ایسی قوی شہادت پیش کریں گے جہاں مرزا قادیانی اور مرزائی بھی بالکل دم بخود اور انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ مسٹر محمد علی پیغامی لاہوری اور مولوی محمد علی سنی جو اسلام میں مسیلمہ اور ابی بن سلول کے ہم شان مسلمانوں کی تعداد بڑھانے اور مرزائیوں کی ہمدردی میں سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اس وقت ان کا حال بھی قابل دید ہوگا اور وہی مثل صادق آئے گی کہ مدعی سست گواہ چست۔ جب ہم مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی صریح عبارات غیر محتمل التاویل متشابہات نہیں محکمات پیش کر دیں گے تو جو لوگ خواہ مخواہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مسلمان بنا کر جسم اسلام میں ایک خطرناک ناسور پیدا کرنا چاہتے ہیں اس وقت وہ بھی حسرت بھری آواز سے یہ ہی کہیں گے کہ ؎
وهو ھذا ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب سے غالباً ناظرین ناواقف نہ ہوں گے جو مرزا قادیانی کے مابہ الفخر مریدوں میں بیس برس تک بڑے خلوص اور اخلاص سے داخل
٥٣
رہے نیز مرزا قادیانی ہی کی عنایت سے ان پر بھی الہام کی ہلکی ہلکی بوندیں پڑنے لگیں اور انہیں کے الہام اور پیشین گوئی کے مطابق مرگ مرزا قادیانی نے اپنے کذاب و دجال ہونے اور لعنتی موت سے مرنے کو بھی ثابت فرما دیا انہیں کو حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی بار بار مرتد لکھتے ہیں۔
پیغامیوں اور غیر پیغامیوں سے جواب طلب
محمد علی لاہوری اور ان کے مثنیٰ اور ان کے تمام حامی اور ناصر (جو ارتداد کے لیے اسلام سے انکار کی بھی قید لگاتے ہیں) بتائیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اسلام سے کہاں انکار کیا؟ جو توحید و رسالت، قرآن مجید کا کلام اللہ ہونا، غرض اکثر فرائض کو دل و جان سے مانتے تھے اور اکثر ضروریات دین پر ایمان رکھتے تھے مگر صرف اس بنا پر کہ مرزا قادیانی کے نزدیک وہ خود باوجود مدعی رسول ہونے کے نجات کے لیے صرف توحید کو ضروری سمجھتے تھے رسول کی اتباع ضروری نہیں جانتے تھے تو مرزا قادیانی کے نزدیک مرتد ہو گئے۔
(حقیقت الوحی ص ٦٩ خزائن ج ٢٢ ص ٧٢)
فرمائیے دعوائے اسلام نہ تھا؟ یا تمام ضروریات دین و شعائر اللہ کا انکار تھا؟
پھر ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی نے کیسے مرتد لکھا؟
کہو مرزا قادیانی مرتد کی وہی تعریف کرتے ہیں جو ہم نے کی ہے یا نہیں؟
اب مرزا قادیانی کے متعلق کیا کیا الفاظ استعمال کیے جائیں گے ان کو بھی وہی کہو گے جو علماء دیوبند و جمعیۃ العلمائے ہند کو کہتے ہو یا کچھ اور؟
مرزا کا دوسرا فتویٰ
مرزائیو بتاؤ چراغ دین (جموں کشمیر والا) مرزائی کو بھی مرزا قادیانی نے مرتد کہا ہے یا نہیں؟ (حقیقت الوحی ص ٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠) اگر کہا ہے تو کیوں؟ کیا اس کو دعوائے اسلام نہ تھا؟ کیا وہ قرآن کا منکر تھا؟ یا رسول اللہ ﷺ کو رسول نہ جانتا تھا؟ یا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اس کے نزدیک فرض نہ تھا؟ یا بقول مسٹر محمد علی اور ان کے مثنیٰ کے اس نے محمد ﷺ کو قبول کرنے کے بعد ترک کیا تھا؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو مرزا قادیانی نے اسے کافر و مرتد کس بنا پر کہا؟ اس کا جواب آپ بھی اگر عقل و انصاف نے مدد کی تو یہی دیں گے کہ بخیال خود کسی ضروری دین کے انکار پر مرزا نے
اس کو مرتد کہا اور اس کے دیگر امور مذہبی کو بے حقیقت اور لاحاصل قرار دیا۔
مرزائیو! کیا یہ آدمیت اور انصاف ہے کہ جب مرزا قادیانی ایک ضروری دین کے منکر کو بھی کافر و مرتد کہیں تو وہ کہنا بجا اور حق ہو اور اگر ہم مرزا قادیانی کو بجائے ایک کے بہت سے ضروریات دین کے انکار کرنے بلکہ خود عداوت اسلام عملاً و عقیدۃً کرنے کی وجہ سے بھی کافر و مرتد کہیں تو ہمیں تنگ نظر، تنگ حوصلہ مسلمانوں کا دشمن کیوں کہا جائے؟ مرزا قادیانی اور مرزائی تو خود اپنے ہی فتوے سے کافر اور مرتد ہیں جب تک سچے دل سے توبہ نہ کریں گے۔ اخباروں کے کالم سیاہ کرنے اور یورپ جانے سے اسلام نہیں مل سکتا۔ اسلام یورپ میں نہیں اسلام کی جگہ دل ہے۔ جب مرزائیوں کے دل ہی میں اسلام نہیں تو پھر لندن اور برلن کیا اگر کسی سیاسی وجہ سے حرمین شریفین بھی جائیں تو جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آئیں۔
ہاں جلوۂ یار پکارا ابھی دیکھا کیا ہے۔ یہ تو دو ہی شخصوں کا قصہ ہے مرزا قادیانی اپنے سارے تکفیر کرنے والے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جن کی تعداد کچھ کم سات کروڑ ہے۔نہیں۔نہیں کافر ہی کہنے والے نہیں منکر اور متردد کو بھی کافر کہتے ہیں بلکہ اپنے منکر اور رسول اللہﷺ کے منکر کا ایک ہی قسم کا کفر بتلاتے ہیں (دیکھو حقیقت الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) اور مرزا قادیانی کی تکفیر کرنے والوں کو تو غالباً پیغامی بھی کافر ہی کہتے ہیں اور مرزا محمود اور ان کے تمام مریدین تو علیٰ الاعلان مرزا قادیانی کو پیغامیوں کے اقرار سے بھی حقیقی نبی مانتے ہیں اور ٧٢ کروڑ مسلمانوں میں سے جس کو بھی ان کی دعوت پہنچی اور اس نے مرزا قادیانی کو نبی نہ مانا وہ انہیں کافر سمجھتے ہیں (آئینہ صداقت ص ٣٥) اور تمام مرزائی غالباً پیغامی بھی اس میں شریک ہیں کہ کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیر مرزائی سے جائز نہیں (برکات خلافت ص ٧٥) نہ ان کے پیچھے نماز درست (اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ) اور مرزا قادیانی اور قدنیوں کے نزدیک کسی مسلمان کے جنازہ کی نماز بھی مرزائی کو نہ پڑھنی چاہیے گو پیغامی خاص مرزا قادیانی کا اسے مذہب نہ بتائیں۔
(الفضل قادیان ج ١٣ نمبر ١٠٢ ص ١٢-١٣ اپریل ١٩٢٦ء)
لیکن سوال یہ ہے کہ جس قدر ہند اور روئے زمین کے مسلمانوں کو مرزا قادیانی اور مرزائی کافر اور مرتد کہتے ہیں ان میں کون سے شعائر اللہ اور حدود اللہ نہیں پائے جاتے جو یہ سب کے سب مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک کافر اور مرتد ہیں۔
٥٥
مسئلہ صاف ہو گیا اور جو کچھ مرزائیوں کی تہہ میں تھا وہ سطح پر آگیا کہ مسلمانوں کی طرح مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا بھی یہی مذہب ہے کہ کفر اور ارتداد کے لیے صرف کسی ایک ہی ضروری دین کا انکار کافی ہے اگرچہ وہ انکار کسی تاویل کی بنا پر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مرزا قادیانی اور مرزائی جن تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو جس کسی ضروری دین کے انکار کی وجہ سے کافر کہتے ہیں آخر وہ مرزائی کفری تیر کے شکار کوئی تاویل اور کوئی وجہ تو ضرور ہی رکھتے ہیں اور پھر بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک کوئی تاویل مسموع نہیں تو معلوم ہوا کہ جیسے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ضروری دین کے انکار میں کسی تاویل کا اعتبار نہیں اور ضروری دین کا منکر بہر صورت کافر ہے۔ مسلمانوں اور مرزا قادیانی اور کل مرزائیوں کا اس پر اتفاق ثابت ہو گیا کہ کفر و ارتداد کے لیے صرف ایک بھی ضروری دین کا انکار کافی ہے للہ الحمد ۔ میان من واصلح بختار۔
اب مرزا قادیانی اور مرزائی تو علمائے دیوبند کی بات مان گئے اب مان نہ مان میں تیرا مہمان جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مسلمان کہنے کے لیے اپنا ایمان بھی کھونے کے لیے تیار ہیں وہ کہاں کے رہے؟ نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔ گھر کے نہ گھاٹ کے کھیت کے نہ ہاٹ کے۔ شاید پیغامی یہ کہیں کہ یہ الزام مرزا قادیانی اور قدنیوں پر ہے نہ ہم پر کیونکہ ہم تو نہ مرزا قادیانی کے مکفروں کی تکفیر کرتے ہیں نہ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں بلکہ خود جو ہماری تکفیر کرتے ہیں ان کو بھی کافر نہیں کہتے۔ تو اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ اگر پیغامی ایسا کہیں گے تو گو ان کا کھلا نفاق ہوگا مگر یہ ضرور ثابت ہو جائے گا کہ کافر اور مرتد کی تعریف میں پیغامی ہمارے ساتھ نہ ہوں مگر ان کا مجدد محدث مسیح موعود ہمارے ساتھ ہے۔ پھر پیغامیوں کے اتفاق نہ کرنے سے ان کے مذہب کے مطابق بھی ان ہی کا بطلان ثابت ہوگا اور انہوں نے جو ایجاد بندہ مرتد کی تعریف میں قیدیں زائد کی ہیں وہ سرتاپا مرزا قادیانی کی تعریف سے پیغامیوں کا ارتداد و انحراف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر فقط اسی قدر ہوتا تو ممکن تھا کہ جان بچانے اور عزت و آبرو قائم رکھنے کے لیے جیسے مرزا محمود کو چھوڑا ہے مرزا قادیانی کو بھی چھوڑ دیتے امیر تو بن ہی گئے ہیں مگر قیامت تو یہ ہے کہ؎
خواجہ کمال الدین مرزائی کب چھوٹ سکتے ہیں ورنہ ابھی تقسیم امارت اور بٹوارہ کا مقدمہ پیش ہو جائے گا اور شاید پیغامیوں میں ولی عہد وہی ہوں۔
٥٦
خواجہ کمال الدین مرزائی کے نزدیک دوحصہ
مرزائی تو التزاماً کافر اور ایک حصہ لزوماً
خواجہ کمال اپنے رسالہ مسماۃ ”اسلام میں کوئی فرقہ نہیں“ کو اس مضمون پر ختم کرتے ہیں کہ بہائی اور مرزا محمود اور ان کے فدائی سب اسلام سے خارج ہیں اب مسٹر محمد علی لاہوری فرمائیں کہ خواجہ صاحب نے جو تمام قادیانیوں کو اسلام سے خارج کہا ہے یہ آپ کے نزدیک صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح ہے تو پہلے قول کے خلاف ہے اور آپ نے جو مرزا محمود قادیانی اور ان کے متبعین کو مسلمان کہا ہے اس کے بھی خلاف ہی ہے اس تعارض اور نفاق کو دور کیا جائے اور اگر خواجہ صاحب کی رائے سے اختلاف ہے تو پھر خواجہ صاحب سے اتفاق کے کیا معنی؟
توضیح سوال اور پیغامیوں کا نفاق طشت از بام
محمد علی لاہوری کے نزدیک مسلمان کو کافر کہنے والا حقیقتاً کافر ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو مرزا قادیانی نے اپنے منکرین کی جو حقیقی تکفیر کی ہے اور اپنے منکر اور مکفر کو ویسا ہی کافر کہا ہے جیسے جناب رسول مقبول ﷺ کے انکار کرنے سے کافر ہوتا ہے تو مرزا قادیانی کا یہ مسلک غلط ہوا اور چونکہ مسلمان کو کافر کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس وجہ سے بمقتضائے الہام مرزا قادیانی ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی (تذکرہ ص ٣٢٨) یہ تکفیر کسی الہام اور وحی ہی کی بناء پر ہوگی جو مرزا قادیانی کے نزدیک قطعی اور یقینی اور دخلِ شیطانی سے بالکل محفوظ اور اس پر ایمان لانا ایسا ہی ضروری جیسا کہ توریت، انجیل، قرآن پر ایمان لانا ضروری اور اس میں ذرا بھی شک کیا جائے تو فوراً انسان کافر ہو جائے۔ (”میں جانتا تھا کہ مسلمانوں سے ملاعنہ جائز نہیں مگر اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمانوں کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پاکر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے مکفروں کی تکفیر کرتے تھے اور یہ ان کا اجتہاد نہ تھا بلکہ وحی یا الہام تھا۔ اب مسٹر محمد علی لاہوری مرزا قادیانی کی اس وحی کے مطابق بھی کافر ہوئے کہ مرزا قادیانی جن کو بحکم خدا کافر کہتے ہیں یہ انہیں مسلمان بتاتے ہیں افسوس کہ پیغامی اس نفاق کی وجہ سے نہ مسلمان رہے نہ مرزائی۔ ہاں
٥٧
اگر مرزائیت نفاق ہی کا نام ہے تو اعلیٰ درجہ کے مرزائی ہیں لیکن تکفیر اہل قبلہ کے عدم جواز میں مرزا قادیانی کی اس وحی میں جو تعارض ہے اس کا اٹھانا مسٹر محمد علی کے ذمہ پھر باقی رہا۔) اور اگر یہ تکفیر بمقتضائے حدیث ہے تو چونکہ عمل کرنے والا آپ کے نزدیک مسیح موعود اور حکم ہے جس کو خدا کی جانب سے حدیث کے رد اور قبول کرنے کا اختیار حاصل ہے تو یہ حدیث بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہوگی پھر یہ کوئی پیشینگوئی بھی نہیں کہ جس کے سمجھنے میں مرزا قادیانی غلطی کر سکتے اور پھر اپنے مرنے تک اس حکم پر جمے رہے۔ اور چونکہ مجدد تھے اور مذہب اور قرآن کی غلطیاں ہی نکالنے کے لیے تشریف لائے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خود اتنی بڑی غلطی کریں اور پھر مرنے تک اس پر قائم رہیں ورنہ پھر ان کی وحی اور کل تحقیقات من الرحمن نہ ہوگی بلکہ ان کو من الشیطان کہا جائے گا اور مرزا قادیانی کی امتیازی شان خاک ہی میں نہیں جہنم کی آگ میں مل جائے گی۔ جس صورت میں مرزا قادیانی کا یہ حکم تکفیر آپ کے نزدیک غلط ہے تو مرزا قادیانی نہ مجدد ہو سکتے ہیں نہ مسیح، اس صورت میں مرزا قادیانی اور مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے جس کو آپ نے بہت بڑی قیمت (یعنی ایمان و اسلام) دے کر خریدا ہے اس اقالہ (فسخ بیع) پر غالباً آپ ہرگز راضی نہ ہوں گے لیکن مرزا قادیانی اور مرزائیت کو حق کہنا اور تکفیر مسلم سے مسلمان کا کافر نہ ہونا ان دونوں کا جمع ہونا محال ہے یا تو آپ کوئی جمع کی صورت بیان فرمائیں یا مرزا قادیانی اور مرزائیت کو سلام کریں اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنے سے انسان خود حقیقتاً کافر ہو جاتا ہے اور آپ مرزا قادیانی اور مرزائی اور مرزا محمود اور ان کے فدائی اور ان کے ساتھ بہائی و بابی اور خواجہ کمال الدین مرزائی مرزا قادیانی کے شیدائی اور تمام مسلمان کلمہ گو اور اہل قبلہ ان سب کو مسلمان ہی جانتے ہیں اور ان کل اہل قبلہ کی تکفیر آپ کے نزدیک ناجائز ہے حالانکہ یہ کل آپ کے قاعدہ مذکور کے مطابق (کہ مسلمان کے کافر کہنے سے انسان خود کافر ہو جاتا ہے) ایک دوسرے کی تکفیر کر کے کافر ہیں تو آپ ان کروڑوں کافروں کو مسلمان کہہ کر کروڑوں بار خود کافر ہوئے۔ جب مسلمان کو کافر کہہ کر انسان کافر ہوگا تو کافر کو مسلمان کہہ کر کافر کیوں نہ ہوگا؟ اب اس دلیل کی تشریح سنئے کہ مرزا قادیانی تو ہم مسلمانوں کو (جو آپ کے نزدیک بھی مسلمان ہیں) کافر کہہ کر کافر ہوئے اور مرزا محمود اور ان کی جماعت بھی اسی وجہ سے کافر ہوئی کہ اہل قبلہ کی تکفیر کرتی ہے اور خواجہ کمال الدین بہائیوں اور مرزا محمود اور ان کے فدائیوں کو کافر کہہ کر کافر ہوئے۔ اور تمام مسلمان ٥١
مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کافر کہہ کر کافر ہوئے۔ بظاہر اب دنیا میں ایک آپ ہی مسلمان رہے کہ کسی کو کافر نہیں کہتے مگر افسوس ہے کہ آپ کافر ہی نہیں بلکہ ڈبل کافر ہوئے اس لیے کہ جب مسلمان کو کافر کہہ کر انسان کافر ہو جاتا ہے تو کافروں کو مسلمان کہہ کر کیونکر کافر نہ ہوگا؟ غرض آپ کے نزدیک مسلمان کو کافر کہنے سے کافر کہنے والا چونکہ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہے خود کافر نہیں ہوتا تب تو مرزا قادیانی اہل قبلہ کی تکفیر کر کے بحکم سباب المسلم فسوق (بخاری ج ١ ص ١٢ باب خوف المؤمن ان يحبط عمله وهو لايشعر) فاسق اور ڈبل فاجر ہوئے اور چونکہ اس غلط اعتقاد اور غلط حکم پر مرتے وقت تک جمے رہے اور اسی کی تبلیغ کرتے رہے جو شان مجددیت و محدثیت کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے نہ وہ مجدد ہو سکتے ہیں نہ محدث، نہ مہدی موعود ہو سکتے ہیں نہ مسیح موعود، تو اس صورت میں مرزا قادیانی اور مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے۔
اور اگر مسلمان کی تکفیر کر کے کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی آپ کا اعتقاد ہے کہ ہر کلمہ گو اور قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والا مسلمان ہے اور اس کی تکفیر جائز نہیں اگرچہ وہ کچھ ہی کہے اور کرے جب تک کہ وہ اپنے کو مسلمان کہے مسلمان ہی ہے۔ تو اب ان دو متضاد قولوں کی بناء پر تمام روئے زمین کے مسلمان ایک ہی وقت میں بوجہ اہل قبلہ ہونے کے حقیقتاً مسلمان بھی ہوئے اور بوجہ تکفیر اہل قبلہ کے حقیقتاً کافر بھی ہوئے اور آپ خود بھی ان پیغامی کفار کو (جو کہ آپ کے قول کے مطابق تمام مسلمانوں اور اہل قبلہ کی تکفیر کر کے خود کافر ہو چکے ہیں) مسلمان کہہ کر کافر ہوئے تو ایسی صورت میں ایک تو اجتماع ضدین ہوا اس کا رفع ضرور ہے۔ ایک ہی وقت میں حقیقتاً مسلمان کافر کیسے ہو سکتا ہے اور دوسرے تمام روئے زمین کے مسلمان اور آپ خود حقیقتاً کافر ہوئے۔ آپ تو کافر ہوئے ہی تھے مگر مرزا قادیانی بھی کافر ہو گئے اس صورت میں پہلی صورت کی طرح مرزا قادیانی اور مرزائیت پھر ہاتھ سے جاتی ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ مسٹر محمد علی اس معمے کو کس طرح حل فرماتے ہیں اور مرزائیت کو قبر میں جانے سے کیسے بچاتے ہیں؟
منظرِ اوّل اور مرزائیت کی اصلی و حقیقی صورت
ظہیر الدین اروپی مرزائی کی نسبت یہ کہے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ وہ مرزائیوں میں منافق نہیں اس نے مرزائیت کو اصلی صورت میں اور تمام منافقانہ لباس سے مجرد کر کے ظاہر کیا ہے وہ کہتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت مستقلہ حقیقتاً تشریعیہ کا دعویٰ
٥٩
ہے۔ مرزا قادیانی مستقل نبی صاحب کتاب ہیں اور صاحب کتاب بھی ایسے کہ جن کی کتاب بعض احکام قرآن مجید کی ناسخ بھی ہے مرزا قادیانی کا قبلہ بمقتضائے الہام فاتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (ابراہیم سے خود مرزا قادیانی مراد ہیں) قادیان ہے۔ مرزا قادیانی کا کلمہ علیحدہ ”لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ“ مرزا قادیانی کے بعد نجات کے لیے قرآن مجید پر ایمان لانا اور عمل کرنا ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا اقرار کرنا کافی نہیں جب تک کہ مرزا قادیانی کی کتاب اور نبوت پر ایمان نہ لائے وغیرہ وغیرہ۔
اس کی تفصیل اگر مطلوب ہے تو رسالہ ”اشد العذاب“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (احتساب قادیانیت جلد ہٰذا میں شامل اشاعت ہے فالحمد للہ مرتب) ظہیر الدین اروپی ٹھیک ٹھیک مرزائیت خالصہ پر بدون کسی قسم کے نفاق کے قائم رہتے ہوئے ہر بات میں مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ مسلمانوں کے رسول سے ان کا رسول علیحدہ ہے۔ اسی طرح ان کی کتاب علیحدہ۔ قبلہ علیحدہ احکام علیحدہ ہیں۔ مرزائیت کا اصلی مرقع اور حقیقی رنگ تو یہاں ہے۔
مرزائیت کا منظر دوم اور نفاق کا پہلا پردہ
اب مرزائیت کا منافقانہ پہلو قادیان سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا محمود نے جب دیکھا کہ کثرت سے مسلمان ابھی تک ایسے جاہل اور بددین نہیں ہیں کہ ایسے صریح کفریات کو تسلیم کرلیں تو ظہیر الدین اروپی کے جملہ عقائد کا انکار کر کے مرزا قادیانی کے دعوے کو صرف نبوت شرعیہ ہی پر منحصر کر کے اس کا اقرار کیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی مستقل صاحب شریعت اور صاحب کتاب نہیں آسکتا اور جناب رسول اللہﷺ خاتم النبیین اسی معنی سے ہیں ورنہ آپؐ کے فیض سے مستفیض ہو کر حقیقی نبی مرزا قادیانی کی طرح بہت آسکتے ہیں اور آپؐ کی عظمت شان اسی میں ہے کہ ایسے انبیاء امت میں ہوں ورنہ آپؐ کا وجود عالم کے لیے رحمت نہ ہوا بلکہ معاذ اللہ زحمت۔ اور چونکہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہیں اس وجہ سے جو شخص بھی آپ کو نبی نہ مانے خواہ مرزا کی نبوت کا منکر ہو یا نبوت میں متردد ہو یا محض سکوت ہی کرے ہر صورت میں کافر ہے۔ نہ اس کے پیچھے نماز درست ہے نہ اس کے جنازہ کی نماز صحیح نہ اس سے نکاح بیاہ جائز وغیرہ وغیرہ۔ جس کی قدرے تفصیل رسالہ (اشد العذاب) مذکور میں لکھی جاچکی ہے۔
٦٠
منظر سوم اور مرزائیت کامل نفاق کے لباس میں!
اب مرزائیت کی تیسری تصویر پر تزویر سرتا پا نفاق کی گہری پالیسی کا لباس پہنے ہوئے جو پیغامی پریس میں چھپ کر دلفریب ناز و ادا کے ساتھ عالم کے سامنے پیش کی جاتی ہے جس کے یورپین انداز عشوہ و ناز بے نقاب و بانقاب چہرہ نے بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نیم بسمل بنادیا ہے۔ اس غارتگر ایمان بڑھیا کو غازۂ شباب لگا کر مسٹر محمد علی نے نوجوانوں کے سامنے پیش کیا۔ تاکہ وہ ظاہری بناؤ سنگھار پر فریفتہ ہو کر متاع ایمان کو اس پر قربان کرنے میں کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں۔
پیغامی امیر فرماتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ بایں معنی خاتم النبیین ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی جدید اور قدیم حقیقی نبی نہیں آسکتا۔ ورنہ ختم نبوت باقی نہیں رہ سکتی مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا وہ مجازی ظلی بروزی نبی تھے ان کے انکار کرنے سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی مجدد تھے محدث تھے مسیح موعود تھے وغیرہ وغیرہ۔
ناظرین کرام! اس جماعت مرزائیہ کے دجل اور نفاق کو ملاحظہ فرمائیں۔ ظہیر الدین کے عقیدہ کے مطابق مرزا محمود اور اس کی ساری جماعت اور کل پیغامی لاہوری کافر ہونے چاہئیں اور مرزا محمود کے مذہب کے لحاظ سے اروپی اور پیغامی دونوں گروہ جہنم میں جانے چاہئیں۔ اور پیغامیوں کے نزدیک وہ دونوں گروہ کافر ہوئے مگر عجیب منطق ہے کہ تینوں گروہ احمدی اور ایک دوسرے کو اپنا بھائی اور مسلمان کہتے ہیں۔ یہ اگر جنگ زرگری اور نفاق نہیں تو اور کیا ہے؟ تین خندقیں اور مورچے قائم کیے ہیں کہ کسی نہ کسی میں تو مسلمانوں کا شکار ہوگا ورنہ اس اختلاف عقائد کے ساتھ دنیا بھر کی تو تکفیر ہو اور آپس میں تکفیر نہ ہو اس کا مطلب کیا ہے؟
کفر و اسلام کے وجود اور عدم میں فرق
اس تفصیل کے بعد اس قدر عرض کرنا اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے تحقق کے لیے جمیع ضروریات دین کا تحقق ضروری ہے اور کفر و ارتداد کے تحقق کے لیے جمیع کفریات کا تحقق ضروری نہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
ناظرین کرام! اس مضمون کو توجہ اور غور سے ملاحظہ فرمائیں ہمیں افسوس اور حسرت ہے کہ کفر اور اسلام جو مسلمانوں کے لیے ایک بدیہی مسئلہ تھا آج اس میں
٦١
رسائل لکھنے کی نوبت آرہی ہے مگر پھر بھی تعلیم یافتہ طبقہ آزادی اور حریت اور مغربی تہذیب کا اسقدر دلدادہ ہوگیا ہے کہ وہ فرنیچر اور تمام اسباب زندگی کی طرح اسلام و کفر کے متعلق بھی چاہتا ہے کہ وہ بھی لندن اور برلن ہی کا بنا ہوا ہو۔ انہیں معلوم رہنا چاہیے کہ ایمان اور اسلام کا کارخانہ عرب کے ریگستان میں کچھ دنوں مکہ معظمہ رہ کر مدینہ طیبہ منتقل ہوگیا۔ اور وہیں کے لیے رجسٹرڈ ہو کر قیامت تک کے لیے خاتم النبیین کو تفویض ہوگیا اب کسی دوسری جگہ پر اسلام کو تلاش کرنا ایسا ہے جیسے آسمان کو زمین پر، یا زمین کو آسمان پر، یا لندن کو ہندوستان میں یا دہلی کو انگلستان میں تلاش کیا جائے۔ یورپ کے پرفضا قدرتی اور مصنوعی مناظر کو تو بہت دیکھ چکے اگر اصلی جوہر ایمان اور خدائی درخشاں لعل کی طلب ہے جس کی ادنیٰ قیمت جنت اور کونین ہے اور اعلیٰ رضائے مولیٰ۔ تو چلو ہمارے ساتھ جبل احد اور غارِ حرا اور جبل ابوقبیس۔ مکہ معظمہ کی گلیاں اور مدینہ طیبہ کے کوچوں کی خاک کو کحل البصر بناؤ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایمان کہاں ہے اور کیا ہے؟ اور کفر کسے کہتے ہیں اور آج کل اس کی منڈی کہاں ہے؟
اسلام وجودی شے ہے یعنی اقرار اور اعتقاد کا نام اسلام۔ اور کفر اس اعتقاد اور اقرار کے عدم کا نام ہے۔ پس کفر حقیقتاً کوئی جدا اور مستقل چیز نہیں بلکہ ایمان اور اسلام کا نہ ہونا ہی کفر ہے اور ظاہر ہے کہ وجود معلول رفع جمیع موانع و تحقق جمیع شرائط و اسباب اور علت کے جملہ اجزاء کے وجود کو مقتضی ہے۔ لیکن معلول کا فنا اور عدم اس کو مقتضی نہیں کہ جب علت کے جمیع اجزاء ہی معدوم ہوں تب ہی معلول معدوم ہو جائے بلکہ اس کے عدم کے لیے ایک شرط یا جزو یا سبب کا مفقود ہونا یا ایک مانع کا پایا جانا کافی ہے۔ ہزار روپیہ جب ہی موجود ہوں گے کہ جب پورے ہزار پائے جائیں لیکن ہزار نہ ہونے کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ ایک روپیہ بھی پاس نہ رہے بلکہ اگر ایک روپیہ بھی کم ہو جائے گا تو ہزار باقی نہیں رہ سکتا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک اور دریاؤں پر پل اور راستہ کا ہر طرح کے اسباب ہلاکت سے مامون ہونا اور پھر طریق مطلوب پر کل مسافت کا قطع کرنا منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہوگی تو مطلوب حاصل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح سے توحید و رسالت تمام مرسلین علیہم السلام۔ تمام خدا کی کتابیں۔ قیامت‘ جنت‘ دوزخ‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ جہاد‘ ختم نبوت۔ دیگر ضروریات اسلام‘ غرض جس قدر امور کا ثبوت جناب رسول مقبول ﷺ سے جس حیثیت کے ساتھ بطریق قطع و
٦٢
یقین ثابت ہو کر حد ضرورت اور بداہت کو پہنچ گیا ہے اور جن امور کی ممانعت سرکار دو عالمﷺ سے جس حیثیت سے درجہ ضرورت کو پہنچی ہے ان تمام چیزوں کا دل سے یقین اور زبان سے کامل اقرار اس ہی کا نام اسلام اور ایمان ہے۔
اور ان اوامر و نواہی علمیہ اور عملیہ میں یعنی عقائد و اعمال اوامر اور نواہی قطعیہ یقینیہ میں سے ایک ضروری دین کا بھی انکار بتاویل یا بلا تاویل زبان سے یا دل سے یا ان کی حقانیت میں کوئی تردد کوئی شک ہی ہو جائے اس کے ساتھ دعوائے اسلام ہو یا نہ ہو بہر صورت کفر ہے۔ اور اگر اسلام کے بعد العیاذ باللہ یہ حالت پیدا ہو تو اسی کا نام ارتداد ہے جس کی تفصیل پہلے مذکور ہو چکی۔ مزید توضیح کے لیے ایک مثال اور عرض کیے دیتا ہوں کہ جس طرح سے انسان کے وجود کے لیے جمیع اعضائے رئیسہ دل‘ دماغ‘ جگر وغیرہ کی ضرورت ہے کہ جن کے فنا کے بعد انسان ایک سیکنڈ کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور بدن کے ساتھ روح کا تعلق بدون ان کے محال ہے۔ پس انسان کے موجود ہونے کے لیے ان اعضاء کا وجود بتمامہا ضروری ٹھہرا لیکن فنا کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان جب ہی فنا ہو کہ دل‘ دماغ‘ جگر سب ہی جاتے رہیں بلکہ صرف ایک عضو کا جاتے رہنا انسان کے فنا ہو جانے کے لیے کافی ہے اسی طرح سے ایمانی حیات کے لیے ایمانی روح کا تعلق جو ایک نور ہے پیکر اسلام کے ساتھ اسی وقت تک باقی رہتا ہے کہ جب تک اس کے اعضائے رئیسہ یعنی ضروریات دین موجود ہوں لیکن ان اعضائے رئیسہ ضروریات دین میں سے ایک بھی اگر فنا ہو جائے تو اس نور ربانی روح ایمانی کا تعلق پیکر اسلام سے باقی نہیں رہتا اور یہ ساری تصویر باوجود تمام اجزاء کے موجود ہونے کے بے جان و مردہ اور معدوم خیال کی جائے گی۔ کیا جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعضاء بھی فنا ہو جاتے ہیں؟ کیا اس میں تقریباً کل شعائر انسانی اور حدود حیوانی موجود نہیں ہوتے؟ مگر پھر بھی نہ اس کو انسان کہا جاتا ہے نہ حیوان بلکہ وہ ایک جماد لایعقل شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح سے اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں میں اور ان کے بھائی‘ باب۔ اور بہاء اللہ اور بابی اور بہائی و دیگر مرتدین عن الاسلام میں تقریباً کل ہی شعائر اللہ اور حدود اللہ پائے جائیں اور بجز ایک دو ضروریات دین کے کل ضروریات دین بھی متحقق ہوں تو پھر بھی ان کو اسلام کی مردہ تصویر اور جسم بیجان کہا جائے گا اس سے ثابت ہو گیا کہ کفر کے لیے سب کفریات کا تحقق ضروری نہیں بلکہ ضروریات اسلام میں سے کسی ایک کا مفقود ہونا بھی انسان کو کافر اور مرتد بنا دیتا ہے مثال مذکور کی تائید کے لیے آیات
ذیل کو بغور ملاحظہ فرمایا جائے۔
مَاكُنْتَ تَدْرِيْ مَاالْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِه مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ o صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَه مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ اَلَا اِلَی اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ o (الشوریٰ: ٥٣/٥٢) اے محمدﷺ آپ کو کتاب اور ایمان کی کیا خبر تھی لیکن ایمان ایک نور ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو ہم چاہتے ہیں اس کے ذریعہ سے ہدایت کرتے ہیں۔ یعنی جب نور ایمان بندہ کے دل میں آتا ہے تو عقائد حقہ اور ضروریات دین اور امور شرعیہ کے متعلق مسلمان کو ایسا شرح صدر ہوتا ہے کہ اگر اس کو کاٹ کر قیمہ بنادیا جائے یا پانی میں غرق اور آگ میں جلا کر خاک کر دیا جائے تو یہ سب کچھ ممکن مگر ظلمت کفر کی مجال نہیں کہ اس نورِ ایمان اور نورِ خداوندی کے پاس آ کر پھٹک سکے اگر بلاؤں کے پہاڑ اس پر گرا دیئے جائیں اور مصیبتوں کے سمندر میں اس کو غرق کر دیا جائے تب بھی وہ اسلام کے ایک عقیدہ سے نہیں پھر سکتا اور یہی کہے گا کہ ؎
خدا کے رستہ میں اگر اس کی جان بھی جائے گی تو وہ موت کو ہزار زندگیوں سے خرید لے گا اور اس کو وہ راہِ حق کی موت زندگی اور زندگی موت نظر آئے گی ؎
وہ آج اپنی زندگی کے اصلی مقصد پر پہنچ کر اور اپنے محبوب حقیقی کے دربار میں باریاب ہو کر اس حقیر ہدیہ کو پیش کر کے یہ عرض کرے گا کہ ؎
وَكَذٰلِكَ الْاِيْمَانُ حِيْنَ تُخَالِطُ بَشَاشَةُ الْقُلُوْبِ لَا يَسْخَطُ اَحَدٌ‘ ایمان جب دل میں رچ جاتا ہے تو نکلنا ممکن نہیں (ملاحظہ ہو بخاری ج١ ص ١٣ کتاب الایمان) اور لَوَدِدْتُ اَنِّيْ اُقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ اُحْيٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْيٰی ثُمَّ اُقْتَلُ (بخاری ج١ ص ١٠ باب الجہاد من الایمان)
حضرت نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ آرزو ہے کہ اللہ کے راستہ میں قربان کرنے کے لیے بار بار جان ملے تا کہ بار بار اسے اللہ کے ہی راستہ میں قربان کروں (اسی کی طرف اشارہ ہے۔
غرض یہ ایمانی نور جب ہی تک اسلامی جسم کو زندہ اور منور رکھتا ہے جب تک
٦٤
کہ جملہ ضروریات دین مسلمان میں پائے جائیں اور اگر ایک ضروری دین بھی جو بمنزلہ عضو رئیس کے ہے مسلمان میں سے جاتا رہے تو اصل ایمان اور روح ایمان بھی اسی وقت مسلمان سے رخصت ہو کر اسے مردہ مسلمان اور زندہ کافر بنا دیتی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ضروریات دین میں سے کوئی چیز بھی فنا ہو جائے اور پھر بھی ایمان باقی رہے ۔
پھر اگر تمام حدود اللہ اور شعائر اللہ انسان میں موجود ہوں۔ نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ سب ہی کچھ ادا بھی کرے تو بھی اسلام کی ایک مردہ صورت ہوگی۔ اسلام کا اس میں نام بھی باقی نہ ہوگا اس حالت موجودہ میں اگرچہ وہ کتنی ہی حسرت اور افسوس کرتے کرتے مر بھی جائے مگر اسلام تک نہیں پہنچ سکتا اور یہی کہتے کہتے مر جائے گا کہ ۔
ایمان کھو کر ایمان کی ہوس لا حاصل اور فضول ہے۔
آیت مذکورہ میں منکران حدیث نبوی کی کمر توڑ تردید
مسلمانو! مرزائیوں اور نیچریوں اور اہل قرآن یعنی چکڑالویوں کے دھوکہ میں مت آؤ حدیث پر عمل کرنا قرآن کی طرح سے ضروریات دین میں سے ہے۔ سمجھو دیکھو اللہ تعالیٰ اسی آیت میں فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ بیشک تم یقیناً صراط مستقیم کی ہدایت کرتے ہو۔ اس خدا کا راستہ جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ چونکہ ابتدائے آیت میں یہ فرمایا تھا کہ تم کو کتاب اور ایمان کی کچھ خبر نہ تھی۔ ایمان پر اطلاع فرمانے کا تو یہ طریقہ فرمایا کہ ایمان نور ہے۔ جب وہ دل میں آتا ہے تو سینہ امور ایمانیہ کے لیے خود منشرح ہو جاتا ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب جب نور ایمانی قلب میں آیا اس نے خود ہی بتا دیا کہ ایمان کس چیز کا نام ہے یہ شبہہ اور باقی تھا کہ ایک امی جو اب تک حرف بھی نہ جانے وہ علام الغیوب کی کتاب کو کس طرح سمجھے اور دوسروں کو کیسے سمجھائے؟ اس شبہہ کا جواب ان اور لام تاکید کے ساتھ مؤکد کر کے یہ دیا کہ تم بیشک یقیناً صراط مستقیم ہی کی طرف ہدایت کرتے ہو جو مالک السموت والارض کا راستہ ہے۔
اور تمام امور کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے جیسے ہم نے کتاب کو نازل فرمایا ویسے ہی ہم نے اس کتاب کی تم کو تعلیم بھی دی اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ سے یہ بات روشن ہوگئی کہ قرآن کی تعلیم جناب رسول مقبول ﷺ کو خدائے علیم و خبیر نے بلا واسطہ دی
٦٥
ہے اور قرآن کی صحیح فہم اور اس کا صحیح طور سے بیان کرانا اس کی بھی ذمہ داری خود ہی لی ہے چنانچہ ارشاد ہے: لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ فَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ (القیمۃ : ١٦ تا ١٩) یعنی آپؐ قرآن کو خاموشی سے سنتے اس کا آپ کے سینہ مبارک میں جمع کرنا اور پھر اس کو صحیح بیان کرانا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر آپ کا امین اور مامون اور محفوظ ہونا اور آپ کا صراطِ مستقیم کی طرف ہادی ہونا یہ تمام امور اسی اہتمام کے لیے ہیں تا کہ مرتد مرزائی اور اہل قرآن اور وہ لوگ جو حدیث کو غیر واجب العمل کہتے یا سمجھتے ہیں ان کے کفر و ضلال پر ان کو متنبہ و آگاہ کیا جائے۔
اہل قرآن اور عنایت اللہ خاں مشرقی
(یہ ایک نئے بزرگ ہیں جو صوبہ سرحد میں نیچریت وغیرہ سے ایک معجون مرکب کی صورت میں کچھ عرصہ ظاہر ہو گئے اور آج کل اپنے ساتھ چند ملحدوں کو ملا کر شریعت اسلام پر مرزا قادیانی کی طرح اپنے خاص انداز میں حملہ آور ہونے کی کوشش میں ہیں مگر اب تک باستثناء چند مسلم نما ملحدوں اور بعض ہندوؤں کے ان کی دال کہیں نہیں گلی) یورپ کے عیسائی جہاں طرح طرح کی مشینیں اور آلات ایجاد کرتے ہیں اسی طرح سے اسلام کی تباہی اور بربادی میں بھی رات دن لگے ہوئے اور نئی نئی تدبیریں سوچتے ہیں۔ زن، زر، زمین ان کے پاس بے شمار ہیں۔ بہت سے نوجوان اور طالب جاہ وعزت وشان اس کے شکار ہوئے اور جو اس سے بچے ان کو تعلیمی جال میں شکار کیا۔ اور تعلیم بھی ایسے انداز کی دی کہ جس میں اسلام کا استہزاء اور تمسخر اڑایا جائے۔
غرض یہ ان کے مشاہرہ دار اور بے مشاہرہ ایجنٹ تخریب اسلام میں رات دن لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض بغیر ان کی تحریک اور اشارہ کے اپنے مقتضائے طبعی سے مجبور ہوں ؎
اندرونی دشمن کس ترتیب سے اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں؟
اوّل اوّل اس گمراہ فرقہ نے فقہ کو مشرکانہ خیال بتا کر لوگوں کو یہ سمجھایا کہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی رائے دین میں قابل لحاظ نہیں جب اس کا بہت شور و غل ہوا اور ہر جگہ اس خیال کے کچھ لوگ پیدا ہو گئے تب ۔ بقدم فسق پیشتر بہتر اس دوسرے خیال کو شائع کیا گیا کہ قرآن کے ہوتے ہوئے حدیث (معاذ
٦٦
اللہ) فضول اور بیکار ہے۔ اس خیال کا بھی بہت چرچا ہوا اور اس سے تمام دنیا میں نیچری فرقہ اور آزاد خیال لوگ پیدا ہوگئے جب اس پودہ کی دنیاوی حیثیت سے بھی بہت آبپاشی ہوئی اور دنیاوی مراتب و مناصب اور بڑے بڑے عہدے انہیں کو ملے تو ان سے ایک مرزائیت کی شاخ پھوٹی۔ مرزا قادیانی نے اوّل اوّل حمایت اسلام کا دعویٰ کر کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور وہ اصول قائم کیے جن کو آج مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کی باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد اسلام ہی باقی نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائی تدبیر اور نفاق اور مغربی پالیسی سے کام لیتے ہیں کہ سمجھنے والے سمجھ جائیں عوام بیچاروں کو پتہ بھی نہ لگے۔ قتل مرتد اور رجم زانی کا اس بنا پر انکار کرتے ہیں کہ قرآن میں صراحتاً ذکر نہیں اور غرض یہ ہے کہ حدیث رسول اللہﷺ کو بیکار کر کے اگلا قدم تمام احکام سے انکار ہو۔ چونکہ مرزائیت نیچریت کا شعبہ ہے اس وجہ سے نیچری اور انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ اس کا زیادہ شکار ہوا اور یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ کالج میں مسٹر محمد علی اور خواجہ کمال الدین کا بڑے اہتمام سے بیان ہوا اور یہی وجہ ہے کہ محمد علی شنی آخر قتل مرتد میں مرزائیوں کے ساتھ ہوئے اور ان کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو آخر مجتہد تو ان کو بھی بننا ہے؟
غیر مقلدیت نے جب ترقی کی تو جس دلیل سے لامذہبوں نے فقہ کو شرک کہا تھا اہل قرآن نے حدیث رسول اللہﷺ کے ساتھ وہی بے ادبی اور گستاخی کر کے اپنے ایمان کو تباہ اور برباد کیا۔ اور یہ کہا کہ قرآن کے ہوتے ہوئے حدیث پر عمل کرنا مشرکانہ خیال ہے اور جتنے کفار نے انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ کیا ہے وہ سب اہل حدیث ہی تھے۔ فرعون بھی موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں یوسف علیہ السلام کی حدیث ہی پیش کیا کرتا تھا اسی نیچریت اور لامذہبی اور غیر مقلدیت نے ترقی کی تو سب کے مایہ ناز عنایت اللہ خاں مشرقی پیدا ہوئے کہ انہوں نے صاف لفظوں میں تو قرآن شریف کا انکار نہیں کیا مگر یہ دعویٰ ضرور کیا کہ قرآن کو آج تک بجز ان کے کوئی نہیں سمجھا اور معنی وہ بیان کیے کہ کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کر دکھایا۔ یہ تعلیم یافتہ طبقہ مغربی آزادی کا اسقدر دلدادہ ہوگیا ہے کہ سنا جاتا ہے کہ عنایت اللہ خاں مشرقی کا تذکرہ بھی اس طبقہ میں استحسان کی نظر سے دیکھا جاتا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون۔
یہ میں نہیں کہتا کہ کل انگریزی تعلیم یافتہ ایسے ہی بدمذہب اور بے دین ہیں بہت سے افراد نہایت سچے اور پکے اور متقی و پرہیزگار دیندار ہیں کہ صدہا نام کے علمائے
٦٧
زمانہ بھی ان پر نثار اور قربان کر دینے کے قابل ہیں لیکن یہ کہے بغیر بھی نہیں رہا جاتا۔
افسوس مسلمانوں کی زمین استعداد ایسی شور ہو گئی کہ دینی اور دنیاوی دونوں قسم کی تخم ریزی کے قابل نہ رہی۔ غیر مسلم قوموں نے انگریزی پڑھ کر اس قدر دنیاوی ترقی کی کہ تمام رئیسوں کی جائیدادوں کے وہی مالک ہو گئے اور مذہبی ترقی یہ کی کہ وید جیسی کتاب اور سنسکرت جیسی مردہ زبان کو زندہ کر دیا۔ (اس کے مقابلہ میں نیچریوں اور مرزائیوں نے عربی زبان کے مٹانے کا پورا سامان کیا۔ چنانچہ جمعہ کے روز خطبہ بھی عربی میں نہیں پڑھتے ہیں تاکہ عوام کے کان بھی عربی سے اچھی طرح نا آشنا ہو جائیں اور عربی سیکھنے کی امنگ بھی ان کے قلوب میں کبھی پیدا نہ ہو جائے۔ واہ رے اسلام کے فرزندو! ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔) مگر مسلمانوں نے انگریزی پڑھ کر کثرت سے اپنی پہلی جائیدادیں بھی فروخت کردیں اور مذہب کی یہ حالت ہے کہ قرآن جیسی کتاب اور اسلام جیسا مذہب ان کے ہاتھوں سے جا رہا ہے۔ خدا مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے یہ سب کچھ بلائیں آزادی نیچریت لامذہبیت یورپ کی تقلید کا نتیجہ بد ہیں۔ دیکھیں کس قدر اس کی شاخیں اور بھی پیدا ہوتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جس نے اتباع سلف سے منہ موڑا اور ان کے پاک دامن کو چھوڑا اس کا نتیجہ ضرور یہی ہوگا کہ بجز دہریت اور نیچریت کے ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا۔ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ۔
ہم پھر اب اپنے بیان سابق کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آیات ذیل کو پیش کرتے ہیں۔
اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ فَوَيْلٌ لِّلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ اُولٰئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (الزمر:٢٢) جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا اس کے پاس ایک نور ہے خدا کی طرف سے جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو گئے یعنی ان کے قلوب میں اللہ کے ذکر کی گنجائش نہیں خدا کے ذکر کے لیے وہ نرم نہیں ہوتے ان کے لیے ہلاکی اور خرابی ہے۔
اس سے بھی وہی بات معلوم ہوئی کہ ایمان خدا کی طرف سے ایک نور ہے کہ جب وہ آتا ہے تو امور اسلامیہ اور احکام قرآن و احادیث کے لیے اس کو شرح صدر ہو جاتا ہے اور ایمان و ایمانیات اس کے لیے ایک فطری امر بن جاتے ہیں لیکن جب ایمانیات کے لیے شرح صدر نہ ہو اور کسی ضروری دین کا بھی انکار ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ
٦٨
وہ نور جو حقیقتاً ایمان تھا وہ اس میں نہیں رہا۔ اگرچہ اس میں ایمانیات‘ حدود اللہ اور شعائر اللہ نیز بقیہ ضروریات دین وغیرہ بھی باقی ہوں۔ کیونکہ اسلام مجموعہ ضروریات دین کا نام تھا اور جب مجموعہ میں سے ایک جز کا بھی شرح صدر نہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہے کہ اس شخص کو شرح صدر للاسلام نہیں اور جس شخص کو شرح صدر للاسلام نہ ہو سمجھ لو کہ اس میں ایمان نہیں۔ فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ (انعام: ١٢٥) اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کی گمراہی کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینہ کو تنگ کر دیتا ہے۔ اسلام کا قبول کرنا اس کے لیے اس قدر دشوار معلوم ہوتا ہے جیسے وہ آسمان پر چڑھتا ہے جو لوگ مومن نہیں ہیں اللہ تعالیٰ اسی طرح ان پر ناپاکی وارد کرتا ہے۔
اس آیت کا بھی وہی مضمون ہے جو پہلی آیتوں سے مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اس کو شرح صدر للاسلام نصیب ہوتا ہے اور جس کو شرح صدر حاصل ہوتا ہے وہ علیٰ نور من اللہ ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا جس کی ہدایت کا ارادہ کرتا ہے اس کے قلب میں نور پیدا کرتا ہے جس سے شرح صدر للاسلام ہو جاتا ہے۔ اور جس کو گمراہ و بے ایمان کرنا چاہتا ہے اس کے دل میں اسلام کی جانب سے ایسی تنگی ہوتی ہے کہ گویا وہ آسمان پر چڑھتا ہے یعنی جیسا کہ آسمان پر چڑھنا دشوار ہے اسی طرح اس کو اسلام کی کھلی کھلی باتوں کا قبول کرنا بھی دشوار و محال معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا حال دیکھ لو کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور پھر اترنا۔ علیٰ ہٰذا القیاس سردار دو عالم رسول اللہ ﷺ کا معراج مبارک میں جسم اطہر کے ساتھ تشریف لے جانا اور تشریف لانا یہ ان کے نزدیک نقلاً ہی نہیں عقلاً بھی ممتنع ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ خدائے قدیر کی قدرت سے یہ امور خارج ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے اقرار کے مطابق اس پر دس ہزار سے زیادہ صحابہ کا اجماع تھا جس کی بنا یقین اور کشف کلی پر ہوتی ہے اور تیرہ سو برس سے سارے ہی مسلمان مرد و عورت‘ بوڑھے اور جوان‘ عالم اور نادان سب ہی کے سینے اس حکم خداوندی کے قبول کرنے کے لیے کھلے ہوئے ہیں اور نہایت بشاشت اور شرح صدر کے ساتھ اس پر ایمان ہے۔ مگر وہ علامہ زمان‘ ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ۔ سلطان قلم‘ علوم لدنیہ کا سرچشمہ ابتدائے خلق سے انتہا تک نہ ایسا کوئی عالم پیدا ہوا نہ اب ہوگا۔ (شیخی میں آ کر یہ سب صفات مرزا قادیانی نے اپنے لیے استعمال کی ہیں) یہ سب دعاوی
٦٩
ہیں مگر چونکہ قلب میں نور ایمان نہ تھا لہٰذا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے سینہ میں معراج شریف اور عروج و نزول عیسیٰ علیہ السلام کی گنجائش نہیں۔
اے خدائے قدوس تیرے غضب اور تیرے قہر سے پناہ مانگتا ہوں۔ علم و فضل تیری عنایت کے بدون ہیچ ہے تو نے سچ فرمایا کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون (انعام: ١٢٥)
قرآن شریف میں تمام احکام کے ہوتے
ہوئے حدیث و فقہ کی کیوں ضرورت ہے؟
یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن شریف میں کل دین ہے مگر ہماری سمجھ اس سے قاصر ہے ؎ وکل العلم فی القران لکن o تقاصر عنہ افہام الرجال
قرآن مجید میں تمام احادیث صحیحہ اور فقہ کے صحیح مسائل موجود ہیں مگر وہ ہم کو نظر نہیں آتے۔ خدا دیکھتا ہے اور وہ کہ جس کو خدا نے جتنا دکھلایا جیسے تخم میں پھول، پھل اور شاخیں سب ہی کچھ ہیں مگر ہماری نظر میں بجز ایک خشخاش کے دانہ کے برابر سب ہی غائب ہیں اس خشخاش کے دانہ میں سے ہزار ہا من کے شہتیر اور صدہا من پھول اور پھل خدائی قدرت ظاہر کرتی ہے اسی خدائی قدرت اور علم نے رسول اللہ ﷺ کو رحمانی صفت سے تعلیم قرآن دے کر حدیث اور فقہ کو ظاہر فرمایا ہے۔ مگر ہاں حدیث و فقہ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے جس قدر معلم اور متعلم میں فرق ہے اس وجہ سے جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں وہ قطعاً کافر ہے۔ جیسے اہل قرآن اور بعض نیچری اور مرزا قادیانی اور کل مرزائی واللہ تعالٰی۔ ھو الموفق
تیسرا سوال: الحمد للہ کہ پہلے اور دوسرے سوال کے جواب معلوم ہونے کے بعد تیسرے سوال (آیا احمدیوں نے ان جملہ شعائر اللہ یا حدود اللہ کو جو کسی شخص کے مسلمان ہونے کی علامت ہو سکتے ہیں من کل الوجوہ خیر باد کہہ دیا ہے یا ابھی تک ان میں ان شعائر اللہ یا حدود اللہ کی کوئی ایسی رمق باقی ہے جس سے وہ مسلمان کہلائے جانے کا استحقاق رکھتے ہوں؟) کا جواب بہت سہل ہو گیا۔
مرزا قادیانی اور مرزائیوں میں مسلمان کہنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہیں اس واسطے کہ اسلام ایک خالص مجموعہ کا نام ہے کہ جس کے افراد متعدد ہو ہی نہیں سکتے۔ اور وہ مجموعہ مفقود ہو تو اسلام کہاں سے آئے؟ یا یوں کہو کہ اسلام اور ایمان جان کی طرح اس
٧٠
نور الہی کا نام تھا جس کا تعلق تمام ضروریات دین کے وجود کو مقتضی ہے جس طرح دل دماغ، جگر وغیرہ میں سے ایک بھی نکال لینے سے انسان کے ساتھ جان اور حیات کا من کل الوجوہ باوجود بقیہ اعضائے رئیسہ وغیر رئیسہ موجود رہنے کے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا اور وہ شخص من کل الوجوہ مردہ ہی کہلایا جاتا ہے۔ اس میں زندگانی کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح سے اگر مرزائی صرف ایک ضروری دین کا انکار کرتے تب بھی اسلام کی رمق ان میں باقی نہ رہتی اور حیات اسلامی اور نور ایمان ان سے بالکل الگ ہو جاتا جس کے بعد وہ بالکل اسلام سے خارج شمار کیے جاتے چہ جائیکہ اسقدر ضروریات دین کا انکار کیا کہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کفر و ارتداد کا ہیضہ ہو گیا اور ہر جگہ کفریہ طاعون کی گلٹی اور زہریلے جراثیم سرایت کر کے حیات اسلامی کو بالکل فنا کر چکے۔ اب بقیہ ضروریات دین و حدود اللہ و شعائر اللہ کے موجود ہونے سے مسلمان نہیں کہلائے جا سکتے۔
مسلمان ہونے کی واحد صورت اور کافر بننے کی متعدد صورتیں
اگر انسان کے مسلمان بننے کے لیے متعدد صورتیں ہوتیں جیسے کافر اور مرتد ہونے کے لیے ہیں تو یہ ممکن تھا کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اگر ایک وجہ سے مسلمان نہ ہوتے تو دوسری وجہ سے اور دوسری وجہ سے نہیں تو تیسری وجہ سے۔ علیٰ ہذا القیاس کسی وجہ سے مسلمان کہلائے جاتے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ جب مومن اور مسلم بننے کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ بھی یہ کہ تمام ضروریات دین پر ایمان اور شرح صدر ہو تو اس مجموعہ کے موجود ہونے پر مومن و مسلم کہلائے گا اور مرزائیوں میں بدقسمتی سے یہ ہی صورت (مجموعی) نہ رہی اس لیے اب ان کو کسی وجہ سے بھی مسلمان نہیں کہہ سکتے مثلاً زید کے لیے حقیقی بھائی یا بہن ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس کے حقیقی ماں اور باپ سے کوئی لڑکا یا لڑکی ہو۔ لیکن جب زید اپنے ماں باپ کی پہلی اولاد ہو اور ماں باپ دونوں یا ایک فوراً مر جائے تو زید کے لیے اب حقیقی بھائی یا بہن کا وجود محال ہے۔ اسی طرح سے بحالت موجودہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا مسلمان ہونا محال ہے ہاں صرف ایک صورت ہے کہ اس ملعون مذہب سے توبہ کر کے سچے دل سے انہیں عقائد کا اعتقاد کریں جن کو چھوڑ رہے ہیں تو مرزائی مسلمان ہو سکتے ہیں۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز وان اللہ علی کل شیء قدیر۔
٧١
مرزائیوں کے خروج از اسلام کے مختلف پہلو
ہاں کفر اور ارتداد کی متعدد وجوہ ہوسکتی ہیں لہٰذا متعدد وجوہ کفریہ کے پائے جانے سے مرزا قادیانی اور مرزائی بہت سی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں جن کی جزئیات کا علم اور شمار ہماری قدرت سے تو باہر ہے خدا ہی علیم و خبیر ہے۔ البتہ کلیات کچھ عرض کر دیئے جائیں گے۔ مرزا قادیانی اپنے معجزات اور نشانیوں کی تعداد ایک کروڑ بیان فرماتے ہیں اور بہت ہی جانچ کی جائے تو دس لاکھ سے تو کم ہے ہی نہیں۔ خیر یہ تو مرزا قادیانی کی گپ ہی ہے لیکن میں بفضلہ تعالیٰ جس طرح سے مرزا قادیانی نے اپنے معجزات کی تعداد دس لاکھ یا ایک کروڑ ثابت کی ہے اس سے عمدہ طریقہ سے ان کی کفریات کی تعداد اسی قدر انشاء اللہ ثابت کرسکتا ہوں بشرطیکہ دونوں امیر اور کم سے کم دس ہزار مرزائی تائب ہونے کا وعدہ کریں۔
کفریات مرزائیہ کی انواع کلیہ کی تعداد حسب ذیل ہے جن کا ثابت کرنا بفضلہ تعالیٰ بندہ کے ذمہ ہے اور رسالہ ”دین مرزا کفر خالص“ (مشمولہ احتساب جلد ھٰذا) میں اس خدمت کو ایک حد تک پورا بھی کیا گیا ہے۔ جس کا ہر مسلمان کے پاس رہنا ضروری ہے تا کہ مرزائیوں کے کفریات پر پوری اطلاع رہے جس کے بعد کوئی مرزائی کسی مسلمان سے بات نہیں کرسکے گا۔
کلیات کفریات مرزا
انبیاء علیہم السلام کی توہین، بالخصوص عیسیٰ علیہ السلام کو فحش گالیاں، سرور عالم ﷺ سے مساوات کا دعویٰ اور توہین، بایں معنی انکار ختم نبوت کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت نہ پائے گا۔ دعوائے نبوت حقیقیہ۔ دعوائے نبوت تشریعیہ۔ انکار بعض قطعیات قرآنیہ (جس کے نیچے متعدد کلیات داخل ہیں) و دیگر متواترات اسلام کا انکار بتاویل یا بلا تاویل مثل معراج مبارک و نزول عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ وغیرہ۔
یہ ضروریات دین کے انکار کی انواع ہیں جن کے ماتحت بے شمار افراد ہیں۔ کیا کسی مسلمان کے نزدیک کوئی شخص انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کر کے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو فحش گالیاں دے کر اور سرور عالم ﷺ سے مساوات کا دعویٰ بلکہ آپؐ کی توہین کر کے۔ ختم نبوت کا بمعنی مذکور (یعنی آپؐ کے بعد منصب نبوت کسی کو نہیں مل سکتا) انکار کر کے (خود مدعی نبوت ہو جیسے مرزا قادیانی یا دوسرے کو حقیقی یا تشریعی نبی سمجھے۔ جیسے
٧٢
مرزا محمود اور ظہیر الدین اروپی اور ان کی جماعت ) یا دوسرے ضروریات دین کا انکار کر کے (جیسے لاہوری اور مرزا قادیانی اور تمام مرزائی ) کیسے مسلمان رہ سکتا ہے؟ اگر مرزا قادیانی اور مرزائی باوجود ان کفریات کے بھی کافر اور مرتد نہیں تو پھر دنیا میں کسی شخص کو کافر نہیں کہہ سکتے ۔
پیغامی لاہوریوں کا کفر و ارتداد
بعض لوگوں کو پیغامی لاہوریوں کے کفر و ارتداد کے متعلق یہ شک ہوتا ہے کہ پیغامی نہ ختم نبوت کے منکر اور نہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں تو پھر یہ کافر و مرتد کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ تسلیم نہیں کہ پیغامی واقعی ختم نبوت کے حقیقتاً منکر نہیں اور بالفرض اگر پیغامی ختم نبوت کے منکر نہ بھی ہوں تو بھی دوسرے کفریات سے کیونکر ان کو نجات ہو سکتی ہے؟ پیغامیوں کے کفریات بھی مرزا کی طرح لاتعداد و لا تحصیٰ ہیں جن میں سے ہم یہاں بطور نمونہ چند وجوہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
پیغامیوں کے وجوہ تکفیر
وجہ اوّل: مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کا انکار نہ کرنا۔
تشریح: مرزا قادیانی نے قطعاً و یقیناً دعوائے نبوت کیا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء کے بعد دعوائے نبوت دروغ اور نبوت کاذبہ ہے اور نبوت کاذبہ کی تکذیب کرنا بلکہ اس کے خلاف ہر قسم کا جہاد کرنا اہل اسلام کا فرض مذہبی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر مسیلمہ کذاب و مرزا قادیانی کذاب وغیرہ کی تکذیب کرنا فرض ہے۔ ورنہ مسلمان رہنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ ان کذابوں کی تکذیب نہ کرنے سے معاذ اللہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جو اپنے آپ کو آخر النبیین اور لا نبی بعدی فرما گئے ہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ مسلمان بن جانے کے لیے نبی کریم ﷺ کی تصدیق شرط ہے جو تکذیب کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ پس جو شخص نبوت کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت صادقہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر کوئی شخص نبوت کاذبہ کی تصدیق تو نہیں کرتا لیکن اس میں متردد ہے وہ گو نبوت صادقہ کی کھلم کھلا تکذیب نہیں کرتا ہے لیکن اس کی تصدیق میں متردد ہے۔ اور ایمان کی تعریف میں تصدیق کے معنی یقین کامل اختیاری کے ہیں جو تردد کی صورت میں بالکل مفقود ہیں۔ لہٰذا بحالت تردد بھی مومن نہیں ہو سکتا۔
حاصل یہ ہے کہ ایک مسلمان اس وقت نبی کریم ﷺ پر ایمان رکھنے والا مومن
٧٣
ہوگا جب کہ وہ مسیلمہ اور مرزا جیسے تمام کذابوں کی تکذیب بلا تردد و تامل کرتا ہو ورنہ ہر حال میں بے ایمان اور خارج از اسلام ہوگا۔ پس جیسے نبوت صادقہ ایمان کا رکن ہے اسی طرح نبوت کاذبہ کی تکذیب بھی ایمان کی شرط ہے۔ لہٰذا پیغامیوں کا مرزا کی نبوت کاذبہ کی تکذیب نہ کرنا اور صرف یہ کہنا کہ ”مرزا مدعی نبوت نہیں ہے“ ایک مستقل کفر ہے فرض کرو کہ اگر آج کوئی یہ کہنے لگے کہ سرور کائنات ﷺ نے دعوائے نبوت کیا ہی نہیں تو جیسے وہ بدیں وجہ کافر ہوگا کہ تصدیق نبی کریم ﷺ سے محروم ہے۔ اسی طرح کسی متنبتی کاذب کے قطعی اور یقینی دعوے کا منکر بھی کافر ہی ہوگا جو اس تکذیب سے علیحدہ ہے جس کے بدون نبی کریم ﷺ کی تصدیق تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ جس طرح نبی صادق کی تصدیق ضروری ہے اسی طرح متنبتی کاذب کی تکذیب بھی ضروری ہے۔
وجہ دوم: پیغامی منافق ہیں اور نفاق بدترین کفر ہے لہٰذا وہ بدترین کفار ہوں گے۔
تشریح: مرزا نے نبوت حقیقیہ غیر تشریعیہ بلکہ تشریعیہ کا دعویٰ ایسے کھلے لفظوں میں کیا ہے کہ ان میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور جن عبارتوں میں کیا ہے وہ اردو زبان کی عبارتیں ہیں ہر اعلیٰ و ادنیٰ اس کا مطلب یہی سمجھتا ہے کہ مرزا مدعی نبوت ہے اور اگر کچھ شرم و حیا ہوتی تو محمد علی لاہوری اس بات کا احساس ضرور کر لیتے کہ انہوں نے مرزا کی اردو عبارتوں پر جھوٹے معانی بیان کرتے ہوئے خاک ڈالنے کی کوشش میں اپنی ذات پر ایسا اخلاقی حملہ کیا ہے کہ ان کا کوئی سخت ترین دشمن بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ دعوائے نبوت کی عبارتیں عموماً اردو زبان میں ہیں اور بجز محمد علی لاہوری کے سب اہل زبان ان کے معنی دعوائے نبوت ہی سمجھتے ہیں لہٰذا اب ذیل کی دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔
یا تو تمام ہندوستان میں سے صرف محمد علی لاہوری پنجابی ہی میں بلا شرکت غیرے اردو زبان سمجھنے کی قابلیت ہے حالانکہ ان کی تحریر و تقریر شاہد ہے کہ اپنی زبان کو بامحاورہ بنانے کے لیے بھی ان کو سالہا سال درکار ہیں فصیح ہونا تو درکنار۔
دوسری صورت یہ ہے کہ سارے اہل زبان نے مطلب صحیح سمجھا صرف محمد علی ہی ایسے خوش فہم نکلے جو سمجھنے سے قاصر و عاجز رہ کر ان کے وہ معنے بیان کرتے ہیں جو تمام اہل زبان کے خلاف ہیں۔
ہم بنظر انصاف و صداقت اس دوسری صورت کو صحیح نہیں مانتے ہیں کیونکہ ایک ہندوستانی کے لیے دوسرے ہندوستانی ہی کی معمولی عبارتوں کا نفس مطلب سمجھنا کسی طرح بھی اس قدر مشکل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جب لکھنے والا اور سمجھنے والا دونوں پنجابی ہونے میں
٧٤
بھی مشترک ہوں تو حق یہ ہے کہ محمد علی لاہوری بھی (چنانچہ محمد علی لاہوری کی وہ عبارتیں جو مرزا قادیانی کی زندگی میں اور ان کے بعد لکھی ہیں اس پر شاہد ہیں۔ دیکھو ”تبدیلی عقائد محمد علی“) مطلب وہ بھی وہی سمجھے ہوئے ہیں جو دوسرے لوگوں نے سمجھا مگر ازروئے عناد و مکر انکار کر کے خلق اللہ کو گمراہ بنانا چاہتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہی نکلے گا کہ محمد علی لاہوری دل میں تو ختم نبوت کے منکر اور مرزا کی نبوت کے قائل ہیں مگر ظاہر میں ازروئے مصلحت ختم نبوت کا اقرار اور مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار ہے اور یہ کھلا ہوا نفاق ہے جو بدترین کفر ہے۔
تیسری و چوتھی وجہ: پیغامی پارٹی ختم نبوت کو ضروریات دین سے تسلیم کرتی ہے۔ نبوت حقیقیہ شرعیہ بلکہ نبوت تشریعیہ دونوں کو سرور عالم ﷺ پر ختم مانتے ہیں اور واقعی یہ دونوں امر ضروریات دین سے ہیں مگر پھر بھی نہ مرزا محمود اور اس کی جماعت کو کافر کہتی ہے نہ ظہیر الدین اروپی اور اس کے ہم خیالوں کو تو بس اب صرف تین ہی صورتیں ہوسکتی ہیں کہ لاہوریوں کے نزدیک ختم نبوت حقیقیہ و ختم نبوت تشریعیہ ضروریات دین سے نہیں یا یہ کہ دونوں امر ضروریات دین سے ہیں مگر ضروریات دین کا انکار کفر نہیں۔ یا ضروریات دین سے بھی ہیں اور ان کا انکار کفر بھی ہے مگر پھر بھی کافر نہیں کہتے۔ اور ظاہر ہے کہ ان تینوں صورتوں میں لاہوری پارٹی کفر کی زد سے نہیں بچ سکتی۔ ضروریات دین کو ضروریات دین نہ جاننا یا ان کے انکار کو کفر نہ سمجھنا یا انکار کرنے والے کو باوجود انکار ضروریات دین کے کافر نہ جاننا یا کافر نہ کہنا بالاتفاق کفر ہے (جیسے کوئی ابولہب کو کافر نہ جانے یا کافر نہ کہے تو وہ خود کافر ہے)
پانچویں وجہ: نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنا جو باقرار مرزا بھی متواترات میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے اور اس وجہ سے ضروریات دین سے ہے گو اس میں تاویل ہو مگر ضروریات دین کے انکار میں تاویل معتبر نہیں۔ (دیکھو اکفار الملحدین مصنفہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)
چھٹی وجہ: پیغامی پارٹی نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ میں مرزا سے کسی بات میں بھی جدا نہیں اور مرزا نزول عیسیٰ علیہ السلام کو مشرکانہ اور بے ہودہ اور لغو عقیدہ کہتا ہے جس میں مرزا کے ساتھ پیغامی پارٹی بھی متفق ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ متواتر ہونے کی وجہ سے ضروریات دین میں سے ہے۔ پس اس ضروری دین کو مشرکانہ خیال کہہ کر ایک اسلامی تعلیم کو مشرکانہ تعلیم کہنا صریح کفر ہے کیونکہ ضروریات دین
٧٥
کا انکار کرنا یا تاویل یا استہزاء و استحقار یہ سب کفر صریح ہے۔ جیسے معبود برحق کے ایک ہونے کا یعنی توحید کا بلاتاویل یا بتاویل انکار کرنے لگے یا خود توحید کا ہی استہزا و استخفاف کرے تو کیا یہ کفر نہ ہوگا؟ کسی ضروری دین کو مشرکانہ خیال کہنا کیا اسلام کو مشرکانہ خیال کہنا نہیں؟ جو صریح کفر ہے۔
ساتویں وجہ : نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو یہ فرقہ بتقلید مرزا مشرکانہ عقیدہ تو مان ہی چکا ہے اور یہ امر بھی مسلم ہے کہ مرزا سے پہلے تیرہ سو برس تک تمام امت محمدیہ یہی عقیدہ رکھتی تھی لہٰذا اس عقیدہ کے متعلق پیغامیوں کا یہ خیال رکھنا ہی اس بات کے لیے مستلزم ہے کہ ساری امت کو مرزا سے قبل ایک مشرکانہ عقیدہ پر قائم رہنے والی مانا جائے اور یہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ اگر کسی شخص سے ایسی بات سرزد ہو جائے جس سے صحابہ کی تکفیر یا ساری امت کی تضلیل لازم آجائے وہ شخص بلاتردد خود کافر ہے۔ (فتح الباری) لہٰذا پیغامی بھی یقیناً کافر ہو گئے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق صحابہ سے لے کر ساری امت کا ایک شرکیہ عقیدہ پر تیرہ سو سال تک قائم رہنا لازم آجاتا ہے۔
آٹھویں وجہ : پیغامیوں کے عقیدہ کے موافق مرزا سے قبل ساری امت نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کی وجہ سے مشرکانہ عقیدہ پر قائم تھی اور مشرکانہ عقیدہ رکھنے والا یقیناً مشرک ہوتا ہے۔ مگر پیغامی مرزا سے قبل ساری امت کو باوجود شرکیہ عقیدہ رکھنے کے بھی مسلمان ہی کہتے ہیں اور جیسے مسلمان کو کافر کہنا شرک ہے ایسا ہی کافر و مشرک کو مسلمان کہنا بھی کفر ہے (جیسے کوئی آزر اور ابوجہل کو مسلمان کہنے لگے کیونکہ اس سے قرآن کی مخالفت بلکہ تکذیب لازم آتی ہے۔ جو جابجا مشرکوں اور عقائد شرکیہ رکھنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے) پس پیغامی اس وجہ سے بھی کافر و خارج از اسلام ہوئے۔
نویں وجہ : پیغامی مرزائی بتقلید مرزا نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام کو شرک عظیم مان چکے ہیں۔ نیز یہ کہ ساری امت اس عقیدہ میں قبل از مرزا مبتلا بھی تھی باوجود اس کے مرزا سے قبل ساری امت کے اس شرک عظیم کو معاف بھی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ باعتراف مرزا قادیانی (معاذ اللہ) یہ شرک عظیم کوئی غامض اور نظری بھی نہ تھا۔ بلکہ بدیہیات اولیہ میں سے ہے جس کو آج مرزائیوں کا ایک ایک بچہ اور ادنیٰ ادنیٰ مرزائی عورتیں بھی جانتی ہیں۔ غرضکہ ایک بدیہی مگر عظیم شرک کے متعلق بدون توبہ کے معاف ہونے کا حکم دینا نص قرآنی کے خلاف ہے۔ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ (نساء: ٤٨) اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے سوا دوسرے گناہوں کو
جس کے لیے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے۔ پس پیغامیوں کا بزعم خود ایک مشرک امت کے تیرہ سو سالہ شرک کو بدون توبہ صریح قابل معافی قرار دینا بھی ایک خالص اور صریح کفر ہے۔
دسویں وجہ: پیغامیوں کا بتقلید مرزا حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ احادیث نبویہ، قرآن شریف اور عقل اس عقیدہ کو شرک و لغو اور بے ہودہ خیال قرار دیتے ہیں اور یہ بھی مسلم ہے کہ ساری امت نے تیرہ سو سالہ مدت میں قرآن و حدیث سے ہی اس عقیدہ کو ثابت سمجھا جس سے پیغامیوں اور مرزا کو بھی انکار نہیں ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قرآن و احادیث کے الفاظ کے معنی واقعی ایسے معنی ہوتے ہیں جن کو مرزائیوں نے تیرہ سو سال کے بعد شرک عظیم سمجھا تو یہ لازم آتا ہے کہ قرآن و احادیث بھی (معاذ اللہ) سناتن دھرمیوں کا وید بن جائیں جس میں کفر و شرک کی (معاذ اللہ) اتنی کھپت ہو کہ تیرہ سو سال تک ساری امت محمدیہ اس کے نصوص سے ایک ایسے غلط عقیدہ کو سمجھتی رہی جو کفر خالص اور شرک محض۔ شرک بدیہی ہے۔ اور جب شرک بدیہی میں بھی ساری امت امتیاز نہ کرسکی تو اس کی کیا دلیل ہے کہ توحید و رسالت‘ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج کے معانی جو ساری امت نے آج تک سمجھ لیے ہیں۔ یہ معنی صحیح ہیں یا غلط جن کے ازالہ کے لیے کوئی دیانند یا مرزا قادیانی درکار ہے۔
غرض کہ اس صورت میں قرآن کی تعلیم وید کی تعلیم سے (معاذ اللہ) بھی کچھ قدم آگے ہی بڑھ جاتی ہے اور دین محمدیؐ کی تمام تعلیمات بھی ناقابل اعتبار ٹھہر جاتی ہیں جو کفر صریح ہے۔
رہی دوسری صورت یعنی یہ کہ قرآن و احادیث کا مطلب تو صاف تھا اس میں اس شرک کی کوئی کھپت نہ تھی مگر پھر بھی ساری امت نے مطلب غلط ہی سمجھا اور تیرہ سو سال تک ساری امت اس شرک عظیم میں مبتلا رہی تو اس میں بھی دو اعتبار سے کفر لازم آتا ہے۔ ایک یہ کہ ساری امت کی جہالت و تضلیل لازم آتی ہے جو کفر ہے۔ (دیکھو ساتویں وجہ) دوم یہ کہ اس شرک عظیم میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی قبل از مرزا ساری امت کا یہ شرک معاف بھی ہے اور ساری امت اس شرک جلی کے باوجود مسلمان بھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام نہ صرف شرک بلکہ شرک عظیم۔ شرک جلی کا تحمل کرسکتا ہے جو صریح کفر ہے۔
٧٧
نوٹ: نویں اور دسویں وجہ میں یہ فرق ہوگا کہ نویں وجہ میں شرک جلی کا بلا توبہ ورجوع بخشا جانا لازم آتا ہے جو خلاف اسلام و قرآن ہے اور دسویں وجہ میں کفر کی یہ وجہ ہے کہ دین میں شرک کا تحمل ہو سکتا ہے اور ایک مشرک بھی اعلیٰ درجہ کا مسلمان ہو سکے گا۔
گیارہویں وجہ: قُلْنَا يٰنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی اِبْرٰهِيمَ (انبیاء:٦٩) آیت قرآنی ہے اور تواتر و اجماع سے اس کے یہی معنی ثابت ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا۔ مگر حکم خداوندی سے وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ پیغامی اس کا بھی انکار کرتے ہیں اور نار کے معنی حسد و عداوت کر کے نار حسد و عداوت کو مخاطب قرار دیتے ہیں جو صریح کفر اور کھلی ہوئی تحریف ہے کیونکہ بوجہ تواتر و اجماع کے آیت کے وہ معنی ہیں جو امت میں مستفیض و مشہور ہو کر ضروریات دین سے ہو چکے ہیں اس لیے منکر بتاویل یا بلا تاویل سب کافر ہیں۔
بارہویں وجہ: پیغامی حشر اجساد کے انکار میں بھی مرزا کے ساتھ ہیں جو صریح کفر ہے۔ ائمہ دین نے جہاں یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ ضروریات دین کا مخالف (خواہ تاویل کے ساتھ ہو یا بدون تاویل) ہر حال میں مرتد و کافر ہے وہاں ضروریات دین کی مثالوں میں عموماً سب سے پہلے حشر اجساد ہی کو پیش کیا ہے۔ اور اس ایک مسئلہ میں بہت سے ضروریات دین کا انکار کر کے متعدد وجوہ سے کافر ہو گئے۔ (معاذ اللہ)
تیرہویں وجہ: مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خصوصیت کے ساتھ گالیاں دی ہیں جن میں پیغامی بھی مرزا کے ساتھ شریک ہیں۔ اب اگر پیغامی ان گالیوں کو فی الحقیقت موافق واقعہ خیال کرتے ہیں تو یہ ہی ایک امر صدہا وجوہ سے موجب کفر ہے۔ اور اگر پیغامی ان گالیوں کو گالیاں ہی جانتے ہیں اور نبی کو گالیاں دینا کفر بھی سمجھتے ہیں تو مرزا قادیانی مذکورہ گالیوں کی وجہ سے خارج از اسلام ہو چکے ہیں اور ہر مسلمان پر ان کی تکفیر فرض تھی مگر پیغامی جماعت ان کو مسیح موعود مجدد۔ امام الزماں اور تمام اقوال وعقائد میں سچے اور اپنا رہبر مانتے ہیں۔ اور یہ صریح کفر ہے۔ جیسے آج کوئی ابولہب کو تمام افعال و اقوال میں سچا جانے تو وہ بھی کافر ہی ہوگا کیونکہ سچا جاننے میں ابولہب کے ساتھ ان تمام بے ادبیوں میں متفق ہونا لازم آتا ہے جو اس نے حضور اکرم ﷺ کی نسبت کی تھیں۔
چودھویں وجہ: مرزا نے جو سرور عالم ﷺ سے مساوات یا افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یا (معاذ اللہ) آپ کی توہین کی‘ اس وجہ سے بوجوہ مرزا کافر ہے پھر اس کو کافر نہ کہنا صریح
٧٨
کفر ہے جس کا ارتکاب پیغامی کر رہے ہیں۔
پندرھویں وجہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مہد میں کلام کرنا بتواتر اور بنص قرآنی ثابت ہے۔ پیغامی اس معجزہ کا صاف انکار کرتے ہیں نہ صرف یہی بلکہ یکلم الناس فی المہد وکھلا (آل عمران:٤٦) کے معنی (لڑکا تندرست اور زندہ رہے گا) کہہ کر ایسی تحریف کرتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو بھی شرم آتی ہوگی۔ غرض کہ یہاں بھی پیغامی بوجوہ عدیدہ کافر و مرتد ہوگئے۔
سولہویں وجہ: عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں قرآن صاف فرماتا ہے کہ وَمَا صَلَبُوْہُ (نساء:١٥٧) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر نہیں چڑھایا‘ مگر پیغامی یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے۔ مگر موت سولی پر نہیں آئی۔ جو وَمَا صَلَبُوْہُ کے نص قرآنی اور اس کے سیاق و سباق اور اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
سترھویں وجہ: عزیر علیہ السلام کے واقعہ کو سراسر خواب بنا کر قرآن عزیز کی تحریف کرتے ہیں کیونکہ قرآن تو او کالذی مرّ علی قریۃ (بقرہ: ٢٥٩) میں اس واقعہ کو نہایت تصریح کے ساتھ ادا فرما رہا ہے مگر پیغامی یہاں بھی دست برد سے باز نہ آئے۔
نوٹ: اس قسم کے وجوہ کفریہ پیغامیوں میں بہت موجود ہیں۔ یہاں تفصیل مقصود نہیں محض نمونہ کے طور پر اطلاع مطلوب ہے۔ تاکہ پیغامیوں کے مجموعہ کفریات یعنی محمد علی کے اردو و انگریزی قرآن سے اہل اسلام محترز رہیں۔ اس سے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو رسالہ کشف الاسرار کا مطالعہ کریں۔
اٹھارویں وجہ: رجم محصن زانی پر اجماع صحابہؓ ہے (ہدایہ وغیرہ کتب فقہ) اس کے بعد امت محمدیہ کا بھی اس پر اجماع ہوچکا ہے۔ پیغامیوں نے اس کا بھی صاف انکار کیا۔
انیسویں وجہ: اسراء یعنی معراج نبوی کا پہلا حصہ تو بالاتفاق ضروریات دین میں سے ہے اس کا منکر کافر ہو جاتا ہے جیسے علم کلام وغیرہ میں مصرح ہے کہ آنجناب ﷺ کا بجسد مقدس مکہ معظمہ سے شام تک کی مسافت بعیدہ کو بہت ہی قلیل وقت میں بطور اعجاز شب معراج میں طے کرلینا قطعیات سے ہے۔ اگر کوئی اس کا انکار کرے تو اسلام سے خارج ہے۔ پیغامیوں کو اسراء سے بھی انکار ہے۔ وہ اس سارے واقعہ کو خواب ہی مانتے ہیں۔
بیسویں وجہ: رجم محصن زانی۔ قتل مرتد وغیرہ قطعیات اسلام سے ہیں اور بلاشبہ ثابت ہے کہ عہد نبوی سے لے کر آج تک امت محمدیہ میں ان پر عمل رہا ہے۔ ان امور کا مذاق اڑانا شرع محمدی کی تعلیمات کا مذاق اڑانا اور ان کی اہانت کرنا شرع محمدی کی تعلیمات
٧٩
اور امت مرحومہ کے اجماعیات کی اہانت کرنا ہے۔ پیغامیوں نے یہ سب کچھ کرلیا اور اتنا کرلیا کہ آج تک اسلام کی کسی تعلیم پر نہ کسی عیسائی نے اتنا کیا ہوگا اور نہ کسی آریہ نے ائمہ دین کے اتفاق سے اسلامی تعلیم کی اہانت کرنے والا مرتد و کافر اور واجب القتل ہے۔ اکیسویں وجہ: رفع عیسیٰ علیہ السلام قرآن عزیز سے ثابت ہے اور رفع عیسیٰ علیہ السلام کے یہ معنی کہ ”آسمان پر زندہ بجسم عنصری اٹھائے گئے“ امت میں متواتر بھی ہیں اجماعی عقیدہ ہے اس لیے خود رفع اور اس کے یہ معنی دونوں کے دونوں ضروریات اسلام میں سے ہیں جس کا انکار کفر و ارتداد ہے۔ پیغامی اس میں بھی اپنے آقا مرزا قادیانی کے ساتھ ہیں۔ اس لیے دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہوگا۔ بائیسویں وجہ: قتل مرتد پر صحابہؓ و امت محمدیہ کا اجماع ہے (میزان) پیغامیوں نے اس کا بھی انکار کیا جو کفر صریح ہے۔ (فتاویٰ حدیثیہ) تیئیسویں و چوبیسویں وجہ: حد خمر ایک اسلامی حکم ہے جو اجماع صحابہؓ سے ثابت ہے (ہدایہ) پیغامیوں نے اپنے خاص اور یورپین انداز میں اس کا نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ اس پر ایسا مذاق اڑایا کہ آریہ بلکہ شیطان بھی شرمندہ ہوا ہوگا۔ اس لیے یہ بھی پیغامیوں کے ان کفریات میں رہے گا جس میں انکار کے ساتھ حضور اکرمﷺ کی ہجو و توہین کرکے ان الذین یؤذون اللّٰہ ورسولہ (احزاب: ٥٧) کے مصداق بن کر پادریوں اور آریہ سے بھی سبقت لے گئے۔
ناظرین غور سے دیکھ لیں گے تو بشرط انصاف معلوم ہو جائے گا کہ حد خمر کی مخالفت اور توہین شرع میں مرزا قادیانی کے ان سپوتوں نے جانشینی کا ایسا حق ادا کیا ہے کہ ایک مجوسی و بت پرست بلکہ ایک پادری کو بھی باوجود عداوت کے ایسا مذاق اڑانا خلاف انسانیت معلوم ہوگا۔ حد خمر کا انکار ہی فی نفسہ کفر ہے پھر جب اس کے ساتھ اہانت حدود اللہ بھی شامل ہوگئی تو یہ دوسری وجہ بھی ان کے کفر کی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو پیغام صلح۔ نمبر ٩٨۔ مورخہ ١٩ ربیع الاول ١٣٣٤ھ جلد ١٢ صفحہ اول کالم نمبر ٢ مطابق ١٩ اکتوبر ١٩٢٤ء) اس کالم کو مسٹر محمد علی صاحب ہی خود غور سے پڑھ کر فتویٰ دیں کہ اس میں حد خمر کا انکار اور استہزاء ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو وہ خود اپنے اقرار سے کافر و مرتد ہوئے ورنہ اس کالم کا کوئی مطلب ایسا بیان کریں جس کی بنا پر کفر و ارتداد کی یہ دونوں وجہیں تو کم سے کم دور ہو جائیں۔ اگرچہ ان کے خرمن کفر میں ان دو دانوں کی کمی سے کچھ کمی محسوس نہ ہوگی۔ پچیسویں وجہ: اپنی شرعی باندی سے بغیر نکاح صحبت کرنا قرآن و حدیث و اجماع و تواتر
٨٠
سے ثابت اور اسلام کا وہ مسئلہ ہے جس کو مخالفین اسلام بھی اسلامی مسئلہ جانتے ہیں۔ مگر لاہوری اس کا یورپ کی تقلید میں انکار کر کے مرتد اور کافر ہوئے۔ (ملاحظہ ہو پیغام صلح نمبر ٣٤ و نمبر ٣٤ جلد ١٣ ١٦ رمضان ١٣٣٣ھ) غالباً انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ آدمی جب ایک کفر سے بھی کافر ہو جاتا ہے۔ چو آب از سرگذشت چہ یک نیزہ چہ یک انگشت۔ پھر اب پیٹ بھر کے ہی کفر کیوں نہ کریں۔ پوری ہی نمک حلالی کرنا چاہیے۔
یہ چوتھائی صدی کفریات لاہوری پارٹی کے پیش کر دیئے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی مسلمان لاہوری پیغامیوں کے کافر اور مرتد ہونے میں شک کر سکتا ہے؟ نعوذ باللہ العظیم۔
کافر اور مرتد کو کافر نہ کہنے سے انسان خود کافر اور مرتد ہو جاتا ہے
یہ مسئلہ بھی خوب سمجھ لینے کے قابل ہے کہ جو شخص یقیناً کافر یا مرتد ہے اس کو اگر کوئی شخص مسلمان کہے تو یہ مسلمان کہنے والا خود کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس کو احتیاط سمجھتے ہیں کہ کافر کو بھی کافر نہ کہا جائے۔ حالانکہ یہ احتیاط نہیں بلکہ بے احتیاطی سے خود کافر ہونا ہے۔ کیونکہ جب کسی شخص نے کسی ضروری دین کا قطعا اور یقیناً انکار یا اس میں شک اور تردد کیا اور یہ اس کا شک یا انکار یقینی طور پر ثابت ہو گیا تو یہ بوجہ انکار یا تردد ضروریات دین کے کافر ہو گیا۔ اب اس کو کافر نہ کہنا اس کی دو ہی وجہ ہو سکتی ہیں۔ یا یہ شخص ضروریات دین کے انکار کو کفر نہیں سمجھتا یا ضروریات دین کے انکار کو کفر تو سمجھتا ہے مگر اس ضرورت دین کو ضروریات دین میں شمار ہی نہیں کرتا اور یہ دونوں صورتیں کفر و ارتداد کی ہیں۔
مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ نماز فرض نہیں۔ یا قل ہو اللہ قرآن کی سورۃ نہیں اور زید اس شخص کو کافر و مرتد نہیں بلکہ اس کو مسلمان ہی جانتا ہے اور اسی میں احتیاط سمجھتا ہے۔ تو اب زید یا خود نماز کو فرض اور سورۂ اخلاص کو قرآن نہیں سمجھتا۔ یا نماز کو فرض اور سورۂ اخلاص کو قرآن تو جانتا ہے۔ اور ضروریاتِ دین سے تسلیم کرتا ہے مگر اس کے انکار کو کفر نہیں جانتا۔ تو ظاہر ہے کہ زید اب خود مسلمان نہیں رہ سکتا۔ پہلی صورت میں جیسے ایک ضروریات دین کے ضروریات دین ہونے کا انکار ہے دوسری صورت میں بھی ایک ضروریات دین کا منکر ہے۔ وہ یہ کہ ضروریات دین کے منکر کو کافر سمجھنا اس ضروریاتِ دین میں سے ہے جس کا یہ منکر ہے۔ تو زید بہرحال اس کو کافر نہ کہہ کر خود کافر اور مرتد
٨١
ہوتا ہے جس کی تفسیر سوال اول کے جواب میں مفصل مذکور ہوچکی۔ اگر کسی صاحب کو یہ بات ناپسند ہو تو وہ مجھے قرآن سے بتلا دیں کہ کفر و ارتداد کس کا نام ہے اور یہ ثابت کرے کہ مسلمان یہ کہے کہ وہ مسلمان نہیں اس کے سوا اس کے مرتد اور کافر ہونے کی کوئی صورت نہیں؟ اگر کوئی کہے کہ جب تک انسان توحید و رسالت کا انکار نہ کرے مسلمان ہی رہتا ہے اور کافر و مرتد نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ توحید و رسالت سے انکار اگر اس وجہ سے کفر و ارتداد ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہیں تو پھر ہر ضروریات دین کا انکار کفر و ارتداد ہونا چاہیے۔ ورنہ وجہ فرق کیا ہے؟ اور مرزا قادیانی اور مرزائی جو اپنے مخالفوں کو کافر اور مرتد کہتے ہیں وہ بھی توحید و رسالت کے منکر نہیں اور وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ پھر وہ کیوں ان کے نزدیک کافر ہیں؟ اور اگر صرف اسلام کے انکار کرنے سے ہی آدمی کافر اور مرتد ہے تب بھی مرزا کے مخالفین اور جملہ منافقین اور مدعیان نبوت کاذبہ کیسے مرتد اور کافر ہو گئے؟ اس واسطے کہ ہر شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور اسلام سے کوئی منکر نہیں۔
امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد مسلمان مرزا قادیانی اور مرزائیوں قادیانیوں اور لاہوریوں کو مسلمان کہہ کر خود کافر نہ ہو جائیں گے۔
چوتھے سوال کا جواب
خدا کا شکر ہے کہ تین سوالوں کا جواب بحول اللہ وقوتہ مفصل بیان ہو چکا ہے۔ اب چوتھے سوال (اگر ان میں اسلام کی ایک بھی نشانی موجود نہ ہوتے بھی موجودہ صورت میں جب کہ دنیا کے ہر ایک نظام حکومت میں جملہ ملکی مسائل کا حل کثرت رائے کی بنا پر کیا جا رہا ہو۔ کسی ملک میں مسلمانوں کے مقابلہ پر غیر مسلموں کی کثرت رائے کا غلبہ توڑ کر مسلمانوں کو کامیاب بنانے کے لیے احمدیوں کی آراء کا مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے کس کے حق میں شمار کیا جانا مسلمانوں کے لیے مفید یا مضر ہوسکتا ہے؟) کا جواب بھی ملاحظہ ہو۔
یہ سوال سیاسی حلقوں میں (جب سے سیاست کو مذہب سے علیحدہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے) بڑی قوت سے گشت کر رہا ہے۔ اس کا مجھے بھی اعتراف ہے کہ اکثر سیاست دان اور تعلیم یافتہ طبقہ محض خلوص نیت اور ہمدردی کی بنا پر یہ چاہتا ہے کہ مرزائیوں کو اگر مسلمانوں میں شامل کرلیا جائے تو سیاسی نقطہ نظر سے یہ مسلمانوں کے لیے
٨٢
بہت مفید ہے۔ ورنہ ایک اتنی بڑی جماعت کے عدد کا مسلمانوں میں سے کم ہو جانا مسلمانوں کے لیے سیاسی نقطہ نظر سے بہت مضر ہے۔ علماء ملکانوں کے لیے تو جو برائے نام مسلمان ہیں اتنی سعی و کوشش کرتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔ اور آریوں سے ہر قسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور مرزائی جماعت جو تمام شعائر اسلام اور حدود اللہ کی پابند ہے۔ نماز نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے ہیں آپس میں بے حد اتفاق ہمدردی ہے تبلیغ اسلام کے لیے بڑی جانفشانی اور سعی کرتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں یورپ کے عیسائی بھی ان کی جانفشانی اور کوشش کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ مولوی اس قدر ضدی اور ہٹی ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر ملکانوں میں کام بھی کرنا نہیں چاہتے۔ اپنے ناکارہ ہونے کو اس طرح سے چھپاتے ہیں کہ ایک کارگزار قوم کو کام کرنے کا میدان نہیں دیتے۔ سچ ہے کہ نہ کھیلے اور نہ کھیلنے دے وغیرہ وغیرہ۔ اس وجہ سے جی چاہتا ہے کہ اس سوال کا جواب بھی قدرے تفصیل سے دیا جائے۔
کیا علماء سیاست داں نہیں ہیں؟
جب تحریک خلافت زور پر تھی اور علماء کے ذریعہ سے عوام سے کام لینا تھا اور علماء کو جیل بھیجنے اور پھانسی چڑھوانے کی ضرورت تھی تو ہمارے لیڈر یہ فرماتے تھے کہ اسلام سیاست سے علیحدہ نہیں۔ اسلام اور سیاست ایک ہے۔ دنیا دین سے الگ نہیں۔ اسلام کامل ہے انسان کا کوئی فعل جواز اور عدم جواز سے خالی نہیں تو پھر اب وہ سیاست کون سی ہے جو اسلام سے علیحدہ ہے۔ علماء کے ایک ہاتھ میں اگر مہر افتا تھی تو دوسرے ہاتھ میں قلمدان وزارت تھا کبھی جس ہاتھ میں قلم تھا اس میں تلوار اور نیزہ بھی تھا۔ ایک سال یہ درس دیتے تھے تو دوسرے سال غازی بن کر سپاہیوں کے ساتھ جرنیل اور کمانڈر انچیف کا کام دیتے تھے۔ غرض اپنے نزدیک لیڈروں نے علماء کو سخت سست بھی کہا اور غیرتیں بھی دلائیں کہ جس تعلیم یافتہ طبقہ کو تم دڑھی منڈے فاسق فاجر بے نماز بددین کہتے تھے آج اس کا درد اسلام اور قوت ایمانی اور جوش اسلامی دیکھو کہ وہ سر بکف ہیں اور اتنی بڑی سلطنت کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ تم اپنے حجروں کی کنڈیاں کب کھولو گے۔ کیا تم اسلام کا جنازہ ہی پڑھنے نکلو گے۔ مردوں کی روٹیاں کھاتے کھاتے تم ایسے مردہ دل اور نامرد کیوں ہو گئے۔ دوسروں کو ہی وعظ سناتے ہو تمہیں لم تقولون مالا تفعلون کا کچھ خوف نہیں وغیرہ وغیرہ۔
بیشک ہمیں اعتراف ہے کہ بعض انگریزی طبقہ کے مسلمانوں نے واقعی بڑی حمیت اور غیرت اسلامی کا ثبوت دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اور اس تحریک میں تمام کام کرنے والوں کی مساعی جمیلہ کو مقبول فرمائے اور جو ان سے دانستہ یا نادانستہ غلطی اور خطا ہوئی ہے۔ خدا معاف فرمائے اس وقت میں وہ جوش اسلام ہی کے لیے تھا اور جیل اور کالا پانی اور پھانسی اور پولیس کے ہنٹر کے سوا کوئی چیز سامنے نہ تھی۔ تحریک دب گئی اور ہندوؤں کی غداری کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑی شکست ہوئی مگر جو لوگ تحریک میں شریک نہ تھے ان کا منہ نہیں ہے کہ آج ان شکستہ خاطر ہزیمت یافتہ غازیوں پر طعن کریں پھبتیاں اڑائیں۔ اپنی رائے پر ناز کریں۔ یہ سب کچھ ہوا ہم کو ہر شخص کی خدمت کا اعتراف ہے۔ لیکن یہ بات ایک منٹ کے لیے بھی قبول کرنے کے قابل نہیں کہ علماء لیڈروں کے کہنے اور بہکانے یا طعن و تشنیع کی وجہ سے تحریک میں شریک ہوئے۔ علماء ٹھیک وقت پر فرض وقت کو محسوس کر کے شریک کار ہوئے اور پلیٹ فارم پر تقاریر اور سب کمیٹیوں میں اپنی برجستہ تجاویز اور تحریک و تائید اور مصائب جیل کی برداشت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تحریر اور تقریر اور تجویز کی تحریک و تائید اور چکی پیسنے اور بان بٹنے اور سیاست کی الجھی ہوئی گتھیوں کے سلجھانے میں بھی بے نظیر ہیں۔ اب جب تحریک کا یہ حشر ہوگیا تو بعض لیڈروں نے ان شیروں کو پھر حجروں تکیوں میں بند کرنا چاہا۔ اور اگر اسمبلی کی ممبری پر اپنی رائے ظاہر فرمائی تو کہا گیا کہ یہ تو سیاست کا مسئلہ ہے اس سے علماء کو کیا تعلق؟ اور جب تبلیغ اور اشاعت کا وقت آیا اور تحریک خلافت مردہ ہوچکی تب کہا گیا کہ جمعیتہ علماء کے علاوہ کوئی اور جماعت کام کرے۔ اس کے لیے بڑی بڑی رقمیں بڑی بڑی کمیٹیاں ہوئیں۔
معاف فرمایا جائے میں اس قدر معتقد نہیں کہ ہر جگہ حسن ظن ہی کیا جائے۔ اس وقت زیادہ عرض کرنا نہیں چاہتا۔ غرض یہ ہے کہ علماء کو یہ کہنا کہ سیاستدان نہیں واقعہ کے خلاف ہونے کے علاوہ مذہب اور اقرار اور تجربہ کے بھی خلاف ہے لہٰذا یہ کہنا کہ چونکہ علماء سیاست دان نہیں اس وجہ سے مرزائیوں کو علیحدہ کرتے ہیں۔ یورپ انگلستان لندن برلن کی سیاست کے خلاف ہو مگر عرب حجاز مدینہ طیبہ مکہ معظمہ خدا و رسول حدیث و قرآن کی سیاست یہی ہے کہ مرزا اور مرزائی۔ باب اور بہاء اللہ اور بابی اور بہائی۔ اہل قرآن اور جو ان کا ہم مشرب ہو یہ سب اسلام سے خارج اور جو ان کے کافر و مرتد ہونے میں ان کے عقائد باطلہ پر مطلع ہونے کے بعد شک اور تردد کرے وہ بھی انہیں ٨٤
کے ساتھ ہے جس کی تصریح پہلے مفصل بیان کی گئی ہے۔
اگر انسانوں کی کوئی جماعت آدم خور ہو اور آدمیوں کے بچے اور بوڑھے قریب آٹھ نو لاکھ کے کھا چکی ہو اور ایک سفر درپیش ہو جس میں اندیشہ ہو کہ شاید بھیڑیے اور درندے جانور غفلت پا کر ایک دو جانوروں پر یا بچوں پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ اب سفر کے لیے ایک جماعت تو کہتی ہے کہ ہم اس آدم خور جماعت کو اپنے ساتھ نہ رکھیں گے اور دوسری جماعت کہے کہ تمہارا یہ خیال ناتجربہ کاری پر مبنی ہے۔ یہ ہزاروں کا مجمع ہے راستہ میں اگر شیر بھیڑیوں سے مقابلہ ہوا تو ان کی کثرت ہمارے لیے مفید ہو گی۔
دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہم ہمیشہ سفر کرتے اور آتے جاتے ہیں مگر شیر اور بھیڑیوں سے اتنا کبھی صدمہ نہیں پہنچا جتنا اس آدم خور جماعت نے پہنچایا ہے تنہا سفر کرنے میں نقصان کا احتمال ہے اور ان کے ساتھ یقین۔ اب سیاست وان جماعت فیصلہ کر لے کہ اس مرزائی جماعت ایمان اسلام خور کو جو اپنے کہنے کے مطابق دس پندرہ لاکھ (گو یہ دعویٰ بھی بالکل غلط ہے گوجرانوالہ کے اشتہار سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد کل چند ہزار ہے) مسلمانوں کو مرتد بنا چکے ہیں شریک کار کرنا سیاست ہے یا علیحدہ رکھنا؟ آریوں اور عیسائیوں کے قبضہ میں اوّل تو مسلمان آتے نہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو وہ کس درجہ کے ہوتے ہیں اور مرزائی جال میں پھنس کر جو لوگ تباہ ہوئے ہیں وہ کس درجہ کے ہیں؟
دوسری بات قابل لحاظ یہ ہے کہ ہندوستان کی اسلامی سطح ساکن کو متحرک کس نے کیا؟ اس میں تلاطم اور طغیانی کا باعث کون ہے؟ اگر مسلمان مرزا قادیانی سے کہتے کہ آپ مجدد، محدث۔ مسیح موعود، نبی حقیقی کا دعویٰ کیجئے اور پھر مسلمان خلاف کرتے تو ایک درجہ میں ملزم قرار پا سکتے تھے مگر جب ان تمام امور کی ابتداء مرزا قادیانی اور مرزائیوں ہی کی طرف سے ہوئی اور بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو انہوں نے مرتد بنایا عیسائیوں اور آریوں اور دوسری غیر مسلم اقوام کو اپنے مذہب میں داخل کرتے اور پھر بھی مسلمان ان سے دست و گریباں ہوتے تو اس وقت سیاسی حیثیت سے کوئی کہہ سکتا تھا کہ برائے نام ہی سہی منکرین اسلام کو اسلام کا مقر تو بناتے ہیں گو وہ مسلمان نہیں سیاستا ان سے لڑنا جھگڑنا غیر مناسب ہے لیکن جب تجربہ نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کے ہاتھ پر نہ انگریز مرزائی ہوئے نہ پادری۔ نہ آریہ سماج۔ نہ سناتن دھرم۔ بلکہ مانند ہاتھی کی
٨٥
طرح سے مرزا قادیانی اپنے ہی لشکر اسلام کو تباہ و برباد کرتے ہیں۔ تو اب ایک جماعت کہتی ہے کہ ان مردوں کو اپنے سے علیحدہ کرو اور جلد قبروں میں پہنچاؤ۔ ورنہ ان کی زہریلی ہوا سے عام وبا پھیلنے کا گمان غالب ہے۔
سیاست داں قوم کہتی ہے کہ ہمیں ایک دشمن سے لڑنا ہے۔ اگر تم نے ان کو دفن کر دیا تو ہماری تعداد کم ہو جائے گی۔ زیادتی تعداد کے لیے ان کو اپنے ہی میں شامل رکھو۔ تو کیا سیاست اسی کو مقتضی ہے؟ یا جب مرزا قادیانی سے برائے نام بھی اسلام کی تعداد نہ بڑھی بلکہ گھر کے ہی بہت سے حقیقی مسلمان کافر ہو کر نام کے مسلمان رہ گئے اور اس وقت مسلمان فطرۃً مجبور تھے کہ مرزائیوں کے شر سے بچنے کے لیے مرزائیوں کے کفر کو ظاہر کرتے تو اس پر مرزائیوں نے تو تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہا۔ مگر ہمارا سیاست داں فرقہ یہ چاہتا ہے کہ چاہے مسلمان سب معاذ اللہ کافر اور مرتد ہو جاتے لیکن دیگر اقوام سے کثرت حاصل کرنے کے لیے ہم ان کو مسلمان ہی کہے جاتے۔
بیشک حقوق کے حاصل کرنے اور ان کے تحفظ کا حتی الوسع لحاظ ضروری ہے لیکن اسلام کے تحفظ اور بقاء کا خیال بھی مسلمانوں کو کسی درجہ میں ضروری ہے یا نہیں؟
مفید تر ہے مگر دلوں کو رجوع سوئے الٰہ کرنا
تیسرا جواب ...... یہ ہے کہ جب ان کا کفر و ارتداد بیان سابق سے متحقق ہو گیا تو اب کوئی شخص یوں کہے کہ نماز کے لیے وضو شرط نہیں یا وضو تو ہو مگر بدن اور کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا ضروری نہیں یا یہ سب ہوں مگر قبلہ کی طرف منہ ہونا لازمی نہیں یا یہ بھی ہوں مگر باوجود قدرت کے قیام اور قرآن کا پڑھنا یہ ضروری نہیں۔ یا رکوع اور سجدہ نماز کے فرائض میں نہیں۔ اب نمازیوں کی کثرت رائے کی ضرورت ہے۔ فقط اس وجہ سے کہ کہیں بے نمازیوں کی کثرت نہ ہو جائے۔ ان سیاسی نماز والوں کو بھی نمازیوں میں شمار کر لیا جائے تو کیا یہ کھیل اور مذاق نہیں؟
چوتھا جواب ...... سیاست داں طبقہ اسی مصلحت کو ظاہر فرما کر مرزا محمود اور ان کی جماعت سے کہے کہ جو لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں اور آپ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اگر یہ کثرت رائے آپ کے ساتھ
٨٦
نہ ہوئی اور دوسری قوموں کے ساتھ ہوئی۔ جب کہ تمام امور کا فیصلہ کثرت رائے پر ہوتا ہے تو ان کروڑوں مسلمانوں کا مرزائی اسلام سے نکل جانا بڑی مضرت کا باعث ہے۔ لہٰذا آپ تمام غیر مرزائیوں کو مسلمان ہی کہیں۔ اور مرزا قادیانی کے اور اپنے فتوے کو واپس لیں۔ یا خواجہ کمال الدین کے دربار میں صدائے احتجاج بلند فرمائیں کہ مرزا محمود اور ان کی تمام جماعت جو مرزائیوں میں بقول ان کے لاہوریوں سے دوگنی یا سہ گنی ہے۔ آپ نے جو ان کو اسلام سے خارج کہا ہے۔ وقت کی نزاکت اور حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس اپنے فتوے کو واپس لے لیجئے اور ان کے مسلمان ہونے کا حکم صادر فرمائیے۔
دیکھئے قادیان سے اور مدینۃ المسیح لاہور سے کیا جواب ملتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ملے جس کی امید قوی ہے تو پھر سیاست داں فرقہ کو نہایت غیرت کے ساتھ شرمندہ ہونا چاہیے کہ کفار اور مرتد اپنے کفر و ارتداد کو سیاست پر قربان کرنا نہیں چاہتے اور ہمارا سیاست داں طبقہ فقط ایک وہمی نقصان اور نفع کے خیال پر اسلام جیسی عزیز اور قرآن جیسی محبوب نعمتوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ اور اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر ہم بھی خدا چاہے وہ بات عرض کریں گے جس کو سیاست داں طبقہ بھی تسلیم فرمائے گا۔ لیکن پہلے یہ سوال مرزائیوں سے کرلیا جائے پھر ہم سے کیا جائے۔ کیونکہ ہمارے فتویٰ سے مسلمانوں کی تعداد ساڑھے سات کروڑ سے بقول مرزائیوں کے چند لاکھ (جو موقعہ میں پندرہ ہزار بھی شاید ہی ہو) ہی کم ہوتی ہے اور مرزائیوں کے فتوے سے اگر زائد سے زائد مرزائی کل پندرہ لاکھ مانے جائیں تو کل مسلمان تو مرزا محمود کے فتوے سے اور دس لاکھ مرزائی خواجہ کمال الدین کے فتوے سے اسلام سے خارج ہوئے تو مرزائی دھرم کے مطابق کل ہندوستان میں صرف پانچ لاکھ مسلمان باقی رہتے ہیں تو اب دیکھ لیجئے کہ مسلمانوں کی تعداد کون زیادہ گھٹاتا ہے؟ لہٰذا پہلے مرزائیوں سے ہی یہ سوال کرنا چاہیے۔
پانچواں جواب...... یہ ہے کہ جس خطرے کا آپ کو خوف ہے اس سے آپ مطمئن رہیں، کیونکہ آپ کو اس وقت سیاسی نقطہ نگاہ سے دفتری مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ جو مردم شماری میں اپنے کو مسلمان لکھوا دیں یہ بات آپ کو بہرصورت حاصل ہے۔ گورنمنٹ گو سب کچھ جانتی ہے مگر مذہب کا فیصلہ خود نہیں کرتی۔ جب مرزائی اپنے کو مسلمان بلکہ خاص اپنے آپ ہی کو مسلمان کہتے ہیں تو گو ہم ان کے اسلام سے خارج ہونے پر فتوے دیں لیکن حقوق ملکی میں اس سے کیا مضرت ہے؟
٨٧
اور اگر یہ کہا جائے کہ گو وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں مگر جب مسلمان ان کو اسلام سے خارج بتلاتے ہیں تو غیر مسلم اقوام حقوق کے وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزائیوں کی تعداد سے مسلمان نفع نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ وہ ان کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر مسلم اقوام اس قدر ناواقف نہیں ہیں۔ وہ خود بھی جانتی ہیں کہ قرآن اور حدیث کے مطابق مرزائی اسلام سے خارج ہیں۔ بلکہ اگر آج آریہ سماج سیاست داں طبقہ سے اس پر مناظرہ کرے کہ مرزائی کس قاعدہ سے مسلمان ہیں تو میں نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ اور تو اور مسٹر محمد علی صاحب سنی بھی اس کو ثابت نہیں کر سکتے۔
تو فرمائیے اب اگر آپ مرزائیوں کو سیاسی اغراض کی بنا پر مسلمان کہیں تو نہ یہ قرآن کا حکم ہے نہ امانت اور دیانت کا۔ دین تو گیا ہی مگر سیاست بھی ہاتھ سے گئی۔ اس وجہ سے آپ مسلمان کو مسلمان کہیں اور کافر کو کافر اپنی فرضی مصالح اور منافع کی غرض سے خدا کے لیے اسلام اور ایمان اور احکام قرآن کو تختۂ مشق نہ بنائیے۔ اگر اسلام یورپ کا بنایا ہوا مذہب ہوتا تو ممکن تھا کہ عیسائیت کی طرح چند دنوں کے بعد اس میں بھی تغیر ہو جایا کرتا۔ مگر یہ تو اس کا دین ہے جس کا ارشاد مايبدل القول لدى (ق:٢٩) اور لاتبديل لكلمت اللہ (یونس:٦٤) ہے۔ کسی انجمن کے ممبروں کو تو یہ قدرت نہیں کہ اس کو جس طرح چاہیں باتفاق یا کثرت رائے سے بدل دیں۔ افسوس ہے کہ جس قوم کا کل یہ مقولہ تھا کہ اسلام اور سیاست ایک ہے دو نہیں۔ اسلام سیاست سے جدا نہیں۔ آج وہی قوم یوں کہے کہ شرعی اسلام اور ہے اور سیاسی اور۔ کیا ہر شہر اور گاؤں کا اسلام علیحدہ بنا کر رہو گے؟ خدا سے شرم کرنا چاہیے اور اس حکم خداوندی کو پیش نظر رکھنا چاہیے فلاتموتن الا وانتم مسلمون واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات و شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند ٢٩ رمضان المبارک ١٣٣٣ھ ٨٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالَى حَامِدًا وَ مُصَلِّيًا وَ مُسَلِّمًا
فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ
ایک زمانہ میں قادیان سے اشتہار نکلتے تھے۔ علماء دیوبند کو چیلنج دیا گیا۔ دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تبلیغ سے ابن شیر خدا حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ نے جوابی اشتہار شائع کئے، بعد میں کتابی شکل میں ان کو ایک ساتھ شائع کیا۔ ہر اشتہار قادیانیوں کے ناطقہ کو بند کرنے کے لیے درہ عمرؓ ثابت ہوا۔ شامل اشاعت ہیں ملاحظہ ہوں۔ قلم کی جولانی، دلائل کی حقانیت، اسلام کی غیرت، ناموس مصطفےٰ کے تحفظ کے لیے ایک ایک حرف شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ (مرتب)
اما بعد! اسلام کے حافظ حقیقی نے جیسا کہ ہمیشہ سے اسلام کی حفاظت فرمائی ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں بھی۔ مرزائی دجالی فتنہ کو خاک سیاہ فرما دیا۔ علماء اسلام نے (جزاهم الله عنا و عن سائر المسلمين خير الجزاء) ہر مسئلہ کو اپنی تحریر و تقریر سے صاف کر دیا۔ بفضلہ تعالیٰ مرزا اور تمام مرزائیوں کی مجال نہیں ہے جو مسلمانوں کے ایک لاجواب رسالہ کا بھی جواب لکھ سکیں۔ بالخصوص خدام دارالعلوم دیوبند نے جو رسائل و
٢
اشتہارات و چیلنج دیئے ہیں انہوں نے تو نقشہ جنگ ہی بدل دیا۔ بلکہ جنگ کا خاتمہ کر دیا۔ الحمدللہ الذی نصر عبدہ و ھزم الاحزاب وحدہ۔
یہ محض ہمارا ہی دعویٰ نہیں بلکہ اس کو عملاً مرزائیوں نے بھی قبول کرلیا۔ اس وجہ سے یہ نقشہ جنگ ہر مسلمان کے گھر میں رہنا چاہیے۔ اس کو محض کاغذی نقشہ ہی نہ سمجھنا چاہیے۔ بلکہ جن مشین گنوں اور آسمانی بمبوں کے ذریعہ سے تمام مرزائی قلعوں کو مسمار کیا گیا ہے وہ بھی اس میں موجود ہیں۔ وہ سرنگیں جن سے دجالی بستیوں کو اڑایا گیا ہے وہ بھی ان الفاظ کی تہہ میں مضمر نہیں بلکہ ظاہری نظر میں ہویدا اور آشکارا ہیں۔
مسلمانو! یہ صرف نقشہ جنگ ہی نہیں درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کی مکمل فتح کا نقش سلیمانی ہے۔ جس گھر میں یہ ہوگا اس گھر میں خدا چاہے دخل شیطانی نہ ہوگا۔ اگر کوئی بڑے سے بڑا مرزائی بھی آئے اسے فقط پڑھ کر سنا دو اور جواب کا مطالبہ کرو پھر ہمارے اس بیان کی تصدیق آپ کو خود بخود ہی ہو جائے گی۔ مرزا کا کذاب دجال مفتری علی اللہ ہونا اس طرح ثابت ہو جائے گا جس میں چون و چرا کی خدا چاہے گنجائش ہی نہ ہوگی۔
ہم پھر تمام مرزائیوں کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کو اگر اپنی حقانیت اور مرزا قادیانی کے من اللہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ آپ ہندوستان ہی نہیں یورپ کا سفر بھی کرتے ہیں۔ کتابیں رسائل اشتہارات اخبارات روزانہ طبع ہوتے ہیں۔ مگر کیا بات ہے کہ مرزا کے معارف قرآنیہ اور علوم الہیہ جس کی بنا پر ان کو امت کے افراد سے امتیاز ہے۔ انہیں مسیح موعود کہا جاتا ہے۔ ان کی محض فہرست بھی نہیں بتائی جاتی۔ اگر آپ لوگ مرزا قادیانی کو سچا ثابت نہیں کرسکتے تو پھر یہ کہہ دو کہ ہم مرزا قادیانی کے کس قدر جھوٹ ثابت کردیں تو آپ بھی ان کو جھوٹا کہیں گے۔ اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملتا۔ پھر ہم نے یہ عرض کیا کہ اگر مرزا قادیانی کروڑہا بھی جھوٹ بولیں تو پھر بھی آپ انہیں سچا ہی سمجھیں گے جب تک کہ مرزا قادیانی کو ان کے مخصوص دعاوی میں جھوٹا ثابت نہ کیا جائے۔ تو پھر یہی فرمادو کہ مرزا کے دعاوی مخصوصہ کیا کیا ہیں اور ان میں سے کس قدر
دعوؤں کے جھوٹ ہونے پر مرزا کو کذاب دجال کہیں گے؟ اس کا جواب بھی بجز خاموشی کچھ نہ ملا۔
یہ دونوں مطالبے ایسے صاف اور کھلے ہوئے تھے کہ ان کا جواب مرزائی فوراً دیتے۔ مناظروں کا دعویٰ مباہلوں کا شور تھا مگر سب کچھ بھول گئے اور کوئی جواب نہیں بنتا۔
سلطان القلم کے امتی! تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہاری غیرت شرم و حیا کہاں چلی گئی؟ یا اسلام کے نشان اخلاق سے بھی خارج ہو گئے۔
روزانہ اخبار اشتہار رسائل نکلتے ہیں مگر ایک صفحہ جواب کا نہیں لکھ سکتے۔ یہ ہے اسلام کی مکمل فتح اور یہ ہے ختم جنگ۔ قلم دوات' کاغذ' پریس' مشینیں سب ہی کچھ موجود ہیں۔ مگر کوئی مرزائی ہے جو ابن شیر خدا کے مقابلہ میں قلم اٹھائے۔ اور اپنے امیر کو مستعد کرے یا خود مضمون لکھ کر ان سے دستخط کرا کر شائع کرے۔ بفضلہ تعالیٰ نہیں ہے۔ نہیں ہے۔ نہیں ہے۔ ولو کان بعضهم لبعض ظهیرا (بنی اسرائیل: ٨٨) معارف قرآنیہ اور علوم الٰہیہ حقہ جو خاص مرزا قادیانی نے بیان کیے ہوں کہاں سے لاؤ گے؟ مرزا کے جھوٹ اور جھوٹے دعاویٰ کو کیسے سچا کرو گے؟ پھر تمہارے لیے سکوت ہی بہتر ہے اگر یہ نہ کرو تو کیا کرو تمہارے لیے تمام راہیں بند ہیں۔
تمام مرزائی جماعتوں کو چیلنج کہ قرآن کو نامکمل مانو۔ یا مرزا قادیانی کو کذاب دجال محرف قرآن۔ یہ اشتہار تم نے پڑھا بجز ان دو راستوں کے کوئی سڑک تمہیں معلوم ہوئی؟ بجز کفر کے اور اس کے بعد جہنم کے کوئی مقر تم کو اپنا معلوم ہوا ہو تو اپنے امیر سے لکھوا کر ہمارے پاس بھی بھیج دو تو پھر خدا چاہے ہم بتا دیں گے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا بجز جہنم کے کہیں ٹھکانا ہی نہیں۔ مرزائیت کا خاتمہ ہوا۔ جنازہ بھی نکل گیا۔ مرزائیت کی پوری خانہ ویرانی کے بعد ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج دیا اس کو کس نے نہیں دیکھا مگر کوئی لاہوری یا قادیانی بولا یا بول سکتا ہے؟ پھر کس منہ سے مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہو۔ اور کس حق کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہو۔ انصاف سے بات کرو۔ تم
٤
تو ابھی ابھی اسلام سے خارج ہوئے ہو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسلامی تو کیا کوئی انسانی اخلاق بھی تمہاری جماعت میں تلاش سے بھی نہیں ملتا۔
مسلمانو! خبردار رہو کوئی مرزائی لاہوری ہو یا قادیانی جب تمہارے یہاں آئے تو بس صرف یہ نقشہ فتح پیش کر کے جواب کا مطالبہ کرو۔ اگر کوئی جواب ان کے امیر کا دستخطی ہو تو دارالعلوم دیوبند بھیج دو۔ ورنہ قابل التفات نہیں۔ تم کو لمبی چوڑی تقریروں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں کے نفع کے لیے ان تمام اشتہارات کو ایک جگہ طبع کرا دیا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نفع اور مرزائیوں کی ہدایت فرمائے۔ آمین و اخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ خاتم الانبیاء ہم سیدنا و مولانا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین۔
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ ابن شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ٣ ربیع الثانی ١٣٤٤ھ
٥
مطبوعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت : -/150
مقدمہ قادیانی مذہب پروفیسر محمد الیاس برنیؒ قیمت : -/75
خاتم النبیین حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ ترجمہ: مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/70
تحفہ قادیانیت جلد اول مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/150
تحفہ قادیانیت جلد دوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/150
تحفہ قادیانیت جلد سوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/150
تحفہ قادیانیت جلد چہارم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/150
تحفہ قادیانیت جلد پنجم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ قیمت : -/150
احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ قیمت : -/100
احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسری قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد چہارم حضرت نانوتویؒ، حضرت تھانویؒ حضرت کشمیریؒ، حضرت میرٹھیؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد پنجم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد ششم قاضی سلیمان منصور پوریؒ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد ہفتم مولانا سید محمد علی مونگیریؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد ہشتم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد نہم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ قیمت : -/125
احتساب قادیانیت جلد دہم مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ قیمت : -/125
قومی تاریخی دستاویز مولانا اللہ وسایا قیمت : -/100
آئینہ قادیانیت مولانا اللہ وسایا قیمت : -/50
قادیانی شبہات کے جوابات مولانا اللہ وسایا قیمت : -/50
رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ قیمت : -/100
سوانح مولانا تاج محمودؒ صاحبزادہ طارق محمود قیمت : -/80
رفع نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبد اللطیف مسعود قیمت : -/100
نوٹ : تحفہ مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/600 احتساب قادیانیت مکمل سیٹ رعایتی قیمت -/1000
رابطہ : دفتر مرکزی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122 583486
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَانَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰى حَامِدًا وَّ مُصَلِّيًا وَّ مُسَلِّمًا
مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج
قرآن مجید کو غیر مکمل مانیں یا مرزا قادیانی
کو دجال، کذاب اور محرف قرآن
امیر افغانستان امان اللہ خاں خلد اللہ تعالیٰ ملکہ وسلطنتہ نے جب ایک مرتد مرزائی کا رجم کیا تو مرزائی جماعت نے (بقول مرزا قادیانی) بجز مرزائی دجالوں کے کسی کو اپنا ملجا نہ پایا اور بجز اس کے چارہ نہ دیکھا کہ مسیحی طاقتوں کو ایک اسلامی سلطنت کے خلاف ابھاریں اور اس کے ساتھ ہی جناب امیر صاحب موصوف کی خدمت میں نہایت گستاخانہ تار بھیجا جس میں حیا و شرم و انصاف کا خون کرتے ہوئے یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ یہ فعل اسلام و تہذیب کے خلاف ہے اس پر علماء اسلام نے ایک تار جناب امیر صاحب کی بارگاہ عالیہ میں بھیجا کہ خدام والا نے جو کچھ کیا وہ حق کیا اور مرزا اور مرزائی بوجہ انکار ختم نبوت و دعویٰ نبوت و انکار قطعیات و ضروریات دین و توہین انبیاء علیہم السلام قطعاً مرتد ہیں ان کی اسلامی سزا قتل ہے۔ ایک سلطان اسلام کو یہی کرنا چاہیے تھا جو سلطنت اسلام نے کیا۔ اس تار نے خرمن مرزائیت پر بجلی گرا دی اور علماء اسلام اور اسلامی اخبار سیاست و زمیندار کو بہت زوروں سے چیلنج دیئے گئے کہ مرتد کی سزا رجم اور قتل نہیں ہے۔ پھر کبھی تو کہا کہ قرآن و حدیث سے مرتد کی سزا قتل کا ثبوت نہیں۔ اور جب کسی کے بتلانے سے معلوم ہوا کہ احادیث تو اس بارہ میں بہت سی ہیں تو فقط قرآن سے ثبوت طلب کیا اور کبھی غایت اضطراب میں مطلق رجم کا انکار کیا خواہ کوئی جرم ہو۔ الحمد للہ ومنتہ تعالیٰ کہ علماء اسلام اور اسلامی اخباروں نے ہر بات کا ایسا کافی اور شافی جواب
٢
دیا کہ زبان تو نہیں مگر دل مرزائیوں کے بھی مان گئے۔ مولانا شبیر احمد صاحب نے اپنے رسالہ الشہاب (احتساب قادیانیت ج٤ ص ١٩١ سے ص ٢٣١ تک ملاحظہ ہو۔ شائع کرنے کی توفیق پر رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔ فالحمدللہ مرتب) میں قرآن کریم سے سزائے ارتداد کو ایسی وضاحت سے ثابت فرما دیا کہ کسی کو جائے دم زدن باقی نہ رہی۔ اور مولوی محمد شفیع صاحب نے اپنے مدلل ومفصل جواب میں بہت سی احادیث سے استدلال کیا۔ اور مولوی سید میرک شاہ صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند نے مرزائیوں کے انکار رجم کے متعلق بخاری شریف کی ایک حدیث کے منطوق صریح کا حوالہ دیتے ہوئے زانی محصن کی سزائے رجم کو سوالاً پیش کیا اور اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس تقریر کو جو مجمع عام صحابہ رضوان اللہ علیہم میں یوم جمعہ فرمائی تھی جس میں ایک آیت منسوخ التلاوۃ کا حوالہ تھا۔ نقل کیا۔ جس میں مذکور ہے کہ زانی محصن کی سزا رجم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا۔ اور آپؐ کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیہم نے رجم کیا۔
مرزائی چیلنج (جو بالکل ناواقفیت اور نادانی یا سراسر کفر و ارتداد پر مبنی تھا) کا جواب اس سے زیادہ تحقیقی و الزامی ناممکن تھا اور ساتھ ہی مسکت بھی اس درجہ کہ جواب کے اصل مضامین پر قلم نہ اٹھا سکے البتہ ایک صاحب نے نئے ارتداد اور کفر کی بنیاد ڈالی اور کہا کہ اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن شریف غیر مکمل ہے۔ ایک مکمل قرآن کی ضرورت ہے۔ مولانا میرک شاہ اور علماء اسلام ایک مکمل قرآن شریف پیش کریں۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم طبع کرائیں گے۔ کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس کو چھپوائیں گے۔
ان دین و دانش عقل وفہم حیا و ایمان کے دشمنوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ جو امور جواب میں مذکور ہوئے ان میں مولانا میرک شاہ صاحب کا کیا قصور؟ ایک شخص واقعات پیش کرتا ہے۔ تصحیح نقل اس کے ذمہ ہے۔ اگر کوئی بات ان میں سے تمہارے نزدیک مولانا نے غلط بیان فرمائی ہے تو منہ میں زبان ہے ہاتھ میں قلم ہے کیوں نہیں کہتے۔ اور اگر یہ تمام واقعات تمہارے نزدیک صحیح ہیں اور ان واقعات سے آپ کے نزدیک یہ لازم آتا ہے کہ قرآن موجود غیر مکمل ہو جائے۔ گو تم مرتد ہو۔ مگر زبان سے تو اسلام کا دعویٰ کرتے ہو۔ قرآن شریف کو مکمل مانتے ہو تو پھر اس کا جواب کیا تمہارے ذمہ نہیں ہے؟ صرف ہم سے ہی کیوں مطالبہ ہے؟ حالانکہ ہمارے نزدیک یہ تمام واقعات
٣
قرآن کے غیر مکمل ہونے کو مستلزم نہیں۔ بلکہ اس واقعہ سے قرآن کا زیادہ مکمل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ورنہ یہ کہہ دو کہ ہم ان واقعات کو کل یا فلاں فلاں کو صحیح نہیں مانتے۔ لہٰذا قرآن ہمارے نزدیک مکمل ہے۔ اور چونکہ مسلمان ان واقعات کو صحیح کہتے ہیں تو ان کے نزدیک غیر مکمل ہے۔ پھر صرف مسلمانوں سے جواب لو اور یا یہ کہو کہ واقعات بھی تمام صحیح اور ان سے قرآن شریف کا غیر مکمل ہونا بھی ضرور لازم آتا ہے مگر مرزائی قرآن شریف کو مکمل ہی نہیں مانتے اور مسلمان چونکہ قرآن شریف کو مکمل مانتے ہیں لہٰذا جواب دینا صرف مسلمانوں ہی کا فرض ہے نہ مرزائیوں کا' تو جہاں تمہارے اور کفریات ہیں ان میں ارتداد کی ایک وجہ اور زیادہ ہو جائے گی۔ اور مسلمان اس دھوکہ سے تو محفوظ ہو جائیں گے کہ مرزائی بھی قرآن کو مانتے ہیں۔ اور یا یہ کہو کہ یہ واقعات صحیح ہیں مگر ان سے قرآن کا غیر مکمل ہونا لازم نہیں آتا جو ایسا کہتا ہے وہ دشمن ایمان ہے۔ مرتد ہے اور مولوی میرک شاہ صاحب کا مطلب بھی یہی ہے۔ پیغامیو! قادیانیو! فرماؤ اب ان باتوں میں سے کون سی بات تسلیم فرماتے ہو؟ اگر مرزا قادیانی نے ایمان لے لیا ہے تو اس قدر عقل تو ضرور ہوگی جو اس صاف بات کو سمجھ لو۔ اور اگر آپ کی جماعت میں کوئی اتنا بھی نہیں جو اس قدر فہم و انصاف بھی رکھتا ہو تو پھر تم ہی کہو کہ تمہارے وجود سے تمہیں خود شرمانا چاہیے یا نہیں؟ ایک حکم کو آیت منسوخ التلاوۃ کی طرف منسوب کرنا اور اس کی عبارت کا متلو اور قرآن شریف میں مندرج نہ ہونا چونکہ مرزائیوں کے نزدیک قرآن شریف کو غیر مکمل کہنے کے مترادف ہے تو جواباً اس طرف سے مرزا قادیانی کی ایک عبارت پیش کی گئی جس کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ قرآن میں ہے حالانکہ نہیں۔ اور اس کے منسوخ التلاوۃ یا غیر مندرج فی القرآن ہونے کی تصریح بھی نہیں فرماتے' جس سے لازم آتا ہے کہ موجود قرآن نامکمل ہے تو اس کا جواب تو کچھ نہ بن پڑا البتہ لاہوری مرزائی فرماتے ہیں کہ دیوبندیوں کے ترکش میں ایک ہی تیر ہے اسی کو مختلف عنوانات سے استعمال کرتے ہیں۔
ترکش میں ایک تیر ہونا تو کوئی نقصان کی بات نہیں۔ ہاں یہ عیب ہے کہ ترکش کے ترکش خالی کر دیئے جائیں اور شکار کو ہوا بھی نہ لگے۔ بلکہ یہ تو کمال کی بات ہے کہ ایک ہی تیرے سے صد ہا شکار ہو جائیں اور جو شکار سامنے آئے زندہ نہ جائے۔ ہاں ہاں دیوبندی بفضلہ تعالٰی ایسے ہی ہیں کہ ان کا شکار ایک قدم بھی نہیں ہل سکتا۔ ایک ایک مرزائی کو دیکھ لو کہ ایک ہی تیر سے سب کے سینے چھلنی اور دل پاش پاش اور جگر ٹکڑے
٤
لکھے ہے یا نہیں؟ اگر نہ ہو تو وہ مرزائی نہیں یا اسے عقل اور حیا ہی نہیں۔ دیوبندیوں کے ترکش میں ایسے بہت سے تیر ہیں اگر آزمانا ہے تو دل و جگر کو سامنے کیجئے اور دیکھئے کہ پار ہوتا ہے یا نہیں۔ ملاحظہ ہو ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ (١) مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ (٢) اس کو کافر قرار دیں گے (٣) اس کے قتل کے لیے فتوے دیئے جائیں گے (٤) اس کی سخت توہین کی جائے گی۔ (٥) اور اس کو دائرۂ اسلام سے خارج (٦) اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
ان چھ مضمونوں کو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھے ہیں۔ کوئی قرآن شریف دکھا سکتے ہو جس میں یہ مضامین ستہ لکھے ہوئے ہوں؟ نہیں دکھا سکتے۔ پس اب تمہارے لیے دو راہ میں سے صرف ایک ہی راہ ہے۔ ایک تو یہ کہ جب ایک آیت رجم قرآن شریف میں لکھی ہوئی نہیں تو قرآن شریف غیر مکمل ہے تو یہ چھ آیات جب قرآن شریف میں نہیں تو کہو کہ مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک ایک دفعہ نہیں چھ دفعہ قرآن شریف نامکمل ہے۔ اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلمان ہو جاؤ اور یہ کہہ دو کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ دجال ہیں، کذاب ہیں، مفتری علی اللہ ہیں، محرف قرآن ہیں۔ یہ انہوں نے جھوٹ کہا ہے قرآن مکمل ہے۔ قرآن میں یہ مضامین نہیں اور ہرگز نہیں۔ ایک صورت میں قرآن اور ایمان جاتا ہے اور دوسری صورت میں مرزا قادیانی اور مرزائیت۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ مرزائی ایمان اور قرآن کو چاہتے ہیں یا مرزائیت اور خسران کو؟ دیکھئے لاہوری امیر اور قادیانی وزیر کیا فرماتے ہیں۔
مرزائیو! خدا کے لیے غور کرو۔ اب اس کھلے ہوئے حق کے بعد بجز گمراہی اور کیا ہے۔ مرزائی قرآن جو ثریا کے پاس چلا گیا تھا اور مرزا قادیانی اسے واپس لائے۔ (ازالہ ص ٦٥٨ خزائن ج ٣ ص ٤٥٥) شاید جلدی میں وہاں کچھ رہ گیا ہے۔ اس وجہ سے مرزائیوں کے نزدیک قرآن مجید ضرور نامکمل ہے۔ دیکھئے یہ نقصان کون پورا کرتا ہے؟ خلیفہ صاحب یا مرزا قادیانی خود بروز فرمائیں گے؟ مسٹر لاہوری! کوئی دیوبندی تیر اور کھانے کی تاب ہے تو ملاحظہ فرمائیے۔ جہاں مرزا قادیانی نے اپنا کشف بیان کیا ہے کہ جس میں انا انزلناہ قریبا من القادیان کا قرآن شریف میں ہونا بچشم خود ملاحظہ فرمانا لکھا ہے (ازالہ اوہام ص ٧٧ خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ) مرزا قادیانی کا کشف اگر غلط نہیں بلکہ مثل
٥
وحی مرزا قادیانی ویسا ہی قطعی ہے جیسا قرآن شریف۔ تو پھر یہ آیت بھی مرزا قادیانی قرآن میں لکھی ہوئی فرماتے ہیں۔ مگر نہیں ہے۔ تو کیا اس وجہ سے بھی مرزائی قرآن شریف کو غیر مکمل فرما کر ایک مکمل قرآن کی تلاش فرمائیں گے؟ فرمائیے ایمان اور قرآن گیا یا مرزا قادیانی کی صداقت اور عرفان؟
کہنا چاہیے تھا کہ لاہوری قادیانیوں مرزائیوں کو مکمل قرآن کی ضرورت ہے۔ مگر زبان سے کیا نکلا؟ کچھ تو شرماؤ اور علماء دیوبند سے ذرا سنبھل کے بات کیا کرو۔ دیکھو کہیں ساری مرزائیت کو یوں ہی نہ بہا دو ۔
اربعین کی عبارت سے اور بھی بہت مضامین ثابت ہوتے ہیں۔ اگر موقعہ ہوا تو خدا چاہے پھر عرض کیے جائیں گے ۔ جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی
مرزا قادیانی نے جو اپنا اصول قرار دیا وہ ایسا ہے کہ اگر ایک بھی مان لو تو ابوجہل سے تو مرتبہ کم نہ رہے جس کی قدرے تفصیل رسالہ ”دشمن ایمان مرزائے قادیان“ میں ہدیہ ناظرین ہوگی۔ امیر لاہوری یا قادیانی اگر اس کا جواب دیں تو پھر ہم دیوبندی ترکش کے اور نوعیت کے تیر بھی جگر سے پار کرنے کو ہیں۔ جب عقلی طور سے خدا چاہے یہ ثابت کر دیا جائے گا کہ مرزائیوں کا ایمان قرآن کے مکمل ہونے پر محال ہے جب تک کہ مرزا قادیانی کو کذاب اور دجال اور محرف قرآن نہ جانیں۔ وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ٤ رجب ١٣٣٣ھ
اس مضمون کی کاپی تیار ہو چکی تھی قبل طبع ٦۔ رجب ١٣٣٣ھ کا پیغام صلح نظر سے گذرا جسے دیکھ کر یہ معلوم ہوا کہ مرزائیوں کے ترکش میں بجز فاصنع ماشئت کے اور کچھ بھی نہیں۔ اہل اسلام نے مطالبہ کیا تھا کہ قرآن شریف میں یہ کہاں ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی؟ (کشتی نوح خزائن ج ١٩ ص ٥) اس کے جواب میں نزول المسیح کی عبارت پیش فرمائی۔ جس میں مرزا قادیانی اپنا ایک خواب بیان فرماتے ہیں جس میں انہیں یہ خیال ہوا کہ دابۃ الارض سے مراد طاعون ہے۔ (نزول المسیح ص ٣٨ خزائن ج ١٨ ص ٤١٥-٤١٦) کہاں آیت واذا وقع عليهم القول اخرجنالهم دابة من الارض (نمل:٨٢) کہاں یہ مضمون کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی؟ ؎
اس کا مفصل جواب تو اور حضرات لکھیں گے مجھے تو یہ عرض کرنا ہے کہ اب اربعین کی عبارت مذکورہ کے متعلق آپ کو کوئی فکر نہ کرنا چاہیے قل اعوذبرب الفلق قل اعوذبرب الناس۔ ایۃ الکرسی کوئی آیت لکھ کر فرما دیجئے کہ یہی اربعین کا مضمون ہے۔ کیوں نہ ہو جب متنبی نیا‘ قرآن نیا‘ مذہب نیا‘ احکام نئے تو پھر لغت نیا کیوں نہ ہو؟ پیغامی مرزائیو! اپنے امیر کی اس حرکت سے کہو کچھ شرمائے یا نہیں یہی جواب ہے یہ معارف قرآنیہ ہیں جو مرزا قادیانی لے کر تشریف لائے۔ اب تمہارے زندہ درگور کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی عبارت پیش کرتا ہوں ”اور دابۃ الارض سے مراد کوئی لا یعقل جانور نہیں بلکہ بقول حضرت علیؓ آدمی کا نام ہی دابۃ الارض ہے۔“ اور اس جگہ لفظ دابۃ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے۔ لیکن زمینی علوم وفنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غراء بجالاتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٠٢ خزائن ج ٣ ص ٣٧٠ - ٣٦٩) ”اسی کی طرف اللہ جل شانہ یہ اشارہ فرماتا ہے واذا وقع عليهم القول اخرجنا لهم دابة الخ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہوگا“ (ایضاً ص ٥٠٣ خزائن ج ٣ ص ٣٧٠) ”تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا۔ مگر اب تک اس جساسہ اور دجال اور ابن صیاد مفقود الخبر اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا انسانوں کا کچھ پتہ نہیں۔“ (ایضاً ص ٥٠٧ خزائن ج ٣ ص ٣٧٢) ”اور اگر آپ کے دل میں یہ خلجان گذرے کہ احادیث نبویہ میں ان کے خروج کا وعدہ ہے اس کے اس صورت میں کیا معنی ہوں گے سو سنو اس
٧
کے سچے معنی جو اللہ جل شانہ نے میرے پر ظاہر کئے ہیں وہ یہ ہیں۔" (ایضا ص ٥٠٧ خزائن ج ٣ ص ٤٧٢) یہاں مرزا قادیانی دجال یاجوج ماجوج دابۃ الارض کے وہ سچے معنی ظاہر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر ظاہر کیے ہیں۔ کسی مرزائی یا خود مرزا قادیانی کی مجال ہے کہ کوئی دوسرے معنی یا خواب و خیال پیش کر سکے۔ ملاحظہ ہو ازالہ ”ایسا ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے۔“ (ایضا ص ٥١٠ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) فرمائیے یہاں تو مرزا قادیانی دابۃ الارض کے خدائی معنی علماء اسلام و متکلمین و واعظین کے فرماتے ہیں جو اسلام کی خدمت کر کے تمام مذاہب باطلہ کا رد فرماتے ہیں۔
کیوں پیغامیو! تمہارے یہاں اسی کا نام طاعون ہے یہی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے کہو تم سچے یا تمہارا مرزا۔ اور ان کا یہ کلام صحیح یا وہ؟ سچ ہے ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (نساء: ٨٢) مرزا قادیانی کی دجالیت کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہوگا؟ جیسا موقعہ دیکھا اس کو خدائی معنی خدائی کشف الہام رؤیا بتا دیا۔
مرزائیو! یہی ایمان اسلام ہے۔ کیا مسٹر محمد علی لاہوری کے پیش نظر یہ عبارت نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے مگر دیدہ و دانستہ جھوٹ کے چھپانے کو جھوٹ بولتے اور خلق اللہ کو گمراہ کرتے ہیں۔ اور ان سے خود ہی دریافت کرو کہ آپ نے اپنی تفسیر کے صفحہ ١٣٢٦ میں اس آیہ کے تحت میں دابۃ الارض کے کیا معنی لکھے ہیں۔ کیا تم نے صحیح اور محکم اور قرآنی معنی دابۃ الارض کے انسان کے نہیں لکھے اور آخر میں آکر مکہ کے یہ نہیں لکھا کہ ”اگر دابۃ الارض سے انسان مراد نہ لیے جائیں تو پھر وہ خواہ طاعون ہو یا وبا یا جنگ و لڑائی (کہو یہ کون دھرم ہے) جب مرزا قادیانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا کہ دابۃ الارض کے معنی انسان ہی کے ہیں اور آپ کے نزدیک بھی یہ معنی صحیح اور محکم اور قرآن سے ثابت ہیں تو پھر دوسرے معنی مقابلہ پر لکھنا یہی انسانیت ہے؟ آپ کا قصور نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے آپ کو یہی بتایا ہے۔ اب ذرا سنبھل کر جواب تحریر فرمائیے اور اس تعارض کو اٹھائیے۔ کیا قرآن شریف کی آپ کے نزدیک یہی وقعت ہے کہ جس لفظ کے جو چاہے معنی کر لیے۔ کیا یہ تحریف نہیں ہے؟ ہم اور بھی مرزا قادیانی کی عبارات پیش کریں گے۔ اگر آپ نے جواب دیا جو کم سے کم آپ کے دھرم کے تو موافق ہو۔ ورنہ ہمارا کچھ حرج نہیں آپ جس قدر ایسی باتیں لکھیں گے آپ کا اور مرزائیت کا مضحکہ ہوگا۔ وللہ الحجۃ البالغۃ ولہ الحمد۔ ٨ رجب ١٣٤٣ھ
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ضلع سہارن پور (یوپی)
٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیت کا خاتمہ
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالَى حَامِداً وَّ مُصَلِّياً وَّ مُسَلِّماً
مرزائیت کا خاتمہ
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لیے بہت سے دعوے کیے لیکن سب ہی غلط ثابت ہوئے مجدد، محدث، ولی، آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم، محمد احمد۔ غرض جس قدر بھی دنیا میں انبیاء علیہم السلام تشریف لائے وہ سب ہی مرزا قادیانی (معاذ اللہ) ہوئے ہیں جری اللہ فی حلل الانبیاء الہام ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
ہندوؤں کے کرشن بھی ہوئے۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
پھر مردوں کے مراتب طے فرما کر عورت بھی ہوئے۔ یعنی حائضہ اور حاملہ ہوئے اور بچے بھی جنے اور خود ہی مریم، ابن مریم ہوئے۔
(کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
حمل کس سے ہوا اس کو بھی بیان فرما دیا آخر میں نبی بروزی، ظلی، مجازی، لغوی ہو کر نبی حقیقی شرعی ہی پر بس نہیں کی۔ بلکہ صاحب شریعت بھی ہوئے۔
(اربعین نمبر ٤ ص ٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
لیکن ڈاکٹر عبدالحکیم خاں۔ مولوی ثناء اللہ اور سلطان محمد کی موت اور محمدی بیگم کے نکاح اور اپنی زندگی میں جن تین امور کے ہو جانے کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت اور کذب کا معیار قرار دیا تھا ان سب سے پہلے مر کر اپنی ناکامی نامرادی اپنا کذاب ہونا۔ ہر بد سے بدتر ہونا ایسا ثابت فرما گئے کہ نہ موافقوں کو دم مارنے کی جگہ باقی رہی نہ مخالفوں کو زیادہ گفت و شنید کی ضرورت۔ جھوٹ ایسے ایسے ڈبل بولے کہ زمین و آسمان تو ان کا تحمل کر نہیں سکتے۔ ہاں مرزا قادیانی کی قبر ہی میں ان کو تلاش کیا جائے تو ضرور ملیں۔ مرزا قادیانی سب کچھ ہوئے مگر ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی ایمان ان کو نصیب نہ ہوا ۔
٢
یہ شعر مرزا قادیانی کے بالکل مطابق حال ہے۔ مرزا قادیانی کے معتقدین مرزا کے بڑے بڑے فضائل بیان فرماتے ہیں اور خود مرزا نے بھی اپنی تعریف میں رسائل سیاہ فرما دیئے۔ اور شیخیاں تو سب گرد میں مل گئیں ہاں ایک شیخی اور ہے جس کا پورا خاتمہ ہونے سے مرزائیت ہی کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھ کو وہ معارف قرآنیہ دیئے گئے جس کی نظیر امت میں نہیں مل سکتی (مسیح موعود ہی جو ہوئے) اور جو دولت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو تقسیم فرمائیں گے اور لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے اور مال و دولت کے لینے سے انکار کریں گے وہ دنیاوی مال و دولت نہیں جس کو فتنہ فرمایا گیا ہے۔ یہ دولت وہی معارف قرآنیہ اور علوم دینیہ ہیں جس کو مرزا قادیانی تقسیم کرتے ہیں اور مسلمان اسے قبول ہی نہیں کرتے (معارف قرآنیہ ہوتے تو مسلمان ضرور قبول کرتے۔ معارف شیطانیہ کو مسلمان کب قبول کر سکتے ہیں) اب تمام مرزائی خوب کان کھول کر سن لیں۔ اور اس کا جواب دیں۔
بحول اللہ وقوتہ یہ عاجز بندہ عرض کرتا ہے کہ مرزا قادیانی اس دعوے میں بھی بالکل کاذب ہیں جھوٹے ہیں۔ معارف قرآنیہ اور علوم دینیہ سے ان کا کیا واسطہ۔ مرزا قادیانی نے جس قدر بھی ایسے مضامین لکھے وہ سب پہلی کتابوں کا سرقہ ہے۔ چوری ہے اور جہاں اپنا تصرف کیا ہے وہی مضمون غلط ہے جھوٹ ہے لغو ہے۔ باطل ہے۔ الا ماشاء اللہ۔
اب جن معارف کی نسبت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو ناز ہے کہ یہ معارف قرآنیہ خاص مرزا قادیانی کو عطا ہوئے وہ ظاہر کیے جائیں۔ اور نیز وہ معارف جدیدہ خمسہ کس قدر ہونے چاہئیں جو مسیح موعود کی شان کے لائق ہوں اور جس سے تمام امت پر مرزا قادیانی کا تفوق ثابت ہوا ہو اس کی تعداد جو چاہو مقرر فرما کر لکھئے۔ پھر ان مضامین کا صرف حوالہ دے دینا چاہیے کہ فلاں کتاب میں فلاں صفحہ سطر کا مضمون فلاں صفحہ سطر تک ہے۔ اس کے بعد خدا چاہے میں عرض کردوں گا کہ ان مضامین سے بہت اعلیٰ مضامین امت میں پہلے سے موجود ہیں اور مرزا قادیانی کے علوم کو ان سے کوئی بھی نسبت نہیں۔ یا یہ مضمون فلاں شخص سے مسروقہ ہے۔ مرزا قادیانی کا نہیں۔ اور فلاں مضمون فلاں سے چرایا ہے۔ پھر مرزائی اگر زیادہ سے زیادہ کہیں گے تو یہ کہیں گے کہ اس مضمون کو مرزا قادیانی نے سرقہ نہیں کیا۔ بلکہ اس مضمون کا توارد ہوا ہے۔
اوّل تو یہ بات قابل قبول نہیں لیکن اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر مرزا قادیانی
٣
کی فضیلت کیا ہوئی اور مسیح موعود کے علوم کا دوسرے لوگوں سے امتیاز ہی کیا رہا؟ بلکہ اس سے مرزا قادیانی کے جھوٹ کی فہرست میں اور ایک نیا اضافہ ہو جائے گا جو مسیح کاذب کی شان کے بالکل مناسب ہوگا۔ غرض اگر مرزائی اس میں بھی ناکامیاب رہے تو پھر انہیں کسی مسلمان کو منہ نہ دکھانا چاہیے۔ اور ہم بفضلہ تعالیٰ پیشگوئی کرتے ہیں کہ ہزار دو ہزار تو کیا سو دو سو بھی نہیں۔ دس بیس بھی ایسے مسائل اور معارف نہیں بتا سکتے جو معارف قرآنیہ مرزا قادیانی کے مخصوص بھی ہوں اور صحیح بھی۔ اگر مرزائی یہ بھی نہ بتا سکے اور خدا چاہے ہرگز ہرگز نہ بتا سکیں گے تو مرزائیت کے خاتمہ میں اب کیا باقی رہ گیا؟
مسلمان اس اشتہار کو چھاپ چھاپ کر مرزائیوں میں خوب تقسیم فرمائیں اور جواب لیں۔ اور اگر پھر بھی کبھی کوئی مرزائی سامنے آئے تو یہی اشتہار دکھا دینا چاہیے۔ دیکھئے مسٹر محمد علی صاحب اور مرزا محمود صاحب کیا جواب مرحمت فرماتے ہیں؟ اس کے جواب کے لیے دو ہفتہ کی مہلت ہے کیونکہ مضامین کی صرف فہرست اور حوالہ دریافت کیا گیا ہے ان کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔
چونکہ مرزائی انصاف سے احتمال قوی ہے کہ مرزائی جماعت متعدد مضامین کا حوالہ دے کر کسی غیر متعارف غیر ذمہ دار کی طرف سے مضمون شائع کر دیں اور جب اس طرف سے ان مضامین سے اعلیٰ مضامین کا حوالہ دیا جائے یا مرزا قادیانی کے مضامین کا مسروقہ ہونا ثابت کیا جائے تو یہ جواب دے دیں کہ یہ شخص کوئی ذمہ دار نہیں نہ عالم نہ فاضل اس کا کوئی اثر مرزائیت پر نہیں پڑتا۔ اور ہمیں بحول اللہ وقوتہ مرزائیت کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے عرض ہے کہ جو مرزائی بھی جواب لکھے پہلے خوب غور کرے پھر اپنے امیر کے دستخط ضرور کرا دے تاکہ مضمون قابل التفات اور لائق جواب سمجھا جائے ورنہ جو تحریر بھی ہوگی کالعدم ہوگی۔ اور مرزائی جواب سے عاجز سمجھے جائیں گے اور ان کو مرزائیت کا جنازہ نکالنا پڑے گا۔ اور ہر امیر کو اپنے دستخط کے ساتھ یہ پہلے لکھنا ہوگا کہ اگر ان مضامین سے اعلیٰ مضمون یا ان میں سے ایک مضمون کا بھی مسروقہ ہونا دکھایا گیا تو یا تو امیر کو مرزائیت سے توبہ کرنا ہوگی ورنہ اس کا اعلان کرنا ہوگا کہ مرزائیت کا خاتمہ ہوگیا۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی مسیح موعود تمام ادیان باطلہ کو باعتبار دلیل ہی کے فنا کرے گا۔ دلائل حقانیت اسلام کے ایسے بیان کرے گا جن کا جواب ناممکن ہو۔ اور اس سے پہلے ایسے دلائل کسی نے پیش نہ کیے ہوں اور یہی تمام ادیان کے (مرزائیوں کے یہاں)
٤
فنا ہونے کے معنی ہیں تو جب مرزائی اس میدان میں عاجز ہوں گے اور مرزا کے معارف قرآنیہ صحیحہ جو مرزا ہی کے ساتھ مختصہ ہوں پیش نہ کر سکیں گے تو گو قدیم عیسائیوں کی طرح وہ دنیا میں موجود رہیں مگر مرزائی اصول کے موافق ان کا خاتمہ ہی تصور کیا جائے گا۔
اسی کے ساتھ اگر کسی مرزائی میں جواب کی ہمت ہو تو صحیفۃ الحق (١) اور اول السبعین کا جواب بھی ان کے امیر کا تصدیق شدہ پیش فرمائیں۔ مسلمانوں سے مرزائیوں کا گریز تو مستبعد نہ تھا مگر افسوس اس پر ہے کہ مرزائیوں کا بہائیوں سے بھی اس قدر قافیہ تنگ ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ان کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کے گودام میں جو کچھ ہے وہ بہائی کارخانہ کا مال مسروقہ ہے اس پر بہائی مارکہ پڑا ہوا ہے اور دلائل اور دعوے سب وہیں کا لیا ہوا ہے۔ دیکھنا ہے کہ مرزائی جماعت کیا طرز عمل اختیار کرتی ہے اور بہائیوں کے دعوے کا کیا جواب دیتی ہے؟ واخر دعونا ان الحمدللہ رب العلمين وصلى الله تعالى على خير خلقه سيدنا محمد واله وصحبه اجمعين 0
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند۔ ٨ رجب ١٣٣٣ھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
٥
ماہنامہ لولاک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ‘ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ ہفت روزہ ختم نبوت ﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون وبیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔ زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
﷽
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِداً وَّ مُصَلِّياً وَّ مُسَلِّماً
مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن
تمام مرزائی جماعتیں مل کر تجہیز و تکفین کریں۔
کفن ارزاں‘ قبر مفت‘ ورنہ پولیس کے حوالے
مرزائیت کا خاتمہ تو ہو چکا۔ بجائے دو ہفتہ کے دو ماہ سے زائد ہو گئے مگر پیغامی قادیانی کوئی بھی نہ بولا۔ مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ‘ نئے علم کلام‘ جدید لاثانی دلائل‘ نئے انوکھے اچھوتے مسائل کی دھوم تھی۔ غل تھا‘ مگر جب پوچھا گیا کہ وہ معارف کیا ہیں؟ جو عرش معلیٰ پر مرزا قادیانی ہی کے لیے مخصوص کر رکھے گئے تھے؟ تو جواب ندارد۔ کم سے کم کس قدر معارف قرآنیہ ہونے چاہئیں کتنے جدید دلائل اور علوم مختصہ ہوں جن سے انسان مسیح موعود‘ مہدی مسعود ہو سکے؟ ان کی صرف فہرست بتا دو تو پھر خدا چاہے یہ ہم بتا دیں گے کہ یہ معارف بالکل مسروقہ ہیں۔ قطع ید واجب ہے۔ اور بالفرض اگر توارد ہے تو مرزا قادیانی کی شیخی پھر بھی خاک میں مل گئی جب وہی مضامین پہلے بھی موجود ہیں تو مرزا قادیانی مسیح موعود کیسے؟ الا ماشاء اللہ تعالیٰ شاید کوئی ان کا بھی مضمون ہو۔ تو پھر ہم ان مضامین سے نہایت اعلیٰ مضامین پہلے علمائے امت کے دکھا دیں گے تو پھر بھی مرزا کی خصوصیت نہ رہی۔ مسیحیت کافور۔ اس کے لیے دو ہفتہ کی مقدار مقرر کی گئی تھی مگر آٹھ ہفتوں سے بھی زائد ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب مرزائی کاہل
٢
تشریف لے گئے۔ کسی مرزائی کی تجہیز تکفین کرنے اور سنگساری پر ماتم کرنے سے مرزائیت کو خاتمہ سے بچانا زیادہ ضروری تھا۔
مرزائیوں کی غفلت سے بیچاری مرزائیت کا تو بری طرح تڑپ تڑپ کر خاتمہ ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنازہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ مرزا قادیانی کا جنازہ تو لاہور سے قادیان گیا تھا۔ دیکھئے بیچاری مرزائیت قادیان سے لاہور آتی ہے یا یہاں سے وہاں جاتی ہے۔ یا لاوارثی میں عیسائیت کے سپرد ہوتی ہے ۔
ٹھوکریں کھاتی پھرے تھی نعش کفنائی ہوئی
غرض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو مسیح صادق کہتے ہیں اور مسلمان مسیح کاذب۔ جب مرزائی مرزا کو صادق ثابت نہیں کر سکتے تو مسلمان مرزا کو کاذب ثابت کرتے ہیں اور دلیل کذب کی وہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو تمام مرزائیوں کی متفق علیہ اور مسلم ہو تاکہ دونوں جماعتیں متفق ہو کر پھر دشمنان اسلام کا مقابلہ کریں اور مرزائیوں کا دعوائے اتفاق بھی معلوم ہو جائے کہ مرزا کے مسلم کاذب ثابت ہونے پر بھی مرزائیت کو چھوڑ کر مسلمان ہوتے ہیں یا نہیں؟
چونکہ ہم کو مرزائیوں پر اعتماد نہیں نہ ہمارے تجربہ میں وہ طالب حق ثابت ہوئے بلکہ ہم کو یقین ہے کہ ان دنیاوی منافع کی بنا پر جو ان کو مرزائی ہونے میں حاصل ہیں اور مسلمان ہونے یا رہنے میں حاصل نہیں ہو سکتے ہیں وہ دلائل قاہرہ کے باوجود بھی مرزائیت سے تائب نہیں ہوتے ہیں۔
تاہم بطور اتمام حجت تمام مرزائی جماعتوں کی خدمت میں بہت مختصر اور آسان فیصلہ پیش کرتے ہیں کہ وہ مشورہ کر کے یا علیحدہ علیحدہ بذریعہ اشتہار مطبوعہ مطلع فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے کاذب اور جھوٹا اور مسیح کاذب۔ المسیح الدجال ہونے کے اس قدر قطعی یقینی جھوٹ ثابت کرنے کی ضرورت ہے بس جو تعداد مرزائی مشتہر کریں گے خدا چاہے اسی قدر مرزا قادیانی کے ایسے جھوٹ جن میں مرزائی کوئی معقول تاویل بھی نہ کر سکیں وہ ہم پیش کردیں گے۔ اور ایک غیر مسلم حکم (کیا مباحثہ لدھیانہ میں متاع عزت و غیرت
٣
کی تصحیح کے ساتھ تین سو روپیہ کا خسران برداشت کرنے کے بعد بھی؟) بھی (اگر مرزائی اس شرط کو ضروری سمجھیں تو) مقرر ہو سکتا ہے اور بڑا حکم تو مرزائی کا اس کے جواب سے سکوت ہے کیونکہ کسی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس کے جھوٹ ثابت کیے جائیں۔ ورنہ جھوٹ بول کر بھی انسان جھوٹا ثابت نہ ہو تو پھر اسے کس طرح جھوٹا ثابت کیا جائے؟
بس اب زیادہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کے جھوٹا ثابت ہونے کے لیے جس قدر جھوٹوں کی ضرورت ہو وہ تعداد دل مضبوط کر کے تحریر فرما دی جائے۔ پھر خدا چاہے جھوٹ ہم بتادیں گے۔
اور اگر یہ کہو کہ مرزا قادیانی کے اگر کروڑ جھوٹ بھی ثابت کر دو تو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہی نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ مرزا قادیانی کے خالص دعاوی شخصہ میں جھوٹا ہونا ثابت نہ کیا جائے۔ تو بہت اچھا اس مضمون کو صاف لکھ کر پھر یہ لکھ دو کہ مرزا کے خاص خاص دعوے فلاں فلاں ہیں ان میں سے اس قدر جھوٹ ثابت ہو جائیں تو مرزا جھوٹے ہیں۔ پھر ملاحظہ فرمائیے کہ کیسے تعمیل ارشاد ہوتی ہے۔ اور مرزا قادیانی کے شخصہ دعاوی کو کیسے جھوٹا ثابت کر دیا جائے گا۔ بحول اللہ وقوتہ ہم مرزائیوں کو قبر کے دروازہ تک پہنچا کر رہیں گے۔ مگر کیا کریں ہم کو اس فرقہ سے اس قدر بدگمانی ہے کہ توبہ کی اس سے پھر بھی امید نہیں۔
مسلمانوں، مرزائیوں، پیغامیوں، قادیانیوں، پھر تمام اہل عقل سے عرض ہے کہ اس سے بڑھ کر اور فیصلہ کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ اگر مرزائیوں نے اس کا بھی جواب نہ دیا تو پھر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام ہے؟
خدا کے فضل و کرم اور اسلام کی حقانیت پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ مرزائی اس کا بھی جواب نہ دے سکیں گے کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں ویسے بھی جھوٹ بولتے تھے۔ اور ان کے دعاوی بھی جھوٹے ہیں۔ اور اگر ہمارا یہ خیال غلط ہے تو بسم اللہ مرزائی خلفاء، امیر و لشکر سب مل کر اس اشتہار کا جواب دیں۔ مگر خدا چاہے جواب نہیں دے سکتے۔ نہیں دے سکتے۔ نہیں دے سکتے۔ مولوی ظفر علی خاں
٤
صاحب کو چیلنج مناظرہ دینا اور بات ہے۔ ہاتھی کے کھانے اور دکھانے کے دانت دو ہوتے ہیں اس کو کوئی ہم سے ہی پوچھے؎
مرزا قادیانی کی وحی کی طرح مرزائی چیلنجوں میں تو معنی ہی نہیں ڈالے جاتے۔ مگر موت تو ہمارے چیلنج کا جواب دیتا ہے۔ صحیفۃ الحق لاجواب‘ ادلہ السبعین لاجواب‘ مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج لاجواب‘ مرزائیت کا خاتمہ لاجواب۔ خانقاہ رحمانیہ مونگیر کے کل رسائل لاجواب۔ مسلمانوں کے جس قدر رسائل وہ لاجواب الا ماشاء اللہ۔ اب دیکھنا ہے کہ مرزائیت کے جنازہ کا کیا جواب ہوتا ہے؟ مسلمان مرزائیت کے خاتمہ کی طرح اس کو بھی طبع کرا کر مسلمانوں اور مرزائیوں میں خوب تقسیم کریں اور جو مرزائی ملے اس سے اسی کا مطالبہ ہو کہ اس کا کیا جواب ہے؟ کہو کہ مرزا قادیانی کے کس قدر جھوٹ چھانٹیں۔ پھر بھی جواب نہ دیں تو سمجھ لو کہ وہ خود بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا اور کاذب جان کر بھی کسی خاص مصلحت سے اتباع کرتے ہیں۔
واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ ونور عرشہ سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یاارحم الراحمین
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور ١٣ رمضان شریف ١٣٣٣ھ
٥
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریسٹوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریسٹوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام!
آج فیصلہ کرلو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضورﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِداً وَّ مُصَلِّياً وَّ مُسَلِّمًا
ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم O لاحول ولاقوۃ الا باللّٰه العلى العظيم O
پر کبھی دل سے بھی تو ہم کو بلایا ہوتا
یہ بھی ہے کوئی بلانے میں بلانا تیرا
گھر گئے ہم تو پتہ بھی نہیں چلتا تیرا
ہم اس کو بھی ہزار سمجھتے ہیں مغتنم
آتے ہیں ان کے خط جو شکایت بھرے ہوئے
آج ایک کھلا چیلنج جناب شیخ مشتاق احمد صاحب جنرل سیکرٹری انجمن احمدیہ گوجرانوالہ کی جانب سے (جس میں علمائے دیوبند کو چیلنج مناظرہ دیا گیا ہے) نظر سے گزرا۔ (ہمارے پاس اس اشتہار کا پروف آیا ہی تھا کہ مرزائیان گوجرانوالہ کا اشتہار بعنوان ”طریق فیصلہ“ مورخہ ٢٦ اپریل ١٩٢٥ء بذریعہ اہل اسلام گوجرانوالہ ہم کو موصول ہوا۔ بالفعل یہ شرط قابل ملاحظہ ہے۔ کہ صرف اٹھارہ ہزار کی تعداد مقلد خیالات دیوبندیہ مصدقہ موجودہ حکومت پیش کریں۔ ہر شخص کے نزدیک اس شرط کا حاصل صرف یہ ہے کہ مناظرہ دوسری مردم شماری تک موقوف رہے کیونکہ اس وقت تک تو گورنمنٹ نے مردم شماری میں حنفیوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ اور جب پانچ سال کے بعد نئی مردم شماری کا وقت آئے اور گورنمنٹ اس تفریق کو منظور بھی کرلے تب کہیں اس شرط کے تصفیہ کی نوبت آئے۔ اور اس کے بعد بھی یہ کچھ ضرور نہیں کہ مرزائی اور کوئی مضمر قید ظاہر نہ کریں۔ پس ظاہر ہے کہ یہ چیلنج مناظرہ نہیں ہے بلکہ جس طرح مرزا قادیانی نے ہمیشہ
٢
مناظرہ سے جان بچائی ہے اسی کی تقلید مرزائیوں نے کی ہے ورنہ کوئی یہ بتائے کہ جلسہ گوجرانوالہ میں مناظرہ ہو اور یہ شرط مذکور مرزائی پیش کریں کیا اس قلیل وقت میں اس شرط کی تکمیل ممکن ہے؟)
شیخ مشتاق قادیانی! ان کاغذی چیلنجوں سے گوجرانوالہ کے مرزائیوں کا آپ کے قبضہ میں رہنا دشوار معلوم ہوتا ہے۔ کیا آپ انصاف سے فرما سکتے ہیں کہ یہ آپ کا کھلا چیلنج کھلا دھوکہ نہیں؟ اہلسنت والجماعت گوجرانوالہ نے دو دن کا جلسہ مقرر کیا ہے اس میں دور و دراز کے علماء کو طلب کیا۔ وہ حضرات اپنا وقت نکال کر کوئی ایک دن کے لیے کوئی دو دن کے لیے کوئی ایک وقت اور دو وقت کے لیے آئیں گے اہل جلسہ اپنے اوقات میں جلسہ کی کارروائی کریں گے۔ علماء اپنے اپنے وقت کے بعد اپنے اپنے مقامات کو تشریف لے جائیں گے۔ آپ یہ شائع کر دیں گے کہ ہم نے علماء کو کھلا چیلنج دیا مگر سب بھاگ گئے۔
اگر مرزا قادیانی نے کچھ بھی آپ کو صدق و دیانت کی تعلیم دی ہے تو آپ ہی فرمائیے کہ کیا یہ طریقہ مناظرہ کا ہے۔ مسلمانوں اور مرزائیوں کا مناظرہ ایک دو گھنٹہ یا ایک دو دن میں طے ہو جائے گا؟
اگر آپ کو مناظرہ کرنا ہوتا تو جلسہ کے علاوہ بتراضی فریقین شرائط مناظرہ طے فرما کر کوئی وقت مقرر کرتے تب معلوم ہو جاتا کہ کون فریق مناظرہ سے بھاگتا ہے؟ اگر واقعی آپ کو مناظرہ کرنا ہے تو مجھ سے جھوٹے وعدے اور ہزاروں کے اشتہار تو مرزا قادیانی کی طرح دینے نہیں آتے۔ البتہ اگر آپ نے یہ مناظرہ کرا دیا تو سو روپیہ آپ کی خدمت میں میں بھی پیش کر دوں گا۔
آپ نے علماء دیوبند سے مناظرہ کی درخواست کی ہے۔ براہ کرم آپ یہ فرما سکتے ہیں کہ علمائے دیوبند اور قادیانیوں میں جو ایک عرصہ تک سلسلہ اشتہارات جاری رہا۔ آخری اشتہار کس کا ہے؟ کیا آپ مرزا محمود قادیانی سے دریافت کرنے کی تکلیف گوارا فرمائیں گے کہ علماء دیوبند کے آخری اشتہار کا جواب دیا گیا یا نہیں؟ اگر دیا گیا تو وہ اشتہار کس ذریعہ سے علمائے دیوبند کے پاس بھیجا گیا؟ شاید آپ مرزائیت کے جال میں نئے پھنسے ہیں۔ آپ فریقین کے اشتہارات پہلے ملاحظہ فرما لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علمائے دیوبند سے مناظرہ کرنا قادیانیوں کے لیے پیام موت ہے۔ حافظ روشن علی اور عبدالرحمن مصری اور سرور شاہ کشمیری سے دریافت فرما لیجئے کہ فیروز پور میں
جہنم سے کس قدر قریب ہوگئے تھے؟ اپنے خلیفہ صاحب کے مشورہ کے بعد علمائے دیوبند کے اس آخری اشتہار کا (جس کو برس گزر گئے) جواب قادیان یا لاہور سے دلوائیے۔ تب آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ دیوبندیوں کو چیلنج دینا مرزائیوں کا کام نہیں۔ شاید آپ نے مناظرہ کو مرزا قادیانی کی وحی سمجھا ہے کہ جس وقت اور جس طرح چاہا نازل ہوگئی اور جو چاہا اس میں معنی ڈال دیئے۔
اور اگر جدید مناظرہ کی خواہش ہے تو صحيفة الحق، اول السبعين، تمام مرزائی جماعتوں کو چیلنج۔ مرزائیت کا خاتمہ۔ مرزائیت کا جنازہ۔ دفع العجاج عن طريق المعراج (یہ سب اس احتساب کی جلد میں موجود ہیں فلحمد للہ مرتب) اکفار الملحدين، هدية المهديين، كلمة الله۔ (احتساب قادیانیت ج ٢ میں موجود ہے فلحمد للہ مرتب) الشهاب (احتساب قادیانیت ج ٤ میں شائع ہو چکا ہے فلحمد للہ مرتب) وغیرہ کا جواب دلوائیے۔
اور آپ کے یہاں بڑے بڑے مولوی فاضل ہیں جو نئی مشینوں میں ڈھلتے ہیں۔ آپ کے خلیفہ صاحب ان سب کو حکم فرمائیں کہ وہ ان رسائل کا جواب لکھ کر خلیفہ قادیان کی خدمت میں پیش کریں اور وہ رسائل طبع کرا کر ہمارے پاس بھیج دیجئے۔ اور اگر ان تمام رسائل کے جواب سے عاجز ہوں تو صرف صحيفة الحق اور اول السبعین کا ہی جواب خلیفہ قادیان کا تصحیح شدہ پیش فرمائیے پھر شرائط مناظرہ طے کیجئے۔ تب آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علمائے دیوبند مناظرہ نہیں کرتے یا مرزائی؟ فرمائیے ہم نے کیسی انصاف کی بات کہی ہے۔
رہا۔ آپ کا یہ فرمانا کہ علمائے دیوبند تمسخر آمیز یک طرفہ تقریریں کرتے ہیں جن میں کذب و افتراء ہوتا ہے۔ اگر واقعی یہ طریقہ آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ مرزائی کبھی نہ ہوتے۔ اور مرزا قادیانی کو اپنا مولا اور سید نہ لکھتے۔ آپ مرزا قادیانی کے تمسخر و افتراء کو عین رشد و ہدایت سمجھتے اور دوسروں کی ہدایت کو بھی تمسخر اور افتراء کہا کرتے ہیں۔
ہم اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کو کذاب مفتری‘ مرتد‘ جھوٹا‘ مدعی نبوت‘ مدعی شریعت‘ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دینے والا۔ اپنے اقرار سے ہر بد سے بدتر نہ کہیں تو آپ ہی فرمائیے کہ ہم ان کو ان کے دعوے میں سچا مانیں تو ہمارا آپ کا جھگڑا ہی کیا ہے؟ اور جب ان کو جھوٹا جانتے ہیں تو پھر اس کے سوا کیا کہیں؟ اچھا آپ ہی فرما دیں کہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا ابطال کن الفاظ کے ساتھ کیا جائے؟
٤
آپ گوجرانوالہ کے جلسہ اہلسنت والجماعت میں تشریف لائیں اور ساری اپنی جماعت کے لوگوں کو بھی شریک بیان کریں پھر دیکھئے کتنے مرزائی رہتے ہیں اور کتنے مسلمان ہوتے ہیں؟
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے ایسے الفاظ مرزا قادیانی کے متعلق استعمال کرنے کو فرمایا جن کا اطلاق مرزا قادیانی پر شرعاً جائز ہو تو میں انشاء اللہ تعالیٰ انہیں الفاظ کو مرزا قادیانی کے متعلق استعمال کروں گا۔
آخر میں آپ کے کھلے چیلنج کو کھلے لفظوں میں قبول کرتا ہوں۔ آپ میرے معروضات سابقہ کو اپنے خلیفہ کی خدمت میں پیش کر کے پھر بذریعہ اشتہار مطبوعہ پیش فرمائیے۔ پھر دیکھئے ہم آپ سے کیا فیصلہ کن مناظرہ کرتے ہیں؟
ہم آپ سے یہ بھی شرط نہیں لگاتے کہ مناظرہ کے لیے آپ اپنے خلیفہ قادیان کو پیش فرمائیں۔ ہاں آپ کی جانب سے جو شخص بھی ہو کم سے کم خلیفہ قادیان کا وکیل ضرور ہو کہ اس کی ہار جیت خلیفہ قادیان کی ہار جیت شمار ہو۔ علمائے دیوبند کی جانب سے بھی ان کا کوئی وکیل مناظر ہوگا۔ وکالت نامہ پر عالی جناب مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند‘ حضرت مفتی صاحب‘ و صدر المدرسین حضرت مولانا السید محمد انور شاہ صاحب۔ مولانا شبیر احمد صاحب‘ مولانا سراج احمد صاحب‘ مولانا عبدالسمیع صاحب‘ مولانا رسول خاں صاحب‘ مولانا محمد ابراہیم صاحب‘ مولوی بدر عالم صاحب‘ مولوی محمد ادریس صاحب‘ مولوی محمد شفیع صاحب اور یہ عاجز۔ غرض منتظمین و مدرسین مدرسہ میں سے کل یا بعض کے جن کو آپ کے خلیفہ قادیان پسند فرمائیں۔ دستخط کرا دیئے جائیں گے۔
اگر مناظرہ کرانا واقعی منظور ہے تو میری گذارش کا معقول جواب دیجئے۔ ورنہ اہلسنت والجماعت گوجرانوالہ کے جلسہ میں درخواست مناظرہ پر نقل مشہور ”حلوائی کی دوکان پر دادا جی کی فاتحہ“ صادق آئے گی۔
خیر خلقہ وسید انبیاءہ و رسلہ وعلی الہ وصحبہ اجمعین
بندہ محمد مرتضیٰ حسن ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ٢٦- رمضان المبارک ١٣٣٣ھ
٥
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء، خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔......... رہائش، خوراک، کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
باسمہ تعالیٰ حامداً وَّ مُصَلِّیاً وَّ مُسَلِّماً
مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج
عذاب الیم کی بشارت، مرزا اور تمام مرزائی قطعی اور یقینی جہنمی ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے
مسٹر محمد علی لاہوری خواجہ کمال الدین اور لاہوری مرزائیوں کے کل معزز ممبر صاحبان۔ مرزا محمود قادیان‘ مولوی سرور شاہ قادیانی اور قادیانی کل مرزائی ایڈیٹران اخبار و مصنفین رسائل اور مبلغین کی خدمات میں بکمال ادب عرض ہے۔
دنیا میں مذہب کا خلاصہ اور نتیجہ نجات اخروی‘ جہنم سے بچنا۔ جنت میں داخل ہونا۔ خدائے قدوس کی رضا ہے۔ آپ صاحبوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو امام‘ ولی‘ محدث‘ مجدد‘ نبی بروزی‘ ظلی‘ مجازی‘ لغوی‘ حقیقی‘ تشریعی‘ غیر تشریعی جو کچھ بھی تسلیم کیا ہے اگر اس کی غرض کوئی سیاسی پالیسی۔ اور اہل یورپ کی کسی خاص غرض کا پروپیگنڈا ہے تب تو آپ خود بھی مرزا اور مرزائیوں کو جہنمی ہی یقین کرتے ہوں گے۔ پھر مجھے زیادہ عرض کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ اور اگر مرزا قادیانی کو جو کچھ بھی کہتے ہو خدا کے لئے قرآن و حدیث کے ماتحت اور نجات اخروی کی طلب اور دوزخ سے بچنے کے لیے تو اب آپ سب کان کھول کر سن لیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا دوزخ کے سوا کہیں ٹھکانا نہیں ہے۔ اور یہ بات قطعی اور یقینی ہے اور اس میں اصلاً کسی شک اور تردد کی گنجائش نہیں۔
اور یہ میں نہیں کہتا۔ یہ خدا کے اس سچے اور برگزیدہ نبی ﷺ کا قطعی اور یقینی ارشاد ہے جس کو مرزا قادیانی اور مرزائی بھی اگرچہ دل سے نہیں مگر زبان سے تو خاتم الانبیاء وسیدالمرسلین ہی کہتے ہیں۔ پھر کوئی پیشین گوئی بھی نہیں کوئی اجتہادی مسئلہ بھی نہیں جس میں غلطی کا احتمال ہو۔
اگر ایمان و اسلام کا دعویٰ ہے۔ خداوند عالم جل وعلیٰ شانہ کو خدائے تعالیٰ اور
٢
جناب سید العرب والعجم محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کو سچا نبی اور مرزا غلام احمد کو واقعی غلام احمد اور حقیقی معنی میں دل سے امتی کہتے ہو۔ کوئی حصہ بھی سچائی حیا و شرم، انسانیت، محبت اسلام کا ہے۔ تو دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیروں کو متوجہ کریں کہ اس حتمی جہنم سے نکلنے کی کوئی راہ بتا دیں؟ قلم سنبھالیں اور اس کھلی ہوئی بات کا جواب دیں۔ ورنہ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مرزا اور مرزائی، اسلام، ایمان، قرآن و حدیث، اہل اسلام سب کے دشمن ہیں۔ اور وہ اگرچہ اسلام کا زبان سے دعویٰ کرتے ہیں مگر درحقیقت مرتد، کافر، منافق، جہنمی اور جیسے کسی ترکی نے لکھا ہے کہ مرزائی اہل یورپ کے ہاتھ پیر ہیں۔ ان کے مقاصد کی منافقانہ انداز میں ہند اور ممالک غیر میں اشاعت کرتے ہیں۔ یہ تمام امور صحیح تسلیم کرنے ہوں گے۔
پچھلے اشتہارات کے دیکھنے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہوگی کہ مرزا اور مرزائیوں کا یا تو قرآن کے مکمل ہونے پر ایمان نہیں۔ ورنہ مرزا کو کذاب و دجال۔ محرف قرآن ضرور کہنا پڑے گا۔ پھر مرزائیت کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ اس کے بعد جنازہ بھی بے گور و کفن ہی رہا۔ پھر اس کو مرزائیوں نے عملاً قبول بھی کرلیا۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ مرزائیوں کا ٹھکانا کہاں ہے۔ جہنم یا دوزخ؟ سو صادق و مصدوق کے ارشاد قطعی اور یقینی سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی جہنمی ہیں اور جو مرزا قادیانی کو سچا کہے وہ بھی اسی کے ساتھ جہنم کا ایندھن ہے۔ مسلمانوں کے سمجھنے کے لیے یہ بات بالکل کافی ہے اب بھی اگر کوئی نہ سمجھے تو جائے جہنم میں اسے اختیار ہے۔
........................................
اصل مضمون
من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعده من النار (بخاری ج ١ ص ٢١ باب اثم من کذب علی النبی) سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے کسی بات کو میری طرف نسبت کرے جو میں نے نہیں کہی تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنائے اس کا گھر آگ ہے۔ یہ حدیث باتفاق امت متواتر ہے۔ اور حدیث متواتر مفید قطع و یقین ہوتی ہے۔ یعنی جو حکم اس سے ثابت ہوتا ہے وہ یقینی اور قطعی ہوتا ہے۔ اور مرزا قادیانی بھی اس کو تسلیم فرماتے ہیں کہ تواتر مفید علم ہے، اسلام تو اسلام غیر اقوام بھی تواتر کو مانتی ہیں۔ اور خبر متواتر تو کہتے ہی اس خبر کو ہیں جس کے راوی ایسے لوگ ہوں جن کا جھوٹ پر اتفاق محال ہو۔ پھر وہ بھی اگر مفید قطع و یقین نہ ہوگی تو اور کون سی
٣
خبر سے علم یقینی حاصل ہوگا؟ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
”بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تاریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٦ خزائن ج ٣ ص ٣٩٩)
اس سے ایک سطر پہلے فرماتے ہیں:
”لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔“ (ایضاً)
معلوم ہو گیا کہ حدیث متواتر کا انکار مرزا کے نزدیک بھی ایمان کی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔ اگر کسی مرزائی کو حدیث مذکور کے متواتر ہونے میں یا حدیث متواتر کے مفید علم یقینی و قطعی ہونے میں یا حدیث متواتر کے انکار کے کفر ہونے میں شک ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے امیر سے لکھوا کر اسے شائع کرے۔ ورنہ ان امور کے تسلیم کے بعد ذیل کے مضامین جن کو مرزا نے حدیث میں ہونا بیان کیا ہے ان کو احادیث صحیحہ سے مع سند کتب معتبرہ سے بیان کرے جس کی تصدیق ان کا امیر بھی کردے۔ احادیث صحیحہ میں بعینہا وہی مضامین ہوں جن کو مرزا نے بیان کیا ہے۔ اور اگر مرزائی ان مضامین کی احادیث صحیحہ کتب معتبرہ سے مع سند پیش نہ کر سکے تو ہر مسلمان کو یقین کر لینا چاہیے کہ مرزا حدیث متواتر کے حکم کے مطابق قطعی جہنمی ہے اور جو اس کو سچا سمجھے وہ بھی اس حدیث متواتر کی رو سے قطعی دوزخی ہے۔ اس کے بعد سمجھ لینا چاہیے کہ مرزائی ہونے کا بجز جہنمی ہونے کے کوئی نتیجہ نہیں۔ اب جس کو جہنمی ہونا ہو وہ مرزائی بنے وماعلینا الاالبلاغ۔
یہ بھی واضح رہے کہ مرزا قادیانی نے سرور عالم ﷺ ہی پر جھوٹ بول کر جہنم کو نہیں خریدا بلکہ بمقتضائے ماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحٰی (نجم: ٣-٤) نبی ﷺ کی طرف کسی جھوٹے مضمون کو نسبت کرنا خدا پر بھی افتراء ہے۔ اس بنا پر مرزا اور مرزائی ان کو سچا تسلیم کرنے والے مفتری علی اللہ العظیم ہو کر مرزا کے اقرار سے کافر بھی ہوئے مرتد بھی اور جہنم پھر ہاتھ سے نہ گئی۔
مرزائیو! تعجب ہے کہ ایسے ایسے کھلے اور صاف کفر کو دیکھتے ہوئے بھی تمہیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ کیا فما اصبرھم علی النار (بقرہ: ١٧٥) کے اس زمانہ میں تم ہی سب سے زیادہ مصداق ہو۔ تم بڑے صابر ہو۔ یہ جرأت تمہیں کیسے ہوئی؟ اپنے امیروں
کو متوجہ کرو کہ وہ اس نقشہ جنگ کا جواب دیں۔ ورنہ مرزا اور مرزائیوں کا قطعی یقینی جہنمی ہونا ثابت ہو جائے گا۔
اب وہ جھوٹے مضامین بیان کیے جاتے ہیں جن کو مرزا قادیانی نے سرور عالم ﷺ کی طرف نسبت کیا ہے۔ جو عبارات مرزا قادیانی نے لکھی ہیں بعینہا وہی مضامین احادیث صحیحہ مرفوعہ سے ثابت ہونا چاہیے۔ اگر مضمون کچھ بھی بدلا۔ یا جناب سرور عالم ﷺ کا قول نہ ہوا تو حدیث متواتر کی وعید سے مرزا قادیانی یا مرزائی بچ نہیں سکتے۔
- (١) ”افسوس کہ وہ حدیث بھی اس زمانہ میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ
مسیح کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہوں گے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٣ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
- (٢) ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی
کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لیے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہوگئی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠ خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)
لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہہ کر وہ حدیث صحیح مرفوع مسلمانوں کو بھی بتا دو۔ ورنہ مالک دوزخ کو ابھی اطلاع دے دو کہ قادیان کی طرح بڑے بڑے مکان جہنم میں تیار کرا دیں۔ واہ رے مرزائیت خسر الدنیا و الاخرۃ۔ اور جاؤ یورپ میں ادا کرو تبلیغ؟
- (٣ تا ٥) ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔ کیونکہ
احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے۔ اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
دیکھو احادیث صحیح کا لفظ ہے اس مضمون کی کم سے کم تین صحیح احادیث مرفوعہ مع سند کتب معتبرہ سے بیان فرماؤ۔ اور حدیث کے ساتھ اس قید کو ملحوظ رکھو۔
- (٦) ”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسروں ملکوں کے انبیاؤں کی نسبت
سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدائے تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں۔ اور فرمایا کہ کان فی الھند نبیا اسود اللون اسمہ کاھنا یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔
(چشمہ معرفت کے آخر میں جو رسالہ لگا ہوا ہے اس کے ص ١٠ خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢ پر)
- (٧) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر
٥
کے لوگوں کو چاہیے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“ اشتہار عام مریدوں کے لیے
ہدایت (ریویو آف ریلیجنز قادیان ستمبر ١٩٠٧ء ج ٦ ش ٩ ص ٣٦٥)
(٨) ”اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی بھی اس کے پورے ہونے سے پوری ہوگی۔ کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کے لیے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لیے آسمان سے آواز آئے گی کہ حق آل محمد کے ساتھ ہے۔ سو یاد رہے کہ یہ پیش گوئی آنحضرت ﷺ کی آتھم کے قصہ سے
متعلق ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣-٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨-٢٨٧)
(٩ تا ١٧) ”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٦٨ خزائن ج ٣ ص ٤٠٦) اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں جو الف ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے۔ سو وہ یہی ہے
جو پیدا ہو گیا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٦٦، ٢٦٧ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
واضح ہو کہ حدیثوں کا لفظ جمع ہے جس کا اطلاق کم سے کم تین پر ہوگا۔ اور بہت کا لفظ تو بہت ہی پر دال ہے۔ مگر ہم نے اس کو بھی ادنیٰ ہی درجہ لیا۔ تو کم سے کم نو پر اطلاق ہوگا۔ کیونکہ یہی جمع الجمع کا ادنیٰ درجہ ہے۔ اس وجہ سے کم سے کم اس مضمون کی نو احادیث صحیحہ مرزائیوں کو کتب معتبرہ سے بیان کرنا ہوں گی۔
(١٨ تا ٢٠) ”اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح کے دل میں اس قسم کے خفیف وسوسہ ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو۔ اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں ہی میں نہیں ہے
بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔“ (ضرورۃ الامام ص ١٥ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٥)
جو حدیث مرزا قادیانی نے اس کے بعد بیان کی ہے اس کو اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی مرزائی نے اس حدیث کو بیان کیا تو پھر خدا چاہے ہم مرزا کی طرح مرزائیوں کا جہل بھی ثابت کردیں گے۔ یہاں بھی چونکہ احادیث کا لفظ جمع ہے اس وجہ سے کم سے کم مضمون بالا کی تین صحیح حدیثیں کتب معتبرہ حدیث سے بیان کرنا چاہیں۔
(٢١ تا ٢٣) ”احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢١٩ خزائن ج ٣ ص ٢٠٩ ملخص)
٦
لاہوری امیر ذرا خوب غور سے اس مقام کو ملاحظہ فرمائیں۔ مطالبہ یہ ہے کہ مضمون مذکور سے لازم آتا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ کفر کی موت سے مرے گا۔ اور لاہوری مرزائی مرزا کے منکرین کو کافر نہیں بلکہ مسلمان ہی کہتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے لاہوری مرزا کے ساتھ جہنم میں جاتے ہیں یا صرف مرزا ہی کو دھکا دیتے ہیں؟ تو پھر مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے۔
اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کی یہ عبارت بھی ملاحظہ کی جائے۔
’’اول تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١)
’’کیونکہ اگر مسیح کے اترنے سے انکار کیا جائے تو یہ امر مستوجب کفر نہیں۔‘‘
(ازالہ ص ٤٢٩ خزائن ج ٣ ص ٢٣٩)
کہاں مسیح کے منکر کافر مریں گے۔ اور کہاں سرے سے انکار مستوجب کفر ہی نہیں۔ پھر مرزا کی مسیحیت کاذبہ کہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نفس مبارکہ سے کافروں کا مرنا اور کہاں مضمون مذکور جس کو احادیث کی طرف نسبت کیا ہے۔ ایمان تو نصیب اعداء غریب مرزائیوں کو اس سے کیا تعلق؟ ہاں لیاقت کا تجربہ بھی ابھی ہو جائے گا۔
(٢٤) ’’منجملہ ان کے وہ مہدی بھی ہے جس کا نام حدیث میں سلطان مشرق رکھا گیا ہے۔‘‘
(نشان آسمانی ص ١٠ خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)
(٢٥) ’’لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی زمانہ قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں۔ اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے۔‘‘
(نشان آسمانی ص ١٠ خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)
(٢٦ تا ٢٨) ’’اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
(٢٩) ’’جاننا چاہیے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لیے ہر ایک صدی پر
٧
ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں (صدی) کے لیے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہو سکتا۔ ہاں اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے گا تو علماء اس کے کفر کا فتویٰ دیں گے اور نزدیک ہے کہ اس کو قتل کردیں۔“
(نشان آسمانی ص ١٨ خزائن ج ٤ ص ٣٧٨)
- (٣٠) ”ضرور تھا کہ قرآن شریف واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتی
جن میں لکھا تھا مسیح موعود ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا اس کو کافر قرار دیں گے۔ اس کے قتل کے لیے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین ٣ ص ١٧ خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
چونکہ حدیث میں تیس جھوٹے مدعیان نبوت کو دجال کہہ کر ان کی خبر دی گئی تھی اس وجہ سے ہم نے بھی اس وقت مرزا کے تیس ہی دجل کو ظاہر کرکے جہنم کا فرسٹ کلاس ٹکٹ دلوایا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کون سا مرزائی ہے جو اپنے امیر کی تصدیق سے ان مضامین کو احادیث صحیحہ میں کتب معتبرہ سے ثابت کرتا ہے اور تعارض کو اٹھاتا ہے؟ تیس کے عدد کے لحاظ سے تیس دن کی مہلت ہے۔ ورنہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کل مرزائیوں کو جہنم ہی مرغوب ہے۔ حدیث متواتر مذکور کا انکار کریں تو کافر ہوں، قبول کریں تو جہنم سامنے ہے۔ بس مرزائیت ملعونہ سے توبہ کرو ورنہ جاؤ جہنم میں۔ ہم نے سمجھا دیا۔ واللہ تعالیٰ ھو المستعان۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد و آلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین o
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ابن شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور ٢- ربیع الثانی ١٣٤٤ھ
٨
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
سورۃ احزاب آیت ٤٠۔ مسند احمد بخاری مسلم ترمذی ابن ماجہ
زلزلة الساعة!
قادیان میں قیامت خیز بھونچال
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِداً وَ مُصَلِّیاً وَ مُسَلِّماً
زلزلة الساعة
قادیان میں قیامت خیز بھونچال
اما بعد ذی قعدہ ١٣٤٣ھ مطابق جون ١٩٢٥ء کو جو خدا کے فضل و کرم سے علمائے دیوبند نے قادیان کو فتح کیا۔ یہ معرکہ فتح عظیم قادیانیوں کے لیے زلزلۃ الساعۃ ہو گیا۔ قادیانیوں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اس زندہ اسلامی معجزہ کو بھی اس طرح مخفی کرنا چاہا کہ ١١۔ جون کے الفضل میں تو اپنے فرار کو علمائے دیوبند کی طرف منسوب کیا اور ١٦ جولائی ١٩٢٥ء کے الفضل میں خاص مرزا محمود قادیانی کے قلم سے صفحہ ٣ پر دو چیلنج شائع کیے۔
دونوں پرچوں کے مضامین کے جواب کا نام وقعۃ الواقعہ اور لقب عذاب اللہ الشدید علی المنکر العنید ہے جس میں ڈیڑھ سو سے زائد قادینیوں کی وہ شکستیں اور علمائے دیوبند کی وہ صاف اور ظاہر فتحیں اور قیامت خیز نصرتیں بیان کی گئی ہیں کہ مرزا محمود تو کیا اگر خود بالفرض مرزا قادیانی بھی بروز فرمائیں تو ان کو بھی خدا چاہے بجز اقرار یا سکوت اور دم بخود رہنے کے کوئی چارہ ہی نہ ہوگا۔ چونکہ وہ رسالہ طویل ہو گیا ہے طبع میں کچھ دیر ہوگی بدیں وجہ صرف خلیفہ قادیان کے چیلنج کے متعلق یہ ”زلزلۃ الساعۃ“ نمونہ کے طور پر شائع کیا جاتا ہے۔ جس سے تمام مرزائی سکاریٰ نظر آتے ہیں حالانکہ نشہ میں نہیں۔ شکست و ہزیمت کے عذاب شدید نے مدہوش کر رکھا ہے اور ان کے حمل ساقط اور ماں باپ بچوں سے بیگانہ اس وقت ہوں گے جب کہ عذاب اللہ الشدید (رسالہ وقعۃ الواقعہ) نازل ہوگا۔
- (١) مرزا محمود قادیانی فرماتے ہیں ”دیوبندیوں کا چیلنج منظور“ الفضل ١٦ جولائی
٢
١٩٢٥ء کالم ایک ص ٣ دیوبندیوں کو چیلنج کالم ٢ ص ٣۔ اگر یہ دونوں چیلنج ایک ہیں تو پھر ایک ہی چیلنج دیا بھی جائے اور وہی منظور بھی کیا جائے۔ عقلاً محال ہے سائل من حیث انہ سائل نہ مجیب ہو سکے اور نہ مجیب سائل بن سکے۔ اور اگر دو ہیں تو باعتبار حاصل فرق بیان فرمایا جائے جو خدا چاہے ناممکن ہے۔
- (٢) خلیفہ قادیان فرمائیں کہ جواب تو ”مرزائیت کے خاتمہ“ کا دیتے ہیں اور
عبارت ”مرزائیت کے جنازے“ کی نقل کرتے ہیں کیا کرنا چاہیے تھا۔
- (٣) مرزائیت کے خاتمہ کے جواب کے لیے مہلت دو ہفتہ کی تھی۔ چھ مہینے
کے بعد چیلنج منظور ہونے کا لفظ زبان پر آتا ہے۔ کیا قادیان میں دو ہفتے چھ مہینے کے ہوتے ہیں؟
- (٤) دریافت کیا گیا تھا کہ مرزا محمود کے وہ معارف قرآنیہ خمسہ جن کی بنا پر
وہ مسیح موعود ہوسکیں ان کی تعداد کیا ہے۔ مسیح موعود۔ مہدی مسعود بننے کے لیے کس قدر معارف قرآنیہ کی ضرورت ہے ان کی تعداد بتاؤ۔ پھر ان مضامین کی صرف فہرست لکھو کہ فلاں فلاں کتاب میں فلاں جگہ یہ مضامین موجود ہیں۔ تب ہم ان سے اعلیٰ درجہ کے مضامین علمائے امت کے دکھائیں گے یا مرزا قادیانی کے مضامین کا مسروقہ یا غلط ہونا ثابت کریں گے۔ کیا اس چیلنج میں ان امور کا کوئی تذکرہ یا جواب ہے؟ نہیں ہے اور نہیں ہے اور نہ خدا چاہے ہوسکتا ہے۔ پھر علمائے دیوبند کا چیلنج منظور کرنا اسی کا نام ہے؟
- (٥) پھر آپ اپنی طرف سے ایک جدید شرط پیش کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ
ہے کہ ہم اس کو (یعنی معارف قرآنیہ بیان کرنے کو) صداقت کا معیار قرار دینے کے لیے تیار ہوں۔ جب آپ ہم سے ایک جدید شرط تسلیم کرانے پر چیلنج منظور کرتے ہیں تو ہمارے چیلنج کو آپ نے منظور ہی کیا کیا؟ یہ منظوری تو مشروط ہوئی۔
- (٦) پھر معارف قرآنیہ کے بیان کرنے کو مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار
قرار دینا ایک غلط اور جہالت اور بدحواسی کی بات ہے۔ اگر معارف قرآنیہ بیان کرنے سے آدمی مسیح موعود وغیرہ وغیرہ ہوتا تو اب تک ہزارہا مسیح موعود وغیرہ گزر چکے جن کی صف نعال میں بھی مرزا قادیانی کو کھڑے ہونے کی جگہ نہ ملتی۔
- (٧) ہمارے نزدیک معارف قرآنیہ سے نبی تو کیا انسان مسیح موعود اور مہدی
مسعود بلکہ مجدد اور محدث بھی نہیں بن سکتا۔ البتہ صاحب فضل و کمال عالم معارف قرآنیہ کہا جاسکتا ہے۔ اور امت میں ایسے علمائے ربانی عارف معارف قرآنی بے شمار تعداد
٣
میں گزرے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی کے نزدیک چونکہ معارف قرآنیہ ان کی صداقت کا معیار ہیں اگر مرزائی مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ بیان نہ کرسکیں جیسا کہ اب تک ثابت ہوا تو بیشک پھر ان کو چاہیے کہ مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں یا کم از کم دعوائے صداقت مرزا سے باز آئیں۔
(٨) دیوبندیوں کو چیلنج جو دیا گیا ہے اس میں آپ فرماتے ہیں کہ ”غیر احمدی علماء قرآن مجید کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلے کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی پھر میں ان کے مقابلہ پر کم از کم دوگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود نے لکھے ہیں ۔“ آپ غیر احمدی علماء سے جو آپ کے عقیدہ میں مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہو گئے معارف روحانیہ کا بیان کرنا طلب فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک معارف قرآنیہ کفار بھی بیان کر سکتے ہیں تو پھر بفرض محال اگر مرزا قادیانی نے بھی معارف قرآن بیان کیے ہوں تو اس سے تو مرزا قادیانی کا ادنیٰ مسلمان ہونا بھی ثابت نہ ہوگا چہ جائیکہ مسیح موعود وغیرہ وغیرہ۔
(٩) جو چیز آپ کے نزدیک کفار میں بھی متحقق ہو سکتی ہے اس کو آپ معیار صداقت نبوت وغیرہ تسلیم کرتے اور ہم سے بھی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ ہے آپ کا اور آپ کے ابا جان اور تمام مرزائیوں کا ایمان اور عرفان۔
پھر آپ ان تمام معارف روحانیہ کی نسبت یہ بھی فرماتے ہیں کہ ان کے بغیر تکمیل ناممکن تھی اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک کل امت نعوذ باللہ نامکمل رہی۔ صحابہؓ اور تابعینؒ اور تمام ائمہ مجتہدینؒ اور محدثینؒ و مفسرینؒ کل اولیاء اللہؒ اقطابؒ و ابدالؒ سب ہی نامکمل تھے۔
(١٠) ہاں صاحبزادہ محمود قادیانی! جتنے مجددین امت گزرے وہ بھی سب نامکمل ہی تھے؟
(١١) خیر آپ کے نزدیک دنیا نامکمل ہو سکتی ہے۔ مگر غضب تو یہ ہے کہ آپ کے ابا جان کا بھی نامکمل ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ وہ معارف روحانیہ جن کے بغیر تکمیل ناممکن تھی وہ تو ابھی غیر احمدی علماء نے بیان ہی نہیں فرمائے پھر کسی کی تکمیل ہوئی تو کیسے؟ اور اگر بغیر ان معارف کے بھی تکمیل کسی کی ہوگئی یا ہو سکتی ہے تو ”بغیر ان کے تکمیل ناممکن تھی“ اس کا کیا مطلب؟ یا تو اپنی جہالت اور بدحواسی اور شکست و ہزیمت اور
علماۓ دیوبند کی فتح و نصرت کا اقرار فرمائیے۔ ورنہ اس فقرہ کے (جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی) صحیح معنے بیان کیجئے۔
(١٢) پھر مرزا قادیانی اپنا تفوق تو کل امت پر بیان کرنا چاہیں اور معارف قرآنیہ آپ صرف بعض موجودہ علماء سے بیان کرائیں۔ اس کا کیا مطلب؟ حواس درست فرما کر مشورے کے بعد فرمائیے کہ آپ کو کیا کہنا چاہیے تھا؟
(١٣) اور اگر آپ کا دیوبندیوں ہی سے معارف قرآنیہ میں مقابلہ کرنے کو جی چاہتا تھا تو کئی سال ہوۓ جب چھاؤنی فیروز پور میں آپ کا وفد علماۓ دیوبند سے مبادلہ خیالات کے لیے گیا تھا۔ اس وقت مولانا شبیر احمد صاحب نے مجمع عام میں آپ کے امیر وفد اور وفد کو مخاطب بنا کر فرمایا تھا کہ اگر معارف قرآنیہ کا دعویٰ ہے تو جہاں چاہو میں وہاں چلنے کو تیار ہوں۔ کسی آیت کے متعلق تم بھی بیان کرو اور میں بھی۔
(١٤) آپ کے سرور شاہ قادیانی نے آپ پر حوالہ کیا تھا کہ قادیان جا کر خلیفہ صاحب جو حکم فرمائیں گے اس سے مطلع کیا جاۓ گا۔ آج تک جواب آتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس! مولانا سید انور شاہ صاحب صدر مدرسین دارالعلوم دیوبند نے میرٹھ میں نواب اسمعیل خان صاحب کے یہاں ایک مقدمہ میں آپ کے امیر وفد سے گفتگو چاہی تھی تو وہاں بھی جواب کا حوالہ آپ پر ہی ہوا تھا۔ اس کا جواب بھی بجز خاموشی آج تک کچھ نہ ملا۔ تو ان دو موقعوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
(١٥) پھر آپ فرماتے ہیں کہ "اگر میں ایسے دوگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں سو کہیں لیکن اگر مولوی صاحب اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جاۓ گا کہ حضرت مسیح موعود کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔"
قربان جائیے اس انصاف کے کہ اگر علماء خدانخواستہ ہاریں تو مرزا قادیانی سچے اور خلیفہ جی ہاریں تو ابا جان کی صداقت جیسی تھی ویسے ہی جوں کی توں بنی رہے۔ ہاں علماء جو چاہیں کہیں۔ علماء تو اب بھی جو چاہتے ہیں کہتے ہیں یہ نہ فرمایا کہ اگر علماء جیتے اور خلیفہ جی ہارے تو بیشک مرزا قادیانی کا کذاب اور دجال ہونا ثابت ہو جاۓ گا۔ اسی حقانیت کو لے کر دنیا کا مقابلہ کرو گے؟ صاحبزادہ محمود یہ تو فرمائیے کہ آپ کے توبہ کرنے کی بھی کوئی صورت ہے یا مہر ہی لگ چکی۔
(١٦) پھر آپ نے طریق فیصلہ بھی کیا عمدہ بیان فرمایا ہے کہ جس میں برس ختم
٥
ہو جائیں اور فیصلہ ہی نہ ہوسکے۔ برس دن میں ہم کتاب لکھیں۔ چھ مہینہ میں آپ اس کی تنقید کریں۔ پھر حکم کے پاس جائے۔ حکم ایک مدت کے بعد فیصلہ دے کہ اس کتاب میں اس قدر معارف جدیدہ ہیں اور اس قدر قدیمہ پھر چھ مہینے میں آپ معارف قرآنیہ مرزا قادیانی کی کتابوں سے نقل فرمائیں یا خود ان کے اصول کے مطابق لکھیں (ماشاء اللہ کیوں نہ ہو اگر پدر نہ تواند پسر تمام کند) پھر اس پر چھ مہینے علماء جرح کریں پھر حکم کے پاس جائے نہ معلوم حکم کتنی مدت میں فیصلہ دے پھر یہ دیکھا جائے کہ آپ کے معارف معارف اسلامیہ سے دوگنے ہیں یا نہیں۔ فرمائیے کہ کتنے دنوں میں یہ فیصلہ ہوگا؟
- (١٧) اوّل تو ایسا حکم لائق اور قابل اور علوم قرآنیہ میں ماہر ملنا دشوار۔
- (١٨) اور اگر مل بھی گیا تو اسے اس قدر فرصت کہاں کہ جس کام کو فریقین کی
ایک بڑی مستعد جماعت نے مل کر اڑھائی برس میں انجام دیا ہو وہ اس کی جانچ اور پڑتال کر کے فیصلہ دے۔ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔
- (١٩) اور اگر کہیں تقدیر سے بفرض محال ایسا عنقا ہاتھ بھی لگ گیا اور اس نے
فیصلہ بالفرض ہمارے موافق دیا تو نتیجہ کیا کوہ کندن کاہ برآوردن۔ پہاڑ کھود کر ایک گھاس کا تنکا حاصل کرنا۔ مرزا قادیانی کا کذاب اور دجال ثابت ہونا۔ یہ تو خلیفہ جی مانتے ہی نہیں۔ ہاں علمائے اسلام جو چاہیں سو کہیں۔ خواب ہی دیکھتے ہیں۔ پھر اس تطویل اور تضییع اوقات سے فائدہ کیا ہوا؟ البتہ اگر آپ میں دین و ایمان اور حیا کی کچھ بھی جھلک ہوتی تو لکھتے کہ اگر حکم نے فیصلہ مسلمانوں یعنی غیر مرزائیوں کے موافق دیا تو ہم بھی مرزا قادیانی کو کذاب اور دجال مان لیں گے یا اگر ان الفاظ کی جرأت نہ ہوتی تو یہ کہتے کہ اسلامی علماء مرزا قادیانی کے بارے میں جو کچھ بھی کہیں گے حق بجانب ہوں گے۔ یہ لغو اور بے ہودہ طریق فیصلہ خلیفہ قادیان اور مرزائیوں ہی کو مبارک ہو۔ مسلمان خدا کے فضل سے بدحواس نہیں ایسے بدحواس تو شکست کھا کر مرزائی ہی ہوئے ہیں جو ایسا طریق فیصلہ تجویز کرتے ہیں کہ جس کا کوئی حاصل نہیں۔ تمام مرزائی مل کر سوچیں اور غور فرمائیں کہ خلیفہ صاحب کو اس شکست کے صدمہ میں کیا ہوگیا؟ علماء دیوبند کا چیلنج جو منظور کیا تھا اس کا حال تو معلوم ہوچکا۔ اب جو علمائے دیوبند کو چیلنج دیا جا رہا ہے اس کی حقیقت کھل رہی ہے۔ یہ تو ”زلزلۃ الساعۃ“ ہے جس روز رسالہ ”وقعۃ الواقعۃ“ مطالعہ سے گزرے گا تو کیا بعید ہے کہ مرزائیت کی طرح مرزائیوں کا جنازہ بھی سامنے ہو۔ لیکن واضح رہے کہ مہربانی فرما کر زلزلۃ الساعۃ کا جواب بہت جلد شائع فرمایا جائے تاکہ اس
٦
کے بعد ”وقعتہ الواقعہ“ مع جواب الجواب شائع ہو۔ اس کے جواب کے لیے تین ہفتہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ بھی لاجواب سمجھا جائے گا۔ چونکہ قادیانی ہفتہ تین ماہ کا ہوتا ہے۔ دیکھئے کہیں وضع جواب نو ماہ میں نہ ہو۔ ہم کو جب ١٦ جولائی کا الفضل ملا اس کے چار دن بعد سے وقعتہ الواقعہ مکمل ہے۔ زلزلۃ الساعہ کا جواب شائع ہو پھر خدا چاہے وقعتہ الواقعہ مرزائیوں میں قیامت برپا نہ کر دے تو کہنا۔
(٢٠) اوّل تو اپنی شکست جھوٹے مرزا قادیانی قبول ہی نہیں فرماتے۔ اور اگر منظور بھی فرمالیں اور پھر انہیں شکست اور ہمیں فتح بھی ہو مگر یہ بٹوارہ اور تقسیم کہ ظاہری اور جسمانی فتح ہماری اور باطنی اور روحانی ان کی اسے کون روکے گا؟
(٢١) اور اگر ظاہری باطنی‘ روحانی‘ جسمانی سب طرح سے ہماری ہی فتح اور ہر طرح سے مرزائیوں کی شکست پر شکست ہو لیکن اس دفعہ شکست تام ہی میں فتح ظلی اور بروزی عین شکست اور ہزیمت اور ذلت اور بدحواسی ہو کر بروز فرمائے اور شکست اور ذلت فنا فی الفتح والعزت ہو کر عین فتح اور عزت ہو جائے جیسے معاذ اللہ العظیم نبی عین امتی ہو کر بروز فرمائے اور امتی فنا فی الرسول ہو کر عین رسول ہو جائے۔ تو اسے کون روک سکتا ہے۔
(٢٢) نقل مشہور ہے کہ مارنا نہ ہو تو بل ہی اٹھائے۔ اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے پاس معارف قرآنیہ اور علوم الٰہیہ نہیں ہیں اور طریق فیصلہ یہ ہے جو مذکور ہوا تو چیلنج دینے اور منظور کرنے کو کس نے کہا تھا۔ اگر قابلیت اور لیاقت نہیں ہے اور قادیان میں سب ایسے ہی جمع ہیں تو کس نے مجبور کیا تھا کہ دیوبندیوں کو چیلنج دو؟ کوئی بات بھی معقول کہنا آتی ہے یا نہیں؟ اگر کچھ حیا ہے تو اخباروں کو بند کردو اور مرزائی کتابوں کو آگ لگا دو۔ انہیں مضامین اور انہیں عقلوں پر معارفِ قرآنیہ کا دعویٰ اور علمائے اسلام سے مقابلہ کا شوق ہے؟ عجب مریدین ہیں کہ انہیں لغویات پر خوش ہو جاتے ہیں۔
(٢٣) آگے آپ فرماتے ہیں (اگر مولوی صاحب اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں) ماشاء اللہ کیا طریق فیصلہ ہے۔ طریقہ گریز کا نام طریق فیصلہ رکھنا یہ آپ ہی کا طریقہ گریز ہے جس کو ہم ابھی ظاہر کرچکے۔ یہ آپ ہی کو مبارک ہو۔
(٢٤) آپ فرماتے ہیں ”تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود کا ادنیٰ خادم ہوں (ادنیٰ خادم تو بقول مرزا قادیانی کان اللہ نزل من السماء (حقیقت الوحی ٧
ص ٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) نہ معلوم اعلیٰ خادم کون ہوں گے) میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع قرعہ ڈال کر انتخاب کرلیں اور تین دن تک اس کی تفسیر وہ بھی لکھیں۔ میں بھی لکھوں۔ ہر فریق کی تفسیر میں چند ایسے مضامین ضرور ہوں جو پہلی کسی کتاب میں نہ ہوں۔ پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ قرآن کریم سے اور خداوند تعالیٰ سے کس کا کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔“ خلاصہ عبارت خلیفہ صاحب۔
ماشاء اللہ ابا جان کے معارف قرآنیہ کی تو تمام جماعت مل کر فہرست بھی نہ بناسکی اور آپ کو معارف قرآنیہ لکھنے کا دعویٰ۔
(ملاحظہ ہو نمبر ١٣ اور نمبر ١٤)
(٢٥) صاحبزادہ صاحب! آپ کو دین و ایمان، اسلام و قرآن معارف الہیہ اور حقائق و عرفان سے کیا تعلق؟ آپ تو آپ، آپ کے تو ابا جان بھی ان تمام باتوں سے محروم تھے۔ ورنہ فہرست مضامین لکھنا کیا مشکل تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی آپ کے عملہ میں کچھ بھائی اور چھپے ہوئے ہیں جو آپ سے ایسی ایسی باتیں لکھوا کر آپ کو خوب ہی ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ اوّل تو آپ سے یہ کہہ دیا ہوگا کہ حضور چیلنج کو ضرور منظور فرما لیجئے۔ پوچھتا اور دیکھتا کون ہے کہ حقیقۃ الامر کیا ہے؟ ہمیں کہنے کو یہ موقع مل جائے گا کہ دیکھو خلیفہ قادیان نے علمائے دیوبند کا چیلنج منظور بھی کرلیا اور ایک چیلنج اور نیا بھی دے دیا اور واقعی غرض یہ ہوکہ اب اسی مضمون کو دکھا کر مرزائیوں سے یہ کہیں کہ واقعی خلیفہ قادیان کی بڑی ہار ہوئی۔ بہت ذلیل اور رسوا ہوئے۔ اس چیلنج دینے سے نہ دینا اچھا تھا۔ ان پچیس نمبروں میں سے کیا کسی ایک کا بھی جواب ممکن ہے۔ پھر بہائیت پھیلانے کا خوب موقعہ ملے گا۔ جو پہلے کیا تھا پھر کریں گے۔
(٢٦) صاحبزادہ قادیان! آپ اور معارف قرآنیہ بیان فرمائیں۔ وہ بھی علمائے دیوبند کے سامنے ؎
لو سن لو ایک گھنٹہ میں فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ معارف قرآنیہ تو درکنار۔ آپ تو علمائے محققین کے دوچار ورق بھی صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ کر ان کی عبارت کا صحیح مطلب بیان نہیں کرسکتے۔ بٹالہ، لاہور، امرتسر، دہلی، لدھیانہ، پشاور اور تمہارا جی چاہے تو کابل چلے چلو۔ محققین اسلام نے جو کتابیں لکھی ہیں۔ اور جن میں معارف الہیہ کو بیان کیا ہے۔ جو جگہ ہم تجویز کریں اس جگہ سے کتاب کے دو ورق کی صحیح عبارت مجمع
عام میں پڑھ کر بامحاورہ ترجمہ کرنے کے بعد مطلب صحیح بیان کر دو اگر مطلب غلط بیان کیا تو اسی مجمع میں آپ پر اعتراض کیا جائے گا؟ آپ جواب دیں۔ اگر آپ نے صحیح عبارت پڑھ کر صحیح مطلب بیان کر دیا تو ہم مجمع عام میں یہ اقرار کریں گے کہ مرزا محمود قادیانی کو عبارت پڑھنے مطلب سمجھنے کا سلیقہ ہے۔
کہو کس قدر صاف اور سہل بات ہے۔ اگر اس کے لیے بھی آپ تیار نہ ہوئے۔ اور خدا چاہے ہرگز نہ ہوں گے ہرگز نہ ہوں گے۔ تو آپ کو بھی شرمانا اور آپ کے مریدوں کو فسخ بیعت کرنا چاہیے۔
واضح رہے۔ اگر عقل ہے تو ہم سے آپ اس قسم کا سوال نہیں کر سکتے۔ اگر اور زیادہ ذلت اور رسوائی کو جی چاہتا ہے تو اسی مضمون کا ایک چیلنج اور دے کر دیکھ لو۔ مگر خوب غور اور مشورہ کے بعد۔
فرمائیے ہم نے جو جلسہ قادیان میں کہا تھا کہ خدا کے فضل سے مسلمانوں نے قادیان کو فتح کر لیا اور علمائے دیوبند کے سامنے قادیانی نہایت ذلیل اور رسوا اور بدحواس ہوگئے۔ یہ آپ کا چیلنج جو ١٦ جولائی ١٩٢٥ء کے الفضل میں چھپا ہے۔ ہمارے بیان کی تصدیق اور تحریری دستاویز ہو کر زلزلۃ الساعۃ ہوا یا نہیں؟ اور اس کے ساتھ جب ١١ جون کے الفضل کا مضمون بھی شامل ہوگا تو اس وقت وقعۃ الواقعہ کا نظارہ زبان حال سے یوں کہے گا یوم ترونہا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملہا وتری الناس سکری وماہم بسکری ولکن عذاب اللہ شدید (حج:٢) مرزائیوں کے لیے یہ وقت بھی خدا چاہے بہت جلد آنے والا ہے بشرطیکہ زلزلۃ الساعۃ کا جواب تین ہفتہ میں نو مہینے سے پہلے ہی وضع ہو جائے۔
صحیفۃ الحق اول السبعین، سبعین کا دوسرا نمبر۔ دفع العجاج۔ اشد العذاب علی مسیلمۃ پنجاب یعنی سبعین کے نمبر ٣ سے ٧ تک۔ تمام مرزائی جماعتوں کو چیلنج کہ قرآن کو نامکمل مانیں یا مرزا قادیانی کو کذاب دجال و محرف قرآن۔ مرزائیت کا خاتمہ مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن۔ ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج۔ اکفار الملحدین (عربی) الشہاب مع ضمیمہ۔ کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ۔ الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح۔ ہدیۃ المہدین فی آیۃ خاتم النبیین (عربی)۔ ختم النبوۃ فی القران۔ صدع النقاب عن مسیلمۃ پنجاب۔ اور پچاس سے زائد وہ رسائل وغیرہ جو مونگیر خانقاہ
٩
رحمانیہ سے شائع ہوئے۔ اور دیگر علمائے اسلام کے جو رسائل اب تک لاجواب ہیں۔ یہ تمام مطالبات مرزائیوں کے ذمہ ہیں جن کے جوابات سے سبکدوشی خدا چاہے ناممکن ہے۔ مسلمان اگر ان ہی چند مذکورہ رسائل کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ صرف ”اشد العذاب اور دفع العجاج اور کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ۔ اور ختم النبوۃ فی القرآن کو خوب یاد کرلیں تو کسی مرزائی کی تو کیا حقیقت ہے اگر بفرض محال مرزا قادیانی بھی بروز فرمادیں تو خدا چاہے بجز ذلت اور رسوائی کے کچھ بھی جواب نہ بن پڑے گا۔ مسلمان ان رسائل کو خود پڑھیں دوسروں کو سنائیں اور مرزائیت کا خاتمہ۔ مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن، تمام مرزائیوں کو چیلنج، تمام ہندوستانی مرزائیوں کو چیلنج، ان اشتہاروں کو بار بار صحیح طبع کرا کر ملک میں بکثرت شائع کریں۔ اور جب کوئی مرزائی آئے تو اس سے ان کے جوابات کا مطالبہ کیا جائے۔ خدا چاہے پھر مرزائیت کی جڑ جو کھوکھلی ہوگئی ہے بالکل اکھڑ جائے گی۔ تمام مرزائی بالخصوص مسٹر محمد علی اور جملہ پیغامی بہمہ وجوہ مضمون ھذا مطالعہ فرمائیں۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ ونور عرشہ وخاتم انبیاءہ ورسلہ رحمۃ للعلمین سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین O ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم O ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب O
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ ابن شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ چاند پوری ناظم تعلیمات وشعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور ١٥ محرم الحرام یوم پنجشنبہ ١٣٤٤ھ مطابق ٦ ۔ اگست ١٩٢٥ء
١٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
اول السبعین علی الواحد من الثلاثین
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِدًا وَّمُصَلِّيًا وَّ مُسَلِّمًا
اَوَّلُ السَّبْعین عَلَی الْوَاحِدِ مِنَ الثَّلَاثین
امابعد۔ جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین مرزائی لاہوری قادیانی اروپی گنا چوری وغیرہ وغیرہ صاحبوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کو مسلمان اور اعلیٰ درجہ کا مومن صادق خادم الاسلام والمسلمین خیال فرماتے ہیں اور ان کے مخالف علماء کو اور ان کے متبعین کو یہودی منش‘ طالب جاہ‘ طالب دنیا‘ حق پوش‘ حق کے مخالف‘ دیدہ و دانستہ اسلام اور مسلمانوں کے مخالف اعتقاد کرتے ہیں۔ جو لوگ آپ کے حال سے واقف ہیں وہ تو واقف ہی ہیں لیکن ناواقف لوگ تذبذب اور تشویش کی حالت میں ہیں کہ آخر مرزائی اور بالخصوص لاہوری پارٹی ختم رسالت کے قائل اپنے آپ کو اسلام کا پابند اور جناب رسول اللہ ﷺ کا متبع اور قرآن کا ماننے والا کہتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں۔ حج‘ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اسلامی کاموں میں بہت نمایاں حصہ لیتے ہیں۔ تبلیغ اسلام کے لیے لاکھوں روپیہ صرف کر کے تکالیف شاقہ برداشت کر کے یورپ میں تبلیغ اسلام کا کام کر رہے ہیں پھر اگر یہ بھی مسلمان نہیں تو اور کون مسلمان ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ کے عاشق شریعت پر شیدا پھر نہ معلوم علماء کو کیا ہوا ہے جو ان کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کو صرف کافر ہی نہیں کہتے بلکہ یہود و نصاریٰ آتش پرست بت پرست سے بھی بدتر کہتے ہیں آخر ان کو مرزائیوں سے کیوں دشمنی ہے؟ مرزائیوں میں ایسا کون سا کفر ہے کہ جس کی وجہ سے تمام فرق اسلام ان کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہیں؟ نہ ان سے مقلد خوش ہیں نہ اہل حدیث نہ شیعہ نہ سنی ۔ نہ اور کوئی۔
اس سوال کا جواب تمام مرزائیوں کی جانب سے یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ علماء
٢
جاہ طلب اور دنیا طلب ہیں اور یہودیوں کی خصلتیں ان میں آ گئی ہیں اس وجہ سے حق اور اہل حق کے ہمیشہ سے یہ لوگ مخالف ہیں اور خدا کے پاک اور برگزیدہ بندوں پر ہمیشہ سے یہ کفر کے فتوے دیتے چلے آئے ہیں۔ چنانچہ فلاں بزرگ فلاں بزرگ جن کی تمام دنیا آج معتقد ہے ان سب بزرگوں پر اس وقت کے علماء نے کفر کے فتوے دیئے اور چند دنوں کے بعد ان کو ولی، بزرگ، قطب، غوث، ابدال، ماننے لگے۔ یہی حال ان کا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے ساتھ ہے۔ آج کل کفر کے فتوے دے رہے ہیں۔ چند دنوں کے بعد ان کو بھی مجدد، محدث، مثیل، مسیح، مسیح موعود، مہدی مسعود، نبی، رسول، ظلی، بروزی، حقیقی، شرعی، تشریعی مان کر ان کے معتقدین میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ چند دنوں کا غوغا ہے جو ختم ہو جائے گا۔ علیٰ ہذا القیاس! اسی قسم کے سوال و جواب طرفین سے ہو رہے ہیں اور جب تک خدا کو منظور ہے ہوتے رہیں گے گو مرزائی بالکل غلط کہتے ہیں لیکن ہم اس وقت ایسے سوال و جواب کی تحقیق کہ کس کا قول صحیح ہے اور کس کا غلط ہے؟ قبل از وقت سمجھتے ہیں قادیانی اور لاہوری پارٹی وغیرہما بالکل مطمئن رہیں کہ ہم ان تمام صاحبوں کو کافی طور پر بیان کرنے کا انشاء اللہ تعالیٰ موقعہ دیں گے۔ لیکن اس سے پہلے ہم کو یہ ظاہر کرنا ہے کہ مرزا قادیانی اور تمام مرزائیوں کا مذہب کیا ہے؟ اگر یہ امر منقح ہو جائے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ مزید گفت و شنید کی نوبت ہی نہ آئے گی خدا کے فضل و کرم سے مسلمان عقائد اسلامیہ سے ابھی تک اس قدر ناواقف نہیں ہیں کہ کھلے کھلے عقائد کفریہ اور عقائد اسلامیہ میں تمیز نہ ہو۔ اس وجہ سے تمام مرزائیوں کی خدمت میں بالخصوص میاں محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہور اور مرزا محمود امیر جماعت قادیان کی خدمت میں بکمال ادب و تہذیب عرض ہے کہ امور ذیل کا جواب صاف لفظوں میں تحریر فرماویں کہ اس مسئلہ میں ہمارا یہ اعتقاد ہے۔ دلیل بیان کرنے کی ابھی ضرورت نہیں اس کا موقعہ بعد میں اگر ضرورت ہوئی تو خدا چاہے آئے گا۔ اس وقت دل کھول کر لاہوری اور قادیانی دونوں پارٹی اپنی ہوس نکال لیں اس وقت ہم کو فقط ان دونوں جماعتوں کے عقائد معلوم کرانے ہیں۔
ہم کو خواہ مخواہ ان سے عداوت اور دشمنی نہیں۔ کون مسلمان ہوگا جو مسلمانوں کی تعداد گھٹنے سے خوش ہو؟ لیکن جس طرح سے ایک مسلمان کو اسلامی عقیدہ کی وجہ سے کافر کہنا کفر ہے اسی طرح سے کسی کافر کو باوجود عقیدہ کفریہ رکھنے کے مسلمان کہنا بھی کفر ہے۔ ان امور کا جواب کوئی بھی لکھے مگر ہر جماعت کے امیر کے دستخط اور تصدیق ضروری ٣
ہے۔ ورنہ جس جماعت کے امیر کے دستخط نہ ہوں گے اس جماعت کا جواب کالعدم سمجھا جائے گا۔ چونکہ اس وقت عقائد کا سوال ہے اس وجہ سے جب تک ذمہ دار کی تصدیق نہ ہوگی وہ جواب لائق توجہ و قبول نہ ہوگا۔ کیونکہ شخصی تحریر کا اثر جماعت پر جب ہی ہو سکتا ہے کہ کوئی ذمہ دار اس کا لکھنے والا ہو۔
یہود و نصاریٰ۔ آریہ وغیرہ اسلام کے کھلے ہوئے دشمن ہیں ان سے اس قدر خوف نہیں کہ جس قدر وہ جماعت خطرناک ہے جو ظاہر میں مسلمانوں کی صورت رکھ کر مدعی اسلام ہو اور در حقیقت عقائد کفریہ کی اشاعت کرے۔ اسلام کو ہمیشہ ایسے ہی لوگوں سے زیادہ مضرت پہنچی ہے ۔
چونکہ دونوں پارٹیوں کے یہاں گھر کے مطبع موجود ہیں اور ہم اس وقت مسائل ذیل میں فقط ان کے عقائد بلادلیل معلوم کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اس تحریر کے بعد دو ہفتہ تک مطبوعہ جواب کا انتظار کیا جائے گا۔ اگر دو ہفتہ تک جواب نہ آیا یا مسائل کا جواب صاف لفظوں میں نہ دیا گیا تو پھر ہم کو شاید آئندہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ مسلمان خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ مرزا اور مرزائیوں کے عقائد مخالف اسلام ہیں جن کو مرزائی صاف صاف لفظوں میں ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ موجودہ فرق اسلام تو اپنے اپنے عقائد قدیمہ پر قائم ہیں اور ان کے عقائد بھی سب کو معلوم ہیں جدید فرقہ مرزا قادیانی ہی کا ہے جس کے عقائد مسلمانوں سے علیحدہ ہیں لہٰذا ان عقائد و احکام کی تفسیر معلوم ہونی چاہیے تاکہ مسلمان معلوم کرلیں کہ وہ عقائد جدیدہ واقعی اسلام کے عقائد ہیں یا نہیں اور مرزا اور مرزائی جملہ اہل اسلام سے علیحدہ کیوں ہوئے؟ وہ عقائد کفریہ ہیں یا اسلامیہ اور یہ عقائد ویسے ہی ہیں جیسے کہ پہلے بعض مدعیان اسلام کے جن پر امت نے باتفاق کفر و ارتداد خروج عن الاسلام کا فتویٰ دیا جائے۔
یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اگر مرزا قادیانی اور مرزائی باوجود ان عقائد کے مسلمان ہیں تو پھر دنیا میں کسی کو بھی کافر کہنا مشکل ہے اور کوئی بد نصیب اگر اس منحوس لقب کا بدقت مستحق بھی ہو تو پھر ناجی ہونا اس کا بھی ضرور ہے۔ جب ایسے عقائد کے لوگ بھی مسلمان ہو کر ناجی ہوئے۔ تو اس قسم کے دوسرے عقائد کے لوگ ناجی کیوں نہ ہوں گے؟ نام ان کا مسلمان ہو یا نہ ہو اصل تو عقائد ہیں۔
نیز یہ امر بھی واضح ہو جائے گا کہ اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے عقائد صحیح
ہیں تو دنیا میں اسلام تو باقی رہ نہیں سکتا۔ نہ اسلام کا کوئی عقیدہ نہ کوئی حکم واجب العمل رہ سکتا ہے۔ نہ قرآن شریف و حدیث نبوی کوئی شے قابل عمل ہیں بلکہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو چاہے تاویل کرلے اور اس کو مذہب بنالے۔ قرآن شریف و احادیث کے الفاظ تسلیم کرنے کے بعد معنی ڈالنا خود اس کا کام ہے۔
نیز یہ بات بھی خدا چاہے معلوم ہو جائے گی کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی بیخ کنی اور خداوند تعالیٰ جل وعلیٰ شانہ اور سرور عالمﷺ و دیگر انبیاء علیہم السلام کی تنقیص شان میں اپنی ساری دانشمندی صرف کر دی اور نہایت تدریج سے اصول اسلام کو ضرر پہنچایا ہے۔ ان سب سے زیادہ خطرناک مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی چال ہے۔
نیز یہ مسئلہ بھی طے ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین نے آیا اس وقت تک اسلام کو کوئی نفع پہنچایا ہے یا بجز مضرت کے ان سے اسلام اور مسلمانوں کو نہ کچھ فائدہ پہنچا۔ نہ آئندہ ممکن ہے۔ جو لوگ بوجہ ناواقفیت کے مرزائیوں کے ساتھ کسی قسم کی دامے درمے قدمے کوئی اعانت مذہباً کرتے ہیں وہ مذہب اسلام کے ڈھانے میں ساعی ہیں ان کے کافر کہنے سے زبان کو روکنا احتیاط نہیں ہے بلکہ اسلام کے برباد کرنے میں بے احتیاطی ہے۔
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر:٩) وعدہ الٰہی سچ ہے پورا ہوا اور ہو کر رہے گا۔ مرزائی اور ان کے معاونین بھی عداوت اسلام میں اپنا حصہ لے لیں مگر ہوگا وہی جو اسے منظور ہے۔ پہلے فرق باطلہ سے مسلمانوں نے جنگ کی ہے۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے ہیں مسلمانوں کے گھر لوٹے گئے ہیں۔ اصلی کفار سے بھی زائد ان جدید مرتدوں مدعیان اسلام نے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائی ہیں۔ مگر مسلمان مقابلہ سے باز نہیں آئے۔ اس وقت تو مرزا اور مرزائیوں کو خدا نے کوئی شوکت بھی نہیں دی اسی وجہ سے جہاد بھی ان کے مذہب میں حرام ہے۔ وہ تو صرف سلطان القلم واللسان ہیں۔ پھر افسوس ہے کہ باوجود اس امن کے زبان اور قلم بھی حرکت نہ کرے اور ان کو اب بھی مسلمان ہی کہا جائے۔ اس وجہ سے مرزائیوں کا ایک ایک عقیدہ منظر عام پر آجانا چاہیے اور وہ بھی آپ ہی کے قلم سے تاکہ کسی کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔ پھر ہم بھی خدا چاہے بتائیں گے کہ اب کون ہے جو ان کے دام میں آئے یا ان کی تکفیر نہ کرے۔ الا وہی جس کے لیے ازل سے ہی مقدر ہو چکا ہے۔
مرزا اور مرزائی اس پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ ہماری جماعت بہت ہو گئی اور
٥
ہوتی جاتی ہے۔ کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کی ترقی یہود و نصاریٰ سے زائد ہے؟ وہ یہ ہی بتا دیں کہ وہ آریوں ہی کی برابر تعداد رکھتے ہیں؟ کیا پھر دیانند سورستی بھی حق پر تھا؟ یا جو فرقے مدعیان اسلام مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک بھی کافر تھے اور ان کی عام مسلمانوں ہی سے نہیں بلکہ سلاطین اسلام سے لڑائیاں ہوئیں اور ان ہی کو غلبہ ہوا اور ان کی حکومتیں بھی قائم ہوگئیں اور ان کی نسلوں میں سلطنت بھی رہی تو کیا وہ لوگ حق پر تھے؟
اگر لوگوں کا ساتھ ہو جانا ہی حقانیت کی دلیل ہے تو کیا حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن بعض انبیاء علیہم السلام کے ساتھ دو ہی مسلمان ہوں گے۔ بعض کے ساتھ ایک ہی اور بعض کے ساتھ دو ہوں گے۔ (کنزالعمال ج ١١ ص ٤ حدیث ٢٨٨٨ الفصل الرابع فی التفسیر) تو کیا یہ بات مرزائیوں کے نزدیک ان انبیاء علیہم السلام کے عدم صدق کی دلیل ہوگی؟ یہ باتیں تو جاہلوں کے خوش کرنے کی ہیں ان سے کوئی سمجھدار شخص متاثر نہیں ہو سکتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ متبعین کون ہیں اور کس امر کے تابع ہیں جو امر قطعاً باطل ہے اس کی اگر تمام دنیا بھی تابع ہو جائے تو صدق کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ تثلیث اور بت پرستی اور تمام ملت کفریہ کی تعداد اس کی شاہد ہے جو امر محتمل صدق و کذب ہو اس میں خوش نیت خوش فہموں کا کثرت سے شریک ہونا بعض وقت دلیل ہو سکتا ہے اور مرزا قادیانی کی نبوت تو ایسی باطل ہے جیسے دو اور دو کا تین یا پانچ ہونا۔ پھر متبعین کی کثرت و قلت کی کیا بحث ہے؟
ہم تو اس وقت صرف اس قدر چاہتے ہیں کہ مرزائیوں کو اگر صداقت کا دعویٰ ہے اور مرزا قادیانی کو سچا نبی رسول یا مسیح موعود مجدد محدث سمجھتے ہیں یا کم سے کم ان کو ایک ولی برگزیدہ مسلمان یا اس سے بھی ادنیٰ درجہ ایک عام معمولی مسلمان یا اس سے بھی کم مرزا کو ایک سچا آدمی بھی جانتے ہیں اور اس کو ثابت کر سکتے ہیں تو اس میں دریغ نہ فرمائیں۔ اور ہم جو کچھ آپ سے دریافت کرتے ہیں یا کریں گے ان کی صفائی سچائی صدق دیانت سے صاف صاف لفظوں میں جواب عنایت فرمائیں۔ اگر واقعی سچے اور ان کے مخالف جھوٹے ہیں تو پھر دنیا ان کے ساتھ ہوگی ورنہ جو لوگ ناواقفیت سے ان کے دام میں پھنسے ہیں وہ تو رہا ہو جائیں گے اور ہم کو دنیا معذور سمجھے گی۔
ہمارا یہ خیال ہے کہ نبی رسول ظلی بروزی حقیقی تشریعی یا کم سے کم مجدد محدث ولی یا ایک معمولی مسلمان بلکہ ایک سچا انسان بھی مرزا قادیانی ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہمارا یہ خیال واقع میں غلط ہے۔ اور مرزائی اس خیال کو غلط ثابت فرما سکتے ہیں تو بجائے
لکھوکھا روپیہ صرف کرنے اور بڑی بڑی موٹی کتابوں کے طبع کرانے سے یہ سہل ہے کہ ہمارے سوالات کا جواب مرحمت فرمائیں۔ قوم خود بآسانی فیصلہ کرلے گی جس کے مرزائی صاحبان ہمیشہ خواہشمند ہوتے ہیں کہ پبلک خود فیصلہ کرلے گی۔
امور جواب طلب امیر لاہوری و امیر قادیانی وغیرہما سے اور اس سے جو
مرزائیوں کے کفر میں باوجود ان کے عقائد پر مطلع ہونے کے تامل کرے
- (١) شریعت کیا چیز ہے اور اس کی تعریف کیا ہے؟
- (٢) احکام فرض، واجب، سنت مؤکدہ، مستحب، مباح، حرام، مکروہ تحریمی، مکروہ
تنزیہی آپ کے نزدیک بھی ہیں یا کچھ کم زائد اور تعریف کیا ہے۔ عقیدہ کس کو کہتے ہیں اور اس کے اقسام کتنے ہیں۔ کسی کا منکر کافر بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ اور اس انکار کی کیا صورت ہے جس سے منکر کافر ہو جائے؟
- (٣) ضروریات دین کی کیا تعریف ہے اور ضروریات دین میں اللہ نے کس
کس چیز کو شامل کیا ہے اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک کون کون سے امر ضروریات دین میں داخل ہیں؟
- (٤) ضروریات دین میں تاویل معتبر ہے یا نہیں۔ اگر ضروریات دین میں
تاویل معتبر نہیں تو پھر کن مسائل میں معتبر ہے؟
- (٥) تاویل کی کیا تعریف و تقسیم ہے۔ اور اس کی کون سی قسم معتبر اور کون سی
غیر معتبر؟ صاف بیان ہو۔
- (٦) کسی آیت کے جو معنی جناب رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے یا صحابہ
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یا بعد کے تابعین، تبع تابعین، وغیرہم نے، غرض کسی معنی پر اگر اجماع ہو گیا ہو یعنی اس کا انکار کسی معتبر امام یا اہل علم سے منقول نہ ہو یا وہ معنی حد تواتر کو پہنچ گئے ہوں اور پھر کوئی شخص اس معنی کے جس کو امت نے قبول کیا ہے خلاف معنی بیان کرے تو یہ معنی بیان کرنا کفر، الحاد، فسق، بے دینی نہیں تو کیا ہے؟ اور ایسے معنی مردود ہوں گے یا مقبول۔ پھر ایسی تاویل اور یہ معنی اگر ضروریات دین میں ہیں تو معتبر ہے یا غیر معتبر۔ اور تاویل کرنے والا کافر ہے یا مسلمان۔ مسلمانوں کا اس میں کیا عقیدہ ہے۔ اور مرزا اور مرزائیوں کا کیا؟
- (٧) اجماع و تواتر کی مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک کیا تعریف ہے۔ اور کیا
حکم ہے اور اجماع اور تواتر ایمان و اسلام کے کسی مسئلہ پر مرزا قادیانی اور ان کے تابعین کے نزدیک متحقق بھی ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو بطور نمونہ دو چار مثال بیان فرما دی جائیں۔ علی ہذا القیاس اس مسئلہ وعقیدہ قطعیہ کی جس کا منکر کافر ہو یعنی قطع و یقین کسی امر دینی پر کیسے ہوتا ہے اور اس کے منکر کا کیا حکم ہے؟
- (٨) نبی کا لفظ اصطلاح شریعت یعنی قرآن وحدیث میں کس معنی پر اطلاق کیا
گیا ہے اور باعتبار شریعت کے معنی حقیقی کیا ہیں اور معنی مجازی کیا؟ تعریف جامع مانع بیان فرما دی جائے۔
- (٩) شریعت میں نبی اور رسول دونوں ہم معنی ہیں یا ان کے معنی میں کچھ فرق ہے؟
- (١٠) اگر فرق ہے تو کیا اور دونوں معنی میں نسبت کونسی ہے؟
- (١١) نبی شرعی کی قرآن وحدیث سے آپ کے نزدیک کتنی قسمیں ثابت ہوتی
ہیں ان کے اسماء و حدود سے مطلع فرمائیے؟
- (١٢) نبی بروزی ظلی کے کیا معنی ہیں اور کہیں قرآن وحدیث میں ان معنی
سے لفظ نبی مستعمل ہے؟ اور سوا مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی شخص پر اس امت میں یا امم سابقہ میں قرآن وحدیث کے اندر نبی بروزی یا ظلی کا اطلاق کیا گیا ہے یا نہیں۔ اس کلی کا کوئی اور فرد متحقق ہوا ہے یا نہیں اور ایسے نبی کا حکم قرآن وحدیث نے کیا بیان فرمایا ہے اس کا تسلیم کرنا امت کے لیے ضروری ہے یا نہیں اس کا منکر کافر ہے یا نہیں وہ صاحب شریعت ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتا ہے تو صاحب شریعت ہوا بھی ہے یا نہیں۔ اگر صاحب شریعت ہو سکتا ہے تو اس کی شریعت نبی سابق کی کل یا بعض شریعت کو ناسخ ہو سکتی ہے یا نہیں۔ نبی بروزی ظلی دوسرے انبیاء کے کل یا بعض سے افضل ہو سکتا ہے یا نہیں؟
- (١٣) اگر نبوت اور نبی کے لفظ کا اطلاق شریعت میں چند معنی پر ثابت ہو تو وہ
تمام معنی حقیقی ہیں اور لفظ نبی اور نبوت ان میں مشترک ہے یا کوئی معنی حقیقی اور کوئی مجازی تو کون حقیقی اور کون مجازی اور معنی متعددہ کیا ہیں؟
- (١٤) پھر ہر نبی اور نبوت کے احکام قرآن شریف اور حدیث شریف سے کیا
ثابت ہیں کس کا منکر کافر ہے اور کس کا منکر کافر نہیں ہے۔ اور ہر نبی کے فرائض کیا ہیں اور آج تک اہل اسلام کی کتب اصول و علم کلام وعلم فقہ میں کہیں نبی بروزی اور ظلی کا ذکر ہے۔ اور کسی نے اس کی کوئی تعریف کی ہے یا کوئی فرد تمام امت میں اس وقت تک یا
٨
آئندہ کے لیے اس امت میں ہونا بیان کیا ہے؟ تو اس کتاب کی عبارت وحوالہ بیان ہو۔
- (١٥) قرآن مجید میں اور حدیث میں اس کے متعلق کہ ایک نبی دوسرے نبی کا
کل احکام یا بعض احکام میں پابند ہونے کا جواز نکلتا ہے یا عدم جواز اور جو نبی کہ دوسرے نبی کا کل امور شریعت میں پابند ہو یا بعض میں پابند ہو ان دونوں کے حکم میں شریعت نے اس بارہ میں تفریق کی ہے کہ ایک کا منکر کافر ہو اور ایک کا منکر کافر نہ ہو یا دونوں کا منکر کافر ہے۔ یہ دونوں نبی شرعی حقیقی ہیں یا فرق ہے۔ امتی نبی کے یہی معنی ہیں یا کچھ اور، اور اگر اور ہوں تو کیا ہیں اور اس کا حکم کیا ہے اس کا منکر بھی کافر ہے یا نہیں۔ اس کی اتباع اور تسلیم بھی ضروری ہے یا نہیں۔ امتی نبی غیر امتی نبی سے افضل ہو سکتا ہے یا نہیں امتی نبی جس نبی کی اتباع سے نبی ہوا ہے اور جس کا امتی ہے اس کے برابر یا اس کا عین یا اس سے افضل ہوسکتا ہے یا نہیں؟
- (١٦) نبی و رسول مستقل وغیر مستقل کا شریعت میں کیا حکم ہے۔ اور ان کی
تعریف کیا ہے۔ اور ان میں سے کسی ایک کا صاحب شریعت اور تشریعی ہونا بھی ضروری ہے یا نہیں۔ نبی و رسول تشریعی و صاحب شریعت ایک ہیں یا دونوں میں فرق ہے۔ اگر فرق ہے تو کیا ہے؟ اور نبی تشریعی و صاحب شریعت نبی امتی ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اور امتی نبی بھی مامور اظہار نبوت کا ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو نبوت سے کیا حاصل۔ اور ہوتا ہے تو اس میں اور نبی غیر امتی میں نفس نبوت میں کیا فرق ہے اور حکم میں کیا؟
- (١٧) نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ یعنی جس طرح سے بعض بعض اعمال پر بعض
مرتبوں کا ملنا شریعت میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے کوئی عمل یا کوئی اتباع رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ شریعت میں ایسا بیان کیا گیا ہے کہ جس کے کرنے سے مقام نبوت مل جائے اور آدمی نبی ہو جائے۔ یا نبوت بالکل وہبی اور فضل خداوندی ہے اور کسی عمل کا بدلہ نہیں بلکہ خدا اپنے فضل سے جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ قرآن و حدیث سے آپ کے نزدیک کیا ثابت ہے اور آپ کا اور مرزا قادیانی کا کیا اعتقاد ہے۔ اور پھر نبی کسبی و وہبی کے احکام میں کچھ فرق ہے یا نہیں۔ دونوں کا تسلیم کرنا ضروری اور منکر کافر ہے یا نہیں۔ اور نبوت کسبیہ کی وحی اور غیر کسبیہ کی وحی میں کوئی فرق ہے یا نہیں اور اس میں احکام جدیدہ یا تجدید احکام و عقائد سابقہ کی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس نبوت کسبیہ اور ایسے نبی کا مفصل حال بیان ہو۔
- (١٨) اگر نبوت کسبی ہے اور اتباع شریعت سے ملتی ہے۔ تو اتباع شریعت سے
٩
نبوت کا ملنا خاص اس امت کا خاصہ ہے یا پہلے نبیوں کی امت میں بھی یہ بات جائز تھی یا نہیں اور جائز ہے تو واقع ہوئی یا نہیں؟
- (١٩) اگر نبوت کسبیہ کا ملنا اسی امت کا خاصہ ہے اور دوسرے نبیوں کے
اتباع سے نبوت نہیں مل سکتی تو اس کے متعلق کوئی آیت یا حدیث ہے یا فقط اپنی رائے اور خیال ہے؟ اگر فقط رائے اور خیال ہے تو کیا ایسے مسائل میں کسی کی رائے معتبر ہوسکتی ہے؟
- (٢٠) اگر نبوت کسبی ہے اور شریعت کے اتباع سے نبوت بروزی، ظلی، حقیقی،
مجازی، تشریعی، غیر تشریعی، کسی کو مل سکتی ہے تو اب تک اس امت میں کتنے اشخاص کو ملی ہے۔ اگر ملی ہے تو ان اشخاص کے اسمائے گرامی بیان فرمائے جائیں اور وہ لوگ نبی امتی کہلائیں گے یا ان کا کوئی اور لقب شریعت میں ہے؟ اور اگر نہیں ملی تو اس میں امت اور سرور عالمﷺ کی تنقیص شان ہے یا نہیں؟
- (٢١) اور اگر کل اہل بیت رسول اللہﷺ اور تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم
اجمعین باوجود اس سرفروشی اور اتباع نبوی اور تبلیغ اسلام اور کل تابعین اور تبع تابعین اور ساری امت کے فقہا اور محدثین اور کل امت کے تمام صلحا و شہدا، صدیقین، و اولیا و اقطاب، ابدال، غوث و قطب اور تیرہ سو برس تک جو مجدد اور محدث پیدا ہوئے (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) وہ سب کے سب باوجود نبوت کے کسبی ہونے کے اور اتباع شریعت سے حاصل ہونے کے اور فنا فی الرسول ہونے سے مقام نبوت مل سکنے کے یہ حضرات اور ساری امت محروم رہی اور یہ مقام عالی صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو اب تک حاصل ہوا۔ تو یہ فرما دیا جائے کہ وہ اتباع شریعت کا کون سا مرتبہ تھا کہ جو مرزا قادیانی نے ادا کیا۔ اور ساری امت میں سے کسی ایک کو بھی نصیب نہ ہوا۔ اور آئندہ بھی کسی کو یہ مرتبہ مل سکتا ہے یا نہیں۔ اور مل سکتا ہے تو کسی کو ملے گا بھی یا نہیں؟
- (٢٢) اگر امت میں اتباع شریعت سے نبوت کا ملنا جائز ہے تو تیرہ سو برس کی
مدت میں بجز مرزا قادیانی کے کوئی بھی اس مقام کو حاصل نہ کرسکے۔ اس میں جناب رسول اللہﷺ کی منقصت ہے یا نہیں اور بقول مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہﷺ کی تبلیغ میں کیا فرق رہا۔ وہ بھی ان کے نزدیک مرد کامل پیدا نہ کرسکے۔ اور معاذ اللہ آپؐ بھی، بلکہ آپؐ کی حیات میں تو معاذ اللہ ایک شخص بھی آپؐ کے فیض صحبت اٹھانے اور اعلیٰ درجہ کی جاں نثاری کے ساتھ کامل تو کیا ہوتا مرزا قادیانی کے برابر
١٠
نہ ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی کے اصحاب سے معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کم درجہ کے ہونے چاہئیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کیا اعتقاد ہے؟
- (٢٣) جو نبی اور رسول صاحب شریعت ہو اور صاحب کتاب ہوا یا اس کے
لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے کل عقائد اور احکام پہلے تمام نبیوں سے علیحدہ ہوں یا بعض میں بھی علیحدگی کافی ہے۔ اگر اول صورت ہے تو ایسا کوئی نبی بتایا جائے؟ اور اگر ثانی صورت ہے تو یہ بتلایا جائے کہ اگر بعد کے نبی پر پہلے ہی نبی اور رسول کے کل یا بعض احکام اس کی کتاب میں یا اس کی وحی میں نازل ہوں تو پھر بھی وہ مستقل نبی کہلایا جائے گا یا نہیں؟ غرض نبی اور رسول صاحب شریعت وتشریعی کی تعریف جامع و مانع بیان فرمائی جائے جس سے معلوم ہو جائے کہ نبی تشریعی اور صاحب شریعت یہ ہے اور غیر تشریعی یہ نبی مابعد کی وحی میں پہلے احکام کا آنا اس کو صاحب شریعت اور تشریعی بناتا ہے یا نہیں۔ علیٰ ہذا القیاس پہلی کتاب کی آیات اس کی وحی میں نازل ہونا اس کو صاحب کتاب نبی و رسول بناتا ہے یا نہیں۔ نہیں تو پھر صاحب کتاب نبی و رسول کے کیا معنی ہیں؟
- (٢٤) نبی مابعد اگر کوئی حکم اپنی وحی کا ایسا بیان کرے جو پہلے نبی کی شریعت
کے خلاف ہو تو اس نبی مابعد کو پہلے نبی کی شریعت کا ناسخ کہیں گے یا ناسخ شریعت ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ نبی مابعد نبی ماقبل کی کل شریعت یا اکثر کو منسوخ کردے۔ اگر کوئی حکم پہلی شریعت کا نبی مابعد کی وحی میں آئے تو وہ حکم پہلی شریعت کا سمجھا جائے گا یا اس نبی کی وحی کا؟ جس پر دوبارہ نازل ہوا۔
- (٢٥) وحی نبوت و الہام نبوت و الہام و وحی ولی ان دونوں کی تعریف اور مابہ
الفرق اور احکام کیا ہیں۔ ولی کو وحی ہوتی ہے یا نہیں۔ ولی کی وحی یا الہام مثبت احکام ہو سکتا ہے یا نہیں۔ وحی والہام ولی قطعی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ پھر ہو سکتا ہے تو اسی کے حق میں یا غیر کے حق میں بھی مکالمہ الٰہی سے ولی بھی مشرف ہوتا ہے اور ولی کے لیے مکالمہ الٰہیہ ضروری ہے یا نہیں۔ پھر مکالمہ ولی و نبی میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟
- (٢٦) جس طرح سے نبی مامور من اللہ ہوتا ہے کہ اس کی نبوت کا لوگ اقرار
کریں اور اقرار نہ کرنے سے کافر ہو جائے اور اس کی وحی پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور نہ ماننے سے کافر۔ نبی کے سوا کسی ولی یا مجدد یا محدث کی بھی یہ شان ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر کوئی مجدد محدث اپنے مامور ہونے کا مدعی ہو اور اپنے نہ ماننے والے یا منکر یا مکذب یا متردد یا غیر مبائع کو کافر کہے تو وہ مدعی نبوت سمجھا جائے گا یا نہیں؟
١١
(٢٧) مجدد اور محدث ولی کو اگر کوئی شخص نہ مانے یا اس کی وحی یا الہام کی پابندی نہ کرے تو وہ کافر فاسق کیا ہوگا؟ اگر کوئی شخص اس کے مکذب منکر یا نہ ماننے والے کو کافر کہے تو یہ مکفر بھی اس ولی مجدد کی نبوت کا مدعی ہے یا نہیں؟ اول صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟
(٢٨) مرزا قادیانی جو اپنے آپ کو منواتے اور تسلیم کراتے ہیں اس تسلیم کرنے کا کیا حکم ہے اور تسلیم نہ کرنے کا کیا۔ اور جو حکم مرزا قادیانی کے ماننے نہ ماننے کا ہے پہلے مجددوں کا بھی یہی حکم ہے یا فرق ہے۔ اور مرزا یا مرزائی لوگوں سے مرزا قادیانی کو کیا منواتے ہیں مجدد' محدث' رسول' نبی' بروزی' ظلی' حقیقی' مجازی' تشریعی' غیر تشریعی؟ صاف بیان ہو۔
(٢٩) اگر ہر مجدد کے لیے مامور ہونا شرط ہے اور اس کی وحی بھی انبیاء کی وحی کی طرح دخلِ شیطانی سے محفوظ ہوتی ہے اور ان کا منکر بھی مستحق سزا ہوتا ہے۔ تو پھر تیرہ سو برس میں سے کم سے کم تیرہ مجدد ایسے بتلائے جائیں کہ جنہوں نے ایسا دعویٰ کیا ہو اور اگر مجدد کے لیے مامور ہونا شرط نہیں اور اس کا الہام اور وحی دخل شیطانی سے محفوظ ہونا ضروری نہیں اور اس کے احکام کی پابندی امت پر فرض نہیں تو پھر مرزا قادیانی مجدد اور محدث ہوں تو ہوں۔ اگر ان کو الہام اور وحی ہوئی ہے تو ہو۔ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں اور مرزائی مسلمانوں سے کیا منواتے ہیں؟
(٣٠) اگر مرزا قادیانی مجدد یا محدث ہیں اور مرزا نے بعض عقائد باطلہ پر مسلمانوں کو متنبہ فرمایا تو ان عقائد باطلہ کا حکم فرمایا جائے کہ ان عقیدوں کا معتقد کافر ہے یا فاسق ہے۔ جنت میں جائے گا یا جہنم میں۔ پھر جہنمی برائے چندے یا ابدی جہنمی؟ اور وہ عقائد مشرکانہ عقائد ہیں یا کیسے۔ مرزا اور مرزائی ان عقائد کو کیا سمجھتے ہیں اور ان سے پہلے مسلمانوں نے انہیں کیسا سمجھا؟ صاف بیان ہو اور وہ عقائد بھی مفصل بیان ہوں۔
(٣١) اگر وہ عقائد باطلہ مرزا قادیانی سے پہلی صدی کے اندر پیدا ہوئے ہیں تب تو مرزا قادیانی ان پر مطلع فرماتے تو حق بجانب تھے۔ لیکن اگر وہ عقائد تیرہ سو برس سے چلے آتے ہیں تو مرزا قادیانی سے پہلے کم سے کم جو تیرہ مجدد ہوئے ہیں تو انہوں نے کیا تجدید دین کی جب ان عقائد باطلہ ہی پر مطلع نہ کیا جن پر مرزا قادیانی نے مطلع فرمایا۔ اگر ہر مجدد کا امت کو ان کے جملہ عقائد باطلہ پر مطلع کرنا ضروری نہیں ہے تو ممکن ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اکثر عقائد باطلہ پر مطلع نہ کیا ہو اور وہ خود بھی عقائد باطلہ پر
١٢
مرے ہوں تو اس صورت میں اسلام کی حقانیت کی کیا دلیل ہے۔ اور مجدد سے کیا نفع؟ جب وہ عقائد باطلہ پر مطلع بھی نہ کرے۔
(٣٢) مجدد جو ہر سو برس پر ہوتا ہے اس کی ابتداء کس وقت سے ہے زمانہ بعثت سے یا نبوت سے یا وفات رسول مقبول ﷺ سے اور وہ ساری امت میں ایک ہوگا۔ یا ہر اقلیم میں؟ یا کیا صورت ہوگی۔ امید ہے کہ مرزا قادیانی چونکہ مجددوں کے روح رواں تھے اور وحی کی بارش ہوتی تھی اور معجزات کے ان کے یہاں سیلاب بہتے تھے اس واسطے ان تمام مراحل کو طے فرما لیا ہوگا مرزا قادیانی اور ان کے معتقدین کا اس میں کیا عقیدہ ہے۔ اور ہر سو برس پر مجدد کا ہونا ضروری ہے یا کس مرتبہ کی شے ہے؟
(٣٣) نبی کے لیے معجزہ ہونا ضرور ہے یا نہیں اور مجدد کے لیے بھی کرامت یا معجزہ ہونا لازم ہے یا نہیں؟
(٣٤) معجزہ کی حقیقت کیا ہے۔ معجزہ اور سحر اور شعبدہ اور کرامت میں مابہ الفرق کیا ہے جس سے عوام جان سکیں کہ یہ معجزہ ہے یا سحر وغیرہ ہے یا شعبدہ۔ کسی نبی کے معجزہ کو شعبدہ یا کھیل کہنا اس کا کیا حکم ہے۔ استدراج کسے کہتے ہیں پیشین گوئی نبی کی معیار صداقت ہو سکتی ہے یا نہیں پیشینگوئیوں کا کذب کذب کی دلیل ہے یا نہیں۔ مختص بالنبی کیا ہے۔ کاہن کون ہوتا ہے اس کی پیشینگوئی اور نبی کی پیشینگوئی میں کیا فرق ہے۔ اگر کوئی مدعی نبوت اپنی پیشینگوئی کو معیار صداقت بتائے اور صحیح نہ نکلے تو اس مدعی کو جھوٹا کہیں یا تاویل کر کے سچا بنایا جائے؟
(٣٥) کثرت معجزات اس نبی کی فضیلت کی دلیل ہے یا نہیں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کیا اعتقاد ہے؟
(٣٦) ایک نبی کو جو دوسرے نبی پر فضیلت ہوتی ہے اس کا معیار کیا ہے؟
(٣٧) مرزا قادیانی نے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کس مسئلہ میں کیا۔ اور ابتدائی دعویٰ کس امر سے شروع ہوا۔ اور پھر بتدریج کیا کیا دعوے کیے اور کس کس مسئلہ میں کون کون سا دعویٰ کیا وہ تمام دعاوی مفصل سنہ وار بیان فرمائے جائیں؟
(٣٨) آپ صاحبوں کا فرقہ فرق مدعیان اسلام میں سے کون سا ہے۔ مقلد ہیں تو حنفی شافعی مالکی حنبلی یا اہل حدیث یا شیعہ خارجی معتزلی وغیرہ وغیرہ کون سا فرقہ ہے اس کا نام کیا ہے۔ یا ان سب سابق فرقوں سے علیحدہ کوئی اور فرقہ ہے؟
(٣٩) اگر ان ہی فرقوں میں سے کسی ایک فرقہ میں آپ داخل ہیں تو اس فرقہ
١٣
کے کل عقیدے آپ کے عقیدے ہیں یا بعض عقائد میں اس فرقہ سے اختلاف ہے اول صورت میں اپنا نام علیحدہ کیوں رکھا گیا؟
(٤٠) اگر اس فرقہ سے بعض عقائد میں آپ مختلف ہیں تو ان عقائد مختلف فیہا کو بیان فرما کر صرف یہ بیان فرما دیجئے کہ عقائد میں یہ اختلاف ہے اور اعمال میں یہ اختلاف ہے اور اس کا یہ عقیدہ ہے اور ہمارا یہ اور اس کا یہ عمل ہے اور ہمارا یہ تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ عقائد و احکام جو آپ کے مابہ الامتیاز ہیں وہ کیسے ہیں؟
(٤١) اگر تیرہ سو برس میں جتنے فرق اسلامیہ جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور تیرہ سو برس میں پیدا ہوئے ہیں ان میں سے کسی فرقہ میں بھی آپ داخل نہیں اور تمام مدعیان اسلام کے عقائد سے آپ کے عقائد کل یا بعض علیحدہ ہیں تو پھر اس کی تصریح فرما کر ان عقائد اور اعمال کی تصریح فرما دیجئے؟ جن میں آپ تمام دنیا کے مسلمانوں سے الگ اور علیحدہ ہیں۔
(٤٢) اگر آپ یہ جواب دیں کہ ہم تمام فرق اسلام سے علیحدہ ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے متبع ہیں اور ہمارا نام فرقہ مرزائیہ یا احمدیہ ہے تو پھر مرزا قادیانی کے متعلق بھی سوال ہے کہ مرزا قادیانی کسی خاص فرقہ اسلام کے ہم عقیدہ ہیں یا اس فرقہ سے کل یا بعض عقائد میں مختلف ہیں یا تمام دنیا کے کل مدعیان اسلام سے کل یا بعض عقائد میں مختلف ہیں تو پھر وہ عقائد کیا ہیں اور اعمال کیا؟ مفصل بیان فرما دیا جائے۔ تا کہ رفع اشتباہ ہو۔ یہ بھی فرما دیا جائے کہ اس وقت تک جس قدر بھی فرق اسلام پیدا ہوئے ان میں کوئی بھی آپ کے نزدیک مسلمان ہے یا سب اسلام سے خارج ہیں؟
(٤٣) جناب محمد رسول اللہ ﷺ مرزائیوں کے نزدیک خاتم النبیین ہیں یا نہیں اور اگر خاتم النبیین ہیں تو خاتم النبیین کے معنی مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں اور دونوں جماعتوں کے نزدیک کیا معنی ہیں۔ آیا خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یا نہیں۔ کیا آپ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی ہو سکتا ہے؟ کسی کو نبوت مل سکتی ہے؟ کسی کی نبوت آپ ﷺ کی نبوت کو بایں معنی بیکار کر سکتی ہے کہ اگر اس کی نبوت کو کوئی نہ مانے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو اور تمام انبیاء سابقین علیہم السلام کی نبوت کو ماننا اور تمام قرآن و حدیث کے ایک ایک حرف کو ماننا۔ سب پر عمل کرنا یہ سب لغو اور بیکار ہو جائے۔ اور اس نبی جدید کی نبوت کے نہ ماننے کی وجہ سے وہ منکر محمد رسول اللہ ﷺ کا کافر کہا جائے۔ ابد الآباد کے لیے جہنمی ہو جائے۔ یا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جو شخص بھی آپ ﷺ کے بعد
١٤
رتبہ نبوت کے ملنے کا مدعی ہو وہ کافر اور اس کی تصدیق کرنے والے اس کو کافر نہ کہنے والے اس کے صریح دعوے میں تاویل کرنے والے یا اس کی غلط تاویل کو تسلیم کرنے والے سب کافر ہیں۔ ان تمام صورتوں میں مرزا قادیانی اور دونوں جماعتوں کا کیا اعتقاد ہے صاف لفظوں میں بیان فرمایا جائے اور خاتم النبیین بمعنی مذکور عقیدہ رکھنے والے آپ کے نزدیک مومن ہیں یا کافر؟
- (٤٤) مرزا قادیانی نے کون کون سی کتابیں و رسائل تصنیف فرمائے ہیں۔ ہر
کتاب کا سنہ اور مہینہ کیا ہے؟ تدبر فیہ فان فیہ مافیہ۔
- (٤٥) خاتم النبیین کے معنی سرور عالم ﷺ نے کیا سمجھے۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ
علیہم اجمعین نے کیا سمجھے؟ تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین، محدثین، فقہا، مفسرین، علمائے کلام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اب تک کیا سمجھے؟
- (٤٦) رسول اللہ ﷺ کے بعد امت میں سے کسی شخص کو کسی قسم کی بھی نبوت
بروزی، ظلی (اگر یہ نبوت شرعیہ کی قسم ہے) اور نبوت شرعیہ تشریعی و غیر تشریعی نہیں مل سکتی یا ہر قسم کی نبوت مل سکتی ہے۔ اگر مل سکتی ہے تو کسی شخص کو ملی بھی ہے یا نہیں ملی اگر ملی ہے تو وہ کون ہے اور اس کے بعد بھی اور لوگ اسی قسم کے نبی یا اس سے کم یا زیادہ شرعاً ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کیا عقیدہ ہے؟
- (٤٧) مرزا قادیانی نے جب اول اول مامور من اللہ تعالیٰ ہونے کا دعویٰ فرمایا
تو ان کے عقائد اس وقت ایسے ہی تھے جیسے عام مسلمانوں کے ہیں یا شروع ہی سے جن مسائل میں اب مرزا قادیانی مسلمانوں کے مخالف ہیں مخالف تھے۔ اگر مخالف تھے تو اس کا ثبوت مرزا قادیانی کی کسی تصنیف سے دیا جاسکتا ہے؟
- (٤٨) مرزا قادیانی کو فنا فی الرسول کا مقام حاصل تھا یا نہیں اگر تھا تو پھر وہ نبی
رہے یا غیر نبی؟ اور امت میں فنا فی الرسول کا مرتبہ کسی اور کو بھی حاصل ہوا یا نہیں۔ اگر ہوا تو وہ بھی نبی ہوا یا نہیں؟
- (٤٩) اگر مرزا قادیانی فنا فی الرسول ہو کر نبی بنیں گے اور ان کے ازواج
امہات المومنین تو کیا مرزا قادیانی کی منکوحہ تمام امت پر حرام ہے اور مرزا نے جو مال و متاع چھوڑا ہے اس کے وارث مرزا کے وارث نہیں ہوئے وہ سب فی سبیل اللہ عام مسلمانوں کے لیے رہے۔ ان کی مسجد مسجد نبوی کے برابر فضیلت رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ماتر کناہ صدقۃ (بدایہ والنہایہ ج ٢ ص ١٥٤ کتاب اخبار الانبیاء
١٥
المتقدمین) مرزا کے مال کی نسبت مرزا اور مرزائیوں کا کیا خیال ہے؟
- (٥٠) یہ عقیدہ رکھنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت حقیقیہ شرعیہ
نہیں مل سکتی آیا خدا کی رحمت اور آپ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کے مناسب ہے یا معاذ اللہ العظیم یہ رحمت نہیں بلکہ عذاب اور خلاف عظمت شان رسول کریم ہے ﷺ؟
- (٥١) جناب رسول اللہ ﷺ کے اوصاف مختصہ کیا کیا ہیں جن میں کوئی بھی
آپ کا شریک نہیں اگر ان اوصاف مختصہ کل یا بعض کو کوئی امتی ہو کر اپنے لیے ثابت کرے تو اس کا کیا حکم ہے یا کسی نبی کے لیے ثابت کرے تو کیا حکم ہے؟
- (٥٢) کوئی امتی رسول اللہ ﷺ کے برابر یا اعلیٰ یا افضل یا آپ کا عین
ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو اس کا مدعی کون ہے۔ کافر یا مسلمان جناب رسول اللہ عیسیٰ کے اندر حلول فرما سکتے ہیں یا نہیں؟
- (٥٣) فنا فی الرسول ہونے کے مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک کیا معنی ہیں
صاف بیان ہو۔ اگر فنا فی الرسول ہو کر مرزا یا مرزائیوں کے نزدیک ایک آدمی رسول ہو سکتا ہے یا عین رسول یا اس سے افضل اور اعلیٰ تو فنا فی اللہ ہو کر عین اللہ بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ نہیں تو وجہ فرق کیا ہے۔ خدا کو بھی ظلی بروزی کچھ تو ہونا چاہیے جیسے نبی ظلی بروزی مرزا کے نزدیک ہوتا ہے خدا کیوں نہیں ہو سکتا؟
- (٥٣) مرزا نے خاتم النبیین کے معنی جو امت نے سمجھے ہیں وہ بھی کسی زمانہ
تک سمجھے تھے یا نہیں۔ مرزا نے منکر خاتم النبیین کو اس معنی کے ساتھ جو امت نے سمجھے ہیں کبھی کافر کہا ہے یا نہیں؟
- (٥٥) مرزا کا عقیدہ خاتم النبیین کے معنی کے متعلق یعنی یہ کہ رسول اللہ ﷺ
کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہو سکتا۔ بدلا یا نہیں۔ اگر بدلا تو کب بدلا اور کیا بدلا صاف بیان ہو؟ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہے یا کچھ اور۔ قرآن و حدیث کے صحیح معنی معلوم کرنے کے لیے معیار کیا ہے۔ جو معنی کہ رسول اللہ ﷺ یا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین یا سلف صالحین سے منقول ہوں یا امت کے متفق ہوں وہی صحیح سمجھے جائیں گے۔ یا ہر شخص کو اختیار ہے کہ جو چاہے قرآن و حدیث کے معنی تجویز کر لے لغت عرب و قواعد صرف و نحو کے موافق ہوں یا نہ ہوں یا لغت عرب و صرف و نحو کے موافق ہو کر پھر کسی معنی سے موافقت کی ضرورت نہیں۔ اور باوجود معنی حقیقی و متعارف ہو سکنے کے بھی معنی مجازی لے لینے کا اختیار ہے۔ یا معنی مجازی لینے کے لیے کچھ شرائط ہیں تو وہ کیا ہیں
١٦
متکلم بھی قرائن میں داخل ہے یا نہیں؟
- (٥٦) جو شخص آپؐ کو خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین نہ سمجھے آپؐ کے بعد
دوسرے نبی یا انبیا کا پیدا ہونا بھی جائز سمجھے اس کو امت نے کافر کہا ہے۔ واجب القتل کہا ہے یا اس کو مجدد، محدث، افضل المسلمین، قمر الانبیاء، سید الانبیاء، رسول اللہ ﷺ کے برابر یا افضل مانا ہے بحوالہ کتاب بیان ہو؟
- (٥٧) مسئلہ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین یعنی آپؐ کے بعد کسی کو نبوت
نہیں مل سکتی آپؐ کے بعد کوئی منصب نبوت نہیں حاصل کرسکتا۔ ضروریات دین سے ہے یا نہیں۔ امت نے کیا کہا ہے۔ اور مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کیا کہتی ہے۔ آپؐ کے بعد ہر قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ یا کسی خاص قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ یعنی صرف تشریعی نہیں ہو سکتا، غیر تشریعی ہو سکتا ہے یا تشریعی و غیر تشریعی دونوں ہو سکتے ہیں۔ کیا یہ عقیدہ اخیرہ آپ کے نزدیک ضروریات دین سے ہے۔ غرض خاتم النبیین کس معنی سے ضروریات دین سے ہے؟
- (٥٨) حکیم نور الدین قادیانی، مرزا قادیانی کے خلیفہ برحق تھے اور ان ہی کے ہم
عقیدہ تھے یا بعض عقائد میں خلاف بھی تھے اور خلیفہ ناجائز تھے تو پھر وہ عقائد کیا تھے اور ان کا حکم کیا ہے۔ اور مرزا محمود قادیانی، حکیم نور الدین قادیانی کے ہم عقیدہ ہیں یا ان سے بعض عقائد میں مخالف تو وہ عقائد کیا اور ان کا حکم کیا ہے؟
- (٥٩) حکیم نور الدین قادیانی کے زمانہ خلافت میں جو کتابیں اور احکام ان کے
حکم سے شائع اور طبع ہوئے یا جو رسائل حکیم نور الدین نے خود مرزا قادیانی کی حیات یا بعد موت کے لکھے وہ سب حق اور جملہ مرزائیوں پر حجت ہیں یا بعض خلاف حق بھی ہیں تو پھر وہ کون کون سے ہیں اور کون سی جماعت کس عقیدہ میں حکیم نور الدین کے مخالف ہے اور کس کس عقیدہ میں نہیں؟
- (٦٠) لاہوری جماعت کو جو قادیانی جماعت سے اختلاف ہے اس کی وجہ دنیا
اور استحقاق خلافت ہے یا دین یا مسائل شرعیہ اور دونوں جماعت میں سے مرزا قادیانی کے عقائد کے کون مخالف ہیں اور جس جماعت کے بھی عقائد خلاف مرزا قادیانی کے ہوئے وہ مرزا کی حیات میں یا حکیم نور الدین کے زمانہ میں یا بعد میں اگر حکیم نور الدین کے بعد تبدیلی عقائد نہیں ہوئی تو پہلے اس کے اظہار سے کیا مانع تھا؟ ان سوالات کا یہ جواب نہ دیا جائے کہ فریقین کی بڑی بڑی کتابیں مفصل موجود ہیں ان کو دیکھ لیا جائے
١٧
کیونکہ میری غرض مطلع کو بالکل صاف کرنا ہے۔ وہ کتابیں مناظرہ کے داؤ پیچ سے خالی نہیں یہاں فقط ایک دو سطر میں عقائد اور واقعات کو صاف کرنا ہے تا کہ مسلمانوں کو مرزا اور مرزائیوں کی نسبت کوئی اشتباہ باقی نہ رہے۔ خدا چاہے اگر دونوں جماعتوں کے امیروں نے صفائی سے کام لیا تو آئندہ کسی تحریر کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی اور اگر ضرورت ہوئی تو بھی مفید ہی ہوگی۔
- (٦١) حکیم نور الدین قادیانی کے زمانہ میں جب دو جماعتیں نہ تھیں مسٹر محمد علی
مع اپنی کل جماعت کے وہی عقیدہ رکھتے تھے جو نور الدین اور مرزا محمود کا تھا یا اسی وقت سے یہ اختلاف عقائد موجود تھا مگر اظہار کی نوبت نہ آئی تھی۔ تو کیوں؟
- (٦٢) آیا یہ اختلاف جو دونوں جماعتوں میں ہے اصولی اختلاف ہے یا فروعی
اور کس کس مسئلہ میں باہم دونوں جماعتیں مختلف ہیں؟ مفصل بیان فرمایا جائے۔
- (٦٣) اگر مرزا قادیانی عین رسول اللہ ہونے کی وجہ سے معاذ اللہ مدینہ طیبہ کی
زیارت کے لیے جانے سے سبکدوش ہو گئے تو کیا بوجہ فنافی اللہ ہونے کے عین اللہ ہو کر معاذ اللہ حج کے فرض سے بھی فارغ ہو گئے۔ کیا مرزا قادیانی پر حج فرض نہ تھا اگر فرض نہ بھی تھا تو مرزا قادیانی جیسا مدعی حج نہ کرے تو کیا اس سے کوئی شبہ نہیں ہوسکتا؟
- (٦٤) اگر مرزا قادیانی فنافی الرسول ہو کر نبی اور عین محمد رسول اللہ ﷺ معاذ
اللہ ہو گئے تو پھر مالک حوضِ کوثر اور شافع محشر وغیرہ کس کو کہیں؟ اگر محمد ﷺ عین غلام محمد معاذ اللہ ہو گئے ہیں تو اب کلمہ میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہیں گے یا لا الہ الا اللہ غلام محمد رسول اللہ کہیں گے؟
- (٦٥) قادیانی اس بات کو بحلف بیان فرمائیں کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
میں جو محمد کا لفظ کہتے ہیں اس سے صرف محمد عربی روحی فداہ ﷺ ہی مراد لیتے ہیں یا چونکہ مرزا قادیانی کا بھی دعویٰ ہے کہ میرا نام وحی الٰہی میں محمد رکھا گیا ہے وہ مراد ہے یا عمومِ مجاز کے طریقہ پر دونوں مراد ہیں؟
- (٦٦) مرزا قادیانی اگر معاذ اللہ العظیم عین محمد احمد ہیں تو جب سے مرزا غلام
مرتضیٰ کے نطفہ سے پیدا ہوئے تھے تب سے محمد ﷺ کے عین تھے یا بعد نبی ہونے کے؟ جو اعتقاد ہو بیان فرمائیں۔ اگر ثانی صورت ہے تو بعد عینیت مرزا قادیانی میں دو روحیں تھیں یا ایک۔ اگر دو تھیں تو مرزا قادیانی کی روح امتی تھی تو مرزا قادیانی نہ نبی ہوئے نہ عین۔ اگر نبی تھے تو ایک جسم میں دو نبی ہوئے اور عینیت باطل ہوئی۔ پھر عربی جسم کون
١٨
سی روح تھی اور دوسری کا کیا کام تھا۔ وحی کس پر نازل ہوتی تھی۔ بولتے چلتے کھاتے پیتے مرزا قادیانی تھے یا دوسری روح۔ اور وحی دونوں پر نازل ہوتی تھی یا ایک پر۔ تو کس پر اور بعد عینیت کے اولاد جو مرزا قادیانی سے ہوئی وہ مرزا قادیانی کی ہوئی یا دوسری کی یا دونوں کی۔ اور اگر معاذ اللہ العظیم پہلی صورت تھی تو مرزا قادیانی کی والدہ کے شکم میں کون تھا؟ لڑکوں میں کھیلتا کون تھا؟ اسکول میں کس نے پڑھا؟ گورنمنٹ کی ملازمت کس نے کی؟ قانون انگریزی مختار کاری کس نے یاد کیا؟ اس قدر دنیا طلبی کی تدابیر کس نے کی؟ محمدی بیگم کے عشق میں کون مبتلا ہوا؟ اس پیشینگوئی میں کون جھوٹا ہوا؟ مولوی ثناء اللہ صاحب کے سامنے کون جھوٹا ہوا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے سامنے کون مرا؟ انگریزوں کی تعریفیں کس نے کی؟ لعنت اس زبان پر جو ان امور کو سرور عالم ﷺ کی طرف نسبت کرے۔ اور اگر مرزائی جماعت میں کسی کو ہمت ہو تو سینہ ٹھوک کر کہہ دے پھر انشاء اللہ تعالیٰ ہم بھی بہت کچھ عرض کر کے بتا دیں گے کہ کون غلام محمد ہے اور کون دشمن محمد ﷺ۔ لعنة اللہ تعالیٰ علیٰ اعدائہ۔ غرض مسئلہ عینیت کو خوب واضح اور روشن کر دیا جائے۔
- (٦٧) مرزا قادیانی نے دعوائے نبوت کیا ہے یا ان کے ذمہ الزام ہے اور
دعوٰی کیا ہے تو کس قسم کی نبوت کا اور کسی وقت ان کو کسی حکم کے نسخ کا بھی اختیار تھا یا نہیں۔ تھا تو کوئی حکم شریعت مرزائیہ میں شریعت محمدیہ کا علیٰ صاحبہا الصلوٰة والتحیة نسخ بھی ہوا ہے یا نہیں۔ اگر ہوا ہے تو کون سا ہوا ہے؟
- (٦٨) مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں انکار کرنے والوں بیعت نہ
کرنے والوں۔ مرزا قادیانی کے امر میں تردد کرنے والوں باوجود اعتقاد کے بیعت نہ کرنے والوں کو کافر کہا ہے یا نہیں۔ اگر کہا ہے تو یہ دعوٰی نبوت ہے یا نہیں۔ اور اگر نہیں تو پھر تمام صورتوں میں مخالفین کی تکفیر کیسے ہوئی؟ اور لاہوری پارٹی قادیانیوں کے نزدیک اور قادیانی ان کے نزدیک کافر ہیں یا نہیں۔ نہیں تو کیوں؟
- (٦٩) اگر مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک دروازہ نبوت بند نہیں ہوا ہے اور ختم
نبوت کے وہ الفاظ ہیں کہ جن کے معنی نعوذ باللہ العظیم جناب رسول مقبول ﷺ سے لے کر سوائے مرزا قادیانی کے اور ان کی جماعت کے کسی نے صحیح نہیں سمجھے اور جناب رسول مقبول ﷺ کے بعد مرزا قادیانی معاذ اللہ نبی ہو گئے تو اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد بھی دروازہ نبوت بند ہوا یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر وہ نبی مرزا قادیانی ہی کی اولاد
١٩
میں منحصر ہیں یا کہیں اور بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر ہو سکتے ہیں تو وہ انسان کامل بھی ہوں گے یا نہیں۔ مرزا قادیانی کا کیا عقیدہ ہے اور مرزائیوں کا کیا؟
- (٧٠) مرزا قادیانی کن کن امور میں اپنے آپ کو معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ
کے مساوی سمجھتے ہیں۔ اور کن کن امور میں زائد اور مرزائیوں کا کیا عقیدہ ہے؟ بس مفصل بیان فرمایا جائے۔
مرزا قادیانی کی تکفیر کے وجوہ متعدد ہیں مثلاً انکار ختم نبوت‘ دعویٰ نبوت‘ توہین انبیاء (علیہم السلام) انکار قطعیات قرآنیہ‘ وبعض ضروریات دین وغیرہ۔ مرزائیوں کی تکفیر کی وجہ مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ میں ہم عقیدہ ہونا اور مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنا اور بعض مرتدوں اور کفار کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کی تکفیر نہ کرنا یہ ضروری سوالات نمبر اول کے متعلق ہیں۔ ان کے جوابات آنے کے بعد اور امور کے متعلق بھی ضروری سوالات کیے جائیں گے۔ تمام امور کے متعلق جواب آنے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ اول تو کسی امر کی تحریر کی ضرورت ہی نہ ہوگی بلکہ عامہ اہل اسلام اور ایڈیٹران اخبارات اور جن کو حال معلوم نہیں وہ خود ہی سمجھ لیں گے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے کفر و ارتداد میں ادنیٰ تامل باقی نہیں۔ اور اگر ضرورت ہوگی تو خدا کو منظور ہے تو پھر بہت کچھ عرض کرنے کا موقع ملے گا۔ جملہ اہل اسلام و ایڈیٹران اخبار کل مرزائیوں کو اس پر مستعد کریں کہ وہ ہر امر کا جواب صاف صاف لکھ دیں ورنہ ان کا سکوت ان کے کفر کی کھلی دلیل ہوگی۔ یہ کتاب اگر مرتب ہوگئی تو انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ نسلوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہوگی۔ اور دوسرے ممالک میں بھی اس کا ترجمہ ان کی زبانوں میں ہو جائے گا تو دنیا کے مسلمان اس فتنہ سے محفوظ رہیں گے۔ ورنہ چونکہ یہ فتنہ ہندوستان سے اٹھا ہے اس وجہ سے اگر ان کے عقائد باطلہ کے ظاہر کرنے میں اہل ہند نے تغافل کیا تو جس قدر لوگ دوسرے ممالک کے ان کے ہاتھوں تباہ اور اسلام سے خارج ہوں گے۔ ان کے ارتداد اور کفر کے وبال میں اہل ہند بھی شریک ہوں۔ تو بالکل قاعدہ کے مطابق ہے۔ اس وجہ سے جملہ اہل اسلام لاہوری اور قادیانی پارٹی سے ہمارے جس قدر صحیفہ کے نمبر نکلیں جواب دلوائیں اور پھر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھیں۔
اللہ تعالیٰ علمائے ہند اور بالخصوص حضرت مولانا محمد علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مونگیری کو جزائے خیر عنایت فرمائے کہ ان حضرات نے اس فرقہ باطلہ کی تفضیح اور تقبیح اور ابطال عقائد باطلہ میں کوئی کمی نہیں فرمائی۔ لیکن میری نظر سے اب تک کوئی کتاب
٢٠
ایسی جامع نہیں گذری۔ کہ جس میں ان کے کل عقائد باطلہ کو ایک جگہ جمع کر دیا ہو۔ خدا تعالیٰ مجھے اخلاص دے اور میری مدد فرمائے اور مجھ سے یہ کام انجام پا جائے تو امید ہے کہ اس میں عوام اور ناواقف لوگوں کو زیادہ نفع ہوگا۔ اہل اسلام سے دعا کی مدد چاہتا ہوں۔ جس طرح سے آریوں کے رد میں ان کے عقائد کا معلوم ہو جانا بھی ایک سمجھدار کے لیے بطلان کی دلیل ہے۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا حال معلوم کرنا اس امر کے لیے کافی ہے کہ آدمی کو ان کے کفر و ارتداد اور مسلمان نہ ہونے کا یقین کامل ہو جائے۔ بالفعل اس سبعین پر اکتفا کرتا ہوں۔ جواب آنے پر نہ معلوم اور کتنے سبعین پیش خدمت ہوں گے۔
تنبیہ ضروری: ہم مرزا قادیانی کو پیدائشی کافر نہیں جانتے بلکہ مرزا قادیانی مسلمان کے گھر پیدا ہوئے اور مسلمان ہی تھے۔ اور ایک مدت طویل تک مسلمان ہی رہے۔ اور مسلمانوں کے سے عقائد ظاہر کرتے رہے۔ جب ان کو شیطان لعین نے گمراہ کیا اور بعض عقائد اسلامیہ سے تجاوز کیا، تو شرع کے حکم کے مطابق علمائے اسلام بالخصوص ہمارے حضرات علمائے دیوبند کثرہم اللہ تعالیٰ نے بہت احتیاط برتی۔ اور حتی الوسع ایک مدت تک سکوت کیا۔ بعدہ تضلیل اور تفسیق پر اکتفا کر کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ مگر جب مرزا قادیانی کے اقوال کفریہ اس درجہ پر پہنچے کہ تاویل کی بالکل گنجایش نہ رہی تب مجبور ہو کر کیا کرتے بجز تکفیر اور کافر اور مرتد کہنے کے چارہ ہی کیا تھا؟ تمام ہندوستان کے علماء نے تکفیر کی۔ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ علماء کو تکفیر کی عادت ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو شروع شروع مرزا قادیانی کے ساتھ علماء نہ ہوتے۔ اور ان کی تعریفیں نہ کرتے جنہوں نے بعد میں بڑے زور سے تکفیر کی اور ان کی شروع کی تعریفیں آج مرزائی چھاپ چھاپ کر مرزا قادیانی کا کمال ثابت کرتے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ اس میں مرزا قادیانی کے لیے نفع نہیں بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ علمائے اسلام بالکل بے تعصب ہیں کہ جب تک مرزا قادیانی مسلمان رہے وہ ان کی ساتھ اور معتقد رہے۔ مگر جب مرزا قادیانی نے اسلام اور قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ اور قطعیات قرآنیہ کو چھوڑ دیا۔ تو پھر علمائے اسلام کا فرض تھا کہ وہ مرزا سے علیحدہ ہوتے۔ اور ان کی تکفیر کرتے۔ چنانچہ انشاء اللہ تعالیٰ اگر مرزائی صاحبوں نے ہماری اس تحریر اور آئندہ تحریروں کا جواب دیا تو ہر مسلمان ان کے عقائد کفریہ سے نفرت ظاہر کر کے علیحدہ ہو جائے گا۔ اور ہماری عرض کو صحیح خیال فرمائے گا۔
٢١
لیکن اس وقت عرض یہ کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کا جب کوئی عقیدہ کفریہ پیش کیا جاتا ہے تو مرزائی مرزا قادیانی کے وہ اقوال پیش کرتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی مسلمان تھے اور اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ یا چونکہ مرزا قادیانی کے مزاج میں دجل تھا۔ اور منجملہ تیس دجالوں کے وہ بھی ایک فرد ممتاز تھے اس وجہ سے جہاں اپنا ایمان بیان فرماتے ہیں تو وہی الفاظ بولتے ہیں کہ جو قرآن و حدیث کے الفاظ ہیں اور جو الفاظ عام اہل اسلام کے ہیں مثلاً ہم خدا کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔ سب انبیاء کو اور ملائکہ کو مانتے ہیں۔ قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین جانتے ہیں۔ آپ کے بعد جو دعوائے نبوت کرے وہ کافر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض تمام آمنت باللہ اور ایمان مجمل و ایمان مفصل پانچوں کلمے حفظ ازبر ہیں۔ تو اب مسلمانوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ بیچارے تو تمام ضروریات دین پر ہماری طرح ایمان لاتے ہیں پھر ان کو لوگ کافر کیوں کہتے ہیں؟ بیشک یہ علماء کا باہمی حسد اور تنافس ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ ان صاحبوں کے دام تزویر ہیں جو ان سوالات کے بعد خدا چاہے پاش پاش ہو جائیں گے۔ اول تو یہ حیلہ ہے کہ مرزا قادیانی جب مسلمان تھے اس وقت کے اقوال ہوتے ہیں۔ ان سے ہمارا سوال نہیں۔ ہم ان عقائد کو دریافت کرتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی مرتد ہوئے اور لوگوں کو مرتد بنایا اس وقت کے عقائد کیا ہیں؟ وہ کہو۔ وہ تو ہاتھی کے دانت تھے۔ اب کھانے کے دکھانے چاہئیں۔ اسی وجہ سے وہ سوال ہے کہ جملہ تصنیفات کی تاریخ لکھی جائے۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ پہلا قول کون سا ہے اور آخر قول کون سا ہے؟ یہ خوب ظاہر ہے کہ ان سوالات میں خدا چاہے ایک سوال بھی بیکار اور خارج از بحث نہیں۔ لہٰذا ہر ایک کا جواب صاف صاف ہونا چاہیے یہ کہہ کر نہ ٹال دیا جائے کہ صاحب فضول باتوں میں کون وقت ضائع کرے۔ جہاں ہزاروں اخبار رسائل کفریات میں لکھے جاتے ہیں پھر اس کے کیا معنی کہ اپنے صاف صاف عقائد نہ لکھے جائیں اور اپنا مذہب صاف صاف نہ بتایا جائے تاکہ بہت سے ناواقف مسلمان دھوکہ سے بچ جائیں۔ اور اگر آپ صاحبان واقعی مسلمان ہیں اسلامی عقائد رکھتے ہیں تو جو لوگ آپ کے مکفر ہیں وہ تکفیر سے باز آئیں۔ دوسرے امر کے متعلق یہ عرض ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ حال ہے کہ لفظ اسلامی اور قرآنی بولتے ہیں۔ مگر معنی اپنے تراشیدہ اور کفریہ مراد لیتے ہیں۔ مثلاً جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کہتے ہیں۔ اور آپ پر ایمان ظاہر کرتے ہیں۔ مگر خاتم النبیین کے معنی یہ کہتے ہیں کہ بغیر آپ
٢٢
کے اتباع اور آپؐ کے فیض کے اب کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ جو نبی ہوگا آپؐ کے فیض اور قرآن شریف پر عمل کرنے سے ہوگا اور وہ نبوت آپؐ ہی کی عطا کردہ ہوگی۔ پہلے جو بلا واسطہ انبیاء علیہم السلام ہوتے تھے اب وہ سلسلہ بند ہو گیا۔
تو ملاحظہ ہو کہ ظاہر میں تو خاتم النبیین کا بڑے زور وشور سے اقرار ہے۔ اور اس کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ مگر خاتم النبیین کے معنی وہ مراد لیے کہ خاتم النبیین کے بالکل خلاف۔ اور تمام مسلمانوں نے جو اب تک معنی سمجھے ہیں۔ اس کے بالکل مخالف بلکہ خود سرور عالم ﷺ نے جو معنی احادیث میں بیان فرمائے ہیں۔ اس کے بھی مخالف ہیں۔ کیا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین نہیں؟ کیا تمام دنیا پر جو کچھ انعام ہیں وہ آپؐ کا طفیل و فیض نہیں ہے۔ کیا پہلے انبیاء علیہم السلام کو نبوت آپؐ کے فیض سے نہیں ملی؟ وہ بالکل آپؐ کے فیض سے مستثنیٰ تھے؟ (ادم تحت لوائی) (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ باب فضل النبیؐ) مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا مذہب نہیں۔ پھر اس کا مطلب کیا ہے۔ کہ اب جو نبی ہوگا وہ آپؐ کے فیض سے ہوگا۔ اور پہلے نبی بلا واسطہ نبی ہوتے تھے۔ اس مسئلہ کو بھی ذرا صاف کرکے بیان فرمائیں۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی آپ لوگوں کے نزدیک کیا عظمت ہے؟ آپ صاحبوں کے ان ہی الفاظ سے جو لوگ حقیقۃ الامر سے ناواقف ہیں وہ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص یوں کہے کہ نماز فرض، اس کا منکر کافر، علیٰ ہذا القیاس! روزہ زکوٰۃ حج فرائض اسلام ہیں ان کا منکر کافر ہے۔ مگر نماز سے مراد مطلق دعا کہے جیسے اہل قرآن نے نماز تصنیف کرلی ہے۔ زکوٰۃ کے معنی یہ کہ روپیہ اشرفیوں زیور وغیرہ کو صابن سے دھو لیا کریں۔ غلہ وغیرہ کو خوب خشک کر لیا کریں۔ غرض یہ کہ مال کو خوب صاف اور پاک رکھو اس میں کسی قسم کی نجاست نہ لگے۔ حج کے معنی یہ ہیں کہ قصد زیارت بیت اللہ کا کرے۔ بس حج ادا ہوگیا جانا ضروری نہیں۔ علیٰ ہذا القیاس! روزہ کے معنی تصنیف کرلیے کہ مطلق امساک اور روکنے کے ہیں۔ یا کھانے پینے سے رکنے کے صرف یہ معنی ہیں کہ غلہ اور پانی نہ کھائے پیئے۔ پھل دودھ کھا پی لے۔ تو جو شخص اس کے ظاہری الفاظ کو دیکھے گا وہ تو یہی کہے گا کہ یہ تو نماز روزہ حج زکوٰۃ کو فرض کہتا ہے لوگ اسے کیوں کافر کہتے ہیں؟ مگر حقیقۃ الامر جاننے والا جانتا ہے کہ یہ فرائض اربعہ مذکورہ کا مقر نہیں بلکہ کافر ہے۔ کلمۃ حق ارید بھا الباطل کا مصداق ہے۔
یہی طریقہ مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبوں کا ہے۔ اس نقاب کے کھولنے کے
٢٣
لیے بالفعل یہ سبعین پیش ہے اگر مرزائی صاحبوں نے جواب صاف دیا اور مرزا قادیانی کے آخری اقوال اور وہ عقائد بیان فرمائے جو ان کے حقیقۃً عقائد ہیں تو خدا چاہے بہت جلد حال روشن ہو جائے گا۔ اور اگر چال سے کام لیا اور دیانت اور انسانیت کے خلاف تو جب ہم مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبوں کی عبارتیں پیش کریں گے تو اور زیادہ ذلت اٹھانی پڑے گی۔ اس وجہ سے خوب سمجھ کر جواب دیں یا سکوت فرمائیں۔ جو اقرار کفر کا مرادف ہے۔ مرزا قادیانی نے جب کسی عقیدۂ اسلامیہ کا جس تاویل سے انکار کیا ہے جب تک مرزا قادیانی کے اس کلام سے ان صاف لفظوں میں رجوع نہ دکھائیں گے کہ ”میں نے جو فلاں مسئلہ میں یہ عقیدہ بایں تاویل بیان کیا تھا وہ تاویل غلط تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں“ تب تک مرزا قادیانی کا اس مسئلہ سے نہ رجوع ثابت ہوگا نہ گیا ہوا اسلام واپس فقط ختم نبوت کا اقرار اور آپ (ﷺ) کو خاتم الانبیاء کہنے سے اب مرزا قادیانی اور مرزائی مسلمان نہیں ہو سکتے۔ نہ ختم نبوت کے مقر سمجھے جاسکتے ہیں۔ جب تک یہ تصریح نہ کریں کہ محمد عربی ابن عبداللہ الخ (ﷺ) جو مرزا غلام احمد قادیانی کی ولادت سے پہلے اس دنیا میں تشریف لائے تھے ان کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ جو کوئی یہ کہے کہ فنافی الرسول ہونے سے یا آپ کی اتباع سے یا قرآن شریف پر عمل کرنے سے۔ وغیرہ وغیرہ اب آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے وہ قطعا کافر ہے۔ آپ کے بعد اب تک اور اب سے قیامت تک کوئی شخص نہ نبی ہوا۔ نہ آئندہ ہوگا۔ نہ شرعاً ہو سکتا ہے۔ یہ عبارت یا اس کے ہم معنی عبارت بھلا مرزائیوں سے لکھوا تو لو۔ جس میں نہ تو ختم نبوت والی تاویل چل سکے نہ لفظ محمد میں مرزا قادیانی مراد ہو سکیں۔ تب مسلمان سمجھیں کہ یہ شخص مرزا قادیانی کی طرح ختم نبوت کا منکر نہیں۔ اور یہ بیشک مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کو بوجہ انکار ختم نبوت کے کافر کہے :۔ اسی طرح سے ہر مسئلہ کفریہ میں اگر مرزائی مرزا کا اور اپنا رجوع ثابت فرمائیں تو علمائے اسلام ولیمہ کریں۔ مرزائیوں کے اسلام کا اعلان فرمائیں۔ ورنہ ویسے چاہے کچھ ہو جائے۔ حافظانِ شریعت غرا اگر ان کی جان بھی جاتی رہے اور جہنم میں جانے والے جس قدر بھی جہنمی ہو جائیں وہ اس امانت نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کو ضائع و برباد نہیں کر سکتے۔ واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون (صف:٨)
لہٰذا پھر عرض ہے کہ تلبیس سے کام نہ لیا جائے۔ ہم نے جس قدر بھی سوالات کیے ہیں۔ یا اور آئندہ ہوں ان کا جواب وہی دیا جائے جو واقعی مرزا قادیانی اور آپ
٢٤
لوگوں کا عقیدہ ہے۔ الفاظ حقہ کے پردہ میں معانی کفریہ کے چھپنے کا اب خدا چاہے وقت نہیں رہا۔ نہ ایسا کرنا مناسب ہے۔
دوسری عرض یہ ہے کہ آپ صاحب اور خود مرزا قادیانی جو اپنے عقائد باطلہ کی تائید میں بزرگان دین اور صوفیائے کرام کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ مثلاً شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ اول تو اقوال محدثین و مفسرین وفقہا اور کتب کلامیہ سے پیش فرمانے چاہئیں۔ صوفیائے کرام کے سب اقوال حجت نہیں۔ ان کے بعض کلام سکر کی حالت کے ہوتے ہیں۔ اور بعض ان کی اصطلاح خاص پر مبنی ہوتے ہیں۔ بعض مؤل ہوتے ہیں۔ جو دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے عقائد و احکام میں علم کلام و فقہ سے اقوال پیش ہونے چاہئیں۔ لیکن اگر نہیں مانتے اور ابن عربی وغیرہ قدست اسرارہم کے ہی اقوال پیش ہوں۔ تو ان کی جو اصطلاح و مراد ہے اس کو بھی ظاہر کر دیا جائے اس واسطے کہ لفظ ایک ہوتا ہے مگر معنی مصطلحہ یا معنی مراد علیحدہ ہوتے ہیں اس واسطے شیخ علیہ الرحمہ کے پورے اقوال کو ملاحظہ فرما کر تمام اقوال ملا کر صحیح مطلب جو ہو وہ پیش کرنا چاہیے۔ ورنہ ہمیں کچھ دقت نہیں ہم اس میں بھی حقیقت حال ظاہر کر دیں گے۔ تو پھر آپ کا جہل یا تلبیس اور ظاہر ہوگی۔ حیلہ سازی و چالبازی کا زمانہ گیا۔ فیروز پور میں آپ کے مناظرین قدرت خدا کو دیکھ چکے ہیں۔ یا تو سیدھی طرح سے پھر اسلام میں داخل ہو جاؤ اللہ تعالیٰ کی جنت بہت وسیع ہے۔ ورنہ اگر کفر ہی منظور ہے تو وہ بھی صاف صاف ہونا چاہیے جہنم کا پیٹ بھی آخر اسے بھرنا ہی ہے۔ مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا (کہف: ٢٩) ہم بہرحال یہی دعا کرتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اسلام پر قائم رکھے اور آپ لوگوں کو پھر مشرف با سلام فرمائے۔ آمین۔ عبارات صوفیائے کرام کے متعلق ایک اور بھی فرق عرض کرنا ہے۔ جو نہایت دقیق ہے خدا چاہے جواب میں عرض کیا جائے گا۔
ہر سوال کا جواب اس طرح سے بیان فرمایا جائے کہ مرزا اور مرزائیوں کا عقیدہ معلوم ہو جائے۔ ہاں اگر کوئی سوال خاص مرزا قادیانی کے ساتھ یا مرزائیوں کے ساتھ یا لاہوری یا قادیانیوں کے ساتھ مخصوص ہو۔ اس کا جواب خصوصیت کے ساتھ دیا جائے۔ اور یہ ظاہر فرما دیا جائے کہ یہ عقیدہ ہمارا نہیں قادیانیوں یا لاہوریوں کا ہے۔ یا پہلے تھا اب نہیں ۔ اور اب یہ ہے۔ تا کہ کلام میں طول نہ ہو اور مطلب جلد صاف ہو جائے۔
٢٥
یہ بھی واضح رہے کہ اکثر سوال بہت سی شقوں پر مشتمل ہیں۔ جن میں سے ہر شق بجائے خود ایک سوال ہے۔ ان کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ ہر سوال کی جملہ شقوق کا توجہ فرما کر جواب مرحمت ہو۔ ہمیں مرزائی جماعت کی سرگرمی سے اور اپنے مذہب کی اشاعت کے دعوے سے امید ہے کہ اس سبعین کا اور آئندہ سبعین کا بہت ہمت اور مستعدی سے جواب دیں گے۔ اور اگر ہماری طرح وہ بھی مرزا اور مرزائی مذہب کو باطل اور مخالف اسلام سمجھتے ہیں تو خواہ بالکل جواب نہ ہو۔ یا کسی تدبیر سے اصل بات کو ٹلایا جائے۔ اسلام اور مسلمانوں کو انشاء اللہ تعالیٰ ہر صورت مفید ہوگی۔
بعض سوال بظاہر مکرر معلوم ہوں گے مگر غور کے بعد فرق معلوم ہو جائے گا۔ اب مرزائیوں کی فہم و فراست اور قرآن و حدیث دانی و معارف قرآنی کا جو دریا قادیان سے بہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس کا پانی شور ہے یا شیریں ۔ دیانت و امانت صدق و صفا تمام صفات حمیدہ جو مرزا قادیانی سے حاصل ہوئے ہیں ان کے ظاہر ہونے کا وقت آ گیا۔ جواب حسب شرائط مذکورہ ہونا چاہیے ورنہ کالعدم سمجھا جائے گا۔
واخر دعوانا الحمدللہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد خاتم النبیین الذی لانبی بعدہ لامن امتہ ولا من غیر امتہ وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین
ابن شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات و شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند
٢٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سبعین کا ثانی نمبر
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من آیاتنا
اول السبعین کو شائع ہوئے عرصہ دراز گذر چکا۔ خود تو جواب کیا لکھتے؟ جلسوں میں بآواز بلند اس کا جواب طلب کرنے اور ذمہ دار مرزائیوں کی طرف سے جواب کا وعدہ ہونے کے باوجود آج تک اذناب ورؤس کسی سے بھی اس کا جواب نہ ہوسکا جواب سے یاس کے بعد اب سبعین کا ثانی نمبر
دفع العجاج عن طریق المعراج
الملقب بہ
معراج حبیب اللہ وحیات روح اللہ
المشہور بہ
صاعقہ آسمانی بر مذہب طائفہ قادیانی
از تصانیف ابن شیر خدا مولانا الحاج المولوی السید مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی امابعد۔ رسالہ دفع العجاج عن طریق المعراج۔ سیاست کے معراج نمبر میں شائع ہوا تھا۔ علاوہ معراج سرور عالم ﷺ کے اس میں مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کے متعلق بھی خصوصیت سے ایک حصہ تھا جس کو مرزائیت کا جنازہ کہنا چاہیے۔ مرزا قادیانی کے تیس سال سے زائد بارش کی طرح وحی کا بھی حال معلوم ہوگیا کہ وہ وحی الٰہی نہ تھی بلکہ ابلیس کی تلبیس تھی اور مرزا قادیانی کو معارف قرآنیہ کا جو پلندہ ملا تھا وہ بھی کھل گیا کہ بجز اضغاث احلام کے کچھ نہ تھا۔ مرزائی، قادیانی، پیغامی، لاہوری، قدنی، امیر ولشکر سب کو ہزیمت ہوئی۔ مرزائیت کی خانہ ویرانی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس پھونس اور گھاس کے گھر میں جب حقانیت کی آگ لگی تو مرزائیوں نے ٹھنڈی آنکھوں سے ان شعلوں کو آسمان تک بلند ہوتے دیکھا مگر کسی سے نہ ہوسکا کہ اس پر ایک قطرہ آنسوؤں ہی کا ٹپکا دیتا۔ ان کے گھر کی مشینیں اور چھاپے خانے بیکار ہو گئے۔ قلم ٹوٹ گئے دواتیں خشک زبانیں گونگی ہوگئیں۔ بدن پر لرزہ پڑ گیا۔ گویا ہندوستان میں کوئی مرزائی ہے ہی نہیں۔ یا کسی نے اس مضمون کو دیکھا ہی نہیں۔ یا ان کو مرزا قادیانی اور مرزائیت سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ مرزا قادیانی کو ایمان دے کر ایسے الگ اور بے فکر ہو گئے۔ جیسے سوداگر گھوڑا بیچ کر۔ گویا وہ مضمون مرزا قادیانی کی مخالفت ہی میں نہ تھا۔ اس میں مرزا قادیانی کی مجددیت اور مسیحیت اور نبوت کو ثابت کیا گیا تھا۔ ہاں ہاں یہ سب امور اس میں ہیں۔ مگر سب کے ساتھ کذبہ کا لفظ اور اضافہ کر دیا جائے۔
مرزائیو! پیغامیو! قادیانیو! قدنیو! لاہوری امیر۔ قدنی امیر سنو! سنو! میں آپ ہی سے خطاب کر رہا ہوں۔ تم ہی کو غیرت دلاتا ہوں تمہارا ہی جوش مذہب دیکھنا ہے۔ مرزا قادیانی جو معارف قرآنیہ دے گئے تھے وہ تھیلا کس روز کھلے گا وہ نیا علم کلام کہاں ہے جو مرزا لائے تھے۔ وہ نشانات وہ حقائق وہ صداقت کہاں خاک میں مل گئی۔ بیچارے آریوں کے ساتھ مناظرہ کر کے بڑا فخر کرتے اور ڈینگیں ہانکتے ہو۔
٢
اگر کسی آریہ اخبار نے یہ لکھ دیا کہ قادیانیوں سے مناظرہ نہ کرو اس وجہ سے کہ مسلمان خود انہیں کافر اور مرتد کہتے ہیں مناظرہ مسلمانوں سے ہونا چاہیے جس کا کوئی اثر ہو۔ تو پیغام صلح بڑے فخر سے تحریر فرماتے ہیں کہ سوائے چند ملاؤں کے فہمیدہ مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمیں اپنا نمائندہ بنا کر مناظرہ کے لیے پیش کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
خوب ہوشیار ہو کر سن لو کہ واقعی سب مرزائی اور مرزا قادیانی مرتد ہیں کافر ہیں ان کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور جو مسلمان مرزا قادیان اور مرزائیوں کے عقائد باطلہ کفریہ پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان کہے ان کے کفر و ارتداد میں شک و تردد کرے وہ بھی ویسا ہی کافر و مرتد ہے جیسے مرزا قادیانی اور مرزائی کیونکہ جو ان کو مسلمان کہے تو اس کا حاصل یہی ہوگا کہ وہ ان کے عقائد کفریہ کو اسلام میں داخل کہے گا اور اسلام میں ان کی گنجائش تسلیم کرے گا۔ اور یہ صریح کفر ہے کہ کفر کو اور عقائد کفریہ کو اسلام کہے یا اسلام میں داخل جانے ادخلوا فی السلم کافۃ (بقرہ:٢٠٨) اسلام کے تمام احکام کو اسی طرح سے قبول کرنا چاہیے جس طرح سے وہ ثابت ہیں۔ بعض کو تسلیم کرنا۔ بعض کو رد کرنا یہ بھی کفر ہے۔ جب تمام روئے زمین کے مسلمان باوجود قرآن شریف اور تمام احکام اسلام قبول کرنے کے مرزا قادیانی اور قادیانیوں کے نزدیک صرف اس وجہ سے کافر ہوں کہ ایک مرزا قادیانی کو نہ مانیں۔ تو پھر جو شخص باوجود دعویٰ اسلام کسی ضروری اسلام کو نہ مانے وہ کافر کیوں نہ ہوگا؟ اور کافر کو کافر نہ کہنا خود ضروری دین کا انکار ہے اور تمام قرآن شریف اس سے پر ہے کہ کفار کو کفار کہا گیا، عجب رواداری ہے کہ آج کل بعض لوگ اس میں احتیاط کرتے ہیں کہ کسی مدعی اسلام کو کافر کہا جائے۔ ان کی کوئی بھی غرض ہو مگر وہ ایسا کر کے خود کافر ہو جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں: اگر واقع میں کسی منکر ضروریات اسلام کو کافر سمجھتے ہو تو پھر اس کو کافر نہ کہنے کے کیا معنی؟ اور اگر عقیدۃً اس کو مسلمان ہی جانتے ہو تو پھر صاف بات ہے کہ ضروریات دین سے ایک کا انکار کر کے خود کافر ہونا ہے۔ یہ احتیاط نہیں، احتیاط امور ظنیہ میں ہوتی ہے۔ اور ظنیات کے انکار سے خود علماء فرماتے ہیں کہ آدمی کافر نہیں ہوتا۔ ہاں کسی ضرورت دین کا انکار کرے تو چاہے کوئی تاویل کرے یا صاف لفظوں میں انکار ہو بہر صورت کافر ہے۔ ضروریات دین میں تاویل مفید نہیں ہے ورنہ جو صاحب اس تحقیق کے مخالف ہوں براہ کرم وہ کفر و اسلام کی حقیقت بیان فرما کر ہمیں بھی ممنون فرمائیں۔
اب یہ بات کہ قادیانیوں کو نمائندہ بنا کر مسلمان آریوں سے مناظرہ کراتے
٣
ہیں تو اول تو کوئی باحمیت اور باغیرت مسلمان جو قادیانیوں اور مرزائیوں کے عقائد کفریہ سے واقف ہو یہ اس سے ہو ہی نہیں سکتا کہ مرزائیوں کو اسلامی نمائندہ بنائے بلکہ یا تو مسلمانوں کو واقفیت نہیں ہوتی ان کے منافقانہ جھوٹ سے دھوکہ کھاتے ہیں کہ دیکھو ہم تو مسلمان ہیں کلمہ گو ہیں آریوں سے مناظرہ کرتے ہیں۔ اور دوسرے بعض مسلمان یہ سمجھتے ہوں کہ آریوں سے مناظرہ کے لیے یہ ضرور نہیں کہ حقیقی مسلمان ہی مناظرہ کرے بلکہ یہ مدعیان اسلام جن کو اسلام سے برائے نام تعلق ہے کافی ہیں۔ آخر یہود اور نصاریٰ سے بھی بعض امور میں مسلمانوں کا اتفاق ہے اور وہ بھی آریوں سے مناظرہ کرتے ہیں تو اگر کوئی کسی پادری کو آریوں سے مناظرہ کے لیے پیش کردے اس وجہ سے کہ وہ رسالت اور جنت اور دوزخ کے قائل ہیں یا باوجود عیسائیت اور یہودیت کے بھی آریوں سے مناظرہ میں غالب ہو سکتا ہے تو کیا وہ بھی اسلام کا دعویٰ کرنے لگیں گے؟ یہ ہم نے کب کہا ہے کہ مرزائی اسلامی عقیدہ ایک بھی نہیں رکھتے لیکن اگر کل اسلامی عقائد ہوں اور صرف ایک ہی ضرورت دین کا انکار کرے تب بھی آدمی کافر ہی ہوتا ہے۔ مگر بقیہ عقائد کا وہ حامی ہوتا ہے جن کو مانتا ہے۔ یہی حال قادیانیوں مرزائیوں کا بھی ہے۔
تیسرے گو مرزائی مرتد اور کافر ہیں مگر آریوں کے تو وہ بھی مخالف ہیں جیسے بعض وقت سناتن دھرمی آریوں سے مناظرہ کرتے ہیں ایسے ہی اگر قادیانی بھی مناظرہ کریں اور کوئی مسلمان ہی انہیں پیش کردے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔
چوتھے بعض مخالفین اسلام نے (جو بالکل کافر ہیں اور توحید و رسالت کے بھی قائل نہیں) محض چونکہ آریوں کے بعض اعتراض بالکل بے اصل اور قرآن و حدیث کے نہ سمجھنے پر موقوف ہوتے ہیں (جیسے بعض ہندو) ان کو جواب دیا ہے کہ یہ آریوں کا اعتراض بالکل غلط اور بے اصل ہے یہ مضمون تو وید میں بھی موجود ہے یا قرآن و حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ تو کیا وہ غیر مسلم بھی اس نمائندگی سے مسلمان ہو جائیں گے؟
مسلمانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اس مرتد قوم کو کبھی شریک نہ کرنا چاہیے ورنہ مسلمانوں کی گمراہی کے یہ لوگ سبب بنیں گے لوگ ان کو مسلمان سمجھیں گے اور وہ اپنا کفر لوگوں میں شائع کریں گے۔
پیغام صلح فخر کرتا ہے کہ خواجہ کمال قادیانی نے تقریر کی فلاں نے تقریر کی کس چیز پر؟ اسلام کی صداقت پر اسلام تو صادق ہے ہی اس کو لوگوں نے اگر پسند کیا اور بالخصوص مسلمانوں کو تو پسند آنا ہی چاہیے تھا۔ تو کیا ہوا؟ بات تو یہ تھی کہ مرزا قادیانی کی
صداقت پر تقریر فرماتے اور مرتضی بھی اس مجمع میں ہوتا اور کوئی مسلمان کیا کافر بھی اس تقریر کو پسند کرتا تو ایک بات تھی۔
غرض ان دور ازکار باتوں پر فخر لاحاصل ہے جو کام کی بات ہے وہ کرو صحیفۃ الحق کا جواب دو۔ اول السبعین کتنے روزوں سے لاجواب ہے۔ مولانا مولوی محمد ادریس صاحب مولانا مولوی محمد شفیع صاحب، مولانا مولوی بدر عالم صاحب وغیرہ کے رسائل نظر سے گزرے ہیں ان پر قلم اٹھاؤ۔ مرزائیت کا خاتمہ مرزائیت کا جنازہ ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج۔ یہ تو بذریعہ رجسٹری خدمت میں پہنچے ہوں گے۔ اکفار الملحدین فی شئ من ضروریات الدین وغیرہ۔ یہ وہ رسائل و اشتہارات ہیں جن سے مرزا قادیانی کو قبر میں لرزہ ہوگا۔ اب سکوت کا وقت نہیں ورنہ تمام مرزائیوں کا عجز اور اقراری کفر و ارتداد ثابت ہو جائے گا۔
مجھے یہ خیال تھا کہ ”دفع العجاج عن طريق المعراج“ پر صرف پیغام صلح یا الفضل ہی میں ان کے امیر کچھ تکلیف گوارا نہ فرمائیں گے بلکہ مستقل تحریریں لکھیں گے۔ مگر ایک ماہ ہوگیا بندہ کی نظر سے کوئی مضمون بھی اس کے متعلق نہیں گزرا۔ حالانکہ اس مضمون میں مرزائیت کی پوری خانہ ویرانی ہوچکی ہے۔ مرزا قادیانی کے تمام اندوختہ کو آگ لگ چکی ہے۔ مرزا قادیانی کے علم اور دیانت اور فہم اور تمام دعاوی پر سخت اعتراض ہیں جس کا مرزائیوں کو جواب دینا لازم تھا مگر افسوس کہ ایسا سکوت فرمایا جیسا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کچھ کہا ہی نہیں۔ مرزائیت سے کچھ تعرض نہیں۔
مسلمانوں اور مرزائیوں کی واقفیت کے لیے مختصراً عرض کرتا ہوں کہ دفع العجاج میں صراحۃً اور اشارۃً کس قدر سوالات مرزائیوں سے تھے اور ان کا جواب ان کو دینا کس قدر ضروری تھا۔ ایسی ضروری باتوں کا جواب نہ دینا حالانکہ رسائل و اشتہارات اخبارات ہمیشہ شائع ہوتے ہیں گھر کے مطابع اور مشینیں ہیں۔ تمام باتوں پر طبع آزمائی ہو۔ مگر مرزا قادیانی پر مرزائیت پر جو سخت اعتراض ہوں ان کو مرزا قادیانی کی طرح ماء اللحم سمجھ کر پی جانا چہ معنی دارد؟ باقیوں کا جواب نہ دیں ان کو اختیار ہے مگر اس کا تو جواب دینا ہی ہوگا ورنہ اپنے اور مرزا قادیانی کے ارتداد اور کفر کا صاف صاف لفظوں میں اقرار کریں نہیں تو سکوت اقرار کے حکم میں ہوگا۔ کیونکہ بجز اقراری کفر کے اور کوئی وجہ ہو ہی نہیں سکتی۔ دنیا سے مناظرہ کرنے کا دعویٰ عالم میں تبلیغ کے مدعی۔ پھر مرزا اور مرزائیت پر جو اعتراض ہو اسی کا جواب نہ ہو تو بجز اقراری کفر و ارتداد اور کھلے ہوئے عجز اور لاجواب
٥
ہونے کے وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟ تمام ہندوستان کے مرزائیوں کو اعلان دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے امیر کو اس کے اور دیگر رسائل واشتہارات مذکورہ کے جواب کی طرف متوجہ کریں۔ یہ نہ ہو سکے تو خود جواب لکھیں اور اپنے امیر سے تصدیق کے دستخط کرا دیں۔ تاکہ مضمون قابل جواب و التفات سمجھا جائے ورنہ کالعدم ہوگا۔ کیونکہ جب تک ذمہ دار کے دستخط نہ ہوں وہ قوم پر حجت نہیں ہو سکتا۔ اور یہ کہنے کی گنجائش ہوگی کہ معمولی شخص کی تحریر قابل اعتبار نہیں۔ کل مرزائیوں پر حجت جبھی ہوگی جب امیر تصدیق کردے۔
اب بحول اللہ وقوتہ اصل مضمون کو شروع کرتا ہوں۔ ناظرین غور اور انصاف سے ملاحظہ فرماویں کہ امور ذیل کس قدر مہتمم بالشان ہیں ان کا جواب نہ دینا بجز اس کے نہیں ہو سکتا کہ خدا چاہے یہ مطالبات ہی لاجواب ہیں مرزائیت میں ان کا کوئی جواب ہی نہیں۔
تفصیل مطالبات دفع اللجاج عن طریق المعراج
- (١) مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے مرزا قادیانی کے متعلق جو بلند بلند دعاوی
ہیں۔ مرزا قادیانی کو جو علوم عقلیہ ونقلیہ اور معارف قرآنیہ اور جدید علم کلام دنیا کے مذاہب سے مقابلہ کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ پھر اس پر وحی کی بارش اور خدائی مدد اور مرزا قادیانی کا فلسفہ جدید وقدیم کے مقابلہ پر اسلام کی حمایت کرنے کے لیے آنا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے علوم مرزا قادیانی میں جمع ہونے۔ (جری اللہ فی حلل الانبیاء) (حقیقت الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢) (کے مصداق ہی جو ہوئے) وغیرہ وغیرہ بے شمار فضل وکمال کے دعاوی جن کی تفاصیل مسلمانوں سے زیادہ پیغامی اور قادیانی جانتے ہیں۔ ان کو پیش نظر رکھ کر یہ بیان فرمایا جائے۔ کہ مرزا قادیانی نے جو جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال عقلی کہا ہے اس کی بنا فلسفہ جدید وقدیم پر ہے یا کوئی اور دلائل ہیں، کیا ایک ایسے شخص کو جیسا کہ مرزا قادیانی کو مرزائی خیال کرتے ہیں دلائل فلسفہ کا یہی جواب دینا چاہیے تھا کہ جو مسئلہ مرزا قادیانی کے نزدیک اجماعی تھا اسی کا انکار کر دیا۔ اگر اسی طرح سے فلسفہ سے مرعوب ہوا جائے گا تو قیامت کا انکار بھی لازم آئے گا اور بھی بہت سے مسائل قطعیہ سے انکار کرنا پڑے گا۔
- (٢) مرزا قادیانی سے پہلے بھی علمائے اسلام اور بزرگان دین، خادمان ملت،
حافظان شریعت، مجدد گزرے ہیں انہوں نے بھی یہی طرز اختیار کر کے جسم عنصری کا
٦
آسمان پر جانا محال کہا یا کوئی اور جواب دیا؟ اگر ان کا جواب صحیح ہے تو مرزا قادیانی نے یہ غلط اور باطل اور مخالف اسلام طریق کیوں اختیار کیا۔ اور اگر غلط ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟
- (٣) اور پہلے علما کے جوابوں کے علاوہ کوئی اور جواب بھی ممکن ہے یا نہیں؟
اگر ہے تو اسے اختیار کیوں نہیں کیا؟ اور اگر بجز مرزا قادیانی کے جواب کے اور کوئی جواب ہو ہی نہیں سکتا تو اس کی وجہ کیا ہے؟
- (٤) جسم عنصری کا زندہ آسمان پر جانا ممتنع بالذات ہے یا ممتنع بالغیر؟ جو شق
چاہو اختیار فرماؤ۔ اگر ممتنع بالغیر ہے تو وہ غیر کون ہے۔ اس کا رفع بھی ممکن بالذات ہے یا وہ بھی ممتنع بالذات ہی ہے صاف صاف بیان فرمایا جائے۔
- (٥) بہرصورت حضرت آدم و حوا علیہما السلام آسمان سے زندہ زمین پر اتارے
گئے یا نہیں؟ اگر وہ زمین پر آسمان سے زندہ آگئے تو دوسرے شخص کا زندہ جانا اور آنا کیوں ممتنع ہے؟
- (٦) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو آسمان سے مائدہ نازل ہونے کی دعا
فرمائی ہے اور قرآن شریف میں دعا اور اس کا مقبول ہونا دونوں مذکور ہیں اس مائدہ میں کوئی زندہ جانور بھی تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو وہ زندہ کیسے آتا تھا اور اگر کوئی جاندار جانور نہیں تھا تو غذا فولادی چنے ہوتی تھی یا کوئی جسم قابل جلنے کے تھا اور خراب بھی ہو سکتا تھا وہ کیسے آسمان سے اچھا خاصہ عمدہ زمین پر آیا کرتا تھا؟
- (٧) مائدہ کے متعلق احادیث نبویہ میں کیا بیان کیا گیا ہے؟ مرزا قادیانی اور
مرزائی ان احادیث کو تسلیم کرتے ہیں یا ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا حکم ہے؟ مرزا قادیانی نے اس کے بارہ میں کیا تصریح فرمائی ہے؟
- (٨) مرزا قادیانی سے پہلے مسلمان صحابہ و تابعین و مجتہدین و محدثین و مفسرین
اولیائے امت و مجددین ملت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے مائدہ کو کیا سمجھا؟ ان پر بھی مائدہ کی حقیقت موہومہ منکشف ہوئی تھی؟ یا بوجہ پیشین گوئی ہونے کے سب کا ایمان اجمالی طور سے تھا۔ اور دجال اور خروج یاجوج اور مسیح موعود جساسہ دابۃ الارض کی فہرست میں مائدہ کا اور اضافہ ہوگا؟
- (٩) دفع العجاج میں جو فلسفی شبہات کو دور کر کے زندہ انسان کا آسمان پر جانا
ممکن ثابت کیا ہے ان سے امکان ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
- (١٠) اگر امکان ثابت ہوتا ہے تو تعجب ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک ادنیٰ
٧
طالب علم اس امر کا امکان عقلی ثابت کردے جسے خاتم الخلفا اور چناں اور چنیں وغیرہ وغیرہ محال عقلی کہے۔ کیا ایسا شخص مجدد، محدث، مسیح موعود، مہدی مسعود وغیرہ وغیرہ الخ ہو سکتا ہے؟ پھر یہ کوئی پیشینگوئی بھی نہیں جس کی اوٹ میں منہ چھپانے کی جگہ ہو۔
(١١) اگر دفع لجاج کے بیان سے امکان ثابت نہیں ہو سکتا؟ تو اس کا رد کیا جائے۔
(١٢) مرزا قادیانی نے انسان و حیوان کا زندہ آسمان پر جانا محال نقلی بھی بیان فرمایا ہے۔ کیا کسی نبی سے یا خود سرور عالم ﷺ سے کوئی حدیث ہے؟ یا قرآن شریف میں کوئی آیت ایسی ہے جیسی قتل مرتد کے بارہ میں صاف اور صریح طلب فرمائی جاتی ہے جس میں صاف اور صریح لکھا ہو کہ کوئی زندہ حیوان آسمان پر نہیں جاسکتا۔ اگر کسی آیت سے استدلال ہو تو اس آیت کے وہ معنی جو مرزا قادیانی نے بیان فرمائے ہوں امت میں کسی نے وہ معنی بیان فرمائے ہیں۔ اگر بیان کیے ہیں تو حوالہ مفصل دیا جائے۔ اور اگر وہ معنی اور وہ طرز استدلال خاص مرزا قادیانی ہی کے معارف مخصوصہ میں سے ہو تو کوئی امیر یا غریب مرزائی دعویٰ کر سکتا ہے کہ استدلال صحیح اور نتیجہ درست ہے یا صرف شیخ چلی کے خیال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ سبحان ربي هل كنت الا بشراً رسولاً (بنی اسرائیل:٩٣) کو اگر پیش کرنا ہے تو اگا پیچھا بھی پہلے دیکھ لینا۔
(١٣) صحف ابراہیم و موسیٰ علیہا السلام جو نازل ہوئے تھے وہ آسمان ہی سے نازل ہوئے تھے یا زمین پر آکر کسی مطبع میں طبع ہوئے یا زمین پر کتابت ہوئے تھے؟ اگر آسمان سے نازل ہوئے تھے تو فولاد یا سونے چاندی کے پتروں پر حروف کندہ تھے یا کاغذوں پر لکھے ہوئے تھے تو کرۂ نار سے کیسے محفوظ رہے؟ مرزا قادیانی نے جو فرمایا ہو مرزائیوں کا جو عقیدہ ہو وہ لکھئے۔
(١٤) جب کسی حیوان و انسان کا زندہ آسمان پر جانا نقلاً و شرعاً محال ہے تو آج تک کس صحابی حتیٰ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ انسان کا زندہ آسمان پر جانا شرعاً محال ہے۔ اگر منقول ہے تو مفصل حوالہ بتایا جائے ورنہ ایک محال شرعی پر کوئی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مطلع نہ ہو اس کی کیا وجہ؟
(١٥) اگر یہ شرعی بھی محال ہے تو اگر رسول اللہ ﷺ ہی کی شریعت میں پہلے محال ہوا ہے تو یہ خود محال ہے کیونکہ جو عقلاً محال ہے وہ ہمیشہ محال ہوتا ہے۔ تو ضرور پہلی امت کے لوگ بھی اس کو محال عقلی و شرعی جانتے ہوں گے پھر کس یہودی یا نصرانی سے بنقل صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر یا قرآن شریف کے صدق اور منزل من اللہ
٨
ہونے پر یہ اعتراض کیا ہو کہ یہ زندہ آسمان پر جانے کے مدعی ہیں جو شرعاً محال ہے۔ لہٰذا یہ سچے نبی نہیں یا قرآن شریف منزل من اللہ تعالیٰ نہیں۔ اگر ثابت ہے تو بیان کیا جائے؟
- (١٦) اگر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے (جسم عنصری کا زندہ آسمان پر
جانا شرعاً محال ہے) منقول نہیں تو کسی تابعی، تبع تابعی، کسی محدث، مفسر، مجتہد، ولی، قطب، غوث، عالم ربانی، عالم علوم عقلیہ و نقلیہ کسی مجدد وقت سے منقول ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو بیان کر دو۔ ورنہ یہ فرماؤ کہ ایسی غلط اور محال عقلی و نقلی بات پر امت میں سے کوئی بھی نہ مطلع ہو تو وہ مذہب قابل عمل ہو سکتا ہے اس مذہب کو کوئی دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے؟
- (١٧) اگر بعد ترمیم پیش ہو سکتا ہے تو اس کا اختیار صرف مرزا قادیانی ہی کو تھا یا اور
وکیل، بیرسٹر، مصلحان قوم بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ بہرصورت پھر اسلام خدائی مذہب ہوگا یا پنچایتی، ریزولیوشن جو باتفاق یا کثرت رائے یا جناب صدر کی رولنگ سے ہمیشہ قابل ترمیم ہوگا؟
- (١٨) جو امور انسان اور حیوان کے زندہ آسمان پر جانے سے مانع ہیں وہ
خداوند عالم نے ہی پیدا فرمائے ہیں اور داخل قدرت ہیں یا مرزا قادیانی کے نزدیک وہ خدا کے مخلوق نہیں نہ معاذ اللہ ان کو خدا نے پیدا کیا نہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی قدرت ان کو فنا کر سکتی ہے۔ مرزائی خیال کیا ہے؟ جو ہے اسے صاف بیان فرمائیں۔
- (١٩) اگر مخلوق نہیں تو واجب بالذات ہیں یا ممتنع بالذات وجودی ہیں یا عدمی
جو مذہب ہو اسے بیان فرمائیں۔
- (٢٠) اور اگر مخلوق اور ممکن بالذات ہیں اور اس نے ان کو پیدا کیا ہے تو پھر فنا
بھی کر سکتا ہے یا نہیں؟ یا باوجود موجود رہنے کے ان کے ان اوصاف کو جو عبور حیوان سے مانع ہیں ہمیشہ کے لیے یا تھوڑی دیر کے لیے سلب بھی کر سکتا ہے یا نہیں؟
- (٢١) اگر نہیں تو پھر وہ خدا بھی رہ سکتا ہے یا نہیں؟ خداوند عالم کی قدرت کاملہ
سے کسی ایک ممکن بالذات کو خارج کہنا خدائی کا انکار ہے یا نہیں؟
- (٢٢) اور اگر ان امور کو فنا بھی کر سکتا ہے یا باوجود وجود کے ان کے
اوصاف کو بھی سلب کر سکتا ہے تو پھر انسان یا حیوان کا زندہ آسمان پر جانا کیوں محال ہے؟
- (٢٣) اگر کہو کہ داخل قدرت تو ہے مگر وہ بوجہ اپنے وعدہ کے یا فلاں وجہ سے
ایسا نہیں کرے گا تو وہ وعدہ اور وہ وجہ بتائی جائے۔
- (٢٤) مرزائیو! خوب غور سے بتانا مگر پیشینگوئی ہے کہ نہ بتاؤ گے۔ کیونکہ
تمہارا کفر اور ارتداد اقراری ہو جائے گا۔ اور تم سے بہت سے وہ لوگ جو دھوکے میں
٩
پڑے ہیں علیحدہ ہو جائیں گے۔ مگر تمہارا جواب نہ دینا بھی سمجھ داروں کے نزدیک جواب ہی کے حکم میں ہے۔ آگ باوجودیکہ آگ ہی رہے اور گرم رہے۔ پانی باوجودیکہ سیال ہی رہے۔ اور پتھر باوجودیکہ ثقیل ہی رہے۔ مگر تمہارے نزدیک خدا میں یہ قدرت ہے وہ کر سکتا ہے یا نہیں کہ آگ نہ جلائے اور آدمی زندہ رہے۔ اور پانی غرق نہ کرے بلکہ پتھر تیرتا رہے۔ یا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں آگ دوسروں کو جلائے اور پانی دوسروں کو غرق کرے مگر ایک شخص کو نہ آگ جلائے نہ پانی غرق کرے۔ کہو مرزائی دھرم میں خدا میں یہ قدرت ہے کہ نہیں؟ دل میں تو یہی ہے کہ نہیں ہے نہیں ہے نہیں۔ ورنہ سرور عالم ﷺ کا شب معراج میں آسمان پر تشریف لے جانا مرزائی دھرم میں محال نہ ہوتا۔ مسلمانو! اب بھی سمجھو گے اب بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مسلمان ہی کہو گے؟ بلکہ صرف ان ہی کو مومن کہو گے اگر اب بھی نہ سمجھے تو تف ہے اس عقل پر اور افسوس ہے اس لعنتی ایمان پر جس میں نہ خدا کی قدرت کا آدمی قائل رہے نہ رسول ﷺ کی عظمت پر ایمان رہے۔ یہ تو جملہ معترضہ ہے جو چاہو کہو۔ کچھ کہو تو سہی۔ کہیں یہ منہ کا رومال اترے تو سہی۔ خدا چاہے یا مسلمان ہو جاؤ گے۔ ورنہ قسمت میں نہیں تو کھلے کھلے کافر اور مرتد ہو گے مسلمان دھوکے میں نہ رہیں گے۔
- (٢٥) یہ بھی ممکن ہے کہ آگ میں سے تھوڑی دیر کو گرمی سلب کر لی جائے اور
پتھر میں سے ثقل کو۔ زہریلی ہوا میں سے تھوڑی دیر کے لیے سمیت دور کر دی جائے۔ اور آگ میں انسان زندہ رہے۔ پانی پر انسان نہیں پتھر اور لوہا تیرتا رہے جو ڈوبنا چاہیے تھا۔ اور زہریلی ہوا میں نہ انسان کو مرض ہو نہ مرے۔ جواب نفی میں ہوگا یا اثبات میں۔ مسلمان جس خدا کو مانتے ہیں اس میں تو اس سے بہت زیادہ قدرت ہے۔ مگر افسوس مرزائیوں اور مرزا قادیانی پر یہی صادق آتا ہے کہ ماقدروا الله حق قدرہ (انعام: ٩١) اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہ کی جو کرنی چاہیے تھی۔ جب معاذ اللہ اسے تمام دنیا سے مرزائی دھرم میں نبی ایسا ملا کہ جو کوڑ مغز باجود بارش کے طرح وحی ہونے کی پھر وحی کا مطلب بارہ برس تک نہ سمجھے اور خدا کو معاذ اللہ یا تو اس کا علم نہ ہوا کہ نبی غوی ہونے کے ساتھ غبی بھی ہے یا عشق ہی اس کے ساتھ تھا۔ نقل مشہور ہے۔ دل تو لگا پتھر سے شیش محل کو دے کیا آگ۔ تو پھر اس میں قدرت ہی کیا ہوگی؟
مرزائی فرضی خدا کی قدرت تو محمدی بیگم کے واقعہ سے پوری معلوم ہو گئی کہ وعدہ وعید ہوا۔ قضائے مبرم ہوئی۔ بہت ڈرایا گیا دھمکایا گیا۔ طمع دی گئی۔ آخر آسمان پر
١٠
بڑے زوروں سے نکاح ہوا اپنی نبوت کے لیے معیار صداقت بنایا گیا سب کچھ ہوا مگر محمدی بیگم نہ لی گئی۔ اور مرزا قادیانی کی موت آگئی۔ بقول خلیفہ نور الدین قادیانی پیشینگوئی کے کوئی معنی بھی ہوں‘ مرزا قادیانی کے روبرو پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی اپنے اقرار سے ہر بد سے بدتر ٹھہرے اور تمام مسلمان ان سے علیحدہ ہو گئے ان کو کافر‘ مرتد ملعون وغیرہ کیا گیا سمجھا۔ اگر مرزائی اور مرزا قادیانی کے فرضی خدا میں کچھ قدرت ہوتی تو جس کے لیے آسمان زمین بنائے تھے۔ جن کے ساتھ اس کا لشکر تھا۔ آسمان زمین جس کے ساتھ تھے۔ جس کی وہ وہ تعریفیں ہوئیں کہ دنیا میں کسی کی بھی نہ ہوئیں۔ اس کو ذلیل کرا دیا اس میں قدرت کہاں سے آئی تھی۔ پھر جب ایک منکوحہ عورت خاوند کو نہ دلا سکا حالانکہ وعدہ وہ تھا جو ٹل نہیں سکتا تھا۔ مگر پھر بھی کوئی شرط مضمر رکھ کر معاذ اللہ جھوٹ بولنے کا راستہ نکال لیا۔ وہ آگ کو کیا ٹھنڈا کرے گا اور کسی انسان کو آگ میں کیا زندہ رکھ سکتا ہے؟ (دیکھو مسٹر محمد علی لاہوری کی تفسیر)
مرزائیو! دیکھا اس خدا پر تم ایمان لائے ہو‘ حقیقی خدا سے الگ کر کے مرزا قادیانی نے تم کو اس خدا کا بندہ بنایا ہے جس میں معاذ اللہ نہ قدرت ہے نہ سچا ہے۔ مرزائی دین کے مطابق مرزا قادیانی کو نبی بنایا۔ دنیا کی نجات کا مدار مرزا قادیانی کی نبوت۔ اور معیار نبوت کو جھوٹا کر دیا تمام خلق کو گمراہ کیا۔ نبی کو رسوا اور ذلیل کیا۔ کہو اب بھی مرزائی بنو گے؟ توبہ کرو اور اس خدائے وحدہ لاشریک‘ فعال لما یرید. علی کل شئی قدیر کو خدا مانو جو ہر شے پر قادر ہے۔
- (٢٦) اچھا کہو خداوند عالم میں یہ قدرت بھی تسلیم کرتے ہو کہ نہیں کہ آگ
گرم رہے اور ہوا زہریلی۔ مگر انسان میں کوئی ایسی حالت پیدا کر دے کہ آگ کی گرمی اور ہوا کی سمیت اثر نہ کر سکے؟
- (٢٧) یہ بتاؤ کہ آگ کے جلانے اور ہوا کی سمیت کے اثر کرنے کو کسی زمانہ
کی تو ضرورت ہے۔ یہ تو نہیں کہ پانی آگ پر رکھتے ہی کھولنے لگے۔ آدمی کو طاعون یا ہیضہ ہو تو فوراً اسی سکنڈ میں مر جائے۔ تو کیا ممکن نہیں ہے کہ جس قدر زمانہ میں آگ کا کرہ جلائے یا طبقہ زمہریر یا سم ہوا ہلاک کرے اس سے پہلے ہی سردار دو عالمؐ کی سواری گزر گئی ہو۔ کیا یہ بھی خدا کی قدرت میں نہیں ہے کہ اس قدر تیز رفتاری سے شاہ دو عالمؐ تشریف لے جائیں؟ تعجب ہے مرزائیو! کہو آنکھ رکھتے ہو یا نہیں؟ آنکھ کا نور کس قدر جلد آٹھویں آسمان کے تارے دیکھ لیتا ہے۔ مگر تمہارے مرزا کے نزدیک سردار دو عالم
١١
ﷺ اس قدر جلد آسمان پر تشریف نہیں لے جاسکتے۔ کچھ تو غور کرو یہ کون سا دھرم ہے؟
(٢٨) مرزائیو! کسی حدیث پر تمہارا ایمان ہے یا نہیں؟ مسلمان جہنم میں دوزخیوں کو نکالنے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ ”جلدی نکلو میں بجھی“ یہ ہے یا نہیں۔ وہ اصلی آگ جب معمولی مومنوں سے بجھنے لگے گی تو یہ مردہ آگ حقیقی مومن بلکہ جس کی وجہ سے مومنوں کو ایمان نصیب ہوا ہے اس کو جلاسکتی ہے؟ (خاکش بدہن) جو ایسا کہے وہ مسلمان ہے کہ کرۂ زمہریر اور زہریلی ہوا سے سرور عالم روحی فداہ تشریف نہیں لے جاسکتے۔ معراج جسمانی محال ہے۔ جس کے غلاموں کے سامنے شیر دم ہلاتے تھے اور راستہ بتاتے تھے آج یہ فرضی کرہ نار جس کا پتہ بھی نہیں کہ ہے یا نہیں اور کرۂ زمہریر اور زہریلی ہوائیں شہنشاہ دو عالم کا راستہ روک سکتی ہیں ۔
مرزائیو! اگر مرزا قادیانی میں ایمان ہوتا۔ سرور عالم ﷺ کی عظمت ہوتی‘ یہ کہتے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے اگر یہ آگ گلزار ہوگئی تو سرور عالم ﷺ کی وجہ سے تمام کرۂ نار گلزار ہوگیا۔ اگر آپ کا دسترخوان مدۃ العمر آگ میں نہ جلا بلکہ جب میلا ہوا تو تنور میں ڈال دیا گیا اور سفید ہو کر نکلا تو جامہ نورانی شب معراج جو زیب تن مبارک تھا اس پر کوئی آگ اثر کرسکتی ہے؟
اگر آپ کے غلاموں نے زہر کی بوتل پی لی تھی اور کچھ نہ ہوا تو جسم اطہر کی تریاقیت سے سب زہریلی ہوا تریاق حقیقی بن گئی۔ اگر آپؐ کی دعا کی برکت سے مدینہ طیبہ کی ٹھنڈی اور بہت سرد ہوا گرما بہ بن گئی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حمام میں جا رہے ہیں تو تمام کرہ زمہریر اگر حمام بن جائے تو ادنیٰ بات ہے۔ مگر یہ تو وہ کہے جس میں ایمان ہو اسلام ہو جس کو خدا سے کچھ واسطہ ہو۔ جو معجزہ اور کرامت کو جانتا ہو۔ جس کی ساری عمر نصاریٰ کی ملازمت اور محبت میں گذری انہیں کی سلطنت کو رحمت خداوندی کہے۔ جس کے مذہب کے پیرو آج تمام دنیا کے کفار کے سامنے ذلیل و خوار ہو کر داد فریاد چاہیں۔ جو ایک مشرک کافر نہ بادشاہ نہ حاکم نہ رئیس نہ عالم نہ فاضل مسٹر گاندھی سے مدد چاہیں اور مذہب اسلام کی‘ قرآن شریف کی۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی۔ توہین کرائیں وہ ان باتوں کو کیا سمجھیں؟ ان کی تو غرض ہی اصول اسلام کو مٹانا ہے۔ اسی کی سعی اور کوشش میں رات دن لگے ہوئے ہیں۔ مگر کچھ بھی نہیں خود ہی انشاء اللہ تعالیٰ جل کر خاک سیاہ ہو جائیں گے اسلام کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہاں جسے جہنم
١٢
میں جانا ہے جائے جہنم بھی بہت وسیع ہے۔
(٢٩) ان کے علاوہ دفع الحجاج کے ملاحظہ سے معلوم ہوگا کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا نہ عقلاً محال ہے نہ نقلاً بخوف تطویل زیادہ تفصیل نہیں کرتا۔ اب جب مرزائی امیر جواب لکھیں گے تب عرض کروں گا کہ اس قدر احتمالات اور رہ گئے۔ لہٰذا جو جواب لکھے غور کرلے کہ اور کس قدر صورتیں جسم عنصری کے آسمان پر جانے کی ہو سکتی ہیں ان تمام احتمالات کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی نے محال کہا۔ کیا ایسا ہی شخص مسیح موعود ہوگا۔ مسیح موعود کی یہی شان ہونی چاہیے؟
(٣٠) سب مرزائی خوب غور سے اس کا جواب دیں کہ کیا ممکن ہے کہ ”خدا تعالیٰ کسی حیوان یا انسان کو ایسی حالت میں بھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے حقیقی موت سے بچاوے۔ اور اس کی روح کو اس کے پاش پاش شدہ جسم سے وہی تعلق قائم رہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے جسم کو درست کر دے اور اس کو نیند کی حالت سے جگا دے۔ اگر مرزائیو! تمہارے نزدیک یہ ممکن ہے اور جائز ہے تو اگر کوئی جسم عنصری زہریلی ہوا میں بظاہر مر بھی جائے یا آگ میں جل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر علیحدہ ہو جائیں یا کرۂ زمہریر میں ٹھٹھر جائے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو اپنی قدرت کاملہ سے پھر درست کر دے اور نیند سے جگا دے اور جو تعلق اس کی روح کو اس کے جسم سے تھا وہ پھر ظاہر ہو جائے۔“ (ملخص ازالہ اوہام ص ٩٢٣ خزائن ج ٣ ص ٦٢٢) تو اب بتاؤ جسم عنصری کا آسمان پر جانا کیوں محال ہے؟
چونکہ جواب کی بفضلہ تعالیٰ ہرگز ہرگز امید نہیں اس وجہ سے ظاہر کیے دیتا ہوں کہ یہ عبارت میری نہیں ہے تمہارے گرو کی ہے۔ اب سب مل کر قسمت کو روؤ اور مرزا قادیانی کی قبر پر جاکر ماتم کرو کہ پیر کس گڑھے میں گر گئے اس تعارض اور تناقض کا کیا جواب ہے۔ مرزائیو ابھی کیا ہے؟ ؎ جلوۂ یار پکارا ابھی دیکھا کیا ہے
مرزا قادیانی دنیا میں اور آخرت میں ذلیل نہ کرائیں تو پھر کہنا۔ اب بھی توبہ کرلو تمہارے حال پر رحم آتا ہے ورنہ جاؤ جہنم میں۔ ہمارا کام جو ہے وہ کر دیا۔
(٣١) مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی نے اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل تحریر و تقریر میں اور زیادہ برکت دے۔ جولاہور والی تقریر میں حیات النبی ﷺ کو بیان فرمایا تھا۔ اس کو پیغام صلح میں مشرکانہ خیال لکھا ہے۔ فرمائیے اب گرو صاحب کو ڈبل مشرک کہوں یا کیا؟ ان کے نزدیک یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیا جائے مگر پھر
١٣
بھی روح کا جسم سے وہی تعلق رہے جو حالت حیات میں ہوتا ہے۔ اپنے گندے خیالات بنانے کے لیے تو سب کچھ جائز مگر معراج شریف کی مخالفت میں جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے بہت سے بہت یہی لازم آتا ہے کہ کرۂ زمہریر اور زہریلی ہوا میں آدمی مرجائے مگر پھر بھی زندہ رہے اور پھر نیند سے جاگ جائے۔ سب مل کر جواب دو۔ اب اگر سرور عالم ﷺ اور جملہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ رہ کر نماز پڑھیں (مسند ابو یعلیٰ ج ٣ ص ٢١٦ حدیث ٣٤١٢) تو یہ مشرکانہ خیال کیوں ہے؟
- (٣٢) مسئلہ حیات النبیؐ تو ثابت ہو ہی گیا مگر قیامت تو دور ہے جس کا تحمل نہ
ہوسکے گا۔ وہ یہ کہ اب اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت بھی ہوگئے اور خلیل اور سری نگر میں مدفون بھی ہیں مگر یہ کیسے ثابت ہو کہ وہ حقیقتاً مردہ ہیں ان کی روح مبارک کا جسم شریف سے وہی تعلق نہیں جو حالت نوم میں ہوتا ہے۔ اور وہ اب زندہ نہیں؟
- (٣٣) مرزا قادیانی نے جو ساری عمر میں شیخ چلی کا سا گھر بنایا تھا اس کا تو
حاصل یہی تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور جو فوت ہوگیا وہ پھر دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔ تو اب نزول مسیح سے مراد مثیل مسیح ہوگا اور وہ خود ذات شریف ہیں۔ گو یہ تمام خیالات لغو اور بے دینی پر مبنی ہیں مگر یہاں تو یہ بتانا ہے کہ اب تو مرزا قادیانی کی تحریر سے یہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقول مرزا قادیانی اپنی قبر ہی میں سوتے ہوں اور آخری وقت جاگ کر تشریف لے آئیں۔
لو صاحب فلسفہ کے قدم چومو اس کی پرستش کرو۔ جسم عنصری کا زندہ آسمان پر جانا محال کہو جو حقیقتاً فوت ہوگیا وہ پھر دوبارہ زندہ نہ ہوگا۔ مگر ان تمام مقدمات سے نزول عیسیٰ علیہ السلام پر کوئی زد نہیں ہوسکتی۔ نہ عیسیٰ علیہ السلام اس احتمال کی بنا پر آسمان پر تشریف لے گئے نہ حقیقتاً مرے۔ بلکہ جیسے کسی کو قتل کرکے گوشت کا قیمہ کر دیا جائے اُس وقت بھی انسان حالت نوم کی طرح زندہ ہی رہ سکتا ہے۔ اور پھر خداوند عالم اپنی قدرت سے اس کے جسم کو بنا کر روح کو پھر لوٹاتا ہے ایسے ہی اگر عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ہو تو اب نزول حقیقتاً عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ہوگا۔ مثیل مسیح مراد لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر مرزا قادیانی کو کہاں بٹھاؤ گے؟ مسیح صادق تو اپنی جگہ خود تشریف لائیں گے۔ المسیح الدجال المسیح الکاذب کی جگہ اگر مرزا قادیانی کو دینی ہی ہو تو مرزائیوں کو اختیار ہے۔ ورنہ وہ خود فرمائیں کہ اب مرزا قادیانی کون سے مسیح موعود بنیں گے؟ معلوم ہوگیا کہ معارف قرآنیہ تو بڑی چیز ہیں مرزا قادیانی معمولی عقل کے انسان بھی نہ تھے۔
١٤
عیب کردن را ہنرے باید مرزا کو تو جھوٹ بولنا بھی نہ آیا۔ مرزائیو! اب بھی ایمان اور آخرت کو مرزا کے جھوٹ پر نثار کرو گے؟ نہ معلوم تم کو مرزا قادیانی میں بجز جھوٹ افتراء نادانی، جہل کے اور کیا چیز پسند آئی ہے؟ خیر یہ تو آپ کو اختیار ہے جو چاہو پسند کرو۔ مگر خدا چاہے یہ ہم عرض کردیں گے کہ مرزا میں بجز کذب و افتراء کے اور کچھ نہیں۔
- (٣٤) یہ بھی تو فرماؤ کہ مرزا قادیانی نے یہ تحقیق جو بیان فرمائی ہے اس پر
ایمان ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو پھر حیات النبی کو مشرکانہ خیال کیوں کہا گیا۔ اس صورت میں شرک فی الذات ہے یا شرک فی الصفات ہے آخر کون سا شرک ہے؟
- (٣٥) اگر روح کے بقا کو شرک سے تعبیر کیا گیا ہے تو ارواح تو مرزائی دھرم
میں بھی باقی رہتی ہیں۔ حقیقی موت میں بھی جسم سے تعلق ہی جاتا ہے روح تو فنا نہیں ہوتی۔ تو مرزا قادیانی اور مرزائی اور تمام مسلمان بلکہ تعلیم اسلام ہی مشرکانہ ہوئی؟ اور اگر جسم کے بقا کو شرک سے تعبیر کیا ہے تو پھر زمین آسمان کواکب ان کے اجرام کو کس قدر زمانہ گزر گیا۔ اور نہ معلوم کب تک باقی رہیں تو پھر یہ بھی مشرکانہ خیال ہوگا یا نہیں؟ نہیں تو وجہ فرق کیا ہے؟ اور اگر بقائے تعلق زمانہ دراز یا ابد تک مشرکانہ خیال ہے۔ تو پھر تمام فرشتوں کا وجود بھی مرزائیوں کے یہاں مشرکانہ خیال ہوگا۔ مرزا قادیانی کے یہاں تو قیامت کا مفہوم بھی شرعی نہیں بلکہ ایک خیالی قیامت اور حشر ہے۔ مرنے کے بعد سے جنت اور دوزخ مل جاتی ہے گو ادنیٰ ہی درجہ ہو۔ مگر ہے ضرور جنت اور دوزخ ہی۔ اور مرنے کے بعد جس جسم سے تعلق روح کو ہوگا وہ ابدی ہوگا اب تو اس تعلق کو فنا نہیں ہوگی۔ مرزائی مذہب کیا ہے؟ اگر تعلق ابدی ہوگا اور فنا نہ ہوگا تو کیا یہ مشرکانہ خیال نہیں ہے؟ اور اگر خاص جسم عنصری سے تعلق مشرکانہ خیال ہے۔ تو اول تو وجہ فرق کیا ہے۔ دوسرے جب تعلق روح بالجسد جو ابدی بھی نہیں وہ مشرکانہ خیال ہے تو وہ اجساد کا وجود قیامت تک وہ مشرکانہ خیال کیوں نہ ہوگا۔ زمین آسمان کواکب سب شریک باری ہوں گے؟ غور سے جواب مرحمت ہو۔
- (٣٦) مرزا قادیانی کی تحریر سے اس صورت کا امکان تو نکل ہی آیا کہ کسی جسم
کے ٹکڑے ٹکڑے اور اس کے ذرات بنا دیئے جائیں اور قیامت تک وہ ٹکڑے باقی رہیں اور اسی وقت وہ میٹھی خواب سے بیدار ہو تو امکان شرک سے تو مرزا قادیانی بھی بچ نہیں سکتے۔ تو اس کلام کو مشرکانہ کلام کہو گے یا کیا؟ مرزا قادیانی نے علماء محققین کے کلام کا تو
١٥
سرقہ کیا ہے۔ اس وجہ سے کلام کو نقل کرنا بھی نہیں آتا۔ نہ اس کا موقعہ ومحل سمجھتے ہیں۔ مرزائی ہیں کہ فرط عقیدت میں مرے جاتے ہیں اور ہر لغو اور مہمل بات کو معارف قرآنیہ بنانے کے لیے مستعد ہیں اور جب کہا جاتا ہے کہ مرزائی معارف قرآنیہ کی فہرست بتاؤ۔ تو پھر حوالے ندارد کا مضمون ہوتا ہے اور مرزائیت کا خاتمہ قبول کرتے ہیں۔
- (٣٧) مرزا اور مرزائی تو کیا سمجھے ہوں گے مگر میں عرض کرتا ہوں سمجھ کر
جواب دو۔ مرزا قادیانی کے نزدیک نیند کی دو قسمیں ہوئیں۔ ایک تو معمولی نیند۔ اور ایک غیر معمولی‘ جس کو نیند نہیں بلکہ موت کہا جاتا ہے۔ جس میں آدمی قتل ہو کر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیا جائے مگر پھر بھی روح کا تعلق جسم سے وہی رہتا ہے جو حالت حیات میں اور نیند میں ہوتا ہے اور بعد میں وہ پھر زندہ ہوتا ہے۔ اور مرزا قادیانی کی اصطلاح میں جاگتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٩٤٣ خزائن ج ٣ ص ٦٢٢)
تو اب سوال یہ ہے کہ مردہ کو دفن کر دیا جاتا ہے اس کے مال میں وراثت جاری ہوتی ہے۔ غرض موت حقیقی کے جملہ احکام جاری ہوتے ہیں۔ اس کی بیوی بعد عدت چاہے تو نکاح بھی کر لیتی ہے۔ مگر اب مرزائی مذہب کے مطابق مردہ کو دفن کرنا چاہیے؟ مال میں وراثت جاری ہو؟ بیوی بعد عدت نکاح کرے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یا اس کا انتظار کرے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ وہ سوتا تو نہیں۔ اس کی روح کو جسم سے تعلق حیات تو باقی نہیں۔ اگر اس کی ضرورت ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ ورنہ وہ اگر حقیقتاً سوتا ہے اور زندہ ہے تو اس کو دفن کرنا بیوی سے نکاح کرنا وغیرہ یہ سب افعال حرام ہوں گے یا جائز؟
- (٣٨) جس فلسفہ قدیم و جدید کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سرور عالم
ﷺ سے عداوت کی تھی یا عداوت کی وجہ سے فلسفہ کی پناہ لی تھی وہ جیسے مرزا قادیانی کے نزدیک جسم عنصری کا زندہ آسمان پر جانا محال کہتا ہے وہ اس کو بھی محال کہتا ہے کہ ایک شخص کے تمام اجزا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اعضائے رئیسہ کا نام نہ رہے اور پھر بھی روح کو جسم کے ساتھ وہی تعلق رہے جو حالت حیات اور حالت نوم میں رہتا ہے۔ اگر وہاں فلسفہ واجب الاتباع ہے تو یہاں کیوں نہیں۔ اگر یہاں خداوند عالم میں قدرت ہے تو وہاں بھی ہے۔ وہاں کیوں نہیں؟ صرف اس وجہ سے کہ دو نبیوں کی عزت ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام سے مساوات کا دعویٰ کرتے ہیں تو کوئی کہہ دے گا کہ تمہیں معراج جسمانی تو ہوئی ہی نہیں۔ اس وجہ سے معراج جسمانی کو محال کہا گیا۔
١٦
(٣٩) اگر مرزائی اس تعارض کو نہ اٹھاسکے تو مرزا قادیانی کو چھوڑو۔ ورنہ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کا (جنہوں نے ایک شہاب سے تمام مرزائیوں کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا) یہ فرمانا تسلیم کرو کہ موت دو ہیں ایک موت انبیاء علیہم السلام کی اور ایک موت عالم۔ دیکھو عالم ربانی ایسے ہوتے ہیں۔ معارف قرآنیہ ان کو دیئے جاتے ہیں۔ انک میت وانہم میتون (الزمر:٣٠) فرمانے کی وجہ معلوم ہوئی۔ تفسیر کا لکھنا اور سرقہ مضامین یا نقل مضامین کرنا اور ہے۔ اور فہم قرآن شریف اور ہے۔
اب بھی کہو گے کہ حیات انبیاء علیہم السلام مشرکانہ خیال ہے؟ گو میرے موضوع میں داخل نہیں مگر جب ذکر آگیا تو اس قدر اور دریافت کرلوں۔
(٤٠) جب ہمارے مولانا موصوف چشم بدور شہاب المرتدین نے یہ فرمایا کہ ازواج مطہرات سے بعد رسول اللہ ﷺ کے نکاح جائز نہ ہونا یہ بھی اس کا مؤید ہے کہ آپ ﷺ زندہ ہیں۔ تو پیغام صلح اس پر بھی معترض ہے بلکہ یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ قرآن شریف میں آیا ہے وازواجہ امہاتہم۔ چونکہ تفسیر کے آپ اور آپ کے مرزا قادیانی معارف قرآنیہ کے مدعی ہیں اس وجہ سے عرض ہے کہ اول تو ایک امر کی کیا دو وجہیں نہیں ہوتیں؟ زید کی خالہ ہندہ سے اس کے باپ نے نکاح کر لیا۔ کوئی کہے کہ زید ہندہ پر حرام ہے۔ کیونکہ اس کی خالہ ہے۔ تو آپ فرمائیں کہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ما نکح اباؤکم میں داخل ہے۔ دوسرے جب ازواج مطہرات امہات المومنین ہوئیں تو آپ ﷺ باپ ہوئے۔ اور ایک قرأت بھی ہے۔ تو جب آپ ﷺ تمام مومنین اور مومنات کے باپ ہوئے تو سب مومنات آپ کی لڑکیاں ہوئیں۔ تو جیسے ماں سے نکاح جائز نہیں بیٹی کا باپ سے بھی جائز نہیں۔ پھر جب آپ ﷺ کا نکاح مومنات سے صحیح ہوا تو صرف امہات ہونے کی وجہ سے ان امہات کا نکاح صحیح نہ ہونا محل شک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ باپ اور ماں دونوں ایک ہی قسم کے ہیں جب باپ بیٹی کا نکاح صحیح ہے تو شاید ماں اور بیٹے کا نکاح بھی صحیح ہو۔ اس بنا پر لفظ امہات سے حرمت نکاح پر استدلال کی صاف تقریر فرمائے۔ جس سے شبہہ مذکور دور ہو جائے۔ پھر قرآن شریف میں ولاتنکحوا ازواجہ من بعدہ ابداً میں بعد کی قید کیوں لگائی گئی؟ اور قرآن شریف میں امہات نسبیہ اور امہات رضاعیہ دو ہی قسموں کو حرام فرمایا ہے۔ ازواج مطہرات ان دونوں میں کس قسم کے اندر داخل ہیں۔ یا تیسری قسم ہیں؟ اور مرزا قادیانی کی ازواج بھی مرزائیوں کی امہات ہیں یا نہیں؟ کوئی الہام مرزا قادیانی کو ایسا ہوا ہے یا نہیں؟ اگر امہات المرزائیہ ہیں تو ان سے
بھی مرزائیوں کا نکاح حرام ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو یہ نسخ قرآن شریف ہوا یا نہیں؟ غرض خوب غور سے اس کا جواب بیان فرمایا جائے۔ اور جب مرزا قادیانی نبی بروزی ظلی ہیں تو ان کی ازواج بھی بروزی ظلی امہات ہیں یا نہیں؟ مرزائی مرد میدان بنیں تو خدا چاہے ان کا علم و فضل قرآن دانی وغیرہ سب ہی کی قلعی کھل جائے گی۔ مگر امید ہی نہیں۔
(٤١) مرزا قادیانی کو جب مسیح موعود ہونے کی ہوس نے پریشان کیا اور مرید ایسے لائق مل گئے کہ وہ نبی اور خدا قبول کرنے کے لیے بھی تیار تھے تو مرزا قادیانی نے عہدۂ مسیح کو خالی کرنے کی فکر یہ فرمائی کہ اوّل تو جسم انسانی کا زندہ آسمان پر جانا عقلاً و نقلاً محال کہا۔ جب اعتراض پڑا کہ معراج کو کیا کہو گے تو فرمایا کہ وہ بھی کشفی تھی۔ پھر بھی مقصد حاصل نہ ہوا احتمال باقی تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کہیں زمین ہی پر زندہ ہوں تو ان کی وفات کے ثابت کرنے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ گو ثابت بجز خسران کے کچھ بھی نہ ہوا مگر وہ یہ سمجھ گئے کہ میں کامیاب ہوگیا۔ تو پھر بھی دلی ہنوز دور معلوم ہوا یہ بھی احتمال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہوں۔ مگر اللہ تعالیٰ آخر زمانہ میں پھر انہیں زندہ کر کے بھیج دے تو یہ خیال ستایا کہ اس کو ثابت کرو کہ جو مر گیا وہ پھر لوٹ کر نہیں آسکتا۔ تو پھر بھی محرومی نے ساتھ نہ چھوڑا۔ قرآن شریف میں فرمایا ہے فاماتہ اللّٰہ مائۃ عام ثم بعثہ (بقرہ:٢٥٩) یعنی سو سال مردہ کر کے پھر زندہ کر دیا۔ ربّ ارنی کیف تحیی الموتیٰ قال اولم تؤمن (بقرہ:٢٦٠) یہاں بھی مرنے کے بعد زندہ کرنے کا ذکر ہے۔ اس کے دفع کرنے کے لیے مرزا قادیانی نے یہ صورت تجویز فرمائی کہ خدا قادر ہے کہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور پھر بھی حیوان زندہ رہے تو یہاں درحقیقت یہ جاندار مردہ نہیں تھے بلکہ نیند میں تھے تو وہ جانور جاگے تھے زندہ نہیں ہوگئے تھے دکھن وہی کرم کے لچھن۔ مرزا قادیانی کی قسمت کہ اس کوہ کندن کے بعد کاہ برآوردن بھی نصیب نہ ہوا۔ اچھا صاحب! مرزا قادیانی کا دل خوش کرنے کو تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے توفی ثابت اور توفی کے معنی قبض روح اور موت کے اور اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا الآیۃ نے یہ ثابت کر دیا کہ توفی مرنے اور سونے کو شامل۔ اور مرزا قادیانی کی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ موت بھی مرنے اور نیند کو شامل ہے۔ اور دونوں میں قبض روح ہوتا ہے۔ تو اب عیسیٰ علیہ السلام کے لیے توفی ثابت کرو۔ موت کہو قبض روح کہو۔ بہرصورت نیند اور نوم اور سونے کو شامل ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حقیقتاً مرنا کیسے ثابت ہوا؟ تاکہ قادیانی کو کرسی مسیحیت خالی مل جائے حاصل یہ ہوا کہ
ہم تمہاری روح قبض کریں گے یا تم کو موت دیں گے۔ مگر کس طرح مار کر یا سلا کر؟ اس سے توفی اور موت دونوں ساکت ہیں اور مرنے اور جینے کو شامل۔ تو اب اگر عیسیٰ علیہ السلام سوتے اور درحقیقت زندہ ہوں تو مرزا قادیانی کو کیا نفع؟ مقصود تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس موت سے مر گئے جس کے بعد لوٹنا نہیں اور یہ ثابت نہیں تو مرزا قادیانی کی منزل مقصود تو کچھ بھی طے نہ ہوئی۔ تیلی کے بیل کی طرح جہاں سے چلے تھے شام کو پھر وہیں نظر آتے ہیں۔ تمام مقدمات کو صحیح تسلیم بھی کرلو پھر بھی عیسیٰ علیہ السلام زندہ کے زندہ۔ وہ جو دعویٰ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا مرنا بدیہیات میں سے ہے اور زندہ رہنا مشرکانہ خیال ہے۔ اسلام کی اس سے تباہی اور بربادی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسلام کی تو نہ تباہی ہوئی نہ بربادی۔ ہاں مرزا قادیانی کی خانہ ویرانی ضرور ہوگئی۔ مرزا اس عقدہ کو حل فرمائیں ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ یہ شعر پڑھیں ؎
اور مرزا قادیانی کو اس آیت کا مصداق کہیں الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا (کہف:١٠٤) جس کو مرزا قادیانی اور مرزائی چشمۂ آب حیات مقصود سمجھتے تھے وہ محض سراب ہی سراب تھا مرزا قادیانی مسیح موعود بنیں تو یہ تو محال اور ممتنع ہے اور واقعی ہمارے خدائے قدیر و توانا کی خدائی میں تو یہ ہو نہیں سکتا ہاں مرزا قادیانی کا فرضی خدا وہ مرزا قادیانی سے ہزار دفعہ وعدہ کرے مریم ابن مریم، مسیح بن مریم، آدم، نوح، ابراہیم، محمد احمد وغیرہ وغیرہ کہے مگر اس میں کچھ قدرت ہی نہیں۔ جب ایک محمدی بیگم ہی کو نہ دلوا سکا تو مسیح موعود بنانا یہ تو کارے دارد۔ آزمودہ را آزمودن جہل ست۔ مرزا قادیانی اور مرزائی اس غلطی میں پڑ گئے کہ مرزا قادیانی کی وحی کو خدا کی وحی سمجھا۔ حالانکہ پہلی غلطی یہیں ہوئی۔ اور اگر ہمارا خیال مرزا کے متعلق غلط ہے تو مرزائی خلفاء جواب دیں۔ برلن اور انگلستان، امریکہ میں کون ہے جو مرزائی حقیقت جانتا ہو؟ یہاں تبلیغ فرماؤ یا کابل جاؤ تو حقیقت معلوم ہوگی کہ مرزائیت کیا ہے؟ بیچارے انگریزی تعلیم یافتہ یا عوام مسلمان ان کو ان مکائد کی کیا خبر ہے۔ کسی دیوبندی طالب علم سے بات چیت کرو تو مرزا قادیانی اور مرزائیت کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔
مرزائیو! تم میں کوئی ہے جو مرزا قادیانی اور مرزائیت سے اس سیاہ دھبہ کو دور کرے اور اپنے امراء اور خلفاء میں سے کسی کو مستعد کرے۔ یاد رکھو کہ خدا چاہے محال ہے۔ محال ہے۔ محال ہے۔ مرزا قادیانی قبر سے دوبارہ آجائیں ممکن ہے۔ مگر مرزائیت
١٩
زندہ رہے یہ محال ہے۔ اس کا مجھے انکار نہیں کہ جو مرتد ہو چکے ہیں وہ توبہ نہ کریں اور نہ بظاہر بقول مرزا قادیانی توبہ کی امید ہے۔ مگر اس تحریر کو دیکھ کر اپنے بطلان کو ایسا نہ جان جائیں کہ جیسے اپنی اولاد کو تو خدا چاہے یہ نہ ہوگا یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم (بقرہ: ١٤٦) ایمان نصیب ہونا اور چیز ہے اور معرفت حق اور چیز ہے۔
(٤٢) مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”پس واضح ہو کہ یہ بالکل افتراء ہے کہ تیرہ سو برس سے بالاجماع یہی مانا گیا کہ مسیح جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔“
(ازالہ ص ٤٥٩ خزائن ج ٣ ص ٣٤٥)
مزید فرماتے ہیں۔ ”ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ اجماع کو پیشینگوئی سے کچھ علاقہ نہیں۔“ (ازالہ ص ٤٢٧ خزائن ج ٣ ص ٣٢٦) غرض یہ مضمون بہت شد و مد سے بیان فرمایا ہے جیسی ان کی عادت ہے فرماتے ہیں ”ماسوا اس کے ہم کئی دفعہ بیان کر آئے ہیں کہ اس پیشینگوئی پر اجماع امت بھی نہیں۔“ (ازالہ ص ١٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٢) مزید فرماتے ہیں ”اب اے لوگو! خدا تعالیٰ سے ڈرو اور صحابہ اور تابعین پر تہمت مت لگاؤ۔ کہ ان سب کو اس مسئلہ پر اجماع تھا کہ مسیح بن مریم آسمان سے اتریں گے اور دجال یک چشم خدائی کے کرشمے دکھانے والے کو قتل کریں گے۔“
(ازالہ ص ٢٣٠ خزائن ج ٣ ص ٢٢١)
یہاں تو اس شد و مد سے انکار ہے پھر اسی ازالہ میں سوائے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کل صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا آسمان پر زندہ جانا عقلاً و نقلاً محال بیان فرما کر معراج جسمانی سرور عالم ﷺ کو کشفی معراج فرمایا جس میں خود بھی صاحب تجربہ ہونے کے مدعی ہیں۔ پھر اس معراج جسمانی کو تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اجماعی مسئلہ بیان فرمایا۔ یہ تناقض کیسے دفعہ ہوگا؟
(٤٣) عیسیٰ علیہ السلام کی بابت اجماع میں ”تو یہ سوال ہے کہ کس نے ان سب کے اظہارات لکھ کر قلمبند کیے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٣) ”معراج جسمانی سرور عالم ﷺ کی نسبت جو اجماع کا دعویٰ ہے۔“ (ازالہ ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٧) مرزا قادیانی کے پاس کس ہزار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اظہار قلمبند ہیں اگر کوئی فہرست ہو تو شائع فرمائی جائے۔ ورنہ اظہارات قلمبند ہونے کی شرط وہاں ہو اور یہاں نہ ہو وجہ کیا ہے؟
(٤٥) جسم عنصری کا آسمان پر جانا عقلاً و نقلاً محال ہو اور تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اس پر اتفاق ہو جائے۔ یہ بھی عقلاً و نقلاً محال ہے یا نہیں؟
٢٠
- (٤٦) جن آیات قرآنیہ میں جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال بیان کیا گیا ہے
کیا وہ عربی زبان میں نہ تھیں ان کو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نہ سمجھا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟
- (٤٧) جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارہ میں صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم
اجمعین کو کچھ بھی ہدایت نہ فرمائی کہ سب کے سب ہی معاذ اللہ قرآن کی ان آیات کو نہ سمجھے جس کو ایک پنجابی نے سمجھ لیا اور مسئلہ بھی ایسا بدیہی کہ مرزا قادیانی بدیہیات اولیہ میں داخل فرماتے ہیں؟
- (٤٨) جب معراج جسمانی عقلاً و نقلاً محال ہے تو ظاہر ہے کہ تعلیم اسلام
معراج جسمانی کی نہیں ہو سکتی۔ پھر سرور عالم ﷺ نے معراج جسمانی کا دعویٰ کیوں فرمایا؟
- (٤٩) اگر معراج جسمانی کا دعویٰ نہ تھا تو پھر کفار نے کیا خواب اور کشف کا
انکار کیا تھا۔ اور آپ ﷺ سے بیت المقدس کے نشانات کیوں دریافت کیے تھے۔ اور اس میں کیوں اختلاف ہوا کہ روئیت باری تعالیٰ ہوئی یا نہیں۔ ہوئی تو بصری ہوئی یا قلبی؟
- (٥٠) جب دعویٰ معراج جسمانی کا تھا اور مخالف عقل اور قرآن شریف تھا تو
کیا کوئی سچا نبی بالخصوص سرور عالم ﷺ ایسا کر سکتے ہیں؟ پھر جس شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ معراج جسمانی عقلاً و نقلاً محال ہے وہ رسول اللہ ﷺ کو سچا بھی جان سکتا ہے؟
- (٥١) اگر سچا نبی نہیں جان سکتا تو پھر وہ مسلمان رہ سکتا ہے یا نہیں؟
- (٥٢) اگر آپ کو ﷺ سچا نبی نہیں جان سکتا تو مرزا قادیانی اور تمام مرزائی
منکر نبوت ہو کر مسلمان رہ سکتے ہیں یا پکے کافر اور مرتد ہوئے؟
- (٥٣) اس صورت میں اگر زبان سے نبوت محمدیہ کا اقرار کرے اور عقیدہ یہ
رکھے کہ آپ ﷺ نے معاذ اللہ خلاف حکم خدا و خلاف آیات قرآنی دعویٰ معراج جسمانی کیا۔ تو یہ اقرار قابل اعتبار ہو گا یا وہ عقیدہ کفریہ؟
- (٥٤) کیا ایک وقت میں آدمی دو متضاد اعتقاد رکھ سکتا ہے تو پھر شریعت کس کا
اعتبار کرے گی؟
- (٥٥) فقط اپنے خیال کو صحیح کرنے کے لیے یوں کہے کہ سلف میں کوئی شخص
معراج جسمانی کا قائل ہی نہ تھا۔ نہ آپ ﷺ نے دعوئے معراج جسمانی فرمایا۔ تو اب یہ اس کا دعویٰ یا تاویل مسموع ہو گی؟
- (٥٦) معراج جسمانی عقلاً و نقلاً محال ہوئی تو اس کا اعتقاد شرعاً کیا حکم رکھتا
٢١
ہے۔ اس کے معتقد کو کافر فاسق ضال مضل کیا کہیں گے؟
- (٥٧) کسی شریعت آسمانی میں کوئی بات خلاف عقل ہو سکتی ہے یا نہیں؟
- (٥٨) اگر نہیں ہو سکتی تو جو مذہب سماوی ہونے کا مدعی ہو اور پھر اس میں خلاف
عقل بھی امور موجود ہوں تو یہ اس کے بطلان اور من اللہ نہ ہونے کی دلیل ہو گی یا نہیں؟
- (٥٩) مرزا قادیانی نے جو معراج جسمانی کو عقلاً محال کہا ہے اس سے کیا مراد
ہے؟ اس کو بھی مفصل بیان فرما دیا جائے۔
- (٦٠) مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اجماع کی بنا کشف تام اور یقین پر ہوتی ہے
و جب تمام صحابہ کا معراج جسمانی پر اجماع ہوا تو یہ کشف تام ۔ صحیح اور یقینی تھا یا غلط؟
- (٦١) اگر صحیح تھا تو پھر اس کا مخالف نہ فاسق ہو نہ ملحد نہ ماؤل۔ اس کے کیا
معنی؟ جب یقینی امور کا خلاف کرنے والا بھی فاسق نہ ہو ملحد نہ ہو تو پھر فاسق ملحد ضال وغیرہ کون ہو گا؟ اگر صحیح نہ تھا تو یہ دعویٰ غلط ہوا کہ اجماع کی بنا کشف تام اور یقین پر ہوتی ہے۔ اور اسلام کے جس قدر بھی اجماع ہیں سب مشکوک ہو گئے۔ تو پھر اجماعی امور چاہے کوئی کیوں نہ ہو اس کے انکار سے کچھ بھی حرج نہ ہونا چاہیے؟
- (٦٢) جب معراج جسمانی پر تمام صحابہ اور قرن اول کا اجماع ہو گیا اور اجماع
بھی ایسا پختہ جس کو مرزا قادیانی تسلیم فرمالیں۔ پھر آخر عمر تک کوئی وحی بھی اس کی غلطی پر نہیں آئی۔ اور یہ کس مرزائی کی مجال ہے کہ اب اس میں چون و چرا کر سکے۔ مرزا قادیانی نے ایک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اس کا مخالف بیان فرمایا ہے۔ سو وہ غلط ہے۔ ملاحظہ ہو دفع الحجاج۔ تو پھر اس اجماع قطعی صحابہ کا کوئی تابعی یا تبع تابعی اور اس کے بعد الیٰ یومنا ھذا کوئی مسلمان تو خلاف کر ہی نہیں سکتا۔ اور نہ خلاف کیا۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع قطعی الثبوت قطعی الدلالۃ کے انکار کی جرأت اگر ہو سکتی تھی تو فقط مرزائیوں کو یا ان کے ہم مشربوں کو۔ یہ مرزا قادیانی کا احسان ہے کہ مرزائیوں کا منہ تو انہوں نے بند کر دیا۔ تو اب اگر کوئی مخالف اسلام یہ سوال کرے کہ جس اسلام کا یہ حال ہے کہ اس میں ایسے ایسے محال عقلی ونقلی موجود ہیں۔ پھر اس پر تیرہ سو برس تک کسی طبقہ کے مسلمان کو اطلاع نہ ہوئی۔ نیچے سے اوپر تک ایک ہی رنگ ہے بلکہ معاذ اللہ العظیم خاک بدہن قائلش، خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس محال عقلی وشرعی کی خبر نہ ہوئی اور اگر خود (ﷺ) کو خبر تھی تو دس ہزار سے زیادہ صحابہ معاذ اللہ آپؐ ہی کے سامنے اس محال عقلی و قرآنی کے معتقد ہوئے اور آپؐ ہی کے بیان سے ہوئے۔ مگر اس
٢٢
کی بھی اطلاع نہ ہوئی یا ہوئی مگر کچھ پرواہ نہ کی تو ایسا مذہب خدائی مذہب نہیں ہوسکتا نہ ایسا نبی نبی صادق ہوسکتا ہے۔ اب اس کی کیا شکایت ہے کہ تمام اولیاء اقطاب‘ غوث‘ محدثین‘ مفسرین‘ مجتہدین امت اور وہ مجدد جو اس غلطی کو نکالنے کے لیے تشریف لاتے ہیں اور یہی ان کا فرض منصبی تھا۔ پھر غلطی بھی آج کی نہیں قرآن کے ساتھ ہی یہ غلطی ہوئی۔ ایسی تجدید کو بھی سلام ہے کہ کثرت سے مجدد آئے مگر کسی کو بھی یہ آنکھ کا شہتیر نظر نہ پڑا۔ پھر اور اصلاح مفاسد انہوں نے کیا کی ہوگی؟ غرض اس صورت میں یہ بھی احتمال ہے کہ اور بھی اس قسم کی یا اس سے زیادہ غلطیاں اسلام اور مسلمانوں میں موجود ہوں اور پھر کہیں مرزا قادیانی کو رحم آئے اور بروز فرمائیں تو پھر ایک دو غلطی اگر ان کا جی چاہے تو بتا دیں ورنہ پھر مسلمان گمراہ کے گمراہ ہی رہیں گے۔ ایسا مذہب نہ خدائی مذہب ہو سکتا ہے نہ کوئی عاقل تسلیم کر سکتا ہے۔ اب تو قرآن شریف معاذ اللہ وید سے بھی زیادہ چیستاں ہو گیا۔ سب مرزائی بغور جواب عنایت فرمائیں۔ وید کا مطلب رشیوں کو تو معلوم ہو گیا۔ یہاں تو بقول مرزا قادیانی تیرہ سو برس تک بھی کسی کو پتہ نہ لگا۔ نہ آئندہ پتہ لگنے کی امید۔
- (٦٣) اس اجماع نے تو غضب ہی ڈھا دیئے۔ اگر اس سے صرف معراج
جسمانی سرور عالم ﷺ ہی ثابت ہوتی تو ممکن تھا کہ مرزائی بادل ناخواستہ یہ کہہ دیتے کہ مرزا قادیانی سے غلطی ہوئی کہ معراج جسمانی کو عقلاً و نقلاً محال کہہ دیا۔ گو مرزا قادیانی کی طرف غلطی کی نسبت تو مرزائیوں کے نزدیک اس سے بھی زیادہ محال ہے جس طرح معراج جسمانی اور جسم عنصری کا زندہ آسمان پر جانا۔ مگر ہاں شاید مسٹر محمد علی لاہوری نے جیسے دعویٰ نبوت میں مرزا قادیانی کی پہلی عبارات پیش کر کے تاویل فرمائی ہے یہ فرما دیتے کہ مرزا قادیانی کا معراج جسمانی پر اجماع صحابہؓ بیان فرمانا جیسے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا درپردہ عروج اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار ہے۔ ایسے ہی درپردہ مرزا قادیانی کا معراج جسمانی کے محال عقلی و نقلی ہونے سے انکار ہے۔ گو دوسرے مرزائی بالخصوص قدنی اس کو تسلیم نہ کرتے۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ مقدمہ کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے ایک کا حکم دوسرے میں درپردہ چلا جاتا ہے۔ جس کی کسی مرزائی اور خود مرزا قادیانی کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ چونکہ معراج سروریؐ میں عروج اور نزول بالکل مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کے عروج اور نزول کا ہمشکل اور ہمرنگ ہے۔ تو تمام صحابہ
٢٣
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اس پر اتفاق کہ آپ (روحی فداہﷺ) شب معراج کو بجسم اطہر آسمانوں پر تشریف لے گئے اور پھر تشریف لائے۔ اس پر بھی در پردہ نہیں علی الاعلان اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عروج جسمانی ہوا اور اسی طرح نزول جسمانی بھی ہوگا۔ مرزا قادیانی نے صرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے درپردہ کا لفظ بولا ہے۔ کیونکہ ان کا اقرار تو درپردہ ہی ہوگا۔ مگر دس ہزار سے زیادہ صحابہؓ کا اقرار درپردہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ان کے اقرار کا شور تو ایسا مچا کہ اہل آسمان نے بھی سن لیا اور آج تیرہ سو برس کے مسلمانوں میں بھی وہی صدا گونج رہی ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی صرف اسی وجہ سے نہیں روتے کہ رسول اللہﷺ کی معراج جسمانی ثابت ہوگی۔ قیامت تو عیسیٰ علیہ السلام کے عروج و نزول نے ڈال دی۔ اے میرے جان و دل ایمان اور آن سے پیارے رسول فداک ابی و امیﷺ آپ نے کیا سچ فرمایا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سانس سے دجال ہلاک ہو جائے گا۔ شب معراج میں آسمان سے نفس عیسوی آپؐ کے ساتھ دنیا میں آیا اور آج تیرہ سو برس کے بعد جب ایک دجال پیدا ہوا تو اس نفس عیسوی نے دجال کو نمک کی طرح گلا دیا۔ ہلدی لگی نہ پھٹکری لڑنا پڑا نہ بھڑنا۔ مرزائیت کا خاتمہ ہوگیا۔ مرزائیو! خدا تم پر بھی رحم فرما کر پھر ہدایت نصیب کرے۔ خدا کے لیے اگر اسے مانتے ہو تو غور کرو۔ مرزا قادیانی نے ہر جگہ دے استعارہ، وے استعارہ شور مچا رکھا ہے۔ دیکھو وہ حدیث کہ دجال عیسیٰ علیہ السلام کے سانس سے قتل ہوگا۔ نمک کی طرح پگھلے گا کیسی سچی ہوئی؟ عیسیٰ علیہ السلام نے بہت سے مردوں کو جلایا ہے۔ مگر بہت سے دجالوں کو ہلاک بھی کیا ہے۔ اور کریں گے یخربون بیوتہم بایدیہم فاعتبروا یا اولی الابصار (حشر:٢) کا کیسا صحیح نظارہ ہے۔ دفع الحجاج کو پڑھو اور روؤ اگر کوئی پوچھے کہ کیوں روتے ہو، رسول اللہﷺ کی معراج جسمانی ہی تو ثابت ہوئی ہے اس میں تمہارا کیا بگڑتا ہے۔ مرزا قادیانی تو غلام ہی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں گو ہیں عبد آبق۔ تو کہنا کہ کوئی رو رہا تھا کسی نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو کہا والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ خدا کے فضل سے خود بھی بوڑھے تھے۔ سائل نے سوال کیا کہ عمر کیا تھی؟ فرمایا تقریباً سو سال یا زائد۔ سائل نے کہا تو یہ مقام غم نہیں شکر کرو۔ فرمایا والدہ کا تو غم نہیں، فکر تو یہ ہے کہ ملک الموت نے گھر دیکھ لیا۔ اب وہ جوان بچوں کو کب چھوڑے گا؟ خانہ ویرانی پر رو رہا ہوں۔ تو رونا تو یہی ہے کہ مرزائیت کی خانہ ویرانی ہوئی۔ ساری عمر جو ریت اور بالو اور شیخ چلی کا گھر بنایا تھا وہ ایک ہی سانس میں جل گیا۔ نمک کی طرح پگھل گیا۔ حضرت ٢٤
عیسیٰ علیہ السلام کا عروج اور نزول جسمانی باجماع تمام صحابہؓ ثابت ہوگیا۔ وہ بھی اپنے اقرار سے مرزا قادیانی نے تو ایسا ڈبویا کہ کہیں تھا ہی نہیں ۔
اب فرمائیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا عروج اور نزول تو اجماعی مسئلہ ہوگیا۔ اب دیکھو کس قدر سوال پیدا ہوگئے۔
- (٦٤) مرزا قادیانی فرماتے تھے کہ ”یہ (نزول مسیح کی) پیشینگوئی اجماع امت ہے۔
(ازالہ ص ١٤٢ خزائن ج ٣ ص ١٧٤)
تیرہ سو برس سے مسلمان اس کے معتقد چلے آتے ہیں۔ فرمائیے مرزا قادیانی کا کون سا کلام جھوٹ کہو گے اور کسے سچ کہو گے؟ جاؤ مسٹر محمد علی صاحب کی خدمت میں التجا پیش کرو کہ اب مقابلہ مرزا محمود قادیانی سے نہیں۔ خلافت کی وجہ سے جنگ زرگری نہیں ہے۔ اب تو یا جواب دینا ہوگا یا مرزا قادیانی کو کاذب کہنا ہوگا۔ اب مرزا قادیانی کی عبارات پیش کرنے سے کام نہ چل سکے گا۔
- (٦٥) اب تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ سلف کا پیشینگوئی پر اجمالی ایمان تھا۔ پیشینگوئی
تو حاملہ کی طرح سے ہوتی ہے۔ یہاں تو اجماع ہے جس کی بناء کشف تام اور یقین پر ہوتی ہے۔
- (٦٦) مرزا قادیانی جو فرماتے ہیں کہ پیشین گوئی کی شان یضل بہ کثیرا
ویہدی بہ کثیرا ہوتی ہے پیشینگوئی میں ابتلاء منظور ہوتا ہے۔ فرمائیے اب اس پیشینگوئی سے کون گمراہ ہوا اور کس نے ہدایت پائی؟ ایک طرف مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت ہے اور دوسری طرف تمام صحابہؓ اور تابعینؒ اور تبع تابعینؒ اور کل امت ہی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ بھی۔ انہیں کے ساتھ ہیں دیکھنا ہے مرزائی انصاف کیا فرماتے ہیں؟ جس مردانگی سے اسلام کو ترک کیا تھا آج مرزائیت کو چھوڑ کر پھر اسلام میں داخل ہوتے ہیں یا نہیں؟
- (٦٧) مرزا قادیانی نے جو متعدد جگہ فرمایا ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے
حقیقی عیسیٰ علیہ السلام اور نزول من السماء سے حقیقی معنی مراد لینا کفر ہے الحاد ہے۔ قرآن کی آیات بینات کے خلاف ہے۔ قرائن قویہ کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ مراد عیسیٰ سے مثیل اور ہم مقام ہے۔ جو خود مرزا قادیانی ہیں۔ اب مرزائی فرمائیں کہ تمام جماعت صحابہؓ اور تابعینؒ اور تبع تابعینؒ الی یومنا ہذا تمام امت کو کیا کہو گے۔ معاذ اللہ تعالیٰ کافر ملحد بے دین کیا خطاب دو گے؟
٢٥
(٦٨) مرزا قادیانی کے قاعدہ کے مطابق جب تمام امت صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے لے کر کل (معاذ اللہ) کافر ہو گئے تو اب یہ بتایا جائے کہ آپ کو قرآن شریف اور احادیث کل دین کس کے ذریعہ سے پہنچا۔ اگر ان ہی کے۔ تو کیا یہ قابل اعتبار ہیں اور اگر کوئی اور ذریعہ ہے تو وہ بیان فرمایا جائے؟ اور اگر یہ کہو کہ یہ تو تم کہتے ہو تمہیں ہی کافر بنانے اور کہنے کی عادت ہے۔ ہم تو کفر کر کے بھی اپنے کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ ہم تمام صحابہؓ کو اور تمام سلف کو مسلمان جانتے ہیں اور ان کو اس غلطی سے معذور خیال کرتے ہیں۔
(٦٩) تو پھر سوال یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو حقیقی معنی میں لینا اور عیسیٰ علیہ السلام سے حقیقی عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد لینا جب کفر اور الحاد ہو اور قرآن اور حدیث اور عقل و نقل کے خلاف ہوا تو پھر تمام جماعت صحابہؓ جب مرزائی کفر و الحاد کے معتقد ہوئے تو کافر کیوں نہ ہوں گے؟ (معاذ اللہ)
(٧٠) اگر کہو کہ چونکہ غلطی ہوئی اس وجہ سے معاف ہے تو پھر سوال تو یہی ہے کہ کیا کفر اور شرک بھی غلطی سے معاف ہو جاتا ہے۔ جس عقیدہ کو مرزا قادیانی شرک عظیم فرمائیں قرآن مجید کی تیس آیات کی نصوص بینہ اور بداہت کے خلاف کہیں۔ عقل اور نقل کے خلاف فرمائیں تو پھر دنیا بھر کے کفار اور مشرکین نے کیا قصور کیا ہے؟ جیسے مرزا قادیانی کے نزدیک تمام امت شرک عظیم میں مبتلا رہی‘ اس کا قصور معاف ہے دوسرے کفار اور مشرکین کا قصور کیوں معاف نہ ہوگا؟ اگر کہو کہ ہاں سب کا کفر اور شرک معاف ہے۔ تو پھر بعثت انبیاء بیکار ہے۔ جہنم میں کیا صرف مرزائی ہی جائیں گے جو جان بوجھ کر مرتد ہوئے ہیں اور اگر یہ بھی معذور ہیں تو پھر جہنم تو بالکل خالی ہی رہے گی اور اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء (نساء: ٤٨) اور لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (ص ٨٥) اس کے کیا معنی ہوں گے؟ اور پھر تماشا یہ ہے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ پہلے لوگ تو معذور تھے ان کی نیات بخیر تھیں مگر میرے مطلع کرنے کے بعد جو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا اعتقاد رکھے گا اس کا شرک اب نہیں معاف ہوگا۔ یہ گورکھ دھندا مرزائی امت کچھ سمجھے تو سمجھے مسلمان تو اس کے فہم سے قاصر ہیں۔ جو عقیدہ اجماعی جس حیثیت اور تفصیل سے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تھا اسی طرح آج مسلمان اس کے معتقد ہوں مگر مرزا قادیانی سے پہلے تو مسلمان۔ اور آج کافر۔ مرزا قادیانی سے جناب رسول اللہ
٢٧
ﷺ کا اسلام معاذ اللہ کیا کم تھا۔ فہم قرآن و دین مرزا قادیانی کو زیادہ ہے۔ مرزائیو غور کرو دیکھو کہاں جا رہے ہو؟ اگر مرزا قادیانی کے اس کفر صریح کو تسلیم بھی کر لوں کہ مرزا قادیانی کو دین کے بارہ میں بعض وہ علوم ملے جو سرور انبیاء علیہم السلام کو معاذ اللہ تعالیٰ نہیں ملے۔ مگر کفر و شرک ایمان و اسلام کا فرق تو نہیں ہو سکتا۔ جو چیز شرک عظیم ہو قرآن شریف کی تیس آیات میں صراحتاً مذکور ہو اور مسئلہ اس وضاحت سے بیان کیا ہو کہ اس سے زیادہ وضاحت ناممکن ہو اور پھر بھی رسول اللہ ﷺ نہ سمجھیں اور مرزا قادیانی سمجھیں۔ میں تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ لفظ کہہ کر آدمی کو اسلام اور ایمان سے کوئی بھی تعلق باقی رہ سکے؟ مرزائیو! اپنے نفسوں پر رحم کرو۔ مرزائیو! تم غصہ ہوتے ہو۔ دیکھو تمہیں میرا شکر گزار ہونا چاہیے میں تمہیں وہ راستہ بتاتا ہوں جس سے تم بھٹک کر گمراہ ہو گئے، میں تمہیں مرزا قادیانی کی ایسی جھوٹ اور غلط باتوں پر مطلع کرتا ہوں کہ اگر تمہارے اندر طلب حق ہو تو مرزا قادیانی کا تمام عمر کبھی نام بھی نہ لو۔ دیکھو اس پیشینگوئی کے متعلق مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”اور اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آں حضرت ﷺ پر ابن مریم اور نہ دجال کی حقیقت بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل حقیقت کھلی ہو (اور چند امور بیان فرما کر آخر میں فرماتے ہیں) تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“ یہاں تو یہ فرماتے ہیں کہ ابن مریم کی حقیقت سرور عالم ﷺ پر منکشف نہ ہوئی۔ (ازالہ ص ٦٨٨ تا ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٢-٤٧٣) اور ازالہ ہی میں فرماتے ہیں ”مگر قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے یہ بخوبی ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ ﷺ نے یہ یقینی اور قطعی طور پر سمجھ لیا تھا کہ وہ ابن مریم جو رسول اللہ نبی ناصری صاحب انجیل ہے وہ ہرگز دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا۔ بلکہ اس کا کوئی سمی (یعنی ہم نام) آئے گا۔ جو بوجہ مماثلت روحانی اس کے نام کو خدا کی طرف سے پالے گا۔“
(ازالہ ص ٦٩١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
پھر اب بتاؤ کیا بات رہ گئی؟ جو آپ (ﷺ) پر ابن مریم کے متعلق موبمو منکشف نہ ہوئی۔ مرزا قادیانی کی کل تصانیف کا بھی تو یہی حاصل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل نہ ہوں گے بلکہ ان کا کوئی مثیل ہوگا اور یہی رسول اللہ ﷺ نے سمجھا۔ تو اب اس تعارض کو دفع فرمایا جائے کہ وہاں نہ سمجھنا ہے اور یہاں یقین اور قطع ہے کہ آپ نے وہی سمجھا جو مرزا قادیانی پر تیرہ سو برس کے بعد منکشف ہوا؟ (معاذ اللہ)
پھر جب جناب رسول اللہ ﷺ نے قطعاً و یقیناً سمجھ لیا تھا تو صحابہ رضوان اللہ
٢٦
تعالیٰ علیہم اجمعین کو بھی یہی سمجھایا ہوگا۔ پھر تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اس کے برخلاف اجماع کرنا اس کے کیا معنی؟ تو ثابت ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قطعاً و یقیناً ابن مریم کے وہی معنی سمجھے جس پر صحابہؓ نے اجماع کیا۔ یعنی حقیقتاً ابن مریم علیہ السلام ہی تشریف لائیں گے۔
اور غضب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی اجماع ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ اس پیشین گوئی کو ازالہ میں متواتر فرماتے ہیں ’’بلکہ تواتر کا اعلیٰ درجہ اس کو حاصل ہے اور سب نے باتفاق اس کو قبول کرلیا ہے اور خیرالقرون میں تمام ممالک اسلامیہ میں پھیل گئی تھی اور مسلمات سے سمجھی گئی تھی اور جس قدر صحاح میں پیشین گوئیاں ہیں کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں ہوتی۔‘‘ (ازالہ ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) اس مضمون کو ملاحظہ فرمائیے اور پھر نتیجہ نکالیے۔ جب یہ پیشینگوئی اعلیٰ درجہ کی متواتر ہوئی۔ خیرالقرون میں تمام ممالک میں پھیل گئی۔ سب نے اسے قبول کرلیا۔ جس قدر اور پیشینگوئیاں حدیث میں ہیں کوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں اور تمام صحابہؓ کا اجماع اس معنی پر ہوا کہ جیسے رسول اللہ ﷺ کا عروج اور نزول جسمانی ہوا ویسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ جیسا عقیدہ آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔ تو اب تو عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور آسمان پر جانا اور پھر نزول فرمانا اجماعی ہونے کے علاوہ متواترات میں سے بھی ہوگیا اور تواتر کا اعلیٰ درجہ اسے نصیب ہوا اور سب نے اسے قبول کرلیا اور تمام صحابہؓ کا ایک ہی معنی پر اجماع کرنا کھلی دلیل ہے کہ یہ معنی ان کو رسول اللہ ﷺ سے پہنچے۔ ایک دو صحابیؓ کوئی بات فرمائیں تو کوئی کچھ کہہ بھی دے۔ مگر جس معنی کو دس ہزار صحابہؓ فرمائیں وہ کیسے خلاف منشاء رسول اللہ ﷺ ہو سکتے ہیں؟ تو اب مرزا قادیانی کے اقرار سے یہ ثابت ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان پر زندہ جانا اور پھر دوبارہ دنیا میں تشریف لانا ایسا عقیدہ ہے کہ جو اس سے انکار کرے اس کو نہ خدا نے بصیرت دی ہے اور نہ حق شناسی سے کچھ بہرہ حصہ ملا ہے اور اس کے دل میں قال اللہ وقال الرسول کی عظمت نہیں اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ (ایضاً) جیسے مرزا قادیانی نے کیا کہ جو بات ان کی سمجھ سے بالا ہے اس کو محال عقلی اور ممتنع کہہ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کو نہ اللہ تعالیٰ نے بصیرت دی نہ حق شناسی سے بہرہ حصہ ملا نہ ان کے دل میں قال اللہ وقال الرسول کی عظمت باقی ہے بلکہ مرزا قادیانی نے یہ عبارت بھی اپنے ہی لیے لکھی ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ
٢٧
فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدان میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔
مرزا قادیانی نے یہ عبارتیں نیچریوں کے متعلق لکھی ہیں کہ وہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیشینگوئیوں کو بالکل مانتے ہی نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم سے مضمون وہ نکلوایا جو ان پر اور ان کے معتقدوں پر حرف بحرف صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عنایت فرمائے مولوی حبیب صاحب مالک اخبار سیاست کو کہ انہوں نے معراج نمبر نکالا۔ ان کی خوش نیتی سے اور معراج کی برکت سے مرزائی دھرم کا اگر کوئی غور کرے تو دفع العجاج سے بالکل قلع قمع ہی ہو گیا مجھے خدا کے فضل پر بھروسہ ہے کہ جیسے اول السبعین لاجواب ہے اور کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکتا اور اگر کسی نے قلم اٹھایا تو بجز اپنے مذہب کے تباہ کرنے کے اور کچھ بھی نہ کریں گے۔ اسی طرح سے خدا چاہے دفع العجاج اور یہ دوسرا سبعین بھی لاجواب ہوگا ؎ ”یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں“
دفع العجاج نے جن سوالوں کا ذمہ دار مرزائیوں کو بنایا ہے ان کی تعداد ستر سے بہت زیادہ ہے اور اب بھی بعض سوالات ضمن میں آ گئے ہیں مگر چونکہ سبعین سے زیادہ منظور نہ تھا اس وجہ سے اس پر بس کرتا ہوں۔ اہل فہم دفع العجاج کو بغور ملاحظہ فرمائیں اور اس کے مضامین پر حاوی ہو جائیں تو سمجھ لیں گے کہ مرزائیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ مرزائی مرزائیت کی تجہیز تکفین بھی کرتے ہیں یا ویسے ہی اسے گڑھے میں دبا دیتے ہیں۔
مرزائیت کا خاتمہ تو شائع ہو چکا اور جواب کی میعاد گزر گئی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب ہندوستان میں کوئی مرزائی ہے ہی نہیں۔ سب برلن امریکہ انگلستان چلے گئے۔ یا گرمی کابل میں گزاریں گے؟ ایک بات کا بھی جواب نہیں دے سکتے۔
مسلمانوں کے پاس اگر کفریات مرزا۔ اول السبعین۔ دوسری سبعین یعنی یہی مرزائیت کا جنازہ ’دفع العجاج‘ مرزائیت کا خاتمہ ’مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چیلنج‘ صرف یہی رسائل اور اشتہارات ہوں تو بڑے سے بڑا مرزائی بھی خدا چاہے ایک ادنیٰ مسلمان سے بات نہ کر سکے گا۔ اور ان رسائل میں عام فہم باتیں ہیں جو لاجواب ہیں اور بفضلہ تعالیٰ لاجواب ہیں۔ بڑا مایہ ناز مسئلہ جو مرزائیت کا لب لباب بلکہ تخم اور درخت اور پھل پھول وہی ہے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہونا اور کسی مثیل مسیح کا آنا، عروج اور نزول جسمانی کا محال ہونا یہ بھی اس رسالہ میں بفضلہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے اقرار سے ایسا
٢٨
ثابت ہوا کہ انشاء اللہ تعالیٰ مرزائی جواب نہیں دے سکتے۔ چاہے سب کے سب متفق ہو جائیں اور ہمت ہو تو متفق ہو کر دیکھ لیں۔ اپنی طرف سے تو کچھ کہا ہی نہیں۔ مرزا قادیانی کی عبارات ہیں اور ان کا مطلب ہے۔
مرزا قادیانی کے رد میں اور رسائل بھی دارالعلوم دیوبند میں لکھے گئے ہیں جن میں حیات عیسیٰ علیہ السلام، ختم نبوت، خوب وضاحت سے ثابت کیا گیا ہے۔ بعض رسائل عربی میں بھی جیسے اکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدین یہ رسالہ شیخ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد انور شاہ صاحب صدر مدرس دارالعلوم کا ہے۔ ایک رسالہ الشہاب اور اس کا ضمیمہ ہے۔ مولانا مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی نے قتل مرتد میں لکھا ہے وہ بھی ہر مسلمان کے دیکھنے کے قابل ہے۔ مگر اس میں نقصان یہ ہے کہ مولانا نے مرتد کے قتل کرنے کا حکم بھی بتایا اور ساتھ ہی تمام مرزائیوں کو قتل بھی کر دیا۔ اگر یقین نہ ہو تو شہاب کسی مرزائی کو دکھاؤ پھر دیکھو کہ مرزائی جل کر خاک سیاہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ مونگیر خانقاہ رحمانیہ میں بھی مرزائیوں کے رد میں عجیب عجیب لاجواب اور عام فہم کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مولوی اسحق صاحب سے طلب کرنی چاہئیں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب دامت برکاتہم خلیفہ اعظم حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب قدس سرہ العزیز گنج مراد آبادی نے باوجود ضعف اور ناتوانی کے مرزائیوں کا ایسا رد فرمایا ہے کہ بس حضرت مولانا ہی کا حصہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا موصوف اور جملہ علماء کو جنہوں نے اس مرتد فرقہ کا جواب دیا اور رد کیا ہے جزائے خیر عنایت فرمائے اور ان کی مساعی جمیلہ کو مشکور فرمائے مسلمان دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ سب مرزائیوں کو صحیح توبہ کی توفیق دے۔ آخر ہمارے بھائی ہی تھے ہمیں ان کی جدائی کا رنج ہے اور اس عاجز حقیر محتاج الی رحمت اللہ تعالیٰ کو بھی دعا خیر سے فراموش نہ فرمائیں۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین وصلی اللہ علی خیر خلقہ ونور عرشہ وخاتم انبیائہ ورسلہ سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
بندہ محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور ٩ رمضان شریف ١٣٤٣ھ
٢٩
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دفع العجاج عن طريق المعراج
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِدًا وَّمُصَلِّیًا وَّ مُسَلِّمًا
دفع العجاج عن طریق المعراج
مسئلہ معراج کے بہت سے پہلو ہیں جن پر علما نے بحث و تمحیص فرما کر تیرہ سو برس سے کوئی امر ایسا نہیں چھوڑا جس پر آج نئے انداز سے گفتگو کی جائے۔ مگر یہ اس محبوب مقدسؐ کا ذکر خیر ہے جو بہر حال لذت اور اجر سے خالی نہیں۔ اس وجہ سے جس قدر اس میں وقت صرف ہو عین سعادت ہے۔
معراج شریف کے دو حصے ہیں ایک اسراء جو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک ہوا۔ جس کو سبحن الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصی الذی (بنی اسرائیل:١) میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور دوسرا حصہ زمین سے آسمانوں کی طرف عروج کا ہے جو مسجد اقصٰی سے لا ماشاء اللہ تعالیٰ ہوا۔ جس کو سورہ والنجم میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کو معراج کہا جاتا ہے۔
محقق امر یہ ہے کہ معراج شریف حالت بیداری میں جسم اطہر کے ساتھ ہوئی اور مکہ معظمہ میں ہجرت سے پہلے اور یہ معراج جسمانی ایک مرتبہ ہوئی جس میں پانچوں نمازیں فرض کی گئیں۔ خواب میں اور روحانی معراج متعدد مرتبہ ہوئی جس کا قطعی عدد کوئی معلوم نہیں۔
معراج جسمانی پر جو اعتراض پیش کیے جاتے ہیں ان کا اجمال یہ ہے کہ فلسفہ قدیم تو افلاک کے اجرام میں خرق و التیام کو ناجائز کہتا ہے۔ پھر افلاک کو باہم ملا ہوا تسلیم کرتا ہے۔ اور اس سے قبل فلسفہ قدیم و جدید دونوں متفق ہیں کہ زمین سے کچھ اوپر کرۂ زمہریر ہے۔ اور قدیم فلسفہ کے نزدیک اس کے بعد کرہ نار بھی ہے۔ اور یہ دونوں مقام ایسے ہیں کہ کوئی جسم عنصری ان سے زندہ عبور نہیں کرسکتا۔ لہٰذا معراج جسمانی محال
٢
ہے ۔ ہمیں ان فلاسفہ سے تو کوئی شکایت نہیں ۔ ہاں بڑی شکایت سو دیشی پنجابی قادیانی متنبی سے ہے کہ وہ بھی ان ہی کا ہم نوا ہو کر معراج جسمانی کے ممتنع اور محال ہونے کا قائل ہو گیا ۔ جس کا ذکر خدا چاہے ہم خصوصیت سے آئندہ کریں گے ۔
یا حسرة علی العباد ما یاتیہم من رسول الا كانوا به یستہزؤن
(یٰس: ٣٠)
تعجب ہی نہیں حسرت بھی ہے کہ انسان اپنی نہایت ہی محدود اور کمزور عقل سے خدا کی قدرت اور اس کی غیر متناہی حکمت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتا کہ تو کیا اور تیری سمجھ کیا؟
فلسفہ قدیم کی بڑی دلیل خرق والتیام کے ممتنع ہونے کی یہ پیش کی جاتی ہے کہ طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں مختلف افعال نہیں کر سکتی حالانکہ اس کے امتناع پر بجز استبعاد عقلی کے کوئی کافی دلیل پیش نہیں کی گئی تو پھر محض یہ ایک خیال قطعیات قرآنیہ کے مقابلہ میں پیش کرنا مضحکہ انگیز نہیں تو اور کیا ہے؟ اور میں اسے تسلیم بھی کرلوں تو پھر یہ عرض ہے کہ بطلیموسی ہیئت میں سبعہ سیارہ کے سات آسمانوں میں تئیس آسمان تسلیم کیے گئے ہیں ہر آسمان میں کئی کئی آسمان ہیں۔ جو ایک طرف سے نہایت پتلے اور دوسری طرف سے بہت موٹے۔ پھر ان میں تارے بھی گڑھے ہوئے ہیں اور آٹھویں ٹھوس آسمان میں تو بے شمار تارے گڑھے ہوئے ہیں۔ پھر اب وہ آپ کا مقدمہ کہاں گیا کہ طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں مختلف افعال نہیں کر سکتی۔ یہاں تو ایک ہی طبیعت نے کہیں پتلا بنادیا، کہیں موٹا۔ کہیں ٹھوس۔ کہیں خول۔ جس میں تارا گڑھا ہوا ہے۔ کوئی جسم روشن ہے جس کو کوکب کہتے ہیں اور باقی تمام جسم روشن نہیں۔ تو جب اس طبیعت واحدہ نے اس قدر مختلف افعال تمہارے ہی تسلیم کی بنا پر کر دیئے تو مگر خرق والتیام بھی خدا کے حکم سے نہیں معاذ اللہ بقول حکماء طبیعت ہی کے افعال کی وجہ سے ہو تو کیا حرج ہے؟
علاوہ ازیں اگر اس کو بھی تسلیم کیا جائے تو حاصل صرف اس قدر ہے کہ آسمانوں میں اس وقت ٹوٹنا پھوٹنا اور شکست و ریخت اور مرمت اور درستی نہیں ہو سکتی۔ لیکن جیسے پہلے ہی سے ان میں کواکب کی جگہ بنی ہوئی ہے اسی طرح سے اگر ابتدائے آفرینش سے اس میں ابواب و دروازے بھی بنے ہوئے ہوں کہ جو کھلتے بند ہوتے ہوں تو یہ کس قاعدہ اور قانون کے مخالف ہے؟ اور قرآن شریف سے آسمان میں ابواب اور دروازوں کا ہونا ثابت ہے تو اب آسمانوں سے آنا جانا نہ محال نہ مستبعد نہ خرق والتیام کو مستلزم۔ اب رہا یہ شبہ کہ آسمان باہم متلاصق (ملے ہوئے) اور چمٹے ہوئے ہیں ان میں
٣
کوئی فرجہ نہیں جہاں تل رکھنے کی بھی جگہ ہو چہ جائیکہ ہزاروں لاکھوں کوس کے میدان تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال فلاسفہ نے اپنے فرضی آسمانوں کا بیان کیا ہے۔ واقعی خدائی آسمانوں تک ان غرباء اور مساکین کی رسائی کہاں ہے جو اس کے متعلق کچھ کہہ سکیں؟ فلاسفہ کو آسمان تسلیم کرنے کی ضرورت صرف اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے چند حرکات کواکب کو مختلفہ دیکھا۔ ان کے ضبط اور درست کرنے کے لیے جس قدر ضرورت ہوئی آسمان مانتے گئے۔ مثلاً نو آسمان کہتے ہیں مگر حرکات کا انضباط نو سے نہ ہوا تو ان کے اندر اور افلاک تسلیم کر لیے جن کی تعداد ٢٥ تک ہو گئی۔ مگر حرکات کا انضباط جب قواعد کے موافق ان سے بھی نہ ہوا تو بعض نے ٨٥ آسمان اور تسلیم کیے جیسے کسی کارخانہ کو آرڈر دیتے ہیں یہی حال ان کا ہے۔ کچھ کرنا تھوڑا ہی پڑتا ہے۔ صرف زبان اور قلم ہلتا ہے۔ اپنی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ واقع کی ان کو کچھ خبر نہیں۔ اور بعض نے ہر ایک ثوابت کے لیے ایک ایک فلک تسلیم کیا ہے۔ تو اب تو نہ معلوم کس قدر کروڑ آسمان تسلیم کرنے پڑیں۔
غرض یہ لوگ آسمانوں کے درمیان کشادگی کو اس وجہ سے تسلیم نہیں کرتے کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں۔ فلکیات میں بے ضرورت یہ کوئی چیز نہیں مانتے۔ ورنہ اس کے امتناع پر کوئی دلیل نہیں۔ جو کاروبار آسمانوں کے تلاصق میں چلتا ہے علیحدہ رہنے میں بھی وہی حالت ہے۔ ورنہ میں تو یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر آسمانوں کو متلاصق کہا جائے تو پھر ایک وقت میں ایک ہی جسم کا دو مخالف جہتوں میں حرکت حقیقتاً کرنا جیسا کہ یہ لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ مبداء حرکت بھی متحرک ہی میں ہو عقلاً محال ہے۔ اگرچہ مبداء میل ایک بالذات ہو اور ایک بالغیر۔ اگر کوئی شخص پتھر کو اوپر کی طرف پھینکے تو گو پتھر کا اوپر کو حرکت کرنا خلاف طبع اور بالغیر ہے۔ مگر چونکہ مبداء میل (قوت محرکہ) پتھر کے اندر ہے۔ لہٰذا یہ محال ہے کہ جس وقت پتھر اوپر کی جہت کو حرکت کر رہا ہے اسی زمانہ میں نیچے کی طرف کو بھی حرکت کرے۔ پس فلسفہ کے قاعدہ کے موافق نو افلاک کی حرکت جو ایک ہی وقت میں مشرق اور مغرب کو ہو رہی ہے محال ہے۔ اور اگر حرکت بالذات اور بالغیر کا فرق کافی ہے تو وہ افتراق کی صورت میں بھی موجود ہے۔ کیونکہ جیسے فلک الافلاک' فلک قمر کو باوجود اس قدر دوری کے حرکت یومیہ دے رہا ہے۔ اسی طرح اور افلاک کو باوجود افتراق کے دے سکتا ہے۔ گو میرے نزدیک یہاں یہ فرق بالذات اور بالعرض کا بھی نہیں چل سکتا۔ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے لیکن اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے تو اس
٤
جگہ کچھ مضر بھی نہیں۔
اور اگر ان کی تمام باتوں کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو ان کا تمام کاروبار اسی آسمان یعنی سمائے دنیا ہی میں پورا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ سمائے دنیا کو کواکب سے مزین فرمایا۔ پس فلک قمر سے فلک ثوابت تک ایک آسمان تسلیم کیا جائے۔ اور یہ ٢٥ یا ١١٠ یا بے شمار افلاک سب اس فلک دنیا ہی کے اجزاء ہوں اور مجموعہ کا نفس کلی فلک الافلاک کی حرکت یومیہ کو انجام دے تو ان کا تمام کاروبار صرف ایک آسمان دنیا ہی پر ختم ہوگیا۔ اب اس کے بعد جو آسمان ہوں۔ ان میں جس قدر بھی کشادگی ہو اس سے فلاسفہ کو کیا کام؟
غرض یہ خیالات واہیہ ہیں۔ جن کا شریعت غرا سے مقابلہ ناممکن ہے۔ یہ تو فلسفہ قدیم کا حاصل تھا اور فلسفہ جدید تو افلاک تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کے یہاں یہ شبہہ ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ افلاک تو طے ہوئے ہیں۔ وہاں درمیان میں کشادگی نہیں۔ فلسفہ جدید کا افلاک کو تسلیم نہ کرنا شریعت کے لیے کوئی مضر نہیں جیسے فلسفہ قدیم کے فولادی افلاک سے کوئی مضرت نہیں۔ کیونکہ فلسفہ جدید کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ حرکات کواکب و حرکت یومیہ کا نظام بے افلاک کے ہو سکتا ہے۔ زمین اور کواکب کو متحرک تسلیم کر لیا جائے تو تمام نظام درست ہے۔ جو افلاک شریعت ثابت فرماتی ہے نہ وہ آنکھ سے نظر آتے ہیں نہ آلہ سے پھر ان کے انکار کا حاصل صرف جہل ہی ہے یعنی ان کو خبر نہیں تو کسی کا جہل تو دوسرے پر حجت نہیں۔ اگر کسی نے مکہ معظمہ کو نہ دیکھا نہ اس کے پاس کوئی آلہ ہو۔ نہ وہ خود وہاں تک جاسکے۔ تو جس نے مکہ معظمہ کو خود دیکھا ہے یا قابل وثوق دیکھنے والے سے سنا ہے اس کے علم کو اس کے جہل اور بے خبری سے کیا مضرت ہو سکتی ہے؟
اب ایک اعتراض قدیم اور جدید فلسفہ کا اور باقی رہ گیا کہ زمین اور آسمان کے درمیان کرہ نار اور طبقہ زمہریر اور دوسری ایسی ہوائیں ہیں جہاں انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ تو اس صورت میں کوئی آسمان پر کیسے جاسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے آج نئی نئی قسم کے ایسے آلات ایجاد ہو رہے ہیں جن کے ذریعہ سے آدمی خارجی اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ سنا گیا ہے کہ بعض صندوق ایسے ہیں کہ اگر رات دن آگ میں پڑے رہیں تو ان کے اندر کے نوٹ بھی نہیں جلتے۔ علیٰ ہذا القیاس گھنٹوں تک آدمی پانی کے اندر کام کرتا ہے۔ تو جب انسان ایسے آلات ایجاد کرتا ہے تو کیا رب العالمین کوئی ایسا سامان
٥
نہیں کر سکتا کہ ایک طرفۃ العین کے لیے ان زمہریری اور آتش فشاں طبقات سے انسان صحیح و سلامت نکل جائے؟ سنا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ نہ ولی ہیں نہ مجدد نہ محدث۔ دہکتی ہوئی بڑی بڑی آگ میں سے خود اور دوسرے آدمیوں کو نہایت اطمینان سے آہستہ آہستہ آگ پر چلتے ہوئے صحیح و سلامت نکال لے جاتے ہیں۔ پھر سید الانبیاء ﷺ کو اگر رب العالمین جس کے تمام اشیاء تحت قدرت ہیں اور برف میں سردی اور آگ میں گرمی اسی کی دی ہوئی ہے صحیح و سالم آسمان پر لے جائے تو اس میں استحالہ تو استحالہ استبعاد عقلی بھی نہیں۔ اور اگر خدائی قدرت سے کسی کام کو دیکھنا نہیں چاہتے اور ہر شے کو اسباب اور طبیعت ہی کے ذریعہ سے موجود دیکھنا منظور ہے تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ جیسے آندھیاں چلتی ہیں اسی طرح سے دونوں طبقوں میں تموج ہو اور اس تموج کے ذریعہ سے کچھ دیر تک تھوڑی سی جگہ برودت اور حرارت میں اس درجہ کا اعتدال پیدا ہو جائے جو مضر حیات نہ رہے تو کیا استحالہ عقلی ہے؟
علاوہ ازیں حرارت و برودت کے اثر کرنے کے لیے بھی ایک خاص زمانہ کی ضرورت ہے۔ جلدی سے اگر مرور ہو تو پھر حرارت و برودت کچھ بھی اثر نہیں کرتی۔ باورچی دہکتے ہوئے تنور میں روٹی لگاتا ہے مگر کپڑا بھی نہیں جلتا۔ بجلی لاکھوں کوس ایک سیکنڈ میں طے کر دیتی ہے وہ حرکت تو بجلی سے بھی ہزارہا درجہ زیادہ تیز تھی۔ اس میں اگر جسم اطہر ہزار طبقے زمہریر اور کرۂ نار کو طے کر جائے تو کیا استبعاد ہے؟ علاوہ ازیں آج کل موسم سرما میں باوجود شدید سردی کے بطخ اور مرغابی تمام شب سرد پانی میں رہتی اور کھیلتی کودتی ہیں۔ اسی طرح سے اگر شدید سے شدید سردی بھی ایک منٹ کے لیے بدن انسان میں کسی خاص وجہ سے اثر نہ کرے تو کیا استبعاد ہے؟
بعض ادویہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ان سے گرمی یا سردی اثر نہیں کرتی۔ معراج شریف سے پہلے جو سردار دو عالم ﷺ کا سینہ مبارک شق کر کے اس میں ایک طشت ایمان و حکمت سے مملو کر کے ڈالا گیا تھا۔ اس کا اس قدر بھی اثر نہ ہوگا کہ جس سے طبقہ زمہریر اور کرۂ نار کو سید العالمین ﷺ عبور فرما جائیں؟ یہ بات ہم فلاسفہ کے لیے عرض نہیں کرتے بلکہ چودھویں صدی کے متنبی کے متبعین ملاحظہ فرمائیں کہ ان کے متنبی کی کیا حالت ہے کہ وہ خدا میں اس قدر قدرت بھی نہیں مانتا کہ سید الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کو کرۂ زمہریر سے اوپر لے جائے۔ معجزہ تو وہی ہوتا ہے جو تمام مخلوقات کی قدرت سے بالاتر ہو اور تمام مخلوقات اس کے مقابلہ سے عاجز ہوں۔ اگر آسمان پر جانے میں کوئی امر بھی خلاف
٦
عادت نہ ہوتا تو پھر معراج کو معجزہ ہی کیوں کہتے؟ بلکہ میں تو یہ عرض کرتا ہوں کہ جس قدر بھی ایسے امور زیادہ جمع ہو جائیں اعجاز اپنے اعلیٰ درجہ کو پہنچ جائے گا۔ ہاں جو چیز عقلاً ممتنع ہے جیسے مرزا قادیانی کا نبی ہونا یا مجدد محدث نہیں ایک سچا انسان ہونا وہ تو بیشک غلط ہے۔ لیکن جو چیز عقلاً ممکن ہے۔ اور پھر اس کو وہ شخص جس کی صداقت کو خداوند عالم نے قطعاً ثابت فرما دیا ہو (جیسے سرور عالمﷺ) واقع کہے تو اس کا یقین کرنا ضروری ہے اس بنا پر معراج کے قصہ کے لیے جناب رسول اللہﷺ کی صداقت اور ثبوت رسالت کے بعد ہم کو اس کا امکان عقلی ثابت کرنا بس تھا۔ مگر خداوند عالم کی رحمت کے قربان جائیے کہ اس نے معراج کے ساتھ اسراء یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جانے کو بیان فرمایا (جس طرح سے ان عقلاء کے نزدیک آسمان پر جانا محال عقلی یا عادی تھا۔ اسی طرح اس زمانہ میں بے اسباب کے مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ تک اس قدر زمانہ میں جانا محال عقلی یا عادی تھا اور ہے اور مکہ معظمہ کے لوگ بیت المقدس گئے ہوئے تھے۔ مسجد اقصیٰ کو اس طرح جانتے تھے کہ در و دیوار اور طاق و محراب تک گنے ہوئے تھے) تاکہ وہ لوگ آپ سے وہاں کا مفصل حال دریافت کریں اور آپ ان کے سوالات کے وہ کافی و شافی جواب مرحمت فرمائیں کہ جس سے بجز تصدیق کے انکار کا چارہ ہی نہ رہے کیونکہ وہ لوگ یہ خوب جانتے تھے کہ سردار دو جہاںﷺ بیت المقدس مسجد اقصیٰ کبھی تشریف نہیں لے گئے۔ پھر جب یہ واقعہ بالکل صحیح اور موبمو واقع کے مطابق ہے تو اگلا سفر بھی بالکل صحیح ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی اور ان کے ہم مشرب خوب سمجھ لیں کہ اگر کوئی شخص اس وقت آسمانوں کی سیر کرنے والا اور جنت اور دوزخ دیکھنے والا بھی موجود ہوتا تو آپ ﷺ ایسے مفصل حالات بیان فرماتے کہ آسمان اور فلکیات بھی گویا زمین ہو جاتے اور پھر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے لیے شاید یہ وجہ کفر کی نہ ہو سکتی۔ مگر نہیں جب انہوں نے اسراء کا انکار کیا تو یہ پھر بھی انکار کرتے۔
اہل فہم نے سمجھ لیا ہوگا کہ قصۂ اسراء اور معراج مکہ معظمہ میں پیش آیا اور کفار مکہ کا انکار کرنا اور مسجد اقصیٰ کے حالات دریافت کرنا اور آپ کا جواب دینا یہ تمام واقعات بآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ معراج مکہ معظمہ میں ہجرت سے پہلے ہوئی۔ اور آپ نے معراج جسمانی ہی کا دعویٰ فرمایا تھا نہ روحانی اور منامی اور کشفی کا۔ ورنہ روحانی اور منامی کا کون انکار کر سکتا ہے؟ خواب میں تو ایسے عجائبات ہر شخص ہی دیکھتا ہے۔ نہ اس پر کوئی اعتراض کرتا ہے نہ جواب کی حاجت ہوتی ہے۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا
٧
تصدیق فرمانا اور اس روز سے صدیق کا لقب پانا بھی صاف بتاتا ہے کہ دعویٰ معراج جسمانی کا ہی تھا۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معراج جسمانی سے ہرگز اختلاف نہ تھا۔ ان سے یہ منقول ہونا کہ جسم مبارک موجود تھا۔ اسراء روحانی ہوا۔ یہ دلیل ہے کہ یہ کسی روحانی منامی معراج کا ذکر ہے جو مدینہ طیبہ میں واقع ہوئی۔ ورنہ مکہ معظمہ میں معراج کے وقت یا تو وہ پیدا ہی نہ ہوئی تھیں۔ یا اس قدر بچی تھیں کہ ان باتوں کا ہوش ہی نہ تھا۔ اور بہرحال ان کا نکاح گو مکہ معظمہ میں ہوا۔ لیکن بیت اقدس میں یہیں مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئیں۔ مکہ معظمہ کی رات کا قصہ اس کی نسبت وہ کیسے فرماسکتی ہیں کہ آپؐ کا جسم مبارک موجود تھا یا غائب؟ اگر موجود ہوتیں تو بھی وہ معاملہ ہی کتنی دیر کا تھا۔ وہ جانا اور تشریف لانا تو اعجازی طور سے تھا۔ کہ کل واقعات میں نہ معلوم چند منٹ بھی صرف ہوئے تھے یا یہ سفر ایک سیکنڈ کا تھا۔ اگر موقعہ ہوا تو اس استبعاد کو بھی عقلاً ہی دور کر دیا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ بلکہ حضرت صدیقہؓ کا قول مذکور معراج میں یہ بتاتا ہے کہ زمانہ معراج اس قدر قلیل تھا کہ مافقد جسمه کہنا صحیح ہے۔
غرض حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول سے معراج جسمانی کا انکار ہرگز ہرگز مفہوم نہیں ہوسکتا۔ بلکہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا اس میں اختلاف فرمانا کہ شب معراج میں رؤیت باری تعالیٰ ہوئی ہے۔ یہ بڑی دلیل ہے کہ وہ بھی معراج جسمانی کی قائل تھیں ورنہ خواب اور روحانی رؤیت کا انکار اس کا مطلب کیا ہے؟ اور وہ بھی صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے۔ اس کے بعد بھی اگر یہ خدشہ باعث خلجان رہے کہ اس قدر تھوڑے عرصہ میں سالہا سال کا سفر انجام پانا بعید از عقل ہے تو پھر عرض ہے کہ تھوڑے زمانہ میں زیادہ کام کرنے کی ایک تو یہ صورت ہے کہ آلہ کار یا خود فاعل ہی قوی ہو۔ جیسے کوئی پیادہ پا سفر کرے۔ اور دوسرا ریل پر۔ چنانچہ براق کی رفتار کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا قدم اس کے منتہائے بصر پر پڑتا تھا۔ اور بصر زمین سے آسمان تک پہنچتی تھی۔ تو ظاہر ہے کہ اس رفتار پر کل سفر چند قدموں کا بھی راستہ نہ تھا۔ پھر اس میں دیر ہی کتنی؟ اس کے نظائر تو بکثرت موجود ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں بظاہر دو شخص کام کو انجام دیں۔ مگر ایک دوسرے سے ہزار گنا زیادہ کام کرے۔ لیکن درحقیقت زیادہ کام کرنے والے کو زمانہ ہی اس قدر وسیع ملا ہے۔ جس میں وہ کام زیادہ کرسکے۔ اور اس کی تصویر یوں سمجھنی
٨
چاہیے کہ جب زمانہ کسی حرکت کی مقدار کا نام ہے۔ اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک مرکز پر جب بہت سے دائرے بنائے جائیں تو جو دائرہ مرکز کے قریب ہوگا اس کی مسافت کم ہوگی۔ اور جس قدر مرکز سے دوری ہوتی جائے گی حرکت سریع اور مسافت بڑھتی جائے گی۔ لیکن جب چھوٹے دائرہ کے مثلاً تین سو ساٹھ حصے کر کے ان خطوط کو اخیر تک فرض کیا جائے گا تو تمام دوائر کے اسی قدر حصے ہو جائیں گے۔ عدد تو سب کا ایک ہی رہے گا مگر مسافت میں ضرور فرق پڑ جائے گا۔ مثلاً ایک دائرہ اگر ایک انچ کے قطر کا ہو اور دوسرے کا ایک میل قطر ہو۔ تو پہلے دائرہ کا محیط تین انچ ہوگا۔ اور دوسرے کا تین میل۔ تو بڑے دائرہ کے ایک درجہ میں اس قدر مسافت ہوگی جو یہاں کل دائرہ کو بھی نصیب نہیں۔
اسی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جس حرکت کی مقدار کا نام زمانہ ہے اس کے ایک دورہ کا نام رات دن رکھو۔ اور اس کے ٢٤ گھنٹے اور ہر گھنٹہ کے ٦٠ منٹ پھر ہر منٹ کے ٦٠ سیکنڈ وغیرہ بنا لو تو چھوٹے سے چھوٹے دائرے کے بھی ٨٦٤٠٠ حصے ہوں گے۔ اور بڑے سے بڑے کے بھی۔ مگر بڑے دائرہ میں منٹ اور سیکنڈ کی مسافت اس قدر زائد ہوگی جو یہاں تمام دورہ کی مسافت بھی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اسی کے ساتھ جیسے مسافت بڑھتی جاتی ہے۔ اسی طرح حرکت بھی سریع اور تیز ہوتی جاتی ہے۔ مثلاً گاڑی کا پہیہ یا چکی کو دیکھ لیجئے کہ کیلی اور دھرے کے قریب حرکت کم ہوگی اور محیط کے قریب تیز۔ تو زمانہ حرکت دائرہ قریب المرکز اور بعیدالمرکز کا ایک ہی ہوگا۔ مگر اسی زمانہ میں بڑا دائرہ مسافت زیادہ قطع کرے گا۔ اور چھوٹا کم۔
اس کے بعد کیا عقل کے نزدیک یہ ممکن نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ زمانہ کے اس دائرہ پر تشریف لے گئے ہوں جہاں ایک سیکنڈ کی ایک لاکھ برس سے بھی زیادہ مسافت ہو۔ اور وہاں ایک لاکھ برس کی مسافت ایک ہی سیکنڈ میں قطع ہوتی ہو۔ تو اب اگر آپؐ نے معراج میں ایک لاکھ برس کی مسافت ایک سیکنڈ میں انجام دی تو ہو سکتا ہے۔ بلکہ یوں ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جہاں آپؐ مثلاً تشریف فرما تھے اس مقام کی حرکت اسی قدر سریع ہے کہ جہاں ایک لاکھ سال کے قطع کرنے کی مسافت ایک ہی سیکنڈ میں قطع ہوتی ہے۔ گویا خواب میں بڑے دائرے پر صرف روح جاتی ہے۔ اور منٹوں میں صد ہا سال کا کام کر کے واپس آتی ہے اور جسم یہیں رہتا ہے۔ اور اس صورت میں روح مع الجسم وہاں جاکر ہزار سال کا کام کر کے سیکنڈوں میں واپس آجاتی ہے۔ فرق اس قدر
٩
ہے کہ خواب معتاد ہے۔ ہر شخص دیکھتا ہے۔ یہ خارق عادت ہونے کی وجہ سے معجزہ ہے۔ کرامت ہے۔ ورنہ عقلاً دونوں ہم شکل ہیں۔
سنا ہو گا کہ بعض بڑے لوگوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ تھوڑی دیر میں بہت زیادہ کام کیا کرتے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ ان کے وقت میں بڑی برکت ہے۔ بعض اہل تصنیف کی تصانیف کو اندازہ کیا جاتا ہے تو آٹھ جزو اور دس سے زیادہ روزانہ پڑتا ہے جو آدمی تصنیف تو تصنیف نقل بھی نہیں کر سکتا۔ حضرت داؤد علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبت مشہور ہے کہ گھوڑے پر زین کسنے کا حکم فرماتے اور ادھر زبور شریف شروع کرتے ادھر سواری پر زین کسا جاتا۔ اور یہاں زبور شریف ختم ہو جاتی۔ اس قاعدہ کی بنا پر یہ کچھ بھی دشوار نہیں۔ اگر یہ نکتہ سمجھ میں اچھی طرح آجائے تو اس کا سمجھنا کچھ دشوار نہیں کہ ایک دن ہمارے یہاں ٢٤ گھنٹے کا ہو۔ اور اوپر کے دوائر میں ایک ہزار سال کا ہو۔ بلکہ اس سے بھی زائد۔ وان يوما عند ربک کالف سنة مما تعدون (حج:٤٧) خدا کے نزدیک ایک دن کی مسافت کا زمانہ تمہارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ (واللہ تعالٰی اعلم بمرادہ) ويرونه بعيداً ونراہ قريباً (معارج:٦)
تو جب ایک دن ہزار سال کا ہوا بلکہ اس سے بھی زائد تو رات بھی مثلاً ہزار سال کی ہوگی اس صورت میں اگر شب معراج میں مثلاً جو ہزار سال کی ہو اس سیر و سفر کا ہو جانا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ پہلی صورت میں مقدار زمانہ ایک ہی تھی مگر فاعل یا آلہ فعل کی قوت و ضعف کی بنا پر ایک جگہ کام کم تھا اور ایک جگہ بہت زائد اور دوسری صورت میں حصہ زمانہ یعنی دن رات یا گھنٹہ اور منٹ تو ایک ہی ہے مگر مسافت حصہ مختلف ہے۔ اس مسافت کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ دونوں جگہ کے فعل میں زمین و آسمان کا فرق آسکتا ہے۔ اور یہ پہلی صورت اور دوسری صورت سرور عالم ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اوروں کو بھی آپؐ کے طفیل اور برکت سے حاصل ہوئی اور ہو سکتی ہے۔ ہاں ایک صورت اور ہے کہ وہ بجز سید العالمین ﷺ کے اور کسی کے لائق معلوم نہیں ہوتی۔ اگر شب معراج میں ایسا واقعہ ہوا ہو تو مستبعد نہیں اسے توجہ اور غور سے سننا چاہیے۔ وہو ہذا۔
جب تمام دنیا و دین آسمان و زمین و مافیہا ذات ستودہ صفات صاحب لولاک ہی کے لیے پیدا کیے گئے (ﷺ) اور شب معراج وہ رات ہے جس میں رب العالمین اپنے محبوب خاص کو خاص اہتمام سے طلب فرماتے ہیں اور آپؐ کی سیادت اور عظمت تمام ملکوت السموت والارض کے ذرہ ذرہ پر ثابت کرنا اور تمام مخلوقات کا جلوہ کرانا بلکہ
١٠
تمام خدام کو ان کے آقا و سید کی زیارت سے مشرف کرانا منظور ہے ایسے اجلاس شاہی اور جلوس خسروی کے دیکھنے کے لیے تمام کارخانہ کو چھٹی ہو جاتی ہے اور عظمت محبوب بھی اسی کی مقتضی ہوتی ہے۔ دوسرے اہلکاروں کی بھی یہی تمنا ہوتی ہے۔ تو اگر شب معراج میں ابتدائے اسراء سے معراج اور دولت خانہ پر تشریف لانے تک تمام نظام عالم کو حرکت سے بند کر دیا ہو اور سب کو سکون و آرام اور شرکت جلسہ کا حکم ہو تو چونکہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ عالم اسباب میں حرکات علویہ سے ہو رہا ہے۔ پس اگر زمانہ معراج لاکھ برس کا بھی ہو تو نہ کوئی وقت ہے نہ حرج۔ ہزار ہا سال کی مقدار گزر جائے مگر رات ختم نہ ہوگی۔ اور نہ کسی شے میں تغیر آئے گا۔ اور نہ قلت زمانہ اور کثرت کام کا سوال پیدا ہوگا۔ زمانہ تو مقدار حرکت کا نام تھا۔ جب وہ حرکت ہی بند ہے تو زمانہ کہاں؟ جب زمانہ اور اسباب تغیر بند ہیں تو تغیر کہاں سے؟
جیسے کوئی کارخانہ میلوں میں پھیلا ہوا ہو اور صد ہا مختلف طرح کی کلوں کا ایک انجن سے تعلق ہو اور ان کلوں (پرزے) سے ہزاروں کام ہو رہے ہوں۔ اور پھر اس انجن کو جو تمام کارخانہ اور اس کی مشینوں کی حرکت کا باعث تھا بند کر دیا جائے تو جو کل جو پرزہ جو کام جس جگہ جس قدر ہوا ہے اگرچہ ہزار سال تک انجن بند رہے وہیں رہے گا۔ کسی حالت میں کوئی فرق نہ آئے گا۔
اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ایک سال میں فلاں کل اس قدر اور فلاں پرزہ اتنی دفعہ حرکت کرتا اور یہ اتنی۔ یہ سب اعتراض غلط ہیں۔ اس وجہ سے کہ جب مبداء حرکت کی حرکت ہی بند ہے مبداء تغیرات ہی ساکن ہے تو یہ اعتراض ناواقفیت پر مبنی ہے۔ علت ہی نہیں تو معلول کہاں سے آئے۔ یہ کہنا کہ اگر معراج میں سو سال کا زمانہ خرچ ہوا تھا تو لڑکے بوڑھے کیوں نہیں ہو گئے۔ حاملہ عورتوں کا وضع حمل ہو کر وہ بچے بھی جوان کیوں نہ ہو گئے۔ شام کے وقت جو درخت چھوٹے چھوٹے پودے تھے وہ صبح کو بڑے بڑے ہو کر خشک کیوں نہ ہو گئے۔ کھیتی جو شام کے وقت دو دو انگشت کی تھی وہ کم سے کم پختہ کیوں نہ ہوگئی؟ تو ان باتوں کا جواب یہ ہے کہ یہ تو جب ہوتا جب کہ عالم کے تغیرات کا مبداء متحرک ہوتا۔ جب وہ ساکن ہوگیا۔ تو جس حالت میں حرکت زمانہ بند ہوئی تھی ہزار نہیں بلکہ لاکھ سال تک بھی اگر بند رہتی تو پھر جب حرکت شروع ہوگی سب کام وہیں سے شروع ہوں گے جو لوگ بیدار تھے اور وہاں رات نہ تھی دن تھا۔ وہاں بھی ان کو کوئی تغیر محسوس نہیں ہو سکتا نہ بھوک لگ سکتی ہے نہ پیاس نہ بال سیاہ سے سفید
١١
ہوسکتے ہیں بلکہ جو قدم اٹھا اور وسط میں رک گیا وہ وہیں رہے گا چاہے کسی قدر زمانہ کیوں نہ گزر جائے۔ جب زمین پر آئے گا یہی معلوم ہوگا کہ معمولی قدم تھا جو اٹھایا گیا اور رکھا گیا۔ خواب دیکھنے والا جیسے ہمارے چند منٹوں کو سالہا سال سمجھتا ہے اسی طرح یہ شخص بیدار بھی سالہا سال کو ایک آن جانتا ہے۔ یہ حالت خواب کا مکمل جواب ہے دوسری صورت میں مرکز سے محیط کی طرف جانا۔ یہاں گویا محیط سے مرکز کی طرف آنا ہے۔ مرکز پر بھی حرکت نہیں ہوتی۔ اور یہاں بھی حرکت کو معدوم فرض کیا گیا ہے۔ اگر واقعی یہ صورت ہو کہ تمام عالم مرکز پر آجائے اور سید عالم ﷺ محیط سے بالا تشریف لے جائیں تو چونکہ دونوں جگہ حرکت نہ ہوگی حاصل ایک ہی ہوگا۔
اگر یہ مانتے ہو اور فلسفہ طبعیات پر جان دیتے ہو کہ زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے فلکیات ہی کی تاثیرات سے ہو رہا ہے پس جب وہاں سے تاثیر کا سلسلہ بند ہوگیا تو یہاں تاثیر کہاں سے آئے۔ پھر اب کرۂ زمہریر اور کرۂ نار کا بھی سوال غلط ہوگیا۔ نہ نار جلا سکتی ہے نہ زمہریر ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ اس احتمال کو اگر کوئی تسلیم نہ کرے تو ہمیں اس سے کوئی جھگڑا نہیں۔ کیونکہ ہم نے یہ ایک احتمال عقلی پیش کیا ہے۔ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اسے پہلے اور بھی احتمال عرض کر دیئے گئے ہیں۔ مگر ہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی کا معراج جسمانی کے محال ہونے پر فلسفہ جدید و قدیم کا اتفاق بیان کرنا یہ اس کی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی سے جیسے ایمان سلب کیا گیا تھا عقل و فہم بھی لے لی گئی تھی۔ ورنہ کسی دانشمند آدمی کا کام نہیں (گو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول نہ تسلیم کرتا ہو۔ مگر ہاں خدا کو مانتا ہو) کہ معراج جسمانی کو عقلاً و نقلاً محال کہے۔ جو شخص اس دل و دماغ کا ہو اس کو اپنا ہادی اور رہبر تسلیم کرنا صرف مرزائیوں کا ہی کام ہے۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب۔
کوئی غلطی کھائے کچھ کہے مگر تعجب تو اس قادیانی متنبی پر ہے جس کو بے مثل علوم اور معارف قرآنیہ کا دعویٰ ہو اور وحی بارش کی طرح برستی ہو۔ اور وہ بزعم خود اندرونی اور بیرونی اختلافات کے مٹانے کے لیے آیا ہو۔ مگر افسوس نہ اس کی عقل خداداد نے رہبری کی۔ نہ وحی الٰہی نے اس کی معاونت فرمائی نہ الہام اور کشوف نے اور نہ معراج میں خود صاحب تجربہ ہونے نے۔ اس کے متعلق خدا چاہے آئندہ قدرے تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔
الحاصل جب طبقہ زمہریر سے بجلی کو ہم ہمیشہ آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ مگر اس
١٢
میں گذرنے کے بعد بھی بجلی ویسی ہی گرم رہتی ہے۔ اسی طرح اگر جسم مبارک بجلی سے بھی تیزی کے ساتھ زمہریر یا کرۂ نار یا کسی اور مہلک ہوا میں گذرا تو اس میں کوئی استبعاد نہیں اور اگر یہ امور درمیان میں نہ ہوتے تو پھر معراج معجزہ ہی کیوں ہوتی۔ کفار مکہ معظمہ نے صرف ایک ہی جزو کی تفتیش کرنے اور ملزم ہونے کے بعد یہ نہیں کہا کہ معراج کا قصہ مذکور ہونا قرآن کے صدق میں خلل انداز ہے اور اگر کسی نے کہا ہو تو اسے نقل کرنا چاہیے کہ وہ کون ہے؟ اور اس کا کیا اعتراض ہے؟ بلکہ شافی جواب سن کر یہ کہا کہ حالات تو صحیح بیان فرمائے بس عالم اسباب میں واقعہ معراج کی اسی قدر اہل دنیا تفتیش کر سکتے تھے جو کر لی گئی اور کفار مکہ معظمہ کے فہم کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے ایک امر خارق العادۃ کو معلوم کر کے اگلی بات پر اعتراض نہیں کیا۔ ایمان ان کی قسمت میں نہ تھا یہ امر آخر ہے، مگر بے اسباب دنیوی کے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جانا اور وہ بھی اس قلیل زمانہ میں معجزہ کے لیے کافی تھا۔
اور یہ بات کہ اس قدر قلیل زمانہ میں سالہا سال کا کام انجام ہو جانا۔ میرے خیال میں اب یہ شبہہ اس قابل نہیں ہے کہ کوئی اہل فہم اسے بیان کرے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نئی نئی مشینوں کے ذریعہ سے سالہا سال کا سفر اور کام دنوں میں اور گھنٹوں میں ہوتے ہیں۔ ہزار ہا میل کی خبر ایک سیکنڈ میں پہنچتی ہے۔ جو چیز ہمارے نزدیک کل محال عادی تھی۔ آج واقع ہے۔ تو کیا یورپ کے کارخانوں سے بھی خدائی قدرت معاذ اللہ العظیم کم ہے کہ وہ تو ہمارے محالات کو واقع کر کے دکھلا دے۔ اور خداوند عالم کسی امر کو فرمائے تو اس کے اسباب کی تحقیقات میں لگ جائیں ورنہ انکار کر دیں۔ یہ راہ نہایت پر خطر ہے اور اس کا انجام بجز کفر خالص کے اور کچھ نہیں۔ جب خداوند عالم اور رسول اکرم ﷺ کے ارشاد پر ایمان لانے کے لیے یہ بھی شرط ہو کہ وہ بات ہماری عقل میں بھی آجائے۔ تو پھر یہ فرماؤ کہ یہ خدا اور اس کے رسول پر ایمان ہوا یا اپنی عقل پر۔ اگر کوئی بات اپنی عقل میں آجائے تو اس کو تو آپ جب بھی تسلیم فرمائیں گے اگر اس کا کہنے والا کوئی کافر یا ادنیٰ درجہ کا شخص یا مجنون اور بے وقوف بھی ہو۔ اپنے استاد اور عالم اور تجربہ کار اور ایک ڈاکٹر کی بات کو اس کے علم اور تجربہ اور صدق پر اطمینان کر کے مانتے ہو۔ اور ضرور مانتے ہو گو تمہاری عقل اس کو قبول نہ کرے۔ وہاں یہ کہتے ہو کہ یہ بات ہماری عقل سے بالا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ خداوند عالم اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس قدر بھی معاملہ نہ ہو تو پھر تم خود ہی فرماؤ کہ ایمان کیا ہوا؟
١٣
یاد رکھو زمین و آسمان کواکب و اشجار و احجار وغیرہ جو چیزیں ہمارے سامنے موجود ہیں ان کا یقین کرنا ایمان نہیں ایمان صرف اسی کا نام ہے کہ جو چیزیں غیب کی ہیں جن کے ادراک سے انسانی عقول عاجز ہیں ان کا یقین رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے آپ کو سچا جان کر کیا جائے۔ دنیا میں ایک رسول کی ہی ہستی ہے کہ جب اس نے اپنی نبوت کو معجزات سے ثابت کر دیا تو اب وہ احکام خداوندی کی تبلیغ اور عالم آخرت کی خبروں میں بالکل مامون اور محفوظ ہے۔ وہاں غلطی کا احتمال نہیں۔ اس کے ارشادات کی اس سے کوئی دلیل دریافت نہیں کرسکتا ہے۔ اس کا فرمانا ہی اس کے ثبوت کی دلیل ہے۔ مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ کوئی بات ایسی نہ کہے جو عقلاً قطعاً ممتنع ہو۔ اگر ایک بات بھی ایسی کہے گا تو وہ خدا کا رسول نہیں بلکہ شیطان کا ایلچی سمجھا جائے گا۔ نبی جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔ اس کی خبر میں غلطی کا احتمال نہیں۔ ہاں امور اجتہادیہ میں غلطی ہوسکتی ہے جس پر فوراً مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر دوسرے لوگ اس کے کلام کا مطلب غلط سمجھیں تو یہ سمجھنے والوں کا قصور ہے نبی کا یہ کام نہیں کہ مرزا قادیانی کی طرح بارہ برس تک وحی کا مطلب ہی نہ سمجھے اور کفر اور شرکیہ عقیدہ میں مبتلا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم معراج شریف کے واقعات میں صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ امور عقلاً محال نہیں۔ بس اس قدر ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر ان امور کے واقع ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آپؐ صادق ہیں آپؐ کا صدق دلائل قطعیہ اور معجزات نبویہ سے ثابت ہے۔ آپؐ جس ممکن کے واقع ہونے کی خبر دیں اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اشیا میں صرف ایک ممتنع عقلی ہی وہ ہے جس کے ساتھ قدرت کا تعلق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس کی ذات میں ہی قابلیت نہیں کہ وجود کو قبول کرسکے۔ ممتنع کہتے ہی اس کو ہیں جو کبھی بھی وجود کو قبول نہ کرے۔ اگر وجود کو قبول کرلے تو پھر ممتنع نہیں بلکہ ممکن ہے اس کے علاوہ جس قدر بھی ممکنات ذاتیہ ہیں وہ سب مقدور باری تعالیٰ ہیں۔ اگر کسی ایک ممکن کو بھی خداوند عالم کی قدرت سے کوئی باہر کہے گا تو بظاہر گو ہزار دفعہ خدا کے وجود کا اقرار کرے۔ مگر درحقیقت وہ منکر ہی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دین معاذ اللہ خلاف عقل ہے اور دین کے احکام کے دلائل اور ان میں حکم و مصالح نہیں ہیں۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ جب کسی شے کا دین سے ہونا قطعاً اور یقیناً ثابت ہوجائے تو پھر اس کے تسلیم کرنے میں چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ ماکان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضى الله ورسوله امرا ان يكون لهم الخيرة من امرهم (احزاب:٣٦) جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کوئی حکم صادر فرمائے تو پھر کسی مومن
١٤
اور مومنہ کو اختیار باقی نہیں رہتا کہ وہ چاہے قبول کرے چاہے قبول نہ کرے۔ بلکہ وہ حکم ضرور قبول کرنا ہوگا خداوند عالم اور اس کا رسول ﷺ کسی شے کے واقع ہونے کو فرمائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ شے عقلاً ممتنع ہو۔ بلکہ وہ ضرور ممکن ہے۔ ہمارے نزدیک جو کام سو سال میں ہونے کا ہے۔ اگر ایک منٹ میں ہونا خدا یا رسول علیہ السلام بیان فرمائے تو یہ سمجھ لو کہ یہ کام بیشک ایک منٹ میں ہوسکتا ہی نہیں بلکہ ہوگیا اور آج کل تو مشاہدہ ہے کہ کلوں کے ذریعے برسوں کے کام گھنٹوں میں ہو رہے ہیں۔
طول کا خوف ہے ورنہ اس جگہ کچھ فطرت اور نیچر سے بحث بھی ہو جاتی تو اچھا تھا۔ ہر جگہ کہا جاتا ہے کہ یہ بات فطرت کے خلاف ہے۔ اس کو نیچر تسلیم نہیں کرتا۔ خدا اور رسول کی باتوں کا فطرت اور نیچر تو انکار نہیں کرتا۔ نیچر سے تو ہم منوا دیں۔ البتہ نیچری ہمارے قابو کے نہیں ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبداً (مریم:٩٣) فطرت اور نیچر سب خدا کی مخلوق ہیں اس کے حکم کے خلاف نہیں کرسکتے۔ ہاں جو انسان سرکش ہے وہ بعض وقت نہ خدا کی سنتا ہے نہ فطرت اور نیچر کی۔ اور بھی بعض امور ہیں جن کو بوجہ خوف طوالت عرض نہیں کرتا۔ غرض واقعہ اسرا و معراج میں کوئی امر خلاف عقل نہیں ہے۔ جس کو عقل محال کہے۔ یہ تمام امور ممکنہ جو واقع ہوئے اور یہ معجزہ فخر عالم ﷺ روحی فداہ کے بڑے معجزوں میں سے ہے۔ آپ ﷺ بجسدہ الشریف مکہ معظمہ سے مسجد اقصیٰ تک پھر وہاں سے آسمانوں کی طرف تشریف لے گئے۔ انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات فرمائی۔ جنت دوزخ کی سیر کی اور عجائب ملکوت کو ملاحظہ فرمایا۔ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ پھر اس سے بھی آگے تشریف لے گئے اور مقام دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ (النجم:٩،٨) سے مشرف ہوئے۔ اور وہ وہ انعامات فرمائے گئے کہ نہ کسی نے دیکھے نہ سنے اور نہ آئندہ کوئی دیکھے اور سنے۔ بڑی قسمت والی وہ امت جس کا سردار ایسی رفعت و شان رکھتا ہو۔ اور بڑا بدنصیب ہے وہ شخص جس کے نامبارک ہاتھوں سے یہ دامن مقدس چھوٹ جائے۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ و جمیع المسلمین اللھم اختم لنا بالخیر۔ اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد وآلہ وصحبہ افضل صلوتک عدد معلوماتک۔
جو لوگ کسی خدائی کتاب کو تسلیم نہیں کرتے۔ یا طبعیات میں غرق ہیں ان کی طرف سے یہ شبہات ہوسکتے ہیں جن کے جوابات عرض کیے گئے۔ خدا کا شکر ہے کہ معراج جسمانی پر یہود اور نصرانی بالکل لب کشائی نہیں کرسکتے۔ یہود ایلیا علیہ السلام اور ١٥
عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر تشریف لے جانے اور پھر تشریف لانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ تو پھر جب یہ بزرگوار بجسدہ الشریف زندہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ اور پھر تشریف لائیں گے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زندہ تشریف لے جانے اور واپس لانے پر عقلاً کون سا استحالہ پیش کرسکتے ہیں؟
مرزا قادیانی اور انکار معراج جسمانی
مگر افسوس جو امتی ہونے کا مدعی ہو۔ غلام ہونے کا اقرار کرے اور یہ بھی کہے کہ مجھے جو کچھ ملا وہ سرکار محمدی علی صاحبہ الصلوٰۃ والتسلیم سے ملا۔ وہ اپنا فرض ہی یہ بتاتا ہو کہ آپ کی عظمت و جلال کو دنیا سے منوانے آیا ہوں۔ وہ امت کے اندرونی اور بیرونی اختلافات مٹانے کا مدعی ہو۔ وہ تمام امت سے اپنے آپ کو افضل قرار دیتا ہو۔ معارف قرآنیہ کا دروازہ اس کے لیے کھلا ہو۔ جس قدر علوم اور معارف اسے دیئے گئے ہوں۔ اس کا عشر عشیر بھی کسی نے خواب میں نہ دیکھا ہو۔ جو نیا علم کلام لے کر دنیا کے مذاہب سے مقابلہ اور اسلام کا غلبہ ظاہر کرنے کے لیے آیا ہو۔ جس پر خدا کی وحی بارش کی طرح برستی ہو۔ جس کے نشانات سوتے جاگتے سانس کی طرح جاری ہوں جو فقط مجدد اور محدث ہی ہونے کا مدعی نہیں۔ بلکہ نبوت بروزی ظلی مجازی لغوی سے گذر کر نبوت حقیقیہ کی چادر بھی اوڑھے ہوئے ہو۔ اور اس مقام کو بھی طے فرما کر صاحب شریعت ہونے کا بھی مدعی ہو جو کسی نبی سے اپنے کو کم نہ کہے ۔
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٩ ص ٢٧٧)
یہی نہیں بلکہ تمام گروہ انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر اپنے کو شمار کرے ۔
(ایضاً)
اس کا کلام ہو۔ کبھی تو باستثنائے سرور عالم ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام سے اپنے معجزات کو زیادہ کہے اور کبھی آپ سے بھی ﷺ اپنی فضیلت یوں ثابت کرے کہ آپ ﷺ کے معجزات تین ہزار کہے (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥) اور اپنے تین لاکھ سے زیادہ۔ (حقیقت الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) اور اس زیادتی کا اجمال یہ ہے کہ ایک کروڑ تک حد پہنچے اور بہت ہی جانچ پڑتال کی جائے تو دس لاکھ سے تو کم ہو ہی نہیں سکتے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٨ خزائن ج ٢١ ص ٧٥) مگر اسی کے ساتھ مسلمانوں کے خوش
١٦
کرنے کو اپنے کو غلام احمد و غلام محمد بھی کہے۔
مرزا پرست حضرات کو توبہ کا مشورہ
مسلمانو! ایسے مرزا قادیانی سے تو کیا شکایت ہے جو کہیں سو تھوڑا ہے۔ شکایت ان مدعیان اسلام سے ہے جنہوں نے ایمان کے ساتھ عقل بھی مرزا قادیانی کو دے دی اس معراج کے واقعہ میں مرزا قادیانی کا علم و فہم و فراست دیانت و صدق ملاحظہ فرمالیا جائے۔ اور مرزا قادیانی کے تعارض کو دفع کر دیا جائے۔ ورنہ توبہ کی جائے۔ مسلمانوں کی اطلاع کے لیے موقع کی مناسبت سے ذکر کیا جاتا ہے۔ ورنہ ایک معراج ہی کیا۔ مرزا قادیانی نے جو کچھ بھی اپنے اصول مقرر کیے ہیں وہ سب ایسے ہیں کہ ایک کو بھی تسلیم کرلیا جائے تو اسلام کا دنیا میں نام بھی نہیں رہ سکتا ۔ قیاس کن زگلستان من بہار مرا
اب مرزائی چاہے یورپ میں تبلیغ اسلام کا دعویٰ کریں یا برلن میں مسجد بنوائیں۔ مسجد ضرار تو مدینہ طیبہ ہی میں بنائی گئی تھی۔ مگر اس کا جو حشر ہوا سو معلوم ہے۔ اب مسجد برلن پر کیا فخر ہو سکتا ہے۔ ثبت الارض ثم انقش۔ پہلے مسلمان ہو جاؤ پھر کچھ کرو۔ ورنہ اگر واقعی کوئی اسلامی کام کیا ہے تو ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر (کنز العمال ج ١٠ ص ١٨٣ حدیث ٢٨٩٥) کو بھی پڑھ لیا کرو۔ خداوند عالم مسلمانوں کو تمام فتن سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی پر عقلی اعتراضات کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”ازاں جملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ نیا پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے“ پھر اس کے حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں ”اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت ﷺ کا معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف (اس لفظ سے قائل کی کثافت قلبی کا اندازہ ہو سکتا ہے) کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔۔۔ الخ اخیر میں فرماتے ہیں ”اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے ۔“ (ازالہ ص ٤٨ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٢٦) (لفظ تجربہ کا حاصل اہل تجربہ ملاحظہ فرمائیں) اور رفع جسمانی کو نقلاً یوں محال بتاتے ہیں ”اب ہم بخوبی ثابت کرچکے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا قرآن اور احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر
١٧
اس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے۔“
(ازالہ ص ٢٦٨ خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)
”یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ لکم جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر جا نہیں سکتا۔“
(ازالہ ص ٦٠٩ خزائن ج ٣ ص ٤٢٩)
علیٰ ہذا القیاس! اس مضمون کو بہت شد و مد سے مرزا قادیانی نے بیان فرمایا ہے کہ ”جسم خاکی کا آسمان پر جانا تو خود بموجب نص قرآن کریم کے ممتنع ہے۔“ (ازالہ ص ٦٢٥ خزائن ج ٣ ص ٤٣٧) غرض جب کسی جسم خاکی کا آسمان پر جانا ہی مرزا قادیانی کے نزدیک عقلاً و نقلاً ممتنع ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہ ﷺ دونوں برگزیدہ نبیوں کا آسمان پر تشریف لے جانا بھی عقلاً و نقلاً روایۃً درایۃً لغو اور بیہودہ خیال ہے (ممتنع ہی جو ہوا) اب یہ بات کہ مرزا قادیانی کی اصل غرض معراج شریف کو باطل کرنا ہے۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو۔ یا دونوں کو؟ یہ مسئلہ اہل نظر کے لیے غور طلب ہے۔ جو کچھ بھی ہو۔ مگر اسلام سے عداوت بہر صورت مدنظر ہے۔ یہ بات مرزا قادیانی سے کہیں نظر انداز نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی کی اصل غرض یہی ہے (خاکش بدہن) کہ اسلام کا نام باقی نہ رہے۔ مگر ہاں گہری پالیسی اور پورے نفاق سے کام لیا جاتا ہے ۔
لوگ مرتد بھی ہو جائیں اور متوحش بھی نہ ہوں۔ اور اسلام کا دم بھی بھرتے رہیں۔ بلکہ صرف اپنے ہی کو مسلمان سمجھیں جیسے کوئی شخص درخت کی جڑ کاٹ دے۔ اور بظاہر اسے خوب پانی دے۔ اور خبر گیری رکھے۔ ناواقف حال یہی کہے گا کہ یہ تو درخت کی سرسبزی چاہتا ہے۔ اس کی غرض درخت کا خشک ہونا کب ہے۔ جو یورپ میں اسلام پھیلائیں۔ برلن میں مسجد بنوائیں۔ بھلا وہی اسلام کے مخالف ہو سکتے ہیں؟ میرے بزرگو! غور فرماؤ۔ یورپ اور برلن میں تو شاید دو چار ہی مسلمان ہوں۔ مگر اسی کید نے ہندوستان میں ان سینکڑوں مسلمانوں کو مرتد بنا دیا جن کے دل میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ رچا ہوا تھا۔ چنانچہ اسی معراج مرزا کو ملاحظہ فرمائیں کہ اگر مرزا کے کہنے کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر دنیا میں اسلام کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ لاہوری قادیانی سب مل کر جواب دیں۔ اور غور کریں کہ ان کو مرزا قادیانی نے جہنم کے کس طبقہ میں پہنچا دیا ہے۔
عبارت سابقہ میں تو معراج جسمانی کو صاف لفظوں میں عقلاً و نقلاً لغو بیہودہ
١٨
خیال اور ممتنع و محال کہا جاتا ہے اور اس عبارت ازالہ کو ملاحظہ فرمائیے کہ اسی کتاب میں کیا گل فشانی فرماتے ہیں:
- (١) ”ہمارے علماء خدا تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے۔ ہمارے سید و مولا
ﷺ کے مرتبہ اور شان کو نہیں دیکھتے۔ کہ سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا ان ہی پر فضل تھا۔ مگر باوجودیکہ آنحضرت کے رفع جسمی کے بارے میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔ جیسا کہ مسیح کے اٹھائے جانے کی نسبت اس زمانہ کے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں۔ یعنی جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٧، ٢٤٨)
- (٢) ”لیکن پھر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں۔
اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رؤیائے صالحہ تھی اور کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ کا نام نعوذ باللہ ملحدہ یا ضالہ نہیں رکھا۔ اور نہ اجماع کے خلاف بات کرنے سے ان میں ٹوٹ کر پڑ گئے۔“ (ایضاً) نہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے معراج جسمانی کا انکار کیا نہ اجماع کا خلاف۔ یہ سب مرزا قادیانی کی خود غرضی ہے کہ جو بات مطلب کے موافق سمجھی اسے لکھ دیا۔ چنانچہ اس کو ہم پہلے عرض کر چکے ہیں۔ یہاں مرزا قادیانی اسلام کی ایک بڑی اصل، اجماع کو بے کار کرنا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے جو چیز یعنی معراج جسمانی ان کے نزدیک عقلاً و نقلاً ممتنع تھی۔ اس وقت اس پر تمام صحابہؓ کا اجماع بیان کر کے ایک طرف تو اجماع کو بیکار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی پوری جماعت کی نسبت یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو بات عقلاً محال ہے جس کو قرآن شریف ممتنع کہے۔ صحابہؓ نے اس پر اجماع کر کے معاذ اللہ بتا دیا کہ ان میں کوئی بھی نہ عقل رکھتا تھا۔ نہ علم قرآن۔ جس قدر قرآنی علم ایک پنجابی مرتد کو تھا۔ اس قدر کل صحابہؓ کو بھی نہ تھا۔ پھر جب صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہ حال تھا۔ اور تمام امت ان ہی کی اقتدا کرتی ہے۔ تو پھر اسلام کا حاصل بھی معلوم ہو گیا کہ وہ کیا کچھ ہوگا؟ علیٰ ہذا القیاس اس کے اور بدنتائج بھی ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ پھر اسی صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں:
”اور آہستگی اور غور سے خوب غور کرو کہ کیا ہمارے نبی ﷺ کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا۔ ایسا عقیدہ نہیں ہے کہ جس پر صدر اول کا اجماع تھا۔“ (ازالہ ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٨) (اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کی یہ عبارت
١٩
بھی پڑھنی چاہیے) ”اجماع کی بنا یقین اور انکشاف کلی پر ہوتی ہے“ (ازالہ اوہام ص ٥٥١ خزائن ج ٣ ص ٣٩٧) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہؓ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو معراج جسمانی کے متعلق یقین اور انکشاف کلی ہو چکا تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا پہلا قول اسے خلاف عقل و قرآن بتاتا ہے۔ مرزائیو! اس دجل کا کوئی جواب ہے؟ کہو اب بھی مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہی کہو گے یا مسیح کاذب اور دجال؟
”اور بعض صحابی جو اس اجماع کے مخالف قائل ہوئے ۔ (خلاف صرف حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان کیا۔ جس کی حقیقت ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمام صحابہ کے ہرگز ہرگز مخالف نہ تھیں۔ اگر کسی کو ان کے قول سے دھوکہ ہوا ہے تو اس نے غور نہیں کیا۔ ورنہ وہ ضرور معراج جسمانی ہی کی قائل تھیں۔ اور جو قول ان سے منقول ہوا ہے وہ معراج روحانی کے متعلق تھا۔ مگر مرزا قادیانی کی چالاکی کہ یہاں ایک جگہ بعض کا لفظ بولے جو دس پچاس کو بھی شامل ہے۔) کسی نے ان کی تکفیر نہ کی نہ ان کا نام ملحد اور ضال اور مؤل اور مخطی رکھا۔“
(ازالہ ص ٢٨٩ خزائن ج ٣ ص ٢٤٨)
جب اجماع کا خلاف ہی نہیں کیا۔ تو پھر کافر ۔ ضال ملحد کیوں نام رکھا جائے؟ بلکہ وہ اجماع کی ایک رکن ہیں۔ یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ جس کا جواب مرزائیوں پر فرض ہے۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی اسی ازالہ میں صحابہ کی تعداد دس ہزار سے کچھ زائد بیان فرماتے ہیں۔“ (ازالہ ص ١٤٤ خزائن ج ٣ ص ١٧٣) اور یہ بھی وہ ہی کہتے ہیں کہ اجماع کی بنا یقین اور کشف کلی پر ہوتی ہے۔ (ازالہ ص ٥٥١ خزائن ج ٣ ص ٣٩٧) اور مسئلہ معراج جسمانی میں اپنے نزدیک صرف ایک صحابیؓ کا خلاف نقل کرتے ہیں۔ اور پھر بھی یقینی قطعی دس ہزار سے زائد صحابہؓ کے اجماع کے انکار سے بھی نہ آدمی کافر نہ ملحد نہ ضال نہ مؤل نہ مخطی کچھ بھی نہیں۔ تو پھر تمام اجماعی مسائل نماز روزہ حج زکوٰۃ حتیٰ کہ خود ایمانِ توحید و رسالت کے انکار سے انسان کیوں کافر و ملحد ہونے لگا ہے؟ بلکہ اب تو مؤل اور مخطی بھی اسے نہیں کہہ سکتے۔ مسلمانو! آپ نے دیکھا؟ بندہ نے جو عرض کیا تھا کہ مرزا قادیانی کی ہر اصل اسلام کے مخالف ہے۔ اگر ایک بات بھی مان لو تو پھر دنیا میں اسلام نہیں رہ سکتا۔ صحیح ہے یا غلط؟ یہ ہیں وہ علوم اور معارف جو مرزا قادیانی لائے۔ اور مرزائیوں کا ان پر ایمان ہے۔ یہی ان کی تبلیغ اسلام ہے۔ مرزائی تو کیا سمجھائیں گے۔ جس کسی صاحب کو ان سے حسن ظن ہو۔ وہ بھی اس معمے کو حل فرمائیں تو میں بہت ممنون
٢٠
ہوں گا۔ جب ایسے قطعی اور صدر اول (یعنی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے اجماع کا انکار کر کے بھی آدمی مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا جیسا مسلمان بنے تو اور اجماعی مسائل کے انکار سے تو صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسا مسلمان ضرور بن جائے گا۔ اور پھر قرآن کا انکار کر کے مدعی نبوت کیوں نہ ہوگا؟ اجماع کیا چیز ہے۔ شریعت میں اس کا کیا مرتبہ ہے۔ اس کے کس قدر مراتب ہیں۔ اور ہر اجماع کا کیا حکم ہے۔ اور اس کے منکر کو کیا کہا جاتا ہے؟ یہ مسائل تو بجائے خود ہیں۔ یہاں تو گفتگو اس میں ہے کہ مرزا قادیانی کے کلام میں جو تعارض ہے اس کا جواب کیا ہے۔ ایک جگہ تو معراج جسمانی کو عقلاً و نقلاً محال فرماتے ہیں اور جسم خاکی کا آسمان پر جانا عقل اور نص قرآن دونوں کے نزدیک ممتنع بتاتے ہیں۔ اور دوسری جگہ معراج جسمانی اور جسم خاکی کا آسمان پر جانا صدر اول کا اول درجہ کا اجماعی مسئلہ فرماتے ہیں۔ اگر زائد کو چھوڑ کر کل صحابہؓ کی تعداد دس ہزار ہی رکھی جائے تو نو ہزار نو سو ننانوے صحابہ کا اجماع تو مسلم ہے۔ اور جس ایک کا خلاف ظاہر کیا تھا غور سے وہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ پھر چونکہ اس اجماع کے قائل مرزا قادیانی ہیں جن کی شان ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی (تذکرہ ص ٣٧٨) ہے۔ پھر وحی اور الہاموں کی بارش ہے اور پھر یہ کوئی پیشینگوئی بھی نہیں جس کے سمجھنے میں غلطی ہوگئی ہو۔ یہ تو ایک گذشتہ واقعہ ہے۔ پھر مرزا قادیانی مرتے وقت تک اس خیال پر جمے رہے۔ تو مرزائی تو کوئی بھی اس اجماع سے انکار کر ہی نہیں سکتا۔ ایک تو مرزائی اس تعارض کو اٹھائیں اور پھر یہ فرمائیں کہ جب بقول مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے اسلام میں ایسے ایسے عقلی و نقلی محال قرآن و حدیث کے خلاف باتوں پر ایسے ایسے سنگین اجماع موجود ہیں جن پر تیرہ سو برس سے اجماع صحابہؓ ہی نہیں ہوا اجماع امت بھی ہے۔ نہ معاذ اللہ کوئی صحابی سمجھے نہ تابعی نہ تبع تابعی نہ آئمہ مفسرین نہ آئمہ مجتہدین۔ پھر نہ اولیاء کو خبر ہوئی۔ نہ اقطاب و اوتاد کو۔ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) اگر یہ سب کے سب نہ سمجھے تھے۔ تو پھر ہر صدی پر جو مجدد اسی قسم کی غلطیاں نکالنے کے لیے تشریف لائے تھے ان کو بھی پتہ نہ لگا۔ نہ مرزا قادیانی آتے نہ یہ غلطیاں معلوم ہوتیں اور نہ یہ معلوم کہ اور کس قدر غلطیاں اسلام میں ایسی ہیں؟ مرزا قادیانی نے تو صرف ایک نمونہ اور ایک راستہ بتا دیا ہے۔ تو کیا پھر یہی اسلام ہے جس کو مرزا قادیانی اور مرزائی دنیا کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔ مرزائی ہوش و حواس درست کر کے جواب عنایت فرمائیں۔ مرزائی دین میں یہ حال تو خیر القرون کا ہے۔ پھر اور
٢١
لوگ کس شمار و قطار میں ہیں۔ اور صحابہؓ ہی پر اعتراض نہیں۔ بلکہ یہ اعتراض تو حضور سرور عالم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ کیونکہ صحابہؓ کی اصلاح اور تربیت تو آپ ﷺ ہی بلا واسطہ فرماتے تھے۔ معراج کا قصہ تو صحابہؓ نے خود سرور عالم ﷺ سے سنا ہے۔ پھر اگر معراج جسمانی عقلاً ونقلاً محال ہے تو یہ اجماع کیسا؟ اور اجماع صحیح ہے تو پھر معراج جسمانی کا محال ہونا کیسا؟ اور معراج جسمانی محال ہے تو اس پر جنہوں نے اجماع کیا وہ کیسے؟ مرزائیو! مجھے مرزا قادیانی سے زیادہ آپ سے شکایت ہے کہ آپ ایسی لغو اور جھوٹ باتوں کو کیسے تسلیم کرتے چلے جاتے ہیں؟ مرزا قادیانی جب جھوٹ بولتے ہیں تو اس درجہ کا بولتے ہیں کہ اس کو وہی قبول کر سکتا ہے جس کو عقل و دیانت ہی سے عداوت نہیں۔ حیا وشرم کا بھی دشمن ہے۔ پھر غضب یہ ہے کہ یہ امور مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ایسے معارفِ شیطانیہ مرزا قادیانی اور ان کی مریدوں ہی کو مبارک ہوں۔ مسلمان تو اس کو سن بھی نہیں سکتے چہ جائیکہ قبول کریں۔
مرزا قادیانی نے سابقہ حوالہ میں تو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کا اجماع معراج جسمانی پر نقل کر کے حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اختلاف نقل فرما کر اجماع کو جو اصول احکام میں بڑی زبردست دلیل ہے بے کار کرنا چاہا۔ اور قرآن شریف کے معنے تو مرزا قادیانی کے اختیار میں پہلے ہی سے تھے۔ احادیث اول تو متواتر و مشہور کم۔ پھر ان میں سے ”جس قدر انبار کو چاہیں خدا سے حکم پا کر ردی کے ٹوکرے میں پھینکنا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٥ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١)
مرزا قادیانی کا منصب اور قیاس تو پہلے ہی مفید قطع و یقین نہیں۔ تو اب غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے یہاں اسلام اور اصول اسلام بازیچۂ اطفال نہ ہوا تو اور کیا ہوا؟۔ یہ مرزا قادیانی کا اصل کام ہے جس کے انجام دینے کے لیے تشریف لائے تھے۔ مگر یاد رہے کہ خدائی پولیس حافظانِ شریعت خادمان مصطفےٰ ﷺ ایسے جو فروش گندم نما منافقوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ جسے گمراہ ہونا ہے وہ گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ مگر علما اسلام اپنے فرض کو ضرور ادا فرمائیں گے۔ اس قصہ میں خیال فرمائیے کہ اول تو صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معراج جسمانی کا مخالف کہا۔ پھر اگلے صفحہ پر فرماتے ہیں ”اور مولوی صاحب کو معلوم ہوگا کہ برخلاف اجماع صحابہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جناب رسول اللہ ﷺ کے معراج کے دونوں ٹکڑوں کی نسبت یہی رائے ظاہر فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ جسم کے ساتھ نہ بیت المقدس میں گئے نہ آسمان پر بلکہ وہ ایک
٢٢
رؤیائے صالحہ تھی۔"
(ازالہ اوہام ص ٢٩٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٠)
آسمان پر تشریف لے جانے کے لیے تو سد سکندری کرۂ زہریر اور زہریلی ہوائیں حائل تھیں۔ جن سے عبور کرنا محال تھا۔ مگر مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کون سا کرۂ زہریر اور کرۂ نار اور زہریلی ہوائیں تھیں۔ جہاں سے سرور عالمﷺ کا گزرنا جدید اور قدیم فلسفہ کے نزدیک محال تھا۔ مرزا کا قلب نہیں چاہتا کہ جناب رسول اللہﷺ کے لیے کوئی فضیلت ثابت کی جائے۔ اس وجہ سے پہلے تو معراج کو خود ہی ایک کشف لکھا تھا جو بیداری سے بھی اعلیٰ درجہ کا تھا۔ وہ کیوں؟ اس لیے کہ اس میں خود صاحب تجربہ تھے۔ اور یہاں حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مذہب حالت کشفی سے بھی گرا کر اسے صرف خواب سے تعبیر کیا۔ اگر یہ قصہ خواب کا تھا۔ تو پھر لیلاً فرمانے کی کیا ضرورت تھی۔ خواب تو مخصوص باللیل نہیں۔ اور عبد کا اطلاق صرف روح پر اس جگہ کب مناسب ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جسمانی معراج سے خلاف کسی نے نقل کیا ہو وہ اس کی قلت تدبر یا رائے کی غلطی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے تو معراج جسمانی کو قطعی یقینی مسئلہ قرار دے کر پھر حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اجماع قطعی کا مخالف قرار دیا ہے۔ یہ ظلم مرزا قادیانی کی قسمت میں تھا۔ وہاں تولی کبرہ راس المنافقین تھا اور یہاں مرزا قادیانی کے سر پر یہ سہرا باندھا گیا۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے قول پر منکرین معراج جسمانی کو چیلنج
کیا کوئی مرزائی حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل ثابت کرسکتا ہے کہ ان کا مذہب یہ ہو کہ جسم خاکی کا آسمان پر جانا عقلاً ونقلاً قرآن و حدیث کی رو سے محال ہے۔ ان سے جو فقرہ منقول ہوا ہے اس کا صحیح مفہوم ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ وہ کسی منامی معراج کی نسبت ہے نہ اس اسراء اور معراج کی جس کا ذکر سبحان الذی میں ہے۔
وہ ذات پاک اور ہر نقصان سے پاک جل وعلیٰ پاک ہے اس امر سے کہ ایک خواب کے قصہ کو قرآن شریف میں اس اہتمام سے بیان فرمائے اور خواب سے فضیلت سرور عالمﷺ بیان فرمائے۔ اور وہ مسجد اقصیٰ جس کو کفار مکہ حالت بیداری میں بارہا دیکھ چکے تھے اس کو خواب میں دیکھنا قرآن شریف میں بیان فرمائے۔
جہاں علماء نے قصہ اسراء کو سبحن کے ساتھ شروع کرنے کی اور وجوہ بیان فرمائی ہیں۔ اگر یہ بھی ہو تو مستبعد نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اور اگر معراج جسمانی
٢٣
کی صدیقہ رضی اللہ عنہا مخالف تھیں تو رؤیت میں خلاف کرنے کے کیا معنی تھے؟ کیا سرور عالمﷺ کے لیے رؤیت منامی بھی جائز نہ رکھتی تھیں؟
چونکہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فخر الانبیاء والمرسلینﷺ کی شان اقدس میں سخت گستاخی کی ہے اور معراج جسمانی کو عقلاً ونقلاً محال کہا ہے۔ اس وجہ سے بھی خدائی غیرت جوش میں آگئی اور مرزا قادیانی کو اس مقام پر انسیاب الی الارض السفلی نصیب کر کے تحت الثریٰ میں پہنچا دیا اور مرزا قادیانی نے ساری عمر میں جس ریت اور بالو کے خشک گھر کو بنایا تھا۔ وہ ایک ہی اپنی قہری آندھی کے جھونکے سے اڑا کر نیست و نابود کر کے مرزا قادیانی کو کذاب و دجال ہونا ثابت فرما کر مرنے سے پہلے دنیا ہی میں خسر الدنیا والاخرۃ کا مزا چکھا دیا۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو جب مسیح موعود بننے کا شوق ہوا تو یہ فکر ہوئی کہ کس طرح عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کر کے جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ثابت کیا جائے۔ تو جب اصلی اور خدائی عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف نہ لاسکیں گے تو پھر نقلی بروزی ظلی مجازی یورپین جدید مشین ہی کے بنے ہوئے عیسیٰ کو وہ جگہ مل جائے گی اس بحث میں ازالہ اور تمام تصنیفات کے اوراق سیاہ کیے ہیں۔ اور یہی مسئلہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے یہاں بڑا مایہ ناز اور مابہ الفخر ہے۔ مگر یاد رہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان وہ اعلیٰ ہے کہ آدم علیہ السلام سے مقابلہ کر کے اور ان کی عزت کو نہ مان کر ابلیس شیطان لعین بنا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کر کے مرزا قادیانی دجال اور ذلیل وخوار بنے۔ اور ایسے چاروں شانہ چت گرے کہ ساری شیخی تاخ بھول گئے۔ اور جس قدر جھوٹ بولے تھے ان میں سے کوئی بھی یاد نہ رہا۔ مرزائیو! قرآن شریف مکمل ہے۔ اس کے جیسے الفاظ و نظم محفوظ ہے ان کے حکم بھی محفوظ ہیں۔ دیکھو قرآن سے مقابلہ کر کے آدمی یوں ذلیل ہوتا ہے جیسے مرزا اور مرزائی، غصہ میں مر بھی جاؤ۔ اور چاہو کابل ہی چلے جاؤ۔ مگر خدا چاہے ناممکن ہے کہ میری بات کا جواب دے سکو۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر تشریف لے جانا اور نزول اجماعی مسئلہ نہیں یہ سلفؒ پر اور صحابہؓ پر تہمت ہے کس نے ان کے اخبار قلم بند کیے ہیں۔ دس ہزار سے زیادہ صحابہؓ میں سے کتنے شخص اس کے راوی ہیں۔ اور پیشینگوئی سے اجماع کو کیا تعلق؟ اجماع کی بنا کشف کلی اور یقین پر ہوتی ہے اور پیشینگوئی کی شان یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیراً ہوتی ہے۔ پیشینگوئی کے معنی تو خود نبی غلط سمجھ جاتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ذکر
کیا ہے خود سرور عالم ﷺ سے (معاذ اللہ العظیم) پیشینگوئی کے سمجھنے میں غلطیاں ہوئیں۔ گویا مرزا قادیانی کے نزدیک پیشینگوئی کے معنی غلط سمجھنا سنت انبیاء ہے۔ یہ مضامین بھی ازالہ میں موجود ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اس معراج کے مقام پر عیسیٰ علیہ السلام کی عداوت اور منصب مسیح موعود کے حاصل کرنے کے شوق میں تحریر فرماتے ہیں اور الغریق یتشبث بالحشیش کا نظارہ دکھلاتے ہیں۔ پھر دیکھنا چاہیے کہ ہمارے نبی ﷺ کی جسمانی معراج کا مسئلہ بالکل مسیح کے جسمانی طور پر آسمان پر چڑھنے اور آسمان سے اترنے کا ہم شکل ہے۔ اور ایک ہم شکل مقدمہ کے بارہ میں بعض صحابہ جلیلہ کا ہماری رائے کے مطابق رائے ظاہر کرنا درحقیقت ایک دوسرے پیرایہ میں ہماری رائے کی تائید ہے۔ یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہمارے نبی ﷺ کی جسمانی معراج کی نسبت انکار کرنا (لعنۃ اللہ علی الکاذبین) درحقیقت اور درپردہ مسیح کے جسمانی رفع و معراج سے بھی انکار ہے۔ سو ہر ایک مومن کے لیے جو آنحضرت ﷺ کی عظمت اور عزت مسیح کی عظمت اور عزت سے برتر و اولیٰ تر سمجھتا ہے طریق ادب یہی ہے کہ یہ اعتقاد رکھے کہ جو مرتبہ قرب اور کمال کا آنحضرت ﷺ کے لیے جائز نہیں وہ مسیح کے لیے بھی بوجہ اولیٰ جائز نہیں ہوگا۔‘‘ (ازالہ ص ٢٩٠ خزائن ج ٣ ص ٢٤٨) جب مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا معراج جسمانی سرور عالم ﷺ کی منکر ہیں اور چونکہ دونوں عروج ہم شکل ہیں۔ اس وجہ سے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے درپردہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی سے بھی انکار کیا۔ اس بنا پر مرزا قادیانی کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نو ہزار نو سو نانوے سے زیادہ صحابہ رضوان اللہ علیہم چونکہ سرور عالم ﷺ کی معراج جسمانی کے معتقد ہیں اور ان پر ان کا اجماع ہوگیا ہے۔ جس کی بنا کشف کلی اور یقین پر ہے تو درپردہ نہیں بلکہ علی الاعلان یہ دس ہزار سے زائد یہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اس پر بھی متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی بھی ہوا۔ اور نزول جسمانی بھی ہوگا۔ اور یہی مسئلہ خیرالقرون کا مجمع علیہ و متفق علیہ و اجماعی ہے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی و نزول جسمانی کے معتقد ہوں۔ اور کوئی تابعی یا تبع تابعی اس کا انکار فرمائے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ پھر تمام ائمہ مجتہدین و ائمہ مفسرین و جمیع فقہاء و متکلمین اور تمام صوفیائے کرام و اولیائے عظام۔ اقطاب۔ ابدال اور جملہ مجددین ملت کا بھی اس پر اتفاق ہوگا۔ اور اتفاق ہے۔ مرزا قادیانی کا کلام بھی ہم بتا دیں گے جیسے خدا کے فضل سے یہ بتا دیا ہے تو اب بتاؤ کہ مرزا قادیانی
٢٥
کی خانہ ویرانی ہوئی یا نہیں؟ یہ شیخ چلی کا گھر جو مرزا نے صد ہا جھوٹ اور غلط باتیں بنا کر بنایا تھا۔ اس کا حاصل تو صرف اس قدر تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ان کا رفع جسمانی محال ہے۔ اور نزول فرع عروج کی ہے جب عروج ہی محال ہے تو نزول خود بخود محال ہوگا۔
بس پھر کیا تھا مرزا قادیانی مسیح موعود بنے بنائے ہیں۔ اور مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے۔ لہٰذا وحی کی بارش بھی شروع ہو گئی۔ آہستہ آہستہ بروزی ظلی ظاہر ہوتے ہوتے حقیقی نبی صاحب شریعت بھی بن گئے۔ مرزا قادیانی کے تمام کارخانہ کی بنیاد اسی مسیحیت پر ہے اور یہی وہ بات ہے جس کو تمام مرزائی تسلیم کرتے ہیں اور یہی وہ امر ہے جس کو ظہیر الدین اروپی کہتے ہیں کہ جب مسٹر محمد علی لاہوری نے مرزا قادیانی کو موعود تسلیم کرلیا تو اب کسر کس بات کی رہ گئی۔ مرزا قادیانی کے مسیح موعود بننے میں صرف اس امر کی دیر تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور رفع جسمانی کا محال ہونا ثابت ہو جائے پھر اس کرسی پر کسی کی کیا مجال جو قدم رکھ لے۔ مگر دیکھا کہ انبیاء علیہم السلام کی عداوت اور احکام الٰہی کی مخالفت آخرت سے پہلے آدمیوں کو یوں رسوا و خوار کرتی ہے۔ فرمائیے تو اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عروج اور نزول جسمانی باجماع جمیع صحابہؓ و مرزائیوں کے اقرار سے ثابت ہو گیا۔ ابھی چون و چرا کی گنجائش ہے؟ اب مرزا قادیانی کو کس کرسی پر بٹھایا جائے گا؟ اب تو ہمت کرکے کہہ دو کہ مرزا قادیانی مسیح تو ضرور ہیں مگر المسیح الدجال المسیح الکذاب۔ مگر غالباً آپ یہ فرما دیں گے ؎
اب ہو چکا یہ جس کا طرف دار ہو چکا
تو بہت اچھا آپ کو اختیار ہے مگر اس قدر اور بتا دو کہ جس اسلام کا دعویٰ کرتے ہو۔ جس اسلام کو دنیا کے روبرو پیش کرتے ہو جس کی تبلیغ کا دعویٰ کرتے ہو جس کی اشاعت یورپ میں کرنے گئے ہو۔ وہ یہی مرزائی دھرم مجموعہ خیالات متضادہ ہے یا کچھ اور ہے؟ اب اسلام کا نام بھی لے سکتے ہو۔ یہی مرزا قادیانی نیا علم لے کر آئے ہیں؟ یہی تمام مذاہب باطلہ سے مقابلہ کریں گے؟ جن کو اپنے دعویٰ اور دلیل کی بھی خبر نہیں جس دعویٰ کو تمام عمر ثابت کرنے کے لیے دین ایمان حیا و شرم سب کچھ صرف کر دی اتنی بڑی بڑی کتابیں تصنیف کیں مگر حاصل یہ ہے کہ آخر میں اس کو خود اپنے ہی اقرار سے خاک میں ملا دیا۔ اگر نہ سمجھے ہو تو پھر سمجھو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”معراج
٢٦
جسمانی پر تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جن کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔ اجماع ہے جس کی بنا یقین اور انکشاف کلی پر ہے۔ اور یہ مسئلہ کوئی پیشینگوئی بھی نہیں جس پر ایمان اجمالی ہو اور صرف الفاظ ہی الفاظ ہوں۔ اور معنی مرزا قادیانی تیرہ سو برس کے بعد آن کر گھڑ ڈالیں۔ اور چونکہ یہ معراج جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول جسمانی کے ہم شکل ہے تو جو حکم ایک مقدمہ کا ہے وہی دوسرے میں ہے۔ تو جب یہاں اجماع ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول جسمانی پر بھی تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ثابت ہوگیا۔ یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ اس اجماع صحابہؓ سے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی باہر نہیں رہ سکتیں۔ کیونکہ معراج جسمانی میں جس لفظ سے کسی نے ان کا خلاف سمجھا ہے وہ یہ لفظ ہے کہ جسم مبارک غائب نہیں ہوا۔ روحانی اسراء ہوئی۔ انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا فلسفہ جدید اور قدیم محال کہتا ہے۔ (نہ معلوم مرزا قادیانی فلسفہ جدید اور قدیم کی حقانیت کی بناء پر اور کن کن مسائل اسلامیہ کو محال اور ممتنع کہیں گے میرے نزدیک تو مرزا قادیانی کے نزدیک اسلام ہی ایک غلط اور لغو اور باطل ہے اور ممتنع خیال ہے چنانچہ اس کی تائید ابھی ہوئی جاتی ہے) اور نص قرآنی سے جسم خاکی کا آسمان پر جانا ممتنع ہے۔ ورنہ وہ اس استدلال کو بیان فرمائیں اور ظاہر ہے کہ جو فقرہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہوا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ معراج جسمانی نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ پہلے بیان کرچکا ہوں تو پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض نہ کرنا۔ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا معراج جسمانی کی مخالف ہی نہ تھیں بلکہ وہ حال کسی معراج روحانی کا تھا۔
تو جب یہ ناممکن ہے کہ حسب قرار داد مرزا قادیانی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی و نزول جسمانی پر تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اجماع ہو اس سے حضرت صدیقہؓ باہر رہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی حضرت صدیقہؓ کا درپردہ اقرار نہ فرماتے۔ تو اس طرف تو تمام خیرالقرون کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول جسمانی پر اجماع اور ادھر مرزا قادیانی کا یہ حکم کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا عقلاً و نص قرآنی سے ممتنع ہے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول جسمانی کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے۔ اور بالکل لغو اور باطل خیال اور فساد عظیم کا باعث ہے۔ اور اسلام کے تباہ ہونے کا سبب
٢٧
ہے ۔ نہ اس پر اجماع ہوا۔ نہ پیشینگوئی پر اجماع ہو سکے۔ پیشینگوئی حاملہ عورت کی طرح ہے۔ اور اجماع کی بناء یقین اور انکشاف کلی پر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام قطعاً یقیناً فوت ہو گئے۔ قرآن کی تیس آیات اور احادیث صحیحہ عقل و نقل اور قرآن ان کو مارتا ہے۔ اور جو مر گیا اس کو لوٹ کر آنا محال ہے۔ اور اسی کے ساتھ امت محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والتحیہ اس عقیدہ شرکیہ پر متفق۔ حتیٰ کہ سالہا سال تک مرزا قادیانی بھی اسی عقیدہ شرک عظیم پر جمے رہے اور جو نئے معنی خاص مرزا قادیانی پر منکشف بھی ہوئے تو جب کہ خود ٥٢ یا ٥٣ سال کی عمر تک مشرک رہ لیے۔ تو اب پھر اسلام کا کیا اعتبار ہے۔ (نعوذ باللہ) ایسا دین کب قابل اعتبار ہے جس کے حامل ایسے ہوں اور وہ کتاب کب خدائی کتاب ہو سکتی ہے کہ جس کے معنی نہ کوئی اہل لسان سمجھے نہ معاذ اللہ خود صاحب کتاب سمجھے۔ نہ صد ہا سال تک اس کے علماء سمجھیں۔ نہ اس کے مجدد اور محدث سمجھیں جس کتاب کے معنی تیرہ سو برس کے بعد سمجھے۔ اور وہ بھی وہ شخص جو تمام انبیاء علیہم السلام سے معاذ اللہ برابر ہی نہیں بڑا ہو۔ جس کے نشانات تمام انبیاء علیہم السلام سے زائد ہوں اور وہ بھی ایک دو دفعہ ہی نہیں سالہا سال تک وحی بھی بارش کی طرح برسے۔ جب کہیں صحیح مطلب معلوم ہوا۔ اور وہ بھی ایسا مطلب کہ تمام اہل لسان حاملین مذہب اسے غلط کہیں۔ اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس قسم کی اور کس قدر غلطیاں اس کتاب کے اندر باقی ہیں؟ جو مسئلہ آفتاب کی طرح روشن اور دن کی طرح بدیہی ہو وہ بھی کسی کی سمجھ میں نہ آوے۔ نہ وہ کتاب کتاب اللہ ہو سکتی ہے۔ اور نہ وہ قابل عمل ہے۔ نہ اس پر عمل عقلاً جائز۔ نہ وہ مذہب خدائی مذہب ہو سکتا ہے۔ جس کی کتاب کا یہ حال ہو۔ مرزا قادیانی نے تو نعوذ باللہ قرآن شریف کو وید بنا دیا۔ کیوں نہ ہو کرشن جی مہاراج ہی جو ہوئے۔ فرمائیے مرزا قادیانی کی اس ایک عبارت سے مرزا قادیانی کا تمام ساختہ پرداختہ بھی خاک میں مل گیا۔ اور اگر مرزا قادیانی کو سچا جانتے ہو تو اسلام قابل اعتبار نہ رہا۔ اور مرزا قادیانی بھی بوجہ تعارض کلام کے قابل اعتبار نہ رہے۔ واہ رے مرزائی مذہب، کسی نے سچ کہا ہے ننگی نہ نہاوے نہ نہانے دے۔ جھوٹا نہ خود سچا ہے نہ دوسروں کو سچا رہنے دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کو سچا مان کر اسلام سے تو ہاتھ دھونا ہی پڑتا ہے مرزا قادیانی کو بھی بے کذاب و دجال کہے کام نہیں چلتا۔ معراج جسمانی سرور عالمﷺ کو محال کہنا آسان نہیں۔ آخرت کی خبر تو خدا کو ہے۔ مگر دنیا ہی میں کس قدر ذلت اور رسوائی ہوئی مذہب کا مذہب ہاتھ سے گیا۔ عیسیٰ علیہ ٢٨
الہام کا عروج اور زوال بھی اجماعی مسئلہ ثابت ہو گیا۔ جس کے لیے تمام عمر گنوائی تھی۔ اسلام کے ساتھ جو دشمنی اور عداوت تھی وہ بھی کھل گئی۔ جہالت نادانی علیحدہ ثابت ہوئی۔ مثل مشہور ہے عیب کردن را ہنرے باید مرزا قادیانی اس قدر جھوٹے مگر جھوٹ بولنا بھی نہ آیا۔ ایک کتاب کا جھوٹ کم سے کم اس کتاب میں تو چھپاتے۔ مگر سچ ہے من لم یجعل اللہ لہ نورا فمالہ من نور ۔
مرزائیو! اب بھی توبہ کرلو۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ ورنہ پھر رائے یہ ہے کہ کابل میں چلے جاؤ۔ امیر صاحب کو بکریاں بقول مرزا قادیانی بہت پسند ہیں۔ ٨٠٠٠٠ کی اور فرمائش ہے۔ مرزا قادیانی کا الہام پورا ہو جائے تو اچھا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی عظمت کرو۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء مانو۔ آپؐ کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ جو مدعی ہے وہ من الرحمٰن نہیں۔ بلکہ من الشیطان ہے۔
مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے کہ آپؐ خاتم الانبیاء ہیں آپؐ کو معراج جسمانی ہوئی۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور مسجد اقصیٰ سے پھر آسمانوں پر تا ماشاء اللہ تعالیٰ پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پھر مقام قاب قوسین او ادنیٰ ثم دنی فتدلیٰ پر پہنچے۔ پھر خلوت خاصہ سے مشرف فرمائے گئے۔ فاوحی الی عبدہ ما اوحی اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمداً رسول اللہ خاتم النبیین لانبی بعدہ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین اللہم احشرنا فی امتہ واتباعہ وارزقنا شفاعتہ یوم القیامۃ انک علی کل شیء قدیر ہ
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گزشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف =/350 روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
اشد العذاب علی مسیلمۃ الفنجاب
یعنی دین مرزا کفر خالص ہے
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ الذی ازہق الباطل فجاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا وننزل من القران ماہو شفاء ورحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظلمین الا خساراط وصلی اللہ علی خیر خلقہ وخاتم الانبیائہ ورسلہ وعلیہم وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیراً کثیراًط
اما بعد۔ اس رسالہ کی غرض یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی متنبیٰ کاذب اور اس کے اذناب اور جو اس کے عقائد باطلہ پر مطلع ہونے کے بعد اس کو ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی سمجھیں وہ سب کافر اور مرتد ہیں۔ مرزا قادیانی اور تمام مرزائی چاہے پیغامی لاہوری ہوں یا قدنی (ایک گستاخ مرزائی نے اس وجہ سے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو مدنی بھی کہا جاتا ہے اس کا قافیہ بنانے کے لیے قادیان کی نسبت بجائے قادیانی کے قدنی لکھی اب داروغہ عبدالرحمن صاحب مونگیری کے پورے اشعار تو یاد نہیں مگر ایک شعر یاد ہے ؎
...... اس وجہ سے مرزا محمود اور ان کے اذناب کو قدنی لاہوریوں کو پیغامی اور مطلق مرزائیوں کو مرزائی و قادیانی کہا جائے گا۔) میانی (چونکہ مرزائی مرزا محمود کو میاں صاحب کہتے ہیں اس وجہ سے ان کی طرف نسبت میانی ہو گی میانی کی وجہ بھی آگے ظاہر
ہو جائے گی (یہ بھی قادیانی ہیں)۔ درمیانی گروپ ظہیر الدین کے اتباع ہوں، یا گنا چوری یا بتا پوری کے ہوا خواہ، اسلام سے سب خارج ہیں، مرتد ہیں کافر ہیں۔ جو بعض مسلمان ان کے کفریات ملعونہ پر مطلع ہونے کے بعد بھی ان کو مسلمان ہی جانتے یا کہتے ہیں ان کی غرض چاہے احتیاط ہو یا تحفظ جمعیت یا مسلمانوں کی مردم شماری کا زیادہ کرنا یہ لوگ بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی طرح اسلام سے خارج اور ویسے ہی مرتد ہیں۔
انہیں دو غرضوں کے اظہار کے لیے یہ رسالہ لکھا گیا ہے جو شخص اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھے گا اس کو ان دونوں امروں میں انشاء اللہ تعالیٰ شبہ باقی نہ رہے گا، چونکہ اسلام و ایمان سے زیادہ مسلمان کے نزدیک کوئی چیز بھی نہیں ہے اس وجہ سے جن حضرات کو مرزا قادیانی یا مرزائیوں کے کفر و ارتداد میں کوئی شک و شبہ ہو وہ اس رسالہ کو ضرور بالضرور کم سے کم ایک مرتبہ ملاحظہ فرمالیں۔ وما علینا الا البلاغ۔
یہ رسالہ مرزائیت کے تباہ کرنے کے لیے ایک میگزین ہے، اس میں ان کے وہ کفریات ہیں جن سے انکار ناممکن ہے ہر بے دین اور مرزائی بالعموم اور بعض نیم مرزائی اور اکثر نیچری اور بعض انگریزی تعلیم یافتہ بھی شبہ کرنے لگتے ہیں کہ علماء فتویٰ تکفیر میں بہت عجلت کرتے ہیں ادنیٰ ادنیٰ فروعی باتوں میں کفر کا فتویٰ دے دیتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں، ہر جماعت دوسری جماعت کو کافر بتاتی ہے علماء کی شمشیر تکفیر کبھی میان میں ہوتی ہی نہیں علماء اسلام کا آج سے نہیں ہمیشہ سے یہی کام رہا ہے، جو قوم کا مصلح خیر خواہ ہوا جو روشن خیال وسیع الحوصلہ روشن دماغ ہوا جس نے مسلمانوں کو ترقی کی راہ بتائی اس کا اور تو ان سے کچھ نہ ہو سکا اس خوف سے کہ لوگ اس کے معتقد نہ ہو جائیں ہمارے حلوے مانڈے میں فرق نہ آجائے ایک ہی ہاتھ ان کا خوب صاف تھا، اسی کی تمام عمر مشاقی کی تھی بس بڑی بڑی مہریں لگا کر کفر کا فتویٰ دے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تکفیر سے نہ کوئی بڑا عالم بچا نہ کسی ولی قطب غوث صوفی نے نجات پائی نہ کسی دنیا دار کو ان کفر کے ٹھیکیداروں نے چین لینے دیا نہ کسی دیندار کو آرام سے یاد خدا کرنے دی۔ غرض ان کے نشانہ سے کوئی بھی نہ بچا، لہٰذا علماء کی تکفیر کی طرف اصلاً توجہ ہی نہ ہونی چاہئے، اوّل اوّل یہ کافر کہتے ہیں بعد میں جسے کافر کہا تھا پھر اس کے معتقد ہو کر اسی کو ولی اور غوث اور قطب کہہ کر اس کے فضائل میں تصانیف کر کے جن امور کو موجب کفر کہا تھا اب انہیں امور کو معارف قرآنیہ اور کرامات بتاتے ہیں۔
اس آخری بات کو قدرے تفصیل سے رسالہ ”دشمن ایمان مرزا قادیان“ بیان
٣
کیا ہے وہاں ملاحظہ ہو بقدر ضرورت یہاں بھی عرض کر دیا جائے گا۔ نہ علمائے اسلام جلد باز ہیں نہ فروعی و ظنیات اور اجتہادی امور میں کوئی تکفیر کرتا ہے بلکہ جب تک آفتاب کی طرح کفر ظاہر نہ ہو جائے یہ مقدس جماعت کبھی ایسی جرأت نہیں کرتی حتی الوسع کلام میں تاویل کر کے صحیح معنی بیان کرتے ہیں مگر جب کسی کا دل ہی جہنم میں جانے کو چاہے اور وہ خود ہی اسلام کے وسیع دائرہ سے خارج ہو جائے تو علماء اسلام مجبور ہیں جس طرح مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے اسی طرح کافر کو مسلمان کہنا بھی کفر ہے چنانچہ انشاء اللہ مرزا قادیانی کے معاملہ ہی میں معلوم ہو جائے گا کہ علماء نے کس قدر احتیاط کی، مگر جب کلام میں تاویل کی گنجائش نہ رہے اور کفر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے تو پھر بجز تکفیر کے چارہ ہی کیا ہے ۔
ایسے وقت میں اگر علماء سکوت کریں اور خلقت گمراہ ہو جائے تو اس کا وبال کس پر ہوگا؟ آخر علماء کا کام کیا ہے جب وہ کفر و اسلام میں فرق بھی نہ بتائیں تو اور کہا کریں گے، بندہ کی عرض کو بغور ملاحظہ فرمائیے تو خدا چاہے جو عرض کرتا ہوں اس کا اقرار ہی کرنا ہوگا۔
مرزا اور ان کے جملہ اذناب قطعاً کافر اور اسلام سے خارج ہیں
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں ایک جگہ یہ مضمون تحریر فرمایا ہے کہ ”میری صداقت کے لیے جو نشانات مجھے دیئے گئے ہیں وہ ایک کروڑ ہوں گے اور اگر بہت ہی جانچ کی جائے تو دس لاکھ سے تو کم ہو ہی نہیں سکتے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٨، خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
یہ تو مرزا قادیانی کی گپ ہے اور وہ جھوٹ ہے جس کے لیے شیطان نے انہیں وحی کی ہوگی، مگر ہاں اگر میں یہ کہوں کہ مرزا قادیانی کے کفر کے وجوہات ایک کروڑ ہونگے اور اگر بہت ہی جانچ کی جائے تو دس لاکھ سے کم نہ ہوں گے تو غالباً یہ مبالغہ نہ ہوگا اور جس طرح سے مرزا قادیانی نے اپنے معجزات ایک کروڑ یا دس لاکھ ثابت کیے ہیں اگر پیغامی اور قدنی خلیفہ توبہ کا وعدہ کریں تو پھر میں اس کو ظاہر بھی کر دوں اور بتا دوں کہ مرزا قادیانی نے جو شیخ چلی کا گھر بنایا تھا وہ تو گر گیا مگر ہاں کفر جو مرزا قادیانی پر عاشق و لازم ہے اگر کم سے کم دس لاکھ وجہ سے بھی کافر نہ ہوئے تو یہ کیسے صادق ہوگا
٤
کہ مرزا قادیانی کی تمام نبیوں نے خبر دی تھی مرزائیوں، پیغامیہ، قدنیہ وغیرہ وغیرہ میں جو کہتا ہوں بفضلہ یہ مرزا قادیانی کے اضغاث احلام نہیں، دماغ کی خشکی کا اثر نہیں، کسی لڑکی کے عشق کے مجنونانہ بخارات نہیں ہیں جس نے دل و دماغ کو پریشان کر دیا ہو، اس بیان کی بنا واقعات پر ہے جس کو چھپانا یا جھٹلانا خدا چاہے محال ہے، اگر ہمت ہے تو کوئی مرزائی قادیانی مرد میدان بنے اور اپنا اور اپنے گروہ کا کم سے کم کفر اور ارتداد ہی دفع کر دے۔ مجدد، محدث، ولی، امام، نبی بروزی، ظلی مجازی، لغوی، حقیقی، تشریعی، حائضہ ہونا، حاملہ ہونا، اطفال اللہ جننے، مریم، ابن مریم، عیسیٰ، موسیٰ، آدم، نوح، ابراہیم، یوسف غرض فخر الانبیاء اور کل انبیاء ہونا بلکہ اُن کی مثل ہونا، ہاں سب سے بڑا ہونا، خدا ہو کے آسمان و زمین بنانا ؎
کیوں نہ ہو محمد، احمد ﷺ ہونے کا بھی خواب نہیں نہیں وحی آچکی۔ نقل کفر کفر نباشد، العود احمد کا خیال کیا جائے تو افضل بھی ہووے اور جری اللہ فی حلل الانبیاء بھی تو الہام ہے اب تو منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک کے بھی مصداق ہو گئے۔
غرض مرزا قادیانی کے دعوے تو مرزا قادیانی کے معجزات کی طرح بے شمار ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا ہے میں تو تمام قادیانیوں بالخصوص امیر پیغامی اور امیر میانی سے صرف اس قدر عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا اور اپنا، اور مرزائی قادیانی، قدنی، پیغامی وغیرہ اور جو ان کو مسلمان سمجھے ان کا صرف ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مسلمان ہونا ہی ثابت فرما دیں تو بڑا کام ہے، مگر خدا کے فضل پر بھروسہ کر کے عرض کرتا ہوں کہ کسی مرزائی میں یہ طاقت نہیں ہے، نہیں ہے، پھر یورپ میں کاہے کی تبلیغ ہے اور کیا فخر ہے؟ مرزائیت کا خاتمہ تو شائع ہو چکا، جب مرزائیت کا جنازہ نکلے گا اس وقت یہ کہوں گا کہ مرزا قادیانی گو کافر ہیں مرتد ہیں۔ کفر اور ارتداد کے علاوہ بھی ان کا سچا ہونا ثابت کر دو۔ کفار میں بھی صادق ہوتے ہیں کہ معمولی باتوں میں جھوٹ کو باعث عار سمجھتے ہیں مرزا قادیانی کو یہ نصیب نہ ہوا۔ بتاؤ مرزا قادیانی کے کس قدر جھوٹ بتاؤں تو آپ لوگ بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا کہیں دل کو کڑا کر کے کہہ دو کہ اس قدر جھوٹ مرزا قادیانی کے شان کے مناسب ہیں غرض ؎
خاتم ہی جو ہوئے کمی کیا ہے سوائے ایمان اور صداقت کے سب کچھ موجود ہے۔
٥
مرزا قادیانی کے کفریات کو تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس قدر ان کے کفر ظاہر ہوئے اور کس قدر دل میں ساتھ لیئے گئے مگر کلیات کے طور پر ان کے کفر کی پانچ انواع ہیں پھر ہر نوع کے تحت میں جزئیات کثیرہ داخل ہیں۔ ایک توہین انبیاء علیہم السلام، دوسرے انکار ختم نبوت، تیسرے دعویٰ نبوت حقیقیہ شرعیہ، چوتھے انکار بعض ضروریات دین، پانچویں نسخ بعض احکام اسلامیہ۔۔ گو چوتھی نوع میں سب مندرج ہیں اور درحقیقت وجہ کفر اور ارتداد کی ایک ہی ہے یعنی بعض ضروریات دین کا انکار، مگر ہم نے اور قسموں کو جو علیحدہ قسم بنایا ہے اس کی غرض اہتمام بالشان اور مرزا قادیانی کے انداز کو ملحوظ رکھنا ہے، چونکہ اکثر مسلمانوں کو ان کی کفریات کا علم نہیں، دوسرے ہر شخص کے پاس کتاب نہیں پھر اس قدر وقت کہاں اور تلاش کون کرے؟ اس وجہ سے ان کفریات مرزا کو ایک جگہ لکھ کر حوالہ دینے اور طبع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، تاکہ مسلمان ان کے حال سے واقف ہو جائیں اور ان کا کفر اور ارتداد ہر شخص معلوم کر لے۔
اسلام اور کفر کی حقیقت
جو عقیدہ اور جو فعل نفیاً و اثباتاً جناب رسول اللہ ﷺ سے بطریق قطع و یقین جس طرح سے ثابت ہوا ہے اس کا اعتقاد اور یقین اور تسلیم اور اقرار کرنا ہی ایمان ہے غرض شریعت سے جو عقیدہ یا فعل جس حیثیت سے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہوا ہے اسی طرح سے اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور کسی امر قطعی الثبوت قطعی المراد کا انکار کرنا یہی کفر ہے۔ اگر کسی شخص نے شروع ہی سے تسلیم نہیں کیا تو وہ کافر ہے، اور اگر تمام دین کو قبول کر کے پھر کل یا بعض قطعیات کا انکار کرنے سے کافر ہوا تو وہ مرتد بھی ہے بعض نے ارتداد کے لیے علاوہ قطعی اور یقینی ہونے کے یہ بھی شرط کیا ہے کہ وہ امر ضروریات دین سے بھی ہو یعنی اس کا دین سے ہونا ہر عام اور خاص مسلمان جانتا ہو غرض کسی ضروری دین کا انکار قطعی یقینی باتفاق کفر اور ارتداد ہے صرف توحید اور رسالت ہی کے انکار کرنے سے مسلمان مرتد نہیں ہوتا بلکہ جو ضروری دین ہے اس کے انکار سے باتفاق امت مرتد اور کافر ہو جائے گا توحید اور رسالت کا انکار بھی تو موجب ارتداد اسی لیے ہوا ہے کہ وہ ضروریات دین سے ہے تو پھر اس میں اور دوسرے ضروریات دین میں کوئی فرق اس وجہ سے نہیں ہو سکتا جب ایمان اور اسلام کی حقیقت یقین اور تسلیم اور اقرار ہے تو جو شخص توحید و رسالت اور تمام ضروریات دین پر ایمان لے آیا ہے اور ان کو
اسی طرح تسلیم کرتا ہے جیسے وہ ثابت ہوئے ہیں، تو اب اگرچہ وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو ضرور مومن ہے اور خاتمہ بالخیر ہوا تو ضرور اس کو خدا چاہے نجات حقیقی اور جنت ملے گی اور راحت ابدی کا مستحق ہے۔ بخلاف اس بد نصیب کے کہ جو نماز و روزہ بھی ادا کرتا ہے اور تبلیغ اسلام میں ہندوستان ہی میں نہیں تمام یورپ کی خاک بھی چھانتا ہو بلکہ فرض کرو کہ اس کی سعی اور کوشش سے تمام یورپ کو اللہ تعالیٰ حقیقی ایمان و اسلام بھی عنایت فرما دے، مگر اس دعوائے اسلام و ایمان اور سعی بلیغ اور کوشش وسیع کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو جو گالیاں دیتا ہو، رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء بمعنیٰ آخر الانبیاء نہ جانتا ہو، اللہ کو معاذ اللہ جھوٹا جانتا ہو، جھوٹ بولنا اس کی عادت بتاتا ہو، اللہ ایک حتمی اور قطعی خبر دے کہ فلاں دن فلاں وقت یوں ہو گا اور وہ خبر بھی ایسی ہو جو ایک نبی کے دعوائے نبوت کا معجزہ ہو، معیار صداقت ہو مگر پھر باوجود لفظوں میں کچھ نہ ہونے کے کوئی شرط مضمر رکھ لے اور وعدہ خلافی کر کے نبی کو معاذ اللہ رسوا کرے اور اس کی امت کو گمراہ کر دے اور یہی خداوند عالم کی عادت مستمرہ بتائے یا اور ضروریات دین کا انکار کرے وہ قطعاً یقیناً تمام مسلمانوں کے نزدیک مرتد ہے کافر ہے اس کی مثال ایسی ہے جس کو کسی دیوانہ کتے نے کاٹ لیا ہو اور اس کا زہر اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر چکا ہو اور ہڑک اُٹھ چکی ہو وہ تمام دنیا کو چاہے سیراب کر دے تمام ہندوستان کے دریا اور نہریں اسی کے قدموں کے نیچے سے بہتی ہوں مگر اس بد نصیب کو ایک قطرہ پانی کا نصیب نہیں ہو سکتا وہ دنیا کو سیراب کرے مگر خود تشنہ کام ہی دنیا سے رخصت ہوگا۔ ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر۔
(کنزالعمال ج ١٠ ص ١٨٣ حدیث ٢٨٩٥٥) دین کے کام کرنے سے مغرور نہ ہونا چاہیے قابل لحاظ یہ ہے کہ وہ خود بھی مسلمان ہے یا نہیں، علیٰ ہذا القیاس کسی فاسق اور فاجر کو دیکھ کر اسے ذلیل اور بے دین نہ سمجھے جب کہ ایمان اس کے قلب میں موجود ہے۔
پیغامیو، قدنیو، اب سمجھا کہ مرتضیٰ حسن چاند پوری، قادیانی و مرزائیوں، قادیانیوں، قدنیوں، پیغامیوں سے عام گنہگار مسلمان کو کیوں اچھا سمجھتا ہے، معاصی سے مناسبت نہیں بلکہ ایمان کی قدر ہے اور تمہارے نماز روزہ سے نفرت نہیں بلکہ تمہارے کفر نے متنفر کر دیا ہے، آج مسلمان ہو جاؤ پھر دیکھو تمہاری کیسی قدر کرتے ہیں، لاہور کے جلسہ کی تقریر کا حاصل سمجھ میں آیا یا نہیں؟ حقیقت اسلام و کفر ہی قلب کے ساتھ وابستہ ہے، کسی فعل کے کرنے یا نہ کرنے سے آدمی مسلمان یا کافر نہیں ہوتا۔ ہاں بعض فعل ایسے بھی ہیں جن کو شریعت نے انکار وغیرہ کی دلیل سمجھا ہے جیسے بت کے سامنے سجدہ
٧
کرنا وغیرہ ایسے وقت اس کو کافر کہا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ فعل تصدیق اور ایمان قلبی کے منافی ہے، ایمان کے ساتھ وہ فعل جمع نہیں ہو سکتا گو وہ شخص ایمان اور تصدیق کا اقرار کرے مگر وہ اس فعل کے ساتھ قابل اعتبار نہیں۔
مثال کی ضرورت ہو تو حقیقت الوحی کے اوراق دیکھو مرزا قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کو برابر مرتد مرتد لکھتے ہیں، (حقیقت الوحی ص ٢٩۔ ١٢٨ خزائن ج ٢٢ ص ٧٢۔ ١٣١) کیا ڈاکٹر صاحب توحید کے قائل نہ تھے جناب رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے منکر تھے، قرآن کو نہ جانتے تھے؟ مگر چونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ڈاکٹر صاحب نے ایک ضرورت دین کا انکار کیا تھا اس وجہ سے ان کو مرتد ہی کہا۔ قادیانیو! اگر تمہیں خدا سے اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے شرم نہیں تو مرزا قادیانی سے تو شرم کرو کہ آج مرتد کے لیے نئے معنے گڑھنے لگے، اور شرم کرنی چاہیے ان لوگوں کو کہ مان نہ مان میں تیرا مہمان، مرزائیوں کے خوش کرنے کے لیے وہ بھی مرتد کی عجیب وغریب تعریف کرتے ہیں حالانکہ جن کو ارتداد سے وہ بچانا چاہتے ہیں وہ خود اپنی کتابوں کی رو سے مرتد ہیں۔
مرزائیوں کا ایمان و اسلام
اگر مرزائیوں کے نزدیک ایمان اور اسلام کفر و ارتداد کی یہ حقیقت نہیں تو وہ بیان فرمائیں کہ وہ کیا حقیقت ہے مگر مرزا قادیانی کی تصنیف کو پیش نظر رکھیں کیونکہ ابھی تو کوئی اور مجدد بھی نہیں آیا جو ایمان و اسلام کفر و ارتداد کی حقیقت بھی نئی بتا دے، قدیو، تم تمام دنیا کے مسلمان کو کافر اور مرتد اسی وجہ سے کہتے ہو کہ مرزا قادیانی کو نہیں مانتے، پھر کہو مسلمان توحید رسالت قرآن شریف کس چیز کے منکر ہیں؟ چونکہ تمہارے نزدیک ایمان میں یہ بھی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرے اس وجہ سے تم تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہو، تو پھر جب تمام دُنیا کے سچے اور حقیقی مسلمان ایک جھوٹے نبی کو نہ ماننے کی وجہ سے تمہارے نزدیک کافر ہو گئے، تو اب تم ہی بتاؤ کہ مرزا قادیانی بوجہ توہین انبیاء علیہم السلام اور انکار ختم نبوت و دعویٰ نبوت و انکار قطعیات اسلامیہ وتحریف آیات قرآنیہ کافر مرتد نہ ہوں گے؟ ہوں گے اور ضرور ہوں گے اور صرف وہ ہی نہیں بلکہ ساتھ تم تمام مرزائی بھی آگے آگے ہوں گے۔
٨
مرزائیوں کا نفاق اور مذہب کا چھپانا ظاہر
میں اختلاف اور حقیقت میں سب ایک ہیں
مسلمانو! غور تو فرما، ظہیر الدین اروپی مرزا قادیانی کو مستقل نبی صاحب کتاب ناسخ قرآن شریف کہے، کلمہ نیا، کتاب نئی، قبلہ جدا، قدنیوں اور پیغامیوں کی زبان پر اس کے خلاف اور یہ تمام باتیں اسلام کے خلاف، مگر میرے علم میں نہیں کہ تینوں گروہ میں کوئی کسی کی تکفیر کرتا ہو، اگر مطلقا نبوت شرعیہ پیغامیوں کے نزدیک اور نبوت تشریعی قدنیوں کے نزدیک ختم ہو چکی ہے تو پھر دونوں مل کر ظہیر الدین کی تکفیر کیوں نہیں کرتے؟ اور وہ ان دونوں کو کافر کیوں نہیں کہتا؟
مرزا محمود قادیانی کے نزدیک مرزا قادیانی حقیقی نبی جو اُن کو نبی نہ مانے وہ کافر، اور قدنیوں کے اس عقیدہ کو محمد علی لاہوری وغیرہ خوب جانتے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھتے لکھاتے ہیں اور خود ختم نبوت کو ضروریات دین سے کہتے ہیں مگر عجب تماشا ہے نہ لاہوری پیغامی قدنیوں کو کافر کہتے ہیں نہ قدنی لاہوریوں کو، حالانکہ تمام دنیا جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ قدنیوں کے نزدیک کافر مگر محمد علی لاہوری اور تمام پیغامی باوجود یہ کہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ختم نبوت ہو چکا اب کوئی نبی نہیں آسکتا مرزا قادیانی نبی نہیں نہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر پھر بھی ہیں مسلمان کے مسلمان۔ ہم مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کریں تو کافر مرتد مگر لاہوری بھائی کے بھائی۔ مسلمانو! اب بھی کچھ سمجھے، کچھ سوچا، کچھ غور کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ لاہوریوں کو کافر نہ کہو وہ تو مرزا قادیانی کو نبی نہیں کہتے، اگر نبی نہیں کہتے تو مرزا محمود لاہوریوں کو کافر کیوں نہیں کہتے۔
وجہ یہ ہے کہ وہ نبوت کا انکار ہی نہیں کرتے، ظہیر الدین اروپی کہتا ہے کہ محمد علی نے جب مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیا تو نبی بھی مان لیا اور سب کچھ مان لیا مرزا قادیانی نے بھی تو اپنے آپ کو یہی تسلیم کرایا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں جس نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانا سب کچھ مان لیا مسیح موعود کہیں مجازی بروزی ظلی نبی تھوڑا ہی ہے، وہ تو حقیقی نبی صاحب کتاب ہے، مگر جیسے مرزا نے نہایت ہوشیاری اور تدبیر سے کام لیا ایسے ہی محمد علی لاہوری بھی کر رہے ہیں یعنی جیسے مرزا قادیانی منافق تھے محمد علی لاہوری بھی رأس المنافقین ہیں۔ اس مضمون کو ظہیر الدین اروپی نے خوب مفصل لکھا ہے، اور میں تو اس مضمون کو بالکل حق جانتا ہوں اور یہ جنگ زرگری نہ معلوم کس مصلحت پر
٩
موقوف ہے؟ خدا مسلمانوں کو توفیق دے جو ان کے مکاید سے خبردار ہوں۔ (ایک طرف تو ظہیر الدین اروپی ہیں اور دوسری طرف محمد علی لاہوری اور درمیان میں مرزا محمود نہ مرزا قادیانی کو مستقل نبی صاحب شریعت کہتے ہیں جیسے ظہیر الدین کہتے ہیں نہ بالکل نبوت حقیقت کا انکار ہے جیسے محمد علی کا ظاہر ہے اس وجہ سے ان کو درمیانی کہا ہے۔)
لاہوریوں کے کفر و ارتداد کی اور وجہ
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ لاہوری مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، تو اول تو مرزا قادیانی کی وہ عبارات جو آگے آتی ہیں کیا ان کو مرزا قادیانی کی کتابوں سے نکال دیں گے ان کے معنی کچھ اور بنا دیں گے؟ اُردو زبان ہے مطلب صاف ہے پھر انکار کے معنی کیا؟ جب کہ مرزا قادیانی کو سچا مجدد، ولی، نبی، مجازی، لغوی، بروزی، ظلی، اپنا مقتدا پیشوا مانتے سلطان القلم صاحب عقل جانتے ہیں معارف قرآنیہ کا اُن پر دروازہ کھلا ہوا تھا ہاں یہ کہہ دیں کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے یا عقل نہ تھی مجنون تھے یا سالک نہ تھے مجذوب تھے، دنیا کی ہدایت کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ ان کا کلام سرتاپا ضلالت اور گمراہی ہے، تب یہ بات کسی درجہ میں قابل قبول ہو سکتی ہے کہ محمد علی اور پیغامی لاہوری مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، ورنہ اس دعویٰ کو کوئی اہل عقل تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر اب کسی مصلحت سے انکار ہے تو آئندہ چل کر مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اور یہ دونوں ظہیر الدین کے مرید ہوں گے بات تو وہی ہے جو ظہیر الدین کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت مستقلہ صاحب کتاب ہونے کا دعویٰ کیا ہے ان کا دین مذہب، قبلہ، کلمہ علیحدہ ہے اب اُن کے نزدیک مرزا قادیانی کی کتاب اور وحی قابل عمل ہے قرآن شریف قابل عمل نہیں ہے۔ الکفر ملۃ واحدہ ۔
ے لیلیٰ را بچشم مجنون باید دید
دوسرے اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ لاہوری مرزا قادیانی کو واقعی نبی نہیں مانتے اور ان کے نزدیک مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا بہت اچھا، مرزا محمود اور اُن کے اذناب کو کیا کہوں وہ تو ختم نبوت کا بھی انکار کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کو حقیقی نبی بھی مانتے ہیں؟ پھر اُن کو جب کافر نہیں کہتے تو پھر وہی قسمت کا کفر اور ارتداد ساتھ ہے۔ تیسرے اگر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا (گو یہ غلط اور بالکل غلط ہے) اور
١٠
تم بھی اُن کو نبی نہیں مانتے، مگر مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں تو دی ہیں، رسول اللہ ﷺ سے مساوات بلکہ افضلیت کا دعویٰ تو کیا ہے، قطعیات قرآنی کا انکار تو کیا ہے، تو پھر اب کیا مرزا قادیانی کافر اور مرتد نہ ہوں گے؟ ضرور ہوں گے اور ان کو جب تم کافر مرتد نہیں کہتے تو خود کافر اور مرتد ہو گئے۔ لاہوری قادیانیوں میں سخت خطرناک فرقہ اور کفر کے ساتھ منافق بھی ہے۔
جو کافر اور مرتد کو کافر اور مرتد نہ کہے وہ بھی کافر ہے
یہ دوسری بات ہے جس کے لیے ان اوراق کی ضرورت ہوئی بہت سے لوگ یہ فرما دیتے ہیں کہ ہم اگر مرزا قادیانی یا مرزائیوں کو کافر نہیں کہتے تو اس میں کیا حرج ہے یہ تو احتیاط کی بات ہے آخر وہ کلمہ گو اور اہل قبلہ تو ہیں اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، احتیاط شک کی جگہ ہوتی ہے قطع اور یقین میں احتیاط نہیں ہو سکتی۔ اگر ایک چیز دُور سے پوری طرح سے نظر نہیں آتی اور شک ہے کہ شیر ہے یا انسان تو احتیاط کا مقتضیٰ یہی ہے کہ گولی نہ مارے، مگر جب قریب سے خوب اچھی طرح دیکھ رہا ہے کہ شیر آ رہا ہے خود بھی جانتا ہے اور دوسرے ہزار ہا آدمی کہہ رہے ہیں کہ شیر آ رہا ہے مگر پھر بھی شکاری صاحب گولی نہیں مارتے اور یہ فرماتے ہیں کہ میں احتیاط کرتا ہوں کہیں یہ آدمی نہ ہو۔ تو یاد رہے کہ اس احتیاط کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بے احتیاطی سے اپنی جان اور مسلمانوں کی جان کھو دے گا، یہ احتیاط نہیں بے احتیاطی ہے۔
جب ایک شخص نے قطعا یقیناً ایک ضروری دین کا انکار کیا اور وہ انکار محقق ہو گیا تو اب اس کو کافر نہ کہنا خود بے احتیاطی سے کافر اور مرتد ہونا ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو فحش گالیاں دیں (جو آگے لکھی جاتی ہیں) اس کے بعد بھی کوئی شخص مرزا قادیانی کو مسلمان ہی کہے تو اس کا یہی مطلب ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم کرنا یا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہ کرنا اس کے نزدیک ضروریات اسلام سے نہیں، باوجود عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دینے کے بھی جب آدمی مسلمان ہو سکتا ہے تو حاصل یہی ہوا کہ اسلام نے گالیاں دینے اور انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کی اجازت دی ہے حالانکہ انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کرنی اور توہین نہ کرنا ضروریات دین سے ہے۔ تو مرزا قادیانی کو کافر اور مرتد نہ کہہ کر خود ایک ضروری دین کا انکار کر کے کافر ہو گیا یا مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ نماز پنجگانہ اور زکوٰۃ، روزہ، حج کچھ فرض نہیں اور اس کی کوئی اپنے نزدیک تاویل
١١
بھی کرے تو اب یہ شخص بوجہ ضروریات دین کے منکر ہونے کے کافر ہو گیا، مرتد ہو گیا، پھر بھی باوجود اس کے ایک شخص احتیاط کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے مسلمان ہی کہو تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ فرائض اربعہ اس کے نزدیک فرض نہیں ان کی فرضیت کا اقرار ضروریات دین سے نہیں حالانکہ ان کو فرض جاننا ضروریات دین سے ہے تو اب اس کی احتیاط کا حاصل یہی ہوا کہ اس نے چار ضروریات دین کا انکار کیا اور خود کافر اور مرتد ہو گیا ورنہ اس کے معنی کیا کہ یہ چیزیں تو ضروریات دین سے ہوں مگر منکر کافر نہ ہو اور مسلمان باقی رہے؟ جیسے کسی مسلمان کو اقرار توحید و رسالت وغیرہ عقائد اسلامیہ کی وجہ سے کافر کہنا کفر ہے کیونکہ اس نے اسلام کو کفر بنا دیا، اسی طرح کسی کافر کو عقائد کفریہ کے باوجود مسلمان کہنا بھی کفر ہے کیونکہ اس نے کفر کو اسلام بنا دیا، حالانکہ کفر کفر ہے اور اسلام اسلام ہے۔ اس مسئلہ کو مسلمان خوب اچھی طرح سمجھ لیں اکثر لوگ اس میں احتیاط کرتے ہیں حالانکہ احتیاط یہی ہے کہ جو منکر ضروری دین ہو اسے کافر کہا جائے، کیا منافقین توحید و رسالت کا اقرار نہ کرتے تھے، پانچوں وقت قبلہ کی طرف نماز پڑھتے تھے مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت اہل قبلہ نہ تھے انہیں بھی مسلمان کہو گے؟ اہل قبلہ کے یہی معنی ہیں کہ تمام ضروریات دین کو تسلیم کرتا ہو، ورنہ پھر دیانند سرستی اور شردھانند جی اور گاندھی جی نے کیا قصور کیا ہے اگر اسلام آپ کے نزدیک اس قدر سستا اور وسیع ہے تو دوسرے کفار سے کیوں بخل ہے؟ مگر یاد رہے کہ یہ اسلام آپ کا ساختہ پرداختہ ہو گا وہ اسلام جس کو خدا اپنا دین کہتا ہے ان الدین عند اللہ الاسلام ط اور جس کے سوا کوئی مذہب مقبول نہ ہو گا ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وهو فی الاخرة من الخسرین ط وہ یہ اسلام نہیں ہر شخص کو اصطلاح مقرر کرنے کا حق ہے، آپ بھی جو چاہیں اصطلاح مقرر کر کے اُس کا جو چاہیں نام رکھ لیں۔ لہٰذا سب سے پہلے مرزا قادیانی اور لاہوریوں اور رأس المنافقین کو مرتد اور کافر کہا جائے اور ساتھ ہی قدنیوں وغیرہ کو مسئلہ یہی ہے حکم یہی ہے آسمان ٹلے زمین ٹلے حکم نہیں ٹل سکتا چاہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے کوئی انگریزی خوان ہو یا عربی خوان جناب رسول اللہ ﷺ کے غلاموں نے اللہ اور آپ ﷺ کا حکم سنا دیا مانو گے تمہارا نفع ہے ورنہ نقصان بھی آپ کا ہی ہے مگر خدا چاہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی کیوجہ سے شرعی حکم چھپا دیا جائے۔
١٢
علمائے اسلام فتویٰ تکفیر میں جلد باز نہیں
علمائے اسلام فتویٰ تکفیر میں نہ عجلت کرتے نہ فروعی امور میں کسی کو کافر کہتے ہیں یہ تو یہ فرماتے ہیں کہ کفر کی وجہ جب تک آفتاب کی طرح روشن نہ ہو جائے اس وقت تک تکفیر حرام اور ناجائز ہے یہی تو فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ٩٩٩ وجہیں کفر کی ہوں اور ادنیٰ سے ادنیٰ احتمال صحیح معنی کا تو جب تک یقیناً یہ نہ معلوم ہو جائے کہ متکلم نے معنی کفری ہی مراد لیے ہیں مفتی اسلام پر واجب ہے کہ اُس کلام کے ایسے معنی لے جس سے قائل مسلم مسلمان رہے، ہاں جب معنی کفری ہی قطعاً اور یقیناً ثابت ہو جائیں تو پھر کفر کا فتویٰ دینا ضروری ہے، مرزا قادیانی ہی کے معاملہ کو ملاحظہ فرما لیا جائے کہ برسوں تک تاویل کی، مسلمان کہا گیا مگر جب مرزا قادیانی کا کفر آفتاب سے زیادہ آشکار ہو گیا اور تاویل کی کلام میں گنجائش ہی نہ رہی تو پھر مجبوری بجز کافر کہنے کے چارہ ہی کیا تھا کہ کفر کو اسلام کہنا اور کافر کو مسلمان بتانا خود کفر ہے چنانچہ عبارات ذیل سے ناظرین کو خود واضح ہو جائے گا کہ مرزا نے توہین عیسیٰ علیہم السلام کی، گالیاں دیں سرور عالم ﷺ سے مساوات بلکہ افضلیت کا دعویٰ کیا، نبوت حقیقیہ کا دعویٰ کیا نبوت شرعیہ کے مدعی ہیں خداوند عالم جل و علیٰ شانہ کو معاذ اللہ العظیم جھوٹا کہتے ہیں جھوٹ بولنے کی عادت بتاتے ہیں یہ بھی مقولہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر وہ اعتراض وارد ہوتے ہیں جو مرزا قادیانی پر وارد ہوتے ہیں حشر اجساد کا انکار ہے۔ علیٰ ہذا القیاس! قادیانیوں، پیغامیوں لاہوریوں کی عبارات ملاحظہ ہوں کہ ان عبارات میں کس تاویل کی گنجائش ہے؟ اس کے بعد بھی اگر آدمی کافر نہ ہو تو پھر وہ کونسا عقیدہ اور قول ہے جس سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے بازاری عورتیں اور چوڑھے چمار بھی اُن امور کو گوارا نہیں کر سکتے جن کو اولوالعزم انبیاء علیہم السلام کی طرف نسبت کیا ہے۔
پہلے بزرگوں پر فتویٰ کفر کا الزام
یہ الزام کہ پہلے بزرگوں پر کفر کے فتویٰ دئے، اس کا جواب اس وقت دیا جائے گا جب وہ سوال اور جواب نقل کیا جائے فتویٰ سوال کے مطابق ہوتا ہے جیسا کسی نے سوال کیا اس کا جواب دیا گیا، رہی یہ بات کہ جس کے متعلق وہ مضمون کفری بیان کیا گیا ہے وہ واقعہ میں ایسا ہے بھی یا نہیں یہ مفتی کا کام نہیں ہے، بسا اوقات کلمہ کفر ہوتا ہے اس پر کفر کا فتویٰ دیا جاتا ہے، مگر جب قائل معلوم ہوتا ہے تو چونکہ اسے معنی کفری
١٣
مراد نہیں لیے اس کی مراد اسلامی معنی ہیں اس وجہ سے اسے کافر نہیں کہا جاتا اول حکم نفس کلمہ کا تھا، پھر دوسرا حکم متکلم کی مراد پر ہے لہٰذا وہ دونوں فتوے صحیح ہیں ۔ انبت الربیع البقل۔ یعنی ربیع نے گھاس کو اگایا، اگر اس کا کہنے والا وہ شخص ہے جو ربیع ہی کو فاعل حقیقی جانتا ہے تو یہ کلمہ کفر اور قائل کافر، لیکن اگر اسی کلمہ کو کوئی مسلمان کہے تو نہ کلمہ کفر نہ قائل کافر۔ ایک وقت میں کسی کلام پر فتویٰ کفر کا دیا اور پھر قائل کو مسلمان ولی بزرگ کہا تو اس کی وجہ علاوہ اور وجوہ کے کبھی یہ بھی ہوتی ہے اس کی تفصیل رسالہ ”دشمن ایمان مرزائے قادیان“ میں ملاحظہ ہو کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ نفس کلام پر چونکہ کفری تھا فتویٰ کفر دیا قائل کا اضافہ ان کے دشمنوں نے کر لیا مشہور یہ ہو گیا کہ فلاں بزرگ کو فلاں عالم نے فلاں کلام کی وجہ سے کافر کہہ دیا حالانکہ بے چارے عالم کو قائل کا پتہ بھی نہیں تھا، قائل کا حال جب معلوم ہوا تو اسے مسلمان بلکہ بزرگ اور ولی کہنا کیونکہ ان کی مراد معنی کفری نہ تھے غرض یہ کہہ دینا کہ علماء ہمیشہ سے فتویٰ کفر کے مشتاق ہیں جب تک وہ فتاویٰ نقل نہ کیے جائیں حجت نہیں ہو سکتا کوئی فتویٰ کسی مستند عالم کا نقل فرمایا جاوے تو پھر معلوم ہو جائے گا کہ عجلت کی گئی یا احتیاط مسئلہ فروعی تھا یا اصولی، اجتہاد ظنی تھا یا قطعی یقینی، اگر علماء اس قدر احتیاط نہ کرتے تو آج کفر و اسلام میں امتیاز باقی نہ رہتا، جو ملحد جو چاہتا وہ کہتا اور کفر کو اسلام بنا دیتا، اور بزرگوں کے کلام کو پیش کر دیتا کہ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یہ کہا، معنے ان کی کیا مراد تھے کس حالت میں کہا تھا اسے کون دیکھے؟ اللہ تعالیٰ علماء اسلام کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے اسلام سے کفر کو ملنے نہیں دیا ان کی احتیاط آج کام آرہی ہے، ورنہ جس کا جو جی چاہتا وہ کہتا۔
بعض علماء سے فتاوے میں غلطی یا عجلت بھی ممکن ہے
ہاں اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ممکن ہے کہ بعض فتوے کفر کے غلط ہوں بعض فتوے کی بنا کسی دُنیاوی غرض پر ہو جس کے فتوے دینے والے علماء سوء ہوں غرض دانستہ یا نا دانستہ بعض فتووں کا غلط ہونا ممکن ہے، مگر اس سے کوئی مرزائی یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا ہے کہ چونکہ بعض فتاوے کفر میں بعض علماء سے غلطی ہوئی ہے، لہٰذا مرزائیوں یا دوسرے ملحدوں پر فتویٰ کفر قابل اعتبار نہیں، اگر یہ نتیجہ صحیح ہے تو تمام دین و دنیا کا کام ہی تباہ و برباد ہو جائے گا کوئی حاکم کیسا ہی قابل اور خوش نیت ہو مگر اس سے فیصلہ میں کیا غلطی نہیں ہو سکتی، پولیس کے جس قدر چالان ہیں کیا سب صحیح ہوتے ہیں اور جس قدر
١٤
چالان صحیح ہوں ان میں کیا ملزم کو سزا ہونی ضروری ہے؟ تو اب اس بنا پر تمام بدمعاش چور یہ کہہ کر رہا ہو جائیں گے کہ بعض حکام غلطی کرتے ہیں بعض بد نیت ہوتے ہیں بعض چالان پولیس کے صحیح ہوتے ہیں بعض غلط۔ لہٰذا چور بدمعاش مزے سے چوری بدمعاشی کریں اور ان کو کوئی سزا نہ دیجائے اور پولیس کا کوئی چالان قابل توجہ نہ رہے جس کو پولیس چور کہے اس کو مجدد محدث اور ولی سمجھا جائے جیسے دنیا میں تمام امور کی جانچ ہوتی ہے اسی طرح فتووں کو بھی ان کی اصولی جگہ دو۔ تحقیق کر لو اگر صحیح ہو تو مانو ورنہ غلط ہیں۔ یہ تو نہیں کہ کسی عالم کی غلطی یا بدنیتی سے تمام دنیا کے علماء کے صحیح فتاوے بھی قابل قبول نہ رہیں اگر ایسا ہو تو قیامت برپا ہو جائے نہ دین رہے نہ دنیا، کیا کوئی شخص مسلمہ کذاب اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے امثال کو دیکھ کر یہ کہہ دے گا کہ جو مدعی نبوت ہے وہ معاذ اللہ العظیم ایسے ہی جھوٹے تھے سلسلہ نبوت ہی کو غلط بتا کر تمام دین سے سبکدوش ہو جائے گا۔ مسیلمہ اسود عنسی مرزا قادیانی وغیرہ کے جھوٹے دعوائے نبوت سے سب مدعیان نبوت معاذ اللہ جھوٹے اور غیر قابل اعتبار تھوڑا ہی ہو سکے ہیں؟ دنیا میں جھوٹ سچ دونوں ہی ہیں مگر جھوٹ جھوٹ ہے سچ سچ۔ غرض یہ عذر ایک ملحدانہ عذر ہے جس کو کوئی اہل انصاف بنظر التفات نہیں دیکھ سکتا۔ مرزا غلام احمد اور ان کے تمام مرید معتقد کافر مرتد اور ان کے عقائد باطلہ کو جان کر پھر جو ان میں سے کسی کے کفر و ارتداد میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، ان پر جو کفر کا فتویٰ دیا گیا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ انہیں توبہ کرنی چاہیے۔ یہ غلط حیلے مفید نہیں۔
یہ عذر کہ علماء ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں
چنانچہ علماء دیوبند کو بھی علماء بریلی کافر کہتے ہیں لغو ہے
مرزائی جب بہت تنگ اور عاجز ہوتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ آخر علمائے دیوبند جو آج ہندوستان میں مرکز اسلام و مرکز حنفیہ و مرکز قرآن و حدیث، فقہ، علوم عقلیہ و نقلیہ کا سرچشمہ ہیں ان کو بھی تو مولوی احمد رضا صاحب اور ان کے ہم خیال کافر کہتے ہیں تو کیا علمائے دیوبند کافر ہیں؟ اگر وہ کافر نہیں تو پھر مرزائی کیوں کافر ہیں؟ اس کا جواب بھی خوب توجہ سے سن لینا چاہیے، علمائے دیو بند کی تکفیر اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تکفیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
بعض علمائے دیوبند کو خان صاحب بریلوی یہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ١٥
کو خاتم النبیین نہیں جانتے چوپائے مجانین کے علم کو آپ کے علم کی برابر کہتے ہیں شیطان کے علم کو آپ کے علم سے زائد کہتے ہیں (معاذ اللہ) لہٰذا کافر ہیں، تمام علمائے دیوبند فرماتے ہیں کہ خان صاحب کا یہ حکم بالکل صحیح ہے جو ایسا کہے وہ کافر ہے مرتد ہے ملعون ہے لاؤ ہم بھی تمہارے فتوے پر دستخط کرتے ہیں بلکہ ایسے مرتدوں کو جو کافر نہ کہے خود کافر ہے یہ عقائد بے شک کفریہ عقائد ہیں۔ مگر خان صاحب کا یہ فرمانا کہ بعض علمائے دیوبند ایسا اعتقاد رکھتے یا کہتے ہیں یہ غلط ہے افتراء ہے بہتان ہے، جب ہم خود ان عقائد کو کفر اور ارتداد کہتے ہیں تو ہم اس کے معتقد کیسے ہو سکتے ہیں؟ نہ یہ کلمات کفریہ ہم نے کہے، نہ ہمارے بزرگوں نے، نہ ایسے مضامین خبیثہ ہمارے قلب میں آئے ہم تو ایسے شخص کو جس کا یہ اعتقاد ہو قطعی کافر جانتے ہیں رہیں وہ عبارات جن کی طرف ان مضامین خبیثہ کو منسوب کرتے ہیں ان کا مطلب صاف ہے جو ان مضامین کے بالکل مخالف ہے اب یہ سوال کہ پھر خان صاحب نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی تو مجدد ہی ہونے کے مدعی تھے۔ اس دور کے مجددوں کا یہی حال ہوتا ہے مرزا قادیانی نے تمام روئے زمین کے مسلمانوں کو کافر کہا، خان صاحب نے اپنے تمام مخالفوں کو کافر کہا، ندوۃ العلماء ہو اس میں جو شریک ہو جو اس کا ممبر ہو جو کسی ندوی سے سلام کرے وغیرہ وغیرہ سب کافر، وہابی وہ کافر، غیر مقلد وہ کافر، نیچری سب کافر۔ غرض جو ان کا ہم خیال نہیں وہ کافر حتیٰ کہ خود کافر، مرید کافر، ان کے پیر بھی کافر، کفر کی مشین گن ہی جو ہوئی مگر چندہ بلقان میں شریک نہ ہوئے، تحریک خلافت میں شریک نہ ہوئے بلکہ جو شریک ہوا وہ کافر۔ اب میں زیادہ کچھ عرض نہیں کرتا سمجھنے والے خود سمجھ لیں کہ جو امر مسلمانوں کی بہبودی کا ہوا، خان صاحب نے کفر سے ورے ٹھہرایا ہی نہیں، مولوی عبدالباری صاحب ایک سو ایک وجہ سے کافر اور جب مولوی ریاست علی خان صاحب شاہجہانپوری سے گفتگو ہوئی تو دو چار وجہ بھی مشکوک سی ہی ہو گئیں داروغہ جہنم ہی جو ٹھہرے، ان کے جس قدر مرید ہیں وہ اب جو کر رہے ہیں وہ معلوم ہے غرض کوئی محبوب ہی اس پردہ زنگاری میں بڑے مجدد اور چھوٹے مجدد ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے معلوم ہوتے ہیں کسی ایک ہی ابرو کے تیر کے شکار ہیں دونوں کی غرض یہی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں سوائے ان کے اذناب کے کوئی مسلمان نہ رہے، ان مضامین کی تشریح دیکھنی ہو تو ملاحظہ ہو ”السحاب المدرار فی توضیح اقوال الاخیار“ ”تزکیۃ الخواطر عما القی فی امنیۃ الا کابر۔“ ”توضیح البیان فی حفظ الایمان۔“ ”قطع الوتین ممن تقول علی ١٦
المصلحین۔ ”الختم علی لسان الخصم“ وغیرہ یہ مسئلہ تو یہاں ضمنی آ گیا ہے۔ اصل بات یہ عرض کرنی تھی کہ بریلوی تکفیر اور علمائے اسلام کا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کافر کہنا اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے اب پھر کبھی اس کو منہ پر نہ لانا۔ اگر خان صاحب کے نزدیک بعض علمائے دیوبند واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ انھوں نے انہیں سمجھا تو خان صاحب پر اُن علمائے دیوبند کی تکفیر فرض تھی اگر وہ اُن کو کافر نہ کہتے تو وہ خود کافر ہو جاتے، جیسے علمائے اسلام نے جب مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ معلوم کر لیے اور قطعاً ثابت ہو گئے تو اب علمائے اسلام پر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کافر و مرتد کہنا فرض ہو گیا اگر وہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کافر نہ کہیں چاہے وہ لاہوری ہوں یا قادیانی وغیرہ وغیرہ تو وہ خود کافر ہو جائیں گے، کیونکہ جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔ اب جیسے علمائے دیوبند کہتے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء بمعنی آخر الانبیاء نہ سمجھے کسی کو بھی منصب نبوت کا ملنا شرعاً جائز سمجھے وہ قطعاً کافر ہے، تم بھی مرزا قادیانی سے کہلوا دو اور وہ مر گئے تو خود کہہ دو کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا جو مدعی نبوت شرعیہ حقیقیہ ہو یا کسی کو نبی سمجھے وہ کافر ہے پھر ہم سے کہنا ہم تمہارے ساتھ ہیں کوئی آنکھ بھر کر تو تمہیں دیکھ لے، اس صورت میں مرزا قادیانی تو ہاتھ سے جاتے ہیں مگر اسلام ملتا ہے مگر مرزا قادیانی کو کافر کہنا ہو گا، جیسے علمائے دیو بند فرماتے ہیں کہ جو کوئی رسول ﷺ کی تنقیص شان کرے آپ ﷺ کے علم سے علم شیطان لعین کو زیادہ کہے یا آپؐ کے علم کے برابر علم صبیان و مجانین و بہائم کو کہے وہ کافر ہے مرتد ہے ملعون ہے جہنمی ہے، فخر عالم ﷺ اعلم الخلق ہیں زیادہ کیا معنی؟ آپؐ کے علم کے کوئی برابر بھی نہیں ہو سکتا بلکہ علم نبوی سے کسی کے علم کو نسبت ہی نہیں۔ تم بھی کہہ دو کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرے انہیں گالیاں دے دوسرے انبیاء علیہم السلام کی تنقیص شان کرے ان سے مساوات کرے وہ کافر ہے مرتد ہے، مرزا قادیانی نے بے شک عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں اور انبیاء علیہم السلام کی توہین کی لہٰذا مرزا قادیانی بے شک کافر مرتد ملعون جہنمی ہیں کہو اس کی ہمت ہے اگر نہیں تو پھر علمائے دیوبند سے تمہیں کیا واسطہ؟ وہ پکے مسلمان تم پکے کافر، مرتد، غضب تو یہ ہے جو وجوہ کفر تم پر عائد کیے جاتے ہیں تم ان کو کفر ہی نہیں جانتے تم تو ان کو عین ایمان کہتے ہو، ختم نبوت کا انکار کر کے گفتگو کرتے ہو قرآن و حدیث سے بقاء نبوت کو ثابت کرتے ہو، مرزا مدعی نبوت کو مجدد
١٧
محدث، ولی، مسیح، موعود کیا کیا مانتے ہو، مرزا قادیانی سے جب کہا جاتا ہے کہ تم اپنے کو عیسیٰ علیہ السلام سے فضیلت دیتے ہو تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”بے شک اور میں کیا خدا نے اس کے رسول نے مسیح موعود کو اس کے کارناموں کی وجہ سے جب مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیا تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یوں کہا جاتا ہے کہ تم اپنے کو ان سے افضل کیوں قرار دیتے ہو“ (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم نے یہ کیا تو جواب ملتا ہے کہ ہاں کیا انبیاء بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥) غرض جو الزام لگایا گیا اس سے انکار نہیں بلکہ اقرار کے ساتھ اس کو عین ایمان بتایا جاتا ہے۔ اب تو معلوم ہو گیا کہ علمائے دیوبند کی تکفیر میں اور مرزائیوں کی تکفیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے علمائے دیوبند جن امور کی بناء پر کافر بتائے جاتے ہیں وہ ان سے بری ہیں ان کو کفر خالص اعتقاد رکھتے ہیں۔ اور مرزا قادیانی اور مرزائی عقائد کفریہ اقوال کفریہ کو تسلیم کرتے ہیں ان کا اقرار کرتے ہیں ان کو عین ایمان سمجھتے ہیں، اور جو کہیں کہیں تاویل کرتے ہیں تو وہ باطل، تاویل الکلام بمالا یرضی بہ قائلہ ہے، ایک جگہ تاویل کرتے ہیں مرزا قادیانی کا دوسرا کلام اس کی تغلیط کرتا ہے بیچارے عاجز ہیں مگر ایمان سے دشمنی ہے مرزا قادیانی کو جھوٹا نہیں کہتے۔ اس غرض سے یہ رسالہ لکھا جاتا ہے اللہ تعالیٰ مرزائیوں کو اس سے ہدایت اور مسلمانوں کو استقامت عنایت فرمائے، ابھی تک بفضلہ تعالیٰ مسلمان اس سے ناواقف نہیں ہیں کہ ان صریح کفریات کو بھی دیکھ کر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مسلمان ہی کہے جائیں۔
ایک بات اور قابل ذکر ہے مرزائی دھوکہ دینے کی غرض سے وہ عبارات مرزا قادیانی کی پیش کر دیتے ہیں جن میں ختم نبوت کا اقرار ہے عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم اور عظمت شان کا اقرار ہے، اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے کافر نہ تھے ایک مدت تک مسلمان تھے اور چونکہ دجال تھے اس وجہ سے اُن کے کلام میں باطل کے ساتھ حق بھی ہے تو پہلی عبارات مفید نہیں جب تک کوئی ایسی عبارت نہ دکھا دیں کہ میں نے جو فلاں معنی ختم نبوت کے غلط بیان کیے تھے وہ غلط ہیں صحیح معنی یہ ہیں
١٨
کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی حقیقی نہ ہوگا، یا عیسیٰ علیہ السلام کو جو فلاں جگہ گالیاں دے کر کافر ہوا تھا اس سے توبہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔ ورنہ ویسے تو مرزا قادیانی اور تمام مرزائی الفاظ اسلام ہی کے بولتے ہیں اسی وجہ سے مسلمان دھوکہ میں آجاتے ہیں کہ یہ تو ختم نبوت کے بھی قائل، عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم بھی کرتے ہیں، قرآن کو بھی مانتے ہیں، حشر جسد پر بھی ایمان لاتے ہیں، غرض تمام آمنت باللہ اور ایمان مجمل اور مفصل ازبر ہے یہ مسلمان کیوں نہ ہوں گے؟ مگر مسلمانو! یہ ان کے الفاظ ہیں لیکن معنے وہ نہیں جو قرآن وحدیث نے بتائے ہیں معنی ان کے وہ ہیں جو مرزا قادیانی نے تصنیف کر کے کفر کی بنیاد ڈالی ہے لہٰذا جو عبارات مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی لکھی جاتی ہے جب تک ان مضامین سے صاف توبہ نہ دکھائیں یا توبہ نہ کریں تو ان کا کچھ اعتبار نہیں مسلمانوں کی واقفیت کے لیے مرزا قادیانی اور ان کے اذناب کے چند اقوال لکھ دیئے ہیں ورنہ تتبع کی جائے تو نہ معلوم اور کس قدر ایسے کفریات بھرے ہوں گے۔ جملہ اہل اسلام کی خدمت میں عرض ہے کہ اس عاجز ومحتاج الیٰ رحمت اللہ الغفار کے لیے اور جملہ اہل اسلام کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسلام پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین۔
عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے متعلق جو مرزائی جواب دیتے ہیں وہ تو اس رسالہ میں بفضلہ تعالیٰ پورے آگئے ہیں، رہا مسئلہ ختم نبوت ودعویٰ نبوت سو پیغامیوں کے لیے تو مرزا قادیانی کی یہ عبارت ہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے لیے لفظوں میں اپنی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار بھی ظاہر ہے بلکہ صاحب شریعت ہونے کا بھی دعویٰ ہے اب یہ کہنا کہ مرزا نے دعویٰ نبوت نہیں کیا، ایسا ہے کہ کوئی کل کو یوں کہنے لگے کہ مرزا غلام احمد دنیا میں کوئی شخص تھا ہی نہیں، یہ سب غلط ہے ہاں ہاں ایک مجازی بروزی ظلی لغوی مجازی مرزا تھا، حقیقت کچھ بھی نہ تھی۔
رہے قدنی مرزا محمود کے مبایع تو وہ تو اس میں کتابیں لکھ چکے ہیں کہ ختم نبوت نہیں مرزا قادیانی اس مذہب کو لعنتی بتاتے ہیں جس میں نبوت نہ ملے اور دروازہ نبوت مسدود ہو، ختم نبوت کے متعلق مستقل رسائل دیوبند میں لکھے گئے ہیں وہاں سے طلب کیئے جائیں۔ جن سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے اور جو کسی ضروری دین کا انکار کرے چاہے تاویل کرے یا نہ کرے بہر صورت کافر ہے مرتد ہے
١٩
پھر جو اسے کافر و مرتد نہ کہے وہ بھی کافر ہے، اس مسئلہ کو نہایت شرح و بسط کے ساتھ شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا مولوی انور شاہ صاحب مدرس اوّل دارالعلوم دیوبند نے اپنے رسالہ ”اکفار الملحدین فی شی من ضروریات الدین“ میں بیان فرما دیا ہے اس کو دیکھنا چاہیے ہماری غرض مسلمانوں کو وہ عبارات بتا دینا ہیں جن کو دیکھ کر ہر مسلمان مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کافر اور مرتد جانے گا ابھی تک مسلمانوں میں بفضلہ اس قدر احساس باقی ہے مسلمان اس کتاب کو اپنے پاس رکھیں پھر خدا چاہے بڑے سے بڑے مرزائی کی بھی دال نہ گلے گی اور اگر ضرورت ہوئی اور مسلمانوں نے ضرورت کو محسوس کیا تو پھر اس کا ایک ضمیمہ بھی خدا چاہے لکھ دیا جائے گا اور اگر ان عبارات کے متعلق مرزائیوں نے کچھ لکھا تو اس کا بھی لاجواب جواب خدا چاہے ہو جائے گا۔ واللہ ہو الموفق ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ط واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ و نور عرشہ و خاتم انبیائہ ورسلہ سیدنا و مولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین ط ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب ط
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن عفی عنہ ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ساکن قصبہ چاند پور ضلع بجنور ٢ رمضان المبارک ١٣٤٣ھ یوم شنبہ
٢٠
توہین عیسیٰ علیہ السلام
- (١) ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام
رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- (٢) ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ
بات میں غصہ آ جاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔“
(ایضاً حاشیہ ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- (٣) ”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں، کیونکہ آپ تو
گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔
(ایضاً)
- (٤) ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ایضاً)
- (٥) ”جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے
بیان فرمایا ہے اُن کتابوں میں اُن کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔“
(ایضاً)
- (٦) ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز
کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے، اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- (٧) ”آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض
رہتے تھے، اور اُن کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“
(ایضاً)
اس عبارت میں علاوہ توہین عیسیٰ علیہ السلام کے حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت بھی ہے، اور قرآن مجید کے بھی خلاف ہے کیونکہ حقیقی بھائی تو وہی ہو گا جو ماں باپ دونوں میں شریک ہو اور یہ قرآن شریف کے قطعاً مخالف ہے، اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے باپ اور مریم علیہ السلام کا خاوند ثابت کیا گیا۔ فتدبر و لا تعجل۔
٢١
(٨) ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ایضاً)
(٩) ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
(١٠) ”مگر آپ کی بدقسمتی سے اُسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔“
(ایضاً)
(١١) ”اُسی تالاب سے آپ کی معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے، اور آپ کے ساتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ایضاً)
(١٢) ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔
(ایضاً)
(١٣) ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کی پیروں پر ملے۔
(ایضاً)
(١٤) ”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے“
(ایضاً)
ان عبارات میں جو عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہیں، ان کا جواب مرزا قادیانی کی طرف سے جو خود مرزا قادیانی نے دیا ہے یہ ہے:۔
(١٥) اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا، اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹ مار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
(١٦) ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(ایضاً)
حاصل یہ ہے کہ گالیاں عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں دی گئیں بلکہ یسوع کو اور یسوع ایسا شخص تھا کہ اس کو بھلا مانس ہی نہیں قرار دے سکتے چہ جائیکہ نبی حالانکہ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ ”دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ (توضیح مرام ص٣ خزائن ج ٣ ص٥٤) علیٰ ہذا القیاس کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ ”مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح ہیں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں“ (کشتی نوح ص١٦ خزائن ج١٩ ص ١٨) پھر اُسی کے حاشیہ پر نقل فرماتے ہیں۔ ”یسوع کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں۔“
(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ ایضاً)
اسی طرح مرزا قادیانی کی تصنیفات سے یہ امر بخوبی ثابت ہے کہ یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک شخص ہیں اور پھر یسوع کے نام سے گالیاں دے کر یہ کہنا کہ گالیاں یسوع کو دی گئی ہیں نہ عیسیٰ علیہ السلام کو۔ بالکل غلط ہے۔ علاوہ بریں پادری لوگ جس کو خدا کہتے ہیں وہ تو عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں، پھر یسوع کوئی جدا شخص نہیں ہو سکتا۔ اور پادریوں کا یسوع کی طرف غلط باتیں نسبت کرنا اس سے یسوع پر تو کوئی الزام نہیں آتا۔ یہ کہنا چاہیے کہ یہ امور ان کی طرف غلط نسبت کیے گئے ہیں نہ کہ ان کو گالیاں دینا جن کی نبوت قطعی یقینی طور پر قرآن شریف سے ثابت ہے جب مرزائیوں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کا جواب انہیں کے اقوال سے غلط ہو گیا تو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ جو کچھ عیسیٰ علیہ السلام کو لکھا گیا ہے وہ الزامی طور پر عیسائیوں کے مقابلہ میں فرضی عیسیٰ کا لکھا گیا ہے نہ واقعی طور پر حقیقی عیسیٰ علیہ السلام کو۔ مگر یہ جواب بالکل غلط ہے۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ عبارات مذکورہ کے ملاحظہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جن امور کو منسوب فرماتے ہیں ان کو الزاماً نہیں کہتے بلکہ ان کے نزدیک حق بھی ہے جیسا کہ عبارات نمبر ٢ و نمبر ٣ و نمبر ٤ و نمبر ٧ و نمبر ٨ و نمبر ٩ و نمبر ١٠ وغیرہ سے ظاہر ہے۔
دوسرے یہ ہے کہ شدید ترین فحش گالی مرزا قادیانی نے جو عیسیٰ علیہ السلام کو عبارت نمبر ١٣ میں دی ہے اسی فحش اور شنیع امر کو مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نسبت کر کے قرآن مجید کی آیت کی تفسیر میں بیان فرما کر ان تاویلات کو غلط فرما گئے نہ وہاں پادری مخاطب ہیں نہ یسوع کا نام ہے بلکہ مرزا قادیانی اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ ”عیسیٰ علیہ السلام کو تو قرآن شریف میں ”وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین“ فرمایا گیا ہے۔۔۔۔ اور یحییٰ علیہ السلام کو حصور فرمایا گیا ہے عیسیٰ علیہ السلام کو
حصور کیوں نہ فرمایا گیا۔ ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانے کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا واللہ اعلم۔ مگر وہ حقیقی منجی نہیں تھا یہ اس پر تہمت ہے کہ وہ حقیقی منجی تھا۔ حقیقی منجی ہمیشہ اور قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لیے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر خدا اس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین“
(دافع البلا ص ٤٠٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠، ٢١٩)
اور اسی کے حاشیہ پر فرماتے ہیں
”یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے، یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راستباز اپنی راست بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل و اعلیٰ ہوں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکی نسبت فرمایا ہے۔ وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانے کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کر تھے بلکہ اس بات کا امکان نکلتا ہے کہ بعض مقرب ان کے زمانے کے ان سے بہتر تھے ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لیے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموں سے ان کو کچھ تعلق نہ تھا پس ممکن بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو لم نقصص میں داخل ہیں وہ ان سے بہتر اور افضل ہوں گے اور جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر آخر ایک انسان نکل آیا جس کی نسبت خدا نے علمناہ من لدنا علما فرمایا تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو موسیٰ علیہ السلام سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے، اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے۔ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بلا اطلاق اپنے وقت کے تمام راستبازوں سے بڑھ کر تھے جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے، انسان جب حیا و انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے
٢٤
راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں ' اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ علیہ السلام کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے، اور یہ بات حضرت یحییٰ علیہ السلام کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں اس کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھے اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے عیسیٰ اور ان کی ماں پر سخت الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت ”نعوذ باللہ“ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے سو اس افترا کا رد ضروری تھا، پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ صحیح نہیں ہیں بلکہ ان معنوں کے وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو کبھی پیش نہیں آیا۔“
(دافع البلاء ص ٣، ٤ ۔ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠، ٢١٩)
اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ تمام شنیعہ امور اور اس کے ماسوا اور اسی قسم کے قصے لفظ حصور کے اطلاق سے عنداللہ مانع ہوئے، یہ قصے فقط مرزا قادیانی ہی کے نزدیک صحیح نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ بھی ان قصوں کو صحیح اور حق جانتا ہے، جن کے بنا پر عیسیٰ علیہ السلام کو حصور نہ فرمایا۔ اس میں مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو تو صاف گالی دی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی جناب اقدس پر بھی ہاتھ صاف کر دیا یعنی ایسے لوگ بھی جو رنڈیوں سے ایسا میل رکھیں جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی کوئی پرہیز گار آدمی نہ رکھ سکے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی بھی ہوتے ہیں اور رسول بھی اور مقرب بھی اور وجیھا فی الدنیا والاخرة بھی؟ اس سے نہ کوئی نبی قابل اعتبار رہتا ہے نہ قرآن نہ معاذ اللہ العظیم خود خدا تو پھر احادیث وغیرہ کی کیا حقیقت ہے؟ اس کے علاوہ اور عبارات بھی توہین عیسیٰ علیہ السلام کی ہیں جہاں عیسائی اور پادری مخاطب نہیں بلکہ علماء
٢٥
اسلام مخاطب ہیں ملاحظہ ہوں عبارات ذیل۔ پادری نہیں بلکہ علمائے اسلام اور زاہدوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اے نفسانی مولویو اور خشک زاہدو تم پر افسوس۔
(ازالہ اوہام ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١٠٥)
(١٧) ”اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں“ (ازالہ اوہام ص ٧ خزائن ج ٣ ص ١٠٦) اس کے ساتھ اگر کشتی نوح کی یہ عبارت بھی ملائی جائے ”اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹلجائیں ۔“ (کشتی نوح ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٥) تو نتیجہ صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں کیونکہ ان کی پیشگوئیاں ٹلیں اور غلط ہوئیں، اور نبی کی پیشگوئی کا غلط ہونا ناممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کا نبی ہونا بھی ناممکن ہے۔
(١٨) ”ما سوا اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦ خزائن ج ٣ ص ١٠٥)
(١٩) ”بلکہ مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔“ (ازالہ اوہام ص ٦ خزائن ج ٣ ص ١٠٦) یہاں کوئی یہ بھی جواب نہیں دے سکتا کہ پادریوں کو یہودیوں کی طرف سے الزامی جواب ہے کیونکہ اس کلام کے مخاطب اسلامی علماء زاہد ہیں۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے معجزات اور قرآن مجید سب کی توہین و تکذیب صاف صاف ہے۔
(٢٠) ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے“
(اعجاز احمدی ص ١٤ خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
(٢١) ”اور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو صحیح نہیں نکلیں مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں کیونکہ امور اخباریہ کشفیہ میں اجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے، حضرت موسیٰ کی بعض پیشگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں مگر یہ غلطی نفس الہام میں نہیں بلکہ سمجھ اور
٢٦
اجتہاد کی غلطی ہے، چونکہ انسان تھے اور انسان کی رائے خطا اور صواب دونوں کی طرف جا سکتی ہے۔ اس لیے اجتہادی طور پر یہ لغزشیں پیش آ گئیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
اور پھر سابقہ کشتی نوح کی عبارت ’’اور ممکن نہیں کہ کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں‘‘ اور اس میں صاف تعارض ہے یہاں تمام انبیاء علیہ السلام پر ہاتھ صاف کیا اور سب کی توہین کی جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی تصریح کر دی، اس صورت میں کاذب اور صادق میں فرق باقی نہیں رہتا ہے اور نہ انبیاء اور غیر انبیاء میں فرق رہتا ہے، بلکہ انبیاء علیہم السلام کی نبوت بھی باقی نہیں رہتی۔ (معاذ اللہ) انبیاء علیہم السلام سے امور اجتہادیہ میں غلطی ممکن ہے، مگر اس پر بقاء ناممکن ہے، ورنہ پھر نبی کا قول اور فعل امت کے لیے واجب الاتباع نہیں رہ سکتا۔ اور اس کے ساتھ جب وہ مضمون بھی ملایا جائے جو کہ صحیح کشف الہام و خواب اولیا و انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ بعض دفعہ فساق، فجار بدکار کو بھی صحیح الہام اور سچا خواب ہوتا ہے (توضیح مرام ص ٨٢ خزائن ج ٣ ص ٩٥) تو اور بھی دشواری ہو جاتی ہے، اور توہین انبیاء علیہم السلام پورے طور سے ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ فرق قلت اور کثرت ہی کا تھا کہ اولیا اور انبیاء علیہم السلام کو صحیح اطلاع امور غیبیہ کی بکثرت ہوتی ہے اور فساق و فجار کو کم، مگر اب یہ بھی فرق نہ رہا بلکہ وہ بھی نبی ہو سکتا ہے کہ جس کی جھوٹی پیشگوئیاں سچ سے کم ہوں تو اب وجہ امتیاز کیا باقی رہتی ہے؟ ملاحظہ ہو عبارت نمبر ١٧ جس میں صاف تصریح ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکتیں۔
عیسیٰ کجا ست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جس قدر قرآن شریف میں از قبیل احیاء موتی اور تخلیق جانوران اور اندھے، جذامی وغیرہ کا اچھا کرنا مذکور ہے، ان کی نسبت مرزا قادیانی کس قدر تمسخر اور توہین کے جو الفاظ استعمال فرماتے ہیں وہ ملاحظہ فرمائے جائیں کہ اس میں کس قدر توہین عیسیٰ علیہ السلام کی ہے اور کس قدر قرآن مجید کی تکذیب ہے؟ جو معجزات عیسیٰ علیہ السلام کے قرآن شریف میں مذکور ہیں ان کی نسبت کہا۔
٢٧
(٢٣) ’’ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٢٩٦ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥١)
(٢٤) ’’اب جاننا چاہیے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٣)
(٢٥) ’’سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔‘‘
(حوالہ بالا)
(٢٦) ’’کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘ (حوالہ بالا) اس عبارت میں قرآن شریف کی آیت مبارکہ لم یمسسنی بشر کا بھی صاف انکار ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صریح گالی اور توہین ہے۔
(٢٧) ’’پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے، کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں، کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں، بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٤ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
(٢٨) ’’اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لیے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا ہے گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے‘‘ (حوالہ بالا) یہ قرآن کی تحریف اور اس کے مخالف ہے جہاں مرزا قادیانی
٢٨
عیسیٰ علیہ السلام کو ہدایت کے کام میں بالکل ناکام بتاتے ہیں، آخر ان معنے لینے کی ضرورت کیا پڑی؟ وہ بتائی جائے صرف یہ ہے کہ مرزا صاحب باوجود مسیح موعود ہونے کے ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
- (٢٩) ”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل
الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“ (حوالہ بالا)
- (٣٠) ”اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح
ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع النبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٠٩ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) اس کلام میں اور ایک یہ صریح کفر ہے کہ قرآن شریف کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا بھی کہہ دیا جو ما صلبوہ کے بالکل خلاف ہے۔
- (٣١) ”مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس
اس کو خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ (حوالہ بالا)
- (٣٢) ”یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے
اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائی کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣١٠ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) حالانکہ اسی صفحہ میں آپ تحریر کرتے ہیں کہ ”عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل باذن الٰہی اختیار کیا تھا۔“
- (٣٣) ”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے
جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا، جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢١ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
٢٩
٢
(٣٤) ”غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح صرف مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“
(حوالہ بالا)
(٣٥) ”یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔“ (حوالہ بالا) مرزا قادیانی روح القدس کی تاثیر تالاب میں تو تسلیم فرماتے ہیں اور اس سے کوئی شرک لازم نہیں آتا مگر عیسیٰ علیہ السلام سے وہی فعل بطریق معجزہ صادر ہو تو شرک ہے۔
(٣٦) ”بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
قرآن مجید کی بھی توہین کی کہ ایسے کھیل کھلونوں کو آیات بینات بتاتا ہے اور انبیاء کی شان مرزا قادیانی کے نزدیک معاذ اللہ ایک مداری تماشہ کرنے والے کے برابر ہوئی۔
(٣٧) ”خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“ (دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) یہاں توہین عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دعویٰ نبوت بھی ہے۔ بلکہ نبوت تشریعی ہے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نبی تشریعی ہیں۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
(٣٩) ”خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔...... مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
(٤٠) ”اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو وہ اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے، جو خدا کی
عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)
(٤١) ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے، تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
(٤٢) ”اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں، نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔“
(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨)
(٤٣) ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کی نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا، اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ہے یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨)
(٤٤) ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ١٨) یہاں بھی یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام کو مرزا قادیانی ایک ہی شخص بتاتے ہیں پھر یسوع کے نام سے مغلظات گالیاں دے کر یہ عذر فرماتے ہیں کہ یسوع کوئی اور ہے جس کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں اور چنیں و چناں ہے۔
(٤٥) ”اِسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی
٣١
وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔"
(حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
یہاں بھی توہین عیسیٰ علیہ السلام اور اپنی فضیلت ثابت کرنے کے ساتھ صاف لفظوں میں اپنی نبوت کا دعویٰ ہے۔
انکار ختم نبوت و دعویٰ نبوت حقیقیہ
- (١) "انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولا"
ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔"
(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- (٢) "یسٓ انک لمن المرسلین علیٰ صراط مستقیم ط تنزیل العزیز
الرحیم۔ اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔ راہ راست پر اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- (٣) "انا ارسلنا احمد الیٰ قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
- (٤) "فکلمنی ونادانی وقال انی مرسلک الیٰ قوم مفسدین وانی
جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراما کما جرت سنتی فی الاولین۔"
(انجام آتھم ص ٧٩ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (٥) ’الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا
کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (٦) ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- (٧) ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ
بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے اب اگر خدائے تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا
٣٢
ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نا فرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔" (دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
(٨) "جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔"
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
(٩) ١٠، ١١، ١٢، ١٣، ١٤، (٣٧، ٣٨، ٣٩، ٤٠، ٤١، ٤٥) جو عبارتیں توہین عیسیٰ علیہ السلام میں گزر چکی ہیں ان کو ملاحظہ کیا جائے۔
ان عبارات میں مرزا قادیانی نے صاف نبوت حقیقیہ اور رسالت شرعیہ کا دعویٰ کیا ہے اس کے علاوہ اور طرح بھی دعوے نبوت کیا ہے جو قابل خیال ہے مثلاً یہ ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا جو ان پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ شان بجز نبی اور رسول کے کسی کی نہیں ہو سکتی.. چنانچہ عبارات ذیل سے ظاہر ہے:
(١٥) "کفر دو قسم پر ہے ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت رسول ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول ﷺ کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔"
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
اس عبارت سے منکرین کا کفر بھی ثابت ہوا اور مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت بھی لیکن اگر اس کے ساتھ یہ عبارت تریاق القلوب بھی ملا لی جائے تو مطلب بالکل صاف ہے۔
(١٦) "یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔" (تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣٠ خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) یہ عبارت اس وقت کی ہے جب تک دعویٰ نبوت تشریعی نہ تھا اور ختم نبوت کے قائل تھے، اور جب نبوت
٣٣
مستقلہ جدیدہ تشریعہ کا دروازہ کھل گیا تو اب منکر کے کافر نہ ہونے کے کیا معنی اس عبارت کے ملانے سے دونوں باتیں صاف ہوگئیں دعویٰ نبوت بھی پھر رسالت اور نبوت تشریعی بھی جو قطعاً اور یقیناً کفر ہے۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت اور رسالت اور طرح سے بھی ظاہر فرمایا ہے وہ یہ کہ تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ ہر نیک و بد مسلمان کے پیچھے نماز درست ہو جاتی ہے مگر چونکہ مرزا قادیانی نبی ہیں اس وجہ سے جو ان کا انکار اور تکفیر یا تکذیب کرے یا ان کے صدق میں متردد ہو وہ سب کافر ہیں ان کے پیچھے کسی مرزائی کی نماز درست نہیں ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔
(١٧) ”پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو“
(اربعین ٣ ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
(١٨) ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ٨٢)
(١٩) ”١٠ ستمبر ١٩٠١ء کو سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو، عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر وہ یا مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔“
(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ١٨)
(٢٠) ”جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)
(٢١) ”اور اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گذر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔“
(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١١ خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
(٢٢) ”مگر ہم قرآن کے نص کی رو سے اس بات پر مجبور ہوگئے کہ اس بات ٣٤
پر ایمان لائیں کہ آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہوگا اور وہ عیسیٰ کے قدم پر آئے گا اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے کیونکہ یہ قرآن کا انکار ہے اور جو کوئی قران کا منکر ہے وہ جہاں جائے گا عذاب کے نیچے یعنی کسی طرح اس کی نجات نہیں ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٧٧۔٧٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
(٢٣) ”ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ، اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ روحانی خزائن ص ایضاً ج ١١)
(٢٤) ”میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہو میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
(٢٥) ”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن جلد ٢٢ ص ٢٢٠)
(٢٦) ”حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں ہے ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ط (دیکھو ص ٤٩٨ براہین احمدیہ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣۔٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧۔٢٠٦)
(٢٧) ”پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ محمد رسول اللہ و الذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم الخ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
٣٥
غرض اس قسم کے حوالے اس سے بھی زیادہ ہیں جو مذکور ہوئے اب یہ بات عرض کرنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی خود اور ان کے معتقدین بعض مرتبہ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو حقیقی نبی نہیں کہتے بلکہ مجازی اور بروزی ظلی نبی کہتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت حقیقی کے معنی ایک خود ہی نئے بتائے ہیں تو جہاں کہیں انکار فرماتے ہیں تو اپنے معنی مصطلح کے اعتبار سے، اور جہاں اقرار ہے وہاں نبوت کے اصلی اور صحیح معنے کے لحاظ سے، اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی شخص یوں کہے بادشاہ کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ جس کے دو سینگ بھی ہوں اور اپنے کو بادشاہ اس معنی سے کہے جو معنی دُنیا جانتی ہے اور جب بادشاہی قانون دان لوگ بغاوت کا اعتراض کریں تو کہہ دے کہ میں حقیقی معنوں سے اپنے کو بادشاہ نہیں کہتا میں تو مجازی بروزی ظلی معنی سے اپنے کو بادشاہ کہتا ہوں تو ظاہر ہے کہ اس قول سے بغاوت دور نہیں ہو سکتی۔ میں اس بارے میں مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ دوم مرزا محمود قادیانی کا قول نقل کرتا ہوں۔
(٢٨) ”پس حضرت مسیح موعود کا نبی کے حقیقی معنی بتانا اور ان کے ماتحت اپنے نبی ہونے کا اقرار کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ نے اگر ایک اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے تو ایک عام معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے کا اقرار بھی کیا ہے“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٧)
(٢٩) ”اور اسی رنگ میں میں نے بھی لکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے وہ اصطلاحی معنی نہ لیں جو حضرت مسیح موعود نے کیے ہیں بلکہ اسے بناوٹی یا نقلی کے مقابلہ پر رکھیں تو ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی ہیں ہاں اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے نہیں۔“ (حقیقۃ النبوۃ ص ٧) حالانکہ مرزا قادیانی اپنے لیے نئی شریعت بھی ثابت کرتے ہیں تو دونوں معنی سے حقیقی نبوت کے مدعی ہوئے ان تمام عبارتوں کے بعد ایک اور عبارت خاتمہ پر عرض کرتا ہوں جس نے تو کوئی حد ہی نہ رکھی۔
(٣٠) ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان اصطلاحی معنوں کے علاوہ عام معنوں کی رو سے خود حضرت مسیح موعود نے بھی اپنے آپ کو حقیقی نبی کہا ہے چنانچہ مندرجہ ذیل حوالہ سے صاف ظاہر ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٦)
(٣١) ”پس ایک اُمتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ اُمتی اپنے اُسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس اُمت کو آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک
٣٦
مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدا حیی و قیوم کے آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نا امیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے، کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے، دین وہ ہے جو تاریکی سے نکالتا اور نور میں داخل کرتا ہے اور انسان کی خدا شناسی کو صرف قصوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ایک معرفت کی روشنی اس کو عطا کرتا ہے سو سچے دین کا متبع اگر خود نفس امارہ کے حجاب میں نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے کلام کو سن سکتا ہے سو ایک امتی کو اس طرح کا نبی بنانا سچے دین کی ایک لازمی نشانی ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، ١٣٩ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
اس عبارت نے تمام انبیاء علیہم السلام کے دین کو لعنتی اور شیطانی دین بنا دیا کیونکہ اس کو تو مرزا بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کسی نبی کے اتباع سے آدمی نبی نہیں بنتا بجز رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے اور آپ کا استثناء بھی جدید مذہب ہے، ورنہ پہلے یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی جدید و قدیم نہیں آسکتا۔
(٣٢) ”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اُس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں، جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اُسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی اس طرح میرے لیے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔“ ١
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
(٣٣) ”من فرمنی فرمن رب الوریٰ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٧٨ خزائن ج ٢٢، ص ٣٦١)
٣٧
- (٣٤) ”پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔“
(دافع البلاء ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
- (٣٥) ”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول
کر لیں گے۔“ (حوالہ بالا)
- (٣٦) ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے
کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٦٢ خزائن ج ٢٢ ص ٦٤)
- (٣٧) ”میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
- (٣٨) ”اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- (٣٩) فاتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ انا انزلناہ قریباً من القادیان
(حقیقۃ الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
- (٤٠) ”اے سرورا تو خدا کا مرسل ہے راہ راست میں نے ارادہ کیا کہ اس
زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا وہ دین کو زندہ کرے گا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
مرزا محمود قادیانی کے اقوال
- (٤١) ”حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی کے خود یہ معنے فرمائے ہیں کہ جو نئی
شریعت لائے پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتے۔“
(القول الفصل ص ١٢)
”حقیقی نبی ایک اصطلاح ہے جو خود حضرت مسیح موعود نے قرار دی ہے اور اس کے خود ہی معنی بھی کر دئے ہیں ان معنی کی رو سے میں ہرگز آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢)
- (٤٢) ”اور مثال کے طور پر میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے معنی یہ کیے
جائیں کہ وہ بناوٹی یا نقلی نبی نہ ہو تو ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعود کو میں حقیقی نبی مانتا ہوں“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢)
٣٨
(٤٣) ”کہ اگر حقیقی نبوت کے وہ معنی نہیں جو حضرت مسیح موعود نے خود کیے ہیں بلکہ اس کے علاوہ اور کوئی معنی ہیں مثلاً یہ کہ جو نبوت بناوٹی یا ظلی نہ ہو تو ان معنوں کے لحاظ سے میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٣)
(٤٤) ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ان اصطلاحی معنوں کے علاوہ عام معنوں کی رو سے خود حضرت مسیح موعود نے بھی اپنے آپ کو حقیقی نبی کہا ہے چنانچہ مندرجہ ذیل حوالہ سے صاف ظاہر ہے ”بعض یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں لکھا ہے کہ آنے والا عیسیٰ اسی امت میں سے ہو گا۔ لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے پھر کیونکر ہم مان لیں کہ وہ اسی امت میں سے ہو گا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦ حقیقۃ النبوۃ ص ٦)
(٤٥) ”میرا قول حضرت مسیح موعود کے قول کے خلاف نہیں آپ نے حقیقی نبی کی ایک اصطلاح قرار دی ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ جو نئی شریعت لائے اور ان معنی کے رو سے آپ نے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور میں بھی ان معنے کے رو سے آپ کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں ہاں آپ نے نبی کے حقیقی معنی یہ فرمائے ہیں کہ وہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے اور بتاؤ کہ جو شخص ان معنوں کے رو سے جو حقیقی معنی ہیں نبی ہو وہ حقیقی نبی ہو گا یا نہیں“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٦)
(٤٦) ”اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں حضرت مسیح موعود نے یہ تو فرمایا ہے کہ نبی کے حقیقی معنی یہ ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ ایسا شخص حقیقی نبی ہو گا تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جو چیز حقیقی معنی کی رو سے ایک نام حاصل کرے گی وہ حقیقی بھی ہو گی اگر نبی کے حقیقی معنوں کی رو سے نبی کہلانے والا حقیقی نبی نہیں تو کیا جو شخص غیر حقیقی معنے کی رو سے نبی کہلائے گا لغت اسے حقیقی نبی کہے گی۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٦ ، ٧)
(٤٧) ”پس حضرت مسیح موعود کا نبی کے حقیقی معنی بتانا اور ان کے ماتحت اپنے نبی ہونے کا اقرار کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے تو ایک عام معنی کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے کا اقرار بھی کیا ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٧)
٣٩
مرزا قادیانی اپنے معجزات کے مدعی ہیں دوسرے انبیاء پر
اپنی فضیلت کے قائل اور دوسرے انبیاء کی توہین کرتے ہیں
- (١) ”ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں، تو میں صرف یہی
جواب نہیں دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
- (٢) ”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ
باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)
- (٣) ”میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو
جاویں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو اپنی چالاکیوں کی وجہ سے ہمیشہ رُسوا ہوتے ہیں اور پھر باز نہیں آتے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧)
- (٤) ”اور خدا تعالیٰ میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ
کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
- (٥) ”اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان
ہے کہ اُس نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے، اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- (٧) ”اُن چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل
ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہونگی اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارقِ عادت ہیں“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
٤٠
- (٨) اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا
جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے ”دس لاکھ سے زیادہ ہونگے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
- (٩) ”یہ سات قسم کے نشانات جن میں سے ہر ایک نشان ہزارہا نشانوں کا
جامع ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٨ خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
- (١٠) ”مثلاً یہ پیشگوئی کہ یاتیک من کل فج عمیق جس کے یہ معنی ہیں کہ
ہر ایک جگہ سے اور دور دراز ملکوں سے نقد اور جنس کی امداد آئیں گی اور خطوط بھی آئیں گے اب اس صورت میں ہر ایک جگہ سے جو اب تک کوئی روپیہ آتا ہے یا پارچات یا دوسرے ہدیئے آتے ہیں یہ سب بجائے خود ایک ایک نشان ہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٨ خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
- (١١) ”ایسا ہی یہ دوسری پیشگوئی یعنی یاتون من کل فج عمیق جس کے یہ
معنی ہیں کہ دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے یہاں تک کہ وہ سڑکیں ٹوٹ جائیں گی جن پر وہ چلیں گے اس زمانہ میں وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی چنانچہ اب تک کئی لاکھ انسان قادیان میں آچکے ہیں“
(ایضاً)
- (١٢) ”اور اگر خطوط بھی شامل کیے جائیں جن کے کثرت کی خبر بھی قبل از
وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا۔“
(حصہ پنجم براہین ص ٥٨ خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
- (١٣) ”مگر ہم صرف مالی مدد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کر کے ان
نشانوں کو تخمیناً دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔“ (حصہ پنجم براہین ص ٥٨ خزائن ج ٢١ ص ٧٥)
- (١٤) ”یہ امر پوشیدہ نہیں ہے کہ میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان
بارش کی طرح برس رہے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)
- (١٥) ”اور اگر ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے گواہ اکٹھے کیے جائیں تو میں
خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)
- (١٦) ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان
جو میرے لیے ظاہر کیے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے اگر ان کے گواہ ایک جگہ
٤١
کھڑے کیے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہو گا جو اس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو۔“
(اعجاز احمدی ص ٢ خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)
- (١٧) ”اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض
کرتے ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتا تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٥، ٦ خزائن ج ١٩ ص ١١٢)
- (١٨) ”وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی
ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو، جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے پہنچاتا ہے۔ کیا اندھیری رات کے بعد نئے چاند کے چڑھنے کی انتظار نہیں ہوتی؟ کیا تم سلخ کی رات کو جو ظلمت کی اخیری رات ہے دیکھ کر حکم نہیں کرتے کہ کل نیا چاند نکلنے والا ہے افسوس کہ تم اس دُنیا کے ظاہری قانون قدرت کو تو خوب سمجھتے ہو مگر اس روحانی قانون فطرت سے جو اُسی کا ہم شکل ہے بکلی بے خبر ہو“
(ازالہ اوہام ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١٠٥)
اس عبارت میں انکار ختم نبوت اور سرور عالم ﷺ کی توہین ہے اس کا صاف یہ مطلب ہے کہ اور انبیاء کی طرح آپؐ کا نور نبوت بھی ایک زمانہ تک محدود رہے گا۔ اس کے بعد پھر جدید نبی کی ضرورت ہو گی دوسرے اسلام کا نور بالکل جاتا رہا۔ اور کامل ظلمت ہو گی جو آپ کی (ﷺ) عظمت کے خلاف ہے تیسرے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی ہر وقت موجود ہے ورنہ پھر مذہب پرانے قصوں کا مجموعہ ہے اور یہ سب صریح کفر ہے، چوتھے اس بناء پر قیامت بھی نہ آنی چاہیے ورنہ وہاں رات کے بعد صبح نہ ہو گی۔
- (١٩) ”اگر یہی بات ہے تو اُن لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں
کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کوئی معاملہ مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٢٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
معاذ اللہ دعویٰ نبوت تشریعی اور شریعت جدیدہ
- (١) ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے اور تو ہی
اس آیت کا مصداق ہے کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ
٤٢
علی الدین کلّہ
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
اس الہام میں علاوہ دعویٰ نبوت تشریعی کے یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس آیت شریفہ کے جناب رسول اللہ ﷺ مصداق نہیں ہیں۔ جو قطعاً کفر ہے۔
(٢) ”خدا وہی خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
(٣) ”اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارہم و یحفظوا فروجہم ذلک ازکیٰ لہم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ھٰذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراہیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کہ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥/٤٣٦)
(٤) ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لیے خدائے تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوئی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی عبارت ہے واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہمارے آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم میری بیعت کو نوحؑ کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں
٤٣
دیکھے اور جس کے کان ہو سنے۔“ (حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- (٥) ”اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں
سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٥١)
- (٦) ”مگر ہم باادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت
صحیح بخاری میں آیا ہے اس کا ذرہ معنی تو کریں ہم تو اب تک یہ ہی سمجھتے تھے کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لیے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٩ خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)
- (٧) ”اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ
میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
- (٨) ”اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعویٰ کو
کچھ حرج نہ پہنچتا تھا ہاں خدا نے میری وحی میں جا بجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے چنانچہ تم براہین احمدیہ میں دیکھو گے کہ اس دعویٰ کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی گئی جا بجا خدا تعالیٰ نے میری وحی میں قرآن کو پیش کیا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
ان عبارتوں میں دعویٰ نبوت تشریعی ظاہر ہے کیونکہ حدیث ان کے مقابلے میں ساقط الاعتبار ہے قرآن شریف ان کی وحی میں آن کر اس کی وحی کا تابع قرآن شریف کو وانہ لفی زبر الاولین فرمایا گیا ہے تو جیسے پہلے انبیاء صاحب شریعت تھے اسی طرح مرزا قادیانی کی وحی میں جب قرآن شریف ہوا جو ایک شریعت مستقلہ ہے تو مرزا قادیانی کی وحی بھی شریعت جدیدہ ہوئی اور مرزا قادیانی رسول صاحب شریعت ہوئے گو یہ ہے کہ قرآن شریف اس معنے میں معمول بہ رہا۔ جو معنی مرزا قادیانی بیان فرمائیں اگر مرزا قادیانی آگے چل کر اس کو بھی منسوخ کر دیتے تو ان کے معتقدین کو تسلیم کے سوا چارہ کار کیا تھا جب مرزا قادیانی کے الہامات ایک جگہ مرتب ہیں اور وہ مثل قرآن، توریت،
٤٤
نصوص مقدسہ کے قطعی اور یقینی اور ان پر ایمان لانا فرض تو اب مرزا قادیانی کے صاحب کتاب جدید پیغمبر رسول ہونے کے دعوے میں کیا شک باقی رہا۔
(٩،١٠،١١،١٢) دعویٰ نبوت میں مذکور ہوئیں ان سے دعویٰ نبوت تشریعی و شریعت جدیدہ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ میں یہ حکم نہیں ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ کافر ہے اس کے پیچھے نماز درست نہیں، نہ اس میں یہ حکم ہے کہ ہر امر میں فیصلہ مرزا قادیانی سے لینا چاہیے بلکہ وہاں تو یہ حکم ہے وان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللّٰہ والرسول الآیۃ۔
(١٣،١٤) عبارات در بیان دعویٰ نبوت۔
(١٥،١٦،١٧،١٨،١٩،٢٠) وہ عبارات ہیں جو سلسلہ توہین عیسیٰ علیہ السلام میں نمبر ٣٧ و نمبر ٣٨،٣٩،٤٠،٤١،٤٢ کے ضمن میں مذکور ہیں کیونکہ اُن میں علاوہ توہین عیسیٰ علیہ السلام کے اپنی نبوت اور فضیلت اور صاحب شریعت ہونے کا بھی دعویٰ ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوالعزم اور صاحب شریعت انبیاء علیہم السلام میں سے ہیں تو جو شخص عیسیٰ علیہ السلام سے افضل اور بہتر ہونے کا مدعی ہے وہ نبوت اور صاحب شریعت ہونے کا پہلے مدعی ہے۔
(٢١) عبارت منقولہ ٥ بضمن دعویٰ نبوت یہ بھی صاحب شریعت ہونا ثابت کرتی ہے۔
(٢٢،٢٣) عبارت حقیقۃ الوحی بضمن دعویٰ نبوت اور انکار ختم نبوت صاف ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت و صاحب کتاب ہے جیسے رسول اللہ ﷺ پر کلام اللہ نازل ہوا مرزا پر بھی نازل ہوا جیسے قرآن شریف کا منکر کافر ہے مرزا کے کلام اللہ کا منکر بھی کافر ہے۔
(٢٤) ”قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی انما الھکم الہ واحد ترجمہ: ان کو کہہ دے کہ میں تو ایک انسان ہوں میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے“
(حقیقۃ الوحی ص ٨١،٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
(٢٥) ”واتل علیھم ما اوحی الیک من ربک۔ ترجمہ: اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ اُن لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
٤٥
مرزا کا رسول اللہ ﷺ سے مساوات بلکہ فضیلت کا دعویٰ (معاذ اللہ)
- (١) ”اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔“
(ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ ص ٢٦٢ ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
- (٢) ”غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھ ہی کو ملا لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
- (٣) ”لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اُسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
یہاں مرزا قادیانی نے فنا فی اللہ ہو کر اللہ بننے کی بھی بنیاد ڈال دی ہے۔
- (٤) ”پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشینگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خود خدائے تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیوں کر رد کر دوں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
- (٥) ”یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد اور احمد سے مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
- (٦) ”اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاس اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کے مہر نہیں ٹوٹتی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
- (٧) ”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے مجھے نبی اور رسول کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیۃ و آخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے
٤٦
براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- (٨) ”اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں ﷺ پس اس طور سے خاتم النبیین کی
مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد ﷺ ہی نبی رہا نہ اور کوئی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- (٩) ”ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دُنیا میں
بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہدہ تھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)
- (١٠) ”اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس سے
بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)
- (١١) ”ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لیے مقدر
تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لیے باقی نہیں۔“ (حوالہ بالا)
- (١٢) ”اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر
بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- (١٣) ”وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمٰی“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٠ خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
- (١٤) ”دنیٰ فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنیٰ“ (ایضاً خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
- (١٥) ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا الخ
(حقیقۃ الوحی ص ٧٨ خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- (١٦) ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحبب کم اللہ الخ
(ایضاً ص ٧ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
٤٧
- (١٧) ”آمرک اللہ علٰی کل شئ“ (حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- (١٨) ”آسمان سے کئی تخت اترے پر ایک تخت اور بچھایا گیا“۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- (١٩) ”انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما
تاخر“۔ (حقیقۃ الوحی ص ٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
- (٢٠) ”سبحک اللہ وراھاک“ (حقیقۃ الوحی ص ٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
- (٢١) ”لولاک لما خلقت الا فلاک“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
- (٢٢) ”انا اعطیناک الکوثر“ (حقیقۃ الوحی ص ١٠٢ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- (٢٣) ”اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمودا“ (حوالہ بالا)
- (٢٤) ”لعلک باخع نفسک الا یکونوا مؤمنین“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٠ خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
- (٢٥) جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی تعداد ٣ ہزار لکھی ہے
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اور اپنے معجزات کی براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ٥٦ پر دس لاکھ بتلائی ہے (خزائن ج ٢١ ص ٧٢) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ سے تین سو سے زائد درجہ عالی تھے۔ نعوذ باللہ من ھذہ الکفریات القبیحہ۔
- (٢٦) ”لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان أتنکر
اس کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) یہاں معجزہ شق القمر کا انکار ہے جو ایک صریح کفر اور تحریف قرآن کفر دوم اور رسول اللہ ﷺ پر دعویٰ فضیلت تیسرا کفر ہے۔
- (٢٧) ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر
گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اسی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ سبحن الذی اسریٰ“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٨٨ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
- (٢٨) ان اللہ خلق ادم وجعلہ سیدا وحاکما وامیرا علٰی کل ذی روح
من الانس والجان کما یفہم من آیۃ اسجدوا لادم ثم ازلہ الشیطان واخرجہ من
٤٨
الجنان وردالحكومة الى هذه الثعبان ومس ادم ذلة وخزى فى هذا الهرب والهوان وان الهرب سجال وللاتقياء مال عندالرحمن فخلق الله المسيح الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان فى اخر الزمان وكان وعداً مكتو بافى القرآن
(الفرق بین لآدم والمسیح ملحقہ خطبہ الہامیہ ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١٦ ص ٣١٢)
- (٢٩) ”ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٧ خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)
- (٣٠) ”ما كان الله ليعذبهم وانت فيهم۔“
(دافع البلا ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
- (٣١) ”انی بایعتک بایعنی ربی صفحہ مذکور انت منی بمنزلۃ
اولادی انت منی وانا منک (دافع البلاء ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) واصنع الفلک باعیننا وو حینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون الله فوق ایدیهم....... قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انماالهکم اله واحد والخیر كله فی القرآن.
(حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- (٣٢) ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین قل اعملوا علیٰ مکانتکم
انی عامل فسوف تعلمون“۔ (حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
عقائد قادیانی جماعت
- (١) ”مثلاً اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنی کرے کہ وہ نبی بناوٹی یا نقلی نہ ہو
بلکہ در حقیقت خدا کی طرف سے خدا کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بنائے ہوئے معنوں کی رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں، جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔“
(القول الفصل ص ١٢ مصنفہ مرزا محمود)
- (٢) ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت
صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“ (حقیقۃ النبوۃ ص ٢٧٤ حصہ اول)
- (٣) ”حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت
٤٩
کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے مقام نبوت پر پہنچایا، ثابت کرتا ہے کہ آپ کو واقع میں نبی بنا دیا گیا اور نہ کسی اور معنی کے رو سے آنحضرت ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت نہیں ہوتا۔‘‘
(حقیقة النبوۃ ص ٢٢١)
(٤) ’’چھٹی دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اگر آپ (مسیح موعود) کو نبی نہ مانا جائے تو ایک خطرناک نقص پیدا ہو جاتا ہے جو انسان کو کافر بنا دینے کے لیے کافی ہے۔‘‘
(حقیقة النبوۃ ص ٢٠٤)
تکفیر غیر قادیانی
(٥) لیکن ہمارے حضرت مسیح موعود کو چونکہ جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے اس لیے آپ کا انکار بھی اسی رابطے سے کفر ہوتا ہے یعنی آپ کا انکار آنحضرت ﷺ کا انکار ہے پس جس قدر فرق نبوت کے حصول کا ہے وہی فرق مخالفین کے انکار پر سزا کا ہے جو نبی کسی دوسرے نبی کے متبع نہیں ان کے مخالفین پر کفر کا فتویٰ بلا واسطہ عائد ہوتا ہے لیکن مسیح موعود چونکہ آنحضرت ﷺ کے دربار کا ایک عہدہ دار ہے اس لیے اس کے کفر کا فتویٰ دربار خاتم النبیین سے جاری ہوتا ہے۔‘‘
(القول الفصل ص ٣٣ از مرزا محمود)
(٦) ’’حکم کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود نبی ہیں بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد ﷺ حکم کیا ہے نبی کا منکر اولئک ھم الکفرون حقا کے فتویٰ کے نیچے ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج ٢ ش ١٢٣۔١٢٤ مورخہ ٦۔٤ اپریل ١٩١٥ء)
(٧) ’’قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود کو نبی اللہ مانتے ہیں اس لئے ہم آپ کے منکروں کو کافر کہتے ہیں۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٣٩ مارچ، اپریل ١٩١١ء)۔
(٨) ’’ہر ایک جو مرزا کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر ہے‘‘ جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠ مارچ، اپریل ١٩١١ء)۔
(٩) ’’آپ نے (مسیح موعود نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لیے بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان جلد ٦ ص ١٤٠ مارچ، اپریل ١٩١١ء)۔
٥٠
جنازہ غیر احمدی
(١٠) ”غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق ہم نے محکمات کو دیکھنا ہے محکم کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود نبی ہیں بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ محکم کیا ہے؟ نبی کا منکر اولئک ھم الکافرون حقا کے فتویٰ کے نیچے ہے، محکم کیا ہے؟ کافر کا جنازہ جائز نہیں“
(الفضل ج ٢ ش ١٢٢ و ١٢٣ مورخہ ٤ و ٦ اپریل ١٩١٥ء)
(١١) ”ایک شخص نے دریافت کیا کہ احمدی کی بیوی فوت ہو جائے اور اندیشہ ہے کہ غیر احمدی اس کا جنازہ نہ پڑھیں گے مگر تمام گھر کے آدمی احمدی ہوں اور بیوی مذکور نے بیعت نہ کی ہو تو اس کے جنازہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا جس کا ایمان کامل نہیں اس کے جنازہ کا کیا فائدہ۔
(الفضل قادیان ج ٢ ش ١٢٣، ١٢٢، مورخہ ٦۔٤۔ اپریل ١٩١٥ ص ٢)
(١٢) ”اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مرچکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی اور رسول کی اسے پہچان نصیب نہیں اسلیے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے۔“ (الفضل ج ٢ نمبر ١٣٦ مورخہ ٢٦ مئی ١٩١٥) (رسالہ موجودہ قادیانی مذہب مطبوعہ احمدیہ پریس لاہور باہتمام ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ سکریٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نمبر ١ سے نمبر ١٢ تک اسی رسالہ سے منقول ہے۔)
(١٣) ”بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت ﷺ کا ایسا فدائی اور ایسا مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود تھے“ (حقیقۃ النبوۃ ص ٥)
(١٤) ”آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس نام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمت للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف نعوذ باللہ من ذلک اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ نعوذ باللہ دنیا کے لیے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“ (حقیقۃ النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)
٥١
(١٥) ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢)
(١٦) ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی اور ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢)
(١٧) ”میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود اس قدر رسول کریم کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے، لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے ہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم کے ذریعہ سے ظاہر ہوا تھا وہی مسیح موعود نے ہمیں دکھلایا اس لحاظ سے برابر بھی کہا جا سکتا ہے۔“
(ذکر الہی ص ١٩)
(١٨) ”حضرت مسیح موعود کو آنحضرت کے تمام کمالات حاصل کرنے کی وجہ سے عین محمد بھی کہہ سکیں گے“
(ذکر الہی نمبر ١٢٠)
(الفضل نمبر ٤٣ جلد ٢)
(١٩) ”ہم جیسے خدا تعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسمعیل، حضرت عیسیٰ، حضرت ادریس علیہ السلام کو نبی پڑھتے ہیں ایسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کرنے لگ جائیں بلکہ جیسے اور نبیوں کی نبوت کا ثبوت ہم دیتے ہیں ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم دید گواہ ہیں مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢٦ نومبر ١٩١٣ء صفحہ ٨)
(٢٠) ”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ نہ تسلیم کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو سید المرسلین و خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔“
(اخبار الفضل ٢٩ جون ١٩١٥ء)
(٢١) ”خدائے تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہ کہا پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں
٥٢
جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے اس کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔"
(اخبار الحکم ٢١ اپریل ١٩١٣ء)
(٢٢) ”قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدا تعالیٰ کے کلام ہیں دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا اس لیے قرآن کو مقدم رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
(الفضل ٣٠ اپریل ١٩١٥ء ج ٢ ش ١٣٣ ص ٦)
(٢٣) ”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ اور اس آیت سے حضرت مسیح موعود کی نبوۃ کے خلاف استدلال کرتے ہیں لیکن یہ سب بسبب قلت تدبر ہے قرآن میں کہیں بھی نبی کے لیے صاحب شریعت ہونے یا بلا واسطہ نبوۃ پانے کی شرط مذکور نہ تھی۔
(حقیقت النبوۃ ص ١٥٥ ہنڈبل ص ٤)
(٢٤) ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں“
(حقیقت النبوۃ ص ٧٤)
(منقول از ٹریکٹ احمدی مشنری ایسوسی ایشن لاہور ہنڈبل نمبر ٢ نمبر ١ سے ٢٥ تک ہنڈبل نمبر ٢ سے منقول ہے)
(٢٥) ”پس ان معنوں میں مسیح موعود جو آنحضرت کی بعثت ثانی کا ظہور کا ذریعہ ہے اس کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا گویا آنحضرت کی بعثت ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔"
(الفضل جلد ٣ نمبر ٣ مورخہ ٢٩ جون ١٩١٥ء ص ٧ عنوان احمد نبی اللہ عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٥)
(٢٦) ”پس اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کے کامل مظہر تھے آپ کو عین محمد لکھا گیا پس جہاں آنحضرت ﷺ اور مسیح موعود مقابلہ پر آئیں گے وہاں رسول کریم آقا کے درجہ پر ہوں گے اور مسیح موعود خادم کے درجے پر کھڑے ہونگے اور جہاں الگ الگ نام لیا جائے گا وہاں حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات حاصل کرنے کی وجہ سے عین محمد بھی کہہ سکیں گے۔"
(ذکر الہی ص ٢٠ عقائد محمدیہ نمبر ١ ص ٨)
(٢٧) ”تو خاتم النبیین کے معنی بھی یہی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا جب تک آنحضرت ﷺ کی غلامی نہ اختیار کرے ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں اور جبکہ
باب نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود بھی ضرور نبی ہے“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٤٢ عقائد محمودیہ ص ١١)
(٢٨) ”پس ہمارا عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا“ (حقیقۃ النبوۃ ص ١٣٨ عقائد محمودیہ ص ١١)
(٢٩) ”لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح موعود کی جماعت کے کسی جماعت کو آخرین نہیں قرار دیا گیا معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٣١ عقائد محمودیہ)
عقائد بشیر احمد قادیانی، پسر مرزا قادیانی
(٣٤) ”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو معاذ اللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں آپ کا انکار کفر ہو اور دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(ریویو آف ریلیجنز موسومہ کلمۃ الفصل ص ١٤٦، ١٤٧)
(٣٥) ”تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدوں کو پورا کرے“
(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)
(٣٦) ”پہلے آخرین منہم کی آیت قرآن شریف سے نکال پھینک اور پھر جو تیرے دل میں آئے کہہ کیونکہ جب تک یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہے اس وقت تک تو مجبور ہے کہ مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے۔“ (کلمۃ الفصل ص ١٠٥)
(٣٧) ”یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے ان کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جائیں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے ہیں بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت کسی کو کم مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“ (کلمۃ الفصل ص ١١٣)
٥٤
(٣٨) ”اس کے (یعنی) آنحضرت ﷺ کے شاگردوں میں علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور نہ صرف کہ یہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٥٧)
(٣٩) ”پس اس لیے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٦)
(٤٠) ”اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
(٤١) ”پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوۃ نہیں بلکہ خدا کی قسم اس نبوۃ میں جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا جن تک انبیاء بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچائے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٤)
(٤٢) ”علاوہ اس کے ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے جیسا کہ اس کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء اس لیے اس کے آنے سے گویا امت محمدیہ میں تمام گذشتہ نبی پیدا کیے گئے پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بھی بڑھ کر رہا کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں کے جو توریت کی خدمت کے لیے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے اس امت میں تمام وہ نبی بھی مبعوث کیے گئے جو موسیٰ سے پہلے گذر چکے تھے بلکہ موسیٰ بھی خود دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باجود میں پورا ہوا۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٧)
(٤٣) ”جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا (النبیین میں سب انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام شریک ہیں کوئی نبی مستثنیٰ نہیں آنحضرت ﷺ بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور حکمت دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت اور قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت اور منہاج نبوۃ و حدیث شریف) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے مصدق ہو ان سب چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں (یعنی وہ رسول مسیح موعود ہیں جو قرآن و حدیث کی تصدیق کرنے والا
٥٥
ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں) لتؤمنن بہ میں جو نون ثقیلہ ہے اہل علم جانتے ہیں کہ سخت تاکید کے معنوں میں آتا ہے یعنی اے نبیو تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر ایک طرح سے مدد فرض سمجھنا (جب تمام انبیاء علیہم السلام کو عملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں)‘‘
(اخبار الفضل قادیان جلد ٣، نمبر ٣٨، ٣٩ مورخہ ١٩ و ٢١ ستمبر ١٩١٥ء ص ٦)
(٤٤) ’’اور ایک وہ وحی جو پیچھے اترنے والی ہے اور یہ وہی وحی ہے جو سورۃ الجمعہ ٦٢ آیت ٣ و ٤ ہو الذی بعث فی الامین رسولا منہم یتلوا علیہم آیتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین ط واخرین منہم لما یلحقوا بہم ہو العزیز الحکیم ط میں موجود ہے اس آیت میں رسول کریم ﷺ کے دو بعث بیان فرمائے گئے ہیں ایک تو وہ بعث جس میں قرآن کریم نازل ہوا اور ایک دوسرا بعث جو آخری زمانہ میں ہونا مقدر تھا اس شخص کا نام جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔ ترجمہ قرآن کریم پارہ اول مطبوعہ قادیان ص ١٢ تحت آیت ’’وبالاخرۃ ہم یوقنون‘‘
(عقائد محمودیہ ص ١٩)
(٤٥) ’’پس اب کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم لا نفرق بین احد من رسلہ داؤد اور سلیمان و زکریا و یحییٰ علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص ١١٧)
(٤٦) ’’نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ نہ تسلیم کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی ہی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے امتی ہونے کی حیثیت بطور آئینہ کے ہے جو احمد نبی اللہ کے وجود نبوت اور رسالت کو دکھلانے کے وقت اسے احمد نبی اللہ سے غلام احمد اور امتی نبی بنا دے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان جلد ٣ ص ٧ کالم اول مورخہ ٢٩ جون ١٩١٥ء زیر عنوان احمد نبی اللہ عقائد محمودیہ ص ٢١)
(٤٧) ’’اور آنحضرت کے بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا لیکن آپ کے بعث ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے استہزاء ہے حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے آنحضرت کی بعثت اوّل و ثانی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر کفر میں بعثت
٥٦
اول کے کافر سے بڑھ کر ہیں مسیح موعود کی جماعت و آخرین منھم کے مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت کے صحابہ ہونے کا مرتبہ صحابہ بننے والوں نے آنحضرت کا وجود باجود پایا ہو پس صحابہ بننے کی شان ایک امتی پر ایمان لانے کا نتیجہ نہیں ہو سکتی اور احمدی بننے کا مرتبہ احمد پر ایمان لانے سے حاصل ہو سکتا ہے نہ کسی غلام احمد پر۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان جلد ٣ نمبر ١٠ کالم اول مورخہ ١٥ جولائی ١٩١٥ء زیر عنوان احمد نبی اللہ)
- (٤٨) ’’حضرت اقدس کی دو حیثیتیں الگ الگ ہیں ایک امتی کی دوسری نبی
کی امتی کی حیثیت ابتدائی ہے اور نبی کی شان انتہائی حضرت صاحب نے امتی بن کر جو زمانہ گزارا ہے غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے اس سے ترقی پا کر آپ غلام احمد سے احمد اور مریم سے ابن مریم بنے ہیں جس زمانے میں آپ غلام احمد تھے اس وقت احمد نہ تھے اور جب آپ مریم تھے تو ابن مریم نہ تھے ایسا ہی جب آپ احمد بن گئے تو غلام احمد نہ رہے اور جب آپ ابن مریم بن گئے تو اب مریم نہ رہے۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے۔‘‘
(ازہاق الباطل ص ٣٠ مصنفہ میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق بمجریہ قادیان)
- (٤٩) ’’نتیجہ اس پیروی کا یہ ہوا کہ مریمی حالت سے ترقی کر کے آپ عیسیٰ
ابن مریم بن گئے اور یہ آخری اور انتہائی حد امتی کی حیثیت میں رہنے کی تھی اب دوسرا زمانہ اور دوسری حالت شروع ہوئی کہ امتی سے نبی بن گئے اور پہلا زمانہ ختم ہو گیا۔‘‘
(ازہاق الباطل ص ٣٣۔٣٢ ملخص)
- (٥٠) ’’پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ
کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر بھی عیسیٰ نہ کہنا یا غلام احمد سے احمد نام پا جانے پر بھی احمد نہ کہنا ایسا ہے جیسے کسی پٹواری کو ڈپٹی کلکٹر ہو جانے پر پٹواری یا لغوی ڈپٹی کلکٹر کہنا جو دراصل اس کی ایک توہین اور گستاخی ہے‘‘
(ازہاق الباطل ص ٣٤)
- (٥١) ’’مسیح موعود کے ابتدائی زمانہ کے کلمات کو جب کہ آپ امتی کی شان
میں تھے انتہائی زمانہ نبوۃ کے خلاف نقل کر کے اپنی ضلالت اور جہالت کا ثبوت دیا ہے ہمارا استدلال آخری زمانہ سے ہے جب کہ آپ کو خدا نے امتی سے نبی بنا دیا تھا ابتدائی زمانہ کو لے کر اپنی مخالفت کا اظہار کر رہا ہے جو غلط ہے‘‘ (دیکھو ازہاق الباطل ص ٧٠)
- (٥٢) ’’اس جگہ میں یہ بات بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں
٥٧
جہاں کہیں بھی حقیقی نبوۃ کا ذکر ہے وہاں اس سے مراد ایسی نبوت ہے جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت ہو ورنہ حقیقی کے لغوی مضمون کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت حقیقی ہی ہوتی ہے جعلی یا فرضی نہیں اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا اور جہاں کہیں بھی مستقل نبوت کا ذکر ہے وہاں ایسی نبوت مراد ہے جو کسی کو بلا واسطہ بغیر اتباع کسی نبی سابقہ کے ملی ہو ورنہ مستقل کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت مستقل ہوتی ہے عارضی نہیں اور مسیح موعود بھی مستقل نبی تھا فتدبر۔“
(ریویو بر مباحثہ بٹالوی ص ١١٨، ١١٩)
- (٥٣) ”اور تیسری بات یہ بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام نبی رکھا
پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں ہاں حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کے لیے اصطلاحی طور پر نبوت کی جو حقیقت قرار دی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لاوے اس اصطلاح کی رو سے حضرت مسیح موعود ہرگز حقیقی نبی نہیں ہیں بلکہ مجازی نبی ہیں یعنی کوئی جدید شریعت نہیں لائے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)
لاہوری مرزائیوں کے عقائد
- (١) قرآن ص ١٥٥ نوٹ نمبر ٢٢٦ زیر آیت ويكلم الناس في المهد
وكهلًا سورۂ آل عمران پ ٣ ع ١٣۔ مہد اور کہولت میں کلام کرنا معجزہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر ایک تندرست بچہ اگر وہ گونگا نہیں مہد میں بولنے لگ پڑتا ہے اسی طرح کہولت میں بھی ہر ایک انسان جو صحت کی حالت میں اس حد کو پہنچ جاتا ہے کلام کر سکتا ہے اس خوشخبری کا صرف یہ مفہوم ہے کہ یہ بچہ صحت کی حالت میں رہے گا اور ایام طفولیت میں فوت نہ ہوگا۔“
(کشف الاسرار حصہ اول ص ١١ و ١٢)
- (٢) ”ترجمہ قرآن شریف ص ٦٥٢، نوٹ ١٦٤١ زیر آیت قلنا یا نار کونی
برداً وسلاماً علی ابراھیم۔ سورہ انبیاء پ ١٧ ع ٥ بت شکنی کے واقعہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف آگ مشتعل کر دی مگر اس کو اس سے کوئی ضرر نہ پہنچا اور وہ عافیت میں رہا۔ ارادوابہ كيداً فجعلنا هم الاخسرين ط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ محض کید یا مقابلہ تھا ممکن ہے کہ انہوں نے ابراہیم کو آگ میں جلانے کا ارادہ کیا ہو مگر اس تدبیر میں ناکام رہے بموجب آیت قالوا حرقوہ وانصر وا الهتکم و بموجب آیت قالوا قتلوہ اوحرقوہ فانجاہ اللہ من النار۔“ ترجمہ: ص ٧٧٩ نوٹ
٥٨
١٩١٠ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ ابراہیم در حقیقت آگ میں ڈالا گیا تھا ایک طرف تو یہ مذکور ہے کہ اللہ نے اس کو آگ سے نجات دے دی دوسری طرف یوں لکھا ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کرنے یا جلانے کا ارادہ کیا لہذا آگ کا مفہوم وہ مقابلہ ہے جو ان کی تدبیر میں مد نظر تھا اور قال انی مهاجر الی ربی سے مزید ثبوت ملتا ہے کہ آگ سے نجات کا مفہوم ابراہیم کی ہجرت ہے۔"
(کشف الاسرار ص ١٢)
(٣) نوٹ ٣١٢٣ قرآن میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں ہے کہ یونس کو مچھلی نے نگل لیا تھا کیونکہ لفظ التقم جو مذکور ہے بالضرور لقمہ کے نگل جانے کا مفہوم نہیں بتاتا ہے بلکہ صرف منہ میں اخذ کرنے کا لین صاحب اپنے لغات میں التقم فاها فی التقبل کی نظیر لکھ کر اس کے معنی کرتا ہے۔ (اس کا بوسہ لینے کے وقت اس نے اس کا منہ اپنے ہونٹوں میں لے لیا) اس بارہ میں ایک حدیث نبوی بھی موجود ہے کہ مچھلی نے حضرت کی صرف ایڑی کو منہ میں لیا تھا اس میں یہی قرآن بائبل کی تردید میں ہے یعنی بائبل یونس کو مچھلی کا نگل جانا اور اس کے پیٹ میں داخل ہونا بیان کرتی ہے جو قرآن کے برخلاف ہے۔ پھر آگے تحریر فرماتے ہیں اگر یونس اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والوں سے نہ ہوتا تو وہ اپنی قوم میں معمولی حیثیت کا انسان رہتا اور نبی کا مرتبہ نہ پاتا اگر بطن کے معنی پیٹ کے لیے جائیں تو ضمیرہ کا مرجع مچھلی ہو گا مگر پھر بھی یہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ مچھلی نے یونس کو در حقیقت نگل لیا تھا مفہوم صرف یہ ہے کہ اگر یونس تسبیح کرنے والوں سے نہ ہوتا تو مچھلی ان کو نگل جاتی۔"
(کشف الاسرار ص ٢٢، ٢١)
(٤) "محمد علی لاہوری اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں ص ١٢٣ بذیل آیت او کالذی مرّ علی قرية (پ ٣ ع ٣) کے واقعہ کو خواب کا واقعہ بتلا کر فرماتے ہیں کہ قرآن ایسے واقعات کے متعلق جو خاص عبارت یا طرز واقعہ یا کسی ما قبل تاریخ کی رو سے خود بخود خواب کا مفہوم ہو لفظ خواب کا بالعموم استعمال نہیں کرتا اور اس کے استشہاد میں حضرت یوسفؑ کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جب حضرت یوسفؑ نے گیارہ ستاروں اور چاند اور سورج کو اپنے کو سجدہ کرنے کا تذکرہ اپنے والد کو سنایا تو خواب کا لفظ بالکل استعمال نہ کیا غرض یہ ہے کہ اس آیت میں جو موت کے بعد بعث کا ذکر ہے اس موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ خواب مراد ہے۔"
(ماخوذ از کشف الاسرار ص ٣٠)
(٥) "فلما بلغ مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا۔ اس آیت کے متعلق نمبر ١٥١٤، ١٥١٥ میں ایم۔ اے محمد علی لاہوری فرماتے ہیں کہ
٥٩
بموجب حدیث بخاری مچھلی کا گم ہونا صرف منزل مقصود مل جانے کا نشان تھا قرآن یا حدیث میں ہرگز ثابت نہیں کہ یہ بہتی ہوئی مچھلی تھی تعجب کا اظہار مچھلی کے دریا میں چلے جانے کا نہیں بلکہ اس امر پر ہے کہ صاحب موسیٰ اس کا تذکرہ موسیٰ سے کرنا بھول گیا تھا‘‘
(ملخص کشف الاسرار ص ٣٢،٣٣)
(٦) ”محمد علی لاہوری اپنے قرآن کے ص ٢٤١ پر بذیل آیۃ وما قتلوہ وما صلبوہ (الی) وما قتلوہ یقیناً (پ ٦ ع٢) تحریر فرماتے ہیں کہ لفظ صلبوہ سے مسیح کے صلیبی عذاب کی نفی ثابت نہیں ہوتی نفی صرف صلیبی عذاب کی موت سے ہے اس کے متعلق کچھ اور بیان بھی درج ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسیح صلیب پر عذاب ضرور دئے گئے مگر وہاں وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ بعد ازیں قدرتی موت سے مر چکے ہیں۔‘‘
(کشف الاسرار ص ٣٥)
(٧) ”آیۃ ارکض برجلک ھذا مغتسل بارد و شراب کی تفسیر میں ص ٨٨٦، ٨٨٧ پر اس طرح فرماتے ہیں جس مصیبت کی حضرت ایوب شکایت فرماتے ہیں وہ کسی ریگستانی سفر کا واقعہ معلوم ہوتا ہے جس میں آپ کو تھکان اور پیاس سے تکلیف محسوس ہوئی پھر فرماتے ہیں ارکض برجلک یعنی اپنے گھوڑے کو ایڑھی لگا کر دوڑاؤ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ایوب وہاں جا پہنچے ہیں جہاں پینے اور غسل کے واسطے ان کو پانی مل جاتا ہے ایوب کو خیال ہوا کہ وہ ایک بے آب ریگستان میں وارد ہے اور اس نے تھکان اور پیاس کی جب شکایت کی تو اس کو جواب ملتا ہے کہ اپنے گھوڑے کو یا سواری کے جانور کو تیز چلا پھر تم کو آرام مل جائے گا یہ ایک نصیحت ہے کہ مشکلات میں نا امید نہ ہونا چاہیے۔‘‘
(ملخص از کشف الاسرار ص ٣٨، ٣٩)
(٨) ”خذ بیدک ضغثا (الی) ولا تحنث اس آیت میں تین الگ الگ الفاظ ہیں ان کے مفہوم کے متعلق عموماً غلط فہمی واقع ہوتی ہے اس قصہ میں کل مفسرین ایک دوسرے کے مقلد ہیں مفسرین کا بیان ہے کہ ایوب نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی حلف اٹھائی تھی اور اس نے اپنے حلف کو آخر اس طرح پر پورا کر دیا کہ تنکوں کا مٹھا لے کر اس کو مار دیا قرآن یا کسی حدیث صحیح میں اس قصہ کا کوئی نشان نہیں ملتا پھر لفظ ضغث اور ولا تحنث کی تشریح فرما کر یہ فرماتے ہیں اب اس آیت کا یہ مفہوم حاصل ہوا کہ ایوب کو نصیحت کی جاتی ہے کہ رسول کا دوست ہر بدی کی طرف راغب نہ ہوتا۔
(ملخص از ص ٣٩، ٥٠ کشف الاسرار)
٦٠
(٩) ”سبحن الذی اسری بعبده لیلا من المسجد الحرام الخ ایم اے محمد علی لاہوری نے اپنے انگریزی قرآن کے ص ٥٦٥ نوٹ نمبر ١٤٠١ میں اس کو واقعہ معراج تسلیم کر کے نوٹ ١٤٤١ کے متعلق آیت وما جعلنا الرویا، التی ارینک الخ ترجمہ کے بعد فرماتے ہیں اکثر مفسرین اس امر میں متفق ہیں کہ اس سے مراد واقعہ معراج کا ہے علماء میں اختلاف ہے آیا یہ معراج جسمانی تھی یا روحانی؟ جمہور جسمانی کے قائل ہیں مگر حضرت معاویہؓ و حضرت عائشہؓ اس کو روحانی بتلاتے ہیں مگر بلحاظ صاف الفاظ وما جعلنا الرویا التی ارینک کے جمہور کی رائے رد کرنے کے لائق ہے“
(ملخص کشف الاسرار ص ٨٣، ٨٤)
(١٠) ”وورث سلیمن داؤد وقال یا ایہا الناس علمنا منطق الطیر وا وتینا من کل شئ الآیہ ایم۔ اے محمد علی لاہوری اپنے ترجمہ کے ص ٤٢٦ نوٹ ١٨٤٤ میں فرماتے ہیں کہ منطق الطیر سے یہ مراد ہے کہ حضرت سلیمانؑ پرندوں سے پیغام رسانی کا کام لیتے تھے پھر بہت سے معانی لغت سے اخذ کر کے نوٹ ١٨٨٦ میں فرماتے ہیں کہ طیر سے مراد رسالہ یعنی سواروں کی جماعت ہے ایک تیسری تاویل یہ بھی کرتے ہیں کہ پرندوں کے غول فاتح لشکر کے ہمراہ مفتوحہ لشکر کی لاشوں کے کھانے کے واسطے بھی جایا کرتے ہیں، اور اس خیال کی تائید میں عرب کے کچھ اشعار بھی نقل کیے ہیں لے دے کے آخر ہر سہ صنف مذکور کو نوع انسان میں داخل کرتے ہیں۔ (ملخص ٩١، ٩٢ کشف الاسرار)
(١١) ”ایم اے صاحب اپنے قرآن کے ص ٢٩ و نوٹ ٤٠٧ میں متعلق وارکعوا مع الراکعین اس طرح فرماتے ہیں جو رکوع کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور نماز میں ان کو مسلمانوں کی اس طرح سے اقتداء کا حکم ہے۔“ (ص ١٠٢ کشف الاسرار) اس تحریف کی غرض غالباً یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے حکم کے مطابق جو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی حرام ہے، لاہوری پارٹی کا بھی یہی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔
(١٢) ایم اے محمد علی صاحب اپنے قرآن کے ص ٣٧٦ نوٹ ٩٨٣ میں آیت اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین الآیہ کے متعلق فرماتے ہیں قرآن شریف میں کہیں مذکور نہیں کہ فرشتے درحقیقت لڑائی میں شریک ہووے اور ملائک سے مراد مومنوں کے دل کو اطمینان دلانا مطلوب تھا پس جب مومنوں کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو گیا تو کفاروں کے دلوں پر رعب طاری ہو گیا“
(ص ١٠٨، ١٠٩ کشف الاسرار)
- (١٣) ”واذ استسقیٰ موسیٰ لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر
فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا۔ اس کے متعلق ایم۔اے صاحب اپنے قرآن کے ص ٣٥ اور نوٹ ٩٦ میں فرماتے ہیں کہ ”ضرب کے معنی چلنے کے بھی لغت میں لکھا ہے اور عصا جماعت کے واسطے بھی لغت میں مذکور ہے اس واسطے اس کے یہ معنی ہیں کہ اپنے سوٹی یا جماعت کے ساتھ پہاڑ میں راستہ کی تلاش کرو (ص ١١٠ کشف الاسرار) یہ ہے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا معجزات قرآن پر ایمان اور یہ ہیں وہ معارف قرآنیہ جو مرزا قادیانی کو دئے گئے۔
- (١٤) ”اپنے قرآن مجید کے ص ٦١٢ نوٹ ١٥٢٦ متعلق آیت فتمثل لھا
بشراً سویا فرماتے ہیں یہ واقعہ خواب کا تھا کیونکہ فانی آنکھ انسان کی ملائک کے وجود کو دیکھنے سے قاصر ہے۔
(ص ٦٩ کشف الاسرار)
- (١٥) ”اقتربت الساعۃ وانشق القمر الآیۃ ایم اے صاحب اپنے انگریزی
قرآن کے ص ١٠٢٢ نوٹ نمبر ٢٣٨٨ میں اس واقعہ کو حضرت رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تسلیم کر کے بھی آخر ایسا بگاڑتے ہیں کہ محض خسف کی صورت بن جاتا ہے اور حوالہ تفسیر کشاف اور فخر الدین رازی کا اس کے متعلق دیتے ہیں۔“ (ص ١١٦ وص ١١٧) کیوں نہ ہو مرزا قادیانی بھی تو یہی فرماتے ہیں۔
- (١٦) ”فاما الذین شقوا ففی النار لہم فیہا زفیر وشہیق ط الآیۃ کے متعلق
ص ٤٧٢ میں فرماتے ہیں اہل شقاوت دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہیں گے کیونکہ ما دامت السمٰوات والارض الا ماشاء ربک ان ربک فعال لما یرید ط ہے جس میں استثناء موجود ہے اور لفظ فعال مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی خدا ایسی بات بھی کر ڈالتا ہے کہ جو انسان کو غیر ممکن معلوم ہوتی ہے مگر جنت والی آیت میں بھی اگرچہ یہی استثناء موجود ہے لیکن اس کے بعد عطاء غیر مجذوذ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہشت کی حالت غیر منقطع ہے برخلاف جہنم کے جو ابدی بہشت کی طرح نہیں“ (ص ١٢٣، ١٢٤ کشف الاسرار) واضح رہے کہ یہ تمام مضامین کشف الاسرار سے لیے گئے ہیں جن میں بلفظہ عبارت نقل کرنے کا التزام نہیں کیا گیا اکثر ملخص اور خلاصہ مضمون لیا گیا ہے۔
- (١٧) ”ہینڈبل نمبر ٢ ص ١ قبل اس کے کہ جناب میاں صاحب اور ان کے مریدین
کے عقائد کو خلاف عقائد حضرت مسیح موعود کہا جائے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں کہ آپ امام الزمان مجدد ملہم من اللہ جزوی ظلی، بروزی، مجازی، امتی، نبی، بمعنے محدث، نہ بمعنے نبی، مہدی، معہود، و مسیح موعود ہیں۔ الخ
٦٢
عقائد قادیانی مرزائی ظہیر الدین اروپی
- (١) ”پس اے وہ لوگو جو میرے دعویٰ کی تصدیق کرنا چاہتے ہو تم میں سے ہر
ایک کا فرض ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اللہ تعالیٰ کی کتابوں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اس بات پر بھی ایمان لاوے کہ قرآن کریم میں جس احمد کے حق میں حضرت مسیح ابن مریم کی طرف سے ایک پیشگوئی درج ہے وہ احمد رسول اللہ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود جری اللہ فی حلل الانبیاء ہی ہیں۔
(المبارک ص٣)
- (٢) اور حضرت مسیح موعود نے جس ایک ذکی غلام کے حق میں اپنے اشتہار
مورخہ ٢٠ فروری ٨٦ء میں پیشگوئی کی ہوئی ہے وہ موعود یہی راقم الحروف ظہیر الدین نام ہی ہے۔
(المبارک ٣)
- (٣) اپنے عقائد کا خلاصہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر سچے دل سے
ایمان رکھتے ہوئے احسن طور پر یہ بیان کرنا ہو گا کہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ۔
(المبارک ص٣)
- (٤) قرآن کریم کی تعلیم کو سچے دل سے منجانب اللہ یقین کرتے ہوئے اس
تازہ وحی الٰہی پر ایمان لانا مقدم سمجھنا ہو گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر خدا کی طرف سے اس زمانہ کے لیے نازل ہوئی۔ (ایضا)
- (٥) اور خدا کی عبادت کرتے وقت مسجد اقصیٰ اور مسیح موعود کے مقام
(قادیان) کی طرف منہ کرنے کو ترجیح دینی ہو گی۔
(المبارک ص٣)
- (٦) اور خواہ کوئی دو رکعت ہی نماز پڑھے یا اس سے کم و بیش ہاتھ کھلے رکھ کر
پڑھے یا ہاتھ جوڑ کر دو زانو بیٹھ کر پڑھے یا کسی اور طریق پر ان تمام حالات میں کسی طرح کی بھی ایک دوسرے پر عیب چینی اور حرف گیری نہ کرنی ہو گی اور خواہ کسی بولی اور لہجہ میں کوئی خدا کی تحمید و تقدیس اور تمجید بیان کرے اور اپنی کمزوریاں اور احتیاجوں کے اظہار عجز و نیاز اور توبہ و استغفار کرے اور خدا کے حضور خضوع خشوع اور تذلل و انکسار اختیار کرے تضرع ابتہال گریہ و زاری آہ بکا کا اظہار کرے اور عاجزانہ دعاؤں پر مداومت کر کے سجدات میں گر کر اپنی ضروریات کو خدا کے حضور میں پیش کرے الغرض خواہ کوئی کتنے ہی علیحدہ علیحدہ طریقوں سے مختلف الفاظ میں خدا کی حمد بیان کرے اور لب و
لہجہ اور بولی میں خواہ کتنا ہی فرق کیوں نہ ہو ان سب باتوں کو اور عبادت کے طریقہ جات کو کبھی بھی محل اعتراض نہ بنانا ہو گا اور مبارک وہ جو وحدت میں فرق نہ آنے دے۔
(المبارک ص ٣)
- (٧) اور روحانی امور کے لیے جسمانی خونریزی اور ہاتھا پائی (جہاد) کو ہمیشہ
کے لیے قطعی طور پر حرام اور قبیح یقین کرنا ہوگا۔
(المبارک ص ٣)
- (٨) اور تمام جسمانی و ملکی تمدنی و سیاسی اور انتظام امور میں گورنمنٹ اور اس
کے ماتحت حکماء کے قوانین کا سچے دل سے مطیع اور فرمانبردار رہنا ہو گا۔
(المبارک ص ٣)
- (٩) اور کسی صورت میں بھی نابالغ بچوں کی شادی نہیں کرنی ہو گی۔
(المبارک ص ٤)
- (١٠) اور سوائے اشد ترین ضروریات کے ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ
بیوی ہرگز نہیں کرنی ہوگی۔
(کتاب مذکور ص ٤)
- (١١) اور اگر کوئی عورت بعد از نکاح تمہارے عقد نکاح میں نہیں رہنا چاہے گی
تو اس پر کسی طرح کا بھی جبر نہیں کرنا ہو گا اور نہایت خندہ پیشانی سے حسن سلوک کے ساتھ اس کو چھوڑ دینا ہو گا۔
(المبارک ص ٤)
- (١٢) اور سچ پوچھو تو بروزی رنگ میں خود محمد رسول اللہ ہی دوبارہ مسیح موعود ہو
کر آئے ہیں۔
(حاشیہ حق المبین ص ١)
- (١٣) تب ہم نے سوال کیا کہ خطبہ الہامیہ کے ص ١٨١ پر حضرت صاحب نے
لکھا ہوا ہے کہ جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح تلوار اور لڑنے والے گروہ کی محتاج نہیں اور اس لیے خدائے تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لیے صدیوں کے شمار کو رسول کریم کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا وہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمال تام رکھتا ہے دلالت کرے۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ غور کر کے بتاؤ کہ بعثت ثانی یعنی مسیح موعود بعثت اوّل یعنی حضرت نبی کریم سے افضل شان میں آیا ہے یا اس عبارت کا کچھ اور مطلب ہے اور لڑنے والے گروہ کی بعثت اوّل محتاج تھی یا بعثت ثانی؟ یہی سوچ کر جواب دو کہ وہ وجود
٦٤
باجود ہلال کی مانند مسجد حرام سے ظاہر ہوا وہ تو صاحب شریعت تھا اور جب وہی ہلال مسجد اقصیٰ (یعنی مرزا صاحب کی مسجد) تک پہنچ کر بدر کامل ہو گیا تب وہ صاحب شریعت نہ رہا۔
(حاشیہ حق المبین ص٢)
- (١٤) ”تب ہم نے کہا کہ اس الہام میں حضرت صاحب نے صاف طور پر
اپنے آپ کو ابراہیم قرار دیا ہے اب ظاہر ہے کہ مسجد الحرام والے ابراہیم سے مسجد الاقصیٰ والا ابراہیم بہر صورت فضیلت رکھتا ہے کیونکہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام پر ترجیح ہے ایسے حالات میں حضرت صاحب کے الہام و اتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ پر عمل نہ کرنا اگر میاں صاحب کی غلطی نہیں تو کیا ہے۔
(حاشیہ ص ٣،٢ حق المبین)
- (١٥) ”لا الہ الا اللہ اور احمد جری اللہ“ قادیانی پارٹی کا اب ایمان ہو
گیا ہے بس کلمہ ”لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ“ کا انکار چہ معنی دارد۔
(رہنمائے محمود حاشیہ ص١)
- (١٦) ”اسلام نام ہے محل اور موقعہ کے مطابق عمل کرنے کا جس جس زمانہ
میں جو جو ہادی آیا زمانہ کے مطابق محل اور موقعہ کے مناسب حال جو بھی اس نے تعلیم دی وہی اسلام ہے اس زمانہ میں بھی خدا نے اپنے ایک بندہ کو مبعوث کیا اور اس کو ہندوؤں کے لیے کرشن مسیحوں کے لیے مسیح اور مسلمانوں کے لیے محمد مہدی بنا کر بھیجا اس نے جہاد و قتال کو حرام اور قبیح قرار دے کر اپنی موت سے پہلے دنیا کو پیغام صلح پہنچایا۔ ”ان الدین عنداللہ الاسلام“ ظہیر الدین اروپی کے رسالہ کا نام۔
- (١٧) ”پس مندرجہ بالا اٹل قانون کے ماتحت میں نہایت شرح صدر سے یہ
کہوں گا کہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اللہ حکیم و خبیر نے اس زمانے کی ہدایت کے لیے بھی اسی طرح سے ایک کتاب مبین نازل فرمائی جس طرح سے توریت شریف کے بعد خدا نے انجیل شریف کو نازل کیا تھا اور اس کتاب مبین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے توحید الٰہی اور رفق اور نرمی کی تعلیم کے ساتھ نہایت وضاحت کے ساتھ یہ تعلیم بھی مل چکی ہے کہ اب ہمارے لیے کتب علیکم القتال کا حکم قابل عملدرآمد نہیں ہے اگرچہ قرآن مجید کے حکم کتب علیکم القتال پر ہمارا ایمان ہے کہ وہ خدا کا کلام اور خدا کا حکم ہے لیکن حضرت مسیح موعود کے ذریعے سے چونکہ خدا نے اب جلالی رنگ کو منسوخ کر کے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا ہے اس لیے ہم جس طرح توریت شریف کے بعض احکام کو مختص الوقت سمجھتے ہیں اسی طرح سے قرآن مجید کے بعض احکام کو بھی مختص الحالات اور مختص
٦٥
المقامات سمجھتے ہیں اور اس لیے ہم یقین رکھتے ہیں کہ اب کتب علیکم القتال پر عمل در آمد کرنے کا زمانہ نہیں رہا بلکہ اس بات پر پختہ یقین کے ساتھ عمل پیرا ہونے کا زمانہ ہے کہ مسیح موعود پر ایمان لا کر دین کے لیے جنگ اور قتال کو حرام اور قبیح یقین کیا جائے دیکھو حضرت مسیح موعود نے صاف الفاظ میں فرما دیا ہوا ہے۔
(١٨)”...... کہ میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نا فرمانی کرتا ہے اس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے، اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی وہ ہمارے سید رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیئے گئے ۔........................
(١٩)” پس اے احمدی قوم حضرت مسیح موعود کا مندرجہ بالا حکم تیرے لیے قابل عملدرآمد ہے تو یاد رکھ کہ جس طرح حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء سراجاً منیر کا زمانہ وہ زمانہ نہ تھا جو حضرت موسیٰ کا تھا اسی طرح آج حضرت مسیح موعود کا زمانہ وہ زمانہ نہیں جو آج سے تیرہ سو برس پہلے تھا، یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے لیے وہ شریعت نہیں رہی کہ جو آج سے تیرہ سو برس پہلے تھی دیکھو حضرت مسیح موعود کیسی وضاحت سے لکھتے ہیں کہ
(٢٠)”جہاد یعنی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا، حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا، اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا، اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔“
(لا تبدیل قانون ص ٣،٤)
تریاق القلوب ص ١٥٧ کی مندرجہ ذیل عبارت کو بغور پڑھو:۔
(٢١)” آدم صفی اللہ کے لیے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب
٦٦
بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم اور اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے ص ٥٠٥ میں میری نسبت ایک یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ خلق آدم فاکرمہ یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدموں پر ایک وجہ کی اس کو فضیلت بخشی، اس الہام اور کلام الہی کے یہی معنی ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لیے کئی بروزات تھے جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے لیکن یہ آخری بروز اکمل اور اتم ہے، اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہل علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں اور اس سے کوئی محذور لازم نہیں آتا اور نہ میں اکیلا اس کا قائل ہوں جس قدر اکابر اور عارف مجھے پہلے گزرے ہیں وہ تمام آخری آدم کو ولایت عامہ کا خاتم سمجھتے ہیں اور حقیقت آدمیہ کی بروزات کا تمام دائرہ اس پر ختم کرتے ہیں اور اپنے کشوف صحیحہ کی رو سے اسی کا نام آخری آدم رکھتے ہیں اور اسی کا نام مہدی موعود اور اسی کا نام مسیح موعود رکھتے ہیں۔“
(انا عفونا عنک ص٤)
- (٢٢) ”بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کے واسطے
سے اب تو علی الاعلان ہزارہا احمدی یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود سچے رسول اللہ تھے اور نبی برحق تھے، اسمہ احمد کے واحد مصداق تھے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ان کا جنازہ پڑھنا حرام ان کو لڑکیاں دینا حرام جو حضرت مسیح موعود کے دعوے کا منکر ہے وہ کافر ہے اور جہنمی ہے بلکہ جو غیر احمدیوں کو کافر نہیں سمجھتا وہ بھی کافر ہے۔ وغیرہ (ایضاً)
- (٢٣) دوسری طرف لاہوری پارٹی مان رہی ہے کہ حضرت مرزا صاحب مسیح
موعود تھے، سب نبیوں کے موعود تھے، امت محمدیہ میں حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد جس قدر محدث اقطاب اور اولیا ہوئے ان تمام سے افضل اور اعلیٰ شان والے محدث اور مجدد اعظم حضرت مسیح موعود ہیں اور جو ان کی بیعت نہیں کرتا اس سے خدا کے حضور میں مواخذہ ہوگا، دونوں پارٹیاں مان چکی ہیں کہ جو وحی الہی حضرت مسیح موعود پر نازل ہوئی وہ خدا کا قطعی اور یقینی کلام ہے۔ (ایضاً)
- (٢٤) اب احمدی جماعت کی ہر دو پارٹیوں سے میری یہ گذارش ہے کہ وہ
کتاب نصرت الحق کے ص ٥٣ پر حضرت مسیح موعود کے ان الفاظ کے ساتھ کہ میری دعوت
کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الہی اور مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔ ذیل کے الفاظ بھی بغور پڑھیں کیونکہ ان الفاظ میں حضرت اقدس نے اپنی تمام دعوت پر روشنی ڈالی ہوئی ہے چنانچہ فرماتے ہیں، اور علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئے کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہر گز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، اور قیامت تک باقی ہے۔......
(٢٥) وجہ یہ کہ اربعین میں صاف طور پر صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ حضرت مسیح موعود نے کیا ہوا ہے اور نصرۃ الحق میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ان کی دعوت کے بعض امور کو قبول نہیں کیا اور اس بات کا تذکرہ حضرت مسیح موعود اس الہام کو سنا سنا کر بھی کرتے رہے کہ دنیا میں ایک (نبی) نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا اور ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ بعض باتیں وہ اس لیے نہیں کہتے کہ جماعت ان کو برداشت نہیں کر سکتی اور احمدی جماعت سے پوشیدہ نہیں کہ ۔ "من نور خود نہفتہ زچشمان خیرہ ام"
(٢٦) اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود وقتی مصلحتوں اور حکمت عملیوں کا ذکر کرتے رہے اور آخر ایام تک لکھتے رہے کہ نبی کا لفظ ان کے دعوے میں سن کر لوگ چڑ جاتے ہیں اور فتنہ برپا کرتے ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے وہ نبی کی بجائے اپنے لیے نذیر کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اور تکلم الناس علی قدر عقولہم پر عمل کرتے رہے۔
(٢٧) پھر یہ کیسے سمجھا جائے کہ حضرت مسیح موعود کا دعویٰ وحی نبوت لانے کا نہ تھا چونکہ یہ صحیح ہے کہ سوائے صوفیوں کے بعض فرقوں کے کروڑ ہا مسلمان یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا نزول بند ہو چکا ہے نبوت بالکل منقطع ہو چکی ہے اور جبرائیل کا وحی رسالت لانے کا ہمیشہ کے لیے مسدود ہو چکا ہے اور تمام مسلمان بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو گئی اور قرآن کریم پر شریعت ختم ہو گئی آئندہ نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ کوئی وحی ہو گی اور ان کے عقیدوں میں وحی رسالت بالکل منقطع ہو چکی ہے اور کسی رنگ میں بھی وہ یہ نہیں مانتے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی طرح کی نبوت کا بھی دروازہ کھلا ہے اس لیے ایسے حالات میں جب وحی الہی حضرت مسیح موعود پر نازل ہوئی یہی نہیں کہ اس وحی الہی میں مرزا قادیانی کو نبی اللہ اور رسول اللہ کا خطاب خدا کی طرف سے ملا۔ بلکہ صریح لفظوں میں خدا نے اس وحی
٦٨
الٰہی کو کتاب المبین قرار دیا ہوا ہے اور اس وحی الٰہی میں صاف طور پر اوامر اور نواہی موجود ہیں اور اس وحی کو دین الٰہی شریعت ہدایت اور تہذیب الاخلاق ناموں سے نامزد کیا ہوا ہے پس یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نصرۃ الحق کے ص ٥٣ پر سمجھاتے ہیں کہ قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وحی غیر تشریعی کو بھی تسلیم کریں چہ جائیکہ میری وحی رسالت کے اوامر نواہی کو مان جائے چنانچہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہوا ہے کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے۔
- (٢٨) بعض اوامر اور نواہی تو ایسے تھے جو بطور تجدید کے تھے اور ان امور کو تو
قوم قرآن کریم میں موجود پانے کی وجہ سے پہلے سے ہی اپنے طور پر مانی ہوئی تھی مثلاً خدا کو واحد مانو شرک نہ کرو نمازیں پڑھو صبر سے کام لو جھوٹ نہ بولو بچوں کی امداد کرو وغیرہ یہ ایسی باتیں تھیں جو قرآن کریم کو مان کر اپنے طور پر قوم نے ان کو پہلے سے ہی قبول کیا ہوا تھا لیکن بعض امور ایسے بھی تھے جو ہرگز امید نہ تھی جو قوم ان کو قبول کر سکے مثلاً حضرت مسیح موعود بار بار یہ تعلیم دیتے رہے ہیں کہ کافروں سے لڑائی کرنا قطعاً حرام ہے جیسے کہ ہمارے اشتہارات میں کئی دفعہ حضرت مسیح موعود کی عبارتیں درج ہو چکی ہیں اور حضرت اقدس نے ممانعت جہاد کے بارے میں ایک نظم بھی لکھ کر شائع کی ہوئی ہے ۔
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
تم میں سے جس کو دین دیانت سے ہے پیار
اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام و قبیح ہے
- (٣٠) علاوہ ازیں خطبہ الہامیہ کے ص ٢٥ پر صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ”یہ سچ
بات ہے کہ کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“
- (٣١) ”پھر اشتہار منارۃ المسیح میں فتویٰ حرمت جہاد کے علاوہ یہ عبارت بھی
موجود ہے، مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔“
- (٣٢) ”معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما
٦٩
ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے، جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے۔“
(٤٣) ”اب کون مسلمان ہے جو یہ بھی عقیدہ رکھے کہ حضرت محمد رسول اللہ پر نبوت ختم ہو چکی اور قرآن شریف کے بعد کوئی شریعت نازل نہ ہو گی اور پھر حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت مسیح موعود کو بھی نبی اللہ مان لے، اور بحیثیت نبی کے مندرجہ بالا تعلیم کو بھی صحیح تسلیم کر لے۔“
(٤٤) ”اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ تمام احمدی جو میاں محمد احمد صاحب کو خلیفہ برحق مانتے ہیں وہ علی الاعلان تمام اہل اسلام پر کفر کا فتویٰ بھی لگائے بیٹھے ہیں اور ہر ایک اہل قبلہ کلمہ گو مسلمان کو جو حضرت مرزا صاحب کی بیعت میں داخل نہیں پکا کافر بھی یقین کرتے ہیں اور یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ خواہ ایک مسلمان حج کرے زکوٰۃ دے پنجگانہ نماز پڑھے تہجد اور اشراق بھی پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھے روزانہ قرآن شریف کی تلاوت بھی کرے، اور تمام کبیرہ گناہوں سے بھی بچے اگر وہ حضرت مرزا صاحب کو نبی اللہ مان کر ان کی بیعت میں داخل نہیں ہوتا تو وہ کافر ہے اس کی عبادتیں اور اس کی نیکیاں اس کا کلمہ پڑھنا اور اسلامی اصولوں کا پابند ہونا اسے کبھی بھی جہنم سے بچا نہیں سکے گا اگر وہ حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں بلکہ یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ جو احمدی حضرت مرزا صاحب کے بعد مولوی نور الدین صاحب اور میاں محمود احمد صاحب کی بیعت نہ کرے اور ان کو خلیفہ نہ مانے وہ بھی ابلیس اور فاسق ہے۔“
(وحی تشریعی و غیر تشریعی ص ٤٤، ٤٥ مطبوعہ عنک )
نفخ صور و حشر اجساد بعث من القبور و زلزلۃ الساعہ و دیگر احوال قیامت کا انکار
مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں، اور اصل غرض یہ ہے کہ جب وہ دنیا میں تشریف نہیں لا سکتے تو مسیح موعود وہ خود ہیں اس بحث میں ازالہ اوہام تحریر فرماتے ہیں۔ ”ماسوا اس کے حضرت مسیح ابن مریم جس کی روح اٹھائی گئی برطبق آیۃ کریمہ یا ایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیہ فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی ط بہشت میں داخل ہو چکے اب کیونکر پھر اس غمکدہ میں آجائیں گو اس کو ہم نے مانا کہ وہ کامل درجہ دخول بہشت کا جو جسمانی و روحانی طور پر ہو گا وہ حشر اجساد کے بعد ہر ایک مستحق کو عطا کیا جائے گا، مگر اب بھی جس قدر بہشت کی لذت عطا ہو چکی ان سے مقرب لوگ باہر نہیں کیے جاتے اور قیامت کے دن میں بحضور رب
٧٠
العلمین ان کا حاضر ہونا ان کو بہشت سے نہیں نکالتا کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی یا لوہے یا چاندی کا تختہ بچھایا جائے گا، اور خدا تعالٰی مجازی حکام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اس کے حضور میں حاضر ہونا ہو گا تا یہ اعتراض لازم آئے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کیے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العلمین بچھایا گیا ہے حاضر ہونا پڑے گا ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اور تخت رب العلمین کے قائل لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے، اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ اور رسول نے فرمایا وہ سب کچھ ہو گا لیکن ایسے پاک طور پر کہ جو خدا تعالٰی کے تقدس اور تنزہ اس کی صفات کاملہ کے منافی اور مغائر نہ ہو بہشت تجلی گاہ حق ہے یہ کیونکر کہہ سکیں کہ اس دن خدا تعالٰی ایک مجسم شخص کی طرح بہشت سے باہر اپنا خیمہ یا یوں کہو کہ اپنا تخت بچھوائے گا بلکہ حق یہ ہے کہ اس دن بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں لیکن رحم الٰہی کی تجلی عظمیٰ راستبازوں پر اور ایمانداروں پر ہر ایک جدید طور سے لذت کاملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کا حسی اور جسمانی طور پر ان کو دکھلا کر اس نئے طور کے دارالسلام میں ان کو داخل کر دیں گے، ایسا ہی خدا تعالٰی کے قہر کی تجلی جہنم کو بھی بعد از حساب اور الزام صریح کے نئے رنگ میں دکھلا کر گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے سے جہنم میں داخل کر دیں گے روحانی طور پر بہشتیوں کا بلا توقف بعد موت بہشت میں داخل ہو جانا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرایا جانا متواتر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہاں تک ہم اس رسالہ کو طول دیتے جائیں اے خداوند قادر اس قوم پر رحم کر کلام الٰہی کو پڑھتے ہیں لیکن وہ پاک کلام ان کے حلق سے آگے نہیں گزرتا۔ (ازالہ اوہام ص ٤٤٩ تا ٤٥١ خزائن ج ٣ ص ٢٧٨، ٢٧٩) اور پھر فرماتے ہیں ”ہاں دوسری طرف یہ بھی ثابت ہے کہ قبروں میں سے مردے اٹھیں گے اور ہر ایک شخص حکم کے سننے کے لیے خدا کے حضور میں کھڑا ہو گا اور ہر ایک شخص کے عمل اور ایمان کا اندازہ ایسی ترازو سے اس پر ظاہر کیا جائے گا تب جو لوگ بہشت کے لائق ہیں بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جو دوزخ میں جلنے کے سزاوار ہیں وہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔
(ازالہ اوہام ص ٤٥٥ خزائن ج ٣ ص ٢٨٢)
مرزا قادیانی اس تعارض کو دور کرنے کی بہت کوشش فرماتے ہیں مگر نتیجہ بجز ٧١
لفظی اقرار اور حقیقی انکار کے کچھ نہیں نکلتا، فرماتے ہیں ”اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان تینوں مدارج میں انسان ایک قسم کی بہشت یا ایک قسم کی دوزخ میں ہوتا ہے اور جن کے یہ حال ہوں تو اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ ان مدارج میں سے کسی درجہ پر ہونے کی حالت میں انسان بہشت یا دوزخ میں سے نکالا نہیں جاتا جب اس درجہ سے ترقی کرتا ہے تو اس درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آ جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٦٠ خزائن ج ٣ ص ٢٨٢)
تو اب مردوں کا جینا قبروں سے اٹھنا وغیرہ حشر اجساد کا بالکل انکار ہوا جو قطعی کفر ہے۔
مرزا کے نزدیک خدا جھوٹا ہے اُس نے جھوٹ بولا ہے جھوٹ بولتا ہے بولے گا
اس پر دنیا کے اقوام اور تمام انبیاء کا عقیدہ اور سب کا اتفاق ہے (معاذ اللہ)
- (١) ”اور دُنیا کی تمام قومیں اس بات پر اتفاق رکھتی ہیں کہ آنے والی بلائیں
خواہ وہ پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر کی جائیں اور خواہ صرف خدا تعالیٰ کے ارادے میں مخفی ہوں وہ صدقہ خیرات اور توبہ استغفار سے ٹل سکتی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥)
- (٢) ”اور تمام نبیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ خیرات اور توبہ استغفار سے
رد بلا ہوتا ہے“
(حوالہ بالا)
- (٣) ”میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بسا اوقات خدا تعالیٰ میری نسبت یا میری اولاد
کی نسبت یا میرے کسی دوست کی ایک آنے والی بلا کی خبر دیتا ہے اور جب اس کے دفع کے لیے دعا کی جاتی ہے تو پھر دوسرا الہام ہوتا ہے کہ ہم نے اس بلا کو دفع کر دیا پس اگر اس طرح پر وعید کی پیشگوئی ضروری الوقوع ہے تو میں بیسیوں دفعہ جھوٹا بن سکتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥،١٩٦)
- (٤) ”یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں منسوخی کا سلسلہ اس
کی طرف سے جاری ہے یہاں تک کہ جو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا وعید قرآن شریف میں کافروں کے لیے ہے وہاں بھی یہ آیت موجود ہے الا ماشاء ربک ان ربک فعال لما یرید ط یعنی کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٦)
- (٥) ”آخیر میں بڑے زور سے اور بڑی بصیرت سے
یہ کہتا ہوں کہ جو جو اعتراض میری پیشگوئیوں پر ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور اس کے ہم جنس
٧٢
مولویوں نے کیے ہیں میں دکھلا سکتا ہوں کہ اولوالعزم نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں جس کی کسی پیشگوئی پر انہیں اعتراضات کے مشابہ کوئی اعتراض نہ ہو اور یونس کا قصہ میں پیش نہیں کروں گا بلکہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت سید الرسل ﷺ کی پیشگوئیوں میں یا خدا کے کلام میں اس کی نظیر دکھلاؤں گا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧)
- (٦) ’’پس اس آیت میں جو بعض کا لفظ ہے صریح طور پر اس میں یہ اشارہ
ہے کہ سچا رسول جو وعید کی پیشگوئیاں یعنی عذاب کی پیشگوئیاں کرتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کی سب ظہور میں آجائیں ہاں یہ ضروری ہے کہ بعض ان میں ظہور میں آجائیں جیسا کہ یہ آیت فرما رہی ہے یصبکم بعض الذی یعدکم۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧)
- (٧) ’’اس وجہ سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وعید میں خدا کے ارادہ عذاب کا
تخلف جائز ہے مگر بشارت میں جائز نہیں۔‘‘
(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (٨) ’’جیسا کہ قوم یونس کی وعید میں نزول عذاب کی قطعی تاریخ بغیر کسی شرط
کے بتلا کر پھر اس قوم کے تضرع پر وہ عذاب موقوف رکھا گیا۔‘‘
(حوالہ بالا)
- (٩) ’’اس لیے خدا کا وعید بھی جب تک انسان زندہ ہے اور اپنی تبدیلی کرنے
پر قادر ہے وہ فیصلہ ناطقہ نہیں لہٰذا اس کے برخلاف کرنا کذب یا عہد شکنی میں داخل نہیں ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص ١٠ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (١٠) ’’اور گو بظاہر کوئی وعید شروط سے خالی ہو مگر اس کے ساتھ پوشیدہ طور پر
ارادہ الٰہی میں شروط ہوتی ہیں بجز ایسے الہام کے جس میں ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ شروط نہیں بس اسی صورت میں وہ قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پا جاتا ہے۔‘‘
(حوالہ بالا)
- (١١) یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ
عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔‘‘
(تحفہ غزنویہ ص ٥ خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥)
- (١٢) ’’حالانکہ یہ مسئلہ مسلم ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں میں کسی شرط
کی بھی ضرورت نہیں وہ ٹل سکتی ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٠ خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧)
- (١٣) ’’پس نص قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کا پورا ہونا
ضروری نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣١ خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨)
٧٤
- (١٤) اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی ٹلنے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١)
- (١٥) ”لیکن اگر انسان اپنی غلطی سے ایک بات کو خدا کا وعدہ سمجھ لے جیسا
کہ حضرت نوح نے سمجھ لیا تھا ایسا تخلف وعدہ جائز ہے کیونکہ دراصل وہ خدا کا وعدہ نہیں بلکہ انسانی غلطی نے خواہ مخواہ اس کو وعدہ قرار دیا ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٤ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)
- (١٦) ”اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ اس وعدہ کے ساتھ خفی طور پر کئی
شرائط ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر واجب نہیں کہ تمام شرائط ظاہر کریں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٤ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)
- (١٧) ”ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں
ہوتی ہاں اس کے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہوں کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)
مرزا قادیانی کی تمہید اثبات صفات الوہیۃ
- (١) ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون“
(ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)
- (٢) ”یتم اسمک لا یتم اسمی۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٤٢، خزائن ج ١ ص ٢٦٧)
- (٣) ”اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی
میں لفظی معنی میکائل کے ہیں خدا کی مانند۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥ حاشیہ، خزائن جلد ١٧ ص ٤١٣)
- (٤) ”اے چاند و سورج تو مجھ سے ظاہر ہوا ہے اور میں تجھ سے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن جلد ٢٢ ص ٧٧)
- (٥) ”سبحنک اللہ ورافاک“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
- (٦) ”یا نبی اللہ کنت لا اعرفک“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٤)
- (٧) ”اخطی واصیب“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، ھذہ استعارہ کا لفظ التردد فی الحدیث حاشیہ)
- (٨) ”افطر واصوم“ صفحہ مذکورہ ھذا اشارہ الی لفظ الطاعون۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٤ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
٧٧
- (٩) الارض والسماء معک کما ھو معی۔
(حقیقۃ الوحی ص ٧٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
- (١٠) جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء
(حقیقۃ الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- (١١) انا نبشرک بغلام مظھر الحق والعلیٰ کان اللّٰہ نزل من السماء
(الاستفتاء ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)
- (١٢) انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی۔
(الاستفتاء ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)
مرزا کی شریعت جدیدہ کے احکام و عقائد جو شریعت محمدیہؐ کے لیے
ناسخ یا مخالف ہیں جو عبارات مذکورہ سے صراحۃً یا لزوماً ثابت ہوتے ہیں
- (١) پہلے جو کوئی سرور عالم ﷺ پر ایمان لایا وہ مسلمان ہو کر ابدی راحت کا
مستحق ہو گیا لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں اب یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے قرآن شریف پر ایمان کافی نہیں جب تک مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے نجات نہیں مل سکتی ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو گیا۔
- (٢) پہلے صرف تورات زبور انجیل قرآن شریف وغیرہ پہلے صحف پر ایمان لانا
ضروری تھا کہ صرف یہی کتب قطعاً الٰہیہ ہیں اب یہ حکم منسوخ ہو گیا بلکہ ان کے علاوہ مرزا قادیانی سے جو مکالمہ الٰہیہ ہوا ہے اسے بھی کلام الٰہی قطعی سمجھنا فرض ہے اگر مرزا کے ایک الہام کو بھی کلام الٰہی اور من اللہ نہ سمجھا جائے گا تو وہ بھی قطعی کافر ہے۔
- (٣) پہلے حالت اختیار میں نماز صرف قبلہ کی طرف جائز تھی فاتخذوا من
مقام ابراہیم کی رو سے قادیان کی طرف نماز پڑھنا اولیٰ ہے جیسا بعض مرزائیوں کا مذہب منقول بھی ہو چکا ہے۔
- (٤) پہلے ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنی جائز تھی اب صرف مرزا قادیانی کے
ماننے والوں کے سوا کسی کے پیچھے نماز جائز نہیں اور قرآن شریف کا حکم وارکعوا مع الراکعین اور حدیث کا فرمان صلوا خلف کل بروفاجر او کما قال منسوخ ہو گیا۔
- (٥) پہلے جہاد کی فرضیت قیامت تک تھی اور قرآن اور حدیث کا حکم
الجہاد ماض الی یوم القیمۃ تھا اب مرزا قادیانی کی شریعت میں فرضیت جہاد قیامت تک کے لیے منسوخ ہو گئی۔
٧٥
- (٦) پہلے جہاد فرض اور عمدہ چیز تھی اب مرزا قادیانی کے حکم سے حرام
اور قبیح ہو گیا۔
- (٧) پہلے مالی صدقات زکوٰۃ عشر تھے اب زکوٰۃ عشر کے علاوہ مرزا
قادیانی نے جو چندہ مقرر فرمایا ہے وہ بھی فرض قطعی ہے۔
- (٨) زکوٰۃ کے لیے نصاب اور برسوں کا گزرنا اور غنی ہونا شرط تھا مگر
مرزا قادیانی کے یہاں کوئی شرط نہیں ماہوار چندہ فرض ہے۔
- (٩) زکوٰۃ اگر کوئی شخص تمام عمر بھی ادا نہ کرے تو گنہگار فاسق فاجر ہے
جب تک منکر نہ ہو کافر نہیں، لیکن مرزا قادیانی کے یہاں اگر تین ماہ تک کوئی مرزا قادیانی کا مقررہ ٹیکس نہ دے تو بیعت سے خارج اور قطعاً کافر اور ابدی جہنمی ہے چنانچہ عبارت ذیل سے ظاہر ہے ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فرمان میں چندہ کی تحریک کرتے ہوئے دو امور پر بہت زور دیا ہے۔ اوّل یہ کہ ہر احمدی اپنا ماہوار چندہ مقرر کر کے خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہوار بھیج سکتا ہے۔ دوم یہ کہ ہر شخص اپنے چندہ کی باقاعدہ ادائیگی کا پورا پابند رہے۔ زراعت پیشہ یا ایسے احباب جن کو سال کے کسی خاص موقع پر آمدنی ہوتی ہے وہ بھی اپنی آمدنی کے لحاظ سے فصلانہ چندہ کا اندازہ لگا کر اطلاع دیں اس کے علاوہ اگر دوران سال میں کوئی اور خاص آمدنی ہو تو اس کا بھی چندہ نکالنا چاہیے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کا خاص ارشاد ہے کہ مقررہ چندہ کی اطلاع کے ساتھ ہر احمدی کی آمدنی کا اندازہ کا بھی نوٹ ہونا ضروری ہے تاکہ حضور ایدہ اللہ کو اپنی جماعت کے اخلاص اور جدو جہد کا پتہ لگتا رہے۔ یہ عبارت تو ناظر بیت المال کی تھی اب مرزا قادیانی کی خاص عبارت کو ملاحظہ فرمائیے۔
”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نہایت ضروری فرمان۔“
”یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہے جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدائے تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں سو ہر شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے سے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے مگر چاہیے کہ فضول گوئی اور دروغ کا برتاؤ نہ کرے، ہر ایک
٧٦
شخص جو مرید ہے اس کو چاہیے کہ اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو خواہ ایک دھیلہ اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لیے کچھ بھی امداد دے سکتا ہے وہ منافق ہے اب اس کے بعد وہ سلسلہ میں نہیں رہ سکے گا اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے لیے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا ماہواری چندہ اس سلسلہ کی امداد کے لیے قبول کرتا ہے اور تین ماہ تک کسی کا جواب نہیں آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ چندہ کے بھیجنے سے لا پرواہی کی تو اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپرواہ جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔ والسلام علی من تبع الهدیٰ۔"
(اشتہار مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان۔ ضلع گورداسپور لوح الہدیٰ ص١)
(١٠) پہلے سے تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ چلا آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں مگر مرزا قادیانی کی شریعت میں یہ عقیدہ اب شرک عظیم ہے جس کا معتقد کافر ہے۔
(١١) قرآنی حکم ہے کہ اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا چاہیے لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور حکم یہ ہے کہ ہر امر میں مرزا قادیانی کو حکم قرار دینا چاہیے۔
(١٢) پہلے تمام مسلمانوں حتی کہ مرزا قادیانی بھی جب مسلمان تھے اسی کو خدائی حکم سمجھتے تھے اور یہی خدائی حکم ہے کہ سرور عالم ﷺ خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین ہیں آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی مگر مرزائی شریعت میں یہ حکم غلط اور باطل ہو گیا اب امت میں سے ہزار ہا نبی ہو سکتے ہیں۔
(١٣) قرآنی حکم ہے ما اتاکم الرسول فخذوہ وما نها کم عنه فانتهوآ ما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی جس طرح قرآن مجید فرض العمل ہے ویسے ہی حدیث پر عمل واجب ہے لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہو گیا حدیث اپنی صحت میں کیسے ہی اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہو مگر اس پر عمل کرنے کے لیے بھی ضروری ہے وہ مرزا قادیانی کے کسی الہام کے مخالف نہ ہو اگر مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ یہ حدیث موضوع ہے یا ان کے کسی الہام کے مخالف ہے تو پھر وہ ردی کے کسی ٹوکرے میں پھینکنے کے قابل ہے۔ معاذ اللہ عنہ۔
(١٤) شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا قرآنی حکم ہے کہ
٧٧
سرور عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا مرزائی شریعت میں یہ حکم منسوخ ہو کر کفریہ خیال اور لعنتی عقیدہ ہو گیا۔ نعوذ باللہ العظیم۔
(١٥) قیامت کے دن مردوں کا قبروں سے اٹھنا اسلامی عقیدہ ہے مگر مرزائی دھرم میں یہ ناممکن ہے۔
(١٦ تا ٢٨) (١) نفخ صور کا ہونا اور (٢) تمام خلق اللہ کا زلزلہ الساعت سے پریشان ہونا (٣) زمین و آسمان کا بدلنا (٤) شفاعت کے لیے سب کا پریشان ہونا (٥) تمام انبیاء علیہم السلام کا شفاعت سے انکار کرنا (٦) سرور عالم ﷺ کا اس منصب کو قبول فرمانا، (٧) پھر شفاعت فرمانا، (٨) اس دن اعمال کا وزن ہونا، (٩) صحائف اعمال کا نشور، (١٠) ہر شخص کا اپنے اعمال کو حاضر پانا، (١١) پل صراط کا قائم ہونا (١٢) پھر اس پر ہر شخص کا عبور کرنا ان منکم الا واردھا (١٣) پھر بعض جہنمیوں کا جہنم سے شفاعت یا بلا شفاعت خارج ہو کر جنت میں داخل ہونا وغیرہ جس قدر تفصیل قیامت کے دن کی قرآن و حدیث میں آئی ہے وہ مرزا قادیانی کے اس عقیدہ اور نادر شاہی حکم کی وجہ سے غلط ٹھہرائی جاتی ہے کہ ہر شخص مرنے کے بعد جنتی جنت میں داخل ہوتا ہے اور جہنمی جہنم میں قیامت کے دن نہ کوئی جنتی جنت سے نکلے گا اور نہ دوزخی دوزخ سے گویا قیامت کبریٰ اور حشر اجساد بھی ایک روحی طور پر ہو گا الفاظ یہی ہیں کہ ہم حشر اجساد اور یوم آخرت اور حساب وغیرہ کے سب معتقد ہیں مگر جب مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے جو ازالہ کی عبارت سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
(٢٩) قرآن شریف بتاتا ہے کہ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ ہیں مگر مرزائی شریعت میں اب معاذ اللہ خاتم النبیین مرزا غلام احمد قادیانی ہیں یہ چند صورتیں بطور نمونہ عرض کی گئی ہیں ورنہ غور کرنے سے اس قسم کے بہت احکام کا تغیر و تبدل لازم آتا ہے۔
میری ناقص رائے میں لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کو بظاہر صرف نبی حقیقی نہیں مانتی ورنہ ان کے جملہ احکام اور فرمانوں پر بدل و جان ایمان رکھتی ہے ورنہ پھر ایسے شخص کو جس کے اس قدر ملحدانہ اور کفریہ خیال ہوں، جو ایک ادنیٰ مسلمان بھی نہیں رکھ سکتا اس کو بھی مجدد محدث نبی ظلی بروزی مجازی کیسے تسلیم کیا؟ اور لاہوری پارٹی قادیانیوں کی باوجود اس اختلاف عظیم کے تکفیر نہیں کرتی میری نظر سے کوئی تحریر ابھی تک ایسی نہیں گزری جس سے معلوم ہو کہ لاہوری مرزائی قادیانیوں کو بوجہ انکار ختم نبوت کے اور مرزا
٧٨
قادیانی کو حقیقی نبی کہنے کے کافر کہتے ہوں، یا قادیانیوں نے لاہوری گروہ کی تکفیر کی ہو اگر یہ امر واقعی ہے اور ایک گروہ دوسرے کی تکفیر نہیں کرتا تو اس نتیجہ پر پہنچنا سہل ہے کہ یہ ان کا اختلاف جنگ زرگری اور ظاہری بات ہے ورنہ در حقیقت سب ایک ہیں ظہیر الدین صاحب نے تو صاف صاف جو مرزا قادیانی کے عقائد تھے بیان کر دئے کہ وہ نبی مستقل صاحب شریعت اور محمدی شریعت کے ناسخ ہیں جو اس کو قبول کرے تو ان کے ساتھ ہو اور جو اس کو نہ مانے وہ مرزا محمود کے ساتھ ہو جائے اور مرزا قادیانی کو حقیقی نبی تو کہے مگر صاحب شریعت نہ کہے اور جو اس کو بھی نہ مانے تو وہ لاہوری پارٹی محمد علی صاحب کے ساتھ ہو کر نبی مجازی مان لے مگر رہے مرزا قادیانی کا غلام، کفر دون کفر۔
- (٣٠) شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ و التحیۃ میں تناسخ کا عقیدہ
باتفاق کفر ہے بلکہ تمام ادیان سماوی اس پر متفق ہیں مگر مرزا کی شریعت تناسخ کو بھی حق بتاتی ہے ملاحظہ ہو۔ ’’آدم صفی اللہ کے لیے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم و اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے ص ٥٠٥ میں میری نسبت ایک یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ خلق آدم فاکرم یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدمیوں پر ایک وجہ کی اس کو فضیلت بخشی اس الہام اور کلام الٰہی کے یہی معنی ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لیے کئی بروزات تھے جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے لیکن یہ آخری بروز اکمل و اتم ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ج ١٥ ص ٣٨٠)
٧٩
ماہنامہ لولاک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ‘ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حلية اهل النار
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِاسْمِهِ تَعَالٰی حَامِدًا وَّ مُصَلِّيًا وَّ مُسَلِّمًا
ملعونين اينما ثقفوا اخذ وا و قتلوا تقتيلا سنت اللّٰهفى الذين خلوا من قبل ولن تجد لسنة اللّٰه تبديلا....... حلية اهل النار ۔ ملقب بہ لعنت کا طوق مرزائیوں کے گلے کا ہار)
مرزا اور مرزائیوں سے خدائی مباہلہ!
لعنة اللّٰه على الكاذبين
مرزا اور مرزائیوں پر بقول مرزا خدائے قہار کی قیامت تک بیشمار لعنتوں کی بیشمار بارش
اس وجہ سے مسلمانوں کو مباہلہ کی حاجت نہیں!
باسی کڑھی میں ابال o مرزا اور مرزائیوں پر وبال
میرٹھ کے مرزائی کیا علمائے دیو بند کو ابھی سے بھول گئے جو پھر رخ کیا گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو اس کا منہ شہر کی طرف کو ہو جاتا ہے۔
ہمارے سامنے میرٹھ کے مرزائیوں کا ایک دو ورقہ اشتہار ہے جس کا عنوان۔ احمدیوں سے کیوں مباہلہ نہیں کرتے۔ ”اولاً“ تو یہ بات ہی غلط ہے کہ مسلمان مرزائیوں سے مباہلہ میں پہلو تہی کرتے ہیں۔ حق اور باطل کا مقابلہ ہی کیا، ثانیاً، علیٰ سبیل التسلیم اس کا مجملاً جواب تو یہی ہے کہ مباہلہ کا حاصل فنجعل لعنة اللّٰه علی الکاذبین ہے اور جب مرزا قادیانی اور مرزائیوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنة اللّٰه علی الکاذبین کہہ کر بقول مرزا قادیانی نہ ایک مرتبہ بلکہ قیامت تک تمام جماعت کو بیشمار لعنتوں سے ملعون کر دیا تو اب کس بڑی لعنت کی تمنا ہے؟ جس کے لیے مباہلہ کی درخواست ہے اور تفصیل منظور ہے تو سنو۔
مرزائیو مرزائیو مرزائیو قادیانیو لاہوریو اروپیو۔ وغیرہم تم نے یہ خیال کیا ہو گا کہ جب خدائے قدوس کی قطعی وعیدیں جس میں کوئی شرط مذکور نہ ہو بقول مرزا ٹل جاتی ہیں تو اس بنا پر تم بھی خدائی لعنت کی زد سے بچ جاؤ گے۔
کذاب ہے مفتری ہے۔ دجال ہے بے دین ہے کافر مرتد۔ ملحد۔ زندیق بے حیا بے شرم انسانیت سے خارج۔ وہ مردود ہے جو خدا کو جھوٹا کہے شیطان نے مرزا پر
٢
وحی کی اور ہمیشہ جھوٹ بولا اور مرزا اور مرزائیوں کو رسوا کیا، اس وجہ سے مرزا نے یہ عقیدہ ملعونہ تراشا کہ خدائے کریم کوئی حتمی اور قطعی وعید کر کے بھی کوئی در پردہ شرط رکھ کر اس کے خلاف کر دیتا ہے اور یہ عقیدہ اس نے اپنے روحی باپ جس کا وہ ظل اور بروز ہے مرتد باب اور بہاء اللہ سے لیا۔ مسلمان تو مسلمان کوئی کافر بھی جو خدا کو ماننے والا ہو اس خبیث عقیدہ کو خدائے قدوس کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ مرزا کی وحی شیطانی میں جس قدر بھی وعدے وعید ہوں تم ان کو جھوٹا ہی سمجھو اور وہ واقعی جھوٹ ہیں مگر یاد رکھو کہ قرآن وحدیث میں جو کچھ آیا ہے وہ بالکل حق ہے آسمان زمین ٹل جائیں مگر خدائے قدوس کے فرمانے کے خلاف واقع ہونا محال ہے۔ لہٰذا نہایت اطمینان اور وثوق سے سنو کہ تمہارا مرزا اور تم ایک ایک جہنم کے نیچے کے طبقہ میں جاؤ گے اور اس وعید کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ تم گھبراتے ہو اور یہ خیال کرتے ہو کہ کہیں مرزا قادیانی اور مرزائی خدائی لعنت سے بچ جائیں، مگر یہ ناممکن ہے لہٰذا مسلمانوں سے مباہلہ کی درخواست فضول اور لاحاصل ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کی تمام جماعت بقول مرزا قادیانی خدائی لعنتوں سے نہ ایک دم کے لیے بلکہ قیامت تک ملعون ہیں۔
یہ تو ہم کو معلوم ہے کہ مرزائیت کے ساتھ ایمان، حیا، شرم، دیانت، سب ہی اخلاق حمیدہ جاتے رہتے ہیں مگر اب یہ بھی محقق ہو گیا کہ عقل بھی نہیں رہتی۔ مولوی ظفر علی خاں صاحب سے استدعائے مباہلہ کے ساتھ آپ نے علمائے دیوبند کا ذکر جس غلط طریقہ سے کیا ہے وہ آپ ہی کا کام ہے کیا آپ کے متنبی کذاب نے بجز کاغذی طومار اور جھوٹی تحریروں کے کوئی کام کیا ہے؟ جس پر آپ لکھتے ہیں کہ ”کاغذوں کے طومار پر طومار لکھ دینے کے باوجود نتیجہ کیا نکلا“ آپ ابھی تک ایسے نادان ہیں کہ آپ کو نتیجہ کی بھی خبر نہیں اس کا جو نتیجہ ہوا اسے مسلمان جانتے ہیں اور مرزا محمود اور تمام مرزائیوں کا دل..... کہو قادیان سے کتنے اشتہار نکلے اور دیوبند سے کتنے مرزا محمود قادیانی سے دریافت کرو کہ دیوبند کے آخری اشتہار نمبر ١٥ کا جواب دیا۔ یا دے سکتے ہو؟ یا خود مرزا قادیانی دے سکتے ہیں قادیان کے گھروں میں ماتم پڑ گیا۔ لیکن ابھی تک الفضل اور میرٹھ کے مرزائیوں کو یہ بھی خبر نہیں کہ نتیجہ کیا ہوا؟ ساری رات ممیائی اور کچھ بھی نہ بیائی، فریقین کے اشتہار موجود ہیں اگر یاد نہ ہوں تو پھر دیکھ لو کونسا امر معقول ہے جو حضرات علماء دیوبند نے پیش نہ کیا ہو اور کونسی ممکن سعی تھی جو مناظرہ اور مباہلہ کے لیے نہ کی ہو؟ مگر مرزا قادیانی نے مرزائیوں کو وہ الٹا سبق پڑھایا ہے کہ کبھی حق کی طرف آ ہی نہیں
٣
سکتے جس طرح مرزا قادیانی تمام عمر باتیں بناتے رہے وہی طریقہ مرزائیوں کا ہے۔ ساری عمر میں ایک مولوی عبدالحق صاحب غزنوی سے مباہلہ کیا اور وہ ذلت اٹھائی جس کو قبر میں ساتھ ہی لے گئے آخر میں فرمایا تو یہ اگرچہ عبدالحق کے مقابلہ میں اس طرف سے کسی بددعا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو۔ (حقیقت الوحی ص ٢٢٠ خزائن ج ٢٢ ص ٢٥١) مرزائیو! دیکھا یہ ہے آپ کے مرزا کا مباہلہ کہ مباہلہ ہو جائے اور بددعا میں ابھی تک تردد ہی ہے جب تمہارے ولی نعمت کا یہ حال ہے تو آپ کے یہاں تو مباہلہ میں شاید فریق مخالف کے لیے عزت دارین اور ترقی مدارج ہی کی دعا کی جاتی ہوگی۔
حضرات علماء دیوبند نے مناظرہ اور مباہلہ سے کبھی ادنیٰ پہلو تہی بھی نہیں فرمائی یہ شیوہ مرزا اور مرزائیوں ہی کو مبارک ہو۔ علاوہ ازیں اگر علماء دیو بند سے مباہلہ ہوتا تو نتیجہ یہی ہوتا جو مولوی عبدالحق صاحب کے مباہلہ کا ہوا۔ دوسرے علماء دیو بند سے مباہلہ نہ ہوا نہ ہو۔ مگر نتیجہ مباہلہ کا یعنی مرزا قادیانی کا کاذب ہونا تو روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا۔ تیسرے مباہلہ اگرچہ اصالۃً نہیں ہوا مگر مرزا قادیانی سے نعم الوکیل نے خود مباہلہ فرما کر حضرات علمائے دیو بند اور تمام مسلمانوں کو سبکدوش فرما دیا و کفی اللّٰہ المومنین القتال۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للّٰہ رب العالمین۔
اچھا میرٹھ کے مرزائیو۔ اسلام۔ حیا۔ شرم۔ عزت۔ عقل ایمان اگر کھو چکے ہو تو کہو کان بھی باقی ہیں یا نہیں۔
سنو اور ہوش سے سنو تم مرتضیٰ حسن ابن شیر خدا کو جانتے ہو اور خوب جانتے ہو آپ کو معلوم ہے کہ مرزائیوں میں اس نے کوئی دم چھوڑا ہے؟ تم صحیفۃ الحق نمبر ١ المقلب بہ مباہلہ الحق پڑھا۔ قادیانی چیلنج پر لبیک اور بلاشرط مناظرہ سنا ہے جو ١٤ محرم ١٣٤٨ھ یوم جمعہ کو شائع ہوا جس کو آٹھواں سال ہے۔ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو گا کہ آٹھ سال کی بات کسے یاد رہے گی، چلو پھر لکھ مارو کہ علمائے دیو بند سے مباہلہ کی درخواست کی تھی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا اس پر یہ عبارت ہے کہ نہیں۔
”اے قادیانی مشن! تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے متنبّی کذاب اور تم سے خدا نے خود مباہلہ فرمایا ہے اور تم سب کے سب خدائی لعنت سے ملعون ہو، اس خدائی مباہلہ کے بعد بھی کسی اور مباہلہ کی خواہش اور خدائی لعنت کے بعد کسی اور لعنت کی تمنا باقی ہے۔ غصہ نہ ہو ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے آپ کے حضرت صاحب ہی کا مقولہ سناتے ہیں۔ پھر سوچو اور شرمندہ ہو اور حیا کرو اگر ایمان ہے ”خدا کی جھوٹوں پر نہ ایک دم کے
لیے لعنت ہے بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٢ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٨)
”فرمائیے آپ لوگوں سے قرآنی مباہلہ کی درخواست فرماتے ہیں اور خدائی مباہلہ یہ ہے کہ فنجعل لعنة الله علی الکاذبین. یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر کریں اور اللہ تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ لعنة الله علی الکاذبین. چاہے کوئی کہے یا نہ کہے جھوٹے پر خدا کی لعنت ہی ہے۔ اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جھوٹے پر ایک دم کے لیے لعنت نہیں بلکہ قیامت تک خدا کی لعنت ہے۔ تو اب آپ ہی فرمائیے کہ مرزا قادیانی پر قیامت تک خدا کی لعنت ہوئی یا نہیں پھر اس کے بعد اور کس مباہلہ کی خواہش باقی ہے؟ علمائے دیوبند سے آپ کیا مباہلہ کیجئے گا، علماء دیوبند اور جملہ اہل اسلام کی طرف سے خدا خود مباہلہ فرما کر مرزا اور اس کے متبعین کو قیامت تک ملعون کر چکا ہے اور یہ ہم نہیں کہتے بلکہ آپ کے مرزا قادیانی مجدد اعظم، امام زماں، مرسل من اللہ ہی فرماتے ہیں کیونکہ یہ نمونہ کے طور پر تین مذکورہ بالا جھوٹ بھی انہوں نے بولے اور خود ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت قیامت تک ہوتی ہے تو پھر فرمائیے کہ نتیجہ یہ ہوا کہ نہیں کہ مرزا قادیانی پر قیامت تک خدا کی لعنت ہے اب یا تو مرزا قادیانی کے جھوٹوں کو سچا کر کے دکھاؤ جو قیامت تک ناممکن ہے ورنہ اقرار کرو کہ وہ بیشک قیامت تک ملعون ہے اور ساتھ ہی اس کے خلفاء مریدین اور معتقدین بھی، ورنہ اس گورکھ دھندہ کو ہمیں سمجھا دو کہ معاملہ کیا ہے ابھی تو ہمیں ان جھوٹوں کی نسبت بہت کچھ عرض کرنا ہے اگر یہ سچے ہو گئے تو مرزا قادیانی نے جو اور بڑے بڑے سیاہ جھوٹ بولے ہیں انہیں ظاہر کریں گے پہلے کم از کم مرزا قادیانی کو سچا تو ثابت کر دو پھر ہی کوئی اور بات کہنا ورنہ وہی مثال مذکور صادق آئے گی۔ اب خلیفہ درجہ اول ایم۔ اے صاحب اور خلیفہ درجہ دوم مرزا محمود قادیانی اور تمام ہندوستان کے قادیانی مشنوں کی صداقت ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا جواب مرحمت ہوتا ہے انتہی بلفظہ۔“
(صحیفہ الحق نمبر ١ الملقب بہ مباہلہ الحق ص ٦۔٥)
میرٹھ کے مرزائی اپنے ساتھ الفضل اور تمام ہندوستان کے قادیانیوں کو جمع کر کے اس عبارت کو پڑھیں اور اپنی پھوٹی ہوئی قسمت پر روئیں کیا آٹھ برس سے اس عبارت کو نہیں دیکھا تھا تو اس کا کوئی جواب دیا ہے یا دے سکتے ہو؟ ناممکن اور خدا چاہے ناممکن ہے پھر اس کے کیا معنی کہ علماء دیوبند کسی سے مباہلہ کی درخواست کریں تو دخل در معقولات کے لیے آپ موجود کہ ہم سے بھی کر لو، مولوی ظفر علی خاں صاحب کسی سے مباہلہ کی استدعا فرماویں تو سب سے پہلے آپ یہ کہنے کو موجود کہ ہم پانچوں سوار دہلی
٥
سے آئے ہیں ”گھوڑے کے نعل لگ رہے تھے مینڈکی نے بھی پیر اٹھا دیا۔“
مسلمانوں کے قصہ میں آپ کو بولنے کی ضرورت کیا ہے بروز اکمل واتم کی صداقت پر تو آپ مولوی ظفر علی خاں صاحب اور مستند علماء کی جماعت کے روبرو مباہلہ کریں گے جب کریں گے پہلے اس بروز باب اور بہاء اللہ کا ارتداد اور کفر اور بے شمار لعنت خدائے قہار کی زد سے بچت تو ثابت کر دیں۔
مرزا قادیانی نے خدا کی وحی کی بارش بیان فرمائی اور ایک کروڑ معجزے اور خود اپنے اقرار سے ہر بد سے بد ٹھہرے جن پیشین گوئیوں کو معیار صداقت بتلایا وہ جھوٹی ثابت ہوئیں تو اب اس وحی کی سیلاب کے حروف اور ان کے حرکات وسکنات اور ان کے نقاط اور ایک کروڑ یا کم سے کم دس لاکھ معجزے یہ سب جھوٹ ہوئے۔ ہماری تو مجال نہیں شاید ایڈیٹر الفضل (جو حقیقت میں مرزا اور مرزائیوں کے لیے دنیا میں غضب خداوندی ہے) اور تمام دنیا کے مرزائی بالخصوص میرٹھ کے محاسب ہی بتلائیں کہ کتنے جھوٹ ہوئے اور ہر ہر جھوٹ پر بقول مرزا قادیانی نہ ایک بار بلکہ قیامت تک لعنت کی بے شمار بارش ہوئی یا نہیں۔ دیکھو۔ مدعا یوں ثابت کیا کرتے ہیں ساری جماعت مر جائے مگر خدا چاہے ایک لعنت بھی کم نہیں کر سکتے۔
اور سنو۔ ہم کو ایک سابق مرزائی کے ذریعہ سے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ مونگیر سے جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے رد میں لاجواب رسائل اور اشتہار وغیرہ شائع ہوئے تو قادیان میں ایک کمیشن اس غرض سے بٹھایا گیا کہ ان رسائل کی جانچ اور پڑتال کرے اس کمیشن نے رپورٹ پیش کی کہ چار ہزار وہ اعتراضات اور مرزا قادیانی کے جھوٹ ان رسائل میں بیان کئے گئے ہیں جن کا جواب ناممکن ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ اس خبر کی کیا اصلیت ہے اگر صحیح ہے تو چار ہزار لعنت کے طوق کہ ہر ہر طوق میں بے شمار لعنتیں ہوں گی۔ مرزا قادیانی اور ہر ایک مرزائی کے گلے کے طرّہ امتیاز ہوں گے کیوں نہ ہو؟ آخر قمر الانبیاء اور ان کی ہی امت جو ٹھہری۔ جب سید الانبیاء علیہ افضل الصلوات والثناء کی امت اثار وضو غرّہ محجل ہوں گے تو عدو الانبیاء علیہم السلام کے دشمن عینہ لعنہ کی امت ملعونہ کے گلے میں اگر بے شمار لعنت کے طوق نہ ہوں گے تو مرزا قادیانی سب کو پہچان پہچان کر اپنے ساتھ جہنم میں کیسے لے جائیں گے؟ اور اگر یہ خبر بتمامہ صحیح نہیں کوئی حصہ بھی صحیح ہے تو مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے ملعون ہونے کے لیے وہی کافی ہے۔ خدا کے فضل سے ہم نے جب کبھی جو کچھ عرض کیا ہے اس کو ایسا ثابت کر دیا
٦
ہے جس کو مخالفین کی زبان نے گو قبول نہ کیا ہو مگر دل سب کے مان گئے اور یہی وجہ ہے کہ خدا کے فضل سے ہماری ہر تحریر لاجواب ہے کیونکہ سچی اور پکی بات کا کوئی جواب ممکن ہی نہیں اس وجہ سے مزید تائید کے لیے اور عرض کرتا ہوں۔
مرزائیو! بالخصوص میرٹھی مرزائی جان لیں کہ اس دفعہ خدائی لعنت سے ملعون ہونا خدا چاہے اس طرح ثابت کر دوں گا کہ پھر اگر ذرا بھی شرم و حیا ہو گی تو مرتے وقت تک کسی مسلمان بالخصوص علمائے دیوبند سے مباہلہ کا کبھی نام ہی نہ لوگے۔
گوش ہوش سے سنو! چیلنج محمدیہ مطبوعہ ١٣٣٧ھ مطابق ١٩١٩ء اور چشمہ ہدایت کی صداقت اور مسیح قادیاں کی واقعی حالت صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٩ مطبوعہ رحمانیہ پریس مونگیر (احتساب قادیانیت ج ٥ میں کل صحائف رحمانیہ جن کی تعداد ٢٤ ہے شائع ہو چکے ہیں۔ فالحمد للہ مرتب) آپ کے پاس پہنچے ہیں آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے اس میں کیا ستاون قطعی جھوٹ مرزا قادیانی اقوال سے ثابت نہیں کئے گئے صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٠ ص ٣ کیا ان میں سے ایک جھوٹ کو بھی صحیح ثابت کر سکتے ہو اگر نہیں ثابت کر سکتے تو چار ہزار نہ سہی ستاون ہار تو کہیں گئے ہی نہیں کہ جس ایک ایک ہار میں بے شمار لعنتیں ہوں گی واہ واہ واہ
کوئی صورت ہو مگر لعنت پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔ اور آفریں ہے مرزائیوں کی ہمت پر کہ یہ بھی لعنت کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے اور ہر مرزائی سے ھل من مزید کی صدا آتی ہے سچ کہا ہے
اور سنئے آپ نے صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٠ کو تو ضرور ملاحظہ فرمایا ہے جس کا عنوان یہ ہے۔ اب مرزائی مباہلہ بیکار۔ جو ٢٨ شعبان ٣٨ھ کو شائع ہوا ہے پھر بھی آپ بدایوں کے لالا بن کر یہ ہی پوچھتے ہو کہ احمدیوں سے مباہلہ کیوں نہیں کرتے۔ ناظرین صحیفہ نمبر ٢٠ کو ملاحظہ فرما دیں۔
فرمائیے اب تو آپ کو معلوم ہو گیا کہ مسلمان مرزائیوں سے مباہلہ کیوں نہیں کرتے و کفی اللہ المومنین القتال۔ خدا نے خود مباہلہ فرما کر جب مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو ملعون کر دیا تو اب مسلمانوں کو اس کی کیا حاجت باقی رہی؟
ان تمام قصوں کو بھی جانے دیجئے۔ آپ نے فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ
٧
مطبوعہ ٤ ربیع الثانی ١٣٤٤ھ تو دیکھا ہوگا میرٹھ کے مرزائیو ضرور دیکھا ہے اور قادیان میں بھی بھیجا گیا تھا اس کے ص ٣٣ پر مرزا اور مرزائیوں کو دربار نبوت سے چیلنج عذاب الیم کی بشارت، مرزا اور تمام مرزائی قطعی اور یقینی جہنمی ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس مضمون کو بغور پڑھا ہے، ہاں ہاں ضرور پڑھا ہے۔
کیا اس میں مرزا قادیانی کے وہ تیس جھوٹ جو انہوں نے نہایت دلیری سے جناب رسول ﷺ پر بولے ہیں اور ہر ایک جھوٹ کے بدلے میں نہ معلوم کتنے کتنے علاقے جہنم کے خریدے ہیں وہ آپ نے نہیں دیکھے ان کا کوئی جواب دیا ہے یا تمام روئے زمین کے مرزائی قادیانی دے سکتے ہیں؟ کہو۔ جو ملعون مدعی نبوت ہو کر جناب رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولے اس سے بھی زیادہ کوئی ملعون ہوسکتا ہے اور جو امت ایسے کذاب اور دجال کی تصدیق کرے اس سے بڑھ کر کوئی لعنت خدائی لعنت سے ملعون ہو سکتی ہے؟ فرماؤ پھر بھی علمائے دیوبند سے مباہلہ کا نام لوگے؟ علماء دیوبند کی طرف سے بلا مباہلہ فقط آپ کی اس توجہ پر کہ آپ نے علماء دیوبند سے مباہلہ طلب کیا ہے دجالوں کے عدد کے مطابق دجال پنجاب اور اس کی امت کے ہر ہر فرد کے لیے یہ تیس خدائی لعنتوں کے ہار کہ ہر ہر ہار میں بے شمار لعنتیں ہیں کہ جو ہر لعنت ملعون کو تو جہنم سے ورے نہ چھوڑے، بالفعل یہ ہدیہ محقرہ پیش ہے۔ اگر زیادہ خواہش ہوگی تو اور بھی پیش کرنے کو حاضر ہیں۔
میرٹھ کے مرزائیو! آپ کی جانب سے ایک ٹریکٹ شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”علماء دیوبند سے دو مطالبے“ جس کا جواب مولوی عبدالقیوم صاحب امروہی امام جامع مسجد صدر بازار میرٹھ نے دیا جس کا عنوان ہے ”قادیانی بنک کا دیوالیہ مرزائی رنگ میں بھنگ۔“ مرزا اور مرزائیوں کے کذاب ہونے کی بے شمار اقراری شہادتیں، جس کو شائع ہوئے سات مہینہ ہوگئے اس کے جواب میں کوئی حرف آپ نے لکھا یا لکھ سکتے ہو؟ اگر تم میں کوئی صداقت تھی تو پہلے اس کا جواب لکھتے مگر آپ نے مرزا اور مرزائیوں کے کذاب ہونے کو تسلیم کر کے اس کا جواب تو نہ دیا اور ایک دوسرا اشتہار چھاپ دیا جس کا عنوان چاند کا تھوکا منہ پر سود کا مصرف۔ اور اس کا جواب بھی مولوی عبدالقیوم صاحب موصوف نے فوراً یکم شوال ٤٤ھ کو شائع فرمایا جس کا عنوان ”چور کا منہ چاند سا“ ”قادیانی بنک کا نیلام“ ”محاسب کی خیانت“ اس کو بھی شائع ہوئے سات مہینہ ہوگئے
٨
مگر نہ اس کا جواب ہوا اور نہ خدا چاہے قیامت تک ہو سکتا ہے پھر باوجود اس ذلت اور شکست کے آپ نے یہ ٹریکٹ کس ہمت سے شائع فرمایا ہم تو یہ کہتے ہیں۔
جس کسی شخص میں کوئی بھی حصہ انسانیت اور حیا کا باقی ہو وہ تو ایسی جرات نہیں کر سکتا اگر آپ میں اور آپ کے الفضل میں کچھ صداقت تھی تو چاہیے تھا کہ بجائے اس کے کہ علماء دیوبند کو مخاطب کرتے ، علماء دیوبند خدا کے فضل و کرم سے اس وقت تک جو اکیس رسائل و اشتہار لاجواب شائع کر چکے ہیں ان کا جواب دیتا یا اب جواب دینے کی کوشش فرمائیں۔
ہم اس اشتہار کے جواب میں اور بہت کچھ لکھ سکتے ہیں اور بہت کچھ گنجائش باقی ہے مگر چونکہ ہم کو صرف اس وقت یہ ہی ثابت کرنا تھا کہ مرزا اور مرزائیوں سے خدائی مباہلہ ہو کر بقول مرزا وہ اور تمام مرزائی قیامت تک بیشمار خدائی لعنتوں سے ملعون ہیں اب کسی مسلمان کو ان سے مباہلہ کرنا فضول اور عبث اور بیکار ہے سو بحمد للہ یہ مضمون اس طرح دلائل قطعیہ سے باقرار مرزا قادیانی ثابت ہو گیا ہے کہ مرزائی مانیں یا نہ مانیں مگر مرزا قادیانی تو جہنم میں ضرور ہی تصدیق فرمائیں گے اس وجہ سے اس قدر پر بس ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ مرزائی مکائد سے خبردار رہیں اور ان کی جھوٹی باتوں پر توجہ نہ فرمائیں۔ ایک قابل حل سوال ہے۔ مرزا محمود قادیانی اور مسٹر محمد علی لاہوری اس کی طرف توجہ فرمائیں۔ بیان بالا سے یہ تو محقق ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے یقیناً ایسے جھوٹ بولے جن کو تمام مرزائی مل کر بھی سالہا سال کی لگاتار کوششوں سے صحیح نہ کر سکے تو اب یا تو مرزا قادیانی حسب ارشاد خداوندی لعنة الله علی الکاذبین قطعی ملعون ہوئے اور اپنے قول کے مطابق نہ ایک دم کے لیے بلکہ قیامت تک کے لیے، تو اس صورت میں سوال یہ ہے کہ جو قطعی خداوندی بے شمار لعنتوں سے ملعون ہو وہ نبی، رسول، مجدد، امام زمان مرسل من اللہ محدث ہو سکتا ہے؟ اس صورت میں تو مرزا قادیانی اور مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے اور اگر باوجود کذاب ہونے کے مرزا قادیانی ملعون نہیں ہوئے تو اول تو لعنة الله علی الکاذبین کے خلاف ہے، دوسرے جب معاذ اللہ خداوند کریم نے حسب زعم باطل مرزائیوں کے اپنے ارشاد کی پابندی نہ فرمائی تو پھر مباہلہ کرنے کی صورت میں وہ جھوٹے پر لعنت نازل کرے اس کی کیا ضمانت ہے؟ اس صورت میں مباہلہ لا حاصل
٩
اور بیکار ہوا غرض ایک صورت میں مرزا قادیانی اور مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے اور دوسری صورت میں مباہلہ کی صحت اور اگر یہ کہو کہ مرزا قادیانی کاذب نہیں ہے۔ تو ان کے جھوٹ جو رسائل اور اشتہارات میں سالہا سال سے مسلمانوں نے شائع کئے ہیں۔ ان کا صدق ثابت کرو فتدبروا فیہ مرزا قادیانی کا کذاب ہونا مرزائیوں نے بھی عملاً قبول کر لیا فم تدبروا فافترقا۔ یہاں علمیت کا حال بھی معلوم ہو جائے گا اس میں ایک اشکال کا جواب ہے ممکن تھا کہ کسی کو خدشہ ہو اہل فہم کے لیے جواب کا اشارہ کر دیا ہے۔
حاشیہ میں مولوی ظفر علی خان صاحب کی ٩ اکتوبر ١٩٢٠ء
کی سیاست سے یہ عبارت نقل فرمائی ہے
مہدی و عیسیٰ کوئی نہیں آئے گا۔ ترکی کا مہدی غازی کمال پاشا ہے۔ اور بقول حسن نظامی۔ عرب کا مہدی سلطان ابن سعود۔ دہلی کا مہدی۔ محمد علی۔ پنجاب کا مہدی (ظفر علی خاں) میں ہوں (الف ١٣-٢٤)
کیا پنجاب کے مہدی ظفر علی خاں احمدیوں سے مباہلہ کریں گے؟ دیدہ باید میں عرض کرتا ہوں کیا ہندوستان کے مرزائی بابی اور بہائیوں سے بھی مباہلہ کریں گے دیدہ باید مسلمان ہی آپ کے مخالف ہیں بڑے بھائیوں سے بھی کبھی مباہلہ کی درخواست کی گئی ہے یا ان کی حقانیت مسلم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ۔ ہمارے سامنے اصل عبارت نہیں ہے مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ میرٹھ کے مرزائیوں نے بے سمجھے ہوئے یہ کلام نقل کر دیا ہے مولوی ظفر علی خاں صاحب یا کسی مسلمان نے اگر ایسا لکھا ہے تو اس کی اصل مراد قادیانیوں سے تمسخر اور استہزاء ہے۔ کہ جب قادیانیوں کے نزدیک مہدی معہود اور مسیح موعود درحقیقت نعوذ باللہ العظیم مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جو خود اپنے اقرار سے ہر بد سے بدتر خدائی لعنتوں سے قیامت تک ملعون ہونے کے علاوہ اس قدر غبی اور غوی ہیں۔ کہ بارہ برس تک ان کے خدا کی وحی جو بارش کی طرح برسی اس کا مطلب بھی نہ سمجھے۔ پھر انسانیت سے اس قدر دور کہ جھوٹ بولنا بھی نہ آیا کس قدر جھوٹے ہیں جن کی تصحیح کا مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے سالہا سال سے ہو رہا ہے۔ مرزائی بے چارے پریشان ہیں مگر مرزا قادیانی کے ایک سیاہ جھوٹ کی کوئی ایسی تاویل نہیں کر سکتے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے تحریف قرآنی کی ہے۔ تو پھر مرزا قادیانی سے
ہزارہا درجہ بہتر یہ ہے کہ مہدویت کو بطرز مذکور تقسیم کر دیا جائے۔ اور مرزائی بجائے مرزا قادیانی کے ان صاحبوں کو مہدی تسلیم فرمائیں ورنہ اس کفر اور بے عقلی سے توبہ کر کے اصلی مہدی اور مسیح علیہ السلام کا انتظار فرمائیں۔
پھر نصیحت کرتا ہوں کہ عذاب خداوندی بہت شدید ہے اب بھی توبہ کر لو۔ ورنہ اگر جہنم ہی میں جانے کا شوق ہے تو مبارک، آخر اس کو بھی تو بھرنا ہی ہے۔ مگر مہربانی فرما کر علماء دیوبند کا پھر نام نہ لینا ورنہ تہذیب اور انسانیت سے صحیح اور علمی بات کہو، اور اپنے خلیفہ قادیانی کو متوجہ فرماؤ کہ ہمارے رسائل حقہ کا جواب دیں ورنہ ویسے ان لغو باتوں سے کوئی نفع نہیں آئندہ آپ کو اختیار ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو چند سطریں تحریر فرمائی ہیں اگر مناسب ہوا تو اس کا جواب بھی دیا جائے گا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ سیدنا و مولانا محمد وآلہ و اصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین ٭
بندہ سید محمد مرتضیٰ حسن ابن شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ناظم تعلیمات وشعبہ تبلیغ دیوبند ضلع سہارنپور ٢١ ربیع الثانی ١٣٤٥ھ یوم جمعہ
١١
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے !
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جا رہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام !
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟ ۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
( آغا شورش کاشمیری )
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
الابطال الاستدلال الدجال
(حصہ اول)
تعليم الخبير فی حديث ابن كثير
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الابطال الاستدلال الدجال
حصہ اوّل
تعليم الخبیر فی حدیث ابن کثیر
سبحان من لم يلد ولم يولد و لم يكن له كفوا احدا لاوليائه رحيم ورحمن وللشيطان واتباعه قهار و غضبان ارسل رسوله بشيرا و نذيرا ليس له مثل ولا نظير خاتم الانبياء والمرسلين لم يكن له ظل ليعلم الدجال بدعواه انه له بروزا وظل نص خاتم الرسالة و نص لا نبي بعده لو كان موسى حيا لما وسعه الا اتباعه عليه الصلوة والتسليم من الله الحى القيوم الذى يحيى العظام وهى رميم و على الهم و اصحابهم واتباعهم بفضل العميم و كرامه الجسيم.
امابعد۔ جس طرح یورپ کے عیسائی عداوت اسلام پر کمر بستہ ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے عیسائی (قادیانی) بغض اسلام سے دلریش اور خستہ ہیں دن کو رات اور رات کو دن کفر کو اسلام اور ضلالت کو ہدایت، ارتداد و طغیان کو تسلیم، و ایمان عداوت کو محبت، شقاوت کو سعادت موت کو حیات ہلاکت کو نجات دجال غبی دعوٰی کو رسول و نبی۔ انکار کو اقرار بنا کر دنیا کو اپنے دجل ومکر و فریب کے جال میں پھانسنا چاہتے ہیں۔
زبان۔ قلم۔ درم۔ قدم۔ حرکت، سکون صراحۃ، و اشارہ سے کذب بہتان، ہر طرح سے شیطان کی اعانت اور ایمان کی عداوت میں راز سربستہ ہیں۔ اسلام کا دعوٰی ان کا جال اور یورپ میں تبلیغ اسلام ان کی چال۔ کیا فقط زبان سے اقرار کوئی کمال اور جب دل میں ہی ایمان نہ ہو تو نفاق سے نجات کیسی وہ تو سرتاپا عذاب اور وبال ہے۔ جھوٹ بولنا فریب اور دھوکہ دینا مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کا دین و ایمان ہے۔ آخر آدمی وحی الہام معجزہ کرامت نشانات کی بارش معارف الٰہیہ کے سیلاب
٢
رسائل اشتہارات اخبارات کس کس کو غلط سمجھے۔ ہاریں تو ان کی جیت، بھاگیں تو ان کی فتح، جھوٹ بولیں تو صدیق۔ اسلام سے لڑیں تو غازی۔ قرآن و حدیث کا خلاف کریں تو مجدد و محدث، دجال ہوں تو ان کا بڑا کمال، ان پر خدا کا قہر نازل ہو تو رحمت، وبال لعنتی ہوں تو امتی نبی، غرض ہیں وہ حرف درد جس پہلو سے الٹو درد ہے اسلام اور مسلمانوں کے لیے ان کا وجود ایک فتنہ عظیم ہے۔ اب تو کیا کہیں اگر خدا نے اپنے فضل وکرم سے ایمان پر خاتمہ فرما دیا تو وہیں ان سے دو دو باتیں ہوں گی۔ بہت خوف کا مقام ہے آدمی ہمیشہ خدا سے ڈرتا اور مرزا اور مرزائیوں سے بچتا ہی رہے۔
٢٠ ستمبر ١٩٢٦ء کا ایک دو ورقہ اشتہار جو میرٹھ کی مرزائی انجمن کا شائع کیا ہوا تھا۔ مولوی عبدالقیوم خاں صاحب امام جامع مسجد صدر بازار میرٹھ نے جو ایک جوان صالح اور دین کے کاموں میں بہت حصہ لیتے ہیں بالخصوص مرزائیوں کی خیر خواہی تو ان کو بہت ہی مدنظر رہتی ہے بندہ کے پاس بھیجا اور اس کا عنوان ہے ”احمدیوں سے مباہلہ کیوں نہیں کرتے۔“ اس کا جواب ”حلیہ اہل النار ملقب بہ لعنت کا طوق مرزائیوں کے گلے کا ہار (جو احتساب قادیانیت جلد ہٰذا میں شامل اشاعت ہے مرتب) لکھا گیا۔ یہ اشتہار مرزا کی طرح حاملہ بھی تھا اس میں ایک اور اشتہار کی بچی بھی ہے جو جان پڑنے سے پہلے پہلے یہ بولتی ہے کیا اب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی سمجھو گے۔ یہ رسالہ اس دو ماہ حمل کو ساقط کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے اس کا نام ”الابطال لاستدلال الدجال“ اور پہلے حصہ کا نام ”تعلیم الخبیر فی حدیث ابن کثیر“ اور دوسرے حصہ کا دفع المکائد عن حدیث اتخذوا قبور انبیائھم مساجد“ اور لقب ”سم الفار“ ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو استقامت اور مرزائیوں کو ہدایت اور بندہ کو حسن خاتمہ عنایت فرمائے آمین ثم آمین۔
آخر میں ستر سوال بھی کئے گئے ہیں جس کو سبعین کا آٹھواں نمبر سمجھنا چاہیے تو اب مرزائیوں کے ذمہ ان سبعینات کے ٥٦٠ سوالات ہیں جن میں سے آج تک ایک کا بھی جواب نہیں دیا نہ آئندہ کو امید ہے، مسلمان ان رسائل کو بغور ملاحظہ فرمائیں تو پھر خدا چاہے مرزا قادیانی و مرزائیوں کا بطلان ان پر واضح ہو جائے گا۔
واللہ تعالیٰ ہو المستعان
٣
مردہ مرزائیو کیا اب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
مردہ ہی سمجھو گے؟ تم زندہ ہوتے تو وہ زندہ نظر آتے
میرٹھ کے مرزائی اپنے حکمی اشتہار میں جس کا عنوان یہ ہے کہ ”اب بھی عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی سمجھو گے“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر دو حدیثیں پیش فرماتے ہیں۔ ایک لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین لما وسعہما الا اتباعی۔ اور دوسری لعن الله الیہود و النصارٰی اتخذوا قبور انبیائہم مساجد۔
گویا ان کے نزدیک یہ دونوں حدیثیں عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر ایسی بین اور واضح اور روشن دلیلیں ہیں کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ سمجھنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ یہ بیچارے جاہل اور علم سے بے تعلق ہیں۔ اس علمی مسئلہ میں ان کی زیادہ شکایت کرنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔ یہ تو فوٹوگراف ہیں ان میں جو ہوا بھر دی وہی نکلتی ہے۔ مگر تعجب مرزا محمود قادیانی سے ہے جن کو مرزا قادیانی کے طفیل میں ان معارف قرآنیہ اور معارف الہیہ کا دعویٰ ہے جن کے بدون انسان کا ایمان کامل ہی نہیں ہوتا۔ وہ بھی ان کو ایسی بین اور روشن دلیلیں تصور فرماتے ہیں کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔ اگر پدر نتواند پسر تمام کند میرٹھ کے مرزائیو خدا تمہیں ایمان کے ساتھ سمجھ عطا فرما دے۔ تم اپنے پیر کی جہالت اور بے علمی یا دیدہ و دانستہ بددیانتی کو ملاحظہ فرماؤ۔
اول حدیث...... کو حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں بے سند نقل فرمایا ہے اور نہ کسی کتاب کی طرف اس کی نسبت کی ہے اور نہ خود ہی اس کی تصحیح اور توثیق فرمائی حالانکہ پہلے دو حدیثیں جس میں صرف حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر ہے ان کو سند کے ساتھ ذکر فرمایا اور تمام روایات معتبرہ میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر ہے اس کے کسی طریق میں اور کسی حدیث کی معتبر کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں۔ اور نہ اس کی کوئی سند مذکور ہے۔
پھر اس حدیث کو دلیل اور حجت میں پیش کرنا مرزا اور مرزائیوں کا ہی کام
٤
ہے ۔ اور دلیل واضح اور حجت بینہ قرار دینا یہ تو بجز ان کے کسی انسان کا کام ہو ہی نہیں سکتا ۔ اگر یہ لوگ علماء دارالعلوم دیوبند کی خدمات میں حاضر ہوتے اور وہاں کی شاگردی کا انکو فخر حاصل ہوتا تو چاہے سرور شاہ کی طرح مرتد ہی ہو جاتے مگر ایسی جہالت کی بات شاید نہ کہتے ۔
کسی قول کو صرف حدیث کہہ دینا اس سے تو کیا سند کے ساتھ بیان کرنے سے بھی وہ حدیث نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ اس کے رجال کی تنقید نہ کی جائے اور اصول حدیث سے اس کو نہ جانچ لیا جائے ۔
جس طرح محض نبوت اور معجزات اور وحی الٰہی کی بارش وغیرہ کے دعویٰ سے کوئی دجال سچا نبی نہیں بن سکتا ۔ چنانچہ تم نے ابھی دیکھ لیا کہ مرزا غلام احمد دجال نے کس قدر دعوے کئے ۔ مگر نتیجہ یہی ہوا کہ اپنے ہی کلام سے ہر بد سے بدتر اور ملعون اور کذاب اور دجال اور مرتد اور کافر ثابت ہوا ۔ اسی طرح کسی قول کی صرف سند رسول اللہ ﷺ تک بیان کر دینے سے بھی وہ حدیث نبوی نہیں ہو سکتا ۔ جب تک کہ اصول حدیث سے صحیح ثابت نہ ہو چہ جائیکہ صرف نسبت ۔
کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مرزا قادیانی نے نہایت جرأت اور بے باکی سے مہدی کے بارہ میں جس قدر احادیث آئی ہیں سب کو مجروح اور ضعیف کہہ دیا (حمامة البشریٰ ص ٤٤ خزائن ج ٧ ص ٢٣٦) اور اپنے کو حکم کہہ کر اس کا حقدار بیان کیا کہ خدا سے اذن پا کر انبار احادیث میں سے جس قدر احادیث کو چاہے ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے ۔
(اربعین نمبر ٣ ص ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١ حاشیہ)
شرم کرنی چاہیے کہ اپنے مخالف احادیث صحیحہ کو مجروح اور ضعیف یا موضوع قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے اور جس کلام کی کوئی اصلیت نہ کوئی سند نہ ائمہ حدیث میں سے کسی کی تصحیح مگر صرف اس بنا پر کہ اپنی ہوائے نفسانی اور خواہش شیطانی کے موافق ہے۔ بلا دلیل اس کو حدیث مان کر دلیل یقین اور واضح قرار دیا جائے ۔
مرزائیو! اس میں تمہارا کچھ قصور نہیں یہ اصل بد دینی مرزا قادیانی کی ہے ۔ ان کا یہی انداز تھا کہ اپنے مخالف آیات قرآنی میں تحریف کی جائے اور احادیث نبویہ متواترہ کے انکار کرنے کا حیلہ تراشا جائے ۔ اور اپنی منشاء کے خلاف جو اجماع امت ہو اور اس کا خلاف کرنا تو ضروری تھا ہی۔ اور اپنے موافق کریم بخش نے مرزا قادیانی سے کہہ دیا کہ گلاب شاہ مجذوب نے آپ کو عیسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ کہا ہے تو اس کو
٥
(ازالہ اوہام ص ٧٠٦ تا ٧١٩ خزائن ج ٣ ص ٤٨١-٤٨٧) لکھ مارا۔ اور کریم بخش کی توثیق میں تہتر گواہیاں رجسٹری شدہ پیش فرمائیں۔ جن کے اندر کنہیا لعل، روشن لعل، ہیرا لعل، مراری لعل، گنیشا لعل، سوبھا بھگت، ٹھاکر داس پٹواری جمال پور خیالی ولد گور مکھا، گوکل ولد متابا۔ پورے نو کافر بھی موجود ہیں۔ (ایضاً) کیوں نہ ہو فقط عیسیٰ ہی تو بننا منظور نہیں تھا بلکہ کرشن بھی تو بننا تھا۔ اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔ اگر کل ہی غیر مسلم ہوتے تب بھی حرج نہ تھا۔
گویا اب مرزا کی اس سلسلۃ الذہب کو یوں بیان فرمائیں گے۔ حدثنی الدجال قال حدثنی ٹھاکر داس پٹواری قال حدثنی کریم بخش سفید ریش بہت اچھا آدمی۔ قال حدثنی گلاب شاہ المجذوب الخ۔
اے دجال کی امت ملعونہ تجھے اس کا خیال بھی تو کرنا چاہیے کہ جب کریم بخش کی توثیق کے لیے تہتر گواہوں کی فہرست پیش فرمائی جائے تو جو راوی رسول الثقلین ﷺ کی حدیث کے ہوں ان کی توثیق کی کس قدر ضرورت ہو گی؟ یاد رہے کہ یہاں روشن لعل اور ہیرا لعل اور کنہیا لعل اور ٹھاکر داس پٹواری کی تو کیا گنجائش ہو سکے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور خلیفہ نورالدین اور مرزا محمود اور مسٹر محمد علی اور خواجہ کمال الدین جیسے مرتدوں کی بھی گنجائش ناممکن ہے بلکہ بہت سے مسلمان متقی صالح پرہیز گار سچے مگر ان کا حافظہ اور ضبط اور حفظ میں کچھ نقصان ہو تو ان کی احادیث بھی قابل احتجاج نہیں ہوتیں۔
خدا فرماتا ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون. (الحجر ٩) ہم نے قرآن اتارا اور بے شک ہم ہی اس کے حافظ ہیں۔ وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ. (النجم ٣) جناب رسول مقبول ﷺ دین کے بارہ میں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں وہ سب وحی خداوندی ہے جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حفاظت فرمائی اسی طرح احادیث کو بھی بددینوں کی دست برد سے محفوظ رکھا۔
کیا احادیث موضوعہ کی تعداد ہزاروں تک نہیں پہنچی۔ اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزاء خیر دے کہ انہوں نے احادیث صحیحہ حسن ضعاف موضوعات سب کو علیحدہ کر دیا۔
مرزائی چیلے! آپ کو خبر ہوئی آپ نے سنا کہ حدیث رسول اللہ ﷺ کس طرح ثابت ہوتی ہے لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیّین الخ اگر اس کی کوئی سند کسی محدث معتبر سے ثابت ہو اس کے رجال ثقات ہوں تو پیش کرو پھر بات کرنے کے قابل ہو گے ورنہ
٦
شرم ہے تو ڈوب کے مر جاؤ یا زہر کھا لو اور ہندوستان کو اپنی نجاست سے پاک کرو۔
یہ مرزا قادیانی کی مہدویت و مسیحیت نہیں ہے کہ چند ازلی بدبختوں نے تصدیق کر لی اور مرزا قادیانی نے اشتہار دے دیا کسی استاد نے کیا اچھا کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرؒ بیشک بہت بڑے محدثین میں سے ہیں۔ مگر جب امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما کا قول بھی بدون سند یا تصریح صحیح کے نہیں لیا جاتا۔ تو پھر حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالٰی کا قول بے سند کس طرح معتبر ہو سکتا ہے؟
علاوہ ازیں مسلمان کسی امام حدیث کی تصریح صحیح پر اگر اس بنا پر اعتقاد کر لیں کہ اوّل تو مصحّح خود امام حدیث اور متقی پرہیزگار ہے جب تک ان کو اطمینان کلی حاصل نہ ہو جائے کسی حدیث کی تصحیح نہیں فرما سکتے۔ دوسرے اور ائمہ فن اور حفاظ حدیث نے جب اس تصحیح کو تسلیم فرما لیا کہ جو بجائے خود بے تحقیق کسی کی تصحیح یا تضعیف وغیرہ کو قبول نہیں فرما سکتے تو بجا ہے۔ لیکن جب مرزا قادیانی اور ان مرزائیوں نے ایک دو نہیں کل ائمہ احادیث و تفسیر کی تصریحات و تحقیقات کا جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قطعی و تواتر کے درجہ کو پہنچ گئی ہیں انکار کر دیا اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کو شرک عظیم سے تعبیر کیا آج وہ فقط ایک حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ کے کلام کو جو سبقت قلم یا سہو سے سرزد ہوا ہے پھر تمام کتب حدیث میں کہیں اس کی تائید نہیں ہوتی کیسے قبول کر سکتے ہیں؟
بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی غذائے روحی باطل، کذب، الحاد اور کفر ہے جو بات خلاف حق ہو گی اسے قبول فرمائیں گے اور جو حق ہے اس کا قبول کرنا اس جماعت کے لیے موت ہے بلکہ موت سے بھی زیادہ رجم کو قبول کر لیں گے اور حق ان کے قلب میں جا ہی نہیں سکتا۔ وہ قلوبنا غلف کہہ کر فخر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بل طبع اللہ علیھا بکفر ھم فلا یؤمنون الا قلیلا (نسا ١٥٥) اور بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلا مایؤمنون (بقرہ ٨٨) کہہ کر اصل حقیقت کو آشکارا فرماتا ہے۔
غرض ایک مدت سے مطالبہ ہے کہ اس حدیث کی سند پیش فرماؤ تاکہ اس کو اصول حدیث سے پرکھا جائے یا کسی امام فن کی تصحیح دکھاؤ جس کو دوسرے آئمہ محدثین نے بھی قبول کیا ہو تو اس حدیث کو پیش کر کے بحث کرو ورنہ اس کو حدیث ہی نہیں کہہ سکتے چہ جائیکہ اس کو استدلال میں پیش کیا جائے مگر مرزائیوں کی طرف سے کچھ جواب نہیں۔ نہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔
٧
یہ عرض ابن کثیرؒ کے حوالہ کے متعلق ہے اور ترجمان القرآن کے مصنف گو بظاہر مولوی صدیق الحسن خان صاحب مرحوم ہیں مگر اول تو اغلب یہ ہے کہ یہ کتاب ان کی طرف منسوب ہے اور ترجمہ ایک اور صاحب نے کیا ہے۔ ایک زمانہ ہوا جب بھوپال گیا تھا تو یہ سنا تھا واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور ان مولوی صاحب سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ انہوں نے اس مقام کو دیکھا بھی نہ ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ نواب صاحب کی فتح البیان میں اس آیت کے تحت میں اس کا ذکر بھی نہیں۔ ثانیاً وہ کوئی ائمہ حدیث میں سے نہیں نہ ان کا قول معتبر۔ دوسرے انہوں نے بھی اس قول کو نہ کسی کتاب کی طرف منسوب کیا نہ راوی کا نام نہ مخرج کا پتہ نہ تصحیح و تضعیف کا ذکر جس طرح ابن کثیر میں ہے۔ ایسے ہی اس میں ہے حالانکہ نواب صاحب ان کے تقریباً پانچ سو برس بعد ہوئے مگر معلوم ہوا کہ پانچ سو برس تک بھی اس حدیث کے نہ راوی کے نام کا پتہ ہے نہ مخرج کا نشان، نہ اس کا کوئی حال معلوم، افسوس مرزا قادیانی بھی مر گئے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اس کی تصحیح کے متعلق کوئی وحی یا الہام ہی گھڑ لیتے اب تو وہ بھی نہیں ہو سکتا۔
جس قول کا حدیث ہونا پانچ سو برس تک بھی ثابت نہ ہو سکا بیچارے مرزائیو تم تو اس میدان کے مرد بھی نہیں تم سے اب کیا ہو سکتا ہے۔ جاؤ اپنی پھوٹی قسمت کو روؤ اور کیا حاصل ہے ایمان کھونا تھا کھو دیا۔ خسر الدنیا والاخرہ ذالک ھو الخسران المبین (حج ١١) اگر دن بھلے ہیں اب بھی مان جاؤ ضد اچھی نہیں۔
اور ترجمان القرآن تو اس مقام پر ابن کثیر کا ترجمہ کر رہا ہے چنانچہ ماسبق اور مالحق کو دیکھ لیا جائے کہ اس قول سے قبل ابن کثیر کا ترجمہ ہے اور وہی دونوں حدیثیں جو ابن کثیر نے عبداللہ بن ثابت و جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بیان کی ہیں۔
ان ہی کا ترجمہ بیان کر کے جیسے اس میں وفی بعض الاحادیث کا لفظ ہے اس میں بھی اس کا ترجمہ بعض احادیث میں یوں آیا ہے لو کان موسٰی و عیسٰی الخ کیا ہے پھر ایک فقرہ کا ترجمہ کر کے ابن کثیر کی اصل عبارت یوں نقل کرتے ہیں ابن کثیر کا لفظ اس جگہ یوں ہے ھذا الامام الاعظم الذی لوجد الخ پھر پوری عبارت نقل کر کے حاصل مطلب بیان کیا ہے اور اس جگہ کی تخصیص نہیں اکثر جگہ ابن کثیر سے ماخوذ ہے چنانچہ اس کی (جلد ١ ص ٣ ج ٥ پر ہے) اس تفسیر میں ترجمہ آیتوں کا مع فوائد کے موضح قرآن سے لیا ہے باقی مطالب تفسیر حافظ ابن کثیر تفسیر قاضی محمد بن علی شوکانی تفسیر فتح البیان سے لیکر لکھے ہیں۔
٨
الحاصل عقل کی ہر وقت ضرورت ہے۔ نادان کے ہاتھ میں اگر تلوار بھی ہو تو وہ بجائے اس کے کہ دشمن کو ضرر پہنچائے خود ہی مجروح ہو جاتا ہے۔ نادان میرٹھی تو یہ سمجھے کہ ہم نے ایک حوالہ اور زیادہ کر دیا اور یہ خیال نہ کیا کہ اس سے اصل ہی مخدوش ہوئی جاتی ہے کیونکہ ابن کثیر کو ان ہی کے قول کے مطابق ٥٦٥ سال ہوئے مگر اس حدیث کے صحیح تو کیا ضعیف بلکہ موضوع ہی اس قدر طویل زمانہ میں کسی ایک محدث کو بھی سند نہ ملی حالانکہ صد ہا بڑے بڑے جبال علوم و آئمہ حدیث گذرے نہ کسی نے اس کی تصحیح فرمائی پھر اس کے بے اصل ہونے کے لیے اس سے زائد اور کیا ثبوت چاہیے۔ ماشاء اللہ کیا حدیث ہے۔
اے مرزائیت! تو نے دیکھا یہ ہیں تیرے وہ فرزند جن پر تو فخر کرتی پھرتی ہے یہ ہیں تیرے وہ سپوت جن پر تجھ کو ناز ہے یہی یورپ میں اسلام کی تبلیغ کریں گے یہی یورپ کے بے دین اور ملحدوں کو راہ راست پر لائیں گے؟
بات یہ ہے کہ جب مزاج فاسد ہو جاتا ہے تو بجائے عمدہ غذاؤں کے آدمی مٹی کوئلہ وغیرہ کھا کر مر جاتا ہے اسی طرح ازل سے جن کو اللہ تعالیٰ نے بے نصیب پیدا کیا ہے وہ مرزائیت کو قبول کر کے ابد الآباد کے لیے جہنم کی راہ اختیار کرتے ہیں نہ اس وجہ سے کہ مرزائیت کوئی اچھا مذہب ہے اس کی تعلیم عمدہ ہے۔ نہیں نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ ان مردہ دلوں کی یہ نجاست ہی غذا ہے جس سے مرزائیت کے جراثیم نشوونما پاتے ہیں نعوذ بااللہ العظیم ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔
الحاصل ترجمان القرآن کا حوالہ اول تو حقیقت میں کوئی نیا حوالہ نہیں۔ ابن کثیر ہی کا ترجمہ ہے دوسرے اس سے بجز مضرت کے کوئی منفعت حاصل نہ ہوئی۔ قول مذکور کا بجائے حدیث ہونے کے بے اصل ہونا ثابت ہوا۔
یہ جواب جو ہم نے دیا ہے یہ اصول حدیث اور قواعد مناظرہ کے مطابق بالکل صحیح اور درست ہے جس میں مخالف کو انشاء اللہ لب ہلانے کی بھی گنجائش نہیں ہو سکتی لیکن اتنے بڑے حافظ حدیث کی طرف سہو اور نسیان اور غلطی کو منسوب کرنا جو خاصہ بشری ہے کیونکہ معصوم صرف انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہی ہیں اور اس سے ان کی شان رفیع میں کوئی نقصان بھی نہیں آتا لیکن کسی بڑے کے کلام کی تاویل کرنا گو بعید ہو مگر تاویل تاویل
٩
ہو، مرزا قادیانی کی طرح سے تحریف نہ ہو تو اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ اس کلام کو سہو ونسیان یا غلطی پر محمول کیا جائے۔
اس وجہ سے اہل ایمان وفہم کی خدمت میں عرض ہے کیونکہ قادیانیوں سے تو ہمیں کسی قسم کے انصاف کی امید نہیں کہ بندہ جو کچھ عرض کرتا ہے اسے بغور ملاحظہ فرمائیں اور اگر قابل قبول ہو تو قبول فرمائیں ورنہ قواعد کے موافق عرض کیا ہی گیا ہے کہ اس قول کا حدیث ہونا کسی طرح ثابت نہیں اگر کوئی دلیل ہے تو بیان کی جائے۔
میری عرض یہ ہے کہ ممکن ہے کہ حافظ مرحوم کو حدیث مذکور کسی نہایت ضعیف طریقہ سے پہنچی ہو۔ گو یہ عادتاً قریب محال کے ہے کہ ایک حدیث صرف حافظ ابن کثیرؒ ہی کو پہنچی اور کسی محدث کو اس کی اطلاع نہ ہو لیکن امکان عقلی پھر بھی باقی ہے کہ جس حدیث میں صرف موسیٰ علیہ السلام کی حیات کا بیان ہے اسی کے بعض طرق میں اگرچہ وہ طریق ضعیف کیا موضوع ہی کیوں نہ ہو۔ لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین الخ بھی مروی ہو یا کسی محدث نے کسی کتاب میں جو حافظؒ کی نظر سے گذری ہو اس روایت کے متعلق سہواً یا غلطی سے کوئی لفظ لکھا ہو جس سے اس کا حدیث ہونا مفہوم ہوتا ہو گو یہ بھی عادۃً نہایت مستبعد ہے کہ وہ کتاب صرف حافظ موصوفؒ ہی کی نظر مبارک سے گذری ہو اور کسی کو آج تک اور اس کا علم ہی نہ ہوا ہو۔ مگر بعید ہی ہے ممتنع نہیں نیز یہ بھی ممکن ہے کہ کسی نے کسی کتاب میں نہ لکھا ہو صرف زبان سے ہی اس کے حدیث ہونے کو بیان کیا ہو۔
غرض کوئی صورت ہو واللہ تعالیٰ اعلم کیا بات پیش آئی کہ حافظ موصوفؒ کو لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین الخ کی نسبت یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ اب یا بعد کو یہ الفاظ حدیث بن کر موجب خلجان ہوں اور کوئی شخص ناواقفی سے یا دیدہ دانستہ بے دینی اور کفر والحاد کی بناء پر اس کو عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی دلیل بنا دے۔ اس وجہ سے اس سے پہلے عبداللہ بن ثابت اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی دو حدیثیں بیان فرمائیں۔ پہلی حدیث میں ہے والذی نفسی بیدہ لو اصبح فیکم موسیٰ علیہ السلام ثم اتبعتموہ و ترکتمونی لضللتم (ابن کثیر ج ١ ص ٣٧٨ زیر آیت واذ اخذ اللّٰہ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب و حكمة مصنف عبدالرزاق ج ٩ ص ٥٤٤ حدیث ٢٢٢٤٤ کتاب اہل الکتابین) یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام تمہارے اندر آ جائیں اور اس دنیا میں بود و باش اختیار فرمائیں پھر تم مجھ کو چھوڑ کر ان کی اتباع کرو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے اور دوسری حدیث میں وانہ واللہ لو کان موسیٰ حیا بین اظہر کم ما حل لہ الا ان یتبعنی
١٠
(ابن کثیر ایضاً مسند ابو یعلیٰ ج ٢ ص ٣١٥ حدیث ٢١٣٢) یعنی بیشک خدا کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام تم لوگوں کے اندر زندہ ہوں اور اسی دنیاوی زندگی سے تمہارے اندر سکونت اختیار کریں تو ان کو بجز میری اتباع کے کوئی چارہ نہیں۔ لو اصبح فیکم و حیا بین اظھر کم نے متعین کر دیا کہ جس حیات و زندگی پر اتباع نبوی لازم ہے وہ یہ حیات دنیاوی ہے تو اب اگر اسی حدیث کے بعض طرق میں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا بھی ذکر ہو تو اس سے بھی یہی حیات مراد ہے جو ان دونوں حدیثوں میں بصراحت مذکور ہوئی یعنی اگر حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی تم لوگوں میں زندہ ہوتے تو ان دونوں کو بھی بجز میری اتباع کے کوئی چارہ نہ تھا۔
اللہ تعالیٰ حافظ موصوف کو جزائے خیر دیں کہ ان دو حدیثوں کے بعد وفی بعض الاحادیث لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین الخ کو بیان فرما کر ہمیں یہ بتلا دیا کہ اگر بفرض محال یہ الفاظ کسی حدیث کے ہوں چاہے وہ حدیث موضوع ضعیف حسن نہیں صحیح ہی کیوں نہ ہو جب بھی اس کے معنی ان دو روایتوں سے متعین ہیں کوئی بے دین اور بد مذہب ان الفاظ سے موت عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال نہیں کر سکتا اول تو اس وجہ سے کہ اتباع احکام اور امتثال اوامر اور اجتناب عن النواہی اسی دار تکلیف میں ہے اور جو کسی دوسرے عالم میں زندہ ہے گو اس کی حیات بجسد عنصری ہی کیوں نہ ہو اس پر یہ حکم نہیں ہے کہ وہ نماز روزہ حج زکوٰۃ کو ادا کرے دوسرے حضرت رسول عالم ﷺ نے لو اصبح فیکم موسیٰ علیہ السلام ولو کان موسیٰ حیا بین اظھر کم بیان فرما کر اپنی مراد کو خود متعین فرما دیا کہ مراد حیات سے یہ ہے کہ تمہارے اندر بود و باش اور سکونت اختیار کرتے تو ان پر آپ ﷺ کی اتباع فرض ہوتی۔
مرزائیو! کہو تمہاری خاطر سے ہم نے اس قول کو حدیث ہی مان لیا اور حدیث بھی صحیح اور صحیح بھی متفق علیہ مگر بتاؤ تم کو اس سے کیا نفع ہوا؟ اس کا حاصل تو یہ نکلا کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام اگر تم میں زندگی بسر کرتے اور دنیا میں زمین پر تمہارے ساتھ رہتے تو ان پر میری اتباع واجب ہوتی۔
اب کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان پر زندہ ہیں تو یہ حدیث اس کی کیا مخالف ہے۔ فرماؤ ابن کثیرؒ نے اس قول کو حدیث کہہ کر تمہیں نفع پہنچایا۔ یا قیامت تک تمہاری جڑ کاٹ ڈالی۔ انہوں نے تو اس کو حدیث کہہ کر تمہارا ہی رد فرمایا کہ اگر بالفرض یہ حدیث ہے تو اس کے معنی خود جناب سرور عالم ﷺ نے اپنی ہی زبان فیض
١١
ترجمان سے بیان فرما دیئے اب کسی کا شور و غل خلاف مراد نبوی مردود ہے۔ شاید تم لوگ حسرت سے مر جاتے کہ ہائے اس کا حدیث ہونا ثابت نہ ہوا ورنہ نعوذ باللہ العظیم عیسیٰ علیہ السلام کو مار ہی لیا تھا۔ سولی پر لٹکا ہی دیا تھا مگر او! پنجاب کے یہودیو تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو کیسے صاف اٹھا لیا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے جس ابن کثیرؒ کو تم اپنا حامی سمجھتے تھے اسی نے تمہارا ملعون ہونا ثابت کر دیا اب تم یہ کہو۔
ہمیں جن سے چشم امید تھی وہی آنکھ ہم سے چرا گئی
تم کہو کہ اب بھی عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی سمجھو گے ہم نے تو ان کو قتل بھی کر دیا، مار بھی دیا، سولی پر بھی چڑھا دیا، اور ہم کہیں گے ہاں ہاں ہم ان کو زندہ ہی سمجھیں گے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر بھی تمہارے اس قول کی وجہ سے لعنت فرماتا ہے اور یوں رد کرتا ہے وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن و ما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما.
(نساء ١٥٧-١٥٨)
یعنی اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی اس مردود قوم پر جو یہ کہتی ہے کہ ہم نے (واقعی یا دلیل سے) عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالا اور سولی پر چڑھایا حالانکہ نہ ان کو کسی نے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا، نہ دلیل سے کوئی ملعون ان کی موت یا سولی پر چڑھانے کو ثابت کر سکتا ہے ہاں اب ایک دجال کے شبہ ڈالنے کی وجہ سے وہ ملعون لوگ شبہ میں پڑ گئے ہیں جو اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں اور قرآن و حدیث اور امت محمدیہ علی صاحبہ، الصلوٰۃ والتحیۃ کے قطعی اور حتمی فیصلہ کو نہیں مانتے ان کو کچھ علم نہیں وہ جاہل قوم ہے اپنے ظن فاسد کے پیرو ہیں جیسے اصلی یہود نے ان کو یقیناً قتل نہیں کیا ان پنجابی یہودیوں نے بھی قطعاً ان کی موت کو ثابت نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع کیا اور ان کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کی حیات کے دلائل کو روز روشن سے بھی زیادہ واضح کر دیا اور مرفوع اور بلند کر کے مخالفوں کو ملعون بنا دیا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے مرزا اور مرزائیوں کے مکر اور کید اور مکڑی کے جالہ کی اس کے نزدیک کیا حقیقت ہے۔
چنانچہ ابھی دیکھ لیا کہ ابن کثیرؒ کے حوالہ کو کیسی خوشی سے پیش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اسی تلوار سے حافظ ابن کثیرؒ ہی کے دست مبارک سے مرزا اور مرزائیوں کا ہی
١٢
سر قلم کرا کر ذلت اور رسوائی ندامت اور لعنت کی سولی پر لٹکا دیا اور ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ کا (یعنی کفار مرتد دجال جو سولی پر چڑھنے اور موت وغیرہ اہانت کے کلمات کہہ کر اپنے منہ کالا کریں گے ہم ان سب سے تمہاری بریت ثابت کریں گے اور جو مسلمان تمہارے متبع اور تمہاری حیات اور عزت اور سولی پر نہ چڑھنے کو ثابت کریں گے ہم انہی کا قیامت تک بول بالا رکھیں گے) منظر کیسا آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
کہو ابن کثیرؒ نے اس قول کو حدیث کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ثابت کیا یا مرزا اور مرزائیوں کو ہلاک کیا۔
فرمائیے ہم نے آپ کو اختیار دیا لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین الخ کو اگر حدیث اور صحیح کہتے ہو تو چشم ما روشن دل ما شاد مگر معنی وہی ہوں گے جو دو حدیثوں میں خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرما دیئے ہیں۔ یعنی یہ دونوں بزرگ نبی بھی اگر زمین پر تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان پر بھی میری ہی اتباع لازم ہوتی مگر عیسیٰ علیہ السلام گو زندہ ہیں اور ضرور زندہ ہیں مگر چونکہ وہ زمین پر نہیں اس جگہ ہیں جو دارالعمل نہیں وہاں آدمی شرائع اور احکام کا مکلف نہیں ہوتا اس وجہ سے ان پر میری اتباع بھی لازم نہیں۔ تو باوجود حدیث صحیح ہونے کے بھی عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی۔ اگر موت ہے تو صرف مرزائیوں کی۔
اور اگر اس قول کو حدیث نہیں کہتے اور واقعی امر یہی ہے تو قصہ ہی ختم ہے عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کے قائل ہو جاؤ اور اس استدلال سے دست بردار ہو کر توبہ کرو ورنہ چونکہ اب تک اس کو باوجود علماء کے تنبیہ اور خبردار کرنے کے کہ یہ حدیث نہیں ہے اس کی کوئی سند نہیں کسی کتاب میں اس کا پتہ نہیں پھر بھی اس کو دیدہ و دانستہ خلاف واقع حدیث ہی خیال کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے برابر ہی تمہیں بھی جگہ ملے گی۔
مرزائیو! تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے علم علماء دیوبند کے غلاموں کو دیا ہے وہ شیخی نہیں کرتے مگر دجال کی ذریت کا جہل ثابت کرنے کو کوئی لفظ کہیں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شاید اس مردہ قوم کو بھی آب حیات رحمت سے زندگی بخشے ورنہ انسان کیا اور اس کا علم کیا۔ مرزا ساری عمر شیخی کرتے کرتے مر گیا مگر بجز جہل اور کذب کے کچھ بھی
١٣
ظاہر نہ ہوا۔ یہاں یہ ظاہر کر دینا بھی شاید غیر مناسب نہ ہو کہ یہ معنی تو اس قول کے اور بھی بعض علماء نے بیان فرمائے ہیں پھر یہ نئی بات کیا ہوئی اس قدر کہہ دینا کافی تھا کہ اگر اس قول کو حدیث تسلیم کر لیا جائے تو علماء نے اس کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں جو مرزا کو مفید نہیں بلکہ مضر ہیں۔
تو عرض یہ ہے کہ میری غرض میں اور ان کی غرض میں فرق ہے ایک تو اس قول کو آیات قطعیہ و احادیث متواترہ و اجماع امت کے خلاف دیکھ کر اس کے یہ معنی مذکور کوئی عالم بیان فرمائیں گو وہ معنی بالکل صحیح اور بجا ہیں اور وہی معنی ہیں اور ایک خود سرور عالم ﷺ اپنے کلام مبارک کے معنی بیان فرمائیں۔ اس میں اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے میری غرض یہ ہے کہ اگر یہ قول واقعی حدیث ہے تو خود سرور عالم ﷺ نے اس کے معنی متعین فرما دیئے ہیں ان معنی کا جو مخالف ہے وہ کسی عالم کی تحقیق کا مخالف نہیں ہے بلکہ خود سرور عالم ﷺ سے مخالفت پر کمر بستہ ہو کر جہنم میں جا رہا ہے اور اگر ان کی بھی یہ ہی غرض ہے تو نعم الوفاق وللہ العظیم الحمد و علی رسولہ الصلوۃ والتسلیم والہ و صحبہ اجمعین۔
ویسے تو اس حدیث میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں زمین ہی پر زندہ تسلیم کیا جائے تب بھی ان کی اس حدیث سے موت ثابت نہ ہو۔ مگر یہاں تو غرض یہ ہے کہ محدث نے جو اس فرضی حدیث کے معنی متعین کیے ہیں اور وہ معنی خود سرور عالم کی طرف منسوب ہیں وہ یہ ہیں۔ علماء کو تو بہت کہنے کی گنجائش ہے۔ مگر ابھی اس کے عرض کرنے کی ضرورت نہیں اگر مرزائیوں نے کچھ کہا تو دیکھا جائے گا۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ میری غرض صرف معنی حدیث کو معین کرنا نہیں بلکہ حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ کی غرض کو بیان کرنا بھی مقصود ہے یعنی یہ قول جس پر قواعد حدیث کے مطابق لفظ حدیث کا اطلاق جائز نہیں۔ حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حدیث کہہ کر کیوں مسلمانوں کو پریشان اور ملحدوں کو خوش کیا۔ غلطی تو دوسری بات ہے مگر بالقصد ایسا فعل وہ بھی اتنے بڑے محدث سے کہ جس کا کلام حجت ہو اور ان کے لکھنے کی وجہ سے اور لوگوں نے بھی اسے حدیث لکھ دیا اور مخالفین اسلام کو اور زیادہ سندیں مل گئیں کہ صاحب فلاں نے اور فلاں فلاں نے بھی اس کو حدیث لکھا ہے لہٰذا یہ ضرور حدیث ہی ہے یہ فعل ناجائز ہوا۔
تو بندہ نے یہ عرض کیا ہے کہ اگر حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے باوجود حدیث نہ ہونے کے کسی وجہ سے بفرض محال یا کسی خدشہ کی وجہ سے یا کسی روایت ہونے کی بناء پر
١٤
اس کو بالقصد بھی حدیث لکھا ہے تو انہوں نے مسلمانوں پر یہ بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ اول دو حدیثیں ایسی بیان فرمائیں جن سے اگر یہ بالفرض حدیث ہو تو اس کے معنی دربار نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی سے معین ہو جائیں اور پھر کسی مخالف کو چون و چرا کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آخر علی سبیل التسلیم و فرض محال بھی تو علماء جواب فرمایا ہی کرتے ہیں بندوں میں ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بھی : ”لو کان فیہما آلہۃ الا اللہ لفسدتا“ میں علی سبیل الفرض ہی وحدانیت پر استدلال پیش فرمایا ہے اور خود سرور عالم ﷺ بھی اسی حدیث میں علی سبیل الفرض ہی: ”لو کان موسی حیا“ فرما کر اطاعت کو واجب فرماتے ہیں۔ اسی طرح حافظ مرحوم نے: ”لو کان موسی وعیسی حیین“ کو بھی لو کان حدیثاً فرض کر کے جواب دے دیا تو یہ امر کوئی خلاف نہیں فرمایا بلکہ مسلمانوں کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ فافہم!
اس جگہ پر اہل علم کے لئے ایک اور بات بھی عرض کرنے کو جی چاہتا ہے اور مقام کے مناسب بھی ہے وہ یہ ہے کہ: ”لو کان موسی وعیسی حیین لما وسعہما الا اتباعی“ اگر واقعی حدیث ہو تو اس سے ایک پر لطف مضمون ثابت ہوتا ہے جو صرف: ”لو کان موسیٰ“ سے ثابت نہیں ہوتا اور وہ یہ ہے کہ اگر شہنشاہ عالم کی خدمت اور اطاعت اس کے ماتحت بادشاہ بذات خود کریں اور بادشاہوں کا لشکر اور رعایا اپنے اپنے بادشاہوں کی۔ تو شہنشاہ کی سلطنت مطلقہ ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ بہت سے بہت یہ کہ اس کے بادشاہ خدام اور مطیع ہیں اور بادشاہوں کے خدام ان کی رعایا اور لشکری لوگ ہیں۔ شہنشاہ بڑا بادشاہ ہے یہ چھوٹے۔ شہنشاہ کے لئے سلطنت مطلقہ اس صورت میں ثابت نہیں ہوتی اور اگر شہنشاہ کے سامنے کل بادشاہ اور تمام بادشاہوں کی رعایا اور لشکر صرف شہنشاہ ہی کے مطیع ہوں تو اس وقت سلطنت مطلقہ خوب روشن طرح سے ثابت ہوتی ہے۔
اسی طرح سے صرف یہ فرمانا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری اطاعت کرتے۔ آپ کا سید الانبیاء علیہم السلام ہونا تو ثابت ہوتا ہے۔ مگر یہ وہم باقی رہتا ہے کہ اگر آپ موسیٰ علیہ السلام کے مطاع اور سید ہیں تو موسیٰ علیہ السلام بھی تو عیسیٰ علیہ السلام کے مطاع اور سید ہیں۔ اگر دونوں حضرات زندہ ہو کر دنیا میں تشریف لے آئیں تو موسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ کی اطاعت فرمائیں اور عیسیٰ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کی۔ تو اس شبہ کو فخر دو عالم ﷺ روحی فداہ الف الف مرۃ نے رفع فرما دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں کوئی اور بھی مطاع بن کے آپ ﷺ کی سیادت مطلقہ میں اس کی گنجائش
١٥
نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت فرمائیں اور وہ آپؐ کی بلکہ دونوں آپؐ کے ہی مطیع ہوں گے اور سیادۃ مطلقہ آپؐ ہی کا حصہ ہے۔
ستارے باہم ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں مگر سلطان الکواکب شمس نصف النہار کے دربار میں اس کی گنجائش نہیں ہے کہ بجز اس کے اور کسی کا نور بھی ظاہر ہو سکے۔ نہار خالص شمس ہی کا حصہ ہے اس میں شرکت کی گنجائش نہیں ہاں رات میں سب کی مملکت اور حکومت ہو۔
اسی طرح اگرچہ تلک الرسل فضلنا بعضهم علیٰ بعض (بقرہ ٢٥٣) حق ہے مگر شمس رسالت کے طلوع کے بعد پھر قیامت تک آپ ہی کا حصہ ہے اس میں کسی نبی کی گنجائش بحیثیت نبوت نہیں چنانچہ عبداللہ بن ثابت کی حدیث کا یہ لفظ ”انکم حظی من الامم وانا حظکم من النبیین“
(مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ٥٣٣ حدیث ١٩٢٣٣ کتاب اہل الکتابین)
یعنی امتوں میں سے تم میرے حصہ میں آئے اور نبیین میں سے میں تمہارے حصہ میں۔ تم کسی نبی کے حصہ میں نہیں آسکتے۔ شاہد ہے۔ آپ (ﷺ) سے پہلے پہلے ہدایت کی رات تھی تمام انبیاء علیہم السلام اس میں شریک تھے مگر آپؐ کے تشریف لانے کے بعد نہار ہدایت میں قیامت تک کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ واقعی لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیين لما وسعهما الا اتباعی بالکل صحیح ہے۔ دن میں کہیں ستارہ منور ہوا ہے مگر تارے معدوم نہیں ہوتے بلکہ چمکتے نہیں۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ہوں گے تو نبی مگر منصب نبوت پر نہ ہوں گے اور بیان بالا سے گروہ انبیاء علیہم السلام میں سے صرف انہی دو نبی علیہما السلام کی تخصیص کی وجہ بھی معلوم ہو گئی کہ ویسے اگر دو نبی علیہما السلام زندہ ہو کر آپؐ کی اطاعت کرتے تو یہ سیادۃ مطلقہ کہ مطیع اور مطاع دونوں آپؐ ہی کے مطیع ہوں ﷺ ثابت نہ ہوتی۔ کسی نے سچ کہا ہے:۔
ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله (نساء ٦٤) منصب رسالت و نبوت کے لیے مطاع ہونا وصف غیر منفک ہے۔ نبی کی غرض صرف یہی ہوتی ہے کہ وہ خلقت کا مطاع ہو اور اس کے ہر امر و نہی کی پوری اطاعت کی جائے ماکان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضی الله ورسوله امرا ان يكون لهم الخيرة من امرهم. (احزاب ٣٦) امت کو گنجائش ہی نہیں ہے کہ
١٦
رسول کے خلاف کوئی امر کرے۔ نبی اور رسول کے حکم میں چون و چرا ولم (ولما) اور کیوں کی گنجائش ہی نہیں جب یہ فرمادیا کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ بھی تم میں زندہ ہوکر آتے اور بود و باش فرماتے تو پھر بھی میری ہی اطاعت فرماتے اور جو میری اطاعت کی بجائے ان کی اطاعت کرتا تو گمراہ ہو جاتا۔ معلوم ہو گیا کہ اب امت محمدیہؐ میں بالفرض یا بحسب الواقع اگر سچا نبی بھی آئے گا تو وہ ہو گا تو نبی ہی، مگر منصب نبوت پر نہ ہو گا۔ منصب نبوت آپؐ کے بعد کسی شخص کو اب نہیں مل سکتا جدید ہو یا قدیم۔ تو اب یہ بھی لازم نہیں آتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو ان کی نبوت اگر ہو گی تو آپؐ خاتم النبیین کیسے رہیں گے اور اگر وہ نبی نہ ہوں گے تو کس جرم میں ان سے نبوت سلب کی گئی خوب سمجھ لو کہ وہ نبی ہوں گے مگر منصب نبوت پر نہ ہوں گے۔ جیسے کوئی حاکم اپنے گھر آتا ہے تو کیا اس وقت وہ حکومت اور اپنے عہدہ سے معزول ہو جاتا ہے نہیں۔ اس طرح اپنے بال بچوں اور برادری کی تقریبوں میں ڈپٹی مجسٹریٹ حتیٰ کہ وائسرائے بھی شریک ہوتے ہیں اور سب اپنے اپنے عہدہ پر بحال ہوتے ہیں مگر اس وقت منصب حکومت پر نہیں ہوتے۔ اس وقت ان کا حکم نافذ نہیں ہوتا۔ برادری کے ایک شخص ہیں اور گھر کے ایک آدمی۔ اس وقت نہ کسی کو قید کر سکتے ہیں نہ کسی ملزم کو رہا۔ تو حاکم ہونا اور بات ہے اور منصب حکومت پر ہونا اور بات اس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں۔
غرض یہ ہے کہ او! قادیانی دجال تجھ پر خدا کی بے شمار لعنتیں تو سید الانبیاء علیہم السلام کا یہ منصب نبوت حاصل کرنا چاہتا ہے جب تیری امت تیری ہر بات کی اطاعت کرتی ہے اور یہی ان پر فرض ہے حتیٰ کہ تیرا چندہ بھی اگر کوئی نہ دے تو وہ کافر۔
تو پھر تو نبی مطاع ہوا جس کی گنجائش نہیں۔ اور اگر تیری اطاعت لوگوں پر فرض نہیں تو پھر جو تیرا جی چاہے بکتا رہ۔ ہم سے کیا کہتا ہے اور تیری ذریت مسلمانوں سے تجھے کیا منوانا چاہتی ہے مسلمانوں نے تجھے کافر، مرتد، دجال، متنبی، کذاب، ملعون، جہنمی، سب کچھ تو مان لیا اور کیا یہ غرض ہے کہ شیطان بھی تجھی کو کہا جائے یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر وہی تو خود ہو تو پھر تجھ پر وحی کون کرے گا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العظیم۔
یاد رہے کہ کوئی لاہوری، ظلی، بروزی، مجازی، لغوی اور قادیانی تشریعی، غیر تشریعی کا فرق ہمارے سامنے بیان نہ کرے ورنہ اس قدر ذلیل ہو گا جو یاد رکھے گا اگر حوصلہ ہو تو اسے بھی پورا کر دیکھئے۔ ان تمام مراحل کو مرزا قادیانی نے خود ہی طے فرما
١٧
دیا ہے۔ شاید کوئی مسلمان بھی یہ کہے کہ مرتضیٰ بہت تیز کلامی کرتا ہے۔ بلکہ بعض روادار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کو کافر اور مرتد ملعون جہنمی بھی نہ کہو۔ میرے عزیز اور بزرگو مجھے معاف رکھو۔ مرزا اور مرزائیوں نے ہم پر وہ ظلم کیا ہے جس کا بدلہ ہمارے قبضہ ہی میں نہیں۔ اگر دس بیس ہزار لچوں، غنڈوں، بدمعاشوں، بازاریوں کا کمیشن بیٹھا دیں کہ تم رات دن مرزا اور مرزائیوں کو گالیاں دو تب بھی ہم بدلہ نہیں دے سکتے۔ اس لئے ہم نہ گالیاں دیتے ہیں نہ بدتہذیبی سے پیش آتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں۔ ہاں جن الفاظ کے خداوند عالم اور اس کے رسول ﷺ و قرآن و حدیث نے کہنے کی اجازت دی ہے وہ الفاظ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں۔
مسلمانو سنو اور غور سے سنو۔ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ دنیا کے بیالیس کروڑ مسلمانوں کو مرزا اور مرزا کے متبعین کافر کہتے ہیں۔ کوئی مسلمان کتنا ہی متقی پرہیز گار کیوں نہ ہو اس کے پیچھے ان کی نماز جائز نہیں۔ کیوں اس وجہ سے کہ کافر ہے۔ مسلمانوں سے مناکحت جائز نہیں۔ کیوں اس واسطے کہ مسلمان ان کے نزدیک کافر ہیں۔ مسلمانوں کا جنازہ جائز نہیں۔ کیوں اس وجہ سے کہ کافر ہیں یہ ظلم مسلمانوں پر کم ہے اس کی ابتدا کس طرف سے ہوئی؟ جس نے نبوت وغیرہ کا دعویٰ کر کے ہم کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ پھر اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ مرزا نے خدائے پاک کے رسولوں صلوات اللہ علیہم بالخصوص عیسیٰ علیہ السلام کو فحش گالیاں دیں ان کی توہین کی کیا کوئی مسلمان اس کا ایک دم کے لیے بھی تحمل کر سکتا ہے۔ پھر ان تمام باتوں سے بڑا ظلم جس کو کوئی ادنیٰ مسلمان شرابی زانی چور بھی نہیں سن سکتا۔ وہ یہ کہ سرور عالم ﷺ کی توہین کی۔ آپؐ سے برابر ہی نہیں بلکہ فضیلت کا دعویٰ کیا۔ یہیں تک بس نہیں یہ بھی کہا کہ کوئی الزام اس پر ایسا نہیں ہے جو اور انبیاء علیہم السلام پر نہ ہو۔ پھر بندوں سے بڑھ کر خدائے قدوس کو جھوٹا کہا جھوٹ بولنا اس کی عادت کہی وہ کوئی وعید کر کے اور کوئی شرط ذکر نہ کرے اور پھر بھی اس غیر مذکور شرط کی وجہ سے خلاف قول کرے تو یہ اس کی عادت ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا اسی کو مذہب بتاتا ہے ملاحظہ ہو اشد العذاب علیٰ مسیلمۃ پنجاب۔
اگر کسی شخص کے ماں باپ بہن بیوی وغیرہ کو کوئی شخص بلاوجہ گالیاں اور فحش تہمتیں لگا دے اور پھر اسے غصہ بھی نہ آئے تو کیا تمام دنیا اس بے حیا کو دیوث نہ کہے گی۔ اس میں کوئی تحمل کرے نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء علیہم السلام کو گالیاں
١٨
سن کر کوئی مرزا اور مرزائی کو مسلمان ہو کر مسلمان ہی سمجھے تو میں کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ و تمام ملائکہ اور صلحاء اُس کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر میں کہیں تیز کلامی کرتا ہوں تو مجھے معذور رکھا جائے۔ اگر کوئی صاحب اس پر بھی حلیم اور روشن خیال ہوں تو ان کو مبارک ہو قیامت پر اگر ایمان ہے تو اس دن کے لیے جواب سوچ رکھیں جس شفیع روز جزا کی شفاعت پر آج ناز ہے اور گناہوں کے پہاڑ جمع کر رکھے ہیں ان کے دین کی دشمنی دیکھ کر اور ان کی توہین سن کر بھی دجال اور اس کی امت کو مسلمان ہی سمجھے جائیں اور پھر بھی شفاعت کی امید ہو تو آفریں ہے اس ہمت پر۔
یہ عذر تو میرا مسلمانوں کی خدمت میں ہے۔ رہے مرزائی۔ ان کی تو مجال نہیں کہ کچھ کہہ سکیں۔ میں تو صرف شرعی الفاظ مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کی امت کو کہتا ہوں مرزا قادیانی نے تو علماء اور مسلمانوں کو الف سے لیکر یا تک کی گالیاں دی ہیں جو کتابوں میں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں پھر وہ ہم کو کیا کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے (ازالہ اوہام ص ١٣ تا ٢٤ خزائن ج ٣ ص ١٠٨۔١١٩) ملاحظہ فرما لیں مرزا قادیانی نے جہاں گالیوں اور حق گوئی میں فرق کیا ہے۔ گالی دینا اور ہے اور حق کہنا اور۔ حق بات کو تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ کہنا ہی چاہیے اگرچہ لوگوں کو اس کی تلخی کتنی ہی ناگوار کیوں نہ معلوم ہو۔ دوا اگر تلخ ہو اور مریض کو ناگوار معلوم ہو تو کیا طبیب اور خیرخواہ اس کو وہ دوا پلانی چھوڑ دیں گے۔ پس میرے تیز الفاظ کہنے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو جو کچھ بھی کہتا ہوں وہ سچ اور حق کہتا ہوں اگر میں جھوٹا ہوں اور کوئی غلط بات کہتا ہوں تو سب مرزائی مل کر میری باتوں کا جواب دے دیں پھر میرے لیے جو سزا مقرر فرمائیں میں اس کے لیے تیار ہوں۔ تیز کلامی سن کر وہی جواب نہیں دیتا جس کے پاس جواب ہی نہیں، ورنہ جواب ہونے پر بوقت ضرورت کون چوکتا ہے بالخصوص کفر و اسلام کے بارے میں، اور پھر مرزائی جن کو جھوٹ بولنے کی اس قدر مشق ہے کہ ان کا استاذ الاستاذ ابوالکردوس بھی انگشت بدندان ہے۔
مطلع ہو جاؤ ہندوستان کے مرزائیو، قادیانیو، لاہوریو وغیرہ وغیرہ! تم یورپ میں جاؤ اور لوگوں کو گمراہ کرو۔ جھوٹے اخبار و اشتہارات جاری کرو اس میں لوگ تمہارے مکر و فریب میں آن کر مرتد ہو جائیں یہ سب امور ممکن بلکہ واقع ہیں۔ مگر علماء اسلام نے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور انکی مدد فرمائے۔ مرزا اور مرزائیوں کے رد میں جو لاجواب رسائل لکھے ہیں ان کا انصافا جواب دو۔ یہ ناممکن ہے بالخصوص ابن شیر خدا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی ہر بات جو اب تک لکھی گئی ہے خدا کے فضل و کرم سے وہ
١٩
ایسی لاجواب ہے جس کا جواب ہو ہی نہیں سکتا نہ انصاف سے نہ بے انصافی سے نہ ایمان سے نہ بے ایمانی سے اور اگر ہمت ہے تو مرد میدان بنو اور اس عاجز اور فقیر الی رحمت اللہ اور ادنیٰ طالب العلم دارالعلوم کے رسائل کا جواب عنایت فرماؤ۔ بڑے بڑے علماء کا تو ذکر ہی کیا ہے ان کے رسائل تو مرزا کی سمجھ میں بھی نہیں آسکتے۔
اس وقت تک جو کچھ عرض کیا گیا وہ ابن کثیر اور ترجمان القرآن کے حوالہ کے متعلق تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث لو کان موسی و عیسیٰ حیین الخ قواعد حدیث کے مطابق بے اصل ہے نہ اس کی کوئی سند، نہ تخریج، نہ کسی حدیث کی کتاب میں ذکر اور باقر مرزائیوں کے ٥٦٥ برس تک بھی اس کا کہیں پتہ نہیں لگا تو اب کیا امید ہے۔ لہٰذا اس کو حدیث کہنا جائز نہیں چہ جائیکہ اس سے استدلال کرنا۔ اور ترجمان القرآن ابن کثیر ہی کا ترجمہ ہے جو اصل کا جواب ہے وہی ترجمہ کا بلکہ ترجمہ میں بھی کسی سند اور کسی کتاب کا حوالہ نہ ہونا اور نواب صاحب کا اپنی تفسیر فتح البیان میں اس کا ذکر نہ کرنا اسی کی دلیل ہے کہ یہ بے اصل ہے کیونکہ اور احادیث تو کتب حدیث میں مذکور ہیں۔ یہ بات حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے نئی فرمائی تھی اس میں اگر جان ہوتی تو وہ بھی ذکر فرماتے۔ پھر اگر کوئی یوں کہے کہ اس کے حدیث ہونے کو باطل کیوں نہیں کیا تو اس کا جواب جب دیں گے جب یہ سوال مرزا محمود قادیانی یا مسٹر محمد علی لاہوری فرمائیں گے۔
بحولہ و قوتہ و فضلہ و کرمہ اللھم صل و سلم علیٰ نبیک المصطفیٰ ورسولک المرتضیٰ وآلہ و صحبہ اجمعین۔
اپنی تو بہت کہہ لی اب یاروں کی بھی کچھ سن لو۔ اور سنبھل کر ہوشیار ہو جاؤ ہوش باختہ نہ ہو جائیں تو پھر کہنا۔ ابن شیر خدا کے پنجہ سے تمہارا نکلنا بحولہ و قوتہ تعالیٰ محال ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی موت موت گاتے پھرتے ہو وہ تو وہاں زندہ ہیں جہاں کسی کی بھی رسائی نہیں لو اب تمہاری موت آ گئی اگر کوئی تدبیر ہو سکے تو درگزر نہ کرنا۔
مرزا قادیانی نے خدا پر جھوٹ بولا انبیاء علیہم السلام پر افتراء کیا خود سرور عالم ﷺ پر بہتان باندھا وہ خدائے قہار کی لعنتوں سے ملعون ہوئے۔ تم نے مرزا قادیانی کی تصدیق کی تمہارے گلے میں بھی بے شمار لعنتوں کے طوق ڈال دیئے گئے۔ مگر تمہیں شوق ہوا کہ آخر ہمیں بھی تو کوئی جھوٹ بولنا چاہیے اور اپنے دست و بازو سے بھی جہنم میں جانا چاہیے۔ شیخ علیہ الرحمۃ تو جنت کے متعلق فرماتے ہیں ؎
٢٠
نوجوانان مرزائیت کی بلند ہمت اس کو کب گوارا کر سکتی ہے کہ جہنم کا کوئی مربع بھی خود نہ خریدیں۔ فرماتے ہیں پھر یہی حدیث کتاب مدارج السالکین امام ابن قیم جلد ٢ صفحہ ٣١٣ میں مسطور ہے۔
یہ جھوٹ ہے کہو مدارج السالکین کبھی دیکھی بھی ہے یا نہیں اس کی کتنی جلدیں ہیں لو دل کڑا کر کے کہہ دو لعنت اللہ علی الکاذبین جلد دو میں صفحہ ٣١٣ ہے بھی یا نہیں۔ اگر نہیں تو ایک جھوٹ...... اگر کہو دوسری جلد میں صفحہ ٣١٣ نہیں تو پہلی جلد میں ہے۔ وہاں بھی نہیں۔ (انا للہ) کچھ حرج نہیں۔ کہو تیسری جلد میں تو صفحہ ٣١٣ ہے۔ جی جناب والا ہے مگر اس صفحہ میں موسیٰ یا عیسیٰ علیہ السلام کا لفظ بھی نہیں چہ جائیکہ پورا کلام۔ اگر دونوں ناموں میں سے ایک نام بھی دکھا دو تو فی نام ہزار روپیہ انعام۔ (جل جلالہ) کیا غضب ہے صفحہ ٣١٣ کا وار بالکل ہی خالی گیا نرا، کورا، سفید، جھوٹ۔ یہ دوسرا جھوٹ ہوا...... کہ صفحہ ٣١٣ پر نہ پہلی جلد میں نہ دوسری میں نہ تیسری میں۔ ہاں یہ تو کہو ہم نے کتاب مطبوعہ مصر کو دیکھا ہے۔ مرزائی کتب خانہ میں کوئی قلمی کتاب تو نہیں وہاں نایاب کتابیں بہت ہیں کوئی قرآن بھی ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے انا انزلناہ قریبا من القادیان۔
(حقیقت الوحی ص ٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
تیسرا جھوٹ...... اگر تمام مدارج السالکین میں بھی نہ دکھا سکو کہ حافظ ابن قیمؒ نے لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین لما وسعہما الخ کو حدیث کہا ہے تو پھر کہو جہنم کے کس طبقہ میں جاؤ گے؟ کوشش تو بہت کی سپوت پوت ہو مگر مرزا قادیانی تک ابھی پہنچ نہیں سکتے۔ ہنوز دلی دور است یہ مرتبہ تو خاص مسٹر محمد علی لاہوری کے لیے مخصوص ہے اور شاید مرزا محمود کو بھی مرزا قادیانی کی سفارش سے بلا استحقاق خلافت کی طرح ملجائے تو ملجائے۔
چوتھا جھوٹ...... یہ ہو گا کہ اس کو حافظ موصوف نے حدیث نہ لکھا ہو مگر پھر بھی اس کو تو حدیث کہہ دیا اور جو اس کے آگے حدیث کے مطابق لکھا ہو، اسے شرک عظیم اور کفر کہو۔ فرماؤ مدارج السالکین کے حوالہ سے کیسی ذلت اٹھائی؟ کیا اسے دور کر سکتے ہو کیا اس حوالہ کو مدارج السالکین میں دکھا سکتے ہو؟ اگر ہماری نظر صفحہ ٣١٣ کو پوری طرح نہیں دیکھ سکی تو فرماؤ میرٹھ میں حاضر ہوں یا قادیان۔ غرض اگر مدارج میں کسی اور جگہ بھی اس کو حدیث لکھا ہے۔ تو براہ کرم اس حوالہ کو ظاہر فرمائیے۔ ورنہ اپنے جھوٹ کا اعلان فرمائیے۔
اگر بفرض محال ایسا کیا تو جواب تو یہی ہے جو ابھی مذکور ہوا کہ سند بتاؤ تخریج حدیث راوی کا نام کسی امام کی تصحیح پیش کرو۔ ورنہ علماء سے بات نہ کرو یورپ کے ہوٹلوں
٢١
میں جاؤ۔ اگر نہ پیش کر سکے تو کم سے کم اس ایک جھوٹ کا تو اقرار کر لو۔ نہیں تو مسلمانوں نے تو آپ کو جھوٹا جان ہی لیا۔ ہاں یہ تازہ شہادت اور جیتا جاگتا مرزائیت کی صداقت کا ایک اور بلند نشان ہوگا جو محمدی بیگم کے نکاح سے بھی بہت عظیم الشان ہے۔
پھر چوتھا حوالہ شرح مواہب کا ہے۔ دیکھئے یہاں سے کیا انعام ملتا ہے؟ مدارج سے تو بہت ہی مراتب علیا نصیب ہوئے کہ چار جھوٹ کورے بولے اور لعنت اللہ علی الکاذبین کے ماتحت بقول مرزا قادیانی نہ چار بار بلکہ قیامت تک خدائی لعنتوں سے ملعون ہوئے۔ ارشاد ہوتا ہے پھر یہی حدیث شرح مواہب جلد ٦ صفحہ ٧٤ میں مرقوم ہے۔
شرح مواہب کی چھٹی جلد ہمارے سامنے ہے صفحہ ٧٤ پر اس کا کہیں نام بھی نہیں البتہ اس صفحہ میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اسم گرامی اور طرح آیا ہے۔ اب جھوٹ گنو جلد ٦ کے صفحہ ٧٤ پر یہ قول نہیں۔ ایک جھوٹ...... اور پھر اگر تمام کتاب ہی میں نہ ہو تو یہ دوسرا جھوٹ...... اگر اس کے خلاف ہوا تو تیسرا جھوٹ...... (انا للہ وانا الیہ راجعون) ایسی کذاب قوم ہماری نظر سے تو گذری نہیں۔ اسی ہمت پر علماء دیوبند سے مباہلہ کی خواہش ہے تین سطروں میں کتنے جھوٹ ہو گئے۔ میرٹھ کے مسلمان میرٹھ کے مرزائیوں سے مطالبہ فرمائیں کہ جب تمہاری صداقت اور دیانت کی یہ حالت ہے تو پھر ٹریکٹ کیوں شائع کرتے ہو۔
تین حوالوں کا تو حال معلوم ہو چکا اب چوتھے کا حال بھی ملاحظہ فرمایا جائے۔ فرماتے ہیں پھر یہی حدیث کتاب الیواقیت والجواہر مصنفہ امام سید عبدالوہاب شعرانی کے صفحہ ٢٤ میں لکھی ہے۔ الیواقیت والجواہر کا صفحہ ٢٤ بھی خالی ہے یہاں بھی جھوٹ سے باز نہ آئے۔ پھر اگر اس صفحہ پر نہیں تو بتاؤ کہ کس صفحہ پر ہے اگر صفحہ بتاؤ گے تو یہ بھی لکھو کہ امام شعرانیؒ اس کو خود اپنی تحقیق اور اپنی طرف سے حدیث لکھتے ہیں یا فتوحات سے نقل کرتے ہیں تو پھر یہ بتاؤ کہ جس باب سے فتوحات کے نقل فرمایا ہے وہاں ہے یا نہیں۔ اور نہیں ہے تو پھر خود ہی کہو کہ کس قدر بددیانتی ہے کہ ایک غلط حوالہ کو جس کا غلط ہونا معلوم ہے محض خلق اللہ کے گمراہ کرنے کے لیے شائع کیا جائے۔ یہ ہے حقیقت مرزائیت جس کو ہندو اور یورپ میں شائع کرنا چاہتے ہو؟
ملاحظہ فرمایا۔ یہ ہے آپ کے حوالوں کا حال اور اس پر کہتے ہو کہ اب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی سمجھو گے۔ بیشک وہ زندہ ہیں اور جو زندہ ہے وہ انہیں زندہ ہی سمجھے گا۔ ہاں جو مردہ ہے وہ مردہ سمجھے۔ اب ہم کو دیکھئے جواب کا کس قدر انتظار کرنا پڑے۔
٢٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
الابطال الاستدلال الدجال
(حصہ دوم)
دفع المکائد عن حدیث اتخذوا قبور انبیاءھم مساجد
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ
ابطال الاستدلال الدجال
(حصہ دوم)
دفع المکائد عن حدیث اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجد
یہ جو کچھ عرض کیا گیا پہلی حدیث کے متعلق تھا اب مختصر طور سے لعن اللہ الیہود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجد (کنز العمال ج ٧ ص ٢٣٦ حدیث ١٨٧٦٢ وفاتہ و ما یتعلق بمیراثہ) کے متعلق بھی جو عرض ہے اسے بھی توجہ سے سننا چاہیے حدیث صحیح۔ اور بالکل صحیح مگر مرزائیوں کا تو اس حدیث سے صرف اسی قدر تعلق ہے کہ مرزا قادیانی اور یہ لوگ جھوٹے ثابت ہو کر ملعون ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو اس سے کیا تعلق؟ موت اگر ثابت ہوتی ہے تو مرزا اور مرزائیوں کی، ان کی تو زندگی ہی ثابت ہوتی ہے۔
قادیانی اس حدیث کا ترجمہ فرما کر یہ فرماتے ہیں۔ ”کیا اب اس سے یہ عقیدہ غلط نہیں ٹھہرتا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر آنحضرت کے مقبرہ میں بنائی جائے گی جبکہ قبر ہنوز بنی ہی نہیں تو لعنت کیسی؟ فتدبروا (٣٥٩) یہ عدد معلوم نہیں کس چیز کا ہے شاید مرزا کی وحی ٣٥٩ ہو۔ یا خدا جانے کیا رمز ہے اور شروع مضمون یوں کیا ہے (٢) حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیھما السلام اگر فوت نہیں ہوئے اور ان کی قبریں سجدہ گاہیں نہیں بنائی گئیں تو کیا یہ حدیث جو بخاری و مسلم میں آئی ہے نعوذ باللہ جھوٹی ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ ایک تو اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ (١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے (٢) پھر فوت ہو کر وہ قبر میں مدفون ہوئے (٣) وہ قبر اس ارشاد سے قبل ہو (٤) اور عیسائیوں کی سجدہ گاہ ہو چکی ہو۔ (٥) یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں غلط ہوا (٦) یہ بھی غلط ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں ہو گی۔
میں بھی داد دیتا ہوں کہ ایسی صاف اور روشن دلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
مرنے اور قبر میں داخل ہونے کی شاید مرزائیوں کے پاس کوئی بھی نہ ہو گی موت۔ قبر کا سجدہ گاہ ہونا قبر پرستوں کا ملعون ہونا رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ثابت ہو گیا تو اب یہ عقیدہ خود بخود ہی غلط ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر روضہ اقدس میں بنے گی اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔
دیکھا مرزائیو! ہم کیسے مصنف ہیں۔ پھر اگر ہم نے اس دلیل کا ایسا صاف اور کھلا ہوا جواب دیا کہ تم بھی منہ ہی دیکھتے رہ جاؤ اور یہ کہو کہ ہم کس غلطی میں تھے۔ یہاں تو کچھ بھی نہ تھا۔ ؎ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
مرزا قادیانی نے ہمیں سراب ہی دکھا کر پیاسا مارا۔ جب اس قدر مابہ الفخر دلیل کا یہ حاصل ہے تو تانت باجی اور راگ بوجھا۔ کہو پھر ہمارے جواب کی داد دے کر مسلمان ہو جاؤ گے یا نہیں۔
سنو! رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے خدا نے یہود اور نصاریٰ پر لعنت کی انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو یہود تو سجدہ کرنے سے رہے۔ سجدہ کیا ہو گا تو نصاریٰ نے اور نصاریٰ کا قومی عقیدہ بالعموم یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے گئے اور مر گئے اور تین دن قبر میں رہ کر پھر زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے۔ اور اس میں نصاریٰ ہی نہیں بلکہ جناب مرزا قادیانی بھی نصاریٰ کے ہم عقیدہ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے واقعہ صلیب کے بعد انتقال فرمایا۔ اور اس میں بھی متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر بھی چڑھائے گئے مگر موت سولی پر نہیں آئی ان کے زخموں کا علاج ہوا مرہم عیسیٰ بنایا گیا اور پھر اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے چنانچہ ازالہ میں فرماتے ہیں۔ ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔ بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کر رہی ہے کہ بعد فوت ہو جانے کے کشفی طور پر مسیح چالیس دن تک اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔ اس جگہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ مسیح بوجہ مصلوب ہونے کے فوت ہوا کیونکہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچالی تھی۔ بلکہ یہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی گواہی دے رہی ہے۔ جو گلیل میں اس کو پیش آئی اس موت کے بعد مسیح چالیس دن تک کشفی طور پر اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا....... یہی حال حواریوں کی رویت کا ہے جو انہوں نے کشفی طور پر مسیح ابن مریم مرنے کے بعد جبکہ وہ جلیل کے کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا
٣
چالیس دن برابر نظر آتا رہا (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، ٤٧٤ خزائن ج ٣ ص ٣٥٤، ٣٥٣) اور پھر آخر میں (١١) آیت میں جو لکھا ہے جو فرشتوں نے کھڑے تھے یہ کہا کہ اے گلیلی مردو یہی یسوع تھا جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اسی آسمان کو جاتے دیکھا پھر آئے گا۔ یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے جو تم نے عالم کشف میں جو عالم مثالی مسیح کو آسمان کی طرف جاتے دیکھا اسی طرح مثالی طور پر اور مثالی وجود کے ساتھ مسیح پھر آئے گا جیسا کہ ایلیا آیا“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٧ خزائن ج ٣ ص ٣٥٥)
ان عبارات کے بعد مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”اور یاد رہے کہ یہ تاویلات اس حالت میں ہیں کہ ہم ان عبارتوں کو صحیح اور غیر محرف قبول کر لیں لیکن اس قبول کرنے میں دقتیں ہیں جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ مسیح کا آسمان کی طرف اٹھائے جانا انجیل کی کسی الہامی عبارت سے ہرگز ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا۔“ (ایضاً) ”پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بینہ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اس زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لیے آیا تھا
(ازالہ اوہام ص ٤٣٥ خزائن ج ٣ ص ٣٣٠)
مرزا نصاریٰ سے بیان بالا میں صرف دو امر میں اختلاف فرماتے ہیں ایک تو یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر نہیں مرے۔ دوسرے یہ کہ مرنے کے بعد جب وہ اپنے وطن گلیل میں دفن ہوئے تو یہی جسم عنصری آسمان کی طرف نہیں اٹھایا گیا۔ باقی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر چڑھنا اس کے بعد گلیل میں فوت ہونا اور دفن ہونا یہ تمام امور مرزا قادیانی کو بھی مسلّم ہیں۔
حدیث کی صحت کے لیے جتنے امور کی ضرورت تھی وہ سب ثابت ہو گئے۔ نصاریٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام مدفون ہوئے ان کی قبر بنی۔ نصاریٰ نے اس قبر کو عیسیٰ علیہ السلام ہی کی قبر سمجھ کر سجدہ کیا جو ملعون ہوئے لعن اللہ الیہود و النصاریٰ اتخذوا قبور انبیائہم مساجد حرف بحرف پورا ہو گیا۔
لیکن نفس الامر اور واقع میں حسب ارشاد خداوندی نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھے نہ فوت ہوئے بلکہ بجسدہ الشریف العنصری اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا لئے گئے اور زندہ ہیں۔ اور کسی وقت دنیا میں پھر تشریف لائیں گے اور فوت ہو کر مزار شریف میں مدفون ہوں گے۔ نصاریٰ کا بسبب سجدہ قبر عیسیٰ علیہ السلام ملعون ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ اور قبر بھی ثابت ہو گئی۔ اور یہ عقیدہ بھی حق رہا کہ وہ مقبرہ شریفہ میں دفن
٤
ہوں گے نہ کوئی حدیث چھوٹی نہ عقیدہ غلط۔ کہو مرزائیو! جواب کیسا صحیح اور مسلم اور مسکت ہوا ہے کہ تم بھی یاد رکھو گے تم تو کیا اگر مرزا قادیانی ہوتے تو ضرور داد دیتے اور میں یہ کہتا۔
قبر عیسیٰ قوم کو تسلیم ہے تھا یہی ارشاد کیوں کیسی کہی
تین دن بھی جس نے پوجا قبر کو ہو گیا برباد کیوں کیسی کہی
طوق لعنت اس کی گردن میں پڑا اب بھی دو گے داد کیوں کیسی کہی
مارتا تھا جن کو تو زندہ ہیں وہ بر فلک آباد کیوں کیسی کہی
تو زمیں میں وہ آسماں پر خوب شد کیا پڑی افتاد کیوں کیسی کہی
روضۂ اطہر میں ان کی قبر ہو ہے اسی پر صاد کیوں کیسی کہی
جو کہا تھا مصطفیٰ نے ہو گیا پھر ہے کیا فریاد کیوں کیسی کہی
دام میں آیا کسی کے کب مسیح خود پھنسا صیاد کیوں کیسی کہی
مفتری کذاب رسوا ہو گیا ابن مریم شاد کیوں کیسی کہی
ہائے مرزا تو لٹا ابلیس سے اور ہوا برباد کیوں کیسی کہی
ہو گئی ثابت حیوۃ عیسوی خوش ہو یا ناشاد کیوں کیسی کہی
بول بالا حق کا یوں ہوتا ہے دیکھ اور تو ناشاد کیوں کیسی کہی
قادیانی مر گئے زندہ مسیح اس کو رکھنا یاد کیوں کیسی کہی
ہے وہ مردہ جو انہیں مردہ کہے ہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی
مرزائیو! خیر خواہی سے عرض کرتا ہوں اور بالکل صحیح کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے یہاں بجز جہل اور کذب وملمع سازی کے کچھ بھی نہیں۔ ہم کو مرزا قادیانی سے عداوت نہیں ہاں ان کی کفریات کا تحمل نہیں، اللہ تعالیٰ آپ صاحبوں کو پھر توفیق قبول حق کی عنایت فرمائے آمین۔ یہ تو ہم نے جواب دیا ہے اور ایسا مسکت ہے کہ قادیان بھیجو ہی گے جو جواب آئے گا اس سے حال معلوم ہو جائے گا۔
مسلمانوں کی خدمت میں عرض ہے کہ مضمون ذیل کو توجہ سے ملاحظہ فرمائیں۔ لعن الله الیهود و النصاریٰ الخ کا مطلب یہ نہیں کہ یہود اور نصاریٰ کے ہر ہر فرد مرد عورت، چھوٹے، بڑے تندرست، بیمار، نیک و بد اولیاء وصلحاء نے ہر ہر نبی اور صالح کی قبر کو سجدہ کیا ان پر مساجد تعمیر کیں۔ کیونکہ مسلم میں جندبؓ سے روایت ہے قال سمعت
٥
النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول الا وان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائہم و صالحیہم مساجدا الا فلا تتخذوا القبور مساجد انی انھاکم عن ذلک. (مسلم ج ١ ص ٢٠١ باب النہی عن بناء المساجد علی القبور) چونکہ یہود و نصاریٰ میں صالحین اور اولیاء بھی تھے وہ کیونکر قبور کو سجدہ کر کے شرک جلی یا خفی میں مبتلا ہوتے؟ اور ہر ہر نبی اور صالح کی اول تو قبور کا پتہ لگنا پھر تمام امۃ کا انکو سجدہ کرنا یا سب قبروں پر مساجد کا بنانا مشاہدہ اور عقل کے بھی خلاف ہے۔
قبر پرست تو قبر پرست بہت سے خدا پرست بھی ایسے ہیں اور ہوتے ہیں کہ تمام عمر گزر جاتی ہے مگر ایک دفعہ نہ سجدہ کریں نہ مسجد میں جائیں اور ایسے لوگ ہر مذہب میں موجود ہوتے ہیں۔
تو مطلب حدیث کا یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کے نزدیک جو انبیاء یا صالحین تھے ان کی قبور کو جو معلوم اور موجود تھیں یہود و نصاریٰ نے مساجد بنایا بعض یہود اور نصاریٰ نے بھی بعض انبیاء و صالحین کی قبور کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو حدیث کا مفہوم صحیح ہو گیا اس کے لیے یہ ضرور نہیں کہ ہر ہر نبی و صالح کی قبر بھی ہو اور وہ قبر ہمیشہ آپؐ کے زمانہ تک موجود بھی رہی ہو اور تمام یہود و نصاریٰ ہر ہر قبر پر جاتے بھی ہوں اور میلہ لگا رہتا ہو اور وہاں سجدہ کرتے ہوں یا تمام مقابر پر مساجد ہوں یہ قطعاً غلط ہے اور اگر کسی کو اس کا دعویٰ ہے تو ثابت کرے۔
مثال کے طور پر عرض ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی اور نصاریٰ کے تو بڑے نبی وہی ہیں پھر نصاریٰ کی قوم کیسی۔ مگر بقول مرزا قادیانی باوجود اس سلطنت اور شکوہ اور تحقیق و تفتیش کے کہ زمین کے نیچے کے دبے ہوئے ہزارہا برسوں کے شہر تو نکال لیے لیکن اگر مرزا قادیانی پیدا نہ ہوتے تو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ بھی ان کو نہ لگتا۔ بتاؤ قبر تو کشمیر میں تھی جس کا کسی کو پتہ بھی نہ تھا اور اب باوجود علم اور مرزا قادیانی کے متنبہ کرنے کے ایک جہاز بھی یورپ سے کشمیر کو سجدہ کرنے کے لیے نہ سہی زیارت کو بھی روانہ نہ ہوا۔ پھر علم نہ ہونے کی صورت میں نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو کیسے مسجد بنایا؟ تو یہ بات قطعاً غلط ہے کہ حدیث کی یہ مراد ہو کہ ہر ہر نبی کی قبر کو ہر ہر یہودی اور عیسائی نے مسجد بنایا ہے عقلاً ونقلاً اس کا ثبوت ناممکن ہے اور اگر کسی مرزائی کو حوصلہ ہو تو وہ ثابت فرمائیں ہم بھی خدا چاہے پھر اس استحالہ کو اور مفصل عرض کر دیں گے۔ جب حدیث کے معنی متعین ہو گئے تو اب مرزائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ
السلام زندہ ہیں اور ان کی قبر روضہ اقدس میں ہو تو حدیث کا جھوٹا ہونا کیوں لازم آتا ہے۔ نصاریٰ نے جو ان کے نزدیک اور انبیاء تھے واقعی یا فرضی اور دیگر صلحاء کی قبور کو مسجد بنایا اور ملعون بنے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا مرنا کیا ضرور ہے؟
کسی نے ساون میں آنکھیں بنوائی تھیں تو اس کو سب ہرا ہی ہرا نظر آتا تھا۔ مرزائیوں کو چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے کا عشق ہے اس وجہ سے ہر جگہ اسی مضمون کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کہ ہر پیدا میشود از دور پندارم توئی
مگر جو بات واقع کے خلاف ہے وہ کیسے ثابت ہو۔ ایک اور بات بھی قابل عرض ہے کہ اگر کوئی مرزائی بفرض محال یہ ثابت بھی کر دے کہ حدیث کی مراد یہی ہے کہ ہر ہر نبی و صالح کی قبر کو ہر ہر یہودی اور نصرانی نے مسجد بنایا تو پھر عرض ہے کہ اس صورت میں بھی عیسیٰ علیہ السلام باتفاق نصاریٰ و مرزا قادیانی، اہل اسلام، اس حدیث کے مفہوم میں داخل ہی نہیں۔ مسلمان تو ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں نہ سولی پر چڑھے نہ قبر میں گئے۔ نصاریٰ میں اہل تحقیق کا بھی یہی مذہب ہے جو مسلمان کہتے ہیں۔ البتہ قومی عقیدہ یہی ہے کہ سولی پر چڑھے اور وہیں انتقال ہوا اور تین دن تک قبر میں رہ کر آسمان پر زندہ ہو کر بجسدہ الشریف العنصری تشریف لے گئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے عقیدہ کے موافق بھی یہودی جو برسر اقتدار تھے معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی اور سولی سے اترنے کے بعد ہی قبر میں رکھے گئے۔ اول تو اس وقت جو برائے نام معدودے چند نصاریٰ تھے وہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے صحابہ ہی تھے اور یہ ناممکن ہے کہ کسی نبی کے صحابہ ہی نبی کے مرتے ہی مشرک ہو جائیں اور قبروں کو سجدہ کرتے پھریں بالخصوص نبی کی قبر کو۔ دوسرے یہود نے ان کو آنے کب دیا ہو گا۔ اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تین دن کے اندر قبر پر مسجد بنا لیتے اور بنا ہی لیتے تو یہود کب ہٹانے دیتے اور جب نصرانیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ زندہ ہو کر تین دن کے بعد آسمان پر چلے جائیں گے تو ان کو اس جھگڑا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ غرض یہ امر کسی طرح بھی عقل میں نہیں آ سکتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مرتے ہی ان کے خاص صحابہ نے ان کی قبر کو سجدہ کیا ہو اور تین دن کے بعد تو ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ قبر مٹی کا ڈھیر ہے اس میں کیا ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام کو تو انہوں نے زندہ ہو کر آسمان پر جاتے ہوئے دیکھا تھا پھر وہ قبر کو سجدہ کیوں کرتے؟ تو نصرانیوں نے اگر قبور انبیاء علیہم السلام کو مسجد بنایا
ہے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے نزدیک بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ اور اگر مرزائی اس کو نہ تسلیم فرمائیں بلکہ یہ کہیں کہ نہیں انہوں نے تو تین ہی دن کے اندر سجدہ کیا ہے اور اسی کو جو قبر ان کے نزدیک فرضی شام میں تین دن کے لیے ہوئی تھی اور حقیقتاً عیسیٰ علیہ السلام زخموں کی وجہ سے بیہوش تھے نہ مردہ اور اس وقت کے نصاریٰ مرزائیوں کے نزدیک اس قدر بیوقوف تھے کہ ان کو مردے اور زندے میں بھی تمیز نہ تھی۔ اور تین رات دن تو اگر مرزا قادیانی کو بھی قبر میں دفن کر دیا جاتا تو مر جاتے۔ یقین نہ ہو تو اب کوئی مرزائی امتحان کے لیے تیار ہو جائے، مگر عیسیٰ علیہ السلام باوجود اس حالت کے بھی قبر میں زندہ رہے۔ اور تین دن کے بعد لوگوں کو یہ معلوم کیسے ہوا کہ ان کو زندہ درگور کیا ہے؟ اور اب تک زندہ بھی ہیں۔ مرزا قادیانی وہاں ہوتے تو وحی یا الہام ہی ہو جاتا۔ ان تمام دور از عقل باتوں کو تسلیم کرنے کے بعد بھی اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ نہیں پھر بھی اسی قبر پر میلہ لگتا تھا اور عیسائی جمع ہو کر اس کی پرستش کرتے تھے تو ہمارے لیے یہ بھی مضر نہیں بلکہ مفید ہی ہے۔ پھر مفہوم حدیث صراحتاً ثابت ہو کر مرزائیوں کا نامراد ہونا اور بھی پوری طرح سے ثابت ہو گیا جیسا کہ اس کی پہلے تقریر ہو چکی ہے۔ مگر بات یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے صحابہ سے یہ توقع وہی کر سکتا ہے جو کسی جھوٹے متنبی کا صحابی ہو المرء یقیس علیٰ نفسہ اپنے اوپر قیاس کر کے وہ نبی علیہ السلام کو بھی جو چاہے سو کہہ دے صحابہ کا تو انبیاء علیہم السلام سے پھر کم ہی درجہ ہے۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
انبیاء علیہم السلام کے صحابہ کی تو شان بڑی رفیع ہے صلحاء اور اولیاء کے بھی جو مرید خاص ہیں ان سے بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ پیر کے مرتے ہی پیر کی قبر کو سجدہ کرنے لگیں۔ یہ خرابیاں ایک زمانہ کے بعد اہل بدعات کی چالوں کا ثمرہ ہوتا ہے جو جاہلوں اور نام کے عالموں پر اثر کرتی ہیں چنانچہ ہندوستان کے قبر پرستوں کی حالت شاہد ہے۔ غرض عیسیٰ علیہ السلام کے صحابہ سے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کریں اور دوسرے عیسائیوں کو بھی جب معلوم ہو گیا کہ اس قبر میں وہ نہیں ہیں تو پھر وہ بھی کیوں سجدہ کرتے اب تو وہ قبر ان کے نزدیک بھی قبر نہ ہو گی پھر پرستش کیسی؟
غرض اہل اسلام اور محققین نصرانیوں کی طرح عام نصاریٰ کے نزدیک بھی عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش نہیں ہوئی۔ اور مرزا قادیانی کو تو اس میں چون و چرا کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہی وہاں نہ تھی وہ تو وہاں سے تبت
٨
کے راستہ سے کشمیر تشریف لے آئے اور یہیں مدفون ہوئے نصرانیوں کو تو اب تک اس کا علم بھی نہ تھا پھر ان کی قبر کو کیسے مسجد بنا سکتے تھے؟ اور اگر بفرض محال معلوم ہی ہو تو اس زمانہ میں کشمیر کا آنا معمولی بات تھوڑا ہی تھی۔ اگر آتا تو قافلہ ہی آتا جس کا علم کم سے کم اہل کشمیر اور پنجاب کو تو ہوتا اور پھر اس قبر کے معاملہ میں مرزا قادیانی کو اس قدر تکلیف بھی نہ کرنی پڑتی۔ اور مرزا قادیانی کو نصرانیوں پر بہرحال یہ اعتراض کرنے کا بھی پورا موقع ہاتھ آتا کہ جب تم عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اعتقاد کرتے ہو تو پھر یہ قبر کیسی اور اس کی پرستش کے کیا معنی؟ اگر وہ پہلی صورت میں یہ کہتے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس قبر میں تین دن رہے ہیں تو ان سے کہتے کہ اپنے گھر میں اس سے زیادہ رہے ہیں اور اگر یہی جگہ متبرک ہے تو یہاں مکان یا گرجا بناؤ قبر کے کیا معنی؟ مرزا قادیانی کے مذہب کے مطابق تو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ایسی ہی جگہ ہونی چاہیے جس کا کسی عیسائی کو علم بھی نہ ہو ورنہ جو شخص عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر کہے اس کے نزدیک ان کی قبر اور پھر وہی اس کی پرستش کرے اس کے معنی کیا؟ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ نصاریٰ ان کو زندہ سمجھیں اور مرزا قادیانی فرمائیں کہ تم کو علم نہیں وہ تو مر گئے ان کی قبر تو فلاں جگہ ہے جس کی تمہیں بالکل خبر ہی نہیں ہوئی۔ مرزا قادیانی اول نہ سمجھے اور اس کا اقرار کر لیا کہ وہ گلیل میں فوت ہو کر مدفون ہوئے بعد میں خیال آیا ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی واقعی قبر گلیل میں عیسائی تسلیم ہی نہیں کر سکتے بلکہ گلیل میں واقعی قبر کہنے سے مرزا قادیانی کا مطلب ہی فوت ہوتا ہے تب یہ کہا کہ ان کی اصلی قبر تو کشمیر میں ہے جس کی خبر نہ عیسائیوں کو نہ مسلمانوں کو۔ مرزا قادیانی کا مطلب بیچارے مرزائی کیا سمجھیں۔ ان کی غرض کوئی ہم سے پوچھے۔ مرزا قادیانی چونکہ بہت غبی تھے اول تو شام میں قبر تسلیم کر لی اور قبر سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف جانا اس کو کشف اور عالم مثال پر حمل کیا۔ پھر جب یہ شبہ خیال مبارک میں آیا ہو گا کہ جن عیسائیوں نے یہ عقیدہ بنایا ہے تو انہوں نے تو اس مصلوب کو قبر سے بھی نکال کر پھینک دیا ہو گا اور قبر کو صاف دکھا دیا ہو گا تاکہ آسمان پر جانا ثابت ہو جائے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جب یہ قصہ قبر سے نکل کر آسمان پر جانے کا تصنیف ہوا ہو گا۔ اسی وقت یہ قصہ بھی بنا لیا ہو گا کہ یوں قبر شق ہوئی اور یوں آسمان کی طرف گئے اور قبر میں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ ہوا وہ ہوا۔ جب ہی تو عام قوم کا یہ عقیدہ ہوا ورنہ ویسے گلیل میں واقعی قبر ہوتے ہوئے کوئی اس فرضی قصہ کو کیونکر تسلیم کر لیتا۔ اور یہ ہم کو کہنے کی اس وجہ سے حاجت ہوئی کہ ہمارے نزدیک یہ غلط بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
٩
اصحاب ہرگز ہرگز کہہ بھی نہیں سکتے بعد کے لوگوں نے ایسا کہا ہو گا تو انکو ضرور ایسی روایات بھی بنانی پڑی ہوں گی۔ اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بعض منافقین بھی ہوں اور انہوں نے مصلوب کی قبر کو سجدہ بھی کیا ہو اور قبر سے آسمان پر جانا بھی چشم دید بیان کیا ہو اور قبر کو محفوظ بھی رکھا ہو۔ اور قبر کی پرستش کو بھی دن بدن ترقی دی ہو تو یہ سب کچھ ممکن ہے مگر یہ احتمال ہمیں مضر نہیں۔ بلکہ نہایت مفید ہے حدیث کا مضمون خوب صاف ثابت ہوتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اس کو ہرگز تسلیم نہیں فرما سکتے کیونکہ ان کے نزدیک تو مصلوب کا قبر سے نکلنا اور مرہم عیسیٰ کا استعمال کرنا اور پھر اچھے ہو کر کشمیر جانا بھی ضرور ہے۔ اور خلاف قرآن شریف یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تکالیف اٹھانی بھی چاہئیں۔ غرض مرزا قادیانی یہ ہرگز تسلیم نہیں کر سکتے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوئی۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی اس مفہوم سے عیسیٰ علیہ السلام مستثنیٰ ہیں کہ نصاریٰ نے ان کی قبر کو سجدہ کیا ہو۔
اب مرزائی قادیانی فرمائیں کہ وہ کس منہ سے اس حدیث کو حجت بنا کر عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر اس سے استدلال فرماتے ہیں خداوند عالم جل وعلیٰ شانہٗ رسول اللہ ﷺ ، اجماع امت، قرآن و حدیث سب ہی کا خلاف مرزائی کر سکتے ہیں مگر مرزا قادیانی کی تازہ تازہ وحی شیطانی کا خلاف کریں تو قیامت ہی آ جائے گی۔
مسلمان تو مرزا قادیانی کو جھوٹا کہتے ہی ہیں۔ اگر مرزائی بھی یہی سلوک کریں تو بتاؤ مرزا قادیانی کس گھر کے رہیں گے بقول شخصے گھر کے نہ گھاٹ کے۔
لہٰذا اس استدلال سے دست کش ہو کر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہو جاؤ۔ ورنہ اس معمہ کو حل فرماؤ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہو اور بجز مرزا قادیانی کے کسی کو علم بھی نہ ہو اور مرزا قادیانی کو بھی ایک مدت کے بعد علم ہوا ہو پھر نصاریٰ نے اس نامعلوم قبر کی پرستش کیسے کی؟ دوسرے پہلے تو قبر مبارک کو گلیل ہی میں فرماتے تھے پھر نہ معلوم کشمیر کب نقل ہوا یہ دوسرا تعارض ہے جس کا اٹھانا مرزائیوں پر فرض ہے۔ اگر یہ فرماؤ کہ پہلے غلطی ہوئی تھی مشہور عقیدہ کی بناء پر گلیل میں قبر بتا دی تھی۔ تو اول وہ روایات معتبرہ پیش کرو جن سے عیسائیوں کے نزدیک واقعہ صلیب کے ٨٧ سال یا کچھ کم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا طبعی موت سے مرنا اور گلیل میں مدفون ہونا ثابت ہو پھر یہ کہ جسد عنصری کے رفع کے ساتھ یہ عقیدہ جمع کیسے ہو سکتا ہے؟ یہود نے عیسائیوں پر یہ اعتراض کیا اس کا کوئی جواب منقول ہے اگر نہیں تو عیسائیوں پر یہ تہمت ہے یا
١٠
عیسائیوں میں بھی کوئی مرزا قادیانی جیسا لا امتی پیدا ہوا ہو تو اس کا یہ عقیدہ ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام موت طبعی سے گلیل میں مر کر مدفون ہوئے۔ اور پھر یہ فرمائو کہ اس غلطی کا علم کتنے دنوں کے بعد ہوا بارہ برس تک تو مرزا قادیانی نے وحی کی بارش کا مطلب بھی نہیں سمجھا یہ دقیق مضمون کتنے قرن میں سمجھ میں آیا تھا اور اس قسم کے غلط مضامین مرزا قادیانی کی تبلیغ میں نہیں اس کی کیا ضمانت ہے۔
بہر حال جو احتمال بھی لو مسلمانوں کو مفید ہے اور ہر صورت میں تباہی و بربادی خانہ ویرانی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی ہے۔ کہو اب تو ان حدیثوں کو استدلال میں پیش نہ کرو گے اور سمجھو گے کہ مرزا قادیانی کے مکڑی کے جالہ کی یہ حقیقت ہے مثل الذین اتخذوا من دون الله اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوهن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ (عنکبوت 41) جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنایا ان کی مثل مکڑی کی سی ہے کہ اس نے گھر بنایا اور بے شک تمام گھروں سے زیادہ ضعیف مکڑی کا گھر ہے کاش وہ لوگ جانتے۔
آٹھویں سبعین
پانچسو ساٹھ اعتراض و سوالات تو صریحی نقد مرزائیوں کے ذمہ ہمارے رجسٹری شدہ قرض ہو چکے اور ضمنی سود اور بالائے سود جو مرزائیوں کے یہاں جائز ہے اس کا حساب کیا جائے تو غالباً ہزار سے بھی زائد ہو جائیں۔ مونگیر کے ساڑھے چار ہزار اور دوسرے علماء کے مطالبات علیحدہ ہیں مگر سب کو صبر کرنا چاہیے۔ قادیانی بنک کا دیوالیہ نکل کر نیلام بھی ہو چکا ہے۔
انجیل متی باب ٢٠۔ ١٧۔ اور جب یسوع یروشلم کو جاتا تھا راہ میں بارہ شاگردوں کو الگ لیجا کے ان سے کہا ١٨۔ دیکھو ہم یروشلم کو جاتے ہیں اور ابن آدم سردار کاہنوں اور فقیہوں کے حوالے کیا جائے گا اور وے اس پر قتل کا حکم دیں گے (١٩) اور اسے غیر قوموں کے حوالے کریں گے کہ ٹھٹھوں میں اڑائیں۔ اور کوڑے ماریں اور صلیب پر کھینچیں پھر وہ تیسرے دن جی اٹھے گا۔
متی باب ٢٦۔ آیت ٥٥۔ اس گھڑی یسوع لوگوں سے کہنے لگا کہ تم جیسے چور کے لیے تلواریں اور لاٹھیاں لیکر میرے پکڑنے کو نکلے ہو۔ میں ہر روز ہیکل میں تمہارے ساتھ بیٹھ کے تعلیم دیتا تھا پھر تم نے مجھے نہ پکڑا۔ (٥٦) لیکن یہ سب اس لیے ہوا تا کہ
١١
نبیوں کے نوشتے پورے ہوں۔ تب سب شاگرد اسے چھوڑ کے بھاگ گئے۔ (٦٦) تب انہوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور اسے گھونسا مارا اور دوسروں نے اسے طمانچہ مار کے کہا کہ (٦٨) اے مسیح ہمیں نبوت سے بتا کہ تجھے کس نے مارا۔
متی باب ٢٧ آیت (٢٩) اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا۔ اور ایک سرکنڈا اس کے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس پر ٹھٹھا مار کے کہا۔ اے یہودیوں کے بادشاہ سلام (٣٠) اور اس پر تھوکا اور وہ سرکنڈا لیکر اس کے سر پر مارا۔ (٣١) اور جب وے اس سے ٹھٹھا کر چکے تو اس پیراہن کو اس پر سے اتار کر پھر اسی کے کپڑے اسے پہنائے اور صلیب پر کھینچنے کو اسے لے چلے (٣٥) اور اسے صلیب پر کھینچ کر اس کے کپڑوں پر چٹھی ڈال کے انہیں بانٹ لیا۔ (٣٦) پھر وہاں بیٹھ کے اس کی نگہبانی کرنے لگے۔ (٥٠) اور یسوع نے پھر بڑے شور سے چلا کر جان دی۔ (٥٤) جب صوبہ دار نے اور جو اس کے ساتھ یسوع کی نگہبانی کرتے تھے بھونچال اور سارا ماجرہ دیکھا تو نہایت ڈر گئے اور کہنے لگے یہ بیشک خدا کا بیٹا تھا۔ (٦٢) دوسرے روز جو تیاری کے دن کے بعد ہے سردار کاہنوں اور فریسیوں نے مل کر پیلاطس کے پاس جمع ہو کے کہا کہ (٦٣) اے خداوند۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ دغا باز اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن بعد جی اٹھوں گا۔ (٦٤) اس لیے حکم کر کہ تیسرے دن تک قبر کی نگہبانی کریں نہ ہو کہ اس کے شاگرد رات کو آ کر اسے چرا کر لے جائیں۔ اور لوگوں سے کہیں کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا۔ تو یہ پچھلا فریب پہلے سے بدتر ہو گا۔ (٦٥) پیلاطس نے ان سے کہا تمہارے پاس پہرے والے ہیں جا کے مقدور بھر اس کی نگہبانی کرو۔ (٦٦) انہوں نے جا کر اس پتھر پر مہر کر دی اور پھر آدمی بٹھا کر قبر کی نگہبانی کی۔
متی باب ٢٨۔ سبت کے بعد جب ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹنے لگی مریم مگدلینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیں۔ (٥) پر فرشتے نے مخاطب ہو کر ان عورتوں سے کہا تم مت ڈرو میں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو جو صلیب پر کھینچا گیا ڈھونڈھتی ہو۔ (٦) وہ یہاں نہیں ہے۔ کیونکہ جیسا اس نے کہا تھا وہ اٹھا ہے آؤ یہ جگہ جہاں خداوند پڑا تھا دیکھو۔ (٧) اور جلد جا کر اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے۔ اور دیکھو وہ تمہارے آگے جلیل کو جاتا ہے وہاں تم اسے دیکھو گی دیکھو میں نے تمہیں جتا دیا۔ (٨) وہ جلد قبر پر سے بڑے خوف اور بڑی خوشی کے ساتھ روانہ ہو کر اس کے شاگردوں کو خبر دینے دوڑیں۔ (١١) جب وہ چلی جاتی تھیں۔ دیکھو پہرے والوں میں سے کتنوں
١٢
نے شہر میں آ کر سب کچھ جو ہوا تھا سردار کاہنوں سے بیان کیا۔ (١٢) تب انہوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر صلاح کی اور ان پہرے والوں کو بہت روپیہ دیئے۔ (١٣) اور کہا تم کہو رات کو جب ہم سوتے تھے۔ اس کے شاگرد آ کے اسے چرا لے گئے۔ (١٤) اور اگر یہ حاکم کے کان تک پہنچے ہم اسے سمجھا کر تمہیں خطرے سے بچا لیں گے۔ (١٥) چنانچہ انہوں نے روپے لیکر سکھلانے کے موافق کیا اور یہ بات آج تک یہودیوں میں مشہور ہے۔
انجیل مرقس (١٥۔٤٢) اور جب کہ شام ہو گئی اس لیے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔ (٤٣) یوسف ارمتیا جو نامور مشیر اور وہ خود خداوند کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا۔ اور دلیری سے پلاطس پاس جا کے یسوع کی لاش مانگی (٤٤) اور پلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا اور صوبہ دار کو بلا کے اس نے پوچھا کیا دیر ہوئی کہ وہ مر گیا۔ (٤٥) اور جب صوبہ دار سے ایسا معلوم کیا تھا تو لاش یوسف کو دلا دی۔ (٤٦) اور اس نے مہین سوتی کپڑا مول لیا اور اسے اُتار کے اس کپڑے سے کفنایا اور ایک قبر میں جو چٹان کے بیچ کھودی گئی تھی اسے رکھا اور اس قبر کے دروازہ پر ایک پتھر ڈھلکا دیا۔ (٤٧) مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم اس جگہ کو جہاں وہ رکھا گیا دیکھ رہی تھیں۔
انجیل لوقا۔ باب ٢٤۔٢۔ اور انہوں نے پتھر کو قبر سے ڈھلکایا ہوا پایا۔ (٣) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لاش نہ پائی۔ (١٢) تب پطرس اٹھ کے قبر کی طرف دوڑا اور جھک کر دیکھا کہ صرف کفن پڑا ہے اور اس ماجرے سے تعجب کرتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔
یوحنا باب (٢٠) ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی تڑکے جبکہ ہنوز اندھیرا تھا قبر پر آئی اور پتھر کو قبر سے ٹالا ہوا دیکھا۔ (٢) تب وہ شمعون پطرس اور اس دوسرے شاگرد کے پاس جسے یسوع پیار کرتا تھا دوڑی آئی اور انہیں کہا کہ خداوند کو قبر سے نکال لے گئے اور ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے کہاں رکھا۔ الخ
یوحنا۔ باب ١٩۔ (٤١) اور وہاں جس جگہ کہ اسے صلیب دی گئی تھی ایک باغ تھا۔ اور اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی دھرا نہ گیا تھا۔ (٤٢) سو انہوں نے یسوع کو یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث وہیں رکھا کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی۔
مرقس باب ١٥۔٢٢ اور وے اسے مقام گلگتا پر جس کا ترجمہ کھوپری کی جگہ ہے لائے اور مے مر میں ملا کر اسے پینے کو دیا۔ پھر اس نے نہ لیا۔ (٢٣) اور انہوں نے
١٣
اسے صلیب پر کھینچنے اس کے کپڑے بانٹے اور ان پر قرعہ ڈالا کہ ہر ایک شخص کیا کیا لے۔ انجیل کی یہ عبارات اس وجہ سے بیان کر دی ہیں کہ جو مضمون ہم نے عرض کیا ہے اس کا پتہ ان سے چلتا ہے اگر کسی مرزائی کو خلیفہ قادیانی نے جواب لکھنے کا حکم دیا تو وہ ان عبارات کو بھی مدنظر رکھے اور پھر جو لکھتا ہے اس کو ان کی تصدیق سے لکھے۔ ہمارے مخاطب حقیقتاً اس وقت مرزا محمود قادیانی اور مسٹر محمد علی لاہوری صاحبان ہیں۔ کیونکہ جب کوئی مرزائی کسی گروہ کا ہو مذہبی کام کبھی اپنے امیر یا اس صیغہ کے ذمہ دار کی اجازت بغیر نہیں کرتا۔ جس کو امیر یا خلیفہ نے مقرر کیا ہے۔ تو اب اس طرف کی تحریرات کو ان کی طرف منسوب کرنا خلاف انصاف نہ ہوگا۔
غیر ذمہ دارانہ تحریر قابل التفات نہ ہوگی۔ گو ہم کو خدا کے فضل سے قریب یقین کے ہے کہ ہماری تحریر کا جواب مرزائیوں سے محال ہے مگر تاہم ان عبارات کو لکھ کر متنبہ کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی پر اور کس قدر اعتراضات ہیں ان کو بھی مدنظر رکھ کر جواب لکھا جائے۔ اہل فہم ان عبارات سے بجز ہم کو نفع اور مرزائیوں کو مضرت کے اور کیا سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے بالقصد اس کی زیادہ تفصیل کو مناسب نہیں سمجھا۔ اگر موقع ہوا تو انشاء اللہ تعالیٰ پھر عرض کیا جائے گا۔
چند امور نمونۃً عرض کرتا ہوں تاکہ اہل فہم کو اور زیادہ غور کرنے کا موقع ملے۔ مرزا قادیانی کو یہ تسلیم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حسب بیان نصاریٰ صلیب پر چڑھائے گئے۔ گو اس قدر فرق ہے کہ نصاریٰ صلیب پر موت کے قائل ہیں اور مرزا قادیانی کے نزدیک موت صلیب پر نہیں آئی بلکہ غشی کی حالت تھی وہ قبر سے تیسرے روز زندہ ہو کر بجسدہ العنصری آسمان پر جانے اور پھر نزول کے قائل ہیں اور مرزا قادیانی کے نزدیک علاج معالجہ سے اچھے ہوئے اور واقعہ صلیب کے بعد جو تقریباً ٣٣ سال کی عمر میں ہوا۔ ١٢٠ سال تک دنیا میں زندہ رہے اور تبت کے راستہ سے کشمیر تشریف لائے اور سری نگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اب امور ذیل عرض کرتا ہوں۔
- (١) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اذ قالت الملائکۃ یامریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ
منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ و من المقربین. (آل عمران ٤٥) یعنی یاد کرو اس وقت کو جس وقت ملائکہ نے مریم علیہا السلام سے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک کلمہ کی جو اس کی جانب سے ہو گا جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے بشارت دیتا ہے وہ دنیا و آخرت میں وجاہت اور عزت والا اور خدا کے مقربین سے ہو گا۔
١٤
اور یہ بھی فرمایا ہے قال انی عبدالله اتانی الکتاب و جعلنی نبیا وجعلنی مبارکا اینما کنت (مریم ٣٠) یعنی کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عنایت فرمائی اور نبی کیا اور جہاں کہیں بھی ہوں گا مجھے برکت والا بنایا ہے۔
یہود کا حسب بیان اناجیل عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ العظیم ذلیل اور خوار کرنا گالیاں دینا منہ پر طمانچہ مارنا منہ پر تھوکنا کانٹوں کا تاج پہنانا ہنسی ٹھٹھا مذاق اڑانا۔ (ازالہ اوہام ص ٣٨٠ خزائن ج ٣ ص ٢٩٥) جو ایک دشمن عنید بیدین اپنے دشمن کے ساتھ کر سکتا ہے مرزا قادیانی کو تسلیم ہے، کیا مرزا قادیانی کے نزدیک اسی کو وجیها فی الدنیا کہا جائے گا۔ جس بادشاہ کو تخت سلطنت سے اتار کر ہر طرح سے ذلیل کیا جائے اس کی دنیاوی عزت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ایک اولوالعزم نبی کے ساتھ یہ برتاؤ جس کے ذکر کرنے سے بھی دل لرزتا ہے کیا یہ اس کی دنیاوی ذلت نہیں ہے اگر ہے اور ضرور ہے تو مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن شریف سچا یا عیسائی اور یہودی اور ان کی اناجیل ہم سے مرزائی صرف ایک حدیث کی نسبت سوال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ کہتے ہو تو معاذ اللہ حدیث کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔
اب ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا تسلیم کرتے ہو تو قرآن شریف کی دو آیتوں کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے نہ تو اس وقت وجیها فی الدنیا ہی صادق آتا ہے اور نہ مبارکا صحیح ہوتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک یہ امور متبرک ہیں۔ اگر ہیں تو مرزا قادیانی تو مر گئے (خدا ان کو آخرت میں یہ وجاہت اور برکت نصیب کرے اور کی ہے) کیا اب ان کے خلفاء اس برکت اور وجاہت کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان کے لیے سامان کیا جائے تو منظور کریں گے۔ پس اگر ضد میں آ کر امور مذکورہ کو عزت کہیں تو دنیاوی عزت کا تو حال معلوم ہو گیا معاذ اللہ العظیم اخروی عزت اور وجاہت بھی اگر ایسی ہی ہوئی تو رفع روحانی بھی مفید نہ ہوا غور سے جواب دیا جائے۔ اور اگر یہ عزت اور وجاہت اور برکت نہیں تو اس کا جواب مرزائیوں کے ذمہ ہے ہم نے تو بفضلہ تعالیٰ اپنے عقیدہ کے مطابق حدیث کو بھی صحیح کر کے بتا دیا۔ اب وہ قرآن شریف ہی کو صحیح کر کے بتائیں۔ ورنہ یا قرآن سے منکر ہو کر کافر ہوں یا مرزا اور مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان۔ اب جس کو چاہیں قبول فرمائیں لا اکراہ فی الدین پر خوب عمل کیا۔ کاش اس کے صحیح معنی سمجھتے۔
- (٢) چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا یہود اور نصاریٰ کے نزدیک اسی طرح
١٥
مسلم ہے جس طرح اناجیل میں مذکور ہے تو یہ محال ہے کہ کوئی شخص عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب تو کہے اور اس توہین اور ذلت اور بے عزتی سے انہیں بچالے۔ اور عقل کے بھی خلاف ہے کہ کوئی سلطنت اپنے دشمن کو پھانسی دے اور مخالفت بھی مذہبی ہو اور عوام کے ہاتھ میں دشمن ہو جن میں جوش مذہبی حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور جب ان کے علماء نے ایسا ہی فتویٰ دیا ہو اور خود بھی یہی عمل کیا ہو تو اب عوام کب رُک سکتی ہیں اور یہ امور بیان کرتے ہیں جو ان کے معتقدین اور ان کو خدا یا خدا کا بیٹا اور کم سے کم رسول ومقرب جانتے۔ تو معلوم ہوا کہ مصلوب کے ساتھ یہ امور ضرور پیش آئے اور اس ملعون کے ساتھ ضرور پیش بھی آنے چاہئیں تھے۔ کیونکہ وہ ایک نبی اللہ کو ذلیل کر کے قتل کرانا چاہتا تھا خاص کر اگر وہ منافق شاگرد یہودا تھا۔
(٣) اس وجہ سے ماصلبوہ کے یہ معنی بیان کرنا کہ سولی پر تو چڑھے مگر زندہ رہے بالکل غلط اور قرآن شریف کی تحریف اور صریح انکار کر کے دو وجہ سے کافر ہوتا ہے ایک تو عیسیٰ علیہ السلام کی توہین و تذلیل کا قائل ہو کر باوجودیکہ ان کو یہ امور پیش نہیں آئے۔ دوسرے خدائی فرمان ماصلبوہ کا انکار کر کے۔
(٤) یہ جواب بالکل غلط ہے کہ کفار کے ہاتھ سے بڑے بڑے اولوالعزم انبیاء علیہم السلام نے اتنی ہی بڑی تکالیف اور ذلتیں اٹھائی ہیں اور یہ امور ان کے رفع مدارج کے باعث ہوئے ہیں اگر عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی یہود نے ایسا کیا تو اعتراض کی کیا بات ہے بلکہ اس سے تو عیسیٰ علیہ السلام کا حد درجہ مقرب درگاہ الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے وجیہا فی الدنیا کا لفظ فرما دیا ہے جو دنیاوی عزت کو بھی چاہتا ہے اور اس قسم کے افعال اگرچہ اس کے فاعل کفار ہی کیوں نہ ہوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان سے بالکل بری ہیں علیٰ ہٰذا القیاس! مبارکاً کا لفظ بھی وجیہا فی الدنیا کی وجہ سے برکت دینی و اخروی کے ساتھ برکت دنیوی کو بھی چاہتا ہے۔
اے خدا تیری قدرت کے قربان جائیے بیشک تو عزیز وحکیم ہے مرزا اور مرزائیوں نے تیری کچھ قدر نہ کی۔ تو نے ماصلبوہ فرما کر ان تمام شکوک کو رفع فرما دیا کہ مصلوب کو واقعی ذلت ہوئی اور ہونی چاہیے بھی تھی اگر وہی غدار شاگرد تھا یا کوئی یہودی مخالف۔ مگر جب عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھایا ہی نہیں گیا تو ان کو ان امور سے کیا تعلق؟ ان کو تو اٹھا لیا گیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے بیشک یہ وجیہا فی الدنیا اور جعلنی مبارکاً کا پورا مصداق ہے کہ یہود نے جس کو ذلیل کیا وہ اپنا ہی آدمی نکلا اور
١٦
عیسیٰ علیہ السلام بالکل پاک و صاف آسمان پر تشریف لے گئے۔ بعض انبیاء علیہم السلام کو کفار سے تکالیف بھی پہنچیں اور ان کا ثبات و استقلال بھی دنیا نے دیکھ لیا اور کبھی اپنے معجز نما قدرت کا کرشمہ بھی دکھا دیا کہ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ دشمن چاروں طرف سے گھیرے ہوں مگر ان کی آنکھوں میں خاک اور محبوب رب العالمین صاف و پاک نکل جائے جیسے کہ سید الانبیاء علیہ السلام کے ساتھ بھی ہجرت کے وقت یہی قصہ پیش آیا۔ مگر زمین و آسمان کا فرق ہے وہاں ایک منافق شاگرد یا مخالف یہودی۔ عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ مصلوب ہوا اور یہاں یہ مقولہ تھا۔
یہ بے مثل سعادت حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی قسمت میں قسام ازل نے لکھی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آپ زندہ رہے اور وہ ہلاک ہو گیا۔ کیوں نہ ہو آخر یہاں تھے کون ﷺ۔
ماہ تاباں اور ہے رخسار جاناں اور ہے
صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ وسلم وعلی سائر اخوانہ من النبیین والمرسلین و علینا معہم اجمعین۔
- (٥) مرزا قادیانی کی قسمت میں بجز تحریف قرآن شریف و مسخ احادیث و
عداوت اسلام اور کچھ بھی نہیں اگر مرزائیوں کو میرا یہ کلمہ ناگوار معلوم ہو تو جواب اور ماقتلوہ کے بعد ماصلبوہ کا نکتہ بیان فرمائیں۔ مثل مشہور ہے ”نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی“ قرآن شریف کی آیات قطعیۃ الدلالۃ احادیث متواترہ اجماع امت کا خلاف کر کے آج خدا کی قدرت مرزائی ہم سے یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ کہو گے تو معاذ اللہ حدیث صحیحین جھوٹی ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ماننے میں تو حدیث جھوٹی نہیں ہوتی۔ وہاں مردہ کہنے میں قرآن شریف کی آیات قطعیۃ الدلالۃ اور احادیث متواتر اور اجماع امت کا بیشک خلاف لازم آتا ہے۔ کہو اب بھی عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ ہی کہو گے اور قرآن مجید کی آیات کی تکذیب کر کے کافر و مرتد رہو گے۔ یا توبہ کر کے مسلمان۔ ورنہ جواب دو جو خدا چاہے ناممکن ہے مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ماصلبوہ فرما کر جواب بتا دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہی نہیں ہوئے تو اب مصلوب کی تذلیل اور توہین کو ان کی طرف نسبت کرنا بجز مسلوب العقل و الایمان کے اور کسی کا
١٧
کام ہی نہیں بلکہ جو انکو مصلوب کہتا ہے وہ خود مصلوب و مشکوب ہے۔
- (٦) عجیب لطیفہ ہے کہ اس وقت بھی مصلوب اور مقتول اور ذلیل و خوار جس
کے منہ پر تھوکا گیا طمانچے مارے گئے۔ کانٹوں کا تاج سر پر رکھا گیا وغیرہ وغیرہ مثیل مسیح ہی تھا (ولکن شبہ لھم) اور اب بھی جملہ مثیل مسیح ہی کو نصیب ہوئے۔ انتہا بابتداء نسج دارد، جھوٹا مثیل مسیح بننا آسان نہیں۔ گویا ابتداء سے یہ سنت اللہ ہو گی کہ جو جھوٹا مثیل مسیح ہو وہ سولی پر لٹکا دیا جائے اور جو بہت ہی کذاب اور مفتری ہو اس کو پاخانہ میں بقول بعض ایلاوس کی پھانسی سے اور بقول بعض وبائی مرض سے ہلاک کیا جائے۔ مگر روح پاخانہ سے باہر کسی صورت سے نہ جاسکے۔ وہ اپنے قول سے بد سے بدتر ٹھہرے اس کے گلے میں رسی ڈالی جائے اسے ذلیل کیا جائے رسوا کیا جائے اللھم انی اعوذ بک منک ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
- (٧) بقول مرزا قادیانی جب عیسیٰ علیہ السلام ہی معاذ اللہ العظیم مصلوب
ہوئے اور سولی پر چڑھائے گئے۔ اور بالاتفاق فریقین یہود ونصاریٰ مصلوب سولی ہی پر مرگیا۔ چنانچہ عبارت سابقہ سے ہی ظاہر ہے کہ جب یوسف نے نعش کو طلب کیا تو پیلاطس نے دریافت کیا کہ وہ مرگیا تو جواب ملا کہ ہاں مرگیا۔ اور کس کی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ایسے دشمن کو سولی چڑھانے کے بعد بھی زندہ چھوڑ دیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کے فرمانے کے مطابق اس وقت تک جان نہیں نکلی تھی اور لوگ حکومت کی طرف سے نگہبان متعین تھے جیسے انہوں نے دو چوروں کے ہاتھ پیر توڑ دیئے وہ اس کے بھی توڑ دیتے۔ مصلوب کا مقتول ہونا یہود و نصاریٰ کو مسلم ہے آخر یہ لکھا ہی ہے پسلی میں ایک برچھا بھی مارا اگر کچھ جان ہوگی تو اس کے بعد نکل گئی ہوگی۔
- (٨) دوسرے یوسف ارمتیا جس نے پیلاطس سے نعش طلب کی تھی اس کو خفیہ
شاگرد لکھا ہے مگر ہم مرزائیوں کو اجازت دیتے ہیں وہ جو چاہیں کہیں اگر واقع میں وہ شاگرد تھا اور جان باقی تھی اور بجائے قبر میں دفن کرنے کے گھر لاتا ورنہ نعش کو دفن ہی نہ کرتا اور شاگردوں کو اطلاع دیتا کہ مردہ نہیں بیہوش ہیں اور اگر دشمن تھا تو اگر کچھ جان باقی تھی تو گلا دبا کر اور بھی نکال دی ہوگی غرض مصلوب کا قبر میں دفن کرنا بظاہر جب ہی ہوسکتا ہے کہ وہ بالکل مرگیا ہو۔
- (٩) کیا یہود اور نصاریٰ ایسے مسلوب العقل تھے کہ ان کو مردہ اور زندہ میں بھی
تمیز نہ تھی۔ شام کا وقت اور آندھی ہو زلزلہ ہو مگر یہ تو نہیں کہ بے ہوش اور مردہ میں تمیز
١٨
نہ ہو سکے جس زمانہ میں طبابت عروج کے اعلیٰ زینہ پر تھی اس وقت کوئی اس قدر بھی طب کا جاننے والا نہ تھا اور یہ بات تو طب پر موقوف بھی نہیں عوام بھی مردہ اور زندہ میں تمیز کر لیتے ہیں۔
ان امور کے بعد مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ مصلوب سولی سے زندہ اُتارا گیا وہ مردہ نہ تھا۔ بلکہ بیہوش تھا۔ مرزا قادیانی کو جس کسی امر کے تسلیم سے اپنا مدعیٰ ثابت ہوتا ہوا نظر آتا ہے اگر وہ جہنم میں بھی ہو تو مرزا قادیانی بے تکلف دوڑ کے وہاں جاتے ہیں۔ اور اگر خواہش نفسانی اور خیالات شیطانی کے خلاف کوئی امر جنت میں بھی ہو تو مرزا قادیانی کو وہاں جانا ایسا دشوار ہے جیسے مسلمانوں کو دوزخ میں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ مرزائی اسے کیسے ثابت فرماتے ہیں کہ مصلوب بیہوش تھا مردہ نہیں تھا۔
- (١٠) اور اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ مصلوب ایسا ہی بے ہوش تھا کہ کسی کو تمیز
نہ ہوئی سب نے مردہ ہی سمجھا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر تندرست زندہ آدمی کو بھی زندہ درگور کر دیا جائے تو دو رات اور ایک دن میں تو وہ بھی مر جائے چہ جائیکہ ایسا نیم جان کہ جس کا سانس بھی نہ چلتا ہو وہ زندہ کیسے رہ سکتا ہے۔
- (١١) اس کے بعد یہ بتایا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے شاگرد تو گرفتار ہوتے
ہی بھاگ گئے تھے۔ اور یوسف کو بظاہر موت کا یقین ہی ہو گیا تھا۔ پھر یہ علم کس طرح ہوا کہ مصلوب مردہ نہیں تھا بلکہ وہ زندہ تھا اگر علم ہوتا تو یوسف کو ہوتا مگر اس کو تو مردہ ہونے کا یقین ہو چکا تھا۔
- (١٢) اس کے بعد یہ بتایا جائے کہ زندہ درگور ہونے کا علم کس کو ہوا اور کب ہوا؟
- (١٣) اگر یہ علم یہود کو ہوا تو وہ تو پورا ہی قتل کر دیتے اور اگر کسی شاگرد کو ہوا تو
وہ وہاں کب تھے؟
- (١٤) اور اگر بفرض محال اسے تسلیم بھی کر لیں کہ کسی کو زندہ درگور ہونے کا علم
ہو گیا تو یہ علم کیسے ہوا کہ قبر میں اب بھی زندہ ہیں کاش مرزا قادیانی ہوتے تو وحی اور الہام بھی ممکن تھا وہاں تو یہ بھی ممکن نہیں معلوم ہوتا۔
- (١٥) اور اگر یہ بھی مرزا قادیانی کی خاطر تسلیم کر لیا جائے تو پہلے معلوم ہو چکا
ہے کہ کاہنوں کے سرداروں نے حفاظت کا مکمل بندوبست کر دیا تھا یہ مجال کس کی تھی جو مصلوب کو قبر سے نکال سکتا؟
- (١٦) یکشنبہ کو صبح ہوتے ہی دو رات اور ایک دن کے بعد جب مریم مگدلینی
١٩
اور ایک اور عورت آئی تو قبر کو صاف پایا صرف کفن کی چادر ہی چادر تھی۔ قبر پر پتھر اس قدر بھاری تھا کہ ایک شخص اٹھا بھی نہیں سکتا تھا۔ دوسرے کاہنوں کے سردار نے اس پر مہر کر دی تھی نہ اندر سے مردہ نکل سکتا تھا نہ باہر سے کسی کی رسائی تھی پھر نعش کہاں گئی۔ رشوت کا احتمال بھی باطل ہے اور رشوت دینے والا تھا بھی کون؟
(١٧) عیسائی کہتے ہیں کہ بجسد عنصری رفع الی السماء ہوا مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نہیں اس مردے کو نکال کر اس کا علاج کیا اور ١٢٠ سال تک دنیا میں اور جی کر پھر اپنی طبعی موت سے فوت ہوا۔ اب دیکھنا ہے کہ دونوں میں کون ہارتا ہے اور کون جیتا ہے؟ دونوں قول باہم ضد ہیں جن کا جمع ہونا محال ہے۔
(١٨) مرزا قادیانی تو قطعاً جھوٹے ہیں کیونکہ ایسے مریض کو یروشلم میں اگر رکھتے اور علاج ہوتا تو جب ہی پردہ فاش ہو کر لینے کے دینے پڑ جاتے۔ اور گلیل جانا اس سے بھی زیادہ دشوار تھا۔ دوسرے ایک دو روز کا معاملہ تھوڑا ہی تھا سالہا زندہ رہنا ہے۔
(١٩) اور بفرض محال اگر گلیل جاتے بھی تب بھی آپ کی صحت اطراف میں مشہور ہو جاتی اور یہودی پھر نرغہ کرتے۔ اور نصاریٰ یہ عقیدہ ہرگز نہیں کر سکتے تھے کہ زندہ آسمان پر چلے گئے کیونکہ جو شخص ١٢٠ سال تک انہیں میں زندہ رہے اسے آسمان پر کون کہہ سکتا ہے۔
(٢٠) اگر خلاف عادت نصاریٰ اس کو چھپاتے بھی تو یہود کب چھپنے دیتے اور نہیں تو کم از کم یہودیوں کی کتاب میں تو ان کا علاج معالجہ لکھا ہوتا عیسائیوں کی تکذیب رفع الی السماء کے لیے درج ہوتا۔
(٢١) مرزا قادیانی کے لیے یہاں تک تو سہل تھا کہ مصلوب کو میت مان کر رفع روحانی تسلیم کر لیتے مگر ان کو تو اس کو زندہ کر کے مرہم عیسیٰ سے علاج کرانا اور تبت وغیرہ سے ہو کر کشمیر تک لانا ہے جو بظاہر محال ہے اور یہ ہی نہیں بلکہ ١٢٠ سال تک اور زندہ رکھنا ہے۔
اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ مسلمان کیا کہتے ہیں ان کے عقیدہ اور عیسائیوں کے خیال اور انجیلوں کے بیان میں کس قدر تطابق اور کس قدر تخالف ہے تو توجہ سے سنئے مسلمان کہتے ہیں کہ واقعہ صلیب صحیح، مگر سولی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں چڑھائے گئے بلکہ وہ مثیل مسیح تھا اور اس کو لوگوں نے بوجہ مشابہت صورت کے عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھا اور وہ صلیب پر مر بھی گیا اور قبر میں دفن بھی ہوا اور تیسرے روز قبر کو خالی بھی پایا۔
٢٠
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ الشریف آسمان کی طرف اٹھائے بھی گئے۔ عیسائیوں کا یہ خیال کرنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب ہوئے اور قبر میں دفن ہوئے اور تین دن کے بعد قبر سے زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھائے گئے اس میں ان سے جو غلطی ہوئی ہے تو ایک درجہ تک معذور ہیں اگر قرآن شریف مسلمانوں کو مطلع نہ فرماتا تو مسلمان بھی کیا کرتے۔
عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ الشریف رفع ہونا یہ مسلم مصلوب کا سولی پر مر جانا مسلم اس کا دفن ہونا پھر قبر میں یکشنبہ کو نہ ہونا اس کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں مگر یہ بات کہ مصلوب عیسیٰ علیہ السلام تھے اور سولی پر وہ مرے اور وہی قبر میں دفن ہوئے اور پھر تیسرے روز قبر میں سے زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اس کو قرآن شریف نے ماقتلوہ وما صلبوہ کہہ کر غلط بتا دیا۔ نہ وہ قتل ہوئے نہ سولی پر چڑھے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو بڑی حکمت اور عزت والا ہے اٹھا لیا۔
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ پھر وہ مصلوب مدفون کہاں گیا تو اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے واللہ اعلم بالصواب کہ اول تو کاہنوں کے سرداروں کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں تین دن تک عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے شاگرد قبر میں سے لے نہ جائیں اور یہ مشہور نہ کر دیں کہ وہ تو اپنی پیشگوئی کے مطابق قبر سے زندہ ہو گئے اس وجہ سے تو انہوں نے پلاطس سے قبر کی نگہبانی کرائی۔ مگر پھر شنبہ گزر کر یا اسی دن یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر یہ قبر یہاں باقی رہی تو ہمیشہ کے لیے جھگڑا رہے گا۔ لوگ آئیں گے میلہ لگے گا عیسیٰ علیہ السلام کی یاد تازہ ہو گی۔ اس وجہ سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس نعش کو یکشنبہ کی رات میں کہیں علیحدہ کر دو۔ اور نگہبانوں سے یہ کہلوا دو کہ ان کے شاگرد رات کو نعش نکال کر لے گئے اس صورت میں نہ تو پیشین گوئی پوری ہو گی۔ اور نہ قبر کا قصہ رہے گا۔ چنانچہ یہودی یہی کہتے ہیں اور نصاریٰ نے جب قبر کو خالی پایا تو انہوں نے اسی وقت یا بعد میں یہ قصے بنا لیے کہ یوں فرشتے آئے اور یہ کہا اور وہ کہا۔ اس صورت میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔
ہاں عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بجسدہ الشریف بالکل صحیح موجود اناجیل کا جو بیان قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہے علی الراس والعین اور جو مخالف ہے اس کو مسلمان تسلیم کرنے سے معذور ہیں۔ مسلمانوں کے لیے تو راہ صاف ہے۔
(٤٢) لیکن پہلے مثیل مسیح کی طرح اس مرزا مثیل مسیح کی مصیبت ہے کہ خلاف قرآن مجید و حدیث شریف و اجماع امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا بھی تسلیم کر لیا اور خلاف نقل اناجیل و مذہب نصاریٰ و خلاف روایتاً و درایتاً یہ عقیدہ ظاہر
٢١
کہا کہ وہ سولی پر مرے تو نہیں مگر تین دن تک زندہ درگور ضرور ہوئے۔ اور پھر وہاں سے زندہ نکلے اور ١٢٠ سال تک دنیا میں زندہ رہے۔ اور عیسائیوں کا جو یہ عقیدہ تھا کہ قبر خالی تھی اور وہ اپنے شاگردوں کو گلیل میں نظر آئے اور پھر آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے تو بدحواسی میں اس کا یہ جواب دیا کہ وہ نظر آنا کشفی طور پر تھا۔ اور رفع بھی روحانی رفع تھا اور یہ خیال نہ کیا کہ عیسائی گلیل میں نظر آنا اور رفع واقع صلیب کے متصل کہتے ہیں اور مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ١٢٠ سال کے بعد فوت ہوں گے۔ مرزائیو! کیا ان تعارضات کو اٹھا سکتے ہو۔ کہو مرزا قادیانی نے کیسی ٹھوکر کھائی ہے۔
ان کو تو اس کے جواب میں یہ کہنا چاہیے تھا کہ قبر خالی تھی ضرور خالی تھی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو جو لوگ قبر سے نکال کر لائے وہ کفن تو وہیں چھوڑ آئے۔ اور گلیل میں ان کا علاج کیا تم شاگردوں کو کہتے ہو۔ ان کو تو گلیل میں بیسیوں یہود و نصاریٰ نے سب ہی نے دیکھا جب وہ سالہا سال تک زندہ رہے تو ان کو ان کے شاگرد نہ دیکھتے تو کیا کرتے۔
مگر یہ تو جب کہتے کہ جب عقل ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ وہ کشفی طور کا نظر آنا اور کشفی ہی طور کا رفع تھا اور اسی طرح کا پھر آنا ہوگا۔ قربان جائیے اس فہم و دانش کے۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ مرزائی کیا جواب دیتے اور اس خفقان کا کیا علاج کرتے ہیں؟
- (٢٣) مرزا قادیانی غبی اور غوی تو تھے ہی، بعد میں خیال مبارک میں آیا ہوگا
کہ یہ کیا غضب کر دیا موت کو تو تسلیم کر لیا پھر قبر کہاں کہیں۔ تو کبھی گلیل میں اور کبھی یروشلم کے گرجا میں تجویز کی مگر سمجھا کہ اس سے بھی کام نہ چلے گا۔ جو عیسائی ان کو صلیب کے پاس والی قبر سے زندہ ہو کر آسمان پر جانا عقیدہ جمائے بیٹھے ہیں وہ ان کی گلیل یا کسی گرجا میں قبر کیسے تسلیم کر سکتے ہیں؟ اور قبر بھی تسلیم کریں اور انکا زندہ آسمان پر جانا بھی، یہ بدحواسی ان سے متوقع نہیں ہو سکتی۔
تب اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی اور یہ فرمایا کہ وہ تو تبت سے ہوتے ہوئے کشمیر تشریف لے گئے اور وہیں مدفون ہوئے۔ سبحان اللہ کہاں تو گلیل میں کشفی طور سے شاگردوں کو نظر آ کر آسمان پر تشریف لے گئے تھے اور کہاں کشمیر میں رونق افروز ہیں۔ بہت اچھا۔
- (٢٤) حضور تو ان کی قبر شام میں فرماتے تھے کیا جیسے قادیان دمشق بن گیا
ہے کشمیر کے شام ہونے کی بھی کوئی روایت یا وحی ہے؟
٢٢
(٢٥) اس کے علاوہ قرآن شریف تو ان کو رسولا الی بنی اسرائیل فرماتا ہے اور ان کو ان بنی اسرائیل کی بھیڑوں کو بھیڑیوں کے پاس بلا چرواہے چھوڑ کر کب جانا جائز تھا۔ کیا قسم کھالی ہے کہ قرآن شریف کی ہر آیۃ کے خلاف ہی کہو گے۔ قرآن شریف کا خلاف کر کے آدمی کون ہوتا ہے؟ ہاں مثیل مسیح ہوتا ہے مگر جس کو سولی دی جاتی ہے۔
(٢٦ تا ٣٣) یہ جواب کہ بخت نصر کے وقت کچھ بنی اسرائیل کابل آئے تھے اور پھر وہاں سے کشمیر آ گئے۔ اور ایک یورپ کا سیاح آیا تھا تو اس نے کشمیر کے کسانوں کو دیکھ کر یہ کہا تھا کہ یہ لوگ شام کے کسانوں کی طرح ہیں او کماقال اس وجہ سے یہاں بھی بنی اسرائیل ہی کی طرف آئے۔ بس مرزائیوں کے ہی منہ پر زیب دیتا ہے۔ (١) تو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ بنی اسرائیل آئے بھی تھے۔ (٢) پھر وہ کس قدر تھے (٣) پھر وہ باقی بھی رہے یا فنا ہو گئے۔ (٤) اور اگر دو چار ہوں بھی تو ان کو الی بنی اسرائیل کہہ سکتے ہیں۔ (٥) اور ایسے دو چار بنی اسرائیل کس ملک میں نہ ہوں گے۔
(٦) کیا عرب میں ہزار ہا نہ تھے (٧) کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ بھی فرض تھا کہ جہاں کہیں بھی کوئی اسرائیلی ہو تو اس کو جا کر تبلیغ فرمائیں (٨) اگر ایسا فرض تھا تو مابلغت رسالتہ کا الزام آ جائے گا ملک شام کے ہر قریہ میں بھی جانا ثابت نہیں۔ چہ جائیکہ ہر ہر شخص سے کلام اور بات چیت کرنا۔
(٩) پھر یہ بھی بتایا جائے کہ واقع صلیب کے کتنے مدت کے بعد شام کو چھوڑا۔ (١٠) اور کشمیر کب پہنچے۔ (١١) اور کیا کشمیر کے فرضی بنی اسرائیل شام کے یہودیوں سے بھی زیادہ مفسد تھے جو اس ملک کو چھوڑ کر یہاں آنے کا حکم ہوا۔ (١٢) پھر ان لوگوں نے عیسائیت کو قبول کیا یا نہیں۔ (١٣) اگر کیا تو اب بھی دو چار گاؤں شہر قصبے وہاں عیسائیوں کے آباد ہیں یا نہیں۔ کیونکہ دو ہزار سال کے قریب ہو گئے (١٤) اور اگر دین عیسوی کو قبول نہیں کیا تو پھر تمام عالم عرب وغیرہ کو چھوڑ کر کشمیر میں سکونت کیوں اختیار فرمائی۔ (١٥) اگر صرف تبدیل آب و ہوا ہی منظور تھی تو کیا کشمیر کی آب و ہوا شام سے اچھی تھی۔ علاوہ ازیں بعد کو پھر واپس آ جانا چاہیے تھا۔ غرض یہ بات کہ کشمیر میں بھی بنی اسرائیل تھے ان کی تبلیغ کے لیے تشریف لائے تھے بالکل فضول گپ ہے۔ (١٦) الحاصل جب آپ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے تو بے حکم ہجرت کے آپ شام کو جو بنی اسرائیل کا ملک ہے چھوڑ نہیں سکتے۔ (١٧) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسی ملک کی طرف ہجرت کا حکم ہوا ہو۔ یا کسی ملک میں تشریف لے جانے کی نسبت آپ نے کچھ فرمایا ہو
٢٣
یا کوئی پیشینگوئی ہو تو اس کو پیش کرنا چاہیے جو بات اپنے حسب منشاء ہو اس کو کہہ دینے سے تو وہ ثابت نہیں ہوتی۔ (١٨) اور یہ بات کہ کسی یورپ کے سیاح نے یہ کہہ دیا تھا وہ کہہ دیا تھا یہ تو ایسی بات ہے جیسے روشن لعل پٹواری اور کنہیا لعل کی گواہی سے مرزا قادیانی مسیح موعود بن بیٹھے تھے۔
(٤٥) کشمیر میں آ کر تبلیغ صرف بنی اسرائیل ہی کو تو نہیں فرمائی ہو گی۔ اور بنی اسرائیل تھوڑے بہت تمام عالم میں تھے تو رسولا الی بنی اسرائیل نہ رہے بلکہ رسول الی جمیع العالم ہوئے۔ ہاں اگر مرزائی یوں کہیں کہ جہاں کہیں بھی جاتے تھے تو تبلیغ صرف بنی اسرائیل ہی کو فرماتے تھے اور دوسرے شخصوں کو دین الٰہی اور توحید خداوندی کی تعلیم ان کو جائز ہی نہیں تھی تو اسے ثابت کریں۔ اس صورت میں تو معاذ اللہ تعالیٰ انجیل سناتن دھرمیوں کی وید ہو جائے گی کہ دوسرے مذہب کا شخص عیسائی ہو ہی نہیں سکے۔
مگر ہاں مرزا قادیانی کے ہوائے نفسانی کے موافق ہو تو پھر سب کچھ جائز ہے۔ غرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر کی طرف تشریف لانا قرآن شریف کی اس آیت کے مفہوم کے مخالف ہے اور مرزا قادیانی اس کو کسی معتبر تاریخ سے بھی ثابت نہیں کر سکتے اگر کسی مرزائی میں ہمت ہو تو ثابت کر دیکھے۔
(٤٦) لیکن اگر ہم اس کو تسلیم بھی کر لیں تو اتخذوا قبور انبیائہم مساجد والی حدیث متفق علیہ جو جھوٹی ہوئی جاتی ہے وہ کیسے درست ہو گی؟ اب بجائے ہمارے مرزا قادیانی سے دریافت فرمائیے کہ حضور والا قبر تو کشمیر میں تھی جس کی نصاریٰ کو خبر بھی نہ تھی پھر وہ سجدہ کر کے ملعون کیسے ہوئے۔
(٤٧) مرزا قادیانی کے اصول کے موافق عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ مان کر بھی حدیث سچی نہیں ہوتی۔ کہو مرزا قادیانی کو سچا کہو گے یا حدیث کو؟ لعنت اللہ علی الکاذبین اور اگر فرضی اور عارضی قبر سے بھی حدیث سچی ہو سکتی ہے تو پھر حدیث سے موت ثابت نہیں ہوتی۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ اور حدیث اتخذوا قبور انبیائہم الخ سچی۔ اب یا تو وہی کہو جو ہم نے عرض کیا تھا۔ یا معارف مرزائیہ کے تھیلے میں اگر کچھ اور ہے تو کس دن ظاہر فرماؤ گے؟ اب تو پانی سر سے بھی گذر گیا غرض گلیل اور شام میں قبر کہہ کر پھر کشمیر میں بتانا یہ دونوں قول متعارض ہیں اور جواب میں یہ کہنا کہ پہلے چونکہ علم نہ تھا اس وجہ سے جو روایات قبر کے متعلق تھیں انہیں کو بیان کیا اور جب علم ہو گیا کہ
واقعی قبر کشمیر میں ہے تو اس کو بیان کیا۔ گلیل یا شام کے متعلق کہیں الہام یا وحی کا دعویٰ تھوڑا ہی کیا تھا جو کشمیر میں کہنا غلط ہو۔ یہ جواب بالکل غلط ہے بغور سنو۔
(٤٨) اوّل تو وہ روایات بیان فرما دیجئے جن کی وجہ سے پہلے گلیل میں قبر بتائی تھی۔
(٤٩) پھر یہ فرمائیے کہ کہیں مرزا قادیانی نے پادریوں پر یہ اعتراض بھی فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ بھی کہتے ہو اور قبر کے بھی قائل ہو اور اس کو سجدہ بھی کرتے ہو۔ یہ تعارض کیسا ہے ان کا جواب بھی ضرور نقل فرما دیجئے۔
(٥٠) مرزائیو ازالہ مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں کے مقابلہ میں لکھا تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو بڑے زور و شور سے ثابت کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اس میں ایسی ہی دلیلیں لکھنی چاہیے تھیں؟ جن کو آج تم بھی خود غلط کہتے ہو کہاں کہا جاتا تھا کہ شام کے قبر پر میلہ لگتا ہے اور چناں اور چنیں ہے اور کہاں آج یہ حال ہے کہ وہ روایت ہی غلط ہے۔ مردہ موقوف مقبرہ مسمار۔
(٥١) خیر لو اب ہم بفضلہ تعالیٰ اس جواب کی غلطی مرزا قادیانی کے کلام سے ثابت کئے دیتے ہیں۔ ازالہ کی عبارت جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں اسے پڑھو اور قسمت کو روؤ۔ ”بلکہ یہ تیسری آیت باب اوّل اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی گواہی دیتی ہے جو گلیل میں اس کو پیش آئی۔ اس کے بعد مسیح چالیس دن تک کشفی طور پر اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣ خزائن ج ٣ ص ٣٥٣۔ ٣٥٤)
فرمائیے اب تو گلیل میں عیسیٰ علیہ السلام کا طبعی موت سے فوت ہونا باب اول اعمال سے ثابت ہے اور مرزا قادیانی اس کو حجت میں پیش فرما رہے ہیں کیا اب بھی اس کہنے کی جرأت ہے کہ اس کو بھی آج غیر معتبر کہہ کر جان چھڑا لو بہت اچھا لو اب ہم وہ بات کہتے ہیں جہاں مرزا قادیانی نے مرزائیوں کے لیے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔
(٥٢) ہم خداوند کریم کا جس قدر شکر ادا کریں تھوڑا ہے اور اس کے فضل پر جتنا بھی ناز کریں بجا ہے مرزا کو الہام اور نبوت و رسالت اور وحی کا دعویٰ۔ مگر سراسر جھوٹ کذب و افتراء اور دروغ۔ اور یہاں کوئی بھی دعویٰ نہیں مگر خدا کے فضل سے بات وہ ہے کہ زمین و آسمان ٹل جائے مگر بات نہ ٹلے۔ مرزائیو! میں کامل وثوق اور بڑے زور سے کہتا ہوں کہ مرزائی نہایت بدبخت اور بے ایمان اور بے حیا ہیں۔ اگر دیدہ و دانستہ مرزا کا جھوٹ دیکھ کر بھی اسے نبی اور رسول ہی کہے جاتے ہیں۔ اگر میرے اس کہنے
٢٥
سے تم کو رنج ہوتا ہے اور غصہ آتا ہے تو مرتے کیوں ہو جواب دو۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣ خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
مرزا قادیانی یہاں کوئی روایت یا کسی عیسائی کا قول نقل نہیں فرماتے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے گلیل میں فوت ہو کر مدفون ہونے کی تصدیق فرماتے ہیں اور آپ کی شان ما ینطق عن الہویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ (تذکرہ ٣٧٨) ہے یعنی مرزا قادیانی جو کچھ بھی فرماتے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ وہ خدا کی وحی ہے۔ اور اگر یہ روایت بھی ہے تو بھی مرزا قادیانی کی مصدقہ ہے جسکو سچ کہہ کر تسلیم کر لیا اب اس کے بعد کشمیر میں فوت ہو کر مدفون ہونا مرزا اور مرزائی کس طرح کہہ سکتے ہیں۔
قادیانی رسالہ تنقید میں جو کچھ ہفوات ہے وہ اب زبان سے بھی نہیں نکال سکتے کیونکہ میرا استدلال تو مرزا قادیانی کی تصدیق سے ہے جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔
- (٥٣) مرزا قادیانی جو حکم، مجدد، محدث، نبی، رسول تمام جھگڑوں کا فیصلہ
کرنے کے لیے آئے تھے کسی امر کو کیسے بے دلیل سچ فرما سکتے ہیں بالخصوص عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ممات کے متعلق کہ مرزا قادیانی کی کل تجارت کا سرمایہ، رأس المال صرف یہی مسئلہ اور اس کے متعلقات ہیں پھر ازالہ اتنی بڑی کتاب تو خاص اسی مسئلہ میں لکھی ہے اس میں کسی امر کو بلادلیل بلکہ بلاوحی کیسے سچ کہہ سکتے ہیں؟ اور یہاں تو مرزا قادیانی فیصلہ فرمارہے ہیں کہ اس قول میں اس قدر سچ ہے اور اس قدر غلط ہے۔ جو کل ازالہ اوہام تھا۔ وہ آج مجموعہ اوہام کہا جاتا ہے۔
- (٥٤) اب یہ کہنا کہ ”پہلی روایت گو نفس الامر اور حقیقت امر واقع کے لحاظ
سے کیسی ہی غلط اور خلاف حقیقت کیوں نہ ہو پھر تسلیم کئے جانے کے لیے اپنے اندر بلحاظ اس طلب تحقیق کے جو ایسی صورت میں طبائع کا خاصہ ہے اپنی تصدیق کے لیے اندر اثر ضرور رکھتی ہے“ بالکل غلط ہے۔ اس کے علاوہ حضور یہی تو عرض ہے کہ باوجود طلب تحقیق اور رات دن اسی مسئلہ میں منہمک ہونے اور وحی کی موسلادھار بارش کے پھر ایک مجدد محدث و حکم جو فیصلہ کرنے کے لیے مبعوث ہوا ہو وہ ایک روایت کے مختلف اجزا میں سے بعض کی تصدیق کرے بعض کو رد کرے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رد اور قبول تحقیق
٢٦
کے بعد ہے اور یہی ہمارا اعتراض ہے کہ جب مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گلیل میں فوت اور مدفون ہونا محقق ہو گیا اور اس کی تصدیق فرما چکے تو پھر کشمیر میں موت اور دفن کے کیسے قائل ہو سکتے ہیں۔
(٥٥) اگر مرزا قادیانی کی یہ تصدیق غلط ہے تو جسم عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھنے کی تکذیب بھی قابل اعتبار نہیں اگر یہ قول اٹکل پچو ہے جو دل میں آیا کہہ دیا تو مرزا قادیانی کے مصدقہ اور مکذبہ دونوں طرح کے مسائل قابل اعتبار نہ رہیں گے۔
پھر مکرر عرض کرتا ہوں کہ یہ اعتراض اس پر نہیں کہ پہلے گلیل میں موت اور قبر کو ذکر کیا پھر کشمیر میں، بلکہ غرض یہ ہے کہ یہاں جب گلیل میں مرنے اور مدفون ہونے کی تصدیق کر چکے تو اب اس کا حق نہیں کہ ان کی قبر کہیں اور بتائیں یہی مسئلہ تو اساس مرزائیت ہے اور تمام مسائل اسی کی فرع ہیں۔ اسی وجہ سے مرزائی اسی مسئلہ کو پہلے پیش کیا کرتے تھے (اب تو اس مسئلہ میں بھی خدا کے فضل سے کمر ٹوٹ گئی ۔)
(٥٦) پھر اس مسئلہ میں اصل عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہے اور اس کے بعد دلیل کے مرتبہ میں مرزا قادیانی نے قبر کو رکھا ہے اور خود ہی اس بحث کو اٹھایا ہے۔ مسلمانوں نے تو یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ جب وہ مر گئے تو بتاؤ ان کی قبر کہاں ہے اور نہ یہ بات بحث کے قابل ہے کہ ہر مردہ کی قبر کا پتہ بھی بتایا جائے۔ مگر مرزا قادیانی نے خود ہی موت کی ایک دلیل قبر کو بھی بنایا۔ پھر جب یہ مسئلہ بحث میں آ گیا اور اس کو دلیل قرار دیا گیا تو پھر اب اس کے متعلق جو بات کہی جائے گی وہ تحقیق سے کہی جائے گی۔ اور جس امر کا صدق اور کذب معلوم نہ ہوگا اس کو اسی مرتبہ میں رکھا جائے گا۔ کسی امر کو سچ کہنا اس کا یہی مطلب ہے کہ مصدق کے نزدیک یہ بات محقق اور ثابت شدہ ہے۔
(٥٧) اور چونکہ مرزا قادیانی کو نبوت اور رسالت کا بھی دعویٰ تھا اور بے بلائے بولتے ہی نہیں تھے تو ایسا مسئلہ جس میں تیرہ سو سال سے لوگ شرک عظیم میں مبتلا تھے اور اسی کو عین ایمان سمجھتے تھے اس کے کسی بڑے حصہ کو بحث کے بعد سچ فرمائیں بے الہام و وحی یا قرآن و حدیث دلائل عقلیہ، برہانیہ کے کیسے ہو سکتا ہے؟
پس گلیل میں قبر کو سچ کہنا اس کا مطلب یہی ہے کہ مدفون تو مدفون مرزا قادیانی کی قبر بھی اسی کے ساتھ گلیل میں ہے۔ اب کشمیر کی سیر کشفی ہی طور سے ہو تو ہو۔ ورنہ ویسے ناممکن ہے پھر قبر کو کشمیر میں کہنا یہ مرزا قادیانی کے من اللہ نہ ہونے کی بین دلیل ہے۔
- (٥٨) مرزائیت تجھ پر خدا کی بے شمار لعنتیں۔ کوئی مرزائی ہے جو میرے
اعتراض کا جواب دے یہاں جن عبارات کو اعمال کے باب سے نقل کر کے حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت ثابت کی جاتی ہے یہاں ہر جگہ یسوع کا لفظ ہے لیکن آج اس یسوع سے عیسیٰ علیہ السلام سمجھے جاتے ہیں اور جب عیسیٰ علیہ السلام کو مغلظات گالیاں دیں تو یہ کہہ دیا کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ یسوع کو کہا ہے اس کا کہیں قرآن شریف میں ذکر نہیں۔ اور جب اپنا نفسانی اور شیطانی مطلب ثابت کرنا ہے تو تمام انجیل میں جہاں کہیں یسوع کا لفظ آتا ہے اس سے عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد ہوتے ہیں۔ لعنت الله القهار علی الکاذبین۔ مرزائیو کچھ تو غور فرماؤ کہاں جاتے ہو۔
- (٥٩) یہاں یہ بات ظاہر کر دینے کے قابل ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی موت صلیب پر کہتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صلیب سے اتارنے کے بعد جو مصلوب کو دفن کیا گیا اس سے وہ تیسرے روز زندہ ہو کر بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ بیہوش تھے اور زندہ درگور کئے گئے اور بعد میں وہاں سے گلیل آن کر طبعی موت سے انتقال ہوا۔ عیسائی جو عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ثابت کرنے میں انجیل کی عبارات پیش کرتے ہیں کہ ان کے شاگردوں نے ان کو زندہ دیکھا اور ان کے سامنے وہ آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے اس کو مرزا قادیانی حالت کشفی پر محمول فرماتے ہیں جس میں وہ خود صاحب تجربہ ہیں۔ اب اختلاف صرف اس قدر ہے کہ عیسائی صلیب کے روز بھی موت تسلیم کرتے ہیں۔ اور مرزا قادیانی کچھ دنوں بعد جو گلیل میں ہوئی ان دونوں موتوں میں زیادہ فصل نہیں چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”یہی حال حواریوں کی رؤیت کا ہے جو انہیں کشفی طور پر مسیح ابن مریم کے مرنے کے بعد جبکہ وہ جلیل میں جا کر کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا چالیس دن برابر نظر آتا رہا۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٧٤ خزائن ج ٣ ص ٣٥٤) پس کچھ عرصے کے لفظ کو ملاحظہ فرما لیں۔ پھر صلیب کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو ٨٧ یا ٩٢ یا ١٢٠ یا ١٢٧ یا ٩٤ یا ٧٥ یا ٥٠ سال زندہ کہنا بالکل غلط ہے۔ یہ تعارض جو عیسیٰ علیہ السلام کی عمر میں مرزا قادیانی وغیرہ کے کلام سے ثابت ہوتا ہے اس کا رفع بھی مرزائیوں پر ضروری ہے جو ناممکن ہے ایک جگہ ١٢٥ دوسری جگہ ١٢٠ تیسری جگہ ١٥٣ چوتھی جگہ ١٣٠ پانچویں جگہ ٧٣ چھٹی جگہ ٩٠ ساتویں جگہ ١٢٧ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے لکھی ہے اور واقعہ صلیب تقریباً ٣٣ سال کی عمر میں ہوا۔ اگر کسی مرزائی کو تردد ہو تو پھر ہم حوالے
بھی بیان کر دیں گے یہ ہیں مرزا قادیانی کے علوم و معارف اور یہ ہے وحی کی بارش۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ان چنڈو خانہ کی گپوں کو مرزائی کیسے درست فرمائیں گے؟ کسی اور کے کلام میں تعارض ہو تو ہو۔ جو حکم ہو کر تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرنے آیا ہے اس کے کلام میں تو ایک بات منقح اور صاف ہونی ضرور ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ دجال کا کلام ایسا ہی ہونا چاہیے جس میں حق و باطل دونوں مختلط ہوں ورنہ پھر وہ دجال نہیں۔
(٦٠) اب ہم اس کے بعد بفضلہ تعالیٰ مرزا قادیانی کی وہ ہوش ربا عبارت پیش کرتے ہیں اس میں اصلاً چون و چرا کی گنجائش ہی نہیں فرماتے ہیں۔ ”پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی نصوص بیّنہ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لیے آیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٣٥ خزائن ج ٣ ص ٣٣٠)
فرمائیے وہ مفسد فرقے یہود کے شام کے رہنے والے تھے یا کشمیر کے اور یہ واقعہ صلیب کے زمانہ کا قصہ ہے یا اس سے ١٣٠ سال بعد کا۔ جس زمانہ میں بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کے لیے آپ تشریف لائے تھے اور ان کی اصلاح فرمائی جب ہی تو واقعہ صلیب پیش آیا اور جب بقول حسب تصریحات آیات بیّنات قرآن شریف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا تو فرماؤ اب کشمیر جانا محال ہوا یا نہیں۔ دیکھو مدعا یوں ثابت ہوتا ہے۔
کذاب اکبر وہ جو خود اپنے کذب کا مقر ہو کر بھی پھر کذب ہی پر مصر ہے۔
یہاں کوئی گنجائش ہے؟ اب تو مرزا قادیانی قرآن شریف کی نصوص بیّنہ سے بصراحت عیسیٰ علیہ السلام کا اسی زمانہ میں فوت ہونا بیان کرتے ہیں جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی طرف اصلاح کے لیے آئے تھے۔ شام میں تو کل مرزائی ہی آباد تھے اور بنی اسرائیل کے تمام مفسد فرقے تو کشمیر ہی میں رہتے تھے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ یہیں واقعہ صلیب کا ہوا۔ محلہ خان یار کا نام گلیل ہے۔ اور سری نگر کو عبرانی زبان میں یروشلم کہتے ہیں اور جموں کو شام مگر استعارہ کے طور پر جیسے قادیان دمشق ہے۔ ایسے ہی یہ تمام باتیں بھی صادق آتی ہیں۔ لعنت اللہ القہار علیٰ الکاذبین الفجار۔
مرزائیوں کو خدا عقل اور انصاف دے یہ طفلانہ باتیں وہ کیسے قبول کرتے ہیں
٢٩
کیا ان کھلونوں کی قیمت ان کے نزدیک ایمان تھی؟ ماقدرو الله حق قدرہ.
مرزا محمود قادیانی! ابا جان کے معارف قرآنیہ ملاحظہ فرما لیجئے۔ انہی کے فیض صحبت اور روحانی برکات سے آپ کو بھی وہ معارف الہیہ عطا ہوئے جن کے بدون ایمان کامل نہیں ہوتا۔ آپ ہی علماء دیوبند سے مقابلہ فرمائیں گے۔ کیوں نہیں ماشاء اللہ آپ ایسے ہی ہیں۔
- (٦١) مہربانی فرما کر اگر مرزا قادیانی کو سچا کرنا ہے تو کم سے کم تین آیات
قرآنیہ وہ بتا دو جو بصراحت اس پر دلالت کرتی ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل میں تشریف لائے تھے جب ہی فوت ہو گئے تھے کشمیر میں جانے کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔ اگر نہ بتا سکے اور نہ بتا سکو گے تو آپ کے ابا جان بھی جھوٹے اور آپ بھی جھوٹے۔ اور اگر بفرض محال اس قرآن میں بتا دیا جو قادیان کے قریب نازل ہوا تھا پھر بھی دونوں باپ بیٹے جھوٹے لعنت الله علی الکاذبین.
یہ وقت ہے کہ رئیس المنافقین امیر لاہوری سے مدد لی جائے ان کو تاویل میں ید طولیٰ ہے مگر یاد رہے خدا کے فضل سے ابن شیر خدا کے سامنے ان کے بھی حواس باختہ ہیں۔ مرزا محمود کے سامنے جو چاہیں سو کہہ لیں۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ مرزائی صاحبان ان تعارضوں کو کیسے دور کرتے ہیں حدیث تو خدا کے فضل سے کوئی بھی جھوٹی نہ ہوئی۔ ہاں مرزائی اور مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہو گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آسمان پر زندہ ہیں۔ وہاں دجال کی مجال کیا ہے جو اپنا اثر پہنچا سکے؟ سنا ہے کہ اہل یورپ مریخ پر جانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر مرزا محمود قادیانی بھی تشریف لے جائیں تو بہتر ہے مگر ہاں جسم عنصری کا زندہ آسمان پر جانا تو ان کے خاندان میں عقلاً ونقلاً محال ہے۔ البتہ مگر کوئی یورپین مریخ پر پہنچ گیا تب ہی مرزائی تسلیم کریں تو کریں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کو تو مان چکے؟ خیر کسی کا کہا مانیں یا نہ مانیں مگر مرزا قادیانی پر تو دل و جان سے قربان ہیں۔ ان کے اقوال کو تو صحیح کر دکھائیں۔ یورپ میں جا کر مرزا قادیانی کی صداقت تو بعد کو تسلیم کراؤ گے پہلے یہاں تو منواؤ۔
نقل مشہور ہے کہ شام کے مردہ کو کوئی کہاں تک روئے مرزا قادیانی نے تو مرزائیو کو دنیا ہی میں ذلت اور رسوائی کی دہکتی دوزخ میں ڈال دیا ہے۔ یہ غریب مرزا قادیانی کی کس کس بات کا جواب دیں۔ ابھی تک تو یہ قصہ تھا کہ ایک قبر گلیل میں تھی جب یہ معلوم ہو گا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر نہ گلیل
٣٠
میں ہے نہ کشمیر میں بلکہ یروشلم کے بڑے گرجا میں تو کیا کریں گے؟
(٦٢) ایک ہی مصیبت نہیں بلکہ حضرت مریم علیہا السلام کی قبر کی بھی یہی حالت ہے کہ مرزا قادیانی یروشلم کے گرجا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بتاتے ہیں۔ صاحب عسل مصفیٰ کاشمر میں اور بشیر احمد صاحب کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے ساتھ۔
واہ ری مرزائیت تیرا حاصل صرف دروغ بانی ہے اور کچھ نہیں جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔
(٦٣) میرٹھ کے مرزائیو! قادیان سے دریافت تو فرماؤ۔ واقعی یہ بات صحیح ہے یا نہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو یروشلم کے گرجا میں لکھا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے۔ اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔ اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام یروشلم تھا۔
(اتمام الحجہ ص ٢٠ حاشیہ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)
فرمائیے ١٣١١ ہجری تک مرزا قادیانی کے نزدیک دونوں قبریں یروشلم کے بڑے گرجے میں موجود تھیں اب نہ معلوم یہ محقق بات کیسے غلط ہوئی اور قبریں کشمیر میں کیسے آگئیں۔ کیا کہئے اگر مرزا قادیانی کی زندگی کچھ اور وفا کرتی تو چلتے چلتے یہ دونوں قبریں بہشتی مقبرہ قادیان میں مرزا قادیانی کے مزار مقدس تک آ پہنچتیں۔ مگر مرزا قادیانی مرگئے اور قبروں نے گلیل سے یروشلم میں یا وہاں سے گلیل میں پڑاؤ کیا۔ وہاں سے تمام پہاڑوں پر گشت لگاتی ہوئیں کشمیر پہنچیں وہاں کی آب و ہوا عمدہ تھی۔ ابھی تک وہاں سے حرکت شروع نہیں ہوئی تھی کہ مرزا قادیانی خود ہی چل دیئے۔
(٦٤) مرزائیو کچھ تو شرم کرو یہ کیا تمسخر ہے کل کو کہہ دینا کہ اصل قبر تو کشمیر میں ہے۔ مگر یروشلم اور گلیل میں ظلی اور بروزی قبریں ہیں۔ اور وہیں کیا گو اب تک نہیں مگر ممکن ہے کہ آئندہ کو وہ دونوں قبریں ظلی اور بروزی طور سے قادیان میں بھی بروز فرمائیں۔ یاد رکھو کہ تمہارے یہاں خدا کے فضل نہیں قہر سے اصلی کوئی چیز بھی نہیں اسلام بھی ظلی بروزی مجازی برائے نام ہی ہے۔ ورنہ اصلی اگر ہے تو کذب غلط گوئی افتراء پردازی کفر و ارتداد ہی ہے نعوذ باللہ العظیم من ھذہ الھفوات۔
٣١
عسل مصفیٰ مطبوعہ ١٣٣١ھ صفحہ ٢٥٣۔ راز حقیقت صفحہ ٢٠ رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد ١٦ نمبر ٧ بابت ماہ جولائی ١٩١٧ء صفحہ ٢٥٦ کا حاشیہ ملاحظہ فرما لیجئے پھر ہمیں بھی مطلع فرمائیے کہ حوالہ صحیح ہے یا نہیں۔ ہمارے حوالے بفضلہ تعالیٰ مرزائیوں کے حوالہ نہیں ہیں۔
(٦٥) عجیب بات ہے کہ اول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر دونوں عیسائیوں جدید اور قدیم نے واقعہ صلیب کے بعد مقام گلگتا باغ میں تسلیم کی۔ قدیم عیسائی کہتے ہیں کہ واقعی موت تھی۔ اور جدید بیہوش بتاتے ہیں مگر اس پر اتفاق ہے کہ صلیب سے اتر کر اس قبر میں رکھے گئے لیکن باتفاق عیسائین (یعنی پنجابی (قادیانی) اور یورپی) اس قبر میں عیسیٰ علیہ السلام نہیں رہے آسمان پر گئے یا شفاخانہ میں۔ پھر مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر طبعی موت کے بعد گلیل میں تجویز فرمائی اور بہت مضبوط بنوائی مگر ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وہاں بھی نہیں یہ غار بھی خالی گیا۔ تب بیت المقدس کے بڑے گرجا میں دونوں ماں بیٹے کی قبر نہایت پختہ اور اوپر بڑا گرجا بنوایا کہ ماں ہی کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام تشریف نہ لے جائیں۔ مگر بعد تحقیق جدید کے پتہ لگا کہ وہ اس قبر میں بھی نہیں وہ تو کشمیر کے شہر سری نگر محلہ خان یار کے قبر میں آرام فرماتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے زمانہ تک تو صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی تشریف لائے تھے مگر بعد میں صاحبزادہ بشیر احمد صاحب کو معلوم ہوا کہ والدہ ماجدہ بھی وہیں تشریف لے آئیں۔ مفارقت گوارا نہ ہوئی۔ یروشلم سے کاشغر تلاش و قیام کرتے ہوئے سری نگر آیا یا اب یہ معلوم نہیں کہ واقعی مریم علیہا السلام ہیں یا پنجاب کا متنبی جو مریم ابن مریم خاوند بیوی بچہ سب کچھ خود ہی تھا وہ ظلی اور بروزی طور سے مثیل اصیل اور نقل اصل سے جا کر ملا ہے۔
بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی کے بس کے نہیں۔ یہودی عیسائی قدیم جدید سب کوشش کر کے مر گئے مگر وہ قبر میں کس طرح جائیں۔ قبر تو مردہ کی ہوتی ہے اور وہ زندہ ہیں۔ قبر زمین پر بناتے ہو وہ آسمان پر تشریف فرما ہیں۔ بس اس سودائے خام کو دماغ سے نکال دو اور اس کشمیری قبر کو بھی پہلی قبروں کی طرح خالی ہی کہو اور ایمان لے آؤ مسلمان ہو جاؤ۔ ان باتوں سے کام نہیں چلتا جس کو خداوند عالم زندہ کہے اس کو کون مار سکتا ہے۔
مردن موقوف مقبرہ مسمار۔ مرزا قادیانی کے ساتھ بہت سے جہنم میں جا چکے وہ تنہا نہیں ہیں آپ صاحب اپنی آخرت کو خراب نہ کریں۔
اور اگر دل نہیں مانتا تو پھر قطعی پکی بات مرزائی مشرب کے موافق یہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ اور مرزا قادیانی نعوذ باللہ محمد احمد ہیں اور بعثت ثانیہ بعثت اولیٰ سے اعلیٰ و اکمل ہے اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ بھی یہیں قادیان کے بہشتی مقبرہ میں مرزا قادیانی کے ساتھ کیا خود مرزا قادیانی ہی محمد ہو کر معاذ اللہ مدفون ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت قطعی اور یقینی تو ضرور، جب کشمیر سے اس طرف کو تشریف لائے قادیان شریف میں انتقال فرمایا اور یہیں اس جگہ مدفون ہوئے کچھ یہودی النسل یا یہودی الطبع یا کچھ گم ہوئی بھیڑیں یہاں بھی تھیں۔ اس وجہ سے انکا آنا ہوا اور اسی قبر میں رونق افروز ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور وہ ایک ہی جوہر سے تھے بلکہ دونوں ایک ہی تھے اس وجہ سے وہ کہیں اور مدفون ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ بات چونکہ ہم نے کہی ہے اس وجہ سے اسے نہ مانو گے۔ مگر مرزا قادیانی فرماتے تو یہی معارف علمیہ اور علوم نبوت سے شمار ہوتی۔ مرزائیو تمہارے یہاں بجز ایسی گپوں کے اور کیا ہے یہی تمہارے مابہ الفخر علوم ہیں۔
(٦٦) میرٹھ کے مرزائیو کیا یاد رکھو گے لگتے ہاتھوں تمہارے علماء کی ایک اور خیانت بھی ظاہر کر دوں۔ خدا تمہیں سمجھ دے اور تم سمجھو کہ جس حدیث کو تم آج پیش کر کے اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرتے ہو اس سے حیات و ممات کے مسئلہ کو کچھ تعلق نہیں۔ اس کے لیے تو صرف اس قدر چاہیے کہ عیسائیوں نے کبھی ایسی قبر کو سجدہ کیا ہو جو ان کے نزدیک نبی کی قبر ہو۔ چاہے وہ واقع میں نبی ہو یا نہ ہو اور قبر بھی واقعی قبر ہو یا فرضی۔ ملاحظہ ہو کہ قادیانی رسالہ تنقید یہی حدیث نقل کر کے فرماتی ہیں ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں رکھے گئے تھے۔
(تنقید ص ١٨ از غلام رسول راجیکی قادیانی)
(٦٧) دیکھو یہ بڑے پختہ مرزائی بلکہ مرزائیوں کے مابہ الفخر اس قبر کو سجدہ کرنا حدیث کا مصداق بتاتے ہیں۔ حالانکہ اس قبر کے بعد ٨٧ سال تک زندہ مان کر اصلی قبر کشمیر میں تسلیم کرتے ہیں تو معلوم ہو گیا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرزائیوں کے نزدیک بھی زندہ ہوں تو حدیث کے صدق میں کوئی کلام نہیں۔ حدیث تو یہ چاہتی ہے کہ کسی نبی کی قبر کی پرستش ہو چاہے وہ اصلی ہو یا نقلی علیٰ ہذا القیاس وہ نبی بھی اصلی ہو یا
٣٣
فرضی ہو جیسے آج مرزائی مرزا کی قبر کو پوجیں تو دنیا کہے گی کہ مرزائیوں نے اپنے نبی کی قبر پوجی اور ملعون ہوئے۔ حالانکہ مرزا کی جیسی نبوت ہے معلوم ہے۔ بالخصوص قائل تو مرزا قادیانی کو جو جانتا ہے وہ ظاہر ہے۔ مگر کہے گا یہی کہ اپنے نبی کی قبر کی پرستش کر کے ملعون ہوئے۔
(٦٨) پھر آگے فرماتے ہیں کہ ”پس اگر حدیث میں نصاریٰ کی قبر پرستی کے ذکر میں اس قبر مسیح کی اشارہ نہیں تو اب علماء اہلحدیث پر واجب ہے کہ وہ بتائیں اور ایسے نبی کی قبر کا ہمیں نشان دیں جس کی عیسائی پرستش کرتے ہوں یا کسی زمانہ میں کی ہو“
(تنقید ص ١٩)
جب آدمی کا ایمان سلب ہو جاتا ہے تو ایسا ہی کہا کرتا ہے۔ کیوں مرزائیو اگر حدیث صحیح متفق علیہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ سرور عالم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ یہود اور نصاریٰ نے قبور انبیاء کی پرستش کی تو پھر کسی مسلمان کو اس کے صدق میں تامل کی کیا ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ بتاؤ کس نبی کی قبر کی کس وقت پرستش ہوئی ورنہ تو معاذ اللہ حدیث جھوٹی ہے۔ مسلمان کے نزدیک تو دیکھنے سے بھی بڑھ کر آپؐ کا ارشاد ہے جب آپؐ نے فرما دیا اور حدیث صحت کے اعلیٰ درجہ پہنچ گئی تو پھر چون و چرا کرنا مرزائیوں ہی کا کام ہے مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔
اگر مرزا کچھ کہے تو اس پر تو آنکھ بند کر کے ایمان لایا جائے اور رسول اللہ ﷺ فرمائیں تو مشاہدہ اور تاریخ و ثبوت طلب کیا جائے یہی وہ بے ایمانی ہے جو مرزا قادیانی سے تم کو ملی ہے۔
(٦٩) حالانکہ یہی شخص اپنے اس تنقید کے صفحہ ١٣ پر یہ لکھتا ہے ”یہی بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں بعض نبیوں اور رسولوں کا بیان ہی نہیں کیا گیا پس جب بعض کا نام تک معلوم نہیں تو ان کی قبر کا علم کیونکر ہو سکتا ہے اور ایسا ہی جن انبیاء کے نام معلوم ہیں باوجودیکہ ان میں سے بھی اکثر کی قبروں کا ہمیں علم نہیں صفحہ ١٣ و ١٤۔ کیونکہ جن نبیوں کا ہم کو علم ہی نہیں یا علم ہے مگر ان کی قبروں کا حال ہی معلوم نہیں اگر ان انبیاء میں سے کسی نبی کی قبر کو یہود اور نصاریٰ نے پوجا ہو گا تو ملعون نہ ہوتے ارشاد نبوی صحیح نہ ہوا؟ پھر آج ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر صلیبی قبر کی طرف اشارہ نہیں تو پھر کس نبی کی قبر کی اور کب پرستش ہوئی؟ شرم شرم شرم۔
ہاں جناب آپ پر تو اپنے اقرار سے فرض ہو گیا کہ آپ یہود کی ان انبیاء کی
٣٤
قبروں کی فہرست بیان فرمائیں جن کی یہود نے پرستش کی۔ ورنہ آپ کے فرمانے کے موافق حدیث جھوٹی ہو گی۔ معاذ اللہ العظیم من ھذہ الخرافات۔
مرزائیو! یہ ہے تمہارے علماء کی دیانت کہ خود کیا لکھتے ہیں اور تم کو کیا پڑھاتے۔ مگر ان کی کیا شکایت ہے۔ جیسی روح ویسے ہی فرشتے جیسے تم ویسے ہی وہ۔ تم بھی تو حق بات کو کبھی نہ مانو اور غلط کو بے تسلیم کیے چھوڑتے ہی نہیں۔ تم کو یقین ہے کہ مرزا اور مرزائی علماء کی فلاں فلاں بات قطعی غلط ہے کیونکہ تم کو جنون تو نہیں مسلوب العقل تو نہیں روٹی منہ ہی سے کھاتے ہو۔ پھر اندھیر ہے کہ صریح جھوٹوں کا تم کو علم نہ ہو۔ علم ہے اور ضرور ہے مگر پھر اس کو مانتے ہو۔ بس بجز دعاء کے اور کوئی علاج نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر ہدایت فرمائے۔ آمین
- (٧٠) مرزائیو شاید تم یہ کہو گے کہ یہ خیانت اگر ہوئی تو غلام رسول آف
راجیکی کی ہوئی ہمارے مرزا قادیانی تو بری ہیں۔ اس وجہ سے ایک چوری ان کی بھی لکھ دوں مرزا قادیانی کے معارف اور علوم لدنیہ کی حقیقت بھی آشکارا ہو جائے۔ مرزا قادیانی جو یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر مرے نہیں بلکہ بیہوش ہو گئے تھے اور پھر قبر میں سے زندہ نکلے یہ قول مرزا قادیانی کا نہیں بلکہ بعض عیسائیوں کا سرقہ ہے چنانچہ بائبل کے دیباچہ کے صفحہ ٣٦٥ پر یہ لکھا ہے۔ ”یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یسوع صلیب پر مر نہیں گیا تھا بلکہ اسے غش آ گیا تھا۔ اور دفن ہونے کے بعد وہ ہوش میں آ گیا اور قبر سے نکل آیا۔“ ملاحظہ فرما لیجئے یہ ہیں مرزا قادیانی کی تحقیقات جدیدہ۔ ہم نے کہا تھا کہ اگر مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ اور علوم حقہ مرزائی لکھ دیں تو ہم بتا دیں کہ کس قدر مسروقہ ہیں اور کس قدر غلط مگر مرزائیوں نے پردہ فاش نہ ہونے دیا اور مقابلہ پر نہ آئے۔
اگر کوئی مرزائی بفرض محال جواب کی تکلیف گوارا فرمائیں تو سوالات کے اندر جو ضمنی سوالات ہیں ان کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ اور بھی بعض امور عرض کر سکتا ہوں لیکن اگر خدا توفیق دے تو یہ بھی کافی سے زیادہ ہیں ورنہ دفتر بھی مفید نہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ اور مرزائیوں کو رجوع الی الاسلام کی توفیق اور مسلمانوں کو ثبات اور تصلب فی الدین عطا فرمائے۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ کسی بیدین نے کچھ کہہ دیا اور عقیدہ میں تذبذب آ گیا۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔
اگر کسی صاحب کو تحقیق منظور ہو تو مرزائیت کا بطلان ایسا واضح اور صاف ہو گیا
٣٥
ہے کہ اس سے قیل و قال کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ مگر کوئی دیکھے ہی نہیں اور سمجھنے کا قصد ہی نہ کرے۔ یا سمجھ کر اور جان بوجھ کر حق کو قبول ہی نہ کرے تو پھر اس کا کیا علاج ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ہر مسئلہ میں ثابت کر دیا گیا۔ بالخصوص حیات وفات کا مسئلہ علماء اسلام کثرھم اللہ تعالیٰ و جزاھم خیر الجزاء نے ایسا صاف اور منقح فرما دیا ہے کہ چون و چرا کی گنجائش نہیں مگر چونکہ علمی مسئلہ ہے اسے عوام اور خواص بالعموم پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ بندہ نے ایک رسالہ موسومہ دشمن ایمان مرزائے قادیان“ لکھنا شروع کیا ہے مسلمان دعا فرمائیں کہ وہ جلد پورا ہو جائے۔ اس میں علیٰ سبیل الفرض مرزا قادیانی کے تمام دعوائے باطلہ کو تسلیم کر کے مرزا قادیانی ہی کے اقوال سے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی دھرم مخالف اسلام ہے جو کچھ مرزا قادیانی فرماتے ہیں اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر دنیا میں اسلام باقی ہی نہیں رہ سکتا وہ رسالہ خدا کرے جلد پورا ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہر شخص اس مسئلہ کو پوری طرح سے سمجھ لے گا۔
علاوہ اور علماء کے رسائل کے دیوبند سے جو رسائل اسی مسئلہ میں شائع ہوئے ہیں انہیں مسلمان مطالعہ فرمائیں کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ۔ الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح۔ التصریح بما تواتر فی حیات المسیح بالخصوص شیخ العرب و العجم استاذ العلماء حضرت مولانا مولوی سید محمد انور شاہ صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند متع اللہ تعالیٰ المسلمین بطول بقائہ کا رسالہ عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام وہ تو آب حیات کا چشمہ ہے۔ اس مسئلہ کے متعلق ہر حیثیت سے اس میں ایسی جامع اور نافع کامل ومکمل بحث ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اس وقت تک اس مسئلہ میں ایسا جامع رسالہ دنیا نے نہ دیکھا ہو گا۔
پیغامیوں کے لیے پیغام موت کا بھی مسودہ تیار ہو گیا ہے۔ اس منافق جماعت کا کید بھی اس رسالہ میں ماشاء اللہ تعالیٰ ایسا ظاہر ہو گا کہ جو لوگ ان کے کفر کے اندر متردد ہیں ان کا تردد بھی رفع ہو جائے گا۔ ہاں جو کفر کو اپنے دل میں مضمر رکھے ہوئے ہیں اس کا علاج ہی کیا ہے۔ مرزائی مجھے کوستے ہیں اور میں جب بیمار ہوتا ہوں تو بیماری میں ضرور انہی کا رد کرتا ہوں مجھے تو یہ خمیرہ گاؤ زبان عنبری جواہر والے کا کام دیتا ہے۔ یاد رہے اگر میں مر گیا تو مرزا قادیانی کی کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہو گی اگر کوئی پیشین گوئی بنا رکھی ہو تو اسے اب شائع کر دو تاکہ میں اسے صحیح مان کر بھی جواب خود ہی لکھ کر ایک لعنت کا طوق اور پیش کر دوں ورنہ پھر کوئی بات مسموع نہ ہو گی۔
٣٦
اے مرزائیو! تم نے قرآن شریف، حدیث، اجماع، امت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کا پیچھا کیا ہے ان کے علم وفضل کا یہ حال ہے جو تم نے ملاحظہ فرما لیا۔ دیکھو اب بھی باز آ جاؤ اور توبہ کر لو ہمیں تمہاری مفارقت کا بڑا صدمہ اور رنج ہے کہ تم کیوں مرتد ہو گئے۔ مرزا میں تو کچھ بھی نہیں۔ تصوف کی کتابیں دیکھ کر کچھ مضامین وہاں سے سرقہ کئے اور جو تصرف اپنا کیا وہی غلط بقیہ مضامین ایران کے دو ملعون باب اور بہاء اللہ سے لئے مگر حق یہ ہے کہ چوری کی بھی مرزا میں لیاقت نہیں جن مضامین کو جس طرح ان اشقیاء کے مریدوں نے ادا کیا ہے مرزا ان کو اس طرح چرا بھی نہ سکا۔
مرزائی میرے اس قلق اور رنج پر بڑا مذاق اڑاتے ہیں کہ مرتضیٰ مرزائیوں کے بڑھنے پر روتا ہے اس میں مذاق کی کیا بات ہے میں تو اس کو ایمان سمجھتا ہوں۔ ان بدبختوں سے کوئی پوچھے کہ اگر تمہارا کوئی بھائی آریہ یا عیسائی ہو جائے تو کیا تم کو اس پر قلق نہ ہوگا۔ اور تم کو اگر قلق نہ بھی ہو تو ایک وجہ ہے کہ مرزائی ہو کر کونسی جنت ملتی جب بھی دوزخ ہی کا ایندھن ہونا تھا اب بھی وہیں گیا۔ مگر میرے دل کو کس طرح تسلی ہو سکتی ہے تم تو مسلمان تھے رسول الثقلین سید الانبیاءﷺ شافع روز محشر کی امت میں تھے باوجود سیہ کاری اور تباہ کاری کے بھی آخر انجام نجات ابدی تھا اب تم مرتد ہو کر ابدالآباد کیلئے جہنمی ہوئے تو مجھے اپنے سابق بھائیوں کی ابدی اور اخروی موت پر غم اور رنج نہ ہو؟ اور ضرور ہے اور سب مسلمانوں کو ہے۔ ہمارا جو کام ہے وہ ہم نے کر دیا آئندہ آپ صاحبوں کی تقدیر۔
ایک نصیحت اور کرتا ہوں کہ اگر تقدیر میں سعادت نہیں توفیق رفیق نہیں تو دیکھو کسی سے گفتگو کرو مباہلہ کی دھمکی دینا مناظرہ کا چیلنج چھاپنا۔ مگر علماء دیوبند کی طرف کبھی رخ نہ کرنا۔ یہ جماعت خدا کے فضل وکرم سے اہل علم ہے۔ اور صرف علم کیا نفع دے سکتا ہے یہ صحیح صراط مستقیم پر خدا کے فضل سے چلنے والے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب قدس سرہ العزیز نانوتوی ہیں۔ کیا کہوں وہ کیا تھے۔ اس آخری زمانہ میں اسلام کی حجت تھے شمس الاسلام تھے رسول اللہﷺ کا ایک معجزہ تھے آیت من آیات اللہ تھے وہ علم مجسم تھے وہ اخلاص کی تصویر تھے وہ دنیا کے لیے خدا کی رحمت کا ابر کرم تھے انہوں نے اسلام کی بڑی خدمت کی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔ رئیس الاسلام والمسلمین حضرت مولانا رشید احمد صاحب قدس سرہ العزیز گنگوہی نے اس باغ کی پرورش فرمائی اور ان دونوں نہروں کا مخزن بحر ذخار شیخ
٣٧
العرب والعجم نور مجسم قطب الارشاد حضرت مولانا وسیدنا وسیلۃ یوم الجزاء حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ العزیز تھے۔ ان حضرات کی برکت سے یہاں سے وہ علماء نکلے جنہوں نے سلف کی یاد کو تازہ فرما دیا۔ ان میں امام ابو حنیفہؒ اور امام بخاری ومسلم آئمہ محدثین مفسرین و فقہا کے جانشین تھے تو شب کو شبلی وقت اور جنید زمانہ معلوم ہوتے تھے قدست اسرارھم۔ یہ فقط لفظوں کے ترجمہ ہی نہیں جانتے ان کے دلوں میں خدائی نور، زبانوں میں شوکت اور تحریروں میں صدق و دیانت کی ہیبت ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ صحیح اصول اسلام اور حقیقی حنفیت کو ان سے زیادہ دنیا میں کوئی جماعت سنبھالنے والی نہیں ہے تعلی اور تکبر اور فخر نہیں ہے ہم کچھ نہیں ذرہ بے مقدار ہیں۔ مگر خدا کے فضل اور اس کی توفیق پر بھروسہ کر کے عرض کرتے ہیں کہ یہی ہے اور یہی ہے اس میں مبالغہ اور شاعری نہیں ہے اللہ تعالیٰ نظر بد سے محفوظ رکھے اور اپنی عنایت اور رحمت کے دامن میں اس جماعت کی پرورش فرمائے۔ لہٰذا پھر خیر خواہانہ عرض کرتا ہوں کہ اس جماعت سے کبھی بھی نہ الجھنا۔
اگر اس نصیحت پر عمل نہ کرو گے تو اور زیادہ ذلیل ہو گے رسوا ہو گے چنانچہ ہر سال دو تین مرتبہ وہ ذلت اور رسوائی اٹھاتے ہو کہ کوئی دوسرا ہوتا تو شرم کے مارے مر جاتا اولم یروا انّھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین ثم لایتوبون ولا ھم یذکرون۔
(توبہ ١٢٦)
آخر میں اہل اسلام سے لوجہہ اللہ تعالیٰ ایک التجا ہے کہ وہ میرے لیے لوجہہ اللہ تعالیٰ خاتمہ بالخیر ہونے کی دعاء فرمائیں اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور جملہ حقوق العباد کا وہ خود متکفل فرما دیں۔ میں کیا تمام عالم اس کے ادنیٰ سے ادنیٰ عذاب کا متحمل نہیں۔ اور جب نجات کا مدار اس کا فضل ہی ٹھہرا تو اگر میرے پاس اعمال حسنہ نہ ہوں اس کی رحمت بے پایاں میں تو کمی نہیں۔ اور جملہ ارکان دارالعلوم و معاونین و مدرسین اور تمام امت کے لیے بھی یہی دعا فرمائیں۔ آج کل کفر و ضلال کا سیلاب امنڈا ہوا آ رہا ہے حق پر قائم رہنا بڑا مشکل ہو گیا ہے علم اٹھ رہا ہے جہال کا غلبہ ہے حق کا مذاق اڑایا جاتا ہے کفر و الحاد بے دینی زندقہ کو عین ایمان بنایا جاتا ہے۔ جہال جن کو ضروریات دین کا علم بھی نہیں وہ تمام دین اور ساری امت کی باگ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ علم نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں امتیاز اور فیصلہ کی قوت نہیں صدق مقال اکل حلال نہیں اس وجہ سے طلب سیدھی نہیں کجی ہوتی جاتی ہے۔ کجی کی وجہ سے
٣٨
ناحق بات کو قلب تسلیم کرتا ہے اور سیدھی اور سچی اور صحیح بات غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو ایک دوسرے کیلئے بڑے اخلاص سے دعا مانگنی چاہیے اور سب دعاؤں کے ساتھ دارالعلوم دیوبند و جملہ مدارس اسلامیہ و انجمن ہائے اسلامیہ کی ترقی اور صلاح و فلاح کی دعاء کو بھی نہ بھولنا چاہیے کیونکہ اس بے دینی اور الحاد کے سمندر میں ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا جہاز یہی ساحل مقصود کو پہنچانے والا ہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں اسی کا لنگر پڑے گا یا اور کشتیاں بھی جو عرب ہی کے راستہ کو جا رہی ہیں ورنہ اور بڑے بڑے جہاز تو آج کل لندن اور برلن اور امریکہ کے پہنچنے کا قصد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمان بھائیوں کا خاتمہ بالخیر فرمائے اور راست پر قائم رکھے آمین۔
آخر میں یہ بھی ظاہر کرنا ضروری ہے کہ علماء دیوبند کسی اسلامی فرقہ کو نہ کافر کہیں نہ مرتد۔ بلکہ مسلمان کے ساتھ اسلامی کام کو مل کر کرنے کو تیار ہی نہیں بلکہ پیغام دے چکے ہیں اور امام اور متبوع ہو کر انہیں مقتدا اور تابع ہو کر اور اب بھی تیار ہیں۔ گو ان سے ہمارا فروعی مسائل میں اختلاف بھی ہے مگر جو فرقے ضروریات دین کے منکر ہیں جیسے مرزائی بابی بہائی ان لوگوں سے نہ ان کا اتفاق ہو سکتا ہے۔ نہ یہ مسلمان کہہ سکتے ہیں جب سب کچھ اسلام کے لیے کیا جاتا ہے اور اسلام ہی نہ ہو تو پھر حاصل کیا؟ ہاں مخالف جو چاہیں بہتان باندھیں یا لوگوں کو متنفر کریں مگر حق واضح ہی ہو کر رہتا ہے۔ وما علینا الا البلاغ واللہ تعالیٰ ھو الھادی و ھو الموفق۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ و خاتم انبیائہ ورسلہ سیدنا و مولانا محمد والہ و صحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
بندہ سید محمد مرتضٰی حسن عفی عنہ ابن شیر خدا علی المرتضٰی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ چاند پوری ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور اواخر جمادی الاولٰی ١٣٣٥ ہجری
٣٩
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریسٹوران جو لاہور راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریسٹوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سوادِ اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام!
آج فیصلہ کرلو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضورﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
البیان الاتقن!
حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ
حامدا و مصلیا و مسلما
البیان الاتقن
للعلامة سید مرتضی حسن
رئیس المناظرین و رأس المتکلمین حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب سابق صدر المدرسین مدرسہ امدادیہ مراد آباد بہت بڑے مشہور فاضل ہیں۔ عرصہ تک دارالعلوم دیوبند میں ناظم تعلیم رہے ہیں اور ہندوستان کے متعدد مدارس میں صدرالمدرسین رہے ہیں۔ فن مناظرہ میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جامع علوم وفنون ہیں اور رد مرزائیت میں آپ کے بہت سے رسائل لاجواب ہیں۔ مشہور زمانہ مقدمہ بہاول پور میں آپ کا بیان ٢١ اگست ١٩٣٢ء کو شروع ہو کر ٢٥ اگست ١٩٣٢ء کو ختم ہوا۔ بیان کیا ہے۔ براہین و دلائل کا ایک بحر ذخار ہے جو مرزائی نبوت کو ایک تنکے کی طرح بہائے لے جا رہا ہے۔ اور ایک حقیقت نما آئینہ ہے۔ جس میں مرزائی دجل و فریب اور کذب و زور کے باریک سے باریک نقش بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ممدوح نے اپنے بیان میں مرزا قادیانی کے کفر کے لاکھوں وجوہ بیان کئے ہیں اور مختار مدعاعلیہ کی جرح کے ایسے دندان شکن جواب دیئے۔ جن سے مرزا اور اس کے متبعین کا کفر و ارتداد پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا۔
ابو العباس نعمانی
بہاولپور
٢
مرزا اور اس کے متبعین کافر ہیں
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کافر اور مرتد اور قطعی کافر ہے اور ایسے کافر ہیں کہ مرزا قادیانی کے عقائد معلوم ہونے کے بعد جو شخص ان کے ارتداد اور کفر میں شک و شبہ کرے وہ بھی ویسے ہی کافر ہے۔
کسی مسلمان مرد یا عورت کا نکاح کسی
مرزائی عورت یا مرد کے ساتھ جائز نہیں
مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اور دوسرے جتنے مرتد ہیں سب کا شرعی حکم یہ ہے کہ کسی مسلمان مرد یا عورت کا نکاح ان کے کسی مرد یا عورت سے جائز نہیں اور اگر ہو گیا ہے یا نکاح ہونے کے بعد کوئی شخص مرزائی ہو جائے تو اس کا نکاح فوراً بالفعل فسخ ہو جاتا ہے۔ اس عورت کو اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی سے فسخ کرائے بلکہ اس کو اختیار ہے کہ وہ خود کسی شخص سے نکاح کر لے۔
یہ مسئلہ اس قسم کا ہے کہ دنیا میں جتنے لوگ کوئی معتد بہ مذہب رکھنے والے ہیں ان سب کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک مذہب والے کا نکاح دوسرے مذہب والے سے جائز نہیں۔ حتیٰ کہ بعض قوموں میں یہ بات بھی ہے کہ باوجودیکہ وہ ایک مذہب کے ہیں مگر پھر بھی دوسری قوم میں نکاح جائز نہیں سمجھتے۔ شریعت مطہرہ نے کفو کا اعتبار کیا ہے اگر کوئی بالغ لڑکی اپنا نکاح غیر کفو میں کرے تو ولی کو شرعاً اجازت ہے کہ وہ قاضی کے ہاں جا کر اس نکاح کو فسخ کرالے۔ اگر کسی نیک بخت متقی کی لڑکی جوان ہو اور کسی بدمعاش فاسق سے نکاح کرلے تو اگرچہ اس کا ہم عقیدہ اور ہم قوم ہے تو پھر بھی ولی کو شرعاً اختیار ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کرالے۔ یہ چیز ایسی ہے کہ انسانوں سے بڑھ کر جانوروں کو بھی اس کا احساس ہے۔ وہ جانور جن کے جوڑے ہیں۔ خنزیر اور ریچھ کے سوا سب جانوروں کو احساس ہے کہ ان کے مادہ سے کوئی دوسرا جفتی نہ کرے۔ بخاری کی حدیث میں بندر کا
٣
ایک بندری کو رجم کرنے کا قصہ شرح میں موجود ہے جو میرے اس دعویٰ کی کھلی دلیل ہے۔
مرزا محمود قادیانی لکھتا ہے کہ ”ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کر لی ہے۔“
(انوار خلافت ٩٣۔٩٤)
”انوار خلافت“ کی عبارت کے نتائج
اس عبارت سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ مرزا قادیانی کی شریعت کے مطابق چونکہ تمام غیر احمدی مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر اور مرتد ہیں۔ لہٰذا ان کے مذہب کی عورت کا کسی غیر مذہب والے سے نکاح جائز نہیں اور جب یہ بھی ملا لیا جائے کہ جس کو یہ اپنی جماعت سے نکالتے ہیں وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کی نجات بھی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق نجات کا انحصار اسی میں ہے کہ ان کی جماعت میں داخل رہے۔ جب خلیفہ اول قادیان نے اس شخص کو جس نے اپنی لڑکی غیر احمدی کو دی تھی اپنی جماعت سے بھی خارج کر دیا۔ تو معلوم ہوا کہ مرزائی مذہب میں اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان سے اپنی لڑکی بیاہ دے تو صرف یہی نہیں کہ اس کا نکاح نہیں رہا بلکہ وہ کافر بھی ہو گیا۔
میں عدالت کو اس طرف متوجہ کراتا ہوں کہ جس جماعت کا یہ عقیدہ ہو کہ اگر ان کی عورت ہم مسلمانوں سے نکاح کرے تو نہ صرف وہ کافر ہو جائے بلکہ اس کا باپ بھی کافر ہو جائے پھر وہ ہم سے یہ امید کریں کہ مسلمانوں کی عورتیں ان کے نکاح میں رہیں اور مقدمے بھی دائر ہوں۔ اگر کچھ بھی انصاف ہوتا تو جیسے وہ ہمارے مذہب سے علیحدہ ہیں وہ نکاح میں بھی علیحدہ ہوتے اور مقدمہ بھی دائر نہ ہوتا۔
مرزائیوں اور مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفر ہے
مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت اور ہم مسلمانوں میں اس وقت تک یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے کہ جو شخص دعویٰ نبوت تشریعی کرے وہ کافر ہے۔ چنانچہ شیخ محمد عمر وکیل
م
چیف کورٹ پنجاب نے لکھا ہے کہ ”ہمارا ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں۔ جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ مطاوعت آنحضرت وحی پا سکتا ہے۔“ (قول فیصل ص ٣١) مرزا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔
ماکان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم کفرین یعنی میرے لیے جائز نہیں کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو کر کافروں سے مل جاؤں۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
اس کتاب میں ہے "الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا علیہ السلام خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسره نبینا ﷺ بقوله لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظهور نبی بعد نبینا ﷺ لجوزنا انفتاح باب النبوة بعد تغلیقها وهذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین یعنی کیا یہ تو نہیں جانتا کہ رب رحیم نے آنحضرتؐ کا نام بغیر کسی استثناء خاتم الانبیاء رکھا ہے اور ہمارے نبی علیہ السلام نے اپنے قول لا نبی بعدی میں ایک واضح بیان سے اس کی تفسیر کر دی ہے کہ اگر آنحضرتؐ کے بعد ہم کسی نبی کے ظہور کو جائز رکھیں تو ہمیں جائز رکھنا ہو گا۔ باب نبوت کا کھلنا بعد بند ہونے کے اور یہ خلاف ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں۔
(حمامة البشریٰ ص ٢٠ خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
اور آنحضرتؐ کے بعد کیسے کوئی نبی آ سکتا ہے۔ حالانکہ وحی نبوت آنحضرتؐ کے بعد منقطع ہو چکی ہے مرزا قادیانی نے خود تحریر کیا ہے۔ ”مگر آنحضرت ﷺ کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو بلکہ ”وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٩ خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٠)
مرزا قادیانی نے کہا کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔
(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
مرزا نے کہا ”علماء کو نبوت کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی ہے خود قرآن میں جو خاتم النبیین کا لفظ آیا ہے جس پر الف لام پڑا ہے اس سے مراد یہی ہے کہ شریعت لانے
٥
والی نبوت سب بند ہو چکی ہے۔ پس اگر کوئی نئی شریعت کا مدعی ہو تو وہ کافر ہے۔‘‘
(ملفوظات ج ٥ ص ٥٣)
ان چند مختصر حوالہ جات کے بعد یہ عرض کرنا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزا محمود اور ان کے تمام متبعین ان سب کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت تشریعی کا دروازہ بند ہے۔ آپؐ کے بعد جو نبوت تشریعی کا مدعی ہو وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے اس کے بعد عرض ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تحریر اور اپنے اقرار سے کافر بھی ہیں اور مرتد بھی ہیں اور اسلام سے خارج بھی ہیں۔ ان کی جماعت کے ساتھ کسی مسلمان مرد عورت کا نکاح جائز نہیں اور مرزا قادیانی اور خلیفہ اول و ثانی قادیان کے فتوے کے مطابق اگر ایسا نکاح ہو گیا ہو گا تو باطل اور فسخ ہو جائے گا۔
مرزا تشریعی نبوت کا مدعی ہے
مرزا قادیانی اپنی تشریعی نبوت کا دعویٰ ان کھلے الفاظ میں کرتے ہیں۔ ”اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لیے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکیٰ لھم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر ٢٣ برس کی عمر بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان ھذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراھیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے کہ جس میں باستیفاء امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
نیز اسی کتاب کے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔ ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور
٦
نبی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اسے مدارِ نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
میں نے کل جو دو عبارتیں اربعین سے نقل کی تھیں ان میں مرزا قادیانی نے چند باتوں کی تصریح خود فرما دی ہے۔ ایک یہ کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس کی وحی میں امر یا نہی ہو۔ جس نے اپنی امت کے لیے کوئی قانون مقرر کیا ہو وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ یہ تعریف کر کے مرزا قادیانی اپنا صاحب شریعت ہونا ثابت کرتے ہیں۔
پس مرزا قادیانی اپنے اقرار سے خود کافر اور مرتد ہو گئے۔ کیونکہ سرور عالمﷺ کا بایں معنی خاتم النبیین ہونا کہ آپؐ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا اور جو ایسا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے یہ صاف فرما دیا ہے کہ وحی وہ ہے جس میں امر یا نہی ہو۔ یعنی کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ نیا ہو۔ بلکہ اگر پہلی شریعت کا حکم بھی اس کے پاس بذریعہ وحی آئے تو یہ بھی صاحب شریعت ہونے کے لیے کافی ہے۔
مرزا قادیانی نے جو اپنی بہت سی وحییں بیان کی ہیں جو آیت قرآنی ہیں۔ وہ بھی مرزا قادیانی کی شریعت بن گئی۔ مرزا قادیانی نے اس شبہ کا جواب بھی دے دیا ہے کہ صاحب شرع کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کی شرع میں نئے احکام ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کی نسبت فرماتے ہیں کہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی ہے۔ اب اگر شرع جدید کے لیے یہ ضروری ہو کہ اس نبی کی شریعت اور وحی اور کتاب میں سب احکام نئے ہوں تو لازم آتا ہے کہ آنحضرتﷺ بھی صاحب شریعت نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں سارے احکام نئے نہیں۔ اس کلام کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء اور رسول علیہم السلام صاحب
٧
شرعی نبی ہیں ویسے ہی مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی صاف کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام اوامر اور نواہی اس شریعت اور کتاب اور وحی میں پورے پورے بیان ہونے چاہئیں۔ تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ تمام احکام قرآن اور توریت میں بھی مذکور نہیں اور اگر تمام احکام قرآن مجید میں مذکور ہوتے تو پھر اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی اس سے معلوم ہو گیا کہ اگر کوئی مدعی نبوت ایک امر اور ایک نہی کا بھی دعویٰ کرے اگرچہ وہ امر ونہی پرانی ہو تو وہ نبی صاحب شریعت کہلائے گا اور اس میں اور رسول اللہ ﷺ میں کوئی فرق نہیں کہ دونوں صاحب شریعت ہیں۔ اب میں اس مسئلہ کی تشریح کرتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی تشریعی نہیں آئے گا اور امتی اور بروزی آ سکتے ہیں‘ بلکہ آنا چاہیے اور جس دین اور مذہب میں ایسے نبی نہ آئیں حسب فرمان مرزا قادیانی وہ مذہب لعنتی مذہب ہے اور اگر اس کو شیطانی مذہب کہا جائے تو مناسب ہو گا۔ چنانچہ اس کا حوالہ میں آئندہ پیش کروں گا۔
نبوت حقیقیہ اور نبوت تشریعیہ میں تلازم
تو اب یہ ثابت ہو گیا کہ اگر کسی نبی کو خدا کا صرف یہی حکم آئے کہ تجھ کو ہم نے نبی کر کے بھیجا ہے تو اس حکم کی تبلیغ کر۔ جو کوئی اس حکم کو نہ مانے گا وہ کافر ہے۔ یہ بھی صاحب شریعت تشریعی نبی ہو گیا۔ تو اس سے ثابت ہو گیا کہ جو نبی حقیقی اور شرعی ہے اس کے لیے نبی تشریعی ہونا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کی تصریح کے مطابق یہ ناممکن ہو گیا کہ کوئی نبی سچا اور حقیقی نبی تو ہو۔ مگر صاحب شرع اور تشریعی نہ ہو۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جو نبی ہے وہ امتی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ کل اس کا حوالہ پیش کروں گا۔
ملا علی قاریؒ وغیرہ بزرگوں کی عبارات کا مطلب
اب ملا علی قاریؒ یا دیگر کسی بزرگ نے جو یہ کہا ہے کہ آپؐ کے بعد صاحب شریعت یعنی نبی تشریعی نہیں آئے گا۔ ان کا مطلب اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جو نبی حقیقی ہو گا وہ صاحب شریعت ضرور ہو گا۔ اس عبارت میں مرزا قادیانی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری کشتی کو کشتی نوح قرار دیا گیا ہے جو اس میں ہو گا نجات پائے گا اور جو نہیں ہو گا۔ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
٨
مرزا کے نئے احکام
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی کی شریعت نیا حکم ہے۔ جس نے شریعت محمدیہ کو منسوخ کیا۔ علاوہ اس کے مرزا قادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کی شریعت قرآن مجید اور اسلامی احکام کی ناسخ بھی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کے ایک ایک حرف پر عمل کرے مگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے تو وہ ویسا ہی کافر ہے جیسے یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار۔
مرزا قادیانی صاحب شریعت بھی ہوئے۔ ان کی شریعت نے شریعت محمدیہ کو منسوخ بھی کیا۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایک نیا حکم بھی دیا ہے جس کی عبارت کل پیش کر چکا ہوں کہ ان کی عورتوں کا نکاح غیر احمدی سے جائز نہیں۔ یہ حکم بھی شرع محمدیؐ کے خلاف ہے۔
مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ قیامت کے معنی جو مسلمانوں نے اب تک سمجھے ہیں اس معنی پر قیامت نہیں آئے گی۔ قرآن مجید میں جو نفخ صور آیا ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ واقعی کوئی نفخ صور ہو۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ قیامت قائم ہوگی بلکہ صرف اس سے مرزا قادیانی کا تشریف لانا منظور ہے۔ قیامت کی جتنی آیات اور احادیث آئی ہیں۔ ان تمام امور کا انکار ہے ہاں لفظوں کا انکار نہیں۔ مگر جن معنوں سے قرآن و حدیث نے قیامت کو بیان کیا ہے ان چیزوں سے انکار ہے۔ مردوں کا قبروں سے اٹھنا بہت سی آیات میں مذکور ہے اس کا بھی انکار ہے۔ مرزا قادیانی کی شریعت جدیدہ میں ایک اور نیا حکم جو تمام عالم اسلام کے خلاف ہے یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مریدوں سے چندہ کی تحریک فرما کر یہ حکم دیتے ہیں کہ جو شخص چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے گا وہ میری بیعت سے خارج ہے (یعنی اسلام سے خارج ہے‘ کافر ہے‘ مرتد ہے‘ ملعون جہنمی ہے) زکوٰۃ کے لیے بھی خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اگر تین ماہ تک زکوٰۃ کوئی شخص نہ دے وہ اسلام سے خارج ہو جائے۔
عبارت یہ ہے ”حضرت مسیح موعود کا نہایت ضروری فرمان، یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں۔ بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں آخری فیصلہ کرتا ہوں۔ مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہی سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ مگر بہت سے ایسے ہیں جو گویا خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں‘ تو ہر
٩
شخص کو چاہیے کہ اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر کر کے اطلاع دے کہ وہ فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے مگر چاہیے کہ فضول گوئی اور دروغ کا برتاؤ نہ کرے۔ ہر ایک شخص جو مرید ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ ہو خواہ ایک دھیلا اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلے کے لیے مدد دے سکتا ہے وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ سلسلے میں نہیں رہ سکے گا۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ کیا وہ کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لیے قبول کرتا ہے۔ اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائے گا کہ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ کے چندہ بھیجنے سے لاپرواہی کی اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا۔ اس کے بعد کوئی مغرور لاپرواہ جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلے میں ہرگز نہیں رہے گا۔‘‘ (المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان)
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٩۔٤٦٨)
(تتمہ) یہ بات پھر دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ ہر شخص اپنی حالت استطاعت کو دیکھ کر چندہ مقرر کرے۔ ایسا نہ ہو کہ تھوڑی دیر کے بعد اسے فوق الطاقت بوجھ سمجھ کر ملول ہو جائے کہ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گنہگار ٹھہرے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٧٠)
نبی کا ایک اور معنی
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”اس کا جواب یہ ہے کہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہو رہی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو۔‘‘
(براہین احمدیہ پنجم ص ١٣٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
یہ قول پہلے قول کا مخالف ہے۔
وہ دین لعنتی ہے جس میں سلسلہ وحی منقطع ہے
تھوڑا آگے جا کر فرماتے ہیں ”بلکہ فساد اس حال میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرتؐ کے بعد قیامت تک مکالمہ الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے اور وہ
١٠
دین ہی نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ چند منقولی باتوں پر ہر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی۔“ اس کے چند سطور کے بعد لکھتے ہیں ”اگر کوئی آواز ہی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے۔ وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی۔ تو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٥٦٩ خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
قیامت کے دن حشر اجساد قبور سے نہیں ہو گا
قیامت کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہے کہ ”بہشتی پہلے بہشت میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں ہوں گے۔ قبروں سے نکل کر نہیں آئیں گے۔“ میں نے ان کے عقیدہ کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پورے الفاظ ان کی تحریر کے کتاب ازالۃ الاوہام یہ ہیں۔
(ص ٣٥٢ خزائن ج ٣ ص ٢٨٠)
نفخ صور سے مراد قیامت نہیں
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”کہ نفخ صور کی خوشخبری دی گئی ہے اور نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے۔ کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گزر گیا ہے مگر قیامت برپا نہیں ہوئی۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں ”بلکہ روحانی احیا اور اماتت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور جیسا قرآن میں نفخ صور سے کسی مجدد کا بھیجنا مراد ہے تا عیسائی مذہب کے غلبہ کو توڑے۔ ایسا ہی امواج فتن سے دجالیت مراد ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٦٤ خزائن ج ٦ ص ٣٦٠)
پہلے اقرار کیا کہ دعویٰ نبوت تشریعی کفر ہے پھر دعویٰ نبوت تشریعیہ کیا
مرزا قادیانی نے پہلے اقرار کیا جیسا کہ حوالہ دیا ہے کہ دعوۂ نبوت تشریعی کفر
١١
ہے اور پھر خود دعوٰی نبوت تشریعی کیا اور بہت سے احکام میں تغیر و تبدل ہی کیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کافر ہیں مرتد ہیں اور جو انکے متبع ہیں وہ بھی ایسے ہیں ان کا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو جائے اور پھر خاوند مرزائی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔ یہاں تک میرے بیان کا ایک جزو پورا ہو گیا۔
دلائل ختم نبوت
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين
(احزاب ٤٠)
ابن کثیر جلد ٨ ص ٧٩ اس کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:۔ فھذ الایۃ نص...... تا....... رضی اللہ تعالیٰ عنہم جس کا ترجمہ یہ ہے یعنی یہ آیت تصریح ہے اس بارہ میں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں تو کوئی رسول بطریق اولیٰ نہیں۔ اس واسطے کہ مقام رسالت مقام نبوت کی نسبت خاص ہے۔ کیونکہ ہر نبی رسول ہوتا ہے اور عکس ضروری نہیں۔ اسی کے ساتھ احادیث متواترہ ہیں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ سے جن کو صحابہؓ کی جماعت نے روایت کیا ہے۔ حدیث متواترہ وہ ہوتی ہے کہ اتنے لوگوں نے اس کو روایت کیا ہو۔ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔ اس کا حکم یہ ہے۔ ایسی حدیث کے مضمون کا منکر ایسے ہی کافر ہے جیسے قرآن کا منکر ثابت ہوا کہ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہے وہ قرآن کا منکر ہو کر کافر ہوا اور احادیث کا منکر ہو کر بھی، اور اس نبوت میں کوئی بروزی اور ظلی وغیرہ کی قید نہیں بلکہ مطلق نبوت کا انکار ہے۔ ابن کثیر صفحہ ٩١ پر ہے فمن رحمۃ اللہ...... نامکذب مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت ہے بندوں پر ارسال رسول اللہ ﷺ ان کی طرف ہو پھر آنحضرتؐ کی تعظیم سے یہ بھی ہے کہ تمام نبیوں کو رسولوں کو آپؐ کے ساتھ ختم کر دیا اور آپؐ کے لیے دین حنیف کو کامل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تا کہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا‘ افتراء پرداز‘ دجال‘ گمراہ کرنے والا ہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کا جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھائے۔ اس لیے یہ سب کا سب عقلاً کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے۔ کتاب ختم النبوۃ فی القرآن مؤلفہ مولانا محمد شفیع صاحب ص ٧٣ پر مفصل ترجمہ درج کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب کے
( ١٢ )
ہاتھ پر کلیسا میں احوال فاسدہ اور اقوال فاجرہ ظاہر کئے۔ جن کو دیکھ کر ہر عقل اور تمیز والا سمجھ گیا کہ یہ جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ خداوند تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر یہاں تک کہ وہ مسیح دجال تک ختم کر دیئے جائیں گے۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے امور پیدا فرمائے گا کہ علماء اور صلحاء اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے (انتہی)
روح المعانی ص ٣٩ جلد ٢ وَکَوْنُهُ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ مِمَّا نَطَقَ بِهِ الْكِتَابُ وَصَدَعَتْ بِهِ السُّنَّةُ وَاَجْمَعَتْ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ فَيُكَفَّرُ مُدَّعِيْ خِلَافِهِ وَيُقْتَلُ اِنْ اَصَرَّ یعنی آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اس قبیل سے ہے۔ اس پر قرآن بول اٹھا اور احادیث نے صاف صاف بیان کیا اور جس پر امت نے اجماع کیا۔ اس لیے اس کے خلاف کرنے والوں کو کافر سمجھا جائے اور اگر اصرار کرے اور توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔
ملا علی قاری شرح شفاء ص ٥١٨ جلد دوم میں لکھتے ہیں وَكَذَالِكَ مَنِ ادَّعٰی بِنُبُوَّةِ اَحَدٍ مَّعَ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ السَّلَامُ ...... تا ...... الْقَائِلِيْنَ بِطَاعَةِ الرُّسُلِ یعنی جیسے مذکورہ لوگ کافر ہیں ایسے ہی وہ لوگ جو آنحضرتؐ کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کریں یا آپؐ کے بعد جیسے عیسویہ یہودیہ سے جو قائل ہیں کہ آپؐ کی رسالت عرب کے ساتھ مخصوص تھی اور جیسے بعض لوگ قائل ہیں کہ رسل برابر آتے رہیں گے جب تک دنیا قائم ہے۔ یہ سب لوگ کافر ہیں۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ٥١٩ نمبر ٥٢٠ پر ہے كَذَالِكَ ...... تا ...... بِلَامِرْيَةٍ یعنی جو شخص مدعی ہے کہ میں خود نبی ہوں یا دعویٰ کرے بوجہ ریاضت یا صفائی قلب کے اس مرتبہ نبوت کو آدمی حاصل کر سکتا ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر کوئی مدعی نبوت نہ ہو اور کہے کہ مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ یعنی وحی جلی نہ الہام یا یہ دعویٰ کرے کہ وہ جنت میں چلا جاتا ہے حوروں سے ملتا ہے، پھل کھاتا ہے یہ تمام کافر ہیں۔ اس واسطے کہ یہ تکذیب کرتے ہیں آنحضرتؐ کی۔ کیونکہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام آپؐ سے پہلے نبی ہیں اور خبر دی اللہ تعالیٰ نے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ بڑی قوی دلیل ہے اور خبر دی کہ تمام آدمیوں کی طرف آپؐ مبعوث ہوئے ہیں۔ کیونکہ قرآن میں ہے وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام آنحضرتؐ کا ظاہری معنوں پر محمول ہے اور اس کا لفظی ترجمہ آنحضرتؐ کی مراد ہے۔ اس کے ظاہر میں کوئی تاویل نہیں اور اس کے عموم میں کوئی تخصیص نہیں۔ پس جتنے
١٣
طائفے ہم نے بیان کئے ہیں ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ سب کے سب کافر ہیں کیونکہ تکذیب کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی اور ان کا کافر ہونا یقینی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں اور ان کا کفر اجماعی ہے اور ان کا کفر سماعی ہے۔ یعنی قرآن و حدیث سے ان کا کفر ثابت ہے۔ کسی نے اپنی عقل سے ثابت نہیں کیا اور کوئی بھی مخالف نہیں ہوا۔ یہ الفاظ ملا علی قاری کی شرح شفاء میں ہیں جن کے متعلق جرح پیش کی گئی تھی کہ ان کے نزدیک خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبی نہیں آئے گا۔
نتیجہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں یقینی ہے اجماعی ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں۔ کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ قرآن میں جو یہ آیا ہے وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖن وہاں مراد یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص کسی قسم کی نبوت سے نبی نہیں بنے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ وہ پہلے نبی بن چکے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی چونکہ مدعی نبوت ہیں اور نبوت بھی تشریعی اور حقیقی اور صاحب کتاب ہونے کے بھی مدعی ہیں اور اپنی وحی کو متلو بھی قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا وہ کافر و مرتد ہیں۔ ان کی جماعت کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح ناجائز ہے۔ اگر ہو جائے تو زنا ہوگا اور اولاد ولد الزناء ولد الحرام ہو گی۔ وحی کو متلو قرار دینا مرزا قادیانی کے اپنے اقوال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص٥٦٤جلد پنجم میں ہے۔ فاطنی انہ لا یحدث....... تا لکان نبیا. یعنی حدیث کے اس ارشاد کہ اے علیؓ تیرا رتبہ میرے ساتھ ایسے ہی ہے جیسے ہارون کے ساتھ۔ مگر ہارون علیہ السلام نبی تھے اور تم نبی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پر ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اس واسطے آپؐ خاتم النبیین ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ جو نبی مجھ سے پہلے گزرے ہیں میں ان سب کا ختم کرنے والا ہوں۔ ان سب کے بعد میں میں آیا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آپؐ کے بعد اگر نبی ہوتا تو علی رضی اللہ تعالیٰ ہوتے۔ مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں لہٰذا علیؓ بھی نہیں ہوں گے۔ یہ حدیث نہیں منافی۔ اس کے جو وارد ہوا ہے حق عمرؓ میں صریحاً اس واسطے کہ حکم فرضی اور تقدیری ہے۔ تو گویا آنحضرتؐ نے فرمایا کہ اگر فرض کئے جاتے میرے بعد نبی تو میرے صحابہؓ کی ایک جماعت ہوتی۔ لیکن میرے بعد نبی نہیں ہیں اور آنحضرتؐ کے ارشاد لو عاش ابراھیم کا یہی معنی ہے۔ حدیث میں آیا ہے لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیّاً لَکَانَ عُمَرُ
١٤
جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ لیکن عمرؓ نبی نہ ہوئے اس واسطے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ملا علیٰ قاری کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ میں اشارہ ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتے تو علیؓ ہوتے۔ تو بظاہر ملا علیٰ قاری کا کلام حدیث کے معارض ہوا۔ اس کا جواب دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ حدیث اس اشارہ کی منافی نہیں کیونکہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ حکم فرضی ہے کہ بطریق فرض محال میرے بعد نبی ہوتے تو عمرؓ ہوتے اور علیؓ ہوتے۔ اسی طرح فرمایا کہ اگر ابراہیمؑ زندہ رہتے تو نبی ہوتے تو آنحضرتؐ کا یہ کلام بطریق فرض ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ دنیا میں اگر میرے بعد نبوت واقعہ ہوتی تو میرے صحابہ کی جماعت کو نبوت ملتی۔ لیکن چونکہ میرے بعد نبوت نہیں اس واسطے میرے صحابہ کو نبوت نہ ملی۔
تفسیر ابن کثیر ص ٢٧٩ جلد تیسری آیت وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ کے تحت میں ہے وھذہ اکبر نعم اللہ تعالیٰ....... تا....... الانس والجن جس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے لیے دین کامل کر دیا۔ لہٰذا وہ نہ کسی دوسرے دین کے محتاج ہیں اور نہ کسی اور نبی کے۔ سوائے آنحضرت ﷺ کے اور اسی واسطے اللہ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور آپ کو انس اور جن دونوں کی طرف بھیجا۔
الغرض اس آیت سے ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں کہ اپنے عموم سے کسی نبی کو نبوت آپ کے بعد نہیں مل سکتی جو اس کا منکر ہو وہ کافر اور مرتد ہے۔
دوسری آیت پیش کرتا ہوں اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (مائدہ ٣) اس آیت میں خدائے قدوس نے دین کے کامل کرنے کا اور نعمت کے اتمام کا ذکر فرمایا ہے اور سب نعمتوں میں سے بڑی نعمت نبوت اور دین ہے۔ جب دین کامل ہو چکا اور نعمت نبوت بھی کامل ہو چکی تو اب نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ کوئی نئی شریعت۔ کیونکہ کمال کے بعد اس چیز میں کوئی اور شے داخل نہیں ہو سکتی۔
الانسان الکامل ص ٣٦ جلد اول میں ہے فانہ ما ترک شیئا....... لم یجی احد بذالک یعنی کوئی چیز آنحضرت ﷺ نے نہیں چھوڑی جو ہم تک نہ پہنچائی ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے کتاب میں کوئی کمی نہیں کی اور فرمایا ہے کہ ہم نے ہر چیز کی
١٥
کامل تفسیر و تفصیل کر دی ہے۔ اسی واسطے آپ کا دین تمام ادیان سے بہتر ہے اور تمام ادیان کا ناسخ ہے۔ کیونکہ جو اور انبیاء علیہم السلام نے کہا وہ سب آپ نے فرما دیا اور زیادتی بھی کی۔ جس کو کوئی نہیں لا سکا۔ لہٰذا اوروں کے دین آپ کے دین کے سامنے منسوخ ہو گئے۔ کیونکہ وہ ناقص تھے اور یہ کل ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے سوا کسی نبی پر نہیں اتری اور اگر آپؐ کے سوا کسی اور نبی پر اترتی تو وہ خاتم النبیین ہوتا اور یہ کسی کے لائق نہ تھی۔ مگر آنحضرتؐ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لہٰذا آپؐ ہی خاتم النبیین ہوئے کیونکہ آپؐ نے کوئی حکمت کوئی بھید کوئی ہدایت ایسی نہیں چھوڑی، جس کو آپ نے بیان نہ فرمایا ہو یا اشارہ نہ کیا ہو۔ جس قدر اس کا بیان کرنا مناسب تھا تصریحاً اشارۃً کنایۃً استعارہ یا محکم یا مفسر مامول یا متشابہ وغیرہ کمال بیان کی جتنی صورتیں تھیں سب آپؐ نے پوری کر دیں۔ آپؐ کے غیر کے لیے اب کوئی راستہ نہیں رہا۔ آپؐ امر نبوت کے ساتھ مستقل ہو گئے اور نبوت ختم ہو گئی۔ کیونکہ آپؐ نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی طرف حاجت ہو اور آپؐ نے بیان نہ کی ہو۔ اگر آپؐ کے بعد کوئی کامل آئے تو کون سی ایسی چیزیں پائے گا۔ جن پر لوگوں کو خبردار کرے۔ مگر پہلے اس کو آنحضرت ﷺ نے بیان فرما دیا ہو گا۔ پس یہ کامل تابع ہو گا۔ جیسے آنحضرت ﷺ نے تنبیہ فرما دی۔ پس منقطع ہو گیا حکم نبوت تشریعی کا۔ آپؐ کے بعد اور ہوئے آنحضرتؐ خاتم النبیین۔ کیونکہ لائے ہیں آپؐ کمال کو اور نہیں لایا کوئی اور۔ اس عبارت میں تشریعی کا لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں کہ کوئی نبی حقیقی تشریعی نہیں آ سکتا اور تشریعی نبی وہ ہے جس کے وحی میں امر یا نہی ہو تو کوئی نبی حقیقی یا تشریعی ایسا نہیں ہے کہ جس کی وحی میں کم سے کم اتنا حکم نہ ہو کہ وہ اپنی نبوت کی دوسروں کو تبلیغ کرے اور دوسروں کو اس کا ماننا ضروری نہ ہو۔ پس تشریعی کے لفظ سے یہ مطلب نہیں نکل سکتا کہ نبی حقیقی تو ہو سکتا ہے۔ مگر تشریعی نہیں ہو سکتا۔ اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی حقیقی خواہ اس کا نام شرعی رکھا جائے یا تشریعی یا بروزی یا ظلی حقیقی معنی سے اس کی گنجائش باقی نہیں۔
اس کا نتیجہ بھی وہی نکلا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص مدعی نبوت ہو کر لوگوں کو اپنی طرف بلائے اور اپنی اطاعت فرض کہے وہ کافر مرتد ہے۔ اس کا حکم مرتد کا سا ہے۔ جو بیان ہو چکا۔ تیسری آیت وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ ہم نے تم کو تمام آدمیوں کی طرف بھیجا
١٦
ہے ۔ اب کوئی انسان ایسا نہیں جو کہ آپ کی بعثت سے خالی ہو اور دوسرا نبی آ سکے۔ شرح شفاء قاضی عیاض میں ملا علی قاری جو ابھی عبارت ص ٥١٩ کی پیش کر چکا ہوں ۔ اس میں اس کا مطلب یہی لکھا ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس میں تصریح کر دی گئی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور اس کے اس معنی پر تمام امت کا اجماع اور اتفاق بیان کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل تخصیص نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ ختم نبوت کا کسی طرح انکار کرتے ہیں ان کا کفر اجماعی قطعی سماعی ہے۔ اس کی تائید میں حوالہ ابن کثیر کا ص ٢٥٢ جلد ٢ بحوالہ ختم النبوۃ فی القرآن ص ١٩ پیش ہے۔ وَهٰذَا مِنْ شَرَفِهِ عَلَيهِ السَّلَامُ......... إِلَىٰ النَّاسِ كُلِّهِم مطلب یہ ہے کہ آنحضرتؐ کی فضیلت اور عظمت میں سے ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور تمام مخلوقات کی طرف مبعوث ہیں اور اس بارہ میں بہت سی آیات نازل ہوئی ہیں۔ جیسے احادیث اس بارہ میں احاطہ سے باہر ہیں اور یہ بات اسلام میں بداہۃً اور ضرورتاً معلوم ہے کہ آپؐ تمام انسانوں کی طرف مرسل ہیں جس میں کوئی بھی مستثنیٰ نہیں۔ اس کا حاصل بھی وہی نکلا کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔
اس وقت تک جو عرض کیا گیا اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن میں یہ امر ثابت ہے کہ انکار ختم نبوت کفر ہے۔ ایسے ہی ادعائے نبوت اور ادعائے وحی نبوت بھی کفر ہے یہ تینوں مضامین جداگانہ ہیں اور مرزا قادیانی میں یہ تینوں باتیں جمع ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے کفر کے یہ تین انواع ہیں، جس کے ماتحت بہت سی جزئیات داخل ہیں اور مرزا قادیانی بہت سے وجوہ سے مرتد اور کافر ہیں۔ آیات تو بہت سی تھیں مگر ان پر اکتفا کر کے کچھ مختصر طور پر احادیث بیان کرتا ہوں۔
احادیث ختم نبوت
- (١) بخاری جلد اول ٤٩١ قَالَ سَمِعْتُ اَبَا حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ اَبَاهُرَيْرَةَ
خَمْسَ سِنِيْنَ........... تا........... اِسْتَرْعَاهُمُ یعنی میں ابوہریرہؓ کی خدمت میں پانچ برس تک بیٹھا۔ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست کرتے تھے۔ انبیاء یکے بعد دیگرے آ کر ہدایت کرتے تھے۔ ان کو یہ یقینی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ ہاں خلفاء بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ فرمایا جس کسی خلیفہ کی بیعت پہلے کر چکے
١٧
ہو اس کو پورا کرو۔ ان کا جو حق ہے ادا کرو اور ان پر جو تمہارا حق ہے۔ اگر وہ اس سے کوتاہی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی ظلی بروزی نبی نہیں آئے گا۔ یہ حدیث متواتر المعنی ہے۔ بعض احادیث جو باعتبار لفظ اور سند متواتر نہیں ہیں۔ وہ باعتبار معنی کے متواتر ہو جاتی ہیں۔ اگر اس معنی کو اتنی سندوں اور اتنے راویوں نے بیان کیا ہو جو تواتر کو پہنچ جائیں۔ جیسا تعداد رکعت نماز یہ حدیث ختم نبوت بھی اسی قبیل سے ہے۔ اسی بناء پر مفسرین محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ ختم نبوت کی حدیث متواتر المعنی ہے۔ جو ان کا انکار کرے کافر ہے۔ اگر کسی حدیث کا راوی ایک ہو اور اس کا مضمون بالکل قرآن کا مضمون ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے جمعہ فرض ہے یا زنا حرام ہے۔ ایسی حدیث کا انکار بھی بوجہ اس کے کہ قرآن کا انکار ہے کفر ہے۔ نہ اس وجہ سے کہ وہ جز واحد کا انکار ہے۔ بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے انکار سے قرآن کا انکار لازم آتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا۔
(٢) مسلم شریف جلد ثانی ص ٢٤٨ بَابُ الذِّکْرِ كَوْنِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَثَلِيْ وَ مَثَلُ الْاَنْبِيَاءِ............ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ. یعنی میری مثال اور انبیاء سابقین کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور بہت خوبصورت بنوایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ باقی رہ گئی۔ لوگ اس مکان کو دیکھ کر تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ یہ اینٹ کی جگہ جو خالی ہے پوری کیوں نہ کر دی گئی۔ فرماتے ہیں کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعمیر بیت نبوت جو ابتدائے آفرینش سے ہوئی تھی وہ آنحضرتؐ کے سوا ناقص تھی۔ آپ کے وجود مسعود سے وہ مکمل ہو گئی اور بیت نبوت میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی نئی اینٹ ہو گی تو وہ بیت نبوت سے نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمام نبیوں کو ختم کیا۔ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ اگر کوئی شخص مدعی نبوت ہو تو خدا نے جو گھر نبوت کا تیار کیا تھا وہ اس کی جزو نہیں ہو سکتا۔
(٣) ابوداؤد جلد دوم ص ٢٤٧ بَابُ خَبَرِ ابْنِ صَيَّادٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..... اَنَّهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ تَعَالٰی یعنی ابوہریرہؓ فرماتے ہیں۔ فرمایا آنحضرتؐ نے کہ قیامت نہیں قائم ہو گی جب تک تیس دجال نہ آئیں۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا مدعی ہو گا۔ اس میں آنحضرت علیہ السلام نے جو مدعی نبوت ہو اس کو دجال
١٨
فرمایا اور امت کے لیے ہدایت فرمائی کہ جس کسی سے سنو اَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ تو آنکھ بند کر کے یہ کہہ دو کہ تو دجال اور کذاب ہے۔ اگر کسی قسم کی نبوت آپؐ کے بعد باقی رہتی تو ہدایت مجسم رہنمائے عالمؐ ایسا ارشاد نہ کرتے جس سے امت بے دھڑک ہر مدعی نبوت کو دجال کہہ دے۔ بلکہ فرض تھا کہ فرماتے کہ میرے بعد دجال بھی آئیں گے اور نبی بھی آئیں گے۔ دیکھو نبی کی اطاعت کرنا ورنہ کافر ہو جاؤ گے۔ آپؐ کا یہ ارشاد صریح دلیل ہے کہ اب کسی قسم کی نبوت شرعیہ باقی نہیں رہی۔ اگر محال در محال در محال واقعی کوئی نبی ہو اور اس پر وحی کی بارش ہوتی ہو اور سیلاب بھی آیا ہو۔ تاہم اسے ضرور دجال کہیں گے۔ کیونکہ ہمارے آقا کا فرمان یہی ہے۔ کنز العمال بروایۃ احمد والخطیب بحوالہ۔ (٣) عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام اَنَّهُ قَالَ لَا يَبْقٰی بَعْدِیْ ...... الخ (کنز العمال ج١٥ ص٣٧١ حدیث ٣١٢٣٣) یعنی آپؐ نے فرمایا میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات، لوگوں نے عرض کیا۔ مبشرات سے کیا مراد ہیں۔ فرمایا اچھے خواب جس کو خود دیکھے یا اس کے لیے کوئی دوسرا مسلمان دیکھے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے حصر کے ساتھ فرما دیا کہ اب نبوت کے حصص میں سے کوئی حصہ بھی دنیا میں باقی نہیں رہا۔ فقط اچھے خواب، معلوم ہوا کہ اگر آپؐ کے بعد جو کوئی ادعائے نبوت کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
مرزائی استدلال کا جواب
عن عائشة قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعده اس قول کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ خاتم النبیین کی منکر تھیں یا آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز رکھتی تھیں۔ بلکہ لا نبی بعدی کا مفہوم چونکہ عام تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی استدلال کرے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کے بعد نہ کسی کو نبوت ملے گی اور نہ کوئی پہلا نبی آئے گا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا حدیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ کوئی ایسا لفظ ہی نہ کہو کہ جس سے کوئی اہل باطل استدلال پکڑے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر حضرت عائشہؓ وہ حدیث خود نہ روایت کرتی جو ابھی بیان کی گئی ہے تو کہا جا سکتا تھا کہ اس حدیث کی حضرت عائشہؓ کو خبر نہیں ہوئی ہوگی۔ مگر جب وہ خود راوی حدیث ہیں کہ نبوت میں سے کوئی حصہ سوائے مبشرات کے باقی نہیں۔ اس وقت ان کی طرف یہ منسوب کرنا کہ وہ آنحضرتؐ کے بعد نبوت شرعیہ کو جائز رکھتی ہیں مردود اور باطل ہے۔
نمونہ کے طور پر تین آیات اور چار احادیث بیان کی ہیں۔ صرف میں نہیں کہتا
١٩
بلكہ تمام سابقہ محدثین اور مفسرین کہہ چکے ہیں کہ احادیث اس بارہ میں حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔ اگر خدا نے چاہا تو اس بات کو مرزا قادیانی کے کلام سے ثابت کروں گا کہ وہ بھی ادّعائے نبوت سے پہلے یہی معنی سمجھتے رہے جو ساری دنیا نے سمجھا ہے۔ اگرچہ بعد میں بدل دیا۔
ختم نبوت پر روایات فقہیہ
اب قرآن اور حدیث کے بعد تھوڑے سے اقوال فقہا کے بھی بیان کر دیتا ہوں۔
- (١) الاشباہ والنظائر ص ٢٦٧ میں ماتن کہتے ہیں اِذَا لَمْ يَعْرِفْ أَنَّ مُحَمَّداً
عَلَيْهِ السَّلَامُ آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ لِاَنَّهُ مِنَ الضَّرُورِيَّاتِ شارح کہتے ہیں قولہ اِذَا لَمْ يَعْرِفْ ...... تا ...... لَايَكُونُ عُذْراً۔ حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان بھی نہیں۔ کیونکہ ان کا آخر الانبیاء ہونا ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین میں جہل عذر نہیں اور تکفیر کے بارے میں آخری نبی کا علم نہ ہونا عذر نہیں ہو سکتا۔ فقہ کی رو سے جو شخص آنحضرت علیہ السلام کو آخر الانبیاء نہ جانے وہ ایسا ہی کافر ہے جیسے جو آنحضرت ﷺ کو نبی نہ جانے۔
- (٢) شرح عقائد نسفی نمبر ١٠١ میں ہے وَإِذَا ثَبَتَ نُبُوَّتُهُ وَقَدْ دَلَّ كَلَامُ ......
تا ...... آخِرُ الاَنْبِيَاءِ یعنی جب آنحضرت کی نبوت ثابت ہو گئی اور آپؐ کی کلام نے اور قرآن نے اس پر دلالت کر دی کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور تمام آدمیوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں بلکہ جنات اور انسانوں کی طرف یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپؐ آخر الانبیاء ہیں۔ اسی کتاب کے ص ٩٩ میں ہے وَاَوَّلُ الْاَنْبِيَاءِ آدَمُ وَآخِرُهُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کتاب شرح عقائد میں جو مسلمانوں کے عقائد کی کتاب ہے۔ مسلمانوں کو یہ عقیدہ سکھایا گیا ہے کہ سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی محمد علیہ السلام ہیں۔
- (٣) شرح فقہ اکبر ملا علیؒ قاری (یہ ملا علیؒ قاری وہ ہیں جو موضوعات کبیر کے
مصنف ہیں اور فقہ اکبر وہ کتاب ہے جو امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔) کے ص ١٩١ پر درج ہے وَدَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ السَّلَام كُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ یعنی ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔
٢٠
(نوٹ) ناممکن اور محال ہے کہ علم عقائد اور علم کلام میں ملا علی قاریؒ جس بات کو کفر بالاجماع کہیں پھر موضوعات کبیر میں اس کے خلاف کہیں۔
(٤) البحر الرائق جلد ٥ میں ہے وَيُكَفَّرُ بِقَوْلِهِ ان كَانَ...... اِدَّعى رَجُلٌ یعنی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ نبیوں نے جو کچھ کہا ہے اگر سچ ہو اور حق ہو تو وہ کافر ہو گیا۔ یا کسی نے یوں کہا کہ اللہ کا رسول ہوں یا کسی شخص نے رسالت کا دعویٰ کیا اور دوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا تو ان سب صورتوں میں کہنے والا کافر ہو گیا۔
(٥) عالمگیر جلد ٢ ص ٢٦١ میں ہے اِذَا لَمْ يَعْرِفِ الرَّجُلُ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ یعنی جب کوئی شخص یہ اعتقاد نہ رکھے کہ آنحضرت علیہ السلام آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت میں عدم تسلیم کی گنجائش نہیں۔
(٦) الملل والنحل ج ٢ ص ١٨٠ هَذَا مَعَ سِمَاعِهِمْ قَوْلِ اللّٰهِ ...... آخر الزمان یعنی اللہ کی کلام ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین کو سن کر اور آپؐ کے قول لا نبی بعدی کو سن کر کیونکر جائز ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ ثابت کرے آپ کے بعد آنا کسی نبی کا زمین میں سوائے اس کے جس کو آنحضرتؐ نے استثناء کیا اثار مسندہ ثابتہ نزول عیسیٰ کے بارے میں یعنی اللہ کے کلام اور آنحضرتؐ کے قول سننے کے بعد جائز نہیں یہ کہنا نہ مسلمان کے شایان شان ہے کہ آپؐ کے بعد کسی نبی کا آنا جائز سمجھے۔
(٧) الملل والنحل جلد اول ص ٧٧ میں ہے وَقَدْ صَحَّ...... نَا...... ذَالِكَ ابْتِدَاء یعنی آنحضرتؐ کے بعد یہ بات ان جماعتوں کی نقل سے صحیح ہوچکی ہے کہ جنہوں نے آپؐ کی نبوت کو نقل کیا۔ آپؐ کی اعلام دین کو نقل کیا۔ آپؐ سے قرآن کو نقل کیا۔ ان کے نقلوں سے یہ بات صحت کو پہنچ گئی ہے کہ آنحضرتؐ نے خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہ جو آیا ہے۔ اخبار صحاح میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق وہ عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے (نہ وہ جو ہندوستان میں پیدا ہوا) اور جس کے قتل و صلب کے متعلق یہود نے دعویٰ کیا۔ ان تمام باتوں کا اقرار واجب ہے اور صحیح ہے یہ بات کہ وجود نبوت کا آنحضرتؐ کے بعد نہیں ہو سکتا۔ یقینی اور قطعی ہے اور اس سے اس کا یہ قول بھی باطل ہو گیا جو کہتا ہے ساتھ تواتر رسل کے۔
حاصل یہ نکلا کہ جن لوگوں نے قرآن و حدیث اور معجزات کو نقل کیا، وہی نقل کرتے ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر وہ جو احادیث سے ثابت ہے۔
٢١
یعنی نزول عیسیٰ ابن مریم۔
- (٨) شامی جلد اول ص ٤٣٧ میں ہے وصرح..... قا..... منکرہ یعنی تصریح کی
ہے اس بات کی کہ جو چیز ضروریات دین میں سے ہو یعنی جس کو عوام و خاص جانتے ہوں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔ مثلاً اعتقاد توحید و رسالت اور صلوٰۃ خمس وغیرہ ذالک ان کا منکر کافر ہے۔
مرزا قادیانی کی تکفیر کی چوتھی وجہ : توہین انبیاء
اس وقت تک یہ عرض کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کی تکفیر کے تین انواع ہیں۔
- (١) انکار ختم نبوت (٢) ادعائے نبوت (٣) ادعائے وحی نبوت
اب میں چوتھی قسم بیان کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی اور اس کے اتباع توہین انبیاء علیہم السلام کی وجہ سے سب کے سب کافر اور مرتد ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کی تحقیر و توہین کفر ہے
ضروریات دین میں سے یہ بات بھی ہے کہ تمام انبیاء آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک کی توقیر و تعظیم کی جائے۔ کسی نبی کی شان میں ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفر ہے۔ میں اس کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال پیش کرتا ہوں۔ ”شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آئے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نامناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ پس یاد رہے کہ وہ پرانی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات ان کی اس بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں۔ مثلاً ظاہر ہے کہ مسلمان لوگ کس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عزت اور تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کو خدا کا پیارا رسول اور برگزیدہ یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جب ایک متعصب پادری آنحضرت ﷺ کی بے ادبی سے باز نہیں آتا اور زبان درازی میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو الزامی طور پر ایک مسلمان جس کو اس پادری کے کلمات سے کچھ درد پہنچا ہے ایسا جواب دیتا ہے کہ اس پادری کو برا معلوم ہو مگر پھر بھی وہ طریق ادب سے باہر نہیں جاتا۔ کچھ نہ کچھ صحت نیت دل میں رکھ لیتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف ان کے پیارے ہوتے ہیں بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے تحقیر کرنا ٢٢
سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٨ خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٩)
اس کے بعد میں کچھ وہ کلمات جو مرزا قادیانی نے توہین انبیاء کے متعلق کہے ہیں لکھواتا ہوں۔ ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشینگوئی کیوں نام رکھا ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) پھر لکھتے ہیں ”ہاں آپ کو گالی دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
(اسی صفحہ پر ہے) ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“ اسی صفحہ پر ہے کہ ”جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔“ (حوالہ بالا) پھر لکھا ہے ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) (آگے لکھتے ہیں کہ) آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور انکو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“ (حوالہ بالا) اسی مضمون کی وضاحت مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں ”یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔
(ست بچن ص ١٧١ حاشیہ خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)
مزید مرزا نے لکھا ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں“ (کشتی نوح ص ٦٦ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ٧١)
مرزا نے لکھا ہے کہ ”یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر باعث اپنے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ٢٣
ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ کسی چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔
(نزول المسیح ص ٤٦ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٤١٣)
مرزا نے مزید لکھا ہے ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
اسی کتاب میں مزید لکھا ہے ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں اور دادیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میل اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
اسی کتاب پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ درج کیا ہے کہ ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹ مار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
/ ٢٤
اب مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع مسیح ایک ہیں دو نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ” اب ہم پہلے صفائی بیان کے لیے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢)
مرزا قادیانی فرماتے ہیں ” بالخصوص یسوع کے دادا داؤد نے سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لیے فریب دے کر قتل کرا دیا اور دلالہ عورتوں کو بھیج کر اسی کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلوائی‘ اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔“
(ست بچن ص ١٧٢ خزائن ج ١٠ ص ٢٩١)
غرض یہ ہے کہ مجھے ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں یہ غلط ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے توضیح مرام میں تسلیم کیا ہے کہ یسوع اور مسیح ایک ہے۔ پس یسوع کے نام سے گالیاں دینا بعینہ عیسیٰ السلام کو گالی دینا ہے۔
دوسرا جواب مرزائیوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے جو کچھ گالیاں دی ہیں وہ صرف الزامی طور پر کہا ہے نہ کہ اپنی طرف سے، میں کہتا ہوں یہ غلط ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا ہے ” اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا “ یہ الزام نہیں بلکہ اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ نیز لکھتے ہیں ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ پھر کہتے ہیں ” میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں ۔“ اس میں بات کو اپنی طرف منسوب کر دیا ہے۔ پھر اپنی طرف سے کہتے ہیں کہ ” جن جن پیشگوئیوں کا توریت میں پایا جانا فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام و نشان بھی نہیں ۔“ پھر کہتے ہیں ”مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا ۔“ یہ الزامی جواب نہیں ہے۔ (حوالے بیان ہو چکے ) میں کہتا ہوں کہ بفرض محال تسلیم بھی کر لوں کہ یہ اقوال بطریق الزام کہے ہیں۔ مگر میں توہین عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق دو باتیں پیش کرتا ہوں‘ جن کا یہ جواب ناممکن ہے۔ مرزا نے لکھا ہے ”یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راستباز اپنی راستبازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
٢٥
سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے۔ وجیھا فی الدنیا والاخرة ومن المقربین جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانہ کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کر تھے بلکہ اس بات کا امکان نکلتا ہے کہ بعض مقرب ان کے زمانہ کے ان سے بہتر تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لیے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموں سے ان کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن ہے بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو لم نقصص میں داخل ہیں۔ وہ ان سے بہتر اور افضل ہوں اور جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابل پر آخر ایک انسان نکل آیا۔ جس کی نسبت خدا نے علمناہ من لدنا علما فرمایا۔ تو پھر حضرت عیسیٰ کی نسبت جو موسیٰ سے کم تر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے۔ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالاطلاق اپنے وقت کے تمام راستبازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان۔ وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔
(دافع البلاء ص ٤۔٣ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠۔٢١٩)
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو الزام اور عیوب عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے گئے ہیں۔ وہ اس عالم الغیب اللہ کے نزدیک متحقق تھے اور معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ تمام عیوب موجود تھے۔ اسی واسطے ان کا نام قرآن میں حصور نہ فرمایا اور چونکہ حضرت یحییٰ میں اللہ کے نزدیک ایسے عیوب متحقق نہیں تھے۔ لہٰذا ان کو حصور فرمایا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ گالیاں الزاماً نہیں دی گئیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے قول
٢٦
کے مطابق معاذ اللہ خدا کے نزدیک یہ عیوب متحقق تھے اور عیسیٰ علیہ السلام میں موجود تھے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں اور مولویوں کو مخاطب کرتے ہیں۔ ”اے نفسانی مولویوں او خشک زاہدو، تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کھلنا چاہتے ہو ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ بند رہیں اور تم پیر مغاں بنے رہو۔“ (ازالہ اوہام ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١٠٥) اس کے بعد لکھتے ہیں کہ ”اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧ خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
اس کے بعد ذیل کے نوٹ کو ملا دیا جائے ”اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٥)
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان کے حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے کھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔“ (ازالہ اوہام ص ١٦ خزائن ج ٣ ص ١٠٥) اسی صفحہ کے آگے کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔ جس سے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“ (اعجاز احمدی ص ١٤ خزائن ج ١٩ ص ١٢١) اب نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے کلام سے یہ بات ثابت ہو چکا کہ کسی نبی کی توہین کرنا کفر ہے اور قرآن شریف میں بھی اسی ادب و احترام کا حکم فرمایا گیا ہے کہ تم رسول اللہﷺ سے اس طرح زور زور سے باتیں نہ کرو جیسے تم باہم ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کیونکہ تمہارے اعمال حبط اور باطل ہو جائیں گے اور تم کو خبر بھی نہ ہو گی۔
قرآن و حدیث اور فقہ اور مرزا قادیانی کے اقوال سے ثابت ہو گیا کہ توہین انبیاء کفر ہے اور مرزا نے توہین انبیاء کی جس کا ایک بہت تھوڑا حصہ بیان کیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء بالخصوص سرور عالمﷺ کی شان اقدس میں مرزا نے گستاخیاں کی ہیں اور توہین آمیز الفاظ لکھے ہیں۔ ان کو اس وقت بیان نہیں کر سکا تاہم نتیجہ نکالنے کے لیے اس قدر بیان کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے توہین انبیا کی اور جو توہین انبیاء کرے کافر ہے مرتد ہے۔ پس مرزا قادیانی بھی کافر اور مرتد ہوئے۔ ان کے پیروؤں میں سے کسی سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔
٢٧
مرزا کی آنحضرت علیہ السلام کی شان ارفع میں گستاخیاں
کل جو بیان ہوا تھا اس میں وہ امور بیان کئے گئے تھے جس میں مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی تھی۔ آج میں وہ باتیں بیان کرتا ہوں جن میں آنحضرت علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے۔ مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منہم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
”پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“
(حوالہ بالا)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو بار بار کہا ہے کہ میں بعینہ محمد ﷺ ہوں۔ ایسے کلمہ جو سرور عالم کی توہین ہے اور جس قدر اس میں کفریات ہیں وہ غور کرنے سے ظاہر ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے والد کا نام عبداللہ تھا؟ کیا ان کی والدہ کا نام آمنہ تھا؟ کیا وہ فاطمہ علیہ السلام کے باپ تھے؟ مرزا قادیانی کا عین محمدؐ ہونا اور مرزا قادیانی کو نبوت ملنے میں خاتمیت میں فرق نہ آنے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور سرور عالم ایک ہوں جو عقلاً ونقلاً باطل ہے۔ اگر آنحضرتؐ معاذ اللہ بطریق تناسخ مرزا قادیانی ہوئے تو تناسخ کفر ہے۔ اگر یہ معنی ہیں کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتا ہے تو یہ ایسی ہی باطل بات ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ کسی شخص کا سایہ ذی سایہ نہیں ہو سکتا۔ تو اب مرزا قادیانی کا نبی ہونا آنحضرتؐ کا نبی ہونا نہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مرزا قادیانی اور آنحضرت علیہ السلام دونوں ایک ہیں (نعوذ باللہ) تو کیا کوئی مسلمان اس لفظ کو اپنی زبان سے ادا کر سکتا ہے کہ ١٩٠١ء تک معاذ اللہ آنحضرت ﷺ قادیان کی گلیوں میں پھرتے رہے اور مدت تک کچہری میں کام کیا اور مختاری کا امتحان دیا اور فیل ہو گئے اور پہلے آنحضرتؐ جو نبوت کے ساتھ تشریف لے گئے تھے۔ پچاس سال کی عمر تک نبوت سے بالکل معطل رہے۔ اس کلمہ کی کوئی مسلمان جرأت نہیں کر سکتا؟ اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ سایہ اور ذی سایہ ایک ہے تو آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کا سایہ ہیں۔
٢٨
پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کا عین ہیں اور مرزا قادیانی عین محمد ہیں تو نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی عین خدا...... اور اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر ظل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آ جائے تو پھر ایسی ظلیت تمام دنیا کو حاصل ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت اور آنحضرتؐ کے ساتھ اتحاد دعویٰ آنحضرتؐ کی کھلی توہین ہے۔ لہٰذا بہت سے وجوہ سے یہ کفر ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ خاتم النبیین کے بالکل مخالف ہے۔
یہی مضمون مرزا قادیانی نے اور جگہ بیان کیا ہے۔
”ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت علیہ السلام نہ صرف ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے قرار یافتہ عہد تھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)
جب مرزا قادیانی کے نزدیک یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت علیہ السلام دنیا میں ہزار دفعہ آئیں اور اپنی نبوت کا اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عہد بھی تھا جس کا خلاف نہیں ہو سکتا۔ تو تیرہ سو سال کے اندر کوئی ایسا شخص پیدا نہ ہوا جو نبی کے نام پانے کا مستحق ہوتا تو اول آنحضرتؐ کی توہین ہے۔ دوسرے تمام صحابہؓ اور اس وقت تک تیرہ سو برس میں جتنے بھی لوگ گزرے ہیں کوئی ایسا نہ ہوا جو نبی کا نام پانے کا مستحق ہو۔ خلفائے اربعہ عشرہ مبشرہ اور اہل بدر اور وہ صحابہ جو بیعت رضوان میں شامل تھے اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرمایا رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی تو سب کے سب مرزا کے برابر نہ ہوئے۔ تو آنحضرت علیہ السلام نے معاذ اللہ دنیا میں کیا کام کیا۔ تئیس برس کی تعلیم کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس میں آنحضرتؐ کی غایت درجہ توہین ہے اور پھر لکھتے ہیں۔ ”چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا‘ وہ میں ہوں۔ اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔“ تو اول یہ مضمون اس قدر لغو ہے کہ خود فرماتے ہیں کہ بروزی رنگ میں ہزار دفعہ آنحضرت کا بروز ہو گا اور پھر لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ پر تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ کیا مرزا کے نبی ہونے سے مہر نہیں ٹوٹتی؟ اگر دوسرا ہو جائے تو مہر ٹوٹتی ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ آنحضرت علیہ السلام کو جو مہر نبوۃ کہتے ہیں (ہر ایک وجودی شئی ہوئی) کہ جس پر کوئی عبارت کندہ ہو اور کسی کاغذ پر ابتداء میں یا اخیر میں بطور سند لگا
٢٩
دی جائے یا کسی چیز میں کوئی چیز رکھ کر اس پر مہر لگا دی جائے تا کہ اس سے نکل نہ سکے۔ تو اب آنحضرت کا مہر ہونا بالکل لغو باطل ہے اور آنحضرت کی توہین کرنا ہے۔ اگر مجازی معنی لیے جائیں کہ مہر کے یہ معنی ہیں کہ ایک شخص کامیاب ہوتا ہے آنحضرت کی سند سے تو کیا آنحضرت سند لکھ دیتے تھے یا نبوت کو آنحضرت پر ختم کر دیا گیا اور اب نبوت آپ سے نہیں نکل سکتی؟
پھر مرزا قادیانی کا فرمانا کہ مہر نبوت تو باقی ہے مگر نبوت نکل کر مرزا کے پاس آ گئی تو پھر یہ چوری ہوئی اور پھر مہر بھی خدا کی لگائی ہوئی۔ گویا خدا کی لگائی ہوئی مہر ایسی ہوئی جس پر آدمی کا ایسا اثر ہو سکتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کی بھی توہین ہے۔
قول فیصل ص ٦ مرتبہ شیخ محمد عمر صاحب مرزا قادیانی کا ایک قول نقل کرتے ہیں۔ یہ کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے۔ اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے...... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کے خاص خاص صفات میں اب ہم ان صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔
(ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)
اس عبارت نے بہت سی باتوں کا تصفیہ کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ بروزی اور ظلی نبوت کوئی کم اور گھٹیا درجہ کی نبوت نہیں۔ ظل و بروز کے لفظ سے یہ دھوکا ہو سکتا تھا کہ مرزا قادیانی کی مراد یہ ہو گی۔ جیسے کہ آئینہ میں کسی صورت کا عکس پڑتا ہے۔ اسی طرح کمالات محمدیہ کا عکس پڑا۔ مگر مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں۔ کیونکہ کسی کا عکس جو آئینہ میں ہے اس میں ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں آ سکتی۔ اس عبارت نے اس شبہ کو ایسا صاف اور ظاہر کر دیا کہ اب اس شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ مرزا قادیانی کا لفظ ظل اور بروز ہے۔ مگر مراد حقیقی کاملہ نبوت ہے۔ کیونکہ فرماتے ہیں کہ ”جتنے نبی گزرے ہیں وہ سب آنحضرت کی ایک ایک صفت میں ظل تھے اور پھر باوجود یکہ ایک صفت میں ظل تھے۔ حقیقی نبی صاحب شریعت نبی مستقل نبی اور منسوخ کرنے والی شریعت کے نبی بنے مگر پھر بھی وہ ظلی نبی تھے۔ تو ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ وغیرہ علیہم السلام اولوالعزم انبیاء ایک ایک صفت میں ظل تھے اور مرزا قادیانی تمام صفات میں ظل ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ سب نبیوں کی نبوت ایک طرف ہو اور مرزا قادیانی کی نبوت ایک طرف تو مرزا قادیانی سب سے بڑھ کر رہیں گے یا کم از کم مساوی ضرور ہوں گے۔ تو مرزا قادیانی مستقل نبی ہوئے۔ صاحب کتاب نبی ہوئے اور ناسخ شرع والے ہوئے اور یہ کفر ہے۔ مرزا قادیانی جو بار
٣٠
بار یہ کہتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کی نبوت مستقلہ تھی اور میری نبوت فیض محمدی کا اثر ہے‘ یہ بھی غلط ہوا۔ کیونکہ جیسے ان کی نبوت آنحضرت کا فیض تھا۔ مرزائی نبوت بھی ان کا فیض ہے۔ لہٰذا فرق باطل ہے اور ایک قوی وجہ کفر کی اس میں ایک اور ہے۔ کہتے ہیں کہ ”جب آنحضرت خاتم النبیین ہوئے تو خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی آ ہی نہیں سکتا اور بنی اسرائیل میں سے دجال کے مقابلہ کے لیے کوئی نبی آئے اور آنحضرت کی امت میں کوئی مقابلہ کرنے والا نہ ہو تو اس میں آنحضرت کی توہین ہے اور مہر نبوت کا ٹوٹنا ہے۔“ میں کہتا ہوں کہ جب عیسیٰ بھی ظل ہوئے اور موسیٰ بھی ظل ہوئے۔ ان کے آنے سے تو مہر ٹوٹ جاتی ہے اور اگر تمام صفات کا ظل آئے تو مہر نہ ٹوٹے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ اب عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بطریق اولیٰ مہر نبوت کو نہ توڑے گا اور اس میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت دوبارہ ثابت ہو گی کہ وہ نبی جو بظاہر امتی نہ تھے۔ حقیقت میں وہ سب امتی ہیں۔ بایں معنی کہ آپ کے فیض یافتہ اور آپ کی کسی صفت میں ظل ہیں۔ میں اس مسئلہ کو یہاں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جیسے مرزا قادیانی کی عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ بروزی اور ظلی الفاظ صرف کہنے کے ہیں۔ ان کے تحت میں کوئی معنی نہیں۔ یہ فقط میرا استدلال نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے صاحبزادے خلیفہ ثانی کا ارشاد ہے۔
کتاب ہینڈ بل ص٢ بحوالہ الفضل ٢٦ نومبر ١٩١٣ء نقل کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ”ہم جیسے خدا کی دوسری وحیوں میں حضرت اسمعیل، حضرت عیسیٰ، حضرت ادریس کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اسی نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا بروزی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے۔ کہ اپنے آپ کو ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کرنے لگیں بلکہ جیسے اور نبیوں کی فضیلت کا ثبوت دیتے ہیں اس سے بڑھ کر مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔“
دوسری عبارت بحوالہ اخبار الحکم ٢١ اپریل ١٩١٤ء ہینڈ بل ص ٣ سطر ٨ ”خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی رکھا اور کہیں ظلی اور بروزی نہ کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریر میں جس میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے جو نبیوں کی شان ہے۔ ان کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔“
اب یہ معلوم ہو گیا کہ خلیفہ ثانی قادیانی کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ لفظ انکسار اور تواضع میں بڑھا دیئے ہیں ورنہ ان کا کوئی معنی نہیں۔ مرزا قادیانی
٣١
جہاں اپنے آپ کو ظلی، بروزی یا مجازی نبی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب حقیقی نبی سمجھنا چاہیے۔ اب دوسرے شخص کو کہنا کہ نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ بروزی ظلی نہیں ہے اور چونکہ خود مرزا قادیانی بروزی ظلی ہیں تو ان کا نبی ہونا خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔ یہ بات کیسی لغو اور باطل ہے۔ اس بناء پر خاتمیت محمدیہ کا صریح انکار ہے۔ مرزا قادیانی جہاں بروزی، ظلی، کا لفظ بڑھاتے ہیں وہاں نبی امتی کا لفظ بھی بڑھاتے ہیں تو محض نبی نہ ہوئے بلکہ امتی بھی ہوئے۔ اس کو بھی خلیفہ دوم نے صاف کر دیا ہے۔
اخبار الفضل قادیاں ٢٩ جون ١٩١٥ء بحوالہ ہینڈ بل ص ٣ میں ہے۔ ”مسیح موعود کو نبی اللہ نہ تسلیم کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سیدالمرسلین خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم ہے اور کفر بعد کفر ہے“ اس عبارت نے صاف کر دیا کہ مرزا قادیانی کو صرف امتی کہنا یا نبی کے ساتھ امتی کہنا کفر ہے۔ صرف کفر ہی نہیں بلکہ کفر بعد کفر ہے اور کفر عظیم ہے۔ کیونکہ اس میں ایک تو آنحضرت کو امتی کہنا لازم آتا ہے جو کفر ہے اور دوسرا مرزا قادیانی کو امتی کہنا لازم آتا ہے جو دوسرا کفر ہے۔ معلوم ہوا کہ نبی کے ساتھ جتنے الفاظ بروزی، ظلی لغوی، مجازی، جزوی امتی، بڑھائے جاتے ہیں۔ یہ سب ایسے الفاظ ہیں جن میں اب تک کوئی معنی نہیں ڈالے گئے۔ اگر کہا جائے کہ یہ الفاظ مرزا قادیانی کے نہیں اور واقعی نہیں بلکہ مرزا کے صاحبزادے خلیفہ ثانی قادیان کے ہیں۔ اگر ان کا عقیدہ مرزا قادیانی کے خلاف ہے تو ان کو کافر ہونا چاہیے۔ اگر موافق ہے تو مدعا ثابت۔ اگر بفرض محال کوئی یہ ثابت کر دے کہ مرزا قادیانی کے خلاف مراد ہے اور خلیفہ ثانی قادیانی کافر بھی نہیں ہیں تو اتنا ضرور ہی ثابت ہو گا کہ موجودہ خلیفہ اور موجودہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔ فلہٰذا موجودہ مرزائیوں کے کفر کا ایک اور نمبر بھی زائد ہو گیا۔
الفضل جلد ٣ مورخہ ٢٩ جون ١٩١٥ء ص ٧ زیر عنوان احمد نبی اللہ عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٥ سطر نمبر ١٦ میں ہے۔ ”پس ان معنوں میں مسیح موعود جو آنحضرت کی بعثت ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے۔ اس کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا، گویا آنحضرت کی بعثت ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے۔ جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنانے والا ہے“
٣٢
مرزا نے اپنے معجزات دس لاکھ اور
آنحضرتؐ کے تین ہزار معجزات قرار دیئے ہیں
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
پھر براہین احمدیہ میں ہے۔ ”ان چند سطروں میں جو پیشینگوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٧٢) آنحضرتؐ کے معجزات کو تین ہزار قرار دینا اور اپنے معجزات کو دس لاکھ تو ظاہر ہے کہ آنحضرتؐ پر مرزا نے اپنی کیسی فضیلت بیان کی جو آنحضرت ﷺ کی کھلی توہین ہے۔
مرزا کا معجزہ شق القمر سے انکار
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”لَّہٗ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِیْرُ وَاِنَّ لِیْ خَسَفَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ اَتُنْكِرُ“ یعنی اس کے لیے صرف چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا کیا اب تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
اس شعر میں مرزا قادیانی نے قرآن کریم کی صریح آیت کا انکار کیا ہے۔ قرآن میں ہے اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ شق قمر کے معجزہ کو مرزا قادیانی چاند گرہن سے تعبیر کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ کے لیے چاند گرہن ہوا۔ اس میں آنحضرتؐ کی صریح توہین اور معجزہ شق القمر کا کھلا انکار ہے۔ یہاں مرزا قادیانی دو وجہ سے کافر ہوئے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”ان الله خلق آدم وجعله سیدا وحاکما و امیرا علی کل ذی روح من الانس والجان...... تا ...... مکتوب فی القرآن“
(خطبہ الہامیہ ص ٣١٢ حاشیہ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کر کے ہر ذی روح کا سردار اور حاکم اور امیر بنایا جن ہو وہ یا انسان جیسا کہ یہ مضمون آیۃ اسجدوا لآدم سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر پھسلا دیا آدم علیہ السلام کو شیطان نے اور نکلوا دیا جنت سے اور دی گئی حکومت سانپ کی طرف اور پہنچی آدم علیہ السلام کو ذلت اور رسوائی اس لڑائی میں اور متقین کے لیے انجام کار ہے اللہ کے نزدیک۔ پس اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو پیدا کیا ہے تا کہ وہ شیطان
٣٣
کو اخیر زمانہ میں شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔"
تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین
اس عبارت میں مرزا نے حضرت آدم علیہ السلام کی (معاذ اللہ) توہین اور ذلت اور رسوائی کو کھلے الفاظ میں صاف بیان کیا ہی ہے۔ مگر آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام جن میں آنحضرت علیہ السلام بھی شامل ہیں سب کی توہین ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام سے شیطان کی جو لڑائی ہوئی اس میں آدم علیہ السلام کو شکست اور ذلت اور رسوائی ہوئی اور شیطان کو فتح۔ اور اس کے مقابلوں کی شکست برابر باقی رہی۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کو اللہ نے پیدا کیا اور شیطان کو شکست ہوئی۔ اس میں تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین ہے اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے شیطان کو وہ کیا شکست دی۔ جو نہ آنحضرتؐ سے شکست ہوئی اور نہ کسی اور نبی سے۔ دوسرے یہ جو کہا ہے کہ یہ وعدہ قرآن میں تحریر ہے کہ مسیح موعود شیطان کو شکست دے گا یہ بالکل خلاف واقعہ اور کذب ہے۔ ہم نے ایسی کوئی آیت قرآن میں نہیں دیکھی جس میں لکھا ہو کہ مسیح موعود یا مرزا غلام احمد آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے گا۔ ان تمام توہینوں میں جو مرزا قادیانی کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ قرآن کے مطابق اور عقائد اسلام کے مطابق اور مرزا کی ان تحریروں کے مطابق جو کل پیش کی گئی تھیں کہ کسی نبی کی توہین کفر ہے۔ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کافر بھی ہوئے مرتد بھی ہوئے اور اس کے سارے متبعین کا یہی حکم ہے۔ اس جماعت میں سے کسی سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو گیا ہے تو وہ فوراً فسخ ہو گیا۔ بحوالہ درمختار برحاشیہ شامی ٢٩٩ جلد ٣ و فی شرح الوقایة مَا یَکُوْنُ کُفْرًا اِتِّفَاقًا یَبْطُلُ الْعَمَلُ وَالنِّکَاحَ وَاَوْلَادُهُ اَوْلَادُ زِنٰی۔
ختم نبوت پر مرزا کی تصریحات
اب یہ ثابت کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی خاتم النبیین کے بعد کوئی دوسرا نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اس وجہ سے وہ مسیح ابن مریم کہلایا کیونکہ وہ روحانی طور مسیح کے رنگ میں ہوکر آیا۔ مسیح کیونکر آسکتا‘ وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیوار اینٹیں ان کے آنے سے روکی تھیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٢ خزائن ج ٣ ص ٤٨٠)
٤٣٠
اس کتاب میں ہے ”اور کیونکر ممکن تھا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کے شرائط میں سے ہے آسکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرائیل ہے۔ اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام و عقائد دین جبرائیل کے ذریعے سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔“
(ازالہ اوہام ٥٣٤ خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)
اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کریم سے صراحتاً یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ کیا مرزا قادیانی نے احکام و عقائد دین جبرائیل کے ذریعہ حاصل کئے تھے؟ اگر نہیں تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹا مدعی نبوت بالاتفاق کافر ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے کفر کی یہ ایک اور نئی وجہ نکل آئی اور اگر کہا جائے کہ پہلے احکام و عقائد جو مرزا قادیانی نے حاصل کئے تھے انہی پر اکتفا ہوا تو اسی بناء پر وہ شخص جس کے صحیح عقائد ہوں اور جبرائیل علیہ السلام ایک دفعہ بھی نہ آئے ہوں تو مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق بھی وہ نبی ہو سکتا ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کہ جنہوں نے احکام و عقائد بذریعہ جبرائیل حاصل کئے تھے۔ وہ اگر دنیا میں تشریف لائیں تو آپ کا وہ پہلا علم کافی نہیں۔ دوبارہ جبرائیل کا آنا ضروری ہے۔ پھر لکھتے ہیں ”اب ہم اس وصیت میں یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اپنے زبردست ثبوتوں کے ساتھ ہمارے دعویٰ کا مصدق اور ہمارے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کر رہا ہے اور گذشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بند کرتا ہے اور بنی اسرائیلوں کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٨-٥٣٩ خزائن ج ٣ ص ٣٨٩)
اور پھر لکھا ”اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اسی لیے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٤ خزائن ج ٣ ص ٣٩٣) مزید لکھتے ہیں ”ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور
٣٥
صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو کہ اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے۔ اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور جبرائیل لگاتار آسمانوں سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم و صلوٰۃ اور زکوٰۃ حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے۔ تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا اور اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعے سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی حضرت جبرائیل ان پر نازل نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ کلی طور پر مسلوب النبوۃ ہو کر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے تو صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل لائیں اور پھر چپ ہو جائیں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب خاتمیت کی مہر ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل کو بعد وفات رسول اللہﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے کے لیے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی علیہ السلام کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔ لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت کے آئے گا۔ اور جبرائیل کے نزول اور کلام الٰہی کے اترنے کا پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ ایک رسول خلق اللہ کی اصلاح کے لیے آئے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی بذریعہ جبرائیل نہ ہو۔
(ازالہ اوہام ص 576 تا 578 خزائن ج 3 ص 411، 412)
مرزا کی تصریح کہ کوئی نبی امتی نہیں ہو سکتا
اس عبارت کے متعلق اتنا عرض کرنا ہے کہ مرزا قادیانی نے تصریح کر دی کہ کوئی نبی مطیع اور امتی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل نازل ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی نبی ہوئے تو انہوں نے اسی وحی کی اتباع کی جو ان پر نازل ہوئی یا قرآن کی؟ اگر قرآن کی اتباع کی تب
٣٦
بھی کافر کیونکہ ان کو اپنی وحی کی اتباع ضروری تھی اور اگر اپنی وحی کی اتباع کی تب بھی کافر کیونکہ قرآن کو چھوڑا۔
مرزا کا دعویٰ کہ اس کی وحی بیس جز سے کم نہیں
مرزا قادیانی اسی عبارت میں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو وحی احکام کے متعلق ہو گی۔ اس کا نام کتاب اللہ ہو گا۔ مرزا قادیانی کی وحی جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر جمع کریں تو بیس جزو سے کم نہ ہو گی وہ بھی کتاب اللہ ہوئی اور قرآن کے بعد ہوئی۔ کیا اب بھی قرآن کو آخر الکتب کہا جائے گا؟ اور کیا اب بھی کہا جائے گا کہ قرآن کامل کتاب ہے؟ جبکہ بیس جزو کی اور کتاب ایک نبی پر نازل ہو گی۔ ملاحظہ ہو ”اور یاد رہے کہ ہم نے محض نمونہ کے طور پر چند پیش گوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں۔ مگر وہ دراصل کئی لاکھ پیشگوئیاں ہے جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہ ہو گا۔ پس ہم اسی قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
مرزا قادیانی کی اپنی عبارتوں سے معلوم ہوا کہ اگر صرف اتنا لفظ آ جائے کہ قرآن پر عمل کرو اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے تو یہ خیال طفلانہ اور ہنسی کے لائق ہے بوجہ مخالفت خاتم النبیین کے۔ مگر مرزا قادیانی پر بیس جزو کی کتاب نازل ہو جائے تو مرزا قادیانی ویسے کے ویسے ہی مسلمان ...... عجیب بات ہے کہ ایک پہلا نبی جس پر جبرائیل صرف ایک فقرہ لائے اور جو آنحضرت کا ایک صفت میں مثیل ہو۔ اس کا آنا تو ختم نبوت کے منافی ہو اور ختمیت کی مہر ٹوٹ جائے۔ مگر جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمام صفت میں ظل ہوں۔ سارے انبیاء سابقین میں سے افضل و اعلیٰ ہوں۔ اس کے آنے سے ختمیت کی مہر نہ ٹوٹے تعجب ہے کہ اگر سوئی نکل جائے تو ختمیت کی مہر ٹوٹ جائے اگر ہاتھی نکل جائے تو ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ یہ وہی زمانہ ہے جس وقت وہ خاتم النبیین کے وہی معنی سمجھتے تھے جو ساری دنیا سمجھتی تھی۔ ایک دفعہ جبرائیل کا آنا اور صرف ایک فقرہ کہنا کہ تم قرآن کی اتباع کرو۔ یہ سب مرزا قادیانی کے نزدیک ختم نبوت کے منافی تھا اور اس سے مہر نبوت ٹوٹتی تھی۔ مرزا قادیانی سے پہلے مجدد جو ہر صدی پر آتے رہے ہیں۔ ان کا یہ فرض تھا کہ دین میں جو غلطی لوگوں سے ہو گئی ہے اس پر لوگوں کو متنبہ کرتے بالخصوص ایسے امور وعقائد میں جن کی وجہ سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ پھر
٣٧
امت میں بے شمار اولیاء، ابدال، اقطاب اور تمام صحابہ کرام بھی گزرے ہیں مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ خاتم النبیین کے معنی وہی ہیں جو مرزا قادیانی نے بتلائے ہیں۔
مرزا دونوں معنوں پر کافر ہے
سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر مرزا کے یہ معنی صحیح ہیں تو مرزا اور اس سے پہلے کے لوگ سب کافر ہیں اور اگر پہلے کے معنی صحیح ہوں تو مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
مرزا قادیانی نے جو اب معنی خاتم النبیین کے تجویز فرمائے ہیں۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری رہنا بلکہ وحی نبوت کا جاری رہنا ضروری ہے اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو اور جو انقطاع وحی کا قائل ہو۔ وہ مذہب مرزا کے نزدیک لعنتی اور شیطانی کہلانے کے لائق ہے۔ اس کی بناء پر اگر یہ معنی صحیح ہیں تو جب تک مرزا کا یہ عقیدہ تھا تو مرزا قادیانی بھی کافر ہوئے اور جتنے مسلمان اس عقیدہ پر گزرے ہیں وہ سب کے سب کافر ہوئے اور اگر مسلمانوں کا عقیدہ اور مرزا قادیانی کا عقیدہ سابقہ صحیح تھا۔ تو پہلے لوگ تو مسلمان مگر مرزا قادیانی اس عقیدہ کے بدلنے سے کافر ہو گئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
”اب ہر ایک دانش مند اندازہ کر سکتا ہے کہ جس حالت میں ٢٣ برس میں ٣٠ جزو قرآن کے نازل ہو گئے تھے تو بہت ضروری ہے کہ اس چالیس برس میں کم سے کم پچاس جزو کی کتاب اللہ حضرت مسیح پر نازل ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٨٢ خزائن ج ٣ ص ٤١٤)
اس عبارت میں گفتگو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے لفظ محال سے کیا مراد ہے۔ اگر محال سے مراد محال عقلی ہے تو اس کا اخفاء ناجائز ہے۔ بالخصوص تیرہ سو برس تک صحابہ تابعین اور ائمہ فقہا و متکلمین جنہوں نے عقلی امور میں بال کی کھال اتار کر رکھ دی ہے اور بالخصوص ہر صدی کے مجدد سے جو ہر صدی کے سر پر آتے تھے۔ مرزا کا یہ کہنا محال عقلی ہے غلط ہے۔ بلکہ یہ خود محال عقلی ہے اور اگر محال سے مراد محال شرعی ہے تو وہ بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ خاص کر اتنے زمانے تک اور متبحرین علماء پر اور مجددین پر، تو ثابت ہوا کہ مرزا کا اسی کلام کے کہنے تک یہی عقیدہ تھا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی قدیم یا جدید آ ہی نہیں سکتا۔ علمائے امت نے جو مسئلہ ختم نبوۃ پر اجماع بیان کیا ہے اور اس
٣٨
آیت کے جو معنی لکھے ہیں وہ معنی مرزا کے بھی مسلمات میں سے ہیں۔ وہ حق ہیں اب جو اس معنی کا انکار کرے وہ کافر ہے اور بے شک کافر ہے مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس قدر تو بالکل سچ ہے کہ اگر وہی مسیح، رسول اللہ، صاحب کتاب، آ جائیں جن پر جبرائیل نازل ہوا کرتا تھا۔ وہ شریعت محمدیہؐ کے تمام قوانین اور احکام نئے سرے اور نئے لباس اور نئے پیرایہ اور نئی زبان میں ان پر نازل ہو جائیں گے اور اسی تازہ کتاب کے مقابل پر جو آسمان سے نازل ہوئی ہے قرآن کریم منسوخ ہو جائے گا۔ لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لیے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول اور خاتم الانبیاء کے لیے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی الٹا دے۔ حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد حضرت ﷺ کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا اور حدیثوں کے پڑھنے والوں نے یقیناً یہ بڑی بھاری غلطی کھائی ہے کہ صرف عیسیٰ یا ابن مریم کے لفظ کو دیکھ کر اس بات کا یقین کر لیا ہے کہ سچ مچ وہی ابن مریم آسمان سے نازل ہو جائے گا، جو رسول اللہ تھا اور اس طرف خیال نہیں کیا کہ اس کا آنا گویا دین اسلام کا رخصت ہونا ہے۔ یہ تو اجماعی عقیدہ ہو چکا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٨٥، ٥٨٤ خزائن ج ٣ ص ٤١٥، ٤١٦)
اول تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے تو جبرائیل علیہ السلام آیا کریں گے اور شریعت محمدیہؐ کے تمام احکام اور قواعد نئے سرے سے اور نئے لباس نئے پیرایہ اور نئی زبان میں نازل ہوں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قرآن منسوخ ہو جائے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہہ چکے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ جبرائیل آئیں اور فقط یہ فقرہ کہہ جائیں کہ قرآن پر عمل کر اور پھر ساری مدت العمر تک تشریف نہ لائیں تو قوانین شرعیہ و احکام شرعیہ عقائد اسلام نئے لباس میں کیونکر آئیں گے اور قرآن کیسے منسوخ ہو گا؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”وقالوا انی لک ھذا قل ھو اللہ عجیب جاء نی ایل و اختار۔“ اس کا ترجمہ انہوں نے خود بالفاظ ذیل کیا ہے۔ ”اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوا۔ کہہ دو خداوند ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
اس پر مرزا قادیانی حاشیہ لکھتے ہیں کہ ”اس جگہ آئیل خداوند تعالیٰ نے جبرائیل
٣٩
کا نام رکھا اس لیے وہ بار بار رجوع کرتا ہے“ (حوالہ بالا) اب مرزا قادیانی پر جبرائیل کا نزول معلوم ہو گیا اور بیس جزء کا کلام بھی نازل ہو گیا اور آنحضرتؐ کی ہتک اور کسر شان کرنا اور اسلام کا تختہ الٹنا سب ثابت ہو گیا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کا کافر اور مرتد اور خارج اسلام ہونا انہیں کے اقرار سے ثابت ہو گیا۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”لیکن اگر واقعی طور پر اور حقیقی طور پر مسیح ابن مریمؑ کا نازل ہونا خیال کیا جائے تو اس قدر خرابیاں پیش آتی ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا اور اس بات کے سمجھنے کے لیے صریح اور صاف قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ حقیقی طور پر نزول ہرگز مراد نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٨٧ خزائن ج ٣ ص ٤١٧)
اس عبارت سے معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک آنحضرتؐ کے بعد کسی نبی کے آنے میں بے شمار خرابیاں ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”اکیسویں آیت یہ ہے ماکان محمد ابا احد الخ یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور فتح کرنے والا ہے نبیوں کا۔ اس میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ آیت بھی صاف دلالت کرتی کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بکمال وضاحت ثابت ہو گیا کہ مسیح ابن مریمؑ رسول اللہ دنیا میں نہیں آ سکتا کیونکہ مسیح ابن مریمؑ رسول ہے۔ رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا کہ مسیح ابن مریمؑ ہرگز نہیں آئے گا اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مر گیا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٤ خزائن ج ٣ ص ٤٣٢، ٤٣١)
ان تمام حوالوں سے میری غرض یہ تھی کہ میں ثابت کروں کہ دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا قادیانی خاتم النبیین کے معنی وہی سمجھتے تھے جو تیرہ صد سالہ مسلمانوں نے سمجھے اور یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی تھا۔ اب مرزا قادیانی کا جو جدید عقیدہ ہوا ہے یہ آیت خاتم النبیین کے معنی کے صریح مخالف ہے۔ لہذا مرزا قادیانی باقرار خود کافر ہوئے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک کسی نبی کا آنا ختم نبوۃ کے منافی ہے۔ اب مرزا قادیانی باقرار خود کافر ہوئے۔ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٦١ خزائن ج ٣ ص ٥١١)
٤٠
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ اب اگر مرزا قادیانی نئے نبی ہیں تب بھی نہیں آ سکتے اگر پرانے نبی ہیں تو بھی نہیں آسکتے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے ۔
" وَ اَمَّا ذِكْرُ نُزُوْلِ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَمَا كَانَ بِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّحْمِلَ هٰذَا الْاِ سْمَ مَذْكُوْرٌ فِی الْاَحَادِيْثِ عَلٰى ظَاهِرِ مَعْنَاهُ لِاَنَّهُ يُخَالِفُ قَوْلَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ اِلَّا اَنَّ الرَّبَّ الرَّحِيْمَ الْمُتَفَضِّلَ سَمّٰى نَبِيَّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الْاَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ اسْتِثْنَاءِ وَفَسَّرَهُ نَبِيُّنَا فِیْ قَوْلِهٖ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ بِبَيَانٍ وَّاضِحٍ لِلطَّالِبِيْنَ وَلَوْجَوَّزْنَا ظُهُوْرَ نَبِيٍّ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَوَّزْنَا اِنْفِتَاحَ بَابِ وَحْيِ النُّبُوَّةِ بَعْدَ تَغْلِيْقِهَا وَهٰذَا خَلَفٌ كَمَا لَا يَخْفٰى عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ وَ كَيْفَ يَجِیْئُ نَبِيٌّ بَعْدَ رَسُوْلِنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ اِنْقَطَعَ الْوَحْيُ بَعْدَ وَفَاتِهٖ وَخَتَمَ اللّٰهُ بِهِ النَّبِيّٖنَ اَنَعْتَقِدُ بِاَنَّ عِيْسَى الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْاِنْجِيْلُ هُوَ خَاتَمُ الْاَنْبِيَا لَا رَسُوْلُنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَعْتَقِدُ اَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ يَأْتِيْ وَيَنْسَخُ بَعْضَ اَحْكَامِ الْقُرْاٰنِ وَيَزِيْدُ بَعْضًا. (حمامة البشریٰ ص ٢٠ خزائن ج ٧ ص ٢٠١-٢٠٠)
ترجمہ : یعنی عیسیٰ کے نزول کے بارہ میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو احادیث میں آیا ہے۔ ظاہری معنیٰ پر حمل کرے کیونکہ آیت ماکان محمد ابا احد الخ کے خلاف ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علیہ السلام کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور اس میں کسی کا استثناء نہیں کیا اور پھر اسی خاتم النبیین کی خود اپنے کلام میں تفسیر فرماتے ہوئے فرمایا لا نبی بعدی جو سمجھنے والوں کے لیے واضح بیان ہے۔ اگر ہم جائز رکھیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بند ہونے کے بعد کھل جائے اور آپؐ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے حالانکہ وحی نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کر دیا کیا ہم اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں اور وہی خاتم الانبیاء بنیں نہ ہمارے رسولؐ “ اس عبارت میں مجھے یہ کہنا ہے کہ خود مرزا قادیانی نے اقرار کیا ہے کہ آنحضرت نے خاتم النبیین کی تفسیر اپنی اس کلام میں فرمائی ہے کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک خاتم النبیین کی تفسیر لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ہے اور خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کسی نبی بروزی یا ظلی کی قید نہیں ہے تو اب لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے یہ معنی لینے کہ اس سے خاص وہ نبی مراد ہیں جو مستقل نبی ہوں اور آنحضرتؐ سے الگ ہو کر
٤١
نبوت حاصل کی ہو تو یہ معنی مرزا قادیانی کے نزدیک بھی غلط ٹھہرے۔ اب یہ معنی بیان کرنا ہرگز قابل پذیرائی نہیں۔ ان عبارتوں میں بعض وہ بھی ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح نزول آنحضرت کے بعد جائز رکھنا یہ خاتم النبیین کے ساتھ کفر ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا
(حقیقت الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥) مرزا قادیانی کہتا ہے ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں کہ یہ کفر ہے میں کہتا ہوں کہ تم ایمان سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔“ (چشمہ مسیحی ص ٢٤ خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤) انہی عبارتوں سے یہ امر بداہۃً ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی جدید یا قدیم نہیں آسکتا۔ جو شخص آپ کے بعد کسی نبی جدید یا قدیم کا آنا جائز رکھے وہ کافر ہے۔ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے معنی یہی ہیں۔ پھر اس کے بعد مرزا قادیانی نے خود رسالت کا دعویٰ کیا جیسے حقیقت الوحی کی عبارت سے ظاہر ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کا مدعی نبوت ہونا محتاج بیان نہیں۔ بکثرت عبارات موجود ہیں اور مدعا علیہ کو بھی اقرار ہے۔ مگر عجب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی پہلے یہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کا آنا اور کسی نبی کا نزول جائز رکھے وہ کافر ہے اور دعویٰ نبوۃ کے بعد وہ یہ کہتے ہیں کہ جو یوں کہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ کفر ہے اس لیے مرزا قادیانی اپنے کلام کی رو سے خود کافر ہوئے۔ شرح شفاء ملا علی قاری ص ٥٦١ جلد دوم میں ہے۔ وَكَذَلِكَ نَقْطَعُ بِتَكْفِيْرِ كُلِّ قَائِلٍ إِلَى قَوْلِهِ هَذَا الِاجْمَاعُ۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص ایسا کلام کرے کہ جس کی وجہ سے امت کی تضلیل و تکفیر ہو تمام صحابہ کی ہم ایسے شخص کو یقینی کافر سمجھتے ہیں۔ حاصل یہ نکلا کہ جو شخص ایسی بات کہے جس سے ساری امت کا گمراہ ہونا یا کافر ہونا لازم آئے ایسے شخص کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی۔ یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہی غلط ہیں۔ شاید ان کا ایسی باتوں سے یہ مطلب ہے کہ اس عاجز کے اس دعویٰ کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جائے لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے۔ اگر غیر قوموں کی تاریخ کے رو سے
٤٧
بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑے گا۔ جیسا کہ ہندوؤں کے بزرگوں رام چندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعے سے ہی ہم نے قبول کیا ہے۔ گو تحقیق تفتیش تاریخ واقعات میں ہندو لوگ بہت کچے ہیں۔ مگر باوجود اس قدر تواتر کے جو ان کی مسلسل تحریروں سے پایا جاتا ہے۔ ہرگز یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ رام چندر اور راجہ کرشن یہ سب فرضی نام ہے۔"
(ازالہ اوہام ص 555 خزائن ج 3 ص 399)
تواتر مرزا کے نزدیک بھی حجت ہے
مطلب یہ ہے کہ خود مرزا تسلیم کرتے ہیں کہ تواتر کی بات رد نہیں کی جاسکتی اور تواتر اگر غیر قوم کا بھی ہو تو مقبول ہے۔ اب اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی یہ عبارت "پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یکلخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیش گوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں۔ پھر موضوعات داخل کر دیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشینگوئی ایک اول درجہ کی پیشینگوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشینگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بہ باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ وقال الرسول کی عظمت باقی نہیں۔ اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات و ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٥٥٧ خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) ملائی جائے تو معلوم ہو گا کہ نزول عیسیٰ کی پیشگوئی ایسی متواتر پیشگوئیوں میں سے ہے جو خیر القرون میں تمام ممالک اسلامیہ میں پائی گئی تھی اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھی اور یہ اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا تھا اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی اس کے ہم پہلو بھی نہیں اور تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے اور انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ مگر مرزا کو جب اس کا انکار مطلوب ہوا تو کہنے لگے۔ فَمِنْ سُوْءِ الْاَدَبِ اَنْ يُّقَالَ اَنَّ عِيْسٰى مَا مَاتَ اِنْ هُوَ اِلَّا شِرْكٌ عَظِيْمٌ يَّأْكُلُ الْحَسَنَاتِ...... تا...... غَيْرَ مُتَعَمِّدِيْنَ.
(حقیقت الوحی ص ٣٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)
٤٣
ترجمہ: ”حاصل یہ ہے کہ یہ کہنا بہت بڑی بے ادبی ہے کہ عیسیٰ ابھی تک نہیں مرے اور یہ ایک بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا لیتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے بھائیوں کی طرح فوت ہو گئے اور اپنے اہل خانہ کی طرح مر گئے۔ یہ عقیدہ مسلمانوں میں نصاریٰ کی طرف سے آیا ہے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا اسی وجہ سے بنایا ہے۔“
اور پھر اسی عقیدہ کو بہت سا مال خرچ کر کے مسلمانوں میں شہروں اور گاؤں میں شائع کیا۔ اس لیے ان میں کوئی عقل مند نہیں تھا۔ پہلے مسلمانوں سے یہ قول صادر نہیں ہوا۔ مگر لغزش کے طور پر وہ لوگ اللہ کے نزدیک معذور اس لیے کہ وہ گنہگار تھے۔ مگر قصداً نہیں تھے اور اس خطا کی وجہ یہ تھی کہ وہ سادہ لوح آدمی تھے۔ اگر کوئی مجتہد خطا کرے تو خدا اس کی غلطی کو معاف کر دیتا ہے۔ ہاں جن کے پاس امام حکم اور بینات کے ساتھ آیا اور رشد کو گمراہی سے ممتاز کر دیا اور پھر بھی انہوں نے اعتراض کیا۔ وہ لوگ ماخوذ ہوں گے۔“ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩ خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠) پہلے مرزا نے اس پیشگوئی کو متواتر فرمایا اور تواتر کا یہی اعلیٰ درجہ فرمایا اور صحاح کی پیشگوئی اس کے ہم پہلو بھی نہ تھی۔ تمام مسلمانوں نے اسے قبول کر لیا تھا اور خیرالقرون میں یہ پیشگوئی پھیل بھی گئی تھی اور مرزا قادیانی بھی اس پیشگوئی میں شامل تھے۔ چونکہ براہین احمدیہ میں کھلے الفاظ میں نزول عیسیٰ کا اقرار کرتے ہیں۔ باوجودیکہ مجدد، محدث، نبی، ملہم اور خدا کی وحی نازل ہونے کے مرزا قادیانی اس عقیدہ کے معتقد رہے۔
مرزا قادیانی سے پہلے کے مجدد بھی اس عقیدہ کے معتقد تھے۔ کسی نے اس عقیدہ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔ اس جگہ پر مسئلہ حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے یہ بحث نہیں کہ کون حق پر تھے اور کون باطل پر؟ بلکہ زیر بحث یہ بات ہے کہ آج مرزا اس عقیدہ کو شرک عظیم بتلاتے ہیں اور ایک وقت تک اس عقیدہ کے رکھنے کی وجہ سے شرک عظیم میں مبتلا رہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ایک مجدد ایک محدث ایک ملہم ایک نبی جس پر بارش کی طرح وحی ہو۔ وہ شرک عظیم میں مبتلا رہ سکتا ہے اور خدا کے نزدیک اتنا مقرب ہو سکتا ہے؟ آگے چل کر تمام نبیوں سے اور تمام مخلوقات سے وہ بڑھا دیا جائے۔ چونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ. الخ اللہ تعالیٰ مشرک کو ہرگز نہیں بخشتا اور اس کے سوا جتنے گناہ چاہے بخش دے۔ مرزا قادیانی حیات عیسیٰ علیہ السلام کو شرک عظیم سے تعبیر کرتے ہیں۔ وعدہ الٰہی کے موافق ان کے معاف ہونا قطعاً محال ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ
٤٤
مرزا قادیانی کے اس قول کی بنا پر ساری امت گمراہ تھی اور ساری امت کافر اور مشرک تھی اور ابھی شرح شفا سے عرض کر چکا ہوں کہ جو شخص ایسی بات کہے جس سے ساری امت کی تضلیل و تکفیر ہوتی ہو۔ وہ شخص خود کافر ہے۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی بھی کافر اور مرتد ٹھہرے اور جو مرزا قادیانی کے کفر و ارتداد میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
نزول مسیح علیہ السلام کو شرک عظیم کہنا اسلام پر بڑا حملہ ہے
مرزا قادیانی کے اس قول سے اسلام پر اتنا بڑا حملہ ہوا ہے کہ اسلام کی ذرہ بھر بھی وقعت باقی نہیں رہ سکتی۔ جب مرزا قادیانی کے قول سے یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام میں ایسے عقائد شرکیہ اور کفریہ موجود ہیں کہ بطریق تواتر ثابت اور تمام ممالک اسلام میں پھیل کر مقبول ہو گئے اور سب نے قبول بھی کر لیا۔ اور کسی چھوٹے بڑے کو اس کی برائی کی خبر نہ ہوئی۔ تیرہ سو برس کے بعد آکر ٤٠ یا ٥٠ برس تک خود مرزا قادیانی اس میں مبتلا رہ کر اب یہ کہتا ہے کہ یہ عقیدہ شرک عظیم ہے۔ قرآن کی ایک آیت سے نہیں، بلکہ تیس آیت سے ثابت ہے اور اسی عقیدہ کو ممتنع اور محال عقلاً و نقلاً کہتا ہے اور یہ عقیدہ ایسا ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہوا۔ حالانکہ اس سے پہلے بہت مجدد آئے جن کا کام دین کی تجدید تھا۔ ان کو بھی شرک کی خبر نہ ہوئی۔ اگر مرزا تشریف نہ لاتے تو جیسے پہلے ساری امت معاذ اللہ شرک عظیم میں مبتلا تھی۔ آگے بھی شرک عظیم میں مبتلا رہتی۔ اب کیا معلوم کہ آئندہ کوئی مجدد اور رسول اللہ ﷺ کا بروز پیدا ہو کر ہمیں پچیس اور شرک ثابت کر دے۔ جب قرآن اور حدیث اور مذہب اسلام ایسا مذہب ہے۔ اس میں تیرہ سو سال تک شرک عظیم کا پتہ نہیں لگ سکتا تو ایسے مذہب کا اعتبار ہی کیا ہے۔
الاستفتاء میں فرماتے ہیں۔ ”مَنْ قَالَ مُتَعَمِّدًا خِلَافَ ذَالِكَ فَهُوَ مِنَ الَّذِينَ هُمْ بِالْقُرْآنِ يَكْفُرُوْنَ اِلَّا الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِيْ فَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ مَعْذُوْرُوْنَ“ یعنی جو شخص قصدًا اس کا خلاف کرے گا اور یہ کہے کہ
(الاستفتاء ص ٤٤ خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٦)
عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ تو وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قرآن سے کافر ہیں۔ ہاں جو مجھ سے پہلے گزر گئے ہیں۔ وہ اپنے اللہ کے نزدیک معذور ہیں“ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں ہے۔ تاکہ کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں۔ اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔“
(دافع البلاء ص ٢٣٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
٤٥
ان عبارتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزا نے ایسی بات کہی کہ جس سے تمام امت کا کافر اور مشرک ہونا بلکہ خود ان کا ٤٠ سال کی عمر تک مشرک اور کافر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اور جو شخص ایسی بات کہے وہ کافر۔ لہٰذا مرزا قادیانی اپنے قول سے ہی کافر ہو گئے۔
مرزا اپنے اقرار سے بھی کافر ہے
میں نے اپنی تقریر میں مرزا کا کفر اور ارتداد ثابت کیا ہے اور اس میں التزام کیا ہے کہ ہر بات مرزا کے اقرار سے ثابت کروں۔ بحمد اللہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنے حق کو ادا کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے اور حسب تصریحات علماء کرام کافر و مرتد ہیں۔
مرزا کے وجوہات کفر
- (١) ایک وجہ اُن کے کفر کی یہ ہے کہ دعویٰ نبوت تشریعیہ و شرعیہ کیا جو باتفاق
مرزا قادیانی کفر ہے۔ مرزا نے اپنے صریح کلام میں دعویٰ نبوت تشریعی کیا اور اس میں شریعت کی تفسیر بھی فرما دی۔ اگر ہمارے پاس صرف یہی وجہ ہوتی تو مدعیہ کی کامیابی کافی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ اور بھی بہت وجوہ بیان کی گئیں۔
- (٢) مرزا نے اقرار کیا کہ خاتم النبیین کے بعد مطلق نبوت منقطع ہے اور جو
دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور پھر مرزا نے دعویٰ نبوت کیا۔ لہٰذا باقرار خود کافر ہوئے۔
- (٣) مرزا نے یہ بھی کہا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی جدید یا قدیم نبی نہیں آ
سکتا اور اس کو قرآن کا انکار قرار دیا۔ حالانکہ خود دعویٰ نبوت کیا۔
- (٤) مرزا نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ختم نبوت کا انکار قرار دے کر اسے کفر
ٹھہرایا اور پھر اپنا نبی ہونا (کہ جو اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے معاذ اللہ ہر شان میں اعلیٰ اور افضل سمجھتے ہیں) جائز رکھا بلکہ ضروری، لہٰذا مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
- (٥) مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپؐ کا
خاتم النبیین ہونا آیت خاتم النبیین اور لا نبی بعدی سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا ہے کہ جو ایسا کہے کہ آپؐ کے بعد نبوت نہیں آسکتی۔ وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے بھی مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
- (٦) مرزا نے آنحضرت ﷺ کے بعد جواز نبوت کو کفر قرار دیا تھا۔ اب مرزا
٤٦
اسی نبوت کو فرض و ایمان قرار دیتا ہے۔ یہ اس سے بھی بڑھ کر کفر ہوا۔
(٧) مرزا نے باب نبوت کھول کر اپنے تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ یہ دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا۔ اس وجہ سے بھی کافر ہوئے۔
(٨) مرزا نے صرف یہ نہیں کہا کہ آنحضرتؐ کے بعد کوئی دوسرا نبی آئے گا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ہزار بار آنحضرتؐ خود بروز فرمائیں۔ گویا آنحضرتؐ کے بعد ہزاروں نبی واقع ہو سکتے ہیں۔ امکان ذاتی نہیں۔ بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر مرزا نے یہ کہا کہ آنحضرتؐ کی ایک بعثت پہلے تھی اور پھر بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حاصل تناسخ ہے اور تناسخ کا قائل کافر ہوتا ہے۔
(٩) مرزا کہتے ہیں کہ میں عین محمدؐ ہوں۔ اس میں آنحضرتؐ کی صریح توہین ہے۔ اگر واقعی عین ہیں تو کھلا ہوا کفر ہے اور یہ ایک توہین صدہا توہین اور استہزا اور تمسخر پر مشتمل ہے اور اگر عین محمد نہیں تو پھر آپ کے بعد دوسرا نبی ہوا اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی اور یہ اور وجہ کفر کی ہے۔
(١٠) مرزا نے دعویٰ وحی کا کیا۔ حالانکہ عبارات علماء سے ظاہر ہے کہ محض دعویٰ نبوت کفر ہے۔
(١١) مرزا نے دعویٰ وحی نبوت کیا۔ یہ بھی وجہ کفر ہے۔
(١٢) مرزا نے اپنی وحی کو قرآن۔ توریت۔ انجیل کے برابر کہا ہے۔ اس بنا پر قرآن آخر الکتب باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی ایک وجہ کفر کی ہے۔
(١٣) مرزا نے اپنی وحی کو متلو بھی فرمایا اور کہا کہ اگر اس کو جمع کیا جائے تو کم از کم بیس جزو کی ہو گی۔ یہ اور وجہ کفر کی ہے۔
(١٤) مرزا اپنے اقرار سے اور تمام علماء نے اس کی تصریح کر دی کہ جو شخص کسی نبی کو گالیاں دے یا توہین کرے۔ وہ کافر ہے۔ مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام کی اتنی وجوہ سے توہین کی۔ غالباً سو سے کم نہ ہو گی اور ہر توہین موجب کفر ہے اور کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا۔ (جن کی تعداد کو خدا ہی جانے۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ سوا لاکھ ہیں) جس کی مرزا نے توہین نہ کی ہو اور ہر نبی کی مرزا قادیانی نے توہین کی تو اس لحاظ سے اتنی تعداد کے دگنے برابر مرزا قادیانی کی وجوہ تکفیر ہو سکتی ہیں۔ اگر ہر ایک نبی کی دو دو توہین ہی سمجھ لی جائیں تو اتنی ہزار وجوہ کفر ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا جتنی توہین ہوئیں اتنی
٤٧
وجوہ سے مرزا قادیانی کافر ہوئے۔ مرزا قادیانی نے سرور عالمؐ کی توہین کی ہے یہ وجہ بہت بڑی کفر کی ہے۔
(١٥) مرزا نے احکام شرع کو بدلا۔ علمائے اسلام اور مرزا قادیانی کے اقرار سے نسخ شرع باطل ہے لہٰذا اس وجہ سے بھی مرزا کافر ہوئے۔ مرزا نے کہا کہ کسی مرزائی عورت کا غیر احمدی سے نکاح جائز نہیں۔ مرزا نے کہا کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ ”پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تم پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔“ مرزا نے کہا کہ جو مجھے نہ مانیں۔ وہ سب کافر ہیں۔ مرزا نے نفخ صور کا بالکل انکار کیا ہے۔ مرزا نے حشر اجساد کا انکار کیا جس طریق میں قیامت کی خبر قرآن وحدیث میں آئی ہے۔ اس سے بالکل انکار کیا۔ ہاں ظاہری لفظ وہی چھوڑے۔ مگر معنی دوسرے بیان کئے۔ یہ وجوہ بھی مرزا کے کفر کی ہیں۔
لہٰذا مسئلہ واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کافر بھی ہیں اور مرتد بھی اور ان عقائد کے معلوم ہونے کے بعد جو شخص مرزا کے کفر و ارتداد میں شک کرے۔ وہ بھی کافر ہے۔ کسی مسلمان مرد اور عورت کا نکاح کسی مرزائی مرد اور عورت سے جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا اور نکاح کے بعد کسی نے مرزائی مذہب اختیار کر لیا تو نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔ ورنہ اولاد، اولاد الزنا ہو گی اور نسب ثابت نہ ہو گا۔
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین (عربی)
تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ (اردو)
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!
مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے اشتہار شائع کئے۔ پھر براہین احمدیہ ١٨٨٠ء تا ١٨٨٤ء میں چار حصے شائع کئے۔ صفر ١٣٠٢ھ (دسمبر ١٨٨٣ء) میں قصور کے عالم دین حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے براہین احمدیہ سہ حصص اور اشتہار پڑھ کر اردو میں ایک رسالہ ’’تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہین‘‘ تحریر کیا اور اس کی نقل مرزا قادیانی کو بھیج کر اس سے توبہ کا تقاضہ کیا۔ مرزا قادیانی نے چپ سادھ لی تو مولانا قصوریؒ نے مولانا احمد بخش امرتسریؒ، مولانا نواب الدین امرتسریؒ، مولانا غلام محمدؒ امام شاہی مسجد لاہور، حافظ نور احمدؒ امام مسجد انارکلی لاہور، مولانا نور احمدؒ ساکن کھائی کوٹی ضلع جہلم، مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکیؒ سے اس رسالہ پر تقریظات تحریر کرائیں۔ جس میں مرزا قادیانی کا مدعی نبوت، مدعی الہام، ایسے دعاوی کو مبرہن کیا گیا اور اس کے عقائد کو اسلام اور اہل اسلام کے منافی قرار دیا گیا۔ علمائے کرام کے فتویٰ جات اور شرعی آراء آجانے کے بعد مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے مرزا قادیانی کو پھر دعوت اسلام دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے بھی نظر انداز کر دیا۔ تو مولانا نے شوال ١٣٠٣ھ جولائی ١٨٨٦ء میں تحقیقات دستگیریہ کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس کا نام ’’رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین‘‘ تجویز کیا۔ علمائے کرام کے فتوئے، مرزا قادیانی کی کتاب براہین کے متعلقہ حصے، اشتہار پر مشتمل دستاویزات تیار کر کے حرمین شریفین کے آئمہ ومفتیان سے فتوے طلب کئے۔ ١٣٠٥ھ (١٨٨٨ء) میں فتویٰ جات حرمین شریفین سے موصول ہو گئے۔ وہ فتاویٰ جات لے کر آپ امرتسر گئے۔ بعض رؤسا اور اسلامی درد رکھنے والے مؤثر حضرات کے ذریعہ مرزا قادیانی سے رابطہ کیا کہ اب بھی وقت ہے کہ آپ توبہ کر کے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیں۔ بعض رؤسا نے پھر مرزا قادیانی کو مباحثہ و مناظرہ کے لئے بلایا۔ لیکن وہ انکاری رہا۔ ایک بار موسم گرما کی تعطیلات میں مرزا قادیانی نے لاہور آنے کا وعدہ کیا۔ مولانا غلام دستگیرؒ وعدہ کے مطابق لاہور دس دن قیام پذیر
٢
رہے۔ لیکن مرزا قادیانی نہ آیا۔ ابتداء میں جب مولانا محمد حسین بٹالویؒ مرزا قادیانی کے متعلق مثبت رائے رکھتے تھے ان سے مباحثہ کے لئے طرح ڈالی۔ مولانا محمد حسینؒ نے بند کمرہ میں گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ لیکن مولانا غلام دستگیرؒ نے کہا کہ علماء کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے الہامات پر گفتگو ہوگی۔ مولانا بٹالویؒ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ ایک بار مرزا قادیانی کو امرتسر کے ایک رئیس کے ذریعہ مباحثہ کے لئے طلب کیا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ میری باتیں تصوف کی ہیں۔ صوفیاء کرام شریک مجلس ہوں۔ مولانا نے قبول کرلیا کہ صوفیاء کرام کے خاندانی تین علماء کو بلالیں۔ لیکن مرزا قادیانی پھر طرح دے گیا۔ اس کاروائی کے درمیان صفر ١٣٠٢ھ سے رمضان المبارک ١٣٠٨ھ (دسمبر ١٨٨٣ء تا اپریل ١٨٩١ء) تک مرزا قادیانی کی متعدد کتب و رسائل بھی سامنے آگئے۔ مرزا قادیانی کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ خود حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے مرزا قادیانی کی موافقت ترک کر کے اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی کی تین کتابیں توضیح المرام فتح اسلام ازالۃ الاوہام شائع ہونے پر مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے تلافی مافات کی اور فتویٰ حاصل کیا۔
سب سے پہلا فتویٰ تکفیر
الحمد للہ! فتنہ قادیانیت کا استیصال اتنی بڑی سعادت ہے کہ اب ہر مکتب فکر کے رفقاء اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی اولین سعادت حاصل کرنے، اعزاز پانے، کے لئے کوشاں ہیں۔ چنانچہ فیصل آباد کے مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی نے ”سب سے پہلا فتویٰ تکفیر“ کے نام سے کتاب شائع کی اور موقف اختیار کیا کہ علماء لدھیانہ سب سے پہلے مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر جاری کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا بہاء الدین نے ”تحریک ختم نبوت“ حصہ اول شائع کیا تو انہوں نے یہ سعادت علماء اہل حدیث کے کھاتہ میں ڈال دی۔ میرے ایسے مسکین کے لئے اس تناؤ میں کچھ عرض کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن دیانت داری سے ترتیب وار چند واقعات نقل کر دینے میں حرج بھی کوئی نہیں:
- ١............ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ سے بہت قبل حضرت شاہ عبدالرحیم
سہارنپوریؒ نے حکیم نورالدین کو کہہ دیا تھا کہ مرزا قادیانی سے بچنا۔ وہ ارتداد و الحاد اختیار کرے گا۔ آپ اس کے ساتھی بن جائیں گے۔
٣
- ٢........... حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو بھی مرزا
قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل متوجہ فرمایا۔
- ٣........... مرزا غلام احمد قادیانی کی براہین احمدیہ (١٨٨١ء سے ١٨٨٤ء تک) شائع
ہوئی۔ اس زمانہ میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ مرزا قادیانی کے وکیل صفائی تھے اور مرزا قادیانی کی تائید یا صفائی میں مولانا بٹالویؒ سے بعض ایسی باتیں بھی ہوئیں جو قطعاً غیر شرعی تھیں۔ اس زمانہ (١٣٠١ھ مطابق ١٨٨٣ء) میں مرزا قادیانی لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانویؒ مولانا عبداللہ لدھیانویؒ مولانا عبدالعزیز لدھیانویؒ نے مرزا قادیانی کے لتے لئے اور مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ اس سلسلہ میں فکرمند ہوئے۔ کوشش و کاوش کی۔ فتویٰ کے حصول کے لئے کوشش کی۔ اس کی تفصیل فتاویٰ قادریہ میں موجود ہے۔ یہ فتویٰ جون ١٩٠١ء (ربیع الاول ١٣١٩ھ) میں شائع ہوا۔
- ٤........... مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے صفر ١٣٠٢ھ (مطابق دسمبر ١٨٨٤ء) میں مرزا
قادیانی کے خلاف ”تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات البراہینیہ“ اردو اور اس کا عربی ایڈیشن ”رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین“ مرتب کر کے عرب و عجم کے علماء سے دستخط لئے۔ ١٨٨٣ء سے ١٨٨٧ء تک مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے یہ کام مکمل کرلیا۔ اس میں مولانا قصوریؒ نے مولانا بٹالویؒ کی مرزا قادیانی کی تائید پر سخت تنقید بھی کی۔ کتاب مرتب ہونے فتویٰ آجانے کے بعد مولانا قصوریؒ مرزا قادیانی کو توبہ کے لئے مباحثہ مناظرہ مباہلہ کے لئے بلاتے اور دعوت اسلام دیتے رہے۔ مایوس ہونے پر ١٣١٢ھ ١٨٩٦ء میں کتاب شائع کردی۔
- ٥........... مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے جس طرح ابتداء میں مرزا قادیانی کی تائید کی۔
١٨٩١ء میں مرزا قادیانی کی کتابیں توضیح المرام فتح اسلام ازالۃ اوہام کے آجانے کے بعد کروڑ گنا زیادہ شدت کے ساتھ مرزا قادیانی کی مخالفت کی۔ دن رات ایک کر کے مرزا قادیانی کا ایسا تعاقب کیا کہ مرزا قادیانی کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اسی زمانہ میں ہی مولانا نے فتویٰ مرتب کیا اور اسے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں قسط وار شائع کرنا شروع کردیا۔ بعد میں ایک ساتھ بھی شائع ہوا۔
توفیق و تطبیق
اگر واقعات کی ترتیب کو مدنظر رکھا جائے تو بڑی آسانی سے ترتیب و توفیق و تطبیق قائم ٤
ہوسکتی ہے۔ اس میں کسی قسم کا تخالف و تعارض نہیں رہے گا۔ نیز یہ کہ تمام مکاتب فکر اس سعادت کے حصول میں کسی سے پیچھے نہ رہیں گے۔
- ١........... مرزا غلام احمد قادیانی کے فتنہ سے قبل از وقت نور ایمانی سے اکابر دیوبند کو اللہ
رب العزت نے اس فتنہ کے خلاف متوجہ فرمادیا۔
- ٢........... علمائے لدھیانہ نے سب سے پہلے مرزا قادیانی کے خلاف ١٨٨٣ء میں
آواز حق بلند کی۔ اس کی پوری تفصیل فتاویٰ قادریہ میں مرتب شدہ موجود ہے۔ لیکن یہ فتویٰ ١٩٠١ء میں شائع ہوا۔
- ٣........... مولانا غلام دستگیر قصوریؒ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین کے ابتدائی حصے
دیکھتے ہی ’’تحقیقات دستگیریہ رجم الشیاطین مرتب کی۔ دسمبر ١٨٨٣ء میں ہی یہ کتاب مرتب ہو کر امرتسر‘ لاہور‘ پٹنہ کے علماء کے دستخط ہو گئے۔ ١٨٨٧ء میں حرمین شریفین کے علماء سے فتویٰ حاصل کیا۔ گویا یہ سب سے پہلی تحریری جدوجہد یا نقش اول اسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ تحریر صفر ١٣١٢ھ اگست ١٨٩٤ء میں شائع ہوئی۔
- ٤........... اس دوران میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے علماء سے فتویٰ لے کر ١٨٩١ء -
میں اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں شائع کرنا شروع کر دیا تھا۔
غرض اس طرح قدرت نے ان تمام حضرات کو فتنہ قادیانیت کے خلاف کمر بستہ کر دیا تھا۔ سب سے پہلے فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش علماء لدھیانہ کی ہے۔ سب سے پہلے فتویٰ حاصل کرنے میں کامیاب مولانا غلام دستگیر قصوریؒ ہوئے۔ سب سے پہلے فتویٰ شائع مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا ہوا۔ اپنی طرف سے تمام حضرات کی محبت و بغض سے خالی ہو کر فقیر کی اس وقت تک یہ رائے قائم ہوئی ہے۔
اب آپ مولانا غلام دستگیر قصوریؒ کی کتاب جس کے عربی حصہ کا نام ’’رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین‘‘ اور اردو حصہ کا نام ’’تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہینیہ‘‘ ہے ملاحظہ فرمائیں۔ فقیر اللہ وسایا!
☆...........☆ م
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده و على اله و صحبه الذين راعو عهده .................. اما بعد فان مرزا غلام احمد القاديانى الفنجابي من العلماء الغير المقلدين الف كتابا با لغته الهندية فى اظهار حقيقة الاسلام لفرق غيرالاسلامية وسماه بالبراهين الاحمدية على حقيقة كتاب الله القرآن والنبوة المحمدية وطبع حصه الاربعه فى بلدة امر تسر وادعى فى الحصة الثالثة منه ان الهام لكامل من الاولياء يكون مفيدله للقطع و اليقين و مرادفاً لوحى بالرسالة باتفاق السواد لاعظم من العلماء كما ان اصل عبارته الهندية هذه علماء اسلام وحی کو خواہ وحی رسالت هو يا كسى دوسرے مومن پر وحی الہام نازل ھو الہام کی تعبیر کرتے (ص ٢٢٠) جبكه سواد اعظم علما کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ھے (ص ٢٢١) خلاصه كلام يه هے كه الهام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ھے جس کا وجود افراد امت محمدیہ میں ثابت ھے. (ص ٢٤٤) ثم اعلن فى الاشتهار المطبوع عشرين الفا انه الف هذا الكتاب بالهام الله تعالى وبامره لغرض اصلاح الدين و تجديده وانه ظهر صدق الدين الاسلام بصدق الهامات والخوارق و كرامات والاخبار عن الغيبات والاسرار اللدنية والكشوف الصادقات والادعية المستجابات التى اشهد عليها اكثر اكابر الهند وغيره
بسم الله الرحمن الرحيم!
حمد وصلوٰۃ وسلام! کے بعد واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو علماء غیر مقلدین سے ہے غیر اسلامی فرقوں پر دین اسلام کی حقیقت کے ظاہر کرنے کی غرض سے اردو زبان میں ایک کتاب تالیف کی اور اس کا نام ’’براهين احمديه على حقيقت كتاب الله القرآن والنبوة المحمديه ،‘‘ رکھا اور چاروں حصے اس کے شہر امرتسر میں چھپوائے اور اس کے تیسرے حصے میں دعوٰی کیا کہ کامل ولیوں کا الہام قطع اور یقین کا مفید ہوتا ہے اور باتفاق سواد اعظم علماء کے وحی رسالت کا مترادف ہے۔ چنانچہ اصلی عبارت اس کی رسالہ عربیہ میں منقول ہے۔ پھر بیس ہزار قطعہ اشتہار کا بدین مضمون چھپوا کر شائع کیا کہ ’’کتاب براہین احمدیہ‘‘ جس کو خدا کی طرف سے مؤلف (مرزا قادیانی) نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے اور اس نے ........... اپنے الہامات وخوارق وکرامات واخبار غیبیہ واسرار لدنیہ وکشوف صادق ودعائیں
٥
يتبع ادرجها ............ كتابه البراهين الاحمديه و انه يقيناً و ان كمالاته شدة مشابهة بكمالات مسيح بن مريم و انه نموزج الخواص من الرسل والانبياء وله فضيلة على اكثر اكابرالاولياء الماضين ببركة متابعة سيد المرسلين صلى الله عليه وسلم واتباع اثاره موجب للنجاة والسعادة والبركة و مخالفة سبب البعد والحرمان يعنى من رحمة الرحمن و دلائل هذه الدعاوى تظهر بتلاوة كتابه البراهين الذى طبع خمس و ثلثون جزءاً منه يعنى الحصص الاربعة التى ادنى قيمتها خمس و عشرون ربية ثم قال وان احدا من الناس لا يحضر عند نا لحل عقده بصدق طلبه و قلبه بعد هذا الاشتهار فاتممنا الحجة عليه هو عند الله مسئول منه هذه ترجمة عبارات ذلك الاشتهار و كتب فى اخره المشتهر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب مطبوعه ریاض هند پریس امرتسر پنجاب انتهى فبسببه هذا الترغيب اشترى كتابه
مستجاب کے راست ہونے سے دین اسلام کی راستی وصدق ظاہر کیا ہے اور ان خوارق وغیرہ پر آریہ وغیرہ شاہد ہیں۔ جس کا ذکر تفصیل وار کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے اور مصنف کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے بشدت مشابہ ہیں اور اس کو خواص انبیاء ورسل کا نمونہ بنا کر برکت متابعت آنحضرت ﷺ کے بہت سے اکابر اولیاء وما تقدم پر فضیلت دی گئی ہے اور مصنف کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت ہے اور اس کی مخالفت سبب بعد وحرمان کا ہے (یعنی حق تعالیٰ کی رحمت سے) ثبوت اور دلائل اس کے براہین احمدیہ کے چاروں حصص مطبوعہ کے پڑھنے سے جو ٣٧ جزو ہے ظاہر ہوتے ہیں (اور ادنیٰ قیمت اس کی پچیس روپیہ مقرر ہے) پھر اسی اشتہار میں درج ہے کہ اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے۔ جس کا خدا تعالیٰ کے رو برو اس کو جواب دینا پڑے گا۔“ الخ المشتهر مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر پنجاب انتہاء ملخص
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤ تا ٢٥)
پس اس اشتہار کی ترغیب کے سبب صدہا اہل اسلام نے اس کی کتاب خریدی۔ چنانچہ پنجاب و ہندوستان وغیر ہما میں وہ کتاب بہت مشہور ہوئی۔ اس کے تیسرے چوتھے حصہ میں مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سی آیات قرآنی و عبارات عربیہ اس پر الہام ہوتی ہیں۔ جیسا کہ
٦
كثير من الناس و شاع و اشتهر فى اكناف الفنجاب الهند شيوعاً كثيراً وهوادعى فى ذلك الكتاب انه يلهم عليه ايات القرآن كثيرة ومتواترة من الله تعالى والعبارات العربية ايضا كما صرح به فى ص ٤٨٥ و صرح بان اكثريات فضائل الانبياء انزل عليه يخاطبه الله تعالى بها و هو المراد منها و غالب الملهمات بل جميع ما يوحى اليه غاية نعته التى تترشح منها وصوله الى درجة الانبياء والمرسلين بل يفهم و يلزم ترقيه فى بعض ماانزل اليه من النبيين فنعوذ منه برب العلمين كما سنذكر نبذا من القسمين ههنا هدية للناظرين ونردهما ابتغاء لمرضات ملك يوم الدين وارضاء لجناب سيد المرسلين صلوات الله عليه و عليهم اجمعين اما نموزج القسم الاول من الالهامات التى يزعمها مولف البراهين الهامات كاملة و مثل وحى الرسالة فهذه (١) يا احمد بارک الله فیک (٢) مارمیت اذرمیت ولکن الله رمی (٣) لتنذر قوما ما انذر اباؤهم (٤) ولتستبين سبيل المجرمين (٥) قل انی امرت وانا اول المومنين (٦) قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا (٧) قل ان افتريته فعلی اجرامی (٨) وما انت بنعمة ربك بمجنون (٩) قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی
صفحہ ٤٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٧ میں لکھا ہے۔ اور یہ بھی صاف دعویٰ کیا ہے کہ اکثر آیات فضائل انبیاء اس پر نازل ہوتی ہیں۔ اور ان آیات سے اللہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کیا ہے۔ اور ان خطابات سے وہی مراد ہے۔ اور اکثر الہامی باتیں بلکہ سب کی سب جو اس پر وحی ہوئی ہے۔ پرلے درجہ کی اس کی تعریف ہے۔ جسے نبیوں کے مرتبہ کو اس کا پہنچ جانا نکلتا ہے۔ بلکہ بعض ملہمات سے اس کی انبیاء سے ترقی اور تعلی سمجھ میں آتی ہے۔ والعیاذ بااللہ من ذالک!
جیسا کہ دونوں قسم کے ملہمات کا ہم نمونہ ناظرین کے ملاحظہ کے واسطے ذکر کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اور جناب رسول خدا ﷺ کے راضی کرنے کی نیت سے ہم ان کا رد لکھتے ہیں۔ پہلے قسم کے الہامات کا نمونہ جس کو براہین احمدیہ کا مؤلف (مرزا قادیانی) کامل الہام اور وحی رسالت کی مانند جانتا ہے یہ ہے ان آیات اور عربی فقرات کا ترجمہ:
١....... اے احمد! اللہ نے تجھ میں برکت دی۔٢....... تم نے کنکر نہیں پھینکے۔ جب پھینکتے تھے۔ لیکن خدا نے پھینکے تھے۔ ٣....... تو ڈراوے ان لوگوں کو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے۔ ٤....... اور تا کہ ظاہر ہو گنہگاروں کا راستہ۔ ٥....... تو کہہ دے میں مامور ہوں اور اول ایمان لاتا
٧
یحییکم اللہ (ص ٢٣٨ و ٢٣٩) (١٠) انا کفیناک المستھزئین و (١١) قل اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون (١٢) یریدون ان یطفوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (١٣) اذا جاء نصر اللہ والفتح (١٤) ھذا تاویل رویای من قبل قد جعلھا ربی حقا (ص ٢٤٠) (١٥) قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون (١٦) ولن ترضی عنک الیھود ولا النصاری (١٧)و قل رب ادخلنی مدخل صدق (١٨) انا فتحنا لک فتحا مبینا (١٩) و وجدک ضالا فھدی (ص ٢٤١) (٢٠) قلنا یا نار کونی بردا وسلاماً علی ابراھیم (٢١) یایھا المدثر قم فانذر وربک فکبر (٢٢)وامر بالمعروف و انہ عن المنکر (ص ٢٤٢) ثم قال فی (ص ٤٨٦) نزل علی ھذا الالھامات (٢٣)بورکت یا احمد وکان لمبارک اللہ فیک حقا فیک و فی (ص ٤٨٩) (٢٤) انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی وقال فی ترجمۃ ان اللہ تعالیٰ قال لہ ھذا وقال المولوی فیض الحسن السھارنفوری احد مشاھیر علماء الھند ان مولف البراھین ادعی ان منکرہ منکر التوحید انتھی فی (ص ٤٩١)
ہوں ان الہاموں پر۔ ٦..... تو کہہ حق آگیا اور جھوٹ نابود ہوا۔ جھوٹ نابود ہی ہونے والا ہے۔ ٧..... تو کہہ اگر میں افتراء کرتا ہوں یعنی خدا پر پس مجھ پر گناہ ہے۔ ٨..... اور تو اپنے رب کی نعمت سے دیوانہ نہیں۔ ٩..... تو کہہ دے اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ خدا تم سے محبت کرے گا۔ (براہین احمدیہ ص ٢٣٨‘٢٣٩ خزائن ج١ ص ٢٦٢‘٢٦٣) سے یہ نو الہام منقول ہوئے ہیں۔
پھر ص ٢٤٠ خزائن ج١ ص ٢٦٥ میں یہ پانچ الہام درج ہیں۔ جن کا ترجمہ یہ ہے:
١٠..... ہم مسخری کرنے والوں سے تیرے لئے کافی ہیں۔ ١١..... اور تو کہہ دے تم اپنی جگہ عمل کرو میں بھی عمل کرتا ہوں۔ جلد تم معلوم کرلو گے۔ ١٢..... وہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے بجھاویں اور خدا اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔ اگرچہ کافر نہ پسند کریں۔ ١٣..... جب آگئی نصرت اور فتح خدا کی۔ ١٤..... یہ میری پہلی خواب کی تاویل ہے جس کو خدا نے سچ کر دیا ہے۔
پھر ص ٢٤١ خزائن ج١ ص ٢٦٦ میں یہ پانچ الہام لکھے ہیں:
١٥..... تو خدا کا نام لے ۔ پھر ان کو چھوڑ دے ان کو اپنی بک بک میں کھیلا کریں۔ ١٦..... اور ہرگز نہ راضی ہوں تجھ سے یہود اور نصاریٰ ۔ اور تو کہہ خداوند مجھے راستی کی جگہ داخل کر۔ ١٨..... ہم نے تیری فتح کر دی ہے۔ ظاہر فتح ۔ ١٩..... اور تجھے گمراہ پا کر راستہ دکھلایا۔
٨
(٢٥)اذاجاء نصر الله والفتح و تمت كلمة ربک هذا الذى كنتم به تستعجلون و قال فى ترجمة خاطبنی الله تعالى بانه اذا یجئ المدد وفتح الله تعالى و يتم کلام ربک يخاطب الكفار بهذا الخطاب اى هذا الذى كنتم به تستعجلون انتهى بترجمة كلامه و فى (ص ٤٩٣) ادعى انه الهم اليه (٢٦)دنى فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی وفى (ص ٤٩٤) صرح بانه خوتب بهذه الفقرات يا ادم اسکن انت وزوجک الجنه يا مريم اسكن انت و زوجک الجنة يا احمد اسكن انت و زوجک الجنة نفخت فيک من لدنی روح الصدق وقال فى ترجمتها ان المراد من ادم و مريم و احمد نفسه و من الزوج رفقائه و من الجنة وسائل النجاة انتهى ثم قال فى (ص ٥٠٣) انه الهم اليه (٢٨) انک علی صراط مستقیم (٢٩) فاصدع بما تومر و اعرض عن الجاهلين و فى (ص ٥٠٤) (٣٠) تالله لقد ارسلنا الى ام من قبلک فزين لهم الشيطان وقال فى ترجمة ان المراد من كاف الخطاب نفسه والمراد من المرسلين اولياء الامة انتهى و فى هذه الصفحة ادعى انه الهم اليه (٣١) سبحان الذى اسرٰے بعبده ليلاً و فى (ص ٥٠٦) صرح بانه الهم اليه (٣٢) و اذا
پھر ص ٢٢٢ خزائن ج ١ ص ٤٢٧ میں یہ تین الہام ہیں:
٢٠......ہم نے کہا اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا ابراہیم پر ۔٢١......اے لحاف پوش کھڑا ہو جا اور ڈرا اپنے رب کی تکبیر کہہ ۔٢٢......اور نیکی کا حکم کر اور گناہ سے روک ۔
پھر ص ٤٨٦ خزائن ج ١ ص ٥٧٩ پر کہا ہے کہ مجھ پر یہ الہام بھی نازل ہوئے ہیں :
٢٣......اے احمد ! تجھ کو خداوند کریم نے برکت دی جو تیرا حق تھا ۔
پھر ص ٤٨٩ خزائن ج ١ ص ٥٨١ پر کہا ہے کہ :
٢٤......تو مجھ سے میری توحید اور تفرید کے مرتبہ میں ہے ۔
مولانا فیض الحسن مرحوم سہارنپوری نے اپنے عربی اخبار شفاء الصدور میں لکھا ہے کہ مؤلف براہین (مرزا قادیانی ) نے اس الہام میں دعویٰ کیا ہے کہ میرا منکر خدا کی توحید کا منکر ہے ۔
پھر براہین احمدیہ ص ٤٩١ خزائن ص ٥٨٤ میں یہ الہام لکھا ہے کہ :
٢٥......’’جب خدا کی مدد آ گئی اور فتح اور تیرے رب کی بات پوری ہو گئی ۔ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے ۔‘‘ اور ان فقرات آیات کا ترجمہ براہین کے ص ٤٩١ کی سطر ١٨ و ١٩ میں یوں لکھا ہے کہ : ’’جب مدد اور فتح الٰہی آئے گی اور تیرے رب کی بات پوری ہو جائے
١١
سئلک عبادی عنی فانی قریب الایۃ (٣٣) وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین وفی (ص ٥١٠) (٣٤) لعلک باخع نفسک الایکو نوامومنین (٣٥)ولا تخاطبنی فی الذین ظلمو انہم مغرقون (٣٦) یا ابراھیم اعرض عن ھذا (٣٧)انہ عبد غیر صالح (٣٨) انما انت مذکر و ما انت علیھم بمسیطر وادعی فی ترجمۃ ھذہ الملہم ان المخاطب بھذہ الایات نفسہ انتھی و فی (ص ٥١٧) ادعی انہ الھم الیہ (٣٩) یا احمد فانت ترجمۃ علی شفتیک (٤٠) انا اعطیناک الکوثر فصل لربک والنھر (٤٢) ووضعناعنک وزرک الذی انقض ظھرک ورفعنا لک ذکرک و صرح بان ھذہ الایات انزلت علیہ مثل السابقات ثم قال فی (ص ٥٥٦) انہ الھم الیہ (٤٣) یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ وادعی بعد ترجمۃ ھذہ الایۃ انہ ھو المراد من لفظ عیسی ایضاً و ایضاً فی (ص ٥٥٦) (٤٤) قل عندی شھادۃ من اللّٰہ فھل انتم مومنون وادعی فی ترجمۃ ھذالالھام ان المراد من الشھادۃ من اللّٰہ یہی التائیدات الالھیۃ والاطلاع علی المعارف گی تو کفار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔‘‘
انتہاء بلفظہ!
پھر براہین احمدیہ ص٤٩٣‘ خزائن ص٥٨٦ میں اپنے لئے یہ الہام لکھا ہے:
- ٢٦......’’دنی فتدلی‘‘ پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا ’’فکان قاب قوسین
او ادنیٰ‘‘ پس ہوا قدر دو کمانوں کا یا اس سے بہت نزدیک۔‘‘
پھر ص٤٩٦‘ خزائن ص٥٩٠ میں اپنے لئے ان الہامات کا دعویٰ کیا ہے کہ:
- ٢٧......’’اے آدم! تو اپنی زوجہ سمیت بہشت میں رہ۔ اے احمد! تو اپنی زوجہ کے
ساتھ بہشت میں مکان پکڑ۔ پھر مراد اس کی یوں لکھتا ہے۔ اے آدم اے مریم اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ انتہاء بلفظہ!
پھر ص٥٠٣‘ خزائن ص٥٩٩ میں اپنے لئے یہ الہام درج کئے ہیں:
- ٢٨......’’بے شک تو صراط مستقیم پر ہے۔٢٩......خدا کے حکم کو ظاہر پہنچا اور جاہلوں سے
روگردانی کر۔‘‘
١٠
والحقائق الالهية والاسرار الغيبية والاعلام على الوقائع الاتية قبل وقوعها واجابة الادعية والالهام فى الالسنة المختلفة فان كل هذه شهادة الله فى حقه فتجب على المومنين قبوله و تصديقه انتهى بترجمة كلام و فى (ص ٥٦١) و ٥٦٢) (٣٥) قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مومنين و عنى ان ملهماته نور من الله ففى انكارها زوال الايمان انتهى وايضا فى هذين الصفحتين (٣٦) ففهمناها سلیمان (٣٧) فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلے و عنى من سليمان و ابراهیم فى هذين الايتين نفسه كما صرح بان الله تعالى امر الناس باتباع اثر قدم ابراهیم یعنی مولف البراهين لان الطريقه المحمدية فى هذه الايام اشتبهت على اكثر الناس و بعضهم يتبعون محض الظاهر مثل اليهود وبعضهم ضلوا الى عبادة المخلوق مثل المشركين فعليهم ان يعلموا الطريقة الحقه منه) اى من مؤلف البراهين و يتخذوه سبيلا هذه ترجمة كلام و اخر كتابه ملخص ومرامه الاظهر من هذه سبع و اربعين الايات القرانية والفقرات العربية التى ادعى صاحب البراهين انها الهمت عليه و اوحيت اليه ان هذا المدعى اثبت لوازم الرسالة و جزا من النبوة لنفسه كما يدعى ايقن اولا
پھر ص ٥٠٢ خزائن ص ٦٠٠ میں آیت کا الہام لکھا ہے اور ترجمہ اس کا خود کیا ہے:
- ٣٠......”ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے امت محمدیہ میں کئی اولیاء
کامل بھیجے۔ پر شیطان نے ان کی توابع کی راہ کو بگاڑ دیا......الخ ۔“ انتہاء بلفظہ!
اب ظاہر ہے کہ کاف خطاب جو آنحضرت ﷺ کی طرف راجع تھا۔ اسی براہین والے نے اپنا نفس مراد رکھا ہے اور رسولوں سے اولیاء امت ارادہ کئے ہیں۔ اور اسی صفحہ میں اپنے لئے آیت کا الہام بھی لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ کرتا ہے کہ:
- ٣١......”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سفر کرایا۔ یعنی
ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے۔ مقامات معرفت اور یقین تک لدنی طور سے پہنچایا۔“ بلفظہ ۔
پھر صفحہ نمبر ٥٠٦ خزائن ص ٦٠٣ میں ان دونوں آیتوں کا اپنی طرف الہام ہونا ظاہر کرتا ہے۔ جن کا ترجمہ خود یہ لکھتا ہے کہ:
- ٣٢......”اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں
٩
بخلاف اهل السنة ان الهام الاولياء و وحى الرسالة مترادفان و الالهام يكون قطعيا و ايقن ثانياً بان المضامين التى تجب تبليغها انزلت عليه وهو مامور بالا نذار والابشار للناس بان من كان يحب الله فيتبعه يحببه الله وان قبول ملهماته فرض عليهم و انكارها منهى عنه فمن امن به فهو مؤمن و من انكر فهو من الكافرين كما هو مفاد الالهام الاربع والاربعين و الخامس والاربعين اعنى قل عندى شهادة من الله فهل انتم مومنون و قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مومنين وما معنى الرسالة والنبوة الا الاتصاف بهذه الفضيلة العظيمة وما مفاد الشركة بالانبياء فى خصائصهم الا التشرف بهذه المزية الكبرى مع انه اراد لنفسه من الخطابات التى خاطب بها الله سبحانه و تعالى فى القرآن المبين انبياءه من سيد المرسلين وسائر النبيين صلوة الله عليهم اجمعين فليس هذا الا الالحاد فى آيات الله بداهة والتحريف المعنوى لكلام الله صراحة فان قلت انه يعد نفسه من تابعى الرسول الكريم عليه الصلوة والتسليم و يثبت هذه الفضائل لنفسه ببركة تلك المتابعة بالظلية كما صرح به فى الاشتهار المذكور نقله نزدیک ہوں دعا کرنے والے کے۔ دعا قبول کرتا ہوں ۔‘‘٣٣......’’اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔‘‘ انتہاء بلفظہ۔
پھر صفحہ ٥١٠ خزائن ص ٦٠٨ میں چند آیات قرآنی اپنے حق میں نازل کر کے ان کا خود ترجمہ یوں لکھتا ہے:
٣٤......’’کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے ۔٣٥......اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔ وہ غرق کئے جائیں گے۔٣٦......اے ابراہیم اس سے کنارا کر۔ یہ صالح آدمی نہیں۔٣٧......تو صرف نصیحت دہندہ ہے۔٣٨......اور نہ تو ان پر نگہبان ہے۔ چند آیات جو بطور الہام القاء ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں۔ یعنی مراد غرق کئے گئے اور غیر صالح سے بعض خاص لوگ ہیں۔‘‘
پھر صفحہ ٥١٧ خزائن ص ٦١٧ میں بعض آیات قرآنی کا اپنے لئے نازل ہونا قرار دے کر ترجمہ ان کا یوں لکھا ہے:
٣٩......’’اے احمد! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی۔٤٠......ہم نے تجھ کو معارف کثیرہ عطا فرمائے ہیں۔٤١......اس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔٤٢......اور ہم نے تیرا
١٤
فيما سبق و ايضاً اقر فى عدة مواضع من كتابه انه مورد حديث علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل فكيف يظن فى حقه يثبت الرسالة و النبوة لنفسه الاترى انه يدعى بفضيلته على الاولياء وما قال قط انه من الانبياء قلت من المعلوم ان صاحب البراهين الف كتابه فى مقابلة النصارى واليهود و غيرهما من عبدة الاصنام يظهر عليهم صداقت الدين الاسلام فما ذكر فيه من انه منعوت بنعوت الانبياء فى آيات القرآن فهو متصف بخصائص الرسل على لسان الفرقان و ينزل عليه الايات لا فائدة فى هذه الحكايات لان من لم يومن بالقرآن فكيف يصدق بهذا البيان و يعده من عظيم الشان تعلم ان غرضه الاصلى من هذ اظهاره على المسلمين بانه افضل الاولياء و نموذج الانبياء و ان قاديانه مهبط الوحى كبيت العتيق واللّٰه تعالى امر الناس بان يقصدوه من كل فج عميق ومن لم يحضره بعد هذا الاشتهار المبين فيسئله يوم القيمة اسرع الحاسبين كما مر نقله وامثال هذه الدعاوى ما صدرت من اكابر الصحابة سيما الخلفاء الراشدين واهل البيت والتابعين الذين هم افضل الامة باليقين فهل هذا الا اثبات مساواة صاحب البراهين بالانبياء والمرسلين وان لم يقل بلسانه انه من المرسلين خوفا
بوجھ اتار دیا ۔ جو تیری کمر توڑ دے اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیا ہے ۔‘‘ انتہاء بلفظہ!
پھر صفحہ ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٢ میں ایک آیت اپنے لئے وارد کر کے صفحہ ٥٥٧ خزائن ص ٦٦٣ میں اس کا یوں ترجمہ کیا ہے:
- ٤٣...... ’’اے عیسیٰ! میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا اور اپنی طرف
اٹھاؤں گا۔ اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک فائق رکھوں گا۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی عاجز مراد ہے‘‘۔ انتہاء ملخصاً ۔
نیز صفحہ ٥٥٥ میں فقرہ عربیہ کا الہام لکھ کر اس کا ترجمہ صفحہ ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٣ میں یوں کرتا ہے کہ:
- ٤٤..... ’’میرے پاس خدا کی گواہی ہے ۔ پس کیا تم ایمان نہیں لاتے ۔ یعنی خدا تعالیٰ
کا تائیدات کرنا اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائق الہیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے ۔ جس کو قبول کرنا ایمان داروں کا فرض ہے ۔‘‘ انتہاء بلفظہ!
١٥
من بلوى المسلمين لكن ينزل عليه فاصدع بماتؤمر واعرض عن الجاهلين لعلک باخع نفسک ان لايكونوا مؤمنين قل انى امرت وانا اول المؤمنين. قل جاء کم نور من الله فلا تكفر وان كنتم مؤمنين و معهذا قد صرح فى ذلک الاشتهار انه نموزج الانبياء والرسل كما نقل سابقاً من اشتهاره والظاهر ان نموزج الشئى يكون عين ذلک الشىء لانه معرب نمونه و يقال فى الفارسية مشتى نمونه خروار يعنى ان قليل من البر مثلا نموذج الكر فثبت من هذا الدعوى كون صاحب البراهين من الرسل والانبياء باقراره فى اشتهاره فليس هذا الا المثيلة لا الظلية وايضاً قال ص ٥٠) من براهينه انه الهم اليه هذه الفقرة جرى الله فى حلل الانبياء و فسرها بان منصب الارشاد والهداية وكون مورد وحى الالهية يكون فى الاصل حلة الانبياء و يحصل لغير هم بالطريق المستعار انتهى فتحقق بتصريحه ان ورود الوحى من الله تعالى من خواص الانبياء فلما اثبت هذه الخاصة لنفسه فقد اثبت النبوة لها بوصفه واما قوله و هذه الحلة يستعار لغير هم فباطل لان منصب ورود وحى الرسالة لا يحصل لغير الرسل
پھر صفحہ ٥٦١ میں آیت قرآنی اپنے لئے نازل کر کے ترجمہ اس کا صفحہ نمبر ٥٦٢ خزائن ص ٦٧٠ میں یوں لکھتا ہے کہ:
٤٥......’’کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے۔ سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔‘‘ انتہاء
بلفظہ !
پھر صفحہ ٥٦١ خزائن ص ٦٧٠ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق کی آیات اپنے لئے نازل کر کے صفحہ ٥٦٢ خزائن ص ٦٧٠ میں تصریح کرتا ہے کہ مراد ان سے میں ہوں۔ چنانچہ اصل عبارت اس کی یہ ہے کہ:
٤٦......’’وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو۔ ٤٧...... سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو۔ یعنی رسول کریم کا یہ طریقہ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں یہ طریقہ خداوند کریم کے اس عاجز بندہ سے دریافت کر لیں اور اس پر چلیں ۔‘‘ انتہاء بلفظہ !
یہ خاتمہ اس کی کتاب یعنی چوتھے حصے کا ہے۔ پس ان سنتالیس الہامات سے جو اکثر آیات قرآنی اور بعض فقرات عربیہ ہیں جن کو مؤلف براہین احمدیہ نے اپنے لئے الہام اور وحی
١٢
والانبياء والهام الا ولياء لايكون تراد فابوحى الرسالة فانه يكون محفوظا بحفاظة الملائكة بحيث يحصل منه الاطلاع الذى لا يجرى فيه الالتباس والاشتباه قطعا ولا يكون فيه احتمال الخطاء اصلاً فمن ثم يجب على المكلفين قبوله والايمان به ومن انكره فقل كفر بخلاف الهام الاولياء فانه وانكان يحصل منه العلم ببعض حقائق الذات والصفات او الوقائع الكونية ولكن لا يرتفع منه الالتباس والاشتباه بجميع الوجوه فيبقى احتمال الخطاء فيه ولهذا لا يتحقق التكليف العام عليه كما صرح به فى تفسير فتح العزيز وغيره تحت قوله تعالى عالم الغيب فلا يظهر على غيبه احدا الامن ارتضى من رسول فانه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصداً على ماهو اعتقاد اهل السنة والجماعة ومنشاء غلط صاحب البراهين و غيره من غير المقلدين فى جعل الالهام حجة قطعية مثل الرسالة وحى قصة الهام خضر مع موسى و واقعة الهام اُمّ موسى على نبينا و عليهم السلام بابقائه فى اليم كما هو منصوص القران الكريم وقوله ان خضرلم يكن نبينا كما فى (ص ٥٤٨) من كتابه السقيم جهل عظيم لتصريح علماء العقائد و غيرهم بان خضر كان نبياً عند الجمهور من العلماء الربانيين والقران قرار دیا ہے۔ بخوبی ظاہر ہے کہ اس شخص نے لوازم رسالت اور خواص نبوت اپنے لئے ثابت کئے ہیں۔ چنانچہ انبیاء سے اپنا مراد ہونا اور اپنی تصدیق کو ایمان اور اپنے انکار کو کفر سے تعبیر کرنا وغیرہ ذالک جو ان الہامات سے صراحتاً ظاہر ہے۔ کیونکہ اول اس نے برخلاف اہل سنت اس پر یقین کیا ہے کہ اولیاء کا الہام اور وحی رسالت دونوں ایک معنے رکھتے ہیں۔ اور الہام بھی قطعی ویقینی ہوتا ہے۔ پھر اس نے بڑے استحکام سے ثابت کیا ہے کہ جو مضامین اس پر نازل ہوتے ہیں ان کی تبلیغ واجب ہے۔ اور وہ ڈرانے خوشخبری سنانے پر مامور ہے کہ جس نے خدا کا دوست بننا ہو اس کی متابعت کرے۔ خدا اس سے محبت کرے گا۔ اور یہ کہ اس کے ملہمات کا قبول کرنا لوگوں پر فرض ہے اور ان کا انکار منع ہے۔ پس جو اس (مرزا قادیانی) پر ایمان لایا وہ مومن ہے اور جس نے اس کا انکار کیا وہ کافروں سے ہے۔
جیسا کہ ٤٤ اور ٤٥ ویں الہام کے ترجمہ اردو میں اس نے خود تصریح کی ہے اور رسالت و نبوت کے معنی یہی ہیں کہ ایسی فضیلت عظمیٰ حاصل ہو اور نبیوں کے ساتھ شرکت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بڑے رتبہ پر مشرف ہو۔ علاوہ ازیں جن خطابات سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سرور عالمﷺ اور دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کیا ہے۔ صاحب براہین اب ان خطابات سے اپنے نفس کو مراد رکھتا ہے تو یہ صراحتاً الحاد فی الایات نہیں تو اور کیا ہے؟ اور ١٣
ینطق باختلاف حال و مال وحی موسی والہام امہ فان ام موسی مع کونھا المطمئنہ من اللہ تعالیٰ بسلامۃ ولدھا وردہ الیھا کما قال عز من قائل فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین لم تکن مطمئنۃ علی ذلک الالہام والا لما کانت حالتھا مثل لحالۃ المنصوصۃ فی کلام الملک العلام کما قال تعالیٰ واصبح فؤاد ام موسی فارغا ان کادت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا لتکون من المؤمنین وان سیدنا موسی کان مطمئنا و موقنا بوحیہ تعالیٰ لا تخاف درکا ولا تخشی فمن ثم لما تحیر اصحاب موسی وقالوا وقت رؤیۃ قوم فرعون کما اخبر عنہم اللہ تعالیٰ انا لمدرکون قال فی جوابہم ماحکا اللہ سبحانہ عنہ کلا ان معی ربی سیہدین فاتضح الفرق بینہما بالیقین بشہادۃ القران المبین فالقول بترادفہما باطل عند المسلمین واما حدیث علمائے امتی کانبیاء بنی اسرائیل لا اصل لہ کما قالہ الدمیری والزرکشی والعسقلانی کذا فی المصنوع فی احادیث الموضوع لمو لانا القاری علیہ رحمۃ الباری۔ و دعوی صاحب البراہین باتباع سید المرسلین قرآن شریف کی تحریف معنوی میں کون سا دقیقہ فروگزار چھوڑا ہے۔ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ مؤلف براہین کا اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا تابع جانتا ہے اور اپنے لئے ان فضائل عظیمہ کا حاصل ہونا آپ ﷺ کی متابعت سے بطور ظلیت مانتا ہے۔ جیسا کہ اس نے اشتہار منقولہ بالا میں تصریح کی ہے اور نیز کئی جگہ براہین میں اقرار کرتا ہے کہ وہ مورد حدیث: ’’علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل. ‘‘ کا ہے تو اس حالت میں کیونکر متصور ہو کہ وہ رسالت اور نبوت کو اپنے لئے ثابت کرتا ہے؟۔ دیکھو وہ اپنی فضیلت اولیاء پر ثابت کر رہا ہے اور یہ اس نے ہرگز نہیں کہا کہ میں انبیاء سے ہوں تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ صریح ثابت ہے کہ مؤلف براہین نے اپنی کتاب نصاریٰ اور یہود اور بت پرستوں کے مقابلہ میں واسطے ظاہر کرنے حقیقت دین اسلام کے تالیف کی ہے۔ تو اس کتاب میں یہ درج کرنا کہ میں نبیوں کی صفتوں سے جو قرآن میں مذکور ہیں موصوف ہوں اور آیات قرآنی جن میں رسولوں کے خصائص مسطور ہیں۔ مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ ان کا مورد میں ہوں۔ کیا فائدہ رکھتا ہے؟۔ کیونکہ جن کو قرآن پر ایمان ہی نہیں وہ ان باتوں پر کیونکر تصدیق کریں گے اور مؤلف براہین کی عظمت شان پر ایمان لائیں گے۔
١٨
صلوات الله عليه واخوانه و عترته اجمعين مع انه بمحض اللسان وما صدر من الجنان كما يشهد عليه كتابه و سيجئ في معرض البيان لا ينافي النبوة والرسالت لانه قال في (ص ٤٩٩) من كتابه ان المسيح كان تابعاً و خادماً لدين نبي كامل و عظيم الشان يعنى موسى وكان انجيله فرع التورية انتهى ترجماً فكما زعم صاحب البراهين ان المسيح مع متابعة موسى على نبينا و عليهما السلام كان نبياً فكذلك يعد نفسه موصوفاً بخصائص الرسالة والنبوة مع ادعاء الاتباع و ايضا الانبياء وان كانو يتفاضلون فيما بينهم لقوله تعالى تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض الآية لكن يستون في الايمان بهم كما قال تعالى لا نفرق بين احد من رسله الآية فبالجملة ادعا مساوات صاحب البراهين بالنبيين يعلم باليقين لمن تدبر و تعمق في ملهماته المندرجة في البراهين الا ترى انه ادعى في (ص ٥١١) بنزول آية قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد في حقه وقال في (ص ٢٤٢) انه الهم اليه واتل عليهم ما اوحى اليك من ربك انتهى فهذا صريح مقابلة صاحب البراهين بافضل النبيين صلوات الله وسلامه عليه و عليهم اجمعين فالحاصل ان مؤلف
پس معلوم ہوا کہ اصلی غرض براہین والے کی ان الہامات کے بیان اور وحی کے عیان سے مسلمانوں سے باور کرانا ہے کہ میں سب ولیوں سے افضل ہوں اور نبیوں کا نمونہ ہوں اور اس کے قادیان میں مکہ معظمہ کی طرح وحی اترتی ہے اور اب خدا کا حکم ہے کہ سب لوگ قریب و بعید ہر طرف سے قادیان میں آئیں اور ہدایت پائیں اور جو نہ حاضر ہوگا خدا تعالیٰ اس سے حساب لے گا۔ جیسا کہ اشتہار سے نقل اس کی اوپر منقول ہو چکی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے دعوے اکابر صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین و امامان اہل بیت و تابعین سے جو افضل ہیں ساری امت سے صادر نہیں ہوئے۔
پس صاحب براہین کے یہ دعوے صریح مساوات کا اظہار ہے انبیاء ومرسلین سے۔ اگرچہ وہ اہل اسلام کے بلوے کے خوف سے صاف اقرار نہیں کرتا کہ میں رسول ہوں۔ لیکن یہ تو اس پر نازل ہو رہا ہے: ”قل انى امرت وانا اول المؤمنين . فاصدع بما تؤمر واعرض عن الجاهلين . لعلك باخع نفسك ان لا يكونوا مؤمنين . قل جاء كم نور من الله فلا تكفرو ان كنتم مؤمنين .“ جن کا ترجمہ اوپر لکھا گیا ہے۔
١٩
البراهين وان كان لا يدعى بلسانه انه نبى و رسول خوفا من بلوى المؤمنين لكنه ما ترك خاصة من خواص الرسل والنبيين الا وقد اثبتها لنفسه باليقين فمثله كمثل احمد خان نيچرى العلى گڑھى فانه بدل شعائر الاسلام تبديلا واحل كبائر الدين تحليلاً كما يشهد عليه تفسيره الهندية للقرآن و اخباره التهذيب للاخلاق والفقير الراقم لهذا التسطير رد هفواته بعون الملك النصير في رسالة مستقلة مسماة بالجواهر المضية فى رد عقائد النيجرية فالحمد لله القدير فالنيجرى مع ذالك التنسخ لاحكام الشرع المتين والخلاف مع جميع العلماء المتقين يزعم انه من خواص الاولياء والصلحين من اجلة مؤيدى الدين فكذلك حال صاحب البراهين عند العلماء الراسخين كما قال في حقه المولوى فيض الحسن سهارنپورى فى اشتهاره شفاء الصدور فانه اى صاحب البراهين كمثله اى مثل احمد خان النيجرى يعنى فى اختلال الدين الاسلام و تضليل الخواص والعوام واما ادعائه بانه اعطى علما يفضله على اكابر الاولياء فهذا ايضا مثل دعوى المشابهة بالانبياء باطل لان فضيلة الصحابة
پس یہ دعویٰ نبوت نہیں تو اور کیا ہے؟۔ مع ہٰذا اس نے اشتہار میں صراحتاً لکھا ہے کہ میں انبیاء ورسل کا نمونہ ہوں۔ جس کی نقل اوپر ہو چکی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ نمونہ شے کا عین وہ شے ہوتی ہے جیسا کہ فارسی کی نثر مشہور ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے۔ یعنی گیہوں کے انبار سے۔ مثلاً ایک مٹھی اس کا نمونہ ہے تو اس اقرار اشتہار سے ثابت ہے کہ صاحب براہین (مرزا قادیانی) اپنے آپ کو انبیاء و مرسلین سا جانتا ہے۔ پس صاف یہ مثلیت ہے کہ نہ ظلیت اور نیز اس نے براہین کے صفحہ ٥٠٤ خزائن ج ١ ص ٦٠١ میں یہ فقرہ اپنا الہام لکھا ہے: ”جری اللہ فی حلل الانبیاء۔“ اور اس کا ترجمہ اور تفسیر یوں کرتا ہے کہ اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ: ”منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل حلۂ انبیاء ہے اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حلۂ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے۔“ انتہیٰ بقدر الحاجۃ!
پس براہین والے کی خود تصریح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کا مورد ہونا نبیوں کا خاصہ ہے تو اس کو اپنے لئے ثابت کرنا نبوت کا اثبات ہے اور یہ کہنا کہ غیر انبیاء کو بطور مستعار یہ حلہ ملتا ہے باطل ہے۔ کیونکہ منصب ورود وحی رسالت غیر انبیاء کو ہرگز نہیں ملتا اور ولیوں کے الہام اور رسالت سے مترادف نہیں۔ اس لئے کہ وحی رسالت ملائکہ کی حفاظت سے محفوظ ہوتی ہے اور اس
١٦
والتابعين على سائر الامة المرحومة ثابتة بالقرآن المبين و الاحاديث الصحيحة عند المحدثين كما حقق في موضعه و باقی حال فضيلة هذا المدعى سنبينه فيما بعد باعلام الحق المبين هذا ومن عجائب الملهمات صاحب البراهين ماذكره في (ص ٣٩٧) من انه اللهم اليه انا انزلناه قريباً من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله ورسوله وكان امر الله مفعولا و فسرها بما ترجمتها هذه قال تعالى انا انزلنا هذه الخوارق والامور المعجزة والالهام المملؤ من المعارف والحقائق قريبا من القاديان وبالضرورت الحقة انزلنا وبالضرورة الحقة نزل وما اخبره الله ورسوله ظهر صدقه في وقته وما شاء الله فهو كائن لا محالة فهذه الفقرة الاخيرة (اى صدق الله ورسوله الخ) تشير الى النبى ﷺ اشار بظهور نفسى فى الحديث المذكور فى الصدر) اى فى الصفحة السابقة والحديث لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله) والله تعالى اشار الى فى الآية التى ادرجتها فى الحصة الثالثة و تلك الاشارة فى هذه الآية هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله فهذه الآية اخبار بالغيب قي کی اطلاع میں ہرگز کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوتا اور نہ اس میں احتمال خطا کا ہوتا ہے۔ اس واسطے مکلفین پر اس کا قبول واجب ہے۔ جس نے اس کو مانا وہ مومن ہے جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہے۔ برخلاف الہام اولیاء کے کیونکہ الہام سے اگر چہ بعض حقائق ذات وصفات الٰہی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یا بعض وقائع دنیا کا بھی یقین ہوجاتا ہے۔ مگر جمیع الوجوہ شک وشبہ سے زائل نہیں ہوتا اور احتمال خطا اس میں باقی رہتا ہے۔ اسی لئے لوگوں پر اس کا ماننا لازم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ تفسیر فتح العزیز میں آیت: ”عالم الغیب ،“ کے نیچے اس پر تصریح ہے اور یہ بھی اعتقاد اہل سنت ہے۔
لہٰذا نبیوں کے اخبار غیب پر ایمان واجب ہے اور کاہن و نجومی وغیرہ جو غیب کی خبر دیں۔ اس کی تصدیق کفر ہے اور علیٰ ہذا مدعی الہام جو بعد الانبیاء اپنے الہامات کی خبر دے۔ اس کی تصدیق بھی ناجائز ہے۔ جیسا کہ ملاعلی قاریؒ نے فقہ اکبر کی شرح کی ملحقات میں تصریح کی ہے۔ اکابر اہل سنت کا اتفاق تو اسی پر ہے اور غیر مقلدین اور ان کا امام صاحب براہین جو الہام اولیاء کو حجت قطعی وحی رسالت کی طرح بتاتے ہیں۔ ان کی غلطی کا منشاء حضرت خضر کے الہام کا ذکر اور
١٧
حق المسيح بحسب الجسمانيه والسياسة الملكية فالغلبة الكاملة الموعودة للدين الاسلام تظهر بوسيلة المسيح فاذا جاء المسيح عليه السلام مرة ثانية فينشر الدين الاسلام فى جميع الافاق والاقطار ولكنى اظهرت بانى فى غربتى وانكسارى و توكلى وايثارى واياتى وانوارى نموذج المسيح فى موته الاولى و فطرتی و فطرة المسيح متشابهتان تشابها تا ما كاننا نصفان من جوهر واحد اوثمرتان من شجرة والاتحاد بيننا بحد لا تكاد تمتاز فى النظر الكشفى والمشابهة الظاهرية بيننا ثابتة ايضا بان المسيح تابع و خادم لدين نبى كامل عظيم الشان يعنى موسى و انجيله فرع لتورة وهذا العاجز ايضا من احقر خادمى سيد الرسل وافضل الانبياء فانكان اسمه حامداً فهو احمد وان كان محمود فهو محمد ﷺ فلثبوت المشابهة التامة لى بالمسيح اشر كنى الله تعالى فى الاخبار بالغيب عن المسيح من ابتداء الامر يعنى ان المسيح مصداق الاية بحسب الظاهر وبالطور لجسمانى وهذا العاجز مورد تلک الاية ومحلها على طبق المعقول والروحانى فغلبة الدين الاسلام باقامة الحجج القاطعة والبراهين الساطعة مقدرة بوسيلتى سواء كانت فى حيوتی او بعد مماتى انتهى
واقعہ الہام ام موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام ہے۔ جو منصوص قرآنی ہے۔ جیسا کہ براہین کے صفحہ ٥٤٨ خزائن ص ٦٥٤ میں لکھا ہے۔ اور نیز :’’خضر جن میں سے کوئی نبی نہ تھا۔‘‘ انتباہ۔ یہ اس شخص کا جہلِ عظیم ہے۔ کیونکہ علمائے عقائد حقہ وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام جمہور علماء کے نزدیک نبی ہیں اور قرآن مجید صاف ناطق ہے۔ اختلاف حال و مال وحی موسیٰ اور الہام مادر موسیٰ ہیں۔ کیونکہ ہر چند ان کو الہام منجانب اللہ تعالیٰ ہوا تھا کہ اپنے فرزند کو دریا میں ڈال دے۔ وہ سلامتی سے تیرے پاس آجائے گا۔
چنانچہ قرآن مجید میں فرمان ہے کہ جب تو موسیٰ کے معاملے میں خائف ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور خوف و غم نہ کرنا۔ ہم تیری طرف اس کو لوٹا دیں گے اور اس کو رسول بنادیں گے۔ یہ ترجمہ ہے آیات کا، تو اس الہام پر مادر موسیٰ کو خود بھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ ورنہ اس کی ایسی حالت نہ ہوتی۔ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے:’’و اصبح فواد ام موسیٰ فارغاً ۔‘‘یعنی اور ہو گیا دل ماں موسیٰ کا خالی صبر سے۔ تحقیق نزدیک تھا کہ البتہ ظاہر کر دے اس کو اگر باندھ نہ رکھتے ہم اوپر دل اس کے تاکہ ہو ایمان والوں میں سے اور بے شک حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام
٢٠
(ص ٤٩٨ و ٤٩٩) يقول العبد الضعيف ان الانزال والتنزيل فى اصطلاح القرآن مستعمل فى الكتب السماوية والمنزلة من الله تعالى الى رسله كما قال تعالى فى ابتداء سورة البقرة والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك الآية وايضاً فى ابتداء سورة آل عمران نزل عليك الكتب بالحق مصدقا لما بين يديه بان الله تعالى قال فى حقها انزلناه قريبا من القاديان فوصفها بالآيات القرآنية التى انزلت فى وصف القرآن الكريم اعنى بالحق انزلناه و بالحق نزل تصريح بان ملهماته مثل الفرقان العظيم ثم فى ترجمة لفظ الحق الواقع فى الموضعين بالضرورة الحقة لتنصيص بان الله تعالى وجب عليه انزال هذه الملهمات وهذا مخالف لعقيدة اهل السنت لتصريحهم بان الله سبحانه لا يجب عليه شئ كما فى شرح الفقه الاكبر و شرح العقائد للنسفى و غيرهما و ايضاً فى هذا الكلام اشارة الى ان الدين فقد عن اكناف العالم واطراف الدنيا عرباً و عجماً فلهذا اختار الله تعالى مقام القاديان لانزال الملهمات كما صرح به فى اخر الحصة الرابعة من كتابه بان الدين اشتبه على الاكثر والبعض صاروا كاليهود والبعض كالمشركين فارشد الله الناس بهذا
اس وحی میں مطمئن تھے کہ: ”لا تخاف درکا ولا تخشی“ یعنی فرعونیوں کے پکڑ لینے سے مت ڈر۔ اسی لئے جب آپ کے اصحاب متغیر ہوئے اور قوم فرعون کے لشکر کو دیکھ کر بولے۔ جیسا کہ قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ بے شک پکڑے گئے۔ تب حضرت موسیٰ کے جواب کو قرآن نے یوں حکایت کیا کہ ہرگز نہیں پکڑے جانے میرے ساتھی۔ میرا رب ہے مجھے راستہ دکھا دے گا۔
پس بشہادت قرآن مبین وحی رسالت با الہام اولیاء میں فرق آسمان و زمین پیدا ہوگیا اور جو ان دونوں کو ایک ہی جانتا ہے وہ بالکل باطل پر ہے۔ بالیقین اور حدیث: ”علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل“ بے اصل ہے۔ چنانچہ دمیری اور زرکشی اور عسقلانی تینوں نے کہا ہے۔
علامہ قاری نے رسالۃ المصنوع فی احادیث الموضوع میں اس پر تصریح کی ہے۔ مطبوعہ لاہور کے ص ١٦ سطر ١٩ میں دیکھو۔ رہا دعویٰ صاحب براہین کہ میں تابع ہوں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا۔
سو ہر چند یہ دعویٰ محض زبانی ہے دل میں نہیں۔ جیسا کہ اس کی کتاب اس پر شاہد ہے اور عنقریب اس کا بیان ہوگا۔ تاہم دعویٰ اتباع فنا فی المتبوع نبوت و رسالت سے نہیں ہے۔ کیونکہ براہین کے صفحہ ٤٩٩‘ خزائن ص ٥٩٤ میں ہے کہ: ”مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور
٢١
الارشاد فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلى فما مر على الصدر من (ص ٥٦١ و ٥٦٢) مع تصريح صاحب البراهين بان المراد من ابراهيم نفسه والناس مامورون باتباعه فلا خفاء فى انه عين قرية قاديان مثل ام القرى فى نزول الوحى كما قال تعالى و كذلك اوحينا اليك قرانا عربيا لتنذر ام القرى ومن حولها الاية و الحال انه لا حاجة الى نزول شئ بعد تنزيل القران المجيد للمؤمنين فانه هدى للمتقين والشرع المحمدى كاف للامة المرحومة الى يوم الدين فالقول بان الله عزوجل انزل الملهمات والمعارف على القاديان للضرورة الحقة افتراء على رب العلمين ومن الادلة الدالة عليه انه صرح فى ترجمة هذا الكلام بارجاع ضمير انزلناه المذكر الى المرجع المؤنث اى الخوارق والامور المعجبة بتاويل الجماعة ولا شك ان ضمير الواحد المذكر لايرجع الى الجمع فالكلام الصحيح على هذا التفسير انا انزلناها فاسناد هذا الكلام الغلط والالهام المحبط الى الله سبحانه كذب باليقين ثم انزال ايات القران المنزل على النبى ﷺ مما لا طائل تحته وهو تحصيل الحاصل فان قيل قال الله تعالى
اُس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ انتہاء!
پس جیسا کہ بموجب زعم براہین والے کے اتباع اور خادمیت حضرت موسیٰؑ نے حضرت مسیحؑ کی نبوت میں کچھ خلل اندازی نہیں کی۔ ویسا ہی یہ شخص باوجود اتباع آنحضرت ﷺ کے اپنے آپ کو خصائصِ نبوت و رسالت سے موصوف کر رہا ہے اور نیز انبیاء اگرچہ بحسب مراتب وقرب عنداللہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔
چنانچہ تیسرے پارہ کا ابتدائے آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ وہ رسول ہم نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے مگر مومن بہ ہونے میں سب انبیاء برابر ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مؤمنین سے حکایت فرمائی ہے کہ ہم نہیں فرق کرتے ہیں۔ یعنی ایمان لانے میں رسولوں کے درمیان۔ الحاصل غور کرنے والا عالم جب ملہمات صاحب براہین میں تدبر اور تامل فرماتا ہے تو یقیناً معلوم کر جاتا ہے کہ براہین والے نے صاف دعویٰ برابری کا انبیاء سے کیا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ ص ٥١١ خزائن ص ٦١١ میں آیت: ”قل انما انا بشر۔“ کو اپنے حق میں نازل کر کے صفحہ ٥١٢ خزائن ص ٦١٢ میں اس کا ترجمہ یوں لکھتا ہے: ”پھر فرمایا ہے کہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔ مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔ وہی اکیلا معبود ہے۔ جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئے۔“ انتہاء بلفظہ
٢٢
لقد انزلنا الیکم کتابا فیه ذکرکم افلا تعقلون وایضا ولقد انزلنا الیکم ایت مبینت الایة فثبت ان القران انزل الى المسلمين فلم لا يجوز ان ينزل الخوارق وغيرها بتوسل آيات القرآن وغيره على صاحب البراهين قلت القرآن العظيم ما نزل الا على الرسول الكريم لكن لما كان مشتملا على الاحكام التى امر بتبليغها النبی ﷺ الى المؤمنين بل الى كافة الناس وغيرها اجمعين صح ان يقال مجازاً انه انزل اليهم وهو كما قال تعالى وانزلنا الیک الذکر لتبین الیهم و لعلهم يتفكرون على ان اسناد نزول القران المبين الى المؤمنين وقت نزوله الى سيّد المرسلين ﷺ وعلى اخوانه و عترته اجمعين مع القطع بانه ﷺ خاتم النبيين و کتابه و دینه ناسخ الكتب والادیان الى يوم الدين لا يستلزم ان يكون صاحب البراهين منزلا مستقلا فى هذا الحين ويقال له انا انزلناه قريبا من القادیان فما هذا الا بهتان وهذیان ۔ واما ادعاء صاحب البراهين بان الله تعالى اخبر بوجوده فى القرآن وكذا النبى ﷺ فى الحديث صحيح العنوان فباطل قطعا لان المشار اليه من ذلك الحديث المذكور فيما سبق الامام الاعظم والهمام الاقدم رضى الله عنه كما صرح به غير واحد من المحدثين و الفقهاء
اور براہین کے ص ٤٣٢ خزائن ص ٢٦٧ میں آیت: ” واتل علیہم ٠ “ کو اپنے حق میں نازل کر لیا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے اور پڑھ ان پر جو وحی کی جاتی ہے تیری طرف تیرے رب سے۔“ پس یہ صریح مقابلہ ہے صاحب براہین کا سید المرسلین ﷺ سے۔ الغرض براہین کا مؤلف ہر چند اپنی زبان سے صریح دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نبی ہوں۔ تا کہ اہلِ اسلام خواص و عوام بلوے نہ کر دیں۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی خاص الخاص انبیاء سے باقی نہیں چھوڑا۔ جس کو اس نے اپنے لئے ثابت نہ کر لیا ہو۔ بلاشبہ اس کی مثال علی گڑھ والے نیچری کی ہے جس طرح اس نے اسلام کے فرائض کو اٹھا دیا اور کبیرہ گناہوں کو حلال بنا دیا۔ جس پر اس کی تفسیر قرآن اور اخبار تہذیب الاخلاق شاہد ہے اور فقیر راقم الحروف كان الله له نے اس کے ہفوات کے رد میں ایک رسالہ مستقلہ جس کا نام ”جواہر مضیہ رد نیچریہ“ ہے شائع کیا ہے۔ فالحمد لله علی ذالك!
پس یہ نیچری باوصف تشیخ اپنے آپ کو خواص اولیاء اور دین کے تائید کرنے والوں سے جان رہا ہے۔ ایسا ہی حال ہے صاحب براہین کا علماء راسخین کی نظروں میں ۔ چنانچہ مولانا فیض الحسن مرحوم سہارنپوری نے اپنے اخبار شفاء الصدور میں صاف لکھ دیا ہے کہ مرزا قادیانی مثل علی
٢٦٣
بالاتفاق و بینت طرفا منه فی رسالتی توضیح الدلائل و عمدة البیان فی اعلان مناقب النعمان رداً علی اهل الطغیان من غیر المقلدین فی هذا الزمان و کذا آیته هو الذی ارسل رسوله الایة لیست فی حق المسیح و صاحب البراهین بل هی فی شان امام الانبیاء و سید المرسلین بالیقین باتفاق جمیع المفسرین بل شهادة القرآن المبین الا یری اخر هذه الایة قول الله سبحانه و کفی بالله شهیداً محمد رسول الله وقد قال محیی السنة فی تفسیره تحت هذه الایة یعنی قوله تعالیٰ محمد رسول الله تم الکلام ههنا قال ابن عباس شهدله بالرسالة ثم قال مبتدئاً والذین معه انتهی فالقول بان هذه الایة فی حق غیر النبی ﷺ مخالف للقرآن ومنافی لبیان جمیع مفسری الفرقان لیت شعری ما اجهل هذا القائل فی ادعائه بان هذه الایة اخبار عن الغیب فی حق المسیح ظاهر و فی حقه معنی وما یشعربان هذا الخبر بصیغه الماضی فکیف یرادبه الاستقبال فنعوذ بالله من هذه التحریفات فی الآیات البینات لما اراد نفسه من لفظ رسوله الواقع فی هذه الایة صرح بشرکت مع المسیح فی انواره وآیاته و غیر ذلک من ابتداء الامر گڑھی نیچری کے ہے۔ یعنی اختلال دین اسلام واضلال خواص وعوام میں رہا۔ یہ ادّعا براہین والے کا کہ میں اکثر اکابر اولیاء ماتقدم سے افضل ہوں۔ سو یہ بھی مثل دعوٰیٔ نمونہ انبیاء کے سراسر باطل ہے۔ کیونکہ صحابہؓ اور تابعینؒ کی فضیلت ساری امت پر بحکم قرآن شریف اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ جیسا کہ دینی کتابوں میں مرقوم ہے اور باقی حال فضیلت اس مدعی کا آئندہ ظاہر ہو جائے گا۔ اس تحریر کو یاد رکھ کر سنئے کہ عجائب ملہمات مرزا قادیانی سے وہ بھی ہیں جو ص ٤٩٨‘ خزائن ص ٥٩٣ میں انا انزلناہ قریباً من القادیان ۔ لکھ کر اس کا ترجمہ خود یوں کرتا ہے کہ یعنی ہم نے (یعنی خدا فرماتا ہے) ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام کو پر از معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے۔ اور بضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہوتا ہی تھا۔ ”نیز اس کا دعوٰی کہ ”یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں۔ (یعنی ص ٤٩٧‘ خزائن ص ٥٩٣ میں حدیث : ” لوکان الایمان معلقا بالثریا لناله . “ کا اشارہ (مرزا قادیانی کی طرف ہے۔) اور خدا تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم ٢٤
من ثبت انه يدعى برسالته وما يبالى من اطلاق كلمة رسول الله على نفسه ولو مع غيره فهذا صريح كفره واما تصريحه بان الغلبة الموعودة (اى فى هذه الاية) تظهر بوسيلة المسيح فعلى القول القوى لجمهور المفسيرين باطل لان هذه الغلبة حصلت بظهور نبينا حبيب اله العلمين ﷺ وعلى عترته اجمعين و اتمام النعمة عليه كما فى القران المبين اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى الاية كما فى التفسير الكبير و غيره و يقول الفقير الراقم اى غلبة تقابل فتح مكة التى نكست رقاب الجبابرة من وقعتها الى يوم ذلك الفتح و اى ظهور الدين يوازى تطهير اول بيت وضع للناس من الارجاس الادناس و اما قول الضعيف بان هذه الغلبة تحصل وقت نزول المسيح من السماء فلا يلزم منه ان هذه الاية بشارة فى حق المسيح فقط و ان المراد من قوله تعالى ارسل رسوله غير النبى الامى ﷺ بل المراد منه ان المسيح على نبينا و عليه السلام لما ينزل من السماء يكون تابعا للشرع المحمدى و يؤيد هذا الدين فهو ايضا فرع غلبة سيد المرسلين ﷺ و على اخوانه و عترته اجمعين قال مولانا القارى فى شرح الفقه الاكبر فيجتمع عيسى بالمهدى على کے الہامات میں درج ہوچکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے: ”هـو الـذی ارسـل رسـولـه٠“ (یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس سچے دین کو سب دینوں پر غالب کردے۔) یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل ہیں۔ اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰؑ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ ٢٥
نبینا و علیهما السلام وقد اقیمت الصلوة فیشیر المهدی لعیسی بالتقدم فیمتنع معللاً بان هذه الصلوة اقیمت لک فانت اولی بان تکون الامام فی هذا المقام و یقتدی به لیظهر متابعة نبینا علیهم السلام کما اشار صلی الله علیه وسلم الی هذا المعنی بقوله لو کان موسی حیا لما وسعه الا اتباعی و قد بینت وجه ذلک عند قوله تعالی واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمة ثم جاء کم رسول الایة فی شرح الشفاء و غیره انتهی. وما افاده مولانا القاری علیه رحمة الباری هو المذکور فی عامة التفاسیر فالحاصل ان تلک الایة الشریفة انما هی فی حق النبی ﷺ بحکم القران فدعوی صاحب البراهین بدیهی البطلان واما قوله ولکنی فی الایات والانوار و غیر ذلک نموذج المسیح فی حیواته الاولی و فطرتی و فطرة المسیح متشابهتان تشابها تاما کاننا نصفان من جوهرة او ثمرتان من شجرة انتهی فیشعر بدعوی مساواته بالمسیح علی ما هی مفاد لفظ نموذج و فقرة کاننا نصفان من جوهرة الخ. فی الاتقان فی علوم القران قال حازم و انما تستعمل کان حیث یقوی الشبه حتی یکاد الرائی حامد ہے تو وہ احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کے ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔ یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے۔ اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔ گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو۔“ انتہاء بلفظہ!
(ص ٣٩٨ ٣٩٩ خزائن ص ٥٩٣ ٥٩٤)
فقیر کان اللہ لہ کہتا ہے کہ انزال اور تنزیل قرآن کی اصطلاح میں آسمانی کتابوں کے اتارنے میں مستعمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل کی گئی ہیں۔ جیسا کہ ابتدائے سورۃ بقرہ میں قرآن اور اس سے پہلے آسمانی کتابوں کے اترنے کو انزال کے لفظ سے ادا فرمایا ہے۔ پھر سورۃ آل عمران میں قرآن مجید کے اتارنے کو تنزیل اور انزال اور انجیل توریت کے بھیجنے کو انزال کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور علیٰ ہذا القیاس بہت سی آیات قرآنیہ سے ایسا ہی ثابت ہے۔ پس جب براہین والے نے اپنے ملہمات کو ”انا انزلناہ“ سے تعبیر کیا اور بعد ازاں آیت: ”وبالحق انزلناہ . “ سے جو صرف قرآن مجید کی صفت تھی اپنی ملہمات کی صفت قرار ٢٦
یشک فی ان المشبہ بہ ھو المشبہ او غیرہ ولذلک قالت بلقیس ای کما اخبر اللہ سبحانہ بہ کانہ ھو انتھی۔ و صاحب البراھین فی ھذا القول کاذب البتہ اما اولاً فلان دعوی المساواۃ بالانبیاء باطل لما تقرر من عقیدۃ اھل السنۃ بان الولی لا یبلغ درجۃ النبی کما فی شرح الفقہ الاکبر و شرح العقائد للنسفی وغیرھما واما ثانیاً فلان المسیح علی نبینا و علیہ السلام کان من آیاتہ ان یبرء الاکمہ والابرص ویحیی الموتی باذن اللہ واذا قال من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ کما ھو منصوص القران الکریم وھذا القائل ماظھر شئ من ھذہ الخوارق منہ وما امن بہ احد من النصاری والھنود الذین صنف کتابہ فی مقابلتھم سیما النصرانی الذی طبع ثلث حصص کتابہ فی مطبعہ مع انہ قددعی اللہ سبحانہ بخلوص قلبہ وکمال تضرعہ و ابتھالہ لایمان جمیع النصاری خصوصاً وطبع ھذا الدعاء منذسنتین ونصف سنتہ فی اخراشتھارہ الذی مر النقل منہ فیما قبل۔ والدعاء ھذا۔ اللھم اھد للمستعدین من جمیع الا قوام سیما الحکام من النصاری فانھم بمرحمتھم واحسانھم الینا و امتنانھم علینا بلبلونا بلبالاً لندعو بخلوص القلب و خضوع الباطن لخیر دنیاھم و دینھم و
دیا تو یہ تصریح ہے اس پر کہ وہ اپنی ملہمات کو مثل قرآن جانتا ہے۔ پھر لفظ حق جو دونوں جگہ قرآن کی راستی کے بیان میں تھا اس کو ضرورت حقہ سے ترجمہ کرنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ان ملہمات کا انزال واجب ٹھہرانا ہے۔ حالانکہ یہ مخالفت صریح ہے عقائد اہل سنت سے۔ کہ شرح فقہ اکبر وشرح عقائد نسفی وغیر ہما جمیع کتب عقائد میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ بھی واجب نہیں ہے اور نیز اس کلام سے اشارہ ہے اس پر کہ دین ساری دنیا سے کیا عرب کیا عجم گم ہو گیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مقام قادیان کو انزال ملہمات کے واسطے اختیار فرمایا۔ چنانچہ چوتھے حصے کتاب کے اخیر اس نے تصریح کی ہے کہ طریقہ حقہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ طریقہ خداوند کریم کے اس عاجز بندہ سے دریافت کر لیں اور اس پر چلیں۔
اور اس سے اوپر لکھتا ہے کہ ”فاتخذو من مقام ابراھیم مصلیٰ ٠“ میں مجھ کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم بنایا ہے اور ساری خلقت کو میری اتباع کے واسطے فرمایا ہے۔ جیسا کہ اوپر ص ٥٦١‘ ٥٦٢ خزائن ص ٦٦٩‘ ٦٧٠ سے منقول ہو چکا ہے۔ پس بے شک اس نے اپنے قادیان کو مکہ
٢٧
نسئل الله تعالى خيرهم فى الدنيا والآخرة اللهم اهدهم وايدهم بروح منك واجعل لهم حظا كثيرا فى دينك و اجذبهم بحولك وقوتك ليومنو ابكتابك و رسولك و يدخلوا فى دين الله افواجا امين ثم امين والحمد لله رب العلمين المشتهر مرزا غلام احمد القاديانى. فھٰذا الدعاء الذى دعا بكل خضوع قلبه و هلوع باطنه وسئل الله تعالى ان يجذبهم بحوله وقوته ليدخلوا فى دين الله افواجا فما امن رجل واحد من النصارى على يده الى الان فضلا عن ان يؤمنوا جميعا و يدخلوا فى دين الله افواجا فظهر عدم المشابهة بين المسيح وبين صاحب البراهين فى الايات والانوار وغير ذلك و كذلك ليست المشابهة بينهما فى الفطرة لان المسيح ولد بغير اب من نفخة روح رسول كريم كما يشهد به القران والحديث و اجماع الامة وصاحب البراهين ولد من نطفة غلام مرتضى القاديانى الحكيم كما يعلم الانام من الخواص والعوام بل صرّح هو فى كتابه ان والده هذا ايد الحكام وقت بلوى عساكر هم فى سو الف الايام فكيف يشبه من خلق من ماء مهين بمن قال الله سبحانه فى شانه و معظمہ کی مثال نزول وحی میں بتایا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا تھا: ”وكذالك اوحينا“ یعنی اور ایسا ہی وحی بھیجی ہم نے تیری طرف قرآن عربی تاکہ تو ڈرائے مکہ والوں کو جو اس کے گرد اگرد ہیں اور اصل قرآن مجید کے نزول کے بعد کسی چیز کے نزول کی کچھ بھی حاجت نہیں ہے۔ کیونکہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے اور شرع محمدی میں قیامت تک امت مرحومہ کے واسطے کفایت ہے۔ پس یہ ادّعا کہ حق تعالٰی نے ضرورت حقہ کے واسطے قادیان پر معارف والہامات نازل کئے ہیں۔ حق سبحانہ پر محض افتراء اور بالکل تقول فی دین اللہ ہے اور اس افتراء کی دلیلوں سے یہ بھی کہ مؤلف براہین نے اس کے ترجمہ میں انزلناہ کی ضمیر مذکر کو مرجع مونث کی طرف راجع کیا ہے۔ یعنی مرجع اس کا خوارق اور امور معجبہ بتاویل جماعت قرار دیا ہے اور اسی میں شک نہیں کہ واحد مذکر کی ضمیر جمع کی طرف راجع نہیں ہوسکتی۔ پس ان معنوں سے صحیح کلام یوں تھا۔ انا انزلناھا تو ایسی غلط صریح کلام کو خدائے سبحانہ کی جانب منسوب کرنا تیرا بہتان نہیں تو اور کیا ہے؟۔ پھر قرآنی آیات جو آنحضرت ﷺ پر صد ہا سال سے نازل ہوچکی ہیں اب ان کے اتارنے میں کیا فائدہ ہے؟۔ بلکہ لا طائل اور تحصیل حاصل ہے۔ اس جگہ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ اللہ تعالٰی نے سب کو مخاطب کرکے فرمایا ہے ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے۔ پس تم کیوں نہیں سمجھتے اور یہ بھی فرمایا اور بے شک ہم نے اتاریں تمہاری
٢٨
جعلناها و ابنها اية العالمين وقوله والمشابهة الظاهرية بينا ثابتة ايضا بان المسيح تابع لدين موسى وانجيله فرع لتورية وهذا العاجز (ای صاحب البراهين) من احقر خادمی (سید المرسلين ﷺ الخ هذا ايضاً باطل باليقين اما اولاً فلان المسيح ما كان تابعا لدين موسى بل كان من اولى العزم من الرسل اى صاحب شريعة مستقلة وانجيله ما كان فرعا للتورية بل الانجيل ينسخ التورية في بعض الاحكام كما سنبين دليله من كلام الملك العلام قال عز من قائل فاصبر كما صبر اولوا العزم من الرسل قال ابن عباس رضی الله عنهما اولوا العزم ذو الحزم وقال الضحاك ذو و الجد . والصبر قال ابن عباس وقتادة هم نوح ابراهيم وموسى و عيسى اصحاب شرائع فهم مع محمد صلى الله عليه و اخوانه و اله وسلم خمسة. قلت ذكر هم الله على التخصيص في قوله واذا اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح وابراهيم و موسى و عيسى ابن مريم و في قوله تعالى شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم و موسى و عيسى قاله البغوى فى معالم التنزيل وهكذا فى عامة التفاسير وفى شرح الفقه الاكبر لمولانا القارى عليه و على المفسرين طرف آیتیں جس سے ثابت ہوا کہ قرآن مسلمانوں کی طرف اتارا گیا ہے تو کیا مانع ہے۔ اگر خوارق وغیرہ بہ توسل آیات قرآنی براہین والے پر نازل ہوں؟۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ قرآن عظیم صرف رسول کریم ﷺ پر ہی اترا ہے۔ لیکن جبکہ قرآن میں ایسے احکام بھی بہ کثرت ہیں جن کی تبلیغ کے لئے آپ ﷺ مامور تھے۔
خواہ مومنین کو خواہ جمیع بنی آدم کو تو اس نظر سے مجازاً یوں بھی کہنا صحیح ہو گیا کہ قرآن لوگوں کی طرف اتارا گیا ہے۔ اور اصل میں معاملہ یہی ہے جو ارشاد ہوا ہے: ”وانزلنا الیک الذکر.“ یعنی اور ہم نے تیری طرف نصیحت اتاری ہے تا کہ تو لوگوں سے بیان کر دے اور وہ فکر کریں۔ علاوہ ازیں وقت نزول قرآن کے مومنین کی طرف قرآن کا نزول کی اسناد باوصف اس یقین کے کہ آنحضرت ﷺ پر کہ اب تیرہ سو برس کے بعد صاحب براہین آیات قرآنی کا منزل علیہ بن جائے اور اس کے حق میں راست آئے انا انزلناہ قريباً من القاديان ۔ پس یقیناً یہ بہتان اور ہذیان ہی ہے اور یہ ادعا براہین والے کا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر قرآن مجید میں دی
رحمۃ الباری وقوله تعالى انا انزلنا التوراة فيها هدى و نور يحكم بها النبيون الذين اسلموا للذين هادوا والربانيون والاحبار بما استحفظوا من كتب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس و اخشون ولا تشتروا بايتي ثمنا قليلاً ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون وقوله تعالى بعد هذه الاية بآية واحدة وقفينا على اثارهم بعيسى ابن مريم مصدقا لما بين يديه من التورة واتيناه الانجيل فيه هدیٰ ونور و مصدقا لما بين يديه من التورة و هدی و موعظة للمتقين وليحكم اهل الانجيل بما انزل الله فيه ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الفسقون. فثبت من هاتين الايتين ان الشريعة الموسوية والعيسوية شريعتان مستقلتان ومن قال ان الانجيل فرع التورة يكذب القران و قوله تعالى حكاية عن عيسى على نبينا و عليه صلوة الرحمن ومصدقا لما بين يدى من التورة والاحل لكم بعض الذی حرم عليكم اى فی شريعة موسى من الشحوم واسمك ولحوم الابل والعمل فى السبت وهو يدل على ان شرعه كان ناسخا الشرع موسى. قاله القاضی بیضاوی فی تفسيره و هكذا فی ہے اور ایسا ہی آنحضرت ﷺ نے حدیث میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ بھی بالکل باطل ہے۔ کیونکہ اس حدیث صحیح کامشار الیہ امام اعظمؒ ہے۔ جیسا کہ بہت سے محدثین اور فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے جس کا تتمہ فقیر نے رسالہ ”تصریح ابحاث فریدکوٹ“ اور رسالہ ”عمدۃ البیان فی اعلان مناقب النعمان“ میں بیان کیا ہے اور ایسا ہی آیت: ”ھو الذی ارسل رسوله“ نہ حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور نہ براہین والے کی طرف اس میں اشارہ ہے۔ بلکہ بالیقین باتفاق جمیع مفسرین بل بشہادت قرآن مبین سید المرسلین ﷺ وعترتہ اجمعین کے حق میں نازل ہے۔ دیکھو اس کے اخیر : ”وکفی بالله شهيدا“ کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ ﷺ قرآن شریف میں مرقوم ومرسوم ہے۔ اور محی السنۃ اپنی تفسیر میں تصریح کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کلام ختم ہوتی ہے۔ یعنی جس رسول کے بھیجنے کی حق سبحانہ نے خبر دی ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ حضرت ابن عباسؓ حبر امت اور اعلم بتفسیر قرآن سے یہ روایت ہے پھر : ”والذين معه“ دوسری کلام شروع ہوئی۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر معالم التنزیل کا۔ پس اس آیت کو آنحضرت ﷺ کے سوا کسی دوسرے کے حق میں وارد کرنا قرآن مجید اور تفسیروں کے صریح مخالف ہوتا ہے۔
٣٠
المدارک والجلالین والبغوی و غیرها فتحقق من القرآن المبین تکذیب صاحب البراهین فلله الحمد رب العلمین۔ واما ثانیا فلان قول صاحب البراهین بانه من احقر خادمی سیّد الرسل صلّی الله علیهم اجمعین صریح البطلان لا نه یدعی مساواته فی کمالاته و ینسب خصوصیاته المنصوصة به ﷺ الی غیره لا کیف لا و ان هذا المدعی صرف عنه ﷺ فضیلة الرسالة المشهود علیها من الله تعالی فی آیاته هو الذی ارسل رسوله الایه واثبت تلک الفضیلة اولا فی حق المسیح لعله لتالیف قلوب حکام هذه الدیار، واظهار المحبة معهم لجلب المنافع و دفع المضار وثانیاً لنفسه لیظنه الجهال رئیس الاولیاء و نموذج الانبیاء و یغبنون غبنا فاحشا باشتراء کتابه بالثمن الغالی لیحصل له الدراهم والدینار زائد العدد ولا انحصار فالمدار علی الدنیا کما لا یخفی عند اولی الابصار و سنبین هذا الامر بزیادة الاظهار فثبت من المنقولات السابقة واللاحقة ان مؤلف البراهین محرف لایات القرآن المبین فلیس له مشابهة ولا مماثلة باحد من المومنین المخلصین فضلاً عن افضلیته علی الاولیاء الکاملین و کونه نموذج الانبیاء والمرسلین فنعوذ من هذه الدعاوی
افسوس اس شخص کی سخت نادانی پر جو اس آیت کو بطور جسمانی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں اور بطور روحانی اپنے لئے پیشین گوئی بنا رہا ہے اور اتنا بھی نہیں جانتا کہ اس کی ابتداء میں صیغۂ ماضی ہے جس سے صریح ثابت ہے کہ وہ رسول ﷺ بھیجا گیا ہے تو اس سے آئندہ میں رسول کا آنا مراد رکھنا قرآن مجید کی تحریف ہے۔ اور پھر اس آیت میں جو لفظ رسول کا ہے تو اس سے اپنے نفس کی مراد رکھنی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اپنی شرکت ادعائی ثابت کرنی یہ دعویٰ رسالت کا نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس آیت کے غلبہ موعود کو بوسیله حضرت مسیح ظہور میں آنے کا دعویٰ کرنا بموجب قولِ جمہور مفسرین کے باطل ہے۔ کیونکہ یہ غلبہ سرور عالم ﷺ کے ظہور پر نور سے حاصل ہو گیا اور آپ ﷺ پر نعمتِ الٰہی تمام ہو چکی۔ جیسا کہ آیت: ”الیوم اکملت“ اس پر شاہد ہے۔ چنانچہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس پر تصریح ہے اور فقیر راقم الحروف کہتا ہے کہ فتح مکہ سے بڑھ کر جو کسی بشر کو نصیب نہیں ہوئی ہے کون سا غلبہ دینِ اسلام کا ہوگا؟۔ اور بیت اللہ کو بتوں کی پلیدیوں سے پاک کرنے سے کون سا ظہور دین متین مقابل ہو سکے گا؟۔ اور دوسرا قول ضعیف کہ غلبہ وقتِ نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے ہوگا۔ اس پر ہرگز دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ
٣١
الباطلة برب العلمين ولا يخفى ان تحريفه القرآن ليس منحصرا فى التحريف المعنوى بل حرّف كثيرا من الايات تحريفا لفظيا ايضاً الا ترى فى ملهماته المذكورة على الصدر انه حرّف اية قل انى امرت ان اكون اوّل من اسلم وآيته تبت اليك وانا اوّل المؤمنين وركب منهما اية ثالثة هذه قل انى امرت و انا اوّل المؤمنين وبدل اية انه عمل غير صالح وزاد فى اوّل اية ما انت بنعمة ربك بمجنون حرف الوا و كتب الحاء بدل الهاء فى اية وزهق الباطل وغير واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى بالفاء وترك فقره و مطهرک من الذين كفروا من بين اية يا عيسى انى متوفيك ورافعك الاية كما نقلناه من (ص ٥٥٦) وكذلك فى (ص ٥١٩) من كتابه ترك تلك الفقرة من هذه الاية وهكذا الحال فى كثير من الآيات عما يظهر بالتامل على حافظ القرآن المبين ومعهذا جعل القران حصين و ذلك كثير جداً فى ملهماته ولا يذهب عليک انه من سهو قلم الناسخ ان مؤلفه صرح فى (ص ٥١٦) من كتابه انه طبع هذا الكتاب بتصحيحه و تنقيحه و مع ذلک ترجم تلک الايات المحرفة حسب
آیت حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ کے حق میں پیشگوئی ہے اور ’’رسولہ‘‘ سے آنحضرتﷺ کے سوا کوئی اور مراد ہے۔ حاشا وکلا! بلکہ مراد اس قول ضعیف سے یہ ہے کہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو شرع محمدی کے تابع ہو کر دین اسلام کی تائید کریں گے۔ تو یہ بھی سرور عالمﷺ کے ہی غلبہ کی فرع ہوئی۔ ملا علی قاری علیہ الرحمہ فقہ اکبر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح حضرت مہدی سے جب اتر کر ملاقاتی ہوں گے تو نماز کی تکبیر ہو چکی ہو گی۔ حضرت مہدی ان کو امامت کے لئے اشارہ کریں گے۔ تب حضرت مسیح امامت نہ کریں گے۔ بایں عذر کہ یہ تکبیر آپ کے لئے ہوئی ہے۔ آپ کی امامت اولیٰ ہے۔ تب حضرت مسیح مقتدی ہوں گے۔ تاکہ ان کی متابعت سرور عالمﷺ : ’’اخوانہ وعترتہ وسلم ٠‘‘ سے ظاہر ہو جائے۔ جیسا کہ آپﷺ نے حدیث: ’’لو کان موسٰی حیاً‘‘ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی اب اگر موسیٰ زندہ ہوتا تو اس کو بجز میرے متابعت کے کوئی اور چارہ نہ ہوتا۔ پھر ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ اس اتباع کی وجہ سے ہم نے شرح شفاء وغیرہ میں آیت: ’’واذ اخذ اللّٰہ میثاق النبیین ٠‘‘ کے نیچے بیان کی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ اور ایسا ہی عامہ تفاسیر میں درج ہے کہ ٣٢
تحريف هذا وقد قال انه اليه وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم وما كان الله ليعذبهم وهم يستغفرون (ص ٥١٤) وفى القرآن بعد ماكان الله الثانى كلمة معذبهم فحرفها بلفظة ليعذبهم وقال (ص ٥٥٥) انه انزل عليه اية وكذلک مننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء ثم صرح فى اخر ترجمتها ان المراد ههنا من يوسف نفسه فحرف اية وكذلک مكنا ليوسف بقول و وكذلک مننا على يوسف ومن غرائب ملهماته المحرفة والمبدلته لايات القرآن ما انزله فى وصف نفسه و كتابه فى (ص ٤٩٧ و ٤٩٨) وهى هذه ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله رد عليهم رجل من فارس شكر الله سعيه عنى فى ترجمة هذ الالهام عن رجل من فارس نفسه لا انه يدعى كونه من اولاد فارس فسمى نفسه فارسى الاصل و جعل الله سبحانه شاكره ثم كتب هذا الالهام كتاب الولى ذوالفقار على، وقال فى ترجمته ان الله تعالى شبه كتابه بسيف علیؓ استيصالى المخالف فهذه ايضاً اشارة تدل على تاثيرات العظيمه و برکات عميمة لكتابه البراهين انتهى. و كتب بعده هذا الالهام ولوکان الايمان معلقا با لثريا لناله و صرح فى ترجمة ان المراد من هذا الحديث نفسه و بعده هذا الا آنحضرتﷺ متبوع جمیع انبیاء ہیں۔ بلکہ مواہب لدنیہ و دیگر کتب سیر میں تصریح ہے کہ آپﷺ نبی الانبیاء ہیں۔ الغرض آیت: ”ھوالذی ارسل رسولہ“ سرور عالمﷺ کے حق میں ہے، کوئی دوسرا اس کا مورد نہیں ہے۔ براہین والے کا دعویٰ سراپا باطل اور جھوٹ ہے۔ پھر یہ دعویٰ اس کا کہ میں آیات وانوار وتوکل وایثار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں اور فطرت میں باہم نہایت متشابہ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل: ”کمامر نقله على الصدر“ سو یہ دعویٰ بھی مساوات کا ہے۔ مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے۔ جیسا کہ نمونہ کا لفظ اور گویا کلمہ تشبیہ کا مفاد ہے تفسیر اتقان میں منقول ہے کہ گویا یعنی ترجمہ کأَنّ کا وہاں مستعمل ہوتا ہے جہاں بہت قوی مشابہت ہو۔ یہاں تک کہ دیکھنے والا مشبہ اور مشبہ بہ میں فرق نہ کر سکے اس لئے بلقیس کے قول سے اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ گویا یہ تخت وہی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت اتقان کا۔
اب فقیر کہتا ہے کہ براہین والا اس دعویٰ میں بے شک کاذب ہے۔ اولاً اس لئے کہ حضرت مسیح تو مادر زاد اندھے، کوڑھی کو تندرست اور مردہ کو بحکم خدا زندہ کر دیتے تھے اور جب انہوں نے کہا کہ تائید دین میں میرا کون مددگار ہے؟ تو حواری بول اٹھے کہ ہم خدا کے دین کے مدد گار ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مکرر ارشاد ہے اور براہین والے سے اب تک کوئی ایسا خارق نہیں ٤٣
الهام يكاد زيته يضئ و كم تمسه نار و ترجم هذه الاية واوردها فى وصف كتابه و كتب بعدها هذا الهام ام يقولون نحن جميع منتصر سيهزم الجمع و يولون الدبر و ان يروا اية يعرضوا و يقولوا سحر مستمر و استيقنتها انفسهم وقالوا لات حين مناص فبما رحمة من الله لنت عليهم ولو كنت فظا غليظ القلب لا نفضوا من حولك ولو ان القران سيربه الجبال انتهى و صرح فى ترجمة هذه الايات انها فى بيان ان المخالفين يعجزون عن جواب ذلك الكتاب والقيت على هذه الايات فى حق القوم الذين خيالهم و حالهم هكذا يعنى انهم مع روية الايات والخوارق ينكرونها باللسان و يتيقنون بالجنان ولعل الناس ياتون بعدهم على صفتهم هذه ترجمة عبارة ملخصة. فيقول العبد الضعيف انه حرف ههنا تحريفا لفظياً كثيراً و بهت بهتانا كبيراً لان الحديث الصحيح المتفق عليه الفاظه لو كان الايمان معلقا بالثريا لتناوله رجال او رجل من فارس فزاد فى اوله الواو وبدل لتناوله بلفظ لناله و حذف فاعله براسه وهذا غير جائز ثم حرف لفظة زيتها الواقعة فى القران بكلمة زيته لرعاية المرجع المذكور هو كتابه و ہوا۔ اور نہ نصرانی و ہنود سے کسی نے اس پر ایمان قبول کیا ہے۔ بلکہ وہ نصرانی جس کے مطبع میں اس نے تین حصے اپنی کتاب چھپوائی ہے وہ بھی مسلمان نہ ہوا اور اس کی مدد میں اس نے مصروفیت نہ کی۔ باوصفیکہ براہین والے نے کمال تضرع اور خلوص قلب سے جمیع نصاریٰ کے ایمان کے واسطے دعائیں مانگی ہیں اور وہ دعا اخیر میں اس اشتہار کہ مدت اڑھائی برس سے چھپ کر شائع ہوئی ہے۔ وھو ھذا! بالاخر اس اشتہار کو اس دعا پر ختم کیا جاتا ہے۔ ’’اے خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش۔ بالخصوص قوم انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کی دنیا و دین کے لئے دلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے ان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔ بارخدایا ان کو ہدایت کر اور اپنی روح سے ان کی تائید کر اور ان کو اپنے دین میں وافر حصہ دے اور ان کو اپنی طاقت اور قوت سے اپنی طرف کھینچ تا کہ تیری کتاب اور تیرے رسول علیہ السلام پر ایمان لائیں اور فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہوں۔ آمین ثم آمین والحمدلله رب العالمین !‘‘ المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥ ٣٤
حرف اية فناد ولات حين مناص بقوله وقالو الان حين مناص فى تبديل الواو بالفاء ونادوا بقالوا و حذف واو ولات فى ثلث مواضع من كتابه احدها فى هذا الالهام و فی (ص ٤٩٠ و ٤٩٧) و ترجمها ايضاً بحسب هذا التحريف و بدل اية ولو ان قراناً سيرت به الجبال بقوله ولو ان القران سير به الجبال بازدياد اللام على قرانا و حذف تاء سيرت و معهذ ابدل ترتيب ايات سور القمر اعنى كتب ايتين من اخر هذه السورة و هما ام يقولون نحن جميع منتصر سيهزم الجمع ويولون الدبر فى ابتداء الالهام و سطر اية ابتداء تلک السورة بعدهما و ترجم على هذا التركيب فهذا تبديل فى ترتيب آيات سورة واحد و قد قرر فى الشرع ان ترتیب آيات السور توقيفى بامر الشارع بدلالته الا حادیث الصحيحة واجماع العلماء الاسلامية كما انعقد العلامة السيوطى فصلا مستقلا في بيان هذه المسئلة في تفسيرة الاتقان في علوم القرآن بالبسط الوسيع و ذكر ها مبسوط المحدث الدهلوى فى شرح المشكوة المصابيح و نص صاحب تفسير فتح العزيز فى ابتداء و سورة البقرة بعد تحقيق هذه المسئلة على حرمة مخالفة هذه الترتيب و كونها بدعة شنيعة من شاء الاطلاع
پس یہ دعا جو بکمال حضور باطن براہین والے نے نصاریٰ کی قوم کے واسطے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت اور طاقت سے ان کو دین اسلام میں کھینچے اور وہ فوج در فوج مسلمان ہوں۔ اس رسالہ کی تالیف تک ان سے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ چہ جائیکہ سب انگریز ایمان لاتے اور فوج در فوج مسلمان ہوتے۔ پس صریح ثابت ہوا کہ براہین والے کو حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ السلام اور علیٰ ہذا القیاس فطرتی مشابہت کا دعویٰ بھی جھوٹ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ السلام تو بن باپ روح کے پھونکنے سے پیدا ہوئے تھے جس پر قرآن مجید شاہد ہے اور براہین والا حکیم غلام مرتضیٰ قادیانی کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے خود والد کی ایام بلوہ میں حکام وقت کی امداد کا تذکرہ لکھا ہے۔
(براہین حصہ سوم ص ٥١١ خزائن ص ١٤٨)
پس کیوں کر مشابہ ہو وہ شخص جس کی خلقت ماء مھین سے ہو۔ اس ذات پاک سے جس کو اللہ تعالیٰ آیت للعالمین فرمائے؟ اور یہ جو براہین والے نے اپنی مشابہت کی دلیل میں حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ السلام سے یوں لکھا ہے کہ وہ تابع دین موسوی تھے اور ان کی انجیل توریت کی شرح تھی اور میں احقر خادمین سیدالمرسلین سے ہوں۔ سو یہ بھی بالیقین باطل ہے۔ اولاً اس لئے کہ
٣٥
على اصل العبارات لتكميل الاعتبار فلينظر فى هذه الاسفار فتبين ان هذه الالهامات المحرفة لايات القرآن المبين والمبدله ترتيبها المتين والجاعلة القرآن عضين ليست من القاء رب العلمين بل هى تسويلات نفسانية و تلبسات شيطانية عند اهل الحق واليقين فانقبل هذه التحريفات و التبديلات وغيرها ان كانت من عند غير الله فلا شك فى حرمتها وكونها بدعة شنيعة واما اذا كانت من عند الله كما يدعيه صاحب البراهين فلا جناح عليه والله يفعل ما يشاء و يحكم ما يريد اقول قال الله فى سورة الانعام ولا مبدل لكلمة الله وايضاً فيها و تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلمة اى لا احد يبدل شيئا منها بما هو اصدق واعدل اولا احد يقدر ان يحرفها تحريفا شائعا ذائعاً كما فعل بالتورة. اولا نبى وكتاب بعدها ينسخها و يبدل احكامها قاله القاضى بيضاوى وغيره من المفسرين وقال تعالى و انه لكتب عزيز كثير النفع عديم النظير او منيع لا يتأتى. ابطاله و تحريفه. لاياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه من جهة من الجهات تنزيل من حكيم حميد يحمده كل مخلوق كذا فى حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جناب موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے تابع دین نہ تھے۔ بلکہ وہ تو اولو العزم رسولوں سے تھے جن کی شریعت مستقلہ ہوتی ہے اور آپ کی انجیل توریت کی فرع نہ تھی۔ بلکہ انجیل بعض احکام توریت کی ناسخ ہے۔ پہلے دعویٰ کی دلیل یہ ہے جو اخیر سورہ احقاف میں ارشاد ہے کہ :”صبر کر جیسے اولو العزم رسولوں نے صبر کیا ۔“ حضرت ابن عباسؓ اولوالعزم کے معنی صاحب حزم لکھتے ہیں اور ضحاک نے صاحب جدوصبر لکھ کر پھر دونوں اولوالعزم کے شمار میں حضرت نوح وابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام چاروں اصحاب شرائع کا ذکر کر کے پانچویں آنحضرت ﷺ کو شامل ان کے جانتے ہیں۔ پھر صاحب معالم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص کر کے اس آیت میں پانچوں کا ذکر کیا ہے۔ جو سورۃ احزاب کے ابتداء میں ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”اور یاد کر جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ اور عیسیٰ مریم کے بیٹے ۔“ اور اس آیت سورۃ شوریٰ کی ابتداء میں بھی ان پانچوں کا ذکر ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ” راہ ڈالدی تم کو دین میں وہی جو کچھ دی تھی نوح کو اور جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ جو کچھ دیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو ۔“ یہ بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے اور ایسا ہی لکھا ہے۔
٣٦
انوار التنزیل و غیرہما فعلم من القران ان اللہ تعالیٰ لم یشاء تبدیل القران بل اتمہ بالصدق والعدل و یحفظہ من التحریف والتبدیل و نظمہ و رتبہ فی اعلیٰ درجات من البلاغت والفصاحۃ وغیرہما فلا یتصور کلام احسن منہ بالنظم والترتیب و غیرہما و لا یمکن تحریفہ و تبدیلھ لا من جہۃ نبی و کتاب من اللہ تعالیٰ لانہ خلاف الوعد واللہ لا یخلف المیعاد ولا من جہۃ غیرہما فتحقق ان ھذہ الملھمات المحرفۃ والمبدلۃ لایات القران المبین لیست من اللہ المعین بل من نفسانیۃ صاحب البراھین ومن شیطانہ الذی ھو لہ قرین فنعوذ باللہ من الالحاد فی ایات الفرقان المتین قال عز من قائل ان الذین یلحدون یمیلون عن الاستقامۃ فی ایاتنا بالطعن والتحریف والتاویل الباطل والالقاء فیہا لا یخفون علینا فنجازیہم علی الحاد ھم فمن یلقیٰ فی النار خیر ام من یاتی یوم القیمۃ اعملوا ما شئتم تہدید شدید انہ بما تعملون بصیر۔ وعید بالمجازاۃ کذافی انوار التنزیل و مدارک التنزیل و غیرہما وقال تعالیٰ و من اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شئ الایۃ وقولہ تعالیٰ ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا بان اسند الیہ مالم ینزلہ او نفی عنہ ما انزلہ اولئک
اب دوسرے دعوے کی دلیل سنو کہ سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”ہم نے اتاری توریت اس میں ہدایت اور روشنی اس پر حکم کرتے پیغمبر جو فرمانبردار تھے۔ یہود کو اور درویش اور عالم اس واسطے کہ نگہبان ٹھہرائے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبرداری پر تھے۔ سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور مت خریدو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور جو حکم نہ کرے اللہ کے اتارنے پر۔ سو وہی لوگ ہیں منکر۔“ پھر ایک آیت بعد اس کے شرع عیسوی کی بابت ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اور پچھاڑی میں بھیجا ہم نے انہیں کے قدموں پر عیسیٰ مریم کا بیٹا سچ بتاتا توریت کو جو آگے سے تھی اور اس کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی اور سچا کرتی اپنی اگلی توریت کو اور راہ بتاتی اور نصیحت ڈر والوں کو اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے اس پر جو اللہ نے اتارا اس میں اور جو کوئی حکم نہ کرے اللہ کے اتارے پر سو وہی لوگ ہیں بے حکم ۔“ اب دونوں قرآنی آیتوں سے صاف ثابت ہے کہ شریعت موسوی وعیسوی دونوں علیحدہ علیحدہ شریعتیں ہیں جو انجیل کو توریت کی فرع بتاتا ہے قرآن مجید اس کو جھٹلاتا ہے۔
پھر سورۃ آل عمران میں حضرت مسیح سے حکایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اور سچ بتاتا ٣٧
يعرضون على ربهم فى الموقف بان يجيوا او تعرض اعمالهم و يقول الاشهاد من الملائكة و النبيين او من يواريهم هولاء الذين كذبو على ربهم الا لعنة الله على الظلمين تهويل عظيم مما يحيق بهم بظلمهم بالكذب على الله كذا فى انوار التنزيل و غيره ومن اقسام الكذب على الله الغلط فى نقل العلم والرؤيا الكاذبة والحكم فى الدين بمقتضى العقل يعنى خلاف الشرع والادعاء بالكشف او القرب من الله تعالى قاله الشيخ عبدالقادر الدهلوى فى ترجمة المسماة بموضح القرآن قال مولانا على القارى عليه رحمة البارى فى شرح الفقه الاكبر وهولاء الذين يفعلون هذه الافعال الخارجة عن الكتاب والسنة انواعا نوع منهم اهل تلبيس و كذب و خداع الذين يظهر احدهم طاعة الجن له او يدعى الحال من اهل المحال كالمشائخ النصابين و الفقراء الكذابين والطرقية المكارين فهولاء يستحقون العقوبة البليغة التى تردعهم وامثالهم عن الكذب والتلبيس وقد يكون فى هؤلاء من يستحق القتل كمن يدعى النبوة بمثل هذه الخزعبلات او يطلب تغير شى من الشريعة و نحو ذلك انتهى و ہوں توریت کو جو مجھ سے پہلے کی ہے اور اسی واسطے کہ حلال کر دوں تم کو بعض چیز جو حرام تھی تم پر۔‘‘ یعنی شریعت موسوی میں جو چربی اور مچھلی اور ان کا گوشت اور شنبہ کے دن میں کام کاج کرنا حرام تھا۔ اس کو شرع عیسوی نے حلال کر دیا۔ یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ شرع عیسوی ناسخ شرع موسوی ہے۔ یہ تفسیر بیضاوی کی عبارت کا ترجمہ ہے اور تفسیر مدارک وجلالین و معالم وغیر ہا میں بھی ایسا ہی تحریر ہے۔ پس قرآن مجید سے بخوبی تکذیب براہین والے کی ہو گئی۔ ثانیاً براہین والے کا یہ دعوٰی کہ میں آنحضرت ﷺ کے احقر خادمین سے ہوں سراسر باطل ہے۔ کیونکہ وہ آپ ﷺ کے کمالات میں اپنی مساوات کر رہا ہے اور آپ ﷺ کی خصوصیات کو جو منصوص قرآن ہیں۔ آپ ﷺ کے غیر کی طرف منسوب کرتا ہے۔
دیکھو فضیلت رسالت جو اللہ تعالیٰ نے آیت: ’’هو الذی ارسل رسوله . ‘‘میں آپ ﷺ کے لئے ہی ثابت فرمائی ہے۔ براہین والے نے اولاً اس کو حضرت مسیح کے حق میں متحقق کیا ہے۔ شاید تالیف قلوب حکام وقت اور ان سے اظہار محبت کے واسطے ایسا کیا ہو گا ؟ ۔ ثانیاً اس رسالت کو اپنے لئے ثابت کر لیا کہ روحانی اور باطنی طور سے مورد اس آیت کا خود بن بیٹھا۔ تا کہ عوام اہل اسلام اس کو رئیس اولیاء اور نمونہ انبیاء جان کر اس کی کتاب کو گراں قیمت سے خریدیں اور غبن فاحش میں پڑیں اور اس کو بہت سے دراہم و دینار حاصل ہوں۔ پس سارا مدار دینار پر ہے۔
٢٨
ليعلم ههنا ان صاحب البراهين كتب فى (ص ٥٢٠ و ٥٢١) قصة الهامه بانى ذهبت يوما الى المولوى محمد حسين البتالوى للبحث به فى مسئلة اختلافية بترغيب بعض الناس فلما سمعت تقريره اعلمه غير قابل الاعتراض و البحث معه لله فاٰذا جن علَیّ اللیل الهمنی الله بالمخاطبة بهذه الكلمات (الهک رضی عن فعلک هذا) مشیرا الى ترک البحث مع ذلک للمولوی وھو یعطیک بركة كثيرة الى ان السلاطين ياخذون البركة عن ثيابك ثم رايت فى الكشف هولاء السلاطين راكبى خيول ولهم فى ذلك الحين انتهى. بترجمة كلامه فهذ المولوى الممدوح بنهاية درجة الكمال و سبب حصول البركة من الله ذى الجلال لصاحب البراهين هو الذى رئيس غير المقلدين و تلميذ المولوى نذير حسين الدهلوى وقد كان هذا المولوى محمد حسين فى ابتدا الامر يبحث بالمكابرة مع المقلدين و يعد هم من المشركين و يسمى تقليد ائمة المجتهدين شركا و كفرا كما طبع فى هذا الباب اشتهارات و اخبارات و غيرها فلما رد اقواله بجهد العلماء المقلدين اعانهم الله المعين رجع من تلک الشدة قليلاً و عاد من ذلك الجدال ذليلا و الان يشتهر اهل الحرمين ظالمين جیسا کہ دانشمندوں پر مخفی نہیں اور ہم اس امر کو زیادہ تر وضاحت سے ثابت کر دیں گے۔ الحاصل اگلی پچھلی تحریروں سے متحقق ہے کہ براہین والا قرآن مجید کی آیات میں تحریف معنوی کر رہا ہے اور اس کو کسی پکے مومن سے بھی مشابہت نہیں چہ جائیکہ ولیوں پر اس کو فضیلت ہو اور نبیوں کا نمونہ بن سکے تو اس کے ایسے دعوؤں سے پناہ بخدا! و لا يزال‘ اور یہ بھی مخفی نہ ہے کہ اس شخص نے قرآن مجید میں صرف تحریف معنوی ہی نہیں کی۔ بلکہ بہت سی آیات قرآنی میں تحریف لفظی بھی کر دی ہے۔
دیکھو اوپر کے ملہمات میں آیت: ”قل انی امرت ان اکون اول من اسلم ۔“ اور آیت: ”الیک و انا اول المؤمنین ۔“ ان دونوں کو توڑ پھوڑ کر یہ آیت تیسری بنائی کہ : ”قل انی امرت وانا اول المومنین“ اور آیت: ”انہ عمل غیر صالح ۔“ کو: ”انہ عبد غیر صالح ۔“ سے بدل دیا ہے۔ اور آیت: ”مانت بنعمت ربک بمجنون ۔“ کے ابتداء میں حرف واؤ بڑھا دیا ہے۔ اور: ”زهق الباطل ۔“ بحاء ہوز کو زھق الباطل بحائے حطی نازل کر لیا ہے اور: ”واتخذوا من مقام ابراهیم مصلی ۔“ کی واو کو فا سے تبدیل کر دیا ہے
باتباع استاذه نذير حسين بسبب حبس استاذه فى مكة المحمية سنه ١٣٠١ من السنين الهجريه لظهور كمال المخالفة بشرع الشريف فهذه المولوى لنصرة استاذه يشكو عنهم عند حكام هذه الديار من النصرانيين كما يظهر من هامش رسالة المسماة باشاعة السنة نمبر ٩ جلد ٧ ص ٢٥٦) وغيرها والله خير الناصرين والحافظين والعاقبة للمتقين فهذا محمد حسين يصف الكتاب البراهين اداء لشكر مؤلفه فى رسائله المجرية على راس الشهور المسماة باشاعة السنة و بالغ فى وصفه كثيراً كبيراً الى ان قال يجب على جميع المؤمنين من الشيعة و اهل السنة والمقلدين واهل الحديث ان يشتروا الكتاب البراهين بادنى قيمة (وهى خمس و عشرون ربية) و يقرؤن فى شكر حصوله هذا البيت الفارسية جمادی چند دادم جان خریدم. بحمد الله عجب ارزان خریدم. ودعا الله سبحانه بان يشرفه و جميع المسلمين بفيوض هذا الكتاب المستطاب كما فى (ص ٤٢٨ نمبر ١١ جلد ٧) من اشاعة السنة شهر ذی العقدة و ذى الحج (سنه ١٣٠٢) وفى هذه الرسائل ايد كلام صاحب البراهين اور آیت: ”یاعیسیٰ انی متوفیک“ کے درمیان سے: ”ومطھرک من الذین کفروا“ کو ساقط کر دیا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت ص ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٥ سے اوپر منقول ہوگئی ہے اور ایسا ہی اس آیت کو ص ٥١٩ خزائن ص ٦٢٠ میں جو اپنے لئے نازل ہونا لکھا ہے تو وہاں بھی اس کے درمیان سے یہی فقرہ اڑا دیا ہے اور علیٰ ہذا بہت سی آیات قرآنی میں لفظی تحریف بھی کر دی ہے۔ جس کو حافظ قرآن تامل سے معلوم کر سکتا ہے۔ پھر باوصف اس تحریف کے آیات قرآنی کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اور یہ تو اس کے ملہمات میں اس کثرت سے ہے جس کا شمار دشوار ہے۔ یہاں پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ تحریف آیات کاتب کی غلطی سے ہوگئی۔ کیونکہ براہین والے نے اپنی تصحیح سے وہ کتاب چھپوائی ہے۔ جیسا کہ ص ٥١٦ خزائن ص ٦١٥ میں اس پر تصریح کرتا ہے اور نیز ان آیات کا ترجمہ موافق اس تحریف ہی کے کیا ہے۔ اس کو یاد رکھ کر آگے سنئے کہ ص ٥١٤ خزائن ص ٦١٣، ٦١٤ میں آیت: ”وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ لیعذبھم وھم یستغفرون“ کو جو اپنے حق میں نازل ہونا لکھا ہے تو اس میں دوسرے: ”وماکان اللہ“ کے پیچھے سے جو لفظ معذبھم قرآن مجید میں ہے اس کو لیعذبھم سے بدل دیا ہے۔ پھر ص ٥٥٥
٤٠
بتاویلات فاسدة و تسويلات كاسدة حاصلها ان ايات القرآن اذا انزلت فى خطاب نبينا او سائر الانبياء سميت قرانا و اذا خاطب بها الله تعالى غير الانبياء مثل صاحب البراهين لم تسم قرانا و ان كانت بعينها ايات القران و غرضه من هذا الهذيان ان يخلص صاحب البراهين من تحريف القران والحاد آيات الفرقان ثم صرح بالتصريح التام بهذا المطلب الفاسد النظام فى (ص ٢٦٣ و ٢٦٤ و ٢٦٥ و ٢٦٦) من رسائله المسطورة. فالعبد الضعيف بتائيد العليم اللطيف ينقل اقواله بترجمة عباراته الهندية في العربية مع ابطالها بالقرآن والحديث والاجماع حسبنا الله و نعم الوكيل وهو الهادي الى سواء السبيل.
قوله...... تسمية الكلام الواحد في الوقت الواحد بسبب اختلاف المخاطب اوالمتكلم قرآناً و غير قرآن لا يستبعد عند اهل العلم ولا يرده اعتراض عليه.
اقول...... اوالمتكلم فى كلام واحد في زمان واحد لان المتكلم الاوّل اذا تكلم بكلام فبمجرد تكلم ينقضى ذلك الزمان فكيف يتصور تكلم المتكلم الاخر بذلك الكلام في ذلك الزمان وكذلك الحال باعتبار خزائن ص ٦٦١ میں جو آیت : ”وكذالك مننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء“ کو اپنے حق میں نازل لکھ کر اخیر اس کے ترجمہ کے لکھتا ہے کہ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے۔ انتہا بلفظہ اور اس آیت میں لفظ مكنا کو مننا سے تحریف کردیا ہے اور اسی محرف لفظ کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے یوسف پر احسان کیا۔ انتہا بلفظہ !
پھر ص ٤٩٧ ٤٩٨ خزائن ص ٥٩١ ٥٩٢ میں جو اپنی وصف اور اپنی کتاب کی تعریف میں یہ آیت نازل کی ہے کہ :”ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله رد عليهم رجل من فارس شكر الله سعيه “ تو علاوہ تحریف قرآن کے اس کے ترجمہ میں اپنے لئے اللہ تعالیٰ کو شاکر یعنی اپنا شکر گزار لکھ دیا ہے۔ اور بعد ازاں یہ الہام لکھا ہے ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے۔ یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی ہے۔ اور یہ ایک پیشگوئی ہے کہ جو کتاب کی تاثیرات عظیم اور برکات عمیم پر دلالت کرتی ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا: ”اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا یعنی زمین سے بالکل اٹھ جاتا تب بھی شخص مقدم الذکر یعنی ”فارسی الاصل“ اس کو پالیتا۔“ انتہا بلفظہ !
پھر آیت : ”یکاد زیته“ کو اپنی کتاب کی تعریف میں وارد کر کے ترجمہ یوں لکھتا ہے
٤١
اختلاف المخاطب عند اهل العلم من الاعيان والثانی وان سلمنا اختلاف المتكلم والمخاطب فى الكلام الواحد فى الزمان الواحد فتسمية الكلام الواحد فى الوقت الواحد قرآنا و غير قرآن غير ممكن لان اثبات الشئ و نفيه فى الوقت الواحد غير جائز عقلاً و الثالث ان القرآن قرآن من الازل الى الابد فلا يجوز ان يقال له غير قرآن شرعا فان الله تعالى سمى الايات البينات قرآنا كما قال عزمن قائل قرآناً عربياً غير ذی عوج الاية فمن سمی تلک الایات بعينها غير قرآن فقد خالفه الفرقان۔
قوله...... او المتكلم يختلف اسمه دائماً باختلاف المخاطب او المتكلم مع كونه بعينه فالكلام الواحد اذا اضيف تكلمه الى الله مثلاً فهو الكلام الرحمانی واذا اضيف تكلمه الى الشيطان او فرعون فهو الكلام الشيطانی او الفرعونی مثاله هذا الكلام المنقول من ابليس فى القرآن انا خير منه خلقتنی من نار وخلقته من طين والكلام الثانی نقل من فرعون وهو انا ربكم الاعلى فان اعتبرنا ان هذين الكلامين قالهما ابليس و فرعون فى لسانهما فيقال
کہ: ”عنقریب ہے کہ اس کا تامل خود بخود روشن ہو جائے۔“ اھ انتہاء بلفظہ! پھر یہ آیت سورۃ قمر وسورۃ ص وسورۃ آل عمران وسورۃ رعد اپنے اور اپنی کتاب کے حق میں نازل کر کے ان کا ترجمہ یوں تحریر کیا ہے کہ: ”کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں۔ عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور یہ پیٹھ پھیرلیں گے اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے۔ حالانکہ ان کے دل ان نشانوں پر یقین کر گئے ہیں اور دلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہوجاتے۔ اگرچہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔ یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القاء ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آئیں۔“ انتہاء بلفظہ!
(براہین ص ٤٩٨ خزائن ص ٥٩٢)
اب فقیر کاتب الحروف کان اللہ لہ کہتا ہے کہ ان میں براہین والے نے تحریف لفظی بھی بدرجہ کمال کی ہے اور بہتان عظیم کو اسی میں شامل کردیا ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح متفق علیہ کے الفاظ یہ ہیں:”لوکان الايمان معلّقاً بالثريا لتناله رجال اورجل من فارس “پس اسی
٤٤
لهما الكلام الشيطانى والكلام الفرعونى انتهى وقال فى هامش هذه الصفحة اذا جعل انا ربكم الاعلى كلام فرعون فى اى لسان قاله لا يسمى قرانا انتهى.
اقول....... الكلام لا يختلف باختلاف المتكلم فان الكلام كلام من قاله اولاً الا ترى ان من قرء الحمد لله رب العلمين وقل هو الله احد فلا يقال انما هما كلام هذا القارى بل يقول كل مؤمن هاتان ايتان من كلام البارى ومن قال انما الاعمال بالنيات فيقال انما هو حديث الرسول عليه الصلوة ومن قال قفا نبك من ذكرى حبيب و منزل+ فيقال هذا المصرع من شعر امرء القيس كذا فى شرح الفقه الاكبر لمولانا القارى عليه رحمة البارى ثم اضافة ايات القران العظيم الى غير الله الكريم وجعلها كلام الشيطان الرجيم و فرعون اللئيم ليست من داب المؤمن الحكيم بل يقول المؤمن فى مقابلة هذا المقال سبحانه هذا بهتان عظيم لان ما فى الدفتين من "الحمد لله رب العلمين الى من الجنة والناس" ليس الا كلام رب الرحيم وقد كتب فى اللوح المحفوظ قبل خلق الارض والسماء والارواح وانما انزل هذا جبرائيل على الرسول الرؤف الرحيم عليهما الصلوة والتسليم كما قال تعالى بل هو قران مجيد فى لوح
حدیث کے ابتداء میں براہین والے نے حرف واؤ زائد کر دیا ہے اور لتناول کو لنالہ سے بدل دیا ہے اور اس کے فاعل کو بالکل حذف کیا ہے جو محض ناروا ہے۔ پھر قرآن مجید کے لفظ زیتھا کو کلمہ زیتہ سے تحریف کیا ہے۔ تا کہ کتاب مرجع مذکر کی رعایت رہے اور آیت: ”فنادوا ولات حین مناص“ کو: ”وقالوا لات حین مناص“ بنا کر تین تحریف کر دی ہیں۔ یعنی فا کی جگہ واؤ لکھ دی ہے۔ اور نادوا کو قالوا سے بدلا ہے اور لات کے سر سے واؤ حذف کر دی ہیں۔ پھر اس کو تین جگہ اسی تحریف سے لکھا ہے۔ ایک تو یہ مقام دوسرا ص ٤٩٠ کی سطر ١٨، خزائن ص ٥٨٣ میں تیسرا ص ٤٩٧ کی سطر ١٣، خزائن ص ٥٩٣ میں اور ان تینوں ہی جگہ میں بموجب اس تحریف کے ترجمہ کیا ہے۔ پھر آیت: ”ولو ان قرآناً سیّرت بہ الجبال“ کو: ”ولو ان القرآن سیّربہ الجبال“ بنا کر قرآن پر الف لام بڑھا دیا ہے اور سیّرت کی تا کو حذف کر دیا ہے اور معہذا سورۃ قمر کی آیات میں ترتیب بدل دی ہے۔ کیا معنی کہ دو آیت اخیر سورۃ یعنی: ”ام یقولون سے الدبر“ تک ابتداء میں لکھ دی ہیں اور آیت ابتداء سورۃ قمر یعنی: ”وان یروا آیة“ کو ان کے اخیر میں تحریر کر دیا ہے اور اسی ترتیب پر ترجمہ کیا ہے۔ پس یہ ایک سورۃ کی آیات میں تبدیل ترتیب ہے اور
٤٣
محفوظ قال فى تفسير فتح العزيز بل هو قصة القران القديم التى كتب قبل و قوعها فى لوح محفوظ من الشياطين والجن والانس واخرج البغوى فى المعالم باسناده عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اللوح لوح، من درة بيضاء طوله مابين السماء والارض وعرضه مابين المشرق الى المغرب و حافتاه الدر اليا قوت دفتاه ياقوتة حمراء و قلمه نور و كتابه معقود بالعرش و اصله فى حجر ملك انتهى كذافى المدارك و الجلالين وغيرهما لكن اخرج هذا الحديث فى الاتقان عن الطبرانى عن ابن عباس مرفوعاً بتفاوت يسير وايضا قال تعالى لا تحرك به اى بالقران لسانك لتعجل به بالقران و كان عليه السلام يا خذ فى القراء ة قبل فراغ جبريل كراهة ان ينفلت منه فقيل له لا تحرك لسانك بقراء ة الوحى مادام جبرائيل يقراء ه لتعجل به لناخذه على عجلة ولئلا ينفلت منك ثم علل النهى عن العجلة بقوله ان علينا جمعه فى صدرك و قرانه واثبات قراءته فى لسانك والقران القراء ة و نحوه ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضى اليك وحيه فاذا قرأناه اى قرء عليك جبرائيل
شرع میں مقرر ہے کہ ہر سورۃ کی آیات میں ترتیب بامر شارع توقیفی ہے۔ بدلیل احادیث صحیحہ واجماع امت مرحومہ چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے تفسیر اتقان میں اس مسئلہ کے بیان میں ایک مستقل بسط مناسب کے ساتھ ذکر کیا ہے اور شیخ محدث دھلویؒ نے بھی فارسی اور عربی دونوں شرح مشکوٰۃ میں اس امر کو تفصیل وار لکھا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے بھی تفسیر فتح العزیز کے ابتداء سورۃ بقرہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کے بعد ترتیب آیات کی مخالفت کو حرام اور بدعت شنیعہ کہا ہے جس نے اصل عبارات دیکھنی ہوں تو ان کتابوں میں دیکھے۔ الغرض یہ الہامات جن میں آیات قرآنی کی تحریف اور نیز آیات کی ترتیب کی تبدیل اور نیز ان کا پارہ پارہ کرنا شائع ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز القاء نہیں ہیں اور بالیقین تلبیس ابلیس اور مکائد نفس خبیث سے ہیں۔ اعاذنا الله وجمیع المسلمین عن ذالک !
اس جگہ پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ تحریف اور تبدیل وغیرہ اگر کسی بندے کی طرف سے ہو تو اس کی حرمت وغیرہ میں کیا شک ہے؟۔ لیکن جب خدائے کریم کی طرف سے ایسا ہو رہا ہے جیسا کہ براہین والے کا دعویٰ ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے تو اس کا جواب یوں ہے۔ باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ”ولا مبدل لكلمات الله“ اور ”تمت كلمة
٤٤
فجعل قرأة جبرائیل قرأة تعالیٰ فاتبع قرأته ای قراء ة ثم ان علینا بیانہ اذا اشکل علیک شئی من معانیہ قالہ فی مدارک التنزیل وهکذا فی عامۃ التفاسیر ثم اوّل ایات نزلت علیہ ﷺ من القران بالاجماع قولہ تعالیٰ اقرء باسم ربک الذی خلق الی مالم یعلم وقال فی تفسیر فتح العزیز انہ ﷺ خرج یوماً من الغار س من ...... للغسل وقام علی شط الماء اذ ناداہ جبرائیل من الهواء ان یا محمد فنظر ﷺ الی العلیٰ ولم یبصر احدا فناداہ ثلث مرات وهو ﷺ ینظر الی الیمین و الشمال فاذا شخص نورانی مثل الشمس و علی راسہ تاج من نور و لبس حلۃ خضراء علی صورۃ انسان جاء الیہ ﷺ وقال لہ اقرء و فی بعض الروایات ان جبریل جاء بقطعۃ حریرا اخضر قد کتب فیها شئی فرآہ ﷺ تلک القطعۃ وقال اقرء فقال ﷺ انالا اعرف صورۃ الحروف وما انا بقاری الحدیث وقال مولانا القاری فی شرح الفقہ الاکبر فی الملحقات ومنها ما ذکرہ شارح عقیدۃ الطحاویۃ عن الشیخ حافظ الدین النسفی فی المنار، ان القران اسم النظم والمعنی جمیعا و کذا قال غیرہ من اهل الاصول وما ینسب الی ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہ ان من قراء فی الصلوۃ بالفارسیۃ اجزاہ فقد رجع عنہ وقال لا ربک‘‘ ارشاد ہے۔ یعنی قرآن مجید کی آیات کو جو راست تر اور اعدل ہیں کوئی نہیں بدل سکتا۔ یا کوئی قادر نہیں کہ آیات قرآنی الٹا پلٹا کر دے۔ جیسا کہ توریت میں واقع ہوا ہے۔ یعنی کہ تحریف نے تاثیر کر دی اور کسی نے اس امت سے تعاقب نہ کیا۔ یا قرآن سے پیچھے نہ کوئی کتاب ہو گی جو اس کو نسخ کر سکے۔ اور اس کے احکام تبدیل کرے۔ یہ ترجمہ عبارت تفسیر بیضاوی وغیرہ کا ہے اور یہ بھی قرآن کا فرمان ہے کہ بے شک قرآن کتابِ عزیز ہے یعنی بہت منفعت والی بینظیر یا محکم جس کا ابطال اور تحریف غیر ممکن ہے۔ باطل کی طرف سے اس کو شامل نہیں ہو سکتا۔ اس حکیم نے اتاری ہے جس کی ساری مخلوقات حمد کرتی ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر بیضاوی و معالم التنزیل کا۔ پس ایسی آیات قرآنی سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور خواہش نہیں کہ آیات قرآن کی تبدیل ہو۔ بلکہ اس نے قرآن مجید کو راستی اور عدل سے پورا کر دیا ہے اور تحریف و تبدیل سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی نظم اور ترتیب اعلیٰ درجے فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہے۔ پس کوئی کلام کلام الٰہی سے نظم اور ترتیب کے رو سے احسن متصور نہیں اور اس کی تبدیل و تحریف بھی غیر ممکن ہے۔ نہ کسی نبی کی طرف سے اور نہ خدا تعالیٰ کی کسی کتاب سے۔ کیونکہ یہ خلاف وعدہ ہے باری تعالیٰ کا
٤٥
يجوز مع القدرة بغير العربية وقال لوقرء بغير العربية فاما ان يكون مجنونا فيداوى اوزنديقا فيقتل لان الله تعالى تكلم بهذه اللغة والاعجاز حصل بنظمه و معناه انتهى فثبت بالقرآن والحديث و تصريح علماء عقائد اهل السنة ان هذه الايات البينات المسماة با القرآن انزلت على رسول الله ﷺ بهذه الحروف والكلمات كانت مكتوبة فى اللوح المحفوظ هذا وقد قال الامام الاعظم فى الفقه الاكبر والقارى فى شرحه و ماذكره الله تعالى فى القرآن اى المنزل والفرقان المكمل عن موسى و غيره من الانبياء عليهم السلام اى اخباراً منهم او حكايته عنهم و عن فرعون و ابليس اى و نحوهما من الاعداء والاغبياء فان ذلك اى ماذكر من النوعين كله على مافى نسخته جميع كلام الله تعالى اى القديم اخبارا عنهم اى وفق ما قد كتب الكلمات الدالة عليه فى اللوح المحفوظ قبل خلق السماء والارض والروح بكلام حادث عند سمعه من موسى و عيسى و غيرهما من الانبياء ومن فرعون و ابليس وهامان و قارون و سائر اعداء فاذا لا فرق بين الاخبار من الله تعالى عن اخبارهم واحوالهم و اور باری تعالیٰ وعدہ کا خلاف ہرگز نہیں کرتا ہے۔ پس متحقق ہوا کہ یہ الہامات قرآن کی تحریف وتبدیل کرنے والے حق سبحانہ کی جانب سے نہیں ہیں۔ بلکہ نفسانیت صاحب براہین یا اس کے شیطان قرین کی طرف سے ہیں۔ ایسے الحاد فی القرآن سے پناہ بخدا! آیہ سورۃ فصلت میں ارشاد ہے: ”ان الذين يلحدون“ یعنی جولوگ استقامت سے برطرف ہو کر ہماری آیتوں میں طعن اور تحریف اور تاویل وغیرہ سے پیش آئے وہ ہم پر پوشیدہ نہیں۔ یعنی ان کو اس الحاد کا بدلہ دیں گے۔ کیا پس جوشخص آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا جو قیامت کے دن امن سے آئے جو چاہو کرلو۔ یہ تہدید شدید ہے۔ بےشک خدا تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی ان کی سزادے گا۔
یہ بیضاوی و مدارک وغیرہما کی عبارت کا ترجمہ ہے۔ اور قرآن مجید کی سورۃ انعام میں ارشاد ہے: ”ومن اظلم ممن افتری“ یعنی اور اس سے ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یہ کہے مجھ کو وحی آئی اور اس کو وحی کچھ نہیں آئی اور سورۃ ھود میں یوں فرمان ہے۔ جس کا ترجمہ اور مراد یہ ہے کہ: ”کون بہت ظالم ہے خدا پر جھوٹا افتراء کرنے والے سے۔“ یعنی جس نے کسی اور کی بات کو اللہ کی اتاری بتا دیا یا اللہ کی اتاری کا انکار کیا وہ لوگ رو برو آئیں گے اپنے رب کے۔ یعنی قیامت کے دن رو برو کھڑے کئے جائیں گے یا ان کے اعمال پیش کئے جائیں گے اور کہیں گے گواہی دینے
٤٦
اسرارهم كسورة تبت وسورة القتال و نحو هما و بين اظهار الله تعالى من صفات ذاته و افعاله و خلق مقدوراته كاية الكرسى وسورة الاخلاص وامثالها و بين الايات الافاقيه والانفسيه فى كون كل منها كلامه و صفته القدسية الانفسية و مجمل الكلام قوله على مافى نسخة وكلام الله تعالى اى ماينسب اليه سبحانه اى ولا حادث و كلام موسى على نبينا و عليه السلام ولو كان مع امته و غيره اى وانما كلمهم غيره من المخلوقين اى سائر الانبياء والمرسلين والملائكة المقربين مخلوق اى حادث لكونهم مخلوقين والقرآن كلام الله تعالى اى بالحقيقة كما قال الطحاوى رحمه الله تعالى لا بالمجاز كما قال غيره وما كان مجازاً يصح نفيه وههنا لا يصح واجيب بان الشرع اذا ورد باطلاقه فيما يجب اعتقاده لا يصح نفيه هو قديم كذاته لا كلامهم فانه حادث مثلهم اذ النعت تابع لمنعوته وانما يقال المنظوم العبرانى الذى هو التورية والمنظوم العربى الذى هو القرآن كلامه سبحانه لان كلماتهما واياتهما ادله كلامه و علامات مرامه ولان مبد نظمهما من الله تعالى الا ترى انك اذ قرأت حديثا من الاحاديث قلت هو الذى قرءته و ذكرته ليس قولى بل قول رسول الله ﷺ لان مبدء نظم ذلك القول والے یعنی فرشتوں اور نبیوں اور اعضاء سے بھی۔ جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر سن لو پھٹکار ہے اللہ کی بے انصاف لوگوں پر۔ یہ عظیم دہشت دینا ہے ان کے ظلم پر جو خدا پر جھوٹ باندھا۔ یہ
ترجمہ ہے بیضاوی وغیرہ تفاسیر کی عبارتوں کا اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ اُس کے فائدہ میں لکھتے ہیں کہ ”خدا پر جھوٹ بولنا کئی طرح ہے۔ علم میں غلط نقل کرنی یا خواب بنالینا یا عقل سے حکم کرنا دین کی بات میں یعنی شریعت کے مخالف یا دعویٰ کرنا کشف رکھتا ہوں یا اللہ کا مقرب ہوں۔“ انتہاء بلفظہ !
ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے مخالف کام کرنے والے لوگ بہت قسم کے ہیں۔ ایک قسم ان میں سے فریبی اور جھوٹے اور مکار ہیں جن سے کوئی دعویٰ جنوں کے قید کرلینے کا کرتا ہے یا مدعی حالت کا ہوتا۔ جیسے جھوٹے مشائخ اور فقراء۔ پس یہ لوگ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ جیسے ایسے لوگ جھوٹ اور فریب سے بعضے کھائیں اور بعضے ان لوگوں سے مستحق قتل ہیں۔ جو فریب دکھا کر دعویٰ نبوت کا کرتا ہے یا شریعت کے بدلانے کے درپے ہوتا ہے اور مانند اس کے یہاں تک ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ اور یہ بھی معلوم ہو کہ براہین والے نے ص ٥٢٠، ٥٢١، خزائن ص ٦٢١، ٦٢٢ میں اپنے الہام کا قصہ یوں لکھا ہے کہ : ”١٨٦٨ء یا ١٨٦٩ء میں
٤٧
من الرسول عليه الصلوة والسلام و منه قوله تعالى افتطمعون ان يؤمنوا لكم و قد كان فريق منهم يسمعون كلام الله و قوله عز و جل و ان احد من المشركين استجارك فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه مامنه انتهى وفى المشكوة عن نعمان بن بشير قال قال رسول الله ﷺ ان الله تعالى كتب كتابا قبل ان يخلق السموات و الارض بالفى عام انزل منه ايتين ختم بهما سورة البقرة رواه الدارمى والترمذى و عن ابى هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله ﷺ ان الله تعالى قرء طهٰ و يسٓ قبل ان يخلق السموات والارض بالف عام. الحديث رواه الدارمى انتهى بقدر الحاجة فلما تبين من القران والحديث و عقائد اهل السنة ان ايات القران باجمعها انما هى كلام الله تعالى لا كلام غيره من المخلوقين فمافيه من قصص الانبياء واقوال الاصدقاء واحوال الاعداء و مقال الاشقياء انما هى كلام الله تعالى قالها الله سبحانه اخباراً منهم قبل خلقهم و وجودهم فى دارالفناء فقول هذا المبتدع الى صاحب الرسالة اشاعة السنة بان آية انا خير منه خلقتنى من نار وخلقته من طين كلام شيطانى واية انا ربكم
ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کی تقریب یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی جو کسی زمانہ میں اس عاجز (مرزا قادیانی) کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔ چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو مع ان کے والد کے مسجد میں پایا۔ پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت تقریر سن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو۔ اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ!
اور یہ مولوی محمد حسینؒ شاگرد مولوی نذیر حسین دہلویؒ کے ہیں جو غیر مقلدوں کے رئیس
الاعلی کلام فرعونی و لیست بقران انکار بمات ایات الفرقان وجعل جميع قصص القران و حکایات الفرقان من کلام المخلوق نعوذ باللہ من ھذا منوق قال مولانا القارى فى المنح الازھر شرح الفقہ الاکبر تحت قول الامام الھمام و کلام اللہ تعالیٰ غیر مخلوق بل قدیم بالذات قال الطحاوی فمن سمعہ فزعم انہ کلام البشر فقد کفر و قد ذمہ اللہ واوعدہ بسقر حیث قال اللہ تعالیٰ ساصلیہ بسقر فلما اوعدہ اللہ بسقر لمن قال ان ھذا الا قول البشر علمنا و ایقنا انہ قول خالق البشر ولا یشبہ قول البشر انتھی وایضا فی ذلک الکتاب فان قیل قال اللہ تعالیٰ انہ لقول رسول کریم وھذا یدل علی ان الرسول احدثہ اما جبریل او محمد ﷺ فقیل ذکر الرسول معرف انہ مبلغ عن مرسلہ لانہ لم یقل انہ قول ملک او نبی فعلم انہ بلغہ عمن ارسلہ بہ لا انہ انشاء ہ من جھۃ نفسہ و ایضا فالرسول فی احدی آیتین جبریل و فی اخری محمد ﷺ فاضا فتہ الی کل منھما تبین ان الاضافۃ للتبلیغ اذ لو احدثہ احدھما امتنع ان یحدثہ الآخر و ایضا فان اللہ تعالیٰ قد کفر من جعلہ قول البشر فمن جعلہ قول محمد ﷺ بمعنی انہ انشاء ہ فقد کفر و فرق بین ان یقول انہ قول البشر او جن
اور ابتداء میں مقلدین سے سخت مکابرہ سے پیش آکر ان کو مشرک جانتے تھے اور آئمہ مجتہدین کی تقلید کو شرک وکفر مانتے تھے۔ چنانچہ اس بارہ میں رسالے واشتہار چھپواتے رہے۔ پھر جب علماء مقلدین نے ان کے خیالات کی بواقعی تردید کی تو اس شدت مجادلہ سے کسی قدر لوٹے اور جب ان کے استاذ مولوی نذیر حسین دہلویؒ بسبب ظاہر ہونے ان کی سخت مخالفت شرع کے واقعہ ١٣٠١ ہجری مکہ معظمہ میں قید ہوئے تو اپنے استاذ کی نصرت کے واسطے یہ مولوی محمد حسین اہل حرمین محترمین کو ظالم مشہور کرنے لگے اور حکام وقت اس دیار کے پاس ان کا شکوہ شکایت کرنی شروع کردی جیسا کہ رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر ٩ جلد ٧ کے ص ٢٥، ٢٦ وغیرھا سے ظاہر ہے۔ پس ان مولوی محمد حسین صاحب نے بھی گویا صاحب براہین کی تعریف کے شکریہ میں اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں ان کی اور ان کی براہین کی کمال تعریف کرنی شروع کرکے اخیر میں یہ لکھ دیا ہے۔ مؤلف براہین احمدیہ نے یہ منادی اکثر زمین پر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت ہمارے الہامات وخوارق سے بچشم خود دیکھے۔ پھر کیا اس احسان کے بدلے مسلمانوں پر یہ حق نہیں ہے کہ فی کس نہ سہی فی گھر ایک ایک نسخہ کتاب اس کی ادنیٰ قیمت دے کر خرید کریں اور اس پر یہ شعر پڑھیں:
٤٩
اوملک اذا الکلام کلام من قاله مبتدیا لا من قاله مبلغاً انتهی وانعم ما قیل گرچہ قرآن از لب پیغمبر ست + هر که گوید حق نگفت او کافرست + فان لم یطمئن قلب صاحب الاشاعة بهذه النقول لا نها من زبر العلماء المقلدین و لعل قولهم عنده لیس بمقبول فنقول نقل هو ايضاً من شرح الفقه الاکبر فی (ص ٢٩٢ و ٢٩٣ و ٢٩٣) من اشاعة السنة وايضا نقل فیها بصفحه ٣١٢ من مولانا شاه عبدالعزیز الدهلوی بوصف کثیر فی حقه و محصلہ انقل ھذا المطلب بعینہ من سفار غير المقلدين ليکون لقطع حجة اوّل دليل و يعلم انه ای صاحب الاشاعة عند قومه ایضا ضل عن سواء السبیل قال فی نهج مقبول من شرائع الرسول الذی صححه و امر بطبعه فی بلدة بھوپال المولوی صدیق حسن القنوجی ثم البھوپالی احد مشاهير علماء غير المقلدين مانصه القران الكريم کلام تعالی منه بدء واليه يعود و لفظه ومعناه كلاهما من الله تعالى ليس جبرائيل الا ناقله وما محمد ﷺ الا مبلغه وما قرء منه الخلق و يقرؤن كله كلام الله تعالى كلم الله سبحانه به و سمع منه جبرئیل صدقاً و انزله علی رسول الله
بحمد اللہ! عجب ارزاں خریدم
انتہاء حاشیہ میں ادنیٰ قیمت ٢٥ روپے درج ہیں۔ جیسا کہ ص ٣٨ نمبر ١١ جلد ٧ اشاعة السنۃ ذی قعدہ و ذی الحجہ ١٣٠١ھ اور محرم ١٣٠٢ھ سے یہ عبارت منقول ہوئی ہے اور ان رسائل میں صاحب اشاعت السنۃ نے براہین والے کے کلام کی تاویلات فاسدہ سے بہت ہی تائید کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیات قرآنی جب آنحضرت ﷺ یا دوسرے انبیاء علیہم السلام کے خطاب میں نازل ہوئی تھیں تو ان کا نام قرآن تھا اور جب انہیں بعینہ آیات سے اللہ نے غیر انبیاء کو مثل صاحب براہین کے مخاطب فرمایا تو اس کا نام قرآن نہیں رکھا جاتا اور غرض اس ہذیان سے صاحب براہین کا تحریف قرآن اور الحاد آیات فرقان سے بچانا ہے۔ پھر صاف صاف اس قبیح مضمون کو اشاعت السنۃ مذکورہ بالا کے ص ٢٦٣‘ ٢٦٤‘ ٢٦٥‘ ٢٦٦ میں لکھا ہے جس کے قول کو فقیر راقم الحروف نقل کر کے قرآن وحدیث واجماع کی سند سے تردید کرتا ہے۔ تاکہ قرآن مبین اور دین متین کی تائید سے کوئی دقیقہ فروگزار نہ رہے۔ ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم!
٥٠
ﷺ يقينا من قال انه كلام ملك او بشر فمسكنه سقر انتهى بترجمة عبارة الفارسية وهذه الرسالة تاليف الولد الاكبر للمولوی صدیق حسن بھوپالی وما نقل منه هو في ص ٥ المطبوع في مطبع بھوپال فما ذا بعد الحق الا الضلال قوله فان اعتبرنا ان هذا الكلامين بعينيهما فى ضمن حكاية ابليس و فرعون وجدا في كلام الله فيسميان كلاماً رحمانياً و جزاً من القرآن اقول لا حاجة لاعتبار معتبر فى جعل اية انا خير منه الاية و ايت انا ربكم الاعلى من الكلام الرحماني و جزء من القران المبين بل هما فى الحقيقة والاصل كلام الله سبحانه قالها الله تعالى و كتبها فى اللوح قبل خلق ابليس و فرعون بالاف سنين كما مر سنده من القران المبين و احاديث سيّد المرسلين و معتقدات العلماء الربانيين فجعل هذا الكلام العربى المعجز العظيم الشان۔ كلام ابليس و فرعون ثم اعتبار النقل منهما فى القران ليس الا الهذيان والبهتان ابعد الله عزوجل من هذه العقيدة والقول بها جميع اهل الايمان و ليعلم ان هذه الاقوال التى مبناها على اختلاف المتكلم قالها صاحب الاشاعة في تمهيد تائيد صاحب البراهين و فدى في حبه دينه بشهادة الشرع المتين والان انقل اقواله التى مدارها على اختلاف
”اور ایک ہی کلام کو ایک ہی وقت میں مخاطب یا متکلم کے لحاظ سے قرآن اور غیر قرآن کہنا اہل علم کے نزدیک مستبعد اور محل اعتراض نہیں ہے۔“ انتہی بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ اس پر تین اعتراض وارد ہیں۔ پہلا یہ کہ مخاطب یا متکلم کا اختلاف ایک ہی کلام میں ایک ہی وقت میں غیر متصور ہے۔ اس لئے کہ پہلے متکلم نے جب کچھ کلام کی تو صرف اس کے بولنے سے وہ وقت گزر گیا پھر دوسرے متکلم کا اسی کلام کو اسی وقت بولنا کیونکر متصور ہوا؟۔ اور ایسا ہی حال ہے باعتبار اختلاف مخاطب کے جیسا کہ اہل علم پر ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ اختلاف متکلم یا مخاطب کا کلام واحد (وقت واحد) میں اگر مانا جائے تو ایک ہی کلام کا ایک ہی وقت میں قرآن اور غیر قرآن نام رکھنا غیر ممکن ہے۔ اس لئے کہ اثبات شے اور پھر نفی اس کی ایک ہی وقت میں عقلاً نا جائز ہے۔ تیسرا یہ کہ قرآن مجید ازل سے ابد تک قرآن ہے۔ پس اس کو غیر قرآن کہنا شرعاً ناروا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آیات فرقانی کا نام قرآن رکھا ہے۔ جیسا کہ سورۃ زمر میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی طرف اشارہ فرما کے قرآن عربی اس کا نام رکھا۔ پس جس نے ان آیات بعینھا کو غیر قرآن کہا بے شک قرآن کا مخالف ہوا۔
٥١
المخاطب و هی فی الاصل امداد محبه وارادها بادلة الدين المتين بمدد الملک المعين قوله و کذلک یختلف الکلام بسبب اختلاف المخاطب اقول قد مر الکلام فيه وايضاً قد صرح علماء الفنون ان الکلام اما خبر او انشاء وما اعتبروا فی مفهو ميهما هذا الاختلاف فليت شعرى من اى ماخذ اخذ هذا المبتدع ذلک القول بخلاف الاسلاف قوله والكلام للذي قاله الله تعالى فی خطاب رسوله و اندرج فی کتاب معروف يقرءه المسلمون فذالک يسمی قرانا اقول الخطاب فی الکلام انما يكون بصيغة الحاضر قال فی تلخيص المفتاح مثال الالتفات من التكلم الى خطاب ومالی لا اعبد الذی الایة ومثال الالتفات من الخطاب الى الغيبة حتى اذا كنتم فی الفلک الایة ومثال الالتفات من الغيبة الى الخطاب ملک یوم الدین ایاک نعبد انتهى فاذا تمهد هذا فلیعلم ان حد القرآن الذی عرف به صاحب الاشاعة غیر جامع الخروج الاف ایات القرآن بحسب هذا التعريف من الفرقان لا نه ﷺ لیس مخاطبا بجمیع ایات القرآن والقران كله ليس خطابا لسید الانس والجان عليه صلوات الرحمن بل
قوله! کبھی ایک کلام جبکہ اس کا متکلم مثلاً خدائے تعالیٰ ٹھہرایا جائے کلام رحمانی کہلاتا ہے۔ کبھی وہی کلام جبکہ اس کا متکلم شیطان یا فرعون ٹھہرایا جائے۔ شیطانی یا فرعونی کلام کہلاتا ہے۔ اس کی تمثیل میں ہم دو کلام قرآن سے پیش کرتے ہیں۔ قرآن میں ایک کلام ابلیس سے منقول ہے: ’’انا خیر منه خلقتنی من نار وخلقته من طين‘‘ اور ایک یہ کلام فرعون سے: ’’انا ربكم الاعلىٰ‘‘ ان دونوں کو اگر یوں خیال کریں کہ یہ ابلیس وفرعون کی کہی ہوئی ہیں خواہ کسی زبان میں انہوں نے کہی ہوں۔ تو یہ کلام شیطانی وفرعونی کہلاتے ہیں۔‘‘ انتہاء بلفظہ! اور اسی صفحہ کے حاشیہ میں درج ہے: ’’انا ربكم الاعلىٰ‘‘ جبکہ کلام فرعون ٹھہرایا جائے۔ خواہ وہ کسی زبان میں ہو قرآن نہیں کہلاتا۔‘‘ انتہاء بلفظہ! فقیر کہتا ہے کہ متکلم کے اختلاف سے کلام مختلف نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ کلام اسی کی کہلاتی ہے جس نے اول بولی ہو۔ دیکھو جو شخص ’’الحمد لله رب العالمين‘‘ اور ’’قل ھو الله احد‘‘ پڑھے گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ اس کی کلام ہے۔ بلکہ ہر مومن یہی کہے گا کہ یہ دونوں آیتیں باری تعالیٰ کی کلام ہے اور جو: ’’انما الا عمال بالنیات‘‘ کہے گا تو یہی کہا جائے گا کہ یہ سرور عالم ﷺ کی حدیث ہے۔ اور جو ’’قفا نبك من ذكری حبيب ومنزلها‘‘ زباں پر لائے گا تو کہیں گے کہ یہ مصرع امرء القیس
٥٣
ايات الخطاب مثل و علمک ما لم تكن تعلم الاية وقل ان كنتم تحبون الله الاية وانا فتحنا لك فتحا مبينا يغفرلک الله ما تقدم من ذنبک وما تاخر و انا اعطینك الكوثر و امثالها حصه قليلة من القران و خوطب غيره ﷺ كبنى اسرائیل و مومنی هذه الامة والكفار والجن وغيرهم فى ايات كثيرة و كثيرة من الايات ليس فيها خطاب لاحد اصلاً فعلى هذا التفسير خرج هذا المقد ارالكثير من القرآن عن كونه الفرقان فيا اسفى على هذا المؤيد لصاحب البراهين فانه فى رده و شكر وصفه يخرج آلاف آيات القرآن من كلام رب العلمين فكفى به منتقماً العظمة لله يقول العوام الامثاله بانهم علماء الدين وهو يسمى رسالته باشاعة السنة و يزعم نفسه من اكابر المصنفين و يشتهر صاحب البراهين الكاملين المكملين والحال انهما مع جميع غير المقلدين يحبون المال جامين والتحصيل الدنيا من الحرام والحلال من المحتالين كما يبيعون حق تصانيف رسائلهم بكثير من الدراهم الدنانير و يجمعون بنحو هذا الوجه المال الكثير وهذا صاحب الاشاعة حجم رسائله فى تمام السنة اربع و عشرون جزاء وعشرون و فى ثمنه تكفى ربية او ربيان وهو ياخذ من النوابين کے شعر کا ہے جیسا کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں یہ لکھا ہے۔ پس قرآن مجید کی آیات کو غیر خدا کی طرف منسوب کرنا اور کلام شیطانی و فرعونی کہنا علم والے مومن کا کام نہیں۔ بلکہ سچا مومن اس کے مقابلہ میں یوں کہے گا کہ خدا پاک ہے یہ سخت بہتان ہے۔ کیونکہ جو کچھ قرآن شریف میں الحمد للہ سے والناس تک ہے وہ حق تعالیٰ کی ہی کلام ہے اور زمین و آسمان اور ارواح کے پیدا ہونے سے پہلے سے لوح محفوظ میں لکھی گئی تھی جس کو جبرائیل امین نے آنحضرت ﷺ پر اتارا ہے۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں سورۃ بروج کی اخیر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:” بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ۔“ تفسیر فتح العزیز میں لکھتے ہیں۔ بلکہ وہ قصہ قرآن قدیم کا ایسا ہے جو اس کے وقوع سے پہلے لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے جس پر شیطانوں اور جنوں اور آدمیوں کو دسترس نہیں ہے۔ امام بغوی نے تفسیر معالم میں اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ لوح محفوظ ایک تختی ہے سفید موتی سی جس کی لمبائی آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور چوڑائی اس کی مشرق سے مغرب تک کی ہے اور کنارے اس کے موتی اور یاقوت کے ہیں اور دفتین اس کے سرخ یاقوت کے ہیں۔ نور کی قلم ہے اس میں قرآن لکھا ہے۔ اوپر سے عرش مجید ٥٤
والرؤسا ثلثون ربيه ومن دونهم من الاغنياء خمس عشر ربية ومن المتوسطين فى المال سبع ونصف ربية ومن المقلين ثلث و ثلث ربع ربية و ذلك صاحب البراهين ضخم كتابه المطبوع ثلث و ثلثون جزء الذى قيمته فى السوق اثنان او ثلث ربية وهو قدر اقل قيمة خمس و عشرون ربية واعلى قيمة مائة ربية ومن اشترى كتابه فبالغ فى وصفه وان كان رافضيا او كان من عبدة الاصنام و من لم يشتره فغلى فى توهينه و ذمه غلواً حتى شبهه بقارون وجعله من عبدة الدنيا و ان كان من رؤساء اهل الاسلام كما يظهر من مطالعة كتابه لاولى الافهام ايضاً و اذا انهم عليه من خبر حصول المال الكثير فرح فرحا شديدا و اذا اخبر بانه المال القليل فحزن حزنا كبيرا وما فى (ص ٥٢٢ ، ٥٢٤) من كتابه فليس ذلك الا المدار على حب هذا الدار و غاية الجهد فى جمع الدراهم والدينار فاعتبروا يا اولى الابصار والله سبحانه اعلم بالظواهر والاسرار و ملخص الكلام فى هذا المقام ان التعريف الجامع المانع للقرآن المكرم والفرقان المعظم ماذكره علماء الاسلام سيما الامام الاعظم والهمام المفحم سے لٹکی ہے اور نیچے سے فرشتہ کی گود میں ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر فتح العزیز کا اور مدارک وجلالین وغیرہما میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن امام سیوطیؒ نے تفسیر اتقان میں بسند طبرانی حضرت ابن عباسؓ سے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ اور نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یا محمدﷺ قرآن کے ساتھ اپنی زبان مت ہلا۔ تاکہ جلدی سے اسے یاد کرلے اور تجھے آنحضرت علیہ السلام کہ شروع کرتے تھے پڑھنا آیات قرآن کا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی فراغت سے پہلے اس لئے کہ کچھ بھول نہ جائے۔ پس آپ ﷺ کو کہا گیا کہ مت ہلا اپنی زبان کو وحی کے پڑھنے میں۔ جب تک جبرائیل پڑھتا رہے۔ تاکہ تو جلدی سے اسے یاد کرلے اور کچھ فروگذاشت نہ ہوجائے۔ پھر اس جلدی سے روکنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ بے شک ہمارا ذمہ ہے قرآن کا جمع کرنا۔ تیرے سینہ میں اور اس کا یاد کرانا تیری زبان پر اور مت جلدی کر قرآن کے پڑھنے میں اس کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے۔ پس جب ہم پڑھیں قرآن کو یعنی جبرائیل تجھ پر پڑھے تو اس کے پڑھنے کی متابعت کر پھر ہمارے ذمہ ہے اس کا بیان کرنا جب تجھ پر اس کے معنی میں کچھ مشکل پڑ جائے یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر مدارک کا اور اکثر تفاسیر میں ایسا ہی ہے۔ پھر پہلی آیت جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی قرآن مجید سے وہ بالاتفاق ابتداء سورۃ علق کا ہے۔ ما لم یعلم ٥٥
على ما فى الفقه الاكبر و شرحه والقرآن منزل بالتشديد اى نزل منجماً على رسول الله ﷺ اى فى ثلثة و عشرين عاما وهو فى المصحف اى جنسه وفى نسخة فى المصاحف مکتوب اى مزبور و مسطور و فيه ايماء الى ان مابين الدفتین کلام الله علی ما هو المشهور انتهی و فی مقام آخر من ذلك الکتاب والقرآن فى المصاحف مکتوب فی القلوب محفوظ وعلى الالسن مقرو و علیٰ النبی ﷺ منزل بالتخفيف والتشديد وهو الاولى لنزوله مدرجا و مکررا والمعنى انه نزل عليه عليه السلام بواسطة الحروف المفردات والمركبات فى الحالات المختلفات انتهی فانظرو ایا اولی الالباب الى هذا الرجل العجاب الذی لا يمتاز بين التنزيل والخطاب و يقول لآيات القرآن انها کلام فرعون والشيطان اللعين ومعهذا يدعى انه يظهر اغلاط المجتهدين ويؤيد الدين المتين فليس ذلك الا الرعونة والجهل المركب باليقين قوله وذلك الكلام اى المسمى بالقرآن ان قاله تعالیٰ فی خطاب غیر النبی وفى كتاب متقدم من التورة والانجيل و غيرهما ادنی الهام ولی فلايسمى قرآنا وان كان ذلك اى ما الهم من القرآن بعينه اقول فى هذا الکلام اغلوطات کثیرة و یکفی باظهار ما نحن فیه تک تفسیر فتح العزیز میں ہے کہ آنحضرت علیہ السلام ایک دن غسل کے واسطے غار حراء سے باہر تشریف لاکر پانی کے کنارے پر کھڑے ہوئے کہ جبرائیل امین علیہ السلام نے ہوا سے پکارا کہ یا محمدﷺ پس آنحضرتﷺ نے اوپر کو دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ پس تین مرتبہ آپﷺ کو پکارا اور آپﷺ دائیں بائیں دیکھ رہے تھے کہ ایک سورج کی طرح نورانی شخص آدمی کی شکل میں دیکھا جس کے سر پر نور کا تاج ہے اور سبز ریشمی پوشاک پہنی ہوئی ہے۔ آپﷺ کے پاس آ کر کہا کہ پڑھ اور بعض روایتوں میں ہے کہ جبرائیل امین علیٰ نبینا وعلیہ السلام نے سبز دریائی کے قطعہ میں کچھ لکھا ہوا آپﷺ کو دیا اور کہا کہ پڑھو آپﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا مجھے حرفوں کی شناس نہیں اور ان پڑھ ہوں۔ اخیر حدیث تک یہ ترجمہ ہے۔ عبارت تفسیر عزیزی کا۔ اور ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر کے ملحقات میں لکھتے ہیں کہ شارح عقیدہ طحاویہ نے شیخ حافظ الدین نسفی کی منار سے ذکر کیا ہے کہ قرآن نام ہے نظم اور معنی دونوں کا اور ایسا ہی دوسرے اصول والوں نے کہا ہے اور امام اعظمؒ کی طرف جو منسوب کرتے ہیں کہ جس نے نماز میں قرآن کا ترجمہ فارسی پڑھا تو روا ہے تو آپ کا
٥٦
وهو هذا قد مر الكلام فى ان الخطاب لا دخل له فى كون ايات القران قرانا انما القران ما انزل عليه و اوحى الله ﷺ ومن كلامه تعالى والقران كان قرانا قبل التنزيل و يكون قرانا بعد الانزال الى يوم القيمة وان الهمت اية من القران على احد من الاولياء فلا يخرجها عن كونها اية من القران، بل القران فرقان من الازل الى الابد معناه هو الكلام النفسى القديم و نظمه ايضاً من الله الكريم النفسى القديم ونظمه ايضاً من الله الكريم وقد سماه الله سبحانه بالقران الحكيم فكيف يتصور ان يكون القران غير قران و تقرر فى عقائد اهل السنة انه لا تغير على صفاته كما لا تغير على ذاته تبارك و تعالى و ايضاً فى نهج مقبول الذى لغير المقلدين اصل الاصول مانصه ولا يجرى التغير على ذاته ولا على صفاته (ص ١٠ س١٦) انتهى بترجمة ثم العجب ان صاحب البراهين يسمى ما يدعى القائه اليه من القران ايات قرانيه كما نقله من (ص ٤٨٥ و ٤٩٨) وهذا صاحب الاشاعة بل الشناعة يلغو بانها غير قران و ليست بفرقان ليتفوه فى الايات البينات انها كلمات شيطانية و فرعونية وليت شعرى بان هذا
اس سے رجوع ثابت ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ باوجود قدرت عربی کے غیر عربی روا نہیں ہے اور یہ بھی آپ نے کہا ہے کہ جو شخص بغیر عربی کے قرأت پڑھتا ہے یا تو وہ دیوانہ ہے معالجہ کیا جائے یا زندیق ہے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں کلام کی ہے اور معجزہ ہونا قرآن کا نظم اور معنی دونوں سے حاصل ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔ پس قرآن وحدیث اور کتب عقائد اہل سنت سے متحقق ہوا کہ تمام عربی آیات جن کا نام قرآن ہے وہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہیں اور انہیں حروف وکلمات سے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تھیں۔ حضرت امام اعظمؒ فقہ اکبر میں اور علامہ قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم السلام سے بطور اخبار یا حکایت کے جو ذکر کیا۔ اور فرعون وشيطان وغیرہما سے بھی جو بیان کیا ہے بے شک یہ دونوں قسم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی کلام قدیم ہیں جو ان سے خبر دی گئی ہے۔ یعنی موافق اس کے جو کلمات معانی پر دلالت کرنے والی لوح محفوظ میں لکھے گئے ہیں۔ آسمان وزمین اور ارواح کے پیدا کرنے سے پہلے کی۔ نہ یہ کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ وغیرہما انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم السلام سے اور فرعون وشيطان اور دوسرے
٤٧
الرجل ان لم يبال عن غضب الرحمن بسوء الادب فى حق حضرة القرآن افلا يعلم ان هذا توجيه القول بما لا يرضى به صاحبه فنعوذ بالله المعين من هذا الجهل المبين ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق و انت خير الفاتحين اما ما قال صاحب الاشاعة فى (ص ٣٠٤) ان الهامات صاحب البراهين ليست من الشيطان اللعين مستدلا باية انما يامركم بالسوء والفحشاء واية الشيطان يعدكم الفقر و الفحشاء لان تلک الالهامات غير مشتملة على السوء والفحشاء فاقول و بحول الله النصير احول قد مر على الصدر ان صاحب البراهين قد ارتكب الكذب على الله الكريم والتحريف المعنوى واللفظى فى آيات القرآن العظيم و تزكية النفس الى حد يترقى به الى درجة الانبياء عليهم الصلوة والثناء فهذا اسوء سوء وافحش الفحشاء وان لم يبصر به من على عينيه غشاء و على قلبه عماء نعم كيف يبصر من يخرج من سواد الاعظم شينه و فى ذلک الكتاب مدحه و زينه فذلک و يدرجه فى الكاملين المكلمين بادعاء الهام رب العلمين لاظهار كمال حاله وماله على غير المقلدين ومن دونهم من الجاهلين و يؤيد هذا اقواله الباطلة بغاية اهانة القرآن المبين فالله خير حافظا و کفار سے سن کر اللہ تعالیٰ نے ان سے نقل کی ہے۔
پس اب کچھ فرق نہیں ہے درمیان خبر دینے حق تعالیٰ کے ان کے اخبار واحوال واسرار سے جیسا کہ سورۃ: ”تبت یدا“ و آیت قتال وغیرہما میں ہے اور نہ درمیان ظاہر فرمانے باری تعالیٰ کے اپنی صفات وافعال وخلق مصنوعات میں جیسا کہ آیت الکرسی سورۃ اخلاص وغیرہما میں ہے اور نہ درمیان آیات افاقیہ اور انفسیہ کے۔ کہ یہ سب کے سب باری تعالیٰ کی کلام ہے اور اس کی صفت پاک، حاصل الکلام، کلام اللہ شریف حادث نہیں غیر مخلوق ہے اور موسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام کی کلام اگرچہ حق تعالیٰ کے ساتھ ہو اور ایسا ہی کلام دوسرے انبیاء ومرسلین صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین وملائکہ مقربین کی مخلوق ہے جو ان کی پیدائش کے بعد حادث ہوئی اور قرآن حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی کلام ہے نہ مجازاً اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح قدیم ہے۔ مخلوق کی کلام کی طرح نہیں۔ کیونکہ ان کی ذات اور کلام دونوں حادث ہیں۔ اس لئے کہ صفت موصوف کے تابع ہوتی ہے اور یوں ہی کہا جائے گا کہ نظم عبرانی جو توریت ہے اور نظم عربی جو قرآن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کلام ہے۔ اس لئے کہ ان کے کلمات و آیات کلام الٰہی کی دلیلیں اور علامات ہیں اور اس لئے کہ ان کی نظم کا ابتداء اللہ تعالیٰ سے ٥٨
هو ارحم الرحمين بقى ههنا شئ وهو ان صاحب الاشاعة قال فى ص ٢٥٩) انه ان اشتبه على احد من لفظ النزول فى الهام صاحب البراهين بانا انزلناه قريبا من القاديان وبالحق انزلناه و بالحق نزل بنزول القرآن او وحى الرسالة فدفعه ان هذا اللفظ ليس مخصوصاً بنزول وحى الرسالة او القران بل يستعمل بمعنى الكرم والعطاء كما فى قوله تعالى وانزل لكم من الانعام ثمانية ازواج اى اعطى لكم فكذالك عطاء الهام المعارف لصاحب القاديان عبر بالنزول فلا يشتبه بنزول القرآن و وحى الايات اقول هذا باطل بوجوه احدهما ان صاحب البراهين الذى انزل اليه انا انزلناه لما ترجمه لفظ الانزال والنزول بالمعنى الحقيقى ولهما وقد نقل هذه الترجمة صاحب اشاعة السنة فى هذه الصفحه فى السطر الثامن فتاويل على خلاف مراد المنزل عليه ليس الا توجيه القائل بما لا يرضى قائله و ثانيها ان انزال المعارف والالهام المعطوف باية و بالحق انزلناه و بالحق نزل التى ليست هى الا فى بيان انزال القرآن و نزوله ينكر هذا التاويل و يبطل بالف لسان و ثالثها ان لفظ الانزال فى اية وانزل لكم من الانعام ہی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی حدیث حدیثوں سے پڑھو گے تو یہی کہو گے کہ یہ جو میں نے پڑھا ہے اور ذکر کیا ہے میری کلام نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی کلام ہے۔ کیونکہ ابتداء اس کلام کی نظم کا رسول اکرم ﷺ ہی سے ہوا تھا اور اسی قبیل سے ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے آیت ’’افتطمعون ان یومنو الکم‘‘ اور آیت: ’’وان احد من المشرکین‘‘ میں آیت قرآن مجید کو کلام اللہ فرمایا ہے یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا، اور مشکوٰۃ میں سنن دارمی و جامع ترمذی سے بروایت نعمان بن بشیرؓ لایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ایک کتاب لکھوائی جس میں سے دو آیتیں خاتمہ سورۃ بقرہ کی نازل فرمائیں اور سنن دارمی سے بروایت ابو ہریرہؓ لایا ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے ایک ہزار برس پہلے سورۃ طہٰ و یٰسین کی تلاوت فرمائی تھی۔ یہ ترجمہ ہے مشکوٰۃ کی حدیثوں کا۔ اب قرآن مجید اور حدیث اور عقائد اہل سنت کی کتابوں سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ قرآن مجید کی ساری آیتیں اللہ تعالیٰ کی ہی کلام ہے۔ کسی مخلوق کی کلام کو اس میں دخل نہیں ہے اور جو کچھ اس میں نبیوں کے قصے اور صدیقوں کی باتیں اور کافروں کے حالات اور بدبختوں کے مقالات ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی ہی کلام ہے جو اس پاک ٥٩
الآية محمول على معناه الحقيقى عند اكثر المفسرين بان الله تعالى انزل الانعام من الجنة مع آدم ابى النبيين صلوات الله عليهم اجمعين كما فى المدارك والكبير والنيسا بورے والخازن والحسينى واللباب و غيرها فسروها بان الانعام لا تعيش الابالنبات والنبات لا تقوم الا بالماء وقد انزل الماء فكانه انزله كذافى المدارك والمعالم والكبير والنيسابورى وابى السعود والبيضاوى و غيرها فعلى هذين القولين لا يجوز تفسير الانزال فى الآية الشريفة اى و انزل لكم من الانعام اية بالعطاء وجمهور المفسرين فسر والانزال فى الآية الشريفة بالخلق فالآية مثل آية والانعام خلقها لكم و مثل اناخلقنا لهم مما عملت ايدينا انعاماً وهذا الوجه ايضاً يابى حمل الانزال على العطاء واماما زعم بعض المفسرين بان انزال الانعام غير ظاهر المراد فعبره بالعطاء فلا يلزم منه ان يفسر انزال القرآن و نزوله بالعطاء لانه لا يصار الى المجاز الاعند تعذر الحقيقة فقياسه على انزال الانعام قياس مع الفارق فالحاصل ان صاحب الاشاعة فى الحقيقة بصدد شناعة صاحب البراهين فانه يمده فى الاضلال و يمده فى الضلال المهين و ماعلينا الا البلاغ المبين والله ذات نے ان لوگوں کے پیدا ہونے سے پہلے بموجب اپنے علم ازلی کے ان سے خبر دی ہے۔
پس صاحب رسالۂ اشاعۃ السنۃ کا یہ قول کہ آیت :”انا خير منه“ کلام شیطانی ہے اور آیت :”انا ربکم الا علیٰ“ کلام فرعونی ہے اور قرآن نہیں کہا جاتا جیسا کہ اشاعۃ السنہ سے اوپر منقول ہو چکا ہے۔ قرآن مجید کی صدھا آیات کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جمیع قصص قرآنی اور حکایات فرقانی کو کلام مخلوق بنا دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ ”اعاذنا الله سبحانه وجميع المسلمين عن ذالك “ ملا علی قاریؒ امام اعظمؒ کی فقہ اکبر کے اس قول کے نیچے کہ کلام اللہ شریف غیر مخلوق ہے لکھتے ہیں کہ کلام اللہ بالذات قدیم ہے۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن مجید کو سن کر خیال کیا کہ یہ آدمی کی کلام ہے تو ضرور وہ کافر ہوا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی ہے اور اس کو عذاب دوزخ سے ڈرایا ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا، اور یہ بھی اسی کتاب میں ہے اگر کوئی اعتراض کرے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن رسول کریم کی بات ہے۔ اس نے دلالت کی کہ قرآن رسول کریم کی کلام جبرائیل یا محمد ﷺ کی؟ تو اس کا جواب
٦٠
سبحانه هو الموفق والمعين واما ما قال صاحب الاشاعة فى توجيه الهام يامريم اسكن انت و زوجك الجنة ان صاحب البراهين شبه بمريم لمناسبة روحانيه بينهما وهى ان مريم كما حملت بلا زوج كذالك صاحب البراهين بغير تربية الشيخ الكامل والولى المكمل صار موردا لالهامات غيبية ومهبطا لعلوم لدنية بمحض ربوبية من الغيب وادنى مثال هذا التشبيه ؎ نظامى ضمیرم نه زن بلکہ آتش زیست کہ مریم صفت بکر آبستن ست انتهى فباطل لان اركان التشبیه اربعة المشبه والمشبہ بہ و وجہ الشبیہ واداة التشبیہ لفظاً او تقدیراً کما فی المطول وغیره فی فقرة يامریم الخ بدون ذكر المشبه كيف يتصور التشبیه بل خوطب صاحب البراہین بیا ادم و یا عیسیٰ و یامریم و بغیر اسم من اسماء الانبیاء فمن المحال ان يكون الشخص الواحد ابا واما و ابنا واما الربوبية الغيبية فلا يفيض تحريف القرآن و دعویٰ المساواة بالانبیاء وغیرہ مما من الامور الخارجة عن الشرع بالایقان فما ذلک الا الطغیان والعصیان والتعدی عن حدود الرحمن هنا حصل الفراغ من بیان بعض الهامات القسم الاول وما
یہ ہے کہ لفظ رسول بتا رہا ہے کہ اس نے قرآن کو اپنے بھیجنے والے سے پہنچایا ہے۔ اس لئے یوں نہیں فرمایا کہ یہ کلام فرشتہ یا نبی کی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ رسول نے اپنے بھیجنے والے یعنی حق تعالیٰ سے پہنچایا نہ یہ کہ اس نے اپنی ذات سے یہ کلام پیدا کی ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ مراد رسول سے ایک آیت میں جبرائیل ہے اور دوسری آیت میں محمدﷺ ہیں۔ پس دونوں کی طرف سے اس کلام کی نسبت کرنے سے ظاہر ہو گیا کہ یہ نسبت صرف پہنچانے کے واسطے ہے۔ کیونکہ ایک شخص نے جس کلام کو پیدا کیا ہو تو منع ہے کہ دوسرا اس کو پیدا کر سکے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ بے شک حق تعالیٰ نے قرآن کو آدمی کی کلام بنانے والے کی تکفیر کی ہے۔
پس جس نے قرآن کو آنحضرتﷺ کی کلام بنایا کہ آپﷺ نے ازخود یہ کلام بنائی ہے تو وہ کافر ہوا۔ اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ قرآن کو آدمی کی یا جن کی یا فرشتہ کی کلام کہے۔ (یعنی ان تینوں صورتوں میں سزا اس کی دوزخ ہے) اس لئے کہ کلام اس کی ہوتی ہے جس نے اول کہی ہو۔ نہ اس کی جس نے پیغام پہنچایا ہو۔ (یہ ترجمہ ہے عبارت فقہ اکبر کا۔ کیا خوش کہا ہے کہنے والے نے کہ:
ہر کہ گوید حق نہ گفتہ او کافر است
٦١
يتعلق بها من جواب تاويلات مؤيده فلتذكر شيئا من القسم الثانى وهى التى تفهم منها فضيلة صاحب البراهين على الانبياء والمرسلين صلوات الله تعالى و سلام عليهم اجمعين فنموذجها هذا كتب صاحب البراهين فى (ص ٢٤٠) ان الله تعالى الهم اليه بحمد ک الله من عرشه نحمدک و نصلی و فى (ص ٥٠٢) يحمدک الله و يمشى اليک ترجم هذا بان الله سبحانه قال له يحمدک الله و يمشى اليک شيئا استمرا ريا انتهى يقول الفقير كان له الحمد لايكون الا بعد الاحسان كما فى التفسير الكبير و النيسابورى و فتح العزيز وغيرها و فى مجمع البحار والحمد راس لشكر من فيه اظهار النعمة ولانه اعم فهو شكر و زيادة انتهى فى ردالمختار على الدار المختار فى تعريف الحمد و عرفا فعل ينبئ عن تعظيم المنعم بسبب انعامه الى قوله والحمد حيث اطلق ينصرف الى العرفى لما قال السيد فى حواشى المطالع انتهى فمن المحال ان يحمد الله احدا من مخلوقات و معهذا لايوجد فى القرآن ولا فى الحديث الصحيح التصريح بما حاصله يحمد الله حبيبه محمد اواحد من الانبياء ﷺ بل قال تعالى لجميع عباده قولو الحمد الله رب العلمين فكيف
ان معتبر سندوں سے اگر صاحب اشاعۃ السنہ کی تسلی نہ ہو کہ یہ علماء مقلدین کے حوالی ہیں۔ شاید ان کو پسند نہ ہوں تو اولاً اس کا جواب یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر سے اسی اشاعۃ السنہ کے ص ٢٩٢‘ ٢٩٣‘ ٢٩٤ میں بھی سند لی ہے اور نیز ص ١٤١‘ اشاعۃ السنہ میں بھی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی کمالِ تعریف کر کے ان سے سند لی ہے۔ اور ثانیاً یہ جواب ہے کہ علماء غیر مقلدین بھی اسی اعتقاد پر ہیں جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ جیسا کہ سنداً ان کی بھی بعض کتابوں سے منقول ہوتا ہے۔ تا کہ ظاہر ہو کہ اشاعۃ السنہ والا نے اپنی قوم سے بھی سخت مخالفت کی ہے: ”نہج مقبول من شرائع الرسول“ جو تالیف ہے بڑے بیٹا مولوی صدیق حسن بھوپالی کی اور خود مولوی مسطور نے اس کی تصحیح کر کے بھوپال میں چھپوائی ہے اور یہ باپ بیٹا مشاہیر علماء غیر مقلدین سے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کلام ہے۔ اسی سے ابتداء ہوئی اور اسی کی طرف رجوع ہوگا اور قرآن کے لفظ اور معنی دونوں اللہ تعالیٰ سے ہیں جبرائیل امین صرف ناقل ہیں آنحضرتﷺ فقط پہنچانے والے ہیں اور جتنا لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور پڑھیں گے وہ تمام اللہ تعالیٰ کی کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کلام فرمائی اور بے شک حضرت جبرائیل نے ان سے سنی اور بالیقین آنحضرتﷺ
٦٢
يتصور ان يقول الله سبحانه فى حق صاحب البراهين يحمدك الله من عرشه الخ اى يفضلك على جميع عباده الصالحين و الشهداء والصديقين والانبياء والمرسلين صلوات الله تعالى عليهم اجمعين ليت شعرى ما انعام صاحب البراهين على الله رب العلمين حتى استحق بحمد محمود الحامدين هل هذا الا بهتان عظيم نشاء من غاية الكبر والحمق والغرور وغاية الكذب والزور على ان ركاكة هذا الكلام المنسوب الى الله العلام ليس بمخفى على العلماء الاعلام وما جاء فى القران مجيد من لفظ الحميد فى و صفه تعالى فقد قرن بالغنى و العزيز وغيرهما ليدل على انه عز و جل محمود لا حامد وكما فى التفاسير والتراجم وان فرض ان الحميد بمعنى الحامد فهو سبحانه حامد لذاته و صفاته و فى مجمع البحار له فيه الحميد تعالى المحمود على كل حال انتهى وما نطق القران بانه تعالى شاكر و شكور فالمراد منه انه تعالى يجازى القليل من العمل بالكثير من الثواب كما فى عامة التفاسير وقال محيى السنة فى المعالم والشكر من الله تعالى ان يعطى فوق ما يستحق انتهى و فى المجمع انه شكور
پر اتاری جو کوئی کہے کہ وہ کلام فرشتہ کی یا آدمی کی ہے تو اس کا مکان دوزخ ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت فارسی نہج مقبول کا اور یہ عبارت اس کے ص ٥ میں ہے۔ قولہ یعنی اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے اور اگر بعینہ ان دونوں کی نسبت یہ خیال کریں کہ بہ ضمن حکایت ابلیس وفرعون یہ کلام خدا میں پائی گئی ہیں تو یہ کلام رحمانی اور جزو قرآن کہلاتے ہیں ۔ انتہیٰ بلفظہ ! فقیر کہتا ہے کہ آیت : ”انا خیر منہ “ اور آیت ” انا ربکم الاعلیٰ “ کو اللہ تعالیٰ کی کلام اور جزو قرآن بنانے میں کسی کے خیال کرنے کی کیا حاجت؟ ۔ یہ دونوں آیتیں فی الحقیقت اور دراصل حق تعالیٰ کی کلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا ہے اور شیطان فرعون کے پیدا ہونے سے ہزار ہا برس پہلے حق تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں لکھوایا جیسا کہ قرآن وحدیث وعقائد اہل سنت سے اوپر مبرہن ہوچکا ہے۔
پس اس کلام عربی معجز نظام کو شیطان وفرعون کی کلام بنانا اور قرآن میں ان سے نقل کا اعتبار و خیال کرنا محض ہذیان اور بہتان ہے۔ خدائے سبحانہ وتعالیٰ جمیع اہل ایمان کو اس اعتقاد و خیال سے بچائے اور عاقبت بخیر فرمائے۔ واضح رہے کہ یہ اقوال صاحب اشاعۃ السنہ کے جن کا بنائے اختلاف متکلم پر ہے صاحب براہین احمدیہ کی تائید کی تمہید میں تھے جس میں صاحب اشاعۃ السنہ نے اس کی محبت میں اپنا ایمان قربان کر دیا جیسا کہ شرعاً متحقق ہوچکا ہے۔ اب فقیر کاتب
تعالى من يزكو عند العمل القليل فيضاعف جزاء ه فشکره لعباده مغفرته لهم انتهى و في القاموس الشكر من الله تعالى المجازاة والثناء الجميل انتهى والفرق بين الحمد والمدح اى الثناء الجميل بين وثم من البين ان النبى ﷺ سرے وارتقى الى الله سبحانه ليلة المعراج كما في القرآن والحديث وههنا يمشے و ينزل الله سبحانه الى صاحب القاديان فسبحان الذى ليس كمثله شئ ثم في (ص ٥٥٨) ادعى صاحب البراهين بانه الهم اليه هذا الالهام الم نشرح لک صدرک الم نجعل لک سهولة فى کل امر بيت الفكر وبيت الذكر ومن دخل كان امنا و صرح في ترجمة ان الله اعطانى بيت الفكر و بيت الذكر والمراد من بيت الفكر علو بيتى الذى اشتغلت فيها بتاليف البراهين و اشتغل والمراد من بيت الذكر المسجد الذى بنيته فى جنب تلک العلو وصف الله ذلک المسجد بالفقرة الاخيرة اى ومن دخله کا ن امنا انتهى بترجمة عبارته.
يقول الفقير كان الله له ان هذه الاية اى ومن دخله الاية نزلت فى شان بيت الله المبارك كما قال تعالى اوّل بيت وضع للناس للذی ببكة مباركا وهدى للعلمين فيه آيت بينت مقام ابراهيم ومن دخله كان امنا وما مدح الله الكريم اب صرف اس کے وہ اقوال جو بطور تائید صاحب براہین میں ہیں جن کا مدار اختلاف مخاطب پر ہے نقل کر کے ادلہ شرعیہ سے ان کی تردید لکھتا ہے ۔ واللہ ھو المعین!
قوله! ”ایسا ہی اختلاف مخاطب کے صیغہ اختلاف کلام کو سمجھنا چاہئے ۔“ انتہاء بلفظہ! فقیر کہتا ہے کہ ایک نقص اس پر اوپر لکھا گیا ہے دوم علماء بدیع و معانی وغیرھم نے تصریح کی ہے کہ کلام یا خبر ہے یا انشاء اور ان دونوں کے معنی میں کسی نے اختلاف مخاطب کا کچھ بھی اعتبار نہیں کیا نہ معلوم کہ اس نئے مولوی نے یہ اقسام کلام کہاں سے نکالی ہیں ۔
قوله! ”جو کلام خدائے تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے خطاب میں فرمایا ہے اور وہ ایک کتاب معروف میں درج ہو کر مسلمانوں میں پڑھا جاتا ہے ۔ وہ قرآن کہلاتا ہے ۔“ انتہاء
بلفظہ! فقیر کہتا ہے کہ خطاب کلام میں بصیغہ حاضر ہوتا ہے ۔ تلخیص المفتاح مطول کے متن میں لکھا ہے کہ تکلم سے خطاب کی طرف آیت : ”و مـــالـی لا اعـبـد الـذی“ میں اور خطاب سے غیبت کی طرف آیت : ”حـتـى اذا کـنـتـم“ فے ”الـفـلـك“ میں اور غیبت سے خطاب کی طرف آیت
٦٢
مسجد النبی ﷺ والا المسجد الاقصى الذی هو قبلة الانبیاء بهذا النعت العظیم المختص بالبیت الکریم فادعاء صاحب البراهین بان هذه الايت انزلها الله سبحانه علیه ففی وصف مسجده اقرار بفضله علیهما ظهر من هنا شی وهو ان صاحب البراهین اشتهر فی ابتداء کتابه انه یملک العقار وغیرها التی قیمتها عشر الاف ربیة وادعی انه صاحب الالهام والمخاطبة الالهیة فمع هذا القرب الاتم والطول المعظم ما حج الی الیوم بیت الله المکرم لان الحج. لتحصیل تکفیر الخطیات وامن یوم المجازات وهذا ان الامران حاصلان له فان الله تعالى قال له عمل ماشئت فانی قد غفرت لک (ص ٥٦٠) والامن المطلوب قد حصل لمصلى مسجده وهو مع الخیرا مامه و بانیه و سبق من (ص ٥٦٢) ان الدین المتین اثبت على جمیع الانام والله تعالى امرالناس بان یاخذو الطریقة الحقة من صاحب القادیان انتهى فما الحاجته الی اداء الحج بل یحسب ادعائه قادیانیه الیوم مکة المحمیة فنعوذ بالله من شر شر البریة فالانبیاء و سید المرسلین کانو یحجون ویطوفون البیت و لم یحج من یمشی
”ملک یوم الدین ٠ ایاک نعبد“ میں التفات ہے۔ یہ ترجمہ ہے اس عبارت عربی کا جس سے ثابت ہوا کہ خطاب مخاطب کر کے بات کرنے کا نام ہے۔
پس معلوم رہے کہ یہ تعریف قرآن مجید کی جو صاحب اشاعۃ السنہ نے بیان کی ہے اس سے ہزار ہا آیات قرآن کی قرآن ہونے سے خارج ہوگئیں۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ قرآن مجید کی تمام آیات سے مخاطب نہیں ہیں۔ یعنی سارے قرآن مجید میں آپ ﷺ کو خطاب نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ آیتیں جن میں آپ ﷺ کو خطاب ہوا ہے مثل اور علم دیا آپ ﷺ کو اس کا جو آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا اور کہہ دے یا محمد ﷺ اگر تم خدا سے محبت کرنی چاہتے ہو تو میری پیروی کرو اور یہ بے شک ہم نے تجھے فتح ظاہر کر دی تا کہ خدا آپ ﷺ کی اگلی پچھلی تقصیریں معاف کرے اور بے شک ہم نے بخشا آپ ﷺ کو کوثر یہ ترجمہ ہے آیات و خطاب کا‘ اور ایسی آیات خطاب تھوڑا سا حصہ ہیں قرآن مجید کا‘ اور نیز غیر آنحضرت ﷺ کے قرآن شریف کی بہت سی آیات میں مخاطب ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل اور اس امت مرحومہ کے مومن اور کفار اور جن و غیر ہم‘ اور نیز صد ہا آیات قرآنی ایسی ہیں جن میں کسی کو خطاب نہیں کیا گیا۔ پس اس تفسیر کی رو سے صد ہا آیات
٦٥
اليه و يحمده رب البيت ثم قال فى (ص ٥٦٠) انه الهم الله سبحانه اليه هذا الكلام انت معى وانا معك خلقت لك ليلا ونهاراً منى بمنزلت لا يعلمها الخلق انتهى يقول الفقير كان الله له قال الله تعالى وما محمد الا رسول الاية وايضاً محمد رسول الله الاية فعلم منزلت حبيب الرحمن من القرآن صلى الله عليه واله قدر عزہ و كماله و لنعم ما قيل بمبلغ العلم فيه انه بشر و انه خير خلق الله كلهم فيعلم هذه المنزلة الخلق و يشهدون انه رسول الحق و يدعى صاحب البراهين انه يقول الحق فى شانه انت منى بمنزلت لا يعلمها الخلق فثبت من ظاهر هذا الكلام فضيلة عليه و على سائر النبين صلوات الله و سلامه عليهم اجمعين وهو كاذب فيه باليقين ثم كتب صاحب البراهين فى ضميمة اخبار رياض الهند المجرية فى بلدة امر تسر ١ غره مارچ سنه ١٨٨٦ء المطبوعة فى بلدة هوشيار بور ان الله تعالى قال فى حق انت منى وانا منك (ص ١٣٨ س ٢) من كلام الثانى وقال تعالى فى حق ولده المبشر به مظهر الاول والاخر مظهر الحق والعلا كان الله نزل من السماء (ص ١٤٧) من كلام الثانى يقول الفقير كان الله له. الالهام الاول هو فقرة الحديث قرآن مجید ہونے سے خارج ہو گئیں۔ مرزا قادیانی کے اس مؤید پر سخت افسوس ہے جس نے تقاضائے محبت اور ان کی نکمی دوستی میں ہزار ہا آیات قرآنی کو کلام اللہ شریف سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کا منتقم کافی ہے۔ سبحان اللہ ! عوام اہل اسلام ایسے لوگوں کو علماء دین میں مانتے ہیں اور وہ اپنے رسالہ کا نام اشاعۃ السنۃ مشہور کر کے آپ کو اکابر مصنفین سے اور صاحب براہین احمدیہ کو کاملین مکملین سے مانتے ہیں اور فی الاصل یہ دونوں صاحب سارے غیر مقلدین کی طرح دنیا کی سخت محبت میں گرفتار ہیں اور مال حرام و حلال کے جمع کرنے کی کوشش میں سرشار ہیں۔ چنانچہ اپنے رسالوں کے حق تصنیف بیچ کر بہت سے روپے جمع کر لیتے ہیں اور خود رسالہ اشاعۃ السنہ جو سال تمام میں چوبیس جزو ہوتا ہے ایک یا دو روپیہ اس کی قیمت میں عمدہ منفعت ہے اور صاحب اشاعۃ السنہ نوابوں سے تیس روپیہ سالانہ اور دوسرے غنیوں سے پندرہ روپیہ اور متوسط گزارہ والوں سے سات روپیہ اور کم وسعت والوں سے تین روپے بارہ آنہ سالانہ لیتے ہیں اور براہین احمدیہ جو تینتیس جز کی کتاب ہے۔ بازاری قیمت دو یا تین روپے رکھتی ہے۔ مرزا قادیانی نے ادنیٰ قیمت اس کی پچیس روپیہ اور اعلیٰ قیمت ایک سو روپیہ تک مقرر کی ہے جو اس کی کتاب خریدے خواہ وہ رافضی ہو یا بت پرست ہی ہو ان کی بہت مبالغہ اور غلو سے تعریف کرتا ہے اور جو اس کی کتاب کوئی ٦٦
الصحیح المتفق علیہ قال ﷺ لعلی انت منی وانا منک ای انت متصل بی فی النسب والصھر والسابقة والمحبة وغیرھا کذافی القسطلانی والکرمانی شرحی البخاری یعنی فی الاخوة والقرب وکمال الاتصال والاتحاد کذا فی المرقات واشعة اللمعات شرح المشکوٰة وقال الکرمانی ومن ھنا تسمی اتصالیة انتھی فعلم منہ ان صدور ھذا الکلام بین القریبین من النسب والصھر وغیرھما صحیح لاشک فیہ واما اللّٰہ المنعوت بنعت لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد والموصوف بصفة. لا یتصل بشی ولا یتحد ولا یشبہہ مع شی کما صرح بہ علماء العقائد فکیف یقول اللّٰہ سبحانہ لاحد من عبادہ انت منی وانا منک حاشاہ فتحقق ان ھذا بھتان بھتہ صاحب البراھین لغرض اثبات فضیلة علی الانبیاء والمرسلین صلوات اللّٰہ علیھم اجمعین واما الالھام الثانی فھو ایضاً کذب محض و بھتان عظیم لان المشابھة المعبرة بلفظة کأن اشد مشابھة من غیرھا کما مرّ من الاتقان فلما اشتبہ ولا صاحب البراھین اشد مشابھة بہ سبحانہ و تعالیٰ عما یقول الظلمون علواً کبیرا قولہ فی اعلیٰ العلمی یعنی نہ خریدے۔ اگر چہ نواب مسلمان ہی ہو۔ اس کی پرلے درجہ کی توہین کر کے قارون سے اس کو تشبیہ دیتا اور دنیا پرستوں سے بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ اس کی کتاب کے پہلے اور دوسرے اور چوتھے حصہ کے ابتدائی اوراق ملاحظہ کرنے سے یہ حال معلوم ہو جاتا ہے اور نیز جب بہت سے روپیہ آنے کا اس کو الہام ہوتا ہے تو کمال ہی خوشحال ہوتا ہے اور جب معلوم ہو کہ وہ تھوڑا سا روپیہ ہے تو سخت غم کا پامال ہوتا ہے۔ جیسا کہ براہین کے ص ٥٢٢ سے ٥٢٤ خزائن ص ٦٤٥ تا ٦٤٦ تک کے مطالعہ کرنے سے ظاہر ہے۔
پس یہ سارا مدار دنیا کی سخت محبت اور روپیہ پیسہ جمع کرنے پر ہے جس کو دانشمند بخوبی جانتے ہیں اور پورا علم حق تعالیٰ کو ہے۔ الحاصل قرآن مجید کی جامع مانع تعریف وہ ہے جو علماء اسلام کی کتابوں میں درج ہے۔ چنانچہ حضرت امام اعظمؒ کی فقہ اکبر اور ملا علی قاری کی شرح میں لکھا ہے قرآن مجید حضرت ﷺ پر تئیس برس کی مدت میں آیت آیت اتارا گیا ہے اور مصحفوں میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی جو دفتین میں مکتوب ہے وہ سب کلام اللہ ہے پر دوسری جگہ فقہ اکبر اور اس کی شرح میں لکھتا ہے کہ قرآن مجید مصحفوں میں لکھا ہوا اور دلوں میں یاد اور زبانوں پر پڑھا گیا اور آنحضرت ﷺ پر بالتدریج اتارا گیا ہے۔ بواسطہ حروف، مفردات و مرکبات مختلف حالتوں میں ٦٧
يعادل اله بلا اشتباه فسبحان من تنزه عما يصفه الملحدون و نعوذ بالله من غضبه و عقابه و شر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون وليكن هذا اخر الرسالة المسماة برجم الشياطين برد اغلوطات البراهين والحمد لله رب العلمين وصلى الله تعالى على خير خلقه و حبيبه محمد و عترته كلما ذكره الذاكرون وكلما غفل عن ذكره الغافلون و بعد ختم هذه الرسلة يعرض المشتاق الى وفور كرم الخلاق محمد ابو عبدالرحمن الفقير غلام دستگیر الهاشمى الحنفى القصورى كان الله له لساداتنا وموالينا حضرات علماء الحرمين الشريفين زادهم الله الكريم حرمة وكرامة في الدارين وعزة وشرافة في الملوين باني عثرت في الصفر المظفر سنه ١٣٠٢ھ من هجرة سيد المرسلين صلوات الله وسلامه عليه وعلى سائر الانبياء اجمعين على اشتهار صاحب البراهين الذى هو نقل في ابتداء هذا التحرير واشتهر بطبعه عشرين الفاً في اقطار الارض غايت التشهير فلما رأيت هذيان مشتهره ادعى بتأليف كتابه بامره والهامه تعالى ووصف نفسه فيه باوصاف يتعدى بها حدود الله عزوجل كرهت ذالك وما طاب نفسى عما هنالك ثم قرأت كتابه لكشف
یہ ترجمہ ہے عبارت عربی کا۔ اب دانشمند لوگ اس نہایت عجیب و غریب آدمی کو دیکھیں جو تنزیل اور خطاب میں امتیاز نہیں رکھتا اور قرآن مجید کی آیات کو فرعون و شیطان کی کلام بنا دیتا ہے اور اس مایۂ علمی پر اس کو یہ ادعا ہے کہ مجتہدین دین غلطی پر تھے اور میں دین متین کی تائید کر رہا ہوں۔
پس یقیناً یہ رعونت اور جہل مرکب کا شعبہ ہے پھر اشاعۃ السنہ میں لکھتے ہیں۔
قوله! ”وہی کلام (یعنی جس کا نام قرآن ہے) اگر کسی غیر نبی کے خطاب میں اور پہلے توریت انجیل وغیرہ میں یا کسی ولی کے الہام میں خدا نے فرمایا ہے تو وہ قرآن نہیں کہلاتا۔ گو حقیقت میں وہ بعینہ وہی کلام ہے جو قرآن میں پایا جاتا ہے۔“ انتہاء بلفظہ! فقیر کہتا ہے کہ اس عبارت میں ہر چند بہت سی غلطیاں ہیں مگر جن کا بیان یہاں پر ضروری ہے وہ یہ ہیں اوپر لکھا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات کو قرآن بنانے میں خطاب کو کوئی دخل نہیں۔ قرآن وہ ہے جو سرور عالمﷺ پر اتارا گیا اور آپﷺ کی طرف کلام الٰہی سے وحی ہوا۔ اور قرآن اس اترنے سے پہلے بھی قرآن تھا اور اس سے پیچھے بھی قیامت تک قرآن ہی کہلاتا ہے اور کسی ولی پر کوئی آیت
٦٨
حقيقة الحال بالكمال فوجدت الهاماته مخالفة للشرع الشريف بتحريف كلام الله اللطيف و غير ذلك مما صراحة فى هذه الاوراق بعون الملك الخلاق فكتبت الى مؤلف البراهين بنية اداء حق اخوة الاسلام ان يرجع من هذه الدعاوى الكاذبة المرام و يبيع كتابه ببيان ردالاديان الباطلة النظام فما جابنى بذلك وماتاب عما هنالك فذكرت بعد ذلك فى بعض مجالس تذكير المسلمين ان الهامات كتابه حرفت و بدلت كلام رب العلمين و شارك مؤلفه نفسه فى فضائل النبيين جعل القرآن عضين فطلب منى مؤيده صاحب الاشاعة الخلوة للكلام فى امرالالهام فلعلمى بان صاحب البراهين و مؤلف الاشاعة واصف احدهما للاخر فى الكتاب و اظهر الثانى حقيقة الاول فى رسائله عند الاصحاب و بهذه المواصفة والممادحة امن بحقيقته صاحب البراهين اكثر العلماء و جميع العوام من غير المقلدين و بعض العلماء و كثير العوام من المقلدين وصارقاديانه مرجعا للخواص و العوام مثل بيت الحرام مارضيت بالمكالمة فى الخلوة بل طلبت البحث معه لاظهار الحق بمحضر من
قرآن کی الہام ہو جائے تو وہ قرآن سے خارج نہیں ہوتی ہے بلکہ قرآن مجید ازل سے ابد تک قرآن ہی ہے۔ معنی اس کے کلام نفسی قدیم ہے اور اس کی نظم بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور بے شک خدائے پاک نے اس کا نام قرآن حکیم رکھا ہے۔ پس غیرممکن ہے کہ قرآن غیرقرآن بن جائے اور عقائد اہل سنت میں مقرر ہو چکا ہے کہ حق سبحانہ کی صفات پر بھی تغیر نہیں آتا ہے۔ جیسا کہ اس کی ذات پر بدلنا نہیں ہے اور خود غیر مقلدین کی نہج مقبول میں ہے و برذات وصفات الٰہی تغیر نمی رود ص ١٠ وص ١٦ میں دیکھو۔ پر تعجب یہ ہے کہ خود صاحب براہین جس جس آیت قرآن کی اپنی طرف الہام ہونے کا مدعی ہے۔ ان کا آیات قرآنی ہی نام رکھتا ہے۔ جیسا کہ اوپر براہین کے ص ٤٨٥، ٤٩٨، خزائن ص ٥٧٧، ٥٩٢ سے منقول ہو چکا ہے اور یہ صاحب اشاعۃ السنہ اس کی تائید میں قرآن کو غیر قرآن اور بعض آیات قرآنی کو کلمات فرعونی و شیطانی بنا رہا ہے۔ خدا جانے یہ شخص اگر قرآن کی بے ادبی میں غضب الٰہی سے پروا نہیں رکھتا تو اتنا بھی نہیں جانتا کہ خلاف مرضی قائل کے اس کے قول کی توجیہ کر رہا ہے۔ الٰہی ایسی نادانی سے پناہ دے۔ ہمارے اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر۔ پھر اشاعۃ السنہ کے ص ٣٠٤ میں جو لکھا ہے کہ:
٦٩
العلماء والاذكيا فما قبل صاحب الاشاعة هذا للمدعا بل ما اجا بنى فى هذا المدعا فبعد ذلک فى شهر الجمادى الاخرى اعلنت بطبع الاشتهار ان اکثر الهامات صاحب البراهین مخالفه لاصول الدین الاسلام فانى اطلب منه ومن مؤیده صاحب الاشاعة المناظرة فى مجلس العلماء الاعلام حتی یظهر الحق ولا یختل عقائد الخواص والعوام فما اجابا بذلک ایضاً ثم کتبت فى شهر رمضان المبارک رسالة هندیة لرد هفواتهما نصرة للدین و عرضتها علی علماء الفنجاب والهند فوافقوابی فى اعبار مخالفة صاحبى البراهین والاشاعة الشرع المتین فبعد ذلک قال لی بعض رؤساء بلدة امرت اسر بان المصلحة فى المناظرة الاظهار الحق اولا و باشتهار ماظهر من الحق ثانیاً فقبلة و قلت له انى سعیت لهذا الامر منذ ثمانیة عشر شهراً لکن لا یقبله صاحب البراهین فقال لی انى اسعى للمناظرة وکتب الی صاحب البراهین ثم کتب الی ذلک الرئیس ان صاحب البراهین یقول فى کتابی تصوُّف فانا ناظر بمحضرة عصبة من العلماء الصوفیة و سبعمائة رجال فقبلتهم طلبت منه ان یجمع معهم العلماء الثلثة الا خرین و یعین الیوم للمناظرة عند القوم فما اجابانی الی الان وما ان
قوله! ”شیطان بجز برائی گمراہی کے اور کچھ القا نہیں کرتا ہے اور ان الہامات میں سراسر ہدایت تسلیم کی گئی ہے۔ گمراہی کی کوئی بات ان میں مانی نہیں گئی پھر یہ القاء شیطانی کیوں کر ہوسکتا ہے“ ........... الخ! انتہا بلفظہ!
فقیر کہتا ہے کہ اوپر متحقق ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی نے براہین کے الہامات میں حق تعالیٰ پر افتراء کیا ہے اور قرآن مجید کی آیات میں لفظی معنوی تحریف کی ہے اور اپنی خودستائی یہاں تک بیان کی ہے کہ انبیاء سے برابری کردی ہے تو یہ سب برائیوں سے بڑھ کر برائی اور سخت بے حیائی ہے، جس کو دیدہ حق بیں اور دل حقیقت گزیں عطاء نہ ہو تو وہ ان باتوں کو کب دیکھتا ہے اور کیوں پروا کرے ان باتوں کی جو خود سوادِ اعظم سے نکل جائے اور صاحب براہین احمدیہ اس کی کمال مدح کرے۔ یہاں تک کہ بادعاء الہام رب العالمین اس کو کاملین مکملین میں داخل کردے اور غیر مقلدین وغیرھم کو اس کے کمال حال ومآل پر آگاہی بخشے تو یہ صاحب اشاعۃ السنہ اس کے اقوال باطلہ کو نہایت اہانت قرآن کریم سے کیوں نہ تائید کرے۔ خدا ہی اپنے دین کا حافظ ہورہا یہ کہ اشاعۃ السنہ کے ص ٢٥٩ میں تحریر ہے عربی فقرہ انا انزلناہ قریباً من القادیان!
طبعت تلک الرسالۃ الہندیۃ الی ھذا الزمان رجاء ان تتزین بتصحیح حضرات علماء الحرمین المحترمین لیظھر نھایۃ اعتمادھا عند المسلمین و ینسد ا ختلال الدین المتین و یرجع الی الحق بعض العلماء من المقلدین المصدق لصاحب البراھین فترجمتھا فی العربیۃ فی شھر شوال ١٣٠٣ وما فعلت ماذکرت الا حمایۃ للقران المبین ورعایۃ الحقوق حضرات الانبیاء والمرسلین صلوۃ اللّٰہ و سلامہ علیھم اجمعین وصیانۃ لعقائد المسلمین و ارسلھا الی جنابکم المحیی لمراسم الدین والمعاذ والملجاء للمؤمنین مع الکتاب البراھین ورسالۃ الاشاعۃ المشتملۃ علی وصفہ تاویل اقوالہ ومع اشتھاری صاحب البراھین لطلب التوجہ من حضرتکم الی ملاحظہ ھذہ الرسالۃ وتوافق النقل بالاصل وان کان ماکتبہ حقا موافقا بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ فزینوھا بتصحیحکم الشریف وما کان فیھا من الخطاء والسھو فاصلحوھا باصلاحکم النظیف وبینوا بالبیان الشافی والشرح الکافی طلباً للاجر الوافی حکم صاحبی البراھین والاشاعۃ معتقدیھما وحکم کتابیھما شریعۃ و طریقۃ
قولہ! ”وبالحق انزلناہ وبالحق نزل“ اس میں کسی کو لفظ نزول سے نزول قرآن یا وحی رسالت کا شبہ گزرے تو اس کو یوں دفع کر سکتا ہے کہ یہ لفظ (نزول) وحی رسالت یا قرآن سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ لفظ بخشش و عطا کے معنوں میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ آیت زمر میں فرمایا ہے خدا نے تمہارے لئے آٹھ جوڑی مواشی اتاری۔ یعنی عطا فرمائی ہیں۔ پس ایسا ہی عطاء الہام معارف صاحب قادیان کے نزول سے تعبیر فرمایا ہے ۔‘ ‘انتہی بلفظہ!
فقیر کہتا ہے کہ یہ تاویل کئی وجہ سے باطل ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ خود صاحب براہین نے اس الہام کے بیان میں لفظ نزول کا اتارنے سے تینوں جگہ میں ترجمہ کیا ہے اور صاحب اشاعۃ السنہ نے اسی ص٢٥٩ کی آٹھویں سطر میں اس کو نقل کیا ہے تو اب برخلاف مراد قائل اس کے قول کی تاویل کرنی سراسر بے جا ہے۔ دوسری وجہ قادیان کے قریب انزال معارف والہام کو جب آیت : ”وبالحق انزلناہ وبالحق نزل “ سے جو صرف قرآن مجید کے اتارنے اور اترنے کے بیان میں ہے۔ ملا کر لکھا ہے تو یہ طرز کلام اور مقتضائے مقام اس تاویل کو ہزار زبان باطل کر رہا ہے۔ تیسری وجہ آیت : ”وانزل لکم من الانعام“ میں لفظ انزال بھی اکثر مفسرین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں یعنی اتارنے میں مستعمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علی نبینا وعلیہ السلام کے
٧١
حتی یطمئن المسلمون و یرجعون الی الحق کلهم اجمعون فجزاکم الله الشکور خیر الجزا فی الدنیا والعقبی وسلمکم وابقاکم لتائید دینه سید الانبیاء علیهم الصلوٰة والثناء وزادکم الله تعالٰی بسطة فی العلم والجسم لاحقاق الحق وابطال الباطل عند الکرام وعلیکم مدارالاسلام الی یوم القیام والسلام خیر الختام مع الاکرام و رزقنا الله المجیب الدعوات لقاء کم وزیارتکم الموصلة الی السعادات العظمٰی والبرکات الکبرٰی بالامن والامان والسلامة والاسلام والحمد لله رب العلمین والصلوٰة والسلام علی مظهر جماله و نور کماله و اله و صحبه قدر جوده و نواله عدد جمیع معلومات العلیم العلام تَمَّتِ الرِّسَالَةُ وشرعت التقاریظ۔
تقریظ حضرت سید العلما سید الاتقیا مولانا
مولوی محمد رحمة الله الهندى المهاجر
الذی اعزہ حضرت سلطان الروم بتجویز شیخ الاسلام فی الروم
سات بہشتوں سے یہ مواشی اتارے تھے۔ جیسا کہ تفسیر مدارک و تفسیر کبیر و نیشاپوری و خازن و حسینی و لباب وغیرھا میں درج ہیں اور نیز انہیں تفاسیر میں ہے کہ مواشی کی زندگی نباتات سے ہے اور نباتات کا قوام پانی سے ہے اور پانی آسمان سے اتارا جاتا ہے۔ پس گویا مواشی بھی آسمان سے اتارے گئے۔ علاوہ مذکورہ بالا تفاسیر کے تفسیر ابوسعود و بیضاوی میں بھی ایسا لکھا ہے۔ پس ان دونوں وجہوں میں انزال کے معنی عطا کے نہ ہوئے اور جمہور مفسرین نے آیات شریفہ کے معنی یوں کئے ہیں کہ خدا نے تمہارے لئے مواشی پیدا کئے تو یہ آیت مثل آیت سورۃ النحل اور سورۃ یٰسین کے ہوئی جن میں مواشی کے پیدا کرنے کا ذکر ہے تو ان معنوں کی رو سے بھی انزال کو عطا پر حمل کرنا ناروا ٹھہرا اور یہ جو کسی مفسر نے اس آیت میں مواشی کے اتارنے کو غیر ظاہر المراد خیال کر کے عطا کے معنی بھی لیں تو اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ قرآن مجید کے اتارنے اور اترنے کو عطا کے ساتھ تفسیر کیا جائے ۔ کیونکہ بوقت متعذر ہونے حقیقت کے مجاز کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پس ”وبالحق انزلناہ“ کو انزال انعام پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ الغرض صاحب اشاعۃ السنۃ صاحب براہین کی تائید نہیں کر رہا بلکہ اس کی ضلالت
٧٢
بخطاب پایہ حرمین شریفین و کتب لہ فی منشورہ بالقاب عالیة. بسم الله الرحمن الرحیم. اما بعد فانی سمعت ھذہ الرسالة من اولھا الی اخرھا فوجدتھا صحیحة العبارة والمضمون والنقول التی نقلھا حضرت مؤلف ھذہ الرسالة جزاہ الله خیرا مطابقة للاصل وقد سمعت قبل ھذا ایضاً من الثقات المعتبرین حال صاحب البراہین الاحمدیة فھو عندی خارج من دائرة الاسلام لایجوز لاحد اطاعتہ وجزی الله مؤلف ھذہ الرسالة عسی ان ینجو بمطالعتھا کثیر من الناس من ان یتبعوا صاحب البراہین الاحمدیة عصمنا الله و جمیع المسلمین من اغواء الشیاطین ومکرھم و خدیعتھم وانا الفقیر الرجی رحمت الله ابن خلیل الرحمن غفر الله لھما ولجمیع المسلمین اجمعین. دستخط مھر
تقریظ حضرت مفتی مكة المكرمة الاحناف
الحمد لمن ھو بہ حقیق و منہ استمداد العون والتوفیق الحمد الله الذی تنزھت ذاتہ العلیة عن الغفلة و اللنسیان وتقدست اسماء ہ و صفاتہ عن ان یعتریھا زوال او نقصان و جعل العلماء فی کل عصر و زمان قائمین بحفظ واضلال کو بڑھا کر در پے اس کی توہین کے ہے۔ بر سولاں بلاغ باشد و بس اور وہ
قولہ ! جو صاحب اشاعت السنہ نے: ”یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة.“ کی تاویل ص ٢٨٠ میں لکھا ہے صاحب براہین کو روحانی مناسبت کے سبب مریم سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جیسے حضرت مریم علیہا السلام بلا شوہر حاملہ ہوئی ہیں ایسے ہی مؤلف براہین بلا ترتیب و صحبت کسی پیر و فقیر ولی مرشد کے ربوبیت غیبی سے تربیت پا کر مورد الہامات غیبیہ و علوم لدنیہ ہوئی ہیں۔ اس تشبیح کی ایک ادنیٰ مثال نظامی کا یہ شعر ہے:
کہ مریم صفت بکر و آبستن ست
انتہی بلفظہ ! بقدر الحاجة!
فقیر کہتا ہے کہ یہ تاویل باطل ہے کہ ارکان تشبیہہ چار ہیں۔ مشبہ‘ مشبہ بہ‘ وجہ شبہ‘ حرف تشبیہ لفظی ہو یا تقدیری جیسا کہ مطول وغیرہ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ فقرہ: ”یا مریم اسکن ............... الخ “ میں مشبہ کا تو ذکر ہے نہیں تشبیہ کیونکر پائی گئی؟ بلکہ صاحب براہین کا ادّعا ہے
٧٣
الشريعة و قواهم على اظهار الحق واخماد الباطل بلا مداهنة شنيعة واجرا لهم بذلك اجراً و افراً وخيرات منيفة حيث بينوا ما هو صواب وما هو خطاء كسراب بقيعة والصلوة والسلام على سيدنا محمد الذى جمع فيه مولاه الفضل جميعه و على اله و اصحابه ذوى النفوس السميعة المطيعة امابعد فقد اطلعت على هذه الرسالة الشريفة والنقول اللطيفة فرأيتها هى التى تقربها العينان وان غلام احمد القاديانى قدهوى به الشيطان فى اودية الهلاک والخسران فجزى الله جامع هذه الرسالة خير الجزاء و اجزل ثوابه واحسن يوم القيامة حسابنا ومآبه امین و صلى الله تعالى على سيدنا محمد و على اله و صحبه امر يرقمه خادم الشريعة راجى اللطف الخفى محمد صالح ابن المرحوم صديق كمال الحنفى مفتى مكة المكرمة الا كان الله لهما حامداً مصلياً مسلماً. دستخط مهر
تقريظ حضرت شیخ العلماء مفتى الشافعية بمكة المحمية
الحمد لله الذى يسر بهذا الدين من يقوم بحقه من خفض كل زنديق کہ اس کو یا آدم یا عیسیٰ یا مریم وغیرہ اسماء انبیاء سے خطاب ہورہے ہیں۔ پس صریح محال ہے کہ ایک ہی شخص باپ بیٹا بھائی سب کچھ بن جائے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ جس کو فیضانِ الٰہی ہو وہ قرآن میں تحریف کرے اور انبیاء سے برابری کا دعویٰ کرے اور وغیرہ امور سخت مخالف شرع عمل میں لائے۔ پس یقیناً صاحب براہین حدود شرعیہ سے نکل کر طغیان اور عصیان کے پرلے درجے تک پہنچا ہے۔ یہاں تک پہلی قسم کے الہامات مع جواب تاویلات صاحب اشاعۃ السنہ کے ذکر سے فراغت حاصل ہوتی ہے۔
اب دوسری قسم کے الہامات کا یعنی جن میں صاحب براہین نے انبیاء پر اپنی فضیلت جتائی ہے بطور نمونہ ذکر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ براہین کے ص ٢٤٠ خزائن ص ٢٦٦ میں عربی الہام حمد کا دعویٰ کرے اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ: ”خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔“ انتہیٰ بلفظہ !
فقیر کان الله لہ کہتا ہے کہ ’حمد‘ احسان کے بعد ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ تفسیر کبیر و نیشا پوری و فتح العزیز وغیرہا میں درج ہے اور مجمع البحار میں حدیث لکھی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ
ضال مضل وردعه وقمعه نصر كل عالم هاد مهتد و اعانة و رفعه و بعد فقد نظرت فيما نسب لغلام احمد القاديانى الفنجابى فان صح ما نسب اليه عنه كان من الضالين المضلين ومن الزنادقة الملحدين ومثله فيما ذكر محمد حسين المؤيد له برسالة المسماة باشاعة السنة فكل منهما يجب على ولى الامر وفقه الله لما يحبه و يرضه ان يعزرهما التعزير البليغ الذى يحصل به ردعهما وردع امثالهما واما ما الفاه الامام الفاضل والهمام الكامل الشيخ محمد ابو عبدالرحمن غلام دستگير الهاشمى الحنفى القصورى فى بيان ضلال المذكورين و ابطال اقوالهما وسماه برجم الشياطين برد اغلوطات البراهين فتاليفه المذكور هو الحق الذى لا شك فيه فجزه الله عن الاسلام والمسلمين الجزاء الجميل و احله فى القلوب المحل الجليل والله سبحانه و تعالى اعلم قاله بفمه و رقمه بقلمه المرتجى من ربه كمال الفضل محمد سعيد بن محمد بابصيل مفتى الشافعية بمكة المحمية غفر الله له ولوالديه ولجميع المسلمين. دستخط مهر
حمد شکر کا سر ہے۔ اس لئے کہ اس میں نعمت کا اظہار ہے اور عام تر ہے۔ پس حمد میں شکر اور زیادتی ہے۔ انتہا اور رد المحتار میں ہے کہ عرفی حمد وہ فعل ہے جو منعم کے انعام دینے کی تعظیم سے خبر دار کرے۔ الیٰ قولہ اور حمد جہاں مطلق ہو تو عرف ہی مراد ہوتی ہے۔ سید شریف نے حواشی مطالع میں یہ لکھا ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت ردالمحتار کا۔ پس محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کی حمد کرے۔ اس لئے کہ منعم حقیقی تو حق تعالیٰ ہی ہے اور باوصف اس کے قرآن اور صحیح احادیث میں کہیں بھی صراحۃً نہیں آیا کہ حق تعالیٰ اپنے حبیب محمد ﷺ یا کسی اور نبی کی انبیاء ؑ میں سے حمد کر رہا ہو۔ بلکہ حق تعالیٰ نے سب خواص وعوام کو ارشاد کیا ہے کہ تم سب کہو : ”الحمدلله رب العالمین“ پس کیونکر متصور ہو کہ باری تعالیٰ مرزا قادیانی کی عرش سے حمد کر رہا ہے؟۔ یعنی اس کو سب اپنے مقبول بندوں پر جن میں انبیاء بھی داخل ہیں فضیلت دے رہا ہے۔ خدا جانے صاحب براہین نے رب العالمین پر کونسا انعام کیا ہے جس کے بدلے وہ سب کے محمود کی حمد کا مستحق ٹھہر گیا ہے؟۔ یہ نرا بہتان عظیم نہایت تکبر اور حمق ورعونت اور جھوٹ وفریب سے پیدا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس فقرۂ الہامیہ عربیہ کی رکاکت لفظی علماء اسلام سے مخفی نہیں ہے اور قرآن مجید میں جو لفظ حمید کا باری تعالیٰ کی صفت میں واقع ہوا ہے تو وہ بلفظ غنی وعزیز وغیرہ اسکے نزدیک کیا گیا ہے تا کہ دلالت کرے کہ
٧٥
تقریظ حضرت مفتی المالکیۃ بمکۃ المحمیۃ
الحمدللہ رب العلمین رب زدنی علما اللھم ھدایۃ للصواب من یھدی اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ اما صاحب ھذا المقال فقد انغمس فی بحرالخواطر الشیطانیۃ والھواجس النفسانیۃ فما اکذبہ واشقاہ حیث ادعی ما ادعاہ من الدجل المنصوص علیہ یکون فی اخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اباؤکم الحدیث واما المؤیدلہ بالرسالۃ المسماۃ باشاعۃ السنۃ فھو اشقی منہ لقولہ تعالٰی ولاتعاونوا علٰی الاثم والعدون الایۃ فکل منھما یجب علٰی ولی الامر تعزیرھما التعزیر البلیغ واماما الفہ الفاضل العلامۃ الشیخ محمد ابو عبدالرحمٰن غلام دستگیر الھاشمی الحنفی القصوری فی بیان ضلال المذکورین وابطال اقوالھما فقد اجاد فیہ بماذکرہ من الحث البلیغ علٰی اتباع الدین الحق القویم واللّٰہ اعلم اللھم لاتجعلنا ممن اتبع ھواہ و سلک طریق الشیطان فاغواہ وحسن لہ سؤ المقال فارداہ امین بجاہ الامین کتبہ الراجی العفو من واھب العطیۃ محمد ابن
حق تعالیٰ حمد کیا گیا ہے نہ حمد کرنے والا۔ جیسا کہ مشہور تفاسیر اور ترجموں میں درج ہے۔ اور اگر فرض کریں کہ حمید بمعنی حامد ہے تو وہ سبحانہ اپنی ذات وصفات کا حمد کرنے والا ہے۔ مجمع البحار میں نہا یہ سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حمید ہے تو وہ ہر حال محمود ہے۔ انتہاء! اور قرآن میں جو حق تعالیٰ کا شاکر وشکور ہونا مذکور ہے تو اس سے بھی یہی مراد ہے کہ باری تعالیٰ تھوڑے عمل پر بہت ثواب عطا فرماتا ہے جیسا کہ اکثر تفاسیر میں لکھا ہے اور محی السنہ معالم میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ہے کہ استحقاق سے زائد عطا کرتا ہے۔ انتہاء! اور مجمع البحار میں ہے کہ حق تعالیٰ شکور وہ ہے جو تھوڑے عمل کو بڑھا کر مضاعف بدلا دیتا ہے۔
پس اس کا شکر بندوں کا بخشا ہے۔ انتہاء! اور قاموس میں ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر بدلہ دینا اور ثناء نیک کرنا ہے۔ انتہاء! اور حمد و مدح یعنی ثناء جمیل میں فرق ظاہر ہے۔ پھر بہت ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ شب معراج میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود حاضر ہوئے تھے۔ جیسا کہ قرآن وحدیث میں آیا ہے اور یہاں حق تعالیٰ مرزا قادیانی کے پاس خود چل کر آ رہا ہے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کی صفت لیس کمثلہ شئی وارد ہے۔ پھر براہین کے ص٥٥٨ خزائن ٧٦
المرحوم الشيخ حسين مفتى المالكية ببلد الله المحمية مصلیا و مسلما. دستخط مهر
تقريظ حضرة مفتى الحنابلة بمكة المعظمة
الحمد لله الذى انزل على عبده الكتاب الصادق فى قيله القائل فيه وان هذا صراطى مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله والصلوة والسلام على سيدنا محمد نبيه و حبيبه و خليله و على اله و اصحابه وانصاره وتابعى سبيله اما بعد فقد اطلعت على هذه الرسالة الشريفة المشتملة على النقول الصحيحة الصريحة المنيفة فرئيتها محكمة مؤيدة شافية كافية مفيدة تقر بها اعين الموحدين اهل السنة والجماعة و تعمى بها اعين المعتزلة والخوارج و الملحدين والمبتدعة المارقين من الدين كما يمرق السهم من الرمية كما اخبر بذلك خير البرية وهى التى اظهرت زيغ احمد القادياني وانه مسيلمة الكذاب الثانى واظهرت تلبيس ابليس الشيطانى فجزى الله مؤلفها عن المسلمين خيراً كثيراً واجراً جزيلاً جميلاً كبيراً و صلى الله على سيّدنا
ص ٢٦٦ پر الہام عربی درج ہے جس میں مرزا قادیانی کے بیت الفکر اور بیت الذکر کے حق میں :”ومن دخله كان آمنا“ واقع ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ انہوں نے خود کیا ہے۔ ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور : ”ومن دخله كان آمنا“ اس مسجد کی صفت بیان فرمائی ہے۔ انتہاء بلفظہ !
فقیر کہتا ہے کہ آیت : ”ومن دخله كان آمنا“ قرآن شریف میں بیت اللہ شریف کے ہی حق میں وارد ہے۔ مسجد نبوی ﷺ کے اور نہ مسجد اقصیٰ (جس کی تعریف سورۃ بنی اسرائیل کے ابتداء میں ہے اور وہ قبلہ انبیاء ہے) کے حق میں وارد ہے۔ پس یہ ادّعا صاحب براہین کا کہ اس کی خانگی مسجد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے: ”ومن دخله كان آمنا“ نازل کیا ہے۔ یہاں اپنی مسجد کو ان دونوں مسجدوں پر فضیلت دی ہے۔ ان مناقب سے ایک اور امر ظاہر ہو گیا اور وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ابتداء براہین احمدیہ کے اشتہار میں درج کیا ہے کہ ان کی جائیداد دس ہزار روپیہ کی ہے۔ پھر ادّعا کیا ہے کہ ہم کو ایک الہام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مخاطبت ٧٧
محمد خاتم النبيين والمرسلين و علىٰ آله و صحبه اجمعين امر برقمه الحقير خلف بن ابراهيم خادم افتاء الحنابلة بمكة المشرفة حالاً حامداً مصلياً مسلماً. دستخط مهر
تقريظ حضرت مفتى الحنفية فى المدينة
النبوية على صاحبها الصلوة السرمدية
بسم الله الرحمن الرحيم اسال الله سبحانه المولى الكريم ذى الطول التوفيق والاعانة فى الفعل والقول الحمد لله الواحد الفرد الصمد المنزه عن الشريك والولد الذى بعث الرسل الكرام بالحجج الواضحة والايات البينات وايدهم بالارهاصات الخارقة بالمعجزات المنزل على خاتم انبيائه و سيد اصفيائه كتابا معجزا مبينا القائل فيه جل شانه اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا هادياً الى اقوم صراط مستقيم وناطقاً بكل امر رشيد لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد والصلوة الدائمة والسلام التام على النبى الداعى الى سبيل
یعنی ہم کلامی کا منصب حاصل ہے۔ پس باوجود اس کے اب تک وہ حج کو نہیں گئے۔ اس لئے کہ حج گناہ کے بخشوانے اور قیامت کے امن کے واسطے ہے اور یہ دونوں مرزا قادیانی کو حاصل ہیں۔ کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جو جی چاہے سو کر بے شک ہم نے تجھے بخش چھوڑا ہے جیسا کہ براہین کے ص ٦٠ ؍ خزائن ص ٦٦٨ میں درج ہے اور امن تو ان کی مسجد کے نمازیوں کو حاصل ہے۔ مرزا قادیانی تو خود اس کے امام اور بانی ہیں اور نیز اوپر براہین کے ص اخیر ٥٦٢ ؍ خزائن ص ٦٧٠ سے منقول ہو چکا ہے کہ: ”دین اسلام سب پر مشتبہ ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم کیا ہے کہ طریقہ حقہ مرزا قادیانی سے حاصل کریں۔“ انتہیٰ ملخصاً!
پس اب بحسب اقرار ان کے قادیان خود مکہ معظمہ ہو گئی اور ان کو حج کرنے کی کیا حاجت رہی؟۔ اس شرارت سے پناہ بخدا۔ جمیع انبیاء اور سید المرسلینﷺ بیت اللہ کا حج اور طواف کرتے گئے۔ البتہ جس کے پاس رب البیت خود تشریف لائے اور اس کی حمد کرے تو وہ حج کو کیوں جائے؟۔ پھر براہین ص ٦٠ ؍ خزائن ص ٦٦٨ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فقرات عربی مرزا قادیانی کو الہام کی ہیں جن کا ترجمہ وہ خود یوں کرتے ہیں کہ: ”تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرے
١٧١
النجاح والاستقامة المبنى عن كل كذاب و مبير الى يوم القيمة القائل فيما رواه مسلم عن ابى هريرة رضى الله عنه يكون فى اخر الزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا ابائكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم والقائل فيما رواه مسلم عن ابى هريرة رضى الله عنه من دعا الى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شيئاً ومن دعا الى ضلالة كان عليه من الاثم مثل اثام من تبعه لا ينقص ذلك من اثامهم شيئا والقائل فيما رواه احمد والنسائى والدارمى عن عبدالله بن مسعود رضى الله عنه خط لنا رسول الله ﷺ خطا ثم قال هذا سبيل الله ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله و قال هذه سبل على كل سبيل منها شيطان يدعو اليه وقراء هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه الاية والقائل فما رواه ابن ماجة عن انس رضى الله عنه اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فى النار والقائل فيما رواه احمد عن معاذ بن جبل رضى الله تعالى عنه ان الشيطان ذئب الانسان كذئب الغنم يا خذالشاة القاصيه والناصيه واياكم والشكاوة وعليكم لئے میں نے رات دن پیدا کیا ۔ تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں ۔‘‘ انتباہ بلفظہ !
فقیر کہتا ہے کہ قرآن میں فرمان ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کا رتبہ قرآن مجید سے لوگوں کو معلوم ہو گیا ۔ اور سب مسلمان شاہد ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ساری خدائی سے افضل ۔ اور صاحب براہین کا ادّعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرزا قادیانی کی منزلت کی لوگوں کو خبر نہیں ۔ پس اس کلام سے مرزا قادیانی کی جمیع انبیاء پر فضیلت کا ثابت کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟ ۔ اور یقیناً ان دعوؤں میں صاحب براہین کاذب ہے ۔ پھر مرزا قادیانی ضمیمہ اخبار ریاض ہند مجریہ امرتسر یکم مارچ ١٨٨٦ء مطبوعہ ہوشیار پور میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا ہے کہ: ”انت منی وانا منك “ ص ١٤٨ سطر ٤ کالم ٢ ’تذکرہ ص ٤٢٢ اور ان کے بیٹے کے حق میں جس کی بشارت دی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اول آخر کے ظاہر کرنے والا حق اور بلندی کو ظاہر کرنے والا کان اللہ نزل من السماء ص ١٤٧ سطر ٤ اکالم ٢’تذکرہ ص ١٣٩‘ انتباہ !
فقیر کان اللہ لہ کہتا ہے کہ پہلا الہام صحیح حدیث کا ایک فقرہ ہے جو آنحضرت ﷺ
۔
بالجماعت والعامة والقائل فما رواہ مالک فی الموطأ عن مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ و سنۃ رسولہ والقائل فیما رواہ مسلم عن محمود بن لبید رضی اللہ عنہ ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم والقائل فیما رواہ ابو یعلی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان احبکم الی واقربکم منی الذی یلحقنی علی العھد الذی فارقنی علیہ و القائل فیما رواہ البیھقی فی الشعب عن جابر امتهوکون کما تھوکت الیھود والنصاری لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ لو کان موسی حیا ما وسعہ الا اتباعی والقائل فیما اتفق علیہ الشیخان ورواہ ابو داؤد والترمذی عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد والقائل فیما رواہ احمد و مسلم والاربعۃ عن ابی سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان و علی الہ واصحابہ نجوم الحق و عترتہ وصہراءہ ھداۃ الخلق اما بعد فقد سرحت طرف الطرف فی جنات طروس ھذا التالیف الشائق و ارتعت سفینۃ الفکر نے اپنے عم زاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے حق میں فرمایا تھا: ”انت منی وانا منک“ یعنی تو نسب اور پیوند سسرال اور ابتداء ایمان ومحبت وغیرھا میں مجھ سے متصل ہے۔ جیسا کہ قسطلانی اور کرمانی دونوں شرح بخاری میں درج ہے۔ یعنی فیما میں میری اور تیری برادری اور قرابت اور اتحاد اور کمال اتصال ہے۔ جیسا کہ مرقات اور لمعات دونوں شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے اور کرمانی شرح بخاری میں ہے کہ اس من کو اتصالیہ کہتے ہیں۔ انتہیٰ مترجماً
پس یہ یقین ثابت ہوا کہ ایسا کلام دو قریبیوں میں جن کو نسباً واخوۃً وغیر ہما اتصال ہو واقع ہو۔ لیکن خدائے تبارک وتعالیٰ جس کا نہ کوئی ولد ہے نہ کوئی والد اور نہ اس کا کوئی کفو اور جس کی یہ صفت ہے کہ کسی سے متصل نہیں ہوتا اور نہ کسی سے متحد ہوتا ہے نہ کسی سے مشابہ ہے۔ جیسا کہ عقائد کی کتابوں میں اس پر تصریح ہے۔ ہرگز متصور نہیں کہ وہ پاک ذات کسی کو فرمائے: ”انت منی وانا منک“ یعنی تو مجھ سے متصل ہے اور میں تجھ سے متصل ہوں۔ پس بالیقین یہ صاحب براہین نے انبیاء اور مرسلین پر اپنی فضیلت ثابت کرنے کو حق تعالیٰ پر یہ بہتان باندھا ہے اور دوسرا الہام جس میں اس کے زعم میں بندے کو: ”کأنّ اللّٰہ نزل من السماء“ کہا ہے وہ بھی صرف افتراء اور بہتان ہی ہے۔ اس لئے کہ جو مشابہت لفظ کأنّ سے بیان کی جاتی ہے وہ نہایت سخت مشابہ ہے ٨٠
الناظر في اريض روض سطور هذا المصنف الفائق فوجدته متكفلاً للرد بالادلة القاطعة المزهقة لباطل هذا المارق من الدين ، الشقى الخب اللئيم كافيا تزييف اقواله الباعثة لاضلال كل ذى فهم سقيم فلقد اجاد حتى بلغ غاية الرمى والمرام من الاجاده وافاد اثابه الله الاجر الجزيل واناله الحسنى وزياده و صلى الله على سيدنا محمد النبى الامى واله و صحبه و سلم نمقه الفقير الى عفو ربه القدير عثمان بن عبدالسلام داغستانی مفتی المدينة المنورة الحنفى عفى عنه ٥ ذیقعده ١٣٠٤ھ۔ دستخط مهر
تقریظ حضرت مفتی الشافعية في المدينة
المنورة ووكيله المدرس بالحرم الشريف النبوی
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذي ارسل رسوله محمداً بالهدى ودين الحق وانزل عليه الكتاب معجزة باهرة واية مستمرة على تعاقب العصور دالة على كمال الصدق وجعله خاتم النبيين و سيّد المرسلين و رحمة العلمين و عم بعثة الى الثقلين الى يوم الدين و نسخ شرعه بجميع الشرائع
ہوتی ہے۔ جیسا کہ تفسیر اتقان سے اوپر بیان کیا گیا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی کا بیٹا حق تعالیٰ سے بہت ہی مشابہ ٹھہرا اور وہ پاک ظالموں کی باتوں سے برتر ہے تو خود مرزا قادیانی بہت ہی اونچا چڑھ گئے۔ معاذ اللہ ! حق تعالیٰ کے برابر ہو گئے اور دراصل حق سبحانہ ملحدوں کی باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب اور برے بندوں کی شرارت اور شیطانوں کی ایذاء اور حاضری سے پناہ بخدا۔ یہاں پر ختم ہوا یہ رسالہ جس کا نام ”رجم الشیاطین براغلوطات البراہین“ ہے اور جمیع حمدیں خاص خدائے پروردگار جہانوں کے واسطے ہیں اور درود ہو اللہ تعالیٰ کا ساری مخلوقات کے برگزیدہ اور اس کے حبیب محمد ﷺ اور اس کی آل واہل بیت واصحاب پر جب تک اس کو یاد کرنے والے یاد کریں اور جب تک غافل اس کی یاد سے غفلت کریں اور بعد ختم ۔ اس رسالہ کے اللہ تعالیٰ کے وافر کرم کا مشتاق محمد ابو عبدالرحمن فقیر غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہو۔
٨١
الماضية و شرعه لا ينسخ و حكمه لا يفسخ و سد بانتقاله صلى الله عليه وسلم الى الرفيق الاعلى باب الرسالة والنبوة الى اخر الزمان فليس لاحد بعده الا اتباع شريعته الغراء ذات النور و البرهان صلى الله عليه وسلم وعلى اله واصحابه ائمة الهدى و مصابيح الدجى والتابعين لهم باحسان ماكر الجديدان اما بعد فاننا قدتاملنا مافى هذه الرسالة فوجدنا ها واضحة الدلالة براهينها قاطعة لرقاب شبه الملحدين وانوارها ساطعة ماحية لظلمات وساوس الشياطين قد اتت بالقول الفصل الذى ليس بالهزل واوضحت طريق الحق و منهاج الصدق واشتملت على النصوص الموافقة لما هو معلوم من الدين بالضرورة وفضحت تلبيسات احمد القاديانى وزوره ولاريب ان احمد المذكور ليس احمد الاعند اخوانه الشياطين بل هو اجدع كذاب يسمى اذم عند اهل الايمان واليقين وان مااتى به من الاباطيل فهو ضلال مبين والوحى الذى افتراه هو وحى الشياطين لا وحى الانبياء والمرسلين وعند التامل فى زخرفه و ضلاله تجده مصداق قوله تعالى كذلك وجعلنا لكل نبى عدوا شياطين الانس والجن يوحى
مرزا قادیانی کے تعاقب میں مساعی
حضرات علماء حق ملت حنیفیہ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ فقیر نے صفر ١٣٠٢ ہجری میں صاحب براہین کا وہ اشتہار دیکھا جس کا ذکر ابتداء اس رسالہ میں درج ہوا ہے اور اس کو مشتہر (مرزا قادیانی) نے بیس ہزار قطعہ چھپوا کر دور دراز ملکوں میں شائع کیا ہے۔ جب فقیر نے اس میں دیکھا کہ مرزا قادیانی نے کتاب براہین احمدیہ کا بنانا اللہ تعالیٰ کے حکم اور الہام سے دعویٰ کیا ہے اور اپنی تعریفوں میں حدود الٰہی سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان باتوں سے دل بہت ناخوش ہوا۔ پھر اس کی کتاب براہین احمدیہ دیکھی تو تیسرے چوتھے حصہ کے حاشیہ در حاشیہ میں جو اس نے اپنے الہامات درج کئے ہیں وہ اکثر مخالف شرع پائے اور آیات قرآن کی تحریف لفظی و معنوی وغیرہ قباحتیں جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ان میں دیکھیں تو حق برادری اسلام کے ادا کرنے کے واسطے مرزا قادیانی کو لکھا کہ ان مخالف شرع باتوں سے باز آؤ اور غیر دین والوں کے مقابلہ میں کتاب لکھو چھپواؤ فروخت کرو کچھ مضائقہ نہیں تو اس نے نہ مانا اور تائب نہ ہوئے بعد ازاں فقیر نے بعض مجالس وعظ میں ذکر کیا کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں قرآن مجید کی تحریف ہوگئی ہے اور انہوں نے انبیاء کی برابری کے مدعی ہو کر قرآن شریف کو پارہ پارہ بھی کر دیا۔ اس پر ان کے مؤید مؤلف رسالہ اشاعۃ
٨٢
بعضهم الى بعض زخرف القول غروراً ولو شاء ربک مافعلوہ فذرهم وما يفترون ولتصغے الیہ افئدۃ الذین لایؤمنون بالاخر ولیرضوہ ولیقترفوا ماهم مقترفون الی قولہ لا مبدل لکلمات الله وهو السمیع العلیم وفى الحقیقة شانہ کشان مسیلمة الكذاب ذی الضلال والارتیاب بل هو اضر کید امن ابلیس فی التدلیس والتلبيس لان امر ابلیس قد ظهر و انذر اللہ بنی آدم کیدہ و حذرہ وهذا قد لبس الباطل بصورة الحق وموہ الكذب والافتراء على الله فی مثال الصدق فاراح اللہ منہ البلاد والعباد بتدمیرہ و محو مابثہ فی الارض من الفساد فوجب علی کل مؤمن التمسک بمادل علیہ مضمون ھذہ الرسالۃ والتجنب من مزخرفات براهین احمد القادیانی وافتراہ من السفاهۃ والضلالۃ وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم النبیین المنزل علیہ الکتاب المبین المحفوظ من القاءات الشیاطین و علی الہ و صحبہ وسلم اجمعین واللہ اعلم بالصواب امر برقمہ السید اسمعیل البرزنجی مفتی الشافعیۃ بالمدینة المنورۃ سید جعفر بن وکیل مفتی الشافعیة المدرس بالحرم الشریف النبوی السید احمد البرزنجی. دستخط و مہر
السنہ نے خلوت میں در باب الہامات مرزا کے فقیر سے مناظرہ کرنا چاہا۔ جب کہ فقیر کو معلوم تھا کہ صاحب براہین اور مؤلف اشاعۃ السنہ باہم ایک دوسرے کے کمال ثناء خواں ہیں اور اپنی تالیفات میں ایک دوسرے کی حقانیت کو کما حقہ ظاہر کیا ہے۔ اس پر اکثر علماء اور سب عوام مقلدین سے اور بعض علماء اور عوام غیر مقلدین کے صاحب براہین کی حقیقت کو مان گئے ہیں۔ اور قادیان مثل بیت اللہ کے مرجع انام ہو گئی ہے تو فقیر نے خلوت میں مناظرہ کو پسند نہ کیا بلکہ علماء دین کے روبرو گفتگو واسطے کہا تو اس کے قبول سے درگزر صاحب اشاعۃ السنہ نے کیا۔ اس کا جواب تک نہ دیا تو بعد ازاں فقیر نے جمادی الاولیٰ سنہ رواں میں بذریعہ اشتہار اعلان کیا کہ صاحب براہین کے اکثر الہامات اصول دین اسلام کے مخالف ہیں۔ اس پر فقیر مرزا قادیانی اور ان کے مؤید اشاعۃ السنہ سے علماء اسلام کے روبرو یہ کلام کرنے کا خواستگار ہے تاکہ حق ظاہر ہو جائے اور خواص و عوام اہل اسلام کے عقائد میں خلل نہ آئے تو اس کا جواب بھی ان کی طرف سے کچھ نہ ملا۔ پھر فقیر نے اسی سال کے رمضان المبارک میں صاحب براہین کے الہامات اور صاحب اشاعۃ السنہ کی تاویلات کے رد میں اردو میں رسالہ لکھ کر کئی علماء ہندوستان و پنجاب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے بھی
٨٣
تقریظ حضرت مدرس المسجد النبوی علی صاحبہ الصلوۃ و السلام السرمدی
بسم الله الرحمن الرحيم والحمد لله الذی خلق جميع عبيده لاجل معرفته وتوحيده و ليفرقوا بين وجودهم و وجوده و يعلموا مزية انعامه و جوده احمده ان اقام لنا الدین واوضح طريقه للمهتدين واشكره ان ارسل الينا رسولا ختم به النبوة والرسالة و حسم به ابواب الشبه والضلال ایده بالمعجزات الباهرات والآيات البينات و نسخ بشریعته جميع الشرائع والاحکام و جعلها باقية الى يوم البعث والقيام وانزل عليه الذكر الحكيم والصراط المستقيم والنور المبين والحبل المتين وتكفل جل و علا بحفظه على ممر السنين من تغیر المضلين والحاد الملحدين صلى الله عليه وعلى اله واصحابه الذين من اقتدى بهم فبهداه اقتدى ومن حاد عن طريقهم فقد جار واعتدى و بعد فلما اجلت طرف الطرف فی فیافی هذه الرسالة الغراء المشتملة على الحث البالغ على اقتفاء الدین الحق والانتداب اليه والولوع به والاغراء وكان ذلک فی حال استعجال مع ما لی من كثرة الاشتغال و هجوم البلبال على البال الفيت انوار
اس بارہ میں کہ صاحب براہین واشاعۃ السنہ دونوں مخالف شرع کر رہے ہیں۔ فقیر سے موافقت فرمائی۔ امرتسر کے علماء کی تصدیق کے بعد وہاں کے ایک رئیس نے فقیر سے کہا کہ مصلحت یہ ہے کہ آپ اول مرزا قادیانی سے اظہار حق کے لئے مناظرہ کرو۔ پھر جو حق ظاہر ہو اس کو اشتہار دو۔ اس کو فقیر نے قبول کیا اور ان سے کہا کہ ڈیڑھ سال اس انتظار میں بسر کیا ہے کہ مرزا قادیانی مناظرہ کو قبول نہیں کرتے۔ اس رئیس نے جواب دیا کہ ہم اس میں ساعی ہو کر مرزا قادیانی کو لکھتے ہیں۔ پھر چند ماہ کے بعد ان کا خط فقیر کے نام آیا کہ صاحب براہین لکھتے ہیں کہ میری کتاب میں تصوف ہے۔ تین علماء صوفیہ کے نام لکھے کہ ان کے رو برو مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ فقیر نے اس کے جواب میں اس امر کو مان لیا اور لکھا کہ تین خاندانی علماء ہوں جو وہ لا ہور سے ان کے ساتھ شامل کر کے تاریخ مناظرہ متعین کرو اور فقیر کو اطلاع دو کہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جاؤں۔
علمائے حرمین شریفین سے فتویٰ
پس اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا اور نہ وہ رسالہ شائع ہوا۔ اب اس امید پر فقیر نے شوال ١٣٠٣ھ میں اس رسالہ کو عربی میں ترجمہ کیا کہ حضرات علماء حرمین محترمین کی تصحیح سے بھی مزین ہو جائے تا کہ اہل اسلام کے نزدیک نہایت معتمد ٹھہرے اور بعض علماء مقلدین جو
٨٤
لا تحوم علیہا رائحۃ ودلائلہا بینہ محکمۃ واضحۃ حافلۃ لما ھو معلوم بالضرورۃ من الدین کافلۃ برد شبہ الملحدین المضلین فاضحہ عوار ھذا الدعی الزندیق المدعو باحمد القادیانی حفید ابی مرۃ الذی ناف علی جدہ ابلیس فی الضلال والاغواء بالف مرۃ فاثاب اللہ مؤلفہا الثواب الجزیل حیث حمی حمی ھذا الدین المتین بابطال ما لبسہ المبیر الکذاب من البراہین و ادخل بہ الشک علی قلوب جہلۃ العوام والمغفلین فیجب علی کل مؤمن یؤمن باللہ و یصدق بکتبہ و رسلہ ان یعتقد و یجزم بان ما رد بہ صاحب ھذہ الرسالۃ ھو الحق الموافق لقواعد الایمان وان ما قالہ صاحب البراہین الاحمدیۃ والاشاعۃ زور و بہتان فما ذا بعد الحق الا الضلال ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ و ھو فی الاخرۃ من الخاسرین ان ربک ھو یعلم من یضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمہتدین قد جاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ و من عمی فعلیہا بصرنا اللہ والمسلمین بطریق الاستقامۃ والھدایۃ و جنبنا اجمعین طرق الضلالۃ والغوایۃ انہ علی مایشا قدیر و بالاجابۃ جدیر و صلی اللہ علی سیدنا و صاحب براہین کے مصدق ہیں وہ بھی حق کی طرف رجوع کریں اور فقیر نے یہ جو کچھ کیا ہے صرف قرآن مجید کی حمایت اور حقوق انبیاء و مرسلین صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین کی رعایت اور عقائد مسلمین کی صیانت کے لئے کیا ہے۔ اب اس رسالہ عربیہ مع چاروں حصہ مجلد براہین احمدیہ اور رسالہ اشاعۃ السنہ کی جس میں مرزا قادیانی کی تعریف اور ان کے اقوال کی تاویلیں ہیں مع دونوں اشتہار صاحب براہین کے جن میں بیٹے کی پیشین گوئی اور اپنی تعریف درج کی ہے آپ صاحبوں کی خدمت مبارک میں بھیج کر ملتجی ہوں کہ آپ اس عربی رسالہ کو ملاحظہ فرمائیں اور اس کے حوالوں کی اصل کے ساتھ مطابقت کرا کر فقیر کی تحریر کو قرآن وحدیث واجماع امت سے موافق پائیں تو اس کی تصحیح فرمائیں اور اگر اس میں کوئی خطاء و سہو ہو تو اس کی اصلاح کریں اور بیان شافی وشرح کافی سے اجر وافی حاصل فرمانے کی نیت سے صاحب براہین اور اس کے مؤید اور ان کے معتقدین کا حکم اور ان کی کتابوں کے پڑھنے کا حکم ظاہر کریں کہ شریعت وطریقت میں ان کا کیا حال ہے؟۔ تا کہ اہل اسلام کو اطمینان ہو اور سب کا حق کی طرف میلان ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا اور عاقبت میں جزائے خیر عطا فرمائے اور دین متین کی تائید کے لئے آپ کو سلامت با عز و کرامت رکھے اور آپ کے دم اور جسم میں بسطیت بخشے۔ احقاق حق اور ابطال باطل میں قیامت تک اہل علم حرمین محترمین ٨٥
مولانا محمد القائل من يهده الله فلامضل له ومن يضلل فلاهادي له وعلى اله و صحبة التابعين له و علينا معهم رحمة الله. امین قاله بفمه ورقمه بقلمه العبد الاحقر محمد على بن طاهر الوترى الحسيني الحنفى المدنى خادم العلم والحديث باالمسجد الشريف النبوى وذلك فى اليوم الحادى والعشرين من ذى القعدة الحرام سنة اربع بعد الثلثمائة والالف.
تقريظ احد المشاهير علماء الفتنه
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذى انزل الفرقان على سيد الانس والجان و اخمد به الباطل والشرك والطغيان والصلوة والسلام على رسوله محمد واله و صحبه والتابعين لهم باحسان مدالدهور والازمان و بعد قد طالعت بعض هفوات غلام احمد مقیم القاديان فى كتابه البراهين الاحمدية و فى الاعلان فوجدته من تبليسات الشيطان و ليس من الهامات الرحمن بل ماذلك الابهتان و هذيان فمن اتبعه عد من اهل الخسران وهذه الرسالة نظرت ايضاً فى لطائف ردها فاطمئن بها الجنان فعسى ان ينجوالمطالعتها كثير من الاخوان من اهل السنة والجماعة و غيرهم بفضل الكريم المنان فجزى الله المؤلف اعلى الجنان نمقه الحقير محمد بن عبدالقادر باشه الفتنى الحنفى عفى الله عنه و عن والديه واحسن اليهما و اليه. دستخط مهر
پر ہی مدار ہے۔ خدائے مجیب الدعوات ہمیں آپ کی زیارت امن و امان و سلامت و اسلام سے نصیب کرے کہ یہ سعادت عظمیٰ اور برکات کبریٰ کی طرف پہنچانے والی بات ہے۔ سب حمد پرور دگار عالمین کے واسطے خاص ہے۔ اور درود و سلام اس کے مظہر جمال اور نور کمال پر اور اس کی آل و اصحاب پر ہو مقدار اس کی بخشش کے اور بے شمار معلومات عالم الغیب والشہادت کے یہ رسالہ تمام ہوا۔ اور تقریظیں شروع۔
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمد رحمت اللہ صاحب کی تقریظ
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمدؒ جن کو حضرت سلطان روم نے بصوابدید شیخ الاسلام روم خطاب پاشا حرمین شریفین عطا کیا اور فرمان شاہی میں اقضى قضاة المسلمين و أوان ولات الموحدین وارث علوم سیدالمرسلین وغيرها القاب سے ملقب فرمایا ہے۔
٨٦
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! حمد اور صلوٰۃ کے بعد بے شک میں نے اس رسالہ کو اول سے آخر تک سنا۔ اس کی عبارت اور مضمون دونوں صحیح پائے۔ حضرت مؤلف اس رسالہ نے خدا اس کو اچھا بدلہ دے جو نقلیں درج کی ہیں وہ سب اصل کے مطابق ہیں۔ میں نے اس سے پہلے بھی معتبروں کی زبانی مرزا قادیانی کا حال سنا ہے۔ سو وہ میرے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی فرمانبرداری کسی کو جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے بنانے والوں کو نیک بدلہ دے۔ امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے بہت لوگ صاحب براہین احمدیہ کی پیروی سے بچ جائیں گے۔ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ شیطانوں کے اغوا اور مکر و فریب سے محفوظ رکھے۔ میں فقیر! خدا کی رحمت کا امیدوار رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مومنوں کو بخشے۔ آمین! دستخط و مہر محمد رحمت اللہ!
حنفیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب حمد اس کے لئے جو اس کے لائق ہے اور اسی سے میں توفیق کی استمداد کرتا ہوں۔
سب تعریف اس خدا کی ہے جس کی بلند ذات غفلت اور نسیان سے پاک ہے اور اس کے نام اور صفتیں زوال اور نقصان کے لائق ہونے سے پاک ہیں اور اس نے ہر زمانہ میں ایسے علماء پیدا کئے ہیں جو شرع شریف کی محافظت پر قائم ہیں اور ان کو حق کے ظاہر کرنے اور باطل کے نابود کرنے پر طاقت دی ہے کہ کچھ سستی نہیں کرتے اور اس پر ان کو بہت ثواب اور بہت نیکیاں دی ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے صواب اور خطاء فاحش کو بیان کر دیا اور درود و سلام ہمارے سردار پر ہوں جن کا نام نامی محمد ﷺ ہے جن میں حق تعالیٰ نے سب فضیلتیں جمع کی ہیں اور ان کی آل و اصحاب پر جن کے نفس خدائے تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ بعد اس کے بے شک میں مطلع ہوا اس بزرگ رسالے اور لطیف حوالوں پر۔ پس میں نے دیکھا ان کو ایسے عمدہ جن کے دیکھنے سے آنکھیں سرد ہوتی ہیں اور بے شک شیطان نے غلام احمد قادیانی کو ہلاکت اور نقصان کی وادیوں میں گرا دیا ہے۔ پس حق تعالیٰ اس رسالے کے مؤلف کو جزائے خیر عطا کرے اور اس کو زیادہ اجر دے اور قیامت کے دن ہم کو اور اس کو اچھا مکان عطا کرے۔ آمین ! اور حق تعالیٰ ہمارے سردار محمد ﷺ اور اس کی آل و اصحاب سب پر درود بھیجے۔ اس تحریر کے لکھنے کا حکم کیا شریعت کے خادم الطاف الٰہی کے امیدوار محمد صالح بن مرحوم صدیق کمال حنفی نے جو ان دنوں میں مکہ مکرمہ کا مفتی ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کی جگہ بہشت میں ہو۔ دستخط محمد صالح کمال !
۔ حضرت شیخ العلماء کی جو شافعیوں کے مکہ معظمہ میں مفتی ہیں تقریظ
سب تعریفیں اس خدا کو ہیں جس نے اس دین اسلام کے خلل و زلل بد مذہبوں گمراہوں کے دور کرنے کے لئے کچھ پیدا کئے ہیں۔ جو بد مذہبوں گمراہ کنندوں کی سرکوبی کرتے رہے ہیں۔ اور جس نے ہر عالم راہنما سیدھی راہ کے چلنے والے کی مدد کی ہے۔ بعد اس کے بے شک میں نے دیکھا ان باتوں کو جو غلام احمد قادیانی پنجابی کی طرف منسوب ہیں۔ پس اگر اس نے یہ کی ہیں تو وہ گمراہوں گمراہ کنندوں و سخت بد مذہبوں سے ہے اور ایسا ہی محمد حسین ہے جس نے رسالہ اشاعۃ السنہ میں اس کی تائید کی ہے۔ پس حاکم اسلام پر اللہ تعالیٰ اس کو نیک توفیق دے۔ واجب ہے کہ ان دونوں کو ایسی سخت تعزیر دی جائے جس سے یہ اور ان کے ہم مشرب ایسی باتوں سے باز آئیں اور جو رسالہ امام فاضل بزرگ کامل شیخ محمد عبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کے رد میں لکھا اور اس کا نام ’’رجم الشیاطین بر اغلوطات براہین‘‘ رکھا ہے۔ وہ ایسا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے اس کو نیک بدلہ دے اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کا اعتبار بڑھائے اور خدا بہت دانا ہے۔ یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور اپنے قلم سے لکھی۔ اللہ تعالیٰ سے کمال کامیابی کے امیدوار محمد سعید بن محمد بابصیل نے جو مکہ معظمہ میں شافعیوں کا مفتی ہے۔ خدا اس کو اور اس کے والدین و جمیع مومنین کو بخشے۔ دستخط محمد سعید بابصیل !
مالکیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب تعریفیں پروردگار عالم کو خاص ہیں۔ خداوندا مجھے علم دے اور سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کر جس کو خدا راہنمائی کرے کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کی راہنمائی کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن ایسی باتیں کرنے والا بے شک شیطانی خطر اور وساوس نفسانی کے دریاؤں میں ڈوب گیا ہے۔ اس کے جھوٹ اور بد بختی سے تعجب ہے۔ اس لئے کہ مدعی ہوا ہے اس بغاوت کا جو حدیث میں آیا ہے کہ آخر زمانہ میں سخت جھوٹے دجال ہوں گے۔ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی اور رسالہ اشاعۃ السنہ سے جس نے اس کی تائید کی ہے وہ سخت بد بخت ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گناہ اور حدوں سے تجاوز کرنے میں مدد نہ کرو۔ پس حاکم اسلام پر واجب ہے کہ ان دونوں کو سخت تعزیر کرے۔
٨٨
اور وہ رسالہ جو فاضل علامہ شیخ محمد ابو عبدالرحمٰن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کی باتوں کی تردید میں لکھا ہے۔ بے شک اس میں بہت درست لکھا ہے۔ اس لئے کہ سچے دین کی اتباع کی جائے۔ بہت عمدہ ترغیب ذکر کی ہے۔ خدا بہت داتا ہے۔ بار خدایا ہم کو ہوائے نفس کے پیچھے چلنے والوں اور شیطان کی راہ میں گمراہ ہونے والوں اور بری باتوں کو اچھا جان کر ہلاک ہونے والوں سے نہ کر۔ آمین بجاہ سید المرسلین! یہ تحریر اللہ تعالیٰ کی بخشش کے امیدوار محمد بن شیخ حسین مرحوم نے لکھے ہیں جو مکہ معظمہ میں مالکیوں کا مفتی ہے۔ دستخط محمد بن حسین مفتی مالکیہ
مکہ معظمہ کے حنبلیوں کے مفتی صاحب کی تقریظ
سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے خاص بندے پر قرآن مجید اتارا جو اپنی بات میں سچا ہے جس میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اور یہ میرا راہ سیدھا ہے۔ اس کی پیروی کرو اور بہت راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راہ سے جدا کر دیں گے اور درود و سلام ہمارے سردار محمد ﷺ پر جو خدا کا نبی اور دوست وخلیل ہے اور اس کی آل و اصحاب و مددگاروں پر۔ پھر بعد ازاں بے شک میں نے اس بزرگ رسالہ کا مطالعہ کیا جو صحیح صاف محکم روایات پر مشتمل ہے۔ پس میں نے اس رسالہ کو بروئے دلائل محکم مضبوط شافی کافی فائدہ رساں دیکھا جس کے پڑھنے سے موحدین اہل سنت و جماعت کی آنکھیں خنک ہوتی ہیں اور معتزلہ وخارجیوں وبدمذہبوں وبدعتیوں کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں۔ وہ بدمذہب جو دین سے یوں نکلتے ہیں جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ اور یہ مبارک رسالہ جس نے غلام احمد قادیانی کی کجی کو ظاہر کیا اور بے شک یہ قادیانی مسیلمہ کذاب ثانی ہے اور نیز اس کے مؤید کے دھوکے ظاہر کئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے کو اہل اسلام کی طرف سے بہت نیک بدلہ دے۔ اور بہت سا اجر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد ﷺ نبیوں اور رسولوں کے ختم کرنے والے پر رحمت پہنچا اور اس کی آل واصحاب سب پر۔ اس تحریر کے لکھنے کا عاجز خلف بن ابراہیم نے جو مکہ شریف میں حنبلیوں کے فتویٰ دینے کا بالفعل خادم ہے۔ حکم کیا۔
مدینہ منورہ میں جو حضرت حنفیوں کے مفتی ہیں ان کی تقریظ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حمد درود و سلام ادا کرتے ہوئے میں خدائے پاک مولیٰ کریم قادر سے اپنے ہر کام اور ہر بات میں توفیق و مدد کا سائل ہوں۔ سب تعریف خدائے
٨٩
یگانہ بے نیاز شریک اور اولاد سے پاک کے لئے خاص ہے جس نے بزرگ رسولوں کو روشن دلیلوں اور ظاہر نشانیوں سے بھیجا ہے اور ان کی قبل از نبوت خوارق اور معجزات سے تائید کی ہے۔ اپنے خاتم الانبیاء اور سید الاصفیاء پر جس نے قرآن معجز بیان اتارا ہے اور اس جل وعلیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ آج میں نے پورا کیا تمہارے لئے دین اور تم پر اپنی نعمت تمام کی اور اسلام تمہارے لئے دین پسند کیا۔ وہ کتاب جو سیدھی راہ کی طرف راہنما ہے اور ہر اچھا کام فرماتی ہے۔ جھوٹ اس کے آگے پیچھے سے نہیں آتا۔ دانا ستودہ کی اتاری ہوئی ہے اور دائمی درود اور سلام نبی پر ہو جو خلاصی اور سیدھی راہ کی طرف بلانے والا ہے اور قیامت تک ہر جھوٹے اور ہلاک کرنے والے کا حال بتلانے والا ہے جس کی حدیث صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ آخر زمانہ میں دجال سخت جھوٹے ہوں گے۔ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی۔ پس ان سے ڈرو تم کو گمراہ نہ کریں اور فتنہ میں نہ ڈالیں اور نیز صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ جو کوئی ہدایت کی طرف بلائے گا تو اس کے جمیع پیروؤں کا ثواب اس کو دیا جائے گا اور ان کے ثواب سے بھی کچھ کم نہ ہوگا۔ اور جو کوئی گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کو بھی سب پیروؤں کا گناہ اس پر ہوگا اور ان کے بھی گناہ سے کچھ کم نہ کیا جائے گا۔ اور نیز امام احمد و نسائی و دارمی نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خط کھینچ کر فرمایا کہ یہ خدا کا راہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا کہ ان راستوں سے ہر راہ پر شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے اور یہ آیت پڑھی: ”ھذا صراطی المستقیم فاتبعوہ“ اور بے شک یہ میرا سیدھا راہ ہے۔ اس کی پیروی کرنا۔ آخر آیت تک اور ابن ماجہ نے حضرت انسؓ سے حدیث لکھی کہ بڑی جماعت کی پیروی کرنا بے شک جو اس سے نکلا دوزخ میں پڑا اور نیز امام احمد نے معاذ بن جبلؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے۔ بکریوں کے بھیڑیے کی طرح الگ ہونے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے۔ پراگندہ نہ ہونا اس سے بچنا اور جماعت سے ملنا اور نیز یہ حدیث امام مالک کے موطا میں مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ میں تم لوگوں میں دو کام چھوڑتا ہوں۔ جب تک ان کو پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہو گے۔ قرآن مجید اور سنت اور نیز صحیح مسلم میں محمود ابن لبیدؓ سے حدیث آئی ہے کہ قرآن سے کھیل کئے جاتے ہیں اور میں موجود ہوں اور نیز ابویعلیٰ نے ابوذرؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ میرا بہت پیارا اور نزدیک تر وہ ہے جو مجھ سے ملے۔ اس عہد پر میں نے اسے چھوڑا ہے اور نیز بیہقی کی شعب الایمان میں جابرؓ سے حدیث ہے کہ تم اسلام میں حیران
ہوتے ہو۔ جیسے یہود و نصاریٰ متحیر ہیں تمہارے لئے شرع روشن پاکیزہ لایا ہوں ۔ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری ہی پیروی کرتے اور نیز حدیث متفق علیہ اور سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی حضرت عائشہؓ سے ہے کہ جس نے ہماری شریعت کے برخلاف کوئی کام نکالا وہ مردود ہے اور نیز امام احمد ومسلم اور چاروں نے ابو سعیدؓ سے حدیث لکھی ہے کہ جو کوئی تم سے برا کام دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر یہ طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے۔ اگر یہ طاقت نہ ہو تو اس کو اپنے دل سے اور یہ بہت ضعیف ایمان ہے۔ اور درود آپ ﷺ کی آل واصحاب پر ہو جو سیدھے راہ کے ستارے ہیں اور آپ ﷺ کے عزیز واقارب و جماعت پر جو خلقت کے رہنما ہیں۔ بعد ازاں بے شک میں نے اس پیارے رسالہ کے کاغذات کے باغوں میں اپنے اصیل گھوڑوں کو چرایا اور اس عمدہ تالیف کی سطروں کے گلزاروں کی پاکیزہ زمین میں اپنی سست فکر کے اونٹ کو دوڑایا۔ پس میں نے اس کو یقینی دلیلوں سے تردید کا ذمہ دار پایا جس نے اس دین سے نکلنے والے بدبخت ناکس فریبی (مرزا قادیانی) کے جھوٹ کو نابود کردیا۔ اس کی باتوں کے جو ہر ناقص عقل کے گمراہ کرنے کا سبب ہیں۔ کھوٹ ظاہر کرنے میں یہ رسالہ کافی ہے۔ پس بے شک اس کے مؤلف نے اچھا لکھا۔ یہاں تک کہ نہایت نشانہ اور مقصود عمدگی کو پہنچا اور فائدہ پہنچایا۔ خدا اس کو بہت ثواب اور بہشت اور اپنا دیدار عطاء کرے اور اللہ تعالیٰ کا ہمارے سردار پیغمبر محمدﷺ اور اس کی آل واصحاب پر درود و سلام پہنچے۔ اس تحریر کو پروردگار کی بخشش کے محتاج عثمان بن عبدالسلام داغستانی جو مدینہ منورہ میں حنفی مفتی ہیں نے لکھا۔ خدا اس کو بخشے۔ مورخہ ٥ ذیقعدہ ١٣٠٤ھ - دستخط عثمان بن عبدالسلام داغستانی !
مدینہ منورہ کے مفتی شافعیہ اور ان کے وکیل مدرس حرم شریف نبوی کی تقریظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو ہدایت اور دین کے ساتھ بھیجا اور ان پر ایسا قرآن اتارا جو رحمٰن کا معجزہ ہے اور ہمیشہ کے لئے نشان کمال راستہ کی دلیل ہے اور آپ ﷺ کو نبیوں کا ختم کرنے والا اور رسولوں کا سردار اور جہانوں کی رحمت بنایا اور آپ ﷺ کی نبوت کو قیامت تک جن اور آدمیوں کے لئے عام کیا اور ان کی شرع نے تو سب دینوں کو منسوخ کیا اور ان کی شرع اور حکم منسوخ نہیں ہوتا اور آپ ﷺ کے درگاہ الٰہی میں پہنچنے سے قیامت تک پیغمبری کا دروازہ بند ہو گیا۔ پس آپ ﷺ کے پیچھے آپ ﷺ کی روشن اور مضبوط شرع کی ہی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل واصحاب پر جو ہدایت کے امام اور تاریکی کے چراغ ہیں اور ان کے پیروں پر درود بھیجے جب تک دنیا قائم
٩١
ہے ۔ بعد ازاں ہم دونوں نے اس رسالہ میں خوب تامل کیا تو اس کو مقصود پر روشن دلیل پایا۔ اس کی دلیلیں بد مذہبوں کے شبہوں کی کرنیں کاٹ دیتی ہیں اور اس کے نور شیطانوں کے دھوکوں کے اندھیروں کو نابود کر دیتی ہیں۔ اس نے بہت عمدہ فیصلہ کیا اور حق کا راستہ ظاہر کر دیا۔ اور یہ رسالہ صراحۃً دین کی یقینی دلیلوں پر شامل ہے اور غلام احمد قادیانی کے فریبوں اور جھوٹ کو اس نے رسوا کر دیا ہے۔ اور بے شک یہ قادیانی اپنے شیطان بھائیوں کے نزدیک احمد یعنی قابل تعریف ہے اور اہل ایمان ویقین کے نزدیک یہ آذم یعنی لائق بہت مذمت کے ہے اور بے شک اس کی بیہودہ باتیں ظاہر گمراہی ہے اور جس الہام کا یہ مدعی ہے وہ شیطانوں کی وحی ہے۔ نبیوں اور رسولوں کی وحی نہیں ہے اور جب تو اس کی بناوٹ اور گمراہی میں تامل کرے گا تو اس آیت کا مصداق پائے گا جس کا ترجمہ یہ ہے اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر نبی کے دشمن شیطان آدمی اور جن سکھاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع باتیں فریب کی اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ کام نہ کرتے۔ سو چھوڑ دے وہ جانے اور ان کا جھوٹ اور تاکہ جھکیں اس کی طرف دل ان کے جو ایمان نہیں لائے آخرت سے۔ وہ اسے پسند کریں اور تاکہ مرتکب ہو جائیں ان امور کے جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ کوئی بدلنے والا نہیں اس کے کلام کو اور وہی ہے سننے والا جاننے والا اور دراصل یہ قادیانی مسیلمہ کذاب کی طرح گمراہی اور شک میں ہے بلکہ یہ قادیانی شیطان سے اس کا مکر و فریب بہت مضر ہے۔ اس لئے کہ شیطان کا معاملہ ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو اس کے فریب سے ڈرایا ہے اور یہ قادیانی اس نے جھوٹ کو سچ بنا دکھایا ہے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھ رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی ہلاکت سے شہروں اور بندوں کو فساد سے راحت دے۔ پس ہر مومن پر واجب ہے کہ اس رسالہ کے مضمون سے تمسک کرے اور قادیانی کی براہین احمدیہ کے بناوٹوں سے بچیں اور اس کے افتراء سے جو کمینگی اور گمراہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد خاتم النبیین ﷺ پر درود بھیجے جس پر قرآن مبین شیطانوں کی وسواسوں سے محفوظ اتارا گیا ہے اور اس کی آل واصحاب پر اور سلام سب پر۔ اس تحریر کے لکھنے کا سید جعفر بن سید اسماعیل برزنجی مدینہ منورہ میں شافعیوں کے مفتی نے حکم کیا ہے اور وکیل مفتی شافعیوں کے جو حرم شریف نبوی میں مدرس ہے۔ سید احمد برزنجی اس نے بھی تحریر کی ہے۔ دستخط سید جعفر البرزنجی ! سید احمد البرزنجی !
مدینہ منورہ کے حضرت مدرس مسجد نبوی کی تقریظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم! سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے سارے
٩٢
اپنے بندوں کو اپنی پہچان اور توحید کے لئے پیدا کیا ہے اور تا کہ وہی سب اپنے وجود اور خدا کے وجود میں فرق کریں اور اس کے انعام وبخشش کو جانیں ۔ میں اس کی حمد کرتا ہوں اس پر کہ ہمارے لئے اس نے دین کے نشان قائم کئے اور ہدایت پانے والوں کے لئے اس کا راہ روشن کیا اور میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں اس پر کہ ہماری طرف ایسا نبی بھیجا جس پر پیغمبری ختم کی اور شبہات و گمراہی کے دروازے اس کے ساتھ بند کئے روشن معجزوں سے اس کی مدد کی اور اس کے دین سے سب دین اور حکم منسوخ کئے اور اس کی شرع کو قیامت تک باقی رکھا اور اس پر ایسا قرآن اتارا جو عمدہ نصیحت اور سیدھا راہ ظاہر کرنے والا نور اور محکم عہد ہے اور خود حق تعالیٰ ہمیشہ کے لئے اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے کہ جھوٹے اس کو بدل نہ سکیں گے اور دین سے پھرنے والے اس میں کمی نہ کرسکیں گے۔ یعنی دیندار لوگ ان کی تردید کر کے ظاہر کردیں گے۔ سو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر رحمت کرے اور آپ ﷺ کی آل واصحاب پر بھی جس نے ان کی پیروی کی خود آپ ﷺ کی پیروی کی اور جو ان کی راہ سے پھرے بے شک اس نے ظلم کیا اور حد سے گزرا۔ بعد ازاں جب میں نے اپنی آنکھوں سے اصیل گھوڑوں کو ایسے روشن رسالے کے میدانوں میں جولان دیا جو سچے دین کی پیروی پر عمدہ برانگیخت پر شامل ہے اور اس کی طرف بلا رہا اور حرص دلا رہا اور اس پر ترغیب دے رہا ہے اور یہ دیکھنا اس کا جلدی کی حالت میں تھا باوصف ازحد کثرت اشتغال اور دل پر ہجوم غموں کے حال میں تو اس رسالہ پر میں نے تحقیق کی نور ظاہر پائی اور اس کی دلیلیں روشن مضبوط ظاہر پائیں۔ یہ رسالہ دین کی یقینی باتوں کو جمع کرنے والا ہے۔ بے دینوں گمراہ کرنے والوں کی شبہوں کی تردید کا ذمہ دار ہے۔ اس بد مذہب جھوٹے دعویٰ کرنے والے کے عیب کو رسوا کرنے والا ہے جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے شیطان کا پوتا جو گمراہی اور بدراہ کرنے میں اپنے دادے شیطان سے ہزار درجہ بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے بنانے والے کو عمدہ ثواب دے۔ اس لئے کہ دین اسلام کی حدوں کی محافظت کی ہے۔ سخت جھوٹے گمراہ کنندے کی فریبوں کی براہین سے باطل کر کے جس سے اس نے عوام جاہلوں اور غافلوں کے دلوں میں شک داخل کر دیئے تھے۔ پس ہر مسلمان پر جو خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی کتابوں ورسولوں کو سچا جانتا ہے واجب ہے کہ یہ اعتقاد اور یقین کرے کہ صاحب اس رسالہ نے جو رد لکھا ہے وہی سچ اور موافق قواعد ایمان کے ہے اور بے شک جو براہین احمدیہ والے اور اشعۃ السنۃ والے نے کہا ہے وہ نرا جھوٹ اور بہتان ہے۔ پس سچ کے پیچھے گمراہی ہی ہوتی ہے اور جو مسلمان کے سوا دین اختیار کرے گا وہ ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ شخص قیامت میں
٩٣
نقصان والوں سے ہوگا۔ تیرا رب راستہ بھولنے والوں کو جانتا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے۔ بے شک تمہارے رب کی طرف سے نصیحتیں آئی ہیں جس نے دیکھا اپنا فائدہ کیا اور جو اندھا ان سے ہوا اپنا نقصان کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو سیدھے اور ہدایت کے راستہ پر قائم رکھے اور ہم سب کو گمراہی کے راستوں سے بچائے۔ وہ ہر شے پر قادر ہے اور دعا قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار اور آقا محمدﷺ پر رحمت کرے جس نے فرمایا ہے کہ جس کو خدا راہ دکھائے کوئی اس کو بد راہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کرے کوئی اس کا راہنما نہیں اور اس کی آل واصحاب اور تابعین اور ہم سب پر رحمت کرے۔ آمین ۔ یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور قلم سے لکھی ہے ۔ عاجز بندے محمد علی بن طاہر وتری حسینی حنفی مدنی نے جو مسجد شریف مدینہ منورہ میں علم دین وحدیث کا مدرس ہے۔ مورخہ ٢١ ذیقعدہ ١٣٠٤ ہجری میں۔ دستخط محمد علی السید بن طاہر السید الوتری
پٹنہ کے مشہور علماء سے ایک عالم کی تقریظ
بسم الله الرحمن الرحیم سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے قرآن مجید آدمیوں اور جنوں کے سردار پر اتارا اور اس سے جھوٹ اور شرک اور سرکشی کو نابود کیا اور درود وسلام اس کے پیغمبر محمدﷺ پر اور اس کی آل واصحاب اور نیکی سے ان کے پیروں پر ہمیشہ ہو۔ بعد ازاں میں نے غلام احمد قادیانی کی براہین احمدیہ واشتہار سے اس کی بعض لغزشوں کا مطالعہ کیا۔ پس ان کو شیطانی بناوٹوں سے پایا۔ وہ رحمانی الہام نہیں ہیں بلکہ نرا بہتان اور بیہودہ گوئی ہے۔ پس جس نے اس کی پیروی کی وہ نقصان والوں سے ہے اور اس رسالہ کی عمدہ تردیدات کو بھی میں نے دیکھا ہے۔ پس ان سے دل کو آرام آیا۔ امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے بہت برادران اہل سنت وغیرہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے نجات پالیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کے مؤلف کو اونچی بہشت بدلہ دے۔ اس تحریر کو عاجز محمد بن عبدالقادر باشہ پٹنہ کے باشندے حنفی نے لکھا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے والدین کو بخشے اور ان سب سے احسان کرے۔ فقط۔ دستخط محمد ابن عبد القادر باشہ
تمام ہوئی تقریظات حضرات علماء حرمین محترمین کی
واضح رہے کہ فقیر کاتب الحروف نے اول جو اردو میں رسالہ بنام تحقیقات دستگیریہ فی رد ہفوات براہین لکھ کر مشاہیر علماء پنجاب وغیرہ کو ملاحظہ کرایا تھا جس پر ان حضرات نے تقاریظ لکھیں تھیں۔ ہر چند پھر اس کے اکثر مضامین کو لباس عربی پہنا کر حرمین شریفین بھیجا گیا تھا جو وہاں کے مفتیان عظام و مدرسان کرام وغیرہم کی تصدیق و تعریف سے مزین ہوا جو اوپر تحریر ہوچکی ہیں اور یہ
٩٤
امر موجب اس کے زیادہ اعتبار واستناد کا ہوا۔ مگر تاہم ان تقاریظ علماء پنجاب وغیرہ کا بھی یہاں پر درج کر دینا مناسب نظر آیا اور وہ یہ ہیں۔ چونکہ اختتام اس رسالہ کا شہر امرتسر میں ہوا تھا۔ اس لئے اول ان کے مشاہیر علماء نے اس کو ملاحظہ کر کے تقریظات لکھی تھیں جو پہلے درج ہوتی ہیں۔
مولوی غلام رسول امام مسجد میاں محمد جانؒ رئیس امرتسر کی تقریظ
باسمه العلی الاعلی والصلوة على نبيه المصطفى و آله المجتبى مخفی نہ رہے کہ اس احقر نے نسخہ متبرکہ کی تحقیقات دستگیریہ جو بہفوات صاحب براہین احمدیہ کے رد میں تالیف حضرت بلند ہمت شریف النسب عالی حسب جناب مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب کا ہے حرف بحرف ابتداء سے آخر تک مطالعہ کیا نسخہ شریفہ مذکورہ کو مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے پایا اور جناب مولوی صاحب موصوف نے جو الہامات اس کتاب میں براہین احمدیہ سے نقل کئے ہیں وہ بعینہ میں نے براہین احمدیہ میں درج پائے ہیں۔ مجھے ظن غالب ہے کہ مصنف براہین احمدیہ مرض مالیخولیا میں گرفتار ہیں۔ اسی سبب سے صورت متخیلہ موہومہ کو امور مذعنہ الہامیہ قرار دینے میں لاچار ہیں۔ ورنہ باوجود سلامت عقل و حواس اور باوجود ادعاء اسلام ایسے الہامات واہیہ کے مدعی نہ ہوتے ۔ اللهم اكرمنا بنور العلم ونوّر قلوبنا بنور العلم هذا وآخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين. رقمه! احقر العباد الى الغنى غلام رسول الحنفى بقلم خود !
مولوی احمد بخش صاحب مدرس مدرسۃ المسلمین امرتسر کی تقریظ
باسمه سبحانه وتعالى بعده ؛ این کس رساله هذا را از اول تا آخر بتعمق دیدہ موارد و اعتراضات را از براہین ہم مشاہدہ نمود فی الحقیقة بعضے مزخرفاتش را بطور نمونه جواب داده آمد تا بفحوائے قیاس کن زگلستان من بہار مرا اباطیل باقیہ بر آن قیاس نموده شود خدا وند کریم مولانا مصنف را (که همیشه کمر همت بحمایت دین بسته دارند در استیصال خلاف مخالفین بمساعی جمیله خود ، مشکور اسلامیان اند و چرا نباشد که کمالات حسبی ونسبی ضمیمه خوبیهای کسبی و وهبی از حق سبحانه دارند ) جزائے خیر دهد که در چنیں وقت که با غربت اسلام همقرانست این چنیں احسان بر زمرہ اھل سنت گذاشته اند . فقط حررہ .
٩٥
ابوعبیدالله احمد بخش عفاء الله عنه والقاه باالبهش بقلم خود!
مولوی نورالدین مدرس مدرستہ المسلمین امرتسر کی تقریظ
جو کچھ مولوی صاحبان مولوی غلام رسول اور مولوی احمد بخش صاحب نے رسالہ ہذا کے بارہ میں تحریر فرمایا ہے وہ عین صواب ہے اور اس سے میرا اتفاق رائے ہے۔ فی الواقع رسالہ ہذا جمیع متبعین سنت کے لئے وساوس شیطانی و ہواجس نفسانی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کی سپر قوس ہے اور سبحانہ تعالیٰ جناب مولوی صاحب مؤلف رسالہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ حـــــررہ عبدالله المسکین نورالدین عفی عنه بقلم خود!
مولوی غلام محمد امام مسجد شاہی لاہور کی تقریظ مع امام جامع مسجد انارکلی
ظاهراً اقوال الهاميه مؤلف براهین احمدیه مع تاویلات فاسده صاحب اشاعة السنه مخالف عقائد اهل السنة والجماعة وغير مستند ست اهل اسلام را لازم که از اتباع ایں چنیں اشخاص ومطالعه ایں چنیں الهامات واهیات برکنار باشد واین تحقیقات وتردید الهامات مستند اند بکتب مقبوله اهل السنة الحق احق ان يتبع ٠ فقیر غلام محمد بگی والا عفی عنه بكرمه و منه بقلم خود، اصاب من اجاب فقیر نور احمد امام مسجد انارکلی بقلم خود !
مولوی نور احمد صاحب ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم کی تقریظ
الہامات صاحب براہین احمدیہ و تاویلات صاحب اشاعۃ السنہ بالکل مخالف شرع اند و مضمون و عبارات رسالہ شریفہ ہذا صحیح بلکہ اصح و ہدایت کنندہ گمراہان براہ حق جزاء اللہ سبحانہ مولف خیر الجزاء۔ فقیر نور احمد ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم بقلم خود!
مولانا مفتی حافظ محمد عبداللہ ٹونکی مدرس اعلیٰ مدرسہ یونیورسٹی لاہور کی تقریظ
الحمد لولیه والصلوة والسلام على نبيه محمد و آله و صحبه اما بعد! نحیف نے اس رسالہ کو اکثر مقاموں سے دیکھا۔ جن میں حضرت مؤلف نے صاحب براہین اور ان کے اعوان کو معقول الزام دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مؤلف کو اس حسن کوشش کی جزائے خیر دے۔ حضرت مؤلف سلمہ اللہ تعالیٰ نے مؤلف براہین احمدیہ پر مدعی نبوت ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ میری رائے میں یہ الزام بھی صحیح اور درست ہے۔ اس لئے کہ قطعی اور یقینی طریق سے من
٩٦
جانب اللہ ایسے مضامین کا منزل علیہ ہونا جن کی تبلیغ ضروری ہو عرف شرع میں خواص رسالت یا نبوت سے ہے اور مؤلف براہین کو اس منصب کے حصول کا دعویٰ ہے۔ پس اس کے مدعی ہونے میں کیا اشتباہ ہے؟۔ پہلے مقدمے کا ثبوت یہ ہے کہ رسالت کے مفہوم لغوی اور ان آیات واحادیث میں غور کرنے سے جن میں انبیاء علیہم السلام کے اوصاف اور حالات بیان ہوئے ہیں بخوبی معلوم ہوتا ہے اور دوسرا مقدمہ یوں ثابت ہے کہ مؤلف براہین کو من جانب اللہ قطعی اور یقینی طریق سے اپنے منزل علیہ ہونے کا تو صریح دعویٰ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ مضامین علی العموم واجب التبلیغ بھی ہیں۔ اس پر یہ الہامی فقرے (مصنوعی) شاہد ہیں: ”واتل عليهم ................. ما اوحی الیک من ربك ................ قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد ................ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله ................ قل عندی شهادة من الله فهل انتم مومنون“ اس پچھلے فقرے (مصنوعی) کی تشریح میں مؤلف براہین نے لکھا ہے کہ: ”میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لائے یعنی خدائے تعالیٰ کی تائیدات کرنا اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائق الٰہیہ سے اطلاع بخشا۔ یہ سب خدا کی شہادت ہے۔ جس کو قبول کرنا ایمانداروں کا فرض ہے۔“ انتہاء! اس بیان میں مؤلف براہین نے اور لوگوں پر بھی اپنے الہامات کے حجت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کا الہام اوروں پر حجت نہ ہو تو ان کو قبول کرنا ایمانداروں پر فرض کیوں ہو۔ کیا غیر حجت کا بھی قبول کرنا ایمانداروں کا فرض ہوتا ہے؟۔ اس بیان سے مدعی نبوت ہونے کے الزام کی پہلی دلیل تمام ہوئی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ مؤلف براہین نے اپنے بنائے ہوئے الہامی فقرے جری الله فی حلل الانبیاء کی تشریح میں لکھا ہے کہ: ”اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل حلۂ انبیاء ہے اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے۔“ انتہاء! اس لئے کہ جب منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونا حلۂ انبیاء ہوا تو جو شخص اپنے سے اس منصب شریف کے حصول کا مدعی ہو اس کے مدعی نبوت ہونے میں کیا کلام ہے۔ رہا یہ فقرہ کہ غیر نبی کو بطور مستعار ملتا ہے۔ اس کا مطلب کما حقہ ذہن نشین نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ غیر نبی کو کسی دوسرے نبی کی اتباع کے ذریعے سے یہ منصب حاصل ہوتا ہے اور نبی کو بلا توسط اتباع دوسرے کے یا یہ کہ نبی بعد حصول منصب مذکور دوسرے نبی کا تابع نہیں رہتا اور غیر ٩٧
نبی بعد حصول منصب مذکور بھی کسی نبی کا تابع رہتا ہے تو یہ تفریق غلط ہے۔ اس لئے کہ نبی کے نبی ہونے میں نبوت سے پہلے یا نبوت سے بعد دوسرے نبی کا تابع نہ ہونا لغت یا شرع سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت سے انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام موسوی شریعت کے تابع تھے اور خود جناب رسول مقبول علیہ السلام کو جابجا اتباع ابراہیم علیہ السلام کا ارشاد ہوتا ہے بلکہ مؤلف براہین تو عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موسوی شریعت کا خادم اور تابع قرار دیتے ہیں اور جو یہ غرض ہے کہ نبی سے یہ منصب مسلوب نہیں ہو سکتا اور غیر نبی سے مسلوب ہو سکتا ہے۔ پس یہ تفریق بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ نبوت کی حقیقت میں یہ شرط بھی لغۃً یا شرعاً مفہوم نہیں ہوتی بلکہ بعض آیاتوں سے مفہوم ہوتا ہے کہ خود انبیاء علیہم السلام سے بھی اس منصب شریف کا مسلوب ہو سکتا مقدور جناب ایزدی ہے۔ گو اس امر کا وقوع نہیں ہوتا: ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ اور جو یہ عرض ہے کہ غیر نبی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں شریعت پر عرض کرنے کا محتاج ہے اور نبی کو اس عرض کی حاجت نہیں تو اس سے کیا لازم آیا کہ غیر نبی کے وحی یا الہام قطعی اور یقینی نہ ہو۔ اولاً اس لئے کہ شریعت کا اس لئے اتباع ضروری ہے کہ وہ من جانب اللہ ہے جس کا من جانب اللہ ہونا بھی بالواسطہ معلوم ہوتا ہے اور جب اس غیر نبی کو بھی اپنی وحی کے من جانب اللہ ہونے کا بلا توسط ظاہری قطعی اور یقینی طریق سے انکشاف تام ہو گیا تو اب اس کو اپنی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں عرض شریعت کی حاجت کیا ہے؟۔ ثانیاً اس لئے کہ احکام شرعیہ کا جزو اعظم احادیث صحیحہ ظنی الثبوت اور آیات قرآنیہ ظنی الدلالۃ سے ثابت ہوا ہے۔ پس چاہئے کہ بالخصوص ان احکام پر عرض کرنے کے ملہم غیر نبی کو اصلاً ضرورت نہ ہو کیا یقینی الثبوت الدلالۃ کا عملاً یا اعتقاداً تسلیم کرنا کسی ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ کی شہادت پر موقوف ہو سکتا ہے بلکہ اور صورت عرض پر تقدیر تخالف اس حدیث صحیح اور اس آیت کے مدلول ظاہری کو ملہم غیر نبی کے حق میں ترک کرنا ضروری ہو۔ اس لئے کہ یقینی الثبوت والدلالۃ کے مقابل میں ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس مقام میں یہ کہنا کہ یہ الہام قطعی شریعت کے مخالف ہوتا ہی نہیں غلط ہے۔ اس لئے کہ الہام قطعی کا واقع نہ ہونا تو بے شک مسلم ہے۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث سے جن کے موضوع اور خلاف واقع ہونے کا بھی احتمال ہے الہام قطعی کا مخالف نہ ہو سکتا غیر مسلم ومن یدعیٰ فعلیہ البیان اور جو مذکورۃ الصدر فقرہ سے یہ غرض ہے ہی کہ نبی کو اپنے الہام کے فہم مطلب میں اشتباہ اور التباس نہیں ہوتا۔ برخلاف غیر نبی کے کہ اس کو اپنی وحی کے فہم مضمون میں اشتباہ اور التباس رہتا ہے تو یہ توجیہ بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ جب اس وحی کے معانی خود منزل علیہ پر مشتبہ ہوئے تو اس الہام کے الہام ہدایت یا
٩٨
الہام ضلالت ہونے میں اس کا کیا امتیاز ہو اور اس کے من جانب اللہ ہونے کا کیونکر یقین کیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا فقرہ نبی اور غیر نبی میں واقعی اور حقیقی امتیاز نہیں پیدا کرتا۔ صرف عوام کی لغزش کھا جانے کے لئے بڑھا دیا گیا ہے اور اس لئے صریح لفظ نبی یا رسول کے اطلاق سے ہی مؤلف نے کس قدر احتیاط کی ہے۔ ورنہ خواص نبوت یا رسالت کے اپنے لئے ثابت کرنے میں میری رائے میں کوئی فروگذاشت نہیں کی ہے۔ ھذا مايحظر بالبال والله اعلم بحقيقة الحال رقمه العبد الضعيف المفتى محمد عبد الله عفا الله عنه المدرس الاول بالمدرسة العالية في لاهور!
گزارش مؤلف: باسمہ سبحانہ! اس فتویٰ حرمین محترمین زادہما اللہ تعالیٰ شرفاً سے جمیع اہل اسلام خاص و عام پر بخوبی روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کی براہین احمدیہ والی بلند پروازیوں نے ہی ان کو بشہادت مفتیان عرب وعجم دائرہ اسلام سے خارج کردیا ہے۔ وہ ہرگز الہام ربانی کے مورد نہیں۔ یقیناً القائے شیطان کے مصدر ہیں۔ ہر چند فقیر مؤلف كان الله له نے ابتدائے ١٣٠٢ھ سے اولاً بذریعہ خط و کتابت ثانیاً بوسیلہ اشتہارات بہت کوشش کی کہ مرزا قادیانی مناظرہ سے تحقیق حق کرکے اسلام میں رخنہ اندازی سے باز آجائیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کی تائید پر غرہ نہ ہوجائیں۔ مگر بقضائے الہی موثر نہ ہوا۔ تب فقیر نے رسالہ مرقومہ بالا ١٣٠٣ھ میں حرمین شریفین میں بھیج کر فتویٰ لیا۔ ١٣٠٥ ہجری میں جب یہ فتویٰ آیا تب راقم نے امرتسر جاکر مرزا قادیانی کے دوستوں کو دکھلایا اور ان کی معرفت مرزا قادیانی کو بلوایا کہ وہ بچشم خود اس کو ملاحظہ کرکے تائب ہوجائیں تو اس کو شائع نہ کیا جائے گا۔ اس پر مرزا قادیانی نہ آئے۔ فقیر نے بنظر خیرخواہی اسلام اس کے شائع کرنے میں تاخیر کی شاید مرزا قادیانی روبراہ ہوجائیں۔ پھر مرزا قادیانی نے جب ضروری اشتہار ٢٦ مارچ ١٨٩١ء مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٠٢ میں اپنے مثیل مسیح ہونے کے دعوٰی میں کئی علماء دین سے مباحثہ کے واسطے ان کے نام درج کئے اور اخیر میں فقیر کا نام بھی تحریر کیا تو اس کے جواب میں فقیر نے رمضان المبارک ١٣٠٨ھ میں دوورقہ اشتہار شائع کرکے مختصر حال اس فتویٰ کا اور اپنی مستعدی مناظرہ کے لئے ظاہر کی اور ادعائے مثیل مسیح کو بھی باطل کیا۔ ان کی طرف سے اس کا جواب نہ آیا بعد ازاں رمضان شریف ١٣١٠ ہجری میں حافظ محمد یوسف ضلع دار نے مرزا قادیانی یا ان کے نائب سے مناظرہ کے واسطے تحریک کی فقیر نے تحریر کردی کہ میں حاضر ہوں۔ تاریخ مقررہ پر نہ مرزا قادیانی آیا نہ کوئی نائب ان کا مختارنامہ لے کر
٩٩
آیا۔ برعکس مولوی محمد احسن امروہی نے فقیر کے فرار کا اشتہار بنام اتمام الحجہ شائع کر دیا۔ اس کے جواب میں ایک مدرس مدرسہ قصور نے اولاً اس کی تبکیت میں اشتہار شائع کیا۔ ثانیاً فقیر نے ١٣١١ ہجری میں دوسرا اشتہار چھپوادیا۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ مرزا قادیانی کی پہلی رخنہ اندازی اسلام کے علاوہ جس پر حرمین مکرمین زادہما اللہ تعظیماً سے ان کے بارہ میں فتویٰ آچکا ہے جو انہوں نے دعویٰ مخترعہ مسیحیت میں رسالہ فتح اسلام وتوضیح المرام ازالہ اوہام شائع کئے ہیں ان میں نبوت ورسالت کا کھلا کھلا دعویٰ کر دیا ہے۔ جس سے مولوی محمد حسین بٹالوی جیسے ان کے مؤید اور ثناخواں بھی ان کے سخت مخالف ہو کر واشگاف اور صاف صاف ان کی تکفیر کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی اور محمد احسن امروہی جیسے ان کے مریدوں کو ذرہ بھی غیرت نہیں کہ مجمع علماء میں اپنی بریت ظاہر دکھائیں۔ صرف دھوکہ بازیوں سے کام چلا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے جب اس کا جواب بھی کچھ نہ ملا تو فقیر نے اخیر صفر ١٣١١ ہجری میں اور اشتہار جاری کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اب مرزا قادیانی کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہو کر وہ فتویٰ حرمین شریفین شائع کیا جاتا ہے جس سے مرزا قادیانی کی ضلالت وبطالت ظاہر ہوجائے گی اور نیز ان کے پچھلے رسالوں کے نمبر صفحہ کے حوالوں سے درج کیا گیا۔ چنانچہ ص١٨ توضیح المرام خزائن ج٣ ص٦٠ اور صفحہ١٩٢‘ ٥١٩‘ ٦٨٧‘ ٦٩٧ رسالہ ازالہ اوہام خزائن ج٣ ص١٩٣‘ ١٩٦‘ ٤٦٤‘ ٥١٥ سے صاف صاف ان کا دعویٰ نبوت ورسالت متحقق ہے۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی اکثر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعض پیش گوئیوں کو غلط لکھا ہے صفحہ ٤٧٨ ازالہ خزائن ج٣ ص١٠٦ میں دیکھو اور حضرت مسیح وسلیمان کے معجزوں کو شعبدہ بازی اور بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے درج کئے ہیں۔ اسی ازالہ کے ص٣٠٢ خزائن ج٣ ص٢٥٤ میں دیکھو اور چارسو نبی کو جھوٹا لکھ دیا اور ان کی وحی میں دخل شیطان ثابت کیا ہے۔ اسی ازالہ اوہام کے ص٦٢٧ سے ٦٢٩ خزائن ج٣ ص٤٣٩ تک دیکھو اور حضرت مسیح کی وفات کے ادّعا میں قرآن مجید کی آیتوں میں تحریف کر کے کمال دھوکہ دہی کی ہے۔ جدول مندرجہ صفحہ ٣٣٠ سے ٣٣٢ میں اسی ازالہ خزائن ج٣ ص٢٦٩‘ ٢٦٨ کو دیکھو۔ اس اشتہار پر بھی نہ خود مدعی مسیحیت کو نہ ان کے کسی مرید کو غیرت دامن گیر ہوئی کہ محفل علماء میں اپنی بریت کرتے یا اس کا جواب شافی دیتے۔ سچ ہے: الحیا من الایمان ۔ پھر ربیع آخر ١٣١١ ہجری میں جو مرزا قادیانی اپنے جدید سسرال کے ہاں چھاؤنی فیروز پور میں آئے تو کئی مسلمانوں نے ان سے دعویٰ مسیحیت کا ثبوت طلب کیا۔ اس پر مرزا قادیانی مختصر
١٠٠
تقریر کے بعد جواب دیا کہ کسی عالم کو ہمارے پاس لے آؤ ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ پھر جلدی سے قادیان کو سدھارے۔ دوسری مرتبہ ١٢ جمادی الاولیٰ ١٣١١ھ کو جب وہاں آئے تو فقیر کو وہاں کے بعض اہل اسلام نے تحقیق حق کے لئے بلایا۔ فقیر نے وہاں جاکر ان کی مذکورہ بالا تصانیف سے ان کا دعویٰ نبوت توہین انبیاء وغیرہا سب کو دکھلایا۔ چنانچہ ان کے سمجھ میں آیا۔ اس پر انہوں نے مرزا قادیانی سے فقیر کے ساتھ تقریر کرنے کی درخواست کی جس پر جواب ملا ہم کو الہام ہوا ہے کہ مولویوں سے مباحثہ نہ کریں تب لوگوں نے کہا کہ آپ کے کہنے سے ہم نے بلوایا تھا۔ آخر بعد تکرار بسیار مرزا قادیانی نے بذات خود مناظرہ سے اور اپنے شاگرد و مرید حکیم نور الدین و محمد احسن امروہی سے بھی درمیان میں بیٹھ کر مباحثہ کرنے سے انکار کیا۔ اس پر چھاؤنی فیروز پور کے پچیس معتبر اہل اسلام کی شہادت سے مطبع صدائے فیروز میں اشتہار شائع ہوا کہ واقعی مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں اور انبیاء کرام کے توہین کنندہ اور جواب دینے سے صریح گریز ہے۔ اس پر جب ان کے سخت مخلص حافظ محمد یوسف مذکور کو یہ شکست فاش ناگوار معلوم ہوئی تو پھر وہاں جاکر دوسری مرتبہ مرزا قادیانی کو مناظرہ میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیا اور امرتسر سے بنام مولوی محمد احسن امروہی اشتہار جاری کیا کہ مکفرین مرزا قادیانی دسمبر کی تعطیلوں میں لاہور میں آکر مناظرہ کریں۔ میں مشتہر یا حکیم نور الدین قادیانی مناظرہ کریں گے۔ اس پر فقیر نے مرزا قادیانی سے اقرار تحریری شمول جلسہ مناظرہ بذریعہ خط رجسٹری لے کر دو روز قبل از تاریخ مقررہ وارد لاہور ہو کر دس دن برابر لاہور میں رہا۔ مرزا قادیانی آئے نہ دونوں مناظر حاضر پائے۔ حکیم فضل الدین و برہان الدین مناظرہ کو آئے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ مرزا قادیانی کا مختار نامہ لے آئیں۔ فقیر حاضر ہے۔ پھر آج تک ان کی طرف سے صدائے برنخاست
اب اللہ تعالیٰ سے سرخرو ہونے کو یہ رسالہ شائع کیا گیا ہے۔ عنقریب اس کا دوسرا حصہ فتح اسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام کی بعض سخت قباحتوں کی تردید جن کا ذکر اوپر گزرا ہے شائع
ہوگا۔ وما توفیقی الا بااللہ علیہ توکلت والیہ انیب..........المرقوم ١٨ صفر ١٣١٢ھ
نوٹ : مولانا غلام دستگیر قصوری نے صفر ١٣٠٢ھ میں یہ رسالہ تصنیف کیا اور مرزا قادیانی کو اس کی نقل بھجوائی۔ شوال ١٣٠٣ھ میں اس کا عربی ترجمہ کرکے حرمین شریفین سے تقریظات منگوائیں اردو رسالہ کا نام ”تحقیقات دستگیریہ فی رد ھفوات براہینیہ“ اور عربی رسالہ کا نام ”رجم الشیاطین براغلوطات البراھین“ تجویز کیا۔ ١٣٠٥ھ
١٠١
میں عرب کے علماء سے تصدیقی فتاوے حاصل ہوئے۔ مصنف نے اردو عربی رسالہ اور عرب و عجم کے علماء کے تصدیقی فتویٰ جات مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو دکھائے۔ اور امرتسر جا کر خود مرزا قادیانی کو اس کے دوستوں کے ذریعہ طلب کیا کہ وہ خود آکر ان فتویٰ جات کو دیکھ کر توبہ کرلے۔ مرزا قادیانی نے اس زمانہ میں مباہلہ کے لئے علماء کو چیلنج دیا تو مولانا نے دو دفعہ پمفلٹ شائع کر کے مرزا قادیانی کو پھر رمضان المبارک ١٣٠٨ھ میں دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ رمضان المبارک ١٣١٠ھ میں مرزا قادیانی کے اسلام لانے سے مایوس ہو کر ان فتویٰ جات کو شائع کرنے کا اعلان کیا۔
بالآخر ١٨ صفر ١٣١٣ھ کو یہ عربی اردو فتویٰ شائع فرمایا۔ مصنف کی کمال دیانت واضح ہو کہ ٩ سال تک متواتر مرزا غلام احمد قادیانی کو قبول اسلام کرنے کے لئے آمادہ کرتے رہے۔ اس دوران میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کی تائید سے دستکش ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف فتویٰ شائع کر دیا تھا تو حضرت مولانا نے اپنے رسالہ کے حاشیہ پر یہ نوٹ لگا کر دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل فرمائی:
نوٹ: چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کی تائید چھوڑ دی ہے بلکہ اس کی تکذیب پر کمر باندھی ہے تو اب رسالہ رجم الشیاطین میں جو بٹالوی صاحب کی تردید تھی اس سے وہ بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ خدا کے کلام آیات قرآنی کو کلام غیر خدا بنانے کی بھی خود انہوں نے تردید کر دی ہے۔ فالحمد للہ! و ھو الھادی (منہ عفی عنہ! ایڈیشن اول ص ٧٠)
☆......☆......☆
١٠٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
فتح رحمانی
بہ دفع
کید قادیانی
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ
تعارف
فتح رحمانی بہ دفع کید قادیانی
الحمدللہ ثم الحمدللہ! کہ ”احتساب قادیانیت“ کی جلد ہذا میں حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ کی معرکۃ الآراء تصنیف ”فتح رحمانی بہ کید قادیانی“ کو شائع کرنے کی اللہ رب العزت نے توفیق نصیب فرمائی۔ یہ کتاب قادیانیوں کے ایک اشتہار کے جواب میں معمول کی ایک تصنیف ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کذاب کی ایک معرکۃ الآراء کذب بیانی نے ہمارے اور قادیانیوں کے لئے اس کتاب کو ایک تاریخی اور معرکۃ الآراء کتاب بنادیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”مولانا غلام دستگیر صاحب قصوری نے اپنی کتاب فتح رحمانی میں اپنے طور پر میرے ساتھ مباہلہ کیا اور یہ دعا کی کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اس کو ہلاک کر دے۔“
(لیکچر لاہور ص ٢٨‘ خزائن ج ٢٠ ص ١٩٣)
”ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا کہ اس نے اپنے رسالہ میں ...... ....... یہی دعا کی کہ یا الٰہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں حق پر نہیں تو اسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد میں اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٧‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٧)
چونکہ مولانا غلام دستگیر قصوریؒ مرزا قادیانی کے زمانہ میں انتقال فرما گئے تھے۔ مرزا قادیانی نے محض جھوٹ اور افتراء کے طور پر ان کے انتقال کو اپنی سچائی ظاہر کرنے کے لئے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا۔ مرزا قادیانی کے دوبارہ الفاظ ملاحظہ ہوں: ”یہی دعا کی کہ یا الٰہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے۔ اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں حق پر نہیں تو اسے مجھ سے پہلے موت دے۔“ مرزا قادیانی نے جس کتاب کے حوالہ سے کہا وہ ذیل میں ہم شائع کر رہے ہیں۔ منقولہ الفاظ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت البغایا اس کتاب سے قیامت کی صبح تک نہیں دکھا سکتی تو پھر اعتراف کریں کہ کذاب اعظم مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے جھوٹ بولا تھا۔ ہے کوئی قادیانی جو غیرت کی پڑیا کھا کر مرد میدان بنے اور مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنے کے لئے میدان میں قدم رکھے۔ کتاب ہم نے پیش کر دی۔ اس کتاب کا وجود ہی مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب صریح کی بین دلیل ہے۔ فقیر اللہ وسایا!
٢
الحمد لله وحده والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ و علیٰ الہ و صحبه الذین راعوا عہدہ اما بعد. عبدہ الحقیر محمد ابو عبدالرحمٰن فقیر غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری کان اللہ لہ، برادران دین اسلام کی خدمت میں اعلام کرتا ہے کہ فقیر ابتداء ١٣٠٢ ہجری مقدسہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو دنیا پرست اور دین فروش جانتا ہے چنانچہ محض ابتغاءً لمرضات اللہ اس کی تردید میں حتی الامکان مصروفیت کر کے حضرات علماء حرمین محترمین زادہما اللہ تعالیٰ حرمۃً و شرفاً سے اس کی کتاب براہین احمدیہ اور رسالہ اشاعۃ السنہ ذی قعدہ و ذی الحجہ ١٣٠١ و محرم ١٣٠٢ جس میں اس کی تاویلیں تھیں، بھیج کر استفتاء کیا تھا کہ ایسا شخص جو اپنے الہام کو مرادف وحی انبیاء یعنی قطعی ویقینی جانتا ہے اور انبیاء سے کھلی کھلی برابری بلکہ بعض جگہ اپنے آپ کو انبیاء سے بڑھاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر حضرت مولانا مولوی محمدؒ نے (جو منجانب حضرت سلطان روم بتجویز حضرت شیخ الاسلام کے ملقب بخطاب پایہ حرمین شریفین ہیں) فقیر کے رسالہ رجم الشیاطین برد اغلوطات البراہین کی نقول کو مطابق اصل براہین کر کے لکھ دیا تھا کہ مرزا قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پھر حضرات مفتیان حرمین شریفین نے بھی اس کے بارہ میں قادیانی شیطانی اور مسیلمہ کذاب ثانی وغیرہما الفاظ کو استعمال فرما کر رسالہ موصوفہ کی کمال تصدیق فرمائی، جو ١٣٠٥ھ میں واپس آیا۔ جس کو فقیر نے بعد مدت دراز اس کی توبہ کے انتظار کے ١٣١٢ھ کے صفر میں شائع کر کے اپنی سبکدوشی حاصل کر لی تھی پھر آخیر رجب ١٣١٤ھ میں مرزا قادیانی نے رسائل اربعہ فقیر کو بھیج کر بشمولیت بہت سے علماء دین متین کے فقیر کو بھی مباہلہ کے واسطے قسمیں دے کر بلایا اور مباہلہ نہ کرنے والوں کو ملعون بنایا فقیر نے بنظر ٣
صیانت عقائد عوام اہل اسلام مرزا قادیانی کو قبولیت مباہلہ لکھ کر ١٥ شعبان (١٣١٤ مطابق ١٧ جنوری ١٨٩٧ء) تاریخ مقرر کر کے معہ اپنے دونوں فرزندوں کے ٢ شعبان کو وارد لاہور ہوا۔ جس پر مرزا قادیانی کی طرف سے حکیم فضل الدین لاہور میں آیا اور ایک مجمع عظیم کر کے مسجد ملا مجید میں فقیر پر معترض ہوا کہ حضرت اقدس مرزا قادیانی نے آپ کی یہ غلطی نکالی ہے کہ مباہلہ قرآنی میں صیغہ جمع ہے آپ تنہا کیونکر مباہلہ کر سکتے ہیں؟ فقیر نے اسی مجمع میں اپنے رقعہ قبولیت مباہلہ سے اپنے فرزندوں کی شمولیت سے اپنا جمع ہونا ثابت کیا بلکہ اس وقت دونوں کو روبرو دکھلا دیا جس پر مدعی مسیح موعود اور اس کے حواریوں کی غلطی مانی گئی تھی پھر ظہور اثر مباہلہ کے لیے جو مرزا قادیانی نے ایک برس کی میعاد رکھی تھی، اس کو فقیر نے بدلیل قرآن وحدیث اٹھانا چاہا اس پر حکیم مذکور اور مرزا قادیانی نے ہٹ کیا۔ جس پر فقیر نے ١٦ شعبان کو اشتہار شائع کر کے میعاد ٢٥ شعبان ایزاد کی اور آخیر شعبان تک منتظر رہا بلکہ پانچ روز امرتسر میں جا کر مرزا قادیانی کو بلایا وہ مباہلہ کے لیے نہ آئے۔ اور اشتہار مورخہ ٢٠ شعبان بجواب اشتہار فقیر اس مضمون کا شائع کیا کہ تمام احادیث صحیحہ سے ظہور اثر مباہلہ کی میعاد ایک سال ثابت ہے اور میں مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں اور میری تکفیر کرنے والے تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتے اور مجھ کو باوجود کلمہ گو اور اہل قبلہ ہونے کے کافر ٹھہراتے ہیں۔
(عنوان اشتہار مولوی غلام دستگیر صاحب کے اشتہار کا جواب۔ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٢٩٨۔ ٢٩٧)
اس کے جواب میں فقیر نے پندرہ اکابر علمائے اہل سنت لاہور و قصور و امرتسر سے بدلیل قرآن وحدیث تصدیق کرایا کہ مباہلہ شرعی میں کوئی میعاد سال وغیرہ نہیں ہے، مرزا قادیانی نے محض بغرض دھوکہ دہی جو اس کا جبلی وتیرہ ہے قید ایک سال لگائی ہے۔ اور فقیر نے رمضان المبارک میں اس کے اشتہار کی تردید میں بہت سی تصانیف مرزا قادیانی سے اس کے کھلے کھلے دعویٰ نبوت کے اور نیز توہین انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام جو سبب ہے اس کی تکفیر کا، ثابت کر دیئے ہیں اور انشاء اللہ العزیز وہ تمام مضمون ایک کتاب موسوم بنام ”تصدیق المرام بتکذیب قادیانی ولکھرام“ میں شائع ہوں گے جس سے سب پر ظاہر و باہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی باوصف ان دعویٰ نبوت و توہین انبیاء کے ہرگز ہرگز کلمہ گو اور اہل قبلہ متصور نہیں ہیں نعوذ باللّٰہ من الحور بعد الکور، جب فقیر اخیر شعبان میں قصور میں آیا تو ابتدائے رمضان المبارک میں حضرت صاحبزادہ حافظ حاجی مولوی سید محمد شاہ صاحب قصوری نے ایک سال کی میعاد ظہور اثر مباہلہ کے واسطے
م
قبول کر کے مرزا قادیانی کو بہ ثبوت دستخط قریب ایک سو مسلمانوں کے لکھ بھیجا کہ ایک عذاب تین قسم عذاب مباہلہ سرور عالمؐ سے مقرر کر دیں کہ ایک سال میں یہ معین عذاب ہوگا تو ہم سب لوگ آپ کے ساتھ مباہلہ کرنے کے واسطے مولوی صاحب کو ہمراہ لے کر لاہور میں آ جائیں گے تاکہ قطعی فیصلہ ہو جائے اور روزمرہ کی اشتہار بازی ختم ہو اس پر بھی مرزا قادیانی نے کچھ جواب نہ دیا اور حکیم فضل الدین مرزائی نے سخت زبانی اور دریدہ دہنی سے سب کو منافق وغیرہ لکھ کر آخیر میں درج کیا کہ بدون شائع کرنے اشتہار کے مسیح موعود کوئی جواب نہ دیں گے۔ جس سے بخوبی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اشتہاری ہیں اور مباہلہ سے بالکل فراری اور ہر تحریر میں دام تزویر پھیلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے سادہ لوحوں کو پھنساتے ہیں۔ فالیٰ اللہ المشتکی ۔ طرفہ تر یہ ہے کہ اسی مرزا نے اپنی الہامی کتاب ازالہ میں ”مباہلہ کے عدم جواز کو بڑی شد و مد سے ثابت کیا ہے اور حضرت ابن مسعودؓ پر بسبب درخواست مباہلہ کے سخت زبان درازی کی ہے اور ثمرہ مباہلہ کا مسلمانوں کا گھٹانا اور کافروں کا بڑھانا بیان کر کے مباہلہ کی درخواست کرنے والے مولویوں پر بے حیائی اور فتنہ انگیزی کا فتویٰ دیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٥ تا ٥٩٧ خزائن ج ٣ ص ٤٢١۔٤٢٢)
اب برخلاف اس کے مباہلہ کے لیے الہامی اشتہار جاری ہو رہے ہیں اب غور کرو کہ وہ پہلا الہام غلط تھا یا یہ دوسرا الہام غلط ہے؟ اور باوصف اس کے مباہلہ کے میدان میں آنا اور راست بازی کا نمونہ دکھانا کہاں اور مرزا قادیانی کہاں؟ سچ ہے بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔ الغرض رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کے ایام بحالت اعتکاف فقیر ایک چار ورقہ اشتہار مطبوعہ زرنگاری پریس لدھیانہ منجانب مرزا حکیم رحمتہ اللہ ١؎ و جماعت مرزائیان لدھیانہ معرفت مرزا فضل بیگ مختار قصور کے فقیر کو پہنچا جس میں بڑے زور و شور سے مرزا قادیانی کے بالقاء ربانی مسیح موعود و مہدی مسعود ہونے کو آفتاب نصف النہار کی طرح ثابت مان کر منکرین کو بے علم مولوی وغیرہ وغیرہ ناشائستہ کلمات سے موصوف کر کے اس کی پیشانی پر (اشتہار صداقت آثار) لکھا ہے اور فی الواقع بتقلید ازالہ اوہام قادیانی کے از سر تا پا محض کذب و افتراء سے کاروائی کی ہے۔ چونکہ اس اشتہار میں اولاً و اصالتاً علماء امرتسر و لدھیانہ مخاطب ہیں اور اس کے جواب کی ان سے
١؎ یہ رحمت اللہ نہ کوئی حکیم ہے اور نہ ملا ہے بلکہ ایک معمولی حیثیت کا بازاری جاہل بے علم محض اردو خواندہ ہے غالباً یہ اشتہار خود مرزا کا لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے جو اس کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔
٥
درخواست کی ہے اس لیے فقیر نے اس کے جواب میں تعویق کی اور کئی دوستوں کو اسکے بعضے بہتانات پر مطلع کر کے اصل واقعہ پر اطلاع دی تھی اب ١٢ شوال ١٣١٤ھ میں فقیر ایک دینی کام کے انجام کو لدھیانہ میں وارد ہوا، تو سنا گیا کہ حضرات علماء لدھیانہ کی طرف سے کسی مصلحت کے واسطے اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ اس پر غیرت دینی نے جوش دلایا کہ ان جعل سازوں اور افتراء پردازوں کا بقدر ضرورت ضرور ہی جواب شائع کرنا بلکہ مرزا کے تین سو تیرہ حواری مندرجہ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ٤١ تا ٤٤ خزائن ج ١١ ص ٣٢٥ تا ٣٢٨ کو پہنچانا لازم ہے تاکہ ان کی بواقعی تکذیب اور عجز ثابت ہو اور یہ عذر نہ رہے کہ کسی نے اس مسیح کاذب کے دلائل کو نہیں توڑا واللہ ھو الھادی۔ یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ عرباً و عجماً مرزا قادیانی کی بواقعی تردید شائع ہو رہی ہے اور مرزائی یہ کہتے جاتے ہیں کہ کسی نے ان کے دلائل توڑ کر نہیں دکھائے۔ لیجئے اب آپ کے دلائل اشتہار جو تمام دلائل کا خلاصہ ہیں اور جس کے جواب کے مرزائی کمال اصرار سے طلبگار ہیں۔ بطور قال اقول کے توڑ کر دکھلاتا ہوں اور دانشمندوں کے لیے تبصرہ بناتا ہوں اگر ہادی حقیقی نے چاہا تو کوئی مرزائی بھی راہ راست پر آ جائے گا واللہ ھو الموفق.
قولہ...... اور آنے والے مسیح اور مہدی کا ایک ہی ہونا جیسا کہ حدیث لا مہدی الا عیسیٰ سے ثابت ہے صفحہ (١) سطر ٨ و ٩ )
اقوال...... خود مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے کہ (لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم) (ازالہ اوہام ص ٥٦٨ خزائن ج ٣ ص ٤٠٦) اور نیز اسی ازالہ میں لکھا ہے۔ ”اس حدیث کے معنی کہ لا مہدی الا عیسیٰ یہ ہیں“ الخ
(ازالہ اوہام ص ٥٨١ خزائن ج ٣ ص ٤١٤)
پس مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی اس حدیث کا جواب ہم ان کی ہی مسلمہ بڑی معتبر اہل حدیث کی کتاب مجمع بحار الانوار سے ہی لکھتے ہیں جس کی تعریف و مستند ہونا اس کے اسی اشتہار کے صفحہ ٢ سطر اخیر میں تحریر ہے اور وہ جواب یہ ہے کہ صاحب مجمع بحار الانوار لکھتے ہیں۔ ”الصغانی لا مہدی الا عیسی ابن مریم موضوع“
(مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٢٤٧ الاحادیث المتفرقہ )
یعنی مرزائیوں کے معتبر محدث نے ایک اور کمال معتبر محدث کی سند سے لکھا
ا؎ اللہ تعالیٰ جزاء خیر عطا کرے خواجہ احمد شاہ صاحب تاجر لدھیانہ کو جنھوں نے اس امر خیر کی کفالت کی حق تعالیٰ انجام بخیر کرے آمین
٦
ہے کہ یہ حدیث کہ مہدی اور مسیح ایک ہی ہے موضوع یعنی بناوٹی ہے۔ اب یہ امر سب پر ظاہر ہے کہ موضوع حدیث کی سند سے کوئی حکم ثابت کرنا حرام اور بالکل ناروا ہے اور موضوع حدیث بنانے والا جہنمی ہوتا ہے علاوہ اس کے سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں ذہبی کی میزان سے اس حدیث کا منکر ہونا اور تہذیب سے غریب ہونا اور حضرت امام شافعی استاد محدثین کا رؤیا میں فرمانا کہ یونس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے میں نے ہرگز اس حدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم کی روایت نہیں کی ہے یہ تمام مراتب نقل کر کے یہ بھی تصریح کی ہے کہ حضرت امام مہدی کے تشریف لانے کی حدیثیں اصح الاسناد ہیں اور اخیر میں زجاجہ حاشیہ ابن ماجہ کا نام لکھا ہے۔
(ابن ماجہ ص ٢٩٢ حاشیہ باب شدۃ الزمان)
پس سخت افسوس ہے مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کی ہمت پر کہ ایسی موضوع و منکر و غیرہما حدیث سے استناد کر کے حضرت مہدی کے وجود مسعود سے جس کے تمام اولیاء و علماء ربانیین بلکہ جمیع مومنین معتقد ہیں۔ منکر ہو کر مہدی اور عیسیٰ کو ایک ہی بنا کر مرزا قادیانی کی جعلی مہدویت و عیسویت پر ایمان لے آئے اور جمہور کیا جمیع اہل اسلام خاص و عام سب کے برخلاف ایک نیا عقیدہ گھڑ لیا اور مصداق من شذ شذ فی النار کے ہو گئے۔ والعیاذ باللہ من ذلک۔ پھر اسی اشتہار کے صفحہ ٢ سطر ١٠ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی سند آیت سورہ مائدہ کے اخیر کی بدیں عبارت نقل کی ہے۔
قولہ...... کہ جب اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی امت کو شرک کی تعلیم دی تھی تو وہ کہیں گے یا الٰہی جب تک میں ان میں زندہ رہا تو میں توحید ہی سکھلاتا رہا لیکن فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ یعنی جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہو گئے جب ہی تو ان کی امت بگڑی انتہاء بلفظہ
اقول...... اس جگہ آیت قرآنی میں مشتہرین نے سخت بے ایمانی کی ہے کہ اپنی طرف سے لفظ ”زندہ رہا“ قرآن مجید کے ترجمہ میں بڑھا دیا ہے دیکھو فرقان حمید میں فرمان ہے و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم (مائدہ ١١٧) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حکایت ہے کہ اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا۔ پس زندہ کا لفظ بڑھانا قرآن محفوظ کی تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر مادمت فیہم کے پیچھے جو فقرہ (تو توحید ہی سکھلاتا رہا) جو لکھا ہے تو یہ بھی تحریف قرآنی ہے کیونکہ علمتہم التوحید فقط یا ماعلمتہم الا التوحید قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ لکھا ہے
٧
پھر لیکن کا لفظ بڑھانا اور توفیتنی کے ترجمہ میں ”تو نے مجھے وفات دی“ لکھنا یہ سب قرآن مجید میں تصرف بیجا نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ کسی تفسیر یا ترجمہ قرآن مجید میں توفیتنی کے معنی موت کے نہیں لکھے بلکہ آسمان کی طرف اٹھانے کے لکھے ہیں اور اگر برخلاف تصریح تفاسیر و تراجم مان بھی لیں کہ اس کے معنی فوت کرنے کے ہیں تب بھی حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے اس وقت فوت ہونے پر ہرگز دلیل نہیں بن سکتی ہے کیونکہ یہ واقعہ سوال و جواب کا بروز قیامت ہوگا۔ چنانچہ خود مشتہرین نے اسی ترجمہ میں پوچھے گا اور وہ کہیں گے مستقبل کے لفظ لکھے ہیں پس قیامت کے دن سے پہلے تو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیٰ نبینا وعلیہما السلام آسمان سے اتر کر دنیا میں اپنی عمر پوری کر کے وفات پا ہی چکے ہوں گے۔ تو قیامت کو ان کا یہ لفظ توفیتنی کا فرمانا اس وقت کی ان کی موت پر دلیل لانا دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب جائے غور ہے کہ ایسے سخت بے علم قرآن مجید میں تحریف کرنے والے اگر اپنے مخالف دیندار باوقار فاضلوں کو بے علم مولوی وغیرہ لکھ دیں تو کیا بعید ہے۔ گر از بسیط زمین عقل منعدم گردد ۔ بخود گمان نبرد ہیچکس کہ نادانم۔ رہا یہ جو ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ ” آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے واذ قال اللہ یا عیسیٰ اٰنت قلت للناس الخ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً یہ مجددیت اور مہدویت اور عیسویت کا ادّعا کرنے والا سخت بے علم ہے جس نے فقرہ آیت یعیسے ابن مریم اٰنت قلت للناس الآیۃ میں چار فاحش غلطیاں کی ہیں۔ اوّل یعیسے موصول کو یا عیسے مفصول لکھ دیا ہے دوم لفظ ابن مریم کو درمیان سے ساقط ہی کر دیا ہے سوم اٰنت جو بہ ہمزہ ممدودہ الف سے موسوم ہوتا ہے اس کو انت دونوں الفوں سے لکھ دیا ہے چہارم الآیۃ کی جگہ جو قرآن مجید کے فقرہ آیات کے پیچھے لکھا جاتا ہے الخ لکھ دیا ہے۔ ثانیاً قال اور اذ کی دلیل سے زمانہ ماضی کا قصہ بنانا قرآن مجید کی سخت مخالفت ہے کیونکہ و اذ قال اللہ یعیسے ابن مریم سے اوپر کا رکوع یوم یجمع اللہ الرسل الآیۃ (جس دن خدا رسولوں کو جمع کرے گا) سے شروع ہوتا ہے اور مابعد اس کے قال اللہ ھذا یوم ینفع الصادقین صدقہم الآیۃ (کہے گا خدا یہ دن ہے کہ فائدہ دے گا سچوں کو سچ ان کا) وارد ہے جو صاف اور
٨
صریح دلیل ہے۔ اس پر کہ یہ واقعہ قیامت کے دن کا ہے اسی واسطے سوا سدی مفسر کے، جمیع مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ قیامت کو ہو گا اور لفظ اذ کا بھی شافی جواب مفسرین نے دیا ہے کہ اذ بمعنی اذا قرآن مجید میں موجود ہے ولو تری اذ فزعوا بمعنی اذا فزعوا (اور اگر تو دیکھے جب ڈریں گے) پھر راجز نے کہا ہے۔ ثم جزاک اللہ عنی اذا جزی۔ جنات عدن فی السمٰوت العلیٰ۔ (پھر خدا میری طرف سے تجھے بدلہ دے جب بدلہ دے گا بہشت عدن اونچے آسمانوں میں) اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں اذ مستقبل کے واسطے ہیں تفسیر خازن وغیرہ میں دیکھو ثالثاً مرزا قادیانی نے اپنے منہ سے دعویٰ تو کر دیا کہ زمانہ ماضی کا واقعہ ہے مگر یہ تو نہ لکھ سکے کہ وہ ماضی کا زمانہ کونسا تھا؟ افسوس پر افسوس ہے کہ اس مدعی مسیحیت کو قرآن کی مخالفت اور معتبر مفسرین کی معاندت سے کچھ بھی خوف و حیا نہیں ہے سچ ہے الحیاء من الایمان ...... رابعاً پھر اسی ازالہ کے اخیر میں جو تحریر ہے کہ ”اور حدیثیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور باز پرس سوالات ہوا کرتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)
تو یہ بھی اس شخص کی دھوکہ دہی ہے جس پر یہ مجبول ہے بندہ خدا! حدیثوں کا لفظ جمع لکھنا اور ایک حدیث بھی سنداً بیان نہ کرنی یہ بھی کچھ لیاقت کی بات ہے؟ آپ کا مطلب تو ایسی ویسی ہی حدیثوں سے نکلتا ہے کہ لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم پھر اس سے بھی لفظ ابن مریم کو ساقط کر دینا اور حضرت مسیح ابن مریم علیٰ نبینا و علیہما السلام کے نزول کی صحیح و صریح تر حدیثوں کی تاویلات بعیدہ اور تسویلات غیر سدیدہ لکھ کر حق تعالیٰ پر افتراء اور جھوٹ باندھ کر برخلاف عقیدہ تمام اولیاء و علماء و صلحاء کے خود مسیح موعود و مہدی مسعود بن جانا اور بے دین و بے علموں کو دام فریب میں پھنسانا اور مال حرام کمانا۔ پناہ بخدائے لایزال۔ قیامت کے عذاب الیم سے علاوہ یہ کس قدر دنیاوی رسوائی ہے کہ عرباً و عجماً تکفیر تک نوبت پہنچ رہی ہے اور یہ شخص دنیا پرستی سے باز نہیں آتا ہے نعوذ باللہ من غضبہ و عقابہ۔
قوله...... حضرت عیسیٰ کی امت کے بگڑے جانے نے صاف ظاہر کر دیا کہ عیسیٰ فوت ہو گئے کیونکہ حضرت عیسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو یہی جواب دیا کہ میری امت میرے مرنے کے بعد بگڑی ہے“
اقول...... یہ بھی مرزا اور مرزائیوں کی دھوکہ دہی ہے اور محض افتراء پردازی کیونکہ اس آیت سے یہ ہرگز ہرگز پایا نہیں جاتا، نہ صراحتاً نہ کنایۃً کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا
٩
علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کو یہ جواب دیا کہ میری امت میرے مرنے کے بعد بگڑی ہے دیکھو وہ آیات قرآنی یہ ہیں واذ قال اللہ یعیسیٰ ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون اللہ قال سبحٰنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم و کنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم و انت علی کل شیء شہید. (مائدہ ١١٧۔١١٦) (اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہراؤ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سواء اللہ کے، کہے گا۔ عیسیٰ تو پاک ہے مجھ کو نہیں بن آتا کہ کہوں جو مجھ کو نہیں پہنچتا۔ اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے برحق تو ہی ہے جانتا چھپی بات میں نے نہیں کہا اس کو مگر جو تو نے حکم دیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے بھر لیا تو تو ہی تھا خبر رکھتا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔) اب غور کرو کہ اس میں تو یہی مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حق تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے کہ میں تو تیری بندگی کے واسطے لوگوں کو کہتا رہا تھا اور جب تک ان میں رہا ان سے خبردار تھا پھر جب آپ نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا تو آپ ان سے خبردار تھے یعنی مجھے اس وقت کی کیا خبر ہے۔ اہل عقل سوچیں کہ اس میں یہ کہاں مذکور ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے تو ان کی امت بگڑ گئی تھی؟ ماھذا الا ھذیان و جنون، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا ان کی امت کے عقیدہ توحید کو ہرگز مستلزم نہیں ہے، وہ تو یہ فرما دیں گے کہ میں جب تک ان میں رہا ان کو عبادت الٰہی کے واسطے کہتا رہا، یعنی صرف آپ کا عبادت الٰہی کے واسطے امت کو امر کرنا ثابت ہے خواہ وہ آپ کی موجودگی میں بھی عبادت الٰہی کرتے رہے ہوں یا نہ، فاعتبروا یااولی الابصار. ہر چند اس اشتہار میں وہ آیت نہیں لکھی جس میں مرزا قادیانی کو بڑا زور و شور ہے کہ صحیح بخاری میں بروایت ابن عباس متوفیک کے معنی ممیتک کے لکھے ہیں اور یہ نص ہے موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، مگر فقیر اس کا بھی جواب لکھ دیتا ہے شائد کوئی گمراہ راہ پر آ جاوے سورہ آل عمران میں حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کا اور تعلیم الٰہی تورات و انجیل و غیرہما کے عالم ہونے کا اور صاحب معجزات باہرہ و عالم علم غیب بعض علوم میں ہونے کا
١٠
اور بعض احکام توریت کے منسوخ کرنے کا پھر یہود کے کفر کے ذکر کے بعد حق تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی الآیۃ۔ (آل عمران ٥٥) (جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تجھ کو لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔) اگرچہ بہت سے مفسرین نے متوفیک کے معنی موت کے نہیں کیے مگر اس میں شک نہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے معنی یہ کیے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں۔ تاہم مرزا قادیانی کی دلیل اس سے ہرگز نہیں ثابت ہوتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے ہیں اس لیے کہ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی روایت یہ بھی ہے کہ ان دونوں لفظ متوفیک اور رافعک میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی معنی اس آیت مبارک کے یہ ہیں جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، اور تیری موت کے وقت بعد نزول آسمان کے مارنے والا ہوں، دیکھو تفسیر عباس اور مدارک و ابو السعود و غیرہا میں اتقان فی علوم القرآن میں، ایک فصل باندھ کر علماء سلف سے تقدیم و تاخیر والی آیات بیان کی ہیں جس میں یہ آیت مبارک بھی مذکور ہے تو اب بمقابلہ اتنے معتبر مفسرین کے مرزا قادیانی کے شذوذ کا کیا اعتبار ہے؟ یہاں مختصر ذکر ہے اور کتاب ”تصدیق المرام بتکذیب قادیانی ولیکھرام“ میں اس کو بقدر ضرورت بسط سے لکھا ہے۔
قولہ...... اور صحیح بخاری کی کتاب التفسیر کے صفحہ ٤٦٥ میں یہ حدیث ابن عباس سے آئی ہے یعنی قیامت کے دن بعض لوگ میری امت میں سے آگ کی طرف لائے جائیں گے تب میں کہوں گا اے میرے رب یہ تو میرے اصحاب ہیں تب کہا جائے گا کہ تجھے ان کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کیے ہیں سو اس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندے نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے، جبکہ اس کو پوچھا گیا تھا کہ تو نے یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو اور وہ بات جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا یہ ہے کہ میں جب تک ان پر تھا ان پر گواہ تھا لیکن فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم یعنی پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس وقت تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ رسولؐ نے اپنے حق میں اور نیز عیسیٰؑ کے حق میں کلمہ فلما توفیتنی کو استعمال فرمایا پس جبکہ رسولؐ وفات یافتہ سمجھے جاتے ہیں تو پھر کیا سبب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ تصور نہ کیا جائے انتہی بلفظہ۔
اقول...... صحیح بخاری کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ وانہ یجاء برجال من امتی فیؤخذبہم ذات الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال انک لا تدری ما
احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم.
(بخاری ج ٢ ص ٦٦٥ باب قولہ وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم الخ)
پس قطع نظر اس سے جو اس حدیث میں مرزا اور مرزائیوں نے تصرف بیجا کیا ہے یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرتؐ وعلیٰ اخوانہ وعترتہ و سلم نے وفات یافتہ تصور فرمایا ہے؟ حاشا وکلا! اس حدیث سے تو صرف اتنا ہی ثابت ہے کہ جیسا حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام قیامت کو یہ عذر کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا ان سے خبردار تھا ویسا ہی سرور عالمؐ مرتدوں کے بارہ میں یہی عذر پیش کریں گے پس اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فی الحال وفات یافتہ ثابت کرنا ہٹ دھرمی ہے۔ پھر آنحضرتؐ اور حضرت عیسیٰؑ کے درود کو اختصار کرنا کمال بے سعادتی ہے جو اپنے محل پر مبین ہے اور فقیر نے رسالہ ”تصریح البحث فرید کوٹ“ میں اس کا مکرر ذکر کیا ہے۔
قولہ...... اور امام شعرانیؒ کتاب الیواقیت والجواہر کے صفحہ ١٧٤ میں یہ حدیث لکھتے ہیں۔ لو کان عیسیٰ و موسیٰ حیین ما وسعھما الا اتباعی یعنی حضرت نے فرمایا کہ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ و موسیٰ دونوں زندہ ہوتے تو نہیں جائز ہوتا ان کو مگر اتباع میرا۔ اور مرزا جی نے جو صفحہ ١١١ رسالہ انجام آتھم میں آنحضرتؐ کا حضرت عیسیٰؑ کی موت سے خبر دینا لکھا ہے تو یہی حدیث الیواقیت والجواہر کی مراد رکھی ہے۔
اقول...... فقیر جب بمقام لاہور شعبان میں مرزا قادیانی کے مباہلہ کے انتظار میں تھا تو شب برأت میں مولوی بغدادی صاحب کے گھر میں دو ایک نوجوان مرزائیوں نے یہ حدیث یواقیت والی فقیر کے رو برو پڑھی تھی جس کے جواب میں کہا گیا تھا کہ اس ”حدیث میں صرف حضرت موسیٰؑ“ کا نام ہے حضرت عیسیٰؑ کا نہیں ہے، اگر یواقیت میں حضرت عیسیٰؑ کا نام درج ہے تو اس کی تصدیق میں کسی حدیث کی کتاب میں دکھلا دو؟ اس پر وہ بولے کہ ہم مشکوٰۃ سے دکھا دیں گے تب فقیر نے کہا کہ اگر مشکوٰۃ کی حدیث میں موسیٰؑ کے ساتھ عیسیٰؑ کا لفظ دکھا دو؟ تو آپ کو ایک سو روپیہ انعام ملے گا ورنہ وزیر خاں کی مسجد کے چوک میں بٹھلا کر آپ کو ایک سو جوتا لگے گا کہ ایسی موضوع حدیث بیان کرتے ہو؟ تب انھوں نے تین دن میں مشکوٰۃ سے حدیث کے دکھلانے کا وعدہ کر کے پھر اخیر شعبان تک شکل نہ دکھلائی۔ سو اب اس اشتہار میں یہ حدیث درج پائی اور یواقیت قلمی کے ١٥٢ ورقہ کے دوسرے صفحہ کی سطر ٥ میں یوں نکلی لو کان موسیٰ و
١٢
عیسیٰ حیین ما وسعهما الا اتباعی جس سے پایا گیا کہ سہواً کاتب سے موسیٰ کے پیچھے عیسیٰ کا لفظ لکھا گیا تھا جس میں مرزائیوں نے تقدیم و تاخیر کی تحریف کر کے اپنی سند بنالی ہے دلیل اس غلطی کاتب کی یہ ہے کہ ١٣ سطر اوپر اس سے اسی یواقیت والجواہر قلمی و مطبوعہ میں بذیل باب ٣٣٧ فتوحات مکیہ کے یہی حدیث بلفظ لو کان موسٰی حیا ما وسعه الا ان یتبعنی درج ہے اور مشکوٰۃ کے (باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ کی فصل ٢ و ٣ ص ٣٠) میں دو جگہ یہ حدیث درج ہے۔ جس میں عیسیٰ کا لفظ نہیں ہے پہلی جگہ مسند امام احمد و شعب الایمان بیہقی سے یوں ہے۔ ولو کان موسٰی حیا ما وسعه الا ان یتبعنی. (مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٧۔ شعب الایمان للبیہقی ج ١ ص ٢٠٠ حدیث نمبر ١٧٧ باب ذکر حدیث جمع القرآن) دوسری جگہ سنن دارمی سے یوں ہے ولو کان موسٰی حیا و ادرک نبوتی لا تبعنی اور اگر موسیٰ زندہ ہوتا اور میری نبوت کو پاتا تو میری اتباع ہی کرتا۔ (سنن دارمی ج ١ ص ١١٦ باب فی الحدیث عن الثقات) کیونکہ تورات میں سے نقل کرنے اور پڑھنے کے ذکر میں حضرت عیسیٰ کو کیا تعلق تھا؟ یواقیت کے دوسرے موقعہ پر جو لفظ عیسیٰ کا درج ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اوپر یہ بیان ہے کہ سارے نبی آنحضرتؐ کے نائب ہیں حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک، تو اب اس کے نیچے اس حدیث میں بھی کاتب نے از خود موسیٰ کے لفظ سے پیچھے عیسیٰ کا لفظ درج کر دیا جیسے کہ کسی ایسے٢ کاتب نے قرآن مجید کی آیت وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا کو وَخَرَّ عِیْسٰی صَعِقًا بنا دیا تھا۔ ہر چند یہ یقینی امر تھا کہ غلطی کاتب کی قلمی میں ہو گئی جس سے مطبوعہ میں بھی درج ہو گیا کہ پورا عالم تصحیح کرنے والا نہ تھا۔ مگر تاہم جب اس حدیث کے اوپر کا مضمون دسویں باب فتوحات مکیہ سے یواقیت میں منقول ہے تو فتوحات کے دسویں باب سے جب دیکھا تو اس میں یوں درج پایا۔ فکانت الانبیاء فی العالم نوابه ﷺ من ادم الی اخر الرسل وهو عیسٰی علیه السلام وقد ابان ﷺ عن هذا المقام بامور منها قوله لو کان موسٰی حیا ما وسعه الا ان یتبعنی وقوله فی نزول عیسٰی ابن مریم انه یؤمنا ای یحکم
١۔ حضرت عمرؓ کے تورات سے نقل کرنے اور کچھ پڑھنے پر آنحضرتؐ نے ناراضگی سے ارشاد فرمایا کہ باوجود اس شرع غرا کے تم کیوں تورات کی طرف جاتے ہو حالانکہ صاحب تورات اگر زندہ ہوتا میری اتباع کرتا۔ ١٢
٢۔ یعنی قرآن مجید کی آیت وخرموسیٰ کو دیکھ کر کاتب نے خیال کیا کہ خر تو عیسیٰ کا تھا خرموسیٰ غلط ہے خر عیسیٰ چاہیے اس لیے خرعیسیٰ لکھ دیا تھا۔
١٣
بسنة نبينا عليه السلام و يكسر الصليب و يقتل الخنزير الخ. پس تمام نبی جہان میں آنحضرتؐ کے نائب ہیں حضرت آدم سے اخیر انبیاء حضرت عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام تک اور آپؐ نے بھی اس مقام سے خبر دی ہے چنانچہ حدیث اگر موسیٰؑ زندہ ہوتا تو میری اتباع ہی کرتا اور یہ حدیث کہ عیسیٰؑ بن مریم جب آسمان سے اتریں گے تو شرع محمدی پر حکم کریں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔
(دیکھو فتوحات مکیہ ج ١ ص ١٣٥۔ باب العاشر)
اس سے دو فائدے حاصل ہوئے ایک عین الیقین ہو گیا کہ عیسیٰ کا لفظ کاتب کی غلطی سے ہے دوسرا یہ کہ مرزا قادیانی کے مستند عارف شعرانی اور شیخ اکبر ابن عربی قدس سرہما اس کے معتقد ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام اسی جسد عنصری سے آسمان پر ہیں اور قریب قیامت کے زمین پر اتر کر شرع محمدی پر عمل و حکم کریں گے جیسا کہ اس امر کو عنقریب یواقیت والجواہر و فتوحات مکیہ سے مفصل ذکر کروں گا اور نیز اس جگہ بھی یواقیت میں اسی حدیث کے پیچھے چھٹی سطر میں لکھا ہے۔ "ومما يشهد لكون الانبياء نوابا له ﷺ كون عيسے عليه السلام اذا انزل كان له با لا صالة لما كان يحكم اذا انزل الى الارض الایہ۔ (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٢٢ بحث ٣٢) (یعنی تمام انبیاء کے آنحضرتؐ کے نائب ہونے پر یہ بھی شہادت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو آپؐ کی شریعت پر ہی حکم کریں گے۔) پس مرزا اور مرزائیوں کی دھوکہ بازی بالکل باطل ہو گئی۔ ؎ عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد۔ خمیر مایہ دکان شیشہ گر سنگ ست۔ سخت افسوس تو یہ ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کو اپنی کم علمی اور دھوکہ دہی پر اس قدر غرور ہے کہ جان چکے ہیں کہ دنیا میں کوئی محقق عالم موجود نہیں کہ ان کی پردہ دری کرے گا؟ حاشا وکلا! ابھی خدا کے بندے موجود ہیں اور یہ فقیر کان اللہ لہ تو اسی کام کے واسطے پیدا ہوا ہے کہ ایسے ناحق پرستوں کی دھوکہ دہی سے اپنے مسلمان بھائیوں کی حفاظت کر کے سرخروئی دارین حاصل کرے۔ اس سفر لدھیانہ میں بھی یہ دونوں کتابیں موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
قولہ ...... اور کتاب مجمع بحار الانوار جو ایک معتبر اہل حدیث کی کتاب میں لکھا ہے وقال مالک ان عیسیٰ مات یعنی امام مالکؒ نے کہا کہ عیسیٰ مر گیا ہے۔ اور نیز خود مرزا نے لکھا ہے کہ ”امام مالکؒ جو جلیل الشان اماموں سے ہے معتقد موت عیسیٰ کا ہے اور ایسا ہی بہت سے صالحین اس مذہب پر ہیں۔ (انجام آتھم ص ٨٦ خزائن ج ١١ ص ایضاً)۔
١٤
اقول...... اس جگہ بھی مرزا اور مرزائی اپنی دھوکہ دہی سے باز نہ آئے مجمع بحار الانوار میں یوں لکھا ہے وفيه ينزل حكماً اى حاكماً بهذه الشريعة لا نبياً و الاكثر ان عيسٰى عليه السلام لم يمت وقال مالک مات وهو ابن ثلث و ثلثين سنة ولعله اراد رفعه الى السماء او حقيقة و يحيى اخر الزمان لتواتر خبر النزول۔ (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٥٣٤ بلفظ حکم)۔ اب دیکھو کہ اسی مجمع بحار الانوار کے اسی حوالہ کے مقام سے صاف درج ہے کہ اکثر علماء کا مذہب یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور مالک قائل ہے کہ آپ تینتیس برس کی عمر میں فوت ہوئے اور امید ہے کہ مراد اس موت سے آسمان پر اٹھائے جانے کی ہے یا حقیقت موت مراد ہو اور قریب قیامت آپ زندہ ہوں کیونکہ آپ کے نزول کی حدیث متواتر ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی اور مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اس عبارت سے آپکو کیونکر یقین ہوا کہ مالک سے مراد امام مالک بن انسؒ ہیں؟ دیکھو قاموس میں لکھا ہے کہ نوے صحابی مالک کے نام سے موسوم تھے اور ایک جماعت محدثین کی بھی اس نام سے نامزد ہے۔ اور مالک بن انس امام مدینہ ہیں۔ مترجماً اور تقریب التہذیب میں اکتالیس شخص مالک کے نام والے محدث لکھے ہیں۔ پس مرزا اور مرزائیوں کی یہ سخت دھوکہ دہی ہے کہ امام مالکؒ کو قائل موت حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام بنا دیا ہے امام مالک بن انسؒ کی جب خود کتاب موجود ہے تو اس سے اس مطلب کو ثابت کرنا لازم ہے البتہ واقعی تحقیق دینداروں کا کام ہے اور دھوکہ باز دین اسلام کو خراب کرنے والے اور مسلمانوں کو مرتد بنانے والے سچی بات پر کیونکر قائل ہو سکتے ہیں؟ خدا تعالیٰ ہی اپنے دین کا اس سخت غربت کی حالت میں حافظ و ناصر ہو۔ اللهم تقبل منى انك انت السميع العليم. پھر یہ کس قدر مرزا کا بہتان عظیم ہے کہ بہت سے صالحین حضرت عیسیٰؑ کی موت کے معتقد ہیں کسی اور سند سے اس کی تکذیب کی کیا حاجت ہے؟ جب خود ان کی کمال معتمد کتاب مجمع بحار الانوار میں ہی درج ہے کہ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰؑ فوت نہیں ہوئے کما مرنقله تو اب اس جگہ یاد رہے کہ آنحضرتؐ کا ارشاد اتبعوا السواد الاعظم فانه من شذ شذ فی النار۔ (مشکوٰۃ ص ٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) (اتباع کرو بہت صالحین کی جو ان سے کٹے گا دوزخ میں پڑے گا) جس کو مرزا قادیانی نے بھی حدیث مان کر حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام پر اپنی کج فہمی سے یہ فتویٰ (یعنی بہت صالحین سے نکل کر دوزخی ہونے کا) لگا رہے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٥٧٩ خزائن ج ٣ ص ٤١٣) اور یہ نہیں جانتے کہ فی الحقیقت مرزا اور مرزائی اکثر علماء کی مخالفت سے دوزخ میں اوندھے ہو کر گرے پڑے
١٥
ہیں ۔ نعوذ باللہ من ذالک، اس جگہ مناسب ہے نقل کرنا اس شہادت کا جو بعضے ذی علم مسلمانان قصور و لاہور نے بعد دیکھنے کتاب یواقیت والجواہر اور فتوحات مکیہ اور مجمع بحار الانوار اور قاموس و تقریب التہذیب کے ادا کی ہے اور وہ یہ ہے۔ راقم نے ان کتابوں کو دیکھا جس کا ذکر اشتہار مرزا حکیم رحمت اللہ وغیرہ میں درج ہے اگر یہ کتابیں نہ دیکھی جاتیں تو عبارت اشتہار مذکور نے سخت دھوکہ دیا تھا مگر دروغ کو کہاں تک فروغ ہو، ایسے اشتہار کیوں مشتہرین کی ندامت کا وسیلہ نہیں ہوتے العبد حکیم غلام محمد خان ڈپٹی انسپکٹر پنشنر ساکن قصور بقلم خود۔ العبد عبدالقادر وکیل بقلم خود۔ العبد حافظ وہاب الدین مدرس عربی قصور بقلم خود۔ العبد فضل الدین مدرس فارسی قصور بقلم خود۔ العبد حافظ سید محمد عبدالحق قصوری بقلم خود۔ العبد منشی غلام حسین خان میونسپل کمشنر قصور۔ العبد حافظ عبداللہ معروف گورا میونسپل کمشنر قصور۔ العبد بابو گل محمد لاہوری بقلم خود۔ العبد غلام نبی ملازم سول و ملٹری گزٹ پریس لاہور بقلم خود۔ العبد نبی بخش مصنف تفسیر حلوائی بقلم خود۔ العبد فضل الٰہی طالب علم دینیات مدرسہ نعمانیہ لاہور۔ العبد خواجہ جھنڈو وائیں بقلم گل محمد۔“ اب یہاں پر یہ بھی واجب ہے کہ یواقیت والجواہر اور مجمع بحار الانوار دونوں مقبولہ و معتقدہ کتاب مرزائیوں سے ان کے عقیدہ وفات حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام اور مرزا کے مسیح موعود ہونے کی واقعی تردید لکھی جاوے کہ یہ بہ نسبت دوسری دینی کتابوں کے ان پر بہت موثر اور ان کی تکذیب کے لیے کافی ہے اور وہ یہ ہے کہ یواقیت والجواہر کے مبحث ١ میں لکھتے ہیں کہ تمام قیامت کی شرطیں جن کی سرور عالمؐ نے خبریں دی ہیں وہ قیامت کے پہلے ضرور ہی واقع ہوں گی جیسا کہ حضرت مہدیؑ کا تشریف لانا پھر دجال کا آنا پھر حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کا نزول فرمانا الخ۔ پھر اسی یواقیت میں فتوحات مکیہ کے ٢
١ المبحث الخامس والستون فی بیان ان جمیع اشراط الساعۃ التی اخبر بھا الشارع ﷺ حق لابد ان تقع قبل قیام الساعۃ و ذلک کخروج المہدی ثم الدجال ثم نزول عیسیٰ الخ۔ (الیواقیت و الجواہر ج ٢ ص ١٤٢ بحث ٦٥)
٢ قال الشیخ فی الباب السادس والستین و ثلثمایۃ من الفتوحات و اعلم انہ لابد من خروج المہدی علیہ السلام لکن لا یخرج حتی تمتلی الارض جوراً و ظلماً فیملاھا قسطاً و عدلاً ولولم یکن من الدنیا الا یوم واحد لطول اللہ ذلک الیوم حتی یلی ذلک الخلیفۃ وھو من عترۃ رسول اللہ ﷺ من ولد فاطمۃ ....... ثم قال واعلم ان المہدی اذا خرج یفرح بہ جمیع المسلمین خاصتھم و عامتھم ولہ رجال الہیون یقیمون دعوتہ و ینصرونہ وھم الوزراء لہ یتحملون اثقال المملکۃ و یعینونہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٦
٣٦٦ باب سے یہ نقل کیا ہے اور یقین کرو کہ حضرت مہدی ضرور ہی آئیں گے لیکن تب جب ساری زمین جور و ظلم سے پُر ہو جائے گی تو آپ اس کو انصاف و عدل سے بھر دیں گے اور اگر دنیا سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ ایسا لمبا کر دے گا کہ مہدی کی حکومت ہو جائے گی اور وہ آنحضرت کی ذریت بنی فاطمہ سے ہوگا...... اور جان لے کہ حضرت مہدی تشریف لاویں گے تو سب مسلمان خاص و عام خوش ہو جائیں گے اور آپ کے ساتھ خدائی بندے ہوں گے۔ جو آپ کی دعوت کو قائم کریں گے اور آپ کی مدد فرمائیں گے وہ آپ کے وزیر ہوں گے جو آپ کی بادشاہت کے کاروبار میں مدد گار و خدمتگار ہوں گے تب حضرت عیسیٰ علیٰ نبیّنا و علیہ السلام آپ پر اتریں گے سفید منارۂ شرقی دمشق سے دو فرشتوں کے اوپر تکیہ کیے ہوئے ایک فرشتہ آپ کے دائیں ہو گا دوسرا بائیں اور لوگ عصر کی نماز کے پڑھنے کے فکر میں ہوں گے تو حضرت مہدی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام، شرع اسلام کے مطابق فیصلے کرائیں گے صلیب کو توڑیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے۔) پھر حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے بعد آپکے وقت وفات اور کیفیت وفات کا حال فتوحات مکیہ کے باب تین سو چھہتر سے بیان کر کے پھر لکھا ہے کہ (حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی دلیل آیت قرآنی ١؎ وان من اهل الکتب
(بقیہ حاشیہ ٢ سابقہ صفحہ) علی ما قلده تعالى له ينزل عيسى ابن مريم عليه السلام بالمنارة البيضا شرقى دمشق متكئاً على ملكين ملكاً من يمينه و ملكا عن يساره والناس فى صلوة العصر فيتنحى له الامام عن مقامه فيتقدم فيصلى بالناس يوم الناس بسنت محمد ﷺ يكسر الصليب و يقتل الخنزير الخ...... فان قيل فما الدليل على نزول عيسى من القران فالجواب الدليل على نزوله قوله تعالى و ان من اهل الكتب الاليؤمنن به قبل موته حين ينزل يجتمعون عليه وانكرت الفلاسفة والمعتزلة واليهود والنصارى عروجه بجسده الى السماء قال تعالى فى عيسى عليه السلام وانه لعلم الساعه...... معناه ان نزولة علامة القيامة و فى الحديث فى صفة الدجال فبينما هم فى الصلوة اذ بعث الله المسيح ابن مريم...... فقد ثبت نزولہ بالكتاب والسنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولا هوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان به واجب قال تعالى بل رفعه الله اليه (یواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٣ تا ١٤٦)
١؎ اس آیت کے فائدے میں موضح القرآن میں لکھا ہے حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہو گا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصارٰی ان پر ایمان لاویں گے کہ یہ نہ مرے تھے ۔ وان من اهل الکتب الالیؤمنن بہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام وانہ عبدالله ورسوله و روحه و كلمته هذا قول ابن عباس و اكثر المفسرین ١٢ تفسیر خازن (ج ١ ص ٤٤٨ زیر آیت وان من اهل الکتب)
١٧
الا لیومنن بہ قبل موتہ (اور کوئی اہل کتاب سے نہیں مگر عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لاویں گے) لکھ کر کہا ہے کہ فلاسفہ اور معتزلہ اور یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنے کے منکر ہیں حالانکہ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ یعنی عیسیٰؑ قیامت کی علامت ہے یعنی ان کا اترنا آسمان سے قیامت کی نشانی ہے اور حدیث صفت دجال میں واقع ہے کہ جب حضرت مہدی اور آپ کے رفقاء نماز کی فکر میں ہوں گے تو ناگہاں حق تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو بھیج دے گا جو سفید منارہ شرقی دمشق کے پاس سے آسمان سے اتریں گے۔...... پس تحقیق حضرت مسیح کا آسمان سے اترنا قرآن و حدیث کی دلیل سے ثابت ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ آپ کا جسم پھانسی دیا گیا تھا اور روح آسمان پر چڑھ گیا تھا اور حق یہ ہے کہ حضرت مسیح اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا واجب ہے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ ١؎ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی حضرت عیسیٰ کو نہ کسی نے مارا ہے نہ سولی پر چڑھایا ہے بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھایا ہے یہ ترجمہ ہے عبارت یواقیت والجواہر کا فتوحات مکیہ کی نقل سے اور اصل عبارت جیسا کہ اوپر مرقوم ہے اور اس امر کو بھی یواقیت والجواہر و فتوحات مکیہ میں بخوبی ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر تسبیحات و تہلیلات کی غذا سے زندہ ہیں جیسے کہ فرشتے اور آپ کو روح اللہ ہونے کی وجہ سے فرشتوں سے کمال مشابہت تھی (یواقیت والجواہر قلمی کے ورق ٢٤١ سے ٢٤٤ تک میں دیکھو) اور واضح رہے کہ امام شعرانیؒ و شیخ اکبرؒ مرزا قادیانی کے کمال معتقد فیہما ہیں جن سے ازالہ اوہام وغیرہ میں سند لی ہے اور ان پر مرزا کا یہ اعتقاد ہے کہ ”یہ آنحضرتؐ سے حدیثوں کی صحت دریافت کر لیتے ہیں“ ازالہ اوہام کے صفحہ ١٤٩ سے ١٥٢ تک دیکھو (خزائن ج ٣ ص ١٧٦ تا ١٧٧) پس جب ان دونوں حضرات مستند مرزا نے صاف فرما دیا کہ حضرت مسیح کا اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا اور پھر قریب قیامت کے زمین پر آنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر ایمان واجب ہے اور منکر اس کے یہود و نصاریٰ و فلاسفہ و معتزلہ ہیں تو اب مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو یہود و نصاریٰ و غیرہما سے نکل کر مسلمانوں میں داخل ہونا
١؎ وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ والمعنی وما قتلوا المسیح یقینا کما ادعوا انہم قتلوہ و قیل ان قولہ یقینا یرجع الی ما بعدہ تقدیرہ وما قتلوہ بل رفعہ اللہ الیہ یقینا والمعنی انہم لم یقتلوا عیسیٰ ولم یصلبوہ ولکن اللہ عز وجل رفعہ الیہ وطہرہ من الذین کفروا و خلصہ من اراد بسوء وقد تقدم کیف کان رفعہ فی سورۃ ال عمران (تفسیر خازن ج ١ ص ٤٢٨)
١٨
منظور ہے تو توبہ نصوح کے اشتہار شائع کریں اور حضرت مہدی و مسیح کے ایک ہونے اور حضرت مسیح کی موت کے اعتقاد سے سچی توبہ کر کے اشتہار دیں ورنہ بموجب شہادت اپنے کمال معتمد فیہ امام شعرانی و شیخ اکبر قدس سرہما کے خسر الدنیا والآخرۃ ہو چکے ہیں۔ من آنچہ شرط بلاغست با تو میگویم۔ تو خواہ پند ازاں در پذیر و خواہ ملال۔ اب سنیے مجمع بحار الانوار کی شہادت جو دوسری مرزا اور مرزائیوں کی نہایت مستند کتاب ہے اس میں لفظ ہدیٰ کے معنی میں لکھتے ہیں کہ (حضرت مہدی اسی سے نام رکھے گئے ہیں جن کی
١ وبہ سمی المھدی الذی بشر ﷺ بمجیئہ فی اخر الزمان من یرید بہ المھدی الذی یجتمع مع عیسیٰ علیہ السلام و یفتح القسطنطنیہ و یملک العرب والعجم و یقتل الدجال و غیر ذلک مما وردبہ الاخبار (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ١٥٧) ومنہ مھدی آخر الزمان ای الذی فی زمن عیسیٰ علیہ السلام و یصلی معہ و یقتلان الدجال ویفتح القسطنطنیہ و یملک العرب والعجم ویملأ الارض عدلا و قسطاً و یولد بالمدینۃ ویکون بیعتہ بین الرکن والمقام کرهاً علیہ و یقاتل السفیانی و یلجاء الیہ ملوک الھند مغلغلین الی غیر ذلک و اقل حیاءً و اسخف عقلاً و اجھل دیناً و دیانتاً قوم اتخذوا دینھم لھواً و لعباً کلعب الصبیان بالخزف والحصی فیجعل بعضھا اسیراً و بعضھا سلطاناً و منھا فیلاً و افراساً و جنوداً فھکذا ھولاء المجنونون جعلوا واحداً من غرباء المسافرین مھدیا بدعواہ الکاذبۃ بلاسند و شبھۃ جاھلاً متجھلاً بلاخفاء لم یشم نفحۃ من علوم الدین والحقیقۃ فضلاً من فنون الادب یفسر لھم معانی الکلام الربانی و یتبوء مقاعد فی النار و یسفھم بالاحتجاج بایات المثانی بحسب مایا ولھالھم فیما شرع لھم عن عقائد ظھر فسادھا عند الصبیان واذا اقیم الحجۃ النبویۃ الدالۃ علی شروط المھدی یقول غیر صحیح ویبطل بان کل حدیث یوافق اوصافہ فھو صحیح وما یخالفہ فغیر صحیح و یقول ان مفتاح الایمان بیدی فکل من یصدقنی بالمھدویۃ فھو مومن ومن ینکرھا فکافر و یفضل ولایتہ علی نبوۃ سید الانبیاء و ینسبہ الی اللّٰہ عزوجل و یستحل قتل العلماء و اخذ الجزیۃ و غیر ذلک من خرافاتھم و یسمون واحداً ابابکر الصدیق واخر بعمر و بعضھم المھاجرین والانصار و عائشہ و فاطمۃ و غیر ذلک و بعض اتباعھم جعلوا شخصاً من السند عیسی فھل ھو الا لعب الشیطان لولا ان لزمھم من الخلود فی العذاب السرمد والنیران وکانوا علی ذلک مدداً کثیراً و قتلوا فی ذلک من العلماء عدیداً الی ان سلط اللّٰہ علیھم جنوداً لم یروھا فاجلی (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر) ١٩
آنحضرتؐ نے بشارت دی ہے کہ آخر زمانہ میں تشریف لاویں گے اور یہ وہ مہدی ہیں جو حضرت عیسیٰؑ سے مل کر قسطنطنیہ کو فتح کریں گے اور عرب و عجم کے بادشاہ ہوں گے اور دجال وغیرہ کو قتل کریں گے جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہوا ہے) پھر اسی مجمع بحار الانوار کے خاتمہ میں فرماتے ہیں کہ (حضرت مہدیؑ اور حضرت عیسیٰؑ باہم نماز پڑھیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور قسطنطنیہ کو فتح کر کے عرب و عجم کے بادشاہ بن جائیں گے اور زمین کو انصاف سے بھر دیں گے مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اور بیت اللہ کے طواف میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان بااکراہ آپ سے بیعت ہو گی اور ہند کے بادشاہ آپ کی طرف ملتجی ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور سخت بے حیا اور نہایت کم عقل اور دین کے بالکل جاہل ہیں وہ لوگ جنھوں نے دین کو لہو و لعب بنا لیا ہے جیسے اطفال خرد سال مٹی سے کوئی بادشاہ کوئی امیر کوئی ہاتھی کوئی گھوڑا کوئی لشکر بنا لیتے ہیں ایسا ہی ان دیوانوں نے ایک غریب مسافر کو اس کے جھوٹے دعویٰ پر مہدی موعود مان لیا جس پر کوئی بھی دلیل نہیں ہے اور بالکل نادان ہے دینی علوم سے اس کو بو تک نہیں پہنچی چہ جائیکہ فنون ادب سے واقف ہو اپنی رائے سے آیات قرآنی کے معانی کر کے دوزخ میں جگہ بنا رہا ہے اور اپنے عقائد پر جن کا فساد اطفال مکتب پر ظاہر ہے آیات قرآنی کو مؤول کر کے دلیل لا رہا ہے۔ جب دلائل شرعیہ احادیث نبویہ سے جس میں مہدی کی شرطیں ہیں اس پر قائم کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہیں اور اس کا ادّعا یہ ہے کہ جو احادیث میرے اوصاف سے موافق وہ صحیح ہیں۔ جو اس کے مخالف ہیں وہ غیر صحیح ہیں ایمان کی تالی میرے ہاتھ میں ہے جس نے میری تصدیق کی وہ مومن ہے اور میرا منکر کافر ہے اور مخبر صادقؐ پر اپنی فضیلت ثابت کر کے اس کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور علماء کے قتل کو حلال جانتا ہے اور جزیہ کا لینا وغیرہ اس کی خرافات سے ہے کسی کا نام ابوبکر کسی کا کچھ اور بعضے مہاجرین و انصار و عائشہ و فاطمہ وغیرہ ذلک رکھا ہے اور بعضے ان کے نادانوں نے ایک شخص سندھی کو عیسیٰ بنا دیا پس یہ بالکل شیطانی کھیل ہے اور ہمیشہ کے عذاب دوزخ کا لزوم ہے بہت مدت تک اس حالت میں رہے اور کئی علماء دین کو قتل کیا حتیٰ کہ حق تعالیٰ نے ان پر غیبی لشکر بھیج دیا۔ جس نے اکثر جلا وطن اور بہتوں کو قتل اور بعضوں
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) اکثره و قتل كثيراً و تاب اخرون توبة و قہراً ولعل ذلک بسعی هذا المذنب الحقير و استجابة لدعوة الفقير واللّٰه الموفق لكل خير فالحمد للّٰه الذى بنعمته تتم الصالحات (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٢٧٥ تکملہ)
٢٠
کو تائب کرایا اور امید ہے کہ اس گنہگار حقیر کی کوشش اور اس فقیر کی دعا کی قبولیت سے یہ ہوا ہو اور خدا ہی توفیق خیر دینے والا اور تمام حمد باری تعالیٰ کے لیے ہے جس کی نعمت سے اعمال نیک پورے ہوتے ہیں۔) یہ ترجمہ ہے عبارت مجمع بحار الانوار کا اور اصل عبارت بھی منقول ہے جس سے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا قدم بقدم ہونا پہلے کاذب مہدی وجعلی مسیح سے ثابت ہوکر ان کے دعویٰ مہدویت و مسیحیت کی بواقعی تردید و بطالت متحقق ہوگئی۔ اللھم یا ذالجلال والاکرام یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا ویسا ہی دعا والتجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین انک علی کل شی قدیر و بالاجابۃ جدیر آمین۔ ہر چند اب دوسرے ہفوات ان مشتہرین کے رد کی کچھ حاجت نہیں رہی ابن قیم وغیرہ تو مسلم الثبوت نہیں ہیں شاہ ولی اللہ محدثؒ پر نرا بہتان اگر ان کی کسی تصنیف کا حوالہ ہوتا تو ہم اس کی بھی حقیقت ظاہر کر کے مرزائیوں کی کج فہمی و دھوکہ دہی ثابت کر دکھاتے۔ مگر تفسیر حسینی کی سند کا جواب سن لو۔
قولہ...... اور تفسیر حسینی میں آیت فلما توفیتنی کی تفسیر میں لکھا ہے پس اس وقت کہ لیا تو نے مجھ کو یا مارا تو نے مجھ کو پس اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ صاحب تفسیر حسینی بھی حیات پر مصر نہیں بلکہ وفات کا قائل ہے‘‘
١؎ مجمع بحار الانوار کے جھوٹے مہدی اور جعلی عیسیٰ اور مرزا قادیانی کے ادّعا میں بہت وجوہ سے کمال مطابقت ہے صرف اتنا ہے کہ اس سے پیشتر مہدی اور عیسیٰ دو علیحدہ علیحدہ شخص تھے مرزا قادیانی نے سب کے برخلاف ان دونوں کو ایک بنا کر خود مہدی وعیسیٰ بن گئے پہلوں نے علماء دین کے قتل کرائے تھے مرزا کو یہ طاقت نہیں اس نے علماء کو مغلظہ گالیاں دیں اور یہود سیرت اور بے ایمان وغیرہا اپنی کتابوں میں لکھنا شروع کر دیا ہے اور اس پر جائے افسوس نہیں ہے جب یہ شخص مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جیسے انبیاء اولوالعزم کو فاحش گالیاں دینے سے نہیں شرماتا تو علماء دین اس کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ تبا لہ ولا بتلہ والاتباعہ
٢؎ (قائل کے لفظ کے نیچے دو نقطے یا کے لکھنے مرزائیوں کی سخت بے علمی کی دلیل ہے جس کا مختصر ذکر فقیر نے رسالہ ظہور اللمعہ کے اخیر درج کیا ہے۔)
٢١
اقول...... صاحب تفسیر حسینی کو قائل وفات حضرت مسیح کہنا محض افتراء پر دازی اور دھوکہ دینا ہے دیکھو تفسیر حسینی میں آیت وان من اهل الکتب الا ليؤمنن به قبل موتہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے تو سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور یقین کریں گے کہ وہ پیغمبر تھے۔ ”اور آیت وانه لعلم للساعة کے معنی میں لکھا ہے” بدرستیکہ عیسیٰ علیہ السلام علم است مر ساعت را یعنی بدو بدانند کہ نزدیک است قیامت چہ یکے کہ از علامات قیامت نزول عیسیٰ ست علیہ السلام کہ بعد از تسلط دجال از آسمان بر اہل زمین فرود آید نزدیک منارۂ بیضاء در طرف شرقی دمشق“ اب غور کرو کہ کیسا صاف صاف اسی تفسیر حسینی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور قریب قیامت آسمان سے اترنا ثابت ہے؟ جو عقیدہ اہل اسلام ہے اور فلما توفیتنی جو قیامت کو کہا جاوے گا اس کے معنی میں موت کے لفظ سے حضرت عیسیٰ کی فی الحال موت پر دلیل لانی سراسر کذب اور دھوکہ بازی ہے ہم اوپر تفسیر خازن وغیرہ سے نقل کر چکے ہیں کہ سوائے محمد بن مروان سدی صغیر کے جمیع مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ سوال و جواب جس میں فلما توفیتنی مذکور ہے قیامت کو ہو گا اور مجمع بحار الانوار مرزائیوں کی نہایت معتبر کتاب میں دیکھ لو کہ امام سیوطی کی سند سے سدی صغیر کے سلسلہ کو سلسلۂ کذب لکھا ہے ١؎ جس کی اصل اب رہا جواب اس کا جو اس اشتہار میں درج ہے کہ جب کسی مولوی سے بمقابلہ مرزا قادیانی کے وفات مسیح کے بارہ کچھ نہ بن پڑا تو مرزا پر فتویٰ کفر کا تیار کیا الخ سو یہ بھی نرا جھوٹ ہے کیونکہ مرزا کے پاس تو کوئی بھی دلیل شرعی نہیں ہے نہ مسئلہ وفات مسیح علیٰ نبینا و علیہ السلام۔ نہ اس کے مورد الہام ربانی ہونے کے بارہ میں جس کو اس امر پر یقین کرنا منظور ہو فقیر کے رسالہ ”رجم الشیاطین برد اغلوطات البراہین“ کا بغور مطالعہ کرے اور خود اسی تحریر میں دیکھ لو کہ اسی کی مقبولہ اور مستند کتابوں سے اس کی بواقعی تردید کر دی ہے کہ یواقیت والجواہر و فتوحات مکیہ و مجمع بحار الانوار سے ہی مرزا اور مرزائیوں کی بخوبی تغلیط و تکذیب ہو گئی ہے کسی دوسری دینی کتاب سے نقل کرنے کی حاجت ہی نہیں رہی۔ ورنہ تمام کتب عقائد اسلامیہ و کلامیہ اس کی تردید میں موجود ہیں
١ قال السيوطی و اوهی طرق تفسیر ابن عباس طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس
فاذا انضم الیہ محمد بن مروان السدی الصغیر فهی سلسلة الکذب (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٢٣١ تعیین بعض الوضاع کتبهم)
٢٢
اور واقعہ تکفیر مرزا قادیانی کو ہم عنقریب مدلل بیان کرتے ہیں اس جگہ اتنا اور بھی سن لو کہ جو اس اشتہار میں بسند مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ امام ربانی مرزا کی تائید کی ہے اور نیز خود مرزا قادیانی نے اپنے ازالہ اوہام (ص ٩١٥ خزائن ٣ ص ٦٠٠/٦٠١) میں ان کے مکتوبات سے اپنی تائید چاہی ہے سو یہ بھی محض دھوکہ دیا ہے اولاً تو یہ مکتوبات کیا کسی بھی دینی کتاب وغیرہ میں درج نہیں ہے کہ علماء دین حضرت مہدی یا حضرت مسیح کی تکفیر کریں گے۔ ثانیاً حضرت مجددؒ مکتوبات کی جلد ثانی میں افادہ فرماتے ہیں۔ ”علامات قیامت کہ مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام ازاں خبر دادہ است حق است احتمال تخلف ندارد کہ طلوع آفتاب از جانب مغرب و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان و نزول حضرت روح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ السلام و خروج دجال“ الخ ....... پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ اہل ہند سے مہدی کا ہونا جھوٹ ہے اور احادیث صحیحہ جو بحد شہرت بلکہ بحد تواتر پہنچی ہیں ان سے علامت مہدی کی اہلبیت نبوت سے ان کا ہونا اور ان کے باپ کا نام موافق آنحضرتؐ کے ہونا ثابت ہے۔ اور حضرت عیسیٰؑ ان کے زمانہ میں اتریں گے اور نیز ان کے ظہور سلطنت کے زمانہ میں چودہ رمضان کو سورج گرہن ہونا اور ابتدا میں چاند گرہن ہونا برخلاف عادت زمانہ اور برخلاف حساب منجمین کے وارد ہے۔ (مکتوبات امام ربانی دفتر دوم ص ١٨٩ تا ١٩١ مکتوب نمبر ٦٧) اب دیکھو کہ بسند مکتوبات حضرت قدس سرہ امام ربانی کے مرزا قادیانی کے ادّعاء مہدویت و مسیحیت کا سارا دفتر گاؤ خورد ہو گیا ہے اور یہ دعویٰ بھی جو سال گزشتہ رمضان شریف میں خسوف وکسوف معمولی کو اپنے ظہور کی دلیل بنا کر نامے کے نامے سیاہ کر دیئے تھے وہ سب کے سب باطل ہو گئے والحمد للہ علی ذلک، پھر یہ جو اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ مکفرین مرزا قادیانی کے باہم ایک دوسرے کی تکفیر کر رہے ہیں تو ان کا کیا اعتبار ہے، سو اولاً! تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقلدین و غیر مقلدین میں غالباً اختلاف جزئیات میں ہے جو موجب تکفیر ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔ ثانیاً! علماء عجم سے پہلے حضرات مفتیان حرمین محترمین نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی ہے جس کا مختصر ذکر ہم ابتدا اس تحریر کے تحریر کر چکے ہیں اور رسالہ رجم الشیاطین کے دیکھنے سے وہ تمام احوال مفصلاً معلوم ہو سکتے ہیں۔ رہا یہ جو اخیر صفحہ اس اشتہار مفقود التاریخ میں لکھا ہے کہ امام اعظمؒ علیہ السلام کے مذہب میں ننانوے وجہ کفر کی ہو اور ایک وجہ اسلام کی تو کافر لکھنا منع
١؎ حضرت امام اعظم کے نام کے پیچھے علیہ السلام لکھنا اگر مسخری سے ہے تو حق تعالیٰ منتقم کافی ہے ورنہ مرزائیوں کی سخت جہالت کی دلیل ہے۔
٢٣
ہے ۔ سو یہ بھی ان مرزائیوں کی دھوکہ بازی ہی ہے بندۂ خدا! مرزا قادیانی کی تکفیر اہل حق کے نزدیک دو سبب سے ہے۔ ایک! یہ کہ وہ مدعی نبوت و رسالت ہے دوم! انبیاء علیہم السلام کی اس نے سخت توہین کی ہے۔ دعوئیٰ نبوت کی ایک مثال تو اسی اشتہار کے صفحہ ٥ کے اخیر اور صفحہ ٦ کے ابتداء میں سورہ یٰسین مبارک کی آیت یا حسرۃً ١ علی العباد ما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزؤن یعنی کیا افسوس ہے بندوں پر کوئی رسول نہیں آیا ان کے پاس جس سے ٹھٹھا نہیں کرتے لکھی ہے، اب اس میں کیا شک ہے کہ مرزائیوں نے مرزا کو رسول بنا دیا اور علماء ربانییں کو جو مرزا کے مخالف ہیں رسول سے ٹھٹھا کرنے والے جان لیا ہے۔ اب آگے مرزا قادیانی کے دعویٰ رسالت و نبوت کا نمونہ ان کی کتابوں سے سنیئے۔ دعوئیٰ کیا ہے کہ آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ مرزا قادیانی کے حق میں پیشگوئی ہے۔ (چنانچہ ملاحظہ ہو۔ براہین احمدیہ ص ٢٢٢ و ٤٩٨ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٣٣٨ و ٥٩٣۔ ازالہ اوہام ص ١٩٢‘ ٦٧٥‘ ٦٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٩٣‘ ٤٦٤‘ ٥١٥۔ انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً) مرزا کے زمانہ سے پہلے اس پیشگوئی کا ظہور ممکن نہ تھا اور سیفی فتح (یعنی جو زمانہ نبوت و خلافت میں واقع ہوئی ہے) وہ کچھ چیز نہیں چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے سو وہ فتح اب مرزا کے زمانہ میں حاصل ٢ ہوئی ہے اور یہ پیشگوئی قرآن میں مرزا کے زمانہ کے لیے لکھی گئی ہے اور اس سے پہلے اس کے ظہور کا وقت ہرگز نہ تھا یہ حاصل مراد ہے ان مقامات محولہ کا جس کا جی چاہے غور سے تمام مقامات کو دل لگا کر دیکھے یا فقیر کے پاس آئے کہ عین الیقین کرا دوں کہ دعویٰ نبوت کے علاوہ آنحضرتؐ ٣ کے حق میں اس آیت مبارک کے نازل ہونے سے صریح انکار ہے جو یقیناً برحق رسول اور اس آیت کا
١ بے تمیزی یہ کہ حسرۃً موصول کو مفصول بصورت یا حسرۃً مفصول لکھ دیا ہے جو خلاف رسم قرآنی ہے البتہ جب خود مرزا کو یہ تمیز نہیں جیسا کہ اس نے یعیسے ء انت قلت الآیہ میں تین غلطی کی ہے جس کا اوپر ذکر گزرا ہے تو جب جعلی مسیح خود غلط کار ہے تو اس کے حواری غلطی کیوں نہ کریں گے نعوذ باللہ
٢ اور وہ یہ کہ اس مرزا کے مقابلہ میں عیسائیوں اور آریوں نے اپنی کتابوں اور اخباروں اور خطوں میں آنحضرت کو سخت ناشائستہ لفظوں اور مغلظ گالیوں سے یاد کیا ہے
٣ یہ بعضے مقامات مسلمانانِ لدھیانہ کو جمعہ کے وعظ میں دکھلائے گئے تھے جس پر مشہور تھا کہ کئی لوگ مرزا قادیانی سے منحرف ہو گئے ہیں۔ والحمد للہ علی ذلک
٢٤٤
مورد آپؐ ہی ہیں صلی اللہ علیہ وآلہ قدر فضلہ و کمالہ۔ پھر جمیع لوازم نبوت کو مرزا قادیانی نے اپنی محدثیت میں اپنے لیے ثابت کر لیا ہے زبانی دعویٰ نبوت جزئی کیا ہے مگر نبوت تامہ سے کوئی دقیقہ فروگزار نہیں چھوڑا ہے۔ (توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠) یہ کتابیں فقیر کے پاس اصل موجود ہیں جو چاہے دیکھ لے۔ پھر لکھا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے مجھ کو (مرزا) لفظ رسول و نبی و مرسل سے بار بار مخاطب کیا ہے اور میں (مرزا) ان کے ظاہر کرنے پر مامور ہوں“ (انجام آتھم ص ٢٧ خزائن ج ١١ ص ایضاً) اور اخیر میں جو یہ تاویل کی ہے کہ یہ الفاظ اپنے حقیقی معنی پر مستعمل نہیں ہیں تو یہ محض دھوکہ دہی عوام اہل اسلام اور ان کی زبان بندی ہے اس لیے کہ شرع اسلام میں ہرگز روا نہیں کہ کوئی رسول یا نبی ہونے کا خواہ مجازی معنی سے دعویٰ کرے اور اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول یا نبی یا مرسل کے لفظ سے بعد سرور خاتمؐ کے مخاطب فرما دے کہ یہ مناقض ہے حکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین لا نبوۃ ولا نبی بعدی کے جس سے ہر قسم اور ہر نوع نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے قابل غور یہ ہے کہ زمانہ اصلی محدث حضرت عمر فاروق ١؎ سے تیرہ سو برس سے زائد مدت تک حق تعالیٰ نے کسی کو بھی رسول و نبی و مرسل کے خطاب سے نہ فرمایا اب یہ مرزا قادیانی جو فی الحقیقۃ عبدالدنیا و بندۂ درہم ہیں کیونکر ان خطابات کے مورد ہو گئے؟ حاشا و کلا! اب ان دنوں ١٧ فروری ١٨٩٧ء کا مرزا قادیانی کا ایک اشتہار ہے کہ ”ہم کو مکان فراخ کرنے کا دوبارہ الہام ہوا ہے دو ہزار روپیہ جماعت مخلصین جلد بہم پہنچائیں اور پہلے سے سابق قدم ہو جائیں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٢٧) فاعتبروا یا اولی الابصار اور جب فقیر شعبان میں وارد لاہور تھا تو ایک خط میں مولوی محمد احسن امروہی مرزائی نے فقیر کو لکھا تھا آپ کے چند خیالات مندرجہ خطوط و نیز اشتہار مباہلہ بحضور حضرت امام مہدی یعنی مسیح موعود مصداق امامکم منکم علیہ الصلوٰۃ والسلام جو عاجز کے رو برو پڑھے گئے الخ اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس نئے مولوی نے ایک رسالہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے پس اب کونسی بات رہ گئی دعویٰ نبوت و رسالت سے؟ اور تاویل معنی مجازی کی محض عوام اہل اسلام کے بلوے کے خوف سے ہے اب سنو نمونہ توہینات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء کا، مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”جس قدر حضرت مسیح کی ٢؎
١؎ جن کے اصل محدث ہونے کا مرزا قادیانی کو بھی اقبال ہے دیکھو رسالہ فتح اسلام کے صفحہ ١٦ خزائن ج ٣ ص ١١ حاشیہ
٢؎ چونکہ مرزا کی پیشگوئیاں سب جھوٹا دعویٰ اور نرا دام تزویر ہے جس کے راست (بقیہ اگلے صفحہ پر)
٢٥
پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔“ حضرت موسیٰ کی بعض پیشگوئیاں بھی اسی صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی۔“ (ازالہ اوہام ص ٧۔٨ خزائن ج ٣ ص ١٠٦) غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔ اسی کتاب میں ہے ”مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔..... حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام کرتے رہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٣ حاشیہ) پھر لکھتا ہے ١؎ ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی“ (ازالہ اوہام ص ٦٢١ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩) پھر لکھتا ہے ”اور مریم کا بیٹا کٹلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا“ (انجام آتھم ص ٤١ خزائن ج ١١ ص ایضاً) پھر مزید کہ ”حضرت یسوع کو نادان، شریر، مکار روح والا، گالیاں بد زبانی کرنے والا، موٹی عقل والا، جھوٹا، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا، اس کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہ تھا۔ آپ کی تین دادیاں نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ آپ جدی مناسبت سے کنجریوں سے میلان اور صحبت رکھتے تھے ٢؎۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ) ہونے کی قطعی ناامیدی ہے اس لیے مرزا نے یہ چالاکی دکھلائی کہ پہلے انبیاء کی پیشگوئیاں بہت غلط نکلی ہیں سو معاذ اللہ یہ محض کذب ہے بھلا خدا کا رسول کیا اور اس کی پیشگوئی غلط کیا جا بجا انبیاء کے صدق و راستی پر قرآن و حدیث گواہ ہیں۔
١؎ یہ قصہ تورات سے نقل کیا ہے جس کا محرف ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور صحیح حدیث میں وارد ہے۔ لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبو ھم حضرت عمرؓ سچے محدث کو تورات سے نقل کرنے پر زجر ہوئی تھی جس پر لو کان موسیٰ حیاً الحدیث ارشاد ہوا تھا اب اس جھوٹے محدث کو تورات سے نقل کرنا کیونکر جائز ہو گیا
٢؎ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ میں حضرت مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں جیسے کہ ایک درخت کے دو پھل یا ایک جوہر کے دو ٹکڑے۔ (براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ) پس واضح رہے کہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جن کا نام نامی یسوع بھی ہے وہ تو باتفاق اہل اسلام تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے پاک اور مکارم اخلاق کے پتلے تھے مثل تمام انبیاء علیہم السلام کے مگر جب مرزا قادیانی ان کو ان صفات ذمیمہ سے موصوف جانتا ہے تو مرزا قادیانی خود بھی نادان، شریر، مکار روح والا، گالیاں بد زبانی کرنے والا، موٹی عقل والا، (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ)
٢٦
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣ تا ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٨٧ تا ٣٩٢) یہ سب کچھ لکھ کر اخیر میں مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے کہ یسوع کا حال قرآن میں کچھ درج نہیں ہے کہ یہ کون ہے؟ سو یہ محض جھوٹ ہے کیونکہ یسوع عیسیٰ کا مقلوب حضرت مسیح ابن مریم کا نام مشہور ہے کوئی ادنیٰ دانشمند بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ پھر ازالہ میں ہے کہ ”آنحضرت کا معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا (ازالہ اوہام ص ٤٧ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٢٦) اور اب یہ ظاہر ہے کہ کلمات توہین انبیاء میں کسی طرح سے بھی کفر سے مخلصی نہیں ہوتی، دیکھو شفا اور اس کی شرح ملاعلی قاری میں اور تمام مبسوطات عقائد اسلامیہ میں یہ مسئلہ درج ہے۔ پس مرزا قادیانی اور اس کے حواری اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ یہ کس قدر سخت درجہ کے کافر ہیں چونکہ یہ مبحث کتاب ”تصدیق المرام بتکذیب قادیانی و لیکھرام‘ میں مفصل بیان کیا گیا ہے اس لیے یہاں اسی قدر مختصر پر کفایت کی جاتی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مرزا قادیانی جو اپنی پیشگوئیوں کے راست ہونے میں اشتہارات کے ذریعہ سے عوام اہل اسلام کو دھوکہ دے رہے ہیں تو اولاً معلوم ہو کہ پیشگوئیوں کا معاملہ مسلمان ہونے کے بعد پرکھا جاتا ہے مرزا قادیانی اوّل مسلمان بن لیں پھر پیشگوئی وغیرہ کا نام لیں۔ ثانیاً مرزا قادیانی ہمیشہ کاذب ہوتے رہے۔ اگر سارا ذکر کروں تو ایک دفتر مرتب ہو جائے گا بہت لوگوں نے اس کی بابت بہت کچھ لکھا ہے فقیر اس میں اپنا قیمتی وقت رائیگاں نہیں کرتا مگر نمونہ ظاہر کیئے بغیر نہیں رہتا دیکھو بڑی پیشگوئی لیکھرام کی موت ہے جس پر مرزا اور مرزائیوں کو سخت ناز ہے اس کی بابت مرزا نے لکھا تھا کہ ”٢ اپریل ١٨٩٣ء مطابق ١٤ رمضان ١٣١٠ھ میں ایک فرشتہ غلاظ شداد لیکھرام کی سزا دہی کے لیے مامور کیا گیا ہے۔“ (برکات الدعا ص ٣٣ حاشیہ خزائن ج ٦ ص ایضاً ملخص) اب غور کرو کہ چار سال سے زائد مدت تک فرشتہ کو لیکھرام نہ ملا جواب چار سال سے زائد مدت کو وہ مقتول ہوا ھل ھذا الا ھذیان۔ پھر جلسہ تحقیق مذاہب میں پسندیدگی مضمون مرزا قادیانی کا الہام جس اضغاث احلام کو وہ خود اور عبدالقادر١؎ لدھیانوی اپنے خط میں مشتہر کرتا ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ) جھوٹا‘ چور‘ شیطان کا تابع‘ اس کے ہاتھ میں سواء مکر اور فریب کے کچھ نہیں۔ جس کی تین دادیاں نانیاں زنا کار تھیں۔ خود جدی مناسبت سے کنجری باز ثابت ہو گیا کیونکہ وہ اسی جوہر کا ٹکڑا اور اسی درخت کا دوسرا پھل ہے یہ اس کو کسی نے نہیں کہا بلکہ وہ اپنے الہام سے ایسا ثابت ہو چکا ہے۔
١؎ یہ عبدالقادر نہایت کم علم و کم عقل ہے ابتدا ہی سے منافق مرزائی تھا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر) ٢٧
سو باوصف تخلف مکان جلسہ و ایزاد تاریخ جلسہ کے اس مضمون سے کون سا آریہ یا عیسائی وغیرہ ایمان لے آئے؟ جسے پسندیدگی مضمون معلوم ہوئی۔ معہذا گاہ باشد کہ کودک ناداں۔ بغلط بر ہدف زند تیرے۔ مشہور ہے۔ اللہم یا کریم یا رحیم یا ارحم الراحمین جیسے کہ تیرے فضل و کرم سے پیشتر ماہ شعبان مدت انتظار مباہلہ میں لاہور میں بارش ہو کر آٹھ سیر گیہوں کی گیارہ سیر ہو گئی تھی ویسے اب مذنب فقیر قوی امید بلکہ یقین رکھتا ہے کہ اس عمل خیر تحریر تردید مرزا اور مرزائیوں میں بھی ہم عاجز بندوں پر رحم فرما اور ہمارے گناہ معاف کر اور سچی توبہ کی توفیق رفیق فرما۔ اللہم ربنا اغفرلنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و عترتہ و سلم اجمعین۔ شہر لدھیانہ میں ١٦ شوال ١٣١٤ھ میں حسن اختتام پایا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ) اس کے باپ مولوی موسیٰ مرحوم و مولانا رشید احمد صاحب اس کے پیر نے تحریر و تقریر سے ہمیشہ سمجھایا کہ مرزا جھوٹا اور مفتری ہے اس کا معتقد اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مگر اس منافق نے اپنے نفاق کو نہ چھوڑا اور باپ کے مرنے کے بعد کھلم کھلا مرزائی ہو کر مولانا رشید احمد صاحب اپنے پیر کی طرف سے عاق ہو گیا۔ یہ شخص نہایت نفرت کے لائق اور کمینہ خیالات کا ہے۔
ماہنامہ لولاک
====== عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ‘ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
======== عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3